غازی علم الدین شہید · محمد متین خالد
Ghazi Ilam Deen Shaheed · Muhammad Mateen Khalid
PDF 1

شہید ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

غازی علم الدین شہید

خواجہ متین

PDF 2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شہید ناموس رسالت ﷺ

غازی علم الدین شہیدؒ

صفحہ 2

اسی جنت کی تلاش میں زاہدوں اور عابدوں کے نجانے کتنے قافلے سرگرداں رہے، کیسے کیسے لوگ غاروں کے ہو کر رہ گئے، کئی پیشانیاں رگڑتے اور سر پیٹتے رہے، ہزاروں سر بگریباں، چلہ کش اسی آرزو میں دنیا سے اٹھ گئے، لاکھوں طواف و سجود میں غرق رہے، بے شمار صوفی و ملا وقف دعا رہے، ان گنت پرہیز گار خیال جنت میں سرشار رہے، خدا ان سب کی محنت ضرور قبول کرے گا، لیکن غازی علم الدین کا مقسوم دیکھئے! نہ چلہ کیا نہ مجاہدہ، نہ حج کیا، نہ عمرہ کیا، نہ دیر میں قشقہ کھینچا، نہ حرم کا مجاور بنا، نہ مکتب میں داخلہ لیا نہ خانقاہ کا راستہ دیکھا، نہ کنز قدوری کھول کر دیکھی نہ رازی و کشاف کا مطالعہ کیا نہ حزب البحر کا ورد کیا نہ اسم اعظم کا وظیفہ پڑھا، نہ علم و حکمت کے خم و پیچ میں الجھا نہ کسی حلقہ تربیت میں بیٹھا، نہ کلام و معانی سے واسطہ رہا نہ فلسفہ و منطق سے آشنا ہوا، نہ مسجد کے لوٹے بھرے نہ تبلیغی گشت کیا، نہ کبھی شیخی بگھاری نہ کبھی شوخی دکھائی، اسے پاکبازی کا خبط نہیں، محبوب حجازی ﷺ سے ربط تھا، وہ تسبیح بدست نہیں مست مئے الست تھا، وہ فقیہ مسند آرا نہیں، فقیر سر راہ تھا، یہی وجہ ہے کہ اس نے مصلحت کیشی سے نہیں، جذبۂ درویشی سے کام لیا، چنیں و چناں کے دائروں سے نکل کر کون و مکاں کی وسعتوں میں جا پہنچا، وہم و گمان کی خاک جھاڑ کر ایمان و عشق کے نور میں ڈھل گیا، نجانے ہاتف غیب نے چپکے سے اس کے کان میں کیا بات کہی کہ پل بھر میں دل کی کائنات بدل گئی ؎

پروانے کا حال اس محفل میں، ہے قابل رشک اے اہل نظر
اک شب میں ہی یہ پیدا بھی ہوا، عاشق بھی ہوا اور مر بھی گیا
PDF 4

یں اور عابدوں کے نجانے کتنے قافلے سرگراں رہ گئے، کئی پیشانیاں رگڑتے اور سر پیٹتے رہے، میں دنیا سے اٹھ گئے، لاکھوں طواف و سجود میں دعاء ہے، ان گنت پرہیز گار خیال جنت میں قبول کرے گا، لیکن غازی علم الدین کا مقسوم ہ کیا، نہ دیر میں قشقہ کھینچا، نہ حرم کا مجاور بنا، نہ یکھا، نہ کنز قدوری کھول کر دیکھی نہ رازی و یا نہ اسمِ اعظم کا وظیفہ پڑھا، نہ علم وحکمت کے بیٹھا، نہ کلام و معانی سے واسطہ رہا نہ فلسفہ و کرے نہ تبلیغی گشت کیا، نہ کبھی شیخی بگھاری نہ نہیں، محبوب حجازی ﷺ سے ربط تھا، وہ تسبیح مسند آرا نہیں، فقیر سر راہ تھا، یہی وجہ ہے کہ نٹی سے کام لیا، چیلن و چنتاں کے دائروں سے وہم و گمان کی خاک جھاڑ کر ایمان و عشق کے چکے سے اس کے کان میں کیا بات کہی کہ پل بھر

ہے قابل رشک اے اہلِ نظر
ہوا، عاشق بھی ہوا اور مر بھی گیا

شہید ناموس رسالت ﷺ

غازی علم الدین شہیدؒ

خولہ متین

علم و عرفان پبلشرز

34- اُردو بازار لاہور

فون: 7232336-7352332-042

PDF 5

جملہ حقوق محفوظ ہیں

نام کتاب ............................ غازی علم الدین شہیدؒ تحقیق وتالیف ............................ خولہ متین ناشر ............................ گل فراز احمد ............................ علم وعرفان پبلشرز، اُردو بازار لاہور کمپوزنگ ............................ رفاقت علی سن اشاعت ............................ فروری 2007ء مطبع ............................ جوہر رحمانیہ پرنٹرز، لاہور قیمت ............................ -/120 روپے

علم وعرفان پبلشرز

34- اردو بازار لاہور فون: 042-7352332-7232336

سیونتھ سکائی پبلیکیشنز

غزنی سٹریٹ الحمد مارکیٹ 40- اردو بازار، لاہور۔ فون: 7223584

PDF 6

حقوق محفوظ ہیں غازی علم الدین شہیدؒ خولہ متین گل فراز احمد علم و عرفان پبلشرز، اُردو بازار لاہور رفاقت علی فروری 2007ء جوہر رحمانیہ پرنٹرز، لاہور -/120 روپے

عرفان پبلشرز اردو بازار لاہور 042-7352332

پبلیکیشنز الحمد مارکیٹ فون: 7223584

فہرست

PDF 7

غازی علم الدین توں ، دریا طور دیا استاد عشق لہر 126

PDF 8

انتساب!

نانی امی

کے نام

جن کی دعاؤں سے کامیابی میرے قدم چومتی ہے۔

؎ خدا کرے تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
صفحہ 9

غازی علم الدین شہیدؒ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِهٖ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ اَجْمَعِيْنَ

تقديم

حکیم الامت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب کہا ہے:

بِمُصطَفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باو نرسیدی تمام بُو لَہَبی است

یعنی دین نام ہی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اتباع کا ہے کہ یہی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور نجات اُخروی کا ضامن ہے۔ اس کے علاوہ کسی دوسرے کی پیروی کرنا عاقبت برباد کرنے والی ضلالت ہے۔ فی الحقیقت ہر سچے مسلمان کا اس بات پر پختہ ایمان ہے کہ صراطِ مستقیم، جادۂ سعادت اور شاہراہِ مغفرت وہی ہے جس پر امام الانبیاء، صاحب قاب قوسین، ساقی کوثر حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کے پاک قدموں کے نقوش نظر آتے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی تمام صفات و کمالات کی جامع اور ہدایت و عظمت کا سرچشمہ ہے، اس سے بے نیاز ہو کر خاصانِ خدا کی صف میں جگہ پانا یا آخرت میں بخشش و نجات کی امید رکھنا، پرلے درجے کی خام خیالی اور غلط اندیشی ہے۔ ہمارے آقا و مولیٰ، خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ ہیں، صاحبِ خلقِ عظیم ہیں، سراجِ منیر ہیں، رحمۃ للعالمین ہیں، بشیر و نذیر ہیں، صاحبِ خیر کثیر ہیں، شافعِ روزِ جزا ہیں، حاملِ اسوۂ حسنہ ہیں۔ اللہ اور اس کے فرشتے آپ ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اور اہل ایمان کو بھی آپ ﷺ پر درود بھیجنے کا حکم دیتے ہیں۔ جس دل میں حضور ﷺ کی محبت اور اطاعت کا جذبہ نہیں، اس دل کو نہ اللہ تعالیٰ کا اقرار کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ اس کا اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ تسلیم کیا جاسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی اس کا محبّ اور اطاعت گزار کہلا سکتا ہے جو اس کے رسول (ﷺ) کا اطاعت گزار ہو، جیسا کہ سورۃ النساء میں ارشاد ہوا ہے:

صفحہ 10

غازی علم الدین شہید

مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ.

(النساء: ۸۰)

”جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی ۔“

اسی طرح سورہ ال عمران میں فرمایا گیا ہے:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ط وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ O

(النساء: ۳۱)

”(اے نبی! لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری متابعت کرو (اس طرح) اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا۔ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔“

صحیح بخاری میں خادم رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، بیٹے حتیٰ کہ تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔۱

علامہ اقبالؒ نے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ایسے ہی ارشادات کے پیش نظر کہا ہے: ؎

در دلِ مسلم مقامِ مصطفیٰ است
آبروئے ما ز نامِ مصطفیٰ است

نامور ادیب اور شاعر مولانا ماہر القادریؒ بارگاہِ رسالت ﷺ میں یوں عرض پرداز ہوتے ہیں: ؎

تری ذات سے محبت ترے حکم کی اطاعت
ہماری زندگی کا مقصد، یہی اصلِ دین و ایماں

۱ اس حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں: عن انس قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم لا یؤمن احد کم حتی اکون احب الیه من والده وولده والناس اجمعین.

(رواه البخاری)

صفحہ 11

غازی علم الدین شہیدؒ

ملت اسلامیہ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ قرنِ اول سے لے کر آج تک فرزندانِ توحید کے سینوں میں اپنے آقا و مولا ﷺ سے بے پایاں محبت اور آپ ﷺ کے ناموس پر قربان ہونے کی تڑپ ہمیشہ موجود رہی ہے۔ سب سے پہلے جن نفوسِ قدسی کو سرکارِ دو عالم ﷺ پر پروانہ وار فدا ہونے کی سعادت نصیب ہوئی، وہ آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین تھے۔ دین حق کے ان خوش بخت فدائیوں نے جہاں محبوب رب العالمین ﷺ کے جمالِ جہاں آرا سے اپنی آنکھیں روشن کیں اور حضور ﷺ سے براہِ راست محبت و استفاضہ کا شرف حاصل کیا، وہاں پرچم حق کی سربلندی اور خیر البشر ﷺ کے ناموس کی حفاظت کے لیے جان، مال، اولاد جس شے کی ضرورت پڑی، بے دریغ حاضر کردی۔ یوں ان کا انفرادی اور اجتماعی کردار ابدالآباد تک فرزندانِ توحید کے لیے مشعلِ راہ بن گیا۔ رسالت کے مقدس دور کے بعد تاریخ کے ہر دور میں مختلف خطہ ہائے ارض میں بے شمار فرزندانِ توحید نے رسول پاک ﷺ کے ان جاں نثاروں (صحابہ کرامؓ) کے نقوشِ قدم کو نشانِ راہ بنایا اور ناموسِ رسالت ﷺ پر اپنی جانیں قربان کر کے حیاتِ جاوید حاصل کر لی۔ اس طرح انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا:

یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

برصغیر پاک و ہند میں بھی کثیر التعداد مردانِ حق کو ماضی بعید اور ماضی قریب میں یہ شرف حاصل ہوا کہ انہوں نے ناموسِ رسول اللہ ﷺ پر اپنی جانیں وار دیں ؎١۔

ان شہیدانِ ناموسِ رسالت میں ایک نمایاں نام غازی علم الدین شہیدؒ کا ہے۔ اکیس بائیس برس کی عمر کے اس عاشقِ رسول ﷺ نوجوان کا تعلق لاہور سے تھا۔ اس نے ایک گستاخِ رسول ﷺ کافر کو جہنم واصل کر کے اپنے آقا و مولا ﷺ سے سچی محبت اور عقیدت کا حق ادا کر دیا اور اپنی جان حضور ﷺ کی ناموس پر نثار کر دی۔ زیرِ نظر کتاب اسی مردِ حق آگاہ کے تذکارِ جمیل پر مشتمل ہے۔ اس کو وطنِ عزیز کے نامور مؤلف اور محقق جناب محمد متین خالد

١ ناموسِ رسالت ﷺ پر اپنی جانیں قربان کرنے والے بہت سے شہیدوں کے ایمان افروز تذکرے محترم محمد متین خالد کی تالیف ’’شہیدانِ ناموسِ رسالت ﷺ‘‘ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ۴۶۰ صفحات پر محیط یہ معرکہ آرا مجلد کتاب علم و عرفان پبلشرز ۳۴۔اردو بازار لاہور سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

صفحہ 12

غازی علم الدین شہیدؒ

کی محبّتِ رسول دختر نیک اختر نے یہ محسوس کر کے مرتب کیا کہ ہماری نژادِ نو میں بہت کم ایسے افراد ہیں جو غازی علم الدین شہیدؒ کے نام اور عظیم کارنامے سے آگاہ ہیں۔ کتاب چھ مقالات پر مشتمل ہے، سب سے طویل مقالہ محترمہ خولہ متین کا ہے جو انہوں نے بڑی دلسوزی اور جامعیت کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔

باقی پانچ مقالے ملک کے پانچ معروف ادیبوں (جناب رحمان مذنب مرحوم، صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی مرحوم، مولوی محمد سعید مرحوم سابق ایڈیٹر پاکستان ٹائمز، جناب محمد ابراہیم شاہ اور جناب حنیف شاہد) کے قلم سے ہیں۔

ان مقالات میں غازی علم الدینؒ کے بچپن سے جوانی اور شہادت تک کی زندگی کے تمام مراحل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس مردِ غیور نے عین عنفوانِ شباب میں ایک گستاخ رسول ؐ کو کس طرح کیفر کردار تک پہنچایا، مقدمے کا کس طرح سامنا کیا اور جام شہادت کس ذوق و شوق سے پیا، یہ تمام واقعات پڑھ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے اور علم الدین شہیدؒ کی غیرتِ دینی، حبِّ رسول ﷺ اور ہمت مردانہ پر رشک آتا ہے۔ نثری مقالات کے علاوہ کتاب میں چند خوبصورت نظمیں بھی شامل ہیں۔ جن میں غازی علم الدینؒ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

دعا ہے کہ اس کتاب کی شکل میں خولہ متین سلہری کا بارگاہِ رسالت ﷺ میں ہدیۂ عقیدت و محبت اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، ان کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے اور دین و ادب کی بیش از بیش خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمِ ۔

راجی غفران و شفاعت طالب الہاشمی ۱۵/ مارچ ۲۰۰۷ء

صفحہ 13

غازی علم الدین شہیدؒ

دل کی بات

شہیدان ناموس رسالت ﷺ کا تذکرہ ایمان کو ایک نئی جلاء بخشتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کے بعد ناموس رسالت ﷺ پر قربان ہونے والی جس شخصیت نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ غازی علم الدین شہیدؒ ہیں جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود ایک دریدہ دہن گستاخ رسول راجپال کو قتل کر کے ثابت کر دیا کہ جب تک ایک بھی مسلمان زندہ ہے، اس دھرتی پر کسی گستاخ رسول کو زندہ رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

یہ کہاں کی رواداری اور روشن خیالی ہے کہ کوئی بدبخت مسلمانوں کی سب سے محبوب ترین ہستی حضور سید المرسلین ﷺ کی شان اقدس میں نازیبا کلمات کہے اور پھر مغرب مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے اپنی اسلام دشمنی کے نتیجہ میں اسے ”ہیرو“ کا درجہ دے دے۔ اس سلسلہ میں سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ انہو ں نے کیا معرکہ سرانجام دیا کہ مغرب نے انہیں اپنے سر آنکھوں پر بٹھایا اور اعلیٰ ترین ایوارڈز سے نوازا؟ یہی کہ انہوں نے اپنی اپنی کتابوں میں حضور خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات اقدس پر کیچڑ اچھالا ہے۔ حالانکہ چاند پر تھوکا خود اپنے منہ کو آتا ہے۔ ڈرپوک اتنے ہیں کہ اب وہ مسلمانوں کے غیظ وغضب سے بچنے کے لئے گٹر کے چوہوں کی طرح چھپتے پھرتے ہیں۔ وہ اپنی ناپاک جسارت کے بعد ایک دن کے لئے بھی پبلک میں نہیں آئے۔ موت سے خوف کے شکار یہ بزدل ہر روز مرتے اور زندہ ہوتے ہیں، ان کے لئے خوف و ذلت کا یہی عذاب کافی ہے۔

اسلام بلا رنگ ونسل ہر مذہب کے ہر انسان کی عزت وتکریم کا حکم دیتا ہے۔ حضور رحمت للعالمین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی اور جس نے کسی ایک انسان کو بلاوجہ ناحق قتل کیا، گویا اس نے

صفحہ 14

غازی علم الدین شہید

پوری انسانیت کا قتل کیا ۔" لیکن گستاخ رسول اس کلیہ سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ از خود اپنا تعلق رحمت اللعالمین ﷺ سے توڑ لیتا ہے۔ اگر ملکی قانون گستاخ رسول کی سرکوبی کر سکتا ہو تو کوئی مسلمان قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا۔ لیکن جب قانون ہی موجود نہ ہو تو پھر ہر مسلمان غازی علم الدین شہیدؒ ایسا کردار ادا کرنے کے لیے بے تاب ہو جاتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے عزت مآب جناب جسٹس میاں نذیر احمد اپنے ایک فیصلہ میں لکھتے ہیں:

"مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے احکام نے یہ بات ممکن بنادی ہے کہ ملزموں کا عدالتی طریقہ کار سے مواخذہ کیا جاسکے اور معاشرہ میں یہ رجحان پیدا کر دیا ہے کہ قانونی کارروائی کا سہارا لیا جائے۔ تعزیرات پاکستان کی محولہ بالا دفعہ کے تحت مقدمے کے اندراج سے ملزم کو ایک عرصہ حیات میسر آ جاتا ہے۔ اس امر کے پورے مواقع کے ساتھ کہ وہ اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے عدالت میں اپنا دفاع کرے اور سزایابی کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں میں اپیل، نگرانی وغیرہ جیسی دادرسی کا فائدہ اٹھائے۔ کوئی بھی شخص، کجا ایک مسلمان، ممکنہ طور پر اس قانون کی مخالفت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ من مانی کا سد باب کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے۔ اگر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے احکام کی تنسیخ کردی جائے یا انہیں دستور سے متصادم قرار دے دیا جائے تو معاشرہ میں ملزموں کو جائے واردات پر ہی ختم کرنے کا پرانا دستور بحال ہو جائے گا۔"

(پی ایل ڈی 1994ء لاہور 485)

تماشا یہ ہے کہ آج کل پھر تعزیرات پاکستان میں درج توہین رسالت ﷺ کی سزا 295-سی کو امریکی ایماء پر ختم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور اگر خدانخواستہ یہ سزا ختم ہو گئی تو پھر قانون کو ہاتھ میں لینے کے دستور کو کون روکے گا؟ اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہے کہ توہین رسالت ﷺ کی سزا ختم کرنے سے گستاخان رسول کو تحفظ مل جائے گا تو وہ احمقوں کی دوزخ میں رہتا ہے۔ کسی کو شک ہے تو وہ آزما کر دیکھ لے!

؎ ہم آگئے تو گرمی بازار دیکھنا

خولہ متین

٭ ٭ ٭

صفحہ 15

غازی علم الدین شہیدؒ

قبولیت دعا کا مجرب نسخہ

شہید ناموس رسالت ﷺ غازی علم الدین شہیدؒ میری آئیڈیل شخصیت ہیں۔ ہمارے گھر میں جب ان کی داستان سرفروشی کا تذکرہ ہوتا ہے تو ہمارے سر عقیدت و احترام سے جھک جاتے بلکہ ہم دیر تک بے اختیار خوشی کے آنسو روتے رہتے ہیں۔ اس دوران ہم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں کے نزول کو خود محسوس کرتے ہیں۔

میرے پاپا کہتے ہیں کہ زندگی میں جب بھی کوئی مشکل یا پریشانی لاحق ہو تو درود شریف پڑھ کر غازی علم الدین شہیدؒ کی لازوال قربانی کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں تو آپ کی دعا ہر حال میں پوری ہوگی۔ عرصہ دراز سے یہ ہمارا خود آزمودہ نسخہ ہے۔

خولہ متین

PDF 16
PDF 17

شہید ناموس رسالت ﷺ

غازی علم الدین شہید

PDF 18

غازی علم الدین شہیدؒ

نماز احم مگر عی نہ جب کٹ خدا شا

کیسی مقد کتنی مبارک تھیں وہ جما گئیں...... کتنا پاکیزہ تھا تھیں وہ گردنیں جو کاٹ کتنی حسین تھیں وہ خواہی شہادت کی آ توحید اور شانِ رسالت پ شیوہ رہا ہے۔ زندگی کتنی کیوں نہ ہوں، حضورؐ

صفحہ 19

غازی علم الدین شہیدؒ

خولہ متین

اسلامی غیرت و حمیت کا استعارہ

غازی علم الدین شہیدؒ

نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلمان ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا ﷺ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا

کیسی مقدس تھیں وہ ہستیاں، جو ناموس رسالت ﷺ پر قربان ہو کر دوام پا گئیں! کتنی مبارک تھیں وہ جوانیاں جو ختم نبوت کے لیے اپنی توانائیاں لٹا کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گئیں ...... کتنا پاکیزہ تھا وہ لہو، جو دامان مصطفیٰ ﷺ کی تقدیس کے لیے بہہ گیا ...... کتنی باوقار تھیں وہ گردنیں جو کائنات کی سب سے عظیم ہستی ﷺ کے در اقدس پر کٹ گئیں ...... اور ...... کتنی حسین تھیں وہ خواہشیں اور آرزوئیں جو آقائے نامدار ﷺ کے قدموں پر نثار ہو گئیں۔

شہادت کی آرزو ہر صاحب ایمان کے دل میں ہر آن جگمگاتی رہتی ہے۔ عظمت توحید اور شان رسالت مآب ﷺ پر ہدیہ جان و تن نچھاور کرنا صدیوں سے فرزندان توحید کا شیوہ رہا ہے۔ زندگی کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہو اور حیات مستعار کے لمحے کتنے ہی جاذب توجہ کیوں نہ ہوں، حضور ﷺ کے غلاموں کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا کہ

صفحہ 20

غازی علم الدین شہیدؒ

انھیں شمع رسالت ﷺ پر پروانہ وار نثار ہو جانے کی سعادت حاصل ہو جائے۔ کیونکہ ان کے پیش نظر حضور ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہوتا ہے:

”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد، تمام انسانوں حتیٰ کہ اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تر نہ ہو جاؤں۔“

کون جانتا ہے اور کون جان سکتا ہے کہ بطحا کی افق پر طلوع ہونے والے چاند کی ضوء فشاں کرنوں کو اپنے مقدس لہو کی مہک سے دو آتشہ کرنے والے سرفروشوں کی تعداد کیا ہے۔...... کسے اندازہ ہے کہ حسن یوسف علیہ السلام، دم عیسیٰ علیہ السلام اور ید بیضاء رکھنے والی باعث فخر کائنات ارضی و سماوی ذات ﷺ کے ناموس پر قربان ہونے والے سرفروشوں کی فہرست کتنی طویل ہے۔

یہ عشق رسول کا جذبہ، جو بدر کے میدان میں گستاخ رسول ابوجہل کے مقابلے میں صف آراء ہونے والے معاذؓ اور معوذؓ کے روشن سینوں میں موج زن تھا اور آج بھی ملت محمدیہ کے بچے بچے کے سینے میں زندہ ہے۔...... یہ ایک مبارک رسم ہے، جو حضرت صدیق اکبرؓ کے بلند کردار سے جاری ہوئی اور آج بھی ایمان والے اسے نبھا رہے ہیں۔...... یہ ایک تابندہ روایت ہے، جس نے صدیوں پہلے دلوں میں جنم لیا، ہاتھوں سے سرزد ہوئی اور جرأت و بہادری کی ناقابل فراموش تاریخ رقم کرتی ہوئی بارہا دار و رسن تک پہنچی اور تختۂ دار پر لٹکی...... مگر پھر بھی ہمیشہ زندہ رہی اور آج بھی...... ہمیشہ کی طرح زندہ و تابندہ ہے اور ان شاء اللہ ابدالآباد تک زندہ و تابندہ رہے گی۔

مشرق سے لے کر مغرب تک، شمال سے لے کر جنوب تک، عرب و عجم میں، اسود و احمر میں، بستیوں اور وادیوں میں، کوہ و دمن میں، دشت و جبل میں، افریقہ و امریکہ میں، ایشیاء و یورپ میں...... کتنے وفا شعار ایسے گزرے ہیں جنھوں نے اپنے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ پر اپنی جانیں وار دیں؟......

اس حقیقت کا علم صرف اس ذات ہی کو ہو سکتا ہے جس کے ذخیرۂ علم میں سوا چودہ

صفحہ 21

غازی علم الدین شہیدؒ

صدیوں کی یہ تاریخ محض ایک حرف کی حیثیت رکھتی ہے ورنہ ہم نہ ان قدسیوں کی فہرست کا احاطہ کر سکتے ہیں، اور نہ ہی ان کے مقام و مرتبہ اور ذکرِ جمیل کو احاطہ تحریر میں لانے کا حق پوری طرح کر سکتے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنھوں نے رحمتِ عالم ﷺ کے مردود و ملعون دشمنوں سے انتقام لیا...... اور اس ”جرم“ کی پاداش میں، انھیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا...... یوں یہ سعادت مند لوگ آقا ﷺ کی ناموس و حرمت پر قربان ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

مطلع ایمان و یقین پر جن عشاقِ محمد ﷺ کے اسمائے گرامی نجوم تاب دار کی صورت میں چمک رہے ہیں، ان میں سے ایک درخشندہ نام ”غازی علم الدین شہیدؒ“ کا ہے۔ جنھوں نے راہِ عشق و وفا میں پامردی سے چلتے ہوئے اپنی زندگی ناموسِ رسول ﷺ پر قربان کر دی۔ انھوں نے اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی گستاخی کا ارتکاب کرنے والے ملعون راج پال کو واصلِ جہنم کر کے داستانِ محبت و عقیدت کو لہو رنگ کر دیا اور جیل کی کوٹھری سے پھانسی کے تختے تک ہر قسم کی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے جرمِ عشق کا برملا اعلان کر کے ثابت کر دیا کہ:

غلامانِ محمد ﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے
یہ سر کٹ جائے یا رہ جائے کچھ پروا نہیں کرتے

غازی علم الدین شہیدؒ کے والد ”طالع مند“ ایک غریب آدمی تھے، جن کا پیشہ نجاری تھا۔ ان کے خاندان کے کچھ لوگ محلہ سرفروشاں لاہور اور کچھ خرادی محلہ لاہور میں آباد تھے۔ طالع مند کی پہلی بیوی کا انتقال ہو جانے پر ان کے سُسر نے کچھ سالوں بعد طالع مند کی شادی اپنی چھوٹی بیٹی ”چراغ بی بی“ سے کر دی۔ 1906ء میں طالع مند کے ہاں ان کے بڑے بیٹے محمد دین کی پیدائش ہوئی۔ بعد ازاں عاشقِ رسول ﷺ ”غازی علم الدین شہیدؒ“ 4 دسمبر 1907ء بروز جمعرات (لیکن مزار پر 3 دسمبر 1908ء درج ہے) بمطابق 8 ذی قعد 1326ھ کوچہ چابک سواراں محلہ سرفروشاں، سریاں والا بازار جسے ”کڑہ چیتے والا“ بھی کہتے ہیں، اندرون رنگ محل لاہور میں پیدا ہوئے۔ 1929ء سے پہلے تو یہ بازار بھیڑ بکریوں کی سرفروشی کی وجہ سے مشہور تھا مگر اب علم الدین کی سرفروشی نے اسے انسانوں کی طرف منسوب کر دیا۔ یہ بازار شرقاً غرباً ہے۔ اور اگر آپ دہلی دروازہ کی طرف سے سیدھے چلے آئیں تو

صفحہ 22

غازی علم الدین شہیدؒ

مسجد وزیر خان جو شہنشاہ شاہ جہاں کے عہد میں 1044ھ میں بنی تھی، کی قبلہ کی سمت سیدھے چلے جائیے۔ کشمیری بازار کے شروع میں بائیں طرف ایک بازار ملے گا جسے بازار خرادیاں کہتے ہیں، اس میں چلتے چلتے سریاں والا بازار آئے گا۔

طالع مند ایک مشہور ترکھان تھا جس کا سکونتی مکان اسی بازار کے مغربی کونے میں واقع ہے۔ آپ کا شجرۂ نسب علم الدین ولد طالع مند ولد عبدالرحیم ولد اللہ جوایا ولد فضل دین ولد عبداللہ ولد محمد عیسیٰ ولد بابا لہنا سے جا کر ملتا ہے۔ بابا لہنا سکھ تھے اور ان کا پورا نام لہنا سنگھ تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کا نام ”برخوردار“ رکھا گیا۔ اور ان کا مزار آج بھی موضع پھڈانہ ضلع لاہور میں موجود ہے۔ طالع مند (والد علم دین) کے ہاں ایک بچی نے بھی جنم لیا۔ دو بھائیوں کی اکلوتی بہن کو بھی اپنے بھائیوں جیسا پیار ملا۔

غازی علم الدین شہیدؒ کوئی عالم دین نہ تھے اور نہ کوئی مشہور یا غیر معمولی صوفی و متقی تھے، وہ کسی گروہ یا جماعت کے قائد نہ تھے مگر ان کی شہادت اور حرمت رسول پاک ﷺ پر ان کی زندگی کی گواہی نے انھیں وہ مقام عطا کیا جو ہزاروں متقی، ہزاروں سلاطین اور ہزاروں علماء کو بھی نصیب نہ ہوا۔

غازی علم الدین شہیدؒ کے بڑے بھائی محمد دین نے کچھ تعلیم حاصل کی تھی۔ آپؒ نے بھی کوئی تعلیمی نصاب مکمل تو نہ کیا مگر وہ اتنا ضرور پڑھ چکے تھے کہ تعلیم یافتہ لوگوں کی سوسائٹی میں بیٹھنا اور سیاسی و دینی مسائل پر گفتگو کرنا اور سننا پسند کرتے تھے۔ انھوں نے ریلوے ورکشاپ لاہور میں ملازمت اختیار کر لی تھی جہاں وہ اسپیشل ٹمبر ویگنز کا فرنیچر بنایا کرتے تھے۔ یہ کام انھوں نے اپنے والد سے سیکھا۔

غازی علم الدین شہیدؒ اپنی ماں کی گود میں ابھی ایک سالہ دودھ پیتے بچے ہی تھے کہ ایک روز گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ انھوں نے آپؒ کو گود میں لیے ہوئے جب دروازہ کھولا تو باہر ایک فقیر کو کھڑے دیکھا، انھوں نے اُسے کچھ خیرات دے کر جب دروازہ بند کرنا چاہا تو فقیر کی نظر ماں کی گود میں پڑے بچے پر پڑی۔ بچے کو دیکھتے ہی فقیر نے اس کی ماں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ”یہ بچہ بہت ہی خوش نصیب ہوگا۔ اور بڑا ہو کر اپنے والدین کا نام

صفحہ 23

غازی علم الدین شہید

روشن کرے گا۔" فقیر نے آپ کی والدہ سے یہ بھی کہا کہ "اس خوش نصیب بچے کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص نعمت سے نوازا ہے۔ اس لیے اس کا خیال رکھا جائے اور اسے ہمیشہ سبز رنگ کے کپڑے ہی پہنائے جائیں۔" یہ کہہ کر فقیر تو دعائیں دیتا ہوا رخصت ہو گیا مگر اس کے بعد آپ کی والدہ کے دل پر فقیر کی یہ بات ایسی نقش ہو گئی کہ جب بھی بازار سے بچے کے کپڑے خریدتیں تو وہ ہمیشہ سبز رنگ کے ہوتے۔ چنانچہ آپ کے گھر والوں نے آپ کو سن شعور کو پہنچنے تک سبز رنگ کے کپڑے ہی پہنائے۔

غازی علم الدین شہید خدوخال کے لحاظ سے نہایت خوبرو اور شکیل تھے۔ سادگی اور صاف گوئی ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ جسم سڈول، رنگ سرخ و سپید، پیشانی کشادہ، بال سیاہ، چمکدار اور گھنگریالے تھے۔ آپ کی آنکھیں خوبصورت اور پھر ان میں اکثر سرخ ڈورے نمایاں تھے۔ ہونٹ باریک، گردن پر وقار اور چہرے کی ساخت کتابی تھی۔ لہجے میں ملائمت اور بلا کی مٹھاس تھی۔ گویا آپ نقاش فطرت کا ایک حسین شاہکار تھے۔

