رَدّ قادیانِیت
رسائل
- حضرت مولانا شفیع احمد جلالپوری شہیدؒ
- جناب پروفیسر منور احمد ملک صاحب
- جناب شیخ راحیل احمد صاحب جرمنی
- جناب فیض اللہ صاحب گجراتی
احتِساب قادیانِیت
جلد ٤٣
عَالَمِیْ مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّۃ
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4783486-061
ردّ قادیانیت
رسائل
احتساب قادیانیت
٤٣
- حضرت مولانا سید احمد جلالپوری شہیدؒ
- جناب پروفیسر منور احمد ملک صاحب
- جناب شیخ راحیل احمد صاحب جرمنی
- جناب فیض اللہ صاحب گجراتی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد تینتالیس (٤٣)
مصنفین : حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری شہید جناب پروفیسر منور احمد ملک صاحب جناب شیخ راحیل احمد صاحب جرمنی جناب فیض اللہ صاحب گجراتی
صفحات : ٥٢٨
قیمت : ٣٠٠ روپے
مطبع : ناصر دین پریس لاہور
طبع اوّل : مارچ ٢٠١٢ء
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّ
فہرست رسائل مشمولہ......
عرض مرتب
- ١...... قادیانی گستاخیاں
- ٢...... قادیانی فریب
- ٣...... قادیانیت کا تعاقب (دورہ سری لنکا)
- ٤...... قادیانیت کا تعاقب (وقت کی ایک اہم ضرورت)
- ٥...... جشن خلافت (قادیانی عقائد ونظریات کے آئینہ میں)
- ٦...... آئین پاکستان اور اعلیٰ عدالتوں کے خلاف ایک خطرناک سازش
- ٧...... مضامین پروفیسر منور احمد ملک
- ٨...... مضامین شیخ راحیل احمد
- ٩...... شیخ راحیل احمد حال مقیم جرمنی کے تین کھلے خط
- ١٠...... روئداد مباہلہ (حصہ سوم)
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!
فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٤٣
عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ ٤
- ١...... قادیانی گستاخیاں حضرت مولانا سعید احمد جلالپوریؒ شہید ٧
- ٢...... قادیانی فریب // // // ٦١
- ٣...... قادیانیت کا تعاقب (دورہ سری لنکا) // // // ٧٩
- ٤...... قادیانیت کا تعاقب (وقت کی ایک اہم ضرورت) // // // ٩١
- ٥...... جشن خلافت (قادیانی عقائد ونظریات کے آئینہ میں) // // // ٩٧
- ٦...... آئین پاکستان اور اعلیٰ عدالتوں کے خلاف ایک خطرناک سازش // // // ١٠٣
- ٧...... مضامین پروفیسر منور احمد ملک جناب پروفیسر منور احمد ملک ١١١
- ٨...... مضامین شیخ راحیل احمد جناب شیخ راحیل احمد جرمنی ٢٥٥
- ٩...... شیخ راحیل احمد حال مقیم جرمنی کے تین کھلے خط // // ٤٧٧
- ١٠...... رد الدجالۃ (حصہ سوم) جناب فیض اللہ گجراتی ٥٠٣
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!
عرض مرتب
الحمد لله وكفى وسلام على سيد الرسل وخاتم الانبياء، اما بعد!
محض اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے احتساب قادیانیت کی جلد تینتالیس (٤٣) پیش خدمت ہے۔ اس جلد میں :
- حضرت مولانا سعید احمد صاحب جلالپوری شہید (شہادت ١١؍ مارچ ٢٠١٠ء) ہمارے
لئے بہت ہی قابل احترام رہنماء تھے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے بعد آپ کراچی مجلس کے امیر بنے۔ آپ سے حق تعالیٰ نے بہت کام لیا۔ آپ کے ردقادیانیت پر چھ رسائل ملے۔
- ١...... قادیانی گستاخیاں
- ٢...... قادیانی فریب
- ٣...... قادیانیت کا تعاقب
(اس میں عالمی مجلس کے چار رکنی وفد کی سری لنکا کے دورہ کی رپورٹ ہے)
- ٤...... قادیانیت کا تعاقب (وقت کی ایک اہم ضرورت)
- ٥...... جشن خلافت (قادیانی عقائد ونظریات کے آئینہ میں)
- ٦...... آئین پاکستان اور اعلیٰ عدالتوں کے خلاف ایک خطرناک سازش
(بسلسلہ رسائل ختم نبوت پر پابندی کا نوٹس)
یاد رہے کہ ان میں نمبر ٤، ٥ تقریباً نام ملتا جلتا ہے۔ لیکن دونوں رسائل بالکل علیحدہ ہیں۔ نمبر ٦ یہ سازش پرویز مشرف کے عہد اقتدار میں ہو رہی تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ہر وقت احتجاج پر اللہ رب العزت نے کرم کیا کہ وہ بلا ٹل گئی۔
- گجر خان ضلع راولپنڈی گورنمنٹ کالج کے پروفیسر منور احمد ملک صاحب پیدائشی
قادیانی تھے۔ آپ محمود آباد ضلع جہلم کے رہنے والے تھے۔ قریباً پینتیس سال قادیانیت میں
گزارے۔ قادیانی جماعت کے کئی عہدوں پر کام کرتے رہے۔ حق تعالیٰ نے آپ کو توفیق بخشی۔ آپ قادیانیت ترک کر کے علی الاعلان مسلمان ہو گئے۔ محمود آباد جہلم میں آپ کے خاندان کے دیگر کئی افراد نے قبول اسلام کا اعلان کیا۔ آپ نے محمود آباد جہلم میں مسجد و مدرسہ کے لئے جگہ وقف کی۔ جامعہ حنفیہ جہلم جو ہمارے حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کی یاد ہے۔ آپ کے بعد آپ کے صاحبزادہ قاری خبیب احمد عمر اور اب حضرت جہلمیؒ کے پوتے اور حضرت قاری صاحب کے صاحبزادہ مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق صاحب جامعہ حنفیہ کے مہتمم ہیں۔ جامعہ حنفیہ جہلم کے تحت محمود آباد جہلم کی اس جگہ پر جامع مسجد ختم نبوت اور مدرسہ خلفاء راشدین قائم ہیں۔ جو تبلیغ و ترویج اسلام کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ جناب پروفیسر منور احمد ملک نے کھڑے پانی میں جو پتھر پھینکا تھا اس کی ایسی لہریں اٹھیں کہ محمود آباد جہلم میں کئی قادیانی گھرانے مسلمان ہو گئے۔ جناب پروفیسر منور احمد ملک نے قادیانی حضرات کی خیر خواہی و چشم کشائی کے لئے قادیانی جماعت کے حالات واقعی پر مسلسل مضمون تحریر کئے۔ ان میں سے جو مضمون فقیر کو ملے وہ اس جلد میں شریک اشاعت ہیں۔ یہ مضامین بہت ہی اہم ہیں۔ ان مضامین کے عنوانات کی فہرست پر نظر دوڑائیں تو آپ عش عش کر اٹھیں گے۔ پروفیسر صاحب نے جنوری ١٩٩٩ء کے رمضان المبارک ١٤١٩ھ کے جمعۃ الوداع پر حضرت قاری خبیب احمد عمر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ ان کے مضامین:
- ٧...... مضامین پروفیسر منور احمد ملک: کے نام پر اس جلد میں شامل اشاعت ہیں۔
- ❁...... جناب شیخ راحیل احمد صاحب چناب نگر کے رہنے والے تھے۔ پھر جرمنی چلے گئے۔
آپ خاندانی قادیانی تھے۔ آپ نے پچاس سال سے زائد کا عرصہ قادیانیت میں گزارا۔ آپ قادیانی جماعت کے مختلف ذمہ دار عہدوں پر بھی براجمان رہے۔ آپ نے قادیانیت کو ترک کیا تو اپنی ویب سائٹ قائم کی۔ اس پر قادیانیوں کے خلاف کئی مضامین تحریر کئے جو اس جلد میں شائع کئے جارہے ہیں۔ ان کی تفصیل اس جلد کی فہرست میں دیکھ لی جائے۔ غرض ان کے مضامین:
- ٨...... مضامین شیخ راحیل احمد صاحب: کے نام پر شامل اشاعت ہیں۔
اسی طرح شیخ صاحب کا ایک رسالہ جس کا نام
- ٩...... شیخ راحیل احمد (سابق قادیانی) مقیم حال جرمنی کے تین کھلے خط: قادیانی
سربراہ مرزا مسرور کے نام اس جلد میں شامل اشاعت ہیں۔
جناب شیخ راحیل صاحب نے جب اسلام قبول کیا تو چناب نگر بھی تشریف لائے۔ ایک دن ملنے کے لئے مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر تشریف لائے۔ وہ شعبان المبارک کا اوائل تھا۔ اس دن مدرسہ میں ردقادیانیت کورس کا آغاز ہورہا تھا۔ انہوں نے سینکڑوں علماء،طلباء کو دیکھا تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ جناب عبداللطیف خالد چیمہ سے ان کے برادرانہ تعلقات قائم ہوگئے تھے۔ فقیر نے چیمہ صاحب سے مرحوم کی تاریخ وفات اور بقیہ رسائل ومضامین کی بابت درخواست کی۔ وعدہ تو کیا۔ مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوا۔ اسی میں اللہ رب العزت کی کوئی حکمت ہوگی۔ محض رضائے الٰہی کے لئے جو فقیر کو ملا وہ شامل اشاعت کر دیا۔ بہت ہی شکر گزار ہوں اپنے مخدوم وواجب التکریم جناب عزت خان صاحب جو برنلے برطانیہ میں رہتے ہیں اور رد قادیانیت کے کام کے اس خطۂ انگلستان میں سرخیل ہیں۔ بھرپور معلومات رکھتے ہیں۔ فقیر کی استدعا پر آپ نے جناب راحیل صاحب کی ویب سائٹ پر جو مضامین تھے ان کا پرنٹ عنایت کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ یہ تمام مضامین احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شامل ہوگئے۔ ان مضامین میں چند مضامین المانیہ کے جناب ابواسمعیل صاحب کے بھی تھے وہ بھی سابق قادیانی ہیں۔ ان کو بھی فقیر نے ان مضامین میں شامل رہنے دیا۔
- .......١٠ رو الدجالہ (حصہ سوم): یہ رسالہ جناب فیض اللہ صاحب گجراتی کا ہے۔ اس
کے چار حصے تھے۔ حصہ اوّل، دوم اور چہارم نہ مل سکے۔ یہ رسالہ مرزا قادیانی کی قرآن مجید کی تحریفات کے عنوان پر لکھا گیا۔ اچھی محنت کی ہے۔ اس سے زیادہ تفصیل نہ مل سکی۔
غرض اس جلد ٤٣ میں:
- ......١ حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری شہیدؒ کے ٦ رسائل
- ......٢ جناب پروفیسر منور احمد ملک کا مجموعہ مضامین ١ عدد
- ......٣ جناب شیخ راحیل احمد جرمنی کا مجموعہ مضامین ورسالہ ٢ عدد
- ......٤ جناب فیض اللہ صاحب کنجاہ روڈ گجرات کا ١ رسالہ
کل چار حضرات کے دس عدد کتب ورسائل شامل اشاعت ہیں۔ اچھا تو اگلی جلد تک کے لئے اجازت چاہتا ہوں۔ آمین بحرمۃ النبی الکریم!
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا!
٤؍جمادی الاول ١٤٣٣ھ، بمطابق ٢٨؍مارچ ٢٠١٢ء
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول الله و خاتم النبیین
قادیانی گستاخیاں
حضرت مولانا سعید احمد جلالپوریؒ شہید
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
"الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى" گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رفیق کار اور سیالکوٹ کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر صاحب کا ایک مکتوب موصول ہوا۔ جس کے ساتھ بے نام کا ایک سوال نامہ بھی منسلک تھا۔ اس سوال نامے میں پوری امت مسلمہ، دنیا بھر کے مسلمانوں، اسلام کے نام لیواؤں اور حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے والوں کو مخاطب کر کے اس کے جواب کا مطالبہ تھا۔
یہ بھی مولانا فقیر اللہ اختر صاحب ہی کے خط سے معلوم ہوا کہ یہ سوال نامہ کینیڈا کے قادیانیوں نے کینیڈا میں رہائش پذیر ایک مسلمان نوجوان کو دیا اور کہا کہ اس کا جواب دو۔ چنانچہ وہ سوال نامہ پھرتا پھراتا مولانا فقیر اللہ اختر صاحب کے پاس پہنچا تو انہوں نے راقم الحروف سے اس کے جواب کی فرمائش کی۔
بلاشبہ مجھے اس کا پہلے بھی علم، بلکہ یقین تھا کہ قادیانیت، اسلام کی ضد و نقیض ہے اور جس طرح آگ و پانی اور دن و رات کا اجتماع محال ہے۔ ٹھیک اسی طرح قادیانیت اور اسلام کا اکٹھا ہونا بھی محال ہے۔
ہاں! یہ ضرور ہے کہ قادیانی سیدھے سادے مسلمانوں کو اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے نام سے دھوکا دیتے ہیں۔ ورنہ انہیں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ سے جتنا بغض، عداوت اور نفرت ہے شاید ہی دنیا کے کسی بدترین کافر و مشرک کو ان سے اتنا بغض و عداوت ہو۔
بلاشبہ اس خط کو پڑھنے کے بعد قادیانی امت کی اسلام دشمنی اور نبی امی ﷺ سے ان کی دلی نفرت و عداوت کم از کم میرے لئے علم الیقین سے نکل کر عین الیقین کے درجے میں آ گئی۔
یقین جانئے! کہ اگر اس سوال نامے کے ساتھ مولانا فقیر اللہ اختر صاحب کا تعارف نامہ اور قادیانیوں کے روایتی سوالات نہ ہوتے تو شاید دوسرے سیدھے سادے مسلمانوں کی طرح، میں بھی اس کو کسی متعصب عیسائی، یہودی، پرلے درجے کے کسی ملحد، اسلام دشمن کافر اور مشرک کی دریدہ دہنی قرار دیتا۔
بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ اس سوال نامے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کا وہ طبقہ، جو قادیانی دجل، فریب، الحاد، زندقہ اور ان کے گھناؤنے کردار سے نا آشنا تھا۔ یا ان کے منافقانہ ظاہری "حسن اخلاق" سے متاثر تھا۔ کم از کم اس کے سامنے قادیانیت کی اسلام دشمنی اور
٢
پیغمبر اسلام سے ان کا بغض و عداوت کھل کر سامنے آجائے ہمارے خیال میں قادیانیوں کے مکروہ چہر قادیانی، کسی کو اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے نام پر دھوکا ن اللہ اختر صاحب کا خط اور مسیلمہ کذاب کے جانشین، مسیلم بدبودار سوال نامہ پڑھئے:
مخدومی و مکرمی جناب حضرت مولانا سعید
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
امید ہے کہ آپ کے مزاج بخیر ہوں گے۔ گز ہے۔ کینیڈا میں ہمارے ایک مسلمان بچے کو یہ تحریر مرزائی پڑھ کر اس کے ترتیب وار جامع، موزوں اور پر اثر جوابات بھیج دیں تاکہ اسے کینیڈا بھیج کر اپنے مسلمان بھائیوں کو قا ذہنوں کو اس گندگی سے بچایا جاسکے۔ امید ہے کہ آپ شر میں ہماری جماعت کا کوئی اہم کارکن یا عہدیدار ہو تو اس کا ہمارے مسلمان بھائی ان سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔
قادیانیوں کا سوال نامہ
- ١...... "لوگوں کی راہنمائی اور ہدایت کی ضرورت
اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں پیغمبر بھیجے تو آخر کیا وجہ ہے حضرت محمد ﷺ پر ہی نبوت ختم کر دی گئی؟ کیا بعد میں آ و راہنمائی کی ضرورت نہیں تھی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ حضر برقرار رکھنے کے لئے خود ہی آخری نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا
- ٢...... "جب حضرت محمد ﷺ اور ان کے پیروکار ا
ہو سکتے ہیں تو ایک مسلمان کیوں اپنا مذہب تبدیل نہیں کرس مرتد قرار دے کر اس کے قتل کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ کیا اس کی اجازت دینے سے حضرت محمد ﷺ کو مسلمانوں کی تعدا
٣
پیغمبر اسلام سے ان کا بغض و عداوت کھل کر سامنے آجائے گی۔
ہمارے خیال میں قادیانیوں کے مکروہ چہرے کی اس نقاب کشائی کے بعد کم از کم قادیانی، کسی کو اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے نام پر دھوکا نہیں دے سکیں گے۔ لیجئے! پہلے مولانا فقیر اللہ اختر صاحب کا خط اور مسیلمہ کذاب کے جانشین، مسیلمہ پنجاب کے نام لیواؤں کا متعفن اور بد بودار سوال نامہ پڑھئے:
مخدومی ومکرمی جناب حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ کے مزاج بخیر ہوں گے۔ گزارش یہ ہے کہ ایک تحریر حاضر خدمت ہے۔ کینیڈا میں ہمارے ایک مسلمان بچے کو یہ تحریر مرزائیوں / قادیانیوں نے دی ہے۔ اس تحریر کو پڑھ کر اس کے ترتیب وار جامع، موزوں اور پراثر جوابات تحریر فرمادیں اور اس کی ایک کاپی مجھے بھیج دیں تاکہ اسے کینیڈا بھیج کر اپنے مسلمان بھائیوں کو قادیانی فتنے سے بچایا جاسکے اور ان کے ذہنوں کو اس گندگی سے بچایا جاسکے۔ امید ہے کہ آپ شفقت فرمائیں گے۔ مزید یہ کہ اگر کینیڈا میں ہماری جماعت کا کوئی اہم کارکن یا عہدیدار ہو تو اس کا نام، پتا اور فون نمبر ارسال کردیں تاکہ ہمارے مسلمان بھائی ان سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔
والسلام! دعا گو: فقیر اللہ اختر خادم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ
قادیانیوں کا سوال نامہ
- ١...... "لوگوں کی راہنمائی اور ہدایت کی ضرورت صدیوں رہی اور اس مقصد کے لئے
اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں پیغمبر بھیجے تو آخر کیا وجہ ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجنے کے بعد حضرت محمد ﷺ پر ہی نبوت ختم کر دی گئی؟ کیا بعد میں آنے والی صدیوں میں لوگوں کو ہدایت و راہنمائی کی ضرورت نہیں تھی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ حضرت محمد ﷺ نے رہتی دنیا تک اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لئے خود ہی آخری نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہو؟"
- ٢...... "جب حضرت محمد ﷺ اور ان کے پیروکار اپنا آبائی مذہب تبدیل کر کے مسلمان
ہو سکتے ہیں تو ایک مسلمان کیوں اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتا؟ دوسرا مذہب اختیار کرنے پر اسے مرتد قرار دے کر اس کے قتل کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ کیا اس حکم سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ مذہبی تبدیلی کی اجازت دینے سے حضرت محمد ﷺ کو مسلمانوں کی تعداد میں کمی کا خدشہ تھا؟ کیا یہ حکم اس امر کا
٣
غماز نہیں ہے کہ حضرت نے مذہب کے فروغ کے لئے ”اسلام بذریعہ تبلیغ“ کے بجائے ”خاندانی یا موروثی اسلام“ کو ترجیح دی؟ کیونکہ بذریعہ آبادی اسلام پھیلانے کا یہ سب سے آسان اور مؤثر فارمولا تھا۔ جیسے جیسے آبادی بڑھے گی، مسلمان خود بخود بڑھتے چلے جائیں گے۔ جو تبدیلی چاہے، اسے قتل کر دیا جائے۔ کیا یہ انصاف کے تقاضوں کے منافی نہیں؟
- ٣....... ”حضرت محمد ﷺ نے اپنے خاندان یعنی آل رسول کو زکوۃ کی رقم دینے سے کیوں منع
کیا ہے؟ کیا اس سے خاندانی بڑائی اور تکبر کی نشاندہی نہیں ہوتی؟ کیا رسول کا خاندان افضل اور باقی سب کمتر ہیں؟ بحیثیت انسان میں خاندانی افضلیت یا بڑائی تسلیم نہیں کرتا۔ خود حضرت محمد کا قول ہے کہ تم میں افضل وہ ہے جس کے اعمال اچھے ہیں تو پھر یہ قول ان کے اپنے خاندان پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟“
- ٤....... ”حضرت محمد ﷺ نے جہاد کا حکم کیوں دیا؟ جہاد کو اسلام کا پانچواں ضروری رکن کیوں
قرار دیا؟“
- ٥....... ”مال غنیمت کے طور پر دشمن کی عورتیں مسلمانوں کے لئے کیوں حلال قرار دیں؟ کیا
عورتیں انسان نہیں، بھیڑ بکریاں ہیں؟ جنہیں مال غنیمت کے طور پر بانٹا جائے اور استعمال کیا جائے؟“
- ٦....... مذہب کے نام پر قتل و غارت گری کو جہاد قرار دے کر اسے اسلام کا پانچواں بنیادی
رکن بنانے کی سزا ماضی کے لاکھوں، کروڑوں معصوم انسان بے شمار جنگوں کے نتیجے میں اپنی جان مال سے محروم ہو کر بھگت چکے ہیں اور عراق، افغانستان جنگ کی شکل میں آج بھی بھگت رہے ہیں۔ آخر اس ”جہاد“ کو بذریعہ اجتہاد ”جارحیت“ کے بجائے ”دفاع“ کے لئے کیوں استعمال نہیں کیا جاتا؟
- ٧....... حضرت محمد ﷺ نے مرد کے مقابلے میں عورت کی گواہی آدھی کیوں قرار دی؟
- ٨....... والدین کی جائیداد سے عورت کو مرد کے مقابلے میں آدھا حصہ دینے کا کیوں حکم دیا؟
کیا عورت، مرد کے مقابلے میں کمتر ہے؟
- ٩....... حضرت محمد ﷺ نے خود نو شادیاں کیں اور باقی مسلمانوں کو چار پر قناعت کرنے کا حکم
دیا؟ اس میں کیا مصلحت تھی؟
- ١٠....... شریعت محمدی میں مرد اگر تین بار طلاق کا لفظ ادا کر کے ازدواجی بندھن سے فوری
آزادی حاصل کر سکتا ہے تو اسی طرح عورت کیوں نہیں کر سکتی؟
٤
١١
- ١١....... حضرت محمد ﷺ نے حلالہ کے قانون م
طرح استعمال کئے جانے کا طریقہ کار کیوں وضع کیا چاہے تو عورت پہلے کسی دوسرے آدمی کے نکاح میں ساتھ جنسی عمل سے گزرے، پھر اس دوسرے شخص کی م آدمی سے نکاح کر سکتی ہے۔ یعنی اس پورے معاملے م نہیں بگڑا، اس میں کیا رمز پوشیدہ ہے؟
- ١٢....... حضرت محمد ﷺ نے قصاص و دیت کا قان
قتل کر دیا جاتا ہوں اور میرے پسماندگان (بیوی یا بہن بھا کوشش یہی ہوگی کہ میرے بدلے میں زیادہ سے زیا اور باقی عمر عیش کریں۔ میں تو اپنی جان سے گیا۔ می معاف کرنے کا حق کسی اور کو کیوں تفویض کیا گیا؟ حوصلہ افزائی نہیں ہوگی؟ کیا پیسے کے بل بوتے پر و آزاد نہیں ہوگا؟ پچھلے دنوں سعودی عرب میں ایک ش کیونکہ مقتول کے اہل خانہ نے کافی دینار لے کر قاتل صرف وہ قاتل سزا پاتا ہے جس کے پاس قصاص کے لے لیں۔ قیام سے لے کر اب تک، باحیثیت افراد جرم میں پھانسی کی سزا ملی۔ وہ بھی اس وجہ سے کہ مقتو مند تھے۔ لہٰذا انہوں نے خون بہا کی پیشکش ٹھکرا دی جب کوئی باحیثیت شخص کسی کا قتل کر دیتا ہے تو قاتل طرح طرح سے دباؤ ڈالتے ہیں اور دھمکیاں دیتے مجبور ہو جاتے ہیں۔ کیا حضرت محمد ﷺ نے اس قانو ”قتل کا لائسنس“ جاری نہیں کیا؟
- ١٣....... اور اسی طرح کے بے شمار سوالات میر
بارے میں پوچھنا توہین رسالت کے زمرے میں آت
- ١٤....... جو حضرات ”ہاں“ کہیں گے۔ ان سے م
جب ایک رات میں ساتوں آسمانوں کی سیر کر سکے
٥
- ١١...... حضرت محمدﷺ نے حلالہ کے قانون میں عورت کو کسی بے جان چیز یا بھیڑ بکری کی
طرح استعمال کئے جانے کا طریقہ کار کیوں وضع کیا ہے؟ طلاق مرد دے اور دوبارہ رجوع کرنا چاہے تو عورت پہلے کسی دوسرے آدمی کے نکاح میں دی جائے۔ وہ دوسرا شخص اس عورت کے ساتھ جنسی عمل سے گزرے، پھر اس دوسرے شخص کی مرضی ہو۔ وہ طلاق دے تو عورت دوبارہ پہلے آدمی سے نکاح کر سکتی ہے۔ یعنی اس پورے معاملے میں استعمال عورت کا ہی ہوا۔ مرد کا کچھ بھی نہیں بگڑا، اس میں کیا رمز پوشیدہ ہے؟
- ١٢...... حضرت محمدﷺ نے قصاص ودیت کا قانون کیوں وضع کیا؟ مثال کے طور پر اگر میں
قتل کر دیا جاتا ہوں اور میرے اپنی بیوی یا بہن بھائیوں سے اختلافات ہیں تو لازماً ان کی پہلی کوشش یہی ہوگی کہ میرے بدلے میں زیادہ سے زیادہ خون بہا لے کر میرے قاتل سے صلح کر لیں اور باقی عمر عیش کریں۔ میں تو اپنی جان سے گیا۔ میرے قاتل کو پیسوں کے عوض یا اس کے بغیر معاف کرنے کا حق کسی اور کو کیوں تفویض کیا گیا؟ کیا اس طرح سزا سے بچ جانے پر قاتل کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی؟ کیا پیسے کے بل بوتے پر وہ مزید قتل و قتال کے لئے اس معاشرے میں آزاد نہیں ہوگا؟ پچھلے دنوں سعودی عرب میں ایک شیخ، ایک پاکستانی کو قتل کر کے سزا سے بچ گیا۔ کیونکہ مقتول کے اہل خانہ نے کافی دینار لے کر قاتل کو معاف کر دیا تھا۔ اس قانون کے نتیجے میں صرف وہ قاتل سزا پاتا ہے جس کے پاس قصاص کے نام پر دینے کو کچھ نہ ہو۔ پاکستان ہی کی مثال لے لیں۔ قیام سے لے کر اب تک، باحیثیت افراد میں سے صرف گنتی کے چند اشخاص کو قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا ملی۔ وہ بھی اس وجہ سے کہ مقتول کے ورثاء قاتل کی نسبت کہیں زیادہ دولت مند تھے۔ لہٰذا انہوں نے خون بہا کی پیشکش ٹھکرا دی۔ اس قانون کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی باحیثیت شخص کسی کا قتل کر دیتا ہے تو قاتل کے اہل وعیال و رشتہ دار، مقتول کے ورثاء پر طرح طرح سے دباؤ ڈالتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں۔ جس پر ورثاء قاتل کو معاف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کیا حضرت محمدﷺ نے اس قانون کو وضع کر کے ایک امیر شخص کو براہ راست ”قتل کا لائسنس“ جاری نہیں کیا؟
- ١٣...... اور اسی طرح کے بے شمار سوالات میرے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ان کے
بارے میں پوچھنا توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے؟
- ١٤...... جو حضرات ”ہاں“ کہیں گے۔ ان سے صرف یہی عرض کر سکتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ
جب ایک رات میں ساتوں آسمانوں کی سیر کر سکتے ہیں۔ چاند کو دو ٹکڑے کر سکتے ہیں، پتھر
بڑے مذہب کے بانی اور خدا کے سب سے قریبی نبی ہیں تو کیا وہ خود مجھے ان سوالات کی پاداش میں مناسب سزا نہیں دے سکتے ؟ اگر ہاں ! تو اے میرے مسلمان بھائیو! مجھ پر اور میری طرح کے دیگر انسان مسلمانوں پر رحم کرو اور حضرت محمد ﷺ کو موقع دو کہ وہ خود ہی ہمارے لئے کچھ نہ کچھ مناسب سزا تجویز فرما دیں گے ۔
- ١٥...... یاد رکھو! ایک مسلمان کا خون دوسرے پر حرام ہے اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ایک مسلمان
کو صرف اس کی سوچ اور عقائد کی بناء پر کافر قرار دے دے۔ یہ تو تھا اسلامی فرمان ، اب ایک انسانی فرمان سن لیں کہ: ”دنیا کے کسی بھی مذہب سے کہیں زیادہ انسانی جان قیمتی ہے۔“ وما علينا الا البلاغ !
اس غلاظت نامے کی خواندگی کے بعد ایک سچے مسلمان اور عاشق رسول کے دل کی کیا کیفیت ہوگی؟ ہر مسلمان اس کا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے۔ تاہم مسلمانوں کو اس سے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ سانپ کا کام ڈسنا اور بچھو کی سرشت ڈنک مارنا ہی ہے۔ اس لئے جو لوگ قادیانی کفر سے آشنا ہیں۔ ان کو یقیناً اس پر کچھ زیادہ تعجب نہیں ہوگا۔ ہاں! البتہ جو لوگ قادیانیت کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار تھے یا وہ قادیانیت کو اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ نتھی کرنے کی غلطی کے مرتکب تھے۔ بلاشبہ ان کو اس تحریر سے اپنی غلط فہمی کا شدید احساس ہوا ہوگا۔ بلکہ بدترین دھچکا لگا ہوگا۔
اگر چہ قادیانی سوالات شروع میں یک جا آگئے ہیں۔ تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہر جواب سے پہلے متعلقہ سوال نقل کر کے اس کا جواب درج کیا جائے تاکہ سوال وجواب دونوں قاری کے ذہن میں مستحضر رہیں۔ چنانچہ اس سوال نامے کا پہلا سوال تھا۔
حضرت محمد ﷺ ہی خاتم النبیین کیوں؟
- ١...... ”لوگوں کی راہنمائی اور ہدایت کی ضرورت صدیوں رہی اور اس مقصد کے لئے
اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں پیغمبر بھیجے تو آخر کیا وجہ ہے کہ ایک لاکھ تیس ہزار پیغمبر بھیجنے کے بعد حضرت محمد ﷺ پر ہی نبوت ختم کر دی گئی؟ کیا بعد میں آنے والی صدیوں میں لوگوں کو ہدایت وراہنمائی کی ضرورت نہیں تھی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ حضرت محمد ﷺ نے رہتی دنیا تک اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لئے خود ہی آخری نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہو؟“
جواب ...... یہ قادیانیوں کا پرانا اور گھسا پٹا سوال ہے اور اس کا متعدد اکابر نے مختلف انداز میں جواب دیا ہے۔ مگر جس کو نہ ماننا ہو۔ اس کا اشکال کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتا۔ تاہم اس سلسلے میں عرض
٦
ہے کہ : ”بلاشبہ ہر دور میں امت کو ہدایت وراہنمائی راہنمائی کے لئے نبی بھیجے اور جب تک امت کو نب بعد دیگرے نبی بھیجتے رہے۔ لیکن جوں ہی نبی آخ سے سرفراز فرمایا گیا اور کسی دوسرے نبی کی ضرور مزید کسی دوسرے شخص کو نبی نہیں بنایا جائے گا اور ارش رجالكم ولكن رسول الله وخاتم (الأحزاب: ٤٠) ”محمد تمہارے مردوں میں سے سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب ج
اس ارشاد الٰہی سے واضح طور پر معلوم حضرت محمد ﷺ نے از خود نہیں فرمایا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ لئے قادیانیوں کا یہ کہنا کہ: ”کہیں ایسا تو نہیں کہ برقرار رکھنے کے لئے خود ہی آخری نبی ہونے ک آنحضرت ﷺ کی ذات عالی پر بہتان وافتراء ہے،
صرف یہی ایک آیت نہیں ، بلکہ قریب نے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان فرمایا ہے مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ !
رہی یہ بات کہ اب کسی دوسرے نبی کی ض کیوں قرار دیا گیا؟ اس کا جواب بھی اللہ تعالیٰ نے ال ہر چیز کی ضرورت وعدم ضرورت کی حکمت کو خوب جا نہیں۔ لہٰذا اب قادیانیوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے پ دیوار سے اپنا سر پھوڑیں اور احتجاج کریں کہ آپ نے الغرض قادیانیوں کا یہ اعتراض مسلمانوں راست قرآن کریم اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے۔
چلئے ! اگر ایک لمحے کے لئے قادیانیوں کا کسی کو اس کا حق بھی ہوگا کہ وہ یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور عیسیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بعد میں کیوں مبع
٧
ہے کہ: ”بلاشبہ ہر دور میں امت کو ہدایت و راہنمائی کی ضرورت رہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے امت کی راہنمائی کے لئے نبی بھیجے اور جب تک امت کو نبی کی راہنمائی کی ضرورت رہی۔ اللہ تعالیٰ یکے بعد دیگرے نبی بھیجتے رہے۔ لیکن جوں ہی نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو ختم نبوت کے اعزاز سے سرفراز فرمایا گیا اور کسی دوسرے نبی کی ضرورت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا کہ اب مزید کسی دوسرے شخص کو نبی نہیں بنایا جائے گا اور ارشاد فرما دیا کہ: ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (الاحزاب: ٤٠) ”محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔“
اس ارشاد الٰہی سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان حضرت محمد ﷺ نے از خود نہیں فرمایا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے بنفس نفیس اس کا اعلان فرمایا ہے۔ اس لئے قادیانیوں کا یہ کہنا کہ: ”کہیں ایسا تو نہیں کہ حضرت محمد ﷺ نے رہتی دنیا تک اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لئے خود ہی آخری نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہو؟“ سراسر ہرزہ سرائی اور آنحضرت ﷺ کی ذات عالی پر بہتان وافتراء ہے۔
صرف یہی ایک آیت نہیں، بلکہ قریب قریب ایک سو سے زائد آیات میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو ”ختم نبوت کامل“ مؤلفہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ!
رہی یہ بات کہ اب کسی دوسرے نبی کی ضرورت کیوں نہیں رہی؟ اور آپ کو آخری نبی کیوں قرار دیا گیا؟ اس کا جواب بھی اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں خود ارشاد فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کی ضرورت و عدم ضرورت کی حکمت کو خوب جانتے ہیں۔ اس پر کسی کو لب کشائی کی اجازت نہیں۔ لہذا اب قادیانیوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے براہ راست پوچھیں، اس کی قوت قاہرہ کی آہنی دیوار سے اپنا سر پھوڑیں اور احتجاج کریں کہ آپ نے حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی کیوں قرار دیا؟
الغرض قادیانیوں کا یہ اعتراض مسلمانوں یا حضرت محمد ﷺ کی ذات پر نہیں۔ بلکہ براہ راست قرآن کریم اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے۔
چلئے! اگر ایک لمحے کے لئے قادیانیوں کا یہ سوال صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو کیا کل کلاں کسی کو اس کا حق بھی ہوگا کہ وہ یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پہلے اور نوح، شیث، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بعد میں کیوں مبعوث فرمایا؟ اسی طرح کیا نعوذ باللہ! کسی کو یہ
٧
کہنے کا حق بھی ہوگا؟ کہ : ”کہیں ایسا تو نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے رہتی دنیا تک اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لئے خود ہی اللہ کے خلیفہ اور انسانیت کے باپ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہو؟“
اگر کسی کو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی.......اور یقیناً نہیں دی جاسکتی تو کسی کو حضور ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف لب کشائی کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے؟ قادیانیو! اگر ہمت ہے تو اس کا جواب دو، ورنہ اس ہرزہ سرائی کے بعد کھلا اعلان کرو کہ ہمارا قرآن، حدیث، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں ہے۔
- ٢....... نئے نبی، نئی شریعت اور نئی کتاب کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب پہلے نبی کی
نبوت، دین، شریعت اور کتاب منسوخ ہو جائے۔ جب کہ حضرت محمد ﷺ کا دین، کتاب، نبوت اور شریعت قیامت تک کے لئے ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
- ١....... ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم
الاسلام ديناً (المائدہ:٣) ” ﴿آج میں پورا کر چکا تمہارے لئے دین تمہارا اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔﴾
- ٢....... ”انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحفظون (الحجر:٩) ” ﴿ہم نے ہی
اتاری ہے یہ نصیحت اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔﴾
- ٣....... ”وما ارسلنك الا رحمة للعلمين (الانبياء:١٠٧) ” ﴿اور تجھ کو جو ہم نے
بھیجا سو مہربانی کی جہان کے لوگوں پر۔﴾
- ٤....... ”يايها الناس اني رسول الله اليكم جميعاً (الاعراف:١٥٨) ” ﴿اے
لوگو! میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف۔﴾
- ٥....... ”وما ارسلنك الا كافة للناس بشيراً ونذيرا (سبا:٢٨) ” ﴿اور جو تجھ کو
ہم نے بھیجا سو سارے لوگوں کے واسطے خوشی اور ڈر سنانے کو۔﴾
- ٦....... ”ومن يبتغ غير الاسلام ديناً فلن يقبل منه (آل عمران:٨٥) ” ﴿اور
جو کوئی چاہے سوا دین اسلام کے اور کوئی دین، سو اس سے ہرگز قبول نہ ہوگا۔﴾
ان تمام آیات میں جب آنحضرت ﷺ کے دین وشریعت مدار نجات، آپ ﷺ پر نازل کی گئی کتاب کی قیامت تک حفاظت، صیانت، آپ ﷺ کی ذات کو قیامت تک کے تمام انسانوں کے لئے رحمت اور آپ ﷺ کو سب انسانوں کے لئے نبی، رسول، بشیر اور نذیر بنا کر بھیجے جانے کا اعلان فرمایا گیا تو معلوم ہوا کہ جس طرح امت کو صدیوں سے نبی ورسول کی ہدایت
٨
وراہنمائی کی ضرورت تھی، آج بھی برقرار ہے اور اس کا نبوت، رسالت، دین، شریعت اور کلام الٰہی یعنی قرآن
- ٣....... اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ پہلے انبیاء اور
آنحضرت ﷺ کی نبوت وشریعت کی مثال سورج کی مانند کہ سارے چراغ بے نور ہو جاتے ہیں بلکہ ان کی ضرورت کے بعد کوئی ”عقل مند“ یہ کہے کہ: ”اب چراغ کی راہنمائی کے لئے چراغوں سے روشنی کیوں نہیں حاصل چراغوں سے روشنی حاصل نہ کرنا انسانیت کو روشنی سے محروم بتلایا جائے کہ ایسے ”عقل مند“ کو کیا نام دیا جائے گا؟ اور جائے گا؟ یا اسے کسی دماغی ہسپتال میں داخل کیا جائے گا؟
- ٤....... ایک لمحے کے لئے اگر قادیانی بزرجمہروں کی
جائے تو سوال پیدا ہوگا کہ اگر واقعی اس کی ضرورت تھی تو مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوئی نبوت سے پیشتر کی تیرہ صدیوں اس طویل ترین دور میں امت کو نئے نبی کی ضرورت کیوں مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد قادیانی امت کو اس ”خیر“ سے غلام احمد قادیانی کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت کیوں محسوس
- ٥....... اگر انسانیت کی راہنمائی کے لئے نبوت کی ضرورت
شریعت کی ضرورت کیوں محسوس نہ کی گئی؟ اس لئے اگر نبوت مرزا غلام احمد قادیانی نے ظلی اور بروزی نبی ہونے کا دعویٰ ہونے کا دعویٰ کیوں نہ کیا؟ ”هاتوا برهانكم ان كنتم
اسلام ترک کرنے والے کے خلاف ہی سزائے موت
- ٢....... ”جب حضرت محمد ﷺ اور ان کے پیروکار ایسے
ہو سکتے ہیں تو ایک مسلمان کیوں اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتا مرتد قرار دے کر اس کے قتل کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ کیا اس لئے کی اجازت دینے سے حضرت محمد ﷺ کو مسلمانوں کی تعداد غماز نہیں ہے کہ حضرت نے مذہب کے فروغ کے لئے ”اسلام
٩
وراہنمائی کی ضرورت تھی، آج بھی برقرار ہے اور اس کا انتظام بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت، رسالت، دین، شریعت اور کلام الٰہی یعنی قرآن پاک کی شکل میں فرما رکھا ہے۔
- ٣....... اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ پہلے انبیاء اور ان کی شریعتوں کی مثال چراغ کی تھی اور
آنحضرت ﷺ کی نبوت و شریعت کی مثال سورج کی ہے اور جب سورج نکل آتا ہے تو نہ صرف یہ کہ سارے چراغ بے نور ہو جاتے ہیں بلکہ ان کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ لہٰذا اگر سورج نکلنے کے بعد کوئی ”عقل مند“ یہ کہے کہ: ”اب چراغ کیوں نہیں جلائے جاتے؟ اور انسانیت کی راہنمائی کے لئے چراغوں سے روشنی کیوں نہیں حاصل کی جاتی؟ اور سورج کی موجودگی میں چراغوں سے روشنی حاصل نہ کرنا انسانیت کو روشنی سے محروم رکھنے کی سازش کے مترادف ہے۔“ بتلایا جائے کہ ایسے ”عقل مند“ کو کیا نام دیا جائے گا؟ اور اس شخص کے اس ”حکیمانہ مشورہ“ کو مانا جائے گا؟ یا اسے کسی دماغی ہسپتال میں داخل کیا جائے گا؟
- ٤....... ایک لمحے کے لئے اگر قادیانی بزرجمہروں کی اس برخود غلط دل سوزی کو مان بھی لیا
جائے تو سوال پیدا ہوگا کہ اگر واقعی اس کی ضرورت تھی تو آنحضرت ﷺ کی رحلت کے بعد اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت سے پیشتر کی تیرہ صدیاں اس سے خالی کیوں گزریں؟ اور اس طویل ترین دور میں امت کو نئے نبی کی ضرورت کیوں محسوس نہیں ہوئی؟ اسی طرح پھر مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد قادیانی امت کو اس ”خیر“ سے کیوں محروم رکھا گیا؟ اور قادیانیوں کو غلام احمد قادیانی کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت کیوں محسوس نہ ہوئی؟
- ٥....... اگر انسانیت کی راہنمائی کے لئے نبوت کی ضرورت تھی، تو نئی نبوت کے ساتھ ساتھ نئی
شریعت کی ضرورت کیوں محسوس نہ کی گئی؟ اس لئے اگر نبوت شریعت کی ضرورت تھی تو پھر چشم بدور مرزا غلام احمد قادیانی نے ظلی اور بروزی نبی ہونے کا دعویٰ کیوں کیا؟ کھل کر صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیوں نہ کیا؟ ”ہاتوا برہانکم ان کنتم صادقین (البقرۃ: ١١١)“
اسلام ترک کرنے والے کے خلاف ہی سزائے ارتداد کیوں؟
- ٢....... ”جب حضرت محمد ﷺ اور ان کے پیروکار اپنا آبائی مذہب تبدیل کر کے مسلمان
ہو سکتے ہیں تو ایک مسلمان کیوں اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتا؟ دوسرا مذہب اختیار کرنے پر اسے مرتد قرار دے کر اس کے قتل کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ کیا اس حکم سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ مذہبی تبدیلی کی اجازت دینے سے حضرت محمد ﷺ کو مسلمانوں کی تعداد میں کمی کا خدشہ تھا۔ کیا یہ حکم اس امر کا غماز نہیں ہے کہ حضرت نے مذہب کے فروغ کے لئے ”اسلام بذریعہ تبلیغ“ کے بجائے ”خاندانی یا
٩
موروثی اسلام" کو ترجیح دی۔ کیونکہ بذریعہ آبادی اسلام پھیلانے کا یہ سب سے آسان اور مؤثر فارمولا تھا۔ جیسے جیسے آبادی بڑھے گی مسلمان خود بخود بڑھتے چلے جائیں گے۔ جو تبدیلی چاہے اسے قتل کر دیا جائے۔ کیا یہ انصاف کے تقاضوں کے منافی نہیں؟"
جواب ...... دین ومذہب کی تبدیلی پر سزائے ارتداد کے اسلامی قانون پر اگر کسی کو بالفرض اعتراض کا حق ہوتا تو اس کے حقدار وہ لوگ تھے جو کسی آسمانی دین و مذہب کے پیروکار ہوتے یا ان کے دین ومذہب کی کوئی اساس وبنیاد ہوتی۔ جیسے یہود ونصاریٰ وغیرہ۔ رہے وہ لوگ جن کے دین ومذہب کی کوئی اساس وبنیاد ہی نہیں ہے۔ بلکہ ان کا وجود ہی برخود غلط ہے۔ ان کو اس بحث میں حصہ لینے یا اس پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟
- ٢....... کیا کسی ملک کی قانون ساز اسمبلی اور عوام کے نمائندہ ایوان کی جانب سے جارح
اقوام، افراد، چوروں اور ڈاکوؤں کے خلاف قانون سازی پر، چوروں اور ڈاکوؤں یا جارح اقوام کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ یہ اعتراض کریں کہ ہمارے خلاف قانون کیوں بنایا گیا ہے؟ اور ہماری آزادی پر قدغن کیوں لگائی گئی ہے؟ یا اسی طرح ملک کے اچکوں، بدمعاشوں اور سماج دشمنوں کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ یہ کہیں کہ ہماری چوری، بدمعاشی اور ڈاکہ زنی پر سزا کا قانون پاس ہوا ہے تو چوری، ڈکیتی اور بدمعاشی سے توبہ کرنے والوں کے خلاف بھی سزا کا قانون بنایا جائے؟ لہٰذا جس طرح جارح اقوام، چوروں، ڈاکوؤں اور بدمعاشوں کو، ان کی بدمعاشی اور بدامنی کے خلاف قانون سازی پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں، ٹھیک اسی طرح سارقین نبوت، مرتدوں اور زندیقوں کے خلاف قانون ارتداد کی ترتیب ونفاذ پر، ان مرتدین کو بھی دین ودیانت اور عقل وشریعت کی رو سے کسی قسم کے اعتراض کا کوئی حق نہیں ہے۔ بلکہ ان کا تحفظ، چوروں، بدمعاشوں اور ڈاکوؤں کے تحفظ کے مترادف اور ان کی سرکوبی بدمعاشوں کی سرکوبی کی مانند ہے۔
- ٣....... جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہودی اور عیسائی اپنا مذہب بدل کر مسلمان ہوں تو
ان پر سزائے ارتداد کا اجراء نہیں ہوتا، تو ..... نعوذ باللہ ! مسلمانوں کے مرتد ہوکر یہودی، عیسائی یا کسی دوسرے دین کو اپنانے پر یہ سزا کیونکر جاری ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ:
- الف...... بائبل میں بھی مرتد ہونے والے کی سزا قتل ہی ہے۔ چنانچہ خروج باب ٢٢،
آیت ٢٠ میں ہے: "جو کوئی واحد خداوند کو چھوڑ کر کسی اور معبود کے آگے قربانی چڑھائے وہ بالکل نابود کر دیا جائے۔"
- ب...... جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ یہودی، عیسائی یا دوسرے مذاہب کے لوگ اپنا
١٠
مذہب بدلیں تو ان پر سزائے ارتداد کیوں جاری نہیں ہ دینے کے مکلف نہیں ہیں۔ بلکہ ان مذاہب کے ذمہ دا کا جواب دیں۔
تاہم قطع نظر اس کے کہ یہودیوں اور عیسا سب کو معلوم ہے کہ دنیائے عیسائیت اور یہودیت ہما میں شدید تعصب کا شکار ہے۔ اس لئے کہ اگر وہ اپنا متعصب نہ ہوتی تو آج دنیا بھر کے مسلمان اور امت م
اس سے ذرا اور آگے بڑھئے ! تو یہود و ن انبیائے بنی اسرائیل کا قتل ناحق، ان کی اسی تنگ نظری ہے۔ ورنہ بتلایا جائے کہ حضرات انبیائے کرام علیہم ال یہی ناں کہ وہ فرماتے تھے کہ پہلا دین و شریعت اور ک جانب سے ہمارے ذریعہ نیا دین اور نئی شریعت آچک وفلاح ہے۔
اسی طرح یہودیوں اور عیسائیوں کے ذمہ حضرت زکریا علیہما السلام کو کیوں قتل کیا گیا؟ آخر ان ح میں ان کا پاک و پاکیزہ اور مقدس لہو بہایا گیا؟
اس کے علاوہ یہ بھی بتلایا جائے کہ حضرت سولی چڑھائے جانے کے منصوبے کیوں بنائے گئے؟
مسلمانوں کو تنگ نظر اور سزائے ارتداد حضرات انبیائے کرام علیہم السلام اور لاکھوں مسلمانوں پھر مسلمانوں سے بات کریں۔
- ج...... یہ تو طے شدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان
انبیائے کرام علیہم السلام اور رسل علیہم السلام بھیجنے کا سل علیہ السلام سے ہوئی تو اس کی انتہاء تکمیل اور اختتام حض
سوال یہ ہے کہ ان تمام انبیائے کرام علیہم یکساں تھی یا مختلف؟
١١
مذہب بدلیں تو ان پر سزائے ارتداد کیوں جاری نہیں کی جاتی؟ اصولی طور پر ہم اس سوال کا جواب دینے کے مکلف نہیں ہیں۔ بلکہ ان مذاہب کے ذمہ داروں، بلکہ ٹھیکے داروں کا فرض ہے کہ وہ اس کا جواب دیں۔
تاہم قطع نظر اس کے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا یہ طرز عمل صحیح ہے یا غلط؟ اتنی بات تو سب کو معلوم ہے کہ دنیائے عیسائیت اور یہودیت بھی اپنے باطل و منسوخ شدہ دین کے بارے میں شدید تعصب کا شکار ہے۔ اس لئے کہ اگر وہ اپنے دین و مذہب کے معاملے میں تنگ نظر اور متعصب نہ ہوتی تو آج دنیا بھر کے مسلمان اور امت مسلمہ، ان کے ظلم وتشدد کا نشانہ نہ ہوتی؟
اس سے ذرا اور آگے بڑھئے! تو یہودیت کے تعصب کا اس سے بھی اندازہ ہوگا کہ انبیائے بنی اسرائیل کا قتل ناحق، ان کی اسی تنگ نظری کا شاخسانہ اور تشدد پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ورنہ بتلایا جائے کہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کا اس کے علاوہ کون سا جرم تھا؟ صرف یہی ناں کہ وہ فرماتے تھے کہ پہلا دین وشریعت اور کتاب منسوخ ہوگئی ہے اور اب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہمارے ذریعہ نیا دین اور نئی شریعت آچکی ہے اور اسی میں انسانیت کی نجات اور فوز وفلاح ہے۔
اسی طرح یہودیوں اور عیسائیوں کے ذمے قرض ہے، وہ بتلائیں کہ حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا علیہما السلام کو کیوں قتل کیا گیا؟ آخر ان معصوموں کا کیا جرم تھا؟ اور کس جرم کی پاداش میں ان کا پاک و پاکیزہ اور مقدس لہو بہایا گیا؟
اس کے علاوہ یہ بھی بتلایا جائے کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کے قتل اور ان کے سولی چڑھائے جانے کے منصوبے کیوں بنائے گئے؟
مسلمانوں کو تنگ نظر اور سزائے ارتداد کو ظلم کہنے والے پہلے ذرا اپنے دامن سے حضرات انبیائے کرام علیہم السلام اور لاکھوں مسلمانوں کے خون ناحق کے دھبے صاف کریں اور پھر مسلمانوں سے بات کریں۔
ج...... یہ تو طے شدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت و راہنمائی کے لئے حضرات انبیائے کرام علیہم السلام اور رسل علیہم السلام بھیجنے کا سلسلہ شروع فرمایا۔ جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی تو اس کی انتہاء، تکمیل اور اختتام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر ہوئی۔
سوال یہ ہے کہ ان تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے دین وشریعت اور کتب کی کیفیت یکساں تھی یا مختلف؟
١١
اگر بالفرض تمام انبیائے کرام کی شریعتیں ابدی و سرمدی تھیں تو ایک نبی کے بعد دوسرے نبی اور ایک شریعت کے بعد دوسری شریعت کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟
مثلاً اگر حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت ابدی و سرمدی تھی اور اس پر عمل نجات آخرت کا ذریعہ تھا تو اس وقت سے لے کر آج تک تمام انسانوں کو حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت کا تابع ہونا چاہئے تھا۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہودیت و عیسائیت کہاں سے آ گئی؟
لیکن اگر بعد میں آنے والے دین، شریعت، کتاب اور نبی کی تشریف آوری سے، پہلے نبی کی شریعت اور کتاب منسوخ ہوگئی تھی...... جیسا کہ حقیقت بھی یہی ہے تو دوسرے نبی کی شریعت اور کتاب کے آ جانے کے بعد سابقہ شریعت اور نبی کی اتباع پر اصرار و تکرار کیوں؟
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جب دوسرا نبی، شریعت اور کتاب آ جائے اور پہلا دین، شریعت اور کتاب منسوخ ہو جائے تو اس منسوخ شدہ دین، شریعت، کتاب اور نبی کے احکام پر عمل کرنا یا اس پر اصرار کرنا خود بہت بڑا جرم اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت کے مترادف ہے۔
اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کسی ملک کے قانون میں ترمیم کر دی جائے یا اس کو سرے سے منسوخ کر دیا جائے اور اس کی جگہ دوسرا جدید آئین و قانون نافذ کر دیا جائے۔ اب اگر کوئی عقل مند اس نئے آئین و قانون کی بجائے منسوخ شدہ دستور قانون پر عمل کرتے ہوئے نئے قانون کی مخالفت کرے تو اسے قانون شکن کہا جائے گا یا قانون کا محافظ و پاسبان؟
لہٰذا اگر کسی ملک کا سربراہ ایسے عقل مند کو رائج و نافذ جدید آئین و قانون کی مخالفت اور اس سے بغاوت کی پاداش میں باغی قرار دے کر بغاوت کی سزا دے تو اس کا یہ فعل ظلم و تعدی ہوگا؟ یا عدل و انصاف؟ کیا ایسے موقع پر کسی عقل مند کو یہ کہنے کا جواز ہوگا کہ اگر جدید آئین و قانون کو چھوڑنا بغاوت ہے تو منسوخ شدہ آئین و قانون کو چھوڑنا کیونکر بغاوت نہیں؟ اگر جدید آئین سے بغاوت کی سزا موت ہے تو قدیم و منسوخ شدہ آئین کی مخالفت پر سزائے موت کیونکر نہیں؟
...... جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ گزشتہ انبیائے کرام علیہم السلام کے ادیان اور ان کی شریعتیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ سطور میں عقلی طور پر ثابت کیا جا چکا ہے کہ سابقہ انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں پر عمل باعث نجات نہیں، ورنہ نئے دین، نئی شریعت اور نئے نبی کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی؟ تاہم سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ہر ایک نے اپنے بعد آنے والے دین و شریعت اور نبی کی آمد سے متعلق اپنی امت کو بشارت دی ہے اور ان کی اتباع کی تلقین بھی فرمائی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ”و اذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما
١٢
اتیتکم من کتب وحکمۃ ثم جاءک ولتنصرنہ (آل عمران: ٨١) ”اور جب کتاب اور علم، پھر آوے تمہارے پاس کوئی رسو رسول پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔“
اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی علاوہ خود قرآن کریم میں بھی موجود ہے کہ: ”وم احمد (الصف: ٦) ”اور خوشخبری سنانے وا ہے احمد ۔“
اسی طرح بائبل میں (استثناء باب ١٨) درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میر
اس طرح اسی باب میں مزید ہے: ”ا ٹھیک کہتے ہیں، میں ان کے لئے ان ہی کے بھا اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔“
چنانچہ سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام دین و شریعت قیامت تک کے لئے ہے اور ب و عیسائیت کو ہمارا چیلنج ہے کہ اگر کسی نبی نے ایسا فر برھانکم ان کنتم صادقین ”ہمارا دعویٰ ہ ثبوت پیش نہیں کر سکے گا۔
جب کہ اس کے مقابلے میں آقائے تمام انسانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا اور آپ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:
- ١...... ”قل یأیھا الناس انی رسول
کہہ: اے لوگو! میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی ط
- ٢...... ”وما ارسلنٰک الا رحمۃ للع
بھیجا سو مہربانی کی جہان کے لوگوں پر۔“
- ٣...... ”ماکان محمد ابا احد من رج
اتيتكم من كتب وحكمة ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران: ٨١) ”اور جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم، پھر آوے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتاوے تمہارے پاس والی کتاب کو تو اس رسول پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔﴿
اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت انجیل کے علاوہ خود قرآن کریم میں بھی موجود ہے کہ: ”ومبشراً برسول يأتى من بعدى اسمه احمد (الصف:٦) ”اور خوشخبری سنانے والا ایک رسول کی جو آئے گا میرے بعد، اس کا نام ہے احمد ۔﴿
اسی طرح بائبل میں (استثناء باب ١٨) میں ہے: ”خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا، تم اس کی سننا۔“
اس طرح اسی باب میں مزید ہے: ”اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں، میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔“
(استثناء باب ١٨، آیت ١٧، ١٨)
چنانچہ سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام میں سے کسی نے یہ نہیں فرمایا کہ میری نبوت اور دین وشریعت قیامت تک کے لئے ہے اور میں قیامت تک کا نبی ہوں۔ دنیائے یہودیت وعیسائیت کو ہمارا چیلنج ہے کہ اگر کسی نبی نے ایسا فرمایا ہے تو اس کا ثبوت لاؤ۔ ”قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين“ ہمارا دعویٰ ہے کہ صبح قیامت تک کوئی یہودی اور عیسائی اس کا ثبوت پیش نہیں کرسکے گا۔
جب کہ اس کے مقابلے میں آقائے دوعالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو قیامت تک کے تمام انسانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا اور آپ ﷺ کو اللہ کا آخری نبی اور خاتم النبیین فرمایا گیا۔
جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:
- ١...... ”قل يايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً (الاعراف: ١٥٨) ”تو
کہہ: اے لوگو! میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف۔﴿
- ٢...... ”وما ارسلنک الا رحمة للعلمین (الانبیاء: ١٠٧) ”اور تجھ کو جو ہم نے
بھیجا سو مہربانی کی جہان کے لوگوں پر۔﴿
- ٣...... ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين
١٣
(الاحزاب: ٤٠) ”محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے، لیکن رسول ہے اللہ کا اور خاتم النبیین ۔“
- ......٢ ”وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیراً ونذیراً (سبا: ٢٨)“ ﴿اور تجھ کو جو
ہم نے بھیجا، سو سارے لوگوں کے واسطے خوشی اور ڈر سنانے کو۔﴾
اس کے علاوہ آنحضرت ﷺ نے خود بھی فرمایا:
- ......١ ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج ٢ ص ٤٥)“ ﴿میں خاتم النبیین
ہوں، میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔﴾
- ......٢ ”انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم (ابن ماجہ ص ٢٩٧)“ ﴿میں آخری
نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔﴾
- ......٣ ”لو کان موسیٰ حیاً ما وسعہ الا اتباعی (مشکوٰۃ ص ٣٠)“ ﴿اگر موسیٰ
علیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔﴾
اب جب کہ قرآن کریم نازل ہو چکا اور حضرت محمد ﷺ تشریف لے آئے تو ثابت ہوا کہ آپ ﷺ، اللہ کے آخری نبی ہیں اور قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ کے دین و شریعت کا سکہ قیامت تک چلے گا۔ اس لئے جو شخص اس جدید و رائج قانون اور آئین الٰہی کی مخالفت کرے گا اور سابقہ منسوخ شدہ دین و شریعت یا کسی خود ساختہ مذہب جیسے موجودہ دور کے متعدد باطل و بے بنیاد ادیان و مذاہب ....... مثلاً: ہندو، پارسی، سکھ، ذکری، زرتشتی اور قادیانی وغیرہ ...... میں سے کسی کی اتباع کرے گا۔ وہ باغی کہلائے گا۔ دین و شریعت، قرآن وسنت اور عقل و دیانت کی روشنی میں اس کی سزا وہی ہو گی جو ایک باغی کی ہونی چاہئے اور وہ قتل ہے۔
اسی لئے قانون ارتداد پر قادیانیوں کی طرف سے یہ اعتراض خالص دجل و فریب اور دھوکا ہے کہ: ”کیا اس حکم سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ تبدیلی مذہب کی اجازت دینے سے حضرت کو مسلمانوں کی تعداد میں کمی کا خدشہ تھا۔ حضرت محمد نے مذہب کے فروغ کے لئے اور اسلام بذریعہ تبلیغ کے بجائے خاندانی یا موروثی اسلام کو ترجیح دی۔ کیونکہ بذریعہ آبادی اسلام پھیلانے کا یہ سب سے آسان اور مؤثر فارمولا تھا۔ جیسے جیسے آبادی بڑھے گی۔ مسلمان خود بخود بڑھتے چلے جائیں گے۔ جو تبدیلی چاہے اسے قتل کر دیا جائے ۔“
کیونکہ یہ قانون مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کے لئے نہیں۔ بلکہ اسلام دشمنوں کی راہ روکنے کے لئے ہے۔ اس لئے کہ کسی ملک میں انسداد بغاوت اور جرائم کی روک تھام کا قانون کسی
١٤
ملک کے شریف شہریوں کے خلاف نہیں۔ بلکہ بدمعاشی کی روک تھام کے لئے وضع کیا جاتا ہے۔ اگر قادیانی فلسفے کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ کسی جرم کی روک تھام پر قدغن لگانا یا اس پر کڑی سزاؤں کا نفاذ، اس کی علامت ہے کہ اس ملک کے شریف شہریوں کے بدمعاش اور جرائم پیشہ ہونے کے خوف سے وہ قوانین نافذ کئے گئے ہیں؟ حالانکہ مہذب دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر نیک دل حکمران اور شفیق باپ اپنی رعایا اور اولاد کو برائی کے نتائج سے آگاہ کرتا ہے۔ بعض اوقات از راہ خیر خواہی ان کو سزا بھی دیتا ہے اور معاشرے کے بدکرداروں کے خلاف قانون سازی کرتا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت سے سخت تدبیر کرتا ہے۔
اس سے ذرا مزید آگے بڑھئے تو اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی کفر و شرک پر عذاب وعقاب اور جہنم کی شدید سزا کا قانون مرتب فرما رکھا ہے۔ کیا نعوذ باللہ! اللہ تعالیٰ کو بھی اپنے ماننے والوں کی تعداد میں کمی کا اندیشہ تھا؟ اور اس نے بھی ان کی تعداد بڑھانے کے لئے اس فارمولا کو ترجیح دی ہے؟ اور بذریعہ آبادی اپنے ماننے والوں کی تعداد بڑھانے کے آسان اور مؤثر فارمولا پر عمل کیا ہے؟ کہ جیسے جیسے آبادی بڑھے گی۔ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے خود بخود بڑھتے چلے جائیں گے؟ بتلایا جائے کہ کیا ایسا کہنا عقل و دیانت کے مطابق ہے؟ قانون ارتداد پر اعتراض کرنے والوں کو سوچنا چاہئے اور سو بار سوچنا چاہئے کہ ان کا یہ اعتراض کہاں تک جاتا ہے؟
دوسرے لفظوں میں اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا میں سرے سے جرم و سزا کا کوئی قانون ہی نافذ نہیں ہونا چاہئے۔ اگر ایسا ہو تو کیا اس سے معاشرہ انارکی، طوائف الملوکی، انتشار، تشدد اور بدامنی کی لپیٹ میں نہیں آجائے گا؟ جو لوگ ایسا مطالبہ کریں کیا سمجھا جائے کہ وہ انسانیت کے دوست ہیں یا دشمن؟
خاندان نبوت پر زکوٰۃ کیوں حرام ہے؟
٣....... ”حضرت محمد ﷺ نے اپنے خاندان یعنی آل رسول کو زکوٰۃ کی رقم دینے سے کیوں منع کیا ہے؟ کیا اس سے خاندانی بڑائی اور تکبر کی نشاندہی نہیں ہوتی؟ کیا رسول ﷺ کا خاندان افضل اور باقی سب کمتر ہیں؟ بحیثیت انسان میں خاندانی افضلیت یا بڑائی تسلیم نہیں کرتا۔ خود حضرت محمد ﷺ کا قول ہے کہ تم میں افضل وہ ہے جس کے اعمال اچھے ہیں تو پھر یہ قول ان کے اپنے خاندان پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟“
جواب...... عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ اگر کسی کٹر سے کٹر مخالف میں بھی کوئی خوبی اور کمال نظر آئے تو اس کا اعتراف کرنا چاہئے۔ مگر باطل پرستوں کے ہاں اس کے برعکس یہ اصول ہے کہ
١٥
جب کسی سے پرخاش، بغض، عداوت یا دلی نفرت ہو، تو انہیں اس کی خوبیوں میں بھی سو، سو نقائص نظر آتے ہیں اور نہ صرف اس کے محاسن و خوبیوں کو نقائص و معائب بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بلکہ ان پر حرف گیری کی جاتی ہے۔ قادیانیوں کے مذکورہ اعتراض میں بھی ذات نبوی سے بغض و عداوت کا یہی فلسفہ کار فرما ہے۔
ورنہ اگر دیکھا جائے تو آنحضرت ﷺ نے اپنی ذات اور اپنے خاندان کے لئے زکوٰۃ و صدقات کو حرام قرار دے کر جہاں امت کے غرباء اور فقراء پر احسان فرمایا ہے۔ وہاں اپنی ذات اور اپنے خاندان کے لئے تنگی اور مشکلات پیدا فرمائی ہیں۔ اس لئے کہ:
- ١....... ”زکوٰۃ تو ہر صاحب نصاب مسلمان پر واجب ہے اور اس کی ادائیگی اس کے ذمہ فرض
ہے۔ اگر زکوٰۃ و صدقات واجبہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے خاندان کے لئے حلال ہوتی تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی کہ میری زکوٰۃ سید دو عالم ﷺ آپ کے خاندان اور آل و اطہار کے مصرف میں آئے۔ اس سے ذات نبوی اور آپ ﷺ کا خاندان تو آسودہ حال ہو سکتا تھا۔ مگر اس کے ساتھ، ساتھ مسلمان غرباء اور فقراء مالی تنگی اور تنگ دستی کا شکار ہو جاتے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے اپنی ذات، آل اولاد اور خاندان کے مفادات کی قربانی دی اور اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو مشقت میں ڈال کر امت مسلمہ کے غرباء اور فقراء کے منافع کو پیش نظر رکھا۔“
- ٢....... اسی طرح آپ ﷺ نے اپنے لئے اور اپنی آل و اطہار کے لئے ہدیہ و عطیہ قبول
کرنے میں بھی اپنی ذات اور اپنے خاندان کے مالی منافع کو مزید محدود فرما دیا ہے۔ کیونکہ ہدیہ و عطیہ دینے کی نہ تو ہر مسلمان میں استعداد و استطاعت ہوتی ہے اور نہ ہی ہر کسی کو اس کا ذوق ہوتا ہے۔ نتیجتاً آپ ﷺ کا خاندان مالی تنگی اور عسر کے ساتھ ساتھ زہد و تکشف کا خوگر رہے گا اور یہی آنحضرت ﷺ کی خواہش اور دلی دعا تھی۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ اس کی دعا فرمائی کہ: ”اللهم اجعل رزق آل محمد قوتاً (متفق عليه مشكوة ص ٤٤٠) “ ﴿اے اللہ! میرے خاندان کا رزق بقدر کفایت ہو۔﴾
- ٣....... دیکھا جائے تو آنحضرت ﷺ کا اپنی ذات اور اپنے خاندان کے لئے زکوٰۃ و صدقات
کو حرام قرار دینے کا راز یہ تھا کہ اگر آپ ﷺ خود اپنی ذات یا اپنے خاندان کے لئے صدقات وزکوٰۃ لینا حلال قرار دیتے تو احتمال تھا کہ اسلام دشمن اور قادیانیوں جیسے ملاحدہ وغیرہ یہ اعتراض کرتے کہ حضرت محمد ﷺ نے..... نعوذ باللہ! زکوٰۃ و صدقات کا حکم اپنی ذات اور اپنے خاندان کی مالی آسودگی کے لئے دیا ہے۔ جب ہی تو نعوذ باللہ! وہ زکوٰۃ پر پل رہے ہیں۔ اسی حکمت کے تحت
١٦
آنحضرت ﷺ نے زکوٰۃ کے مصرف کو بیان فرماتے وترد في فقرائهم (ابوداؤد ج ١ ص ١٠٩) ” کے فقراء پر خرچ کیا جائے۔﴾
چنانچہ اس حکم سے آپ ﷺ نے اس اع دیا اور واضح کر دیا کہ زکوٰۃ و صدقات کے اجراء سے نہیں ۔ بلکہ ان کے فوائد و منافع ، زکوٰۃ و صدقات د ہی کی طرف لوٹائے جائیں۔
- ٤....... چونکہ جو لوگ بلاضرورت مانگ کر یا زکوٰ
جاتے ہیں۔ عموماً ان میں تقویٰ ، طہارت ، حمیت ، غیر نہیں رہتے یا کم از کم کمزور پڑ جاتے ہیں اور عام مش ہمتیں پست ہو جاتی ہیں۔ وہ محنت ، مشقت اور کسب پسندی اور آرام طلبی ان کی طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے کر جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ایسے لوگ معاشرے ا لئے اندیشہ تھا کہ کہیں خاندان نبوت کے دشمن اس کو آ کر اپنی دنیا و آخرت نہ برباد کر بیٹھیں ۔
انسانوں کے دین و ایمان کی بربادی کے اپنی آل و اطہار اور خاندان کے لئے زکوٰۃ و صدقات پر معاشی وسعت کے دروازے بند کر کے ایک طر طرف بہت سوں کے ایمان و اسلام کو بربادی سے بچا
- ٥....... پھر اس کا بھی امکان تھا کہ کہیں میرا خاند
و صدقات کو اپنا حق نہ سمجھ بیٹھیں یا کہیں اس کی نگاہ جائے ۔ اس لئے زکوٰۃ و صدقات کو سرے سے ان پر ا
- ٦....... اس کے علاوہ عین ممکن ہے کہ خاندان ن
حکمت ہو کہ میرا خاندان ذلیل دنیا اور معمولی رزق ک جائے یا لوگوں کی زکوٰۃ و صدقات پر تکیہ کر کے حصول آپ ﷺ نے ان پر زکوٰۃ و صدقات کو حرام قرار د
١٧
آنحضرت ﷺ نے زکوٰۃ کے مصرف کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”توخذ من أغنيائهم وترد في فقرائهم (ابوداؤد ج ١ ص ١٥٩) ” (مال زکوٰۃ) ان کے اغنیاء سے لے کر ان کے فقراء پر خرچ کیا جائے۔“
چنانچہ اس حکم سے آپ ﷺ نے اس اعتراض و بدگمانی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا اور واضح کر دیا کہ زکوٰۃ و صدقات کے اجراء سے مقصود اپنی ذات یا خاندان کی معاشی آسودگی نہیں۔ بلکہ ان کے فوائد و منافع ، زکوٰۃ و صدقات دینے والے مسلمانوں کے غریب و فقیر متعلقین ہی کی طرف لوٹائے جائیں۔
- ٤....... چونکہ جو لوگ بلا ضرورت مانگ کر یا زکوٰۃ و صدقات پر زندگی گزارنے کے عادی ہو
جاتے ہیں۔ عموماً ان میں تقویٰ، طہارت، حمیت، غیرت، شجاعت اور دوسرے اخلاق فاضلہ برقرار نہیں رہتے یا کم از کم کمزور پڑ جاتے ہیں اور عام مشاہدہ بھی یہی ہے کہ عام طور پر ایسے لوگوں کی ہمتیں پست ہو جاتی ہیں۔ وہ محنت ، مشقت اور کسب مال سے جی چراتے ہیں۔ عیش کوشی، راحت پسندی اور آرام طلبی ان کی طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے۔ سستی و کاہلی ان کے رگ و ریشے میں سرایت کر جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ایسے لوگ معاشرے میں بھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔ اس لئے اندیشہ تھا کہ کہیں خاندان نبوت کے دشمن اس کو آڑ بنا کر ذات نبوی کے خلاف زبان طعن کھول کر اپنی دنیا و آخرت نہ برباد کر بیٹھیں۔
انسانوں کے دین و ایمان کی بربادی کے اسی خطرے کے پیش نظر آنحضرت ﷺ نے اپنی آل واطہار اور خاندان کے لئے زکوٰۃ و صدقات کو حرام قرار دے کر اپنی آل، اولاد اور خاندان پر معاشی وسعت کے دروازے بند کر کے ایک طرف ان کے لئے معاشی تنگی پیدا کی تو دوسری طرف بہت سوں کے ایمان واسلام کو بربادی سے بچالیا۔
- ٥....... پھر اس کا بھی امکان تھا کہ کہیں میرا خاندان محض قرابت نبوی کی وجہ سے لوگوں کی زکوٰۃ
و صدقات کو اپنا حق نہ سمجھ بیٹھیں یا کہیں اس کی نگاہ لوگوں کے مال، زکوٰۃ و صدقات پر ہی نہ ٹک جائے۔ اس لئے زکوٰۃ و صدقات کو سرے سے ان پر حرام قرار دے دیا گیا۔
- ٦....... اس کے علاوہ عین ممکن ہے کہ خاندان نبوت پر زکوٰۃ و صدقات حرام قرار دینے کی یہ
حکمت ہو کہ میرا خاندان ذلیل دنیا اور معمولی رزق کی خاطر مسلمانوں کی نگاہ میں ذلیل و خوار نہ ہو جائے یا لوگوں کی زکوٰۃ و صدقات پر تکیہ کر کے حصول رزق میں کاہل و سست نہ پڑ جائے۔ اس لئے آپ ﷺ نے ان پر زکوٰۃ و صدقات کو حرام قرار دے کر انہیں محنت و مجاہدے سے بقدر کفایت
١٧
رزق حاصل کرنے اور امور آخرت کی طرف متوجہ فرمایا۔
حیرت ہے کہ قادیانیوں کو ایک طرف آقائے دو عالم ﷺ کے اس زہد و تقشف اور اپنی ذات سے لے کر اپنی آل، اولاد اور خاندان کے لئے کفاف و قناعت کے طرز عمل پر تو اعتراض ہے۔ مگر دوسری طرف انہیں مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی کے اس بدترین کردار اور مال بٹورنے کے سو، سو غلیظ حیلوں، بہانوں اور بیسیوں قسم کے چندوں پر کوئی اعتراض نہیں۔
اگر قادیانی امت، تعصب اور عناد کی عینک اتار کر ایک لمحے کے لئے اپنے انگریزی نبی مرزا غلام احمد قادیانی کی مالی حالت پر غور کرتی تو اس پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی کہ سیالکوٹ کی عدالت میں کلرکی کرنے والے ایک معمولی شخص کی فیملی ’رائل فیملی‘ کیسے بن گئی؟ اور اس کا خاندان دنیا کے امیر ترین خاندانوں میں کیسے شامل ہو گیا؟ اور اس کے پاس اس قدر وافر مقدار میں مال و دولت کہاں سے آ گئی؟ اور ان کی زمینوں اور جائیدادوں کی اسٹیٹس کہاں سے نازل ہوگئیں؟
بلاشبہ قادیانی امت خود ہی مرزائی نبوت کی شریعت کی روشنی میں بتلا سکتی ہے کہ یہ سب قادیانی چندہ مہم کی برکت ہے۔ کیونکہ قادیانی شریعت میں تو قبر بھی چندے کے عوض فروخت ہوتی ہے۔ اس لئے کہ جو قادیانی وقف زندگی، وقف جدید، وقف فلاں، وقف فلاں کا چندہ نہ دے سکیں۔ انہیں قادیانی بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ جس کا معنی یہ ہے کہ جو قادیانی بہشتی مقبرے کا چندہ نہ دے پائے دوسرے لفظوں میں وہ جہنمی مقبرے میں دفن ہوگا۔ گویا مرزا قادیانی کو چندہ نہ دینے والے قادیانی اس دنیا میں ہی جہنمی ہیں۔
قادیانیو! حضرت محمد ﷺ اور آپ کے خاندان کے زکوٰۃ و صدقات استعمال نہ کرنے پر تو تمہیں اعتراض ہے۔ لیکن افسوس! کہ تمہیں اپنے نبی کے کنجروں کی کمائی ہضم کرنے اور اسے شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کر جانے پر کوئی اشکال نہیں، آخر کیوں؟ قادیانیو! تمہارا نبی زندگی بھر دونوں ہاتھوں سے چندہ سمیٹتا رہا اور ساری زندگی مالی تنگی کا رونا بھی روتا رہا۔ سوال یہ ہے کہ آج اس کی فیملی اور خاندان ’رائل فیملی‘ کیسے بن گیا؟
قادیانیو! تمہارے نبی کی ساری زندگی دوسروں کے مال پر نظر رہی۔ جب کہ ہمارے نبی آقائے دو عالم ﷺ کی زندگی دنیا داری سے دامن چھڑانے میں گزری۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ہمیں تمہارے مال کی نہیں ایمان و اعمال کی ضرورت ہے۔
قادیانیو! تمہارے ہاں غریب کی کوئی حیثیت نہیں۔ چندہ دینے والے تمہارے ہاں
١٨
بہشتی ہیں اور غریب جہنمی ہیں اور تم قبروں کو بیچتے ہو قبر فروشی کا کاروبار نہیں کیا۔ بلکہ ہمارے نبی اکرم ﷺ ن يترك ديناً فعلی قضاءه ومن ترك مالاً ف کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور اس پر کوئی قرضہ ہو ت مال چھوڑ جائے تو اس کا مال اس کے وارثوں کا ہے۔ ا ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: ”لا ص ٩٩٦) ”ہم جماعت انبیاء جو کچھ چھوڑ جاتے ہ نہیں ہوتا بلکہ وہ صدقہ ہے۔ ﴾
قادیانیو! بتاو ...... مرزا غلام احمد قادیانی ک خرچ کی گئی؟ اگر قادیانیوں میں ذرہ برابر بھی شرم وح امی ﷺ کی ذات ستودہ صفات پر اعتراض کرنے کی ب نبی، مرزا غلام احمد قادیانی پر دو حرف بھیج کر اس سے اعل
جہاد کیوں؟
س...... حضرت محمد ﷺ نے جہاد کا حکم کیوں دیا ا قرار دیا؟
جواب ...... دیکھا جائے تو اس اعتراض کے پیچھے بھ انگریز حکومت کی نمک خواری کا جذبہ کارفرما ہے۔ ورن حکم حضرت محمد ﷺ نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے مرزائیوں، قادیانیوں اور ان کے باوا غلام احمد قادیانی ک بلکہ ان کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
س...... اگر قادیانی بقرآن کریم کو مانتے ہوتے او اگر آنحضرت ﷺ نے از خود جہاد کا حکم دینا ہوتا تو کو مسلمان، کفار و مشرکین کے ظلم کی چکی میں پس رہے ت ہوتا تو آپ ﷺ اپنے جاں نثاروں کو صبر کی تلقین ن جاتی۔ آپ ﷺ اپنا آبائی گھر چھوڑ کر مدینہ منورہ کی ط بڑھ کر یہ کہ آپ ﷺ کفار اور مشرکین مکہ کے مظالم کیوا
١٩
بہشتی ہیں اور غریب جہنمی ہیں اور تم قبروں کو بیچتے ہو۔ جب کہ ہمارے نبی اور ان کے امتیوں نے قبر فروشی کا کاروبار نہیں کیا۔ بلکہ ہمارے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”فمن مات وعلیہ دین ولم یترك وفاءً فعلی قضاءہ ومن ترك مالاً فلورثته (بخاری ج٢ ص٩٩٧) ”جو اگر کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور اس پر کوئی قرضہ ہو تو اس کا میں (محمد ﷺ) ذمہ دار ہوں، اور اگر مال چھوڑ جائے تو اس کا مال اس کے وارثوں کا ہے۔“
ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: ”لا نورث، ما تركنا صدقة (بخاری ج٢ ص٩٩٦) ”ہم جماعت انبیاء جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ ہمارے خاندان میں بطور وراثت تقسیم نہیں ہوتا بلکہ وہ صدقہ ہے۔“
قادیانیو! بتاو...... مرزا غلام احمد قادیانی کی جائیداد اس کے خاندان کے علاوہ کہاں خرچ کی گئی؟ اگر قادیانیوں میں ذرہ برابر بھی شرم وحیاء یا عقل ودانش کی کوئی رمق ہوتی تو وہ نبی امی ﷺ کی ذات ستودہ صفات پر اعتراض کرنے کی بجائے دنیا کے پجاری اور انگریز کے حواری نبی، مرزا غلام احمد قادیانی پر دو حرف بھیج کر اس سے اظہار برأت کرتے۔
جہاد کیوں؟
- ٤...... حضرت محمد ﷺ نے جہاد کا حکم کیوں دیا؟ جہاد کو اسلام کا پانچواں ضروری رکن کیوں
قرار دیا؟
جواب...... دیکھا جائے تو اس اعتراض کے پیچھے بھی مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت کی انگریز حکومت کی نمک خواری کا جذبہ کارفرما ہے۔ ورنہ مرزائیوں اور تمام دنیا کو معلوم ہے کہ جہاد کا حکم حضرت محمد ﷺ نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اس لئے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ مرزائیوں، قادیانیوں اور ان کے باوا غلام احمد قادیانی کو اسلام اور قرآن پر نہ صرف یہ کہ ایمان نہیں بلکہ ان کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
- ٢...... اگر قادیانی، قرآن کریم کو مانتے ہوتے اور اللہ کا کلام سمجھتے ہوتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ
اگر آنحضرت ﷺ نے ازخود جہاد کا حکم دینا ہوتا تو مکی دور میں اس وقت اس کا حکم دیتے۔ جب مسلمان، کفار ومشرکین کے ظلم کی چکی میں پس رہے تھے۔ اگر جہاد کا معاملہ آپ ﷺ کے قبضے میں ہوتا تو آپ ﷺ اپنے جان نثاروں کو صبر کی تلقین نہ فرماتے۔ حبشہ کی ہجرت کی اجازت نہ دی جاتی۔ آپ ﷺ اپنا آبائی گھر چھوڑ کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کیوں فرماتے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ ﷺ کفار اور مشرکین مکہ کے مظالم کیوں برداشت کرتے؟
١٩
- ٣...... اس سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو قرآن کریم میں جس طرح
مسلمانوں کو جہاد پر آمادہ کرنے اور اس طرف متوجہ کرنے کے لئے فرمایا ہے۔ اس سے صاف اور واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم مسلمانوں کے لئے قلت تعداد کے باعث ثقیل تھا اور ان کے لئے جہاد کا حکم بجا لانا کسی قدر مشکل تھا۔ چنانچہ مندرجہ ذیل آیات میں مسلمانوں کو جہاد کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا۔
- الف...... ”اذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وان الله على نصرهم لقدير
(الحج: ٣٩) ”یہ حکم ہوا ان لوگوں کو جن سے کافر لڑتے ہیں۔ اس واسطے کہ ان پر ظلم ہوا اور اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔“
- ب...... ”يايها النبى حرض المؤمنين على القتال ان يكن منكم عشرون
صابرون يغلبوا مائتين وان يكن منكم مائة يغلبوا الفا من الذين كفروا بانهم قوم لا يفقهون (الانفال: ٦٥) ”اے نبی! شوق دلا مسلمانوں کو لڑائی کا، اگر ہوں تم میں بیس شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں دو سو پر، اور اگر ہوں تم میں سے سو شخص تو غالب ہوں ہزار کافروں پر اس واسطے کہ وہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔“
- ج...... ”كتب عليكم القتال وهو كره لكم وعسى ان تكرهوا شيئا وهو
خير لكم وعسى ان تحبوا شيئا وهو شر لكم والله يعلم وانتم لا تعلمون (البقره: ٢١٦) ”فرض ہوئی تم پر لڑائی اور وہ بری لگتی ہے تم کو اور شاید کہ تم کو بری لگے ایک چیز اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور شاید تم کو بھلی لگے ایک چیز اور وہ بری ہو تمہارے حق میں اور اللہ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے۔“
ان آیات اور اسی طرح کی دوسری متعدد آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ جہاد کا حکم آنحضرت ﷺ کی جانب سے نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ چونکہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد تھوڑی اور وہ ایک عرصہ سے کفار کے مظالم کی چکی میں پس رہے تھے اور مسلمان بظاہر کفار کی تعداد اور قوت وحشمت سے کسی قدر خائف بھی تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو جہاد پر آمادہ کیا جائے اور باور کرایا جائے کہ وہ کفار کی عددی کثرت سے خائف نہ ہوں بلکہ مسلمانوں کا ایک فرد کفار کے دس پر بھاری ہوگا۔
- ٤...... اسی طرح یہ بھی واضح کیا گیا کہ مسلمانوں کو یہ احساس بھی نہیں رہنا چاہئے کہ اب تک تو
ہمیں کفار کے مظالم پر صبر کی تلقین کی جاتی رہی اور ان کی جانب سے دی جانے والی تکالیف
٢٠
واذیتوں پر صبر و برداشت کا حکم تھا تو اب جوابی ، بلکہ اقدامی کارروائی کا حکم کیونکر دیا جارہا ہے؟ تو فرمایا گیا کہ یہ صبر و برداشت ایک وقت تک تھی ۔ اب اس کا حکم ختم ہو گیا ہے اور جہاد و قتال کا حکم اس لئے دیا جا رہا ہے کہ اب تمہارے صبر کا امتحان ہو چکا اور کفار کے مظالم کی انتہاء ہو چکی۔ نیز یہ کہ چونکہ اس وقت کفار، مشرکین اور ان کے مظالم، اشاعت اسلام میں رکاوٹ تھے اور وہ فتنہ پردازی میں مصروف تھے۔ اس لئے حکم ہوا کہ: ’وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة “ یعنی کفار سے یہاں تک قتال کرو کہ کفر کا فتنہ نابود ہو جائے۔
اسی طرح اس مضمون کو دوسری جگہ یوں ارشاد فرمایا گیا:
- الف ....... ”يأيها النبي جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم وماؤهم جهنم
وبئس المصير (التوبہ : ٧٣) ” اے نبی ! لڑائی کر کافروں سے اور منافقوں سے اور تند خوئی کر ان پر اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔﴾
- ب ...... ”قل ان كان آباؤكم وابناؤكم واخوانكم وازواجكم وعشيرتكم
واموال ن اقترفتموها وتجارة تخشون كسادها ومسكن ترضونها احب اليكم من الله ورسوله وجهاد في سبيله فتربصوا حتى يأتى الله بامره والله لا يهدى القوم الفسقين (التوبہ :٢٤) ” تو کہہ دے اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری، جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جن کو پسند کرتے ہو تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور لڑنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو۔ یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ رستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو۔ ﴾
ان آیات سے بھی واضح طور پر معلوم ہوا کہ جہاد کا حکم اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوا ہے۔ بلکہ اس میں شدت کی تاکید ہے اور جو لوگ اپنی محبوبات و مرغوبات کو چھوڑ کر جہاد کا حکم بجا نہیں لائیں گے۔ وہ اللہ کے عذاب کا انتظار کریں۔ بتلایا جائے کہ اگر اللہ کا رسول ﷺ ، صحابہ کرام یا مسلمان اس حکم الٰہی کو بجا لائیں اور نصوص قطعیہ کی وجہ سے اسے فرض جانیں تو اس میں اللہ کے نبی، صحابہ کرام اور مسلمانوں کا کیا قصور ہے؟ نیز یہ بھی بتلایا جائے کہ جو لوگ طبعی خواہش اور نفس کے تقاضے کے خلاف سب مرغوبات و محبوبات کو چھوڑ کر اللہ کا حکم بجا لائیں۔ وہ قابل طعن ہیں یا وہ جو دنیاوی مفادات اور انگریزوں کی خوشنودی کی خاطر اللہ کے حکم کو پس پشت ڈال دیں؟
بلاشبہ قادیانیوں کا یہ اعتراض ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ کے زمرے اور مصداق میں آتا ہے۔
٢١
- ٥...... اس سے ہٹ کر مشاہدات، تجربات، عقل اور دیانت کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو
اللہ کے باغی کفار، مشرکین اور معاندین کے خلاف جہاد یا اعلان جنگ عین قرین قیاس ہے۔ اس لئے کہ دنیا کے دو پیسے کے بادشاہوں میں سے کسی کے خلاف اس کی رعایا کا کوئی فرد اعلان بغاوت کر دے تو پہلی فرصت میں اس کا قلع قمع کیا جاتا ہے اور ایسے باغی کے خلاف پورے ملک کی فوج اور تمام حکومتی مشینری حرکت میں آجاتی ہے۔ تا آنکہ اس کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔
اور مہذب دنیا میں ایسے باغیوں سے کسی قسم کی رعایت برتنے کا کوئی روا دار نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ بلکہ اگر ایسے باغی گرفتار ہو جائیں اور سو بار توبہ بھی کرلیں تو ان کی جان بخشی نہیں ہوتی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی قوم، برادری یا افراد، خالق و مالک کائنات اور رب العالمین سے بغاوت کریں اور نعوذ باللہ اس کو چھوڑ کر وہ کسی دوسرے کو رب، الہ اور مالک مان لیں یا خالق کائنات کے احکام سے سرتابی کریں تو کیا اس رب العالمین اور مالک ارض و سما کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی فوج کے ذریعہ ان شوریدہ سروں کا علاج کرے اور ان کو ٹھکانے لگائے؟ دیکھا جائے تو جہاد کا یہی مقصد ہے اور یہ عدل وانصاف کے عین مطابق ہے۔
- ٦...... پھر جہاد صرف شریعت محمدی ہی میں شروع نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل دوسرے انبیاء کی
شریعتوں میں بھی مشروع تھا۔ جیسا کہ بائبل میں ہے: ”پھر ہم نے مڑ کر بسن کا راستہ لیا اور بسن کا بادشاہ عوج اور عی میں اپنے سب آدمیوں کو لے کر ہمارے مقابلے میں جنگ کرنے کو آیا اور خداوند نے مجھ سے کہا: اس سے مت ڈر۔ کیونکہ میں نے اس کو اور اس کے سب آدمیوں اور ملک کو تیرے قبضے میں کر دیا ہے۔ جیسا تو نے اموریوں کے بادشاہ سیحون سے جو حسبون میں رہتا تھا۔ کیا ویسا ہی تو اس سے کرے گا؟ چنانچہ خداوند ہمارے خدا نے بسن کے بادشاہ عوج کو بھی اس کے سب آدمیوں سمیت ہمارے قابو میں کر دیا اور ہم نے ان کو یہاں تک مارا کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہا اور ہم نے اسی وقت اس کے سب شہر لے لئے اور ایک شہر بھی ایسا نہ رہا جو ہم نے ان سے نہ لے لیا ہو...... اور جیسا ہم نے حسبون کے بادشاہ سیحون کے ہاں کیا ویسا ہی ان سب آباد شہروں کو مع عورتوں اور بچوں کے بالکل نابود کر ڈالا۔“
(استثناء باب ٣، آیت ١ تا ٣، ٦)
اسی طرح باب ٢٠، آیت ١٠ تا ١٤ میں ہے: ”جب تو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اس کے نزدیک پہنچے تو پہلے اسے صلح کا پیغام دینا اور اگر وہ تجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک
٢٢
تیرے لئے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے اگر وہ تجھ سے صلح نہ کریں بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو تو ا تیرے قبضے میں کر دے تو وہاں کے ہر مرد کو تلوار ۔ چوپایوں اور اس شہر کے سب مال لوٹ کو اپنے لے خداوند تیرے خدا نے تجھ کو دی ہو کھانا۔“
مال غنیمت میں آنے والی عورتیں لونڈیاں
- ٥...... ”مال غنیمت کے طور پر دشمن کی عورتیں‘
عورتیں انسان نہیں۔ بھیڑ بکریاں ہیں۔ جنہیں مال جائے؟“
جواب...... دشمن سے لڑائی، قتال اور جہاد کی صورت وہ قیدی کہلاتے ہیں۔ پھر اگر مسلمان فوج کے کچھ افرا قیدیوں سے تبادلہ کر کے مسلمانوں کو چھڑایا جائے گا، لونڈیاں قرار دے کر انہیں مسلمان فوجیوں میں بطور ما
”غلامی کا مسئلہ“
غلامی کے اس مسئلے پر عام طور پر اسلام انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور مسلمانوں کی جان اس عنوان سے عیسائی دنیا اور انسانی حقوق ہیں۔ قادیانیوں کا اس مسئلے پر اعتراض کرنا دراصل اس میں ہاں ملانے کے مترادف ہے۔ بلکہ ان کے منہ کی ہے۔ جب کہ قادیانیوں اور ان کے آقاؤں کو معلوم ہ نہیں فرمایا۔ بلکہ یہ قبل از اسلام عیسائیوں اور یہودیو لونڈیوں کا تذکرہ خود بائبل میں بایں الفاظ موجود ہے۔
- الف...... ”اور یعقوب نے لابن سے کہا کہ میری
تاکہ میں اس کے پاس جاؤں تب لابن نے اس جگہ ضیافت کی...... اور لابن نے اپنی لونڈی زلفہ، اپنی بیٹی لی
٢٣
تیرے لئے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باج گزار بن کر تیری خدمت کریں اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کریں بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو تو اس کا محاصرہ کرنا ، اور جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضے میں کر دے تو وہاں کے ہر مرد کو تلوار سے قتل کر ڈالنا۔ لیکن عورتوں اور بال بچوں اور چوپایوں اور اس شہر کے سب مال لوٹ کو اپنے لئے رکھ لینا اور تو اپنے دشمنوں کی اس لوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھ کو دی ہو کھانا۔“
مال غنیمت میں آنے والی عورتیں لونڈیاں کیوں؟
- ٥....... ”مال غنیمت کے طور پر دشمن کی عورتیں مسلمانوں کے لئے کیوں حلال قرار دیں؟ کیا
عورتیں انسان نہیں۔ بھیڑ بکریاں ہیں۔ جنہیں مالِ غنیمت کے طور پر بانٹا جائے اور استعمال کیا جائے؟“
جواب ....... دشمن سے لڑائی ، قتال اور جہاد کی صورت میں کفار ومشرکین کے جو افراد گرفتار ہو جائیں وہ قیدی کہلاتے ہیں۔ پھر اگر مسلمان فوج کے کچھ افراد مخالفین کے ہاتھوں گرفتار ہو جائیں تو کفار قیدیوں سے تبادلہ کر کے مسلمانوں کو چھڑایا جائے گا۔ اس کے علاوہ جو بچ رہیں گے ان کو غلام اور لونڈیاں قرار دے کر انہیں مسلمان فوجیوں میں بطور مال غنیمت تقسیم کر دیا جائے گا۔ اس کا نام ہے ”غلامی کا مسئلہ“
غلامی کے اس مسئلے پر عام طور پر اسلام دشمن یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور مسلمانوں کی جانب سے یہ انسانوں پر ظلم ہے۔
اس عنوان سے عیسائی دنیا اور انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار بھی اعتراض کیا کرتے ہیں۔ قادیانیوں کا اس مسئلے پر اعتراض کرنا دراصل اپنے عیسائی آقاؤں کی ہم نوائی اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے کے مترادف ہے۔ بلکہ ان کے منہ کی بات چھین کر اپنے منہ سے نکالنے کی مانند ہے۔ جب کہ قادیانیوں اور ان کے آقاؤں کو معلوم ہونا چاہئے کہ غلامی کا مسئلہ اسلام نے جاری نہیں فرمایا۔ بلکہ یہ قبل از اسلام عیسائیوں اور یہودیوں میں بھی جاری تھا۔ چنانچہ غلاموں اور لونڈیوں کا تذکرہ خود بائبل میں بایں الفاظ موجود ہے۔
- الف....... ”اور یعقوب نے لابن سے کہا کہ میری مدت پوری ہو گئی۔ سو میری بیوی مجھے دے
تاکہ میں اس کے پاس جاؤں تب لابن نے اس جگہ کے سب لوگوں کو بلا کر جمع کیا اور ان کی ضیافت کی ...... اور لابن نے اپنی لونڈی زلفہ، اپنی بیٹی لیاہ کے ساتھ کر دی کہ اس کی لونڈی ہو ۔“
(پیدائش باب ٢٩، آیت ٢١ تا ٢٤)
٢٣
- ب ........ (باب ٣٠، آیت ١٠) میں ہے: ”اور لیاہ کی لونڈی زلفہ کے بھی یعقوب سے ایک بیٹا
ہوا۔“
- ج ........ (استثناء باب ٢٣، آیت ١٥) میں ہے: ”اگر کسی کا غلام اپنے آقا کے پاس سے بھاگ کر
تیرے پاس پناہ لے تو تو اسے اس کے آقا کے حوالہ نہ کر دینا۔“
اس کے علاوہ قبل از اسلام مشرکین مکہ میں بھی غلامی کا رواج تھا۔ بلکہ یہود و نصاریٰ سے لے کر کفار و مشرکین مکہ تک سب ہی لوگ غلاموں اور لونڈیوں کو کسی انسانی سلوک کا مستحق نہیں سمجھتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ وہ لوگ ایک آزاد انسان کو پکڑ کر زبردستی غلام بنا کر بیچ دیتے تھے۔ جب کہ اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ نے اس کی شدید مذمت فرمائی اور قرآن کریم نے مسلمانوں کو غلاموں کے ساتھ اسی طرح کے حسن سلوک اور نیک برتاؤ کی تلقین اور تاکید فرمائی۔ جس طرح کے وہ اپنے والدین کے ساتھ سلوک کے روادار تھے۔ ملاحظہ ہو ارشاد الٰہی: ”واعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا وبالوالدين احساناً وبذى القربى واليتامى والمساكين والجار ذي القربى والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبيل وما ملكت ايمانكم ان الله لا يحب من كان مختالاً فخوراً (النساء:٣٦)“ ”اور بندگی کرو اللہ کی اور شریک نہ کرو اس کا کسی کو، اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قرابت والوں کے ساتھ اور یتیموں اور فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور اپنے ہاتھ کے مال یعنی غلام باندیوں کے ساتھ، بے شک اللہ کو پسند نہیں آتا اترانے والا بڑائی کرنے والا۔
دیکھا جائے تو اس آیت شریفہ میں دو قسم کے احکام ایک ہی جگہ اور ایک ہی سیاق و سباق میں بیان کئے گئے ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت اور دوسرے اس کی مخلوق سے حسن سلوک اور نیکی کا برتاؤ کرنا۔ پھر دوسرے حصے میں بطور خاص کچھ ایسے لوگوں کو مخصوص کر کے بیان کیا گیا ہے۔ جن کے ساتھ انسان نیکی میں بے اعتنائی برتتا ہے۔ تا کہ ان کی طرف زیادہ توجہ ہو۔ گویا ان دونوں احکام کو ایک ہی جگہ بیان کرنے کا مقصود یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، اس کا شریک نہ ٹھہرانا اسلام لانے کے لئے ضروری ہے۔ ویسے ہی اس کی مخلوق کے ساتھ نیکی کرنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ شریعت کے یہی دو اہم اجزاء ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق اس کی اطاعت عبادت اور دوسرے اس کی مخلوق کے ساتھ نیکی کا معاملہ۔
پس جہاں بائبل میں غلاموں کے ساتھ حسن سلوک سے متعلق ایک حرف بھی نہیں
٢٤
کہا گیا۔ قرآن کریم میں ان کے ساتھ سلوک کو اس ساتھ حسن سلوک کو۔ لہذا جیسے والدین کے ساتھ حسن ساتھ حسن سلوک بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی غلاموں کے ساتھ نیک برتاؤ کو ایک ہی آیت میں او جس سے واضح ہوتا ہے کہ غلامی کا مسئلہ اگرچہ پہلے ناگزیر وجوہات کی بناء پر باقی رکھا۔ مگر دنیائے عیسا اسلام نے مسلمانوں کو ان کے ساتھ حسن معاشرت کا کے ساتھ مسلمانوں کی جانب سے حسن سلوک کی اس انکار نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے عیسائی مصنف ہلبو اپنی سے اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ: ”یہ بالکل صاف غلاموں کے ساتھ نیکی کرنے کی بڑے زور کے ساتھ تا غلاموں کے ساتھ اس حسن برتاؤ اور اسلام صحابی رسول یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ: ”والذی ن الله والحج وبر امی لأجبت ان اموت وانا جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر جہا معاملہ نہ ہوتا تو میں پسند کرتا کہ میں غلامی کی حالت میں یہ ایک آزاد اور صحابی رسول کی آرزو اور تم کے ساتھ جس حسن سلوک کا حکم دیا اور جس طرح اس کی آپ کو غلام نہ بنا لیتا۔ چنانچہ غلاموں کے ساتھ حسن س ہے: ”ان اخوانكم خولكم جعلهم الله تحت فليطعمه مما يأكل وليلبسه مما يلبس ولا فاعينوهم (صحیح بخاری ج ١ ص ٩)“ ”یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے قبضے میں دیا ہے۔ بس جس قبضے میں ہو، اسے چاہئے کہ جو چیز وہ خود کھائے اسے بھی بھی اسی طرح کا پہنائے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ڈالو تو اس میں ان کی مدد کرو۔
٢٥
کہا گیا۔ قرآن کریم میں ان کے ساتھ سلوک کو اس قدر ضروری قرار دیا گیا ہے جیسے والدین کے ساتھ حسن سلوک کو۔ لہٰذا جیسے والدین کے ساتھ حسن سلوک ضروری ہے۔ ویسے ہی غلاموں کے ساتھ حسن سلوک بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت، والدین کے ساتھ حسن سلوک اور غلاموں کے ساتھ نیک برتاؤ کو ایک ہی آیت میں اور ایک ہی قسم کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ غلامی کا مسئلہ اگرچہ پہلے سے جاری تھا۔ جس کو اسلام نے بھی بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر باقی رکھا۔ مگر دنیائے عیسائیت اور کفر و شرک کی زیادتیوں سے ہٹ کر اسلام نے مسلمانوں کو ان کے ساتھ حسن معاشرت کا درس دیا اور اس کی تاکید کی۔ چنانچہ غلاموں کے ساتھ مسلمانوں کی جانب سے حسن سلوک کی اس اظہر من الشمس حقیقت کا کوئی دشمن اسلام بھی انکار نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے عیسائی مصنف ہیوز اپنی کتاب ”ڈکشنری آف اسلام“ میں کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ: ”یہ بالکل صاف امر ہے کہ قرآن شریف اور احادیث میں غلاموں کے ساتھ نیکی کرنے کی بڑے زور کے ساتھ تاکید کی گئی ہے۔“
غلاموں کے ساتھ اس حسن برتاؤ اور اسلام میں ان کی اسی اہمیت و عظمت کو دیکھ کر ایک صحابی رسول یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ: ”والذی نفسی بیده! لولا الجهاد فی سبیل الله والحج وبر امی لأحببت ان اموت وانا المملوك “ ﴿ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج اور اپنی ماں کی خدمت کا معاملہ نہ ہوتا تو میں پسند کرتا کہ میں غلامی کی حالت میں مروں۔ ﴾
یہ ایک آزاد اور صحابی رسول کی آرزو اور تمنا ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے غلاموں کے ساتھ جس حسن سلوک کا حکم دیا اور جس طرح اس کی تاکید فرمائی۔ اس کو دیکھ کر ایسا ہوگا جو اپنے آپ کو غلام نہ بنا لیتا۔ چنانچہ غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے: ”ان اخوانكم خولكم جعلهم الله تحت أيديكم فمن كان أخوه تحت يده فليطعمه مما يأكل وليلبسه مما يلبس ولا تكلفوهم ما يغلبهم فان كلفتموهم فاعينوهم (صحیح بخاری ج١ ص٩) “ ﴿یعنی یہ تمہارے بھائی تمہارے خدمت گار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے قبضے میں دیا ہے۔ بس جس شخص کا بھائی اس کے ہاتھ کے نیچے یعنی قبضے میں ہو، اسے چاہئے کہ جو چیز وہ خود کھائے اسے بھی وہی کھلائے اور جو لباس خود پہنتا ہے اسے بھی اسی طرح کا پہنائے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو اور اگر ان کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ڈالو تو اس میں ان کی مدد کرو۔ ﴾
٢٥
غرض غلامی کا رواج یہودیت، عیسائیت، ہندومت، تمام یورپی اقوام اور قبل از اسلام کفار و مشرکین سب کے ہاں تھا۔ مگر غلاموں کے ساتھ حسن سلوک، ان کے حقوق کی پاسداری اور ان کی آزادی کے فضائل جتنا اسلام اور پیغمبر اسلام نے ارشاد فرمائے، اتنا کسی دوسرے مذہب میں نہ تھے۔
دیکھا جائے تو اسلام کو غلامی کے مسئلے میں طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے والوں کا دامن اس مسئلے میں سب سے زیادہ داغدار ہے۔ کیونکہ اسلام کے سوا کسی مذہب میں بھی غلاموں کے اخلاقی اور معاشرتی کسی قسم کے حقوق کا ذرہ بھر تذکرہ نہیں تھا۔ بلکہ بائبل میں تو صرف غلاموں کو اس کی تلقین تھی کہ وہ اپنے آقاؤں کی ایسی اطاعت کریں۔ جیسے کوئی عیسائی اپنے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیا کرتا ہے اور غلاموں کو تلقین تھی کہ اگر کوئی آقا کے پاس سے بھاگ جائے تو واپس اپنے آقا کے پاس چلا جائے۔ اس کے مقابلے میں غلاموں کے آقاؤں کو ایسی کوئی ہدایت نہ تھی کہ وہ اپنے غلاموں کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں؟ اور نہ ہی اس پر کوئی قدغن تھی کہ کوئی شخص کسی آزاد کو غلام بنالے۔ یہی وجہ ہے کہ افریقہ کے نیگروؤں کو عیسائیوں کے ہاں پکڑ پکڑ کر غلام بنایا جاتا تھا۔ چنانچہ غلامی کی رسم ختم کرنے کے دعویداروں کے منہ پر اس سے زیادہ زور دار طمانچہ کیا ہوگا کہ انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کا مقالہ نگار لکھتا ہے کہ: ”١٤٤٤ء میں گونسلس نے دس غلام پرتگال کے شاہزادہ ہنری کو بطور تحفہ پیش کئے۔ ١٤٤٣ء میں نونو ٹرسٹن افریقہ کے لئے ایک مہم پر بحری راستے سے روانہ ہوا اور چودہ غلاموں کو لے کر واپس آیا۔ افریقہ کے لوگ فطرتاً ان حملوں کو ناپسند کرتے تھے۔ جو ان کو غلام بنانے کی غرض سے کئے جاتے تھے۔ یورپین تاجر اپنے حملوں کے عذر پیدا کرنے کے لئے اہل افریقہ میں آپس میں جنگ کرا دیتے تھے۔ ١٥٦٢ء میں سرجان ہاکنز گونیا کے لئے روانہ ہوا اور تین سو غلام حاصل کئے۔ پھر ان کو فروخت کر کے انگلینڈ چلا آیا۔ فرانسیسی، اسپینی اور ڈچ ان سب کے ہاں غلاموں کی تجارت کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ لیکن انگریزوں کے ہاں اس کا سراغ چارلس کے اس فرمان تک نہیں ملتا۔ جو اس نے ١٦٣١ء میں افریقہ کمپنی کے نام اس مضمون کا لکھا تھا کہ وہ برطانوی علاقوں کے لئے افریقی غلام مہیا کرے۔ ١٦٤٠ء میں تیرہویں لوئس نے ایک فرمان اس مضمون کا شائع کیا کہ تمام وہ افریقی جو فرانس کی نو آبادیات میں سکونت رکھتے ہیں۔ بہرحال غلام بنائے جاسکتے ہیں۔ ١٦٥٥ء میں کرومویل نے جمیکا کو اسپین والوں سے چھینا تو دیکھا کہ وہاں پندرہ سو سفید فام اور اتنے ہی نیگرو غلام موجود ہیں اور خود وہاں کے رہنے والوں کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ ١٦٧٢ء میں تیسری افریقہ کمپنی قائم ہوئی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ
٢٦
٣٣
برطانوی مغربی ہندوستانی نو آبادیات میں تین ١٦٨٩ء کے درمیان صرف دس برس کی مدت میں کم نو آبادیات میں آباد کئے جاتے رہے۔ فرانس سرگزشت لکھتے ہوئے بیان کیا ہے کہ: ”اس جگہ کی کو یہاں لایا جاتا ہے۔ یہ لوگ یہاں بالکل مادر زاد ان کا منہ کھول کھول کر دیکھتے ہیں اور ان کا امتحان ١٧١٣ء میں انگریزوں اور اسپینیوں کے درمیان ا بات کا وعدہ کیا تھا کہ اسپین والوں کو تیس سال تک گا۔ غلاموں کی تجارت سے جو نفع حاصل ہوتا تھا ان حصے کے شریک تھے۔ افریقہ کے غلاموں کی تجا ١٧٨٨ء میں جب غلامی کے انسداد کے لئے پارلیم ہے کہ اس وقت افریقہ سے ہر سال دولاکھ غلام ب امریکہ وغیرہ اور بقیہ افریقہ کے مشرقی ساحل سے اور مصر لے جائے جاتے تھے۔“
(بحوالہ اسلام
غلامی کو ختم کرنے کے نام نہاد دعویدارا پاس اس وقت بھی پچاس لاکھ غلام موجود تھے۔ ب معدوم ہو چکا تھا۔ چنانچہ ١٦ اپریل ١٩٣٨ء کے اخ میں جمعیت اقوام کی مشورہ کمیٹی جو چند ممبران پر مشتم کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ اس نے ٣ مارچ سے ١٢ لیگ اسمبلی لارڈ سیل نے برطانوی حکومت کی نمائند کم پانچ ملین یعنی پچاس لاکھ غلام موجود ہیں۔ یہ ب اقوام کی مجلس میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ دستخط کر علاقوں میں غلاموں کی تجارت کو تشدد آمیز حکمت حکومتوں میں امریکا کی ریاست ہائے متحدہ بھی ہ ضرور ہوا ہے کہ غلام حاصل کرنے کے لئے جو باقاع
برطانوی مغرب کی ہندوستانی نوآبادیات میں تین ہزار غلام سالانہ مہیا کئے جائیں۔ ١٦٧٩ء اور ١٦٨٩ء کے درمیان صرف دس برس کی مدت میں کم وبیش ساڑھے چار ہزار غلام ہر سال برطانوی نوآبادیات میں آباد کئے جاتے رہے۔ فرانس کرو نے ٧ مارچ ١٦٨٧ء کو ان غریبوں کی سرگزشت لکھتے ہوئے بیان کیا ہے کہ: ”اس جگہ کی سب سے بڑی تجارت ان غلاموں کی ہے جن کو یہاں لایا جاتا ہے۔ یہ لوگ یہاں بالکل مادر زاد برہنگی کے ساتھ آتے ہیں اور ان کے گاہک ان کا منہ کھول کھول کر دیکھتے ہیں اور ان کا امتحان گھوڑوں اور چوپاؤں کی طرح کرتے ہیں۔“ ١٧١٣ء میں انگریزوں اور اسپینیوں کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس کی رو سے انگلینڈ نے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ اسپین والوں کو تیس سال تک برابر چار ہزار آٹھ سو غلام سالانہ مہیا کرتا رہے گا۔ غلاموں کی تجارت سے جو نفع حاصل ہوتا تھا انگلینڈ اور اسپین دونوں کے بادشاہ اس میں ایک حصے کے شریک تھے۔ افریقہ کے غلاموں کی تجارت کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ یہاں تک کہ ١٧٨٨ء میں جب غلامی کے انسداد کے لئے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا گیا تو اندازہ کیا جاتا ہے کہ اس وقت افریقہ سے ہر سال دو لاکھ غلام لے جائے جاتے تھے۔ جن میں سے ایک لاکھ امریکہ وغیرہ اور بقیہ افریقہ کے مشرقی ساحل سے ایران اور کچھ تھوڑے سے وسط افریقہ سے ترکی اور مصر لے جائے جاتے تھے۔“
(بحوالہ اسلام میں غلامی کا تصور ، مولانا سعید احمد اکبر آبادی ص ٤٦)
غلامی کو ختم کرنے کے نام نہاد دعویداروں کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود ان کے پاس اس وقت بھی پچاس لاکھ غلام موجود تھے۔ جب کہ مسلمانوں کے ہاں غلامی کا تصور بھی کا معدوم ہو چکا تھا۔ چنانچہ ١٦؍ اپریل ١٩٣٨ء کے اخبار ”نیشنل کال“ کی ایک خبر ملاحظہ ہو: ”جنیوا میں جمعیت اقوام کی مشورہ کمیٹی جو چند ممبران پر مشتمل ہے اور جو غلامی کے مسئلے پر غور و خوض کرنے کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ اس نے ٣؍ مارچ سے ١٢؍ اپریل ١٩٣٨ء تک اپنے اجلاس کئے۔ ١٩٣٨ء لیگ اسمبلی میں لارڈ سیسل نے برطانوی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا میں اب بھی کم از کم پانچ ملین یعنی پچاس لاکھ غلام موجود ہیں۔ یہ سب اس کے باوجود ہے کہ ١٩٢٦ء میں جمعیت اقوام کی مجلس میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ دستخط کرنے والی حکومتیں جن کی تعداد ٢٨ تھی۔ اپنے اپنے علاقوں میں غلاموں کی تجارت کو تشدد آمیز حکمت عملی سے کام لے کر بالکل ختم کر دیں گی۔ ان حکومتوں میں امریکا کی ریاست ہائے متحدہ بھی شامل تھیں۔ اس مشورہ کمیٹی کے تقرر کا یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ غلام حاصل کرنے کے لئے جو باقاعدہ اور منظم حملے ہوتے تھے وہ رک گئے۔“
(بحوالہ اسلام میں غلامی کا تصور ص ٤٨)
٢٧
قارئین اور خصوصاً قادیانی بتلائیں کہ غلامی کی لعنت کو رواج دینے والے مسلمان ہیں؟ یا ان کے آقا عیسائی؟ اسلام میں غلامی کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ مسلمان فوج کفار سے جنگ کرے اور کفار مرد و خواتین گرفتار ہو کر آئیں تو انہیں غلام ولونڈی بنالیا جائے اور بس۔ اس کے علاوہ اسلام نے دوسری تمام صورتوں کو ناجائز وحرام قرار دیا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو اس صورت میں بھی غلامی کا طوق کفار نے اپنے گلے میں خود ہی ڈالا ہے۔ ورنہ پیغمبر اسلام ﷺ کی، مسلمان فوجیوں کو یہ ہدایت تھی کہ کسی علاقے کے فتنہ پرور کفار سے جہاد کے وقت عین میدان کارزار میں بھی پہلے انہیں اسلام کی دعوت دی جائے۔ مان جائیں تو فبہا ورنہ دوسرے نمبر پر ان کو کہا جائے کہ بے شک تم اپنے مذہب پر رہو۔ مگر اسلامی مملکت کے پرامن شہری بن کر رہو اور اسلامی حکومت کو جزیہ اور ٹیکس دیا کرو۔ چنانچہ اگر وہ اس کے لئے راضی ہو جائیں تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ان کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں پر فرض ہے۔ جزیہ دینے کے باوجود بھی اگر کسی مسلمان نے ان کے ساتھ زیادتی کی تو پیغمبر اسلام ﷺ کا فرمان ہے کہ: ”الا ! من ظلم معاهداً أو تنقصه أو کلفه فوق طاقته أو أخذ منه شيئاً بغير طيب نفس فأنا حجيجه يوم القيامة (ابوداؤد ج ٢ ص ٧٧)“ یعنی کل قیامت کے دن میں اس غیر مسلم ذمی کی طرف سے بارگاہ الہی میں زیادتی کرنے والے مسلمان کے خلاف وکیل صفائی کا کردار ادا کروں گا۔
گویا اس سے واضح ہوا کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ نے کفار و مشرکین کی حریت و آزادی پر قدغن لگانے اور ان کو غلام بنانے کی حتی الامکان ممانعت فرمائی ہے۔ لیکن اگر کوئی کوتاہ قسمت غیر مسلم، اسلام کی طرف سے دی گئی ان لازوال سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ خود ہی اپنی حریت و آزادی کا دشمن اور اسے ختم کرنے کا ذمہ دار ہے۔
اس کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی بادشاہ یا حکومت نے اعلان کیا ہو کہ جو شخص ناحق قتل اور ڈاکہ زنی کا مرتکب پایا گیا۔ اسے زندگی بھر جیل میں رہنا ہوگا۔ اب اگر کوئی بد نصیب حکم شاہی کے علی الرغم ان جرائم کا مرتکب پایا جائے اور حکومت اسے عمر قید کی سزا سنا دے تو اس سزا کا ذمہ دار وہ مجرم ہے یا حکومت وقت؟ کیا ایسی صورت میں حکومت قابل ملامت ہے یا وہ مجرم؟ بہر حال غلامی کا رواج تو پہلے سے ہی تھا۔ اب مسلمانوں کے سامنے دو شکلیں تھیں یا تو وہ بھی جنگ میں گرفتار ہو کر آنے والے قیدیوں کو سابقہ ظالم اقوام کی طرح یکسر قتل کر دیتے یا انہیں
٢٨
زندہ رکھ کر ان کو دنیا کی زندگی سے نفع اٹھانے اور آخرت کے معاملے میں غور وفکر کا موقع دیتے۔ ظاہر ہے کہ دوسری صورت ہی قرین عقل وقیاس ہے۔
پھر غلاموں کو زندہ رکھ کر یا تو یورپی اقوام کی طرح ان کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا جاتا۔ یا پھر انہیں مسلم معاشرے کا حصہ بننے ، مسلمانوں میں شادی بیاہ کرنے اور اسلامی معاشرے کی لازوال خوبیوں سے سرفراز ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا۔ چنانچہ اسلام نے غلاموں کے ساتھ شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نکاح کے معاملے میں مسلمان غلاموں کو مشرکین پر اور مسلمان لونڈیوں کو کافر و مشرک خواتین پر ترجیح دی (البقرہ:٢٢١،٢٢٢) اور ان کے حقوق بھی متعین فرمائے۔
عیسائیوں اور قادیانیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ مسلمان ، لونڈیوں کے ساتھ بلا نکاح جنسی تعلقات کیوں قائم کرتے ہیں؟
اگر کوئی مسلمان یہ اعتراض کرتا تو شاید قابل سماعت ہوتا۔ مگر وہ لوگ، جن کی جنسی بے راہ روی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو۔ جن کے ہاں نکاح کی بجائے زنا کاری اور بدکاری کو قانونی تحفظ حاصل ہو اور جن کے بڑے، چھوٹے اس بلا میں گرفتار ہوں ان کو اس اعتراض کا کیا حق پہنچتا ہے؟
بہر حال ہم اس کا بھی جواب دیئے دیتے ہیں۔
- الف ....... ہم نے گزشتہ صفحات میں بائبل کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ: ”لابن نے اپنی
لونڈی زلفہ، اپنی بیٹی لیاہ کے ساتھ کر دی کہ اس کی لونڈی ہو ۔“
اسی طرح ” اور لیاہ کی لونڈی زلفہ کے بھی یعقوب سے ایک بیٹا ہوا۔“ بتلایا جائے اس میں لونڈی سے نکاح کا کہاں تذکرہ ہے؟ ایسے ہی حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں وارد اس تصریح میں کہ : ” سلیمان کی سات سو بیویاں اور تین سو کنیزیں تھیں ۔“ (سلاطین :١١-٣) میں بیویوں اور کنیزوں میں فرق کیوں کیا گیا ؟ اور کنیزوں سے ان کے نکاح کا کہاں تذکرہ ہے؟
- ب ....... غلام اور لونڈیاں جب مسلمانوں کے قبضے میں آ گئیں تو ظاہر ہے ان کا اپنے اپنے
سابقہ ملک و قوم اور رشتہ داروں سے تعلق منقطع ہو گیا۔ اب یا تو انہیں یوں ہی جنگی قیدیوں کی طرح زندگی بھر اذیت میں رکھا جائے اور ان کے جنسی تقاضوں کو یکسر نظر انداز کر دیا جائے۔ جو بالکل ناجائز اور ظلم ہوگا۔ یا پھر انہیں بدکاری وزنا کاری کی اجازت دے دی جائے۔ جس سے شاید ان کی جنسی تسکین تو ہو جائے گی ۔ مگر اس سے جہاں ان کی دنیا و آخرت برباد ہو گی اور وہ معاشرے پر بدنما داغ ہوں گے ۔ وہاں وہ مسلم معاشرے میں گندگی ، غلاظت اور معاشرتی بے راہ روی کا ذریعہ
٢٩
بھی بنتے۔ اس لئے اسلام نے تباین دارین ....... مسلم و کافر ملک کے درمیان دوری ..... کو طلاق یا بیوی کے قائم مقام تصور کرتے ہوئے استبرائے رحم ...... رحم کی صفائی ..... کا حکم دے کر لونڈیوں کے مالکوں کو حکم دیا کہ یا تو ان کا کسی اچھی جگہ عقد نکاح کر دیا جائے یا پھر حق ملکیت کی بناء پر ان کی جنسی تسکین کا خود انتظام کریں۔ اس سے جہاں ان کی فطری ضرورت پوری ہو گی۔ وہاں اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جب آقا اور مالک اپنی باندی اور مملوکہ سے گھر کے تمام کاموں میں امداد لے گا اور ساتھ ہی اس کے ساتھ ہم بستر ہوگا تو نفسیاتی طور پر باندی کی حیثیت بالکل ایک خادمہ اور رکھیل کی سی نہیں رہے گی۔ بلکہ وہ اس کے ساتھ ایک گونہ انسیت و محبت محسوس کرے گا اور یہ احساس مالک و مملوکہ کے تعلقات کو خوشگوار بنانے کا باعث ہوگا۔ پھر اگر اس باندی سے بچہ بھی پیدا ہو گیا تو یہ ام ولد یعنی اس کے بچوں کی ماں بن جائے گی اور مالک کی موت پر وہ آزاد ہو جائے گی۔ جس سے معلوم ہوا کہ مالک کے باندی سے اس جنسی تعلق کا سراسر فائدہ باندی ہی کو ہے اور اس کے حق میں ہی مفید ہے۔ کیونکہ اس سے باندی کی آزادی کی ایک راہ نکلتی ہے اور وہ اپنے آقا و مالک کے گھر میں گھر کی مالک کی حیثیت سے رہنے کی حق دار ہو گی۔
بتلایا جائے قادیانیت کا پسندیدہ عیسائی معاشرہ کسی باندی کے ساتھ اس حسن سلوک کا روادار ہے؟ نہیں، قطعاً نہیں ..... بلکہ وہ تو اپنی منکوحہ کو بھی داشتہ کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مغرب اور مغربی معاشرے میں نکاح پر زنا کو ترجیح حاصل ہے۔
- ج ....... غلام اور باندی کے اپنے آقا و مالک کے ساتھ رہنے میں ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ان
کے اخلاق کی تربیت ہوگی اور ان کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سوائے چند استثنائی صورتوں کے، مسلمانوں کے پاس آنے والے کافر و مشرک غلاموں اور لونڈیوں میں سے نہ صرف یہ کہ سب مسلمان ہو گئے۔ بلکہ ان میں سے بہت سے حضرات کو مسلمانوں کی سیادت و امارت کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ حضرت اسامہ بن زید جو جیش اسامہ کے امیر تھے۔ ایک غلام زادے تھے۔ اسی طرح حضرت عمرؓ کے نمائندہ اور شاہ مصر کے دربار میں جانے والے وفد کے سردار حضرت عبادہؓ حبشی اور غلام تھے۔ اس کے علاوہ حضرت عمر بن خطابؓ کا بیت المقدس کی فتح کے موقع پر اپنے غلام کو سواری پر سوار کر کے اس کی سواری کے ساتھ ساتھ بھاگنا، کیا اس بات کی کافی دلیل نہیں کہ اسلام اور پیغمبر اسلام نے غلاموں کے بارے میں مسلمانوں کو ہدایات اور ان کے حقوق کی پاسداری کی خصوصی تلقین فرمائی تھی؟ جس سے ان کی حیثیت بلاشبہ کسی آزاد سے کچھ کم نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض غلاموں کو جب ان کے مالک کی طرف سے آزادی کی اطلاع ملتی تو
٣٠
وہ بجائے خوش ہونے کے اس پر روتے تھے کرتے بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے اور آپﷺ آپﷺ نے ان کو والدین کے ساتھ جانے اور والدین کے ساتھ جانے پر غلامی اور حضورﷺ بھی عیسائیوں ، قادیانیوں کو مسلمانوں کے خلا مذہب کے نام پر قتل و غارت گری کیا
- ٦ ....... ”مذہب کے نام پر قتل و غارت گر
رکن بنانے کی سزا ماضی کے لاکھوں کروڑوں مال سے محروم ہو کر بھگت چکے ہیں اور عراق ہیں۔ آخر اس ”جہاد“ کو بذریعہ اجتہاد ”جائ نہیں کیا جاتا ؟“
جواب ...... اس سوال کا جواب کسی قدر دیا جا چکا ہے کہ جہاد کا حکم حضرت محمدﷺ نے نہیں نیز یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ اسلام لئے دیا ہے اور یہ عقل و انصاف کے عین مطا اور بغاوت کرنے والوں کی سرکوبی ، ان کے لاکھوں انسانوں کا خون بہا سکتے ہیں تو مالک طاعت و عبادت کے لئے پیدا فرمایا تھا۔ اگر اس ذات کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے نمائند اسلامی جہاد کے نام پر نام نہاد قتل کہ پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کی پوری ٢٣ ساڑھے تین سو مسلمان شہید ہوئے اور اس مقابلے میں ان کو اسلام دشمنوں کی انسانیت اور انہیں یہ کیوں یاد نہیں رہتا کہ مسلمانوں کو نے کس قدر انسانوں کو تہ تیغ کیا ہے؟ ہیروشیما، ناگاساکی میں لاکھوں
وہ بجائے خوش ہونے کے اس پر روتے تھے۔ حضرت زیدؓ کو جب ان کے والدین تلاش کرتے کرتے بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے ان کو ساتھ لے جانے کی درخواست کی اور آپ ﷺ نے ان کو والدین کے ساتھ جانے اور نہ جانے کا اختیار دے دیا تو انہوں نے آزادی اور والدین کے ساتھ جانے پر غلامی اور حضور ﷺ کی خدمت میں رہنے کو ترجیح دی؟ کیا اب بھی عیسائیوں، قادیانیوں کو مسلمانوں کے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک پر اعتراض کا حق ہے؟
مذہب کے نام پر قتل وغارت گری کیوں؟
- ٦...... "مذہب کے نام پر قتل وغارت گری کو جہاد قرار دے کر اسے اسلام کا پانچواں بنیادی
رکن بنانے کی سزا ماضی کے لاکھوں کروڑوں معصوم انسان بے شمار جنگوں کے نتیجے میں اپنی جان مال سے محروم ہو کر بھگت چکے ہیں اور عراق، افغانستان جنگ کی شکل میں آج بھی بھگت رہے ہیں۔ آخر اس ’’جہاد‘‘ کو بذریعہ اجتہاد ’’جارحیت‘‘ کے بجائے ’’دفاع‘‘ کے لئے کیوں استعمال نہیں کیا جاتا؟"
جواب...... اس سوال کا جواب کسی قدر چوتھے سوال کے جواب کے ضمن میں آچکا ہے اور ثابت کیا جاچکا ہے کہ جہاد کا حکم حضرت محمد ﷺ نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔
نیز یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ اسلام نے جہاد کا حکم کفر وشرک کے فتنے کے استیصال کے لئے دیا ہے اور یہ عقل وانصاف کے عین مطابق ہے۔ اگر دنیا کے دو پیسے کے حکمران، اپنی مخالفت اور بغاوت کرنے والوں کی سرکوبی، ان کے فتنے کو ختم کرنے اور اپنے اقتدار کے تحفظ کے لئے لاکھوں انسانوں کا خون بہاسکتے ہیں تو مالک ارض وسما کی ذات، جس نے جنوں اور انسانوں کو اپنی طاعت وعبادت کے لئے پیدا فرمایا تھا۔ اگر وہ جن وانس اس سے بغاوت کا ارتکاب کریں تو کیا اس ذات کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے نمائندوں اور اپنی سپاہ کے ذریعہ ان کی سرکوبی کرے؟
اسلامی جہاد کے نام پر نام نہاد قتل وغارت گری کا طعنہ دینے والوں کو شاید یہ یاد نہیں رہا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی پوری ٢٣ سالہ نبوی تاریخ گواہ ہے کہ اس عرصے میں صرف ساڑھے تین سو مسلمان شہید ہوئے اور اس سے کچھ زیادہ کفار بھی کام آئے۔ نامعلوم اس کے مقابلے میں ان کو اسلام دشمنوں کی انسانیت کشی کی تاریخ کے سیاہ کارنامے کیوں بھول جاتے ہیں؟ اور انہیں یہ کیوں یاد نہیں رہتا کہ مسلمانوں کو دہشت گرد اور جہاد کو دہشت گردی کہنے والے درندوں نے کس قدر انسانوں کو تہہ تیغ کیا ہے؟
ہیروشیما، ناگاساکی میں لاکھوں انسانوں کا قتل عام، بوسنیا، ہرزیگووینا میں مختصر سے
٣١
عرصے میں پانچ لاکھ انسانوں کو موت کی نیند سلانا ، فلسطین ، بیروت ، افریقہ، افغانستان ، عراق اور لبنان کی حالیہ تباہی کن کے ہاتھوں ہورہی ہے؟
قادیانیو! اپنے آقاؤں سے پوچھو ، کہ اس وقت روس ، امریکا اور دنیا بھر کی عیسائیت و یہودیت کون سے جہاد کے نام پر انسانیت کشی کا کارنامہ انجام دے رہی ہے؟ کیا جرمنی کے ہٹلر کی انسان کشی بھی جہاد کے نام پر تھی؟ اسی طرح ویت نام اور وسط ایشیا میں آدم دشمنی کس نے کی؟ کیا اس کو بھی اسلام اور اسلامی جہاد کا نتیجہ قرار دیا جائے گا؟
قادیانیو! اگر تمہارے اندر ذرہ بھر شرم و حیا کی رمق اور انسانیت سے خیر خواہی ہے تو ڈوب مرو اور جہاد کو مطعون کرنے کے بجائے اپنے آقاؤں سے کہو کہ وہ انسانیت کشی کے اس بدترین کھیل سے باز آجائیں۔
دیکھا جائے تو جہاد کا مقدس فریضہ ایسے ہی درندوں کو سبق سکھانے اور ان کی راہ روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ مگر چونکہ تمہارے آقاؤں نے کہا کہ یہ دہشت گردی ہے۔ اس لئے تم اور تمہارے باوا مرزا غلام احمد قادیانی اس کو حرام قرار دینے کے لئے گزشتہ سو سال سے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کرنے میں مصروف ہو۔
مگر میرے آقا کا فرمان ہے کہ: ”الجهاد ماض الى يوم القيامة (مجمع الزوائد ج ١ ص ١١١)“ جہاد قیامت تک جاری رہے گا اور اس کے ذریعہ مسلمان، عیسائیوں اور قادیانیوں کی راہ روکتے رہیں گے۔
عورت کی گواہی نصف کیوں؟
- ٧...... ”حضرت محمد نے مرد کے مقابلے میں عورت کی گواہی آدھی کیوں قرار دی؟“
جواب...... یہ اعتراض بھی قادیانیوں کی دنائت ، سفاہت، جہالت اور لاعلمی بلکہ ان کی کوڑھ مغزی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس لئے کہ مرد کے مقابلے میں عورت کی آدھی گواہی کا حکم، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ حکم الہٰی ہے۔ چنانچہ ارشاد الہٰی ہے: ” واستشهدوا شهيدين من رجالكم، فان لم يكونا رجلين فرجل وامراتن ممن ترضون من الشهداء ان تضل احدهما فتذكر احدهما الاخرى (البقرة: ٢٨٢) ﴿اور گواہ کر دو دو شاہد اپنے مردوں میں سے، پھر اگر نہ ہوں دومرد تو ایک مرد اور دوعورتیں ان لوگوں میں سے کہ جن کو تم پسند کرتے ہو۔ گواہوں میں تاکہ اگر بھول جائے ایک ان میں سے تو یاد دلاوے اس کو وہ دوسری۔﴾
٣٢
بلاشبہ اللہ تعالیٰ، مردوں اور عورتوں کے مالک وخالق ہیں اور وہ ان کی ظاہری وپوشیدہ صلاحیتوں، عقل وشعور اور حفظ واتقان کو خوب جانتے ہیں۔ جب انہوں نے ہی عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں آدھی قرار دی تو کسی ایسے انسان کو، جو اللہ تعالیٰ کو خالق ومالک مانتا ہو، یا کم از کم اس کی ذات کا قائل ہو۔ اس کو اس حکم الٰہی پر اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ ہاں! اگر کوئی منکر خدا اور دھریہ اس حکم الٰہی پر اعتراض کرتا تو ہم اس کا جواب دینے کے مکلف ہوتے۔
چونکہ قادیانیوں اور ان کے روحانی آبا و اجداد، عیسائیوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان کا دعویٰ ہے۔ اس لئے ہم ان سے عرض کرنا چاہیں گے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کی ذات پر اعتراض کرنے کی بجائے براہ راست اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم پر اعتراض کریں اور زندقہ کے شیش محل سے باہر نکل کر سامنے آئیں، تاکہ لوگوں کو بھی معلوم ہو کہ قادیانیوں کا اللہ کی ذات اور قرآن کریم پر کتنا ایمان ہے؟ اور ان کے دعویٰ ایمان واسلام کی کیا حقیقت ہے؟
بلاشبہ ہم یقین سے کہتے ہیں کہ قادیانی، زہر کا پیالہ پینا گوارا کر لیں گے۔ مگر اس حقیقت کا اعتراف نہیں کر سکیں گے۔
رہی یہ بات کہ عورت کی گواہی مرد کی نسبت آدھی کیوں قرار دی گئی؟ اور اس کی کیا حکمت ومصلحت ہے؟ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ اس کی حکمت ومصلحت قرآن وحدیث دونوں میں مذکور ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیت میں صراحت ووضاحت کے ساتھ اس کی حکمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا۔ ”ان تضل احدہما فتذکر احدہما الاخریٰ (البقرہ:٢٨٢) ”تاکہ اگر بھول جائے ایک ان میں سے تو یاد دلا دے اس کو وہ دوسری۔“ ﴾
جس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ خواتین عدالتی چکروں کی متحمل نہیں ہیں۔ ان کی اصلی وضع گھر گرہستی اور گھریلو ذمہ داریوں کے نبھانے کے لئے ہے۔ اس لئے عین ممکن ہے کہ جب عورت عدالت اور مجمع عام میں جائے تو گھبرا جائے اور گواہی کا پورا معاملہ یا اس کے کچھ اجزاء اسے بھول جائیں۔ اس لئے حکم ہوا کہ اس کے ساتھ دوسری خاتون بطور معاون گواہ رکھی جائے تاکہ اگر وہ بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا دے۔
- ٢...... عورتیں عام طور پر مردوں کے مقابلے میں کمزور ہوتی ہیں۔ ان کے دماغ میں رطوبت
کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے ان سے نسیان بھی زیادہ واقع ہوتا ہے اور وہ بھول بھی جاتی ہیں۔ یہ ایک انسانی فطرت ہے۔ وگرنہ بعض عورتیں بڑی ذہین بھی ہوتی ہیں اور بعض عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے خاص صلاحیت بخشی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے بعض اوقات مردوں کے مقابلے میں زیادہ
٣٣
ذہین بھی ثابت ہوتی ہیں۔ تاہم عام فطرت اور اکثریت کے اعتبار سے چونکہ عورت کا مزاج ”اعصابی“ ہوتا ہے۔ اس لئے وہ اکثر بھول جاتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی دماغی کیفیت ہی ایسی بنائی ہے۔ لہٰذا دو عورتوں کو ایک مرد کے مقابلے پر رکھا گیا ہے۔
- ٣...... عورتوں کے نقصان عقل اور مرد کے مقابلے میں نصف گواہی کی تائید آنحضرت ﷺ
کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے۔ جو آنحضرت ﷺ نے ایک خطبہ میں فرمایا: ”ما رأیت من ناقصات عقل ودین أغلب لذی لب منکن، قالت یا رسول الله! وما نقصان العقل والدین؟ قال: اما نقصان العقل فشهادة امرأتین تعدل شهادة رجل، فهذا نقصان العقل، وتمکث اللیالی ما تصلی وتفطر فی رمضان فهذا نقصان الدین (صحیح مسلم ج ١ ص ٦٠) ”میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے ناقصات میں سے ایسا کوئی نہیں دیکھا، جو تم میں سے صاحب عقل کی عقل کو گم کر دے۔ ایک خاتون نے عرض کیا۔ ہم ناقص عقل و دین کیوں ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عورت کے نقصان عقل کی وجہ یہ ہے کہ دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہے اور اس کے نقصان دین کی وجہ یہ ہے کہ وہ مہینے کے کچھ دنوں اور راتوں میں نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں روزہ نہیں رکھتی۔“
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دو عورتوں کی شہادت کا ایک مرد برابر ہونا حکم الٰہی ہے۔ البتہ اس کی حکمت آنحضرت ﷺ نے یہ ارشاد فرمائی کہ یہ ان کے نقصان عقل کی بناء پر ہے۔ دیکھا جائے تو آنحضرت ﷺ نے یہ وجہ اپنی طرف سے ارشاد نہیں فرمائی۔ بلکہ دراصل یہ قرآن کریم کی آیت: ”أن تضل احدهما فتذكر احدهما الأخری“ کی تفسیر و تشریح ہے۔
لہٰذا جو لوگ عورت کی گواہی کے مسئلے پر اشکال کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں نصف کیوں ہے؟ دیکھا جائے تو وہ لوگ حکم الٰہی کا مذاق اڑاتے ہیں۔
شاید کچھ لوگوں کو یہ خیال ہو کہ خواتین ایسی نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کو سب باتیں خوب یاد رہتی ہیں تو وہ گواہی کے معاملے میں کیوں بھول سکتی ہیں؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ تجربے سے ثابت ہے کہ عموماً خواتین باتونی تو ہوتی ہیں۔ مگر وہ ادھر ادھر کی باتیں خوب یاد رکھتی ہیں۔ لیکن اصل بات اور معاملے کی جزئیات بھول جاتی ہیں۔
- ٤...... حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبند نے عورت کی آدھی
گواہی کے سلسلے میں ایک عجیب و غریب نکتہ ارشاد فرمایا ہے۔ چنانچہ وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”عجب نہیں کہ مجموعہ بنی آدم میں اوّل سے لے کر آخر تک دو تہائی عورتیں اور ایک تہائی مرد ہوں
٣٤
اور حکم ازلی نے باعتبار جہت تقابل کے بھی وہی حساب ”للذكر مثل حظ الانثيين“ بٹھا کر ایک مرد کو دو عورتوں کے مقابل رکھا ہو ۔“
(تفسیر معارف القرآن مولانا محمد ادریس کاندھلوی ج ١ ص ٥٣٩)
چنانچہ اگر اول سے آخر تک کی مردوں اور عورتوں کی تعداد کا کسی کو استحضار نہ بھی ہو تو دنیا بھر میں موجودہ عورتوں کی تعداد سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ آج دنیا بھر میں عورتیں مردوں کی نسبت بہت ہی زیادہ ہیں اور غالباً اسی تناسب سے اللہ تعالیٰ نے دو عورتوں کی گواہی اور وراثت کو ایک مرد کے برابر رکھا ہے۔
ان تصریحات و تفصیلات کی روشنی میں واضح ہو جانا چاہئے کہ مرد کی نسبت عورت کی آدھی گواہی کا معاملہ کسی مسلمان کا خانہ زاد یا آنحضرت ﷺ کا وضع فرمودہ نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ اب جس کو اس پر اعتراض ہو۔ وہ ذات الٰہی سے کر لے اور اللہ تعالیٰ سے خود ہی نمٹے۔
عورت کا وراثت میں آدھا حصہ کیوں؟
- ٨........ ”والدین کی جائیداد سے عورت کو مرد کے مقابلے میں آدھا حصہ دینے کا کیوں حکم
دیا؟ کیا عورت مرد کے مقابلے میں کمتر ہے؟“
جواب........ یہاں بھی یہ امر پیش نظر رہنا چاہئے کہ میراث میں مرد کے مقابلے میں عورت کو آدھا حصہ دینے کا حکم آنحضرت ﷺ نے نہیں، بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: ”للذكر مثل حظ الانثيين (النساء:١١)“ ﴿دو عورتوں کا حصہ ایک مرد کے حصے کے برابر ہے۔﴾
بہر حال قادیانیوں کو تقسیم میراث کے سلسلے میں آنحضرت ﷺ کی مخالفت اور انگریزوں کی حمایت میں مرد و زن کی مساوات کا راگ نہیں الاپنا چاہئے۔ بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی حق و انصاف پر مبنی تقسیم پر سکوت اختیار کرنا چاہئے۔ یہ تو شاید قادیانیوں کو بھی معلوم ہوگا کہ انگریزی دور اقتدار میں خود اسی متحدہ ہندوستان میں قانون رائج و نافذ تھا کہ خواتین حقِ وراثت سے محروم تھیں اور وراثت کی جائیداد زمین وغیرہ ان کے نام منتقل نہیں ہو سکتی تھی۔ دور کیوں جائیے! اسی انگریزی قانون کی وجہ سے میرے حقیقی دادا کی جائیداد سے میری پھوپھیاں تک محروم رہیں۔ جنہیں ہندوستان کی آزادی اور قیام پاکستان کے بعد ان کا شرعی حصہ دیا جاسکا۔
کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ قادیانیوں اور ان کے سر پرست عیسائیوں کو کبھی اس ظالمانہ قانون کے خلاف آواز اٹھانے کی توفیق ہوئی؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں! تو انہیں اسلام کے عدل و انصاف پر مبنی قانون وراثت پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟
٣٥
رہی یہ بات کہ اسلام نے خواتین کو وراثت میں مردوں کے مقابلے میں آدھا حصہ کیوں دیا؟ اور اس کی کیا حکمت ہے؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ:
- ١..... مرد، عورتوں پر حاکم ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔
چنانچہ اسی فضیلت کی وجہ سے مردوں کا حصہ دہرا اور خواتین کا حصہ اکہرا ہے۔
- ٢..... اسی کے ساتھ ہی مردوں کے دہرے حصے کی وجہ یہ بھی ارشاد فرمائی گئی ہے کہ مرد،
عورتوں پر خرچ کرتے ہیں۔ جب کہ عورتیں، مردوں پر خرچ نہیں کرتیں۔ اس لئے مردوں کو دہرا دیا گیا۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے: ”الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضہم علی بعض وبما انفقوا من اموالہم (النساء:٣٤)“ ”مرد حاکم ہیں عورتوں پر، اس واسطے کہ بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر اور اس واسطے کہ خرچ کئے انہوں نے اپنے مال۔“ یعنی مرد، عورتوں پر حاکم ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مرد عورتوں پر ان کی ضرورتوں کے لئے مال خرچ کرتے ہیں۔ گویا مردوں کو دہرا حصہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ مرد کے ذمے خرچہ نفقہ ہے اور عورت کے ذمے کسی قسم کا کوئی نفقہ خرچہ نہیں۔
اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو عورت کو جو کچھ ملتا ہے وہ صرف اور صرف اس کا ذاتی جیب خرچ ہے اور اس کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ بلکہ اگر غور کیا جائے تو عورت کو مرد کی نسبت کہیں زیادہ ملتا ہے۔ اس لئے کہ خاتون جب تک نابالغ ہو اس کا نفقہ خرچہ باپ، دادا، چچا، بھائی وغیرہ یا ان میں سے کوئی نہ ہو تو بیت المال کے ذمے ہے۔ جب وہ بالغ ہو جائے اور اس کا نکاح ہو جائے تو اس کے تمام اخراجات شوہر کے ذمے ہو جاتے ہیں۔ نکاح کے موقع پر اسے جو حق مہر ملتا ہے۔ وہ بھی خالص اس کا جیب خرچ ہوتا ہے۔ اسی طرح باپ کی وفات پر اسے اپنے بھائیوں کی نسبت جو نصف جائیداد ملتی ہے وہ بھی اس کی ذاتی ملکیت اور جیب خرچ ہوگی۔ اگر اولاد ہو جائے اور شوہر کا انتقال ہو جائے تو شوہر کی جائیداد سے ملنے والا آٹھواں حصہ بھی اس کی ذاتی ملکیت اور جیب خرچ ہی ہوگا۔ اسی طرح اگر کل کلاں بیٹے یا بیٹی کا انتقال ہو جائے تو ان کی جائیداد میں سے ملنے والا چھٹا حصہ بھی اس کی جیب ہی میں جائے گا۔ جب کہ اسلام نے عورت کو خرچ کرنے کا کہیں بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ اس کے مقابلے میں مرد کی ذمہ داریوں اور اخراجات کو دیکھا جائے تو وہ ہر جگہ خرچ ہی خرچ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مثلاً نکاح کے وقت حق مہر کی ادائیگی، بیوی کا نان نفقہ، بوڑھے والدین، چھوٹی اولاد، چھوٹے اور یتیم بہن بھائیوں، سب کا نفقہ خرچہ اس ٣٦
کے ذمے اور اس کے فرائض میں شامل ہے۔ اس دہرے حصے پر اعتراض کرنے والوں کو سوچنا چاہ مذکورہ بالا ذمہ داریوں کے اعتبار سے بتلایا جائے خرچ کرتا رہے گا؟ کیا اب بھی اس تقسیم الٰہی پر اعترا حضرت محمدﷺ نے خود نو اور امت کو چا
- ٩..... ”حضرت محمدﷺ نے خود نو شادیاں ک
حکم دیا؟ اس میں کیا مصلحت تھی؟“ جواب:..... آنحضرتﷺ کے تعدد ازواج کے نادانی اور جہل مرکب کی وجہ سے اعتراض کیا کر مرعوب ہو کر ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ان ناپاک جسارت کی ہے۔ اگر قادیانیوں کا اسلام اور تعلق ہوتا تو وہ ایسی دریدہ دہنی نہ کرتے۔ کیونکہ جس بارے میں وہ کسی اعتراض کے سننے کا روادار نہیں ہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اخلاق سوز کردار پر بات ہوتے اور اگر بالفرض ان کو مرزا قادیانی کی کتب م یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ حوالہ چیک کرنے کے ا بہرحال قادیانیوں کے اشکال کہ آنحض نکاح کیونکر جائز تھے؟ کے سلسلے میں عرض ہے کہ:
- الف..... آنحضرتﷺ کی ذات کو اپنی سطح پر رکھ
اللہ تعالیٰ نے بہت سے امتیازی اوصاف وخصوصیا آنحضرتﷺ کی شادیوں پر اعتراض ہے تو ان بشریت، نبوت، معراج اور غیر معمولی کمالات پ آنحضرتﷺ کی شادیوں پر اعتراض کرنے والے کمالات کے منکر ہیں۔ مگر براہ راست اس کا اظہار عقلی احتمالات پیش کر کے اپنی معصومیت کا اظہار کرت
- ب..... جہاں تک آنحضرتﷺ کی چار سے ز
٣٧
کے ذمے اور اس کے فرائض میں شامل ہے۔ اب عورت کے مقابلے میں مرد کی میراث کے دہرے حصے پر اعتراض کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ نفع میں عورت ہے یا مرد۔ عورت ومرد کی مذکورہ بالا ذمہ داریوں کے اعتبار سے بتلایا جائے کہ کس کا بینک بیلنس بڑھے گا؟ اور کون خرچ ہی خرچ کرتا رہے گا؟ کیا اب بھی اس تقسیم الٰہی پر اعتراض کرنے کا کسی کو حق رہ جاتا ہے؟
حضرت محمد ﷺ نے خود نو اور امت کو چار نکاح کا حکم کیوں دیا؟
- ٩....... "حضرت محمد ﷺ نے خود نو شادیاں کیں اور باقی مسلمانوں کو چار پر قناعت کرنے کا
حکم دیا؟ اس میں کیا مصلحت تھی؟"
جواب....... آنحضرت ﷺ کے تعدد ازواج کے مسئلے پر عموماً یورپ کے مستشرقین اپنے تعصب، نادانی اور جہل مرکب کی وجہ سے اعتراض کیا کرتے ہیں۔ بلاشبہ قادیانیوں نے بھی ان سے مرعوب ہو کر ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ان کے اعتراض کو اپنے الفاظ میں نقل کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ اگر قادیانیوں کا اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ سے ذرہ بھر محبت وعقیدت کا تعلق ہوتا تو وہ ایسی دریدہ دہنی نہ کرتے۔ کیونکہ جس کو کسی سے محبت وعقیدت ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں وہ کسی اعتراض کے سننے کا روادار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب قادیانیوں کے سامنے مرزا غلام احمد قادیانی کے اخلاق سوز کردار پر بات کی جائے تو وہ اس کے سننے کے روادار نہیں ہوتے اور اگر بالفرض ان کو مرزا قادیانی کی کتب سے ایسے حقائق کے حوالے دکھائے جائیں تو وہ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ حوالہ چیک کرنے کے بعد بات کریں گے۔
بہر حال قادیانیوں کے اشکال کہ آنحضرت ﷺ کے لئے چار سے زائد شادیاں اور نکاح کیونکر جائز تھے؟ کے سلسلے میں عرض ہے کہ:
- الف....... آنحضرت ﷺ کی ذات کو اپنی سطح پر رکھ کر نہیں سوچنا چاہئے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کو
اللہ تعالیٰ نے بہت سے امتیازی اوصاف وخصوصیات سے نوازا تھا۔ اگر آج کفار ومستشرقین کو آنحضرت ﷺ کی شادیوں پر اعتراض ہے تو ان کے آباؤ اجداد اور مشرکین مکہ کو آپ ﷺ کی بشریت، نبوت، معراج اور غیر معمولی کمالات پر بھی اعتراض تھا۔ لہٰذا ہمارے خیال میں آنحضرت ﷺ کی شادیوں پر اعتراض کرنے والے بھی دراصل آپ ﷺ کی ذات، صفات اور کمالات کے منکر ہیں۔ مگر براہ راست اس کا اظہار کرنے کی بجائے یورپی مستشرقین کی زبان میں عقلی احتمالات پیش کر کے اپنی معصومیت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔
- ب....... جہاں تک آنحضرت ﷺ کی چار سے زائد شادیوں کے جواب کا تعلق ہے۔ اس سلسلے
٣٧
میں ہمارے شیخ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے نہایت عمدہ جواب لکھا ہے اور ممکنہ اشکالات کو خوبصورتی سے حل فرمایا ہے۔ لہٰذا اس عنوان پر اپنی طرف سے کچھ لکھنے کی بجائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حضرت شہیدؒ ہی کا جواب نقل کر دیا جائے۔ جو درج ذیل ہے:
"الغرض نکاح کے معاملے میں بھی آپ ﷺ کی بہت سی خصوصیات تھیں اور بیک وقت چار سے زائد بیویوں کا جمع کرنا بھی آپ ﷺ کی انہی خصوصیات میں شامل ہے۔ جس کی تصریح خود قرآن مجید میں موجود ہے۔"
حافظ سیوطیؒ (خصائص کبریٰ) میں لکھتے ہیں کہ: "شریعت میں غلام کو صرف دو شادیوں کی اجازت ہے اور اس کے مقابلے میں آزاد آدمی کو چار شادیوں کی اجازت ہے۔ جب آزاد کو بمقابلہ غلام کے زیادہ شادیوں کی اجازت ہے۔ تو پھر آنحضرت ﷺ کو عام افراد امت سے زیادہ شادیوں کی کیوں اجازت نہ ہوتی؟"
متعدد انبیائے کرام علیہم السلام ایسے ہوئے ہیں۔ جن کی چار سے زیادہ شادیاں تھیں۔
چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں منقول ہے کہ ان کی سو بیویاں تھیں اور صحیح (بخاری ج ١ ص ٣٩٥) میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی سو یا نانوے بیویاں تھیں۔ بعض روایات میں کم وبیش تعداد بھی آئی ہے۔ فتح الباری میں حافظ ابن حجرؒ نے ان روایات میں تطبیق کی ہے اور وہب بن منبہ کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے یہاں تین سو بیویاں اور سات سو کنیزیں تھیں۔
(فتح الباری ص ٣٦٠)
بائیبل میں اس کے برعکس یہ ذکر کیا گیا ہے کہ سلیمان علیہ السلام کی سات سو بیویاں اور تین سو کنیزیں تھیں۔
(سلاطین: ١١-٣)
ظاہر ہے کہ یہ حضرات ان تمام بیویوں کے حقوق ادا کرتے ہوں گے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ کا نو ازواج مطہرات کے حقوق ادا کرنا ذرا بھی محل تعجب نہیں۔
آنحضرت ﷺ کی خصوصیات کے بارے میں یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کو چالیس جنتی مردوں کی طاقت عطاء کی گئی تھی اور ہر جنتی کو سو آدمیوں کی طاقت عطاء کی جائے گی...... اس حساب سے آنحضرت ﷺ میں چار ہزار مردوں کی طاقت تھی۔
(فتح الباری ص ٣٧٨)
جب امت کے ہر مریل سے مریل آدمی کو چار تک شادیاں کرنے کی اجازت ہے تو آنحضرت ﷺ کے لئے جن میں چار ہزار پہلوانوں کی طاقت ودیعت کی گئی تھی، کم از کم سولہ ہزار
٣٨
شادیوں کی اجازت ہونی چاہئے تھی۔
اس مسئلے پر ایک دوسرے پہلو سے بھی غور ک کے حلقے میں بلا تکلف پھیلا سکتا ہے۔ لیکن خواتین کے ا حق تعالیٰ شانہ نے اس کا یہ انتظام فرمایا کہ ہر شخص کو پ اصطلاح میں اس کی "پرائیویٹ سیکرٹری" کا کام دے ت کو پھیلا سکیں۔ جب ایک امتی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ا آنحضرت ﷺ جو قیامت تک تمام انسانیت کے نبی انسانیت کی سعادت جن کے قدموں سے وابستہ کر د ورحمت سے امت کی خواتین کی اصلاح وتربیت کے ل تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ حکمت وہدایت کا یہی تقاضہ
اسی کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہ پوری زندگی کتاب ہدایت تھی۔ آپ ﷺ کی جلوت ہزاروں صحابہ کرام موجود تھے۔ لیکن آپ ﷺ کی خلوت سوا اور کون نقل کر سکتا تھا؟ حق تعالیٰ شانہ نے آنحضر گوشوں کو نقل کرنے کے لئے متعدد ازواج مطہرات کا ا کے خفی سے خفی گوشے بھی امت کے سامنے آگئے اور آ ایک کھلی کتاب بن گئی۔ جس کو ہر شخص ہر وقت ملاحظہ کر سک
اگر غور کیا جائے تو کثرت ازواج اس لحاظ مختلف قبائل کی متعدد خواتین آپ ﷺ کی نجی سے نجی ز بیک زبان آپ ﷺ کے تقدس وطہارت، آپ ﷺ وللہیت اور آپ ﷺ کے پیغمبرانہ اخلاق واعمال کی شہاد نجی زندگی میں کوئی معمولی سا جھول اور کوئی ذرا سی بھی کجی موجودگی میں وہ کبھی بھی مخفی نہیں رہ سکتی تھی۔ آپ ﷺ ہے جو بجائے خود دلیل صداقت اور معجزۂ نبوت ہے۔ .....
صدیقہ ؓ کا ایک فقرہ نقل کرتا ہوں۔ جس سے نجی زندگی میں پاکیزگی کا کچھ اندازہ ہو سکے گا وہ فرماتی ہیں: "میں نے ک
٣٩
شادیوں کی اجازت ہونی چاہئے تھی۔
اس مسئلے پر ایک دوسرے پہلو سے بھی غور کرنا چاہئے کہ ایک داعی اپنی دعوت مردوں کے حلقے میں بلا تکلف پھیلا سکتا ہے۔ لیکن خواتین کے حلقے میں براہ راست دعوت نہیں پھیلا سکتا۔ حق تعالیٰ شانہ نے اس کا یہ انتظام فرمایا کہ ہر شخص کو چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے۔ جو جدید اصطلاح میں اس کی ”پرائیویٹ سیکرٹری“ کا کام دے سکیں اور خواتین کے حلقے میں اس کی دعوت کو پھیلا سکیں۔ جب ایک امتی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے یہ انتظام فرمایا ہے۔ تو آنحضرت ﷺ جو قیامت تک تمام انسانیت کے نبی اور ہادی و مرشد تھے۔ قیامت تک پوری انسانیت کی سعادت جن کے قدموں سے وابستہ کر دی گئی تھی۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایت ورحمت سے امت کی خواتین کی اصلاح و تربیت کے لئے خصوصی انتظام فرمایا ہو تو اس پر ذرا بھی تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ حکمت و ہدایت کا یہی تقاضا تھا۔
اسی کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ آنحضرت ﷺ کی خلوت و جلوت کی پوری زندگی کتاب ہدایت تھی۔ آپ ﷺ کی جلوت کے افعال و اقوال کو نقل کرنے والے تو ہزاروں صحابہ کرام موجود تھے۔ لیکن آپ ﷺ کی خلوت و تنہائی کے حالات امہات المؤمنین کے سوا اور کون نقل کر سکتا تھا؟ حق تعالیٰ شانہ نے آنحضرت ﷺ کی زندگی کے ان مخفی اور پوشیدہ گوشوں کو نقل کرنے کے لئے متعدد ازواج مطہرات کا انتظام فرما دیا۔ جن کی بدولت سیرت طیبہ کے خفی سے خفی گوشے بھی امت کے سامنے آگئے اور آپ ﷺ کی خلوت و جلوت کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب بن گئی۔ جس کو ہر شخص ہر وقت ملاحظہ کر سکتا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو کثرت ازواج اس لحاظ سے بھی معجزۂ نبوت ہے کہ مختلف مزاج اور مختلف قبائل کی متعدد خواتین آپ ﷺ کی نجی سے نجی زندگی کا شب و روز مشاہدہ کرتی ہیں اور وہ بیک زبان آپ ﷺ کے تقدس وطہارت، آپ ﷺ کی خشیت وتقویٰ، آپ ﷺ کے خلوص وللہیت اور آپ ﷺ کے پیغمبرانہ اخلاق و اعمال کی شہادت دیتی ہیں۔ اگر خدانخواستہ آپ ﷺ کی نجی زندگی میں کوئی معمولی سا جھول اور کوئی ذرا سی بھی کجی ہوتی تو اتنی کثیر تعداد ازواج مطہرات کی موجودگی میں وہ کبھی بھی مخفی نہیں رہ سکتی تھی۔ آپ ﷺ کی نجی زندگی کی پاکیزگی کی یہ ایسی شہادت ہے جو بجائے خود دلیل صداقت اور معجزۂ نبوت ہے...... یہاں بطور نمونہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا ایک فقرہ نقل کرتا ہوں۔ جس سے نجی زندگی میں آنحضرت ﷺ کے تقدس وطہارت اور پاکیزگی کا کچھ اندازہ ہوسکے گا وہ فرماتی ہیں: ”میں نے کبھی آنحضرت ﷺ کا ستر نہیں دیکھا اور نہ
٣٩
٤٦
آنحضرت ﷺ نے کبھی میرا ستر دیکھا۔"
کیا دنیا میں کوئی بیوی اپنے شوہر کے بارے میں یہ شہادت دے سکتی ہے کہ مدۃ العمر انہوں نے ایک دوسرے کا ستر نہیں دیکھا؟ اور کیا اس اعلیٰ ترین اخلاق اور شرم وحیا کا نبی کی ذات کے سوا کوئی نمونہ مل سکتا ہے؟
غور کیجئے! کہ آنحضرت ﷺ کی نجی زندگی کے ان ”مخفی محاسن“ کو ازواج مطہراتؓ کے سوا کون نقل کر سکتا ہے؟
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ٦ ص ٢٧٦)
حق طلاق عورت کو کیوں نہیں دیا گیا؟
- ١٠....... ”شریعت محمدی میں مرد اگر تین بار طلاق کا لفظ ادا کر کے ازدواجی بندھن سے فوری
آزادی حاصل کر سکتا ہے تو اسی طرح عورت کیوں نہیں کر سکتی؟“
جواب...... مرد اور عورت کو اللہ تعالیٰ نے مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ چنانچہ جسمانی ساخت سے لے کر ذہنی اور فکری استعداد تک وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے جسمانی و نفسیاتی پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کو اسی حساب سے تقسیم فرمایا ہے۔ مثلاً خواتین جسمانی اعتبار سے کمزور اور نرم و نازک ہوتی ہیں۔ جب کہ مرد ان کے مقابلے میں سخت جان اور محنت کش ہوتے ہیں۔ اس لئے شریعت مطہرہ اور اسلام نے خواتین کو بہت سی پر مشقت ذمہ داریوں سے آزاد رکھا ہے۔ مثلاً خواتین پر جمعہ نہیں، جماعت نہیں، جہاد نہیں، امامت نہیں، قیادت و سیادت نہیں اور کسب معاش نہیں، اسی فطری اور جسمانی ساخت کے اعتبار سے خواتین کو ماہواری آتی ہے۔ ان کو حمل ٹھہرتا ہے، وہ بچے جنتی ہیں، بچوں کو دودھ پلاتی ہیں۔ ان کی طبیعت میں مرد کی نسبت زیادہ متاثر ہونے کی استعداد وصلاحیت ہے۔ ان میں برداشت کا مادہ کم ہوتا ہے۔ ان کو غصہ بہت جلدی آتا ہے اور وہ اپنی فطری ضرورت کی تکمیل کی خاطر ماں باپ کا گھر چھوڑ کر اپنے شریک حیات کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارتی ہیں، وغیرہ۔ اس لئے مرد کو قوام وحاکم اور عورت کو اس کے ماتحت اور دست نگر کا درجہ دیا گیا۔
اسلام نے ان کی انہیں فطری صلاحیتوں کے باعث ان پر کم سے کم بوجھ ڈالا ہے۔
چنانچہ اسلام نے خواتین کو کسب معاش کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ بلکہ اسے گھر کی ملکہ بنایا، گھر کی چار دیواری کے معاملات اس کے سپرد فرمائے اور گھر کی چار دیواری کے باہر تمام امور مرد کے ذمہ قرار دیئے، کسب معاش مرد کی ذمہ داری ہے۔ خاتون کے نان، نفقہ، لباس، پوشاک، علاج معالجہ اور سکونت ورہائش کا انتظام بھی مرد کے ذمہ قرار دیا اور ان دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق و ذمہ
داریوں کی طرف متوجہ فرما کر فرمایا: ”ولہن مثل علیہن درجة (البقرہ:٢٢٨) ”یعنی ان خوا پر مردوں کے حقوق ہیں۔ معروف طریقہ کے سا حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مرد کو ہنگامہ دنیا وبا وامامت کا ذمہ دار بنایا تو خواتین کو گھر میں رہنے گیا: ”اذا صلت خمسہا وصامت شہ فلتدخل من أی أبواب الجنۃ شاءت (م یعنی عورت گھر میں رہ کر اپنے اللہ پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرم گاہ کی جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے چا
مگر یورپ کے مستشرقین کو عورت ک برداشت نہیں۔ انہوں نے عورت کے حقوق کی پا نکال کر ہنگامہ بازار میں لا کھڑا کیا۔ انہوں نے ا کیں۔ مگر اس کے نان نفقہ کی ذمہ داری سے جان راہ دکھائی۔
چنانچہ انہوں نے اپنے انہی مذموم مقا طرح ہمارا کسی عورت سے دل بھر جاتا ہے اور ہم طرح اگر عورت کا دل بھر جائے تو وہ بھی اپنی مرضی تو اس خیر خواہی کے پیچھے بھی عورت دشمنی کارفرما ہے جانے پر ہمیں کوئی مورد الزام نہ ٹھہرائے اور ہم نت پھریں۔ اس سے اپنی جنسی ضرورت پوری کریں اور وامریکہ میں زنا کو نکاح پر ترجیح دی جاتی ہے۔ کیو جائیداد کی حقدار ہو جاتی ہے۔ جب کہ زنا کاری کی کے کوئی حقوق نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ اس کی جائید اس کو دھکا دے کر فارغ کر سکتا ہے۔ کیا کبھی عورت
ت دے سکتی ہے کہ مدۃ العمر ق اور شرم و حیا کا نبی کی ذات
محاسن“ کو ازواج مطہرات سائل اور ان کا حل ج ٩ ص ٢٧٦)
کے ازدواجی بندھن سے فوری
اہے۔ چنانچہ جسمانی ساخت ا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان اور ذمہ داریوں کو اسی حساب ل ہوتی ہیں۔ جب کہ مردان ت مطہرہ اور اسلام نے خواتین پر جمعہ نہیں، جماعت نہیں، جہاد فطری اور جسمانی ساخت کے چومتی ہیں، بچوں کو دودھ پلاتی خداداد صلاحیت ہے۔ ان میں اپنی فطری ضرورت کی تکمیل کی خرم زندگی گزارتی ہیں، وغیرہ۔ درجہ دیا گیا۔ ان پر کم سے کم بوجھ ڈالا ہے۔ بلکہ اسے گھر کی ملکہ بنایا، گھر کی ی کے باہر تمام امور مرد کے ذمہ فقہ، لباس، پوشاک، علاج معالجہ کو ایک دوسرے کے حقوق وذمہ
داریوں کی طرف متوجہ فرما کر فرمایا: ”ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف وللرجال علیہن درجۃ (البقرہ:٢٢٨) “ یعنی ان خواتین کے حقوق بھی اسی طرح ہیں۔ جس طرح ان پر مردوں کے حقوق ہیں۔ معروف طریقے کے ساتھ، اور مردوں کو عورتوں پر ایک درجے کی فضیلت حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مرد کو ہنگامہ دنیا و بازار، تجارت، معاش، قیادت وسیادت حکومت وامامت کا ذمہ دار بنایا تو خواتین کو گھر میں رہتے ہوئے انسانیت سازی کا کارخانہ حوالہ کیا اور فرمایا گیا: ”اذا صلت خمسہا وصامت شہرہا وأحصنت فرجہا وأطاعت بعلہا فلتدخل من أى أبواب الجنۃ شاء ت (مشکوة ص ٢٨١) “
یعنی عورت گھر میں رہ کر اپنے اللہ ، رسول کے حقوق بجالائے، پانچ وقت کی نماز پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہو جائے۔
مگر یورپ کے مستشرقین کو عورت کا یہ اعزاز، عزت و عظمت اور سکون واطمینان برداشت نہیں۔ انہوں نے عورت کے حقوق کی پاسداری اور علم برداری کی آڑ میں اس کو گھر سے نکال کر ہنگامۂ بازار میں لاکھڑا کیا۔ انہوں نے اس بے چاری سے اپنی فطری خواہشات تو پوری کیں۔ مگر اس کے نان نفقہ کی ذمہ داری سے جان چھڑانے کے لئے اسے بھی بازار و کارخانے کی راہ دکھائی۔
چنانچہ انہوں نے اپنے انہی مذموم مقاصد کی تکمیل کی خاطر عورت کو یہ راہ سجھائی کہ جس طرح ہمارا کسی عورت سے دل بھر جاتا ہے اور ہم اسے ٹھوکر مار کر گھر سے نکال دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر عورت کا دل بھر جائے تو وہ بھی اپنی مرضی سے کسی دوسرے مرد کی راہ دیکھے۔ دیکھا جائے تو اس خیر خواہی کے پیچھے بھی عورت دشمنی کا یہ راز پوشیدہ ہے کہ کل کلاں عورت کے اس دھتکارے جانے پر ہمیں کوئی مورد الزام نہ ٹھہرائے اور ہم نت نئی خاتون کو اپنی خواہش اور ہوس کا نشانہ بناتے پھریں۔ اس سے اپنی جنسی ضرورت پوری کریں اور اسے چلتا کردیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپ وامریکہ میں زنا کو نکاح پر ترجیح دی جاتی ہے۔ کیونکہ نکاح کرنے کی صورت میں عورت، مرد کی جائیداد کی حقدار ہو جاتی ہے۔ جب کہ زنا کاری کی غرض سے ایک ساتھ رہنے میں مرد پر عورت کے کوئی حقوق نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ اس کی جائیداد میں حصہ دار ہوتی ہے۔ لہٰذا مرد جب چاہے اس کو دھکا دے کر فارغ کر سکتا ہے۔ کیا کبھی عورت کے حقوق کی دہائی دینے والوں نے عورت
٤١
کے اس بدترین استحصال کے خلاف بھی آواز اٹھائی؟ جب کہ اسلام نے میاں بیوی کے نکاح کے بندھن کو زندگی بھر کا بندھن قرار دیا ہے۔ پھر چونکہ اندیشہ تھا کہ عورت اپنی فطری کمزوری، جلد بازی سے اس بندھن کو توڑ کر در، در کی ٹھوکریں نہ کھائے۔ اس لئے فرمایا کہ اس معاہدہ نکاح کے فسخ کا حق مرد کے پاس ہی رہنا چاہئے۔ چنانچہ اس عقد کو باقی رکھنے کے لئے خصوصی ہدایات دی گئیں اور فرمایا گیا کہ اگر خدانخواستہ خواتین کی جانب سے ایسی کسی کمی کوتاہی کا مرحلہ درپیش ہو تو مردوں کو اس عقد کے توڑنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ بلکہ دونوں جانب کے بڑے بوڑھوں اور جانبین کے اکابر و بزرگوں کو بیچ میں ڈال کر اصلاح کی فکر کرنی چاہئے۔ چنانچہ فرمایا گیا: "والتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن فان اطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلاً ان الله كان علياً كبيراً وان خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكماً من اهله وحكماً من اهلها ان يريدا اصلاحاً يوفق الله بينهما ان الله كان عليماً خبيراً (النساء: ٣٤، ٣٥)" ﴿اور جن کی بدخوئی کا ڈر ہو تم کو، تو ان کو سمجھاؤ اور جدا کرو سونے میں اور مارو۔ پھر اگر کہا مانیں تمہارا تو مت تلاش کرو ان پر راہ الزام کی، بے شک اللہ ہے سب سے اوپر بڑا اور اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں آپس میں ضد رکھتے ہیں تو کھڑا کرو ایک منصف مرد والوں میں سے اور ایک منصف عورت والوں میں سے، اگر یہ دونوں چاہیں کہ صلح کرا دیں تو اللہ موافقت کر دے گا ان دونوں میں بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے۔﴾
ہاں اگر ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ عورت کا اس مرد کے ساتھ گزارا نہ ہو سکے یا شوہر ظلم و تشدد پر اتر آئے تو ایسی صورت میں عورت کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ اسلامی عدالت یا اپنے خاندان کے بزرگوں کے ذریعہ اس ظالم سے گلو خلاصی کرا سکتی ہے۔
اس ساری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ اس میں عورت کی عزت، عصمت اور عظمت کے تحفظ کو یقینی بنانا مقصود ہے۔ کیونکہ نکاح کے بعد مرد کا تو کچھ نہیں جاتا۔ البتہ عورت کے لئے کئی قسم کی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ مثلاً خود اس کا اپنا بے سہارا ہو جانا، اس کے بچوں کی پرورش، تعلیم، تربیت، ان کے مستقبل اور اس کے خاندان کی عزت و ناموس کا معاملہ وغیرہ۔ ایسے بے شمار مسائل، اس بندھن کے ٹوٹنے سے کھڑے ہو سکتے ہیں اور ان تمام مسائل سے براہ راست عورت ہی دوچار ہوتی ہے۔ اس لئے فرمایا گیا کہ عورت کو اس بندھن کے توڑنے
٤٢
کا اختیار نہ دیا جائے۔ تاکہ وہ ان مشکلات سے بچ جائے۔ بتلایا جائے کہ یہ عورت کی خیرخواہی ہے یا بدخواہی؟
مگر ناس ہو یورپ اور مستشرقین کی اندھی تقلید کا کہ اس نے اپنے ذہنی غلاموں کو ایسا متاثر کیا کہ وہ ہر چیز کو ان کی عینک سے دیکھتے ہیں اور اسی زاویۂ نگاہ سے اسلامی احکام پر نقد و تنقید کے نشتر چلاتے ہیں۔
بلاشبہ مرزائیوں کا یہ اعتراض بھی میرے خیال میں اپنے آقاؤں کی اندھی تقلید کا نتیجہ ہے۔ ورنہ شاید وہ بھی اپنی خواتین کو حق طلاق دینے کے روادار نہیں ہوں گے۔ اگر ایسا ہوتا تو ان کی عورتیں کب کی ان پر دو حرف بھیج کر جاچکی ہوتیں۔
آخر میں ہم خواتین کے حق طلاق کا مطالبہ کرنے والوں سے یہ بھی پوچھنا چاہیں گے کہ اگر آپ ہی کی طرح کا کوئی عقل مند کل کلاں یہ اعتراض کر بیٹھے کہ:
- ......١ اللہ تعالیٰ نے مردوں کی داڑھی بنائی ہے تو عورتوں کو اس سے کیوں محروم رکھا؟
- ......٢ عورت اور مرد کے جنسی اعضاء مختلف کیوں ہیں؟
- ......٣ ہر دفعہ خواتین ہی بچے کیوں جنتی ہیں؟ مردوں کو اس سے مستثنیٰ کیوں رکھا گیا؟
- ......٤ بچوں کو دودھ پلانے کی ذمہ داری عورت پر کیوں رکھی گئی؟
- ......٥ عورت ہی کو حیض و نفاس کیوں آتا ہے؟
- ......٦ حمل اور وضع حمل کی تکلیف مردوں کو کیوں نہیں دی گئی؟
تو بتلایا جائے کہ آپ ان سوالوں کا کیا جواب دیں گے؟ یہی ناں کہ مردوں اور خواتین کی جسمانی ساخت اور فطری استعداد کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس کو جیسی صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں اسی کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ فرمایا ہے۔ بالکل اسی طرح خواتین کے حق طلاق کے مطالبے کا بھی یہی جواب ہے کہ جس ذات نے عورت اور مرد کو پیدا فرمایا ہے اس نے ان کی صلاحیتوں اور جسمانی ساخت کے پیش نظر ہر ایک کے فرائض بھی تقسیم فرمائے ہیں۔ اس لئے اگر مردوں کے بچے نہ جننے، حمل، وضع حمل، رضاعت اور ان کو حیض و نفاس نہ آنے پر قادیانیوں اور ان کے روحانی آباء واجداد...... یورپی مستشرقین کو کوئی اعتراض نہیں تو مردوں کے حق طلاق پر انہیں کیونکر اعتراض ہے؟
تحلیل شرعی میں عورت ہی کیوں استعمال ہو؟
- ......١١ "حضرت محمد ﷺ نے حلالہ کے قانون میں عورت کو کسی بے جان چیز یا بھیڑ بکری کی
٤٣
طرح استعمال کئے جانے کا طریقہ کار کیوں وضع کیا ہے؟ طلاق مرد دے اور دوبارہ رجوع کرنا چاہے تو عورت پہلے کسی دوسرے آدمی کے نکاح میں دی جائے۔ وہ دوسرا شخص اس عورت کے ساتھ جنسی عمل سے گزرے، پھر اس دوسرے شخص کی مرضی ہو۔ وہ طلاق دے تو عورت دوبارہ پہلے آدمی سے نکاح کر سکتی ہے؟ یعنی اس پورے معاملے میں استعمال عورت کا ہی ہوا، مرد کا کچھ بھی نہیں بگڑا۔ اس میں کیا رمز پوشیدہ ہے؟“
جواب ..... اگر دیکھا جائے تو قادیانیوں کا یہ اعتراض بھی سراسر بدنیتی اور جہالت پر مبنی ہے۔ اس لئے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ مروجہ حلالہ کے لئے عارضی نکاح کی آنحضرت ﷺ نے تعلیم وتلقین نہیں فرمائی۔ بلکہ اس کی قباحت وشناعت بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ محض پہلے شوہر کے لئے عورت کو حلال کر کے طلاق دینے والے حلالہ کنندہ اور ایسا حلالہ کرانے والے دونوں کو ملعون قرار دیا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: ”عن ابن عباس لعن رسول الله ﷺ المحلل والمحلل له (مسند احمد ج ١ ص ٤٥٠) ”اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے لعنت فرمائی اور حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر۔“
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ تین طلاق دینے کے بعد خاتون اپنے شوہر کے لئے حرام ہو جاتی ہے اور بلا تحلیل شرعی ان دونوں کا آپس میں دوبارہ نکاح اور ملاپ نہیں ہو سکتا تو یہ قرآن کریم کا مسئلہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے۔
- الف ....... ”الطلاق مرتان فامساك بمعروف اوتسريح باحسان
(البقره:٢٢٩) ” طلاق رجعی ہے۔ دو بار تک اس کے بعد رکھ لینا موافق دستور کے یا چھوڑ دینا بھلی طرح سے۔“
- ب ....... ”فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره
(البقره:٢٣٠) ” پھر اگر اس عورت کو طلاق دے یعنی تیسری بار، تو اب حلال نہیں اس کو وہ عورت اس کے بعد جب تک نکاح نہ کرے کسی خاوند سے اس کے سوا۔“
دراصل اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے نکاح کے اس بندھن کے توڑنے کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ایک ہنستا بستا گھرانا طلاق کی وجہ سے اجڑ جائے۔ اس لئے طلاق اگرچہ مباح ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں مباح و جائز چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض و ناپسندیدہ ہے۔ اس لئے اس بندھن کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تین طلاق کو آخری حد قرار دیا ہے۔ جب کہ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد نکاح ثانی کے بغیر مرد کے دوبارہ رجوع کرنے کے حق
٤٤
کو برقرار رکھا گیا۔ لیکن اگر کوئی انتہاء پسند اپنی عجلت پسند تو اس پر کوئی تعزیر اور تازیانہ ضرور ہونا چاہئے اور وہ تعز بیوی کو بے قدر چیز اور نکاح کو کھیل بنا رکھا تھا۔ اس لئے کسی قسم کا کوئی حق نہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تیسری طلا و تازیانے کے طور پر اس کی بیوی کو اس پر حرام قرار دے اس کے لئے حلال کیوں قرار دے دی گئی؟ اس سلسلے می
”اعلام الموقعین“ میں اس کی نہایت خوبصورت حکمت و لکھتے ہیں: ”تین طلاق کے بعد مرد پر عورت کے حرام ہو
پس واضح ہو کہ اس امر میں شریعتیں بحسب مصالح ہر ز شریعت توراۃ نے طلاق کے بعد جب تک عورت دوسر رجوع اس کے ساتھ جائز رکھا تھا اور جب وہ دوسرے عورت سے کسی صورت میں رجوع جائز نہ تھا۔ اس امر کیونکہ جب مرد جانے گا کہ اگر میں نے عورت کو طلاق اور اس کے لئے دوسرا نکاح کرنا بھی جائز ہو جائے گا او پر ہمیشہ کے لئے یہ عورت حرام ہو جائے گی۔ تو ان امو تمسک پختہ ہوتا تھا اور عورت کی جدائی کو ناگوار جانتا تھ موسوی نازل ہوئی تھی۔ کیونکہ تشدد اور غصہ اور اس پر اص آئی تو اس نے نکاح کے بعد طلاق کا دروازہ بالکل بند ک تو اس کے لئے عورت کو طلاق دینا ہرگز جائز نہ تھا۔
پھر شریعت محمدیہ آسمان سے نازل ہوئی ج اور پختہ تر ہے اور انسانوں کے مصالح، معاش ومع موافق ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس امت کا دین کامل او سے اس امت کے لئے بعض وہ چیزیں حلال ٹھہرائیں چنانچہ مرد کے لئے جائز ہوا کہ بحسب ضرورت چار م
٤٥
کو بر قرار رکھا گیا۔ لیکن اگر کوئی انتہاء پسند اپنی عجلت پسندی اور حماقت سے اس حد کو بھی پار کر جائے تو اس پر کوئی تعزیر اور تازیانہ ضرور ہونا چاہئے اور وہ تعزیر و تازیانہ یہ مقرر فرمایا کہ تم نے چونکہ اپنی بیوی کو بے قدر چیز اور نکاح کو کھیل بنا رکھا تھا۔ اس لئے تیسری طلاق کے بعد اب تمہارا عورت پر کسی قسم کا کوئی حق نہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تیسری طلاق کی حد پار کرنے والے پر جب تعزیر و تازیانے کے طور پر اس کی بیوی کو اس پر حرام قرار دے دیا گیا۔ تو دوسرے نکاح کے بعد وہ عورت اس کے لئے حلال کیوں قرار دے دی گئی؟ اس سلسلے میں حافظ ابن قیمؒ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”اعلام الموقعین“ میں اس کی نہایت خوبصورت حکمت علت بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن قیمؒ لکھتے ہیں: ”تین طلاق کے بعد مرد پر عورت کے حرام ہونے اور دوسرے نکاح کے بعد پھر پہلے مرد پر جائز ہونے کی حکمت کو وہی جانتا ہے جس کو اسرار شریعت اور مصالح کلیہ الٰہیہ سے واقفیت ہو۔ پس واضح ہو کہ اس امر میں شریعتیں بحسب مصالح ہر زمانہ اور ہر امت کے لئے مختلف رہی ہیں۔ شریعت توراۃ نے طلاق کے بعد جب تک عورت دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ پہلے مرد کا رجوع اس کے ساتھ جائز رکھا تھا اور جب وہ دوسرے شخص سے نکاح کر لیتی تو پہلے شخص کو اس عورت سے کسی صورت میں رجوع جائز نہ تھا۔ اس امر میں جو حکمت و مصلحت الٰہی ہے۔ ظاہر ہے کیونکہ جب مرد جانے گا کہ اگر میں نے عورت کو طلاق دے دی تو اس کو پھر اپنا اختیار ہو جائے گا اور اس کے لئے دوسرا نکاح کرنا بھی جائز ہو جائے گا اور پھر جب اس نے دوسرا نکاح کر لیا تو مجھ پر ہمیشہ کے لئے یہ عورت حرام ہو جائے گی۔ تو ان امور خاصہ کے تصور سے مرد کا عورت سے تعلق وتمسک پختہ ہوتا تھا اور عورت کی جدائی کو ناگوار جانتا تھا۔ شریعت توراۃ بحسب حال مزاج امت موسوی نازل ہوئی تھی۔ کیونکہ تشدد اور غصہ اور اس پر اصرار کرنا ان میں بہت تھا۔ پھر شریعت انجیلی آئی تو اس نے نکاح کے بعد طلاق کا دروازہ بالکل بند کردیا۔ جب مرد کسی عورت سے نکاح کر لیتا تو اس کے لئے عورت کو طلاق دینا ہرگز جائز نہ تھا۔
پھر شریعت محمدیہ آسمان سے نازل ہوئی جو کہ سب شریعتوں سے اکمل، افضل، اعلیٰ اور پختہ تر ہے اور انسانوں کے مصالح، معاش ومعاد کے زیادہ مناسب اور عقل کے زیادہ موافق ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس امت کا دین کامل اور ان پر اپنی نعمت پوری کی اور طیبات میں سے اس امت کے لئے بعض وہ چیزیں حلال ٹھہرائیں جو کسی امت کے لئے حلال نہیں تھیں۔ چنانچہ مرد کے لئے جائز ہوا کہ بحسب ضرورت چار عورت تک سے نکاح کر سکے۔ پھر اگر مرد
٤٥
صورت میں نہ بنے تو مرد کو اجازت دی کہ اس کو طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کر لے۔ کیونکہ جب پہلی عورت موافق طبع نہ ہو یا اس سے کوئی فساد واقع ہو اور وہ اس سے باز نہ آئے تو شریعت اسلامیہ نے ایسی عورت کو مرد کے ہاتھ، پاؤں اور گردن کی زنجیر بنا کر اس میں جکڑنا اور اس کی کمر توڑنے والا بوجھ بنانا تجویز نہیں کیا اور نہ اس دنیا میں مرد کے ساتھ ایسی عورت کو رکھ کر اس کی دنیا کو دوزخ بنانا چاہا ہے۔
لہٰذا خدا تعالیٰ نے ایسی عورت کی جدائی مشروع فرمائی اور وہ جدائی بھی اس طرح مشروع فرمائی کہ مرد، عورت کو ایک طلاق دے۔ پھر عورت تین طہر یا تین ماہ تک اس مرد کے رجوع کا انتظار کرے تاکہ اگر عورت سدھر جائے اور شرارت سے باز آجائے اور مرد کو اس عورت کی خواہش ہوجائے۔ یعنی خدائے مصرف القلوب عورت کی طرف مرد کے دل کو راغب کردے تو مرد کو عورت کی طرف رجوع کرنے کا دروازہ بھی مفتوح رہے۔ تاکہ مرد عورت سے رجوع کرسکے اور جس امر کو غصے اور شیطانی جوش نے اس کے ہاتھ سے نکال دیا تھا۔ اس کو مل سکے اور چونکہ ایک طلاق کے بعد پھر بھی جانبین کی طبعی ظلمات اور شیطانی چھیڑ چھاڑ کا اعادہ ممکن تھا۔ اس لئے دوسری طلاق مدت مذکورہ کے اندر مشروع ہوئی۔ تاکہ عورت بار بار کی طلاق کی تلخی کا ذائقہ چکھ کر اور خرابی خانہ کو دیکھ کر دوبارہ اس قبیحہ کا اعادہ نہ کرے۔ جس سے اس کے خاوند کو غصہ آوے اور اس کے لئے جدائی کا باعث ہو اور مرد بھی عورت کی جدائی محسوس کرکے عورت کو طلاق نہ دے۔
اور جب اس طرح تیسری طلاق کی نوبت آ پہنچے تو اب یہ وہ طلاق ہے جس کے بعد خدا کا یہ حکم ہے کہ اس مرد کا رجوع اس عورت مطلقہ ثلاثہ سے نہیں ہوسکتا۔ اس لئے جانبین کو کہا جاتا ہے کہ پہلی اور دوسری طلاق تک تمہارا آپس میں رجوع ممکن تھا۔ اب تیسری طلاق کے بعد رجوع نہ ہوسکے گا تو اس قانون کے مقرر ہونے سے وہ دونوں سدھر جائیں گے۔ کیونکہ جب مرد کو یہ تصور ہوگا کہ تیسری طلاق اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان بالکل جدائی ڈالنے والی ہے تو وہ طلاق دینے سے باز رہے گا۔ کیونکہ جب اس کو اس بات کا علم ہوگا کہ اب تیسری طلاق کے بعد یہ عورت مجھ پر دوسرے شخص کے شرعی، معروف و مشہور نکاح اور اس کی طلاق وعدت کے بغیر حلال نہ ہوسکے گی اور دوسرے شخص کے نکاح سے عورت کا علیحدہ ہونا بھی یقینی نہیں۔ پھر دوسرے نکاح کے بعد بھی جب تک دوسرا خاوند اس کے ساتھ دخول نہ کرلے۔ پھر اس کے بعد یا تو وہ مرجائے یا برضا ورغبت خود اسے طلاق دے دے اور وہ عورت عدت نہ گزارلے۔ تب تک وہ اس کی طرف رجوع نہ کرسکے گا ۔تو اس وقت مرد کو اس رجوع کی ناامیدی کے خیال سے اور اس احساس سے ایک
٤٦
٥٣ دور اندیشی پیدا ہوگی اور وہ خدا تعالیٰ کی ناپسندیدہ اسی طرح جب عورت کو اس عدم رجوع کی واقفیت اس سے ان کی آپس میں اصلاح ہوسکے گی اور ا طرح تاکید فرمائی کہ وہ نکاح ہمیشہ کے لئے ہوت ہمیشہ رکھنے کے ارادہ سے نکاح نہ کرے۔ بلکہ خاوند اس شخص پر لعنت فرمائی ہے اور جب پہلا شخص اس پر بھی لعنت فرمائی ہے۔
تو شرعی حلالہ وہ ہے کہ جس میں خود اپ نے اتفاقاً عورت کو طلاق دی تھی۔ اسی طرح دوسر کے بعد پہلے خاوند کی طرف بلا کراہت رجوع و رس
پس اتنی سخت رکاوٹوں کے بعد پہلے تفصیلات سے ظاہر و باہر ہے کہ اس میں عورت و نکاح کے دوام اور اس تعلق کے نہ ٹوٹنے کو ملحوظ جدائی سے اس کے دوبارہ ملاپ کے درمیان اتن تیسری طلاق تک نوبت نہیں پہنچائے گا۔
(بحوالہ احکام ا
رہی یہ بات کہ اس سلسلے میں عورت ا میں عرض ہے کہ شوہر ثانی سے نکاح کی شرط می مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ بلا کسی ضرور نفس کی خواہش سے مغلوب ہو کر اپنی بیوی کو علیحد اس قدر اپنی تذلیل کو برداشت نہیں کرسکتا کہ اس مرد سے نکاح کرے۔ اس کے بستر کی زینت ب دیکھا جائے تو اس میں بھی اس خان کہ طلاق دہندہ مرد کو باور کرایا جارہا ہے کہ جس ہے۔ بلکہ وہ تو کسی دوسرے مرد سے نکاح کر شوہر اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے دے یا وہ
دور اندیشی پیدا ہوگی اور وہ خدا تعالیٰ کی ناپسندیدہ ترین مباح یعنی طلاق دینے سے باز رہے گا۔ اسی طرح جب عورت کو اس عدم رجوع کی واقعیت ہوگی تو اس کے اخلاق بھی درست رہیں گے اور اس سے ان کی آپس میں اصلاح ہو سکے گی اور اس نکاح ثانی کے متعلق نبی علیہ السلام نے اس طرح تاکید فرمائی کہ وہ نکاح ہمیشہ کے لئے ہو۔ پس اگر دوسرا شخص اس عورت سے اپنے پاس ہمیشہ رکھنے کے ارادہ سے نکاح نہ کرے۔ بلکہ خاص حلالہ ہی کے لئے کرے تو آنحضرت ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے اور جب پہلا شخص اس قسم کے حلالہ کے لئے کسی کو رضامند کرے تو اس پر بھی لعنت فرمائی ہے۔
تو شرعی حلالہ وہ ہے کہ جس میں خود ایسے اسباب پیدا ہو جائیں کہ جس طرح پہلے خاوند نے اتفاقاً عورت کو طلاق دی تھی۔ اسی طرح دوسرا بھی طلاق دے یا مرجائے تو عورت کا عدت کے بعد پہلے خاوند کی طرف بلا کراہت رجوع درست ہے۔
پس اتنی سخت رکاوٹوں کے بعد پہلے خاوند کی طرف رجوع کے جواز کی وجہ مذکورہ بالا تفصیلات سے ظاہر و باہر ہے کہ اس میں عورت اور نکاح کی عزت و عظمت اور نعمت الٰہی کے شکر، نکاح کے دوام اور اس تعلق کے نہ ٹوٹنے کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ کیونکہ جب خاوند کو عورت کی جدائی سے اس کے دوبارہ ملاپ کے درمیان اتنی ساری رکاوٹیں حائل ہوتی محسوس ہوں گی تو وہ تیسری طلاق تک نوبت نہیں پہنچائے گا۔
(بحوالہ احکام اسلام عقل کی نظر میں از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ)
رہی یہ بات کہ اس سلسلے میں عورت ہی کو ان تمام مراحل سے کیوں گزارا گیا؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ شوہر ثانی سے نکاح کی شرط میں شوہر اوّل کو اس مفارقت وجدائی کا مزہ چکھانا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ بلاکسی ضرورت مصلحت اور سوچے سمجھے طلاق دینے اور اپنے نفس کی خواہش سے مغلوب ہو کر اپنی بیوی کو علیحدہ کرنے کا یہ عذاب ہے۔ کیونکہ کوئی باغیرت مرد اس قدر اپنی تذلیل کو برداشت نہیں کرسکتا کہ اس کے کسی غلط عمل کی وجہ سے اس کی بیوی دوسرے مرد سے نکاح کرے۔ اس کے بستر کی زینت بنے اور پھر وہ دوبارہ اس کے نکاح میں آئے۔
دیکھا جائے تو اس میں بھی اس خاتون کی عزت و تکریم کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس لئے کہ طلاق دہندہ مرد کو باور کرایا جارہا ہے کہ جس کو تم نے بے قدر سمجھا تھا۔ وہ ایسی بے قدر نہیں ہے۔ بلکہ وہ تو کسی دوسرے مرد سے نکاح کر کے باعزت زندگی گزار سکتی ہے۔ لیکن جب دوسرا شوہر اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے دے یا وہ مرجائے اور پھر پہلا شوہر اس سے نکاح کی رغبت
٤٧
کرے گا تو آئندہ وہ اس عورت کی پہلے جیسی ناقدری نہیں کرے گا۔ بلکہ وہ اسے عزت وعظمت کا مقام دے گا۔ اب بتلایا جائے کہ اس میں مرد کی توہین وتذلیل زیادہ ہے یا عورت کی؟
افسوس کہ اس فطری مسئلے پر اعتراض وہی لوگ کرتے ہیں جن کے ہاں عورت محض شہوت رانی کا ایک ذریعہ ہے اور وہ اسے کسی شمع محفل اور داشتہ سے زیادہ حیثیت دینے کے روادار نہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے یہ سوال دراصل اپنے آباء واجداد...... یورپی مستشرقین سے مرعوبیت اور ان کی ہم نوائی کا شاخسانہ ہے اور بس!
قانون دیت سے قاتل کا تحفظ نہیں؟
- ١٢....... "حضرت محمد ﷺ نے قصاص ودیت کا قانون کیوں وضع کیا؟ مثال کے طور پر اگر میں
قتل کر دیا جاتا ہوں اور میرے اپنی بیوی یا بہن بھائیوں سے اختلافات ہیں تو لازماً ان کی پہلی کوشش یہی ہوگی کہ میرے بدلے میں زیادہ سے زیادہ خون بہا لے کر میرے قاتل سے صلح کرلیں اور باقی عمر عیش کریں۔ میں تو اپنی جان سے گیا۔ میرے قاتل کو پیسوں کے عوض یا اس کے بغیر معاف کرنے کا حق کسی اور کو کیوں تفویض کیا گیا؟ کیا اس طرح سزا سے بچ جانے پر قاتل کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی؟ کیا پیسے کے بل بوتے پر وہ مزید قتل کے لئے اس معاشرے میں آزاد نہیں ہوگا؟ پچھلے دنوں سعودی عرب میں ایک شیخ، ایک پاکستانی کو قتل کر کے سزا سے بچ گیا۔ کیونکہ مقتول کے اہل خانہ نے کافی دینار لے کر قاتل کو معاف کر دیا تھا۔ اس قانون کے نتیجے میں صرف وہ قاتل سزا پاتا ہے۔ جس کے پاس قصاص کے نام پر دینے کو کچھ نہ ہو۔ پاکستان ہی کی مثال لے لیں۔ قیام سے لے کر اب تک باحیثیت افراد میں سے صرف گنتی کے چند اشخاص کو قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا ملی۔ وہ بھی اس وجہ سے کہ مقتول کے ورثاء قاتل کی نسبت کہیں زیادہ دولت مند تھے۔ لہٰذا انہوں نے خون بہا کی پیشکش ٹھکرادی۔ اس قانون کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی باحیثیت شخص کسی کا قتل کر دیتا ہے تو قاتل کے اہل وعیال ورشتہ دار مقتول کے ورثاء پر طرح طرح سے دباؤ ڈالتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں۔ جس پر ورثاء قاتل کو معاف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کیا حضرت محمد ﷺ نے اس قانون کو وضع کر کے ایک امیر شخص کو براہ راست ’’قتل کا لائسنس‘‘ جاری نہیں کیا؟"
جواب....... اس سوال کے جواب سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ کسی انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کے قتل ہو جانے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ کسی نے جان بوجھ کر کسی کو جان سے مار دیا۔ دوم یہ کہ وہ کسی شکار وغیرہ کو مارنا چاہتا تھا۔ مگر غلطی سے اس کے نشانے پر کوئی انسان آ گیا اور وہ مر گیا۔ یا
٤٨
اس نے سمجھا کہ سامنے والا ہیولا شبیہ کسی جنگلی جا جو شکاری کی گولی کا نشانہ بن کر مر گیا۔ پہلی صورت دوسری صورت ’’قتل خطاء‘‘ کی ہے اور اس کی وارث قصاص لینے کی بجائے فی سبیل اللہ یا شریعت نے ان کو اختیار دیا ہے۔...... مگر اس کا یہ جائے تو حکومت بھی اس کو اس کی اس درندگی پر کے لئے اسے کسی مناسب تعزیر سے بھی بری قرار کو اعتراض ہے۔
مگر افسوس! کہ ان کا اعتراض کسی و یورپی آقاؤں اور عیسائی مشنوں کی ہم نوائی اور غ اس لئے کہ قانون دیت وقصاص پ و مؤثر ذریعہ ہے۔ اس میں محض فرضی احتمالات ۔ اگر بنظر انصاف دیکھا جائے تو قصا درآمد کی صورت میں کسی طالع آزما کو کسی معصوم ا اس لئے کہ اگر گواہوں سے یہ ثاب ارتکاب کیا ہے تو اس کو قصاصاً قتل کیا جائے گا اور پہنچ جائے تو اس سے پورے معاشرے کو قتل وخ قاتل کو اس گھناؤنے جرم کے ارتکاب سے پہلے اس کی سزا میں میں خود بھی اپنی جان سے ہاتھ دھ کہ میں اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے ج ہے: ’’ولكم في القصاص حيوة ياأ واسطے قصاص میں بڑی زندگی ہے۔ اے عقلمندو! لیکن اگر قتل کی کسی واردات میں شو قاتل نے عمداً اس جرم کا ارتکاب نہیں کیا تو اس مگر چونکہ قاتل کی ہی غلطی سے مقتول کی جان رکھا گیا ہے کہ مقتول کے ورثاء کی اشک شوئی ک
اس نے سمجھا کہ سامنے والا ہیولا شبیہ کسی جنگلی جانور یا شکار کی ہے۔ مگر اتفاق ہے وہ کوئی انسان تھا جو شکاری کی گولی کا نشانہ بن کر مر گیا۔ پہلی صورت کو ”قتلِ عمد“ کہتے ہیں۔ جس کی سزا قصاص ہے۔ دوسری صورت ”قتلِ خطاء“ کی ہے اور اس کی سزا دیت اور خوں بہا ہے۔ قتلِ عمد اگر مقتول کے وارث قصاص لینے کی بجائے فی سبیل اللہ ! یا خوں بہا لے کر قاتل کی جان بخشی کرنا چاہیں تو شریعت نے ان کو اختیار دیا ہے۔...... مگر اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ اگر بالفرض قاتل، قصاص سے بچ جائے تو حکومت بھی اس کو اس کی اس درندگی پر کوئی سزا نہ دے۔ یا اس کی درندگی کی روک تھام کے لئے اسے کسی مناسب تعزیر سے بھی بری قرار دے دے۔ یہی وہ صورت ہے جس پر قادیانیوں کو اعتراض ہے۔
مگر افسوس ! کہ ان کا اعتراض کسی واقعی اور عقلی شبہ کی بناء پر نہیں ہے۔ بلکہ محض اپنے یورپی آقاؤں اور عیسائی محسنوں کی ہم نوائی اور خوشنودی حاصل کرنے کی ناکام کوشش ہے۔
اس لئے کہ قانون دیت و قصاص جو دراصل قتل و غارت گری کے سدباب کا بہترین ومؤثر ذریعہ ہے۔ اس میں محض فرضی احتمالات کے ذریعے کیڑے نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اگر بنظر انصاف دیکھا جائے تو قصاص ودیت کے اس قانون کے نفاذ اور اس پر عمل درآمد کی صورت میں کسی طالع آزما کو کسی معصوم کی جان سے کھیلنے کی جرأت نہیں ہو سکتی۔
اس لئے کہ اگر گواہوں سے یہ ثابت ہو جائے کہ قاتل نے جان بوجھ کر اس جرم کا ارتکاب کیا ہے تو اس کو قصاصاً قتل کیا جائے گا اور اگر کوئی قاتل اپنے اس جرم کی وجہ سے کیفر کردار کو پہنچ جائے تو اس سے پورے معاشرے کو قتل و غارت گری سے نجات مل جائے گی اور آئندہ کسی قاتل کو اس گھناؤنے جرم کے ارتکاب سے پہلے سو بار سوچنا ہو گا کہ میں جو کام کرنے جا رہا ہوں۔ اس کی سزا میں میں خود بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا۔ لہٰذا اس جرم کے ارتکاب کا معنی یہ ہے کہ میں اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے جا رہا ہوں۔ اسی کو قرآن کریم نے یوں بیان فرمایا ہے: ”ولکم فی القصاص حیوۃ یاولی الالباب (البقرہ: ١٧٩)“ ﴿اور تمہارے واسطے قصاص میں بڑی زندگی ہے۔ اے عقلمندو!﴾
لیکن اگر قتل کی کسی واردات میں شواہد، قرائن اور گواہوں سے ثابت ہو جائے کہ واقعی، قاتل نے عمداً اس جرم کا ارتکاب نہیں کیا تو اس صورت میں قاتل کو قصاصاً قتل تو نہیں کیا جائے گا۔ مگر چونکہ قاتل کی ہی غلطی سے مقتول کی جان ضائع ہوئی ہے۔ اس لئے بطور سزا اس پر یہ تاوان رکھا گیا ہے کہ مقتول کے ورثاء کی اشک شوئی کے طور پر وہ مقتول کے وارثوں کو ایک انسانی جان کی
٤٩
قیمت سو اونٹ یا ان کی قیمت ادا کرے گا۔ مثلاً آج اگر ایک اونٹ کی قیمت ٢٥ ہزار روپے ہے تو سو اونٹ کی قیمت ٢٥ لاکھ روپے ہوگی۔ بھلا جو شخص ایک بار اپنی غلطی کی سزا ٢٥ لاکھ کی ادائیگی کی شکل میں بھگت لے گا۔ وہ آئندہ کتنا محتاط ہو جائے گا؟ اور اس کی نگاہ میں انسانی جان کی کتنی قدر و قیمت ہوگی؟
پھر چونکہ کسی مسلمان کا قتل معاشرے کا انتہائی گھناؤنا جرم ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بہت ہی مبغوض و ناپسندیدہ ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ”ومن يقتل مؤمنا متعمداً فجزآؤه جهنم خالداً فيها (النساء: ٩٣) ”اور جو کوئی قتل کرے مسلمان کو جان کر تو اس کی سزا دوزخ ہے۔ پڑا رہے گا اسی میں ۔“ ا۔ھ
اگرچہ جمہور علمائے امت اس کے قائل ہیں کہ کفر و شرک کے علاوہ ہر جرم معاف ہوسکتا ہے اور کسی جرم کی سزا ہمیشہ کے لئے جہنم کی شکل میں نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرمائیں گے۔ اس کے علاوہ جسے چاہیں گے معاف فرمادیں گے ۔“ (النساء: ٤٨) مگر بہر حال اتنا تو ضرور ہے کہ ایسا شخص اگر بغیر توبہ کے مر گیا تو اسے کافی عرصے تک جہنم میں جلنا ہوگا۔ ”خالداً فیھا“ کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ایک عرصے تک اسے جہنم کی سزا سے دوچار ہونا پڑے گا۔
اس لئے حضرت امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ قاتل کا قصاصاً قتل ہو جانا یا دیت کا ادا کر دینا اس کی آخرت کی سزا کا بدل نہیں ہے۔ لہٰذا اس کو ان دنیاوی سزاؤں کا سامنا کرنے کے بعد آخرت کی سزا سے بچنے کے لئے خلوص و اخلاص اور صدق دل سے توبہ بھی کرنا ہوگی۔ ورنہ اسے آخرت کی سزا کا بہر حال سامنا کرنا ہوگا۔
مگر چونکہ قتل کے جرم میں حق تعالیٰ کے ساتھ حق عبد بھی شامل ہے۔ اس لئے دنیاوی طور پر اس حق عبد کی وصولی کا اختیار مقتول کے ورثاء کو ہی حاصل ہے۔ اگر وہ دعویٰ کریں گے تو شریعت ان کو ان کا حق دلائے گی اور اگر وہ اپنے اس حق سے دستبردار ہونا چاہیں تو عقل و دیانت اور دین و شریعت انہیں اپنے اس حق کی وصولی پر مجبور بھی نہیں کرے گی۔ بلکہ مہذب دنیا کے کسی قانون میں یہ بات شامل نہیں کہ کوئی آدمی اپنے حق سے دستبردار ہونا چاہئے اور قانون اسے دستبردار نہ ہونے دے۔
لہٰذا قادیانیوں اور ان کے ولیان نعمت عیسائیوں اور یورپ کے مستشرقین کی جانب سے یہ خدشہ پیش کر کے اس قانون دیت و قصاص پر اعتراض کرنا کہ: ”اگر مقتول کے وارثوں
٥٠
کی مقتول سے لڑائی اور اختلاف ہو تو ان کی پہلی کوشش ہوگی کہ مقتول کے قتل کے بدلے زیادہ سے زیادہ خون بہا لے کر صلح کر لیں اور زندگی بھر مزے کریں۔ نہایت سفاہت و دنائت پر مشتمل ہے۔“
اس لئے کہ اگر محض ان مفروضوں کی بناء پر کسی قانون کو مورد الزام ٹھہرا کر اس کی افادیت کا انکار کیا جائے تو بتلایا جائے کہ کون سا قانون اس سے مستثنیٰ ہو سکتا ہے؟ اگر ایسا ہو تو کیا دنیا میں کہیں عدل و انصاف اور جرم و سزا کا قانون رو بہ عمل ہوگا؟ اگر جواب نفی میں ہے تو بتلایا جائے کہ کون سی عدالت، کون سا جج، کون سا وکیل، کون سی عدلیہ بلکہ ملک کا صدر، وزیر اعظم یا بڑے سے بڑا عہدیدار اس بدگمانی سے مستثنیٰ یا محفوظ رہ سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر دنیا میں جرم و سزا کا قانون کیونکر نافذ ہو سکے گا؟ کیا دنیا میں کہیں عدل و انصاف کا وجود ہوگا؟
قادیانیو! ذرا عقل و ہوش کے ناخن لو! اور اپنے یورپی محسنوں کی اندھی تقلید میں اسلام، پیغمبر اسلام ﷺ پر ایسے لچر اعتراض نہ کرو کہ خود دنیائے کفر بھی تمہارے منہ پر تھوکنے پر مجبور ہو جائے۔
کیا ایسے سوالات پوچھنا بھی توہین رسالت ہے؟
- ١٣...... ”اور اسی طرح کے بے شمار سوالات میرے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ان کے
بارے میں پوچھنا توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے؟“
جواب...... اس سوال کا جواب سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جس طرح پوری مہذب دنیا کا اصول ہے کہ جب تک کسی شخص کا زبان، بیان، اشارے، کنائے اور شواہد و قرائن سے مجرم ہونا ثابت نہ ہو جائے۔ اس وقت تک وہ کسی سزا مستوجب نہیں ٹھہرتا۔ ٹھیک اسی طرح دین اسلام کا بھی یہی اصول ہے کہ جب تک کسی شخص کی گستاخی اور جرم قول، فعل، زبان، بیان اشارے کنائے اور عمل کا روپ نہ دھار لے، اس وقت تک اسے مجرم باور نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ: ”انا نجد فی انفسنا ما يتعاظم أحدنا ان يتكلم به، قال أوقد وجدتموه؟ قالوا: نعم! قال: ذاك صريح الايمان“
(مشکوٰۃ ص ١٨، بحوالہ صحیح مسلم)
یا رسول اللہ! ایسے ایسے برے خیالات آتے ہیں کہ گردن کٹانا تو گوارا مگر ان کا زبان پر لانا برداشت نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہی تو ایمان ہے۔ یعنی اگر بلا اختیار دل میں ایسے خیالات آئیں اور ان کو زبان پر نہ لایا جائے۔ نہ تو وہ جرم ہیں اور نہ ہی توہین رسالت کے زمرے میں آئیں گے۔
٥١
اس تمہید کے بعد اب سمجھئے کہ جب تک سائل کے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات نے زبان و بیان کے اظہار کی شکل اختیار نہیں کی تھی۔ وہ کسی جرم کے دائرے میں نہیں آتے تھے۔ مگر اب جب کہ سائل نے نہایت توہین و تنقیص کے انداز میں ان خیالات کو اظہار کا جامہ پہنا کر ان کے ذریعے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے تو بلاشبہ یہ انداز توہین رسالت کے زمرے میں آئے گا۔ جس کا واضح قرینہ سائل کا توہین و تنقیص پر مبنی اگلا چودھواں سوال ہے۔ جس میں اس نے اس کا برملا اظہار کیا ہے کہ: ”حضرت محمد ﷺ جب ایک رات میں ساتوں آسمانوں کی سیر کر سکتے ہیں۔ چاند کو دو ٹکڑے کر سکتے ہیں۔ اتنے بڑے مذہب کے بانی اور خدا کے سب سے قریبی نبی ہیں تو کیا وہ مجھے ان سوالات کی پاداش میں مناسب سزا نہیں دے سکتے؟“
گویا سائل نے نہایت جرأت، ڈھٹائی، بے باکی اور گستاخی کے انداز میں، آنحضرت ﷺ کے معجزہ معراج، شق قمر، خدا تعالیٰ کے قرب اور اسلام کے بانی ہونے کا صاف انکار کیا ہے۔ اس کے علاوہ سائل نے تضحیک کے انداز میں اپنی اس گستاخی پر براہ راست آنحضرت ﷺ سے سزا پانے کا مطالبہ کر کے گویا یہ باور کرانے کی ناپاک کوشش کی ہے کہ اس گستاخی پر تم تو کیا تمہارے جلیل القدر نبی بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ بتلایا جائے کہ یہ گستاخی اور توہین رسالت کے زمرے میں کیونکر نہیں آئے گا؟ شاید سائل اور اس کے ہم نواؤں کو ہماری گزارشات یوں سمجھ نہ آئیں تو ہم ان کو یہ معاملہ ایک مثال سے سمجھائے دیتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ:
اگر کوئی شخص صدر پاکستان جناب جنرل پرویز مشرف کے بارے میں کہے کہ اس نے فلاں کام غلط کیا؟ فلاں معاملہ اس کا درست نہیں تھا۔ اس نے اقرباء پروری سے کام لیا۔ اس نے اپنے مفادات کی خاطر اور اپنے اقتدار و مقبولیت کی خاطر یہ غلط کام کئے اور پھر آخر میں یہ کہے کہ اس قسم کے سوالات میرے ذہن میں آتے ہیں۔ کیا ان کا زبان پر لانا صدر کی توہین کے زمرے میں آئے گا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو صدر صاحب اتنے بڑے عہدے کے حامل ہیں اور حاضر سروس جنرل اور پاکستان کے صدر بھی ہیں تو کیا وہ مجھے ان سوالات واشکالات کی پاداش میں مناسب سزا نہیں دے سکتے؟ بتلایا جائے کہ کسی منچلے کا ایسا انداز صدر کی گستاخی میں آئے گا یا نہیں؟
اتنے بڑے محمد ﷺ توہین رسالت کی سزا خود کیوں نہیں دے سکتے؟
- ١٤...... ”جو حضرات ”ہاں“ کہیں گے۔ ان سے صرف یہی عرض کر سکتا ہوں کہ حضرت
٥٢
محمد ﷺ جب ایک رات میں ساتوں آسمانوں کی سیر اتنے بڑے مذہب کے بانی اور خدا کے سب سے پاداش میں مناسب سزا نہیں دے سکتے؟ اگر ہاں طرح کے دیگر انسان مسلمانوں پر رحم کرو اور حضرت نہ کچھ مناسب سزا تجویز فرما دیں گے۔“
جواب ...... جیسا کہ تیرھویں سوال کے جواب میں کا انداز! نہایت گستاخی، بے ادبی اور ڈھٹائی ایذا رسانی کے زمرے میں آتا ہے اور جو لوگ اللہ ہوں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے
سائل کا یہ کہنا کہ: ”میرے مسلمان بھـ محمد ﷺ کو موقع دو کہ وہ خود ہمارے لئے مناسب گستاخ ، کسی ملک کے سربراہ یا صدر کی بدترین گـ پولیس سے کہے کہ مجھ پر رحم کرو اور ملک کے صدر سزا تجویز کرے۔ کیا خیال ہے اس ملک کی انتظام اسے کیفر کردار تک پہنچائے گی کہ اس گستاخی کی سـ کی روشنی میں ہم ہی نافذ کریں گے؟
بتلایا جائے کہ امریکا بہادر کے نام نہا کر اور گوانتاناموبے لے جا کر ان کی اس گستـ کے آلہ کار؟
بلاشبہ توہین رسالت کا قانون آج سـ چودہ صدیوں سے اس پر عمل ہوتا آ رہا ہے ا آرڈینینس کے ذریعے اس کا نفاذ ہوچکا ہے ۔ آنحضرت ﷺ کی جگہ آپ ﷺ کے خدام ہی تـ محل سے نکل کر سامنے آ کر گستاخی کیجئے اور اپنا نمـ
کسی کو سوچ کی بنا پر کیوں کافر قرار دیا
- ١٥...... ”یاد رکھو! ایک مسلمان کا خون دو
محمد ﷺ جب ایک رات میں ساتوں آسمانوں کی سیر کر سکتے ہیں۔ چاند کو دو ٹکڑے کر سکتے ہیں۔ اتنے بڑے مذہب کے بانی اور خدا کے سب سے قریبی نبی ہیں تو کیا وہ خود مجھے ان سوالات کی پاداش میں مناسب سزا نہیں دے سکتے؟ اگر ہاں! تو اے میرے مسلمان بھائیو! مجھ پر اور میری طرح کے دیگر انسانوں پر رحم کرو اور حضرت محمد ﷺ کو موقع دو کہ وہ خود ہی ہمارے لئے کچھ نہ کچھ مناسب سزا تجویز فرما دیں گے۔"
جواب...... جیسا کہ تیرھویں سوال کے جواب میں ہم عرض کر چکے ہیں کہ سائل کا یہ سوال اور سوال کا انداز ! نہایت گستاخی، بے ادبی اور ڈھٹائی پر مشتمل ہے اور یہ بلاشبہ آنحضرت ﷺ کی ایذا رسانی کے زمرے میں آتا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کی ایذا رسانی کا باعث ہوں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔
(الاحزاب:٥٧)
سائل کا یہ کہنا کہ: "میرے مسلمان بھائیو! مجھ پر اور دیگر انسانوں پر رحم کرو اور حضرت محمد ﷺ کو موقع دو کہ وہ خود ہمارے لئے مناسب سزا تجویز کریں۔" بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی گستاخ، کسی ملک کے سربراہ یا صدر کی بدترین گستاخی کا ارتکاب کرے اور وہاں کی انتظامیہ اور پولیس سے کہے کہ مجھ پر رحم کرو اور ملک کے صدر یا سربراہ کو موقع دو کہ وہ میرے لئے کوئی مناسب سزا تجویز کرے۔ کیا خیال ہے اس ملک کی انتظامیہ اور پولیس اس کا راستہ چھوڑ دے گی؟ یا یہ کہہ کر اسے کیفر کردار تک پہنچائے گی کہ اس گستاخی کی سزا صدر یا سربراہ مملکت نہیں بلکہ ملکی قانون و دستور کی روشنی میں ہم ہی نافذ کریں گے؟
بتلایا جائے کہ امریکا بہادر کے نام نہاد "مسلمان باغیوں" کو افغانستان و عراق سے پکڑ کر اور گوانتاناموبے لے جا کر ان کی اس "گستاخی" کی سزا صدر بش خود دے رہے ہیں یا اس کے آلہ کار؟
بلاشبہ توہین رسالت کا قانون آج سے چودہ سو سال پہلے مرتب ہو چکا ہے اور گزشتہ چودہ صدیوں سے اس پر عمل ہوتا آ رہا ہے اور پاکستان میں بھی ١٩٨٤ء کے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اس کا نفاذ ہو چکا ہے۔ لہٰذا اس گستاخ سائل سے ہم کہنا چاہیں گے کہ! آنحضرت ﷺ کی جگہ آپ ﷺ کے خدام ہی تمہاری "خدمت" کے لئے موجود ہیں۔ اپنے شیش محل سے نکل کر سامنے آکر گستاخی کیجئے اور اپنا تماشا دیکھئے۔
کسی کو سوچ کی بنا پر کیوں کافر قرار دیا جاتا ہے؟
- ١٥...... "یاد رکھو! ایک مسلمان کا خون دوسرے پر حرام ہے اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ایک
٥٣
مسلمان کو صرف اس کی سوچ اور عقائد کی بناء پر کافر قرار دے دے۔ یہ تو تھا اسلامی فرمان، اب ایک انسانی فرمان بھی سن لیں کہ ”دنیا کے کسی بھی مذہب سے کہیں زیادہ انسانی جان قیمتی ہے۔“ وما الينا الا البلاغ (نقل مطابق اصل۔ ناقل !)
جواب ...... جی ہاں! ایک مسلمان کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے اور اسلام نے ہی اس کی تعلیم دی ہے اور جو شخص اس کی خلاف ورزی کرے۔ قرآن کریم نے اس پر سخت وعید فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر اور ناحق قتل کرے۔ اسے ہمیشہ ...... یعنی طویل عرصے ...... کے لئے جہنم میں جلنا ہوگا۔“
رہی یہ بات کہ کسی کو اس کی سوچ اور عقائد کی بناء پر کافر قرار دینے کا کسی کو حق نہیں تو قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی مخالفت کرنے والوں کو کافر، پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج کیوں قرار دیا؟ اسی طرح خود مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کو جنگل کے سور اور ان کی بیویوں کو کنجریوں کا خطاب کیوں دیا؟ اسی طرح اپنے نہ ماننے والوں کو جہنمی کے ”اعزاز“ سے کیوں سرفراز فرمایا؟ اگر مرزائیوں کے مخالف مسلمان، سوچ اور عقائد کے اختلاف کی بناء پر کافر، مرتد، جہنمی اور جنگل کے سور ہیں تو خود مرزائی پوری امت مسلمہ کی سوچ، چودہ صدیوں کے مسلمانوں اور کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام علیہم السلام سے اختلاف کرنے اور ان کی توہین و تنقیص کرنے کی وجہ سے کیونکر کافر نہیں ہوں گے؟
دیکھا جائے تو سائل کا یہ پورا سوال ہی اس کے دجل، تلبیس، دوغلا پن، نفاق اور سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ اس لئے کہ اگر سائل کا اپنے اس قول پر اعتقاد ہوتا تو وہ سب سے پہلے اپنے آقاؤں کو اس کی تلقین کرتا، جو فلسطین، بیروت، لبنان، افغانستان، عراق اور کشمیر میں لاکھوں انسانوں کے بے جا قتل عام کے مرتکب ہیں۔ اگر قادیانی اپنے اس مؤقف میں سچے ہوتے تو بلاشبہ آج وہ دنیائے عیسائیت کی تائید و حمایت کی بجائے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھا رہے ہوتے۔ مگر اخبارات و میڈیا اس پر شاہد ہیں کہ قادیانی، عیسائیت، یورپ اور امریکا کی اس دہشت گردی پر نہ صرف خاموش ہیں۔ بلکہ در پردہ وہ ان کی حمایت و تائید میں کوشاں ہیں۔
”واللہ یقول الحق وهو يهدي السبيل“
(ماہنامہ ”بینات“ کراچی، شعبان، رمضان، شوال، ذوالقعدہ ١٤٢٧ھ)
٥٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
قادیانی فریب
حضرت مولانا سعید احمد جلالپوریؒ شہید
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمدلله وسلام على عباده الذين اصطفى!