غازی علم الدین شہید اور ان کے بڑے بھائی محمد دین ذہنی طور پر ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ مگر دونوں میں اس قدر پیار تھا کہ دیکھنے والے حیران اور ششدر رہ جاتے۔ یہ قدرت کا ایک عظیم کرشمہ بھی تھا جسے دیکھ کر وہ اکثر رشک کرتے تھے۔ آپ نے کبھی اندرون شہر رہتے ہوئے بھی لاہوری ثقافتی کھیلوں میں حصہ نہ لیا۔ آپ نے کبھی کسی ہندو کی دکان سے کوئی چیز نہ خریدی۔

غازی علم الدین شہید جب ذرا بڑے ہوئے تو آپ کو محلے کی مسجد میں پڑھنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد انھیں اندرون اکبری دروازہ بابا کالو کے پاس پڑھنے کے لیے بٹھا دیا گیا مگر آپ وہاں نہ پڑھ سکے۔ اس کے برعکس آپ کے بڑے بھائی محمد دین پڑھتے رہے۔ غازی علم الدین شہید جب سلسلہ تعلیم جاری نہ رکھ سکے تو آپ کے والد نے آپ کو اپنے ساتھ کام پر لے جانا شروع کر دیا۔ غازی علم الدین شہید کی شہادت سے پہلے کی زندگی کوئی مصروف و معروف زندگی نہ تھی۔ بہرحال انھوں نے بھی نجاری کا پیشہ اپنے والد بزرگوار ہی سے سیکھا اور فرنیچر وغیرہ بنانے کا کام اپنے بھائی محمد دین سے سیکھا۔ آپ کی مختلف جگہوں

صفحہ 24

غازی علم الدین شہیدؒ

سے ملازمت چھوڑنے کی وجہ بھی یہی ہوتی تھی کہ آپؒ اکثر دینی معاملات میں مذہب اسلام کی تائید و حمایت میں الجھ پڑتے۔

آپؒ نے اپنے والد اور بھائی کے ساتھ کام کر کے مہارت حاصل کر لی تھی۔ آپؒ نے مختلف پرائیویٹ ورکشاپوں میں کام بھی کیا۔ لہٰذا اپنے والد صاحب کے ساتھ یکم جنوری 28ء کو کوہاٹ چلے گئے۔ جہاں بنوں بازار میں فرنیچر کا کام کرتے رہے۔ ایک برس کوہاٹ میں کام کرنے کے بعد اپنے والد صاحب ہی کے ساتھ مارچ 1929ء میں لاہور آئے۔ ان دنوں وہ یہیں قیام کر رہے تھے کہ ان کی سگائی رشتے کے ایک ماموں کی بیٹی سے کر دی گئی۔ وہ فرنیچر بنانے کے سلسلے میں اتنی سمجھ بوجھ حاصل کر چکے تھے کہ انھوں نے لاہور کی نسبت کوہاٹ میں کام کاج چلانے کو زیادہ اچھا ذریعہ آمدن قرار دیا اور والد صاحب کے ساتھ واپس کوہاٹ جانے کی تیاری کرنے لگے۔ مگر قدرت نے ان سے کوئی اور ہی کام کروانے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔

یاد رہے کہ مشترکہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے حصول رزق حلال ایک مسئلہ تھا اور پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد بھی بہت کم ہوا کرتی تھی۔ میاں طالع مند (والد غازی علم الدینؒ) نے اوائل عمر ہی میں کسب معاش کی خاطر نجاری کا پیشہ اختیار کیا تھا اور اتنے ماہر اور چابک دستکار بن گئے تھے کہ نظام دکن کی انتظامیہ نے دہلی میں عثمان علی خان کی رہائش کے لیے جو بنگلہ بنوایا، اس کا تمام کام انہی کے ہاتھوں سے ہوا اور محنت، صفائی، ایمانداری اور لگن سے کام کرنے کے نتیجے میں انھیں ”سند حسن کارکردگی“ دی گئی۔

غازی علم الدین شہیدؒ اپنے حال میں مست رہتے تھے۔ انھیں کچھ خبر نہ تھی کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ اس وقت ہندوستان میں انگریزوں کی حکمرانی تھی۔ ہندو اپنی چالاکی اور ہوشیاری کی وجہ سے حکمرانوں کے قریب تھے۔ اس لیے انھوں نے مسلمانوں کے پیغمبروں کی شان کے خلاف زہر اگلنے کے لیے شدھی اور سنگٹھن تحریکیں شروع کر رکھی تھیں۔ ان تحریکوں میں لاہور کے 2 پروفیسر ”پنڈت چموپتی“ اور ”پنڈت چمتامنی“ پیش پیش تھے۔ وہ DAV کالج میں پروفیسر تھے اور انھوں نے حضور ﷺ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں جھوٹ پر مبنی بہت دل آزار کتاب لکھی تھی۔ ان تحریکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانوں نے بھی مذہبی

صفحہ 25

غازی علم الدین شہید

تنظیمیں بنا کر تحریک شروع کر رکھی تھی۔

تحریک خلافت کے دوران ہندو مسلم اتحاد کے بے نظیر مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔ لیکن ہندو مسلم اتحاد کا یہ مصنوعی باب جلد ہی اپنے انجام کو پہنچا اور ہندوؤں نے تحریک کے ختم ہوتے ہی اس اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا۔ اس سلسلے میں ہندو مہا سبھا اور آریہ سماجیوں نے مسلمانوں کے مذہب، تمدن اور سیاسی تاریخ کو مسخ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آریہ سماجیوں کی سرگرمیوں کے مرکز ویسے تو تمام ہندوستان میں موجود تھے۔ لیکن لاہور ان کی سرگرمیوں کا خاص مرکز تھا۔

انہی دنوں تحریک شدھی کے ایک اور کارکن ”راج پال“ نے 1923ء میں ہسپتال روڈ لاہور سے ایک انتہائی شرمناک اور دل آزار کتاب شائع کی جس میں محبوبِ خدا حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ اقدس پر رکیک اور ناروا حملے کیے۔ میں اس رسوائے زمانہ کتاب کا نام لکھنے سے قاصر ہوں کیونکہ اس کے نام سے قلم لرزتا ہے، تصور دم توڑتا ہے اور تخیل فریاد کناں ہے۔ راج پال ایک کتب فروش تھا جس کی دکان پر اکثر آریہ سماج کی مذہبی کتابیں بکتی تھیں۔ راج پال دیال سنگھ کالج لاہور میں اعزازی پروفیسر بھی تھا۔

اس کتاب پر مصنف کا نام نہیں لکھا گیا تھا مگر یہ بات عام طور پر سمجھی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا مصنف اخبار ”پرتاپ“ کا ایڈیٹر ”مہاشہ کرشن“ ہے۔ اس کتاب کی اشاعت اور دیگر ہندو مصنفین کی طرف سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی مہم چلائی گئی جس کی سرپرستی ہندوؤں کا ایک مخصوص فرقہ ”آریہ سماج“ کر رہا تھا۔ انھوں نے اتنی شدت اور تواتر کے ساتھ نبی رحمت ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کو نشانہ بنایا کہ مسلمانوں کے جذبات جو برسوں سے انگریزوں اور ہندوؤں کی طرف سے تکالیف کے باوجود ٹھنڈے تھے، ان میں جیسے آگ لگ گئی ہو۔ حکومت وقت، ہندو میڈیا اور ہندو عوام پورے تن من دھن سے اس مسئلے کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد پورے ہندوستان میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں نے پورے ہندوستان میں جلسے اور جلوس پوری شدت کے ساتھ شروع کیے اور پُر زور احتجاج کیا۔

صفحہ 26

غازی علم الدین شہید

مسلمانوں کا متفقہ مطالبہ یہ تھا کہ کتاب کو فی الفور ضبط کیا جائے اور راج پال کو سزائے موت دی جائے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو مسلمانوں کو ناموس رسالت ﷺ پر قربان ہونے کا سبق اچھی طرح یاد ہے اور ان کا اس حکم پر بھی ایمان کامل ہے کہ حضور خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ ”اس وقت تک کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ ﷺ سے دنیا کی ہر شے سے زیادہ محبت نہیں کرتا۔“ یعنی! عشق رسول پاک ﷺ اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ ہی سچے مسلمان کی معراج ہے اور یہی مومن کی پہچان ہے اور حضور پاک ﷺ پر قربان ہونا ایمان کی پختگی اور کامل ہونے کی نشانی ہے۔

غازی علم الدین شہیدؒ اپنے حال میں مست تھے۔ وہ اس وقت بھی ملکی حالات سے بے خبر تھے۔ انھیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ گندی ذہنیت کے شیطان صفت راجپال نامی بد بخت نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی شان کے خلاف ایک دل آزار کتاب لکھی ہے جس میں نہایت سوقیانہ جملوں کا استعمال کیا گیا ہے اور اس کتاب کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

ان حالات میں جب مسلمانوں نے شدید غیظ و غضب کا اظہار کیا اور راجپال کی شیطنت کے خلاف پر زور احتجاج کیا تو 24 مئی 1924ء کو راجپال کے خلاف زیر دفعہ 153 تعزیرات ہند مقدمہ درج کر لیا گیا۔ جسے ماتحت عدالت نے 18 جنوری 1927ء کو ڈیڑھ سال قید بامشقت اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا دی جو مسلمانوں کے نزدیک ایسے بڑے جرم اور گستاخی کے لیے سزا نہیں مذاق تھا۔

راجپال نے سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی جس کی سماعت کرنل ”ایف سی تکوس“ نے کی۔ 8 فروری 1927ء کو ماتحت عدالت کے فیصلے میں تخفیف کر دی گئی اور سزا صرف 6 ماہ کر دی گئی۔ پھر راجپال نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جس کی سماعت کرنل ”دلیپ سنگھ مسیح“ کی عدالت میں ہوئی۔ آخرکار ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر شادی لال کی ذاتی سفارش پر ملعون راجپال کو 4 مئی 1927ء کو باعزت (بےعزت) رہا کر دیا گیا اور فیصلہ میں لکھا: ”کتاب کی عبارت خواہ کیسی ہی ناخوشگوار کیوں نہ ہو، بہرحال کسی قانون کی ورزی نہیں کرتی۔“ خلاف

صفحہ 27

غازی علم الدین شہیدؒ

ورزی نہیں کرتی۔“

ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر مسلم امہ میں غم و غصہ کی لہر دوڑنا فطری امر تھا۔ اس وقت مسلمانوں کا صرف ایک اخبار تھا جس کا نام تھا ”مسلم آؤٹ لک“ اس نے جب نام نہاد اور تاریخ عدل کے بدترین فیصلے پر صدائے حق بلند کرتے ہوئے نکتہ چینی کی تو حکومتی طوطوں نے اخبار مذکور کے مالک نور الحق اور مدیر سعید دلاور شاہ کو دو دو ماہ کی قید اور ایک ایک ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا دے کر اپنی عاقبت کو مزید تباہ کر لیا۔ ”اخبار مسلم آؤٹ لک“ نے لکھا تھا:

”اس سے بڑھ کر اور کیا دل آزاری ہو سکتی ہے کہ دنیا کا ہر مسلمان کبیدہ خاطر ہے بلکہ ناموس حبیب کبریا ﷺ پر اپنے خون کا آخری قطرہ تک نثار کرنے کے لیے تیار ہے اور ہر مسلمان اپنی زندگی کو امام المرسلین ﷺ پر قربان کرنا فخر سمجھتا ہے۔ قانون میں اس امر کی واضح اور کافی گنجائش موجود ہے کہ وہ راج پال جیسے دریدہ دہن لیچڑ کا محاسبہ کرے۔ مسلمان ایک زندہ اور فعال قوم ہے۔ اگر عدالت عالیہ نے اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی نہ کی تو کوئی عاشق رسول ﷺ اس منکر کا پیٹ چاک کر دے گا۔“

ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے مسلمانوں کے جذبات کے الاؤ پر تیل کا کام کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر میں مسلمان ”راج پال“ اور اس کی کتاب کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ احتجاجی جلسے اور جلوسوں کا زبردست اور زور دار سلسلہ شروع ہو گیا۔

اس دوران میں ایک شخص نے راجپال پر حملہ کیا اور اسے قتل کرنے کی کوشش کی مگر وہ بدبخت بچ نکلا۔ انگریز حکومت نے راج پال کو نہ صرف سزا سے نجات دلائی بلکہ راج پال کی حفاظت کے لیے سرکاری گارڈز بھی فراہم کیے اور یوں یہ بدبخت ہر وقت سرکاری حفاظت میں رہنے لگا۔ اس سخت ترین دل آزاری، ظلم، جانبداری اور ہٹ دھرمی کے بعد مسلمانوں نے ناموس رسول ﷺ پر خود قربان ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ ہندوستان کے مختلف کونوں سے مسلمان لاہور آئے، کئی گرفتار ہوئے اور کچھ نے سخت ترین سزاؤں کا سامنا کیا۔

لیکن !!!!

اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم سعادت لاہور کے نوجوان علم الدین کے مقدر میں لکھ رکھی

صفحہ 28

غازی علم الدین شہیدؒ

تھی۔ اس سے پہلے ”غازی عبدالرحمٰن“ انہی دنوں راجپال کو واصل جہنم کرنے کے لیے کوہاٹ سے لاہور آیا تھا اور لوگوں سے پتہ پوچھ کر اس خبیث کی دکان پر پہنچ گیا۔ لیکن اس وقت بدقسمتی سے راجپال کی بجائے اس کا دوست ”جہتندر“ دکان پر بیٹھا ہوا تھا۔ جسے غازی عبدالرحمٰن نے راجپال سمجھا اور خنجر کے ایک ہی وار سے واصل جہنم کر دیا۔ مسلمانوں کے ردّعمل اور بعض مصلحتوں کے تحت انگریز حکومت نے موت کی بجائے غازی عبدالرحمٰن کو چودہ سال قید کی سزا سنائی، تاہم راجپال کا ناپاک وجود دھرتی پر بوجھ بنا ہوا تھا۔

مسلمانوں کو صبر و قرار کیسے آسکتا تھا!!! لہٰذا لاہور کے ایک دودھ فروش ”غازی خدا بخش“ نے اس نابکار کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ بچ نکلا اور خدا بخش کو سات سال کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا۔ مسلمانوں کے اس ردّعمل نے راجپال کو مزید خوفزدہ کر دیا اور اس کی سکیورٹی اور سخت ہو گئی۔

علم دین کے بڑے بھائی محمد دین منعقدہ جلسوں میں ضرور جاتے اور خلافت موومنٹ کی کارکردگی کو بھی سراہا کرتے تھے۔ علم دین جو ان حالات سے بے خبر تھے، حسب معمول 31 مارچ 1929ء کی شام کام سے فارغ ہونے کے بعد غروب آفتاب کے وقت بڑے بھائی کے ہمراہ واپس جا رہے تھے تو دلی دروازہ میں لوگوں کا ایک بڑا ہجوم دیکھا۔ یہ ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ تھا جو درگاہ حضرت شاہ محمد غوث، بالمقابل احاطہ شیخ عبدالرحیم میں منعقد ہوا۔ اس میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی تقریر نے برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں کو لرزا دیا اور ان کے ضمیر کو آواز دی۔ آپ نے فرمایا:

”آج آپ لوگ جناب فخر رسل محمد عربی ﷺ کے عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ آج جنس انسان کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرہ میں ہے۔ آج اس جلیل المرتبت کا ناموس معرض خطر میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔“ اس جلسہ میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید دہلوی بھی موجود تھے۔ شاہ جی نے ان سے مخاطب ہو کر کہا۔

”آج مفتی کفایت اللہ اور احمد سعید کے دروازے پر اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ اور

صفحہ 29

غازی علم الدین شہید

ام المومنین خدیجۃ الکبریٰؓ کھڑی آواز دے رہی ہیں۔ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں۔ ارے دیکھو! کہیں ام المومنین عائشہ صدیقہؓ دروازہ پر تو کھڑی نہیں؟“

”آج اگر کوئی روحانیت کی آنکھ سے دیکھ سکنے والا ہو تو دیکھ سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات، ہم مسلمانوں کی مائیں اہل اسلام سے فریاد کر رہی ہیں کہ تمہاری سر زمین میں ہماری بے حرمتی کی جا رہی ہے، ہمیں کھلے بندوں گالیاں دی جا رہی ہیں۔ اگر کچھ پاس رسالت ہے تو ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کرو۔“

یہ کلمات اہلِ ایمان کے دلوں کی دھڑکنوں میں ڈھل گئے۔ مسلمان علماء و مشائخ بالخصوص حضرت پیر سید جماعت علی شاہؒ، مولانا ظفر علی خانؒ، علامہ اقبالؒ اور دوسرے مسلم زعماء نے مسلمانوں کے اندر عشق رسول ﷺ کی لاثانی محبت کو دوچند کر دیا اور برصغیر کے کونے کونے سے گستاخان بارگاہِ نبوت کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ ہونے لگا۔

شاہ جیؒ کی تقریر سننے کے بعد غازی علم الدین شہیدؒ کی کیفیت عجیب سی ہو گئی۔ گھر پہنچنے تک یہی خیالات ان کے ذہن میں گھومتے رہے۔ گھر پہنچے تو آپؒ بہت تھک چکے تھے۔ اس لیے جلد ہی سو گئے۔ اس روز ان کو خواب میں ایک بزرگ ملے اور کہا:

”علم الدین تم ابھی تک سو رہے ہو! تمھارے نبی ﷺ کی شان کے خلاف اسلام دشمن کھلم کھلا کارروائیاں کر رہے ہیں.... دیر نہ کرو یہ کام تم نے کرنا ہے.... اٹھو اور جلدی کرو....“

علم الدین ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے اور آپؒ کا تمام جسم پسینے میں شرابور تھا۔ آپؒ پریشانی کی حالت میں منہ اندھیرے ہی گھر سے نکلے اور اپنے دوست شیدے کے گھر جا پہنچے۔ پھر اسے ساتھ لیے بھاٹی چوک کی طرف نکلے۔ وہاں جب شیدے کو یہ خواب سنایا تو وہ پھٹی پھٹی نظروں سے آپؒ کی طرف دیکھنے لگا۔ آپؒ کے دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ ”یہ خواب میں نے بھی دیکھا ہے۔“ آپؒ بولے کہ ”پہلے خواب میں نے دیکھا ہے اس لیے پہلے عمل بھی میرا ہی ہوگا۔ راجپال کی زندگی کا خاتمہ میرے ہاتھوں ہی ہوگا۔“ شیدے نے اعتراض کیا تو علم الدین نے کہا ”ابھی فیصلہ ہو جاتا ہے۔“ اس کے ساتھ ہی وہ اٹھے اور کاغذ کے دو ٹکڑے

صفحہ 30

غازی علم الدین شہید

اٹھا لائے۔ ایک ٹکڑا شیدے کو دیا ایک اپنے پاس رکھا اور شیدے کو اپنے کاغذ کے ٹکڑے پر نشان لگانے کو کہا۔ کچھ دیر بعد دونوں نے نشان لگا کر کاغذ کے ٹکڑے زمین پر پھینک دیے اور اسی میدان میں کھیلتے ہوئے ایک بچے کو بلا کر پرچی اٹھانے کو کہا۔ بچے نے جو پرچی اٹھائی، اس پر علم الدین کا نام تھا۔ یہ جان کر وہ خوشی سے اچھل پڑے۔ ”علم الدین اس طرح نہیں ایک بار پھر پرچی پھینکو۔“ شیدے نے کہا۔ علم الدین نے ایک بار پھر پرچیاں پھینکیں تو پھر آپ کا نام نکل آیا۔ اس وقت شیدے کا چہرہ بالکل مرجھایا ہوا تھا۔ ”علم الدین دو دفعہ تمہارا نام نکلا ہے صرف ایک بار اور......“ ”نہیں شیدے اب نہیں...... فیصلہ ہو گیا ہے۔“ علم الدین نے کہا تو شیدے نے اس کی منت سماجت کرتے ہوئے کہا۔ ”علم الدین...... صرف ایک بار پھر پرچی پھینکو...... اب کی بار اگر تمہارا نام نکلا تو تمہاری قسمت۔“ ”ٹھیک ہے۔“ اتنا کہتے ہوئے علم الدین نے دونوں پرچیاں دوبارہ پھینکیں۔ جب بچے نے دوبارہ پرچی اٹھائی تو جو نام نکلا وہ پھر علم الدین ہی کا تھا۔ علم الدین کا چہرہ اس جیت کی خوشی سے سرخ ہو گیا تھا اور شیدہ افسردہ حالت میں آپ کی قسمت پر رشک کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں وہاں سے چل دیے۔

آپؒ نے 5 اپریل کو دوبارہ اپنے بھائی سے اسی موضوع پر گفتگو کی۔ بھائی نے بتایا کہ ”سوامی دیانند“ کا شاگرد ”مہاشہ کرشن“ ہے جو روزنامہ ”پرتاب“ کا مدیر ہے۔ اس نے یہ کتاب لکھی جس میں رسول پاک ﷺ پر فحش الزامات تراشے گئے مگر ڈرپوک اتنا ہے کہ مسلمانوں کے غم و غصہ سے بچنے کے لیے ”پنڈت چموپتی“ کا فرضی نام بطور مصنف لکھ دیا۔ مگر جس شخص نے یہ کتاب چھاپی ہے اس نے اپنا مکمل پتہ اور نام کتاب پر درج کیا ہے۔ غازی علم الدین شہیدؒ نے اپنے بھائی سے دوبارہ اس دکان کا راستہ معلوم کیا جہاں راجپال بیٹھتا تھا۔ مگر آپؒ کے گھر والے آپؒ کی خاموشی سے کچھ نہ سمجھ سکے۔ آپؒ نے اپنے بھائی سے یہ بھی پوچھا کہ ”اگر میں راجپال موذی کو واصل جہنم کر دوں تو کیا ہو گا؟“ آپ کے بھائی نے جواب دیا: ”شافع محشر حضرت محمد ﷺ آپؒ سے راضی ہوں گے اور آپؒ شہید ہو کر جنت الفردوس میں جائیں گے۔“

چنانچہ 6 اپریل 1929ء کو غازی علم الدین شہیدؒ نے صبح صاف ستھرا لباس زیب تن

صفحہ 31

غازی علم الدین شہیدؒ

کیا۔ خوشبو لگائی اور سر پر گلابی رنگ کا رومال رکھا۔ اُس دن آپ نے اپنی والدہ سے اپنی پسند کا کھانا بنوایا۔ بھابھی کے ہاتھ کے بنے ہوئے چاول کھائے۔ اور والدہ صاحبہ سے 4 آنے وصول کیے۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ صرف 1 آنہ وصول کرتے تھے۔

4 آنے وصول کر کے خوشی خوشی گھر سے نکلے اور لنڈا بازار جا کر لوہا بازار سے 13 انچ لمبی چھری خریدی۔ یاد رہے کہ لوہا بازار اس زمانے میں ”آتما کباڑیے“ کی دکان کے نام سے مشہور تھا۔ آپؒ نے چھری کو ڈب میں رکھا۔ نشۂ شہادت میں سرمست ہو کر راج پال کی دکان کی طرف چل دیے۔ دل میں عقیدت کے گلاب کھل رہے تھے۔ غازی علم الدین شہیدؒ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کی پاسداری کا جذبۂ عظیم اپنے نامۂ اعمال میں سجائے ملعون راج پال کی دکان پر پہنچے۔ انارکلی میں ہسپتال روڈ پر عشرت پبلشنگ ہاؤس کے سامنے ہی راج پال کا دفتر تھا جہاں وہ بیٹھا کرتا تھا۔ راج پال کچھ دیر پہلے مذکورہ بالا کتاب چھاپنے کے سلسلے میں مقدمہ سے بری ہوا تھا۔ اس وقت دفعہ 295 کی تعزیراتِ ہند میں شامل نہ تھی۔ صرف فرقہ ورانہ فسادات پھیلانے کی دفعہ 295 قانون میں شامل تھی۔

ابھی آپؒ وہاں پہنچے ہی تھے کہ راج پال بھی اپنی کار میں وہاں آ پہنچا۔ راجپال کو دیکھتے ہی علم الدین کی آنکھوں میں خون اتر آیا، اور پھر ان کی قوتِ سماعت سے وہی الفاظ ٹکرائے:

”علم الدین دیر نہ کرو۔ یہ کام تم کو کرنا ہے۔ دیر نہ کرو اور جلدی اٹھو!!!“

راجپال اس وقت ”ہردوار“ سے واپس آ رہا تھا۔ وہ دفتر میں جا کر اپنی کرسی پر بیٹھا اور پولیس کو اپنی آمد کی اطلاع دینے کے لیے فون کرنے کی سوچ رہا تھا کہ اتنے میں علم الدین دفتر میں داخل ہوئے۔ اس وقت راج پال کے دو ملازم بھی وہاں موجود تھے۔ ”کدار ناتھ“ پچھلے کمرے میں کتابیں رکھ رہا تھا جبکہ ”بھگت رام“ راجپال کے پاس ہی کھڑا تھا۔

راجپال نے درمیانے قد کے گندمی رنگ والے جوان کو دفتر میں آتے دیکھا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ موت اس کے اتنا قریب آ چکی ہے۔ علم الدین نے ابھی راجپال کو صحیح طرح پہچانا نہیں تھا۔ چنانچہ آپؒ نے پوچھا: ”راجپال کون ہے؟“ راجپال سہم سا گیا اور کہا،

صفحہ 32

غازی علم الدین شہیدؒ

”میں ہی راجپال ہوں۔ کیا کوئی کام ہے؟“ آپ نے بجلی کی تیزی سے چھری نکالی اور اس کے سینے میں گھونپتے ہوئے کہا: ”بس یہی کام تھا۔“ یوں آپؒ نے ملعون راجپال کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور اس بدبخت کے منہ سے صرف ”ہائے“ ہی نکل سکا۔

راجپال کے سینے سے خون کے فوارے پھوٹ رہے تھے۔ علم الدینؒ کو چھری پھینکتے دیکھ کر کدارناتھ نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں اس کی طرف اچھال دیں۔ علم الدینؒ الٹے قدموں باہر کی طرف دوڑے۔ وہاں سے فارغ ہو کر سیدھے ودیاناتھ کے ٹال پر پہنچے۔ وہاں کارپوریشن کا نلکا چل رہا تھا جہاں اس وقت بجلی کا کھمبا نصب ہو چکا ہے۔ وہاں پر آپ نے اپنے ہاتھوں کو راج پال کے ناپاک خون سے صاف کیا اور کپڑوں پر لگے ہوئے آلودہ خون کے دھبے صاف کیے۔

اسی دوران میں غازی علم الدین شہیدؒ کو شبہ ہوا کہ وہ بدبخت کہیں زندہ نہ بچ گیا ہو تو آپؒ دوبارہ واپس آئے اور دیکھا تو وہ واقعی واصل جہنم ہو چکا تھا۔ آپؒ نے غصے سے پریس میں پڑی ہوئی ایک مشین راجپال پر دے ماری اس پر ”ستیارام سوداگر چوب“ کے بیٹے ”ودیانند“ نے آپ کو پکڑ لیا جو شور سن کر باہر نکلا تھا۔ اتنے میں اور لوگ بھی آ گئے۔

راجپال کے قتل کی خبر ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ تمام لوگ وہاں اکٹھے ہو چکے تھے۔ علم الدین چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ ”میں نے اپنے پیارے رسول حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا بدلہ لے لیا ہے۔“ پولیس اور تماشائیوں کا بڑا ہجوم دکان کے پاس موجود تھا۔ انسپکٹر جنرل پولیس، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس، خان بہادر عبدالعزیز، مسٹر جکسن، مسٹر پکل ڈپٹی کمشنر اور روشن لال مجسٹریٹ بھی آ پہنچا۔ راجپال کی نعش کو ایک چارپائی پر ڈال کر پوسٹ مارٹم کے لیے ”میو ہسپتال“ بھیج دیا گیا۔ کچھ دیر بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی آ گئی جس میں واضح تھا کہ ملعون راجپال کی موت سینے میں چھرا گھونپنے کی وجہ سے ہی ہوئی ہے اور مقتول کے زخم کی گہرائی 1/2 6 انچ اور چوڑائی پونے 4 انچ ہے۔

نعش کی شناخت ”ڈاکٹر گردھاری لال“ نے کی جو مقتول کو جانتا تھا۔ پوسٹ مارٹم میں یہ بھی واضح تھا کہ راج پال کی انگلیوں، سر، چھاتی اور پٹھوں پر زخم آئے اور کلیجہ مجروح تھا۔

صفحہ 33

غازی علم الدین شہید

کلیجہ کے قریب پسلی ٹوٹی ہوئی تھی۔ راجپال کی چوتھی پسلی کٹ گئی تھی اور بائیں پٹھے پر سخت زخم تھا۔ ڈاکٹر نے تقریباً 1 درجن ضربات کی نشاندہی کی اور رپورٹ میں لکھا کہ موت اس ضرب کی وجہ سے ہوئی ہے جو کلیجہ میں لگی اور ایسی ضرب کسی تیز نوک دار ہتھیار ہی سے لگ سکتی ہے۔

پولیس اور تماشائیوں کا بڑا ہجوم وقتاً فوقتاً وسیع ہوتا جا رہا تھا۔ غازی علم الدین شہیدؒ گرفتار ہو چکے تھے۔ جب آپؒ کو یقین ہو گیا کہ ملعون اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے تو آپؒ کے چہرے پر سرمدی شگفتگی بکھر گئی اور دل میں اطمینان و سکون کا نور پھیل گیا کہ میری محنت رائیگاں نہیں گئی۔ اب کوئی ظالم بارگاہ رسالت ﷺ میں گستاخی کرتے ہوئے راج پال کے عبرتناک انجام کو ضرور مدنظر رکھے گا۔ جب غازی علم الدین شہیدؒ پولیس کی حراست میں تھے تو پھر بھی آپؒ کے روحانی اطمینان اور بشاشت میں ذرا سا فرق بھی رونما نہ ہوا۔ کیونکہ آپؒ کے باطن سے یہی صدا آ رہی تھی:

رشتہ جو نہ ہو قائم محمد ﷺ سے وفا کا
جینا بھی برباد ہے، مرنا بھی اکارت

ادھر راجپال کے قتل اور علم الدین کی گرفتاری کی خبر علم الدین کے گھر پہنچی تو سب حیران ہو گئے۔ ان کے گھر عورتوں کا ہجوم لگ گیا۔ طالع مند کشمیری بازار ہی میں تھے۔ انھیں بھی کسی نے یہ خبر سنا دی۔ وہ اسی وقت گھر بھاگے۔ دروازے کے باہر سینکڑوں لوگ کھڑے تھے۔ وہ ہجوم کو چیرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ اس دوران میں محمد دین بھی گھر پہنچ چکے تھے۔ کچھ دیر بعد پولیس کی پارٹی وہاں آ پہنچی۔ حالات بہت خراب ہو چکے تھے۔ پوری گلی میں پولیس کے جوانوں کے سوا اور کوئی نہ تھا۔

رات گئے تک اخبارات کے ضمیمے فروخت ہوتے رہے۔ ہندو ہسپتال کے باہر جمع ہو گئے جبکہ مسلمان پولیس اسٹیشن کے باہر غازی علم الدین شہید کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔ دونوں طرف نعرہ بازی کا سلسلہ جاری تھا۔ کئی دن تک شہر کی فضا کشیدہ رہی۔

غازی علم الدین شہیدؒ کے والد گرامی طالع مند نے اپنے فرزند ارجمند کے اس کارنامہ پر یوں اظہار مسرت فرمایا:

صفحہ 34

غازی علم الدین شہید

”اگر یہ نیک کام میرا بیٹا نہ کرتا تو مجھے دکھ ہوتا۔“

والدہ ماجدہ کے جذبات یہ تھے:

”اگر میرے 7 لڑکے ہوتے اور وہ اسی طرح تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے قربان ہو جاتے تو میں زیادہ خوش ہوتی۔“

ان حالات میں ہندو جرائد و رسائل نے غازی علم الدین شہیدؒ کے متعلق افسانہ طرازیاں کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ آپؒ کے والد گرامی نے ایک ملاقات میں غازی سے کہا:

”اخبار ”پرتاپ“ میں تمھارے متعلق لکھا ہے کہ تم بہت کمزور ہو گئے ہو اور ہر وقت مغموم و متفکر رہتے ہو۔“ یہ سن کر غازی صاحب ہنسنے لگے اور کہنے لگے:

”یہ لوگوں کے خُبث باطن کی علامت ہے اور وہ اپنی آگ میں خود ہی جل رہے ہیں، مجھے کیا پریشانی ہے۔ ایڈیٹر خود آ کر مجھے دیکھ لے اور اپنے خشک زخموں کو از سر نو ہرا کر لے۔“

غازی علم الدین شہیدؒ کے خلاف پہلی ایف آئی آر انارکلی پولیس اسٹیشن میں ”کیدار ناتھ“ کی طرف سے درج ہوئی۔ اور اس کے مطابق موقع کا گواہ کیدار ناتھ کے علاوہ ”بھگت رام“ بھی تھا۔ جبکہ غازی علم الدین شہید کو قتل کا اعلان کرتے ہوئے ”پرمانند“ اور ”نانک چند“ نے دیکھا تھا۔ آتما رام کباڑیے نے گواہی دی کہ چھری غازی علم الدینؒ نے اس سے خریدی تھی۔ غازی نے علاقہ مجسٹریٹ کو اقبالی بیان دیا۔ پورے شہر میں خوف و ہراس پھیل چکا تھا۔ راجپال کی موت پر جلوس نکالا گیا اور دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ جبکہ دوسری طرف مسلمانوں نے اس مجاہد کو پُر جوش خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اور اس کے خلاف درج شدہ مقدمے کی پیروی کے لیے مسلمان وکلاء پر مشتمل ”غازی علم الدین شہیدؒ ڈیفنس کمیٹی“ بنائی۔ جس میں میاں عزیز مالواڑہ، بیرسٹر ایم سلیم جو کہ قبل از پاکستان پنجاب کے سب سے پہلے واحد ایڈووکیٹ جنرل تھے، مولوی غلام محی الدین خان قصوری، ڈاکٹر تصدق حسین خالد، بیرسٹر خواجہ فیروز الدین احمد، بیرسٹر فرخ حسین، سر شیخ عبدالقادر اور میاں عزیز الدین تھے۔ واضح رہے کہ اس کمیٹی کے سربراہ ”بیرسٹر ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ “ شاعر مشرق تھے۔ مقدمہ

صفحہ 35

غازی علم الدین شہیدؒ

کی سماعت انگریز سیشن جج کی عدالت میں شروع ہوئی۔ غازی علم الدین شہیدؒ اس وقت اقبال جرم کر چکے تھے۔

10 اپریل صبح ساڑھے دس بجے علم الدین کے خلاف زیر دفعہ 302 تعزیرات ہند مسٹر لوئس ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آغاز سماعت ہوا۔ استغاثہ کی طرف سے ایشرو داس کورٹ ڈی ایس پی پیروکار تھا جبکہ علم الدین کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا۔ عدالت نے گواہان استغاثہ کے بیانات قلمبند کیے۔ 12 بج کر 5 منٹ پر مسٹر فرخ حسین بیرسٹر کمرۂ عدالت میں تشریف لائے۔ آپ نے علم الدین کے پاس پہنچ کر اس سے کچھ باتیں کیں اور پھر آپ نے عدالت کو بتاتے ہوئے کہا کہ میں ملزم کی طرف سے وکیل ہوں۔ ازاں بعد خواجہ فیروز الدین بیرسٹر پیش ہوئے۔ ان کی مدد کے لیے ڈاکٹر اے آر خالد تھے۔

غازی علم الدین شہیدؒ کے چہرے پر کوئی پریشانی نہ تھی اور نہ خوف ہی کے آثار تھے۔ وہ ہر سوال کا جواب مسکراتے ہوئے دے رہے تھے۔ عدالت کے باہر لاتعداد مسلمان جمع تھے۔ کمرۂ عدالت شمع رسالت ﷺ کے پروانوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس سے پیشتر غازی علم الدینؒ کے عزیز و اقارب اور مسلمان رہنماؤں نے ان پر بہت زور دیا کہ وہ عدالت میں راج پال کے قتل سے انکار کر دیں تو ہم انھیں بری کرا لیں گے۔ یہ غازی علم الدین شہیدؒ کے عشق کی آزمائش تھی۔ ایک طرف دنیا تھی جو اپنی مصلحت اندیش پالیسی کے نام پر جھوٹ پر اکسا رہی تھی اور دوسری طرف عشق رسول ﷺ تھا جو اپنی روایات کو زندہ رکھنے کا پیغام دے رہا تھا۔ مسلم وکلاء کی آرزو تھی کہ غازی علم الدین اقبال جرم سے انکار کر دیں تو ہم انھیں چھڑا لیں گے۔ اس طرح کفر پر ہماری ہیبت بیٹھ جائے گی کہ ہم نے اس گستاخ کافر کو واصل جہنم بھی کر دیا اور عدالت سے بھی بری ہو گئے۔

مگر! .............

غازی علم الدینؒ ایک لمحہ کے لیے بھی مصلحت کے نام پر عیار عقل کے فریب میں آنے کو تیار نہ تھے۔ عدالت میں جب آپؒ کے بیان کی باری آگئی تو آپؒ نے فرمایا: ”میں نے کسی انسان کو قتل کرنے کا جرم نہیں کیا۔“

صفحہ 36

غازی علم الدین شہید

آپ کے ان الفاظ نے راج پال کے شیطان ہونے کا اعلان کیا کہ راج پال کا انسانیت سے دور کا رشتہ بھی نہیں ہے، اس کا قتل ایک انسان کا نہیں بلکہ ایک شیطان کا قتل تھا۔ اور اس کی موت ایک سگ آوارہ کی موت تھی۔

22 مئی کو سیشن کورٹ میں سماعت کا آخری دن تھا۔ اس روز آپ کے وکلاء نے آپ کے مذکورہ بیان کا سہارا لے کر انھیں بے قصور ثابت کرنے کے لیے دلائل دینے شروع کر دیے۔ فیصلے سے کچھ وقت قبل غازی علم الدین نے چلا چلا کر کہنا شروع کر دیا۔

"شاتم رسول ﷺ کا قاتل میں ہوں۔ میں نے ہی نابکار راج پال کو قتل کیا ہے۔"

اقبال جرم کے بعد باقی کیا رہ گیا تھا۔ سیشن جج نے علم الدین کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا۔ سزائے موت کے اعلان کے بعد آپ ایک لمحہ بھی پریشان نہ ہوئے۔ بلکہ اس وقت آپ نہایت پرسکون تھے اور زیر لب درود شریف پڑھ رہے تھے۔ اب غازی علم الدین کا مقدمہ اسلامیان برصغیر کا مقدمہ بن چکا تھا۔ غازی کے باپ شیخ طالع مند نے مسلمان وکلاء کے ذریعے اس فیصلہ کے خلاف پنجاب ہائی کورٹ لاہور میں اپیل دائر کی۔ بمبئی ہائی کورٹ کے مشہور وکیل بیرسٹر ایم۔ اے جناح (جو اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح نہیں بنے تھے) نے ایک برقی تار برائے اجازت پیروی ارسال کی۔ اجازت مل جانے پر آپ لاہور پہنچے اور فلیٹیز ہوٹل کے کمرہ نمبر 13 میں ٹھہرے۔ آپ نے غازی علم الدین کی وکالت کی اور ان کی معاونت بیرسٹر فرخ حسین لاہور نے کی۔ دیوان رام اسسٹنٹ سرکاری قانونی مشیر اور "جے ایل کپور" منجانب مدعی پیش ہوئے۔ چونکہ ان دنوں سر شادی لال چیف جسٹس پنجاب ہائی کورٹ تھے جو کہ مسلمانوں سے متعصبانہ رویے رکھتے تھے اور ان کی ذاتی سفارش سے ہائی کورٹ کے 2 ججوں مسٹر جسٹس "براڈوے" اور مسٹر جسٹس جان سٹون نے اپیل خارج کر دی۔ مورخہ 7 جولائی 1929ء کو سیشن جج لاہور کا فیصلہ بحال رکھتے ہوئے، ہائی کورٹ نے سزائے موت کی توثیق کر دی۔ ہائی کورٹ نے قائد اعظم کے دلائل قبول نہ کیے۔ بعد ازاں لندن کی پریوی کونسل نے بھی 15 اکتوبر کو اپیل خارج کر دی۔ قائد اعظم نے اپنے دلائل میں کہا تھا:

صفحہ 37

غازی علم الدین شہیدؒ

”مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ کی عظمت کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ملزم کا فعل اشتعال انگیزی کے باعث ہے۔ اس لیے ملزم غازی علم الدینؒ کے خلاف زیر دفعہ 302 قتل عمد کی بجائے زیر دفعہ 308 قتل بوجہ اشتعال کارروائی کرنی چاہیے اور ملزم کو سزائے موت کی بجائے 7 سال کی قید کا مستوجب سمجھنا چاہیے۔“

مگر ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر غازی علم الدینؒ نے شکر کا کلمہ پڑھا۔ اور اپنی قربانی کی قبولیت کی دعا کی۔

یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب عدالت عالیہ نے غازی علم الدین کیس میں سیشن کے فیصلہ کو برقرار رکھا اور غازی علم الدین کی سزائے موت برقرار رکھی تو ہندو اخبارات نے مسٹر محمد علی جناح کے خلاف زبردست زہر اگلنا شروع کر دیا۔ مشہور متعصب ہندو اخبار پرتاپ نے اس مسئلہ پر کئی نوٹ لکھے۔ ”گپ شپ“ اور ”چلنت“ کے نام سے دو کالم چھپتے تھے۔ ان میں قائد اعظمؒ کو رگیدا گیا۔ ایک جگہ لکھا کہ ”مسٹر محمد علی جناح کی قابلیت علم دین کو موت کے منہ سے چھڑا نہ سکی۔“ ایک جگہ لکھا کہ ”مسٹر محمد علی جناح کو ایسا مطلقا کمزور مقدمہ لینا ہی نہیں چاہیے تھا کیونکہ ہندوؤں کو ان کے خلاف ناواجب شکایات پیدا ہو گئی ہیں۔“

قائد اعظم محمد علی جناح نے جس قابلیت سے مقدمہ کی پیروی کی، اس پر روزنامہ الجمعیۃ دہلی نے اپنی اشاعت مورخہ 20 جولائی 1929ء کو ”مسٹر جناح کی باطل شکن تقریر“ کے زیر عنوان انھیں مندرجہ ذیل الفاظ میں خراج تحسین ادا کیا۔

”لاہور ہائی کورٹ سے بھی میاں علم الدین کی اپیل کا فیصلہ صادر ہو گیا اور پھانسی کا جو حکم سیشن عدالت سے ہوا تھا وہی بحال رہا۔ قائد اعظمؒ کی مدلل اور مؤثر تقریر کو پڑھنے کے بعد اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے دلائل کس قدر وزنی تھے اور انھوں نے ماتحت عدالت کی شہادتوں میں جن نقائص کا ذکر کیا تھا، ان سے مقدمہ کس درجہ کمزور ہو گیا تھا مگر ہائی کورٹ کے ججوں نے خدا معلوم کن وجوہ کی بنا پر ان دلائل کو قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ اس وقت ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود نہیں ہے، اس لیے ہم اس پر مفصل تنقید نہیں کریں گے۔ جب تک ہمارے سامنے اصل فیصلہ کے دلائل نہ آ جائیں۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ قائد اعظمؒ کی تقریر کے بعد

صفحہ 38

غازی علم الدین شہیدؒ

پھانسی کی سزا کس طرح بحال رہ سکتی تھی۔“

(الجمعیہ 20 جولائی 1929ء ص 4)

غازی علم الدین کو عدالت کے احکام پر عمل درآمد کرنے کے لیے میانوالی جیل منتقل کرنے کے انتظامات کیے جانے لگے۔ کیونکہ کاتب تقدیر نے غازی علم الدینؒ کی قسمت میں وہاں شہادت کا درجہ پانا لکھا تھا۔ چنانچہ غازی علم الدین کو رات ساڑھے بارہ بجے ریل گاڑی پر میانوالی روانہ کر دیا گیا۔

اس فیصلے کے بعد وہ انتہائی خوش و خرم رہنے لگے۔ 14 اکتوبر 1929ء کو صبح سویرے ان کو میانوالی ڈسٹرکٹ جیل میں منتقل کیا گیا۔ وہاں کافی نامی گرامی لوگ ملاقات اور زیارت کے لیے حاضر ہوتے رہے۔ سجادہ نشین سیال شریف نے بھی ملاقات کی۔ پیر صاحب غازیؒ کے جمال و جلال سے اس قدر متاثر ہوئے کہ کوئی خاص بات تو نہ کر سکے، البتہ سورۂ یوسف پڑھنے لگ گئے۔ پیر صاحب ایک اچھے قاری اور حافظ تھے لیکن سورۂ یوسف کے پڑھنے کا یارا نہ پا سکے اور وفور جذبات سے بار بار رُکنے لگے۔ اس پر غازی علم الدین نے حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ بسم اللہ شریف پڑھ کر ایک دفعہ پھر سے شروع کریں۔ پیر صاحب نے دوبارہ تلاوت کا آغاز کیا لیکن اس دفعہ بھی روانی نہیں تھی۔ اکثر گلو گیر ہو کر رک جاتے اور کسی اور عالم میں پہنچ جاتے۔ غازی علم الدین جو قرآن شریف نہیں پڑھے ہوئے تھے اور سورۂ یوسف پہلے ہرگز نہیں آتی تھی، پیر صاحب کو صحیح لقمے دیتے رہے اور سورۂ یوسف پڑھنے میں پوری پوری مدد کی۔ پیر صاحب ملاقات کر کے باہر آئے تو فرط حیرت و استعجاب سے بول نہیں سکتے تھے۔ صرف اتنا ہی فرمایا ”میں علم الدین کے لبادے میں کوئی اور ہستی پاتا ہوں۔ کون کہتا ہے کہ غازی علم الدین اَن پڑھ اور جاہل ہیں انھیں علم لدنی حاصل ہے اور وہ کائنات کے اسرار و رموز سے واقف ہیں۔“

اس زمانہ میں میانوالی میں کوئی سرکردہ شخصیت نہ تھی۔ جب میانوالی کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ غازی علم الدین شہیدؒ کو پھانسی دینے کے لیے انھیں میانوالی منتقل کر رہے ہیں تو میانوالی کے لوگوں نے پنچایتی طور پر محمد اکبر خان خنکی خیل کو اپنا لیڈر چنا اور ان کی قیادت میں میانوالی کے غیور لوگ جمع ہوئے اور انھوں نے ہر روز احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا۔

صفحہ 39

غازی علم الدین شہید

30 اکتوبر کو علم الدین کے والد، والدہ، بھائی بہنوں اور دوسرے عزیز و اقارب نے ان سے آخری ملاقات کی۔ پروانہ شمع رسالت ﷺ غازی علم الدین شہیدؒ نے وصیت کی کہ ”میرے وصال کے بعد مسلمان بھائی اور میرے عزیز و اقارب، رشتہ دار رونے کی بجائے درود شریف پڑھ کر مجھے اس کا ثواب بخشیں۔ نماز جنازہ پڑھنا تاکہ میانوالی شہر کے مسلمانوں کی دعا سے مستفید ہو سکوں۔ میانوالی کے لوگ پکے مسلمان اور عاشق رسول ﷺ ہیں، ان میں ہر شخص نے میری بھر پور طریقے سے خدمت کی ہے اور احوال پرسی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ خدا ان پر رحمتیں نازل کرے۔“

31 اکتوبر 1929ء کو علم الدین نے حسب معمول تہجد کی نماز پڑھی اور بارگاہ الٰہی میں دعا گو ہی تھے کہ انھیں کسی کے بھاری قدموں کی چاپ سنائی دی اور پھر کمرے کے بند دروازے کے سامنے ہی کسی کے رکنے کی آواز کے کھٹکے پر غازی صاحب نے جو ادھر دیکھا تو پھانسی دینے والے عملہ کو اپنا منتظر پایا۔ اس موقع پر داروغہ جیل کی آنکھوں سے شدت جذبات سے آنسو بہہ نکلے۔...... آپ نے اس کی طرف دیکھا اور کہا تم گواہ رہنا کہ میری آخری آرزو کیا تھی۔

آپؒ نے معمول سے بھی کم وقت میں نماز ادا کی...... اتنی جلدی آخر کس لیے تھی۔

ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ بات ہو کہ کہیں مجسٹریٹ یہ تصور نہ کرے کہ محض زندگی کی آخری گھڑیوں کو طول دینے کے لیے دیر کر رہا ہوں۔ داروغہ جیل نے بند دروازہ کھولا...... آپ اٹھے اور مسکراتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھے۔ دایاں پاؤں کمرے سے باہر رکھتے ہوئے انھوں نے مجسٹریٹ سے کہا۔ چلیے! دیر نہ کریں۔ اس کے ساتھ ہی آپ تیز تیز قدم اٹھاتے تختۂ دار کی جانب چل پڑے۔ ایک کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے آپ نے ہاتھ اٹھا کر ایک قیدی کو خدا حافظ کہا...... جواباً اس نے نعرۂ رسالت ﷺ بلند کیا۔ تب جیل حکام اور مجسٹریٹ کو معلوم ہوا کہ جیل میں سبھی قیدی علم الدین کو مبارک باد دینے کے لیے ساری رات سے جاگ رہے ہیں۔ کلمۂ شہادت کے ورد سے فضا گونج رہی تھی۔ علم الدین لمحہ بھر کے لیے رکے...... مجسٹریٹ اور پولیس کے دستے کی طرف دیکھا، ان کے لب ہلے اور پھر چل دیے۔

تختۂ دار کے قریب متعلقہ حکام کے علاوہ مسلح پولیس کے جوان بھی کھڑے تھے۔

صفحہ 40

غازی علم الدین شہید

سب کی نظریں آپ پر جمی ہوئی تھیں۔ ان کی نظروں نے اس سے پہلے بھی کئی لوگوں کو تختہ دار تک پہنچتے دیکھا تھا لیکن جس شان اور قوت ارادی سے انھوں نے علم الدین کو تختۂ دار کی جانب بڑھتے دیکھا، وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ انھیں کیا معلوم تھا کہ جو ”حیات“ علم الدین کو نصیب ہونے والی تھی، اس کا تو ہر مسلمان آرزو مند رہتا ہے۔

اس وقت آپ کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھی ہوئی تھی اور آپ کو سیاہ رنگ کا لباس پہنا دیا گیا۔ جب مجسٹریٹ نے آپ سے آپ کی آخری خواہش پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ ”میں پھانسی کا پھندہ چوم کر خود اپنے گلے میں ڈالنا چاہتا ہوں۔“

بعد ازاں علم الدین کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے۔ اس دوران میں آپ نے اردگرد کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

”تم گواہ رہو کہ میں نے حرمت رسول ﷺ کے لیے راجپال کو قتل کیا ہے۔ اور گواہ رہنا کہ میں عشق رسول ﷺ میں کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے جان دے رہا ہوں۔“ آپ نے کلمہ شہادت با آواز بلند پڑھا اور پھر رسن دار کو بوسہ دیا۔ علم الدین حقیقت میں ہر اس شے کو مبارک سمجھتے تھے جو ان کو بارگاہ حبیب میں پہنچانے کا ذریعہ بن رہی تھی۔ آپ کے گلے میں رسہ ڈال دیا گیا۔

مجسٹریٹ کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور ایک خفیف اشارے کے ساتھ ہی آپ کے پاؤں کے نیچے سے تختہ کھینچ لیا گیا...... چند لمحوں میں ہی آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی...... اس نے جسم کو تڑپنے پھڑکنے کی بھی زحمت نہ ہونے دی۔ گویا حضرت عزرائیل نے عاشق رسول ﷺ کی جان ان کے جسم سے رسہ لٹکنے سے پہلے ہی قبض کر لی ہو اور پھانسی کی زحمت سے بچا لیا ہو۔ ڈاکٹر نے موت کی تصدیق کی اور آپ کے لاشہ کو پھانسی کے تختہ سے اتارا گیا۔

زینت دار بنانا تو کوئی بات نہیں
نعرۂ حق کی کوئی اور سزا دی جائے

ادھر جیل کے باہر علم الدین کے والد طالع مند کے علاوہ سینکڑوں مسلمان اس

صفحہ 41

غازی علم الدین شہید

انتظار میں بیٹھے تھے کہ حکام لاش ان کے حوالے کریں۔ لیکن اعلیٰ حکام نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ علم الدین کی میت مسلمانوں کے حوالے نہ کی جائے۔ انھیں خطرہ تھا کہ مسلمان جلسے اور جلوس نکالیں گے جن سے حالات خراب ہوں گے۔

غازی علم الدین شہید کی شہادت پر میانوالی میں فرنگی حکومت کے خلاف زبردست احتجاجی جلوس نکلے، ہڑتالیں ہوئیں، شہید کا سوگ منایا گیا، غم وغصہ کا اظہار ہوا۔ شہید کے جنازہ میں قیدیوں کے علاوہ کچھ مقامی مسلمانوں نے بھی شرکت کی۔ حکومت وقت نے میانوالی کے کئی افراد کو گرفتار کیا، ان پر مقدمہ چلایا جس میں ان کو چھ چھ ماہ قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔

غازی علم الدین شہید کی شہادت کے بعد ناعاقبت اندیش گورنر کی ہدایت کے مطابق غازی شہید کو بے یار و مددگار ایک مردہ اور بے بس قوم کا فرد سمجھ کر اس کی پاک میت کو میانوالی میں قیدیوں کے قبرستان میں دفنا دیا گیا۔

جب یہ خبر لاہور اور ملک کے دوسرے حصوں میں پہنچی تو ہر طرف احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ 4 نومبر 1929ء کو مسلمانوں کا ایک وفد جیفری ڈی مونٹ مورنسی گورنر پنجاب سے ملا اور اپنا مطالبہ پیش کیا۔ بالآخر چند شرائط کے تحت مسلمانوں کا مطالبہ منظور کر لیا گیا۔ مسلمانوں کا ایک وفد ”سید مراتب علی شاہ“ اور ”مجسٹریٹ مرزا مہدی حسن“ کی قیادت میں 13 نومبر 1929ء کو میانوالی آیا۔ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر میانوالی راجہ مہدی زمان نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیا۔

میانوالی کے ایک معمار نے بکس تیار کیا اور ضلعی حکام اور معمار نور دین دوسرے روز علی الصباح غازی علم الدین شہید کی نعش بصد احترام میانوالی میں قیدیوں کے قبرستان سے نکال کر ڈپٹی کمشنر میانوالی کے بنگلے پر لائے۔ معمار نور دین نے بتایا کہ دو ہفتے گزر جانے کے بعد بھی نعش میں ذرا برابر تعفن نہیں تھا اور نعش سے مسحور کن خوشبو آ رہی تھی۔ انھوں نے ڈی سی میانوالی کی کوٹھی پر شہید کی نعش کو بکس میں محفوظ کیا۔ یہاں سے نعش کو اسٹیشن میانوالی لایا گیا۔ اور ایک اسپیشل گاڑی کے ذریعے لاہور لایا گیا اور پھر لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں غازی علم الدین شہید کو سپرد خاک کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ غازی علم الدین شہید کے جنازہ میں مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر

صفحہ 42

غازی علم الدین شہید

تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ 4 دفعہ پڑھائی گئی۔ پہلی دفعہ نماز جنازہ مولانا محمد شمس الدین خطیب مسجد وزیر خان نے پڑھائی، دوسری دفعہ نماز جنازہ سید دیدار علی شاہ نے، تیسری دفعہ سید احمد شاہ اور چوتھی دفعہ پیر جماعت علی شاہ صاحبؒ امیر ملت نے پڑھائی۔ اس وقت انھوں نے اپنی داڑھی مبارک پکڑ کر روتے ہوئے اپنے آپ سے کہا کہ ”تو سید زادہ ہے اور تمھارے ہزاروں مرید ہیں لیکن ایک ترکھان کا بیٹا بازی لے گیا۔“ بعدازاں انھوں نے مزار مبارک کی تعمیر کروائی۔

جنازے کا جلوس ساڑھے پانچ میل لمبا تھا۔ میت کو ”مولانا سید دیدار علی شاہ“ اور حضرت علامہ اقبال نے اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا۔ اس موقع پر علامہ اقبال نے غازی علم الدین شہید کا ماتھا چوما اور کہا:

”اسی تے گلاں کردے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا“

لوگوں نے عقیدت سے اتنے پھول نچھاور کیے کہ میت ان میں چھپ گئی۔ میت والے بکس کے لیے چارپائی ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر پرنسپل اسلامیہ کالج انجمن حمایت اسلام لاہور نے عقیدتاً پیش کی تھی جس کے ساتھ لمبے لمبے بانس لگے ہوئے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ کندھا دے سکیں۔ میت اس طریقے سے جنازہ پڑھنے والی جگہ پر لائی گئی۔ لوگوں کا ایک سیلاب تھا جو کندھا دینا چاہتے تھے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے کندھا بھی دیا مگر چند اصحاب نے اپنی پگڑیاں کھول کر بانسوں کے ساتھ باندھ دیں تاکہ لوگ انھیں ہاتھ لگا کر کندھا دینے والی صورت پیدا کرلیں۔

غازی صاحب کا مزار پاک لاہور کے مشہور قبرستان ”میانی صاحب“ نزد چوبرجی چوک لاہور میں آج بھی مرجع خلائق ہے۔ 30 اور 31 اکتوبر کو آپ کی برسی بڑی دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو محبت رسول ﷺ کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین!

کفر لرزاں ہے تیرے نام سے اے علم الدین
حق ہے مسرور تیرے نام سے اے علم الدین
صفحہ 43

غازی علم الدین شہید

رحمان مذنب

غازی علم الدین شہید

1857ء کی تحریک آزادی کی ناکامی نے ہر فرنگی حکمران کو پورے ہند میں سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا۔ اس کے سامنے ہندو اور مسلمان دو قومیں تھیں جو سیاسی نقطہ نظر سے اہمیت رکھتی تھیں۔ سکھ اگرچہ گنتی میں بہت کم تھے لیکن مضبوط تھے۔ ہندوؤں نے انھیں ساتھ ملا لیا۔ انھیں خواتین کے ذریعے شادی کے رشتے میں باندھ لیا۔ ہندوؤں کا یہ پلان تھا کہ سکھوں کا اپنا تشخص قائم نہ ہو چنانچہ یہ پلان اس قدر کامیاب ہوا کہ 1947ء میں جب بٹوارہ ہوا تو ادھر سکھوں نے ہندوؤں کا ساتھ دیا۔ مسلم کشی میں وہ اپنے رہنما تارا سنگھ کی قیادت میں ہندوؤں سے بھی آگے نکل گئے۔ ادھر ہند کی قدیم قوم جسے شودر کہا جاتا تھا، اکثریت میں تھے لیکن آریاؤں کی آمد کے بعد انھیں اس حد تک پامال کیا کہ ہندو معاشرے میں ان کی حیثیت تیسرے درجے کے غلام کی ہو کر رہ گئی۔ ان میں بڑے بڑے سکالر پیدا ہوئے لیکن ہندو قیادت اور عوام نے انھیں سیاسی سطح پر ابھرنے نہ دیا اور انھیں اپنی گرفت میں رکھا۔

فرنگی کے لیے ہندو کوئی پرابلم نہ بنے۔ وہ جلد ہی نئے آقا کی چھتری تلے آ گئے اور ایک ہزار سال کی غلامانہ خو سے انھوں نے جو تجربہ حاصل کیا تھا، وہ کام آیا۔ آقا اور غلام میں سمجھوتہ ہو گیا۔ اس کی بدولت ہندوؤں کو پنپنے کے لیے ہر نوع کی مراعات حاصل ہوئیں۔ انھوں نے تعلیم، تجارت اور صنعتکاری میں خوب ترقی کی۔ سرکاری دفاتر میں ان کی ریل پیل ہوئی۔

صفحہ 44

غازی علم الدین شہید

مسلمان پیچھے رہ گئے۔ فرنگی کے زیر عتاب آئے۔ ہندو غلبہ پا گئے۔ مسلمانوں کو ایک ہزار سال کی حکمرانی کے بعد اس سے محروم ہونا پڑا تو انھیں سخت جھٹکا لگا۔ انھوں نے غلامی کا مزہ نہیں چکھا تھا۔ لہٰذا وہ سرکش ہوئے۔ فرنگی نے ان کی قابل فخر درسگاہیں مٹا دیں۔ Mental Reservation نے مسلمانوں کے پاؤں پکڑ لیے۔ ان کی صنعت گاہیں بری طرح ختم کیں اور انگلستان کی مصنوعات کے لیے جگہ بنائی۔ مسلمان ہنر مندوں کے ہاتھ کاٹے، مسلمانوں کے کلچر کو برباد کیا، فرنگی کلچر کو رواج دیا۔ مسلمانوں کو غم ہوا۔ فرنگی نے جانا کہ مسلمان کسی وقت بھی بغاوت کا علم سنبھال لیں گے لہٰذا ان کا تشخص پامال کیا جائے۔ انھیں مسلسل ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا اور اس حد تک دبایا جائے کہ جینا دشوار ہو جائے۔ ادھر ہندوؤں نے اپنے مہربان آقا کی شہ پر مسلمانوں کو دبایا۔ سرکاری دفاتر کے دروازے ان پر بند کیے۔ تجارت اور صنعت و حرفت کے میدان میں نزدیک نہ پھٹکنے دیا۔ تجارتی منڈیاں اپنے قبضے میں کرلیں۔

مسلمانوں کے لیے زندگی بہت پیچیدہ مسئلہ بن گئی۔ آقا نامہربان، پڑوسی جو ایک ہزار سال سے مل جل کر ہنسی خوشی رہے تھے، اپنے نہ رہے، پرائے بن کر دندانانے لگے۔ مسلمان سخت کشمکش میں مبتلا ہوئے، فرنگی کو آقا کے طور پر کیسے قبول کرتے؟ زندگی کی راہیں تنگ کر دی گئیں۔ انھیں کمترین غلام کا درجہ دیا۔ بھوک اور افلاس کے صحرا میں انھیں چھوڑ دیا۔ خوانچے والے، سبزی فروش، قصائی، لوہار، ترکھان اور کوچوان دو وقت کی دال روٹی چلانے کے لیے صبح سے شام تک جان مارتے۔ آلو چھولے، قلفی کلفہ اور نان کباب بیچتے۔ ہر گلی، ہر بازار میں ہندوؤں کی ہر قسم کی دکانیں تھیں۔ مسلمان انہی سے سودا خریدتے۔ ہندو کسی مسلمان سے کچھ نہ خریدتے۔

ہندو فرنگی گٹھ جوڑ نے مسلمانوں کو کچلنے میں کبھی غفلت نہیں برتی۔ مسلمانوں نے زندہ رہنے کے لیے فوج اور پولیس کی نوکری کی۔ دو عالمگیر جنگوں میں انھوں نے بے دریغ جانیں قربان کیں۔ یونین جیک کو فتح یاب اور فرنگی کو دنیا کی سب سے بڑی سلطنت عطا کی۔ یہ دور مناظروں کی گرما گرمی سے عبارت رہا۔ شردھا نند ایسے متعصب ہندوؤں