گزشتہ دنوں ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کی ڈاک میں قادیانیوں سے قطع تعلق اور بائیکاٹ سے متعلق، راقم الحروف کے ایک جواب کی تردید میں جناب انعام الحق کراچی، کا ایک تفصیلی مکتوب موصول ہوا، جس میں موصوف نے لکھا کہ جب میں نے قادیانیوں سے بائیکاٹ سے متعلق آپ کا جواب، قادیانیوں کو دکھایا تو انہوں نے اس کی تردید و تغلیط میں جو کچھ دکھایا، اُسے دیکھ کر میرا سر شرم سے جھک گیا، اس لئے کہ آپ نے تو مرزا غلام احمد قادیانی کو گستاخ اور آنحضرت ﷺ کا بدترین دشمن لکھا تھا جبکہ قادیانیوں نے مرزا قادیانی کی وہ تحریریں دکھائیں، جن سے ان کا عاشقِ رسول ہونا ثابت ہوتا ہے۔ پیشِ نظر تحریر اسی خط کا جواب ہے۔ لہٰذا افادۂ عام کے لئے وہ خط اور اس کا جواب شائع کیا جاتا ہے: ”بخدمت جناب مولانا سعید احمد جلال پوری صاحب سلام و دعا کے بعد عرض ہے کہ آج کے اس معاشرے میں ہر شخص کے بعض لوگوں سے دوستانہ تعلقات ہوتے ہیں، اور یہ اخلاق اور طبیعت کی بنا پر ہوتے ہیں نہ کہ مسلک یا گروہ کی وجہ سے، آپ لاکھ کوشش کرلیں، لوگ نہیں ہٹیں گے، دوسری بات کہ آج ایک بچہ بھی کسی بات کی دلیل یا ثبوت چاہتا ہے۔ میں جنگ کا پرانا قاری ہوں خصوصاً جمعۃ المبارک اقراء صفحہ کا، آئے دن اس میں آپ قادیانیت کے خلاف تو اظہار کرتے ہی تھے، مگر جمعۃ المبارک ٩؍مئی ٢٠٠٨ء کو ایک خاتون کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ: قادیانی نہ صرف کافر و زندیق ہیں، یہ آنحضرت ﷺ کے بدترین دشمن اور گستاخ ہیں، بلکہ مرزا قادیانی نے حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت ﷺ تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کی ہے۔ آپ کے اس بیان سے جب قادیانی دوست کو جواب دینے کا کہا تو سر شرم سے جھک گیا اور معلوم ہو گیا کہ جس طرح کافر تعصب و مخالفت میں اندھے ہو کر ہمارے پیارے رسول اکرم ﷺ پر الزامات لگاتے ہیں، اسی طرح آپ مولوی حضرات کر رہے ہیں، کیونکہ قادیانی نے اپنے مرزا قادیانی کی تحریرات دکھائیں، جن میں لکھا تھا کہ:
٢
(قادیان کے آ
(در
(آئینہ
- ☆...... پھر مرزا قادیانی کی کتاب (آئینہ کمالات اسلام
انسان کو دیا گیا یعنی انسانِ کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا، وہ لعل اور یاقوت تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی و سماوی میں نہیں تھا، صرف انسان اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سیدالانبیاء ص
(آئینہ کما
دوسری بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی اس کتا کے کمالات کا آئینہ۔
- ☆...... پھر مرزا قادیانی کی ایک اور کتاب (اتمام الحجۃ)
کے آنے سے زندہ ہو گیا، وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیا مصطفیٰ ﷺ ہیں، اے پیارے خدا اس پیارے نبیؐ پر وہ رح کسی پر نہ بھیجا ہو۔“
مولوی صاحب! اب غور کرلیں کہ ختم المرسلین مقام کا بھی۔
- ☆...... مرزا قادیانی کی ایک اور تصنیف (سراج منیر)
سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلۂ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوا کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں، یعنی وہی نبیوں ک سرتاج، جس کا نام محمد مصطفیٰ و احمد مجتبیٰ ﷺ ہے، جس کے زی جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی۔“
- ☆...... مرزا قادیانی کی کتاب (حقیقت الوحی) میں ہے
٣
(قادیان کے آریہ اور ہم ص ٥٧، ٥٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٥٦)
ربط ہے جان محمدؐ سے میری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٢٥، خزائن ج ٥ ص ٢٢٥)
- ☆...... پھر مرزا قادیانی کی کتاب (آئینہ کمالات اسلام) میں ہے کہ: ”وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو
انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا نجوم... قمر... آفتاب... زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا، وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی و سماوی میں نہیں تھا، صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں، جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاخیار محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ١٦٠، ١٦١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
دوسری بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی اس کتاب کے نام ہی سے ظاہر ہے کہ اسلام کے کمالات کا آئینہ۔
- ☆...... پھر مرزا قادیانی کی ایک اور کتاب (اتمام الحجہ) میں ہے: ”ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس
کے آنے سے زندہ ہو گیا، وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلین جناب محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، اے پیارے خدا اس پیارے نبیؐ پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتدا دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔“
(اتمام الحجہ ص ٢٨، خزائن ج ٨ ص ٣٠٨)
مولوی صاحب! اب غور کر لیں کہ ختم المرسلین ماننے کا بھی ثبوت ہے اور کمال درود و سلام کا بھی۔
- ☆...... مرزا قادیانی کی ایک اور تصنیف (سراج منیر) میں ہے کہ: ”ہم جب انصاف کی نظر
سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلۂ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جواں مرد نبیؐ اور زندہ نبیؐ اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبیؐ صرف ایک مرد کو جانتے ہیں، یعنی وہی نبیوں کا سردار، رسولوں کا فخر، تمام مرسلوں کا سرتاج، جس کا نام محمد مصطفیٰ و احمد مجتبیٰ ﷺ ہے، جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی۔“
(سراج منیر ص ٨٠، خزائن ج ١٢ ص ٨٢)
- ☆...... مرزا قادیانی کی کتاب (حقیقت الوحی) میں ہے: ”پس میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا
٣
ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے، اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا، وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی، وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا، اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع انسان کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی، اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا، اس کو تمام انبیاء علیہم السلام اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی.... ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ١١٥، ١١٦ خزائن ج ٢٢ ص ١١٨، ١١٩)
- ☆....... (چشمہ معرفت) میں ہے: ”محمد عربی بادشاہ ہر دو سرا، کرے ہے روح قدس جس کے در
کی دربانی، اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پر کہتا ہوں، کہ اس کی مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی“
(چشمہ معرفت ص ٢٨٩، خزائن ج ٢٣ ص ٣٠٢)
- ☆....... (اتمام الحجہ) میں ہے کہ: ”اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر نبی دنیا میں
آئے جیسا کہ یونس، ایوب اور مسیح بن مریم، ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی۔ اگر چہ سب مقرب اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے تھے، یہ اس نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔ اللھم صل وسلم و بارك علیہ و آلہ واصحابہ اجمعین۔“
(اتمام الحجہ ص ٣٩، خزائن ج ٨ ص ٣٠٨)
- ☆....... جہاں تک حضرت مسیح ابن مریم کی توہین کا الزام ہے تو یہ بھی قادیانیوں کو ہی سچا ثابت
کرتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی انگریزوں کے خود کاشتہ تھے تو ان کے خدا کی توہین کیونکر کر سکتے تھے؟ جب کہ مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی سچا اور برحق نبی مانتے تھے۔
- ☆....... اپنی تصنیف (تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢) پر ہے: ”مسیح خدا کے نہایت پیارے
اور نیک بندوں میں سے ہے اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں۔“
- ☆....... (کتاب البریہ ص ١٣٦، خزائن ج ١٣ ص ١٥٤) میں ہے: ”ہم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
ایک صادق اور راست باز اور ہر ایک ایسی عزت کا مستحق سمجھتے ہیں جو سچے نبی کو دینی چاہئے۔“
- ☆....... قادیانیوں کے بہت سارے حوالوں میں سے میں نے چند عرض کئے ہیں۔ اب آپ
پر لازم ہے کہ اپنی بات کہ مرزا قادیانی نے تمام نبیوں کی توہین کی ہے۔ ثابت کریں۔ اگر ایسا نہ کیا تو کس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوگا؟
منجانب: انعام الحق، کراچی ١٢ مئی ٢٠٠٨ء
ج...... میرے عزیز! اللہ تعالیٰ آپ کی غلط فہمیوں کو دور فرمائے اور آپ کو قادیانی مکر و عیاری سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ، آپ کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے مختصراً دو چار باتیں عرض کرنا چاہوں گا، اگر آپ نے خالی الذہن ہو کر ان کو پڑھا اور غور و فکر کیا تو انشاء اللہ آپ کی شرمندگی دور ہو کر آپ کی تشفی ہو جائے گی، ملاحظہ ہوں:
- ١...... آپ کی یہ بات حقائق کے خلاف ہے کہ آدمی کسی سے دوستی محض اخلاق و محبت کی بنا پر
لگاتا ہے، یہ بات کسی غیر مسلم اور لامذہب کی حد تک تو شاید درست ہو، کیونکہ ان کے ہاں دین، مذہب، قبر، آخرت اور جنت و جہنم کی کوئی اہمیت نہیں ہے، جہاں تک مسلمانوں اور دین داروں کا تعلق ہے، وہ اپنے ہر قول، فعل اور عمل میں دین، مذہب، قبر، آخرت، جنت اور جہنم کے نفع نقصان کو پیش نظر رکھتے ہیں۔
- ٢...... آپ نے لکھا ہے کہ میں نے ایک خاتون کے جواب میں قادیانیوں کو ”کافر، زندیق
اور حضور ﷺ کے بدترین دشمن و گستاخ“ لکھا ہے، پھر جب آپ نے قادیانی دوستوں کو جواب دینے کے لئے کہا تو انہوں نے گویا مرزا قادیانی کی کتب کے حوالہ سے ثابت کیا کہ مرزا قادیانی حضور ﷺ اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے گستاخ اور بے ادب نہیں تھے، بلکہ وہ تو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سچے عاشق تھے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی راست باز اور اولوالعزم نبی جانتے اور مانتے تھے۔
میرے عزیز! قادیانیوں نے آپ کو مرزا قادیانی کی تصویر کا ایک رخ دکھایا ہے اور انہوں نے آپ کو مرزا قادیانی کی وہ عبارتیں دکھائی ہیں، جو اس کے دعویٰ نبوت، مسیحیت سے پہلے کی تھیں یا اس کی متضاد تحریروں میں سے ان مضامین پر مشتمل تھیں، جن میں اس نے شرافت کا مظاہرہ کیا ہے۔
میرے عزیز! جیسے مرزا قادیانی کے ”رخِ زیبا“ کے دو پہلو تھے، ایک آنکھ ٹھیک تھی تو دوسری بھینگی۔ ٹھیک اسی طرح اس کی تحریرات اور کتب کے چہرہ کے بھی دو رخ تھے، ایک خوشنما تو دوسرا بھیانک اور ڈراؤنا۔ اس لئے آپ کے مرزائی دوستوں نے آپ کو مرزا قادیانی کی تحریروں کا نام نہاد خوشنما منظر اور شریفانہ پہلو دکھایا اور آپ اس سے متاثر ہو کر شرمندہ ہو گئے۔
میرے عزیز! یہ مرزائیوں کا پرانا حربہ ہے کہ وہ جب کسی بھولے بھالے مسلمان کو گھیرتے ہیں، تو پہلے پہل اُسے مرزا غلام احمد قادیانی کے بھیانک عقائد و نظریات اور باعث
٥
نفرت تحریریں نہیں دکھاتے، ہاں جب کوئی انسان مکمل طور پر ان کے رنگ میں رنگ جاتا ہے تب وہ اس کو مرزا قادیانی کی اصل تصویر دکھاتے ہیں، چونکہ اس وقت تک وہ اپنی متاع دین و ایمان غارت کر چکا ہوتا ہے اور اپنی کشتیاں جلا کر قادیانی جہنم میں کود چکا ہوتا ہے، اس لئے وہ اپنے اندر قادیانی نوازشات سے منہ موڑنے کی ہمت و جرأت نہیں پاتا۔
یہ دوسری بات ہے کہ بعض اوقات کچھ خوش قسمت ، حقیقت حال واضح ہو جانے کے بعد، قادیانیت پر دو حرف بھیج کر دوبارہ اسلام کی طرف لوٹ آتے ہیں، چنانچہ قادیانیوں کے دجل اور ایک سلیم الفطرت انسان کی قادیانیت سے تائب ہونے کی داستان اور تفصیلات ملاحظہ ہوں: ”خاکسار کا نام محمد مالک ہے‘ عرصہ دراز سے جرمنی میں مقیم ہوں‘ میری جرمن بیوی ہے‘ جس سے چار بچے ہیں‘ پھولوں کی دو دکانیں ہیں‘ یہاں ذاتی مکان ہے‘ شکر الحمد للہ کہ اچھی گزر بسر ہو رہی ہے۔
میرے احمدی دوست بلکہ اب قادیانی کہنا مناسب ہوگا‘ کافی تھے‘ ان ہی سے امام مہدی کا ذکر سنا اور قادیانی ہو گیا‘ مجھے بتایا گیا کہ یہ وہی امام مہدی ہے‘ جس کا ذکر آنحضرت ﷺ نے کیا تھا۔ یہ ٢٦؍نومبر ١٩٩٨ء کا واقعہ ہے۔ مجھ پر گھر والوں‘ دوستوں اور رشتہ داروں کا بہت دباؤ پڑا مگر میں ثابت قدم رہا‘ میں نے سو مساجد اسکیم کے تحت (قادیانیوں کو) بیس ہزار مارک دینے کا وعدہ بھی کیا‘ جس میں سے تقریباً سولہ ہزار کی ادائیگی کر دی‘ ماہانہ چندہ مع فیملی کے تقریباً چار سو مارک دیتا رہا‘ تقریباً ایک سال میں مجلس انصار اللہ جماعت پل ہائیم کا زعیم بھی رہا۔ چند ماہ قبل ایک قادیانی دوست نے ہی مجھے بتایا کہ: ”ہم مرزا غلام احمد کو صرف امام مہدی ہی نہیں بلکہ نبی اور رسول بھی مانتے ہیں اور ایک جگہ مرزا قادیانی یہ بھی لکھتے ہیں کہ: میں نے کشف میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ میرے جسم میں داخل ہو گیا اور مجھ میں تحلیل ہو گیا اور میں نے محسوس کیا کہ اب میں ہی خدا ہوں اور اس کے بعد ساری دنیا میں نے بنائی وغیرہ وغیرہ۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
میں نے اسی وقت جماعت سے رابطہ کیا اور کہا کہ مجھے دھوکہ میں رکھا گیا ہے‘ مجھے بتایا گیا کہ ہم قرآن اور حدیث کی روشنی میں یہ سب کچھ ثابت کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ محترم مربی جلال شمس صاحب تشریف لائیں اور میں مسلمان علماء سے رابطہ کرتا ہوں‘ دونوں آمنے سامنے بیٹھیں‘ جو بھی سچا ہوگا‘ میں مان لوں گا۔“
(پیکر اخلاص، ص:٩٠، ٩١)
٦
اس کے ساتھ ساتھ مولانا منظور احمد الحسینی میں ہے کہ محمد مالک نے مناظرہ کی غرض و غایت بیا مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ: ”آج سے دو سال پہل بتلایا تھا کہ مرزا قادیانی نے صرف مہدی ہونے کا دعو کہ مرزا قادیانی نے نبی‘ رسول اور خدا ہونے کا بھی دع کرائی ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے الحسینی سے درخواست کروں گا کہ وہ قادیانی کتب س دعاوی کئے ہیں یا نہیں؟ چنانچہ مولانا منظور احمد الح قادیانی کتب سے یہ ثابت کیا کہ مرزا قادیانی نے م کا ایک دعویٰ نبوت و رسالت کا ہے‘ دوسرا دعویٰ اس ہے اور تیسرا دعویٰ اس نے خدا ہونے کا کیا ہے اور ان ”روحانی خزائن“ سے‘ جو ساری ان کے پاس اس و میں قادیانی مربی اور ان کے رفقاء لاجواب و مبہوت مالک دوبارہ کھڑے ہوئے اور مرزائیوں کو مخاطب دیئے رکھا‘ آج تمہاری کتابوں سے ثابت کر دیا گیا کئے تھے‘ آج مجھ پر یہ حقیقت حال واضح ہو گئی ہے ہوں کہ آج سے میرا قادیانی مذہب سے ہر طرح ک میں توبہ کر کے اسلام میں داخل ہوتا ہوں۔“
میرے عزیزو! یہ قادیانیوں کی پرانی مسلمانوں کو دھوکا سے گمراہ کرتے ہیں، اس لئے تصویر نہیں دکھاتے۔
لہٰذا مناسب ہوگا کہ آپ کی غلط فہمی د کی حضرات انبیاء کرام کی توہین و تنقیص پر مبنی غل سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نتھر کر سامنے میرے عزیزو! آپ کو قادیانیوں نے
اس کے ساتھ ساتھ مولانا منظور احمد الحسینی کے مناظرہ کولون، جرمنی ، کی تفصیلی روئیداد میں ہے کہ محمد مالک نے مناظرہ کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے مجلس مناظرہ کے شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ: ”آج سے دو سال پہلے میں قادیانی ہوا تھا اور مجھے قادیانیوں نے بتلایا تھا کہ مرزا قادیانی نے صرف مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے مگر کچھ دنوں پہلے مجھے یہ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے نبی، رسول اور خدا ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے لہٰذا میں نے یہ مجلس اسی لئے منعقد کرائی ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے میں مسلمانوں کے نمائندے مولانا منظور احمد الحسینی سے درخواست کروں گا کہ وہ قادیانی کتب کے حوالے سے بتلائیں کہ مرزا قادیانی نے یہ دعاوی کئے ہیں یا نہیں؟ چنانچہ مولانا منظور احمد الحسینی نے تمام حاضرین کے سامنے بالتفصیل قادیانی کتب سے یہ ثابت کیا کہ مرزا قادیانی نے ٢٠٠ سے زائد دعاوی کئے ہیں جن میں سے اس کا ایک دعویٰ نبوت ورسالت کا ہے دوسرا دعویٰ اس نے یہ کیا کہ نعوذ باللہ وہ خود محمد رسول اللہ بن گیا ہے اور تیسرا دعویٰ اس نے خدا ہونے کا کیا ہے اور انہوں نے ان دعاوی کو مرزا قادیانی کی کتابوں ”روحانی خزائن“ سے جو ساری ان کے پاس اس وقت موجود تھیں، ثابت کیا۔ علم ودلائل کی روشنی میں قادیانی مربی اور ان کے رفقاء لاجواب ومبہوت ہو گئے۔ چنانچہ ان تمام حوالہ جات کو سن کر محمد مالک دوبارہ کھڑے ہوئے اور مرزائیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ : ” مجھے تم نے دو سال تک دھوکہ دیئے رکھا آج تمہاری کتابوں سے ثابت کر دیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی نے مذکورہ بالا یہ تمام دعاوی کئے تھے آج مجھ پر یہ حقیقت حال واضح ہوگئی ہے لہٰذا میں سب حاضرین کے سامنے اعلان کرتا ہوں کہ آج سے میرا قادیانی مذہب سے ہر طرح کا تعلق ختم ہے یہ جھوٹا مذہب تمہیں مبارک ہو اور میں توبہ کر کے اسلام میں داخل ہوتا ہوں۔“
(پیکر اخلاص، ص: ٨٣، ٨٥)
میرے عزیز! یہ قادیانیوں کی پرانی اور غلیظ روش رہی ہے کہ وہ سیدھے سادے مسلمانوں کو دھوکا سے گمراہ کرتے ہیں، اس لئے وہ شروع شروع میں انہیں مرزا قادیانی کی حقیقی تصویر نہیں دکھاتے۔
لہٰذا مناسب ہوگا کہ آپ کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے آپ کے سامنے مرزا قادیانی کی حضرات انبیاء کرام کی توہین وتنقیص پر مبنی غلیظ تصریحات پیش کر دی جائیں، تاکہ آپ کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نتھر کر سامنے آجائے۔
میرے عزیز! آپ کو قادیانیوں نے بتلایا کہ مرزا قادیانی، حضور ﷺ کا گستاخ نہیں
٧
بلکہ مداح تھا اور انہوں نے آپ کو مرزا کی وہ عبارتیں دکھائیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ چشم بد دور ! مرزا قادیانی، حضور ﷺ کا عاشق صادق تھا۔
میرے عزیز! یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ مرزا قادیانی ماں کے پیٹ سے کافر، مرتد، زندیق اور دجال پیدا نہیں ہوا تھا، بلکہ وہ بعد میں انگریزوں کی تحریک اور ان کے ایماء پر گستاخ و مرتد بنا تھا، اس لئے اس کی شروع کی کتابوں اور تحریروں میں وہ کچھ نہیں تھا، جو اس نے بعد میں اُگلا، لہٰذا جب وہ دائرہ اسلام سے نکل کر مرتد ہو گیا، تو اس نے اپنی کتابوں میں کیسی کیسی گستاخیاں کیں؟ ان میں سے چند ایک ملاحظہ ہوں:
- ا....... چنانچہ جب مرزا قادیانی مرتد و زندیق ہو گیا اور اپنے آپ کو حضور ﷺ سمیت تمام
انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل و برتر جاننے لگا تو اس نے لکھا: ”آسمان سے کئی تخت اترے، مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“
(تذکرہ ص ٣٣٩ طبع سوم، حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
بتلائیے ! اس میں حضور ﷺ کی شان میں گستاخی نہیں؟ کیا اپنے تخت کو حضور ﷺ کے تخت سے اونچا قرار دینا، اپنی برتری و افضلیت اور حضور ﷺ کی توہین و تنقیص کی دلیل نہیں؟
- ٢....... مرزا قادیانی اپنے آپ کو نعوذ باللہ! محمد رسول اللہ کہتا اور باور کراتا تھا، اس لئے اس
نے لکھا: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم“ ...اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی...“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
آپ ہی بتلائیے ! کیا اپنے آپ کو اس آیت کا مصداق ٹھہرانا، اللہ کی ذات پر بہتان و افتراء قرآن کریم کی تحریف اور حضور ﷺ کی گستاخی نہیں؟
- ٣....... مرزا قادیانی اپنے آپ کو بعینہ محمد رسول اللہ! کہتا اور سمجھتا تھا، آخر کیوں؟ اس کی وجہ
بیان کرتے ہوئے اس نے خود لکھا کہ چونکہ حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ کا دوبارہ دنیا میں آنا مقدر تھا، پہلی بار آپ مکہ مکرمہ میں محمد رسول اللہ کی شکل میں آئے اور دوسری بار قادیان میں مرزا قادیانی کی شکل میں، اس لئے نعوذ باللہ ! وہ خود محمد رسول اللہ ہے، مرزا کی گستاخی ملاحظہ ہو: ”اور جان کہ ہمارے نبی کریم ﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے (یعنی چھٹی صدی مسیح میں) ایسا ہی مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار (یعنی تیرھویں صدی ہجری) کے آخر میں مبعوث ہوئے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٨٠، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٠)
آپ ہی ارشاد فرمائیں کہ اپنے آپ کو حضور ﷺ کا ظل، بروز اور عکس قرار دینا اور
٨
آپ ﷺ کے تمام کمالات سے اپنے آپ کو متصف
- ٤....... جب مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ ہو کہ اس
وجود ہے اور یہ کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مرزا کا اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حضرت محمد رسول الـ طرف منتقل ہو گئے ہیں، چنانچہ ملاحظہ ہو: ”جبکہ میـ رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے بـ الگ انسان ہوا، جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ
میرے عزیز! ذرا اس پر بھی غور کریں باپ ہوں، کیونکہ تمہارے والد کے تمام کمالات و والد اور اس کی اولاد کی گستاخی نہ ہوگی؟ اگر جواب ہی بتلائیے : مرزا کا حضور ﷺ کے بارہ میں یہ گستاخی معاف! کیا اس کا یہ معنی نہ ہوگا کہ آپ میری طرف منتقل ہو گئے ہیں، لہٰذا آج کے بعد ا ہی مالک ہوں، اور تمہاری اماں کا شوہر بھی میں ہـ موذی کو اپنے والد سے محبت کرنے والا کہیں گے
- ٥....... مرزا قادیانی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
اپنے آپ کو خاتم النبیین ضرور باور کراتا ہے، ملاحـ
- الف....... ”میں بار بار بتلا چکا ہوں کہ میں بموجـ
یلحقوا بھم “ بروزی طور پر وہی خاتم الانبیا احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضـ
آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ ایسا کہنے لیجئے مرزا کی گستاخی کا ایک اور حوالہ پڑھیئے :
- ب....... ”مبارک ہے وہ جس نے مجھے پہچـ
آپ ﷺ کے تمام کمالات سے اپنے آپ کو متصف باور کرانا، حضور ﷺ کی گستاخی نہیں؟
- ٣...... جب مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ ہو کہ اس کا وجود نعوذ باللہ بعینہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا
وجود ہے اور یہ کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مرزا کا روپ دھار کر دوبارہ قادیان میں آئے ہیں، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے تمام کمالات وامتیازات بھی مرزا کی طرف منتقل ہوگئے ہیں، چنانچہ ملاحظہ ہو: ”جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا، جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا؟“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
میرے عزیز! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اگر کوئی شخص آپ سے یہ کہے کہ میں آپ کا باپ ہوں، کیونکہ تمہارے والد کے تمام کمالات وصفات مجھ میں ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمہارے والد اور اس کی اولاد کی گستاخی نہ ہوگی؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقیناً اثبات میں ہے تو آپ ہی بتلائیے: مرزا کا حضور ﷺ کے بارہ میں یہ کہنا، آنحضرت ﷺ کی گستاخی کیوں نہ ہوگی؟ گستاخی معاف! کیا اس کا یہ معنی نہ ہوگا کہ آپ کے باپ سے متعلق تمام حقوق وفرائض بھی اب میری طرف منتقل ہوگئے ہیں، لہٰذا آج کے بعد اس کی جائیداد تمام املاک، اور نقد وغیرہ کا بھی میں ہی مالک ہوں، اور تمہاری اماں کا شوہر بھی میں ہی ہوں، آپ ہی بتلائیں کہ آپ ایسے گستاخ و موذی کو اپنے والد سے محبت کرنے والا کہیں گے یا اس کا گستاخ و بے ادب؟
- ٤...... مرزا قادیانی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تو خاتم النبیین نہیں مانتا، البتہ اس کے برعکس
اپنے آپ کو خاتم النبیین ضرور باور کراتا ہے، ملاحظہ ہو:
- الف...... ”میں بار بار بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت: ”وآخرین منہم لما
یلحقوا بہم“ بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ ایسا کہنے اور لکھنے والا زندیق، مرتد اور گستاخ ہے یا نہیں؟ لیجئے مرزا کی گستاخی کا ایک اور حوالہ پڑھیئے:
- ب...... ”مبارک ہے وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ
٩
ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں، بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“
(کشتی نوح ص ٥٦، خزائن، ج ١٩ ص ٦١)
- ٥....... مرزا قادیانی ایک طرف اپنے آپ کو نعوذ باللہ! محمد رسول اللہ ﷺ کا ظل، بروز اور عکس
قرار دیتا ہے اور دوسری طرف وہ اپنے آپ کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے شان میں بڑھ کر بھی قرار دیتا ہے، کیا یہ حضور ﷺ کی گستاخی نہیں؟ ملاحظہ ہو: ”جس نے اس بات کا انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی، پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت اُن سالوں کے، اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٨١، خزائن، ج ١٦ ص ٢٧١)
کیا خیال ہے جو مردود و ملعون یہ ہرزہ سرائی کرے کہ میری بعثت کی روحانیت حضرت محمد ﷺ کی بعثت کی روحانیت سے اقویٰ، اکمل اور اشد ہے یعنی حضرت محمد ﷺ سے بڑھ کر ہے، وہ ملحد و بے دین، آنحضرت ﷺ کا گستاخ کہلائے گا؟ یا آپ کا عاشق صادق اور مداح؟
- ٦....... مرزا قادیانی کے ایک چہیتے مرید ظہور الدین اکمل نے مرزا کی شان میں منقبت کہی
اور اس نے مرزا کو وہ منقبت سنائی تو مرزا نے نہ صرف یہ کہ اس کی تردید نہ کی، بلکہ اس کو اعزاز و اکرام سے نوازا، لیجئے! ظہور الدین اکمل کی نظم کے چند اشعار سن کر فیصلہ کیجئے! کہ قادیانیوں کے ہاں حضور ﷺ کی شان بڑھ کر ہے؟ یا ملعون مرزا کی؟
غلام احمد ہے عرش رب اکبر مکان اس کا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہے بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں“
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء)
- ٧....... اسی طرح قادیانی حضور ﷺ کی مکے کی بعثت کو ہلال یعنی پہلی کا چاند اور مرزا قادیانی
کی بعثت کو چودھویں کا چاند تصور کرتے ہیں، ظاہر ہے ہلال یعنی پہلی کا چاند نامکمل، باریک اور بے نور ہوتا ہے اور چودھویں کا چاند مکمل اور چمکتا ہوا ہوتا ہے، لیجئے مرزا قادیانی کی گستاخی ملاحظہ ہو:
١٠
”اور اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ ان (چاند) ہو جائے، خدا تعالیٰ کے حکم سے، پس خدا تعالیٰ ک بدر کی شکل اختیار کرے، جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مش
- ٨....... مرزا قادیانی آپ ﷺ سے اپنا مقام بڑھ
ہوئے لکھتا ہے کہ نعوذ باللہ! آنحضرت ﷺ کی مکی بعثت چشم بدور! قادیانی ظہور کا زمانہ روحانی ترقیات کی آخ نبی کریم ﷺ کی روحانیت سے پانچویں ہزار میں (یعن ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہ لئے پہلا قدم تھا، پھر روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر م
- ٩....... اسی طرح مرزائیوں کا عقیدہ ہے ک
آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر تھا، ملاحظہ ہو: ”حضرت آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا... اور یہ جزوی فضیلت آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے، نبی کریم کی ذہنی استعدا اور نہ قابلیت تھی، اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موع
بتلایا جائے کہ مرزا قادیانی کے ذہنی ارتقا دینا، آپ ﷺ کے تمدن کو ناقص قرار دینا، آپ ﷺ استعداد و قابلیت کو آنحضرت ﷺ کی استعداد و قابلیت
- ١٠....... مرزا قادیانی کی امت اور ذریت کا عقید
ہے اور آپ پر ایمان لاتا ہے، جب تک وہ مرزا قادیا محمد عربی ﷺ کا کلمہ پڑھنا اور آپ پر ایمان لانا باط باعث نجات ہے، بتلایا جائے کہ جو لوگ یہ عقیدہ ر نہیں؟ ملاحظہ ہو:
١١
”اور اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخری زمانہ میں بدر ( چودھویں کا چاند ) ہو جائے ، خدا تعالیٰ کے حکم سے، پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے ، جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو ، (یعنی چودھویں صدی)۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٨٢، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٥)
- ٨...... مرزا قادیانی آپ ﷺ سے اپنا مقام بڑھاتے اور آنحضرت ﷺ کی شان گھٹاتے
ہوئے لکھتا ہے کہ نعوذ باللہ ! آنحضرت ﷺ کی مکی بعثت کا زمانہ روحانی ترقیات کا پہلا قدم تھا اور چشم بدور ! قادیانی ظہور کا زمانہ روحانی ترقیات کی آخری معراج تھا، چنانچہ ملاحظہ ہو: ”ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت سے پانچویں ہزار میں (یعنی مکی بعثت میں ) اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا، بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا، پھر روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح تجلی فرمائی۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧٧، خزائن ج ١٦ ص ٢٦٦)
- ٩...... اسی طرح مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ نعوذ باللہ ! مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء
آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر تھا، ملاحظہ ہو: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا... اور یہ جزوی فضیلت ہے، جو حضرت مسیح موعود کو (مرزا قادیانی) آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے، نبی کریم کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی ، اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ان کا پورا ظہور ہوا ۔“
(ریویو مئی ١٩٢٩ء)
بتلایا جائے کہ مرزا قادیانی کے ذہنی ارتقاء کو نبی اکرم ﷺ کے ذہنی ارتقاء سے برتر قرار دینا ، آپ ﷺ کے تمدن کو ناقص قرار دینا، آپ ﷺ کی قابلیت کی نفی کرنا اور مرزا قادیانی کی استعداد و قابلیت کو آنحضرت ﷺ کی استعداد و قابلیت سے بڑھ کر قرار دینا گستاخی نہیں؟
- ١٠...... مرزا قادیانی کی امت اور ذریت کا عقیدہ ہے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کا کلمہ پڑھتا
ہے اور آپ پر ایمان لاتا ہے، جب تک وہ مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے، گویا حضرت محمد عربی ﷺ کا کلمہ پڑھنا اور آپ پر ایمان لانا باعث نجات نہیں، بلکہ مرزا قادیانی پر ایمان لانا باعث نجات ہے، بتلایا جائے کہ جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہوں وہ حضور ﷺ کے باغی اور گستاخ نہیں؟ ملاحظہ ہو:
١١
- الف ...... ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں
مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١١٠، پسر مرزا قادیانی بشیر احمد ایم اے)
- ب ...... ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں
ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥، از مرزا محمود قادیانی)
- ج ...... ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں،
کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں، یہ دین کا معاملہ ہے، اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ص ٩٠، از مرزا محمود قادیانی)
میرے عزیز! دیکھئے قادیانی کس قدر گستاخ ہیں کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے دین و شریعت کو باعث نجات نہیں سمجھتے اور ان کے نزدیک آپ ﷺ پر ایمان لانا نجات آخرت کا ذریعہ نہیں ہے۔ بتلائیے ! یہ حضور ﷺ کی عظمت کا اظہار ہے یا توہین وتنقیص کا؟ ارشاد فرمائیے کہ یہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی ہے یا مدح سرائی؟
- ١١...... قادیانی آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کو نہ صرف باعث نجات نہیں سمجھتے بلکہ نعوذ باللہ!
وہ حضور ﷺ کے دین وشریعت کو منسوخ اور ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں، لیجئے ملاحظہ کیجئے:
- الف ...... ”ان کو کہہ! کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے
محبت کرے۔“
(مرزا قادیانی کا الہام ، حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
- ب ...... ”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید
ہے، اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا... اب دیکھو! خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا، جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“
(اربعین نمبر ٤، ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ)
- ١٢...... صرف یہی نہیں، بلکہ مرزا قادیانی کے ہاں جس اسلام میں مرزا غلام احمد نہ ہوں وہ
مردہ ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو: ”غالباً ١٩٠٦ء میں خواجہ کمال الدین صاحب کی تحریک سے اخبار وطن کے ایڈیٹر کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب نے ایک سمجھوتا کیا کہ ریویو آف ریلیجنز میں سلسلہ کے
١٢
متعلق کوئی مضمون نہ ہو، صرف عام اسلامی مضامین ہوں پروپیگنڈہ اپنے اخبار میں کریں گے، حضرت مسیح موعود نے فرمایا اور جماعت میں بھی عام طور پر اس کی بہت مخالفت مجھے چھوڑ کر تم مردہ اسلام دنیا کے سامنے پیش کرو گے؟“
(ذکر حبیب مؤلفہ
- ١٣...... میرے عزیز! مرزا غلام احمد قادیانی کی گستاخیاں
زہر سے بجھے ہوئے تیر ہیں، چنانچہ وہ اپنی نبوت کے بغیر کا مجموعہ، لعنتی، شیطانی اور قابل نفرت قرار دیتا ہے، لیجئے نہیں ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس (یعنی نبوت، ناقل ) سے مشرف ہو سکے، وہ دین لعنتی اور چند منقولی باتوں پر (یعنی شریعت محمدیہ پر جو کہ آنحضور ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں، بلکہ پیچھے رہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے
(ضمیمہ براہین احمدیہ
- ١٤...... اس کے علاوہ یہ بات بھی پیش نظر رہے
آخر الزمان کہہ کر کہ اپنی محبت وعقیدت کا اظہار کرتے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نہیں ہوتے ، بلکہ ان ہوتا ہے، اس لئے کہ ان کے نزدیک نعوذ باللہ ”محمد حضور ﷺ نہیں، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے، یہی وجہ ایجاد نہیں کیا، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا ا موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے آنے سے (کلمہ کے اور وہ یہ ہے کہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی تھے، مگر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بعثت کے ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی ، لہٰذا مسیح موعود کے آنے رسول اللہ “ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا، بلکہ اور بھی زیادہ
١٣
متعلق کوئی مضمون نہ ہو،صرف عام اسلامی مضامین ہوں اور وطن کے ایڈیٹر رسالہ ریویو کی امداد کا پروپیگنڈا اپنے اخبار میں کریں گے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس تجویز کو ناپسند فرمایا اور جماعت میں بھی عام طور پر اس کی بہت مخالفت کی گئی، حضرت صاحب نے فرمایا کہ کیا مجھے چھوڑ کر تم مردہ اسلام دنیا کے سامنے پیش کرو گے؟“
(ذکر حبیب مؤلفہ مفتی محمد صادق قادیانی ص ١٤٦ طبع اول قادیان)
- ١٣...... میرے عزیز! مرزا غلام احمد قادیانی کی گستاخیوں کی زنبیل میں ایک آدھ نہیں ہزاروں
زہر سے بجھے ہوئے تیر ہیں، چنانچہ وہ اپنی نبوت کے بغیر محمد عربی ﷺ کے دین کو محض قصے، کہانیوں کا مجموعہ، لعنتی ، شیطانی اور قابل نفرت قرار دیتا ہے، لیجئے پڑھیے: ”وہ دین، دین نہیں اور وہ نبی، نبی نہیں ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالٰی سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیہ (یعنی نبوت، ناقل) سے مشرف ہو سکے، وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر (یعنی شریعت محمدیہ پر جو کہ آنحضرت ﷺ سے منقول ہے، ناقل) انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں، بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔۔۔ سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨، ١٣٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)
- ١٤....... اس کے علاوہ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ قادیانی جہاں محمد رسول اللہ ﷺ یا نبی
آخر الزمان کہہ کر کر اپنی محبت وعقیدت کا اظہار کرتے ہیں، اس کا مصداق ان کے ہاں ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نہیں ہوتے، بلکہ ان کے ہاں اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہوتا ہے، اس لئے کہ ان کے نزدیک نعوذ باللہ ”محمد رسول الله والذين معه“ کا مصداق حضور ﷺ نہیں، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے لئے کوئی نیا کلمہ بھی ایجاد نہیں کیا، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے: ”ہاں حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے آنے سے (کلمہ کے مفہوم میں) ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بعثت سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بعثت کے بعد ”محمد رسول الله“ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی، لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باللہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا، بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے (کیونکہ زیادہ
١٣
شان والا نبی مرزا غلام احمد قادیانی اس کے مفہوم میں داخل ہو گیا، ہاں مرزا کے بغیر یہ کلمہ مہمل، بے کار اور باطل رہا، اسی وجہ سے مرزا پر ایمان لائے بغیر اس کلمہ کو پڑھنے والے کافر، بلکہ پکے کافر ٹھہرے، (ناقل) غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے، صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی آمد نے ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨، مولفہ بشیر احمد ایم اے قادیانی)
گویا مسلمان تو اس کلمہ میں ”محمد رسول اللہ“ سے محمد عربی ﷺ مراد لیتے ہیں، لیکن قادیانی اس کلمہ میں مذکور ”محمد رسول اللہ“ سے مراد بعثت ثانیہ کا بروزی مظہر مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیتے ہیں۔
- ١٥...... مرزا غلام احمد قادیانی حضور ﷺ اور صحابہ کرام کی توہین کرتے ہوئے یہاں تک کہتا
ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے، حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی تھی۔“
(مرزا غلام احمد قادیانی کا مکتوب، مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ٢٢ فروری ١٩٢٤ء)
- ١٦...... صرف یہ نہیں کہ قادیانیوں کے ہاں مرزا غلام احمد قادیانی نعوذ باللہ! حضور ﷺ سے
بڑھ کر تھے، بلکہ ان کے ہاں تو ہر شخص ترقی کر کے حضور ﷺ سے بڑھ سکتا ہے، لیجئے ملاحظہ کیجئے: ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے، حتی کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“ (نعوذ باللہ)
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
میرے عزیز! ان مختصر سی تصریحات اور تفصیلات کے بعد میرے خیال میں آپ کی یہ غلط فہمی دور ہو جانی چاہئے کہ: ”مولوی قادیانی مخالفت اور تعصب میں اندھے ہو گئے ہیں“ بلکہ قادیانیوں اور ان کے نام نہاد نبی کے، ایسے کرتوت ہیں کہ ان کو پڑھ، سن کر تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، اب آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ قادیانی، نبی امی حضرت محمد ﷺ اور اسلام کے باغی و گستاخ ہیں یا مداح و ثناء خواں؟
آپ کے سوال کا دوسرا جز یہ تھا کہ: ”جہاں تک حضرت مسیح ابن مریم کی توہین کا التزام ہے، تو یہ بھی قادیانیوں کو ہی سچا ثابت کرتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی انگریزوں کے خودکاشتہ تھے تو ان کے خدا کی توہین کیوں کر سکتے تھے؟ جبکہ مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی سچا اور برحق جانتے تھے۔“
١٤
میرے عزیز! جہاں تک اس بات یہ ہم نے نہیں لکھا، بلکہ یہ مرزا قادیانی کا اپنا اق کہنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ خود مرزا جی نے ہوں، ملاحظہ ہو: ”صرف یہ التماس ہے کہ سرک برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے سرکار۔
- ٩...... انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدم
حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں ہمار بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ لحاظ سے سرکار، دولت مدار کی پوری عنایت او بے وجہ ہماری آبروریزی کے لئے دلیری نہ اقبالہ، منجانب خاکسار مرزا غلام احمد، از قادیان مورخہ
رہی یہ بات کہ مرزا غلام احمد قادی انہوں نے ان کی توہین نہیں کی، اس کے تنقیص پر مبنی تحریریں ملاحظہ ہوں۔ حضرت عی معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچ
- ١...... ”پس اس نادان اسرائیلی نے ال
- ٢...... ”ہاں آپ کو گالیاں دینے اور
آ جاتا تھا، اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں
میرے عزیز! جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مرزا قادیانی انگریز کے خودکاشتہ تھے، یہ ہم نے نہیں لکھا، بلکہ یہ مرزا قادیانی کا اپنا اقرار ہے، لہٰذا اس کے لئے ہمیں اپنی طرف سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ خود مرزا جی نے واضح طور پر لکھا ہے کہ میں انگریز کا خودکاشتہ پودا ہوں، ملاحظہ ہو: ”صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار۔
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦)
- ٩...... انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں، اس ”خودکاشتہ پودا“ کی نسبت نہایت
حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھے کہ مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے، لہٰذا ہمارا حق ہے کہ خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایت اور خصوصی توجہ کی درخواست کریں تاکہ ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے۔“
(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام
اقبالہ، منجانب خاکسار مرزا غلام احمد، از قادیان مورخہ ٢٤ فروری ١٨٩٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١، ٢٢)
رہی یہ بات کہ مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو راست باز سمجھتے تھے اور انہوں نے ان کی توہین نہیں کی، اس کے لئے مرزا قادیانی کی درج ذیل دل آزار اور توہین و تنقیص پر مبنی تحریریں ملاحظہ ہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھا: ”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ١...... ”پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کو پیشین گوئی کیوں نام رکھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)
- ٢...... ”ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی، ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ
آ جاتا تھا، اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
١٥
- ٣...... "مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں، کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے
تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ٤...... "یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔"
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ٥...... "جن جن پیشین گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت تورات میں پایا جانا آپ نے بیان
فرمایا ہے، ان کتابوں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا۔"
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ٦...... "اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے
یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا میری تعلیم ہے۔"
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٧...... "آپ کی انہی حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور
ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔"
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے علاوہ حضرت مریم علیہا السلام پر تہمت بھی لگائی گئی ہے نیز اس میں قرآن مجید کی تکذیب بھی ہے، کیونکہ حقیقی بھائی تو وہی ہوگا جو ماں باپ دونوں میں شریک ہو، لہٰذا یہ نص قرآن کے خلاف ہے اور یہاں عیسیٰ علیہ السلام کے باپ اور مریم علیہا السلام کا خاوند ثابت کیا گیا۔
- ٨...... "عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں، مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے
کوئی معجزہ نہیں ہوا۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ١٠...... "مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا، جس سے بڑے
بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے، خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔"
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ١١...... "اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے
فیصلہ کردیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر وفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔"
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
١٦
- ١٢...... ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار
کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص٧، خزائن ج١١ ص٢٩١)
- ١٣...... ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور محبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت
درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری (کسبی) کو موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص٧، خزائن ج١١ ص٢٩١)
- ١٤...... ”مسیح علیہ السلام کا چال چلن کیا تھا، ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا
پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج١ ص١٨٩)
- ١٥...... ”سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص٧، خزائن ج١١ ص٢٩١)
ان عبارات میں جو عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی گئی ہیں، ان کا جواب مرزا قادیانی کی طرف سے جو خود مرزا قادیانی نے دیا ہے یہ ہے:
- ١٦...... ”اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں
دی کہ وہ کون تھا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص٩، خزائن ج١١ ص٢٩٣)
- ١٧...... ”اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا، جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام ڈاکو اور بٹمار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص٩، خزائن ج١١ ص٢٩٣)
- ١٨...... ”پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی
بھی قرار نہیں دے سکتے، چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص٩، خزائن ج١١ ص٢٩٣)
اب آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ آپ کے قادیانی دوستوں نے آپ کو مرزا قادیانی کی جو تصویر دکھائی ہے، وہ صحیح ہے یا محض دجل و فریب!
میرے عزیز! یہ مختصر سا جواب اس کا متحمل نہیں کہ اس میں مرزا قادیانی کی تمام
١٧
مغلظات کی تفصیلات درج کی جائیں، اگر تفصیلات دیکھنا ہوں تو حضرت مولانا نور محمد ٹانڈوی، مظاہری کی ”مغلظات مرزا“ اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی تحفہ قادیانیت جلد اول اور خصوصاً ”قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین“ کا مطالعہ فرمالیں۔
تاہم آپ مرزائی دوستوں کو یہ پیشکش کر سکتے ہیں کہ وہ مندرجہ بالا تمام حوالوں کو مرزا قادیانی کی اصل کتابوں سے چیک کر سکتے ہیں، اگر ان میں سے کوئی حوالہ غلط ثابت ہو تو وہ پاکستان کی کسی عدالت میں اس کو چیلنج کر کے میرے خلاف ہرجانہ کا دعویٰ کر سکتے ہیں اور عدالت جو جرمانہ طے کرے، میں اس کی ادائیگی کے لئے تیار ہوں۔ مگر میرے عزیز! یہ چیلنج کرتا ہوں کہ قادیانی زہر کا پیالہ پینا تو گوارا کریں گے مگر ان مندرجہ بالا حوالوں میں سے کسی کو چیلنج کرنے کو تیار نہ ہوں گے، اس لئے کہ اندر سے وہ بھی جانتے ہیں اور ان کو بھی یقین ہے کہ مرزا قادیانی جھوٹا ، دجال، کافر، مرتد، زندیق اور بدترین گستاخ تھا، اس نے صرف آنحضرتﷺ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تمام انبیاء کرام کو بے نقط سنائی ہیں بلکہ اس نے تو اللہ تعالیٰ کی شان میں بھی گستاخی کا ارتکاب کیا ہے، مگر ناس ہو ہوا و ہوس، دنیاوی مفادات اور تعصب کا، جو انہیں حق پر غور و فکر کی اجازت نہیں دیتے، میرے عزیز جیسا کہ میں نے لکھا کہ اس نے حضرات انبیاء کرام، یا خود ذات باری تعالیٰ کی بھی گستاخی کی ہے۔
ان تفصیلات کے بعد آپ ہی بتلائیں کہ ایسے میں اگر کوئی مسلمان، مرزا قادیانی اور اس کی امت کے غلیظ عقائد ونظریات کی حقیقی تصویر دکھلاتے ہوئے مسلمانوں کو اس کے گمراہ کن عقائد سے بچنے یا ان سے میل جول نہ رکھنے کی تلقین کرے، تو اس نے کون سا جرم کیا ہے کہ اس کو تعصب کا طعنہ دیا جائے؟
بہر حال اب آپ کا فرض ہے کہ اپنے قادیانی دوستوں کو میرا جواب دکھائیں اور ان سے اس کے جواب کا مطالبہ کریں اور امت کو قادیانیوں کے دجل وفریب سے آگاہ کریں اور خود بھی ان سے قطع تعلق کرلیں اور نوجوان نسل کو بھی ان کے اضلال و گمراہی سے بچائیں، تاکہ کل قیامت کے دن آپ کا باغیان نبوت کے بجائے ناموس رسالت کے پاسبانوں کے ساتھ حشر ہو اور آپ کو حضورﷺ کی شفاعت کا شرف واعزاز حاصل ہو۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز!
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین!
١٨
خاتم النبیین لا نبی بعدی
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
قادیانیت کا تعاقب
(اس میں عالمی مجلس کے چار رکنی وفد کی سری لنکا کے دورہ کی رپورٹ ہے)
حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری شہید
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمدلله وسلام على عباده الذين اصطفى! گزشتہ کچھ عرصہ قبل ١١؍ مارچ ٢٠٠٧ء سری لنکا کے علماء، فضلاء اور جمعیت علماء سری لنکا کی دعوت اور خواہش پر حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدیر جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن و نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی سربراہی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک نمائندہ وفد ہفت روزہ تعلیمی، تبلیغی اور تربیتی دورہ پر سری لنکا گیا، وفد کی کارگزاری کیا رہی؟ اور وہاں اس کی مصروفیات کیا تھیں؟ اس سلسلہ کی مفصل رپورٹ کی ضرورت تھی، مگر افسوس کہ یہ کام لیٹ پر لیٹ ہوتا رہا، تاہم "کل امر مرهون بوقته" کے مصداق، دیر سے سہی مگر بہر حال اس دورہ کی مفصل رپورٹ پیش خدمت ہے، ملاحظہ ہو:
سری لنکا سارک ممالک کے ان چھوٹے ملکوں میں سے ہے جو نسبتاً غریب اور طوائف الملوکی کا شکار ہے اور وہاں ایک عرصہ سے تامل ناڈو کے شدت پسندوں کا زور رہا ہے اور وہاں کے شدت پسند گروپ کا مطالبہ رہا ہے کہ اسے آزادی دی جائے۔ ورلڈ میپ یعنی دنیا کے نقشہ میں اس کا محل وقوع اور اس کا رقبہ دیکھا جائے تو یہ انڈیا کے بالکل قریب سمندری جزیرہ ہے جو پان کے پتہ جیسا لگتا ہے، اسی لئے اس کو انڈیا کی آنکھ کا آنسو بھی کہا جاتا ہے، اس ملک میں بدھ مذہب کے ماننے والے بدمستوں کی حکومت ہے۔ اس میں ہندوؤں، عیسائیوں اور مسلمانوں کی ملی جلی آبادی ہے۔ ہندو، عیسائی اور مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان اقلیتوں میں مسلمان کل آبادی کا ٢٠ فیصد ہیں۔ اس ملک میں پان، چائے، انناس، ناریل کی پیداوار زیادہ ہے، اس کا سب سے بڑا شہر کولمبو ہے اور وہی اس کا دارالحکومت ہے، مسلمانوں میں مقامی حضرات کے علاوہ ہندو پاک کے میمن حضرات کی خاصی آبادی ہے، مسلمان ماشاء اللہ مالی اور تجارتی اعتبار سے مستحکم ہیں، چونکہ یہ ساحلی ملک ہے، اس لئے یہاں کی مقامی مسلم آبادی شافعی المسلک ہے، مگر یہاں کے مسلمانوں کی زیادہ تر آبادی ہند و پاک کے دیوبندی مدارس کی فیض یافتہ ہے، اسی لئے یہ اپنی نوعیت کی واحد شافعی المسلک آبادی ہے جو شافعی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو دیوبندی کہتی ہے، سب سے بڑی خوبی کی بات یہ ہے کہ یہاں فروعی مسائل کے اختلاف میں کسی نزاع اور جھگڑا کا عنصر نہیں ہے، سب مسلمان باہم شیر و شکر رہتے ہیں اور سب اپنے دینی اور مسلکی مفاد میں متحد ہیں۔
یہاں کے پیر و جوان علماء کی تعداد میں علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے سند یافتہ ہیں، اس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ اس لئے یہ مسلمانوں کے ہی فکرمند اور حساس ہیں، نہ صرف یہ بلکہ یہاں کے اللہ تعالیٰ یہاں کے علماء کو جزائے خیر دے جنہوں بچا رکھا ہے، ان مساجد و مدارس کی برکت ہے کہ آتا ہے، یہاں کے مسلمان زیادہ تر تبلیغی جماعت آباد ہے اور کولمبو کے تبلیغی مرکز میں باقاعدہ درس ن
یہاں پاکستان کی طرز پر علماء کی ایک ہے، اب تک اس پر سلفی حضرات کا غلبہ تھا، لیکن گ ٹاؤن کراچی پاکستان کے فاضل و مخلص مولانا ہیں۔ مولانا مفتی محمد رضوی صاحب ماشاء اللہ م جب سے اس جماعت کی قیادت سنبھالی ہے پو میں پرو دیا ہے، اسی طرح اس نوجوان کا رابطہ کاؤنٹر قائم کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی لعنت سے بچانے کے لئے ہم نے غیر سودی کا جس میں دنیا بھر کے علماء کی مشاورت سے م اقدامات کئے جارہے ہیں، اسی طرح حلال کو نگرانی بھی اس جمعیت کے حوالہ ہے، ماشاء ا مولانا مفتی محمد رضوی ملک بھر کے مسلمانوں کے کارناموں کو دیکھ کر دل سے دعائیں نکلتی ہیں ب صدی سے قادیانی بھی اس ملک میں آباد تھے، نے بتلایا کہ قادیانی اس ملک میں سب سے پہل کر رہے تھے، اور اپنے آپ کو وہ کسی اعتبار سے
یہاں کے پیر و جوان علماء کی تعداد میں زیادہ تر دارالعلوم دیوبند اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے سند یافتہ ہیں، اس لئے ان میں حضرات اکابر دیوبند کی فکر و ذوق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ اس لئے یہ مسلمانوں کے دین و ایمان کے تحفظ کی خاطر ماشاء اللہ بہت ہی فکر مند اور حساس ہیں، نہ صرف یہ بلکہ یہاں کے علماء کی مسلم عوام پر بہت ہی مضبوط گرفت ہے، اللہ تعالیٰ یہاں کے علماء کو جزائے خیر دے جنہوں نے اس پورے ملک میں مدارس و مساجد کا جال بچھا رکھا ہے، ان مساجد و مدارس کی برکت ہے کہ مسلمانوں میں دینی ذوق کا رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے، یہاں کے مسلمان زیادہ تر تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں، کولمبو کا تبلیغی مرکز ماشاء اللہ خوب آباد ہے اور کولمبو کے تبلیغی مرکز میں باقاعدہ درس نظامی کا مدرسہ بھی قائم ہے۔
یہاں پاکستان کی طرز پر علماء کی ایک جماعت بھی ہے جس کا نام جمعیت علماء سری لنکا ہے، اب تک اس پر سلفی حضرات کا غلبہ تھا، لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی پاکستان کے فاضل و مخلص مولانا مفتی محمد رضوی صاحب اس کے سربراہ اور امیر ہیں۔ مولانا مفتی محمد رضوی صاحب ماشاء اللہ صالح، فاضل اور متحرک نوجوان ہیں، انہوں نے جب سے اس جماعت کی قیادت سنبھالی ہے پورے ملک کے علماء کو بیدار کرتے ہوئے ایک لڑی میں پرو دیا ہے، اسی طرح اس نوجوان کا رابطہ عالم اسلامی سے راہ و رسم ہے اور اس کو غیر سودی کاؤنٹر قائم کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ہے، چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو سود جیسی لعنت سے بچانے کے لئے ہم نے غیر سودی کاؤنٹر قائم کرنے کے لئے ایک مؤسسہ قائم کیا ہے، جس میں دنیا بھر کے علماء کی مشاورت سے مسلمانوں کو سود جیسی لعنت سے بچانے کے لئے عملی اقدامات کئے جارہے ہیں، اسی طرح حلال کھانے پینے اور گوشت کے سلسلہ میں حلال ذبیحہ کی نگرانی بھی اس جمعیت کے حوالہ ہے، ماشاء اللہ اس اعتبار سے جمعیت علماء سری لنکا اور خصوصاً مولانا مفتی محمد رضوی ملک بھر کے مسلمانوں کے روح رواں ہیں۔ مولانا مفتی محمد رضوی کے انہیں کارناموں کو دیکھ کر دل سے دعائیں نکلتی ہیں، یوں تو مسلمانوں کے روپ میں یہاں گزشتہ ایک صدی سے قادیانی بھی اس ملک میں آباد تھے، چنانچہ مولانا مفتی محمد رضوی اور وہاں کے مقامی علماء نے بتلایا کہ قادیانی اس ملک میں سب سے پہلے ١٩١٨ء میں آباد ہوئے، مگر اب تک وہ خفیہ اپنا کام کر رہے تھے، اور اپنے آپ کو وہ کسی اعتبار سے ظاہر اور نمایاں نہیں کرتے تھے،
٣
لیکن اب موجودہ حکومت سے انہوں نے راہ و رسم پیدا کرنے کے لئے اور حکومت سری لنکا سے تجارتی معاہدہ کرنے کا پروگرام بنالیا تھا، جب سے قادیانیوں کا یہ اثر و رسوخ بڑھا، تو وہاں کے قادیانیوں نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دئیے، اور اپنا ایک مرکز بھی بنالیا، اور اسلامی اصطلاحات بھی استعمال کرنے لگے۔ قادیانیوں کی ان بڑھتی ہوئی سرگرمیوں، اونچے درجے کے اثر ونفوذ ، اپنے آپ کو مسلمان باور کرانے اور مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور نئی نسل کو گمراہ کرنے کے اندیشے کے پیش نظر مولانا مفتی محمد رضوی اور ان کے رفقاء نے مشورہ کیا کہ یہاں کے علماء، طلبا اور عوام کو اس فتنہ کی سنگینی سے آگاہ کرنے، عوامی اور حکومتی حلقوں کو ان کی حقیقت باور کرانے اور مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے اکابر سے رابطہ کر کے ان کو یہاں آنے کی دعوت دی جائے اور ایک بھر پور کانفرنس اور علاقائی سطح کے تربیتی پروگرام رکھے جائیں، چنانچہ اس سلسلہ میں مولانا مفتی محمد رضوی صاحب نے پہلے فون پر اور بعد میں اپنے نمائندگان مولانا مفتی محمد اسلم استاذ جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی اور ایک دین دار سری لنکن تاجر الحاج عبدالرحمن کے ذریعے اس پروگرام کو حتمی شکل دینے کے لئے مامور کیا، چنانچہ مفتی اسلم صاحب نے سب سے پہلے حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ سے رابطہ کیا، انہوں نے راقم کو یاد فرمایا، اور تمام صورت حال بتلائی۔ راقم نے ملتان مرکز رابطہ کر کے اس دورہ اور وفد کی منظوری کی درخواست کی تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ دار حضرات نے نہ صرف اس کی منظوری دے دی، بلکہ ان حضرات نے مولانا مفتی محمد رضوی اور ان کے نمائندگان کی اس پیشکش کے باوجود... کہ آمد و رفت کے اخراجات جمعیت علماء سری لنکا برداشت کرے گی... یہ فرمایا کہ اس وفد کی آمد و رفت کے اخراجات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہی برداشت کرے گی، کیونکہ یہ ہمارا فریضہ ہے اور ہماری سعادت ہے کہ ہم اس سلسلہ میں اپنے سری لنکن مسلمان بھائیوں کی مدد کریں۔ چنانچہ پروگرام کو حتمی شکل دینے کے بعد طے پایا کہ اس وفد کے سربراہ حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ہوں گے، جبکہ شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، مولانا مفتی خالد محمود صاحب نائب مدیر اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ پاکستان اور راقم الحروف سعید احمد جلال پوری (شہید) ان کے رفیق سفر ہوں گے، چنانچہ حسب پروگرام جب سفر کی تیاری مکمل ہو گئی، ویزا اور ٹکٹ وغیرہ تیار ہو گئے تو بھائی عبدالرحمن سری لنکن کی راہ نمائی میں ہمارا پانچ رکنی وفد ١١/ مارچ بروز اتوار صبح ٨ بجے پی آئی اے کی فلائٹ سے روانہ ہو کر تقریباً گیارہ بجے
٤
کولمبو کے بین الاقوامی ایئر پورٹ پر اتر گیا، سری لنکا اگرچ الاقوامی معیار کا اور خاصا طویل ہے، کراچی ایئر پورٹ پ میں ہمارے بہت ہی کرم فرما اور ڈناٹا کمپنی کے ذمہ دار کی، بلکہ کتابوں کا وزن زیادہ ہونے پر اس کی اضافی دلائی تاہم اضافی وزن کی اضافی ادائیگی کے بعد انہوں کی چائے سے تواضع فرمائی اور اندر لاؤنج تک چھوڑنے
اس سفر میں جمعیت علماء سری لنکا کی خواہش قادیانیت میں معاونت کے لئے اور انہیں حوالہ جات قادیانیت اردو، عربی، جنوبی افریقہ کی عدالت میں حضر کے اردو بیان کا انگریزی ترجمہ " ?Qadianiat" اسلامیہ کا موقف انگلش، اردو، عربی، احتساب قادیانی ( مطبوعہ لندن ) ہمارے ساتھ تھے۔
چونکہ ہمارے شرکائے قافلہ کے پاس کتب کافی تھے، اس لئے کولمبو ایئر پورٹ کی امیگریشن سے چیکنگ کرانے اور دکھانے کے بعد تقریباً ساڑھے گیا علماء سری لنکا اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے لئے موجود تھی، جن میں حافظ ماہر، مولانا ابن الم قابل ذکر ہیں، ان سے ملاقات، مصافحہ اور معانقہ
سٹی سینٹر اور مرکز شہر کے لئے روانہ ہو گئے ، قریب قری مرکز شہر جہاں ہماری رہائش کا انتظام تھا، پہنچے۔
اس وفد کی رہائش کے لئے مقامی حضرا سٹی سینٹر کے ایک رہائشی پلازے ”سی گل کورٹ“ مہمانوں کی خدمت کے لئے حافظ حمید، مولوی ابن نوجوان مامور تھے، جنہوں نے جی جان سے وفد کے کا مکمل سامان بہم پہنچایا۔ ”سی گل کورٹ“ پلازے
٥
کولمبو کے بین الاقوامی ایئر پورٹ پر اتر گیا، سری لنکا اگر چہ غریب ملک ہے مگر اس کا ایئر پورٹ بین الاقوامی معیار کا اور خاصا طویل ہے، کراچی ایئر پورٹ پر ہماری روانگی اور سامان کے وزن وغیرہ میں ہمارے بہت ہی کرم فرما اور ڈناٹا کمپنی کے ذمہ دار جناب بھائی ضیاء صاحب نے بھر پور مدد کی، بلکہ کتابوں کا وزن زیادہ ہونے پر اس کی اضافی ادائیگی میں بھی انہوں نے خاصی رعایت دلائی تاہم اضافی وزن کی اضافی ادائیگی کے بعد انہوں نے اپنے دفتر میں لے جا کر تمام شرکاء وفد کی چائے سے تواضع فرمائی اور اندر لاؤنج تک چھوڑنے بھی خود گئے۔
اس سفر میں جمعیت علماء سری لنکا کی خواہش اور مقامی علماء کی مسئلہ ختم نبوت اور تردید قادیانیت میں معاونت کے لئے اور انہیں حوالہ جات کے سلسلہ میں خود کفیل بنانے کے لئے آئینہ قادیانیت اردو، عربی، جنوبی افریقہ کی عدالت میں حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے اردو بیان کا انگریزی ترجمہ "What is Qadianiat?" (قادیانیت کیا ہے؟) ملت اسلامیہ کا موقف انگلش، اردو، عربی، احتساب قادیانیت اور مرزا قادیانی کی تصنیفات کا مکمل سیٹ (مطبوعہ لندن) ہمارے ساتھ تھے۔
چونکہ ہمارے شرکائے قافلہ کے پاس کتب اور لٹریچر کا وزن بہت زیادہ تھا اور کارٹن بھی کافی تھے، اس لئے کولمبو ایئر پورٹ کی امیگریشن سے فارغ ہونے، امیگریشن کے عملہ کو کتابوں کی چیکنگ کرانے اور دکھانے کے بعد تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہم ایئر پورٹ سے باہر آئے تو جمعیت علماء سری لنکا اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فضلاء کی ایک جماعت استقبال کے لئے موجود تھی، جن میں حافظ ماہر، مولانا ابن العربی، حافظ الہام، مولانا حلمی صاحب کے نام قابل ذکر ہیں، ان سے ملاقات، مصافحہ اور معانقہ کے بعد گاڑیوں میں سوار ہو کر ایئر پورٹ سے سٹی سینٹر اور مرکز شہر کے لئے روانہ ہو گئے، قریب قریب گھنٹے پونے گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد مرکز شہر جہاں ہماری رہائش کا انتظام تھا، پہنچے۔
اس وفد کی رہائش کے لئے مقامی حضرات اور جمعیت کے ذمہ داروں نے وسط شہر یعنی سٹی سینٹر کے ایک رہائشی پلازے ”سی گل کورٹ“ کے ایک فلیٹ میں انتظام کر رکھا تھا اور یہاں مہمانوں کی خدمت کے لئے حافظ حمید، مولوی ابن العربی، حافظ الہام اور مولانا حلمی جیسے مستعد نوجوان مامور تھے، جنہوں نے جی جان سے وفد کے ارکان کی خدمت کی، اور ان کی راحت رسانی کا مکمل سامان بہم پہنچایا۔ ”سی گل کورٹ“ پلازے کے اس فلیٹ کے تین کمرے تھے، ایک میں
٥
حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر زید مجدہ اور مولانا مفتی خالد محمود صاحب کی رہائش تھی، دوسرے میں راقم الحروف اور شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب تھے، جبکہ تیسرا کمرہ کیپ ٹاؤن جنوبی افریقہ سے تشریف لانے والے وکیل ختم نبوت جناب احمد چوہان افریقی اور ان کے ہم ملک عالم دین مولانا محمد طہٰ یوسف کے لئے خاص تھا۔
چونکہ جمعیت علماء سری لنکا کے سربراہ مولانا مفتی محمد رضوی سلمہ ربہ سری لنکا میں سر اٹھاتے مسئلہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے بہت زیادہ فکر مند تھے اس لئے انہوں نے قانونی مشوروں کے لئے جنوبی افریقہ کے مشہور مقدمہ قادیانیت میں مسلمانوں اور ختم نبوت کے کامیاب وکیل جناب احمد چوہان صاحب کو بھی اس موقع پر بلا رکھا تھا۔ چنانچہ جیسے ہی جناب احمد چوہان تشریف لائے اور ان کی ختم نبوت کے اکابر اور ارکان وفد سے ملاقات ہوئی تو وہ نہال ہو گئے اور اس مشہور مقدمہ میں پاکستان سے تشریف لے جانے والے وفد کے معزز ارکان اور اکابر میں سے ایک ایک کا عقیدت و محبت سے والہانہ تذکرہ کر کے ان کے محاسن و کمالات اور اس سلسلہ میں ان کی مساعی کا ذکر خیر کرنے لگے اور اس مقدمہ کی کارروائی مزے لے لے کر سنانے لگے، اس وفد کے ارکان اور اکابر میں سے حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی شہادت و وفات سے تو وہ آگاہ تھے مگر حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر قدس سرہ کی وفات سے ابھی تک وہ نا آشنا تھے۔ اس لئے انہوں نے حضرت مولانا اشعر کا بطور خاص پوچھا کہ ان کا کیا حال ہے؟ جب انہیں بتلایا گیا کہ وہ بھی اللہ کے ہاں جاچکے ہیں تو بہت ہی افسردہ ہوئے، پھر فرمانے لگے: میں اس وفد کے ارکان میں سے دو حضرات سے بہت ہی زیادہ متاثر ہوا اور وہ تھے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ اور مولانا عبدالرحیم اشعرؒ یہ دونوں حضرات ایسے تھے کہ ان کے پاس قادیانی وکیلوں اور قادیانی مربیوں کے ہر سوال کا نہ صرف جواب ہوتا تھا بلکہ انہیں مرزا قادیانی کی کتابیں اور ان کے حوالہ جات از بر تھے، ادھر ہم نے کوئی سوال کیا، ادھر انہوں نے مرزا کی کوئی کتاب کھول کر اس کا جواب، خود مرزا کی زبانی پیش کردیا، ان کو مرزا کی حوالہ جات کی تلاش کے لئے کسی سوچ و بچار اور غور وفکر کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، چنانچہ انہوں نے بتلایا کہ ایک دن کی بات ہے کہ رات بھر دیر تک مقدمہ کی تیاری کا سلسلہ جاری رہا، صبح کی نماز پڑھی اور ارکان وفد سوگئے، بیداری پر ایک مسئلہ پر گفتگو جاری تھی اور کوئی حوالہ نہیں مل رہا تھا، اتنے میں حضرت مولانا
٦
محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ بھی نیند سے بیدار ہو گئے ہوئے تھے کہ ان کے کانوں میں بھی اس گفتگو کی بھـ فلاں کتاب اٹھالاؤ، چنانچہ جب مرزا کی وہ کتابیں پلٹنے کے بعد وہ حوالہ نکال کر سب کو حیران کر دیا۔
ان حضرات کی حاضر دماغی، قوت حا قادیانیت سے والہانہ لگاؤ کا میرے قلب و دماغ صاحب حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر صاحب جس میں حضرت مرحومؒ قادیانی کتب بھر کر لے نکال نکال کر حوالے دیتے تھے۔
چونکہ جناب احمد چوہان صاحب ان اور کیپ ٹاؤن جنوبی افریقہ کی عدالت میں دائر اور ان حضرات کی ہدایت و راہنمائی میں قادیانی باریکیوں اور قادیانی مکر وفریب اور عدالتی موشگا مفتی محمد رضوی صاحب نے اپنے ملک کے مسلما لنکا آنے کی زحمت دی تھی اور وہ یہاں آنے پر پہلے دن کچھ دیر آرام اور سفری تھکان اتاری حاضری ہوئی، وہاں کے اکابر واساتذہ سے اقدس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر زید مجدہ واپس اپنی رہائش گاہ آگئے۔
اگلا دن ١٢ / مارچ اور پیر تھا، اس دینے اور کام کی نوعیت اور تقسیم کار کے سلسلہ طرح ملک بھر کا دورہ کیا جائے اور کس کس جگہ طے ہوا کہ اس چار رکنی وفد کو دو حصوں میں تقسیـ چنانچہ منگل ١٣ / مارچ کو حضرت
محمد یوسف لدھیانوی شہید بھی نیند سے بیدار ہو گئے، ابھی وہ مکمل اور پورے طور پر بیدار بھی نہ ہوئے تھے کہ ان کے کانوں میں بھی اس گفتگو کی بھنک پڑ گئی، تو اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ مرزا کی فلاں کتاب اٹھالاؤ، چنانچہ جب مرزا کی وہ کتاب لائی گئی تو انہوں نے کتاب کھولی اور چند صفحے پلٹنے کے بعد وہ حوالہ نکال کر سب کو حیران کر دیا۔
ان حضرات کی حاضر دماغی، قوت حافظہ، مرزائیت پر عبور، مسئلہ ختم نبوت اور تردید قادیانیت سے والہانہ لگاؤ کا میرے قلب و دماغ پر آج بھی نقش ثبت ہے۔ جناب احمد چوہان صاحب حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر صاحب کے اس ٹرنک کا بطور خاص بار بار تذکرہ فرماتے، جس میں حضرت مرحوم قادیانی کتب بھر کر لے گئے تھے اور بوقت ضرورت اس ٹرنک سے کتب نکال نکال کر حوالے دیتے تھے۔
چونکہ جناب احمد چوہان صاحب ان حضرات اکابر کی خدمت اور صحبت میں رہ چکے تھے اور کیپ ٹاؤن جنوبی افریقہ کی عدالت میں دائر قادیانی مقدمہ میں مسلمانوں کے وکیل رہ چکے تھے اور ان حضرات کی ہدایت و راہنمائی میں قادیانیت کو سمجھ چکے تھے، اس لئے ان کو اس معاملہ کی تمام باریکیوں اور قادیانی مکر و فریب اور عدالتی موشگافیوں کا خوب خوب تجربہ تھا، اس لئے جناب مولانا مفتی محمد رضوی صاحب نے اپنے ملک کے مسلم وکلاء اور ججز کو یہ مسئلہ سمجھانے کے لئے انہیں سری لنکا آنے کی زحمت دی تھی اور وہ یہاں آنے پر بے حد مسرور و مطمئن تھے، بہر حال حسب پروگرام پہلے دن کچھ دیر آرام اور سفری تھکان اتارنے کے بعد شام کو کولمبو کے تبلیغی مرکز کے مدرسہ میں حاضری ہوئی، وہاں کے اکابر و اساتذہ سے ملاقات اور حضرات طلباء و اساتذہ کرام سے حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر زید مجدہ کا بیان ہوا، وہاں سے فارغ ہونے کے بعد رات کو واپس اپنی رہائش گاہ آگئے۔
اگلا دن ١٢؍مارچ اور پیر تھا، اس دن حسب پروگرام آگے کے پروگراموں کو حتمی شکل دینے اور کام کی نوعیت اور تقسیم کار کے سلسلہ میں مقامی علماء اور اکابر کے ساتھ مشورہ ہوا کہ کس طرح ملک بھر کا دورہ کیا جائے اور کس کس جگہ پر ترجیحی پروگرام رکھے جائیں۔ یوں پیر ١٢؍مارچ کو طے ہوا کہ اس چار رکنی وفد کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے۔
چنانچہ منگل ١٣؍مارچ کو حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اور مولانا مفتی خالد محمود
٧
صاحب کو سری لنکا کے ضلع کینڈی کے مشہور شہر اکورنا کے لئے روانہ کر دیا گیا، جہاں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اور مولانا مفتی خالد محمود صاحب نے اکورنا کے مدرسہ رحمانیہ کے اساتذہ، طلبا اور مقامی علماء حضرات سے بیان کیا، جس کی مقامی زبان میں ترجمانی کے فرائض جناب مولانا معاذ صاحب اور جناب مولانا غزالی صاحب نے انجام دیئے، اسی شام کو اکورنا کے مضافات میں مولانا محمد جعفر صاحب کے مدرسہ زہرہ للسیدات میں بیان ہوا، اسی طرح بعد نماز مغرب کاٹوگالا کے مولانا عمر دین کے مدرسہ کلیۃ الفرقانیہ میں بیان ہوا۔ دوسری جانب دوسرے دورکنی وفد جس میں راقم الحروف اور حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر زید مجدہ شامل تھے، ان کے لئے طے ہوا کہ ہر دو حضرات کولمبو کے وسط کی جامع مسجد بملاپٹیہ میں علماء، طلبا اور اساتذہ سے مسئلہ ختم نبوت اور قادیانیت کے سلسلہ میں بیان کریں گے، چنانچہ سب سے پہلے راقم الحروف کا قریب قریب ایک ڈیڑھ گھنٹہ بیان ہوا، جس کی مقامی زبان میں ترجمانی کے فرائض مولانا عبد الخالق صاحب نے سرانجام دیئے، راقم الحروف کے بیان کے بعد حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر صاحب کا تفصیلی بیان ہوا، یوں یہ تربیتی پروگرام صبح ٩ ساڑھے نو بجے سے دو بجے تک مسلسل جاری رہا اور حاضرین نے نہایت ذوق وشوق سے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور فتنہ قادیانیت کی سنگینی کو توجہ سے سنا اور حضرت ڈاکٹر صاحب کی دعا پر یہ اجتماع اختتام پذیر ہوا۔
یہاں سے فراغت کے بعد شام کو ہمارا وفد اگلی منزل کے لئے روانہ ہو گیا، چنانچہ دو ڈھائی گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد عشاء کے وقت ہم ضلع کینڈی کے مولانا محمد یوسف صاحب کے مدرسہ کلیۃ الحقانیہ میں پہنچے، رات کا قیام اسی مدرسہ میں رہا۔
١٤؍ مارچ بروز بدھ صبح کی نماز کے بعد حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کا عربی زبان میں طلبا کے اندر بیان ہوا، ناشتہ کیا اور اگلی منزل کے لئے روانہ ہو گئے، چنانچہ دس بجے دن ہم ناولہ پٹیہ کے مشہور عالم دین، حضرت بنوری قدس سرہ کے شاگرد رشید اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فاضل مولانا محمد معروف صاحب کے مدرسہ کلیۃ ہاشمیہ میں پہنچے، وہاں کا ماحول دیکھ کر ایسا لگا جیسے ہم کسی دارالاسلام میں پہنچ گئے ہوں، چنانچہ وہاں کے طلبا اور علماء کی کثرت اور مہمانوں کی آمد پر ان کی خوشی اور مسرت دیدنی تھی، کسی قدر آرام کرنے اور سستانے کے بعد مدرسہ کی دوسری منزل کے ایک وسیع وعریض ہال میں تربیتی پروگرام کے بیانات کا سلسلہ شروع
٨
ہو گیا، چنانچہ سب سے پہلے گھنٹہ بھر راقم الحروف کا اور پھر مولانا اللہ وسایا صاحب کا اور اس کے آخر میں حضرت ڈاکٹر صاحب کا مفصل بیان ہوا، چنانچہ ساڑھے چار بجے وہاں سے فراغت کے بعد کولمبو کے لئے واپسی ہوئی اور رات کو واپس اپنی رہائش گاہ پر آ گئے ، جمعرات کی رات کو اپنی قیام گاہ پر آرام کیا۔
اگلا دن جمعرات اور ١٥؍ مارچ کا تھا، صبح ناشتہ اور معمولات سے فارغ ہونے کے بعد مشورہ ہوا اور مشورہ میں طے ہوا کہ:
- ١....... حضرت ڈاکٹر صاحب ہفتہ کے دن ہونے والی کانفرنس کے بیان کے لئے ”موقف
الامت الاسلامیہ“ کی روشنی میں ایک مذاکرہ تیار کریں گے جو آپ نے تقریباً پچیس منٹ میں بیان کرنا ہے، جس کا خلاصہ بعد میں چند منٹوں میں بیان کر دیا جائے گا۔
- ٢....... راقم الحروف (مولانا سعید احمد جلال پوری صاحبؒ) قراردادیں تیار کریں گے جس
میں ختم نبوت کے عقیدہ اور اس پر اجماع امت کا ذکر کریں گے اور یہ کہ جو آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ بالاتفاق امت کافر ہے اور یہ کہ مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اس بنیاد پر امت نے متفقہ طور پر مرزا اور اس کے متبعین کو کافر قرار دیا ہے، اس ضمن میں رابطہ کی قرارداد کا حوالہ، پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلہ کا حوالہ مختلف عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ دیا جائے۔
- ٣....... شروع میں مفتی رضوی صاحب افتتاحی کلمات پیش کریں گے اور اپنے افتتاحی
کلمات سے موتمر کا افتتاح کریں گے اور اپنی مقامی زبان میں اس کانفرنس کی غرض و غایت بیان کریں گے۔
اسی دن حضرت ڈاکٹر صاحب کا مولانا نواز صاحب کے کلیۃ الحمدیہ اور مولانا عبدالخالق صاحب کے کلیۃ ابن عمر کے دورۂ حدیث کے طلبا سے خطاب تھا۔ اسی طرح جناب مولانا حسن فرید صاحب کے کلیہ نورانیہ میں جانے اور بات چیت کا موقع بھی ملا، اسی شام کو جناب مولانا مفتی محمد رضوی صاحب نے مقامی سر برآوردہ حضرات اور وکلا سے ملاقات اور میٹنگ کا ایک مشہور ہوٹل ”کیفے آسیا“ میں انتظام کر رکھا تھا، چنانچہ بعد نماز مغرب اس خوبصورت ہوٹل کا جتنا حصہ بک کرایا گیا تھا، حاضرین سے کھچا کھچ بھر گیا، جناب احمد چوہان اور حضرت ڈاکٹر صاحب نے اس سلسلہ میں نہایت موثر بات چیت کی اور جناب مفتی محمد رضوی صاحب نے ان حضرات کو اس
٩
مسئلہ کی اہمیت اور نزاکت کے بارہ میں تفصیل سے بتلایا، رات دیر گئے وہاں سے فارغ ہوئے اور ماحضر تناول کیا اور واپس اپنے مستقر پر آگئے۔
اس سے اگلا دن جمعہ اور ١٦؍ مارچ کا تھا، چونکہ ”مظفر شہر“ کے مدرسہ اشرفیہ کے مدیر مولانا مبارک صاحب کی خواہش اور اصرار تھا کہ وہاں بھی ایک تربیتی پروگرام ہونا چاہئے، اس لئے حسب مشورہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اور مولانا مفتی خالد محمود صاحب ٣ گھنٹے کا سفر کر کے ”مظفر“ کے مدرسہ اشرفیہ پہنچے جہاں ان حضرات نے وہاں کے اساتذہ، طلباء اور مقامی علماء سے تفصیلی بیان فرمایا اور مولانا محمد معاذ صاحب نے بیانات کے ترجمہ کے فرائض انجام دیئے اور شام تقریباً چار بجے ان حضرات کی وہاں سے واپسی ہوئی، دوسری جانب راقم الحروف اور حضرت ڈاکٹر صاحب نے کولمبو سٹی کی مقامی مسجد میں جمعہ ادا کیا، اسی دن حضرت ڈاکٹر صاحب کا مدرسہ عین للسیدات میں اصلاحی بیان ہوا۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ کولمبو میں میمن برادری مالی، معاشی اور سماجی اعتبار سے منظم و مستحکم ہے، اس لئے انہوں نے اپنی کمیونٹی کے لئے کولمبو کے وسط کولمبو ٣ میں، اپنا ایک تین منزلہ میمن ہال بھی بنا رکھا ہے، لہٰذا اس موقع کی مناسبت سے میمن برادری کے بزرگوں نے وفد کے ارکان کو استقبالیہ دینے کے لئے دعوت دی، اور ہمارے وفد کے معزز ارکان جناب مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اور وکیل ختم نبوت جناب احمد چوہان صاحب سے درخواست کی کہ ہماری برادری کے حضرات کو بھی اس مسئلہ کی اہمیت و نزاکت سے آگاہ فرمائیں اور باور کرائیں کہ امت پر اس کے نبی کی عزت و ناموس کے تحفظ کے سلسلہ میں کیا فرائض عائد ہوتے ہیں اور ایک جھوٹے مدعی نبوت کے مقابلہ میں سچے نبی کی کیا سیرت و کردار ہے؟
چنانچہ بعد نماز مغرب تمام مہمانوں کو وہاں لے جایا گیا اور ہال کی دوسری منزل پر باقاعدہ ایک جلسہ کا سماں تھا، جہاں ان حضرات نے نہایت والہانہ انداز میں حضرت محمد ﷺ کی سیرت و سوانح پر بیان فرمایا جبکہ احمد چوہان صاحب نے انگلش میں جنوبی افریقہ کے مقدمہ کی کارروائی کھول کر بیان فرمائی اور قادیانی ریشہ دوانیوں سے حاضرین کو آگاہ فرمایا۔ رات کو دیر گئے وہاں سے فارغ ہوئے، ماحضر تناول کیا اور واپس اپنی رہائش گاہ پر آگئے۔ ١٠
اگلا دن ہفتہ ١٧ مارچ کا تھا، جس جہاں کولمبو کے تاجروں، وکلاء، ججز اور سیاس قادیانیوں کے عزائم، اسلام اور پیغمبر اسلا خفیہ عزائم و ارادوں اور اپنی نسلوں کو ان کے ف دینے کی خاطر حضرات اکابر مولانا ڈاکٹر عب صاحب، احمد چوہان ایڈووکیٹ کا بیان طے میں جانے کا وقت ہوا تو جناب احمد چوہان ن کی کہ روانگی سے پہلے آپ دعا کرادیں، کیو حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ اجت
اجتماعی دعا کے بعد ہمارا قافلہ ’رن موتو‘ ہ اسٹار ہوٹل ”رن موتو“ کا آڈیٹوریم اس گیلریوں کو جگہ جگہ ختم نبوت کے بینروں ، ا پاس اور کارڈ کے کسی کو اندر جانے کی اجاز کھچا کھچ بھر چکا تھا، سب سے پہلے مولانا مفت دعاوی اور گستاخیوں پر مبنی مدلل گفتگو فرمائی اپنی مقامی زبان میں اس مسئلہ کو مبرہن فر کے تعاقب کے سلسلہ میں جنوبی افریقہ ک خوش اسلوبی سے واضح کیا، اسی طرح ح حسب پروگرام حضرت ڈاکٹر صاحب ن اجتماع اختتام پذیر ہوا۔ یوں یہ ہفت ر آگاہی کے سلسلہ کا دورہ کامیابی سے اخت کی برکت تھی کہ وہاں سر اٹھاتی قادیانی مطالبات کے علاوہ حسب پروگرام درج
- الف ...... مسلمانان سری لنکا بھی قادیا
اگلا دن ہفتہ ١٧/ مارچ کا تھا، جس میں ملک بھر کے علماء کا اجتماع اور کانفرنس تھی، جہاں کولمبو کے تاجروں، وکلاء، ججز اور سیاست دانوں کو جمع کرکے مسئلہ قادیانیت کی سنگینی اور قادیانیوں کے عزائم، اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف ان کی ریشہ دوانیوں اور ان کے خفیہ عزائم و ارادوں اور اپنی نسلوں کو ان کے شر و فتن سے بچانے اور ان کے دین و ایمان کو تحفظ دینے کی خاطر حضرات اکابر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب، احمد چوہان ایڈووکیٹ کا بیان طے تھا، صبح جب ”رن موتو“ ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس میں جانے کا وقت ہوا تو جناب احمد چوہان صاحب نے حضرت ڈاکٹر صاحب سے درخواست کی کہ روانگی سے پہلے آپ دعا کرادیں، کیونکہ جنوبی افریقہ میں ہر روز عدالت جانے سے قبل حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ اجتماعی دعا کرایا کرتے تھے۔ بہرحال ان کی فرمائش پر اجتماعی دعا کے بعد ہمارا قافلہ ”رن موتو“ ہوٹل کے لئے روانہ ہو گیا۔ چونکہ کولمبو کے اس فائیو اسٹار ہوٹل ”رن موتو“ کا آڈیٹوریم اس کے لئے پہلے سے بک کرایا جا چکا تھا، اور اس کی گیلریوں کو جگہ جگہ ختم نبوت کے بینروں، استقبالی پرچوں اور لٹریچر سے مزین کیا گیا تھا اور بغیر پاس اور کارڈ کے کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی، اس لئے تھوڑی ہی دیر میں ہوٹل کا ہال کھچا کھچ بھر چکا تھا، سب سے پہلے مولانا مفتی محمد رضوی صاحب نے مسئلہ ختم نبوت اور قادیانی دعاوی اور گستاخیوں پر مبنی مدلل گفتگو فرمائی اور قادیانی کتب کھول کھول کر نہایت موثر انداز میں اپنی مقامی زبان میں اس مسئلہ کو مبرہن فرمایا، پھر احمد چوہان ایڈووکیٹ نے انگلش میں قادیانیت کے تعاقب کے سلسلہ میں جنوبی افریقہ کے مسلمانوں اور پاکستانی حضرات کی مساعی کو نہایت خوش اسلوبی سے واضح کیا، اسی طرح حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کا مفصل بیان ہوا اور حسب پروگرام حضرت ڈاکٹر صاحب کے بیان و دعا پر نہایت خیر و خوبی اور کامیابی سے یہ اجتماع اختتام پذیر ہوا۔ یوں یہ ہفت روزہ تعلیمی، تربیتی اور ختم نبوت اور تردید قادیانیت کی آگاہی کے سلسلہ کا دورہ کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔ چنانچہ ان حضرات کی مساعی اور بیداری کی برکت تھی کہ وہاں سر اٹھاتی قادیانیت دم دبانے پر مجبور ہوگئی، اس اجتماع میں دوسرے مطالبات کے علاوہ حسب پروگرام درج ذیل قراردادیں بھی منظور کرائی گئیں کہ:
- الف...... مسلمانان سری لنکا بھی قادیانیوں کو رابطہ عالم اسلامی، پاکستان کی دستور ساز اسمبلی،
١١
ماریشس کی عدالت اور ہند و پاک کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں غیر مسلم تصور کریں۔
- ب....... ان کے ساتھ تمام شعبہ ہائے زندگی میں وہ معاملہ کیا جائے جو ایک غیر مسلم کے ساتھ
کیا جاتا ہے۔
- ج....... چونکہ قادیانی زندیق ہیں اس لئے ان کے ساتھ میل جول نہ رکھا جائے۔
- د....... اسی طرح ہم حکومت سری لنکا اور اپنے ہم وطن دوسرے مذاہب کے افراد سے کہنا
چاہیں گے کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ کاسٹ تصور کیا جائے۔
- ہ....... چونکہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ
ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لئے آئندہ ان کو مسلمانوں کا نمائندہ نہ تصور کیا جائے۔
- و....... حکومت کو چاہئے کہ وہ قادیانیوں کو مسلمانوں کی علامات اور شعائر کے استعمال سے
روکے اور انہیں کوئی ایسا کام یا انداز اختیار نہ کرنے دے جس سے مسلمانوں کو دھوکا ہوتا ہو، مثلاً ان کی عبادت گاہ کو مسجد اور ان کی شادی کو نکاح کے نام پر رجسٹرڈ نہ کیا جائے۔
- ز....... چونکہ قادیانی قرآن وسنت میں صریح تحریف کرتے ہیں، اس لئے کوئی مسلمان ان کی
کسی قسم کی کوئی کتاب اور تحریر نہ پڑھے بلکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کی دل آزاری پر مشتمل ان کی ایسی تمام حرکات پر قدغن لگائے اور ان کو مسلمانوں سے الگ اپنا تشخص اجاگر کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ کوئی مسلمان غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔
اسی شام کو کولمبو کے دوسرے حضرات کے بعض مدارس میں چائے اور ہمارے معزز میزبان جناب الحاج عبدالرحمٰن کے گھر شام کا کھانا تھا۔ رات کو دیر گئے واپس اپنی قیام گاہ آگئے، آرام کیا، صبح واپسی تھی، چنانچہ ١٢ بجے کی پی آئی اے کی فلائٹ سے اتوار ١٨؍ مارچ کو ہمارا یہ مختصر وفد واپس کراچی پہنچ گیا، اللہ تعالیٰ اس دورہ کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کو قادیانیوں کی شرارتوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
جناب مولانا مفتی محمد رضوی اور مقامی حضرات کی رپورٹ کے مطابق اس دورہ اور تربیتی نشستوں کا یہ فائدہ ہوا کہ قادیانیت منہ چھپانے پر مجبور ہوگئی اور مسلمان بیدار ہوگئے اور قادیانی سرگرمیاں بالکل معدوم ہوگئی ہیں۔
فالحمدللہ علی ذلک!
١٢
خاتم النبیین
صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم
قادیانیت ک
(وقت کی ایک ا
حضرت مولانا سعید احم
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
حضور اکرم ﷺ کی حدیث مبارکہ کے الفاظ
قادیانیت کا تعاقب
(وقت کی ایک اہم ضرورت)
حضرت مولانا سعید احمد جلالپوریؒ شہید
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
اخباری اطلاعات کے مطابق قادیانی امت کے سربراہ مرزا مسرور احمد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے قادیانیت کی تبلیغ پر عائد خود ساختہ پابندی اٹھائی جاتی ہے، لہٰذا اب قادیانی مربیوں کو بڑھ چڑھ کر قادیانیت کی تبلیغ کرنا چاہئے، نیز قادیانی سربراہ نے پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، متحدہ عرب امارات اور مصر کو قادیانیت کی تبلیغ کے لئے موزوں قرار دیا، چنانچہ روزنامہ امت میں ہے: ”لندن (نمائندہ خصوصی) قادیانی قیادت نے دنیا بھر میں قادیانیت کی تبلیغ پر گزشتہ ٥ سال سے عائد خود ساختہ پابندی اٹھاتے ہوئے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات اور مصر کو تبلیغی سرگرمیوں کے لئے موزوں ترین ممالک قرار دیا ہے۔ صد سالہ تقریبات کے موقع پر مرزا مسرور احمد نے تمام قادیانی مربیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ قادیانیت کی ہر سطح پر تبلیغ شروع کریں۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد نے گزشتہ دنوں لندن ایسٹ کے علاقے ایکسل سینٹر میں قادیانی عمائدین اور تبلیغی سرگرمیوں میں متحرک مربیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قادیانیت کی تبلیغ کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں اور بھر پور انداز میں قادیانیت کا پرچار کریں، جبکہ اس مقصد کے لئے قادیانی انٹرنیٹ چینلز بھی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اجتماع میں شریک قادیانیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ تبلیغی سرگرمیوں کے لئے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات اور مصر کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ اس مقصد کے لئے قادیانی مشنری تنظیموں کو فعال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد نے یہ اعلان قادیانیت کے صد سالہ جشن کے موقع پر کیا ہے، انہوں نے ٢٠٠٣ء میں قادیانی خلیفہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد عالمی حالات اور قادیانی مخالف قوتوں کے اقدامات کے باعث تبلیغی سرگرمیوں کو روک دیا تھا اور اب ٥ سال بعد یہ پابندی ہٹالی گئی ہے۔ مرزا مسرور احمد نے گزشتہ جمعہ کو اپنے خطاب میں تمام قادیانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تحریک کو منظم و فعال کریں اور اس کے لئے متحد ہوکر جدوجہد کریں، جبکہ قادیانی ٹی وی؛ ایم ٹی اے کا نیٹ ورک وسیع کرنے کے لئے بھی لائحہ عمل بنایا جارہا ہے۔“
(روزنامہ امت کراچی ٢١؍ جون ٢٠٠٨ء)
قادیانیت کے جھوٹے ہونے کے لئے کسو
مسرور احمد قادیانی کا مندرجہ بالا بیان ہی کافی ہے۔ صداقت پر مبنی اپنے پیغام اور دعوت کو کسی وقتی اور معرو ہے، اور نہ اس پر خود ساختہ پابندی وقدغن لگائی ہے تا السلام، ان کے خلفاء، علماء، صلحاء اور ائمہ دین کی سیرت کہ ان پر کیسے کیسے سنگین حالات آئے اور ان پر ظلم و جس بات کو حق و سچ جانا، اس کو برملا اور ڈنکے کی چوٹ سولی پر لٹکایا گیا، ان پر آرے چلائے گئے، ان کو ج گئیں، ان کا گوشت پوست، ہڈیوں سے ادھیڑا گیا ا ان پر پتھر برسائے گئے ان کے رفقاء کو سولی دی گئی، ان کیلا گیا، ان کی ٹانگوں کو گھوڑوں سے باندھ کر چیرا گیا انگاروں پر لٹایا گیا، ان کی آل اولاد، بیوی اور بچوں محروم کیا گیا، ان کو وطن سے بے وطن کیا گیا، مگر انہو پیچھے ہٹے اور نہ ایک لمحہ رُکے۔
دور کیوں جائیے! نبی امّی ﷺ کے نام کے بعد کیا کچھ نہیں کیا گیا؟ کیا انہیں سرے عام سو بند کر کے ان پر کتے نہیں چھوڑے گئے؟ کیا ان کو اسا دہانے پر کھڑا کر کے ان کے چیتھڑے نہیں اڑائے کی سی نام نہاد مصلحت کا مظاہرہ کیا؟ نہیں ہرگز نہیں اعلانِ حق سے باز نہیں آئے۔ اس سے ڈرا اور پیچھے کے سچے شیدائیوں نے اس گئے گزرے دور میں بھی میں اپنی جانوں پر کھیل کر حق کا بول بالا کیا اور گزشت جیلوں میں سڑنا اور شہید ہونا تو گوارا کیا مگر مداہنت دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک گوانتاناموبے کی بدتر
قادیانیت کے جھوٹے ہونے کے لئے کسی دوسری دلیل و برہان کی بجائے صرف مرزا مسرور احمد قادیانی کا مندرجہ بالا بیان ہی کافی ہے۔ کیونکہ کسی سچے داعی نے آج تک سچائی اور صداقت پر مبنی اپنے پیغام اور دعوت کو کسی وقتی اور معروضی حالت کے پیش نظر ایک لمحہ کے لئے روکا ہے، اور نہ اس پر خود ساختہ پابندی وقدغن لگائی ہے۔ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام، ان کے خلفاء، علماء، صلحاء اور ائمہ دین کی سیرت وسوانح اور ان کا اسوہ حسنہ اس پر شاہد ہے کہ ان پر کیسے کیسے سنگین حالات آئے اور ان پر ظلم و ستم کے کتنے پہاڑ توڑے گئے؟ مگر انہوں نے جس بات کو حق و سچ جانا، اس کو برملا اور ڈنکے کی چوٹ کہا، اس کی پاداش میں ان کو قتل کیا گیا، ان کو سولی پر لٹکایا گیا، ان پر آرے چلائے گئے، ان کو دو لخت کیا گیا، ان پر لوہے کی کنگھیاں چلائی گئیں، ان کا گوشت پوست، ہڈیوں سے ادھیڑا گیا، ان کی کھال کھینچی گئی، ان کو آگ میں ڈالا گیا، ان پر پتھر برسائے گئے ان کے رفقاء کو سولی دی گئی، ان کو دیواروں میں چنا گیا، ان کو دیواروں سے کیلا گیا، ان کی ٹانگوں کو گھوڑوں سے باندھ کر چیرا گیا، ان کو بے یار و مددگار قتل کیا گیا، ان کو دہکتے انگاروں پر لٹایا گیا، ان کی آل اولاد، بیوی اور بچوں کو ذبح کیا گیا، ان کو مال و متاع اور گھر بار سے محروم کیا گیا، ان کو وطن سے بے وطن کیا گیا، مگر انہوں نے جس بات کو حق جانا اس سے ایک انچ پیچھے ہٹے اور نہ ایک لمحہ رکے۔
دور کیوں جائیے! نبی امی ﷺ کے نام لیواؤں کے خلاف ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے بعد کیا کچھ نہیں کیا گیا؟ کیا انہیں سرے عام سولی پر نہیں چڑھایا گیا؟ کیا ان کو سور کی کھال میں بند کر کے ان پر کتے نہیں چھوڑے گئے؟ کیا ان کو ابلتے تیل میں کباب نہیں بنایا گیا؟ کیا توپوں کے دہانے پر کھڑا کر کے ان کے چیتھڑے نہیں اڑائے گئے؟ مگر کیا ان میں سے کسی نے بھی قادیانیوں کی سی نام نہاد مصلحت کا مظاہرہ کیا؟ نہیں ہرگز نہیں؟ بلکہ سولی کا پھندا گلے میں ڈالتے وقت بھی وہ اعلان حق سے باز نہیں آئے۔ اس سے ذرا اور پیچھے اور قریب آجائیے! تو معلوم ہوگا کہ سچے دین کے سچے شیدائیوں نے اس گئے گزرے دور میں بھی طاغوت اور عالمی دہشت گرد امریکا کے مقابلہ میں اپنی جانوں پر کھیل کر حق کا بول بالا کیا اور گزشتہ دس سال سے امریکی مظالم کی چکی میں پسنا، جیلوں میں سڑنا اور شہید ہونا تو گوارا کیا مگر مداہنت، بزدلی، ڈر اور خوف کو اپنے قریب نہیں آنے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک گوانتاناموبے کی بدنام زمانہ جیل، امریکی مظالم اور ظلم و بربریت کی
٣
بدترین شکلیں اور دنیا بھر کے کٹر اسلام دشمن، ان کو راہ حق سے نہیں ہٹا سکے۔ اسی طرح کیا افغانستان، عراق، چیچنیا، بوسنیا اور خود پاکستان میں لال مسجد کے معصوم طلبہ، طالبات، اساتذہ اور بے قصور مظلوموں نے یہ ثابت نہیں کر دیا؟ کہ حق و سچ کا داعی مر تو سکتا ہے، مگر اپنی دعوت حق کو ایک لمحہ کے لئے روک سکتا ہے اور نہ اس پر سودے بازی کر سکتا ہے۔
ان تفصیلات کی روشنی میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قادیانیوں کا اپنے مذہب کی تبلیغ پر پانچ سال تک خود ساختہ پابندی لگانا اور دعوت کو موقوف کرنا، کیا ان کے سچے ہونے کی علامت ہے؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ ان کے جھوٹا ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
اس سب سے قطع نظر، بہر حال تمام مسلمانوں اور خصوصاً پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، متحدہ عرب امارات اور مصر کے دین دار اور اسلام سے ہمدردی رکھنے والے افراد کو سوچنا چاہئے کہ قادیانی کفر و ارتداد نے پانچ سال بعد پھر انگڑائی لی ہے اور وہ ایک بار پھر نئے ولولے اور جذبہ سے اپنی الحادی تحریک کے مردہ میں روح پھونکنے کے لئے پر تول رہا ہے، لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ جس طرح گزشتہ سو سال سے وہ اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے ہمت، جرأت اور بیدار مغزی کا ثبوت دیتے آئے ہیں... یہاں تک کہ قادیانی یہ سمجھنے پر مجبور ہو گئے کہ مسلمانوں کے دین و ایمان کو چھیڑنا اور اپنی جھوٹی دعوت کا اظہار کرنا، اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے... ٹھیک اسی طرح اگر انہوں نے آج بھی قادیانی فتنہ کے سامنے بیداری کا ثبوت دیا تو وہ ایک بار پھر اسی طرح اپنی بلوں میں گھس جائیں گے جس طرح گزشتہ پانچ برسوں سے اپنی پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے تھے۔ تجربہ شاہد ہے کہ باطل اور باطل پرستوں میں ہمت و جرأت نہیں ہوتی، لہذا اگر مسلمان، قادیانیوں کے مقابلہ میں سینہ تان کر کھڑے ہو جائیں یا ان کا تعاقب کرنا شروع کر دیں، تو وہ مسلمانوں کے نام سے ایسے بھاگیں گے، جس طرح کانا دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سایہ سے بھاگے گا۔
قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد کا پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، مصر اور متحدہ عرب امارات کو اپنی تبلیغ کے لئے موزوں قرار دینا، اس کی خود فریبی اور اپنے ماننے والوں کے لئے طفل تسلی سے بڑھ کر کچھ نہیں، ورنہ وہ خود بھی جانتا ہے کہ بحمد اللہ! پاکستان میں اب قادیانیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں، اس لئے کہ اب قانون اور آئین کی رو سے ان کی کھلے عام تبلیغ پر پابندی ہے، وہ
٤
اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے، وہ اسلامی شعائر استعمال نہیں کر سکتے، اور پاکستان کی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ان قانونی دفعات سے آگاہ ہے، بلکہ عام مسلمان تک اس سے آشنا ہے، لہٰذا اس کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف ہر محاذ پر تعاقب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مسلمان، چاہے کتنا ہی گیا گزرا اور عملی طور پر کیسا ہی کمزور کیوں نہ ہو، مگر بہر حال وہ باغیان ختم نبوت کو برداشت کرنے کے لئے قطعا آمادہ نہیں۔ جبکہ بحمد اللہ! آج پاکستان میں ہر مسلمان باشعور اور دینی جذبات سے معمور ہے، اور قادیانی دجل و الحاد کے سامنے بند باندھنے کے لئے کمربستہ ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال: پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد کے قادیانی طلبہ کی سر عام تبلیغ کے خلاف غیور مسلمانوں اور ناموس رسالت کے پروانوں کا بھر پور احتجاج اور سدباب کی کوشش ہے، اس پر قادیانی طلبہ کی جارحیت، مار دھاڑ، فائرنگ اور دہشت گردی کا مظاہرہ اور اس کے ردعمل میں مسلمان طلبہ کا بھر پور احتجاج و مزاحمت اور کالج انتظامیہ کی جانب سے ٢٣ طلبہ و طالبات کا اخراج ہے۔... یہ دوسری بات ہے کہ قادیانیت نواز سرکاری مہرے، پنجاب میڈیکل کالج کے عزت مآب پرنسپل کی اس جرأت مندانہ کارروائی اور مستحسن اقدام کو برداشت نہ کر پائیں۔
آج سے ساٹھ ستر سال قبل جب قادیانیوں کو انگریز کی سرپرستی حاصل تھی، قانون اور آئین ان کو تحفظ فراہم کرتا تھا، فوج، پولیس، انتظامیہ، عدلیہ اور بیوروکریسی ان کا ساتھ دیتی تھی، اگر اس وقت قادیانیوں کا جادو نہیں چل سکا تو اب جبکہ پولیس، فوج، انتظامیہ، عدلیہ، بیوروکریسی اور پاکستان کے ایوان زیریں سے لے کر بالا تک سب کے سب قادیانیوں کے کفر پر متفق ہیں، اب ان کی دال کیونکر گل سکتی ہے؟
اسی طرح بحمد اللہ! بنگلہ دیش کا مسلمان بھی جاگ چکا ہے اور خیر سے بنگلہ دیش کی عدلیہ اور کورٹ نے بھی ان کی دعوت و تبلیغ کے علاوہ ان کی کتب لٹریچر پر مکمل طور پر پابندی لگا رکھی ہے، بلکہ درپردہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک تقریباً شروع ہو چکی ہے، ایسے میں بنگلہ دیش میں قادیانیت کیونکر پنپ سکے گی؟
اسی طرح بھارت میں بھی کئی سال سے مجلس تحفظ ختم نبوت فعال ہو چکی ہے اور جمعیت علماء ہند اور دارالعلوم دیوبند کے اکابرین اس فتنہ کی سرکوبی اور تعاقب میں سرگرم ہیں اور قادیانی مراکز میں جا جا کر مناقشہ، مناظرہ، مباہلہ اور تقریر و تحریر کے میدان میں ان کا ناطقہ بند کر چکے ہیں،
٥
صرف یہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں ان کا کام مربوط و منظم شکل اختیار کر چکا ہے، جس کی واضح مثال دہلی میں دہشت گردی کے خلاف منعقدہ عظیم الشان اجتماع میں قادیانیت کے خلاف سکھوں، ہندوؤں اور مسلمانوں کی نفرت اور انسداد قادیانیت پر مشتمل قراردادیں اور تقریریں ہیں، بتلائیے! اس صورتحال کے باوجود وہاں قادیانیوں کی دسیسہ کاری کیونکر چل سکتی ہے؟ جہاں تک عرب امارات اور مصر کے مسلمانوں کا حال ہے، وہاں کے مسلمان اس عجمی سازش اور فتنہ سے اس وقت سے آگاہ ہیں جب سے رابطہ عالم اسلامی نے ایک قرارداد کے ذریعہ ان کے کفر و ارتداد پر مہر تصدیق ثبت فرمائی تھی۔
اس سب سے ہٹ کر عالمی طور پر جہاں، جہاں قادیانی کفر و ارتداد اور ان کی ملک و ملت دشمنی واضح ہوتی جارہی ہے وہاں وہاں سے اس شجرہ خبیثہ کی جڑیں اکھڑتی اور بنیادیں کھوکھلی ہوتی جارہی ہیں، چنانچہ گزشتہ ایک عرصہ سے قادیانیت کا انڈونیشیا کی جانب رخ تھا اور کچھ انڈونیشی ان کے دھوکے اور جھانسے میں آ بھی گئے، لیکن جوں ہی ان کو اس فتنہ کی حقیقت معلوم ہوئی تو انہوں نے اس کا تعاقب کرنا شروع کردیا اور نوبت بایں جا رسید کہ:
”جکارتہ (ثناء نیوز) انڈونیشیا میں قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ انڈونیشی صدر سوسیلو بمباک کی جانب سے جاری کردہ آرڈی نینس کے تحت قادیانیت کی تبلیغ کرنے والوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ قادیانیت کی تبلیغ کے خلاف انڈونیشیا میں گزشتہ کئی ہفتوں سے عوامی احتجاج کیا جارہا تھا، جس کے بعد صدر نے وزارت داخلہ اور وزارت مذہبی امور کی تیار کردہ سفارشات کے تحت قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔“
(روزنامہ امت کراچی مورخہ ١١؍ جون ٢٠٠٨ء)
ہم قادیانی قیادت سے عرض کرنا چاہیں گے کہ وہ یہ بات نوٹ کر لے کہ اب قادیانی نہ صرف اسلامی ممالک میں، بلکہ اپنے آقاؤں کے ہاں یورپ اور امریکا میں بھی انشاء اللہ چین سے نہیں بیٹھ سکیں گے، اب وہ وقت قریب ہے، جب وہ اپنے ماننے والوں کو کہیں گے کہ اب قادیانیت کا نام لینا چھوڑو، ورنہ حق و انصاف کی تلوار تمہارا فیصلہ کردے گی۔
وصلى الله تعالى على خير خلقه سيدنا محمد وآله واصحابه اجمعين
٦
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
جشن خلافت
(قادیانی عقائد و نظریات کے آئینہ میں)
حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری شہید
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الحمد للّٰہ وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!
بلاشبہ ہر انسان اپنی خواہش و آرزو کی تکمیل و تحصیل پر خوش اور ناکامی و نامرادی پر مغموم و محزون ہوتا ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی اولاد و ذریت اس فطری اصول سے ہٹ کر اپنی کسی ناکامی کو ناکامی نہیں سمجھتی، بلکہ وہ اپنی ہر بدقسمتی اور حرمان نصیبی پر خوشی کے شادیانے بجاتی اور جشن مناتی ہے، قادیانی تاریخ کا جائزہ لیجئے تو گزشتہ سو سال سے وہ اس پر عمل پیرا ہے۔
گزشتہ سو سال سے قادیانی امت کو کس قدر اور کتنی بار ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا؟ کسی سے مخفی اور پوشیدہ نہیں، اس کی تفصیلات طویل بھی ہیں اور وقت طلب بھی، مگر بہرحال انہوں نے ہمیشہ اس ذلت و رسوائی کو اپنے لئے باعث عزت و افتخار سمجھا، شاید ان کا خیال ہوگا کہ: بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟
کچھ اسی طرح کا معاملہ اس بار بھی ہوا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے قادیانی میڈیا پر یہ خبر بڑی دھوم دھام سے سرگرم تھی کہ قادیانی امت ٢٦؍ مئی ٢٠٠٨ء کو مرزا غلام احمد قادیانی کی موت کے بعد مرزائی خلافت کے سو سال پورے ہونے پر ”جشنِ خلافت“ منارہی ہے اور وہ اس کی بھرپور تیاری میں مصروف ہے۔
”جشنِ خلافت“ کا پس منظر یہ ہے کہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو مسیلمہ پنجاب اور کذاب قادیان مرزا غلام احمد قادیانی وبائی ہیضہ کے عذاب میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوگیا تھا، موت کے بعد اس کی خلافت کی گدی پر، اس کی نامردی کے معالج و مریدِ خاص حکیم نورالدین بھیروی کو بٹھایا گیا۔ جو اس کا جانشین و خلیفہ قرار پایا، یوں اس وقت سے اب تک قادیانی خلافت کا سلسلہ جاری ہے۔
چونکہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء سے ٢٦؍ مئی ٢٠٠٨ء تک قادیانی خلافت کو پورے سو سال ہوگئے ہیں، اس لئے قادیانی ”جشنِ خلافت“ منانا چاہتے تھے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ اپنے اس منصوبے اور پروگرام میں ناکام ہوگئے اور وہ جشنِ خلافت نہیں مناسکے، مگر بہرحال ان کی ناکامی
٢
بھی کامیابی ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے اس پ مقاصد و منافع حاصل کرلئے ہوں گے، مثلاً:
- ......١ انہوں نے اس جشن کے نام پر چن
- ......٢ انہوں نے اس کے ذریعے اپنے
ڈھنڈورا پیٹا ہوگا۔
- ......٣ اس کے ذریعے اپنی جھوٹی شہرت او
- ......٤ اپنے آقاؤں اور سرپرستوں کو باو
سلوک کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے جشن
- ......٥ انہوں نے ”خلافت“ کے نام پر د
دیا ہوگا اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو مسلمان
- ......٦ اپنے جاہل کارکنوں اور بھولے بھ
پناہ کا جواز تلاش کیا ہوگا۔
- ......٧ اس کی بدولت انہوں نے لاتعداد
- ......٨ رائل فیملی، خصوصاً قادیانی سربراہ
بیٹھنے کی حکمت عملی سجھائی ہوگی۔
- ......٩ بہت سارے نوجوانوں اور سیدھے
والے امتیازی سلوک کے نام پر اپنا ہم نوا بنا یورپ، افریقہ اور امریکا وغیرہ ایسے ممالک میں
- ......١٠ اپنی روایتی بزدلی پر پردہ ڈالا ہو
وغیرہ وغیرہ۔
الغرض قادیانی امت ”بے حیاء فاقد الحیاء ہے کہ وہ ہر ذلت سے عزت اور ہر سے عظمت کا مفہوم نکال لیتی ہے۔ شاید ان ان کا ابا مرزا غلام احمد قادیانی محمدی بیگم سے
بھی کامیابی ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے اس پروگرام کے اعلان واظہار سے یقیناً بہت سارے مقاصد ومنافع حاصل کر لئے ہوں گے، مثلاً:
- ١...... انہوں نے اس جشن کے نام پر حسب معمول خوب چندہ اور فنڈ اکٹھا کیا ہوگا۔
- ٢...... انہوں نے اس کے ذریعے اپنے ناپاک وجود کا احساس اور اپنی نام نہاد کارکردگی کا
ڈھنڈورا پیٹا ہوگا۔
- ٣...... اس کے ذریعے اپنی جھوٹی شہرت اور مظلومیت کا پروپیگنڈا کیا ہوگا۔
- ٤...... اپنے آقاؤں اور سرپرستوں کو باور کرایا ہوگا کہ ہمارے ساتھ امتیازی اور غیر انسانی
سلوک کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے جشن خلافت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
- ٥...... انہوں نے ”خلافت“ کے نام پر دنیا بھر کی سیدھی سادی عوام اور مسلم اکثریت کو دھوکا
دیا ہوگا اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو مسلمان باور کرانے کی کوشش کی ہوگی۔
- ٦...... اپنے جاہل کارکنوں اور بھولے بھالے قادیانیوں کو مطمئن کر کے اپنی یا ان کی سیاسی
پناہ کا جواز تلاش کیا ہوگا۔
- ٧...... اس کی بدولت انہوں نے لاتعداد کارکنوں کو مختلف ممالک میں سیاسی پناہ دلائی ہوگی۔
- ٨...... رائل فیملی، خصوصاً قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد کی پاکستان سے بھاگ کر برطانیہ جا
بیٹھنے کی حکمت عملی سمجھائی ہوگی۔
- ٩...... بہت سارے نوجوانوں اور سیدھے سادے مسلمانوں کو اپنے خلاف روا رکھے جانے
والے امتیازی سلوک کے نام پر اپنا ہم نوا بنایا ہوگا، ان سے بیعت فارم پُر کروایا ہوگا اور ان کو یورپ، افریقہ اور امریکا وغیرہ ایسے ممالک میں سیاسی پناہ دلا کر اپنا کمیشن کھرا کیا ہوگا۔
- ١٠...... اپنی روایتی بزدلی پر پردہ ڈالا ہوگا، اور اپنی زیر زمین سرگرمیوں کا جواز تلاش کیا ہوگا
وغیرہ وغیرہ۔
الغرض قادیانی امت: ”بے حیاء باش ہر چہ خواہی کن“ کے مصداق ایسی بے باک اور فاقد الحیاء ہے کہ وہ ہر ذلت سے عزت اور ہر شکست سے فتح اور ہر خفت سے شرافت اور ہر لعنت سے عظمت کا مفہوم نکال لیتی ہے۔ شاید ان کے وجود و بقا کا راز ہی اسی میں ہے، اور کیوں نہ ہو کہ ان کا ابا مرزا غلام احمد قادیانی محمدی بیگم سے نکاح کی جھوٹی پیشینگوئی کو اپنی صداقت کا نشان قرار
٣
دیتے ہوئے خود اپنے بارہ میں لکھتا ہے: ”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی... تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جاوے، روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دے دیا جاوے، ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں... اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔“
(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
دیکھئے! مرزا قادیانی نے اپنی ذلت سے کیسی عزت کشید کرنا چاہی؟ مگر افسوس کہ جس طرح مرزا قادیانی اپنی ذلت سے عزت حاصل نہ کر سکے، بلکہ ذلیل کے ذلیل رہے، ٹھیک اسی طرح اس کی اولاد بھی اپنے آپ کو اور مرزا قادیانی کو بُرا بھلا کہنے کے باوجود کوئی عزت و شہرت نہ پاسکی۔
قطع نظر اس کے کہ قادیانی پاکستان میں ”جشن خلافت“ نہ منا سکے اور ان کو اپنے اس مقصد میں ناکامی ہوئی، تاہم سوال یہ ہے کہ ان کا ”جشن خلافت“ منانا صحیح بھی ہے یا نہیں؟ کہیں یہ مرزا غلام احمد کی موت پر خوشی منانے کے مترادف تو نہیں ہوگا؟ اس لئے کہ:
- ١...... ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو مرزا غلام احمد قادیانی کی موت واقع ہوئی، اب ایک سو سال بعد
٢٦؍ مئی ٢٠٠٨ء کو اس کی موت کو جب پورے سو سال ہوئے، اس موقع پر جشنِ خلافت کے نام سے خوشی منانا کیا مرزا کی موت کی خوشی نہ کہلائے گی؟ اگر نہیں تو کیوں؟
- ٢...... مرزائی کہا کرتے ہیں کہ: ”اجرائے نبوت ایک نعمت ہے اور یہ نعمت اگر بنی اسرائیل
میں باقی تھی تو امت مسلمہ اس سے محروم کیوں ہے؟“ سوال یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی موت پر... قادیانیوں کے بقول... ”نبوت جیسی نعمت“ کے خاتمہ اور اجرائے خلافت پر جشن منانے کا کہیں یہ معنی تو نہیں ہوگا کہ خود قادیانی امت بھی ”نبوت جیسی نعمت“ کے انقطاع پر جشن منا رہی ہے؟
- ٣...... کیا آج تک کبھی کسی نے اپنے بڑے کی موت اور چھوٹے کی تاج پوشی پر خوشی منائی
ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو کیا کہا جائے کہ چھوٹے کی تاج پوشی، بڑے کی موت سے زیادہ خوشی کی چیز ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے، تو عین اس دن جس دن مرزا غلام احمد قادیانی مرا تھا، جشن خلافت منانا مرزا کی موت کا جشن نہ تصور ہوگا؟
٤
- ٤...... کیا آج تک قادیانیوں نے مرزا ک
نہیں اور یقیناً نہیں تو کیوں؟ سوال یہ ہے ک ”نبوت“ کے بجائے خلافت پر خوشی کے جشن کا ک
- ٥...... قادیانی عقیدہ کی روشنی میں... اگر آ
ضرورت تھی تو مرزا غلام احمد قادیانی کی موت کے رہی؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقیناً اثبات کی بجائے جشن کیوں منانا چاہتی ہے؟
- ٦...... اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد نب
آنحضرت ﷺ کے بعد آپ ﷺ کا مشن آپ جواب اثبات میں ہے اور یقیناً اثبات میں ہے،
- ٧...... آنحضرت ﷺ پر نبوت و رسالت
سے زائد آیات اور دو سو سے زائد احادیث اور کے پاس اجرائے نبوت پر بھی کوئی ایک آدھ قر یقیناً نہیں تو اجرائے نبوت کا کیا معنی؟
- ٨...... آنحضرت ﷺ نے ختم نبوت کے
فرمایا تھا: ”وانہ لا نبی بعدی وسیکون غلام احمد قادیانی نے بھی کہیں یہ اعلان کیا تھا جواب اثبات میں ہے تو کہاں اور کس کتاب م کی تعلیمات کی مخالفت کے مترادف نہیں؟
- ٩...... مرزا قادیانی کی موت اور اس کی خ
کا یہ معنی نہیں کہ مرزا قادیانی کے ماننے والوں اور ان کا آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان کا دعویٰ خلافت کا کیا معنی؟ کیا آنحضرت ﷺ کی رحل ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو کیا اس کا یہ معنی نہیں اپنا رشتہ ایمان توڑنے، مرزا غلام احمد قادیانی ک
- ٤...... کیا آج تک قادیانیوں نے مرزا کے دعویٰ نبوت پر بھی ”جشن نبوت“ منایا ہے؟ اگر
نہیں اور یقیناً نہیں تو کیوں؟ سوال یہ ہے کہ نبوت اہم ہے یا خلافت؟ اگر نبوت اہم ہے تو ”نبوت“ کے بجائے خلافت پر خوشی کے جشن کا کیا معنی؟
- ٥...... قادیانی عقیدہ کی روشنی میں... اگر آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کے جاری رہنے کی
ضرورت تھی تو مرزا غلام احمد قادیانی کی موت کے بعد نبوت کے اجراء کی ضرورت کیوں باقی نہیں رہی؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقیناً اثبات میں ہے، تو قادیانی امت اس محرومی پر ماتم کرنے کی بجائے جشن کیوں منانا چاہتی ہے؟
- ٦...... اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد نبوت کا کام ان کے خلفاء سنبھال سکتے ہیں تو کیا
آنحضرت ﷺ کے بعد آپ ﷺ کا مشن آپ ﷺ کے خلفاء اور امت نہیں سنبھال سکتی تھی؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقیناً اثبات میں ہے، تو اجرائے نبوت کی کیا ضرورت تھی؟
- ٧...... آنحضرت ﷺ پر نبوت ورسالت کے اختتام اور ختم نبوت پر قرآن کریم کی ایک سو
سے زائد آیات اور دو سو سے زائد احادیث اور پوری امت کا اجماع ہے، سوال یہ ہے کہ قادیانیوں کے پاس اجرائے نبوت پر بھی کوئی ایک آدھ قرآنی آیت، حدیث یا نص موجود ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو اجرائے نبوت کا کیا معنی؟
- ٨...... آنحضرت ﷺ نے ختم نبوت کے تناظر میں اجرائے خلافت کا اعلان کرتے ہوئے
فرمایا تھا: ”وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء“ (بخاری ج ١ ص ٤٩١) سوال یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی کہیں یہ اعلان کیا تھا کہ اب میرے بعد نبوت نہیں، خلافت ہوگی؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو کہاں اور کس کتاب میں؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو جشن خلافت منانا مرزا کی تعلیمات کی مخالفت کے مترادف نہیں؟
- ٩...... مرزا قادیانی کی موت اور اس کی خلافت کے سو سال ہونے پر ”جشن خلافت“ منانے
کا یہ معنی نہیں کہ مرزا قادیانی کے ماننے والوں کا آقائے دو عالم حضرت محمد ﷺ سے کوئی تعلق نہیں اور ان کا آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان کا دعویٰ محض دھوکا اور فریب ہے، اگر نہیں تو سو سالہ جشن خلافت کا کیا معنی؟ کیا آنحضرت ﷺ کی رحلت و وفات کو سو سال ہوئے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو کیا اس کا یہ معنی نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ذریت، نبی امی ﷺ سے اپنا رشتہ ایمان توڑنے، مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے خلفاء سے جوڑنے پر جشن منا رہی ہے؟
٥
- ١٠...... کیا مرزائیوں کے ”جشن خلافت“ کے اعلان سے یہ بات واضح نہیں ہو جاتی کہ
قادیانی امت کا اجرائے نبوت کا عقیدہ، اجرائے نبوت کو نعمت قرار دینا، یا اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا امتی باور کرانا، خالص دھوکا، فریب اور فراڈ ہے۔ اس لئے کہ اولاً: ان کا آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا انکار کرنا، ثانیاً: اجرائے نبوت کا قائل ہونا، ثالثاً: مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان لانا، رابعاً: مرزا قادیانی کے بعد عقیدۂ اجرائے نبوت سے انحراف کرنا، خامساً: اجرائے خلافت پر ایمان لانا، اس پر خوش ہونا اور اس پر جشن منانا، اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ خود مرزائی بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد اجرائے نبوت کے نہ صرف قائل نہیں، بلکہ وہ مرزا کے بعد اس کی ضرورت نہیں سمجھتے۔
ان تفصیلات کے بعد کیا کہا جائے کہ مرزائیوں کا قرآن وسنت اور اجماع امت پر ایمان ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں! اگر ایسا ہوتا تو مرزائی امت کو حضور ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی؟ اسی طرح اگر وہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت اور آپ ﷺ کی خلافت پر ایمان رکھتے یا ان کا آنحضرت ﷺ اور قرآن وسنت اور اجماع امت پر عقیدہ ہوتا تو وہ سوسالہ نہیں چودہ سو سالہ خلافت کا جشن مناتے ۔ جب ایسا نہیں تو دو اور دو چار کی طرح واضح ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کا نہ قرآن پر ایمان ہے نہ حدیث پر، نہ اجماع امت پر، نہ حضور ﷺ پر اور نہ اسلامی خلافت پر بلکہ وہ ایک نئے اور خودساختہ نبی اور خود ساختہ خلافت پر ایمان رکھتے ہیں، بلکہ دیکھا جائے تو ان کا مرزا غلام احمد قادیانی کے عقیدۂ اجرائے نبوت پر بھی ایمان نہیں، اگر ایسا ہوتا تو وہ جشن خلافت ہی کیوں مناتے؟ لہٰذا ان کا نہ تو امت مسلمہ سے کوئی علاقہ اور رشتہ ہے اور نہ ہی مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی تعلیمات پر ان کا ایمان ہے، بلاشبہ ان کا حال اس کا مصداق ہے کہ : ”دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا۔“
لہٰذا حکومت پاکستان، ارباب اقتدار اور پوری امت مسلمہ اور خصوصاً اہلیان پاکستان پر لازم ہے کہ ایسے باغیان نبوت وخلافت اور بد مذہبوں کا بھر پور محاسبہ کیا جائے اور ان کے منہ میں لگام دی جائے، اور ان کو اس بغاوت، عدوان اور ضلالت و گمراہی کی ترویج پر قرار واقعی سزا دی جائے اور امت مسلمہ کے سیدھے سادے مسلمانوں کو ان کی ریشہ دوانیوں سے بچاتے ہوئے ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین!
٦
خاتم النبیین
آئین پاک
اور
اعلیٰ عدالتوں
کا ایک خطرناک
(بسلسلہ رسائل ختم نبوت
حضرت مولانا سعید
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
آئین پاکستان
اور
اعلیٰ عدالتوں کے خلاف
ایک خطرناک سازش
(بسلسلہ رسائل ختم نبوت پر پابندی کا نوٹس)
حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری شہید
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى!
٨ ستمبر ٢٠٠٦ء کو روزنامہ ”ایکسپریس“ لاہور کے صفحہ اوّل پر نامہ نگار خصوصی افتخار چوہدری کے حوالہ سے ”مذہبی منافرت اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے ٩٠ کتابوں کی خرید و فروخت پر پابندی“ کے عنوان سے ایک چار کالمی خبر شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: ”وفاقی حکومت نے فرقہ وارانہ تعصب و دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے ملک بھر میں مختلف مکاتب فکر کی ٩٠ کتب کی خرید وفروخت پر فوری پابندی عائد کر دی ہے اسلام آباد اور چاروں صوبوں کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو ان کتب کی فہرست جاری کر دی ہے ان کے مواد کو شرانگیز، اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ منافرت کا موجب قرار دیا گیا ہے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف گرینڈ آپریشن کا حکم دے دیا ہے۔ فہرست میں نوے کتب کے نام اور مصنفین کے نام بھی درج ہیں۔ وزارت داخلہ کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کی ہدایت پر ملک سے فرقہ وارانہ دہشت گردی کو دور کرنے کے لئے ملک بھر کی انتظامیہ کو مکمل طور پر چوکنا کر دیا گیا ہے کیونکہ ماضی میں انہی فرقہ وارانہ اشتعال دینے والی کتابوں کی وجہ سے شیعہ سنی اور دیگر مکاتب فکر کے خوفناک فسادات ہوئے جن میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے شواہد ملتے رہے۔ …… سرکاری رپورٹ کے مطابق حکومت نے ملک بھر کی پولیس کو دینی کتب کے بک اسٹالوں مدارس مساجد اور امام بارگاہوں کے سامنے دینی کتب فروخت کرنے والوں کی کڑی نگرانی کر کے ان کی گرفتاریوں کی ہدایت کی ہے حکومت نے پولیس سربراہان سے کہا ہے کہ ایسی کتب فروخت کرنے والوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جائیں …… ان کی تفصیل یہ ہے …… اس کے بعد کتب اور ان کے مصنفین اور ناشران کے پتے درج ہیں۔ ناقل“
قطع نظر اس کے کہ اس خبر میں کس قدر صداقت ہے؟ کیا واقعی جناب صدر اور وزارت داخلہ نے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری بھی کیا ہے یا نہیں؟ تاہم اگر یہ خبر سچی ہے اور سرکار کی طرف اس کی نسبت کرنا صحیح ہے تو ہمارے خیال میں پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے والے برسر عہدوں نے ان کتابوں کو پڑھا تو کجا، شاید دیکھا بھی نہ ہوگا، اس لئے کہ اگر انہوں نے ان رسائل و کتب کو پڑھا ہوتا تو انہیں اندازہ ہوتا کہ ان میں بعض رسائل و کتب فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی نہیں، بلکہ
٢
مسلمانوں کے دین و ایمان کے تحفظ پر مشتمل ہیں، کیونکہ یہ کتب / رسائل کسی مسلم فرقہ کی مخالفت کی بجائے نبی امی حضرت محمد ﷺ کے باغیوں، پاکستان کے آئین و دستور اور پوری امت مسلمہ کے فتویٰ کی رو سے غیر مسلم قرار پانے والے قادیانیوں کی سرکوبی اور ان کے غلیظ عقائد کی نقاب کشائی پر مشتمل ہیں۔
لہٰذا ہمارا احساس و وجدان کہتا ہے کہ ان کتب / رسائل پر پابندی کی منصوبہ بندی۔ اس نوٹیفکیشن کی ترغیب و تحریص اور ترتیب و تیاری کے پیچھے قادیانی مہروں کا ہاتھ ہے یا پھر وزارت داخلہ اور بیوروکریسی نادانستہ طور پر قادیانی ہاتھوں میں کھیل کر ان کے عزائم کی تکمیل کر رہی ہے۔
اس لئے کہ اس پابندی کی زد میں قریب قریب تمام مکاتب فکر کی کوئی نہ کوئی کتاب ضرور آئی ہے۔ اس پابندی سے چشم بد دور اگر کسی کو استثنا حاصل ہوا ہے تو وہ صرف اور صرف قادیانی کتب، رسائل و جرائد ہیں۔ جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کا پورا کا پورا لٹریچر اس قابل ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس پر پابندی لگائی جائے بلکہ اس کو ضبط کر کے آگ لگا دینا چاہئے۔ اس لئے کہ اس میں کسی ایک فرد، قوم اور برادری نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی ہے۔ چنانچہ اس میں حضرات انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، اسلافِ امت، ائمہ مجتہدینؒ، اور خود ذات باری تعالیٰ کو بے نقط سنائی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ملعون اپنے مخالفین کو ولد الزنا، حرامی اور جنگل کے سور اور ان کی عورتوں کو کنجریوں اور کتیوں تک کی غلیظ گالیاں بکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے حضرات حسنین، حضرت فاطمہ، حضرات صحابہ کرامؓ کی توہین کے ساتھ ساتھ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شرابی اور ان کی دادیوں اور نانیوں کو زنا کار اور کسبی عورتیں تک کہا اور لکھا ہے۔ (دیکھئے حاشیہ کشتی نوح ص١٦، آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج٥ص٥٤٧، نجم الہدیٰ، خزائن ج١٤ص٥٣، نزول مسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ص٤٧٧، ضمیمہ انجام آتھم ص٧، خزائن ج١١ ص٢٨٩، ٢٩٠، دافع البلاء ص آخر، کلمۃ الفصل ص١١٠، ١٥٨، ملفوظات احمدیہ ج دوم ص١٤٢، آئینہ صداقت ص٣٥، ازالۃ اوہام ص ٤٢٦، ٢٨٦، ٢٨٨، خزائن جلد ٣ ص ١١٥، ١٦٦، ٤٧١، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٣٥، خزائن ج ٢١ص٣٨٠، ”الفضل“ قادیان ج ١١ نمبر ٦٦ ص٩، مورخہ ٢٢ فروری ١٩٢٤ء، ضمیمہ نصرۃ الحق ص ١٢٠، خزائن ج٢١ص١٦٨، ماہنامہ ”المہدی“ جنوری / فروری ١٩١٥ء نمبر ٢/٣ صفحہ ٥٧، وغیرہ)
بجائے اس کے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی اشتعال انگیز کتابوں اور تحریروں پر پابندی لگتی، الٹا وزارت داخلہ کے بڑے چمچوں نے ان کتابوں پر پابندی عائد فرمائی ہے، جن کے ذریعہ
٣
مسلمانوں کو امت مسلمہ کے اس باغی، انگریزوں کے نمک خوار اور مدعی نبوت کا مکروہ چہرہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، کیا کہا جائے کہ یہ کسی مسلمان کا کارنامہ ہے؟ یا کسی بد بودار قادیانی کا؟
اگر صدر پرویز مشرف، وزارت داخلہ اور اس کے کار پردازوں کو ذرہ بھر آنحضرت ﷺ سے محبت ہوتی تو وہ ان کتابوں پر قطعاً پابندی نہ لگاتے، جو نہایت شستہ و شائستہ زبان اور دلائل و براہین کے اصولوں پر لکھی گئی ہیں۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان کی طرف سے شائع کردہ کتب و رسائل میں سے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی: ”نزول عیسیٰ علیہ السلام، قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین، المہدی واضح پانچ سوالوں کا جواب، قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے درمیان فرق، اور گالیاں کون دیتا ہے؟“ اسی طرح طاہر رزاق صاحب کی: ”قادیانی شبہات کا دندان شکن جواب“ صاحبزادہ طارق محمودؒ کی: ”فیصلہ آپ کیجئے“ مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ کی: ”قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ اور قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ“ میں سے بتلایا جائے کہ کون سی کتاب فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی ہے؟ یا اس میں سے کس کا مضمون اشتعال انگیز ہے؟
- ١....... کیا جناب صدر، وزارت داخلہ اور بیورو کریسی بتلا سکتی ہے کہ حیات و نزول عیسیٰ علیہ
السلام کا عقیدہ فروعی ہے؟ کیا یہ قرآن و سنت اور پوری امت مسلمہ کا عقیدہ نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو اس پر پابندی کا کیا معنی؟
- ٢....... اسی طرح ”قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین“ میں کون سا فروعی مسئلہ اٹھایا گیا
ہے؟ کیا مسلمانوں کے لئے قادیانی ارتدادی تحریک کا انسداد بھی فروعی مسئلہ ہے؟ اگر نہیں، تو کیا مسلمانوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے شعائر کا تحفظ کریں؟ اور مسلمانوں کو باور کرائیں کہ کلمہ طیبہ کے نام پر مسلمانوں کو دھوکا دینے والوں کا اس کلمہ طیبہ پر ایمان نہیں ہے؟
- ٣....... اسی طرح کیا حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان کے نزول وظہور کا
بیان بھی اشتعال انگیز ہے؟ کیا کوئی مسلم فرقہ اس عقیدہ کا مخالف ہے؟ اگر نہیں، تو اس کو اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ منافرت کا ذریعہ کیونکر کہا جاسکتا ہے؟
- ٤....... ایسے ہی ”قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے درمیان فرق“ میں کون سی فرقہ واریت
کی تعلیم دی گئی ہے؟ کیا قادیانیوں، عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں، پارسیوں اور بدھسٹوں کے مابین فرق و امتیاز کو بیان کرنا فرقہ واریت ہے؟ کیا مسلم عوام کے ذہنوں سے ان شکوک و اوہام کا ازالہ کرنا کہ، جو لوگ اپنے آپ کو صاف صاف ضرور ہے، مگر ہم ان سے تعرض اس لئے نہیں کر دیتے، اور قادیانیوں سے اختلاف و نزاع کی و ہیں، اور ان کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کو کر فروخت کرتا ہے۔ اس لئے مسلمان ایسے مر ان کی سازشوں میں نہ آئیں، ہاں اگر قادیان ہیں۔۔۔۔۔۔ اسلام کا نام نہ دیں تو ہم ان کا تعاقب ایسے حقائق کی نشاندہی کی بھی اجازت نہیں۔ رہیں؟ اسلام کے نام پر الحاد و زندقہ کی اشا قادیانیوں کو اس کی اجازت ہے کہ وہ مرزا غل السلام بلکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی اف باطل نہ کہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے، تو بت کہ کوئی شخص اس کا لباس پہنے اور اس کی نشس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے؟ اگر یہ گ آنحضرت ﷺ کے منصب نبوت و رسالت بـ ہے، تو ایسے بدباطن کے ایسے بد بودار کردار ـ
- ٥....... پھر کسی تحریر و تقریر اور کتاب ور
ہونے کی بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس میں جائیں۔ لیکن اگر کسی کتاب و رسالہ میں کسی جائیں اور حکومت وعوام کو دعوت انصاف و ہے؟ اس کا فیصلہ آپ کریں؟ بتلایا جائے جواب اثبات میں ہے، تو کیا اس کا یہ معنی نہ اس کے بزرگوں، صحابہ کرامؓ، اور حضرات اربابِ اقتدار اور حکومت کے سامنے اس ن نہ کی جائے۔ کیونکہ اشتعال انگیزی اور فر
٤
گوارا کرنا کہ، جو لوگ اپنے آپ کو صاف صاف طور پر غیر مسلم کہتے ہیں، ہمیں ان سے اختلاف ضرور ہے، مگر ہم ان سے تعرض اس لئے نہیں کرتے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام کے نام پر دھوکا نہیں دیتے، اور قادیانیوں سے اختلاف ونزاع کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے کفریہ عقائد کو اسلام باور کراتے ہیں، اور ان کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص سور اور خنزیر کے گوشت کو بکری کا گوشت کہہ کر فروخت کرتا ہے۔ اس لئے مسلمان ایسے منافقین و مرتدین اور زندیقوں سے ہوشیار رہیں، اور ان کی سازشوں میں نہ آئیں، ہاں اگر قادیانی بھی اپنے عقائد کو ...... جو کچھ بھی ان کے عقائد ہیں ...... اسلام کا نام نہ دیں تو ہم ان کا تعاقب و تعرض نہیں کریں گے۔ بتلایا جائے کیا مسلمانوں کو ایسے حقائق کی نشاندہی کی بھی اجازت نہیں ہے؟ کیا قادیانی اپنے غلیظ کفر کو ایمان باور کراتے رہیں؟ اسلام کے نام پر الحاد و زندقہ کی اشاعت کرتے رہیں اور مسلمان خاموش رہیں؟ آیا قادیانیوں کو اس کی اجازت ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نعوذ باللہ! حضرات انبیاء کرام علیہم السلام بلکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی افضل و برتر کہتے رہیں اور مسلمان حق کو حق اور باطل کو باطل نہ کہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے، تو بتلایا جائے کہ کسی ملک کے سربراہ کو یہ گوارا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اس کا لباس پہنے اور اس کی نشست پر بیٹھ کر اپنے آپ کو ملک کا سربراہ کہے، اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے؟ اگر یہ گوارا نہیں، تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی کی جانب سے آنحضرت ﷺ کے منصب نبوت ورسالت پر قبضہ کو کیونکر گوارا کیا جا سکتا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے، تو ایسے بدباطن کے ایسے بدبودار کردار سے نقاب کشائی پر پابندی کا کیا معنی؟
- ٥ ...... پھر کسی تحریر و تقریر اور کتاب ورسالہ کے اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی
ہونے کی بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس میں مخالف کو برا بھلا کہا جائے یا اسے گالیاں دی جائیں۔ لیکن اگر کسی کتاب ورسالہ میں کسی ایسے دریدہ دہن کی ہفوات کی تفصیلات بیان کی جائیں اور حکومت و عوام کو دعوت انصاف دیتے ہوئے کہا جائے کہ یہ شخص کس قدر گالیاں دیتا ہے؟ اس کا فیصلہ آپ کریں؟ بتلایا جائے یہ بھی اشتعال انگیزی یا فرقہ واریت ہے؟ اگر جواب اثبات میں ہے، تو کیا اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ کوئی شخص کسی کو کتنا ہی گالیاں دیتا رہے، اس کے بزرگوں، صحابہ کرامؓ، اور حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کو بے نقط سناتا رہے، مگر ارباب اقتدار اور حکومت کے سامنے اس کی شکایت یا اس کی غلاظت بھری گالیوں کی نشاندہی نہ کی جائے۔ کہیں یہ اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت کے زمرے میں نہ آجائے؟ اگر جواب
٥
نفی میں ہے، تو ”گالیاں کون دیتا ہے؟“ پر پابندی کیوں؟
- ٦....... کیا کسی کافر، مشرک، زندیق، ملحد، یہودی، عیسائی، ہندو یا پارسی کے اسلام، پیغمبر
اسلام اور قرآن و سنت اور دین وملت کے خلاف اٹھائے گئے اشکالات و اعتراضات یا شبہات کا جواب دینا بھی اشتعال انگیزی یا فرقہ واریت ومنافرت کہلائے گا؟ اگر نہیں، اور یقیناً نہیں، تو قادیانیوں کے شبہات کے جوابات پر مشتمل کتاب پر پابندی کس لئے؟ کیا اسلام پر معاندین کے ناروا شبہات اور تابڑ توڑ حملوں کے باوجود بھی مسلمان اسلام کا دفاع نہ کریں؟ کیا وہ قرآن اور صاحب قرآن پر اچھالی گئی کیچڑ کو بھی صاف نہ کریں؟ اگر جواب نفی میں ہے، تو کیا یہ نہ سمجھا جائے گا کہ مسلمانوں کے مذہب اور اسلام میں کچھ صداقت ہوتی تو مسلمان اس کا جواب دیتے؟ بتلایا جائے کہ اس صورتحال میں معاندین اسلام، مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو جائیں گے؟ اگر جواب اثبات میں ہے، تو ان مرتد ہونے والوں کا وبال کس پر ہوگا؟ بتلایا جائے کہ ایسی کتابوں پر پابندی لگانے والے اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں یا بدخواہ؟
- ٧....... حق کیا ہے اور باطل کیا؟ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا؟ اگر کوئی شخص دو اور دو چار کی طرح
کے اس کلیہ کو سمجھانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب وافتراء اور نبوت کے جھوٹے دعوے کو قرآن وسنت، اجماع امت اور خود مرزا غلام احمد قادیانی کی تصریحات سے ثابت کرنا چاہے تو کیا یہ بھی اشتعال انگیزی ہے؟ کیا یہ بھی مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کے زمرے میں آئے گا؟ اگر نہیں، اور یقیناً نہیں، تو صاحبزادہ طارق محمود صاحب کی کتاب ”فیصلہ آپ کیجئے؟“ پر پابندی کا یہی معنی نہیں کہ حکومت، بیوروکریسی اور وزارت داخلہ کو مرزا غلام احمد قادیانی کی تغلیط و تکذیب سے شدید تکلیف ہوئی ہے؟ اور جو شخص مدعی نبوت غلام احمد قادیانی کو باوجود جھوٹا ہونے کے سچا سمجھے، کہے یا اس کو کذاب کہنے پر خفا ہو، کیا وہ مسلمان کہلانے کا مستحق ہوگا؟
- ٨....... جس طرح کوئی شخص اپنے یا اپنے اکابر اور بزرگوں کے دشمن یا ان کی توہین وتحقیر
کرنے والے کے ساتھ میل جول اور تعلقات کو اپنی غیرت وحمیت کے خلاف سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ تعلقات، شادی بیاہ، رشتہ ناتا، خرید وفروخت اور کاروبار کو ناپسند کرتا ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص شریعت مطہرہ کی روشنی میں مرتدین، ملحدین اور زندیقین سے قطع تعلق کا حکم دے اور مسلمانوں کو اس حکم شرعی سے آگاہ کرے تو کیا ایسا شخص قابل قدر ہے؟ یا لائق نفرت؟....... اسی طرح ایسے احکام پر مشتمل دستاویز لائق اشاعت ہے یا قابل ضبطی؟ اگر ایسا شخص قابل قدر اور اس
کی مرتبہ دستاویز لائق اشاعت ہے، اور یقینا قابل مفتی ولی حسن ٹونکی کی کتاب ”قادیانیوں سے مکمل با اس لئے کہ اس سے قادیانی سورماؤں کو تکلیف ہوتی
- ٩....... ایسے ہی ”قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ
جو چاہیں کہتے اور کرتے پھریں، مگر حکومت، بیورو مصنوعات کے بائیکاٹ کی شکل میں اپنا احتجاج ریکا ادنیٰ سے ادنیٰ حق سے بھی محروم کرنا چاہتی ہے، کیا ا سے قادیانیوں کی جلی، خفی اور معمولی سے معمولی دخ نہیں؟ جبکہ قادیانی اپنی مصنوعات کے ذریعہ جہان وہاں وہ اس کے منافع میں سے دس فیصد قادیانی ہیں۔ کیا قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ پر پابندی کا قادیانیت کی آبیاری کرنا چاہتی ہے؟ کیا ان حقائق
- الف....... اس سب سے ہٹ کر کیا ہم جناب صد
سے پوچھ سکتے ہیں کہ قادیانی کب سے مسلمانوں کا کی گئی کتب پر فرقہ وارانہ منافرت کے پیش نظر پاب قادیانیوں کو مسلمانوں کا فرقہ قرار دینا آئین پاکست سوچ رکھنے والے مسلمان کہلانے کے مستحق ہیں؟ جرم ہے۔ ٹھیک اسی طرح کسی کافر کو مسلمان سمجھنا ک بغاوت کے مترادف ہے۔ لہٰذا جو لوگ آئین پا مسلمان کہیں، وہ بھی انہیں میں سے ہیں، اور اس صرف یہی نہیں بلکہ ایسے غداروں کو پاکستان اور مسل
- ب....... یہ تو کوئی ماہر قانون ہی بتلا سکے گا کہ
اسلامی کی قرارداد، آئین پاکستان اور قومی اسمبلی کے کو مسلمانوں کا فرقہ تصور کریں اور ان کے جذبات والی ٹھیس سے تعبیر کریں۔ وہ ٢٩٥-اے یا ٢٩٥-
کی مرتبہ دستاویز لائق اشاعت ہے، اور یقیناً قابل قدر اور لائق اشاعت ہے، تو حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی کی کتاب ”قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ“ پر پابندی کیوں اور کس لئے؟ صرف اس لئے کہ اس سے قادیانی سورماؤں کو تکلیف ہوتی ہے یا ان کی ارتدادی تحریک پر زد پڑتی ہے؟
- ٩...... ایسے ہی ”قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ“ پر پابندی کا معنی یہ ہے کہ نعوذ باللہ! قادیانی
جو چاہیں کہتے اور کرتے پھریں، مگر حکومت، بیوروکریسی اور وزارت داخلہ، مسلمانوں کو قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی شکل میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے یا ان کو معاشی طور پر کمزور کرنے کے ادنیٰ سے ادنیٰ حق سے بھی محروم کرنا چاہتی ہے، کیا اس کا یہ معنی نہیں کہ حکومت کو مسلمانوں کی جانب سے قادیانیوں کی جلی، خفی اور معمولی سے معمولی درجہ کی مخالفت ومخاصمت اور ذہنی اذیت بھی گوارا نہیں؟ جبکہ قادیانی اپنی مصنوعات کے ذریعہ جہاں مسلمانوں کے سرمایہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہاں وہ اس کے منافع میں سے دس فیصد قادیانیت کی تبلیغ اور اسلام کی مخالفت پر صرف کرتے ہیں۔ کیا قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ پر پابندی کا یہ معنی نہیں کہ حکومت مسلمانوں کے سرمایہ سے قادیانیت کی آبیاری کرنا چاہتی ہے؟ کیا ان حقائق پر مشتمل کتاب بھی لائق پابندی ہے؟
- الف...... اس سب سے ہٹ کر کیا ہم جناب صدر پرویز مشرف، وزارت داخلہ اور بیوروکریسی
سے پوچھ سکتے ہیں کہ قادیانی کب سے مسلمانوں کا فرقہ قرار پائے ہیں؟ کہ ان کے خلاف مرتب کی گئی کتب پر فرقہ وارانہ منافرت کے پیش نظر پابندی کے احکامات جاری کئے جارہے ہیں؟ کیا قادیانیوں کو مسلمانوں کا فرقہ قرار دینا آئین پاکستان اور دستور اسلام سے غداری نہیں؟ کیا ایسی سوچ رکھنے والے مسلمان کہلانے کے مستحق ہیں؟ کیونکہ جس طرح مسلمانوں کو کافر کہنا اور سمجھنا جرم ہے۔ ٹھیک اسی طرح کسی کافر کو مسلمان سمجھنا بھی جرم اور قرآن وسنت اور آئین ودستور سے بغاوت کے مترادف ہے۔ لہٰذا جو لوگ آئین پاکستان کی رو سے غیر مسلم قرار پانے والوں کو مسلمان کہیں، وہ بھی انہیں میں سے ہیں، اور اسلام اور پاکستان میں ان کی کوئی گنجائش نہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایسے غداروں کو پاکستان اور مسلمانوں پر حکومت کرنے کا بھی کوئی حق نہیں۔
- ب...... یہ تو کوئی ماہر قانون ہی بتلا سکے گا کہ جو لوگ پوری امت مسلمہ کے فیصلے، رابطہ عالم
اسلامی کی قرارداد، آئین پاکستان اور قومی اسمبلی کے متفقہ فیصلہ کی رو سے غیر مسلم قرار پانے والوں کو مسلمانوں کا فرقہ تصور کریں اور ان کے جذبات کو پہنچنے والی ٹھیس کو مسلمانوں کے جذبات کو پہنچنے والی ٹھیس سے تعبیر کریں۔ وہ ٢٩٥-اے یا ٢٩٥-سی، کی زد میں آئیں گے یا نہیں؟ لیکن جہاں
٧
تک ہمارا ذاتی خیال ہے ایسے لوگوں کی قادیانیوں سے بھی پہلے سرکوبی کی ضرورت ہے۔
- ج...... کیا قادیانیوں کو مسلم فرقہ تصور کرتے ہوئے ان کے خلاف لکھی گئی کتب پر پابندی کے
احکامات کا نوٹیفکیشن جاری کرنا، سپریم کورٹ اور پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کی توہین نہیں؟ جنہوں نے اپنے متعدد فیصلوں میں یہ ریمارکس دیئے کہ قادیانی نہ صرف غیر مسلم ہیں، بلکہ یہ کوئی مذہب ہی نہیں، بلکہ یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔
- د...... کہیں قادیانیوں کے خلاف لکھی گئی کتب پر پابندی اور ان کی اشاعت و تقسیم پر
گرفتاری اور گرفتار شدگان کے خلاف دہشت گردی کے کیس بنانے کے پس پردہ امتناع قادیانیت آرڈی نینس کی منسوخی کا منصوبہ تو کارفرما نہیں؟ اس لئے کہ جب ایسے افراد گرفتار ہوں گے اور ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم ہوں گے، تو امتناع قادیانیت آرڈی نینس انہیں تحفظ فراہم کرے گا۔ اس لئے لازماً یا تو اسے منسوخ کرنا ہوگا یا اس کے خلاف اسٹے آرڈر لیا جائے گا۔ جس کی بدولت امتناع قادیانیت آرڈی نینس یا تو عملی طور پر کالعدم ہو جائے گا یا کم از کم غیر موثر ہو کر رہ جائے گا۔
اس لئے ہم نہایت دل سوزی سے ارباب اقتدار، جناب صدر، وزارت داخلہ اور بیوروکریسی سے عرض کرنا چاہیں گے کہ وہ اس سازش کا ادراک کریں اور اس کا سدباب کرتے ہوئے اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس لے۔ اسی طرح ہم مسلم عوام اور نبی امی ﷺ کے ساتھ عقیدت ومحبت رکھنے والے مسلمان وکلاء سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ قادیانیوں کے خلاف لکھی گئی ان کتب کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کریں اور اسے کالعدم اور غیر موثر قرار دلانے میں اپنی بھر پور صلاحیتیں صرف کر کے آقائے دو عالم ﷺ کی شفاعت کے مستحق بنیں۔
انشاء اللہ ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ میں لکھی گئی کتب کے خلاف پابندی کے نوٹیفکیشن کو دین و شریعت، قرآن وسنت، آئین پاکستان اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی رو سے چیلنج کرے گی، اور وہ اس سلسلہ میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
خدا کرے ارباب اقتدار و اختیار کو یہ بات سمجھ میں آجائے، ورنہ حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری ان پر ہوگی۔
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ واصحابہ اجمعین!
٨
خاتم النبیین
ﷺ
سفر آخرت کی منزل کی طرف
مضا
پروفیسر منور ا
جناب پروفیسر منور احم
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مضامین
پروفیسر منور احمد ملک
جناب پروفیسر منور احمد ملک صاحب
فہرست
- (١) قادیانی جماعت کی تعداد اور پچاس لاکھ بیعتیں ٤
- (٢) جماعت احمدیہ کے ”بزرگانہ“ جھوٹ ١٨
- (٣) قادیانیوں کے لیے، جسے مسلمان بھی پڑھ سکتے ہیں ٢٣
- (٤) قادیانی حضرات کا محمدﷺ سے کیا تعلق ہے؟ ٣٠
- (٥) قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو ناکام ثابت کر دیا ٣٤
- (٦) قادیانی معجزات؟ ٤٥
- (٧) قادیانی جماعت کی طرف سے ”معجزہ“ بنانے کی تیاریاں ٥٥
- (٨) تعداد کے حوالے سے قادیانیوں کی مبالغہ آرائی ٥٧
- (٩) مرزا طاہر احمد کا ”الہام“ ٦٠
- (١٠) انسانی حقوق اور قادیانی جماعت ٦١
- (١١) قادیانیوں کا ”خدا“ سائیکل پر ٦٩
- (١٢) جہلم کی زمین زرخیز ہے ٧٣
- (١٣) قادیانی آبادی میں ”مسلمان اقلیت“ ٧٤
- (١٤) قادیانیوں کی ڈھٹائی ٧٧
- (١٥) مرزا طاہر احمد کا ”سنجیدہ مذاق“ ٨٨
٢
٣
- (١٦) قادیانی جماعت ایک سابق قادیانی کی نظر میں
- (١٧) چندوں کی شرح اور بیعتوں کی تعداد میں تضاد
- (١٨) قادیانیوں کی تبلیغ مسلمانوں میں
- (١٩) قادیانیوں پر چندوں کا بوجھ
- (٢٠) فاتحہ خوانی اور قادیانی جماعت
- (٢١) قادیانی جماعت کی ”غلام احمد“ نام سے نفرت
- (٢٢) مرزا غلام احمد قادیانی اور ”اسلام کی نشاۃ ثانیہ“
- (٢٣) مرزا قادیانی کا برپا کیا ہوا ”انقلاب“
- (٢٤) اسلام کے احیاء کی پیش گوئی
- (٢٥) متعصب قادیانی ہیں یا مسلمان؟
- (٢٦) دس مخلص قادیانی متوجہ ہوں
- (٢٧) احمدی یا ”غلام احمدی“
- (٢٨) مسلمان کی تعریف اور قادیانی جماعت
- (٢٩) ایک ”مخلص قادیانی“ کے ساتھ نرم گفتگو
- (٣٠) قادیانیوں کی طرف سے مسلمانوں کو دعوتِ مباہلہ
- (٣١) اخراج از جماعت احمدیہ
- (٣٢) ”اک حرفِ مخلصانہ“
- (١٦) قادیانی جماعت ایک سابق قادیانی کی نظر میں ٩١
- (١٧) چندوں کی شرح اور بیعتوں کی تعداد میں تضاد ٩٧
- (١٨) قادیانیوں کی تبلیغ مسلمانوں میں ١٠٠
- (١٩) قادیانیوں پر چندوں کا بوجھ ١٠٣
- (٢٠) فاتحہ خوانی اور قادیانی جماعت ١٠٦
- (٢١) قادیانی جماعت کی ”غلام احمد“ نام سے بیزاری ١٠٨
- (٢٢) مرزا غلام احمد قادیانی اور ”اسلام کی خدمت“! ١١٠
- (٢٣) مرزا قادیانی کا برپا کیا ہوا ”انقلاب“ کہاں ہے؟ ١١٥
- (٢٤) اسلام کے احیاء کی پیش گوئی ١١٩
- (٢٥) متعصب قادیانی ہیں یا مسلمان؟ ١٢٣
- (٢٦) دس مخلص قادیانی متوجہ ہوں ١٢٥
- (٢٧) احمدی یا ”غلام احمدی“ ١٢٦
- (٢٨) مسلمان کی تعریف اور قادیانی جماعت ١٢٨
- (٢٩) ایک ”مخلص قادیانی“ کے ساتھ زیادتی ١٣٠
- (٣٠) قادیانیوں کی طرف سے مسلمانوں کا بائیکاٹ ١٣٢
- (٣١) اخراج از جماعت احمدیہ ١٣٣
- (٣٢) ”اک حرف مخلصانہ“ ١٣٧
٣
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
(١) ...... قادیانی جماعت کی تعداد اور پچاس لاکھ بیعتیں
حقائق کیا ہیں .......... واقعاتی تجزیہ !
قادیانی جماعت کی تعداد کے بارے میں اکثر علماء کرام ایسے اعداد و شمار پیش کرتے ہیں ۔ جسے قادیانی فوراً رد کر دیتے ہیں ۔ علماء کرام کے بیان کے مطابق پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے۔ علماء اس تعداد کو بیان کر کے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی ١٣ کروڑ آبادی میں قادیانیوں کی جو نسبت بنتی ہے۔ اس کے مطابق ان کو شہری حقوق دیئے جائیں ۔ مثلاً ملازمتوں میں ان کو ان کی تعداد کے مطابق سیٹیں دی جائیں ۔ علماء کی بیان کردہ تعداد کے مطابق ١٣ کروڑ یا ١٣٠٠ لاکھ کے مقابل پر ایک لاکھ تعداد بنتی ہے۔ جس کی نسبت ١٣٠٠ پر ایک ہے۔ ایک کا مطلب یہ ہوا کہ اگر تیرہ سو سیٹیں ہوں تو ایک سیٹ قادیانیوں کو ملے گی ۔ علماء اس بات پر شاکی ہیں کہ قادیانیوں کو ان کے حق سے بہت زیادہ دیا جاتا ہے۔ اس نسبت کو سامنے رکھتے ہوئے قومی اسمبلی کی سیٹوں کی تعداد میں سے (جو کہ ٢٦٠ ہے ) قادیانیوں کے لیے ایک سیٹ کا چوتھائی حصہ بھی نہیں بنتا۔ جب کہ قادیانیوں کو ایک سیٹ ملی ہوئی ہے۔ اسی طرح تمام صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی کل تعداد ٤٦٠ بنتی ہے۔ جس میں سے قادیانیوں کی آدھی سیٹ بھی نہیں بنتی جبکہ قادیانیوں کو ٤ سیٹیں ملی ہوئی ہیں۔
دوسری طرف قادیانی جماعت اپنی تعداد پاکستان میں ٤٥ لاکھ بتاتی ہے۔ یہ وہ تعداد ہے جو آج سے ٢٥ سال پہلے بتائی جاتی تھی ۔ (جب ١٩٧٤ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا ۔ ) قادیانی جماعت نے آج تک باضابطہ اپنی تعداد کا اعلان نہیں کیا۔ مذکورہ بالا تعداد جماعت کے مربی (مولوی) امیر جماعت و دیگر سرکردہ افراد ’بے ضابطہ‘ طور پر جماعت کے افراد کے حوصلے قائم رکھنے کے لیے بتاتے ہیں ۔ جماعت کے افراد کے نزدیک مربی ، امیر جماعت یا قادیانی جماعت جھوٹ نہیں بول سکتے۔ ان کے ایمان کے مطابق دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے یہ جھوٹ نہیں بول سکتے۔ لہٰذا وہ اس تعداد پر یقین رکھتے ہیں ۔ خاکسار نے اس جماعت میں ٤٠ سال گزارے ہیں ۔ اپنا بچپن اور جوانی کا سنہری دور اس جماعت میں گزارا ہے۔ اپنی تمام توانائیاں اس جماعت کی بہتری کے لیے وقف کیے رکھیں ۔ اور ایک جنونی قادیانی کے طور پر ہر کام
٤
میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایم ایس سی کے دوران قادیانی طلباء کا قائد (زعیم) رہا۔ چکوال میں سروس کے دوران نگران کے طور پر رہا۔ اور جہلم میں نائب امیر قادیانی جماعت ضلع جہلم کے عہدے پر بھی رہا۔ مگر جب قادیانی جماعت میں جھوٹ کی فراوانی، اسلامی اقدار کا فقدان، انصاف و عدل سے خالی، ظلم و بربریت کا دور دورا دیکھا۔ تو ١٥ جنوری ١٩٩٩ء بمطابق ٢٦ رمضان المبارک ١٤١٩ھ جمعتہ الوداع کے دن اپنے خاندان کے ١٢ افراد کے ساتھ قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔ (اب یہ تعداد ١٩ ہو چکی ہے)
اس لئے خاکسار کی بیان کردہ باتیں اور اعداد و شمار، ذاتی مشاہدے اور جماعتی عہدوں پر فائز رہنے کی وجہ سے ذاتی علم کی بنیاد پر ہیں۔ قادیانی جماعت کے ذمہ دار افراد جو تعداد اپنی بتاتے ہیں وہ ابھی تک ٤٥ لاکھ کے قریب ہے۔ گویا ٢٥ سال پہلے جو تعداد تھی اب بھی وہی ہے۔ البتہ چند غیر ذمہ دار ٥٠ سے ٦٠ لاکھ کے قریب بتا دیتے ہیں۔ اگر ہم اس تعداد کو ٥٠ لاکھ فرض کر لیں تو اس پر ایک جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ٥٠ لاکھ کی تعداد کے حساب سے پاکستان میں ان کی تعداد کے حوالے سے نسبت ١:٢٦ کی بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر ٢٦ افراد پر ایک قادیانی ہوگا۔ یہ نسبت پاکستان کے کسی بھی ضلع میں موجود نہیں۔ ١:٢٦ کی نسبت تقریباً ٤ فیصد بنتی ہے۔
تعلیمی میدان
ایک عام تاثر یہ ہے کہ قادیانی لوگ تعلیمی میدان میں بہت آگے ہیں۔ یہ درست ہے کہ جماعت بچوں کی تعلیم کے بارے میں بہت زور دیتی ہے۔ ایک عرصہ تک بورڈ، یونیورسٹی سے پوزیشن لینے والوں کو انعام دیئے جاتے رہے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ قادیانی بچوں کی کم از کم ٨٠ فیصد تعداد تعلیم حاصل کرتی ہے۔ جبکہ چناب نگر (ربوہ) کی خواندگی کی شرح ٩٥ فیصد بتائی جاتی ہے۔ اس بنیاد پر اگر ہم جائزہ لیں تو چناب نگر (ربوہ) کے تعلیمی اداروں کے علاوہ پاکستان میں کسی بھی تعلیمی ادارے میں ٤ فیصد قادیانی طلباء نہیں ہیں۔ حالانکہ پاکستان کی خواندگی کی شرح ٤٠ فیصد کے قریب ہے۔ اس طرح تو ہر تعلیمی ادارے میں قادیانیوں کی تعداد ٨ فیصد سے بھی زیادہ ہونی چاہیے۔
پنجاب یونیورسٹی کی ١٠ ہزار کی تعداد میں چار فیصد کے حساب سے ٤٠٠ قادیانی طلباء ہونے چاہیے تھے۔ مگر وہاں پر تعداد ٤٥ تھی۔ جس میں سے ١٠ مقامی اور ٣٥ پورے پاکستان میں سے تھے۔ (یہ جائزہ ١٩٨٢ء کا ہے) چکوال کالج کی ١٥٠٠ تعداد میں سے ٦٠ طلباء قادیانی ہونے چاہیے تھے مگر ١٩٨٦ء میں ایک بھی نہیں تھا۔ جبکہ ١٩٨٨ء میں زیادہ سے زیادہ تین تھے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج ٹاہلیاں والا جہلم میں ایک ہزار کی تعداد میں ٤٠ قادیانی طلباء ہونے چاہیے تھے۔ مگر
٥
١٩٨٩ء تا ١٩٩٥ء ٢۔ سے تعداد نہیں بڑھی۔ گورنمنٹ کالج گوجر خاں میں ١٩٩٥ تا ١٩٩٩ء ایک ہزار کی تعداد پر ٤٠ قادیانی طلباء ہونے چاہیے تھے۔ جبکہ زیادہ سے زیادہ تعداد ٢ رہی ہے۔ اب وہ بھی نہیں ہے۔ (یہ سب ذاتی مشاہدے کے مطابق ہے)
پورے پاکستان کے ایم ایس سی فزکس اور پی ایچ ڈی فزکس کے افراد پر مشتمل ایک PIP (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فزکس) سوسائٹی بنی ہوئی ہے۔ جس کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔ اس میں قادیانیوں کی تعداد کم از کم ٤٠ ہونی چاہیے تھی۔ مگر اس میں کل تعداد ٤ تھی۔ جس میں سے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب فوت ہو چکے ہیں۔ اور خاکسار جماعت چھوڑ چکا ہے۔ اب یہ تعداد ٢ رہ گئی ہے۔
پنجاب لیکچررز اینڈ پروفیسرز ایسوسی ایشن کے ممبران کی کل تعداد ١٤ ہزار سے زائد ہے۔ اس میں ٥٦٠ قادیانی پروفیسر ہونے چاہیے تھے۔ جبکہ ان کی تعداد ٢٥ سے بھی کم ہے۔
قادیانی جماعت جو کہ تعلیمی میدان میں بہت آگے ہے۔ اس میدان میں یہ حالت ہے کہ کسی بھی لیول پر اس کی آبادی والی نسبت موجود نہیں۔ اس جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تعلیمی میدان میں بھی ان کی شمولیت ٠.٥ فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کی بنیاد پر اگر تعداد کا اندازہ لگایا جائے تو چھ لاکھ سے کم بنتی ہے۔
مالی میدان
قادیانی جماعت میں چندوں کی بھرمار ہے۔ ایک قادیانی پر اس کی ماہوار آمد کا چھ فیصد چندہ عام لاگو ہے۔ اس کی ادائیگی لازمی ہے۔ عدم ادائیگی پر وہ چندہ اس آدمی کے کھاتے میں بطور بقایا نام ہو جاتا ہے۔ اگر ایک قادیانی چندہ دینے سے انکار کر دے تو وہ قادیانی نہیں رہ سکتا۔ حالانکہ چندہ ایک اختیاری مد ہے۔ جس کی شرح مخصوص نہیں ہوتی۔ آدمی حسب توفیق ادا کر سکتا ہے۔ جبکہ ٹیکس کی شرح مخصوص ہوتی ہے اور اس کی ادائیگی لازمی ہوتی ہے۔ عدم ادائیگی پر بقایا نام رہ جائے گا ختم نہیں ہوگا۔
چندہ عام کے ساتھ چندہ جلسہ سالانہ، چندہ تحریک جدید، چندہ وقف جدید، چندہ صد سالہ جوبلی (یہ اب ختم ہو چکا ہے۔) چندہ خدام الاحمدیہ (چندہ مجلس) یہ نوجوانوں پر لاگو ہے۔ چندہ تعمیر ہال (یہ ہال ١٩٧٣ء کے قریب تعمیر ہوا تھا مگر چندے کی وصولی ابھی جاری ہے) چندہ بوسنیا، افریقہ، چندہ ڈش انٹینا (احمدی ٹی وی نیٹ ورک کا) چندہ لجنہ اماء اللہ (یہ خواتین پر لاگو ہے) چندہ اطفال (یہ بچوں پر لاگو ہے) چندہ انصار (یہ ٤٠ سال سے زائد عمر کے لوگوں پر لاگو ہے)
٦
وغیرہ۔ خلاصہ کلام یہ کہ ایک قادیانی کو اپنی آمد کا کم از کم ١٠ فیصد ماہوار چندہ دینا پڑتا ہے۔ چندوں کی وصولی کا رضا کارانہ نظام موجود ہے۔ جس میں وصولی کرنے والے کا کوئی کمیشن نہیں۔ جماعت کا یہ مالی نظام شاید ہی کہیں اور ہو۔ سال میں دو تین بار مختلف چندوں کے مختلف انسپکٹرز مرکز سے آ کر حساب وغیرہ چیک کرتے ہیں۔ اور کل وصول شدہ رقم مرکز (چناب نگر) میں پہنچانا یقینی بناتے ہیں۔ اس مالی نظام کی بناء پر قادیانی جماعت پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ بڑی منظم جماعت ہے۔ حالانکہ اس کا کوئی نظام نہیں۔ قواعد وضوابط، اصول وغیرہ نہیں ہیں۔ صرف چندہ اکٹھا کرنے کا نظام ہے۔ اگر اس منظم طریقہ سے چندہ وصول نہ ہوتا تو آج مرزا قادیانی کے خاندان کے ہر شہزادے کے نام کئی کئی مربے نہ ہوتے۔ اور نہ ہی عیش وعشرت کی زندگی گزار رہے ہوتے۔ یہ سب اسی مالی نظام کی ”برکات“ ہیں۔
خیر اس پر بعد میں کسی اور موقعہ پر بات کی جائے گی۔ جب قادیانی جذبات میں آ کر ان ”برکات“ سے انکار کریں گے۔
چندہ تحریک جدید میں ہر مرد اور عورت، جوان، بوڑھا اور بچہ شامل کیا جاتا ہے۔ جماعت اس بات پر پورا زور لگاتی ہے کہ ہر ذی روح تحریک جدید میں شامل ہو۔ بلکہ کچھ بے روح بھی اس میں شامل ہیں۔ یعنی فوت شدہ افراد کے نام کا چندہ ان کے لواحقین سے لیا جاتا ہے۔ اب اگر کسی بستی سے تحریک جدید میں شامل ٢٠٠ افراد ہوں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہاں کی آبادی زیادہ سے زیادہ ٢٠٠ افراد پر مشتمل ہے۔ حالانکہ اس میں فوت شدہ افراد بھی شامل ہیں۔
اب اس دلیل کے بعد یہ بتانا چاہوں گا کہ پورے پاکستان میں تحریک جدید کے کل ممبران ایک لاکھ سے کم ہیں۔ ممکن ہے اب دو چار ہزار زائد ہو چکے ہوں۔ اور جماعت فوراً اپنی جماعت میں یہ اعلان کر دے گی کہ ایک لاکھ والی بات بالکل غلط ہے۔ اور جماعت کے افراد یہ سمجھنے لگیں کہ شاید ١٥۔٢٠ لاکھ ممبران ہوں گے۔ حالانکہ ایک لاکھ سے دو چار ہزار زیادہ تو ہو سکتے ہیں مگر ٢ لاکھ سے کسی بھی طرح زیادہ نہیں ہو سکتے۔ تحریک جدید کے انسپکٹرز حضرات کی زبانی یہ معلوم ہوا تھا کہ ایک لاکھ کی تعداد پوری کرنی ہے۔ اب اگر علماء کی بیان کردہ تعداد کو لیا جائے تو وہ تحریک جدید کے ممبران کی تعداد کے ساتھ ملتی ہے۔ جبکہ قادیانیوں کی بیان کردہ تعداد ٥٠ لاکھ کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوتی۔ یہ تعداد صرف اپنی جماعت کے افراد کے مورال کو قائم رکھنے کے لیے بتائی جاتی ہے۔
اب ١٩٩٨ء میں مردم شماری ہو چکی ہے۔ اس میں قادیانیوں کو ہدایت ملی تھی کہ جو افراد بیرون ملک گئے ہوئے ہیں اور وہاں عرصہ سے مقیم ہیں۔ وہاں شہریت حاصل کر کے وہاں کی
٧
جماعتوں میں شامل ہیں۔ ان کے بھی نام پاکستان میں شامل کیے جائیں۔ اس طرح ہزاروں افراد جو بیرون ملک سیٹل ہیں ان کی تعداد بھی یہاں شامل ہے۔ اس کے باوجود ان کی کل تعداد ٢ سے ٣ لاکھ کے درمیان ہوگی۔ مردم شماری کے تفصیلی نتائج سامنے آنے کے بعد حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ اس کے لیے چند ماہ کے انتظار کی ضرورت ہے۔ یہ واضح رہے کہ جماعت بغیر کسی وجہ کے ان نتائج کو تسلیم نہیں کرے گی۔
راولپنڈی ڈویژن میں قادیانیوں کی تعداد
اگر ضلع جہلم کی جماعت کا جائزہ لیں تو اس وقت ضلع جہلم میں ١١/١٢ جگہ جماعت موجود ہے۔ سب سے بڑی جماعت محمود آباد جہلم ہے۔ محمود آباد میں ١٩٢٠ء کے قریب ٨٠ فیصد آبادی قادیانیوں کی تھی۔ ١٩٢٣ء میں ایک قادیانی کے مسلمان بھتیجے کا جنازہ قادیانیوں نے پڑھنے سے انکار کر دیا۔ جس پر ایک بہت بڑا خاندان جماعت چھوڑ گیا۔ پھر آہستہ آہستہ کوئی نہ کوئی خاندان جماعت چھوڑتا چلا گیا۔ اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ١٩٧٤ء سے قبل یہ تعداد ٥٠ فیصد رہ چکی تھی۔ ١٩٧٤ء کے بعد ٣٥ فیصد کے قریب رہ گئی۔ اب ٣٠ فیصد سے بھی کم آبادی قادیانیوں کی ہے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں ایک بھی نیا خاندان قادیانی نہیں ہوا۔ بلکہ تسلسل سے جماعت چھوڑی جا رہی ہے۔ باوجود اس کے کہ قادیانی ، مسلمانوں میں رشتہ نہیں دیتے۔ پھر بھی گزشتہ ٢٥ سالوں میں ٣٠ کے قریب قادیانی خواتین کے رشتے مسلمانوں سے ہوئے بعد میں وہ خود اور ان سے ہونے والی اولاد قادیانی نہیں ہیں۔ پس جو چند ایک مسلمان عورتوں سے قادیانی مردوں نے شادیاں کیں وہ خاندان آہستہ آہستہ جماعت چھوڑ گیا۔ جماعت میں ایک ایسا سیٹ اپ بن چکا ہے جو ظالم ترین آمریت کا نظام ہے۔ انشاء اللہ اب یہ خود ہی ختم ہو جائے گی۔ علماء کو اپنی توانائی اس طرف ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ جہلم شہر میں ایک بہت بڑی جماعت ہوا کرتی تھی۔ جس میں سب سے بڑا خاندان سیٹھی برادری کا تھا۔ جو آہستہ آہستہ جماعت چھوڑتا چلا گیا۔ ١٩٧٤ء میں خاصی تعداد جماعت سے علیحدہ ہوگئی۔ اب زیادہ سے زیادہ ٣٥ گھروں پر مشتمل ایک جماعت ہے۔ جس کی تعداد آہستہ آہستہ کم ہورہی ہے۔ تیسرے نمبر پر پاکستان چپ بورڈ فیکٹری ہے جو مرزا طاہر احمد قادیانی کے بھائی مرزا منیر احمد کی ہے۔ یہ مرزا قادیانی کے خاندان کے شہزادوں کا بڑا مسکن ہے۔ مرزا منیر احمد کا بیٹا نصیر احمد طارق ضلع جہلم کا امیر جماعت ہے۔ انشاء اللہ اس کی آمرانہ پالیسیوں کی وجہ سے جماعت علماء کرام کی کوششوں کے بغیر ہی انجام کو پہنچ جائے گی۔ اس فیکٹری میں ١٥/١٦ قادیانی نوجوان ملازم ہیں۔ باقی سب مسلمان ہیں۔ ضلع جہلم کی جماعت کو
٨
کنٹرول کرنے والا متحرک گروہ یہاں پر م جماعت ہوا کرتی تھی۔ اب وہ بھی چوا گے۔ چک جمال میں بھی ایک جماعت ہ ٢/٣ قادیانی ملازم کالا ڈپو میں موجود ہیں۔ ان پر مشتمل ایک جماعت ہے کل علاوہ چند ملازم پیشہ افراد پر مشتمل ایک روہتاس میں ایک گھرانے پر مشتمل جماع کہ اب ختم ہو چکی ہے۔ جادہ میں ایک عبادت گاہ اب مسلمانوں کے پاس ہے قریب میں ختم ہو جائے گی۔ کوٹ بصیر ڈنڈوت میں ٣/٤ گھروں پر مشتمل ایک ہیں۔ شاید اب وہ بھی نہ ہوں۔ کیونکہ دو تین گھر ہیں وہ بھی ملازم پیشہ جو دوسر موجود ہے جو ١٠/١٥ گھروں پر مشتمل ہوگ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پورے تحصیل سوہاوہ بالکل خالی، کہیں ایک جہ گے کہ چلو زیادہ ہی بتائی ہے کچھ پردہ ر ہوگی۔ اس میں ایک ہزار کی نسبت ٠٠٠ ١٩٠٣ء میں مرزا غلام احمد چکوال کے ساتھ ایک مقدمہ کے سلسلہ طعام کا سارا انتظام جہلم کی جماعت تقریباً سارا قادیانی تھا۔ زیادہ تر اخرا دنوں میں جہلم میں ١١٣٠٠ افراد قادیانی موجود تھی۔ اور پھر ١٣٠٠ نئے قادیانی صرف وہی خاندان قادیانیت پر قائم
کنٹرول کرنے والا محرک گروہ یہاں پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ کالا گجراں میں ایک بڑی جماعت ہوا کرتی تھی۔ اب وہ بھی چند افراد پر مشتمل ہے۔ کل ٨/١٠ گھر قادیانیوں کے ہوں گے۔ چک جمال میں بھی ایک جماعت ہوا کرتی تھی۔ اب وہاں جماعت ختم ہو چکی ہے۔ البتہ ٢/٣ قادیانی ملازم کالا ڈپو میں موجود ہیں۔ منگلا میں چند ملازم پیشہ جو دوسرے شہروں سے آئے ہوئے ہیں پر مشتمل ایک جماعت ہے کل ٨/٩ گھر ہوں گے۔ دینہ میں مقامی ایک خاندان کے علاوہ چند ملازم پیشہ افراد پر مشتمل ایک چھوٹی سی جماعت ہے جو ٤/٥ گھروں پر مشتمل ہوگی۔ روہتاس میں ایک گھرانے پر مشتمل جماعت ہے۔ کوٹلہ فقیر میں ایک بہت بڑی جماعت تھی۔ جو کہ اب ختم ہو چکی ہے۔ جادہ میں ایک جماعت تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔ اور قادیانیوں کی عبادت گاہ اب مسلمانوں کے پاس ہے۔ مستیال میں دو گھروں پر مشتمل ایک جماعت جو مستقبل قریب میں ختم ہو جائے گی۔ کوٹ بصیرہ میں قادیانی ختم ہو چکے ہیں۔ تحصیل پنڈ دادن خاں میں ڈنڈوت میں ٣/٤ گھروں پر مشتمل ایک جماعت ہے یہ سارے افراد سیمنٹ فیکٹری میں ملازم ہیں۔ شاید اب وہ بھی نہ ہوں۔ کیونکہ سیمنٹ فیکٹری کے بند ہونے کی خبر سنی گئی ہے۔ کھیوڑہ میں دو تین گھر ہیں وہ بھی ملازم پیشہ جو دوسرے شہروں سے آئے ہیں۔ پنڈ دادن خان میں جماعت موجود ہے جو ١٠/١٥ گھروں پر مشتمل ہوگی۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ پورے ضلع میں قادیانیوں کی کل تعداد ایک ہزار سے بھی کم ہے۔ تحصیل سوہاوہ بالکل خالی، کہیں ایک جماعت بھی نہیں۔ ایک ہزار تعداد کا سن کر قادیانی خوش ہوں گے کہ چلو زیادہ ہی بتائی ہے کچھ پردہ رہ گیا ہے۔ ضلع جہلم کی کل آبادی ١٥ سے ٢٠ لاکھ کے قریب ہوگی۔ اس میں ایک ہزار کی نسبت ١:٢٠٠٠ بنتی ہے۔
١٩٠٣ء میں مرزا غلام احمد قادیانی جہلم کچہری میں مولوی کرم دین صاحب آف بھیں چکوال کے ساتھ ایک مقدمہ کے سلسلہ میں جہلم آئے۔ جہاں دو تین دن ٹھہرے۔ ان کے قیام و طعام کا سارا انتظام جہلم کی جماعت نے کیا۔ اس وقت جہلم میں کافی جماعت تھی۔ محمود آباد بھی تقریباً سارا قادیانی تھا۔ زیادہ تر اخراجات راجہ پیندر خاں آف دارا پور جہلم نے ادا کیے۔ تین دنوں میں جہلم میں ١٣٠٠ افراد قادیانی ہوئے۔ ذرا غور فرمائیے کہ ١٩٠٣ء سے قبل خاصی جماعت موجود تھی۔ اور پھر ١٣٠٠ نئے قادیانی بھی ہوئے۔ آج جبکہ اسی بات کو ٩٦ سال ہو چکے ہیں۔ اگر صرف وہی خاندان قادیانیت پر قائم رہتے تو چوتھی نسل کے بعد اب ان کی آبادی ایک لاکھ سے
٩
زیادہ ہوتی۔ اب جبکہ پورے ضلع کی آبادی ایک ہزار سے کم ہے تو جماعت کی ”ترقی“ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ گویا ٩٩ فیصد قادیانی جماعت چھوڑ گئے ہیں۔
ضلع چکوال میں شہر کے اندر ٦/٥ گھر قادیانیوں کے ہیں۔ جبکہ ایک درجن سے زائد گھر اب قادیانیت چھوڑ چکے ہیں۔ موضع بھون میں ١٠/٨ گھر ہیں۔ کلرکہار میں ٦/٥ گھر۔ دھرکنہ میں ٢ گھر اور بوچھال کلاں میں ٤ گھر قادیانیوں کے ہیں۔ پچند میں ١٠/٨ گھر قادیانیوں کے ہیں۔ رتھو چھا میں بھی ٦/٧ گھر قادیانیوں کے موجود ہیں۔ سب سے بڑی جماعت دوالمیال کی ہے۔ جہاں پہلے نصف سے زائد گاؤں قادیانی تھا۔ اب ٣٠/٢٥ گھر قادیانیوں کے رہ گئے ہیں۔ یہ وہی گاؤں ہے جہاں ایک قادیانی خاتون کے تین بیٹے جنرل تھے۔ اب یہ جماعت بھی آخری سانسوں میں ہے۔ پورے ضلع چکوال میں قادیانیوں کی کل تعداد ٦٠٠ کے قریب ہوگی۔ جبکہ ضلع چکوال کی کل آبادی ١٣/١٢ لاکھ ہوگی۔ قادیانیوں کی کیا نسبت بنتی ہے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جن جماعتوں کا ذکر کر رہا ہوں ہر جماعت سے بہت سے لوگ جماعت چھوڑ چکے ہیں۔ علاقے کے لوگ یہ جانتے ہیں کہ لوگ مسلمان ہوتے ہیں۔ قادیانی کبھی نہیں کوئی ہوتا۔ یہ بات قادیانیوں کو بھی بہت پریشان کرتی ہے۔ ان کی نوجوان نسل کو مایوس کرنے والی سب سے بڑی یہ بات ہے۔
ضلع راولپنڈی
اس ضلع میں کل کتنی تعداد ہو گی اس کا اندازہ تو مشکل ہے۔ البتہ اس انداز سے جائزہ لیا جاسکتا ہے کہ راولپنڈی شہر میں نماز جمعہ ادا کرنے والی دو جگہیں ہیں۔ ایک مری روڈ پر تین منزلہ عمارت ٹیلی محلہ سٹاپ کے قریب ہے۔ دوسری عید گاہ کے نام سے سٹیلائٹ ٹاؤن E بلاک کے پاس تھی۔ مگر جب انہوں نے وہاں عید گاہ کے نام سے تعمیر شروع کی تو مسلمانوں نے احتجاج کر کے اسے بند کروا دیا۔ اب انہوں نے اسے فروخت کر دیا ہے۔ اور 69/E میں پیر انوار الدین احمد (متوفی) کے مکان کو خرید کر اس مکان کے پچھلے حصہ میں ڈبل سٹوری عبادت گاہ بنالی ہے۔ ان دونوں جگہوں پر زیادہ سے زیادہ دو ہزار افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔ قادیانیوں میں نماز جمعہ کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے تمام جمعہ کے لیے جاتے ہیں۔ تقریباً ٩٠ فیصد آبادی جمعہ پر پہنچ جاتی ہے۔ اب اگر دونوں عبادت گاہوں میں ٢ ہزار افراد آسکتے ہیں تو راولپنڈی شہر میں قادیانیوں کی تعداد کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ دو ہزار کی تعداد تو صرف احتیاطاً لکھ رہا ہوں۔ ورنہ عید گاہ میں تو ١٥٠٠ یا ١٢٠٠ افراد آتے تھے۔ مری روڈ پر ٦٠٠/٥٠٠ کے قریب آتے تھے۔
١٠
(یہ اپنے مشاہدے کی بات کر رہا ہوں کیونکہ راقم ١٩٨٤ء سے ١٩٨٩ء تک اکثر یہاں جمعہ پڑھتا رہا ہے۔ بلکہ ١٩٩٥ء تک اکثر و بیشتر جمعہ کے لیے ان دو عبادت گاہوں میں جاتا رہا ہے۔) علاقائی جماعتیں بھی برائے نام ہیں۔ تحصیل گوجر خان میں گوجر خان شہر میں ١٠/١١ گھروں پر مشتمل ایک جماعت ہے۔ گوجر خان سے ١٠/٨ کلومیٹر دور ایک بہت پرانی جماعت چنگا بنگیال میں ہے جو اب آخری سانسوں میں ہے۔ چند گھر باقی رہ گئے ہیں۔ تحصیل گوجر خان میں کل تعداد ٢٥٠ کے قریب ہوگی۔ پورے ضلع راولپنڈی کی تعداد ٣ سے ٤ ہزار تک ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد
اسلام آباد میں ایک عبادت گاہ ہے جو سنگل سٹوری ہے۔ اس میں زیادہ سے زیادہ ٧٠٠ افراد جمعہ کو آتے ہیں۔ اسی طرح اسلام آباد میں قادیانیوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز نہیں کرتی۔ جبکہ دو چھوٹی چھوٹی جماعتیں دیہاتوں میں ہیں۔ اسی طرح راولپنڈی اسلام آباد کے اضلاع میں کل تعداد ٥ سے ٦ ہزار تک ہو سکتی ہے۔ یقیناً قادیانی اسے پڑھ کر خوش ہوں گے کہ چلو ہماری اصل تعداد سے زیادہ ہی ظاہر کیا ہے۔ کچھ پردہ رہ گیا ہے۔ پورا صوبہ سرحد قادیانیوں سے گویا خالی ہے۔ پورے صوبہ میں ایک ہزار کے قریب قادیانی ہوں گے۔ قادیانی اس تعداد پر بھی خوش ہوں گے۔ صرف چناب نگر (ربوہ) ایسا شہر ہے جہاں صرف قادیانی آباد ہیں۔ وہ تعداد ٣٠/٣٥ ہزار افراد پر مشتمل ہوگی۔ ضلع بہاولپور، ضلع رحیم یار خان، بہاولنگر، یعنی پوری ریاست بہاولپور میں کل تعداد ١٥٠٠ سے کم ہے۔ یہ اعداد و شمار راقم کے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر ہیں۔ مذکورہ بالا سات ضلعوں میں کل تعداد ٨ ہزار بنتی ہے۔ ٤٥ لاکھ کہاں آباد ہیں؟
پچاس لاکھ بیعتیں
١٩٩٣ء سے جماعت نے ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ جسے عالمگیر بیعت کا نام دیا گیا ہے۔ ١٩٩٣ء فروری یا مارچ میں پوری جماعت کو یہ ٹارگٹ دیا گیا کہ جولائی ١٩٩٣ء تک ٢ لاکھ نئی بیعتیں کروائی جائیں۔ اس کا اعلان جلسہ سالانہ لندن میں جولائی کے مہینہ میں کیا جائے گا۔ اور اس دن عالمگیر بیعت ہوگی۔ ٢ لاکھ کے ٹارگٹ کو پوری دنیا میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس میں سے جہلم کے حصہ میں ٥٠ کی تعداد آئی۔ یہ کیونکہ نئی تحریک تھی پوری جماعت حرکت میں آگئی۔ ٥٠ کے مقابل پر ٧٢ افراد کی بیعت کروائی گئی۔ یہ تقریباً سبھی وہ افراد تھے جو یا تو پہلے قادیانی تھے اور بعد میں جماعت چھوڑ گئے یا پھر ان کے والد یا والدہ قادیانی تھیں۔ مگر اب وہ اور ان کے بچے جماعت میں
١١
شامل نہیں تھے۔ لہٰذا ان کی بیعت فارم پر کروا کر ٧٢ کی تعداد پوری کر دی گئی۔ ١٩٩٣ء کے جلسہ میں مرزا طاہر احمد نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ ٹارگٹ پورا ہو گیا ہے۔ اس طرح دو لاکھ بیعتیں ہو گئی ہیں۔ جماعت میں تو خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اب مرزا طاہر نے اعلان کیا کہ اگلے سال کا ٹارگٹ ڈبل ہے یعنی چار لاکھ۔ اس میں سے جہلم کے حصہ میں ١٦٠ کا ٹارگٹ آیا۔ مگر پورے سال کی محنت کے بعد ٧/٥ افراد کے فارم پر ہو سکے۔ گویا ٹارگٹ بالکل پورا نہ ہوا۔ بلکہ ١٠ فیصد بھی نہ ہوسکا۔ مگر ١٩٩٤ء کے جلسہ سالانہ میں مرزا طاہر صاحب نے اعلان کیا کہ ٤ لاکھ کا ٹارگٹ پورا ہو چکا ہے۔ اب اگلے سال ١٩٩٥ء کے لیے ٨ لاکھ کا مقرر کیا گیا۔ جہلم کو تقریباً ٣٥٠ کا ٹارگٹ ملا مگر ٢/٣ فارم پر ہوسکے۔ یہی حال راولپنڈی اور چکوال کا تھا۔ مگر ١٩٩٥ء میں جلسہ پر مرزا طاہر صاحب نے ٹارگٹ پورا ہونے کی نوید سنا دی۔ اب ١٩٩٦ء کے لیے ١٦ لاکھ کا ٹارگٹ دیا گیا۔ جہلم کو ٧٠٠ سے زائد کا ٹارگٹ ملا۔ جواب میں دو تین فارم پر ہوسکے۔ ١٩٩٦ء کے جلسہ پر ١٦ لاکھ کا ٹارگٹ پورا ہونے کا اعلان ہوا۔ ١٩٩٧ء کے لیے ٣٢ لاکھ کا ٹارگٹ مقرر ہوا۔ جہلم کے لیے ١٥٠٠ کا ٹارگٹ ملا۔ جبکہ فارم ٢/٣ افراد کے پر ہو سکے۔ مگر ١٩٩٧ء کے جلسہ پر ٹارگٹ پورا ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔ ١٩٩٨ء کے لیے ٦٤ لاکھ کا ٹارگٹ دیا گیا۔ جولائی ١٩٩٨ء میں راقم اپنے گاؤں محمود آباد گیا۔ وہاں چند لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے راقم نے کہا کہ اب ٦٤ لاکھ کا اعلان نہیں ہوگا کیونکہ اس سے شک پڑ سکتا ہے۔ اب ٥٠ کے قریب بتایا جائے گا۔ پھر یہی ہوا کہ ١٩٩٨ء کے جلسہ پر ٥٠ لاکھ نئی بیعتوں کی نوید سنائی گئی۔ اس ٹارگٹ میں سے جہلم کو ٣٠٠٠ کا ٹارگٹ ملا تھا۔ ١٩٩٣ء سے ١٩٩٩ء تک جہلم کو ١١ ہزار سے زائد کا ٹارگٹ مل چکا ہے۔ مگر جواب میں ٢٠٠ سے بھی کم فارم پر ہوئے۔ (اب اگر جائزہ لیں تو وہ دوسو افراد بھی جماعت سے منسلک نہ ہوں گے ۔) مگر اعلان ہمیشہ ٹارگٹ کے پورا ہونے کا کیا گیا۔ اب ١٩٩٩ء کے لیے ٹارگٹ ایک کروڑ کا ہوگا۔ ڈبل والے فارمولے کے مطابق ٦٤ کا ڈبل ١٢٨ ہوتا تھا ۔ مگر ٥٠ لاکھ کی پچھلی بیعتوں کو ڈبل کرنے سے ١٠٠ لاکھ کا ٹارگٹ رکھا ہوگا۔ اب بھی احتیاط یہ کی جائے گی کہ شک نہ پڑ جائے۔ لہٰذا ٨٠ سے ٩٠ لاکھ بیعتوں کی نوید سنائی جائے گی۔
عالمگیر بیعت
اب عالمگیر بیعت کا کیس ایسی سٹیج پر آ گیا ہے کہ اس کا پول کھلنے والا ہے۔ اب زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ راقم ١٩٩٧ء میں بہاولپور گیا۔ خدام الاحمدیہ (نوجوانوں کی تنظیم) کے
١٢
قائد سے ملاقات ہوئی۔ پوچھا آپ کی بیعتیں کیسی ١٢٠٠ بیعتیں ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ ان کی مرکزی نہیں۔ اس سے پوچھا گیا کہ ١٢٠٠ میں سے کتنے سـ ٤/٣ افراد ۔ راقم نے کہا کہ باقی سارا کچرا ہے۔ ہے؟۔ اس پر وہ خاصا پریشان ہوا اور کہنے لگا یہ بات مگر پھر ١٢٠٠ بیعتیں کیسے ہوئیں؟ پھر پوچھا کہ اب یعنی ٢٤٠٠۔ اب تک کتنی بیعتیں ہوئی ہیں؟ کہنے لگا ا بات ہے۔ یعنی متوقع اعلان سے ٣ ماہ قبل ۔
اب ساری جماعت خصوصاً پاکستان میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لندن میں اعلان ہو جاتا ہے کہ ڈبل ہے۔
اب اسی کھیل کے اختتام کا وقت آگیا ہـ کے مطابق ایک کروڑ ٢ لاکھ افراد نئے قادیانی ہو گـ اس سال تک ٢ کروڑ احمدی ہو چکے ہوں گے۔ اسـ ہے کہ وہ دیکھیں دھڑا دھڑ بیعتیں ہو رہی ہیں۔ ہڑتـ پورا ہو گیا ہے۔ اب تک ہونے والی بیعتوں کی تعدا کہاں ہیں وہ قادیانی ؟
اگر ابھی آنکھیں نہیں کھلیں تو آگے چـ ٢٠٠٠ء میں ٢ کروڑ قادیانی ہوں گے ۔ جبکہ ٢٠٠١ء مـ کو سامنے رکھ کر اعلان کیا جاتا رہا تو ٢٠١٠ء میں جـ گے۔ جبکہ دنیا کی کل آبادی چھ ارب ہے۔ اس فارمـ ہو چکے ہوں گے۔ امریکہ یورپ اور باقی دنیا سـ گے کہ چھ ارب تو وہ آبادی ہے جس میں کروڑوں بدھ مت کے ماننے والے وغیرہ ۔ اور اب ١١ اربـ ارب ہو گئی ہے۔ آبادی کو کنٹرول کرنے والے ہـ
قائد سے ملاقات ہوئی۔ پوچھا آپ کی بیعتیں کیسی جا رہی ہیں۔ اس نے بتایا صرف پچھلے سال ١٢٠٠ بیعتیں ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ ان کی مرکزی عبادت گاہ میں ٢ سو سے زائد افراد کی گنجائش نہیں۔ اس سے پوچھا گیا کہ ١٢٠٠ میں سے کتنے سو افراد جمعہ کی نماز کے لیے آتے ہیں۔ کہنے لگا ٣/٤ افراد۔ راقم نے کہا کہ باقی سارا کچرا ہے۔ گند ہے جو جمعہ کے لیے نہ آئے اسے کیا کرنا ہے؟۔ اس پر وہ خاصا پریشان ہوا اور کہنے لگا یہ بات تو درست ہے کہ ١٢٠٠ میں سے کوئی بھی نہیں آتا مگر پھر ١٢٠٠ بیعتیں کیسے ہوئیں؟ پھر پوچھا کہ اب ١٩٩٧ء میں کیا ٹارگٹ ملا۔ لازماً ڈبل ہوگا۔ یعنی ٢٤٠٠۔ اب تک کتنی بیعتیں ہوئی ہیں؟ کہنے لگا ابھی تک تو کوئی نہیں ہوئی۔ یہ اپریل ١٩٩٧ء کی بات ہے۔ یعنی متوقع اعلان سے ٣ ماہ قبل۔
اب ساری جماعت خصوصاً پاکستان میں آرام کر رہی ہے۔ ٹارگٹ مل جاتا ہے۔ کام کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لندن میں اعلان ہو جاتا ہے کہ ٹارگٹ پورا ہو گیا اور پھر اگلے سال کا ٹارگٹ ڈبل ہے۔
اب اسی کھیل کے اختتام کا وقت آگیا ہے۔ ١٩٩٣ء سے ١٩٩٨ء تک اعلان کردہ تعداد کے مطابق ایک کروڑ ٤ لاکھ افراد نئے قادیانی ہو چکے ہیں۔ ١٩٩٩ء میں متوقع اعلان کے مطابق اس سال تک ٢ کروڑ احمدی ہو چکے ہوں گے۔ اب احباب جماعت کی آنکھیں کھلنے کا وقت آگیا ہے کہ وہ دیکھیں دھڑا دھڑ بیعتیں ہو رہی ہیں۔ ہر ضلع کو ٹارگٹ ملتا ہے اور اعلان کر دیا جاتا ہے کہ پورا ہو گیا ہے۔ اب تک ہونے والی بیعتوں کی تعداد ہر ضلع کی اصل تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ تو کہاں ہیں وہ قادیانی؟
اگر ابھی آنکھیں نہیں کھلیں تو آگے پڑھیے۔ جماعت کے اس فارمولے کے مطابق ٢٠٠٠ء میں ٢ کروڑ قادیانی ہوں گے۔ جبکہ ٢٠٠١ء کا ٹارگٹ ٤ کروڑ ہوگا اور اگر اسی میں احتیاطی پہلو کو سامنے رکھ کر اعلان کیا جاتا رہا تو ٢٠١٠ء میں صرف ایک سال میں ١٥ ارب لوگ قادیانی ہوں گے۔ جبکہ دنیا کی کل آبادی چھ ارب ہے۔ اس فارمولے کے مطابق ٢٠١٠ء تک کل ١١ ارب قادیانی ہو چکے ہوں گے۔ امریکہ، یورپ اور باقی دنیا کے تمام دانشور اور تمام ادارے بے بس ہو جائیں گے کہ چھ ارب تو وہ آبادی ہے جس میں کروڑوں عیسائی ہیں، کروڑوں مسلمان ہیں، کچھ ہندو، کچھ بدھ مت کے ماننے والے وغیرہ۔ اور اب ١١ ارب قادیانی بھی ہو گئے۔ گویا اب تو دنیا کی آبادی ١٧ ارب ہو گئی ہے۔ آبادی کو کنٹرول کرنے والے، حساب رکھنے والے اور ڈیٹا تیار کرنے والے تمام
١٣
ادارے حیران رہ جائیں گے کہ صرف ١٢ سالوں میں دنیا کی آبادی تین گنا ہو گئی ہے۔ جبکہ ان لوگوں کو دور بین سے بھی وہ گیارہ ارب قادیانی نظر نہیں آئیں گے۔
اگر مرزا طاہر احمد صاحب نے کوئی لحاظ نہ کیا اور ڈبل کا فارمولا جاری رکھا تو ٢٠١٠ء میں صرف ایک سال میں ٢٦ ارب لوگ قادیانی ہوں گے۔ یہ کسی بھی ایٹمی دھماکے سے زیادہ دنیا کو متاثر کرنے والا دھماکا ہوگا۔ کیونکہ دنیا کی کل آبادی تو چھ ارب ہے۔ جبکہ آئندہ دس سالوں میں صرف قادیانی ہونے والے افراد ١٥٠ ارب ہوں گے۔ جبکہ اصلی چھ ارب برقرار رہیں گے۔
اگر جماعت آئندہ اعداد و شمار کی الجھن سے بچنے کے لیے ٢ کروڑ پر اکتفا کرتی ہے۔ اور ہر سال ٢ کروڑ کا ہی اعلان کرتی ہے تو یہ جماعت کی اساس اور نظریہ کے خلاف ہوگا۔ کیونکہ جماعت کا بنیادی نظریہ ہے کہ یہ خدائی جماعت ہے۔ جو بھی تحریک شروع کی جائے وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے۔ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے ”خدائی تحریک“ ضرور کامیاب ہوتی ہے۔ اب اگر دو کروڑ پر جماعت رک جاتی ہے تو جماعت پر حرف آتا ہے۔ کہ اس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اور تمام سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ اگر جماعت میں یا مرزا طاہر احمد صاحب کو مشورہ دینے والوں میں کوئی سائنس یا شماریات کا ماہر ہوا تو وہ انہیں بتا سکتا ہے کہ پہلے فارمولے (ڈبل والے) سے گراف تیزی سے اوپر کو اٹھتا ہے اور چند مرحلوں بعد بلندیوں کو چھونے لگتا ہے۔ اور اب (٢ کروڑ پر اکتفا کرنے سے) یہ افقی لائن پر آگیا ہے جو جمود کو ظاہر کرتا ہے۔ مثلاً اگر ٢ کروڑ سے ڈبل والے فارمولے کے ساتھ چلا جائے تو ١٠ سال بعد ایک سال میں ١٠٢٤ کروڑ قادیانی ہوں گے۔ اور کل ١٠ سالوں میں ٢٠٩٦ کروڑ قادیانی ہوں گے۔ اور اگر ٢ کروڑ پر رک کر ہر سال اتنے کا ہی اعلان کیا جاتا رہے تو ١٠ سالوں میں کل ٢٠ کروڑ قادیانی ہوں گے۔ جو کہ اوپر والی تعداد کا ٠.٩ فیصد بنتا ہے۔ گویا جماعت کی کارکردگی ٩٩ فیصد کم ہوگئی۔ ایسی صورت میں قادیانی جماعت کے خدائی جماعت ہونے کا دعویٰ غلط ثابت ہو جائے گا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ ہر ضلع یا جماعت کی کل تعداد سے ١٥ گنا زیادہ کا ٹارگٹ پچھلے چھ سالوں میں مل چکا ہے۔ اور بقول مرزا طاہر احمد صاحب کے یہ ٹارگٹ پورا بھی ہو چکا ہے۔ اب احباب جماعت کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اگر چھ سال پہلے ان کی عبادت گاہ میں عید کے دن ١٠٠ افراد آتے تھے تو کیا اب ١٥٠٠ یا ١٦٠٠ افراد آتے ہیں؟ اس پر غور کرنے کے بعد یقیناً ان کو مایوسی ہوگی۔ وہ دیکھیں گے کہ ١٥٠٠ تو کجا ١١٥ افراد بھی نہیں جن کا نیا اضافہ ہو۔ اب وہ خیال کریں
١٤
گے کہ جماعت تو جھوٹ نہیں بول سکتی۔ اصل جم قادیانی نہیں بڑھے۔ دوسرے شہروں میں ہوں بھی یہی سمجھ رہے ہیں کہ دوسرے شہروں میں ضرو یار و دوست دوسرے شہروں میں لوگ قادیانی ہور بھی آپ جماعت کو جھوٹا نہیں سمجھیں گے کیونکہ آ جھوٹ نہیں بولتے۔ حالانکہ بات بالکل الٹ ہے
اب اگر آپ کے دوست رشتہ دار لند آپ کے علاقے میں کتنے انگریز (گورے) وغی سخت مایوسی ہوگی۔ ان کا جواب ہوگا کہ دوسرے م مرزا طاہر احمد صاحب ١٥ سال سے مقیم ہیں۔ جو اگر ٹارگٹ پورا نہیں ہوا اور جس ملک میں پہلے ہ نہیں ہوا تو پھر وہ دو کروڑ نئی ہونے والی بیعتیں کہ سکتیں۔ کیونکہ ان ملکوں کی تو اپنی آبادی ہی کم ہ جائے تو یہ ایک حیران کن خبر بنتی ہے۔ جس نے چوتھائی آبادی قادیانی ہوگئی ہے۔
جب پاکستان کی جماعتوں کو ہر سالا کے مکمل ہونے میں اچھی خاصی کمی ہوئی تھی۔ جماعت کا ایسا جھوٹ ہے جس کا پول کھلنے و حضرات کو ایک بڑا سہارا ملتا ہے۔ مورال بڑھ والے حضرات کچھ دیر کے لیے پروگرام ملتوی باشعور طبقہ یہ دیکھے گا کہ ایک ایسی جماعت ج جماعت میں ہے اس کا یہ حال ہے کہ وہ بڑا ”تـ قادیانی لوگ اسلام میں داخل ہوں گے۔
اگر آپ کسی ایسے گاؤں کا جائزہ لیں بات ضرور ملے گی کہ پہلے فلاں فلاں گھر یا خا
گے کہ جماعت تو جھوٹ نہیں بول سکتی۔ اصل میں ہمارے علاقے کی جماعتیں سست ہیں ادھر تو قادیانی نہیں بڑھے۔ دوسرے شہروں میں ہوں گے۔ ان سے یہی سوال پوچھئے تو پتہ چلے گا کہ وہ بھی یہی سمجھ رہے ہیں کہ دوسرے شہروں میں ضرور ہوئے ہوں گے۔ اب جناب آپ کے کئی رشتہ دار دوست دوسرے شہروں میں لوگ قادیانی ہو رہے ہیں۔ پورے پاکستان کا جائزہ لینے کے بعد بھی آپ جماعت کو جھوٹا نہیں سمجھیں گے کیونکہ آپ کے خون میں یہ شامل کر دیا گیا ہے کہ قادیانی جھوٹ نہیں بولتے۔ حالانکہ بات بالکل الٹ ہے۔
اب اگر آپ کے دوست رشتہ دار لندن (انگلینڈ) میں ہوں تو ان سے یہ پوچھیں کہ آپ کے علاقے میں کتنے انگریز (گورے) پچھلے سالوں میں قادیانی ہوئے ہیں۔ تو یقیناً آپ کو سخت مایوسی ہوگی۔ ان کا جواب ہوگا کہ دوسرے ملکوں میں ہو رہے ہیں۔ اب خود غور کریں کہ جہاں مرزا طاہر احمد صاحب ١٥ سال سے مقیم ہیں۔ جہاں جماعت کا ہیڈ کوارٹر بنا ہوا ہے وہاں پر بھی ابھی اگر ٹارگٹ پورا نہیں ہوا اور جس ملک میں پہلے ہیڈ کوارٹر تھا یعنی پاکستان۔ اس میں بھی ٹارگٹ پورا نہیں ہوا تو پھر وہ دو کروڑ نئی ہونے والی بیعتیں کہاں ہوئی ہیں؟ کسی ایک افریقی ملک میں تو ہو نہیں سکتیں۔ کیونکہ ان ملکوں کی تو اپنی آبادی ہی کم ہے۔ اور اگر اس مقدار کو ٥/٦ ملکوں میں تقسیم کر دیا جائے تو یہ ایک حیران کن خبر بنتی ہے۔ جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دینا تھا کہ ان ملکوں کی ایک چوتھائی آبادی قادیانی ہو گئی ہے۔
جب پاکستان کی جماعتوں کو ہر سال ٹارگٹ مل رہا ہے اور وہ پورا نہیں ہو رہا تو ٹارگٹ کے مکمل ہونے میں اچھی خاصی کمی ہونی تھی۔ مگر اعلان تو ہوتا ہے کہ ٹارگٹ پورا ہو گیا ہے۔ یہ جماعت کا ایسا جھوٹ ہے جس کا پول کھلنے والا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس جھوٹ سے قادیانی حضرات کو ایک بڑا سہارا ملتا ہے۔ مورال بڑھتا ہے اور قادیانیت کو چھوڑنے کے لیے پر تولنے والے حضرات کچھ دیر کے لیے پروگرام ملتوی کر دیتے ہیں۔ مگر جب جماعت کا تعلیم یافتہ اور باشعور طبقہ یہ دیکھے گا کہ ایک ایسی جماعت جس کا دعویٰ ہے کہ اسلامی تعلیم کا حسین نمونہ اس جماعت میں ہے اس کا یہ حال ہے کہ وہ بڑا ”سفید جھوٹ“ بول رہی ہے تو یقیناً پھر جوق در جوق قادیانی لوگ اسلام میں داخل ہوں گے۔
اگر آپ کسی ایسے گاؤں کا جائزہ لیں جہاں ٥/٧ گھر قادیانیوں کے ہوں۔ تو آپ کو یہ بات ضرور ملے گی کہ پہلے فلاں فلاں گھر یا خاندان قادیانی ہوتا تھا۔ پھر بعد میں مسلمان ہو گیا۔
١٥
فلاں گھر میں قادیانی عورت آئی اور بعد میں مسلمان ہو گئی۔ فلاں عورت نے قادیانی مرد سے شادی کی مگر اس عورت کے اثر سے مرد بھی مسلمان ہو گیا۔ شاید ہی کسی گاؤں میں یہ بات سامنے آئے کہ پہلے فلاں خاندان مسلمان تھا اور بعد میں قادیانی ہو گیا۔
اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی آدمی نیا "شوشہ" چھوڑتا ہے۔ نیا مذہبی آئیڈیا دیتا ہے تو خاصے لوگ اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ پھر جب حقیقت ان کے سامنے کھلتی ہے تو وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے جب امام مہدی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو دیہات کے لوگوں نے (جو یقیناً ان پڑھ تھے) اس پرکشش نعرہ کو سنتے ہی بغیر کسی تحقیق کے فوراً قبول کرلیا۔ کیونکہ مسلمان تو ایک امام مہدی کے منتظر تھے ہی۔ جوں ہی پتہ چلا کہ ایسا کوئی دعویٰ دار آگیا ہے تو فوراً قبول کرلیا۔ مرزا صاحب نے ١٨٨٩ء میں باضابطہ بیعت کا آغاز کیا تو ١٩٠٢ء تک اچھی خاصی جماعت پیدا کرلی۔ جہلم میں مولوی برہان الدین صاحب جہلمی جو نیا محلہ جہلم میں ایک مسجد کے امام تھے۔ ١٨٩١ء میں بیعت کر آئے اور آکر اپنے شاگردوں کو بھی قادیانیت میں شامل کرلیا۔ محمود آباد کے تمام بڑے اس مسجد میں قرآن وغیرہ پڑھنے جایا کرتے تھے۔ وہ مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کی وجہ سے قادیانی ہو گئے۔ نبوت کا دعویٰ تو مرزا قادیانی نے ١٩٠١ء میں کیا۔ جب مولوی برہان الدین صاحب جہلمی اور دیگر لوگ مرزا قادیانی کو اپنا پیر مان چکے تھے۔ تو انہوں نے اپنے پیر صاحب کے نئے دعویٰ کو عقیدت کی وجہ سے مسترد نہ کیا۔ پھر مرزا قادیانی کی ظلی اور بروزی اصطلاحات نے کسی کو بھی انکار کرنے نہ دیا۔ کیونکہ ان نئی اصطلاحات نے علماء کو کنفیوز کر دیا۔ مرزا قادیانی کی وفات کے بعد جماعت کے افراد آہستہ آہستہ جماعت چھوڑتے چلے گئے۔ مگر اس دوران چندوں کے لامتناہی سلسلہ نے ایک ایسے نظام کو جنم دیا جو کہ وقتاً فوقتاً مرکز سے انسپکٹرز آکر چندہ جمع کرنے، حساب چیک کرنے اور جماعت کو منظم رکھنے اور جماعت سے دور افراد کو چندہ دہندگان میں شامل کرنے کے لیے ان کے گھروں تک بار بار چکر لگا کر جماعت کے قریب کرنے کا سبب بنا۔ ١٩١٤ء میں مرزا غلام احمد کے بڑے صاحبزادے مرزا محمود احمد جو کہ اس وقت ٢٥ سال کے تھے مرزا صاحب کے دوسرے جانشین (خلیفہ) بنے۔ انہوں نے جماعت کو منظم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ نئی تنظیمیں، نئے ادارے، نئے چندے اور نئی نئی سکیمیں شروع کی۔ ١٩٦٥ء میں ان کی وفات تک جماعت خاصی منظم ہوچکی تھی۔ اس کے بعد مرزا ناصر احمد صاحب کے دور میں جماعت کم ہونا شروع ہوگئی۔ ١٩٧٤ء میں پورے پاکستان میں جماعت کا حجم بہت سکڑ گیا۔ ١٩٨٢ء میں مرزا طاہر احمد نے انتظام سنبھالا تو جماعت میں زبردست
١٦
جوش پیدا کر دیا۔ انہوں نے جماعت کو یہ فلسفہ دیا کہ اگر حکومت جماعت کے ہاتھ آسکتی ہے۔ ١٩٨٢ء تا ٨٣ زبردست جوش پیدا کر دیا۔ ہر جوان کو ایک ایک قادیانی ا میں مسلمانوں کو چائے وغیرہ کی دعوت پر بلا کر تبلیغ کرت پوری طرح عمل کر کے خوب محنت کی۔ مگر نتیجہ مایوس کن قادیانی طلباء کا قائد (زعیم) تھا۔ اور علامہ اقبال ٹاؤن م پر مشتمل جماعتی قیادت کا ایک اہم رکن تھا۔ لہٰذا یہ باتیں ف
اب صورت حال یہ ہے کہ باقی ماندہ قادیانو نسل جو کہ نسل در نسل قادیانی ہے اس کا جماعت چھوڑنا خ کے گھر میں پیدا ہونے والا ہندو مذہب کو ہی سچا سمجھتا ہ دہریہ اپنے غیر مذہبی نظریہ پر قائم رہتا ہے۔ پارسی، سکھ پانے والے افراد اپنے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہیں۔ ا
قادیانی یہ جانتے ہیں کہ جماعت میں چندوں رکن زکوٰۃ بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ تحریک جدید، وقف جماعت کے کئی درجن خطبے مل جائیں گے مگر زکوٰۃ پر کوئی شمولیت کے لیے خطبات تو ملیں گے مگر حج یا مناسک جماعت کے تمام مرکزی عہدوں پر مرزا صاحب کے خا کسی قابلیت کی ضرورت نہیں۔ جبکہ ان کے نیچے کام کر کورس کرنے کے علاوہ ٢٥/٢٠ سال فیلڈ کا تجربہ بھی رکھے مقامی امیر جماعت اور اس کی مجلس عاملہ کے لیے عہدے دار نہ ہو۔ بے شک وہ اخلاقی و مذہبی تعلیم کے حوالے سے اسلامی شعار کا پابند اگر مالی کمزوری کی وجہ سے چھ ماہ سے دے سکتا ہے نہ عہدہ لے سکتا ہے۔ تقویٰ اور پرہیز گاری دوسری جماعتی زیادتیاں زبان زد عام ہیں۔ جن کو معمولی لیے اٹھا رکھتا ہوں۔ ان سب خرابیوں کو جانتے ہوئے بھی
جب سے پاکستان میں قادیانیوں کو غیر اقلی
١٧
جوش پیدا کر دیا۔ انہوں نے جماعت کو یہ فلسفہ دیا کہ اگر صرف ١٠ فیصد آبادی قادیانی ہو جائے تو حکومت جماعت کے ہاتھ آسکتی ہے۔ ١٩٨٢ء تا ١٩٨٣ء ہر جماعت میں تبلیغ کے لیے ایک زبردست جوش پیدا کر دیا۔ ہر جوان کو ایک ایک قادیانی کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا۔ ہر فرد کو اپنے گھر میں مسلمانوں کو چائے وغیرہ کی دعوت پر بلا کر تبلیغ کرنے کا پابند کیا۔ اور جماعت نے بھی اس پر پوری طرح عمل کر کے خوب محنت کی۔ مگر نتیجہ مایوس کن رہا۔ راقم اس وقت پنجاب یونیورسٹی کے قادیانی طلباء کا قائد (زعیم) تھا۔ اور علامہ اقبال ٹاؤن، مسلم ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، اور ماڈل ٹاؤن پر مشتمل جماعتی قیادت کا ایک اہم رکن تھا۔ لہٰذا یہ باتیں ذاتی علم اور مشاہدے پر مبنی ہیں۔
اب صورت حال یہ ہے کہ باقی ماندہ قادیانیوں کی چار نسلیں گزر چکی ہیں۔ اور اب نئی نسل جو کہ نسل در نسل قادیانی ہے اس کا جماعت چھوڑنا خاصا تکلیف دہ ہے۔ جس طرح ایک ہندو کے گھر میں پیدا ہونے والا ہندو مذہب کو ہی سچا سمجھتا ہے، بے شک وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر لے۔ دہریہ اپنے غیر مذہبی نظریہ پر قائم رہتا ہے۔ پارسی، سکھ، عیسائی اور یہودی گھرانوں میں پرورش پانے والے افراد اپنے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہیں۔
قادیانی یہ جانتے ہیں کہ جماعت میں چندوں کی بھرمار پر بڑا زور ہے مگر اسلام کا بنیادی رکن زکوٰۃ بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ تحریک جدید، وقف جدید، چندہ عام اور دیگر چندوں پر امام جماعت کے کئی درجن خطبے مل جائیں گے مگر زکوٰۃ پر کوئی خطبہ دریافت نہ ہوگا۔ جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لیے خطبات تو ملیں گے مگر حج یا مناسک حج کے بارے میں کوئی خطبہ نہ ملے گا۔ جماعت کے تمام مرکزی عہدوں پر مرزا صاحب کے خاندان کے افراد کا قبضہ ہے۔ ان کے لیے کسی قابلیت کی ضرورت نہیں۔ جبکہ ان کے نیچے کام کرنے والے جامعہ احمدیہ سے سات سالہ کورس کرنے کے علاوہ ٢٠ / ٢٥ سال فیلڈ کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ جماعت کے بنیادی عہدوں یعنی مقامی امیر جماعت اور اس کی مجلس عاملہ کے لیے عہدے کا حق دار صرف وہی ہو گا جو چندے کا بقایا دار نہ ہو۔ بے شک وہ اخلاقی و مذہبی تعلیم کے حوالے سے کیسا ہی کیوں نہ ہو۔ جبکہ ایک نیک متقی اسلامی شعار کا پابند اگر مالی کمزوری کی وجہ سے چھ ماہ سے زائد چندے کا بقایا دار ہے تو نہ وہ ووٹ دے سکتا ہے نہ عہدہ لے سکتا ہے۔ تقویٰ اور پرہیزگاری پر پیسے کو ترجیح ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی دوسری جماعتی زیادتیاں زبان زد عام ہیں۔ جن کو مضمون کی طوالت کی وجہ سے کسی اور مضمون کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔ ان سب خرابیوں کو جانتے ہوئے بھی وہ خاموش ہیں۔
جب سے پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے مسلمانوں اور قادیانیوں
١٧
میں خاصی دوری پیدا ہوگئی ہے۔ جہاں کوئی مسلمان قادیانی ہونے کی جرأت نہیں کرتا وہاں قادیانی بھی اس دوری کو پار کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ خدا تعالیٰ قادیانی نوجوانوں کو ہمت دے کہ وہ اس دوری کو عبور کر کے مسلمان ہو جائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک، ملتان، ماہ اگست ١٩٩٩ء)
(٢)...... جماعت احمدیہ کے ”بزرگانہ“ جھوٹ
قادیانی جماعت میں ایک قادیانی کی حیثیت سے گزارے ٤٠ سالوں میں مسلسل جماعتی عہدے داروں، مربیوں کے ذریعہ جھوٹ کے خلاف نفرت کا تاثر ملتا رہا ہے۔ صدہا لیکچرز میں مسلمان علماء۔ دانشوروں کے بیانات میں سے جھوٹ تلاش کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ مذمت کی جاتی رہی ہے۔ جس سے یہ یقین ہو چکا تھا کہ جماعت جھوٹ سے سخت نفرت کرتی ہے۔ بلکہ نوجوانوں (خدام الاحمدیہ) کو پانچ نکات پر مشتمل ایک تربیتی پروگرام بھی دیا گیا تھا جو جماعت کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر سامنے آیا۔ اس میں بھی ایک نقطہ جھوٹ سے نفرت کا تھا۔
دوسری طرف جب جماعتی عہدیداروں اور مربیوں کے کردار کو دیکھیں تو سخت مایوسی ہوتی ہے۔ مگر اس وقت عہدیداروں اور مربیوں کے سردار یعنی قادیانی جماعت کے سابق سربراہ مرزا ناصر احمد کے حوالے سے چند باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں جنہیں میں بھی اپنے دور میں ”خلیفہ وقت“ سمجھا کرتا تھا اور ان کی وفات تک اسی اعتقاد پر تھا۔ یہ اسی عقیدت کا نتیجہ تھا جو ہر قادیانی بچے کے دل و دماغ میں بٹھائی جاتی ہے کہ ”خلیفہ وقت“ خدا کے نمائندہ ہیں۔ اگر آپ کے سر میں درد ہے تو دعا کے لیے خلیفہ کو خط لکھیں۔ اگر امتحان دینا ہے تو خلیفہ کو خط لکھیں۔ اگر ایک عورت کا اپنے خاوند سے جھگڑا ہے تو وہ خلیفہ کو خط لکھے اور اگر کسی مرد کا اپنی بیوی، ماں، بہن سے کوئی اختلاف ہے تو وہ ”حضور (خلیفہ)“ کو خط لکھے گا۔ یہ عقیدت اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اب اگر خلیفہ جماعت کو بتائے کہ جھوٹ نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے تو دوسرے دن قادیانی بلا جھجک جھوٹ کو ”مذہبی شعار“ کے طور پر اپنا لیں گے۔ کسی میں اختلاف کی گنجائش نہ ہوگی۔ تاہم تحریری جھوٹ کو جائز قرار نہیں دیا گیا۔ ابھی زبانی زبانی طور پر اسے قابل مذمت ہی سمجھا جاتا ہے۔ البتہ ذیل کی تحریر کے بعد اکثر قادیانی جھوٹ کو جائز سمجھنا شروع ہو جائیں گے۔
قومی اسمبلی میں ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے موقع پر قادیانی جماعت کے اس وقت کے سربراہ ناصر مرزا صاحب کو طلب کیا گیا اور ١١ دن تک جماعت کے عقائد اور موقف کے بارے
١٨
میں بحث ہوتی رہی۔ جماعت کو اپنا مکمل موقف بیان کرنے کا موقع ملا۔ مرزا ناصر احمد صاحب کے ساتھ مرزا طاہر احمد (موجودہ سربراہ) اور دوست محمد شاہد بھی تھے۔ باقی دو افراد اب فوت ہو چکے ہیں۔ کل پانچ افراد پر مشتمل وفد ١١ دن تک جماعت کا موقف بیان کرتا رہا۔ اسمبلی کی کارروائی ٣٠ سال کے لیے پابندی کے نیچے آگئی ۔ ٢٠ سال بعد اسے ایک ادارے سے (بالواسطہ) شائع کیا گیا ہے چند اقتباسات حاضر ہیں۔
قادیانی جماعت کی تعداد کے بارے میں اٹارنی جنرل استفسار کرتے ہیں۔
”اٹارنی جنرل : آپ کی تعداد کتنی ہے؟
مرزا ناصر : ہم ریکارڈ نہیں رکھتے۔
اٹارنی جنرل : آپ کی تبلیغ کا کام پاکستان یا انڈیا میں ہے یا باہر بھی؟
مرزا ناصر : ہم ہر جگہ پیار و محبت کا پیغام دیتے ہیں۔
اٹارنی جنرل : باہر آپ کے پیار و محبت کو جس نے قبول کیا وہ کتنے ہیں؟
مرزا ناصر : تعداد کا ریکارڈ نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل : جو شامل ہوا اسے کوئی فارم دیتے ہیں؟
مرزا ناصر : جی بیعت فارم ۔
اٹارنی جنرل : ان کی تعداد؟
مرزا ناصر : ریکارڈ نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل : پچھلے بیس سالوں میں کتنے احمدی ہوئے؟
مرزا ناصر : ریکارڈ نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل : جو آپ کا ممبر بنے اس کا ریکارڈ؟
مرزا ناصر : نہیں رکھتے ریکارڈ۔
اٹارنی جنرل : کوئی رجسٹر بھی؟
مرزا ناصر : میرے علم میں نہیں ہے۔ بیعت فارم کو شمار کرتے ہیں؟ یہ بھی میرے علم میں نہیں ہے۔“
(تاریخی قومی دستاویز ص ٢١)
قارئین غور فرمائیں! قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد صاحب فرما رہے ہیں کہ ہم تعداد کا ریکارڈ نہیں رکھتے حالانکہ یہ سراسر خلاف حقیقت بات ہے۔ کیونکہ ہر سال بلا ناغہ جماعت کی ہر ذیلی تنظیم کی ”تجنید“ تیار کی جاتی ہے جس میں ہر رکن کا نام، عمر، ولدیت، تعلیم، پیشہ
١٩
اور دیگر بہت سے کوائف درج کر کے مرکز (چناب نگر ، ربوہ) میں بھیجے جاتے ہیں۔ ہر سال تجنید کی تیاری میں خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ جو جماعتی یونٹ ۔ یہ تجنید نہ بھیجے اسے ریمائنڈر بھیجے جاتے ہیں اور مجلس عاملہ کے اجلاس میں سرزنش کی جاتی ہے اور پابند کیا جاتا ہے کہ جلد از جلد بھیجے۔ اس طرح ایک سال کے اندر نئے بچے بھی درج ہوتے ہیں۔ اور اس حلقہ میں کسی دوسرے شہر سے آنے والے نئے افراد اور اس حلقہ سے جانے والے قادیانی افراد کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ اس طرح پورے ملک کے ہر قادیانی بچے، جوان، بوڑھے، مرد اور عورت کے مکمل کوائف ہر سال کے آخری دو ماہ میں مکمل کیے جاتے ہیں۔ اور یوں پورے ملک کے کل قادیانی مرد و زن کی تعداد بمعہ کوائف محفوظ ہو جاتی ہے۔ جبکہ قادیانی جماعت کے سربراہ جسے قادیانی خلیفہ وقت پکارتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم ریکارڈ نہیں رکھتے۔
قادیانی احباب جماعت ذرا غور فرمائیں کہ آپ کے سربراہ کیا فرما رہے ہیں؟ اگر ریکارڈ نہیں رکھتے تو تجنید کیا ہے؟ یقیناً آپ یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ”خلیفہ وقت“ جھوٹ بول سکتے ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں۔ یا ”راہ پیا“ جانے یا ”واہ پیا“ جانے۔ جب تک آپ کو ”راہ“ یا ”واہ“ نہیں پڑتا آپ یہی سمجھیں گے۔ اسی صورت میں ایک قادیانی دل کو کیسے تسلی دے گا۔ وہ میں بہتر سمجھتا ہوں کیونکہ میں نے اس جماعت میں چالیس سال گزارے ہیں۔ اور ”خلیفہ وقت“ کو ہر ”مخلص قادیانی“ کی طرح خدا سے زیادہ عزیز اور قریب جانتا ہے۔ اس وقت میرا بھی ایک قادیانی کی طرح یہ ایمان تھا کہ اگر کوئی مشکل یا پریشانی ہو تو ”حضور“ کو خط لکھنا ہے۔ جب خط لکھ کر پوسٹ کر دیا تو سمجھ لیا کہ اب مشکل ختم ہو گئی۔ بلکہ صرف خط لکھنے کا ارادہ کرنے پر ہی ”معجزات“ کے وقوع پذیر ہونے پر ”بالاتفاق“ یقین تھا۔
درج بالا صورت میں ایک مخلص قادیانی سوچے گا کہ حضور پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ایسا کہا ہوگا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ریکارڈ تو رکھا جاتا ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ فرار کا راستہ صرف یہی ہے کہ حضور نے ایسا کہا ہی نہیں ہوگا۔ اب آپ لاکھ دلائل دیں۔ ان کی ریکارڈ شدہ آواز بھی سنا دیں تو وہ کہیں گے کہ یہ ان کی آواز ہی نہیں۔ آپ قومی اسمبلی کے تمام ممبران کے تصدیقی دستخطوں سے یہ ثابت کریں کہ انہوں نے یہ کہا تھا۔ تو قادیانی کہہ دیں گے کہ یہ سب مخالف تھے اس لیے الزام لگا رہے ہیں۔
”میں نہ مانوں“ کا بہترین نظارہ اس کارروائی (قومی اسمبلی کی مذکورہ کارروائی) کو پڑھ کر کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً مرزا ناصر احمد نے اس سوال پر کہ آپ مرزا غلام احمد کے نہ ماننے والوں
٢٠
کو کافر سمجھتے ہیں یا نہیں۔ اس کا جواب گول مول کرتے کئی دن لگا دیئے اور ایک سو سوالوں کے بعد بھی ممبران کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے کہ مرزا صاحب کو نہ ماننے والا کافر ہے یا نہیں۔ اپنے اس رویہ سے انہوں نے ممبران کو سخت زچ کیا اور ان کو اپنے خلاف کر لیا۔ بجائے اس کے کہ ان کو قائل کرتے ان کو اپنے خلاف کر لیا۔ ان سوالوں کے عجیب و غریب جواب دینے پر نئی سے نئی اصطلاحیں اور کافر کی نئی نئی قسمیں سامنے آئیں جو ابھی تک قادیانیوں کو بھی معلوم نہیں۔ (اس پر بات کسی اور مضمون میں ہوگی)
مرزا ناصر احمد فرماتے ہیں کہ جو آدمی قادیانیت میں داخل ہوتا ہے یا بیعت کرتا ہے اس کا ریکارڈ نہیں رکھتے۔ یہ بھی سراسر خلاف واقعہ بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر نئے قادیانی کا بیعت فارم مکمل کوائف کے ساتھ مقامی امیر جماعت یا صدر جماعت کی تصدیق اور ریمارکس کے ساتھ مرکز میں جاتا ہے۔ اس کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے ہر جلسہ سالانہ کے دوسرے دن ”حضور“ اپنے خطاب میں جماعت کی کارگزاری سناتے وقت تھرپارکر، کنری سندھ کے علاقے میں ہندوؤں میں تبلیغ کے ثمرات کا ذکر کرتے وقت تعداد بتایا کرتے تھے۔ پورے پاکستان کی کل بیعتوں کا اس لیے ذکر نہ ہوتا تھا کہ اس کی تعداد بہت مایوس کن ہوتی تھی۔ جماعت ریکارڈ رکھنے میں بھی اپنا ایک ”ریکارڈ“ رکھتی ہے۔ بلکہ جب مرزا ناصر احمد خلیفہ بنے۔ تو تمام قادیانیوں نے ان کی نئے سرے سے بیعت کی (باقاعدہ بیعت فارموں پر) اور جب ١٩٨٢ء میں مرزا طاہر احمد نے ”اقتدار“ سنبھالا تو پھر پوری جماعت نے باقاعدہ بیعت فارموں پر بیعت کی جس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔
جب مرزا طاہر احمد پاکستان سے خفیہ طور پر نکل کر انگلینڈ چلے گئے تو ١٩٨٤ء سے ١٩٩٢ء تک ہر سال ”احباب جماعت“ کو یہ خوشخبری سنایا کرتے تھے کہ اس سال بیعتوں کی تعداد پچھلے سال سے ڈبل ہے۔ نعرے لگ جایا کرتے تھے۔ مگر تعداد معلوم نہ ہوتی تھی۔ ٨٤ء سے ٩٢ء تک ڈبل کرتے کرتے ١٩٩٣ء میں دو لاکھ بیعتوں کا اعلان کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے ١٩٨٥ء کے قریب بیعتوں کی تعداد ایک ہزار سے کم تھی۔ اس لیے تو بتاتے نہیں تھے اور جب تعداد زیادہ ہوئی تو فخر سے بتانے لگے۔ بہرحال ریکارڈ نہ رکھنے والی بات بزرگان جھوٹ کی ایک عمدہ مثال ہے۔ قومی اسمبلی کی کارروائی میں ایک اور دلچسپ صورت حال ملاحظہ فرمائیے۔
مرزا ناصر احمد: ”الفضل“ ہمارا اخبار نہیں۔ جماعت احمدیہ کے کسی خلیفہ کا نہیں۔
اٹارنی جنرل: جماعت احمدیہ کا اخبار؟
٢١
مرزا ناصر احمد : جماعت کا بھی نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کی ایک تنظیم کا ہے۔
اٹارنی جنرل : ان کی آواز ہے۔ ان کی رائے دیتا ہے ان کی طرف نہیں؟
مرزا ناصر احمد : یہ خلیفہ کی آواز نہیں ۔ ”الفضل“ جماعت کی آواز نہیں ۔
اٹارنی جنرل : یہ تو بڑا اچھا ہے آپ ایسا کہہ دیں۔ ہم تو سارا جھگڑا ہی ”الفضل“ سے کر رہے تھے۔
مرزا ناصر احمد : بالکل نہیں جماعت کا۔ پھر تو سارا جھگڑا ہی ختم ہو گیا۔
اٹارنی جنرل : کس جماعت کا ہے؟
مرزا ناصر احمد : کسی جماعت کا نہیں۔
اٹارنی جنرل : آپ کی جماعت کی آواز ؟
مرزا ناصر احمد : وہ نہ جماعت۔ نہ میری آواز ہے۔ کچھ حصہ آواز کا نقل کرتا ہے میری آواز کیسے بن گیا ؟
اٹارنی جنرل : آپ سوچ لیں کہ کل آپ کی جماعت کو یہ معلوم ہوا آپ نے یہ جواب دیا تو پھر ....................
(تاریخی قومی دستاویز ١٩٧٤ء ص ١٢٦٦، ١٢٨٦)
احباب قادیانی جماعت ! ذرا غور فرمائیے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ ”خلیفہ وقت“ کیا فرما گئے ہیں کہ الفضل جماعت کا اخبار ہی نہیں ۔ یہ انکشاف انہوں نے ٢٦ سال پہلے کیا۔ مگر ہمارے علم میں اب آ رہا ہے۔ حالانکہ جماعت کے سو فیصد ”دیوانے“ اسے جماعت کا اخبار ہی سمجھتے ہیں۔ جماعت کی طرف سے ”خلیفہ وقت“ کی بار بار ہدایت پر اس کے خریدار بنتے ہیں ۔ حالانکہ اس اخبار میں خبریں نہیں ہوتیں۔ اس کا معیار کسی بھی لوکل اخبار سے کم یا برابر ہوگا۔ حالانکہ یہ انٹرنیشنل جماعت کا ترجمان اخبار ہے۔ اسے صرف قادیانی اپنے سربراہ کی ہدایت ۔ جماعت کی بار بار کی تحریک اور عقیدت کی بنیاد پر خریدتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مرزا طاہر احمد نے اپنے اقتدار کے ابتدائی ایام میں تحریک کی تھی کہ الفضل کی اشاعت دس ہزار کرنی ہے۔ لہذا جماعت اس طرف توجہ دے۔ اور پھر محمود آباد جہلم میں جہاں پہلے ایک یا دو اخبارات آتی تھیں وہاں ١٥ کے قریب آنے لگیں ۔ بہر حال اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ یہ قادیانی جماعت کا اخبار ہے۔ سو فیصد قادیانی اسے جماعت کا اخبار سمجھ کر پڑھتے ہیں۔ پھر مرزا ناصر کے بیان کا کیا مطلب ہے؟ ظاہر ہے یہ ”بزرگانہ جھوٹ“ ہی تو ہے۔
٢٢
١٣٣
اب قادیانی پھنس گئے ہیں اگر مرزا ناصر پڑے گا جبکہ انہیں جھوٹا سمجھنا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ میں نے اس جماعت میں ٤٠ سال گزارے ہیں میرے جذبات بھی ایسے ہی ہوتے ۔ بہر حال قادیانی سوچیں ۔ مگر چندے باقاعدگی سے دیتے رہیں ۔ تاکہ چندے دیں اور خوش رہیں۔
(٣) ...... قادیانیوں کے لیے،
احباب جماعت ! چند باتیں آپ سے کر دلانا چاہتا ہوں جو نہ صرف سوچنے کی ہیں بلکہ اس بات کیونکہ اس جماعت میں ٤٠ سال گزار چکا ہوں۔ اس ہے کیونکہ میں خود ایک ”مخلص قادیانی“ کی طرح جا اور ایک ادنیٰ کارکن کی طرح ہر کام میں بڑھ چڑھ کر جماعت قادیانی ضلع جہلم کے عہدہ پر رہا ہوں اور ی پڑنے کے بعد تحقیق اور غور و فکر کرنے کے بعد اللہ اسلام قبول کر چکا ہوں۔ اگر آپ یہ کہیں گے کہ جو بجانب رہوں گا کہ یا تو آپ کو جماعت کا صحیح طر (مربی) ہیں لہذا اپنے ضمیر کو الماری میں بند کر کے ب
احباب جماعت ! جیسا کہ آپ جانتے یہ ڈالا جاتا ہے کہ قادیانیت اصل اسلام ہے۔ اس کے لیے خدا نے قادیانیت کے ذمہ کام لگایا ہے۔ ہے بلکہ اس میں ”تحریف“ بھی ہو چکی ہے۔ اسلا قادیانیت اس اسلام کو پیش کرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ کو جماعت کا ہر فرد مانتا ہے۔ ان کی تعداد پانچ س ایک بنیادی رکن کی حیثیت رکھتا ہے ان میں سے نہ کرنے کے برابر ہے۔
اب قادیانی پھنس گئے ہیں اگر مرزا ناصر کے بیان کو سچ سمجھیں تو الفضل سے منہ موڑنا پڑے گا جبکہ انہیں جھوٹا سمجھنا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ میں ان کے جذبات کو بہتر سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میں نے اس جماعت میں ٤٠ سال گزارے ہیں اگر کچھ عرصہ قبل مجھ پر یہ انکشاف ہوتا تو میرے جذبات بھی ایسے ہی ہوتے۔ بہرحال قادیانی احباب کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔ ضرور سوچیں۔ مگر چندے باقاعدگی سے دیتے رہیں۔ تاکہ ”شہزادوں“ کی آمد میں کمی واقع نہ ہو۔ بس چندے دیں اور خوش رہیں۔
(٣) ...... قادیانیوں کے لیے، جسے مسلمان بھی پڑھ سکتے ہیں
احباب جماعت ! چند باتیں آپ سے کرنا چاہتا ہوں۔ چند ایسی باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو نہ صرف سوچنے کی ہیں بلکہ اس بارے میں تحقیق کرنے والی بھی ہیں۔ میں خود کیونکہ اس جماعت میں ٤٠ سال گزار چکا ہوں۔ اس لیے نہ تو آپ نے ان باتوں سے انکار کرنا ہے کیونکہ میں خود ایک ”مخلص قادیانی“ کی طرح جماعتی مبلغ کی طرح تبلیغ کا کام بھی کرتا رہا ہوں اور ایک ادنیٰ کارکن کی طرح ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتا رہا ہوں۔ آخر پر میں نائب امیر جماعت قادیانی ضلع جہلم کے عہدہ پر رہا ہوں اور جماعت کے اعلیٰ افسران سے ”واہ“ اور ”راہ“ پڑنے کے بعد تحقیق اور غور و فکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی توفیق سے جماعت سے علیحدہ ہو کر اسلام قبول کر چکا ہوں۔ اگر آپ یہ کہیں گے کہ جماعت میں ایسا نہیں ہے تو میں یہ کہنے میں حق بجانب رہوں گا کہ یا تو آپ کو جماعت کا صحیح طور پر علم نہیں ہے۔ یا پھر آپ وظیفہ خور مولوی (مربی) ہیں لہٰذا اپنے ضمیر کو الماری میں بند کر کے جماعت کا دفاع کرنے نکلے ہیں۔
احباب جماعت! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہر قادیانی بچے کے ذہن میں بچپن سے یہ ڈالا جاتا ہے کہ قادیانیت اصل اسلام ہے۔ اس آخری زمانہ کے لیے اسلام کی مکمل فتح اور غلبے کے لیے خدا نے قادیانیت کے ذمہ کام لگایا ہے۔ باقی مسلمانوں کا اسلام نہ صرف فرسودہ ہو چکا ہے بلکہ اس میں ”تحریف“ بھی ہو چکی ہے۔ اسلام کے آغاز سے جو اسلام کی اصل صورت تھی۔ قادیانیت اس اسلام کو پیش کرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ احباب جماعت! اسلام کے بنیادی ارکان جن کو جماعت کا ہر فرد مانتا ہے۔ ان کی تعداد پانچ ہے۔ کلمہ طیبہ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، ان میں زکوٰۃ ایک بنیادی رکن کی حیثیت رکھتا ہے ان میں سے کسی ایک پر عمل نہ کرنا اسلام کی بنیادی شرائط کو پورا نہ کرنے کے برابر ہے۔
٢٣
احباب جماعت! جماعت میں چندوں پر بڑا زور ہے۔ چندہ عام وہ بنیادی چندہ ہے جو اصل میں ”چندہ خاص“ ہے جو ہر ملازم پیشہ پر لاگو ہے (بلکہ اب یہ بے روز گاروں پر بھی لاگو ہو چکا ہے) اس کی ادائیگی فرض ہے۔ ہر ملازم کی تنخواہ کا ٦.٢٥ فیصد بطور چندہ عام ادا کرنا فرض ہے۔ اس کے لیے سارا سال توجہ دلائی جاتی ہے۔ سال میں دو تین بار مرکز سے انسپکٹرز آتے ہیں اور اس چندہ کی سو فیصد وصولی یقینی بناتے ہیں اس کی وصولی کے لیے کئی ”مذہبی لالچ“ دیئے جاتے ہیں کہ سو فیصد ادائیگی والے افراد جماعت کا نام دعا کے لیے ”حضور“ کو بھیجا جائے گا۔ اور فلاں وقت ان جماعتوں کا نام بھی بتایا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ مالی سال کے اختتام سے قبل جماعت کے سربراہ اس چندہ کی اہمیت اور وصولی کی طرف توجہ دلانے کے لیے کئی خطبات دیتے ہیں۔ اور سال کے اختتام پر پوری طرح اس چندہ کی تفصیل بتائی جاتی ہے وعدہ وصولی اور آئندہ کے بجٹ کے بارے میں تفصیلات بتائی جاتی ہیں۔
ہر فرد پر خواہ وہ کمانے والا ہے یا بے روز گار۔ ان پر چندہ ”تحریک جدید“ لازم ہے۔ پہلے یہ نفلی تھا اب آہستہ آہستہ فرض بن گیا ہے۔ تحریک جدید کی سو فیصد وصولی کے لیے علیحدہ طور پر مرکز سے انسپکٹرز آتے ہیں۔ علیحدہ طور پر سربراہ کے خطبات آتے ہیں اور جماعت کی پوری مشینری یہ چندہ وصول کرنے پر لگ جاتی ہے۔ چندہ ”جلسہ سالانہ“ بھی ایک لازمی چندہ ہے جو ماہوار تنخواہ کا ١٠ فیصد بطور سالانہ لیا جاتا ہے۔ اس کی وصولی کے لیے بھی سربراہ کے خطبات مخصوص ہوتے ہیں۔ ”وقف جدید“ ایک نفلی چندہ کے طور پر سامنے آیا مگر اب وہ بھی لازمی چندہ کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ درج بالا چاروں چندوں کے انسپکٹرز سال میں دو تین بار مرکز سے آکر چندہ وصولی یقینی بناتے ہیں جن کے ذمہ بقایا ہو ان کے گھروں تک بھی پہنچ کر وصولی کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی چندے ہیں۔ مثلاً نوجوانوں پر (خدام الاحمدیہ پر) چندہ مجلس، چندہ تعمیر ہال، چندہ اجتماع، بزرگوں پر (انصار اللہ پر) چندہ بوسنیا، افریقہ، وغیرہ وغیرہ۔ چندہ صد سالہ جوبلی ١٦ سال تک جاری رہا ہے۔
ایک قادیانی جس کی تنخواہ ٣ ہزار روپے ماہوار ہے اسے ان چندوں کی مد میں کم از کم ٣٠٠ روپے ماہوار دینا پڑتا ہے۔ جبکہ اس کی بیوی بچوں اور اگر والدین ساتھ ہوں تو ان کے بھی چندے اسی کی تنخواہ سے نکلیں گے۔ اس طرح اسے ٣٠٠ سے ٥٠٠ روپے ماہوار تک لازماً دینا پڑے گا۔ اگر نہیں دے گا تو بقایا کے طور پر نام ہو جائے گا۔ اس طرح سال کے آخر پر اس کے ذمہ
٢٤
تین سے چار ہزار روپے بقایا ہو چکا ہوگا۔ اس سالانہ ١٢ ہزار روپے سے زیادہ دینا پڑے گا۔
ان چندوں کے علاوہ ایک اور نظام مرنے کے بعد ”ربوہ“ میں خاص قبرستان ”بہ چندہ عام ٦.٢٥ فیصد کی بجائے ١٠ فیصد کے حسا انجمن احمدیہ ( قادیانی جماعت) کے نام کر د فیصد مرکز کو دیتا رہے گا۔ یہ شرائط اس دن ۔ ایک آدمی فوت ہو گیا اس کی لاش ربوہ پہنچ چکی کے ذمہ چندہ کا بقایا ہے لہٰذا اس کی تدفین حساب بے باک نہیں کر دیتے تدفین نہیں ہو
اگر ایک قادیانی درج بالا چندوں اگر وہ چندہ نہیں دیتا یا ادائیگی میں دیر کر دیتا اس کے مرنے کے بعد اس کے لواحقین سے نام تشہیر کیا جائے گا وہ جماعت میں ”داغدار توجہ کا مرکز بنایا جائے گا۔
احباب جماعت! اس ساری تف ادائیگی کے بارے میں جماعت کتنی تیز ۔ ہے۔ مگر کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے کبھی مرکز سے زکوٰۃ ایک لازمی اسلامی مد ہے) وصول کرنے شامل کی گئی ہے؟ کبھی ”حضور“ کی طرف کی وصولی کی طرف توجہ دلانے کی کوئی کوش یقیناً نفی میں ہوگا کیا یہ بات قابل غور نہیں مذہب سے خارج تصور کیا جاتا ہے۔ کیا ا کیا قادیانیت کا اسلام سے واسطہ رہ سکتا ہ
تین سے چار ہزار روپے بقایا ہو چکا ہوگا۔ اس طرح اگر کسی کی تنخواہ دس ہزار روپے ماہوار ہو تو اسے سالانہ ١٢ ہزار روپے سے زیادہ دینا پڑے گا۔
ان چندوں کے علاوہ ایک اور نظام بھی رائج ہے وہ اس طرح کہ اگر کوئی چاہے کہ اسے مرنے کے بعد ”ربوہ“ میں خاص قبرستان ”بہشتی مقبرہ“ میں دفن کیا جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ چندہ عام ٦.٢٥ فیصد کی بجائے ١٠ فیصد کے حساب سے چندہ دے گا اور اپنی جائیداد کا ١٠ فیصد صدر انجمن احمدیہ (قادیانی جماعت) کے نام کر دے گا اور آئندہ جتنی بھی آمدن پیدا کرے گا اس کا ١٠ فیصد مرکز کو دیتا رہے گا۔ یہ شرائط اس دن سے لاگو ہوں گی جس دن سے وہ وصیت کرے گا اب ایک آدمی فوت ہو گیا اس کی لاش ربوہ پہنچ چکی ہے مگر اس کی جائیداد کا ١٠ فیصد ابھی نام نہیں لگایا اس کے ذمہ چندہ کا بقایا ہے لہٰذا اس کی تدفین روک دی جائے گی جب تک اس کے وارثان تمام حساب بے باک نہیں کر دیتے تدفین نہیں ہو سکتی۔
اگر ایک قادیانی درج بالا چندوں کی ادائیگی سے انکار کر دے تو وہ قادیانی رہ نہیں سکتا۔ اگر وہ چندہ نہیں دیتا یا ادائیگی میں دیر کر دیتا ہے تو وہ چندہ اس کے نام بطور بقایا نام ہو جائے گا جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لواحقین سے وصول کیا جائے۔ جس کے ذمہ بقایا ہو جائے اس کا نام تشہیر کیا جائے گا وہ جماعت میں ”داغدار“ سمجھا جائے گا اور ایک دم کٹے جانور کی طرح سب کی توجہ کا مرکز بنایا جائے گا۔
احباب جماعت! اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ چندوں کی ادائیگی کے بارے میں جماعت کتنی تیز ہے اور کس طرح ایک منظم نیٹ ورک اس میں مصروف ہے۔ مگر کیا..................