صفحہ 45

غازی علم الدین شہید

نے فضا کو خراب کرنے اور نفرت پھیلانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اسلام اور حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف مہم شروع کی گئی۔ 1899ء میں شریمتی آریہ پرتی ندھی سبھا نے رسوائے زمانہ کتاب ستیارتھ پرکاش چھاپی جس میں اسلام دشمنی کا حق ادا کیا۔ یکم نومبر 1927ء کو لاہور کے راجپال پبلشر نے اس کا آخری ایڈیشن چھاپا۔ ”چودھواں باب (دربارہ تحقیق مذہب اسلام)“ میں صفحہ 707 سے ص 781 تک قرآنی سورتوں کے بارے میں اس کتاب کے ناقص العقل مصنف نے جی بھر کے ہرزہ سرائی کی ہے۔ اس اندھے محقق نے اسلام کو سمجھنے کی رتی بھر کوشش نہیں کی۔ اس کا مشن ہی اسلام کے خلاف سوچے سمجھے منصوبے پر عمل کرنا تھا۔ راجپال اس ناپاک منصوبے کی روح و رواں تھا۔ وہ بڑی تن دہی سے مالی نقصان اٹھا کر کام کر رہا تھا۔ اس نے آٹھ سو صفحے کی اس کتاب کے دیباچے میں لکھا ہے:

”اردو ستیارتھ پرکاش کی قیمت پہلے دو روپیہ تھی پھر میں نے ڈیڑھ روپیہ کر دی۔

ساتویں ایڈیشن کی قیمت پرچار کے خیال میں چودہ آنے رکھی گئی۔

اب ستیارتھ پرکاش کے خلاف جو ایجی ٹیشن ہو رہا ہے۔ اس نے اس کی مانگ کو بہت بڑھا دیا ہے۔ اس لیے اس نئے ایڈیشن کی محنت اور لاگت سے بھی کم صرف 10 (دس آنہ) قیمت رکھی جاتی ہے۔ امید ہے کہ آریہ پرش ہزاروں کی تعداد میں اس کی اشاعت کریں گے۔“

یکم نومبر 1927ء راجپال پبلشر

کتاب کی اشاعت سے ہندو مسلم اتحاد کا ماحول یکسر تباہ ہو گیا۔ دلوں میں گرہیں پڑگئیں۔ فرنگی بھول گیا کہ مسلمانوں نے دو عالمگیر جنگوں میں جانی قربانی دی ہے، وہ ہندو کی پیٹھ ٹھونکتا گیا۔ وہ خوش تھا کہ مسلمانوں کا دل دکھایا جا رہا ہے۔ ہند میں وہ نفرت کے جذبے کا سب سے بڑا خریدار تھا۔ یہ جذبہ اس کے لیے توانائی کا سرچشمہ تھا، انمول شے تھا، وہ بھی اس جذبے کی توسیع اور اشاعت کے لیے ملک گیر سطح پر کام کر رہا تھا۔ ہندوؤں کو شہ ملی، وہ اس کے دست و بازو بن گئے۔

راجپال نے ستیارتھ پرکاش کی اشاعت سے نفرت کا جو زہر پھیلایا تھا اس نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔ اس نے ایک نہایت ہی خطرناک اقدام کیا۔ اس مرتبہ اس نے دنیا کی اہم

صفحہ 46

غازی علم الدین شہید ترین، عظیم ترین اور پاکیزہ ترین ہستی ...... محبوبِ خدا محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات کو ہدف بنایا۔ حضور ﷺ کی ذاتِ گرامی کو رسوا کرنے کی غرض سے ”رنگیلا رسول“ کے ناپاک نام سے کتاب چھاپی۔

حضور ﷺ محض مسلمانوں کے پیغمبر ہی نہیں تھے بلکہ انسان دوستی، پیار، محبت، ایثار و احسان، خیر، اخوت مساوات، عدل اور ایسے تمام اوصاف کے علمبردار تھے جو ہر انسان کو معاشرتی آداب کا خوگر بناتے، انھیں رواداری اور کشادہ دلی سے مل جل کر رہنے کی تعلیم و ترغیب دیتے ہیں، آدمی کا احترام بڑھاتے ہیں۔ حضور ﷺ کی تریسٹھ سال کی زندگی تاریخ کی درخشاں ترین مثال ہے۔ حضور ﷺ نے نفرتوں سے پاک معاشرہ آدمی کو دیا۔

آپ ﷺ نے اکھڑ، جاہل، ہٹ دھرم، نفرتوں کی آگ میں جلنے بھننے والے، وحشی انسانوں کو آدابِ حیات سکھائے۔ پھر وہی انسان مسلمان ہونے کے بعد دنیا جہان میں پھیل گئے۔ ایسے اچھے انسان ثابت ہوئے کہ جہاں گئے وہاں بستیوں کی بستیاں ان کے حسنِ اخلاق دیکھ کر حلقہ گیر اسلام ہوئیں۔ محبتوں کے سرچشمے پھوٹ پڑے۔ انسان نے غسلِ صحت لیا۔ دلوں کے اندھیرے چھٹ گئے۔ نور ہی نور ہو گیا چار کھونٹ۔

حضور ﷺ نے مکمل اور مفید ترین ضابطہ حیات دیا۔ یہی نہیں بلکہ ایک ایک شق پر عمل کیا تا کہ آنے والی نسلیں جان لیں کہ اسلام سہولت اور سادگی کا بہترین نمونہ ہے، آسانی سے قابلِ عمل ہے۔ اس میں کوئی پیچیدگی نہیں، سچ کا راستہ ہے، خوشی اور خوشحالی کی ضمانت دیتا ہے، دین اور دنیا دونوں کا حسین امتزاج ہے، رہبانیت (ترکِ دنیا) کو رد کرتا ہے۔

دنیا کا کوئی مسلک، کوئی مذہب اسلام کی برابری نہیں کرتا، اس خوش اسلوبی سے زندگی اور معاشرے کے مسائل و معاملات حل نہیں کرتا جس خوش اسلوبی سے اسلام کرتا ہے۔

یہ کہنے کی بات نہیں۔ قرآن پڑھ لو، ازخود پتہ چل جائے گا۔ اس کا مطالعہ کسی طبقے کے لیے مخصوص نہیں۔ قرآن کی تعلیم جمہور کے لیے ہے، جمہوریت سکھاتی ہے۔ یہ انسان کو طبقوں میں نہیں بانٹتی۔ اس کے آئین میں کوئی شخص مخصوص مراعات کا مستحق نہیں۔ حقوق و فرائض میں سب برابر ہیں۔ دنیوی اعتبار سے بندوں میں فرق ہے، دینی اعتبار سے نہیں۔

صفحہ 47

محبوب خدا محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات کو ہدف بنایا۔ کی غرض سے ”رنگیلا رسول“ کے ناپاک نام سے رہبر ہی نہیں تھے بلکہ انسان دوستی، پیار، محبت، ایثار و تے تمام اوصاف کے علمبردار تھے جو ہر انسان کو داری اور کشادہ دلی سے مل جل کر رہنے کی تعلیم و ہیں۔ حضور ﷺ کی تریسٹھ سال کی زندگی تاریخ کی توں سے پاک معاشرہ آدمی کو دیا۔ شرک وہم، نفرتوں کی آگ میں جلنے بھننے والے، ر وہی انسان مسلمان ہونے کے بعد دنیا جہان میں کہ جہاں گئے وہاں بستیوں کی بستیاں ان کے حسن ا کے سرچشمے پھوٹ پڑے۔ انسان نے غسل صحت اور ہو گیا چار کھونٹ۔

ان ضابطہ حیات دیا۔ یہی نہیں بلکہ ایک ایک شق پر اسلام سہولت اور سادگی کا بہترین نمونہ ہے، آسانی ں، سچ کا راستہ ہے، خوشی اور خوشحالی کی ضمانت دیتا رہبانیت (ترک دنیا) کو رد کرتا ہے۔ اسلام کی برابری نہیں کرتا، اس خوش اسلوبی سے نہیں کرتا جس خوش اسلوبی سے اسلام کرتا ہے۔ کہ، بخود پتہ چل جائے گا۔ اس کا مطالعہ کسی طبقے کے لیے ہے، جمہوریت سکھاتی ہے۔ یہ انسان کو خاص شخص مخصوص مراعات کا مستحق نہیں۔ حقوق و مردوں میں فرق ہے، دینی اعتبار سے نہیں۔

غازی علم الدین شہید اسلام کی اخلاقیات میں دین ہی دراصل کارفرما ہے۔ دنیوی معاملات میں یہی اخلاقیات قابل اعتناء ہیں۔

رسول عربی محمد ﷺ جیسی بے مثال، عظیم القدر ہستی کی شان میں گستاخی پوری انسانیت کے خلاف جرم کا ارتکاب ہے۔ آپ حضور ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیجئے! آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ خالق اکبر نے حضور ﷺ کو دنیا میں بھیج کر کتنا بڑا احسان کیا ہے! حضور ﷺ نے بندگان خدا کو نیک و بد اور خیر و شر میں امتیاز کرنا سکھایا۔ ذات پات کی تمیز اور پروہت شاہی (Priesthood) نے جن لوگوں کو ذلیل و خوار اور پامال کیا، انھیں بلند مرتبہ کیا۔ بلال حبشیؓ جیسے کروڑوں غلاموں کو برگزیدہ کیا۔ ان کو آقاؤں سے برتر مقام دیا جنھیں اسلام کی اخلاقی اور روحانی تعلیم موافق نہ آئی۔ آج اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں اخوت و مساوات اور عدل و انصاف کے سلسلے میں جو شقیں پائی جاتی ہیں وہ حضور ﷺ کے الوداعی خطبہ حج سے لی گئی ہیں۔ طلاق، بیوہ، نکاح، وراثت میں عورتوں کا حصہ اور ایسے کتنے ہی قوانین جو غیر مسلموں نے اپنائے اسلام سے لیے گئے۔ یہ قوانین ان کے یہاں موجود نہ تھے اور یوں ان کے معاشرے میں صدیوں سے مشکلات پیدا تھیں۔ محمد مصطفیٰ ﷺ کی رہنمائی اور حضور ﷺ کے عمل کی بدولت غیر اسلامی معاشرے ان منصفانہ اور انسانیت پسندانہ قوانین کو اپنانے پر مجبور ہوئے۔

بہر حال آریا سماج جو صدیوں سے آنکھوں پر تعصب کی عینک چڑھائے ہوئے تھا، حضور کے آئین و قوانین کو سمجھے بغیر درپے آزار ہوا۔ لاہور دل آزاری کی مہم کا گڑھ بن گیا۔ راجپال پبلشر تحریک کا آلہ کار بنا۔ اس نے زندگی کا مشن بنایا کہ وہ اسلام اور بانی اسلام ﷺ کے خلاف عمر بھر کتابیں چھاپتا رہے گا اور اس سلسلے میں بے دریغ پیسہ خرچ کرے گا۔ ستیارتھ پرکاش کے خلاف ایجی ٹیشن ہوا لیکن اس کے کان پر جوں نہ رینگی۔ راجپال کے تعاون سے پولیس کے ملازم منشی رام کو بڑی تقویت ملی جس نے ترک ملازمت کے بعد ترک دنیا کا ڈھونگ رچایا اور پھر دیکھتے دیکھتے ”شریمان مہاتما منشی رام سورگ باشی سوامی شردھانند جی“ بن گیا۔ وہ اسلام اور بانی اسلام ﷺ کے خلاف لٹریچر شائع کرتا رہا۔ شکر الحمد للہ ایک مجاہد نے

صفحہ 48

غازی علم الدین شہیدؒ

اسے واصل جہنم کیا۔ ان کا نام قاضی عبدالرشید (شہید) تھا۔

فرنگی آقا کے زیر سایہ انتہائی شرانگیز مہم چلتی رہی۔ اس کا سد باب نہ کیا گیا۔ ادھر لاہور میں راجپال اس مہم کا بڑا ستون تھا۔ ستیارتھ پرکاش ہی کچھ کم زہریلی کتاب نہ تھی کہ اس بدبخت نے ایک اور انتہائی دل آزاری کے اقدام کی ٹھانی۔ ایک اور زہریلی کتاب (رنگیلا رسول) چھاپ دی۔ معلوم ہوتا ہے کہ مسلم آزاری میں وہ منشی رام سے کم نہ تھا اور عقل سلیم سے یکسر عاری تھا۔

کیا عجیب ماحول تھا کہ غلام، غلام پر حملہ آور ہو رہا تھا، صرف اس لیے کہ آقا اس پر مہربان تھا۔ کوئی اخلاقی آئین، کوئی انسانی قانون، ہمسایہ پن کا کوئی رویہ، ہندو مسلم تحریک کا کوئی پہلو اس پر اثر نہ کر رہا تھا۔ آنکھیں بند کیے نفرتوں کی جوالامکھی پر بیٹھا مذموم حرکتیں کر رہا تھا۔ وہ کسے خوش کر رہا تھا، بھگوان کو یا گمراہی پھیلانے والی، تعصبات کی ماری شریمتی آریہ پرتی ندھی سبھا کو؟

قدرت اس نادان بد اندیش پر ہنس رہی تھی۔ اسے خبر نہ تھی کہ ایک ان پڑھ مگر صداقت کا متوالا، اپنے رسول محمد عربی ﷺ سے اٹوٹ محبت کرنے والا، پردۂ غیب میں بے قرار ہے جو آن واحد میں اس کا قلع قمع کر دے گا۔ یہ عام انسانوں میں سے ایک گمنام انسان تھا جو اپنے شاندار کارنامے کی بدولت دوام پا گیا، جس کا نام عدل و انصاف کی تاریخ میں درخشاں ہو گیا، زندہ و پائندہ ہو گیا۔ آج وہ میانی (لاہور) کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہے۔ ایک دنیا اس کے نام سے واقف ہے۔ یہ غازی علم الدین شہید ہے۔

غازی علم الدین 4 دسمبر 1908ء کو متوسط طبقے کے ایک شخص طالع مند کے گھر (لاہور) میں پیدا ہوئے۔ یہ ان کے دوسرے بیٹے تھے۔ نجاری پیشہ تھا، عزت سے دن گزر رہے تھے، ایسے نامور نہ تھے، اپنے محلے تک ان کی شہرت محدود تھی یا پھر لاہور سے باہر جا کر کہیں کام کرتے تو محنت، شرافت اور دیانتداری کی بدولت مختصر سے حلقے میں اچھی نظر سے دیکھے جاتے۔ زندگی اس ڈھب کی تھی۔

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یونہی تمام ہوتی ہے
صفحہ 49

غازی علم الدین شہید

کوچہ چابک سواراں میں طالع مند اپنے اہل خانہ کے ساتھ امن و آشتی سے رہتے تھے۔ بڑے بننے کی دل میں آرزو نہ تھی۔ اس دور میں لوگ اپنی قسمت آپ بنانے، تقدیر کا منہ چڑانے یا حالات کا پھندا گردن سے اتارنے...... راتوں رات لکھ پتی بننے کے آرزومند نہ ہوئے۔ نام طالع مند تھا، آبرو مند تھے...... وہ اپنی سمٹی سکڑی ہری بھلی زندگی پر قانع تھے۔ اس میں ہلچل مچانے کا ارادہ نہ رکھتے تھے۔

اس دور میں دولت سے زیادہ عزت کی قدر کی جاتی۔ ان کی تو ایک ہی آرزو تھی کہ علم الدین بڑا ہو کر انہی جیسا سعادت مند، محنتی، دیانتدار اور نیک کاریگر ہو، گھر بسائے اور اچھا نام پائے۔ خدا اسے برائی سے بچائے۔ کسے خبر تھی کہ علم الدین بڑا ہو کر گھر کی اوقات بدل دے گا۔ اسے زمین سے اٹھا کر اوج ثریا پر لے جائے گا۔ محلہ چابک سواراں کو تاریخ کا درخشاں ستارہ بنا دے گا۔ لاہور کو اس پر ناز رہے گا، لاہور کے ماتھے کا جھومر بن جائے گا۔

اس زمانے میں مسجد محلے کے بچوں کی ابتدائی درسگاہ تھی۔ اب وہ زمانہ تو نہ رہا تھا جب مسجد علم و عرفان کا بہت بڑا ذریعہ تھی۔ دینی اور دنیوی علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہاں بڑے بڑے علماء، سائنس دان یہیں سے فارغ التحصیل ہو کر نکلے تھے۔ اب تو یہی غنیمت تھا کہ بچے بچیاں مسجد میں آ کر قرآن پڑھتی تھیں، بعض مساجد میں درسِ قرآن وحدیث بھی دیا جاتا تھا۔ مسئلے مسائل بیان کیے جاتے تھے۔ انگریزی تعلیم کے لیے دوسرے مدرسے تھے۔ پرائمری تک مفت تعلیم کا نہایت معقول بندوبست تھا۔ اس سے آگے سرکاری و غیر سرکاری درس گاہیں تھیں۔ تعلیم بہت سستی تھی۔ اساتذہ بڑے پڑھے لکھے، ہمدرد اور فرض شناس ہوتے تھے۔

طالع مند نے اپنے بیٹے کو بھی مسجد میں بھیجا تاکہ قرآن مجید پڑھیں۔ علم الدین نے کچھ دن وہاں گزارے۔ تعلیم حاصل کی لیکن وہ زیادہ تعلیم نہ پا سکے۔ قدرت کا کوئی راز تھا۔ ان سے ایسا کام لیا جانا تھا جو عمل کی دنیا میں تعلیم سے بڑھ کر تھا بلکہ تعلیم کا مقصود تھا۔ ان میں من جانب اللہ ایسا جوہر مخفی تھا جس کی بچے کو خبر نہ تھی لیکن اس جوہر نے آگے چل کر وہ کام کر دکھایا جس سے انھیں ”حیات جاودانہ“ میسر آئی۔ اس کام کا کوئی بدل نہ تھا۔

طالع مند اعلیٰ پایہ کے ہنرمند تھے۔ وہ علم الدین کو گاہے گاہے اپنے ساتھ کام پر

صفحہ 50

غازی علم الدین شہید

لاہور سے باہر بھی لے جاتے۔ بڑا بیٹا محمد دین تو پڑھ لکھ کر سرکاری نوکر ہو گیا لیکن علم الدین نے موروثی ہنر ہی سیکھا۔

محمد دین اور علم الدین میں بڑا پیار تھا۔ علم الدین والد کے ساتھ کبھی باہر جاتا تو محمد دین کو قلق ہوتا ۔ ایک مرتبہ تو ایسا ہوا کہ محمد دین نے علم الدین کے بارے میں خواب پریشان دیکھا۔ علم الدین والد کے ساتھ سیالکوٹ گیا ہوا تھا۔ محمد دین بے چین ہوا اور چھوٹے بھائی کی خیریت معلوم کرنے سیالکوٹ پہنچا۔ دونوں بھائیوں کی باہمی محبت کا یہ عالم تھا کہ جب محمد دین اپنے والد کے ٹھکانے پر پہنچا تو علم الدین چارپائی پر بیٹھا تھا۔ اسے دیکھتے ہی علم دین اچھل پڑا۔

”شدت جذبات سے دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ ایک عرصہ بعد دونوں بھائی ملے تھے۔ نجانے کتنی دیر تک وہ ایک دوسرے سے بغلگیر رہے کہ طالع مند نے محمد دین کو بیٹھ جانے کو کہا۔“

محمد دین نے خواب میں علم الدین کو زخمی ہوتے دیکھا تھا۔ خواب کتنا سچا نکلا۔ علم الدین واقعی زخمی ہوئے تھے، ہاتھ پر پٹی بندھی تھی۔ شیشہ لگا تھا۔ ہاتھ زخمی تو ہوا لیکن زخم گہرا نہ تھا۔

اگلے روز محمد دین لاہور آ گئے۔

علم الدین والد کے ساتھ رہتے، والد کا ہاتھ بٹاتے اور کام سیکھتے۔ اہل خانہ سمجھ گئے کہ علم الدین نجار بنیں گے اور نجاری ہی کو ذریعہ معاش بنائیں گے۔ ابھی اناڑی تھے، جبھی تو ہاتھ زخمی کر بیٹھے۔ ویسے تیز دھار اوزاروں سے کام کرنے اور سیکھنے میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔

طالع مند کبھی بیکار نہ رہتے۔ لاہور میں کام کرتے، لاہور سے باہر بھی جاتے۔ جہاں کام کرتے، نیک نامی سے کرتے۔ اپنے مالکوں سے صرف بسولے اور رندے کے حوالے سے تعلق قائم نہ کرتے بلکہ انسانی ہمدردی کا رشتہ قائم کرتے جس کی وجہ سے لوگ ان سے محبت کرتے، ان کی عزت کرتے۔

علم الدین کا گھر پرانی وضع کا تھا جہاں وہ والدین کے زیر سایہ تربیت پا رہے تھے۔ گھر سے عزت اور شرافت کا سبق لیا۔ وہیں دیانتداری کی خو پائی۔ گھر ہی درسگاہ ٹھہری جہاں

صفحہ 51

غازی علم الدین شہید

سے کتابی علم تو نہ ملا لیکن اس کی روح جذب کی، اس کی غایت جانی پہچانی، علم تو ان کے نام کا حصہ تھا۔ وہ اعلیٰ درجے کا انسان بن رہے تھے۔ علم تو نور ہے۔ جب یہ بندے کے اندرون کو روشن کرے تو وہ نورانی ہو جاتا ہے۔

علم را بر تن زنی مارے بود
علم را بر دل زنی یارے بود

گھر کے شریفانہ ماحول میں ڈھل گئے۔ والد کی صحبت میں رہ کر معلوم ہوا کہ بندہ وہ ہے جو دوسروں کے کام آئے۔ ایثار اور احسان کو زندگی کا بنیادی عنصر قرار دے، خلوص سے پیش آئے، اس کا صلہ کسی نہ کسی شکل میں بندے کو مل جاتا ہے۔

علم الدین نے بچپن ہی میں بعض ایسے واقعات دیکھے جن کے نقوش ان کے دماغ پر ثبت ہوئے اور ان کی کردار سازی میں کام آئے۔

ایک سال والد کے ساتھ کوہاٹ میں رہے۔ یہ علاقہ غیور اور بہادر پٹھانوں کا ہے۔ تب یہاں باڑہ قسم کی کوئی چیز نہ تھی۔ یہ اچھے، بہت ہی اچھے لوگوں کا ڈیرہ ہے۔ پٹھانوں کا یہ وصف ہے کہ جو ان سے نیکی کرے وہ اسے بھلاتے نہیں، یاد رکھتے ہیں، بڑے مخیر طبع اور متواضع لوگ ہیں، محسن کو قرار واقعی صلہ دیتے ہیں۔ جان تک نثار کر دیتے ہیں۔ یہی ان کی زندگی ہے، یہی چلن ہے، یہی دستور حیات ہے۔

علم الدین نے پٹھانوں کی اعلیٰ صفات کا بہ نفس نفیس مطالعہ کیا۔ والد نے کوہاٹ جا کر رہنے کے لیے مکان کرائے پر لیا جس کا مالک اکبر خاں پٹھان تھا۔ کام کے لیے گھر سے باہر جاتے۔ ایک دن روشن خاں نامی ایک شخص کے گھر پر کام کرنے گئے۔ کام میں مصروف تھے کہ کسی نے آ کر بتایا کہ ان کے مالک مکان اکبر خاں کا کسی سے جھگڑا ہو گیا ہے۔ ”اس کا بھائی شدید زخمی ہو گیا ہے اور اس کی رپورٹ پولیس نے اکبر خاں کو گرفتار کر لیا ہے۔“

اکبر خاں کی خبر سنتے ہی طالع محمد نے کام چھوڑا اور اکبر خاں کی مدد پر جانے کو تیار ہو گئے۔

روشن خاں حیران ہوا کہ یہ پردیسی پنجابی روزی چھوڑ کر پٹھان کی مدد کو جا رہا ہے۔

صفحہ 52

غازی علم الدین شہید

اس نے پوچھا......

”تمہاری اس کے ساتھ کوئی رشتہ داری ہے جو یوں کام چھوڑ کر جارہے ہو؟“

طالع مند نے کہا......

”میں اس کا کرایہ دار ہوں۔ وہ میرا محسن ہے۔ اگر خوشی کے وقت وہ مجھے نہیں بھول سکتا تو پھر میں مصیبت کی گھڑی میں اس کی خبر کیوں نہیں لے سکتا؟“

روشن خاں پردیسی کے جواب سے بہت متاثر ہوا۔ وہ بھی ساتھ چل دیا اور دونوں کی کوشش سے اکبر خاں پولیس کی گرفت سے چھوٹ گیا۔ اس واقعہ کا اکبر خاں پر یہ اثر ہوا کہ طالع مند کی ضد اور اس کے اصرار کے باوجود اکبر خاں نے ایک سال تک کے قیام میں طالع مند سے کرایہ وصول نہیں کیا۔ یہی نہیں بلکہ واپس لاہور آنے کا ارادہ کیا تو اکبر خاں نے پیار کی نشانی کے طور پر باپ بیٹے کو ایک ایک چادر دی۔

تب آج سے کہیں زیادہ پنجابی اور پٹھان آپس میں پیار کرتے تھے۔ شرافت، خلوص، ایثار اور محبت کا دریا بہتا تھا جس کے پانی سے لوگ غسل صحت کرتے تھے۔ علم الدین کی آبیاری بھی اسی سرچشمہ حیات سے ہو رہی تھی۔

زندگی امن اور چین سے گزر رہی تھی۔ بڑے بھائی کی شادی ہو چکی تھی۔ اب علم الدین کی باری تھی چنانچہ ماموں کی بیٹی سے منگنی ہو گئی۔ شادی کی طرف یہ پہلا قدم تھا۔

علم الدین کو گھر اور کام سے سروکار تھا۔ باہر جو طوفان برپا تھا اس کی خبر نہ تھی۔ ”اس وقت انھیں یہ بھی علم نہ تھا کہ گندی ذہنیت کے شیطان صفت راجپال نامی بدبخت نے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان کے خلاف ایک دل آزار کتاب (رنگیلا رسول) شائع کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔“

وہ سیدھے سادھے مسلمان یعنی انسان تھے۔ باہر تو اور بھی کئی طوفان اٹھ رہے تھے۔ ہندو مسلم اتحاد زندہ باد! انقلاب زندہ باد! فرنگی راج مردہ باد اور اسی نوع کے فلک شگاف نعرے رات دن گونج رہے تھے۔ ادھر اس سب کو تہس نہس کرنے کے لیے راجپال نے نفرتوں اور کراہتوں سے لدا پھندا طوفان برپا کر دیا تھا۔ اس طوفان بدتمیزی سے ہندو آپس میں بٹ

صفحہ 53

غازی علم الدین شہیدؒ

گئے۔ مسلم دشمن ایک طرف ہو گئے۔ عدل و انصاف کے پرستار اور ہندو مسلم اتحاد کے طلب گار دوسری طرف ہو گئے۔ ثانی الذکر کی تعداد کم تھی چنانچہ ان کی دال نہ گل رہی تھی۔

اب تو علم الدین کے دل میں بھی طوفان برپا ہوا جس نے ایک دم ان کی سوچ ہی بدل دی۔ شاید ان کی گھریلو تعلیم و تربیت کا یہی نتیجہ تھا۔ علم الدین کی سرفرازی اور ان کے گھرانے کی سربلندی کا وقت آگیا تھا۔ قدرت کو اسی گھڑی کا انتظار تھا۔ وقت نے انھیں اسی کے لیے تیار کیا تھا۔ انھوں نے امن و سکون سے جو بیس سال گزارے وہ اب زندگی کے نئے موڑ پر آگئے۔ ہوا کا رخ بدل گیا۔ یہی نہیں بلکہ ہوا طوفان خیز ہوگئی۔

حکومت کو راجپال کے خلاف مقدمہ چلانے کو کہا گیا۔ مقدمہ چلا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ عبدالعزیز اور اللہ بخش کو الجھا کر سزا دی گئی۔ الٹا چور سرخرو ہوا اور کوتوال ان کے ساتھ مل گیا۔ اخبارات چیختے، چلاتے، راجپال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے۔ جلسے ہوتے، جلوس نکلتے لیکن حکومت اور عدل و انصاف کے کان بہرے ہو گئے۔

مسلمان دل برداشتہ تو ہوئے لیکن سرگرم عمل رہے۔ دلی دروازہ سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھا۔ یہاں سے جو آواز اٹھتی پورے ہند میں گونج جاتی۔ وہ دور ہی ایسا تھا۔ دلی دروازہ اور موچی دروازہ میں ہردم جوالا مکھی سلگتی رہی۔ آتش نفس مقرر انھیں ہوا دیتے رہے، یہ باکمال مقرر زندگی کو موت سے لڑا دیتے۔ زندگی دیوانہ وار موت کے گلے پڑ جاتی۔ لوگ سود و زیاں سے بالاتر ہو جاتے اور بے دریغ جانوں پر کھیل جاتے۔ راجپال کا معاملہ اتنی اہمیت اختیار کر گیا تھا کہ دلی دروازے کے باغ میں اس کا ذکر لازم ہو گیا۔

”علم الدین حالات سے بے خبر تھے۔ ایک روز حسب معمول کام پر گئے ہوئے تھے۔ غروب آفتاب کے بعد گھر واپس جا رہے تھے تو دلی دروازے میں لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا۔ ایک جوان کو تقریر کرتے دیکھا تو رکے۔ کچھ دیر کھڑے سنتے رہے لیکن ان کے پلے کوئی بات نہ پڑی۔ قریب کھڑے ایک صاحب سے انھوں نے دریافت کیا تو انھوں نے علم الدین کو بتایا کہ راجپال نے نبی کریم ﷺ کے خلاف کتاب

صفحہ 54

غازی علم الدین شہیدؒ

چھاپی ہے، اس کے خلاف تقریریں ہورہی ہیں۔“ (صحیفہ ص 20) وہ دیر تک تقریریں سنتے رہے۔ پھر ایک اور مقرر آئے جو پنجابی زبان میں تقریر کرنے لگے۔ یہ علم الدین کی اپنی زبان تھی جس کی تربیت گھر سے ملی تھی۔ اردو کی تعلیم مدرسے سے ملتی تھی۔ مدرسے وہ گئے ہی نہیں۔ پنجابی تقریر اچھی طرح ان کی سمجھ میں آئی جس کا ماحصل یہ تھا کہ راجپال نے کتاب چھاپی ہے جس میں ہمارے پیارے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے اور نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں۔ راجپال واجب القتل ہے۔ اسے اس شرانگیز حرکت کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔

علم الدین کی زندگی کے تیور ہی بدل گئے۔ پڑھے لکھے نہ تھے۔ سیدھے سادھے مسلمان تھے۔ اور کچھ نہ سہی، کلمہ تو انھیں آتا تھا۔ یہی بہت بڑا سرمایہ حیات تھا ان کے لیے۔ کلمے میں اللہ اور رسول ﷺ کا نام ایک سانس میں لیتے تھے۔ یہی دو سہارے، دو محور تھے ان کی سوچ کے۔

جب جہاد باللسان اور جہاد بالقلم سے کام نہ بنے تو پھر جہاد بالسیف ہی سے قضیہ نمٹتا ہے۔ علم الدین بیچارے کے پاس اس سلسلے میں لسان اور قلم کہاں سے آئے؟ تقریر کر سکتے نہ لکھ پڑھ سکتے لیکن ان کے ہاتھ میں وہ خوبی تھی، وہ ہنر تھا جس نے جہاد بالسیف کا راستہ ہموار کیا، آسان کیا۔ اس کے پیچھے وہ شدید اور گراں قدر جذبہ تھا جو شر کو مٹانے کے لیے حرکت میں آیا۔

انھوں نے راجپال کو اس کی شرارت بلکہ شرانگیزی کی سزا دینا ضروری سمجھا۔

دہلی دروازے کے باغ سے آتش نوا مقرروں کی تقریریں سن کر دیر سے گھر آئے تو طالع مند (والد) نے پوچھا، دیر سے کیوں آئے ہو؟ تو انھوں نے جلسے کی ساری کارروائی بیان کی۔ راجپال کی حرکت کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ جلسے میں اسے واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔

طالع مند بھی سیدھے سادھے کلمہ گو تھے۔ ہر مسلمان کی طرح انھیں بھی اپنے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی گوارا نہ تھی۔ انھوں نے بھی اس بات کی تائید کی کہ رسول اکرم ﷺ کی ذات پر حملہ کرنے والے بداندیش کو واصل جہنم کرنا چاہیے۔

صفحہ 55

غازی علم الدین شہید

یوں علم الدین کو گویا گھر سے بھی اجازت مل گئی اور دشمن کا کام تمام کرنے کے خیال کو تقویت پہنچی۔ علم الدین کے دل میں جو بھانبڑ مچا تھا، اس کی خبر کسی کو نہ تھی۔

وہ اپنے دوست شیدے سے ملتے۔ راجپال اور اس کی کتاب کا ذکر کرتے۔ ان دنوں کوچہ و بازار میں ہر جگہ یہی موضوع زیر بحث آتا۔ جہاں دو بندے اکٹھے ہوئے، راجپال کی حرکت پر تبادلہ خیال شروع ہو گیا۔ فرنگی کی جانبداری، مجرم کو کھلی چھٹی دینے اور مسلمانوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنانے کا تذکرہ ہوتا۔ مسلمانوں کی تاریخی رواداری اور غیر مسلم ہمسایوں سے حسن سلوک کی باتیں ہوتیں۔ رات دن یہی ہوتا۔ باقی تمام موضوع اس موضوع میں دب کر رہ گئے۔ ذکر خدا اور ذکر محمد ﷺ کو اولیت حاصل نہ ہو تو اور کس موضوع کو ہو؟

شیدا اچھا لڑکا تھا لیکن ایک بھلے آدمی نے طالع مند کے دل میں شک بٹھا دیا کہ وہ آوارہ ہے، علم الدین کی اس سے دوستی ٹھیک نہیں۔ طالع مند نے بیٹے کو سمجھایا لیکن بات نہ بنی۔ علم الدین کا یہی ایک نوجوان مزاج آشنا تھا۔ اسی کے ساتھ علم الدین گھومتے پھرتے۔

پتہ نہ چل رہا تھا کہ راجپال کون ہے؟ کہاں ہے دکان اس کی؟ کیا حلیہ ہے اس کا؟

انجام کار علم الدین کو شیدے کے ایک دوست سے معلوم ہوا کہ شاتم رسول ہسپتال روڈ پر دکان کرتا ہے۔ طالع مند کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ علم الدین کو کیا ہو گیا ہے۔ کام پر باقاعدہ نہیں جاتا، کھانے کا بھی ناغہ کر لیتا ہے۔ کیا عجب کہ علم الدین کے روز و شب کے معمولات میں جو بے قاعدگی آئی ہے اس کا سبب شیدا ہو جس کے باپ کی نسبت خبر ملی کہ وہ جواری ہے اور اپنی دکان جوئے میں ہار چکا ہے۔

طالع مند کی طبیعت غصیلی تھی۔ علم الدین جب دیر سے گھر آئے اور طالع مند کو پتہ چلا کہ شیدے لوفر کے ساتھ پھرتے رہے ہیں تو وہ غصے سے لال پیلے ہو گئے۔ باپ کے سامنے جوان بیٹا خاموش سر جھکائے کھڑا رہا۔ باپ کا ادب بھی تھا، ڈر بھی تھا۔ باپ نے انھیں پکڑ کر دھکیلا ...... اور کہا؟ چلا جا اس لوفر کے پاس!