آپ نے کبھی مرکز سے زکوٰۃ کا انسپکٹر بھی آتے دیکھا ہے؟ کبھی آپ سے زکوٰۃ (جو ایک لازمی اسلامی مد ہے) وصول کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟ کبھی آپ کے بقایا میں زکوٰۃ بھی شامل کی گئی ہے؟ کبھی ”حضور“ کی طرف سے زکوٰۃ پر لیکچر یا خطبہ سنا ہے؟ کبھی مرکزی سطح پر زکوٰۃ کی وصولی کی طرف توجہ دلانے کی کوئی کوشش آپ کے سامنے آئی ہو؟ یقیناً نہیں۔ آپ کا جواب یقیناً نفی میں ہوگا کیا یہ بات قابل غور نہیں کہ اسلام کا بنیادی ستون نہ صرف چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ مذہب سے خارج تصور کیا جاتا ہے۔ کیا اس ستون کے بغیر اسلام قائم رہ سکتا ہے؟ میری مراد ہے کیا قادیانیت کا اسلام سے واسطہ رہ سکتا ہے؟
٢٥
احباب جماعت! آپ نے ”خلیفہ وقت“ کی زبان سے متعدد بار جلسہ سالانہ کی برکات، جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لیے نیک خواہشات اور دعاؤں کے متعلق کئی خطبے سنے ہوں گے۔ جماعت کے اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے بار بار جلسہ سالانہ کے پروگرام اور ان میں شمولیت کی طرف توجہ دلانے والے لیکچرز اور خطبات سنے ہوں گے۔ ”الفضل“ ”خالد“ ”تشحیذ الاذہان“ ”مصباح“ اور ”انصار اللہ“ جیسے جماعتی جرائد و رسائل میں جلسہ سالانہ چناب نگر، لندن کی تمام تفصیلات پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں۔
ان تمام کوششوں سے ایک نوجوان جو بچپن سے یہ سنتا آ رہا ہے اور اب ٢٥/٣٠ سال کا ہو چکا ہے اسے جلسہ کے ہر پہلو کے بارے میں اتنی زیادہ عقیدت پیدا ہو چکی ہے جس کا تصور کوئی مسلمان کر ہی نہیں سکتا۔
مگر کیا آپ نے کبھی ”خلیفہ وقت“ کی زبان سے حج کے بارے میں کوئی خطبہ سنا ہے؟ کبھی ”حضور“ نے احباب جماعت کو مناسک حج کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں؟ کسی اعلیٰ جماعتی عہدیدار سے کبھی حج پر لیکچر سنا ہے ”آپ کا جواب یقیناً نفی میں ہوگا۔ ایسا کیوں ہے؟ ایک اہم اسلامی بنیادی رکن کو نہ صرف نظر انداز کیا گیا ہے بلکہ اس کے مقابل پر مرزا محمود احمد (دوسرے خلیفہ) نے کتنے حج کیے۔ ٥١ سال دور امامت میں انہیں ٣٠ سے زائد حج تو کرنے چاہیے تھے مگر آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے غالباً ایک کیا۔ مرزا بشیر احمد ایم اے نے کتنے حج کیے؟ ان کو تو مذہب سے خاصا لگاؤ تھا۔ انہوں نے ہی قادیانیوں کو بتایا کہ مسلمان نہ صرف کافر بلکہ پکے کافر ہیں۔ اور ان کی ایسی ہی ”نرم و نازک“ تحریرات نے ١٩٧٤ء میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دلوا کر یہاں تک پہنچایا۔
پھر قادیانی پابندی کی وجہ سے حج تو نہیں کرتے مگر ہزاروں روپیہ لگا کر انگلینڈ میں جلسہ میں شمولیت کے لیے جاتے ہیں۔ ایک سرکاری ملازم بغیر سرکاری اجازت سے ملک سے باہر نہیں جا سکتا مگر قادیانی سرکاری ملازم جعلی پاسپورٹوں اور خفیہ اور غلط معلومات فراہم کر کے بیرون ملک جلسہ میں شمولیت کے لیے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہندوستان میں قادیان کے جلسہ پر بھی جاتے ہیں۔ اس جلسہ کے لیے کسی پابندی کی پرواہ نہیں کرتے۔ گویا وہ اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ حج کے مقابل پر جلسہ کی اہمیت زیادہ ہے۔
احباب جماعت! اگر آپ ابھی تک اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کے پانچ
٢٦
بنیادی ارکان پر ایمان رکھنا ضروری سمجھتے ہیں تو پھر اسلام کے دو ارکان (حج، زکوٰۃ) سے بکلی انحراف آپ کو کس طرف لے کر جا رہا ہے؟ اور آپ کیسے اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکتے ہیں؟
احباب جماعت! اب ایک اور اہم مسئلہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں جب کسی مقامی جماعت میں صدر جماعت / امیر مقامی کے انتخاب کا وقت آتا ہے تو انتخاب کے وقت ایسے افراد کو باہر نکال دیا جاتا ہے جن کے ذمہ چھ ماہ یا اس سے زائد ماہ کا چندہ بقایا ہو۔ خواہ وہ آدمی کتنا ہی نیک، متقی، پرہیزگار، شریف اور پنجگانہ نماز کا پابند ہو اسے لازمی طور پر نکال دیا جائے گا۔ ایسا آدمی نہ ووٹ دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی عہدیدار بن سکتا ہے۔ اب ووٹ دینے والے افراد میں ایسے بھی شامل ہوں گے جو نہ تو نماز کے پابند ہیں، نہ متقی ہیں، نہ ہی کبھی وہ جماعتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں بلکہ مذہب سے ہی دور ہیں۔ بس الیکشن سے چند لمحے قبل اس نے پیسے دے دیئے ہیں۔ اب ان کو جماعت کی طرف سے اختیار دیا گیا ہے کہ وہ امیر جماعت اور دیگر جماعتی عہدیداروں (ممبران مجلس عاملہ) کا انتخاب کریں، نہ صرف یہ، بلکہ وہ آدمی پورا حق رکھتا ہے بلکہ اہل ہے کہ اسے بے شک جماعت کا عہدیدار چن لیا جائے، یہاں تک کہ اسے امیر جماعت بھی بنایا جاسکتا ہے۔
احباب جماعت! ذرا غور فرمائیں کہ جماعتی عہدیدار یا ووٹر کی اہلیت صرف اور صرف چندہ یعنی پیسہ ہے جو پیسہ دے گا، وہ متقی تصور ہوگا اور جو پیسہ نہیں دے گا، وہ رد کر دیا جائے گا۔ کیا یہی قابل مذمت کردار یا اصول ہمارے سرکاری کرپٹ اداروں یا افراد میں رائج نہیں؟ جس نے اس ملک پاک کے ماحول کو مکدر کر رکھا ہے کہ جس نے پیسہ لگایا وہ ”معزز“ اور سب سے آگے اور جو پیسہ نہ لگا سکے وہ قابل نفرت۔ جماعت قادیانی کا تو یہ دعویٰ ہے کہ وہ ایک خالصتاً مذہبی جماعت ہے۔ کہاں گیا مذہب؟
اب ذرا طریقہ انتخاب بھی ملاحظہ فرمائیں کہ جو ”اہل افراد“ ووٹ دینے بیٹھے ہیں وہ سب کے سب، یا کچھ، کسی وقت بھی عہدیدار بن سکتے ہیں کیونکہ انتخاب کے آغاز پر ایک آدمی اٹھ کر کسی بھی فرد کا نام کسی عہدے کے لیے پیش کرے گا۔ نامزد کردہ فرد کو معلوم بھی نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کی اپنی رائے اس میں شامل ہوگی بلکہ وہ اگر انکار بھی کر دے تو بھی وہ نامزد ہی رہے گا۔ پھر ایک اور آدمی اس نام کی تائید کرے گا اس طرح کسی دوسرے شخص کا نام اس عہدے کے لیے پیش ہوگا جس کے لیے پہلے ایک نامزد ہو چکا ہوگا۔ کوئی دوسرا شخص دوسرے نام کی تائید کرے گا اور یوں
٢٧
دو نام مد مقابل سمجھے جائیں گے، کھلے عام ووٹنگ ہوگی۔ لوگوں سے کہا جائے کہ جو پہلے کے حق میں ہیں وہ ہاتھ کھڑا کریں۔ اگر تو پہلا آدمی اثر و رسوخ والا ہے تو سب ہی ووٹ اس کو ملیں گے اور اگر دوسرا شخص اثر و رسوخ والا ہے تو اس کے لیے ووٹ محفوظ رکھیں گے۔ خفیہ رائے شماری کا تصور ہی نہیں ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ تمام دیہاتی مجالس میں انتخاب کے وقت صرف ڈانگ مار، جاگیردار، وڈیرے اور پھڈے باز کو ہی ووٹ ملیں گے، بلکہ ملتے ہیں۔ کیونکہ ایسے افراد کے رشتے دار اور زیر اثر افراد بھی زیادہ ہوتے ہیں اور پھر دوسرے لوگ ان کے سامنے مخالف کو ووٹ دینے سے گھبراتے ہیں اس لیے جن مجالس میں ایک دفعہ ایسا آدمی صدر جماعت، امیر جماعت، بن جاتا ہے تو وہ مرتے دم تک اس عہدے پر قائم رہتا ہے۔ کیونکہ تین سال کے لیے بننے والا امیر جماعت تین سال میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لیتا ہے اس کے بعد اس کے علیحدہ ہونے کا چانس ختم ہو جاتا ہے پھر انتخاب کا طریقہ کار بھی ایسا ہے کہ کوئی آدمی کسی کے خلاف بات نہیں کر سکتا کوئی ریمارکس نہیں دے سکتا اور نہ ہی اپنے بارے میں رائے ہموار کر سکتا ہے۔ اب ایک بدنام اور کرپٹ آدمی صدر جماعت بن گیا تو وہ اسی عہدے پر قائم رہے گا۔ اسے علیحدہ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں۔
جماعت اسے علیحدہ نہیں کر سکتی کیونکہ وہ کہتی ہے۔ جنہوں نے ووٹ دے کر اسے بنایا ہے وہی اسے اتاریں۔ اب کون اس کے سامنے کسی اور کو ووٹ دے کر اپنے لیے دشمنی مول لے؟
یہ اسی فرسودہ اور ناقابل فہم و عمل نظام کا نتیجہ ہے کہ کئی جماعتوں کے امیر سال ہا سال سے چلے آ رہے ہیں۔ کسی شہر یا ضلع کا امیر جماعت ٢٠ سال سے ہے تو کسی کا تیس سال سے بلکہ ایک کا ستالیس سال سے ہے۔ ظاہر ہے اس میں کسی کا کیا قصور ہے خدا نے زندگی جو زیادہ دے دی ہے۔ اللہ کے کام میں کس کا دخل ہے؟ یہ تمام امراء تا مرگ اس عہدے پر رہتے ہیں اور اپنے تاحیات اقتدار کی وجہ سے وہ تمام قسم کے اصولوں، ضابطوں، قواعد اور مصلحتوں سے بری ہوتے ہیں وہ فری سٹائل حکومت کرتے ہیں اور ایک آئیڈیل قسم کی آمریت کا چلتا پھرتا نمونہ ہوتے ہیں۔ ان کی درج بالا ”خصوصیات“ کی وجہ سے قادیانی جماعت کو چھوڑتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور دن بدن تیز ہوتا جا رہا ہے جماعت سے علیحدہ ہونے والے افراد کی اکثریت تعلیم یافتہ اور جماعت کی فرسودہ روایات اور امراء کی زیادتیوں سے بیزار ہوتی ہے۔
احباب جماعت! ایک بار پھر ذرا طریقہ انتخاب پر واپس آئیں کہ ایک غیر متقی، غیر صالح فرد کو آپ نے امیر جماعت بنا دیا جسے تفصیل سے عرض کیا ہے کہ ایک وڈیرے، جاگیردار،
٢٨
ڈانگ مار، پھڈے باز کو امیر جماعت بنا دیا گیا، اب ضلعوں کے امیر جماعت بنائیں اور پھر وہ پورے انتخاب کریں گے۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں زہریلے در شاید یہ بھی جماعت کا ”معجزہ“ ہے۔ ان غیر مذہبی متقی ہو سکتا ہے؟ اب مخلص فوراً کہہ دیں گے کہ ا عہدہ ہے۔
اب اس پہلو کا جائزہ بھی لیتے ہیں۔ ا کی جماعت میں مرکز کی طرف سے ایک مربی بھی تعلیم حاصل کر کے مرکز کی طرف سے مقرر کیا گیا جمعہ کے خطبے کا پہلا حق امیر جماعت کا ہے اگر وہ مر کا خطبہ تو خالصتاً ایک مذہبی دینی فریضہ ہے اس میں کے لیے تو کسی مذہبی تعلیم کی پابندی نہیں اور نہ ہی بالکل ان پڑھ ہو مگر جماعتی قواعد کے مطابق خطبے کا
اسی طرح امراء جماعت کے انچارج انتظامی نہیں بلکہ وہ ”کل“ ہیں۔ ہر معاملہ میں خوا نوعیت بھی ہو، خلیفہ کی حیثیت سب سے اعلیٰ ہے۔ ا ہی کسی کے آگے جواب دہ۔ نہ ہی اس کا کوئی فیصلہ ہر قسم کا مذہبی فتوایٰ اس کی طرف سے ہوگا۔ یہ عجیب کو عقیدت کی چادر کے نیچے مستور رکھتے ہیں۔
احباب جماعت! اب ذرا مذکورہ بالا اگر ایک قادیانی امیر جماعت کے رویہ، ریمارک جماعت سے اختلاف رکھتا ہے تو امیر جماعت اس ایک امیر جماعت کا موقف جتنا مرضی کمزور ہو ا کے خلاف شکایت کی جا رہی ہے وہ جتنا مرضی غل امیر جماعت کی شکایت پر کیا کارروائی ہوگی اس مستقبل کے بارے میں ذرا پڑھیے۔
٢٩
ڈانگ مار، پھڈے باز کو امیر جماعت بنا دیا گیا، اب پورے پاکستان کے یہ امراء پہلے اپنے اپنے ضلعوں کے امیر جماعت بنائیں اور پھر وہ پورے پاکستان یا پوری جماعت کا امیر یعنی ”خلیفہ“ کا انتخاب کریں گے۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں زہریلے دودھ سے کتنا ”پیارا مکھن“ حاصل ہو رہا ہے۔ شاید یہ بھی جماعت کا ”معجزہ“ ہے۔ ان غیر مذہبی اور غیر متقی افراد کا لیڈر کس طرح اور کس حد تک متقی ہو سکتا ہے؟ اب مخلص فوراً کہہ دیں گے کہ امراء کا عہدہ تو انتظامی ہے یا ”خلیفہ“ تو انتظامی عہدہ ہے۔
اب اس پہلو کا جائزہ بھی لیتے ہیں۔ ایک وڈیرے کو آپ نے امیر جماعت بنا دیا اس کی جماعت میں مرکز کی طرف سے ایک مربی بھی موجود ہے۔ مربی سات سال تک مذہبی دینی تعلیم حاصل کر کے مرکز کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے۔ مگر جماعت کے قواعد وضوابط کے مطابق جمعہ کے خطبے کا پہلا حق امیر جماعت کا ہے اگر وہ مربی کو حکم دے تو پھر مربی خطبہ دے گا۔ اب جمعے کا خطبہ تو خالصتاً ایک مذہبی دینی فریضہ ہے اس میں امیر جماعت کا کیا کام؟ کیونکہ امیر جماعت کے لیے تو کسی مذہبی تعلیم کی پابندی نہیں اور نہ ہی دنیاوی تعلیم کا ہونا ضروری ہے۔ ہو سکتا ہے وہ بالکل ان پڑھ ہو مگر جماعتی قواعد کے مطابق خطبے کا پہلا حق امیر جماعت کا ہے۔
اسی طرح امراء جماعت کے انچارج یعنی ”خلیفہ“ کی حیثیت جماعت میں صرف انتظامی نہیں بلکہ وہ ”کل“ ہیں۔ ہر معاملہ میں خواہ دینی ہو، انتظامی ہو، پالیسی ہو یا معاملہ کی کچھ نوعیت بھی ہو، خلیفہ کی حیثیت سب سے اعلیٰ ہے۔ آخری فیصلہ اس کا ہے وہ کسی کے پابند نہیں اور نہ ہی کسی کے آگے جواب دہ۔ نہ ہی اس کا کوئی فیصلہ کسی جگہ چیلنج ہو سکتا ہے۔ ہر قسم کا انتظامی فیصلہ اور ہر قسم کا مذہبی فتویٰ اس کی طرف سے ہوگا۔ یہ عجیب و غریب قواعد وضوابط، قول وفعل قادیانی احباب کو عقیدت کی چادر کے نیچے مسحور رکھتے ہیں۔
احباب جماعت! اب ذرا مذکورہ بالا امیر جماعت کی ”طاقت“ ملاحظہ فرمائیں۔ اگر ایک قادیانی امیر جماعت کے رویہ، ریمارکس، کردار یا کسی مذہبی یا جماعتی بات پر امیر جماعت سے اختلاف رکھتا ہے تو امیر جماعت اس کے خلاف شکایت افسران بالا کو کر دے گا۔ ایک امیر جماعت کا موقف جتنا مرضی کمزور ہو اس کا رویہ جتنا مرضی قابل اعتراض ہو اور جس کے خلاف شکایت کی جا رہی ہے وہ جتنا مرضی ٹھیک ہو۔ بات امیر جماعت کی سنی جائے گی۔ امیر جماعت کی شکایت پر کیا کارروائی ہوگی اس کی بات پھر سہی۔ اس وقت اس قادیانی کے مستقبل کے بارے میں ذرا پڑھیے۔
٢٩
اس مخلص قادیانی سے کیونکہ امیر جماعت ناراض ہے۔ لہٰذا اس سے ”خلیفہ وقت“ بھی ناراض ہوں گے۔ کیونکہ امیر جماعت خلیفہ کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے لہٰذا خلیفہ کا ناراض ہونا لازمی امر ہے۔ اور جس سے خلیفہ ناراض ہے۔ قادیانی عقیدت و عقائد کے مطابق خدا تعالیٰ بھی اس سے ناراض ہے۔ اب جس سے خدا ناراض ہے اس کے مستقبل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اب اگر امیر جماعت اس مخلص قادیانی سے راضی ہوگا تو خدا راضی ہوگا۔ گویا خدا تعالیٰ اس جماعت کے امیر کی مرضی کا پابند ہے اگر وہ اجازت دے گا تو خدا تعالیٰ اس آدمی سے راضی ہوسکتا ہے ورنہ نہیں۔ (نعوذ باللہ)
درج بالا صورت بالکل اسی طرح جماعت میں رائج ہے۔ اب صورت حال یہ بنی کہ خدا تعالیٰ ہر گاؤں کی قادیانی جماعت کے وڈیرے، ڈانگ مار اور پھڈے باز شخص کی مرضی کا پابند ہوگا۔ جس کے بارے میں وہ کہے گا کہ اسے بخش دو، خدا اس کو بخش دے گا اور جس کے بارے میں دوزخ ریکمنڈ کرے گا خدا اسے دوزخ میں بھیجنے کا پابند ہے۔ (نعوذ باللہ)
درج بالا حقائق کو قادیانی تسلیم کریں گے مگر اظہار نہیں کر سکیں گے کیونکہ ”آزادی ضمیر“ کا جو نمونہ جماعت میں ہے وہ کسی اور جگہ نہیں۔ اس پر بات بعد میں بہرحال مجھے ان سے ہمدردی ہے جہاں رہیں خوش رہیں۔ آخر وہ میرے پرانے ”کلاس فیلو“ ہیں۔
(٢٣، ٢٤ اپریل ٢٠٠٠ء، روزنامہ اوصاف اسلام آباد)
(٤) ...... قادیانی حضرات کا محمدﷺ سے کیا تعلق ہے؟
ہندوستان کے قصبے قادیان ضلع گورداسپور میں انیسویں صدی کے آخری ربع میں مرزا غلام احمد قادیانی نے متعدد دعوے کر کے ایک نئی جماعت کی بنیاد ڈالی جس کا نام ”جماعت احمدیہ“ رکھا گیا۔ مرزا صاحب کے ایسے دعوے سامنے آئے جو مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہ تھے۔ ایک طرف انہوں نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا تو دوسری طرف امام مہدی کا بھی کر دیا۔ ایک طرف اپنے آپ کو عیسیٰ ابن مریم کہا تو دوسری طرف امتی نبی کی نئی اصطلاح کے ساتھ نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ پہلے چودہویں صدی کے مجدد کا دعویٰ کیا تو آخر پر نبی تک بات پہنچا دی، پہلے کہا۔
(درثمین ص ٧٧، قادیان کے آریہ اور ہم ص ٥٧، خزائن ج ٢٠ ص ٤٥٦)
٣٠
بعد میں کہا: ”میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار بات اور آگے بڑھی تو یہاں تک پہنچی۔“
(براہین پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
مگر ہیں پہلے سے بڑھ کر اپنی شاں میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار بدر قادیان ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء)
مرزا غلام احمد صاحب نے ان اشعار کو فریم کروا کر اپنے گھر لگوالیا۔
مرزا صاحب ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو فوت ہو گئے۔ ان کے بعد ١٩١٤ء میں ان کے بیٹے مرزا محمود احمد نے جماعت کے دوسرے ”خلیفہ“ کے طور پر اقتدار سنبھالا تو انہوں نے احمدیت کو منظم کرتے ہوئے بالکل الگ امت کے طور پر پیش کر دیا۔ مرزا غلام احمد کے دعویٰ کی وجہ سے تمام مسلمان فرقوں نے قادیانیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی تو مرزا محمود احمد نے ان کی اس کوشش کو عملی شکل دیتے ہوئے قادیانیوں کو باور کرایا کہ تمام مسلمان جنہوں نے مرزا غلام احمد کو نہیں مانا۔ کافر اور غیر مسلم ہیں۔ ان کے ساتھ نماز، روزہ کے اشتراک سے اجتناب کیا جائے معاشرتی تعلقات کو توڑتے ہوئے جماعت سے کہا کہ نہ مسلمانوں کو رشتے دیئے جائیں اور نہ ہی ان سے لیے جائیں۔ حتیٰ کہ ان کے ساتھ جنازہ میں شامل ہونے اور فاتحہ خوانی سے بھی منع کر دیا۔
دوسری طرف قرآن مجید کی تفسیر کرتے ہوئے سورۃ صف میں جہاں ایک آنے والے نبی کی خبر دی گئی ہے اور اس کا نام احمد رکھا گیا ہے۔ اسے مرزا غلام احمد کی طرف منسوب کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اصل میں یہ دوسرے دور میں آنے والے ”نبی“ (مراد مرزا غلام احمد) کی بالواسطہ خبر دی گئی ہے جس کے مصداق مرزا غلام احمد ہیں اور پھر کلمہ طیبہ میں رسول اللہ کے ذکر میں مرزا غلام احمد کا بالواسطہ ذکر بھی کر دیا کہ اب اس سے مراد محمد رسول اللہ کے ”روحانی فرزند“ مرزا غلام احمد ہیں جو کہ اصل میں اس دور کے محمد رسول اللہ ہی ہیں۔
اس تفسیر اور اس کے عملی نفاذ سے جو صورت بنی وہ ذیل کے دلچسپ سروے رپورٹ سے واضح ہوگی۔ محمدؐ سے احمد تک۔ (ایک دلچسپ سروے رپورٹ)
٣١
ہر مذہب کے افراد کے نام ان کے مذہب کے عکاس ہوتے ہیں۔ عموماً سنگھ کے لفظ سے سکھ مذہب ظاہر ہوتا ہے۔ یوسف مسیح، پرویز مسیح جیسے ناموں سے عیسائی مذہب کی عکاسی ہوتی ہے۔ محمد صدیق، محمد شریف جیسے ناموں سے مذہب اسلام واضح ہوتا ہے۔ قادیانی جماعت نے اپنے آغاز سے خود کو مسلمانوں کا ایک فرقہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ آہستہ آہستہ اپنے فرقہ کو اصل اسلام اور دیگر فرقوں کو دو نمبر اسلام ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مرزا محمود کے دور امامت میں قادیانی جماعت متشدد اور متعصب حد تک پہنچ کر اسلام سے علیحدہ ہوتی چلی گئی مسلمانوں سے ہر قسم کے میل جول کو شرعی طور پر ممنوع قرار دے دیا گیا۔ بلکہ مرزا محمود کے بھائی مرزا بشیر احمد ایم اے نے مسلمانوں کے بارے میں ”کافر بلکہ پکے کافر“ جیسے الفاظ استعمال کر کے دوری کو اور بڑھا دیا۔
نام کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا ہے جس میں یہ دیکھا گیا ہے کہ قادیانیوں میں نام کیسے رکھے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے ان کے نام ان کی مذہبی سوچ کے عکاس ہوں گے۔ ضلع جہلم میں محمود آباد ایک ایسا گاؤں (اب محلہ) ہے جہاں کی اکثریت قادیانی ہوا کرتی تھی۔ اور اسے ضلع جہلم میں قادیانیت کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے۔ ہر قسم کی مذہبی رسومات میں وہ عملاً آزاد ہیں بلکہ نمایاں ہیں۔
محمود آباد جہلم کے قادیانی افراد کے ناموں کے سروے میں محمد اور احمد ناموں کی نسبت تلاش کی گئی ہے۔ مثلاً ٧٠ افراد کے نام سامنے رکھے ان میں ٤٠ ایسے افراد ہیں جن کے ناموں کے ساتھ محمد یا احمد کا لفظ استعمال ہوا ہے اب دیکھا یہ گیا ہے کہ ٤٠ افراد میں سے کتنے فیصد نے محمد اور کتنے فیصد نے احمد نام رکھا ہوا ہے اور اس طرح ایک دلچسپ سروے رپورٹ تیار ہوئی ہے۔
سروے رپورٹ
محمود آباد جہلم میں پیدائش رجسٹر کے مطابق ١٩٣٣ء تا ١٩٤١ء پیدا ہونے والے قادیانی بچوں کے ناموں کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ محمد کے نام والوں کی تعداد ٤٨ فیصد اور احمد والوں کی ٥٢ فیصد ہے۔ واضح رہے ١٩١٤ء میں مرزا محمود احمد نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جماعت کی ”برین واشنگ“ شروع کر دی تھی۔ لہٰذا ١٩٣٣ء تا ١٩٤١ء قادیانی افراد ”دائرہ محمد“ سے نکل ”دائرہ احمد“ میں داخل ہو رہے تھے۔
١٩٥٠ء تا ١٩٥٢ء کے عرصہ میں پیدا ہونے والے افراد میں یہ نسبت یوں بنی کہ محمد کے نام والے ٢٨ فیصد رہ گئے اور احمد کے نام والوں کی تعداد بڑھ کر ٧٢ فیصد ہو گئی۔ ١٩٦٥ء تا ١٩٧١ء
٣٢
کے عرصہ میں پیدا ہونے والوں میں محمد کا نام رکھ ٨٠ فیصد ہو گئی۔
١٩٧٤ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اق قادیانیوں نے احتجاج تو کیا مگر ذہنی طور پر وہ قبو رہے تھے۔
١٩٨٤ء تا ١٩٩٢ء کے عرصہ میں پید فیصد رہ گئے اور احمد والوں کی تعداد ٩٩ فیصد ہو گ علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا۔
یہ سروے تاریخ پیدائش کے حوالے لیتے ہیں جو جوان ہوئے اور معاشرے میں اچھ عمل ہیں۔ لہٰذا ایسے افراد جن کی عمر ساٹھ سال ی افراد کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں فوت ش کے بعد ان کے نام صفحہ ہستی سے مٹ نہیں گئے۔
١٩٤٠ء سے قبل پیدا ہونے والوں ک ٨٣ فیصد اور احمد کا نام رکھنے والوں کی صرف ١٦ ف جبکہ ١٩٤٠ء تا ١٩٧٠ء تک پیدا ہو ہے۔ ان کے ناموں میں نسبت تیزی کے ساتھ رکھنے والے ٩ فیصد اور احمد کا نام رکھنے والے ٩١ ف
١٩٤٠ء سے ١٩٧٠ء تک مرزا محمود ا قادیانی متعصب ہو چکے تھے۔ لہٰذا وہ اپنے بچ تھے۔ ذرا آگے بڑھیے ۔ ٤٠ سے کم عمر کے افرا محمد کا نام صرف ٠١ فیصد اور احمد کا نام ٩٩ فیصد ر سے کلی منہ موڑ کر دائرہ احمد میں داخل ہو کر نہ صر اعلان کر دیا ہے بلکہ ١٩٧٤ء میں امت مسل توثیق بھی کر دی ہے۔
کے عرصہ میں پیدا ہونے والوں میں محمد کا نام رکھنے والوں کی تعداد ٢٠ فیصد رہ گئی اور احمد کی بڑھ کر ٨٠ فیصد ہو گئی۔
١٩٧٤ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر مسلمانوں سے علیحدہ کر دیا گیا۔ قادیانیوں نے احتجاج تو کیا مگر ذہنی طور پر وہ قبول کر چکے تھے کیونکہ وہ خود ہی دائرہ محمد سے باہر آ رہے تھے۔
١٩٨٤ء تا ١٩٩٢ء کے عرصہ میں پیدا ہونے والے افراد میں محمد کا نام رکھنے والے ١٠ فیصد رہ گئے اور احمد والوں کی تعداد ٩٠ فیصد ہو گئی۔ اور یوں قادیانیوں نے خود ہی مسلمانوں سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا۔
یہ سروے تاریخ پیدائش کے حوالے سے تھا۔ اب ذرا ایسے افراد کے ناموں کا جائزہ لیتے ہیں جو جوان ہوئے اور معاشرے میں اچھا برا اثر چھوڑ کر یا تو دنیا سے چلے گئے یا ابھی سرگرمِ عمل ہیں۔ لہٰذا ایسے افراد جن کی عمر ساٹھ سال ہو چکی ہے۔ یعنی ١٩٤٠ء سے قبل پیدا ہونے والے افراد کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں فوت شدہ افراد بھی شامل ہوں گے کیونکہ ان کے مرنے کے بعد ان کے نام صفحہ ہستی سے مٹ نہیں گئے۔
١٩٤٠ء سے قبل پیدا ہونے والوں کی نسبت یوں بنی کہ محمد کا نام رکھنے والوں کی تعداد ٨٤ فیصد اور احمد کا نام رکھنے والوں کی صرف ١٦ فیصد تھی۔
جبکہ ١٩٤٠ء تا ١٩٧٠ء تک پیدا ہونے والے یا جن کی عمر اس وقت ٣٠ سے ٦٠ سال ہے۔ ان کے ناموں میں نسبت تیزی کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ اب نسبت یہ بنتی ہے کہ محمد کا نام رکھنے والے ٩ فیصد اور احمد کا نام رکھنے والے ٩١ فیصد ہوتے ہیں۔
١٩٤٠ء سے ١٩٧٠ء تک مرزا محمود احمد اور مرزا بشیر احمد کی کوششیں رنگ لا چکی تھیں۔ قادیانی متعصب ہو چکے تھے۔ لہٰذا وہ اپنے بچوں کے ناموں میں خاص ”احتیاط“ برت رہے تھے۔ ذرا آگے بڑھیے۔ ٣٠ سے کم عمر کے افراد اور بچوں کے ناموں نے فیصلہ ہی کر دیا۔ اب محمد کا نام صرف ١٠ فیصد اور احمد کا نام ٩٠ فیصد رکھ کر سارا مسئلہ ہی حل کر دیا گیا ہے۔ ”دائرہ محمد“ سے کلی منہ موڑ کر دائرہ احمد میں داخل ہو کر نہ صرف قادیانیوں نے مسلمانوں سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے بلکہ ١٩٧٤ء میں امت مسلمہ کی طرف سے غیر مسلم قرار دینے والے فیصلے کی توثیق بھی کر دی ہے۔
٣٣
واضح رہے کہ اب قادیانی خود بچوں کے نام نہیں رکھتے بلکہ پیدائش سے قبل ہی لندن میں خط لکھ دیتے ہیں نام کے لیے۔ وہاں سے دو نام آجاتے ہیں کہ اگر لڑکا ہو تو یہ نام رکھیں اور لڑکی ہو تو یہ۔ ان کی طرف سے محمد، عمر، عثمان، حسن، حسین، فاطمہ، خدیجہ، آمنہ، زینب جیسے اسلامی ناموں سے مکمل ”پرہیز“ کیا جاتا ہے۔ بے شک وہاں سے ”گوری“۔ ”کالی“ جیسے نام آجائیں بخوشی قبول کر کے بچوں کے منہ پر مل دیں گے۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد مورخہ ٥ مئی ٢٠٠٠ء)
(٥)...... قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو ناکام ثابت کر دیا
قادیانی جماعت اپنی تحریر و تقریر میں عوام الناس بالخصوص قادیانی احباب کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایسے میں دنیا میں آئے جب لوگ اسلام سے دور جاچکے تھے۔ مسلمان صرف نام کے مسلمان رہ گئے تھے۔ زمانہ جاہلیت ایک بار پھر بنی نوع انسان کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا اور مسلمان کسی مسیحا کی تلاش میں تھے۔ اس وقت مرزا صاحب آئے تا کہ اصل اسلام کو پیش کر کے اسلام سے دور ہونے والے مسلمانوں کو ایک بار پھر اسلام کے قریب لاسکیں اور غیر مسلموں کو اسلام کا اصل چہرہ پیش کر کے اسلام کے خلاف ان کی غلط فہمیوں کو دور کر سکیں۔ عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے اسلام پر حملوں کا دفاع کر سکیں۔ مسلمانوں کی تربیت کر کے ان کو خدا کے قریب لاسکیں تا کہ دنیا میں مسلمان ایک سچے مسلمان کی طرح رہ کر معاشرہ میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو دور کر سکیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ توحید کا قیام یعنی لوگوں کو ایک خدا کی طرف لا کر دنیاوی بتوں کو توڑ دیا جائے۔
اب جبکہ مرزا صاحب کو دنیا میں آکر اپنی پوری کوشش کے ساتھ اپنے جوہر دکھا کر ایک جماعت کو وجود میں لائے ایک سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور مرزا صاحب کے بعد ان کے چار جانشین اس جماعت میں اپنی پوری قوت و ہمت کے ساتھ اس کی تنظیم و ترقی میں اپنا کردار ادا کر چکے ہیں۔ تو آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا مرزا صاحب اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے؟ جو دعوے انہوں نے کیے تھے کیا وہ پورے ہوئے؟ انہوں نے جو کہا تھا کہ اب اسلام کی ترقی ان کے ذریعہ ہوگی اور دنیا میں بہترین اسلامی معاشرہ اب ان کے دم سے وجود میں آئے گا کیا ان کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہوا؟
ایک ایسا آدمی جو مدعی نبوت ہو تو اس کے تمام دعوے سچے ہوتے ہیں۔ اس کے
٤٢
دعوؤں کو پرکھنے کے لیے دلائل و براہین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مرزا صاحب کے ”دیکھو اور انتظار کرو“ کے فارمولے کے مطا فیصلہ کر دیا ہے۔
ایک سائنس دان علم فلکیات کے سورج گرہن ہوگا اور فلاں فلاں علاقے میں میں طوفان آئیں گے۔ موسم تبدیل ہو جائے اس کے علم اور تجربے کی بنیاد پر اہمیت دیں بـ جانتے ہیں یہ بڑا سائنس دان ہے۔ کچھ کہتا کرلیتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اس کا دعویٰ کتنا گوئی پوری نہیں ہوتی تو تینوں گروپ (سب آئیے اب جائزہ لیتے ہیں کہ کـ قادیانیوں میں اسلامی روح پیدا ہوچکی ہے قادیانی عبادات و صدقات میں ان کے بقول ہیں؟ کیا قادیانی اعمال صالح کے ”حصین آئیے دیکھتے ہیں کہ قادیانیوں نے اپنے عمل کیا۔ سب سے پہلے عبادات کے حوالے سے
نماز
قرآن مجید میں سب سے زیادہ اور نماز کے متعلق تمام سر براہان جماعت نے کو واضح بھی کیا اور خاصا لٹریچر بھی اس کے بالکل الٹ نتیجہ سامنے آتا ہے۔ قادیانی جما ضلع جہلم، چکوال، راولپنڈی اور تحصیل گوجـ ذاتی مشاہدے پر مبنی ہے بلکہ بہاولپور شہر ہوں۔ ان سب جماعتوں میں یہ حالت ہـ
دعوؤں کو پرکھنے کے لیے دلائل و براہین کے ساتھ ساتھ ”دیکھو اور انتظار کرو“ کے فارمولے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مرزا صاحب کے دور میں تو دلائل و براہین کی ضرورت تھی مگر اب ”دیکھو اور انتظار کرو“ کے فارمولے کے مطابق پرکھا جائے گا کیونکہ وقت نے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کر دیا ہے۔
ایک سائنس دان علم فلکیات کے متعلق دعویٰ کرتا ہے کہ اتنے سال بعد فلاں وقت سورج گرہن ہوگا اور فلاں فلاں علاقے میں دیکھا جاسکے گا۔ اس کی وجہ سے دنیا کے فلاں علاقے میں طوفان آئیں گے۔ موسم تبدیل ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ اس سائنس دان کے دعوے کو لوگ اس کے علم اور تجربے کی بنیاد پر اہمیت دیں گے بعض کہیں گے کہ بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں یہ بڑا سائنس دان ہے۔ کچھ کہیں گے باتیں تو ٹھیک نظر آتی ہیں کچھ کہیں گے انتظار کر لیتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اس کا دعویٰ کتنا سچا ہے اب اگر مذکورہ عرصہ گزرنے کے بعد وہ پیش گوئی پوری نہیں ہوتی تو تینوں گروپ (سب لوگ) اسے ناکام قرار دیں گے۔
آیئے اب جائزہ لیتے ہیں کہ کیا مرزا صاحب کے دعوے اور خواہش کے مطابق قادیانیوں میں اسلامی روح پیدا ہو چکی ہے۔ کیا خالص اسلامی معاشرہ وجود میں آچکا ہے؟ کیا قادیانی عبادات و صدقات میں ان کے بقول ”پرانے مسلمانوں“ سے نمایاں طور پر آگے نظر آتے ہیں؟ کیا قادیانی اعمال صالح کے ”حسین نمونے“ سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں؟ آیئے دیکھتے ہیں کہ قادیانیوں نے اپنے عمل سے مرزا صاحب کو کامیاب ثابت کیا یا ناکام ثابت کیا۔ سب سے پہلے عبادات کے حوالے سے جائزہ لیتے ہیں۔
نماز
قرآن مجید میں سب سے زیادہ زور نماز پر دیا گیا ہے جماعت بھی اس کو تسلیم کرتی ہے اور نماز کے متعلق تمام سربراہان جماعت نے خصوصی توجہ بھی دی ہے۔ تقریر و تحریر سے اس کی اہمیت کو واضح بھی کیا اور خاصا لٹریچر بھی اس کے متعلق تیار کیا اب اگر افراد جماعت کے عمل کو دیکھیں تو بالکل الٹ نتیجہ سامنے آتا ہے۔ قادیانی جماعت میں عملی طور پر نماز کی بالکل اہمیت نہیں ہے۔ میں ضلع جہلم، چکوال، راولپنڈی اور تحصیل گوجر خان کی جماعتوں کا نقشہ پیش کرسکتا ہوں جو میرے ذاتی مشاہدے پر مبنی ہے بلکہ بہاولپور شہر کی جماعت کی نماز کے بارے میں حالت بیان کر سکتا ہوں۔ ان سب جماعتوں میں یہ حالت ہے کہ اگر جمعہ کی نماز میں ١٥٠ افراد آتے ہیں۔ (اس سے
٣٥
وہاں کی جماعت کی تعداد ظاہر کرنا مقصود ہے) تو صبح کی نماز میں ٢، ظہر کی نماز میں ٢، عصر کی نماز ٣، مغرب کی نماز میں ٨ اور عشاء کی نماز میں اوسطاً ٥ افراد آئیں گے۔ مگر شہری اور دیہاتی جماعتوں کی حالت میں فرق بھی ہے۔ شہری جماعتوں میں فجر، ظہر اور عصر کے وقت عبادت گاہیں ”تالے“ کی زیر نگرانی رہیں گی۔ مغرب اور عشاء میں دو تین افراد ہو سکتے ہیں۔ دیہاتی مجالس میں قدرے بہتر حالت ہوگی۔ مغرب میں بچوں کی وجہ سے تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس کے مقابل مسلمانوں میں نماز کی حالت قادیانی کی نسبت بہت ہی اچھی ہے۔ جنہیں ہدایت دینے والا چودہ سو سال قبل آیا تھا ان کی حالت یہ ہے کہ تمام مساجد پانچ وقت نمازیوں سے آباد رہتی ہیں۔ پانچوں وقت باجماعت نماز ہوتی ہے۔ نماز کے وقت مسجدوں کے باہر بہت ایمان افروز نظارہ ہوتا ہے لوگ کاروبار چھوڑ کر مسجد کی طرف دوڑ رہے ہوتے ہیں اور مسجد میں جوق در جوق داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔
اگر کسی شہر میں مختلف دفاتر میں قادیانیوں کی تعداد کو لیں تو ظہر اور عصر کی نماز ان میں سے ایک بھی نہیں پڑھے گا جبکہ عام مسلمانوں کی حالت یہ ہوگی کہ ہر دفتر میں باجماعت نماز ہوگی اور نماز کے وقت اکثر دفتر خالی ہو جائیں گے۔ قادیانیوں کے ”خاص لوگوں کا“ بھی ذرا حال پڑھیے۔ اگر قادیانی جماعت کی کسی بھی تنظیم کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہو رہا ہو۔ (میں نوجوانوں کی تنظیم خدام الاحمدیہ کی مجالس عاملہ کے کردار کا عینی شاہد ہوں ) بے شک ضلعی یا علاقائی مجلس عاملہ کا اجلاس ہو۔ (ظاہر ہے اس میں قادیانی جماعت کی ”کریم“ شامل ہوگی) عصر کی نماز کے بعد اجلاس شروع ہوا مغرب کی نماز کا وقت گزر گیا۔ عشاء سے قبل اجلاس ختم ہوا۔ اگر تو اجلاس عبادت گاہ میں نہیں ہو رہا کسی کے گھر یا دفتر میں ہے تو یقینی بات ہے کہ اجلاس برخاست ہونے کے بعد تمام ممبران خاموشی سے گھروں کو چلے جائیں گے نہ باجماعت نماز ہوگی اور نہ ہی فرداً فرداً پڑھیں گے۔ اور اگر یہ اجلاس عبادت گاہ میں ہو رہا ہے تو عین ممکن ہے نماز کھڑی ہونے پر کوئی ان کو ”ڈسٹرب“ کر دے کہ نماز شروع ہونے والی ہے آ جائیے۔ تو پھر ممبران بادل نخواستہ اس میں شامل ہو جائیں گے۔ اگر کوئی ڈسٹرب نہیں کرتا تو اجلاس جاری رہے گا اگر کوئی ممبر کہہ دے گا کہ نماز پڑھ لیتے ہیں تو فوراً جواب ملے گا کہ عشاء کے ساتھ ”جمع“ کر لیں گے۔ گویا عبادت گاہ میں بیٹھ کر بھی بروقت نماز نہیں پڑھیں گے۔ اب اگر اجلاس عشاء سے پہلے ختم ہو جاتا ہے تو ممبران بغیر نماز پڑھے چلے جائیں گے اگر عشاء کے قریب ختم ہو تو ممبران صرف تین فرض پڑھ کر مغرب کو ٣٦
”فارغ“ کر دیں گے اور پھر عشاء کے چار فرض اور تین وتر ادا کر کے فارغ ہو جائیں گے۔ یہ سودا ہر قادیانی کو منظور ہے۔ مغرب کو خود ”مس“ کریں گے اور عشاء کے ساتھ ملا کر ”جمع کر کے“ سنتوں اور نفلوں کو ”جھاڑ“ کر ”وزن“ کو کم کرلیں گے۔
جہاں تک ممبران عاملہ کے انفرادی کردار (نماز کے حوالے سے) کا تعلق ہے ان کے لیڈر، قائد، نماز سے خاصے ”الرجک“ ہوتے ہیں ایسے قائد شہر و ضلع بھی دیکھے ہیں جو کبھی عبادت گاہ میں آتے بھی نہیں اور اگر افسران بالا تک یہ بات پہنچے بھی تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ اس کا ”ذاتی معاملہ“ ہے گویا جماعت کی بالا قیادت بھی نماز کا نہ پڑھنا برا نہیں مانتی بلکہ بے نمازی کی حمایت کرتی ہے۔
جماعت میں نماز جمع کرنے کا عام رواج ہے جو نہ صرف نمازوں میں عدم دلچسپی کا ثبوت ہے بلکہ نمازوں کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ ایک قادیانی کسی دفتر میں ملازم ہے اولاً تو وہ ظہر، عصر، مغرب کی نماز پڑھے گا ہی نہیں۔ اگر کسی کے کہنے پر ظہر اور عصر کی نماز پڑھے گا تو یقیناً اور لازماً وہ دونوں نمازوں کو جمع کرے گا اور یوں چار چار فرض پڑھ کر وہ اس ”بوجھ“ کو اتارے گا۔
قادیانیوں میں نماز کے التزام میں مذاق ہی مذاق نظر آتا ہے۔ نہ نمازوں میں با قاعدگی، نہ نمازوں کو بر وقت ادا کرنے کی کوشش، نہ نمازوں میں سنتوں اور نفلوں کو ادا کرنے پر توجہ، نہ وضو کے بارے میں سنجیدہ۔ سردی ہے تو چلتے چلتے دیوار پر ہاتھ مارا اور منہ پر پھیر کر تیمم کر لیا۔ وضو کرتے وقت پاؤں پر جرابوں پر ہاتھ پھیر کر فارغ، تین دن تک یعنی ١٥ نمازوں تک مسلسل پاؤں دھوئے بغیر جرابوں پر ”مسح“ کرنا جائز سمجھتے ہیں اور خاص حالات میں سات دن تک۔ گویا وضو سے لے کر نماز کے اختتام تک سارا عمل ”فری سٹائل“ ہوگا۔ جبکہ وہ مسلمان جن کی بے دینی اور بے عملی کے بارے میں قادیانی جماعت کا لٹریچر بھرا ہے ان کی یہ حالت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہو کر جتنی سردی ہو، کوٹ اور جرابیں اتاریں گے۔ ٹھنڈا یا گرم پانی جو بھی دستیاب ہو، اس سے مکمل وضو کریں گے۔ باجماعت نماز کے لیے ”رش“ کریں گے باجماعت نماز ادا کر کے پوری سنتیں اور نوافل ادا کریں گے۔ دفاتر میں ملازم افراد کی اکثریت ظہر اور عصر کی نماز ادا کرے گی جمع نہیں کرے گی۔ بلکہ ”تفریق“ رکھے گی۔ قادیانی جب باجماعت نماز ادا کرتے ہیں تو نماز کے بعد سنتیں پڑھنے کے بعد فوراً بھاگتے ہیں کسی بھی مرحلے پر دعا نہیں کی جاتی جبکہ مسلمان نماز شروع کرنے کے بعد دعاؤں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا، اس سے درود
٣٧
شریف کا ورد ہوگا پھر دعا شروع ہوگی۔ سنتوں کے بعد انفرادی دعا۔ بعد میں امام کی طرف سے اجتماعی دعا (بطور خاص نماز جمعہ کے بعد) اور پھر ہر دعا میں امام کی طرف سے عام فہم دعائیں بلند آواز میں جس میں روزمرہ کی ضروریات، قومی اور ملکی مسائل، عالم اسلام کو درپیش مسائل، اور غریبوں اور بیماروں کے لیے خصوصی دعائیں شامل ہوں گی۔ قادیانیوں میں ان باتوں کا تصور بھی نہیں۔ ضلع جہلم، چکوال، راولپنڈی، اسلام آباد اور بہاولپور کی مسلمان آبادی اپنے علاقوں میں موجود قادیانی جماعت کے بارہ میں کسی طرح بھی یہ نہیں کہہ سکتی کہ قادیانی نمازوں میں بہتر ہیں اور کوئی قادیانی جماعت اپنے قریب بسنے والے مسلمانوں کی نسبت اپنے آپ کو نمازوں میں بہتر ثابت نہیں کرسکتی۔
یہ ان دو گروپوں کا موازنہ تھا جن میں سے ایک کو گائیڈ کرنے والا یا تربیت کرنے والا چودہ سو سال پہلے آیا تھا اور دوسرے کو گائیڈ، تربیت کرنے والا ایک سو سال پہلے آیا تھا بلکہ ابھی ”خلافت“ (بقول قادیانی جماعت) قائم ہے۔
ایک سو سال سے مسلسل تربیت مل رہی ہے۔ مرزا صاحب اپنی جماعت کی کتنی تربیت کر سکے۔ ان میں کتنا مذہبی جذبہ پیدا کر سکے یا ان کو خالص مسلمان اور مومن بنا سکے؟ فیصلہ خود کیجیے۔
روزہ
اسلامی عبادات میں ایک اور اہم عبادت روزہ ہے جس کے بارے میں قرآن مجید میں بار بار حکم آیا ہے کہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں نماز کے بعد اس کا نمبر آتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں میں روزہ کی کیا اہمیت ہے؟ یا مرزا صاحب اپنی جماعت میں روزہ کے بارے میں کتنی بیداری پیدا کر سکے۔
قادیانی جماعت میں روزہ کے ساتھ ”فری سٹائل“ سلوک کیا جاتا ہے۔ قادیانی لٹریچر میں موجود ہے کہ ایک آدمی کسی دوسرے گاؤں سے پیدل چل کر یا تانگے پر مرزا صاحب کے پاس حاضر ہوا، روزہ رکھا ہوا تھا تو مرزا صاحب نے خود کھانے والی کوئی چیز منگوا کر روزہ کھلوا دیا اور کہا کہ سفر میں روزہ رکھنا مناسب نہیں۔ اگر کسی کے کان میں درد، یا دانت میں درد ہو تو روزہ کھلوا دیا کہ بیماری میں روزہ جائز نہیں بلکہ بعض دفعہ لوگوں نے سوال کیا کہ روزہ کی حالت میں اگر فلاں تکلیف ہو (کوئی معمولی تکلیف) تو کیا کرنا چاہیے۔ تو کہا کہ سوال ہی غلط ہے بیماری میں تو روزہ
٣٨
جائز ہی نہیں۔ اس وقت مرزا قادیانی نے کن حالات میں اور کس ماحول میں بات کی۔ کتنے سفر پر روزہ کی چھوٹ کا ذکر کیا اس کو چھوڑیں۔ دیکھتے ہیں کہ جماعت اس وقت کس لائن پر ہے کیونکہ ابھی مرزا قادیانی کو فوت ہوئے سو سال کا عرصہ نہیں گزرا اور ان کے جانشین بطور ”خلیفہ“ ابھی موجود ہیں۔
اس وقت حالت یہ ہے کہ اگر ایک قادیانی نے دن کے پچھلے پہر کوئی ایک گھنٹہ کا ہی سفر کرنا ہو جو ظاہر ہے آج کل پیدل یا تانگوں پر نہیں کیا جاتا بلکہ آرام دہ بسیں اور ویگنیں دستیاب ہیں تو وہ قادیانی صبح روزہ رکھے گا ہی نہیں۔ اگر کوئی کہہ دے کہ روزہ رکھ لو تو جواب ہوگا آج میں نے سفر کرنا ہے وہ سفر بے شک جہلم سے گوجرخان (ایک گھنٹہ) گوجرخان سے راولپنڈی (ایک گھنٹہ) یا راولپنڈی سے چکوال (ڈیڑھ گھنٹہ) وغیرہ وغیرہ۔ اگر کسی قادیانی کو زکام کا اندیشہ ہو کہ دن کو زکام لگ سکتا ہے آثار نظر آ رہے ہیں تو وہ روزہ نہیں رکھے گا۔ اگر جسم میں تھکاوٹ محسوس کر رہا ہے تو اب اندیشہ ہے کہ دن کو بخار ہو جائے لہذا روزہ چھوڑنے کا معقول بہانہ تیار ہے اس بارے میں مرزا طاہر احمد نے متعدد بار اور جماعت کے مربیوں نے بار بار جماعتی فلسفہ بتایا ہے کہ جب خدا نے بیماری اور سفر میں روزہ کی چھوٹ دے رکھی ہے تو اب روزہ رکھ کر خدا کو زبردستی راضی کرنے والی بات ہوئی جو مناسب نہیں۔ یا پھر روزہ رکھ کر خدا تعالیٰ کی ہستی کو چیلنج کیا جاتا ہے کہ تمہیں معلوم ہی نہیں دیکھو ہم نے سفر میں روزہ رکھ لیا ہے اور کچھ نہیں ہوا یا بیماری میں روزہ رکھ لیا ہے اور کچھ نہیں ہوا۔ اس فلسفے پر تو زور ہے مگر اس بات پر زور نہیں کہ آج جو روزہ چھوڑ رہے ہو کل سفر کی یا بیماری کی حالت ختم ہونے کی صورت میں ان روزوں کی تعداد پوری بھی کرنی ہوگی۔ لہذا قادیانی صرف روزہ چھوڑتے ہیں بعد میں رکھتے نہیں۔ اگر جماعت بعد میں روزہ رکھنے پر پابند کرے تو کوئی قادیانی روزہ چھوڑے ہی نہیں۔
اب صورت حال یہ ہے کہ کسی بستی میں بسنے والے بالغ قادیانی مرد و زن میں سے کم از کم ٥٠ فیصد بے روزہ ضرور ہوں گے باقی ٥٠ فیصد روزہ دار صرف (احتیاطاً لکھ رہا ہوں) اور یوں قادیانی روزہ کے ساتھ کھلم کھلا مذاق کرتے ہیں۔ اس کے مقابل مسلمان روزہ کی سختی سے پابندی کرتے ہیں ہر چھوٹا بڑا روزے کی پابندی کرے گا اور بالغ افراد کی کم از کم ٩٠ فیصد تعداد روزہ رکھے گی۔ ١٠ فیصد بے روزے صرف احتیاطاً لکھ رہا ہوں ایک مسلمان ٨ گھنٹے کے سفر پر بھی ہو تو وہ روزہ رکھے گا وہ جانتا ہے کہ آج کا دس گھنٹے کا سفر ١٤٠٠ سال قبل کے ایک گھنٹہ کے سفر کی شدت سے بھی کم شدت رکھتا ہے۔
٤٩
ٹرینوں میں سفر کرنے والے مسافروں کی اکثریت لمبے سفر پر جا رہی ہوتی ہے مگر ان میں سے اکثریت نے روزہ رکھا ہوتا ہے یہ سارے مسلمان ہوتے ہیں اگر ان میں کوئی قادیانی ہوگا تو لازماً بے روزہ ہوگا۔ اگر اس نے روزہ رکھا ہوا ہے تو وہ ”مخلص قادیانی“ نہیں کیونکہ اس نے اپنے امام کی بات نہیں مانی اور سفر میں روزہ رکھ لیا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ١٩٨١ء تا ١٩٨٣ء جب میں لاہور میں ایم ایس سی کے دوران احمدیہ ہوسٹل (دارالحمد ١٣٤-A مسلم ٹاؤن) میں رہتا تھا تو رمضان میں اس احمدیہ ہوسٹل میں دن کے وقت باقاعدہ کھانا پکتا تھا اور بے روزہ قادیانی باقاعدہ ڈائننگ ہال میں کھانا کھایا کرتے تھے۔ اور اس وقت مجھے اس سے خاصی تکلیف ہوتی جب یونیورسٹی کے ہاسٹل کے کچن تمام دن بند ہونے کی وجہ سے کچھ ایسے مسلمان طلبہ جو کسی وجہ سے روزہ نہ رکھتے تھے یا مذہب سے دوری کی وجہ سے بے روزہ ہوتے اور انہیں باہر کسی ہوٹل سے بھی کھانا نہ ملتا تو وہ احمدیہ ہوسٹل میں اپنے کسی قادیانی دوست کے پاس آجاتے اور یہاں سے کھانا کھاتے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس ہوسٹل میں کک مسلمان ہے اور وہ روزے سے ہوتا ہے اور قادیانی طلباء کو کھانا پکا کر دیتا ہے مزید لطف کی بات یہ ہے کہ ان بے روزہ قادیانیوں کی اکثریت ربوہ سے تعلق رکھتی تھی جو قادیانیوں کا مرکز تھا۔
یہ تھی صورت حال ایسے افراد کی جن کو تربیت دینے کا باقاعدہ انتظام موجود ہے اور ان کے مصلح کو گزرے ابھی سو سال بھی نہیں ہوئے بلکہ ابھی تسلسل جاری ہے۔ جبکہ دوسری طرف مسلمان عوام جن کا مصلح گزرے ١٤٠٠سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ قادیانیوں نے اپنے عمل سے اپنے مصلح کو کیا ثابت کیا کامیاب یا ناکام؟
زکوٰۃ
اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں چوتھے نمبر پر زکوٰۃ ہے۔ یہ ایک اسلامی لازمی چندہ ہے۔ اس کی ادائیگی لازمی ہے، اسلام کے آغاز میں خلفاء نے اس کی وصولی کے لیے باقاعدہ سختی کی ہے جو ایک ریکارڈ ہے آئیے دیکھتے ہیں کہ قادیانی اس کو کس طرح سمجھتے ہیں اور اس کی ادائیگی کا کیا اہتمام کرتے ہیں۔
قادیانیوں میں مالی قربانی پر بہت زور دیا جاتا ہے اور جماعت اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتی ہے۔ مگر اس میں زکوٰۃ شامل نہیں۔ ہر قادیانی پر کئی قسم کے چندے واجب ہیں جن کی
٤٠
ادائیگی اس کے لیے ہر حال میں ضروری ہے ورنہ اس کے کھاتے میں بطور بقایا جمع ہوتے جائیں گے جو مرتے دم تک پیچھا نہیں چھوڑیں گے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے لواحقین سے وہ چندہ وصول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مثلاً ہر بالغ فرد پر چندہ عام، جلسہ سالانہ، تحریک جدید اور وقف جدید جیسے چندے دینے واجب ہیں۔ چندہ عام ملازم پیشہ پر ٦.٢٥ فیصد کے حساب سے لاگو ہے مگر آہستہ آہستہ بے روزگاروں پر بھی اس دلیل کے ساتھ لاگو ہوگیا ہے کہ وہ اپنے روزمرہ معمولات کو جاری رکھنے کے لیے جیب خرچ کسی نہ کسی طرف سے حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا جیب خرچ کی بھی ایک آمد ہے لہٰذا چندہ لاگو۔ واضح رہے کہ ہر سال جولائی میں بجٹ تیار ہوتا ہے اس کے لیے باقاعدہ ہر فرد سے اس کی ماہوار آمدن پوچھی جاتی ہے پھر اس آمدن پر ہر فیصد کا فارمولا لگا کر ماہوار اور سالانہ چندہ بنایا جاتا ہے۔ چندہ جلسہ سالانہ ہر فرد پر ماہوار آمدن کے دس فیصد حصہ کو بطور سالانہ چندہ کے وصول کیا جاتا ہے۔ تحریک جدید ایک نفلی چندہ تھا مگر اب پیار سے سب کو گھیر لیا گیا ہے اب اس میں ہر مرد، عورت، بچہ، بوڑھا شامل کرلیا گیا ہے۔ وقف جدید بھی نفلی چندہ کے طور پر سامنے آیا۔ ستر فیصد قادیانی مرد و زن اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ ان سب چندوں کے مرکز سے انسپکٹرز آتے ہیں، ہر مجلس میں چندہ کی وصولی اور چندہ کو مرکز میں پہنچانا یقینی بناتے ہیں۔ باقاعدہ کھاتہ جات چیک ہوتے ہیں۔ ان چندوں کے علاوہ ذیلی تنظیموں کے چندے بھی ہیں۔ مذکورہ بالا لازمی چندوں میں زکوٰۃ بالکل شامل نہیں۔ نہ ہی کبھی جماعتی عہدیدار، مربی یا ”خلیفہ“ کی طرف سے زکوٰۃ کے لیے کہا گیا ہے، نہ زکوٰۃ کا کوئی انسپکٹر مرکز سے آتا ہے، نہ ہی اس کے کھاتے چیک ہوتے ہیں، نہ ہی یہ لازمی مد ہے اور نہ ہی نفلی۔ لہٰذا زکوٰۃ قادیانی جماعت میں مکمل طور پر نظر انداز کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے پرانے رجسٹروں میں ایک دفعہ غلطی سے زکوٰۃ کا لفظ شامل کیا گیا وہ صرف دیکھنے کے لیے ہے۔ پچھلے پانچ سال کے اگر کھاتے چیک کیے جائیں تو سارے کھاتے خالی نظر آئیں گے۔
دوسری طرف مسلمان ابھی تک زکوٰۃ دے رہے ہیں یعنی ١٤٠٠ سال گزرنے کے باوجود یہ ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ١/٧٤ ارب روپیہ بطور زکوٰۃ جمع ہونے والا مسلمان ہی ادا کرتے ہیں دیگر اسلامی ممالک میں بھی زکوٰۃ ادا کرنے والے مسلمان ہی ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی اسلام کے بنیادی ستون زکوٰۃ کے بارے میں جماعت کو کتنا ٹرینڈ کر سکے یا جماعت نے اپنے عمل سے کیا ثابت کیا فیصلہ خود کریں؟
٤١
حج
اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں ایک رکن حج ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ١٨٨٩ء میں قادیانی جماعت کی بنیاد رکھی اس کے بعد وہ ١٩ سال زندہ رہے مگر ایک حج نہ کیا۔ مان لیا کہ ان کے مالی حالات ایسے نہ ہوں گے کہ وہ حج کر سکتے لیکن وہ جماعت کو اس سلسلہ میں کیا ہدایت کر گئے۔ کیا قادیانیوں کی بنیادی تعلیم میں شامل ہے؟
صورتحال یہ ہے کہ اس وقت کا ایک نوجوان قادیانی (١٨ سالہ) حج کو قادیانیوں کے لیے ضروری نہیں سمجھتا بلکہ وہ اسے مسلمانوں کے لیے مخصوص جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ قادیانی حج نہیں کرتے بلکہ جلسہ سالانہ پر ربوہ قادیان یا لندن چلے جاتے ہیں۔ نہ ہی مرزا طاہر احمد قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ نے حج کی فضیلت یا مناسک حج کے بارے میں کبھی خطبہ دیا ہے البتہ جلسہ سالانہ کے ایک ایک پہلو کے بارے میں تفصیلی خطبات ہوتے رہتے ہیں نہ ہی مربیوں نے اس سلسلہ میں جماعت کو کچھ بتایا ہے۔
١٩٧٤ء میں پاکستان میں قادیانیوں کے لیے حج پر جانے پر پابندی لگ گئی جبکہ پاکستان بننے سے لے کر ١٩٧٤ء تک ٢٧ سالوں میں مرزا قادیانی کے خاندان نے بڑی مالی ترقی کی۔ جائیدادوں اور دولت کے انبار لگ گئے۔ ہر شہزادے کے نام کئی کئی مربع زمین آگئی۔ ربوہ میں کوٹھیاں، بنگلے تعمیر ہوئے، پیسے کی ریل پیل ہوگئی۔ مگر کتنے شہزادے ہیں جنہوں نے حج کیا؟ جو اب مایوس کن۔ جماعت کے کتنے مخلص قادیانی تھے جنہوں نے حج کیا؟ مرزا صاحب کی فیملی سے تعلق رکھنے والے تین سربراہان جماعت میں سے کتنے ہیں جنہوں نے حج کیے؟ عام قادیانیوں سے چند ایک نے جو باہر تھے کسی دوسرے ملک سے دوستوں کے ساتھ چلے گئے اور حج کر لیا۔
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ١٤٠٠ سال گزرنے کے باوجود حج کے موقع پر بیس لاکھ سے زائد مسلمان ہر سال حج کرتے ہیں۔ ان میں ایک فیصد بھی قادیانی نہیں ہوتے۔ بلکہ بیس لاکھ میں بیس قادیانی بھی نہیں ہوتے۔ یہ ضرور ہے کہ جب سے پابندی لگی ہے چند قادیانیوں نے صرف حج نہ کرنے کے الزام سے بچنے کے لیے خفیہ طور پر حج کیا ہے۔ اس وقت بہت سے ایسے قادیانی ہیں جو نہ صرف خود حج کر سکتے ہیں بلکہ اپنے بزرگوں کو بھی حج کروا سکتے ہیں مگر وہ کیوں کریں کیونکہ ان کے نصاب یا دین میں شامل ہی نہیں۔
جب سے مرزا طاہر احمد انگلینڈ گئے ہیں ضلع جہلم سے کئی درجن افراد جلسہ سالانہ میں
٤٢
شمولیت کے لیے لندن جاچکے ہیں۔ کئی درجن باق میں شامل ہو چکے ہیں۔ حالانکہ سرکاری ملازم گورن کر سکتا مگر قادیانی سرکاری ملازم جلسہ سالانہ میں شمو کے تمام پابندیوں کو توڑ کر نہ صرف انگلینڈ جاتے ہ ان کو پابندیاں نہیں روکتیں۔
یہ کیا ہوا مسلمانوں سے قادیانی ہونے وا دینی فریضہ نظر انداز کر گئے کیونکہ قادیانیوں کی کم از ک ہے۔ وہ مذہبی اور دینی لحاظ سے بہتر ہونے کی بجا اپنے عمل سے مرزا قادیانی کو کیا ثابت کیا۔ فیصلہ خود
قادیانیوں کی اخلاقی حالت
آئیے دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیا دینی لحاظ سے تو مسلمانوں سے قادیانی ہونے والو حج، روزہ زکوۃ۔ اب دیکھتے ہیں کہ اخلاقی لحاظ سے کیا بڑے شریف، بھلے مانس، ڈیوٹی کے پابند اور اچھے آگے پڑھیے۔ صورتحال یہ ہے کہ ہر شہر، ہر محلے اور ہ کہ خاصی مشکل سے تلاش کرنی پڑتی ہے۔ اپنی ان لہٰذا جہاں ہیں وہاں پر سانس کھینچے گزارہ کر رہے ہ نیچے جارہا ہے اور وہ عام مسلمانوں میں گھل مل کر رہ نے اپنی مذہبی بیداری کی وجہ سے ان کو ایک طرف کر کے مسلمانوں سے الگ کرنے کی جو مسلسل سع عاری کر دیا ہے۔ ان کو اتنا متعصب بنا دیا گیا ہے ک گوارہ نہیں کرتے۔ نہ کسی کے جنازے میں شریک ہ ہیں اور نہ ہی کسی کے چالیسویں میں۔ لہٰذا جب کسی کو اپنے پاس پھٹکنے نہ دیں گے۔ خوشی میں شامل شمولیت نہ کرنا۔
٤٣
شمولیت کے لیے لندن جاچکے ہیں۔ کئی درجن باقاعدہ ویزے لے کر قادیان (ہندوستان) جلسہ میں شامل ہوچکے ہیں۔ حالانکہ سرکاری ملازم گورنمنٹ کی اجازت کے بغیر بیرون ملک سفر نہیں کرسکتا مگر قادیانی سرکاری ملازم جلسہ سالانہ میں شمولیت اتنا ضروری سمجھتے ہیں کہ بغیر کسی اجازت کے تمام پابندیوں کو توڑ کر نہ صرف انگلینڈ جاتے ہیں بلکہ ہندوستان بھی چلے جاتے ہیں یہاں پر ان کو پابندیاں نہیں روکتیں۔
یہ کیا ہوا مسلمانوں سے قادیانی ہونے والے اصل اسلام سے بھی گئے اور ایک خالص دینی فریضہ نظرانداز کر گئے کیونکہ قادیانیوں کی کم از کم ٩٥ فیصد تعداد مسلمانوں سے قادیانی ہوئی ہے۔ وہ مذہبی اور دینی لحاظ سے بہتر ہونے کی بجائے پہلے سے بھی کمزور ہوگئے۔ قادیانیوں نے اپنے عمل سے مرزا قادیانی کو کیا ثابت کیا۔ فیصلہ خود کریں؟
قادیانیوں کی اخلاقی حالت
آئیے دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جو سلسلہ شروع کیا تھا اس کا کیا پھل ملا؟ دینی لحاظ سے تو مسلمانوں سے قادیانی ہونے والوں کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ نہ نماز، نہ روزہ، نہ حج، نہ زکوٰۃ۔ اب دیکھتے ہیں کہ اخلاقی لحاظ سے کیسا معاشرہ وجود میں آیا۔ عام تاثر یہ ہے کہ قادیانی بڑے شریف، بھلے مانس، ڈیوٹی کے پابند اور اچھے اخلاق کے لوگ ہوتے ہیں۔ حقیقت کیا ہے؟ آگے پڑھیے۔ صورتحال یہ ہے کہ ہر شہر، ہر محلے اور ہر محکمہ میں قادیانیوں کی آبادی یا تعداد اتنی کم ہے کہ خاصی مشکل سے تلاش کرنی پڑتی ہے۔ اپنی اس کم مائیگی کو وہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا جہاں ہیں وہاں پر سانس کھینچے گزارہ کر رہے ہیں۔ ١٩٧٤ء کے بعد سے ان کا گراف مسلسل نیچے جا رہا ہے اور وہ عام مسلمانوں میں گھل مل کر رہنے کے قابل نہیں رہے۔ ایک طرف مسلمانوں نے اپنی ذہنی بیداری کی وجہ سے ان کو ایک طرف کر دیا تو دوسری طرف ان کی اپنی جماعت نے ان کو مسلمانوں سے الگ کرنے کی جہد مسلسل سے اب انہیں آزادی سے جینے کے حقوق سے بھی عاری کر دیا ہے۔ ان کو اتنا متعصب بنا دیا گیا ہے کہ وہ عام مسلمانوں سے عام تعلقات رکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ نہ کسی کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں، نہ کسی کی فاتحہ خوانی، نہ کسی کے قل میں اور نہ ہی کسی کے چالیسویں میں۔ لہٰذا جب کسی غمی میں شامل نہ ہوں گے تو وہ بھی پھر آپ کو اپنے پاس بھٹکنے نہ دیں گے۔ خوشی میں شامل نہ ہونا اتنا قابل اعتراض نہیں جتنا کہ غمی میں شمولیت نہ کرنا۔
٤٣
اب قادیانی جس علاقے میں رہ رہے ہیں وہ کسی سے اونچا بھی نہیں بولیں گے اور جس دفتر میں کام کر رہے ہیں ان سے بھی ڈرے ڈرے سے رہیں گے۔ لہذا اس کم مائیگی اور احساس کمتری سے وہ سر نیچے کر کے چلتے ہیں اور دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ نظر نیچے کر کے چلنے والے کتنے شریف لوگ ہیں جو ایک کھلا دھوکہ ہے۔ قادیانیوں کی اصل شرافت دیکھنی ہے تو کسی ایسے دیہات میں دیکھیں جہاں ان کی تعداد نمایاں ہو یا نصف سے زیادہ ہو تو قادیانیوں کے بارے میں تمام غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔ ڈانگ مار، پھڈے باز، مقدمے باز ، جعل ساز، غاصب، ظالم اور اخلاقی بے راہ روی میں قادیانی عام مسلمانوں سے نمایاں مقام رکھتے ہوں گے۔
ضلع جہلم میں سب سے بڑا جعل ساز، جعلی ڈگریاں اور امتحانات میں جعل سازی کا ماہر ایک مخلص قادیانی ہے۔ اسے جماعت کی بھر پور سپورٹ حاصل ہے۔ شراب کے کاروبار وغیرہ پر بھی ان کی دسترس ہے۔ ایک مقدمے باز، قادیانی خاندان جس نے عرصے سے مسلمانوں کی زمینیں دبا رکھی ہیں اور کچھ ابھی چھوڑ دی ہیں۔ اپنی آبادی میں پھڈے باز اور غاصب مشہور ہے اپنے ساتھ پوری جماعتی سپورٹ رکھتا ہے بلکہ جماعت کا موقف ہے کہ اس کی سپورٹ ضروری ہے تا کہ علاقے میں اس کا رعب رہے جو جماعت کے لیے ضروری ہے۔
اس وقت ہزاروں قادیانی یورپ اور کینیڈا، امریکہ میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں اور کچھ ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ ان میں سے ٩٨ فیصد نے جعلی دستاویزات اور جعلی کیسوں کی بنیاد پر باہر سیاسی پناہ لے رکھی ہے (دو فیصد کی گنجائش احتیاطاً رکھ لی ہے ) اتنی جعل سازی تو بے دین اور مذہب سے دور بگڑے مسلمانوں میں بھی نہیں، جتنی مخلص اور کٹر قادیانیوں میں پائی جاتی ہے۔ اس جعل سازی میں جماعت پوری سپورٹ کرتی ہے۔ ان کا امیر جماعت ہو یا مربی ایسے جھوٹے کیس تیار کرنے، کروانے میں پوری مدد کرتے ہیں بلکہ جب ایک قادیانی باہر کسی ملک میں چلا جاتا ہے تو وہاں پر موجود قادیانی مبلغ ان کی مدد کر کے سیٹ کرواتے ہیں گویا جعل سازی کو با قاعدہ قبول کیا جاتا ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جو ارادہ لے کر آئے تھے قادیانیوں نے اپنے عمل سے انہیں ناکام ثابت کر دیا ہے۔ اب جبکہ مرزا صاحب کو آئے تو ایک سو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ عالم اسلام میں قادیانیوں کا کوئی نمایاں مقام نہیں بن سکا۔ بلکہ آہستہ آہستہ یہ یورپ کے زیرنگیں ہوتے جا رہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب
٤٤
ہندوستان، پاکستان سے قادیانی مالی فوائد حاصل شفٹ ہو جائیں گے اور باقی جو رہ گئے وہ مسل گی۔
ہو سکتا ہے کوئی کہہ دے کہ ابھی قا سے معاشرہ قائم کر سکیں۔ تو عرض ہے کہ ربوہ ڈیزائن کیا اور اپنی مرضی سے ڈویلپ کیا۔ ٩٥ آہستہ آہستہ ربوہ شفٹ ہوتے گئے پھر ریل او سالانہ اور دیگر اجتماعات کی وجہ سے بھی دوسر گئی ۔ اپنے سکول، کالج اور یونیورسٹی ہونے او معاشرہ پیدا نہ ہو سکا۔ بلکہ اخلاقی لحاظ سے گرا اگر کسی جگہ (ربوہ سے باہر) کل قادیانیوں کا قادیانیوں کی ٩٠ فیصد آبادی شرافت کے جس تعداد اس معیار تک پہنچ سکے گی۔
چوری، ڈاکے، لڑائی، جھگڑے او دوسرے شہروں کی نسبت کوئی نمایاں فرق نہیں ممالک میں چوری، ڈاکے، لڑائی، جھگڑے س
...... (٦)
قادیانی جماعت میں معجزات کا بہو میں معجزات کے ظہور کا تذکرہ ہو جاتا ہے۔ فلا نشانی ہے۔ فلاں آدمی کی لاٹری نکل آئی ۔ قا ہو گیا، فلاں حادثے میں مر گیا۔ یہ ہے قادیانیو
خاکسار نے کیونکہ اس جماعت قادیانی فیملی میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے میری
ہندوستان، پاکستان سے قادیانی مالی فوائد حاصل کرنے کی غرض سے جعلی کاغذات کی بناء پر یورپ شفٹ ہو جائیں گے اور باقی جو رہ گئے وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ مذہب کی کشش ختم ہو جائے گی۔
ہوسکتا ہے کوئی کہہ دے کہ ابھی قادیانیوں کو موقع نہیں ملا کہ وہ کسی ملک میں اپنی مرضی سے معاشرہ قائم کرسکیں۔ تو عرض ہے کہ ربوہ کا شہر ایک ٹیسٹ کیس تھا۔ اسے جماعت نے خود ڈیزائن کیا اور اپنی مرضی سے ڈویلپ کیا۔ ٩٥ فیصد آبادی قادیانیوں کی بن گئی، مخلص اور کٹر قادیانی آہستہ آہستہ ربوہ شفٹ ہوتے گئے پھر ریل اور سڑک کی سہولت نے آبادی کو اور بڑھا دیا۔ جلسہ سالانہ اور دیگر اجتماعات کی وجہ سے بھی دوسرے شہروں کی قادیانی آبادی ربوہ کی طرف مائل ہوتی گئی۔ اپنے سکول، کالج اور یونیورسٹی ہونے اور ہر قسم کی تربیتی آزادی کے باوجود وہاں کوئی مثالی معاشرہ پیدا نہ ہوسکا۔ بلکہ اخلاقی لحاظ سے گراف عام شہروں کی نسبت نیچے کی طرف رہا۔ آج بھی اگر کسی جگہ (ربوہ سے باہر) کل قادیانیوں کا موازنہ کریں تو ربوہ کے علاوہ دوسرے شہروں کے قادیانیوں کی ٩٠ فیصد آبادی شرافت کے جس معیار پر اترے گی۔ ربوہ کی چالیس فیصد سے بھی کم تعداد اس معیار تک پہنچ سکے گی۔
چوری، ڈاکے، لڑائی، جھگڑے اور مقدمے بازی اور دیگر معاشرتی برائیوں میں بھی دوسرے شہروں کی نسبت کوئی نمایاں فرق نہیں ہے جبکہ اس وقت بھی دنیا کی بہت سے اسلامی ممالک میں چوری، ڈاکے، لڑائی، جھگڑے سے پاک مثالی معاشرہ اور ماحول آج بھی موجود ہے۔
(روزنامہ اوصاف، مورخہ ١٠، ١٢، ١٣؍مئی ٢٠٠٠ء)
(٦)...... قادیانی معجزات؟
قادیانی جماعت میں معجزات کا بہت تذکرہ ہوتا ہے۔ یہ بات بات پر جماعت کے حق میں معجزات کے ظہور کا تذکرہ ہوجاتا ہے۔ فلاں آدمی کو نوکری مل گئی، دیکھو یہ قادیانیت کی سچائی کی نشانی ہے۔ فلاں آدمی کی لاٹری نکل آئی۔ قادیانیت کا معجزہ ملاحظہ ہو؟.......... فلاں آدمی قتل ہو گیا، فلاں حادثے میں مر گیا۔ یہ ہے قادیانیت کا معجزہ؟!!!
خاکسار نے کیونکہ اس جماعت میں ٤٠ سال سے زائد عرصہ گزارا ہے اور ایک کٹر قادیانی فیملی میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے میری گھٹی میں قادیانیت کی تعلیم و معجزات کا رس گھول کر
٤٥
مجھے لبالب بھرا جاتا رہا ہے۔ بچپن سے ہی مربیوں (قادیانی مولوی) کی زبانی قادیانیت کے معجزات کا تذکرہ سنتے آ رہے تھے۔ اب جبکہ جماعت کا سارا اندرونہ دیکھنے کے بعد بقائمی ہوش و حواس قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کر چکا ہوں تو ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ ان ”معجزات“ پر بات کر لی جائے کیونکہ ایک مسلمان باہر سے ان معجزات کو صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتا اور ایک قادیانی ان معجزات کی صحت پر شک نہیں کر سکتا ورنہ اس کا جینا حرام کر دیا جائے گا۔
قادیانیوں سے اگر پوچھیں کہ قادیانیت کے معجزات کیا ہیں تو ان میں ”لیکھرام کا قتل“، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، ضیاء الحق کا قتل اور ڈاکٹر عبدالسلام کے نوبل انعام کی بات کریں گے۔ ان کے علاوہ چند اور طاعون کا ذکر بھی کریں گے آئیے ان پر تفصیل سے بات کریں۔
لیکھرام کا قتل
پنڈت لیکھرام آریوں کا ایک منہ پھٹ قسم کا (بقول قادیانی جماعت) مولوی (پنڈت) تھا۔ اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام کے خلاف بہت کچھ کہا۔ مرزا قادیانی پہلے کیونکہ اسلام کے دفاع میں میدان میں آئے تھے لہٰذا ان سے مقابلہ کرنے والے اسلام کے خلاف بدزبانی کرتے تھے۔ مرزا قادیانی نے اسے بدزبانی سے روکا مگر ندارد۔ آخر اس کی ہلاکت کی پیشگوئی کی اور باقاعدہ ایک عرصہ مقرر کیا اور عید کے دن سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد اس کی ہلاکت کی پیشگوئی کی۔ واضح رہے کہ میری معلومات قادیانی جماعت کے نقطہ نظر سے ہیں۔ دوسری طرف فی الحال میں کچھ نہیں جانتا۔
اور تیری جان نکلے گی بہ تکلیف شدید
قادیانی جماعت کی کتابوں میں ذکر ہے بلکہ خود مرزا قادیانی نے بھی اس کا اظہار کیا ہے کہ جب اس کی ہلاکت کی پیشگوئی کے چھ سال گزر گئے اور چند دن باقی رہ گئے تو سخت پریشانی پیدا ہوئی۔ آخری دن ”حضور“ (مرزا صاحب) بے چینی سے انتظار کر رہے تھے کہ کب لیکھرام کے قتل کی خبر آتی ہے آخر اس کی خبر آگئی کہ لیکھرام قتل ہو گیا اور قاتل تلاش کے باوجود نہیں مل سکا۔ مرزا صاحب نے کیونکہ اس کے قتل کے بارے میں پہلے سے اشتہار دے رکھا تھا لہٰذا ان پر قتل کا مقدمہ بنا مگر بوجوہ وہ بچ گئے۔
قادیانی لٹریچر میں موجود ہے کہ ایک خونخوار قسم کا آدمی لیکھرام کے پاس مرید کے طور پر
٤٦
آیا اور تین دن تک اس کے ساتھ ساتھ رہا۔ آخر ایک دن کہتی ہے کہ وہ ایک فرشتہ تھا جسے خدا نے بھیجا تھا اس ہے۔
اس واقعہ پر تھوڑا سا غور کرنے سے ہی پتہ والا اور بے چینی سے انتظار کرنے والا ہی اس خونخوار قسم پہلے عرض کروں کہ اس دور میں ایسے معجزات کی بہتات صرف پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ بہت سی شخصیات ا کے انتظار میں مبتلا رہتی ہیں۔ آئے دن کے دھماکوں ا بہت شخصیات کے لیے ”معجزات“ ہوتے ہیں۔ وہ شو طرح ”دعا“ بھی کرتی ہیں۔
اگر لیکھرام کے قتل سے کسی کی سچائی ظاہر ہو سچائی اس قتل سے ثابت ہوتی ہے تو اس طرح یورپ م ہوئے ہیں۔ جن کے لیے پاکستان میں ہر روز ایک معج نشانی ہے۔ اگر قاتل پکڑا نہیں جاتا تو یہ اعلیٰ شان کے م صرف ان شخصیات کو ان معجزات کا ادراک نہیں ورنہ وہ
شہزادہ عبداللطیف
اگر کوئی قادیانی جماعت چھوڑ جائے اور ا برملا تذکرہ ہوتا ہے کہ دیکھو فلاں شخص نے جماعت چھو مالی یا جانی نقصان ہوا۔ اور اگر کوئی نیا قادیانی بنے اس ا اس کے مکان کو تباہ کر دیں اس کے والدین اسے جائید کر گھر سے نکال دیں تو جماعت میں کہا جاتا ہے کہ ا دینی ہی پڑتی ہیں اور اگر کوئی قادیانی جماعت چھوڑ سنہری معجزات میں سے ہوگا۔ مگر اتفاق کی بات ہے کہ نہیں ہوئے۔ شاید خدا تعالیٰ قادیانیت کو چھوڑنے وال موت پر وہ اپنا ”مذہب“ نہ چمکا سکیں۔
٤٧
آیا اور تین دن تک اس کے ساتھ ساتھ رہا۔ آخر ایک دن موقع پا کر قتل کر کے بھاگ گیا۔ جماعت کہتی ہے کہ وہ ایک فرشتہ تھا جسے خدا نے بھیجا تھا اس کا نہ ملنا ہی قادیانیت کے معجزے کی دلیل ہے۔
اس واقعہ پر تھوڑا سا غور کرنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ اس کے قتل کا انتظار کرنے والا اور بے چینی سے انتظار کرنے والا ہی اس خونخوار قسم کے شخص کو بھیجنے والا تھا۔ کسی اور شک سے پہلے عرض کروں کہ اس دور میں ایسے معجزات کی بہتات ہے۔ ایک سال میں کئی درجن ”معجزات“ صرف پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ بہت سی شخصیات ان معجزوں کی وقوع پذیری کے لیے سخت قسم کے انتظار میں مبتلا رہتی ہیں۔ آئے دن کے دھماکوں اور بوری بند قتل اور دن دیہاڑے قتل سمیت بہت شخصیات کے لیے ”معجزات“ ہوتے ہیں۔ وہ شخصیات نہ صرف انتظار کرتی ہیں بلکہ پوری طرح ”دعا“ بھی کرتی ہیں۔
اگر لیکھرام کے قتل سے کسی کی سچائی ظاہر ہوتی ہے اور ایک آدمی کے لیے نبوت تک کی سچائی اس قتل سے ثابت ہوتی ہے تو اس طرح یورپ میں اور بہت سے ایسے نبی (نعوذ باللہ) بیٹھے ہوئے ہیں۔ جن کے لیے پاکستان میں ہر روز ایک معجزہ ہو رہا ہے۔ معجزہ کے لیے یہی ایک بڑی نشانی ہے۔ اگر قاتل پکڑا نہیں جاتا تو یہ اعلیٰ شان کے معجزے تو اب روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں صرف ان شخصیات کو ان معجزات کا ادراک نہیں ورنہ وہ فوراً ان کو ”کیش“ کروا لیتیں۔
شہزادہ عبداللطیف
اگر کوئی قادیانی جماعت چھوڑ جائے اور اس کا کوئی نقصان ہو جائے تو جماعت میں برملا تذکرہ ہوتا ہے کہ دیکھو فلاں شخص نے جماعت چھوڑی تو اسے یہ نقصان ہو گیا ہے۔ اسے فلاں مالی یا جانی نقصان ہوا۔ اور اگر کوئی نیا قادیانی اور اس کے تمام رشتے دار اس سے ناراض ہو جائیں اس کے مکان کو تباہ کر دیں اس کے والدین اسے جائیداد سے عاق کر دیں، اس سے سب کچھ چھین کر گھر سے نکال دیں تو جماعت میں کہا جاتا ہے کہ یہ آزمائش ہے، ابتلاء ہے۔ ایسی قربانیاں تو دینی ہی پڑتی ہیں اور اگر کوئی قادیانی جماعت چھوڑنے کے بعد فوت ہو جائے تو یہ قادیانیت کے سنہری معجزات میں سے ہوگا۔ مگر اتفاق کی بات ہے کہ ابھی تک ایسے معجزات جماعت کے پاس جمع نہیں ہوئے۔ شاید خدا تعالیٰ قادیانیت کو چھوڑنے والوں کو خاصی دیر تک زندہ رکھتا ہے تاکہ ان کی موت پر وہ اپنا ”مذہب“ نہ چمکا سکیں۔
٤٧
شہزادہ عبدالطیف افغانستان کے بادشاہ کے قریبی افراد میں سے تھے وہ ہندوستان آئے تو مرزا غلام احمد کے بارے میں سنا۔ قادیان چلے گئے اور مرزا صاحب کی بیعت کر کے قادیانی ہو گئے۔ وہ جب واپس افغانستان گئے تو ان کے حلقہ احباب میں پتہ چل گیا کہ یہ قادیانی ہو گئے ہیں۔ یہ بات بادشاہ تک پہنچی۔ اس نے مفتی کے پاس کیس بھیجا تو انہوں نے واجب القتل (سنگسار) قرار دے دیا۔ سب احباب نے ان کو قادیانیت چھوڑنے کے لیے کہا مگر وہ نہ مانے۔ چنانچہ اس سزا پر عمل کرتے ہوئے انہیں کھلے میدان میں کمر تک زمین میں گاڑا گیا اور پھر چاروں طرف سے پتھروں کی بارش ہو گئی اور آخر پتھر مار مار کر مار دیا گیا۔ یعنی سنگسار کر دیا گیا۔ قادیانی لٹریچر سے ہی پتہ چلتا ہے کہ پتھروں کا اتنا بڑا ڈھیر لگ گیا کہ شہزادہ صاحب نظر نہ آتے تھے پھر پہرہ لگ گیا کہ کوئی ان کی لاش نہ لے جاسکے۔ چند دن بعد رات کے اندھیرے میں کسی مرید نے ان کی لاش نکال کر کسی نامعلوم جگہ پر دفن کی مگر بعد میں وہاں سے کسی نے نکال کر غائب کر دی۔
اب ذرا غور کرنے والی بات ہے کہ ایک آدمی جو پہلے با عزت زندگی گزار رہا تھا۔ صوم صلوٰۃ کا پابند، نیک متقی، پرہیزگار شخص تھا (یہ اوصاف خود قادیانی بتاتے ہیں) جب وہ قادیانیت قبول کرتا ہے تو اسے سرعام پتھر مار مار کر سنگسار کر دیا جاتا ہے نہ اس کا جنازہ پڑھا جاتا ہے اور بے گور و کفن پڑا ہے۔ کیا قادیانیت قبول کرنے پر خدا کی طرف سے سخت ترین سزا نہیں تھی؟ اگر ایک شخص قادیانیت کو چھوڑ کر اس انجام کو پہنچتا پھر کیا یہ سزا ہوتی؟ مگر قادیانی اسے ”شہید“ کا لقب دے کر فخر سے بتاتے ہیں۔
کہتے ہیں مرزا صاحب نے افغانستان کی سرزمین کے لیے بددعا کی اور حکمرانوں کے لیے بہت کچھ کہا۔ کیا عبدالطیف کی ”قربانی“ یا مرزا صاحب کی دعائیں یا بددعائیں رنگ لائیں؟ کیا افغانستان میں قادیانیت تیزی سے پھیلی اور وہاں قادیانیت تناور درخت کی طرح موجود ہے؟ بلکہ اس کے بالکل الٹ ہے۔
عبدالطیف کے اس افسوسناک انجام کا تذکرہ اس لیے کر دیا گیا ہے کیونکہ آگے اسی قسم کے معجزات کا ذکر ہو گا یہ ان کے لیے تریاق کا کام دے گا۔
ذوالفقار علی بھٹو
١٩٧٠ء کے عام الیکشن میں قادیانی جماعت نے کھل کر پیپلز پارٹی کی حمایت کی۔ قادیانی نوجوان پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے بھی زیادہ سرگرمی سے الیکشن میں مصروف رہے۔ پیپلز
٤٨
پارٹی کو کامیابی ملی۔ ذوالفقار علی بھٹو صدر۔ وزیر اعظم پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کے ساتھ ایک جھگڑے سامنے آئی اور معاملہ خراب ہو گیا۔ اس وقت کی قو دے دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو قادیانیوں کو اپنا محسن سمجھ تھے۔ معاملہ قومی اسمبلی میں زیر بحث آیا تو قومی اسمبلی کیا گیا۔ دس دن تک ان سے جماعت کے بارے می موقف بیان کیا۔ مگر انداز بیان ایسا تھا کہ تمام ممبران پڑھنے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ مرزا ناصر احمد نے بجائے ان کو قائل کر کے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ خلا پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تو ذوالفقار فیصلہ ہو گیا۔
اب ظاہر ہے ذوالفقار علی بھٹو کا براہ راس لانے میں اہم کردار مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث نے ادا کیا۔ قادیانیوں کو جانی مالی نقصان ہوا تو وہ اجاگر کیا، ردعمل کے طور پر یہ نقصان سامنے آیا۔
جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ ١٩٧٧ء کے جلسہ سالانہ ربوہ پر قادیانی شاعر ثاقب لکھی جس میں فرعون اور ہامان کے انجام کا تذکر گیا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنا د دریافت کر لیا کہ لکھا۔ ”کلب یموت علی کلب“ ک کتے کے جتنے اعداد بنتے ہیں۔ اس کے مطابق تفصی میں یہ پیشگوئی ہے کہ اس کی عمر ٥٢ سال اور اعداد کا
اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ جنہوں جس کی نہ نیت تھی اور نہ ہی براہ راست کردار ادا کی نظر نہیں آئے اور جو اوپر تھا اسے رگڑ دیا گیا۔ پھر ف
٤٩
پارٹی کو کامیابی ملی۔ ذوالفقار علی بھٹو صدر۔ وزیر اعظم بن گئے۔ ١٩٧٤ء میں ربوہ کے ریلوے سٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کے ساتھ ایک جھگڑے پر چلنے والی تحریک، تحریک ختم نبوت کے طور پر سامنے آئی اور معاملہ خراب ہو گیا۔ اس وقت کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو قادیانیوں کو اپنا محسن سمجھتے تھے لہٰذا وہ ان کے خلاف کچھ نہ کرنا چاہتے تھے۔ معاملہ قومی اسمبلی میں زیر بحث آیا تو قومی اسمبلی میں جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کو طلب کیا گیا۔ ١١ دن تک ان سے جماعت کے بارے میں پوچھا جاتا رہا۔ جماعت نے تفصیل سے اپنا موقف بیان کیا۔ مگر انداز بیان ایسا تھا کہ تمام ممبران کو اپنے مخالف کر لیا۔ قومی اسمبلی کی کارروائی پڑھنے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ مرزا ناصر احمد نے اپنے انداز بیان سے ممبران کو قائل کرنے کی بجائے ان کو خلاف کر کے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ خلاف فیصلہ دیں۔ چنانچہ قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تو ذوالفقار علی بھٹو اس فیصلہ کو ماننے کے پابند تھے لہٰذا یہ فیصلہ ہو گیا۔
اب ظاہر ہے ذوالفقار علی بھٹو کا براہ راست اس فیصلہ میں عمل دخل نہ تھا بلکہ اس فیصلہ تک لانے میں اہم کردار مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا مودودی اور دیگر علماء اسلام نے ادا کیا۔ قادیانیوں کو جانی مالی نقصان ہوا تو ان علماء اسلام نے مسلمانوں میں غیرت ایمانی کو اجاگر کیا، ردعمل کے طور پر یہ نقصان سامنے آیا۔
جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور انہیں پابند سلاسل کر دیا گیا تو ١٩٧٧ء کے جلسہ سالانہ ربوہ پر قادیانی شاعر ثاقب زیروی نے ”انجام“ کے عنوان سے ایک نظم لکھی جس میں فرعون اور ہامان کے انجام کا تذکرہ کر کے ذوالفقار علی بھٹو کو اسی لائن میں کھڑا کیا گیا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی تو قادیانیوں نے مرزا صاحب کا الہام دریافت کر لیا کہ لکھا۔ ”کلب یموت علیٰ کلب“ کہ ایک کتا ہے وہ کتے کے اعداد پر مرے گا یعنی کتے کے جتنے اعداد بنتے ہیں۔ اس کے مطابق تفصیل یہ ”بنائی“ گئی کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں یہ پیشگوئی ہے کہ اس کی عمر ٥٢ سال اور اعداد کا مجموعہ بھی ٥٢ بنتا ہے لہٰذا وہ نہیں بچا۔
اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ جنہوں نے قادیانیوں کو کافر قرار دلوایا وہ تو بچ گئے اور جس کی نہ نیت تھی اور نہ ہی براہ راست کردار ادا کیا وہ پھنس گیا۔ کیا نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کو اصل مجرم نظر نہیں آئے اور جو اوپر تھا اسے رگڑ دیا گیا۔ پھر اگر اس طرح کا انجام (پھانسی) ذلت ناک ہے
٤٩
اور یہ کوئی معجزہ رکھتا ہے تو ایک بار شہزادہ عبداللطیف کے انجام کو پڑھیں وہ بھی تو کسی جماعت کے لیے معجزہ بن گئے ہوں گے؟
مزید سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر قادیانیوں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مجرم کو سزا دی تو جو جرم اس نے کیا تھا اور جس کی وجہ سے قادیانیوں کو تکلیف ہوئی تو وہ بھی تو ختم کرتا۔ قانون ختم ہو جاتا، اسمبلی کے ارکان معافی مانگتے۔ جنہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا وہ سزا پاتے اور قادیانی ایک بار پھر پہلے سے بہتر شان سے فیلڈ میں آجاتے۔ مگر ایسا نہیں۔ لہٰذا بھٹو کی موت کو کسی اور کے لیے ہی رہنے دیں۔ قادیانیوں کو اپنی طرف کھینچ کر کیش نہیں کروانا چاہیے۔
پھر یہ خدا کی طرف سے کیسی سزا ہے کہ پاکستان کے ٣/٤ کروڑ عوام اسے شہید سمجھتے ہیں اس کے لیے قرآن خوانی کرتے ہیں اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں اتنے تو دل مرزا غلام احمد قادیانی کے لیے نہیں دھڑکتے۔ جتنے بھٹو کے لیے دھڑکتے ہیں حالانکہ وہ عام قسم کا ایک سیاسی لیڈر تھا، کوئی مذہبی یا روحانی شخصیت نہ تھا۔
جنرل ضیاء الحق
١٩٧٤ء کے بعد قادیانیوں کا معاشرے میں جینا دوبھر ہو گیا۔ قادیانی چوری چھپے نوکری کرتے اس خوف میں مبتلا رہتے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے کہ میں قادیانی ہوں۔ سفر کے دوران، کھیل کے دوران، تعلیم کے دوران اور شاپنگ کے دوران قادیانی بے حد محتاط رہنے لگے۔ کسی پر ظاہر نہ ہونے دیتے کہ میں قادیانی ہوں۔ بھٹو کی وفات کے بعد قادیانی ایک بار پھر شیر ہو گئے مگر ابھی پوری طرح شیر نہیں ہوئے تھے کہ ضیاء الحق نے قادیانیوں پر ہاتھ ڈالا۔ ١٩٨٣ء سے قادیانیوں کے خلاف ایک بار پھر تحریک زور پکڑنے لگی اور اب قادیانیوں پر مزید پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ چنانچہ اپریل ١٩٨٤ء میں جنرل ضیاء الحق نے ایک آرڈیننس کے ذریعہ قادیانیوں کو مسلمانوں کی طرز پر اذان دینے سے روک دیا۔ اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد“ کہنے، اپنے آپ کو مسلمان کہنے، یا ظاہر کرنے پر پابندی لگا دی۔ مرزا غلام احمد کے جانشینوں کے لیے ”امیر المومنین“ کے الفاظ ۔ مرزا غلام احمد کی بیگمات کے لیے ”ام المومنین“ مرزا صاحب کے ساتھیوں کے لیے ”صحابی“ جیسے الفاظ استعمال کرنے سے روک دیا گیا۔
اب قادیانی بالکل زمین پر لگ گئے۔ مرزا طاہر احمد مئی ١٩٨٤ء میں انگلینڈ چلے گئے وہاں سے خطبات کے ذریعے قادیانیوں کے حوصلے بلند کرنے کی کوشش کرنے لگے اور ساتھ ساتھ
٥٠
نئے الزامات، اشارات کا تذکرہ ملتا رہا اور جماع میں یہ معجزہ ہوگا اور ابھی یہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ ١٨ مباہلہ کر دیا۔ مگر کئی مہینے اور سال گزرنے کے باوج مہینہ میں جنرل ضیاء الحق ایک حادثے میں مارے جماعت کی طرف سے سخت قسم کی خو ہو گیا اور جنرل ضیاء الحق انجام کو پہنچا اسے بہت بڑ
اب ذرا اس بات پر غور کیا جائے کہ وجہ سے خدا تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے آئے تو باقی ١٣ میں موقف اختیار کیا کہ فرعون کے ہاتھ، بازو بھی یہ ١٣١ افراد ضیاء الحق کے ساتھی نہ تھے چند ایک پائلٹ تھا تو کوئی ٹیکنیشن ۔ یہ سب افراد ضیاء الحق تھے جس طرح فرعون کے ساتھی اس کے ساتھ غ کیا خدا تعالیٰ اس بات پر قادر نہ تھا کہ وہ اسے علیحد وہ فیصلہ یا آرڈیننس ختم ہو گیا یا کسی کو جس بے جا ہے بلکہ متاثرہ فریق کے نقصان کی تلافی بھی کو ہے۔ یا مالی نقصان پورا کرنے کے احکامات صاد اس نے انصاف کرتے ہوئے متاثرہ فریق کی باللہ ) یا پھر اس فیصلے کا قادیانیوں کے ساتھ تعل طلب ہے کہ ١٧؍ اگست ١٩٨٨ء سے قبل کے ا ضیاء الحق کے خلاف جلوس نکل رہے تھے اس کی یعنی شاہد ہوں جس میں جنرل ضیاء الحق کے خلا اور یوں عوام میں جنرل ضیاء کے خلاف سخت نف کی حکومت توڑ کر ( محمد خان جونیجو کی حکومت ) بل کو روک کر انہیں بھی اپنے خلاف کر رکھا تھ دیکھتے لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے ہمدر
نئے الزامات، اشارات کا تذکرہ ملتا رہا اور جماعت کو حوصلہ دیا جاتا رہا کہ ابھی جماعت کے حق میں یہ معجزہ ہوگا اور ابھی یہ ہوگا وغیرہ وغیرہ ۔ ١٩٨٧ء کے شروع میں علماء اسلام کو پکارتے ہوئے مباہلہ کر دیا۔ مگر کئی مہینے اور سال گزرنے کے باوجود کسی عالم کو کچھ نہ ہوا۔ ١٩٨٨ء میں اگست کے مہینہ میں جنرل ضیاء الحق ایک حادثے میں مارے گئے ۔
جماعت کی طرف سے سخت قسم کی خوشی کا اظہار کیا گیا، نعرہ تکبیر بلند ہوئے کہ مباہلہ ہو گیا اور جنرل ضیاء الحق انجام کو پہنچا اسے بہت بڑا معجزہ قرار دیا گیا۔
اب ذرا اس بات پر غور کیا جائے کہ ضیاء الحق اگر قادیانیوں کے خلاف کچھ کرنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے آئے تو باقی ٣١ افراد کا کیا قصور تھا؟ مرزا صاحب نے اس بارے میں موقف اختیار کیا کہ فرعون کے ہاتھ، بازو بھی ساتھ ہلاک ہوئے یعنی اس کے ساتھی ۔ حالانکہ یہ ٣١ افراد ضیاء الحق کے ساتھی نہ تھے چند ایک کے علاوہ باقی اپنی ڈیوٹی ادا کر رہے تھے۔ کوئی پائلٹ تھا تو کوئی ٹیکنیشن ۔ یہ سب افراد ضیاء الحق کے ساتھ مل کر قادیانیوں پر حملہ آور نہیں ہوئے تھے جس طرح فرعون کے ساتھی اس کے ساتھ مل کر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حملہ آور ہوئے تھے۔ کیا خدا تعالیٰ اس بات پر قادر نہ تھا کہ وہ اسے علیحدہ ہلاک کرتا؟ پھر کیا جنرل ضیاء کی گرفت کے بعد وہ فیصلہ یا آرڈیننس ختم ہو گیا یا کسی کو حبس بے جا میں رکھا ہوتا ہے تو عدالت مجرم کو نہ صرف سزا سناتی ہے بلکہ متاثرہ فریق کے نقصان کی تلافی بھی کی جاتی ہے۔ اغوا شدگان کو بازیاب بھی کرایا جاتا ہے۔ یا مالی نقصان پورا کرنے کے احکامات صادر ہوتے ہیں کیا یہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر الزام نہیں کہ اس نے انصاف کرتے ہوئے متاثرہ فریق کی داد رسی نہیں کی یا تو خدا نے غلط فیصلہ دیا۔ (نعوذ باللہ) یا پھر اس فیصلے کا قادیانیوں کے ساتھ تعلق نہیں (یہی ممکن ہے) اس واقعہ کا دوسرا پہلو بھی غور طلب ہے کہ ١٧ اگست ١٩٨٨ء سے قبل کے اخبارات اٹھا کر دیکھیں پاکستان میں جگہ جگہ جنرل ضیاء الحق کے خلاف جلوس نکل رہے تھے اس کی پالیسیوں پر تنقید ہو رہی تھی بلکہ ایک جلوس کا میں خود عینی شاہد ہوں جس میں جنرل ضیاء الحق کے خلاف جنرل ایوب والے ’الفاظ‘ کا ورد کیا جا رہا تھا اور یوں عوام میں جنرل ضیاء کے خلاف سخت نفرت تھی۔ پیپلز پارٹی تو پہلے ہی خلاف تھی، مسلم لیگ کی حکومت توڑ کر (محمد خان جونیجو کی حکومت) اسے بھی اپنے خلاف کر لیا تھا۔ اور علماء کے شریعت بل کو روک کر انہیں بھی اپنے خلاف کر رکھا تھا۔ مگر جوں ہی اس کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔ دیکھتے دیکھتے لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے ہمدردی بھر گئی۔ لوگوں کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور اس
٥١
کے جنازہ میں اس کثرت کے ساتھ عوام شامل ہوئے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اور لوگوں کے اس کے حق میں جذبات دیکھنے اور سننے والے تھے۔ جنرل ضیاء الحق اپنی ڈیوٹی کے دوران وردی میں فوت ہو کر شہید تو ہو گیا۔ قادیانی اس سے انکار نہیں کر سکتے مگر اس کا کیا کریں کہ جو لوگ ایک دن قبل اس کے سخت خلاف تھے وہ فوراً ہی اس کے حق میں ہو گئے یہ محض خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ آج اس واقعہ کو بارہ سال ہو چکے ہیں ہر سال اس کی برسی میں لاکھوں عقیدت مند جاتے ہیں یہ عقیدت مند کون ہیں؟ پھر سارا سال اس کے مزار پر ہر روز اور ہر وقت کچھ نہ کچھ لوگ دعا کرنے اس کے مزار پر جا رہے ہوتے ہیں۔ اس کا مزار راستے میں نہیں ہے مگر پھر بھی لوگ اس کی طرف جاتے ہیں۔ شاید ہی کوئی اور سر براہ ایسا گزرا ہو جیسے اتنی عقیدت ملی ہو۔
اگر تو یہ قادیانیوں کی طرف سے ایک سزا اور انجام ہے تو ایسا انجام تو ہر مسلمان خوشی سے قبول کرے گا جس سے لاکھوں کروڑوں انسانوں کے دلوں میں نفرت کی بجائے ہمدردی اور عقیدت بھر جائے۔ قادیانی تو جس خدا کو پیش کرتے ہیں اس کی بڑی تعریفیں کرتے تھے کہ ہر مشکل کام کو آسان کر سکتا ہے مگر تجربات نے ثابت کیا کہ قادیانیوں کا خدا مسلمانوں کے خدا کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اس کی ایک اور وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں نے ایک خدا کو ساری طاقت کا سرچشمہ سمجھ رکھا ہے جبکہ قادیانیوں کے سینکڑوں خدا ہیں۔ اسی طرح طاقت تقسیم ہو گئی ہوگی۔ ( جماعت کے مبینہ خداؤں کا تذکرہ اگلے کسی مضمون میں )
بھٹو کی موت پیپلز پارٹی کے مخالفین کے لیے معجزہ تھی تو جنرل ضیاء الحق کی موت پیپلز پارٹی کے لیے، قادیانی خواہ مخواہ اپنا غصہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر قادیانیوں کے خلاف کام کرنے یا مخالفت کرنے پر کسی کو سزا ہو سکتی تھی تو آج تک کئی سو علماء اسلام عبرت ناک انجام کا شکار ہو چکے ہوتے کیونکہ سینکڑوں علماء کی کوششوں سے قادیانی اتنا نقصان اٹھا چکے ہیں کہ اس کی تلافی ممکن نہیں۔ ان کے خلاف اتنا لٹریچر تیار ہو چکا ہے جس کا عشر عشیر بھی قادیانی نہیں کر سکتے۔ عوام الناس کے ذہنوں میں قادیانیوں کے خلاف اتنا کچھ بھر دیا گیا ہے کہ اب قادیانیوں کے بارے میں کسی بھی اچھے تاثر کا پیدا ہونا ناممکن ہے۔ ١٩٧٤ء سے ٢٠٠٠ء تک مسلسل قادیانیوں کا گراف نیچے جا رہا ہے اور وہ اس سطح تک پہنچ چکا ہے کہ اوپر اٹھ ہی نہیں سکتا۔
١٩٧٤ء کے بعد پیدا ہونے والا بچہ جو اب ٢٥ سال کے قریب ہے اور اپنی تعلیم بھی ٥٢
مکمل کر چکا ہے۔ گویا عاقل بالغ ہو چکا ہے اس ہے وہ کبھی بھی قادیانیوں کو مسلمان نہیں سمجھ سکتا۔ بلکہ نہیں بلکہ قادیانی ہی کہے گا۔ مذکورہ بالا کئی سو علماء اسلا دنیا میں عبرت کا نشان بناتا۔ ہمارے دور کے مولا کاشمیریؒ اور مولانا مودودیؒ جیسے قاتل قادیانیت گئے۔ اب اگر ایک سو میں سے کوئی حادثے میں ہلا قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور آخر دم تک اس زخم سے پریشا آخری دور میں معذوری کی حد تک جا پہنچے۔ جماعت ہو گئے۔ کتنے حادثوں میں ہو گئے۔ قادیانیوں کو تو یہ کہ
ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا نوبل انعام
ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی پاکستان کے مشہ سائنسی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں نوبل عزت میں بھی اضافہ ہوا اور جماعت نے اپنا قد بڑ تو فوراً بعد قادیانیوں نے مرزا قادیانی کے ایک کہ : ”میرے فرقے کے لوگ علم اور معرفت میں آ
قادیانی جماعت کے لیے یہ تو خوشی کی ایک شخص کو عالمی انعام ملا ہے مگر اس کو اس حد تک یا ثبوت ہے نہایت مضحکہ خیز بات ہے۔ مجھے یاد سالانہ میں اس انعام کو بہت زیادہ اچھال کر اور میں ١٠٠ عبدالسلام جیسے سائنس دان چاہئیں اور پ یونیورسٹی اور کالجوں سے پوزیشنیں لینے والوں می مزید یہ کہ ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنے اور دماغی جلسہ سالانہ کی تقاریر اور دیگر اجتماعوں کے خطبات جماعت کے افراد پر زور دیا گیا کہ اس کا تیل او تقریر کے ذریعہ سویا بین کے حق میں مہم چلائی گئی
مکمل کر چکا ہے۔ گویا عاقل بالغ ہو چکا ہے اس نے اب تک قادیانیوں کو غیر مسلم اور کافر ہی جانا ہے وہ کبھی بھی قادیانیوں کو مسلمان نہیں سمجھ سکتا۔ بلکہ ایک اسی عمر کا قادیانی نوجوان بھی خود کو مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہی کہے گا۔ مذکورہ بالا کئی سو علماء اسلام کی کارگزاری اگر خدا کو ناپسند تھی تو انہیں اس دنیا میں عبرت کا نشان بناتا۔ ہمارے دور کے مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شورش کاشمیریؒ اور مولانا مودودیؒ جیسے قاتل قادیانیت اپنی طبعی موت کے ساتھ قادیانیوں کو مایوس کر گئے۔ اب اگر ایک سو میں سے کوئی حادثے میں ہلاک ہو جاتا ہے تو کیا ہوا۔ مرزا محمود احمد پر بھی تو قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور آخر دم تک اس زخم سے پریشان رہے بلکہ اس حملے کے اثرات کے نتیجہ میں آخری دور میں معذوری کی حد تک جا پہنچے۔ جماعت کے کتنے ”مخلص قادیانی“ دن دیہاڑے قتل ہو گئے، کتنے حادثوں میں ہو گئے۔ قادیانیوں کو توبہ کرنی چاہیے (مگر نہیں کریں گے)
ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا نوبل انعام
ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی پاکستان کے مشہور اور عالمی شہرت یافتہ سائنس دان تھے ان کی سائنسی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا ان کی وجہ سے پاکستان کی عزت میں بھی اضافہ ہوا اور جماعت نے اپنا قد بڑھانے کی کوشش کی۔ ١٩٧٩ء میں ان کو انعام ملا تو فوراً بعد قادیانیوں نے مرزا قادیانی کے ایک قول کو دریافت کر لیا کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ: ”میرے فرقے کے لوگ علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے۔“
قادیانی جماعت کے لیے یہ تو خوشی کی بات تھی کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو عالمی انعام ملا ہے مگر اس کو اس حد تک لے جانا کہ یہ قادیانیت کی سچائی کی ایک علامت یا ثبوت ہے نہایت مضحکہ خیز بات ہے۔ مجھے یاد ہے اس انعام کے بعد مرزا ناصر احمد نے جلسہ سالانہ میں اس انعام کو بہت زیادہ اچھال کر اور جذبات میں آکر کہا تھا کہ ہمیں آئندہ ١٠ سالوں میں ١٠٠ عبدالسلام جیسے سائنس دان چاہئیں اور پھر اس کے لیے طلباء میں علمی جوش بھرا جانے لگا۔ یونیورسٹی اور کالجوں سے پوزیشنیں لینے والوں میں حوصلہ افزائی کے لیے انعام دیئے جانے لگے۔ مزید یہ کہ ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنے اور دماغی طاقت کو بڑھانے کے لیے سویا بین کو تجویز کیا گیا جلسہ سالانہ کی تقاریر اور دیگر اجتماعوں کے خطبات میں سویا بین کے فوائد پر تفصیلی لیکچر دیئے گئے اور جماعت کے افراد پر زور دیا گیا کہ اس کا تیل اور دیگر پروڈکٹ استعمال کریں۔ مرکزی سطح پر تحریر و تقریر کے ذریعہ سویا بین کے حق میں مہم چلائی گئی مجھے یاد ہے کہ ١٩٨٢ء میں بیرون ملک سے سویا بین
٥٣
آئل کے کیپسول منگوائے گئے اور طلباء میں ٥ روپے تا ١٠ روپے فی کیپسول فروخت کیے گئے اگر سویا بین فائدہ مند تھی یا ہے تو اس مہم کو ختم کیوں کر دیا گیا؟ اب کبھی اس بارے میں تبلیغ نہیں کی جاتی۔ اب تو عام استعمال کے لیے سویا بین آئل مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اتنی کوششوں کے باوجود امام قادیانی جماعت مرزا ناصر احمد کی خواہش کہ ١٠ سالوں میں ١٠٠ عبدالسلام کی سطح کے سائنس دان چاہئیں۔ بالکل پوری نہ ہو سکی بلکہ ایک فیصد بھی پوری نہ ہوئی، بلکہ آج ٢٠ سال گزر چکے ہیں اس کے باوجود ایک بھی سائنس دان اس سطح کا پیدا نہ ہو سکا۔ قادیانی جماعت نے یہ تاثر دیا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کو قادیانیت کی وجہ سے یہ ترقی ملی ہے ان سے کوئی پوچھے کہ آج تک جو ڈیڑھ دو سو دیگر عالمی سائنس دانوں کو یہ انعام مل چکا ہے کیا وہ بھی قادیانیت کی وجہ سے ملا ہے؟ یا قادیانیت کی مخالفت کی وجہ سے؟
اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ جماعت کے اس فارمولہ کے مطابق جس مذہبی جماعت کے نوبل انعام یافتگان کی تعداد زیادہ ہو گی وہ سچی ہو گی۔
ڈاکٹر عبدالسلام کی اس کامیابی کو خواہ مخواہ اپنی طرف کھینچ کر اسے متنازعہ بنا دیا اور تعصب کا مظاہرہ کر کے عوام کی اکثریت کو ان کے خلاف کر دیا۔ حالانکہ وہ ایک قومی ہیرو تھے مگر جماعت نے انہیں زیرو کر دیا۔
طاعون اور قادیانی جماعت
١٩٠٠ء کے لگ بھگ مرزا غلام احمد قادیانی نے اعلان کیا کہ ملک میں خصوصاً پنجاب میں طاعون پھوٹنے والی ہے اور اس سے بہت تباہی آئے گی مگر قادیانی اس سے محفوظ رہیں گے اور یہ ایک معجزہ کی حیثیت رکھے گی کہ باقی لوگ مریں گے مگر قادیانی اس سے محفوظ رہیں گے۔
طاعون نے کئی سال لگا کر پورے ہندوستان میں تباہی مچائی۔ اس کی لپیٹ میں قادیانی آئے۔ یہ کیونکہ بہت پرانی بات ہے اس کا ریکارڈ کتابوں اخبارات میں تو ہوگا مگر میں اس وقت وہ بات بتانا چاہتا ہوں جو شاید اخبارات اور کتابوں میں نہ ہو مگر یہ ہمارے اپنے گاؤں محمود آباد جہلم سے متعلق ہے۔
١٩٨٠ء میں، میں نے محمود آباد کی تاریخ لکھنے کے لیے اس وقت موجود بزرگوں سے معلومات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا کہ ١٩٠٠ء تا ١٩٢٣ء تقریباً ہر سال ان علاقوں میں طاعون نے تباہی مچائی تھی جبکہ ١٩١٨ء اور ١٩٢٣ء میں تقریباً ١٣٥ افراد اس طاعون کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
محمود آباد کی اس وقت کی آبادی ٨٠ فیصد قادیانی افراد پر مشتمل تھی طاعون سے فوت
٥٤
ہونے والوں کی اکثریت قادیانی تھی۔ اس میں محمود آباد کے باہر ایک نیا قبرستان آباد ہو گیا طرح شکار ہوئے جس طرح دیگر عوام ۔
قادیانی معجزات پر بڑا یقین رکھتے معجزہ نہ آسکا جن معجزات کا وہ ذکر کرتے ہیں ا ہو یا سائیکل سے گر جائے یا کوئی مالی نقصان ہو ’لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ‘ کے مطابق و یہ حق تسلیم ہے اس حق کو استعمال کریں شاید حق
(٧)...... قادیانی جماعت کی م
قادیانی جماعت معجزات پر بہت منسوب معجزات کا انکار کرتی ہے۔ قادیان قتل، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، جنرل ضیاء معجزات نہیں ہیں۔ لیکھرام ایک ہندو (آ پیشگوئی کی مگر وہ مقررہ مدت میں ہلاک نہ لٹریچر اس کی ہلاکت کی خبر یوں دیتا ہے ک اس کے ساتھ ساتھ رہتا۔ تین دن کے ان اور غائب ہو گیا۔ جماعت کہتی ہے کہ وہ اس کے فرشتہ اور معجزہ ہونے کا ثبوت کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ سینکڑوں قتل ہو ”معجزات“ ہوئے۔ یہ جس جماعت کے گروی مجرمانہ رنگ بھی رکھتی ہے۔“
جیسا کہ پہلے مضامین میں بت احمد اور اپنے والد محترم سمیت کل ١١ افر قادیانیت کو خیر باد کہہ کر اسلام قبول کر لیا
ہونے والوں کی اکثریت قادیانی تھی۔ اس میں ہمارے قریبی رشتہ دار بھی تھے دیکھتے ہی دیکھتے محمود آباد کے باہر ایک نیا قبرستان آباد ہو گیا۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ طاعون کا قادیانی بھی اس طرح شکار ہوئے جس طرح دیگر عوام۔
قادیانی معجزات پر بڑا یقین رکھتے ہیں مگر سو سال میں جماعت کی جھولی میں کوئی خاص معجزہ نہ آسکا جن معجزات کا وہ ذکر کرتے ہیں ان پر تبصرہ ہو چکا ہے البتہ کسی مخالف کے کان میں درد ہو یا سائیکل سے گر جائے یا کوئی مالی نقصان ہو جائے تو قادیانی خوش ہو جاتے ہیں کہ معجزہ ہو گیا چلو ”لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ“ کے مطابق دل کو خوش اور لہو کو گرم رکھنے کا ان کا بھی حق ہے۔ ہمیں یہ حق تسلیم ہے اس حق کو استعمال کریں شاید حق کو استعمال کرتے کرتے ”حق“ کو پالیں۔
(روزنامہ ”اوصاف“ اسلام آباد، ٢١ تا ٢٣ مئی ٢٠٠٠ء)
(٧)...... قادیانی جماعت کی طرف سے ”معجزہ“ بنانے کی تیاریاں
قادیانی جماعت معجزات پر بہت یقین رکھتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت محمدؐ سے منسوب معجزات کا انکار کرتی ہے۔ قادیانی جماعت کے ”عظیم الشان معجزات“ میں لیکھرام کا قتل، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، جنرل ضیاء الحق کا حادثہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے پاس معجزات نہیں ہیں۔ لیکھرام ایک ہندو (آریا مذہب) تھا۔ مرزا قادیانی نے اس کی ہلاکت کی پیشگوئی کی مگر وہ مقررہ مدت میں ہلاک نہ ہوا تو فوراً بعد ایک شخص کے ذریعہ قتل کروا دیا۔ جماعتی لٹریچر اس کی ہلاکت کی خبر یوں دیتا ہے کہ ایک خونخوار قسم کا مرد اس کے پاس بطور ملازم آیا وہ اس کے ساتھ ساتھ رہتا۔ تین دن کے اندر اس نے موقع پا کر خنجر کے وار کر کے اسے قتل کر دیا اور غائب ہو گیا۔ جماعت کہتی ہے کہ وہ فرشتہ تھا جو اسے ہلاک کر کے غائب ہو گیا۔ اس کا نہ ملنا اس کے فرشتہ اور معجزہ ہونے کا ثبوت ہے حالانکہ آج کل ایسے ”معجزات“ پاکستان میں کثرت کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ سینکڑوں قتل ہوتے ہیں اور قاتل پکڑے نہیں جاتے تو ظاہر ہے یہ ”معجزات“ ہوئے۔ یہ جس جماعت کے لیے ہو رہے ہیں کتنی ”سچی“ ہوئی ہوگی گویا ”دہشت گردی معجزانہ رنگ بھی رکھتی ہے“۔
جیسا کہ پہلے مضامین میں تذکرہ ہو چکا ہے خاکسار نے اپنے بڑے بھائی ملک حفیظ احمد اور اپنے والد محترم سمیت کل ١١ افراد کے ساتھ جمعۃ الوداع کے دن (١٥ جنوری ١٩٩٩ء) قادیانیت کو خیر باد کہہ کر اسلام قبول کر لیا تھا۔ میرے بڑے بھائی ملک حفیظ احمد نے جامع مسجد گنبد
٥٥
والی میں قاری خبیب احمد عمر کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس کے بعد مسجد کے لیے اپنی زمین میں سے ٨ مرلے جگہ بطور عطیہ دی جہاں اب ٨ کی بجائے ١٦ مرلے جگہ پر مسجد ختم نبوت بمعہ مدرسہ تعمیر ہوچکی ہے۔
ملک حفیظ احمد اسلام قبول کرنے سے قبل قادیانی جماعت کے سرگرم رکن، فدائی اور جنونی قسم کے قادیانی تھے۔ وہ محمود آباد جہلم کی جماعت کے منتخب کردہ سیکرٹری اصلاح و ارشاد (سیکرٹری تبلیغ) تھے۔ قادیانی جماعت کی بداعمالیوں، بے انصافیوں، مظالم اور بے اصولیوں کو دیکھتے ہوئے ان سے متنفر ہوکر علیحدہ ہوئے تو جماعت کے سرکردہ سیخ پا ہو گئے۔
مرزا طاہر احمد کے بھتیجے مرزا نصیر احمد طارق، مالک پاکستان چپ بورڈ فیکٹری جہلم امیر جماعت قادیانی ضلع جہلم نے میرے اور بھائی حفیظ احمد کے خلاف تقاریر شروع کر دیں جس میں واضح طور پر لیکھرام، بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کے انجام کا حوالہ دے کر ہمیں اور خصوصاً بھائی حفیظ احمد کو آنے والے ”معجزاتی“ انجام سے ڈرایا۔ امیر ضلع کے حکم پر جماعت کے مربی فرحت نے خطبات اور تقاریر میں ان معجزوں سے ڈرایا۔ عید الفطر کے موقع پر خصوصاً دھمکی آمیز تقریر کر کے انجام کی قربت کا یقین دلایا۔
امیر ضلع جہلم نے نوجوانوں کو پیغام بھیجا کہ اب قربانیاں دینے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ جب ماحول کو اچھا خاصا گرم کر لیا تو اس دوران عطیہ کردہ قطعہ زمین پر مسلمانوں کی طرف سے مسجد ختم نبوت کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ وہاں مسلمانوں کے اجتماع میں علماء نے قادیانیوں کو خبردار کیا کہ ملک حفیظ کو اکیلا نہ سمجھ لینا اور ”معجزانہ دہشت گردی“ سے باز رہنا۔ جس کی وجہ سے ماحول خاصا ٹھنڈا ہو گیا۔
اب جماعت ایک بار پھر معجزہ بنانے کے لیے سرگرم ہو چکی ہے اب انہوں نے ایک مسلمان (کٹھ پتلی) کا بندوبست کر لیا ہے۔ پوری جماعت اس کے ساتھ تعاون کر کے حفیظ احمد کے خلاف اسے پوری طرح ”چارج“ کر رہی ہے۔ ملک حفیظ احمد اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمہ بنوا رکھا ہے۔ اب جماعت اس کے ذریعہ ”معجزہ سازی“ کی کوشش میں مصروف ہے۔ مسلمان اس کٹھ پتلی کو کئی بار منع کر چکے ہیں مگر وہ بعد میں پھر چارج ہو جاتا ہے۔ میں اس مضمون کے ذریعہ ارباب حل وعقد کو ہوشیار کرنا چاہتا ہوں کہ جس ”معجزہ“ کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اس کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اگر خدانخواستہ بھائی حفیظ یا اس کے بچوں یا ”معجزہ سازی کی رینج“ میں آنے والے کسی شخص کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی تو اسے قادیانی جماعت کی دہشت گردی
٥٦
سمجھا جائے گا۔ اس منصوبہ بندی کے سرخیل مرزا نصیر احمد طارق امیر جماعت قادیانی ضلع جہلم اور اس کی بہن۔ غلام احمد اور اس کا داماد اور ماسٹر رحمت اللہ ہیں۔ لہٰذا ان منصوبہ سازوں کی گردن پر ہاتھ رکھا جائے تاکہ ”معجزہ ساز“ اپنے انجام کو پہنچیں۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد)
(٨) ...... تعداد کے حوالے سے قادیانیوں کی مبالغہ آرائی
قادیانی جماعت نے اپنے آغاز سے لے کر اب تک کبھی بھی اپنی اصل تعداد کا اعلان نہیں کیا۔ بلکہ نئے قادیانی ہونے والوں کی تعداد کا بھی اعلان نہیں ہوتا رہا۔ پاکستان بننے سے قبل کی تمام مردم شماریوں میں قادیانیوں نے اپنی تعداد کو خفیہ رکھا۔ پاکستان بننے کے بعد ١٩٥٣ء میں قادیانیوں کے خلاف چلنے والی تحریک کے دوران عدالتی مراحل پر جماعت کی تعداد کا سوال آیا مگر جماعت نے اپنی تعداد کا اعلان نہ کیا۔ اس طرح اپنی جماعت کے افراد کو بھی یہ علم نہ تھا کہ پاکستان میں یا پاکستان کے باہر ہماری تعداد کتنی ہے۔ اس طرح ”مخالفین جماعت“ اس رعب میں رہے کہ جماعت کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ البتہ جماعت کے سرکردہ افراد بے ضابطہ طور پر اپنی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرتے۔ حالانکہ جماعت ہر سال ”تجنید“ کے ذریعہ ہر قادیانی مرد، زن، بچے، بوڑھے کا باضابطہ اندراج کرتی ہے۔ پورے کوائف کے ساتھ مکمل اور تفصیلی معلومات اور تعداد ہر سال جماعت کے پاس آتی ہے۔ مگر جماعت نے کبھی بھی اس ”مردم شماری“ کے نتائج کا اعلان نہیں کیا اور افراد جماعت کو تعداد کے حوالے سے ”غلط فہمی“ میں ہی رکھا ہے۔
١٩٧٤ء کی تحریک میں قومی اسمبلی میں جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد نے تعداد کے بارے میں سوالوں کے جوابات کو ”گول“ کر دیا اور اصل تعداد چھپانے کے لیے کئی ”انوکھی باتیں“ کر ڈالیں۔ اس سے خاصی الجھن پیدا ہوگئی اور قومی اسمبلی کے ممبران کو یہ اندازہ ہو گیا کہ تعداد کے معاملہ میں یہ خاصے حساس ہیں بلکہ ”احساس کمتری“ میں مبتلاء ہیں۔ جماعت نے بھی اس احساس کمتری کو بار بار ثابت کیا۔ ١٩٨٢ء میں مرزا طاہر احمد کے نئے سربراہ بننے پر جماعت نے اپنی تعداد بڑھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ مگر کامیابی نہ ہوئی حالانکہ ہر ہفتے پورے پاکستان سے کئی بسیں مسلمان حضرات کی قادیانیوں کی زیر نگرانی ”دعوت الی اللہ“ ”اصلاح و ارشاد“ اور ”تبلیغ“ کے حوالے سے ربوہ میں لائی جاتیں۔ دارالضیافت (مہمان خانہ) میں خوب خاطر مدارت کی جاتی اور پھر جماعت کے کئی مبلغ جو پہلے سے ڈیوٹی کے لیے مخصوص ہوتے وہ ”مہمانوں“ کی تبلیغی ”تواضع“ کرتے اور کوشش کی جاتی کہ زیادہ سے زیادہ افراد سے بیعت فارم
٥٧
پر کروا لیے جائیں مگر یہ سلسلہ مایوس کن نتائج سامنے لایا۔ خوب کوشش کے باوجود سو سو افراد کے قافلے بغیر کسی ”پھل“ کے واپس چلے جاتے۔ (جماعت میں ”نئے قادیانی“ کے لیے ”پھل“ کا لفظ بطور کوڈ استعمال کیا جاتا ہے۔ کاغذات میں بھی اندراج ”پھل“ کے لفظ سے ہوگا) جماعت کا خاصا خرچہ ہو جاتا۔ ہر جماعت تحصیل اور ضلع کی سطح پر ”دعوت الی اللہ کے قافلے“ تیار کرتی اور سپیشل بسوں کے ذریعہ یہ دورے کروائے جاتے۔
١٩٨٤ء میں چلنے والی تحریک ختم نبوت کے نتیجہ میں مرزا طاہر احمد صاحب بیرون ملک چلے گئے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنے ایک خطاب میں جماعت کا حوصلہ بڑھانے کے لیے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق ہم سوا کروڑ ہو چکے ہیں۔ اس میں احتیاط یہ کی گئی کہ اس بیان کو اپنی طرف سے نہ کہا کیونکہ پھر یہ باضابطہ اعلان ہو جاتا۔ کہا کہ : ”ہمارے بعض حساب رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم سوا کروڑ ہو چکے ہیں۔ جس میں سے ٤٠ فیصد پاکستان میں ہیں اور باقی دوسرے ملکوں میں ہیں۔ مزید کہا کہ اب ہم کوشش کریں گے جو کمی رہ گئی ہے یعنی سوا کروڑ ہونے میں وہ پوری کر لی جائے ۔“ واضح رہے کہ اس بیان کے مطابق پاکستان میں تعداد ٥٠ لاکھ بنتی ہے جبکہ میں ٣١ مارچ اور یکم اپریل ١٩٩٩ء والے مضمون ” قادیانی جماعت کی تعداد .......... حقیقت کیا ہے!“ میں تفصیلی ”پوسٹ مارٹم“ کر کے یہ ثابت کر چکا ہوں کہ پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد دو سے تین لاکھ کے درمیان ہے۔
قیام پاکستان سے لے کر ١٩٨٤ء تک ہر سال جلسہ سالانہ پر پورے سال کی کارگزاری بتائی جاتی رہی ہے۔ اس میں کسی ایک جماعت یا حلقہ یا علاقے کی بیعتوں کا ذکر کر دیا جاتا۔ اس سے اندازہ کروایا جاتا کہ جب ایک تحصیل میں یہ پروگریس ہے تو باقی خود اندازہ کرلیں۔ پورے پاکستان کی کل بیعتوں یا کل تعداد کا کبھی ذکر نہ کیا جاتا حالانکہ جماعت کے پاس مکمل کوائف ہوتے تھے۔ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ بیعتوں کی تعداد بہت کم یعنی مایوس کن ہوتی ۔ لہذا جماعت یہ تعداد بتانے سے احتراز کرتی اسی طرح جماعت ایک احساس کمتری میں مبتلا ہوگئی۔
١٩٨٤ء کے بعد ١٩٩٣ء تک لندن کے جلسہ پر یہ اعلان ہوتا رہا کہ پچھلے سال ہونے والی بیعتوں کی تعداد سے دگنی بیعتیں اس سال ہوئی ہیں۔ سات سال بعد اس تعداد کو دو لاکھ بتایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ١٩٨٤ء، ١٩٨٥ء میں یہ تعداد ایک ہزار سے کم ہوگی۔
عالمگیر بیعت
١٩٩٣ء سے ”عالمگیر بیعت“ کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے کہ ہر سال پچھلے سال
٥٨
کی نسبت ڈبل تعداد بتانی ہے۔ لہٰذا ١٩٩٣ ٩٥ء آٹھ لاکھ کا اعلان کیا گیا۔ اس ”کھیل“ میں ٣٢ لاکھ، ٩٨ء میں ٦٤ لاکھ تعداد بنتی تھی مگر ایک کروڑ ٢٨ لاکھ کی بجائے ”دوبارہ رعایتی ظاہر ہے دو کروڑ سے زیادہ کا ہی اعلان ہو اعلان ہوگا تو ٢٠٠٦ء میں ایک ارب ٢٠ کرو کو حیران کر دیں گے جبکہ ٢٠١٠ء میں ١٢٠ ار دیں گے۔ اس طرح آئندہ دس سالوں میں
واضح رہے کہ دنیا کی کل آبادی بدھ مت اور دیگر مذاہب کے لوگ شامل ہ ”نئے قادیانی بھائی“ ٤٠ ارب کے قریب تو یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا یہ مذاق ہو
احساس کمتری کا ردعمل ہے۔ جماعت تعدا لیے یہ سارا ”چکر“ چلا رہی ہے اور خصوصاً کمی کو حسرت سے محسوس کرتے ہیں۔ ان اس ملک کی تعداد کے دس فیصد کے برابر ہ فلسفہ کے مطابق وہ پاکستان میں کوشش کر ”افراتفری“ میں جماعت کی تعداد کو انتہائ
اگر جماعت کے ماضی اور حال جماعت چالیس ارب تک جائے گا ”نقطہ مذہبی یا سیاسی جماعت ہوگی اس کی تعداد ی ایک مذہبی یا سیاسی تنظیم کے ممبران کی کل تعد اور پھر دنیا کو باور کروائے گی کہ اب دنیا میں متحدہ اور سلامتی کونسل میں ”اپنا اثر“ پیدا کر بڑی جماعت ہیں اور اس ”وزن“ کو ہر پل کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا۔
کی نسبت ڈبل تعداد بتانی ہے۔ لہٰذا ١٩٩٣ء میں دولاکھ بیعتوں کا اعلان کیا تو ٩٤ء میں چار لاکھ ٩٥ء میں آٹھ لاکھ کا اعلان کیا گیا۔ اس ”کھیل“ کے مطابق ٩٦ء میں ١٦ لاکھ کی تعداد بنی، تو ٩٧ء میں ٣٢ لاکھ، ٩٨ء میں ٦٤ لاکھ تعداد بنتی تھی مگر ”لحاظ“ کردیا گیا اور تعداد ٥٠ لاکھ بتائی گئی۔ ٩٩ء میں ایک کروڑ ٢٨ لاکھ کی بجائے ”دوبارہ رعایت“ کردی گئی اور تعداد ایک کروڑ آٹھ لاکھ بتائی۔ اب ظاہر ہے دو کروڑ سے زیادہ کا ہی اعلان ہوگا۔ اس فارمولے کے مطابق ٢٠٠٣ء میں ١٦ کروڑ کا اعلان ہوگا تو ٢٠٠٦ء میں ایک ارب ٢٠ کروڑ کا اعلان ہوگا۔ ٢٠٠٩ء میں ١٠ ارب کا اعلان کر کے دنیا کو حیران کر دیں گے جبکہ ٢٠١٠ء میں ٢٠ ارب نئے قادیانیوں کا اعلان کر کے دنیا کو ”پریشان“ کر دیں گے۔ اس طرح آئندہ دس سالوں میں کل ٤٠ ارب نئے افراد قادیانی ہوچکے ہوں گے۔
واضح رہے کہ دنیا کی کل آبادی چھ ارب ہے اس میں مسلم، عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ وہ سب اپنی اپنی جگہ قائم رہیں گے مگر قادیانیوں کو ”نئے قادیانی بھائی“ ٤٠ ارب کے قریب مل جائیں گے۔
یہ کیا ہورہا ہے؟ کیا یہ مذاق ہورہا ہے؟ نہیں، جماعت بالکل سنجیدہ ہے۔ اصل میں یہ احساس کمتری کا ردعمل ہے۔ جماعت تعداد کے حوالے سے اپنے احساس کمتری کو دور کرنے کے لیے یہ سارا ”چکر“ چلا رہی ہے اور خصوصاً مرزا طاہر احمد صاحب جو سیاسی ذہن رکھتے ہیں تعداد کی کمی کو حسرت سے محسوس کرتے ہیں۔ ان کا فلسفہ ہے کہ اگر کسی ملک میں ہماری جماعت کی تعداد اس ملک کی تعداد کے دس فیصد کے برابر ہوگئی تو اس ملک کی حکومت جماعت کو مل جائے گی۔ اس فلسفہ کے مطابق وہ پاکستان میں کوشش کر کے مایوس ہوچکے ہیں۔ لہٰذا مرزا طاہر احمد صاحب اب ”افراتفری“ میں جماعت کی تعداد کو ”انتہا“ تک لے کر جانا چاہتے ہیں۔
اگر جماعت کے ماضی اور حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جماعت چالیس ارب تک جانے کا ”تکلف“ نہیں کرے گی بلکہ دنیا میں موجود جو سب سے بڑی مذہبی یا سیاسی جماعت ہوگی اس کی تعداد سے تھوڑا سا آگے نکل کر ”بریک لگالے گی۔ مثلاً اگر ایک مذہبی یا سیاسی تنظیم کے ممبران کی کل تعداد ٧٠ کروڑ ہے تو جماعت ٨٠ کروڑ پر بریک لگالے گی اور پھر دنیا کو باور کروائے گی کہ اب دنیا میں سب سے بڑی جماعت قادیانی جماعت ہے پھر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں ”اپنا اثر“ پیدا کیا جائے گا اور انہیں بتایا جائے گا کہ ہم دنیا میں سب سے بڑی جماعت ہیں اور اس ”وزن“ کو ہر پلیٹ فارم سے ”کیش“ کروایا جائے گا جو کہ امت مسلمہ کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا۔
(روزنامہ اوصاف ٢٨ مئی ٢٠٠٠ء)
٥٩
(٩)...... مرزا طاہر احمد کا ”الہام“
١٩٨٤ء میں قادیانیوں کے خلاف چلنے والی تحریک اپریل ١٩٨٤ء میں ایک صدارتی آرڈینینس پر منتج ہوئی۔ جس کے مطابق قادیانی اپنے آپ کو مسلمان۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد۔ مرزا غلام کے ساتھیوں کو ”صحابی“ مرزا غلام احمد کی بیویوں کو ”ام المومنین“ اور مرزا صاحب کے جانشینوں کو ”امیر المومنین“ نہیں کہہ سکتے۔ نہ ہی مسلمان کی طرح عبادت کے لیے اذان دے سکتے ہیں۔ اس سے قادیانی ایک ایسے قانونی شکنجے میں کسے گئے جس میں قادیانی بآسانی پر بھی نہیں مار سکتے تھے۔ ایسی حالت میں مرزا طاہر احمد جنہیں اقتدار سنبھالے ابھی دو سال بھی نہ ہوئے تھے۔ اپنے گھر تک محدود رہ گئے۔
مرزا طاہر احمد اس شکنجے سے بچنے کے لیے خفیہ طور پر پاکستان سے نکل کر انگلینڈ جا پہنچے۔ وہاں جا کر اپنی تقاریر اور خطبات کے ذریعہ آڈیو کیسٹ کے ایک نئے نظام سے جماعت سے تعلق قائم رکھا۔ اس وقت کے حالات پر ذرا غور کیا جائے کہ جماعت پر سخت قسم کی پابندیاں لگ گئیں۔ قادیانیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ ہر قادیانی اس خوف میں مبتلا ہو گیا کہ ابھی کوئی میرے خلاف مقدمہ کر دے گا اور مجھے جیل جانا پڑ جائے گا۔ کیونکہ اس آرڈینینس کے مطابق اگر ایک قادیانی کسی کو السلام علیکم کہتا ہے تو گویا اس نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا۔ اس طرح اس نے ایک جرم کیا۔ کسی نے ماشاء اللہ، الحمد للہ اور بسم اللہ جیسے اسلامی الفاظ استعمال کرتے ہیں تو وہ قابو آسکتا ہے۔ مسلمانوں کا موقف ہے کہ جب آپ کا نبی علیحدہ ہے اور ہر قسم سے اپنے آپ کو علیحدہ کر چکے ہو۔ بلکہ حضرت محمدؐ کے مقابل پر ایک اور شخص کو کھڑا کر دیا ہے اس کے مطابق تمام اپنا دین بنا لیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت محمدؐ کا نام رکھنا بھی گوارا نہیں۔ غلام محمد، غلام مصطفیٰ، غلام مجتبیٰ، غلام مرتضیٰ، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، حسن، حسین، فاطمہ، خدیجہ، زینب، آمنہ جیسے خالص اسلامی ناموں سے منہ موڑ چکے ہو۔ (یقین نہ آئے تو ٤٠ سال سے کم عمر کے قادیانی بچوں اور جوانوں کے ناموں کا جائزہ لے لیا جائے) اور اپنی ہر عبادت کو علیحدہ رنگ دے لیا ہے تو پھر اسلامی شعار کو چھوڑ دو۔ دوغلا پن ختم کرو۔ ایک طرف ہو کر رہو۔
اس قانونی حملہ سے قادیانی بالکل غیر محفوظ ہو گئے۔ ایسی حالت میں مرزا طاہر احمد کا فرار قابل فہم ہے۔ اس لیے کہ اب خوف زدہ جماعت کو حوصلہ دینے اور اس کی ڈھارس باندھنے کی سخت ضرورت تھی۔ ایسے میں مرزا طاہر احمد نے جماعت میں اپنا ایک ”الہام“ سنایا کہ خدا نے مجھے
٦٠
الہاماً بتایا ہے کہ: ”Friday The Tenth“ ہوگا اور ١٠ تاریخ۔ اس دن جماعت کے حق میں کوئی اب پوری جماعت اس امید پر کیلنڈروں کے پیچھے مہینے میں ١٠ تاریخ کو جمعہ کا دن ہوگا۔ ہر سال چند کیلنڈر پر ١٠ تاریخ اور جمعہ کے دن نشانات لگا دیئے اور سال گزارنے لگی۔ مرزا طاہر صاحب کی طرف سے پورے یقین اور ایمان کے ساتھ اس وقت کا انتظار ک ضرور کوئی معجزہ ہوگا۔ جب ١٩٨٤ء سے ١٩٨٨ء تک بھی ٧ اگست بدھ کے دن ہوا تو جماعت میں مایو ١٩٨٤ء تا ١٩٨٨ء چار سال تک مسلسل جماعت شد میں کسی نے مرزا طاہر احمد کے ”الہام“ کے پورا نہ ہو دیا کہ اس الہام سے مراد سورۃ الجمعہ کی دسویں آیت کچھ خطبے آگئے اور جماعت کو ایک نئی لائن پر لگا دیا ب خود بھی اس ”الہام“ سے ایمان اٹھ گیا ہے اور اس کے
آج اس ”الہام“ کو ١٦ سال کا عرصہ گز ہونے اور کسی معجزے کے ظہور کے انتظار میں اس الہام کی گرمی سے محظوظ ہوتے ہوتے چلے جائیں ب
یہ کیسا الہام ہے یا کیسا معجزہ ہے جو ١٦ ایک ”الہامی مذاق“ ہے۔ یہ حالت اس الہام کے ط
(١٠)...... انسانی حقوق
١٩٧٤ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی ب دے دیا اس فیصلے سے قبل قادیانی جماعت کے ام موقف پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیا گیا۔ کئی دن طور پر اپنا موقف پیش کیا اس کے بعد قومی اسمبلی کے
٦١
الہاماً بتایا ہے کہ: ”Friday The Tenth“ اس کا ترجمہ اور مفہوم خود ہی بتایا کہ جمعہ کا دن ہوگا اور ١٠ تاریخ۔ اس دن جماعت کے حق میں کوئی خاص واقعہ ہوگا اور یہ ابتلاء ختم ہو جائے گا۔ اب پوری جماعت اس امید پر کیلنڈروں کے پیچھے پڑ گئی کہ دیکھتے ہیں کہ اس سال میں کون سے مہینے میں ١٠ تاریخ کو جمعہ کا دن ہوگا۔ ہر سال چند جمعے ضرور ١٠ تاریخ کو ہوتے۔ چنانچہ ہر سال کیلنڈر پر ١٠ تاریخ اور جمعہ کے دن نشانات لگا دیئے گئے۔ اس وقت پر آس لگائے جماعت مہینے اور سال گزارنے لگی۔ مرزا طاہر صاحب کی طرف سے بار بار اس کی یاد دہانی ہو جاتی۔ اور جماعت پورے یقین اور ایمان کے ساتھ اس وقت کا انتظار کرنے لگتی کہ یقیناً آئندہ ١٠ تاریخ والے جمعہ کو ضرور کوئی معجزہ ہوگا۔ جب ١٩٨٤ء سے ١٩٨٨ء تک کوئی واقعہ رونما نہ ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کا واقعہ بھی ١٧ اگست بدھ کے دن ہوا تو جماعت میں مایوسی پھیل گئی۔ اس بات پر ضرور غور کیا جائے کہ ١٩٨٤ء تا ١٩٨٨ء چار سال تک مسلسل جماعت شدت کے ساتھ اس انتظار میں رہی ١٩٨٨ء میں کسی نے مرزا طاہر احمد کے ”الہام“ کے پورا نہ ہونے کی خفت کو مٹانے کے لیے ایک نیا آئیڈیا دیا کہ اس الہام سے مراد سورۃ الجمعہ کی دسویں آیت بھی ہو سکتی ہے۔ پھر اس کے ترجمہ اور تشریح پر کچھ خطبے آگئے اور جماعت کو ایک نئی لائن پر لگا دیا۔ صاف نظر آرہا تھا کہ اب مرزا طاہر صاحب کا خود بھی اس ”الہام“ سے ایمان اٹھ گیا ہے اور اس کے پورا ہونے کا امکان نظر نہیں آرہا۔
آج اس ”الہام“ کو ١٦ سال کا عرصہ گزر چکا ہے سینکڑوں قادیانی اس الہام کے پورا ہونے اور کسی معجزے کے ظہور کے انتظار میں اس دنیا سے گزر گئے۔ اور باقی بھی انشاء اللہ اس الہام کی حسرت میں گھٹتے گھٹتے چلے جائیں گے۔
یہ کیسا الہام ہے یا کیسا معجزہ ہے جو ١٦ سال کا عرصہ لے جائے یہ قوم کے ساتھ سراسر ایک ”الہامی مذاق“ ہے۔ یہ حالت اس الہام کے دو نمبر ہونے کو واضح کر رہی ہے۔
(اوصاف ١٤ اکتوبر ٢٠٠٠ء)
(١٠) ...... انسانی حقوق اور قادیانی جماعت
١٩٧٤ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا اس فیصلے سے قبل قادیانی جماعت کے اس وقت کے سربراہ مرزا ناصر احمد صاحب کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیا گیا۔ کئی دن تک جماعت نے تفصیل سے زبانی اور تحریری طور پر اپنا موقف پیش کیا اس کے بعد قومی اسمبلی کے ممبران نے فیصلہ کیا۔ ١٩٨٤ء میں جنرل ضیاء
٦١
الحق نے اس فیصلہ کی روشنی میں اس کے تقاضے پورے کرتے ہوئے نیا آرڈیننس جاری کر دیا جس میں قادیانیوں کو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے۔ اپنی عبادت کے لیے مسلمانوں کی طرح ”اذان“ دینے، اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد“ کہنے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھیوں کو ”صحابی“ کہنے۔ مرزا صاحب کے جانشینوں کو ”امیر المومنین“ کہنے اور مرزا صاحب کی ازواج کو ”ام المومنین“ کہنے سے روک دیا گیا۔
١٩٧٤ء سے مسلسل اور ١٩٨٤ء سے خصوصی طور پر جماعت نے باضابطہ طور پر دنیا میں ”دہائی“ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جس میں دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم ہو رہا ہے، انسانی حقوق کے حوالے سے سخت قسم کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، قادیانیوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے اور کسی قسم کا انصاف قادیانیوں کو میسر نہیں۔ اس پروپیگنڈہ سے قادیانی مسلسل فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یورپ نے اس پروپیگنڈہ کی وجہ سے قادیانیوں کے لیے اپنا دامن پھیلا رکھا ہے اور قادیانی جوق در جوق یورپ میں داخل ہو رہے ہیں۔ مگر ”داخل“ ہونے کے ”آداب“ سے عاری ہیں۔ یعنی جعلی کاغذات کی بنا پر داخل ہونا، پھر جعلی کاغذات تیار کر کے اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرنا اور پھر ”پناہ“ حاصل کرنا۔ قادیانیوں کو مشکوک بنا رہا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے۔ یورپ کا قادیانیوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے اب انہوں نے دھڑا دھڑ کیس مسترد کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ اس سے نہ صرف قادیانیوں کو نقصان ہو رہا ہے بلکہ پاکستان بھی بدنام ہو رہا ہے۔ ٩٨ فیصد قادیانیوں کے کیس جھوٹے اور جعلی کاغذات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ قادیانی تو ”ترستے“ ہیں کہ ان پر ظلم ہو اور وہ اس کا ثبوت دنیا کو دکھا سکیں۔ مگر ”ظلم کی عدم دستیابی“ پر وہ پیسے دے دلا کر جعلی ایف آئی آر درج کروا کر اس کی نقل حاصل کر کے ”گزارا“ کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے برملا قادیانی مظلوم ہیں کہ ان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ”مقدور بھر ظلم“ بھی دستیاب نہیں۔
آیئے دیکھتے ہیں قادیانی جو دنیا میں اپنے مظلوم ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹتے ہیں۔ خود کتنے منصف مزاج، نرم دل، صلح جو اور انسانی حقوق کا تحفظ یا خیال کرنے والے ہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر اتنا کچھ لکھا جاسکتا ہے کہ لکھاری لکھتے لکھتے تھک جائے اور قاری پڑھتے پڑھتے ”زچ“ جائے۔ سمجھ نہیں آتی کہ قادیانی کے کس کس ظلم کی تصویر پیش کروں۔ ”عدل جماعت اصل میں عکس یزید ہے“ اس عنوان پر ایک تفصیلی مضمون بعد میں آئے گا۔ اس وقت انسانی حقوق کے حوالے سے چند گزارشات کرنا چاہتا ہوں۔
٦٢
پاکستانی عدالتیں اور نظام جماعت
قادیانیوں کا سب سے بڑا اعتراض اور دنیا میں پاکستان کو ظالم ثابت کرنے کے حوالے سے سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔ کوئی قادیانی چوری کے جرم میں سزا پائے یا بدعنوانی کی وجہ سے گرفت میں آئے۔ جماعت میں سب لوگ اس سے ہمدردی کرتے ہوئے کہیں گے کہ قادیانی ہونے کی سزا تو ہونی ہی تھی۔ یہ سزا صرف قادیانی ہونے کی وجہ سے ملی ہے۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک کیس بھی ایسا نہیں ہوگا کہ کسی قادیانی کے خلاف عدالت میں کیس کیا گیا ہو اور جج قادیانی کو بتائے بغیر اس کو صفائی کا موقع دیئے بغیر براہ راست سزا سنا دے اور پھر وہ چیلنج بھی نہ ہوسکے۔ آج تک ایک کیس بھی ایسا نہیں گزرا۔ اس حوالے سے قادیانی ایک مثال بھی پیش نہیں کرسکتے۔
ہوتا یوں ہے کہ کسی نے کسی قادیانی کے خلاف عدالت میں کیس کردیا۔ عدالت قادیانی کو بذریعہ نوٹس کیس کے بارے میں مطلع کرے گی اور اسے مقررہ تاریخ پر طلب کرے گی۔ وہ قادیانی عدالت میں پیش ہوگا اسے کیس (الزامات) کی پوری تفصیل بتائی جائے گی بلکہ کیس کی نقل دی جائے گی۔ اسے وکیل کرنے کا موقع دیا جائے گا اور اپنی صفائی میں جواب داخل کرنے کے لیے مناسب وقت (کچھ دن) دیا جائے گا۔ وہ قادیانی وکیل کی مدد سے جواب تیار کرے گا اور مقررہ تاریخ کو جمع کروا دے گا۔
کچھ دنوں، ہفتوں بعد دونوں فریقوں کے وکیل آمنے سامنے اس کیس سے متعلق بحث کریں گے۔ پھر جج دونوں فریقوں کو باری باری گواہ لانے اور دیگر ثبوت مہیا کرنے کا موقع دے گا۔ قادیانی کو پورا اختیار ملے گا کہ وہ نہ صرف اپنی صفائی بیان کرے بلکہ اپنے مخالف اور اس کے گواہوں پر خوب جرح کرے۔
اس طرح یہ کیس چلتے چلتے چھ ماہ ایک سال یا پانچ سال تک کا عرصہ لے گا۔ خوب بحث و تکرار کے بعد اگر فیصلہ قادیانی کے خلاف ہو جاتا ہے تو اس فیصلے کو درست سمجھا جانا چاہیے کیونکہ قادیانی کو خوب صفائی کا موقع ملا ہے۔ مگر اس کے باوجود قادیانی کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ سیشن کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے۔ اس اپیل پر (چیلنج پر) کیس دوبارہ شروع ہوگا۔ قادیانی کو ایک بار پھر صفائی کا موقع ملے گا۔ وکلاء دوبارہ بحث کریں گے۔ چار، چھ ماہ تک دوبارہ کیس چلنے اور واقعات کو ”کھنگالنے“ کے بعد اگر قادیانی کے خلاف فیصلہ ہوجاتا ہے تو اب
٦٣
فیصلے کو درست سمجھا جانا چاہیے۔ مگر قادیانی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردے۔ ہائیکورٹ میں ایک بار پھر کیس چلے گا۔ قادیانی کو صفائی کا خوب موقع ملے گا۔ اب اگر چار، چھ ماہ بعد قادیانی کے خلاف فیصلہ ہوجاتا ہے تو قادیانی کو پھر اختیار دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بھی جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں پھر کیس چلے گا اور کچھ عرصہ بعد اگر فیصلہ قادیانی کے خلاف ہوجاتا ہے تو اب قادیانی کو فیصلہ تسلیم کرلینا چاہیے مگر اس کے باوجود قادیانی کو مزید چانس یہ ملے گا کہ وہ سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دے کر ایک بار پھر انصاف کے لیے دستک دے سکے۔
اب اگر لوئر کورٹ سے سپریم کورٹ تک کیس چلنے میں ٤/٦ سال لگ جائیں اور قادیانی کو خوب صفائی کا موقع ملے گا تو اس فیصلے کو انصاف پر مبنی سمجھا جانا چاہیے۔ اس طرح کی صفائی کا موقع قادیانیوں کو ملتا رہا ہے اور ملتا ہے۔ مگر اس کے باوجود قادیانی شکوہ کرتے ہیں کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے اور انصاف نہیں ملتا۔ پاکستانی عدالتوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے آج تک ایک فیصلہ بھی ایسا نہیں دیا جس میں قادیانی کو صفائی کا موقع دیئے بغیر فیصلہ سنادیا گیا ہو۔
قادیانیوں کا انصاف
اب ذرا قادیانیوں کا انصاف ملاحظہ فرمائیں۔ جماعت میں عدالت نام کی کوئی چیز نہیں۔ البتہ دھوکہ دہی کے لیے ”دارالقضاء“ ایک ادارہ قائم ہے جس کے اختیارات امراء کو ”پریشان“ نہیں کرتے۔ قادیانیوں میں یہ عام بات ہے کہ امیر جماعت نے کسی کے خلاف لکھ دیا۔ جماعت نے اس پر ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ قادیانی کو سزا دے دینی ہے۔ نہ کوئی انکوائری ہوتی اور نہ ہی قادیانی کو جرم بتا کر صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ بغیر جرم بتائے، بغیر انکوائری کے اور بغیر صفائی کا موقع دیئے سزا دینا اور پھر وہ سزا کسی طرح بھی چیلنج نہ کرے تو یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کیا یہ انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہے؟ دوسروں سے انصاف کی بھیک مانگنے والے خود کتنا ظالمانہ نظام رکھتے ہیں؟ ”اوروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت“ (اردو دانوں سے درخواست ہے کہ قول و فعل میں اتنا ظالمانہ فرق رکھنے والوں کے لیے کوئی مناسب سا محاورہ ایجاد کریں درج بالا محاورہ بہت نرم ہے) ذرا قادیانی جماعت کے امام اور سربراہ کا انصاف اور عدل کا معیار ملاحظہ فرمائیں۔
امام قادیانی جماعت کا ”عدل“
جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد اپنے ایک ایسے عہدیدار کے بارے میں فیصلہ دیتے ہیں جس کے بارے میں جماعت کے ادارے، نظارت امور عامہ، نظارت مال، نظارت اصلاح و ارشاد اور نظارت علیا کی طرف سے NOC جاری ہونے کے بعد خود اسے مقرر کیا ہے (واضح
٦٤
وہ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دے۔ وقع ملے گا۔ اب اگر چار، چھ ماہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ بھی جاسکتا قادیانی کے خلاف ہو جاتا ہے تو مزید چانس یہ ملے گا کہ وہ سپریم لیے دستک دے سکے۔ میں ٤/٦ سال لگ جائیں اور سمجھا جانا چاہیے۔ اس طرح کی وہ قادیانی شکوہ کرتے ہیں کہ ہم مل ہے کہ انہوں نے آج تک غیر فیصلہ سنا دیا گیا ہو۔
ت میں عدالت نام کی کوئی چیز ہے جس کے اختیارات امراء کو جماعت نے کسی کے خلاف لکھ دے دیتی ہے۔ نہ کوئی انکوائری جرم بتائے، بغیر انکوائری کے اور مرے تو یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یک مانگنے والے خود کتنا ظالمانہ ں سے درخواست ہے کہ قول و اورہ ایجاد کریں درج بالا محاورہ ر عدل کا معیار ملاحظہ فرمائیں۔
یدار کے بارے میں فیصلہ دیتے ،نظارت مال، نظارت اصلاح و عذر خود اسے مقرر کیا ہے (واضح
رہے کہ جماعت کے درج بالا ادارے حکومت کی مشنری کے برابر کے ہیں) پورے ضلع میں کل تین عہدیداروں کی تقرری درج بالا اداروں کی سفارش اور کلیئرنس کے بعد کی تھی۔ ان میں سے ایک عہدیدار کے بارے میں فیصلہ سنا رہے ہیں فرماتے ہیں: ...... جہاں تک میری معلومات ہیں آپ خرابی پیدا کرنے والے گروہ کے سربراہ ہیں۔ خواہ آپ مانیں یا نہ مانیں۔ مگر بتاتے سبھی یہی ہیں ......... نوٹ: مرزا طاہر احمد کے دستخطوں سے جاری ہونے والا اصل خط میرے پاس موجود ہے۔
جماعت میں گھسا پٹا جو نظام چل رہا ہے (نظام جماعت پر الگ مضمون پیش کیا جائے گا) اس کے مطابق جس قادیانی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا ہو اس کے خلاف لوکل جماعت کی مجلس عاملہ قرارداد پاس کرے گی یا سزا کی سفارش کرے گی۔ پھر لوکل امیر جماعت اس ”سفارش“ کو امیر ضلع پھر ناظر امور عامہ اور ناظر اعلیٰ تک پہنچائے گا پھر ناظر اعلیٰ ، امام جماعت سے سزا کی سفارش کرے گا۔ مگر درج بالا کیس میں مرزا طاہر احمد تمام حدود و قیود کو عبور کرتے ہوئے جو فرما رہے ہیں نہ اس بارے میں کوئی انکوائری ہوئی ہے نہ ہی الزام علیہ کو جرم یا الزام کا پتا ہے۔ نہ ہی ”خرابی“ کی تفصیل بتائی ہے اور نہ ہی اس کی کسی درخواست یا کیس کے جواب میں بلکہ ”سوال گندم اور جواب چنا“ کے مصداق ایک علیحدہ مضمون کے خط کے جواب میں یہ فیصلہ فرما رہے ہیں۔
غور فرمائیے کہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک میری معلومات ہیں اب ان کی معلومات کے ذرائع یا تو نظارتیں ہیں یا پھر امیر ضلع، مقامی صدر جماعت اور مجلس عاملہ ہے جب کہ درج بالا کیس میں ان میں سے کسی نے کچھ کہا نہ لکھا۔ ان کے علاوہ کسی ذریعہ کی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔
غور فرمائیے، فرماتے ہیں ”خواہ آپ مانیں یا نہ مانیں“ گویا فیصلہ سنا دیا۔ اب یہ فیصلہ چیلنج بھی نہیں ہو سکتا۔ نہ صفائی کا موقع نہ چیلنج کے قابل اور نہ ہی جرم بتایا گیا ہے کہ کس جرم میں سزا دی جا رہی ہے پھر کہتے ہیں ”مگر بتاتے سبھی یہی ہیں“ (کنوں کچا) گویا سنی سنائی بات پر ایسا فیصلہ دیا جا رہا ہے جو نہ صرف چیلنج نہیں ہو سکتا بلکہ بغیر انکوائری کے بغیر جرم بتائے اور بغیر صفائی کا موقع دیئے سنی سنائی بات پر فیصلہ؟؟؟
یہ ہے جماعت یا امام جماعت کے عدل کی ہلکی سی جھلک ........... یہ جماعت کیسے دوسروں کو انسانی حقوق کا درس دے سکتی ہے۔ کیا یہاں انسانی حقوق پامال نہیں ہوئے کہ الزام
٦٥
علیہ کو پتا ہی نہیں کہ اس نے کیا جرم کیا ہے نہ اس سے کوئی جواب طلب کیا گیا ہے۔ نہ کوئی انکوائری ہوئی۔ نہ مجلس عاملہ نے مداخلت کی نہ امیر جماعت نے، نہ نظارتیں اثر انداز ہوئیں۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ اور وہ بھی امام جماعت کی طرف سے جسے قادیانی ”خلیفہ وقت“ کہتے ہیں بلکہ ”خدا کا خلیفہ“ کہتے ہیں۔
(اگر کسی قادیانی کو شک ہو تو اس مذکورہ خط کی فوٹو کاپی حاصل کر سکتا ہے)
قادیانی بتائیں کہ قیام پاکستان سے آج تک کسی ”ظالم ترین جج“ یا ”انصاف سے عاری عدالت“ نے بھی کبھی قادیانیوں کے خلاف ایسا فیصلہ دیا ہے؟ یقینا نہیں؟ تو پھر اپنے گھر کو سنبھالو۔ دوسروں کو عدل اور انسانی حقوق کا سبق نہ دو۔ انسانی حقوق کے حوالے سے شور اور واویلا بند کرو۔
قادیانیوں کے ہاتھوں قادیانیوں کی تذلیل
جیسا کہ پہلے مضمون ”اخراج از جماعت“ میں تفصیل سے بتا چکا ہوں کہ جب کسی امیر جماعت کو کسی قادیانی سے اپنے اقتدار کے حوالے سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو اسے ”نیچے لانے“ کے لیے وہ اسے ”اخراج از نظام جماعت“ کی سزا دلواتا ہے۔ اس مرحلے کو طے کرنے کے لیے وہ ہر قسم کا حربہ ”فری سٹائل“ استعمال کرتا ہے۔ سزا دلوانے کے بعد اس آدمی کے رشتہ داروں کے ذریعے اسے معافی مانگنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ خدا سے معافی مانگنی ہے۔ ”خدا کے خلیفہ“ سے مانگنی ہے۔ لہٰذا وہ مجبور ہو کر خط ”حضور“ کو لکھ دے گا۔ حضور اس خط کو مدعی امیر تک پہنچا دیں گے۔ پھر معافی مانگنے والے کو اتنا ذلیل کیا جائے گا کہ ساری عمر کے لیے وہ سر نیچے کر کے چلنے پر مجبور ہو جائے گا اور یوں اسے ذہنی طور پر ”اپاہج“ کر دیا جائے گا۔
قابل غور بات یہ بھی ہے کہ جس شخص کو فری سٹائل کارروائی کے بغیر، انکوائری بغیر، صفائی کا موقع دیئے بغیر جرم بتائے سزا سنائی جائے گی تو پھر ایسے شخص کے بارے میں پاکستان کی تمام جماعتوں میں اس کا اعلان ہوگا کہ فلاں شخص کو جماعت سے اخراج کی سزا دی جاتی ہے۔ اگر ایک راولپنڈی کے آدمی کو سزا دی جاتی ہے تو سرگودھا کے چوک میں بھی اس کی سزا کا اعلان ہوگا۔ سیالکوٹ کے دور دراز گاؤں میں بھی اس کا اعلان ہوگا۔ کراچی اور کوئٹہ میں بھی اعلان ہوگا۔ گویا قادیانی کو پہلے ظلم کا نشانہ بنایا اور پھر پورے پاکستان میں اس کو خوب تذلیل کی۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے؟ کیا یہاں انسانی حقوق پامال نہیں ہوتے؟
مزید ظلم یہ ہے کہ اس معتوب قادیانی کو کوئی تحریر نہیں دی جائے گی نہ کوئی چارج شیٹ
٦٦
دی جائے گی۔ نہ کسی قسم کا فیصلہ نہ کوئی اور تحریر تذلیل کی جائے گی۔
قادیانی بائیکاٹ
قادیانی پوری دنیا میں شور مچاتے ہیں ہے۔ ہمیں عام انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے خطرہ رہتا ہے۔ حالانکہ یہ شور واویلا حقیقت پر ہیں۔ قادیانی بازاروں سے ہر قسم کی چیز خریدتے اور سودا بھی دیتے ہیں۔
جبکہ قادیانیوں کا اپنا یہ حال ہے کہ ا اندر ہی اس سے اختلاف ہو جائے تو اس کے سے اپنے بھائی، والد صاحب اور دیگر اہل خا قادیانی رشتہ داروں کا مکمل بائیکاٹ ہے۔ دکانداروں کی طرف سے بائیکاٹ اور بول چا جبکہ ہم جب سے مسلمان ہوئے ہیں قادیانیوں ”معجزہ“ بنانے کے چکر میں ہیں۔ قادیانیوں جماعت کے حق میں ایک معجزہ ہوتا ہے۔ اس جماعتیں بنا رہی ہیں۔ (”قادیانی معجزات“ کے
قادیانیوں نے اپنی ”شرافت“ کے ہماری زمین کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ہیں۔ پھر ایک مسلمان کو ہی ہمارے خلاف ”شریفانہ غنڈہ گردی“ کی تمام مقامی آبادی ”
قادیانی اپنے آپ کو ٹھیک کریں ”چوروں کو مور“ والی بات ہو گی۔ قادیانیوں ۔ رکھنے والوں کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے ۔
تعلیمی اداروں میں قادیانی طلباء کا دا
قادیانی اس بات کا بھی پروپیگنڈ
دی جائے گی۔ نہ کسی قسم کا فیصلہ، نہ کوئی اور تحریر اسے دی جائے گی۔ اعلان در اعلان سے اس کی تذلیل کی جائے گی۔
قادیانی بائیکاٹ
قادیانی پوری دنیا میں شور مچاتے ہیں کہ پاکستان میں ہمارے ساتھ بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ ہمیں عام انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے میں تکلیف ہوتی ہے اور ہماری جانوں کو ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔ حالانکہ یہ شور واویلا حقیقت پر مبنی نہیں۔ قادیانی پاکستان میں آزادی سے رہ رہے ہیں۔ قادیانی بازاروں سے ہر قسم کی چیز خرید سکتے ہیں۔ تمام دکانداروں سے بات بھی کرتے ہیں اور سودا بھی لیتے ہیں۔
جبکہ قادیانیوں کا اپنا یہ حال ہے کہ ان میں سے کوئی جماعت چھوڑ جائے یا جماعت کے اندر ہی اس سے اختلاف ہو جائے تو اس کے خلاف بڑا منظم بائیکاٹ کریں گے۔ خاکسار جب سے اپنے بھائی، والد صاحب اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ مسلمان ہوا ہے۔ ہمارے ساتھ تمام قادیانی رشتہ داروں کا مکمل بائیکاٹ ہے۔ جو ڈیڑھ سال سے مسلسل جاری ہے۔ قادیانی دکانداروں کی طرف سے بائیکاٹ اور بول چال بند ہے۔ قادیانیوں کی جانوں کو کیا خطرہ ہے؟ جبکہ ہم جب سے مسلمان ہوئے ہیں قادیانیوں کی طرف سے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں اور وہ ”عبرت“ بنانے کے چکر میں ہیں۔ قادیانیوں کے عقائد کے مطابق مخالف کو قتل کر دینے سے یہ جماعت کے حق میں ایک معجزہ ہوتا ہے۔ اس طرح کے معجزات بہت سی سیاسی، مذہبی اور لسانی، جماعتیں بنا رہی ہیں۔ (”قادیانی معجزات“ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہو چکا ہے۔)
قادیانیوں نے اپنی ”شرافت“ کے پیش نظر ہمیں مختلف کیسوں میں الجھا رکھا ہے۔ ہماری زمین کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ جبکہ عدالتوں اور بلدیہ کے فیصلے ہمارے حق میں موجود ہیں۔ پھر ایک مسلمان کو ہی ہمارے خلاف لگا کر ہمیں پریشان کر رہے ہیں۔ قادیانیوں کی ”شریفانہ غنڈہ گردی“ کی تمام مقامی آبادی ”معترف“ ہے۔
قادیانی اپنے آپ کو ٹھیک کریں۔ دوسروں کو انسانی حقوق کا سبق نہ دیں۔ یہ تو ”چوروں کو پڑ گئے مور“ والی بات ہوگی۔ قادیانیوں کے بارے میں انسانی حقوق کے حوالے سے نرم گوشہ رکھنے والوں کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔
تعلیمی اداروں میں قادیانی طلباء کا داخلہ
قادیانی اس بات کا بھی پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں قادیانیوں کو داخلہ
٦٧
نہیں دیا جاتا ہے حالانکہ یہ خلاف حقیقت ہے کیونکہ میں خود طالب علم رہ چکا ہوں۔ ایف ایس سی، بی ایس سی اور ایم ایس سی (فزکس) کے لیے مختلف اداروں میں داخلے لے کر تعلیم مکمل کر چکا ہوں۔ میں اس وقت کٹر قادیانی ہوا کرتا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران میں قادیانی طلباء کا قائد (زعیم) رہا ہوں۔ شعبہ فزکس اور میتھ میں داخلہ کی کوشش کر کے دیکھی۔ دونوں میں میرٹ کے مطابق داخلہ مل گیا۔ دو سالہ عرصہ میں کئی قادیانی طلباء سے واسطہ رہا۔ ان کے داخلہ کے لیے کوششیں ہوئیں مگر کبھی مذہب آڑے نہیں آیا۔ میرے کزن نے پنجاب یونیورسٹی میں کیمیکل انجینئرنگ میں میرٹ پر داخلہ لیا وہ بھی پکا قادیانی تھا اس کے دو بڑے بھائی جماعت کے مربی (مولوی واقف زندگی) تھے۔ ١٦/١٥ طالب علم صرف ربوہ سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے۔
البتہ یہ بات ضرور ہے کہ کسی ادارہ میں جب کسی طالب علم کو داخلہ نہیں ملتا تو اسے یہ نہیں کہا جاتا کہ تمہارے نمبر کم تھے۔ زیادہ محنت سے پڑھائی کی ہوتی تو پکا داخلہ مل جاتا پھر آئندہ محنت کرنا۔ بلکہ اس سے ہمدردی کرتے ہوئے کہیں گے کہ قادیانی جو ہوئے۔ داخلہ کیسے مل سکتا تھا؟ صرف قادیانی سمجھ کر انہوں نے مسترد کیا ہے۔ اس طرح وہ قادیانی زیادہ محنت کرنے کی طرف راغب ہونے کی بجائے سارا الزام ”تعصب“ پر لگا دے گا۔
آج بھی پاکستان کے ہر اچھے اور اعلیٰ تعلیمی ادارے میں قادیانی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں قادیانیوں کی کمی کی کئی اور وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ تعلیم سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ نوجوانوں کو یورپ اور امریکہ کے خوب صورت نظاروں کی طرف مائل کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں آپ کا مستقبل تاریک ہے۔ لہٰذا باہر نکلو جب وہ کسی نہ کسی طرح باہر نکل جائیں گے تو پھر مزدوری کر کے پیسے کمائیں گے پڑھیں گے نہیں۔
میں نے ١٩٨٠ء میں گورنمنٹ کالج جہلم (ٹاہلیاں والہ) سے بی ایس سی کی آج بیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ میرے گاؤں اب محلہ محمود آباد جہلم کی پچاس فیصد آبادی قادیانی ہے۔ آج تک وہاں سے کسی اور نے بی ایس سی نہیں کی۔ بہت سے قادیانی طلباء نے ایف ایس سی اور بی ایس سی میں داخلہ لیا مگر کوئی نہ کامیاب ہو سکا۔ تقریباً تمام طالب علم باہر جا چکے ہیں۔ یہ ہے تعلیم حاصل نہ کرنے کی بنیادی وجہ۔
قادیانیوں کے لیے ملازمت کا حصول
١٩٨٥ء میں میں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن لاہور میں لیکچرر شپ کے لیے ٦٨
درخواست دی۔ بعد میں تحریری امتحان ہوا جس میں میں پاس ہو گیا۔ جنوری ١٩٨٦ء میں انٹرویو ہوا جس میں میں نے شمسی توانائی کے میدان میں اپنی تحقیق پر مشتمل ایک مقالہ پیش کیا۔ جس کو بہت سراہا گیا اور یوں میں نے تمام مراحل طے کر لیے۔ ١٠ اپریل ١٩٨٦ء سے گورنمنٹ کالج چکوال سے میری سروس کا آغاز ہو گیا۔ واضح رہے کہ میں نے فارم (پنجاب پبلک سروس کمیشن لاہور کے فارم) مذہب کے خانے میں نمایاں طور پر ’’قادیانی‘‘ لکھا تھا۔ مگر اس کے باوجود مجھے سلیکٹ کیا گیا۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ بہت لائق ہوگا۔ ایسی بات نہیں نیوکیمپس پنجاب یونیورسٹی میں فزکس کے میرے کلاس فیلوز میں درجن سے زائد ایسے طلباء تھے جن کے نمبر مجھ سے زیادہ تھے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ بہت زیادہ طلباء کو سلیکٹ کیا ہوگا لہٰذا اسے بھی موقع مل گیا۔ ایسی بات بھی نہیں۔ نیوکیمپس میں فزکس کا امتحان پاس کرنے والے پچاس سے زائد میرے کلاس فیلوز میں سے ہم صرف دو طلباء سلیکٹ ہوئے گویا ”٥٠ فیصد قادیانی سلیکٹ ہوئے۔“
یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میرے شمسی توانائی کے کام کو میرٹ پر پرکھا گیا۔ میرے اس کام کی وجہ سے مجھے سلیکٹ کیا گیا۔ گویا امیدوار کی صلاحیتوں کو دیکھا گیا نہ کہ مذہب کو۔
پنجاب میں دوسرے کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء میں سے ایک اور میرے ہم مذہب ہم نام نوجوان کو بھی سلیکٹ کیا گیا وہ جھنگ میں اس وقت بھی بدستور قادیانی رہ کر سروس کر رہا ہے۔
ملازمت پر قادیانیوں کے لیے پابندی نہیں۔ البتہ قادیانی خود پہلے جماعت سے مخلص اور وفادار ہوتے ہیں بعد میں اپنے رشتہ داروں، برادری اور اپنے ملک سے وفاداری کرتے ہیں۔ لہٰذا ایک قادیانی جس بھی محکمے میں ہوگا وہ کبھی بھی اس سے جماعت سے زیادہ مخلص نہیں ہوگا۔ اب جماعت پاکستان کو دشمن سمجھتی ہے تو قادیانی کیسے اس ملک کو اپنا سمجھ سکتے ہیں۔ جب قادیانی دنیا میں پاکستان کے خلاف کھل کر پراپیگنڈہ کر رہے ہیں تو ان کی پاکستان کے ساتھ وفاداری مشکوک ہوچکی ہے۔ اب اگر کسی حساس ادارہ میں انہیں نہ آنے دیا جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔
(روزنامہ اوصاف ٢، ٥؍جون ٢٠٠٠ء)
(١١) ...... قادیانیوں کا ”خدا“ سائیکل پر
قادیانی جماعت میں کسی زمانے میں ایک نظام ہوا کرتا تھا۔ جسے نظام جماعت کہا جاتا
٦٩
تھا۔ وہ نظام اب عملاً ختم ہو چکا ہے مگر جو ڈھانچہ مرزا محمود قائم کر گئے تھے اس کے آثار ابھی تک موجود ہیں۔ اس انتظامی ڈھانچہ کے مطابق سب سے اوپر ”خلیفہ“ (امام جماعت) ان کے بعد ناظر اعلیٰ اور اس کی نظارتیں (حکومت کی وزارتوں کی طرح) پھر صوبائی امیر اور اس کی مجلس عاملہ، پھر ضلعی امیر اور اس کی مجلس عاملہ، پھر مقامی امیر / صدر جماعت اور اس کی مجلس عاملہ، (یہ سب سے چھوٹا یونٹ ہے) جماعت میں یہ فلسفہ پایا جاتا ہے جو نظام ختم ہونے کے باوجود قائم ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور مقامی امیر خلیفہ کا نمائندہ ہے۔ لہٰذا مقامی امیر / صدر جماعت خدا کا نمائندہ ہے۔
مقامی امیر / صدر جماعت کے الیکشن کے بارے میں پہلے بتایا جا چکا ہے کہ کسی بھی جماعت کے چندہ دہندگان کو اکٹھا کر کے صدر جماعت کا الیکشن کروایا جاتا ہے۔ ووٹر (چندہ دہندگان) کی اہلیت اس کا چندہ دینا ہے۔ ایک شخص جو اخلاقی لحاظ سے کتنا ہی برا کیوں نہ ہو، بے دین ہو، بدمعاش ہو، ظالم ہو اور ڈانگ مار ہو اگر الیکشن سے قبل اپنا چندہ ادا کر دیتا ہے تو وہ نہ صرف ووٹر ہے بلکہ مجلس عاملہ کا ممبر بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔ بلکہ صدر جماعت بھی بن سکتا ہے اور ایک دوسرا شخص خواہ کتنا ہی شریف کیوں نہ ہو، نمازی، پرہیزگار اور متقی کیوں نہ ہو اگر اس کے ذمہ چھ ماہ یا اس سے زائد عرصہ کا چندہ بقایا ہے تو اس کو ووٹر لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ گویا مذہبی عہدیدار کے لیے چندہ (پیسے) بنیادی شرط ہے نہ کہ مذہبی اور اخلاقی حالت۔
دیہاتی مجالس میں جب مقامی قادیانی اکٹھے ہوتے ہیں تو جاگیردار، وڈیرے اور پھڈے باز کو اہمیت دی جاتی ہے پھر الیکشن کے وقت طریقہ کار ایسا رکھا جاتا ہے کہ وڈیرے، پھڈے باز کے لیے آگے آنے کے روشن امکانات ہوتے ہیں۔ کیونکہ الیکشن کے وقت سب ووٹر اکٹھے بیٹھ جائیں گے۔ پھر ایک شخص اٹھ کر ایک دوسرے شخص کا نام صدر جماعت کے لیے پیش کرے گا۔ جس کا نام پیش کیا گیا ہے وہ بے شک یہ عہدہ نہ لینا چاہے اسے زبردستی ”اقتدار“ دینے کی کوشش کی جائے گی۔ پھر ایک شخص اس نام کی تائید کرے گا اب کسی اور شخص کا نام پیش کیا جائے گا اور پھر اس کے نام کی تائید ہو گی تو اس طرح دو نام ایک عہدے کے لیے سامنے آگئے۔ دونوں افراد اس عہدے کے ”امیدوار“ بنتے ہیں۔ کیونکہ ان کی اس اقتدار کے لیے اپنی مرضی شامل نہیں۔
اب ووٹنگ کا مرحلہ شروع ہوگا۔ ووٹروں سے کہا جائے گا کہ جو پہلے ”امیدوار“ کو ووٹ دینا چاہتے ہیں وہ ہاتھ کھڑا کریں۔ اب اگر پہلا ”امیدوار“ جاگیردار، وڈیرہ ہے۔ تو لازماً اور یقیناً وہ شخص زیادہ ووٹ لے جائے گا۔ کون ہے جو اپنے علاقے کے جاگیردار، وڈیرے، پھڈے باز شخص کے سامنے دوسرے کو ووٹ دے کر دشمنی مول لے؟ اگر دوسرا شخص درج بالا
٧٠
”قابلیت“ کا حامل ہے تو وہ دوسرے نمبر پر بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو جائے گا۔ عموماً یہ عہدہ تین سال کے لیے دیا جاتا ہے۔ مگر جب ”بن مانگے“ یہ عہدہ ملے اور بعد میں اختیارات کے وسیع استعمال اور فری سٹائل حکومت کرنے کے اختیارات اور اس سے آگے ”خدائی پاور“ مل جائے تو کون پاگل ہوگا جو اس عہدے کو واپس کرے؟ تین سال کے اندر اس ”خدائی“ کا چسکا پڑ چکا ہوتا ہے۔ پھر وہ آئندہ الیکشن پر خود ایسا انتظام کر لیتا ہے کہ اختیارات اس کے پاس محفوظ رہتے ہیں اور اب یہ تاحیات امیر جماعت رہنے کے گر سیکھ چکا ہوگا۔ اب مرتے دم تک یہ اختیارات کو انجوائے کر سکتا ہے۔
جماعت کے فلسفے کے مطابق مقامی امیر خلیفہ کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اسے خلیفہ کی مکمل سپورٹ حاصل ہوتی ہے اور خلیفہ خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ لہٰذا جماعت میں بالکل یہی فلسفہ موجود ہے کہ مقامی امیر خدا کا نمائندہ ہے۔ گویا اب خدا کو راضی رکھنا ہو تو مقامی امیر کو راضی رکھنا ضروری ہے۔ مثلاً اگر کسی کا مقامی امیر سے اختلاف ہو گیا اور وہ اس فلسفے کو نہ مانتے ہوئے گستاخی کر بیٹھا تو اس کے خلاف امیر جماعت اپنے اختیارات کی جھلک دکھاتے ہوئے خلیفہ سے ”پٹائی“ کرائے گا۔ اس شخص کو جماعت سے خارج کروایا جائے گا۔ اور پھر اس کے رشتہ داروں کے ذریعہ زور دیا جائے گا کہ تم معافی مانگ لو، کس چیز کی معافی؟ یہ سوال نہیں بس معافی مانگ لو، معافی تو تم نے خدا سے مانگنی ہے لہٰذا معافی نامہ پر مشتمل خط ”حضور“ (خلیفہ) کو لکھو۔ اگر وہ ”خدا“ سے معافی مانگتے ہوئے خلیفہ کو خط لکھ دے گا تو وہ خط خلیفہ کی طرف سے واپس مقامی امیر کے پاس آجائے گا۔ مقامی امیر اسے خوب کیش کروائے گا۔ مقامی لوگوں کو بتائے گا کہ اس نے معافی مانگ لی ہے اس طرح اسے خوب ذلیل کیا جائے گا تاکہ آئندہ یہ اختلاف کی جرأت نہ کر سکے۔ اب جب تک مقامی امیر راضی نہ ہوگا وہ اس کی معافی قبول کرنے کی سفارش نہیں کرے گا۔ لہٰذا اسے راضی کرنا یا اس سے معافی مانگنا ضروری ہوگا۔ اگر ایک آدمی مقامی امیر سے معافی نہیں مانگتا تو اس کی معافی ”حضور“ قبول نہیں کریں گے۔ گویا مقامی امیر راضی ہوگا تو خلیفہ راضی ہوگا اور خلیفہ راضی ہوگا تو خدا راضی ہوگا۔ یہ بات قادیانیوں کے ایمان میں شامل ہے کہ اگر ”خلیفہ وقت“ ناراض ہے تو خدا بھی ناراض ہے اور اگر خلیفہ راضی ہے تو خدا بھی راضی ہے۔ درج بالا صورت یوں بنی کہ اگر مقامی امیر یا صدر جماعت راضی ہوگا تو خدا راضی ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ ہر جماعت کے قادیانی وڈیرے، جاگیردار، پھڈے باز شخص کی مرضی کا پابند ہو گیا۔ جس کے بارے میں وہ جنت کی سفارش کرے گا خدا اسے جنت دے گا اور جس کے لیے دوزخ ریکمنڈ کرے گا خدا اسے دوزخ
٧١
میں ڈالنے کا پابند ہے۔ (نعوذ باللہ) قادیانی اب اس سٹیج پر پہنچ چکے ہیں کہ ”خلیفہ وقت“ مرزا طاہر احمد کو ”مشکل کشا“ مانتے ہیں۔ اگر کسی کے دانت میں درد ہے تو اس نے ”حضور“ کو خط لکھنا ہے، کسی کو کوئی مشکل پیش آگئی ہے تو اس نے ”حضور“ کو لکھنا ہے۔ طلباء نے امتحان سے قبل امتحان کی تیاری کے لیے خطوط لکھنے ہیں اور ہر پرچے سے پہلے اور بعد میں خط لکھتے ہیں۔ پھر رزلٹ سے قبل خطوط لکھتے ہیں بلکہ ان سے باضابطہ طور پر خطوط لکھوائے جاتے ہیں تاکہ انہیں ابھی سے پتا چل جائے کہ ہر مشکل گھڑی اور امتحان میں حضور کو آواز دینی ہے ڈائریکٹ خدا کو پکار کر وقت ضائع نہیں کرنا۔ (نعوذ باللہ)
یہ بچے بڑے ہو کر زمینی خداؤں کی پرستش کریں گے اور اب ایسا ہی ہو رہا ہے۔ کسی چھوٹے بڑے کو کوئی تکلیف ہو وہ مرزا طاہر احمد کو ”مشکل کشا“ سمجھتے ہوئے خط لکھے گا۔ حتیٰ کہ میاں بیوی اپنے اپنے اختلافات مرزا طاہر احمد کو لکھیں گے۔ اصل میں وہ اپنے دل کا راز یا حال خدا کو بتا رہے ہوتے ہیں اور خدا سے پردہ کیسا؟؟ میرا اپنا گاؤں محمود آباد جہلم ہے۔ محمود آباد کسی دور میں قادیانیوں کا گاؤں تھا بلکہ ١٩٣٠ء تا ١٩٤٧ء اس کا نام ”احمدی پور“ رہ چکا ہے۔ اب بھی پچاس فیصد کے قریب قادیانی ہیں۔ جب کہ اس پچاس فیصد نے گاؤں پر کنٹرول کر رکھا ہے۔ مسلمان بطور اقلیت وہاں رہ رہے ہیں۔ وہاں پر ہم نے بچپن سے جوانی تک جس ”خدا“ کا نظارہ کیا ہے وہ محمود آباد سے شہر کو جاتے پرانی سائیکل پر سوار نظر آتا۔ بہرحال ہم تو اسے ”خدا“ سمجھتے ہوئے اسے ”پیار“ سے دیکھتے کہ ہمارا خدا سائیکل پر رواں دواں ہے۔ کیا سادگی ہے؟ گو اب ترقی ہو گئی ہے اب نیا ”خدا“ گاڑی پر بھاگتا ہے۔ البتہ ریٹائرڈ خدا ابھی تک سائیکل پر ہی ہے۔ اس ”خدا“ نے قادیانی خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ خدا تو ایک طرف اس کی ”خدائی“ نے بھی گاؤں کی عورتوں کو آپس میں لڑا لڑا کر کئی خاندان تباہ کر دیئے۔ مگر مجال ہے کہ کوئی قادیانی حرف گستاخی زبان پر لائے۔ اگر کوئی ”باغی“ ایسی حرکت کر بیٹھے تو اس کے لیے یہ دنیا عذاب بنا دی جائے گی۔ آخرت تو ظاہر ہے خراب ہو ہی گئی۔ کیونکہ ”جنت“ بھی تو ان کی ہی ”ریکمنڈیشن“ سے ملے گی (واضح رہے کہ یہ صرف قادیانیوں کے لیے قواعد وضوابط ہیں)
قادیانی جماعت میں تہہ در تہہ خدا ہیں اور جماعت اس میں خاصی ”خودکفیل“ بھی ہے۔ اس وقت ”ریٹائرڈ“ خدا بھی خاصے دستیاب ہیں۔ میرے مضامین میں سے کچھ ایسے اشارے قادیانیوں کو ملے ہیں جن سے ان خداؤں کی شان میں گستاخی نظر آتی ہے۔ چنانچہ مجھے پیغام بھیجا گیا ہے کہ خدا سے ٹکر نہ لو (خدا کے خلاف نہ لکھو، خدا سے لڑائی نہ کرو) جب کہ مجھے ان
٧٢
خداؤں کی حقیقت کا پتا ہے البتہ دل کو تسلی ہے کہ چلو کسی ”بڑے“ سے لڑائی ہے۔ مزہ بھی آئے گا۔ چھوٹے سے لڑائی میں مزہ نہیں آتا۔ مسلمانوں کے خدا کے خلاف تو لکھا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ وہی تو ہے جو ساری کائنات کو پیدا کرنے والا ہے۔ وہی رب العالمین ہے۔ یہ لڑائی قادیانیوں کے دنیاوی خداؤں (بتوں) کے خلاف ہے ماضی میں کچھ ”بت شکنی“ کے ”جرائم“ میرے کھاتے میں ہیں۔ جن کی تفصیل یا روداد انشاء اللہ عنقریب بیان کی جائے گی۔
شاعر مشرق سے معذرت کے ساتھ قادیانی جماعت کے بارے میں عرض ہے کہ:
فقط زباں پہ ہے لا الہ الا اللہ
(اوصاف ٣ جولائی ٢٠٠٠ء)
(١٢) ...... جہلم کی زمین زرخیز ہے
١٩٠٣ء میں مرزا قادیانی کے جہلم میں تین روزہ قیام کے دوران ١٣٠٠ افراد نے بیعت کر لی جن میں سے ١١ سو مرد اور ٢ سو عورتیں تھیں مرزا قادیانی خاصے متاثر ہوئے کہ یہاں کے لوگوں نے تیزی کے ساتھ مجھے قبول کیا ہے مرزا نے کہا کہ میرا یہ الہام کہ: ”میں ہر ایک جانب سے تجھے برکتیں دکھاؤں گا۔“ (تذکرہ ص ٣٥٣) جہلم میں پورا ہو گیا۔
اپنی چالیس سالہ قادیانی زندگی میں بار بار جماعت کے مربیوں ، مولویوں اور دیگر سرکردہ افراد سے یہ سنتے آئے ہیں کہ مرزا صاحب نے جہلم کے بارے میں فرمایا تھا کہ ”جہلم کی زمین زرخیز ہے“ مراد یہ ہے کہ یہاں کی آبادی میں قادیانیت کو قبول کرنے کی صلاحیت کچھ زیادہ ہے اور تھوڑی سی محنت سے بہتر ”پھل“ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
یہ الفاظ اس وقت یاد دلائے جاتے جب تبلیغ کے لیے ”چارج“ کیا جاتا۔ یوں تبلیغ کرنے والوں کو یہ باور کرایا جاتا کہ خدا کے نبی (نعوذ باللہ) نے جب فرما دیا ہے کہ ”جہلم کی زمین زرخیز ہے“ تو اب یہ بات یقیناً پوری ہوگی۔ آپ نے تھوڑی سی محنت کر کے لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہونا ہے۔ قادیانیوں کا اس قول پر پورا ایمان تھا مگر اب یہ متزلزل ہو گیا ہے۔ آج سے بیس سال قبل یہ قول عام طور پر دہرایا جاتا تھا مگر اب جہلم میں جماعت کی حالت دیکھ کر اس قول کو دہراتے شرم محسوس کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ جہلم کے مولوی برہان الدین صاحب کو مرزا قادیانی اتنی اہمیت دیتے تھے کہ انہوں نے اپنا ایک ”الہام“ بھی ان کی طرف منسوب کر دیا تھا۔
٧٣
قیام پاکستان سے قبل جہلم میں خاصی جماعتیں اور تعداد ہوا کرتی تھی مگر بعد میں قادیانی آہستہ آہستہ جماعت چھوڑتے چلے گئے بعض جماعتیں ختم ہو گئیں اور دیگر سکڑ کر ”مٹھی“ ہو گئیں۔ قادیانیوں کی پورے ضلع میں کل تعداد ایک ہزار سے کم ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد ضلع جہلم میں ٥ لاکھ سے زائد ہو گی۔
١٩٥٣ء سے قادیانیت کا گراف جہلم میں بطور خاص تیزی سے نیچے آ رہا ہے اگر قیام پاکستان سے قبل کی تعداد کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر وہی تعداد یا خاندان قادیانیت پر قائم رہتے تو آج تیسری نسل بعد ان کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہوتی جبکہ اس وقت ان کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم ہے گویا ٩٩ فیصد جماعت کم ہو گئی یہ کیا؟ پہلے سے موجود قادیانی ہی قائم نہ رہ سکے تو نئے کیا ہونے تھے اگر جہلم کی زمین زرخیز تھی تو تعداد تو بڑھنی چاہیے تھی۔ اور نئے خاندان قادیانیت میں آنے چاہیے تھے۔ مگر یہاں گنگا الٹا بہتی رہی ہے۔ گویا جہلم کی زمین زرخیز نہ ہو سکی اور یہ قول غلط ثابت ہو گیا اور برکتوں کا الہام بھی مٹی کی دھول ثابت ہوا۔
(اوصاف ١٩ جولائی ٢٠٠٠ء)
(١٣) ...... قادیانی آبادی میں ”مسلمان اقلیت“
قادیانیوں نے دنیا بھر میں اپنی مظلومیت کا پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے عالمی اداروں خصوصاً انسانی حقوق کی تنظیموں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں پر بہت ظلم ہو رہا ہے۔ ان کی تمام آزادیوں کو سلب کر لیا گیا ہے ان کی املاک کا تحفظ نہیں ہے۔ ان کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
آیئے دیکھتے ہیں کہ اس ”مظلوم جماعت“ کو جہاں اپنی طاقت آزمانے کا موقع ملتا ہے وہاں پر یہ کتنا ”مظلومانہ ظلم“ کرتی ہے؟ قادیانی افراد کس طرح اپنے سے کمزور لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔ ان کے حقوق غصب کرتے ہیں۔
”محمود آباد“ ضلع جہلم میں قادیانیوں کی اکثریت والا واحد گاؤں ہے (اب محلہ بن گیا ہے)۔ اس گاؤں کی ٨٠ فیصد آبادی پہلے قادیانی ہوا کرتی تھی۔ اس کا پہلے نام ”احمدی پور“ بھی رہ چکا ہے۔ آہستہ آہستہ تعداد کم ہوتے ہوتے اب ٥٠ فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ گو ابھی تک ”طاقتور طبقہ“ قادیانی ہی ہے۔ اس گاؤں میں مسلمان ”اقلیت“ بن کر رہ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ قادیانیوں کا سلوک اقلیتوں جیسا ہی ہے۔ قادیانی مسلمانوں کو ہر لحاظ سے اپنے زیر اثر رکھتے
٧٤
ہیں۔ گو اب حالات کافی بدل چکے ہیں مگر رکھتی ہے۔ اس شراکت میں جماعت پوری ملک سلطان محمود اور اس کے بیٹوں نے آباد نکالی گئیں جن میں سے ایک جہلم شہر کو کالا گج اس کے متوازی محمود آباد میں سے گزرتی ہے لوگ کچے ”بنوں“ پر سے گزر کر گزارہ کر رہے سہولتوں کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات بھی سرکاری ایسا راستہ نہ تھا جو ٹریفک کے لیے کوششیں ہوتی رہیں کہ راستہ بن جائے مگر ترین راستے کے لیے صرف تین زمینداروں ”مخلص قادیانی“ خاندان تھا۔ اس بدنام ز کی طرف سے پوری سپورٹ ملتی بلکہ جماع سربراہ نے ہر کوشش کو ناکام بنایا اور پورے بڑی اور نمایاں کوشش محمود آباد کے ایک مس رکھتے تھے) نے ١٩٨٠ء کے لگ بھگ کی سیاسی شخصیات کو موقع پر لایا گیا۔ اپنا ذاتی کوششیں ”مخلص قادیانی“ خاندان نے ناکا مستعد تھا کہ اگر ایک مسلمان اس راستے کو نبرد آزما ہو جائیں گے۔ اس طرح تو مسلما گے۔ لہذا اس نے سختی سے اس کوشش کو ناکام
یہ الگ بات ہے کہ جب ایک گردن پر انگوٹھا رکھ کر دبایا تو اس نے دہائی خاندان کے خلاف گواہی اور مدد لے سکے۔
اس ”مخلص اور پھڈے باز قا ساتھ ملنے والی زمینوں کے خاصے حصہ پر کی گردن پر انگوٹھا رکھ کر دیا تو یہ زمین بھی
ہیں ۔ گو اب حالات کافی بدل چکے ہیں مگر تاحال قادیانیوں کی ”ظالمانہ شرافت“ اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔ اس شرافت میں جماعت پوری طرح شامل رہتی ہے۔ محمود آباد کو ١٨٣٠ء کے قریب ملک سلطان محمود اور اس کے بیٹوں نے آباد کیا ۔ ١٩٧٠ء میں اس کی زمینوں میں سے دو سڑکیں نکالی گئیں جن میں سے ایک جہلم شہر کو کالا گوجراں سے ملاتی ہے اور جی ٹی روڈ سے ایک کلومیٹر دور اس کے متوازی محمود آباد میں سے گزرتی ہے۔ اس سڑک سے آبادی تک راستہ نہ تھا۔ سو سال سے لوگ کچے ”بنیوں“ پر سے گزر کر گزارہ کر رہے تھے۔ ٣٠/٣٥ سال قبل یہ سڑک پختہ ہو گئی۔ شہری سہولتوں کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات بھی بڑھتی گئیں۔ سڑک سے آبادی تک کوئی سرکاری یا غیر سرکاری ایسا راستہ نہ تھا جو ٹریفک کے لیے استعمال ہو سکتا۔ مختلف وقتوں میں راستے کے لیے کوششیں ہوتی رہیں کہ راستہ بن جائے مگر تاحال اس سڑک تک پہنچنے کے لیے چھوٹے اور قریب ترین راستے کے لیے صرف تین زمینداروں کی زمینیں راستے میں آتی تھیں۔ ان میں سے ایک ”مخلص قادیانی“ خاندان تھا۔ اس بدنام زمانہ پھڈے باز خاندان کو ہر پھڈے بازی پر جماعت کی طرف سے پوری سپورٹ ملتی بلکہ جماعت کا امیر اس خاندان کا ”پالتو“ تھا۔ اس خاندان کے سربراہ نے ہر کوشش کو ناکام بنایا اور پورے گاؤں کے اجتماعی مسئلہ کو حل نہ ہونے دیا۔ سب سے بڑی اور نمایاں کوشش محمود آباد کے ایک مسلمان حاجی محمد ادریس (جو جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے تھے) نے ١٩٨٠ء کے لگ بھگ کی۔ اس نے بہت سے لوگوں سے دستخط بھی کروائے۔ سیاسی شخصیات کو موقع پر لایا گیا۔ اپنا ذاتی اور اجتماعی اثر و رسوخ بھی استعمال کیا گیا مگر ان کی کوششیں ”مخلص قادیانی“ خاندان نے ناکام بنادی۔ قادیانی خاندان کا سربراہ اس لحاظ سے خاصا مستعد تھا کہ اگر ایک مسلمان اس راستے کو بنوانے میں کامیاب ہو گیا تو کل ان کا اثر و رسوخ اور نمبر بڑھ جائیں گے۔ اس طرح تو مسلمان پاور فل ہو جائیں گے اور ہمیں آنکھیں دکھانے لگیں گے۔ لہذا اس نے سختی سے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔
یہ الگ بات ہے کہ جب ایک قادیانی خاندان نے ہی اس پھڈے باز خاندان کی گردن پر انگوٹھا رکھ کر دبایا تو اس نے دہائی دیتے ہوئے یہ راستہ چھوڑ دیا تاکہ لوگوں سے دوسرے خاندان کے خلاف گواہی اور مدد لے سکے۔
اس ”مخلص اور پھڈے باز قادیانی خاندان“ نے ایک مسلمان کی اپنی زمینوں کے ساتھ ملنے والی زمینوں کے خاصے حصہ پر قبضہ کر رکھا تھا۔ جب دوسرے قادیانی خاندان نے ان کی گردن پر انگوٹھا رکھ کر دبایا تو یہ زمین بھی اس مسلمان کو مل گئی۔ اس وقت بھی بہت سے
٧٥
مسلمانوں کی زمینوں پر یہ خاندان مبینہ طور پر قابض ہے۔ اور وہ مسلمان کسی ”مسیحا“ کی تلاش میں ہے۔
اس ”مخلص خاندان“ نے ایک بیوہ کی زمین دھوکا دہی سے دبارکھی تھی (١١ کنال زمین خرید کر ١٨ کنال پر قبضہ تھا) اس بیوہ کے مسلمان داماد نے گاؤں میں سرکاری ڈھنڈورہ بھی پٹوایا۔ عدالتوں تک گیا مگر زمین واپس نہ لے سکا۔ بعد میں ”انگوٹھے“ نے کام دکھایا۔
محمود آباد میں مسلمانوں کی ایک مسجد ہے جبکہ قادیانیوں کی عبادت گاہ کے علاوہ عید گاہ اور جنازہ گاہ بھی ہے۔ مسلمانوں نے اپنی عید گاہ کے لیے شاملات دیہہ جگہ پر عید گاہ بنانا چاہی تو قادیانیوں نے رکاوٹ پیدا کر کے مسلمانوں کو عید گاہ بنانے سے روک دیا۔ ابھی تک مسلمانوں کی عید گاہ نہیں بن سکی۔
قادیانیوں نے اپنی عبادت گاہ کے حصہ میں سکول بنا کر منظور کروایا۔ بعد میں گورنمنٹ پرائمری سکول بن گیا قادیانیوں نے جگہ واپس لینے کی کوشش کرتے ہوئے سکول کو باہر نکالنے کی کوشش کی۔ تو ایک مسلمان نے کوشش کر کے گاؤں کی شاملات دیہہ جگہ پر سکول کی تعمیر منظور کروالی۔ قادیانیوں نے صرف مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے لیے وہاں سکول نہ بننے دیا اور اب سکول محمود آباد سے دور دوسری بستی میں مذہب خانے کے ”پُر فضا“ ماحول میں بنا ہوا ہے۔
١٩٩٩ء میں میں اپنے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ قادیانیت کو چھوڑ کر مسلمان ہوا تو اس وقت हमारा اس ”مخلص قادیانی پھڈے باز“ خاندان سے جھگڑا چل رہا تھا۔ اس خاندان نے سڑک پر آنے کے لیے ہمارا سرکاری طور پر منظور شدہ راستہ بند کر رکھا تھا۔ یہ کیس عدالتوں میں چلتا رہا۔ مختلف عدالتوں میں ہمارے حق میں فیصلے ہوئے۔ بلدیہ نے تین دفعہ مجسٹریٹ کی موجودگی اور مدد سے تجاوزات گرا کر گلی واگزار کرائی۔ یہ خاندان اپنی ”پھڈے بازی“ کے باوجود راستہ بند نہ کرسکا۔ مگر جوں ہی ١٥ جنوری ١٩٩٩ء کو ہم نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ قادیانی فوراً شیر ہو گئے کہ اب یہ ”اقلیت“ بن گئے ہیں۔ لہٰذا اب ان کو خوب رگڑا دیں گے۔ چنانچہ فروری کے پہلے ہفتے میں انہوں نے خاصی نفری لگا کر راستہ بند کر کے مکان اور چار دیواری بنا کر مکمل قبضہ کر کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ کر لو جو کرنا ہے؟؟؟
مسجد کے پلاٹ پر قادیانیوں کا قبضہ
١٩٩٠ء میں جب میں ایک کٹر قادیانی تھا۔ اس وقت قادیانی عبادت گاہ سے ملحقہ اپنی زمین میں سے ٧ مرلہ زمین جماعت کو عبادت گاہ کی توسیع کے لیے دیا۔ وہ پلاٹ بغیر قبضہ کے پڑا رہا
٧٦
٧
(اصل میں یہ پلاٹ مربی ہاؤس کے لیے دیا گیا ت اور دوسری جگہ خرید کر وہاں بنا لیا) پھر ہمارا جماعت مرحلہ شروع ہو گیا۔ جب ہم نے ١٥ جنوری کو اسل اقلیت جانتے ہوئے بڑی ہوشیاری اور تیزی سے ا جب ہم نے اپنی نئی جماعت جماعت اہل سنت حنف نام انتقال (رجسٹری) کروا دیا۔ تو مسلمانوں کی ح قادیانیوں نے فوراً قبضہ کر لیا۔ ہم نے جھگڑے سے جگہ دے دی، اب وہاں ختم نبوت مسجد تعمیر ہو چکی ہ
صورتحال یہ ہے کہ مسلمانوں کی مسجد پ قائم ہے۔ قادیانیوں نے مسلمانوں کو کمزور اور اق نام ہے جبکہ قبضہ (چار دیواری، گیٹ) قادیانیوں غیرت عموماً کسی تحریک پر جاگتی ہے۔ عموماً لمبی تان دیا اور وہ بغیر کسی تحریک کے جاگ گئے تو یہ کسی بھی پاکستان کے غیور مسلمانوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ
(١٤) ....... قادی
کہتے ہیں کہ ہندو بنیے کا کسی مسلمان تھا۔ مگر بڑے غصے اور اکڑ والا تھا۔ مسلمان طاق خوب پٹائی کی۔ نیچے گرا کر گھونسوں، مکوں سے ہوا۔ کپڑے جھاڑے اور مسلمان کو للکارتے ہو کر دیکھو۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب تم تھ ملے گا۔ پہلوان نے دوبارہ اسے ”گوڈوں“ سے خوب ”سیراب“ کیا۔ جب خطرہ پیدا ہوا دیا۔ بنیا بمشکل سیدھا ہوا اور پھر للکار کر کہنے لگا۔ للکار کا جواب دیتے ہوئے اس کی ”آکڑ“ کو نیچ کوشش کی۔ اب اسے یقین ہو رہا تھا کہ اب کی
٧٧
(اصل میں یہ پلاٹ مربی ہاؤس کے لیے دیا گیا مگر قادیانی جماعت نے وہاں پر مربی ہاؤس نہ بنایا اور دوسری جگہ خرید کر وہاں بنالیا) پھر ہمارا جماعت سے علیحدہ ہونے اور اسلام کے قریب ہونے کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ جب ہم نے ١٥ جنوری کو اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو جماعت نے ہمیں اقلیت جانتے ہوئے بڑی ہوشیاری اور تیزی سے ٢٦ جنوری کو وہ پلاٹ اپنے نام انتقال کروا لیا۔ اور جب ہم نے اپنی نئی جماعت جماعت اہل سنت حنفیہ بنائی اور ٨ مرلہ پلاٹ مسجد کے لیے دیا اور ان کے نام انتقال (رجسٹری) کروا دیا۔ تو مسلمانوں کی عبادت گاہ کے لیے دیئے جانے والے پلاٹ پر قادیانیوں نے فوراً قبضہ کر لیا۔ ہم نے جھگڑے سے بچنے کے لیے اس مخصوص پلاٹ سے ہٹ کر اور جگہ دے دی، اب وہاں ختم نبوت مسجد تعمیر ہو چکی ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ مسلمانوں کی مسجد کے لیے مخصوص پلاٹ پر قادیانیوں کا قبضہ بدستور قائم ہے۔ قادیانیوں نے مسلمانوں کو کمزور اور اقلیت جان کر قبضہ کیا ہے۔ پلاٹ مسلمانوں کے نام ہے جبکہ قبضہ (چار دیواری گیٹ) قادیانیوں نے کر رکھا ہے۔ مسلمانوں کا شعور اور مذہبی غیرت عموماً کسی تحریک پر جاگتی ہے۔ عموماً لمبی تان کر سوتے ہیں۔ ہاں اگر کسی نے ان کو ڈسٹرب کر دیا اور وہ بغیر کسی تحریک کے جاگ گئے تو یہ کسی بھی وقت قادیانیوں کی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے پاکستان کے غیور مسلمانوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیں گے۔
(اوصاف ١٨ جولائی ٢٠٠٠ء)
(١٤) ....... قادیانیوں کی ڈھٹائی
کہتے ہیں کہ ہندو بنیے کا کسی مسلمان سے جھگڑا ہو گیا۔ بنیا خاصا کمزور اور دبلا پتلا تھا۔ مگر بڑے غصے اور اکڑ والا تھا۔ مسلمان طاقتور اور پہلوان قسم کا تھا۔ مسلمان نے بنیے کی خوب پٹائی کی۔ نیچے گرا کر گھونسوں، مکوں سے خوب ٹھکائی کی۔ جب اسے چھوڑا تو بنیا کھڑا ہوا۔ کپڑے جھاڑے اور مسلمان کو للکارتے ہوئے کہنے لگا ”اب کے مار“ یعنی اب مجھے مار کر دیکھو۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب تم نہیں مار سکتے۔ اگر مارو گے تو خوب جواب بھی ملے گا۔ پہلوان نے دوبارہ اسے ”گوڈوں“ کے نیچے لے لیا اور ایک بار پھر مکوں کی بارش سے خوب ”سیراب“ کیا۔ جب خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں ”گلے ہی نہ پڑ جائے“ تو اسے چھوڑ دیا۔ بنیا بمشکل سیدھا ہوا اور پھر للکار کر کہنے لگا۔ ”اب کے مار“ پہلوان نے تیسری بار اس کی للکار کا جواب دیتے ہوئے اس کی ”آکڑ“ کو نچوڑ ڈالنے کی غرض سے اپنی طرف سے بھر پور کوشش کی۔ اب اسے یقین ہو رہا تھا کہ اب کی بار ٣٠٢ کا کیس بنتا نظر آ رہا ہے۔ پھر جب
٧٧
اسے چھوڑا تو بنیا بڑی مشکل سے کھڑا ہوا مگر پھر للکار دی کہ ”اب کے مار“۔ اس طرح یہ قول بطور محاورہ مشہور ہو گیا کہ مار بے شک پڑے ”پلے ککھ“ نہ رہے مگر اکڑ نہ جائے تو یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ دم کو سیدھا کرنے والی بات یہاں مناسب معلوم نہیں ہوتی۔
قیام پاکستان کے بعد ١٩٤٧ء تا ١٩٥٣ء قادیانی جماعت نے پاکستان میں اچھی خاصی جگہ بنالی تھی پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چودھری ظفر اللہ خان قادیانی تھے۔ فوج کے سینئر آفیسر جنرل نذیر احمد قادیانی تھے۔ قیام پاکستان سے قبل کے ٥٠ سالوں میں جماعت نے قادیانیوں سے چندے اکٹھے کر کے خوب دولت اکٹھی کر لی تھی۔ جماعت اس دولت کو لے کر پاکستان میں داخل ہوئی۔
قیام پاکستان کے بعد سرظفر اللہ کی خدمات سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ”کلیم در کلیم“ کیش کروائے۔ مرزا قادیانی کے خاندان کے تمام شہزادوں کو جاگیردار بنادیا گیا۔ جماعت نے بھی خود زمین حاصل کی۔ جماعت نے اپنا ایک علیحدہ شہر آباد کرنے کے لیے زمین خرید کر ”ربوہ“ نام سے شہر آباد کیا جس میں جماعت کی ”حکومت“ تھی اس طرح جماعت نے اپنا اچھا خاصا ”وزن“ پاکستان میں بنالیا۔
١٩٥٣ء میں قادیانیوں کے خلاف تحریک شروع ہوئی اس تحریک ختم نبوت کے ذریعہ عوام الناس کو قادیانیت کے سمجھنے کا موقع ملا۔ عوام میں بیداری پیدا ہوئی۔ عام مسلمانوں کو علماء نے تحریر و تقریر سے باور کروایا کہ قادیانی نہ صرف غیر مسلم ہیں بلکہ گستاخ رسول بھی ہیں۔ اس طرح قادیانیوں کے خلاف خاصی نفرت پیدا ہونے لگی۔ قادیانی اپنے ”وزن“ کی وجہ سے یہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ان کے خلاف تحریک چل سکتی ہے۔ تحریک ابھی آغاز پر ہی تھی کہ وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کو ایک جلسہ عام جو قادیانیوں نے ترتیب دیا تھا۔ کراچی کے پارک میں مدعو کیا گیا کہ وہ آ کر تقریر کریں۔ مسلمانوں نے اس بات کا فوراً نوٹس لیا اور دھمکی دی کہ اگر وزیر خارجہ نے اس متنازعہ مذہبی جلسہ میں شمولیت کی تو خطرناک ہوگا۔ مگر قادیانی اس زعم میں تھے کہ حکومت اپنی ہے۔ حالانکہ ان کو یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہیے تھی کہ اگر ایک وزیر اور ایک جنرل کے قادیانی ہونے کی وجہ سے حکومت اپنی ہو سکتی ہے یا قادیانیوں کی مدد کر سکتی ہے تو حکومت کا سربراہ باقی تمام وزیر اور دیگر تمام جرنیل جس دھڑے میں ہوں گے۔ حکومت ان کی مدد کیوں نہ کرے گی بلکہ ان کی زیادہ ہوگی۔ چنانچہ اپنے اس زعم کے زیر اثر سر ظفر اللہ نے تمام دھمکیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شرکت کی ان کی آمد کے ساتھ ہی عوام بپھر گئے اور جلوس کی شکل اختیار کر کے جلسہ گاہ کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ انتظامیہ نے روکنا شروع کیا تو عوام میں جوش اور نفرت مزید بڑھنے لگی۔
٧٨
یہاں تک کہ سرظفر اللہ کی تقریر کے دوران عوام کی طر متاثر ہو گیا اور سر ظفر اللہ اپنی تقریر مختصر کر کے انتظامی قادیانیوں کی طرف سے اپنی اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہاتھ ”ہولہ“ رکھنے کی بجائے ڈن بھڑک اٹھی کہ جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے پورے ملک میں قادیانیوں کے خلاف تح جلوس نکالے جانے لگے۔ جلوسوں میں، تقاریر میں قا میں غیرت ایمانی ابھاری جاتی۔ جگہ جگہ تصادم کی کیفیا نقصان پہنچنے لگا۔ ملک کے طول و عرض میں قادیانیوں تباہ ہوئے۔ قادیانیوں کو سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ کو چھوڑ کر پناہ ڈھونڈنے لگے۔ قادیانی لوگ جوق در ج پوری جماعتیں ختم ہو گئیں۔ بہت سی قادیانیوں کی عباد جادہ، چک جمال، کوٹ بھیرہ، کوٹلہ فقیر، کریم پورہ، در ہو گئے۔ جہلم کی بڑی جماعتوں محمود آباد، جہلم شہر، کالا گو طور پر کم ہو گئی۔ قادیانیوں کو اس سے بھی بڑا نقصان یہ علماء نے یہ باور کروایا کہ قادیانی نہ صرف مسلمان نہیں مسلمانوں اور قادیانیوں میں بہت دوری پڑ گئی۔ پہلے رعب تھے۔ ”اپنا وزیر خارجہ“ اور ”اپنا جرنیل“ اس طر اس سے وہ رعب ڈال لیتے تھے مگر جب تحریک چلی تو س لیے مسلمانوں میں اپنے دوست تلاش کیے جانے لگ ہوئے کہ نوکریوں، میلوں، ٹھیلوں میں، شاپنگ میں ہ محتاط ہو گئے۔ کسی کو قادیانی بتاتے ڈرتے تھے کہ کسی کو اتنی ”مار“ پڑی کہ آج بھی ان کو اچھی طرح یاد ہے۔
دوسری طرف قادیانیوں کے سرکردہ رہنماؤ لیے جماعت کے افراد کو یہ کہنا شروع کر دیا کہ دیکھ لو دشم اور یوں دشمن نا کام لوٹ گیا۔ آئندہ بھی جو جماعت کو ختم
٧٩
یہاں تک کہ سرظفراللہ کی تقریر کے دوران عوام کی طرف سے ردعمل اتنا زیادہ ہو گیا کہ تمام جلسہ متاثر ہو گیا اور سرظفراللہ اپنی تقریر مختصر کر کے انتظامیہ کی زیر نگرانی وہاں سے جان بچا کر نکلے۔ قادیانیوں کی طرف سے اپنی اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے حالات یکسر بدل گئے۔ قادیانی حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہاتھ ”ہولہ“ رکھنے کی بجائے ڈٹ گئے۔ پھر قادیانیوں کے لیے ایسی آگ بھڑک اٹھی کہ جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
پورے ملک میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چل پڑی۔ قادیانیوں کے خلاف جلوس نکالے جانے لگے۔ جلسوں میں، تقاریر میں قادیانیوں کے خلاف نفرت اور مسلمانوں میں غیرت ایمانی ابھاری جاتی۔ جگہ جگہ تصادم کی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ قادیانیوں کو جانی، مالی نقصان پہنچنے لگا۔ ملک کے طول وعرض میں قادیانیوں کی املاک تباہ ہوئیں۔ گھر جلے، کاروبار تباہ ہوئے۔ قادیانیوں کو سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ان کی تعداد کم ہونے لگی۔ لوگ جماعت کو چھوڑ کر پناہ ڈھونڈنے لگے۔ قادیانی لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ پوری پوری جماعتیں ختم ہو گئیں۔ بہت سی قادیانیوں کی عبادت گاہیں مسلمانوں کو مل گئیں۔ جہلم میں جادہ، چک جمال، کوٹ بھیرہ، کوٹلا فقیر، کریم پورہ، دارا پور میں تمام کے تمام قادیانی مسلمان ہو گئے۔ جہلم کی بڑی جماعتوں محمود آباد، جہلم شہر، کالا گوجراں اور پنڈ دادن خان کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو گئی۔ قادیانیوں کو اس سے بھی بڑا نقصان یہ ہوا کہ مسلمان بیدار ہو گئے۔ مسلمانوں کو علماء نے یہ باور کروایا کہ قادیانی نہ صرف مسلمان نہیں بلکہ گستاخ رسول بھی ہیں۔ اس سے عام مسلمانوں اور قادیانیوں میں بہت دوری پڑ گئی۔ پہلے قادیانی اپنے اپنے علاقوں میں خاصے با رعب تھے۔ ”اپنا وزیر خارجہ“ اور ”اپنا جرنیل“ اس طرح پیش کرتے کہ جیسے بڑے بھائی ہوں اس سے وہ رعب ڈال لیتے تھے مگر جب تحریک چلی تو سب کو راہ فرار نہ ملتی تھی اور جائے پناہ کے لیے مسلمانوں میں اپنے دوست تلاش کیے جانے لگے۔ اس سے قادیانی ایسے خوف کا شکار ہوئے کہ نوکریوں، میلوں، ٹھیلوں میں، شاپنگ میں، سکولوں، کالجوں میں اور سفر میں خاصے محتاط ہو گئے۔ کسی کو قادیانی بتاتے ڈرتے تھے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے۔ اس طرح قادیانیوں کو اتنی ”مار“ پڑی کہ آج بھی ان کو اچھی طرح یاد ہے۔
دوسری طرف قادیانیوں کے سرکردہ رہنماؤں نے جماعت کا مورال بڑھانے کے لیے جماعت کے افراد کو یہ کہنا شروع کر دیا کہ دیکھ لو دشمن نے کتنا زور لگایا مگر جماعت کو ختم نہ کر سکا اور یوں دشمن ناکام لوٹ گیا۔ آئندہ بھی جو جماعت کو ختم کرنے کے لیے اٹھے گا اسے ”منہ کی کھانی
٧٩
پڑے گی‘‘ دوسرے لفظوں میں قادیانی کپڑے جھاڑ کر ایک بار پھر پہلوان کو کہہ رہے تھے۔ ’’اب کے مار‘‘۔
جس طرح اس بنے کو بھی یہ گمان تھا اور وہ اس موقف میں درست بھی تھا کہ اسے پہلوان نے صرف مارا پیٹا ہے ختم تو نہیں کر دیا۔ یعنی جان سے تو نہیں مار دیا۔ مگر اسے مار سے ہونے والی ذلت و رسوائی نظر نہ آئی۔ اسے اپنا تمام رعب اور عزت خاک میں ملتی نظر نہ آئی۔ اسے آئندہ کے لیے سر نہ اٹھا سکنے کی حالت نظر نہ آئی۔ بس اسے صرف یہ خوشی تھی کہ پہلوان نے اسے جان سے تو مار نہیں دیا لہٰذا قادیانیوں نے بھی یہ علی الاعلان کہنا شروع کر دیا کہ مسلمانوں نے پورا زور لگا کے دیکھ لیا۔ مولانا مودودی، مفتی محمود اور عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے سرکردہ علماء نے زور لگا کے دیکھ لیا مگر جماعت کو ختم نہ کر سکے۔ مگر وہ یہ نہ دیکھ سکے کہ ان کی عزت اور رعب خاک میں مل گیا ہے۔ ذلت و رسوائی سے منہ پر صرف سفید آنکھیں ہی نمایاں نظر آ رہی ہیں۔ انہیں آئندہ کے لیے اپنے معاشرے میں سر نہ اٹھا سکنے کی حالت نظر نہ آئی۔ انہیں ہزاروں قادیانیوں کا یتیم، بیوہ، بے روزگار، مہاجر اور ذلیل و رسوا ہونا نظر نہ آیا۔ وہ سب کچھ گنوا کر بھی ’’بے مزہ‘‘ نہ ہوئے اور ایک بار پھر مسلمانوں کو للکارنے لگے کہ ’’اب کے مار‘‘۔
١٩٥٣ء کے بعد کچھ عرصہ تک قادیانی دبے رہے۔ ایوب خان کے دور میں قادیانیوں کے پھر پر پرزے نکلنے لگے۔ سر ظفر اللہ خان وزارت خارجہ سے فارغ ہو کر عالمی عدالت میں بطور جج چلے گئے۔ مرزا مظفر احمد (ایم ایم احمد۔ مرزا بشیر کے بھائی) وزارت خزانہ میں سیکرٹری کے عہدے پر پہنچ گئے جن سے قادیانیوں کو خاصا حوصلہ ملنا شروع ہو گیا۔ قادیانی ایک بار پھر بھول گئے کہ سیکرٹری کے اوپر وزیر، وزیر اعظم، صدر کے عہدے بھی ہوتے ہیں اور ان پر کوئی قادیانی نہ تھا پھر دوسری وزارتوں کے یہی عہدے دار جن کی تعداد درجنوں میں ہے وہ سب مسلمان تھے۔ اگر ایک افسر کے آنے سے آپ کی پوزیشن بن رہی ہے تو جس دھڑے میں باقی سب آفیسرز ہیں ان کی پوزیشن کیوں نہیں بنتی؟ ١٩٦٥ء کی جنگ میں جنرل اختر حسین ملک اور ان کے بھائی بریگیڈئر (بعد میں جنرل) عبد العلی ملک کے نام سامنے آئے۔ کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کے حوالے سے جنرل اختر حسین ملک (ہلال جرات) کا نام چونڈہ میں ٹینکوں کی لڑائی میں مشہور ہوا۔ یہ دونوں بھائی قادیانی تھے۔
قادیانیوں نے ان کو خوب کیش کروایا۔ ١٩٧١ء میں میجر جنرل افتخار جنجوعہ چھمب جوڑیاں میں آپریشن کے دوران فوت ہو گئے تو چھمب فتح ہو گیا۔ بعد میں ان کے نام سے افتخار آباد
٨٠
نام رکھا گیا جو ابھی تک قائم ہے۔ یہ بھی قادیا عہدے پر پہنچے۔ لہٰذا ان کے ناموں سے قادی ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کو ١٩٧٠ء کے الیکش سے قادیانیوں نے ’’پانچوں گھی میں‘‘ سمجھ لیں ہ
١٩٧٤ء تک ایک نئی نسل تیار ہو چکی تک مکمل جوان ہو چکی تھی۔ لہٰذا اسے ١٩٥٣ء حواس سے ١٩٥٣ء کے حالات دیکھے تھے وہ بڈ پرانے سبق سے بے بہرہ تھی۔
٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتا سات روزہ دورہ کیا۔ سفر کے دوران بذریعہ ٹ گزرے۔ شاید انہوں نے وہاں نعرہ بازی کی انہوں نے ان کے متعلق پلاننگ شروع کر دی۔ شامل تھی جو ١٩٥٣ء کے سبق سے بے بہرہ تھی ملتان آ رہے تھے تو سرگودھا ریلوے سٹیشن پر ان ربوہ پہنچ کر ان کی ٹھکائی کے لیے تیار ہونے لگے پلاننگ سے گاڑی روک کر ( سٹیشن ماسٹر قادیانی کے قریب علاقہ منڈی کے جوان پہلے ہی اپنے رعب رکھتے تھے۔ انہیں اپنے جوہر دکھانے کا مو طلباء کو خوب مارا پیٹا اور انہیں لہولہان کر کے اس لیتے ہیں تم کیا کرتے ہو۔ دوسرے لفظوں میں آ کے فوراً بعد پورے ملک میں آگ بھڑک اٹھی میں تیار ہونے والا ’’پلیٹ فارم‘‘ صاف کر کے دی واقعہ ہوا۔ تو ٣٠ مئی کو مختلف شہروں میں مکمل ہڑتال
اس تحریک کے نتیجے میں قادیانیوں تلافی ہے۔ اس کی تلافی کسی طرح بھی ممکن نہیں میں مل گئی۔ ذلت و رسوائی کا وہ داغ لگا کہ سفی
نام رکھا گیا جو ابھی تک قائم ہے۔ یہ بھی قادیانی تھے۔ ائیر فورس میں ظفر چوہدری ائیر مارشل کے عہدے پر پہنچے۔ لہٰذا ان کے ناموں سے قادیانیوں نے اپنا خوب رعب جمایا۔ دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کو ١٩٧٠ء کے الیکشن میں کھل کر سپورٹ کیا تو وہ کامیاب ہو گئی جس سے قادیانیوں نے ”پانچوں گھی میں“ سمجھ لیں۔
١٩٧٤ء تک ایک نئی نسل تیار ہو چکی تھی یعنی جو ١٩٥٣ء کے بعد پیدا ہوئی وہ ١٩٧٤ء تک مکمل جوان ہو چکی تھی۔ لہٰذا اسے ١٩٥٣ء کے حالات یا ”مار“ یاد نہ تھی اور جنہوں نے ہوش و حواس سے ١٩٥٣ء کے حالات دیکھے تھے وہ بڑھاپے کی حد کو چھو رہے تھے۔ تو گویا جوش والی نسل پرانے سبق سے بے بہرہ تھی۔
مئی ١٩٧٤ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء کے گروپ نے شمالی علاقہ جات کا سات روزہ دورہ کیا۔ سفر کے دوران بذریعہ ریل وہ چناب نگر (ربوہ) ریلوے سٹیشن پر سے گزرے۔ شاید انہوں نے وہاں نعرہ بازی کی جس سے قادیانیوں کی توجہ اس طرف ہوئی اور انہوں نے ان کے متعلق پلاننگ شروع کر دی۔ اب اس پلاننگ میں ساری کی ساری نوجوان نسل شامل تھی جو ١٩٥٣ء کے سبق سے بے بہرہ تھی۔ ٢٩؍ مئی ١٩٧٤ء کو جب نشتر کالج کے طلباء واپس ملتان آ رہے تھے تو سرگودھا ریلوے سٹیشن پر ان کی قادیانی نوجوان (خدام) نگرانی کرنے لگے اور ربوہ پہنچ کر ان کی ٹھکائی کے لیے تیار ہونے لگے۔ جب گاڑی ربوہ ریلوے سٹیشن پر رکی تو باقاعدہ پلاننگ سے گاڑی روک کر (سٹیشن ماسٹر قادیانی تھا) نشتر کالج کے طلباء کی خوب پٹائی کی۔ سٹیشن کے قریب علاقہ منڈی کے جوان پہلے ہی اپنے علاقے میں ڈانگ مار گروہ کی حیثیت سے ایک رعب رکھتے تھے۔ انہیں اپنے جوہر دکھانے کا موقع مل گیا۔ بس پھر کیا تھا۔ قادیانیوں نے کالج کے طلباء کو خوب مارا پیٹا اور انہیں لہو لہان کر کے اس پیغام کے ساتھ رخصت کیا کہ کر لو جو کرنا ہے۔ دیکھ لیتے ہیں تم کیا کرتے ہو۔ دوسرے لفظوں میں کہ ”اب کے مار“۔ اس واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کے فوراً بعد پورے ملک میں آگ بھڑک اٹھی۔ سارا ملک ہی آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ ١٩٥٣ء میں تیار ہونے والا ”پلیٹ فارم“ صاف کر کے دوبارہ استعمال کے قابل ہو گیا۔ ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو یہ واقعہ ہوا۔ تو ٣٠ مئی کو مختلف شہروں میں مکمل ہڑتال ہو گئی۔ ٢ جون کو جہلم میں ہڑتال ہوئی۔
اس تحریک کے نتیجے میں قادیانیوں کو نا قابل تلافی نقصان ہوا جو حقیقت میں نا قابل تلافی ہے۔ اس کی تلافی کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ قادیانیوں کی ساکھ، عزت، رعب اور انا خاک میں مل گئی۔ ذلت و رسوائی کا وہ داغ لگا کہ سفید چادر نے داغ کے رنگ کو اپنا لیا۔ یہاں تک کہ
٨١
”سفید داغ“ ڈھونڈے سے نہ ملتا تھا۔ قادیانیوں کو قومی اسمبلی کے ذریعہ آئین میں ترمیم کر کے غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا، پہلے قادیانیوں کو اپنا پورا موقف بیان کرنے کا موقع دیا گیا۔ تب فیصلہ کیا گیا۔
١٩٧٤ء کے بعد قادیانیوں نے یورپ کا رخ کیا۔ وسیع پیمانے پر جعلی دستاویزات پر وہ یورپ میں داخل ہوتے گئے اور وہاں پر ”سیاسی پناہ“ حاصل کرنے لگے۔ اس میں گائیڈ اور معاونت کرنے والے ”کاروباری مسلمان“ ہی تھے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے ”تھوک کے حساب“ سے مسلمانوں کو بھی ”بہتی گنگا“ میں ہاتھ دھونے کے لیے بھیجنا شروع کر دیا۔ سلسلہ ایسا چل نکلا کہ قادیانی اور غیر قادیانی جوق در جوق یورپ میں داخل ہونا شروع ہو گئے۔ یہ تعداد ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں میں پہنچ گئی۔ قادیانیوں نے اپنی مخالفت میں چلنے والی تحریک کو کیش کروانا شروع کر دیا۔ مخالفانہ تقاریر، تحریرات، فوٹو اور دیگر دستاویزات کا ریکارڈ اکٹھا کر کے باہر پناہ حاصل کرنا شروع کر دی۔ اس سے جہاں قادیانیوں کو ایک ”راہ فرار“ مل گئی وہاں انہیں یورپ سے ڈالر اور پاؤنڈ پہنچنا شروع ہو گئے۔
اب بیرون ملک پناہ کا کیس یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ قادیانی خود ہی دے دلا کر تھانے میں جعلی مقدمہ اپنے خلاف درج کرواتے ہیں اور پھر ایف آئی آر کی نقل لے کر باہر جا کر سیٹ ہونے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کثرت کے ساتھ قادیانی جعلی دستاویزات کے ساتھ کارروائی ڈال رہے ہیں کہ ان میں سے کم از کم ٩٨ فیصد کیس جعلی ہوتے ہیں۔ دو فیصد احتیاطاً علیحدہ کر رہا ہوں۔
١٩٧٤ء سے چلنے والی جعلی دستاویزات و کیسوں کی ”آندھی“ نے یورپ میں پاکستان کو خوب بدنام کیا۔ یورپ میں اب پاکستانیوں کی ساکھ خراب ہو چکی ہے۔ ساکھ خراب کرنے میں اہم رول قادیانیوں نے پناہ کے سلسلہ میں ادا کیا۔ اب یورپ والوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور اب وہ قادیانیوں پر اعتبار نہیں کرتے اور دھڑا دھڑ کیس مسترد کر رہے ہیں۔ اپنے آپ کو قادیانی ظاہر کرنے والوں کے کیس مسترد کر کے بغیر نوٹس کے ملک بدر کر دیتے ہیں۔ ١٩٧٤ء کے بعد قادیانیوں کو یورپ سے آنے والی ”ٹھنڈی ہوا“ سے سکون ملا۔ مگر دس سال بعد ٨٤-١٩٨٣ء میں ایک بار پھر قادیانیوں کے خلاف تحریک چل پڑی۔ سیالکوٹ کے محمد اسلم قریشی کے اغوا سے چلنے والی احتجاجی تحریک ختم نبوت میں تبدیل ہو گئی۔ اب مسلمانوں نے نئے مطالبات پیش کر دیئے کہ قادیانی کیونکہ غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جاچکے ہیں لہٰذا آئین میں کی جانے والی تبدیلی کے دیگر
٨٢
تقاضے پورے کرنے کے لیے قادیانیوں کو مسلما سے روکا جائے۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے او مسلمان ظاہر کرنے، مرزا غلام احمد قادیانی کے لیے ”ام المومنین“ کے الفاظ استعمال کرنے س ١٩٨٣ء میں جب یہ تحریک زور پ موضوع یہی تحریک رہا۔ مرزا طاہر احمد جنہوں ن قادیانیوں کا مورال بڑھانے کے لیے اپنی ایک
آفت ظلمت و
آہ مومن سے ٹکر
پلٹ جائے گا
وقت نے کیا ثابت کیا؟ کیا آفت کا رخ پلٹا؟ یا آہ تو رہی ”مومن“ کی تلاش جا نہیں۔
١٩٧٤ء تا ١٩٨٣ء دس سال کا ع ٹھنڈی ہوا سے قادیانیوں کے زخم مندمل ہوئ میں اقتدار سنبھالا تو جماعت میں زبردست (قادیانی) کو دیوانہ بنا دیا۔ ہر قادیانی کو ذاتی وہ سال میں ایک ”پھل“ ضرور جماعت کی جھو قادیانی بنائے۔ یہ غالباً ١٩٨٢ء کا ہی واقعہ ہ گیا۔ مغرب کی نماز مرزا طاہر احمد قادیانی ب ”خلیفہ وقت“ تھے) نماز کے بعد عوام سے ”مجلس عرفان“ کہتے تھے۔ مرزا صاحب لو دے رہے تھے کہ تبلیغ کریں۔ ہر قادیانی کتا شوق نہیں۔ اتنی دیر میں کراچی سے تعلق رک کلاس فیلو ہے میں اسے تبلیغ کرتا ہوں۔ سا
تقاضے پورے کرنے کے لیے قادیانیوں کو مسلمانوں کی طرح کے ”شعائر اسلام“ استعمال کرنے سے روکا جائے۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے اور مسجد کی طرز پر بنانے، اذان دینے، اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے، مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھیوں کو ”صحابی“ کہنے مرزا صاحب کی بیوی کے لیے ”ام المومنین“ کے الفاظ استعمال کرنے سے روکا جائے۔
١٩٨٣ء میں جب یہ تحریک زور پکڑ رہی تھی تو جلسہ سالانہ ربوہ (دسمبر ١٩٨٣ء) کا موضوع یہی تحریک رہا۔ مرزا طاہر احمد جنہوں نے ابھی ڈیڑھ سال قبل اقتدار سنبھالا تھا۔ اس نے قادیانیوں کا مورال بڑھانے کے لیے اپنی ایک نظم جلسہ میں سنوائی۔ اس کا پہلا شعر یہ تھا:
آفت ظلمت و جور ٹل جائے گی
آہ مومن سے ٹکرا کے طوفان کا رخ
پلٹ جائے گا رت بدل جائے گی
وقت نے کیا ثابت کیا؟ کیا آفت وظلمت و جور ٹل گئی؟ کیا ”آہ مومن“ سے طوفان کا رخ پلٹا؟ یا آہ تو رہی ”مومن“ کی تلاش جاری ہے؟...... کیا یہ پیشگوئی پوری ہوئی؟ نہیں قطعاً نہیں۔
١٩٧٤ء تا ١٩٨٤ء دس سال کا عرصہ گزرنے کے ساتھ ساتھ یورپ سے آنے والی ٹھنڈی ہوا سے قادیانیوں کے زخم مندمل ہونے لگے، دوسری طرف مرزا طاہر احمد نے جون ١٩٨٢ء میں اقتدار سنبھالا تو جماعت میں زبردست جوش بھر دیا۔ تبلیغ یا ”دعوت الی اللہ“ کا ہر ایک (قادیانی) کو دیوانہ بنا دیا۔ ہر قادیانی کو ذاتی اور اجتماعی طور پر تحریر و تقریر کے ذریعہ پابند کیا گیا کہ وہ سال میں ایک ”پھل“ ضرور جماعت کی جھولی میں ڈالے۔ مراد یہ ہے کہ سال میں ایک نیا شخص قادیانی بنائے۔ یہ غالباً ١٩٨٢ء کا ہی واقعہ ہے۔ میں ربوہ میں قادیانی عبادت گاہ ”المبارک“ میں گیا۔ مغرب کی نماز مرزا طاہر احمد قادیانی نے خود پڑھائی (مرزا طاہر احمد اس وقت نئے نئے ”خلیفہ وقت“ تھے) نماز کے بعد عوام سے تعارف اور سوال و جواب کے لیے بیٹھ گئے۔ اس کو ”مجلس عرفان“ کہتے تھے۔ مرزا صاحب لوگوں سے حال واحوال پوچھ رہے تھے۔ لوگوں پر زور دے رہے تھے کہ تبلیغ کریں۔ ہر قادیانی تبلیغ کرے اور جو نہیں کرے گا اس سے ملنے کا مجھے کوئی شوق نہیں۔ اتنی دیر میں کراچی سے تعلق رکھنے والا لڑکا اٹھا اور اپنا تبلیغی تجربہ بتانے لگا کہ میرا ایک کلاس فیلو ہے میں اسے تبلیغ کرتا ہوں۔ ساتھ اس نے کچھ تبلیغی باتیں بھی بتائیں۔ پھر کہنے لگا کہ
٨٣
اس کے والدین کو جب پتہ چلا تو انہوں نے اسے میرے ساتھ ملنے سے روک دیا۔ آخر ایک دن موقع پا کر میں اسے ملا اور اسے باہر گھومنے پھرنے کے لیے بلایا تو وہ کہنے لگا کہ آپ مجھے تبلیغ کرتے ہیں اور یہ بات میرے والدین کو پسند نہیں۔ اس لیے وہ مجھے تمہارے ساتھ ملنے سے منع کرتے ہیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میں تبلیغ نہیں کروں گا مگر آؤ باہر تو چلیں۔ مرزا طاہر نے فوراً بات کاٹ دی اور کہا بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ۔ میں آپ کی بات ہی نہیں سننا چاہتا۔ آپ نے یہ کیوں کہا کہ میں تبلیغ نہیں کروں گا۔ اس نے وضاحت کرنا چاہی کہ میں نے اسے باہر بلانے اور اپنا رابطہ قائم رکھنے کے لیے کہا تا کہ وہ ساتھ چلے تو سہی۔ بعد میں تبلیغ تو ضرور کرنا تھی۔ مرزا طاہر جلال میں آگئے اور زور دے کر کہا تم بیٹھ جاؤ۔ میں تمہاری بات ہی نہیں سننا چاہتا۔ تم نے یہ کیوں کہا کہ تبلیغ نہیں کروں گا۔ اس طرح بھری مجلس میں اس کی بے عزتی کر دی اور ساتھ عوام کو یہ پیغام دیا کہ اگر آپ تبلیغ نہیں کریں گے تو مجھے آپ سے ملنے کی کوئی خوشی نہیں اور ایک قادیانی ہو کر تبلیغ نہ کرے یہ مجھے منظور نہیں۔