بڑے بھائی محمد دین کو اپنے چھوٹے بھائی سے بڑا پیار تھا۔ فوراً بیچ بچاؤ کے لیے آئے اور باپ کو منا لیا۔ بھائی اندر لے گئے اور ناصحانہ درس دیا۔ اونچ نیچ سمجھائی، بری صحبت

صفحہ 56

غازی علم الدین شہیدؒ سے بچنے کو کہا۔

علم الدین کو اپنی ذات پر یقین تھا اور جانتے تھے کہ وہ بری صحبت کا شکار نہیں۔ شیدے کے حوالے سے بری صحبت کا سن کر آبدیدہ بھی ہوئے اور برہم بھی۔

وہ پوری طرح بات واضح نہیں کر سکتے تھے۔ ان کے دل میں جو بھانبڑ مچا تھا اس کا وہ کیسے ذکر کرتے؟ موت اور زندگی کا سوال تھا۔ انھوں نے سر پر کفن باندھ لیا تھا لیکن کسی کو نظر نہ آ رہا تھا۔ اپنے ارادے کا خفیف سا اشارہ بھی کسی کو نہ دے سکتے تھے، مبادا کوئی مسئلہ کھڑا ہو جائے اور وہ شک کی بھول بھلیوں میں جا پہنچیں۔ البتہ اب اتنا ضرور ہو گیا کہ گھر میں راجپال کے قتل کی بات عام انداز میں ہونے لگی۔ اس گفتگو میں طالع مند اور علم الدین شریک ہوتے۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی۔ گھر گھر اس کا چرچا تھا۔

لوگوں کے دلوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ادھر باہر بھی آگ بھڑک رہی تھی۔ مسلمانوں کے لیڈر، رہنما، سیاسی اور مذہبی خطیب پوری قوت سے کہہ رہے تھے کہ زبان دراز راج پال کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ ایسا فتنہ پھر کبھی سر نہ اٹھائے۔ عاشق رسول ﷺ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے بڑی رقت انگیز تقریر کی۔ دفعہ 144 کا نفاذ تھا جس کی رو سے کسی نوع کا جلسہ یا اجتماع نہیں ہو سکتا تھا لیکن مسلمانوں کا ایک فقید المثال اجتماع بیرون دہلی دروازہ درگاہ شاہ محمد غوثؒ کے احاطہ میں منعقد ہوا۔ وہاں اس عاشق رسول ﷺ نے ناموسِ رسالت پر جو تقریر کی، وہ اتنی دل گداز تھی کہ سامعین پر رقت طاری ہو گئی۔ کچھ لوگ تو دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ شاہ جی نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

’’آج آپ لوگ جناب فخرِ رسل محمد عربی ﷺ کے عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ آج جس انسان کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرہ میں ہے۔ آج اس جلیل المرتبت کا ناموس معرض خطر میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔‘‘ اس جلسہ میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید دہلوی بھی موجود تھے۔ شاہ جی نے ان سے مخاطب ہو کر کہا:

’’آج مفتی کفایت اللہ اور احمد سعید کے دروازے پر ام المومنین عائشہ صدیقہؓ اور

صفحہ 57

غازی علم الدین شہید

ام المومنین خدیجۃ الکبریٰؓ کھڑی آواز دے رہی ہیں۔ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں۔ ارے دیکھو! کہیں ام المومنین عائشہ صدیقہؓ دروازہ پر تو کھڑی نہیں؟“

”تمہاری محبتوں کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو لیکن کیا تمھیں معلوم نہیں کہ آج گنبد خضریٰ میں رسول اللہ ﷺ تڑپ رہے ہیں۔ آج خدیجہؓ اور عائشہؓ پریشان ہیں۔ بتاؤ! تمھارے دلوں میں امہات المومنین کے لیے کوئی جگہ ہے؟ آج ام المومنین عائشہؓ تم سے، اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ وہی عائشہؓ جنھیں رسول اللہ ﷺ ”حمیرا“ کہہ کر پکارا کرتے تھے، جنھوں نے سید عالم ﷺ کو وصال کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ یاد رکھو کہ اگر تم نے خدیجہؓ اور عائشہؓ کے لیے جانیں دے دیں تو یہ کچھ کم فخر کی بات نہیں۔“

شاہ جی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا:

”جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے، ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے چین سے نہیں رہ سکتے۔ پولیس جھوٹی، حکومت کوڑھی اور ڈپٹی کمشنر نااہل ہے۔ وہ ہندو اخبارات کی ہرزہ سرائی تو روک نہیں سکتا، لیکن علمائے کرام کی تقریریں روکنا چاہتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دفعہ 144 کے یہیں پر بخیے اڑا دیے جائیں۔ میں دفعہ 144 کو اپنے جوتے کی نوک تلے مسل کر بتا دوں گا۔

پڑا فلک کو دل جلوں سے کام نہیں
جلا کے راکھ نہ کر دوں تو داغ نام نہیں

داغ کا یہ شعر شاہ جی نے کچھ اس انداز سے پڑھا کہ لوگ بے قابو ہو گئے۔ اس تقریر نے سارے شہر میں آگ لگا دی۔ لاہور میں بدنام زمانہ کتاب، اس کے مصنف اور ناشر کے خلاف جا بجا جلسے ہونے لگے۔“

”انہی دنوں انجمن خدام الدین نے شیرانوالہ دروازہ میں راجپال کے قتل کا فتویٰ دے دیا۔“

سارا ماحول شعلوں سے بھر پور ہو گیا۔ ملک کے طول و عرض میں احتجاجی جلسے

صفحہ 58

غازی علم الدین شہید

ہونے اور جلوس نکلنے لگے تھے۔ آخر ایک مرد غازی اٹھا اور اس نے ایک صبح راجپال کی دکان پر جا کر چاقو سے حملہ کیا۔ تیس برس کا یہ مجاہد اندرون یکی دروازے کا شیر فروش خدا بخش اکو جواں تھا۔ راجپال زخمی تو ہوا لیکن اس کی جان بچ گئی۔ مقدمہ چلا اور جلد ہی نمٹا دیا گیا۔ مجاہد خدا بخش کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا۔ ایک دو دن کی کارروائی کے بعد عدالت نے سات سال قید سخت کی سزا دی۔ جس میں تین ماہ قید تنہائی کے تھے۔ رہائی کے بعد پانچ ہزار روپے کی ضمانت کا بھی پابند کیا گیا۔ مسلمان اس عدالتی فیصلے کو کیونکر قبول کرتے۔ سراسر بے انصافی ہو رہی اور مجرم کو پناہ دی جا رہی تھی۔ عدالت سے ملزم کو قرار واقعی سزا ملنے کی امید نہ رہی تو وہ خود ہی برائی کا قلع قمع کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ بات ہند کی حدود سے باہر جا چکی تھی۔ چنانچہ افغانستان کے عبدالعزیز نامی غیور تاجر نے راجپال پر حملہ کیا لیکن انھیں پہچاننے میں غلطی ہوئی۔ عبدالعزیز مہاشے کی دکان پر پہنچ گئے، جہاں دو آدمی بیٹھے اسلام کے خلاف اشتعال انگیز گفتگو کر رہے تھے۔ غازی نے اپنی دانست میں مہاشہ راجپال پر حملہ کیا لیکن وہ سوامی ستیانند تھا۔ اب پھر بسرعت فیصلہ کیا گیا۔ عبدالعزیز وکیل کے بغیر پیش ہوئے۔ عدالت اتنی جلدی میں تھی کہ وکیل بنانے کے لیے وقت ہی نہ ملتا۔ 19 اکتوبر 1927ء کو حملہ ہوا۔ 11 اکتوبر کو عدالت میں مقدمہ پیش ہوا۔ 12 اکتوبر کو عدالت نے سات سال قید سخت کی سزا دی۔ تین ماہ قید تنہائی۔ رہائی کے بعد پانچ پانچ ہزار روپے کی تین ضمانتیں دینا قرار دیا۔

شاید ہی کبھی عدالت میں قتل کے مقدمات اس عجلت سے پیش ہوئے اور وکیل کے بغیر نمٹا دیے گئے ہوں۔ یہ صورتحال بیسویں صدی کی فرنگی عدالتوں کی تھیں۔ کلیسائی عدالتوں کے صدیوں بعد بھی فرنگی کے تیور نہ بدلے۔ امن قائم نہ ہوا۔ اب غازی علم الدین حرکت میں آئے۔ ان کا رویہ والدین کے لیے تشویش ناک تھا۔ علم الدین کے کام میں بے قاعدگی اور طبیعت میں بیکلی آ گئی تھی۔ اکھڑ پن آ گیا تھا رویے میں۔

طالع مند نے علم الدین کے بارے میں سوچا، اس اکھڑ پن کا ایک ہی علاج ہے کہ اس کا بیاہ کر دیا جائے۔ ماں باپ کو اولاد کی پریشانی کے سلسلے میں یہی نسخہ یاد ہے۔ سب اسی کو آزماتے تھے۔ طالع مند نے فیصلہ کر لیا کہ علم الدین کو جلد ہی سلسلۂ ازدواج میں منسلک

صفحہ 59

غازی علم الدین شہید

کر دیا جائے گا۔

ادھر علم الدین کی حالت ہی اور تھی۔ ایک رات اس نے خواب دیکھا۔ ایک بزرگ ملے اور انھوں نے کہا، علم الدین ابھی تک سو رہے ہو۔ تمھارے نبی ﷺ کی شان کے خلاف دشمن کارروائیوں میں لگے ہیں۔ اٹھو جلدی کرو!

”علم الدین ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ ان کا تمام جسم پسینے میں شرابور تھا۔“

پھر آنکھ نہ لگی۔ منہ اندھیرے اٹھے۔ اوزار سنبھالے اور سیدھے شیدے کے گھر پہنچے۔

شیدے کو لیا اور بھاٹی دروازے کی طرف چلے گئے۔ ایک جگہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ عجیب بات ہے کہ علم الدین نے خواب دیکھا تھا تو ویسا ہی خواب شیدے نے رات کو دیکھا تھا۔ دونوں ہی کو بزرگ نے راجپال کا صفایا کرنے کو کہا ...... دونوں پریشان ہوئے۔ کون یہ کام کرے، کون نہ کرے۔ دیر تک بحث چلتی رہی۔ دونوں ہی یہ کام کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ان میں کوئی فیصلہ نہ ہو رہا تھا۔ دونوں ہی اپنے موقف پر ڈٹے تھے۔ آخر قرار پایا کہ قرعہ اندازی کی جائے۔ دونوں اس پر رضا مند ہو گئے۔ دو مرتبہ قرعہ اندازی کی گئی۔ دونوں مرتبہ علم الدین کے نام کی پرچی نکلی۔ شیدے نے اصرار کیا کہ تیسری بار پھر قرعہ اندازی کی جائے۔ پرچی نکالنے والا اجنبی لڑکا حیران تھا کہ یہ دونوں جوان کیا کر رہے ہیں۔ آخر تیسری بار پر علم الدین رضا مند ہو گئے۔ اب پھر انہی کا نام نکلا۔

اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ علم الدین مارے خوشی کے پھولے نہ سمائے۔ قرعہ فال انہی کے نام نکلا۔ وہی باہمی فیصلے سے شاتم رسول کا فیصلہ کرنے پر مامور ہوئے۔

پھر دونوں وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔

گھر والوں کو خبر ہی نہ ہوئی کہ علم الدین نے کیا فیصلہ کیا ہے، ان کے اندر کب سے طوفان انھیں بے چین کر رہا ہے اور اس کا منطقی انجام کیا ہوگا۔ ان کی زندگی میں جو بے ترتیبی آئی ہے، اس کا کیا سبب ہے؟

ایک مرتبہ پھر خواب میں آ کر بزرگ نے اشارہ کیا ...... ”علم الدین اٹھو! جلدی

صفحہ 60

غازی علم الدین شہید

گر دیر کی تو کوئی اور بازی لے جائے گا۔“

ارادہ تو کر ہی چکے تھے۔ مکرر خواب میں بزرگ کو دیکھا تو ارادہ اور بھی مضبوط ہو گیا۔

آخری بار اپنے دوست شیدے سے ملنے گئے۔ اسے اپنی چھتری اور گھڑی یادگار کے طور پر دی۔ گھر آئے۔ رات گئے تک جاگتے رہے۔ نیند کیسے آتی؟ وہ تو زندگی کے سب سے بڑے مشن کی تکمیل کی بابت سوچ رہے تھے۔ اس کے علاوہ اب کوئی دوسرا خیال پاس بھی پھٹک نہ سکتا تھا۔

اگلی صبح گھر سے نکلے۔ کسی بازار کی طرف گئے اور آتارام نامی کباڑیے کی دکان پر پہنچے جہاں چھریوں چاقوؤں کا ڈھیر لگا تھا۔ وہاں سے انھوں نے اپنے مطلب کی چھری لے لی اور چل دیے۔ اب ”نغمہ پیش از تار“ ہو گیا۔ روح بے قابو ہو گئی۔

”انارکلی میں ہسپتال روڈ پر عشرت پبلشنگ ہاؤس کے سامنے ہی راجپال کا دفتر تھا۔......“

معلوم ہوا کہ راجپال ابھی نہیں آیا۔ آتا ہے تو پولیس اس کی حفاظت کے لیے آ جاتی ہے۔ اتنے میں راجپال کار پر آیا۔ کھوکھے والے نے بتایا، کار سے نکلنے والا راجپال ہے۔ اسی نے کتاب چھاپی ہے۔

”راجپال ہر دوار سے واپس آیا تھا، دفتر میں جا کر اپنی کرسی پر بیٹھا اور پولیس کو اپنی آمد کی خبر دینے کے لیے ٹیلیفون کرنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ علم الدین دفتر کے اندر داخل ہوئے اس وقت راجپال کے دو ملازم وہاں موجود تھے۔ کدار ناتھ پچھلے کمرے میں کتابیں رکھ رہا تھا اور بھگت رام، راجپال کے پاس ہی کھڑا تھا۔ راجپال نے درمیانے قد کے گندمی رنگ والے...... کو داخل ہوتے دیکھ لیا لیکن وہ سوچ بھی نہ سکا کہ موت اس کے اتنے قریب آچکی ہے۔...... پل جھپکتے ہی چھری نکالی...... ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور پھر راجپال کے جگر پر جا لگا...... چھری کا پھل سینے میں اتر...... تھا۔ ایک ہی وار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ راجپال کے منہ سے صرف ہائے کی آواز نکلی اور وہ اوندھے منہ زمین پر جا پڑا۔

”علم الدین الٹے قدموں باہر دوڑے۔ کدار ناتھ اور بھگت رام نے باہر نکل کر شور

صفحہ 61

غازی علم الدین شہیدؒ

مچایا....... پکڑو پکڑو....... مار گیا، مار گیا، مار گیا۔“

راجپال کے قتل کی خبر آناً فاناً شہر میں پھیل گئی۔ پوسٹ مارٹم ہوا تو کئی ہزار ہندو ہسپتال پہنچ گئے اور آریہ سماجی ”ہندو دھرم کی جے، ویدک دھرم کی جے“ کے نعرے سنائی دینے لگے۔

امرت دھارا کے موجد پنڈت ٹھاکر دت شرما، رائے بہادر بدری داس اور پرمانند کا وفد ڈپٹی کمشنر سے ملا اور راجپال کی ارتھی کو ہندو محلوں میں سے لے جانے کی درخواست کی لیکن ڈپٹی کمشنر نہ مانا۔ کیسے مانتا؟ اس کی منشاء کے عین مطابق، حسب ضرورت ہندو مسلم اتحاد درہم برہم ہونے کی صورت پیدا ہو گئی تھی۔ وہ کسی کو اس حد کے آگے کیونکر جانے دیتا۔ اگلا مرحلہ تصادم کا تھا جس سے امن قائم نہ رہتا۔ فرنگی کو اس سے نقصان پہنچتا چنانچہ جب لوگ زبردستی کرنے اور ارتھی کا جلوس نکالنے پر تل گئے تو پولیس کو لاٹھی چارج کا حکم ملا۔ پنجاب پولیس امن قائم کرنے کا بڑا تجربہ رکھتی ہے۔ ”پولیس نے لٹھ برسائے اور وہ لٹھم لٹھا ہوئی کہ توبہ ہی بھلی۔“

علم الدین کے گھر والوں کو علم ہوا تو وہ حیران ضرور ہوئے لیکن انھیں یہ پتہ چل گیا کہ ان کے چشم و چراغ نے کیسا زبردست کارنامہ سرانجام دیا اور ان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ پولیس نے بغرض حفاظت ان کے گھر پر پڑاؤ ڈال لیا اور ہجوم کو ہٹا دیا۔ اب کوئی ان کے گھر میں جا نہ سکتا تھا، وہ بھی گھر سے باہر نہ آسکتے تھے۔ شیدا باہر رہ کر انھیں ضرورت کی چیزیں پہنچانے لگا۔

طالع مند کو قرعہ اندازی کا علم ہوا تو شیدے کے بارے میں سارے شکوک و شبہات رفع ہو گئے۔ پھر اس نے جس لگن سے خدمت کی اس سے اس نے ان کا دل موہ لیا۔

مسلمان اب چاہتے تھے کہ حکومت غازی علم الدین کے اقدام کو درست سمجھے کیونکہ انھوں نے بجا طور پر اپنے پیارے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی گوارا نہیں کی۔ ان کا دل مجروح ہوا جس کے نتیجے میں بد باطن راجپال کا خاتمہ کیا۔ علم الدین اپنے فعل میں حق بجانب تھے۔

غازی علم الدین کی بے گناہی میں نہ صرف ہند بلکہ افغانستان تک میں بھی آوازیں اٹھنے لگیں اور علم الدین کی بریت پر زور دیا جانے لگا۔

صفحہ 62

غازی علم الدین شہید

ادھر آریہ سماج والے چلا رہے تھے کہ مسلمان ان کے فرائض منصبی میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ انھیں اسلام اور بانی اسلام ﷺ کی توہین کے لیے کھلی چھٹی دی جائے۔ وہ دل آزار تقریریں کرتے اور اشتعال انگیز کتابیں کھلم کھلا چھاپتے رہیں۔ مسلمان چپ چاپ یہ سب کچھ دیکھتے رہیں اور ......... نہ کریں۔

فرنگی تماشا دیکھ رہا تھا، اور طوفان بدتمیزی کو روک نہ رہا تھا۔

دونوں طرف آگ کے شعلے پھیل رہے تھے۔ نتیجہ واضح تھا۔ بالآخر دونوں قوموں کے رہنماؤں اور اخبار والوں نے سدباب کی تدبیر کی۔ باہمی افہام و تفہیم سے طے پایا کہ لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے تا کہ فساد نہ ہو جائے۔ ایسا ہوا تو گلی گلی، کوچہ کوچہ خون کی ندیاں بہہ نکلیں گی اور بڑے پیمانے پر معصوم انسان جانیں گنوا بیٹھیں گے۔ مولانا ظفر علی خاں سے استدعا کی کہ اپنے اخبار ”زمیندار“ میں اشتعال انگیز خبریں اور مضامین نہ چھاپیں۔ مولانا نے صاف صاف کہا، اگر راجپال کے خلاف پہلے ہی کارروائی کی جاتی تو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ اب جو بویا ہے سو کاٹو۔ تاہم وہ اس شرط پر مان گئے کہ ہندو اخبارات کی زبان بندی بھی کی جائے۔ ورنہ یہ سلسلہ تو یونہی چلتا رہے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے یقین دلایا کہ ہندو پریس کو بھی کنٹرول کیا جائے گا۔ تاہم معاملہ معمولی نہ تھا جسے لوگ دل سے اتار دیتے۔ لاہور میں علامہ اقبالؒ ، مولانا محمد علی ، سرشفیع ، مراتب علی شاہ اور میاں عبدالعزیز نے غازی علم الدین کے حق میں قرارداد پاس کروائی۔ کتنے ہی دوسرے شہروں میں بھی ایسی ہی قراردادیں منظور ہوئیں۔

”بخشی بشن داس نے کہا، میں ہندو ہوں اور ہندو بھی کون آریہ بلکہ آریہ سے بھی دس قدم آگے۔ میں نے قرآن شریف پڑھا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ تم کسی بت کو بھی گالی نہ دو۔ اس میں تمام مسلمانوں کا قصور نہیں ہے بلکہ برا فعل کرنے والا اپنے فعل کا خود ذمہ دار ہے۔ سوامی دیانند کو ایک ہندو برہمن نے زہر دے دیا۔ اس میں قصور برہمن کا تھا نہ کہ تمام ہندوؤں کا۔ مہاشے رام چند کو جموں میں ہندوؤں ہی نے لاٹھیاں مار مار کر مار دیا۔ اس میں قصور صرف ان ہندوؤں کا ہی تھا نہ کہ تمام ہندوستان کے ہندوؤں کا۔“

صفحہ 63

غازی علم الدین شہید

اس طرح ہندو مسلم کشیدگی میں کمی آئی اور اب توجہ اس امر پر دی جانے لگی کہ عدالت انصاف سے کام لے۔ آخر عدالت کا دروازہ کھلا اور غازی علم الدین کی قسمت کے فیصلے کی نوبت آئی۔ سب کی نظریں ایک نقطے پر جمع ہو گئیں۔ 10 اپریل کو پہلی پیشی ہوئی۔ غازی علم الدین کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا۔ کیسی تعجب کی بات ہے کہ اس سے پہلے بھی یہی صورت تھی۔ مرد غازی خدا بخش کو جہاں پر راج پال پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں مقدمہ چلا تو انھیں کوئی وکیل میسر نہ آیا۔ اسی طرح افغانستان کے تاجر غازی عبدالعزیز بھی راجپال پر قاتلانہ حملے کے الزام میں وکیل کے بغیر ہی عدالت میں پیش ہوئے۔

بہر حال تین مرتبہ ایسا ہوا۔ بعد ازاں غازی علم الدین کی طرف سے چوٹی کے وکیل پیش ہوئے۔ بعد ازاں خواجہ فیروز الدین بیرسٹر نے یہ مقدمہ لے لیا۔ ان کے معاون ڈاکٹر اے آر خالد تھے۔ فرخ حسین بیرسٹر تو پہلے سے شامل تھے۔ ان میں مسٹر سلیم اور دیگر وکلاء بھی شامل ہو گئے۔

وکلاء نے جرح کی اور صفائی میں دلائل دیے لیکن یہاں دلائل سننے والا اور انھیں درخور اعتنا نہ کرنے والا کون تھا؟ عدالت طوفان میل کی طرح مقدمے کی سماعت کرنے اور فیصلہ سنانے کے لیے بے چین تھی۔ صفائی کے وکلاء کی کوئی بات مانی نہ گئی، کوئی دلیل قبول نہ کی گئی اور 22 مئی کو سزائے موت سنا دی۔ فرخ حسین بیرسٹر بمبئی گئے اور ہندوستان کے ذہین ترین نوجوان وکیل محمد علی جناح سے ملے تا کہ وہ ہائیکورٹ میں غازی علم الدین کی اپیل کی پیروی کریں۔

جناح صاحب مان گئے۔ اس وقت ہائیکورٹ کی صورت یہ تھی کہ سر شادی لال چیف جسٹس تھا۔ جسٹس میاں شاہ دین ہمایوں جو شادی لال سے سینئر تھے، انتقال کر چکے تھے۔ ان کے پوتے میاں مظہر بشیر کے بقول میاں شاہ دین کے نام سے مال روڈ (شاہراہ قائد اعظم محمد علی جناح) پر شاہ دین بلڈنگ تعمیر ہوئی۔ قریب ہی 23 لارنس روڈ پر وہ کوٹھی ہے جہاں شاہ دین ہمایوں کے فرزند ارجمند میاں بشیر احمد رہے اور قائد اعظم تحریک پاکستان کے دوران میں قیام فرماتے تھے۔

میاں شاہ دین کی بے وقت موت کے باعث جونیئر سر شادی لال کو چیف جسٹس

صفحہ 64

غازی علم الدین شہید

بننے کا موقع مل گیا۔ جس کی وجہ سے غازی علم الدین کے مقدمے میں عام عدالت سے لے کر ہائی کورٹ تک میں کوئی فرق نہ رہا تھا۔ ایک ہی راگ الاپا جا رہا تھا۔ راجپال نے جو فتنہ کھڑا کیا، دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی، وہ درست ہے۔ غازی علم الدین نے شاتم رسول کو قتل کیا، وہ لائق گردن زدنی ہے۔

ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے دفاع میں دو نکات پیش کیے:

مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی جس سے غصے میں آ کر اس نے راجپال پر حملہ کیا۔ جرم اس پر ٹھونسا گیا ہے۔

(بحوالہ مقدمہ امیر بنام کراؤن نمبر 954 سال 1922ء)

لیکن فرنگی اور سر شادی لال کی موجودگی میں غازی علم الدین کو کیسے بخشا جا سکتا تھا۔ لہٰذا انھوں نے 7 جولائی 1929ء کو سزائے موت سنا دی۔

کب سے امت مسلمہ بالعموم اور اسلامیان ہند بالخصوص سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے۔ اس مقدمہ میں قانون اور اخلاق کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ انصاف کی آنکھ ہمیشہ اس فیصلے پر خون کے آنسو ٹپکائے گی۔ فرنگی عہد کی عدالتوں کے انتہائی جانبدارانہ اور غیر منصفانہ فیصلے پر اظہار افسوس کرے گی۔ فرنگی منصفوں نے بالعموم شاتم رسول کا کردار ادا کیا ہے۔ چند دیانتدار دانشوروں کو چھوڑ کر باقی اسی مہم میں لگے رہے کہ جہاں تک بن پڑے مسلمانوں کی دل آزاری کی جائے اور غیر مسلموں کی آنکھوں میں دنیا کی عظیم ترین ہستی، انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے انقلاب آفرین پروگرام لانے والے رسول عربی ﷺ کی شخصیت کو گرایا جائے ...... اسلام کی تبلیغ کو روکا جائے۔ قرآنی تعلیمات اور حیات رسول ﷺ کا مطالعہ کرنے کے بعد ممکن نہیں کہ غیر مسلم اسلام قبول کیے بغیر رہ سکے۔

آج بھی راجپال فرنگی کے عشرت کدوں میں ملعون رشدی کے نام سے زندگی بسر کر رہا ہے۔

❂ ❂ ❂

صفحہ 65

غازی علم الدین شہید

صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی

شہید محبت

علامہ اقبالؒ کا ایک مصرع ہے:

طے شود جادۂ صد سالہ بآہے گاہے

یعنی بعض اوقات ایک آہ کے فاصلے پر منزل ہوتی ہے یا لمحے بھر میں سو سال کا سفر طے ہو جاتا ہے، یہ مصرع زبان پر آتے ہی ذہن بے اختیار شہید ناموس نبی ﷺ غازی علم الدین کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، اس نے صدیوں کا سفر اس تیزی اور کامیابی سے طے کیا کہ ارباب زہد و تقویٰ اور اصحاب منبر و محراب بس دیکھتے ہی رہ گئے۔ اس نے ایک قدم انار کلی ہسپتال روڈ پر اٹھایا اور دوسرے قدم پر جنت الفردوس میں پہنچ گیا۔

یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے

اسی جنت کی تلاش میں زاہدوں اور عابدوں کے نجانے کتنے قافلے سرگرداں رہے، کیسے کیسے لوگ غاروں کے ہو کر رہ گئے، کئی پیشانیاں رگڑتے اور سر پٹختے رہے، ہزاروں سر بگریباں، چلہ کش اسی آرزو میں دنیا سے اٹھ گئے، لاکھوں طواف و سجود میں غرق رہے، بے شمار صوفی و ملا وقف دعا رہے، ان گنت پرہیز گار خیال جنت میں سرشار رہے، خدا ان سب کی محنت ضرور قبول کرے گا، لیکن غازی علم الدین کا مقسوم دیکھئے! نہ چلہ کیا نہ مجاہدہ، نہ حج کیا، نہ عمرہ کیا، نہ دیر میں قشقہ کھینچا، نہ حرم کا مجاور بنا، نہ مکتب میں داخلہ لیا نہ خانقاہ کا راستہ دیکھا، نہ

صفحہ 66

غازی علم الدین شہید

کنز قدوری کھول کر دیکھی نہ رازی و کشاف کا مطالعہ کیا نہ حزب البحر کا ورد کیا نہ اسم اعظم کا وظیفہ پڑھا، نہ علم و حکمت کے خم و پیچ میں الجھا نہ کسی حلقہ تربیت میں بیٹھا، نہ کلام و معانی سے واسطہ رہا نہ فلسفہ و منطق سے آشنا ہوا، نہ مسجد کے لوٹے بھرے نہ تبلیغی گشت کیا، نہ کبھی شیخی بگھاری نہ کبھی شوخی دکھائی، اسے پاکبازی کا خبط نہیں، محبوب حجازی ﷺ سے ربط تھا، وہ تسبیح بدست نہیں مست مئے الست تھا، وہ فقیہ مسند آرا نہیں، فقیر سر راہ تھا، یہی وجہ ہے کہ اس نے مصلحت کیشی سے نہیں، جذبہ درویشی سے کام لیا، چون و چناں کے دائروں سے نکل کر کون و مکاں کی وسعتوں میں جا پہنچا، وہم و گمان کی خاک جھاڑ کر ایمان و عشق کے نور میں ڈھل گیا، نجانے ہاتف غیب نے چپکے سے اس کے کان میں کیا بات کہی کہ پل بھر میں دل کی کائنات بدل گئی ۔

پروانے کا حال اس محفل میں، ہے قابل رشک اے اہل نظر
اک شب میں ہی یہ پیدا بھی ہوا، عاشق بھی ہوا اور مر بھی گیا

خدا معلوم کتنی ریاضت سے آغوش بسطام نے بایزیدؒ کی پرورش کی، خاک بغداد نے جنیدؒ کو جنم دیا، شہر قونیہ نے مولانا رومؒ کو بنایا، دہلی نے شاہ ولی اللہؒ کو پیدا کیا اور ادھر علم الدین ، بڑھئی کی دکان سے اٹھا اور ایک ہی جست میں زمان و مکان طے کر ڈالے۔

علامہ اقبالؒ کو جب غازی علم الدین کے بارے میں بتایا گیا کہ ایک اکیس سالہ اَن پڑھ اور مزدور پیشہ نوجوان نے گستاخ رسول راجپال کو بڑی جرأت اور پھرتی سے قتل بلکہ واصل جہنم کر دیا ہے تو حضرت علامہؒ نے گلو گیر لہجے میں فرمایا:

”اسی گلاں ای کردے رہ گئے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا“ (ہم باتیں ہی بناتے رہے اور بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا)

حضرت علامہؒ نے غالباً اسی موقع کے لیے کہا ہے:

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں نے

جس زمانے میں یہ رسوائے زمانہ کتاب لکھی اور چھاپی گئی، شہر لاہور میں ظاہر ہے حق ہو کے زلزلے ہوں گے، علم و فضل کے چرچے ہوں گے، تقریر و تحریر کے جلوے ہوں گے،

صفحہ 67

غازی علم الدین شہیدؒ

وعظ و نصیحت کے غلغلے ہوں گے، ادیبوں اور خطیبوں کے طنطنے ہوں گے، لیکن شاتم رسول کو اسفل السافلین میں پہنچانے کی سعادت کسی صوفی باصفا، کسی امام ادب وانشاء، کسی خطیب شعلہ نوا اور کسی سیاسی رہنما کے حصے میں نہیں آئی بلکہ ایسے مزدور کو ملی جو ممتاز دانشور نہیں معمولی کاریگر تھا، جس کی پیشانی پر علم وفضل کے آثار نہیں ہاتھوں میں لوہے کے اوزار تھے، خدا معلوم وہ نمازی تھا یا نہیں لیکن صحیح معنوں میں غازی نکلا، وہ کلاہ دستار کا آدمی نہیں تھا مگر بڑے کردار کا حامل بن گیا۔

غازی علم الدین شہیدؒ کو دیکھ کر کم از کم یہ یقین ضرور ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی عبادت کے طول وعرض پر نہیں جاتا بلکہ کسی کے جذبہ بے غرضی کو شرف قبولیت بخشتا ہے، اس کے ہاں شب زندہ داری سے زیادہ دل کی بے قراری کام دیتی ہے، وہ کسی کے ماتھے کا محراب نہیں دیکھتا نہاں خانہ قلب کا اضطراب دیکھتا ہے، اسے نیکیوں کے سفینے نہیں گوشہ چشم پر آنسوؤں کے چھینٹے درکار ہوتے ہیں، اسے کسی کی خوش بیانی متاثر نہیں کرتی، کسی کی بے زبانی پہ پیار آ جاتا ہے، اسے بوعلی کی حکمت کے مقابلے میں کسی بوڑھی کی غربت پسند آ جاتی ہے، اگر یہ بات نہ ہوتی تو غازی علم الدین کبھی مقام شہادت سے سرفراز نہ ہوتا۔

کسی غزوے کے دوران ایک شخص حضور ﷺ کے دست مبارک پر مسلمان ہوتا ہے، اور ساتھ ہی جہاد کی اجازت مانگتا ہے، چند لمحے قبل وہ سپاہ کفر میں شامل تھا، دو ساعتوں کے بعد وہ مجاہدین اسلام کا ساتھی بن جاتا ہے، دولت اسلام سے بہرہ مند اور جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر میدان میں اترتا ہے اور تھوڑی دیر بعد جام شہادت نوش کر جاتا ہے، جنگ کے خاتمے پر حضور ﷺ شہداء کی لاشوں کا معائنہ فرما رہے تھے جب ثابت بن اصیر ؓ کی لاش پر پہنچے تو آپ نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا ”اس شخص کو دیکھو جس نے اسلام قبول کیا مگر نہ نماز پڑھی، نہ اس نے روزہ رکھا، نہ اسے حج کرنے کا موقع ملا، مگر سیدھا جنت میں پہنچ گیا ۔“

یہی حال غازی علم الدین شہیدؒ کا ہے، نہ اس نے فن تجوید وقرأت سیکھا، نہ عربی فارسی پڑھی، نہ رومیؒ کی مثنوی دیکھی نہ زمحشری کی کشاف پڑھی، نہ دین کے اسرار و رموز سمجھے مگر ایک راز اس پر ایسا کھلا کہ مقدر کے بند کواڑ کھل گئے، قسمت کا دریچہ کیا کھلا کہ جنت کے دروازے

صفحہ 68

غازی علم الدین شہید

کھل گئے، یہ عقل خود بیں کا کرشمہ نہیں عشق خدا بیں کا معجزہ تھا، کل تک دکان پر ٹھک ٹھک کرنے والا علم الدین آج کروڑوں مسلمانوں کے سینے میں دل بن کر دھک دھک کر رہا ہے۔ غریب باپ کو کیا علم تھا کہ اس کی گود میں شہر محبت کا امیر پل رہا ہے، کچے گھروندے کو کیا خبر تھی کہ اس کے احاطے میں پکے عقیدے کا بچہ چل پھر رہا ہے، سنسان حویلی کو کیا پتہ تھا کہ ایمان کی دولت اس کے دامن میں بھری ہوئی ہے، محلہ چابک سوار کا علم الدین میدان عشق کا شہسوار نکلا۔

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

غازی علم الدین شہید 1908ء میں پیدا ہوئے اور 31 اکتوبر 1929ء کو تعزیر جرم عشق میں پھانسی پا کر ہمیشہ کے لیے گستاخان رسول کے گلے کی پھانس بن گئے۔ 21 برس کی عمر میں صدیوں کا سفر اس خوبی سے طے کیا کہ اس کی گردِ سفر کا ایک ایک ذرہ کاروانِ شوق کے لیے نشان منزل بن کر رہ گیا ہے، نجانے عشاق کے اور کتنے قافلے اس راہ سے گزریں گے لیکن ان پر لازم ہو گا کہ وہ علم الدین کے نقش کف پا کو چوم کر اپنی منزل کی بو سونگھیں۔

لوگ زندہ جاوید ہونے کی آرزو میں مر مر کر جیتے اور جی جی کر مرتے ہیں۔ انھیں جینے کا فن تو آ جاتا ہے، مرنے کا ڈھنگ نہیں جانتے۔ وہ غازی علم الدین کی روح سے پوچھیں کہ مر کر امر ہو جانے کا کیا راز ہے؟ فنا کے گھاٹ اتر کر لافانی بننے کا کیا طریقہ ہے؟ گمنام ہو کر شہرتِ دوام پانے کا کیا نسخہ ہے؟ کسی کے نام پر مٹ کر انمٹ ہونے کی رمز کیا ہے؟ جامِ شہادت کے ذریعے آب حیات پینے کا کیا گر ہے؟

غازیؒ کو میانوالی جیل میں پھانسی دی گئی، اور وہیں دفن بھی کر دیا گیا، انگریز کا خیال تھا کہ اگر لاش برسرِ عام لاہور لائی گئی، تو ضبط کے سب بندھن ٹوٹ جائیں گے، مگر مسلمانوں کا احتجاج پورے برصغیر میں شدید سے شدید تر ہو گیا، حکیم الامت علامہ اقبالؒ، سر محمد شفیع، میاں عبدالعزیز مالواڈہ اور مولانا غلام محی الدین قصوری گورنر سے ملے اور غازی کی لاش مسلمانوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، بالآخر 14 نومبر کو لاش لاہور پہنچی، جنازہ چوبرجی

صفحہ 69

غازی علم الدین شہیدؒ

جنازگاہ میں پہنچا، وہاں جنازہ کیا پہنچا، پورا لاہور پہنچ گیا، اس اعزاز و تکریم کو شہنشاہِ ہند ظہیر الدین بابر، مغل اعظم، شاہجہاں، غیاث الدین بلبن اور دوسرے سلاطین جہاں آج تک ترستے ہوں گے، جو اکرام و اعزاز ”ترکھاناں دے منڈے“ کو نصیب ہوا۔

عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

غازیؒ آج قبرستان میانی صاحب میں آسودہ خاک ہے۔ اس خاک کا ہر ذرہ سرمہ چشم عشاق ہے، لوگ بقائے دوام پانے کے لیے خضر کی تلاش میں ہیں جو انھیں چشمۂ حیواں تک پہنچا سکے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آبِ حیات کے دو گھونٹ انھیں حیاتِ جاودانی بخش دیں گے لیکن انھیں معلوم نہیں کہ حضورﷺ کے تلوؤں کا دھوون ہی آبِ حیات ہے، اس کا ایک قطرہ حیاتِ ابد عطا کر دیتا ہے، علم الدین اپنے دمِ خم سے نہیں، انہی کی خاکِ قدم بن کر زندہ پائندہ ہے۔

ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما
صفحہ 70

غازی علم الدین شہید

مولوی محمد سعید (سابق ایڈیٹر پاکستان ٹائمز)

غازی علم الدین شہید

انگریز کے دور میں آزادی کی لگن کے دوش بدوش کئی ناہنجار تحریکیں بھی زور پکڑ رہی تھیں۔ مذہبی مناظرے تو ایک عرصے سے ہوتے چلے آ رہے تھے۔ اور ان میں پھبتی کا رواج تھا۔ لیکن دشنام طرازی کی باقاعدہ ابتداء ہندوؤں کے ایک مخصوص فرقے آریہ سماج نے کی۔ مقصد محض مسلم آزاری تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف چند دریدہ دہن مصنفین نے اس شدت اور تواتر سے گندگی اچھالنا شروع کی کہ مسلمانوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ پوری مسلم قوم خیبر سے لے کر راس کماری تک شعلہ بدامن ہو گئی۔ انہی دریدہ دہن ناشروں میں ایک رسوائے زمانہ راجپال بھی تھا جس نے ایک کتاب ”رنگیلا رسول“ شائع کی۔ مصنف کا نام گپتجی رکھا گیا، عام خیال تھا کہ یہ کتاب پرتاپ کے مہاشہ کرشن کی ہے۔

مقدمہ چلا۔ مسلمانوں کے نقطہ نظر کی نمائندگی سر محمد شفیع نے کی۔ سر محمد شفیع اپنے وقت کے چوٹی کے وکلاء میں سے تھے۔ ان کی ہائی کورٹ میں تقریر اتنی ولولہ انگیز تھی کہ اگلے روز ان کے ازلی دشمن زمیندار تک نے ”سر شفیع کی عشق رسول ﷺ میں ڈوبی ہوئی تقریر“ کی سرخی لگائی۔ راجپال کو ہلکی سی سزا ہوئی۔ مسلمانوں کی آتش انتقام کو ہندو نواز انگریز ججوں کی اشک شوئی سرد نہ کر سکی۔ سزا کچھ یوں دی گئی کہ جیسے مسلمانوں کے سر پر احسان دھرا جا رہا ہے۔ دلی میں شردھانند نے اور لاہور میں راجپال نے اس تحریک کو پروان چڑھایا۔

صفحہ 71

غازی علم الدین شہید

جب ان کے خبیث باطن کے چرچے عام ہوئے اور پڑھے لکھے لوگوں کی محفلوں سے گزر کر عام مسلمانوں تک پہنچے تو ایک ہیجان بپا ہو گیا۔ چنانچہ راجپال پر حملے ہونا شروع ہوئے، دو مرتبہ تو وہ بچ نکلا اور حملہ آور لمبی سزائیں بھگتنے کے لیے جیلوں میں ڈال دیے گئے۔ حتیٰ کہ لاہور کے سریاں اوجھڑیاں والے بازار کے ایک بڑھئی طالع مند کے بیٹے علم الدین کو جب علم ہوا کہ حضور ﷺ کی شان میں ایسی بے محابا گستاخیاں ہو رہی ہیں تو اس نے تہیہ کر لیا کہ ایسے منہ پھٹ کا علاج قطع شہ رگ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

اپریل کی ایک دوپہر کو جب لاہور کے بازار اور گلیاں سنسان تھیں۔ علم الدین چوہٹہ مفتی باقر سے ہسپتال روڈ تک آیا۔ اس نے راجپال کو بیٹھے دیکھا۔ جب آگے بڑھا تو راجپال سہم گیا۔ لیکن پیشتر اس سے کہ وہ مدافعت کرتا، اس نوجوان کا خنجر اس کے جگر کے پار اتر چکا تھا۔ خون کو فوارے کی صورت میں بہتا چھوڑ کر یہ جوان لکڑی کے گوداموں تک خراماں خراماں چلا گیا۔ پھر یکا یک خیال آیا کہ کہیں وار اوچھا نہ پڑا ہو، اور راجپال کہیں پھر نہ بچ نکلا ہو۔ دل کی تشفی کے لیے لوٹا تو گرفتار کر لیا گیا۔ انارکلی کے ایک ذیلی بازار میں دن دہاڑے قتل اور وہ بھی ایک ایسے شخص کا جس کا نام ہر ایک کی زبان پر تھا۔ ہندو محلوں میں ہاہا کار مچ گئی۔ یہ خبر علم الدین کے محلے میں اس وقت پہنچی جب اس کی ماں اس کی سگائی کے لڈو بانٹ رہی تھی۔

مقدمہ چلا۔ سیشن جج نے پھانسی کی سزا دی۔ ہائیکورٹ میں اپیل ہوئی۔ علم الدین کی وکالت کے لیے بمبئی سے قائد اعظم محمد علی جناح تشریف لائے۔ مقدمہ کی سیاسی اور مذہبی نوعیت، جناح ایسے فاضل بیرسٹر کی آمد، ملک گیر دلچسپی، عدالت کے کمرے میں بلکہ احاطے میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ فین روڈ پر ہجوم جمع ہو رہا تھا، اور ہر لحظہ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس ہجوم میں آہنی جنگلے کے ساتھ مجھے بھی قدم رکھنے کی جگہ مل گئی۔ یکا یک آواز آئی، جناح آ رہے ہیں۔ ہم جنگلے کے سہارے ذرا اور اونچے ہو گئے۔ دور سے دیکھا کہ برآمدے میں جمع ہونے والے لوگ راستہ دے رہے ہیں، اور مسٹر جناح سیاہ گون میں ملبوس بڑے وقار کے ساتھ عدالت کے کمرے کی جانب جا رہے ہیں۔ ان کے پیچھے علم الدین کے والد طالع مند تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک سیاہ رنگ کی صندوقچی تھی۔

صفحہ 72

غازی علم الدین شہید

بحث کے دوران قائد اعظم نے زیریں عدالت کے فیصلے اور گواہوں کے بیانات کے پرخچے اڑا دیے۔ عدالت تک تو ہم لوگوں کی رسائی نہیں تھی کہ وہاں صوبے بھر کے نامور وکلاء کا ہجوم تھا۔ اگلے روز اخبارات میں جو روداد چھپی اس میں عاشقان رسول ﷺ کے لیے تازگی ایمان کا بڑا سامان تھا۔ ٹھیٹھ قانونی اعتبار سے قائد اعظم جناح کی تقریر نکتہ آفرینی اور اسلوب بیان کا شاہکار تھی۔

انگریز جج براڈوے نے دلائل سننے کے بعد وہی فیصلہ دیا جو متوقع تھا۔ علم الدین کی سزائے موت بحال رہی، اور اب لوگ اس کے واصل حق ہونے کے منتظر رہنے لگے۔ اسے میانوالی جیل میں منتقل کر دیا گیا، اور ایک صبح اسے تختہ دار پر کھینچ دیا گیا۔ اخباروں میں آخری لمحوں کی جو روداد چھپی، ان سے علم الدین کی پامردی نمایاں تھی۔ موت کو اس نے مردانہ وار خوش آمدید کہا اور بلند آواز سے ؎

بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

پڑھا اور جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔

مسلمانوں کے لیے یہ بڑے اندوہ والم کی بات تھی کہ ان کا ایک ہیرو یوں پنجاب کے ایک دور دراز علاقے میں موت کی نیند سلا دیا جائے، اور پھر اس کی قبر ان کی نگاہوں سے اوجھل رہے۔ چنانچہ غم وغصہ کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا اور باقاعدہ ایک تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔ وہ لوگ بھی باہم اکٹھے ہو گئے جن کی سیاسی راہیں مدتوں سے جدا جدا تھیں۔ اقبال، سر شفیع اور ظفر علی خان اس تحریک کے روح و رواں تھے۔ سر شفیع کی سرکار دوستی، ظفر علی خان کی سرکار دشمنی، اقبال کی بے نیازی، سبھی پس منظر میں چلی گئیں۔ قوم کے سامنے اب علم الدین کی نعش کا حصول تھا۔ چنانچہ تحریک کا نعرہ ”نعش لیں گے یا نعش بن جائیں گے“ ٹھہرا۔

اقبال اور سر شفیع گورنر سے ملے اور اسے یقین دلایا کہ مطالبہ حصول نعش تک محدود ہے۔ اور اگرچہ آج کے دن مسلمانوں کے جذبات کی کوئی حد نہیں پھر بھی غیر مسلموں کی عزت و ناموس یا مال و دولت ان کے ہاتھ سے محفوظ رہیں گے۔ گورنر نے اس یقین دہانی کے بعد

صفحہ 73

غازی علم الدین شہید

لاش مسلمانوں کے سپرد کر دینے کا فیصلہ دے دیا۔ دسمبر کی ایک یخ بستہ صبح کو نعش گاڑی میں لاہور لائی گئی۔ چھاؤنی کے سٹیشن پر پل کے نزدیک گاڑی رکی۔ اور گورا فوج کا ایک دستہ تابوت لے کے گورنر ہاؤس تک آیا۔ جہاں اسے مسلمان زعما کے سپرد کر دیا گیا۔

ایسا جنازہ جو علم الدین کو میسر آیا، تاریخ میں خال خال شخصیتوں کو میسر آیا ہوگا۔ لاہور کی نواحی بستیاں تو درکنار، دور دور کے مقامات سے لوگ اتنی تعداد میں آئے کہ اس شہر کے لیے ان کا سنبھالنا دشوار ہو گیا۔ وہ زمانہ ریلوے کی محدود آمد و رفت کا تھا۔ بسوں کی چلت ابھی عام نہیں ہوئی تھی۔ نجی موٹر گاڑیاں ابھی کم تھیں اور مسلمانوں کے یہاں قریب قریب مفقود تھیں۔ لیکن پھر بھی لوگ جالندھر، امرتسر، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، منٹگمری اور ملتان سے کھنچے چلے آ رہے تھے۔ نماز جنازہ کے لیے وہ میدان منتخب ہوا جسے چاند ماری کہتے تھے اور جہاں آج کل چوبرجی کے کوارٹر اور دیگر آبادی پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ دریا کی ترائی تک بڑا سرسبز تھا۔ حد نظر تک سبزی کے کھیت تھے۔ نماز جنازہ کے بعد جب تابوت اٹھایا گیا تو چار پائی سے لمبے لمبے بانس باندھ دیے گئے تھے تاکہ لوگ کندھا دینے کی سعادت سے محروم نہ رہیں۔

جنازے کے آگے آگے پھولوں سے لدی ہوئی ایک بیل گاڑی جا رہی تھی، جو ہجوم میں پھول تقسیم کرتی جا رہی تھی۔ جنازہ نزدیک آیا تو جو لوگ دیر سے کندھا دینے کے لیے منتظر کھڑے ہوتے، ایک ہی ریلے میں سڑک سے دور جا پہنچتے۔ چار پائی کے اردگرد ایک جم غفیر تھا۔

اکثر لوگوں نے کمر سے پٹکے باندھ رکھے تھے اور ایک عجیب سرمستی کے عالم میں لہرا رہے تھے، اور لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے جا رہے تھے۔ الا اللہ کی ضرب پر ہر بار معلوم ہوتا کہ لاہور کی زمین تھرا اٹھی ہے۔ پھولوں کی بارش میں جنازہ آہستہ آہستہ میانی صاحب کے وسط تک بڑھتا رہا۔ قبر کے قریب اژدہام اتنا بے پناہ تھا کہ بڑے بڑے تنومند قبر تک پہنچنے سے عاجز تھے۔ میں نے بدقت تمام جب جھانک کے دیکھا تو لحد میں پھولوں کی سیج بچھی ہوئی تھی۔

قریب ہی ایک وسیع گڑھے کے وسط میں مولانا ظفر علی خاں کناروں پر امنڈے ہوئے ہجوم کو انگریز کی ستم رانیوں کی داستان سنا رہے تھے۔ مجمع حسب معمول مسحور تھا۔ جب میاں سر محمد شفیع نے انھیں یہ یاد دلانے کی کوشش کی کہ یہ محل کسی سیاسی تقریر کا نہیں تو مولانا نے

صفحہ 74

غازی علم الدین شہیدؒ

بجلی کی طرح تڑپ کر کہا کہ جب تک انگریز کا ظلم ختم نہیں ہوتا، اس کی داستان کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ ہندو کو تو یہ افسانے سناتے عار محسوس نہیں ہوتی۔ ہم کیوں اتنے محجوب ہوں؟ وہ آزادی کے نغمے الاپتے ہیں۔ ہم غلامی پر کیونکر قانع رہیں؟ سر شفیع نے مولانا کے تیور دیکھے تو ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی طرح وہی راستہ اختیار کیا جو مولانا کا ہر عافیت کوش حریف ایسے موقعوں پر اختیار کیا کرتا تھا۔ تقریر جاری رہی تا آنکہ علم الدین کا جسد خاکی لحد میں اتار دیا گیا۔ اور لاہور کا یہ غیر معروف نجار زادہ چند دنوں میں عالمگیر شہرت پا کر اسی شہر کی خاک میں آسودۂ راحت ہو گیا۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف سب وشتم کی تحریک جو ہندوؤں میں اٹھی، وہ اس تحریک کا گھناؤنا پہلو تھی، جس کی بناء عیسائی علماء نے تحقیق کے پردے میں ڈالی تھی، اور جس کے دوران وہ وہ جھوٹ تراشے گئے کہ افشائے حق ہونے کے بعد خود ان کے ہم مذہبوں کی گردنیں ندامت سے جھک گئیں۔ آج یورپ کے علماء میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جنھوں نے اس تحقیق و تفتیش کو خود پائے حقارت سے ٹھکرا دیا ہے۔ انگریز جب آزادی مذہب کی آڑ میں غیر جانبدار ہو گیا تو گھٹیا قسم کے چند ہندو مصنفوں اور ریفارمروں نے پیغمبرِ اسلام ﷺ پر نجاست اچھالنے کو پیشہ بنا لیا۔ بہر کیف دلی میں عبدالرشید کے ہاتھوں شردھانند کیفر کردار کو پہنچا۔ لاہور میں علم الدین کے ہاتھوں راجپال اور کراچی میں عبدالقیوم کے ہاتھوں شاتمان رسول ﷺ کے اس انجام نے اس تحریک کا خاتمہ کر دیا۔

گاؤں میں سناتن دھرمیوں کی پاٹھ شالہ کے سامنے ایک آریہ سماجی دیوان چند بھائیہ آٹے کی چکی چلایا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ اچھی رسم و راہ تھی جس روز عبدالقیوم نے کراچی میں پراچین کہانی کے مصنف کو قتل کیا، اتفاق سے میرا ادھر سے گزر ہوا۔ مجھے روک کے کہنے لگے: یار سنو! یہ قرآن کی تعلیم میں نقص ہے یا مسلمانوں میں قوتِ برداشت کی کمی ہے کہ مذہبی تحقیق کا جواب انھوں نے ہمیشہ خنجر سے دیا ہے۔‘‘ میں نے کہا کہ اگر تحقیق گالی دینے کی نیت سے کی جائے تو؟ ابھی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ ایک معمر سکھ آ گئے۔ پوچھنے لگے کیا بات ہے؟ میں نے بھائیہ کے سوال اور اپنے جواب کو دہرایا اور ان کی رائے پوچھی۔ وہ جوش

صفحہ 75

غازی علم الدین شہید

میں آ کے کہنے لگے کہ اگر میرے گوروؤں میں سے کسی کو گالی دی جائے تو میں تو سر اتار کر......

میں نے کہا: ”بھائیہ جی سن لیجیے۔“

بہرکیف مسلمان قوم نے اپنے غیظ و غضب کے اظہار میں کسی مداہنت کو روا نہیں رکھا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ایک جلسہ میں برملا کہہ دیا: ”اللہ سے گستاخی کرنے والوں سے تو وہ خود نپٹ لے گا۔ لیکن رسول کی طرف اٹھنے والی انگلی کو ہی نہیں، شانے سے بازو تک کو کاٹ دیا جائے گا۔“

یہ محض حادثہ نہیں تھا کہ خلافت ایجی ٹیشن کا اتحاد و اتفاق ہندو مسلم فسادات کے خونیں سلسلے کی نذر ہو گیا، اور آزادی کی قرارداد پاس ہوتے ہی شاتمان رسول کی ایک کھیپ پیدا ہو گئی۔ صاف عیاں ہو چکا تھا کہ، یا آزادی کا خواب پریشان کیا جا رہا ہے یا آنے والے دور کی ایک دھندلی سی تصویر دکھائی جا رہی ہے۔

بہرکیف کچھ عوامل ضرور ایسے کارفرما تھے، خواہ وہ نفسیاتی ہوں یا سیاسی، جو دو قوموں کے اتحاد کے درمیان متواتر حائل ہو رہے تھے۔

مسلمانوں کو اس حقیقت کے اظہار میں قطعی حجاب نہیں تھا کہ وہ اسلام سے وابستگی کو اپنے لیے وجہ افتخار سمجھتے ہیں۔ ہندو اس طرز عمل کو فرسودہ خیالی سمجھتے تھے۔ تاہم عملاً خود ان کے لیے منبع حیات ہندو دھرم تھا۔ قول و عمل میں یہ تضاد ہندوؤں کے ساتھ معاملہ کرنے والی ہر قوم کے لیے بڑی پریشانی کا موجب رہا ہے۔ مسلمانوں کا رویہ اکثر و بیشتر اس دو عملی سے مبرا تھا۔ ان کے کانگرسی پکے کانگرسی تھے۔ ان کے مسلم لیگی پکے مسلم لیگی، جو ہندو سے ہر معاملہ پیشگی طے کرنے پر مصر تھے اور ان کے ٹوڈی ایسے ٹوڈی تھے کہ انگریز ہی کے سنگ آستان کو اپنی منزل سمجھتے تھے۔ ہندو قوم عموماً مذہب سے بیگانگی کا (یا کم از کم کشادہ خیالی کا) اظہار کرتی، لیکن اس کے جسم کی ہر شکن زنار کے پیچ میں بندھی ہوئی دکھائی دیتی۔ چنانچہ ان میں ایسے مذہبی اور سیاسی فرقوں کی کمی نہ تھی، جو اوروں کی دل آزاری میں بڑی تسکین پاتے۔

ایک مرتبہ ہمارے ہاں گاؤں میں ایک آریہ سماجی پرچارک آئے۔ ان کی رات کی تقریر کا اعلان گاؤں میں منادی سے کیا گیا، اور ہر چوک میں یہ آواز لگائی گئی کہ آج رات

صفحہ 76

غازی علم الدین شہیدؒ

آریہ سماج میں پنڈت بدھ دیو تقریر کریں گے۔ موضوع ہے: ”وید الہامی ہیں یا قرآن؟“ میں نے آریہ منتری لالہ ہری رام سے کہا کہ اگر اعلان صرف اتنا ہوتا کہ پنڈت بدھ دیو ثابت کریں گے کہ وید الہامی کتاب ہے، تو اس میں کیا حرج تھا؟ کہنے لگے کہ بات اس طرح صاف نہیں ہوتی تھی۔ گویا ہر مسئلہ ان کے یہاں چند دنوں میں غیظ و غضب پیدا کیے بغیر صاف نہیں ہو سکتا تھا۔ مناظروں کی فضا میں عجیب عجیب توجیہات سننے میں آتیں۔ ایک مرتبہ ایک پنڈت جی وشنو مہاراج کے اوصاف بیان کر رہے تھے کہ دیکھئے مولانا روم کی مثنوی کی ابتداء وشنو کے نام سے ہوتی ہے۔ بشنو از نے حکایت می کند” یعنی وشنو بانسری بجا رہا ہے۔ یارانِ وطن کے حلقوں میں اسلام کا تمسخر عام ہو چکا تھا۔ اس ایک رویے نے جتنے سیاسی شکوک پیدا کیے کسی اور مسئلہ نے نہیں کیے۔ اگرچہ اقتصادی پسماندگی اور سماجی بائیکاٹ کسی طرح کم نہیں تھے، موخر الذکر تو مذہب اور اقتصاد دونوں کی پیداوار تھا۔

صفحہ 77

76 لہ موضوع ہے: ”وید الہامی ہیں یا قرآن؟“ میں کا اعلان صرف اتنا ہوتا کہ پنڈت بدھ دیو ثابت ث میں کیا حرج تھا؟ کہنے لگے کہ بات اس طرح میں چند دنوں میں غیظ و غضب پیدا کیے بغیر صاف عجیب توجیہات سننے میں آتیں۔ ایک مرتبہ ایک کر رہے تھے کہ دیکھئے مولانا روم کی مثنوی کی ابتداء بات می کند“ یعنی وشنو بانسری بجا رہا ہے۔ یاران تھا۔ اس ایک رویے نے جتنے سیاسی شکوک پیدا معاشی پسماندگی اور سماجی بائیکاٹ کسی طرح کم نہیں اور تھا۔

غازی علم الدین شہیدؒ

محمد ابراہیم شاہ

غازی علم الدین شہیدؒ

پہلی جنگ عظیم کے بعد مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی خاطر ہندوؤں نے دل آزار لٹریچر شائع کرنا شروع کر دیا۔ وہ کبھی تو کعبہ کے کسی متولی کا فرضی نام لکھ کر یہ وصیت شائع کر دیتے کہ قیامت قریب ہے، نیک کام کرو اور اس وصیت کی چار نقلیں کر کے اپنے ساتھیوں کو دو، ورنہ درگاہ الٰہی سے معتوب ہو جاؤ گے۔ ہندوؤں کی نیت یہ تھی کہ مسلمان سارا دن اسی نقل نویسی میں مشغول رہ کر دین اور دنیا کا کوئی اور کام نہ کر سکیں۔

اسی طرح سوامی دیانند کے ایک چیلے مہاشہ کرشن (ایڈیٹر ”پرتاپ“ لاہور) نے ایک نہایت ہی دل آزار کتاب ”رنگیلا رسول“ لکھی جس میں اس ننگ انسانیت نے رسالتمآب ﷺ کے متعلق اتنی دل آزار باتیں لکھیں کہ پڑھنے اور سننے سے ہر مسلمان مر جانے کی دعا کرے۔ اس کتاب میں قرآن کریم کی آیات اور احادیث قدسی کی غلط تاویلات کی گئی تھیں، وہ مسلمانوں کے ایمان کی پختگی سے بھی واقف تھا اس لیے اس نے مسلمانوں کے غم و غصے سے بچنے کی خاطر اپنے بجائے پروفیسر پنڈت چمپوپتی لال ایم اے کا فرضی نام بطور مصنف تحریر کر دیا تھا تاکہ اس کے خلاف کوئی اخلاقی یا قانونی کارروائی نہ کی جا سکے تاہم اس کتاب پر راج پال ناشر ہسپتال روڈ لاہور کا نام و پتہ درست لکھا ہوا تھا۔ مسلمانوں نے از راہ اخلاق اس سے ایسی ہزل کتاب کے تلف کرنے کی درخواست کی مگر اس نے ہندوؤں کی پشت