مرزا طاہر احمد نے قادیانیوں میں تبلیغ کا جوش بھر دیا۔ ہر ضلع، تحصیل، حلقہ، محلہ کی جماعت کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے معیار کے لحاظ سے تبلیغی مجالس منعقد کرے اور پھر زیر تبلیغ مسلمانوں کو ان مجالس کے بعد مرکز میں لے کر آئیں۔ بس پھر کیا تھا پوری جماعت اس میں مصروف ہو گئی۔ پورے جوش کے ساتھ ہر قادیانی تبلیغ کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ ہر محلے میں ”چائے پانی“ کی مجالس شروع ہوگئیں جس میں غیر قادیانی حضرات کو بلایا جاتا اور ان کو تبلیغ کی جاتی۔ جس کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا کہ فلاں دن فلاں جگہ مجلس سوال و جواب منعقد ہوگی جس میں اتنے ”غیر از جماعت دوست“ حاضر ہوتے۔ یہ ریکارڈ ربوہ میں پہنچایا جاتا۔
مجالس کا یہ سلسلہ محلے سے لے کر تحصیل و ضلع لیول تک ہوتا اور پھر پوری تحصیل یا ضلع کا ایک اجتماعی قافلہ بذریعہ بس ربوہ جاتا جس میں اکثریت ”غیر از جماعت دوستوں“ کی ہوتی۔ وہاں ”دار الضیافت“ میں خوب خاطر مدارات کی جاتی۔ تین چار گھنٹے تک مختلف مربیوں کے ذریعے تقاریر اور سوال و جواب کروائے جاتے اور آخر پر بیعتوں کے لیے کہا جاتا۔ مشاہدہ یہ تھا کہ ١٠٠ مسلمان حضرات کے قافلہ میں سے کبھی ایک اور کبھی خالی (بغیر پھل کے) اس طرح بہت کم ”پھل“ ملتا۔ اس طرح جماعت کا بہت زیادہ پیسہ خرچ ہو جاتا مگر پھل انتہائی مایوس کن۔
مرزا طاہر احمد نے جماعت میں تبلیغ کا جوش بھر دیا۔ بیعتوں کے سلسلہ میں کوئی کامیابی نہ ہوئی مگر اس سے جماعت کا مورال بڑھ گیا اور وہ اتنی ”چارج“ ہو گئی کہ ہر قادیانی دنیا پر حکومت
٨٣
کرنے کے خواب دیکھنے لگا کیونکہ ہر قادیانی کو یہ باور کروایا جاتا کہ بہت جلد پوری دنیا کے لوگ قادیانی ہو جائیں گے اور یوں پوری دنیا پر قادیانیوں کی حکومت ہوگی۔
١٩٨٣ء میں قادیانی تبلیغ کے میدان میں سخت سرگرم تھے۔ اس کے ردّعمل پر تحریک شروع ہوئی تو ١٩٨٣ء کے آخر پر تحریک زوروں پر تھی۔ ١٩٨٤ء کے جلسہ سالانہ میں مرزا طاہر احمد نے قادیانیوں کو خوب چارج کیا جس سے ان کا مورال بڑھ گیا ١٩٨٤ء میں مارچ کے مہینہ میں قادیانی جماعت نے ایک کتاب بعنوان ”اک حرف ناصحانہ“ شائع کی اسے پورے پاکستان میں تقسیم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔ میں اس وقت لاہور میں قادیانی ہوسٹل ”دارالحمد“ (134-A نیو مسلم ٹاؤن لاہور) میں ایم ایس سی کے دوران مقیم تھا۔ وہاں ڈیڑھ ہزار کتاب تقسیم کرنے کے لیے ہماری ڈیوٹی لگائی گئی۔ رات کو پروگرام بنا۔ پروگرام کے مطابق ہم صبح اذان سے قبل اٹھے۔ دو دو سو کتاب اٹھائی اور دو دو لڑکوں پر مشتمل 7-8 گروپ فیلڈ میں چلے گئے۔ ہم نے پروگرام کے مطابق گھروں کے اندر، گیٹوں کے نیچے سے کتاب کو اندر پھینکنا شروع کر دیا سورج کے طلوع ہونے سے قبل ساری کتابیں تقسیم ہو گئیں۔ پورے لاہور میں غالباً ٥٠ ہزار تقسیم کی گئیں۔ گلبرگ کے کچھ پر جوش قادیانی نوجوانوں نے سورج نکلنے کے بعد اور مارکیٹیں کھلنے کے بعد لوگوں کے ہاتھوں میں کتابیں تقسیم کیں اور اس سے کچھ تلخیاں بھی پیدا ہوئیں۔ بلکہ چند نوجوانوں کی پٹائی بھی ہوئی اور مقدمات بھی بنے۔ بعد میں اطلاعات ملتی رہیں کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں قادیانیوں پر پمفلٹ تقسیم کرنے پر مقدمات بنے۔ جماعت نے یہ موقف اختیار کیا کہ اپنا موقف پیش کرنے کا ہر ایک کو حق ہے۔ اس میں برا منانے والی کیا بات ہے؟ آپ اس کا جواب دیں؟ اگر دے سکتے ہیں تو ؟ جماعت نے اس موقف کا بار بار اظہار کیا۔ دلچسپی کے لیے جماعت کے اس موقف کا عملی مظاہرہ بھی پڑھیے۔
١٩٩٩ء میں میں اپنے خاندان کے ساتھ قادیانیت کو چھوڑ کر مسلمان ہو گیا اور ایک مضمون بعنوان ”جماعت قادیانی کی تعداد اور پچاس لاکھ بیعتیں“ تحریر کیا جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ”لولاک“ رسالے میں اگست میں شائع کیا اور اس کی چند کاپیاں محمود آباد جہلم کے چند قادیانیوں کو بھی ارسال کی گئیں۔ جماعت نے اس کا سخت برا منایا ان کی خواتین نے گالیاں دیں۔ مردوں نے دھمکیاں دیں اور آج تک ان کے مرد اس وجہ سے ناراض ہیں۔ اب کہاں گیا یہ موقف کہ ہر ایک کو اپنا موقف بیان کرنے کا حق ہے؟ اس کا تحریری جواب دینا چاہیے۔ ناراضگی کی ضرورت نہیں اب بھی جماعت اس موقف پر قائم رہتی تو بات تھی۔
٨٥
”ایک حرف ناصحانہ“ کی تقسیم کے بعد مسلمانوں میں اور زیادہ اشتعال پیدا ہو چکا تھا۔ پورے ملک میں قادیانیوں کے خلاف جلوس نکلنے لگے اور قادیانیوں کی اس پکار کہ ”اب کے مار“ پر مسلمان حرکت میں آچکے تھے۔ کئی شہروں میں تصادم بھی ہوئے۔ سربراہ حکومت جنرل محمد ضیاء الحق پر دباؤ پڑا کہ ١٩٧٤ء میں کی جانے والی ترمیم کی قانون سازی کی جائے۔ اپریل کے مہینہ میں ہر شہر اور ضلع میں جلوس نکلنے شروع ہو گئے اور مسلمانوں کی طرف سے اپریل ١٩٨٤ء کو اسلام آباد میں ایک فیصلہ کن جلسہ اور پھر جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا گیا۔ مگر اس کا مرحلہ نہ آیا اور جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے ٢٦ اپریل کو ایک آرڈینینس جاری کر دیا جس کے مطابق کوئی قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا۔ اپنے قول و فعل سے بھی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتا۔ اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد“ نہیں کہہ سکتا۔ عبادت کے بلانے کے لیے مسلمانوں کے طریق کے مطابق اذان نہیں دے سکتا۔ نہ ہی مرزا قادیانی کی بیوی کے لیے ”ام المومنین“ اور ساتھیوں کے لیے ”صحابی“ جیسے الفاظ استعمال کر سکتا ہے۔
اس سرکاری حکم کے بعد قادیانی بالکل زمین پر لگ گئے۔ اذانیں بند ہو گئیں۔ مسجد کو ”بیت الحمد“، ”دار الحمد“، ”بیت الذکر“ اور ”دار الذکر“ جیسے الفاظ میں تبدیل کر دیا گیا۔ صحابی کے لیے ”رفیق“ کا لفظ استعمال ہونے لگا۔ اپنے آپ کو ”احمدی مسلمان“ کی بجائے صرف ”احمدی“ لکھا جانے لگا۔ اخبارات و رسائل میں سے قرآنی آیات بسم اللہ وغیرہ جیسی اسلامی تحریرات کو ختم کر دیا گیا۔ اب ان کے رسائل و اخبارات کو اٹھا کر دیکھیں۔ انہیں دیکھ کر اسلامی نظریات کا ذرا بھر عکس نظر نہیں آئے گا۔ گویا جماعت نے سرکاری حکم کو اولیت دی اور اسلام سے منہ موڑ لیا۔ اب وہ تمام دستاویزات میں مسلمان کی بجائے احمدی لکھتے ہیں۔ اب اگر ١٠ سے ٢٠ سال تک کی عمر کے قادیانی بچوں اور جوانوں سے پوچھا جائے کہ آپ مسلمان ہیں یا احمدی تو ٨٠ فیصد اپنے آپ کو صرف احمدی کہیں گے۔ اگر یہی پابندیاں مزید ١٥۔٢٠ سال تک رہیں تو قادیانیوں کی پوری نسل اپنے آپ کو احمدی کہے گی اور اذان کو، مسجد کو اور دیگر اسلامی شعار کو صرف مسلمانوں سے مخصوص مان لے گی اور اپنے آپ کو بالکل علیحدہ کر لے گی۔
اب جس طرح کا یورپ کی طرف قادیانیوں کا ”بہاؤ“ ہے اس سے نظر آتا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں قادیانی پاکستان سے ہجرت کر جائیں گے۔ جو نہ جاسکے وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ ویسے بھی جوں جوں قادیانی نوجوان تعلیم کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں وہ جماعتوں میں جاری امیر جماعت اور دیگر عہدیداران کی زیادتیوں سے متنفر ہوتے جا رہے ہیں اور
٨٦
تیزی سے قادیانیت سے دور ہو رہے ہیں۔ مسل نہیں یہ خود ہی اپنے انجام کو پہنچنے کے لیے سرگردا ایک طرف جماعت ”اب کے مار“ نہیں سکتا۔ دوسری طرف پوری دنیا کو یہ باور کروا کے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ حالانکہ دوسری ط ”دم کو سیدھا کرنے والی بات“ کے مصداق یہ نام قادیانیوں نے مختلف وقتوں میں خفیہ بے سود۔ ١٩٨٤ء کے آرڈینینس کے بعد دسمبر کے تیار کر کے مختلف جماعتوں میں بھجوائے اور ہدایت کر لوگوں کو خطوط لکھے جائیں۔ جس میں لوگوں کو جگا کر حکومت کے خلاف رائے عامہ ہموار کی راولپنڈی کے قادیانیوں کو کہا کہ آپ لوگوں سے کہا گیا کہ آپ پاکستان کے شمالی حصو ایڈریس دیا جاتا۔ میں خود اس پروگرام میں شامل لہٰذا یہ سکیم فیل ہو گئی۔
مختلف وقتوں میں مختلف سربراہان ح رہے۔ بھٹو کو پھانسی دلوانے کے لیے جنرل ضیا ضیاء الحق کو یہ تاثر دیا گیا کہ بیرون ملک میں مو جنرل ضیاء الحق نے قادیانیوں کو ”نکیل ڈالی“ تو لکھوائے گئے کہ آٹھویں ترمیم کو ختم کرواؤ اور ج کرو۔ اس وقت تک مرزا طاہر لندن جا کر اپنا و کروا سکے۔ جنرل ضیاء کی وفات کے بعد غلام ا بیرون ملک پاکستانی انسانی حقوق کے حوالے س بھٹو پر پریشر پڑا مگر کوئی بھی آٹھویں ترمیم ختم وزیر اعظم بنے ان پر آٹھویں ترمیم ختم کروان آٹھویں ترمیم ختم ہونے سے ہمارا متعلقہ آرڈینی
تیزی سے قادیانیت سے دور ہورہے ہیں۔ مسلمان علماء کو اس طرف کوئی خاص محنت کی ضرورت نہیں یہ خود ہی اپنے انجام کو پہنچنے کے لیے سرگرداں ہیں۔
ایک طرف جماعت ”اب کے مار“ والی پالیسی اپنا کر یہ تاثر دیتی ہے کہ ہمارا تو کچھ نہیں بگڑا۔ دوسری طرف پوری دنیا کو یہ باور کروایا جارہا ہے کہ ہم پر بہت ظلم ہورہا ہے اور جماعت کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ حالانکہ دوسری حالت زیادہ قابل قبول ہے۔ پہلی صورت تو صرف ”دم کو سیدھا کرنے والی بات“ کے مصداق یہ تاثر دیا جارہا ہے۔
قادیانیوں نے مختلف وقتوں میں خفیہ طریقہ سے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ ١٩٨٤ء کے آرڈیننس کے بعد دسمبر کے مہینہ میں جماعت نے دو تین تحریروں کے نمونے تیار کر کے مختلف جماعتوں میں بھجوائے اور ہدایت کی کہ ٹیلی فون ڈائریکٹریوں سے پتہ جات لے کر لوگوں کو خطوط لکھے جائیں۔ جس میں لوگوں کو آرڈیننس کا حوالہ دے کر مسلمانوں کی ”غیرت“ کو جگا کر حکومت کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جاتی تھی۔
راولپنڈی کے قادیانیوں کو کہا کہ آپ سندھ، کراچی کے افراد کو خط لکھیں اور کراچی کے لوگوں سے کہا گیا کہ آپ پاکستان کے شمالی حصوں کی طرف خطوط بھیجیں۔ خط کے نیچے کسی نہ کسی کا ایڈریس دیا جاتا۔ میں خود اس پروگرام میں شامل رہا ہوں مگر خطوط کے بعد رزلٹ مایوس کن رہا۔ لہذا یہ سکیم فیل ہوگئی۔
مختلف وقتوں میں مختلف سربراہان حکومت کو باقاعدہ سکیم کے مطابق خطوط لکھے جاتے رہے۔ بھٹو کو پھانسی دلوانے کے لیے جنرل ضیاء الحق کو بیرون ملک سے خطوط لکھے گئے۔ جنرل ضیاء الحق کو یہ تاثر دیا گیا کہ بیرون ملک میں موجود پاکستانی بھٹو کو زندہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ جب جنرل ضیاء الحق نے قادیانیوں کو ”نکیل ڈالی“ تو جونیجو صاحب کے برسر اقتدار آنے پر اسے خطوط لکھوائے گئے کہ آٹھویں ترمیم کو ختم کرواؤ اور جنرل ضیاء کے قادیانیوں کے خلاف آرڈیننس کو ختم کرو۔ اس وقت تک مرزا طاہر لندن جا کر اپنا وہاں ہیڈ کوارٹر بنا چکے تھے۔ جونیجو صاحب یہ کام نہ کرواسکے۔ جنرل ضیاء کی وفات کے بعد غلام اسحاق خان کو خطوط لکھے گئے ان پر یہ ظاہر کیا گیا کہ بیرون ملک پاکستانی انسانی حقوق کے حوالے سے اس آرڈیننس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ پھر بے نظیر بھٹو پر پریشر پڑا مگر کوئی بھی آٹھویں ترمیم ختم نہ کرواسکا۔ جب نواز شریف صاحب پہلی دفعہ وزیراعظم بنے ان پر آٹھویں ترمیم ختم کروانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ جماعت یہ سمجھتی تھی کہ آٹھویں ترمیم ختم ہونے سے ہمارا متعلقہ آرڈیننس بھی ساتھ ہی ختم ہوجائے گا۔ لہذا جماعت ترمیم
٨٧
پر توجہ دلاتی رہی کوئی بھی صدر آٹھویں ترمیم کے ختم کرنے کے حق میں نہ تھا کیونکہ ان کے اختیارات کم ہوتے تھے اور کوئی وزیر اعظم اتنا مضبوط نہ تھا کہ وہ اپنی بات منوا سکتا۔ ١٩٩٧ء میں نواز شریف کے ”بھاری مینڈیٹ“ نے آٹھویں ترمیم کو ختم کر دیا مگر قادیانی جو ١٣ سال سے کسی مسیحا کی تلاش میں تھے اور آٹھویں ترمیم کے ختم ہونے کے انتظار میں بھی ١١ سال گزار چکے تھے کو سخت مایوسی ہوئی جب آٹھویں ترمیم تو ختم ہوگئی مگر جنرل ضیاء کی قادیانیوں کے خلاف کی گئی ”کاروائی“ ختم نہ ہوسکی۔
قادیانی پاکستان میں ١٩٥٣ء، ١٩٧٤ء اور ١٩٨٤ء میں شدید قسم کی مار کھا چکے ہیں۔ مگر ابھی تک وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ ہمارا کیا بگڑا ہے۔ گویا مالی، جانی نقصان، عزت و شہرت کا خاک میں ملنا۔ مختلف قانون سازیوں کے ذریعہ جکڑے جانا۔ مسلم سے غیر مسلم تک دھکیلے جانا کوئی نقصان نہیں۔ اب ایک بار پھر وہ امت مسلمہ کو اس طرف متوجہ کر رہے ہیں کہ ہم بہت زیادہ ترقی کر رہے ہیں اور اب ایک سال میں کروڑوں لوگ قادیانی ہورہے ہیں۔ نئی بیعتوں کی کیا حقیقت ہے اس پر تفصیلی مضمون (پہلے) لکھا جا چکا ہے مگر اس سے قادیانیوں کا مورال بڑھنے کے ساتھ ان کی للکار میں شدت آرہی ہے اور وہ اب بار بار ہذیان حال کہہ رہے کہ ”اب کے مار“
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد، مورخہ ٢٠، ٢٢، ٢٤، ٢٦، جولائی ٢٠٠٠ء)
(١٥) ....... مرزا طاہر احمد کا ”سنجیدہ مذاق“
قادیانی جماعت نے اپنے آغاز ہی سے تبلیغ پر بڑا زور دیا۔ تعداد کو بڑھانے کا تو ہر جماعت کو ہی شوق ہوتا ہے مگر قادیانی جماعت کی تعداد بڑھنے سے جماعت کے ”اوپر“ کے لیے ”ریونیو“ بڑھنے کا سبب پیدا ہوتا ہے لہٰذا تعداد کو بڑھانا ”بزنس“ کے لیے ضروری ہے اس کے لیے جماعت نے تبلیغ (مارکیٹنگ) پر بہت زور دیا ہے۔
جب ایک آدمی قادیانی ہوتا ہے تو اس پر پندرہ قسم کے چندے لاگو ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک قادیانی کا بغیر چندہ ادا کیے قادیانی رہنے کا تصور بھی نہیں ہے بلکہ ان کے ”خلفاء“ نے واضح طور پر کہہ رکھا ہے کہ جو قادیانی چندہ نہیں دیتا وہ قادیانی ہی نہیں ہو سکتا۔
جماعت نے تبلیغ پر بہت زور دیا۔ دوسرے ”خلیفہ“ مرزا محمود احمد نے بہت زیادہ تبلیغ پر زور دیا۔ انہوں نے اپنی توجہ کشمیر پر رکھی اور جماعت کی توانائیاں اس طرف لگائیں۔ مسلمانوں نے قادیانی جماعت کو کشمیریوں کا ہمدرد سمجھتے ہوئے ان پر اعتماد کرتے ہوئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی
٨٨
صدارت ان کے سپرد کر دی۔ مگر جب مسلمانوں گئی ہے اور یہ کشمیریوں کو اپنی جماعت میں شا کر دیا۔ علامہ اقبال نے پہلے مرزا محمود پر اعتماد دیا۔ یہ ١٩٣١ء تا ١٩٣٨ء تک کے حالات تھے جب تک قادیانیوں کے اصل عزائم سے مسلمانوں کو رکھا ہے۔
پاکستان بننے کے ساتھ قادیانیوں گزشتہ ٤٥ سال تک تبلیغی کوششیں بارآور نہ ہو سکیں
١٩٨٢ء سے مرزا طاہر احمد نے ن ١٩٨٤ء جتنی زور آور تبلیغی مہم شروع رہی اتنی ع گی۔ مگر کامیابی ایک فیصد بھی نہ ملی۔ ١٩٨٤ء م پہنچا اور وہ بالکل زمین سے لگ گئے۔ مرزا طاہ اپنا نیا ہیڈ کوارٹر بنایا اور جماعت کی تنظیم نو کی۔ ج لے کر چلتے چلے گئے ۔ تبلیغی کوششوں کی ناکامی کا آغاز کر دیا گیا۔ جس کے مطابق ہر سال ایک سال اس ٹارگٹ کے مکمل ہونے کی نوید سنا کر تیزی کے ساتھ جماعت کی تعداد ”بڑھائی“ جا ”ہضم“ بھی کرتے جائیں گے۔ شک نہیں کرت
١٩٩٣ء سے عالمگیر بیعت کے نام سے شروع ہو کر ١٩٩٩ء میں ایک کروڑ تک جائ
راقم نے ایک مضمون قادیانی جماع کیا جو اوصاف میں ٣١ مارچ اور یکم اپریل کی بیعتوں کے ٹارگٹ کے پورا ہونے کی اصلی والا ٹارگٹ دس فیصد بھی پورا نہیں ہوتا مگر اعلا
اس فارمولے کے مطابق ١٩٩٩ بیعتیں ہونی تھیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے مرزا طا
صدارت ان کے سپرد کر دی۔ مگر جب مسلمانوں نے دیکھا کہ بہت زور و شور سے تبلیغ شروع کر دی گئی ہے اور یہ کشمیریوں کو اپنی جماعت میں شامل کرنے کے درپے ہیں تو انہوں نے ان کو علیحدہ کر دیا۔ علامہ اقبال نے پہلے مرزا محمود پر اعتماد کیا بعد میں ان کی سرگرمیوں کو دیکھ کر ان کو علیحدہ کر دیا۔ یہ ١٩٣١ء تا ١٩٣٨ء تک کے حالات تھے چنانچہ اس واقعے کے بعد علامہ اقبال نے اپنی وفات تک قادیانیوں کے اصل عزائم سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لیے خاص تحریری کوشش کی جو ایک ریکارڈ ہے۔
پاکستان بننے کے ساتھ قادیانیوں نے بلوچستان پر نظر رکھی مگر کامیابی نہ مل سکی چنانچہ گزشتہ ٤٥ سال تک تبلیغی کوششیں بارآور نہ ہو سکیں۔
١٩٨٢ء سے مرزا طاہر احمد نے نئے سرے سے تبلیغی کوششیں شروع کیں۔ ١٩٨٢ء تا ١٩٨٤ء جتنی زور آور تبلیغی مہم شروع رہی اتنی شدت کے ساتھ نہ پہلے کوشش ہوئی نہ آئندہ ہو سکے گی۔ مگر کامیابی ایک فیصد بھی نہ ملی۔ ١٩٨٤ء کے صدارتی آرڈیننس سے قادیانیوں کو سخت نقصان پہنچا اور وہ بالکل زمین سے لگ گئے۔ مرزا طاہر احمد پاکستان سے جان بچا کر لندن پہنچ گئے۔ وہاں اپنا نیا ہیڈ کوارٹر بنایا اور جماعت کی تنظیم نو کی۔ ١٩٨٤ء تا ١٩٩٣ء جماعت کو ترقی کی منازل کی طرف لے کر چلتے چلے گئے۔ تبلیغی کوششوں کی ناکامی سے جھنجلا کر ١٩٩٣ء میں ایک ”اعداد و شماری تبلیغ“ کا آغاز کر دیا گیا۔ جس کے مطابق ہر سال ایک ٹارگٹ (بیعتوں کا ٹارگٹ) مقرر کرنا ہے اور اگلے سال اس ٹارگٹ کے مکمل ہونے کی نوید سنا کر اگلے سال ڈبل ٹارگٹ رکھنا ہے۔ اس طرح ایک تو تیزی کے ساتھ جماعت کی تعداد ”بڑھائی“ جاسکے گی دوسرا جماعت کے افراد آہستہ آہستہ یہ تعداد ”ہضم“ بھی کرتے جائیں گے۔ شک نہیں کریں گے۔
١٩٩٣ء سے عالمگیر بیعت کے نام سے شروع کی جانے والی اعداد و شماری تبلیغ دو لاکھ سے شروع ہو کر ١٩٩٩ء میں ایک کروڑ تک جا پہنچی۔
راقم نے ایک مضمون قادیانی جماعت کی تعداد اور ایک کروڑ بیعتیں کے عنوان سے تحریر کیا جو اوصاف میں ٣١/مارچ اور یکم/اپریل ٢٠٠٠ء کو شائع ہوا۔ جس میں تفصیل سے بیعتوں کے ٹارگٹ کے پورا ہونے کی اصلی کہانی تحریر کی جس میں ثابت کیا کہ ہر سال دیا جانے والا ٹارگٹ دس فیصد بھی پورا نہیں ہوتا مگر اعلان یہ ہوتا ہے ٹارگٹ سے زیادہ بیعتیں ہوئیں۔
اس فارمولے کے مطابق ١٩٩٩ء میں ایک کروڑ بیعتیں ہوئیں تو ٢٠٠٠ء میں دو کروڑ بیعتیں ہونی تھیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے مرزا طاہر احمد نے جو ”مذاق“ شروع کر رکھا ہے۔ اس مذاق
٨٩
میں وہ کچھ زیادہ ہی ”سنجیدہ“ ہیں۔ چنانچہ امسال دو کروڑ کی بجائے چار کروڑ ١٣ لاکھ بیعتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ یعنی ١٩٩٩ء میں ایک کروڑ اور ٢٠٠٠ء میں چار کروڑ، میں نے تو ثابت کیا تھا کہ اس فارمولے کے مطابق ٢٠١٠ء میں ١٢٢ ارب لوگ نئے قادیانی ہوں گے مگر اس بار کی ”شوٹ“ سے معلوم ہوتا ہے آئندہ تین سال میں یہ ٧٠ کروڑ کی تعداد کو چھونا چاہتے ہیں اور اگر یہی حالت رہی تو ٢٠٠٥ء تک یا تو پوری دنیا قادیانی ہو جائے گی یا پھر چھ ارب نئے قادیانی دنیا میں نازل ہوں گے۔
جو تعداد مرزا طاہر احمد بتا رہے ہیں قادیانی عقیدت کے زیر اثر اس پر اعتراض کر ہی نہیں سکتے۔ اگر کوئی اعتراض کرے گا تو کون؟ مجلس عاملہ کا کوئی ممبر، امیر جماعت، صدر جماعت، امیر تبلیغ، قائد زعیم انصار اللہ یا کوئی ناظر۔ یہ تمام اپنے عہدوں کی ”حفاظت“ کی خاطر اعتراض کی جرات نہیں کر سکتے۔ ایک عام قادیانی اعتراض کر بھی دے تو جماعت کی صحت پر کیا اثر؟ البتہ اس شخص کی صحت پر ضرور اثر پڑے گا۔ اسے فوری طور پر ”عدم تعاون“ کے جرم میں سزا ملے گی۔
قادیانیوں کو یا قادیانی جماعت کو شاید کروڑ کی تعداد کا کوئی خاص اندازہ نہیں۔ کہا گیا ہے کہ افریقہ میں زیادہ قادیانی ہوتے ہیں۔ مانا وہ غریب ملک ہے اور غریب عوام جو اپنی غربت کے ہاتھوں تنگ ہو اگر کوئی ان پر زبانی کلامی دست شفقت بھی رکھ دے تو وہ اسے نجات دہندہ سمجھ کر اسے اپنا محسن مان لیں گے۔ اب ان کو اکٹھا کر کے سب کے نام لکھ کر اگر اعلان کر بھی دیا جائے تو بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان غریب ملکوں کی کل آبادی لاکھوں میں ہے کسی ایک کی کروڑوں میں ہوگی۔ لاکھوں میں تعداد والے ملکوں میں اس طرح ”تھوک کے حساب“ سے قادیانی ہونے سے کئی ملک قادیانیوں کے ہو جانے چاہئیں تھے۔ چلو آج نہیں تو اگلے سال ”ٹارگٹ“ کو پورا کرنے کا تقاضا ہو گا کہ ٥۔٧ ملک پورے کے پورے قادیانی ہو جائیں گے۔ قادیانی فوراً کہہ دیں گے بالکل ایسا ہی ہوگا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو؟؟؟
اگلے سال کا ٹارگٹ ٤ کروڑ کو ڈبل کرتے ہوئے ٨ کروڑ ہوگا مگر اس سال کے رزلٹ کے مطابق دو تین گنا بھی بتانا ہوگا گویا اگلے سال ١٢ سے ١٦ کروڑ تک کا اعلان ہوگا۔
ہمیں خوشی ہے کہ اس فارمولے سے آئندہ چند سال (٢/٣ سال) تک یہ سارا پول کھل جائے گا۔ لیکن خطرہ بھی ہے اور اندازہ بھی ہے کہ یہ ایک ارب کی تعداد کو چھونے کی غلطی نہیں کریں گے۔ بلکہ دنیا میں موجود تعداد کے حوالے سے سب سے بڑی جماعت (سیاسی یا مذہبی) سے بڑھ کر اپنی تعداد کی ”سپیڈ“ کو روک لیں گے۔ اگر خدانخواستہ مرزا طاہر احمد صاحب آئندہ تین ٩٠
چار سال کے دوران فوت ہو گئے تو یہ پول کھلنے کہ مرزا طاہر احمد کی وجہ سے بیعتیں تیزی کے ساتھ تعداد رک گئی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ مرزا تاکہ جماعت کی آنکھیں کھل سکیں اور جھوٹ کھل کر
قادیانی گو یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے ان کی جماعتیں تو مسلسل کم ہورہی ہیں۔ ٹارگٹوں سات سال قبل کی تعداد سے ١٥ گنا زیادہ ہونی چا ”بیعت احمد“ میں آتے تھے تو اب ١٥٠٠ آنے چا پندرہ گنا ہوئی ہے نہ ڈبل ہوئی ہے بلکہ پہلی تعداد ک زیر اثر وہ ماننے کے پابند ہیں۔
مرزا طاہر احمد صاحب کا ارادہ نظریہ آ چاہتے ہیں اس لیے وہ افراتفری میں تعداد کو بڑ ہندوستان کے تمام ہندو قادیانی ہو جائیں گے؟ کیا کیا سعودی عرب، ایران اور دیگر اسلامی ریاستیں ق کہاں سے پوری ہوگی؟
قادیانی حضرات کو اس بات پر غور کر ٹارگٹ پورا نہیں ہو رہا۔ تو کل ٹارگٹ کے پورا ہو لندن یا انگلینڈ میں بھی ٹارگٹ پورا نہیں ہو رہا۔ ا ہے کہ ان علاقوں کے لوگ جماعت کے زیادہ قری ہیں اس لیے اس جماعت کو قبول نہیں کر رہے۔ افر قابو آ رہے ہیں۔
(١٦) ...... قادیانی جماعت ا
ہندوستان کے ضلع گورداسپور میں ایک نمایاں قاضی برادری تھی چنانچہ اس کا نام اسلام پور اور صرف ”قاضی“ رہ گیا۔ پھر اسے قاضیاں کہا جان ٩١
چار سال کے دوران فوت ہو گئے تو یہ پول کھلنے سے رہ جائے گا کیونکہ پھر جماعت یہ بہانا بنالے گی کہ مرزا طاہر احمد کی وجہ سے بیعتیں تیزی کے ساتھ ہو رہی تھیں اب ان کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ تعداد رک گئی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ مرزا طاہر احمد کو کم از کم ٥ سال تک مزید زندہ رکھے تاکہ جماعت کی آنکھیں کھل سکیں اور جھوٹ کھل کر سامنے آسکے۔
قادیانی گو یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے علاقوں میں ٹارگٹ کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ ان کی جماعتیں تو مسلسل کم ہورہی ہیں۔ ٹارگٹوں کے مطابق اس وقت قادیانیوں کی موجودہ تعداد سات سال قبل کی تعداد سے ١٥ گنا زیادہ ہونی چاہیے تھی یعنی اگر جمعہ کے دن پہلے ایک سو آدمی ”بیت الحمد“ میں آتے تھے تو اب ١٥٠٠ آنے چاہئیں تھے۔ قادیانی یہ دیکھ رہے ہیں کہ نہ تعداد پندرہ گنا ہوئی ہے نہ ڈبل ہوئی ہے بلکہ پہلی تعداد کو ہی سنبھالا دینا مشکل ہورہا ہے مگر عقیدت کے زیر اثر وہ ماننے کے پابند ہیں۔
مرزا طاہر احمد صاحب کا ارادہ نظر یہ آرہا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی دنیا ”فتح“ کرنا چاہتے ہیں اس لیے وہ افرا تفری میں تعداد کو بڑھا کر بتا رہے ہیں کیا آئندہ پانچ سال میں ہندوستان کے تمام ہندو قادیانی ہو جائیں گے؟ کیا چین کی ایک ارب آبادی قادیانی ہو جائے گی؟ کیا سعودی عرب، ایران اور دیگر اسلامی ریاستیں قادیانی ہو جائیں گی؟ اگر یہ نہیں ہوں گی تو تعداد کہاں سے پوری ہوگی؟
قادیانی حضرات کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ پاکستان کی تمام جماعتوں میں یہ ٹارگٹ پورا نہیں ہورہا۔ تو کل ٹارگٹ کے پورا ہونے میں کمی ہونا چاہیے تھی۔ دوسری بات یہ کہ لندن یا انگلینڈ میں بھی ٹارگٹ پورا نہیں ہورہا۔ ان دونوں باتوں سے ایک اور بات سامنے آتی ہے کہ ان علاقوں کے لوگ جماعت کے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے ان کی ”اصل“ کو جان گئے ہیں اس لیے اس جماعت کو قبول نہیں کر رہے۔ افریقہ کے غریب اور پسماندہ لوگ اپنی ناسمجھی سے قابو آرہے ہیں۔
(روزنامہ اوصاف مورخہ ٢٢ اگست ٢٠٠٠ء)
(١٢) ....... قادیانی جماعت ایک سابق قادیانی کی نظر میں
ہندوستان کے ضلع گورداسپور میں ایک قصبہ اسلام پور ہوا کرتا تھا۔ جہاں کی آبادی میں نمایاں قاضی برادری تھی چنانچہ اس کا نام اسلام پور قاضی پڑ گیا۔ پھر آہستہ آہستہ اسلام پور ختم ہو گیا اور صرف ”قاضی“ رہ گیا۔ پھر اسے قاضیاں کہا جانے لگا بعد میں ”ض“ کو ”د“ بولنے سے قادیاں
٩١
سے قادیاں بن گیا اور آخر پر قادیان کا لفظ کاغذوں میں درج ہو گیا۔ ١٨٨٠ء کے لگ بھگ قادیان کے رہائشی مرزا غلام احمد قادیانی نے مذہبی مناظروں میں دلچسپی لینی شروع کی۔ ان مناظروں کا رخ عیسائیوں کے خلاف اور اسلام کے حق میں تھا۔ عیسائیوں کے خلاف مناظروں کی وجہ سے مسلمانوں میں عزت اور شہرت حاصل ہونے لگی۔ مسلمانوں نے ان کو عیسائیوں کی تبلیغی یلغار کے سامنے ڈھال سمجھتے ہوئے ان کے ہاتھ مضبوط کرنے شروع کر دیئے۔ عیسائی مناظروں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دنیا کے نجات دہندہ، انسانوں کے گناہوں کے کفارہ کے طور پر اپنے آپ کو مصلوب کرنے والا بعد میں بطور معجزہ زندہ ہونے والا اور خدا کا بیٹا ہونے کے ناطے زندہ آسمان پر جانے والے واحد انسان کے طور پر پیش کرتے۔ وہ ان باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو عیسائی بنا رہے تھے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسائیوں کو مات دینے کے لیے ان کے تمام فلسفے کو دھڑام سے گرانے کے لیے ایک نیا ”آئیڈیا“ دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ تو مصلوب ہوئے یعنی صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ صلیب پر سے بے ہوشی کی حالت میں اتار لیے گئے نہ ہی بعد میں بطور معجزہ زندہ ہوئے۔ کیونکہ وہ فوت ہی نہیں ہوئے تھے، نہ ہی خدا کے بیٹے کی حیثیت سے زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ بلکہ فلسطین سے ہجرت کر کے وہ کشمیر میں آگئے اور وہاں پر ١٢٠ سال کی عمر تک زندہ رہنے کے بعد فوت ہو گئے اور اب بھی محلہ خانیار سری نگر میں ان کی قبر موجود ہے۔ اس ترکیب سے عیسائیوں کے منہ کو تو بند کر دیا گیا مگر اس سے بہت سی خرابیوں کے منہ کھل گئے۔
مرزا قادیانی نے جب مسلمانوں میں اپنی عزت و شہرت کو دیکھا تو اسے ”کیش“ کروانا چاہا۔ لہٰذا پہلے مرحلے میں چودہویں صدی کے مجدد کا دعویٰ کر دیا۔ چودہویں صدی کا مجدد تو امام مہدی ہوگا تو امام مہدی کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اب احادیث کے حوالے سے اعتراض ہوا کہ امام مہدی کے ظہور کے ساتھ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام (مسیح موعود) نے بھی آنا ہے تو کہاں ہیں مسیح موعود؟ پھر اس کا حل یہ نکالا کہ ”میں امام مہدی ہوں اور میں ہی مسیح موعود بھی یعنی مسیح ابن مریم بھی اور اس کی دلیل یہ نکالی کہ ایک حدیث میں ہے کہ عیسیٰ کے سوا مہدی کوئی نہیں یعنی دونوں ایک وجود ہیں اب کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اس لیے میں ہی مسیح موعود ہوں۔ میں ہی عیسیٰ بن مریم ہوں میں ہی امام مہدی ہوں اور میں ہی چودہویں صدی کا مجدد ہوں۔ ایک وجود والی حدیث اس طرح ہی نکالی جس طرح اس بڑھیا نے دودھ جلیبی والی بات بے ہوشی کی حالت میں بھی دور سے سن لی تھی۔ یہ حدیث تو نظر آگئی مگر درجنوں کے حساب سے وہ احادیث نظر نہ آئیں جو عیسیٰ علیہ
٩٢
السلام اور امام مہدی کے دو الگ الگ وجود مہدی اور مسیح موعود کے دعوے کر لیے تو مسلما ہو گئی۔ مسلمان علماء نے اعتراض کیا کہ عیسیٰ ع کہ آپ مسیح موعود ہوں یا حضرت عیسیٰ علیہ الس کے ١٣ سال بعد ان اعتراضات سے بچنے کے ل بھی کر دیا۔ اس دعویٰ سے اعتراضات اور جو جماعت کے افراد کے ناک میں دم کر رکھا ہے متاثر ہوتی آرہی ہیں۔ سو سال سے قادیانیو کھڑی کی جا چکی ہیں گویا جماعت کے لیے ” قادیانی نسلیں جلتی رہیں گی۔
اس دعویٰ سے ختم نبوت کا مسئلہ ب نبی تھے۔ پھر آپ کیسے نبی ہو سکتے ہیں۔ تو اس نبوت کے جاری رہنے کی دلیلیں بنائی گئیں اور امتی نبی کی اصطلاح استعمال کر کے مسلمانوں ک نہیں پہنچتا۔ حدیث ”لا نبی بعدی“ (میرے ب سے مراد یہ ہے کہ ایسا نبی نہیں ہو سکتا کہ جو نیا ہے۔ مگر وہ درجنوں احادیث کو نظر انداز کر گئے ج رہی ہیں۔
یہ عجیب بات ہے کہ قرآن سے خوا جاری ہے۔
لیکن جب ان سے پوچھا جائے ک کہتے ہیں نہیں اور یوں مرزا غلام احمد کو آخری ن
یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ قرآن ک جب ١٩٨٢ء میں مرزا ناصر احمد کے ایک قریبی ر لطف الرحمٰن کے لڑکے ) نے لاہور میں کچہری م دعویٰ کر دیا تو مسلمانوں نے اسے پکڑ کر پولیس ک
السلام اور امام مہدی کے دو الگ الگ وجود کو ثابت کر رہی تھیں۔ جب مرزا قادیانی نے مجدد، امام مہدی اور مسیح موعود کے دعوے کر لیے تو مسلمان علماء کی طرف سے سخت قسم کی مخالفت اور تنقید شروع ہوگئی۔ مسلمان علماء نے اعتراض کیا کہ عیسیٰ ابن مریم تو نبی تھے جبکہ آپ نبی نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ مسیح موعود ہوں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ لے سکیں۔ چنانچہ جماعت کی بنیاد ڈالنے کے ١٣ سال بعد ان اعتراضات سے بچنے کے لیے ’ایک دعویٰ اور سہی‘ کے مصداق ”نبی“ کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اس دعویٰ سے اعتراضات اور مخالفت کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جس نے آج تک جماعت کے افراد کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ نسلیں اس مخالفت کے ناقابل تلافی نقصان سے متاثر ہوتی آرہی ہیں۔ سو سال سے قادیانیوں کے لیے مخالفت اور نفرت کی ناقابل عبور دیواریں کھڑی کی جا چکی ہیں گویا جماعت کے لیے ”مستقل آگ“ کے سامان پیدا کر دیے گئے جس میں قادیانی نسلیں جلتی رہیں گی۔
اس دعویٰ سے ختم نبوت کا مسئلہ پیدا ہوا۔ مسلمان علماء نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ تو آخری نبی تھے۔ پھر آپ کیسے نبی ہو سکتے ہیں۔ تو اس کے جواب کے طور پر قرآن مجید کی چند آیات سے نبوت کے جاری رہنے کی دلیلیں بنائی گئیں اور بتایا کہ نبوت جاری ہے۔ دوسری طرف اپنے لیے امتی نبی کی اصطلاح استعمال کر کے مسلمانوں کو کنفیوز کر دیا اور کہا کہ اس سے ختم نبوت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ حدیث ”لا نبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کی ”نئی تعبیر“ کر کے بتایا کہ بعدی سے مراد یہ ہے کہ ایسا نبی نہیں ہو سکتا کہ جو نبی اکرم ﷺ کے خلاف ہو۔ ان کی تائید میں نبی ہو سکتا ہے۔ مگر وہ درجنوں احادیث کو نظر انداز کر گئے جو واضح طور پر نبوت کے ختم ہونے کی دلیل پیش کر رہی ہیں۔
یہ عجیب بات ہے کہ قرآن سے خود ثابت کرتے ہیں کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ نبوت جاری ہے۔
لیکن جب ان سے پوچھا جائے کہ کیا مرزا غلام احمد کے بعد اور نبی بھی آسکتے ہیں تو کہتے ہیں نہیں اور یوں مرزا غلام احمد کو آخری نبی ثابت کرتے ہیں۔
یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ قرآن سے ثابت کرتے ہیں کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے مگر جب ١٩٨٢ء میں مرزا ناصر احمد کے ایک قریبی رشتہ دار (مرزا ناصر احمد کے رشتے میں بھانجے اور شیخ لطف الرحمٰن کے لڑکے) نے لاہور میں کچہری کے پاس عوام الناس میں کھڑے ہو کر نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا تو مسلمانوں نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا تو ”مدعی“ کے رشتہ داروں نے یہ
٩٣
موقف اختیار کیا کہ اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں اور تھانے والوں کو اس کے دماغی طور پر کمزور ہونے کے ثبوت کے طور پر بعض ڈاکٹروں کے نسخے پیش کر کے جان چھڑائی اور یوں اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ نبوت کا دروازہ کھلا نہیں۔ اگر کھلا تھا تو قادیانیوں کو فوراً اسے نبی تسلیم کر لینا چاہیے تھا کیونکہ ”مدعی“ خود بھی قادیانی تھا بلکہ مرزا قادیانی کے خاندان سے تھا۔ نیز قادیانیوں نے عمل سے یہ بھی ثابت کیا کہ ایسا دعویٰ کرنے والے کا دماغ یا ذہنی توازن درست نہیں ہو سکتا لہٰذا ثبوت پیش کر دیئے گئے۔
درج بالا مثال کے علاوہ بھی مرزا قادیانی کی وفات کے بعد آج تک کئی افراد نے نبوت کے دعوے کیے مگر نبوت کا دروازہ کھلا رکھنے والے قادیانیوں نے کبھی بھی کسی ایسے ”مدعی“ کو قبول نہیں کیا حالانکہ سب سے پہلے ان کو ”ایمان لانا“ چاہیے تھا۔ بعض کئی کئی سال تک زندہ رہے، جیلوں میں ڈال دیے گئے مگر قادیانی ان کے قریب بھی نہیں گئے۔ یہ قول و فعل میں تضاد کی ایک شرم ناک مثال ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی ایک جماعت کی بنیاد ڈال گئے اور ایک چندے کا نظام قائم کر گئے۔ مرزا قادیانی کی وفات کے بعد حکیم نورالدین صاحب آف بھیرہ پہلے جانشین بنے۔ ١٩١٤ء میں ان کی وفات پر ”خلافت“ کے جھگڑے کی بنیاد پر جماعت دو حصوں میں بٹ گئی ایک حصے (لاہور پارٹی مولوی محمد علی ایم اے) کا خیال تھا کہ جس طرح پہلے مرزا قادیانی کے بعد جماعت میں زیادہ مخلص، زیادہ علم اور خلوص رکھنے والے شخص (حکیم نور الدین صاحب) کو خلیفہ بنایا گیا تھا۔ اسی طرح اب ان کے بعد کسی سینئر کو خلیفہ بنایا جائے۔ مگر دوسرے حصے نے خاندانی اور موروثی سربراہی کے لیے مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا محمود احمد (جو اس وقت ٢٥ سال کے تھے) کو آگے لانے کی کوشش کی۔ چنانچہ اس جھگڑے کی وجہ سے لاہوری اور قادیانی دو گروپ بن گئے۔
مرزا محمود احمد دوسرے جانشین مقرر ہوئے تو انہوں نے اپنے والد صاحب کے چندے والے آئیڈیا کو خوب آگے بڑھایا اور جماعت میں چندے کے بارے میں ایسا نظام وضع کیا جو اپنی مثال آپ ہے۔ اس نظام کی ”برکات“ سے پورا خاندان مالا مال ہو گیا۔ ہر فرد کو مال، دولت اور عیش وعشرت کی زندگی میسر آگئی اور یوں مرزا صاحب کا پورا خاندان ”شہزادہ“ خاندان بن گیا۔
مرزا محمود احمد (جن کو خلیفۃ المسیح الثانی کے علاوہ مصلح موعود بھی کہتے ہیں) اور ان کے بھائی مرزا بشیر احمد ایم اے (جن کو قمر الانبیاء بھی کہتے ہیں) نے اپنے مالی اور عیش وعشرت کے دور میں تکبر اور مغروری کی حدوں کو چھوتے ہوئے اور مسلمانوں کے عقائد کو پاؤں تلے روندتے
ہوئے انہیں کافر اور غیر مسلم قرار دیا ( ”کافر“ بلکہ پکے کافر جیسے ”خطابات“ سے سے اپنے آپ کو (قادیانیوں کو) مسلمان اس علیحدگی کو باضابطہ بناتے ہوئے قادیانی اس فیصلہ سے قبل قادیانی مسلم رشتہ لیتا ہے، نہ رشتہ دیتا ہے، نہ ان کے نماز پڑھتی ہے، نہ ان کی خوشی میں شامل شامل ہوتا ہے اور نہ ہی چالیسویں میں چہلم کرتے تھے مگر اس فیصلہ کے بعد یہ منہ موڑ چکے تھے۔ زکوٰۃ عرصہ دراز سے آہستہ آہستہ اسلامی ناموں مثلاً محمد، اب زینب، عائشہ، آمنہ، سے منہ موڑ چکے تھے پیدا ہونے والے قادیانی بچوں کے ناموں والے قادیانی بچوں کے ناموں کا جائزہ صرف چندہ حاصل کرنے والا ایک نیٹ ورک کے ذریعہ دور دراز دیہاتوں سے سے بھی کچھ نہ کچھ جو سالانہ کم از کم سو رو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ سو روپے سے ک نہیں۔ ایسے خوش نصیب جو سال میں ص گے ورنہ پانچ سو سے تین ہزار روپے س ہے مثلاً ”چندہ عام“ چندہ حصہ آمد، چند سالانہ، چندہ اجتماع، چندہ تعمیر ہال، ناصرات، چندہ لجنہ، چندہ بوسنیا، افریقہ پانچ چندے ہوں گے جن کے اس وقت قادیانی جماعت کی پاکستان پاکستان کے بعد سے اب تک مسلسل ان
ہوئے انہیں کافر اور غیر مسلم قرار دیا (الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے) بلکہ مرزا بشیر احمد نے مسلمانوں کو ”کافر“ بلکہ پکے کافر جیسے ”خطابات“ سے نوازا اور یوں اپنی تحریر و تقریر سے اور بعد میں اپنے عمل سے اپنے آپ کو (قادیانیوں کو) مسلمانوں سے بالکل علیحدہ کر دیا۔ ١٩٧٤ء میں مسلمانوں نے اس علیحدگی کو باضابطہ بناتے ہوئے قادیانیوں کو امت مسلمہ سے خارج کر دیا۔
اس فیصلہ سے قبل قادیانی مسلمانوں سے اس حد تک قطع تعلق کر چکے تھے کہ نہ ان سے رشتہ لینا ہے، نہ رشتہ دینا ہے، نہ ان کے ساتھ کسی عبادت میں شریک ہونا ہے، نہ ان کی مسجد میں نماز پڑھنی ہے، نہ ان کی خوشی میں شامل ہونا ہے اور نہ غمی میں، نہ جنازہ پڑھنا ہے، نہ فاتحہ میں شامل ہونا ہے اور نہ ہی چالیسویں میں۔ واضح رہے کہ ١٩٧٤ء تک قادیانی خود فاتحہ خوانی اور چہلم کرتے تھے مگر اس فیصلہ کے بعد یہ چھوڑ چکے ہیں۔ اسلام سے علیحدہ ہوتے ہوئے حج سے منہ موڑ چکے تھے۔ زکوٰۃ عرصہ دراز سے قادیانیوں کی عبادت سے خارج ہوچکی تھی۔ قادیانی آہستہ آہستہ اسلامی ناموں مثلاً محمد، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، حسن، حسین، زید، فاطمہ، خدیجہ، زینب، عائشہ، آمنہ، سے منہ موڑ چکے تھے۔ یقین نہ آئے تو ١٩٦٤ء تا ١٩٧٤ء دس سالوں میں پیدا ہونے والے قادیانی بچوں کے ناموں کو دیکھ لیجیے ربوہ میں ١٩٨٠ء تا ١٩٩٠ء تک پیدا ہونے والے قادیانی بچوں کے ناموں کا جائزہ لے لیں۔ اب قادیانی جماعت کی حالت یہ ہے کہ یہ صرف چندہ حاصل کرنے والا ایک زبردست نیٹ ورک ہے۔ پورے ملک سے اس منظم نیٹ ورک کے ذریعہ دور دراز دیہاتوں سے بھی بڑی ”خوش اسلوبی“ سے غریب سے غریب آدمی سے بھی کچھ نہ کچھ جو سالانہ کم از کم سو روپے ضرور ہوتا ہے نکلوا کر مرزا قادیانی کی فیملی کی نذر کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ سو روپے سے کہیں یہ دھوکا نہ لگے کہ سالانہ سو روپے چندہ تو کوئی بات نہیں۔ ایسے خوش نصیب جو سال میں صرف ایک سو روپے چندہ دیتے ہوں درجن بھر ہی ہوں گے ورنہ پانچ سو سے تین ہزار روپے سالانہ تو عام سی بات ہے۔ ان چندوں کی خاصی ورائٹی ہے مثلاً ”چندہ عام“ چندہ حصہ آمد، چندہ تحریک جدید، چندہ وقف جدید، چندہ مجلس، چندہ جلسہ سالانہ، چندہ اجتماع، چندہ تعمیر ہال، چندہ صد سالہ، چندہ اطفال، چندہ انصار اللہ، چندہ ناصرات، چندہ لجنہ، چندہ بوسنیا، افریقہ، چندہ ڈش انٹینا، وغیرہ وغیرہ (وغیرہ وغیرہ میں کم از کم پانچ چندے ہوں گے، جن کے اس وقت نام یاد نہیں)۔
قادیانی جماعت کی پاکستان میں قانونی، مالی، جانی اور معاشرتی پٹائی ہوچکی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک مسلسل ان کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ اب پورے پاکستان میں ان کی
٩٥
تعداد ٢ سے ٣ لاکھ کے درمیان رہ گئی ہے۔ بہت سے علاقوں سے قادیانیت بالکل ختم ہو چکی ہے اور باقی جماعتیں خاصی سکڑ چکی ہیں۔ جماعت نے ١٩٨٢ء تا ١٩٨٤ء تبلیغ کے میدان میں انتہائی زور لگا کر دیکھ لیا مگر رزلٹ بہت ہی مایوس کن نکلا۔ چنانچہ بطور رد عمل مرزا طاہر احمد (موجودہ سربراہ) نے ١٩٩٣ء سے ایک نیا سلسلہ ”عالمگیر بیعت“ کا شروع کر رکھا ہے جس کے مطابق ہر سال پچھلے سال کی نسبت بیعتوں کی تعداد ڈبل بتانی ہے۔ اس ترکیب سے وہ ایک لاکھ سے سفر شروع کر کے ٢ کروڑ تک پہنچ چکے ہیں (اگست کے مہینہ میں دو کروڑ کا اعلان ہوتا ہے) جو ٢٠١٠ء تک ٢٠ ارب تک پہنچ جائیں گے۔ فناس فارمولے کے مطابق یا تو ٢٠٠٩ء تک پوری دنیا قادیانی ہو جائے گی یا پھر پوری دنیا کے چھ ارب لوگوں کو چھوڑ کر ٢٠ ارب نئے افراد اس دنیا میں بطور قادیانی ”نازل“ ہوں گے۔
جماعت نے دنیا میں اپنے حق اور پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ مہم شروع کر رکھی ہے۔ ١٩٧٤ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے قادیانی جماعت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو بیرون ملک قادیانیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ بھٹو کو مذمت کے خطوط لکھیں مگر ان خطوط کا کوئی اثر نہ ہوا۔ جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ الٹ دیا تو جنرل صاحب کو خطوط لکھوائے گئے کہ بھٹو کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔ جنرل صاحب نے ان خطوط سے یہ تاثر لیا کہ بیرون ملک موجود پاکستانی لوگ بھٹو کو ملک کا دشمن سمجھتے ہیں اور اسے زندہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ جب جنرل ضیاء الحق نے قادیانیوں کے خلاف آرڈینینس پاس کیا تو قادیانیوں نے انسانی حقوق کے حوالے سے مختلف عالمی تنظیموں کو اس طرف مائل کیا۔ جس سے دنیا میں پاکستان کے خلاف خوب نفرت پھیلائی گئی۔ جونیجو صاحب اقتدار میں آئے تو قادیانیوں نے انہیں خطوط لکھ کر آٹھویں ترمیم ختم کروا کر آرڈینینس غیر مؤثر کرنے کی ترغیب دی۔ مگر بے سود، بے نظیر بھٹو کے آنے پر اس سے ہمدردی اور بھٹو کے حق میں خطوط لکھے کہ مولویوں نے بھٹو کو ”ورغلا“ کر یہ فیصلہ لیا۔ اب آپ مولویوں کے اس فیصلے کو ختم کروا کر بیرونی دباؤ کو ختم کریں اور اپنی ترقی پسندی کا ثبوت دیں۔ یہ ساری کوششیں رائیگاں گئیں۔ اس طرح نواز شریف، معراج خالد، وسیم سجاد، فاروق لغاری اور اب جنرل مشرف صاحب کو خطوط لکھے جا رہے ہیں۔
قادیانی مجلسوں میں مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ سرد جنگ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اخبارات ورسائل میں واضح اور غیر واضح بیانات کو ”مرچ مصالحہ“ لگا کر پیش کیا جاتا ہے اور دل کو تسلی دی جاتی ہے کہ یہ آپس میں لڑتے رہیں گے تو ہماری طرف متوجہ نہیں ہوں گے۔
٩٦
قادیانیوں کا اب مذہب سے کوئی خاص تعلق نہی ایک منظم نیٹ ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔ مرزا قادیانی نے کو تین بار نہ پڑھا تو سمجھ لو کہ اس کے دل میں کبر پایا جاتا فارمولے کے مطابق ٩٩.٩ فیصد قادیانی ”کبر“ سے پر ہیں قادیانیوں نے نہیں مانی۔ اس طرح قادیانی مذہب سے مر ”نبی“ کی بات نہیں مانی۔ ان کی کتابوں سے ”فیض“ حاص فیصد سے بھی کم قادیانی ہوں گے جو مرزا قادیانی کی کل کتا صاحب کے ”الہامات“ کے مجموعہ کی کتاب کا نام ”تذکرہ جنہوں نے اس کتاب کو دیکھا ہے یا اسے کچھ پڑھا ہوگا۔ ب ہو سکتا ہے جس نے ”تذکرہ“ کو مکمل پڑھا ہو۔
اس وقت موجود قادیانیوں کی ٩٠ فیصد سے زائد مطلب یہ ہے کہ نئے لوگ اس جماعت میں داخل نہیں ہور نہ ہونے کے برابر ہے۔ پیدائشی قادیانی کو قادیانیت کی سچائی باپ دادا قادیانی تھے۔ تو وہ بھی اسی طرح چل رہے ہیں۔ مذہب چھوڑنا بہت مشکل ہے۔ اس کے لیے ہمت و جرأت صرف اللہ کی تائید سے ممکن ہو سکتا ہے۔ ”اللہ جسے چاہے ہدا ہے۔“
(١٧) ...... چندوں کی شرح اور بیعتو
آج کل قادیانی جماعت یہ اعداد و شماری تبلیغ بیعتوں کے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے جا رہے ہیں ج کروڑ تک جا پہنچی ہے جو کہ اگلے سال (٢٠٠١ء) ١٢ سے ١٦ ٢٠ ارب تک جا پہنچے گی۔ بیعتوں میں اضافے کی شرح اتنی اسے تسلیم کرنا مشکل ہو رہا ہے وہ بھی سانس کھینچے اپنے ”خلیفہ نہ ہی احتجاج کر سکتے ہیں اور نہ ہی انکار۔ انکار اور احتجاج ک میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کا تذکرہ میں اپنے مضمون ”اخرا
٩٧
قادیانیوں کا اب مذہب سے کوئی خاص تعلق نہیں رہا۔ اب یہ صرف مالی حوالے سے ایک منظم نیٹ ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ جس قادیانی نے میری کتابوں کو تین بار نہ پڑھا تو سمجھ لو کہ اس کے دل میں کبر پایا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے مرزا قادیانی کے فارمولے کے مطابق ٩٩.٩ فیصد قادیانی ”کبر“ سے پر ہیں۔ گویا مرزا قادیانی کی بات ٩٩.٩ فیصد قادیانیوں نے نہیں مانی۔ اس طرح قادیانی مذہب سے مزید کیا لگاؤ رکھیں گے جنہوں نے اپنے ”نبی“ کی بات نہیں مانی۔ ان کی کتابوں سے ”فیض“ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ ایک فیصد سے بھی کم قادیانی ہوں گے جو مرزا قادیانی کی کل کتابوں کے نام جانتے ہوں گے۔ مرزا صاحب کے ”الہامات“ کے مجموعہ کی کتاب کا نام ”تذکرہ“ ہے۔ بہت ہی کم قادیانی ایسے ہیں جنہوں نے اس کتاب کو دیکھا ہے یا اسے کچھ پڑھا ہوگا۔ بلکہ ایک ہزار میں سے ایک قادیانی ایسا ہو سکتا ہے جس نے ”تذکرہ“ کو مکمل پڑھا ہو۔
اس وقت موجود قادیانیوں کی ٩٠ فیصد سے زائد اکثریت پیدائشی قادیانی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے لوگ اس جماعت میں داخل نہیں ہو رہے بلکہ نسل در نسل نئے افراد کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ پیدائشی قادیانی کو قادیانیت کی سچائی کے لیے دلائل کی ضرورت نہیں۔ بس باپ دادا قادیانی تھے۔ تو وہ بھی اسی طرح چل رہے ہیں۔ سچائی دیکھ کر اسے قبول کرنا اور اپنا پہلا مذہب چھوڑنا بہت مشکل ہے۔ اس کے لیے ہمت و جرات چاہیے جو عام آدمی میں نہیں ہوتی یہ صرف اللہ کی تائید سے ممکن ہو سکتا ہے۔ ”اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ کر دیتا ہے۔“
(اوصاف اسلام آباد ١٢ اگست ٢٠٠٠ء)
(١٧) ...... چندوں کی شرح اور بیعتوں کی تعداد میں تضاد
آج کل قادیانی جماعت یہ ”اعداد و شماری تبلیغ“ شروع کیے ہوئے ہے اور دھڑا دھڑ بیعتوں کے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے جا رہے ہیں۔ دو لاکھ سے چلنے والی ”گیم“ اب چار کروڑ تک جا پہنچی ہے جو کہ اگلے سال (٢٠٠١ء) ١٢ سے ١٦ کروڑ اور آئندہ ٥ سالوں میں ٣٠ سے ٤٠ ارب تک جاپہنچے گی۔ بیعتوں میں اضافے کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ قادیانیوں کے لیے بھی اسے تسلیم کرنا مشکل ہو رہا ہے وہ بھی سانس کھینچے اپنے ”خلیفہ“ کی ”مذہبی بڑھکیں“ سن رہے ہیں۔ نہ ہی احتجاج کر سکتے ہیں اور نہ ہی انکار۔ انکار اور احتجاج کی صورت میں انہیں سخت قسم کی اذیت میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کا تذکرہ میں اپنے مضمون ”اخراج از جماعت“ میں کر چکا ہوں۔
٩٧
دوسری طرف چندوں کی وصولی پر پہلے سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے اور اس کی شرح بھی بڑھتی جارہی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی مالی کمزوری کی وجہ سے لوگوں سے پیسے لے کر کتابیں شائع کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس لیے انہوں نے اپنے رفقاء سے باقاعدہ چندہ لینا شروع کیا۔ کچھ عرصہ بعد ایک سالانہ میٹنگ (جلسہ سالانہ) کا پروگرام بنایا تو اس کے لیے انہوں نے اپنے رفقاء سے الگ چندہ لینا شروع کر دیا پھر یوں ہوا کہ ہر سال جلسہ کیا جاتا اور اس کے لیے باقاعدہ چندہ لیا جاتا۔ کتابیں شائع کرنے کا سلسلہ چل نکلا تو اس کے لیے باقاعدہ چندہ کی شرح مقرر کی گئی جو کہ ایک روپیہ کی آمد پر ایک آنہ (١٦ آنوں میں سے ایک آنہ ٦.٢٥ فیصد) مقرر ہوئی۔ اس طرح ہر شخص اپنی آمدن کے مطابق چندہ دینے کا پابند ٹھہرا۔ مرزا قادیانی نے کتابیں شائع کیں۔ کئی قسم کے کئی ہزار اشتہار شائع کیے۔ اخبار الحکم، البدر اس کے علاوہ تھے۔ مرزا قادیانی کی وفات کے بعد چندوں کی وصولی جاری رہی حالانکہ کتابوں کی اشاعت رک گئی۔ چندوں کی مقرر کردہ شرح ١٩٠٨ء (مرزا صاحب کی وفات کا سال) کے بعد بھی اس طرح قائم رہی۔ ١٩٠٨ء تا ١٩١٤ء حکیم نور الدین صاحب کے دور امارت میں کتابوں کی اشاعت نہ ہوئی سوائے چند ایک کے۔ ١٩١٤ء کے بعد مرزا محمود احمد ولد مرزا غلام احمد قادیانی کے دور امارت میں چندوں پر ہی زور دیا گیا۔ جماعت کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ چندہ دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ چندہ دہندگان کی آمد (تنخواہوں وغیرہ) میں بھی اضافہ ہوا اور ساتھ ساتھ نئے چندے بھی شروع کر دیئے گئے تو جماعت کے پاس دولت کے انبار لگنا شروع ہو گئے صورت حال یہ ہے کہ ایک مخلص قادیانی (عقیدت کا مارا قادیانی جو دیوانہ، ہر آواز پر لبیک کہتا ہے) اپنی آمد کا ٦.٢٥ فیصد بمعہ ”چندہ عام“ دیتا ہے یا دینے پر مجبور ہے۔
چندہ جلسہ سالانہ کے طور پر اپنی آمدن کے ١٠ فیصد حصہ کو بطور سالانہ چندہ کے دیتا ہے۔ (حالانکہ ١٩٨٣ء سے جلسہ سالانہ بند ہے) چندہ تحریک جدید، چندہ وقف جدید، اپنی مذہبی غیرت کے مطابق دیتا ہے ”کم غیرت“ والے آمدن کا ١٠ فیصد بطور سالانہ دیتے ہیں جبکہ زیادہ ”غیرت والے“، ”معاونین خصوصی“ بن کر پہلے مرحلے میں ٥٠٠ روپے سالانہ اور دوسرے مرحلے میں ایک ہزار روپے سالانہ دیتے ہیں۔ اس سے زیادہ دینے پر بھی کوئی حرج نہیں۔ ان چندوں کے علاوہ چندہ خدام، چندہ تعمیر ہال (جو ١٩٧٣ء کے قریب تعمیر ہوا تھا) چندہ اجتماع (جو ١٦ سال سے بند ہے) اور دیگر کئی چندے دیتا ہے۔ اس وقت قابل غور بات یہ ہے کہ ایک قادیانی سالانہ جتنا چندہ دیتا ہے اس کا ایک فیصد بھی اسے کسی بھی شکل میں وصول نہیں ہوتا مثلاً ملک کا شہری جب
٩٨
ٹیکس دیتا ہے تو اس کو بالواسطہ کئی قسم کے فوائد ملتے ہیں۔ سکول، کالج، ہسپتال، سڑکیں وغیرہ کئی قسم کی سہولیات میسر ہوتی ہیں مگر ایک قادیانی کو کسی بھی قسم کی نہ تو سہولت ہے اور نہ ہی کوئی فائدہ۔
اب ایک جماعت سو افراد پر مشتمل ہے وہاں سے ایک لاکھ روپے سالانہ چندہ جاتا ہے۔ اس جماعت پر یا افراد جماعت پر سالانہ ایک ہزار روپے بھی خرچ نہ ہوگا۔ عوام کو بتایا جائے کہ یہ پیسہ دنیا میں تبلیغ کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔ مربیوں کو پالنے، عبادت گاہوں کی تعمیر اور دیگر نظام جماعت کو چلانے میں پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان کی جماعتوں سے حاصل ہونے والا پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے کیا باہر کی دنیا میں خرچ ہو رہا ہے؟
آج کل کی ”اعداد و شماری تبلیغ“ سے ایک سال میں ٤ کروڑ نئے افراد شامل ہوئے ہیں اب باہر کی دنیا کے لوگ روپوں میں چندہ تو نہیں دیں گے وہ تو ڈالر یا پاؤنڈ میں دیں گے۔ پھر سالانہ ایک یا دو ڈالر نہیں دیں گے بلکہ جماعت کم از کم ایک سو ڈالر یا پاؤنڈ سالانہ تو ضرور دے گی۔ گویا صرف ایک سال میں ہونے والے قادیانی جماعت کے خزانہ میں ٤ ارب ڈالر کا اضافہ کریں گے پھر جو پہلے دو کروڑ نئے ہوچکے ہیں وہ اس سے زیادہ اضافہ تو کر چکے ہوں گے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان نئے قادیانیوں سے لیے جانے والے چندے سے ان کو کیا سہولت ملے گی کچھ بھی تو نہیں۔ اگر ان کی عبادت گاہ بنانی ہے تو ان سے عبادت گاہ کے لیے الگ چندہ لیا جائے گا زیادہ سے زیادہ ایک مربی جماعت اپنے خرچ پر رکھ دے گی گویا وہاں سے ہونے والی آمدن سے تقریباً ٥ فیصد وہاں خرچ ہو جائے گا ٩٥ فیصد جماعت کے پاس چلا گیا۔ یہ ایک عام سی حساب کی بات ہے کہ اگر ایک لاکھ روپے کے اخراجات ہیں اور ان کو پورا کرنے والے افراد صرف ١٠ ہیں تو ہر ایک کو دس ہزار روپیہ دینے پڑیں گے۔ اب اگر ١٠٠ افراد آ جائیں تو ہر ایک کو صرف ایک ہزار دینا پڑے گا اگر ایک ہزار افراد آ جائیں تو ہر ایک کو صرف ایک سو دینا پڑے گا۔
آج سے دو سال قبل جماعت کے بیان یا اعداد و شماری تبلیغ کے مطابق جماعت کی کل تعداد ٢ کروڑ تھی جو کہ اب ٧ کروڑ ہو چکی ہے۔ دو سال قبل کے اخراجات میں تعداد کے مطابق ٣.٥ گنا اضافہ نہیں ہو سکتا کیونکہ نئے آنے والوں کو نہ تو کپڑے دینے ہیں، نہ ہی کھانا، نہ ہی مکان بنا کر دینے ہیں اور نہ ہی کوئی خرچہ کرنا ہے اگر کوئی مربی ان کی طرف بھیجنا ہے تو وہ پہلے سے تنخواہ وغیرہ لے رہا ہے نیا خرچ کچھ نہیں۔ اب دو سال قبل کی تعداد کے مطابق ایک ”مخلص قادیانی“ پر جو چندے کا بوجھ تھا اب وہ کم از کم تیسرا حصہ رہ جانا چاہیے تھا۔ جو ”مخلص قادیانی“ گزشتہ نصف صدی سے چندے کی چکی میں پس رہے ہیں ان کو اب سکون یا چھوٹ ملتی مگر ایسا نہیں ہے۔ جوں
٩٩
جوں جماعت کی تعداد کو زیادہ ظاہر کیا جا رہا ہے ویسے ویسے ”مخلص قادیانیوں“ پر بوجھ زیادہ بڑھ رہا ہے زیادہ بیعتوں پر ”مخلص قادیانیوں“ پر بوجھ کم ہونا تھا مگر مزید بڑھ گیا یہ ایک ایسا تضاد ہے جو صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ حقیقت میں نئے افراد جماعت میں شامل نہیں ہو رہے۔ یہ صرف ”مخلص قادیانیوں“ کے ساتھ مذاق ہے اور مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ اور دنیا کی دیگر اقوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔
اگر تو ١٩٩٣ء سے چلنے والی ”اعداد و شماری تبلیغ“ کے ساتھ ”مخلص قادیانی“ پر چندہ کا بوجھ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے تو پھر بات ماننے والی تھی کہ چندہ دہندگان کی تعداد بڑھنے سے چندہ کی شرح کم ہو رہی ہے پھر تو جماعت کے دعوے کی ایک منطقی اور عقلی دلیل سامنے آتی ہے۔ اب قادیانی اس کو سمجھیں گے ضرور مگر اس کو اپنی زبان پر نہیں لاسکیں گے۔ ایک ”مخلص قادیانی“ کی مجبوری کو میں بہت اچھی طرح سمجھتا ہوں۔
(اوصاف ٥؍اکتوبر ٢٠٠٠ء)
(١٨)...... قادیانیوں کی تبلیغ مسلمانوں میں
جماعت قادیانی نے اپنے آغاز سے تبلیغ پر بہت زور دیا ہے۔ تبلیغ کے حوالے سے ہر قادیانی پر ایک جنون طاری ہے۔ آج کا ہر قادیانی ہر وقت تبلیغ کے لیے تیار رہتا ہے۔ بلکہ ”شکار“ کی تلاش میں رہتا ہے۔ مرزا طاہر احمد نے اپنی امارت کے فوراً بعد تبلیغ پر اتنا زور دیا کہ ہر قادیانی جب کسی دوسرے قادیانی سے ملتا تو تعارف کے بعد تبلیغ کے بارے میں ضرور پوچھتا۔ گو اب زور کم ہو گیا ہے۔ جس پریشر سے قادیانی جماعت افراد کو تبلیغ کے لیے مجبور کر رہی تھی۔ اس کے لیے ”دعوت الی اللہ“ (تبلیغ) کے باقاعدہ مربی جماعتوں میں گردش کر رہے تھے، اب کیونکہ جماعت نے ”اعداد و شماری تبلیغ“ شروع کر دی ہے۔ اب قادیانیوں پر لوڈ کم ہو گیا ہے۔ اب تبلیغ کریں نہ کریں ”تھوک کے حساب“ سے بیعتوں کا اعلان ہو جائے گا۔ اس وقت جس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ کہ پاکستان میں جتنی بھی تبلیغ ہوتی ہے وہ سب مسلمانوں میں ہوتی ہے کسی بھی جماعت میں چلے جائیں۔ قادیانی افراد سے پوچھیں کہ آپ کون سے مذہب سے آئے تو وہ سب ہی کہیں گے کہ پہلے مسلمان ہی تھے اور قادیانی جماعت کو مسلمان کا ایک فرقہ سمجھ کر آئے تھے۔ پاکستان میں موجود قادیانیوں کی ٩٥ فیصد اکثریت مسلمانوں سے آتی ہے۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ (١) قادیانیوں کا نشانہ مسلمان ہوتے ہیں۔ (٢) مسلمان قادیانیوں کو مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ سمجھ کر اتنا بڑا قدم اٹھا لیتے تھے۔ اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ
١٠٠
جب سے مسلمانوں میں قادیانیوں کے بارے میں بیداری پیدا ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے قادیانی ہونے کے امکانات بہت کم ہو گئے ہیں۔ (٣) قادیانیوں کو دیگر مذاہب قبول نہیں کرتے۔ (٤) اسلام کے نام پر غیر مسلموں کو قادیانی کرتے ہیں۔ کیونکہ ایک عیسائی کو پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے پر مجبور کریں گے ساتھ اس کو ایک قدم آگے سلپ کروا کر قادیانی بنائیں گے۔ اسی طرح ہندو یا سکھ کو بھی اسی راستے قادیانی بنائیں گے۔
اس وقت موجود قادیانیوں میں بہت ہی کم دیکھنے سننے میں آیا ہے کہ کسی کا بڑا پہلے سکھ تھا اور بعد میں قادیانی ہو گیا یا عیسائی تھا اور قادیانی ہوا۔ البتہ پاکستان کے تھر کے علاقہ میں ہندوؤں کی کچی آبادیوں میں قادیانیوں نے ہاتھ پھیر کر ان کو رام کر کے کچھ لوگوں کو قادیانی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ وہاں پر تبلیغ کے لیے سپیشل ایک نئے چندے ”وقف جدید“ کی بنیاد بھی رکھی گئی تھی۔
بیرون پاکستان بھی تبلیغ تقریباً اسی انداز سے ہے۔ انگلینڈ میں جہاں قادیانیوں کا اس وقت ہیڈ کوارٹر ہے لندن کی مختلف جماعتوں میں دو فیصد بھی گورے نہیں ہوں گے جو پہلے عیسائی یا غیر مسلم ہوں اور بعد ڈائریکٹ قادیانی ہو گئے ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہوا جہاں قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر ہے جہاں ١٩٢٤ء سے قادیانی مشن کام کر رہا ہے۔ وہاں لندن میں مقامی گورے لوگوں نے ان کے پیغام کو قبول نہیں کیا۔ وہاں پر موجود قادیانیوں کی اکثریت پاکستان، ہندوستان اور افریقی ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔ البتہ اب کچھ گورے جماعت کو دستیاب ہو گئے ہیں اور وہ بوسنیا کے مسلمان ہیں۔ بوسنیا میں چند سال قبل ابتلاء آیا اور وہاں کے مسلمانوں کو پناہ کے لیے بوسنیا سے نکلنا پڑا۔ تو قادیانیوں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے۔ ان پر ”مطلبی دست شفقت“ رکھا۔ کچھ مسلمانوں کو کیمپ یا کچھ سہولیات دے کر اکٹھا کیا ان کے نام لکھے انہیں بتایا کہ ہم بھی مسلمان ہیں اور فلاں فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ان کے کوائف بیعت فارم پر پر کروا کر اعلان کر دیا کہ اس دفعہ ٤٠٠ یورپین لوگوں نے بیعت کر لی ہے۔ اس میں بھی خاص بات یہ ہے کہ یہ لوگ بھی پہلے مسلمان ہی تھے۔
جماعت کی سب سے زیادہ تبلیغ افریقی ممالک میں ہے۔ گھانا، سرالیون، تنزانیہ، زمبابوے، نائیجیریا، یوگنڈا، ایوری کوسٹ اور بہت سے چھوٹے چھوٹے ممالک جو کچھ افریقہ اور کچھ دوسرے براعظموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سب میں مسلمانوں میں تبلیغ ہو رہی ہے۔ جو پہلے ہی مسلمان ہیں ان کو قادیانیت کا شکار کیا جاتا ہے۔ ناروے، سویڈن، ڈنمارک جیسے یورپین
١٠١
ممالک میں بھی پہلے سے موجود مسلمانوں کو قابو کیا جاتا ہے جہاں افریقی اور دیگر مسلمان ملکوں سے لوگ موجود ہیں۔
انڈونیشیا میں اچھی خاصی جماعت موجود ہے وہ بھی اس لیے کہ وہ مسلمان ملک ہے۔ قادیانیوں کو کامیابی انڈونیشیا، سکینڈے نیوین ممالک، افریقی ممالک اور فجی وغیرہ میں ملی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، چین، روس وغیرہ ممالک جہاں عیسائی، یہودی اور دہریا آباد ہیں وہاں ان کی کامیابی نہ ہونے کے برابر ہے۔ روس، چین میں جب بھی کامیابی ملی مسلمانوں کو ہی شکار کرنے سے ملے گی۔
حیرانگی کی بات یہ ہے کہ مشرقی وسطی کے مسلمان ملکوں خصوصاً سعودی عرب میں ان کو بالکل کامیابی نہیں ملی۔ حالانکہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ کامیابی سعودی عرب میں ملنی چاہیے تھی۔ کیونکہ بقول قادیانیوں کے مرزا غلام احمد اصل میں اس دور کے محمد رسول اللہ (نعوذ باللہ) ہیں۔ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق دنیا میں امام مہدی، مسیح موعود، امتی نبی اور بروزی نبی بن کر آئے ہیں تو اسلام کے مرکز سعودی عرب میں سب سے زیادہ پذیرائی ملنی چاہیے تھی۔ الٹ نتیجہ سچائی کے حوالے سے بھی منفی رپورٹ دے رہا ہے۔ گویا اسلام کے مرکز کے قریب جتنا جائیں تو قادیانیوں کو کامیابی نہیں ملتی اور جتنا دور جائیں اتنی زیادہ کامیابی ملتی ہے یہ تو ایک زبردست رزلٹ سامنے آگیا کہ اسلام کے مرکز کے قریب قادیانی زیرو اور اسلام کے مرکز سے دور ہیرو۔ کیا یہ ایک قادیانی کو صورت منظور ہے؟؟؟؟ کاش وہ عقیدت کی چادر پھاڑ کر عقل، سوچ اور اسلام کی روح کو مدنظر رکھ کر سوچیں، مگر نہیں سوچ سکے گا میں اس کی ذہنی حالت کو سمجھتا ہوں۔
یہاں اس پروپیگنڈے کا جواب بھی دیتا چلوں جو قادیانیوں کی طرف سے اکثر ہوتا ہے کہ اب جماعت ١٢٠ ملکوں تک پھیل چکی اور اب ١٣٠ ملکوں میں۔
ہوتا یوں ہے کہ کسی ملک میں ایک قادیانی کسی دوسرے ملک سے تلاش معاش کے سلسلہ میں داخل ہوا۔ اگر تو اس کا خاندان بیوی بچے اس کے ساتھ ہیں۔ جماعت کی طرف سے فوراً اعلان ہو جائے گا کہ فلاں ملک میں جماعت قائم ہو گئی ہے کیونکہ بیوی کو ملا کر ٤/٥ افراد کی موجودگی ایک جماعت کو ظاہر کرے گی لہٰذا اس ملک میں قادیانیت پہنچ گئی؟؟؟ اب ایک ٥ کروڑ آبادی والے میں ٥ افراد کے داخلے سے قادیانیت کو وہاں پر قائم سمجھنا ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ باقاعدہ اس ملک کا جھنڈا اپنے جلسہ سالانہ پر لہرا کر پہلے سے موجود جھنڈوں میں ایک اور کا اضافہ کرلیا جائے گا۔ اس طرح بہت سے ممالک میں جہاں کوئی مقامی آدمی قادیانی نہیں ہے ٥/٧
١٠٢
افراد دوسرے ملکوں سے اپنے طور پر دیئے۔ پھر یوں بھی ہوا کہ کسی ملک میں کو اس ملک میں داخل ہونے کا ٹارگٹ جھنڈوں میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا۔ بلند ہوتا ہے۔ ورنہ پاکستان کے قادیانی خاصے مایوس ہو جاتے ہیں۔
...... (١٩)
قادیانی جماعت میں مالی ق جاتا ہے کہ خدا کے راستے میں قربانی دی قادیانیت کے آغاز میں دی جانے والی کمزوری کی وجہ سے چندہ لیا تا کہ کتابیں لیے بھی چندہ اکٹھا کیا پھر اشاعت کا سلسلہ
اب مالی قربانی کے نام پر ادائیگی ضروری ہوتی ہے اگر چندے جائیں گے پھر جماعت میں اس کی شت دینے کا حق ملے گا نہ ہی کوئی عہدہ مل عبادت ہے جو ادا کرنے سے ثواب ہ گے ایمان اور عقیدے کے مطابق ہو سے دوری مالی قربانی سے بھی دور کر دیکھیں تو قادیانیوں میں مالی قربانی کم کہ قادیانیوں کو مکمل چھوٹ دے دی آپ کے ذمہ کوئی بقایا لکھا جائے گا ہ مالی قربانی کریں جتنا دیں گے اتنا وص گا کہ قادیانی جماعت پہلے سال ع قادیانی یا نئے قادیانی یا نئی نسل مالی ق
افراد دوسرے ملکوں سے اپنے طور پر وہاں آئے اور جماعت نے اپنے لئے جھنڈے گاڑ دیئے۔ پھر یوں بھی ہوا کہ کسی ملک میں جماعت داخل ہونا چاہتی ہے تو ٤/ ٥ افراد کے گروپ کو اس ملک میں داخل ہونے کا ٹارگٹ دیا وہ کسی نہ کسی طرح داخل ہو گئے۔ بس جماعت کے جھنڈوں میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا۔ اس کھیل سے قادیانیوں کو سکون ملتا ہے۔ ان کا مورال بلند ہوتا ہے۔ ورنہ پاکستان کے قادیانی اپنے علاقوں میں قادیانیوں کو جماعت چھوڑتے دیکھ کر خاصے مایوس ہو جاتے ہیں۔
(اوصاف ١٦ اکتوبر ٢٠٠٠ء)
(١٩) ...... قادیانیوں پر چندوں کا بوجھ
قادیانی جماعت میں مالی قربانی پر بہت زور دیا گیا ہے افراد جماعت کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ خدا کے راستے میں قربانی دینے سے آپ کے مال میں برکت پڑے گی اور اس کے لیے قادیانیت کے آغاز میں دی جانے والی قربانیوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے مالی کمزوری کی وجہ سے چندہ لیا تا کہ کتابوں کی اشاعت کر سکیں۔ پھر جلسہ سالانہ کا آغاز کیا تو اس کے لیے بھی چندہ اکٹھا کیا پھر اشاعت کا سلسلہ چل نکلا تو باقاعدہ چندہ وصولی شروع ہوگئی۔
اب مالی قربانی کے نام پر قادیانیوں پر درجن سے زائد چندوں کا بوجھ ہے جن کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے اگر چندے نہ دیئے جائیں تو وہ بطور بقایا اس آدمی کے ذمہ درج ہو جائیں گے پھر جماعت میں اس کی تشہیر کی جائے گی اس کو نادہندہ قرار دیا جائے گا نہ اسے ووٹ دینے کا حق ملے گا نہ ہی کوئی عہدہ مل سکے گا۔ جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے تو یہ ایک قسم کی عبادت ہے جو ادا کرنے سے ثواب تو ملے نہ کرنے سے گناہ نہیں ملے گا اور نہ کوئی تعزیر۔ یہ آدمی کے ایمان اور عقیدے کے مطابق ہوگی ایمان کی پختگی زیادہ مالی قربانی پر مجبور کرے گی جبکہ ایمان سے دوری مالی قربانی سے بھی دور کر دے گی اگر مالی قربانی کی اس تعریف اور تفصیل کے مطابق دیکھیں تو قادیانیوں میں مالی قربانی کا جذبہ نہ ہونے کے برابر ہے اس کا تجربہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ قادیانیوں کو مکمل چھوٹ دے دی جائے کہ نہ آپ کا بجٹ بنے گا نہ آمدن پوچھی جائے گی ، نہ آپ کے ذمہ کوئی بقایا لکھا جائے گا، نہ ووٹ وغیرہ کے حق سے محروم کیا جائے گا۔ آپ جتنی چاہیں مالی قربانی کریں جتنا دیں گے اتنا وصول کرلیں گے زیادہ دینے پر مجبور نہیں کریں گے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ قادیانی جماعت پہلے سال ہی دیوالیہ ہو جائے گی ہاں دس بارہ سال گزرنے کے بعد کچھ قادیانی یا نئے قادیانی یا نئی نسل مالی قربانی کی مد میں کچھ ادا کرے گی۔
١٠٣
١٩٨٩ء میں جب میں گورنمنٹ کالج ٹاہلیاں والا جہلم میں بطور لیکچرار ٹرانسفر ہو کر آیا اور محمود آباد جہلم میں اپنے آبائی گاؤں میں رہنا شروع کیا تو اس وقت مقامی جماعت میں جس میں نوجوانوں اور بڑوں کی تعداد (١٨ سال سے زائد عمر کے) ١٠٠ افراد سے کچھ زیادہ تھی ان میں سے صرف ١٤ افراد با قاعدگی سے چندہ دے رہے تھے اور جب نومبر، دسمبر ١٩٨٩ء میں جماعت کا الیکشن ہوا تو میرے سمیت کل ١٥ افراد ووٹر بن سکے کیونکہ باقی سب نادہندگان میں شامل تھے اور ان کو الیکشن کے وقت اٹھا دیا گیا۔ اب صرف ١٥ فیصد افراد با قاعدگی سے چندہ دے رہے تھے اسی ١٥ فیصد تعداد کے پیچھے بار بار چندے کی ادائیگی کی تلقین۔ مرکز سے چندے کی وصولی کے لیے سال میں کئی بار آنے والے انسپکٹر ز کی کارکردگی، کسی نہ کسی نوجوان کی طرف سے سیکرٹری مال کی معاونت کرتے ہوئے، تمام لوگوں کے پاس جا کر چندے کی وصولی کی کوشش وغیرہ شامل تھیں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر ان افراد کو بھی یہ مکمل آزادی ہوتی کہ وہ مالی قربانی کرنا چاہیں تو ان کی مرضی تو یقیناً ٢ / ٣ فیصد رزلٹ سامنے آتا یا شاید یہ بھی نہ ہوتا پھر جب راقم نے اپنے دوستوں کو ملا کر جماعت کو ایکٹو کرنے کی کوششیں کی تو اکتوبر ١٩٩٠ء میں ضمنی الیکشن میں ٦٢ فیصد چندہ دہندگان نے حصہ لیا گویا یہ تعداد ١٥ سے ٦٢ تک جا پہنچی مزید کوششوں سے یہ تعداد ٧٥ فیصد تک جا پہنچی پہلے جماعت کو (ربوہ کو، مرکز کو) محمود آباد جہلم سے اوسطاً ٢ ہزار روپے ماہوار مل رہے تھے میری اور میرے دوستوں کی کوششوں سے پندرہ سے بیس ہزار ماہوار ملنا شروع ہو گئے اس زبردستی لائے جانے والی مثبت تبدیلی کے کیا منفی اثرات یا رد عمل پیدا ہوا اس کا تذکرہ اپنے آئندہ مضامین میں کیا جائے گا۔ مذکورہ بالا تحریر سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اگر مالی قربانی کی بات ہو تو رزلٹ دو فیصد سے کم ہوگا اور اگر خود کوششیں کر کے افراد جماعت کے گھروں تک پہنچ کر ان کو بار بار یاد دہانی سے شرمندہ کر کے پیسے نکلوائے جائیں تو پھر ٦٠ سے ٨٠ فیصد نتیجہ مل سکتا ہے مگر یہ مالی قربانی نہیں ہوگی بلکہ یہ ٹیکس ہوگا جس کی ادائیگی کے لیے ممبران کو مجبور کیا جاتا ہے اور اگر ادائیگی نہ ہو تو ناراضگی کے ساتھ ساتھ ان پر پابندیاں بھی لگیں گی اور ان کے ذمہ واجب الادا چندہ (ٹیکس) ان کے کھاتے میں نام ہو جائے گا جو اگلے سال یا پھر اگلے سال ادا کرنا پڑے گا بلکہ مرنے کے بعد اس کے لواحقین وہ چندہ ادا کریں گے۔
اصل میں یہ وہ ٹیکس ہے جو مرزا قادیانی کی فیملی کو نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہے بلکہ اسے مالا مال کر چکا ہے جائیدادیں، بینک بیلنس، کوٹھیاں، کاریں اور بیرون ملک اثاثے اسی ”مالی قربانی“ کا منہ بولتا ثبوت ہیں حالانکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بڑی کسمپرسی اور کم مائیگی میں زندگی
١٠٤
گزاری ان کے پاس تو کتابیں شائع کرنے پیسے نہ تھے، ان کے لیے چندہ مقرر ہوا پھر ان بھی کوئی ایسا کاروبار نہ کیا جس سے مالی فوائد آئے ہیں تو دولت کے انبار ساتھ لے کر آئے زمین خریدی۔ ربوہ آباد کیا، کوٹھیاں، بنگلے بنے خریدے گئے مرزا طاہر احمد کے بھی احمد نگر کے ان کے قریبی ان کی سادگی کی مثال دیتے سائیکل پر جایا کرتے تھے اس سے ہمیں پتا چلا تھا کہ احمد نگر میں مرزا فیملی کی خاصی زمین ہے کوئی کاروبار کیا کہ اس سے اتنی آمدنی ہوتی کہ ہی ان کے والد مرزا محمود احمد (دوسرے خلیفہ پھر یہ جائیدادیں کیسے وجود میں آ گئیں؟ اگر ایسے عوامل سے آگاہ کیا جائے تا کہ وہ بھی جائی
اصل میں نہ تو جماعت میں کوئی کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی سرکاری ادارہ میں ہے کہ ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کی
جماعت کی طرف سے اسلامی عبا الذکر“ میں آکر نماز پڑھا کرو کیونکہ جب افر تب ان کو چندے کے لیے کہا جا سکے گا عبادت شاید قادیانی اس سے اختلاف کریں تو تجربہ سال میں ایک بار بھی عبادت گاہ میں نہ آنے چندہ دہندگان کا پہلے ذکر کیا ہے ان میں سے میں نہیں آتے تھے، جماعت کو ان پر کوئی اعتر ہی ادا کر دیتے مگر عبادت گاہ میں صرف عید تھے بلکہ اب بھی ہیں۔
میری اس تحریر سے کسی قادیانی کو
گزاری ان کے پاس تو کتابیں شائع کرنے کے لیے پیسے نہ تھے، مہمانوں کو کھانا کھلانے کے لیے پیسے نہ تھے، ان کے لیے چندہ مقرر ہوا پھر ان کے بیٹے مرزا محمود نے یا مرزا بشیر احمد ایم اے نے بھی کوئی ایسا کاروبار نہ کیا جس سے مالی فوائد ملتے بلکہ جب ١٩٤٧ء میں پاکستان ہجرت کرکے آئے ہیں تو دولت کے انبار ساتھ لے کر آئے ہیں جس سے سندھ کے علاقے میں ہزاروں مربع زمین خریدی۔ ربوہ آباد کیا، کوٹھیاں، بنگلے بنے، ربوہ کے قریب احمد نگر اور دیگر علاقوں میں مربے خریدے گئے مرزا طاہر احمد کے بھی احمد نگر کے پاس مربے ہیں۔ ١٩٨٢ء میں جب یہ خلیفہ بنے تو ان کے قریبی ان کی سادگی کی مثال دیتے ہوئے بتاتے تھے۔ احمد نگر میں اپنے مربوں پر یہ سائیکل پر جایا کرتے تھے اس سے ہمیں پتا چلا کہ ان کے بھی مربع موجود ہیں یہ تو پہلے ہی مجھے معلوم تھا کہ احمد نگر میں مرزا فیملی کی خاصی زمین ہے ذرا غور کیا جائے کہ نہ تو مرزا طاہر احمد صاحب نے خود کوئی کاروبار کیا کہ اس سے اتنی آمدنی ہوتی کہ وہ اتنی جائیداد خرید سکتے نہ ہی کوئی ایسی نوکری کی، نہ ہی ان کے والد مرزا محمود احمد (دوسرے خلیفہ) نے کوئی ایسا کاروبار کیا اور نہ ہی کوئی ایسی نوکری کی پھر یہ جائیدادیں کیسے وجود میں آ گئیں؟ اگر کوئی روحانی معجزہ ہوا ہے تو جماعت کے غرباء کو بھی ایسے عوامل سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ بھی جائیدادیں دعاؤں یا روحانی معجزوں سے حاصل کریں۔
اصل میں نہ تو جماعت میں کوئی احتساب کا ادارہ ہے اور نہ ہی کوئی پوچھنے کی جرات کرسکتا ہے اور نہ ہی کوئی سرکاری ادارہ میں مداخلت کرسکتا ہے کیونکہ پھر جماعت پروپیگنڈہ کرتی ہے کہ ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے۔
جماعت کی طرف سے اسلامی عبادات میں سے صرف نماز پر زور دیا جاتا ہے کہ ”بیت الذکر“ میں آ کر نماز پڑھا کرو کیونکہ جب افراد جماعت نماز کے لیے عبادت گاہ میں آئیں گے تو تب ان کو چندے کے لیے کہا جاسکے گا عبادت گاہ میں بلانا چندے کی وصولی کے لیے ضروری ہے شاید قادیانی اس سے اختلاف کریں تو تجربہ یوں کریں کہ ایک قادیانی باقاعدگی سے چندہ دے مگر سال میں ایک بار بھی عبادت گاہ میں نہ آئے جماعت کو کچھ اعتراض نہ ہوگا۔ میں نے جن پندرہ چندہ دہندگان کا پہلے ذکر کیا ہے ان میں سے دو ایسے بھی تھے جو صرف چندہ دیتے تھے، عبادت گاہ میں نہیں آتے تھے، جماعت کو ان پر کوئی اعتراض نہ تھا پھر کچھ ایسے بھی نکلے جو سال کا چندہ ایک بار ہی ادا کر دیتے مگر عبادت گاہ میں صرف عید کے دن آتے جماعت کی نظر میں وہ ”مخلص قادیانی“ تھے بلکہ اب بھی ہیں۔
میری اس تحریر سے کسی قادیانی کو مائنڈ نہیں کرنا چاہیے وہ ضرور چندہ دیں، دیتے رہیں
١٠٥
ورنہ جنت کے دروازے پر مرزا قادیانی کی فیملی کا کوئی شہزادہ آپ کو روک لے گا۔ جس طرح ربوہ میں موجود جنت (بہشتی مقبرہ) میں چندہ وصیت ادا نہ کرنے والے کو روک لیا جاتا ہے اور جب تک اس کے لواحقین سارا چندہ ادا نہیں کر دیں دفن کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد مورخہ ١٧ اکتوبر ٢٠٠٠ء)
(٢٠)....... فاتحہ خوانی اور قادیانی جماعت
قادیانی جماعت میں مختلف قسم کی مذہبی رسومات کو ”بدعات“ کا نام دے کر اس سے پرہیز کی ترغیب دی جاتی ہے اور تحریر و تقریر سے اس کے خلاف نفرت پیدا کرا کے اس سے بچنے کی تاکید کی جاتی ہے، ان مذہبی رسومات میں ”فاتحہ خوانی“ بھی شامل ہے۔
قادیانی جماعت اس فاتحہ خوانی سے منع کرتی ہے اسے بدعت کا نام دیا جاتا ہے مرزا غلام احمد قادیانی نے اس بارے میں کہا تھا کہ اس سے بدعتوں کے دروازے کھلتے ہیں۔ یعنی اس سے منع کیا تھا۔
میں نے اپنے بچپن سے یعنی ١٩٦٠ء کی دہائی میں محمود آباد جہلم میں ہر فوتگی پر باقاعدہ افسوس والی جگہ مخصوص کرنے (چھڑی ڈالنے ) اور فاتحہ خوانی کرتے دیکھا ہے اور یہ سلسلہ ١٩٩٠ء تک چلتا رہا ہے جماعت کی تمام کوششوں کے باوجود فاتحہ خوانی چلتی رہی ہے۔ البتہ ١٩٨٠ء سے ١٩٩٠ء تک خاصی کمی ہو گئی تھی قادیانی کسی قادیانی کے فوت ہونے پر ایک مخصوص جگہ پر اکٹھے تو ہوتے تھے مگر ہاتھ اٹھا کر فاتحہ نہیں پڑھتے تھے۔
یہ ایک عجیب سی کیفیت ہوتی ہے کہ ایک قادیانی کا عزیز فوت ہوا ہے لوگ اس کے ساتھ افسوس کرنے آ رہے ہیں وہ آ کر اسی قادیانی کے عزیز کے لیے کی جانے والی دعاؤں میں شامل نہیں ہو رہا۔ ایسی عجیب الجھن محسوس ہوتی مگر کیا کرتے جماعت کی طرف سے منع جو کیا گیا تھا۔ جب کسی دفتر، ادارے میں وہاں کا سٹاف، کسی ممبر کے عزیز کے فوت ہونے پر مشترکہ طور پر فاتحہ خوانی کرتے تو ان میں موجود قادیانی اپنے ہاتھ نیچے رکھتے اور یوں سب کی نظر میں آتے اور پھر بہت سی تلخیاں پیدا ہوتیں۔ کیونکہ جس کے عزیز کے ایصال ثواب کی خاطر فاتحہ پڑھی گئی اس نے نوٹ کیا کہ فلاں قادیانی دعا میں شامل نہیں ہوا تو وہ اس کو کیسے بخشے گا ایک رنجش کی بنیاد پڑگئی۔
یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ بلکہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ۔
مقصود تحریر قادیانیوں کی اس عادت یا سوچ کو ظاہر کرنا نہیں بلکہ ایک دلچسپ صورت کی
١٠٦
طرف توجہ دلانا ہے۔ یہ ١٩٨٩ء کی بات ہ ہوگئیں۔ حسب معمول چھڑی ڈال دی گ افسوس کے لیے آنے والے عام مسلمان بھ قادیانی خود بھی ان کے ساتھ شامل ہو کر ف نوجوانوں نے شدت سے اس بات کو محسو چاہیے اور خود امیر جماعت اس طرح کر ر محمود آباد جہلم کا دو افراد پر مشتمل ایک وفد ب جانشین ) مرزا منصور احمد ناظر اعلیٰ صدر ا شکایت کی کہ جماعت تو فاتحہ پڑھنے پر منع ک وفات پر خود ہاتھ اٹھا کر فاتحہ پڑھتے رہے ہ ہے نا۔ فاتحہ کیا ہے؟ ایک دعا ہی تو ہے وہ پڑھ سکتے ہیں۔ اگر امیر جماعت نے پڑھ
اب یہ جواب دو افراد (ملک لیے خاصا حیران کن اور پریشان کن تھا۔ ا ناظر اعلیٰ کے اس جواب سے خاصے حیر حضور کو ان کی شکایت کردیں۔ یہ کیا کہ ح حفیظ احمد گئے اور انہوں نے ساری بات ط کارروائی ہو سکتی تھی ؟ ناظر اعلیٰ مرزا طاہر ا کارروائی تو ان افراد کے خلاف ہو سکتی ت کی۔ اگر وہ بات نہ کرتے تو ناظر اعلیٰ یہ با
اب قادیانیوں کے لیے دو آم پڑ جائے تو پڑھ لیا کرو اور دل کو تسلی دے لو نہ پڑھنی پڑھے تو کہہ دو مرزا قادیانی نے ا ایسا کیوں کہا تھا کہ جائز ہے؟ ان کو تو علم قادیانی ضلع جہلم مرزا منصور احمد کے بھائ کے قانونی مشیر تھے آخر تعلقات اور مرو
طرف توجہ دلانا ہے۔ یہ ١٩٨٩ء کی بات ہے کہ ضلع جہلم کے امیر قادیانی جماعت کی والدہ فوت ہو گئیں۔ حسب معمول پھڑی ڈال دی گئی حالانکہ جماعت اس سے منع کرتی آئی ہے وہاں پر افسوس کے لیے آنے والے عام مسلمان جب فاتحہ کے لیے کہہ کے ہاتھ اٹھاتے تو امیر جماعت قادیانی خود بھی ان کے ساتھ شامل ہو کر فاتحہ پڑھنا شروع ہو جاتے جب کئی بار ایسا ہوا تو قادیانی نوجوانوں نے شدت سے اس بات کو محسوس کیا کہ ہمیں تو کہا جاتا ہے ہاتھ اٹھا کر فاتحہ نہیں پڑھنی چاہیے اور خود امیر جماعت اس طرح کر رہا ہے یہ بات جماعت میں گردش کرنے لگی۔ ١٩٩٠ء میں محمود آباد جہلم کا دو افراد پر مشتمل ایک وفد اس وقت کے امیر مقامی (پاکستان میں مرزا طاہر احمد کے جانشین) مرزا منصور احمد ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ پاکستان سے ملا اور باتوں کے علاوہ جب یہ شکایت کی کہ جماعت تو فاتحہ پڑھنے پر منع کرتی ہے اور امیر جماعت قادیانی ضلع جہلم اپنی والدہ کی وفات پر خود ہاتھ اٹھا کر فاتحہ پڑھتے رہے ہیں تو ناظر اعلیٰ نے ”فرمایا“ تو کیا ہوا۔ فاتحہ ہی تو پڑھی ہے نا۔ فاتحہ کیا ہے؟ ایک دعا ہی تو ہے دعا سے کون روکتا ہے؟ آپ کسی کے پاس جائیں تو وہاں پڑھ سکتے ہیں۔ اگر امیر جماعت نے پڑھ لی ہے تو ٹھیک کیا ہے۔
اب یہ جواب دو افراد (ملک بشیر احمد، ملک حفیظ جو خاکسار کے بڑے بھائی ہیں) کے لیے خاصا حیران کن اور پریشان کن تھا اس گرما گرم بحث میں دفتر کے افراد بھی وہاں آگئے وہ بھی ناظر اعلیٰ کے اس جواب سے خاصے حیران ہوئے۔ باہر نکلتے ہوئے ان ممبران نے کہا کہ آپ حضور کو ان کی شکایت کر دیں۔ یہ کیا کہہ گئے ہیں؟ اس سال جلسہ سالانہ لندن پر میرے بھائی ملک حفیظ احمد گئے اور انہوں نے ساری بات من وعن وہاں لکھ کر مرزا طاہر احمد تک پہنچا دی اس پر کیا کارروائی ہو سکتی تھی؟ ناظر اعلیٰ مرزا طاہر احمد کے بھائی تھے بھلا ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی تھی؟ کارروائی تو ان افراد کے خلاف ہو سکتی تھی جن کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے وہاں جا کر بات کیوں کی۔ اگر وہ بات نہ کرتے تو ناظر اعلیٰ یہ باتیں نہ کرتے قصور تو بات پوچھنے والے کا ہوا نا۔
اب قادیانیوں کے لیے دو آسان راستے سامنے آگئے ہیں اگر کسی مجلس میں فاتحہ پڑھنی پڑ جائے تو پڑھ لیا کرو اور دل کو تسلی دے دو کہ ناظر اعلیٰ نے کہا کہ جائز ہے اور اگر قادیانیوں میں بیٹھ کر نہ پڑھنی پڑھے تو کہہ دو مرزا قادیانی نے منع کیا تھا اور قادیانی بھی حیران ہوں گے کہ ناظر اعلیٰ نے ایسا کیوں کہا تھا کہ جائز ہے؟ ان کو تو علم نہیں میں یہ گتھی سلجھائے دیتا ہوں اصل میں امیر جماعت قادیانی ضلع جہلم مرزا منصور احمد کے بھائی مرزا منیر احمد کی فیکٹری پاکستان چپ بورڈ فیکٹری جہلم کے قانونی مشیر تھے آخر تعلقات اور مروت بھی کچھ چیز ہوتی ہے اور روز روز کی ضرورت اور ”پردہ
داریاں‘ بھی تو ہو سکتی ہیں۔ کئی ’رازوں کے محافظ‘ کو اتنی سی بھی رعایت نہ دیں تو بے وقوفی ہوگی۔ یہ تھی جناب ناظر اعلیٰ جناب کی مجبوری جس کی وجہ سے انہوں نے جماعت کے لیے ایک فلسفہ کو الٹ کر رکھ دیا۔
(١٥؍ اکتوبر ٢٠٠٠ء، اوصاف اسلام آباد)
(٢١)....... قادیانی جماعت کی ’’غلام احمد‘‘ نام سے بیزاری
ہر مذہب میں اس کے بانی کا نام اس کے ماننے والوں کے ناموں میں اس کثرت کے ساتھ گردش کرتا ہے کہ دیکھنے سننے والا ان کے ناموں سے ان کے پیر و مرشد سے عقیدت کو جانچ سکتا ہے۔ مذہب اسلام کے ماننے والے اس کثرت کے ساتھ اپنے نبیﷺ اور ان کے صحابہ کا نام اپنے بچوں میں استعمال کرتے ہیں کہ نہ صرف عوام الناس کی عقیدت ظاہر ہوتی ہے بلکہ ان کے نبی اور ان کے صحابہ کی شان کی بلندی بھی ظاہر ہوتی ہے۔
مسلمانوں میں غلام نبی، غلام مصطفیٰ، غلام مرتضیٰ، غلام مجتبیٰ، غلام محمد، محمد احمد، محمد شریف، محمد صدیق، محمد ابراہیم وغیرہ وغیرہ، اس کثرت سے نام ملیں گے کہ ایک چھوٹے سے گاؤں محلے میں درجنوں ایسے نام مل جائیں گے جو مسلمانوں کے نبی یعنی حضرت محمدؐ سے عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پھر ان کے اصحاب سے منسوب بھی نام اس کثرت سے ملیں گے کہ گنتی مشکل ہو جائے۔ عیسائیوں میں ہر شخص کے نام کے ساتھ مسیح لگا کر مسیح علیہ السلام (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے عقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ سکھوں میں اپنے گرو سے عقیدت سنگھ کا لفظ لگانے سے ظاہر ہوتی ہے۔
قادیانی جماعت ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے مرزا غلام احمد قادیانی نے شروع میں اپنے آپ کو ’’غلام احمد‘‘ کے طور پر ہی پیش کیا اپنی عقیدت کو شعروں کی صورت میں بیان کیا۔
نام اس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے
اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں
وہ ہے، میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے
(قادیان کے آریہ اور ہم ص ٥٧، ٥٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٥٤)
یہ اس دور کی بات ہے جب آپ نے مجدد، پھر مہدی اور مسیح موعود تک کے دعوے کیے
١٠٨
٩
تھے بعد میں حالات بدل گئے اور پھر یوں کہا ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار (براہین احمد یہاں تک پہنچی کہ:
اور آگے سے ہیں ب
محمد دیکھنے ہوں
غلام احمد کو د
مرزا قادیانی کی طرف سے ظلی نبی صرف کنفیوژن پیدا ہوئی بلکہ تمام دعائیں کفر اللہ (ظلی اور بروزی طور پر) کہا عیسیٰ ابن مریم بھاری محسوس ہونے لگا کیونکہ یہ تو محمدؐ کے غلام میں آنے والے نبی احمدؐ (جو کہ محمدﷺ کا قرآ ساری کنفیوژن کا نتیجہ یہ نکلا کہ غلام احمد نام چننے رکھنے شروع کئے کہ احمد، مرزا غلام احمد قادیانی شریف، محمد منور وغیرہ رکھتے ہیں۔
آپ کو قادیانیوں میں احمد والے نام ہے کسی شہر و ضلع میں کسی قادیانی نے بھول کر یا م ہو اس طرح تو بعض مسلمانوں نے بھی غلام احمد قادیانی جوانوں (٤٠ سال تک) اور بچوں کے نا یا محمدؐ سے شروع ہونے والے نام نہیں ملیں گے۔ اس بچے کا والد کمزور قادیانی ہوگا ’’مخلص قادیا مسلمان نے نام رکھا ہوگا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ قادیانیوں م کی بجائے احمد تو ہوگا مگر غلام احمد نہیں ہوگا۔ حال ’’غلام غلام احمد‘‘ نام رکھنا چاہیے یا محمد بشیر کے
٩
تھے بعد میں حالات بدل گئے اور پھر یوں کہا ”میں کبھی آدم کبھی موسیٰ، کبھی یعقوب ہوں“ نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٢) اور آخر بات یہاں تک پہنچی کہ:
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار بدر ج ٢ ش ٤٣، مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)
مرزا قادیانی کی طرف سے ظلی نبی، امتی نبی، بروزی نبی کی اصطلاحات سے نہ صرف کنفیوژن پیدا ہوئی بلکہ تمام دعائیں گڈمڈ ہوگئیں اپنے آپ کو اس دور کے محمد رسول اللہ (ظلی اور بروزی طور پر) کہا عیسیٰ ابن مریم کہا اور بھی بہت کچھ کہا یہاں تک کہ غلام احمد نام بھاری محسوس ہونے لگا کیونکہ یہ تو محمدؐ کے غلام کی عکاسی کر رہا تھا۔ جبکہ مرزا قادیانی قرآن مجید میں آنے والے نبی احمدؐ (جو کہ محمدﷺ کا قرآنی نام تھا) کے خود مصداق بن رہے تھے۔ اس ساری کنفیوژن کا نتیجہ یہ نکلا کہ غلام احمد نام چبھنے لگا قادیانیوں نے ناصر احمد، طاہر احمد نام اس لئے رکھنے شروع کئے کہ احمد، مرزا غلام احمد قادیانی کا نام ہے جیسے مسلمان محمد طاہر رکھتے ہیں، محمد شریف، محمد منور وغیرہ رکھتے ہیں۔
آپ کو قادیانیوں میں احمد والے نام کثرت سے ملیں گے مگر محمد نام نہیں ملے گا۔ ہوسکتا ہے کسی شہر و ضلع میں کسی قادیانی نے بھول کر یا مسلمان آبادی سے متاثر ہو کر محمد کا نام استعمال کر لیا ہو اس طرح تو بعض مسلمانوں نے بھی غلام احمد بشیر احمد وغیرہ نام رکھے ہوئے ہیں اس وقت اگر قادیانی جوانوں (٤٠ سال تک) اور بچوں کے ناموں کا جائزہ لیں تو غلام محمد، غلام مصطفیٰ، غلام مجتبیٰ یا محمدؐ سے شروع ہونے والے نام نہیں ملیں گے۔ اگر کسی قادیانی بچے کا نام محمد سے شروع ہوا تو یقیناً اس بچے کا والد کمزور قادیانی ہوگا ”مخلص قادیانی“ نہیں ہوسکتا یا پھر اگر تحقیق کی جائے تو کسی مسلمان نے نام رکھا ہوگا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ قادیانیوں میں ”غلام احمد“ نام بہت کم ملے گا ان کے ساتھ محمد کی بجائے احمد تو ہوگا مگر غلام احمد نہیں ہوگا۔ حالانکہ قادیانی کے نبی کا نام ”غلام احمد“ ہے تو انہیں ”غلام احمد“ نام رکھنا چاہیے یا محمد بشیر کے وزن پر ”غلام احمد بشیر“ رکھنا چاہیے مگر نہ تو ”غلام
١٠٩
غلام احمد‘ نام ملے گا نہ ہی غلام احمد بشیر بلکہ اصل نام ”غلام احمد“ ہی نا پید ہے مرزا قادیانی کی فیملی میں بھی ایک دو نام صرف ایسے ہیں باقی وحید احمد، بشیر احمد، منیر احمد، مظفر احمد، طاہر احمد، ناصر احمد، فرید احمد، لقمان احمد وغیرہ وغیرہ یہ سب مرزا غلام احمد کے دعوؤں کی مکسنگ (گڈمڈ) کی وجہ سے ہوا۔ اب طاہر احمد ناصر احمد میں ”احمد“ سے مراد مرزا قادیانی لیا جاتا ہے جبکہ غلام احمد نام رکھنے سے مطلب دوسری طرف نکل جاتا ہے کیونکہ مرزا صاحب کا نام غلام احمد نام رکھنے سے توجہ اوپر یعنی (حضرت محمد مصطفیٰﷺ) تک پہنچ جاتی ہے اور شک گزرتا ہے کہ شاید یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی ظاہر کرتا ہے۔
درجہ بالا تذکرہ اور صورتحال اور حقائق یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ قادیانی غلام احمد نام سے بیزار ہیں اس لیے کسی بھی قادیانی جماعت میں ١٠٠/١ فیصد بھی ایسے نام نہیں ملیں گے حالانکہ ٥٠ فیصد سے زائد نام مرزا غلام احمد قادیانی کے حوالے سے ہونے چاہئیں تھے مگر ٢ فیصد بھی نام نہیں ملیں گے جو کہ قادیانی کی اپنے نبی کے نام سے بیزاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
(اوصاف ١٧ اکتوبر ٢٠٠٠ء)
(٢٢) ....... مرزا غلام احمد قادیانی اور ”اسلام کی خدمت“!
اب ذرا قادیانی جماعت کے اس دعوے کو پرکھا جائے کہ حدیث میں جو دجل سے استدلال امام مہدی کا لیا جاتا ہے اور اس کے مطابق مرزا قادیانی امام مہدی بن گئے تو کیا وہ امام مہدی جیسا کام کر سکے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ پیشین گوئی کے مطابق امام مہدی بن کر آگئے آنے والے مسیح کی جگہ ”مسیح موعود“ محمد رسول اللہ کی بعثت ثانیہ کے مصداق بن کر آئے ہیں (معاذ اللہ) تو کیا ان تینوں ذمہ داریوں کے مطابق وہ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ اسلام کو مضبوط اور غالب کرسکے جو امام مہدی نے کرنا تھا۔
مرزا قادیانی نے ١٨٨٩ء (قادیانی جماعت کے آغاز کا سال) سے ١٩٠٨ء تک (مرزا کی وفات) مناظروں، مباحثوں، تصنیف وتالیف کا بہت کام کیا۔ ٨٠ کے قریب کتابیں لکھیں مگر ان میں فلسفہ اسلام کی بجائے لڑائی جھگڑے، مباہلے اپنے الہامات دوسرے کے خلاف پیشن گوئیوں اور پھر ان کے پورے ہونے پر اصرار اور انگریزوں کی خوشامد کے تذکرے ملیں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ جو قادیانی میری کتابوں کو تین دفعہ نہیں پڑھتا۔ اس کے دل میں کبر پایا جاتا ہے اور صورت احوال یہ ہے کہ ایک فیصد بھی ایسے قادیانی نہیں جنہوں نے
١١٠
ان کی کتابیں تین دفعہ پڑھی ہوں۔ گویا قاد کتابیں پڑھنا گوارا نہ کیا میرا ذاتی تجربہ ہے کہ کم از کم ایک بار ساری کتابیں پڑھ لوں گا جب بڑی کتابوں پر پہنچا تو آتھم، ڈوئی کے گئی اور فیصلہ کیا کہ آئندہ کتابیں نہیں پڑھنی وقت کیونکہ میں جماعت کا دیوانہ تھا پنجاب (قائد) تھا۔ ١٥ کلومیٹر پر پھیلی قیادت ماڈل ٹ مرکزی مجلس عاملہ میں نائب اصلاح و ارشاد پیدائشی قادیانی تھے۔ ہمارے خاندان میں قاد تھی۔ لہٰذا میں گوارا نہ کر سکتا تھا کہ جماعت قادیانیوں نے کتابیں پڑھنا گوارا نہ کیا اگر یہ اپنے نبی کی بات، تاکید یا حکم کو نہیں مانا۔ مرزا کرلی اپنے ماننے والوں کو اپنے قریب تر کر کر اپنی ہدایت دیتے رہے۔ لوگوں کو اپنی ط انہوں نے مہمان خانے کے نام سے ایک لنگر اور دیگر سہولیات ملتیں۔
اب قادیانیوں کا مرزا قادیانی کے جاؤں گا تو ہر قسم کی سہولت ملے گی تو آدمی کمزوری“ کو خوب ایکسپلائٹ کیا ان کا ایم جاتی، اس تواضع کا نتیجہ تھا کہ لوگ اس طرف ویسے یہ ”تواضع“ والا فلسفہ ہی ب جس کسی سے کوئی کام لینا ہے، کسی کام کے تواضع کا فارمولا لگایا جائے کام فوراً ہو جائے گری سے پھسل کر باہر نکل جاتی ہیں آدمی ”م مرزا قادیانی نے اس انسانی کمز (دارالضیافت) قائم کر رکھا ہے۔ جواب بھی
ان کی کتابیں تین دفعہ پڑھی ہوں۔ گویا قادیانیوں کی ٩٩ فیصد تعداد نے متکبر بننا تو گوارا کر لیا لیکن کتابیں پڑھنا گوارا نہ کیا میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ١٩٨٢ء میں یونیورسٹی کے دور میں، میں نے عزم کیا کہ کم از کم ایک بار ساری کتابیں پڑھ لوں گا۔ چھوٹی چھوٹی ٨-١٠ کتابیں پڑھ لیں مگر کوئی مزہ نہ آیا جب بڑی کتابوں پر پہنچا تو آتھم، ڈوئی کے جھگڑوں سے کتابوں کو پر پایا۔ بس ہمت جواب دے گئی اور فیصلہ کیا کہ آئندہ کتابیں نہیں پڑھنی اگر پڑھ لیں تو قادیانیت میں مزہ ختم ہو جائے گا۔ اس وقت کیونکہ میں جماعت کا دیوانہ تھا پنجاب یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے حلقہ خدام الاحمدیہ کا زعیم (قائد) تھا۔ ١٥ کلو میٹر پر پھیلی قیادت ماڈل ٹاؤن لاہور کا ناظم تعلیم خدام الاحمدیہ تھا اور ضلع لاہور کی مرکزی مجلس عاملہ میں نائب اصلاح وارشاد تھا۔ میں کیونکہ پیدائشی قادیانی تھا۔ میرے والد بھی پیدائشی قادیانی تھے۔ ہمارے خاندان میں قادیانیت رچی بسی تھی۔ ہمارے خون میں بھی قادیانیت تھی۔ لہٰذا میں گوارا نہ کر سکتا تھا کہ جماعت کا مزہ خراب ہو جائے۔ یہی وجہ ہوگی کہ ٩٩ فیصد قادیانیوں نے کتابیں پڑھنا گوارا نہ کیا اگر یہ نہیں تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ٩٩ فیصد قادیانیوں نے اپنے نبی کی بات، تاکید یا حکم کو نہیں مانا۔ مرزا قادیانی نے اپنے دعوے کے بعد اپنی نئی جماعت قائم کرلی اپنے ماننے والوں کو اپنے قریب تر کرتے چلے گئے جلسہ سالانہ اور دیگر پروگراموں میں بلا کر اپنی ہدایت دیتے رہے۔ لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کا ایک ”تیر بہدف“ طریقہ اختیار کیا کہ انہوں نے مہمان خانے کے نام سے ایک لنگر چلا دیا جو بھی آتا اسے تین وقت کا مفت کھانا رہائش اور دیگر سہولیات ملتیں۔
اب قادیانیوں کا مرزا قادیانی کے پاس جانا یقینی تھا جب کسی کو پتہ ہو کہ فلاں کے پاس جاؤں گا تو ہر قسم کی سہولت ملے گی تو آدمی وقتاً فوقتاً چکر لگا سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے ”انسانی کمزوری“ کو خوب ایکسپلائٹ کیا ان کا ایمان بھی تھا کہ آنے والے مہمانوں کی ”تواضع“ کی جاتی، اس تواضع کا نتیجہ تھا کہ لوگ اس طرف تیزی سے مائل ہوئے۔
ویسے یہ ”تواضع“ والا فلسفہ ہی ہمارے سرکاری اداروں میں عرصے دراز سے لاگو ہے جس کسی سے کوئی کام لینا ہے، کسی کام کے لیے منوانا ہے، جو کوئی بھی غلط کام کروانا ہے تو اس پر تواضع کا فارمولا لگایا جائے کام فوراً ہو جائے گا آدمی کا غصہ، گلہ، شکوے شکایتیں، ”تواضع“ کی گرمی سے پگھل کر باہر نکل جاتی ہیں آدمی ”ہولا“ ہو جاتا ہے پھر جس طرف مرضی لے جائیں۔
مرزا قادیانی نے اس انسانی کمزوری کو کیش کروانے کے لیے مستقل طور پر مہمان خانہ (دارالضیافت) قائم کر رکھا ہے۔ جو اب بھی ربوہ (چناب نگر) میں موجود ہے جہاں ہر آدمی کو بغیر
١١١
کسی خرچ کے تین دن تک مسلسل صبح دوپہر شام کا کھانا اور رہائش دی جاتی ہے۔ اس کے اخراجات بھی عوام نے ہی چندے کی شکل میں ادا کرنے ہیں۔ اب تو "دارالضیافت" خاصا ترقی کر چکا ہے۔ ایک اچھے صاف ستھرے ہوٹل سے بھی بہتر سہولت اور سروس میسر ہے۔ ایک آدمی جو قادیانیت کو غلط سمجھتا ہے وہاں دو تین دن رہ کر تواضع سے لطف اندوز ہونے کے باوجود بھی اگر وہ قادیانیت کو غلط سمجھتا ہے تو ایسے "پتھر دل" (ایمان کے لحاظ سے مضبوط انسان) کو جماعت بنجر زمین کا نام دے کر نظر انداز کر دیتی ہے۔ بات ہو رہی تھی کہ مرزا قادیانی نے مجدد، امام مہدی، مسیح موعود، امتی نبی، مثیل مسیح، مسیح محمد کے دعوے کر کے عملی طور پر اسلام کی کیا خدمت کی؟
مرزا قادیانی کے دعوے سے عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ اور آریا یا بدھ مت مذہب والوں کو تو کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ البتہ مسلمانوں کے لیے مشکلات کے دروازے کھول دیئے جب کسی خاندان میں کوئی جھگڑا شروع ہو جائے تو کون سچا، کون جھوٹا، یہ بحث علیحدہ مگر ایک بات ضرور ہوتی ہے کہ وہ خاندان بحیثیت مجموعی کمزور ہو جاتا ہے اور اس خاندان کے مخالف خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے مسلمانوں سے اب تک سینکڑوں مناظرے، مباہلے اور مباحثے ہو چکے ہیں ان میں کون جیتا؟
یہ بات علیحدہ مگر یہ ضرور ہوا کہ ان سرگرمیوں میں مسلمانوں کی بے پناہ توانائی اندرونی جھگڑے کی نذر ہو گئی کئی سو بلکہ ہزار انسان (قادیانی اور مسلمان) ان جھگڑوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ جن کی جانیں ضائع ہوئیں ان کے خاندان سے ذرا پوچھیں کتنی نسلیں، کتنے افراد خطرناک اور دل دوز حالت سے دوچار ہوئے۔
مرزا قادیانی کی کوششوں سے مسلمان کمزور ہوئے اور اسلام میں نئی نئی اصطلاحیں اور نئے نئے فلسفوں نے جنم لیا۔ مرزا قادیانی نے اور بعد میں ان کے جانشینوں (خلفاء) نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھنے کے لیے بڑی کوششیں کی اپنے ماننے والوں کو معاشرے میں موجود اور ضروری تعلقات کو قادیانیوں تک محدود رکھنے کی مسلسل تاکید کی اور عملی طور پر ایک الگ امت کے طور پر اپنا وجود منوانے کی کوششیں کرتے رہے۔ قادیانی جماعت میں آنے والے لوگوں کی ٩٥ فیصد سے زائد اکثریت مسلمانوں سے ہی آئی۔ لہٰذا اس گروہ میں آنے والے مسلمان، مسلمانوں کی مجموعی قوت سے باہر ہو کر مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی کمزور کرنے کا سبب بنے۔ کیا مرزا قادیانی کو ماننے والے مسلمان پہلے سے بہتر مسلمان بن گئے؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب قادیانیوں کے پاس بھی نہیں کیونکہ اس کا جواب نفی
١١٢
میں ہے لہٰذا ہر قادیانی آپ کو ٹرخائے گا اور وہ جواب دینے سے کترائے گا کیونکہ قادیانی ہونے والا سب سے پہلے تو اس کا قبلہ یعنی اس کی توجہ کا مرکز مکہ معظمہ اور مدینہ سے ہٹ کر ربوہ اور قادیان ہو جائیں گے اور اب لندن بھی ”مقدس“ مقامات کی صف میں آ گیا ہے۔ قادیانی ہونے والا زکوٰۃ، اور حج سے تو مکمل طور پر ”آزاد“ ہو جائے گا۔ رہ گیا روزہ اور نماز تو اس کے لیے اگر وہ ”سیدھی طرح“ چندہ دینے پر لگ جائے گا تو پھر نماز وغیرہ کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا نہ تاکید کی جائے گی اور اگر وہ چندہ کے ”نیٹ“ میں نہیں آتا تو پھر اسے بار بار نماز کے لیے کہا جائے گا۔ اسے نماز سنٹر تک لانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی تاکہ وہاں چندہ کی ادائیگی کا پابند بنایا جاسکے۔ مسلمان سے قادیانی ہونے والے کے ہاتھ میں قرآن کی بجائے ”تفسیر صغیر“ تھما دی جاتی ہے جو قرآن مجید کے ترجمہ اور تفسیر پر مشتمل ہے جس کے مفسر مرزا محمود احمد (قادیانی جماعت کے دوسرے سربراہ) ہیں۔ انہوں نے قرآن کی تفسیر ”فری سٹائل“ انداز میں کی ہے جہاں جی چاہے اپنی مرضی کا مطلب بھی شامل کرلو۔ مثلاً
سورۃ صف میں جہاں حضرت محمدؐ کی آمد کی خبر دی گئی ہے۔ وہاں ترجمہ کرتے ہوئے واضح طور پر زیادتی کر گئے ہیں۔ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ پیشین گوئی حضرت محمدؐ کے متعلق ہے مگر آگے چل کر ”خواہ مخواہ“ ایک نیا مطلب اس میں شامل کر دیا گیا ہے کہ اس میں بالواسطہ طور پر بروزی طور پر آپ کی ایک اور بعثت کا بھی ذکر ہے اس کو آگے مرزا غلام احمد تک جوڑا گیا ہے جو سراسر زیادتی اور قرآن میں تحریف کے برابر ہے۔
ایک قادیانی ہونے والا تمام قسم کی مذہبی، اسلامی مجلسوں سے محروم رہ جائے گا ماسوائے قادیانیوں کی اپنی تنظیمی اور تربیتی مجالس اور اجتماعوں کے۔ ایک بے نور، بے روح اور بے مقصد جماعت سے واسطہ پڑے گا۔ قادیانی جماعت کا مقصد کیا ہے؟
اب کس مقصد کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ نام اسلام کی تبلیغ کا لیں گے مگر تبلیغ مسلمانوں میں ہوگی مزا تو تب ہے کہ تبلیغ غیر مسلموں میں ہو۔ اسلام کے مخالف کلمہ اسلام پڑھ لیں ایک عیسائی کا تو قادیانی ہونا خاصا مشکل ہے کیونکہ اسے پہلے حضرت محمدؐ پر ایمان لانا ہوگا۔ تب آگے قادیانی جماعت کے موقف کے مطابق ”امام مہدی“ کو مانیں گے۔ جو بہت مشکل ہے کسی یہودی کا قادیانی ہونا ناممکن ہے کیونکہ پہلے اسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ماننا پڑے گا۔ پھر حضرت محمدؐ کو اور بعد میں وہ قادیانی جماعت کی بات پر غور کرے گا۔ کیا مرزا قادیانی کو ماننے والا اسلام کا وفادار، مومن اور ”عاشق محمدؐ“ بن جاتا ہے؟
١١٣
اسلام کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟ کیونکہ اسلام کا فلسفہ ہی مرزا قادیانی نے بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب تو وہ مسلمان ہے جو مرزا قادیانی کو مانے بلکہ اب قادیانی جماعت کے نزدیک مسلمانوں کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ پرانی قوم ہے اب نئی قوم قادیانی ہے لہذا قادیانیوں کے نزدیک تمام مسلمانوں کا قادیانی ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ صرف مسلمان ہیں۔ حضرت محمد کو آخری نبی مانتے ہیں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی پابندی کرتے ہیں تو بھی بخشے نہیں جائیں گے۔ جب تک قادیان میں پیدا ہونے والے مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتے۔ یعنی قادیانی نہیں ہوتے۔ چندہ دینے والا قادیانی، نہ دینے والا قادیانی نہیں رہ سکتا اور ظاہر ہے جو قادیانی نہ ہو، وہ بخشا بھی نہیں جاسکے گا۔ کیونکہ اب جنت کے دروازوں پر جماعت نے پہرے بٹھا لیے ہیں۔ گویا ”گارڈز تبدیل“ ہو چکے ہیں۔ اب اگر جنت میں جانا ہے تو قادیانی ہونا اور قادیانی ہو کر چندہ دینا ضروری ہے۔
ایک قادیانی ہونے والا بعد از قبول قادیانیت صرف اور صرف قادیانیت کا وفادار ہوگا۔ اسے ”اطاعت“ کی تعلیم دی جائے گی کہ آپ کو امیر جیسا بھی حکم دے یا ہدایت کرے آپ نے فوراً اس کو ماننا ہے تو قادیانی نہ صرف دیگر مسلمانوں سے تعلق قطع کرے گا بلکہ ان سے نفرت بھی کرنے لگے گا۔ تمام اسلامی دنیا سے اس کی محبت ختم ہو جائے گی۔ مکہ اور مدینہ خاصے چھوٹے (نعوذ باللہ ) نظر آنے لگیں گے اور سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کو زیر نگیں کرنے کے لیے منصوبے ذہن میں آنے لگیں گے درجہ بالا ”خوبیاں“ ایک ”مخلص قادیانی“ کا خاصا ہیں۔
ایک قادیانی ہونے والا جذبہ جہاد سے دور بھاگ جائے گا۔ دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، مسلمان خواتین کی بے حرمتی ہو رہی ہے، ”ایک قادیانی کی بلا سے“ کسی اسلامی ملک میں طوفان آئے۔ زلزلہ آئے یا کوئی اور آسمانی آفت، قادیانی اس پر افسوس یا متاثرین کے ساتھ ہمدردی نہیں کریں گے بلکہ اسے مرزا قادیانی کو نہ ماننے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا قرار دیں گے کیونکہ مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کو زلزلوں اور طوفانوں سے خاصا ڈرایا ہے۔
کسی علاقے میں آنے والے زلزلہ یا طوفان کو مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی سزا کے طور پر پیش کرنا ایک مضحکہ خیز بات ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ جہاں زلزلہ آیا یا سیلاب وہاں تمام متاثرین ”منکرین“ تھے کیا ان میں سے ماننے والے بچ گئے؟
کیا صرف نشیبی علاقوں کے لوگ (سیلاب کی صورت میں) ہی منکرین تھے؟ اونچائی پر رہنے والے ”مومن“ تھے؟ زلزلہ کی صورت میں نیچے والی منزلوں والے اور دب جانے والے
١١٤
”منکرین“ تھے اور جن کو بچا لیا گیا وہ ”مومنین“ تھے؟
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ٢١ نومبر ٢٠٠٠ء)
(٢٣) ...... مرزا قادیانی کا برپا کیا ہوا ”انقلاب“ کہاں ہے؟
کیا مرزا قادیانی امام مہدی کے دعوے کے مطابق دنیا میں کوئی انقلابی کام کر سکے؟ اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔ مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں فوت ہوئے۔ اس وقت تک برصغیر پاک و ہند میں چند شہروں اور چند گاؤں میں مرزا قادیانی کے ماننے والے موجود تھے۔ اس کے بعد ان کی تعداد زوال پذیر ہونا شروع ہوئی۔ مرزا قادیانی کے دور میں کم علمی اور جہالت زوروں پر تھی۔ محکوم مسلمان ویسے بھی کسی ایسے مذہبی رہنما کی ضرورت محسوس کر رہے تھے جو اسلام کے لیے کوئی انقلابی کام کر سکے۔ مرزا قادیانی متعدد دعووں کے ساتھ میدان میں آئے تو لوگوں نے فوراً ان کو قبول کرنا شروع کیا۔ کسی گاؤں سے ایک آدمی نے قبول کیا تو اس نے اپنے گاؤں میں بہت سے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیا۔ برصغیر کے مسلمان دوسرے ملکوں کے مسلمانوں سے زیادہ توہم پرست اور جاہل (ان پڑھ) تھے۔ جہاں پر کسی بھی ”لوٹا پھیرنے والے“ پیر کو دیکھا فوراً مان لیا۔ ”پیر سائیں“ کو آنکھوں پر بٹھا لیتے۔ وہاں انہوں نے ان کو (مرزا قادیانی) کو پذیرائی بخشی۔ جہلم میں مولوی برہان الدین مرزائی نے مرزا قادیانی کی بیعت کی تو بعد میں جہلم شہر اور محمود آباد کے لوگوں کو قادیانی بنالیا۔ محمود آباد کی اکثریت ان کے پاس قرآن پڑھنے جایا کرتی تھی۔ لہٰذا استاد نے شاگردوں کو ساتھ ملا لیا۔
مرزا قادیانی کے دور میں ان کا پیغام ان کے ملک تک رہا۔ مرزا قادیانی اپنی آمد کو حضرت محمد ﷺ کی بعثت (بروزی طور پر) قرار دیتے۔ اپنے آپ کو احادیث میں بیان کی گئی ان پیشگوئیوں کا مصداق قرار دیتے جن میں آنے والے وقت میں اسلام کمزور ہو جانے، جہالت کے پھیلنے اور مسلمانوں کی زبوں حالی کا تذکرہ کر کے ایک انقلاب کی خبر دی گئی ہے۔ جو حضرت امام مہدی اور عیسیٰ ابن مریم کی آمد سے وجود میں آئے گا جس سے دیکھتے ہی دیکھتے منفی قوتیں تحلیل ہو جائیں گی اور اسلام پوری قوت کے ساتھ دنیا میں پھیل جائے گا اور یہ سب کچھ قیامت کے قریب ہی ہوگا۔ گویا قیامت سے قبل اس مذکورہ انقلاب کی وجہ سے اسلام دنیا پر غالب آجائے گا۔
جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے آنے پر دنیا میں کوئی انقلابی تبدیلی (اسلام کی ترقی کے حوالے سے) نہیں آئی۔ جسے مرزا قادیانی کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہو۔ دنیا کو تو چھوڑیں برصغیر میں بھی کوئی انقلابی تحریک وجود میں نہیں آئی۔ برصغیر میں ایک ہزار میں سے ایک فرد نے اگر
١١٥
ان کو قبول کیا تو یہ کیا انقلاب ہوا۔ اگر ایک ہزار میں سے ٨٠٠ افراد قبول کرتے تو کچھ بات بنتی۔ پوری دنیائے اسلام کے حوالے سے مرزا قادیانی کا آنا نہ آنا ایک برابر نظر آتا ہے کیونکہ آج بھی پاکستان کے بہت سے ایسے علاقے موجود ہیں جن سے اگر قادیانیت کے بارے میں سوال کریں تو نہ انہوں نے قادیانیت کا پیغام سنا ہوگا اور نہ ہی انہیں آج تک کسی قادیانی سے واسطہ پڑا ہوگا۔ بہت سے ایسے اسلامی ممالک ہیں جہاں ایک قادیانی کا پیغام ایک سو سال گزرنے کے باوجود نہیں پہنچا۔ اگر مرزا قادیانی واقعی اس دور کے امام مہدی تھے تو ان کی زندگی میں ہی برصغیر میں ٣٣ فیصد سے زائد افراد قادیانیت کو قبول کرتے اور بعد میں باقی ٦٦ فیصد بھی قبول کرتے جبکہ اسلامی ممالک میں تو سب سے زیادہ پذیرائی ملنی چاہیے تھی کیونکہ عرب یا اسلامی ریاستوں میں مسلمان برصغیر کے مسلمانوں کی نسبت زیادہ اسلام کو سمجھنے والے اور اسلامی تعلیم کے قریب تھے۔ وہ بہتر طور پر سمجھ سکتے تھے کہ آنے والے امام مہدی یا مسیح موعود کے بارے میں اسلامی لٹریچر کیا کہتا ہے؟
قرآنی آیات یا احادیث کی عربی عبارت کا ترجمہ یا مفہوم وہ بہتر سمجھ سکتے تھے۔ عربوں کی طرف سے انہیں قبول نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ قرآنی آیات یا احادیث کے مفہوم کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ اسلام کا آغاز بڑی ہی کمزور حالت سے ہوا۔ حضرت محمد ﷺ کے دعویٰ نبوت کے ١٣ سال تک اسلام نے کوئی خاص ترقی نہ کی۔ اس دوران شعب ابی طالب کا تین سالہ دور بھی گزرا۔ خاموشی سے تبلیغ کرنے اور آہستہ آہستہ اپنے پیغام کو آگے پہنچانے کا سلسلہ تیرہ سال تک چلتا رہا۔ گویا ٤٠ سال کی عمر میں دعویٰ کیا اور ٥٣ سال کی عمر تک کوئی خاص کامیابی نہ ملی اس کے بعد مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ جانا پڑا۔ مگر اگلے دس سالوں میں اسلام نے اس تیزی سے ترقی کی کہ نہ صرف اپنے علاقوں مکہ، مدینہ میں اسلام پھیلا بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی اسلام پھیل گیا۔ حضور کی وفات کے وقت اسلام مکہ، مدینہ اور بہت سے شہروں میں مکمل غلبہ کے بعد بہت سے دوسرے ملکوں میں بھی بڑی قوت کے ساتھ پہنچ چکا تھا اس کے بعد خلفائے راشدین کے ٣٠ سالہ دور میں ملکوں کے ملک فتح ہوئے۔ اتنا زبردست پھیلاؤ اس دور میں ہوا جب نہ تو ذرائع آمد ورفت تھے۔ نہ ٹیلی کمیونیکیشن کا کوئی نظام تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس دور میں جو ترقی ٥٠ سالوں میں ہوئی اتنی ترقی اس دور میں نئی سہولتوں کی وجہ سے پانچ سال سے بھی کم عرصے میں ہوتی۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے دعوے کے بعد ان کے اپنے ١٩ سالہ دور میں صرف برصغیر میں ایک فیصد سے بھی کم لوگوں نے قبول کیا اور ان کے بعد ان کے جانشینوں (خلفاء) کے ٩٠ سالہ دور میں بھی ایک فیصد آبادی نے ان کو قبول نہ کیا۔ دنیا میں جن ممالک میں پیغام پہنچا وہاں کسی بھی ملک میں ٥ فیصد
١١٦
٧ آبادی قادیانی نہیں ہوسکی۔ پاکستان میں ایک جاسکتا۔ آج کل کے قادیانیوں کے ”مقدس شہر“ ہے۔ لندن کے مقامی لوگوں (گوروں) میں سے قبول نہیں کی، شاید دس ہزار میں سے بھی ایک آد کی وجہ سے کوئی انقلاب برپا نہ ہوا نہ اسلام نے تر
اگر یہی کچھ امام مہدی نے کرنا تھا تو بار امام مہدی کے ظہور، علامات، کامیابیاں ا مسلمانوں بزرگوں کو یا علماء اسلام کو امام مہدی مہدی کے شایان شان تھے تو اس معیار کے کئی وفات کے ٣٠ سال بعد ١٩٤٠ء میں مولانا مودو اس تیزی سے جماعت کو آگے بڑھایا کہ ١٩٤٧ آنے لگا۔ ١٩٥٣ء میں یعنی اپنے آغاز کے صرف کام کرنے والی جماعت بن کر سامنے آئی ہندوستان، بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) کشمیر گئیں۔ اب ہر شہر میں ان کی تنظیم اور خاص افرا فارم پر ایک الگ جماعت کے طور پر الیکشن تک حاصل کر چکی ہے کہ الیکشن کے لیے اپنے آسا ایسے نظریات پیش کیے جو عام مسلمانوں سے سامنے لے کر آئے قادیانی جماعت کے مقا ہے۔ اس لحاظ سے تو مولانا مودودی صاحب م
مولانا قاسم نانوتوی صاحب نے جماعت کی بنیاد رکھنے سے صرف نو سال قبل ب نہ ہی امام مہدی کے۔ مگر وہ مرزا قادیانی کی ب تیزی سے ترقی کی کہ آج پاکستان میں دیوبن گی مگر اس کے مقابل پر ”امام مہدی“ کی جما
آبادی قادیانی نہیں ہوسکی۔ پاکستان میں ایک فیصد سے بھی کم۔ ہندوستان فیصد ہی نہیں لکھا جاسکتا۔ آج کل کے قادیانیوں کے ”مقدس شہر“ لندن جہاں ١٩٢٤ء سے باقاعدہ قادیانی مشن قائم ہے۔ لندن کے مقامی لوگوں (گوروں) میں سے ایک ہزار میں سے ایک آدمی نے بھی قادیانیت قبول نہیں کی، شاید دس ہزار میں سے بھی ایک آدمی نے قبول نہیں کیا تو یہ امام مہدی کیسے نکلے جن کی وجہ سے کوئی انقلاب برپا نہ ہوا نہ اسلام نے ترقی کی۔ نہ منفی قوتیں ختم ہوئیں؟
اگر یہی کچھ امام مہدی نے کرنا تھا تو اس کے لیے خدا کے رسول حضرت محمدﷺ کو بار بار امام مہدی کے ظہور، علامات، کامیابیوں، ذمہ داریوں کو بتانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ مسلمانوں بزرگوں کو یا علماء اسلام کو امام مہدی کے انتظار کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اگر یہ کام امام مہدی کے شایان شان تھے تو اس معیار کے کئی اور ”امام مہدی“ آچکے ہیں مثلاً مرزا قادیانی کی وفات کے ٣٣ سال بعد ١٩٤١ء میں مولانا مودودی صاحب نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی اور اس تیزی سے جماعت کو آگے بڑھایا کہ ١٩٤٧ء میں تحریک پاکستان میں اس کا ایک رول بھی نظر آنے لگا۔ ١٩٥٣ء میں یعنی اپنے آغاز کے صرف ١٢ سال بعد تحریک ختم نبوت بھی بہت ہی نمایاں کام کرنے والی جماعت بن کر سامنے آئی۔ اس کے بعد بڑی تیزی کے ساتھ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) کشمیر (آزاد، مقبوضہ کشمیر) میں بڑی مضبوط جماعتیں بن گئیں۔ اب ہر شہر میں ان کی تنظیم اور خاص افرادی قوت موجود ہے بلکہ ١٩٧٠ء سے یہ سیاسی پلیٹ فارم پر ایک الگ جماعت کے طور پر الیکشن تک لڑنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ گویا اتنی افرادی قوت حاصل کر چکی ہے کہ الیکشن کے لیے اپنے آپ کو ”فٹ“ سمجھتی ہے۔ مولانا مودودی صاحب نے ایسے نظریات پیش کیے جو عام مسلمانوں سے ہٹ کر تھے جس کی وجہ سے وہ ایک الگ جماعت کو سامنے لے کر آئے قادیانی جماعت کے مقابل ان کی ترقی کئی سو گنا زیادہ ہے بلکہ ہزار گنا زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے تو مولانا مودودی صاحب مرزا قادیانی سے بہتر امام مہدی ثابت ہوتے ہیں۔
مولانا قاسم نانوتوی صاحب نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد مرزا قادیانی کی طرف سے جماعت کی بنیاد رکھنے سے صرف نو سال قبل یعنی ١٨٨٠ء میں رکھی وہ نہ مجدد کے دعوے دار تھے اور نہ ہی امام مہدی کے۔ مگر وہ مرزا قادیانی کی جماعت کے ”ساتھ ہی میدان میں آئے اور اس قدر تیزی سے ترقی کی کہ آج پاکستان میں دیوبند مکتبہ فکر کے مدرسے، عبادت گاہیں جگہ جگہ نظر آئیں گی مگر اس کے مقابل پر ”امام مہدی“ کی جماعت دور دور تک نظر نہ آئے گی۔ ان کی عبادت گاہیں
١١٧
اور مدرسے غازیوں اور طلباء سے پر ہوں گے۔ مگر ”امام مہدی“ کی جماعت کی عبادت گاہیں تالوں اور جالوں‘ کے قبضے میں نظر آئیں گی۔ ان کے مدرسے جہاں قرآن مجید حفظ ہوتا ہے ہر شہر میں کئی ہوں گے۔ جبکہ ”امام مہدی“ کی جماعت کا مدرسۃ الحفظ پورے پاکستان میں صرف اور صرف ایک ہے جہاں کل طلباء ٦٠ سے زائد نہیں ہوتے جبکہ مولانا قاسم نانوتویؒ صاحب کی قائم کردہ جماعت کے ایک شہر میں کئی ساٹھ طلباء ہوں گے جو قرآن مجید حفظ کر رہے ہوں گے اور پورے پاکستان میں کم از کم سو گنا زیادہ ہوں گے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ مرزا قادیانی امام مہدی تھے اور انہوں نے امام مہدی کے معیار کے مطابق اپنے فرائض انجام دے کر وہ انقلاب برپا کر دیا جس کا امام مہدی والی پیشگوئیوں میں ذکر تھا تو پھر ”کھودا پہاڑ نکلا چوہا“ والی بات ہوگی جو کہ سراسر حضرت محمدﷺ کی توہین اور گستاخی کے مترادف ہے جو کہ کسی بھی مسلمان کو منظور نہیں۔
جس امام مہدی کا احادیث میں ذکر ہے اس امام مہدی نے پوری دنیا کے لیے آنا تھا۔ مرزا قادیانی نے بھی مہدی آخر زمان کا دعویٰ کیا تو کیا وہ پوری دنیا کے لوگوں کو اپنا پیغام پہنچا کر ان کو ”راہ راست“ پر لا سکے کیا دنیا نے اس کو قبول کیا؟
١٩٨٩ء میں قادیانی جماعت نے اپنے قیام کا صد سالہ جشن منایا۔ اس کے چار سال بعد ١٩٩٣ء میں مرزا طاہر احمد نے اعلان کیا کہ بعض ریکارڈ رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں سوا کروڑ ہو چکے ہیں اس میں جو کمی رہ گئی ہے اس کے لیے عالمگیر بیعت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
قادیانی جماعت سو سال میں صرف سوا کروڑ افراد کو قادیانی بنا سکی جبکہ ٥٧٥ کروڑ آبادی ابھی تک ان کو ماننے سے انکاری ہے گویا پانچ سو میں سے صرف ایک نے قبول کیا یہ تو ایک فیصد بھی نہیں ہے خیر اب عالم گیر بیعت کے ذریعہ ”اعداد و شماری تبلیغ“ کے نتیجہ میں کروڑوں افراد قادیانی ہو رہے ہیں وہ وقت اب دور نہیں جب پاکستان کے ہر ضلع، شہر میں ہر قادیانی ہر سال کروڑوں کے حساب سے بیعتیں کروائے گا۔ جب پاکستان میں موجود قادیانی ہر سال کروڑوں کے حساب سے قادیانی بنائے گا تو پھر کیا بنے گا؟ معلوم نہیں مگر یہ معلوم ہے کہ دنیا میں موجود ٥ ارب سے زائد غیر قادیانی اسی طرح موجود رہیں گے۔
یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ ایک سو سال میں ٥٠٠ میں سے صرف ایک فرد نے ”امام مہدی“ کو قبول کیا جو کہ مرزا قادیانی کی ”مہدویت“ کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ٢٧ نومبر ٢٠٠٠ء)
١١٨
(٢٤) ...... اسلام کے احیاء کی پیش گوئی
قادیانی جماعت کے آغاز کا جواز چودھویں صدی میں اسلام کے احیاء کے بارے میں بزرگوں کے اقوال اور چند احادیث سے خودساختہ استدلال کی بنیاد پر تھا جس کے مطابق اسلامی تعلیم کی کمی اور مسلمانوں کی مذہبی زبوں حالی کو ختم کرنے کے لیے چودھویں صدی میں نئی تحریک یا تحریکیں اٹھیں گی۔ قادیانی اس کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں سورۃ صف میں ”آخرین“ کے الفاظ والی آیت میں محمد رسول اللہ کی بعثت کے حوالے سے اشارہ دیا گیا ہے کہ آئندہ آنے والے لوگوں میں محمد ایک بار پھر تشریف لائیں گے۔ یعنی بروزی طور پر، یعنی کسی دوسری شخصیت کے روپ میں اور اسلام کو دوبارہ زندہ کریں گے۔ اس کے لیے ”آخرین“ والی آیت کے مفہوم کو بیان کرنے والی ایک حدیث کو بیان کیا جاتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جب یہ آیت اتری تو لوگوں نے حضور سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں جو ہم میں سے ہیں مگر ابھی ملے نہیں تو حضور نے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی چلا گیا تو کوئی فرد یا کچھ افراد اس کو دوبارہ لے آئیں گے۔ قادیانی اسے حضرت سلمان فارسی کی نسل سے امام مہدی کے ظہور کے لیے پیش کرتے ہیں۔ قادیانی کچھ مسلمان بزرگوں کے اقوال سے امام مہدی کے ظہور کا زمانہ چودہویں صدی کشید کرتے ہیں۔ دوسری طرف عوام میں بھی چودہویں صدی میں امام مہدی کے ظہور یا اسلام کی ترقی کے بارے میں بات قادیانیوں نے مشہور کی تھی چنانچہ جب قادیانیوں نے عام مسلمانوں سے کہا کہ آپ چودہویں صدی میں امام مہدی کے ظہور کو مانتے ہیں تو اب مانو! یہ دیکھو مرزا قادیانی کی شکل میں امام مہدی آچکے ہیں۔ لہذا لوگوں نے ”موقع غنیمت“ جانتے ہوئے ان کو قبول کرنا شروع کر دیا جنہوں نے قبول نہیں کیا۔ وہ انتظار میں رہے اور جب ١٤ویں صدی نصف سے زائد گزر گئی تو بعض عوام نے یہاں تک کہہ دیا کہ چودہویں صدی ختم نہیں ہوگی جب تک امام مہدی کا ظہور نہیں ہوگا چنانچہ قادیانی ، مسلمانوں کی کم علمی کا تمسخر اڑاتے اور گنتی کے حساب سے چودہویں صدی کے ختم اور ١٥ پندرہویں کے شروع ہونے کا یقین دلاتے۔ چودہویں صدی میں اسلام کے احیاء کا انتظار کرنے والے مایوس ہو گئے۔ قادیانی اس آئیڈیا کو کیش کروا گئے۔
قادیانیوں کا استدلال غلط ثابت ہو گیا
اگر تو قرآن کی آیت سے اس حدیث پر آیا جائے جس میں ”رجل اور رجال“ کا ذکر
١١٩
ہے تو اس کے مطابق نہ تو یہ امام مہدی کی پیش گوئی بنتی ہے اور نہ ہی عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ ظہور کے متعلق ہے۔ نہ ہی حدیث میں یہ بات ہے پھر ایک فرد یا کئی افراد کا ذکر ہے اس کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ ایک امام مہدی ہوگا یا کئی امام مہدی ہوں گے کیا قادیانی اس حدیث کی بناء پر کئی اور امام مہدیوں کو ماننے کے لیے تیار ہیں؟ نہیں یقیناً نہیں بلکہ سو سالہ تاریخ جواب دے چکی ہے کہ کئی امام مہدی کے دعوے دار آئے مگر قادیانیوں نے کسی کو بھی نہیں مانا۔
امام مہدی کے متعلق قادیانیوں کے پاس کوئی واضح حدیث نہیں جس کے مطابق مرزا قادیانی کو امام مہدی ثابت کر سکیں کیونکہ جتنی بھی احادیث ہیں امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام دونوں کو اکٹھا لا رہی ہیں۔ قادیانیوں نے ہاتھ پاؤں مار کر ابن ماجہ کی ایک حدیث تلاش کر لی جس میں ہے، نہیں امام مہدی مگر عیسیٰ، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ مہدی نہیں ہیں۔ یعنی دونوں ایک وجود ہیں اگر یہ حدیث اسی طرح ہے اور سچی ہے تو پھر درجنوں دوسری احادیث کا کیا کریں گے جو ان دونوں کو الگ الگ کرتی ہیں؟ ظاہر ہے کہ ایک کو نظر انداز کریں گے اور درجنوں کے اجتماعی فیصلے کو مانیں گے۔ قادیانیوں نے تو اس حدیث کو اس طرح لیا جس طرح بوڑھی مائی جو کسی حادثے کی وجہ سے بے ہوش تھی اور لوگ اس کے بارے میں مختلف مشورے دے رہے تھے اور مائی بے ہوش پڑی تھی۔ جونہی کسی دور کھڑے شخص نے کہا کہ اسے دودھ میں جلیبی ڈال کر دو تو مائی فوراً بول پڑی کہ اپنی باتوں میں لگے ہو۔ اس شخص کی بات بھی تو سنو یعنی اپنے مطلب کی بات دور سے نکال کر لے آنا مائی کے قصے کا خلاصہ ہے۔ قادیانیوں کو یہ ایک حدیث تو نظر آئی مگر درجنوں کے حساب سے دوسری احادیث نظر نہ آئیں۔
درجہ بالا بحث سے یہ بات سامنے آئی کہ نہ ”رجل اور دجال“ میں امام مہدی کی پیشین گوئی ہے اور نہ امام مہدی کی صورت میں وہ ایک وجود ہے۔ وہ جب بھی آئیں گے دو وجود ہوں گے اب اس حدیث کا کیا کریں۔ جس میں احیاء اسلام کی پیشین گوئی ہے اور دیگر مسلمان دوسری احادیث اور روایات کی بنا پر اس ایمان پر قائم ہیں کہ اسلام کا احیاء ہوگا اور امام مہدی نازل ہوں گے۔
احیاء اسلام کی پیشین گوئی پوری ہو گی
مسلمانوں کے لیے یہ ایک خوشخبری کی حیثیت رکھتی ہے کہ پیشین گوئی پوری ہو چکی ہے مایوسی کی ضرورت نہیں بلکہ چودہویں صدی کو نہ ختم ہونے کا آئیڈیا دے کر تمسخر کا موقع دینے کی ضرورت نہیں۔
١٢٠
اگر چودہویں صدی کے آغاز یا تیرہویں صدی کے آخری دور میں مسلمانوں کی مذہبی اور علمی حالت کے لحاظ سے مسلمان خاصے کمزور ہو چکے تھے اور مسلمان دانشور اور مفکر اس فکر میں مبتلا تھے کہ مسلمانوں کا کیا بنے گا؟ قادیانی اس حوالے سے علامہ اقبال ، مولانا حالی اور دیگر مفکروں کے اقوال اور اشعار پیش کرتے ہیں جن میں مسلمانوں کی مذہبی زبوں حالی کا رونا رویا گیا ہے اس کو بھی قادیانی جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ دیکھ لو مسلمان دانشور کسی مسیحا کی تلاش میں تھے اور دعا کر رہے تھے کہ یا خدایا مسلمانوں کی حالت کو سدھارنے کے لیے کوئی ”مسیحا“ بھیج۔ چنانچہ اس موقع کو ”غنیمت“ جانتے ہوئے مرزا قادیانی کے ”مسیحا“ بننے کا پروگرام بنایا اور ”مسیح موعود“ کا دعویٰ کر دیا۔ اب چودہویں صدی کا آغاز ہوتا ہے ایک طرف مرزا قادیانی دعویٰ کر کے ایک نئے سلسلہ کی بنیاد رکھتے ہیں۔ دوسری طرف مسلمان مرزا قادیانی کے مقابلے کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ دونوں قوتیں آگے بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ چودہویں صدی کے آغاز سے برصغیر میں مذہبی قوتیں (اسلامی قوتیں) طاقت پکڑنا شروع کرتی ہیں جس کا ایک بڑا مظاہرہ پاکستان کے لیے کوششوں اور بعد میں پاکستان کے وجود کی شکل میں ہوا کہ کروڑوں کے حساب سے مسلمان یکجا ہو گئے اور اسلامی تعلیم اور عمل کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم مل گیا۔ پھر ١٩٤٠ء کے لگ بھگ مولانا مودودی میدان میں آئے اور ایک تحریک جماعت اسلامی کی شکل میں چلا دی۔ یہ جماعت ساٹھ سال سے مسلمانوں کو متحرک کرنے کے لیے اہم رول ادا کر رہی ہے۔ اسلام کی تبلیغ اور تنظیم پر زور دیا جاتا ہے۔ خصوصاً جوانوں کو علمی میدان میں آگے بڑھانا اور منظم کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ہزاروں لاکھوں اسلامی کتابیں ان کے ذریعہ چھپ کر پوری دنیا میں تقسیم ہو چکی ہیں۔ چودہویں صدی کے آغاز سے ہی مجلس احرار اسلام اٹھ کر پورے برصغیر پر چھا گئی اور مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ ایک گروپ تبلیغی جماعت کے طور پر سامنے آیا یہ بھی چودہویں صدی کا تحفہ ہے کہ مسلمانوں میں تبلیغ کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ایک ایسا گروپ پیدا ہوا جو اپنا آرام وسکون چھوڑ کر اپنی دنیاوی حیثیت کو بالائے طاق رکھ کر خانہ بدوشوں کی طرح بستر اٹھائے اپنی انا، جذبات کی قربانی دیتے ہوئے گلی گلی، شہر شہر ہفتوں اور مہینوں کے لیے اپنے شہر اپنے علاقے اپنے رشتہ داروں اور اپنے بیوی بچوں سے دور نکل جاتا ہے اور ایک ایک دروازے پر دستک دے کر نماز کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور عملی تربیت کی طرف زور دیتا ہے۔ آج ان کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کی تبلیغ جاری ہے۔
١٤١
یہ بات سو فیصد پوری ہوچکی ہے کہ چودھویں صدی میں ”کئی افراد“ ثریا پر جانے والے ایمان کو دوبارہ دنیا میں لا چکے ہیں۔ یہ صرف برصغیر یا پاکستان کی بات نہیں بلکہ تمام اسلامی ملک چودھویں صدی میں آزاد ہوئے جو اسلام کی ترقی کی طرف ایک اہم قدم ہے پھر ان مسلمان ملکوں میں مذہبی مدرسوں، عبادت گاہوں کا قیام اور لاکھوں نوجوانوں کو مذہبی تعلیم دینا کیا اسلام کا احیاء نہیں ہے؟
جتنی ترقی اسلام نے یا مسلمانوں نے چودھویں صدی میں کی ہے۔ یہ گزشتہ ٩ صدیوں میں بھی نہیں ہوئی۔ اس دور کا مسلمان علمی لحاظ سے ١٣ویں صدی کے مسلمان کے علمی معیار سے کئی سو گنا زیادہ اوپر ہے۔ جب تیرہویں صدی سے پچھلی دو چار صدیوں کا جائزہ لیں تو مسلمانوں کا گراف نیچے جا رہا تھا۔ برصغیر میں مغلوں کے زوال کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی زیر زمین چلے گئے۔ مسلمانوں نے چودہویں صدی میں اسلام کے احیاء کو امام مہدی سے مشروط کر کے قادیانیوں کو موقع دیا کہ اسے کیش کروا لیں حالانکہ کوئی حدیث ایسی نہیں کہ جس نے امام مہدی کے ظہور کو چودہویں صدی کے ساتھ مشروط کیا ہو اب اگر کوئی قادیانی اس پر اصرار کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ چودہویں صدی میں ہی امام مہدی نے آنا تھا تو گویا وہ اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اسے نقصان پہنچا رہا ہے کیونکہ وہ ثابت کرنا چاہ رہا ہے کہ گویا پیشین گوئی غلط ہوگئی اور پیشین گوئی کرنے والا غلطی پر تھا (نعوذ باللہ ) یہ ضرور ہے کہ سمجھنے والے سمجھنے میں غلطی کھا گئے یا استدلال میں غلطی ہو گئی۔ یوں قادیانیوں نے گھیر کر تمام اسلامی لٹریچر کے استدلال کو چودہویں صدی پر لانے کی کوشش کی تاکہ مرزا کو سچا ثابت کیا جائے۔
یہ بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ مذکورہ حدیث میں پیش کی جانے والی پیشین گوئی پوری ہو چکی ہے اگر یقین نہ آئے تو گزشتہ ٥٠ سالوں میں اپنے علاقوں میں مذہبی اور علمی حوالے سے ہونے والی ترقی کا جائزہ لیں۔ ٥٠ سال قبل کتنی عبادت گاہیں اور مدرسے تھے اور اب کتنے ہیں؟ پہلے کتنے سکول کالج تھے اور اب کتنے ہیں؟ مذہبی، عبادت گاہوں میں دی جانے والی تعلیم اور سرکاری سکولوں کالجوں میں دی جانے والی تعلیم سے مسلمان قوم نئی ترقی کر رہی ہے اور اسلام کے احیاء کے لیے یہ دونوں ضروری ہیں۔ میں اپنی عمر کے مطابق اگر جائزہ لوں تو میرے آبائی گاؤں محمود آباد میں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی مسجد تھی جس میں بہت کم نمازی ہوتے تھے۔ ١٩٧٤ء کے بعد وہاں اتنی زبردست بیداری پیدا ہوئی کہ اب مسجد پہلے سے دو گنا بڑی، پانچوں وقت کی باجماعت نماز اور نمازیوں کی کثرت اور پھر جمعہ کی نماز کا آغاز ہوا۔ یہ ایک زبردست تبدیلی اور ترقی ہے۔ ہمسایہ
١٢٢
گاؤں کریم پورہ میں ایک چھوٹی مسجد ہوا کرتی تھی اب وہاں تین مساجد، تین مدرسے بن چکے ہیں۔ با قاعدہ قاری اور تعلیمی کلاسیں جاری ہیں قریب ہی ایک چھوٹا سا محلہ ہے جس میں ایک بڑا سا مدرسہ بن چکا ہے پہلے وہاں ایک ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہوا کرتی تھی جس میں ہم چھٹی، ساتویں کلاس میں نماز پڑھنے کے لیے جایا کرتے تھے اب وہاں ایک بڑی مسجد، مدرسہ بن چکا ہے۔ (مدرسہ کریمہ اسلام پورہ) قریبی گاؤں پھلائیاں، آئمہ جنہاں، حاجی آئمہ، آئمہ کوٹلہ، کوٹلی اللہ یار، چھتہ، جادہ، ڈھوک فردوس وغیرہ وغیرہ میں ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کئی مسجدیں اور مدرسے بنے اور آباد ہوئے دنیاوی تعلیم کے مدرسے سکول، کالج کی ترقی تو روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
مذکورہ بالا ساری مذہبی اور علمی ترقی کی بدولت آج مسلمانوں میں جذبہ جہاد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور دنیا کی سپر طاقت سے ٹکر اسی مذہبی جذبہ کا نتیجہ ہے۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ٦ دسمبر ٢٠٠٠ء)
(٢٥) ...... متعصب قادیانی ہیں یا مسلمان؟
١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران قادیانیوں کو مسلمانوں کی طرف سے خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر چھوٹے بڑے نے قادیانیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا۔ کیونکہ مسلمان علماء نے تقریر و تحریر سے مسلمانوں کو باور کروایا کہ قادیانی گستاخ رسول ہیں۔ لہٰذا ان کے ساتھ میل جول رکھنا اور کسی قسم کا تعاون کرنا گویا اسلام کو نقصان پہنچانے والوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ بہت سے شہروں میں قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ قادیانی کارخانوں سے تیار ہونے والی اشیاء کا بائیکاٹ بھی کرنے کا کہا گیا۔
اس تحریک کے دوران لفظ ”متعصب“ کا لفظ بہت سننے میں آیا۔ ہر قادیانی کی زبان پر ہوتا کہ فلاں دوست بڑا متعصب ہے۔ یعنی قادیانیوں کو کافر سمجھتا ہے یا نفرت کرتا ہے، فلاں متعصب نہیں ہے۔ یعنی قادیانیوں سے نفرت نہیں کرتا۔ ١٩٧٤ء کی تحریک کے نتیجہ میں قادیانی زمین پر لگ گئے۔ ہر محلہ اور ہر میدان میں ”غیر متعصب“ افراد کی تلاش کی جانے لگی۔
قادیانی ایسے شخص کو ہاتھوں ہاتھ لیتے۔ اسے اپنی مجلسوں میں بلواتے اور اس کا تعارف کراتے کہ یہ شخص متعصب نہیں ہے۔ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس دوران ایک نئی نسل جوان ہو چکی ہے۔ جو تعصب اور متعصب کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے اور اب جو آدمی غیرت اسلامی کی
١٢٣
وجہ سے ان سے نفرت کرے۔ وہ متعصب کہلاتا ہے اور جو مذہب سے دوری کی وجہ سے ان سے نفرت نہ کرے۔ وہ پسندیدہ۔
قادیانی اس بات کی تبلیغ کرتے آئے ہیں کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ لہٰذا کوئی قادیانی ہو جائے تو اس پر کسی قسم کا جبر نہیں ہونا چاہیے اور مذہب تو اللہ اور انسان کا آپس کا معاملہ ہے۔ نفرت کی کیا وجہ ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ قادیانی جو تعصب اور متعصب شخص سے نفرت کرتے آئے ہیں۔ ان کا خود کردار کیا ہے۔
١٩٩٩ء میں ہم ١٣ افراد خاندان نے قادیانیت کو ترک کر کے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو محمود آباد جہلم کی تمام قادیانی جماعت نے نہ صرف منہ موڑ لیا بلکہ سوشل بائیکاٹ بھی کر دیا۔ ہر قادیانی تعصب کی معراج تک پہنچا۔ یہاں تک کہ ہمارے سگے رشتہ دار، تایا زادوں اور ”بھائیوں نے غیرت قادیانیت“ کی وجہ سے ”کٹی“ کر لی۔
یہ صورتحال تاحال قائم ہے۔ اس وقت تمام قادیانیوں کی طرف سے مکمل بائیکاٹ، مکمل ناراضگی، بول چال بند، غمی خوشی میں قطع تعلق اور سخت قسم کے تعصب کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ مرزا طاہر احمد دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دھوکے اور فراڈ سے یہ ثابت کرنے کی کوششیں کر رہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ ان سے نفرت کی جاتی ہے۔ ان کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے اور ان کی جانوں کو خطرہ ہے۔ مرزا طاہر احمد کو اخلاقی اقدار کا بھی پاس رکھنا چاہیے۔ اب دنیا خاصی بیدار ہو چکی ہے۔ جھوٹ کے پاؤں کہاں؟ لہٰذا اس پر سواری نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ مرزا طاہر احمد کو اپنی چارپائی کے نیچے دیکھ لینا چاہیے کہ اس کی قوم کا کردار کیا ہے؟ ٹھیک ہے محمود آباد میں ان کی اکثریت یا زور ہے۔ مگر یہ صرف پیالی کے اندر ہی ہے۔ پیالی سے باہر یہ زیرو ہیں۔ ان کو احتیاط کی ضرورت ہے خیر ان کی قوم اپنی بیوقوفیوں کی وجہ سے محمود آباد میں قادیانیت کا مستقبل تاریک کر چکی ہے۔ اب انہیں قادیان، ربوہ یا لندن کا رخ ہی کرنا پڑے گا۔ جتنا زیادہ تعصب کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ان کی گردن کی رسی اتنا ہی کسی جا رہی ہے۔ عقل و شعور ہوتا تو حالات یہاں تک نہ پہنچتے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ قادیانی انتہاء کے متعصب انسان ہیں۔ اگر یہ متعصب نہیں تو لفظ متعصب کے معنی بدلنے پڑیں گے۔ ان کے مقابلے میں مسلمانوں میں تعصب کچھ بھی نہیں۔ قادیانیوں سے تقریباً تمام مسلمان روزمرہ کا میل جول رکھتے ہیں۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ٥ فروری ٢٠٠١ء)
١٢٤
(٢٦) ...... دس مخلص قادیانی متوجہ ہوں
انسان ہر سال اور ہر دن کچھ نہ کچھ نئی باتیں سیکھتا ہے اور کچھ نئے علوم سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لیے ہر استاد بھی اپنے آپ کو طالب علم کہتا ہے کیونکہ وہ بھی ہر روز کچھ نہ کچھ سیکھ لیتا ہے۔
میں نے چالیس سال قادیانی جماعت میں گزارے، جماعت کے ”ہر کام“ میں حصہ لینے کی کوشش کی۔ مگر ہمیں صرف تبلیغی سرگرمیوں اور تنظیمی معاملات میں الجھائے رکھا۔ ہم نے اپنی استعداد سے بڑھ کر ان سرگرمیوں میں حصہ لیا گو مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کو تاکید کی تھی کہ وہ میری کتابوں کو پڑھیں اور ”فرمایا“ تھا کہ جو میری کتابوں کو تین بار نہیں پڑھتا۔ مجھے اس کے ایمان پر شک ہے۔ دوسری جگہ کہا کہ اس کے دل میں کبر پایا جاتا ہے۔ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران میں نے فیصلہ کیا کہ میں ساری کتب (مرزا صاحب کی) کو کم از کم ایک بار ضرور پڑھوں گا۔ مگر جب میں نے چھوٹی بڑی ١٢ کتب پڑھ لیں تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اگر میں نے مزید آگے قدم بڑھایا تو میرے دل سے قادیانیت کی روح نکل جائے گی اور قادیانیت کا مزہ ”کرکرا“ ہو جائے گا۔ میں اس وقت پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے قادیانی طلباء (یونیورسٹی ہوسٹلز میں) کا ”زعیم“ (قائد) تھا۔ قیادت ماڈل ٹاؤن لاہور (١٥ کلو میٹر پر پھیلی خدام کی تنظیم) میں ناظم تعلیم اور ضلع لاہور کی قیادت میں نائب ناظم اصلاح و ارشاد (تبلیغ) تھا۔
١٩٨٢ء کے بعد ١٩٩٥ء تک میں نے دوبارہ مرزا قادیانی کی کتب پڑھنے کی ”غلطی“ نہیں کی، وہ کیا محرکات تھے؟ جن کی وجہ سے میں قادیانیت سے متنفر ہوا اس کی مکمل مرحلہ وار تفصیل اپنی کتاب ”قادیانیت سے اسلام تک“ میں آئے گی۔ آج میں اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہوں کہ جس شخص کو ہم نبی، رسول، مسیح موعود، امام مہدی، مجدد، مہدی آخر زماں وغیرہ وغیرہ مانتے تھے اس کی تعلیم کو ہم نے پڑھا ہی نہیں اور صرف اپنے والدین سے ملنے والے مذہب کو اسی طرح قبول کرنے پر اکتفاء کیا۔ مگر آج جب کہ خدا کے خاص فضل سے اسلام قبول کر چکا ہوں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو جو ابھی تک قادیانیت کے ”کنویں“ میں پڑے ہیں پر بڑا ترس آتا ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے کہ وہ نسل در نسل ایک غلطی کو پال کر اسلام سے اتنا دور ہو چکے ہیں کہ واپسی ناممکن نظر آتی ہے آج مجھے مرزا قادیانی کی کچھ کتب کے کچھ حصے ایسے بھی پڑھنے کو ملے ہیں کہ اگر میں یونیورسٹی کے دوران پڑھ لیتا تو شاید میں اپنی انسانی کمزوری کی وجہ سے قادیانیت کو چھوڑ نہ سکتا۔ مگر اتنا ضرور ہوتا کہ اپنی تمام توانائیوں کو قادیانیت کی تبلیغ اور تنظیم پر ضائع
١٢٥
نہ کرتا اور ایک طرف ہو جاتا۔ جماعت میں جنونی قادیانی یا ”مخلص“ کی کمی نہیں ہے جو سر نیچے کر کے ہر حکم کو ماننے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ مجھے آج ان ہزاروں ”مخلص قادیانیوں“ میں سے صرف دس مخلص قادیانیوں کی ضرورت ہے۔ جنہیں یہ یقین ہو کہ مرزا قادیانی کی تعلیم واقعی اسلامی اور اخلاقی معیار پر پورا اترتی ہے اور اگر وہ تعلیم منظر عام پر آجائے تو انسان کو فلاح اور قادیانیت کی تبلیغ کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔
ایسے ”مخلص“ قادیانیوں میں سے صرف ١٠ روزنامہ ”اوصاف“ کے ایڈیٹوریل سیکشن میں اپنے تعارف کے ساتھ لکھیں۔ ان کو مرزا کی ایک کتاب کے صرف تین، چار صفحات کی فوٹو کاپی ارسال کی جائے گی۔ جن کو پڑھنے کے بعد وہ اپنی رائے اوصاف کو لکھیں گے۔ اور اگر ان میں سے ٧ کی رائے یہ ہوئی کہ اسے بے شک شائع کر دیں تو اس کو من وعن اسی طرح شائع کر دیا جائے گا اور اگر وہ یہ رائے دیں کہ شائع نہ کریں یا جواب ہی نہ دیں تو ان کا اخلاقی فرض ہو گا کہ ایسی تعلیم سے بریت کا اعلان کر کے اسلام کی تعلیم کو اپنانے کا اعلان کر دیں۔ ان ”مخلص“ قادیانیوں کے لیے ایک شرط بھی ہوگی کہ ان کی تعلیم کم از کم بی اے، بی ایس سی ہو۔ وہ اپنے تعارف اور جماعت میں تنظیمی عہدے کا بھی اظہار کریں اس مضمون کی اشاعت کے بعد ایک ماہ تک دس مخلص قادیانیوں کا انتظار کیا جائے گا ایک ماہ بعد انتظار ختم کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ٦ فروری ٢٠٠١ء)
(٧) ...... احمدی یا ”غلام احمدی“
قادیانی جماعت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے دعوؤں میں اپنے نام کی مناسبت سے ”غلام احمد“ کا دعویٰ کیا۔ یعنی یہ ثابت کرتے رہے کہ میں حضرت محمد ﷺ کا بروز، ظل اور غلام ہوں۔ لہٰذا اپنے شعروں میں بھی اس کا اظہار کیا۔
نام اس کا ہے محمدؐ دلبر مرا یہی ہے
(قادیان کے آریہ اور ہم ص ٥٧، ٥٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٥٦)
قرآن مجید میں آنے والے نبی کی پیشین گوئی کے حوالے سے آیت مبارکہ میں اسم ”احمد“ کا ذکر ہے۔ جو نبی اکرم ﷺ کا نام ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی اور انہی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود احمد نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ حضرت محمد ﷺ کی آمد کی پیشگوئی ہے۔
١٢٦
گویا آپ (مرزا قادیانی) کا دعویٰ، بروز، ظل، غلام کا تھا اور نام بھی غلام احمد، درج بالا تمہید سے واضح ہوتا ہے۔ احمد و محمد ایک ہی نبی کے دو نام ہیں۔ جبکہ مرزا غلام احمد ایک الگ شخصیت ہیں۔ اب احمد اور محمد کو ماننے والے تو اپنے آپ کو احمدی یا محمدی کہہ سکتے ہیں جبکہ غلام احمد کو ماننے والے اپنے آپ کو ”غلام احمدی“ کہہ سکتے ہیں۔ مرزا غلام احمد کو ماننے والے اپنے آپ کو کیونکر احمدی کہہ سکتے ہیں؟
مرزا قادیانی کے لفظ ”مرزا“ سے ماننے والے ”مرزائی“ بھی کہلاتے ہیں اور قادیانی کے نام کے حوالے ”قادیانی“ بھی کہلاتے ہیں۔ اسی وزن پر وہ ”غلام احمدی“ کہلا سکتے ہیں۔
بہاء اللہ کو ماننے والے بہائی۔ غلام احمد پرویز کو ماننے والے پرویزی۔ حضرت عیسیٰ کو ماننے والے عیسائی۔ امام مالک کے فقہ کو ماننے والے ”مالکی“، امام ابو حنیفہ کے فقہ پر عمل کرنے والے ”حنفی“ وغیرہ وغیرہ۔ ایسی مثالیں ہیں جو سربراہ یا رہنما کے نام کے حوالے سے پہچانے جانے لگے۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کو ماننے والے ”غلام احمدی“ تو کہلا سکتے ہیں۔ صرف ”احمدی“ نہیں۔ اس لیے مسلمانوں کے نزدیک قادیانیوں کی یہ ”حرکت“ خاصی قابل اعتراض ہے۔
اگر احمدی نام سے مراد حضرت محمد ﷺ کے دوسرے نام ”احمد“ کی مناسبت سے پہچان کرانا مقصود ہے تو پھر مرزا قادیانی کا وجود تو باہر نکل جاتا ہے۔ تمام مسلمان پہلے سے ہی محمد و احمد نام سے منسوب ہیں۔ اس طرح سے وہ محمدی یا احمدی ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کے ماننے والے بھی اس ہستی (محمد و احمد) سے براہ راست رابطہ جوڑنے کی کوشش کریں تو پھر دو امکانات ہیں۔ اول یہ کہ مرزا قادیانی کے ماننے والے محمد و احمد والی شخصیت کے دامن سے منسلک ہو جائیں اور کسی قسم کی ملاوٹ نہ کریں اور درمیان سے ہندوستانی و پاکستانی عنصر نکال کر خالص اسلام کو اپنا لیں تو پھر امت مسلمہ کے لیے بہت بابرکت ہوگا۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ محمد و احمد سے رابطہ جوڑنے کی بات کریں اور ساتھ مرزا قادیانی کے وجود کو بھی اس میں داخل کریں تو یہ سراسر زیادتی، دھاندلی اور جارحانہ پن ہوگا۔ اس کوشش اور عملی مشق کے باوجود اگر مسلمان آپ سے حسن سلوک اور رواداری قائم رکھے ہوئے ہیں تو ان کے یا تو ”اعلیٰ اخلاق“ کی داد دیں اور یا پھر ان کی ”بے حسی“ اور کم ہمتی پر تالیاں بجائیں۔ آخری صورت بالکل اسی طرح جاری ہے۔ صرف تالیوں کی آواز ابھی تک مسلمانوں کو سنائی نہیں دے
١٢٧
رہی۔ ورنہ یہ اتنے بے حس بھی نہیں ہیں یہ بھی شاید اس لیے ہے کہ دنیائے کاروبار اور شور و غل میں وہ اتنے مصروف ہیں کہ تالیوں کی آواز ان میں دب کر رہ گئی ہے یا ان کی اس طرف توجہ نہیں ہے۔ حالانکہ تالیوں کی آواز تو اس وقت پوری دنیا میں گونج رہی ہے۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ٢٢ فروری ٢٠٠١ء)
(٢٨) ...... مسلمان کی تعریف اور قادیانی جماعت
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر زور رہا۔ مسلمانوں کو باور کروایا جانے لگا کہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں۔ جب کہ اس سے قبل عام طور پر مسلمان قادیانیوں کو مسلمان ہی سمجھتے تھے اور مسلمانوں کے دیگر فرقوں کی طرح کا ایک فرقہ جانتے تھے۔ یہ ”غلط العام“ تصور ١٩٧٤ء تک جاری رہا۔ جب کہ ١٩٧٤ء کی تحریک ...... ختم نبوت کے نتیجہ میں قادیانیوں کو قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا۔
١٩٥٣ء کی تحریک .......... کے نتیجہ میں ہونے والے فسادات پر ایک انکوائری کمیشن قائم کیا گیا۔ جس میں قادیانیوں اور مسلمانوں کے موقف کو سن کر ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی گئی اور بعد میں شائع بھی ہو گئی۔ اس انکوائری میں قادیانیوں کے مطابق جو اہم بات تھی وہ یہ کہ تمام مسلمان فرقوں کو مسلمان کی تعریف کرنے کو کہا گیا مگر وہ کوئی ایسی تعریف نہ بنا سکے۔ جس کی رو سے قادیانیوں کو مسلمانوں کی صف سے باہر نکالا جاسکے۔ قادیانی اپنی تحریر و تقریر میں اس بات کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ جو انسان حضرت محمد کو نبی مانے۔ اللہ، اس کے فرشتوں، الہامی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان رکھے وہ مسلمان ہے۔ اس دلیل کے ساتھ وہ ارکانِ اسلام کو بھی گنواتے ہیں کہ جو کلمہ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ پر ایمان رکھے وہ مسلمان۔ لہٰذا قادیانی جب ان شرائط پر پورا اترتے ہیں تو پھر دائرہ اسلام میں تو داخل ہوگئے۔ باقی جو اختلاف ہے وہ ”لوکل“ ہے۔ یہ دلائل گزشتہ ٥٠ سال سے بڑی شدت سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ قادیانیوں کی ”مسلمانی“ جب عدالتوں میں چیلنج ہوئی تو قادیانی سب کچھ بھول کر اپنی ”مسلمانی“ بچانے کی فکر میں لگ گئے۔ گو وہ اس میں کامیاب تو نہ ہوسکے۔ مگر اس دوران نئی نئی دلیلیں اور نئی نئی کتب و تحریرات پیدا ہوگئیں۔
دلچسپ پہلو
ان دلائل پر غور کریں تو ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔ جس سے ان دلائل کی تمام
١٢٨
حقیقت بھک سے اڑ جاتی ہے۔ قادیانی ٥٠ سال سے دوسروں کو جو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے آرہے ہیں کہ اس تعریف کے مطابق قادیانی مسلمان ہیں۔ اس دلیل کو ان کی تحریرات نے خود ہی ختم کر دیا۔
”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے۔ مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا۔ یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص١١٠۔ از مرزا بشیر احمد ایم۔ اے۔ ابن مرزا غلام احمد قادیانی)
”خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات ص٦٠٠ طبع دوم از مرزا غلام احمد قادیانی)
”اس الہام کی تشریح میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے الذین کفرو غیر احمدی مسلمانوں کو قرار دیا ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص١٣٤ از مرزا بشیر احمد ایم۔ اے۔ ابن مرزا غلام احمد قادیانی)
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص٣٥ از مرزا بشیر الدین محمود احمد ابن مرزا غلام احمد قادیانی)
واضح رہے کہ ایک حوالہ مرزا قادیانی کا ہے۔ جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ خدا نے مجھے کہا ہے۔ دو حوالے مرزا بشیر احمد ایم۔ اے۔ کے ہیں جو نہ صرف مرزا قادیانی کے فرزند ہیں بلکہ قادیانی جماعت ان کو ”قمر الانبیاء“ مانتی ہے۔ جب کہ ایک حوالہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کا ہے جو نہ صرف قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ تھے بلکہ مرزا قادیانی کے فرزند اور جماعت کے نزدیک ”مصلح موعود“ تھے۔ یہ ایسے حوالے ہیں جن سے قادیانی انکار نہیں کر سکتے۔
ان حوالوں سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ قادیانی خود اس دلیل کو نہیں مانتے کہ جو ارکان اسلام پر ایمان رکھے وہ مسلمان ہے کیونکہ ایک ارب مسلمان جو نہ صرف ان ارکان اسلام پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ شدت اور اخلاص کے ساتھ ان پر کاربند بھی ہیں۔ وہ قادیانی کے نزدیک کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو پھر قادیانیوں کی دلیل کدھر گئی؟ جس دلیل کے ساتھ وہ دوسروں کو
١٢٩
مجبور کرتے ہیں کہ ہمیں مسلمان سمجھیں۔ اس دلیل کے ساتھ وہ خود دوسرے مسلمانوں کو مسلمان تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ قول وفعل میں یہ شرمناک تضاد نہیں ہے تو کیا ہے؟
(اوصاف ١٠؍مارچ ٢٠٠١ء)
(٢٩) ...... ایک ”مخلص قادیانی“ کے ساتھ زیادتی
قادیانی جماعت کے افراد ایک دوسرے کے تعارف میں ”مخلص احمدی“ کا لفظ بہت استعمال کرتے ہیں۔ اس سے مراد ایسا قادیانی ہے جو بن دیکھے، بغیر تحقیق کے، چابی والے کھلونے کی طرح آواز پر لبیک کہے اور ہر کام میں، ہر میدان میں سر جھکائے کام میں لگا رہے اور سب سے بڑی خوبی کہ وہ چندہ باقاعدگی سے ادا کرے۔ اگر چندہ نہیں دیتا تو اس کا ”مخلص پن“ صفر ہو جائے گا۔ قادیانی بچے کو اطفال الاحمدیہ تنظیم کا ممبر بنالیا جاتا ہے۔ اور فائدہ بتایا جاتا ہے۔ اس طرح ٨/١٠ بچوں پر مشتمل ایک کمیٹی سی بن جاتی ہے۔ جو قائد خدام الاحمدیہ کی زیر نگرانی کام کرتی ہے۔ خدام الاحمدیہ یہ تنظیم ١٦ سال سے ٤٠ سال کی عمر کے تمام قادیانی جوانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں بھی ایک مجلس عاملہ جو ١٤/١٥ افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کے عہدیداروں میں معتمد، قائد، نائب ناظم عمومی، ناظم اصلاح وارشاد، ناظم مال، ناظم صحت، ناظم صنعت وحرفت، ناظم تحریک جدید، ناظم وقف جدید، ناظم تعلیم، ناظم اطفال، ناظم وقار عمل، ناظم خدمت خلق، ناظم تجنید وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ ان دونوں تنظیموں میں کل ٢٠/٢٢ افراد شامل ہوجاتے ہیں۔ بچپن سے لے کر جوانی تک بلکہ بڑھاپے کے آغاز تک ان تنظیموں میں شامل رہنے والے جوان جماعت کی طرف سے مسلسل برین واشنگ کی صورت میں ایک ایسی سٹیج پر پہنچ جاتے ہیں جو ہر حکم کے لیے تیار رہتے ہیں۔ چندہ دینا ہے، بہر حال دینا ہے اس کے لیے ہر قسم کی سختی برداشت کرلیں گے۔ جماعتی علم ہو یا نہ ہو۔ عہدیداروں کے ساتھ مل کر مکمل تعاون کرنا اپنے ایمان کا حصہ بنالیتے ہیں۔ اور یوں باقاعدہ چندہ دینے والا اور ان سرگرمیوں میں حصہ لینے والا مخلص قادیانی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس تنظیم کے پاس ایجنڈا نہیں ہے کہ کیا کرنا ہے۔ ماسوائے اس کے کہ لوگوں کو عبادت گاہ تک لانا ہے اور لوگوں (نوجوانوں اور بچوں سے) چندہ وصول کرنا یقینی بنانا ہے۔ ناظم مال، ناظم تحریک جدید، ناظم وقف جدید اور قائد مجلس چندہ کی وصولی اور سو فیصد وصولی کے ذمہ دار ہیں۔ اب ایک مخلص قادیانی چندہ دینے کے ساتھ جماعتی کاموں میں حصہ لیتا ہے جلسے اور اجتماعوں میں وہ اپنے ذاتی کاموں کو
١٣٠
ساتھ وہ خود دوسرے مسلمانوں کو مسلمان ہونا نہیں ہے تو کیا ہے؟
(اوصاف ١٠ / مارچ ٢٠٠١ء)
’ کے ساتھ زیادتی
تعارف میں ”مخلص احمدی“ کا لفظ بہت رکھیے، بغیر تحقیق کے، چابی والے کھلونے سر جھکائے کام میں لگا رہے اور سب سے کر دیتا تو اس کا ”مخلص پن“ صفر ہو جائے اور فائدہ بتایا جاتا ہے۔ اس طرح ١٠/٨ احمدیہ کی زیر نگرانی کام کرتی ہے۔ خدام نوجوانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں قضا کے عہدیداروں میں معتمد قائد بھی۔ صنعت وحرفت، ناظم تحریک جدید، ناظم خدمت خلق، ناظم تجنید وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ بچپن سے لے کر جوانی تک بلکہ وہ اپنی جماعت کی طرف سے مسلسل برین حکم کے لیے تیار رہتے ہیں۔ چندہ دینا کر لیں گے۔ جماعتی علم ہو یا نہ ہو۔ حصہ بنا لیتا ہے۔ اور یوں باقاعدہ چندہ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس تنظیم کر لوگوں کو عبادت گاہ تک لانا ہے اور ہے۔ ناظم مال، ناظم تحریک جدید، ناظم کے ذمہ دار ہیں۔ اب ایک مخلص قادیانی کہ اجتماعات میں وہ اپنے ذاتی کاموں کو
چھوڑ کر اپنی پڑھائی اور کمائی کو چھوڑ کر شامل ہوتا ہے۔ مرکز سے کوئی مربی، انسپکٹر (چندوں کی چیکنگ والا عملہ) آئیں یا وقف عارضی پر کوئی آئے تو اسے اپنا ذاتی مہمان سمجھ کر اس کے لیے اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ بھی کرتا ہے اور ان کے ناز بھی اٹھاتا ہے۔ اپنے تعلیمی اداروں میں اپنے کلاس فیلوز کی قادیانی ہونے کی وجہ سے مخالفت بھی برداشت کرتا ہے۔ جب ہر روز یا عموماً اپنے کلاس فیلوز کی طرف سے ہتک آمیز رویہ بھی برداشت کرتا ہے اور نتیجتاً ایک الگ تھلگ، سہمے اور احساس کمتری میں مبتلا طالب علم کے طور پر گزارا کرتا ہے۔ اپنی اس کمزوری کی وجہ سے انہی ذہنی صلاحیتوں کو بہتر طور پر استعمال نہ کر سکنے کی وجہ سے وہ علمی اور عملی ترقی میں پیچھے رہ جاتا ہے اسے ہر طرف اپنے مخالف نظر آتے ہیں۔ وہ اپنا دائرہ احباب بہت محدود رکھتا ہے۔
وہ اپنی احساس کمتری اور احساس محرومی کی وجہ سے غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتا اور اکثر الگ تھلگ رہتا ہے جب وہ تعلیمی سلسلہ کو ختم کر کے نوکری کی تلاش میں نکلتا ہے تو انہی کم پبلک ڈیلنگ کی وجہ سے نوکری کی تلاش میں مشکل پیش آتی ہے اگر ملازمت مل جائے تو ہم پیشہ افراد سے وہ الگ تھلگ رہنے لگے گا۔ کیوں اگر وہ مکس ہو بھی جائے تو جماعتی ٹریننگ اسے الگ رہنے پر مجبور کر دے گی۔ کیونکہ اسے بچپن سے یہ سکھایا گیا ہے کہ غیر قادیانی کبھی بھی آپ کے دوست نہیں ہو سکتے۔ کسی بھی غیر قادیانی کو دوست بناؤ تو اسے تبلیغ ضرور کرنی ہے اگر وہ تبلیغ نہ مانے تو کہہ دو یہ بنجر زمین کی طرح ہے جس پر محنت بیکار جائے گی۔ پھر کسی بھی غیر قادیانی کے دوست کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے تو اس قادیانی نے نہ اس کی نماز جنازہ میں شامل ہونا ہے نہ اس کے پاس افسوس کے لیے جا کر فاتحہ پڑھنی ہے۔ بلکہ اس انتظار میں رہے گا کہ ١٠ دن سے زائد عرصہ گزر جائے تو جا کر بغیر فاتحہ پڑھے گزارا ہو جائے۔ ان حالات میں قادیانیوں کا محدود ہونا اور الگ تھلگ ہونا قابل فہم ہے۔ کوئی ”مخلص قادیانی“ کسی سیاسی جماعت، کسی مذہبی جماعت، کسی ویلفیئر ایسوسی ایشن، کسی سپورٹس کمیٹی، کسی بھی عوامی فورم میں ایکٹیو نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس کی ذہنی اپروچ کو محدود کر دیا ہے۔
اتنی ساری قربانیوں کے بعد ایک مخلص قادیانی کو کیا ملتا ہے؟ اگر وہ چندہ نہ دے تو ساری زندگی کی ”ریاضت“ کھوہ کھاتے۔ اور اگر صرف چندہ دے تو بغیر ان ساری قربانیوں کے جماعت کے لیے قابل قبول اس طرح تو ایک مخلص قادیانی کے ساتھ سراسر زیادتی ہوگی کہ اس تمام محنتوں کا اسے کیا ملا۔
١٣١
ایک جو صرف چندہ دیتا ہے تو جماعت کی نظر میں مقبول اور ساری زندگی کی خوشیاں اور جذبات قربان کر دے مگر چندہ نہ دے سکے تو ناقابل قبول۔ یہ ایک مخلص قادیانی کے ساتھ ظلم کی حد تک زیادتی ہے۔ اس کے باوجود ایک مخلص قادیانی کو یہ سمجھ نہیں آئے گی کہ ہمارے ساتھ کیا ہاتھ ہو رہا ہے؟ اسے پھر بھی سمجھ نہیں آئے گی کہ یہ سارا ”نیٹ ورک“ چندہ جمع کرنے کے لیے ہے۔ ذرا سوچئے! چندہ دیا تو مخلص قادیانی نہ دیا تو ختم۔ تو قادیانی ہی نہیں رہ سکتے۔ تو اصل کیا چیز ہے؟ چندہ، پیسہ، دولت، باقی قربانیاں یا اخلاص کھوہ کھاتے؟
(٣٠) ...... قادیانیوں کی طرف سے مسلمانوں کا بائیکاٹ
١٩٧٤ء میں جب قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی تو مسلمانوں کی طرف سے قادیانیوں کا کسی حد تک سوشل بائیکاٹ کیا گیا۔ علماء نے مسلمانوں کو سوشل بائیکاٹ کے لیے اکسایا تو قادیانیوں نے موقف اختیار کیا کہ بائیکاٹ تو کفار نے مسلمانوں کا کیا تھا۔ شعب ابی طالب کا واقعہ بتا کر۔ آغاز اسلام سے بائیکاٹ کے حوالے دے کر، یہ بتانے کی کوشش کرتے رہے کہ کفار نے، دشمنان اسلام نے، یا غیر مسلموں نے اسلام قبول کرنے والوں کا بائیکاٹ کیا۔ اور یہ بطور اصول پیش کیا کہ ہمیشہ کفار مسلمانوں کا بائیکاٹ کرتے آتے ہیں۔ اور یہ حوالہ دے کر وہ اپنے آپ کو مسلمان اور مسلمانوں کو غیر مسلم ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
١٥؍جنوری ١٩٩٩ء بروز جمعۃ الوداع راقم نے اپنے بھائی اور والدہ سمیت ١٣؍افراد کے ساتھ قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔ ہمارے آبائی گاؤں محمود آباد جہلم ہے جہاں قادیانیوں کی اکثریت ہوا کرتی تھی اب بھی تقریباً نصف مکان قادیانیوں کے ہیں۔ گاؤں کے جاگیردار، زمیندار قادیانی ہی ہیں۔ وہاں قادیانیوں کا اثر و رسوخ مسلمانوں سے زیادہ ہے محمود آباد جہلم کا منی چناب نگر (ربوہ) ہے۔ وہاں قادیانیوں کی مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ وہاں پر قادیانیوں کی دہشت گردی، ظلم، سینہ زوری کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ جب ہم نے اسلام قبول کیا تو اس کا ردعمل قادیانیوں کی طرف سے شدید ہوا۔ تمام نے سوشل بائیکاٹ کر دیا۔ مرزا طاہر احمد کا بھتیجا مرزا نصیر احمد طارق ضلع جہلم کا امیر جماعت ہے۔ اس نے ہمارے رشتہ داروں کو چپ بورڈ فیکٹری جہلم بلا کر دھمکی دی کہ اگر آپ نے ان کا بائیکاٹ نہ کیا تو آپ کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ اب حالت یہ ہے کہ تقریباً تمام رشتہ دار اور قادیانی افراد کی طرف سے مکمل سوشل بائیکاٹ ہے۔
١٣٢
قادیانیوں نے دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو دفعہ ہم پر حملہ کیا ہے۔ جبکہ قادیانیوں نے سب سے بڑے غاصب اور غنڈہ گرد خاندان کو جماعت نے ہمارے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ اور اس نے ہمارے ایک مکان کا راستہ بند کر کے مختلف عدالتوں میں مقدمات کر کے ہمیں الجھایا ہوا ہے تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ پریشان کیا جاسکے۔
درج بالا ردعمل سے قادیانیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ١٩٧٤ء میں مسلمانوں کی طرف سے قادیانیوں کا کیا جانے والا بائیکاٹ بھی بالکل درست تھا۔ حالانکہ مسلمانوں کی طرف سے کیا جانے والا بائیکاٹ ان قادیانیوں کے بائیکاٹ کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھا۔ اس وقت تقریباً ٢٠ فیصد مسلمانوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔ جبکہ اب ٩٥ فیصد قادیانی بائیکاٹ کر رہے ہیں۔
(٣١) ...... اخراج از جماعت احمدیہ
قادیانی جماعت کو ١٩٧٤ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تھا اور قادیانی کو ایک علیحدہ مذہب تسلیم کر کے دائرہ اسلام سے خارج کر دیا تھا۔ قادیانی جماعت ١٩٧٤ء سے ہر پلیٹ فارم پر تحریر و تقریر کے ذریعہ عوام الناس بالخصوص بیرونی دنیا کو یہ باور کروانے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے کہ کسی انسان، ادارے، لیڈر یا اسمبلی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی شخص یا جماعت کو دائرہ اسلام یا کسی بھی مذہب سے خارج قرار دے سکے۔ کیونکہ مذہب انسان اور خدا کا آپس کا تعلق ہوتا ہے۔ لہٰذا پاکستان کی قومی اسمبلی کی طرف سے ایک قرار داد کے ذریعہ قادیانی جماعت کو دائرہ اسلام سے خارج کرنا بقول قادیانی جماعت کے قانوناً اور اخلاقاً غلط ہے اور اس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سراسر زیادتی کی ہے۔
جماعت کے سرکردہ لیڈر، مربی (مولوی) اور مفتی اس بات کا اقرار کرتے رہتے ہیں کہ قادیانی جماعت سے بھی کسی کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔ حتیٰ کہ مرزا طاہر احمد نے ١٩٩١ء کے جلسہ سالانہ قادیان کے موقعہ پر اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے واضح کیا کہ قادیانی جماعت سے خارج کرنے کا اختیار کسی شخص بلکہ خلیفہ وقت کو بھی نہیں۔ جو آدمی مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا تسلیم کرتا ہے یا اپنے آپ کو قادیانی کہتا ہے۔ میں بھی (امام جماعت احمدیہ) اسے خارج نہیں کر سکتا۔
١٣٣
البتہ کسی شخص کو بطور سزا جماعت کے نظام سے خارج کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ”اخراج از نظام جماعت“ کی سزادی جاتی ہے۔ ایسا شخص بدستور قادیانی رہتا ہے۔ اس کا نکاح یا جنازہ قادیانی پڑھیں گے اور دیگر تمام رسوم قادیانی جماعت کے مطابق ہوں گی۔ ایسے شخص پر دو پابندیاں ہوں گی۔ ایک اسے کوئی عہدہ نہیں دیا جائے گا اور دوسرے جماعت کے مالی معاملات میں اس کا کوئی رول نہیں ہوگا۔ راقم الحروف نے قادیانی جماعت میں ٤٠ سال گزارے ہیں۔ بطور ورکر جماعت میں خدمات انجام دیتا رہا ہے نظام جماعت کی پابندی اور ہر خدمت میں آگے بڑھنے میں کوشاں رہا ہے۔ ایم۔ایس۔سی کرنے کے بعد اور دوسرے شہروں میں سروس کرنے کے بعد جب اپنے آبائی علاقے محمود آباد جہلم آیا تو سارا نظام جماعت ایک فرد کی ”جیب“ میں پایا۔ آمریت، کرپشن، اقربا پروری، جعل سازی اور سینہ زوری نے جماعت کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ جسے دیکھ کر جماعتی غیرت نے جوش مارا اور ایک فرد کی ”جیب“ سے نظام جماعت کو باہر نکالنے کی کوشش کی۔ جس کے جواب میں جماعت کے ہر ”ذمہ دار“ نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ نظام جماعت پر شہزادوں کا قبضہ پایا۔ (مرزا قادیانی کے خاندان کے لوگ جماعت میں شہزادوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان شہزادوں کا ایک مسکن پاکستان چپ بورڈ فیکٹری جہلم بھی ہے)
اسلامی تعلیم
اسلامی اصولوں کی پاسداری کا نام و نشان نہ ملا۔ (واضح رہے قادیانی جماعت قادیانیت کو مکمل اور اصلی اسلام کے طور پر پیش کرتی ہے) جماعت کو عدل وانصاف سے بالکل خالی پایا۔ البتہ عدل و انصاف کے بارے میں تفصیلی خطبات کا ایک سیٹ ریکارڈ میں رکھا گیا ہے جو صرف غیر قادیانی حضرات کے لیے ہے تاکہ وہ قادیانیوں کے ساتھ ”انصاف“ کریں۔ جب کہ خود جماعت بڑا ظالمانہ نظام رکھتی ہے۔ یہاں تو بغیر انکوائری کئے۔ ملزم کو اس کا قصور بتائے بغیر بڑی سے بڑی سزا سنادی جاتی ہے اور پھر وہ کسی جگہ چیلنج بھی نہیں ہو سکتی۔ اس کی تفصیل علیحدہ کسی مضمون میں بیان کی جائے گی۔
اس وقت زیر بحث اخراج از نظام جماعت ہے۔ نظام سے خارج کرنے کا حربہ ایک
١٤٤
٢٥
خالصتاً بلیک میلنگ کا طریقہ ہے۔ اگر کسی فرد الفاظ میرے پاس نہیں ہیں) کے مزاج کے خلاف ذاتی مفاد کے خلاف ہو تو اسے اخراج از نظام بارے میں تمام جماعتوں میں اعلان کروا کر اس انداز کر کے اسے خوب بدنام کیا جاتا ہے۔ اور پھر پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ ”حضور“ (امام جماع جماعت میں خدا سے خاصا افضل ہے۔ حضور نارا ہیں تو خدا یقیناً راضی ہوگا۔ یعنی خدا اپنی مرضی نہیں
معتوب شخص پر اتنا دباؤ پڑے گا کہ و نامہ لکھوانے کے بعد اسے قابو میں رکھ کر اسے لکھو، اس میں یہ لکھو، اس میں وہ لکھو، مذکورہ ”م دفعہ معافی لکھ کر ”داغ دار“ ہو چکا ہے وہ مجبو جماعت میں ایک ”معذور“ شخص کے طور پر رہ ناجائز بات کو ماننا پڑے گا۔ اور کسی غلط سے غلط ح
یہ فارمولا ہر اس شخص پر لگایا جاتا ہے جماعت میں زیادہ پاپولر ہو جائے، یا جماعت میں میں عام ہے۔ بہت ہی کم ایسے قادیانی عالم، ہٹانے کے بعد اس بلیک میلنگ کا شکار نہ ہوئے بائیکاٹ، کسی کو ”اخراج از نظام جماعت“ کی سر
راقم الحروف کو جب درج بالا بلیک قادیانیت کی ”سچائی“ کھلتی چلی گئی اور تصویر کا د پہنچی کہ ١٥ جنوری ١٩٩٩ء کو جمعۃ الوداع کے مبار کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ اب یہ تھ
راقم کے اسلام قبول کرنے کے اعل
خالصتاً بلیک میلنگ کا طریقہ ہے۔ اگر کسی فرد نے جماعت کے کسی ”سرغنہ“ (اس کے ہم معنی نرم الفاظ میرے پاس نہیں ہیں) کے مزاج کے خلاف بات کر دی یا ایسی کوئی حرکت کر دی جو اس کے ذاتی مفاد کے خلاف ہو تو اسے اخراج از نظام جماعت کی سزا ”دلوائی“ جاتی ہے پھر اس کے بارے میں تمام جماعتوں میں اعلان کروا کر اس کی کردار کشی کی جاتی ہے اور اس کی عزت نفس کو نظر انداز کر کے اسے خوب بدنام کیا جاتا ہے۔ اور پھر اس کے رشتہ داروں کو اس کے خلاف بھڑکا کر اس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ ”حضور“ (امام جماعت) سے معافی مانگ لے۔ ”حضور“ کا تصور جماعت میں خدا سے خاصا افضل ہے۔ حضور ناراض ہوں گے تو خدا یقیناً ناراض ہوگا۔ حضور راضی ہیں تو خدا یقیناً راضی ہوگا۔ یعنی خدا اپنی مرضی نہیں کر سکتا۔ (نعوذ باللہ)
معتوب شخص پر اتنا دباؤ پڑے گا کہ وہ چار و ناچار معافی نامہ لکھ دے گا۔ ایک دفعہ معافی نامہ لکھوانے کے بعد اسے قابو میں رکھ کر اسے کہا جائے گا کہ معافی نامہ دوبارہ لکھو اور اس طرح لکھو، اس میں یہ لکھو، اس میں وہ لکھو، مذکورہ ”سرغنہ“ سے معافی مانگو۔ اب ایک شخص جو پہلے ایک دفعہ معافی لکھ کر ”داغ دار“ ہو چکا ہے وہ مجبوراً دوبارہ لکھ دے گا۔ اب وہ شخص ساری زندگی جماعت میں ایک ”معذور“ شخص کے طور پر رہ سکے گا۔ اسے اپنا ضمیر مردہ رکھنا پڑے گا۔ ہر جائز و ناجائز بات کو ماننا پڑے گا، اور کسی غلط سے غلط حرکت پر بھی وہ اعتراض نہ کر سکے گا۔
یہ فارمولا ہر اس شخص پر لگایا جاتا ہے جو کسی کی کرسی یا ”شان“ کے لیے خطرہ ثابت ہو، یا جماعت میں زیادہ پاپولر ہو جائے، یا جماعت میں زیادہ سرگرم ہو۔ اس طرح کی پریکٹس جماعت میں عام ہے۔ بہت ہی کم ایسے قادیانی عالم، مربی یا مبلغ ہوں گے جو جماعت میں اپنی حیثیت بنانے کے بعد اس بلیک میلنگ کا شکار نہ ہوئے ہوں۔ کسی کا ”مقاطعہ“ کسی کی زبان بندی، کسی کا بائیکاٹ، کسی کو ”اخراج از نظام جماعت“ کی سزا، یہ بلیک میلنگ کے عام حربے ہیں۔
راقم الحروف کو جب درج بالا بلیک میلنگ کے حربوں سے آشنائی ملی تو آہستہ آہستہ قادیانیت کی ”سچائی“ کھلتی چلی گئی اور تصویر کا دوسرا رخ سامنے آتا چلا گیا۔ اور آخر بات یہاں تک پہنچی کہ ١٥ جنوری ١٩٩٩ء جمعۃ الوداع کے مبارک دن راقم دیگر ١٢ افراد کے ساتھ قادیانیت کو ترک کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ اب یہ تعداد ١٩ ہو چکی ہے۔
راقم کے اسلام قبول کرنے کے اعلان پر ”کھسیانی بلی کھمبا نوچے“ کے مصداق قادیانی
١٣٥
جماعت کے ترجمان خالد مسعود کی ایک وضاحت روزنامہ ”دن“ لاہور کی ٢٦ جنوری ١٩٩٩ء کی اشاعت میں شائع ہوئی ہے کہ ”پروفیسر منور احمد ملک کو ٩ مارچ ١٩٩٥ء کو جماعت سے خارج کر دیا گیا تھا۔“ یعنی انگور کھٹے ہیں۔ ذرا غور فرمائیے ”اپنے ہی دام میں آپ صیاد آگیا۔“ جس دلیل کو جماعت ٢٥ سال سے ہر جگہ پیش کر رہی ہے کہ کسی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ کسی کو دین اسلام یا کسی مذہب سے خارج کر سکے۔ اب خود اس اختیار کو تسلیم کر لیا ہے۔ کہ دین / مذہب سے خارج کیا جاسکتا ہے۔ گویا اب قومی اسمبلی کے فیصلہ کو تسلیم بھی کر لیا ہے اور اس کے اس حق کو بھی۔
قادیانی جماعت سے نکلنے یا جماعت چھوڑنے کا رجحان تو عام ہے۔ پروفیسر منور کیا نکلا کہ جماعت اپنی چال ہی بھول گئی؟ گویا اب جماعت پروفیسر منور ملک کو نیچا دکھانے کے لیے اس اختیار کو بھی تسلیم کر رہی ہے کہ مذہب سے خارج کیا جاسکتا ہے اور ایک ”خلیفہ وقت“ کے علاوہ چھوٹے عہدیدار بھی جسے چاہیں جماعت سے خارج کر کے اس کا ”جنت“ میں داخلے کا راستہ بند کر کے ”دوزخ“ کے لیے اس کی سیٹ بک کروا سکتے ہیں۔
اگر اس بیان سے مراد نظام جماعت سے اخراج تک ہی محدود ہے تو پھر اس کے شائع کرنے کا کیا ”تک“ ہے۔ راقم نے دیگر ١١٢ افراد کے ساتھ نظام جماعت سے نکلنے کا اعلان نہیں کیا۔ بلکہ قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہاں یہ ذکر کر دینا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ٢٢ جون ١٩٩٦ء کے اخبار روزنامہ ”الفضل“ ربوہ (چناب نگر) میں بڑے فخر سے یہ خبر دی گئی تھی کہ ”مکرم منور احمد ملک ایک احمدی پروفیسر ہیں اور محمود آباد جہلم سے تعلق رکھتے ہیں۔ گوجر خان سرور شہید گورنمنٹ ڈگری کالج گوجر خاں کے پروفیسر منور احمد ملک نے ایک ایسی ٹائل ایجاد کی ہے جس سے شدید گرمیوں میں بھی سیمنٹ والی چھتوں (لینٹر) کو ٹھنڈا رکھا جا سکے گا۔
گویا ١٩٩٥ء میں جماعت سے خارج کیا جبکہ ١٩٩٦ء میں احمدی تسلیم کر رہے ہیں۔
امید ہے جماعت کے تنخواہ دار مولوی (مربی) یا گفتار کے غازی (بے عمل متقی) فوری جوش دکھاتے ہوئے اس گتھی کو سلجھانے کے لیے آگے آئیں گے تاکہ جماعت کے اندرونے کو بھی عوام الناس کو جھانکنے کا موقع مل سکے۔
١٣٦
(٣٢) ...... ”اک حرف مخلصانہ“
احباب جماعت! اس عاجز نے آپ کے ساتھ مل کر ٣٥ سال سے زائد عرصہ تک قادیانیت کی ترقی و تبلیغ کے لیے اپنی استعداد سے بڑھ کر خدمت کی ہے۔ اپنے زمانہ طالب علمی میں ہر مقام پر جماعت کی عزت کو بڑھانے اور جماعت کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہتا تھا۔ اس دور میں جبکہ مجھے ساری توجہ اور وقت تعلیم کی طرف دینا چاہیے تھا، بہت سا وقت بلکہ بہت زیادہ وقت جماعتی کاموں میں خرچ کیا۔ ظاہر ہے اس کے نتیجہ میں تعلیمی ترقی متاثر ہوتی رہی۔ مگر اس وقت ایک مذہبی جنون طاری تھا۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایم ایس سی کے دوران قائد (زعیم) خدام الاحمدیہ نیو کیمپس لاہور ( حلقہ نیو کیمپس ہاسٹلز ) اور قیادت ماڈل ٹاؤن میں بطور ناظم تعلیم اور ضلع لاہور کی سطح پر نائب ناظم اصلاح و ارشاد (تبلیغ) کے طور پر کام کرتے ہوئے بہت زیادہ وقت جماعت کو دیا۔ ١٩٨٤ء تا ١٩٨٦ء راولپنڈی میں قیام کے دوران ناظم تعلیم قیادت خدام الاحمدیہ علاقہ راولپنڈی کی حیثیت سے کام کیا۔ چکوال کالج میں سروس کے دوران نگران خدام الاحمدیہ ضلع چکوال کے طور پر خدمات انجام دیں۔ گورنمنٹ ڈگری کالج جہلم میں ٹرانسفر ہونے کے بعد مقامی جماعت کے عہدیدار کے علاوہ ناظم تعلیم ضلع جہلم اور نائب امیر جماعت ضلع جہلم کے طور پر خدمات انجام دیتا رہا۔ درج بالا عہدوں پر کام کرنا کوئی باعث فخر نہ سمجھتا تھا بلکہ ایک مخلص قادیانی کی طرح سر جھکائے ہر خدمت میں آگے بڑھنا ایک سعادت سمجھتا تھا۔ مگر پھر کیا ہوا؟
١٩٩٠ء تا ١٩٩٥ء جماعت کے ساتھ تمام قسم کے اخلاص کے باوجود بعض ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ آہستہ آہستہ جماعت کی مذہبی، اخلاقی حالت منکشف ہوتی چلی گئی۔ نظام جماعت ”برہنہ“ ہوتا چلا گیا۔ اخلاقی اقدار کے محل زمین بوس ہوتے گئے اور اپنے آباؤ اجداد کی طرف سے ورثے میں ملے ہوئے دین پر نظر ثانی کا موقع ملا۔ چنانچہ غور وخوض کے بعد جو کم از کم پانچ سال کے عرصہ پر محیط ہے میں ایک نتیجہ پر پہنچا۔ جو پندرہ جنوری ١٩٩٩ء بروز جمعۃ الوداع اپنے بھائی۔ والد محترم سمیت کل ١٣ افراد کے ساتھ قبول اسلام کے اعلان کی صورت میں ظاہر ہوا۔ بعد میں مزید چھ افراد اور شامل ہو گئے۔
احباب جماعت! میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی سیالکوٹ
١٤٧
میں سروس کے دوران چند عیسائی لوگوں سے بحث کے نتیجہ میں مذہبی مناظروں کی طرف رخ کیا۔ اس وقت عیسائیوں کی حکومت کے نتیجہ میں مسلمانوں پر خاصا دباؤ تھا۔ مسلمانوں نے مرزا قادیانی کی حوصلہ افزائی کی۔ مرزا قادیانی مزید تیز ہو گئے۔ اپنے محل وقوع میں عیسائیوں کے خلاف تقاریر و تحریر کا سلسلہ شروع کیا۔ مسلمانوں نے ان کی حوصلہ افزائی جاری رکھی۔ مزید آگے بڑھتے ہوئے مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ وہ اسلام کی حقانیت کو واضح کرنے کے لیے ٥٠ جلدوں پر مشتمل ”براہین احمدیہ“ نامی کتاب لکھیں گے اس کے لیے مسلمان حضرات کو ٥٠ جلدوں کی کل رقم ایڈوانس دینے پر قائل کیا۔ اسلام کی تبلیغ کا جوش رکھنے والے مخیر حضرات نے اس پر لبیک کہا اور ٥٠ جلدوں کی رقم اکٹھی کر دی۔
مرزا قادیانی نے چار جلدیں لکھیں اور خوب اشتہار بازی بھی کی۔ اس سے مسلمانوں میں عزت سے دیکھے جانے لگے۔ واضح رہے کہ باوجود مسلمانوں کے اصرار کے صرف پانچ جلدیں لکھ کر اعلان کر دیا کہ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے کیونکہ ٥٠ اور ٥ میں صرف صفر کا فرق ہے۔ یہ مذاق میں بات نہ کی بلکہ اس دعوے کو شائع بھی کر دیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩ از مرزا غلام احمد قادیانی) اب جو لوگ ان کی طرف مائل ہو چکے تھے ان کو کسی ”نیٹ“ میں لانے کی ضرورت تھی اور اپنی کوئی حیثیت بھی بنانے کی ضرورت تھی۔ لہٰذا اس پبلیسٹی کو کیش کرواتے ہوئے چودہویں صدی کے مجدد کا دعویٰ کر دیا اور ایک حدیث تلاش کر لی کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد آئے گا اور پھر خود ہی کچھ صدیوں کے مجدد دریافت کر دیئے۔
اس دعوے سے کچھ لوگ ان کے مزید قریب ہو گئے اور چند لوگ پیچھے ہٹ گئے جبکہ خود پروپیگنڈہ سے ایک اعتراض شروع کرا دیا۔ کہ چودہویں صدی کا مجدد تو امام مہدی ہوگا۔ اسے مرزا قادیانی نے بھی خوب ایکسپلائیٹ کیا۔ جب اعتراض کو زیادہ شدت سے پھیلا دیا گیا کہ چودہویں صدی کا مجدد تو امام مہدی ہوگا۔ اس لیے آپ کیسے مجدد بن گئے؟ تو مرزا قادیانی نے ”ڈیمانڈ“ پوری کرتے ہوئے امام مہدی کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی باقاعدہ جماعت بنانے کے لیے۔ لوگوں کو مرید اکٹھا کرنے اور پابند رکھنے کے لیے ١٨٨٩ء میں بیعت لینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔
١٣٨
اب اعتراض یہ ہونے لگا کہ امام مہدی تو اس وقت ظاہر ہوں گے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے یعنی دونوں کا ایک زمانہ ہوگا۔ تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کہاں ہیں؟ اس ”ڈیمانڈ“ کو پورا کرنے کے لیے اعلان کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ اور ان کی قبر سری نگر (کشمیر) میں محلہ خانیار میں موجود ہے اور ایک بناوٹی حدیث تلاش کر لی کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا مہدی نہیں ہے۔“ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حضرت عیسیٰ ہی امام مہدی ہیں۔ اور وہ درجنوں حدیثیں نظر انداز کر گئے جو ان دونوں کو الگ الگ پیش کر رہی ہیں۔ اب دعویٰ یوں بنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو فوت ہو چکے ہیں اور جس عیسیٰ کے آنے کی پیشگوئی ہے وہ اصل میں مثیل عیسیٰ ہوں گے چنانچہ میں عیسیٰ کا مثیل ہوں۔ میں ہی امام مہدی بھی ہوں۔ میں ہی مسیح موعود ہوں۔ اس طرح بحث، مناظروں اور تقاریر و تحریر کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔
اس عرصہ میں وہ ختم نبوت کے قائل تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان۔ ”لا نبی بعدی“ اس کا یہی مطلب لیتے تھے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
(مزید تفصیل کے لیے دیکھیں حمامۃ البشریٰ صفحہ ٨٢،٨١، خزائن ج ٧ ص ٣٠٠، ٣٠٢)
درج بالا دعوؤں کے بعد علماء اسلام نے اس ابھرنے والے ”فساد“ کو روکنے کے لیے زور لگانا شروع کر دیا۔ کیونکہ اس سے امت میں ایک عجیب سا تلاطم برپا ہونے والا تھا۔ اب یہ اعتراض کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو نبی اللہ تھے اور آپ ایک امتی۔ پھر آپ کیسے ان کے مثیل بن سکتے ہیں؟ اس اعتراض کو خوب باور کرایا پھر ”مجبوراً“ اس ”ڈیمانڈ“ کو پورا کرنے کا پروگرام بنایا۔ اور بہت بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ١٩٠١ء میں ”امتی نبی“ کا دعویٰ کر دیا اور ختم نبوت کی نئی نئی تاویلیں شروع کر دیں اور قرآن مجید کی آیات کے نئے معنی ایجاد ہو گئے۔ حالانکہ ١٨٣٩ء تا ١٩٠١ء (مرزا قادیانی کی ٦٢ سالہ زندگی) قرآن مجید کی ان آیات کا ترجمہ معمول کے مطابق رہا مگر ١٩٠١ء میں یکسر اس کے معنی بدل گئے۔ مرزا قادیانی کا یہ ایک ایسا قدم تھا جس نے مرزا قادیانی کو سخت پریشان کیا اور ان کے بعد ان کی جماعت کو اس قدر اس دعوے سے نقصان ہوا ہے کہ جس کی تلافی کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ اگر وہ پہلے دعوؤں کو ہی کافی سمجھتے تو یہ قادیانی جماعت پر ان کا ایک احسان ہوتا۔ ہزاروں انسانوں کا خون ان کی گردن پر نہ جاتا۔
مرزا قادیانی نے ”امتی نبی“ کے جواز کے لیے حضرت محمدﷺ کی عزت کو بڑھانے کی
١٣٩
طرف توجہ دی؟ (معاذ اللہ) اور انہیں استاد اور اپنے آپ کو شاگرد ظاہر کر کے یہ ثابت کرنے لگے کہ جتنا بڑا استاد ہو گا اتنا بڑا شاگرد۔ دیکھو یہ استاد کتنی بڑی شان والا ہے کہ اس کا شاگرد نبوت کے عہدے تک پہنچ گیا ہے۔ مقصد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بڑھانا نہ تھا بلکہ اپنے دعوے کا جواز مہیا کرنا تھا۔ جب کچھ عرصہ اس پر گزر گیا اور اس دعوے پر پکے ہو گئے تو پھر استاد سے آگے بڑھ گئے اور کہا۔
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٥ مندرجہ روحانی خزائن جلد ٢٢ ص ٤٢١)
پھر اپنے استاد کے ماننے والوں کو کافر اور غیر مسلم کہنا شروع کر دیا اور ان سے ہر قسم کے تعلقات قطع کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہاں تک کہ استاد کا پیروکار جہنمی اور شاگرد کا پیروکار بہشتی کے فلسفے تک پہنچ گئے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے (١) کلمۃ الفصل ص ١١٠، ١٣٤، ١٤٦، ١٤٧، از مرزا بشیر احمد ایم اے۔ (٢) تذکرہ مجموعہ الہامات ص ١٦٨، ٦٠٠ طبع دوم از مرزا غلام احمد قادیانی۔ (٣) آئینہ صداقت ص ٣٥ از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا غلام احمد قادیانی)
احباب جماعت ! مرزا قادیانی نے اتنے زیادہ دعوے کیے اور پھر کتابوں کے پڑھنے سے ان کے دعووں میں اختلاف نظر آتا ہے کہ آدمی کنفیوز ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک قادیانی جماعت کا ایک فرد بھی مرزا قادیانی کے اصل دعوے کو بیان نہیں کر سکتا۔ ان کے دعووں کا خلاصہ کر کے اپنی شناخت نہیں بتا سکتا۔ کبھی وہ ایک طرف سے مسلمانوں سے الگ ہوں گے تو دوسری طرف سے مسلمانوں میں گھسنے کی کوشش کریں گے۔ اگر کوئی قادیانی مرزا قادیانی کا مکمل دعویٰ اور فائنل حیثیت بیان کر سکتا ہے تو ضرور مجھے بتائے میں اس کا شکر گزار ہوں گا۔
احباب جماعت ! ١٩٧٤ء کے بعد سے جماعت نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ مسلمانوں نے قادیانیوں کو کافر یا غیر مسلم قرار دیا ہے جو اصولاً غلط ہے کیونکہ کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کو غیر مسلم قرار دے۔ یہ بندے اور خدا کے درمیان تعلق ہے۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ کون ایماندار ہے۔ مسلمانوں میں تکفیر بازی کو اچھال کر یہ ثابت کیا جاتا رہا ہے کہ مسلمانوں کا گویا کام ہی یہ ہے کہ ایک دوسرے کو کافر قرار دیں اور قادیانیوں کو بھی اسی تکفیر بازی کا نشانہ بنایا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے (مجھے بھی ٤٠ سال بعد پتا چلا ہے) کہ مرزا قادیانی نے اپنے دور میں ہی عام مسلمانوں کو کافر اور غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد جو نہ صرف مرزا قادیانی کے
١٤٠
بیٹے تھے بلکہ جماعت کے دوسرے خلیفہ بھی، نے واضح طور پر عام مسلمانوں کو غیر مسلم اور کافر قرار دیا۔ جبکہ مرزا بشیر احمد ایم۔ اے نے جو نہ صرف مرزا صاحب کے بیٹے تھے۔ بلکہ جماعت انہیں ”قمر الانبیاء“ کا خطاب دیتی ہے۔ نے ”کافر بلکہ پکا کافر“ جیسے الفاظ استعمال کر کے انتہا کر دی۔
(مزید تفصیل کے لیے کلمۃ الفصل ص ١١٠۔١٤٣، ١٤٦، ١٤٧ از مرزا بشیر احمد)
احباب جماعت ! یہ بھی تو دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں۔ کتابیں شائع کرنے کے لیے اور چندہ کی روایت ڈالی اور پھر منظم طریق سے دینی اغراض کے لیے چندہ اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں جب پاکستان بننے پر مرزا قادیانی کی فیملی پاکستان میں داخل ہوئی تو ہر فرد کے حصے میں کلیم کے کئی کئی مربعے زمین آئی اور بہت سی زمین خریدی گئی بلکہ سندھ میں تو بہت سے گاؤں (اسٹیٹس، احمد آباد، محمود آباد، طاہر آباد، ناصر آباد، بشیر آباد وغیرہ) آباد کر دیئے گئے۔ پھر مرزا قادیانی کی فیملی کے تمام افراد کی رہائش، آسائش اور بود و باش کو دیکھو تو آپ کی ضرور آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ بغیر کسی کاروبار کے، بغیر کسی سروس کے، اتنا شاہانہ اخراجات، اتنی جائیداد اور دولت کہاں سے آرہی ہے؟
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہر قادیانی (خواہ وہ غریب ہو) نے اپنی آمدنی کا تقریباً ١٠ فیصد ہر ماہ ادا کرنا ہے کیا یہ ٹیکس ہے؟ جی ہاں یہ ٹیکس ہے کیونکہ اس کا دینا لازمی ہے۔ اگر آپ نہیں دیتے تو آپ قادیانی نہیں رہ سکتے۔ آپ ووٹ نہیں دے سکتے۔ آپ عہدیدار نہیں بن سکتے۔ اگر چندہ دیتے ہیں تو پھر مذہبی اور اخلاقی حالت کیسی ہی کیوں نہ ہو آپ ”مخلص قادیانی“ تصور ہوں گے۔
احباب جماعت ! یہ بھی تو دیکھیں کہ پاکستان میں آپ کے ارد گرد موجود قادیانی جماعتوں کی کیا حالت ہے؟ پچھلے ٣٠ سالوں میں کتنے نئے لوگ جماعت میں داخل ہوئے اور کتنے احمدی جماعت چھوڑ گئے؟ آپ یقیناً دیکھیں گے کہ آنے والوں کی نسبت جانے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ دل کو آپ یہ سوچ کر تسلی دیں گے کہ دوسرے شہروں میں آنے والوں کی تعداد بہتر ہوگی۔ مگر یہ صرف اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہوگا۔ پورے پاکستان میں تمام جماعتیں روز بروز تنزلی کا شکار ہیں اور آپ یہ یقین کرلیں کہ آج سے ٥٠ سال پہلے جتنے خاندان قادیانی تھے وہ آہستہ آہستہ جماعت سے علیحدہ ہو رہے ہیں، نہ کہ نئے خاندان جماعت میں آرہے
١٤١
ہیں ۔ خصوصاً قادیانی خاندانوں کے تعلیم یافتہ افراد نئی روشنی سے فائدہ اٹھا کر روشنی کی طرف سفر کرتے ہوئے اسلام کی پاکیزہ تعلیم کو قبول کرلیتے ہیں۔
اگر آپ یہ سمجھیں کہ باہر کی دنیا میں خاصے لوگ قادیانی ہو رہے ہیں اور تعداد لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں تک پہنچ گئی ہے۔ جیسا کہ نام نہاد ”عالمگیر بیعت“ سے دھوکا لگ رہا ہے۔
پہلی بات! کہ آج سے ٥٠ سال قبل کے قادیانی خاندان قادیانیت کو بہتر طور پر سمجھ چکے ہیں اس لیے جماعت کو آہستہ آہستہ چھوڑ رہے ہیں جبکہ باہر کے ”بھولے لوگ“ اصل بات کو جانتے نہیں لہٰذا دھوکے سے جماعت کے شکنجے میں آرہے ہیں۔
دوسری بات! یہ کہ آپ ذرا غور فرمائیں کہ ٢٠٠٠ء میں اعلان ہوا کہ ٤ کروڑ افراد نے بیعت کی ہے جبکہ پچھلے سال کا ”سکور“ ایک کروڑ تھا۔ اس طرح گویا صرف دو سالوں میں پانچ کروڑ افراد نئے قادیانی ہو چکے ہیں۔ اب جماعت تو کسی شخص کو (قادیانی کو) چندے کے حوالے سے بخش نہیں سکتی۔ کیونکہ یہ چندے تو مرزا قادیانی نے لاگو کیے تھے اسی لیے انہیں ”لازمی چندہ“ کہا جاتا ہے۔ اس طرح اگر فی کس ایک ڈالر فی مہینہ تصور کر لیں (یورپ، امریکہ میں ڈالر پاکستانی روپے کے برابر حیثیت رکھتا ہے۔ ایک روپیہ فی کس کسی طرح بھی جماعت برداشت نہیں کر سکتی، لازماً زیادہ چندہ وصول کرے گی) تو ١٢ ڈالر فی کس سالانہ بنتا ہے جبکہ پانچ کروڑ افراد (نو احمدی) کا سالانہ چندہ ٦٠ کروڑ ڈالر بنتا ہے جو کہ پاکستانی روپیہ کے مطابق ١٣٦ ارب روپے بنتا ہے۔ کیا جماعت نے ١٣٦ ارب روپے کے بجٹ کا اعلان کیا ہے؟
یہ چندہ تو صرف دو سال میں نئے شامل ہونے والے قادیانیوں کی طرف سے بنتا ہے جبکہ گزشتہ ١٠ سالوں میں نئے شامل ہونے والے افراد اور پہلے سے موجود قادیانی افراد کا چندہ اس کے علاوہ ہے۔
اگر ١٣٦ ارب روپیہ کے برابر جماعت کے پاس چندہ آ رہا ہے تو پھر پاکستانی قادیانیوں سے چندہ وصول کرنا نہ صرف زیادتی ہے بلکہ انتہاء درجہ کا ظلم ہے۔ جو ایک صدی سے غربت کے باوجود بڑے اخلاص سے چندہ دیتے آرہے ہیں۔ اب جبکہ جماعت کے پاس اربوں روپیہ آرہا ہے تو جماعت کو ان غریبوں کو ریلیف دینا چاہیے۔
احباب جماعت! قادیانی جماعت اب ایک (نام نہاد) مذہبی تحریک سے نکل کر ایک تجارتی یا مالیاتی نیٹ ورک کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اگر پیسے کی کولیکشن باہر نکال دیں تو
١٤٢
باقی کچھ نہ بچے گا قادیانی جماعت کی قیادت قادیانی افراد کو اسلام سے بہت دور لے کر جاچکی ہے۔ ایک قادیانی فرد کے دل میں مکہ، مدینہ کا احترام نہیں ہوگا جتنا احترام چناب نگر (ربوہ) قادیان یا لندن کا ہوگا۔ ایک قادیانی بچے سے دوسرے خلیفہ کا نام پوچھیں تو وہ حضرت عمرؓ کی بجائے مرزا بشیر الدین کا نام بتائے گا۔ زکوٰۃ سے قادیانی کوسوں دور جاچکے ہیں۔ حج سے جماعت تو پہلے ہی منہ موڑ چکی ہے۔
١٩٧٤ء میں قادیانیوں پر حج کے حوالے سے پابندی لگی۔ ١٩٧٤ء میں مرزا طاہر احمد صاحب جماعت کی طرف ترتیب دیئے گئے اس گروپ میں شامل تھے جو قومی اسمبلی میں جماعت کی ترجمانی کے لیے پیش ہوتا رہا ہے گویا مرزا طاہر احمد صاحب اس وقت خاص حیثیت کے مالک تھے۔ کیا مرزا طاہر احمد اس وقت تک ١٥/١٠ حج کر چکے تھے یا ٢٠/١٠ عمرے کرچکے تھے؟ جواب نفی میں ہوگا؟ پھر کیونکر پوری جماعت نے ان کو مذہبی لحاظ سے سب سے افضل پایا کہ ان کو اپنا خلیفہ چن لیا۔ مرزا طاہر احمد نے بھی حج اس لیے نہیں کیے اور جماعت نے بھی اسی لیے اس بات کو اہمیت نہیں دی کہ ان کے نزدیک حج کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس ”فضول حرکت“ (نعوذ باللہ) پر وہ کیوں پیسہ برباد کریں؟
احباب جماعت! یہ بھی تو دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے خود ایک فیصلہ کن معرکہ میں لڑ کر شکست کھائی ہے اور اس بارے میں خود فیصلہ دیا ہے کہ جو جھوٹا ہوگا شکست کھائے گا۔ ہوا یوں کہ ڈاکٹر عبدالحکیم آف پٹیالہ قادیانی تھے۔ ٢٠ سال قادیانی رہنے کے بعد وہ علیحدہ ہوگئے اور مرزا قادیانی کو چیلنج کر دیا اور ان کو جھوٹا قرار دیا اور پیشگوئی کی کہ ٤ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جائیں گے یعنی مرزا قادیانی کیونکہ جھوٹے ہیں اس لیے ٤ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جائیں گے مرزا قادیانی نے چیلنج قبول کیا اور مقابل میں اس پیشگوئی کو اس پر الٹتے ہوئے کہا کہ جو جھوٹا ہوگا وہ ٤ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہوجائے گا اور اب یہ مقدمہ خدا کی عدالت میں ہے۔ اور خدا صادق کا ساتھ دے گا پھر یوں ہوا کہ مرزا قادیانی نے چیلنج قبول کر کے اپنی کتاب چشمہ معرفت میں یہ اعلان شائع کر دیا۔
(دیکھو چشمہ معرفت ص ٣٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٧)
”خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس اعلان کے شائع ہونے یعنی کتاب کے شائع ہونے کے صرف ١١ دن بعد مرزا صاحب ٢٦ مئی ١٩٠٨ء یعنی مقررہ تاریخ سے دو ماہ قبل میعاد کے اندر پیشگوئی کے مطابق فوت ہوگئے۔ کیا فرماتے ہیں علماء قادیانیت بیچ اس مسئلہ کے“؟
١٤٣
احباب جماعت ! ذرا غور فرمائیں کہ ٥٠ سال سے زائد عمر کا ایک بزرگ جو نہ صرف عالم ہے بلکہ ایک مذہبی جماعت کا سربراہ بھی ہے۔ ایک شریف زادی ١١ سالہ لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کے لیے ہر غیر اخلاقی حربہ اختیار کرتا ہے اور مسلسل ١٩ سال تک اشتہار بازی کے ذریعہ اس کی عزت کو اچھالتا ہے کیا یہ کسی شریف آدمی کو زیب دیتا ہے؟
ایک بات مزید عرض کرتا چلوں کہ کسی کی بات، انداز تخاطب، تحریر و تقریر اس کی ذہنی اپروچ اور ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٩٧، ١٩٨، خزائن ج٢١ ص٣٦٩، ٣٧٠) کو پڑھیے اور دل تھام کر جواب دیجیے کہ "حضرت مسیح موعود" کی یہ تحریر کیا آپ اپنی بہن، بیٹی یا ماں کے سامنے اپنے گھر والوں کو سنا سکتے ہیں۔ اگر یہ اخلاقی معیار پر پورا نہیں اترتی تو سمجھ لیں کہ اس تحریر سے آپ کی طرف سے بیزاری آپ پر فرض ہو چکی ہے۔
احباب جماعت ! زیر نظر کتاب (ثبوت حاضر ہیں) مکمل طور پر ایک بار ضرور پڑھیں۔ کتاب پڑھنے کے بعد یقیناً آپ حقیقت کو پالیں گے اور اسلام کے دامن سے یقیناً وابستہ ہو جائیں گے اگر آپ اس کتاب کو مکمل طور پر پڑھنے کے بعد بھی اپنے پہلے نظریات پر قائم رہیں تو پھر یقیناً سمجھیں کہ ہماری الہامی کتاب قرآن مجید میں آپ لوگوں کی نشانی ایک آیت میں یوں بیان ہوئی ہے۔ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ ............. اور آپ اس کے یقینی مصداق ہیں۔ اس کتاب کے بعد دلائل کی ضرورت نہیں بلکہ ایک بار پھر ١٩٧٤ء کی تحریک کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں آج تک جتنی کتب قادیانیت کے خلاف لکھی گئی ہیں ان سب سے بڑھ کر محترم محمد متین خالد صاحب کی یہ کاوش ہے۔ متین صاحب نے ایک ایسا کام کر دیا ہے جو انتہائی مشکل اور ایک بڑے نیٹ ورک کا متقاضی تھا۔ مگر ان کی انتھک محنت ایک ایسا شاہکار وجود میں لائی کہ اب اس سے آگے مزید کسی کتاب کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ماسوائے کسی تحریک ختم نبوت کے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابھی تک آپ کوئی فارم پر کرتے ہوئے مسلمانوں کے کالم کو چھوڑ کر غیر مسلم کے خانے میں اپنا اندراج کرواتے ہوئے جھجکتے ہوں گے۔ تو آؤ اس ذائقہ کو بحال کرو۔ اور ہر اس ملاوٹ کو ختم کر دو جو نبی اکرم ﷺ کے قدموں میں جانے سے روکے۔ جو مدینہ اور مکہ کی طرف جانے والے راستوں پر ناکے لگائے اور اسلام کی مقدس تعلیم سے دور کرے۔
خدا تعالیٰ آپ کو خالص اسلام کو اپنانے کی توفیق بخشے ۔ آمین!