صفحہ 78

غازی علم الدین شہیدؒ

پناہی کے باعث مسلمانوں کے اس جائز مطالبے پر غور کرنے سے قطعی انکار کر دیا۔ اس پر مسلمانوں نے 153 الف کے تحت اس پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ دائر کر دیا۔ مسٹر لوئیس ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے راج پال کو چھ ماہ قید کی سزا دی مگر اس نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی، جہاں دشمن اسلام اور حد درجہ متعصب چیف جسٹس سر شادی لال کی ذاتی سفارش پر جسٹس کنور دلیپ سنگھ مسیح نے ملزم کو رہا کر دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کسی پیغمبر بالخصوص آقائے کائنات ہادیٔ برحق حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین (نعوذ باللہ) کوئی جرم نہیں۔ اس پر غیور مسلمان انتہائی جوش میں آگئے۔

شاہ جی کی للکار

اس سلسلے میں متعدد جلسے ہوئے اور جلوس نکلے۔ 4 اور 5 جولائی 1927ء کی درمیانی رات کو مسلمانان لاہور کی طرف سے دہلی دروازہ کے باغ میں ایک معرکہ خیز جلسے کا اعلان کیا گیا، جس میں شاہ جی، مولانا احمد سعید، مولانا مفتی کفایت اللہ، چودھری افضل حق، خواجہ عبدالرحمن غازی نے تقریریں کرنی تھیں۔ لیکن اسی روز لاہور کے ڈپٹی کمشنر مسٹر اوگلوی نے دفعہ 144 لگا کر جلسے کو ممنوع قرار دے دیا۔ مگر شاہ جی کی تجویز پر جلسہ میاں عبدالرحیم کے احاطہ میں منعقد کیا گیا۔ (یہ احاطہ موجودہ مزار حضرت شاہ محمد غوثؒ بیرون دہلی دروازہ کے بالمقابل واقع ہے، اس وسیع احاطہ میں ہزاروں لوگ جمع ہو گئے اور جلسے کی صدارت چودھری افضل حق نے کی۔ فوج اور پولیس کے علاوہ مسٹر اوگلوی ذاتی طور پر بھی احاطہ کے باہر موجود تھا اور اندر آ کر اعلان کیا کہ:

”دفعہ 144 کے باعث یہ مجمع خلاف قانون ہے۔ آپ لوگ پانچ منٹ کے اندر یہاں سے چلے جائیں ورنہ مجھے گولی چلانے کا حکم دینا پڑے گا۔“

ڈپٹی کمشنر کے اس اعلان پر خواجہ عبدالرحمن غازی نے ڈپٹی کمشنر کو انگریزی میں کہا:

”ہم اس قانون کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہیں، جو قانون ہمیں ناموس پیغمبر کی حفاظت کی ضمانت نہیں دیتا۔ تم جو چاہو کرو، ہم یہ جلسہ

صفحہ 79

غازی علم الدین شہیدؒ

کریں گے۔“

اس کے بعد شاہ جی نے تقریر کرتے ہوئے کہا:

”آج ہم سب فخرِ رُسل ﷺ کی ناموس کو برقرار رکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ بنی نوع انسان کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرے میں ہے۔ آج اس جلیل القدر ہستی کی ناموس معرضِ خطر میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔

آج مفتی کفایت اللہ صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب کے دروازے پر اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا آئیں اور فرمایا کہ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں؟ ..... ارے دیکھو تو ! اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا دروازے پر تو کھڑی نہیں؟“

یہ سن کر حاضرین میں کہرام مچ گیا اور مسلمان ڈھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ شاہ جی نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا:

”تمہاری محبت کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو، لیکن کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج سبز گنبد مکیں رسول اللہ ﷺ تڑپ رہے ہیں اور خدیجہؓ اور عائشہؓ پریشان ہیں۔ بتاؤ! تمھارے دلوں میں امہات المومنینؓ کی کیا وقعت ہے؟ ..... آج ام المومنین عائشہؓ تم سے اپنے حق کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ وہی جنھیں رسول اللہ حمیرا کہہ کر پکارتے تھے۔ جنھوں نے سیّدِ دو عالم ﷺ کو رحلت کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ اگر تم خدیجہؓ اور عائشہؓ کی ناموس کی خاطر جانیں دے دو تو کچھ کم فخر کی بات نہیں۔ یاد رکھو! یہ موت آئے گی، تو پیامِ حیات لے کر آئے گی۔“

(روزنامہ زمیندار، جولائی 1927ء)

یہ تقریر اس قدر مؤثر اور جذباتی تھی کہ تمام مجمع میں حشر بپا تھا۔ شاہ صاحب کی تقریر

صفحہ 80

غازی علم الدین شہید

پر لوگوں کے جتھے باغ میں جلسہ گاہ جاتے اور گرفتار ہو جاتے۔ ان پر لاٹھی چارج بھی کیا جاتا۔ یہ سلسلہ تھوڑی دیر جاری رہا۔ بعد ازاں شاہ جی نے عوام کو اپنے جذبات پر قابو رکھنے کی اپیل کی اور کہا:

”ہمارا موقف قتل و غارت گری نہیں۔ بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ برطانوی حکومت تعزیرات ہند میں ایک ایسی دفعہ کا اضافہ کرے جس کی رو سے بانیانِ مذاہب کے خلاف تقریر و تحریر کی پابندی ہو اور اس کی خلاف ورزی کرنے والا مجرم قرار پائے۔“

اس قرارداد کے بعد جلسہ برخاست کر دیا گیا لیکن عوام کو پرامن طور پر احاطہ سے نکالنے کے لیے شاہ جی خود دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ ان کے سامنے مسٹر اوگلوی کھڑے تھے۔ شاہ جی اپنے مخصوص انداز میں لوگوں کو پرامن رہنے کی تلقین کر رہے تھے اور ساتھ ہی مسٹر اوگلوی سے پنجابی میں کہا:

”اوگلوی! اوکھے گھر نیندرہ پایا ای“! (اوگلوی! تم نے مشکل گھرانے سے ٹکر لی ہے۔“)

(حیات امیر شریعت از مرزا جانباز ص 103,104)

یہ سنتے ہی تمام مسلمانوں کی غیرت جوش میں آ گئی اور جلسہ گاہ میں موجود تمام مسلمان شہادت کے جذبے سے سرشار ہو کر نہ صرف راج پال اور کنور دلیپ سنگھ مسیح بلکہ حکومت کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے سول سیکرٹریٹ کی طرف چل پڑے۔ حکومت کے ایما پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے فوری طور پر دفعہ 144 نافذ کر کے جلوس کو منتشر کرنے کا حکم دیا۔ مگر یہاں قید و بند کی صعوبت کی کس کو پروا تھی۔ یہاں تو سب رسول عربی ﷺ پر اپنی جانیں نثار کرنے کی تمنا رکھتے تھے۔ حکومت سب لوگوں کو تو گرفتار نہ کرسکی تاہم سرکردہ افراد کو حراست میں لے کر فوری طور پر جیل پہنچا دیا۔

ان دنوں مسلمانوں کا صرف ایک انگریزی اخبار ”مسلم آؤٹ لک“ تھا۔ اخبار نے جسٹس کنور دلیپ سنگھ مسیح کے فیصلے پر نکتہ چینی کی اور لکھا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا فرقہ دارانہ دل آزاری ہو سکتی ہے کہ دنیا کا ہر مسلمان کبیدہ خاطر ہے، بلکہ ناموسِ حبیب کبریا ﷺ پر

صفحہ 81

غازی علم الدین شہید

اپنے خون کا آخری قطرہ تک نثار کرنے کے لیے تیار ہے۔ اخبار نے اسلامی عقیدے کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ مسلمان اپنی زندگی کو حرمت امام المرسلین ﷺ پر نثار کرنا فخر سمجھتا ہے۔ قانون میں اس امر کی واضح اور کافی گنجائش موجود ہے کہ وہ راج پال جیسے دریدہ دہن اور بے غیرت ملیچھ کا محاسبہ کرے۔ اخبار نے غیر منصفانہ فیصلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھا کہ مسلمان ایک زندہ اور فعال قوم ہے۔ اگر عدالت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی تو کوئی عاشق رسول ﷺ اس منہ زور کا پیٹ چاک کر دے گا۔

فرنگی حکومت نے اپنی طاقت کے زعم میں مسلمانوں کے ایمان اور جوش کا صحیح اندازہ لگانے کی کوشش نہ کی اور اس تعمیری نکتہ چینی اور بروقت انتباہ سے استفادہ کرنے کی بجائے اسے توہین عدالت تصور کیا۔ اخبار مذکورہ کے مالک نور الحق اور اس کے مدیر سید دلاور شاہ کو دو دو ماہ قید اور ایک ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا دی۔ 1930ء میں ایک من گندم کی قیمت صرف ایک روپیہ تھی۔ اس لحاظ سے جرمانے کی یہ رقم بہت زیادہ تھی۔

اس پر مسلمانوں کے دل میں یہ بات جڑ پکڑ گئی کہ فرنگی حکومت شرافت سے کوئی بات ماننے کو تیار نہیں اور صرف احتجاجی جلسے منعقد کرنا اور جلوس نکالنا جگ ہنسائی کا سبب بنے گا۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے ہرگز نہیں مانیں گے۔ اس لیے اس مسئلے کا کوئی نظریاتی حل نہیں بلکہ کوئی عملی حل سوچا جائے۔ انھوں نے نعرہ لگایا کہ جب تک ایک مسلمان بچہ بھی زندہ ہے، اس کے نبی ﷺ کی طرف کوئی انگلی تک نہ اٹھا سکے گا۔

غازی خدا بخش اکو جہا

آپ کے والد کا اسم گرامی محمد اکرم تھا۔ معروف کشمیری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ رہائش اندرون یکی دروازہ لاہور میں تھی۔ بڑے خوبصورت جوان تھے۔ آپ کا جسم فربہ، رنگ سرخ و سپید، قد لمبا اور مضبوط و توانا تھے۔ پیشہ کے لحاظ سے شیر فروش تھے۔ جلد سازی کا بھی کام کر لیتے تھے۔

ملعون راجپال نے رنگیلا رسول نامی کتاب لکھی جس سے مسلمانوں میں سخت غیظ و غضب پایا جاتا تھا۔ ایک دن آپ نے ناموس رسالت ﷺ پر تقریر سنی تو حالات سے آگاہی

صفحہ 82

غازی علم الدین شہید

ہوئی۔ یہ سن کر تڑپ اٹھے کہ خبیث راجپال نے اس کے آقا و مولا ﷺ پر کتاب لکھ کر انتہائی درجہ کی توہین کی ہے۔

24 ستمبر 1927ء کی صبح جہنمی راجپال اپنی دکان پر بیٹھا کاروبار میں مصروف تھا کہ غازی خدا بخش اکو جہا آئے اور اس پر تیز دھار چاقو سے حملہ کر کے اسے مضروب کر دیا۔ وہ بد بخت تیزی سے اٹھا اور جان بچانے کے لیے بھاگ کھڑا ہوا اور قتل ہونے سے بچ گیا۔

پولیس نے غازی خدا بخش اکو جہا کو زیر دفعہ 307 الف تعزیرات ہند گرفتار کر لیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور ی۔ ایم۔ بی اوگلوئی کی عدالت میں مقدمہ سماعت شروع ہوئی۔ غازی خدا بخش اکو جہا نے اپنی جانب سے وکیل صفائی مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔

راجپال مستغیث نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا۔

”مجھ پر یہ حملہ کتاب کی اشاعت اور مسلمانوں کے ایجی ٹیشن کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ مجھے خطرہ ہے کہ ملزم خدا بخش مجھے جان سے مار دے گا۔“

”اور کچھ کہنا چاہتے ہو۔“ جج نے پوچھا۔

راجپال بولا۔ ”حملہ کے وقت ملزم نے چلا کر کہا تھا کافر کے بچے! آج تو میرے ہاتھ آیا ہے میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“

اس پر جج نے غازی خدا بخش اکو جہا سے استفسار کیا تو آپ نے گرجدار آواز میں کہا۔

”میں مسلمان ہوں، ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ میرا فرض ہے۔ میں اپنے آقا و مولا ﷺ کی توہین ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔“

پھر لعین راجپال کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

”اس نے میرے رسول مکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، اس لیے میں نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا لیکن یہ کم بخت اس وقت میرے ہاتھ سے بچ نکلا۔“

اقرار جرم کے بعد غازی خدا بخش اکو جہا کو سات سال قید سخت جس میں تین ماہ قید تنہائی بھی شامل تھی، کی سزا سنائی گئی۔ اور میعاد قید کے اختتام پر پانچ پانچ ہزار روپے کی تین

صفحہ 83

غازی علم الدین شہید

ضمانتیں حفظ امن کے لیے داخل کرنے کا حکم دیا۔

غزنوی کا وار

راجپال کو جہنم واصل کرنے کے لیے غازی عبدالعزیز خان کوہاٹ سے لاہور 19 اکتوبر 1927ء کو آیا اور لوگوں سے دریافت کرتے کرتے اس بدذات ناشر کی دکان پر پہنچ گیا۔ اتفاق سے اس وقت راج پال دکان میں موجود نہیں تھا۔ اس کی جگہ اس کے دوست جتندر داس اور سوامی ستیانند بیٹھے تھے۔ غازی موصوف نے سوامی ستیانند کو راجپال سمجھا اور میان سے تلوار نکال کر ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا۔ اس کے بعد خود ہی چلا کر کہہ دیا کہ میں نے موذی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ میرے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ غازی عبدالعزیز نے عدالت میں یہ بیان دیا:

”میرا نام عبدالعزیز ہے۔ میں غزنی کا رہنے والا ہوں۔ میرے وطن کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس نے سلطان محمود غزنویؒ جیسا مجاہد، مبلغ اور بت شکن پیدا کیا تھا جس نے اس برصغیر پر کم و بیش سترہ حملے کر کے کفر و الحاد کا خاتمہ کیا تھا اور اس بت کدہ کو اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔ یہی وہ بت شکن ہے جس کے سامنے سومنات کے پجاریوں نے دولت کے انبار لگا دیے تھے اور کہا تھا کہ مہاراج یہ ساری دولت لے لیں مگر ہمارے بتوں کو کوئی گزند نہ پہنچائیں۔ لیکن اسلام کے اس فدائی نے بلا جھجک کہا تھا کہ مسلمان بت شکن ہے، بت فروش نہیں۔ یہ کہہ کر اس نے سومنات کے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ اور علامہ اقبالؒ نے اس کے استغنا اور ایمان کامل پر فخر کرتے ہوئے فرمایا:

قوم اپنی جو زر و مال جہاں پر مرتی
بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی

یہی وہ غازی تھا جس نے سنا تھا کہ ملتان میں ایک قرامطہ فرقہ ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہلواتا ہے، لیکن دراصل کافر اور بت پرست ہے۔ ان کی ریاکاری کی انتہا یہ ہے کہ وہ فرقہ نماز تو باقاعدگی سے اور باجماعت پڑھتا ہے لیکن سامنے نعوذ باللہ حضرت رسول کریم ﷺ کی ایک فرضی شبیہ بنا کر رکھتا ہے۔ محمود غزنوی یہ اندوہناک رپورٹ ملتے ہی بگولے کی طرح

صفحہ 84

غازی علم الدین شہید

یہاں پہنچا تھا اور اس نے قرمطی داؤد حاکم ملتان کا خاتمہ کر کے وہاں اسلام کا پرچم لہرایا تھا۔ مجھے خواب میں سلطان محمود غزنویؒ نے حکم دیا تھا کہ جاؤ اور اس ملعون کے پرخچے اڑا کر ثواب دارین حاصل کرو۔ مجھے افسوس ہے کہ اصل خبیث کو میں جہنم واصل نہ کر سکا۔“

غازی کا پُر مغز اور عالمانہ خطبہ سن کر ہر مسلمان شخص عش عش کر اٹھا۔ فرنگی حکومت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ایم بی اوگلوی نے قانونی تقاضوں اور کچھ مصالحتوں کی بنا پر عبد العزیز خان غزنوی کو شہادت کا اعزاز بخشنے کی بجائے صرف چودہ سال قید کی سزا دی۔

راجپال کی غلط فہمی

پے در پے حملوں کی وجہ سے راجپال نے خود کو ہر وقت خطرہ میں محسوس کیا۔ اس کا کاروبار بھی متاثر ہونے لگا۔ اس نے حکومت سے استدعا کی کہ اس کی جان کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے پولیس کے دو ہندو سپاہی اور ایک سکھ حوالدار اس کی نگہداشت پر مامور کر دیے۔

راجپال نے پہرے کی زندگی کو حراست کی زندگی سمجھا۔ چنانچہ وہ لاہور سے دوسرے شہروں میں تفریح کے لیے چلا گیا اور دو چار ماہ کے بعد واپس آ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ اب معاملہ رفع دفع ہو چکا ہو گا اور اب مسلمانوں کے جذبات سرد ہو چکے ہوں گے۔ اس نے کتب فروشی کا کاروبار پھر شروع کر دیا اور پولیس کی امداد طلب نہ کی۔

غیبی آواز

غازی علم الدین 8 ذیقعد 1326ھ مطابق 4 دسمبر 1908ء بروز جمعرات محلہ چابک سواراں محلہ سرفروشاں لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا پیدائشی مکان اسی بازار کے مغربی کنارے پر ہے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم تکیہ سادھواں کی مسجد سے اور بازار نوہریاں اندرون اکبری دروازہ بابا کالو کے مکتب سے حاصل کی۔ ان کے والد کا نام میاں طالع مند تھا جو کسب معاش کی خاطر نجار، یعنی لکڑی کا کام کرتے تھے ان کا سلسلہ نسب سات پشتوں سے برخوردار (بھائی لہنا سنگھ) سے جا ملتا ہے۔ حضرت برخوردار پہلے سکھ مت کے پیرو تھے۔ شہنشاہ جہانگیر کے زمانے میں انھوں نے مسلمان علماء کی صحبت میں رہ کر اسلام قبول کیا اور دینی تعلیم

صفحہ 85

غازی علم دین شہیدؒ

حاصل کر کے ساری عمر تبلیغ اسلام میں بسر کی۔ غازی صاحب کے والد میاں طالع مند ایک چابک دست فنکار تھے۔ غازی علم الدین یکم جنوری 1928ء کو اپنے والد صاحب کے ساتھ کوہاٹ چلے گئے اور وہیں بازار میں فرنیچر کا کاروبار کرنے لگے۔ مارچ 1929ء میں ان کے بڑے بھائی میاں محمد الدین کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ غازی صاحب نومولود بھتیجی کو دیکھنے کے لیے لاہور آئے۔ انہی دنوں ان کی منگنی ان کے ماموں کی بیٹی سے ہوئی۔

بہار کا موسم تھا۔ 16 اپریل 1929ء بروز ہفتہ وہ اپنے دوستوں کے سامنے بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ یکا یک ان کے کانوں میں آواز آئی۔ "ہے کوئی جانباز جو حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی ناموس کی حفاظت کرے۔" غازی صاحب نے فرط محبت سے لبریز ہو کر پکارا: "لبیک یا ام المومنینؓ لبیک"

گستاخ کا خاتمہ

غازی علم دین نے ایک تیز چھرا ہاتھ میں لیا۔ تقریباً ایک بجے کے بعد دوپہر راجپال کی دکان واقع ہسپتال روڈ نزد مزار قطب الدین ایبک لاہور پہنچے۔ اتفاق سے وہ موذی اس وقت دکان میں لیٹا ہوا تھا۔ انھوں نے اسے للکارا اور کہا: "اپنے جرم کی معافی مانگو۔ دل آزار کتاب کو فوراً تلف کرنے کا وعدہ کرو اور آئندہ ایسی کمینہ حرکتوں کے کرنے سے توبہ کرو۔ ورنہ مقابلے کے لیے تیار ہو جاؤ۔" راج پال نے غازی علم الدین کے اس انتباہ کو محض گیدڑ بھبکی سمجھا اور یہ خیال کیا کہ یہ از خود واپس چلا جائے گا۔ اس لیے وہ خاموش بیٹھا رہا۔ اس پر غازی علم الدین نے بھرپور وار کیا کہ وہ بغیر آواز نکالے جہنم رسید ہو گیا۔ اس وقت دکان پر راج پال کے دو ملازم بھگت رام اور کیدار ناتھ بھی موجود تھے جو کتابوں کو ترتیب دے رہے تھے۔ انھوں نے غازی کا اعلان بھی سنا اور حملہ کرتے بھی دیکھا، مگر ان پر ایسی ہیبت طاری ہو گئی کہ وہ بت بن کر کھڑے رہے لیکن اپنے آقا کو بچانے کے لیے ایک قدم بھی نہ بڑھ سکے۔

صفحہ 86

غازی علم الدین شہید

غازی موصوف وہاں سے ودیارتن کے نل پر پہنچے۔ نلکا چلا کر اپنے ہاتھوں کو راجپال کے ناپاک لہو سے صاف کیا۔ پانی پی رہے تھے کہ یکا یک راجپال کے قتل کا شور برپا ہو گیا۔ شور و غل سن کر اطمینان سے کھڑے ہو گئے اور با آواز بلند اعلان کیا کہ اس نابکار راجپال کا قاتل میں ہی ہوں اور میں نے اس کا قتل فرط عشق رسول ﷺ میں کیا ہے۔

اس قتل کی اطلاع کیدار ناتھ نے انارکلی پولیس میں درج کرائی۔ کیدار ناتھ اور بھگت رام کے بیانات عینی گواہان کی حیثیت سے لیے گئے۔ پرمانند اور نانک چند نے غازی علم الدین کو قتل کے اعلان کے وقت پکڑا تھا انھوں نے بھی اپنے بیانات درج کرائے۔ آتما رام دکاندار انارکلی نے بھی بیان دیا کہ میں چاقو وغیرہ بیچتا ہوں۔ علم الدین نے یہ چھرا مجھ سے خریدا تھا۔ میں خون آلود چہرے اور اپنے گاہک علم الدین کو پہچانتا ہوں۔

پولیس نے راجپال کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوایا۔ خون آلود بستر اور چٹائی کا پارسل بنا کر سر بمہر کیا اور علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں بھیج دیا۔ چونکہ ملزم اقبالی تھا، اس لیے مقدمے کی تفتیش اور چالان میں نہ تو کوئی دقت پیش آئی اور نہ کوئی رکاوٹ۔

اس واقعہ کے بعد سارے شہر کے ہندوؤں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے دفعہ 144 نافذ کر کے ہندو مسلم کشیدگی پر قابو پانے کی کوشش کی۔ راجپال کی ارتھی کا ایک جلوس نکالا گیا اور رام باغ نزد بادامی باغ نذر آتش کر کے راکھ دریائے راوی میں بہا دی گئی۔

سیشن کورٹ کا فیصلہ

اس دور کے دفاتر میں ہندوؤں کی اکثریت تھی، انھوں نے مقدمے کا چالان ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مسٹر لوئیس کی عدالت میں پیش کر دیا۔ سول سرجن نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ مقتول کی موت پیٹ میں چھرا گھونپنے سے ہوئی۔ زخم کی گہرائی ساڑھے چھ انچ اور چوڑائی پونے چار انچ تھی۔ اس وار سے مقتول کی آنتیں بھی کٹ گئی تھیں۔ لوئیس نے غازی علم الدین پر فرد جرم عائد کر کے بیان لیا اور بغیر صفائی لیے مقدمہ سیشن جج کے سپرد کر دیا۔ اگرچہ سیشن کورٹ میں ایسے مقدمات کی سماعت کے لیے کم از کم ایک سال کے

صفحہ 87

غازی علم الدین شہیدؒ

بعد باری آتی ہے لیکن یہ مقدمہ ایک ہفتے بعد ہی سماعت کے لیے پیش کر دیا گیا۔ مسٹر ٹیپ سیشن جج تھا۔ مسٹر سلیم بار ایٹ لاء نے معقول اور مدلل دلائل پیش کیے، لیکن عدالت نے غازی علم الدین پر دفعہ 302 فرد جرم عائد کر کے 22 مئی 1929ء کو پھانسی کی سزا کا حکم سنا دیا۔ اس وقت غازی علم الدین کی عمر 21 سال تھی۔

مسلمانوں نے لاہور میں کئی جلسے منعقد کیے کہ سیشن جج کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے۔ اس کے لیے عوام نے جوش و خروش سے چندہ دیا۔ نامی گرامی مسلمان وکلاء نے فیصلے کی نقل کا بغور مطالعہ کیا اور اپیل دائر کر دی۔

ہائیکورٹ میں

مسٹر محمد علی جناح بیرسٹر ایٹ لاء ان دنوں بمبئی میں وکالت کرتے تھے۔ انھیں اس مقدمے کے لیے طلب کیا گیا۔ لاہور کے ماہر قانون فرخ حسین بیرسٹر ایٹ لاء نے ان کی معاونت کی۔ مقتول راجپال کی طرف سے جے لال کپور اور سرکار کی طرف سے دیوان رام لال پیش ہوا۔ براڈوے اور جان اسٹون ہائی کورٹ پنجاب نے اپیل کی سماعت کی۔

قائداعظمؒ نے فاضلانہ بحث کی اور کئی ٹھوس دلائل پیش کیے اور عدالت کو بتایا کہ پیغمبر ﷺ کی ذات پر رکیک حملے کرنا اور اس طرح عوام کے مختلف فرقوں میں نفرت پھیلانا زیر دفعہ 135 الف جرم ہے۔ کتاب ”رنگیلا رسول“ انتہائی دلآزار ہے۔ اسے پڑھ کر کوئی بھی مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ کی عظمت کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ملزم کا یہ قتل اشتعال انگیزی پر مبنی ہے، اس لیے ملزم غازی علم الدین کے خلاف زیر دفعہ 302 قتل عمد کی بجائے 308 قتل بوجہ اشتعال کارروائی کی جانی چاہیے اور ملزم کو موت کے بجائے سات سال قید کی سزا کا مستوجب سمجھنا چاہیے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ سزا دفعہ 304 کے تحت پھانسی کی بجائے دس سال قید ہے۔

15 جولائی 1929ء کو فرنگی ججوں نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد غازی علم الدین کی اپیل خارج کر دی اور سیشن جج کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ شام کو جب غازی علم الدین کو ہائی کورٹ کا فیصلہ جیل میں سنایا گیا تو انھوں نے مسکرا کر کہا:

صفحہ 88

غازی علم الدین شہید

شکر! الحمدللہ! میں یہی چاہتا تھا۔ بزدلوں کی طرح قیدی بن کر جیل میں گھٹنے سڑنے کے بجائے تختہ دار پر چڑھ کر شفیع المذنبین، رحمت للعالمین، پیغمبر خدا، ہادی برحق، رسالتمآب ﷺ پر اس حقیر سی جان کو قربان کر دینا موجب صد ہزار ابدی سکون و راحت ہے۔ خدا میری اس ادنیٰ اور پرخلوص قربانی کو قبول فرمائے۔"

اگرچہ مسلمان فرنگی حکومت کے اس رویے سے مایوس تھے لیکن اس خیال سے کہ حجت پوری کرنا اور آخری دم تک چارہ کرنا اسلامی شعائر میں سے ہے۔ انھوں نے پریوی کونسل لندن میں اپیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسلمانوں نے ایک بار پھر جی بھر کر چندہ دیا۔ دراصل یہ ایک فرد کی موت کا سوال نہیں تھا بلکہ پیغمبر خدا ﷺ کی عزت کا معاملہ تھا۔ اس اپیل کا مسودہ قائد اعظم محمد علی جناح کی نگرانی میں تیار ہوا لیکن پریوی کونسل لندن نے بھی اپیل نامنظور کر دی اور دفعہ 153 الف کی وضاحت اور دفعہ 304 کے جزو اشتعال انگیز قتل کے معاملے کو گول کر دیا۔ انگریزی حکومت ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتی تھی۔ یہ فیصلہ غازی علم الدین کو سنایا گیا تو انھوں نے کہا:

کاتب تقدیر نے شہادت کا رتبہ پانا میری قسمت میں روز اول سے لکھ دیا ہے۔ یقیناً میری قربانی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ہے۔ انشاء اللہ اب مجھے دربار رسالت ﷺ میں حاضری دینے سے کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔

غازی علم الدین شہید کے کارنامے پر قادیانیوں کا ردعمل

قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کے بڑے بیٹے اور قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین نے غازی علم الدین شہید کے سنہرے کارنامے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا:

"اسی طرح اس قوم کا جس کے جوشیلے آدمی قتل کرتے ہیں، خواہ انبیاء کی توہین کی وجہ سے ہی وہ ایسا کریں، فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہار برات کرے۔ انبیاء کی عزت کی حفاظت قانون شکنی کے ذریعہ نہیں ہو سکتی، وہ نبی بھی کیا نبی

صفحہ 89

غازی علم الدین شہیدؒ

ہے جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں۔ جس کے بچانے کے لیے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ کی عزت کے لیے قتل کرنا جائز ہے، سخت نادانی ......