١٤٤
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم خاتم النبیین
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضامین
شیخ راحیل احمد
جناب شیخ راحیل احمد صاحب
فہرست!
نمبر شمار مضامین صفحہ نمبر ١ مرزا قادیانی اور اسلامی عبادات ٣ ٢ عرض میری فیصلہ آپ کا ٦٢ ٣ عذر گناہ ...... بدتر از گناہ ٨١ ٤ دیکھو کیا کہتی ہے تصویر تمہاری ٩١ ٥ مرزا قادیانی کی گل افشانیاں ١٠٣ ٦ چھوڑ دو تم ١٢٠ ٧ ہفوات مرزا قادیانی ١٤٠ ٨ دائم المرض مرزا قادیانی ١٦٠ ٩ دجال اور مرزا قادیانی؟ ١٧٩ ١٠ قادیانی خلیفہ مرزا مسرور اور لعنت اللہ علی الکاذبین ١٩٥ ١١ خطرہ ایمان ...... دودھ ...... قادیان ٢٠١ ١٢ مرزا قادیانی اور ہتھیار بندی ٢٠٣ ١٣ کیا یہ حقیت نہیں؟ ٢٠٥ ١٤ قرآنی طاقتوں کی جلوہ گاہ ٢٠٩ ١٥ انٹرویو (سابق قادیانی) سید منیر احمد ۔ جرمنی ٢١٤ ٢
پیشو (١) ...... مرزا ...... شیخ
قادیانی جماعت
جو کہ اپنے آپ کو صرف جماع کی دعویدار ہے۔ یہ جماعت مرزا غلام ا موعود، کبھی کبھار دوسروں کو بات کے چکر گروہ کی زیادہ تعداد درحقیقت مرزا قاد تک اپنے نبی کی نبوت پر اس مذہب ۔ اٹھایا بلکہ اپنے نبی کو نبی کہتے اور یقین کر کو ہی حاصل ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیا سال کے اندر اندر مزید چودہ یا پندرہ فر کاذب ہی نہیں بلکہ نعوذ باللہ اس سے بھی
ذاتی تجربہ
کی بناء پر وثوق سے قادیا اصل عقائد اور اعمال، اقدار، اخلاق، مرزا خاندان کے تنخواہ دار بھونپو یعنی ص اَسّی (٨٠) سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں تو غالباً تین یا چار کتابیں ہی برآمد ہوں عملی طور پر جماعتی نظام نے ایسی حکمت سے باہر نہیں نکل سکتے۔ وہ پانچ یا چھ ک سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں سکے) ایک غلطی کا ازالہ ( تاکہ نبو میں رکھنے کے لئے کہ مرزا قادیا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
(1) ...... مرزا قادیانی اور اسلامی عبادات
(شیخ راحیل احمد۔ جرمنی)
قادیانی جماعت
جو کہ اپنے آپ کو صرف جماعت احمدیہ کہلانا پسند کرتی ہے لیکن ساتھ ہی مسلمان ہونے کی دعویدار ہے۔ یہ جماعت مرزا غلام احمد قادیانی، بانی جماعت کو بنیادی طور پر مسیح موعود اور مہدی موعود کبھی کبھار دوسروں کو بات کے چکر میں ڈالنے کے لئے مجدد یا محدث بھی کہتی ہے۔ قادیانی گروہ کی زیادہ تعداد درحقیقت مرزا قادیانی کو ایک نبی یقین کرتی ہے۔ ایک دلچسپ بات کہ آج تک اپنے نبی کی نبوت پر اس مذہب کے کسی بھی گروہ نے نبی ہونے یا نبی نہ ہونے کا سوال نہیں اٹھایا بلکہ اپنے نبی کو نبی کہتے اور یقین کرتے ہیں۔ یہ اعزاز بھی صرف مرزا قادیانی کے پیروکاروں کو ہی حاصل ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھے یا نہیں اس پر قادیانی جماعت دو حصوں میں اور سو سال کے اندر اندر مزید چودہ یا پندرہ فرقوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور یہ صرف ایک عام مدعی نبوت کاذب ہی نہیں بلکہ نعوذ باللہ اس سے بھی بہت بڑھ کر؟
ذاتی تجربہ
کی بناء پر وثوق سے قادیانی جماعت کی ایک بہت بڑی تعداد کو بھی مرزا قادیانی کے اصل عقائد اور اعمال، اقدار، اخلاق، تحریفات کا علم نہیں اور وہ صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا ان کو مرزا خاندان کے تنخواہ دار بھونپو یعنی مربیان بتاتے ہیں یا پھر وہ یہ تو سنتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اَسّی (٨٠) سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں، یہ علیحدہ بات کہ ان کی بار بار دہرائی ہوئی باتوں کو نکال دیں تو غالباً تین یا چار کتابیں ہی برآمد ہوں۔ جماعت بظاہر کہتی ہے کہ مرزا قادیانی کی کتابیں پڑھو لیکن عملی طور پر جماعتی نظام نے ایسی حکمت عملی اختیار کی ہے کہ جماعت کے ممبران پانچ چھ کتابوں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ وہ پانچ یا چھ کتابیں یہ ہیں۔ الوصیت (تاکہ مال اور جائیداد ہتھیا سکیں)، سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب (تاکہ جماعت جو چندہ لے رہی اس کا جواز دکھا سکے) ایک غلطی کا ازالہ (تاکہ نبوت کا پیغام ذہنوں میں بٹھائے)، پیغام صلح (عام قادیانی کو دھوکہ میں رکھنے کے لئے کہ مرزا قادیانی امن پسند نبی ہیں)، کشتی نوح (کم پڑھے لوگوں کو ہمیشہ طاعون
٣
سے ڈرا کر قابو رکھنا) اسلامی اصول کی فلاسفی (عام قادیانی کو یہ بتانے کے لئے کہ مرزا قادیانی پیچیدہ کتابیں بھی لکھ لیتے تھے۔ علیحدہ بات کہ بعد میں مرزا قادیانی کو بھی سمجھ نہیں آتی تھی کیا لکھا ہے) آخری دو تو غالباً مرزا مسرور کی بھی سمجھ میں نہیں آتیں عام قادیانی کی سمجھ میں کیا آئیں گی۔ اگر قادیانی گروہ کے لوگ اس مقرر کردہ دائرے سے باہر نکل کر مرزا قادیانی کی کتابیں پڑھنی شروع کر دیں تو وہ انشاء اللہ! جماعت کو ہی اپنے دلوں اور گھروں سے بھی نکال دیں گے۔ ویسے بھی مرزا طاہر چوتھے خلیفہ نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ مرزا قادیانی کی کتابیں کوئی انسان ٢-٣ صفحے سے زیادہ نہیں پڑھ سکتا اور اس مضمون کے مولف نے ذاتی طور پر سنی ہے اور مرزا قادیانی کے بارے میں ادھورہ علم ہونے اور صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے قادیانی حضرات دیانتداری سے بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ مسلمان قادیانی جماعت کو مسلمان کیوں نہیں سمجھتے، حالانکہ وہ کلمہ پڑھتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں، قرآن کریم پر یقین کرتے ہیں، اپنی عبادات گاہ کو مسجد کہتے ہیں، زکوٰۃ اور حج پر یقین کرتے ہیں۔ اس کے باوجود مسلمان، قادیانیوں (احمدیوں) کو غیر مسلم قرار دے کر اور ان سے فاصلہ رکھ کر ان کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔
یہاں مرزا قادیانی کی زندگی کا اس پہلو سے جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ جو قادیانی حضرات ایسے سوال کرتے ہیں ان کے سامنے یہ پہلو بھی آجائے، شاید اس طرح اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قبول کرتے ہوئے ان کو قرآن کریم کی نصیحت کے مطابق غور اور فکر کا موقع عنایت کردے۔ آمین!
اسلام میں عبادات
ایک عام مسلمان کے لئے بھی عبادات ضروری ہیں لیکن مومن کے لئے تو اس کی بہت ہی تاکید ہے اور مومن کے لئے قرآن کریم کے مطابق عمل صالح کے ساتھ ایمان لانا تو ضروری ہے ہی۔ لیکن سورۃ النساء، آیت کریمہ ١٦٢ (قادیانی جماعت کے حساب سے ١٦٣) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”مگر جو لوگ ان میں سے علم راسخ (یعنی پکے۔ ناقل) ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور روزِ آخرت کو مانتے ہیں۔“ ایک مومن کے لئے یہ بنیادی شرائط ہیں تو یقینا ولایت کا دعویدار یا اس سے آگے مجددیت، محدثیت اور سب سے بڑھ کر نبی ہونے کے دعویدار کے لئے تو ان پر انتہائی احتیاط، باریک بینی کے ساتھ عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ہمیں کسی بھی غلطی سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں
٤
دو وحیوں کا ذکر کرتا ہے۔ ایک جو رسول کریم ﷺ سے قبل نازل ہوئی اور دوسری جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی۔ (تیسری کسی وحی کا ذکر نہیں جو مرزا قادیانی پر نازل ہوئی )
مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کوئی دوسرے انبیاء کی طرح نہیں بلکہ سب انبیاء کرام علیہم السلام حتیٰ کہ رسول کریم ﷺ سے بھی بڑھ کر ہے۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغائرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہوگا جو خاتم النبیین پر ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر۔ پس با وجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد ﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)
ان کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے اس کی تشریح میں لکھا ہے: ”مسیح موعود کو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کرلیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“ (کلمۃ الفصل ص ١١٣، از مرزا بشیر احمد ایم اے )
ان حوالوں سے کم از کم یہ تو ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین ان کو نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ کے برابر سمجھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے بیٹے کی شہادت میری اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جو نتیجہ میں نے نکالا ہے وہ صحیح ہے۔
لیکن اس سے بھی بڑھ کر جو زہر اس ایک فقرے کے اندر مخفی ہے، مقام رسول اللہ پر کتنا سخت اور گہرا، بالواسطہ حملہ ہے؟ رسول کریم ﷺ کو نبوت ملی اور انہوں نے تب اس میں کمال حاصل کیا لیکن مرزا قادیانی کو نبوت ملنے سے پہلے ہی تمام کمالات دے دیئے گئے اس کے بعد ان کو صرف ظلی نبی یعنی ایک سایہ کو رسول کریم ﷺ کے برابر کھڑا ہونے کے قابل کر کے رسول کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو کھڑا کر دیا اور ساتھ ہی عندیہ دے دیا کہ ابھی ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ استغفر اللہ!
اس وجہ سے ضروری ہے کہ جب ہم مرزا قادیانی کی عبارات کا جائزہ لیں تو جماعت کے اس مؤقف کو پیش نظر
٥
رکھتے ہوئے ہم مرزا قادیانی کی عبادات، ریاضت، تقویٰ، توفیق باللہ، عمل و گفتگو کو اس نقطہ نظر سے دیکھیں گے کہ کیا واقعی مرزا قادیانی نے کم از کم عبادات میں تمام کمالات کو حاصل کر لیا؟ کیونکہ اسلام میں عبادات بنیادی اینٹ ہیں جن پر باقی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ عبادات میں ان کی روح کے مطابق نیز ظاہر و قول میں بھی سنت کے مطابق عمل کرے گا تو کمالات کی منزل تک پہنچے گا۔
رحمت اللعالمین
شافع دو جہان، حضرت رسول کریم ﷺ کے ساتھ کسی بھی شخص کا موازنہ کرنا، میرے ایمان کے مطابق جائز ہی نہیں، کیا کوئی برابری کا یا آگے بڑھنے کا دعویٰ کرے، آنحضور ﷺ کا مقام اگر کسی کی سمجھ میں مکمل طور پر آجائے تو پھر وہ رحمت اللعالمین ہی نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ انسانی ذہن جس چیز کی حقیقت کو پا لیتا ہے، انسان کے پاس اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی اور یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ، رسول پاک ﷺ کو دونوں جہانوں کا شافع، نبیوں کا سردار اور رحمت اللعالمین، یعنی کل عالم کے لئے ہمیشہ کے لئے رحمت قرار دے اور پھر اس عظیم انسان کی قدر و قیمت بھی ختم کر دے، تاکہ نعوذ باللہ انسان اس سے بہتر کسی رحمت اللعالمین کی تلاش میں لگ جائے؟ یہ ممکن ہی نہیں انسانی ذہنوں کو رسول کریم ﷺ کے مقام کا مکمل ادراک ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن مرزا قادیانی کی طرح جب کوئی شخص بے بنیاد تعلیموں کے دعوے کرے تو پھر ضروری ہے کہ اس کے کردار، گفتار اور عمل کا جائزہ اس کے دعوؤں کے مطابق لیا جائے تاکہ حق واضح ہو سکے اور یہ موازنہ نہیں بلکہ حق اور باطل کے درمیان وضاحت کی کوشش ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قبول کرے۔ آمین!
کلمہ شہادت
اسلام کا بنیادی رکن ہے جس کو نیت اخلاص کے ساتھ انسان اپنی زبان سے ادا کر کے اسلام کے محل میں داخل ہوتا ہے۔
کلمہ طیبہ یعنی ”أشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمد رسول الله“ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ لا شریک ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
رسول پاک ﷺ کو تمام انبیاء کے مقابلہ میں جو پانچ چیزیں عنایت کی گئیں ان میں ایک کلمہ بھی ہے جو اس سے قبل کسی نبی کو نہیں دیا گیا اور کلمہ میں جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا پہلے اقرار ہے اس سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ اسی طرح کلمہ کے دوسرے حصہ میں بھی صرف اور صرف حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ہی ذکر ہے اور کلمہ میں ان کا کوئی شریک نہیں، نہیں، نہیں۔
لیکن بدقسمتی سے مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کا مؤقف ہے کہ نعوذ باللہ مرزا قادیانی
٦
بھی کلمہ میں شریک ہیں، مرزا بشیر احمد، ایم رسول اللہ ﷺ ہے جو اشاعت اسلام کے نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول ا
ہر مسلمان کلمہ شہادت پڑھتا ہ ان کے ماننے والے بھی اپنے آپ کو مسل پڑھتے بھی ہیں، یقیناً مرزا قادیانی نے بھی ک حشر کرتے ہیں مرزا قادیانی؟
کلمہ شہادت کا پہلا حصہ
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ہے اس کے بعد قرآن کریم میں بے شمار جگہ یہ
قبل اس کے ہم آگے بڑھیں تعالیٰ نے ہر جگہ اپنے لئے اللہ کا نام استعما ہیں۔ اسلامی لٹریچر میں بھی بزرگوں نے ا
یہ ہے کہ اردو زبان میں جس میں کہ مر مستعمل اور جانا پہچانا بھی ہے لیکن اس بجائے قرآنی اور مکمل نام ”اللہ“ استعما ”خداؤں“ کا لفظ ہے اور اللہ کا لفظ شا ہمیں خدا سے بتاتے ہیں ان کو تو لفظ اللہ
ایک اور بات کہ اللہ تعالیٰ نام صفاتی نام بتائے ہیں۔ لیکن مرزا قا بتایا ہے۔ مرزا قادیانی بتاتے ہیں: ”خ ہے۔“
لیکن عجیب بات کہ خدا ان تک کسی اور کو نہیں بتایا لیکن اس کے باو کیا اللہ نے یہ نام خواہ مخواہ ہی بتایا، یا
بھی کلمہ میں شریک ہیں! مرزا بشیر احمد، ایم اے پسر مرزا قادیانی نے لکھا: ”پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ﷺ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“
(کلمتہ الفضل ص ١٥٨)
ہر مسلمان کلمہ شہادت پڑھتا ہے اور مرزا قادیانی بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے اور ان کے ماننے والے بھی اپنے آپ کو مسلمان کے روپ میں ہی پیش کرنا پسند کرتے ہیں اور کلمہ پڑھتے بھی ہیں یقیناً مرزا قادیانی نے بھی کلمہ پڑھا ہو گا لیکن اب اس کلمہ کے ساتھ حقیقی طور پر کیا حشر کرتے ہیں مرزا قادیانی؟
کلمہ شہادت کا پہلا حصہ
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ہے کہ: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ لاشریک ہے“ اور اس کے بعد قرآن کریم میں بے شمار جگہ یہ بات دہرائی گئی ہے۔
قبل اس کے ہم آگے بڑھیں اس جگہ ایک اہم بات جو سامنے آئی، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ اپنے لئے اللہ کا نام استعمال کیا ہے جو کہ ایک مکمل ترین نام ہے۔ کچھ جگہ صفاتی نام ہیں۔ اسلامی لٹریچر میں بھی بزرگوں نے اکثر اللہ کا لفظ ہی استعمال کیا ہے۔ لیکن ایک حیران کن امر یہ ہے کہ اُردو زبان میں جس میں کہ مرزا قادیانی کی زیادہ تحریریں ہیں، اللہ کا لفظ ہی زیادہ تر مستعمل اور جانا پہچانا بھی ہے لیکن اس کے باوجود مرزا قادیانی نے نامعلوم کیوں اپنی تحریروں میں بجائے قرآنی اور مکمل نام ”اللہ“ استعمال کرنے کے بجائے لفظ ”خدا“ استعمال کیا ہے۔ جس کی جمع ”خداؤں“ کا لفظ ہے اور اللہ کا لفظ شاذ و نادر ہی استعمال کیا ہے۔ حالانکہ جس طرح وہ اپنا تعلق ہمیں خدا سے بتاتے ہیں ان کو تو لفظ اللہ کا استعمال کرنا چاہیے تھا۔
ایک اور بات کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ذاتی نام قرآن کریم میں اللہ بتایا ہے اور باقی اپنے نام صفاتی نام بتائے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کے خدا نے ان کو اپنا ایک نیا نام، (صفاتی نام نہیں) بتایا ہے۔ مرزا قادیانی بتاتے ہیں: ”خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ ”یلاش“ خدا کا ہی نام ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٣ حاشیہ)
لیکن عجیب بات کہ خدا ان کو خاص طور پر وحی کر کے ”یلاش“ نام بتا رہا ہے جو کہ آج تک کسی اور کو نہیں بتایا لیکن اس کے باوجود یہ نام مرزا قادیانی نے شائد ہی کسی جگہ استعمال کیا ہو۔ کیا اللہ نے یہ نام خواہ مخواہ ہی بتایا، یا اس کے بتانے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ مرزا قادیانی اس نام کو
٧
استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سے متعارف کروائیں؟ یا جیسا کہ مرزا قادیانی ہر جگہ اپنے آپ کو اور اپنے کاموں کو رسول کریم ﷺ سے بڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید یہاں بھی بتانا چاہتے ہیں کہ ان کو ، ان کے خدا نے اپنے نام سے رسول کریم سے زیادہ بتائے ہیں؟ "نعوذ بالله من ذلك"
کیا کہیں یہ وجہ تو نہیں تھی کہ مرزا قادیانی کے خدا کا تصور انگریز تک ہی تھا۔
مرزا قادیانی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ: ”ایک بار انہوں نے کچھ کاغذات خدا کو دستخط کے لئے پیش کئے ۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
”ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے۔“ (براہین احمدیہ ص ٤٨١، خزائن ج ١ ص ٥٧٢) ہے۔ یہ کل رسائی (پہنچ) ہے کہ مرزا قادیانی کے دماغ کی ، کہ ان کا خدا کا تصور انگریز تک جا کر ختم ہو گیا اور وہ ملکہ وکٹوریہ کو بڑی محبت کے ساتھ ملکہ عالیہ کے لقب سے پکارتے تھے، جو کہ تعالیٰ کی قبیل کا لفظ ہے۔ ملکہ تو دور کی بات وہ، مدعی نبوت ورسالت ہونے کے باوجود انگریز افسروں کی بھی جس طرح خوشامد کرتے رہے اس طرح تو شاید کوئی مزارعہ اپنے جاگیردار کی بھی کرتا ہو۔ ہمارے اس شبہ کو آئندہ کچھ پیش آنے والے حوالے تقویت دیتے ہیں۔ یقینی بات تو اللہ تعالیٰ جو علیم و خبیر ہے جانتا ہے یا پھر مرزا قادیانی اور ان کا خدا۔ "افلا تدبرون"
کلمہ شریف کے پہلے حصہ کا کس طرح مذاق اڑاتے ہیں: ” جیسا کہ اس عاجز کو اپنے الہامات میں خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ ”تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں اور زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں، جیسا کہ میرے ساتھ ہیں اور تو ہمارے پانی میں سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے اور تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تو مجھ سے اس مقام اتحاد میں ہے جو کسی مخلوق کو معلوم نہیں۔ خدا اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔ تو اس سے نکلا اور اس نے تمام دنیا سے تجھ کو چنا۔“
(کتاب البریہ ص ٨٢، ٨٣، خزائن ج ١٣ ص ١٠٠، ١٠١)
میری ہر صاحب ضمیر سے استدعا ہے، خاص طور پر قادیانی (احمدی) حضرات سے کہ وہ خود صاف باطنی سے فیصلہ دیں کہ کیا نبیوں کے سردار ، رحمت اللعالمین ، شافع دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے لے کر ایک ادنیٰ سے شخص تک جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے یہ موقف صحیح یا قابل قبول ہو سکتا ہے؟ کیا یہ اسلام کے پہلے اور بنیادی اقرار کے مطابق ہے؟ مرزا قادیانی کس خدا کے پانی (نطفہ) سے تھے؟ اللہ جل جلالہ کے بارے میں یہ سوچ ہی جھری جھری طاری کر دیتی ہے بدن پر!
٨
بقول مرزا قادیانی کے خدا مرزا قادیانی کی توحید پھیلانا چاہتا تھا: ”خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ تیری توحید تیری عظمت تیری کمالیت پھیلا دے۔“ (تذکرہ ص٨٠٤ طبع٣) کیا اس تحریر کا مطلب یہ نہیں بنتا کہ خدا تعالیٰ اپنی توحید سے نعوذ باللہ دستبردار ہو گیا ہے اور اب مرزا قادیانی، جو تیس (٣٠) سے زیادہ بیماریوں میں مبتلا، دن میں سوسو بار پیشاب کرتے ہیں، بیس مرتبہ اسہال کے لئے جاتے ہیں، جن کی تحریر میں ہر صفحہ پر ہر قسم کی غلطیاں ہوتی ہیں، جن کو بھول جانے کی بیماری ہے، جو وعدہ کر کے پورا نہیں کرتے تھے، جو عام انسانوں کے حقوق تو دور کی بات اپنے بیوی بچوں کے حقوق ادا نہیں کرتے تھے، جو عورتوں کے پہرہ کے محتاج تھے، اس کی توحید، کمالیت اور عظمت پھیلانے کا ٹھیکہ لے رہا ہے؟ کیا یہ تحریر کسی نبی اللہ کی ہو سکتی ہے؟ جو بھی اس پر ذرہ بھر بھی غور کرے گا تو اس کے ضمیر کی آواز کہے گی کہ، یہ تحریر تو ایک نارمل انسان کی بھی نہیں۔ بلکہ کسی مجہول، پاگل، دیوانے کی بڑ لگتی ہے؟
مرزا قادیانی مزید لکھتے ہیں کہ خدا نے رات دن ان کے لئے پیدا کیا اور ان کو یہ الہام کیا: ”تو میرے ساتھ ہے، تیرے لئے رات اور دن پیدا کیا گیا، تیری میری طرف وہ نسبت ہے جس کی مخلوق کو آگاہی نہیں۔“
(کتاب البریہ ص٧٧، خزائن ج١٣ ص١٠٣)
اللہ تعالیٰ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے ذریعہ تو یہ پیغام دے رہا ہے کہ میں واحد اور لاشریک ہوں، میرے ساتھ کوئی نہیں جو خدائی میں شریک ہے لیکن یہ ایسا سپر نبی بھیج رہا ہے جس کے ذریعہ ہمیں پیغام مل رہا ہے یا انکشاف ہو رہا ہے کہ نہیں اب نعوذ باللہ خدا اکیلا نہیں رہا۔ شائد تنہائی سے تنگ آ گیا ہے اور اس کو بھی ایک ساتھی اور شریک مل گیا ہے، کیا میں غلط سمجھا ہوں؟ ایک اور جگہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”خدا سے میرا تعلق نہانی ہے، اگر دنیا کو پتہ چل جائے تو وہ نفرت کرنے لگیں۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٦٣، خزائن ج٢١ ص٨١) اب یہ تو ممکن ہے کہ ہر شخص کا خدا سے اپنا ایک تعلق ہو جس کی گہرائی اللہ اور اس کی مخلوق جانتے ہیں لیکن انسان کے ساتھ اللہ کا کوئی خفیہ تعلق نہیں ہو سکتا جس سے کسی کے دل میں نفرت پیدا ہو۔ اللہ تعالیٰ اور بندے کا صرف ایک ہی تعلق ہے، خالق کا اپنی مخلوق سے اور بندے کے لئے ایک ہی راستہ ہے صرف عبدیت کا۔
لیکن ایک شریف آدمی جو اس گہرائی میں نہیں جاتا، یا جا سکتا، یا مرزا قادیانی کے ساتھ اخلاص کی وجہ سے غور ہی نہیں کرتا کہ مرزا قادیانی نے جو کہا ہے اس کا حقیقی مطلب کیا ہے؟ آنکھیں بند کر کے جو سنا ”آمنا وصدقنا“ کہہ دیا۔ اس کے ذہن میں بھی کبھی نہ کبھی تو سوال آسکتا ہے کہ کیسا خفیہ تعلق اور کیوں؟ غالباً ایسے ہی کسی سوال کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے
٩
مرزا قادیانی اس تعلق کا اظہار اپنے ایک خاص مرید قاضی یار محمد سے کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ جو لاہور سے مرزا قادیانی کے لئے ٹانک وائین لے کر آیا کرتے تھے اور مرزا قادیانی کی اہلیہ، نصرت جہاں بیگم صاحبہ جب دوسرے شہروں لاہور اور امرتسر وغیرہ میں کپڑوں وغیرہ وغیرہ کی شاپنگ (خریداری) کے لئے تشریف لے جاتی تھیں اور مرزا قادیانی اپنی اہلیہ کے ساتھ تشریف نہیں لے جاسکتے تھے تو پھر قاضی صاحب کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ قاضی یار محمد نے کئی مرتبہ قادیانی اُم المومنین نصرت جہاں صاحبہ کے ساتھ دوسرے شہروں کے سفر کا اعزاز حاصل کیا۔ وہی قاضی یار محمد جو اس گھر کے بھیدی بھی کہے جاسکتے ہیں، اس تعلق کے بارہ میں کیا بیان کرتے ہیں؟
قاضی یار محمد اپنے کتابچہ میں لکھتے ہیں: ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی یہ حالت ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، پس سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔“
(ٹریکٹ نمبر ٣٤، موسومہ اسلامی قربانی ص ١٢)
اب ایسے واقعات کا کبھی کوئی نتیجہ بھی تو نکل آتا ہے، اس کے بارہ میں مرزا قادیانی کی اپنی تحریر کیا کہتی ہے؟ ”یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
اب تو بچہ بھی ہو گیا، مرزا قادیانی نے اپنے اندر حیض مانا۔ گو بعد میں بچہ بنا، مطلب یہ کہ جب تک خدا کا بچہ نہیں ہوا تھا مرزا قادیانی کے اندر حیض کی ناپاکی تھی۔ مرزا قادیانی نے اور بھی جگہ اپنے حیض کا ذکر کیا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ حیض کے دنوں میں کیا کرتے تھے؟ باقی اس لفظ اطفال سے پہلے بمنزلہ لگا کر دنیا کے اعتراض سے بچنے کی ناکام کوشش ہے۔ ویسے وہ بچہ ہے کہاں اور کس راہ سے آیا؟ مرزا قادیانی کا اصرار ہے کہ بچہ ہے لیکن حیرت ہے کہ قادیانی جماعت سمیت دنیا کو بچہ اپنے باپ کی طرح ہی نظر نہیں آرہا؟ اور صرف ہوائی دعویٰ تو ماننے میں یقیناً مرزا قادیانی کے پیروکاروں کو بھی تامل ہوگا۔ ہم تو خیر ویسے ہی مرزا قادیانی کے مؤقف پر شکوک رکھتے ہیں!
اللہ تعالیٰ رحم کرے کہ کیا یہ مسیح ، مہدی دنیا کو ہدایت سکھلانے آیا تھا کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ نہ صرف رجولیت کا اظہار کرتا ہے بلکہ بچہ بھی ہو جاتا ہے۔ قادیانی (احمدی) دوستو اپنے ضمیر سے پوچھو کہ کیا جماعت نے یہ باتیں تمہیں بتائیں اور کیا خدا ایسا ہی ہوتا ہے؟ کیا خدا اور بندے کا تعلق مرد اور عورت کی طرح ہوتا ہے اور پھر دونوں مل کر بچے بھی جنتے ہیں؟ کوئی کہے گا کہ استعارہ ایسی
١٠
بات کہی ہے، کیا کسی نبی اللہ نے ایسی علامتی باتیں کہیں؟ دوسرے ہر بات ہی استعارۃً کرو گے یا کوئی واضح، سچی اور سیدھی بات بھی کی ہے؟ اور اسی پر بس نہیں کسی جورو کی طرح خدا کو پابند کرنے کی کوشش ہی نہیں اعتراف بھی ہے، لکھتے ہیں: ”جس طرف تیرا منہ اس طرف خدا کا منہ۔“ (کتاب البریہ ٧٦، خزائن ج ١٣ ص ١٠١) اگر مرزا قادیانی یہ لکھتے ہیں: یا الہام بتاتے کہ جدھر خدا کا منہ، ادھر تیرا منہ تو ہر مذہب کی تعلیم کے مطابق درست ہوتا، مگر یہاں تو مرزا قادیانی کا (پتہ نہیں کونسا) خدا، مرزا قادیانی کا پابند ہوگیا ہے۔ استغفر اللہ۔ کیا خدا کا ایسا تصور رسول کریم ﷺ یا ان سے قبل انبیاء اللہ کی زندگی، قول یا وحی میں آیا ہے؟ کیا یہ اسلامی تصور ہے؟ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھنے والا کوئی انسان ایسا تصور کرنا تو دور کی بات ایسے خیالات کو پیش کرنے والے کی طرف دیکھنا بھی پسند کرے گا؟ ماسوائے قادیانی مریدوں کے جن کی روٹی اس رطب و یابس سے بندھی ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اپنی صفات کے بیان میں فرماتا ہے کہ: ”لا تاخذه سنة ولا نوم “ لیکن مرزا قادیانی جن کا دعویٰ یہ ہے کہ ان کو قرآن کا علم ہر روح سے زیادہ دیا گیا ہے، اپنا الہام (یا الزام) بیان کرتے ہیں: ”میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا، جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔“ (البشریٰ جلد دوم ص ٧٩، تذکرہ ص ٤٦٠ طبع ٣) یہی معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی خود ہی خدا ہیں اور اپنے کو الہام بھی کر رہے ہیں یا پھر کوئی اور معشوق چھپا ہے اس پردہ زنگاری میں؟
قرآن کریم نے عیسائیوں کے اس عقیدہ کی نفی کی ہے اور ساتھ ہی مسیح علیہ السلام کو اس الزام سے مبرّا قرار دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے قرآن کریم کے بالمقابل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انتہائی سخت گستاخی کی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا قرار دیا ہے اور خدائی کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے باوجود مرزا قادیانی خود کو واضح طور پر خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا الہام ہے: ”اسمع ولدی اے میرے بیٹے سن۔“
(البشریٰ ج ١ اول ص ٤٩)
جب پہلے الہام پر اعتراض وارد ہوا تو بعد میں بمنزلۃ کے الفاظ بڑھا کر دوسروں کا اعتراض رفع کرنے کی کوشش لگتی ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”انت منی بمنزلہ ولدی“ ترجمہ:۔ تو مجھ سے ہے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) کیا یہ مہدی اسلام کا پیغام سکھانے آئے ہیں یا دنیا کو عیسائیت کا پیغام دینے آئے ہیں؟ کیا کوئی مسلمان یہ جسارتیں دیکھ کر مرزا قادیانی کی طرف دیکھنا بھی پسند کرے گا؟ اور قادیانی حضرات اپنے آپ سے خود ہی سوال کریں گے کہ جو مرزا قادیانی پر ایمان رکھتے ہیں، ایسے شخص پر ایمان
رکھنے والے کو بھی وہ کافر سمجھیں گے کہ نہیں؟ اور ان تحریروں کے بعد وہ خود بھی کیا سوچ رہے ہیں؟ مرزا قادیانی کا ایک کشف بیان کرنے سے پہلے، جس میں وہ خدا بنتے ہیں اور زمین آسمان نیا بناتے ہیں، ان کا ایک حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”میں ایسے شخص کا سخت دشمن ہوں کہ جو کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہو کر پھر یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں۔ گو میں مسیح کو اس تہمت سے پاک قرار دیتا ہوں کہ اس نے کبھی خدائی کا دعویٰ کیا (یہاں اپنے ہی، حضرت مسیح علیہ السلام پر لگائے ہوئے الزام کا انکار ہے۔ ناقل) تاہم میں دعویٰ کرنے والے کو تمام گناہ گاروں سے بدتر سمجھتا ہوں۔“ (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٦١٥) بات ذہن میں رہے ”جو کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہو کر پھر یہ خیال کرتا ہے ۔“ اس کے باوجود مرزا قادیانی اپنا یقینی کشف بیان کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ دعویٰ ہے کہ وہ پیغمبر ہیں اور پیغمبر کا خواب اور کشف حقیقت، وحی ہوتا ہے۔
میرے اس الزام یا خیال کی تصدیق مندرجہ ذیل حوالہ کرتا ہے جس میں مرزا جی نئے زمین و آسمان بناتے ہیں۔ بیان کرتے ہیں: ”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا (خیال بھی نہیں بلکہ یقین کیا۔ ناقل) کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں یا اس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ...... (پورا ڈیڑھ صفحہ ہے اور آخر میں کیا فرماتے ہیں۔ ناقل) اور اس حالت میں، میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب وتفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمانِ دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”ان زينا السماء الدنيا بمصابیح ۔ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے ۔“ (کتاب البریہ ص ٨٥ تا ٨٧، خزائن ج١٣ ص١٠٣ تا ١٠٥) ممکن ہے کہ کوئی کہے کہ یہ کشف ہے تو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ پیغمبر کا خواب کشف وحی ہوتا ہے اور وحی تو ہر کوئی جانتا ہے کہ خدا کا کلام ہوتا ہے جو صرف حقیقت اور سچ ہوتا ہے۔ ہم صرف مرزا قادیانی کی منطق کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کے افکار اور اقوال کے جائزے کے نتیجہ میں یہی سامنے آتا ہے جو پیش کیا جارہا ہے۔
مرزا قادیانی پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو اپنی کتاب میں مخاطب کر کے مذہبی سوالوں کے جواب کا ایک معیار پیش کرتے ہیں، لکھتے ہیں کہ: ”سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی ۔ بھلا بتاؤ مثلاً دو فریق میں ایک امر متنازعہ
١٢
فیہ ہے اور مجملہ ان کے ایک فریق نے اپنی تائید میں ایک نبی معصوم کے فیصلہ کی نظیر پیش کر دی اور دوسرا نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔ اب ان دونوں میں سے ”احق بالامن“ کون ہے؟“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٩٥)
اب صرف مرزا قادیانی تو نہیں رہے۔ جو ان کا پیغام چلا رہے ہیں ان سے درخواست ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے متعلق یا بقول مرزا قادیانی کے خدا کے متعلق ان خیالات کی نظیر نبی کریم ﷺ کے دور سے اب تک دکھا دیں؟ اگر ان خیالات کی کوئی نظیر نہیں جو کہ یقیناً نہیں ہے تو مرزا قادیانی کے اپنے ہی معیار کے مطابق جھوٹ کو نبی معصوم ﷺ کی تعلیم کے مقابل پیش کر رہے ہیں! کیا آپ جھوٹوں کے نبی کی اُمت میں شمار ہونا چاہتے ہیں یا سچے نبی کی اُمت میں؟
ایک اور سوال سامنے آتا ہے کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”مسیح کا دعویٰ خدائی شراب خوری کا نتیجہ لگتا ہے (ست بچن ص ١٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦) مسیح کے پاس تو صرف ایک ہی چیز تھی شراب لیکن مرزا قادیانی شراب، افیون اور بھنگ تینوں استعمال کرتے تھے۔ وہ خود تو اب نہیں ہیں لیکن شاید کوئی قادیانی محقق ہمیں بتا سکے کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ خدائی ۔ کس چیز کے استعمال کی وجہ سے تھا، شراب؟ افیون؟ یا بھنگ؟ یا پھر ان تینوں کی ”پاک تثلیث“ کا کارنامہ ہے؟
کلمہ شہادت کا دوسرا حصہ
کلمہ شہادت کا دوسرا حصہ ”واشہد ان محمد رسول اللہ ہے“ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں“ اس کے ساتھ مرزا قادیانی کا کیا سلوک ہے پہلے نعوذ باللہ ، مثیل محمد ﷺ بنتے ہیں، پھر خود کو محمد ﷺ قرار دیتے ہیں پھر اپنا مقام اس سے بھی آگے بڑھاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کا بیٹا اس خیال کو آگے تک بڑھاتا ہے اور کلمہ کو ہی مرزا قادیانی پر چسپاں کر دیتا ہے۔
مرزا قادیانی ایک جگہ لکھتے ہیں: ”اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ ﷺ میں تفریق کرتا ہے، اس نے مجھے نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا ۔“ (یہ عبارت عربی، فارسی و اُردو میں لکھی ہے۔ ناقل) (خطبہ الہامیہ ص ١٧١ ، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩) اب دیکھئے جس شخص کا دعویٰ ہو کہ وہ سر تا پا عشق رسول ﷺ میں اتنا غرق ہے کہ اس میں اور (نعوذ باللہ ) رسول پاک ﷺ میں کوئی فرق نہیں اس کا اپنے محبوب رسول ﷺ کے بارے میں بنیادی علم کیا ہے؟ کیا یہ غیرت کی جگہ نہیں ہے کہ جس نام کی چادر اوڑھنے کا دعویٰ ہے اس کے بارے میں بنیادی معلومات بھی نہ ہوں بلکہ ایک پرائمری کا طالبعلم بھی زیادہ صحیح اور بہتر جانتا ہے بہ نسبت ان عاشق محمد ﷺ کا بے بنیاد اور جھوٹا دعویٰ کرنے والے صاحب سے۔
لکھتے ہیں: ”تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت ﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش
١٣
سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا تھا اور ماں صرف چند دن کا بچہ چھوڑ کر مر گئی تھی ۔“ ( پیغام صلح ص ٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٦٥) علم تو دور کی بات ان سلطان القلم کی تحریر دیکھیں، نبیوں کے سردار ، رحمت اللعالمین ، شافع دو جہاں، سرور کونین، محمد مصطفیٰ ﷺ کی والدہ اور والد کے لئے کوئی تعظیم کا لفظ نہیں ۔ ذرا ”جس کا باپ“ اور ”جس کی ماں مر گئی“ کے الفاظ کھلے طور پر ظاہر کر رہے ہیں کہ دل میں کوئی تعظیم نہیں ، کوئی محبت نہیں، صرف کسی ذریعہ ابلاغ کی طرح منہ سے کہہ دیا کہ میں محبت کرتا ہوں۔
”آنحضرت ﷺ کو والدین سے مادری زبان سیکھنے کا بھی موقع نہیں ملا، کیونکہ چھ ماہ کی عمر تک دونوں فوت ہو چکے تھے ۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٦ حاشیہ )
”تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے ۔“
(چشمہ معرفت ٢٨٦، خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٩)
”ہمارے پیغمبر خدا کے ہاں ١٢ لڑکیاں ہوئیں۔ آپ ﷺ نے کبھی نہیں کہا کہ لڑکا کیوں نہیں ہوا“
(ملفوظات، جلد ٩، ص ٧٥)
رسول کریم ﷺ کی ذات اقدس کے بارہ میں اس علم پر یہ جرات کہ مجھ میں اور رسول کریم ﷺ میں تفریق نہ کرو اور اس پر دعویٰ یہ کہ یہ مقام مجھے عشق محمد ﷺ کے طفیل ملا جس سے عشق ہے، ان کی پیدائش کا بھی علم نہیں ، ان کے والدین کا بھی علم نہیں ، ان کی اولاد کا بھی نہیں علم؟ اس قسم کے کافی حوالے مرزا قادیانی کے کلام میں پائے جاتے ہیں۔
مرزا قادیانی کے سارے دعوے حب رسول کے نہ صرف غلط تھے بلکہ وہ رسول پاک ﷺ کی پاکیزہ سوانح عمری ہی سے واقف نہیں تھے! بلکہ ان کا حب رسول کے دعووں کا مقصد نہ صرف رسول کریم ﷺ کے مقام پر قبضہ کرنا بلکہ اپنی ذات کو اس سے بڑھ کر پیش کرنا تھا۔ اس لئے جہاں بھی مرزا کو موقع ملا ہے رسول کریم ﷺ کی تحقیر کا کوئی موقع بھی نہیں جانے دیا ۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ چاند پر تھوکا اپنے منہ پر ہی گرتا ہے۔
مرزا قادیانی نے لکھا: ”آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب ...... عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“ (مرزا قادیانی کا مکتوب، اخبار الفضل قادیان ، نمبر ٦٦ ، ج ١، ص ٩ ، ٢٢ فروری ١٩١٤) آپ ﷺ پر ہی اس قسم کا گھناؤنا الزام؟ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین کر کے کافر نہیں ہوا؟
دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”اور آپ ﷺ ایسے کنواں سے پانی پیتے تھے جس میں حیض کے لتے پڑتے تھے ۔“ (منقول از اخبار ”الفضل نمبر ٦٦ ج ١“ قادیان ص ٩ مورخہ ٢٢ فروری ١٩١٤ء) جس نبی
١٤
اللہ ﷺ کی شریعت پاکی اور پلیدی کے خطوط پاک صحابہ کی سیرت طیبہ پر غلاظت اچھالنا، م لے کر آیا ہے؟ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین
لیکن بغض ہے کہ بڑھتا ہی جاتا ہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لئے اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھ
مرزا قادیانی اپنے آپ کو خاتم الا بار ہا بتا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت ’و آخر خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس بر اور مجھے آنحضرت کا وجود قرار دیا ہے۔“
لیکن بیس برس کیوں خاموش رہے نبوت پر لعنتیں بھی ڈالتے رہے ۔ اگر خاموش لوگوں کو بتانے کے لئے اللہ تعالیٰ نازل کرتا ہ بیس برس وحی کی سمجھ ہی نہیں آئی تو دنیا میں ای پاگل کوئی نہیں ہوگا اور ایسے کو وحی کرنے والا کم سے مرزا قادیانی کے دعویٰ پر سوال اٹھتا ہے اور
اور دوسری جگہ کہتا ہے کہ ”میں خدا ک کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں، بدقس تاریک ہے۔“ (کشتی نوح ص ٥٢، خزائن ج ١ نور مصطفیٰ ﷺ اسی قادیانی جماعت میں پیدا ہ
میں چالیس سال سے زیادہ اعزازی عہدوں بچوں کو اس تاریکی سے نکال لیا! ہم حق الیقین سوچ ، ذہنیت ، علم، عمل مرزا قادیانی کی دی ہوئی کا مراقی خبط عظمت، ناشکرے پن، انصاف سے دشمنی، بالخصوص مسلمانوں ، مسلمان ملکوں تکلیف پر خوشی محسوس کرنا، قرآن کریم، احادیث
اللہ ﷺ کی شریعت پاکی اور پلیدی کے خطوط انتہائی واضح کرتی ہے کہ اس مقدس نبی اور ان کے پاک صحابہ کی سیرت طیبہ پر غلاظت اچھالنا، مرزا قادیانی کا ہی حوصلہ ہے! کیا یہ مہدی یہی ہدایت لے کر آیا ہے؟ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
لیکن بغض ہے کہ بڑھتا ہی جاتا ہے مرزا قادیانی کو چین نہیں لینے دیتا، لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔“
(تحفہ گولڑویہ ص٧٠، حاشیہ خزائن ج١٧ص٢٠٥)
مرزا قادیانی اپنے آپ کو خاتم الانبیاء قرار دے رہے ہیں۔ نعوذ باللہ! ”کیونکہ میں بارہا بتا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت ”وآخرین منھم لما یلحقو بھم“ بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت کا وجود قرار دیا ہے۔“
(بحوالہ ایک غلطی کا ازالہ ص٥، خزائن ج١٨ص٢١٢)
لیکن بیس برس کیوں خاموش رہے اور دنیا کو نہیں بتایا کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں بلکہ مدعی نبوت پر لعنتیں بھی ڈالتے رہے۔ اگر خاموش رہے اور نہیں بتایا تو جرم کیا کیونکہ نبی کو وحی، آگے لوگوں کو بتانے کے لئے اللہ تعالیٰ نازل کرتا ہے نہ کہ بیس بیس برس تک چھپانے کے لئے! اور اگر بیس برس وحی کی سمجھ ہی نہیں آئی تو دنیا میں ایسی وحی وصول کرنے والے سے بڑا مجہول، غبی اور پاگل کوئی نہیں ہوگا اور ایسے کو وحی کرنے والا کم از کم خبیر اور علیم اللہ تعالیٰ نہیں ہو سکتا۔ دونوں طرح سے مرزا قادیانی کے دعویٰ پر سوال اُٹھتا ہے اور ان کے ہر دعوے کو ملیا میٹ کرتا ہے۔
اور دوسری جگہ کہتا ہے کہ ”میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں، بدقسمت ہے جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریک ہے۔“ (کشتی نوح ص٥٦، خزائن ج١٩ص٧١) اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں، یہ فقیر درِ مصطفیٰ ﷺ اسی قادیانی جماعت میں پیدا ہوا، سدھایا گیا اور اس جماعت میں مختلف حیثیتوں میں چالیس سال سے زیادہ اعزازی عہدوں پر کام کیا۔ الحمدللہ، اللہ نے مجھے اور میری بیوی بچوں کو اس تاریکی سے نکال لیا! ہم حق الیقین سے کہہ سکتے ہیں کہ قادیانیوں کے تمام فرقوں کی سوچ، ذہنیت، علم، عمل مرزا قادیانی کی دی ہوئی غلامی، حرص مال، دوسروں کی ذلت، مرزا خاندان کا مراقی خبط عظمت، ناشکرے پن، انصاف دشمنی، دوسروں پر حکم چلانے کی خواہش، انسانیت سے دشمنی، بالخصوص مسلمانوں، مسلمان ملکوں اور اسلام کی تباہیوں کی خواہش، مسلمانوں کی ہر تکلیف پر خوشی محسوس کرنا، قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور بزرگوں کی تصنیفات میں تحریف کرنا،
١٥
عبادات کا حلیہ بگاڑ دینا، سب مل کر مرزا قادیانی کے بخشے ہوئے ایک ایسے اندھیرے بلیک ہول کی حیثیت اختیار کر گئی ہے کہ نور کی اس میں کوئی کرن نہیں اور جہاں اگر کوئی اچھا کام ہو بھی جائے تو مرزا قادیانی کا بخشا ہوا اندھیرا نگل لیتا ہے۔
اور ان کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے نے اپنے والد کے دعاویٰ کو تقویت دیتے ہوئے نعوذ باللہ اپنے خیال میں رسول کریمﷺ کا وجود بھی ختم کر دیا اور اس کو اپنے ابا کا وجود قرار دے دیا۔ لکھتا ہے: ”چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود اور نبی کریم میں کوئی دوئی باقی نہیں رہی۔ حتیٰ کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں۔“ (کلمتہ الفصل ص ١٠٤، مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم اے) اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک ہی وجود ہوا تو مرزا قادیانی نے انکار نبوت کرتے ہوئے لوگوں کے اعتراضات پر کفر کے فتوے اور جتنی لعنتیں ڈالی ہیں ان کا مورد کون ہوا؟ استغفر الله!
مرزا قادیانی اپنے قلم اور منہ سے تو آنحضورﷺ کو خاتم الانبیاء کہتے ہیں اپنے آپ کو ان کا خادم قرار دیتے ہیں لیکن جب ہم حقیقتاً ان کی تحریروں کا تجزیہ کرتے ہیں تو وہ خود اور ان کی اولاد اور ان کے علماء دراصل مرزا قادیانی کو نہ صرف خاتم الانبیاء اور ان کے وجود با برکت کے طور پر پیش کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر مرزا قادیانی کو آنحضورﷺ سے بڑھ کر قرار دیتے ہیں۔ نعوذ باللہ۔ اس پر بے شمار حوالے پیش کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن یہ موضوع اس مضمون میں زیادہ تفصیل سے نہیں دیا جاسکتا یہاں عبادات اور ارکان اسلام کے بارہ میں مرزا قادیانی کا عمل اور سوچ اور تحریر کو اتنے ہی اختصار کے ساتھ دکھایا جا رہا ہے جس سے صرف قاری کو ان وجوہات کا کسی حد تک اندازہ ہو سکے کہ مسلمانوں کا رویہ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے لئے کھنچا ہوا اور فاصلے پر رہنے والا کیوں ہے؟
دعویٰ برتری
اس فقیر نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی نظر میں اور اپنی اولاد اور جماعت کے با علم طبقہ میں آنحضورﷺ سے برتر تھے یا نہیں، یہ حوالہ دیکھئے ان کے ایک صحابی کا،
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر قادیان نمبر ٤٣، ج ٢ ص ١٤، مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)
١٦
اور اس نظم پر مرزا قادیانی نے نام اور وہاں اپنے کمرے میں اس کو لٹکایا (اپنے غیرت مند اس وقت مرزا قادیانی اور ان کے ہے کہ لاکھوں لوگوں کے ایمان تباہ ہونے ہ تقریباً پونے دو سال قبل کی ہے، اس کا مطلب جماعت کے ذہنوں میں بہت اچھی طرح سے قریبی رشتہ دار مسلمان ہو چکے ہیں۔ فالحمدللہ
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہ
تیرے کفوں پہ
پہلی بعث میں محمد
تجھ پہ اُترا
مرزا بشیر الدین محمود پسر مرزا قادی بڑھ سکتا ہے: ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخ کہ محمدﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
حالات، واقعات اور دوسرے آ محمود خود آگے بڑھنے کے لئے میدان تیار کر جس کو یہ دارالامان بھی کہتے ہیں، چھپ کر ل اسرائیل اور عجمی اسرائیل قائم ہوئے۔ ربوہ اسی وجہ سے نعوذ باللہ! محمد رسول اللہﷺ سے اسی لئے (دماغی مراق کے زیر روحانی طور پر بلند ہو گئے۔ ”ان قدمی ھـ میرا یہ قدم اس منارہ پر جہاں تمام روحانی بلند
اور اس نظم پر مرزا قادیانی نے نہ صرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ وہ قطعہ گھر کے اندر لے گئے اور وہاں اپنے کمرے میں اس کو لٹکایا (اپنے صحابی کو نہیں بلکہ اس کی پیش کردہ نظم کو ) کاش کوئی غیرت مند اس وقت مرزا قادیانی اور ان کے اس صحابی قاضی ظہور الدین اکمل کو الٹا لٹکا دیتا تو ممکن ہے کہ لاکھوں لوگوں کے ایمان تباہ ہونے سے بچ جاتے اور یہ بات مرزا قادیانی کی موت سے تقریباً پونے دو سال قبل کی ہے، اس کا مطلب ہے کہ رسول پاک ﷺ کی شان میں گستاخی اپنی جماعت کے ذہنوں میں بہت اچھی طرح سے بٹھا چکے تھے۔ قاضی ظہور الدین اکمل کی بھتیجی اور کئی قریبی رشتہ دار مسلمان ہو چکے ہیں۔ فالحمد للہ! غالباً اسی شاعر کے کچھ اور شعر
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر کہ جب مصطفیٰؐ مرزا بن کے آیا
آسماں اور زمیں تو نے بنائے ہیں نئے
تیرے کشفوں پہ ہے ایمان رسول مدنیؐ
پہلی بعث میں محمدؐ ہے تو اب احمد ہے
تجھ پہ اُترا ہے ، قرآن رسول مدنیؐ
(الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ٣٠ ص ١، ٢، مورخہ ١٦؍اکتوبر ١٩٢٢ء)
مرزا بشیر الدین محمود پسر مرزا قادیانی اور خلیفہ دوم کہتا ہے کہ ہر شخص رسول کریم سے بھی بڑھ سکتا ہے: ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان، نمبر ٣، ج ١٠، مورخہ ١٧؍جولائی ١٩٢٢ء)
حالات، واقعات اور دوسرے آثارات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غالباً مرزا بشیر الدین محمود خود آگے بڑھنے کے لئے میدان تیار کر رہے تھے لیکن ایک تو پاکستان بن گیا اور قادیان سے جس کو یہ دارالامان بھی کہتے ہیں، چھپ کر نکلے اور پاکستان پہنچ کر ربوہ آباد کیا۔ ایک ہی وقت میں اسرائیل اور عجمی اسرائیل قائم ہوئے۔ ربوہ میں اسے جلد فالج اور دوسری بیماریوں نے جکڑ لیا۔ غالباً اسی وجہ سے نعوذ باللہ! محمد رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھنے کا پروگرام رہ گیا۔
اسی لئے (دماغی مراق کے زیر اثر) مرزا قادیانی اپنے خیال میں ہر ایک سے زیادہ روحانی طور پر بلند ہو گئے۔ ”ان قدمی ھذہ علی منارة ختم علیھا کل رفعة“ ترجمہ: میرا یہ قدم اس منارہ پر جہاں تمام روحانی بلندیاں ختم ہیں۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)
١٧
اور مرزا قادیانی کو مرتے وقت بھی نہ تو کلمہ ادا کرنا نصیب ہوا اور نہ ہی سننا۔ کیونکہ جو وفات کی روداد سیرت المہدی، مصنفہ پسر مرزا بشیر نے لکھی ہے اس میں کہیں بھی ذکر نہیں کہ مرزا قادیانی نے یا ان کے اردگرد جو لوگ تھے کسی نے بھی کلمہ پڑھا ہو۔
نماز
نماز کے بارہ میں قرآن کریم میں بے شمار تاکید ہے اور اس کے علاوہ ہمیں سنت و قول رسول اللہ ﷺ سے نماز کے بارہ میں رہنمائی ملتی ہے۔ یہ موقع تفصیل میں جانے کا نہیں۔ قصہ مختصر نماز کی ادائیگی میں انسان اپنی حالت صحت اور سفر وغیرہ کے پیش نظر اہتمام بالا ہتمام کرتا ہے۔ مرزا قادیانی کے ادائیگی نماز کے کچھ طریقے پیش خدمت ہیں۔ ان سے یہ بھی ظاہر ہو گا کہ امام کے انتخاب، خود امامت کرتے ہوئے، نماز کے درمیان کیا کرتے رہے۔
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود ...... فریضہ نماز کی ابتدائی سنتیں گھر میں ادا کرتے تھے اور بعد کی سنتیں بھی عموماً گھر میں اور کبھی کبھی مسجد میں پڑھتے تھے۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ حضرت صاحب نماز کو لمبا کرتے رہے یا خفیف؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ عموماً خفیف پڑھتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ اول، ص ٥ روایت نمبر ٥، مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم اے) سوچنے والی بات، نبی کی نماز اور بالعموم خفیف؟
”زندگی کے آخری سالوں میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عموماً باہر تشریف نہ لا سکتے تھے اس وقت اندر عورتوں میں نماز مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھایا کرتے تھے۔“ (ذکر حبیب ، ص ٢٤، مصنفہ مفتی محمد صادق ) ویسے بھی مرزا قادیانی عورتوں کی صحبت میں خوشی محسوس کرتے تھے۔
اسلامی فقہ کے برخلاف ایک نئی فقہ پیش کی ہے۔ ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو میں نے بارہا دیکھا کہ گھر میں نماز پڑھاتے تو حضرت المومنین کو اپنے دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کر لیتے حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ ہے کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اس مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے ، ہاں اکیلا مرد مقتدی ہو تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہیے، میں نے حضرت ام المومنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٢٤٧ روایت ٦٩٦)
مرزا قادیانی کے لئے ، نشے کی حالت میں نماز بھی جائز ہی نہ تھی بلکہ نشہ آور چیز استعمال کرتے ہوئے نماز ادا کی۔ جیسا کہ سب کو علم ہے دوسرے کئی نشوں کی طرح پان بھی ایک نشہ ہے اور پان کے اندر استعمال ہونے والی چیزیں بھی نشہ پیدا کرنے والی ہوتی ہیں۔ دیکھیں یہاں بھی
١٨
گھر کے بھیدی لنکا ڈھا رہے ہیں: ”ڈاک حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی اسکی ہوتا تھا۔ اس وقت آپ نے اس حالت سکیں۔“
ہر شخص یہ جانتا ہے کہ درد کے باپ حاذق حکیم ہو اور اس سے اس نے ن حدیث مبارکہ ہے کہ حب ال کی گواہی اس مضمون میں دوسری جگہ آ طرح فتنہ میں ڈالتی ہے جس کا دعویٰ ب صاحب کے مطابق جس کا کلمہ ہے: ” دین“ کو دنیا پر مقدم رکھوانے والے ا المبارک کی ادائیگی کس طرح ترک ”صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کی مرض حسب معمول کپڑے بدل کر عصاء ہا جب صاحبزادہ کی چارپائی کے پاس نے حضرت مسیح موعود کا دامن پکڑ لیا اور خاطر حضور بیٹھے رہے اور جب دیکھا ک حضور نے کہلا بھیجا کہ جمعہ پڑھ لیں او
مرزا قادیانی ہی کا ایک قو بیٹوں کو مارلو۔ بابا فرید کا مقولہ بالکل س (کتی کا بچہ) مر گیا ہے اور اس کو دف المبارک کو چھوڑا؟ اوروں کو کیا نصیح اس قول کے مطابق اگر بچہ کتوّرہ ہے ت نمازوں کو توڑنے مروڑ کردار ہمارے سامنے ہے اور اپنے
گھر کے بھیدی لنکا ڈھا رہے ہیں: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی ایسی کہ دم نہ آتا تھا البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی تا کہ آرام سے پڑھ سکیں۔“
(سیرت المہدی، حصہ سوم ص ٢٠٦، روایت ٦٣٨)
ہر شخص یہ جانتا ہے کہ درد کے دور کرنے میں نشہ والی چیز ہی مدد کرتی ہے اور جس شخص کا باپ حاذق حکیم ہو اور اس سے اس نے طب بھی پڑھی ہو تو کیا اس کو علم نہیں ہوگا؟
حدیث مبارکہ ہے کہ حبّ اولاد اور حبّ مال انسان کو فتنہ میں ڈال دیتا ہے۔ حب مال کی گواہی اس مضمون میں دوسری جگہ آگئی ہے اور اب حب اولاد ان مسیح مہدی کے دعویدار کو کس طرح فتنہ میں ڈالتی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کی ہدایت کے لئے آیا ہے اور حکیم نور دین صاحب کے مطابق جس کا کلمہ ہے: ”میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔“ مریدوں سے ”اپنے دین“ کو دنیا پر مقدم رکھوانے والے اور بظاہر نماز کی تلقین کرنے والے عام نماز نہیں بلکہ جمعتہ المبارک کی ادائیگی کس طرح ترک کرتے ہیں؟ مرزا قادیانی کے صحابی خاص لکھتے ہیں: ”صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کی مرض الموت کے ایام میں ایک جمعہ کے دن حضرت مسیح موعود حسب معمول کپڑے بدل کر عصاء ہاتھ میں لے کر جامع مسجد کو جانے کے واسطے تیار ہوئے۔ جب صاحبزادہ کی چارپائی کے پاس سے گزرتے ہوئے ذرا کھڑے ہو گئے تو صاحبزادہ صاحب نے حضرت مسیح موعود کا دامن پکڑ لیا اور اپنی چارپائی پر بٹھا دیا اور اُٹھنے نہ دیا۔ صاحبزادہ صاحب کی خاطر حضور بیٹھے رہے اور جب دیکھا کہ بچہ اُٹھنے نہیں دیتا اور نماز جمعہ کے وقت میں دیر ہوتی ہے تو حضور نے کہلا بھیجا کہ جمعہ پڑھ لیں اور حضور کا انتظار نہ کریں۔“
(ذکر حبیب، ص ١٧٢، از مفتی محمد صادق قادیانی)
مرزا قادیانی ہی کا ایک قول پیش خدمت ہے۔ کہتے ہیں: ”سچے مسلمان بننا ہے تو پہلے بیٹوں کو مار لو۔ بابا فرید کا مقولہ بالکل صحیح ہے کہ جب کوئی بیٹا مر جاتا تو لوگوں سے کہتے کہ ایک کتورہ (کتی کا بچہ) مر گیا ہے اور اس کو دفن کر دو۔“ (ملفوظات، ج٩ ص ١١٥) کیا کتورہ کے لئے جمعتہ المبارک کو چھوڑا؟ اوروں کو کیا نصیحت کریں گے یہ خود ساختہ مسیح اور مہدی؟ جب کہ خود......؟ اچھا اس قول کے مطابق اگر بچہ کتورہ ہے تو مرزا کا بیٹا کتورہ ہوا اور مرزا قادیانی کیا ہوا؟
نمازوں کو توڑنے مروڑنے اور ان میں بدعات پیدا کرنے میں بھی مرزا قادیانی کا کردار ہمارے سامنے ہے اور اپنے علم اور عمل سے ایسے مرید اور مثالیں چھوڑ گئے کہ بدعات کا
١٩
سلسلہ چلتا رہے ۔ نماز میں بجائے مسنون اسلامی دعاؤں کے مرزا قادیانی کی فارسی نظم پڑھی گئی اور مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ خدا کی مرضی کے بغیر نہیں بولتے اور جب وہ لکھ رہے ہوتے ہیں تو ان کے اندر روح القدس کام کر رہی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب نماز میں ان کی وحی پڑھی جانی چاہیے اور جاتی ہے۔ اس کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ اب بیٹے کی زبانی برادر نسبتی (سالا) کی گواہی پڑھیں، لکھتے ہیں: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق صاحب نے پڑھائی۔ حضور بھی اس نماز میں شامل تھے۔ تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انہوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی۔“ (سیرت المہدی، حصہ سوم ص ٢٤٣، روایت ٧٠٧) اور مرزا قادیانی نے اپنے عمل سے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
مرزا قادیانی کی زندگی میں ان کے اپنے ہی اعترافات کے مطابق ٹائلٹ کا بڑا کردار ہے حتیٰ کہ مرزا قادیانی کے مطابق ان کی نبوت کا ایک ثبوت روزانہ ٹائلٹ میں بے شمار مرتبہ اور بعض دنوں میں سو سو بار حاضری دینا بھی ہے! اس لئے مرزا قادیانی اپنا امام الصلوٰۃ بھی ایسے شخص کو بناتے ہیں جس کی نماز میں بھی ریح (پیٹ سے نکلنے والی بدبو دار ہوا) کا اخراج بھی لگاتار جاری رہتا ہے۔ بیٹے کی زبانی، برادر نسبتی (سالا) کی گواہی پیش خدمت ہے، لکھتے ہیں: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نماز نہ پڑھا سکے، حضرت خلیفہ اول بھی موجود نہ تھے تو حضرت صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب کو نماز پڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے تو بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔ میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں؟ حضور نے فرمایا کہ حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں، حضور نے فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی، آپ پڑھائیے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو تو نواقض وضو میں نہیں سمجھا جاتا۔“
(سیرت المہدی، حصہ سوم ص ٦١٤، روایت ٦٥٤)
غالباً ٹائلٹ سے اسی محبت کی وجہ سے مرزا قادیانی کی موت بھی اسی بیماری میں ہوئی۔ لیکن کیا اس کو امام الصلوٰۃ بھی بنایا جاسکتا ہے؟ میرے خیال میں نہیں ! لیکن اس پر علماء کرام ہی صحیح فتویٰ دے سکتے ہیں۔
مرزا قادیانی کی زندگی میں ہمیں بہت ساری بوالعجبیاں ملتی ہیں۔ مرزا قادیانی کے ایک ٢٠
خاص مرید نامناسب برکت حاصل کرنے کے لئے مرزا قادیانی کے جسم کو ٹٹولتے تھے۔ بغیر کسی تبصرہ کے ”یوسف پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ عبدالکریم صاحب کے ساتھ اس کوٹھڑی میں نماز میں بجانب مغرب تھی مگر ١٩٠٧ء میں جب مسجد مبارک کوٹھڑی کے اندر حضرت صاحب کے کھڑے ہونے اقدس کو نماز میں تکلیف دیتے تھے۔ خاکسار عرض تھے مگر ان کے دماغ میں کچھ خلل تھا جس کی وجہ حضرت صاحب کے جسم (خاص حصہ ) کو ٹٹولتے ہوتے تھے۔“ (سیرت المہدی، حصہ سوم ص ١٨١، روایت عبادت گاہ سے باہر بھی نکالا گیا؟ بلکہ وہ تو اس مبعوث
نماز باجماعت کا حال تو آپ نے پڑھ کیا گواہی دیتی ہے؟ جس کا دعویٰ ہے کہ اس کو خدا کر کے بھیجا ہے، وہ ہی ہمیں بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ دور کی بات قل ہو اللہ نہیں پڑھنے دے رہا۔ کیا ایسا سلوک کر سکتا ہے؟ ۔ اب مرزا قادیانی کا مکتوب کہ: ”حالت صحت اس عاجز کی بدستور ہے، کھڑے شدید کا اندیشہ ہوتا ہے اور کبھی یہ دوران کم ہوتا مدت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے بیٹھے بیٹھے ریگن (درد جو چڈھوں سے اُٹھ کر ٹخنوں قدم اچھی طرح نہیں جمتا، تقریباً چھ سات ماہ یا اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون سکوں کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخار
(خاکسار غلام احمد قادیانی، ٥ فروری
اس کے علاوہ قادیانی جماعت جس ان کو جمع کرنے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے، اس
خاص مرید نامناسب برکت حاصل کرنے کے لئے، مسجد میں، باجماعت عبادت کرتے وقت مرزا قادیانی کے جسم کو ٹٹولتے تھے۔ بغیر کسی تبصرہ کے۔ مرزا قادیانی کے بیٹے لکھتے ہیں: ”قاضی محمد یوسف پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت اقدس، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ساتھ اس کوٹھڑی میں نماز کے لئے کھڑے ہوا کرتے تھے جو ممبر مبارک میں بجانب مغرب تھی مگر ١٩٠٧ء میں جب مسجد مبارک وسیع کی گئی تو وہ کوٹھڑی منہدم کر دی گئی۔ اس کوٹھڑی کے اندر حضرت صاحب کے کھڑے ہونے کی وجہ اغلباً یہ تھی کہ قاضی یار محمد صاحب حضرت اقدس کو نماز میں تکلیف دیتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی یار محمد صاحب بہت مخلص آدمی تھے مگر ان کے دماغ میں کچھ خلل تھا جس کی وجہ سے ایک زمانہ میں ان کا یہ طریق ہو گیا تھا کہ حضرت صاحب کے جسم (خاص حصہ) کو ٹٹولنے لگ جاتے تھے اور تکلیف اور پریشانی کا باعث ہوتے تھے۔“ (سیرت المہدی، حصہ سوم ص ١٨١، روایت نمبر ٨٩٣) کیا اس مرید کو ان حرکات کی وجہ سے عبادت گاہ سے باہر بھی نکالا گیا؟ بلکہ وہ تو اس سبب کے باوجود خلوت وجلوت کا راز دار رہا۔
نماز باجماعت کا حال تو آپ نے پڑھ لیا۔ اب اپنی حالت نماز پر مرزا قادیانی کی تحریر کیا گواہی دیتی ہے؟ جس کا دعویٰ ہے کہ اس کو خدا نے دنیا کی اصلاح اور ہدایت کے لئے مبعوث کر کے بھیجا ہے، وہ ہی ہمیں بتارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اکثر مہینوں تک اس کو مسنون طریق سے نماز تو دور کی بات قل ہو اللہ نہیں پڑھنے دے رہا۔ کیا اللہ تعالیٰ ایسے امام کے اصلی دعویداروں کے ساتھ ایسا سلوک کر سکتا ہے؟۔ اب مرزا قادیانی کا قلمی اعتراف بھی حاضر ہے۔ ایک دوست کو لکھتے ہیں کہ: ”حالت صحت اس عاجز کی بدستور ہے، کبھی غلبہ دوران سر اس قدر ہو جاتا ہے کہ مرض کی جنبش شدید کا اندیشہ ہوتا ہے اور کبھی یہ دوران کم ہوتا ہے لیکن کوئی وقت دوران سر سے خالی نہیں گزرتا۔ مدت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے۔ بعض اوقات درمیان میں توڑنی پڑتی ہے، اکثر بیٹھے بیٹھے رینگن (درد جو چڈھوں سے اُٹھ کر ٹخنوں تک پہنچتا ہے۔ ناقل) آ جاتی ہے اور زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا، تقریباً چھ سات ماہ یا زیادہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے اور قرأت میں شاید قل هو الله بمشکل پڑھ سکوں کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات کی ہو جاتی ہے۔“
(خاکسار غلام احمد قادیانی، ٥؍ فروری ١٨٩١ء، مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٤٨، مکتوب نمبر ٦٤)
اس کے علاوہ قادیانی جماعت جس طرح نمازوں کی بار بار ادائیگی سے بچنے کے لئے ان کو جمع کرنے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے، اس میں کئی بافہم قادیانی بھی سوال اٹھاتے ہیں اور کئی
٢١
قادیانی بچوں نے اپنے والدین سے سوال بھی کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ پانچ نمازیں ہوتی ہیں۔ لیکن جب بھی کوئی اٹھتا ہے وہاں یہ تین رہ جاتی ہیں اور گھروں میں بے کار، بے بنیاد عذر تراش کر قادیانی نمازیں جمع کر کے پتہ نہیں کس کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسے بے شمار واقعات ہمیں مرزا قادیانی کی زندگی سے مل سکتے ہیں۔ نماز کے ساتھ ایسے سلوک کو مد نظر رکھتے ہوئے جب مسلمان حضرات اپنے تحفظ اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں تو کیا وہ غلط کرتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ بہت سارے سمجھ دار قادیانی جب اس مضمون کو پڑھیں گے تو یقیناً ان کا ضمیر بھی ان کو سوچنے اور سمجھنے کی طرف راغب کرے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اللہ تعالیٰ بہت سوں کے لئے اس مضمون کو ہدایت کی طرف سوچ اور فیصلہ کا ذریعہ بنائے۔ آمین!
روزہ
پہلے دو ارکان اسلام (کلمہ شہادت و نماز) کے ساتھ جو سلوک مرزا قادیانی نے کیا وہ تو آپ نے پڑھ لیا۔ اب روزوں کے ساتھ مرزا قادیانی کیا سلوک کرتے ہیں، اس کا بھی کچھ مختصر حال پڑھ لیں۔ اس مضمون میں کوئی تنقید نہیں صرف ایسے واقعات کو پیش کرنا ہے جن سے مرزا قادیانی کا ارکان اسلام و عبادات اسلام سے برگشتہ ہونا، ان میں تحریف یا ان کی ادائیگی سے ان کی اہمیت وضرورت کو ختم کرنا ظاہر ہو اور قادیانی دوستوں کو ان کے سوال کا جواب مل سکے۔
مرزا قادیانی کے بیٹے کی زبانی، اہلیہ کی گواہی، لکھتے ہیں: ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کئے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا، اس لئے چھوڑ دیئے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے رہے، خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتداءً دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد میں ان کو قضا کیا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں! صرف فدیہ ادا کر دیا تھا، خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود کو دوران سر اور درد اطراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے تو اس زمانے میں آپ بہت کمزور ہو گئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی۔“ (سیرت المہدی، حصہ اول
٢٢
ص ٥٩، روایت ٨١) لیکن روزے تو انہوں نے رہی؟ اس واقعہ کو پڑھنے کے بعد ہمیں پتہ چلـ تھی۔ توڑے ہوئے روزے بھی قضا نہیں کئـ اگر یہ عذر پیش کیا جائے کہ بیماری قادیانی دوستوں کی یہ دلیل یا سوال یا جواب و کے مبعوث کردہ نبی نہیں تھے۔ یہ کیسے ممکن ہـ کر کے بھیجے اور اس کو جن امور کی باحسن ادا میں لاچار اور مجبور کر دے۔ تاکہ وہ کوئی صحیح نمو اور ان کی اُمت کے ساتھ یہی رہا ہے؟ اور آئے وہ ادائیگی ارکان اسلام میں تحریف شد یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مرزا قادیانی خوف کے مارے روزہ نہیں رکھتے تھے یا رکـ لکھتا ہے: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ۔ موعود نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ د وقت غروب آفتاب کا وقت بالکل قریب تـ سہل رستہ کو اختیار فرمایا کرتے تھے۔“ ( دوسرے کاموں میں بھی سہل راستہ ہی اختـ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی، رنگ چوکھا ہی آئـ مرزا قادیانی نے خود تو روز روزے بھی زبردستی رکھوا دیتے تھے۔ ڈا لاہور سے کچھ احباب رمضان میں قادیان ان سے ملنے کے لئے مسجد میں تشریف لـ ہیں۔“ آپ نے فرمایا سفر میں روزہ ٹھیک ناشتہ کروا کے ان کے روزے تڑوا دیئے کے کئی اور واقعات بھی قادیانی جماعت کـ
ص ٥٩، روایت ٨١) لیکن روزے تو انہوں نے اکثر نہیں رکھے؟ مرزا قادیانی کی صحت ٹھیک کب رہی؟ اس واقعہ کو پڑھنے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک نہ تو روزہ کی اہمیت تھی۔ توڑے ہوئے روزے بھی قضا نہیں کئے۔
اگر یہ عذر پیش کیا جائے کہ بیماری اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور یہ اللہ کی مرضی تھی تو قادیانی دوستوں کی یہ دلیل یا سوال یا جواب ہمارے اس موقف کو مضبوط کرتا ہے کہ مرزا قادیانی اللہ کے مبعوث کردہ نبی نہیں تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کے لئے ایک شخص کو مبعوث کر کے بھیجے اور اس کو جن امور کی باحسن ادائیگی کی تلقین کے لئے بھیجا ہو اسی کو انہیں امور کی ادائیگی میں لاچار اور مجبور کر دے۔ تا کہ وہ کوئی صحیح نمونہ بھی نہ پیش کر سکے۔ کیا اللہ تعالیٰ کا سلوک اپنے نبیوں اور ان کی اُمت کے ساتھ یہی رہا ہے؟ اور جو نمونہ اس کے ذریعہ اس کے ماننے والوں کے سامنے آئے وہ ادائیگی ارکان اسلام میں تحریف شدہ ہو اور شریعت کے تمام اُصولوں کے خلاف ہو۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مرزا قادیانی صرف چند سال نہیں عمر کے اکثر حصہ میں بیماری کے خوف کے مارے روزہ نہیں رکھتے تھے یا رکھ سکتے تھے اور سہل راستے اختیار کرتے تھے۔ مرزا کا بیٹا لکھتا ہے: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ اس وقت غروب آفتاب کا وقت بالکل قریب تھا مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا، آپ ہمیشہ شریعت میں سہل راستہ کو اختیار فرمایا کرتے تھے۔“ (سیرت المہدی، حصہ سوم ص ٢٦٧، روایت ٧٦٩) زندگی کے دوسرے کاموں میں بھی سہل راستہ ہی اختیار کیا۔ اس کی سب سے بڑی مثال مذہبی دکانداری، ہینگ لگی نہ پھٹکڑی، آگے پیر بن گئے۔
مرزا قادیانی نے خود تو روزہ کا جو بھی اہتمام اور احترام کیا سو کیا مگر دوسروں کے روزے بھی زبردستی تڑوا دیتے تھے۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سے روایت ہے کہ ایک دفعہ لاہور سے کچھ احباب رمضان میں قادیان آئے۔ حضرت صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ مع ناشتہ ان سے ملنے کے لئے مسجد میں تشریف لائے۔ ان دوستوں نے عرض کیا کہ ہم سب روزے سے ہیں۔ ”آپ نے فرمایا سفر میں روزہ ٹھیک نہیں اللہ تعالیٰ کی رُخصت پر عمل کرنا چاہیے۔ چنانچہ ان کو ناشتہ کروا کے ان کے روزے تڑوا دیئے۔“ (سیرت المہدی، حصہ دوم ص ٢٣٥، روایت ٤٨١) اس طرح کے کئی اور واقعات بھی قادیانی جماعت کی کتابوں میں موجود ہیں۔
٢٣
زکوٰۃ
مرزا قادیانی اپنے نام کے ساتھ رئیس قادیان بھی لکھا کرتے تھے۔ اب اگر تو رئیس لکھنے کے بعد بھی صاحب نصاب نہیں تو دونوں میں سے ایک جھوٹ ہے اور اگر غریب تھے اس قابل نہیں تھے تو اپنے آپ کو رئیس ظاہر کیا، دنیا کو دھوکا دینے کے لئے، تو کیا اللہ تعالیٰ نے دنیا کو دھوکہ بازی سکھانے کے لئے مہدی بھیجنا تھا یا دھوکہ دہی ترک کرنے کے لئے؟ جس پہلو سے بھی دیکھیں، مرزا قادیانی مسیح، مہدی وغیرہ تو دور کی بات شریف آدمی بھی نظر نہیں آتے۔ اسلام کا بنیادی رکن مرزا قادیانی کس طرح پس پشت ڈال رہے ہیں۔ پانچ بنیادی ارکان میں سے تین کے ساتھ جو حشر کیا ہے وہ تو سامنے آگیا، زکوٰۃ کی طرف سے مرزا قادیانی نے اپنی آنکھیں ہمیشہ بند رکھیں۔
بیٹے کی گواہی کیا کہتی ہے؟ ”اور زکوٰۃ اس لئے نہیں دی کہ آپ کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے۔“
(سیرت المہدی، حصہ سوم ص٢٢٤، روایت ٦٧٢)
اسی بیٹے کی اسی کتاب سیرت المہدی کی دوسری جلد کی گواہی کیا کہتی ہے؟ گھر سے چار ہزار کا زیور اور ایک ہزار نقد۔۔۔مرزا قادیانی کے بیٹے لکھتے ہیں کہ: ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ وہ رہن نامہ جس کی رو سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا باغ حضرت والدہ صاحبہ کے پاس رہن رکھا تھا، میں نے دیکھا ہے وہ باقاعدہ رجسٹری شدہ ہے اور اس کی تاریخ ٢٥ رجون ١٨٩٨ء ہے، زر رہن پانچ ہزار روپے ہے جس میں سے ایک ہزار نقد درج ہے اور باقی بصورت زیورات ہے۔ اس رہن میں حضرت صاحب سے مندرجہ ذیل الفاظ درج ہیں۔ ”اقرار یہ ہے کہ عرصہ تیس سال تک فک الرہن مرہونہ نہیں کراؤں گا، بعد تیس سال مذکور کے ایک سال میں جب چاہوں زر رہن دوں تب فک الرہن کرالوں ورنہ بعد انفصال میعاد بالا یعنی اکتیس سال کے بتیسویں سال میں مرہونہ بالا ان ہی روپوں میں بیع بالوفا ہو جائے گا اور مجھے دعویٰ ملکیت نہیں رہے گا۔ قبضہ اس کا آج سے کرادیا ہے اور داخل خارج کرادوں گا اور منافع مرہونہ بالا کی قائم رہن تک مرتہنہ مستحق ہے اور معاملہ سرکاری فصل خریف ١٩٥٥ء بکرمی سے مرتہنہ دے گی اور پیداوار لے گی۔“
(سیرت المہدی، حصہ دوم ص٣٤٨، روایت ٣٢٨)
اس رہن نامہ کے ایک ایک الفاظ پر غور کریں اور سوچیں کہ یہ ایک خودساختہ پیغمبر کی بیوی کا اپنے خاوند سے کیا رویہ ہے؟
لیکن آپ ذرا بھی غور کریں کہ ایک خود ساختہ پیغمبر کے گھر میں چھ کلو سونا بھی پڑا ہوا ہے اس پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں! اور کہاں سے آیا؟
٢٤
یہ بھی ایک سوال ہے، جہیز ایک کثیر العیال نقشہ نویس کی بیٹی تھیں اہ کم تر درجے کے زمیندار کی طرح ہوت چھاپنے کے لئے چندے کی اپیلیں کرت دعویٰ ہے اس محسن انسانیت کا یہ حال تھا دیتے تھے۔
صدقہ خیرات
اسلام میں صدقہ خیرات ک دوسروں سے اشاعت اسلام کے نام پ مردوں کے قبروں سے نکالے ہوئے کف ہوں۔ دعاؤں کے لئے پیسے وصول کری باقاعدہ زبانی اور تحریری طور پر مجبور کری وصیت کے نام سے اپنے مریدوں کی ج بندوبست کر گیا، اس شخص سے کیا توقع ہو مرزا قادیانی نے اگر کبھی ک جائے گا۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی ک ہوتے تھے۔ صرف لینا جانتے تھے دین علی گڑھ کالج کے لئے مرف مرزا قادیانی سے کہا گیا کہ علامتی طور ا انکار کر دیا۔ حالانکہ اسی کالج میں ان ک سپوت اور دشمن اسلام قرار دے کر عاق رسول کریم ﷺ نے سادا نے جائز قرار دے دیا۔ بیٹے کی لکھی ہو مجھ سے بیان کیا کہ حضرت...... (مرز سادات کے لئے منع ہے۔ مگر اس زمان میں اگر کوئی سید بھوکا مرتا ہے اور کوئی ا
یہ بھی ایک سوال ہے، جہیز میں تو اتنا طلا ہو ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ وہ محکمہ انہار کے ملازم، ایک کثیر العیال نقشہ نویس کی بیٹی تھیں اور مرزا قادیانی کے بقول خود ان کے اپنے مالی حالات ایک کم تر درجے کے زمیندار کی طرح ہو گئے تھے اور براہین احمدیہ اور اس کے بعد دوسری کتابیں چھاپنے کے لئے چندے کی اپیلیں کرتے رہتے تھے۔ دوسری طرف جس کی برابری کا نعوذ باللہ دعویٰ ہے اس محسن انسانیت کا یہ حال تھا کہ شام تک گھر میں اگلے دن کے لئے کچھ جمع نہیں رہنے دیتے تھے۔
صدقہ خیرات
اسلام میں صدقہ خیرات کی اہمیت بہت بیان کی گئی ہے لیکن جو صاحب ساری عمر دوسروں سے اشاعت اسلام کے نام پر، عطیات، زکوٰۃ، صدقہ، خیرات، مردہ کمپنیوں کا مال، سود، مردوں کے قبروں سے نکالے ہوئے کفنوں کی قیمت، عورتوں کے زیورات اپنے لئے اکٹھے کرتے ہوں۔ دعاؤں کے لئے پیسے وصول کریں اور کھل کر کہیں کہ اگر دعا کرانی ہے تو ایک لاکھ دو مریدوں کو باقاعدہ زبانی اور تحریری طور پر مجبور کریں کہ وہ ماہواری یا باقاعدگی سے ان کو چندہ دیں۔ جس نے وصیت کے نام سے اپنے مریدوں کی جائداد و مال ہتھیانے کا طریقہ اختیار کر کے نسلوں کی روٹی کا بندوبست کر گیا، اس شخص سے کیا توقع ہو سکتی ہے کہ اس نے کوئی صدقہ و خیرات کیا ہوگا۔
مرزا قادیانی نے اگر کبھی کسی کو کچھ دیا تو اس نیت کے ساتھ کہ دور دور تک ان کا نام جائے گا۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کسی رفاہی کام کے لئے بھی ایک روپیہ خرچ کرنے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ صرف لینا جانتے تھے دینا نہیں۔
علی گڑھ کالج کے لئے مرزا قادیانی سے چندہ مانگا گیا، انہوں نے انکار کر دیا۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی سے کہا گیا کہ علامتی طور پر ایک روپیہ ہی چندہ دے دیں مگر انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ حالانکہ اسی کالج میں ان کا پوتا مرزا عزیز پسر مرزا سلطان احمد جس کو مرزا قادیانی نے دیوث اور دشمن اسلام قرار دے کر عاق کیا تھا، بھی اس کالج میں پڑھ رہا تھا۔
رسول کریم ﷺ نے سادات کے لئے صدقہ وزکوٰۃ کو حرام قرار دیا ہے لیکن مرزا قادیانی نے جائز قرار دے دیا۔ بیٹے کی لکھی روایت ہمیں بتاتی ہے کہ: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ..... (مرزا قادیانی۔ ناقل) فرمایا کرتے تھے کہ اگرچہ صدقہ اور زکوٰۃ سادات کے لئے منع ہے۔ مگر اس زمانہ میں جب ان کے گزارہ کا کوئی انتظام نہیں ہے تو اس حالت میں اگر کوئی سید بھوکا مرتا ہے اور کوئی اور صورت انتظام کی نہ ہو تو بے شک اسے زکوٰۃ یا صدقہ میں
سے دے دیا جائے۔ ایسے حالات میں حرج نہیں ہے۔“
(سیرت المہدی، حصہ سوم ص ٧١٨، روایت ٧٧٣)
”قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ١٩٠٦ء کی بات ہے کہ ایک سائل نے جو اپنے آپ کو نوشہرہ ضلع پشاور کا بتاتا تھا اور مہمان خانہ قادیان میں مقیم تھا حضرت صاحب کو خط لکھا کہ میری مدد کی جائے۔ مجھ پر قرضہ ہے۔ آپ نے جواب لکھا کہ قرض کے واسطے ہم دعا کریں گے اور آپ بہت استغفار کریں (خود کبھی نہیں کیا۔ ناقل) اور اس وقت ہمارے پاس ایک روپیہ ہے جو ارسال ہے۔“ (سیرت المہدی، حصہ سوم ص ٧٣٥، روایت ٨٠٧) یہ ہے قادیانی مہدی کا مال کا لٹانا! کہو قادیانی دوستو! ایسے مہدی کا ہی انتظار تھا تمہیں؟
اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک عرب جگہ جگہ سے گھومتا ہوا آیا اور اس نے مرزا قادیانی سے کچھ مدد مانگی۔ مرزا قادیانی نے اس کو کچھ رقم دی۔ بعض اصحاب نے کہا کہ حضور آپ نے تو اس کو اتنی رقم دے دی۔ تو مرزا قادیانی نے کہا کہ یہ جگہ جگہ گھومنے پھرنے والا ہے۔ ہر جگہ ہماری سخاوت کا ذکر کرے گا، ہمارا نام پہنچائے گا۔ مسلمان کسی نام کرنے والے مہدی کا نہیں بلکہ کام کرنے والے مہدی کا انتظار کر رہے ہیں!
حج
پہلے چار ارکان اسلام پر مرزا قادیانی کے عملدرآمد کی بابت مختصر روئداد آچکی ہے۔ اب پانچویں رکن اسلام کے ساتھ مرزا قادیانی کا اپنا عمل اور دوسروں کو کیا ہدایات ہیں۔
”مولوی محمد حسین بٹالوی کا خط حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی خدمت میں سنایا گیا جس میں اس نے اعتراض کیا تھا کہ آپ حج کیوں نہیں کرتے؟ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل ہے اور صلیب کی شکست ہے۔ ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں، بہت سے خنزیر مرچکے ہیں اور بہت سخت جان ابھی باقی ہیں، ان سے فرصت اور فراغت ہو لے۔“ (ملفوظات، ج٣ ص٣٧٢) رسول اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ کے مطابق حضرت مسیح ابن مریم کہاں احرام باندھیں گے اور حج کریں لیکن یہ مسیح صاحب انہی سوروں کے باڑے میں ہی گھوم رہے ہیں اور ان سوروں کی ملکہ کو عالیہ قرار دے کر اس کی متابعت کا اعلان کر رہے ہیں۔
”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حج نہ کرنے کی تو خاص وجوہات تھیں کہ شروع میں تو آپ کے لئے مالی لحاظ سے انتظام نہ تھا۔ کیونکہ ساری جائیداد وغیرہ اوائل میں ہمارے دادا صاحب کے
٢٦
ہاتھ میں تھی اور بعد میں تایا صاحب کا انتظام رہا اور اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ ایک تو آپ جہاد کے کام میں منہمک رہے، دوسرے آپ کے لئے حج کا راستہ بھی مخدوش تھا، تاہم آپ کی خواہش رہتی تھی کہ حج کریں۔"
(سیرت المہدی، ج ٣ ص ٢٢٣، روایت ٦٧٢)
نام تو رئیس قادیان ابن رئیس تھا اور کتابوں کے ٹائٹل پر بھی یہی لکھتے تھے اور جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا سوال آتا تو مالی لحاظ سے کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ ان باتوں سے کس کو دھوکا دینا چاہ رہے ہیں باپ، بیٹا۔ اللہ تعالیٰ کو تو دھوکا دے نہیں سکتے اور رہی دنیا کی بات تو اس پر بھی ان کا دجل کھل گیا ہے۔ قادیانی جماعت کو بھی اللہ توفیق دے حق دیکھنے کی۔ آمین!
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ان کے خدا نے ان کو وعدہ دیا ہے کہ: ”میں وہی ارادہ کروں گا جو تمہارا ارادہ ہے۔“ (حقیقت الوحی، ص ١٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٩) اب اگر واقعی آپ کا خدا پر یقین ہے اور واقعی خدا نے آپ کو وعدہ دیا تھا کہ وہ مرزا قادیانی کے ارادہ کے مطابق ہی چلے گا تو پھر مرزا قادیانی کو کسی قسم کی فکر نہ ہونی چاہیے تھی۔ خدا ان کے ارادہ کے مطابق احسن انتظام کروا دیتا تاکہ یہ حج ادا کرنے پر جھوٹے نہ ہوں لیکن یہاں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کبھی ارادہ ہی نہیں کیا، خواہش ہی نہیں کی۔ یا پھر جھوٹا الہام پیش کیا۔ کیا رسول اکرم ﷺ کی حقیقی نیابت کرنے والا کبھی ایسا سوچ بھی سکتا ہے کہ وہ حج کا ارادہ ہی نہ کرے؟
ہر بار ایک نیا بہانہ اور ایک نیا عذر لیکن یہاں کئی نئے عذر۔ پڑھئے اور سر دھنئے: ”مرزا قادیانی پر حج فرض نہ تھا کیونکہ آپ کی صحت درست نہ تھی، ہمیشہ بیمار رہتے تھے، حجاز کا حاکم آپ کا مخالف تھا کیونکہ ہندوستان کے مولویوں نے مکہ معظمہ سے، مرزا قادیانی کے واجب القتل ہونے کے فتوے منگوائے تھے، اس لئے۔ حکومت حجاز آپ کی مخالف ہو چکی تھی وہاں جانے پر آپ کی جان کو خطرہ تھا۔ لہٰذا آپ نے قرآن شریف کے اس حکم پر عمل کیا کہ اپنی جان کو جان بوجھ کر ہلاکت میں نہ پھنساؤ۔ مختصر یہ کہ حج کی مقررہ شرائط آپ میں نہیں پائی گئیں، اس لئے آپ پر حج فرض نہ ہوا۔“
(اخبار الفضل قادیان، ج ٧، نمبر ٤١، ص ٧، مورخہ ١٠؍ ستمبر ١٩٢٩ء)
یہ جو عذر پیش کیا جا رہا ہے کہ مرزا قادیانی پر حج فرض نہ تھا۔ اس کا جواب تو یہ ہے کہ جب رسول کریم ﷺ فرما گئے ہیں کہ مہدی علیہ السلام اور مسیح ابن مریم دونوں حج کریں گے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ رسول کریم ﷺ کی کہی بات فرض نہ ہو اور پھر اس کے لئے، جس کا کہنا ہے کہ عشق رسول کی وجہ سے میں مسیح ہوں، مہدی ہوں اور نبی ہوں؟
اگر صحت کا عذر ہے تو صحت اور تندرستی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور سب قدرتیں اس
٢٧
کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ نبیوں کے سردار ﷺ سے ایک پیشین گوئی کروائے اور وہ پورا نہ کرے یا اس کے پورا ہونے کے اسباب مہیا نہ کرے۔ اگر مرزا قادیانی سچے مسیح یا مہدی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی صحت ایسی نہ ہونے دیتا کہ وہ رسول کریم ﷺ کی بتائی ہوئی بات کو پورا نہ کر سکتے۔ بلکہ وہ ان کو ایسی صحت دیتا اور نیت دیتا، اسباب مہیا کرتا کہ وہ حج کر آتے۔
ایک اور وجہ بیان کرتے ہوئے اپنا خیال ظاہر کرتے ہیں: ”واجب القتل ہونے کے فتوے منگوائے گئے تھے اور حکومت مجاز مخالف ہو چکی تھی اس لئے حج نہیں کیا۔“ یہ بات تو ہمارے مؤقف کو اور مضبوط کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے حج کرو اور رسول پاک ﷺ نے بتا دیا کہ مسیح ابن مریم نزول کے بعد حج کریں گے۔ کیا آج تک اللہ تعالیٰ نے رسول پاک ﷺ کی بتائی ہوئی پیشین گوئی کو ادھورا چھوڑا؟ کیا تیرہ چودہ سو سال سے ہم نے نہیں دیکھا کہ کتنی پیشین گوئیاں پوری ہوئیں؟ تو کیا مرزا قادیانی اگر سچے مسیح ہوتے تو ان کو کوئی ڈر خوف ہوتا؟ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور رسول کریم ﷺ کی پیشین گوئیوں پر اعتبار ہوتا تو وہ دلیری سے جاتے اور وہاں جا کر حج کرتے اور فرض و پیشین گوئی پوری کرتے۔ اپنا پیغام عالم اسلام کو دیتے اور سچا ہونے کی صورت میں ان کا پیغام بہت جلد عالم اسلام کو پہنچ جاتا۔ مگر مرزا قادیانی کو یقینی علم تھا کہ وہ جھوٹے مدعی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے وعدے ان کے لئے نہیں بلکہ ابھی آنے والے سچے ابن مریم علیہ السلام کے لئے ہیں۔ اسی لئے حج کو نہیں گئے۔
اس کے علاوہ مرزا قادیانی کو (اپنے) خدا کے وعدوں پر بھی یقین نہیں تھا۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ان کا الہام ہے: ”براہین احمدیہ میں میری نسبت خدا تعالیٰ کی یہ پیشین گوئی ہے کہ قتل وغیرہ کے منصوبوں سے بچایا جاؤں گا۔“ (حقیقتہ الوحی ص ٢٢٣، خزائن ج ٢٢، ص ٢٣٤) اس سے بڑھ کر کونسا موقع تھا کہ اپنی پیشین گوئی ثابت کرتے اور دنیا کو اپنے خدا کا وعدہ پورا ہوتے دکھا دیتے؟
مرزا قادیانی کا خدا ان کو صرف بچانے کا ہی وعدہ نہیں کر رہا بلکہ ان کے دشمن پر حملہ کرنے کا وعدہ بھی کر رہا ہے۔ الہام لکھتے ہیں: ”خدا تجھے دشمنوں سے بچائے گا اور اس شخص پر حملہ کرے گا جو ظلم کی راہ سے تیرے پر حملہ کرے گا۔“ (تذکرہ الشہادتین ص ٩، خزائن ص ٨، ج ٢٠) اس کے باوجود بھی مرزا قادیانی کو اپنے خدا پر یقین نہیں کہ وہ واقعی کچھ کرے گا۔ ایک وقت میں رسول کریم ﷺ پر دشمن کے اچانک حملہ سے بچانے کے لئے صحابہ رسول کریم ﷺ کا پہرہ دیا کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی کہ میں تمہیں دشمنوں سے بچاؤں گا تو آنحضرت ﷺ نے
٢٨
اسی وقت صحابہ کو پہرہ ختم کرنے کا حکم دے دیا کہ اب اللہ تعالیٰ کا وعدہ آگیا ہے۔ اب خود حفاظت کرے گا لیکن یہ صاحب جن کا دعویٰ ہے کہ وہ عین محمدﷺ ہیں۔ نعوذ باللہ! ان کا یہ حال ہے کہ ان کا خدا ان سے وعدے پر وعدے کر رہا ہے بچانے کے، دشمن پر حملہ کرنے کے لیکن مرزا قادیانی ہیں کہ صرف خطرے کا تصور کرتے ہوئے بھی لوٹا پکڑے سارا دن ٹوائلٹ کے چکر لگا رہے ہیں۔
اس کے باوجود اپنی کتاب میں کس تحدی سے بلکہ ڈھٹائی اور بے شرمی سے لوگوں کے سامنے یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں: ”اور ہم ایسے نہیں کہ کوئی موت ہمیں خدا کی راہ سے ہٹادے اور اگرچہ خدا کی راہ میں مجروح ہو جائیں یا ذبح کئے جائیں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم، ص١٥٣، خزائن ج٢١، ص٣٢١) کیا حج اللہ کی راہ میں نہیں؟ کیا حج فرض نہیں؟ کیا حج مرزا قادیانی کے لئے بطور مسیح و مہدی ایک لازمی امر نہیں تھا؟ جس مسیح اور مہدی کو اپنے خدا کے وعدوں کے بعد اپنے ہی کہے ہوئے الفاظ کا پاس ہی نہیں کیا وہ اللہ کا فرستادہ ہو سکتا ہے؟ مرزا قادیانی کے الفاظ مرزا قادیانی پر ہی پلٹاتا ہوں، ایک جگہ پر لکھتے ہیں: ”کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم، ص٢٧، خزائن ج١١، ص٣١١) اب یہ مرزا قادیانی کے خدا اور ان کا اپنا کہا پورا نہ ہوا، موقع ملا بھی، ہمیشہ موجود بھی رہا کہ اپنا کہا پورا کر کے دکھا دیں لیکن بہانہ سازی کر کے ٹالنے کی کوشش کی۔ کیا ابھی مرزا قادیانی یا ان کی گدی چلانے والے ذلت محسوس نہیں کر سکے؟
مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں کہ: ”اور خدا کی طرف سے آپ کو ایک رعب عطا ہوا تھا جس کے سامنے دلیر سے دلیر دشمن بھی کانپنے لگ جاتا تھا۔“ (سیرت المہدی، ج١ ص١٢٥، روایت نمبر١٣٣، مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم اے) لیکن مرزا قادیانی کی زندگی میں ایسی کوئی حقیقی مثال نظر نہیں آتی کہ حقیقی دشمن واقعی کانپنے لگ جاتے تھے۔ ہاں ایسی مثالیں بکثرت ملتی ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے خیالوں سے ہی کانپنے لگ جاتے تھے۔
ایک شخص نے عرض کی کہ مخالف مولوی اعتراض کرتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی حج کو کیوں نہیں جاتے؟“ حضرت صاحب نے اس شخص کو مخاطب کر کے فرمایا، تمام مسلمان علماء اوّل ایک اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ہم حج کر آئیں تو وہ سب کے سب ہمارے ہاتھ پر توبہ کر کے ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہمارے مرید ہو جائیں گے۔ اگر ایسا لکھ دیں اور اقرار حلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔“
(ملفوظات، ج٩ ص٣٦٥)
یہ شرائط مرزا قادیانی کہاں سے لائے؟ شریعت سے؟ کیا احادیث میں مہدی علیہ الرضوان یا مسیح ابن مریم علیہ السلام کے لئے کوئی ایسی بات تحریر ہے؟ کیا کسی آئمہ مجتہد و امام ہمام نے
٢٩
کسی تفسیر تشریح میں یہ شرائط چھوڑی ہیں؟ مرزا قادیانی کے بقول ان کے وقت میں دنیا میں چورانوے (٩٤) کروڑ مسلمان تھے۔ اب ان کے علماء کی تعداد نکالو، سب سے لکھواؤ کہ وہ صرف یہ کہ جب مرزا قادیانی حج کر آئیں گے تو ان کے دوسو دعوے بغیر کسی دلیل، بغیر کسی جواز کے مان کر ان پر ایمان لائیں گے اور مرزا قادیانی اس صورت میں حج کر آتے ہیں۔ اگر ہم تمام دنیا چھوڑ کر ہندوستان بلکہ پنجاب کے علماء ہی سے لکھواتے تو مرزا قادیانی کی کئی عمریں چاہیے ہوتیں۔ اس لئے مرزا قادیانی نے بھی ایسی شرط رکھی کہ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ کیا ایسی دجلیہ شرط پیش کرنے والا شریف آدمی بھی ہوسکتا ہے کجا اتنی بڑی حیثیتوں کا دعویدار؟ فاعتبرو یا اولی الابصار۔
مرزا قادیانی مکہ معظمہ سے خدائی حکم نامہ کے تحت حج قادیان منتقل کر رہے ہیں، لکھتے ہیں: ”لوگ معمولی (حج کے لئے لفظ معمولی پر غور فرمائیے۔ ناقل) اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ (قادیان۔ ناقل) نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطرہ۔ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔“ (آئینہ کمالات اسلام، ص ٣٥٢، خزائن ج ٥ ص ٣٥٢) کیا ایک مسلمان خانہ کعبہ کو چھوڑ کر کہیں اور حج کرنے کا سوچ بھی سکتا ہے؟ افلا تدبرون!
قرآن کریم
فرمان مرزا ہے کہ: ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی، ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
مرزا قادیانی کا بیٹا اس کی تائید میں لکھتا ہے کہ: ”اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا اپنے الہامات کو کلام الٰہی قرار دیتے ہیں اور ان کا مرتبہ بلحاظ کلام الٰہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور تورات اور انجیل کا۔“
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(تذکرہ ص ٦٣، ٩٩، تیسرا ایڈیشن، ناشر، الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ)
مرزا قادیانی، اسلام کی ہر چیز پر ناجائز قبضہ کر رہے ہیں، سوچا کہ قرآن کریم پر بھی قبضہ کرو۔ قادیانی دوستو جب آپ لوگ ہمیں بتاتے ہو کہ قرآن کریم خدا کی کتاب ہے اور رسول کریم ﷺ پر نازل ہوا تو اس وقت مرزا قادیانی کے اس حوالے کو جان بوجھ کر چھپاتے ہو یا آپ ٣٠
لوگوں کو علم نہیں؟ بہرحال یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے ہر ایک بات کا علم ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔ جو بھی کرو خدا سے ڈر کر کرو۔
اس سوال کا جواب بھی مرزا قادیانی کا الہام دے دیتا ہے کہ مرزا قادیانی پر قرآن کہاں نازل ہوا؟ الہام ہے: ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ اس کی تفسیر یہ ہے کہ انا انزلنا قریباً من دمشق بطرف شرقی عندالمنارۃ البیضاء کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔“
(تذکرہ ص ٧٤، ٧٥، تیسرا ایڈیشن، ناشر، الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ)
دجل کی انتہا دیکھیں۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ سب سے پہلے مرزا قادیانی ایک جگہ کسی قسم کے سفید منارہ کا انکار کر چکے ہیں (تفصیل کے لئے اس فقیر در مصطفیٰ ﷺ کا مضمون ”چھوڑ دو تم اس۔۔۔ کو دیکھیں) اور اس حدیث کو غریب اور موضوع قرار دے چکے ہیں۔ یہ علیحدہ بات کہ زندگی کے آخری سالوں میں مینار بنوانے کا خیال آیا تو چندے کے لئے اسی حدیث کو بنیاد بنایا! یہاں جب سفید مینارہ بھی، دمشق کیا قادیان میں بھی موجود نہیں تھا تو وہ کونسا سفید مینار ہے جس کا مرزا قادیانی کی وحی میں ذکر ہے۔ قرآن کریم کے مرزا قادیانی پر نزول کے وقت؟ کہ مرزا قادیانی کا خدا اتنا بے خبر ہے یا دیکھ نہیں سکتا کہ مینارہ موجود ہی نہیں لیکن وہ مینارہ کے شرقی طرف کا کہہ رہا ہے؟ کوئی بتائے گا کہ یہ مینارہ کونسا تھا، کہاں اور کس چیز کا بنا ہوا تھا؟ جو صرف مرزا قادیانی اور ان کے خدا کے علاوہ باقی جن و انسان کسی کو بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔
اور قرآن دنیا سے اُٹھانے کے سوال کا جواب بھی مرزا قادیانی نے دے دیا ہے کہ ١٨٥٧ء میں قرآن دنیا سے اُٹھا لیا گیا۔ اس کی تائید مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد، ایم اے جس کا الہامی خطاب قمرالانبیاء ہے۔ اپنی کتاب میں کرتا ہے، لکھتا ہے کہ: ”ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے؟ اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اُٹھ گیا ہے۔ اس لئے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد ﷺ (مراد مرزا قادیانی ہے۔ ناقل) کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن شریف اُتارا جائے ۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٧٣)
مرزا قادیانی اپنی پہلی کتاب میں قرآن کریم کی حفاظت کے وعدے کے متعلق لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ ہم نے ہی اس کتاب کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔۔۔۔ لاکھوں مسلمان اس کے محافظ ہیں اور ہزار ہا اس کی تفسیریں ہیں۔ پانچ وقت اس کی آیات نمازوں
٣١
میں پڑھی جاتی ہیں۔ ہر روز اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم، ص١١٠، خزائن ج١ ص١٠٢، حاشیہ) اب کیا کہیں کوئی ایسی گواہی موجود ہے کہ ١٨٥٧ء کیا ایک دو سال پہلے سے ایک دو سال بعد تک کسی وقت بھی اللہ نے حفاظت کا وعدہ واپس لے لیا اور اس کی تفاسیر غائب ہو گئیں، حفاظ کی یادداشتیں ختم ہو گئیں، نمازوں میں اس کی آیات کی تلاوت بند ہو گئی، گھروں میں روزانہ تلاوت کا خیال ختم ہو گیا؟ یا بتایا جائے کہ کس طریق سے حفاظت کا وعدہ ختم ہوا اور قرآن مجید اُٹھا لیا گیا!! اگر جواب ہاں میں ہے تو شہادت پیش کرنی چاہیے۔ قادیانی جماعت کے تمام فرقوں کو! اور اگر ایسی کوئی شہادت نہیں تو ایسے بے ہودہ خیال کو پھیلانے والے، گمراہ کن عقائد اُٹھانے والے بے بنیاد مذہبی عیار اور دھوکہ باز سے قطع تعلق کرنا چاہیے۔
بات صرف قرآن کریم تک ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ایک نئے کلام کا پیغام ہے۔ ایک نئی وحی کا!
”قرآن کریم کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے۔ یہ میرا ایمان ہے۔ خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے جو خدائے پاک یکتا کے منہ سے نکلا ہے۔ جو یقین عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی وحی پر، موسیٰ علیہ السلام کو تورات اور حضور ﷺ کو قرآن مجید پر تھا۔ میں از روئے یقین ان سے کم نہیں ہوں، جو جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے۔“
(نزول المسیح، ص٩٩، خزائن ج١٨ ص ٤٧٧، ٤٧٨)
جھوٹے تو مرزا قادیانی ہیں ہی اور اپنے آپ کو لعنتی بھی انہوں نے خود ہی بنا لیا ہے۔ ہمیں مزید ان کو جھوٹا، لعنتی یا کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں لیکن اس ایک اقتباس سے ہی کئی نکات یا سوالات سامنے آتے ہیں جن کے صحیح جواب قادیانی جماعت کے پاس نہ ہیں، نہ دے سکی ہے اور نہ ہی دے سکتی ہے۔ یہ جماعت زیادہ سے زیادہ انسان کو تاویلات کے جنگل میں دھکیل کر خود گزرے ہوئے وقت کی طرح سے غائب ہو جاتی ہے۔ کہ اب میرا انتظار کر۔
قرآن کریم ہمیں ہر جگہ دو وحیوں کا بتلاتا ہے۔ اوّل رسول کریم ﷺ سے قبل وحی اور دوم رسول ﷺ کی وحی۔ اس کے بعد کسی وحی نبوت یا رسالت کا نہ تو قرآن کریم میں، نہ ہی احادیث مبارکہ میں ذکر ہے۔ یہ تیسری وحی مرزا قادیانی کہاں سے لے آئے؟ اس کی کوئی صحیح سند؟ ایک جگہ ایک آیت میں لفظ آخرین سے اس قسم کی تاویل نکالتے ہیں لیکن اس سے قبل آیت کے معنی تحریف کر کے اور ایک حصہ چھپا کر، غلط ترجمہ پیش کر کے اپنی تفسیر پیش کرتے ہیں۔ لیکن پورے صحیح ترجمہ کے ساتھ اور نظیر کے ساتھ بات کریں تو بات بنتی ہے۔ ورنہ تفسیر بالرائے، گناہ ہے اور ترجمہ میں تحریف بھی گناہ ہے۔ قادیانی مربیان دجل، تحریف، جھوٹ سے باز رہ کر
٣٢
دہرے گناہوں سے بچیں۔
قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعـ اور وحی آخر کا ذمہ دار ہوں اور تا قیامت وحی رسالـ ہوگی۔ اب اگر اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے تو خود اپنا وعد چاہے وہ دوبارہ قرآن کریم کو ہی نازل کرتا ہے تو اب نئے طور پر نازل کرنے کے لئے حفاظت کا وعـ نہیں کرتا۔ لیکن مرزا قادیانی کہہ رہے ہیں کہ اِن جب ہم مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں یا ٹاک ٹو نظر آتا ہے کہ ان کے (نامعلوم) خدا نے کبھی مرزا قادیانی کو تاویلات کے جوہڑ میں کاغذی نا بھی وعدہ وفا نہیں کرتے تھے۔
اور اس فقرہ پر غور کریں ”میں از روئے ناقصہ کا، دعویٰ ظل (سایہ) ہونے کا، دعویٰ غیر یہاں، سب کچھ بھول کر، واضح طور پر قسم کھا کر نـ شافع دو جہاں، خاتم المرسلین، خاتم النبیین حضرـ اور مرزا قادیانی کی وحی والہامات کی کتاب کا نام ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس ذکر ( مناسبت سے اس کا نام تذکرہ رکھا ہے۔
تسبیح
مرزا قادیانی کو کبھی استغفار پڑھتے یـ استغفار نہیں پڑھا لیکن پڑھنے کی کوئی روایت نہیں خاکسار عرض کرتا ہے کہ: ”میں نے جـ انہوں نے کہا کہ میں نے بھی دیکھا ہے کہ حضرـ صاحب کہتے تھے کہ میں نے آپ کو استغفار پڑھتے کہ میں نے بھی حضرت مسیح موعود کو سبحان اللہ پڑھتے
دہرے گناہوں سے بچیں۔
قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے کہ تاقیامت میں اس کی حفاظت اور وحی آخر کا ذمہ دار ہوں اور تاقیامت وحی رسالت میں نہ تو ایک شوشہ کمی ہوگی اور نہ ہی زیادتی ہوگی۔ اب اگر اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے تو خود اپنا وعدہ توڑتا ہے کہ آخری وحی کے بعد دوبارہ وحی کی۔ چاہے وہ دوبارہ قرآن کریم کو ہی نازل کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ تیرہ سو سال تک حفاظت کی اب نئے طور پر نازل کرنے کے لئے حفاظت کا وعدہ ختم کر دیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کبھی بھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ لیکن مرزا قادیانی کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے پورے نہیں کرتا۔ حالانکہ جب ہم مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں یا ٹامک ٹوئیوں کا انجام دیکھتے ہیں تو ہر پیشین گوئی میں واضح نظر آتا ہے کہ ان کے (نامعلوم) خدا نے کبھی بھی مرزا قادیانی کے ساتھ وعدہ وفا نہیں کیا اور مرزا قادیانی کو تاویلات کے جوہڑ میں کاغذی ناؤ چلانی پڑی! شاید اسی کے اثر سے مرزا قادیانی بھی وعدہ وفا نہیں کرتے تھے۔
اور اس فقرہ پر غور کریں ”میں از روئے یقین ان سب سے کم نہیں ہوں۔“ دعویٰ نبوت ناقصہ کا، دعویٰ ظل (سایہ) ہونے کا، دعویٰ غیر مستقل نبوت کا، دعویٰ مثیل کا، اس کے باوجود یہاں، سب کچھ بھول کر، واضح طور پر قسم کھا کر نہ صرف دوسرے انبیاء کرام بلکہ نبیوں کے سردار، شافع دو جہاں، خاتم المرسلین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی برابری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور مرزا قادیانی کی وحی والہامات کی کتاب کا نام تذکرہ ہے اور یہ نام بھی حقیقتاً قرآن کریم کا ہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس ذکر (قرآن مجید) کو ہم نے نازل کیا ہے اور اس کی مناسبت سے اس کا نام تذکرہ رکھا ہے۔
تسبیح
مرزا قادیانی کو کبھی استغفار پڑھتے نہ دیکھا گیا نہ سنا گیا۔ اس قسم کی روایتیں ہیں کہ استغفار نہیں پڑھا لیکن پڑھنے کی کوئی روایت نہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ: ”میں نے جب یہ روایت مولوی شیر علی صاحب سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے بھی دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود سبحان اللہ بہت پڑھتے ہیں اور مولوی صاحب کہتے تھے کہ میں نے آپ کو استغفار پڑھتے کبھی نہیں سنا تھا، نیز خاکسار اپنا مشاہدہ عرض کرتا ہے کہ میں نے بھی حضرت مسیح موعود کو سبحان اللہ پڑھتے سنا ہے۔“
(سیرت المہدی، ج١ص٣، روایت نمبر١)
٣٣
اللہ تعالیٰ سے ہر وقت مغفرت اور بخشش مانگنے کی دعا، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بندے کو خود سکھائی ہے اور ایک مہدی جس نے خود استغفار نہیں پڑھنا وہ دوسروں کو کیا سکھائے گا۔ ایک آدھ خطوط میں مرزا قادیانی نے کسی کو مشورہ دیا ہے استغفار پڑھنے کا، مگر جب قادیانی حضرات اس قسم کی روایات مرزا قادیانی کی دیکھیں گے تو کون استغفار کی طرف جائے گا؟ مرزا قادیانی نے جہاں اسلام کی بہت سی باتوں کا مذاق اُڑا دیا اور کھلی تحریف کے جال ڈال دیئے تو ایک استغفار کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرتے ہوئے مرزا کو کیا پرواہ ہو سکتی ہے؟
مرزا قادیانی کی وحی ان کو بتا رہی ہے کہ وہ نا صرف درود کے حق دار ہو گئے ہیں بلکہ صلحاء ابدال حتیٰ کہ اللہ بھی عرش سے درود بھیج رہا ہے اور وہ بھی رسول کریم ﷺ کی ذات اقدس کو نکال کر۔ مرزا قادیانی کی وحی ہے: ”یصلون علیک صلحاء العرب وابدال الشام، وتصلی علیک الارض والسماء ویحمدک اللہ من عرشہ۔ ترجمہ: تجھ پر عرب کے صلحاء اور شام کے ابدال درود بھیجیں گے۔ زمین و آسمان تجھ پر درود بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔“
(تذکرہ، ص٦٦٢ طبع سوم، ناشر، الشرکۃ ربوہ)
اسلامی تعلیمات یہ کہتی ہیں کہ کوئی بھی درود رسول پاک ﷺ کے نام کے بغیر مکمل نہیں لیکن یہاں کتنی پرکاری سے الہام کے نام پر رسول پاک ﷺ کا نام باہر نکالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایسے اور بھی الہام ہیں یہاں ایک آدھ مثال ہی پیش کی جاسکتی ہے۔
حب صحابہؓ
رسول کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے مجھ پر اور میرے صحابہؓ پر تنقید کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں سمجھے۔ ہر اچھا مسلمان اس حدیث پر یقین کرتا ہے اور اپنے زبان و قلم کو کسی ایسی آلودگی سے بچاتا ہے لیکن مرزا قادیانی اس مقام پر سے بھی حسب عادت توہین کے قلمی بلڈوزر چلاتے ہوئے گزرتے ہیں۔
لکھتے ہیں: ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات، ج٣ ص٢٧٨) مرزا قادیانی کی اس تعلیم و ارشاد کے نتیجہ میں ان کے مریدان باصفا کی روحانیت کیسی زہریلی ہوئی؟ اگلا حوالہ اس کا کافی و شافی جواب دے رہا ہے اور ایسے جواب جماعت میں بالعموم ہیں۔
٣٤
قادیانی مذہب کا دوسرا بڑا فرقہ ”احمدیہ انجمن اشاعت اسلام“ المعروف ”لاہوری جماعت“ کیا لکھتی ہے۔ ممکن ہے ”ربوی فرقہ“ کہے کہ یہ لاہوریوں کے خیالات ہیں تو وہ غلط ہیں، وہ ”ربوی گروہ“ کے خیالات بیان کر رہے ہیں۔ ذاتی اور طویل تجربہ بھی ہے کہ ربوی گروہ کے یہی خیالات ہیں۔ مضمون نگار لکھتے ہیں: ”ابوبکرؓ وعمرؓ کیا تھے وہ تو حضرت غلام احمد (مرزا قادیانی، ناقل) کی جوتیوں کے تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہ تھے“
(ماہنامہ المہدی، بابت جنوری، فروری ١٩١٥ء، نمبر ٢، ٣، ص ٥٧، احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور)
ویسے لاہوری گروپ بھی مرزا کی ہر بات کی تائید کرتا ہے اور مذہبی دکانداری چلانے کے لئے سوائے ایک دو مصنوعی اختلافات کے دونوں میں کوئی فرق نہیں اور ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں۔
محسن اُمت بلکہ انسانیت، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی سب سے زیادہ احادیث جمع کرکے اور بیان کرکے رہتی دنیا تک مسلمان اُمت پر احسان کیا، ان کے بارے میں مرزا قادیانی کس طرح اپنے قلم کی جولانیاں دکھا رہے ہیں، لکھتے ہیں: ”ابو ہریرہؓ غبی تھا، درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔“ (اعجاز احمدی، ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧) ان کے علاوہ بھی ایسے حوالے بے شمار ہیں لیکن یہاں تو بطور نمونہ ہم چند باتیں بیان کر رہے ہیں۔
قادیانی حضرات اگر باضمیر ہوکر سوچیں تو ان کو سوال کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ خود بخود جواب ان کے سامنے ہے کہ جس پاک ہستی سے ١٤٠٠ سال میں سب سے زیادہ اپنے آپ کو محبت اور عشق میں خود کو فنا قرار دے رہے ہو اس کے ہر لمحہ قریب رہنے اور قربانیاں دینے والے اصحاب کے لئے کس زبان، کس لہجہ اور کس قلم سے یہ لکھ رہے ہو۔ کیا عاشقِ رسول ﷺ کا یہ طریق کار کہیں کسی مومن کا بھی کسی نے دیکھا ہے، کجا بزرگانِ دین کا؟
میرے خیال میں حضرت ابو ہریرہؓ سے جو احادیث مروی ہیں ان احادیث مبارکہ کے مقابل پر مرزا قادیانی کے دعوٰی جات رکھے جائیں تو مرزا قادیانی کے دعوے اس طرح پگھل کر گندی رو میں بہہ جائیں گے جیسے کہ کیچوے پر نمک ڈالو تو وہ سیکنڈوں میں گل کر بدبودار پانی کی طرح رہ جاتا ہے۔ اس وجہ سے مرزا قادیانی حضرت ابو ہریرہؓ سے بھی دل میں دشمنی محسوس کرتے تھے۔ فاعتبرو یااولی الابصار
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی عزت
مرزا قادیانی نے مکہ معظمہ کے مقابل قادیان میں حج کرنا زیادہ ثواب کی نیکی قرار دے دیا۔ قرآن (پتہ نہیں کونسا لیکن مسلمانوں کا قرآن مجید نہیں) بھی قادیان میں نازل کر دیا۔
٣٥
اب قادیان کو کچھ فضیلت بھی تو عطا کرنی ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کن فیکون والی طاقت استعمال کرتے ہوئے قادیان کو محترم بنادیا۔
اپنی ایک نظم میں لکھتے ہیں: ”زمین قادیان اب محترم ہے۔ ہجوم خلق سے ارض حرم ہے۔“
(درثمین، ص ٢٥، مرزا قادیانی)
حدیث رسول ﷺ
”کیا آنحضرت ﷺ کی ان لوگوں کو وصیت تھی کہ میرے بعد بخاری کو ماننا؟ بلکہ آنحضرت ﷺ کی وصیت تو یہ تھی کہ کتاب اللہ کافی ہے۔ ہم قرآن کے بارے میں پوچھے جائیں گے نہ کہ زید اور بکر کے جمع کردہ سرمایہ کے بارے میں۔ یہ سوال ہم سے نہ ہوگا کہ تم صحاح ستہ وغیرہ پر ایمان کیوں نہ لائے۔ پوچھا تو یہ جائے گا کہ قرآن پر ایمان کیوں نہ لائے۔“
(ملفوظات، ج ٣ ص ١٥١)
یہ بات کر کے سب سے پہلے نمبر پر تو مرزا قادیانی اپنے ہی اس قول کے مصداق بنتے ہیں: ”کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو، جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٨)
دوسرے نمبر پر رسول کریم ﷺ کو کیسے پتہ ہو سکتا تھا کہ ان کے بعد امام بخاری، امام مسلم اور دوسرے امام ان حدیث کو اکٹھے کریں گے۔ اس سوال کا جواب کہ احادیث رسول ﷺ پر ایمان لانا ضروری ہے یا نہیں؟ خود قرآن کریم دے رہا ہے۔
”کہئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے پیچھے چلو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔“
(ال عمران) اس آیت میں رسول کریم ﷺ کے پیچھے چلنے کا کیا مطلب ہے، کیا کوئی انسان بقائمی ہوش وحواس کہہ سکتا ہے کہ پیچھے چلنے کا مطلب صرف قرآنی آیات ہیں؟ اور کیا ان کے اقوال اور عمل بھی شامل ہیں یا نہیں؟
پھر اس قرآنی آیت کا کیا جواب دیں گے: ”اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر اس واسطے کہ اس کے حکم پر چلا جائے اللہ کے فرمان سے۔“ (نساء)
”لیکن قرآن شریف ایسے احتمالات سے پاک ہے۔ آنحضرت ﷺ کی زندگی قرآن شریف تک ہی ہے۔ پھر آپ فوت ہو گئے۔ اگر یہ احادیث صحیح ہوتیں اور مدار ان پر ہوتا تو آنحضرت ﷺ فرما جاتے کہ میں نے حدیث جمع نہیں کیں۔ فلاں فلاں آوے گا تو جمع کرے گا تم ان کو ماننا۔“
(ملفوظات ج ٣ ص ١٥١)
٣٦
صرف اس ایک فقرہ کا تجزیہ کر کے بات یہیں محدود نہیں رہتی کہ مرزا قادیانی احادیث کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے مدعی ہیں بلکہ وہ تو یہاں تک دھوکہ باز ہیں
اعتکاف
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا، حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں کیا، زکوٰۃ نہیں دی، تسبیح نہیں پڑھی تہجد کبھی نہیں پڑھی، خاکسار عرض کرتا ہے کہ ...... اور یہ سب باتیں پہلے کرتے ہوں گے مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلبی جہاد اور دماغی مصروفیت کی وجہ سے یہ سب کام اعتکاف سے مقدم ہیں۔“ (سیرت المہدی، حـ
یہ تو تھی مرزا قادیانی کی خود ساختہ ماموریت
اب دیکھیں کہ ان کے بیٹے نے ”اعتکاف ماموریت سے قبل بڑی اچھی توجیہ کی ہے۔ مرزا قادیانی کی سوانح یا تحریروں میں کہیں بھی ذکر نہیں کہ یہ مجاہدے، ریاضتیں وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے کوئی دینی مشقت اٹھائی ہو، وہ تو ایسی تکلیفوں، پابندیوں میں نہیں پڑتے، جن کو ایک عام مسلمان برداشت کرتا ہے۔ اور ساتھ ہی اتنا جاہل ہو کہ قلم پکڑ کر کاغذ کالے کرے
اسی لئے تو ان کے بیٹے ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی دن میں سو دفعہ پاخانہ جانے والے بھی کبھی ایسی ریاضتیں کرتے ہیں؟ ذرا آپ ان کی زندگی کا مطالعہ کر کے دیکھیں تو زیادہ وقت ان کا ٹوائلٹی جہاد میں گزرا
جنازہ
مرزا محمود نے لکھا ہے کہ ”قاضی سید امیر حسین صاحب کا جنازہ پڑھانے کے لئے حضور وہاں مسجد میں تشریف لے گئے اور خود ہی جنازہ پڑھا تھا، حالانکہ امام صاحب بھی وہاں موجود ہوتے تو خود ہی امامت کرتے، اس وقت بھی وہ موجود نہیں تھے۔ بعد سلام کسی نے عرض کی کہ حضور! میں نے بھی اس کا جنازہ پڑھ دیا ہے۔“
صرف اس ایک فقرہ کا تجزیہ کرنے بیٹھیں تو بات بہت دور نکل جائے گی۔ بات اس وقت یہیں محدود رکھی جاتی ہے کہ مرزا قادیانی کے دل میں احادیث مبارکہ کی جو قدر ہے ان کی احادیث کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے بھی اعترافات موجود ہیں۔ یہ سب تحریریں ہمیں واضح پیغام دے رہی ہیں کہ دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا۔
اعتکاف
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں کیا، زکوٰۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی، میرے سامنے ضب یعنی گوہ کا گوشت کھانے سے انکار کیا، خاکسار عرض کرتا ہے کہ ....... اعتکاف ماموریت کے زمانہ سے قبل غالباً بیٹھے ہوں گے مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلمی جہاد اور دیگر مصروفیت کے نہیں بیٹھ سکے۔ کیونکہ یہ نیکیاں اعتکاف سے مقدم ہیں۔“
(سیرت المہدی، ج ٣ ص ٢٣٣، روایت نمبر ٦٧٢، مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا قادیانی کی خود ساختہ ماموریت کے بعد کا اعتراف تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں مگر ان کے بیٹے نے ”اعتکاف ماموریت سے قبل غالباً بیٹھے ہوں گے“ لکھ کر باپ کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ مرزا قادیانی کی سوانح یا تحریروں میں کہیں نہیں کہ وہ کبھی بھی اعتکاف بیٹھے ہیں۔ مجاہدے، ریاضتیں وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے اپنے اللہ کو راضی کرنا ہوتا ہے، وہ لوگ کبھی بھی ایسی تکلیفوں، پابندیوں میں نہیں پڑتے، جن کا کوئی نامعلوم خدا ان کے کاغذوں پر دستخط کرے اور ساتھ ہی اتنا جاہل ہو کہ قلم چھڑک کر کپڑے بھی خراب کر دے۔ ویسے بھی یہی بیٹے اس کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی دین میں ہمیشہ سہل راستہ پسند کرتے تھے“ تو سہل راستوں والے کبھی کبھی ایسی ریاضتیں کرتے ہیں؟ نیز اگر مرزا قادیانی کے اپنے بیانات، اعترافات کو دیکھیں تو زیادہ وقت ان کا ٹوائلٹی جہاد میں ہی گزرتا تھا، اب اعتکاف کے لئے کیا وقت نکالتے۔
جنازہ
”قاضی سید امیر حسین صاحب کا چھوٹا بچہ فوت ہونے پر جنازے کے ساتھ حضرت مسیح موعود بھی تشریف لے گئے اور خود ہی جنازہ پڑھایا۔ عموماً جنازے کی نمازیں حضرت مسیح موعود اگر موجود ہوتے تو خود ہی امام کرتے ، اس وقت نماز جنازہ میں شامل ہونے والے دس پندرہ آدمی ہی تھے۔ بعد سلام کسی نے عرض کی کہ حضور میرے لئے بھی دعا کریں۔ فرمایا، میں نے تو سب کا ہی جنازہ پڑھ دیا ہے۔“
(ذکر حبیب، ص ١٦١، از مفتی محمد صادق قادیانی)
٣٧
میرے خیال میں ان مریدوں نے چندہ یا بیعت نہیں دیا ہوگا اس لئے غصہ میں سب کا جنازہ پڑھ دیا لیکن ہمیں روایات سے یہ بھی ملتا ہے کہ حکیم نورالدین نے مرزا قادیانی کو پیچھے کر کے اپنے بچے کا جنازہ خود پڑھایا۔
مسجدوں سے کراہت
اعتراف مرزا قادیانی کہ وہ مسجدوں سے کراہت کرتے ہیں، لکھتے ہیں کہ: ”یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ میں ہمیشہ اپنے سفر کے دنوں میں مسجدوں میں حاضر ہونے سے کراہت ہی کرتا ہوں۔“
(فتح اسلام ص ٤١، خزائن ج ٣ ص ٢٥، حاشیہ)
ایک عام مسلمان بھی زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں سفر کے دوران مسجدوں میں نہیں جاتا، وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن کوئی مسلمان مسجد جو کہ خدا کا گھر ہے اس کے لئے کبھی بھی کراہت کا لفظ استعمال نہیں کرے گا۔ مسجد سے کراہت کا اظہار صرف ایک ایسا شخص ہی کر سکتا ہے جس کے دل میں اللہ تعالیٰ، رسول کریم ﷺ، اسلام اور مسلمانوں کے لئے بغض اور دشمنی بھری ہو۔
دیانت
مرزا قادیانی کی بھی تقریباً یہی عمر تھی، مگر شادی شدہ تھے اور دو بچوں کے باپ تھے، اس کا مطلب ہے کہ برے بھلے کی تمیز تھی۔ مرزا قادیانی کے والد نے ان کو انگریزوں کے سرکاری خزانے سے اپنی سالانہ پنشن لینے کے لئے بھیجا جو کہ سات سو روپے تھی اور یہ پنشن ان کے خاندان کا کئی ماہ کا خرچ تھا اور خاندان میں مرزا قادیانی کے والدین، ان کے بھائی اور ان کے بیوی بچے، مرزا قادیانی کے اپنے بیوی بچے، اس کے علاوہ غالباً کچھ اور لوگ بھی متعلقین میں شامل تھے۔
مرزا قادیانی نے پنشن وصول کی اور چند دن میں ادھر ادھر اڑا دی اور اس کے بعد شرمندگی کی وجہ سے گھر میں نہیں آئے اور سیالکوٹ جا کر ملازمت کر لی۔
ان کے بیٹے نے جو روایت لکھی ہے وہ اس طرح ہے۔ ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا، پھر جب سارا روپیہ اس نے اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے گھر واپس نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اس لئے
٣٨
آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخ
(سیرت المہدی، ج
مرزا قادیانی کی عمر اس وقت اندازاً ١ زمانے کے مطابق پڑھے لکھے تھے۔ بقول مرزا قا بھائی تھا جن کے ساتھ گھر کی دیواریں بھی ملی ہوئی اچھی طرح جانتے تھے۔ اس لئے پھسلانے والی با حرکت پر پردہ ڈالنے کے لئے یا جواز دینے کے لئے
دوسری بات ہے کہ مرزا قادیانی کے چچازاد بھائی ”ادھر ادھر کی جگہوں کا ماہر تھا۔ اس لی یہ علیحدہ بات کہ اتنی جلدی پیسہ اڑ جائے گا، اس کا مر مرزا نے باپ کی امانت میں خیانت ک چندوں میں اڑا دی۔ اس زمانہ میں سونا ٥ یا ٦ رو میں یہ رقم کم و بیش تمیں سے چالیس لاکھ روپے ب بجانب ہیں کہ یہ رقم ناجائز امور میں خرچ ہوئی، کیو ان کا اپنے گھر (بیوی) سے تعلق ختم ہو گیا تھا اور اپ دن میں اتنی رقم خرچ کرنے کے بعد شرم سے ح جوتے مار کر نکال دیتے۔
لیکن مرزا قادیانی کو اپنی بیوی اور معص ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے۔ یہ تو اپنے بچو مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ ماں کی کم تعالیٰ نے جن کو بھی نبی بنایا ان کو شروع سے قا مرزا قادیانی کی زندگی کا صرف ایک یہی واقعہ مرزا قادیانی بجائے اللہ کی حفاظت میں شیطان ک
صفائی
اب مرزا قادیانی کی اپنی بیان کردہ
آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔“
(سیرت المہدی، ج ١ ص ٣٨، روایت نمبر ٤٩، مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا قادیانی کی عمر اس وقت اندازاً ٢٥ برس کی تھی۔ دو بچوں کے باپ تھے۔ اس زمانے کے مطابق پڑھے لکھے تھے۔ بقول مرزا قادیانی کے ان کو پھسلانے والا ان کا سگا چچازاد بھائی تھا جن کے ساتھ گھر کی دیواریں بھی ملی ہوئی تھیں اور جس کی خصلتوں کو مرزا جی یقیناً بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ اس لئے پھسلانے والی بات دل کو نہیں لگتی بلکہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اپنی حرکت پر پردہ ڈالنے کے لئے یا جواز دینے کے لئے اس کا نام لیا جارہا ہے۔
دوسری بات ہے کہ مرزا قادیانی کے خاندانی حالات سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ چچازاد بھائی ”ادھر ادھر کی جگہوں کا ماہر تھا۔ اس لئے غالباً ان کو رہنمائی کے لئے ساتھ لیا گیا ہوگا۔ یہ علیحدہ بات کہ اتنی جلدی پیسہ اڑ جائے گا، اس کا مرزا قادیانی کو اندازہ نہ ہو۔
مرزا نے باپ کی امانت میں خیانت کی اور ادھر ادھر ناجائز امور میں ٧٠٠ روپے کی رقم چند دن میں اڑا دی۔ اس زمانہ میں سونا ١٥ یا ١٦ روپے تولہ (اندازاً ١٠ گرام) ہوتا تھا۔ آج کے دور میں یہ رقم کم و بیش تیس سے چالیس لاکھ روپے کے درمیان بنتی ہے۔ ہم یہ یقین کرنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ رقم ناجائز امور میں خرچ ہوئی، کیونکہ بقول مرزا قادیانی کے بیس برس کی عمر سے ہی ان کا اپنے گھر (بیوی) سے تعلق ختم ہو گیا تھا اور ایسے موقعوں پر جوانی یقیناً دیوانی ہوسکتی ہے اور چند دن میں اتنی رقم خرچ کرنے کے بعد شرم سے واپس گھر کیسے آسکتے تھے؟ اور ویسے بھی گھر سے جوتے مار کر نکال دیتے۔
لیکن مرزا قادیانی کو اپنی بیوی اور معصوم بچوں کا بھی خیال نہیں آیا۔ حالانکہ کہتے ہیں کہ ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے۔ یہ تو اپنے بچوں کے بھی سگے نہیں نکلے۔ (بلکہ سگ نکلے)
مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ ماں کی کوکھ سے ہی نبی پیدا ہوا۔ اگر واقعی یہ سچ ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے جن کو بھی نبی بنایا ان کو شروع سے ہی ہر ایسی بات سے محفوظ رکھا اور پاک رکھا لیکن مرزا قادیانی کی زندگی کا صرف ایک یہی واقعہ نہیں اور بھی بے شمار واقعات ہیں جہاں ہمیں مرزا قادیانی بجائے اللہ کی حفاظت میں شیطان کے ہاتھوں کھیلتے نظر آتے ہیں۔
صفائی
اب مرزا قادیانی کی اپنی بیان کردہ حقیقت بھی پڑھئے: ”اور بسا اوقات سوسو دفعہ رات
٣٩
کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں، وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“
(اربعین ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)
اس پر مستزاد مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔“
(ملفوظات، ج ٢ ص ٢٧٦)
دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے اور اکثر دست آتے رہنا، یہ بیماری تقریباً بیس برس سے ہے۔“
(نسیم دعوت، ص ٦٩، ٧٠، خزائن ج ١٩ ص ٣٤٤، ٣٤٥)
ایک واقعہ مرزا قادیانی کی سیرت کی ایک کتاب میں لکھا ہے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہو جائے گا کہ عوام تک کیسی کیسی کہانیاں پہنچتی تھیں اور وہ ان کے معیار صفائی، طہارت اور پاکیزگی کو کن الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ مصنف نے بھی وہ الفاظ بعینہ استعمال کئے۔ بعد کے ایڈیشن میں سے ”جسم کے ایک حصہ کے ننگے نام کو جو کہ ’لوڑا‘ کے وزن پر ہے لکھنے کی بجائے جگہ خالی چھوڑ دی ہے۔ اکثر جلوت اور خلوت میں رہنے والے مصنف لکھتے ہیں: ”اس شخص نے کہا کہ کیا ہم یہودی ہیں۔ میں نے کہا کہ تم اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو کہ تمہارے قول اور فعل کس سے ملتے جلتے ہیں۔ اس بات پر وہ شخص سخت غضبناک ہو کر کہنے لگا، دیکھو جی مرزا رات کو لگائی سے بدکاری کرتا ہے اور صبح کو بے غسل۔۔۔۔ بھرا ہوا ہوتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا، وہ الہام ہوا۔ میں مہدی ہوں، میں مسیح ہوں۔“ (تذکرۃ المہدی، ص ١٧٥، مصنفہ پیر سراج الحق نعمانی) اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا۔ کہتی خلق خدا مجھ کو غائبانہ و حاضرانہ کیا کیا ؟
لباس
ایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب سے کسی نے اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود۔۔۔۔ کی خدمت میں عرض کیا کہ: ”ہمیں چاہیے روزانہ ایک دھویا ہوا کرتہ پاجامہ بدل لیا کریں۔ اس سے زیادہ اپنے اخراجات کو نہ بڑھائیں۔ حضرت صاحب نے اس پر فرمایا کہ ہم تو ہفتے میں ایک بار کپڑے بدلتے ہیں۔“
(ذکر حبیب، ج اول ص ٣١، ٣٢، مصنفہ مفتی محمد صادق)
کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ: ”کوٹ، صدری، ٹوپی، عمامہ رات کو اُتار کر تکیہ کے نیچے رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پر ٹانگ دیتے ہیں وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے چلے جاتے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ یا سلوٹ کا دشمن ان کو دیکھ لیتا تو سر پیٹ لیتا۔“
(سیرت المہدی، ج ٢ ص ٤٩، روایت نمبر ٤٤٧)
٤٠
لباس کے باب میں سب سے آخر میں بیٹے نے لکھا: ”ایک بات کا ذکر کرنا بھول گیا وہ یہ کہ آپ امیروں کی طرح ہر روز کپڑے بدلا نہ کرتے تھے بلکہ جب ان کی صفائی میں فرق آنے لگتا تھا۔“ (سیرت المہدی، ج ٢ ص ٤٢٠، روایت نمبر ٤٤٧) الفاظ کے ہیر پھیر کے باوجود تحریر بتا رہی ہے کہ کم از کم کئی کئی دن کپڑے نہیں بدلتے تھے۔
بیٹے نے سیرت نگاری کرتے ہوئے مزید لکھا ہے: ”بارہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوئے ہوتے تھے بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے۔“ (سیرت المہدی، ص ٤١٧، روایت نمبر ٤٤٧) یہی مرزا قادیانی نے اسلام کے ساتھ کیا ہے کہ اسلام کے کوٹ میں یہودی صدری کے بٹن ٹانک دیئے ہیں۔
”جرابیں پہنتے تھے تو اس کے پاؤں کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر ہو جاتی تھی۔“ (سیرت المہدی، ج ٢ ص ٤٤٢، روایت نمبر ٤٧٨) یہی اسلامی عقائد کے ساتھ کیا ہے کہ ہر چیز اوپر نیچے کر کے اس کو مضحکہ خیز بنا دیا ہے۔
”بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لئے گرگابی ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے۔“ (سیرت المہدی، ج ٢ ص ٤٤٣، روایت نمبر ٤٧٨) ”موسم گرما میں دن کو بھی اور رات کو تو اکثر اپنے کپڑے اتار دیتے اور صرف چادر یا لنگی باندھ لیتے۔
”گرمی دانے بعض دفعہ بہت نکل آتے تو اس کی خاطر بھی کرتہ اتار دیتے۔ تہ بند اکثر نصف ساق تک ہوتا تھا اور گھٹنوں سے اوپر ایسی حالت میں مجھے یاد نہیں کہ آپ برہنہ ہوئے ہوں۔“ (سیرت المہدی، ج ٢ ص ٤١٩، روایت نمبر ٤٤٧) ذرا شرفاء غور کریں کہ پوری پوری رات جوان لڑکیوں سے مختلف خدمات کرواتے تھے، ٹانگیں دبواتے تھے۔ اس حالت میں کہ تہ بند (دھوتی) وہ بھی گھٹنوں سے اوپر باندھ کر۔ چھپے ہوئے ننگے پیر تھے مرزا قادیانی دراصل۔ کوئی حیا کا بھی تقاضا ہوتا ہے یا نہیں؟
اخلاق
اسلام میں اخلاق عبادت کا ہی ایک حصہ ہے۔ مرزا قادیانی کے اپنے اخلاقی ہتھیاروں کی مار سے کوئی نہیں بچ سکا، حتیٰ کہ انبیاء کرام بھی نہیں۔ یہاں صرف اشارۃً ایک دو نمونے کہ مزید کی گنجائش نہیں۔
یہ تسلی کہ: ”خدا وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین ٣ ص ٣٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
٤١
”میری دعوت سب نے قبول کی اور تصدیق کی ماسوائے کنجریوں کی اولاد نے۔“
(آئینہ کمالات اسلام، ص ٥٤٤، خزائن ص ٥٤٧)
”ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“
(انوار الاسلام، ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
مرزا قادیانی نصیحت کرتے ہیں کہ: ”کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو“
(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١)
اور اس نصیحت پر عملدرآمد کرنے کے لئے اپنی ذاتی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں: ”میں نے جوابی طور پر بھی کسی کو گالی نہیں دی۔“
(مواہب الرحمٰن، ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٦)
مرزاجی کے بیٹے بشیر الدین محمود احمد جو بزعم خود مصلح موعود بھی کہلاتے ہیں، لکھتے ہیں کہ: ”اس (مرزا قادیانی) نے ہمارے لئے اخلاقیات اور ضابطہ حیات کا مکمل ذخیرہ چھوڑا ہے، تمام ذی عقل انسانوں کو یہ ماننا پڑے گا کہ ان پر عمل کرنے سے مسیح موعود کی آمد کے مقاصد کی تکمیل ہوسکتی ہے۔“
(احمدیت یا سچا اسلام ص ٥٦)
اب ذرا اس مکمل اخلاق والی زبان کا نمونہ بھی دیکھ لیں۔ مرزا قادیانی انتہائی اخلاق سے لکھتے ہیں: ”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے تو کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔“
(حیات احمد، حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات، ج ٢ ص ٢٥، از یعقوب علی عرفانی، ایڈیٹر الحکم قادیان)
اہل خانہ کے حقوق
رسول کریم ﷺ کی کہی ہوئی ہر بات پر عمل کرنا بھی اسلامی عبادت کا ہی حصہ ہے اس لئے اہل خانہ کے حقوق بھی عبادت کا حصہ ہیں۔ اس کے لئے رسول کریم ﷺ کی حدیث مبارک ہے: ”جو شرائط تم پر پوری کرنی فرض ہیں، ان میں سب سے پہلے وہ شرط (یا شرائط) پوری کرنی لازم ہیں جن سے تم نے اپنے لئے کسی عورت کو حلال کیا۔“ (معذرت، اصل الفاظ اس وقت یاد نہیں صرف مفہوم پیش کردیا ہے۔ ناقل) اور جب ہم حضرت محمد ﷺ کی پاکیزہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی طرف اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق، اپنے اقوال کے مطابق حضور ﷺ کے عمل میں مطابقت دیکھتے ہیں اور کہیں بھی تضاد نہیں پاتے اور ان کا سلوک اپنے اہل خانہ کے ساتھ بھی مثالی
٤٢
تھا کہ آج بھی مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے انصاف پسند لوگ بھی ان باتوں کا برملا اعتراف کرتے ہیں بلکہ ان پر عمل کر کے اپنی زندگی میں خوشیاں بھی بکھیرتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی جن کا دعویٰ ہے کہ نعوذ باللہ وہ عین محمد ﷺ ہیں۔ ان کا اپنے اہل خانہ، عزیز واقارب کے ساتھ کیا تعلقات تھے اور ان کے سیرت نگار ہمیں کیا بتاتے ہیں؟ مرزا قادیانی نے اپنی پہلی بیوی جو کہ ان کی ماموں زاد بھی تھیں، کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ مرزا قادیانی کی گھسیٹی بیگم (والدہ مرزا) کی بھانجی، حرمت بی بی کے ساتھ پندرہ برس کی عمر میں شادی ہوئی۔ پتہ نہیں ایسی کونسی مجبوری پیش آگئی کہ اتنی کم عمری میں ہی شادی کر دی گئی؟ یہ اعتراض کرنے کی بات نہیں بلکہ رحم کھانے کی بات ہے کہ دونوں خاندان پتہ نہیں کس مجبوری کا شکار ہوئے اور اتنے چھوٹے بچوں کو رشتہ ازدواج میں باندھنا پڑا۔
ایک سال کے بعد مرزا سلطان پیدا ہوا۔ اس وقت مرزا قادیانی کی عمر سولہ برس کے قریب تھی۔ بے چارے مرزا قادیانی، اتنی کم عمری میں ایک اور ذمہ داری پڑ گئی جو بے چارے میاں بیوی نبھانے سے قاصر تھے۔ آخر بچے کے بے اولاد تایا تائی نے آگے بڑھ کر ذمہ داری سنبھال لی۔
اس کے تقریباً چار سال بعد دوسرا بیٹا مرزا فضل احمد پیدا ہوا جن کو خاندان میں ”پھجا“ کہتے تھے اور اسی مناسبت سے حرمت بی بی ”پھجے دی ماں“ کے نام سے پکاری جانے لگیں اور مرتے دم تک بلکہ مرنے کے بعد بھی اسی نام سے پکاری جا رہی ہیں۔ اس کے لئے ان کو مرزا بشیر احمد ایم اے کا شکر گزار ہی ہونا پڑے گا کہ انہوں نے اس کو تحریر میں ڈھال دیا۔
مرزا قادیانی کے سیرت نگار بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے کم از کم پچیس سال تک کوئی کام نہیں کیا۔ کتابوں اور مسجد کی آڑ میں چھپ کر بیٹھے رہے۔ اس کے بعد اپنے ابا کی سالانہ پینشن لے کر چند دنوں میں ادھر ادھر اڑا دی اور پھر بیوی بچوں کو ماں باپ کے سر پر چھوڑ کر سیالکوٹ بھاگ گئے۔
مرزا قادیانی کے صحابی سید سرور شاہ کا بیان ہے کہ مرزا قادیانی نے ان کو بتایا کہ ”فضل احمد“ کی پیدائش کے بعد ہمارا اپنے گھر سے کوئی (ازدواجی) تعلق نہیں۔
مرزا قادیانی کے دوسری بیوی سے تیسرے مگر زندہ دوسرے (منجھلے) بیٹے مرزا بشیر احمد، ایم اے اپنی سگی والدہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ
٤٣
صاحبہ نے کہا کہ حضرت مسیح موعود کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور ’پھجے دی ماں‘ کہا کرتے تھے، بے تعلقی سی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔‘‘ (سیرت المہدی جلداول، ص٣٠، روایت نمبر٤١، مرتبہ مرزا بشیر احمد، ایم اے) اس جگہ صرف حقائق بیان کرنا مقصد ہے۔ اس بحث میں نہیں پڑتے کہ ایک ماں اپنی سوکن اور اپنے خاوند کے درمیان مباشرت کی باتیں اپنے بیٹے سے کر رہی ہے، کیسا پاکیزہ ماحول ہوگا اس گھر کا؟
مرزا قادیانی نے خود براہ راست بھی اور مولوی محمد حسین بٹالوی کے ذریعہ بھی دہلی میں شادی کی۔ پتہ نہیں کس طرح یا کس وجہ سے ایک تقریباً پچاس سالہ شخص کی اپنی ہی عمر کے میر ناصر نواب (نواب نہیں تھے صرف نام کا حصہ نواب ہے) کی بیٹی، ایک ١٩سالہ، ناکتخدا، سید گھرانے کی لڑکی سے رشتہ طے ہو گیا۔ رشتے کی منظوری کا خط ملتے ہی مرزا قادیانی نے لوگوں سے پیسہ ادھار پکڑا اور گھر والوں سے خفیہ طور پر دو ملازموں کو لے کر (ایک مسلمان اور ایک ہندو) عازم دہلی ہوئے۔
وہاں جب شادی کے لئے ١٥ افراد کے ہمراہ پہنچے تو نہ زیور، نہ کپڑا، نہ بارات، بس جی دلہن لینے پہنچ گئے۔ روایات میں لکھا ہے کہ ان کے اس طرح شادی کرنے سے دلہن کے والدین کو اپنے رشتہ داروں، لوگوں کے سامنے بڑی شرمندگی اٹھانی پڑی۔
خیر سے جس دن مرزا قادیانی اپنی نئی دلہنیا کے ساتھ قادیان واپس پہنچے تو پتہ چلا کہ اسی دن ان کا بڑا بیٹا مرزا سلطان بھی شادی کر کے اپنی دلہن کے ساتھ قادیان پہنچا تھا۔ کیا مرزا قادیانی اپنی خواہشوں میں اتنے اندھے ہو چکے تھے کہ ان کو اپنی اولاد کی خوشیوں اور حقوق ادا کرنے کا خیال ہی نہیں تھا کہ کب بیٹے کی شادی ہے اور انہوں نے بیٹے کے سر پر سہرا باندھنا ہے، اپنے فرائض ادا کرنے ہیں لیکن اپنی خود غرضی کے اندھے پن میں مرزا قادیانی سب کے اور ہمیشہ جہاں تک ممکن ہوا حقوق پامال ہی کرتے رہے۔ کہتے ہیں ڈائن بھی سات گھر چھوڑتی ہے لیکن یہاں نظر آ رہا ہے کہ مرزا قادیانی نے اولاد کو بھی نہیں بخشا۔
ہمیں دلہن کو گھر میں لانے کے بعد ولیمے کی کوئی روایت نہیں ملی۔ اب پتہ نہیں مرزا قادیانی نے ولیمہ کیا ہی نہیں، ویسے بھی ولیمہ کیا ہوتا؟ یا بیٹے کے ولیمے میں ہی اپنا ولیمہ بھی بھگتا دیا۔
مرزا قادیانی ہمیں بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے شادی کی تو مدت تک وہ اپنی نئی بیوی
٤٤
کے حقوق ادا نہیں کرسکے۔ ان کی اس حالت کا علم ان کے کافی دوستوں کو بھی تھا اور بٹالوی صاحب یا کسی دوسرے دوست نے تشویش کا خط بھی بنام مرزا تحریر کیا تھا۔ یعنی وہاں صلائے عام تھی یارانِ نکتہ دان کے لئے۔
مرزا قادیانی جب دہلی سے دوسری بیوی کو بیاہ کر لائے تو اپنی پہلی بیوی کو جس کے حقوق وہ پچیس سال سے ادا نہیں کر رہے تھے پیغام بھیجا کہ ”پہلے تو جیسا ہوتا رہا، ہوتا رہا، اب میں نے شادی کر لی ہے اگر تمہارے حقوق ادا نہ کروں گا تو گناہ گار ہوں گا یا تو اپنے حقوق چھوڑ دو، تمہیں خرچہ ملتا رہے گا یا پھر طلاق لے لو۔“ (سیرت المہدی جدید ج١ ص٣٠، روایت نمبر ٤١) اس عفیفہ کا جواب آیا کہ اس بڑھاپے میں طلاق یا حقوق کیا لوں گی بس مجھے خرچہ دے دیا کرو۔ مرزا قادیانی نے خرچہ کیا دینا تھا ان کے بیٹے مرزا سلطان نے ہی اپنی ماں کی کفالت سنبھالی۔
مرزا قادیانی نے دوسری شادی کے دو سال بعد ہی اپنے خاندان میں اپنی ایک رشتہ کی تقریباً پندرہ سالہ بھتیجی و بھانجی محمدی بیگم دُختر مرزا احمد بیگ عرف مرزا گاماں سے شادی کرنا چاہی مگر اس خاندان نے انکار کر دیا اور اپنی بیٹی ضلع قصور کے رہائشی مرزا محمد سلطان کے ساتھ مرزا قادیانی کے تمام الہامی ڈراووں کے باوجود بیاہ دی اور مرزا قادیانی کے جھوٹے الہامات وہیں کے وہیں پڑے رہ گئے جس کی وجہ سے مرزا قادیانی کو آج تک بدنامیاں مل رہی ہیں۔
مرزا قادیانی نے اپنی بیوی پھجے دی ماں کو اور دونوں بیٹوں کو مجبور کیا کہ وہ باقی رشتہ داروں کو بھی ساتھ ملا کر محمدی بیگم کے والدین پر اس رشتہ کے لئے دباؤ ڈالیں۔ اگر وہ مرزا قادیانی کی شادی محمدی بیگم سے کروانے میں ناکام رہے تو سنگین نتائج بھگتیں گے اور مرزا قادیانی کے بیوی بچوں نے یہ کام نہیں کیا کیونکہ وہ اس رشتہ کو ایک معصوم بچی پر ظلم سمجھتے تھے کہ ایک باون (٥٢) سالہ بوڑھا جو پہلی دونوں بیویوں کے حقوق ادا کرنے کے قابل نہیں، اب ایک اور لڑکی پر ظلم میں مرزا قادیانی کے شریک نہیں بنے۔
جس دن محمدی بیگم کا قصور کے رہائشی مرزا سلطان سے نکاح ہوا، مرزا قادیانی نے اپنے بڑے بیٹے مرزا سلطان کو دیوث اور دشمن اسلام قرار دے کر عاق کر دیا۔
جس دن شادی ہوئی اسی دن پھجے کی ماں کو طلاق دے دی۔
جس دن شادی ہوئی اسی دن اپنے بیٹے مرزا فضل کو جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی سے مجبور کر کے اس کی بیوی عزت بی بی جو کہ محمدی بیگم کی پھوپھی زاد بہن اور مرزا قادیانی کے برادر نسبتی کی بیٹی تھی، کو تحریری طلاق بھجوادی۔
٤٥
اور باقی رشتہ داروں سے ہمیشہ کے لئے ترک تعلق کی نہ صرف قسم کھائی بلکہ خلاف دستور قسم نبھائی بھی۔ حالانکہ مرزا قادیانی کا اپنا وعدہ نبھانا دستور نہیں تھا۔
کیا نبیوں کا سلوک اور ادائیگی اپنے اہل خانہ سے ایسے ہی ہوتے ہیں؟ اپنا گھر اُجاڑا، اپنے بیٹے کا گھر اُجاڑا، پہلوٹھی کے بیٹے کو عاق کر کے اخباروں میں ٤-٥ صفحات پر مشتمل طویل اشتہارات چھاپے۔ ایسا تو کوئی شریف آدمی سوچ بھی نہیں سکتا، کجا ایسے عمل کرے۔
ساس جو ماں کے برابر ہوتی ہے اور پھر وہ ساس جو کہ قادیانی جماعت کی اُم المومنین کی ماں بھی کہلاتی ہے، اس ماں کے بارے میں مرزا قادیانی کو الہام ہوتا ہے: ”اے عورت تیرے مکر بڑے ہیں۔“ جس اُم کی اُم کے مکر بڑے ہوں گے تو بیٹی اگر آگے نہیں بڑھی یا برابر بھی نہیں تو کم از کم کچھ اثر تو لیا ہوگا قادیانی اُم المومنین نے؟
مرزا قادیانی کے سسر میر ناصر نواب جو کہ محکمہ نہر میں نقشہ نویس تھے، کثیر الاولاد تھے اور مرزا قادیانی کی جب مذہب کی آڑ میں حرکات دیکھیں تو مرزا قادیانی کی حرکتوں سے کافی عرصہ نالاں رہے۔ انہوں نے ایک نظم مرزا قادیانی کی شان میں لکھی۔ بعد میں جب نوکری سے پنشن پا گئے تو مختلف حربوں سے ان کو قابو کر لیا۔ نظم کا کچھ حصہ پیش خدمت ہے۔
نہ عیاں اس میں عیسوی برکت نہ ہدایت کا اس میں نام ونشان
نیک سب اُٹھ گئے زمانہ سے باقی میں نہیں رہی ہے جان
حب دنیا نے گھیر رکھا ہے ہے بہت ہی ضعیف اب ایمان
حب مولیٰ جہاں سے ہے معدوم حرص دنیا میں پھنس گئے انسان
لذتِ نفس میں وہ ہیں سرگرم آج کل ہیں جو پیشوائے جہان
مرغ بریاں کا شوق ہے ان کو ہیں ملائیک خصائل جو انسان
قورمہ اور پلاؤ کھاتے ہیں لوگ کہتے ہیں جن کو قطب زمان
جو ولایت میں ہیں قدم رکھتے ان کے صدقہ پہ ہے فقط گزران
ٹھاٹھ ہیں ان کے سب امیرانہ در دولت پہ ہیں کئی دربان
رات دن ہیں عمارتیں بنتیں مال کرتے ہیں مفت میں ویران
ہائے آتے نہیں نظر وہ لوگ دیکھنے کو ترس گئی دل وجان
ہر صدی میں ہوئے ہیں اہل الحق رہبر خلق وصاحب عرفان
٤٦
(اشاعۃ السنہ، ج ١٣، ٢٤٠، بحوالہ رئیس قادیان ص ٨٨)
مرزا قادیانی کا اپنا اعتراف کہ ان کے لوگ میرے کنبے سے اور میرے اقارب ہیں کہ مکار اور دکاندار خیال کرتے ہیں ۔“
قصبہ کے باسیوں کے ساتھ
مرزا قادیانی کا دعویٰ نعوذ باللہ عین کہتے ہیں کہ: ”آنحضرت ﷺ کو ہمیشہ مخالفوں ص ٦٨) لیکن مرزا قادیانی کو دنیا تو دور کی بات مرزا قادیانی کے بارہ میں کیا خیال ہے؟ عزیزو مرزا قادیانی ہی کی زبانی کہ قادیان کے شہری ان مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”قادیان اشتہار دیا جس کو قریباً دس برس گزر گئے اس اشتہار ہے اور صرف دکاندار ہے۔ لوگ اس کا دھوکہ ن ص ٢٤٥) کیا اس کے باوجود بھی کوئی گنجائش رہتی
رویہ مسلمانوں کے ساتھ
مہدی علیہ السلام آکر تمام مسلمانو برعکس مرزا قادیانی آئے اور ان کی اپنی تحریر کے تھے جن میں سے چند ہزار کو وہ اپنے پیچھے لگا سکے بقیہ دنیا کے مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان س مرزا قادیانی نے مرنے کچھ عرصہ پہلے دعویٰ کیا جا پہنچی ہے لیکن ان کے جنازہ میں جو لاہور میں جماعت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق قادیان مرزا قادیانی نے مسلمانوں سے قطع تعل اس نشانہ بازی میں جو زبان استعمال کی اس کی بے پیش خدمت ہے۔ مرزا قادیانی کی گل پاشیاں م
(اشاعۃ السنہ، ج١٤، ٣٢٠، بحوالہ رئیس قادیان ج دوم، ص٤٨٦، ٤٨٧، مصنفہ مولانا رفیق دلاوری)
مرزا قادیانی کا اپنا اعتراف کہ ان کے اپنا کنبہ وعزیز واقارب ان کو کیا سمجھتے تھے: ”جو لوگ میرے کنبے سے اور میرے اقارب ہیں کیا مرد اور کیا عورت مجھے میرے الہامی دعوے میں مکار اور دُکاندار خیال کرتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٦١)
قصبہ کے باسیوں کے ساتھ
مرزا قادیانی کا دعویٰ نعوذ باللہ عین محمدﷺ ہونے کا ہے، رسول کریمﷺ کے متعلق کہتے ہیں کہ: ”آنحضرتﷺ کو ہمیشہ مخالفوں نے امین اور صادق تسلیم کیا۔“ (ملفوظات، ج٨ ص٦٨) لیکن مرزا قادیانی کو دنیا تو دور کی بات ہے جس قصبہ میں رہتے ہیں اس کے باسیوں کا مرزا قادیانی کے بارہ میں کیا خیال ہے؟ عزیز واقارب کے اقوال کا اعترافی بیان تو پڑھ چکے اب مرزا قادیانی ہی کی زبانی کہ قادیان کے شہری ان کو کیا کہتے ہیں۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”قادیان میں لالہ ملاوا مل نے لالہ شرمپت کے مشورہ سے اشتہار دیا جس کو قریباً دس برس گزر گئے اس اشتہار میں میری نسبت یہ لکھا کہ یہ شخص محض مکار، فریبی ہے اور صرف دُکاندار ہے۔ لوگ اس کا دھوکہ نہ کھائیں۔“ (قادیان کے آریہ اور ہم، ص١١، خزائن٢٠، ص٤٢٥) کیا اس کے باوجود بھی کوئی گنجائش رہتی ہے؟
رویہ مسلمانوں کے ساتھ
مہدی علیہ السلام آکر تمام مسلمانوں کو ایک جھنڈے تلے اکٹھا کریں گے اس کے برعکس مرزا قادیانی آئے اور ان کی اپنی تحریر کے مطابق دنیا میں چورانوے (٩٤) کروڑ مسلمان تھے جن میں سے چند ہزار کو وہ اپنے پیچھے لگا سکے، ان چند ہزار کو مسلمان قرار دے دیا اور حکم دیا کہ بقیہ دنیا کے مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان سے عبادت، رشتہ ناطہ، سماجی تعلقات ختم کرلیں۔ مرزا قادیانی نے مرنے کچھ عرصہ پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ان کو ماننے والوں کی تعداد چار لاکھ تک جا پہنچی ہے لیکن ان کے جنازہ میں جو لاہور میں مرنے کے تیسرے دن، قادیان میں ہوا تھا۔ جماعت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق قادیان کے رہائشیوں سمیت کل بارہ سو آدمی تھے۔
مرزا قادیانی نے مسلمانوں سے قطع تعلق کے لئے سب سے پہلے علماء کرام کو نشانہ بنایا اور اس نشانہ بازی میں جو زبان استعمال کی اس کی بے شمار مثالیں ہیں لیکن یہاں بطور نمونہ ایک آدھ مثال پیش خدمت ہے۔ مرزا قادیانی کی گل پاشیاں دیکھیں ”اور لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا
٤٧
ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے سفیہوں کا نطفہ بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھلانے والا منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص١٤، خزائن ج٢٢ ص ٤٤٥) ہمارے خیال میں یہ دیگ میں سے چاول کا ایک دانہ ہی سارا حال کہہ دیتا ہے۔
اپنے مریدوں کو سمجھاتے ہیں کہ: ”خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔“ (تذکرہ، ص ٣٨٩، طبع ٣) قادیانی جماعتیں اکثر یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ پہلے مسلم علماء نے ایسے فتوے دیئے اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے یہ فتوے دیئے لیکن یہاں تو مرزا قادیانی ایسے فتووں کا منبع اپنی وحی کو بتا رہے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ نے مہدی اور مسیح کو اس لئے بھیجنا ہے کہ وہ آ کر تمام دنیا کو اسلام کے جھنڈے تلے لائے گا یا موجود مسلمانوں کو بھی کافروں کے ساتھ ملا کر جائے گا؟
مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد، ایم اے نے اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: ”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں، ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ان کے ساتھ مل کر ہم کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی اور دوسری دنیوی ...... سو یہ دونوں تعلق ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔“ (کلمۃ الفصل، ص١٦٩، از مرزا بشیر احمد ایم اے پسر مرزا قادیانی) مرزا قادیانی کے بیٹے نے باپ کی مزید تصدیق کر دی۔
اور بڑا بیٹا جو کہ مصلح موعود ہونے کا بھی دعویدار تھا اور جماعت کا دوسرا خلیفہ بھی، اس کا کہنا ہے: ”کل مسلمان جو حضرت ...... مرزا کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“ (آئینہ صداقت، ص ٣٥، از بشیر الدین محمود، ٢٦ نومبر ١٩٢١ء، اسلامیہ سٹیم پریس لاہور) یہ حوالے قادیانی جماعت کے سوچنے کے لئے ایک وسیع بنیاد رکھتے ہیں۔
رویہ دوسرے مذاہب کے ساتھ
مرزا قادیانی آریوں کے خدا کے متعلق فرماتے ہیں: ”آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگل نیچے ہوتا ہے، سمجھنے والے سمجھ جائیں۔“
(چشمہ معرفت ص ١٠٦، خزائن ج ٢٣ ص١١٤)
عیسائیت کے متعلق ارشاد ہے: ”اس مذہب کی بنیاد محض ایک لعنتی لکڑی پر ہے جس کو دیمک کھا چکی ہے۔“
(ملفوظات ج ٨ ص ١٤٧)
٤٨
دعوے
مرزا قادیانی کے دعووں اور ان ب انسان اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ یہ شخص یا مخبو تھے ہی مگر ان کے ہدایتکار ان سے بھی بہت آ کے ذریعہ اپنے مقاصد کو آگے بڑھایا اور اب ہم اپنے مؤقف کی وضاحت کے لئے کہ کس اور دعووں میں آگے بڑھے (یا بڑھائے گئے پیش خدمت ہیں۔
ایک رات میں بے مثال روحانی موعود علیہ السلام ایک سفر کے دوران گورداسپو گیا کہ مولانا مولوی عبداللہ غزنویؒ کا زمانہ و کہ ایک آسمانی کشش آپ کے اندر کام کرر پھر ایک ہی رات میں آپ کے اندر بے مثال
چنانچہ خود فرماتے ہیں: ”وہی ایک اصلاح کر دی اور مجھ میں ایک ایسی تبدیلی وا سے نہیں ہو سکتی تھی۔“ (بحوالہ نزول المسیح ص شیطان کے ارادے سے تو ہو سکتی ہے نا اور وہی ہوئی
اس جگہ جو انتہائی اہم نکات ہیں کی حقیقت بہت جلد واضح ہو جائے گی۔ مرز بتمام کمال اصلاح کر دی گئی۔ اس کا مطلب بھی تھے آئندہ نبی اللہ ہوں گے۔ ورنہ اور کو
اس بات سے اندازہ ہوتا ہے اوّل اس بات کے قائل تھے: ”اور گو وحی رس آنحضرت ﷺ کے با اخلاص خادموں کو ہوب (
دعوے
مرزا قادیانی کے دعووں اور ان کے جواز کو ایک سرسری نظر سے دیکھ کر ہی ایک سمجھ دار انسان اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ یہ شخص یا مخبوط الحواس ہے یا پھر انتہائی مکار لیکن مرزا قادیانی مکار تو تھے ہی مگر ان کے ہدایتکار ان سے بھی بہت آگے تھے۔ انہوں نے بڑے طریقے سے مرزا قادیانی کے ذریعہ اپنے مقاصد کو آگے بڑھایا اور اب ان کی نسلوں کے ذریعہ اس کو چلا رہے ہیں۔ یہاں ہم اپنے مؤقف کی وضاحت کے لئے کہ کس طرح بتدریج مرزا قادیانی نے دعووں کا سفر شروع کیا اور دعووں میں آگے بڑھے (یا بڑھائے گئے) اس جگہ ان کے اقرار و انکار کے دجل کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
ایک رات میں بے مثال روحانی انقلاب:۔ غالباً اسی سال کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک سفر کے دوران گورداسپور میں تشریف فرما تھے کہ آپ کو ایک خواب میں دکھایا گیا کہ مولانا مولوی عبداللہ غزنویؒ کا زمانہ وفات قریب ہے، آنکھ کھلنے کے بعد آپ نے محسوس کیا کہ ایک آسمانی کشش آپ کے اندر کام کر رہی ہے۔ یہاں تک وحی الٰہی کا سلسلہ جاری ہو گیا اور پھر ایک ہی رات میں آپ کے اندر بے مثال روحانی انقلاب برپا ہو گیا۔
چنانچہ خود فرماتے ہیں: ”وہی ایک رات تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے بتمام و کمال میری اصلاح کر دی اور مجھ میں ایک ایسی تبدیلی واقع ہوگئی جو انسان کے ہاتھ سے یا انسان کے ارادے سے نہیں ہو سکتی تھی۔“ (بحوالہ نزول المسیح ص ٢٢، خزائن ج ١٨ ص ٦١٥) لیکن شیطان کے ہاتھ سے اور شیطان کے ارادے سے تو ہو سکتی ہے نا اور وہی ہوئی!
اس جگہ جو انتہائی اہم نکات ہیں ان کو ذہن میں رکھ کر چلیں تو مرزا قادیانی کے دعوؤں کی حقیقت بہت جلد واضح ہو جائے گی۔ مرزا قادیانی تسلیم کر رہے ہیں کہ ایک رات میں ہی ان کی بتمام کمال اصلاح کر دی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کو مکمل طور پر بتا دیا گیا کہ اب تک آپ جو کچھ بھی تھے آئندہ نبی اللہ ہوں گے۔ ورنہ اور کونسی اصلاح تھی؟
اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کم از کم اس وحی کے نازل ہونے تک اوّل اس بات کے قائل تھے: ”اور گو وحی رسالت بوجہ عدم ضرورت منقطع ہے لیکن یہ الہام کہ جو آنحضرت ﷺ کے با اخلاص خادموں کو ہوتا ہے یہ کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہوگا۔“
(براہین احمدیہ حصہ اول، ص ٢٦٥، خزائن ج ١ ص ٢٦٨، حاشیہ نمبر ١١)
٤٩
دوم! مرزا قادیانی اس بات کے بھی قائل تھے اور آنحضرت نے بار بار فرمایا تھا کہ: ”میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا۔“
(کتاب البریہ ص١٩٩، خزائن ص٢١٧)
مرزا قادیانی اس زمانے کے مطابق صاحب علم تھے۔ ہر وقت کتب کا مطالعہ کرتے رہتے تھے اس وقت ان کو یہ خیال کیوں نہ آیا کہ الہام تو ہو سکتا ہے وحی رسالت نہیں ہو سکتی۔ اس لئے ان کو شیطانی وحی ہوتی ہے حالانکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جس بات کی اصل شرع میں نہ ہو وہ صحیح نہیں اس کا اعتراف آئینہ کمالات اسلام صفحہ ٢١، خزائن ج ٥ ص ایضاً پر کرتے ہیں۔
اس کے باوجود مرزا قادیانی اس بات پر قائم ہوگئے : ”اگر میں اپنی وحی میں ایک دم بھی شک کروں تو کافر ہو جاؤں۔“ (تجلیات الہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢) حق الیقین تک پہنچنے کے بعد تو مرزا قادیانی کو پہلے دن ہی یہ اعلان کر دینا چاہیے تھا، وہ رسول کریم ﷺ کی بعثت ثانیہ ہیں۔
اگر کوئی قادیانی کہے کہ یہ خدا نے بعد میں وحی کی تو یہ جھوٹ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی بیس (٢٠) برس کے بعد خود لکھتے ہیں کہ: ”ان کا دعویٰ ہے کہ براہین احمدیہ میں ہی خدا نے ان کا نام نبی اور رسول رکھا ہے، فرماتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے، ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں ...... اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں (دیکھو صفحہ ٤٩٨ براہین احمدیہ) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ ان کو قرآن اللہ نے سکھایا۔ اللہ تعالیٰ واضح طور پر قرآن کریم میں فرماتا ہے: ”اور وحی کی گئی تیری طرف اور تم سے قبل لوگوں کو“ (زمر ٦٥)
نیز مرزا قادیانی کا ہی فرمان ہے کہ رسول کریم ﷺ کو حکم تھا کہ جو وحی الٰہی ہو اس کو ظاہر کریں۔ اس کے علاوہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی روایت ہے کہ: ”جو تجھ سے کہے کہ حضور نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپا لیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے۔“ (تفسیر ابن کثیر، سورۃ المائدہ ج ١ ص ٧٨٧) اور ان احکام اور سنت رسول ﷺ کے برخلاف نبی کریم ﷺ کے بعد جس شخص نے وحی کا دعویٰ کیا یقیناً وہ باطل ہے اور اس کو چھپانے والا چور ہے اور چور چوری کا مال چھپاتا ہی ہے جو شخص اپنی وحی کو چھپا گیا۔ وہ غلط ہے اور اس کو یقیناً رحمانی وحی نہیں ہوئی بلکہ شیطانی وحی ہوئی۔
اس کے باوجود مرزا قادیانی سب کچھ چھپا کر کبھی مبہم سی بات کرتے ہیں اور وہاں سے
٥٠
انگلی پکڑتے پکڑتے گلے سے لٹک جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل حوالہ جات میری اس بات کی تصدیق کرتے ہیں!
"کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم اور مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔" (مجموعہ اشتہارات، ج١ ص ٢٣) یہاں کسی وحی کا ذکر نہیں، صرف الہام تک بات کر رہے ہیں جو کہ ولیوں کو بھی ہوتا ہے اور جس میں شریعت یا احکام نہیں ہوتے۔
"اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں۔" (مجموعہ اشتہارات، ج١ ص ٢٤) اب یہاں سے کتنی پرکاری سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ کمالات کو مسیح کے مشابہ قرار دے رہے ہیں، برابر بھی نہیں حالانکہ بعد میں دعویٰ کہ ابن مریم سے غلام احمد بہتر ہے اور مسیح ابن مریم کے کوئی کمالات نہیں تھے۔ کیا جھوٹ سے آغاز شروع ہوا یا نہیں؟
"مگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اتمام حجت ہے۔" (مجموعہ اشتہارات، ج١، ٢٥) کس طرح طریقے سے آگے بڑھنے کا راستہ بنایا جا رہا ہے لفظوں کے ہیر پھیر میں اتمام حجت تک جا پہنچے ہیں حالانکہ اس سے قبل کسی مجدد نے دعویٰ نہیں کیا کہ اس کے پاس حاضر نہ ہو تو اتمام حجت ہے۔
"یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے......اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے۔" (توضیح مرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) اب مجدد سے اپنے کو محدث قرار دے لیا۔ کیا کسی نبی نے ایسا طریقہ کار اختیار کیا؟ کیا رسول کریم ﷺ نے جن کی بعثت ثانیہ کا مرزا قادیانی جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں، نے ایسا کیا؟
حالانکہ مرزا قادیانی جانتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کا فرمان ہے: "اگر اس اُمت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمرؓ ہے۔" (ازالہ اوہام، ص ٢٣٦، خزائن ج ٣ ص ٢١٩) یہاں اگر کا لفظ بتا رہا ہے کہ رسول کریم ﷺ کم از کم حضرت عمرؓ کے بعد کسی محدث کے آنے کا امکان بھی مٹا رہے ہیں۔ اس کے باوجود دعویٰ محدثیت؟
مرزا قادیانی فرماتے ہیں: "اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی مشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں۔" (براہین
٥١
احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) اب متشابہ لفظ کو کس طرح لپیٹ کر ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے بن رہے ہیں۔ کیا کوئی اللہ تعالیٰ کا ایک عام نیک بندہ بھی نیکی کا پیغام پہنچانے کے لئے اس طرح کے حربے استعمال کرتا ہے؟ اور مرزا قادیانی کے دعوے تو بہت ہی بڑے ہیں، کیا ان دعووں کے لئے یہ طریق کار جائز ہے؟
”ہاں یہ سچ ہے کہ آنے والے مسیح کو نبی بھی کہا گیا ہے اور اُمتی بھی...... اسی لئے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں بھی اس عاجز کا نام اُمتی بھی رکھا اور نبی بھی۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٣٢، ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٤٨٦)
”تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ ”فتح اسلام“ و ”توضیح المرام“ و ”ازالہ اوہام“ میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنیٰ میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے، تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں ورنہ حاشا و کلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں............ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔“ (مجموعہ اشتہارات، ج ١ ص ٣١٣، ٣١٤) دیکھیں کیا دجل ہے۔ نبی کا لفظ استعمال کیا، لوگوں کا رویہ سخت دیکھ کر ایک دم بات بدل لی اور قدم کچھ دیر کے لئے پیچھے ہٹا لئے۔ کیا نبی اللہ ایسے ہی ہوتے ہیں؟
”یہ بات سچ ہے کہ اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٤٠٧) محدث سے مثیل مسیح پر چھلانگ لگائی۔ اس سے پہلے مشابہت تھی۔
”میں اسی الہام کی بناء پر اپنے تئیں وہ موعود مثیل سمجھتا ہوں جس کو دوسرے لوگ غلط فہمی کی وجہ سے مسیح موعود کہتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٤٠٧)
اب یہاں دیکھیں کہ مسیح موعود کا لفظ منہ میں ڈالا جا رہا ہے، لفظ مسیح موعود قطعاً اسلامی اصطلاح نہیں ہے، اسلامی لٹریچر میں مسیح ابن مریم، یا عیسیٰ ابن مریم استعمال ہوا ہے۔ مسیح کے ساتھ موعود کا لفظ دنیا کو مغالطہ میں رکھنے کے لئے لگایا گیا ہے۔
اگر صرف مسیح کہتے تو تب بھی لوگوں کا ذہن فوراً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف جانا تھا اور براہ راست بھی اپنے کو عیسیٰ بن مریم نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ دونوں طرح فوراً لوگوں کے
٥٢
ذہن ان احادیث مبارکہ کی طرف جائے گوئیاں ہیں اور نشانیاں بتائی گئی ہیں۔ جن نہیں اترتی۔ ان سوالوں اور لوگوں کے لئے یہ دجلیہ نام ”مسیح موعود“ رکھا گیا۔ رسول کریم ﷺ کی بے شمار کریم ﷺ نے کسی مسیح موعود کا نام لیا ہ حدیث مبارکہ میں مسیح موعود یا مثیل موع دیکھتے ہیں رسول کریم نے قسم کھا کر کہا مرزا قادیانی اپنے لئے وہ نام کیوں ا استعمال نہیں کیا۔ کیا یہی حب رسول تھا اتنے چکر دے کر گول کیوں کر دیا؟
”اے برادران دین و علما ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موع کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آ میں نے خدائے تعالیٰ سے پا کر براہِ شائع کرنے پر سات سال سے بھی ج ٣ ص ١٩٢) مرزا قادیانی کے اگلے دعو موعود سمجھا ہے تو وہ ان کے ارادے قبل
”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہی لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ شائع ہورہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں،
”سورۃ تحریم میں صریح ط ہے اور پھر اتباع شریعت کی وجہ سے پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پی
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم، ١٨٩، خزائن ج
ذہن ان احادیث مبارکہ کی طرف جاتے تھے جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی پیشین گوئیاں ہیں اور نشانیاں بتائی گئی ہیں۔ مرزا قادیانی کی ذات پر ان میں سے ایک بھی نشانی پوری نہیں اُترتی۔ ان سوالوں اور لوگوں کے ذہن کو ان سوالوں کی طرف متوجہ ہونے سے بچانے کے لئے یہ دجلیہ نام ”مسیح موعود“ رکھا گیا۔
رسول کریم ﷺ کی بے شمار احادیث میں سے ایک بھی حدیث دکھا دیں جہاں رسول کریم ﷺ نے کسی مسیح موعود کا نام لیا یا کسی مثیل مسیح کا نام لیا یا مثیل ابن مریم کا نام لیا۔ کسی بھی حدیث مبارکہ میں مسیح موعود یا مثیل موعود، مثیل مسیح کے الفاظ یا مفہوم نہیں ملے گا۔ ہم جہاں بھی دیکھتے ہیں رسول کریم نے قسم کھا کر کہا کہ تم میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔ آخر مرزا قادیانی اپنے لئے وہ نام کیوں استعمال کر رہے ہیں جو رسول کریم ﷺ نے ایک بار بھی استعمال نہیں کیا۔ کیا یہی حب رسول ﷺ ہے؟ اور جو نام رسول کریم نے استعمال کیا ہے اس کو اتنے چکر دے کر گول کیوں کر دیا؟
”اے برادران دین و علمائے شرع متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پا کر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کر دیا تھا جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔“
مرزا قادیانی کے اگلے دعویٰ سے ہی پتہ چلتا ہے کہ اگر واقعی ہی کچھ لوگوں نے ان کو مسیح موعود سمجھا ہے تو وہ ان کے ارادے قبل از وقت بھانپ گئے اور کم فہم نہیں تھے بلکہ ذہین تھے۔
”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔“
(ازالہ اوہام، ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
”سورۃ تحریم میں صریح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بعض افراد اس اُمت کا نام مریم رکھا گیا ہے اور پھر اتباع شریعت کی وجہ سے اس مریم میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روح پھونکی گئی اور روح پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پیدا ہو گیا اور اسی بناء پر خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ بن مریم رکھا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم، ص ١٨٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٧١) پہلے ایسا خیال کرنے والے کو مفتری اور کذاب قرار
٥٣
دے رہے تھے اب مفتری اور کذاب کون ہے؟ دوسرے قرآن کریم کی تفسیر بالرائے کرنا گناہ ہے۔ کیا مرزا قادیانی سے پہلے بھی کسی نے سورۃ تحریم کی ان آیات کی یہی تفسیر بیان کی ہے؟ تفسیر بیان کی یا نہیں، اس کے علاوہ اہم سوال یہ ہے کہ باقی بعض افراد کونسے ہیں جن کا نام مریم رکھا گیا ہے؟ اور پھر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اُمت محمدیہ میں مریم کا نام پانے کے لئے صرف وہی مخصوص ہیں! سورۃ تحریم میں کتنے افراد کے نام مریم رکھے گئے ہیں اور ان میں سے کتنوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا نام قرآن کریم مریم رکھ رہا ہے؟
”میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیشین گوئیاں ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ١٩٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥) کونسی کتابوں میں، کوئی نام یا تفصیل تو بتاؤ؟
”کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔“ (ازالہ اوہام ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩) مسیح موعود کا لفظ کبھی اُمت میں کسی طرح بھی استعمال نہیں ہوا تو اس نام پر دعویٰ کسی جھوٹے مکار نے ہی کرنا تھا، نہ کہ کسی سچے امتی نے؟ غالباً بہاء اللہ کا بھی مسیح موعود کا دعویٰ تھا۔
”نزول المسیح من السماء کے قائل مسلمان گمراہی کی وادی میں سرگرداں ہیں۔“ (خطبہ الہامیہ، ص ٦، خزائن ج ١٦ ص ٦) مرزا قادیانی باون سال (٥٢) تک نزول المسیح من السماء کے قائل رہے۔ یعنی اپنے بقول گمراہی میں رہے اور اس میں سے بارہ (١٢) سال بطور مجدد کے گمراہی میں مبتلا رہے اور قرآن کریم میں ہے ”جو پہلے گمراہ رہ چکے ہوں ان کی پیروی نہ کرنا۔“ (المائدہ: ٧٧) اس کے باوجود سوال یہ ہے کہ گمراہ رہنے والوں کو اور پھر مجدد کی مسند پر فائز ہونے کے بعد بھی گمراہی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دھوکا دیتا ہے یا مسیح اور نبی بناتا ہے؟
”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔ ترجمہ: محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کرتی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع ہے۔“ (ازالہ اوہام، ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١) یہ قرآن کریم کی آیات کی تشریح کر رہے ہیں اور کسی بھی قسم کی نبوت کا انکار کر رہے ہیں! ”اے لوگو! مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو، دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا
٥٢
نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“ (آسمانی فیصلہ ص ١٥، خزائن ج ٤ص ٣٢٥) یہاں اب دوسروں کو منع کر رہے ہیں حالانکہ نبوت کا سلسلہ خود جاری کیا ہوا ہے ڈھکے چھپے طریق سے مطلب چور اپنی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے چور چور کا شور ڈال رہے ہیں۔ کہتا ہے کہ ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ص ٢٩٧)
یہاں کس طرح دنیا کو مطمئن رکھنے اور ان کی توجہ پھیرنے کے لئے منہ بھر کر اپنے اوپر ہی لعنت ڈال رہے ہیں۔
”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“ (بدر ٥ / مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات، ج ١٠ص ١٢٧) لو جی نبی تو تھے ہی اب رسول بھی بن گئے اور جو خدا کے سکھائے ہوئے قرآن کی تشریح میں پہلے لکھا ہے کہ کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا، اس کا کیا کہتے ہیں؟
”الغرض حقیقت الوحی نے واضح کر دیا کہ نبوت اور حیات مسیح کے متعلق آپ کا (مرزا قادیانی۔ ناقل) عقیدہ پہلے عام مسلمانوں کی طرح تھا مگر پھر دونوں میں تبدیلی فرمائی۔“ (سیرت مسیح موعود، ص ٣٠، از مرزا محمود) بیٹے کی تصدیق کہ مرزا قادیانی نے عقیدہ بدلا!
”کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہرگز نہیں رکھ سکتا۔“ (ازالہ اوہام، ص ٤٣٠، خزائن ج ٣ص ٣٢٠) اس کے باوجود اپنے ہی معیار کے برعکس مرزا قادیانی کو دانشمندی کا دعویٰ ہے؟
مرزا قادیانی ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ”دجال کے لئے ضروری ہے کہ کسی نبی برحق کا تابع ہو کر پھر حق کے ساتھ باطل ملا دے۔ ............ اور چونکہ آئندہ کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا، اس لئے پہلے نبی کے تابع جب دجل کا کام کریں گے تو وہی دجال کہلائیں گے۔“ (مجموعہ اشتہارات، ج ٢ ص ١٤١) آخر کار اپنی اصلیت بھی بتا ہی دی۔ مرزا قادیانی، آپ نے پہلے نبی برحق کی پیروی کا دعویٰ کیا اور اس میں دجل ملاتے ملاتے آخر اپنے اصلی ٹھکانے اور ٹائٹل پر پہنچ ہی گئے۔
دعوؤں کے مقاصد
مرزا قادیانی کے دعوؤں کے کیا مقاصد تھے جنہوں نے مرزا قادیانی کو نبی بنایا اور ان کو آگے بڑھایا، ان کے مقاصد پر یہاں بات کی گنجائش نہیں۔ صرف مرزا قادیانی کی اپنی تحریر میں ایک اعتراف، لکھتے ہیں: ”مجھے صرف اپنے دستر خوان اور روٹی کی فکر تھی۔“ (نزول المسیح، ص ١١٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٦) یہ ایک بنیادی بات ہی مرزا قادیانی کے مقاصد واضح کر رہی ہے۔
٥٥
اس کے لئے مرزا قادیانی نے چاپلوسی، جاسوسی، اسلام اور عالم اسلام سے غداری، ایمان سے غداری، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے غداری کے مرتکب ہوتے ہوئے کبھی بھی ندامت محسوس نہ کی اور غیر ملکی، غیر نسل، غیر مذہب کے آقاؤں کی چاپلوسی کی انتہا تک کر گئے اور چاپلوسی کر کے پھر اپنے منہ سے اجر بھی مانگتے رہے ہیں۔ دعویٰ نبوت کا، لیکن اجر اور عزت و آبرو کی حفاظت اور مولویوں سے پناہ غیر مذہب کے انسانوں سے مانگتے رہے۔
مقاصد کس طرح حاصل کئے
ملکہ برطانیہ کو خط کے اقتباس، احمدی، قادیانی اس کو پڑھتے جائیں اور ضمیر کی آواز پر شرمانا یا نہ شرمانا ہم انہی پر چھوڑتے ہیں۔ ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، یہ عریضہ مبارکبادی۔ اس شخص کی طرف سے ہے جو یسوع مسیح کے نام پر طرح طرح کی بدعتوں سے دنیا کو چھڑانے آیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ امن اور نرمی کے ساتھ دنیا میں سچائی قائم کرے......اور اپنے بادشاہ ملکہ معظمہ سے جس کی وہ رعایا ہیں سچی اطاعت کا طریق سکھائے......یہ نوشتہ ایک ہدیہ شکرگزاری ہے کہ جو عالی جناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ والی انگلستان و ہند دام اقبالہا بالقابہا کے حضور میں بتقریب جلسہ جوبلی شصت سالہ بطور مبارکباد پیش کیا گیا ہے۔ مبارک! مبارک! مبارک!
(تحفہ قیصریہ ص١، خزائن ج١٢ ص٢٥٣)
”اس خدا کا شکر ہے کہ جس نے آج ہمیں یہ عظیم الشان خوشی کا دن دکھایا......جس قدر اس دن کے آنے سے مسرت ہوئی کون اس کا اندازہ کر سکتا ہے......اور ایسا ہو کہ جلسہ جوبلی کی تقریب پر (جس کی خوشی سے کروڑ ہا دل برٹش، انڈیا اور انگلستان کے جوش نشاط میں ان پھولوں کی طرح حرکت کر رہے ہیں جو نسیم صبا کی ٹھنڈی ہوا سے شگفتہ ہو کر پرندوں کی طرح اپنے پروں کو ہلاتے ہیں) جس شور سے زمین مبارکباد کے لئے اچھل رہی ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص٢، خزائن ج١٢ ص٢٥٤)
”اگرچہ میں اس شکرگزاری کے لئے بہت سی کتابیں اردو، عربی اور فارسی میں تالیف کر کے اور ان میں جناب ملکہ معظمہ کے تمام احسانات کو جو برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے شامل حال ہیں، اسلامی دنیا میں پھیلائی ہیں اور ہر ایک مسلمان کو سچی اطاعت اور فرمانبرداری کی ترغیب دی ہے لیکن میرے لئے یہ ضروری تھا کہ یہ تمام کارنامہ اپنا جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں بھی پہنچاؤں۔“
(تحفہ قیصریہ ص٣، خزائن ج١٢ ص٢٥٥)
٥٦
”ہم تیرے وجود کو اس ملک کے لئے خدا کا ایک بڑا فضل سمجھتے ہیں اور ہم ان الفاظ کے نہ ملنے سے شرمندہ ہیں جن سے ہم اس شکر کو پورے طور پر ادا کر سکتے۔“
(تحفہ قیصریہ، ص ١٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٦)
کتاب ملکہ وکٹوریہ کو بھیجنے کا مقصد واضح ہو جائے گا۔ فرماتے ہیں: ”اس عاجز کو...... وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے افسروں کی نسبت حاصل ہے (عیسائی چرچ کی سربراہ ملکہ کے ساتھ ہی نہیں اس کے افسروں کے لئے بھی محبت وجوش اطاعت۔ ناقل) جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا انداز بیان کر سکوں۔ اس سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور اُمید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا...... مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی ممنون نہیں کیا گیا...... لہذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اس تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں۔“
(ستارہ قیصریہ، ص ٣، ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٢، ١١١)
آگے پھر لکھتے ہیں: ”میں دعا کرتا ہوں کہ خیر وعافیت اور خوشی کے وقت خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچاوے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے، اپنی پاک فراست سے (عیسائی جو کہ مرزا قادیانی کے نزدیک اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے اس مذہب کی سربراہ کی پاک فراست۔ ناقل) اسے شناخت کر لیں اور رعیت پروری کی رو سے مجھے پررحمت جواب سے ممنون فرمائیں۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٥)
دوسری طرف ان ہی عیسائی افسروں کو اپنی درخواست میں لکھتے ہیں: ”سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جانثار خاندان ثابت کرچکی ہے (پچاس برس میں کم وبیش تین بالغ نسلیں آمنے سامنے ہوتی ہیں، اس کا مطلب کہ نسل درنسل غیروں سے وفاداری اور اپنوں سے غداری کرتے آرہے ہیں۔ ناقل) اور جس کی
٥٧
نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ محکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم، احتیاط، تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
ایسی بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ بدتر کاسہ لیسی تحریریں جن سے اپنوں سے غداری لیکن غیر ملکی آقاؤں سے وفاداری ظاہر ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کے لٹریچر میں موجود ہیں لیکن یہ تحریر انتہائی واضح طور پر بتا رہی ہے کہ کلیسا والوں کا وفادار اور لگایا ہوا پودا کون ہے؟ اور بجائے اللہ سے مدد مانگنے کے عیسائیوں سے مدد مانگ رہے ہیں جن کے بارے میں مرزا قادیانی کا ارشاد ہے کہ: ”عیسائیت ایک بدبودار مذہب ہے۔“
(دافع البلاء ص ٢٢ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٢)
مرزا قادیانی عیسائیوں کی حکومت کے افسران سے ہر طرح خوش ہیں اور اپنے خداؤں سے فریاد کرتے ہیں کہ مولوی تنگ کرتے ہیں: ”اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں۔ صرف ایک رنج اور درد و غم ہر وقت مجھے لاحق حال ہے جس کا استغاثہ پیش کرنے کے لئے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس ملک کے مولوی مسلمان اور ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دُکھ دیتے ہیں۔“ (مجموعہ اشتہارات، ج ٣ ص ١٣٣) نبی اپنے اللہ کے سوا کسی سے نہ تو کچھ مانگتا ہے اور نہ توقع رکھتا ہے لیکن یہ کیسا مہدی ہے جس نے اسلام کی ہدایت دنیا بھر تک پہنچانی ہے اور کافروں کو مسلمان کرنا ہے، انہیں کافروں سے مولویوں کے خلاف فریادیں کر رہا ہے۔ کیا یہ کردار ایک شریف آدمی کا بھی ہو سکتا ہے؟
اور احسان فراموشی کا بھی حال یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے انگریزوں کی جو کہ عیسائی ہیں، تعریف کرنے کی وجہ اکثر یہ بیان کی انہوں نے ان کو سکھوں سے نجات دلائی۔ یہ وجہ صحیح ہے یا جھوٹ اس پر یہاں بحث نہیں اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ انگریز جو کہ عیسائی ہیں، محسن ہیں۔ اس لئے محسن سے غداری حرامی پن نہیں تو اور کیا ہے؟ اب ان کے بارے میں اپنی محفل میں کیا کہتے ہیں لیکن یاد رہے کہ اس سے پہلے پاک فراست والی عیسائی ملکہ اور اس کے ملازمین سے کس قلبی محبت کا اقرار کر رہے ہیں۔
٥٨
مرزا قادیانی کے مریدان کو ہدایت مرزا یہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: ”عیسائیوں کے ساتھ کھانا معانقہ کرنا میرے نزدیک ہرگز جائز نہیں۔“ (ملخص:مخالفین سے معانقہ) (ملفوظات، ج٣ ص٣٢٢) کیا پاک فراست اور خدا کا نور اور اس کے متعلقین سے معانقہ کرنا یا ان کے ساتھ کھانا جائز نہیں ہے؟
لیکن بات یہیں نہیں رکتی، ممکن ہے کہ کوئی قادیانی (احمدی) یہ کہے کہ کھانا اور معانقہ منع ہے مگر محبت کرنے کا کہا ہے۔ وہ بھی سن لیں۔ مرزا قادیانی کا ارشاد نادر یہ ہے: ”جموں والے چراغ دین کا ذکر تھا کہ عیسائیوں کے ساتھ بہت تعلق محبت رکھتا ہے۔ فرمایا: بدقسمت اور بدبخت آدمی ہے اسلام ایسے گندوں کو باہر پھینکتا ہے۔“
(ملفوظات، ج٨ ص٣٥)
مرزا قادیانی کے محبت کے دعوے آپ پڑھ چکے ہیں۔ اب اس قول کے مطابق کوئی اور بدقسمت اور بدبخت بنے یا نہ بنے۔ مگر مرزا قادیانی ضرور بن گیا ہے اور نیز دنیا میں جتنے خاص طور پر یورپ میں رہنے والے اور جماعت کی ہدایات کے تحت عیسائیوں سے خاص طور پر تعلق قائم کر رہے ہیں۔ وہ سب کے سب بدقسمت اور بدبخت ہوگئے۔ کیا اسی لئے ان بیچاروں نے مرزا قادیانی کو قبول کیا ہے کہ جان، مال، جائیداد، اولاد، وقت ہر چیز مرزا کے قدموں میں ڈال کر مرزا قادیانی کے ہی فتوے کی رو سے بدقسمت اور بدبخت ہوجائیں۔
قلابازیاں
موقع محل کے مطابق مرزا قادیانی کا اپنے مؤقف سے پھر جانا یا جھوٹ بول دینا ایک خاص وصف تھا۔ الفاظ کو تاویلات کے ہیر پھیر میں ڈال دینا مرزا قادیانی کی فطرت تھی۔ دو تین مثالیں کس طرح مؤقف سے قلابازی کھاتے ہوئے ایک سو اسی ڈگری گھومتے ہیں، پیش خدمت ہیں۔
”حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں، میرا یقین ہے وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول ﷺ پر ختم ہوگئی۔“
(مجموعہ اشتہارات، ج١ ص٢٣١)
”میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہلسنت و جماعت کا مذہب ہے ...... میں جناب خاتم الانبیاء کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات، ج١ ص٢٥٥)
”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں کی جماعت سے جاملوں۔“
(حمامۃ البشریٰ، ص٧٩، خزائن ج٧ ص٢٩٧)
٥٩
جہاں میرے اور تمہارے تعلق کا سوال آئے گا تمہیں میری حیثیت وہی تسلیم کرنی پڑے گی جو ایک نبی کی ہوتی ہے جس طرح نبی پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے، اسی طرح مجھ پر ایمان لانا ضروری ہو گا۔ ”جو مجھے نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں۔“
(تذکرہ ص ٦٠٧)
”یہ بھی مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں اور یہ کہ میں نے نیا دین بنالیا ہے یا میں کسی الگ قبلہ کی فکر میں ہوں، نماز میں نے الگ بنائی ہے یا قرآن کو منسوخ کر کے اور قرآن بنالیا ہے۔ سو اس تہمت کے جواب میں میں بجز اس کے کہ لعنة الله علی الکاذبین کہوں اور کیا کہوں۔“
(ملفوظات، ج ١٠، ص ٤٢٠)
اس مضمون میں یہ سب ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی نے نئی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ نیا دین بنالیا ہے۔ قادیانیت مرزا قادیانی کا بنایا ہوا دین ہے اور اسلام اللہ کا بنایا ہوا دین ہے۔
قرآن کو منسوخ کر کے نیا قرآن بنالیا ہے۔
نمازوں میں جدت پیدا کر دی ہے۔
نئے حج کی جگہ قادیان قرار دے دی ہے اور اگر کچھ موقع مل جاتا تو نئے قبلہ کا بھی اعلان ہو جاتا۔
اس طرح اپنے جھوٹ پر مرزا غلام قادیانی نے خود ہی لعنت ڈال کر اپنے آپ کو لعنتی بھی بنالیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا۔ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی اُمت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین ٤، ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے ...... لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣، ٣٣٢)
٦٠
اختصاریہ
اس مضمون کا مقصد دراصل ان مربیوں نے چند مخصوص تقریروں اور موضوعا صرف خاندان مرزا کے لئے اور ان کے حو اصل تعلیم ، عمل اور حقیقی مقاصد کو اوجھل رکن اسلام میں عبادات، اخلاق اور صفائی کو بنیاد ایک رُکن اسلام کو بھی ارادتاً نقصان پہنچاتا کجا کسی بھی قسم کی ولایت یا نبوت کا دعو مرزا قادیانی کے عقائد اور اعمال سامنے ر مرزا قادیانی اسلامی عبادات پر کس حد تک عم وہ دیکھ سکیں کہ جو شخص ارکانِ اسلام کی ذرہ سے کھیلتا ہے تو وہ قادیانیوں (احمدیوں) کے ان دعووں کا نام لینے کا بھی اہل نہیں۔ جو شخ وہ آپ کو کیسے رسول پاک ﷺ کے دین خوبصورت الفاظ، منطق اور تاویل سے دی قادیانی کا حقیقی چہرہ نظر آجاتا ہے لیکن اس میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے مرزا قا
لکھتے ہیں: ”یہودی لوگ جو مو بعض تفسیروں میں لکھا ہے کہ وہ بظاہر انسا طرح ہو گئی تھی اور حق کے قبول کرنے کی قو یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے
اس دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ آپ آنکھیں کھول دے اور آپ کو جھوٹے نبی اصل یعنی اسلام کی طرف لوٹائے۔ آمین!
اختصاریہ
اس مضمون کا مقصد دراصل ان لاعلم قادیانیوں کے لئے حقائق کو سامنے لانا ہے جن کو مربیوں نے چند مخصوص تقریروں اور موضوعات کے دائرے میں رکھا ہوا ہے جس کا مرکزی نقطہ نگاہ صرف خاندان مرزا کے لئے اور ان کے حواریوں کے لئے مال اکٹھا کرنا ہے۔ مرزا قادیانی کی اصل تعلیم، عمل اور حقیقی مقاصد کو اوجھل رکھنا ہے۔ قادیانی گروہ کا خیال ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ اسلام میں عبادات، اخلاق اور صفائی کو بنیادی اہمیت ہے جو ان پر صحیح طریق سے عمل نہیں کرتا یا کسی ایک رکن اسلام کو بھی ارادتاً نقصان پہنچاتا ہے اس میں بدعات شامل کرتا ہے وہ مسلمان نہیں رہتا، کجا کسی بھی قسم کی ولایت یا نبوت کا دعویٰ کرے۔ اس مضمون میں ہم نے باثبوت طور پر مرزا قادیانی کے عقائد اور اعمال سامنے رکھے ہیں تاکہ قادیانی جماعت کے ممبران جان لیں کہ مرزا قادیانی اسلامی عبادات پر کس حد تک عمل پیرا تھے؟ ان کے دل میں ان کی کیا اہمیت تھی؟ تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ جو شخص ارکان اسلام کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کرتا اور ان کے ساتھ من مانے طریق سے کھیلتا ہے تو وہ قادیانیوں (احمدیوں) کے سامنے جس مقام کا دعویدار ہے اس مقام کا اہل تو کیا ان دعووں کا نام لینے کا بھی اہل نہیں۔ جو شخص خود رسول کریمﷺ کے دین میں تحریف کر رہا ہے وہ آپ کو کیسے رسول پاکﷺ کے دین کی طرف لے کر جا سکتا ہے؟ مرزا غلام قادیانی نے خوبصورت الفاظ، منطق اور تاویل سے دنیا کو گمراہ کیا ہے لیکن اس مضمون میں بڑی حد تک مرزا قادیانی کا حقیقی چہرہ نظر آ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر کوئی غور نہیں کرنا چاہتا تو اس کے لئے بھی میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے مرزا قادیانی کا ہی ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔
لکھتے ہیں: ”یہودی لوگ جو مورد لعنت ہو کر بندر اور سور ہو گئے تھے، ان کی نسبت بھی تو بعض تفسیروں میں لکھا ہے کہ وہ بظاہر انسان تھے لیکن ان کی باطنی حالت بندروں اور سوروں کی طرح ہو گئی تھی اور حق کے قبول کرنے کی توفیق بالکل ان سے سلب ہو گئی تھی اور مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کر سکتے۔“
(مجموعہ اشتہارات، ج١ ص٣٩٧)
اس دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ آپ کی باطنی حالت کو مسخ ہونے سے بچائے اور آپ کی آنکھیں کھول دے اور آپ کو جھوٹے نبی کے مقابل پر سچے نبیﷺ کی پہچان کروائے اور اپنی صحیح اصل یعنی اسلام کی طرف لوٹائے۔ آمین!
٦١
(٢)...... عرض میری فیصلہ آپ کا
(شیخ راحیل احمد ۔ جرمنی)
مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مسلمان ہونے کا دعویٰ ہی نہیں تھا بلکہ اپنے آپ کو (صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک بلکہ تا قیامت) رسول پاک ﷺ کا دنیا میں سب سے بڑھ کر عاشق صادق قرار دیا اور اس سلسلہ میں ایک جگہ آنحضور ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا موازنہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: ”اس کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کو دیکھو۔ آپ کا دعویٰ کل جہاں کے لئے اور سخت سے سخت دُکھ اور تکالیف آپ کو پہنچے، جنگیں بھی آپ نے کیں، ایک لاکھ سے زیادہ صحابہؓ آپ کی زندگی میں موجود تھے۔ پھر ان باتوں کے ہوتے ہوئے جو شخص آنحضرت ﷺ کی شان میں کوئی ایسا کلمہ زبان پر لائے گا جس سے آپ کی ہتک ہو وہ حرامی نہیں تو اور کیا ہے؟“
(ملفوظات ج ٥ ص ٢٨٣)
ان سطور سے قبل جو عبارت ہے وہ ایک علیحدہ اور تفصیلی موضوع ہے۔ اس پر اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو کسی دوسرے موقع پر یہ حقیر در مصطفیٰ ﷺ اپنی معروضات پیش کرے گا۔
یہاں اس وقت موضوع یہ ہے کہ جو ایسا کلمہ زبان پر لائے جس سے حضرت رسول پاک ﷺ ، رحمت اللعالمین کی شان میں ہتک ہو وہ کون ہے؟ مرزا قادیانی نے اپنا فیصلہ دے دیا کہ ہتک رسول پاک ﷺ کی کرنے والا حرامی ہے! اور میں اس فیصلہ سے مکمل طور پر متفق ہوں لیکن ایک انتہائی اہم سوال یہ ہے کہ مخالفین قادیانیت انتہائی بلند آواز میں یہ الزام لگاتے ہیں کہ مرزا قادیانی اور ان کی امت اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر پیش کرنے کے باوجود مسلسل توہین رسالت ﷺ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس مضمون میں اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیا مرزا قادیانی نے کوئی ایسی بات تو نہیں لکھی یا کہی جس سے رسول پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کا کوئی پہلو نکلتا ہو؟
میرے قادیانی (احمدی) دوست رسول پاک ﷺ کی شان میں مرزا قادیانی کی بعض بڑی خوبصورت تحریریں پیش کرتے ہیں لیکن واقفان حال مرزا قادیانی کی ان تحریروں کو جن میں بظاہر رسول پاک ﷺ کی تعریف کی گئی ہے، پرکاہ کی بھی اہمیت نہیں دیتے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی یہ تحریریں ”دام ہمرنگ زمین“ سے زیادہ نہیں ہیں اور سادہ معصوم لوگوں کو پھنسانے کے کام آتی ہیں۔ کیونکہ کئی جگہوں پر مرزا قادیانی نے بے شمار توہین آمیز باتیں،
٦٢
اس پاک رسول ﷺ کی ذات اقدس کے بارہ میں لکھی ہیں جن سے رسول پاک ﷺ کی ذات سے متعلق باتوں سے بے خبری ظاہر ہوتی ہے اور اس کے علاوہ ناصرف توہین کا پہلو نکلتا ہے بلکہ اس پاک ہستی، سرور کائنات، رحمت اللعالمین، نبیوں کے سردار ﷺ کے خلاف شدید بغض بھی ظاہر ہوتا ہے اور ان کی پاک ذات سے کہیں بالواسطہ اور کہیں بلا واسطہ اپنی ذات کی برتری ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
جب میں قادیانی تھا، یہی کرتا رہا کہ مرزا قادیانی کی وہ تحریریں جو میرے قادیانی دوست پیش کرتے ہیں اور بظاہر بہت خوبصورت محسوس ہوتی ہیں مرزا قادیانی کے عاشق رسول ہونے کے ثبوت میں پیش کرتا تھا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ٩٥ فیصد قادیانی دوستوں کو مرزا قادیانی کی توہین آمیز تحریروں کا علم ہی نہیں اور جب کوئی شخص جو ان کی جماعت میں سے نہیں، ایسا حوالہ پیش کرتا ہے جس کا عام قادیانی کو علم نہیں تو وہ سدھائے ہوئے طوطے کی طرح ایک ہی رٹ لگائے جاتے ہیں کہ یہ مولویوں کا جھوٹ ہے، یہ حوالہ پورا نہیں دیا، توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے وغیرہ (اور میں بھی ایسا ہی کرتا رہا اس لئے مجھے علم ہے اور کبھی خود اصل حوالہ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کیونکہ برین واشنگ کی وجہ سے یہ یقین ہوتا تھا کہ قادیانی مربی صحیح کہہ رہے ہیں) لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے جب قادیانی عینک اتار کر مرزا قادیانی کی تحریروں کا جائزہ لیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ حوالوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، ان کے ساتھ اپنے تبصرہ کو مکس کر کے پیش کرنا، حوالوں کو ادھورا پیش کرنا، بے بنیاد حوالے جن کا کوئی وجود ہی نہیں پیش کرنا۔ مرزا قادیانی کا بہت بڑا وصف تھا جس کی ماضی اور حال میں کوئی مثال نہیں ملتی اور مجھے یقین ہے کہ ابھی کئی صدیاں اس معاملے میں مرزا قادیانی کی برتری برقرار رہے گی۔ میرے قادیانی دوستو! اس کی مثال اس طرح ہے کہ تمہارے سامنے دنیا کا مزیدار ترین کھانا خوبصورت برتنوں میں، خوبصورت انداز میں پیش کیا جائے اور تمہیں پتہ چلے کہ پیش کرنے والا اس کھانے پر کھانستا ہوا اور چھینکیں مارتا ہوا آیا ہے تو کیا تم وہ کھانا کھالو گے؟ اور اگر پتہ چل جائے کہ کھانا پیش کرنے والے نے رفع حاجت کے بعد بغیر صفائی اور ہاتھ دھوئے کھانا ڈالا اور پیش کیا ہے تو کیا تم اس کھانے کو ہاتھ بھی لگاؤ گے؟ اور تمہیں یہ پتہ چل جائے کہ اس کھانے کی پلیٹ کو کتا چاٹتا رہا ہے اور اس پلیٹ میں کھانا تمہیں پیش کیا ہے یا اس کھانے پر پیشاب کی چھینٹیں پڑی ہیں تو کیا اس کھانے کی طرف تم دیکھنا پسند کرو گے چاہے کتنی ہی سجاوٹ اور لوازمات سے وہ کھانا تیار ہو؟ یہی حال مرزا قادیانی کی تحریروں کا ہے ان کی تحریریں کھانے کے بارے میں اوپر دی گئی مثالوں پر پورا اترتی ہیں۔ اس لئے ان کی مثال اسی کھانے جیسی ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہے اور میری اس
٦٣
بات کا ثبوت مندرجہ ذیل بیانات مرزا قادیانی ہیں۔
ارشادات مرزا قادیانی
مرزا قادیانی ایک جگہ لکھتے ہیں: ”اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ ﷺ میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔“ (یہ عبارت عربی فارسی واردو میں لکھی ہے۔ ناقل) (خطبہ الہامیہ، ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩) اب دیکھئے جس شخص کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ سرتا پا عشق رسول ﷺ میں اتنا غرق ہے کہ اس میں اور (نعوذ باللہ) رسول پاک ﷺ میں کوئی فرق نہیں اس کا اپنے محبوب رسول ﷺ کے بارے میں بنیادی علم کیا ہے؟ کیا یہ غیرت کی جگہ نہیں ہے کہ جس نام کی چادر اوڑھنے کا دعویٰ ہے اس کے بارے میں بنیادی معلومات بھی نہ ہوں بلکہ ایک پرائمری کا طالبعلم بھی زیادہ صحیح اور بہتر جانتا ہے بہ نسبت ان عاشق محمد ﷺ کا دعویٰ کرنے والے صاحب، سے فرماتے ہیں۔
”تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت ﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا تھا اور ماں صرف چند دن کا بچہ چھوڑ کر مر گئی تھی۔“
(پیغام صلح ص ٣٨، خزائن ج ٢٣ ص ٤٦٥)
”آنحضرت ﷺ کو والدین سے مادری زبان سیکھنے کا بھی موقع نہیں ملا کیونکہ چھ ماہ کی عمر تک دونوں فوت ہو چکے تھے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٩، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٦، حاشیہ)
”تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے۔“
(پیغام صلح ص ٢٨٦، خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٩، حاشیہ)
”ہمارے پیغمبر خدا کے ہاں ١٢ لڑکیاں ہوئیں۔ آپ نے کبھی نہیں کہا کہ لڑکا کیوں نہیں ہوا۔“
(ملفوظات ج ٢ ص ٥٧)
اس علم پر یہ غرہ کہ مجھ میں اور رسول کریم میں تفریق نہ کرو اور اس پر دعویٰ یہ کہ یہ مقام مجھے عشق محمد ﷺ کے طفیل ملا جس سے عشق ہے اس کی پیدائش کا بھی علم نہیں، اس کی اولاد کا بھی علم نہیں؟ اس قسم کے کافی علوم مرزا قادیانی کے کلام میں پائے جاتے ہیں۔
رسول پاک ﷺ کے زمانہ سے اب تک تمام اہل اسلام کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ آیت مبشر برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد ۔ رسول کریم ﷺ کے بارے میں ہے اور احمد کے مصداق آپ ﷺ ہیں اور آپ ﷺ کے علاوہ اس کا مصداق کوئی نہیں۔ مرزا قادیانی سے قبل تمام صحابہؓ، مجددینؒ اور آئمہ کرامؒ نے یہی معنی کئے ہیں لیکن مرزا قادیانی کا تمام صحابہؓ اور
٦٤
بزرگان دین اور مسلمانوں کے برخلاف دعویٰ ص ١٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٦٢) میں لکھتے ہیں آ ہتک نہیں کہ ایک آیت خدا تعالیٰ رسول پاک چسپاں کر لینا، کسی دلیل سے نہیں بلکہ بے دلیل نے اس آیت کریمہ کو اپنی طرف منسوب کیا ہ نے اپنے کو مصداق قرار دیا ہے تو کسی دوسرے کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
دوسری بات کہ مرزا قادیانی کا د جائے، جس کا غلام ہے اس کے برابر یا اس س
مرزا غلام قادیانی کے بڑے بھائی اور اس کو بھی آیت ”اللہ ہر چیز پر قادر ہے“ کا اللہ ہوگا، اس کو بھی کہو کہ یہ اللہ ہے جو مدد کر
اگر میرے قادیانی دوست کہیں ک ہیں اور مرزا قادیانی اپنے کو غلام ہی سمجھتے تھے
یعنی ”میں مسیح زمان ہوں، میں ک القلوب، ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٣) کیا یہ برابر ک اور اگر یہ بات بھی کافی نہیں تو ای
یعنی انبیاء اگرچہ بہت ہوئے لیک ج ١٨ ص ٤٧٧) اب تک اس فقیر نے آپ ن ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نعوذ باللہ اپنے کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
کیا میں واقعی صحیح مطلب سمجھا ہ کی تصدیق کرتی ہے کہ جو نتیجہ میں نے نکالا جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو
بزرگان دین اور مسلمانوں کے برخلاف دعویٰ ہے کہ وہ اس آیت کے مصداق ہیں۔ (ازالہ اوہام، ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) میں لکھتے ہیں کہ یہ میرے حق میں ہے اور میرا نام احمد ہے۔ کیا یہ ہتک نہیں کہ ایک آیت خدا تعالیٰ رسول پاک ﷺ کے متعلق نازل کر رہا ہے اس کو اپنے اوپر چسپاں کر لینا، کسی دلیل سے نہیں بلکہ بے تکی تاویلوں سے؟ ایک اور اہم بات کہ رسول پاک ﷺ نے اس آیت کریمہ کو اپنی طرف منسوب کیا ہے یا کسی آنے والے کی طرف؟ اگر رسول کریم ﷺ نے اپنے کو مصداق قرار دیا ہے تو کسی دوسرے کا اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں کرنے کی جرأت کرنا کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
دوسری بات کہ مرزا قادیانی کا نام غلام ہے احمد نہیں اور غلام چاہے جتنا بھی بڑھ جائے، جس کا غلام ہے اس کے برابر یا اس کے ٹائٹل کا مصداق نہیں ہو سکتا۔
مرزا غلام قادیانی کے بڑے بھائی کا نام غلام قادر ہے، اس کا بھی کہیں کہ نام قادر ہے اور اس کو بھی آیت ”اللہ ہر چیز پر قادر ہے“ کا مصداق مانو؟ ایک شخص کا نام نصر اللہ ہے کیا اس کا نام اللہ ہو گا، اس کو بھی کہو کہ یہ اللہ ہے جو مدد لے کر آیا ہے؟
اگر میرے قادیانی دوست کہیں کہ جی ایک بات سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا جو آپ نکال رہے ہیں اور مرزا قادیانی اپنے کو غلام ہی سمجھتے تھے تو ان اشعار کا کیا مطلب نکالیں گے۔
یعنی ”میں مسیح زمان ہوں، میں کلیم خدا ہوں، میں محمد اور احمد ہوں، مجتبیٰ ہوں“ (تریاق القلوب، ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٣) کیا یہ برابری کا دعویٰ نہیں؟ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
اور اگر یہ بات بھی کافی نہیں تو اس شعر کے بارے میں کیا کہیں گے؟
یعنی انبیاء اگرچہ بہت ہوئے لیکن میں بھی کسی سے کم تو نہیں (نزول المسیح، ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) اب تک اس فقیر نے آپ کے سامنے جو مرزا قادیانی کے بیان رکھے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نعوذ باللہ اپنے آپ کو کم از کم سرور کائنات ﷺ کے برابر سمجھتے تھے۔ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
کیا میں واقعی صحیح مطلب سمجھا ہوں؟ مرزا قادیانی کے بیٹے کی شہادت میری اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جو نتیجہ میں نے نکالا ہے وہ صحیح ہے۔ لکھتے ہیں: ”مسیح موعود کو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پس
٦٥
ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“ (کلمتہ الفصل ص ١١٣، از مرزا بشیر احمد ایم اے) ان حوالوں سے کم از کم یہ تو ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین ان کو نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ کے برابر سمجھتے ہیں۔ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
لیکن کیا ظل، اصل کے برابر ہو سکتا ہے؟ کیا سایہ وجود کی حقیقی برابری کر سکتا ہے؟ رہی ظل اور بروز کی بات تو اس کا ٹنٹا بھی مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے صاف کر دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی اسی طرح کے نبی تھے جس طرح دوسرے انبیاء۔ اور یہ ظل، بروز وغیرہ کی بحث صرف لوگوں کو سمجھانے کے لئے تھی۔
”اس جگہ میں یہ بات بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون میں جہاں کہیں بھی حقیقی نبوت کا ذکر ہے وہاں اس سے مراد ایسی نبوت ہے جس کے ساتھ کوئی نئی شریعت ہو۔ ورنہ حقیقی کے لغوی معنی کے لحاظ سے تو ہر ایک نبوت حقیقی ہوتی ہے جعلی یا فرضی نہیں اور مسیح موعود بھی حقیقی نبی تھا۔ اور جہاں کہیں بھی مستقل نبوت کا ذکر ہے وہاں ایسی نبوت مراد ہے جو کسی کو بلا واسطہ بغیر اتباع کسی سابق نبی کے ملی ہو ورنہ مستقل کے لغوی معنوں کے لحاظ سے تو ہر ایک نبوت مستقل ہوتی ہے عارضی نہیں اور مسیح موعود بھی مستقل نبی تھا۔“ (کلمتہ الفصل، مصنفہ مرزا بشیر احمد، ص ١١٨، ١١٩) یہ حوالہ ہمیں بتا رہا ہے کہ لوگوں کو بروز، ظل اور غیر شرعی، غیر مستقل نبی وغیرہ کی اصطلاحیں صرف اور صرف دنیا کو دھوکا دینے کے لئے تھیں ورنہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو نہ تو اپنے سے پہلے نبی کا تابع سمجھتے ہیں اور نہ ہی غیر مستقل نبی ہیں۔
مرزا غلام قادیانی کی پیش کردہ ہر ہر بات میں کئی کئی سنپولے چھپے ہوتے ہیں۔ ذرا یہ تحریر دیکھیئے: ”بعض نادان کہتے ہیں کہ عربی میں کیوں الہام ہوتا ہے۔ اس کا یہی جواب ہے کہ شاخ اپنی جڑ سے علیحدہ نہیں ہو سکتی۔ جس حالت میں یہ عاجز نبی کریم ﷺ کی کنار عاطفت میں پرورش پاتا ہے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ کا یہ الہام بھی اس پر گواہ ہے کہ تبارک من علم و تعلم۔ بہت برکت والا وہ انسان ہے جس نے اس کو فیض روحانی سے مستفیض کیا یعنی سیدنا ﷺ اور دوسرا بہت برکت والا یہ انسان ہے جس سے اس نے تعلیم پائی۔ تو پھر جب معلم اپنی زبان عربی رکھتا ہے ایسے ہی تعلیم پانے والے کو الہام بھی عربی میں چاہیے۔ تا مناسبت ضائع نہ ہو۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، ص ٢٣، خزائن ج ٧، ص ٧١، حاشیہ) پہلی بات تو سلطان القلم مرزا قادیانی کا مبلغ علم قابل داد ہے کہ شاخ اپنی جڑ سے جدا نہیں ہوتی، شاخ اپنے تنے سے منسلک ہوتی ہے۔ دوسرے جڑ کو کوئی نہیں دیکھتا وہ چھپی
٦٦
ہوئی ہوتی ہے اور اس پر کسی کی نظر نہیں جاتی، اس طرح ذہن میں پہلے تو یہ ڈالنے کی کوشش ہے کہ دھیان صرف میری طرف رکھو، پھر برکت دینے والا اور لینے والا دونوں کو برابر کے انداز میں پیش کیا ہے کہ ذہنوں میں لاشعوری طور پر فرق مٹ جائے۔ پھر ایک اور بات یہ کہ انسان کسی کے سایہ عاطفت میں آتا ہے یعنی مکمل طور پر لیکن یہاں مرزا قادیانی ”کنارہ عاطفت“ کا ذکر کر رہے ہیں۔ یعنی جزوی طور پر۔ رسول کریم ﷺ کو درخت کی بجائے جڑ قرار دے کر ظاہر و باہر کو چھپا ہوا کہنا، ان کی عاطفیت کو کم کر کے بیان کرنا، برکت میں برابری کرنا، کیا یہ اپنے کو خوشہ چین سمجھنے والوں کا طریق کار ہے؟ اس الہام کو عربی اور دوسرے متعلقہ امور پر کہیں اور انشاء اللہ روشنی ڈالوں گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح برابری اپنے آپ کو برابری کی سطح پر لانے کی کوشش کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
لیکن بات صرف برابری کی نہیں بلکہ مرزا قادیانی ہندو مذہب کے عقیدہ کے مطابق یقین کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مرزا قادیانی کی ذات میں جنم لیا ہے لیکن یہ بھی قدم بہ قدم دماغ میں بٹھاتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ”پھر اس کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔ محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم ۔ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ، ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨) اس میں کہاں کہا گیا ہے کہ تمہارا نام محمد اور احمد ہے؟ اور اگر آپ کا نام واقعی محمد ہی رکھنا ہوتا تو اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کے والدین کے دل میں ڈال دیتا۔ دیکھیں اپنا جھوٹ کس طرح خدا پر ڈال دیا؟
لیکن بات آگے چلتی ہے صرف نام ہی نہیں دیا بلکہ اپنے وجود کو نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کا وجود قرار دیا۔ لکھتے ہیں: ”بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ، ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
مرزا قادیانی نے بروز لفظ کے استعمال سے جو دجل کا کھیل کھیلا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ صوفیاء کی اصطلاح میں بروز کے یہ معنی ہیں ناقص درجہ کی روح، کسی کامل کی روح سے استفاضہ کرے۔ اگر مرزا قادیانی کے بھی یہی معنی ہیں تو اس سے نہ صرف مماثلت کا دعویٰ نہیں ہوسکتا بلکہ وجود محمد ﷺ کا دعویٰ بھی نہیں ہوسکتا اور عین عین ہے اور بروز بروز ہے، اگر بروز کو عین مان لیں تو بروز کیسا؟
پھر عربی لغت کے لحاظ سے بروز کے معنی ہیں کسی چھپی ہوئی چیز کا ظاہر ہونا ، باہر نکلنا۔
٦٧
رسول پاک ﷺ کی روح یا جسم یا دونوں مرزا قادیانی میں تو یہ ممکن نہیں۔ قرآن کریم کی کئی آیات میں بروز کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ سورۃ ابراہیم، آیت ٤٨، سورۃ ابراہیم، آیت ٣١، سورۃ غافر، آیت ١٦، سورۃ البقرۃ، آیت ٢٥٠، سورۃ النساء، آیت ٨١، سورۃ آل عمران، آیت ١٥٤۔ (بشکریہ، خوان ارمغان، مصنفہ فضل احمد گورداسپوری، مطبوعہ ١٩١٥ء) ان سب میں اللہ تعالیٰ نے قبروں سے مردوں کا نکلنا یا گھروں کے اندر سے یا کسی اوٹ سے باہر اور ظاہر ہو کر نکلنے کے کئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بروز اس کو کہتے ہیں کہ جو جسم چھپ گیا ہو یا گھر کے اندر یا کسی اوٹ میں ہو اور وہ ظاہر ہو کر سامنے آئے۔ اب اس طرح تو بروز محمدی کے معنی صرف یہی ہو سکتے ہیں کہ محمدﷺ اپنے روضہ پاک سے اٹھ بیٹھیں اور ایسا ماسوائے روزِ قیامت کے ممکن نہیں۔ اگر مرزا کو ہی نعوذ باللہ محمدﷺ کا وجود مان لیں تو کیا مرزا قادیانی بشکل رسول کریم قبر میں چھپے ہوئے تھے جو اب ظاہر ہو گئے؟ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
ہو سکتا ہے کہ کوئی قادیانی دوست کہے کہ یہ فقیر در مصطفیٰ ﷺ اس کا غلط مطلب نکال رہا ہے، آیا اس کا وہی مطلب نکلتا ہے یا نہیں، میں اپنی بات کی تائید میں مرزا قادیانی کے بیٹے کی تحریر پیش کرتا ہوں اور اس بیٹے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے اس بیٹے کو قمر الانبیاء کا الہامی خطاب دیا ہوا ہے اور یہ (جھوٹے) نبیوں کے چاند لکھتے ہیں: ”ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت اس لئے پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی و بین المصطفیٰ فما عرفنی و ما رائی (یہ الہامات مرزا قادیانی ہیں۔ ناقل) اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود (مرزا قادیانی۔ ناقل) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“ (کلمۃ الفصل، ص ١٥٨، مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم اے، پسر مرزا قادیانی) لو کر لو گل! جناب یہاں ہندؤوں کے عقیدہ کو اپناتے ہوئے تو رسول پاک ﷺ کے بابرکت وجود کے ساتھ ساتھ ان کے کلمہ پر بھی ہاتھ صاف ہو گیا۔
مرزا قادیانی کہتا ہے: ”بعض کاملین اس طرح پر دوبارہ دنیا میں آجاتے ہیں کہ ان کی روحانیت کسی اور پر تجلی کرتی ہے اور اس وجہ سے وہ دوسرا شخص گویا پہلا شخص ہی ہو جاتا ہے۔ ہندؤوں میں ایسا اصول ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم، ص ١٢٥، خزائن ج ٢١ ص ٢٩١)
ہندؤوں کا کیا عقیدہ ہے تو یہ بھی ان کی کتاب سے پڑھ لیجئے۔ ”جس طرح انسان
٦٨
پوشاک بدلتا ہے اسی طرح آتما بھی یعنی روح ایک قالب (بدن) سے دوسرے قالب (بدن) کو قبول کرتی ہے۔“ (اشلوک ٢٢، ادھیائے ٢، گیتا، بحوالہ احتساب قادیانیت، ج١ ص ١٥٨) کیا روح کا ایک بدن سے دوسرے بدن میں منتقل ہونا اسلامی عقیدہ ہے؟
اور پھر بالفرض محال اگر ہم مرزا قادیانی کی تھیوری تسلیم کرلیں تو کیا خدا رسول کریم ﷺ کو نعوذ باللہ کوئی سزا دینا چاہتا تھا؟ کیونکہ ہندؤوں کے عقیدہ کے مطابق خدا جب کسی آتما کو پہلے گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے تو وہ پہلے سے کمتر حالت میں دنیا میں بھیجتا ہے۔ اس لئے سزا کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا کہ نبی اپنے وقت کا ذہنی، جسمانی، صحت، شکل صورت کے لحاظ سے بہترین انسان ہوتا ہے اور ایک وقت میں تو اللہ تعالیٰ جس کو نبیوں کا سردار بنا کے اور دنیا کا بہترین و کامل انسان قرار دے کر مبعوث کرتا ہے اب اس کی روح کو ایک ذہنی بیمار، کم از کم ٣٠ سے زیادہ جسمانی بیماریوں میں مبتلا جسم اور مجہول الحلیہ، گندے کپڑوں میں ملبوس، نامرد، بھٹیارنوں کی طرح گالیاں دینے والی زبان اور ہر روز اپنی پہلی بات سے مکر کر خدا پر نیا الزام (الہاموں کے نام پر) لگانے والے انسان کی شکل میں ہی بھیجنا تھا؟ کیا رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
جو پاک وجود ﷺ ہزاروں درود و سلام ہوں اس پر۔ پہلی عمر میں پتھر کھا کر خون میں تر بتر ہونے کے باوجود دعا دیتا تھا کیا اب اس کو ایسے انسان کے روپ میں بھیجنا تھا کہ جو نا صرف دوسروں کو اشتعال دلاتا ہے (یہ میرا کہنا نہیں بلکہ مرزا قادیانی نے جس جج ڈگلس کو پیلاطوس قرار دیا تھا اس نے اپنے ایک فیصلہ میں مرزا قادیانی کو اشتعال انگیزی کرنے والا لکھا ہے) بلکہ اگر کوئی اس کی یاوہ گوئیوں کا جواب لکھتا ہے تو آپے سے باہر ہو کر اس کتاب والے کو ہی نہیں جواب دینے والے کے پورے علاقے کو سدوم سٹی قرار دیتا ہے؟ کیا رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
ایک دنیا کا فتح یاب ترین اور ہر معرکے میں کامیاب ہونے والا جرنیل ﷺ جس کو خدا تعالیٰ ایک وقت میں قیصر اور کسریٰ کے دربار کی چابیاں دیتا ہے، کیا اب اس کو ایسے انسان کے روپ میں بھیجے گا کہ جو کافروں کی ملکہ کی بار بار منتیں کرتا ہے کہ میرے لاکھوں خوشامدی لفظوں کا صرف ایک لفظ ”شکریہ“ کہہ دو اور مجھے مزید ممنون ہونے کا موقع دو؟ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
جس شخص کے ذریعہ سے خدا نے دنیا سے کفر کے اندھیروں کو دور کیا، کیا اس کو اپنے ہی دیئے ہوئے دین کی تعلیم کے خلاف اب ہندومت کی کفریہ تعلیم (جس سے کہ خود اس مذہب کے ماننے والے بھی دامن چھڑا رہے ہیں) کے ذریعہ دوبارہ اس دنیا میں لائے گا؟ کیا یہ رسول
٦٩
پاک ﷺ کی توہین نہیں؟ اب مرزا قادیانی اپنی وحی کے ذریعہ اپنی امت کو اپنے (مرزا) پر درود بھیجنے کا حکم سنا رہے ہیں تاکہ برابری کا دعویٰ پکا ہو جائے اور اس (خود ساختہ) الہام میں رسول پاک ﷺ کا نام صرف اس لئے لگایا ہے کہ مرید بھی کہیں چونک نہ پڑیں اور کئے کرائے پر سوال نہ اٹھ جائیں۔ "صلی اللہ علیک وعلی محمد" (تذکرہ ،ص٧٧٧،طبع٣) اور بات صرف رسول پاک ﷺ کے ساتھ درود بھیجنے کی ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں آگے تک جاتی ہے؟ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
اور مرزا قادیانی پر درود بھیجنے کو تاکید اور فرض بنانے کے لئے کیا وحی ہوتی ہے لیکن ایک اہم بات جو غیر محسوس طریق پر مرزا قادیانی نے اپنی اس وحی میں پیدا کی ہے کہ اب درود بھیجنے کے وقت صرف مرزا قادیانی کا نام کافی ہے اور رسول پاک کا نام لینا اب ضروری نہیں کیونکہ صلحاء عرب اور شام کے ابدال صرف مرزا قادیانی پر درود بھیج رہے ہیں اور ان کے درود میں حضرت محمد ﷺ کا نام نہیں اور ان کی اس بات کی تائید زمین و آسمان کے ساتھ (بغیر رسول پاک ﷺ کو شامل کئے) اللہ بھی عرش سے تعریف کے ساتھ کر رہا ہے۔ مرزا قادیانی کی وحی ہے: "یصلون علیک صلحاء العرب وابدال الشام۔ وتصلی علیک الارض والسماء ویحمدک اللہ من عرشہ۔ ترجمہ: تجھ پر عرب کے صلحاء اور شام کے ابدال درود بھیجیں گے۔ زمین و آسمان تجھ پر درود بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔" (تذکرہ،ص٦٢،طبع٤) اسلامی تعلیمات یہ کہتی ہیں کہ کوئی بھی درود رسول پاک ﷺ کے نام کے بغیر مکمل نہیں لیکن یہاں کتنی پرکاری سے الہام کے نام پر رسول پاک ﷺ کے نام کو باہر نکالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
آج مرزا قادیانی کو مرے ہوئے سو سال ہوگئے اگر ان کی زندگی میں نہیں تو موت کے بعد ہی بتا دیں کہ کونسے صلحائے عرب ہیں جنہوں نے مرزا قادیانی پر درود بھیجا ہے؟ شام کے وہ کونسے ابدال ہیں جو سلامتی بھیج رہے ہیں؟ کیا قادیانی جماعت کسی واقعی صلحاء یا ابدال کے نام دے سکتی ہے؟ جن کی اس حیثیت کو ساری مسلم دنیا نہ سہی کم از کم عرب دنیا ہی تسلیم کرتی ہو، یہ علیحدہ بات کہ اپنی جماعت کے کن ٹٹوں کو جو مرضی قرار دے لو لیکن بات صرف نام، مقام، کلمہ اور درود پر ڈاکہ ڈالنے یا برابری کرنے تک ہی نہیں رکتی۔
اب رسول کریم ﷺ کی تجلی سے ہی دنیا کو محروم کرنے کی سازشیں شروع ہوتی ہیں۔
٧٠
مرزا قادیانی کہتا ہے: ”مگر تم خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہوچکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہوکر میں ہوں۔“ (اربعین، ص١٤، خزائن ج١٧ص٤٤٥،٤٤٦) دیکھیں کس چابکدستی کے ساتھ رسول پاک ﷺ کا وجود بے ضرورت قرار دیا جارہا ہے اور اپنی ضرورت جتائی جارہی ہے اور اس کے ساتھ ہی ذہن میں یہ بات بٹھانے کی سازش ہورہی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی تعلیم نعوذ باللہ جلاتی ہے اور برداشت کے قابل نہیں لیکن میں بطور فلٹر کے ہوں یا پھر جس طرح ائیر کنڈیشنر گرم ہوا کو ٹھنڈی بنا کر پیش کرتا ہے اس طرح مرزا قادیانی رسول پاک کی جلانے والی تعلیم کو چاند کی ٹھنڈی کرنیں بنا کر پیش کرنے کے مدعی ہیں جو تمہیں سکون بخشیں گی۔ کیا رسول پاک ﷺ کی تعلیم سورج کو جلانے والی کرنیں ہیں؟ اگر نہیں اور یقیناً تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی تعلیم یقیناً علیحدہ ہے اور یہ ایسا منحوس چاند مرزا قادیانی کی پیدائش کے ساتھ ہی عالم اسلام کے سر پر چڑھا ہے کہ عالم اسلام کی غلامی ہی نہیں ختم ہورہی بلکہ دن بدن امت مسلمہ اس جماعت کی ریشہ دوانیوں سے مزید کمزور ہورہی ہے! کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
بات اسی طرح بڑھاتے بڑھاتے مرزا قادیانی اپنے آپ کو نبی کریم سے افضل ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی روحانیت کو رسول کریم ﷺ کی روحانیت سے بہتر ثابت کرنے کے لئے کیا الہامی عبارت لکھتے ہیں: ”اور جس نے اس بات کا انکار کیا کہ نبی ﷺ کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح۔“ (خطبہ الہامیہ، ص١٨١، خزائن ج١٦ص٢٧١،٢٧٢) کیا تیرہ صدیوں کے مجددین، صحابہؓ، آئمہ کہیں سے بھی کوئی حدیث یا قرآنی تفسیر میں یہ معنی دکھاسکتے ہیں کہ رسول کریم دوبارہ مبعوث ہوں گے اور پہلے سے بہتر، مکمل اور پوری شدومد سے مبعوث ہوں گے؟ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
آپ نے دیکھا کہ کس طرح شروع میں اپنے آپ کو صرف ظل یعنی سائے کی حیثیت سے پیش کر کے آہستہ آہستہ اونٹ کی طرح مالک کو خیمے سے ہی بے دخل کیا جارہا ہے۔ مرزا قادیانی نے ظل اور بروز کے نام سے دراصل اپنی ضلالت اور ذلت اور ناشکری کا جو سفر شروع کیا تھا اس کا کہیں اختتام نظر نہیں آتا اور یہ جو بات میں کہہ رہا ہوں پہلے دیئے گئے اور آئندہ پیش کئے جانے
٧١
والے حوالوں سے روز روشن کی طرح ثابت ہورہی ہے اور ہوگی اور یقیناً آپ بھی اس کی تائید کریں گے کہ یہ نہ صرف ہتک رسول پاکﷺ ہے بلکہ اشد ترین ہتک رسول پاکﷺ ہے۔ اب اپنی برتری کی دلیل کو مضبوط کرنے کے لئے مزید لکھتے ہیں: ”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود (مرزا جی ۔ ناقل) کا وقت ہو۔“ (خطبہ الہامیہ، ص١٩٣، خزائن ج١٦ ص٢٨٨) کیا رسول پاکﷺ کو فتح مبین نہیں ملی؟ مرزا قادیانی کی کوئی ایک نام نہاد فتح بھی شکوک، شبہات، تاویلات اور اگر مگر سے خالی ہے؟ اس کے بعد بھی کوئی شک رہ جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ رسول پاکﷺ کی توہین نہیں؟
اگر کسی کو ابھی بھی شبہ ہے کہ مرزا قادیانی کی امت ان کو نبی کریم ﷺ سے برتر نہیں سمجھتی تو مرزا بشیر الدین محمود کا حوالہ پیش خدمت ہے: ”مسیح موعود نے خطبہ الہامیہ میں بعثت ثانی کو بدر کا نام رکھا ہے اور بعثت اول کو ہلال جس سے لازم آتا ہے کہ بعثت ثانی کا کافر بعثت اول کے کافروں سے بدتر ہے۔“ (الفضل قادیان، ص٤، ١٥، جولائی ١٩١٥) اس سے انتہائی واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مرزا نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ سے برتر ہے کیونکہ اگر بعثت ثانی کا کافر بعثت اول کے کافر سے بدتر ہے اور مثال کے لئے جب ہلال اور بدر کا موازنہ کیا جائے تو پھر بعثت ثانی، بعثت اول سے یقیناً بہتر ہے۔ کیا رسول پاکﷺ کی توہین نہیں؟
اپنی برتری جتانے اور غیر محسوس طریق سے لوگوں کے ذہن میں ڈالنے کے لئے کہ رسول کریم ﷺ کی پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی کیونکہ مرزا قادیانی پر یہ صحیح اعتراض بڑی شدت سے ان کی ہر پیشین گوئی پر لاگو ہوتا ہے اور اس کی شدت کو کم کرنے کے لئے یہ گھٹیا طریقہ اپنایا گیا۔ بظاہر رسول پاکﷺ کے تین ہزار معجزوں کا ذکر ہے لیکن تحریر کے سمجھنے والے اسی نتیجہ پر پہنچیں گے جس پر میں پہنچا ہوں۔ لکھتے ہیں: ”مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیشین گوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وقت اندازہ کردہ پر پوری نہ ہوئی۔“ (تحفہ گولڑویہ، ص٤٠، خزائن ج١٧ ص١٥٣) سمجھ دار آدمی فوراً بات کی تہہ کو پہنچ جاتا ہے کہ یہاں مقصود تین ہزار معجزوں کا ذکر نہیں بلکہ اپنی ناکام، بے بنیاد، نہ پوری ہونے والی پیشین گوئیوں کے دفاع کے لئے ایک بنیاد مہیا کرنے کی بے سود کوشش کی جارہی ہے!
مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”شریف انسانوں کا طریق ہے کہ ہجو کرنے کے وقت ایک تعریف کا لفظ بھی لے آتے ہیں گویا وہ منصف مزاج ہیں۔“ (ست بچن، ص١٣، خزائن ج١٠، ص١٢٥، حاشیہ) کیا
٧٢
مرزا قادیانی نے اس جگہ یہی طریق اختیار کیا اور اپنے آپ کو (بظاہر) غیر شعوری لکھتے ہیں اور ایک اور جگہ پچاس لاکھ بھی لکھ نشانات سمودیئے، پڑھے اور سوچئے: ”ان د مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے عادت ہیں۔“ (براہین احمدیہ، ص٥٦، خزائن ج٢١
خارق عادت اس کو کہتے ہیں جو سے پہلے نہ ہو۔ میری قادیانی دوستوں سے نہیں، دس ہزار بھی نہیں، ایک ہزار بھی نہیں یار، دس ہی خارق عادت نشان دکھا دو؟ ہما نشانات و کرامات ہی دکھا دو؟
ممکن ہے کہ کوئی قادیانی دوست کہیں کہ رسول کریم ﷺ کے معجزات ہیں اور نشانات اور چیز ان کی اطلاع کے لئے قرار دیئے ہیں۔ لکھتے ہیں: ”امتیازی نشا مذہب اور حقیقی راست باز ضرور اپنے سات میں معجزہ اور کرامت اور خارق عادت امری
اس فقیر نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے کہ مرزا آنحضور ﷺ سے برتر تھے یا نہیں، یہ حوالہ
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
(اخبار بدر نمبر ٤٣، ج ٢ ص ١٤، قاد
نہ صرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ وہ قطعہ گھر (اپنے صحابی کو نہیں بلکہ اس کی پیش کردہ کہ اس صحابی قاضی ظہور الدین اکمل کو ا جاتے اور یہ مرزا قادیانی کی وفات سے
مرزا قادیانی نے اس جگہ یہی طریق اختیار نہیں کیا؟ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟ اور اپنے آپ کو (بظاہر) غیر شعوری طور پر برتر دکھانے کے لئے اپنے نشانوں کو دس لاکھ لکھتے ہیں اور ایک اور جگہ پچاس لاکھ بھی لکھا ہے اور مزے کی بات کہ چند سطروں میں دس لاکھ نشانات سمو دیئے، پڑھئے اور سر دھنئے: ”ان چند سطروں میں جو پیشین گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اول درجہ پر خارق عادت ہیں۔“ (براہین احمدیہ ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟ خارق عادت اس کو کہتے ہیں جس میں کوئی انسانی ہاتھ نظر نہ آئے اور جس کی مثال اس سے پہلے نہ ہو۔ میری قادیانی دوستوں سے اپیل ہے کہ دس لاکھ کو بھول جاتے ہیں، ایک لاکھ بھی نہیں، دس ہزار بھی نہیں، ایک ہزار بھی نہیں، صرف سو (١٠٠) ہی خارق عادت نشان دکھا دیں، چلو یار، دس ہی خارق عادت نشان دکھا دو؟ بھائی اگر خارق عادت ممکن نہیں تو تسلیم کرو اور دوسرے عام نشانات و کرامات ہی دکھا دو؟
ممکن ہے کہ کوئی قادیانی دوست اپنے دل کی تسلی کے لئے یا بحث برائے بحث کے لئے کہیں کہ رسول کریم ﷺ کے معجزات ہیں اور مرزا قادیانی کے نشانات ہیں اور معجزات اور چیز ہیں اور نشانات اور چیز ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مرزا قادیانی نے نشان اور معجزہ ایک ہی چیز قرار دیئے ہیں۔ لکھتے ہیں: ”امتیازی نشان جس سے وہ شناخت کیا جاتا ہے پس یقیناً سمجھو کہ سچا مذہب اور حقیقی راست باز ضرور اپنے ساتھ امتیازی نشان رکھتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں معجزہ اور کرامت اور خارق عادت امر ہے۔“
(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٥٠، خزائن ج ٢١ ص ٦٣)
اس فقیر نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی نظر میں، اپنی اولاد اور جماعت باطلہ طبقہ میں آنحضور ﷺ سے برتر تھے یا نہیں، یہ حوالہ دیکھئے ان کے ایک صحابی کا،
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر نمبر ٤٣، ج ٢ ص ١٤، قادیان، ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء) اور اس نظم پر مرزا غلام قادیانی نے نہ صرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ وہ قطعہ گھر کے اندر لے گئے اور وہاں اپنے کمرے میں اس کو لٹکایا (اپنے صحابی کو نہیں بلکہ اس کی پیش کردہ نظم کو) کاش کوئی غیرت مند اس وقت مرزا قادیانی اور ان کے اس صحابی قاضی ظہور الدین اکمل کو الٹا لٹکا دیتا تو لاکھوں لوگوں کے ایمان تباہ ہونے سے بچ جاتے اور یہ مرزا قادیانی کی وفات سے تقریباً پونے دو سال قبل کی بات ہے۔ اس کا مطلب ہے
٧٣
کہ رسول پاک ﷺ کی شان میں گستاخی اپنی جماعت کے ذہنوں میں بہت اچھی طرح بٹھا چکے تھے۔ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
(دماغی مراق کے زیر اثر) اپنے خیال میں ہر ایک سے زیادہ روحانی طور پر بلند ہو گئے
”ان قدمی هذه على منارة ختم عليها كل رفعة ترجمہ: میرا یہ قدم اس منارہ پر جہاں تمام روحانی بلندیاں ختم ہیں۔“ (خطبہ الہامیہ، ص ٣٥، خزائن، ج ١٦، ص ٧٠) کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
اور ان کی اولاد تو یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ نعوذ باللہ کہ کوئی بھی رسول کریم ﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔ ان کا بیٹا اور جماعت کا خلیفہ ثانی، خودساختہ مصلح موعود اپنی ڈائری میں لکھتا ہے: ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے حتی کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“ (خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی ڈائری، اخبار الفضل قادیان، نمبر ٥، ج ١٠ ص ٥، ١٧ جولائی ١٩٢٢ء) کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
مرزا بشیر الدین محمود کی بات اس لئے بھی اہم ہے کہ وہ اپنے آپ کو انبیاء بنی اسرائیل کی طرح نبی قرار دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ”جس طرح مسیح موعود کا انکار تمام انبیاء کا انکار ہے اسی طرح میرا انکار تمام انبیاء بنی اسرائیل کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار رسول اللہ کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی۔“ (الفضل قادیان، ج ٥، نمبر ٢٢، ٢٢ ستمبر ١٩١٧ء) لو جی پہلے ایک نبی کا رولا ہی ختم نہیں ہو رہا، دوسرا بھی آ گیا۔ مرزا محمود تو دعویٰ کر کے راہی ملک عدم ہوئے لیکن اب کیا کوئی قادیانی بتا سکتا ہے کہ وہ کونسے صحیفے ہیں یا آیات ہیں یا احادیث ہیں جن میں انبیائے بنی اسرائیل نے یا رسول پاک ﷺ نے مرزا محمود کی خبر دی؟
مرزا محمود نے یہ دعویٰ ایسے ہی نہیں کیا کیونکہ مصلح موعود والی پیشین گوئی میں مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کے مصداق کو فخر رسل کہا ہے۔ اس لئے مرزا محمود نے اپنے آپ کو اور اس کے کاسہ لیسوں نے بھی اس کو فخر رسل کا بھی خطاب دیا ہے۔ حالانکہ اس جیسے انسان کے لئے فخر رسل کا خطاب بھی ایک فخر کے ساتھ زیادتی ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اے فخر رسل قرب تو معلوم شد، دیر آمدہ ز راہ دور آمدہ“ (تریاق القلوب ص ٤٢، خزائن ج ١٥ ص ٤١٩) ایسے شخص کو فخر رسل قرار دینا جس کے سیاہ کردار پر بیسیوں لوگوں نے مؤکد بعذاب قسمیں کھا کر الزامات لگائے ہیں اور اس کی طرف سے کوئی معقول جواب بھی نہیں آیا۔ کیا یہ تمام انبیاء اور کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
٧٢
اب دیکھیں کس طرح اپنی ذات کو بے بنیاد سہارا لیتے ہوئے اپنی بڑائی کو دجل سے کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چ (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول مسیح ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص کتنا توہین آمیز ہے: ”اس کے لئے ۔“ کیا مناسب ہے؟
کیا کوئی حقیقی عاشق رسول ﷺ اس ہے یا کرے گا؟ پھر رسول کریم ﷺ کے لئے م نشان ظاہر ہوا۔ حالانکہ یہ صریح جھوٹ ہے لیکن معجزوں کے ساتھ تقابل مناسب یا صحیح ہے یا تھا
یہاں پر رسول کریم ﷺ کی صورت کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ”ہمارے نبی کریم ﷺ مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے چ ص ١٨٠، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٠) کیا یہ رسول پاک ﷺ
جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا ہے کہ مر کی روح، کسی کامل کی روح سے استفاضہ کر اہمیت کم کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے بیٹے لی بھی بروزی نبی قرار دیا ہے چنانچہ فرمایا چونکہ میں ظہور فرمایا تھا۔ ایک بروز موسوی، دوسر ص ٢٥٧، الفضل قادیان، ج ٣، نمبر ١٣٨، جولائی ١٩ تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ نبیوں کے سردار، شائ کی روح ناقص درجہ کی تھی اور جو رسول پاک ﷺ دیا۔ ایک اور پہلو سے اگر مرزا قادیانی کا یہ تر بروز بہتر ہے، کامل ہے اصل سے تو مرزا قادیا ہے لیکن خود کو تمام انبیاء کا بروز قرار دیا ہے ہے۔ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
اب دیکھیں کس طرح اپنی ذات کو رسول پاک ﷺ سے آگے بڑھانے کے لئے ایک بے بنیاد سہارا لیتے ہوئے اپنی بڑائی کو دجل سے پیش کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ”اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا۔“ (اعجاز احمدی، ضمیمہ، نزول مسیح، ص٧١، خزائن ج ١٩ص ١٨٣) باقی بات تو بعد کی ہے صرف اندازِ مخاطب ہی کتنا توہین آمیز ہے: ”اس کے لئے۔“ کیا رسول پاک ﷺ کے لئے ”اس کے لئے“ کا لفظ مناسب ہے؟
کیا کوئی حقیقی عاشقِ رسول ﷺ اس طرح رسول پاک ﷺ کی نسبت الفاظ استعمال کر سکتا ہے یا کرے گا؟ پھر رسول کریم ﷺ کے لئے صرف چاند کا اور اس سپر نبی کے لئے چاند اور سورج کا نشان ظاہر ہوا۔ حالانکہ یہ صریح جھوٹ ہے لیکن اگر صحیح بھی ہوتا تو کیا اس طرح رسول پاک ﷺ کے معجزوں کے ساتھ تقابل مناسب یا بجا ہے یا تھا؟ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
یہاں رسول کریم ﷺ کی صورت کو مرزا کے بروز کی شکل دے کر خود وہ صورت اختیار کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ”ہمارے نبی کریم ﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے، ایسا ہی مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث ہوئے۔“ (خطبہ الہامیہ، ص١٧١، خزائن ج ٢١ص ٢٧٠) کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا ہے کہ صوفیاء کی اصطلاح میں بروز کے یہ معنی ہیں ناقص درجہ کی روح، کسی کامل کی روح سے استفاضہ کرے۔ اب مرزا قادیانی کس طرح رسول کریم ﷺ کی اہمیت کم کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے بیٹے لکھتے ہیں: ”پھر حضرت مسیح موعود نے آنحضرت ﷺ کو بھی بروزی نبی قرار دیا ہے چنانچہ فرمایا چونکہ تکمیل ہدایت کے لئے آپ (ص) نے دو بروزوں میں ظہور فرمایا تھا۔ ایک بروز موسوی، دوسرے بروز عیسوی۔“ (تحفہ گولڑویہ، ص٩٨، خزائن ج ١٧ ص٢٥٧، الفضل قادیان، ج ٣، نمبر ١٣٨، ١٧ جولائی ١٩١٥ء) اگر ہم مرزا قادیانی کی لن ترانیوں کو تسلیم کر لیں تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ نبیوں کے سردار، شافع دوجہاں، رحمت اللعالمین، فخرالانبیاء، خاتم النبیین کی روح ناقص درجہ کی تھی اور جو رسول پاک ﷺ کے مقتدی تھے، ان کی روح کو کامل قرار دے دیا۔ ایک اور پہلو سے اگر مرزا قادیانی کا یہ ترجمہ، تشریح فرضی طور پر صحیح مان لیں اور خیال کر لیں کہ بروز بہتر ہے، کامل ہے اصل سے تو مرزا قادیانی نے رسول پاک کو تو صرف دو نبیوں کا بروز قرار دیا ہے لیکن خود کو تمام انبیاء کا بروز قرار دیا ہے، یعنی اس طرح بھی اپنی برتری دکھانے کی کوشش کی ہے۔ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
٧٥
مرزا قادیانی ایک جگہ لکھتے ہیں: ”مگر ایسے جاہلوں کا ہمیشہ سے یہی اصول ہوتا ہے کہ اپنی بزرگی کی جڑیں جمنا اسی میں دیکھتے ہیں کہ ایسے بزرگوں کی خواہ مخواہ تحقیر کریں۔“ (ست بچن، ص ٨، خزائن ج ١٠ ص ١٢٠) خود اپنے اس ارشاد پر عمل کیسے کرتے ہیں، ان کے بیٹے ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں: ”اگر کوئی نادان کہے کہ وہ (مرزا قادیانی) تو مجددوں میں سے ایک مجدد تھے، خدا کے نبی کیونکر ہو سکتے ہیں تو میں کہوں گا یوں تو تمام انبیاء مجدد ہی ہوتے ہیں۔ چنانچہ افضل الرسل محمد رسول ﷺ کو بھی ہمارے امام (مرزا قادیانی) نے مجدد ہی لکھا ہے۔“ دیکھو (لیکچر سیالکوٹ ص ٥، خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٦، الفضل قادیان، ج ٢، نمبر ٩٦ ص ٣، ٢٦ جنوری ١٩١٥ء) کیا ہادی برحق، فخر الانبیاء، ختم المرسلین کو، رحمت اللعالمین جن کی پیروی کا انکار انبیاء بھی نہیں کر سکتے ان کو (ﷺ) مجدد لکھ کر ان کا درجہ اس سطح پر لانا کہ جس کی پیروی ضروری نہیں، جو اپنی آمد کا اعلان کرنے کا پابند بھی نہیں صحیح ہے؟ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
لکھتے ہیں: ”اس زمانے میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز اور مقدس نبی گزر چکے ہیں، ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں تو وہ میں ہوں۔“ (براہین احمدیہ پنجم، ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٧) اب آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے قرار دیئے ہوئے نبیوں کے سردار رسول کریم ﷺ نے بھی اس قسم کا دعویٰ نہیں کیا۔ حالانکہ نبیوں کے سردار ﷺ میں تمام انبیاء کی خوبیاں، اللہ تعالیٰ نے یکجا کر دی تھیں لیکن مرزا نے یہ دعویٰ کر دیا۔ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
لیکن بات صرف یہاں تک ہی نہیں رہتی بلکہ جس طرح خود پوری ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ اپنی ہی کہی ہوئی باتوں کے خلاف کرتے رہے اور شریعت و اخلاق کا جنازہ نکالتے رہے، پنجابی کہاوت کہ ”چور دوسروں کو کہے چور“ کے مصداق، نعوذ باللہ من ذالک رسول پاک ﷺ کو بھی گرا ہوا انسان ثابت کرنے کی ناپاک کوششیں کیں اور بے بنیاد اتہامات ان کی ذات اقدس پر لگانے کی کوشش کی، کئی مثالیں ہیں لیکن صرف دو ادنیٰ مثالیں پیش کروں گا۔ خنزیر جس کی حرمت مذہب اسلام نے بیان کی ہے اور رسول پاک ﷺ سے بڑھ کر کوئی بھی اس حرمت کو قائم اور دائم رکھنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ان کی ذات اقدس پر یہ گندے، ذلیل، کراہیت آمیز الزام لگاتے ہوئے مرزا کا قلم کانپا نہ حیا آیا، نہ خدا خوفی محسوس ہوئی، ہونی بھی کیسے اپنے آپ کو کائنات کا افضل ترین انسان جو سمجھتے تھے۔
٧٦
لکھتے ہیں: ”آنحضرتﷺ اور آپ کے اصحاب ...... عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“ (مرزا قادیانی کا مکتوب، اخبار الفضل قادیان، نمبر ٦٦، ج ١١ ص ٩، ٢٢ فروری ١٩٢٤ء) کیا یہ رسول پاکﷺ کی توہین نہیں؟
دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”اور آپﷺ ایسے کنوؤں سے پانی پیتے تھے جس میں حیض کے لتے پڑتے تھے۔“ (منقول از اخبار ”الفضل“ قادیان، نمبر ٦٦، ج ١١، ص ٩، ٢٢ فروری ١٩٢٤ء) کیا یہ رسول پاکﷺ کی توہین نہیں؟
دیکھیں مرزا قادیانی کس صفائی کے ساتھ بالواسطہ طور پر خاتم الانبیاء بھی بن گئے، لکھتے ہیں ”مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیوں کہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“ (کشتی نوح ص ٥٦، خزائن ج ١٩ ص ٦١) کیا اس تحریر کے بعد کوئی شبہ رہ جاتا ہے کہ مرزا قادیانی خاتم الانبیاء ہونے کے دعویدار نہیں؟ آخری آسمانی نور تو رسول پاکﷺ ہیں اور جب ان پر دین مکمل ہو گیا تو پھر ان کے بغیر سب تاریکی ہے نہ کہ مرزا قادیانی کے بغیر۔ کیا یہ رسول پاکﷺ کی توہین نہیں؟
- ☆...... اور کہتا ہے: ”اس (خدا) نے ہر نبی کو جام دیا ہے مگر وہی جام مجھے لبالب بھر کر دیا
ہے۔“ (نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) کیا یہ رسول پاکﷺ کی توہین نہیں؟
- ☆...... ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
اب دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے کسی ایک نبی کی بھی تخصیص نہیں کی اور اپنے آپ کو ”سپر نبی“ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اب ذرا ان دونوں حوالوں کو غور سے دیکھئے کہ دوسرا حوالہ بھی میرے پہلے حوالے سے اخذ کردہ مطلب کی تائید کرتا ہے یا نہیں کہ سب نبیوں کو نبیوں کے سردار محمدﷺ سمیت صرف جام دیا۔ لیکن مرزا قادیانی کے لئے اور صرف مرزا قادیانی کے لئے جام لبالب بھر دیا۔ اگر کسی قاری کا خیال ہے کہ یہ دو حوالوں سے تسلی نہیں ہوتی کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو تمام نبیوں سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔ قادیانی حضرات کہیں گے کہ نہیں یہ غلط مطلب ہے۔ لیکن آئیے مزید چیک کر لیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے بیٹے بھی یہی تاثر دیتے ہیں جو میرا تاثر ہے یا کہ نہیں۔ مرزا قادیانی کے بیٹے بشیر الدین محمود احمد جو بزعم خود مصلح موعود بھی کہلاتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ: ”اس (مرزا قادیانی) نے ہمارے لئے اخلاقیات اور ضابطہ کا ذخیرہ چھوڑا ہے۔ تمام ذی
٧٧
عقل انسانوں کو ماننا پڑے گا کہ ان پر عمل کرنے سے ہی مسیح موعود کی آمد کے مقاصد کی تکمیل ہو سکتی ہے“۔ (احمدیت یا سچا اسلام ص ٨٢) مرزا قادیانی کے اخلاق پر تبصرے کو چھوڑتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ بڑے میاں تو بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ! دیکھیں ہم بطور مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اس بات کی دوسرے مذاہب کے بہت سے انصاف پسند لوگ بھی تائید کرتے ہیں کہ انسانی اخلاق اور مکمل ترین ضابطہ حیات کا اصل ذخیرہ دراصل آنحضرت ﷺ نے چھوڑا ہے۔ اور ایک عام احمدی کو جب سوال کریں گے تو وہ بھی یہی کہے گا۔ لیکن یہاں رسول کریم ﷺ کا نام اشارتاً بھی نہیں لیا جا رہا۔ بلکہ ہر اچھائی کو مرزا قادیانی سے منسوب کر کے اور (بزعم خود) ان کو سب سے بہتر قرار دیکر مرزا قادیانی کے چھپے ہوئے ”سپر نبی“ کے دعوے کو مضبوط بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور لاشعوری طور پر قادیانیوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ مرزا قادیانی ایک ایسا سپر نبی ہے جس کے سامنے سارے نبی (نعوذ باللہ ) ایویں ہی ہیں اور نبیوں کے سردار ﷺ سمیت سب اس کے سامنے پانی بھرتے ہیں۔ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
- ☆...... اگر کوئی شبہ رہ گیا ہے کہ اس حوالہ کو دیکھ لیں، مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود،
قادیانی خلیفہ دوئم اور مرزا قادیانی کے الہامات کے مطابق اپنے آپ کو مصلح موعود قرار دینے والا، مرزا کے مقام کو واضح کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ”تمام انبیاء علیہم السلام (جس میں نبی کریم ﷺ بھی شامل ہیں) پر فرض ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر ایمان لائیں تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں۔“
(الفضل قادیان ج ٣، نمبر ٣٨ ص ٦، مورخہ ١٩ ستمبر ١٩١٥ء)
کیا رسول کریم ﷺ پر فرض تھا کہ مرزا پر ایمان لائیں یا مرزا کو رسول پاک ﷺ اور ان سے قبل تمام نبیوں پر ایمان لانا فرض تھا؟ قرآن کریم نے دو وحیوں پر ایمان لانے کا ذکر کیا ہے ایک جو رسول کریم ﷺ پر نازل کی گئی اور دوسری ان سے قبل جو انبیاء علیہم السلام پر اتاری گئی، کسی بعد میں آنے والی وحی کا ذکر قرآن کریم میں نہیں، تو یہ کیسے ممکن تھا کہ رسول کریم ﷺ قرآن کے مخالف بات پر ایمان لاتے؟ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
- ☆...... مسیح ابن مریم کے نزول یا دوبارہ آمد کا اور امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کا ہمیں
صرف اور صرف احادیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اپنے دعویٰ کی بنیاد حدیث رسول ﷺ پر نہیں رکھتے بلکہ لکھتے ہیں کہ ”ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم
٧٨
وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں۔ اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ اگر حدیثوں کا دنیا میں وجود بھی نہ ہوتا تب بھی میرے اس دعوے کو کچھ حرج نہ پہنچتا۔‘‘
(نزول المسیح ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
اب دیکھیں کہ دعویٰ بھی وہ کرے جن کا ذکر صرف احادیث رسول ﷺ میں ہوا اور پھر ان کی بنیاد صرف مرزا قادیانی کی اپنی وحی ہو تو کیا یہ بالواسطہ طور پر احادیث نبوی جن کی صحت پر کوئی شک نہیں کی توہین نہیں اور پھر جو حدیث مرزا قادیانی کی وحی کے مطابق نہیں اس کو ردی کی طرح پھینک دینے کا دعویٰ؟ کیا غلام کی یا ظل (سایہ) کی یا ناقص نبی، یا غیر مستقل نبی کی یہ کیسے مجال ہو سکتی ہے کہ وہ نبیوں کے سردار آقائے نامدار، شافع دوجہاں، فخر الانبیاء کے ایسے اقوال مبارکہ کو ردی کی طرح پھینک دیتے۔ جن کی صحت اور تواتر کی گواہی تیرہ صدیوں سے متفقہ طور پر امت مسلمہ کے ساتھ غیر بھی دے رہے ہوں؟ کیا یہ رسول کریم ﷺ کی توہین نہیں؟
- ☆...... ایک اور جگہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں خونی مہدی کی حدیثیں وضعی ہیں اور اس عنوان کے
تحت خامہ فرسائیاں کرتے ہیں اور پھر یہ بھی فرماتے ہیں ”میں ان حدیثوں کو پڑھ کر کانپ اٹھا اور دل میں گزرا۔ اور بڑے درد کے ساتھ گزرا کہ اب اگر خدا تعالیٰ خبر نہ لیتا اور یہ سلسلہ قائم نہ کرتا جس نے اصل حقیقت سے خبر دینے کا ذمہ اٹھایا ہے تو یہ مجموعہ حدیثوں کا اور تھوڑے عرصہ بعد بے شمار مخلوق کو مرتد کر دیتا۔ ان حدیثوں نے تو اسلام کی بیخ کنی اور خطرناک ارتداد کی بنیاد رکھ دی ہوئی ہے۔“
(ملفوظات ج ٢ ص ١٢١)
اب مرزا قادیانی کا اپنا استدلال ہی مرزا قادیانی کو غلط ثابت کر رہا ہے کہ اگر یہ جماعت نہ بناتے تو کچھ عرصہ بعد ان احادیث کی وجہ سے ارتداد پھیل جاتا۔ مرزا قادیانی نے یہ نہیں لکھا کہ لوگ مرتد ہو گئے تھے یا نہیں۔ اس جماعت کو مرزا قادیانی نے ١٨٨٩ء میں قائم کیا۔ ملفوظات کی جس جلد سے حوالہ لیا ہے اس میں ١٩٠٠ء کے ارشادات مرزا لکھے ہیں۔ اگر تیرہ سو برس میں لوگ ان احادیث کی وجہ سے مرتد نہیں ہوئے اور اس جماعت کے قائم ہونے کے ١١ برس بعد تک بھی ان احادیث کی وجہ سے مرتد نہیں ہوئے تو آئندہ کی بات کرنا ہی بے بنیاد ہے۔ اس آڑ میں مرزا قادیانی نے احادیث رسول مقبول ﷺ کے مقام کو ہی کم کرنے کی ناکام کوشش نہیں کی بلکہ دماغ میں یہ بٹھانے کی کوشش کی ہے کہ نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ کی احادیث انسان کو مرتد بناتی ہیں (حالانکہ مرتد تو انسان مرزا کو نبی ماننے سے ہو جاتا ہے)۔ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں؟
٧٩
☆....... خدا بھی مرزا قادیانی کے ارادہ کے تحت
کیونکہ مرزا قادیانی کا الہام ہے، ”میں وہی ارادہ کروں گا جو تمہارا ارادہ ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٩) لو جی! جس بندے نے خدا کو اپنے ارادہ کے تحت کر لیا وہ اپنے سامنے نبیوں کو کیا سمجھے گا؟ اس قسم کے حوالے تو بیشمار ہیں مگر اس مضمون میں ان سب حوالوں کا ذکر نہیں ہو سکتا۔
☆....... جس نے اتار دی لوئی (چادر)، اس کو شرم نہ کوئی
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی بے شرم ہو گیا تو اس کا کوئی کیا بگاڑ لے گا۔ اور یہ بات مرزا قادیانی اور ان کی اولاد پر صادق آتی ہے کہ اس ہستی پر جس کے لئے زمین و آسمان پیدا کیا گیا، جس کو خدا تعالیٰ نے رحمت اللعالمین کا خطاب دیا، جس کو نبیوں کا سردار بنایا، جس کو کامل انسان بنایا، اور جس کے نام پر نبوت کر رہے ہیں اور جس کے نام کا کھا رہے ہیں اسی ذات اقدس ﷺ پر اس طرح کی گندہ دہنی جو مرزا قادیانی اور ان کی اولاد نے دکھائی ہے۔ کس کا کام ہو سکتا ہے؟ کسی حرامی کا، حلالی کا؟ بیشمار اور بہت زیادہ سخت حوالے موجود ہیں جو سب کے سب طوالت کی وجہ سے پیش نہیں کئے جاسکتے۔ اس فقیر در مصطفیٰ ﷺ نے جو چند حوالہ جات پیش کئے ہیں، یہ مرزا قادیانی کی گستاخیوں، ان کی اولاد کی دریدہ دہنیوں، ان کی جماعت کے صاحب علم لوگوں کی روح شکن، ایمان شکن تحریروں کے انباروں سے چند سطور ہیں۔ یہ سوال کرنے کیلئے کہ کیا یہ تحریریں، سرور کائنات، رحمت اللعالمین، شفیع روز محشر، خاتم النبیین، ختم المرسلین، غریبوں کے ملجا و ماوٰی، محسن انسانیت، رسول پاک ﷺ کی شان میں ہتک ہیں یا نہیں؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے اور ہر صاحب عقل، صاحب ضمیر، کا جواب میرے نزدیک یقیناً ”ہاں“ ہے! تو پھر مرزا قادیانی کا فتویٰ: ”جو شخص آنحضرت ﷺ کی شان میں کوئی ایسا کلمہ زبان پر لائے گا۔ جس سے آپ کی ہتک ہو وہ حرامی نہیں تو اور کیا ہے“۔
کے مصداق ایسی تحریریں لکھنے، اور کہنے والا حرامی ہے یا نہیں؟
اب کوئی بتائے گا کہ مرزا قادیانی خود، ان کی اولاد، اور قادیانی جماعت کا (مذہبی) صاحب علم طبقہ جو مرزا قادیانی کے اوپر دیئے گئے ارشادات پر نہ صرف ایمان بھی رکھتا ہے بلکہ اس کی پوچ تاویلوں کے ذریعہ اشاعت بھی کرتا ہے (لیکن براہ کرم اس میں عام احمدی کو نہ گنیں، کیوں کہ بیچارے ٩٩ فیصد عام احمدیوں کو ان باتوں کا علم نہیں کہ مرزا قادیانی کس قسم کا ”علمی ذخیرہ“ چھوڑ گئے ہیں) اب یہ سب مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے ہی فتویٰ کی رو سے کیا ہیں؟
٨٠
ہتک رسول مقبول ﷺ کے مرتکب ہیں یا نہیں؟ اور اس طرح مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں حرامی ہیں یا نہیں؟ سوال میرا ہے جواب آپ اپنے ضمیر کے مطابق دیں!
(٣) ....... عذر گناہ....... بدتر از گناہ
(شیخ راحیل احمد ۔ جرمنی)
مرزا غلام احمد قادیانی کی یوں تو ہر بات ہی نرالی تھی، بڑی دور کی کوڑی لاتے تھے۔ اور ایسی ایسی دلیلوں اور تاویلوں کو جوڑ کر، اور حوالوں کو توڑ مروڑ کر اپنی بات پیش کرتے تھے کہ بھان متی نے کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا لے کر کیا کنبہ جوڑا ہو گا ؟ مرزا قادیانی کا دعویٰ مہدی اور مسیح موعود کا تھا اور جس مقام کا دعویٰ ان کا تھا اس کیلئے نہ صرف تمام ارکان اسلام کو بجالانا فرض تھا۔ اس مختصر مضمون میں یہ جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
قرآن کریم میں حج کے بارے میں ارشاد ہے کہ : ”لوگوں پر فرض ہے اللہ کے لئے خانہ کعبہ کا حج کریں۔ جس کو وہاں تک راہ مل سکے اور جو نہ مانے (اور باوجود قدرت کے حج نہ کرے) تو اللہ سارے جہانوں سے بے نیاز ہے۔“
(آل عمران : ٩٧)
حدیث شریف میں حج کے متعلق آیا ہے کہ : ”ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا...... انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ، انہوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ﷺ ہم جانتے ہیں کہ جہاد سب نیک عملوں سے بڑھ کر ہے۔ تو جہاد کریں، آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، عمدہ جہاد حج مبرور ہے۔“
(صحیح البخاری ج ١ ص ٢٠٦ باب فضل الحج المبرور)
مرزا غلام قادیانی کے دعوٰی بلکہ متفق علیہ احادیث بھی موجود ہیں کہ مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام خانہ کعبہ کا طواف کریں گے۔ مرزا قادیانی سے جب بھی سوال کیا جاتا کہ آپ نے حج نہیں کیا۔ احادیث کے مطابق آپ کو حج کرنا چاہئے پہلے تو مرزا قادیانی نے احادیث کے بارے میں قدم بہ قدم شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جب اس سے بھی کام نہ بنا تو حدیث کا سوال ختم کرنے کے لئے کہہ دیا کہ میرے دعوے کی بنیاد حدیث نہیں۔ بلکہ میری وحی ہے (اور مرزا قادیانی اپنی وحی قرآن کریم کے مقابل، برابر سمجھتے تھے) اور مزید فرمایا کہ ہاں جو حدیث میری (یعنی مرزا قادیانی) کی وحی کے مطابق ہے اس کو ہم پیش کر دیتے ہیں اور مرزا قادیانی یہ کہتے ہوئے بالکل بھول جاتے ہیں کہ جس مقام کا دعویٰ وہ کر رہے ہیں۔ اس مقام اور دعوے کے بارے میں عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور مہدی علیہ السلام ظاہر ہوں گے
٨١
اور حج کے موقع پر لوگ ان کو طواف کرتے ہوئے پہچانیں گے۔ محض اور محض احادیث سے ہی ثابت ہے اور مسلمان اگر مہدی علیہ السلام کے منتظر ہیں تو احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں۔ نہ کہ مرزا قادیانی کی خود ساختہ وحی کی روشنی میں۔
اب مرزا قادیانی کے جوابات پڑھئے اور سر دھنئے کہ حج کیوں نہیں کیا؟
- ☆...... مرزا قادیانی اپنی کتاب ”ایام الصلح“ میں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح موعود کے حج پر
جانے کی حدیث موجود ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس حدیث کی اہمیت کم کرنے کیلئے دجل سے کام لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”اگر بموجب نصوص قرآنیہ وحدیثیہ پہلا فرض مسیح موعود کا حج کرنا ہے نہ دجال کی سرکوبی تو وہ آیات اور احادیث دکھلانی چاہئیں۔ تاکہ ان پر عمل کیا جائے“
(ایام الصلح ص ١٦٨، خزائن ج ١٤ ص ٣١٦)
اب آپ دیکھیں ایک طرف تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ میرے دعویٰ کو حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کی بنیاد میری وحی ہے۔ دوسری طرف جو حدیث ان کی وحی کے مطابق نہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے کے قابل ہے۔ اور جس حدیث میں مہدی علیہ السلام کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ اسی میں یہ بھی موجود ہے کہ لوگ ان کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے پہچانیں گے۔ اس کے باوجود بھی مرزا قادیانی کو نہ نظر آئے تو ان کی نیت کا فتور ہے۔
- ☆...... پھر سوال کرتے ہیں کہ: ”آپ اس سوال کا جواب دیں کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو
کیا اول اس کا فرض ہونا چاہئے کہ مسلمانوں کو دجال کے خطرناک فتنوں سے نجات دے یا یہ کہ ظاہر ہوتے ہی حج کو چلا جائے۔“
(ایام الصلح ص ١٦٨، خزائن ج ١٤ ص ٣١٦)
پہلا سوال تو یہ ہے کہ مسیح موعود نے اپنی زندگی میں دجال کو شکست دے دی۔ اس کو ختم کر دیا؟ اس کا جواب ہمارے قادیانی دوست یہ دیتے ہیں کہ: ”تین سو سال کے عرصہ میں فتح نصیب ہوگی۔“ اس کے جواب میں پھر یہ سوال ہے کہ تمام احادیث تو مسیح موعود کی زندگی میں ہی دجال کے خاتمہ کی بات کر رہی ہیں۔ دوسرے اگر ہم یہ بات مان بھی لیں تو اب دجال کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک سو پچیس سال ہوگئے ہیں۔ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت نے اس عرصہ میں کیا دجال کی طاقت کا تیسرا حصہ تباہ کر دیا ہے؟ چلو تیسرے کو چھوڑو کیا چھٹا حصہ تباہ ہو گیا ہے؟ چلو اس کو بھی چھوڑو۔ کیا دجالیت کا سواں حصہ بھی ختم ہو گیا ہے؟ جواب اگر نہیں میں ہے اور یقیناً نہیں میں ہے تو مرزا قادیانی اور ان کی جماعت نے جو تیر ایک سو پچیس سال میں چلائے ہیں وہی تیر آئندہ بھی چلائیں گے۔ لیکن مسیح موعود کے بارے میں خود ان کا حج کرنا اور رسول ﷺ کے روضہ
٨٢
پر جانا احادیث کی کتابوں میں لکھا ہے یا نہیں؟ اگر لکھا ہے تو کیا مرزا قادیانی حج پر گئے؟
☆....... مرزا قادیانی اپنی کتاب (ایام الصلح ص ١٦٨، خزائن ج ١٤ ص ٤١٦) لکھتے ہیں: ”ہمارا حج تو اس وقت ہوگا جب دجال بھی کفر اور دجل سے باز آکر طواف بیت اللہ کرے گا،،
اب مرزا قادیانی کا دجل کھل گیا کہ احادیث سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ قیامت کے قریب دجال کا خروج ہوگا اور کوشش کرے گا کہ حرمین شریف میں داخل ہو اور وہ مشرق سے مدینہ کی طرف چلے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فرشتے حرمین شریفین کی حفاظت پر مامور ہوں گے اور وہ دجال کو داخل نہیں ہونے دیں گے اور دجال توبہ نہیں کرے گا۔ بلکہ مسیح موعود کے ہاتھوں مارا جائے گا۔ لیکن مرزا قادیانی ان احادیث کے بر خلاف خود ساختہ خیالات پھیلا کر دجل سے قادیانی لوگوں کو بے وقوف بنا گئے۔ چونکہ مرزا قادیانی خود اپنے دعوؤں اور ان کے لئے دجل سے دلیلوں اور تاویلوں کو دجل اور جھوٹ سے پھیلاتے رہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک کذاب اور خود ساختہ نبی کو دجال کی طرح حرمین شریفین میں داخل نہیں ہونے دیا۔
☆....... مرزا قادیانی اسی طرح (ایام الصلح ص ١٦٨، خزائن ج ١٤ ص ٤١٦) میں لکھتے ہیں: ”یہ مسئلہ کچھ باریک نہیں۔ صحیح بخاری دیکھنے سے اس کا حل مل سکتا ہے۔ اگر رسول اللہ کی یہ گواہی ثابت ہو کہ پہلا کام مسیح موعود کا حج کرنا ہے تو بہر حال ہم حج کو جائیں گے۔ ہر چہ بادا باد“
کوئی شخص کیسے مسیح موعود بن سکتا ہے۔ جبکہ اس نے تمام ارکان اسلام ہی ادا نہ کئے ہوں۔ کیا اللہ تعالیٰ اتنا مجبور ہے کہ ایک شخص کو احیاء اسلام کے لئے دنیا میں بھیجتا ہے۔ مگر اس کے لئے حالات پیدا نہیں کرتا کہ وہ تمام ارکان اسلام ادا کر سکے؟ اور جو شخص خود اسلام پر مکمل طور پر عمل پیرا نہیں۔ وہ دوسروں کیلئے حکم کیسے بن سکتا ہے؟ دوسرے مرزا قادیانی کا دعویٰ مہدی موعود کا بھی ہے اور مہدی رضوان اللہ کو تو بمطابق سچے نبی کی پیشگوئیوں کے خانہ کعبہ میں پہچان کر اس کی بیعت کرنی تھی۔ اور اس کا مطلب ہے کہ دعویٰ مہدی کا غلط ہے۔ اگر ایک دعویٰ غلط ہے تو دوسرے خود بخود غلط ہو گئے!
☆....... پھر ایک مرتبہ حج پر نہ جانے کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل ہے۔ ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں۔ بہت سے خنزیر مر چکے ہیں اور بہت سخت جان ابھی باقی ہیں۔ ان سے فرصت اور فراغت تو ہولے۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ٣ ص ٢٧٢)
٨٣
مرزا قادیانی نے قتل خنزیر والی حدیث پر بھی مختلف آراء دی ہیں۔ جن میں کبھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قتل خنزیر کے حوالے سے مذاق اڑایا گیا ہے اور کبھی سانسیوں ، چماروں کی موج کروائی گئی ہے۔ اور اب مرزا قادیانی خود بہ نفس نفیس خنزیر کو مارنے والے سانسی چمار بننا پسند کر رہے ہیں تاکہ حج پر نہ جانے کا کوئی جواز دے سکیں۔ ذرا مرزا قادیانی کے ایک صحابی کی روایت بھی پڑھ لیں: ”مرزا امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مراد مرزا قادیانی۔ ناقل) اکثر ذکر فرمایا کرتے تھے کہ بقول ہمارے مخالفین کے جب مسیح آئے گا اور لوگ اس کو ملنے کے لئے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ مسیح صاحب باہر جنگل میں سور مارنے کیلئے گئے ہوئے ہیں۔ پھر وہ لوگ حیران ہو کر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے اور باہر سوروں کا شکار کھیلتا پھرتا ہے پھر فرماتے تھے کہ ایسے شخص کی آمد تو سانسیوں اور گنڈیلوں کی خوشی ہو سکتی ہے جو اس قسم کا کام کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو کیسے خوشی ہو سکتی ہے۔ یہ الفاظ بیان کر کے آپ بہت ہنستے تھے یہاں تک کہ اکثر اوقات آپ کی آنکھوں میں پانی آ جاتا تھا۔“
(سیرت المہدی ج ٣ ص ٨٠٩ روایت نمبر ٩٣٦)
اس پر مزید تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تحریر ہی اپنے اوپر تبصرہ ہے۔ مرزا قادیانی اپنے اندر کے سور کو تو مار نہیں سکے۔ اسلام کے لئے کون سے سوروں کو مارا ہے یا مارنا تھا؟
- ☆....... پھر ایک بار سوال کیا گیا کہ آپ حج پر نہیں گئے تو مرزا صاحب جواب دیتے ہیں:
”تمام مسلمان علماء اول ایک اقرار لکھ دیں کہ اگر ہم حج کر آئیں تو وہ سب کے سب ہمارے ہاتھ پر توبہ کر کے ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہمارے مرید ہو جائیں گے۔ اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرار حلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔“
(ملفوظات ج ٩ ص ٣٦٥)
یعنی نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔ اب کوئی یا کچھ اشخاص اس کام میں لگ جائیں کہ پوری امت مسلمہ کے علماء کرام کو ڈھونڈ کر ان سے بلا چون و چرا مرزا قادیانی کی اجرائے نبوت پر مہر لگواؤ اور ساتھ ہی درخواست لکھواؤ کہ حضور مرزا قادیانی ، خدا کے لئے ہم پر احسان کرو اور حج کر آؤ۔ جب آؤ گے تو ہم سب باجماعت مرزا جی پر ایمان لے آئیں گے۔ اگر ہم مرزا قادیانی کا تمام کلام چھوڑ دیں۔ صرف یہی ایک حوالہ سامنے رکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ حدیث نبوی کے ارشاد سے بچنے کے لئے ایک بیہودہ انسان، ایک جھوٹا نبی کیسی کیسی بیہودہ اور نامعقول تجاویز، تاویلات اور بہانے ڈھونڈ سکتا ہے۔ صرف اسی ایک حوالے پر مزید بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں مرزا قادیانی کے حج پر نہ جانے کے عیارانہ بہانوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ اس لئے تفصیلی تبصرہ
٨٤
کسی اور موقع پر وما توفیقی الا باللہ۔ آپ خود دیکھ لیں کہ کیا ایسا شخص جو نعوذ باللہ بروز محمد ﷺ کا دعویٰ کرتا ہو۔ کیا یہ جواب اس کے شایان شان ہے؟
☆...... مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے، جن کو مرزا قادیانی نے قمر الانبیاء کا خطاب دیا ہوا تھا۔ مرزا قادیانی کی سیرت پر تین جلدوں پر مشتمل ایک کتاب (سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٧٣ روایت نمبر ٧٧٦) میں مرزا قادیانی کے حج پر نہ جانے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”پہلے تو مرزا قادیانی کے مالی حالات ایسے نہ تھے کہ حج کر سکتے۔ دوسرے وہ تبلیغ اسلام میں ایسے مشغول رہے کہ فرصت نہ ملی۔ اور تیسرے بعد میں مرزا قادیانی کے خلاف فتوؤں کی وجہ سے ان کے لئے سفر محفوظ نہ تھا۔“ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ان تینوں عذرات میں سے ایک بھی عذر خود بیان نہیں کیا بلکہ اوپر دیئے گئے حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے جواب ہمیشہ مختلف لیکن بے بنیاد رہے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی اپنے دیئے گئے جوابات، بیان کے مقابلے میں ان کے بیٹے کو دیئے ہوئے جواب کی کوئی مسلمہ حیثیت نہیں۔ لیکن اس کے باوجود اگر کسی قادیانی بھائی کو اسی جواب پر اصرار ہے تو وہ ان باتوں کا جواب دیں۔
پہلی بات کہ: ”اگر مرزا قادیانی کی مالی حیثیت ایسی نہ تھی تو وہ براہین احمدیہ میں دس ہزار روپیہ کا چیلنج کہاں سے دے رہے تھے۔“ اور اپنے آپ کو رئیس قادیان کیسے لکھتے تھے؟ اگر ان کے پاس پیسے نہیں تھے اور وہ کنگلے تھے تو کیا اسلام کے نام پر دس ہزار کا چیلنج دینا اور اپنے آپ کو کتاب کے ٹائٹل پر رئیس قادیان لکھنا اور ظاہر کرنا دھوکہ نہیں تھا؟ کیا ایک دھوکے باز مسیح آپ کو قبول ہے؟ دوسرا عذر تبلیغ اسلام میں مشغول تھے۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک اللہ کی اطاعت، دوسرے انگریز حکومت کی تابعداری۔ اور ان خیالات کو پھیلانے میں ساری عمر لگے رہے اور مرزا قادیانی کے اپنے بقول وہ لگاتار ایک لمبا عرصہ (٢٠ سال سے زائد) تمام عرب وعجم میں یہ خیالات پھیلاتے رہے۔ تو وہاں جا کر ذاتی طور پر کیوں نہیں یہ خیالات پھیلانے کی کوشش کی۔ حج کے موقع پر آپ کی ایک تقریر کروڑوں مسلمانوں کو انگریزی حکومت کا خیر خواہ بنا دیتی کیونکہ بقول مرزا قادیانی کے وہ خدا کی طرف سے مقرر کردہ مہدی اور مسیح تھے۔ اور وہیں لوگوں نے اس کو پہچاننا تھا؟ لوگ بھی پہچان لیتے اور پوری دنیا میں ایک بار ہی پیغام پہنچ جاتا؟ تیسرے راستے محفوظ نہیں رہے۔ مولویوں کے فتویٰ کی وجہ سے تو مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ میں قتل کے منصوبوں وغیرہ سے بچایا جاؤں گا۔ بلکہ یہ بھی الہام، وحی ہے کہ جو مجھ پر حملہ کرے گا میں اس پر حملہ کردوں گا۔ اب اس سے بہتر کونسا وقت تھا اپنے الہام کی سچائی ثابت کرنے کا۔ پھر
٨٥
مرزا قادیانی کی وحی ہے کہ خدا نے ان کو کہا ہے کہ جو تیرا ارادہ ہے۔ وہ میرا ارادہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے حج کا ارادہ کیا یا نہیں؟ اگر نہیں کیا تو مسیح موعود تو کیا صحیح مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتے۔ اور اگر کیا اور پورا نہیں کیا تو کیا خدا پر بہتان باندھا کہ اس نے ان کے ارادہ کو اپنا ارادہ کہا ہے؟ یا ماننا پڑے گا کہ یہ جھوٹ بولا ہے یا شیطانی الہام تھا اس لئے پورا نہیں ہوا۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ مجھے طاقت دی گئی ہے کہ میں جس کام کو کہوں ہو جا، وہ ہو جائے گا؟ اب یہ بتائیں کہ اس سے بڑھ کر بھی کوئی موقع تھا کہ وہ اس طرح رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی پورا کرنے والے بن جاتے؟ اگر اس موقع پر کن فیکون کی طاقت نہیں دکھائی تو اس سے بہتر اور کونسا موقع تھا؟ کیا کہیں اور کسی کام میں یہ طاقت دکھائی تو بتائیں؟
- ☆ ...... اب جب یہ جوابات بھی لوگوں کو مطمئن نہ کر سکے اور مرزا قادیانی پر بار بار یہ اعتراض
وارد ہوا کہ تو احساس ہوا کہ لوگوں کے اعتراض کا شافی جواب نہیں دیا گیا۔ اب اس کو خدا کے حکم کی خلاف ورزی قرار دے دیا اور ساتھ ہی حسب عادت (جو کہ جماعت کی اب ناقابل تبدیل دفاعی سٹریٹجی بن چکی ہے کہ مرزا قادیانی تو دور کی بات، خلیفہ بھی چھوڑو، جب ان کے کسی مربی (عالم) پر بھی اعتراض کرو گے تو وہ بجائے اس اعتراض کا عقلی یا کسی اور دلیل سے جواب دے۔ فوراً جواباً حضرت سرور کونین رسول پاک ﷺ کی ذات اقدس پر بھی عیسائیوں یا یہودیوں کا کیا ہوا اعتراض سامنے رکھ دیں گے) رسول پاک ﷺ کی ذات پر الزام جڑ دیا کہ مکہ میں انہوں نے تیرہ سال حج نہیں کیا۔ اب ذرا یہ جواب ان کے اپنے الفاظ میں بھی پڑھ لیجئے: ”مخالفوں کے اس اعتراض پر کہ مرزا قادیانی حج کیوں نہیں کرتے۔ فرمایا کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ جو خدمت اللہ تعالیٰ نے اول رکھی ہے۔ اس کو پس انداز کر کے دوسرا کام شروع کر دیوے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عام لوگوں کی طرح ملہمین کی عادت کام کرنے کی نہیں ہوتی۔ وہ خدا تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی سے ہر ایک امر کو بجالاتے ہیں۔ اگرچہ تمام شرعی احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ مگر ایک حکم کی تقدیم و تاخیر الٰہی ارادہ سے کرتے ہیں۔ اب اگر ہم حج کو چلے جاویں تو گویا اللہ کے حکم کی مخالفت کرنیوالے ٹھہریں گے اور (من استطاع اليه سبيلا ، آل عمران:٩٨) کے بارے میں حجج الکرامہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر نماز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو حج ساقط ہے۔ حالانکہ اب جو لوگ جاتے ہیں ان کی کئی نمازیں فوت ہو جاتی ہیں۔ مامورین کا اول فرض تبلیغ کا ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ ١٣ سال مکہ میں رہے۔ آپ نے کتنی مرتبہ حج کئے تھے؟ ایک دفعہ بھی نہیں کیا۔“ (ملفوظات ج ٥ ص ٣٨٨) یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مرزا قادیانی کا کوئی الہام یا وحی ایسی ہے جس میں اللہ
٨٦
تعالیٰ نے ان کو حج پر جانے سے روکا ہو؟ ( کرنے کا ہی کہا ہو؟ دوسری بات کہ مرزا قاد قرآنی تشریح بھی بیان کی ہے کہ کیا مرزا ق کرتے ہیں؟ اور اب مرزا قادیانی کی یہ دفعہ بھی حج نہیں کیا۔ اس کا ہو سکتا ہے کہ مرز اہم بات یہ فقیر در مصطفیٰ ﷺ مرزا قادیانی وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ بیان نہیں ک نہیں ہوئے تھے اور یہ حکم مدینہ منورہ میں نا
- ☆ ...... اور میری سمجھ کے مطابق خدا ت
فرض حج کے لئے فرمایا کہ تاقیامت امت پڑتا۔ لیکن کم استطاعت والوں کو مبرا بھی ک طرح نمازوں کے باقاعدہ احکامات بھی م دلیل تسلیم کر لی جائے تو پھر کل کو نمازوں نمازیں ادا نہیں کی جاتی رہیں کہ تبلیغ پہلے کرنی شروع کر دے تو کوئی بھی رکن نہیں تبلیغ ہی رہ جاتی ہے جو قادیانی قیامت جماعت کو اور وہ ہے چندہ، چندہ، چندہ دیتے ہیں۔ لیکن اسی (٨٠) فیصد نمازو وغیرہ ہوتی ہے تو نمازیں جمع کر لیتے ہی کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ایک اور سوال پر جانے والوں کی نمازیں ساقط ہوتی ہیں اپنے جلسہ میں شمولیت کو حج کا نعم البدل ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر جلسہ پر جانے والوں کی نمازیں ساقط نہیں ہوت
- ☆ ...... مرزا قادیانی اور ان کی او
تعالیٰ نے ان کو حج پر جانے سے روکا ہو؟ (کیونکہ مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا) یا کم از کم تاخیر کرنے کا ہی کہا ہو؟ دوسری بات کہ مرزا قادیانی نے اپنے فیصلہ کی بنیاد پر حج الکرامہ کی اوپر دی گئی قرآنی تشریح بھی بیان کی ہے کہ کیا مرزا قادیانی حج الکرامہ میں لکھی ہوئی باقی باتوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں؟ اور اب مرزا قادیانی کی یہ بات کہ آنحضرت ﷺ ١٣ سال مکہ میں رہے اور ایک دفعہ بھی حج نہیں کیا۔ اس کا ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی یا ان کی جماعت کے پاس کوئی حوالہ ہو۔ لیکن اہم بات یہ فقیر در مصطفیٰ ﷺ مرزا قادیانی کے جس دجل کے فریب کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ بیان نہیں کیا کہ اس وقت تک حج کے باقاعدہ احکامات ہی نازل نہیں ہوئے تھے اور یہ حکم مدینہ منورہ میں نازل ہوا۔
☆....... اور میری سمجھ کے مطابق خدا تعالیٰ نے رسول پاک ﷺ کے ذریعہ اسی لئے ایک بار فرض حج کے لئے فرمایا کہ تاقیامت امت پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ صاحب ثروت کو تو نہیں فرق پڑتا۔ لیکن کم استطاعت والوں کو مبرا بھی کر دیا۔ ورنہ اگر زیادہ کا حکم ہوتا تو زیادہ حج کرنا پڑتا۔ اسی طرح نمازوں کے باقاعدہ احکامات بھی مدینہ منورہ میں ہی نازل ہوئے تھے۔ اگر مرزا قادیانی کی دلیل تسلیم کر لی جائے تو پھر کل کو نمازوں کے لئے بھی یہی عذر پیش کر دے گا کہ مکہ معظمہ میں نمازیں ادا نہیں کی جاتی رہیں کہ تبلیغ پہلے ہے اور نمازیں بعد میں۔ اگر انسان اس طرح کی تاویلیں کرنی شروع کر دے تو کوئی بھی رکن نہیں بچتا تو پھر تبلیغ کس بات کی اور کیا کرو گے؟ لے دے کر تبلیغ ہی رہ جاتی ہے جو قادیانی قیادت اور ان کے چیلے چانٹے کر رہے ہیں۔ وہ بھی اپنی ہی جماعت کو! اور وہ ہے چندہ، چندہ، چندہ۔ نماز کے ساتھ یاد آیا قادیانی نمازوں پر بظاہر بڑا زور دیتے ہیں۔ لیکن اسی (٨٠) فیصد نمازوں میں ڈنڈی مارتے ہیں اور جب بھی کوئی جلسہ یا میٹنگ وغیرہ ہوتی ہے تو نمازیں جمع کر لیتے ہیں اور جمع بھی ظہر کیساتھ عصر کی، مغرب کے ساتھ عشاء کی کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ایک اور سوال یہ ہے کہ : ”کس بنیاد پر مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ آجکل حج پر جانے والوں کی نمازیں ساقط ہوتی ہیں؟۔“ اور پہلے قادیان پھر ربوہ، اب لندن میں جو انہوں نے اپنے جلسہ میں شمولیت کو حج کا نعم البدل قرار دیا ہے۔ وہاں پر جانے والوں کی نمازیں بھی ساقط ہوتی ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر جلسہ کا حکم بھی بند کرو اور اگر جواب نہ میں ہے تو جس طرح جلسہ پر جانے والوں کی نمازیں ساقط نہیں ہوتیں تو حج پر جانے والوں کی بھی نہیں ہوسکتیں۔
☆....... مرزا قادیانی اور ان کی اولاد نے حج نہ کرنے کے جو بھی جواز پیش کئے وہ ہر عقلمند ایک
٨٧
نظر میں ہی دیکھ لیتا ہے کہ مرزا قادیانی اگر مسلمان تھے تو انہوں نے توفیق ہونے کے باوجود حج نہ کیا اور اوپر سے عذر بھی بے تکے پیش کئے اور اس کہاوت کو سچ ثابت کر دیا کہ عذر گناہ ، بدتر از گناہ ۔“
اصل بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے خدا کے نام پر بہتان باندھا اور خدا نے مجدد، محدث، مثیل مسیح ، پھر موعود (اور نہ جانے کیا کیا بلا ) نیز ان کو وحی ہوئی۔ نبی اور رسول کہا۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ جس حیثیت میں بھی جس معاملہ میں بھی اور جب بھی مرزا قادیانی نے تحدی سے کوئی پیشگوئی کی۔ خدا نے وہ کبھی پوری نہیں ہونے دی (اور نہ ہونے پر تاویل در تاویل، پیش کرتے رہے ) اس لئے کہ وہ خدا پر اپنی وحی، نبوت و رسالت کا بہتان باندھ رہے تھے۔ اسی طرح حج کے معاملے میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہی ان کے منہ سے ایسے بے تکے جواب نکلوائے اور ان کے خانہ کعبہ کو دیکھنے کے بھی اسباب پیدا نہ ہونے دیئے اور ان کے دل اور دماغ پر مہر لگا کر ایسے بے تکے جواب نکلوادیئے۔ تاکہ یہ کاذب نبی اور اس کے کذب کو لے کر چلنے والے اپنے دعوے کی کذبیت کو چھپائے نہ چھپا سکیں اور ہر پہلو سے ان کا کذب بار بار تا قیامت ظاہر ہوتا رہے۔
مرزا قادیانی نے نہ صرف حج نہیں کیا۔ بلکہ الفاظ کے ہیر پھیر میں دوسروں کو بھی حج سے روکتے رہے۔ پڑھئے اور سر دھنئے:
”دیکھو حج کے واسطے جانا خلوص اور محبت سے آسان ہے۔ مگر واپسی ایسی حالت میں مشکل ۔ بہت ہیں جو وہاں سے نامراد اور سخت دل ہو جاتے ہیں۔ اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ وہاں کی حقیقت ان کو نہیں ملتی۔ قشر کو دیکھ کر رائے زنی کرنے لگ جاتے ہیں۔ وہاں کے فیوض و برکات سے محروم ہوتے ہیں۔ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے اور پھر الزام دوسروں پر دھرتے ہیں۔ اس واسطے ضروری ہے کہ مامور کی خدمت میں صدق اور استقلال سے کچھ عرصہ رہا جاوے۔ تاکہ اس کے اندرونی حالات سے بھی آگاہی ہو اور صدق پورے طور پر نورانی ہو جاوے۔“
(الحکم ج ٧ نمبر ١٠ ص ٣، ٤، ١٧؍ مارچ ١٩٠٣ء، ملفوظات ج ٥ ص ١٧٧)
- ☆...... اگر ہم اوپر دیئے گئے حوالہ کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو یہ ایک پورے مضمون کا متقاضی
ہے۔ لیکن مختصراً چند نکات پیش کرتا ہوں:
- ☆...... محبت اور خلوص کے ساتھ حج پر جانا آسان ہے اور واپسی پر بجائے ان میں بہتری کے
جانے والی حالت میں بھی مشکل ہے۔
- ☆...... بہت ہیں۔ یعنی کافی زیادہ ہیں جو بجائے بامراد ہونے کے نامراد ہو کر اور بجائے نرم
٨٨
دل ہونے کے سخت دل ہو کر آتے ہیں۔
- ☆...... وہاں ان کو ایمان کی حقیقت نہیں ملتی۔
یہ تو تھی مرزا قادیانی کی لن ترانی۔ اب ذرا یہ بھی پڑھ لیں اور خود فیصلہ کریں کہ ایمان کی حقیقت حج پر ملتی ہے یا نہیں؟ حدیث میں آتا ہے کہ:
”ہم سے آدم بن ابی ایاس...... ابو ہریرہؓ سے سنا۔ کہا میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لئے حج کرے اور شہوت اور گناہ کی باتیں نہ کرے۔ تو وہ ایسا پاک ہو کر لوٹے گا جیسے اس دن پاک تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔“
(صحیح البخاری ج ١ ص ٢٠٦ باب فضل الحج المبرور)
- ☆...... حج پر روحانی پھل کو نہیں کھاتے۔ بلکہ ان کو روحانی پھلوں کے چھلکے (قشر) سے آگے
ان کو کچھ نظر نہیں آتا۔
- ☆...... حج کے فیوض حاصل کرنے کی بجائے بدکاریاں کر کے آتے ہیں اور پھر ان بدکاریوں
کا الزام دوسروں پر رکھتے ہیں۔
- ☆...... حج کے فوائد اٹھانے کیلئے صرف اسلام کی تعلیم کافی نہیں۔ بلکہ پہلے کسی مامور
کو ڈھونڈو۔ اس کے پاس کچھ عرصہ رہو۔ تب حج پر جانا فائدہ مند ہوگا۔ یہاں مرزا قادیانی کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس آکر رہو اور وقت گزارو۔ پیسے مرزا قادیانی کو دے دو اور پھر بجائے حج کے یہ سمجھتے ہوئے اپنے گھر واپس چلے جاؤں کہ مرزا قادیانی کی صحبت میں حج کا ثواب مل گیا ہے۔ ایسی کئی مثالوں میں سے شہزادہ عبداللطیف کی مثال ہی کافی ہے کہ کابل سے حج کرنے نکلے۔ مرزا قادیانی کے پاس آئے اور پھر حج پر جانے کی بجائے کچھ عرصہ گزار کر افغانستان لوٹ گئے اور وہاں جاتے ہی ملک اور دین سے غداری کے الزام میں سنگسار ہوئے۔
مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ: ”لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں۔ مگر اس جگہ (یعنی قادیان میں ۔ ناقل) نفلی حج سے زیادہ ثواب ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر۔ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٥٢، خزائن ج ٥ ص ٣٥٢) یعنی حج قادیان میں بھی ہو سکتا ہے؟ مرزا قادیانی کا یہ شعر بھی اس بات کی تائید کرتا ہے۔
ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے
(درثمین ص ٥٢)
٨٩
اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے پاس آ کر انسان کیا حاصل کرتا ہے اور سلوک کی کون سی منازل طے کرتا ہے۔ ان ساری باتوں کا مختصر اور جامع جواب مرزا قادیانی کی اپنی تحریریں ہی دے رہی ہیں۔
- ☆...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میں اس جگہ اس بات کا اظہار بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ جس
قدر لوگ میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہیں۔ وہ سب کے سب ابھی اس بات کے لائق نہیں کہ ان کے متعلق عمدہ رائے کا اظہار کر سکوں۔ بلکہ بعض خشک ٹہنیوں کی طرح نظر آتے ہیں جن کو میرا خداوند جو میرا متولی ہے مجھ سے کاٹ کر جلنے والی لکڑیوں میں پھینک دے گا۔ بعض ایسے بھی ہیں کہ اول ان میں دلسوزی اور اخلاص بھی تھا۔ مگر اب ان پر سخت قبض دارد ہے اور اخلاص کی سرگرمی اور مریدانہ محبت کی نورانیت باقی نہیں رہی۔ بلکہ صرف بلغم کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجز اس کے کسی کام کے نہیں کہ منہ سے اکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دیئے جائیں۔ وہ تھک گئے اور درماندہ ہوئے۔ اور نابکار دنیا نے انہیں اپنے دام تزویر کے نیچے دبا لیا۔“
(فتح اسلام ص ٦٧ ، خزائن ج ٣ ص ٤٠)
- ☆...... دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت
ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں اور ایک کمزور بچے کی طرح ہر ایک ابتلاء کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٨٧، خزائن ج ٢١ ص ١١٤)
یہ ١٩٠٧ء میں طبع ہوئی۔ اس پر ایک انسان یہی تبصرہ کر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی جن لوگوں سے عزت پاتے تھے۔ جن کے چندہ پر رئیسوں کی طرح عیش کرتے تھے اور جائدادیں بناتے۔ انہی لوگوں کی بڑی تعداد کو مردار کی طرف دوڑنے والا کتا قرار دے رہے ہیں۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے احسان فراموشوں کو ہی ”جس تھالی میں کھائے اسی میں تھوکنے والا“ کہے کا خطاب برحق ہوگا یا نہیں؟ یا پھر جو لوگ اس الزام کو تسلیم کر رہے ہیں سادگی کی وجہ سے۔ ان کو کیا یہ مشورہ دینا جائز نہیں ہوگا کہ تم اچھے انسان ہو اور یہ خطاب واپس کر کے ان کی طرف لوٹ جاؤ جو تمہیں انشاء اللہ انسان ہی سمجھیں گے۔
اور ہزار باتوں کی ایک بات۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام حصہ اول ، خزائن ص ٢٢٣،٢٢٢ ج ٣ ص ٢١١) میں لکھتے ہیں کہ: ”مسلم کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے
٩٠
فرمایا تھا کہ دجال مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔‘‘ اور میرے خیال میں مرزا قادیانی نے اپنے بے بنیاد دلائل، بیہودہ تاویلات ، حق کو چھپانے والے غلط طریق اختیار کر کے اپنے آپ کو اصلی نہیں تو معہود دجال کا چھوٹا بھائی ضرور ثابت کر دیا ہے۔ اس لئے بھی وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہو سکے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
ہماری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ قادیانیوں کو مرزا قادیانی کا دجل، چالبازیاں، جھوٹ ، تحریفات، تاویلات کو حقیقی طور پر سمجھنے میں مدد دے اور مرزائی مکڑی کے جال سے نکلنے کی توفیق دے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اور مرزائی تعلیم میں فرق کو کھلے طور پر واضح کرے اور ان کو واپس صحیح دین میں لائے۔ آمین!
(٤)...... دیکھو کیا کہتی ہے تصویر تمہاری
(شیخ راحیل احمد ۔ جرمنی)
مرزا غلام احمد قادیانی بھی بڑے الگ قسم کے انسان تھے۔ مرگی اور مالیخولیا کے مریض تھے۔ جب ان کو مالیخولیا کا زور دار حملہ ہوتا تو وہ سمجھتے کہ ان پر وحی نازل ہو رہی ہے اور جب مرگی کا دورہ پڑتا تو سوداوی بخارات اٹھنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے خیالات ان کا الہام کہلاتے۔ لیکن الہام کونسا اور وحی کونسی ۔ اس کا فیصلہ جماعت کے بڑے بڑے بزرجمہر تو دور کی بات ہے۔ ان کی اولاد بھی جو ان کے بعد اب تک ان کی گدی پر بیٹھی ہے۔ نہیں کر سکتی۔ اس لئے الہامات اور وحیوں کو ایک ہی تھیلے میں ڈال کر اس کو جماعت نے ”تذکرہ“ کے نام سے شائع کر دیا ہے۔ اور اس میں جو کچھ درج ہے۔ وہ مرزا قادیانی کے بقول قرآن کے برابر ہے۔ (نعوذ باللہ) اسلام قبول کرنے کے بعد تفنن طبع کی خاطر اس کو کبھی کبھی دیکھ لیتا ہوں۔ لیکن میں جب قادیانی تھا تو جب کبھی جماعت کی قیادت کسی الہام کا پروپیگنڈہ کرتی تھی تو ایسے مواقع پر بھی شاذ و نادر ہی اس کتاب کو دیکھا تھا۔ کل ”تذکرہ“ میں مرزا قادیانی کے ایک الہام و وحی پر نظر پڑی کہ : ”دیکھو کیا کہتی ہے تصویر تمہاری ۔“ دل میں اللہ نے ڈالا کہ چلو مرزا قادیانی کی تصویر ہی دیکھیں اور خاکسار کو جو 3D تصویر نظر آئی وہ آپ کو بھی دکھا رہا ہوں ۔ یہ تصویر مرزا قادیانی کی اولاد، ان کے حواریوں اور جماعت کی شائع شدہ کتابوں سے اخذ کر کے پیش کی جارہی ہے۔ یہ فقیر در مصطفیٰ ﷺ اس بات کی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ مرزا قادیانی کی تصویر سو فیصد مکمل پیش کر رہا ہوں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی شخصیت اور کام شیطان کی آنت کی طرح اتنے پہلو دار ہیں کہ سب کو ایک وقت میں احاطہ کرنا مشکل ہی نہیں۔ بلکہ میرے جیسے ایک
٩١
عام انسان کے لئے ناممکن ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود ساختہ مجدد تھے، مامور تھے، مثیل مسیح تھے، مسیح موعود تھے، مسیح سے افضل تھے، نبی تھے، خاتم الخلفاء تھے، خاتم الانبیاء تھے، اور امین الملک جے سنگھ بہادر تھے۔ یہ کرشن اوتار کا لقب تھا اور وہ کرشن اوتار ہونے کے بھی دعوے دار تھے۔ یہ تو ان کے بارے میں دعوے تھے، اور مخالفین کی نظر میں وہ کیا تھے۔ اگر اس کا نہ بھی ذکر کریں صرف ان کے ساتھ لمبا عرصہ گزارنے اور ان کی تعلیم و تربیت سے گزرنے کے بعد علیحدہ ہونے والوں کے خیالات بھی ایک لمبی فرد جرم سے کم نہیں۔ مثلاً خوشامدی، کاسہ لیس، موقع پرست، خائن، جھوٹے، بدزبان، زانی، تو معمولی تمغے ہیں۔ جب ان کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو وہ اس سے کہیں آگے ہیں۔ اور اپنی تعریف میں اپنے کو کبھی انسانوں کی جائے عار، کرم خاکی ہونے سے انکار، آدم زاد ہونے سے انکار، کبھی نامرد بھی کہتے تھے۔ میں آپ کا تمہید میں زیادہ وقت نہیں لیتا۔ اب اصل موضوع پر آتا ہوں۔
پیدائش
مرزا قادیانی کا خیال ہے کہ وہ توام پیدا ہوئے۔ لکھتے ہیں کہ پہلے ان کی بہن جنت نکلی اور پھر اس کے پیروں کے ساتھ ان کا سر ملا ہوا یہ نکلے۔ مولانا رفیق دلاوری مؤلف ”رئیس قادیان“ کا خیال ہے کہ توام پیدائش کا کوئی ثبوت نہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی نے یہ بات خود گھڑی ہے۔ میرے خیال میں رئیس قادیان کے مصنف حق پر ہیں۔ مرزا قادیانی جب اپنے خاتم الخلفاء ہونے کے ثبوت ڈھونڈ رہے تھے اس وقت ان کی نظر حضرت محی الدین ابن عربیؒ کی ایک پیشین گوئی پر پڑی کہ وہ بچہ چین میں پیدا ہوگا اور توام ہوگا۔ مرزا قادیانی نے اس روایت کی باقی تمام باتوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اپنے کو مغل ہونے کی وجہ سے چینی النسل قرار دے کر اپنے کو اس پیشگوئی کا مراد قرار دے لیا۔ اس وقت پہلی بار مرزا قادیانی کی تحریروں میں اپنے توام پیدا ہونے کا ذکر ہوا۔ اس سے قبل ٥٥ سال کی عمر تک نہ تو ان کے خاندان نے اور نہ ہی مرزا قادیانی نے خود اپنے توام ہونے کا ذکر کیا۔ پھر مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس دائی کی تحریری شہادت موجود ہے۔ لیکن وہ شہادت نہ اس وقت اور نہ ہی اس کے بعد کبھی سامنے لائی گئی۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ وہ ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے۔ لیکن ان کے بیٹے کے دلائل سنیں تو لگتا ہے کہ مرزا قادیانی ١٨٣٩ء سے لے کر ١٨٤٠ء تک پیدا ہی ہوتے رہے ہیں۔ اب اللہ جانے کہ مرزا قادیانی کو صحیح پتہ ہے کہ وہ کب پیدا ہوئے۔ یا ان کے بیٹے کو صحیح پتہ ہے کہ اس کا باپ کب پیدا ہوا؟
٩٢
بچپن
مرزا قادیانی بچپن سے سندھی کہلاتے تھے اور ہندو سندھی کہتے تھے۔ بعد میں پتہ نہیں کب مرزا غلام احمد بنے یا کس نے ان کا یہ نام رکھا۔ بچپن ان کا زیادہ تر ننہال میں گزرا۔ جہاں چڑیوں کو پکڑ کر سرکنڈے سے ذبح کرتے تھے۔ اور بڑے ہو کر لوگوں کا ایمان ذبح کرتے رہے۔ اور جب قادیان میں ہوتے تھے تو قادیان کی ڈھاب میں جہاں سارے قصبے اور بارش کا گندہ پانی اکٹھا ہوتا تھا۔ نہایا کرتے تھے۔ اور ایک مرتبہ وہاں ڈوبتے ڈوبتے بچے جس نے ان کو بچایا اس نے لاکھوں انسانوں پر ظلم کیا کہ ان کے دعوؤں کی وجہ سے لاکھوں انسان صراط مستقیم سے بھٹک گئے اور مجھے یقین ہے کہ اگر اس کو اس وقت یہ علم ہوتا تو وہ مرزا قادیانی کو ڈوبنے سے نہ بچاتا۔
خاندان
مرزا قادیانی اپنی ایک نظم میں لکھتے ہیں کہ: ”ان کی نسلیں ہیں بے شمار۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٢) اگر آپ کے سامنے یہ بات کوئی اپنے بارے میں کہے تو آپ اس کو کیا کہیں گے؟ اپنی سوانح میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ: ”ان کے بزرگ سمرقند سے ہندوستان آئے تھے اور وہ مغل برلاس ہیں۔“ اور پھر ایک جگہ لکھتے ہیں کہ: ”ان کو اللہ نے الہاماً بتایا کہ ان کی قوم فارسی ہے نہ مغل۔ اس لئے وہ فارسی النسل ہیں۔ لیکن اللہ ان کو یہ بتانا بھول گیا کہ وہ مغلوں کی اولاد ہوتے ہوئے بھی مغل سے فارسی النسل کیسے بنے؟ پھر اس کے بعد فاطمی ہونے کا دعویٰ بھی ہے اور ساتھ میں ان کو اسرائیلی پیوند بھی لگا ہوا ہے۔ یہ نصف فاطمی اور نصف اسرائیلی پیوند کیسے اور کب لگے اس کے بارے میں بات اسی طرح مشکوک ہے جیسے کہ فارسی النسل کیسے بنے۔ اور اگر دونوں نصف نصف ہیں تو باقی پیوندوں نے اپنی جگہ کیسے بنائی؟ پھر چینی النسل ہونے کا بھی دعویٰ ہے، اور وہاں سیدوں کے داماد ہونے کی وجہ سے سید بھی ہیں۔ اب مرزا قادیانی نے اتنے آپشن اپنے خاندان کے دے دیئے ہیں جو آپ کا دل آئے سمجھ لیں۔ یا پھر تحقیق کرتے رہیں کہ کس خاندان سے تعلق ہے مرزا قادیانی کا؟ صحیح جواب پانے والے کو انعام۔
شکل وصورت
اصل میں شکل وصورت، ناک ونقشہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے جس کو چاہے جیسا بنا دے۔ لیکن مرزا قادیانی کی اپنی الہامی دعوت ہے کہ: ”دیکھ کیا کہتی ہے تصویر میری۔“ (تذکرہ ص ١١١، طبع سوم) اس لئے ہم بلا تبصرہ جو نظر آرہا ہے بیان کر دیتے ہیں۔ تصویر دیکھیں تو حلیہ اور سٹائل سے سکھ ٩٣
نظر آتے ہیں۔ ناک نسبتاً موٹی اور موٹے ہونٹ، پچکے گال، جو داڑھی کی وجہ سے اتنے نمایاں نظر نہیں آتے، ڈیڑھ آنکھ، چوڑا ماتھا، پتلی گردن۔ داڑھی نے ان کے اصل حلیہ پر پردہ ڈال دیا۔ لیکن پھر بھی بہت کچھ کہتی ہے تصویر مرزا قادیانی کی۔
لباس
پہلے جب تک باپ بھائی زندہ رہے پبلک میں کسی حد تک طریقے سے لباس پہنتے رہے۔ ان دونوں کے مرنے کے بعد مرزا قادیانی نے صحیح طور پر مذہبی دکانداری شروع کی تو اس کے بعد دن بدن اپنا حلیہ مضحکہ خیز بناتے گئے۔ گرمیوں میں بھی واسکٹ اور کوٹ پہنتے، قمیص کے بٹن کوٹ میں، کوٹ کے واسکٹ میں اور واسکٹ کے قمیض میں، اور بعض دفعہ اوپر کا بٹن نیچے لگا ہوتا، اور کوٹ یا واسکٹ کے کاج میں ایک بڑے سے رومال کا کونہ بندھا ہوتا۔ اس رومال کے ایک کونے میں کچھ پیسے بندھے ہوتے، اور دوسرے کونے میں ایک جیبی گھڑی بندھی ہوتی جو اکثر چابی نہ دینے کی وجہ سے بند رہتی، اور مرزا قادیانی خود ٹائم دیکھتے تو ہندسوں پر انگلی رکھ رکھ کر ایک ایک ہندسہ گن کر ٹائم کا پتہ چلاتے۔ پہلے غرارہ بھی پہنا کرتے تھے۔ لیکن پھر دوسری بیگم کے زور دینے پر شلوار پہننے لگے۔ ریشمی نالہ ہوتا تھا جسکے پھندنے کے ساتھ چابیوں کا گچھا بندھا ہوتا تھا جو چلتے وقت چھنن چھنن کی آواز پیدا کرتا ہوگا۔ بائیں اور دائیں پاؤں کی تمیز نہیں کر سکتے تھے۔ حتیٰ کہ بیگم دائیں بائیں کی تمیز کے لئے جوتوں پر نشان لگا دیتی تھی۔ لیکن پھر بھی جان بوجھ کر دائیں بائیں پاؤں کی تمیز نہیں کر سکتے تھے۔ اوپر سے اگر انگریزی جوتی ہوتی تو غلط پہن کر کہتے کہ انگریزوں کی کوئی چیز بھی ٹھیک نہیں۔ لیکن اسکے باوجود ان کی کاسہ لیسی کرتے رہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ان کی غلامی کی ترغیب دیتے رہے۔ انگریزی بوٹوں کی ایڑی بٹھا لیتے اور پھر جب ان کے ساتھ چلتے تو غپ غپ کی آواز پیدا ہوتی اور اس طرح اور اس حلیہ میں قادیان کے بانکے کی بانکی ٹور دنیا دیکھتی۔
طریقہ واردات
مذہبی دکانداری کے لئے بظاہر سادگی کافی ہوتی۔ لیکن مرزا قادیانی بڑے پیمانے پر یہ کام کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے انہوں نے مسمریزم میں مہارت حاصل کی۔ اور مسمریزم کا اصول یہ ہے کہ جس کو آپ معمول بنانا چاہتے ہیں۔ اس میں آپ کے عمل کیلئے مزاحمت نہ پیدا ہو اور جب کوئی نیا آدمی آتا تو یہ دیکھتے ہی کہ جو آدمی بٹن نہیں صحیح بند کر سکتا۔ کپڑوں میں تیل لگا ہوا ہے اور بائیں پاؤں کا جوتا دائیں پاؤں میں اور دائیں کا بائیں پاؤں میں تو یقیناً سوچتا کہ اس سے کسی
٩٤
کو کیا خطرہ ہونا ہے۔ اور مرزا قادیانی بھی شروع جواب ہو اور اس طرح جب وہ لاپروا ہو جاتا اور مناسب موقع پر اس کو اپنا معمول بنا کر مرید بنا لیتا قادیانی کی ہر جائز ناجائز بات پر آمین کہتا رہتا۔ ا اور محتاط رہتے اکثر مرزا قادیانی کے ہاتھوں سے بچ
حیاء
”سیرت المہدی مصنفہ مرزا بشیر احمد سراج الحق نعمانی“ اور ”ذکر حبیب مصنفہ مفتی صاد گھر میں ملازمائیں یا رہنے والی مختلف عورتیں ان اور نہانے بیٹھ گئیں۔ یا نہا کر ننگی ہی سامنے سے وہیں بیٹھے رہے اور کسی کو نہ روکا نہ ٹوکا اور نہ ہی ہم یا ان کے اہل خانہ نے اس کی مذمت کی ہو یا ان آدمی بھی ایسا کر سکتا ہے؟ کہا گیا کہ وہ دیوانی تھیں اٹھ گئے؟ اگر ملازم کو پتہ ہو کہ اس کا مالک حیا دار ہ ہے۔ غیر موجودگی میں بھی ایسی حرکت کی جرات نہ تو کیا عورت کا عورت سے حیاء کا پردہ نہیں ہوتا؟ ب ”اُنہوں کچھ دیدا ای نہیں“ اسکا مطلب ہے کہ پ کسی ایسی عورت یا عورتوں کی نظر میں بات آ گئی ہے کہ ایسے واقعات ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہوئے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کی بیگم کے ایماء اور رضا من ہوں؟ مرزا قادیانی کے جذبات کو ”تحریک جدید“ اپنے نامرد ہونے اور قوت باہ کی دوائیاں متواتر و رسول کے دعویدار کا کردار ایسا ہی ہوتا ہے؟
صفائی
بچپن میں قادیان کی ڈھاب میں جہا رہتے۔ حتیٰ کہ بقول مرزا قادیانی کے ایک بار ڈوب
کو کیا خطرہ ہوتا ہے۔ اور مرزا قادیانی بھی شروع میں ایسی باتیں کرتے کہ وہ جی یا ناں میں ہی جواب ہو اور اس طرح جب وہ لا پرواہ ہو جاتا اور مرزا قادیانی کو بے ضرر سمجھتا تو مرزا قادیانی کسی مناسب موقع پر اس کو اپنا معمول بنا کر مرید بنا لیتے جس سے وہ ساری زندگی لاشعوری طور پر مرزا قادیانی کی ہر جائز ناجائز بات پر آمین کہتا رہتا۔ اور جو لوگ ظاہری حلیہ کے دھوکہ میں نہیں آتے اور محتاط رہتے اکثر مرزا قادیانی کے ہاتھوں سے بچ کر نکل آتے۔
حیاء
”سیرت المہدی مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی“ اور ”تذکرۃ المہدی مصنفہ پیر سراج الحق نعمانی“ اور ”ذکر حبیب مصنفہ مفتی صادق“ سے ایسے واقعات کا پتہ چلتا ہے کہ ان کے گھر میں ملازمائیں یا رہنے والی مختلف عورتیں ان کے سامنے ان کی موجودگی میں کپڑے اتارے اور نہانے بیٹھ گئیں۔ یا نہا کر ننگی ہی سامنے سے گزر کر کپڑے اٹھانے گئیں اور مرزا قادیانی وہیں بیٹھے رہے اور کسی کو نہ روکا نہ ٹوکا اور نہ ہی ہمیں کوئی ایسی روایت ملتی ہے کہ مرزا قادیانی نے یا ان کے اہل خانہ نے اس کی مذمت کی ہو یا ان ملازماؤں کو فارغ کر دیا ہو۔ کیا ایک عام حیادار آدمی بھی ایسا کر سکتا ہے؟ کہا گیا کہ وہ دیوانی تھیں۔ لیکن مرزا قادیانی تو فرزانے تھے۔ یہ کیونکر نہ اٹھ گئے؟ اگر ملازم کو پتہ ہو کہ اس کا مالک حیادار ہے۔ تو وہ اس کی موجودگی میں تو بہت دور کی بات ہے۔ غیر موجودگی میں بھی ایسی حرکت کی جرات نہیں کرتا۔ اگر کہیں کہ گھر میں اور بھی عورتیں تھیں۔ تو کیا عورت کا عورت سے حیاء کا پردہ نہیں ہوتا؟ اور پھر عورت بڑی بے تکلفی سے کہہ رہی ہے کہ: ”اُنہوں کچھ دیدا ہی نہیں“ اس کا مطلب ہے کہ پہلے بھی تجربے ہوتے رہے ہیں۔ یہ اتفاق سے کسی ایسی عورت یا عورتوں کی نظر میں بات آگئی تو باہر نکل آئی۔ ایک سوال یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایسے واقعات ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہوئے۔ کم از کم دو تین کتابوں میں یہ روایتیں ایسی ملتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کی بیگم کے ایماء اور رضامندی سے ان ”دیوانی عورتوں“ نے یہ حرکات کی ہوں؟ مرزا قادیانی کے جذبات کو ”تحریک جدید“ دینے کے لئے؟ کیونکہ مرزا قادیانی نے کئی جگہ اپنے نامرد ہونے اور قوت باہ کی دوائیاں متواتر استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ کیا مجدد، نبی و رسول کے دعویدار کا کردار ایسا ہی ہوتا ہے؟
صفائی
بچپن میں قادیان کی ڈھاب میں جہاں سارے گاؤں کا بارش کا پانی اکٹھا ہوتا، تیرتے رہتے۔ حتیٰ کہ بقول مرزا قادیانی کے ایک بار ڈوبنے لگے تھے کہ کسی راہ گیر نے انکو بچایا۔ کاش اس
٩٥
وقت ڈوب جاتے تو بعد میں لاکھوں انسانوں کا ایمان نہ ڈوبتا۔ مرزا قادیانی ایک طرف تو اپنے گھر کی صفائی کا اتنا خیال رکھتے کہ طاعون کے دنوں میں نالیوں میں خود فینائل ڈالتے۔ اور ان کو یہ بھی پتہ ہوتا تھا کہ بھنگن نے گند کہاں سے اٹھایا ہے اور کہاں سے نہیں۔ اس قسم کا واقعہ (سیرت المہدی ) میں درج ہے۔ لیکن دوسری طرف رات سوتے وقت، دن والے کپڑے، پگڑی وغیرہ اتار کر تکیئے کے نیچے رکھ کر سوتے تو آپ خود اندازہ لگالیں کہ صبح کے وقت کس طرح کچلے ہوئے اور سلوٹوں والے کپڑے ہوتے ہوں گے اور اس پر طرہ تماشہ یہ کہ جب سر کو تیل لگاتے تو داڑھی کو بھی تیل میں تر کرتے اور اس کے بعد سامنے سینے پر کوٹ، واسکٹ، قمیص غرض جو بھی پہنا ہوتا، اس پر ہاتھ الٹے سیدھے مل کر تیل صاف کر لیتے۔ جب ایڑھی بٹھائے ہوئے جوتوں کے ساتھ ٹھپ ٹھپ چلتے تو گرد و غبار کے بادل اٹھتے اور ان کے ساتھ دوسروں پر بھی وہ گرد و غبار پڑتا۔
خوش اخلاقی
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کو گالی نہیں دی۔ لیکن دنیا مرزا قادیانی کی اس بات پر پتہ نہیں کیوں یقین نہیں کرتی؟ میں دو تین مرزا قادیانی کی تحریر کے نمونے پیش کر دیتا ہوں۔ فیصلہ قارئین کرام کر لیں کہ یہ گالیاں ہیں یا نہیں؟
- ١...... ”سعد اللہ لدھیانوی بے وقوفوں کا نطفہ اور کنجری کا بیٹا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٨١، خزائن ج ١١ ص ٢٨١)
- ٢...... ”ہر مسلمان مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعوے پر ایمان لاتا ہے۔ مگر زنا کار کنجریوں
کی اولاد، جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨)
- ٣...... ”مجھے ایک کذاب کی طرف سے پہنچی ہے وہ کتاب بچھو کی طرح نیش زن ہے۔ اے
گولڑہ کی سرزمین تجھ پر لعنت، تو ملعون ہوگئی۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)
- ٤...... ”تیرا نفس ایک خبیث گھوڑا ہے۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٦) اے
حرامی لڑکے ”اس کے علاوہ بھی جو صحابہؓ اور انبیاء کے بارے میں خامہ فرسائیاں کی ہیں۔ وہ لکھتے ہوئے قلم بھی کانپتا ہے۔
دوسرے مذاہب پر چیرہ دستیاں
مرزا قادیانی کی چیرہ دستیوں سے کوئی نہیں بچا۔ حتیٰ کہ ان کے اپنے بیوی بچے بھی
٩٦
اور دوسرے مذاہب کے بارے میں ایک نبی کی تحریر دیکھیں اور دعویٰ یہ ہے کہ میں خدا کی مرضی کے بغیر نہیں لکھتا۔ ایک دو نمونے حاضر خدمت ہیں۔ احمدیو! ایمان سے بتانا کہ کیا خدا کی مرضی کا کلام ہے یہ؟
- ١...... ”آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگل نیچے ہے، سمجھنے والے سمجھ لیں۔“
(چشمہ معرفت ص ١٠٤، خزائن ج ٢٣ ص ١١٤)
- ٢...... ”چپکے چپکے حرام کروانا۔ آریوں کا اصول بھاری ہے۔“
(آریہ دھرم ص ٧١، خزائن ج ١٠ ص ٧٥)
- ٣...... ”عیسائیت ایک بدبودار مذہب ہے۔“
- ٤...... ”یسوع (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی تین دادیاں اور نانیاں کنجریاں اور زنا کار
تھیں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ) اس کے علاوہ شاید ہی کوئی نبی اللہ ہو جس کی مرزا قادیانی نے توہین نہ کی ہو۔
سلطان القلم
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ خدا نے ان کو الہاماً سلطان القلم کا خطاب دیا۔ اب ایک آدھ مثال ذرا یہ بھی ہوجائے۔
- ١...... ”جھوٹے آدمی کی یہی نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف گزاف مارتے
ہیں۔ مگر جب کوئی دامن پکڑ کر کہے کہ ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہوجاتے ہیں۔“
(حیات احمد (مسیح موعود کے سوانح حیات) ج ٢ نمبر اول ص ٢٥)
- ٢...... ”بیٹا بیٹا پکارتی غلط۔ یار کی اسکو آہ وزاری ہے۔“
(آریہ دھرم ص ٧١، خزائن ج ١٠ ص ٧٦)
کیا سلطان القلم ایسے گھٹیا فقرہ باز ہوتے ہیں؟ اس کے علاوہ بے شمار مثالیں ہیں اور اگر تحریر دیکھیں تو ہر صفحہ پر دس غلطیاں مل جائیں گی۔ لیکن اس آرٹیکل کا مقصد صرف مختصر طور پر ”دیکھو کیا کہتی تصویر تمہاری“ ہے۔
انسانیت
کئی واقعات ہیں لیکن بطور نمونہ ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی کو گرم پانی سے استنجا کرنے کی عادت تھی اور بیت الخلاء میں جانے سے پہلے آواز دیا کرتے تھے کہ پانی رکھ دو۔ اور ایسا دن میں کئی کئی بار ہوتا تھا کہ مرزا قادیانی بول وبراز کے امراض خبیثہ میں گرفتار تھے۔ ایک بار کام کی زیادتی کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے ملازم بچی نسبتاً تیز گرم پانی کا لوٹا رکھ گئی۔ مرزا
٩٧
قادیانی باہر نکلے۔ اس ملازمہ کو بلایا اور بجائے اس کے کہ اسکو اخلاق سے پیار سے یا نرمی سے توجہ دلاتے۔ اس کو بلایا اور کہا کہ ہاتھ آگے کرو۔ اس نے ہاتھ آگے کیا تو گرم پانی کا وہ سارا لوٹا اس کے ہاتھ پر انڈیل دیا۔ کیا یہی کردار ہونا چاہئے رحمت اللعالمینؐ کے ظل کا؟ کیا مرزا قادیانی ایسی انسانیت کے ساتھ واقعی محمد ثانی ہو سکتے ہیں یا تھے؟ (نعوذ باللہ)
(سیرۃ المہدی ج ٣ ص ٢٤٣، ٢٤٤، روایت نمبر ٨٤٧)
بیماریاں
مرزا قادیانی کی بے شمار نسلوں کی طرح، بیماریاں بھی بے شمار تھیں۔ مستقل بیماریوں میں، مرگی، مراق، ہسٹریا، مالخولیا، دوران سر، شوگر، پیشاب، اسہال، رینگن، خارش، نامردی تو ہر وقت اور ہر جگہ شامل حال تھیں اور پھر کشتہ جات کے کھانے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے امراض، غرضیکہ مرزا قادیانی کے بقول اکثر امراض خبیثہ نے ان کے جسم میں پڑاؤ ڈالا ہوا تھا اور آخر میں وبائی ہیضہ یا طاعون سے چند گھنٹوں میں راہی ملک عدم ہو گئے۔
دعویٰ جات
مرزا قادیانی کے دعویٰ جات جو اس فقیر در مصطفیٰ ﷺ نے ذاتی طور پر پڑھے ہیں وہ ایک سو (١٠٠) سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ ایک بار ایک ذہنی مریض عورت کہیں دیکھی تھی۔ اس کا کام یہ تھا کہ جب بھی اس کو کپڑے کا کوئی ٹکڑا نظر آتا تھا اور اچھا لگتا تھا تو وہ اس ٹکڑے کو اپنے لباس کے ساتھ سی لیتی یا ٹانک لیتی تھی۔ یہی حال مرزا قادیانی کا تھا جو دعویٰ ان کو پسند آگیا۔ وہ انہوں نے اپنے اوپر چسپاں کر لیا اور یہ سفر مناظر اسلام سے شروع ہوا اور ملہمیت، مجددیت، مسیحیت، مہدویت، نبوت، رسالت، جے سنگھ بہادر وغیرہ وغیرہ سے ہوتا ہوا خدا کے بیٹے اور پھر خدائی تک پہنچا۔ وہاں سے لوٹ کر پھر ہندو مذہب کے اوتاروں اور دیوتاؤں کی طرف شروع کیا۔ ابھی مرلی دھر، یعنی کرشن اوتار تک ہی پہنچے تھے کہ ان کی زندگی ہی ان کو دغا دے گئی۔ ورنہ امید واثق تھی کہ ہندوؤں کے خدا تک پہنچنے کے بعد افریقہ اور پھر جنوبی امریکہ وغیرہ کے مقدس ناموں کا استحصال کرتے، اور اس کے بعد آسٹریلیا وغیرہ کی باری آجاتی۔ خدا ان کی مغفرت نہ کرے، ملعون عجب آزاد و مردم آزار مرد تھے۔
نشانات
مرزا قادیانی کے بقول کبھی ان کے نشانات پچاس لاکھ تک جا پہنچتے ہیں اور کبھی تین
٩٨
لاکھ اور کبھی دس لاکھ اور ساتھ یہ دعویٰ بھی کہ کھلے کھلے نشانات کم از کم دس لاکھ ہیں اور جب نشانات لکھنے بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس کتاب میں تین سو نشانات لکھوں گا اور دو سو نشانات لکھ کر ہی تھک جاتے ہیں اور معشوق کے نہ پورے ہونے والے وعدے کی طرح وعدہ کرتے ہیں کہ اگلی کتاب میں تین سو نشان لکھوں گا۔ مگر مرد کا وعدہ ہو تو پورا ہو۔ یہ تو مرزا جی کا وعدہ تھا جو کبھی پورا نہ ہوا۔ مولانا منظور چنیوٹی کے بقول اگر ان کے ہر سانس کے علاوہ ان کی خارج کی ہوئی ریح کو بھی مرزا قادیانی کے نشانات میں شمار کر لیں تو پھر بھی پچاس لاکھ نشانات پورے نہیں ہوتے۔ مرزا قادیانی کی عمر ٦٨ سال تھی۔ اب اس عمر پر ان کی پیدائش سے لے کر وفات تک پچاس لاکھ نشانات تقسیم کریں تو تقریباً ہر سات منٹ پر ایک نشان بنتا ہے۔ یعنی مرزا قادیانی نے پیدا ہوتے ہی ہر ساتویں منٹ پر ایک نشان دکھانا/جنا شروع کر دیا تھا اور موت تک ہر سات منٹ پر ایک نشان دکھاتے گئے اور وہ نشانات کہاں گئے؟ جس طرح مرزا قادیانی نے عیسائی اور اس کی بیوی کے بارے میں کہا تھا کہ ”انہی لفظوں میں ہم سوال کرتے ہیں کہ کیا مرزا قادیانی کے ”اندر ہی اندر تحلیل ہوگئے یا رجعت قہقری کر کے سوداوی بخارات بن کر انکے دماغ کو چڑھ گئے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص٢٧، حاشیہ، خزائن ج١١ ص٣١١) آخر گھوم پھر کر روپیہ پیسہ آنے کو نشانات قرار دینا شروع کیا، مگر وہ بھی ڈیڑھ سو سے زیادہ نہ گنا سکے۔ کوئی چار آنے ملنے کا تھا کوئی دس روپے ملنے کا تھا۔ کوئی بیس روپے ملنے کا تھا۔
نشانات کے گواہ
مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ان نشانوں کے سب سے بڑے گواہ قادیان کے لالہ ملاوامل اور لالہ شرمپت ہیں، کیا کہنے اس ”اسلام کے پہلوان نبی کے“ کہ اس کو گواہی کے لئے کوئی مسلمان نہیں ملا اور نہ ہی کوئی اہل کتاب ملا۔ ملے تو قادیان کے ساکنان ہندو! اور پھر جن کو یہ سب سے بڑا گواہ قرار دے رہے ہیں۔ انہی ہندوؤں کی گواہی کیا کہتی ہے؟ یہ بھی مرزا قادیانی کی اپنی زبانی سن لیجئے۔ ”قادیان میں لالہ ملاوامل نے لالہ شرمپت کے مشورے سے اشتہار دیا جس کو قریباً دس برس گزر گئے۔ اس اشتہار میں میری نسبت یہ لکھا کہ یہ شخص محض مکار فریبی ہے اور صرف دکاندار ہے۔ لوگ اس دھوکہ میں نہ آویں۔ مالی مدد نہ کریں ورنہ اپنا روپیہ ضائع کریں گے۔“
(قادیان کے آریہ اور ہم ص١١، خزائن ج٢٠ ص٤٢٥)
مشہور پیشگوئیاں
مشہور پیشگوئیاں جو کبھی پوری نہ ہوئیں۔
٩٩
- .......١ سب سے پہلی پیشگوئی ایک بابرکت لڑکا پیدا ہونے کی ہے جس کو مرزا قادیانی نے کئی
بار دہرایا۔ کسی بیٹے پر چسپاں کیا۔ کسی پر کہا کہ شاید یہی ہوا اور پھر آخر کار اس کو اپنے چوتھے لڑکے پر چسپاں کر دیا۔ لیکن وہ ٨-٩ سال کی عمر میں مر گیا تو آخری بار اپنی موت سے چند مہینے قبل پھر اس پیشگوئی کو دہرایا۔ مرزا قادیانی مرتے مر گئے مگر وہ بابرکت لڑکا پیدا نہ ہوا اور مرزا قادیانی کی موت کے بعد ان کے بیٹے مرزا بشیرالدین محمود سمیت بے شمار لوگوں نے اپنے آپ کو مرزا قادیانی کا روحانی فرزند قرار دے کر اس پیشگوئی کا مصداق قرار دیا اور اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی جرمنی میں مصلح موعود ہونے کے دعویدار عبدالغفار جنبہ ہیں اور فی نفسہ شریف آدمی ہیں۔ لیکن وہ بھی اپنے نبی کی طرح مراق کا شکار ہیں۔ شاید اسی وجہ سے ان کی روایتی شرافت، دیانت، وضع داری ان سے رخصت ہوتی جارہی ہے اور وہ بھی اپنے نبی کی طرح ”اوفو بعھدکم لما تقولون مالا یفعلون“ سے دامن چھڑا چکے ہیں۔
- .......٢ دوسرے لیکھرام کی پیشگوئی جس کا اس کے مارے جانے کے بعد پہلے کسی قسم کی پیشگوئی
کا انکار کیا گیا۔ بعد میں معاملہ ٹھنڈا ہونے پر اس کی موت اپنی پیشگوئی کا نتیجہ قرار دے دی۔
- .......٣ تیسری پیشگوئی عبداللہ آتھم کی موت کی پیشگوئی ہے۔ جب پیشگوئی کی گئی تو کہا گیا کہ
آتھم آج کی تاریخ سے پندرہ مہینہ کے اندر نہ مرا تو مرزا قادیانی کا منہ کالا کیا جائے۔ ان کے گلے میں رسہ ڈال کر ان کو پھانسی دی جائے۔ لیکن وہ ان کی تمام کوششوں حتیٰ کہ میعاد ختم ہونے کی آخری رات تک ٹونے ٹوٹکے کرنے کے باوجود آتھم نہ فوت ہوا تو مرزا قادیانی نے کہا کہ اس نے دل میں رجوع کر لیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ اللہ کے نبی تھے اور اللہ نے آپ سے اس کی موت کا اعلان کرایا تھا تو اللہ نے مرزا قادیانی کو ذلت سے بچانے کے لئے اس کا رجوع بھی علی الاعلان نہیں کروایا اور پھر اس نے اپنا رجوع بھی تسلیم نہیں کیا۔ لیکن اس کے بعد بھی وہ کافی عرصہ زندہ رہا۔
چوتھی مشہور پیشگوئی مسمات محمدی بیگم ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکی سے شادی تھی اور اس کے لئے مرزا قادیانی نے بڑے دعوے کئے۔ لیکن خدا نے مرزا قادیانی کو اس پیشگوئی میں بھی دوسری پیشگوئیوں کی طرح ذلیل کیا اور مرزا قادیانی اس سے شادی کی حسرت ہی لئے راہی ملک عدم ہو گئے۔ بقول مرزا قادیانی کے اس کے ساتھ ان کا نکاح آسمان پر خود خدا نے پڑھا۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ وہ زمین پر خدا کی مرضی سے مرزا سلطان (سکنہ پٹی قصور) کے بچے جنتی رہی اور مرزا قادیانی کی موت کے بھی چالیس سال بعد مرزا سلطان کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کرتی رہی۔ باوجود مرزا قادیانی نے الہاماً نکاح کے ڈھائی سال کے اندر مرزا سلطان کے مرنے کی پیش گوئی کرتے
١٠٠
رہے۔ بلکہ یہاں تک کہ موضع پٹی کے بارے میں الہام جڑ دیا کہ ”پٹی پٹی گئی۔“ (تذکرہ ص ٨٠١، طبع سوم) آج تک تو موضع پٹی سلامت ہے حالانکہ اس علاقہ میں ہندوستان اور پاکستان کی جنگیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ہاں مستقبل میں ممکن ہے کہ موضع پٹی کی کوئی سڑک برائے مرمت پٹی جائے تو الفضل میں اس کی فوٹو لگا کر سرخی لگا دیں کہ دیکھ لو حضرت مسیح موعود کا الہام کس شان سے پورا ہوا کہ پٹی پٹی گئی اور نہ صرف پٹی گئی۔ بلکہ مرزا سلطان کے آبائی مکان کے سامنے پٹی گئی۔ اس کے علاوہ بے شمار پیشگوئیاں ہیں جو مرزا قادیانی کو نبی ماننے والوں کے لئے شرمندگی کا باعث ہیں۔
کھڑاگ کیوں؟
آدمی کے دل میں خیال آتا ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ سارا کھڑاگ کیوں پھیلایا؟ اس کا واضح جواب مرزا قادیانی کا ایک فقرہ دے دیتا ہے ”مجھے اپنے دسترخوان اور روٹی کی فکر تھی“ اور پھر ساری عمر مرزا قادیانی نے اسلام کی خدمت کے نام پر جھولی پھیلا کر، اشاعت اسلام کے نام پر اکٹھے کئے ہوئے پیسے سے صرف اپنی رہن شدہ خاندانی جائیداد ہی نہیں چھڑائی۔ بلکہ اپنی اولاد کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کر گئے آئندہ کے لئے مذہبی دکانداری کی۔ لیکن ان کی اولاد آج بھی چندے کا کشکول اٹھائے پھرتی ہے۔ کیوں نہ اٹھائیں، اسی چندے سے ارب پتی بنے ہیں اور اس کے لئے مرزا قادیانی نے اسلام کی خدمت کے نام پر نہ صرف اپنی بے معنی اور تضاد سے بھر پور کتابیں ہی بیچیں اور ان کتابوں کے نام پر لوگوں کا ہزاروں روپیہ بغیر ڈکار مارے ہضم کر گئے۔ بلکہ زکوٰۃ، صدقات کے علاوہ رنڈیوں کے نال اور سود کو بھی اپنے لئے مباح کر گئے۔
وفات
مرزا قادیانی کا الہام تھا کہ خدا نے ان کو کہا ہے کہ ”ان کی عمر (٨٠) سال یا دو چار سال کم یا زیادہ ہوگی۔“ (تذکرہ ص ٣٩٠، طبع سوم) اب اس الہام کو ہی دیکھ لیں کہ بقول مرزا قادیانی کے قادر مطلق اور عالم الغیب خدا ان کو عمر کی خبر دے رہا ہے۔ مگر بے چارے کو خود معلوم نہیں کہ وہ مرزا قادیانی کو ٧٢/٧٣/٧٤/٨١/٨٢/٨٣/٨٤ سال میں سے کتنی عمر دے گا۔ اس لئے وہ نو (٩) عدد چانس اپنے پاس رکھ رہا ہے تا کہ اگر ایک دو بار بھول جائے تو اگلا چانس استعمال کر لے۔ لیکن مرزا قادیانی کا جھوٹا الہام خدا کو پسند نہیں آیا اور اس نے ان کو ٦٨/٦٩ سال کی عمر میں ہی موت دے دی۔ مرزا قادیانی بقول ان کے ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے اور ١٩٠٠ء میں ایک عدالت میں حلفی بیان بھی دیا کہ ان کی عمر ساٹھ (٦٠) سال ہے۔ اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو محمدی بیگم سے شادی کی
١٠١
حسرتوں کا جنازہ بھی ساتھ لے کر راہی ملک عدم ہو گئے۔ لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں بلکہ مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ امرتسری کو اپنی وفات سے چودہ (١٤) مہینے پہلے خط لکھا جس میں لکھا کہ: ”دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہیضہ یا طاعون یا کسی خبیث مرض سے مر جائے گا ۔“ ( مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨، ٥٧٩) اور مرزا قادیانی مولوی ثناء اللہ امرتسری کی زندگی میں ہی ہیضہ سے فوت ہوئے اور ان کے ہونٹوں سے جو آخری صاف الفاظ ادا ہوئے وہ یہ تھے کہ: ”میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے ۔“ (حیات ناصر ص١٤) اور مولوی ثناء اللہ امرتسری نے چالیس سال کے بعد ١٩٤٨ء میں بمقام سرگودھا نارمل وفات پائی اور اپنی وفات سے پہلے کئی مباحثوں اور مناظروں میں قادیانیوں کو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ بات وفات کی صرف یہاں تک ہی ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی، جو مرزا قادیانی کے صحابی تھے۔ لیکن مرزا قادیانی کی حرکات دیکھنے کے بعد ان کو چھوڑ گئے، انہوں نے پیشگوئی کی کہ مرزا جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے کے اندر مر جائے گا۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”خدا نے اردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا“ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشگوئی کرتے ہیں ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر بڑھا دوں گا تا کہ معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے ۔“ (اشتہار ٥ نومبر ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٩١) اب دیکھیں کہ اس اشتہار کے شائع کرنے کے بعد آٹھویں مہینے میں مرزا قادیانی کو خدا نے جھوٹا کر کے موت دے دی کہ انہوں نے اللہ کے حوالے سے اپنی عمر کی تحدی کی تھی۔ بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ خدا نے کہا کہ: ”تو ایک دور کی نسل دیکھے گا ۔“ (براہین حصہ ٥ ص٣٦، خزائن ج٢١ ص٤١٩) اب سوائے ایک پوتے کے (مرزا عزیز) وہ بھی اس بیٹے کی اولاد جس کو مرزا قادیانی نے دشمن اسلام، دشمن دین، اپنے اوپر تلوار چلانے والا، وہ بیٹا (مرزا سلطان احمد کو) قرار دے کر عاق کر دیا تھا اور ان کی زندگی میں وہ عاق ہی رہا، کے علاوہ مرزا قادیانی کو پوتا اور دوہتا بھی دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ باوجود یکہ اپنے لڑکوں کی ١٢، ١٣ سال کی عمر میں اور لڑکی کی ٩، ١٠ کی عمر میں نکاح کر دیا تھا۔ اس نبوت کے جھوٹے دعوے دار نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا کہ اس نے وعدہ کیا ہے کہ ایک دور کی نسل دکھائے گا، تو خدا نے دور کی تو کیا نزدیک کی نسل بھی نہیں دکھائی۔ کیا اللہ تعالیٰ اس طرح اپنے نبیوں کو جھوٹا کرتا ہے؟ بات ابھی اور بھی آگے چلتی ہے۔ دہلی سے شائع ہونے والے اخبار ”پیسہ“ کی ١٨؍ستمبر ١٩٠٧ء کی اشاعت میں ایک صاحب کی پیشگوئی شائع ہوئی ”پیشگوئی متعلقہ طاعون
١٠٢
بابت سال ١٩٠٧ء اور ١٩٠٨ء پنجاب میں اب کے طاعون کا پہلا جیسا زور نہیں ہوگا۔ البتہ ممالک مغربی و شمالی میں بہت زیادہ ہوگا۔ دلی میں بھی گزشتہ سال سے زیادہ ہوگا۔ پنجاب کے ایک بہت بڑے مذہبی لیڈر جن کا دعویٰ ہے کہ ان کو طاعون نہیں ہو سکتا طاعون سے انتقال کریں گے۔‘‘ جب مرزا قادیانی کو یہ پڑھ کر سنایا گیا تو مرزا قادیانی نے کہا ’’یہ ایک پیشگوئی ہے جو اس اخبار میں درج ہے۔ اب خود بخود سچائی ظاہر ہو جائے گی۔‘‘ اور مرزا قادیانی نے اپنے ایک مخالف کے بارے میں کہا کہ وہ طاعون میں مبتلا ہوا اور چند گھنٹوں میں مر گیا۔ مرزا قادیانی بھی شام کو سیر کے لئے آئے اور رات کو بیمار ہوئے اور چند گھنٹوں میں ہی مر گئے۔ ممکن ہے کہ طاعون سے ہی مرے ہوں اور اس وقت اگر یہ خبر باہر نکلتی تو مرزا قادیانی کا قائم کردہ مذہب ایک رات میں ہی ختم ہو جاتا۔ اس لئے ممکن ہے کہ خبر دبا دی گئی ہو۔ لیکن ایک بات ہے کہ مرزا قادیانی اس پیشگوئی کے مطابق بھی ١٩٠٨ء میں ہی مرے۔ یعنی مرزا قادیانی خود تسلیم کر گئے کہ اگر وہ ان پیشگوئیوں کے نتیجے میں مرے تو سچائی ظاہر ہو جائے گی۔ یعنی ان کی جھوٹی نبوت کا پردہ چاک ہو جائے گا اور سچائی ظاہر ہوگی اور ڈنکے کی چوٹ پر ظاہر ہوئی اور مرزا قادیانی کو تا قیامت جھوٹا قرار دے گئی۔ کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن یہ بھی کافی ہے۔ ظاہر کرنے کے لئے
نوٹ: اس مضمون میں لکھے گئے حقائق کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ صرف مضمون کو طوالت سے بچانے کے اور تسلسل قائم رکھنے کے لئے حوالہ جات نہیں دیئے گئے۔
(٥) ...... مرزا قادیانی کی گل افشانیاں
(شیخ راحیل احمد۔ جرمنی)
نوٹ: اس آرٹیکل کا نام گل افشانیاں، مرزا غلام احمد قادیانی کے شیعہ استاد گل علی شاہ کے نام کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔ مرزا قادیانی فرمایا کرتے تھے کہ گل علی شاہ نے کبھی نماز نہیں پڑھی۔ ہر وقت بیٹھک میں رہتے تھے اور ان نزدیک ہر بلا کا رد ’’تمباکو‘‘ تھا۔ خیال تھا کہ چلو اس طرح مرزا قادیانی کے ساتھ ان کے بد نصیب استاد کا بھی ذکر خیر ہو جائے۔ ممکن ہے کہ کوئی دوست کہیں کہ بد نصیب کیوں؟ تو میرا جوابی سوال ہے کہ جس کو مرزا قادیانی بطور شاگرد نصیب ہوا وہ خوش نصیب بھی ہو سکتا ہے؟
مرزا غلام احمد قادیانی بانی قادیانی جماعت (احمدیہ) کی زندگی ،تحریروں اور اقوال ،
١٠٣
غرضیکہ ہر پہلو سے تضادات سے بھر پور تھی۔ اس طرح کی اور اتنی متنازعہ زندگی شاید ہی کسی کی ہو۔ بانی جماعت احمدیہ نے ایک جگہ جو بات کہی یا لکھی۔ دوسری جگہ اس کی تردید یا اس کے متناقض بات لکھ دی یا کہہ دی اور اس سلسلے میں نہ تو عام آدمی اور نہ ہی کوئی امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ اور نہ ہی انبیاء کرام کو ان ”سلطان القلم“ کے قلم سے پناہ ملی۔
- ☆...... ایک طرف امت مسلمہ کے عقائد سے مکمل اتفاق ظاہر کرتے ہیں اور دوسری طرف انہی
عقائد کی جڑوں پر حملہ کرتے ہیں۔ قرآن وسنت کی تشریح کے نام پر غلط عقائد وضع کرتے ہیں۔
- ☆...... ایک طرف رسول ﷺ کی اطاعت وخاتمیت کا اقرار کرتے ہیں۔ دوسری طرف اس
کی تشریح میں خاتمیت کو اپنے لئے مخصوص کر لیتے ہیں۔
- ☆...... ایک طرف عصمت انبیاء کا تذکرہ کرتے ہیں۔ دوسری طرف انہی انبیاء کی عصمت تار
تار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
- ☆...... ایک طرف قرآن کریم کی صحت کا اقرار کرتے ہیں۔ دوسری طرف اسی قرآن کی
آیات میں نہ صرف تحریف کرتے ہیں بلکہ ان میں شکوک ڈالتے ہیں۔
- ☆...... ایک طرف احادیث کو مانتے ہیں۔ دوسری طرف انہی احادیث کو کوڑے کا ڈھیر قرار
دیتے ہیں۔
- ☆...... ایک طرف ایک بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں۔ دوسری طرف ساری عمر
دوسری بیوی کے حقوق غصب کرتے ہیں۔
- ☆...... ایک طرف اسلام کی بات کرتے ہیں۔ دوسری طرف انہی مسلمانوں کے ساتھ
تعلقات سے اپنے پیروکاروں کو منع کرتے ہیں۔
- ☆...... ایک طرف اپنے ڈاکٹر سالے کو بوڑھی انگریز عورت سے مصافحہ کرنے سے بھی منع
کرتے ہیں۔ دوسری طرف خود پوری پوری رات تنہائیوں میں نامحرم لڑکیوں سے ذاتی خدمت اس طرح کرواتے تھے کہ ان کو سرور میں نہ تھکن ہوتی تھی نہ نیند اور نہ غنودگی۔
- ☆...... اسی طرح ایک طرف دشنام طرازی کو سخت برا کہتے ہیں۔ دوسری طرف اسی دشنام
طرازی سے مخالفوں کا سینہ چھلنی کرتے ہیں۔
- ☆...... اس طرح مرزا قادیانی کو بلا تکلف اور توقف تضادات کا ابدی شہنشاہ کا خطاب دیا جا
سکتا ہے۔
- ☆...... یہ علیحدہ بات ہے کہ مرزا قادیانی اپنے ہی دیئے ہوئے معیار کے مطابق ہمیں اور ہر
١٠٤
سمجھ دار کی نظر میں ایک مخبوط الحواس شخص قرار پائیں۔ کیوں کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٨٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)
شاید یہ بات ہو کہ بد نام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔ اس آرٹیکل میں ہم آپ کے سامنے ان کی چند گل افشانیاں پیش کریں گے۔ اگر سب کو اکٹھا کریں تو یہ ایک پورے رسالے کا مواد بن جائے گا۔ مگر یہاں ہمارا مقصد اپنے موقف کی تائید کے لئے صرف مرزا قادیانی کی دشنام دہی کے کچھ نمونہ جات کو دکھانا ہے۔ ویسے بھی تو دیگ سے چاول کے چند دانے ہی بتا دیتے ہیں کہ اندر کیا ہے۔
قرآن کریم کے اس حوالے کو پیش کرتے ہوئے ہم مضمون شروع کرتے ہیں۔ ”وقل لعبادی یقولوا التی ھی احسن ان الشیطن ینزع بینھم ان الشیطن کان للانسان عدوا مبینا“ یعنی اے رسول ﷺ میرے بندوں سے کہہ دیں کہ بات بہت ہی اچھی کہا کریں، سخت کلامی سے شیطان ان میں عداوت ڈلوا دے گا، بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے“ اس آیت کے پیش کرنے کا مقصد برکت کے علاوہ اس مضمون سے اس کا ہر طرح سے تعلق ہے۔ نیز مرزا قادیانی کا دعویٰ عام مسلمان کا نہیں بلکہ ایسی ہستی ہونے کا ہے جس کو خدا نے ہر ذی روح سے زیادہ قرآن کریم کے معارف سکھائے ہیں۔ اس مضمون سے ان کے اس دعویٰ کا بھی صحیح اندازہ ہو جائے گا۔
حدیث شریف چونکہ قرآن کریم کی تشریح ہے اور پیارے نبی ﷺ کے منہ کی باتیں ہیں اس لئے بہتر سمجھا گیا کہ اس کو بھی پیش کر دیا جائے۔ رسول پاک ﷺ سے مروی ہے کہ رسول پاک ﷺ نے منافق کی ایک یہ نشانی بھی بتائی ہے کہ: ”جب کسی سے اس کا جھگڑا ہو جائے تو وہ گالیاں دینے لگتا ہے۔“ آئندہ سطور سے انشاء اللہ یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ کیا مرزا قادیانی حدیث کے مطابق مومن بھی دور کی بات لگتی ہے منافق تو نہیں؟
دشنام دہی نہ نہ: مرزا کا دعویٰ ہے کہ وہ نہ تو سخت زبان استعمال کرتے ہیں اور ان کے منہ یا قلم سے کبھی کوئی دشنام دہی نہیں ہوئی۔
- ☆...... مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ: ”میں سچ سچ کہتا ہوں جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے
ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔“ (ازالۃ الاوہام ص ١١، خزائن ج ٣ ص ١٠٩)
- ☆...... ایک دوسری جگہ اپنے عمل کی توجیہہ یا تشریح کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں ”قوت
١٠٥
اخلاق“ چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے تاکہ ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ بات نہایت قابل شرم ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کج طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ بات پر منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہو جاتی ہیں وہ کسی طرح بھی امام زمان نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اس پر آیت انک لعلی خلق عظیم کا پورے طور پر صادق آنا ضروری ہے۔“
(ضرورة الامام ص ٨، خزائن ص ٤٨١ ج ١٣)
- ٭...... آئیے ہم مرزا قادیانی کے افکار کی روشنی میں مختصراً جائزہ لیں کہ وہ کہاں تک اپنے ہی
تسلیم کئے ہوئے معیار پر پورا اترتے ہیں۔ ہماری کوشش یہ ہوگی کہ ہم بجائے فیصلہ دینے کے حقائق پیش کریں اور فیصلہ آپ پر چھوڑ دیں۔ کہیں کہیں آپ کو ہماری رائے اور ردعمل بھی ملے گا۔ مگر ہم نے حتی الامکان فیصلہ اور نتیجہ پڑھنے والے پر چھوڑا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ یہ سلطان القلم ہیں یا شیطان القلم؟
اظہار ندامت یا دھمکی
مرزا قادیانی کی اپنے ہم مکتب مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب سے بڑی گاڑھی چھنتی تھی۔ بعد میں چپقلش (غالباً آقاؤں کے اشارہ پر نورا کشتی) ایک لمبا عرصہ تک چلتی رہی۔ یہ وہی محمد حسین بٹالوی صاحب ہیں جنھوں نے چینیاں والی مسجد لاہور کی اپنی امامت، اپنے حلقہ احباب اور اپنے رسالہ اشاعت السنہ نیز اشتہاروں کے ذریعہ بے پناہ اور مبالغہ آمیز پروپیگنڈہ کرکے مرزا قادیانی کے منصوبوں کے لئے بنیادی پتھر مہیا کیا۔ دونوں ہی انگریزوں کے بہی خواہ تھے اور انگریزوں کے مقاصد کو تقویت فراہم کرتے تھے اور ہمارے خیال میں اپنی مارکیٹ قائم رکھنے کے لئے، خبروں میں رہنے کے لئے، لوگوں کو دھوکے میں رکھنے کے لئے ایک دوسرے کو پبلک میں رگیدتے تھے۔ مقابلہ بازی کے دوران بٹالوی صاحب کے مقابلہ میں کسی قدر درشت زبان بھی استعمال ہوتی تھی۔ کسی موقعہ پر زیادہ ہی سخت زبان استعمال کرکے احساس ہوا کہ طے شدہ حدود سے تجاوز ہو گیا۔ اس تجاوز پر اب کیسی ندامت کا اظہار ہو رہا ہے کہ ساتھ ہی حشر نشر کی دھمکی بھی ہے۔ ”میں نادم ہوں کہ نااہل حریف کے مقابلہ نے کسی قدر مجھے درشت الفاظ پر مجبور کیا ورنہ میری فطرت اس سے دور ہے کہ کوئی تلخ بات زبان پر لاؤں۔ مگر بٹالوی اور اس کے استاد نے مجھے بلایا۔ اب بھی بٹالوی کے لئے بہتر ہے کہ اپنی پالیسی بدل لیوے اور منہ کو لگام دیوے ورنہ ان دنوں
١٠٦
کو رو رو کے یاد کرے گا۔"
(آسمانی فیصلہ ص ١٠، خزائن ج ٤ ص ٣٢٠)
- ☆...... اب آپ دیکھیں کہ یہ ایک ایسے شخص کا اظہار ندامت ہے جو سلطان القلم ہی نہیں بلکہ
ساتھ میں امام الزماں ہونے کا دعویدار ہے اور جس کے منہ میں ذرا سی بھی جھاگ نہیں آنی چاہئے۔
- ☆...... کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ انسان حقیقی ندامت محسوس کر رہا ہو تو آئندہ کے لئے پھر
یہی فعل دہرانے کی دھمکی بھی ہو اور دھمکی بھی ایسی کہ مخالف کو روتے بن نہ پڑے گی۔ اس کو کیا کہا جائے گا۔ اظہار ندامت یا آئندہ کے لئے دھمکی؟
- ☆...... یہ تو ایک عام آدمی کے لئے بھی کوئی باعث فخر نہیں اور کجا وہ شخص ایسی بات کرے جس کا
دعویٰ یہ ہو کہ وہ نبی ہے اور نبی بھی ایسا جس کی خبر تمام صحیفے دے رہے ہیں؟
- ☆...... بات صرف دھمکی تک نہیں رہتی بلکہ انہی مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے متعلق لکھتے
ہوئے کیسے اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔ ”کذاب، متکبر، سربراہ گمراہان، جاہل، شیخ احمقاں، عقل کا دشمن، بدبخت، طالع منحوس، لاف زن، شیطان، گمراہ شیخ مفتری۔“
(انجام آتھم ص ٢٣١، ٢٣٢، خزائن ج ١١ ص ٢٣١، ٢٣٢)
ویسے مرزا قادیانی عدالت میں بھی اقرار نامہ پر دستخط کر کے آئے تھے کہ میں محمد حسین بٹالوی کی آئندہ ہجو نہیں کروں گا۔
لعنت بازی
مرزا قادیانی ایک جگہ لکھتے ہیں ”لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں ہوتا، مومن لعان، لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣٤٠، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)
- ☆...... اب ہم دیکھتے ہیں کہ علاوہ اپنی کتابوں میں کئی جگہ دوسروں پر لعنت ڈالنے کے ایک
کتاب میں چار صفحے صرف ایک ہی لفظ ”لعنت، سے بھرے ہوئے ہیں۔ ١ لعنت، ٢ لعنت، ٣ لعنت ، (اسی طرح لکھتے ہیں۔ ناقل) لعنت ٥٠٥، لعنت ٩٧٠، غرضیکہ مکمل ایک ہزار تک گنتی پوری کرتے ہوئے ١٠٠٠ لعنت پر جا کر قلم روکتے ہیں۔“ جہالت کی انتہا دیکھنے کے لئے دیکھئے یہ حوالہ
(نورالحق ص ١١٨ تا ١٢٢، خزائن ج ٨ ص ١٥٨ تا ١٦٢)
- ☆...... دوسری مثال بھی حاضر ہے ”مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں۔ خاص
کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم نعال لعن الله الف الف مرۃ۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)
١٠٧
- ☆...... اے ایسے شخص کو نبی ماننے والو! اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کہ کوئی نارمل شخص بھی اس
طرح لکھتا ہے۔ کیا وہ شخص جو کہ اتمام الحجۃ واں ہونے کا دعویدار ہو اور کیا اس طرح لعنت ڈال کر خود اپنے کہنے کے مطابق صدیق تو دور کی بات مومن بھی رہ گیا ہے؟
- ☆...... اور ایک غلطی کا ازالہ (ص ٣ خزائن ج ١٨ص ٢٠٧) میں لکھتے ہیں: ”محمد رسول اللہ سے مراد
میں ہوں ۔“ (استغفر اللہ) کیا محمد ﷺ نے بھی اسی طرح عقل و خرد سے عاری ہو کر لعنتیں ڈالی تھیں؟
- ☆...... حدیث شریف میں آتا ہے ”حضرت ابو درداء سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے
فرمایا لعنت کرنے والوں سے نہ قیامت کے دن شہادت لی جائے گی اور نہ وہ کسی کے شفیع ہوسکیں گے ۔“
(صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٢٣ باب النہی عن لعن الدواب وغیر ہا)
- ☆...... اب آپ بتائیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کسی کو نبی کے درجہ پر فائز کر کے اللہ تعالیٰ اس سے
دوسروں پر لعنتیں بھی ڈلوائے اور وہ بھی پاگلوں کی طرح گنتی کر کر کے، اور کیا یہ ممکن ہے کہ نبی سے قیامت والے دن اس امت یا ماننے والوں کے بارے میں شہادت نہ لی جائے۔ اب یا رسول کریم ﷺ کا قول غلط ہے (نعوذ باللہ) یا پھر (یقیناً) مرزا قادیانی اور ان کا دعویٰ نبوت غلط ہے کیونکہ نبی لعان نہیں ہوسکتا ہے۔ بلکہ شریف آدمی بھی نہیں ہوسکتا ۔
دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت
مرزا قادیانی کی کتابوں کو پڑھیں تو ہر تقدس اور عظمت ان کی ذات پر ختم ہوتا نظر آتا ہے اور جب سیرت مرزا پر نظر ڈالو تو غلیظ لفظوں، ادنیٰ خواہشوں، لالچ، دجل، تحریف، تضاد اور جھوٹ کے گوہ میں لتھڑا ہوا وجود ملتا ہے، ان کی تیار جماعت پر نظر ڈالو تو منافقت، تاویلات، جھوٹ کے بادبانوں سے مزین کشتی چندہ میں گہری تاریکیوں میں غوطے کھاتا ہوا، انجام سے بے خبر گروہ، جس میں کسی سوار کو یقین نہیں کہ کسی اندھیری منزل تک بھی پہنچے گا یا نہیں کیونکہ جب ناخدا کا مزاج چاہے کسی کو بھی کشتی سے باہر پھینکوا دے۔ اس کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کا تیار کردہ گروہ ایک ہی کام کر سکتا ہے اور وہ منافقت یعنی دوسروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت۔
- ☆...... مرزا قادیانی نصیحت کرتے ہیں کہ ”کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہے۔“
(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ص١١)
- ☆...... اور نصیحت پر عمل درآمد کرنے کے لئے اپنی ذاتی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں
”میں نے جوابی طور پر بھی کسی کو گالی نہیں دی ۔“
(مواہب الرحمٰن ص ١٨، خزائن ج ١٩ص ٢٣٦)
١٠٨
- ☆...... دیکھتے ہیں کہ جس بات سے من
رہے ہیں اس پر عمل درآمد کیسے ہوتا ہے؟
- ☆...... ”اے بدذات فرقہ مولویاں
یہودیانہ خصلت چھوڑو گے۔ اے ظالم مو عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“
- ☆...... ”مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں ۔
جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“
- ☆...... ”تو کیا اس دن یہ احمق مخالف
سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جا اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور سوروں کی طرح مریں گے ۔“
- ☆...... ”ہم اس کے جواب میں کہ
صفت پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا اور اور ساتھ ہی وہ لعنت مجھ کو کھا گئی۔ اگر تو کب تک تو جئے گا۔“
حلال زادہ کون
مرزا قادیانی کا اپنے خاص م پندرہ دن تک چلا اور باوجود مرزا قادی کے، خدا کے ارادہ مرزا قادیانی کے اراد بے نتیجہ رہا۔ سچے ہوتے تو معجزات کے م عیسائیوں کی ٹیم عبداللہ آتھم کی سرکردگی سارے ہندوستان کی نظریں اس پر لگی ہ سے مشورہ کئے مباحثہ کے اندر اعلان کر د حیران تھا کہ مجھے خدا نے اس میں کیو تاریخ سے پندرہ ماہ کے اندر اپنے غلط بسزائے موت گرایا جائے گا اور خدا کی
- ☆ ....... دیکھتے ہیں کہ جس بات سے دوسروں کو منع کر رہے ہیں اور اتنے دھڑلے سے دعویٰ کر
رہے ہیں اس پر عمل درآمد کیسے ہوتا ہے؟ کچھ مثالیں حاضر ہیں فرماتے ہیں۔
- ☆ ....... ”اے بدذات فرقہ مولویوں! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم
یہودیانہ خصلت چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس! تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“
(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)
- ☆ ....... ”مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح
جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“
(انجام آتھم، ضمیمہ ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)
- ☆ ....... ”تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے
سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
- ☆ ....... ”ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ اے بدذات یہودی
صفت پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا اور ساتھ ہی تیرا بھی اور پادریوں پر ایک آسمانی لعنت پڑی اور ساتھ ہی وہ لعنت تجھ کو کھا گئی۔ اگر تو سچا ہے تو اب ہمیں دکھلا کہ آتھم کہاں ہے۔ ابے خبیث کب تک تو جئے گا۔“
(انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩)
حلال زادہ کون
مرزا قادیانی کا اپنے خاص الخاص صحابیوں کی معیت میں عیسائیوں سے مباحثہ ہوا جو پندرہ دن تک چلا اور باوجود مرزا قادیانی کے بقول ان کے اندر روح القدس کے کام کرنے کے، خدا کے ارادہ مرزا قادیانی کے ارادہ کے تحت ہونے کے، اور کن فیکون کی طاقت ہونے کے بے نتیجہ رہا۔ سچے ہوتے تو نجران کے عیسائیوں کی طرح چند گھنٹے میں فیصلہ ہو جاتا۔ مقابل پر عیسائیوں کی ٹیم عبداللہ آتھم کی سرکردگی میں حصہ لے رہی تھی۔ اس وقت یہ اتنا مشہور ہوا کہ سارے ہندوستان کی نظریں اس پر لگی ہوئی تھیں۔ مرزا قادیانی نے پندرہویں دن بغیر مخالف ٹیم سے مشورہ کئے مباحثہ کے اندر اعلان کر دیا اور کہا کہ عام بحث مباحثہ تو ہوتے رہتے ہیں ۔لیکن میں حیران تھا کہ مجھے خدا نے اس میں کیوں ڈالا ہے۔ مجھے خدا نے کہا ہے کہ فریق مخالف آج کی تاریخ سے پندرہ ماہ کے اندر اپنے غلط عقائد سے توبہ نہیں کرے گا تو اس مدت میں ہاویہ میں بسزائے موت گرایا جائے گا اور خدا کی بات ٹلے گی نہیں۔ اگر نہ مرا تو میرے گلے میں رسہ ڈالا
١٠٩
جائے اور پھانسی دی جائے اور میرے دعوے جھوٹے سمجھے جائیں۔ اب جب عبداللہ آتھم مرزا قادیانی کی پیشگوئی کے مطابق پندرہ ماہ کے (٥؍جون ١٨٩٣ء سے ٥؍ستمبر ١٨٩٤ء تک) اندر نہ مرا تو نہ صرف یہ کہ اپنی اس جھوٹی پیشگوئی پر شرمندہ ہوتے۔ توبہ کرتے۔ الٹا اپنے آپ کو بزعم خود تاویلوں اور جھوٹ کے سہارے سچا قرار دینا شروع کر دیا۔ بلکہ جنہوں نے اس حقیقت کا اظہار کیا کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ کئی قریبی ساتھی نہ صرف ان کو چھوڑ گئے بلکہ عیسائی بھی ہو گئے۔ ان کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ”اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم وحیا کو کام میں نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے۔ انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔“
(انوارالاسلام ص٣٠، خزائن ج٩ ص٣١)
مرزا قادیانی کے فتح کے اپنے پیمانے ہیں اور جو ان کے پیمانوں اور فیصلوں کو تسلیم نہ کرے وہ ان کی نظر میں صرف بے شرم و بے حیا ہی نہیں بلکہ ولد الحرام ہے۔ کیا اللہ کے بنائے ہوئے نبیوں کی زبان اور تحریر اور سوچ کا یہی معیار ہوتا ہے؟ کیا یہ بیان کردہ مثالیں مرزا قادیانی کے اپنے ہی بیان کردہ معیار امام الزمان کے مطابق ہیں؟
مخالفین کو اکسانا
مخالفوں کو مزید کس کس طرح مشتعل کیا جاتا ہے کہ پہلے اپنی کتاب کو قرآن شریف قرار دیتے ہیں۔ بالواسطہ طور پر۔ اس کے بعد دوسروں کو گالی نکال کر اپنے رسالے کا جواب لکھنے کے لئے اکساتے ہیں۔ اگر قرآن شریف کو ہی خیال کر لیں یا نعوذ باللہ مرزا قادیانی کے مطابق ان کی وحی قرآن کریم کے برابر ہے۔ کچھ لمحوں کے لئے قرآن کی تشریح بھی سمجھ لیں تو کیا مخالفین کو اکسا کر، اشتعال دلا کر اور برے الفاظ کہہ کر جواباً گالیاں تو لے سکتے ہیں مگر علمی بحث نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی معقول جواب مل سکتا ہے۔
- ☆....... ارشاد مرزا ہے ”ہر شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں اور دجال کی نسل میں سے
نہیں ہے۔ تو وہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کرے گا یا تو اس کے بعد دروغ گوئی اور افترا سے باز آ جائے گا یا ہمارے اس رسالہ جیسا رسالہ بنا کر پیش کرے گا ۔“
(نور الحق ص ١٢٣، خزائن ج ٨ ص ١٦٣)
١١٠
اب بتائیں کیا کوئی شریف آدمی ان کو یہ حوالہ پڑھ کر جواب دینا بھی پسند کرے گا؟ بعد میں اس طرح اکثر یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ میری کتاب کا جواب چونکہ کسی نے نہیں دیا۔ اس لئے یہ ایک علمی فتح ہے اور مخالفین کا منہ بند ہو گیا ہے۔
- ☆...... اس طرح کی تعلیوں سے تنگ آکر پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے ”سیف چشتیائی“ نامی
رسالہ لکھا۔ وہ رسالہ دیکھتے ہی مرزا قادیانی نے جو ارشاد کیا۔ وہ تاریخ میں محفوظ ہو گیا۔ ملاحظہ کیجئے:”مجھے ایک کتاب کذاب (پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی۔ ناقل) کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن۔ پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین، تجھ پر لعنت۔ تو ملعون کے سبب سے ملعون ہوگئی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)
اپنی گالیوں کا خود نشانہ
بعض دفعہ انسان دوسروں کو گالیاں دے رہا ہوتا ہے۔ لیکن اس کو خیال نہیں ہوتا کہ وہ خود بھی اس کی لپیٹ میں آ رہا ہے اب جو حوالے آپ کی خدمت میں پیش کروں گا وہ اسی قسم کے ہیں۔
- ☆...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”میری دعوت سب نے قبول کی اور تصدیق کی ماسوائے
کنجریوں کی اولاد کے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧، ٥٤٨)
اصل عبارت عربی میں ہے۔ جماعت کے علماء کے سامنے جب یہ حوالہ پیش کیا جاتا ہے تو وہ اس کا ترجمہ بری عورتیں یا بدکار عورتیں کرتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ صرف جماعت کے عام لٹریچر میں ہی نہیں بلکہ مرزا قادیانی کی اپنی کتابوں میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں وہی ترجمہ کیا گیا ہے جو ہم نے دیا ہے۔ حوالہ کے لئے (خزائن ج ١٢ ص ٢٣٢، ٢٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٣٧١، ٣٧٢) دیکھیں۔
- ☆...... اب ہوتا کیا ہے کہ مرزا قادیانی کی پہلی بیوی (پھجے دی ماں) اور ان کے بطن سے پیدا
ہونے والے مرزا قادیانی کے حقیقی دونوں بیٹوں (مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد) نے مرزا قادیانی کو قبول نہیں کیا اور ان پر ایمان نہیں لائے اور مرزا قادیانی کی یہ بیگم ان کی ماموں کی لڑکی تھیں اور ان کی والدہ کی بھتیجی اور ان کے نانا کی بیٹی اور پردادا کی پڑنواسی تھیں۔ اب اس حساب سے مرزا قادیانی کے اپنے ارشاد کے مطابق وہ کیا ہوئیں اور مرزا قادیانی کے بیٹے کیا ہوئے اور مرزا ان رشتوں کے حساب سے خود کیا ہوئے؟ ہم جماعت کے علماء کے کئے ہوئے معنی بھی لیں تو کم از کم مرزا قادیانی ان کے اہل وعیال برے یا بدکار لوگوں کی اولاد ہیں۔ برے اور بدکار تو
١١١
ولی بھی نہیں ہو سکتے کجا نبوت کے دعویدار بنیں!
- ☆....... دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں
کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
مرزا قادیانی نے اپنے لٹریچر میں جگہ جگہ اپنے خاندان اور چچا زاد بھائیوں کو اپنا دشمن قرار دیا ہے اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ کیا میرا کنبہ، کیا میرے عزیز واقارب مجھے میرے دعوؤں میں مکار خیال کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تمام کنبہ اور رشتہ دار دشمن ہیں۔ اب جس کے اپنے خاندان میں سب کے سب بیابانوں کے خنزیر ہوں اور عورتیں کتیوں سے بڑھی ہوں۔ اس خاندان سے ایک خود ساختہ جعلی نبی کی جدی مناسبت ہی ہو سکتی ہے کسی نبی اللہ کی نہیں؟
- ☆....... مزید جب آئینہ کمالات اسلام میں فرماتے ہیں کہ ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی
آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے حقائق ومعارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور زنا کار عورتوں کی اولاد کے سوا سب لوگ مجھے قبول کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس مجہول شخص کے نزدیک سوائے اس کے ماننے والے کے سب حرام زادے ہوئے اور یہ گالی حرامی یا حرام زادہ یا ولد الحرام تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی الہامی ڈکشنری کی گالی ہے اور ان کی کتابوں میں جگہ جگہ بکھری پڑی ہے۔
- ☆....... ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ ”یک خطا، دو خطا، سوم مادر بخطا۔ یعنی جو تیسری مرتبہ بھی خطا
کرتا ہے اس کی ماں زنا کار ہوتی ہے۔“
(انوار الاسلام ص ٣١، خزائن ج ٩ ص ٣٢)
اور خاص بات یہ ہے کہ پہلے دو ایڈیشنوں میں اسی طرح لکھا ہے جس طرح ہم نے حوالہ دیا ہے مگر روحانی خزائن کے جدید سیٹ میں سوم مادر بخطا کے بعد کی عبارت نہیں لکھی گئی اور وہ جگہ خالی چھوڑی ہوئی ہے۔ اوپر سے کس دیدہ دلیری اور ڈھٹائی سے جماعت احمدیہ کا یہ دعویٰ کہ ہم مرزا قادیانی کی کتابوں میں تحریف نہیں کرتے۔
ہم عصر علماء کے بارے میں نادر خیالات
مرزا قادیانی کے اپنے ہم عصر علماء اور دوسروں کے بارے میں کچھ مزید نادر خیالات سے مستفید ہوں۔ لیکن اس سے قبل مرزا قادیانی کا یہ ارشاد بھی ذہن میں رکھیں۔
- ☆....... فرماتے ہیں: ”فیوض وبرکات کا چشمہ علماء ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے عام مخلوق
ہدایت پاتی ہے۔“
(ملفوظات ج ١ ص ٢٣٨، حاشیہ)
اب نادر خیالات کو بھی دیکھ لیجئے اور مت بھولئے کہ مرزا قادیانی نے کبھی دشنام دہی کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا۔
١١٢
- ☆...... ”جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“
(نزول المسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢ حاشیہ)
- ☆...... ”اور لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے سفہاؤں کا
نطفہ بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھلانے والا منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٥)
- ☆...... یہاں پوری قوم کو رگڑ رہے ہیں۔: ”مگر یہ نابکار قوم حیا اور شرم کی طرف رخ نہیں
کرتی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
- ☆...... ”اے عورتوں کی عار ثناء اللہ۔“
(اعجاز احمدی ص ٨٣، خزائن ج ١٩ ص ١٩٦)
- ☆...... ”اے جنگلوں کے غول تجھ پر ویل“ (اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣) لگتا ہے
کھسروں کی صحبت میں بھی رہے ہیں جو ویل اکٹھی کرنے پر آگئے ہیں؟
- ☆...... ”اس جگہ فرعون سے مراد شیخ محمد حسین بٹالوی ہے اور ہامان سے مراد نو مسلم سعد اللہ
ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠)
- ☆...... ”آخرہم شیطان الاعمیٰ والغول الاغویٰ یقال لہ رشید الجنجوہی
وہو شقی کالامروہی و من الملعونین۔
(انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)
ترجمہ: ”ان میں سے آخری شخص وہ اندھا شیطان اور بہت گمراہ دیو ہے جس کو رشید گنگوہی کہتے ہیں اور وہ امروہی (مولانا احمد حسن امروہی۔ ناقل) کی طرح شقی اور ملعونوں میں سے ہے۔“
- ☆...... ”پس اے بدذات خبیث دشمن اللہ رسول کے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)
- ☆...... مشہور شیعہ بزرگ و عالم جناب علی حائری کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اور جب
میں نے علی حائری جو جاہل تر ہے، دیکھا تو کہا۔“
(اعجاز احمدی ص ٨٤، خزائن ج ١٩ ص ١٨٦)
- ☆...... ”اے بدذات فرقہ مولوبیاں......“
(انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢١)
ان گالیوں پر انسان کیا تبصرہ کرے۔ گالیاں مرزا قادیانی کی ہر کتاب میں سے مل جائیں گی جن سے مرزا قادیانی کی ذہنی کیفیت آشکار ہوتی ہے۔
- ☆...... کیا یہ دشنام دہی نہیں؟؟
- ☆...... کیا یہ منہ سے جھاگ نکلنا، آنکھیں نیلی پیلی ہونا نہیں؟
١١٣
- ٭...... کیا یہ قرآن کریم کی آیت اور اخلاق کے مطابق عمل ہے جس کا ذکر اوپر کے حوالوں
میں کر چکے ہیں؟
قادیانی دوستو! ہمیں پتہ ہے کہ پہلا جواب تم لوگوں کا یہ ہوگا کہ علماء نے پہلے گالیاں نکالی ہیں۔ اگر مان بھی لیں! تو علماء اور مدعی نبوت کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ علماء غلطی کر سکتے ہیں مگر نبی نہیں۔ ایک شرارتی بچہ تمہیں گالی نکالے یا پتھر مارے تو کیا تم بھی اسے بڑھ کر گالی نکالو گے اور اس کے سر پر اینٹ مارو گے؟ یا پھر سوچو گے کہ وہ تو بچہ ہے میں بڑا ہوں۔ درگزر کروں یا کم از کم سمجھانے کے لئے احسن راستہ اختیار کروں؟ ایک عالم اور نبی کے درمیان بھی بچے اور بالغ والا فرق ہی ہوتا ہے۔
- ٭...... حدیث شریف میں آیا ہے: ”حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے رسول کریمؐ
نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس کا قتل کرنا کفر ہے۔“
(بخاری ج ١ ص ١٢ باب خوف المومن ان محبط عملہ، مسلم ج ١ ص ٥٨ باب قول النبی ﷺ سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر)
اب حدیث کی روشنی میں مرزا قادیانی کیا ہوئے؟ کیا ایک شخص جو رسول کریم ﷺ کے جانشین ہونے کا دعویدار ہو اس کا یہی طور طریقہ ہونا چاہئے؟
انگریز عدالتیں
لیکن ایک دو حوالے انگریزوں کی عدالتوں کے شاید آپ کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں۔ وہ انگریز جس کی کاسہ لیسی میں مرزا قادیانی نے انتہاء کر دی۔ بلکہ انتہاء کے بھی ریکارڈ توڑ دیئے اور خوشامد میں ذلت کی پستیوں تک پہنچے ہیں اور اپنی اس پستی کی وجہ انگریزوں کی دیانت اور انصاف کے قصے بیان کئے۔
- ٭...... اس انگریز کی عدالت جس کے مجسٹریٹ کو مرزا قادیانی نے اس کے انصاف کی وجہ سے
حضرت مسیح والے بے انصاف جج پیلاطوس کے بالمقابل اس زمانے کا انصاف کرنے والا پیلاطوس قرار دیا ہے! مرزا قادیانی کے بارے میں وہ کیا کہتا ہے؟: ”غلام احمد قادیانی کو بذریعہ تحریری نوٹس کے جس کو انہوں نے خود پڑھ لیا اور اس پر دستخط کر دیئے ہیں۔ باضابطہ طور پر متنبہ کرتے ہیں کہ ان مطبوعہ دستاویزات سے جو شہادت میں پیش ہوئی ہیں۔ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اشتعال اور غصہ دلانے والے رسالے شائع کئے ہیں۔ جن سے ان لوگوں کی ایذا مقصود ہے جن کے مذہبی خیالات اس کے مذہبی خیالات سے مختلف ہیں۔ جو اثر اس کی باتوں سے اس کے بے علم مریدوں پر ہوگا اس کی ذمہ داری انہی پر ہوگی اور ہم متنبہ کرتے ہیں کہ جب تک وہ زیادہ میانہ روی کا مظاہرہ نہیں کریں
١١٤
گے وہ قانون کی رو سے بچ نہیں سکتے۔ بلکہ اس کی زد کے اندر آجاتے ہیں۔ دستخط ایم ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور، ٢٣ اگست ١٨٩٧ء۔ یعنی کہ یہاں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اشتعال پھیلانے والی تحریریں شائع کرتے ہیں اور ان کے پیش نظر دوسروں کی ایذاء رسانی ہوتی ہے۔ اب مجھے قادیانی دوستو بتاؤ کہ نبی اشتعال پیدا کرنے آتا ہے یا امن پیدا کرنے؟ نبی ایذاء رسانی کے لئے آتا ہے یا عافیت دینے کے لئے؟ اور کیا نبی کی یہی اخلاقی حالت ہوتی ہے کہ اس کو عدالت سزا کا خوف دلا کر دوسروں کی ایذاء رسانی سے باز رکھنے کی کوشش کرے؟
- ☆...... ایک دوسری عدالت (ڈپٹی کمشنر جے ایم ڈوئی کی عدالت) میں ایک اقرار نامہ لکھا۔ اس
اقرار نامہ کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ: ”مرزا قادیانی آئندہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کو بطالوی نہیں لکھیں گے اور وہ (مولوی بٹالوی صاحب) قادیان کو کادیان نہیں لکھے گا۔“ خدا کے لئے سوچو کہ کیا ایک نبی اتنا گر سکتا ہے کہ بچوں کی طرح نام بگاڑتا پھرے اور پھر عدالت کے حکم پر باز آئے؟
- ☆...... کیا پھر عدالتوں کے احکام کے باوجود دشنام ترازیوں سے کنارہ کشی کر لی؟ ہم دیکھتے
ہیں کہ ١٩٠٤ء میں پھر تیسری مرتبہ عدالت نے مرزا قادیانی کو وارننگ دی اور پہلی دونوں عدالتوں کا اپنے فیصلہ میں حوالہ دیا۔
ڈھٹائی کا عالم
یہ اس نبی کا حال ہے جس کا دعویٰ ہے کہ: ”ان (علماء۔ ناقل) نے مجھے ہر طرح کی گالیاں دیں مگر میں نے ان کو جواب نہیں دیا۔“
(مواہب الرحمٰن ص١٨، خزائن ص٢٣٦، ج١٩)
اگر ابھی جواب نہیں دیا تو یہ حال ہے اور اگر جواب دیتے تو پتہ نہیں کیا کرتے؟
فہرست
قادیانی جماعت کے مربیوں نے (یہودیوں کے ربی ہیں دراصل۔ اور یہ م اختصار ہے مہا کا مہاربی مطلب یہ نکلا مربی کا۔ بڑے یہودی مولوی) ایک فہرست مرتب کی ہوئی ہے کہ یہ گالیاں قرآن شریف میں ہیں یا نبی کریم ﷺ نے استعمال کیں۔ (معاذ اللہ)
- ☆...... یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ قرآن شریف میں گالیاں ہیں۔ قرآن شریف اللہ تعالیٰ کی
کتاب ہے۔ کسی انسان کی نہیں جس سے جواب طلب کریں۔ مرزا قادیانی کا ایک شعر ہے کہ
قرآن کے گرد گھوموں
١١٥
(قادیان کے آریہ اور ہم ص ٥٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٧)
اس شعر میں جو دوسرے مغالطے ہیں ان پر اس وقت بات نہیں ہو رہی۔ بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گالیوں والی کتاب کو مرزا قادیانی چوم رہے ہیں اور اس کو کعبہ بنا کر گھوم رہے ہیں۔ برکت کے لئے یا گالیاں سیکھنے کے لئے؟ اگر برکت کے لئے تو قرآن کریم میں کوئی گالی نہیں اور یہ قادیانیوں کا قرآن پاک پر جھوٹا الزام اور ناپاک جسارت ہے۔ لیکن اگر قادیانی اس بات پر قائم ہیں کہ قرآن کریم میں گالیاں ہیں تو مرزا کا گالیوں کو کعبہ بنانا کیا پیغام دیتا ہے کہ یہ نبی قادیانی کا ایک نام نبی گالیانی ہے۔
- ☆...... یہاں سوال یہ بھی نہیں کہ رسول کریم ﷺ نے گالیاں دی ہیں یا نہیں۔ لیکن قادیانیوں
نے اس کو اٹھایا ہے۔ ایک طرف تو رسول کریم ﷺ کو اپنا آقا قرار دیتے ہیں یہ قادیانی حضرات۔ اگر واقعی رسول کریم ﷺ ان کے آقا ہیں تو ان کے اوپر ایک بے بنیاد اعتراض ہمارے سامنے کیوں؟ قادیانیوں کے نزدیک ہم رسول کریم ﷺ کے منکر ہیں۔ تو کیا کوئی غیرت مند غلام اپنے آقا کے منکروں کے سامنے جا کر، غیرت مند اولاد اپنے باپ کے منکروں کے آگے جا کر، اپنے آقا یا باپ کی بدخوئی کرتے ہیں؟ کیا اپنے باپ کے منکروں کو بتاتے ہیں کہ اے منکرو! ہمارے باپ کا کام گالیاں دینا ہے؟ تف ہے تم پر ایسے جواب دینے والے بے غیرتو!۔ اچھے باپ اور آقا کی عزت بنانے کے دعویدار ہو؟ اگر یہ بات نہیں تو تمہارا دعویٰ حب رسول غلط ہے اور تم مرزا قادیانی کے چیلے ہو جو کہ دشمن ایمان، دشمن قرآن ہیں۔
- ☆...... مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو نعوذ باللہ محمد کی دوسری بعثت قرار دیا ہے۔ یہ جواب دو کہ
بعثت نعوذ باللہ گالیوں والے محمد کی ہے یا نبیوں کے سردار رسول کریم ﷺ کی دوسری بعثت ہے؟ دوسری بعثت کا نظریہ ایک بہت بڑا جھوٹ اور مرزا قادیانی کا فراڈ ہے۔ لیکن یہ موقعہ اس پر بحث کا نہیں صرف مرزا قادیانی کے بیان پر سوال ہے۔ اگر تو محمد ﷺ والی بعثت مراد ہے تو تمہارا گالیوں والا الزام بے بنیاد، بہتان، جھوٹ، خباثت کی بدترین قسم ہے اور اگر وہ مراد نہیں تو پھر گالیوں والے محمد کے پیروکار یا بعثت ثانیہ، ثلاثہ، چہارم وغیرہ ہیں تو جائز ہے کہ مرزا قادیانی ساری عمر گالیاں دیتے رہے اور اس طرح اپنے کلیجے کو ٹھنڈا کرتے رہے۔
- ☆...... قادیانی مربیوا اور ان کے پیچھے بھیڑ کی طرح بغیر سوچے سمجھے چلنے والو! اصل بات یہ ہے کہ
- ☆...... قرآن کریم نے یا نبی کریم ﷺ نے اگر کوئی اور کہیں سخت الفاظ استعمال کئے ہیں تو
١١٦
ایک کسی خصلت کو ظاہر کرنے کے لئے۔
- ☆ ...... دوسرے ایک یا دو الفاظ ایک وقت میں نہ کہ ایک ہی سانس میں دس دس بیس بیس
گالیاں۔
- ☆ ...... اور تیسرے کسی کا خاص نام لے کر نہیں بلکہ عمومی رنگ میں۔
- ☆ ...... اور چوتھے کسی ذاتی رنجش اور دکھ کے جواب میں گالی نہیں دی۔ بلکہ جو لوگ رسول
اکرمﷺ کو بے انتہا دکھ دیتے رہے وہ ان کے لئے بھی رحمت کی دعا کرتے رہے۔
اصل سوال اس مضمون کا یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ امام الزمان ہیں۔ بطور امام الزماں کے وہ گالی کا جواب نہیں دے سکتے۔ کیا یہ کہ خود کسی کو گالی دیں اور ان کا دعویٰ بھی ہے کہ انہوں نے کبھی دشنام دہی نہیں کی اور نہ ہی جواب میں کسی کو گالی دی۔ کیا مرزا قادیانی نے ابتداً یا جواب میں ہی سہی، گالیاں نکالی ہیں یا نہیں؟
- ☆ ...... نقل مکرر کے طور پر اور بطور یاد دہانی پھر مرزا قادیانی کے الفاظ میں ہی عرض کرتے
ہیں: ”قوت اخلاق۔ چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے تا کہ ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ بات نہایت قابل شرم ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچھ طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ بات پر منہ میں جھاگ آتا ہو۔ آنکھیں نیلی پیلی پڑ جاتی ہوں وہ کسی طرح بھی امام زمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس پر آیت انك لعلى خلق عظيم کا پورے طور پر صادق آ جانا ضروری ہے۔“
(ضرورت الامام ص ٦، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)
اس سے قبل دیئے گئے حوالہ جات ثابت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے فتوے اور دیئے گئے معیار کی رو سے امام الزمان نہیں ہیں۔ جو لوگ اس کردار و اقرار اور ثبوت کی موجودگی میں ان کو امام الزمان سمجھتے ہیں تو ہم صرف ان سے یہی درخواست کریں گے کہ: ” افلا تدبرون (القرآن)“ پس تم کیوں غور نہیں کرتے۔
- ☆ ...... مرزا غلام احمد قادیانی کیسے عکس رسولﷺ ہونے کے دعویدار ہیں؟ کیسے محمد ثانی ہونے
کے مدعی ہیں (نعوذ باللہ)؟ کہ ذرا ذرا سی بات پر آپے سے باہر ہو کر بھٹیارنوں کی طرح نہ صرف شخصیتوں کو بلکہ اس علاقے کی زمین کو بھی تا قیامت ملعون قرار دے رہے ہیں؟
- ☆ ...... جس کے بروز ہونے کا ظل ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ تو رحمت تھے۔ وہ تو رحمت
١١٧
للعالمین تھے۔ ان پر راستے سے گزرتے ہوئے گند پھینکنے والی ایک دن موجود نہ تھی۔ اس کو بجائے برا بھلا کہنے کے اس کا حال پوچھنے چلے گئے اور یہاں مرزا قادیانی گالیاں نکال رہے ہیں۔ جواب دے رہے ہیں۔ آئندہ بھی گالیوں سے فنا کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ دوسرے مذاہب کے ساتھ جو سلوک مرزا قادیانی نے کیا ہے اس کے نتیجے میں بعض بد نصیب آریوں اور ہندوؤں ،عیسائیوں نے جو گند اچھالا ہے اور اچھال رہے ہیں وہ دنیا بھر کے مسلمان بھگت رہے ہیں کہ قادیانی جماعت کا اسلام سے تعلق نہ ہونے کے باوجود اپنا مسلمان ہونے کا پروپیگنڈہ کرنا ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگ لاعلمی کی وجہ سے زندیقوں کو مسلمان سمجھ لیتے ہیں۔
- ☆ ...... اگر مرزا قادیانی مسلمان ہیں تو اسلام کے اندر کسی نئے نبی و رسول کی گنجائش نہیں۔ اس
لئے مرزا قادیانی کے دعوے غلط ہیں۔ یا وہ مسلمان نہیں۔ لیکن اگر چند لمحے کو مرزا قادیانی کو نبی ہی سمجھ لیں تو کیا یہ رویہ ایک نبی کا، نبیوں کے مثیل کا، رسول کریم کی پیشگوئیوں کے مصداق کا، ان کے ظل و عکس کا ہو سکتا ہے یا ہونا چاہئے؟؟ مرزا قادیانی نے دوسرے مذاہب اور ان کی کتابوں ،خداؤں، نبیوں کے بارے میں جو خامہ فرسائیاں کی ہیں وہ ایک الگ اور تفصیلی باب بلکہ کتاب کا متقاضی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو آئندہ کسی دوسرے مضمون میں۔
چھوٹی سی مثال
صرف ایک چھوٹی سی مثال بطور جھلک کہ مرزا قادیانی کے دوسرے مذاہب پر اعتراضات کیسے ہیں؟ کیا علمی اعتراضات ہیں یا محض اعتراض کے نام پر اپنے خبث کا اظہار کر رہے ہیں؟ دوسرے مذاہب کے ساتھ مرزا قادیانی کے رویہ کے بارے میں ارادہ ہے مضمون لکھنے کا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی۔
- ☆ ...... مرزا قادیانی آریوں کے خدا کے متعلق کہتے ہیں: ”آریوں کا پرمیشر ناف سے دس
انگل نیچے ہوتا ہے۔ سمجھنے والے سمجھ جائیں۔“
(چشمہ معرفت ص ١٠٤، خزائن ج ٢٣ ص ١١٢)
مرزا قادیانی کے دماغ کی رسائی یہاں تک ہی تھی کہ کتاب کا نام چشمہ معرفت ہے اور اس میں اس بات پر زور ہے ”ناف سے دس انگل نیچے کا۔“ کیا مرزا قادیانی کا چشمہ معرفت ناف سے دس انگل نیچے تھا؟ کیا یہ کوئی علمی اعتراض ہے یا مرزا قادیانی کے (اپنے اعترافی بیان کے مطابق ان کو چوڑھیوں، بھنگیوں سے) ذاتی تجربہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا اعتراض ہے؟
ناوک نے تیرے
مرزا قادیانی کا حال بقول شاعر یہی ہے کہ: ”ناوک نے تیرے کوئی صید نہ چھوڑا
١١٨
زمانے میں‘۔ مرزا قادیانی کے کلام کے صرف چند نمونے ہی پیش کئے گئے ہیں۔
- ☆ ...... کیا ایک نبی اللہ دوسرے مذاہب والوں کو اخلاقی طور پر اتنا گر کر کبھی نشانہ بنا سکتا ہے؟
قادیانی عزیزوں اور دوستوں سے میں سوال کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے معیار پر پورے اترتے ہیں یا نہیں؟ ہر شریف اور انصاف پسند ایماندار آدمی کا جواب ہوگا کہ:
- ☆ ...... یقیناً نہیں، یقیناً نہیں، یقیناً نہیں۔
- ☆ ...... کیا یہ اس اخلاق اور کیریکٹر کے ساتھ جو کہ ہم سطور بالا میں بمعہ ثبوت پیش کر چکے
ہیں، اس مقام پر فائز ہو سکتے ہیں جس کا ان کو دعویٰ ہے؟ ۔
- ☆ ...... کیا یہی امام الزماں ہیں جن کی خبر سب نبیوں نے دی تھی؟
- ☆ ...... اگر تو اخلاق سے عاری امام الزماں کی بات یا خبر تھی تو پھر ان ہی کے لئے تھی۔
- ☆ ...... لیکن اگر مقرب خدا کی خبر تھی تو ایک بار پھر دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دو کہ کیا مرزا غلام
احمد کا کیریکٹر اور مرزا کے اپنے ہی بتائے ہوئے معیار کے مطابق بھی ایک امام الزماں کا ہی کیریکٹر ہے؟
- ☆ ...... کیا نبی اللہ، مہدی، مسیح مجدد کسی سمجھ دار آدمی کا بھی کیریکٹر گالیوں کی مشین گن چلانے
کا ہوتا ہے؟
- ☆ ...... اور اوپر سے یہ تعلّی کہ: ”خدا وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت
اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
کیا اللہ تعالیٰ نے انسان کو گالیاں دینے، غلط کام کرنے اور پھر نہایت بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ اس کا انکار کرنے کی تہذیب دے کر اپنے مقربین کو بھیجتا رہا ہے؟ اگر آپ باضمیر ہیں تو آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مرزا قادیانی کے کیریکٹر والے بندے نہ تو خدا کے مقرب ہو سکتے ہیں اور نہ ہی امام زمان اور نہ ہی شریف آدمی!
- ☆ ...... ان خود ساختہ رسول صاحب کے تہذیب و اخلاق کے نمونے آپ نے دیکھ ہی لئے
ہیں اور ایسے نمونے ان کی تمام کتابوں میں کافی زیادہ موجود ہیں۔ مزید کیا کہوں؟ بہتر یہی ہے کہ میں مرزا قادیانی کے ہی ایک شعر پر اس باب کو یہاں بند کرتا ہوں
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے
(قادیان کے آریہ اور ہم ص ٦١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٥٨)
١١٩
(٦) ....... چھوڑ دو تم
(شیخ راحیل احمد۔ جرمنی)
مذہب اسلام میں احکامات اور ان کی تشریح کے لئے قرآن کریم کے بعد کتب احادیث کی اہمیت سے مسلمان تو کیا کافروں کو بھی انکار نہیں اور اس دور کے خودساختہ نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اس موقف سے اتفاق کرتے ہوئے ایک مرتبہ کہا کہ : ”کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو۔ جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٨)
مجھے ان کی یہ بات اچھی لگی۔ اسی لئے میں مجبور ہوں کہ اس بات میں ان کی تائید کروں۔ ویسے بھی یہ اس دور کی بات ہے جبکہ ابھی ڈھکے چھپے لفظوں میں آئندہ کی نبوت کی تیاری ہورہی تھی۔ مرزا قادیانی نے ختم نبوت پر جو ڈاکہ ڈالا۔ عقائد کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا اور اپنے آپ کو نبی قرار دے لیا۔
اس کے جواز ڈھونڈنے میں مرزا قادیانی نے (کم سے کم الفاظ میں بیان کیا جائے تو انتہائی بے شرمی کے ساتھ ) نہ صرف پہلی مذہبی کتب پر بلکہ قرآن کریم پر بھی دست درازیاں کیں۔ تحریف کی، جھوٹ باندھے اور من مانے تراجم وتفاسیر کئے۔ اسی طرح اپنی خانہ ساز نبوت کو حق ثابت کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے احادیث پر، اس کے بیان کرنے والوں پر بھی اپنی چیرہ دستیوں کا ہاتھ دراز کیا۔ چاہا تو کسی امام کے قول کو حدیث قرار دے دیا۔ چاہا تو ایک بار حدیث کو بے سند قرار دے کر، پیسہ اکٹھا کرنے کے لئے پھر اسی کو پیشگوئی قرار دے دیا اور جس حدیث کو انہوں نے چاہا رد کیا۔ چاہے وہ ثقہ ترین احادیث میں سے ہو اور جس حدیث کو چاہا بطور دلیل پیش کر دیا چاہے وہ کتنی ضعیف ہی کیوں نہ ہو اور اس حدیث کے ضعیف ہونے کے کتنے ہی زبردست شواہد ہوں۔
جیسا کہ لکھتے ہیں: ”تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں۔ جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
یہ تو اقرار کر رہے ہیں۔ لیکن بات صرف یہاں تک ہی نہیں رہتی۔ بلکہ کئی احادیث کے من مانے ترجمے کئے اور جو باتیں احادیث میں نہیں تھیں وہ بھی احادیث سے منسوب کر دیں اور کئی
١٢٠
احادیث کے مطالب کو اپنی من مانی تاویلات کے بنے ہوئے جال میں دھکیل دیا۔ بعض حدیثوں کو بیان کرتے ہوئے دانستہ بہت سی باتوں کو چھوڑ گئے اور کچھ کو اس طرح بیان کیا کہ ایک دوسری حدیث بیان کی اور اس کے ساتھ اپنا تبصرہ اس طرح گڈ مڈ کیا کہ اس طرح ان کو اپنے من مانے معنی پہنچائے اور ان کو پیش کر دیا کہ باقی کی حدیث کو گول کر گئے۔ غرضیکہ جو بھی ایک جھوٹا مدعی نبوت، قرآن حدیث اور سنت کے ساتھ کر سکتا ہے۔ نہ صرف مرزا قادیانی نے بے دریغ کیا۔ بلکہ آج تک کے آئمہ تلبیس میں وہ اس باب میں بھی ان تمام جھوٹے نبیوں کے سرخیل ثابت ہوئے۔ بلکہ خاتم الائمہ تلبیس ہوئے۔ مرزا قادیانی کی احادیث کی چیرہ دستیاں تو بہت ہیں مگر خاکسار صرف چند ایک مثالوں پر ہی قناعت کرے گا۔ کیونکہ مقصد اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جب انسان اپنی ذات کو جھوٹے نبی کی ذات میں ڈھال لیتا ہے تو کہاں تک جھوٹ کی نجاست میں منہ مارتا ہے اور جھوٹ کے طومار سے خشک پتوں کے ڈھیروں کی طرح کئی کئی ڈھیر لگا دیتا ہے۔ لیکن سچائی کے ایک جھونکے سے ہی یہ ڈھیر اڑنے لگتے ہیں اور جھوٹ کی لاش کو ننگا کر دیتے ہیں۔ اس طرح انسانوں کا سچائی پر یقین اور پختہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر مرزا قادیانی کی ہر ایک چیرہ دستی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو میرے خیال میں کئی ایک ضخیم کتابیں بھی ناکافی ہوں گی۔ اس لئے اس آرٹیکل کو دیگ میں سے چاول کے ایک دانے کے طور پر ہی قبول کریں۔
احادیث کے بارے میں مرزا قادیانی کی مختلف آراء
شروع شروع میں جب مرزا قادیانی اپنی مذہبی کمپنی کی مشہوری کر رہے تھے۔ تاکہ نبوت کے آئندہ منصوبوں کی راہ ہموار ہو جائے۔ کیونکہ اس وقت مرزا قادیانی کو بعض نامور اہلحدیث علماء کا تعاون بھی حاصل تھا اور یہ تعاون رہنے کی امید بھی تھی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ بعد میں ان کے بداعتقادوں نے مرزا قادیانی اور اہل حدیث کے بعض ناموروں کو نورا کشتی میں لگا دیا۔ اس وقت مرزا قادیانی کا اسلام کے مطابق تسلیم شدہ اصول
- ☆...... ”حدیثوں کا وہ دوسرا حصہ جو تعامل ......کے سلسلہ میں آگیا اور کروڑہا مخلوقات ابتداء
سے اس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے۔ اس کو ظنی اور شکی کیوں کر کہا جائے؟ ایک دنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک اور باپوں سے دادوں تک اور دادوں سے پڑدادوں تک بدیہیہ طور پر مشہور ہو گیا اور اپنے اصل مبداء تک اس کے آثار اور انوار نظر آگئے۔ اس میں تو ایک ذرہ گنجائش نہیں رہ سکتی اور بغیر اس کے انسانوں کو کچھ نہیں بن پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل در آمد کو اول درجے کے یقینیات میں سے یقین کرے۔ پھر جبکہ آئمہ حدیث نے اس
١٢١
سلسلۂ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا اور امور تعاملی کا اسناد، راست گو اور متدین راویوں کے ذریعہ حضرت محمد ﷺ تک پہنچادیا تو پھر بھی اس پر جرح کرنا در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔“ (شہادت القرآن ص ٨، خزائن ج ٦ ص ٣٠٤)
- ☆...... اور دوسری جگہ اپنے مریدوں کو تلقین کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”یاد رکھو کہ جو شخص
احادیث کو ردی کی طرح پھینک دیتا ہے وہ ہرگز ہرگز مومن نہیں ہو سکتا کیونکہ اسلام کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہے جو بغیر مدد احادیث ادھورا رہ جاتا ہے۔ جو کہتا ہے کہ مجھے احادیث کی ضرورت نہیں وہ ہرگز مومن نہیں ہو سکتا۔ اسے ایک دن قرآن کو بھی چھوڑنا پڑے گا۔“ (ملفوظات ج ١٠ ص ٢٦٥)
- ☆...... اس موقف کے بعد مرزا قادیانی اور ان کی جماعت اب مسیح اور مہدی والی حدیثوں کی
تاویلیں اور جرح حتیٰ کہ انکار کیوں کرتی ہے؟ کیا اس لئے کہ اس کے بغیر خود ساختہ نبوت کا کوئی راستہ نظر نہ آیا؟ اب مرزا قادیانی اپنے مقاصد کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ اوپر دیئے گئے دونوں حوالوں کو ذہن میں رکھیں اور پھر دیکھیں کہ کتنی فنکاری سے احادیث کو قرآن کریم کا مقابل قرار دے کر احادیث کے وجود کے بارے میں سوال کھڑے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
- ☆...... مرزا قادیانی نے ایک اور آسان نسخہ ڈھونڈا کہ ان کے دعوے چونکہ خروج دجال اور
نزول عیسیٰ علیہ السلام کی علامات و آثار نہایت تفصیل کے ساتھ احادیث میں موجود ہیں اور ان کے پاس ان سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں۔ یا پھر مسلمانوں کی نظر میں منکر حدیث بنیں۔ اس سے بچنے کے لئے مرزا قادیانی کے ذہن نے اس کا حل تو یہ ڈھونڈ لیا کہ قرآن اور احادیث کے تعلق کو فنکاری کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل لا کر احادیث کی ضرورت اور عدم ضرورت کے سوالات پیدا کئے جائیں۔ میری اس بات کی تصدیق مرزا قادیانی کے یہ اقوال کر رہے ہیں۔
- ☆...... ”کیا آنحضرت ﷺ کی ان لوگوں کو وصیت تھی کہ میرے بعد بخاری کو ماننا؟ بلکہ
آنحضرت ﷺ کی وصیت تو یہ تھی کہ کتاب اللہ کافی ہے۔ ہم قرآن کے بارے میں پوچھے جائیں گے نہ کہ زید اور بکر کے جمع کردہ سرمایہ کے بارے میں۔ یہ سوال ہم سے نہ ہوگا کہ تم صحاح ستہ وغیرہ پر ایمان کیوں نہ لائے۔ پوچھا تو یہ جائے گا کہ قرآن پر ایمان کیوں نہ لائے۔“
(ملفوظات ج ٣ ص ١٥١)
- ☆...... یہ بات کر کے سب سے پہلے نمبر پر تو مرزا قادیانی اپنے ہی اس قول کے مصداق بنتے
ہیں۔
١٢٢
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٨)
- ☆...... دوسرے نمبر پر رسول کریم ﷺ کو کیسے پتہ ہو سکتا تھا کہ ان کے بعد امام بخاری، امام
مسلم اور دوسرے امام ان احادیث کو اکٹھے کریں گے۔ اس سوال کا جواب کہ احادیث رسول ﷺ پر ایمان لانا ضروری ہے یا نہیں؟ خود قرآن کریم دے رہا ہے۔
- ☆...... کہئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے پیچھے چلو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا۔
(آل عمران ع٣)
اس آیت میں رسول کریم ﷺ کے پیچھے چلنے کا کیا مطلب ہے۔ کیا کوئی ذی ہوش و حواس کہہ سکتا ہے کہ پیچھے چلنے کا مطلب صرف قرآنی آیات ہیں؟ اور کیا ان کے اقوال اور فعل بھی شامل ہیں یا نہیں؟
- ☆...... پھر اس قرآنی آیت کا کیا جواب دیں گے: ”اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر اس
واسطے کہ اس کے حکم پر چلا جائے اللہ کے فرمان سے۔“
(نساء ع٩)
- ☆...... اور اسی قبیل کی ایک اور آیت: ”اور ہم نے بنایا ان کو امام و پیشوا، وہ ہدایت و رہنمائی کرتے
تھے ہمارے حکم سے۔“ (انبیاء ع٥) ان دونوں آیات سے واضح ہو رہا ہے کہ قرآنی احکام کے ساتھ جو رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے اس کی پابندی کرنی بھی لازمی ہے اور اقوال کریمانہ ہمیں صرف احادیث کے ذریعہ سے ہی ملتے ہیں۔
- ☆...... مرزا قادیانی اور ان کی قبیل کے بعض افراد یہ کہتے ہیں کہ قرآن مقدم ہے اس میں کوئی
شک نہیں کہ قرآن مقدم ہے اور کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی حدیث رسول ﷺ قرآن کے خلاف ہو جبکہ حدیثوں کی صحت اور درست ہونے کے قوائد بھی مرتب ہیں جن سے مرزا قادیانی بھی اتفاق کر چکے ہیں۔ ان قوائد کے تحت بڑی آسانی کے ساتھ صحیح اور ضعیف حدیث میں فرق واضح ہو جاتا ہے۔
- ☆...... اب یہ علیحدہ بات ہے کہ قرآن کریم کے معنی نہ سمجھ آئیں تو حدیث کو قرآن کے مخالف
قرار دے دو چاہے کتنی ہی معتبر کیوں نہ ہو۔ یہ کیوں تحقیق نہیں کر لیتے کہ سلف صالحین اس بارے میں کیا کہتے ہیں اور اگر خود ساختہ معنی اور تفسیر کر کے حدیث پر اعتراض کرتے ہو تو پھر اپنے فتویٰ کے مطابق خبیث ہو۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ترجمہ کرے کہ وَانْتَهُوا کا ترجمہ اس طرح ہے ”و“ کے معنی اور ہیں۔ ”ا“ کا مطلب آئے گا اور ”نتھو“ صاف ظاہر ہے کہ نتھو ہے۔ اس طرح کہے کہ صحیح
١٢٣
معنی یہ بنتے ہیں کہ: ”اور آئے گا تحفہ تمہارے پاس۔“ چونکہ حدیث میں ہمیں حوالہ نہیں ملتا اور قرآن مقدم ہے اس لئے تحفہ کے آنے کے خلاف ہر قول مردود ہے اور مرزا قادیانی کے ترجمہ اور تفاسیر بھی اسی طرح کی ہیں۔
- ☆...... آخری بات کہ امام بخاریؒ اور دوسرے اماموںؒ نے اپنے اقوال پیش کئے ہیں یا رسول
اللہ ﷺ کے؟
- ☆...... مزید لکھتے ہیں: ”لیکن قرآن شریف ایسے احتمالات سے پاک ہے۔ آنحضرت ﷺ
کی زندگی قرآن شریف تک ہی ہے۔ پھر آپ فوت ہو گئے۔ اگر یہ احادیث صحیح ہوتیں اور مدار ان پر ہوتا تو آنحضرت ﷺ فرما جاتے کہ میں نے حدیث جمع نہیں کیں۔ فلاں فلاں آوے گا تو جمع کرے گا تم ان کو ماننا۔“
(ملفوظات ج ٢ ص ١٥١)
- ☆...... مرزا قادیانی کی اس بات کا جواب کچھ تو اوپر بھی دیا جا چکا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی
اپنی تحریر (بطور مجدد، جس کے جنبہ میں خدا ہے اور جس کو علم قرآن خدا نے سکھایا ہے اور جس کو خدا ایک لمحہ غلطی پر نہیں رہنے دیتا) جواب دے رہی ہے۔ ”حدیثوں کا وہ دوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آ گیا اور کروڑ ہا مخلوق ابتداء سے اس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے۔ اس کو ظنی اور شکی کیوں کر کہا جائے؟ ایک دنیا کا تسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک اور باپوں سے دادوں تک اور دادوں سے پڑدادوں تک بدیہی طور پر مشہور ہو گیا اور اپنے اصل مبداء تک اس کے آثار اور انوار نظر آ گئے۔ اس میں تو ایک ذرا گنجائش نہیں رہ سکتی اور بغیر اس کے انسان کو کچھ نہیں بن پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل درآمد کو اول درجے کے یقینیات میں سے یقین کرے۔ پھر جبکہ آئمہ حدیث نے اس سلسلہ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا اور امور تعاملی کا اسناد، راست گو اور متدین راویوں کے ذریعہ آنحضرت ﷺ تک پہنچا دیا تو پھر بھی اس پر جرح کرنا درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اور عقل کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨، خزائن ج ٦ ص ٣٠٤)
- ☆...... اس کے بعد ہم مرزا قادیانی کے استدلال کو قرآن کریم سے پرکھتے ہیں تو ہمیں یہ
جواب ملتا ہے: ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس کتاب کی طرف جس کو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف تو اے رسول! تو دیکھے گا کہ ان منافقوں کو کہ اعراض اور روگردانی کرتے ہیں تیری طرف سے۔“
(نساء: ٦١)
١٤٤
- ٭...... مریدوں کو احادیث پر تنقید کرنے کا راستہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ”بحث کے قواعد
ہمیشہ یاد رکھو۔ اول قواعد مرتب ہوں۔ پھر سوال مرتب ہوں۔ کتاب اللہ کو مقدم رکھا جائے۔ احادیث ان کے (کن کے؟۔ ناقل) اقرار کے بموجب خود ظنیات ہیں۔ یعنی صدق اور کذب کا ان میں احتمال ہے۔ اس کے یہ معنی ممکن ہے سچ ہوں اور ممکن ہے کہ جھوٹ ہوں۔“
(ملفوظات ج٢ ص١٥١)
- ٭...... ان باتوں کا جواب اس سے قبل دیا جا چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود جس کو مرزا قادیانی
ظنیات قرار دے رہے ہیں۔ یہ بیان کرتے ہوئے نہیں سوچا کہ جب نبی کریمﷺ نے اس دنیا کو رونق بخشی۔ صحابہؓ نے قرآن کریم، آپؐ کے اقوال، عمل غرضیکہ ہر بات کو جس طرح آپؐ نے پیش کیا قبول کیا۔ دل و دماغ کی گہرائیوں میں بٹھایا اور آپؐ کی حیات مقدسہ میں اور آپؐ کے بعد اس کو انتہائی دیانتداری اور شغف اور حفاظت کے ساتھ اگلی نسلوں کو منتقل کیا۔ اس کے بعد امت کے بہترین افراد کو اللہ تعالیٰ نے احادیث رسولﷺ کی تدوین، ترتیب، تحقیق، تنقید، ترجمہ وتشریح، تعلیم کے لئے چنا اور احادیث کی تدوین تو تابعین کے دور میں شروع ہو چکی تھی اور تابعین کو براہ راست صحابہ کرامؓ سے یہ ورثہ منتقل ہوا تھا۔
- ٭...... مؤطا کا مجموعہ رسول کریمﷺ کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے تقریباً ایک سو بیس
برس کے بعد مرتب ہوا اور اس سے اندازاً بیس برس قبل کئی اصحاب رسولﷺ موجود تھے اور بے شمار تابعین موجود تھے۔ ان تمام حقائق کے باوجود احادیث کو ظنیات قرار دینا کس کا کام ہو سکتا ہے قارئین خود یہ فیصلہ کریں؟
- ٭...... ایک اور بات بھی ہے کہ مرزا قادیانی نے بخاری شریف کو بعد قرآن کے اصح
الکتب قرار دیا۔ لکھتے ہیں: ”جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“ (شہادۃ القرآن ص٤، خزائن ج٦ ص٢٣٧) اور بخاری شریف اور مسلم شریف کو صحیحین قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر احادیث رسولﷺ کو ظنیات کہتے ہیں تو مرزا قادیانی کا ہی کہنا ہے کہ جھوٹے اور منافق کے اقوال میں تضاد ہوتا ہے۔ اب ان باتوں کو سامنے رکھ کر مرزا قادیانی کو جو مرضی قرار دے لیں۔
احادیث کے متعلق ذہنوں میں شکوک
چونکہ مرزا قادیانی کو یقین تھا کہ یہ عذر کافی نہیں ہوگا۔ دوسرا طریقہ یہ اختیار کیا کہ احادیث کے ایک بہت بڑے حصہ کے متعلق شکوک ذہنوں میں ڈالنا شروع کر دیے ہیں۔
١٢٥
- ☆ ...... مرزا قادیانی نے ایک اور آسان نسخہ ڈھونڈا کہ صحیح بخاری کی ایک حدیث کو بیان کر کے
اس پر اپنا یہ نوٹ لگایا: ”بخاری جو حدیث کے فن میں ایک ناقد بصیر ہے۔ ان تمام روایات کو معتبر نہیں سمجھتا۔ یہ خیال ہر گز نہیں ہو سکتا کہ بخاری جیسے جدوجہد کرنے والے کو وہ تمام روایات رطب و یابس پہنچی ہی نہیں، بلکہ صحیح اور قرین قیاس یہی ہے کہ بخاری نے ان کو معتبر نہیں سمجھا۔ اس نے دیکھا کہ دوسری حدیثیں اپنی ظاہری صورت میں امامکم منکم کی حدیث سے معارض ہیں اور یہ حدیث غایت درجہ کی صحت پر پہنچ گئی ہے۔ اس لئے اس نے ان مخالف المفہوم حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ کر اپنی صحیح کو ان سے پر نہیں کیا۔“
(ازالہ اوہام ١٤٤، خزائن ج ٣ ص ١٧٣)
- ☆ ...... اب اگر مرزا قادیانی کی اس رطب و یابس میں چھپے ہوئے پیغام کو دیکھیں تو کس
پرکاری سے قاری کے ذہن میں یہ بٹھا رہے ہیں کہ صحیح بخاری کے سوا جتنی بھی کتب احادیث ہیں۔ خواہ صحیح، خواہ مسند، سب رطب و یابس ہیں۔ دیکھیں ایک ہی تمہید سے کس فنکاری کے ساتھ رسول کریم ﷺ سے مروی ہزار ہا احادیث اور ارشادات کو رطب و یابس قرار دے دیا اور ان اماموں کی سالہا سالوں کی احادیث مبارکہ کو جمع کرنے، مدون کرنے، ان کی صحت پر تحقیق کرنے کی کاوشوں پر پانی پھیر دیا اور نیز وہ جو ہزاروں شرعی مسائل ان حدیثوں سے نکلتے ہیں۔ ان کو بھی مشکوک کر دیا۔
- ☆ ...... اگر یہ مان لیا جائے کہ امام بخاری ہی صرف حامل علم نبوی تھے تو یہ بھی غلط ہوگا۔
دیباچہ بخاری شریف ص ٨٠ پر امام بخاری سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ایک لاکھ صحیح حدیثیں یاد ہیں اور دو لاکھ غیر صحیح ۔ بخاری شریف میں صرف دو ہزار احادیث درج ہیں۔ صرف ان پر کیسے انحصار کر سکتے ہیں جبکہ خود امام بخاری کا اپنا بیان ایک لاکھ صحیح حدیثوں کا ہے اور اس کی ایک بڑی واضح مثال کہ حجۃ الوداع کا قصہ اور مسلم کی حدیث جو جابرؓ سے مروی ہے۔ بخاری شریف میں نہیں ہے حالانکہ سارا عالم اسلام اس کو صحیح سمجھتا ہے اور مرزا قادیانی نے بھی اس کی صحت سے عدم اتفاق نہیں کیا۔
- ☆ ...... اور صرف اسی ایک حدیث سے ہی علماء کرام نے تقریباً ڈیڑھ سو سے زیادہ مسائل
نکالے ہیں۔ اب مرزا قادیانی تو نہیں رہے۔ ان کے سلسلے کے علماء ہی بتائیں گے کہ امام بخاریؒ نے اس حدیث کو کیوں نہیں لیا اور ان کے نہ لکھنے کی وجہ سے کیا یہ بھی رطب و یابس ہے؟ خود ہی دیکھ لیجئے کہ کتنا غلط اصول پیش کیا مرزا قادیانی نے اور اپنی ہی تحریر کے خلاف اور اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے کئی وضعی حدیثیں بڑی ڈھٹائی سے صحیح بخاری سے منسوب کر
١٢٦
دیں حالانکہ ان کا کوئی وجود نہیں۔ ویسے بھی کئی حدیثیں مرزا قادیانی نے اپنے ذہنی کارخانے میں گھڑی ہیں۔
کس طرح
اب مرزا قادیانی لوگوں کے منہ تو نہیں پکڑ سکتے تھے۔ جب علماء کرام نے اعتراض کئے تو مرزا قادیانی کی پرکاری کی انتہاء دیکھئے کہ اب احادیث کو چھانٹنے کا جواز پیش کرتے ہیں۔
- ☆...... جب مرزا قادیانی نے حدیثوں میں بیان کردہ تفصیلات سے اختلاف کرتے ہوئے
اپنے دعوؤں کے ثبوت میں کچھ حدیثوں کو لے لیا اور کچھ کو جزوی طور پر قبول کیا اور باقی احادیث سے مکمل اعراض و بے تعلقی دکھائی۔ اس اعراض کا جواز کیا دیتے ہیں:۔ ”تمام احادیث صحیح نہیں۔ بلکہ بعض تلفیق پر مبنی ہیں اور ان میں اختلاف بہت ہے اور امت میں افتراق کا باعث احادیث ہوئی ہیں۔ انہی کی وجہ سے شافعی، حنبلی، حنفی اور شیعہ فرقے بنے ہیں اور مؤلف امت سے اختلاف کو مٹانے اور قرآن کو قبلہ (کون سے قادیان میں نازل ہونے والے تذکرہ کو یا مکہ مدینہ میں نازل ہونے والے قرآن کو؟۔ ناقل) بنانے کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
ان باتوں کا جواب بھی اس سے قبل آچکا ہے۔ اس جگہ موقع نہیں ورنہ سوال اٹھاتا کہ آپ نے کون سا اتفاق پیدا کیا اور کتنا اختلاف؟
- ☆...... اور دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”جس حالت میں میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے مسیح
موعود مقرر کر کے بھیجا ہے اور مجھے بتلا دیا ہے کہ فلاں حدیث سچی ہے اور فلاں جھوٹی ہے اور قرآن کے صحیح معنوں سے مجھے اطلاع بخشی ہے۔“
(اربعین ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)
- ☆...... لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ایسی کوئی فہرست نہیں چھوڑی جس سے ہم جیسوں کو پتہ
چل سکے کہ خدا نے ان کو کیا بتایا۔
- ☆...... اور نہ ہی کوئی ایسا ثقہ اصول چھوڑا جس کو اختیار کر کے ایک عام آدمی نہ سہی، ایک عالم
ہی کو پتہ چل جاتا کہ مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ سے آخر کون سا اصول پایا جس کو وہ بھی اختیار کر کے صحیح احادیث پیش کر سکے اور غیر صحیح حدیث کے بیان کرنے سے بچ کر لوگوں کے اور اپنے ایمان کو بچاوے۔
- ☆...... اور نہ ہی قرآن کا کوئی صحیح معنوں والا ترجمہ جس پر خدا نے ان کو اطلاع بخشی ہے، اپنے
پیچھے چھوڑا۔ شاید قادیانی جماعت کے بزرگمہر کچھ بتا سکیں۔
١٤٧
راوی حدیث پر اعتبار متزلزل
مرزا قادیانی اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ ان کی سب سے بڑے راوی حدیث پر اعتبار متزلزل کرنے کی کوشش بھی ملاحظہ کیجئے۔
- ☆...... احادیث پر لوگوں کا اعتبار ڈانواں ڈول کرنے میں مرزا قادیانی نے اس ہستی ، اس
صحابی ؓ کی ذات پر جس کے توسط سے سب سے زیادہ احادیث امت تک پہنچی ہیں۔ ایسے خیالات کا اور گھٹیا زبان کا استعمال کیا ہے کہ کوئی صحیح مسلمان ایسی بات کا سوچ بھی نہیں سکتا اور اس طرح مرزا قادیانی نے ایسی کم ظرفی کا مظاہرہ کر کے گناہ بھی کمایا ہے اور مسلمانوں کا دل بھی دکھایا ہے، اور اسلام، احادیث کے دشمنوں کو خوش بھی کیا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے کیا ہیں۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مرزا قادیانی کا قلم ان کے دل کا بغض اگلتا ہے اور ایک بار نہیں کئی بار اور کئی جگہ؟
- ☆...... ”ابو ہریرہ غبی تھا، درایت اچھی نہیں رکھتا ہے۔“ (اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)
- ☆...... ”ابو ہریرہ فہم قرآن میں ناقص ہے۔ اس کی درایت پر محدثین کو اعتراض ہے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ص ٤٠، ج ١٧)
- ☆...... یہ لکھتے ہوئے نہ تو کبھی مرزا قادیانی کا قلم کانپا اور نہ ہی یہ حدیث سامنے آئی کہ: ”جس
نے مجھ پر اور میرے صحابہ پر تنقید کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں سمجھے۔“ لیکن مرزا قادیانی کو کون سا جہنم کا ڈر تھا۔ ان کے باقی کون سے کام جنت میں جانے والے ہیں یا شرافت اور انسانیت کے معیاروں پر پورا اتر رہے ہیں؟ جو شخص ایسے جلیل القدر صحابی رسول ﷺ کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار کرے۔ تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ عاشق رسول ﷺ ہونے کا جھوٹا دعویدار ہے اور ایسا شخص تو مسلمانوں میں شریف آدمی کا مقام بھی نہیں پانے کے قابل کہ کجا اس کا مجدد، مسیح، مہدی و نبی وغیرہ کا دعویٰ قبول کیا جائے۔
حدیث پیش کرنے کا مسئلہ ہی ختم کرتے ہیں
جب مرزا قادیانی کو نظر آیا کہ ابھی بھی مطلوبہ کام نہیں بنا تو
- ☆...... لیکن اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی لوگوں کا اعتراض باقی رہتا ہے تو فیصلہ کرتے ہیں کہ
حدیث پیش کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ ہی اڑا دو اور اپنے کو حدیث پیش کرنے یا نہ کرنے سے آزاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں پیش کرتے ہیں جو قرآن پاک کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں، اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
١٢٨
اب آپ دیکھیں کہ اس تحریر کا کیا مطلب نکلتا ہے۔
- ٭...... اول اگر ایک حدیث قرآن کے مطابق بھی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی وحی کے مطابق نہیں
تو وہ بھی ردی کا کاغذ ہے۔ یعنی بالواسطہ طور پر مرزا نے اپنی وحی یا الہام کو قرآن سے بھی برتر قرار دے لیا۔
- ٭...... دوسرے عالم اسلام کے تیرہ سو سالہ علمی ذخیرہ کو اپنے قلم کی ایک جنبش سے کالعدم
قرار دے دیا۔ حالانکہ صرف اور صرف احادیث سے ہی کسی مہدی یا مسیح کے آنے کی خبر ملتی ہے اور اسی علمی ذخیرہ کو رد کر دیا جس سے مرزا قادیانی کو اپنے دعوے کی بنیاد ملی۔ مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے مواد ملا (جس کو مرزا قادیانی نے اپنی مرضی کے مطابق توڑا مروڑا) ”جس تھالی میں کھائے۔ اسی میں چھید کرئے“ کے مصداق مرزا قادیانی جیسے ”صاحب لوگ“ ہی ہوتے ہیں۔
- ٭...... جیسا کہ آپ شروع میں مرزا قادیانی کے حوالہ دیکھ آئے ہیں کہ جو شخص احادیث کو ردی
کی ٹوکری میں پھینکتا ہے وہ ہرگز ہرگز مومن نہیں ہو سکتا اور یہاں یہ خود مان رہے ہیں کہ احادیث کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔ تو پھر اپنے بقول مرزا قادیانی ہرگز ہرگز مومن بھی نہیں، کجا مجدد، مامور، مسیح یا نبی وغیرہ وغیرہ۔
مال اکٹھا کرنے کے لئے بے سند (بقول مرزا قادیانی) حدیث بھی کام آتی ہے۔
- ٭...... جب ہر نام پر، ہر خواہش پر مال اکٹھا کرنے کی باری آتی ہے تو اس وقت جو احادیث
مرزا قادیانی نے ”بے سند، بے بنیاد“ ”ضعیف“ اور امام بخاریؒ کی رد کی ہوئی قرار دی ہے، وہ حدیث مال سمیٹنے کے لئے کسی طرح موم کی ناک کی طرح موڑ کر رسول کریمﷺ کی منشاء، ”رسول اللہﷺ کی پیشگوئی“، ”جس کی ضرورت حدیث میں تسلیم شدہ“۔ ”جس کی وجہ سے مسیح موعود کی مسجد اقصیٰ حدیث والی مسجد اقصیٰ“ قرار پاتی ہے۔
- ٭...... حدیث مبارکہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر نازل
ہوں گے۔ اس حدیث پر جرح کرتے ہیں اور اس کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذرا آپ بھی پڑھئے: ”ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرتﷺ کے وقت میں دمشق میں کوئی منارہ تھا، اس سے پایا گیا کہ آنحضرتﷺ کے بعد اگر کوئی منارہ بنا تو وہ سند نہیں ہے۔“ اسی طرح حضورﷺ کے وقت میں سن ہجری نہ تھا۔ یہ سن خلافت دوم میں بنا تو اس حدیث سے سن ہجری کی صدی کیونکر مراد لی جاسکتی ہے اور آنحضرتﷺ کے وقت سن ”فیل“ مروج تھا اور اس سن کا سن ہجری سے ٥٣
١٢٩
سال کا فرق ہے۔ لہٰذا یہ حدیث سند نہیں ہے۔“ (اصل فارسی اور عربی میں ہے)
(آئینہ کمالات اسلام ص٤٧٢، خزائن ج٥ ص٤٧٢)
☆...... لیکن مرزا ایک حدیث دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”ناگہاں مسیح ابن مریم ظاہر ہو جائے گا اور وہ ایک منارہ سفید کے پاس دمشق کے شرقی طرف اترے گا مگر ابن ماجہ کا قول ہے کہ بیت المقدس میں اترے گا اور بعض کہتے ہیں کہ نہ بیت المقدس اور نہ دمشق۔ بلکہ مسلمانوں کے لشکر میں اترے گا جہاں حضرت مہدی ہوں گے۔ (دیکھئے کہ اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ناقل) ”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسمعیل بخاری نے چھوڑ دیا۔“
(ازالہ اوہام ص٢١٩، ٢٢٠، خزائن ج٣ ص٢٠٩)
☆...... دیکھیں مرزا غلام احمد قادیانی (اپنے بقول) بطور حکم مجدد، محدث اور مسیح وغیرہ وغیرہ اس حدیث مبارکہ کو غلط ثابت کر چکے ہیں۔ لیکن اب دیکھئے کہ ایک وقت میں جس حدیث کو بے سند اور ضعیف قرار دیتے ہیں۔ مال کمانے کیلئے اس کا حوالہ دے کر لوگوں سے کیسے پیسے اکٹھے کئے جارہے ہیں؟ شوکت اسلام کے نام چندہ کی اپیل (ذاتی جائیداد اور رسوخ کو وسیع کرنے کے لئے) کا ٹائٹل لگا کر کشکول پھیلاتے ہوئے اشتہار شائع کرتے ہیں اور اس میں لکھتے ہیں (اشتہار کے چیدہ چیدہ حصے اس طرح پیش کئے ہیں کہ مفہوم میں کوئی فرق نہ پڑے۔ اگر کسی کو اعتراض ہو تو مکمل اشتہار پڑھ کر دیکھ لے۔ انشاء اللہ اصل مفہوم میں ذرہ بھر فرق نہ ہوگا)
”قادیان کی مسجد جو میرے (بے نماز۔ ناقل) والد صاحب مرحوم نے مختصر طور پر دو بازاروں کے وسط میں ایک اونچی زمین پر بنائی تھی۔ اب شوکت اسلام کے لئے بہت وسیع کی گئی۔ اب اس مسجد کی تکمیل کے لئے ایک اور تجویز قرار پائی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسجد کی شرقی طرف جیسا کہ حدیث رسول ﷺ کا منشاء ہے۔ ایک نہایت اونچا منارہ بنایا جائے (کس حدیث کا منشا ہے کہ منارہ بنایا جاوے؟ اور اگر ہے تو کون بناوے؟۔ ناقل) اور وہ منارہ تین کاموں کے لئے مخصوص ہو۔ (١) اوّل یہ کہ تا موذن اس پر چڑھ کر پنج وقتہ بانگ نماز دیا کرے۔ (٢) دوسرا مطلب اس منارہ سے یہ ہوگا کہ اس منارہ کی دیوار کے کسی بہت اونچے حصے پر ایک بڑا لالٹین نصب کر دیا جائے گا۔ (٣) تیسرا مطلب اس منارہ سے یہ ہوگا کہ اس منارہ کی دیوار کے کسی اونچے حصہ پر ایک بڑا گھنٹہ جو چار سو پانچ سو کی قیمت کا ہوگا، نصب کر دیا جائے گا۔
(اب تیسری وجہ کی مزید تشریح میں اور باتوں کے علاوہ دلچسپ تشریح بھی لکھتے ہیں)
”تیسرے وہ گھنٹہ جو اس منارہ دیوار میں نصب کیا جائے گا۔ اس میں یہ حقیقت مخفی ہے...... سو آج
١٣٠
سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا ہے۔ (جو بات کی وہ خدا کی قسم لاجواب کی!۔ ناقل) غرض یہ گھنٹہ جو وقت شناسی کے لئے لگایا جائے گا۔ مسیح کے وقت کی یاددہانی ہے۔
اور خود اس منارہ کے اندر ہی ایک حقیقت مخفی ہے اور طُرفہ یہ کہ حدیث نبویہ میں متواتر آچکا ہے کہ مسیح آنے والا صاحب المنارہ ہوگا (واہ مرزا قادیانی، آپ کے دجل اور تحریف کے کیا کہنے، کہیں یہ نہیں لکھا کہ صاحب المنارہ ہوگا۔ بلکہ یہ لکھا ہے کہ سفید منارہ پر نازل ہوگا اور ہر سمجھ دار کم از کم مینارہ پر اترنے یا صاحب المنارہ ہونے میں جو تضاد ہے۔ سمجھ سکتا ہے اور میں چیلنج کرتا ہوں کہ قادیانی جماعت کو کہ وہ کسی ایک کمزور حدیث کو ہی پیش کردیں جس میں مسیح کے لئے ”صاحب المنارہ“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہو۔ جو وہ کبھی بھی نہیں پیش کر سکتے، انشاء اللہ۔ ناقل) یعنی اس کے زمانہ میں سچائی بلندی کی انتہا تک پہنچ جائے گی..... (قادیانیو! کیا واقعی سچائی بلندی کی انتہا تک پہنچ گئی ہے؟ دنیا کی بات بھی نہیں کہتا۔ بلکہ اپنی جماعت کی اندرونی حالت پر ہی حلف اٹھا کر اپنے ضمیر کا جواب دے دو؟۔ ناقل)...... اور قدیم سے مسیح موعود کا قدم اس بلند مینار پر قرار دیا گیا ہے۔ (حدیث کا تو آپ انکار کر چکے۔ اب کہاں اور کس نے قرار دیا ہے؟۔ ناقل) جس سے بڑھ کر اور کوئی عمارت اونچی نہیں...... ایسا ہی مسیح موعود کی مسجد اقصیٰ بھی مسجد اقصیٰ ہے (اس زمانہ میں یورپ اور امریکہ ہی نہیں ہندوستان میں ہی کئی مینار مرزا قادیانی کے مجوزہ مینار سے اونچے تھے اور حقیقتاً نیز روحانی طور پر بھی مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، مسجد اقصیٰ کے مینار اونچے تھے، ہیں اور تا قیامت رہیں گے۔ لیکن مرزا قادیانی ایسی ہی دور کی کوڑیاں لایا کرتے تھے۔ ناقل)۔
ایک روایت میں خدا کے پاک نبی نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ مسیح موعود کا نزول مسجد اقصیٰ کے شرقی منارہ کے قریب ہوگا۔ حاشیہ میں اس کی تشریح کرتے ہوئے ہمارا گاؤں قادیان اور یہ مسجد دمشق کے شرقی جانب ہے اور چونکہ حدیث میں اس بات کی تصریح نہیں کہ وہ دمشق سے ملحق ہوگا۔ بلکہ دمشق سے شرقی طرف واقع ہوگا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ منارہ یہی مسجد اقصیٰ کا منارہ ہے (جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی۔ ناقل)...... مسیح کا نزول منارہ کے پاس ہوگا۔ دمشق کا ذکر اس حدیث میں جو مسلم نے بیان کی ہے...... کہ مسیح کا منارہ جس کے قریب اس کا نزول ہوگا۔ دمشق سے شرقی طرف ہے اور یہ بات صحیح بھی ہے۔“ (اب ذرا تھوڑا سا پیچھے جائیں جہاں مینارہ والی حدیث کو بے سند اور ضعیف قرار دیا، اور یہاں صحیح قرار پا رہی ہے۔ ناقل)
☆....... اس دلیل کا جائزہ لیں تو ہنسی آتی ہے۔ قادیان دمشق کے مشرق نہیں۔ بلکہ جنوب مشرق میں واقع ہے۔
١٣١
- ☆....... اور مثال کے طور پر اب کوئی یہ کہے کہ مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ قادیان کے جنوب
میں ایک کھیت میں ایک عقاب شکار کرے گا۔ ابھی پرندوں اور عقاب کی آمد کا وقت ہی نہیں آیا اور مرزا قادیانی کا کوئی مرید سری لنکا میں رہتا ہے وہ اپنے پالتو شکرے کو اڑائے اور کہہ دے کہ یہاں عقاب اور پرندے دیکھے ہیں۔ کیونکہ سری لنکا قادیان کے جنوب میں ہے اس لئے مرزا قادیانی کا الہام پورا ہو گیا۔ کوئی عقل کو ہاتھ مارو بھائیو! اب اگر کوئی کہتا ہے کہ ایک لال رنگ کی عمارت قادیان کے مغرب میں ہے تو تم اس کو قادیان کے مضافات میں دیکھو گے یا روس میں جا کر؟ کیونکہ روس بھی مغرب میں ہے۔
- ☆....... اور اگر واقعی اتنی دور حدیث مبارکہ سے مراد تھی تو اتنا لمبا چکر کاٹنے کی ضرورت کیا تھی۔
رسول کریم ﷺ نے مکہ یا مدینہ سے سمت کیوں نہ بتائی؟ وہاں سے تو قادیان زیادہ مشرق کی جانب آتا ہے۔
- ☆....... ایک اور بے ہودگی کہ: ”وہ مینارہ یہی مسجد اقصیٰ کا مینارہ ہے۔“ جو ابھی صرف
مرزا قادیانی کے خیالوں میں ہے۔
- ☆....... مینار جس کا حدیثوں میں ذکر ہے۔ کیا وہ مسجد اقصیٰ جو بیت المقدس میں ہے، کا مینارہ
تھا یا دمشق کی کسی مسجد کا؟ اور مسجد اقصیٰ کے ساتھ کسی کمزور ترین احادیث کا بھی ذکر آیا ہے؟
”اور یہ منارہ وہ منارہ ہے جس کی ضرورت حدیث نبویہ میں تسلیم کی گئی اور اس منارہ کا خرچ دس ہزار سے کم نہیں۔ اب جو دوست اس منارہ کی تعمیر کے لئے مدد کریں گے میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بھاری خدمت انجام دیں گے“ (اس میں کیا شک ہے کہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ کاٹ کر پہلے تمہارے اور تمہاری اولاد کے شاہی اللے تللے پورے کرنا واقعی بھاری خدمت ہے۔ ناقل)
(اشتہار نمبر ٢٢١ مورخہ ٢٨ مئی ١٩٠٠ء ، مجموعہ اشتہارات ج ٣، ص ٢٨٢ تا ٢٩٧)
جب لوگوں کی جیب سے پیسے نکالنے کا خیال آیا تو جو بات بے سند تھی۔ اس کو حدیث نبویہ کی تسلیم شدہ ضرورت قرار دے دیا۔
- ☆....... اس کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دوسرے (اشتہار نمبر ٢٢٣ ، ص ٣١٢ تا ٣٢٤) میں
بڑے جذباتی انداز اور مریدوں کے اخلاق اور جذبہ قربانی کو بلیک میل کرتے ہوئے۔ ان کے مال کے طلب گار ہوتے ہیں اور تاکید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”سو واضح ہو کہ ہمارے سید و مولا خیر الاصفیاء خاتم الانبیاء سیدنا محمد ﷺ کی یہ پیشگوئی ہے کہ مسیح موعود جو خدا کی طرف سے اسلام کے ضعف اور عیسائیت کے غلبہ کے وقت میں نازل ہوگا۔ اس کا نزول ایک سفید منارہ کے قریب ہوگا
١٤٢
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١٥)
جو دمشق سے شرقی طرف واقع ہے۔"
- ☆...... اب آپ اوپر دیئے گئے حوالہ جات کا جائزہ لیں تو مندرجہ ذیل باتیں سامنے آتی
ہیں۔
- ☆...... پہلے دو حوالہ جات (آئینہ کمالات اسلام اور ازالہ اوہام) میں مرزا قادیانی نے ان روایات
کو بطور ملہم، مجدد، مسیح موعود، جس کو خدا ایک لمحہ کی غلطی پر نہیں رہنے دیتا اور کوئی لفظ خدا کی منشاء کے بغیر نہیں بولتا۔ ان احادیث کو جن میں مسیح علیہ السلام کا سفید مینارہ پر نازل ہونے کا ذکر ہے، بے سند اور ضعیف قرار دیا ہے۔
- ☆...... پھر ان تمام احادیث یا ان کے وہ حصے جو مرزا قادیانی نے حوالہ کے طور پر دیئے ہیں ان
میں بھی واضح طور پر لکھا ہے کہ سفید منارہ پر نازل ہوگا۔ یہ نہیں کہ سفید منارہ کے قریب اور یہ بھی نہیں کہ وہ آ کر سفید منارہ لوگوں کی جیب کاٹ کر بنائے گا۔
- ☆...... جب بے نماز باپ کی بنائی ہوئی مسجد پر مینارہ بنانے کے لئے مرزا قادیانی کو پیسے
اکٹھے کرنے کا خیال آیا تو انہی احادیث کو جن کو الہامی حیثیت میں غلط یا بے سند اور ضعیف قرار دے چکے تھے۔ یک جنبش قلم نہ صرف صحیح (بغیر اس تشریح کے کہ کب سے با سند ہوگئی ہے؟ یا اس بات کا اقرار کہ پہلے غلطی لگی) قرار دے دیا۔ بلکہ پاک پیشگوئی قرار دے کر اس کا مصداق اپنی مسجد کو بنالیا اور پھر ایک بار نہیں کئی بار۔ واہ جی واہ کیا کہنے۔ ویسے میرے خیال میں ایسی ہی صورت حال میں کسی شاعر نے آپ جیسے مہربان کے لئے خوب کہا ہے:
- ☆...... مرزا قادیانی کا حوالہ جیسا کہ پہلے دے چکے ہیں کہ انکے بقول رسول کریم ﷺ کے
زمانے میں کوئی سفید مینارہ نہیں تھا۔ تو جب آپ نے دعویٰ کیا تو سفید مینار کے اوپر اترنے کی بات چھوڑیں۔ مینار کے قریب نازل ہونے کے لئے بھی (دمشق کے مشرق میں) قادیان میں تو کیا دور دور تک کوئی مینار نہ تھا۔ لیکن آپ پھر بھی (پتہ نہیں کہاں سے دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے) بغیر مینارہ کے ہی نازل ہوگئے۔ اب یہ کہاں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نزول کے بعد سفید مینارہ بنائیں گے اور مرزا قادیانی نے اس کے علاوہ بھی جو تاویلیں کی ہیں۔ ان کے کیا کہنے۔
- ☆...... پڑھنے والے صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ اے نبی تاویلات، تو دجل میں (کم از کم)
اپنے وقت میں سب سے اونچے مینار دجل پر کھڑا تھا اور پھر خدا نے جیسے شداد کو اس کی اپنی ہی بنائی ہوئی جنت میں داخل نہیں ہونے دیا۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی اس مینارہ پر چڑھنے
١٣٣
اور اس کو مکمل دیکھنے کی حسرت ہی دل میں لئے اس دنیا سے چلے گئے اور خدا تعالیٰ کی مرضی کہ یہ مینار مرزا قادیانی کی زندگی میں پورا نہ ہوا۔ اس طرح خدا نے بتا دیا کہ وہ جھوٹے مدعیان نبوت کے وہ منصوبے جو وہ پاک نبیوں اور اللہ کی گواہی کے طور پر بناتے ہیں۔ کبھی پورے نہیں ہوتے اور مرزا قادیانی اپنی کئی دوسرے پیشگوئیوں کی طرح اس مینار کو بھی مکمل دیکھنے کی حسرت لئے رخصت ہوئے۔
مجددیت کے ثبوت
میں جماعت احمدیہ اکثر ایک حدیث پیش کرتی ہے ”ان اللہ یبعث لھذا الامۃ علی راس کل مائۃ سنۃ من یجددلھا دینھا۔ مشکوۃ کتاب العلم ص ٣٦۔ ترجمہ (یعنی ہر صدی کے سر پر مجدد آئے گا)۔“
- ☆...... اب آپ دیکھیں کہ یہ حدیث پہلی بات یہ کہ ابو داؤد (کتاب الملاحم جلد دوم ص ٤٢) کے
مطابق یہ روایت موقوف ہے لہذا حجت نہیں۔“
- ☆...... اور : ”کتاب تہذیب التہذیب میں لکھا ہے کہ اس حدیث کے راویوں میں ایک راوی
ابن وہب جو مدلس ہے۔ لہذا قابل اعتبار نہیں ۔“
- ☆...... ان روایتوں کو مرزا قادیانی اس طرح نظر انداز کرتے ہیں جیسے کہ ان کا وجود ہی نہیں۔
حالانکہ دیانت داری کا تقاضہ تھا کہ جب ایک روایت پیش کی ہے تو اس کے بارے میں دوسری کتب احادیث میں جو درج ہے وہ بھی پیش کرنا چاہئے تھا اور قاری کو فیصلہ کرنے دینا تھا کہ وہ اس دلیل پر مرزا قادیانی کے موقف کے مطابق تسلیم کرے یا نہ کرے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے بقول وہ کوئی عام مصنف نہیں بلکہ سلطان القلم اور مجددیت اور ماموریت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جس شخص کا اتنا بڑا دعویٰ ہو اس کی تحریر بھی انتہائی شفاف ہونی چاہئے۔
- ☆...... اس کے علاوہ جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے اور
حضرت ابو ہریرہؓ (نعوذ باللہ) بقول مرزا قادیانی کے غبی ہیں اور جو غبی ہو اس کی بات سند نہیں ہوتی کیونکہ اس کی بات میں غلطی کا بہت زیادہ احتمال ہوتا ہے اور مرزا قادیانی کا دعویٰ مجددیت، نبوت وغیرہ وغیرہ کا تھا اور جس کو مرزا قادیانی غبی اور مختل وہم سمجھتے اور قرار دیتے ہیں اس کی بیان کی ہوئی بات کو اپنی مجددیت کا بنیادی ثبوت بنانا مرزا قادیانی کا ہی حوصلہ ہے۔ واہ مرزا جی۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ لیکن مرزا قادیانی کا کام تھا کہ میٹھا ہپ ہپ، کڑوا تھو تھو۔ یعنی جو چیز مرزا قادیانی کی ضرورت کے مطابق ہو وہ صحیح ہے اور جو مرزا قادیانی کی ضرورت سے مطابقت نہیں رکھتی وہ چاہے
١٣٤
کتنی ہی بااعتبار کیوں نہ ہو۔ مرزا قاد بات صرف یہیں تک نہیں بلکہ
وضعی حدیث
جب اور جہاں دل چاہا
- ☆...... مرزا قادیانی کرشن کو نبی
کے نام سے منسوب کر کے یہ حدیث اسمہ کاھنا ۔ ترجمہ (ہند میں ای جس کو کرشن کہتے ہیں) کوئی قادیانی کہلانے وا
- ☆...... ایک اور جگہ مرزا قادیا
حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخر خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا اللہ المہدی ۔ اب سوچو کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے دیکھیں مرزا قادیانی شریف میں یہ حدیث نہیں دکھا سکت
لیکن اصل سوال
یہ ہے کہ مرزا قادیانی مہدی علیہ السلام کی آمد کی خبر صر جماعت احمدیہ شائع کرتی ہے موعود کا ٹائٹل لکھا ہوتا ہے اور افشانی کرتے ہیں۔
- ☆...... لکھتے ہیں کہ: ”محض
اور ان محققین میں
کتنی ہی بااعتبار کیوں نہ ہو۔ مرزا قادیانی کے نزدیک ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے لائق ہے۔ لیکن بات صرف یہیں تک نہیں بلکہ
وضعی حدیث
جب اور جہاں دل چاہا، حدیث وضع کر لی۔
- ☆ ...... مرزا قادیانی کرشن کو نبی ثابت کرنے کے لئے ایک اپنے وضع کردہ خیال کو حضورﷺ
کے نام سے منسوب کر کے یہ حدیث کے طور پر پیش کیا: ”کان فی الہند نبیاً اسود اللون اسمہ کاھنا۔“ ترجمہ (ہند میں ایک نبی گزرا ہے جو سیاہ رنگ کا تھا اس کا نام کاھنا تھا۔ یعنی کنہیا جس کو کرشن کہتے ہیں)
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٢)
کوئی قادیانی کہلانے والا بتا سکتا ہے کہ حدیث کی کون سی کتاب میں یہ حدیث ہے؟
- ☆ ...... ایک اور جگہ مرزا قادیانی نے لکھا: ”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان
حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ھذا خلیفہ اللہ المہدی۔ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے۔ جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
دیکھیں مرزا قادیانی بخاری شریف میں دعویٰ کر رہے ہیں۔ لیکن کوئی شخص بخاری شریف میں یہ حدیث نہیں دکھا سکتا۔
لیکن اصل سوال
یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا ایک دعویٰ مہدی موعود ہونے کا بھی ہے اور کون نہیں جانتا کہ مہدی علیہ السلام کی آمد کی خبر صرف احادیث سے ہی ہم کو ملی ہے۔ مرزا قادیانی کی جو کتاب بھی جماعت احمدیہ شائع کرتی ہے اس پر مرزا غلام احمد قادیانی نام کے بعد ”مسیح موعود ومہدی موعود“ کا ٹائٹل لکھا ہوتا ہے اور مہدی کے متعلق احادیث کے بارے میں مرزا قادیانی یوں گوہر افشانی کرتے ہیں۔
- ☆ ...... لکھتے ہیں کہ: ”محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٢٧، خزائن ج ٣ ص ٣٣٢)
اور ان محققین میں امام بخاریؒ اور مسلمؒ کو بھی شامل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”امام بخاری
١٣٥
اور مسلم نے مہدی کا کوئی ذکر نہیں کیا اور امام مہدی کا نام تک نہیں لیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٥١٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٨)
تھوڑا پیچھے مہدی کے بارے میں حدیث کو بخاری شریف کی حدیث بتا رہے ہیں۔
- ☆...... مرزا قادیانی اپنے آپ کو فاطمی ثابت کرنے کے لئے اتنی دور دور کی کوڑیاں لائے ہیں
کبھی دادیاں اور کبھی کم از کم ایک دادی سادات سے بتاتے ہیں اور کبھی حضرت فاطمۃ الزہرہؓ کے ران پر کشف میں سر رکھتے ہیں (استغفر اللہ)، کبھی الہامی طور پر فاطمی النسل ہونے کے دعوے کرتے ہیں اور کبھی سادات کی دامادی کو بھی فاطمی ہونے کا جواز بتاتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح نبی فاطمہ سے تعلق ثابت ہو جائے تاکہ احادیث کے مطابق اپنے آپ کو مہدی قرار دے سکیں۔ لیکن اپنی بودی کوششوں اور بے پر کی خوب اڑانے کے بعد بھی چونکہ اندازہ ہو گیا تھا کہ بات نہیں بنی اس لئے ایسے کسی سوال کا تکا اڑانے کے لئے اب کیا دلیل پیش کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ”یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ مسلمانوں کے قدیم فرقے کو ایسے مہدی کا انتظار ہے جو فاطمہ مادر حسین کی اولاد میں سے ہوگا اور نیز ایسے مسیح کا بھی انتظار ہے جو اس مہدی سے مل کر مخالفانِ اسلام سے لڑائیاں کرے گا۔ مگر میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ سب خیالات لغو، باطل اور جھوٹ ہیں اور ایسے خیالات کے ماننے والے سخت غلطی پر ہیں۔ ایسے مہدی کا وجود ایک فرضی وجود ہے جو نادانی اور دھوکہ سے مسلمانوں کے دلوں پر جما ہوا ہے اور سچ یہ ہے کہ بنی فاطمہ سے کوئی مہدی آنے والا نہیں اور ایسی تمام حدیثیں موضوع اور بے اصل اور بناوٹی ہیں جو غالباً عباسیوں کی سلطنت کے وقت میں بنائی گئی ہیں۔“
(کشف الغطاء ص ١٧، خزائن ج ١٤ ص ١٩٣)
- ☆...... مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو بنی فاطمہ سے قرار دیا ہے۔ مرزا قادیانی نے کہا:
”سادات کی جڑ یہی ہے کہ وہ بنی فاطمہ ہیں، سو میں اگرچہ علوی تو نہیں ہوں مگر بنی فاطمہ میں سے ہوں۔ میری بعض دادیاں مشہور اور صحیح النسب سادات میں سے تھیں۔ (ساتھ ہی کئی سے اب ایک پر آگئے) یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی ہماری شریف خاندان سادات سے اور بنی فاطمہ میں سے تھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
- ☆...... ”اور بنی فاطمہ ہونے میں یہ الہام ہے (عربی عبارت کا ترجمہ مرزا قادیانی کے اپنے
الفاظ میں) یعنی تمام حمد اور تعریف اس خدا کے لئے جس نے تمہیں فخر دامادی سادات اور فخر علو نسب جو دونوں مماثل و مشابہ ہیں، عطا فرمایا۔ یعنی تمہیں سادات کا داماد ہونے کی فضیلت عطا کی۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ١١٧)
١٣٦
اس کے علاوہ (ضمیمہ تریاق القلوب ص ٦٩، خزائن ج ١٥ ص ١٨٥، ١٨٦) میں بھی ایسا ہی الہام ہے۔
- ☆...... جب ہم مرزا قادیانی کا کشف الغطاء والا دعویٰ اور اس کے بعد مرزا قادیانی کا بنی فاطمہ
سے ہونے کا دعویٰ دیکھتے ہیں تو انتہائی اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیسے ممکن ہو گیا کہ بقول مرزا قادیانی کے ایک جھوٹ کو رسول کریم ﷺ سے منسوب کر کے آنے والے مہدی بنی فاطمہ سے ہو گیا، حدیث قرار دے دیا گیا۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے نام پر بہتان کو، جھوٹ کو پورا ہونے دیتا ہے اور بنی فاطمہ سے مرزا قادیانی کو مہدی بنا دیتا ہے اور اپنے بنائے ہوئے نبیوں کے سردار پر بہتان لگانے والوں کو سچا کر دیتا ہے۔
- ☆...... اگر ایسا نہیں ہے اور مرزا قادیانی کا فتویٰ صحیح ہے تو پھر مرزا قادیانی کا بنی فاطمہ سے ہونا
جھوٹ ہے۔
- ☆...... اگر بنی فاطمہ سے ہیں تو پھر مہدی کا دعویٰ غلط ہے۔
- ☆...... دوسری جگہ لکھتے ہیں اور اپنے بنی فاطمہ سے ہونے کی نفی کرتے ہیں۔ لکھتے
ہیں کہ: ”اسی کی مثل خدا تعالیٰ نے آج یہ سلسلہ قائم کیا ہے کہ آخری خلیفہ محمدی یعنی مہدی و مسیح کو سیدوں میں سے نہیں بنایا۔ بلکہ فارسی الاصل لوگوں میں سے ایک کو خلیفہ بنایا تا کہ یہ نشان ہو کہ نبوت محمدی کی گدی کے دعویداروں کی حالت تقویٰ اب کیسی ہے۔“
(ملفوظات ج ٢ ص ٣٠٣)
- ☆...... جو شخص اتنی ڈھٹائی سے اپنے خاندان کے بارے میں مکر جائے اس کی باقی باتوں اور
دعوؤں کا کیا اعتبار؟
- ☆...... ”میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمۃ و من عترتی وغیرہ
ہے۔ بلکہ میرا دعویٰ تو مسیح موعود ہونے کا ہے۔ مہدی موعود کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں۔ تمام مجروح اور مخدوش ہیں اور ایک بھی ان میں سے صحیح نہیں۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦)
یہ کتاب مرزا قادیانی کے مرنے سے ایک سال قبل ١٩٠٧ء میں مکمل ہوئی اور ان کی موت کے بعد شائع ہوئی۔ تعجب ہے کہ تمام احادیث کو مجروح قرار دینے کے باوجود بھی مہدی کا دعویٰ قائم ہے۔
- ☆...... آگے اسی کتاب میں لکھتے ہیں: ”اکابر محدثین کا یہی مذہب ہے کہ مہدی کی حدیثیں
سب مجروح اور مخدوش بلکہ اکثر موضوع ہیں اور ایک ذرہ ان کا اعتبار نہیں۔ بعض آئمہ نے ان حدیثوں کے ابطال کے لئے خاص کتابیں لکھی ہیں اور بڑے زور سے انکار کیا ہے اور جبکہ یہ حال
١٣٧
ہے خود مہدی کا آنا ہی معرض شک و شبہ میں ہے تو پھر ابدال کا بیعت کرنا کب ایک یقینی امر ہوسکتا ہے۔ جب اصل ہی نہیں تو فروع کب صحیح ٹھہر سکتے ہیں۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٨٦، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦، ٣٥٧)
- ☆...... اس کے باوجود بھی مرزا قادیانی نے شرم وحیا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جب اپنی
ذات کے لئے خلیفہ اللہ المہدی الموعود کا دعویٰ مخصوص کر ہی لیا ہے تو ان کے پیروکار بتائیں کہ کیا مرزا قادیانی کے لئے آسمان سے آواز آئی؟ مرزا قادیانی کے چوتھے خلیفہ طاہر نے ایک بار ٹی وی پر کہا تھا کہ یہ حدیث کی پیشگوئی مرزا قادیانی کا نام ٹی وی پر آنے سے پوری ہوگئی۔ لیکن وہ یہ کہتے ہوئے بھول گئے کہ اس نے بہت عرصہ قبل اور ان گنت مرتبہ زیادہ تو ٹی وی پر یہ الفاظ آچکے ہیں کہ مرزا قادیانی کذاب، جھوٹا نبی اور دجال ہے۔ اگر ٹی وی پر اپنے مریدوں کے ذریعہ نام آنا یا نشر ہونا سچائی کی سند ہے تو پھر زیادہ مستحق سند مخالفین قادیانیت کی ہے۔
مسیح اور مہدی کا ہونا واہیات
انگریزوں کو خوش اور مطمئن رکھنے کے لئے مسیح موعود کا ہونا واہیات قرار دے رہے ہیں۔
- ☆...... لکھتے ہیں کہ: ”اس گورنمنٹ دانش مند کو ان واہیات باتوں سے کچھ بھی تعلق نہیں۔
کوئی مہدی ہو یا مسیح ہو۔ اس سے ان کو کچھ غرض واسطہ نہیں۔“
(ایام الصلح ص ٨٢، خزائن ج ١٤ ص ٤١٨)
- ☆...... رسول کریم ﷺ کی احادیث میں بیان کردہ پیش گوئی کے وقوع کو، واہیات باتیں قرار
دیتے ہیں۔ ایسے خیالات ظاہر کرنے کے بعد یہ مرزا قادیانی کا ہی حوصلہ ہے کہ وہ ”مسیح موعود“ اور ”مہدی موعود“ کا بھی دعویٰ کر کے منجملہ دوسری بے شمار واہیاتوں کے دو اور بہت بڑی واہیاتوں کا بھی ارتکاب کرگئے ہیں۔
- ☆...... اور مسیح موعود کے طور پر جہاد کو منسوخ کرنے کے بارے میں جو دلیل دیتے ہیں۔ اس کا
جواز حدیث رسول ﷺ سے ہی پیش کرتے ہیں کہ حدیث میں ہے کہ مسیح آکر جہاد کو موقوف کر دے گا اور اس بات کو پر زور طور پر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
جو چھوڑتا ہے تم چھوڑ دو اس خبیث کو
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٨)
- ☆...... قادیانیو! سوچو کہ کیا یہ شخص
اپنے (بظاہر ) مقدس لبادے میں چھپائے تنسیخ کا خط پھیر کر اس کو سو فیصد مخالف الر محمد رسول ﷺ کے خدا کو ! جو اپنے نبی کو ایک کریم ﷺ کے عمل صالح کو؟
- ☆...... اگر تو مذہبی دکان دار کی پیروی
کی پیروی کرنی ہے تو پھر آپ کو مرزا قادیان اس دنیا میں ممکن ہے کہ مرزا کا دین اور حقیقی
- ☆...... مرزا قادیانی نے اپنی کتا
: ”کسی عقل مند اور صاف دل انسان ک مجنوں یا ایسا ہی منافق ہو کہ خوشامد کے تناقض ہو جاتا ہے۔“
- ☆...... اور اسی کتاب ست بچن کے
کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل ت ہے یا منافق ۔“
- ☆...... اس فقیر در مصطفی ﷺ نے اس
کے سامنے مرزا قادیانی کے الہام کے تا بکہ ان کو پاگل سمجھیں یا منافق ۔ بہر حال ہے ایک کھرے انسان بھی نہیں تھے۔ و اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں کھلے وعدے پورے کرتا ہوں ) لے کر ایک بیا کہتے ۔ اعلان کرتے ہوئے ذرہ بھر بھی مخالف بات کر کے دونوں کو الہام قرار د حدیث کو پہلے غلط اور بے بنیاد کہا ، ات قرار دے ڈالا اور دنیاوی مال کے حصول غرضیکہ ہر چیز داؤ پر لگا دی۔ اب فیصلہ
- ☆...... قادیانیو! سوچو کہ کیا یہ شخص جو ہر لمحہ جھوٹ، دجل، تاویل ، تحریف کی چھریاں
اپنے (بظاہر ) مقدس لبادے میں چھپائے پھرتا ہے اور جس کا خدا ہر لمحہ اس کے پہلے الہاموں پر تنسیخ کا خط پھیر کر اس کو سو فیصد مخالف الہامات کرتا ہے۔ کیا تم اس خدا کو ڈھونڈ رہے ہو یا کہ محمد رسول ﷺ کے خدا کو! جو اپنے نبی کو ایک بار بیان کی ہوئی بات پر ہمیشہ قائم رہتا ہے اور رسول کریم ﷺ کے عمل صالح کو؟
- ☆...... اگر تو دینی دکان دار کی پیروی کرنی ہے تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر ایمان ، اسلام ، شرافت
کی پیروی کرنی ہے تو پھر آپ کو مرزا قادیانی کو چھوڑنا ہوگا اور محمد ﷺ کا دامن پکڑنا ہوگا۔ ہر چیز تو اس دنیا میں ممکن ہے مگر مرزا کا دین اور حقیقی اسلام ایک ہوں یہ ممکن نہیں۔
- ☆...... مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢) میں لکھا ہے
:”کسی عقل مند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل مجنوں یا ایسا ہی منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو۔ اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔“
- ☆...... اور اسی کتاب ست بچن کے (ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣) پر لکھتے ہیں : ”ظاہر ہے
کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق ۔“
- ☆...... اس فقیر در مصطفیٰ ﷺ نے اس مضمون میں بھی اور اپنے دوسرے مضامین میں بھی آپ
کے سامنے مرزا قادیانی کے الہام کے نام پر متضاد باتیں رکھی ہیں۔ اب آپ بقول مرزا قادیانی کے ان کو پاگل سمجھیں یا منافق ۔ بہر حال یہ طے ہے کہ مرزا قادیانی نبی ، مجدد، ولی تو دور کی بات ہے ایک کھرے انسان بھی نہیں تھے۔ وہ ایسے بے شرم انسان تھے کہ جس کو کبھی بھی خدا کا نام (جو اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں کھلے طور پر کہتا ہے کہ میری باتوں میں تضاد نہیں اور میں اپنے وعدے پورے کرتا ہوں ) لے کر ایک بات کہہ کر پھر اسی بات کے مخالف بات کو اسی خدا کے نام پر کہتے ۔ اعلان کرتے ہوئے ذرہ بھر بھی جھجک محسوس نہیں ہوئی۔ بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر پہلی بات کے مخالف بات کر کے دونوں کو الہام قرار دے کر خدا کو متناقض بات کہنے والا پیش کرتے ہیں اور جس حدیث کو پہلے غلط اور بے بنیاد کہا، اسی کو پیسے بٹورنے کی خاطر رسول کریم ﷺ کی پیش گوئی قرار دے ڈالا اور دنیاوی مال کے حصول کی خاطر ایمان ، شرافت ، سچائی ، قرآن شریف ، احادیث غرضیکہ ہر چیز داؤ پر لگادی ۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی ہی
١٣٩
تحریروں اور فیصلہ کے مطابق ایک پاگل یا مجہول اور نبوت کے ناجائز دعویدار کے پیچھے لگتے ہو یا ہادی برحق کے جھنڈے تلے آتے ہو۔ احادیث کو چھوڑ کر اپنے ہی قول کے مطابق ”خبیث“ قرار پانے والے مرزا قادیانی کو گلے لگاتے ہو یا چھوڑتے ہو؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو راہ ہدایت پر رکھے اور انجام بخیر کرے۔ آمین!
(٧) ....... ہفوات مرزا قادیانی
(شیخ راحیل احمد ۔ جرمنی)
مرزاغلام احمد قادیانی نے ملہم، مجدد، مامور، مثیل مسیح، مسیح ابن مریم، محدث، نبی، بروزی نبی، تمام الہامی صحیفوں کی پیش گوئیوں کا مورد، خدا کا پہلوان نبیوں کے چوغہ میں، تمام نبیوں کی خوبیوں کا مجموعہ، تمام نبیوں کا مثیل، کرشن رودر گوپال، آریوں کا بادشاہ، خاتم الانبیاء وغیرہ وغیرہ ہوتے ہوئے خدا کے بیٹے اور پھر خدائی کے دعویٰ تک کئے۔
جس شخص کے اتنے دعوے ہوں۔ اس کے دعووں پر غور کرنے سے پہلے یقینی طور پر اس کی شخصیت کا جائزہ لیا جائے گا کہ یہ شخصیت پاکیزگی، صفائی، اخلاق، عقل و دانش، روحانیت، حکمت، دیانت داری اور حقوق العباد کے اس معیار پر پورا اترتی ہے جو کہ نبیوں کے وجود کا خاصہ ہوتی ہے یا کہ یہ صاحب صرف مراق و مالیخولیا کا شکار یا مذہبی دکاندار ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے دعاوی کی طرح ان کے خاندان بھی بے شمار تھے جس کا ذکر کچھ آگے چل کر آئے گا اور بیماریاں بھی بے شمار تھیں جن کی کسی قدر تفصیل میرے مضمون: ”دائم المرض مرزا“ میں آچکی ہے۔
جس زمانے میں مرزا قادیانی نے اپنا مذہبی کھڑاگ پھیلایا، اس زمانے میں ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی، سماجی، علمی و روحانی حالات پیچیدگیوں، تنزل، خوف، غربت اور انتشار کے شدید دباؤ کا شکار تھے۔ دوسرے مرزا قادیانی نے ایک ماہر پروپیگنڈہ باز کی چالیں چلیں اور پروپیگنڈہ کا شکار ہو کر آنے والوں کو ان کی بے خبری اور لاپروائی کی وجہ سے مسمریزم کا شکار بنایا۔ جس کی وجہ سے ان کو کچھ کامیابی حاصل ہوئی اور جو چند ہزار لوگ اپنی کم علمی، دین سے محبت، سادگی، مجبوریوں، اغراض کی وجہ سے مرزا قادیانی کے ساتھ لگے رہے۔
آج کے قادیانیوں کی نوے فیصد تعداد انہی کی نسل ہے جن کو اصل حقائق کا کچھ علم نہیں۔ بس وہ پیدا ہوتے ہی برین واشنگ کا شکار بنتے ہیں اور جب بالغ ہوتے ہیں تو سمجھائے
١٤٠
ہوئے نہیں بلکہ سدھائے ہوئے قادیانی ب چار حوالے، دو چار پینترے اور میں نہ ما حضرت مسیح موعود کا الہام ہے کہ تیرے فر اور تمہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ دوس پیش کئے ہوئے ہیں۔ ان کو نہ ماننا۔ ایک جب ہر حوالے کو یہ کہہ کر رد کر دیں کہ آ دیتے۔ زیر زبر کا چکر وغیرہ تو بزعم خود وہ جی سے ہی فاتح پیدا ہوئے ہیں۔ میں خود بھی آیتوں، چار حدیثوں اور پانچ پینتروں سے ہوں۔ لیکن جب ایک بٹ صاحب نے سنانے کے بعد بٹ صاحب نے داد طلب سے ان مولوی صاحب کی باتیں کسی اور مو حاصل ہوا تھا اور ان سے عقیدتاً، اتفاق ش سراہتا تھا۔ ان کے جانے کے بعد میں بڑ ایک پہلوان کو چاروں شانے چت کر سکتا صاحب کی طرح ہی تھا اور یہی سمجھ آئی ک کوئی مخالف بات کرے تو اس کو کہو کہ حوالہ ہیں کہ یہ تو ایک عام (جماعتی) مولوی نے کی بات ہو تو بتاؤ۔ جب وہ حوالہ بھی سام لکھی، کہی بات صحیح ہے، باقی کسی کی بات دیں تو پہلے یہ اعتراض کہ یہ حوالہ صحیح نہیں ہے۔ لیکن جب اصل حوالہ بھی آگے رکھ د تیرہ چودہ صدیوں کے آئمہ، اولیاء کرام کی پیش کرتے ہیں! خدا کا شکر ہے کہ میرا من تھے‘ پر آ گیا ہے۔ اللہ باقی قادیانیوں ک مرزا قادیانی کی ذات پر کہ وہ آیا نبوت ک
ہوئے نہیں بلکہ سدھائے ہوئے قادیانی ہوتے ہیں اور ان کو دو چار آیتیں، چار پانچ حدیثیں، دو چار حوالے، دو چار پینترے اور میں نہ مانوں کی رٹ سکھا کر اور دماغ میں ایک بات ڈال کر کہ حضرت مسیح موعود کا الہام ہے کہ تیرے فرقے کے لوگ علم و فضل میں سب سے آگے ہوں گے اور تمہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ دوسرے مولوی جو حوالے دیں وہ جھوٹ ہیں یا توڑ مروڑ کر پیش کئے ہوئے ہیں۔ ان کو نہ ماننا۔ ایک قادیانی کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ بات بھی صحیح ہے کہ جب ہر حوالے کو یہ کہہ کر رد کر دیں کہ آپ لوگ صحیح حوالے نہیں دیتے۔ پورے حوالے نہیں دیتے۔ زیر زبر کا چکر وغیرہ تو بزعم خود وہ جیتے ہی جیتے ہوئے ہیں۔ بلکہ اس طرح تو وہ ماں کے پیٹ سے ہی فاتح پیدا ہوئے ہیں۔ میں خود بھی ایک عرصہ تک اس قسم کی خوش فہمی میں رہا کہ میں تین آیتوں، چار حدیثوں اور پانچ پینتروں سے قادیانیوں کے بڑے سے بڑے مولوی کا منہ بند کر سکتا ہوں۔ لیکن جب ایک بٹ صاحب نے اپنی (بزعم خود) فتح کا قصہ مجھے تفصیلاً سنایا، اور اس قصہ سنانے کے بعد بٹ صاحب نے داد طلب نظروں سے میری طرف دیکھا...... تو...... میں اتفاق سے ان مولوی صاحب کی باتیں کسی اور موضوع پر سن چکا تھا اور ان سے مجھے ذاتی ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا اور ان سے عقیدتاً، اتفاق نہ کرنے کے باوجود ان کے مطالعہ اور مدلل طرز گفتگو کو بھی سراہتا تھا۔ ان کے جانے کے بعد میں بڑی دیر تک سوچتا رہا کہ کیا ایک بچہ جس کو چلنا بھی نہیں آتا ایک پہلوان کو چاروں شانے چت کر سکتا ہے؟ اور جب تجزیہ کیا تو اکثر قادیانیوں کا طرز عمل بٹ صاحب کی طرح ہی تھا اور یہی سمجھ آئی کہ ہم سب ایک ہی طریقہ سے سدھائے گئے ہیں کہ جب کوئی مخالف بات کرے تو اس کو کہو کہ حوالہ دو۔ جب وہ جماعت کی کسی بات کا حوالہ دیتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو ایک عام (جماعتی) مولوی نے لکھی ہے۔ اس کی بات میرے لئے حجت نہیں۔ کسی خلیفہ کی بات ہو تو بتاؤ۔ جب وہ حوالہ بھی سامنے رکھ دے تو کہتے ہیں کہ نہیں، میرے لئے مسیح موعود کی لکھی، کہی بات صحیح ہے، باقی کسی کی بات میرے لئے قابل قبول نہیں۔ جب وہ حوالہ بھی آگے رکھ دیں تو پہلے یہ اعتراض کہ یہ حوالہ صحیح نہیں توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔ سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے۔ لیکن جب اصل حوالہ بھی آگے رکھ دیں تو کہیں گے کہ قرآن وحدیث سے بات کرو اور وہاں تیرہ چودہ صدیوں کے آئمہ، اولیاء کرام کی تحریرات کو نظر انداز کر کے پھر مرزا قادیانی کی تاویلات کو پیش کرتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ میرا معاملہ تو ”سدھائے ہوئے ہیں“ سے ”سدھائے ہوئے تھے“ پر آگیا ہے۔ اللہ باقی قادیانیوں کو بھی ہدایت دے۔ آمین۔ خیر بات ہو رہی تھی کہ مرزا قادیانی کی ذات پر کہ وہ آیا نبوت کے اہل تھے یا نہیں۔ اس سلسلے میں خاکسار اپنے مطالعہ
١٤١
اور فرقہ قادیانیت میں اپنے پچپن سالہ ذاتی تجربات کے نتائج پر مشتمل مختلف موضوعات کے تحت اس فرقہ کے بارے میں ایک سلسلہ مضامین کا لکھ رہا ہے۔ موجودہ مضمون میں مرزا قادیانی کی حکمت، علم و دانش کا مختلف جہتوں سے انتہائی مختصر جائزہ پیش کروں گا ”گر قبول افتد زہے عز و شرف“ میں اپنے مضامین میں بنیادی طور پر مرزا قادیانی ۔ ان کی اولاد اور اصحاب کی اپنی تحریروں کو ہی بنیاد بناتا ہوں (تاہم کوئی متبادل نہ ہونے کی صورت میں قادیانی علماء کرام، سکالرز کی کتابوں کا بھی حوالہ دیتا ہوں) تاکہ میرے قادیانی دوست یہ نہ کہیں کہ یہ مولویوں کے حوالے ہیں جو جھوٹ ہوتے ہیں۔ وہ بے چارے بھی اور کیا کریں؟ ان کو سکھایا ہی یہی گیا ہے۔ امام الزماں کے لئے جو معیار قرآن وحدیث سے ثابت ہے اس کے مطابق مرزا قادیانی کے دعوے دیکھنے چاہئیں۔ لیکن مرزا قادیانی کا امام الزماں ہونے کا دعویٰ بھی ہے اور اس دعویٰ کی جو خصوصیات یا خامیاں، یا معیار قابلیت مرزا قادیانی خود پیش کریں۔ اگر اس کے مطابق بھی جائزہ لیں تو میرا خیال ہے کہ قارئین کو تفنن طبع کے طور پر کچھ مزید مواد میسر آجائے گا۔ اس لئے آج خاکسار مرزا قادیانی کے اپنے مقرر کردہ معیار پر مرزا قادیانی کے بعض افعال اور ارشادات وغیرہ جانچنے کے لئے آپ کی خدمات میں پیش کر رہا ہے اور اس خواہش کے ساتھ کہ آپ کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”امام الزماں کو مخالفوں اور عام سائلوں کے مقابل پر اس قدر الہام کی ضرورت نہیں جس قدر علمی قوت کی ضرورت ہے کیونکہ شریعت پر ہر ایک قسم کے اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں۔ طبابت کی رو سے بھی، ہیئت کی رو سے بھی، طبعی کی رو سے بھی، جغرافیہ کے رو سے بھی، اور کتب مسلمہ اسلام کی رو سے بھی اور عقلی بناء پر بھی۔“ (ضرورت الامام ص ٢١، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٠) اور مرزا قادیانی کے فرزند، قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ اور خود ساختہ مصلح موعود مرزا بشیر الدین محمود احمد لکھتے ہیں کہ: ”مسیحیت یا نبوت وغیرہ کا دعویٰ کرنے والا اگر در حقیقت سچا ہے تو یہ امر ضروری ہے کہ اس کی فہم اور درایت (بمعنی دانائی عقل، دانش، تصدیق، وہ علم جس میں روایت کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں، بحوالہ فیروز اللغات۔ ناقل) اور لوگوں سے بڑھ کر ہو۔“
(حقیقت النبوۃ، ضمیمہ نمبر ٣)
اس مضمون میں خاکسار مرزا قادیانی کی لایعنی باتوں، کاموں اور تحریروں کو ”ہفوات مرزا“ کے نام سے پیش کر رہا ہے۔ مرزا قادیانی نے جو منہ میں آیا کہا، جو دل کو بھایا کیا اور جو خیال ذہن میں آیا لکھ مارا۔ بغیر یہ دیکھے کہ اس بات کا اثر کیا ہوگا یا اس بات کا مطلب کیا ہوگا۔ اس کام کا نتیجہ کیا نکلے گا اور اس تحریر پر کون ہنسے گا اور کون روئے گا۔ پہلے اسی موضوع پر کیا لکھ چکے ہیں اور ١٤٢
اب کیا لکھ رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کے کچھ دعویٰ جات نسبتاً تفصیل سے پیش خدمت ہیں کیونکہ آپ جب ان دعویٰ جات کو مدنظر رکھ کر مضمون کا مطالعہ کریں گے تو میرے خیال میں میرا مفہوم آپ بہتر سمجھ سکیں گے۔
سپر نبی
مرزا قادیانی کی تحریر میں چھپے ہوئے پیغام پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مرزا جی کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں کی صفات کا مجموعہ ان کو بنایا ہے۔ فرماتے ہیں: ”اس زمانے میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز اور مقدس نبی گزر چکے ہیں، ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں تو وہ میں ہوں۔“
(براہین احمدیہ پنجم ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٧)
اب آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو تو نہ بتایا جو کہ نبیوں کے سردار ہیں کہ تمام انبیاء کی خوبیاں ان میں یکجا کر دی گئی ہیں اور جب چاہا تو مرزا قادیانی کے زمانے اور ان کے وجود میں؟ اور پھر فرماتے ہیں کہ: ”اس (خدا) نے ہر نبی کو جام دیا ہے مگر وہی جام مجھے لبالب بھر کر دیا ہے۔“
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
اب ذرا ان دونوں حوالوں کو غور سے دیکھئے کہ دوسرا حوالہ بھی میرے پہلے حوالہ سے اخذ کردہ مطلب کی تائید کرتا ہے یا نہیں کہ سب نبیوں کے سردار محمد ﷺ سمیت صرف جام دیا لیکن مرزا قادیانی کے لئے اور صرف مرزا قادیانی کے لئے جام لبالب بھر دیا۔ اگر کسی قاری کا خیال ہے کہ یہ دو حوالوں سے تشفی نہیں ہوتی کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو تمام نبیوں سے بڑھ کر سمجھتے ہیں تو اس حوالہ بارے میں کیا خیال ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
اب دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے کسی ایک نبی کی تخصیص نہیں کی اور اپنے آپ کو ”سپر نبی“ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ قادیانی حضرات کہیں گے کہ نہیں یہ غلط مطلب ہے۔ لیکن آئیں مزید چیک کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے بیٹے بھی یہی تاثر دیتے ہیں جو میرا تاثر ہے یا کہ نہیں۔ مرزا قادیانی کے بیٹے بشیر الدین محمود احمد بزعم خود مصلح موعود کہلاتے بھی ہیں۔ لکھتے ہیں: ”اس (مرزا غلام احمد قادیانی) نے ہمارے لئے اخلاقیات اور ضابطہ حیات کا مکمل ذخیرہ چھوڑا ہے، تمام ذی عقل انسانوں کو یہ ماننا پڑے گا کہ ان پر عمل کرنے سے ہی مسیح موعود کی آمد کے مقاصد کی تکمیل ہو سکتی ہے۔“
(احمدیت یا سچا اسلام ص ٥٦)
١٤٣
بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ! دیکھیں ہم بطور مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں اور اس بات کی دوسرے مذاہب کے بہت سے انصاف پسند لوگ بھی تائید کرتے ہیں کہ انسانی اخلاق اور مکمل ترین ضابطہ حیات کا اصل ذخیرہ دراصل حضورﷺ نے چھوڑا ہے۔ لیکن یہاں رسول کریمﷺ کا نام اشارتاً بھی نہیں لیا جا رہا بلکہ ہر اچھائی کو مرزا قادیانی سے منسوب کر کے ان کو سب سے بہتر (بزعم خود) قرار دے کر مرزا قادیانی کے بنے ہوئے ”سپر نبی“ کے دعوے کو مضبوط بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں اور لاشعوری طور پر قادیانیوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش ہورہی ہے کہ مرزا قادیانی ایک ایسا سپر نبی ہے جس کے سامنے سارے نبی (نعوذ باللہ) ایویں ہی ہیں یا نبیوں کے سردار سمیت سب اس کے سامنے پانی بھرتے ہیں کیونکہ خدا بھی مرزا قادیانی کے ارادہ کے تحت ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ : ”میں وہی ارادہ کروں گا جو تمہارا ارادہ ہے ۔“ (حقیقت الوحی ص ١٠٦ ، خزائن ص ١٠٩ ج ٢٢)۔ اس قسم کے تو بے شمار حوالے ہیں مگر اس مضمون میں ان سب حوالوں کا ذکر نہیں ہو سکتا۔ مختلف موضوعات کے تحت خاکسار کے مضامین میں قدرے تفصیلاً یہ حوالے مل سکتے ہیں۔
خاندان
مرزا قادیانی کے خاندان کا تعین کرنا بھی آسان نہیں۔ ”ایسا ہی خدا تعالیٰ نے بذریعہ اپنے الہام کے مجھے یہ حجت بھی سکھائی کہ ان کو کہہ دے کہ رسول اور نبی اور سب جو خدا کی طرف سے آتے ہیں اور دین حق کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ قوم کے شریف اور اعلیٰ خاندان سے ہوتے ہیں اور دنیا کی رو سے بھی ان کا خاندان امارت اور ریاست کا خاندان ہوتا ہے تا کہ کوئی شخص کسی طور پر کراہت کر کے دولت قبول سے محروم نہ رہے۔ سو میرا خاندان ایسا ہی ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کے الہام مندرجہ ص ٤٩٠ میں اسی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے۔ سبحان الله تبارك وتعالى زاد مجدك ينقطع آباء ك ويبدء منك ۔ یعنی سب پاکیاں خدا کے لئے ہیں جس نے تیرے خاندان کی بزرگی سے بڑھ کر تجھے بزرگی بخشی۔ اب سے تیرے مشہور (کیا واقعی کوئی مشہور باپ دادا تھا بھی؟ ناقل) باپ دادوں کا ذکر منقطع ہو جائے گا اور خدا ابتداء خاندان کا تجھ سے کرے گا۔“ (تریاق القلوب ص ٦٩، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٥) مرزا قادیانی لکھتے ہیں : ”میں ایک نہایت کم درجہ حیثیت کا انسان تھا اور اس قدر کم حیثیت تھا کہ قابل ذکر نہ تھا اور کسی ایسے ممتاز خاندان سے نہ تھا۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٥، خزائن ج ٢١ ص ٧٠) مرزا قادیانی نے ایک اور شجرہ نسب یوں دیا ہے۔
١٤٤
مغل برلاس
”اب میرے سوانح اس طرح غلام مرتضیٰ اور دادا کا نام عطاء محمد اور میرا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے معلوم ہوا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے
اسرائیلی اور فاطمی
”غرض میرے وجود میں ایک پیوندوں سے مرکب ہوں۔“ (تحفہ گولڑویہ بنی فاطمہ اور بنی اسرائیل کیسے ہے تو اس کا
الہاماً فارسی الاصل
لیکن مہدی بننے کی تیاری ہو سے واپس لائے گا۔ وہ فارسی الاصل ہو گا اس لئے الہاماً فارسی الاصل بن گئے ۔ الہامات سے مجھے معلوم ہوا کہ میرے خزائن ج ١٣ ص ١٦٢) اور بعد میں مرزا قادیانی کس بات کا؟
خاندان چینی حدود سے
”شیخ محی الدین ابن عربی علامت لکھتے ہیں کہ اس کا خاندان چینی حدود اس کے ساتھ ایک لڑکی بطور توام پیدا ہو دے گا۔ سو اسی کشف کے مطابق اس عاجز بزرگ چینی حدود سے پنجاب پہنچے ہیں۔ روایت میں تحریف کی تفصیل کبھی آئندہ
مغل برلاس
”اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد، میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا کا نام عطاء محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں، معلوم ہوا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے۔“
(کتاب البریہ ص ١٣٤، ١٣٥ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٦٢، ١٦٣)
اسرائیلی اور فاطمی
”غرض میرے وجود میں ایک حصہ اسرائیل ہے اور ایک فاطمی اور میں دونوں مبارک پیوندوں سے مرکب ہوں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ١١٨) تفصیل کے لئے مرزا قادیانی بنی فاطمہ اور بنی اسرائیل کیسے بنے تو اس کو تحفہ گولڑویہ کے ص ١١٧ تا ١٢٠، ١١٥ سے ١١٨ تک پڑھیں۔
الہاماً فارسی الاصل
لیکن مہدی بننے کی تیاری ہو رہی تھی اور کہیں کسی کتاب میں پڑھا ہوگا کہ جو ایمان کو ثریا سے واپس لائے گا۔ وہ فارسی الاصل ہوگا اور اب خاندانی ریکارڈ کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس لئے الہاماً فارسی الاصل بن گئے۔ ”عرصہ سترہ یا اٹھارہ برس کا ہوا تو خدا تعالیٰ کے متواتر الہامات سے مجھے معلوم ہوا کہ میرے باپ دادا فارسی الاصل ہیں۔“ (کتاب البریہ حاشیہ ص ١٤٤، خزائن ج ١٣ ص ١٦٢) اور بعد میں مرزا قادیانی کا خدا الہاماً اس رجل فارسی کا شکریہ بھی ادا کرتا ہے کس بات کا؟
خاندان چینی حدود سے
”شیخ محی الدین ابن عربی اپنی کتاب فصوص الحکم میں مہدی خاتم الاولیاء کی ایک علامت لکھتے ہیں کہ اس کا خاندان چینی حدود میں سے ہوگا اور اس کی پیدائش میں یہ ندرت ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک لڑکی بطور توام پیدا ہوگی۔ یعنی اس طرح پر خدا اناث کا مادہ اس سے الگ کر دے گا۔ سو اسی کشف کے مطابق اس عاجز کی ولادت ہوئی ہے اور اسی کشف کے مطابق میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب پہنچے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ١٢٧) (ابن عربی کی روایت میں تحریف کی تفصیل کبھی آئندہ)
١٤٥
بنی فاطمہ سے ہونے کے ثبوت
”یہ ہے کہ سادات کی جڑ یہی ہے کہ وہ بنی فاطمہ ہیں۔ سو میں اگرچہ علوی تو نہیں ہوں مگر بنی فاطمہ میں سے ہوں۔ میری بعض دادیاں مشہور اور صحیح النسب سادات تھیں۔ ہمارے خاندان میں یہ طریق جاری رہا ہے کہ کبھی سادات کی لڑکیاں ہمارے خاندان میں آئیں اور کبھی ہمارے خاندان کی لڑکیاں اس میں گئیں۔ ماسوا اس کے یہ مرتبہ فضیلت جو ہمارے خاندان کو حاصل ہے، صرف انسانی روایتوں تک محدود نہیں بلکہ خدا نے اپنی پاک وحی سے اس کی تصدیق کی ہے۔ (نزول المسیح حاشیہ ص ٣٨، خزائن ج ١٨ ص ٤١٦)۔ اب کئی وادیوں سے ایک پر اتر آئے ہیں: ”یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی شریف خاندان سادات سے اور اور بنی فاطمہ میں سے تھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢) بنی فاطمہ ہونے کا ایک اور ثبوت، سادات کی دامادی!!: ”اور بنی فاطمہ ہونے میں یہ الہام ہے (عربی عبارت کا ترجمہ مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں) یعنی تمام حمد اور تعریف اس خدا کے لئے جس نے تمہیں فخر دامادی سادات اور فخر علو نسب جو دونوں مماثل و مشابہ ہیں، عطا فرمایا یعنی تمہیں سادات کا داماد ہونے کی فضیلت عطا کی۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ١١٧)۔ ”پھر علو خاندان کی نسبت دوسرا الہام یہ ہے۔ الحمد لله الذي جعل لكم الصهر و النسب۔ ترجمہ: اس خدا کو تمام تعریفیں ہیں جس نے تیری دامادی کا رشتہ عالی نسب میں کیا اور خود تجھے عالی نسب اور شریف خاندان سے بنایا۔ اور اس عظمت خاندانی کے علاوہ میرے الہامات میں جس قدر اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ یہ خالص سید اور بنی فاطمہ ہیں۔ یہ ایک خاص فخر کا مقام ان لوگوں کے لئے ہے اور میں خیال نہیں کر سکتا کہ تمام پنجاب اور ہندوستان بلکہ تمام اسلامی دنیا میں کوئی اور خاندان سادات کا ایسا ہو کہ نہ صرف ان کی سیادت کو اسلامی سلطنت نے مان کر ان کی تعظیم کی ہو۔ بلکہ خدا نے اپنی خاص کلام اور گواہی سے اس کی تصدیق کر دی ہو۔“
(تریاق القلوب ص ٦٩، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٥، ٢٨٦)
اب اپنے آخری دور میں پھر مغلوں کی طرف لوٹتے ہیں
”میں باپ کے لحاظ سے قوم کا مغل ہوں۔“
(براہین احمدیہ ٥ ضمیمہ ص ١٩٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٦٣)
چچا زاد بھائی کی قوم
اپنے سگے چچا زاد بھائی کی قوم کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ ”میرا چچا زاد بھائی
١٤٦
اپنے آپ کو قوم لال بیگیاں مشہو
بے شمار نسلیں
”اور میں اپنے خان اور بنی فارس اور بنی فاطمہ کے خا کہ وہ خاندان مغلیہ اور خاندان لاتا اور اسی پر یقین رکھتا ہوں کہ اسی پر الہام الٰہی کے تواتر نے ج ١٥ ص ٢٨٦، ٢٨٧) ویسے تو مر شمار...... خاکساران نسلوں پر نسل کو تسلیم کرتے ہیں۔ ویسے اتنی نسلیں بتائے گا تو آپ کیا ت
اخلاق
مرزا قادیانی نے طرح رگیدا ہے اس کی مثال ک نہ کسی ولی کے، حتی کہ کسی شر ہے کہ جس نے اپنے رسول بھیجا۔“ (اربعین ٣ ص ٣٦، خزا پہنچتی ہے لیکن اب مرزا قاد کمینوں اور سفلیوں میں سے ساتھ نرم کیا جائے گا۔“ (چ اللہ ص ٥٨، خزائن ج ١٢ ص ٦ کرتا ہوں۔ فرماتے ہیں: ” ایسا استعمال نہیں کیا جس کو ف اب آپ کی غ سے پیشتر آپ سے درخواست چھوٹے بچے کسی کو چڑانے
اپنے آپ کو قوم لال بیگیاں مشہور کرتا ہے۔“
(ملفوظات ج ١ ص ٤٤)
بے شمار نسلیں
”اور میں اپنے خاندان کی نسبت سے کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ وہ ایک شاہی خاندان ہے اور بنی فارس اور بنی فاطمہ کے خون سے ایک معجون مرکب ہے۔ یا شہرت عام کے لحاظ سے یوں کہو کہ وہ خاندان مغلیہ اور خاندان سادات سے ایک ترکیب یافتہ خاندان ہے۔ مگر میں اس پر ایمان لاتا اور اسی پر یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے خاندان کی ترکیب بنی فارس اور بنی فاطمہ سے ہے۔ کیونکہ اسی پر الہام الہی کے تواتر نے مجھے یقین دلایا ہے اور گواہی دی ہے۔ (تریاق القلوب ص ٧٢، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٦، ٤٨٧) ویسے تو مرزا قادیانی نے اپنی ایک نظم میں فرمایا ہے کہ ”نسلیں تو ہیں میری بے شمار“ ...... خاکسار ان نسلوں پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا یہ قارئین پر منحصر ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی کون سی نسل کو تسلیم کرتے ہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ اگر آپ کے قرب و جوار میں آپ کو کوئی اپنا بھی اتنی نسلیں بتائے گا تو آپ کیا سمجھیں گے، کیا کہیں گے؟؟
اخلاق
مرزا قادیانی نے اپنے قلم سے نہ صرف اسلام کو نقصان پہنچایا بلکہ اپنے مخالفین کو جس طرح رگیدا ہے اس کی مثال کسی نبی کے کلام میں نہیں ملے گی۔ نہ ہی کسی آئمہ کے، نہ کسی مجدد کے، نہ کسی ولی کے، حتیٰ کہ کسی شریف آدمی کے کلام میں بھی نہیں ملے گی۔ اوپر سے یہ تعلّی کہ: ”خدا وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“ (اربعین ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)۔ اس فقرے کا بھی تجزیہ کریں تو بات بہت دور تک پہنچتی ہے لیکن اب مرزا قادیانی کی (ان کے خدا کی دی ہوئی) تہذیب دیکھئے ، فرماتے ہیں ”تو کمینوں اور سفلوں میں سے تھا۔“ (حجۃ اللہ ص ٤٨، خزائن ج ١٢ ص ١٩٦) ”تیرا سر تیرے ہی جوتوں کے ساتھ نرم کیا جائے گا۔“ (حجۃ اللہ ص ٥٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٠٥) ”اے کلب العناد، اے نادان ۔“ (حجۃ اللہ ص ٥٨، خزائن ج ١٢ ص ٢٠٦) اور نمونے دکھانے سے پہلے میں مرزا قادیانی کا ایک دعویٰ پیش کرتا ہوں۔ فرماتے ہیں: ”میں سچ سچ کہتا ہوں، جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٩)
اب آپ کی خدمت میں مزید کچھ حوالے پیش کرتا ہوں۔ لیکن ان حوالوں کو پڑھنے سے پیشتر آپ سے درخواست ہے کہ ایک لمحہ کے لئے آنکھیں بند کر لیجئے اور تصور میں لائیں کہ چھوٹے بچے کسی کو چڑانے کے لئے یہ باتیں کر رہے ہیں یا کوئی دل جلی بھٹیارن دانت پیس کر
١٤٧
کونے دیری ہے۔ تصور میں لے آئے ہیں تو پھر پڑھے: ”جلد بازوں کی طرح بکواس مت کر۔“ (حجۃ اللہ ص ٥٩، خزائن ج ١٢ ص ٢٠٧) ”تجھ پر لعنت اے مسخ شدہ۔“ (حجۃ اللہ ص ٦١، خزائن ج ١٢ ص ٢٠٩) ”اے غزنی کے بندر“ (حجۃ اللہ ص ٦٢، خزائن ج ١٢ ص ٢١٠) ”تو کتوں کی طرح تھا۔“ (حجۃ اللہ ص ٦٣، خزائن ج ١٢ ص ٢١١) ”تو غرق کیا گیا اور جلایا گیا اے احمقوں کے فضلے۔“ (حجۃ اللہ ص ٧٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٢٠) داد دیجئے کہ مرزا قادیانی واقعی صاحب القلم ہیں۔ ابھی صرف ایک کتاب سے یہ اخلاق و تہذیب کے نمونے سارے نہیں آدھے بھی نہیں چوتھائی بھی نہیں بلکہ صرف دیگ سے ایک دانے کے طور پر پیش کئے ہیں۔ کیسی کیسی اخلاق فاضلہ سے پر تحریریں ہیں ان کی۔ یہ تہذیب و اخلاق ”نبی، جس کے ساتھ ”مرزا قادیانی کے خدا“ نے ان کو بھیجا ہے اور یہ تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مرزا قادیانی سچ سچ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کبھی دشنام دہی نہیں کی؟ اور یہ تو مرزائی تہذیب کا مزید اعلیٰ نمونہ پیش ہے: ”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“ (نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣) اور دشمنوں میں نہ صرف علماء بلکہ مسلمان ، ان کے اپنے قریبی رشتہ دار اور پہلی بیوی اور اس بیوی سے اولاد بھی شامل ہے۔ آئیں ہم سب مل کر یقین کریں کہ مرزا قادیانی کو ان کے خدا نے واقعی تہذیب کے ساتھ بھیجا ہے اور انہوں نے سچ سچ کبھی بھی کسی قسم کی دشنام دہی نہیں کی اور ہم مرزا جی ہی کے اس قول پر کہ ”گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔“ (ست بچن ص ٢١، خزائن ج ١٠ ص ١٣٤) اس بات کو ختم کر کے اگلی بات پر چلتے ہیں۔
تحمل
آج بات زیادہ تر امام الزماں مرزا قادیانی کے ارشادات کے تحت ہو رہی ہے اور مرزا قادیانی نے امام الزمان کی ایک نشانی یہ بھی بتائی ہے کہ اس میں تحمل ہونا چاہئے۔ ہم مرزا قادیانی کی اس بات کو سراہتے ہوئے اس طرف بھی ایک طائرانہ نظر ڈالتے چلتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا ارشاد ہے: ”قوت اخلاق، چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے تا کہ ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ بات نہایت قابل شرم ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی تحمل نہ ہو سکے اور جو امام زماں کہلا کر ایسی کج طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ بات پر منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں۔ وہ کسی طرح بھی امام زمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس پر
١٤٨
آیت انک لعلی خلق عظیم کا پورے طور پر صادق آ جانا ضروری ہے۔ (ضرورۃ الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨) اب ایک واقعہ مرزا قادیانی کے برداشت اور تحمل کا بھی ہو جائے۔ پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے مرزا جی کے عقائد کے رد میں ایک کتاب ”سیف چشتیائی“ لکھی اور مرزا جی کو بھی بھجوائی۔ جب وہ کتاب مرزا قادیانی کو ملی تو ایک نظر میں ہی اندازہ ہو گیا کہ اس کتاب نے مرزا قادیانی کے عقائد کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے ہیں۔ انتہائی غیض وغضب کی حالت ان پر طاری ہوئی اور کہنے لگے: ”مجھے ایک کتاب کذاب (پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ ۔ ناقل) کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن، پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین! تجھ پر لعنت، تو ملعون کے سبب سے ملعون ہو گئی، پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی“۔
(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)
دیکھا آپ نے خود ساختہ امام الزماں کا مثالی تحمل، کہ صرف ان کے عقائد کے مخالفانہ کتاب ملنے پر نہ صرف مصنف بلکہ اس پورے علاقے کو ہی ملعون قرار دے دیا۔ اب اس علاقے کے لوگ یہ پڑھنے کے بعد کہ ان کی سرزمین تا قیامت ملعون قرار دے رہے ہیں۔ یقیناً فیض یاب ہو رہے ہوں گے۔ امام الزماں کے فیض سے؟ اس پر مزید تفصیل کے ساتھ کسی آئندہ نشست میں۔ اب ہم اگلے موضوع کی طرف چلتے ہیں۔
طبابت
مرزا قادیانی کے بقول ان کے والد ایک حاذق طبیب تھے اور طبابت کا علم انہوں نے اپنے والد سے پڑھا تھا۔ مرزا قادیانی کی طبابت پر کسی حد تک تفصیلی روشنی تو کسی اور آرٹیکل میں ڈالیں گے، انشاء اللہ۔ آج صرف ایک آدھ نمونہ سے ہی کام چلائیں۔ مرزا قادیانی کی طب کے بارے میں ہم ان کے بیٹے بشیر احمد ایم اے، جن کا لقب بمطابق مرزا قادیانی کے الہام کے ”قمر الانبیاء“ ہے، لکھتے ہیں: ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب (مرزا قادیانی کے برادر نسبتی۔ ناقل) نے مجھ سے بیان کیا کہ علاج کے معاملہ میں حضرت مسیح موعود کا طریقہ تھا کہ کبھی ایک قسم کا علاج نہ کرتے۔ بلکہ ایک ہی بیماری میں انگریزی دوا بھی دیتے رہتے تھے اور ساتھ ساتھ یونانی بھی دیتے جاتے تھے۔ پھر جو شخص کوئی مفید بات کہہ دے اس پر بھی عمل کرتے تھے اور اگر کسی کو خواب میں معلوم ہوا تو اس پر بھی عمل فرماتے تھے۔ پھر ساتھ ساتھ دعا بھی کرتے تھے اور ایک ہی وقت میں ڈاکٹروں حکیموں سے مشورہ بھی لیتے تھے اور طب کی کتاب دیکھ کر بھی علاج میں مدد لیتے تھے۔ غرض علاج کو ایک عجیب رنگ کا مرکب بنا دیتے تھے اور اصل بھروسہ آپ کا خدا پر
١٤٩
ہوتا تھا۔‘‘ (سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٧٠ روایت ٩٠٦) واہ بھائی واہ! دعا بھی مرکب، خاندان بھی مرکب ، اخلاق بھی مرکب اور اب طب بھی مرکب۔ ابھی تو پتہ نہیں اور کیا کیا مرکب ہوگا؟ دوستو ذرا سوچو! ایک دیہاتی اور ان پڑھ عطائی بھی اس طرح نہیں کرتا جس طرح یہ (خود ساختہ) امام الزماں ، جس کا دعویٰ ہے کہ: ”امام الزماں کو مخالفوں اور عام سائلوں کے مقابل پر اس قدر الہام کی ضرورت نہیں جس قدر علمی قوت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شریعت پر ہر ایک قسم کے اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں، طبابت کی رو سے بھی ...... اور یہ ایک ایسے طبیب کا ذکر ہے جو سب نبیوں سے علم و عرفان میں افضل ہونے کا دعویدار ہے۔ اس نبی کی نہ صرف طبابت بلکہ ہر کام ، ہر دعویٰ چوں چوں کا مربہ ہے۔ لگ گیا تو تیر ورنہ ...... غریب غربا اور عقیدت مند یا ارادت مند بیچارے تو ان کی طبابت کا نشانہ بنتے ہی تھے تکہ لگ گیا اور بچ گئے تو مرزا قادیانی کی کرامت اور اگر اگلے جہاں کو سدھارا تو اللہ کی مرضی ۔ آیئے دیکھیں کہ گھر کے بھیدی ، ان کی طب پر کتنا بھروسہ کرتے تھے۔ ایک واقعہ مرزا قادیانی کی دوسری ساس کا ۔ اس خاتون کا جنہوں نے مرزا قادیانی کو اپنی بیٹی نصرت جہاں دی ( جو بعد میں مرزا قادیانی کے حکم سے ام المومنین کہلائیں )، وہ اپنے داماد کی طب کے بارے میں کیا رویہ رکھتی تھیں۔ اس سلسلے میں مرزا قادیانی کی سیرت کے مصنف مرزا بشیر احمد ایم اے پسر مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب سے ایک واقعہ: ”ڈاکٹر میر اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کا ایک چچازاد بھائی مرزا کمال الدین تھا۔ یہ شخص جوانی میں فقراء کے پھندے میں پھنس گیا ۔ اس لئے دنیا سے کنارہ کش ہو کر بالکل گوشہ نشین ہو گیا۔ مگر وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح حضرت صاحب سے پرخاش نہ رکھتا تھا۔ علاج معالجہ اور دم تعویذ بھی کیا کرتا تھا اور بعض عمدہ عمدہ نسخے اس کو یاد تھے۔ چنانچہ ہماری والدہ صاحبہ (مرزا جی کی ساس۔ ناقل) میاں محمد اسحق کے علاج کے لئے ان سے ہی گولیاں اور ادویہ منگوایا کرتی تھیں اور حضرت صاحب کو بھی اس کا علم تھا۔ (سیرت المہدی ج ٣ ص ٧٤٨، روایت ٨٤١) اندازہ لگائیں کہ یہ تھی طبابت علمی قوت والے امام الزمان کی اور اس پر اس کے گھر والوں کے اس امام الزماں کی طبابت پر یقین محکم کی۔ گھر کے خاص لوگ بھی ان کی طبابت پر بھروسہ نہیں کرتے تھے اور اپنے اور بچوں کے علاج کے لئے اس امام الزماں کے شریکوں کے پاس جاتے تھے کیونکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ ان کے علاج کس قدر مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔ خاکسار آپ کی خدمت میں سر درد کا ایک نسخہ مرزا کی طب سے پیش کرتا ہے اور اگر آپ چاہیں تو اس نسخہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم ١٥٠
اے، سیرت المہدی میں لکھے چچازاد۔ ناقل) کو سخت بخار ہو مرزا نظام الدین کے عزیزوں گئے اور مناسب علاج کیا۔ عل ج ٣ ص ٥٢٢ روایت ٥١١) اس پا بس جس لائن کو خاکسار نے قوت والے امام الزماں کے
لغویات سے دلچسپی
جیسا کہ ہر شخص لغویات ، لغو قصوں اور فضول اور اپنا کوئی لمحہ جو ان کی انسانی عبادت اور ذکر اذکار وغیرہ م نبی کے کیا کہنے! اس کا کام م اس لمحے کا ایک حصہ بھی لغو ب بارے میں ایک واقعہ اس ن احمد صاحب محقق دہلوی نے کے پاس بیٹھا ہوا افریقہ کے بیٹھے ہنستے رہے۔ آپ نہ تو میرا وقت ضائع ہو رہا ہے رہے۔ (سیرت المہدی ج ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے سے اور ذکر اذکار سے خالی اور نہ ہی وقت ضائع ہونے اس وقت تک ہنستا رہتا ہ ہے؟ مرزا قادیانی اپنی زبا مسجدوں میں حاضر ہوے
اے، سیرت المہدی میں لکھتے ہیں:۔ ” ایک دفعہ مرزا نظام الدین صاحب ( مرزا قادیانی کے چچازاد۔ ناقل ) کو سخت بخار ہوا جس کا دماغ پر اثر تھا۔ اس وقت کوئی طبیب یہاں نہیں تھا۔ مجبوراً مرزا نظام الدین کے عزیزوں نے حضرت صاحب کو اطلاع دی اور آپ فوراً وہاں تشریف لے گئے اور مناسب علاج کیا۔ علاج یہ تھا کہ آپ نے مرغا ذبح کرا کر سر پر باندھا۔“ (سیرت المہدی ج ٢ ص ٥٢٢ روایت ٥١١) اس پر میں کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتا۔ یہ روایت خود ہی سب کچھ کہہ دیتی ہے بس جس لائن کو خاکسار نے انڈر لائن کیا ہے اس پر مزید غور کریں تو اندازہ ہو جائے گا کہ ان علمی قوت والے امام الزماں کے پاس لوگ کب آتے تھے؟
لغویات سے دلچسپی
جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ ولیوں اور خدا کے مقرب بندوں کو نیک فطرت انسانوں کو، لغویات لغو قصوں اور فضول باتوں سے ہمیشہ کراہت رہی اور وہ ایسی چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں اور اپنا کوئی لمحہ جو ان کی انسانی، عائلی اور معاشرتی ذمہ داریوں سے بچا۔ اس لمحے کو انہوں نے اللہ کی عبادت اور ذکر اذکار وغیرہ میں خرچ کیا۔ اگر ایک ولی کی زندگی ایسی چیزوں سے پاک ہوتی ہے تو نبی کے کیا کہنے! اس کا کام اور مقام تو ولی سے کہیں زیادہ آگے ہوتا ہے اور اس کے پاس ایک لمحہ تو کیا اس لمحے کا ایک حصہ بھی لغویات میں خرچ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن انگریزوں کے تحفظ یافتہ نبی کے بارے میں ایک واقعہ اس نبی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے اپنی کتاب میں لکھا ہے: ” میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ ایک عرب حضرت مسیح موعود کے پاس بیٹھا ہوا افریقہ کے بندروں کے اور افریقن لوگوں کے لغو قصے سنانے لگا۔ حضرت صاحب بیٹھے ہنستے رہے۔ آپ نہ تو کبیدہ خاطر ہوئے اور نہ ہی ان کو ان لغو قصوں کو بیان کرنے سے روکا کہ میرا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ بلکہ اس کی دل جوئی کے لئے آخیر وقت تک خندہ پیشانی سے سنتے رہے۔“ (سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٢٧ روایت نمبر ٧٩٠) جب ہم اولیاء انبیاء کے قصے سنتے اور پڑھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے لئے کھانا کھانے کا وقت بھی نکالنا ان کی مجبوری ہوتا ہے تا کہ کوئی لمحہ نیکی سے اور ذکر اذکار سے خالی نہ جائے۔ لیکن یہاں خود ساختہ نبی نہ تو لغو قصوں سے کبیدہ خاطر ہوتا ہے اور نہ ہی وقت ضائع ہونے کا احساس ہے اور نہ ہی کراہت محسوس کرتا ہے اور لغو قصوں پر دل کھول کر اس وقت تک ہنستا رہتا ہے جب تک کہ سنانے والا نہ تھک جائے۔ لیکن کراہیت کہاں محسوس ہوتی ہے؟ مرزا قادیانی اپنی زبانی بتاتے ہیں: ” یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ میں ہمیشہ اپنے سفر کے دنوں میں مسجدوں میں حاضر ہونے سے کراہت ہی کرتا ہوں۔“ (فتح اسلام ص ٧، خزائن ج ٣ ص ٢٥ حاشیہ)
١٥١
احمدی کہلانے والو! اگر یہ باتیں دیکھ کر بھی تمہارا دھیان اس طرف نہیں جاتا کہ جس کو تم نبی مانتے ہو۔ اس کے روز و شب دیکھو تو سہی کیسے گزرتے ہیں۔ یا کم از کم ان باتوں کو سوچو اور اپنے مربیوں سے، امراء سے ان کی تشریح نہ مانگو تو اللہ ہی تمہارا دماغ ٹھکانے لگائے۔ اللہ بھی اس کو ہدایت نہیں دیتا جس کے اپنے دل میں ہدایت کی خواہش نہ ہو۔
علم الحیات
یہ تو ممکن ہے کہ ایک نبی کے جسم کے اندرونی اعضاء کی تفصیل اور ان کے فنکشن کے بارے میں علم نہ ہو۔ لیکن نہ صرف نبی بلکہ ایک عام آدمی کو بھی پتہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مذکر ومونث، انسانوں میں، جانوروں میں حتی کہ نباتات میں بھی بنائے ہیں اور ان کے بعض جسمانی اجزاء اور ان کے نتیجے میں عمل مختلف ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ بعض فنکشن ایک ادا کر سکتا ہے دوسرا نہیں۔ مثلاً مذکر دودھ نہیں دیتا اور بچہ نہیں جنتا وغیرہ۔ لیکن یہ پیر جی، جن کا دعویٰ نہ صرف طبیب ہونے کا ہے۔ بلکہ خدا ان کو ایک لمحہ بھی غلطی پر قائم نہیں رہنے دیتا۔ ان کی دانش کے کچھ نمونے: ”کچھ عرصہ گزرا ہے کہ مظفر گڑھ میں ایک ایسا بکرا پیدا ہوا کہ جو بکریوں کی طرح دودھ دیتا تھا۔“ (سرمہ چشم آریہ ص ٥١، خزائن ج ٢ ص ٩٩)۔ کیا کہنے اس امام الزماں کی پورے زمانے کی عقل سے بالا باتوں کے۔ علم الحیوانات کے احمدی ماہرین متوجہ ہوں۔ ان کی تحقیق کے لئے امام الزماں صاحب صرف بکرے کے دودھ کا ہی نہیں ایک اور بھی موضوع گاوے گئے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”بعض نے یہ بھی دیکھا کہ چوہا خشک مٹی سے پیدا ہوا جس کا آدھا دھڑ تو مٹی کا تھا اور آدھا چوہا بن گیا تھا۔“ (سرمہ چشم آریہ ص ٥١، خزائن ج ٢ ص ٩٩)۔ بات صرف جانوروں تک ہی نہیں بلکہ مرزا جی کا مبلغ علم الاجسام بھی قابل توجہ ہے۔ انہوں نے مرد سے مریم بننے کا اور پھر اپنے آپ حاملہ ہونے کا اور پھر مریم سے عیسیٰ علیہ السلام بننے کا کام تو اپنے تک محدود رکھا اور باقی مردوں کو حاملہ تو نہیں بنایا۔ لیکن جاتے جاتے دودھ پلانے والا بنا گئے۔ فرماتے ہیں: ”تین معتبر ، ثقہ اور معزز آدمیوں نے میرے پاس بیان کیا کہ ہم نے بچشم خود چند مردوں کو عورتوں کی طرح دودھ دیتے دیکھا ہے۔ بلکہ ایک نے تو ان میں سے کہا کہ امیر علی نام کے ایک سید کا لڑکا ہمارے گاؤں میں اپنے باپ کے دودھ سے ہی پرورش پاتا تھا کیونکہ اس کی ماں مرگئی تھی۔“
(سرمہ چشم آریہ ص ٥١، خزائن ج ٢ ص ٩٩)
اولاد کے ساتھ اَنٹ شَنٹ
ہم اوپر مرزا قادیانی کی علم الاجسام کے بارے میں تذکرہ کر رہے تھے۔ اس سے ملتا
١٥٢
پہلا ایک واقعہ اور مرزا قادیانی اپنے بیٹے مبارک احمد کو اپنی پیشگوئی مصلح موعود کا مصداق سمجھتے تھے۔ اس کو ایک سپر مصلح موعود بنا کر پیش کرنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلے یہ ایک تفصیلی کہانی ہے اور شاید اس کے متعلق یہ واقعہ بھی انہی کوششوں کی کڑی ہو؟ مبارک کی پیدائش کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ”مبارک احمد نے اپنی پیدائش سے دو سال پہلے یعنی یکم جنوری ١٨٩٧ء کو اپنی ماں کے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں اور پھر دو سال بعد ١٤ جون ١٨٩٩ء کو پیدا ہوا۔“ (تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٧) یہ تو پڑھا ہے کہ سپنی جب سانپ کے ساتھ اختلاط کرتی ہے تو اگر حالات سازگار نہ ہوں تو سانپ کے مادہ کو وہ اپنے پیٹ میں محفوظ رکھتی ہے اور جب وہ چاہتی ہے اس مادہ سے اپنے انڈوں کو بار آور ہونے دیتی ہے۔ لیکن انسانوں کے بارے میں ایسا کبھی نہیں سنا۔ اگر کسی کے علم میں ایسی بات ہو تو براہ کرم خاکسار کو بھی مطلع کریں۔ ورنہ پیدائش سے دو سال پہلے؟ حیا مانع ہے ورنہ اس کا تجزیہ کیا جائے تو یا تو بندہ اپنا سر پیٹے گا یا پھر ہنسے گا۔ لیکن بات یہاں تک نہیں رہتی، بلکہ مبارک احمد اپنی پیدائش سے تقریباً دو سال پہلے اپنی بہن مبارکہ کو بھجوا دیتا ہے دنیا میں لیکن خود انتظار کرتا ہے اچھے وقت کا۔ یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ مرزا جی کہہ رہے ہیں۔ آپ بھی سنئے۔ فرماتے ہیں: ”یکم جنوری ١٨٩٧ء کو پیٹ میں مبارک احمد باتیں کرتا رہا اور ایک ماہ بعد یعنی فروری ١٨٩٧ء کو لڑکی مبارکہ پیدا ہوگئی۔ (حقیقت الوحی ص ٢١٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٧) اب ماہرین ہی اس بات کی تحقیق کرسکتے ہیں کہ مبارکہ بیگم پیٹ میں سے مبارک بن کر بولتی رہی یا مبارک احمد نے اپنی جگہ اپنی بہن کو بھجوادیا اور خود چونکہ اس کے منہ کو خون لگ گیا تھا اس لئے دو سال پیٹ کے اندر حیض کے خون سے پلتا رہا؟
آٹھ سالہ لڑکے کی ڈھائی سالہ لڑکی سے شادی
دوسرا واقعہ بھی اسی مبارک سے متعلق ہے کہ مبارک احمد کی ٨ سال کی عمر میں شادی کر دی گئی۔ کسی نے خواب دیکھا کہ مبارک احمد کی شادی ہورہی ہے تو اس کی تعبیر موت نکلی۔ سوچا کہ اس کی شادی کر دی جائے شاید بچ جائے۔ اس طرح مبارک احمد کی شادی ڈھائی سالہ بچی سے کردی گئی جو کہ ٦ ماہ کے بعد بیوہ ہوگئی۔ بعد میں مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اس کو کسی خاندانی تقریب میں دیکھا تو اس سے شادی کرلی اور وہ بعد میں ام طاہر کہلائی۔ ایک جگہ شادی کی وجہ کے بارے میں لکھا ہے کہ اماں جان کو یہ لڑکی بہت پسند تھی۔ اس لئے شادی کر دی۔ یہ کام وہ امام الزماں کر رہا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اس نے دنیا کے اور بالخصوص مسلمانوں کے گلے میں پڑا ہوا جہالت کا طوق نکالنا تھا۔ مرزا قادیانی دنیا کو انٹ شنٹ سناتے رہے۔ اللہ نے ان کے اپنے بچوں
١٥٣
کے بارے میں ان کے اپنے منہ سے انٹ شنٹ کہلوایا یا لکھوایا اور کروایا۔
بیٹی کو چنبیلی کا تیل پلا دیا
اسی طرح لوگوں کو علاج کے نام پر انٹ شنٹ دوائیاں دیتے رہتے تھے۔ اللہ نے ان کے ہاتھ سے اپنی بیٹی کو تیل پلوا دیا۔ پسر مرزا قادیانی مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتے ہیں: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کی اولاد میں آپ کی لڑکی عصمت ہی صرف ایسی تھی جو قادیان سے باہر پیدا ہوئی اور باہر ہی فوت ہوئی۔ اس کی پیدائش انبالہ چھاؤنی کی تھی اور وہ لدھیانہ میں فوت ہوئی تھی۔ اسے ہیضہ ہوا تھا۔ اس لڑکی کو شربت پینے کی عادت پڑ گئی تھی۔ یعنی وہ شربت پسند کرتی تھی۔ حضرت مسیح موعود اس کے لئے شربت کی بوتل ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ رات کو وہ اٹھتی تو کہتی کہ ابا جان شربت پلانا ، آپ فوراً اٹھ کر شربت بنا کر اسے پلا دیتے تھے۔ ایک روز لدھیانہ میں اس نے اسی طرح رات کو اٹھ کر شربت مانگا۔ حضرت صاحب نے اسے شربت کی جگہ غلطی سے چنبیلی کا تیل پلا دیا۔ جس کی بوتل اتفاقاً شربت کی بوتل کے پاس ہی پڑی تھی۔ لڑکی بھی وہ ”شربت“ پی کر سو رہی۔ صبح جب تیل کم اور گلاس چکنا دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ غلطی ہو گئی ہے مگر خدا کے فضل سے نقصان نہیں ہوا۔ نیز میر صاحب نے بیان کیا کہ اس لڑکی کے فوت ہونے کے بعد حضرت صاحب بمعہ ام المومنین وغیرہ لدھیانہ سے ایک ہفتہ کے لئے امرتسر تشریف لے گئے۔ (سیرت المہدی حصہ سوم ص ٢٥٩ ، ٢٦٠ روایت ٨٧٩) کچھ دنوں کے بعد لڑکی فوت ہو جاتی ہے مگر نقصان نہیں ہوا؟
اپنی وحی کے متعلق
مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو اور اپنے افکار کو جو مقام دیا۔ اگر خدا نے توفیق دی تو کسی دوسرے مضمون میں تفصیل کے ساتھ۔ لیکن صرف ایک جھلک کہ مرزا قادیانی اپنے الہاموں اور وحی کو کیا سمجھتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”جو کچھ میں اللہ کی وحی سے سنتا ہوں ، خدا کی قسم ، اسے ہر قسم کی خطا سے پاک سمجھتا ہوں۔ قرآن کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے۔ یہ میرا ایمان ہے، خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے جو خدائے پاک یکتا کے منہ سے نکلا۔“ (نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) خدا کے کلام کی تشریح اگر ایک عام انسان نہ بھی کر سکے۔ لیکن اللہ کا کلام بے معنی اور بے تکے الفاظ پر مشتمل نہیں ہوتا۔ تو اگر یہ خدا کا کلام ہے تو کیا کوئی احمدی ان الہاموں کی تشریح
١٥٤
کرے گا؟ (١) غٹم ، غٹم ، غٹم۔ (تذکرہ ص ٤١٩ طبع ٣) (٢) ”ایک دانہ کس کس نے کھایا“ (تذکرہ ص ٥٩٥، طبع سوم) (٣) ”لاہور میں ایک بے شرم رہتا ہے“ (تذکرہ ص ٧٠٤، طبع ٣) (٤) ”خاکسار پیپرمنٹ“ (تذکرہ ص ٧٥٧، طبع ٣) (٥) ”اس پر آفت پڑی، آفت پڑی“ (تذکرہ ص ٥٥٥، طبع ٣) (٦) ”پٹی پٹی گئی“ (تذکرہ ص ٨٠١، طبع ٣) غرض اس قسم کے بے شمار الہامات ہیں جن کے معنی کوئی نہیں نکلتے اور خود مرزا قادیانی کو بھی معنے سمجھ نہیں آئے۔
قرآن کے ساتھ
مرزا قادیانی نے (نعوذ باللہ) قرآن مجید کے ساتھ بھی مذاق یا افتراء سے گریز نہیں کیا۔ قرآن کو قادیان میں نازل کر دیا۔ فرماتے ہیں: ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ ”اس کی تفسیر یہ ہے کہ انا انزلناہ قریباً من دمشق بطرف شرقی عندالمنارۃ البیضاء کیونکہ اس عاجز کی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔“
(تذکرہ ص ٧٤، طبع ٣)
اور پھر اپنی پنجابی اسٹائل عربی میں اس کی تشریح کیسی کرتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتی کہ انسان ان کی گستاخیوں پر روئے یا ان کی بیوقوفیوں پر ہنسے اور صرف قرآن کو قادیان میں نازل ہی نہیں کیا بلکہ قادیان کا نام بھی اس میں اعزاز کے ساتھ درج کر دیا۔ فرماتے ہیں: ”تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے، مکہ مدینہ اور قادیان۔“ (ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ)۔ اور پھر بالواسطہ طور پر قرآن کو اپنے اوپر نازل بھی کر لیتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ مجھے الہام ہوا ہے: ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“ (تذکرہ ص ٧٦، طبع ٣)۔ اس قسم کے بے شمار حوالے اور گستاخیاں آپ کو مرزا قادیانی کے لٹریچر میں جابجا ملیں گی جو صریحاً قرآن، سنت، شریعت، احادیث سے متصادم ہیں اور مسلمان آئمہ، اولیاء نے ہمیشہ ایسے خیالات کو کفر کا درجہ دیا ہے۔
رسول کریم ﷺ کے متعلق
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ ”خدا کا پہلوان، نبیوں کے لباس میں ہیں۔“ اور ان کو یہ مقام عشق رسول ﷺ کے طفیل ملا ہے۔ لکھتے ہیں: ”نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنا فی الرسول کی، پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے اس
١٥٥
لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں...... اور یہ نام بحیثیت فنا فی الرسول مجھے ملا‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧، ٢٠٨) اور یہ بھی دعویٰ ہے کہ محمد ثانی ہیں (نعوذ باللہ) بلکہ اپنے بعض مریدوں کی نظر میں رسول کریم ﷺ سے بھی بڑھ کر ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں: ”اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ ﷺ میں تفریق کرتا ہے، اس نے مجھے نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا ہے۔“ (یہ عبارت عربی، فارسی، اردو میں لکھی ہے۔ ناقل) (خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩) اب دیکھئے جس شخص کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ سرتاپا عشق رسول ﷺ میں اتنا غرق ہے کہ اس میں اور (نعوذ باللہ) رسول پاک ﷺ میں کوئی فرق نہیں۔ اس کا اپنے محبوب رسول ﷺ کے بارے میں بنیادی علم کیا ہے؟ کیا یہ غیرت کی جگہ نہیں ہے کہ جس نام کی چادر اوڑھنے کا دعویٰ ہے اس کے بارے میں بنیادی معلومات بھی نہ ہوں۔ بلکہ ایک پرائمری کا طالب علم بھی زیادہ صحیح اور بہتر جانتا ہے کہ بہ نسبت ان علمی قوت والے امام الزماں صاحب سے، فرماتے ہیں: ”تاریخ دیکھو کہ آنحضرت ﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا تھا اور ماں صرف چند دن کا بچہ چھوڑ کر مرگئی تھی۔“ (پیغام صلح ص ٢٨، خزائن ج ٢٣ ص ٤٦٥) ”آنحضرت ﷺ کو والدین سے مادری زبان سیکھنے کا بھی موقع نہ ملا ، کیونکہ چھ ماہ کی عمر تک دونوں فوت ہو چکے تھے۔“ (ایام الصلح ص ١٤٩، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٦) تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہوگئے تھے۔ (پیغام صلح ص ٢٨٦، خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٩) میں علمی قوت اور بہتر درایت والے امام الزماں کی تاریخ دانی پر تبصرہ تو آپ پر چھوڑتا ہوں۔ باتیں تو اور بھی ہیں لیکن اس مضمون میں سب کچھ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگلے موضوع پر جاتے ہوئے مرزا قادیانی کی اٹکل پچو الہام کرنے والے خدا کی تاریخ دانی کی بھی ایک مثال دیتا چلوں تاکہ آپ کو بھی شاید مرزا قادیانی کی تاریخ دانی بلکہ تاریک دانی کے منبع سے کچھ آگاہی ہو جائے۔ مرزا قادیانی اپنے ایک الہام کا ذکر کرتے ہیں جو (نعوذ باللہ) ان کے بقول قرآن شریف کی طرح برحق اور صحیح ہے۔ فرماتے ہیں: ”حضرت محمد ﷺ پناہ گزین ہوئے قلعہ ہند میں ۔“
(تذکرہ ص ٣٨٥ طبع ٣)
اللہ تعالیٰ کے ساتھ
اور خدا کی ایسی ایسی صفات بیان کی ہیں یا خدا سے ایسا تعلق ظاہر کیا ہے جو عقل اور شریعت ١٥٦
اور شرافت کے خلاف ہے۔ ذرا خدا ک
- ......١ ”وہ خدا جس کے قبضے
فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح قادیانی کا خدا کا تصور دیکھیں (نعوذ با کی ضرورت پڑے گی۔ مرزا قادیانی تو ایسے نبی کا خدا کا تصور بھی ویسا ہی ہ
- ......٢ ”اني مع الرس
ہوں“ (تذکرہ ص ٥٧٤ طبع ٣) مرزا قاد کہ اربعین ٢ میں اقرار کیا ہے کہ اب کوشش کر رہے ہیں۔
- ......٣ ”أن الذين صدوا ع
سعیہ۔ یعنی جو لوگ اللہ کی راہ سے اس کی کوشش کا شکریہ ادا کیا۔“ (تحفہ گو کہ قرآن کا علم اس کو ہر روح سے بڑ جگہ جگہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہ گستاخانہ الفاظ ادا کئے ہیں؟ کیا اللہ ایک مراق زدہ، بیمار اور خبط عظمت کا
- ......٤ ”انت منی بم
ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج چاہئے کہ نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ تو اپنی ہی قرآن کی دی ہوئی تعلیم ب اس عاجز کا مقام الہٰی ہے جسے استع المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٣) تو کیا ا
- ......٥ ”اسمع ولدی، اے میر
یہی دعویٰ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الس
اور شرافت کے خلاف ہے۔ ذرا خدا کی صفتیں مرزا قادیانی کی زبانی دیکھتے ہیں:
- ١...... ”وہ خدا جس کے قبضے میں ذرہ ذرہ ہے، اس سے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے، وہ
فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح آؤں گا۔“ (تجلیات الٰہیہ ص٤، خزائن ج٢٠ ص٣٩٦) اب مرزا قادیانی کا خدا کا تصور دیکھیں (نعوذ باللہ) وہ کاہے کا اور کیسا خدا ہوگا جس کو چوروں کی طرح آنے کی ضرورت پڑے گی۔ مرزا قادیانی نے دھیرے دھیرے چوروں کی طرح نبوت پر ڈاکہ ڈالا ہے تو ایسے نبی کا خدا کا تصور بھی ویسا ہی ہوگا۔
- ٢...... ”انی مع الرحمٰن ادور: ترجمہ، میں خدائے رحمٰن کے ساتھ چکر کھاتا
ہوں“ (تذکرہ ص٧٥٤ طبع ٣) مرزا قادیانی خود تو ساری عمر علماء کرام کو پیچ میں پھنساتے رہے۔ جیسا کہ اربعین ٢ میں اقرار کیا ہے کہ اب دنیا کے سامنے خدا کو بھی چکر باز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
- ٣...... ”ان الذین صدوا من سبیل اللہ رد علیھم رجل من فارس شکر اللہ
سعیہ۔ یعنی جو لوگ اللہ کی راہ سے روکتے تھے۔ ایک شخص فارسی اصل نے ان کا رد لکھا، خدا نے اس کی کوشش کا شکریہ ادا کیا۔“ (تحفہ گولڑویہ ص١٨، خزائن ج١٧ ص١١٦) اب وہ شخص جو کہ دعویٰ کرتا ہے کہ قرآن کا علم اس کو ہر روح سے بڑھ کر دیا گیا ہے۔ اس کو نہیں علم کہ کلام پاک میں خدا تعالیٰ نے جگہ جگہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ اور پھر کیا اس سے قبل بھی کسی نبی اللہ نے ایسے گستاخانہ الفاظ ادا کئے ہیں؟ کیا اللہ تعالیٰ نے کسی اور پیغمبر کا بھی شکریہ ادا کیا ہے؟ ایسا صرف یقیناً ایک مراق زدہ، بیمار اور خبط عظمت کا شکار ذہن ہی کہہ سکتا ہے۔
- ٤...... ”انت منی بمنزلۃ ولدی ۔ ترجمہ، تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے
ہے۔“ (حقیقت الوحی ص٨٦، خزائن ج٢٢ ص٨٩) لیکن یہ بھول گیا کہ خدا کی تو صفت یہ بھی ہونی چاہئے کہ نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ ہی کسی کا بیٹا (اگر واقعی وہی اللہ مراد ہوتا جو قرآن کریم نے بتایا تو اپنی ہی قرآن کی دی ہوئی تعلیم کے خلاف کبھی بھی یہ نہ کہتا)۔ مرزا مزید لکھتے ہیں کہ: ”مسیح اور اس عاجز کا مقام ابن اللہ ہے جسے استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔“ (توضیح المرام ص١٧، خزائن ج٣ ص٦٤) تو کیا پھر عیسائیوں پر اعتراض کی گنجائش ہے؟
- ٥...... ”اسمع ولدی، اے میرے بیٹے سن“ (البشریٰ جلد اول ص٤٩) اگر مرزا قادیانی کا بھی
یہی دعویٰ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور عیسائیوں پر اعتراض کیوں؟ آج کل قادیانی جماعت
اس الہام سے براءت ظاہر کرتی ہے اور کہتی ہے کہ ”البشریٰ“ منظور قادیانی نے مرتب کی تھی اور اس نے غلط لکھا ہے۔ یہ عذر اس لئے قابل قبول نہیں کہ جو بھی احمدی کوئی کتاب یا مضمون کسی بھی موضوع پر اور خاص طور پر جماعت کے بارے میں لکھے گا تو اسے جماعت کی منظوری لینی پڑے گی اور اگر کسی نے جماعت کی منظوری کے بغیر لکھا تو اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور جہاں کتاب بھی ایسی ہو جس میں جماعت کی منشاء کے مطابق الہامات جمع کر کے جماعت کی مدد سے ہی شائع کئے جائیں اور جماعت کی اجازت سے ہی نہیں بلکہ جماعت خود وہ کتاب فروخت کرے تو اس کتاب کے مندرجات سے کیسے بری الذمہ ہو سکتی ہے؟ اور مرزا قادیانی کی یہ تحریر نہ صرف مرزا قادیانی کے اس الہام کے مطابق ہے بلکہ جماعت کے آج کے جھوٹ کا بھی پردہ چاک کرتی ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اور ان دونوں محبتوں کے کمال سے جو خالق اور مخلوق میں باہم نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہے اور محبت الٰہی کی آگ سے ایک تیسری چیز پیدا ہوتی ہے جس کا نام روح القدس ہے اس کا نام پاک تثلیث ہے۔ اس لئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن اللہ کے ہے۔“ (توضیح المرام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٢ تلخیص) لو، عیسائیوں کے دونوں عقیدوں کو قادیانی بنا لیا گیا۔ اس طرح نہ صرف ابن اللہ بلکہ ایک پاک تثلیث بھی پیش کر دی۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
- ٦....... ”جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی
ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) کیا نبیوں کے سردار، فخر الانبیاء، فخر الرسل، فخر انسانیت، شفیع روز محشر، رحمت اللعالمین حضرت محمد ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ حق دیا تھا؟
- ٧....... ”ارید ما تریدون، میں وہی چاہتا ہوں جو تم چاہتے ہو۔“ (تذکرہ ص ٥٥٠ طبع ٣)۔ کیا
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی، سردار، فخر الانبیاء، فخر الرسل، فخر انسانیت، شفیع روز محشر، رحمت اللعالمین حضرت محمد ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی یقین دہانی کروائی تھی؟
- ٨....... حتیٰ کہ مرزا قادیانی یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود
خدا ہوں، میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤) اور اگر ہمارے قادیانی بھائی کہیں کہ یہ خواب ہے تو مرزا قادیانی نے فرمایا ہے کہ: ”پیغمبر کا کشف اور خواب وحی ہے۔“ (ایام الصلح ص ٣٣، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٥، ٢٧٦) اور اپنی وحی کو مرزا قادیانی قرآن کی طرح پاک اور سچی قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو صرف نبی اور رسول
١٥٨
نہیں بلکہ شرعی نبی اور رسول قرار دیتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے: ”شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
- ٩ ...... مرزا قادیانی کا ایک کشف ایسا بھی پیش کرتا ہوں۔ جس کا عام حالات میں پڑھنا بھی
باعث شرم ہے اور اس کا ذکر کرنا اس سے بھی زیادہ باعث شرم ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے خدا تعالیٰ کے متعلق بے ہودہ عقائد کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس لئے بھی اس کا بیان ضروری ہے۔ اس کا انکشاف مرزا قادیانی کا ایک راز دار مرید کرتا ہے۔ مرید کا نام قاضی یار محمد ہے اور وہ صاحب اپنے ٹریکٹ میں لکھتے ہیں:۔ ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی یہ حالت ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ پس سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔“ (ٹریکٹ نمبر ٣٤، موسومہ اسلامی ص ١٢) ،مؤلفہ قاضی یار محمد، بی،اے،ایل ایل بی پلیڈر، نور پور، کانگڑہ، جنوری ١٩٢٠ء۔
مرزا قادیانی کی ہفوات کے لئے تو ایک کتاب بھی کم ہے۔ قارئین کو مرزا قادیانی کا کچھ عمومی تعارف کروانا مقصود تھا۔ مجھے امید ہے کہ قارئین کو کچھ اندازہ ہو گیا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے اپنے آقاؤں کی حفاظت میں بیٹھ کر اور ہدایت کاری میں جس طرح اسلامی تعلیمات، شریعت، شرافت اور عقائد کے پرخچے اڑائے ہیں۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اور نہ ہی مرزا قادیانی سے قبل دوسرے جھوٹے مدعیان نبوت کا اس طرح غیر ملکی طاقتوں کا کھلونا بننا نظر آتا ہے۔ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت اس لئے بھی دوسرے مدعیان نبوت سے بڑھ کر غلیظ ہے کہ انہوں نے تو اپنی حکومت، طاقت اور اختیار کے لئے نبوت کا استعمال کیا۔ لیکن مرزا قادیانی نے اپنے دستر خوان اور دو وقت کی روٹی کے لئے اپنی نبوت کو مسلمان قوم کی تباہی اور بربادی کے لئے استعمال کیا اور آج مرزا قادیانی کی نسل انہی آقاؤں کی گود میں بیٹھ کر ان کی مدد سے پوری امت مسلمہ کا مذاق اڑا رہی ہے۔ امت مسلمہ میں جگہ جگہ ٹائم بم فٹ کر رہی ہے اور انتشار کو ہوا دے رہی ہے۔ جاگئے اور حکمت اور پیار اور اسوہ رسول ﷺ سے اس فتنہ کا مقابلہ کیجئے۔
میں اپنے مضمون کو مرزا قادیانی کے اپنے ایک الہام کے الفاظ میں ختم کرتا ہوں کہ: ”وہ کام جو تم نے کیا خدا کی مرضی کے موافق نہیں ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
١٥٩
(٨) ...... دائم المرض مرزا قادیانی
(”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں۔“ مرزا قادیانی)
(شیخ راحیل احمد۔ جرمنی)
نوٹ
کچھ عرصہ قبل ایک ویب سائٹ پر ایک گمنام قادیانی کا خط میری بیماری کے حوالے سے شائع ہوا۔ جس میں مجھے اس طرح کا بیمار ظاہر کیا گیا جس طرح ان کے نام نہاد مصلح موعود مرزا بشیر الدین محمود کی حالت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے اس قسم کی بیماری سے بچایا ہوا ہے۔ دوسرے انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام : ”جو تیری توہین کرے گا، میں اس کی اہانت کروں گا“ (تذکرہ ص ٤٢٣ طبع سوم) کا حوالہ دیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی الہام نہیں بلکہ انسانیت کے لئے ایک الزام ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ یہ حوالہ دیتے ہوئے بھول گئے کہ روزانہ لاکھوں لوگ نہ صرف مرزا قادیانی پر بلکہ ان کے ماننے والوں پر بھی لعنت بھیجتے ہیں۔ بلکہ نہ بھی چاہیں تو قانوناً لعنت بھیجنے پر مجبور ہیں۔ یہ کیسا نبی ہے جس پر دن رات لاکھوں لوگوں کے لعنت ڈالنے پر بھی ان کو روکنے کے لئے اللہ تعالیٰ کوئی کارروائی نہیں کرتا۔ بلکہ ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ جو مرزا قادیانی کو نبی یا مصلح وغیرہ وغیرہ نہ مانتے ہوئے بھی لعنت نہیں ڈالنا چاہتے وہ بھی قانوناً لعنت بھیجنے پر مجبور ہیں۔ مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں کی بات الگ رہی اس کے ماننے والے بھی جو حاجی کہلانے کے شوقین ہیں۔ اپنے خلیفہ کے منع کرنے کے باوجود اپنے اس خود ساختہ نبی پر لعنت بھیج کر مسلمانوں والا پاسپورٹ حاصل کرتے ہیں اور پھر احمدی کہلاتے ہیں۔ نوکریوں کے لئے مسلمان کا ڈومیسائل حاصل کرنے کے لئے اپنے نبی اور اپنے احمدی ہونے کے اوپر، اپنے احمدی ماں باپ اور خاندان پر اپنی احمدی جماعت پر لعنت ڈالتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر بے شمار احمدی کہلانے والوں کو جانتا ہوں جو پاکستان سے یورپ آنے کے لئے مسلمانوں کا پاسپورٹ بنوا کر آئے۔ چونکہ میں ذاتیات پر گفتگو نہیں کرتا بتا اس لئے ان کے نام نہیں دے رہا۔ کیا کسی اور مذہب میں بھی ایسی مثال دکھا سکتے ہیں یہ گمنام احمدی صاحب؟ باقی یہ آرٹیکل اس بات کا ثبوت ہے کہ میرے بارے میں گمنام احمدی صاحب نے جن ”حقائق“ کا انکشاف کیا ہے وہ ان کے انگریزوں کے خود کاشتہ و خود ساختہ نبی کی تاویلوں کی طرح ہی
١٦٠
خود ساختہ و خود کاشتہ ہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی حالت سے بچایا ہوا ہے جس قسم کی حالت وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ دوسرے وہ اپنے نبی کی ان بیماریوں کی کیا تشریح کریں گے جو اس مضمون میں بیان کر رہا ہوں۔ اور پھر اپنے خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود کی اور جھوٹوں کے بادشاہ خلیفہ رابع مرزا طاہر احمد کی بیماریوں کی کیا تشریح کریں گے کہ وہ کس کی بددعا کا شکار ہوئے؟ سب سے بڑھ کر اپنے نبی کی مونہہ مانگی موت کی کیا تشریح کریں گے؟
مرزا غلام احمد قادیانی
انگریزوں کے دور میں متحدہ ہندوستان کے علاقہ پنجاب میں قادیان کے گاؤں میں ایک مغل گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مرزا قادیانی اس وقت کے مروجہ علوم کے مطابق ایک پڑھے لکھے شخص تھے۔ عالم اسلام میں پچھلے سو سال کے اندر متنازعہ ترین شخصیت ہیں۔ ان کی وجہ ان کے متضاد اور کفریہ دعویٰ جات ہیں۔ انہوں نے اسلام کے ایک ہمدرد مناظر اور لکھاری کی حیثیت سے اپنا سفر شروع کیا اور کسی ماہر منصوبہ باز نے ان کو مقدس دعوؤں کے سفر پر ڈال دیا اور پہلا دعویٰ ملہم ہونے کا تھا۔ اس کے بعد انتہائی مکاری و چالبازی کے ساتھ روحانی سفر، مثیل مسیح، مہدی سے لے کر نبوت کے دعویٰ سے گزرتے ہوئے کھلم کھلا خدائی کے مقام تک دعوے کر ڈالے۔ ویسے تو ہر کوئی بطور انسان اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ بیمار ہوتا ہے اور انسان بیمار ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن جب ایک شخص کا دعویٰ ہے کہ وہ شخص ایک ایسی ہستی ہے جس کے بارے میں تمام پاک کتابوں میں ذکر ہے۔ جس کو دیکھنے کے لئے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی (شاید اس لئے کہ وہ لوگوں کو چودھویں صدی کے کامیاب ترین دجال کی شخصیت کے بارے میں زیادہ تفصیل سے بتا سکیں) تو ایسے شخص کی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں ہر شخص کو جاننے اور بحث کرنے کا حق ہے۔ اس لئے میں چند سوالوں کے ساتھ مرزا قادیانی کی بیماریوں کو اس لئے پیش کر رہا ہوں کہ آیا پیغمبروں کو ایسی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں یا نہیں؟ اور کیا رسول دائم المرض بھی ہوتے ہیں؟ اور کیا ان کے امراض وقت کے ساتھ بڑھتے ہیں یا کم ہوتے ہیں؟ مجھے امید ہے کہ اس موضوع پر قادیانی جماعت کے کوئی صاحب علم قلم اٹھائے، برائے رہنمائی یا بطور جواب تحریر کریں گے؟ اس کے علاوہ ایک بات اہم ہے کہ جب مرزا قادیانی کی اپنی ذات کے حوالے سے کسی بیماری کا ذکر آئے گا تو ہم کو مرزا قادیانی کی اپنی بیماریوں کی اپنی تشخیص کو وزن دینا ہی ہوگا کیونکہ انہوں نے طب کا علم بھی حاصل کیا تھا۔
١٦١
مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے۔“
(کتاب البریہ ص١٦٣، خزائن ج١٣ ص١٨١)
ویسے بھی ان کا دعویٰ نبوت کا دعویٰ ہے اور نبی کی کہی ہوئی بات اس کے ماننے والوں کے لئے حجت ہوتی ہے اور بیماریوں کے بارہ میں تو ان کی دوہری حجت ہوگی۔ یعنی بطور طبیب اور بطور نبی!
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو الہاماً بتایا کہ: ”اس نے مجھے براہین احمدیہ میں بشارت دی کہ ہر ایک خبیث عارضہ سے تجھے محفوظ رکھوں گا۔“ (اربعین نمبر٣ حاشیہ ص٣٠، خزائن ج١٧ ص٤١٩) آئیے ذرا ان بیماریوں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے واقعی ان کو امراض خبیثہ سے محفوظ رکھا؟
نبوت کا ثبوت بیماریاں
مرزا قادیانی کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی بیماریوں کو بھی اپنی نبوت کا ثبوت بتاتے ہیں۔ جس طرح آج تک سوائے مرزا قادیانی کے کسی نبی نے ظلی بروزی وغیرہ نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اسی طرح معلوم تاریخ میں کسی سچے یا جھوٹے نبی نے بھی اپنی بیماریوں کو اپنی نبوت کا ثبوت نہیں بنایا۔ فرماتے ہیں: ”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں اور وہ دو زرد چادریں جن کے بارے میں حدیثوں میں ذکر ہے کہ ان دو زرد چادروں میں مسیح نازل ہوگا۔ وہ دو زرد چادریں میرے شامل حال ہیں۔ جن کی تعبیر علم تعبیر الرؤیا کی رو سے دو بیماریاں ہیں۔ سو ایک چادر میرے اوپر کے حصے میں ہے کہ ہمیشہ سر درد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے۔ وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے۔ اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“ (اربعین نمبر٤ ص٤، خزائن ج١٧ ص٤٧٠، ٤٧١) ”دیکھو میری بیماری کے متعلق آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی تھی۔ جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح جب آسمان سے اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔ سو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی یعنی مراق اور ایک نیچے کی یعنی کثرت بول۔“ (اخبار بدر٧ جون١٩٠٢ء، بضمیمہ اخبار امان جون ١٩٠٢ء) لیکن ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ کیا مسیح علیہ السلام نے خواب میں نازل ہونا تھا جو زرد چادروں کو رویا کے ضمن
١٦٢
میں دھکیل کر تعبیر الرؤیا کی تشریح کا سہارا لیا جا رہا ہے اور من مرضی کی تاویلات کر کے بات کو کس طرح توڑا مروڑا گیا ہے؟ کہاں نزول مسیح اور کہاں خوابوں کی تعبیریں؟ ہاں مرزا قادیانی کے خلل زدہ خیالات اور خوابوں کی یہ تعبیر ضرور ہو سکتی ہے۔ دوسرے مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ یہ کتنا لغو خیال ہے کہ دو زرد چادروں کو ظاہر پر محمول کیا جائے۔ لیکن کیا یہ اس سے کہیں زیادہ لغو اور بے ہودہ بلکہ گستاخانہ خیال نہیں ہے کہ رسول پاکﷺ کی ایک عظیم الشان پیشگوئی کو پاگل پن (دورانِ سر اور مراق) اور بول و براز (پیشاب اور دستوں) کی نذر کیا جائے۔ کیا آپ کو بھی کبھی سر درد ہوا ہے۔ آپ کی کیا حالت ہوتی ہے اور کیا اس کے بعد کوئی کام کر سکتے ہیں؟ کبھی آپ کو چکر آئے ہیں اور اس کے کتنی دیر بعد تک کوئی کام کر سکتے ہیں؟ لیکن اگر ان کی اس تشریح کو وقتی طور پر اگر مان بھی لیا جائے تو ایک سوال اور ہے کہ عام بول چال میں بھی اور طب کی زبان میں بھی سر کو دھڑ سے الگ گنتے ہیں اور اوپر والی زرد چادر دھڑ پر تھی یا سر پر تھی۔ اگر تو سر پر تھی تو سر کی بیماری کے بارے میں بات کریں اور اگر دھڑ پر تھی تو بجائے سر کے دھڑ کی بیماری ہونی چاہئے؟ اور ساتھ اگر دل بھی نارمل کام نہ کر رہا ہو تو پھر انسان کے لئے اٹھنا، بیٹھنا، جسمانی یا دماغی کام کرنا اور اگر کر بھی لے تو کسی یکسوئی کے بغیر ہوگا۔ اب آپ ذرا تصور کر کے بتائیں کہ لوگ مسیح علیہ السلام سے رہنمائی لینے آ رہے ہیں۔ لیکن ان کا دل صحیح کام نہیں کر رہا۔ سر کو چکر آ رہے ہیں اور وہ انتظار میں کھڑے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کی طبیعت ٹھیک ہو تو آگے بات چلے اور جب دماغ اور دل ذرا ٹھہرتے ہیں تو پھر خود ساختہ مسیح لوٹا ڈھونڈ رہے ہیں؟؟ اور ایسا ہوتا بھی رہا ہے۔ مرزا قادیانی کی بدبودار تشریح مانتے ہوئے ان کو اگر خدا کا فرستادہ بھی مان لیں تو مجھے یقین ہے کہ مرزا بھی سوچ میں پڑ گیا ہوگا بلکہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوگا کہ میں نے یہ کیا کیا۔ پانچ ہزار سال سے بنی نوع انسان اس کی تمام پاک کتابوں کی پیشگوئیوں پر ایک عظیم الشان شخصیت کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ میں نے یہ ٹوٹا پھوٹا مسیح دے دیا ہے۔ جس کو کبھی سر میں چکر آ رہے ہیں۔ ان سے ابھی نجات نہیں ملتی۔ اوپر سے لوٹا ڈھونڈ رہے ہیں اور ٹائلٹ سے باہر نکلتے ہیں تو قوت مردی کے کشتے ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں؟ لیکن اگر ایسا نہیں ہوا کہ مرزا قادیانی اس قدر لاچار ہوئے ہوں تو پھر مرزا قادیانی کی بیماریاں جعلی ہیں، یا دعویٰ غلط ہے!!
سو (١٠٠) بار پیشاب
”اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے، اور اس قدر کثرت پیشاب
١٦٣
سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں، وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“ (اربعین نمبر٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ص ٤٧١) اگر چوبیس گھنٹے پر سو بار کو تقسیم کیا جائے، جس میں نہ نیند اور نہ کوئی آرام، یا کوئی اور کام ہو تو تقریباً ہر ساڑھے چودہ منٹ کے بعد پیشاب، اگر ٹوائلٹ میں جانے، شلوار کھول کر کپڑے سمیٹ کر بیٹھنے، پیشاب کرنے، استنجا کرنے، شلوار باندھنے، باہر آ کر وضو کرنے یا کم از کم ہاتھ دھونے میں اگر ہم ساڑھے چار منٹ گن لیں تو دس منٹ کے بعد دوبارہ پیشاب کے لئے ٹوائلٹ میں (کیونکہ سیرت المہدی میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی ٹائلٹ سے باہر آ کر فوراً وضو کرتے تھے؟) لیکن اگر ہم چھ گھنٹے آرام کے، ایک گھنٹہ عبادت کے لئے (ویسے ہونا زیادہ چاہئے، لیکن از راہِ احتیاط) اور ایک گھنٹہ کھانے پینے کے لئے نکالیں تو کل بنے آٹھ گھنٹے، اس طرح سارے دن میں بچے ١٦ گھنٹے، اب اگر سولہ گھنٹوں پر تقسیم کریں تو ہر دس منٹ سے بھی کم پر پیشاب آتا ہے۔ اگر ہم حساب کریں کہ اوپر کیا ہے تو ہر پانچ منٹ کے بعد ٹوائلٹ میں جانا پڑتا ہے۔ اب آپ خود سوچیں کہ جس شخص کو پتہ ہے کہ پانچ منٹ پر مجھے پھر ٹائلٹ جانا ہے۔ وہ لکھنے ،پڑھنے کیلئے توجہ کیسے مرکوز کر سکتا ہے؟ جبکہ زیادہ پیشاب کی وجہ سے ساتھ ہی ضعف وغیرہ کے بھی عوارض ہو جاتے ہوں۔ اب آپ صرف ایک بات کا جواب دیجئے کہ کیا دنیا بنانے والے اللہ کو مسیح اور مہدی کے لئے صرف وہی شخص ملا تھا یا بنایا تھا۔ جس کو بجائے دین کے ہر پانچویں منٹ ٹوائلٹ میں جا کر بیٹھنے کی فکر ہو؟ کہیں یہ تو نہیں کہ مرزا قادیانی نے غلو سے کام لیا ہو۔ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے یا عادتاً؟ اور پھر اپنے سو بار پیشاب کا کئی جگہ ذکر کیا ہے۔ اگر غلو سے کام لیا ہے تو غلو کا دوسرا نام جھوٹ ہے۔ تو مطلب ہے کہ کئی بار جھوٹ بولا؟ کیا جھوٹ بولنے والا شخص نبی، محدث، مجدد، صاحب الہام تو دور کی بات، کیا روزمرہ کی معمول کی زندگی میں بھی قابل قبول ہے؟
ہسٹریا، و مراق
مراق جو کہ دیوانگی کی ہی ایک قسم ہے۔ ایسا خبیث مرض ہے کہ کسی ولی، مجدد، نبی میں اس کا پایا جانا ناممکنات میں سے ہے۔ مرزا قادیانی کے دعاوی اور ان میں درجہ بدرجہ ترقی اس دماغی بیماری کی علت ہوئی۔ اس سلسلے میں اس بیماری پر نسبتاً تفصیل سے روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
”ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات
١٤٤
یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یکدم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک۔ یہ اعصاب کی ذکاوت حس یا تکان کی علامات ہیں اور ہسٹریا کے مریضوں کو بھی ہوتی ہیں اور انہی معنوں میں حضرت صاحب کو ہسٹریا یا مراق بھی تھا۔
(سیرت المہدی ج دوئم ، روایت نمبر ٤٧٢، ص ١٣٠ از مرزا بشیر احمد ایم اے)
اگر ہم مرزا قادیانی کے بیٹے کی اس تشریح کو مان لیں تو پھر بھی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل پریشان ہو جاتا ہے تو وہ دل کی پریشانی سنبھالے گا یا رہنمائی کرے گا۔ جس کے اعصاب اتنے نازک ہوں کہ ذرا ذرا سی بات پر منتشر ہو جاتے ہوں۔ وہ شخص اپنے اعصاب کو کنٹرول کرنے سے فرصت پائے گا تو لوگوں کو بتا سکے گا کہ انہوں نے اپنی زندگیاں کیسے کنٹرول کرنی ہیں؟ جو شخص دل کی پریشانی اور ذکاوت حس کی وجہ سے ہسٹریا کا شکار ہو جاتا ہو تو لوگ اس کو سنبھالنے میں لگے ہوں گے یا وہ لوگوں کو؟ وہ کیسے لوگوں کو سنبھال کر صحیح راستہ پر لے کر چلنے کے قابل ہو گا جو خود اکثر چیخیں مار کر نماز میں گر جاتا ہو اور لوگ اس کی ٹانگیں باندھ رہے ہوں۔ ایسا شخص نبی کیسے ہو سکتا ہے؟ میری ان باتوں کا ثبوت سیرت المہدی سے مل جائے گا۔ نبی کو تو اللہ بھیجتا ہے آدمیوں کے لئے ہے اور جہاں بھی کوئی مدعی نبوت (جھوٹا یا سچا) موجود ہوگا لوگ اکٹھے ہوں گے۔ کیا اللہ نے مرزا قادیانی کو پریشان ہونے، گھبرانے اور دورہ پڑنے کے لئے نبی بنایا تھا؟ یا جم غفیر کی ہدایت کے لئے؟ واقعات تو کئی ہیں لیکن جو سوال میں نے اٹھائے ہیں۔ ان کی تصدیق یہ واقعہ بھی کرتا ہے: ”مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی مرتبہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا....... اس کے کچھ عرصہ بعد ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے...... تھوڑی دیر بعد شیخ حامد علی نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی سے پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت ( مرزا قادیانی ) کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی۔ چنانچہ میں نے کسی خادمہ سے کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے؟ شیخ حامد علی نے کہا کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کر مسجد میں چلی گئی۔ آپ لیٹے ہوئے تھے۔ جب میں پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی
١٦٥
تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میں چیخ مار کر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔
(سیرت المہدی ج اول ص ١٥ روایت نمبر ١٩ از مرزا بشیر احمد ایم اے)
کتب طب میں مراق کی ایک علامت یہ بھی لکھی ہے: ”اس میں مریض کو دھوئیں جیسے سیاہ بخارات چڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔“ (شرح اسباب ج ١ ص ٧٧) یعنی ساری علامات حقیقی طور پر پوری اتر رہی ہیں۔ ابھی تو آگے دیکھئے۔
مالیخولیا
مرزا قادیانی اپنے بارے میں فرماتے ہیں: ”اور پھر اس پر مستزاد مالیخولیا اور مراق کا موذی مرض۔“ (سیرت المہدی ج دوئم ص ٣٣٠ روایت نمبر ٣٤٧) مرزا قادیانی کے خاندان میں طبابت کئی پشتوں سے تھی اور انہوں نے خود بھی اپنے والد صاحب سے طب پڑھی تھی۔ لہٰذا اگر وہ خود کہتے ہیں کہ ان کو ہسٹریا اور مراق تھا تو ہمیں ماننا چاہئے کیونکہ وہ اپنی حالت کی نسبت بہتر سمجھ رہے تھے اور انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ ملتی جلتی علامات ہیں اور نہ ہی اپنی زندگی میں ان بیماریوں کی انہوں نے تردید کی تھی یا کوئی اور تشریح کی تھی۔ اب بعد میں دکان چلانے والے، دکان کو خطرے میں دیکھ کر جو بھی تاویلات کریں۔ اس کی کسی طرح بھی کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی قابل غور ہیں۔
اطباء کی رائے
- ١...... مرزا قادیانی کے دست راست و پہلے قادیانی خلیفہ ، مشہور اور شاہی حکیم جناب
نور الدین بھیروی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ”چونکہ مالیخولیا جنون کا ایک شعبہ ہے اور مراق مالیخولیا کی ایک شاخ اور مالیخولیا مراق میں دماغ کو ایذا پہنچتی ہے۔ اس لئے مراق کو سر کے امراض میں لکھا ہے۔“ (بیاض نور الدین جز اول ص ٤١١) کہتے ہیں کہ بیماری اور صحت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو پھر قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو بھی ایذاء نہیں پہنچاتا تو کیا انبیاء کو ایذاء والی بیماری میں مستقل مبتلا کریں گے؟
- ٢...... ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا، مرگی
کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔“ (مضمون ڈاکٹر شاہنواز
١٦٦
قادیانی ، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ،ص ٧٦، بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ١٤٥)
- ٣...... "مانخولیا وہ بے ڈھنگی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنے آپ کو نہ صرف
تندرست بلکہ بسا اوقات بادشاہ یا نبی یا اوتار وغیرہ خیال کرنے لگتا ہے اور اسی شان بادشاہی وغیرہ میں آکر ناجائز حرکات کا مرتکب ہوتا ہے۔" ( کنزالمرکبات ، ج دوم ص ٢٣ مصنف حکیم محمد عبد اللہ ملتانی )
اگر آپ سیرت المہدی ، مصنفہ قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی کو پڑھ لیں تو آپ خود ہی کہہ اٹھیں گے کہ کون سی ناجائز حرکت ہے جو مرزا قادیانی نے نہیں کی؟ کون سی شریعت کی انہوں نے پابندی کی؟ حج پر وہ نہیں گئے۔ ساری عمر زکوٰۃ انہوں نے نہیں دی۔ کبھی وہ اعتکاف پر نہیں بیٹھے۔ مجدد کے دعویدار ہوتے ہوئے سود پر روپیہ لیا۔ رنڈیوں کا مال اشاعت اسلام کے نام پر اپنے لئے حلال کر لیا۔ ٹانٹھا لڑکیوں سے پوری پوری رات خدمت کروائی۔ راتوں کو اکیلی ان کے کمرہ میں پہرے دیتی تھیں۔ ملازمائیں ان کے سامنے بیٹھ کر ننگی نہاتی تھیں۔ لیکن وہ اسی جگہ بیٹھے رہتے تھے۔
- ٤...... "مانخولیا مراقی ، اس مرض کے مریضوں میں سے کسی کو یہ وہم ہو جاتا ہے کہ میرے جسم
پر سر نہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ میرے حلق میں سانپ چلا گیا۔ کوئی مرغ بن کر بانگ دیتا ہے۔ کوئی گدھا بن کر ہنہناتا ہے۔۔۔۔کسی کو بادشاہ بننے اور ملک فتح کرنے کے خیالات آتے ہیں۔ بعض عالم اس مرض میں مبتلا ہو کر دعویٰ پیغمبری کرنے لگتے ہیں۔" (مخزن العلاج ج اول ص ٦٠ ، ٦١ مصنفہ شمس الاطباء حکیم و ڈاکٹر غلام جیلانی خان، لاہور ) اب آپ خود ہی دیکھ لیں کہ مرزا قادیانی نے مرغ کی طرح بانگ تو نہیں دی مگر سیرت المہدی میں لکھا ہے کہ: ”اپنے چچا زاد کے سر درد کا علاج اس طرح کیا کہ مرغا ذبح کروا کر اس کے سر پر باندھوا دیا۔“ اپنے آپ کو آریوں کا بادشاہ قرار دے دیا اور اپنے آپ کو ہر جگہ خود ہی فاتح قرار دے لیا۔ پہلے اپنے آپ کو ملہم قرار دے لیا پھر انہی الہاموں کو بنیاد بناتے ہوئے منزل بہ منزل ترقی کرتے ہوئے پیغمبری اور وہ بھی ایسی جو کہ سب نبیوں سے افضل نبوت کے دعویٰ تک پہنچے۔
- ٥...... ہندوستان کے مشہور حکیم غلام جیلانی مزید لکھتے ہیں: ”مریض ہمیشہ سست و متفکر رہتا
ہے۔ اس میں خودی کے خیالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک بات میں مبالغہ کرتا ہے۔“ (مخزن حکمت طبع دوئم، بحوالہ افکار و پیشگوئیاں تصنیف مولانا محمد اقبال رنگونی ، مانچسٹر) آپ خود دیکھ لیں کہ مرزا قادیانی کی اکثر باتیں مبالغہ آمیز ہیں۔ مثال کے طور پر میں نے پچاس کے قریب الماریاں
١٦٧
لکھی ہیں۔ انگریزوں کی حمایت میں، حالانکہ ان کی کل کتابوں کی تعداد تقریباً اسی کے قریب ہے۔ کئی جعلی حدیثیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں وغیرہ وغیرہ۔
- ٦...... پیرانوئے، مالیخولیا، مراق کا جدید میڈیکل نام ہے۔ اس کے بارے میں
میڈیکل سائنس کہتی ہے: ”یہ دیوانگی یا شدید دماغی خلل کی وہ صورت ہے جبکہ وسوسوں یا خبطوں کا ایک منظم گروہ ذہن میں بس جاتا ہے۔ ایسے مریض کے خبط نہایت مربوط ، مدلل، منطقی ، معین ، پیچیدہ اور الجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ وسوسے اکثر کسی ایک ہی مرکزی خیال کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ مرض عموماً آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔ اکثر مریضوں کی شخصیت میں کوئی خرابی یا نقص نظر نہیں آتا۔ بعض مریضوں کو سمعی بصری واہمے آتے ہیں۔ انہیں طرح طرح کی آوازیں آتی ہیں یا چیزیں نظر آتی ہیں۔ گویا کہ حواس خمسہ کے مختلف حواس سے کچھ نہ کچھ محسوس ہوتا ہے حالانکہ حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا۔ بنیادی وسوسے عموماً دو قسم کے ہوتے ہیں (١) خبط اذیت ، مرزا قادیانی خبط اذیت میں مبتلا تھے۔ حتیٰ کہ انگریز عدالت کا فیصلہ بھی ہے۔ جس کا جج وہی ڈگلس صاحب ہے جس کو مرزا قادیانی نے پیلاطوس قرار دیا ہے کہ مرزا قادیانی کی اکثر تحریریں دوسروں کو ایذا دینے کے لئے لکھی گئی ہیں۔ (٢) پرشکوہ یا اقتداری وسوسے (خبط عظمت) خبط اذیت میں مریض لوگوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور خبط عظمت میں مریض اپنے آپ کو ایک بڑا آدمی اور عظیم ہستی سمجھتا ہے۔ خبط عظمت کی ایک قسم مذہبی خبط عظمت ہے۔ جس میں مریض سمجھتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ خدا اس سے محبت کرتا ہے۔ وہ نبی ہے۔ رسول ہے اور دنیا کی اصلاح کیلئے اس کو بھیجا گیا ہے۔ وہ نئے نئے دین وضع کرتا ہے۔ وہ سمجھتا اور محسوس کرتا ہے کہ اس کو وحی اور الہام ہوتے ہیں۔ چنانچہ دینی کتابوں کی نت نئی تشریح کر کے انہیں اپنے تصورات کے مطابق ڈھالتا رہتا ہے۔ یہ مرض مردوں کو عموماً تیس سال کے بعد عمر کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔ اس قسم کے مریض بہت شکی مزاج، خود پندار، مفکر، گستاخ، مغرور اور حساس ہوتے ہیں۔ مریض تنقید نہیں برداشت کر سکتا ہے۔ مریض زبردست احساس برتری کا شکار ہو جاتا ہے جس کے پیچھے درحقیقت احساس کمتری ہوتا ہے۔ ان مریضوں کی اکثریت جنسی مسائل کا شکار ہوتی ہے۔ پیرانوئے کے اکثر مریض ذہین افراد ہوتے ہیں چونکہ ظاہری طور پر نارمل ہوتے ہیں لہٰذا ہر قسم کے دلائل سے اپنی بات وقتی طور پر منوا لیتے ہیں۔ یہ لوگ واقعات اور حقائق کو اس طرح توڑ مروڑ لیتے ہیں کہ وہ ان کے وسوسوں پر ٹھیک بیٹھتے ہیں۔
١٦٨
اسباب
مریض کو معاشرتی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہ سخت دھچکہ لگتا ہے چنانچہ اس ص بڑھا چڑھا کر باتیں کرتا ہے۔ فر گہرا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس بیماری باہمی تعلقات میں دشواری، ا مع شکریہ، الفتویٰ نمبر٢، انٹرنیٹ مرزا قادیانی کی شادی جوان فضل احمد) کی پیدائش کے بع بیوی کے بطن سے پیدا ہونے جائداد کے مقدمے جو انہوں بقول مرزا قادیانی کے ان کی بھابھی، بیوی کو کچھ لا کر دیت ان کو کھانا نوکروں سے بھی گی پہلا الہام ہی باپ کی وفات سیالکوٹ میں کچہری میں اہل ہوئے۔ والد نے اپنے مقد دعوؤں سے پیشتر ان کی زندگ تین سال سے دردسر اور میں اکثر ع ہے۔“
”ابتداء ایام میں کیوجہ سے سر اور ریش مبارک
- ٢٧) یہ روایت ظاہر کر رہی
اسباب
مریض کو معاشرتی، سماجی، پیشہ وارانہ اور ازدواجی زندگی کی ناکامیاں اس مرض کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان ناکامیوں کی وجہ سے اس کی انا مجروح ہوتی ہے اور وقار کو سخت دھچکہ لگتا ہے چنانچہ اس میں احساس کمتری پیدا ہو جاتی ہے جس کو چھپانے کے لئے مریض بڑھا چڑھا کر باتیں کرتا ہے۔ فرائڈ کے نزدیک اس مرض کے پیچھے ہم جنسی تمناؤں اور خواہشوں کا گہرا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس بیماری کی تشکیل میں اہم ترین عناصر مریضوں کے دوسرے لوگوں سے باہمی تعلقات میں دشواری، اپنی کوتاہی ہے۔ (ایبنارمل سائیکالوجی اینڈ ماڈرن لائف، از کولمین) (بحوالہ بشکریہ، الفتویٰ نمبر ٤، ایڈیٹر سید راشد علی) www.alhafeez.org ۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی شادی جو ان کی ماموں زاد سے ہوئی۔ انتہائی ناکام رہی۔ دوسرے بیٹے (مرزا فضل احمد) کی پیدائش کے بعد بقول مرزا قادیانی کے ان کا اپنی بیوی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اس بیوی کے بطن سے پیدا ہونے والے بیٹوں کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ رہے۔ اپنے بزرگوں کی جائداد کے مقدمے جو انہوں نے لڑے ان میں ناکام ہوئے۔ والد اور بھائی ان کو نکما جانتے۔ بقول مرزا قادیانی کے ان کی گھر میں حیثیت انتہائی گئی گزری تھی۔ بھابھی (نوٹ کیجئے، بیوی نہیں بھابھی، بیوی کو کچھ لا کر دیتے یا اس کے حقوق کا ہی خیال رکھتے تو وہ بھی ان کے لئے کچھ سوچتی) ان کو کھانا نوکروں سے بھی گیا گزرا بھجواتی تھیں اور بوجھ سمجھتی تھیں۔ بقول مرزا قادیانی کے ان کو پہلا الہام ہی باپ کی وفات کے قریب ہوا جب ان کو فکر ہوئی کہ اب روٹی کہاں سے کھاؤں گا۔ سیالکوٹ میں کچہری میں اہلمد کی نوکری کی۔ وہاں بھی مختاری کا محکمانہ امتحان دیا۔ مگر اس میں ناکام ہوئے۔ والد نے اپنے مقدموں میں لگایا۔ وہاں بھی اکثر ناکامیوں کا شکار ہوئے غرضیکہ ان دعوؤں سے پیشتر ان کی زندگی ہر لحاظ سے ایک مثالی ناکام زندگی تھی۔
تیس سال سے درد سر
”اور میں اکثر عوارض لاحقہ سے بیمار رہتا تھا اور درد سر کی بیماری مجھے تیس سال سے ہے۔“
(انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٧، حاشیہ)
”ابتدا ایام میں آپ وسمہ اور مہندی لگایا کرتے تھے۔ پھر دماغی دورے بکثرت ہونے کی وجہ سے سر اور ریش مبارک پر آخر عمر تک مہندی لگاتے رہے۔“ (سیرت المہدی ج ٢ ص ١٣٣ روایت ٤٢٧) یہ روایت ظاہر کر رہی ہے کہ دماغی دورے بکثرت اور آخر تک پڑتے رہے۔ یہ روایت ان
١٦٩
کے سالے کی تھی اب مرزا قادیانی کی زبانی سنیں۔ ایک دوست کو لکھتے ہیں کہ: ”حالت صحت اس عاجز کی بدستور ہے۔ کبھی غلبہ دوران سر اس قدر ہو جاتا ہے کہ مرض کی جنبش شدید کا اندیشہ ہوتا ہے اور کبھی یہ دوران کم ہو جاتا ہے۔ لیکن کوئی وقت دوران سر سے خالی نہیں گزرتا۔ مدت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھنی پڑتی ہے۔ بعض اوقات درمیان میں توڑنی پڑتی ہے۔ اکثر بیٹھے بیٹھے رینگن (درد جو پٹھوں سے اٹھ کر ٹخنوں تک پہنچتا ہے۔ ناقل) ہو جاتی ہے اور زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا، قریباً چھ سات ماہ یا زیادہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے اور قرأت میں شاید قل ھو اللہ بمشکل پڑھ سکوں کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات کی ہو جاتی ہے۔“ (خاکسار غلام احمد قادیان، ٦ فروری ١٨٩١ء مکتوبات احمدیہ ج پنجم نمبر ٢ ص ٨٨ مکتوب نمبر ٦٢) یاد رہے کہ ١٨٩١ء میں ہی مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ کیا اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو اس حالت میں کئی کئی مہینے رکھتا ہے کہ کھڑے ہونا تو درکنار مسنون طریق سے بیٹھ کر بھی نماز ادا کرنے کی توفیق نہیں دیتا حالانکہ نماز بندے اور خدا کا براہ راست تعلق ہے اور نبی کا تعلق اللہ سے ہر ایک سے زیادہ اور کسی خلل کے بغیر ہوتا ہے۔ یہاں تو بنیادی تعلق ہی نہیں صحیح طریق سے قائم ہو پا رہا۔ بیعتیں یا ہائی کلاس تعلق تو بہت آگے کی بات ہے۔ نبی کا کام ہر وقت ذکر الٰہی ہوتا ہے اور یہاں یہ حال ہے کہ مہینوں سے قل ھو اللہ کی قرأت بھی نہیں ہو پاتی، نہ ہی مسنون طریقے سے عبادت کر سکتے ہیں۔ سوداوی بخارات دماغ کو چڑھتے ہیں تو دماغ میں جیسے خیالات آتے ہوں گے ان کا اندازہ خود کر لیں اور تمام دعوے ایسے ہی خیالات کا نتیجہ ہیں۔
مزید ذہنی حالت
مرزا قادیانی ذہنی طور پر اتنے معذور تھے کہ لباس بھی ڈھنگ سے نہیں پہن سکتے تھے یا پہنتے نہیں تھے۔ جرابوں کی ایڑیاں اوپر کی طرف اور پنجے آگے کو لٹکے ہوتے تھے۔ جوتوں میں دائیں اور بائیں کی تمیز نہیں کر سکتے تھے یا کرتے نہیں تھے۔ حتیٰ کہ بیوی جوتوں میں دائیں بائیں کی تمیز کے لئے نشان لگا دیتی تھی تب بھی اکثر دائیں اور بائیں جوتے کی تمیز نہیں کر سکتے تھے۔ غرارے بھی پہنا کرتے تھے۔ واسکٹ کے بٹن کوٹ میں اور کوٹ کے بٹن واسکٹ میں لگا دیتے تھے۔ کوٹ کے یا واسکٹ میں ایک بڑا سا رومال باندھ لیتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ گھڑی ہر وقت نہیں دیکھ سکتے تھے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے (روایت نمبر ٨٢، ٨٣، سیرت المہدی ج اول ص ٦٦، ٦٧ مصنفہ مرزا بشیر احمد، پسر مرزا قادیانی) ١٧٠
حالت مردی کالعدم ہونے کے باوجود شادی کی
ایک ابتلاء مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ باعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ بہت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور درد سر بمع دوران سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں۔ جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اس لئے میری حالت مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لئے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا۔
(تریاق القلوب ص ١٣٥، خزائن ج ١٥ ص ٤٠٣)
اس کا مطلب یہ ہے کہ نامردی ان کا ذاتی اور خفیہ معاملہ ہونا چاہئے تھا۔ لیکن وہ ان کے کسی ایک دوست کو نہیں بلکہ دوستوں میں بھی مشہور تھا۔ کیسا شرم حیا والا تھا یہ شخص اور پھر ایک بیوی پہلے تھی۔ جس کے ساتھ مجرد کی زندگی گزار رہے تھے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ مرزا قادیانی نے جب قادیانیوں کی ام القادیانیین کا رشتہ ان کے والد سے مانگا تو خط میں لکھا کہ میں عملاً مجرد کی زندگی گزار رہا ہوں۔ (لیکن یہ نہیں لکھا کہ کیوں؟) اس حالت میں اوپر سے دوسری بھی گھر میں لے آئے۔ لیکن کس کے لئے کیا صلائے عام تھی یاران ......
شادی کے بعد مدت تک نامرد
”جب میں نے شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔ آخر میں نے صبر کیا۔“ (مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٢، خط نمبر ١٤، ص ٤١) اگر آپ ایک غیرت مند مرد ہیں تو آپ سوچیں کہ کسی بھی وجہ سے اگر ایسی حالت ہوتی ہے تو کیا آپ ان حالات میں پہلے شادی کریں گے یا پہلے علاج کروانے کے بعد شادی کریں گے؟ اگر ماں یا باپ ہیں ایک بیٹی کے تو ایسی بیماریوں اور کالعدم قوت مردی کے حامل ایسے مرد کو اپنی بیٹی بیاہیں گے؟ بلکہ اگر آپ کو کوئی ایسا رشتہ آئے گا تو کیا آپ ایسے رشتہ کے بارے میں سننے کے بھی روادار ہوں گے؟ کیا مرزا قادیانی نے قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کی واضح ہدایت کے مطابق کہ ایسے مواقعوں پر قول سدید سے کام لو اور ان کو اپنے ایسے حالات کھول کر بتاؤ جن سے آئندہ زندگی میں کوئی فساد نہ بن سکے۔ اپنی ایسی حالت (کالعدم قوت مردی) کا لڑکی کے والدین کو بتایا تھا؟ کیا اپنے مالی حالات کے بارے میں بتایا تھا کہ یہ اس کی شادی کے لئے بھی پانچ سو روپیہ قرض لے کر آئے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات بتاتی ہیں کہ انسان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا حکم ہے اور حقوق العباد کی خلاف ورزی پر بہت زور دیا گیا ہے۔ کیا مرزا قادیانی نے جبکہ انتیس سال سے پہلی بیوی کے
١٧١
حقوق ہی نہ ادا کر پارہے تھے۔ ایسی حالت میں ایک اور شادی کر کے ازدواجی حقوق اور حقوق العباد کی خلاف ورزی نہیں کی؟ پھر قابل غور فقرہ کہ میں نے صبر کیا، حقوق بھی دوسرے کے یہ خود ادا نہیں کر پارہے تھے اپنی نامردی کے باعث اور پھر بے شرمی کی انتہا کہ کہتا ہے کہ: ”میں نے صبر کیا۔“ ان دو عورتوں نے جس طرح خاموشی سے اس ظلم کو برداشت کیا ان کے حق کو تسلیم کرنا تو دور کی بات ان کے لئے کوئی کلمہ خیر بھی نہیں ادا کیا۔ کیا اتنی واضح انسانی حقوق کی پامالی کے بعد اپنے بے بنیاد صبر کا ڈھنڈورا پیٹنے والا کوئی ولی بھی کہلا سکتا ہے ، کجا کہ دعویٰ نبوت ہو؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شرائط تم نے پوری کرنی ہیں سب سے اول وہ شرط یا شرائط پوری کرو جن سے تم نے ایک عورت کو اپنے لئے حلال کیا اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ تھا کہ (نعوذ باللہ) وہ رسول کریم کا ہی وجود ہیں۔ کیا مرزا قادیانی کا کردار اس بات کی تائید کرتا ہے؟ پھر مزے کی بات ہے کہ مزید شادیوں کے الہام بھی ہورہے تھے اور اس سلسلہ میں محمدی بیگم والے معاملے میں بڑی شرمندگی بھی اٹھانا پڑی۔
دایاں ہاتھ بیکار
”آپ (مرزا قادیانی) پانی کا گلاس یا چائے کی پیالی بائیں ہاتھ سے پکڑ کر پیا کرتے تھے۔“ (سیرت المہدی ج دوم روایت نمبر ٤٤٧، ص ٢٢٢) حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بائیں ہاتھ سے نہ کھائے نہ پیئے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے۔“ (مسلم باب آداب طعام الشراب بحوالہ روزنامہ الفضل لندن، ٢٧ ستمبر ٢٠٠٢ء ص ٣) قادیانی حضرات کہیں گے کہ ”مسیح موعود“ صاحب کو بچپن میں یا جوانی میں کندھے میں چوٹ لگی تھی اور اس کی وجہ سے ہاتھ میں کمزوری تھی۔ آپ کی دلیل مان لی مگر سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ اس نے مرزا قادیانی کو نبی بنانا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ حفاظت بھی فرماتا ہے اپنے رسولوں کی (سورۃ الجن آیات ٢٧، ٢٨) اور اس حفاظت میں یہ بھی شامل ہے کہ ان سے (یعنی نبیوں ، رسولوں) کوئی ایسا فعل نہ ہو جس میں شیطان کا دخل بھی ہو، تو کیا اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت نہ کرتا کہ وہ تمام عمر ایک ایسا کام کرنے سے بچے رہیں جس میں ان کے کھانے پینے میں شیطان کا دخل ہو۔ اگر اللہ نے ان کو نبی بنایا ہوتا وہ ان کو ایسی چوٹ سے نہ بچاتا؟ جس سے ان کو ساری عمر بائیں ہاتھ سے کھانا پڑتا اور ہر کھانے میں شیطان کو شریک کرنا پڑتا؟
١٧٢
اسہال اور خارش
”مجھے اسہال کی بیماری ن دوسرے جگہ فرماتے ہیں: ”کبھی کبھی ج ٩، ص ٤٣٤) اسہال کی بیماری کا مطلب ی چکر لگانا اور اس بیماری کی شدت سے ج وفات ہوئی اور مزے کی بات یہ ہے کہ ا جھوٹے ہیں تو اس کے ذریعہ ان کی مو کی تاکہ سچے اور جھوٹے میں فرق واضح ہ اور پوری دنیا کو بتا دیا کہ مرزا قادیانی س دعویٰ رسالت کو دعویٰ خجالت میں بدل د ان کو نبی مانتے ہیں ان پر ختم اللہ ع کو ہدایت دے۔ آمین!
احتلام
”ڈاکٹر میر محمد صاحب نے م کی روایت ہے کہ ایک سفر میں حضرت م تعجب ہوا کیونکہ میرا خیال تھا کہ انبیاء ک مسئلہ پر غور کرنے کے میں اس نتیجہ پر پ خواہشات اور خیالات کا نتیجہ اور تیسرا م ہے مگر شیطانی نہیں ہوتا۔ لوگوں نے م (سیرت المہدی ج سوئم روایت نمبر ٨٢٣ م باعث ہو سکتا ہے۔“ ایک مرتبہ کسی نے م چونکہ انبیاء سوتے جاگتے پاکیزہ خیالوں م نہیں دیتے۔ اس واسطے ان کو خواب میں ب دوست محمد شاہد ) اب آپ دیکھیں کہ م احتلام نہیں ہوتا اور انہوں نے کوئی اجتہ
اسہال اور خارش
”مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی دست آتے ہیں۔“ (ملفوظات ج ٥ ص ٣٢٦) دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے۔“ (نسیم دعوت ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤) اسہال کی بیماری کا مطلب ہے کہ دن میں کم و بیش دس سے پندرہ بار بیت الخلاء کے چکر لگانا اور اس بیماری کی شدت سے جس کو مرزا قادیانی نے خود ہیضہ قرار دیا ہے۔ مرزا قادیانی کی وفات ہوئی اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس بیماری کے لئے مرزا قادیانی نے خود دعا مانگی کہ اگر وہ جھوٹے ہیں تو اس کے ذریعہ ان کی موت ہو اور ہم مانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی یہ دعا اللہ نے قبول کی تاکہ سچے اور جھوٹے میں فرق واضح ہو اور اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی یہ خواہش پوری کر دی اور پوری دنیا کو بتا دیا کہ مرزا قادیانی کے تمام دعوے صرف اور صرف جھوٹ کا پلندہ ہیں اور ان کا دعویٰ رسالت کو دعویٰ خجالت میں بدل دیا۔ یہ سب جاننے کے بعد جو تحقیق نہیں کرتے اور ابھی بھی ان کو نبی مانتے ہیں ان پر ختم اللہ علی قلوبھم کی مثال صادق آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔ آمین!
احتلام
”ڈاکٹر میر محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے خادم میاں حامد علی کی روایت ہے کہ ایک سفر میں حضرت صاحب کو احتلام ہوا۔ جب میں نے یہ روایت سنی تو بہت تعجب ہوا کیونکہ میرا خیال تھا کہ انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا۔ پھر بعد فکر کرنے کے اور طبعی طور پر اس مسئلہ پر غور کرنے کے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ احتلام تین قسم کا ہوتا ہے۔ ایک فطرتی، دوسرا شیطانی خواہشات اور خیالات کا نتیجہ اور تیسرا مرض کی وجہ سے۔ انبیاء کو فطرتی اور بیماری والا احتلام ہو سکتا ہے مگر شیطانی نہیں ہوتا۔ لوگوں نے سب قسم کے احتلام کو شیطانی سمجھ رکھا ہے جو کہ غلط ہے۔“ (سیرت المہدی ج سوئم روایت نمبر ٨٣٣ ص ٥٧ مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم اے) ایک حوالہ اور بھی دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے۔ ”ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ انبیاء کو احتلام کیوں نہیں ہوتا؟ آپ نے فرمایا کہ چونکہ انبیاء سوتے جاگتے پاکیزہ خیالوں کے سوا کچھ نہیں رکھتے اور ناپاک خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے۔ اس واسطے ان کو خواب میں بھی احتلام نہیں ہوتا۔“ (تاریخ احمدیت ج ١ ص ٩٨ مؤلفہ دوست محمد شاہد) اب آپ دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے صرف یہ کہا ہے کہ نبیوں کو خواب میں بھی احتلام نہیں ہوتا اور انہوں نے کوئی امکان ہی نہیں چھوڑا۔ اب اگر مرزا قادیانی نبی تھے تو کیا خدا
١٧٣
تعالیٰ ان کو اس الزام سے پاک نہ رکھتا؟ جب مرزا قادیانی کی سیرت میں بیویوں کے حقوق ادا نہ کرنا یا نا قابل ہونا، رذالوں کو عورتوں سے خدمت لینا وغیرہ تو آپ کیسے ثابت کریں گے کہ احتلام کسی خیال کی بناء پر تھا یا بیماری کی بناء پر تھا؟ اس پر میں مزید کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ طبیعت میں گھن آتی ہے۔ لیکن قارئین کے سامنے ہر اہم پہلو آنا چاہئے تھا اس لئے یہ روایت بیان کر دی کیونکہ جب رب نے اس بات کو ظاہر کیا اور پردہ نہیں ڈالا تو میں خواہ مخواہ ایک بات کو چھپاؤں جبکہ میں ان کی ذات کے متعلق ایک انتہائی اہم نقطہ نظر سے بات کر رہا ہوں حالانکہ وہ رب چاہتا تو یہ بات ظاہر نہ ہوتی۔
خراب حافظہ
”میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں، یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔“ (مکتوبات احمدیہ ج ٥ مکتوب نمبر ٣ ص ٢١ خط ٣٩) اور حافظہ خراب ہونے کا کئی جگہ ذکر کیا ہے۔ لوگ پاس بیٹھے ہوتے تھے تو کہتے تھے کہ ان کو بلا لاؤ اور اس طرح کے کئی واقعات ہیں۔ اس مضمون میں ہر چیز بیان کرنا مشکل ہے۔ لیکن اس قسم کے کچھ واقعات انشاء اللہ کسی دوسرے مضمون میں بیان ہوں گے۔
سل اور دق کی بیماری
”اور یہ خواب ان ایام میں آئی تھی کہ جب میں بعض امراض کی وجہ سے بہت ہی ضعیف اور کمزور تھا بلکہ قریب ہی وہ زمانہ گزر چکا تھا کہ جب مجھے دق کی بیماری ہوگئی تھی اور باعث گوشہ گزینی اور ترک دنیا کے اہتمامات سے دل سخت ناکارہ تھا اور عیال داری کے بوجھ سے طبیعت متنفر تھی۔“ (طبیعت تو متنفر ہونی تھی، ساری عمر بیٹھ کر جو کھائی اور کوئی ذمہ داری نہ نبھائی۔ ناقل)۔ (تریاق القلوب ص ٣٥، خزائن ج ١٥ ص ٤٠٦) دق کی بیماری ایک موذی اور خبیث بیماری ہے جس کو یہ بیماری ہوتی ہے۔ اس سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں کو بھی ایسی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے اور مرزا قادیانی کا دعویٰ تو نبوت کا ہے اور نبوت بھی کیسی، خاتم النبیین کا؟
داڑھوں کو کیڑا
”دندان مبارک آپ کے آخر میں خراب ہو گئے تھے یعنی کیڑا بعض داڑھوں کو لگ گیا تھا۔“ (سیرت المہدی ج دوم ص ١٣٥ روایت نمبر ٤٣٧، از مرزا بشیر احمد) کسی کی آنکھوں پر اور کسی کے زخموں پر اپنا لعاب لگاتے تھے تو کیا کیڑوں والا لعاب لگاتے تھے؟ ١٧٤
ان کی کچھ اور بھی بیماریاں مختلف جگہوں پر موجود نہیں۔ اگر ضرورت ہوئی تو کسی اور جگہ یا مضمون میں ان میں بجائے تفصیل کے دراصل صرف توجہ طلب باتیں بیان
چند سوالات
- ......١ کیا مراق خبیث مرض نہیں؟
- ......٢ کیا مرگی یا ہسٹیریا خبیث مرض نہیں؟
- ......٣ کیا دق ایک خبیث مرض نہیں؟
- ......٤ کیا تیس برس سے زیادہ سر درد سے کوئی انسان
- ......٥ کیا نامردی ایک خبیث مرض نہیں؟
- ......٦ کیا نبیوں کو احتلام ہوتا ہے؟
- ......٧ کیا دن میں سو سو بار پیشاب آنا اور بیس سال
- ......٨ کیا ہیضہ خبیث مرض نہیں جس سے مرزا قادیانی
اگر یہ امراض جن کا ذکر میں نے اپنے سوالات ٹھیک ہے قادیانی حضرات انکار کریں۔ میں مرزا قادیانی کرتا ہوں۔ لیکن اگر یہ امراض خبیثہ ہیں تو قادیانی حضرات مرزا قادیانی امراض خبیثہ سے بچائے جائیں گے؟ بلکہ ہیضہ سے ہوئی۔ اس کے متعلق کیا رائے ہے قادیانی دوستوں سے ثبوت میرے ذمے!
بھائیو! خدا کے لئے دو منٹ کے لئے سوچو سوچو (اس لئے کہ اپنے اعمال کا جواب آپ نے خود دینا تھی۔ جس سے لوگ بھاگتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو مراق ڈاکٹرز کی آراء کے مطابق جذباتی اور ذہنی طور پر نارمل بقول وہ ایک لمبا عرصہ قوت مردی سے محروم رہے، اور ناکتحہ اور اپنے سے کم و بیش تیس سال چھوٹی لڑکی سے شادی حقوق بھی کافی لمبے عرصے سے ادا نہیں کئے اور کیا ہے؟ اور تیسری کے لئے (محمدی بیگم) جو کہ کسی غیر کی منکوحہ ١٧٥
ان کی کچھ اور بھی بیماریاں مختلف جگہوں پر بیان ہوئی ہیں۔ ان کا ذکر فی الحال اس جگہ نہیں ۔ اگر ضرورت ہوئی تو کسی اور جگہ یا مضمون میں انشاء اللہ تفصیل سے کیا جائے گا۔ اس مضمون میں بجائے تفصیل کے دراصل صرف توجہ طلب باتیں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
چند سوالات
- ١...... کیا مراق خبیث مرض نہیں؟
- ٢...... کیا مرگی یا ہسٹریا خبیث مرض نہیں؟
- ٣...... کیا دق ایک خبیث مرض نہیں؟
- ٤...... کیا تیس برس سے زیادہ سردرد سے کوئی انسان نارمل انسان رہ سکتا ہے؟
- ٥...... کیا نامردی ایک خبیث مرض نہیں؟
- ٦...... کیا نبیوں کو احتلام ہوتا ہے؟
- ٧...... کیا دن میں سو سو بار پیشاب آنا اور بیس سال لگا تار اسہال کی بیماری خبیث مرض نہیں؟
- ٨...... کیا ہیضہ خبیث مرض نہیں جس سے مرزا قادیانی کی موت ہوئی؟
اگر یہ امراض جن کا ذکر میں نے اپنے سوالوں میں کیا ہے۔ امراض خبیثہ نہیں تو پھر ٹھیک ہے قادیانی حضرات انکار کریں۔ میں مرزا قادیانی کی تحریروں سے ان کو امراض خبیثہ ثابت کرتا ہوں۔ لیکن اگر یہ امراض خبیثہ ہیں تو قادیانی حضرات اس الہام کی کیا تشریح کریں گے کہ مرزا قادیانی امراض خبیثہ سے بچائے جائیں گے؟ بلکہ مرزا قادیانی کی موت بھی مرض خبیث ہیضہ سے ہوئی۔ اس کے متعلق کیا رائے ہے قادیانی دوستوں کی؟ انکار کرو، آپ کی اپنی کتابوں سے ثبوت میرے ذمے!
بھائیو! خدا کے لئے دو منٹ کے لئے جذبات سے ہٹ کر اور غیر جانبدار ہوکر سوچو (اس لئے کہ اپنے اعمال کا جواب آپ نے خود دینا ہے) کہ بقول مرزا قادیانی کے ان کو دق تھی۔ جس سے لوگ بھاگتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو مراق اور ہسٹریا کے دورے پڑتے تھے جو کہ ڈاکٹرز کی آراء کے مطابق جذباتی اور ذہنی طور پر نارمل نہ ہونے کی نشانی ہے۔ مرزا قادیانی کے بقول وہ ایک لمبا عرصہ قوت مردی سے محروم رہے! اسی طرح نہ صرف ایسی حالت میں ایک ناسمجھ اور اپنے سے کم و بیش تیس سال چھوٹی لڑکی سے شادی کی ! بلکہ پہلی بیوی (پھجے کی ماں) کے حقوق بھی کافی لمبے عرصے سے ادا نہیں کئے اور کیا یہ شرعی اور اخلاقی طور پر ایک جرم نہیں ہے؟ اور تیسری کے لئے (محمدی بیگم) جو کہ کسی غیر کی منکوحہ بھی ہو گئی تھی ،مرنے تک رالیں ٹپکاتے
١٧٥
رہے! مرزا قادیانی ہمیشہ کے سر درد، دوران سر اور تشنج دل کے مریض تھے۔ بسا اوقات دن میں سو سو بار پیشاب آتا تھا۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ عام طور پر ستر بار تو پیشاب آتا ہی ہوگا اور اکثر اسہال کا بھی شکار رہتے تھے۔ یعنی اکثر لوٹا ہاتھ میں ہوتا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنی کتابوں میں جو ”نادر تاویلات“ پیش کیں ان کا الہام یا خیال بھی ٹائلٹ میں ہی آیا ہوگا کیونکہ زیادہ وقت تو وہیں گزرتا تھا اور زیادتی پیشاب کی وجہ سے ضعف اور کمزوری اور دوسری بیماریاں بھی اپنا اثر دکھا رہی تھیں۔ دایاں بازو کام نہیں کرتا تھا۔ نماز کے وقت دایاں ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے سہارا دیتے تھے۔ اس سے پانی تک نہیں پی سکتے تھے۔ دورہ پڑتا تو ٹانگیں باندھنی پڑ جاتی تھیں۔ چیخیں مارتے تھے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ان کی گواہی نبیوں نے دی ہے۔ قرآن نے دی ہے اور مرزا قادیانی کا دعویٰ عین محمدﷺ ہونے کا ہے۔ اب آپ خود سوچیں کہ اللہ کو اتنی کون سی مجبوری تھی کہ ایسی عظیم الشان شخصیت اور کام کے لئے ایک بیمار اور عارضی نہیں بلکہ مستقل بیمار شخص اور پھر بیماریاں بھی کونسی دق، ہسٹریا، مالیخولیا، مراق، دوران سر، ہمیشہ کا سر درد، بیکار بازو، کثرت بول، کثرت اسہال، نامردی، ذیابیطس کا حامل ہی اس رتبہ پر بٹھانا تھا؟؟ اوپر سے لباس بھی میلا کچیلا اور پہننے کا طریقہ مضحکہ خیز؟ کیا خاتم الانبیاء، ختم الرسل، فخر انسانیت، رحمۃ اللعالمین، شاہ لولاک، شفیع روز محشرﷺ کی بعثت ثانیہ یا محمدﷺ ثانی کے طور پر ایسے شخص کو ہی بھیجنا تھا جو اپنے اہل وعیال کے حقوق ہی نہیں ادا کرتا تھا۔ بلکہ اپنی زیادتی کو بھی اپنا ہی صبر کہتا تھا۔ جس کو لوٹے اور لیٹرین سے ہی فرصت نہیں تھی۔ جو بے پیندے لوٹے کی طرح ہر بات میں اپنا موقف بدل لیتا تھا؟
آخر میں انتہائی اہم سوال
مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”بعض کاملین اس طرح پر دوبارہ دنیا میں آجاتے ہیں کہ ان کی روحانیت کسی اور پر تجلی کرتی ہے اور اس وجہ سے وہ دوسرا شخص گویا پہلا شخص ہی ہو جاتا ہے۔ ہندوؤں میں ایسا ہی اصول ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٥، خزائن ج ٢١ ص ٢٩١) اور مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے وہ (نعوذ باللہ) محمد ثانیﷺ ہیں اور کس طریق سے ہیں اور یہ عقیدہ کہاں سے اور کون سے مذہب سے لیا گیا ہے؟ یہ تو اوپر والی تحریر میں بتا دیا۔ اب اسی عقیدہ پر مرزا قادیانی کی ایک اور تحریر سے مرزا قادیانی کا خیال کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”یوں تو آریہ لوگ کہتے ہیں کہ تناسخ ضرور سچ ہے (صرف آریہ ہی نہیں آپ بھی کہہ رہے ہیں۔ ناقل) اور ایسا ہمیشہ کے لئے واجب الوقوع ہے کہ مکتی کے بعد بھی اس سے پیچھا نہیں چھوٹتا لیکن بوجہ نادانی انہیں خیال ١٧٦
نہیں کہ دائمی تناسخ کے ماننے سے تمام مقدما کہ ...... واضح رہے کہ ہم ایسے خیال کو نہایت خبیث خوش ہوکر اس کو مکتی دے کر پھر کسی وقت کتا ج ٢ ص ٣٥١ حاشیہ ) اس سے یہ بات سامنے آئی رسول کریمﷺ مرزا قادیانی کے عقیدہ کے مطا کمتر حالت میں نہیں آسکتے اور اگر ایسی بات کو تسلی تو اس کو تسلیم کرنا خباثت اور بے ادبی ہوگی۔ اس خباثت مرزا قادیانی یا بے ادبی؟
محمدﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو انتہائی دوسری بعثت میں دائم المرض ہوں؟
محمدﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو صحت صورت میں دوسری بعثت میں دائیں ہاتھ سے شریف کے خلاف، شیطان کی طرح بائیں ہاتھ
محمدﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو کما اسلوبی سے ادا کرتے تھے لیکن مرزا قادیانی کی ص کئے اور مدت تک دوسری بیوی کے حقوق بھی ادا ن
محمدﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو کسی ب کی صورت میں دوسری بعثت میں دائمی دوران سر
محمدﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو م مرزا قادیانی کی صورت میں دوسری بعثت میں مر
محمدﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو قائل کی صورت میں دوسری بعثت میں ہمیشہ بھولنے ک
محمدﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو حواس مرزا قادیانی کی صورت میں دوسری بعثت میں ن چکر لگائے جارہے ہیں اور یہ ایک بار نہیں بلکہ ق ڈھونڈ رہے ہیں اور بیس برس سے زیادہ اسہال ک
نہیں کہ دائی تناسخ کے ماننے سے تمام مقدسوں اور برگزیدوں کی ایسی بے ادبی ہوتی ہے کہ...... واضح رہے کہ ہم ایسے خیال کو نہایت خبیث اور دور از ادب سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ایسا خوش ہو کر اس کو مکتی دے کر پھر کسی وقت کتا، بلا، سور وغیرہ بنادے۔“ (شحنہ حق ص ١٨، خزائن ج ٢ ص ٣٥١ حاشیہ) اس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرزا قادیانی کو اگر محمد ثانی مان لیا جائے تو رسول کریم ﷺ مرزا قادیانی کے عقیدہ کے مطابق دنیا میں دوبارہ تو آسکتے ہیں۔ لیکن پہلے سے کمتر حالت میں نہیں آسکتے اور اگر ایسی بات کو تسلیم کر لیں کہ وہ پہلے سے کمتر حالت میں آسکتے ہیں تو اس کو تسلیم کرنا خباثت اور بے ادبی ہوگی۔ اس تمہید کے بعد میرا سوال ہے کہ اس کو کیا کہیں گے خباثت مرزا قادیانی یا بے ادبی؟
محمد ﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو انتہائی صحت مند تھے۔ لیکن مرزا قادیانی کی دوسری بعثت میں دائم المرض ہوں؟
محمد ﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو صحت مند ہاتھ پاؤں رکھتے تھے لیکن مرزا قادیانی کی صورت میں دوسری بعثت میں دائیں ہاتھ سے پانی بھی نہ پی سکتے ہوں؟ بلکہ اپنی ہی حدیث شریف کے خلاف، شیطان کی طرح بائیں ہاتھ سے کھاتے پیتے رہے۔ (معاذ اللہ)
محمد ﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو گیارہ (١١) بیویوں کے حقوق زوجیت انتہائی خوش اسلوبی سے ادا کرتے تھے لیکن مرزا قادیانی کی صورت میں ایک بیوی کے حقوق ٢٩ سال تک ادا نہ کئے اور مدت تک دوسری بیوی کے حقوق بھی ادا نہ کر سکے اور بعد میں بھی کُشتوں کے محتاج رہے؟
محمد ﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو کسی قسم کے دوران سر میں مبتلا نہ ہوں لیکن مرزا قادیانی کی صورت میں دوسری بعثت میں دائمی دوران سر میں مبتلا رہیں؟
محمد ﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو مراق، مالخولیا اور ہسٹریا سے پاک ہوں لیکن مرزا قادیانی کی صورت میں دوسری بعثت میں مراق، مالخولیا، ہسٹریا میں دائمی طور پر مبتلا رہیں؟
محمد ﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو قابل رشک یادداشت کے حامل ہوں لیکن مرزا قادیانی کی صورت میں دوسری بعثت میں ہمیشہ بھولنے کی بیماری کا شکار رہیں؟
محمد ﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو حوائج ضروریہ وغیرہ میں کسی قسم کی بے ربطی نہیں لیکن مرزا قادیانی کی صورت میں دوسری بعثت میں دن میں سو سو بار لوٹا ہاتھ میں پکڑ کر بیت الخلاء کے چکر لگائے جارہے ہیں اور یہ ایک بار نہیں بلکہ اکثر اور نارمل دنوں میں کم از کم پچیس سے تیس بار لوٹا ڈھونڈ رہے ہیں اور بیس برس سے زیادہ اسہال کی بیماری کا شکار ہوں؟
١٧٧
محمدﷺ اپنی پہلی بعثت میں تو اللہ کی حفاظت میں دق اور سل جیسے متعدی مرض سے محفوظ رہتے ہیں لیکن مرزا قادیانی کی صورت میں دوسری بعثت میں انسانوں سے دور رکھنے والے متعدی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں؟
مزید ایسے سوالات انشاء اللہ دوسرے مضمون میں زیادہ تفصیل سے اٹھاؤں گا، لیکن کیا انہی امراض کی وجہ سے مرزا قادیانی اپنے عقائد میں غلط ۔ اپنی دعاوی میں جھوٹے اور ایک ابنارمل انسان ثابت نہیں ہوتے؟ اور کیا ایک ابنارمل بات بات میں غلو کرنے والا، دعوؤں میں غلط آدمی، ولایت، مجددیت، مسیحیت یا نبوت وغیرہ وغیرہ کا اہل ہو سکتا ہے؟
مرزا قادیانی فرماتے ہیں
”روح بغیر جسم کے کچھ نہیں ...... اگر روح بغیر جسم کے کچھ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا یہ کام لغو ٹھہرتا کہ ان کو خواہ مخواہ جسم فانی سے پیوند دے دیتا، روح کے افعال کاملہ صادر ہونے کے لئے اسلامی اصول کی رو سے جسم کی رفاقت روح سے دائمی ہے۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی ص ٩٠، خزائن ج ١٠ ص ٤٠٤) اور مطالب کے علاوہ اس کا یہ مطلب بھی میری سمجھ میں مختصر الفاظ میں یہ آیا کہ جب جسم اور روح کا رشتہ لازم و ملزوم ہے اور ایک کی صحت دوسرے کو متأثر کرتی ہے تو مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور تکلیف میں مبتلا جسم نے کیا روح کو گہرے طور پر متأثر نہیں کیا ہوگا اور ایک بیماریوں سے متأثر شدہ روح دوسری روحوں کی کہاں تک صحیح اور واضح رہنمائی کر سکتی ہے؟ آپ خود سوچیں کہ اگر کوئی شخص دوران سر کا شکار ہو اور ہر پانچ منٹ میں پیشاب کرنے پر وہ مجبور ہو، وہ تو ایک سائیکل تک نہیں چلاتا یا چلا سکتا۔ لیکن یہاں تو تیس سے زیادہ بیماریوں کے ساتھ، جن میں زیادہ تر خبیث اور دائمی امراض ہیں، مرزا قادیانی نبوت کی خدائی گاڑی چلانے کے دعویدار ہیں۔
کیا یہ ممکن ہے اور کیا یہ دعویٰ صحیح ہو سکتا ہے؟
کیا جو تضادات ہم مرزا قادیانی کی تحریر میں دیکھتے ہیں وہ اسی متأثر شدہ روح کی کارفرمائی تو نہیں؟ میں نہ تو ڈاکٹر ہوں اور نہ ہی عالم، میرے سوال تو ایک عام شخص کے سوال ہیں جو کہ ان باتوں پر ہیں جو واضح طور پر سب کو نظر آرہی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کے پیروکاروں کی طرف سے صحیح و دیانت دار جواب نہیں مل رہا یا نہیں دیا جا رہا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی رہنمائی کرے اور جو لوگ مرزا قادیانی کی خود ساختہ نبوت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں ان کو شمع محمدﷺ کی روشنی نصیب کرے۔ آمین
١٧٨
(٩) ...... دجال اور مرزا قادیانی؟
(شیخ راحیل احمد۔ جرمنی)
آپ بھی کہیں گے کہ یہ کیا روزانہ مرزاغلام اے۔ قادیانی کا ذکر لے بیٹھتا ہے۔ لیکن میں بھی کیا کروں، مجبور ہوں کیونکہ عمر کا ایک حصہ ان کی امت میں گزار کر جیسے مجھے مرزا قادیانی سے انسیت سی ہو گئی ہے اور ان سے یہ انسیت مجھے ان کی کتابوں کا مطالعہ کراتی ہے اور یہ مطالعہ مجھے انسپائر (Inspire) کرتا ہے کہ مرزا قادیانی پر کچھ لکھنے کو، اور یہ ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی صرف اونچے درجے کے کذب فروش ہی نہیں تھے۔ بلکہ کبھی کبھار سچ اور بڑے پتے کی بات بھی لکھ جاتے تھے۔ ویسے تو کئی بار کیا اکثر وہ خود بھی اپنی تحریروں کی زد میں آئے۔ لیکن ان کو اپنی تاویل سازی پر اتنا بھروسہ تھا کہ وہ اپنی تحریر کو واپس نہیں لیتے تھے۔ بلکہ اس کی تاویل ایسی کرتے تھے کہ آئندہ کئی صدیاں ان کا اس فن میں کوئی ثانی نہیں ہوگا۔ ہاں تمہید میں اصل بات کا ذکر رہ ہی گیا کہ مرزا قادیانی نے کیا سچ لکھا؟ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”پرلے درجے کا جاہل ہو جو اپنے کلام میں متناقض بیانوں کو جمع کرے اور اس پر اطلاع نہ رکھے۔“ (ست بچن ص ٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ١٤١) کیوں سچ ہے یا نہیں؟
مرزاغلام احمد قادیانی قرآن کریم کے اس سوال کے صحیح مصداق تھے کہ: ”لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ“ یعنی وہ تم کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں اور مرزا قادیانی کی زندگی میں ایسی کئی مثالیں مل جائیں گی کہ مرزا قادیانی جو کہتے تھے وہ کرتے نہیں تھے اور اکثر دوسروں پر لاعلمی کی تہمت لگاتے تھے اور اپنی بڑائی کا ڈھنڈورا پیٹتے تھے۔ حالانکہ وہ خود جس پر الزام لگا رہے ہوتے تھے۔ اس سے کہیں زیادہ لاعلم، بلکہ بے علم ہوتے تھے اور اپنی اس عادت کا نشانہ نہ صرف علماء وقت کو، نہ صرف اولیائے کرام اور بزرگوں کو، نہ صرف صحابہ کبارؓ کو بلکہ نبیوں اور یہاں تک کہ سرورِ کائنات، شافعِ دو جہاں، فخرِ الرسل، امام الانبیاء محسن انسانیت رحمتہ اللعالمین خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ کو بھی بنایا۔ اس جگہ اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے تو بے شمار موشگافیاں اپنے قلم کی دکھائی ہیں۔ آج دجال کے بارے میں مختصر جائزہ پیش خدمت ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اگر آنحضرتﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی اور نہ دجال کے ستر باع گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کماہی ہی ظاہر فرمائی گئی...... تو کچھ تعجب کی بات نہیں“ (ازالہ اوہام طبع پنجم ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢) حالانکہ
١٧٩
مرزا قادیانی کا ہی ارشاد ہے کہ: ”ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا۔“
(تتمۃ حقیقۃ الوحی ص ٧، خزائن ج٢٢ ص ٤٣٨)
اور یہ حقیقت منکشف نہ ہونے کا ارشاد اس شخصیت کے بارے میں ہے جو خدا سے خبر پا کر ہم تک دجال کی آمد کی کھلی کھلی خبریں پہنچا رہے ہیں اور اس کی نشانیاں بھی بڑی حد تک بتا چکے ہیں اور اس کے خاتمہ کی اور کس طرح خاتمہ ہوگا، کی بھی کسی حد تک تفصیلی خبر دے چکے ہیں۔ دجال کے خروج کے بارہ میں کافی احادیث مبارکہ موجود ہیں۔ یہاں سب تو پیش نہیں کر سکتے لیکن مختصر سا جائزہ کہ احادیث مبارکہ دجال کے بارہ میں کیا کہتی ہیں؟ تاکہ جب آپ مرزا قادیانی کی باتیں پڑھیں تو آپ کے ذہن میں اس سے قبل ارشادات نبویہ کی کچھ جھلک موجود ہو۔
- ☆ ...... ”حضرت نافع بن عتبہؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں
شریک تھے۔...... اسی دوران آپ نے چار کلمات ادا کئے۔ جنہیں میں نے اپنے ہاتھوں پر شمار کر لیا۔ آپ نے فرمایا: ”تم جزیرۃ العرب میں جہاد کرو گے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں فتح عطا فرمائے گا۔ پھر تم اہل فارس سے جنگ کرو گے۔ ان پر بھی اللہ تمہیں فتح عطا فرمائیں گے۔ پھر تم روم والوں سے جہاد کرو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں بھی فتح عطا کریں گے۔ پھر تم دجال سے جنگ کرو گے اس پر بھی اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطا کریں گے......
(مسلم شریف ج٢ ص ٣٩٢، کتاب الفتن)
- ☆ ...... ”حضرت حذیفہ بن اسید غفاریؓ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس نبی کریم ﷺ
تشریف لائے اور ہم باہم گفتگو کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کس بات کا تذکرہ کر رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہرگز قائم نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس علامات دیکھ لوگے۔ پھر دھوئیں، دجال، دابۃ الارض، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے اور سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے اور یاجوج ماجوج اور تین جگہوں کے دھنسنے، ایک دھنسنا مشرق میں، اور ایک دھنسنا مغرب میں اور ایک دھنسنا جزیرۃ العرب میں ہونے اور آخر یمن میں سے آگ نکلنے کا ذکر فرمایا جو لوگوں کو جمع ہونے کی جگہ پر لے جائے گی“
(مسلم شریف ج٢ ص ٣٩٢ کتاب الفتن)
- ☆ ...... حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا
تو ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اور مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہوگا۔ گویا کہ اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح ہوگی“
(مسلم شریف ج٢ ص ٣٩٩ باب ذکر الدجال، کتاب الفتن)
- ☆ ...... ”حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دجال
١٨٠
کی ایک آنکھ اندھی ہے۔ اس کی دونوں آ ف ر اور ہر مسلمان اسے پڑھ لے گا“۔
- ☆ ...... جو آپ نے دجال کے بارے
دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگا پس تم میں سے جو اسے پالے تو اسی مـ پاکیزہ پانی ہوگا تو عقبہؓ نے حضرت حذیفہؓ طرح سنا“
- ☆ ...... مندرجہ ذیل حدیث مبارکہ بـ
کر رہا ہوں۔ حضرت نواس بن سمعانؓ
- (١)...... میں تمہارے بارے میں دجال
وہ میری موجودگی میں ظاہر ہو گیا تو تمہـ موجودگی میں ظاہر ہوا تو ہر شخص خود اس ہوگا۔ بے شک (دجال) نوجوان، گھنگریا اسے عبدالعزیٰ بن قطن کے ساتھ تشبیہہ د
- (٢)...... پس جو تم میں سے اسے پا
کرے۔ اس کا خروج شام اور عراق کـ برپا کرے گا۔ ہم نے عرض کیا اے رسول چالیس دن اور ایک دن ایک سال کے ہوگا اور باقی دن تمہارے عام دنوں کے
- (٣)...... ہم نے عرض کیا اے رسول
نے فرمایا: اس بارش کی طرح جسے پیچھے
- (٤)...... ایک قوم کو دعوت دے گا ا
برسائے گا اور زمین سبزہ اگائے گی۔ بـ دے گی تو وہ ان سے واپس لوٹ آئے
- (٥)...... پھر وہ ایک بنجر زمین کے پا
زمین کے خزانے اس کے پاس ایسے آ
کی ایک آنکھ اندھی ہے۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہے پھر اس کے ہجے کئے ک ف ر اور ہر مسلمان اسے پڑھ لے گا‘‘۔
(مسلم شریف ج ٢ ص ٤٠٠ باب ذکر الدجال)
- ☆....... جو آپ نے دجال کے بارے میں محمدﷺ سے سنی۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا۔ بے شک
دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہو گی۔ پس لوگ جسے آگ تصور کریں گے وہ ٹھنڈا پانی ہو گا پس تم میں سے جو اسے پالے تو اسی میں کود جائے جسے آگ تصور کرے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی اور پاکیزہ پانی ہوگا تو عقبہؓ نے حضرت حذیفہؓ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی آپؐ سے اسی طرح سنا‘‘
(مسلم شریف ج ٢ ص ٤٠٠ باب ذکر الدجال)
- ☆....... مندرجہ ذیل حدیث مبارکہ بہت طویل ہے اس میں سے صرف انتہائی اہم باتیں پیش
کر رہا ہوں۔ حضرت نواس بن سمعانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا
- (١)....... میں تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ دوسرے فتنوں کا زیادہ خوف کرتا ہوں۔ اگر
وہ میری موجودگی میں ظاہر ہو گیا تو تمہاری بجائے میں اس کا مقابلہ کروں گا اور اگر میری غیر موجودگی میں ظاہر ہوا تو ہر شخص خود اس کا مقابلہ کرنے والا ہوگا اور اللہ ہر مسلمان پر نگہبان ہوگا۔ بے شک (دجال) نوجوان، گھنگریالے بالوں والا اور پھولی ہوئی آنکھ والا ہوگا۔ گویا کہ میں اسے عبدالعزیٰ بن قطن کے ساتھ تشبیہ دیتا ہوں۔
- (٢)....... پس جو تم میں سے اسے پالے تو چاہئے کہ اس پر سورۃ کہف کی ابتدائی آیات تلاوت
کرے۔ اس کا خروج شام اور عراق کے درمیان ہوگا۔ پھر وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب فساد برپا کرے گا۔ ہم نے عرض کیا اے رسول اللہﷺ وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا؟ آپؐ نے فرمایا چالیس دن اور ایک دن ایک سال کے برابر اور ایک دن مہینہ کے برابر اور ایک دن ہفتہ کے برابر ہوگا اور باقی دن تمہارے عام دنوں کے برابر ہوں گے۔
- (٣)....... ہم نے عرض کیا اے رسول اللہﷺ ! اس کی زمین میں چلنے کی تیزی کیا ہوگی؟ آپؐ
نے فرمایا: اس بارش کی طرح جسے پیچھے سے تیز ہوا دھکیل رہی ہو۔
- (٤)....... ایک قوم کو دعوت دے گا وہ اسے قبول کر لے گی تو پھر آسمان کو حکم دے گا وہ بارش
برسائے گا اور زمین سبزہ اگائے گی۔ پھر وہ ایک اور قوم کے پاس جائے گا تو وہ اس کی دعوت رد کر دے گی تو وہ ان سے واپس لوٹ آئے گا۔ پس وہ قحط زدہ ہو جائیں گے۔
- (٥)....... پھر وہ ایک بنجر زمین کے پاس سے گزرے گا اور اسے کہے گا کہ اپنے خزانے نکال دے تو
زمین کے خزانے اس کے پاس ایسے آئیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سرداروں کے پاس آتی ہیں۔
١٨١
(٦)......دجال کے انہی افعال کے دوران اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم کو بھیجیں گے۔ وہ دمشق کے مشرق میں سفید منارے کے پاس زرد رنگ کے حلے پہنے ہوئے دوفرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ اپنے سر کو جھکائیں گے تو اس سے سفید موتیوں کی طرح قطرے گریں گے اور جب وہ اپنے سر کو اٹھائیں گے تو اس سے سفید موتیوں کی طرح قطرے ٹپکیں گے اور جو کافر بھی ان کی خوشبو سونگھے گا۔ ہلاک ہو جائے گا اور ان کی خوشبو وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔ پس حضرت مسیح علیہ السلام دجال کو طلب کریں گے اور اسے باب لد پر پائیں گے تو اسے قتل کر دیں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے پاس وہ قوم آئے گی جسے اللہ نے دجال سے محفوظ رکھا تھا‘‘
(مسلم شریف ج٢ ص ٤٠١ باب ذکر الدجال)
(٧)......”ہم سے اسماعیل بن ابی اویس...... آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ کے دروازوں پر فرشتے ہوں گے۔ نہ اس میں طاعون جاسکے گا نہ دجال‘‘ (بخاری شریف ج١ پارہ اول حدیث نمبر ١٨٧١) اللہ نے مرزا قادیانی کو کبھی مدینہ جانے کی سعادت نصیب نہیں کی اور قادیان جس کو مرزا قادیانی مدینہ کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں وہاں طاعون نے خاصی تباہی مچائی۔ یہیں سے ان کا کذب ثابت ہو جاتا ہے۔
اس مختصر جائزہ سے ہی انسان کافی اندازہ کر لیتا ہے کہ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے رسول پاک ﷺ کے بعد شکر ہے کہ یہ نہیں کہہ دیا کہ خدا کو بھی معلوم نہیں کہ دجال کیا ہوگا؟ اور اگر مرزا قادیانی یہ بھی کہہ دیتے تو آپ اور میں ان کا کیا کر لیتے؟ ویسے تو ہم مرزا قادیانی کے الہامات پڑھیں تو کئی جگہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو الہام کرنے والے کو اور نہ ہی ملہم کو اندازہ ہے کہ یہ الہامات کیا ہیں یا ان کا مفہوم کیا ہے یا مقصد کیا ہے؟
لیکن آئیں یہ دیکھیں کہ آیا یہ (خود ساختہ) امام الزمان، جن کو بقول ان کے اللہ تعالیٰ ایک لمحہ غلطی پر نہیں رکھتا اور یہ بھی دعویٰ ہے کہ قرآن ان کو خدا نے ہر ذی روح سے زیادہ خود سکھایا ہے۔ دجال کی کیا تعریف کرتے ہیں؟
☆......ایک جگہ لکھتے ہیں: ”دجال معہود عیسائی ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے کہ جب تم دجال کو دیکھو تو سورۃ کہف کی پہلی آیات پڑھو بتلاتا ہے کہ عیسائی ہی دجال ہیں اگر دجال عیسائیوں کے علاوہ ہوتا تو سورۃ فاتحہ میں اس کا بھی ذکر کیا جاتا مگر نصاریٰ کے فتنے سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی گئی ہے۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص ٧٣، خزائن ج١٧ ص ٢١١،٢١٢) پہلی بات تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی جھوٹ کا سہارا لے کر بالواسطہ طور پر عیسائیوں کو آنحضور ﷺ کے حوالے سے دجال قرار دے
١٨٢
رہے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کی یہ تشریح مان لی جائے تو پہلی بات ہے کہ کیا عیسائی رسول اکرم ﷺ کے زمانہ میں نہ تھے۔ کہیں کوئی ایسی حدیث اور قول ہے جس میں حضور ﷺ نے عیسائیوں کو دجال قرار دیا ہو؟ لیکن ”علوم لدنیہ“ سے مزین اور غلطی سے پاک امام الزماں، رسول کریم ﷺ کا نام ناجائز استعمال کرنے کے باوجود اس تشریح پر بھی قائم نہیں رہتے۔ اب پتہ نہیں اپنی تشریح کے بودے پن کا خیال آگیا کہ وہ ناراض نہ ہو جائیں (ممکن ہے کہ اندر خانے حکومت نے ان کو آنکھیں بھی دکھائی ہوں کہ ہم نے تمہیں اپنی مدد اور مقاصد کے لئے کھڑا کیا ہے، نہ کہ امت مسلمہ کے سامنے ہماری پوری قوم کو دجال بناؤ) کہ ہمارا خود کاشتہ پودہ، ہماری پوری قوم ، امت کو دجال قرار دے رہا ہے، اور ہماری بلی ہمیں ہی میاؤں کر رہی ہے۔
- ☆...... مرزا قادیانی نے غالباً اندر خانے ہاتھ جوڑے اور بات بنائی کہ میں یہ نصرانی واعظوں
کے گروہ کو کہہ رہا ہوں۔ یا غالباً یہ کہا ہوگا کہ مجھے پبلک میں اعتبار بھی بٹھانا ہے اور جب تک میں ظاہری طور پر آپ لوگوں کے کم از کم مذہبی حصے کو برا نہیں کہوں گا تو میری بات کون سنے گا۔ بہر حال کیا واقعہ ہوا، کس طرح ہوا، ہم تو مرزا قادیانی کے عمل کی وجہ سے قیاس ہی کر سکتے ہیں۔ خیر اب مرزا قادیانی دجال کی تعریف میں فرماتے ہیں: ”اگر دجال کو نصرانیت کے گمراہ واعظوں سے الگ سمجھا جائے تو ایک محذور لازم آتا ہے“۔ (حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤١) بات یہیں تک ہی نہیں رہتی بلکہ مرزا قادیانی کا سفر دجل جاری ہے۔
- ☆...... اس لئے اب اس پوزیشن سے پھسلتے ہوئے پوری عیسائی قوم کی بجائے مرزا قادیانی
پادریوں پر بریک لگاتے ہیں کیونکہ براہ راست پادریوں کو کچھ کہنے لکھنے پر انگریز حکام بظاہر کچھ نہیں کہتے تھے اور مرزا قادیانی کو بھی باعزت پسپائی کی ضرورت تھی۔ اس لئے اب دجال کی تعریف یوں کر دی گئی: ”دجال کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں جو شخص دھوکہ دینے والا ہو اس کو دجال کہتے ہیں۔ سو ظاہر ہے کہ پادری لوگ اس کام میں سب سے بڑھ کر ہیں...... پس اس وجہ سے وہ دجال اکبر ہیں کیونکہ لکھا ہے کہ دجال گرجا سے نکلے گا اور جس قوم میں سے ہوگا وہ قوم تمام دنیا میں سلطنت کرے گی“۔ (تمہ حقیقت الوحی ص ٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٦ حاشیہ) یعنی دجل اور چاپلوسی دونوں ہی ساتھ ساتھ چلانے کی کوشش ہے۔ عیسائیوں کو ساری دنیا کا حاکم کہہ کر ساتھ ساتھ حکام کو خوش رکھنے کا عمل بھی جاری ہے۔ لیکن جیسا کہ مرزا قادیانی کا طریق ہے اس کا کچھ نہیں بتاتے کہ کہاں لکھا ہے کہ دجال گرجا سے نکلے گا؟ اس کے علاوہ دجال کو ایک ہی سانس میں واحد کی طرح پیش کر رہے ہیں اور دوسری طرف اس کو جمع پر منطبق کر رہے ہیں۔ مزید وضاحت
١٨٣
کے لئے ”دجال گرجا سے نکلے گا“ اور ”پادری لوگ دجال اکبر ہیں ۔“
- ٭....... اور دوسری طرف عملی طور پر پادریوں کو دجال کہنے کا عمل جاری رکھتے ہوئے لکھتے
ہیں: ”خدا نے اپنی پاک کلام میں پادریوں کو سب سے بڑا دجال قرار دیا ہے تو نہایت بے ایمانی ہو گی کہ خدا کے کلام کی مخالفت کر کے کسی اور کو بڑا دجال ٹھہرائے“۔ (انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٤٧)....... خدا تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن کریم میں کہاں لکھا ہے؟ اس کا کوئی پتہ نہیں بتاتے تاکہ دوسرے بھی اس پر نظر ڈال کر حق الیقین تک پہنچ جائیں۔ ہاں جیسا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ان کے وحی اور الہامات قرآن سے کم نہیں۔ اس لئے ان کے اپنے الہامات میں کہیں ایسا ذکر ہو تو اور بات ہے؟
- ٭....... مرزا قادیانی کے خیال کے مطابق جب خدا کے کلام میں کوئی واضح مثال نہیں مل سکی
مرزا قادیانی نے اپنی تھیوری کیلئے تو سوچا کہ چلو حدیث کو بھی ملوث کرو اور بغیر کسی ٹھوس حوالے کے لکھتے ہیں ( قادیانی حضرات یہ حوالہ بتائیں ): ”صحیح بخاری پادریوں کو دجال ٹھہراتی ہے“۔ (انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پھر کہیں جنوں اور غصہ کی لہر اٹھی اور اپنی فطرت کے مطابق بے قابو ہو گئے۔ لیکن اتنے بھی بے قابو نہیں ہوئے۔ پتہ تھا کہ روزگار کا معاملہ ہے اور جہاں انگریزوں کا معاملہ ہوتا تھا تو ہمیشہ کنٹرولڈ بے قابو ہوتے تھے۔ خیر اسی بے قابو پن میں عیسائیت کو گرجا کا بھوت بنا دیا۔ پڑھئے اور امام الزماں کے علم کی داد دیجئے، لکھتے ہیں: ”اس میں کیا شک ہے کہ دجال جس سے مراد عیسائیت کا بھوت ہے ۔ ایک مدت تک گرجا میں قید رہا اور اپنے دجالی تصرفات سے رکا رہا مگر اب آخری زمانہ میں اس نے اس قید سے پوری رہائی پائی ہے اور اس کی مشکیں کھولی گئی ہیں“۔ (انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٤٨) اگلے حوالہ میں بھوت سے اژدہا بن جاتا ہے اور پادریوں کے ساتھ یورپین فلاسفر بھی دجال ہیں۔
- ٭....... ”اس تمام تقریر سے ہماری غرض یہ ہے کہ دراصل یہی لوگ دجال ہیں جن کو پادری یا
یورپین فلاسفر کہا جاتا ہے۔ یہ پادری اور یورپین فلاسفر دجال معہود کے دو جبڑے ہیں جن سے وہ ایک اژدہا کی طرح لوگوں کے ایمان کھاتا جاتا ہے۔ اول تو احمق اور نادان لوگ پادریوں کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں اور اگر کوئی شخص ان کے ذلیل اور جھوٹے خیالات سے کراہت کر کے ان کے پنجے سے بچا رہتا ہے تو وہ یورپین فلاسفروں کے پنجے میں ضرور آ جاتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ عوام کو پادریوں کے دجل کا زیادہ خطرہ ہے اور خواص کو فلاسفروں کے دجل کا زیادہ خطرہ۔ اب یقیناً سمجھو کہ یہی دجال ہے جس کی ہمارے نبی ﷺ نے خبر دی تھی کہ وہ آخر زمانہ میں ظاہر ہو
١٨٤
گا۔“ (کتاب البریہ ص ٢١٨، خزائن ج١٣ ص ٢٥٣،٢٥٢، حاشیہ) یہاں مرزا قادیانی کے نائبین اور ماننے والوں سے میرا ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ مرزا قادیانی کی تمام نسل مرزا ناصر (مرزا قادیانی کے پوتے اور جماعت کے تیسرے خلیفہ) سے لے کر اس وقت کی موجودہ نسل تک سب انہی دجالوں (یورپین فلاسفروں) کے پاس پڑھنے آ رہے ہیں۔ بتائیں گے کہ ان میں سے کتنے اور کون کون دجال کے پنجے میں آیا ہے؟ کیونکہ مرزا قادیانی فرما رہے ہیں کہ اگر کوئی پادریوں کے پنجہ سے بچ بھی جاتا ہے تو وہ یورپین فلاسفروں کے پنجے میں آ جاتا ہے۔ وہ آپ کے نبی ہیں اور نبی کی بات غلط نہیں ہو سکتی اور فلاسفروں کے پنجہ میں نہیں آئے تو بات غلط ہو گئی اور اگر مرزا قادیانی کی کہی ہوئی بات غلط ہو گئی تو وہ نبی نہیں تھے اور اگر فلاسفروں کے پنجے میں پھنس گئے ہیں تو کیا قادیانی جماعت دجال کے شاگردوں، مرزا ناصر، مرزا طاہر اور اب مرزا مسرور کو خلیفہ بنا کر بالواسطہ طور پر دجال کو ہی تو نہیں اپنے اوپر مسلط کر رہی ہے؟
- ☆...... لیکن لگتا ہے کہ حکام اور پادریوں کو مرزا قادیانی کی ان کو بھوت بنانے کی جسارت پسند
نہیں آئی اور وہ غالباً ان کی مشکیں کسنے پر تیار ہو گئے۔ مرزا قادیانی نے فوراً کان پکڑے اور کہنے لگے جناب! آپ پادری ہمارے حاکم اور آپ کا مذہب شاہی مذہب ہے۔ اس بار معاف کر دیں۔ آئندہ کبھی اس طرف رخ نہیں کروں گا۔ فرماتے ہیں: ”پادری صاحبوں کا مذہب ایک شاہی مذہب ہے لہٰذا ہمارے ادب کا یہ تقاضا ہونا چاہئے کہ ہم اپنی مذہبی آزادی کو ایک طفیلی آزادی تصور کریں اور اس طرح پر ایک حد تک پادری صاحبوں کے احسان کے بھی قائل رہیں۔ گورنمنٹ اگر ان کو باز پرس کرے تو ہم کس قدر باز پرس کے لائق ٹھہریں گے۔ اگر سبز درخت کاٹے جائیں تو پھر خشک کی کیا بنیاد ہے۔ کیا ایسی صورت میں ہمارے ہاتھ میں قلم رہ سکے گی؟ سو ہوشیار ہو کر طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو“۔ (البلاغ ص ٢٢، خزائن ج ١٣ ص ٣٩٢) یہ اس مسیح کا کہنا ہے بلکہ نصیحت عامہ ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ کسر صلیب اور قتل خنزیر کے لئے آیا ہے اور اگر راہ خدا کوئی بھی تکلیف آئے تو بخوشی قبول کرے گا اور موت بھی اس کو خدا کی راہ سے نہ ہٹا سکے گی؟ اللہ رحم کرے، آمین!
- ☆...... لکھتے ہیں: ”ہم پہلے قرآن سے بھی ثابت کر چکے ہیں کہ دجال ایک گروہ کا نام ہے نہ
یہ کوئی ایک ...... دجال ایک جماعت ہے نہ ایک انسان۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٧٣، خزائن ج ١٧ ص ٢١٢،٢١١)
- ☆...... لیکن لوگ مطمئن نہیں ہوتے اور دجال کی وضاحت مانگتے ہیں۔ اب چونکہ کبھی
١٨٥
عیسائیوں کو، کبھی پادریوں کو دجال قرار دے چکے تھے اور اب حکام کے ڈر سے دوبارہ ایسی جرات نہیں کر سکتے تھے کہ دوبارہ براہ راست ان کو دجال کہیں اور دوسری طرف مرید بھی ہاتھ سے جانے کا ڈر تھا اور مرزا قادیانی تاویل سازی کے فن میں استادوں کے استاد تو تھے ہی۔ ایک نئی بات پیش کردی، لکھتے ہیں: ”ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد باقبال قومیں ہوں اور گدھا ان کا یہی ریل ہو“۔ (ازالہ اوہام حصہ اول ص ١٤٦، خزائن ج ٣ ص ١٧٤) کیا نکتہ پیدا کیا ہے ”ہمارے نزدیک ممکن ہے“، یعنی سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے؟ تاکہ کل کو کوئی ایسی بات سامنے آئے جو اس رائے کے مطابق نہ ہو تو کہہ سکیں کہ یہ تو امکان تھا صرف، اور اگر بات چل جائے تو کہہ دیں کہ دیکھا مرزا قادیانی کی امکانی بات بھی خدا نے پوری کر دی اور یہ نبوت کا ثبوت ہے!
☆....... لگتا ہے کہ یہ تشبیہ بھی مرزا قادیانی کے آقاؤں کو پسند نہیں آئی۔ انہوں نے مرزا قادیانی کو کہا ہوگا کہ کیا تم ہمیں دجال سے مشابہت دینا چھوڑ نہیں سکتے۔ اب مرزا قادیانی کی جان پر بن آئی کہ دعویٰ مسیح موعود کا اور دجال کے ذکر کے بغیر بات آگے چل ہی نہیں سکتی۔ اب ہوتا کیا ہے غالباً ایک طرف دباؤ تھا کہ خبردار ہمارا نام لیا۔ دوسری طرف بطور مسیح لوگ دجال کا بھی پوچھتے ہیں۔ پادریوں اور ان کے واسطے سے گورنمنٹ کا بھی ڈر۔ کیا کریں کہ اگر دجال کو حدیث کی تشریح کے مطابق مان لیں تو جھوٹے بنتے ہیں اور اگر اپنی خود ساختہ تشریح پیش کریں تو گورنمنٹ کہے گی کہ تم ہمیں یا کم از کم ہمارے مذہب کے ماننے والوں اور پادریوں کے مقابل پر لڑنے والے مسیح بن رہے ہو۔ اس کا حل یہ نکالا کہ: ”وہ وحشی نادان ہیں نہ مسلمان اور ہم اگر کسی کتاب میں پادریوں کا نام دجال رکھا ہے یا اپنے تئیں مسیح موعود قرار دیا ہے تو اس کے وہ معنی مراد نہیں جو بعض ہمارے مخالف مسلمان سمجھتے ہیں۔ ہم کسی ایسے دجال کے قائل نہیں جو اپنا کفر بڑھانے کے لئے خون ریزیاں کرتا پھرے“ (مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٤٠) یہ عبارت خود ہی سب کچھ کہہ رہی ہے۔ کیا کفر خون ریزیوں کے بغیر آگے بڑھ سکتا ہے؟ لیکن مرزا قادیانی اسلامی عقیدہ کو اور اس حدیث کو جھٹلاتے ہوئے خود بھی مطمئن نہیں تھے جس میں کہ دجال اپنی فوجوں کے ساتھ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کو گھیرے گا اور اس کے بعد وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہوگا۔ ایک اور جواز مل گیا کہ ایک حدیث مبارکہ میں تھا کہ دجال مشرق سے ظاہر ہوگا اسی کو پیش کر دو۔ کیونکہ بقول مرزا قادیانی کے وہ صرف وہی حدیثیں پیش کرتے تھے جو ان کی وحی کے معارض نہیں ہوتی تھیں۔ باقی کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے تھے۔
☆....... مرزا قادیانی نے مغرب سے آنے والے پادریوں کو دجال کہا تھا۔ کبھی پورے گروہ کو
١٨٦
ہی دجال کہا۔ اب بغیر کسی معذرت کے مرز لکھتے ہیں: ”اس لئے ماننا پڑا کہ مسیح موعود او گے اور وہ ملک ہند ہے“ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٧، ح گئے کہ وہ خود مسیح اور مہدی کو ایک ہی شخصیت ہیں۔ اس طرح اگر ہم ان کی یہ بات مان لیں دونوں شخصیتیں ایک ہیں غلط ہو جاتا ہے اور اور دجال کے بارہ میں کہ تین شخصیتیں ہیں غ یا استدلال، مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہو ☆....... انہوں نے سوچا کہ دجال کی آ تحقیق کا نتیجہ کیا نکلتا ہے پڑھئے اور سر دھنئے دجال ابلیس کے ناموں میں سے ایک نام دراصل شیطان کا اسم اعظم ہے جو بمقابل ا حقیقی طور پر دجال یہود کو کہہ سکتے ہیں نہ نص کے عاجز بندے ہیں“ (تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص اب پادری دجال نہیں رہے تو کیا شیطان آنے والی چیز نہیں، اس لئے اس طرح دجا شیطان کی لاش کہاں ہے؟ غالباً جب اس لے آئے اور جو پہلے حوالے پڑھ کر آئے کو، فلاسفروں کو دجال کہا تھا وہ سب اس ت اسی طرح جھوٹے مدعی نبوت کے اپنے ہا ☆....... سو مرزا قادیانی اب دجال عقائد اور تشریحات کے برخلاف ایک ن کہ دجال معہود آنحضرت ﷺ کے زمانہ
☆....... اب سوال آیا کہ وہ کون س احادیث پر بہتان باندھتے ہوئے مرزا
ہی دجال کہا۔ اب بغیر کسی معذرت کے مرزا قادیانی نے دجال کے آنے کی سمت ہی بدل ڈالی۔ لکھتے ہیں: ”اس لئے ماننا پڑا کہ مسیح موعود اور مہدی اور دجال تینوں مشرق میں سے ہی ظاہر ہوں گے اور وہ ملک ہند ہے“ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٧، خزائن ج ١٧ ص ١٧٧) لیکن یہ استدلال دیتے وقت بھول گئے کہ وہ خود مسیح اور مہدی کو ایک ہی شخصیت قرار دے چکے ہیں اور دونوں القاب استعمال کر رہے ہیں۔ اس طرح اگر ہم ان کی یہ بات مان لیں کہ یہ تین شخصیتیں ہیں تو پھر مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ دونوں شخصیتیں ایک ہیں غلط ہو جاتا ہے اور اگر ان کا دعویٰ مانا جائے تو ان کا استدلال مسیح، مہدی اور دجال کے بارہ میں کہ تین شخصیتیں ہیں غلط ہو جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں چاہے دعویٰ غلط ہو یا استدلال، مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔
- ٭....... انہوں نے سوچا کہ دجال کی آمد کا قصہ ہی پاک کرو، ایک نئی تحقیق کا عندیہ دیا اور اس
تحقیق کا نتیجہ کیا نکلتا ہے پڑھئے اور سر دھنئے: ”مسیح الدجال جس کا ترجمہ ہے کہ خلیفہ ابلیس کیونکہ دجال ابلیس کے ناموں میں سے ایک نام ہے جو اس کا اسم اعظم ہے۔۔۔۔۔ یہی ہمارا مذہب ہے کہ دراصل شیطان کا اسم اعظم ہے جو بمقابل اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم ہے۔ اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ نہ حقیقی طور پر دجال یہود کو کہہ سکتے ہیں نہ نصاریٰ کے پادریوں کو اور نہ کسی اور قوم کو، کیونکہ یہ سب خدا کے عاجز بندے ہیں“ (تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ١٠٣، ١٠٤، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٨، ٢٦٩) دیکھیں کس طرح اب پادری دجال نہیں رہے، تو کیا شیطان رسول پاک ﷺ کے زمانہ میں تھا؟ اور چونکہ شیطان نظر آنے والی چیز نہیں، اس لئے اس طرح دجال کو ختم کرنے کا ٹنٹا ہی مٹا دیا کیونکہ کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ شیطان کی لاش کہاں ہے؟ غالباً جب اس قسم کے اعتراض پیدا ہوئے مرزا قادیانی ایک نئی تھیوری لے آئے اور جو پہلے حوالے پڑھ کر آئے ہیں جن کو قرآن کی رو سے پادریوں، نصاریٰ کو، یہودیوں کو، فلاسفروں کو دجال کہا تھا وہ سب اس حوالے سے مرزا قادیانی نے خود ہی خرد برد کر دیا۔ خدا تعالیٰ اسی طرح جھوٹے مدعی نبوت کے اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی باتوں کو غلط قرار دلوا دیتا ہے۔
- ٭....... سو مرزا قادیانی اب دجال کے متعلق تمام احادیث اور عالم اسلام کے چودہ سو سالہ
عقائد اور تصریحات کے برخلاف ایک نئی بات پیش کرتے ہیں: ”انہی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ دجال معہود آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہی ظاہر ہو گیا تھا“
(ازالۃ اوہام حصہ اول ص ٢٢٤، خزائن ص ٢١٢ ج ٣)
- ٭....... اب سوال آیا کہ وہ کون سا دجال تھا جو رسول کریم ﷺ کے دور میں ظاہر ہو گیا تھا، تو
احادیث پر بہتان باندھتے ہوئے مرزا قادیانی دنیا کو بتاتے ہیں کہ: ”ابن صیاد کا دجال معہود ہونا
١٨٧
ایسے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو گیا کہ اس میں کسی طور کے شک و شبہ کو راہ نہیں ۔“
(ازالۃ اوہام حصہ اول ص ٢٣٧، خزائن ج ٣ ص ٢١٩)
یہ کس حدیث سے یا اسلامی تاریخ سے یا کسی صحابی کی روایت سے ثابت ہے کوئی مصدقہ حوالہ؟ ابن صیاد ایک بچہ تھا جس کی ایک آنکھ نہیں تھی۔ دوسری باہر کی طرف نکلی ہوئی تھی اور نہایت ہی تیز اور کریہہ آواز میں چیختا تھا کہ کانوں کے پردوں پر زور پڑتا تھا۔ صحابہ کرام نے خیال کیا کہ شاید یہ دجال ہو اور رسول پاک ﷺ تک بات پہنچائی۔ اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں اس کو قتل کر دیتا ہوں ۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا اے عمرؓ! اگر یہ دجال ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکتے کیونکہ اس کو حضرت ابن مریم نے قتل کرنا ہے اور اگر یہ دجال نہیں تو کیوں بے گناہ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتے ہو؟ اس پر حضرت عمرؓ اپنے ارادہ سے باز آئے اور ابن صیاد مسلمان ہو گیا اور کچھ عرصہ کے بعد غالباً طبعی موت مر گیا۔ یہ ابن صیاد کی مختصر روداد ہے۔
قارئین تفصیل احادیث کی کتابوں میں پڑھ سکتے ہیں۔ اب دیکھیں مرزا قادیانی کی دیانتداری کہ احادیث اور تاریخ کچھ اور کہہ رہی ہے اور یہ صاحب احادیث کا نام لے کر غلط بیانی کر کے اپنے مریدوں کو مطمئن یا الجھانے کی کوشش کرتے رہے۔
- ☆...... اور مرزا قادیانی نے اپنے اصحاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ”مجھے تعجب ہے کہ کیوں
بے چارے ابن صیاد پر یہ ظلم کیا جاتا ہے کہ خواہ مخواہ اسے دجال بنایا جاتا ہے حالانکہ ساری عمر اس سے کوئی شرارت ظاہر نہیں ہوئی۔ بلکہ اس نے مسلمان ہو کر اپنی جان دی اور شہید ہوا۔ اس نے رسول کریم ﷺ کی تصدیق نبی الامین کہہ کر کی اور اس کی ماں بھی معلوم ہوتا ہے مسلمان تھی۔ یہ حضرت ابن صیاد رضی اللہ عنہ ہیں۔“ (ملفوظات ج ٢ ص ٤٨١) اب آپ خود فیصلہ کرلیں کہ مرزا قادیانی کس طرح، کسی قسم کی شرم و حیاء محسوس کئے بغیر پینترے بدلتے تھے۔ جس ابن صیاد کو دجال قرار دیا اب اس کو رضی اللہ عنہ قرار دے رہے ہیں۔ شرم مگر تم کو نہیں آتی؟
- ☆...... لیکن جب علماء کرام کی طرف سے اس کی تردید آئی کہ احادیث میں نہیں اور نہ تاریخ
میں تو مرزا قادیانی ، خدا کے سکھائے ہوئے علم قرآن کے مطابق کی ہوئی سب تصریحات بھول گئے اور پھر مرزا قادیانی نے ایک اور پینترا بدلا کہ: ”اصل بات یہ ہے کہ دجال بھی مسیح موعود کی طرح ایک موعود ہے۔ اس کا نام المسیح الدجال ہے۔ جیسے مریم میں نفخ روح سے ایک مسیح پیدا ہوا۔ اسی طرح اس کے بالمقابل ایک خبیث وجود کا ہونا ضروری ہے جس میں روح القدس کی بجائے خبیث روح کا نفخ ہو۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے بعض عورتوں میں رجا کی بیماری ہوتی ہے اور وہ ١٨٨
خیالی طور پر اس کو حمل ہی سمجھتی ہیں۔ یہاں تک کہ حاملہ عورتوں کی طرح سارے لوازم ان کو پیش آتے ہیں اور چوتھے مہینے حرکت بھی محسوس ہوتی ہے۔ مگر آخر کچھ نہیں نکلتا۔ اسی طرح پر مسیح الدجال کے متعلق خیالات کا ایک بت بنایا گیا ہے اور قوت واہمہ نے اس کا ایک وجود خلق کر لیا جو آخر کار ان لوگوں کے اعتقاد میں ایک خارجی وجود کی صورت میں نظر آیا۔ مسیح الدجال کی حقیقت تو یہ ہے۔“
(ملفوظات ج ٢ ص ٣٨٢)
اگر ہم مرزا قادیانی کی یہ تشریح مان لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ جس دجال کا ذکر احادیث میں فرما گئے ہیں اور بتایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم جس دجال کو قتل کریں گے وہ سب سرور کائنات، شافعِ دو جہاں، فخر الرسل، امام الانبیاء، محسن انسانیت، رحمت اللعالمین آنحضرت ﷺ کی قوت واہمہ کا تخیل کردہ وجود ہے؟ دوسرے مرزا قادیانی کے اپنے دجل کا (مرزا سے مریم بننے، روح نفخ ہونے، حاملہ ہونے اور خود ہی ماں سے بچہ بن جانے وغیرہ کا دلچسپ اور لاینحل) قصہ ہی ہضم نہیں ہو پارہا تھا کہ اب کسی اور دجل کا قصہ پیش کردیا۔ اور ظلم کی انتہا یہ کہ اس بے سروپا تخیل کی پرواز میں سرور کائنات، شافعِ دو جہاں، فخر الرسل، امام الانبیاء، محسن انسانیت، رحمت اللعالمین آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو ملوث کر رہا ہے یہ شخص واہ مرزا قادیانی واہ۔
- ☆ ...... اگر دجال کا خیال دجل ہے اور قوت واہمہ کا ہی خلق ہے تو مرزا قادیانی ہندوستان میں
پیدا ہونے والے کس دجال کا ذکر کر رہے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”تعجب کا مقام ہے کہ بموجب احادیث صحیحہ کے دجال تو ہندوستان میں پیدا ہوا اور مسیح دمشق کے میناروں پر جا اترے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢١٨، خزائن ج ٥ ص ٢١٨) کون سی حدیث میں لکھا ہے کہ دجال ہندوستان میں پیدا ہوگا؟ دوسرے وہ اپنے دجل والی بات کو کس کھاتے میں ڈالتے ہو؟
- ☆ ...... مرزا قادیانی نے قرآن کریم کی آیات میں سے الناس سے مراد دجال معہود لیا۔ مرزا
قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔ قرآن شریف کی یہ آیت ہے کنتم خیر امۃ اخرجت للناس ۔ سورۃ آل عمران۔ ترجمہ: تم بہترین امت ہو تا کہ تم تمام دجالوں اور دجال معہود کا فتنہ فرو کر کے اور ان کے شر کو رفع کر کے ...... (تحفہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ١٢٠)
اگلی ہی سطر میں اپنی کرشمہ ساز تاویلات کی چمتکار دکھلاتے ہوئے بہترین امت کا خطاب واپس لے کر ان کو دجال بنا دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ”واضح رہے کہ قرآن شریف میں الناس کا لفظ بمعنی دجال معہود بھی آتا ہے اور جس جگہ ان معنوں کو قرینہ قویہ متعین کرے تو پھر اور
١٨٥
معنے کرنا معصیت ہے۔ چنانچہ قرآن شریف کے ایک اور مقام میں الناس کے معنی دجال ہی لکھا ہے۔ اور وہ یہ ہے۔ خلق السموات والارض اکبر من خلق الناس۔ (تحفہ گولڑویہ ص٢١، خزائن ج١٧ص١٣٠) میں ابھی اس آیت کے معنی جو مرزا قادیانی کے بیٹے ، جماعت کے دوسرے خلیفہ اور مصلح موعود ہونے کے دعویدار، مرزا بشیر الدین محمود نے کئے ہیں۔ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں: ”آسمانوں اور زمین کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے بڑا کام ہے، مگر انسان نہیں جانتے۔“ (تفسیر صغیر، شائع کردہ لندن، یوکے، ١٩٩٠ء۔ اور قادیانی جماعت کے چوتھے خلیفہ اور مرزا قادیانی کے پوتے، مرزا طاہر احمد نے اپنے ترجمہ قرآن شائع کردہ، جولائی ٢٠٠٠ء، میں یہ ہی ترجمہ کیا ہے۔ نیز قادیانی جماعت کے لاہوری گروپ کے بانی وامیر نے بھی یہی معنی اپنے ترجمہ ”بیان القرآن“ میں کئے ہیں۔ بات یہاں ہی نہیں رکتی بلکہ مزید فرماتے ہیں: ”آخری سورۃ الناس کی آخری آیت کے لفظ الناس سے بھی دجال معہود مراد لیا ہے۔ (ایام الصلح ص٦٢، خزائن ج١٤ص٣٩٦) یعنی اب اس کا مطلب یہ ہے کہ ”الناس“ میں ڈھونڈتے رہو کہ دجال کون ہے اور کہاں ہے؟ مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ ان کو قرآن کا علم ہر ذی روح سے بڑھ کر دیا گیا ہے۔ جب ہم مرزا قادیانی کی اولاد اور نائبین کو دیکھتے ہیں تو ہمیں وہ بھی مرزا قادیانی کے ترجمہ سے اختلاف کرتے ہوئے اس دعویٰ سے متفق نظر نہیں آتے۔
- ☆........ اور اس تاثر کو پکا کرنے کے لئے قرآن پاک کی ناجائز آڑ لے لی، جس قرآن کی رو
سے عیسائیوں کو دجال قرار دے رہے تھے اسی قرآن کی رو سے اب شیطان کو دجال قرار دے رہے ہیں۔ پڑھئے اور اس دجل پر بھی استغفار پڑھئے، لکھتے ہیں: ”قرآن شریف اس شخص کو جس کا نام حدیثوں میں دجال ہے، شیطان قرار دیتا ہے جیسا کہ وہ شیطان کی طرف سے حکایت کر کے فرماتا ہے قال انظرنی الی یوم یبعثون قال انک من المنظرین، سو دجال جس کا حدیثوں میں ذکر ہے وہ شیطان ہی ہے جو آخر زمانہ میں قتل کیا جائے گا۔“ (حقیقت الوحی ص٤٨، خزائن ج٢٢ص٤٩) قرآن نعوذ باللہ مرزا قادیانی کا کلام نہیں کہ جس میں متضاد باتیں ہوں۔ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بار وہ عیسائیوں کو دجال قرار دے۔ دوسری مرتبہ غیر مرئی، شیطان کو دجال قرار دے، تیسری بار گرجا کا بھوت قرار دے اور چوتھی بار شیطان کا اسم اعظم قرار دے۔ اور مرزا قادیانی نے قرآن کے حوالہ سے جو بھی معنی دجال کے کئے ہیں۔ ان میں سے مجھے یقین ہے کہ ایک بھی قرآن سے نہیں بلکہ اپنے مراقی دماغ سے لئے ہیں۔
١٩٠
مرزا قادیانی ہی دجال ہے
- ☆....... اور مرزا قادیانی ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ”دجال کے لئے ضروری ہے کہ کسی نبی کا تابع
ہو کر پھر سچ کے ساتھ باطل ملا دے، اور چونکہ آئندہ کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے پہلے نبی کے تابع جب دجل کا کام کریں گے تو وہی دجال کہلائیں گے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٤١)
اب جب ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی، دجال کے معنوں میں اپنی تشریحات کو ہر بار ایک نیا رنگ دے رہے ہیں اور ہر بار پہلے سے مختلف و متضاد معنی کر رہے ہیں جس کو ہم بلا جھجک مرزا قادیانی کے بھی مطابق دجال قرار دے سکتے ہیں۔ اب جب ہم مرزا قادیانی کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو مرزا قادیانی نے پہلے رسول مقبول ﷺ کی پیروی کی اور اسلام کے تیرہ سو سال سے تسلیم شدہ عقائد کا پرچار کیا۔ اس کے بعد مجددیت کا دعویٰ کرتے ہوئے ان تعلیمات میں اپنی باطل تاویلات کو ملانا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ مجددیت سے چھلانگ لگا کر مسیح موعود بنے اور پھر مہدی کی احادیث کا انکار کرتے ہوئے مہدی کا دعویٰ کیا اور پھر جو احادیث مرزا قادیانی کے دعوؤں کو جھٹلاتی تھیں ان کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کا عمل کرتے ہوئے نبوت کے مدعی ہوئے اور پھر اس سے آگے کے جہانوں کی تلاش میں سرگرداں ہو گئے۔ ان سب باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے میں بلا جھجک کہہ سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے دجال کی جو یہ تعریف کی ہے کہ: ”نبی برحق کا تابع ہو کر پھر سچ میں باطل ملا دے۔“ اس تعریف کے سب سے زیادہ حق دار اور اس پر بلاشبہ صحیح عمل کرنے والے مرزا قادیانی ہیں۔ وہ اوپر دیئے گئے حوالہ میں کسی نبی کے آنے کا انکار کیا اور ان کے مخالف و مرید یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کا ہے۔ اس لئے ہم ان کو بلا شبہ دجال معہود تو نہیں کہتے لیکن اس کا پیشرو یا اس کا چھوٹا بھائی کہہ سکتے ہیں۔
- ☆....... مرزا قادیانی عیسائی مذہب پر تنقید کے دوران ایک جگہ دجال کی تعریف میں لکھتے ہیں:
”اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دجال نبوت کا دعویٰ کرے گا اور نیز خدائی کا دعویٰ بھی اس سے ظہور میں آئے گا۔“ (شہادۃ القرآن ص ٢٠، خزائن ج ٦ ص ٣١٦) مرزا قادیانی نے جو دلائل اس کے بارہ میں دیئے ہیں۔ ان دلائل میں پادریوں کی جگہ مرزا قادیانی کا نام رکھ دیا جائے اور بائبل کی جگہ مرزا قادیانی کی تصنیفات رکھ دی جائیں تو وہ تمام دلائل مرزا قادیانی کو ہی دجال بناتے ہیں۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے نہ صرف دعویٰ نبوت کیا۔ بلکہ خدائی کا دعویٰ بھی کیا۔
مرزا قادیانی ایک لمبا عرصہ دعویٰ نبوت کا شدومد سے انکار کرتے رہے۔ مجدد کی حیثیت سے فرماتے ہیں: ”خدا وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی رسول نہیں بھیجا
١٩١
جائے گا ۔" (ازالہ اوہام، حصہ دوم ص ٥٨٦ ، خزائن ج ٣ ص ٤١٦) اور دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔“ (آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٤ ص ٣١٣) اور اس کے بعد بطور مسیح موعود اور حتمی دعویٰ نبوت سے ٢۔٣ سال قبل ایک اشتہار میں فرماتے ہیں: ”ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧، مورخہ ٢٣ جنوری ١٨٩٧ء)
اب اسی شدومد سے دعویٰ نبوت کر رہے ہیں۔ پہلا دعویٰ جو میں دے رہا ہوں اس میں ایک بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی ١٨٩٧ء تک مدعی نبوت پر لعنت بھیج رہے ہیں۔ مگر جب نبی اور رسول کا دعویٰ کرتے ہیں تو اپنے الہام مندرجہ براہین احمدیہ جو کہ ١٨٨٢ء میں چھپی ہے، کا حوالہ دیتے ہیں۔ کیا یہ دجل نہیں ہے؟ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔...... اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس سال ہوئے، یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں۔
(دیکھو ص ٤٩٨، براہین احمدیہ)
اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦) اس کے بعد دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”ہاں یہ سچ ہے کہ آنے والے مسیح کو نبی بھی کہا گیا ہے اور امتی بھی، اس لئے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں بھی اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔“
(ازالہ اوہام حصہ ٢ ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)
اس حوالہ سے کیا ظاہر ہوتا ہے کہ دس سال تک ان کو اپنے نبی ہونے کا پتہ نہیں تھا۔ اب پتہ چلا ہے تو اقرار کر رہے ہیں۔ لیکن پانچ سال بعد پھر پتہ چلتا ہے کہ ان کو غلطی لگی تھی۔ اس لئے پانچ سال کے بعد مدعی نبوت پر لعنت بھیج دی۔ لیکن پھر ١٩٠١ء میں خیال آیا کہ یہ تو سب کچھ غلط تھا۔ میں نبی اور رسول ہوں۔ اب لوگوں کو الجھاؤ میں ڈالنے کے لئے ظلی، بروزی، عشق رسول کی وجہ سے نبوت کا دعویٰ ہے اور کہا جا رہا تھا کہ یہ شرعی نبوت نہیں اور مرزا قادیانی کوئی نئی شریعت نہیں لائے اس وجہ سے خاتم النبین کے مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن ابھی جو حوالہ پیش کروں گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا دعویٰ ایسا نبی ہونے کا تھا جو نئی شریعت لایا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کیلئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
١٩٢
اب یہ طریقے اور چالبازیاں کہ کبھی اقرار نبوت، کبھی انکار نبوت وغیرہ وغیرہ کو ہم دیکھیں تو کیا مرزا قادیانی اپنے ہی قول کے مصداق ثابت نہیں ہوتے کہ ”دجال نبوت کا دعویٰ کرے گا۔“
٭ ...... پھر مرزا قادیانی دجال کے بارے میں لکھتے ہیں: ”اور نیز خدائی کا دعویٰ بھی اس سے ظہور میں آئے گا۔“ (شہادۃ القرآن ص ٢٠، خزائن ج ٦ ص ٣١٦) نبوت کا دعویٰ تو ہم نے اوپر ثابت کر دیا۔ کیا مرزا قادیانی نے کبھی خدائی کا دعویٰ کیا؟ بالکل کیا! مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ نبی کا کشف اور خواب ایک حقیقت ہوتا ہے اور دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ”الہام اور کشف کی عزت اور پایہ عالیہ قرآن شریف سے ثابت ہے۔“
(ازالۃ اوہام حصہ اول ص ١٥٣، خزائن ج ٣ ص ١٧٨)
اس کے بعد ہم مرزا قادیانی کا دعویٰ خدائی مختصر لکھتے ہیں۔ تفصیل جاننے کے لئے ان کی کتاب دیکھ لیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔ اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ اس کی قوت مجھ میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ میں اس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضاء میرے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضاء ہیں۔ اور اس حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب وتفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہوگئی اور میری زبان پر جاری ہوا۔ اردت ان استخلف فخلقت آدم، انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم ۔ (کتاب البریہ ص ٧٨، ٧٩، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣ تا ١٠٥)
اب کیا اس کے بعد مرزا قادیانی کے خدائی کے دعویٰ میں کوئی شک رہ جاتا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے دجال کی جو نشانی لکھی تھی: ”وہ نیز خدائی کا بھی دعویدار ہوگا۔“ اپنے ہاتھوں سے اس پر عمل کر کے اس کی تصدیق کر دی کہ وہ خود ہی دجال بھی ہو سکتے ہیں۔
٭ ...... مرزا قادیانی نے دجال کی ایک اور بڑی نشانی لکھی ہے۔ لغت عرب کی رو سے دجال کی مختلف نشانیاں بیان کرتے ہوئے ایک علامت یہ بھی لکھتے ہیں: ”لغت عرب کی رو سے دجال اس گروہ کو کہتے ہیں اور وہ گروہ جو طرح طرح کی کلوں اور صنعتوں اور خدائی کاموں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔“
(کتاب البریہ ص ٢٢٦، خزائن ج ١٣ ص ٢٤٤ حاشیہ)
١٩٣
لو بھئی قادیانی انجینئرو، صنعتکارو، کاریگرو، جو کلوں اور صنعتوں کے کام میں پڑے ہوئے ہو اور سائنسدانو! جو قدرت کے رازوں کی گتھیاں سلجھانا چاہتے ہو۔ تمہاری عاقبت مسیح کو ماننے کے باوجود ضائع ہو گئی۔ کیونکہ تمہارے کام، تمہارے ہی مسیح کے مطابق دجال والے ہیں۔ اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ قادیانی جماعت کا بہت سا روپیہ حصص کی صورت میں انہی دجالی کاموں میں لگا ہوا ہے۔ میرے خیال میں قادیانی جماعت کے خلیفے اپنے نبی کی ہدایت کے باوجود اس کی کتابیں نہیں پڑھتے ورنہ وہ جماعت کو دجالی کاموں سے روکتے اور خود بھی باز رہتے۔
دجال کے بارے میں مرزا قادیانی نے اور بھی بہت کچھ لکھا ہے جو ہم سب یہاں پیش نہیں کر سکتے۔ اصل مقصد مرزا قادیانی کی تضاد بیانیوں اور خود ساختہ نبی کے بہانوں کی طرف توجہ دلانا تھا۔ ممکن ہے کہ کوئی قادیانی دوست مرزا قادیانی کی محبت میں کہیں کہ کہانی بے بنیاد ہے یا ایسے ہی ہے۔ ہمارا چیلنج ہے کہ اس میں ایک بھی حوالہ مرزا قادیانی کا غلط نہیں دیا گیا۔ آپ میرے انداز سے اختلاف بے شک کر لیں لیکن آپ میری اس بات کا جواب کبھی نہیں دے پائیں گے کہ کیا اللہ کے نبی ایسے جھوٹے ہوتے ہیں؟ کیا اللہ کے نبی ایسی متضاد تشریح کرتے ہیں؟ کیا اللہ کے نبی قرآن کریم پر ایسا بہتان باندھ سکتے ہیں؟ کیا خدا کے نبی جس کا بروز اور ظل ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں اس کی دی ہوئی خبروں کو اس طرح الجھاؤ کا شکار بنا سکتے ہیں؟ جبکہ دعویٰ یہ ہے کہ وہ الجھاؤ کو سلجھانے آئے ہیں۔ کیا اللہ کے نبی ہر روز اپنا موقف بدل لیتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر میرے قادیانی دوستو! خدا کے لئے سوچو کس تھالی کے بینگن کے پیچھے لگے ہوئے ہو؟ جو ہر روز ایک نئی بات پر نیا موقف بدلتا ہے! کس کی خاطر دشمن ایمان، اسلام، قرآن اور رسول ﷺ بنے ہوئے ہو؟ اگر مرزا قادیانی کے ماننے والے ہو تو نبی کریم ﷺ کی تعلیم کے خلاف جا رہے ہو اس لئے مسلمان نہیں ہو اور اگر رسول پاک ﷺ کے ماننے والے ہو تو کسی غلط فہمی کی بناء پر جھوٹے نبی کے پیچھے بھٹک رہے ہو اس جھوٹے نبی کا ہاتھ جھٹک کر راہ راست کی طرف واپس آجاؤ ورنہ جھوٹی نبوت لاکھوں دوسروں کی طرح آپ اور آپ کی نسلوں کو بھی جہنم کا ایندھن بنا دے گی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی خود کہتے ہیں: ”پرلے درجے کا جاہل ہو جو اپنے کلام میں متناقض بیانوں کو جمع کرے اور اس پر اطلاع نہ رکھے۔“ (ست بچن ص ٢٩، خزائن ج ١٠ ص ١٤١) تو مرزا قادیانی کے دجال پر اتنے متضاد بیانوں کو ہی دیکھیں تو کم از کم مرزا قادیانی اپنے ہی معیار کے مطابق جاہل ضرور ثابت ہوتے ہیں اور نبی کا استاد اللہ تعالیٰ خود ہوتا ہے۔ اس لئے نبی جاہل نہیں ہو سکتا۔ اور اگر مرزا قادیانی کے یہ دجل اور جھوٹ دیکھنے کے بعد بھی ان کے پیروکاروں میں شامل رہے تو آپ
١٩٤
کا حساب بھی دجال کے پیروکاروں کے ساتھ ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رسول پاکﷺ کی بتائی ہوئی سچی راہ کو پہچاننے کی توفیق دے اور ایمان والوں کے ساتھ خاتمہ بالخیر کرے۔ آمین
(١٠) ...... قادیانی خلیفہ مرزا مسرور اور لعنت اللہ علی الکاذبین
(شیخ راحیل احمد ۔ جرمنی)
قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا مسرور احمد نے اپنا ٣ مارچ ٢٠٠٦ء کا سارا خطبہ ایک دن قبل ”روزنامہ جنگ لندن“ میں جناب جاوید کنول نمائندہ جنگ وجیو کی چھپنے والی خبر پر دیا ہے اور جس میں انہوں نے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ اس خطبہ کے نتیجے میں میں بھی اپنے کو مجبور پاتا ہوں کہ جھوٹوں پر لعنت ڈالنے میں ان کی تائید کروں۔ لیکن مرزا مسرور کا خطبہ سنیں تو وہ اپنے عقائد کی اور اس بات کی تردید کر رہے ہیں جس کا سارے فسانے میں ذکر بھی نہ تھا۔ اگر ہم جنگ لندن کی خبر پڑھیں تو ہمیں یہ پوائنٹس ملتے ہیں:
- ١...... مرزا مسرور صاحب نے ڈنمارک کا دورہ کیا۔
- ٢...... مرزا مسرور کی ڈنمارک کی ایک وزیر سے ملاقات ہوئی، جس میں سرکاری حکام بھی
شامل تھے۔
- ٣...... مرزا مسرور صاحب نے اپنی جماعت کو اصلی اور بہتر مسلمان قرار دیا۔
- ٤...... جہاد کو منسوخ قرار دیا اور یہ تاثر دیا کہ سوائے سعودی عرب کے اور باقی دنیا میں مسلمان
جہاد پر یقین نہیں رکھتے۔
- ٥...... اب مرزا غلام احمد ہی تاقیامت نبی ہیں اور انہوں نے جہاد کو منسوخ کر دیا ہے اور کئی
اسلامی احکامات تبدیل کر دیئے ہیں۔
- ٦...... اسی وجہ سے ڈینش اخبار کو جہاد پر دوبارہ کارٹون شائع کرنے کا حوصلہ ہوا ہے۔
- ٧...... آپ کے مربی نے وہاں اخباروں میں احتجاج کیا ہے۔
ہم ان باتوں کا تجزیہ کرتے ہیں کہ کیا واقعی جنگ کے رپورٹر نے جھوٹ بولا ہے یا اب مرزا مسرور کے دورہ کے جو نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ ان کی ذمہ داری سے بچنے کے لئے خطبات دیئے جارہے ہیں اور اپنی جماعت کے افکار کو چھپانے اور اپنا چہرہ بچانے کے لئے قانونی کارروائی کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کی ان کے پاس کوئی بنیاد نہیں اور قانون قادیانی جماعت کے لئے ہر دور، ہر
١٩٥
ملک میں خسارے کا سودا ثابت ہوئی ہے۔
- ......١ مرزا مسرور صاحب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے ستمبر ٢٠٠٥ء میں ڈنمارک کا دورہ
کیا۔ اس دورہ میں انہوں نے کیا کیا اور کہا، تفصیلی موضوع ہے۔ ہم ایک دو باتوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ مرزا مسرور صاحب نے پریس کے نمائندہ کو کہا کہ: ”ہم عیسائیت کی تعلیم کے مطابق اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی پیش کر دو۔ اپنا دوسرا گال بھی پیش کرنے آئے ہیں۔“ مرزا مسرور صاحب اس پر میرے سوال ہیں۔ (١) آپ خود کو اسلام کا اصلی نمائندہ کہتے ہیں اور آپ کی عملی پوزیشن یہ ہے کہ آپ کو پوری اسلامی تعلیم میں ایک بھی ایسا قول نہ ملا جس سے آپ اسلام کی متوازن و امن پسندی کی تعلیم ظاہر کر سکتے۔ ملا تو صلیبی مذہب سے جس کے بارے میں آپ کے پڑدادا اور بانی جماعت احمدیہ کا کہنا ہے کہ: ”اس مذہب کی بنیاد محض ایک لعنتی لکڑی پر ہے جس کو دیمک کھا چکی ہے۔“ (بحوالہ ملفوظات ج ٢ ص ١٤٧) (٢) دوسرے آپ کی جماعت کے گالوں پر ڈنمارک میں کون سے تھپڑ پڑ رہے تھے کہ آپ کو دوسرا گال پیش کرنے کی ضرورت پڑ گئی؟ آپ تو الٹا وہاں مسلمانوں کے حقوق پر بھی قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور آپ کی اس سے قبل ایسے کوئی بیان نہیں کہ جس سے ظاہر ہو کہ ڈنمارک میں آپ کی جماعت کو کوئی تکلیف ہو؟ (٣) آپ نے بانی جماعت احمدیہ کی متابعت میں یہ کیوں نہ کہا کہ اے بد بودار مذہب والو ہم (پاک صاف ) لوگ اپنا دوسرا گال بھی پیش کرتے ہیں؟ کیونکہ اگر آپ پردادا کے سچے جانشین ہیں اور حق بات بیان کرتے ہیں تو یہاں آپ نے منافقت سے کام لیا یا اپنے دادا کا قول بھول گئے۔ آپ کے پردادا فرماتے ہیں: ”عیسائیت ایک بدبودار مذہب ہے۔“ ( دافع البلاء ص ٢١، ج ١٨ ص ٢٤١)
- ......٢ مرزا مسرور یہ بات بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایک ریسیپشن میں وزیر سے ملاقات ہوئی
تھی۔ اور ہر شخص یہ جانتا ہے کہ ایسی ریسیپشن دی ہی اس لئے جاتی ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال ہو اور خوشگوار ماحول میں، ہلکے پھلکے انداز میں ایک دوسرے کو اپنا موقف واضح کر دیا جائے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسے موقع سے مرزا مسرور فائدہ نہ اٹھائیں اور اپنی جماعت کو دوسرے مسلمانوں سے بہتر ثابت کرنے کے لئے اپنا پردادا کی نبوت کا نہ بتائیں اور اپنی جماعت کی امن پسندی ظاہر کرنے کے لئے اپنی (خود ساختہ ) نبوت کے بل پر جہاد کی منسوخی کا جو اعلان کیا ہے اس کے متعلق نہ بتائیں؟ لیکن کیا اس کے ساتھ انہوں نے ان حکام اور وزیر کو یہ نہیں بتایا کہ جہاد کی منسوخی کے ساتھ ان کے پردادا کا ایک عہد یہ بھی تھا کہ: ”بخدا میں صلیب کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے چھوڑوں گا۔“ (کرامت الصادقین ص ٣٧، خزائن ج ٧ ص ٧٩) اور اگر انہوں نے اس
١٩٦
موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی جماعت کے متعلق یہ نہیں بتایا تو کیا وہ اپنے پیشرو، خلیفہ ثانی کی طرح، یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ، اپنے پیشرو سے بھی زیادہ قریب اور بہتر انداز سے دیکھنے کیلئے اس ریسیپشن میں شامل ہوئے تھے؟ بہر حال وہ بڑے آدمی ہیں، بڑے لوگوں کی بڑی باتیں، وہی جانیں۔
- ٣...... کیا مرزا مسرور اپنے کو دنیا میں سب سے بہتر اور اپنی جماعت کو بہتر مسلمان نہیں سمجھتے
اور کہتے؟ کیونکہ بانی جماعت نے اپنی جماعت کو نہ صرف بہتر مسلمان قرار دیا ہے بلکہ اپنے کو سب نبیوں سے افضل قرار دیا ہے اور صرف اپنے ”مذہب“ کو عزت والا کہا ہے کہ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ (براہین احمدیہ ص٧٥، خزائن ج١ ص٩٥ مفہوم) اور ان کے پیشرو والہامی مصلح موعود فرماتے ہیں: ”اور جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں، میں نے بھی بارہا بتایا ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی حیثیت دنیا کے تمام بادشاہوں اور شہنشاہوں سے بڑھ کر ہے.......لیکن اگر دین کا معاملہ آئے گا تو پھر ان بادشاہوں کو ہماری اطاعت کرنا ہوگی۔“ (خطبہ جمعہ مرزا محمود احمد، اخبار الفضل قادیان، ج٢٥، نمبر١٩٩، مورخہ ٢٧ اگست ١٩٣٧ء) اوپر دی گئی گائڈلائن کو مرزا مسرور صاحب اگر تسلیم کرتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ مرزا مسرور نے اپنی جماعت کو دوسروں سے بہتر مسلمان نہ کہا ہو۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ مصلحتاً اپنی ذات کو اتنا سامنے نہ لائے ہوں؟ اور اگر مرزا مسرور صاحب اوپر بیان کردہ گائڈلائن کو قطعاً اون نہیں کرتے تو ان کی حیثیت اور عہدہ سوالیہ نشان کی زد میں آتا ہے کہ پھر وہ کس کی گائیڈ لائن پر چلتے ہیں؟
- ٤...... جماعت احمدیہ اپنے بانی کی تعلیم کو پھیلاتے ہوئے اکثر یہ پروپیگنڈہ کرتی ہے کہ اب
جہاد کو خدا کے نبی اور رسول، خدا سے الہام، وحی پا کر منسوخ کر دیا ہے۔ اب دین کے لئے تلوار، بندوق کے جہاد کی ضرورت نہیں رہی۔ جیسے بانی جماعت احمدیہ اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں: ”اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال ۔ دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٦، خزائن ج١٧ ص٧٧)
نبوت کے دعاوی کو اس جگہ نظر انداز کرتے ہوئے ہمارے سوال یہ ہیں کہ (١) کیا مرزا مسرور صاحب جہاد کی منسوخی کی وحی کے الفاظ بتا سکتے ہیں؟ کس زبان میں، کب نازل ہوئی؟ (٢) جس جہاد کو مرزا قادیانی اور ان کی ذریت حرام اور منسوخ قرار دے رہی ہے وہ ہے کہاں اور تھا کہاں؟ حرام تو اس کو قرار دیا جاتا ہے جس پر عمل ہو رہا ہو۔ اور جب مرزا قادیانی جہاد کو حرام قرار
١٩٧
دے رہے تھے تو اس وقت کہاں ہو رہا تھا؟ کون کر رہا تھا؟ اس وقت کی حکومت کے آنے سے ہر طرف امن ہو گیا تھا اور اسی وجہ سے بقول مرزا کے، وہ انگریز حکومت کو محسن سمجھ کر اس کی حمایت اور تعریف کر رہے تھے اور اس کی سیاسی مخالفت کرنے والے کو بھی حرامی قرار دے رہے تھے۔ (٣) دوسرے منسوخ اس حکم کو کیا جاتا ہے جو نافذ ہو اور اسلام میں دین کے لئے قتل کرنا، حملے کرنا، جبر سے کسی کا عقیدہ بدلنے کی اجازت ہی نہیں۔ قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ ”لا اکراہ فی الدین۔ یعنی دین میں کوئی جبر نہیں“ تو اب مرزا مسرور صاحب فرمائیں گے کہ ان کے پردادا نے کس کے حکم کو اور کس چیز کو منسوخ کیا ہے؟ اسلام میں تو ان کے پردادا کے تصوراتی جہاد (دین کے لئے لڑنے) کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ (٤) دین کیلئے لڑنے کی ترغیب اور تربیت تو جماعت احمدیہ ایک پیدائشی احمدی کے کان میں اس کی پیدائش سے ہی ڈالنا شروع کرتی ہے اور پھر مرنے تک ہر ذیلی تنظیم کے ہر اجلاس میں اس کو یہ عہد دہرانا پڑتا ہے ” میں خلافت احمدیہ کو قائم رکھنے کی خاطر اپنی جان، مال، عزت، غرضیکہ ہر شے ہر وقت قربان کرنے کے لئے ہر دم تیار رہوں گا“ اب کیا مرزا مسرور صاحب فرمائیں گے کہ کیا یہ ”دین کے لئے جان“ بغیر لڑنے کے کیسے دی جائے گی؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک چور اپنی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے دوسروں کی طرف انگلی اٹھا اٹھا کر ان کو چور کہہ رہا ہے؟ (٥) مرزا مسرور ، آپ کے پردادا کو علم تھا مگر انہوں نے اس کو جان بوجھ کر نہیں بتایا کہ اسلام نے کس جہاد کا حکم یا اجازت دی ہے۔ ”قرآن کریم صاف کہتا ہے کہ تمہیں کسی پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں۔ بلکہ جب تمہارے ملک ، تمہاری املاک ، تمہاری جانوں پر حملہ ہو، یا لڑائی کے ذریعہ تمہیں اپنے دین پر عمل کرنے سے روکا جائے تو اس کے خلاف لڑو اس وقت تک کہ جب تک تم سے خطرہ دور نہ ہو جائے یا تم شہید نہ ہو جاؤ۔“ اب مجھے بتائیں کہ اس جہاد کو منسوخ کیا ہے مرزا قادیانی نے؟ تو پھر احمدی ہر ملک میں جماعت کی ہدایت کے تحت فوج میں کیوں جاتے ہیں؟ بلکہ انہوں نے مختلف دور میں نہ صرف خود نیم فوجی تنظیمیں کھڑی کیں بلکہ پاکستان کی فوج میں بھی ایک سپیشل بٹالین ”فرقان فورس“ کے نام سے قائم کروائی۔ (٦) مرزا قادیانی بڑے فخر سے ذکر کرتے ہیں کہ ان کے باپ نے انگریزوں کو پچاس گھوڑے اور سوار جنگ کے لئے مہیا کئے اور آج بھی جہاں دو انگریز بیٹھے ہوتے ہیں، جماعت یہ قصہ دہراتی ہے۔ کیا وہ جہاد تھا یا نہیں؟ (٧) جس جہاد کی قرآن اجازت دے رہا ہے کیا وہ صرف مسلمانوں کیلئے ہے یا بین الاقوامی طور پر ایک تسلیم شدہ امر ہے؟ اور کیا اس جہاد کی امریکہ، یورپ، ایشیاء، یا کسی بھی ملک کو یا مذہب کے ماننے والوں کو ممانعت ہے؟
١٩٨
- ٥...... کیا مرزا قادیانی کو آپ اب تا قیامت نبی نہیں مانتے؟ کیا مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ نہیں
کہ اب تا قیامت جو بھی کوئی اگر آیا تو میری امت میں سے آئے گا؟ کیا مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ نہیں کہ ”میں سب نوروں میں سے آخری نور ہوں“ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ نہیں کہ اب نجات صرف ان کو نبی تسلیم کرنے میں ہے؟ اگر آپ ان دعوؤں اور مطالب کو بیان نہیں کرتے تو پھر آپ اوپر دیئے گئے حوالوں کی تردید کریں اور ہم کو بتائیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ کیا تھا یا آپ کا عقیدہ کیا ہے؟
- ٦...... جاوید کنول صاحب نے یہ کہاں لکھا ہے کہ توہین آمیز خاکے، آپ کے حکم سے لکھے
ہیں؟ بلکہ انہوں نے کہا ہے کہ جن عقائد کو آپ تسلیم کرتے ہیں اور جن کے پرچار کے لئے آپ نے ڈنمارک کا سفر کیا اور وہاں کے حکام تک ان کے عقائد کو اس دعوے کے ساتھ پہنچایا، کہ آپ ٢٠٠ ملین احمدیوں کے سربراہ ہیں۔ ڈینش پریس نے ان کی وجہ سے حوصلہ پا کر کہ جہاد ایسا موضوع نہیں جس پر آواز اٹھے گی ایسے غلیظ کارٹون شائع کئے۔
- ٧...... آپ نے کہا کہ آپ کے مبلغ نے احتجاج کیا، مضمون لکھا اور جماعت کا وفد ان کو ملا۔
کیا یہ احتجاج ان باتوں پر پردہ ڈالنے کی ایک منافقانہ کوشش تو نہیں جو ستمبر میں آپ نے ڈینش حکام سے کیں اور غالباً جن کے نتیجہ میں ڈینش اخباروں کو توہین آمیز مواد شائع کرنے کا حوصلہ ہوا؟ کیونکہ جماعت احمدیہ کی پوری تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی کوئی ایسا توہین آمیز مواد شائع ہوا۔ جماعت نے کسی بھی ریزولیوشن یا ہر قسم کے احتجاج کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ ہم ان چیزوں کے قائل نہیں بلکہ علمی رنگ میں ان کا جواب دیں گے۔ لیکن جواب بھی نہ دیا۔ اس کی ایک مثال مرزا غلام احمد قادیانی بانی جماعت، کی زندگی میں بھی ہے کہ انہوں نے گورنمنٹ کے نام احتجاجی مراسلہ تک بھیجنے کی مخالفت کی، یعنی دل آزار کتب ”امہات المومنین، رنگیلا رسول، شیطانی آیات“ وغیرہ، غرضیکہ ہر موقعہ پر جماعت کا کردار خاموش تماشائی کا رہا۔ اب کیسے ممکن ہو گیا کہ جماعت نے اپنے بانی کے طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرانا شروع کر دیا؟ آخر کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے؟ بلکہ آپ کے پیشرو جو مصلح موعود بھی کہلاتے ہیں، نے ایک بار کہا تھا: ”وہ کیسا نبی ہے جس کی عزت کے لئے خون کرنا پڑے۔“ لیکن تھوڑے عرصے کے بعد خدا نے ان کے منہ پر جوتا مارا، جب ان کی اپنی ذات پر الزام لگے تو انہوں نے انتہائی جوشیلے خطبات دے کر نہ صرف جماعت کو مشتعل کر کے مخالفین کے گھروں کو آگیں لگائیں۔ مارا پیٹا اور حتیٰ کہ قتل بھی کروائے اور ایک خود ساختہ روحانی خلیفہ کے لئے خون بہایا گیا
١٩٩
اور اس خلیفہ نے پھانسی پانے والے قاتل کا جنازہ بڑی شان سے پڑھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بات اس کے منہ پر پلٹا کر ماری۔ لیکن آپ لوگ ہیں کہ پھر بھی عبرت نہیں پکڑتے۔
مرزا مسرور صاحب کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ جو پوائنٹس روزنامہ جنگ کے رپورٹر نے لکھے ہیں کیا آپ ان عقائد کی تبلیغ نہیں کرتے؟ کہئے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین
مرزا مسرور صاحب کیا آپ کا دعویٰ نہیں ہے کہ آپ ٢٠٠ ملین سے زیادہ احمدیوں کے خلیفہ ہیں؟ کیا یہ تعداد صحیح ہے؟ اگر صحیح سمجھتے ہیں تو کہئے لعنت اللہ علی الکاذبین
مرزا مسرور صاحب کیا آپ کے پردادا نے جس جہاد کی منسوخی کا اعلان کیا ہے وہ اسلامی تعلیمات میں ہے؟ اگر ہے تو کہئے لعنت اللہ علی الکاذبین
مرزا مسرور صاحب جو عقائد آپ کی جماعت پھیلا رہی ہے، اور جس طرح آپ بے جواز اپنا دوسرا گال پیش کر کے مسلمانوں کے نام پر اور ان کی طرف سے پیش کر کے بعض غلط اور انتہا پسندوں کو تھپڑ مارنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اس کا لازمی ایک ہی نتیجہ نکلے گا کہ غلط کاروں نے جو دریدہ دہنی کی ہے وہ بار بار ایسا کریں۔ ہمارا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ نہ تو مسلمان ہیں اور نہ آپ کو مسلمانوں کی نمائندگی کا حق ہے۔ اس لئے جو بھی آپ اپنے مذہب کی خرافات پیش کرنا چاہیں ان کو اپنے مذہب کے نام سے پیش کریں، نہ کہ اسلام کے نام پر۔ تا کہ ان کے نتائج مسلمانوں کو نہ بھگتنے پڑیں۔ بلکہ آپ خود بھگتیں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ پر ان معروضات کا کچھ ہی اثر نہ پڑے گا۔ کیونکہ آپ مسلمانوں اور عیسائیوں، دونوں کے دشمن ہیں اور اس طرح کی باتیں اور طریقے اختیار کر کے آپ دونوں کو لڑا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں یہ بات بے بنیاد نہیں کہہ رہا۔ بلکہ آپ اپنے پردادا کے مشن کو لے کر چل رہے ہیں اور ان کا مشن کیا تھا؟ عیسائیوں کے متعلق مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”عیسائی مذہب سے ہماری کوئی صلح نہیں اور وہ سب کا سب ردی اور باطل ہے۔“ (دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) اگر اس شخص کی عیسائیوں سے کوئی صلح نہیں تو آپ اس کے جانشین ہیں اور جس کی تعلیم پھیلانا آپ کی مذہبی، اخلاقی اور خاندانی ذمہ داری ہے، کیسے صلح ہو سکتی ہے؟ اور مسلمانوں کے بارہ میں کہتے ہیں: ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدعورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧، ٥٤٨)
٢٠٠
اور کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں کتنے ہیں جو مرزا قادیانی کی کتابوں کو محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور عمل کر رہے ہیں؟ اگر ان کی ایک بھاری تعداد مرزا غلام احمد قادیانی کا انکار نہیں کر رہی اور ان کو رد نہیں کر رہی اور ان کو جھوٹا مدعی نبوت نہیں سمجھ رہی تو خطبے میں دوبارہ ان باتوں کو دہرا کر کہیے کہ
لعنت الله على الكاذبين
اور اگر ایک بہت بھاری تعداد مرزا غلام احمد قادیانی کا انکار کر رہی ہے تو کیا ان کو بدکار عورتوں کی اولاد کہنا، کسی بھی طرح پیغمبرانہ روایت ہے۔ بلکہ کیا معمولی شرافت کا بھی مظاہرہ ہے، کیا نبوت کا؟
(١١) ...... خطرہ ایمان ....... دودھ ...... قادیان
(ابو اسمعیل۔ المانیہ)
خود ساختہ مصلح موعود، مرزا بشیر الدین محمود احمد ، خلیفہ ثانی و پسر غلام احمد قادیانی، اپنی ایک تقریر میں جو بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوئی، فرماتے ہیں کہ : ”حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہیں آتے، مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا۔ وہ کاٹا جائیگا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔“ (حقیقت الرؤیا ، ص ٣٦ از مرزا بشیر الدین محمود احمد )
جب میں نے پہلی بار پڑھا تو میرے ذہن میں کوئی خیال پیدا نہ ہوا کیونکہ بطور احمدی میرے ذہن میں مکہ اور مدینہ کی حرمت کو نفسیاتی طریقوں سے گھٹا دیا گیا تھا اور قادیان وربوہ کی زمین بھی میرے لئے ارض حرم کا نعم البدل تھی۔ لیکن جب میں تحقیقی دور میں داخل ہوا اور اس تحریر کو قادیانی عینک کے بغیر غیر جانبدار حق کے متلاشی کی حیثیت سے پڑھا تو کئی سوال اس وقت سے میرے ذہن میں بار بار اٹھتے ہیں۔ شاید کوئی قادیانی دوست ان کے جواب سے نوازے۔
- ١....... پہلا سوال ذہن میں یہ آتا ہے کہ مرزا محمود صاحب کے خیال میں مکہ اور مدینہ کی
چھاتیوں کا دودھ خشک ہوا؟
- ٢....... دوسرا اگر کافی عرصہ سے خشک تھا تو مرزا غلام احمد کے علم دین کی پرورش کس دودھ سے
ہوئی؟ دودھ نہ ملے تو نہ صرف پرورش بھی صحیح نہیں ہوتی بلکہ انسان کئی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے۔ اور
٢٠١
کہیں مرزا قادیانی بھی جسمانی کے علاوہ کئی روحانی امراض کے شکار تو نہیں تھے؟
- ٣....... تیسرا یہ کہ اگر غلام احمد قادیانی کے دعوے کے بعد خشک ہوا تو یہ کیسے پر برکت نبی ہیں
کہ آتے ہی جس مذہب کو ترقی دینی تھی اسی کی روحانی چھاتیاں خشک کر دیں؟
- ٤....... چوتھے حج کس مقصد کے لئے ہے جب کہ مدینہ کی چھاتیوں سے کسی کو روحانیت کا
دودھ نہیں ملنا تو پھر حج کا کیا مقصد؟
- ٥....... پانچویں کیا خدا نے دین کی تکمیل کی بشارت دی تھی تو اس میں یہ مفہوم نہیں تھا کہ یہ
دین کی چھاتیاں سدا بہار ہیں اور ان چھاتیوں کا دودھ جنت کی نہروں کی طرح کبھی خشک ہونے والا نہیں اور ان کے خالص دودھ سے اب قیامت تک رہتی انسانیت سیراب ہوگی؟
- ٦....... چھٹے قادیان کی چھاتیوں کا دودھ کب تک رہے گا یا رہا اور قادیانی چھاتیوں کا دودھ
خشک ہونے کے بعد قادیانیوں کو کس کی چھاتیاں دیکھنی پڑیں گی؟
- ٧....... ساتویں مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں کا مرزا قادیانی کے دور تک یا پھر بھی ایک لمبا عرصہ
دودھ موجود رہا مگر قادیان کی چھاتیوں کا دودھ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی تک بھی نہ رہا یا کم از کم ان کے زمانہ میں بھی کوئی صحت مند تبدیلی نظر نہیں آتی۔ بعد کی بات تو بہت دور کی ہے؟ ان کے اپنے شکوے کہ میرے اصحاب نے کچھ نہیں سیکھا اور ان کی زندگی کے دوران مرزا قادیانی نے جن لوگوں کی بڑی عزت کی اور بہت اعتماد کا اظہار کیا، میرا مطلب محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ ہیں۔ ان کے متعلق مرزا محمود صاحب نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کے زمانہ ہی سے منافقت کا شکار تھے اور ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی نے تو مرزا قادیانی پر بددیانتی کے الزامات بھی لگائے اور اپنے صحابیوں کے متعلق مرزا قادیانی نے لکھا کہ جس طرح کتا مردار کی طرف دوڑتا ہے ابھی تک ان کے صحابی اس طرح برائی کی طرف دوڑ رہے ہیں۔
- ٨....... آٹھویں کیا قادیان کی چھاتیوں کا دودھ مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کے لئے ہی
تھا یا اوروں کے لئے بھی کیونکہ دنیا کو تو اس دودھ کے فوائد سوائے ان کے خاندان کو پالنے کے کہیں نظر نہیں آئے؟
- ٩....... کیا چھاتیاں مرزا محمود صاحب کے ذہن پر اتنی سوار تھیں کہ آپ کو دین میں بھی دودھ
بھری یا سوکھی ہوئی چھاتیوں کے علاوہ، کوئی اور مناسب تشبیہہ نہ مل سکی؟ میرے خیال میں مرزا محمود مجبور تھے۔ خاندانی ورثہ کا تسلسل ہے، باپ کو نماز اور جنسی فعل میں مطابقت نظر آتی ہے۔ بیٹے کو خطبوں، تقریروں میں کبھی چھاتیاں یاد آتی ہیں اور کبھی پٹیالوی صاحب کے والد کا آلہ تناسل یاد
٢٠٢
آتا ہے۔ یورپ یاترا پر جاتے ہیں تو وہاں اور ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک پہنچتی ہے نظر آتی ہیں اور وہ کیا کینیڈا اور کیا لندن کا جلو کہ ”جماعت احمدیہ کی عورتیں ننگ دھڑنگ
نوٹ
اگر کوئی قادیانی احمدی ان کام گے تو ہم اسی ویب سائٹ پر شکریہ کے ساتھ
- (١٢) ...... مرزا
(ابوال میں سیرت مرزا غلام احمد قاد طرف سے ”قمر الانبیاء“ کا خطاب پائے تھا کہ میرے سامنے یہ روایت آئی : ”بیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز ظہر کے بعد لدھیانوی کے متعلق لکھا تھا کہ یہ ابتر رہے گا کی اولاد آگے نہیں چلے گی (خاکسار عرض کر خلاف بہت بیہودہ گوئی کیا کرتا تھا) مگر ابھی صاحب نے آپ سے عرض کیا کہ ایسا لکھا پھر اس بات کا کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ وہ مناسب طریق سے جواب دیتے رہے رائے پر اصرار کیا تو حضرت صاحب کا چہر نبی ہتھیار لگا کر باہر آجاتا ہے تو پھر ہتھیار ن (سیرت
پوری روایت درج کر دی ہے
میرے تاثرات اور سوالات کیا تھے۔ میر تا کہ مل کر انجوائے کریں اور قادیانی بھائ
- ☆....... دیکھئے یہ ”عظیم الشان نبی“
آتا ہے۔ یورپ یاترا پر جاتے ہیں تو وہاں بھی اوپیرا میں سوشل چھاتیاں دیکھنے جاتے ہیں اور ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ موجودہ خلیفہ کو اپنی جماعت کی عورتیں مجموعی طور پر ننگی نظر آتی ہیں اور وہ کیا کینیڈا اور کیا لندن کا جلسہ۔ گراموفون پر اٹکی ہوئی سوئی کی طرح ایک ہی بات کہ ”جماعت احمدیہ کی عورتیں ننگ ڈھانپیں ۔“ اور یہ سلسلہ کہاں رکے گا؟ اللہ ہی جانے۔
نوٹ
اگر کوئی قادیانی احمدی ان کا موزوں اور معقول جواب لکھیں گے اور ہمیں بھجوائیں گے تو ہم اسی ویب سائٹ پر شکریہ کے ساتھ پیش کر دیں گے۔ ایڈیٹر اردو سیکشن
(١٢) ...... مرزا قادیانی اور ہتھیار بندی
(ابو سہیل۔ المانیہ)
میں سیرت مرزا غلام احمد قادیانی جس کے مصنف ان کے اپنے ہونہار اور ان کی طرف سے ”قمر الانبیاء“ کا خطاب پائے ہوئے سپوت مرزا بشیر احمد ایم اے ہیں، کا مطالعہ کر رہا تھا کہ میرے سامنے یہ روایت آئی : ” بیان کیا مجھ سے عبدالرحمن صاحب مصری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز ظہر کے بعد مسجد میں بیٹھ گئے۔ ان دنوں میں آپ نے شیخ سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق لکھا تھا کہ یہ ابتر رہے گا اور اس کا بیٹا جو اب موجود ہے، وہ نامراد ہے، گویا اس کی اولاد آگے نہیں چلے گی ( خاکسار عرض کرتا ہے کہ سعد اللہ سخت معاند تھا اور حضرت مسیح موعود کے خلاف بہت بیہودہ گوئی کیا کرتا تھا) مگر ابھی آپ کی یہ تحریر شائع نہ ہوئی تھی۔ اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے آپ سے عرض کیا کہ ایسا لکھنا قانون کے خلاف ہے۔ اس کا لڑکا اگر مقدمہ کر دے تو پھر اس بات کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ وہ واقعی نامراد ہے؟ حضرت صاحب پہلے نرمی کے ساتھ مناسب طریق سے جواب دیتے رہے۔ مگر جب مولوی محمد علی صاحب نے بار بار پیش کیا کہ اپنی رائے پر اصرار کیا تو حضرت صاحب کا چہرہ سرخ پڑ گیا اور آپ نے غصے کے لہجے میں فرمایا ”جب نبی ہتھیار لگا کر باہر آ جاتا ہے تو پھر ہتھیار نہیں اتارتا۔“
(سیرت المہدی جلد اول روایت ٤٣١، ٤٣٢ مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم اے)
پوری روایت درج کر دی ہے تا کہ کمی بیشی کا الزام نہ لگے۔ روایت پڑھنے کے بعد میرے تاثرات اور سوالات کیا تھے۔ میری خواہش ہے کہ میں آپ کو بھی ان میں شریک کروں تا کہ مل کر انجوائے کریں اور قادیانی بھائیوں سے جواب پوچھیں!
- ☆ ...... دیکھئے یہ ”عظیم الشان نبی“ کس طرح سینہ تان کر قانون کی، اخلاق کی، شرافت کی
٢٠٣
خلاف ورزی کر رہا ہے۔
- ☆...... اپنے ماننے والوں کی تربیت کر رہا ہے کہ جہاں قانون کمزور ہو اس کو ایسے نظر انداز کر دو
جیسے اس کا وجود یا نفاذ بے معنی ہے۔
- ☆...... کیا نبی کا یہ کام ہے کہ مخالفین کی انتہائی نجی زندگی کے بارے میں خبریں حاصل کرے
اور ان کو پھیلائے؟
- ☆...... اور ایک مزید توجہ دلاتا ہے کہ یہ بات قانوناً غلط ہے، (اخلاق اور شرافت کی وجہ سے
نہیں) تو اس کو ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور یاد دلایا جاتا ہے کہ دھیان کرو اور اپنی اوقات میں رہو۔ لیکن وہ پڑھا لکھا مرید پھر بھی فرض ادا کرتے ہوئے اپنے پیر کو قانون توڑنے سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور جب وہ
- ☆...... اپنی صائب رائے پر اصرار کرتا ہے تو ”امام الزماں“ غصہ سے سرخ ہو جاتے ہیں۔
- ☆...... وہ پھر اصرار کرتا ہے تو کہتے ہیں ”نبی ہتھیار لگا کر باہر آیا ہوا ہے، اور اب یہ ہتھیار نہیں
اتریں گے۔“
- ☆...... اب ہوتا کیا ہے؟ یہ سنتے اور دیکھتے ہیں کہ (خود ساختہ) نبی ہتھیار لگا کر باہر آ گیا
ہے۔ مارے حیرت کے مریدان باوفا کے منہ کھلے رہ جاتے ہیں۔ آنکھیں پھیل جاتی ہیں اور کانوں کو یقین نہیں آتا کہ جہاد حرام قرار دے کر، اب پیر جی خود ہتھیار باندھ کر نکل آئے ہیں؟ مریدان باوفا کی سٹی گم ہو جاتی ہے کہ ہم کون سے ہتھیار باندھ کر پیر کی پیروی کریں؟
- ☆...... اور پھر چشم فلک کے ساتھ دنیا اور مریدان باوفا نے بھی دیکھا اور سنا ان ہتھیاروں کے
ساتھ مرزا قادیانی کیسے جنگ کرتے ہیں؟ حملہ ہوتا ہے اور پھر سب دیکھتے ہیں کہ ایک گولہ پھٹتا ہے اور اس میں سے آواز آتی ہے۔ سعد اللہ لدھیانوی کا بیٹا نامرد ہے۔ دوسرا گولہ پھٹتا ہے، آواز آتی ہے۔ سعد اللہ سفیہوں کا نطفہ ہے....... پھر تیسرا اور وغیرہ وغیرہ ...... اس طرح ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی کے ہتھیار شرافت نہیں بلکہ گالیاں اور الزام تراشیاں ہیں اور ان ہتھیاروں کو اپنے مخالفین پر استعمال کرنے سے ان کو نہ تو اخلاق، نہ شرافت، نہ شریعت اور نہ ہی ملکی قانون روک سکتا ہے۔
- ☆...... اور پھر واقعی مرزا قادیانی دوسروں کو گالیاں نکالنے والے جو ہتھیار باندھے ہوئے باہر
نکلے تھے۔ زندگی بھر وہ ہتھیار نہیں اتارے اور ان ہتھیاروں سے مرزا قادیانی نے وفات تک دشمنوں کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیا اور اس زہر یلے ایٹمی گالیوں کے حملوں کی تابکاری ابھی تک تباہی
٢٠٤
پھیلا رہی ہے اور پتہ نہیں کب تک شرافت اور اخلاق ان حملوں کا ماتم کرتے رہیں گے؟
- ☆ ...... ساری عمر انگریز حکام کے تلوے چاٹے اور مخالفین کو گندی گالیوں سے نوازا، کیا نبی کے
ہتھیار ایسے ہوتے ہیں؟
- ☆ ...... قادیانی دوستو! جب آپ سے مرزا قادیانی کی گالیوں کی بات کرو تو فوراً قرآن کریم
کے بعض سخت الفاظ کو گالیاں قرار دے کر مرزا قادیانی کے دفاع میں لگ جاتے ہو، بالفرض محال اگر تمہارا موقف مان لیں تو بتاؤ کہ کیا قرآن کریم نے یا آنحضورﷺ نے بھی گالیوں یا دشنام دہی کو نبی یا اللہ کا ہتھیار قرار دیا ہے؟
(١٣) ...... کیا یہ حقیقت نہیں؟
(ابوالسہیل ۔ المانیہ)
ویسے تو ہمیشہ سے ہی قادیانی جماعت کے کٹھ پتلیوں نے عام، مخلص اور دیانتدار قادیانی کے سر پر ”نظام آف قادیان“ کے احکامات کی ننگی تلوار ”نظام جماعت“ کے نام سے لٹکائی ہوئی ہے۔ لیکن آج کل یہ تلوار ضرورت سے زیادہ ہی اپنی چمک دکھلا رہی ہے اور اس کا اثر بھی آج کل ”نظام“ کے سابقہ تجربوں اور اندازے کے برعکس ہورہا ہے۔ ان قادیانیوں کو ان کے نظام نے کیا بنادیا ہے۔ ان کی اس حالت کا نقشہ مرزا غلام احمد قادیانی، بانی جماعت احمدیہ کی یہ تحریر عمدگی سے پیش کرتی ہے۔ مرزا قادیانی نے دراصل اپنی طرف سے آریوں کا نقشہ کھینچا ہے اور ان کو طعنے دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ان کو معلوم نہیں تھا کہ وہ جس گروہ کو اسلام کے درخت سے کاٹ کر ایک نئے مذہب کی بنیاد میں رکھ گئے ہیں۔ وہی گروہ اور اس کی نسلیں اس تحریر دلپذیر کا صحیح مصداق اور اصلی وارث ہوں گے۔ (خود ساختہ) سلطان القلم مرزا قادیانی کی طرز تحریر اور ”شستہ“ الفاظ اور فقروں کی ترتیب پر تبصرہ سے بچتے ہوئے مرزا قادیانی کی تحریر پیش کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی، لکھتے ہیں کہ: ”یوں تو ظاہر ہے کہ آج کل باعث ایک تعصبی آگ کے بھڑکنے کے جو ...... کو پیروں سے لے کر دماغ تک جلا رہی ہے۔ ایسی اس قوم کی یک دفعہ حالت بدل گئی ہے کہ اگر کسی قدر شریف آدمی بھی ان میں ہیں تو وہ بھی کٹھ پتلیوں کے شور و غوغا کے خوف سے دبے بیٹھے ہیں۔ کیونکہ ایمانی قوت تو رکھتے ہی نہیں تا کہ ان بک بک کرنے والوں کی لعن طعن کی کچھ پرواہ نہ رکھیں۔ بلکہ ایک ہی دھمکی سے مثلاً اسی قدر کہنے سے کہ برادری سے نکالے جاؤ گے لڑکے لڑکیاں بیاہی نہیں جائیں گی۔ رشتے ناطے سب چھوٹ جائیں گے۔ صاحبوں کے رنگ زرد اور بدن
٢٠٥
پر لرزہ شروع ہو جاتا ہے اور پھر تو وہ حالت ہو جاتی ہے کہ جس قدر کسی مسلمان پر تہمت بہتان الزام لگانا چاہیں یا جو کچھ افتراء پردازوں کی طرف سے اشتہار وغیرہ کے چھپوانے کی تجویز ہو جھٹ پٹ دستخط کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ اسی ترکیب سے آج کل ..... اشتہارات جاری کر رہے ہیں۔"
(شحنہ حق ص ٣٩، خزائن ج ٢ ص ٤٣٧)
’میرے قادیانی احمدی دوستو ! اوپر کی تحریر میں خالی چھوڑی ہوئی جگہ پر احمدی، قادیانی لکھ لو اور پھر دل و دماغ کی آنکھیں کھول کر دیکھو کہ کیا یہ تحریر آپ لوگوں کی موجودہ حالت کی سو فیصدی عکاسی نہیں کرتی؟ اپنا جواب تم ہمیں نہ بتاؤ۔ لیکن قسم کھا کر ہمارے نیچے دیئے ہوئے سوالوں کا اپنے ضمیر کو ضرور جواب دو۔
- ☆ ...... کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایک طرف تو یہ تمہارے دماغ میں ڈالتے ہیں کہ تم مسلمان ہو۔
لیکن ساتھ ہی یہ کھڑپینچ باقی اربوں مسلمانوں کو کافر بتاتے ہیں اور تمہیں یہ فیصلہ دل سے منظور ہو یا نہ ہو، پر قبول کرنا اور اس پر اپنے عمل سے دستخط کرنا ہی پڑتا ہے؟
- ☆ ...... کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایک آدمی ساری عمر شرافت سے تم لوگوں میں بسر کرتا ہے جہاں
یہ کھڑپینچ اس سے بگڑے، ایک لمحہ میں اس کی صحبت بری قرار دے دی جاتی ہے اور آپ پر لازم ہے کہ جس کو نظام اور کھڑپینچوں نے برا قرار دے دیا اس سے پرہیز کریں۔ پرہیز نہ کریں گے تو عین ممکن ہے کہ آپ کی صحبت بھی بری قرار دی جائے گی۔
- ☆ ...... کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہی شخص اپنی عزت نفس کو ختم کر کے ذلت کو قبول کرتے ہوئے
ان کھڑپینچوں کے آگے جھک جائے، اور ان کا شاہانہ مزاج اپنی انا کی تسکین پاتا محسوس کرے تو چند ہی دنوں میں خلیفہ کے دستخطوں سے اس کی صحبت پھر نیک ہو جاتی ہے؟ یعنی آپ کی جماعت میں شرافت بھی سرٹیفکیٹ کی محتاج ہے؟
- ☆ ...... کیا یہ حقیقت نہیں کہ جماعت سے اخراج کیلئے ضروری نہیں کہ آدمی غلط کردار رکھتا
ہے، یا تہجد گزار ہے، صرف ایک شرط ہے اخراج سے بچنے کی کہ ”نظام“ اور کھڑپینچ آپ سے مطمئن رہیں، خوش ہوں؟ دوسری صورت میں اس جماعت میں آپ کے لئے کوئی امن اور عزت نہیں؟
- ☆ ...... کیا یہ حقیقت نہیں کہ پیدائش سے لے کر اب تک، اپنی ضرورتیں ختم کر کے، ننگے ہو کر،
بیوی بچوں اور دوسرے اہل خانہ کے منہ سے نوالے چھین کر، ان کے تن سے کپڑے نوچ کر ماں باپ، بہن بھائیوں کے حقوق سے آنکھیں بند کر کے چندے دیتے آ رہے ہو اور دوسرے کئی بہانوں سے ان کی تقریبات کے خرچ اٹھا رہے ہو۔ ان کی فرمائشیں ہیں کہ بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔
٢٠٦
لیکن اس کے باوجود ان کھڑپینچوں کی طر قربانی معیاری نہیں۔ قربانی میں ایک دوسر زیادہ نکلوانے کے باوجود، نہ تو کوئی شکرگز تلوار ہمیشہ تمہارے سروں پر لٹکتی رہتی ہے بینک بیلنس، جائیدادیں، بغیر کوئی کام کئے
- ☆ ..... کیا یہ حقیقت نہیں کہ اتنے چند
نظام وصیت تم پر ٹھونس دیا گیا ہے کہ یہ نظا فرق دکھلائے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان ک خبیث ہو؟
- ☆ ..... کیا یہ حقیقت نہیں کہ تمہارے
کھڑپینچوں کے بے پناہ اسراف پر ذرا سا ا مشکوک قرار دے دیتے ہیں۔ بلکہ اگر شاہا پانی پھیرتے ہوئے تم پر بیہودہ الزامات لگ
- ☆ ..... کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایک اچھے
کی اولاد بھی ان سے محبت کرتی ہے۔ اگر لگے تو ان کو رشتوں ناطوں اور سماجی تعلقات وفاداری کے نام پر ماں باپ کے خلاف کیا
- ☆ ..... کیا یہ حقیقت نہیں کہ جب کو
کھڑپینچوں، نظام اور لوگوں میں سے اس ج میں کوئی بات سنی یا دیکھی نہیں ہوتی۔ لیکن خاندان پر انتہائی غلیظ الزامات پھیلائے ج ہے یا عورت ہے۔ جماعت میں تھا تو جما کی، چونکہ اس نے جماعت چھوڑی اس اور ماضی بھی انتہائی گندہ ہو گیا ہے اور آپ کا تنظیمی سے پرچار کرتے ہو حالانکہ تم ہیں، یقین ہوتا ہے کہ یہ الزامات ٹھیک نہیں
لیکن اس کے باوجود ان کھڑپینچوں کی طرف سے ہر لمحہ تمہیں احساس دلایا جاتا ہے کہ ابھی تمہاری قربانی معیاری نہیں۔ قربانی میں ایک دوسرے سے بڑھنے کے نام پر تمہاری جیبوں سے زیادہ سے زیادہ نکلوانے کے باوجود، نہ تو کوئی شکرگزار ہے اور نہ ہی اس کی قدر ہے۔ بلکہ چندہ کے بقایا کی تلوار ہمیشہ تمہارے سروں پر لٹکتی رہتی ہے اور ”نظام“ اور اس کے خاندان و در باریوں کے پیٹ، بینک بیلنس، جائیدادیں، بغیر کوئی کام کئے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔
- ☆...... کیا یہ حقیقت نہیں کہ اتنے چندے لینے کے باوجود ہوس ہے کہ ختم نہیں ہوتی اور اس پر
نظام وصیت تم پر ٹھونس دیا گیا ہے کہ یہ نظام وصیت اس لئے ہے کہ تاکہ خدا خبیث اور نیک میں فرق دکھلائے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کو سب کچھ دینے کے باوجود بھی اگر وصیت نہیں کی تو تم خبیث ہو؟
- ☆...... کیا یہ حقیقت نہیں کہ تمہارے چندوں کا صحیح حساب کتاب کا کسی کو بھی اندازہ نہیں اور
کھڑپینچوں کے بے پناہ اسراف پر ذرا سا اعتراض کرنے پر بھی نہ صرف یہ کھڑپینچ تمہارے ایمان کو مشکوک قرار دے دیتے ہیں۔ بلکہ اگر شاہانہ مزاج کچھ زیادہ ہی تپ گیا تو تمہاری تمام قربانیوں پر پانی پھیرتے ہوئے تم پر بیہودہ الزامات لگا کر باہر پھینکنے میں دیر نہیں کرتے؟
- ☆...... کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایک اچھے باپ یا ماں نے تمام عمر اولاد کی اچھی تربیت کی اور ان
کی اولاد بھی اُن سے محبت کرتی ہے۔ اگر کوئی ان کھڑپینچوں کے بارے میں ذرا بھی منہ کھولنے لگے تو ان کو رشتوں ناطوں اور سماجی تعلقات سے بلیک میل کیا جاتا ہے اور اولاد کو جماعت سے وفاداری کے نام پر ماں باپ کے خلاف کیا جاتا ہے؟
- ☆...... کیا یہ حقیقت نہیں کہ جب کوئی شخص خود یہ جماعت چھوڑ دے تو باوجودیکہ ساری عمر
کھڑپینچوں، نظام اور لوگوں میں سے اس کے کردار یا اس کے خاندان یعنی بیوی بچوں کے بارے میں کوئی بات سنی یا دیکھی نہیں ہوتی۔ لیکن جماعت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہی اس پر، اس کے خاندان پر انتہائی غلیظ الزامات پھیلائے جاتے ہیں اور اس میں کسی کی تخصیص نہیں ہوتی کہ یہ مرد ہے یا عورت ہے۔ جماعت میں تھا تو جماعت کی، انسانوں کی دیانتداری کے ساتھ کتنی خدمت کی، چونکہ اس نے جماعت چھوڑی اس لئے جماعت چھوڑتے ہی اس کا مستقبل، بلکہ حال اور ماضی بھی انتہائی گندہ ہو گیا ہے اور آپ لوگ کھڑپینچوں کی خوشی کے لئے ان بلا ثبوت الزامات کا تندہی سے پرچار کرتے ہو حالانکہ تم میں سے بہتوں کو جو اس کے جاننے والے ہوتے ہیں، یقین ہوتا ہے کہ یہ الزامات ٹھیک نہیں۔ لیکن پھر بھی ان الزامات کا مجبوراً پرچار کرتے ہو؟
٢٠٧
- ☆ ....... کیا یہ حقیقت نہیں کہ ان کھڑپینچوں کی باتوں سے اتفاق نہ کرنے کے باوجود بھی ، دلی
طور پر کئی باتوں کو غلط اور غیر شرعی سمجھنے کے باوجود بھی خاموش رہتے ہو کہ کہیں تم پر منافق کا الزام نہ لگ جائے۔ یا اللہ اور اس کے رسول اور خلیفہ کی نافرمانی کا الزام نہ لگ جائے؟
- ☆ ....... کیا یہ حقیقت نہیں کہ کھڑپینچ خود اور ان کے مسلط کئے ہوئے عہدیداروں کی اکثریت
اخلاق، شرعی ، کردار کے لحاظ سے کسی طرح بھی مثالی نہیں اور ان لوگوں کو اس لئے مسلط کیا گیا ہے کہ وہ تمہیں جماعت کے کنٹرول میں رکھنے کے لئے ہر قسم کی کارروائی سے دریغ نہیں کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سب (مصنوعی) عزت اس عہدے کے ساتھ ہے ورنہ کوئی عام شریف قادیانی ان کی حرکات اور کردار کے نتیجے میں ان عہدیداروں اور کھڑپینچوں کو سلام کرنے کا بھی روادار نہیں؟
میرے قادیانی (احمدی) دوستو!
ان لوگوں نے تمہاری آنکھوں پر مذہب کے نام پر پٹی باندھی ہوئی ہے کہ کوئی بھی بات ہو، تمہارے کھڑپینچوں کی ایک ہی رٹ ہے کہ یہ مخالفین کا پروپیگنڈہ ہے، مولویوں کا جھوٹ ہے کبھی ایک بار خود بھی دوسروں کی بات سن لو اور تحقیق کر کے دیکھو کہ کیا دوسرے واقعی جھوٹ بول رہے ہیں؟ لیکن میں نے وہ حقائق آپ کے سامنے رکھے ہیں جن سے روزمرہ کی زندگی میں آپ کو ہر لمحہ واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ اپنے ضمیر کی آواز سن لیں اور سوچیں کہ کیا خدائی جماعتوں کے طریقے ایسے ہوتے ہیں؟ اگر آپ کے ضمیر میں کوئی ذرا سی بھی زندگی ابھی باقی ہے تو آپ بے اختیار یہ ہی کہیں گے کہ نہیں، نہیں، نہیں۔ اور اگر ضمیر کی ایک بھی ”نہیں“ سنیں تو خدا کے لئے ایک بار مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کے بارے میں دوسروں کی رائے بھی پڑھ لیں اور ان حوالوں اور آراء کو اپنی جماعتی کتابوں میں چیک کرلیں اگر صحیح ہوں تو پھر اپنے آپ سے پوچھیں کہ کہیں آپ کے ساتھ بھی اس ضرب المثل کے مطابق تو نہیں ہو رہا کہ ”تیلی کو خصم بھی کیا اور روکھا بھی کھایا“ کہ جس آخرت کو سنوارنے کے نام پر آپ ایک جھوٹے نبی کے پیچھے لگے ہو وہ بھی ہاتھ سے گئی اور دنیا بھی ان لوگوں کے ہاتھوں لٹ گئی۔ جھوٹے نبیوں کے پیچھے لگ کر نہ دین رہتا ہے اور نہ دنیا۔ بچوں کے رشتوں سے سماجی تعلقات کے ٹوٹنے سے نہ ڈرو، جب تم قادیانیت کے گندے، بدبودار چھپڑ سے نکل کر اسلام کے بہتے ، صاف اور پاک دریا میں آؤ گے تو خدا کی قسم! یوم حساب کے روز شفیع ، رحمت اللعالمین ، خاتم الانبیاء ﷺ کے صدقے تمہیں اللہ ہر چیز سے بہت بہت بہتر رنگ میں نوازے گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ جھوٹے نبی کے دین کو چھوڑ کر سچے نبی کی طرف
٢٠٨
آجاؤ۔ اللہ آپ کو حق کی طرف لوٹنے کی
....... (١٤)
قادیانی (احمدیہ) جماعت نے مختلف مذاہب والوں کو چیلنج دیئے۔ لیکن مریدوں سے اور دوسرے سادہ لوح مسل پیسے بٹورنے ہوتے تھے تو کسی نہ کسی کو چیلنج لئے کسی بھی مذہب سے جب کوئی سامنے پناہ لے لیتے۔ کوٹھیوں میں چھپ جاتے ا اس فریق کو دوبارہ چیلنج کرنا شروع کر دیت چیلنج کا حشر دیکھ کر مرزا قادیانی پر اعتبار طرح مرزا قادیانی گھر میں بیٹھے بیٹھے اپ
مرزا قادیانی کے بے شمار دو کتنے بلند دعوے کر رہے ہیں۔
- ☆ ....... ”مسیح موعود کوئی بات اپنے پا
- ☆ ....... ”میں زمین کی باتیں نہیں کر
ہے۔“
آپ نے مرزا قادیانی کے ب کر رہے ہیں۔ بقول مرزا قادیانی اور قاد اور آسمانی روح نے حرف بہ حرف لکھوائی ہوئے لکھتے ہیں۔
- ☆ ....... ”اب ہم اس قصہ کو مختصر کر ت
اسی کے ضمن میں آریوں کے اس رسالہ ک حقیقت رکھا ہے۔“
آجاؤ۔ اللہ آپ کو حق کی طرف لوٹنے کی توفیق دے۔ آمین
(١٤) ...... قرآنی طاقتوں کی جلوہ گاہ
(ابوالسمیل۔ المانیہ)
قادیانی (احمدیہ) جماعت اکثر دعویٰ کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے زندگی بھر مختلف مذاہب والوں کو چیلنج دیئے۔ لیکن کوئی سامنے نہیں آیا۔ مرزا قادیانی کا طریق یہ تھا کہ جب مریدوں سے اور دوسرے سادہ لوح مسلمانوں سے جو ان کو لاعلمی کی وجہ سے مسلمان سمجھتے تھے، پیسے بٹورنے ہوتے تھے تو کسی نہ کسی کو چیلنج دینا شروع کر دیتے تھے۔ ان کا چیلنج کا جواب دینے کے لئے کسی بھی مذہب سے جب کوئی سامنے آتا تھا تو مرزا قادیانی اپنے بہانوں کی سائبان کے نیچے پناہ لے لیتے۔ کوٹھیوں میں چھپ جاتے اور کہتے کہ ابتلاء کے دن ہیں اور جب وہ وقت گزر جاتا تو اس فریق کو دوبارہ چیلنج کرنا شروع کر دیتے۔ لیکن ایک بار چیلنج تسلیم کر کے آنے والا مرزا کے پہلے چیلنج کا حشر دیکھ کر مرزا قادیانی پر اعتبار نہ کرتا اور ان کے دوبارہ خالی خولی چیلنج پر توجہ نہ کرتا۔ اس طرح مرزا قادیانی گھر میں بیٹھے بٹھائے اپنے کو فاتح عالم قرار دے گئے۔
مرزا قادیانی کے بے شمار دعاوی میں سے ان دعویٰ جات کو دیکھیں کہ مرزا قادیانی کتنے بلند دعوے کر رہے ہیں۔
- ☆...... ”مسیح موعود کوئی بات اپنے پاس سے نہیں کہتا بلکہ اس کا کلام خدا کی وحی ہے۔“
(اربعین ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
- ☆...... ”میں زمین کی باتیں نہیں کہتا، وہی کہتا ہوں جو میرے خدا نے میرے منہ میں ڈالا
ہے۔“
(پیغام صلح ص ٦٣، خزائن ج ٢٣ ص ٤٨٥)
آپ نے مرزا قادیانی کے دعوے دیکھ لئے۔ اب ہم جو تحریر مرزا قادیانی کی پیش کر رہے ہیں۔ بقول مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت کے صرف اور صرف خدا کی وحی سے لکھی گئی اور آسمانی روح نے حرف بہ حرف لکھوائی ہوگی۔ مرزا قادیانی آریوں اور ہندوؤں کو چیلنج کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
- ☆...... ”اب ہم اس قصہ کو مختصر کر کے ایک نئی کتاب کے ماہ بماہ نکلنے کی بشارت دیں گے اور
اسی کے ضمن میں آریوں کے اس رسالہ کا رد لکھا جائے گا جس کا نام انہوں نے سرمہ چشم آریہ کی حقیقت رکھا ہے۔“
(شحنہ حق ص ٦، خزائن ج ٢ ص ٣٣٤)
٢٠٩
- ☆...... اشتہار رسالہ ماہواری قرآنی طاقتوں کی جلوہ گاہ جو جون ١٨٨٧ء کی بیسویں تاریخ
سے ماہ بماہ نکلا کرے گا۔
”جب تک میں نے آریہ صاحبوں کا وہ رسالہ نہیں دیکھا تھا جس کا نام ہے۔ ”سرمہ چشم آریہ کی حقیقت اور فن اور فریب غلام احمد کی کیفیت“ تب تک مجھے اس طرف ذرہ بھی توجہ نہ تھی کہ میں کوئی ماہواری رسالہ قرآنی علوم اور صداقتوں کا اس غرض سے نکالوں تا کہ اگر کوئی آریہ ویدوں کی حقیقت سمجھتا ہو تو قرآنی صداقتوں سے اس کا مقابلہ کر کے دکھاوے۔ مگر سبحان اللہ کیا حکمت و قدرت الٰہی ہے کہ اس نے بعض بداندیشوں کو اس خیر محض کا سبب بنا دیا تا کہ دنیا کو قرآنی شعاعوں سے منور کرے اور شر طینتوں پر ان کی کور باطنی ظاہر کرے۔ سو جس رسالہ کا نام میں نے عنوان میں لکھ دیا ہے یعنی قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ یہ وہی مومنین کا صادق دوست ہے جس کے قدم میمنت لزوم کا اصل موجب دشمن ہی ہوئے ورنہ خدائے کریم علیم ہے کہ اس سے پہلے میں جانتا بھی نہیں تھا کہ ایسے ماہواری رسالہ کے نکالنے کی خدمت بھی مجھ سے ظہور میں آئے گی۔ اب تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب ارادہ الٰہی اس بات کی طرف متعلق ہوا کہ کوئی ایسا رسالہ ماہواری نکالا جائے کہ جو قرآنی طاقتوں اور صداقتوں کو ہر مہینہ میں دکھلا کر ویدوں سے بھی ایسے ہی علوم و معارف کا مطالبہ کرے اور اس طور سے ویدوں کی ذاتی لیاقت کی کیفیت ہر ایک پر بخوبی کھول دے اور قرآن شریف کی عظمت اور وقعت ہر ایک منصف پر ظاہر کرے تو اس حکیم مطلق نے یہ تقریب قائم کی کہ بعض آریہ صاحبوں نے ایک اشتہار بصورت رسالہ بماہ فروری ١٨٨٧ء چشمہ نور امرتسر میں چھپوایا اور اس میں بڑے زور سے انہیں امور کے لئے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں تحریک کی...... بہرحال یہ رسالہ آریوں کا ان لوگوں کی طرف سے ہے جنہوں نے بغرض مقابلہ وید و قرآن ایک ایسے رسالہ کی تالیف کیلئے ہم سے درخواست کی ہے جو قرآنی علوم اور حقائق کو بیان کرنے والا ہو۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ اول تو مرزا کا اس کام کا ارادہ ہی وہم و خیال ہے کیونکہ وہ ہندوؤں کے ساتھ بحث مباحثہ کا نام لینے کے بھی لائق نہیں، کتب مذہبی سے بے بہرہ محض ہے حتیٰ کہ حروف شناسی سے بھی محروم مطلق ہے پھر اگر شرمے شرمائے اس کام کو شروع کرے گا تو آخر نیچا دیکھے گا۔ صرف آیات قرآنی سے اپنا مدعا ثابت کر کے دکھلاوے ورنہ ہم خوب بنائیں گے۔ قرآن سے ہرگز کوئی بات علم کی برآمد نہیں ہوگی اور جہلاء عرب کو علم سے کام ہی کیا تھا اور تمام جہان میں جو علم ظاہر ہوا ہے وہ وید اقدس کی بدولت ہے۔ مرزا کو ہم اعلانیہ متنبہ کرتے ہیں
٢١٠
کہ بے شک وہ رسالہ موعودہ تیار کرے۔ اگر کرے گا تو نیچا دیکھے گا۔ ہم خوب بتائیں گے ہم مرزا سے کوئی شرط نہیں کرتے کیونکہ اس کا مال حرام ہمارے کس کام ہے؟ وہ دغا فریب سے جمع کیا گیا ہے اور مرزا کے چاروں طرف سے قرضدار ہیں اور کوڑی کوڑی سے لاچار اور جائیداد بھی سب فروخت ہوگئی۔ مرزا قادیانی کے دل پر جہالت کا پردہ ہے اور نیز وہ بڑا مفلس ہے زمین بھی بک گئی۔ دیکھو قرض داری اور ناداری کے ثبوت دو خط ہیں جو کسی ہندو کے نام لکھے تھے۔ کھیوٹ بندوبست کے حصہ کشی سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس کے فقط ساٹھ گھماؤں زمین ہے۔ بڑا فریبی ہے۔ قرآن قرآن لئے پھرتا ہے۔
ہم انشاء اللہ رسالہ قرآنی طاقتوں کے جلوہ گاہ میں یہ ثابت کریں گے کہ وید تو خود دشمن صفات الٰہی ہیں اور کوئی کتاب بھی ایسی نہیں جو صفات الٰہی کے پاک بیان میں قرآن شریف کا مقابلہ کر سکے۔“
(شحنہ حق ص ٥٣، خزائن ج ٢ ص ٣٩٧)
”رہی یہ بات کہ ان کی عقل عجیب کے نزدیک قرآن شریف علم الٰہی سے خالی اور وید علوم و معارف سے بھرا ہے تو اس کا فیصلہ تو خود مقابلہ وموازنہ سے ہوجائے گا۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔ ہم خود منتظر تھے کہ ایسا فیصلہ جلد ہوجائے۔ سو آریہ صاحبوں نے اس کے لئے آپ ہی سلسلہ جنبانی کی۔ پس ہم ان کی اس تحریک اور سلسلہ جنبانی کو بہ تمام تر شکر گزاری قبول کرتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ انشاء اللہ ہم بفضل خدا وتوفیق ایزدی جون ١٨٨٧ء کے مہینے سے بر طبق درخواست ان کے ایسا رسالہ ماہواری شائع کرنا شروع کر دیں گے۔ لیکن ساتھ ہی ہم با ادب عرض کرتے ہیں کہ جب وہ رسالہ یعنی ”قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ“ شائع ہونا شروع ہو تو پھر لالہ صاحبان مقابلہ سے کہیں بھاگ نہ جائیں اور اپنے وید کی حمایت کرنے کو تیار رہیں۔“
(شحنہ حق ص ١٠، ١١، خزائن ج ٢ ص ٣٤١)
جب مرزا قادیانی کی خدائی وحی کے تحت تحریر کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں۔
- ☆....... مرزا قادیانی کو ایک رسالہ ملا جس کو آریوں نے فروری ١٨٨٧ء میں چھپوایا اور اس میں
مرزا قادیانی کی ایک کتاب سرمہ چشم آریہ اور مرزا قادیانی کے فریبوں کا ذکر تھا۔
- ☆....... لیکن مرزا قادیانی کے خدا نے ان کو وحی کی کہ آریوں سے یہ رسالہ لکھوا کر ہم نے تمہیں
قرآن کی صداقتیں دکھانے کا موقع دیا ہے۔
٢١١
- ☆...... یہ ارادہ الٰہی تھا کہ دشمنوں کو قرآن کا نور دکھانے کے لئے اور ویدوں کی اصل بیان
کرنے کے لئے ایک ماہواری رسالہ ”قرآنی طاقتوں کی جلوہ گاہ“ کی خدمت مرزا قادیانی سے ہی لی جائے گی۔
- ☆...... آریہ اور ہندوؤں کا دعویٰ تھا کہ مرزا قادیانی اس قسم کی خدمت کے قابل ہی نہیں، نیز
آریوں نے تحدی سے کہا کہ مرزا مذہبی علوم میں بے بہرہ ہے اور وہ قرآن سے کوئی بات نہیں دکھا سکے گا اور بقول مرزا کے آریوں نے قرآن کو جہلائے عرب کا کلام قرار دیا۔ اس طرح اسلام کی تعلیم اور مسلمانوں کی اپنی کتاب کی حرمت اور غیرت کے لئے للکارا۔
- ☆...... آریوں کا ہی تحدی کے ساتھ دعویٰ تھا کہ مرزا قادیانی میدان میں ہی نہیں آئیں گے
اور اگر شرما شرمی آیا تو بھی نیچا دیکھے گا۔
- ☆...... مرزا قادیانی نے اس موقعہ کو شکریہ کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ وہ ماہوار رسالہ ”قرآنی
طاقتوں کی جلوہ گاہ“ میں نہ صرف قرآن کی عظمت ثابت کریں گے بلکہ یہ بھی ثابت کریں گے کہ وید خود دشمن صفات الٰہی ہیں اور قرآن شریف کے مقابل پر کوئی کتاب نہیں۔
- ☆...... مرزا قادیانی خود بھی ایسے موقع کے منتظر تھے اور آریوں کی اس تحریک اور سلسلہ جنبانی
کو بہ تمام تر شکر گزاری قبول کرتے ہیں اور اس کے ساتھ مرزا قادیانی وحی الٰہی کے تحت پختہ وعدہ دے رہے ہیں کہ جون ١٨٨٧ء سے باقاعدہ طور پر ماہوار رسالہ نکلنا شروع ہو جائے گا۔
- ☆...... مرزا قادیانی باادب عرض کرتے ہیں کہ جب وہ رسالہ یعنی قرآنی طاقتوں کی جلوہ گاہ
شائع ہونا شروع ہو تو پھر لالہ صاحبان مقابلہ سے کہیں بھاگ نہ جائیں اور اپنے وید کی حمایت کرنے کو تیار رہیں۔ یعنی آریوں کو اپنے مقابل پر ثابت قدم رہنے پر زور دے رہے ہیں۔
- ☆...... مرزا قادیانی کے پاس یورپ سے بھی اور مقامی طور پر بھی علمی مدد کرنے کے لئے لوگ
موجود ہیں۔ جو انگریزی میں بھی مرزا قادیانی کے ساتھ تعاون کریں گے۔
خلاصہ یہ کہ آریوں نے ایک اشتہار نکالا۔ مرزا قادیانی نے خدائی منشاء کے تحت اس کو اسلام اور قرآن کی غیرت وحمیت میں نہ صرف قبول کیا بلکہ چیلنج دیا کہ میں ہر طرح سے مسلح ہوں اور اس قابل ہوں کہ قرآن کی عظمت اور معرفت ثابت کروں۔ نیز وید کو صفات الٰہی کی دشمن بھی ثابت کرنے کا دعویٰ کیا اور ساتھ ان کو تحدی کے ساتھ کہا کہ اب میدان چھوڑ کر بھاگنا نہیں!
- ☆...... ”میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا جو کچھ فرقان
سے ظاہر ہوا۔“
(تذکرہ ص ١٧٢، طبع ٣)
٢١٢
- ☆...... ”مجھے اس خدا تعالیٰ کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے قرآن کے
حقائق اور معارف سمجھنے میں ہر ایک روح پر غلبہ دیا گیا ہے۔“
(سراج منیر ص ٣٩، خزائن ج ١٢ ص ٢٤١)
- ☆...... مجھے خدا تعالیٰ نے الہام سے مشرف فرمایا کہ الرحمن علم القرآن کہ خدا نے تجھے قرآن
سکھایا۔“
(براہین احمدیہ ص ٢٣٨، خزائن ج ١ ص ٢٦٥ حاشیہ)
ان تمام تحریروں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمارے سامنے مجموعی صورت حال یہ بنتی ہے کہ:
”مرزا قادیانی کے مطابق خدا نے قرآن کی عظمت و معارف کے بیان اور وید کی اندھی دشمنی کے لئے ایک ماہوار رسالہ ”قرآنی طاقتوں کی جلوہ گاہ“ کے اجراء کا نہ صرف موقعہ دیا بلکہ وحی اور روح کے اندر تک اتر جانے والا فہم بھی دیا اور اس کے لئے اس سے قبل مرزا قادیانی کو یہاں تک قابلیت بھی دی کہ ہر روح گزشتہ، (اس کا مطلب ہے کہ جس میں محمدﷺ بھی شامل ہو سکتے ہیں) موجودہ اور آئندہ آنے والی روحیں، ان سب سے زیادہ اللہ نے مرزا قادیانی کو قرآن کریم کے حقائق اور معارف سکھا کر اس کام کیلئے ایک مکمل شخصیت کے طور پر بھی تیار کیا تھا اور مرزا قادیانی نے خدا کے حکم کے تحت آریوں کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ ان کو میدان سے نہ بھاگنے کا کہہ کر ان کی غیرت کو بھی جھنجھوڑا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتے ہیں کہ:
- ☆...... اتنی تحدی کے ساتھ مرزا قادیانی کے (خدا کی طرف سے) اعلان کے باوجود ماہوار تو
دور کی بات، کیا ایک بھی رسالہ ”قرآنی طاقتوں کی جلوہ گاہ“ کے نام سے، جون ١٨٨٧ء سے لے کر مرزا قادیانی کی وفات تک نکلا؟ اگر نکلا ہے تو قادیانی (احمدی) جماعت لاہوری، ربوی، کوئی بھی گروپ پیش کرے، انعام پائے!
- ☆...... اگر یہ ماہوار رسالہ نہیں نکلا تو ”قرآنی طاقتوں کی جلوہ گاہ“ تو کیا خدا کی وحی یا خدا کے حکم
کی خلاف ورزی نہیں ہوئی؟ کیا یہ رسالہ شائع نہ کر کے خدا کے منشاء کو رد نہیں کیا؟ جو صحیح وقت تھا قرآن کی طرح اپنے کو دکھانے کا، اور ہر ذی روح سے بڑھ کر قرآن کے معارف اور مطالب بیان کرنے کا، جس کے لئے بقول مرزا اس کو خدا نے قرآن سکھا کر تیار کیا تھا۔ اس موقعہ کو مرزا قادیانی نے ضائع کیا یا نہیں؟
- ☆...... کیا آریہ سچے ہوئے یا نہیں، جنہوں نے کہا تھا کہ مرزا قادیانی اس علمی کام کے قابل
نہیں۔ اور اگر شرما شرمی کرے گا بھی تو اس سے نہیں ہوگا؟ اور دیکھ لیں کہ مرزا قادیانی نے شرما شرمی سے چیلنج کر دیا اور آریوں کو نہ بھاگنے کا کہہ کر خود انتہائی بے شرمی سے میدان سے بھاگ
٢١٣
گئے، بلکہ میدان میں نکلے ہی نہیں۔
- ٭...... ایک عام آدمی کو بھی جب کوئی شخص مخاطب کر کے چیلنج کرنے کے رنگ میں یا مقابل پر
لانے کے لئے بات کہتا ہے تو اول اگر اس میں صلاحیت نہیں تو خاموشی سے طرح دے جائے گا لیکن جب دو آدمیوں کے سامنے وعدہ کرتا ہے اور دعویٰ سے کہتا ہے کہ میں یہ کام کروں گا تو وہ پھر حتی المقدور کرتا بھی ہے۔
- ٭...... لیکن یہاں دعویٰ ہے مجددیت، مثیل وغیرہ اور ساتھ دعویٰ یہ بھی ہے کہ میرے اندر خدا
بولتا ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ اس مقام کا دعویٰ کرنے والا مقدس چیلنج دینے کے بعد اتنی بے شرمی کے ساتھ خاموش ہو جائے۔ ایک جواب تک نہ دے اور انگلی بھی نہ ہلائے۔ کیا یہ کسی طرح بھی بے غیرتی سے کم ہے؟
- ٭...... قرآن فہمی کے دعوے دار کو قرآن کریم کی یہ آیت بھی یاد نہ آئی لِمَ تَقُولُونَ
مَا لَا تَفْعَلُونَ ۔یعنی وہ تم کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟
- ٭...... مرزا قادیانی اپنی ساری باتیں خدا کے کھاتے میں ڈالتے ہیں کہ اس سے پوچھو اس
نے کیوں نہیں چاہا۔ ان کا یہ جواز غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ اگر وہ کسی بندے کو تیار کرتا ہے تو اس سے کام بھی لیتا ہے اور جب مرزا قادیانی کے بقول ان کی شخصیت ایسی ہے کہ نبیوں نے بھی ان کے دیکھنے کی خواہش کی تھی۔ ایسی شخصیت سے اللہ تعالیٰ مخالفین قرآن کو چیلنج بھی کرواتا ہے اور پھر بعد میں اس مخصوص چیلنج کا جواب دینے کی طاقت دینے کی بجائے مرزا قادیانی کی زبان اور قلم کی طاقت سلب کر لیتا ہے اور اس کو خیال نہیں آتا کہ میرا یہ نبی دنیا میں خود بھی شرمندہ ہوگا اور اللہ کا نام بھی۔ اس کی قدر بھی مشکوک کر دے گا۔ اور ایسا کبھی ممکن نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی ہر تحدی پر ان کو منہ کے بل پر گرایا کیونکہ وہ اللہ کے نمائندہ نہیں تھے۔ قادیانی دوستو سوچو ذرا!
(١٥)...... انٹرویو (سابق قادیانی) سید منیر احمد ۔ جرمنی
(شیخ راحیل احمد ۔ جرمنی)
تعارف
دنیا میں کئی جھوٹے نبی پیدا ہوئے۔ لیکن امت مسلمہ کے اندر جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں میں ایک عہد حاضر کا بہت ہی نمایاں مدعی مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ جو خود تو اپنی
٢١٤
زندگی میں چند ہزار پیروکار بنا سکا لیکن اس طرح ان کی آئندہ پیدا ہونے والی نسلیں بھی قادیانی بن گئیں اور اس طرح وہ لاکھوں لوگوں کو نجات کے نام پر جہنم کی طرف دھکیل گیا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ان پکے قادیانیوں کی اولادوں میں سے بعض کو ہدایت دے تو اس نے مختلف طریقوں سے ان کے دل اور ذہن میں قادیانی نبوت کے جھوٹے پن کا احساس پیدا کر کے ان کو حوصلہ دیا کہ وہ ان زنجیروں کو توڑ سکیں اور اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ بظاہر دنیاوی طور پر ان کو اس کی کیا قیمت دینی پڑے گی اور یہ حقیقت ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ جو اسلام میں شامل ہوئے ان کو اتنی قیمت نہیں ادا کرنی پڑی جتنی قادیانیت کو خود چھوڑنے والوں کو اکثر ادا کرنی پڑی۔ اس کی میری طرح کی ایک اور مثال جناب سید منیر ہیں جو ٢٥ سال قبل اس جماعت کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔ لیکن بعض نامعلوم وجوہات کی بناء پر ایک آدھ اخبار میں سرسری رنگ میں خبر شائع ہوئی اور لوگوں کو ان کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا۔ چند ماہ قبل ان کے بارے میں خاکسار کو پتہ چلا۔ ان سے رابطہ کیا اور اس کے بعد ان کے بارے میں ختم نبوت اکیڈمی کے ڈائریکٹر عبدالرحمن باوا کو بتایا۔ ان کے ذریعہ ان کے بارے میں امت، اسلام اور جنگ، نقیب ختم نبوت اور پاکستان کے کئی دوسرے اخباروں میں خبریں چھپیں۔ سید منیر خدا کی رضا کی خاطر دنیاوی طور پر اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔ ان کی اور قادیانیت سے دوسرے تائب ہونے والوں کی استقامت کی دعا کیجئے گا۔ اگر خدا نے توفیق دی اور آپ نے اس سلسلہ کو پسند کیا تو اسی طرح اور بھی جھوٹی نبوت سے بیزار ہونے والوں کے انٹرویو پیش کرنے کی کوشش کروں گا، انشاء اللہ
فقیر در مصطفیٰ ﷺ شیخ راحیل احمد ۔ جرمنی
راحیل شیخ ...... السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ سید منیر ...... وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ راحیل شیخ ...... آپ کو جھوٹی نبوت کے جال کو توڑ کر اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ﷺ کے صحیح اور خالص دین میں آنا مبارک ہو اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی برکات سے نہ صرف آپ بلکہ آپ کا خاندان اور رہتی دنیا تک آپ کی نسلیں بھی مستفید ہوں۔ آمین ۔ میں اور میری ٹیم اپنی طرف سے، اپنے قارئین کی طرف سے آپ کو دائرہ اسلام میں خوش آمدید کہتی ہے۔ سید منیر ...... شکریہ! آپ ہماری استقامت کے لئے دعا کریں کیونکہ اس وقت میرے قادیانی قریبی عزیز ہمارے لئے جماعت کے اشارہ پر بہت سے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ راحیل شیخ ...... ہم چند سوالات بطور انٹرویو آپ سے کر رہے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو
٢١٥
صراط مستقیم پر آنے کی توفیق بخشی ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کے منہ سے نکلا ہوا کوئی فقرہ، کوئی لفظ، کسی اور اندھیرے میں پھنسے ہوئے نیک فطرت انسان کے لئے راستہ دکھانے والی روشنی بن جائے اور اس کی ہدایت آپ کے لئے اور آپ کی نسلوں کے لئے صدقہ جاریہ ہو۔ آمین
دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے آپ کے قبول اسلام کے حالات محفوظ ہو جائیں تاکہ آپ کی آئندہ نسلوں کے لئے فخر کا باعث ہو بلکہ دوسرے پڑھنے والوں کی دعائیں بھی آپ کو تا قیامت پہنچتی رہیں۔ آمین
سید منیر ...... جی میں حاضر ہوں اور جہاں تک ممکن ہوا آپ کے سوالوں کے صحیح جوابات دینے کی کوشش کروں گا۔
راحیل شیخ ...... آپ کا نام اور عمر اور تعلیم اور آپ کا ذریعہ معاش، یعنی آپ نے کون سا ہنر سیکھا ہے؟
سید منیر ...... میرا نام سید منیر احمد ہے اور میری عمر اس وقت تقریباً ٥٧ سال ہے۔ میں پاکستان میں پاکستانی فوج اور پھر پاکستان پولیس میں ملازم رہا ہوں۔ اس کے بعد تقریباً تین سال چناب نگر (سابق ربوہ) میں تیسرے قادیانی خلیفہ مرزا ناصر احمد کے بیٹے مرزا فرید احمد کی ایکسلسی سگریٹ کی ایجنسی چلاتا رہا ہوں (منافقت کی بھی حد ہوتی ہے۔ مرزا ناصر نے ربوہ میں کھلے عام سگریٹ پینے پر پابندی لگائی ہوئی تھی۔ (ہنسی) یہاں جرمنی میں مختلف کام کئے ہیں۔
راحیل شیخ ...... آپ کا خاندانی پس منظر؟
سید منیر ...... ہم سید ہیں اور ہمارے بزرگ بخارا سے تین چار سو سال قبل تبلیغ اسلام کے لئے ہندوستان تشریف لائے تھے اور پھر یہیں کے ہو گئے۔
شیخ راحیل ...... آپ کتنی پشت سے قادیانیت میں ہیں؟
سید منیر ...... میرے والد صاحب نے قادیانیت قبول کی تھی۔ اس طرح میں پیدائشی قادیانی تھا۔
راحیل شیخ ...... آپ کے ننھیال اور ددھیال میں کوئی مشہور قادیانی شخصیات ہوں تو ان کا تعارف؟
سید منیر ...... کوئی مشہور قادیانی نہیں تھا۔ لیکن میرے والد مخلص قادیانی تھے۔
راحیل شیخ ...... کیا آپ قادیانی جماعت میں عہدیدار تھے۔ اگر تھے تو اس کی کچھ تفصیل؟
سید منیر ...... میں جرمنی کے شہر ”آخن“ کی جماعت میں لوکل طور پر زعیم انصار اللہ، سیکرٹری امور عامہ رہا ہوں اور ”ریجن نارتھ ر ہائن“ کی اصلاحی کمیٹی کا ممبر تھا۔
٢١٦
راحیل شیخ ...... وہ کون سی بات تھی جس کی سید منیر ...... میں قرآن اور حدیث پڑھ حدیثوں سے نہیں ملتی تھیں۔ یعنی مرزا قادی کاموں میں گزرا ہے۔
راحیل شیخ ...... قادیانیت اور اسلام کے سید منیر ...... خدا تعالیٰ ، اس کے رسولؐ مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے جھوٹوں اور
راحیل شیخ ...... کیا آپ کو یہ قدم اٹھانے کسی بھی قسم کی مدد ملی؟ اگر ملی تو اس کی نوعیت
سید منیر ...... نہیں! کسی نے کوئی مدد نہیں میں کوئی دخل ہے۔
راحیل شیخ ...... آپ نے کس عالم کے کے، اخباروں یا میڈیا کے ذریعے اپنے تر
سید منیر ...... عبد الجلیل زیتون یہ عربی ہ
راحیل شیخ ...... جن عالم کے باہر کھ مصروفیات اور مختصر حالات زندگی پر روشنی
سید منیر ...... امام مسجد ہیں اور اسلام کی گئے ہوئے ہیں۔
راحیل شیخ ...... آپ کو یا آپ کی کسی خواب آیا ہو تو اس کی کسی حد تک تفصیل ب
سید منیر ...... آج سے تقریباً چھ یا سات تہجد پڑھ کر سویا تو خواب میں دیکھتا ہوں انتظار میں ہیں۔ تو میں بھی وہاں چلا گی وہاں کھڑے ہیں تو میں ان سے پوچھتا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ یہاں سے پی وہاں کھڑا ہو گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قاد
راحیل شیخ ....... وہ کون سی بات تھی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو قادیانیت سے متنفر کیا؟
سید منیر ....... میں قرآن اور حدیث پڑھتا تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی کئی کتابیں پڑھیں۔ جو کہ حدیثوں سے نہیں ملتی تھیں۔ یعنی مرزا قادیانی کی زبان نہایت گندی تھی۔ اس کی عمر کا اکثر حصہ غلط کاموں میں گزرا ہے۔
راحیل شیخ ....... قادیانیت اور اسلام کے فرق کو سمجھنے میں آپ کی مدد کس نے کی؟
سید منیر ....... خدا تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور قرآن کریم نیز احادیث۔ لیکن سب سے بڑھ کر مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے جھوٹوں اور تضاد بیانی نے۔
راحیل شیخ ....... کیا آپ کو یہ قدم اٹھانے میں کسی عزیز، دوست، رشتہ دار کی طرف سے اخلاقی یا کسی بھی قسم کی مدد ملی؟ اگر ملی تو اس کی نوعیت کیا؟
سید منیر ....... نہیں! کسی نے کوئی مدد نہیں کی۔ نہ کسی نے شخصی طور پر اور نہ ہی کسی مذہبی تنظیم کا اس میں کوئی دخل ہے۔
راحیل شیخ ....... آپ نے کس عالم کے ہاتھ پر قبول اسلام کا اعلان کیا، یا آپ نے بغیر کسی عالم کے، اخباروں یا میڈیا کے ذریعے اپنے ترک قادیانیت اور قبول اسلام کا اعلان کیا؟
سید منیر ....... عبد الجلیل زیتون یہ عربی ہیں اور ملک شام کے رہنے والے ہیں۔
راحیل شیخ ....... جن عالم کے بابرکت ہاتھ پر آپ نے قبول اسلام کا اعلان کیا۔ ان کی مصروفیات اور مختصر حالات زندگی پر روشنی ڈالیں گے؟
سید منیر ....... امام مسجد ہیں اور اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔ وہ آج کل جرمنی میں نہیں۔ رخصت پر گئے ہوئے ہیں۔
راحیل شیخ ....... آپ کو یا آپ کی کسی قریبی شخصیت کو اس سلسلے میں کوئی بشارت یا خوشخبری والا خواب آیا ہو تو اس کی کسی حد تک تفصیل؟
سید منیر ....... آج سے تقریباً چھ یا سات سال پہلے محرم الحرام کا مہینہ تھا۔ میں رات دو بجے نماز تہجد پڑھ کر سویا تو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ پر بہت سے لوگ اکٹھے ہیں جیسے کسی کے انتظار میں ہیں۔ تو میں بھی وہاں چلا گیا تو ایک بزرگ بہت خوبصورت، سفید رنگ، سفید داڑھی وہاں کھڑے ہیں تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں تو وہ بزرگ کہنے لگے کہ آپ کو معلوم نہیں کہ یہاں سے پیارے آقا حضرت محمد ﷺ گزرنے والے ہیں۔ میں بھی وہاں کھڑا ہو گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قادیانی جماعت کا چوتھا خلیفہ مرزا طاہر چند آدمیوں کے ساتھ
٢١٧
کھڑا رو رہا ہے۔ یعنی اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں تو میں ان بزرگوں سے پوچھتا ہوں کہ یہ قادیانی جماعت کا بادشاہ کیوں رو رہا ہے؟ تو اس بزرگ نے جواب دیا کہ یہ بھی حضور اکرمﷺ سے ملنے آیا تھا لیکن آپﷺ نے ان کو ملنے سے انکار کر دیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ قادیانی مجھے یعنی نبی کریمﷺ کو نہیں مانتے۔ اتنے میں میں سامنے دیکھتا ہوں تو کچھ لوگ سامنے سے گزرنے لگے تو میں نے ان بزرگ سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں نور سے بنے ہوئے اور اتنے خوبصورت؟ ان بزرگ نے جواب دیا کہ یہ رسول پاکﷺ اور چاروں خلفاء راشدینؓ ہیں۔ میں نے پھر پوچھا کہ یہ سب کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟ تو بزرگ جواب دیتے ہیں کہ آج محرم کی دسویں ہے اور حضرت محمدﷺ اور چاروں خلفاء راشدینؓ حضرت امام حسینؓ کی قبر پر دعا مانگنے جارہے ہیں۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ کیا اب اس سے زیادہ واضح اور کس اشارے کا انتظار کرو گے۔ اس کے چند دن بعد میں نے گھر کے قریب ایک عربی مسلمانوں کی مسجد میں جا کر اپنے حق کو قبول کرنے اور جھوٹے مذہب قادیانیت سے برأت کا اعلان کر دیا۔ الحمد للہ!
راحیل شیخ: ...... کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے اسلام میں آنے کے بعد اور اس سے پہلے بطور قادیانی، آپ کی زندگی کے محسوسات اور خیالات میں کیا فرق پڑا ہے؟ سید منیر: ...... وہی محسوس کرتا ہوں جو کفر اور اسلام میں ہے۔ پہلے ایک بے سکونی تھی۔ صحیح اسلام میں آنے کے بعد ایک سکون اور یقین سا محسوس ہوتا ہے۔ راحیل شیخ: ...... کیا آپ شادی شدہ ہیں۔ اگر ہیں تو کیا آپ کی اہلیہ نے بھی آپ کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے؟ سید منیر: ...... جی میری بیوی بھی میرے ساتھ اسلام میں داخل ہوئی ہے۔ راحیل شیخ: ...... آپ قادیانی جماعت میں عقائد کے علاوہ اور کون سی باتیں غلط محسوس کرتے ہیں؟ سید منیر: ...... عقیدہ تو غلط ہے ہی، لیکن اس جماعت میں انسان کی کوئی عزت نہیں اور سارا سسٹم صرف ایک خاندان کے فائدہ کے لئے بنایا گیا ہے۔ راحیل شیخ: ...... یہ جو آئے دن میڈیا پر مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹوں اور دوسرے خاندان کے بارے میں خبریں آتی رہتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ مکمل یا جزوی طور پر سچ ہیں یا غلط پروپیگنڈہ ہے؟
٢١٨
سید منیر: ...... اکثر باتیں صحیح ہوتی ہیں۔ لیکن پیش کیا ہوتا ہے۔ راحیل شیخ: ...... مرزا خاندان کا ایک عام احمد سید منیر: ...... جیسا مالک کا نوکر کے ساتھ، جو راحیل شیخ: ...... کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جماع مرزا خاندان کے تصرف اور ان کے اللوں تللو سید منیر: ...... جی ہاں، اس کے علاوہ اس جما راحیل شیخ: ...... کیا ایک عام احمدی، بالخصو ضرورت مالی مدد ملتی ہے؟ سید منیر: ...... کوئی مدد نہیں ملتی۔ بلکہ کئی غریب راحیل شیخ: ...... کیا آپ سمجھتے ہیں کہ قادی جھوٹے مذہب کو خیر باد کہہ دے گی؟ سید منیر: ...... بالکل! انشاء اللہ خیر باد کہہ دے راحیل شیخ: ...... قادیانیت چھوڑنے کی وجہ ہے؟ سید منیر: ...... قادیانیت چھوڑنے کی وجہ جماعت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ راحیل شیخ: ...... آپ کے قادیانی دوستوں سید منیر: ...... قادیانی دوست، صرف قادیا اس طرح ان کے زیر اثر ایک دو مسلم (جو ام میں قادیانی تھا، وہ میرے دوست تھے۔ راحیل شیخ: ...... کیا آپ کو قادیانیت چھو پہنچایا گیا؟ سید منیر: ...... میرے بچے جو میرے سا بچوں کے ذریعے ورغلانے اور میرے اور دھمکیاں بھی آتی رہتی ہیں۔ ابھی حال
سید منیر...... اکثر باتیں صحیح ہوتی ہیں۔ لیکن جو قادیانی بتاتے ہیں وہ اکثر جھوٹ کو ہوشیاری سے پیش کیا ہوتا ہے۔
راحیل شیخ...... مرزا خاندان کا ایک عام احمدی سے کیا سلوک ہے؟
سید منیر...... جیسا مالک کا نوکر کے ساتھ، جاگیردار کا مزارعہ کے ساتھ۔
راحیل شیخ...... کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جماعت کے تمام چندہ جات اور مالی وسائل بنیادی طور پر مرزا خاندان کے تصرف اور ان کے اللوں تللوں پر خرچ ہو رہا ہے؟
سید منیر...... جی ہاں، اس کے علاوہ اس جماعت میں چندے کا مصرف اور کیا ہو سکتا ہے؟
راحیل شیخ...... کیا ایک عام احمدی، بالخصوص ایک غریب احمدی کو جماعت کی طرف سے بوقت ضرورت مالی مدد ملتی ہے؟
سید منیر...... کوئی مدد نہیں ملتی۔ بلکہ کئی غربت کی وجہ سے جماعت چھوڑ گئے ہیں۔
راحیل شیخ...... کیا آپ سمجھتے ہیں کہ قادیانی جماعت کی آئندہ نسل کی ایک بھاری تعداد اس جھوٹے مذہب کو خیر باد کہہ دے گی؟
سید منیر...... بالکل! انشاء اللہ خیر باد کہہ دے گی۔
راحیل شیخ...... قادیانیت چھوڑنے کی وجہ سے آپ کے احمدی رشتہ داروں کا کیا ردّعمل اور سلوک ہے؟
سید منیر...... قادیانیت چھوڑنے کی وجہ سے تقریباً سب رشتہ دار میرے خلاف ہیں اور قادیانی جماعت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔
راحیل شیخ...... آپ کے قادیانی دوستوں یا دوسروں سے تعلقات میں کیا فرق پڑا؟
سید منیر...... قادیانی دوست، صرف قادیانی جماعت تک ہی ہوتے ہیں۔ اس کے بعد نہیں۔ اور اس طرح ان کے زیر اثر ایک نو مسلم (جو اسلام کو نہیں سمجھتے) بھی پیچھے ہٹ گئے، حالانکہ جب تک میں قادیانی تھا، وہ میرے دوست تھے۔
راحیل شیخ...... کیا آپ کو قادیانیت چھوڑنے پر کسی طرف سے کوئی دھمکیاں ملی ہیں یا نقصان پہنچایا گیا؟
سید منیر...... میرے بچے جو میرے ساتھ اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ ان کو میرے قادیانی بچوں کے ذریعے ورغلانے اور میرے خلاف کھڑا کرنے کی مسلسل کوششیں ہو رہی ہیں اور دھمکیاں بھی ملتی رہتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں مجھے پیغام بھیجا ہے میرے بھائی نے کہ ہم نے
٢١٩
حضور (مرزا مسرور احمد ، قادیانی خلیفہ ) سے اجازت مانگی ہے تمہیں سیدھا کرنے کی، اجازت مل گئی تو تیرے ساتھ وہ سلوک کریں گے کہ دنیا دیکھے گی۔
راحیل شیخ ...... کیا آپ کو ڈر ہے کہ قادیانی جماعت یا اس کے ممبر انفرادی طور پر آئندہ بھی آپ کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں یا پہنچائیں گے؟
سید منیر ...... جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ مجھے دھمکی ملی ہے اور یہ دھمکی دینے والوں کا پورا گروپ ہے جو میرے بڑے بھائی شبیر احمد ، میرے قادیانی بیٹے مظفر احمد اور میرے دو بھانجوں نعیم احمد اور ندیم احمد اور میرے قادیانی داماد سعید پر مشتمل ہے اور ان کی پشت پناہی جماعت کی سپورٹ ہے اور مزے کی بات ہے کہ ندیم اور نعیم کا والد سید صابر علی شاہ جو کہ میرا بہنوئی بھی ہے، تتلے عالی، گوجرانوالہ کے مین بازار میں اس کی ”بخاری کریانہ سٹور“ کے نام سے دکان ہے، اور وہیں چیمہ مسجد کے قریب رہتا ہے۔ وہاں مسلمان کی حیثیت سے رہ رہا ہے حالانکہ ساری اولاد بھی قادیانیوں میں بیاہی ہوئی ہے اور جب اپنے گاؤں ”کیروانوالہ“ ضلع گجرات میں جاتا ہے تو نمازیں، جنازے، غمی ، خوشی اس کی قادیانیوں کے ساتھ ہے جو وہاں پاکستان میں پیدائشی قادیانی ہونے کے باوجود مسلمان بن کر رہ رہا ہے اور مسلمانوں کے سر پر اپنی دکان داری چلا رہا ہے۔ اس کے بیٹے مجھے اسلام قبول کرنے پر ایسا سبق سکھانے کی دھمکی دے رہے ہیں کہ دنیا دیکھے گی؟ اس کے علاوہ میرے چھوٹے بیٹوں کو ہر طرح ورغلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
راحیل شیخ ...... کیا آپ آئندہ رد قادیانیت کا کام کریں گے۔ بحث ومباحثہ سے ، یا تحریر و تقریر کے ذریعہ؟ (اگر آپ کا ایسا ارادہ ہو تو کسی بھی قسم کے مالی یا مادی مفاد کے بغیر بے لوث طور پر ہم مقدور بھر تعاون کرنے کو تیار ہیں، انشاء اللہ ! )
سید منیر ...... شروع میں تو صرف عربوں سے واسطہ پڑا، وہ اچھی طرح ملتے تھے اور ملتے ہیں۔ اب کچھ پاکستانی مسلمانوں سے واقفیت ہوئی، ان کا رویہ مناسب ہے۔ لیکن وہ کافی دور دور رہتے ہیں۔ نزدیک کوئی نہیں۔ اس لئے میرے بچوں کے ساتھ کھیلنے والا کوئی مسلمان بچہ نہیں۔ قریب قادیانیوں کے گھر ہیں۔ ان کے بچے میرے بچوں کے ہم عمر ہیں۔ اس طرح ان بچوں کے ذریعہ وہ میرے بچوں کو مجھ سے اور اسلام سے بددل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہاں علماء کرام میں سے ختم نبوت اکیڈمی لندن کے ناظم اعلیٰ مولانا سہیل باوا صاحب بغیر کسی مطلب کے ہر ہفتہ ایک دو بار ٹیلی فون پر رابطہ کرتے ہیں۔ حال چال پوچھتے ہیں۔ لندن آنے کی دعوت بھی دی ہے انہوں نے۔ اور ہمیشہ پوچھتے ہیں کہ کسی تعاون کی ضرورت ہو تو وہ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اسی
٢٢٠
طرح انسان کا حوصلہ بڑھتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ قادیانیوں کی یلغار کے موقع پر وہ اکیلا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔ آمین
راحیل شیخ ...... آپ اپنے سابقہ قادیانی رشتہ داروں، دوستوں اور جماعتی ساتھیوں کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ سید منیر ..... میرا پیغام اپنے سابقہ دوستوں اور رشتہ داروں سے جو قادیانی ہیں، یہ ہے کہ: ”آپ ایک جھوٹے انسان کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چل رہے ہیں۔ خدا کے سچے دین اسلام کو پہچانیں۔ اس کفر یعنی قادیانیت سے باہر نکل کر دیکھیں کہ سچائی کیا ہے؟ آپ کو جھوٹے اسلام کے نام پر لوٹا جا رہا ہے۔ آپ کی نسلیں برباد ہو رہی ہیں۔ یہ خاندان صرف اپنی عیاشی کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ دوزخ کی آگ سے بچیں اور پیارے آقا حضرت محمد ﷺ کا اسلام قبول کر لیں۔ خدا تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کریں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سیدھا راستہ دکھائے، آمین۔“
اس انٹرویو کے دوسرے دن مکرم سید منیر احمد کو ایک وکیل کا خط ملا ہے کہ جس میں سید منیر احمد کی بیٹی منورہ نے وکیل کے ذریعہ ان کو نوٹس بھجوایا ہے کہ وہ اس کو اسلام کی طرف بلانے سے باز آئیں ورنہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جس معاشرہ سے آپ اور میں یا منیر احمد تعلق رکھتے ہیں۔ اس معاشرے میں ایک باپ اگر زیادتی بھی کرے تو بیٹی کیا بلکہ بیٹا بھی آگے سے خاموش ہو جاتے ہیں اور صرف بات کہنے یا کوئی کام کرنے کا کہنے پر وکیلوں کے ذریعہ نوٹس نہیں دیتے اور نہ ہی کوئی باپ اپنی بیٹی کے بارے میں ایسی بات کرتا ہے جس میں اس کی بیٹی کی سبکی ہو جیسا کہ وکیل کے خط سے ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن قادیانی جماعت اپنے ممبروں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ قادیانیت چھوڑنے والے اپنے عزیزوں کو، تمام رشتے اور اصول و روایات بھلا کر جہاں تک ممکن ہو ذلیل اور رسوا کریں۔ ایک جھوٹے نبی کی امت سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ خدا قطع رحمی سے منع کرتا ہے اور یہ حکم قطع رحمی کراتے ہیں۔
اب خط کا مضمون
رائٹر فرٹش ابار براعمارٹے لوک ارسلا کرشن پیشل ۔ وکلاء خط نمبر 08345-05/M/vi مقام Erlangen تاریخ den 15-09-2005 جناب احمد صاحب!
٢٢١
آپ کی بیٹی نے میرے ذمہ لگایا ہے کہ میں اس کے حقوق کی حفاظت کروں۔ اس سلسلے میں آپ کی بیٹی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ اس کو لمبے لمبے خطوط لکھتے ہیں اور اکثر ٹیلی فون کرتے ہیں۔ اس طرح کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے عقیدہ کو چھوڑ دے جیسا کہ کچھ عرصہ قبل آپ نے خود کیا ہے۔
اس کے علاوہ آپ اس کو دھمکا رہے ہیں کہ آپ اس کے خاوند، دوسرے رشتہ داروں اور جاننے والوں کو جو یہاں ہیں اور پاکستان میں بھی ہیں، ایسے خطوط لکھیں گے جس میں اس بارے میں بری باتیں اور جھوٹی کہانیاں ہوں گی۔ حتیٰ کہ اپنے آخری خط میں یہاں تک لکھا ہے کہ یہ ایک نیک کام ہوگا اگر اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تو۔
میری مؤکلہ ایسی صورتحال زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتی۔ آپ کی بیٹی ایک بالغ عورت ہے جس کا حق ہے کہ وہ اپنے مذہب کے بارے میں خود فیصلہ کرے۔ میں اپنی مؤکلہ کے نام اور اس کے دیئے ہوئے اختیار کے تحت آپ کو خبردار کرتا ہوں کہ آپ فوری طور پر میری مؤکلہ نیز اس کے شوہر کو خط لکھنا اور ٹیلی فون سے کسی بھی قسم کا رابطہ ختم کر دیں، نیز میری مؤکلہ کے بارے میں اس کے دوستوں اور جاننے والوں میں غلط کہانیاں پھیلانے سے باز آ جائیں۔
اگر میری مؤکلہ کو اب آپ کی طرف سے کوئی خط ملا یا ٹیلی فون کیا تو مت بھولیں کہ آپ کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی جائے گی۔
دوستانہ سلام کے ساتھ ...... دستخط مارٹے لوک ، وکیل ..... منسلک نقل مختار نامہ منور احمد
سید منیر احمد کا اس خط پر تبصرہ
میں ایک قانون پسند شہری ہوں اور قانون کا احترام کرتا ہوں، میں اپنی بیٹی کی خواہش پر اس سے ہر قسم کا تعلق ہمیشہ کے لئے ختم کر چکا ہوں۔ باقی جب اولاد والدین کے لئے اپنے عمل سے مسائل پیدا کرے تو بعض اوقات والدین کے سامنے وہ بچہ نہ ہو تو وہ خط یا ٹیلی فون کے ذریعہ اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ اور ہو سکتا ہے کہ میں نے دکھ میں کوئی سخت بات لکھ دی ہو جو مجھے نہیں یاد یا یہ لکھ دیا ہو کہ اس سے بہتر تھا کہ تم مر جاتیں۔ بہرحال جس طرح میں اپنی بیٹی کو جانتا ہوں وہ خود سے ایسا قدم اٹھانے والی نہیں اور مجھے جماعت میں اپنے تجربات کے بعد یہ یقین ہے کہ میری بیٹی نے باوجود مذہبی اختلاف کے یہ قدم نہیں اٹھایا بلکہ جماعت کے مجبور کرنے پر وکیل کے ذریعہ یہ خط لکھوایا ہے۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ اللہ ان سب کو ہدایت دے، آمین!
٢٢٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
شیخ راحیل احمد
(سابق قادیانی) مقیم حال جرمنی
کے
تین کھلے خط
جناب شیخ راحیل احمد صاحب
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم !
پہلا خط !
منجانب: شیخ راحیل احمد (سابق قادیانی) سکنہ ربوہ (حال مقیم ) جرمنی بنام: جناب مرزا مسرور احمد (خلیفہ و مرکزی سربراہ انٹر نیشنل جماعت احمدیہ لندن)
جناب! آپ نے اس عاجز کا نام تو سنا ہوا ہے۔ مجھے صحیح طرح علم نہیں کہ آپ کے عہدیداران نے آپ کے سامنے میری کیا تصویر پیش کی ہے؟ لیکن میں چونکہ اس نظام کا پچاس سال سے زیادہ ایک فعال حصہ رہا ہوں۔ جس کی اب آپ سربراہی کر رہے ہیں۔ اس لئے اندازہ کرسکتا ہوں کہ آپ کے سامنے میری تصویر ایک بھیانک قسم کے دشمن کے طور پر پیش کی گئی ہوگی۔ لیکن میں آپ کو اس کھلے خط کے ذریعہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نہ تو آپ کا اور نہ ہی جماعت احمدیہ کا دشمن ہوں۔ بلکہ میں آپ لوگوں کا اللہ کی خاطر ہمدرد اور مخلص ہوں اور میرا یہ خط اسی خلوص کا مظہر ہے۔ میں صرف مرزا غلام احمد قادیانی کے ان خیالات وعقائد سے جو اسلام کی اصل تعلیم کے خلاف ہیں، اختلاف کرتا ہوں اور آپ کی جماعت میں شامل اپنے عزیزوں اور دوستوں کی محبت سے مجبور ہو کر ان کو دیانتداری سے ان کفریہ اور توہین رسول ﷺ والے خیالات سے بچانا چاہتا ہوں اور آپ کو بھی یہ چند سطور لکھنے کی وجہ قرآن کریم کے اس حکم کی تعمیل ہے کہ دوسروں کو نیکی کی طرف بلاؤ۔ کیونکہ ہم دونوں ایک ہی شہر کے رہنے والے ہیں۔ یعنی کہ چناب نگر (سابق ربوہ) کے، اس لئے آپ کا مجھ پر حق ہے اور میرا فرض ہے کہ میں آپ کو اس نیک بات کی طرف بلاؤں۔ جس کا حکم رسول کریم ﷺ نے خدا کے اذن سے دیا ہے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ آخری نبی ہیں اور حیات عیسیٰ علیہ السلام، چودہ صدیوں سے مسلمانان عالم کے متفقہ عقائد ہیں اور آپ کے پردادا اور بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی کم و بیش ٥٢ سال تک ان عقائد سے متفق رہے اور ان کے عقائد میں اس وقت تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوئی جب ان کو بشیر اوّل کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ہسٹیریا اور مراق وغیرہ کے دورے پڑنے شروع ہوئے۔ خاکسار اس بات کو مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی تحریر کے حوالوں سے پیش کرتا ہے۔
٢
مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ ١٨٨٢ء میں اور چوتھی ١٨٨٤ء میں اور پا (براہین احمدیہ ) کے بارے میں مرزا غلام صرف چند کا ذکر کر رہا ہوں)
- ......١ "اس عاجز نے ایک کتاب حقی
تالیف کی ہے۔ جس کے مطالعہ کے بعد طال
(اشتہار اپریل ١٨٧٩
- ......٢ "کتاب براہین احمدیہ جس کو ا
بغرض اصلاح وتجدید دین تالیف کیا ہے۔ شان وشوکت وقدرو منزلت اس سے ظاہر ہ دس ہزار روپے دینے کا اشتہار دیا ہوا ہے۔ وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالا اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن ک تو ہماری طرف اس پر اتمام حجت ہے۔"
- ......٣ "اس پراگندہ وقت میں وہی
بذریعہ تحقیق عمیق کے اصل ماہیت کے بار
- ......٤ "یہ عاجز بھی حضرت ابن مریم
تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے 'انی رب اور خیال کی رسائی نہ تھی۔ سواب اس کتا ہے۔"
میرے محترم! جب ہم اوپر ک ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے تین سو قوی د ضامن ہے اور یہ کتاب خدا تعالیٰ نے خود
مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کی پہلی دو جلدیں ١٨٨٠ء میں شائع کیں اور تیسری ١٨٨٢ء میں اور چوتھی ١٨٨٤ء میں اور پانچویں جلد ٢٣ سال کے بعد شائع ہوئی۔ اس کتاب (براہین احمدیہ ) کے بارے میں مرزاغلام احمد قادیانی کے دعوے جات یہ ہیں: (دعوے تو بہت ہیں صرف چند کا ذکر کر رہا ہوں )
- .......١ ”اس عاجز نے ایک کتاب متضمن اثبات حقانیت قرآن و صداقت دین اسلام ایسی
تالیف کی ہے۔ جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اسلام اور کچھ نہ بن پڑے۔“
(اشتہار اپریل ١٨٧٩ء، تبلیغ رسالت حصہ اوّل ص ٨، مجموعہ اشتہارات نمبر ٥ ج ١ ص ١١)
- .......٢ ”کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم اور مامور ہو کر
بفرض اصلاح وتجدید دین تالیف کیا ہے..... اوّل تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان وشوکت و قدر و منزلت اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی مخالف اسلام ان دلائل کو توڑ دے تو اس کو دس ہزار روپے دینے کا اشتہار دیا ہوا ہے..... اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں..... اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف اس پر اتمام حجت ہے۔“
(بحوالہ اشتہار نمبر ١١، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤، ٢٥)
- .......٣ ”اس پراگندہ وقت میں وہی مناظرہ کی کتاب روحانی جمعیت بخش سکتی ہے کہ جو
بذریعہ تحقیق عمیق کے اصل ماہیت کے باریک دقیقہ کی تہہ کو کھولتی ہے۔“
(بحوالہ اشتہار نمبر ١٦، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٤٣)
- .......٤ ”یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا
تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے ”انی ربك “ آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔ سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہر اور باطناً حضرت رب العالمین ہے ۔“
(بحوالہ اشتہار نمبر ١٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٥٦)
میرے محترم! جب ہم اوپر کے حوالوں کو دیکھیں تو صورت یہ بنتی ہے کہ ”براہین احمدیہ“ ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے تین سو قوی دلائل کے ساتھ اسلام اور قرآن کی حقانیت وصداقت کی ضامن ہے اور یہ کتاب خدا تعالیٰ نے خود مخفی اسرار کھول کر مرزاغلام احمد قادیانی سے بطور ملہم، مامور
٣
وجہد کے لکھوائی ہے اور مؤلف کو اس کتاب کی صحت اور صداقت پر اتنا یقین ہے کہ اس نے ان دلائل کے توڑ کرنے والے کے لئے دس ہزار روپے کا انعام بھی رکھ دیا ہے۔ اس مضبوط کتاب پر رسول کریم ﷺ نے بھی خواب میں آ کر خوشی اور رضامندی کا اظہار کیا ہے اور اس کتاب میں مصنف نے خدا کے سکھائے ہوئے اسرار و حقائق کے نتیجے میں حیات مسیح کا اقرار کیا ہے۔ لیکن آج جماعت وفات مسیح کی مؤید ہے۔ فاضل مصنف فرماتے ہیں : ”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ “ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے کہ وہ غلبہ حضرت مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا ۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٩، ٥٠٠، خزائن ج ١ ص ٥٩٣، ٥٩٤)
”حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے۔“
اس میں واضح طور پر مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا میں آنے کا اقرار کر رہے ہیں۔ حوالے اور بھی ہیں مگر اس جگہ مقصد بحث نہیں بلکہ حق کی طرف بلانا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ کیا میں مطلب صحیح سمجھا ہوں؟ مرزا قادیانی اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں: ”میں نے براہین احمدیہ میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر لکھا ہے۔ وہ ذکر صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں۔ سو اسی ظاہری اعتقاد سے میں نے لکھ دیا تھا۔ لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی طور پر خلافت ہوگی۔ یہ بیان جو براہین احمدیہ میں درج ہو چکا ہے۔ صرف اس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٦)
یعنی یہ اقتباس تصدیق کرتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی براہین احمدیہ میں اپنے عقیدہ کے طور پر مسلمانوں کا ١٣٠٠ سالہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور دوبارہ تشریف لائیں گے کو بطور عقیدہ نبی آخر الزمان ﷺ کے درج کیا ہے اور کیا یہ عقیدہ واقعی متفقہ عقیدہ تھا اس بارے میں میں آپ کے پیشرو یعنی کہ خلیفہ ثانی ، جو کہ پسر موعود بھی کہلاتے ہیں مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا ایک حوالہ پیش کرتا ہوں ۔ فرماتے ہیں : ” پچھلی صدیوں کے
٤
سب مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا ہے اور بڑے بڑے بزرگ اس عقیدہ پر فوت ہوئے۔...... حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) سے پہلے جس قدر اولیاء اور صلحاء گزرے ہیں ان میں ایک بڑا گروہ عام عقیدہ کے ماتحت حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ خیال کرتا تھا۔“
(بحوالہ حقیقت النبوۃ ص ١٣٢، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد)
مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پسر موعود کے ان حوالوں کو جو اب تک میں نے پیش کئے ہیں، سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔
- ١۔...... براہین احمدیہ خدا کے کھولے ہوئے اسرار وحقائق کے تحت لکھی گئی۔ جس کا ظاہراً و باطناً
خدا خود ذمہ دار ہے اور ہر لکھی ہوئی بات اتمام حجت ہے۔
- ٢۔...... مرزا قادیانی نے اس میں حیات مسیح بن مریم کے بارہ میں اپنے عقیدہ کا اظہار، صحابۂ
کبارؓ، اولیاء کرام، صلحائے کرام اور عام مسلمانوں کے تیرہ سو سالوں کے عقیدہ کے مطابق کیا ہے۔
اب ہوتا کیا ہے کہ مرزا قادیانی ١٢ سال تک اس عقیدہ کی اشاعت کرتے ہیں۔ پھر اپنی کتاب ”توضیح مرام“ میں ٩٢۔١٨٩١ء میں دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان پر بارش کی طرح الہامات کر کے بتایا ہے کہ قرآن کریم میں تین جگہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے اور اگلی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں یہ تیس جگہ بن گئیں۔ کس طرح دعووں میں ترقی کرتے ہیں۔ ان کے ذکر کا یہ موقع ومحل نہیں۔ اب جو انتہائی اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں ان پر بعد میں آتا ہوں۔ اس سے قبل ایک دو نہایت اہم حوالہ جات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”ہم ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا محض گپ ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٢)
اور دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”فمن سوء الادب ان يقال ان عیسیٰ مامات ان هو الا شرك عظيم يأكل الحسنات سو من جملہ سوئے ادب کے ہے کہ یہ کہا جائے کہ عیسیٰ مرے نہیں۔ یہ تو نرا شرک عظیم ہے جو نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔“ (الاستفتاء ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠)
اب میرے دل میں سوال یہ پیدا ہوتے ہیں:
- ١۔...... مرزا قادیانی نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف میں جو کہ خدا تعالیٰ نے اپنی حفاظت اور
اہتمام میں نہایت تحقیق اور تدقیق کے ساتھ مؤلف کو ملہم، مجدد اور مامور کے درجہ پر فائز کر کے لکھوائی، اس میں الہاماً ایسا متفقہ عقیدہ بابت حیات عیسیٰ لکھوایا جو کہ ١٤صدیوں سے امت کا، اولیاء کا، صلحاء کا عقیدہ تھا۔ کیا وہ عقیدہ صحیح نہیں تھا؟
٥
- ٢...... یا اس تحریر کے بارہ برس کے بعد مرزا قادیانی نے ایک سو اسی ڈگری کا پھیر کھا کر بغیر
کسی ثبوت کے (نام نہاد ثبوت بعد میں ڈھونڈے گئے) مسلم امہ کے متفقہ عقیدہ کی نفی کرتے ہوئے وفات عیسیٰ کا جو عقیدہ بیان کیا وہ صحیح ہے؟ کیا پہلا عقیدہ براہین احمدیہ والا اب اتمام حجت نہیں رہا؟
- ٣...... دونوں الہاموں میں سے کون سا الہام صحیح ہے؟ وہ الہام جو کہ رسول کریمﷺ اور
صحابہ کرامؓ، تابعین، اولیاء، صلحاء اور امت کے عقیدہ کے مطابق تھا یا وہ الہام جو کہ بالکل مخالف سمت میں تھا؟
- ٤...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ شریف آدمی کے کلام میں تناقض نہیں ہوتا، تو کیا خدا تعالیٰ
(نعوذ باللہ) شریف آدمی سے بھی گیا گزرا ہے۔ جس کے الہامات میں اتنا زیادہ تناقض ہے کہ ١٨٨٠ء میں تو عیسیٰ کی زندگی کا الہام کرتا ہے اور ١٨٩١ء میں ان کی وفات کا الہام کرتا ہے؟
- ٥...... وہ کتاب جس کا متولی اور مہتمم خود خدا تعالیٰ ہو اس میں محض گپ لکھوائی تھی خدا تعالیٰ
نے اپنے مجدد سے؟
- ٦...... وہ کتاب جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے مامور سے الہام کے نہایت تحقیق عمیق کے اصل
ماہیت کے باریک دقیقے سے تہہ کو کھلوا کر لکھوائی۔ اس میں شرک عظیم ہی لکھوانا تھا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے فرمایا ہے کہ حیات عیسیٰ کا عقیدہ شرک عظیم ہے؟
- ٧...... اگر یہ عقیدہ گپ ہے تو کیا مرزا قادیانی نے بطور مجدد لوگوں کو اسلام کی حقانیت اور
معارف قرآن کے نام پر گپ پڑھنے کو دی؟
- ٨...... اگر یہ عقیدہ شرک عظیم ہے تو کیا مرزا قادیانی بطور مامور من اللہ لوگوں کو مضبوط اور مستحکم
دلائل کی آڑ میں شرک کی تعلیم بیچتے رہے؟
- ٩...... کیا رسول اکرمﷺ، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ، اولیاء، تیرہ صدیوں کے مجددین،
صلحاء اور تیرہ صدیوں کی امت، سب کے سب گپ پر یقین کرتے ہوئے شرک میں (نعوذ باللہ) مبتلا تھے؟
- ١٠...... یا اپنی کتاب کی فروخت بڑھانے کے لئے سب ڈرامہ تھا؟ یا خدا، رسول، قرآن کے
نام پر لاشعوری دکانداری تھی؟
- ١١...... یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک مجدد بارہ سال تک شرک لکھ کر اس کی اصلاح بھی نہیں کرتا؟
حالانکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے ایک لمحہ بھی غلطی پر قائم نہیں رہنے دیتا۔ یا ان کا لمحہ
٦
بارہ برس پر محیط ہوتا تھا؟ یا خدا تعالیٰ (نعوذ باللہ) بھول گیا تھا۔ مرزا قادیانی کی غلطی درست کرنا؟
١٢...... کیا ایسا تو نہیں کہ مرزا قادیانی کا پہلے عقیدہ اور جو کچھ انہوں نے براہین احمدیہ میں لکھا ہے، بالکل صحیح ہو اور جب ١٨٨٨ء میں بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہسٹیریا کے دورے پڑنے شروع ہوئے۔ (بحوالہ روایت نمبر ١٩، سیرۃ المہدی ج ١ مصنفہ مرزا بشیر احمد صاحب) ان کی وجہ سے موقع پا کر الہامات میں شیطان داخل ہو گیا ہو۔ جیسا کہ سورۃ الحج میں لکھا ہے کہ بعض دفعہ شیطان وحی میں مداخلت کر دیتا ہے اور مرزا قادیانی بھٹک گئے ہوں اور بوجہ اپنی مختلف بیماریوں، بالخصوص مراق اور مالیخولیا وغیرہ کی وجہ سے شیطانی اور رحمانی الہامات میں فرق نہ کر سکے ہوں؟
اور آپ دیکھ لیں کہ مرزا قادیانی نے اس کے بعد اپنے دعوؤں میں ترقی کرنا شروع کر دی اور جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ٤٧، خزائن ج ١٧ص٢٣٢) پر لکھا ہے: ”دجال کا حدیثوں میں ذکر پایا جاتا ہے۔ وہ پہلے نبوت کا دعویٰ کرے گا اور پھر خدائی کا دعویدار بن جائے گا۔“ کے مطابق مرزا قادیانی خدائی کے دعوے تک پہنچے اور پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔
مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ سمجھانے کے لئے اس کے بعد بھی کبھی کبھار صحیح الہام سے نوازتا رہا۔ کم از کم یہ الہام تو بالکل ان کے حسب حال اور صحیح لگتا ہے۔
”وہ کام جو تم نے کیا خدا کی مرضی کے موافق نہیں ہوگا۔“
(تذکرہ ص ٦٦٢، طبع سوم)
میرے محترم ہم وطن ! میں آپ کو اس خدا کی طرف بلاتا ہوں جس کی محمد ﷺ نے ہمیں راہ دکھائی ہے اور جس راہ سے بدقسمتی سے آپ کے پردادا جان نے لوگوں کو بھٹکایا ہے۔ یہ دنیا چند روزہ ہے۔ لیکن اصل اور ہمیشہ کی زندگی آگے کی ہے۔ اس کی فکر کرتے ہوئے، کفریہ عقائد کو لات ماریئے اور محمد ﷺ کی اصلی غلامی میں آ جائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس مصنوعی عزت کے بدلے اصل عزت سے اتنا زیادہ نوازے گا کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے اور آپ کے خوف کو (جو ہر وقت انسانی حفاظتی حصار میں قید رہتے ہیں) امن اور آزادی میں بدل دے گا۔ اللہ رب العزت آپ کو حق اور جو دوسرے بھی اس خط کو پڑھیں، ہدایت سے نوازے۔ (آمین)
کیا میں آپ کی جانب سے جواب کی امید رکھوں؟
اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو میں ختم نبوت کے پہلو پر بھی آپ سے مرزا قادیانی کے حوالوں کے ساتھ غور کرنے کی دوبارہ درخواست کروں گا۔
میں ہوں آپ کا مخلص و ہمدرد شیخ راحیل احمد (سابق احمدی)
٧
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!
دوسرا خط !
منجانب: شیخ راحیل احمد (سابق قادیانی) سکنہ ربوہ (حال مقیم) جرمنی بنام: جناب مرزا مسرور احمد (خلیفہ ومرکزی سربراہ انٹرنیشنل جماعت احمدیہ لندن) محترم ....................... !
خاکسار آپ میں سے بہت سوں کی طرح قادیانی ماں باپ کے گھر میں پیدا ہوا، ربوہ میں پلا بڑھا اور آپ ہی کی طرح کچھ عرصہ قبل تک اندھے یقین اور جماعت کے بزرگوں کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈہ کا شکار ہو کر مرزا غلام احمد قادیانی کو مہدی موعود، مسیح موعود اور نبی خیال کرتا تھا۔ مگر اچانک ایک واقعہ نے مجھے توجہ دلائی اور میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب اور سیرت کا مطالعہ غیر جانبدار ہو کر کیا تو مرزا قادیانی کے دعویٰ جات صرف اور صرف تضادات کے شاہکار نظر آئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود لکھا ہے: ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ١١١ حصہ پنجم، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)
اور انہی تضادات سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ جات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ حضرت رسول کریم ﷺ کی توہین اور ان کے مقام نبوت پر حملہ ہیں۔ چونکہ میری عمر کا ایک بڑا حصہ آپ لوگوں میں گزرا ہے۔ اس لئے قدرتی طور پر میں آپ کے لئے ایک قلبی لگاؤ محسوس کرتا ہوں اور اسی وجہ سے یہ چند سطور آپ کی خدمت میں پیش خدمت ہیں۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ انہیں پڑھئے اور ایک بار غور ضرور کیجئے۔
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ براہین احمدیہ میں ہی خدا نے ان کا نام نبی اور رسول رکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے، اس میں الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں (دیکھو ص ٣٩٨) ”اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦، ٢٠٧)
٨
آئیے! قرآن کریم، احادیث اور مرزا قادیانی کی اپنی تحریروں سے جائزہ لیں کہ مرزا قادیانی کا مقام کیا ہے؟ اور وہ اپنی تحریروں کے آئینے میں کیا ہے؟ قرآن کریم میں واضح طور پر لکھا ہے: ”محمد (ﷺ) تم میں سے کسی مرد کے باپ تھے نہ ہیں (نہ ہوں گے) لیکن اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر ایک چیز سے خوب آگاہ ہے۔“
(الاحزاب: ٤٠)
(یہ ترجمہ ”تفسیر صغیر“ سے لیا گیا ہے جو قادیانی جماعت نے شائع کی ہے)
جب ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت اور مثال دے کر بتا دیا ہے کہ جس طرح حضرت رسول کریم ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں، اسی طرح وہ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ تو آئیے دیکھیں کہ حدیث ان معنوں کی تصدیق کرتی ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں تین مختلف ادوار کی احادیث پیش خدمت ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا۔
- ١...... ”میری اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اسے بہت
عمدہ اور آراستہ و پیراستہ بنایا۔ مگر ایک زاویئے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھر کے ارد گرد گھومتے اور اسے دیکھ کر خوش ہوتے اور کہتے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگا دی گئی؟ حضور پاک ﷺ نے مزید فرمایا (قصر نبوت کی) یہ اینٹ میں ہوں۔ میں نے اس خالی جگہ کو پر کر دیا۔ قصر نبوت مجھ سے ہی مکمل ہوا اور میرے ساتھ ہی انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔“
(بخاری، مسند احمد، نسائی، ترمذی، ابن عساکر)
اس کا مطلب ہے وہ ایک اینٹ جو رکھ دی گئی اس میں اب کوئی اینٹ نہ لگے گی اور نہ نکلے گی۔ حجۃ الوداع کے اہم ترین موقع پر آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ:
- ٢...... ”لوگو! حقیقت یہ ہے کہ نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ تمہارے بعد کوئی امت۔ تو
تم اپنے رب کی عبادت کرو۔ پانچ نمازیں پڑھتے رہو۔ رمضان کے روزے رکھو۔ اپنے اموال کی زکوٰۃ بخوشی ادا کرو اور اپنے اولوالامر کی اطاعت کرو۔ تم اپنے مالک و آقا کی جنت میں داخل ہو سکو گے۔“
(کنزالعمال)
اب آپ دیکھیں کہ یہ حدیث انتہائی وضاحت سے بتا رہی ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے لئے رسول کریم ﷺ کے بعد کسی نبی کے نہ ہونے پر ایمان پہلی شرط ہے اور اس کے بعد دوسری باتوں پر یعنی پانچ ارکان اسلام پر ایمان ضروری ہے۔ یہ اعلان اس وقت کے مسلمانوں
٩
کے سب سے بڑے اجتماع میں کیا تھا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ مرض وفات میں رسول اللہ ﷺ کیا فرماتے ہیں۔
- ٣...... حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے
اور ایسا دکھائی دیتا تھا کہ حضور ہمیں الوداعی خطاب فرما رہے ہیں۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: ”میں امی نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ جب تک میں تم میں موجود ہوں، میری بات سنو اور اطاعت کرو اور مجھے دنیا سے لے جایا جائے تو کتاب اللہ کو تھام لو۔ اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو۔“
(رواہ احمد)
یعنی وصال کے وقت بھی یہی تاکید تھی کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اوپر دیئے گئے حوالوں سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول کریم ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔ لیکن کیا اوپر دیئے گئے حوالوں کی کوئی تاویل ہو سکتی ہے؟ قبل اس کے ہم ختم نبوت کے موضوع پر مرزا قادیانی کے ارشادات پیش کریں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے بارے میں اور ان کی کتاب براہین احمدیہ کے بارے میں اور مجدد کے متعلق کچھ ان کے اپنے ارشادات بیان کر دیں۔ کیونکہ یہ ارشادات آپ کو ممکن ہے کہ میرا مافی الضمیر سمجھنے میں مدد کریں۔
براہین احمدیہ
مرزا قادیانی نے سب سے پہلی کتاب ”براہین احمدیہ“ لکھی۔ ”براہین احمدیہ“ کی پہلی چار جلدیں ١٨٨٤ء میں شائع ہوئیں اور پانچویں جلد ٢٣ سال کے بعد شائع ہوئی اور اس کتاب کے بارے میں ان کے یہ دعویٰ جات ہیں۔ (دعوے تو بہت ہیں صرف چند کا ذکر کر رہا ہوں)
- ١...... ”اس عاجز نے ایک کتاب...... ایسی تالیف کی ہے جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق
سے بوجہ قبولیت اسلام اور کچھ نہ بن پڑے۔“
(اشتہار اپریل ١٨٧٩ء تبلیغ رسالت حصہ اوّل ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١)
- ٢...... ”اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس
کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں...... اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اتمام حجت ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤، ٢٥)
١٠
- ٣...... "اس پراگندہ وقت میں وہی مناظرہ کی کتاب روحانی بصیرت بخش سکتی ہے کہ جو
بذریعہ تحقیق عمیق کے اصل ماہیت کے باریک دقیقہ کی تہہ کو کھولتی ہو۔"
(بحوالہ اشتہار نمبر ١٦، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٤٣)
- ٤...... "سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہر اور باطناً حضرت رب العالمین ہے۔"
(اشتہار نمبر ١٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٥٦)
مجدد کی تعریف میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں:
- ١...... "جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخوان فروش
نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انہیں تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں ..... اور خدا تعالیٰ کے الہام کی تجلی ان کے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کے وقت روح القدوس سے سکھلائے جاتے ہیں اور ان کی گفتار و کردار میں دنیا پرستی کی ملونی نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ کلی مصفا کئے گئے اور تمام و کمال کھینچے گئے۔"
(فتح اسلام حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٧)
اپنی ذات کے بارے میں ”معصوم عن الخطاء“ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
- ١...... ”اللہ تعالیٰ مجھے غلطی پر ایک لمحہ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر ایک غلط بات سے
محفوظ رکھتا ہے۔“
(نور الحق حصہ دوئم، خزائن ج ٨ ص ٢٧٢)
- ٢...... ”میں نے جو کچھ کہا وہ سب کچھ خدا کے حکم سے کہا ہے اور اپنی طرف سے کچھ نہیں
کہا۔“
(مواہب الرحمٰن ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٢٢١)
اب ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی آیت خاتم النبیین کی کیا تفسیر کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب ’ازالہ اوہام‘ میں فرماتے ہیں:
- ١...... ”یعنی محمد تمہارے مردوں میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم
کرنے والا ہے نبیوں کا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
دوسری جگہ سورۃ الاحزاب کی آیت : ٤٠ (مندرجہ بالا) کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
١١
- ٢...... ”کیا تو نہیں جانتا کہ فضل اور رحم کرنے والے رب نے ہمارے نبی ﷺ کا نام بغیر کسی
استثناء کے خاتم الانبیاء رکھا اور آنحضرت ﷺ نے ”لا نبی بعدی“ سے طالبوں کے لئے بیان واضح سے اس کی تفسیر کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور اگر ہم آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کے ظہور کو جائز قرار دیں تو ہم وحی نبوت کے دروازہ کے بند ہونے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے۔ جو بالبداہت باطل ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر مخفی نہیں اور ہمارے رسول کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتا ہے۔ جب کہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی ہے اور اللہ نے آپ کے ذریعہ نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
- ٣...... ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا
پرانا۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٤٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)
- ٤...... ”حسب تصریح قرآن کریم، رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام وعقائد دین
جبرائیل کے ذریعہ حاصل کئے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی؟“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٣٥، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧)
ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ مجدد ہیں اور قرآن ان کو خدا نے سکھایا ہے اور ہر قسم کے دلائل سے، تحقیق سے اثبات صداقت اسلام پیش کرنے کے دعویدار ہیں اور کوئی لفظ خدا کی مرضی کے بغیر نہیں نکالتے اور تجدید دین کے لئے خدا ان کو ایک لمحہ بھی غلطی پر نہیں رہنے دیتا۔ اس حیثیت میں وہ ختم نبوت کا انہی معنوں میں اقرار کر رہے ہیں جن معنوں میں رسول کریم ﷺ، صحابہؓ، اور آئمہ دین و مسلمان تیرہ صدیوں سے ایمان رکھتے تھے اور اس کے علاوہ کسی بھی دوسرے قسم کے معنی کو کفر قرار دے رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کے بیٹے خلیفہ ثانی بھی ہمارے اس یقین کی تصدیق کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”الغرض حقیقت الوحی کے حوالہ نے واضح کر دیا کہ نبوت اور حیات مسیح کے متعلق آپ کا (مرزا غلام احمد قادیانی۔ ناقل) عقیدہ پہلے عام مسلمانوں کی طرح تھا۔ مگر پھر دونوں میں تبدیلی فرمائی۔“
(بحوالہ الفضل مورخہ ٦؍ ستمبر ١٩٣١ء، خطبہ جمعہ، کالم ٣)
اب ہوتا کیا ہے کہ کچھ علمائے حق نے خدا کی دی ہوئی فراست سے اندازہ لگایا کہ ان صاحب کا ارادہ نبی بننے کا ہے اور انہوں نے جب اعتراض اٹھائے تو مرزا قادیانی کے جوابات
١٢
ملاحظہ ہوں: ”ان پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)
اس طرح وقتی طور پر مخالفت ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ لیکن علماء حق کے خدشات صحیح نکلتے ہیں کہ ان صاحب (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کا مالیخولیا و مراق جیسے جیسے ترقی کرے گا اسی طرح ان کے دعویٰ جات بھی بڑھیں گے۔ مرزا قادیانی کو مراق تھا یا نہیں؟ میرے خیال میں یہ حوالہ کافی ہے: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“
(سیرت المہدی حصہ دوم ص ٤٣٠، روایت ٤٧٢)
اور مراق کیا چیز ہے یہ حوالہ میرے خیال میں کافی رہے گا: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔“
(مضمون ڈاکٹر شاہنواز قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ص ٦، ٧، بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء)
اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی کس طرح اپنے دعوؤں میں آگے بڑھتے بڑھتے نہ صرف رسول کریم ﷺ کے مقام تک پہنچتے ہیں (نعوذ باللہ) بلکہ ان کو پرے ہٹانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں:
- ......١۔ ”میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کسی خیال سے کہہ رہے
ہیں ۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبی بھی ہو جائے۔.....اور ان نشانوں کا نام معجزہ رکھنا نہیں چاہتا۔ بلکہ ہمارے مذہب کی رو سے ان نشانوں کا نام کرامت ہے جو اللہ و رسول کی پیروی سے دیئے جاتے ہیں۔“
(جنگ مقدس ص ٦٧، خزائن ج ٦ ص ١٥٦)
- ......٢ ”یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعویٰ میں نبی کا نام سن کر دھوکا کھاتے ہیں اور
خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانے میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے۔ لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)
- ......٣ ”یہ سچ ہے کہ وہ الہام جو خدا نے اس بندے پر نازل فرمایا۔ اس میں اس بندے کی
١٣
نسبت نبی اور رسول اور مرسل کے لفظ بکثرت موجود ہیں۔ سو یہ حقیقی معنوں پر محمول نہیں۔ مگر مجازی معنوں کی رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا رسول کے لفظ سے یاد کرے۔“
(سراج منیر ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٥)
اب جب ہر طرف سے شور اٹھا تو کیا وضاحت پیش کی جا رہی ہے:
- ٤...... ”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدائے تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے
اور اس میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔“
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)
- ٥...... ”محدث جو مرسلین میں سے امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی...... وہ اگرچہ کامل
طور پر امتی ہے۔ مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے اور محدث کے لئے ضرور ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٧٠، ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)
- ٦...... ”یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے...... اور بعینہ
انبیاء کی طرح مامور ہو کر آیا ہے۔ انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے۔“
(توضیح المرام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- ٧...... ”مسیح موعود جو آنے والا ہے اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا۔ یعنی
خدا تعالیٰ سے وحی پانے والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں...... سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٠٠، خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)
اب ہوتا کیا ہے ان بے سروپا دعوؤں کی وجہ سے مخالفت بے انتہاء بڑھ جاتی ہے۔ اس کو وقتی طور پر ٹھنڈا کرنے کے لئے ٢ اکتوبر ١٨٩١ء کو ”ایک عاجز مسافر کا اشتہار“ کے نام سے ایک اشتہار شائع کرتے ہیں:
- ٨...... ”میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر۔ بلکہ
میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا
١٤
ومولانا حضرت محمد خاتم المرسلین ﷺ کے جانتا ہوں۔“
اس کے بعد ٣ فروری ١٨٩٢ء سے تحریری راضی نامہ کرتے ہیں۔ اس میں
- ٩...... ”تمام مسلمانوں کی خدمت
”توضیح المرام“ و ”ازالہ اوہام“ میں جس ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ محمول نہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں۔ سو وہ و جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا
اسی طرح کبھی اقرار، کبھی انک آخر اس دعوے پر آ پہنچے کہ:
- ١٠...... ”سچا خدا وہی ہے جس نے قا
- ١١...... ”تو بھی ایک رسول ہے جیس
- ١٢...... ”شریعت کیا چیز ہے جس ن
امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی
لیکن ابھی بھی نہ تھکے مرزا قا کے مصداق اب مزید آگے بڑھنے کے سے ہٹا کر خود بیٹھنے کی تیاری ہے:
- ١٣...... ”اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کر
و مولانا حضرت محمد خاتم المرسلین ﷺ کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)
اس کے بعد ٣؍فروری ١٨٩٢ء کو علمائے کرام سے بحث کے دوران گواہان کے دستخطوں سے تحریری راضی نامہ کرتے ہیں۔ اس میں لکھتے ہیں:
- ٩...... ”تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ ”فتح اسلام“ و
”توضیح المرام“ و ”ازالہ اوہام“ میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا وکلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں۔ سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣،٣١٤)
اسی طرح کبھی اقرار، کبھی انکار، کبھی تاویلات کے ذریعہ قدم آگے بڑھاتے بڑھاتے آخر اس دعوے پر آ پہنچے کہ:
- ١٠...... ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ١١...... ”تو بھی ایک رسول ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا گیا تھا۔“
(ملفوظات ج ٨ ص ٤٢٤)
- ١٢...... ”شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی
امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
لیکن ابھی بھی مائخولیا مرزا قادیانی کو چین نہیں لینے دیتا کہ: ”ابھی جہاں اور بھی ہیں“ کے مصداق اب مزید آگے بڑھنے کے لئے کس ہوشیاری سے رسول کریم ﷺ کو ان کے مقام سے ہٹا کر خود بیٹھنے کی تیاری ہے:
- ١٣...... ”اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی
١٥
نہیں ۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں ۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“
(اربعین نمبر ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥، ٤٤٦)
اب ہوتا کیا ہے بندہ سوچتا ہے کہ شاید بزعم خود رسول کریم ﷺ کا مقام تو لے ہی چکے ہیں۔ نعوذ باللہ ! اب تو مرزا قادیانی یہاں رک جائیں گے مگر وہ مانخولیا اور مراق ہی کیا جو رکنے دے۔ اب رسول کریم ﷺ سے اپنا مقام کیسے بڑھایا جاتا ہے؟ فرماتے ہیں :
١٤...... ”آسمان سے بہت سے تخت اترے پر میرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا ۔“
(تذکرہ ص ٣٣٩، ٣٩٦، ٦٤٣)
رسول کریم ﷺ حسن صفائی کا نمونہ تھے اور یہ صاحب سلوٹوں بھرے کپڑے، پگڑی، واسکٹ کے بٹن کوٹ کے کاج میں ، کوٹ کے بٹن قمیض کے کاجوں میں اور قمیض کے بٹن کہیں اور لٹکے ہوئے، واسکٹ اور کوٹ پر میل کے داغ، اور جرابیں اس طرح پہنی ہوئی کہ ایڑی اوپر اور پنجہ آگے سے لٹکا ہوا۔ جوتے کا بایاں پاؤں دائیں میں اور دایاں پاؤں بائیں میں ۔ ایڑی بٹھائی ہوئی اور جب چلے تو ٹھپ ٹھپ کی آواز آئے ۔ وٹوانی کی مٹی کے ڈھیلے اور گڑ کی ڈلیاں ایک ہی جیب میں۔ (مزید تفصیل کے لئے ”سیرت مہدی“ مصنفہ مرزا بشیر احمد جلد اوّل دیکھئے) اپنے ایمان سے کہو کہ کیا نبی کا حلیہ ایسا ہی ہوتا ہے؟ ایسا تو ایک نارمل انسان کا بھی حلیہ نہیں ہوتا۔ اس حلیہ اور جھوٹی قسموں کے بل پر یہ دعویٰ کہ سب رسول میرے کرتے میں ہیں۔ سوچو کس کے پیچھے لگے ہوئے ہو؟ یہ ایک نیا مذہب ہے جو اسلام پر ڈاکہ مار کر اسلام کے لباس میں پیش کیا جارہا ہے۔ اپنے ایمان سے کہو کہ جتنی بیعتوں کے دعوے ہر سال تمہارے خلیفہ صاحب کرتے ہیں اس کا ہزارواں حصہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا؟ ہر احمدی یہی سوچ رہا ہے کہ ہمارے شہر میں نہیں لیکن دوسرے شہر میں بڑی بیعتیں ہوئی ہیں۔ ہمارے ملک میں تو نہیں مگر دوسرے ملک میں ہوئی ہیں۔ جہاں تک تم سے ممکن ہے جائزہ تو لو۔ اپنے شہر میں دیکھو۔ دوسرے شہروں و ملکوں میں اپنے سنجیدہ رشتہ داروں سے پوچھو تو ہر کوئی دوسرے شہر کی بات کرے گا اور یہی کہے گا ۔ ”نہیں یار تمہاری طرف اور دوسرے شہروں میں بڑا کام ہو رہا ہے۔ لیکن ہمارے شہر میں لوگ سست ہیں ۔“ حیران نہ ہوں ! جس جماعت کی بنیاد جھوٹے الہامات، جھوٹی قسموں ، جھوٹی پیش گوئیوں اور مال و زر کی خواہش پر
١٦
رکھی گئی ہو۔ اس میں ایسے ہی کاغذی کام پروپیگنڈہ کے لئے ہوتے ہیں۔ یک طرفہ پروپیگنڈے سے جان چھڑاؤ اور اپنی اور اپنے خاندانوں کی عاقبت خراب ہونے سے بچاؤ۔
میں اپنی اپیل اس بات پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے بھی حق کو پہچاننے اور سمجھنے کی توفیق دے اور جعلی مدعیان نبوت سے بچائے اور آپ کا اور میرا خاتمہ محمدﷺ کے خالص اور اصلی دین پر ہو نہ کہ انگریزوں کے پٹھو کے دین پر یا کسی اور راہ گم کردہ کی پیروی میں۔ آمین ! ثم آمین!! آپ کا مخلص: شیخ راحیل احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!
تیسرا خط!
منجانب: شیخ راحیل احمد (سابق قادیانی) سکنہ ربوہ (حال مقیم) جرمنی بنام: جناب مرزا مسرور احمد (خلیفہ و مرکزی سربراہ انٹرنیشنل جماعت احمدیہ لندن)
محترم بزرگوار دوستو! سلام علی من اتبع الہدیٰ!
آپ میں سے کئی مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں اور بہت سے اس خاکسار کو غائبانہ طور پر جانتے ہیں۔ اسی طرح کافی دوستوں نے میرے پہلے دونوں کھلے خطوط کا مطالعہ بھی کیا ہوگا۔ جن میں خاکسار نے مرزا قادیانی کے دعوائے مسیحیت اور دعوائے نبوت پر انتہائی واضح تضاد بیانیاں پیش کی تھیں۔ اب تیسری عرضداشت مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوٰی مسیح موعود اور مہدی موعود کے بارے پیش خدمت ہے۔
خاکسار ایک قادیانی گھرانہ میں پیدا ہوا۔ ربوہ میں پلا بڑھا اور جماعت کے مفاد میں ایک لمبا عرصہ مختلف عہدوں اور حیثیتوں میں کام کیا۔ ایک مسئلہ پر گفتگو کی وجہ سے میری توجہ ایک مربی صاحب نے اپنے دلائل میں لاجواب ہونے پر (نادانستہ طور پر) مرزا قادیانی کی کتب کے مطالعہ کی طرف مبذول کرائی۔ خاکسار نے ایک کتاب اٹھائی اور وہ جہاں سے کھولی وہاں آج تک جو جماعت نے سکھایا تھا اس کے خلاف لکھا ہوا تھا۔ اس لمحہ میں نے فیصلہ کیا کہ مرزا غلام احمد
١٧
قادیانی کی کتابیں غیر جانبدار ہوکر پڑھوں اور حقائق کو دیکھوں اور کئی برس کے مطالعہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ مرزا قادیانی کے تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔ دھوکے کی ٹٹی ہیں۔ مرزا قادیانی کی جھولی میں کوئی ہیرا تو کیا صاف پتھر بھی نہیں ہیں اور اگر ہے تو صرف اور صرف جھوٹ ہے اور یہ سب کھڑاک مرزا قادیانی نے اپنی روٹی کے لئے پھیلایا تھا۔ مرزا قادیانی اپنی کسی بات میں سچے نہیں تھے اور اپنے ان بے بنیاد خود ساختہ دعوؤں کے ذریعے خود اپنی اور اپنی اولاد کے لئے اس دنیا کا کافی سامان کر گئے۔ حالانکہ جب انہوں نے دعویٰ کیا تھا تو ان کی جائیداد پر اصل مالیت سے زیادہ قرضہ تھا۔ لیکن لاکھوں انسانوں کو دوسرے جھوٹے مدعیان نبوت کی طرح نہ صرف دنیا کے مال سے محروم کیا بلکہ آخرت میں بھی جہنم کی آگ کا ایندھن بننے کے لئے چھوڑ گئے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلا دعویٰ ملہم ہونے کا اور اپنے ان الہاموں کو بنیاد بنا کر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا اور مجدد کے بارے میں ان کا دعویٰ یہ ہے: ”جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخوان فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انہیں تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ کے الہام کی تجلی ان کے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کے وقت روح القدس سے سکھلائے جاتے ہیں اور ان کی گفتار و کردار میں دنیا پرستی کی ملونی نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ کلی مصفا کئے گئے اور تمام و کمال کھینچے گئے۔“
(فتح اسلام حاشیہ ص ٩، خزائن ج ٣ ص ٧)
مرزا قادیانی کی تمام تحریریں جو ١٨٨٠ء اور اس کے بعد لکھی گئی ہیں۔ مجدد ہونے اور کلی مصفا ہونے کے دعویٰ کے بعد لکھی گئی ہیں اور انہی میں مرزا قادیانی کے اس کے بعد بیشمار دعوے موجود ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے دعوؤں کی بنیاد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
یہ دوسری بات ہے کہ جس مسیح اور مہدی ہونے کا مرزا قادیانی دعویٰ کر رہے ہیں۔ اس
١٨
کی خبر احادیث میں ہی ہے اور جو نشانیاں احادیث شریفہ میں دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک بھی مرزا قادیانی پر فٹ نہیں بیٹھتی۔ اسی لئے ردی کی طرح پھینکی جا رہی ہیں اور پھر اگر کوئی حدیث قرآن کے مطابق بھی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی (نام نہاد) وحی سے معارض ہے وہ بھی ردی ہوگئی۔ یعنی کہ مرزا قادیانی کی وحی نعوذ باللہ قرآن مجید سے بھی بڑھ گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مواد مرزا قادیانی نے اپنے دعوؤں کی بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے وہ بقول ان کے صحیح اور الہامی تائید کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق جائزہ لیں گے کہ آیا مرزا قادیانی اپنے بیان کئے ہوئے معیار پر اترتے ہیں یا نہیں؟ مرزا قادیانی نے ویسے تو بہت سی باتیں کہیں ہیں۔ لیکن ہم آج نمونے کے طور پر صرف چند ہی باتیں پیش کریں گے کہ یہ خط زیادہ طوالت کی اجازت نہیں دیتا۔ یہاں ہم مسیح موعود کا دعویٰ لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی اس مسیح موعود کا معیار بیان کرتے ہوئے اپنی صداقت کے ثبوت میں فرماتے ہیں۔
ثبوت نمبر: ١
مرزا قادیانی (اپنے) بطور ملہم ومجدد لکھتے ہیں: ”یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے۔ اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس وخاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کر دے گا۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٠٥، ٥٠٦ خزائن ج ١ ص ٦٠١، ٦٠٢)
آیت کی اس الہامی تشریح سے مندرجہ ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:
- ١....... ”حضرت مسیح ابن مریم نازل ہوں گے۔ لیکن یہاں غلام ابن چراغ بی بی دعویٰ کر
رہے ہیں۔“
- ٢....... ”دنیا ان کا جلال دیکھے گی یعنی حکومت۔ لیکن کیا دنیا نے مرزا غلام احمد کا جلال دیکھا؟
دنیا کو چھوڑو کیا ہندوستان نے ان کا جلال دیکھا؟ اس کو بھی چھوڑو۔ کیا ان کے صوبہ پنجاب نے بھی
١٩
ان کا جلال دیکھا؟ یا ان کے ضلع نے یا ان کی تحصیل نے حتیٰ کہ ان کی اپنی ملکیت قادیان نے ہی جلال دیکھا ہو تو بتاؤ؟ بلکہ دنیا نے تو یہاں تک دیکھا کہ مرزا قادیانی غلامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نو آبادیاتی طاقت کے لئے اپنی خدمات اور اپنے خاندان کی خدمات کا تذکرہ کر کے ملکہ وکٹوریہ کے ایک کلمہ شکریہ سے ممنون ہونا چاہتا ہے (دیکھو ستارہ قیصریہ ) کیا یہی ایک نبی کا جلال ہوتا ہے؟ یا جلال کے معنی لغت میں نئے لکھے گئے ہیں؟
- ٣....... حضرت مسیح ابن مریم تمام راہوں کو صاف کر دیں گے۔ لیکن مرزا قادیانی سوائے اپنی
اولاد کے لئے مال اکٹھا کرنے کی راہیں صاف کرنے کے اور کچھ نہیں کر کے گئے اور ہاں ایک صفائی جو مرزا قادیانی نے کی کہ: ”جن دنوں طاعون کا زور تھا اپنے گھر کی گلیاں صاف کر کے اپنے ہاتھوں سے نالیوں میں فینائل ڈالا کرتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٢٣٥، روایت ٣٨٢)
- ٤....... کج اور ناراستی کا نام نشان نہیں رہے گا اور مرزا قادیانی اور ان کے بعد کے دور میں کج
اور ناراستی نے دنیا میں اپنے پنجے اور زیادہ مضبوطی سے گاڑ لئے ہیں۔ باقی دنیا کی بات چھوڑو۔ اپنی جماعت کو ہی دیکھ لو۔ بلکہ جماعت کے عام ممبروں کو چھوڑو۔ ان کے عہدیداروں کو ہی صرف دیکھ لو۔ وہ کن راہوں پر ہیں۔ اگر یہی کج اور ناراستی دور کرنا کہلاتا ہے تو ایسا سمجھنے والے کو اس کا ایمان مبارک ہو۔
- ٥....... گمراہی کا تخم نیست و نابود کر دے گا۔ اب ذرا دنیا کو چھوڑو اپنی جماعت کو ہی دیکھ لو۔
دنیا تو بہت دور کی بات ہے۔ تمہارے بہت سے عہدیدار بھی عبادت سے بھاگتے ہیں اور آپ کی عبادت گاہوں میں بچوں کی ہی نہیں بڑوں کی بھی حاضریاں لگتی ہیں اور مرکز کو جھوٹی رپورٹیں بھجوائی جاتی ہیں۔ تمہارے خلفاء پر موکد بہ عذاب قسمیں کھا کر لوگ کیا کیا الزام نہیں لگا رہے؟ اور ان کے احترام کا یہ حال ہے کہ ایک مربی کا خلیفہ کے کمرے میں بلاوا آتا ہے تو دوسرا مربی پوچھتا ہے کہ کیا تیل کی شیشی جیب میں ہے؟ آپ کے سامنے ثابت ہو رہا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی ہی بیان کی ہوئی تصریح کے مطابق مسیح موعود نہیں ہیں۔ چونکہ مرزا قادیانی آیت کی اپنی الہامی تشریح کے مطابق نہ تو جلال دکھا سکے نہ کج اور ناراستی دور کر سکے اور کفر و گمراہی کے اندھیرے ان کے دعویٰ کے بعد اور گہرے ہو چکے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیش کئے ہوئے معیار پر پورے اترنے میں ناکام رہے ہیں اور نبی صرف کامیاب ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اپنے نبی کو کبھی ناکام نہیں ہونے دیتا۔ اس لئے مرزا قادیانی اپنے دیئے ہوئے معیار کے مطابق بھی دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔
٢٠
ثبوت نمبر:٢
جب مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے عقائد سے اتفاق کرتے ہوئے اپنے ملہم اور مجدد ہونے کا پروپیگنڈہ خوب کر لیا تو اب آہستہ آہستہ اپنے قدم آگے بڑھانے شروع کئے اور اپنے آپ کو مثیل عیسیٰ قرار دے لیا اور یہ دروازہ بظاہر صرف اپنے لئے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی کھول رہے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ خود داخل ہونے کے بعد دوسروں کے لئے ہمیشہ کے لئے دروازہ بند کر دیتے ہیں۔ زیرک اور دانا علماء وقت نے جب دیکھا کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ خود مسیح موعود اور مسیح ابن مریم بننے کی تیاری میں ہیں۔ (کیونکہ مرزا قادیانی سے پہلے بھی کئی جھوٹے مدعیان نبوت نے ایسے ہی طریقوں سے اپنے قدم نبوت کی طرف بڑھائے تھے) تو اختلافی آوازیں اٹھنے لگیں۔ مرزا قادیانی نے کچھ وقت حاصل کرنے کے لئے فوراً پینترا بدلا اور اعلان شائع کر دیا۔
علمائے ہند کی خدمت میں نیاز نامہ
”اے برادرانِ دین و علمائے شرع متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج میرے منہ سے سنا گیا ہو۔ بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدا تعالیٰ سے پا کر ”براہین احمدیہ“ کے کئی مقامات پر درج کر دیا تھا۔ جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص میرے پر یہ الزام لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص١٩٠، خزائن ج٣ ص١٩٢)
جب میں نے یہ پڑھا تو پہلی بار میرے دل میں ایک واضح شک پیدا ہوا کہ مرزا قادیانی کی جھولی میں ہیرے ہی نہیں بلکہ پتھر بھی ہیں۔ میرے لئے یہ ایسا حیران کن لمحہ تھا کہ ٹائٹل پر مرزا قادیانی مسیح موعود، مہدی معہود لکھا ہے اور کتاب کے اندر ماننے والے تو بعد کی بات صرف خیال کرنے والے ہی کم فہم ہیں۔ نیز مفتری اور کذاب ہیں اور میرے کانوں میں (اور آپ کے کانوں میں بھی) پیدائش سے ہی یہ ڈالا جا رہا ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود اور مسیح ابن مریم ہی ہیں۔ خیر مرزا قادیانی کا اپنا یہ دعویٰ ہی ان کے مسیح موعود ہونے کو باطل کر رہا ہے۔ مرزا قادیانی تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کو مسیح موعود اور مسیح ابن مریم سمجھنے والا مفتری اور کذاب ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں۔
٢١
ثبوت نمبر : ٣
مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے ہر قدم آہستہ آہستہ اور بڑا سوچ کر بڑھایا۔ لیکن یہی قدم ان کے خلاف ثبوت بھی بنتے گئے۔ مرزا قادیانی ایک جگہ حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کے اشعار کی تشریح کرتے ہوئے اور اس کو اپنے حق میں بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے اس شعر کی تشریح میں لکھتے ہیں:
دور آں شہسوار مے بینم
”یعنی اس روز سے جو وہ امام ملہم ہو کر اپنے تئیں ظاہر کرے گا۔ چالیس برس تک زندگی کرے گا۔ اب واضح رہے کہ یہ عاجز اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوت حق کے لئے بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسی برس تک یا اس کے قریب تیری عمر ہے۔ سو اس سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے۔ جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے ۔“
(نشان آسمانی ص ١٤، خزائن ج ٤ ص ٣٧٣)
یہ رسالہ ١٨٩٢ء میں لکھا گیا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی ١٨٩٢ء میں دعویٰ کر رہے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں مرزا قادیانی ایک خاص الہام کے ذریعہ مامور ہوئے اور یہ رسالہ لکھنے تک پورے دس برس بطور مامور کے گزر چکے ہیں اور تیس سال ابھی باقی ہیں۔ یعنی ان کی زندگی کا سلسلہ مزید کم و بیش ١٩٢٢ء تک مزید چلنا چاہئے تھا۔ لیکن ہوتا کیا ہے کہ مرزا قادیانی بجائے مزید تیس برس کی عمر پانے کے سولہ سال بھی مزید پورے نہیں کرتے اور مئی ١٩٠٨ء میں فوت ہو جاتے ہیں اور جس پیش گوئی کا اپنے آپ کو مصداق بنا کر اپنی صداقت کے لئے خود پیش کرتے ہیں وہ پیش گوئی بھی ان کی ذات پر پوری نہیں ہوئی اور ان کا اسی برس والا الہام بھی پورا نہ ہوا۔ اس لئے پہلی بات کہ مرزا قادیانی کا اپنی عمر کا الہام جھوٹا ہوا۔ دوسرے پیش گوئی کا مصداق بننے کا دعویٰ غلط ثابت ہوا۔ جس کا الہام جھوٹا ہو اور جو پیش گوئی اپنی صداقت کے لئے پیش کرتا ہے اور اس کا اہل ثابت نہیں ہوتا وہ مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔ اس لئے مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں۔
ثبوت نمبر : ٤
اب مرزا قادیانی ایک حدیث شریف کو اپنے دعویٰ مسیح موعود کے ثبوت میں پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”اس پیش گوئی (محمدی بیگم کے ساتھ شادی کی۔ ناقل) کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ : ” یتزوج و یولد لہ “ یعنی وہ
٢٢
مسیح موعود بیوی کرے گا نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
مرزا قادیانی کی یہ تحریر ١٨٩٦ء کی ہے۔ اس وقت تک مرزا قادیانی کی دو شادیاں ہو چکی تھیں اور ان میں سے اولاد بھی تھی۔ بلکہ پہلی بیوی (ماموں زاد حرمت بی بی عرف پھجے دی ماں) کو محمدی بیگم کے ساتھ شادی نہ کروانے کے جرم میں طلاق بھی دے چکے تھے اور اسی جرم میں سب سے بڑے بیٹے مرزا سلطان کو عاق بھی کر چکے تھے اور اپنی دوسری بہو عزت بی بی زوجہ فضل احمد کو بھی طلاق دلوا چکے تھے۔ اس کے بعد تاحیات مرزا قادیانی کی تیسری شادی محمدی بیگم یا کسی اور عورت سے نہیں ہوئی اور نہ ہی (شادی نہ ہونے کی وجہ سے) وہ خاص اولاد ہوئی۔ اس طرح مرزا قادیانی نے خود ثابت کر دیا کہ وہ رسول کریم ﷺ کی پیش گوئی پر بھی پورے نہیں اترے۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود نہیں۔
ثبوت نمبر: ٥
لیکن بات یہاں ہی نہیں رکتی۔ خاکسار آپ کی خدمت میں دو حوالے پیش کرتا ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کی دروغ بیانی ظاہر و باہر ہو جائے گی۔ جب مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ سرسید احمد خان سے اپنایا تو علماء اور دوسرے مسلمانوں نے اعتراض کیا کہ براہین احمدیہ میں جو کہ مرزا قادیانی نے الہامی رہنمائی کے تحت لکھی تھی۔ اس میں تو حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ لکھا ہے۔ مرزا قادیانی جواب دیتے ہیں کہ: ”میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ میں خود تعجب کرتا ہوں کہ میں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بناتی تھی۔ کیونکر اس کتاب میں رسمی عقیدہ لکھ دیا۔ پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا۔ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین احمدیہ میں مسیح موعود قرار دیا ہے۔ مگر میں رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے اوپر اصل حقیقت کھول دی جائے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
٢٣
پہلے لیتے ہیں رسمی عقیدے والے جھوٹ کو۔ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کی فروخت کا جو اشتہار دیا تھا اس کی ان سطور کو جو میں ابھی پیش کروں گا رسمی عقیدہ نہیں تھا۔ بلکہ انتہائی تحقیق کے بعد براہین احمدیہ لکھی گئی۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اس عاجز نے ایک کتاب متضمن ”اثبات حقانیت قرآن و صداقت دین اسلام“ ایسی تالیف کی ہے۔ جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اسلام اور کچھ نہ بن پڑے۔“
(اشتہار اپریل ١٨٧٩ء، تبلیغ رسالت حصہ اوّل ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١)
”کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم اور مامور ہوکر بفرض اصلاح اور تجدید دین تالیف کیا ہے۔ اوّل تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان و شوکت و قدر و منزلت اس سے ظاہر ہے۔ اگر کوئی مخالف اسلام ان دلائل کو توڑ دے تو اس کو دس ہزار روپے دینے کا اشتہار دیا ہوا ہے اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں۔ اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اتمام حجت ہے۔“
(بحوالہ اشتہار نمبر ١١، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤ تا ٢٥)
اب آپ اندازہ لگائیں کہ کیا اس کتاب کا اشتہار کسی رسمی عقیدہ کے سرسری عقیدہ کا ذکر کر رہا ہے یا الہامی رہنمائی سے انتہائی دقیق تحقیق کا دعویٰ ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:
”مجدد نرے استخوان فروش نہیں ہوتے۔“
بالکل صحیح کہا لیکن یہ تضاد بیانی اور کتاب بیچنے کے لئے جھوٹے دعوے ثابت کر رہے ہیں کہ مرزا قادیانی نہ مجدد تھے نہ ملہم ہوتے تھے۔ صرف ایک دروغ گو کذاب اور ایمان فروش تھے۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس ثبوت کے شروع میں خاکسار نے جو حوالہ پیش کیا اس کے اس فقرے کو سامنے رکھیں۔
”پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر رہا اور غافل رہا۔ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے مسیح موعود قرار دیا ہے۔ مگر میں رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آ گیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے اور اب اس حوالہ کو غور سے پڑھیں۔“
٢٤
”واللہ قد کنت اعلم من ایام مدیدۃ اننی جعلت المسیح ابن مریم وانی نازل فی منزلہ ولکن اخفیتہ نظر الی تاویلہ بل ما بدلت عقیدتی وکنت علیھا من المتمسکین وتوقفت فی الاظھار عشر سنین اللہ کی قسم میں بہت عرصے سے جانتا تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم بنایا گیا ہے اور میں ان کی جگہ نازل ہوا ہوں۔ لیکن میں تاویل کر کے چھپاتا رہا بلکہ میں نے اپنا عقیدہ نہیں بدلا اور اسی پر تمسک کرتا رہا اور دعویٰ کے اظہار میں میں نے دس برس تک توقف کیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اب آپ بتائیں کہ کیا یہ تضاد ایسے شخص کے قلم میں ہو سکتا ہے جس کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ مجدد ہے۔ جس کو تمام کمال معطی کیا گیا اور نائب رسول اللہ ﷺ ہو، کبھی نہیں۔ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ایسا تضاد ایک ایمان فروش ایک جھوٹے مدعی نبوت کی تحریروں میں ہی ہو سکتا ہے اور جھوٹی متضاد باتیں لکھنے والا سچا موعود نہیں ہو سکتا۔
ثبوت نمبر:٦
مرزا قادیانی صحیح بخاری کی ایک حدیث کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”مجھے قسم ہے اس پروردگار کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے۔ تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٢٠١، خزائن ج ٣ ص ١٩٨)
اس حوالے کو ذہن میں رکھیں (زور لفظ قسم پر ہے) اور اب مرزا قادیانی کی اس دلیل یا اصول کو پڑھیں۔ لکھتے ہیں: ”قسم اس بات کی دلیل ہے کہ خبر اپنے ظاہر پر محمول ہے۔ اس میں نہ کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء۔ ورنہ قسم سے بیان کرنے کا کیا فائدہ؟“
(حمامتہ البشریٰ ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ١٩٢)
اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ خاتم الانبیاء، رحمت اللعالمین، سرور کائنات، رسول اللہ ﷺ ایک بات کو قسم کھا کر بیان کر رہے ہیں اور مرزا قادیانی ہیں کہ کسی بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کس ظالمانہ طریق پر رسول پاک ﷺ کی قسم کھائی ہوئی بات کی تاویل اور بے بنیاد تاویل کر کے اپنے آپ کو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی جگہ بٹھا رہے ہیں۔ جو شخص رسول کریم ﷺ کی قسم کھائی ہوئی بات کی تاویلیں کرنا شروع کر دے وہ مسلمانوں کے لئے کسی طرح بھی مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔ ہاں بھٹکے ہوؤں کے لئے ہو سکتا ہے۔
خاکسار نے انتہائی واضح دلائل کے ساتھ مرزا قادیانی کی تحریروں کا تضاد واضح کر دیا
٢٥
ہے اور مرزا قادیانی ہی کا قول ہے کہ : ” اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص١٨٤، خزائن ج٢٢ ص١٩١)
اب خود دیکھ لو کہ اتنے متناقض کلام والے شخص کو مان کر (اسی شخص کے بقول) ایک مخبوط الحواس شخص کو نبی اور مسیح موعود مان رہے ہو۔ مرزا قادیانی کے کلام میں جھوٹ اور تضاد کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں اور خاکسار نے اوپر کی سطور میں مرزا قادیانی کا جھوٹ بھی ثابت کر دیا ہے۔ مرزا قادیانی اپنے کلام میں جھوٹ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: ”جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا۔ یہ کتوں کا طریق ہے نہ کہ انسان کا۔“
(انجام آتھم ص٤٣، خزائن ج١١ ص٤٣)
یہ فیصلہ آپ خدا کو حاضر ناظر جان کر خود کر لو کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا یا نہیں؟ جھوٹ کا مردار سینے سے لگائے رکھنا ہے یا نہیں۔ یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے۔ مرزا قادیانی نے دجال کے لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”دجال کے لئے ضروری ہے کہ کسی نبی برحق کا تابع ہو کر پھر سچ کے ساتھ باطل کو ملا دے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص١٣١)
دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ”دجال کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جو شخص دھوکہ دینے والا ہو اور خدا تعالیٰ کے کلام میں تحریف کرنے والا ہو۔ اس کو دجال کہتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص٢٤ حاشیہ، خزائن ج٢٢ ص٤٥٦)
مرزا قادیانی کی جو تحریریں خاکسار نے آپ کی خدمت میں بطور نمونہ پیش کی ہیں وہ یہی ثابت کر رہی ہیں کہ متناقض اور موقع پرستانہ دھوکہ دینے والا کلام ہے اور ایسی سینکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ پس ہوش کریں کہ کن کے ہاتھوں میں اپنا ایمان، مال و دولت، وقت، عزت و آبرو، اولاد، خود کو گروی رکھا ہوا ہے اور وہ بھی کسی چیز کے بدلے میں نہیں۔ دنیا تو تمہاری انہوں نے چھین لی۔ آخرت کے نام پر اور اتنے واضح جھوٹوں کے بعد پھر بھی آنکھیں نہیں کھولو گے تو آخرت بھی تمہاری نہیں رہے گی۔ یہ مذہب تمہارے اور خدا کے رسول ﷺ کے درمیان ایک تاریک پردے کی طرح حائل ہو گیا ہے اس پردے کو پرے ہٹاؤ گے تو نور خدا کا جلوہ دیکھ سکو گے۔ مجھے آپ لوگوں سے ہمدردی ہے کہ میری زندگی کے ٥٥ سال آپ لوگوں کے ساتھ گزرے ہیں۔ اس لئے میری دلی خواہش ہے کہ اس دھوکہ سے باہر نکل آئیں اور اسی خواہش کے تحت یہ چند سطور لکھی گئی ہیں۔ اس دعا کے ساتھ اپنی عرض کو ختم کرتا ہوں کہ میرا اور آپ کا بھی خاتمہ محمد ﷺ کی اصلی غلامی میں ہو نہ کسی خود ساختہ نبی کی امامت میں۔ آمین !
آپ کا مخلص: شیخ راحیل احمد (سابق قادیانی) جرمنی
٢٦
لا نبی خاتم النبیین بعدی
طوبى لمن رآني وآمن بي وطوبى لمن آمن بي ولم يرني (مسند احمد)
رد الدجاجلہ
(حصہ سوم)
جناب فیض اللہ صاحب گجراتی
بسم الله الرحمن الرحيم
تفاسیر مرزا کے بطلان پر آسمانی شہادت رمضان میں کسوف و خسوف کا نشان
الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده !
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
ناظرین! مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدویت کے عین درمیان ماہ رمضان میں سورج اور چاند کو گرہن لگا۔ جسے ایک روایت کے رو سے مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ مہدویت کی سچائی کی حجت سمجھا اور وہ روایت احوال الآخرت میں مذکور ہے۔ خلاصہ مطلب اس کا یہ ہے کہ ماہ رمضان میں کسوف و خسوف کا نشان ظاہر ہوگا۔ جو امام مہدی کا نشان ہوگا۔
ناظرین ! غور فرمائیں کہ کیا یہ نشان امام مہدی کے زمانہ میں ظاہر ہونا تھا یا ان سے ایک صدی پہلے؟ اور پھر یہ نشان جس موقعہ پر ظاہر ہوا وہ مرزا قادیانی کے کذب کو ظاہر کرتا ہے۔ یا ان کی صداقت کو؟ ۔ دیکھنا چاہئے کہ امام مہدی کے وجود سے اس کو ربط کیونکر ثابت ہوتا ہے؟۔ یہ مذکور نشان میرے نزدیک اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایسے روحانی نیر ہیں۔ جن میں سے ایک بمنزلہ آفتاب کے ہے اور دوسرا بمنزلہ مہتاب کے اور دونوں ماہ رمضان سے کوئی خصوصی تعلق رکھتے ہیں۔ سو وہ نیر جو بمنزلہ آفتاب کے ہے۔ قرآن مجید ہے جس کا خصوصی تعلق ماہ رمضان سے یہ ہے کہ ماہ رمضان میں ملائکہ کے ذہنوں میں قرآن مجید کی روحانیت منعقد ہوئی تھی۔ جیسا کہ فرمایا: ”شهر رمضان الذی انزل فيه القرآن (البقره:١٨٥)“ ماہ رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا اور وہ نیر جو بمنزلہ ماہتاب کے ہے وہ نور فطرت انسانی ہے۔ جیسے چاند سورج سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ ایسے ہی فطرت انسانی بھی اس روحانی آفتاب یعنی قرآن مجید سے منور ہوتی ہے اور ماہ رمضان سے اس روحانی چاند یعنی فطرت کا تعلق یہ ہے کہ نور فطرت ریاضات سے چمکتا ہے اور ماہ رمضان میں روزہ، تلاوت، قرآن، تراویح واعتکاف وغیرہ سے حجابات فطرت کے اٹھنے سے حسب استعداد فطرت میں درخشانی پیدا ہوتی ہے۔ جب یہ سمجھ لیا تو اب جاننا چاہئے کہ وہ رمضان میں یہ کسوف و خسوف کا نشان دنیا میں اس بات پر متنبہ کر رہا ہے کہ آج اس روحانی آفتاب یعنی قرآن مجید اور روحانی چاند یعنی انسانی فطرتوں پر ایسی تاریکی پڑ گئی ہے۔ جس کی نظیر رسالت محمدیہ کے زمانہ میں اس سے پہلے نہیں ملتی۔ رفض اور خارجیت پھیلانے
٢
والے ایسے دجال پیدا ہوئے ہیں۔ جن پیدا کر دیا ہے۔ سو خارجیت کے امام تو مذہب کی بنیاد رکھی اور رفض کے امام ع بیٹھ کر سنیوں میں رفض اور شرک پھیلای ایسی تاریک ہو گئی ہیں کہ انہیں کوئی برائی بھلی سوجھتی نہیں
ناظرین ! غور فرمائیے کہ نشان امام مہدی کے زمانہ میں ظاہر ہ پہلے اس وقت ظاہر ہونا مناسب تھا۔ ی یہ نشان اب ہمیں یقین دلا رہا ہے کہ ہے۔ حدیث میں یہی معنی امام مہدی ایمان بالغیب اقامت صلوۃ وغیرہ ہ ہیں۔ جو قرآنی ہدایت سے بہرہ یاب ہ کریں گے۔ اب ہم بطور نمونہ س کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
- ١....... مسئلہ روح کے متعلق ہمار
ناظرین! روح جو ایک ل سے نہیں ہو سکتا۔ اس کا حلول جسم لط سے میری مراد روح بخاری ہے۔ جی تفصیل مذکور ہے۔ اس جسم لطیف ک ہوتی ہیں۔ جب بدن انسانی میں یہ پ جیسا کہ فرمایا: ”فاذا سویته ونف بھی ہے۔ جسے نفس ناطقہ کہتے ہیں ا ایک شئے واحد کا حکم رکھتے ہیں۔ رو اپنی شان قدوسیت سے معزول ہو کر
والے ایسے دجال پیدا ہوئے ہیں۔ جنہوں نے قرآنی علوم کی تخریب سے امت محمدیہ میں فساد عظیم پیدا کر دیا ہے۔ سو خارجیت کے امام تو مرزا قادیانی ہیں۔ جنہوں نے سرسید کی ملت کی بناء پر اپنے مذہب کی بنیاد رکھی اور رفض کے امام حضرت احمد رضا صاحب بریلوی ہیں۔ جنہوں نے سنی اور حنفی بن کر سنیوں میں رفض اور شرک پھیلایا ہے اور روحانی چاند یعنی انسانی فطرتیں بھی اس زمانہ میں ایسی تاریک ہوگئی ہیں کہ کوئی برائی نہیں جس کی گہری تاریکی میں اب دنیا مبتلا نہ ہو۔ ناظرین! غور فرمائیے کہ کیا امام مہدی کے زمانہ میں اندھیرا ہونا تھا یا اجالا اور کیا یہ نشان امام مہدی کے زمانہ میں ظاہر ہونا چاہئے تھا۔ ہرگز نہیں۔ یہ نشان بطور ارہاص ان کی آمد سے پہلے اس وقت ظاہر ہونا مناسب تھا۔ جب کہ دنیا پر گمراہی کی تاریکی چھا جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔ یہ نشان اب ہمیں یقین دلا رہا ہے کہ امام مہدی کے ظاہر ہونے کا زمانہ اب بالکل قریب آگیا ہے۔ حدیث میں یہی معنی امام مہدی کا نشان ہونے کے ہیں۔ ہم آئینہ حق نما میں اوصاف ستہ ایمان بالغیب اقامت صلوٰۃ وغیرہ جو ابتدائے سورۂ بقر میں متقیوں کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ جو قرآنی ہدایت سے بہرہ یاب ہو سکتے ہیں۔ مرزائیوں اور بریلویوں میں ان کا فقدان ثابت کریں گے۔ اب ہم بطور نمونہ مشتے از خروارے مرزا قادیانی کی قرآن مجید کی ترجمانی ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
تفاسیر مرزا
- ١...... مسئلہ روح کے متعلق ہماری اور مرزا قادیانی کی تحقیق
ناظرین! روح جو ایک لطیف اور بسیط شے ہے۔ اس کا تعلق راستاراست جسم کثیف سے نہیں ہو سکتا۔ اس کا حلول جسم لطیف میں ہوتا ہے نہ کہ اس جسم خاکی یا عنصری میں، جسم لطیف سے میری مراد روح بخاری ہے۔ جو اخلاط کے خلاصہ سے پیدا ہوتی ہے۔ کتب طب میں اس کی تفصیل مذکور ہے۔ اس جسم لطیف یعنی روح بخاری میں حس، حرکت، ارادہ اور ادراک کی قوتیں ہوتی ہیں۔ جب بدن انسانی میں یہ روح پیدا ہو چکی ہے۔ تو روح الٰہی کا فیضان اس میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: "فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ (الحجر: ٢٩)" روح کا ایک اور جز بھی ہے۔ جسے نفس ناطقہ کہتے ہیں اور وہ نفس کلیہ کا ایک حباب ہے۔ روح کے یہ تینوں جز مل کر ایک شئے واحد کا حکم رکھتے ہیں۔ روح الٰہی جو رحمٰن کی ایک شان ہے۔ مادہ میں حلول کرنے سے اپنی شان قدوسیت سے معزول ہو کر رحمٰن سے ایک جدا گانہ متدنس شئے بن جاتی ہے۔ لیکن وہ قدسی
٣
سر اس میں محفوظ رہتا ہے۔ جب انسان روح کے اس جزو کی طرف متجرد ہوتا ہے تو اسے خدا تعالیٰ کی وہ معرفت حاصل ہوتی ہے جو شرعی علوم کے مطابق ہے اور جب نفس ناطقہ کی طرف انسان متجرد ہو کر نفس کلیہ میں فانی ہوتا ہے تو وحدت الوجود کے حقائق کا اس پر انکشاف ہوتا ہے۔
غرضیکہ خدا تعالیٰ کی معرفت ملائکہ علویہ سے ربط ، علوم غیبیہ کے فیضان کا ذریعہ یہی روح الہی ہے۔ جس کا فیضان آسمان کی طرف سے ہوتا ہے۔ مادی روح جو جسم سے پیدا ہوتی ہے بدوں اس جزو کے عالم قدس سے ربط پیدا نہیں کر سکتی اور نہ ہی آریوں کی روح جو پرمیشر سے ایک الگ شے ہے۔ خدا کی معرفت حاصل کر سکتی ہے۔ خدا نے اپنی ذات کا ایک نمونہ انسان کی روح میں رکھا ہے جو اس کی شناخت کا ذریعہ ہے۔ کوئی مادی یا بیرونی مغائر شے اسے شناخت نہیں کر سکتی۔ مرزا قادیانی کی کتاب اسلام اور اس کی حقیقت اور چشمہ معرفت کو بغور پڑھو۔ وہ بکثرت تصریحات سے بیان کرتے ہیں کہ روح کا خمیر نطفے میں ہوتا ہے۔ جسم روح کی ماں ہے۔ وغیرہ وغیرہ! الفاظ جو صاف ظاہر کر رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک صرف ایک ہی روح ہے جو جسم اور مادہ سے متولد ہوتی ہے اور اسی ایک روح کی مختلف حالتوں کا نام وہ نفس امارہ اور نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ رکھتے ہیں۔ حالانکہ امارگی روح بہیمی یعنی روح بخاری کا خاصہ ہے جس کا میلان سفل کی جانب ہے اور لوامگی اس حالت کا نام ہے۔ جب کہ روح علوی اور روح سفلی کے تقاضات میں باہمی کشمکش ہوتی ہے اور مطمئنہ اس حالت کا نام ہے۔ جب کہ سفلی روح، روح علوی کے احکام کی پورے طور منقاد اور فرمانبردار ہو جاتی ہے اور پھر اسی کتاب اسلام اور اس کی حقیقت میں آیت ”ثُمَّ اَنْشَأْنٰهُ خَلْقاً (المؤمنون:١٤)“ آخر کے یہ معنی کرتے ہیں کہ پھر ہم اس جسم کو ایک دوسری پیدائش میں لائے۔ یعنی اس سے ایک لطیف روح پیدا کر دی۔ حالانکہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ پھر ہم نے انسان کی ایک دوسری پیدائش شروع کی۔ یعنی اس میں اپنی روح پھونک دی۔ حضرات ناظرین ! غور کیجئے۔ ہے کہ جب مرزا قادیانی میں حجابات کی گہری تاریکی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے وہ روح الٰہی چمکی ہی نہیں۔ جس کے ذریعے خدا کی معرفت اور عالم قدس سے علوم حاصل ہوتے ہیں۔ ان کی تحقیقات میں صرف ایک ہی مادی اور جسمانی روح آئی ہے تو پھر اس سے بڑھ کر کون سا بے وقوف شخص ہو سکتا ہے۔ جو مرزا قادیانی کو عارف خدا اور ملہم من الغیب اور نبی سمجھے۔ ہماری یہ مذکورہ تحقیق ان کے تمام دعاوی پر پانی پھیر دیتی ہے۔
٢....... اسلام اور اس کی حقیقت ص ٣٧، ٣٨ ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں: ”منجملہ انسان کی طبعی
حالتوں کے جو اس کی فطرت کو لازم پڑی ہوئی ہیں۔ ایک برتر ہستی کی تلاش ہے جس کے لئے اندر
٤
ہی اندر انسان کے دل میں ایک گ ہے۔ جب کہ بچہ ماں کے پیٹ خاصیت جو اپنی دکھاتا ہے۔ وہ ب بعد فرماتے ہیں کہ در حقیقت یہ و ہے۔ بلکہ ہر ایک جگہ جو انسان ش ایک جگہ جو یہ عاشقانہ جوش دکھا چیزوں کو اٹھا اٹھا کر ایک گم شدہ چ کا مال یا اولاد یا بیوی سے محبت کر در حقیقت اسی گم شدہ محبوب کی تلا
ناظرین ! مرزا قادیانی بھی جو تفصیل مرزا قادیانی نے بیا ہیں کہ انہیں مطلقاً معرفت خدا حا ٹھہراتے ہیں۔ جو ایفاء حقوق الع انسان میں مختلف فضائل و کمالات معرفت الٰہی کا جذبہ تمام جذبات ہے۔ جب کہ انسان آیات اللہ کے اٹھنے سے جبروت الٰہی پر انسا
٣...... ص ٣٨ کتاب مذکور
بارے میں انسان کو بڑی بڑی غل مثلاً ہر جذبہ محبت جو مال، اولاد سے متبادر ہوتا ہے کہ خدا کا حق اور روابط مخلوق سے پیدا ہوتے ہ خدا تعالیٰ کی حق تلفی ہے۔
٤...... کتاب مذکور ص ٣٠
واضل سبیلاً (اسرائیل اندھا رہا۔ وہ آنے والے جہاں
ہی اندر انسان کے دل میں ایک کشش موجود ہے اور اس تلاش کا اثر اسی وقت سے ہونے لگتا ہے۔ جب کہ بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے۔ کیونکہ بچہ پیدا ہوتے ہی پہلے روحانی خاصیت جو اپنی دکھاتا ہے۔ وہ یہی ہے کہ ماں کی طرف جھکا جاتا ہے۔ پھر اس کی تفصیل کے بعد فرماتے ہیں کہ درحقیقت یہ وہی کشش ہے جو معبود حقیقی کے لئے بچہ کی فطرت میں رکھی گئی ہے۔ بلکہ ہر ایک جگہ جو انسان تعلق محبت کرتا ہے۔ درحقیقت وہی کشش کام کر رہی ہے اور ہر ایک جگہ جو یہ عاشقانہ جوش دکھاتا ہے۔ درحقیقت اسی محبت کا وہ ایک عکس ہے۔ گویا دوسری چیزوں کو اٹھا اٹھا کر ایک گم شدہ چیز کی تلاش کر رہا ہے۔ جس کا رب نام بھول گیا ہے۔ سو انسان کا مال یا اولاد یا بیوی سے محبت کرنا یا کسی خوش آواز کے گیت کی طرف اس کی روح کا کھینچے جانا درحقیقت اسی گم شدہ محبوب کی تلاش ہے۔“
ناظرین ! مرزا قادیانی کی مذکورہ عبارت میں غور فرمائیے کہ معرفت الہی کے جذبات کی جو تفصیل مرزا قادیانی نے بیان کی ہے۔ اس میں سخت ٹھوکر کھائی ہے۔ جس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں مطلقاً معرفت خدا حاصل نہ تھی۔ وہ معرفت الٰہی کا ذریعہ فطرت کے ان جذبات محبت کو ٹھہراتے ہیں۔ جو ایفاء حقوق العباد یعنی ماں باپ، بیوی بچوں وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ حالانکہ انسان میں مختلف فضائل و کمالات کے حصول کے لئے الگ الگ جذبات فطرت ہیں اور محبت و معرفت الہی کا جذبہ تمام جذبات سے اعلیٰ و برتر ہے۔ جس کی پر زور کشش اس وقت ظاہر ہوتی ہے۔ جب کہ انسان آیات اللہ میں غور کرتا ہے یا ایسے مواعظ سنتا ہے۔ جن سے حجابات فطرت کے اٹھنے سے جبروت الٰہی پر انسان کو مطلع حاصل ہوتا ہے۔
- ٣...... ص ٢٨ کتاب مذکور اسی مذکورہ بالا عبارت میں کہتے ہیں کہ: ”اس کی معرفت کے
بارے میں انسان کو بڑی بڑی غلطیاں لگی ہیں اور سہو کاریوں سے اس کا حق دوسروں کو دیا گیا ہے۔ مثلاً ہر جذبہ محبت جو مال، اولاد، بیوی وغیرہ کے متعلق ہے۔“ مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا عبارت سے تبادر ہوتا ہے کہ خدا کا حق ہے۔ پس تمام اخلاق فضائل و کمالات انسانی جو مختلف جذبات محبت اور روابط مخلوق سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا حاصل کرنا مرزا قادیانی کی مذکورہ عبارت کے رو سے خدا تعالیٰ کی حق تلفی ہے۔
- ٤...... کتاب مذکور ص ٥٣٠ ”مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖ اَعْمٰی فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰی
وَ اَضَلُّ سَبِيْلًا (اسرائیل:٧٢) “ اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ”یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا رہا۔ وہ آنے والے جہاں میں بھی اندھا ہوگا۔ بلکہ اندھوں سے بدتر یہ اس بات کی طرف
٥
اشارہ ہے کہ نیک بندوں کو خدا کا دیدار اسی جہاں میں ہو جاتا ہے اور وہ اسی جگ میں اپنے پیارے کا درشن پا لیتے ہیں۔'' مگر حاصل اس عبارت کا یہ ہے کہ جنہیں یہاں خدا کا دیدار اور درشن نصیب نہیں ہوا۔ وہ عالم عقبیٰ میں بھی دیدار الٰہی کی نعمت کبریٰ سے محروم رہے گا۔ حالانکہ مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو صحیح الاعتقاد اور سچے مؤمن ہیں۔ وہ اندھے نہیں۔ ان کے عقائد حقائق نفس الامری کے عین مطابق ہیں۔ اندھے درحقیقت وہ ہیں۔ جن کے خدا اور عالم عقبیٰ اور خوارق عادت وغیرہ امور کے متعلق عقائد صحیح نہیں اور ص ٧٣ پر فرماتے ہیں کہ : ''جو کام آفتاب، ماہتاب وغیرہ اجرام فلکی و مخلوق ارضی الگ الگ کر سکتے ہیں۔ عارف تنہا وہ کر سکتا ہے۔'' عارف نہ ہوا خدا بن گیا۔
- ٥....... کتاب مذکور ص ٥٥ پر فرماتے ہیں کہ: ''لفظ زقوم کا ذق اور ام سے مرکب ہے اور ام
ذق انت العزیز الکریم کا ملخص ہے۔ جس کے اوّل و آخر الف اور میم ہے۔ مرزا قادیانی کے یہ تشریحی معنی آیات قرآنی ''انها شجرة تخرج فى اصل الجحيم طلعها كانه رؤس
الشياطين (الصافات: ٦٤، ٦٥)''
''ان شجرة الزقوم طعام الاثيم كالمهل يغلى فى البطون كغلى
الحميم (الدخان: ٤٣ تا ٤٦)''
''ذق انك انت العزيز الكريم (الدخان: ٤٩)''
میں بجائے لفظ زقوم کے رکھ کر آیت کا ترجمہ سمجھو۔ مرزا قادیانی کی تشریح کے رو سے آیت کی تفسیر یوں ہوگی کہ ''ذق انك انت العزيز الكريم ''ایک درخت کا نام ہے جو دوزخ کی جڑ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کا شگوفہ شیطانوں کے سروں جیسا ہے۔ بے شک یہ ''ذق انك انت العزیز الکریم '' کا درخت گنہگاروں کا کھانا ہے۔ مانند پگھلے ہوئے تانبے کے کہ کھولتے ہوئے پانی کی طرح پیٹوں میں جوش مارتا ہے۔ اس نام بردہ درخت کو چکھ بے شک تو دنیا میں عزت والا با آبرو شخص تھا۔
ناظرین ! اس مہمل اور بے معنی تفسیر کے ساتھ اس بات کی طرف بھی خیال کرو کہ زقوم زَاء کے ساتھ ہے اور ذق ذال کے ساتھ اور دونوں کے معنی مختلف یہ اس شخص کی قرآن دانی ہے جو آنحضرت ﷺ کے کامل متبع سے حصولِ نبوت کا دم بھرتا رہا۔ بھلا جس کی قرآن دانی کا یہ حال ہو کہ آیات قرآنی کو مہمل اور بے معنی قرار دے رہا ہو۔ اس کا کامل اتباع کس علم کی بناء پر تھا۔ احادیث تو مرزا قادیانی کے نزدیک سب ظنی اور قرآن ان کا کامل اتباع کس چیز کا۔
- ٦....... ص ٦٦ ''کتاب مذکور آیت ''انطلقوا الی ظل ذی ثلاث شعب
٦
(مرسلات: ٣٠) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”یعنی اے بدکارو گمراہ سہ گوشہ سائے کی طرف چلو جس کی تین شاخیں ہیں ..... الخ ۔“ اس آیت میں تین شاخوں سے مراد قوت سبعی بہیمی اور وہمی ہے۔ مرزا قادیانی نے تمام قوائے ادراکیہ کا نام قوت وہمی رکھا ہے۔ جو قوائے ادراکیہ کی ایک قوت ہے اور قوت بہیمی کو قوت سبعی اور وہمی کا قسیم ٹھہرایا ہے۔ حالانکہ قوت بہیمی قوت ملکی کے مقابل ہے اور یہ دونوں قوتیں بہیمی اور ملکی مل کر انسان کی فطرت میں تین لطیفے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک قوت سبعی جس کا مقام قلب ہے۔ دوسری قوت عقلی جس کا مقام دماغ ہے۔ تیسری قوت شہوی و طبعی جس کا مقام جگر ہے۔
٧....... ناظرین! سورۂ زلزال میں واقعات قیامت کا ذکر ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی کتاب (ازالۃ الاوہام ص ١١٤ تا ١٢٣، خزائن ج ٣ ص ١٦١ تا ١٦٥) تک کا مطالعہ کرو۔ وہ اس کی جو تفسیر فرماتے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے: ”اذا زلزلت الارض زلزالها (زلزال:١)“ یعنی ان دنوں کا جب آخری زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی عظیم الشان مصلح آئے گا اور فرشتے نازل ہوں گے۔ یہ نشان ہے کہ زمین جہاں تک اس کو ہلانا ممکن ہے۔ ہلائی جائے گی یعنی طبیعتوں اور دلوں اور دماغوں کو غایت درجہ پر جنبش دی جائے گی اور خیالات عقلی اور فکری اور سبعی اور بہیمی پورے پورے جوش کے ساتھ حرکت میں آجائیں گے۔ ”واخرجت الارض اثقالها (زلزال:٢)“ اور زمین اپنے تمام بوجھوں کو باہر نکال دے گی۔ یعنی انسانوں کے دل اپنی تمام استعدادات خفیہ کو بمنصۂ ظہور لائیں گے اور جو کچھ ان کے اندر علوم وفنون کا ذخیرہ ہے یا جو کچھ عمدہ عمدہ دلی اور دماغی طاقتیں و سیاقتیں ان میں مخفی ہیں۔ سب کی سب ظاہر ہو جائیں گی....... اور فرشتے جو اس لیلۃ القدر میں مرد صالح کے ساتھ آسمان سے اترے ہوں گے ہر ایک شخص پر اس کی استعداد کے موافق خارق عادت اثر ڈالیں گے۔ یعنی نیک لوگ اپنے خیال میں ترقی کریں گے اور جن کی نگاہیں دنیا تک محدود ہیں۔ وہ ان فرشتوں کی تحریک سے دنیوی عقلوں اور معاشرت کی تدبیروں میں وہ ید بیضا دکھلائیں گے کہ ”قال الانسان مالها (زلزال:٣)“ ایک مرد عارف متحیر ہو کر اپنے دل میں کہے گا کہ یہ عقلی اور فکری طاقتیں ان کو کہاں سے ملیں۔ ”يومئذ تحدث اخبارها (زلزال: ٤)“ تب اس روز ہر ایک استعداد انسانی بزبان حال باتیں کرے گی کہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقتیں میری طرف سے نہیں بلکہ ”بان ربك اوحى لها (زلزال:٥)“ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک وحی ہے جو ہر ایک استعداد پر بحسب اس کی حالت کے اتر رہی ہے۔ ”يومئذ يصدر الناس اشتاتاً ليروا اعمالهم فمن يعمل مثقال ذرة خيراً يره. ومن يعمل
٧
مثقال ذرة شراً يره (زلزال:٦ تا ٨) ”تب خدا تعالیٰ کے فرشتے ان تمام راست بازوں کو جو زمین کی چاروں طرفوں میں پوشیدہ طور پر زندگی بسر کرتے تھے ایک گروہ کی طرح اکٹھا کریں گے اور دنیا پرستوں کا بھی کھلا کھلا ایک گروہ نظر آئے گا۔ تا ہر ایک گروہ اپنی کوششوں کے ثمرات کو دیکھ لیویں۔
اور (ص ١٣٥) پر فرماتے ہیں کہ یہ عام محاورہ قرآن شریف کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انسانوں کے دل اور ان کی باطنی قوٰی مراد ہوتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ ایک جگہ فرماتا ہے۔ ”اعلموا ان الله یحیی الارض بعد موتھا“ اور جیسا کہ فرماتا ہے: ”البلد الطیب یخرج نباته باذن ربه (الاعراف:٥٨)“ ایسے ہی قرآن شریف میں بیسیوں نظیریں موجود ہیں۔
ناظرین! یہ کس قدر سفید جھوٹ ہے کہ قرآن میں بیسیوں نظیریں ایسی موجود ہیں جن میں زمین سے مراد انسانوں کے دل اور ان کے باطنی قوٰی ہیں۔ مثال کے طور پر جو مرزا قادیانی نے دو مثالیں پیش کی ہیں۔ ان دونوں مثالوں میں بھی کسی مفسر اور ترجمان نے زمین کے معنی انسانوں کے دل اور باطنی قوٰی نہیں کئے۔ قرآن مجید میں کسی جگہ یہ معنی مراد نہیں لئے گئے اور نہ ہی کوئی لغت کی کتاب اس پر شاہد ہے۔ بلکہ قرآن مجید میں بہت سی ایسی جگہیں ملیں گی کہ جہاں اگر مرزا قادیانی کے معنی مراد لئے جائیں تو قرآن مجید کا مضمون بالکل مہمل ٹھہرتا ہے۔ مثلاً: ”ھو الذی خلق لکم مافی الارض جمیعاً (البقرہ:٢٩)“ وہ اللہ ہے جس نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے پیدا کیں۔ کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ جو شر، کفر، الحاد یا نیک خیالات تمہارے دلوں اور باطنی قوٰی میں موجود ہیں۔ تمہارے لئے پیدا کئے ہیں اور فرمایا: ”والارض بعد ذالك دحھا“ اور زمین کو آسمانی پیدائش کے بعد بچھایا۔ کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ انسانوں کے دل اور باطنی قوٰی آسمانوں کی پیدائش کے بعد بچھائے گئے۔ جب شروع سورۃ میں زمین کے معنی ہی مرزا قادیانی نے غلط کئے تو پھر کیوں نہ ان کی تمام تفسیر کج ٹھہری۔
تا ثریا می رود دیوار کج
حضرات! مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تفسیر میں غور کرو تو معلوم ہوتا کہ یہی دنیا دارالعمل ہے اور یہی دارالجزاء۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”اذا اردنا ان نھلك قرية امرنا مترفیھا ففسقوا فیھا (اسرائیل:١٦)“ جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ کسی بستی کو ہلاک کر دیں تو عیاش
٨
لوگوں کو ان پر مسلط کر دیتے ہیں۔ جو فسق و فجور میں انہیں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس وقت جو اس عظیم الشان مصلح یعنی مرزا قادیانی کا زمانہ ہے۔ دنیا کا حال دیکھو کہ تقریباً تمام لوگ پوری ہمت اور توجہ تام سے دنیا میں منہمک ہو گئے۔ خدا اور آخرت کو بالکل بھول گئے ہیں دنیوی منافع و صنائع میں باریک بینیاں دکھاتے ہیں۔ محض دنیوی فوائد کی خاطر ایسے آلات کو ایجاد کرتے ہیں جو نسل انسانی کو تباہ کرنے والے ہیں۔ انسانی فضائل و اخلاق کی بجائے رذائل نفسانی کے ملکات حاصل کر رہے ہیں۔ خدا کی بندگی چھوڑ کر اور ضمیر فروشی کر کے مخلوق کی غلامی اور بندگی میں تمام دنیا ہی نہیں بلکہ خود حضرت مصلح بھی گرفتار رہے۔ دجالوں اور فرعونوں کی کثرت ہے۔ فتنہ دجالیت اکثر نفوس میں سرایت کئے ہوئے ہے۔ ہر شخص کو اپنی رائے پر ناز ہے۔ علوم سماوی کی تاویل ہر شخص اپنی رائے پر کرتا ہے۔ جن کا نمونہ ہم خود مصلح صاحب کی تفاسیر سے پیش کر رہے ہیں۔ خدا کا ذرہ بھر دل میں باک نہیں۔ اخروی مواخذہ پر ایمان اور یقین نہیں۔ جدھر کسی کا جی چاہتا ہے آیات قرآنی کو کھینچ لے جاتا ہے۔ اس مصلح کے ساتھ جو فرشتے اترے انہوں نے قوائے باطنہ انسانیہ میں جو تحریک پیدا کی اور اس تحریک کے جو کمالات عملی ظہور میں آئے۔ جن کے ثمرات آج دنیا کے تمام نیک و بد چکھ رہے ہیں اور معاشیات میں سب تنگی کا عذاب بھگت رہے ہیں۔ واقعی یہ سب باتیں اس مصلح کی عظمت شان کی دلیلیں ہیں۔ اس مصلح میں معجزات، کرامات، خوارق عادات، امور جو ہر اہل کمال کو لازم ہوتے ہیں۔ بذات خود تو موجود نہ تھے۔ البتہ جو خوارق مغربی اقوام نے مادے میں دکھائے ہیں۔ وہ سب مادی خوارق انہی کے ہیں۔ جیسا کہ ان کی مذکورہ تفسیر سے آپ پر واضح ہو چکا ہو گا کہ فرشتے ہر ایک شخص کی استعداد کے موافق خارق عادت اثر ڈالیں گے۔ ارباب صنعت صنعتوں میں خرق عادت دکھا رہے ہیں اور مرزائیوں کی راست باز جماعت نے تاویلات میں عادات و قوانین لسانی میں خرق عادت کر دکھایا ہے۔ باقی رہے روحانی خوارق وہ مولوی نور الدین قادیانی و محمد علی قادیانی وغیرہ مرزائیوں نے اور خود مرزا قادیانی نے پہلے نبیوں کے بھی اڑا دیئے ہیں۔
- ٨...... سورہ تکویر کی آیت: ”واذا العشار عطلت (التکویر: ٤)“ کی تفسیر ایام صلح وغیرہ
کتب میں یوں کرتے ہیں کہ جب ریل گاڑیوں کی کثرت سے اونٹ بیکار ہو جائیں گے اور ”اذا النفوس زوجت (التکویر: ٧)“ کی کہ ریل گاڑیوں وغیرہ میں مختلف جگہوں اور قوموں اور مذہبوں کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ”واذا الموءدة سئلت (التکویر: ٨)“ یہ کہ زندہ گاڑی لڑکیوں کی نسبت حکومت انگلشیہ کی عدالتوں میں بہ نسبت پہلے زمانوں کے زیادہ باز پرس ہوگی۔
٩
اس طرح باقی آیات کے حسب ذوق زمانہ معنی کر کے اپنی صداقت و بعثت کے یہ نشان دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
حضرات! کیا کوئی اونٹ دنیا میں آپ کو بیکار نظر آتا ہے اور پھر عشار عربی زبان میں دس ماہ کی گابھن اونٹنی کو کہتے ہیں۔ جن کے بیکار ہو جانے کے یہ معنی ہیں کہ قیامت کے ہول اور صدمہ سے حمل ان کے چھن جائیں گے اور مرزا قادیانی اس سے عام اونٹ مراد لیتے ہیں اور پھر موسم حج میں اطراف جوانب کے سب لوگ جمع ہوتے رہے۔ ترویج نفوس کی خصوصیت مذکورہ معنوں میں اس زمانہ کے ساتھ کیونکر ہوئی اور اگر تزویج نفوس سے گورنمنٹ انگلشیہ کے عدل کی تعریف ہو کہ شیر، بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں۔ تو یہ بھی کوئی ماننے والا نہیں۔ ہزاروں خون ہر روز ہوا کرتے ہیں اور سو دفعہ کیا کئی خون ہدر ہو چکے ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کا خوف نہ ہو تو ہم مرزائیوں کی نسبت بہترین تاویل ان آیات کی کر سکتے ہیں۔ مگر ہمارے نزدیک سورۂ تکویر کی یہ سب آیات علامات وقوع قیامت ہیں۔
اگر زمانہ حال کے مبعوث نبی، امام مہدی، مسیح موعود، خلیفہ اعظم مرزا قادیانی کے ورود مسعود سے ان آیات کے معنوں کی مناسبت چاہو تو ان آیات کی یہ تاویل بہت موزوں اور دنیا کے حال کے مطابق ہے۔ سنئے قولہ تعالیٰ: "اذا الشمس کورت (التکویر: ١)" جب سورج لپیٹ لیا جائے گا۔ یعنی آفتاب دین حق کی شعاعیں نفوس انسانی کے دلوں سے اٹھ کر اپنے مرکز کی طرف چلی جائیں گے اور دنیا پر کفر اور معصیت کی تاریکی چھا جائے گی۔ "واذا النجوم انکدرت (التکویر: ٢)" اور جب ستاروں یعنی علماء کا نور گدلا پڑ جائے گا۔ "واذا الجبال سیرت (التکویر: ٣)" اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی جیسی ہستیاں جو ہمت و استقلال، ایمانی قوت اور روحانی طاقت اور اخلاقی صلاحیت میں اپنے پہاڑ ہونے کا دم بھرتی ہوں گی اور اپنے آپ کو مجدد، امام اور انسان کامل سمجھتی ہوں گی اور اپنی زمین یعنی جماعت کی اوتاد ہوں گی۔ حکومت کے تازیانہ کے آگے ایسی چلائی جائیں گی۔ گویا کہ وہ انہی کے غلام اور بندے ہیں اور چہ جائیکہ موسیٰ علیہ السلام کی طرح یہ کہہ کر کہ "وتلک نعمۃ تمنها علی ان عبدت (الشعراء: ٢٢)" بنی اسرائیل اور یہ تیرا احسان ہے مجھ پر کہ تو نے میری قوم بنی اسرائیل کو غلام بنالیا۔ اپنی قوم اور ملت کو حکومت کے پنجہ سے آزاد کرائیں۔ بلکہ خود حکومت کی غلامی اور بندگی کو خدا تعالیٰ کی ایک نعمت عظمیٰ سمجھیں گے اور اس کے شکریہ میں شب و روز رطب اللسان رہیں گے۔ جہاد کو موقوف کریں گے۔ حکومت کے قوانین کے مقابلہ قوانین اور موازین شرعیہ متعلقہ
١٠
خلافت کو بیکار سمجھیں گے۔ اقامت عدل وانصاف کو حکومت کے اختراعی قوانین میں منحصر ہو جائیں گے۔ مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگا کر ان میں تفریق پیدا کریں گے اور اپنے کفریات کا نام اسلام رکھیں گے۔ حکومت کو مسلمانوں سے بدظن کریں گے اور ان کی آزار رسانی کے در پے رہیں گے۔ ”واذا العشار عطلت (التکویر:٤)“ ﴿عشار مشتق من العشرة بمعنی دس۔﴾ یعنی اور جب دس انسانی قوتیں پانچ حواس ظاہری اور پانچ باطنی، شہوانی، نفسانی اور مادی خیالات سے مملو ہونے کی وجہ سے ایسی بیکار ہو جائیں گی کہ وہ حقائق علوم اسلام کے سمجھنے کے قابل نہیں رہیں گی۔ دوسرے طور پر یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ عشار عرب کا نفیس ترین مال سمجھا جاتا ہے اور ہر انسان کے لئے نفیس ترین مال اس کی روح ہے۔ جسے آج دنیا نے شہوات نفسانی میں مستغرق ہو کر بیکار اور ردی کر دیا ہے۔ پس عشار سے مراد نفس انسانی ہے۔ ”واذا الوحوش حشرت (التکویر:٥) “ اور جب وہ نئی روشنی کے لوگ جن کو اسلامی عقائد حقہ وعلوم صادقہ کے سننے سے وحشت اور نفرت ہوگی اور وہ اسلام سے ڈگمگا جائیں گے۔ مرزا قادیانی کی ترجمانی اپنی ہوائے نفسانی کے مطابق پا کر وہ ایک سلسلہ میں منسلک ہو جائیں گے اور ایک جماعت قادیانی بن جائے گی۔ ”واذا البحار سجرت (التکویر:٦)“ اور جب حقائق علوم شرعیہ کے دریا جو قرآن وحدیث کے مقدس اور شفاف الفاظ میں صاف بہتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے ان آثار کو جو مسلمانوں کے نفوس میں تھے۔ دجالی فتنہ کی آگ سے پھونک کر خاک سیاہ کیا جائے گا اور یہ تکلف حقائق سوزی کی کوشش کی جائے گی۔ ”واذا النفوس زوجت (التکویر:٧)“ اور جب روحیں اور جسم مل کر مادہ پرستی سے دونوں ایک مادی شے ہو جائیں گی۔ روحانیت لوگوں میں مطلقاً نہیں رہے گی۔ ”واذا المؤدۃ سئلت بای ذنب قتلت (التکویر:٨،٩)“ اور جب اسلامی صداقتیں جو دنیوی اور معاشی عقل کو مستبعد معلوم ہونے کی وجہ سے مرزا قادیانی جیسے لوگ ان کو زندہ درگور کر دیں گے تو علماء دین جو حق پر ہوں گے دنیا کے حال سے متعجب ہو کر ان صداقتوں سے سوال کریں گے کہ کس قصور پر تمہارا خون کیا گیا۔ کیا قرآن شریف کی منصوص عبارتیں اور سیاق وسباق اور محکم آیات تمہاری تصدیق نہیں کر رہیں۔ وہ بزبان حال جواب دیں گی کہ ہمارے وجود اور تحقق میں تو کوئی شک نہیں۔ لیکن آج مسلمانوں کو شرم آتی ہے کہ وہ غیر اقوام کے سامنے بھی پیش کریں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں زندہ درگور کر کے زمانہ کے مذاق کے مطابق قرآن وحدیث کی خود ساختہ ترجمانی دنیا کو دکھائیں۔ ”واذا الصحف نشرت (التکویر:١٠)“ اور جب اخبارات ورسائل کے ذریعے گمراہی پھیلائی جائے گی۔ ”واذا السماء کشطت
١١
(التکویر:١١) ”اور جب آسمان کی کھال اتاری جائے گی۔ یعنی لوگ آسمانوں کے وجود سے انکار کریں گے۔ نیز سماوی علوم کی انکشافات جدیدہ مادیہ پر محقق ہوگی اور وہ ان مادی علوم کے معیار پر پرکھے جائیں گے۔ جو اس نئی روشنی کی عینک سے محض توہمات معلوم ہوں گے۔ مجددین زماں زمانہ کے مذاق کے مطابق تاویلات باطلہ و تحریفات لفظیہ و معنویہ کا وہ لباس ان کو پہنائیں گے جو نئی روشنی کے لوگوں میں مقبول ہو اور نہ صرف لباس کی تبدیلی کریں گے بلکہ قلب حقائق سے صاحب لباس کی صورت بھی بدل دیں گے اور مشرک صفت لوگ جو نئی روشنی اور نیز توحید اور ایمانی روشنی سے کورے اور اندھے ہوں گے وہ احمد رضا جیسے بریلوی اصحاب کے پھندے میں آئیں گے۔ وہ انہیں شرک و بدعت کی تاریکیوں میں ہلاک کریں گے۔ ”وَاِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ (التکویر:١٢) “ اور جب دنیا میں دوزخ خالص مومنوں کے لئے بھڑکائی جائے گی اور ان کو طرح طرح کی ایذائیں اور تکلیفیں دی جائیں گی۔ ”وَاِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ (التکویر:١٣) “ اور حکومت پرست پیروں، مرشدوں، مجددوں کے لئے جنت قریب کی جائے گی اور خوردونوش، پوشش، وجاہت اور ریاست میں دنیا کی ہر قسم کی عیشوں سے علیٰ فرق مراتب محفوظ اور حظ اندوز ہوں گے۔ ”عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ (التکویر:١٤) “ عہد دولت انگلیہ میں ہر نفس اپنے کئے کی سزا وجزا بھگتے گا۔ علماء دین میری مذکورہ تاویلات کو مردود نہ سمجھیں۔ قرآن مجید کی یہ بھی ایک خوبی ہے کہ وہ فن اعتبار میں بھی ایک کامل کتاب ہے اور یہ مذکورہ اعتبار سے گو تفسیر نہیں ہیں۔ لیکن واقعات صحیحہ کے عین مطابق ہیں۔
ناظرین! ان واقعات جہالت وضلالت پر جو مرزا قادیانی کے زمانہ میں شدت سے ظہور پذیر ہوئے۔ نگاہ ڈال کر بتاؤ کہ کیا دنیا کے یہ مذکورہ حالات نبوت اور فتوّت میں مرزا قادیانی کی جلالت ہم کو ظاہر کر رہے ہیں یا دجالیت میں ان کی عظمت شان کو۔
- ......٩...... قولہ تعالیٰ: ”وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ کَهَیْئَةِ الطَّیْرِ (المائدہ:١١٠) “ ﴿اور
جب تو اے مسیح علیہ السلام مٹی سے ایک پرندہ کی شکل بناتا تھا اور اس میں روح پھونکتا تھا اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن کر اڑتا تھا۔﴾
مرزا قادیانی نے مسیح علیہ السلام کے اس معجزہ کا نام عمل التراب رکھا ہے اور اس کو اور ان کے دوسرے معجزوں کو مسمریزم کی قبیل سے شمار کیا ہے۔ جو سحر کی ایک قسم ہے۔ کفار مسیح علیہ السلام نے بھی مسیح علیہ السلام کے ان معجزوں کا نام سحر رکھا تھا۔
ان کے متعلق (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص٣٠٨، خزائن ج٣ ص٢٥٧) پر فرماتے ہیں: ”اولیاء
١٢
اور اہل سلوک کی تواریخ وسوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں۔“
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) پر فرماتے ہیں: ”اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم علیہما السلام سے کم نہ رہتا۔“
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣١٠، ٣١١، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) پر فرماتے ہیں: ”واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت برا خاصہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دل و دماغی طاقتوں کو (مسیح علیہ السلام کی طرح) خرچ کرتا رہے۔ وہ اپنی ان روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں۔ بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے۔ اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح علیہ السلام جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعے سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کی کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔ انتہی!“
ناظرین! خدا تعالیٰ تو حضرت مسیح علیہ السلام کو ان کے یہ نشانات رسالت یاد دلا کر محل امتنان واحسان میں ان کا ذکر کرتا ہے اور ”باذنی“ کہہ کر ان نشانوں کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور مرزا قادیانی کے نزدیک ان کے یہ سب معجزے بیکار، نکمے اور قابل نفرت وکراہیت اور مزیل الروح اور امر رسالت کی تکمیل میں مزاحم ثابت ہوتے ہیں۔ کیا جو شخص انبیاء کی نسبت یہ گمان رکھے کہ وہ نکمے، قابل نفرت، مسمریزم یعنی سحر اور جادو کے کام بھی کرتے رہے ہیں۔ آپ اس کو مسلمان سمجھیں گے؟ ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی جن کا ادراک صرف روح مادی اور جسمانی تک ہی محدود رہا وہ انبیاء کے مقامات عالیہ کو کیا سمجھیں۔ تفہیمات مصنفہ شاہ ولی اللہ صاحب میں خصوصیات انبیاء کا ملاحظہ کرو۔ وہ فرماتے ہیں کہ انبیاء کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ معجزات صرف ہمت سے ان سے صادر نہیں ہوتے۔ جیسا کہ کرامات اولیاء کہ ان میں اولیاء کی صرف ہمت کا بھی دخل ہوتا ہے۔ معجزات بلا تکلف انبیاء کی طبعی قوت سے وقوع میں آتے ہیں۔ ان کی مشغولی کو مزاحم امر رسالت اور مزیل الروح قرار دینا خصائص نبوت سے لاعلمی کی دلیل ہے اور پھر آیات قرآنی سے تو حضرت مسیح علیہ السلام کی جلالت شان اور ان کا کامیاب ہونا ثابت ہوتا
١٣
ہے اور مرزا قادیانی ان کو نعوذ باللہ ناکام اور نکما ثابت کرتے ہیں اور اپنی مردودیت کو ان کی مقبولیت اور برگزیدگی پر ترجیح دیتے ہیں۔
- ١٠....... ”سو یہ بات کہ اس کو امتی بھی کہا اور نبی بھی۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)
ناظرین! یہ کس قدر سفید جھوٹ ہے۔ قرآن وحدیث میں کسی جگہ کسی نبی کو امتی نہیں کہا گیا۔ بلکہ قرآن کریم کی آیات مثل ولکل امۃ رسول وغیرہا سے صاف ظاہر ہے کہ امت اور رسول دو الگ مفہوم ہیں۔ امتی کو رسول اور رسول اور نبی کو امتی نہیں کہہ سکتے اور امتی نبوت جس کے مرزا قادیانی مدعی ہیں۔ ایک بے معنی شے ہے۔ خود مرزا قادیانی نے بھی (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤١٠) پر اقرار کیا ہے کہ رسول اور امتی کا مفہوم تباین ہے اور خیر الکثیر میں شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے مسیح علیہ السلام کے آخر زمانہ میں امتی ہونے کا خیال عام لوگوں کا خیال بتایا ہے اور اس خیال کی تردید کی ہے۔
- ١١....... (ازالہ اوہام ص ٥٢٩، خزائن ج ٣ ص ٣٨٤) وغیرہ کو بغور پڑھو اور بعض جگہ تو تمام احادیث
کے متعلق صاف لکھا ہے کہ: ”حدیثیں سب ظنی ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٦٥٤ حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٤٥٢) پر تحریر فرماتے ہیں: ”اگر کوئی حدیث بھی قرآن کریم کے مخالف پاویں تو فی الفور اس کو چھوڑ دیں۔“ جیسا کہ اللہ جل شانہ قرآن کریم میں آپ فرماتا ہے: ”فبای حدیث بعدہ یؤمنون (الاعراف: ١٨٥)“ ﴿یعنی قرآن کریم کے بعد کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔﴾ اور اسی صفحہ پر فرماتے ہیں: ”اکثر احادیث صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں۔ والظن لا یغنی من الحق شیئاً (یونس: ٣٦)“
اور (ازالہ اوہام ص ٦٣٩) پر فرماتے ہیں۔ قرآن شریف کی آیات بینات محکمات کو کون سی حدیث منسوخ کردے گی۔ ”فبای حدیث بعد اللہ وآیاتہ یؤمنون (الجاثیہ: ٦)“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٣٩، خزائن ج ٣ ص ٤٤٥)
ناظرین! یہی مذکورہ دونوں آیتیں جو مرزا قادیانی نے انکار حدیث میں پیش کی ہیں۔ منکرین حدیث انکار حدیث کی محکم دلیلیں سمجھتے ہیں۔ جس کے جواب میں ہم ان کو کہتے ہیں کہ: ”فبای حدیث بعد اللہ وآیات یؤمنون (الجاثیہ: ٦)“ کے سیاق و سباق کو دیکھو تو معلوم ہوگا کہ اس آیت میں آیات سے مراد صحیفہ قدرت کی آیات ہیں اور صحیفہ قدرت کی آیات جو ایک تکوینی کتاب ہے۔ جیسے اس کے ساتھ ابتداء میں انبیاء کی وحی ضروری تھی۔ ایسے ہی تربیت
١٤
روحانی کی کتب کے ساتھ بھی الحکمۃ یعنی علم حدیث کی وحی کا ہونا ضروری تھا۔ تفصیل اس کی رد الدجاجلہ حصہ دوم میں ہے۔ زیر سرخی منکرین حدیث کی تردید مگر مرزائیوں کے پاس (جو باوجود حدیثوں کو ظنی سمجھنے کے پھر بھی بعض حدیثوں پر عمل کرتے ہیں اور ان سے اپنے مطالب کی حجت لیتے ہیں)
منکرین حدیث کے مقابل ان آیات کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ خود مرزا قادیانی نے صاف لکھ دیا ہے کہ قرآن کریم کے بعد کون سی حدیث پر ایمان لاؤ گے۔ کیا یہ احادیث کا صریحاً انکار نہیں اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں۔ اس کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ اکثر حدیثوں کے سوا باقی حدیثیں تو جھوٹی ہیں اور یہ اکثر صحیح ہونے کا احتمال رکھتی ہیں۔ ظنی ہیں اور پھر اس کے ساتھ جو آیت تحریر فرماتے ہیں: ”ان الظن لا يغنى من الحق شيئاً (يونس:٣٦)“ صاف ان کے مقصود کو ظاہر کر رہی ہے کہ احادیث قابل عمل نہیں۔
ناظرین! تمام احکام شریعت کا مدار حدیث پر ہے۔ اگر حدیث نہ ہو تو قرآن مجید سے شریعت کے کسی شعبہ کے متعلق کوئی مترتب منہاج ہمیں معلوم نہیں۔ حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”ولكل جعلنا شرعة ومنهاجاً (المائدة:٤٨)“ ہر ایک کے لئے ہم نے ایک شریعت اور دستور العمل مقرر کیا ہے۔ خود نماز کو ہی لے لو۔ قرآن مجید میں کہاں اس کی پوری صورت بیان کی ہے اور اس کے ارکان و آداب اور ان کی ترکیب کو بیان کیا ہے۔ احادیث پر ایمان لانا ایسا ہی ضروری ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید پر حدیث پر قرآن مجید کی فضیلت ایمان کی جہت سے نہیں کہ قرآن مجید کو یقینی اور قطعی وحی سمجھا جائے اور حدیث کو ظنی وحی۔ بلکہ یہ فضیلت صفات نفسیہ کی جہت سے ہے۔ جیسا کہ بعض سور قرآنی بعض فضیلت رکھتی ہیں۔ ایسے ہی قرآن مجید حدیث پر۔ باقی رہا ایمان سو جس کا حدیث پر ایمان نہیں۔ اس کا قرآن مجید پر بھی ایمان نہیں اور جو چیز ضرورت ایمانیہ میں داخل ہے۔ اگر اس کو ظنی قرار دو گے تو پھر تمام شرعی احکام سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ منکرین حدیث کی طرح قرآن مجید کو جدھر چاہو کھینچو۔ شاہ ولی اللہ صاحبؒ کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ وغیرہ کا مطالعہ کرو اور احادیث کی شان معلوم کرو۔ شاہ صاحبؒ نے اسرار دین پر یہ ایک مستقل کتاب لکھ کر قرآن مجید کی طرح احادیث یعنی شریعت محمدیہ کو بھی معجزہ ثابت کیا ہے اور احادیث بخاری ومسلم کے متعلق لکھا ہے کہ ان دونوں کتابوں کی سب حدیثیں صحیح ہیں۔ جو ان کی جلالت شان میں فرق کرے۔ وہ محدثین کے نزدیک مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہے۔ اگر یہ اصول
١٥
ٹھہراؤ کہ جو حدیث تمہاری اپنی رائے میں قرآن کے خلاف معلوم ہو۔ وہ نعوذ باللہ مردود ہے تو اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ کیوں نہیں قرآن مجید کے متعلق بھی اس اصول پر کاربند نہ ہونے کی عام مسلمانوں کو اجازت دے دیتے کہ جو باتیں قرآن مجید سے بھی ان کو اپنی رائے سے متناقض معلوم ہوں۔ ان کی تطبیق سمجھنے کی کوشش نہ کیا کریں۔ انکار کر دیا کریں۔ مرزا قادیانی نے احادیث کے خلاف جو اکابر اولیاء وعلماء کے اقوال ازالہ اوہام میں پیش کئے ہیں۔ وہ سب ان کا افتراء ہے یا ان کی نافہمی، اگر طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم ناظرین پر ثابت کر دیتے کہ جن بزرگوں کے اقوال مرزا قادیانی نے پیش کئے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اپنے کشوف کو احادیث پر ترجیح نہیں دیتا۔ شیخ عبدالقادرؒ اپنی کتاب فتوح الغیب میں یہ تصریحات لکھتے ہیں کہ جو کشف کتاب اور سنت کے مطابق نہ ہو۔ وہ رد کرنے کے قابل ہے۔ اکابر کے اقوال سے اپنے باطل عقائد واعمال کو صحیح ثابت کر کے ان بزرگوں کو بھی متہم کرنا یہ ان دونوں فرقوں مرزائیوں اور بریلویوں کا خاصہ ہے۔ اکابر پر ان کا یہ لفظی ومعنوی افتراء عام مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ہوتا ہے۔
- ١٢....... (ازالۃ الاوہام ص٣٨٦،٣٨٧، خزائن ج٣ ص٢٩٦ تا ٢٩٧) تک آیات ذیل کی جو
تفسیر مرزا قادیانی نے لکھی ہے۔ بغور پڑھو: ”ماقتلوه وما صلبوه ولکن شبه لهم ان الذين اختلفوا فيه لفی شك منه مالهم به من علم الااتباع الظن وماقتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما، وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيداً (النساء:١٥٧ تا ١٦٠)“
اس آخری آیت لیؤمنن بہ کی تفسیر مرزا قادیانی یہ فرماتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر قیامت تک کوئی بھی اہل کتاب ایسا نہیں جو ہمارے مذکورہ بیان پر کہ وہ مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے بارے میں شک میں ہے۔ ایمان نہ رکھتا ہو۔ قبل اس کے کہ وہ اس بات پر ایمان لائے کہ مسیح علیہ السلام اپنی طبعی موت سے گیا ہے اور پھر جلی قلم سے قسم اٹھا کر فرماتے ہیں کہ یہ معنی کشفی طور پر مجھ پر کھولے گئے ہیں۔
ناظرین! غور فرمائیے۔ قبل موتہ جس کے صریحاً یہ معنی ہیں۔ اس کی موت کے پہلے ان تینوں لفظوں میں مرزا قادیانی کی زیادتی کہ قبل اس کے کہ وہ اس بات پر ایمان لائے کہ مسیح علیہ السلام اپنی طبعی موت سے مر گیا ہے۔ صریحاً تحریف قرآنی ہے۔ جو یہودیوں کا فعل تھا اور خدا پر افتراء ہے کہ کشفی طور پر یہ معنی خدا نے مجھ پر کھولے۔ کیا خدا تعالیٰ نعوذ باللہ! مرزا قادیانی کی طرح ایسا جاہل اور بے وقوف تھا کہ اس تین لفظوں کے مرکب اضافی کو جو ایک ناقص مرکب ہے۔ ایک
١٦
نیا جملہ آج چودھویں صدی میں الکتاب کو مسیح علیہ السلام کی صلیبی بھی نہ تھا۔ یہ شک ان کو ان کی آیت کے تحریفی معنی بھی یوں ہو کے بارے میں شک میں نہ ہو اپنی صلیبی موت سے مر گیا ہے قول سے مدعا یہ تھا کہ اگر عیسیٰ قادر نہ ہو سکتے۔ کیونکہ یہ تو رب شریف اس آیت کے بعد فر پھانسی دیا۔ بلکہ یہ خیال ان ک ہی شبہ میں ڈال دیا ہے۔ تا ال
حضرات! یہود اگر مصلوب ہو تو وہ لعنتی اور خ غلط فہمی پر لگ گیا اور ان کے کی حجت ان کے مقررہ معیا یہودیوں سے صلیب پر ان میں مسیح علیہ السلام کو مشبہ بہ انہیں رکھا کہ وہ اس سے تھ ہونا بموجب حکم توریت الع
مرزائیو! اگر م ہوتا۔ تو ہر یہودی پر وہ ثاب کو مشبہ بالمصلوب یعنی یہ صلیبی موت سے مرنے یا م طبعی موت پر نہیں۔ بلکہ صل سے اور پھر اسی موت پر قس دعوائے نبوت میں جھوٹے
لمبا جملہ آج چودھویں صدی میں لگا کر مرکب تام بنائے اور پھر یہ بات دیکھنے کے قابل ہے کہ اہل الکتاب کو مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے بارے میں شک تھا۔ ان کی طبعی موت کا تو ان کو خیال بھی نہ تھا۔ یہ شک ان کو ان کی صلیبی موت پر ایمان لانے پر آمادہ کر سکتا تھا۔ نہ کہ طبعی موت پر اور آیت کے تحریفی معنی بھی یوں ہو سکتے ہیں کہ کوئی اہل الکتاب نہیں۔ جو مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے بارے میں شک میں نہ ہو۔ قبل اس کے کہ وہ اس بات پر ایمان لائے کہ مسیح علیہ السلام واقعی اپنی صلیبی موت سے مر گیا ہے اور (ص ٣٧١، خزائن ج ٣ ص ٢٩١) پر فرماتے ہیں کہ یہودیوں کے اس قول سے مدعا یہ تھا کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم سچا رسول ہوتا تو ہم اس کو پھانسی دینے پر ہرگز قادر نہ ہو سکتے۔ کیونکہ یہ توریت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ مصلوب لعنتی ہوتا ہے۔ اب قرآن شریف اس آیت کے بعد فرماتا ہے کہ درحقیقت یہودیوں نے مسیح ابن مریم کو قتل نہیں کیا اور نہ پھانسی دیا۔ بلکہ یہ خیال ان کے دلوں میں شبہ کے طور پر ہے یقینی نہیں اور خدا تعالیٰ نے ان کو آپ ہی شبہ میں ڈال دیا ہے۔ تا ان کی بیوقوفی ان پر اور نیز اپنی قدرت ان پر ظاہر کرے۔
حضرات! یہودیوں کے مزعومہ باطل خیال کی تردید تو یہ تھی کہ بے گناہ اور معصوم شخص اگر مصلوب ہو تو وہ لعنتی اور جہنمی نہیں ہوتا۔ لیکن مرزا قادیانی کے نزدیک خدا تعالیٰ بھی یہودیوں کی غلط فہمی پر لگ گیا اور ان کے اس مزعومہ باطل خیال کو صحیح جان کر مسیح علیہ السلام کے جھوٹا یا سچا ہونے کی حجت ان کے مقررہ معیار کے بموجب ان پر پوری کرنے لگا۔ اس طرح کہ بقول مرزا قادیانی یہودیوں سے صلیب پر ان کو چڑھایا۔ طمانچے مروائے۔ خوب ان کی تذلیل کرائی اور ان کی نظر میں مسیح علیہ السلام کو مشبہ بالمصلوب یعنی نعوذ باللہ! مشبہ بالملعون کر کے دکھایا اور پھر شک میں انہیں رکھا کہ وہ اس سے مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت پر یقین کرلیں گے اور مسیح علیہ السلام کا جھوٹا ہونا بموجب حکم توریت ان پر صحیح ثابت ہو جائے گا۔
مرزائیو! اگر یہودیوں کے غلط معیار پر مسیح علیہ السلام کا سچا ہونا خدا کو ثابت کرنا منظور ہوتا۔ تو ہر یہودی پر وہ ثابت کر دیتا کہ مسیح علیہ السلام صلیبی موت سے یقیناً نہیں مرے۔ کیوں ان کو مشبہ بالمصلوب یعنی بموجب تفسیر مرزا قادیانی مشبہ بالملعون دکھایا گیا اور پھر اب تک انہیں صلیبی موت سے مرنے یا نہ مرنے کی نسبت شک میں رکھا۔ جس سے وہ بموجب تفسیر مرزا قادیانی طبعی موت پر نہیں۔ بلکہ صلیبی موت پر مطمئن ہو گئے اور خدا تعالیٰ نے اس شک میں ڈالے رکھنے سے اور پھر اسی موت پر مطمئن کرنے سے ان پر ثابت کر دیا کہ مسیح علیہ السلام نعوذ باللہ واقعی اپنے دعوائے نبوت میں جھوٹے تھے۔
١٧
ناظرین! غور فرمائیے کیا ایسی ترجمانی کرنے والا شخص جس کی ترجمانی ایک جلیل الشان نبی کی نبوت کو باطل کردے۔ مسلمان ٹھہر سکتا ہے؟ ۔ ہرگز نہیں۔
ثابت ہوئے وہی ہیں کہ تھے ناصر الصلیب
جو فاسد نتائج یہودیوں اور عیسائیوں کے عقیدۂ صلیب سے پیدا ہوتے ہیں۔ وہی مرزا قادیانی کی تفسیر سے پیدا ہورہے ہیں۔
- ١٣....... مرزا قادیانی کی اسی کتاب ازالۃ اوہام میں جس میں انہوں نے ایڑی چوٹی تک وفات
مسیح علیہ السلام ثابت کرنے پر زور دیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے ان کا داہنا ہاتھ پکڑ کر آیت لیؤمنن کے ایسے معنی ان کے ہاتھ سے کرا دیئے جن سے صاف حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی ثابت ہوتی ہے۔ یہ معنی ہیں جھوٹے کی شہ رگ کاٹنے کے۔ جس کا وعدہ قرآن مجید میں ہے۔ دیکھو! مرزا قادیانی نے لیؤمنن فعل مستقبل کو تجدد استمراری کے معنوں میں لیا ہے۔ چلو! اس کو بھی ہم تسلیم کر لیتے ہیں اور بہ کی ضمیر مجرور کا مرجع بیان مذکورہ کو ٹھہرایا ہے۔ گو یہ صحیح نہیں۔ مگر یہ بھی ہم کو مسلم اور موتہ کی ضمیر مضاف مجرور کا مرجع مسیح علیہ السلام کو ٹھہرایا ہے۔ جو ہمارے نزدیک بھی مسلم ہے اور قبل موتہ کے معنوں میں جو انہوں نے اپنی طرف سے ایک لغو اور تحریفی فقرہ زیادہ کیا ہے۔ ہر اہل زبان کے نزدیک آیت کے الفاظ اسے ہرگز اپنے اندر جگہ نہیں دیتے۔ لہٰذا اسے چھوڑ دو اور مرزا قادیانی کے مذکورہ مسلمات کے رو سے آیت لیؤمنن بہ کے معنی کرو تو یہ ہوں گے کہ کوئی اہل الکتاب نہیں۔ جو مسیح علیہ السلام کی موت کے پہلے ہمارے مذکورہ بیان پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ آیت مذکور کے تمام الفاظ کے جو معنی مرزا قادیانی نے تسلیم کئے ہیں۔ دیکھو! انہی کے رو سے حضرت مسیح کی صاف زندگی ثابت ہو رہی ہے۔ کیوں نہ اس زمانہ کے اور نزول مسیح علیہ السلام تک اس کے بعد کے اہل الکتاب کا ایمان مسیح کی موت کے پہلے جب ہی درست ہوسکتا ہے کہ مسیح علیہ السلام اس وقت تک مردہ نہ ہوں۔ ہم مرزائی صاحبان کو چیلنج دیتے ہیں کہ وہ موتہ کی ضمیر مسیح علیہ السلام کی طرف جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنے کشف کے رو سے پھیری۔ پھیر کر اس آیت کے کوئی ایسے صحیح معنی بنادیں۔ جس سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت نہ ہو۔ تو میں مرزائی ہونے کے علاوہ خدا کی قسم ایک سو روپیہ انعام بھی دوں گا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم الشان نشان جو بموجب وعدہ قرآنی ایک جھوٹے کی شہ رگ کاٹنے سے ظاہر ہوا۔ جس میں ایسے شخص کے ہاتھوں مسیح علیہ السلام کی حیات ثابت کر دی۔ جس نے وفات مسیح پر ایڑی چوٹی تک زور لگایا اور اس کام کو اپنی زندگی کی علت غائی اور مہتم بالشان کام
١٨
سمجھا کہ قرآن مجید کی سچائی کی دلیل لوگوں کے لئے جو باوجود قرآن مجید نزول کے منکر ہیں۔ خدا تعالیٰ کا یہ نش (الحشر:٢) “
- ١٤...... مذکورہ بالا آیت کے جو
مسیح علیہ السلام کی زندگی ثابت ہوت فرماتا ہے کہ مسیح علیہ السلام خدا تعال ”وكنت عليهم شهيداً م (المائدہ:١١٧)“ ﴿میں ان پر نگ توفی دے لی تو پھر تو ہی ان پر نگہبان اہل الکتاب کے بیچ میں ہوئی ، توفی ان کی گمراہی سے کوئی شے مانع نہ موت اور وفات کے لئے چاہئیں صلیبی موت کے بارے میں کیونکہ اوہام میں آیت لیؤمنن کی تفسیر میں موت کے بارے میں شک اور ظن کامل کا فائدہ دیتا ہے کہ اگر اہل ال ہے۔
پس لا محالہ یہاں توف گے۔ یعنی روح بمع جسد عنصری عادت مالوف اذہان نہ ہونے کی و ان کا شک میں پڑ جانا بعید نہیں ہ امام کے معنوں سے ہی توفی ک مرزا قادیانی نے ایک ہزار روپی ایک ہزار روپیہ انعام دے کر مرزا عہد خلافت میں بھی بذریعہ اخبار
سمجھا کہ قرآن مجید کی سچائی کی دلیل نہیں اور کیا منکرین قرآن کے لئے اور ان بادی خیال کے لوگوں کے لئے جو باوجود قرآن مجید کو کلام الہی سمجھنے کے حیات مسیح اور ان کے آخری زمانہ میں نزول کے منکر ہیں۔ خدا تعالیٰ کا یہ نشان حجت نہیں۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار
(الحشر:٢)“
١٤...... مذکورہ بالا آیت کے جو معنی مرزا قادیانی نے کئے ہیں۔ ان سے ایک اور طور سے بھی مسیح علیہ السلام کی زندگی ثابت ہوتی ہے۔ اس طرح کہ پارہ ٧ سورہ مائدہ کے اخیر میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسیح علیہ السلام خدا تعالیٰ کے سوال کے جواب میں قیامت کے دن فرمائیں گے۔ ”وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم (المائدہ:١١٧) ”میں ان پر نگران رہا۔ جب تک کہ ان کے بیچ میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھے توفی دے لی تو پھر تو ہی ان پر نگہبان تھا۔“ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کی توفی اہل الکتاب کے بیچ میں ہوئی، توفی تک وہ ان کے بیچ میں رہے اور ان کی نگرانی کرتے رہے۔ اگر ان کی نگرانی سے کوئی شے مانع ہوئی ہے تو وہ شے ان کی توفی ہی تھی۔ اگر توفی کے معنی اس مقام میں موت اور وفات کے لئے جائیں تو پھر وہ اہل الکتاب جن کے بیچ میں ان کی توفی ہوئی۔ مسیح کی صلیبی موت کے بارے میں کیونکر شک میں رہ سکتے تھے۔ حالانکہ مرزا قادیانی یہ تصریح تمام ازالہ اوہام میں آیت لیؤمنن کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں، کہ کوئی بھی اہل الکتاب ایسا نہیں جو مسیح کی صلیبی موت کے بارے میں شک اور ظن میں نہ ہو اور ایک جگہ یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ ان ایسا حصر کامل کا فائدہ دیتا ہے کہ اگر اہل الکتاب میں سے ایک فرد بھی باہر رہ جائے تو یہ لفظ غیر مؤثر ٹھہرتا ہے۔
پس لامحالہ یہاں توفی کے معنی ایک امر خلاف عادت کے ظہور کے تسلیم کرنے پڑیں گے۔ یعنی روح بمع جسد عنصری قبض کئے جانا۔ یعنی مسیح علیہ السلام کو زندہ دنیا سے اٹھا لینا۔ یہ خرق عادت مالوف اذہان نہ ہونے کی وجہ سے اہل الکتاب کے شک کا موجب ہوا اور ایسی صورت میں ان کا شک میں پڑ جانا بعید نہیں۔ بلکہ قرین قیاس ہے۔ مرزائی صاحبان میں نے آپ پر آپ کے امام کے معنوں سے ہی توفی کے معنی قبض روح بجسد عنصری ثابت کر دیئے ہیں۔ جس پر مرزا قادیانی نے ایک ہزار روپیہ انعام رکھا ہوا تھا۔ آپ یا تو میرے اس ثبوت کو توڑ دیں یا مجھے ایک ہزار روپیہ انعام دے کر مرزا قادیانی کو قرض سے سبکدوش کریں۔ میں مولوی نور الدین کے عہد خلافت میں بھی بذریعہ اخبارات و بذریعہ ڈاک یہ ثبوت پیش کر کے انعام کا مطالبہ کر چکا
١٩
ہوں۔ امید ہے کہ اب مرزا قادیانی کے خلف الرشید میاں محمود صاحب یا تو انعام دے کر مرزا قادیانی کو قرض سے سبکدوش کریں گے یا میرے اس ثبوت کو رد کریں گے۔
نوٹ: مرزائی صاحبان اپنی نافہمی سے اس مقام پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اگر دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور عیسائیوں کی گمراہی کو معلوم کریں گے تو پھر کیا وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولیں گے کہ مجھے ان کی گمراہی کا کوئی علم نہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ سورۂ مائدہ میں ان اہل الکتاب کی نسبت سوال ہے جو مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں موجود تھے اور آخری زمانہ کے اہل الکتاب کے حالات پر ان کی شہادت کا ذکر چھٹے پارہ میں آیت لیؤمن کے ساتھ ہے۔ ”ویوم القیامة یکون علیهم شهیداً (النساء: ١٥٩)“
١٥ ....... (ازالہ اوہام ص ٣٧٠ تا ٣٨٦ حصہ اوّل ، خزائن ج ٣ ص ٢٩٠ تا ٢٩٧) میں غور کرو اور پھر انہی صفحات میں آیت ”وما قتلوه یقیناً بل رفعه الله الیہ “ کی تفسیر دیکھو۔ مرزا قادیانی اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ یقیناً یہودیوں نے مسیح علیہ السلام کو قتل نہیں کیا کہ وہ ان کے اس عقیدے کے بموجب کہ مصلوب کی روح ملعون ہوتی ہے۔ نعوذ باللہ! جہنمی ٹھہرتا۔ بلکہ خدا نے عزت کے ساتھ ان کی روح کو اٹھا لیا ہے اور قتل سے بچا لیا ہے کہ مبادا یہودیوں کے اعتقاد کے اثر سے جہنمی نہ ہو جائیں۔
یہ میں نے مرزا قادیانی کی تفسیر کا خلاصہ اپنے لفظوں سے بیان کیا ہے۔ ناظرین غور فرمائیے کہ کیا کوئی کسی کے باطل عقیدے کے اثر سے جہنمی ہو جاتا ہے۔ ہرگز نہیں اور مرزا قادیانی کا یہ خیال کہ یہودیوں پر ان کے اعتقاد کے بموجب مسیح علیہ السلام کا نبی برحق ہونا خدا کو ثابت کرنا مطلوب تھا کہ وہ تمہارے اعتقاد کے بموجب بھی قتل یا بالصلیب یعنی لعنتی موت سے نہیں مرے۔ اس خیال کی تردید نمبر (١٢) میں ہو چکی ہے کہ خدا نے یہودیوں پر قتل سے بچے رہنا ثابت نہیں۔ بلکہ بقول مرزا قادیانی خود دانستہ انھیں شک میں ڈالے رکھا۔ جب مرزا قادیانی کی فاسد تفسیر کی رو سے اس مذکورہ آیت میں صرف روح کا رفع ثابت نہ ہوا تو پھر لفظ بل کے ماقبل و مابعد میں منافات کے سوائے اس کی اور کوئی صورت نہیں ہوسکتی کہ قتل وصلیب کا واقعہ مسیح علیہ السلام پر نہیں گزرا۔ وہ تو واقعہ صلیب سے پہلے ہی اٹھائے گئے تھے۔ یہودیوں نے غلطی سے ایک منافق کو جو چہرے کی مشابہت سے بظاہر مثیل مسیح علیہ السلام بنایا گیا تھا۔ مسیح علیہ السلام جان کر قتل کیا ہے اور مسیح علیہ السلام کو زندہ اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ ( نکتہ مجیبیہ: ایک مثیل مسیح علیہ السلام کو جو منافق تھا۔ جسمانی طور پر صلیب پر موت دے کر توریت کے حکم کے بموجب خدا تعالیٰ نے لعنتی بنادیا اور
دوسرے جھوٹے مثیل مسیح کو روحانی یہ کہو کہ منافات سے یہ تو ثابت ہوا کہ طرح ثابت ہوا تو اس کا جواب یہ ہے السلام کی توفی اہل الکتاب کے بیچ میں ہی نہ آتا۔ اگر یہودیوں کو ان کی موت مسیح علیہ السلام تو فوت ہوچکے ہیں۔
١٦ ...... صلب کے معنی مرزا قادیا کتاب میں نہیں۔ لغات عربیہ میں ا کی نفی خدا تعالیٰ نے ما صلبوہ میں کر دی اور پھر یہ بات غور کے لائق کی سزا دی۔ ان میں سے ایک جرم دیا ہے۔ اگر مسیح علیہ السلام پر قتل و انا قتلنا “ اس سنگین جرم کا ذکر کی نہیں گیا اور مذکورہ دلیل نمبر (١٥) سے اٹھائے گئے۔
١٧ ....... آیت ”لیؤمنن“ میں میں آتا ہے اور اس آیت کے صا السلام کی موت کے پہلے ضرور اس نزول ہوگا۔ اس وقت ان کی موت کوئی بعید بات نہیں کہ سب لوگ کر کیا آپ موجودہ زمانہ قانون حکومت کے مطیع ومنقاد ہے رسول سچا دین اسلام دے کر بھیجا صرف دلائل وبراہین سے بلکہ قولی شاء الله لهذا کم اجمعین“ چاہے تو سب کو ہدایت دے دے۔
٢٠
دوسرے جھوٹے مثیل مسیح کو روحانی طور پر بوجہ تاویلات فاسدہ بردار مردن کا سماں دکھا دیا۔) اگر یہ کہو کہ منافات سے یہ تو ثابت ہوا کہ رفع واقعہ صلیب سے پہلے ہوا تھا۔ لیکن زندہ اٹھایا جانا کس طرح ثابت ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ سورہ مائدہ کی آیت سے ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کی توفی اہل الکتاب کے بیچ میں ہوئی تھی۔ اگر یہ توفی بمعنی موت ہوتی تو واقعہ قتل وقوع میں ہی نہ آتا۔ اگر یہودیوں کو ان کی موت کا پتہ نہ لگتا تو عیسائی ہی کہہ سکتے تھے کہ قتل کس کو کر رہے ہو۔ مسیح علیہ السلام تو فوت ہو چکے ہیں۔
١٦....... صلب کے معنی مرزا قادیانی اور ان کی جماعت بردار مردن کے لیتی ہے جو کسی لغت کی کتاب میں نہیں۔ لغات عربیہ میں اس کے معنی بردار کشیدن یعنی سولی پر چڑھانے کے ہیں۔ جس کی نفی خدا تعالیٰ نے وماصلبوہ میں کر دی کہ خدا نے مسیح علیہ السلام کو سولی پر چڑھنے نہیں دیا۔
اور پھر یہ بات غور کے قابل ہے کہ جن جرائم پر خدا تعالیٰ نے یہودیوں کو تحریم طیبات کی سزا دی۔ ان میں سے ایک جرم ان کا یہ شمار کیا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ اگر مسیح علیہ السلام پر قتل و صلب کے فعل کا کچھ بھی وقوع ہوتا تو بجائے قول کے کہ ”وقولہم انا قتلنا“ اس سنگین جرم کا ذکر کیا جاتا نہ کہ قول کا۔ پس جب مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا ہی نہیں گیا اور مذکورہ دلیل نمبر (١٥) سے موت بھی ان پر نہیں آئی تو پھر صاف ظاہر ہے کہ وہ زندہ دنیا سے اٹھائے گئے۔
١٧....... آیت ”لیؤمنن“ میں ”لیؤمنن“ بموجب قواعد عربیہ خالص استقبال کے معنوں میں آتا ہے اور اس آیت کے صاف اور صریح معنی یہ ہیں کہ کوئی اہل الکتاب نہیں۔ مگر مسیح علیہ السلام کی موت کے پہلے ضرور اس پر ایمان لے آوے گا۔ یعنی مسیح علیہ السلام کا آخر زمانہ میں نزول ہوگا۔ اس وقت ان کی موت سے پہلے سب اہل الکتاب ان پر ایمان لے آویں گے اور یہ کوئی بعید بات نہیں کہ سب لوگ کرہاً وطوعاً قانون اسلام کو تسلیم کر لیں۔
کیا آپ موجودہ زمانہ میں دیکھ نہیں رہے کہ تمام رعایائے سلطنت انگلشیہ کرہاً وطوعاً قانون حکومت کے مطیع و منقاد ہے اور خدا تعالیٰ کا قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ وہ اللہ جس نے اپنا رسول سچا دین اسلام دے کر بھیجا۔ اس کا ارادہ ہے کہ وہ ایک زمانہ میں اس دین کو تمام ادیان پر نہ صرف دلائل و براہین سے بلکہ قبول اطاعت وانقیاد سے غالب کرے اور نیز فرماتا ہے کہ ”ولو شاء اللہ لھداکم اجمعین“ کمالات الٰہیہ میں سے یہ بھی ایک اللہ تعالیٰ کا کمال ہے کہ اگر وہ چاہے تو سب کو ہدایت دے دے۔
٢١
اور سورۂ فاتحہ میں الحمد للہ! جس کے معنی یہ ہیں کہ تمام کمالات خدا تعالیٰ کی ذات کو ثابت ہیں جو کمالات ہیں۔ وہ حصہ ظہور میں ضرور آنے والے ہیں۔ پس یہ کمال بھی ضرور حصہ ظہور میں آئے گا۔ جس کا وقوع وظہور نزول مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں موقوف ومقدر رکھا گیا ہے۔
نکتہ: واؤ عاطفہ چھوڑ کر آیت لیؤمن بہ کے عدد ١٤٤٠ ہوتے ہیں اور ”الحمد للہ رب العلمین الرحمن الرحیم ملك یوم الدین (الفاتحہ:١ تا ٤)“ کہ وہ زمانہ جس میں صفات اربعہ الٰہیہ یعنی ”رب العلمین (الرحمن الرحیم ملك یوم الدین“ کا جلوہ دنیا میں کھلے طور پر نمایاں ہوگا اور بموجب ارشاد انجیل بھی خداوند کی بادشاہت ہوگی۔ یعنی حدود و قضایا وغیرہ میں دین حق کی سلطنت ہوگی۔ وہ ١٤٤٠ھ ہوگا۔ تفہمات میں شاہ ولی اللہ صاحب کی جو پیش گوئی ہے۔ وہ عرصہ بھی اسی قدر ہوتا ہے۔ ”واللہ اعلم بالصواب“
مرزا قادیانی نے ایک بڑا یہ کام کیا ہے کہ اپنی لاعلمی اور نافہمی اور جہالت سے یا محض دجالیت سے قرآن مجید سے بکثرت تناقضات پیدا کئے ہیں اور علوم حقہ کا ابطال کر کے اہل ایمان کو تذبذب میں ڈالا ہے۔ وفات مسیح علیہ السلام کی جو تیس آیات ازالہ اوہام میں پیش کی ہیں۔ ان سب میں سے صرف یہی ایک آیت ”فلما توفیتنی“ کی تھی۔ جس سے ہم اوپر خود مرزا قادیانی کی مدد سے مسیح علیہ السلام کی زندگی قطعی طور پر ثابت کر چکے ہیں۔ باقی سب مرزا قادیانی کے موہوم تناقضات ہیں دراصل ان میں سے کوئی وفات مسیح کی دلیل نہیں۔ مثلاً مسیح کھاتا کہاں سے ہے۔ بول و براز کہاں کرتا ہے۔ زکوٰۃ کیونکر ادا کرتا ہے۔ وہ اتنی دراز عمر میں ارذل العمر تک کیوں نہیں پہنچا۔ وغیرہ لایعنی اعتراضات کا جواب کئی طور سے ہو سکتا ہے۔ ازاں جملہ یہ کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”ان يوماً عند الله كالف سنة مما تعدون (الحج:٤٧)“ اللہ کے ہاں ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہے۔ مسیح علیہ السلام کا رفع چونکہ خدا کی جانب ہے۔ لہذا اب تک وہاں صرف تقریباً دو دن گزارے ہیں۔ جو اس بطی الحرکت عالم اجسام کے امتداد موہوم میں ١٩٤٥ء سال بنتے ہیں اور ایک دو دن کے عرصہ پر کھانے پینے وغیرہ کے اعتراض کیسے۔ دیکھو! زمانہ کی تحقیق شاہ ولی اللہ صاحب کی کتاب خیر الکثیر میں آیت لیؤمن بہ کے صحیح معنوں پر جو مرزائیوں نے اعتراض کئے ہیں۔ ان میں سے صرف تین اعتراض قابل جواب ہیں۔ جن کے متعدد جواب ہو سکتے ہیں۔ ان ہر سہ اعتراضات کا ماحصل ایک ہی ہے۔ یہ کہ قرآن
٢٢
مجید کی تین چار آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اختلاف دنیا میں تا قیامت باقی رہے گا۔ پھر یہ کیونکر صحیح ہو سکتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں سب لوگ ایک دین پر جمع ہو جائیں گے۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس الی غسق اللیل (اسرائیل:٧٨) ”قائم کرو نماز کو دن ڈھلے سے رات گئے تک۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ دن ڈھلے سے لے کر رات گئے تک برابر نماز میں ہی کھڑے رہو۔ ہرگز نہیں۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ ان دونوں حدوں کے درمیان تمہارے نماز کے اوقات ہیں۔ ایسے ہی اختلاف کفر و ایمان کے اوقات بھی ابتدائے نوع انسان سے قیامت تک بتائے گئے ہیں۔ جس سے یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ اختلاف ہر زمانہ میں برابر موجود رہے گا اور اگر یہ کہو کہ آیت ”لا یزال مختلفین“ کے صاف یہ معنی ہیں کہ اختلاف کرنے والے ہمیشہ رہیں گے تو اس جہالت کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ معنی ہوتے تو ”لا یزال مختلفون“ ہوتا نہ کہ ”لا یزال مختلفین (هود:١١٨)“ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو بالفعل اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں۔ یا آئندہ پڑیں گے مرتے دم تک۔ بلکہ برزخ میں بھی تا قیامت اختلاف میں رہیں گے۔ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ اختلاف کرنے والوں کا وجود ہمیشہ تا قیامت دنیا میں موجود رہے گا۔
- ١٨....... مرزا قادیانی نے احادیث کو تو قابل وثوق قرار نہیں دیا۔ وہ قرآن مجید کے بعد جیسا کہ
پہلے مذکور ہو چکا۔ کسی حدیث کے ماننے کے لئے تیار نہیں۔ گو بعض حدیثوں پر ان کا عمل ان کے اس عام اصول کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے دعوائے مثیل مسیح کی موید کون سی آیت قرآنی ہے۔ اس کا جواب مرزائیوں کی طرف سے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پارہ ٢٥ میں فرماتا ہے: ”ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومك منه يصدون وقالواء الهتنا خير ام هو ما ضربوه لك الا جدلا (الزخرف:٥٨) ”جب بیان کی گئی ابن مریم کی کہاوت تو ناگہاں تیری قوم اس سے تالیاں بجاتی ہے اور کہتی ہے کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ نہیں بیان کرتے۔ اس کو تیرے آگے مگر جھگڑنے کو۔
مرزائی اس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ جب ابن مریم کی مثال یعنی مثیل مسیح علیہ السلام کا دعویٰ تیری قوم مسلمانوں کے آگے پیش ہوگا تو وہ تالیاں بجائیں گے۔
ناظرین ! غور کیجئے ضرب ماضی مجہول اور معنی اس کے استقبال کے لئے جا رہے ہیں اور پھر اس مثیل مسیح یعنی مرزا قادیانی کے منکروں میں سے اکثر موحد لوگ بھی ہیں۔ جنہوں نے خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں سمجھا ہوا۔ ان کا یہ کہنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں۔
٢٣
یا مثیل مسیح علیہ السلام جو حضرات مرزائیوں کا معبود ہے۔ اس آیت کا مطلب تفہیمات جلد ثانی میں شاہ ولی اللہ صاحبؒ یہ لکھتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام ابن مریم کی ضرب المثل سن کر مشرکین عرب کہنے لگے کہ عیسیٰ علیہ السلام جن کی تعظیم پر جمہور کا اتفاق ہے۔ جب اسے الوہیت سے محمد (ﷺ) نے معزول کر دیا اور ایسے مسلمہ شخص پر اس نے جرأت کر لی۔ تو پھر ہمارے معبودوں کو گالیاں دینے کی جرأت محمد (ﷺ) سے کوئی بعید نہیں۔ اس کلام سے مقصود ان کی تشنیع تھی۔
مرزائی صاحبان! تمہارے مطلب کی یعنی مثیل مسیح علیہ السلام کی کوئی آیت قرآن مجید میں نہیں۔ اصل مسیح علیہ السلام ابن مریم کی آمد کی خبر احادیث میں ہے۔ اس کی مؤید اس اوپر کی آیت سے اگلی آیت ہے۔ یعنی ”وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ (الزخرف: ٦١)“ اور بے شک وہ یعنی مسیح علیہ السلام (کا نزول) قیامت کی علامت ہے۔ مفسرین نے جو انہ کی ضمیر قرآن کی طرف بھی پھیری ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی مفسر کو آیت کے ان مذکورہ صریح معنوں سے انکار تھا۔ یہ بات ہرگز صحیح نہیں کہ وہ ضمیر کا مرجع مسیح علیہ السلام کو قرار دینا ناجائز سمجھتے ہوں۔ جب کہ ذکر بھی اس سے پہلے مسیح علیہ السلام کا ہی ہو۔ بات دراصل یہ ہے کہ وہ جن احتمالات پر کسی آیت کو محمول کرتے ہیں۔
ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ سب احتمال صحیح ہیں اور یہ جوامع الکلم کلام الٰہی کی خوبی ہے کہ اصل مقصود کے علاوہ اور بھی کئی صداقتوں کو صحیح ثابت کر جاتی ہے۔ جیسا کہ آیت لیؤمنن میں حضرت ابن عباسؓ نے موتہ کی ضمیر اہل الکتاب کی طرف پھیر کر بتایا کہ یہ بات بھی ہو سکتی ہے کہ نزع کے وقت تخویف ملائکہ سے اہل الکتاب مسیح علیہ السلام کے نبی اور بندۂ خدا ہونے کا اقرار کر لیتے ہوں۔ حضرت ابن عباسؓ کو ان معنوں سے انکار نہ تھا۔ جو سیاق و سباق آیت سے صریحاً ثابت ہو رہے ہیں اور تمام تراجم میں مذکور ہیں۔
١٩...... ”صراط الذین انعمت علیهم (الفاتحه: ٧)“ منعم علیہم سابقہ یعنی عہد نبوت صحابہؓ کے زمانہ سے لے کر مرزا قادیانی کے زمانہ تک کوئی منعم علیہ ایسا نہیں ہوا۔ جو اصل مسیح ابن مریم کے نزول کا منکر ہو۔ لہٰذا اس آیت سے بھی ثابت ہوا کہ جو نزول مسیح علیہ السلام کے منکر ہیں۔ وہ منعم علیہم کی جماعت سے خارج ہو کر مغضوب علیہم و ضالین میں داخل ہیں۔
میں اس رسالہ میں سات قطعی دلائل قرآنی حیات مسیح علیہ السلام کے ثبوت میں پیش کر چکا ہوں۔ انشاء اللہ تعالیٰ مخالفین میں سے کوئی شخص ان میں سے کسی ایک کو بھی توڑ نہیں سکے گا۔
٢٠...... اس رسالہ کو بغور پڑھنے سے یہ بات یقیناً ناظرین پر روز روشن کی طرح روشن ہو جائے گی
کہ مرزا قادیانی مجدد دین نہ تھے۔ مخرب دین تھے۔ لیکن مرزا قادیانی کی یہ حجت کہ اگر میں مجدد نہیں تو پھر اس صدی کا مجدد کون ہے۔ اس حجت کی تردید وہ حدیث کر رہی ہے جو مشکوۃ شریف میں حدیث مجدد مأۃ کی تفسیر ہے۔ یعنی "يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله" اس حدیث میں سب صیغے جمع کے آئے ہیں۔ جو اس بات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ مجدد مأۃ کی حدیث میں لفظ من بمنزلہ جمع کے ہے اور وہ تمام وہ علماء دین ہیں۔ جو دجالوں، مرزائیوں وغیرہ کی تردید کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے حجة اللہ البالغہ میں اس مذکورہ حدیث کو مجدد مأۃ کی حدیث کا مفسر قرار دیا ہے۔ دیکھو حجة اللہ البالغہ کے دوسرے حصہ کے ابتدائی باب۔
- ٢١...... مرزا قادیانی خلیفہ ہونے کے بھی مدعی تھے۔ لیکن جہاد حدود قضایا وغیرہ کے تمام علوم جو
خلافت کے متعلق تھے۔ ان سب کو قائم کرنا تو درکنار قوانین دولت انگلیشیہ کے مقابلہ میں ہیچ اور بے کار سمجھا اور جہاد کو تو بالکل اڑا ہی دیا اور ان سب کو دنیوی کام سمجھا۔ حالانکہ خلافت راشدہ عین دین ہے اور رعایا اور خلیفہ کے حق میں موجب حصول خیر کثیر ہے۔ دیکھو ہماری کتاب ردالدجالہ حصہ دوم!
مسئلہ ختم نبوت کی تحقیق چاہو تو ہماری اس مذکورہ کتاب اور میاں محمد مظفر صاحب اسیر کی کتاب (توہمات القادیین فی مسئلہ خاتم النبیین) کا مطالعہ کرو۔
اس احقر کے تمام رسائل ردالدجالہ کے ہر چہار حصے حجة الاسلام سچا دین، بلاغ المبین مذاہب باطلہ کی تردید میں بہت نفیس ہیں جس کا جی چاہے طلب کرے۔ "الحمد لله اولاً واخراً وظاہراً وباطناً"
کتاب الامن والعلی مصنفہ احمد رضا صاحب بریلوی
- ٢٢...... کتاب کا کوئی صفحہ نہیں جو رفض سے ملوث اور شرک آلود نہ ہو۔ ہم انشاء اللہ تعالیٰ اپنی
کتاب آئینہ حق نما میں اس امام الرفض کے فساد فی الدین کا اظہار بقدر گنجائش کتاب مفصل طور پر کریں گے۔ کتاب ہذا کے شروع میں یہ احقر ذکر کر چکا ہے کہ رمضان میں کسوف وخسوف کا نشان اس بات پر ہمیں تنبیہ کر رہا ہے کہ اس زمانہ میں ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوئے ہیں۔ جنہوں نے علمائے دین پر سخت بدزبانی سے کام لیا ہے اور دین الٰہی میں رفض وخارجیت کو پھیلایا ہے اور اس امر میں دو ممتاز ہستیاں ہیں جنہوں نے مخرب دین الٰہی میں بہت سی کتابیں لکھ کر مسلمانوں میں
٢٥
تفرق و تنافر کا فساد عظیم پیدا کیا ہے۔ ان دو ممتاز ہستیوں میں سے ایک مرزا قادیانی ہیں جو خارجیت کے امام ہیں اور دوسرے احمد رضا خاں صاحب بریلوی جو امام الرفض ہیں۔ اس امام الرفض نے اپنے رافضیانہ مذہب کا نام اہل السنت والجماعت رکھا ہے اور جو اہل السنت والجماعت تھے۔ ان کا نام وہابی اس خود غرضی کی بناء پر کہ توحید کے پھیلنے سے ہماری جھوٹی پیری مریدی نہیں چلے گی اور دنیوی عزت و جاہ اور شان و شوکت ہمیں حاصل نہیں ہوگی۔
آنحضورﷺ کی شان میں بے جا غلو کر کے توحید الہی کو بالکل مٹا دیا اور مجدد دین اسماعیل شہید کو سخت گالیاں دیں اور ان کی ہر سیدھی بات کو الٹا کر کے دکھایا اور ان کا نام سخت بے ادب، گستاخ اور طاغی وغیرہ رکھا۔ قصور ان کا یہ کہ انہوں نے خدا اور انبیاء علیہم السلام واولیائے کرام کی شان میں بے انتہاء فرق کیوں دکھایا ہے اور غیر اللہ میں صفات الہیہ کے اثبات اور گور پرستی وغیرہ انواع شرک کا (جن سے دنیا پرست پیرووں کی اغراض نفسانی فروغ پا رہی ہیں) ابطال کیوں کیا۔
کہ ارباب توحید ہیں بے ادب
گھٹائیں خدا سے نبی کا وقار
وہابی بنائے ہیں سنت شعار
کتاب مذکور کے ص١٤٣ پر امام روافض کا ارشاد ہے۔ (اسماعیل شہید کا) اتنا لفظ سچ ہے کہ اللہ عزوجل کے بتانے سے زیادہ کوئی معلوم نہیں کرسکتا۔ مگر اس حق بات میں ارادہ اس کا باطل ہے۔ ناظرین اس مذکورہ قول میں اسماعیل شہید کا ارادہ باطل امام الرافض نے یہ سمجھا کہ اسماعیل شہید کے اس قول سے مراد یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام واولیاء کرام وغیرہ غیب کے معلوم کرنے میں خدا کے محتاج ہیں۔ ان کی ذات میں کوئی ایسی قوت نہیں جس سے وہ جب چاہیں غیب معلوم کرسکیں اور یہ قول آیات قرآنی کے عین مطابق ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے رسولﷺ تو کہہ دے کہ اگر میں غیب جانتا ہوں تو اپنے لئے بہت سی بھلائی جمع کر لیتا اور مجھے کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچتی اور امام الرافض کا مذہب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انبیاء میں ایسی قوت پیدا کر دی ہے کہ وہ جب چاہیں غیب معلوم کر سکتے ہیں اور اس مذہب کی تائید کوئی آیت یا حدیث نہیں کرتی۔
۔ احقر: فیض اللہ ساکن گجرات
٢٦