وہ لوگ (غازی علم الدین شہید، ناقل) جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں، وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے، وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔ میرے نزدیک تو اگر یہی شخص (راجپال کا) قاتل ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہوسکتا ہے جو اس کے پاس جاوے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمھیں اب ملے گی ہی، لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے، تمھیں چاہیے، خدا سے صلح کر لو۔ اس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ اسے بتایا جائے کہ تم سے غلطی ہوئی ہے۔“

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل

قادیان ج 16 نمبر 82 ص 7-8 مورخہ 19 اپریل 1929ء)

اس قبیل کا دوسرا فتنہ پرور شخص وکیل ابو جہل، فخر ابولہب، ترجمان سلمان رشدی بھارتی نژاد متنازعہ مصنف وحید الدین خان، غازی علم الدین شہیدؒ کی توہین و تضحیک کرتے ہوئے لکھتا ہے:

”اگر ناموس رسول کی حفاظت کا طریقہ یہی ہو جو غازی علم الدین شہیدؒ نے اختیار کیا تو یقیناً یہ مقصد حاصل نہیں ہوا، کیونکہ اس قتل کے بعد شردھانند نے اس ملک کی اکثریت کے درمیان قومی ہیرو کی حیثیت اختیار کر لی۔ ملک کی تاریخ میں ان کو ”شہید“ کا مقام دیا گیا۔ 1947ء میں ہندوستان آزاد ہوا تو راجدھانی دہلی کے ممتاز مقام (چاندنی چوک) پر ان کا بلند و بالا مجسمہ عین شاہراہ پر نصب کر دیا گیا وغیرہ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے کسی عمل کو ناموس رسول کے نام پر بے فائدہ جان دے دینا تو کہہ سکتے ہیں مگر اس کو ناموس رسول کی حفاظت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ قربانی نہیں

صفحہ 90

غازی علم الدین شہید

بلکہ نادانی ہے، جس کا تعلق نہ عقل سے ہے اور نہ اسلام سے۔“ (ختم نبوت کا مسئلہ از وحید الدین خاں ص 71-72)

حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بینچ نے قادیانیوں کے خلاف اپنے تاریخ ساز فیصلے میں لکھا:

”کلمہ ایک اقرار نامہ ہے جسے پڑھ کر غیر مسلم اسلام کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے، یہ عربی زبان میں ہے اور مسلمانوں کے لیے خاص ہے جو اسے نہ صرف اپنے عقیدہ کے اظہار کے لیے پڑھتے ہیں بلکہ روحانی ترقی کے لیے بھی اکثر اس کا ورد کرتے ہیں۔ کلمہ طیبہ کے معنی ہیں ”خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔“ اس کے برعکس قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی (نعوذ باللہ) حضرت محمد ﷺ کا بروز ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب 'ایک غلطی کا ازالہ' (اشاعت سوم، ربوہ ص 4) میں لکھا ہے:

اللہ نے اس کا نام محمد رکھا۔“ (مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 207، ج 18)

اکمل سابق ایڈیٹر "Review of Religions" کی ایک نظم شائع ہوئی تھی، جس کے ایک بند کا مفہوم اس طرح ہے ”محمد ﷺ پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ ہم میں دوبارہ آگئے ہیں، جو کوئی محمد ﷺ کو ان کی مکمل شان کے ساتھ دیکھنے کا متمنی ہو، اسے چاہیے کہ وہ قادیان جائے۔“

”محمد ﷺ پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد ﷺ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں“

یہ نظم مرزا صاحب کو سنائی گئی تو اس نے اس پر مسرت کا اظہار کیا۔ (روزنامہ ”الفضل“ قادیان، 22 اگست 1944ء)

صفحہ 91

غازی علم الدین شہید

”سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں، اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“

(مندرجہ روحانی خزائن، ص 445-446، ج 17)

اعلان کیا: ”جو کوئی میرے اور محمد ﷺ کے مابین فرق کرتا ہے، اس نے نہ تو مجھے دیکھا ہے نہ جانا ہے۔“

”میں اسم محمد کی تکمیل ہوں یعنی محمد ،محمد کا ظل ہوں ۔“ (دیکھئے حاشیہ ”حقیقت الوحی“ ص 76 مندرجہ ”روحانی خزائن“ جلد 22)

”(وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول، خود انہی میں سے اٹھایا جو انھیں اس کی آیات سناتا ہے، ان کی زندگی سنوارتا ہے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے) میں ہی آخری نبی اور اس کا بروز ہوں اور خدا نے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے محمد کی تجسیم بنایا۔“ (دیکھئے ”ایک غلطی کا ازالہ“ شائع شدہ از ربوہ، ص 10-11 مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 212، جلد 18)

(”نزول المسیح“ ص 48، شائع شدہ قادیان اشاعت 1909ء دیکھئے ”ایک غلطی کا ازالہ“ ص 8، مندرجہ ”روحانی خزائن“ جلد 18)

پایا جاتا ہے کہ جب کوئی احمدی کلمہ طیبہ پڑھتا ہے یا اس کا اظہار کرتا ہے تو وہ اس

صفحہ 92

غازی علم الدین شہیدؒ

بات کا اعلان کرتا ہے کہ مرزا غلام احمد ایسا نبی ہے، جس کی اطاعت واجب ہے اور جو ایسا نہیں کرتا، وہ بے دین ہے، بصورت دیگر وہ خود کو مسلمان کے طور پر پیش کر کے لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ یا تو وہ مسلمانوں کی تضحیک کرتے ہیں یا اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات، صورت حال کی رہنمائی نہیں کرتیں۔ اس لیے جیسی بھی صورت حال ہو، ارتکاب جرم کو ایک نہ ایک طریقہ سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔“

مرزا غلام احمد نے نہ صرف یہ کہ اپنی تحریروں میں رسول اکرم ﷺ کی عظمت و شان کو گھٹانے کی کوشش کی بلکہ بعض مواقع پر ان کا مذاق بھی اڑایا۔ حاشیہ ”تحفہ گولڑویہ“ ص 165، مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 263، ج 17 میں مرزا صاحب نے لکھا کہ:

”پیغمبر اسلام اشاعت دین کو مکمل نہیں کر سکے، میں نے اس کی تکمیل کی۔“

ایک اور کتاب میں کہتا ہے:

”رسول اکرم ﷺ بعض نازل شدہ پیغامات کو نہیں سمجھ سکے اور ان سے بہت سی غلطیاں سرزد ہوئیں۔“ (دیکھئے ”ازالہ اوہام“ لاہور طبع، ص 346)......(مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 472-473، جلد 3)

اس نے مزید دعویٰ کیا:

”رسول اکرم ﷺ تین ہزار معجزے رکھتے تھے۔“ (”تحفہ گولڑویہ“ ص 67، مندرجہ ”روحانی خزائن“، ص 153، جلد 17)

”جبکہ میرے پاس دس لاکھ نشانیاں ہیں۔“ (”براہین احمدیہ“ جلد 5، ص 56...... ”روحانی خزائن“، ص 72، جلد 21)

(نشان، معجزہ، کرامت ایک چیز ہے۔ ”براہین احمدیہ“، جلد 5، ص 50، مندرجہ ”روحانی خزائن“، ص 63، جلد 21)

مزید یہ کہ:

”رسول اکرم ﷺ نصاریٰ کا تیار کردہ پنیر کھا لیتے تھے جس میں وہ سور کی چربی

صفحہ 93

غازی علم الدین شہید

ملاتے تھے۔“ (”الفضل“ قادیان، 22 فروری 1924ء)

مرزا بشیر احمد نے اپنی تصنیف ”کلمۃ الفصل“ (صفحہ 113) میں لکھا:

”مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ ﷺ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے، پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“

اس طرح اور بہت سی تحریریں موجود ہیں لیکن ہم اس ریکارڈ کو مزید گراں بار نہیں کرنا چاہتے۔

”ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے کہ وہ ہر نبی کو مانتا اور اس کا احترام کرتا ہے۔ اس لیے اگر نبی کی شان کے خلاف کچھ کہا جائے تو اس سے مسلمان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی، جس سے وہ قانون شکنی پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ اس کا انحصار جذبات پر ہونے والے حملے کی سنگینی پر ہے۔ ہائی کورٹ کے فاضل جج نے مرزائیوں کی کتابوں سے بہت سے حوالے نقل کر کے ثابت کیا ہے کہ مرزا غلام احمد نے دوسرے انبیاء کرام خصوصاً حضرت (عیسیٰ علیہ السلام) کی بھی بڑی توہین کی اور ان کی شان گھٹائی۔ حضرت عیسیٰ کی جگہ وہ خود لینا چاہتا تھا۔ ہم اس سارے مواد کو نقل کرنا ضروری نہیں سمجھتے، صرف دو مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد ایک جگہ رقمطراز ہیں:

”جو معجزات دوسرے نبیوں کو انفرادی طور پر دیے گئے تھے، وہ سب رسول اکرم ﷺ کو عطا کیے گئے، پھر وہ سارے معجزے مجھے بخشے گئے کیونکہ میں ان کا بروز ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، یونس، سلیمان اور عیسیٰ مسیح ہیں۔“ (”ملفوظات“ جلد سوم، ص 270، شائع شدہ ربوہ)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھتا ہے:

”حضرت مسیح کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین نانیاں اور دادیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

صفحہ 94

غازی علم الدین شہید

(”ضمیمہ انجام آتھم“ حاشیہ 7...... (مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 291، جلد 11)

خاندان کی بڑائی بیان کرتی ہے۔ دیکھئے سورۂ آل عمران (3) کی آیات 33 تا 37، 45 تا 47، سورۂ مریم (19) کی آیات 16 تا (32) کیا کوئی مسلمان قرآن کے خلاف کچھ کہنے کی جسارت کر سکتا ہے اور جو ایسی حماقت کرے، کیا وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ ایسی صورت میں مرزا غلام احمد اور اس کے پیروکار کیسے مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مرزا غلام احمد پر اسی کی مذکورہ بالا تحریروں کی بنا پر توہین مذہب ایکٹ مجریہ 1679ء کے تحت عیسائیت کی توہین کے جرم میں کسی انگریزی عدالت میں ملزم قرار دے کر سزا دی جا سکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔“

گئی ہے: ”ہر مسلمان کے لیے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔“ (”صحیح بخاری“، ”کتاب الایمان“، ”باب حب الرسول من الایمان“) کیا ایسی صورت میں کوئی، کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا توہین آمیز مواد جیسا کہ مرزا قادیانی نے تخلیق کیا ہے سنے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟“

احمدیوں کے اعلانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردعمل کے بارے میں سوچنا چاہیے، جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اس لیے اگر کسی احمدی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا اعلانیہ اظہار کرنے یا اُنھیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک

صفحہ 95

غازی علم الدین شہیدؒ

اور ”رشدی“ تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ مزید برآں اگر گلیوں یا جائے عام پر جلوس نکالنے یا جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ خانہ جنگی کی اجازت دینے کے برابر ہے۔ یہ محض قیاس آرائی نہیں، حقیقتاً ماضی میں بارہا ایسا ہو چکا ہے اور بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد اس پر قابو پایا گیا (تفصیلات کے لیے منیر رپورٹ دیکھی جا سکتی ہے) ردِعمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی احمدی یا قادیانی سرِعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائرِ اسلامی کا استعمال کرتا یا انھیں پڑھتا ہے تو یہ اعلانیہ رسول اکرم ﷺ کے نامِ نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیاء کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز امن عامہ کو خراب کرنے کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔“

جناب جسٹس عبدالقدیر چودھری جناب جسٹس ولی محمد خاں جناب جسٹس محمد فضل لون جناب جسٹس سلیم اختر

(S.C.M.R August 1993)

پیر سیال کا خیال

اس فیصلے کے بعد وہ انتہائی خوش و خرم رہنے لگے۔ 14 اکتوبر 1929ء کو صبح سویرے اس کو میانوالی ڈسٹرکٹ جیل میں منتقل کیا گیا۔ وہاں کافی نامی گرامی لوگ ملاقات اور زیارت کے لیے حاضر ہوتے رہے۔ سجادہ نشین سیال شریف نے بھی ملاقات کی۔ پیر صاحب

صفحہ 96

غازی علم الدین شہید

غازی کے جمال وجلال سے اس قدر مرعوب ہوئے کہ کوئی خاص بات تو نہ کر سکے، البتہ سورہ یوسف پڑھنے لگ گئے۔ پیر صاحب ایک اچھے قاری اور حافظ تھے لیکن سورہ یوسف کے پڑھنے کا یارا نہ پا سکے اور وفور جذبات سے بار بار رکنے لگے۔ اس پر غازی علم الدین نے حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ بسم اللہ شریف پڑھ کر ایک دفعہ پھر سے شروع کریں۔ پیر صاحب نے دوبارہ تلاوت کا آغاز کیا لیکن اس دفعہ بھی روانی نہیں تھی۔ اکثر گلو گیر ہو کر رک جاتے اور کسی اور عالم میں پہنچ جاتے۔ غازی علم الدین جو قرآن شریف نہیں پڑھے ہوئے تھے اور سورۂ یوسف پہلے ہرگز نہیں آتی تھی، پیر صاحب کو صحیح لقمے دیتے رہے اور سورۂ یوسف پڑھنے میں پوری پوری مدد کی۔ پیر صاحب ملاقات کر کے باہر آئے تو فرط حیرت و استعجاب سے بول نہیں سکتے تھے۔ صرف اتنا ہی فرمایا ”میں علم الدین کے لبادے میں کوئی اور ہستی پاتا ہوں۔ کون کہتا ہے کہ غازی علم الدین ان پڑھ اور جاہل ہیں۔ انھیں علم لدنی حاصل ہے اور وہ کائنات کے اسرار و رموز سے واقف ہیں۔“

وارڈن کا انکشاف

وارڈن جیل نواب دین کا بیان ہے کہ غازی علم الدین کو 31 اکتوبر 1929ء کو تختہ دار پر چڑھانا تھا اور 31/30 کی درمیانی شب کو میں ان کے کمرے کا نگراں تھا۔ غازی نے وہ ساری رات سجدوں اور تلاوت میں گزار دی۔ صبح کے چار بجے میں نے دیکھا کہ کوٹھری بدستور مقفل ہے۔ لیکن غازی اندر موجود نہیں ہیں۔ میں پریشان ہو گیا کہ انھیں اس کوٹھری سے کوئی نکال کر لے گیا ہے اور اب میں حکام جیل کو کیا جواب دوں گا۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو اس امر سے مطلع کیا اور کہا کہ اگر کوئی سازش ہوئی ہے تو غازی کہیں دور نہیں جا سکتے کیونکہ ابھی ابھی وہ سربسجود تھے۔ میں جونہی ایک چکر لگا کر آیا تو انھیں غائب پایا۔ اس پر سب نے اندر غور سے جھانکا لیکن کوٹھری خالی تھی۔ ہم انھیں ادھر ادھر باہر تلاش کر رہے تھے کہ یکا یک ان کا کمرہ روشنی سے منور ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ وہ مصلے پر بیٹھے ہیں، ایک نورانی صورت بزرگ ان کے سر پر ہاتھ پھیر رہے ہیں۔ اب ہم نے جونہی اندر جھانکا تو بزرگ غائب تھے اور غازی علم الدین تسبیح پڑھ رہے تھے۔

غازی علم الدین شہید

جمعرات 26 جمادی الثانی صاحب سے آخری خواہش دریافت کی اجازت دی جائے۔“ انھوں نے دو رکعت نفل پڑ ان کے ہاتھ اور پاؤں باندھ دیے گئے گئی۔ مگر انھوں نے کہا: ”اے نادانو کے لیے تو سینکڑوں فرشتے آئے ہ واصل باللہ کر دیا گیا:

ایک پیر غلام دستگیر صاح
برائے سالہائے
شہید عشق وغ

ترجمہ: تاریخ شہادت پیر محبت کرنے والے شہیدوں میں گن

گورنر کی سازش

نا عاقبت اندیش گورنر د ان کی پاک میت کو قیدیوں کے جنازہ تو درکنار کفن تک نہیں دیا نمبر دار قیدی نے درود شریف پڑ جونہی یہ خبر لاہور میں پہنچی۔ پو فدائیان اسلام شہید کی میت مسلمانوں کا ایک وفد ڈی مجسٹری سب سے پہلا اور اہم سوال یہ ذمہ دار کون ہوگا:

صفحہ 97

غازی علم الدین شہید

جمعرات 26 جمادی الثانی 1348ھ (31 اکتوبر 1929ء) کو مجسٹریٹ نے غازی صاحب سے آخری خواہش دریافت کی۔ انھوں نے کہا ”صرف دو رکعت نماز شکر ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔“

انھوں نے دو رکعت نفل پڑھے اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے تختہ دار پر چڑھ گئے۔ ان کے ہاتھ اور پاؤں باندھ دیے گئے۔ سر پر ٹوپ چڑھا دیا گیا اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ مگر انھوں نے کہا: ”اے نادانو! تم یہ کیا کر رہے ہو۔ وہ دیکھو میری روح کے استقبال کے لیے تو سینکڑوں فرشتے آئے ہوئے ہیں۔ پروانہ شمع رسالت ﷺ کو تختہ دار پر کھینچ کر واصل باللہ کر دیا گیا:

ایک پیر غلام دستگیر صاحب نے ان کی تاریخ شہادت یوں نکالی۔

برائے سال وفاتش بگفت ہاتف غیب
شہید عشق محمد ﷺ کبیر علم الدین

ترجمہ: تاریخ شہادت کے لیے غیب سے آواز آئی کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت کرنے والے شہیدوں میں علم الدین کا رتبہ بہت بڑا ہے۔

گورنر کی سازش

نا عاقبت اندیش گورنر نے فدائی الرسول غازی کو ایک مردہ و بے بس قوم کا فرد سمجھ کر ان کی پاک میت کو قیدیوں کے قبرستان میں ایک حیوان کی طرح کسی گڑھے میں دبا دیا۔ جنازہ تو درکنار کفن تک نہیں دیا گیا۔ ان کی میت کو دبایا جا رہا تھا کہ پاس کھڑے ہوئے ایک نمبردار قیدی نے درود شریف اور کلمہ شہادت پڑھ کر اپنی چادر غازی علم الدین پر ڈال دی۔ جونہی یہ خبر لاہور میں پہنچی۔ پوری مسلمان قوم گھروں سے باہر نکل آئی اور کاروبار بند کر دیا۔ فدائیان اسلام شہید کی میت حاصل کرنے کے لیے بے تاب تھے۔ 4 نومبر 1929ء کو مسلمانوں کا ایک وفد ڈی مونٹ مورنسی گورنر پنجاب سے ملا اور اپنا مطالبہ پیش کیا۔ گورنر نے سب سے پہلا اور اہم سوال یہ کیا، اگر نعش کے آنے پر لاہور میں ہندو مسلم فساد ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا:

صفحہ 98

غازی علم الدین شہید

علامہ اقبال نے جھٹ کہا: اگر کوئی ایسی بات ہو گئی تو آپ میری گردن اڑا دیجئے گا۔ اس کے بعد علامہ کی پرنم آنکھوں سے جلال برسنے لگا۔ گورنر نے چند شرائط پیش کرتے ہوئے میت کو مسلمانوں کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا۔

سفر آخرت

13 نومبر 1929ء کو مسلمانوں کا ایک وفد میانوالی پہنچا۔ دوسرے دن علی الصبح شہید کی نعش کو گڑھے سے نکال کر بصد احترام ڈپٹی کمشنر کے بنگلے پر لایا گیا۔ وہاں ایک صندوق میں بند کیا گیا۔ یہ صندوق سید مراتب علی شاہ گیلانی نے بنوایا تھا۔ اس کے اندر جست لگا ہوا تھا اور جست پر روئی کی دبیز تہہ تھی۔ سرہانے نرم و ملائم تکیے رکھے ہوئے تھے۔ جن لوگوں نے شہید کی میت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ان کا بیان ہے کہ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود میت مبارک میں ذرا بھر تعفن نہیں تھا۔ جسم صحیح سالم تھا۔ چہرے پر جلال و جمال کا امتزاج تھا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ گڑھے سے ایک مسحور کن خوشبو آ رہی تھی۔ بہر حال میت مبارک کو بذریعہ سپیشل ٹرین 14 نومبر 1929ء کو 5 بج کر 35 منٹ پر لاہور چھاؤنی سے ذرا پرے نہر کے پل کے پاس اتارا گیا۔ محکمہ جیل نے وہ صندوق جس میں حرمت رسول مقبول ﷺ کا شیدائی استراحت فرما تھا، مسلم لیگ کے نمائندوں سر محمد شفیع اور علامہ محمد اقبالؒ کے حوالے کر کے رسید لی۔

سید حبیب مدیر و مالک اخبار سیاست ایک جید عالم اور مسلمانوں کے مقبول رہنما تھے۔ مدیر کے آنے پر ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ نے پوچھا کہ شہید کی نماز جنازہ پڑھانے کا شرف کسے حاصل ہونا چاہیے۔ سید حبیب نے کہا کہ یہ شہید کے والد بزرگوار میاں طالع مند کا حق ہے۔ میاں طالع مند نے کہا اگر یہ حق مجھے حاصل ہے تو میں اسے علامہ اقبالؒ کو تفویض کرتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے سید حبیب کے مشورے سے سن رسیدہ اور عالم بے بدل مولانا سید دیدار علی شاہ الوری کا نام تجویز کیا لیکن وہ اس وقت تک تشریف نہیں لا سکے تھے چنانچہ ان کے بجائے قاری محمد شمس الدین خطیب مسجد وزیر خان نے پہلی نماز جنازہ پڑھائی۔ دوسری نماز جنازہ سید محمد دیدار علی شاہ نے تیسری سید احمد شاہ اور باقی نمازیں مختلف علمائے کرام نے پڑھا کر فرض

صفحہ 99

غازی علم الدین شہیدؒ

کفایہ ادا کیا۔ غازی علم الدین شہید کے جنازے میں تقریباً چھ لاکھ مسلمان شریک تھے اور جنازے کا جلوس تقریباً ساڑھے پانچ میل لمبا تھا۔

مولانا سید دیدار علی شاہ الوری اور علامہ سر محمد اقبالؒ نے میت کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا۔ لوگوں نے فرطِ عقیدت سے قبر کے اندر اتنے پھول پھینکے کہ میت ان میں چھپ گئی۔ اس کے بعد اینٹوں سے تعویز کو بند کیا گیا اور کلمہ شہادت و کلمہ تمجید پڑھ کر قبر پر مٹی ڈالی گئی۔

”جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جاتے ہیں انھیں مردہ مت کہو وہ تو زندہ ہیں لیکن تمھیں خبر نہیں ہے۔“

(القرآن الحکیم)

❁ ❁ ❁

صفحہ 100

غازی علم الدین شہید

محمد حنیف شاہد

غازی علم الدین شہیدؒ اور قائداعظمؒ

تحریک خلافت کے دوران ہندو مسلم اتحاد کے بے نظیر مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔ لیکن ہندو مسلم اتحاد کا یہ مصنوعی باب جلد ہی اپنے انجام کو پہنچا اور ہندوؤں نے تحریک کے ختم ہوتے ہی اس اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا۔ اس سلسلے میں ہندو مہاسبھا اور آریہ سماجیوں نے مسلمانوں کے مذہب، تمدن اور سیاسی تاریخ کو مسخ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ آریہ سماجیوں کی سرگرمیوں کے مرکز ویسے تو تمام ہندوستان میں موجود تھے لیکن لاہور ان کی سرگرمیوں کا خاص مرکز تھا۔ اسی سلسلے میں 1923ء میں لاہور کے ایک پبلشر راج پال نے پروفیسر چمپا پتی کی کتاب شائع کی جس میں حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر ناروا حملے کیے گئے تھے۔ اس کتاب کے چھپتے ہی مسلمانوں میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ چنانچہ اس کتاب کے پبلشر راج پال پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ چلا۔ ماتحت عدالت نے مقدمہ کی سماعت کے بعد ملزم کو دو سال قید سخت اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا سنائی لیکن عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس سر شادی لال نے (جو مسلمانوں کے لیے اپنے روایتی تعصب کے لیے بہت مشہور تھا) راج پال کو بری کر دیا۔ (1) اس واقعہ سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا اور 27 ستمبر 1927ء کو ایک مسلمان خدا بخش نے راج پال پر حملہ کیا لیکن وہ بدبخت بچ گیا۔ 19 اکتوبر 1927ء کو ایک اور نوجوان عبدالعزیز نے دوبارہ راج پال پر حملہ کیا لیکن اس بار

صفحہ 101

غازی علم الدین شہیدؒ

بھی قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور وہ موت کے منہ میں جانے سے بچ گیا۔ (2)

اس کے بعد لاہور کے رہنے والے ایک غازی علم الدین نے راجپال پر حملہ کیا اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ غازی علم الدین کو گرفتار کر کے اس پر سیشن عدالت میں مقدمہ چلا جہاں اسے سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ سیشن عدالت کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی گئی جس کی پیروی کے لیے قائد اعظمؒ محمد علی جناح کو بمبئی سے لاہور بلوایا گیا۔ اس سلسلے میں قائد اعظمؒ نے عدالت عالیہ کو تار دیا کہ 15 جولائی کو مقدمہ کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر کی جائے۔ (3)

یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ پنجاب کے مشہور سیاسی رہنما اور وکیل سر محمد شفیع نے اس مقدمہ کی پیروی کرنے سے اس وجہ سے انکار کر دیا کہ ہندو اسے بُرا سمجھیں گے۔ (4)

چونکہ ایک ہائی کورٹ کا وکیل دوسرے ہائی کورٹ میں پریکٹس نہیں کر سکتا تھا‘ اس لیے بمبئی ہائی کورٹ کے مسٹر جناح نے جب پنجاب ہائی کورٹ سے علم الدین کے مقدمہ میں پیش ہونے کی اجازت مانگی تو پنجاب ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس براڈوے نے اجازت دینے کی مخالفت کی لیکن چیف جسٹس سر شادی لال نے قائد اعظمؒ کو پیش ہونے کی اجازت دے دی۔ روزنامہ انقلاب (لاہور) نے چیف جسٹس کے اس فیصلہ کو ان کا ہوش مندانہ فعل قرار دیا اور لکھا کہ اگر وہ مسٹر محمد علی جناح کو مقدمہ میں پیش ہونے کی اجازت نہ دیتے تو مسلمانوں میں بیحد جوش پھیل جاتا۔ (5)

15 جولائی 1929ء کو جسٹس براڈوے اور جسٹس جانسن کے روبرو مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ قائد اعظمؒ محمد علی جناح نے مقدمہ کے واقعات کو سامنے رکھ کر انتہائی قابلیت کے ساتھ غازی علم الدین کی بے گناہی ثابت کی۔ سب سے پہلے قائد اعظمؒ نے عینی گواہوں کے بیانات پر جرح کی۔ قائد اعظمؒ نے عدالت کو بتلایا کہ عینی گواہ کیدار ناتھ مقتول کا ملازم ہے۔ اس لیے اس کی گواہی تأمل اور غور کے بعد قبول کرنی چاہیے۔ دوسرے‘ کیدار ناتھ نے اپنے ابتدائی بیان میں بھگت رام گواہ کا ذکر نہیں کیا‘ حالانکہ وہ بھی مقتول کی دکان کے ہی ایک حصے میں کام کر رہا تھا اور کیدار ناتھ کی طرح بھگت رام نے بھی بیان کردہ قاتل غازی علم

صفحہ 102

غازی علم الدین شہید الدین پر کتابیں پھینکیں اور اس کا تعاقب کیا۔ کیدار ناتھ نے ابتدائی بیان میں ملزم کے متعلق یہ نہیں کہا کہ اس نے گرفتاری کے بعد اقبال جرم کیا۔ سیشن عدالت میں وہ بیان دیتا ہے کہ ملزم نے کہا ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ کی توہین کا بدلہ لیا ہے۔ ان حقائق سے قائد اعظم نے یہ ثابت کیا کہ عینی گواہ نمبر 2 کیدار ناتھ جھوٹا ہے۔ اسی طرح قائد اعظم نے دوسرے عینی گواہ یعنی بھگت رام کی شہادت کو لے کر اس کی کمزوریاں واضح کیں۔ اس کے بعد انہوں نے وزیر چند، نانک چند اور پرمانند وغیرہ کے بیانات پر نقادانہ بحث کر کے ثابت کیا کہ کوئی بیان بھی اصلاً قابل اعتماد نہیں بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص بیان وضع کر کے مختلف آدمیوں کو طوطے کی طرح رٹا دیا گیا۔ قائد اعظم نے اپنی جرح سے سب سے اہم نکتہ یہ نکالا کہ عام بیانات کے مطابق واقعہ کے وقت مقتول کی دکان پر ایک مقتول اور اس کے دو ملازم تھے۔ ڈاکٹر کی شہادت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مقتول کے آٹھ زخم لگے یعنی اٹھارہ انیس سال کے ایک معمولی نوجوان نے دن دہاڑے تین مردوں میں گھس کر ایک کے جسم میں آٹھ دفعہ چھری گھونپی اور نکالی اور تین آدمی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ اس کو عقل انسانی صحیح تسلیم نہیں کر سکتی۔ اس کے بعد مسٹر محمد علی جناح نے آتارام کباڑی کی شہادت پر جرح کی اور اس کی شہادت کا تار و پود بکھیرا اور اس کے خلاف کئی دلائل قائم کیے (1) پہلی بات آپ نے یہ ثابت کی کہ کوئی دکان دار اتنا باریک بین نہیں ہو سکتا کہ اپنے ہر گاہک کو یاد رکھے جو کہ اس کی دوکان پر صرف ایک ہی مرتبہ آیا ہو۔ اس کباڑی نے ملزم کو شناخت پریڈ کے دوران ملزم کے چہرے کے ایک نشان کو دیکھ کر پہچانا ہے۔ ظاہر ہے کہ پولیس نے اسے یہ نشان بتلا دیا ہوگا جس کی بنا پر اس نے ملزم کو شناخت کر لیا۔ (2) گواہ آتارام کا دعویٰ تھا کہ وہ چاقو کو پہچان سکتا ہے لیکن جب چاقو اس کے روبرو پیش کیے گئے تو وہ پہچان نہ سکا۔

گواہ آتارام کباڑی اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اس کی نظر کمزور ہے۔ لہٰذا ان حقائق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آتارام سکھایا پڑھایا ہوا گواہ ہے۔ استغاثہ کے یہی تین مبانی تھے۔ اوّل عینی گواہ، دوئم ملزم کو گرفتار کرنے یا کرانے والے، سوئم چاقو فروخت کرنے والا کباڑیا۔ ان مبانی کی انتہائی کمزوری ثابت کرنے کے ساتھ ہی استغاثہ کو محمد علی جناح نے

صفحہ 103

ثابت کیا۔ کیدارناتھ نے ابتدائی بیان میں ملزم کے متعلق یہ کہا جرم کیا۔ سیشن عدالت میں وہ بیان دیتا ہے کہ ملزم یک توہین کا بدلہ لیا ہے۔ ان حقائق سے قائد اعظم نے ہونا ہے۔ اسی طرح قائد اعظم نے دوسرے عینی گواہ کی کمزوریاں واضح کیں۔ اس کے بعد انہوں نے وزیر ت پر ناقدانہ بحث کر کے ثابت کیا کہ کوئی بیان بھی اصلاً نہ ایک خاص بیان وضع کر کے مختلف آدمیوں کو طوطے طرح سے سب سے اہم نکتہ یہ نکالا کہ عام بیانات کے ر ایک مقتول اور اس کے دو ملازم تھے۔ ڈاکٹر کی و کے آٹھ زخم لگے یعنی اٹھارہ انیس سال کے ایک دکان میں گھس کر ایک کے جسم میں آٹھ دفعہ چھری بھاگ سکے۔ اس کو عقلِ انسانی صحیح تسلیم نہیں کر سکتی۔ گواہ کی شہادت پر جرح کی اور اس کی شہادت کا قائم کیے (1) پہلی بات آپ نے یہ ثابت کی کہ کوئی نہ ہر گاہک کو یاد رکھے جو کہ اس کی دوکان پر صرف شناخت پریڈ کے دوران ملزم کے چہرے کے ایک لیا نے اسے یہ نشان بتلا دیا ہو گا جس کی بنا پر اس کا دعویٰ تھا کہ وہ چاقو کو پہچان سکتا ہے لیکن جب نہ سکا۔

اعتراف کرتا ہے کہ اس کی نظر کمزور ہے۔ لہٰذا ان پڑھایا ہوا گواہ ہے۔ استغاثہ کے یہی تین مبانی مہیا کرانے والے‘ سوئم چاقو فروخت کرنے والا لانے کے ساتھ ہی استغاثہ کو محمد علی جناح نے

غازی علم الدین شہید بالکل بے حقیقت کر دیا۔ اس کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے اس امر پر بھی سیر حاصل بحث کی کہ اگر علم دین قاتل نہیں تھا تو اس کے کپڑوں پر انسانی خون کے دھبے کس طرح لگے تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر کا یہ بیان پیش کیا کہ مقتول کا خون فوارے کی طرح نہیں اچھلا اور جب حالت یہ ہے تو بیان کردہ قاتل کے جسم پر دھبے نہیں پڑ سکتے لیکن ڈاکٹر نے کہا کہ بیان کردہ قاتل کے کپڑے مقتول کی لاش سے چھو گئے ہوں گے۔ قائد اعظم نے کہا کہ ڈاکٹر کی شہادت کا یہ حصہ بالکل لغو ہے۔ اسے رائے دینے کا کوئی حق نہیں تھا۔ سیشن جج اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ مقتول کا خون فوارے کی طرح نہیں اچھلا اور اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ ملزم کے کپڑے مقتول کی لاش سے چھوئے نہیں لیکن لکھتا ہے کہ ڈاکٹر کی رائے کے مطابق یہ خون انسانی ہے اس لیے مقتول کا خون ہے اور چھری سے ٹپک کر ملزم کے کپڑوں پر گرا ہے۔ قائد اعظم نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ جس خون کے دھبے ملزم کے کپڑوں پر ہیں‘ وہ واقعی مقتول کا ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ یہ خود ملزم کا خون ہے۔ ملزم کا بیان ہے کہ اسے گرفتار کرنے کے بعد ہندوؤں نے مارا پیٹا اور اس مار پیٹ سے اس کی انگلی اور ران پر زخم آئے۔

قائد اعظم نے ایک اہم بات یہ کہی کہ سیشن جج نے مسلم اسیسروں کی رائے کے سلسلے میں خواہ مخواہ ہندو مسلم سوال پیدا کیا۔ اس مقدمے میں چار اسیسر تھے۔ دو مسلمان اور دو غیر مسلم۔ مسلمان اسیسروں نے ملزم کو بے گناہ بتلایا‘ غیر مسلم اسیسروں نے جرم کا اثبات کیا۔ سیشن جج نے لکھا ہے کہ مسلم اسیسروں کے فیصلے بالکل ایماندارانہ ہیں‘ ان کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ وجہ بتلا دیں کہ فلاں فیصلے پر یقین نہیں کیا جا سکتا‘ اس لیے ہو سکتا ہے کہ ان کے دل میں فرقہ وار تعصب موجود ہو۔ قائد اعظم نے اس پر بحث کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان اسیسروں کے متعلق یہ کیوں کہا گیا۔ دوسرے اسیسروں کے متعلق کیوں نہیں کہا گیا۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ جج نے مسلمان اسیسروں کے متعلق تعصب کا اظہار کیا۔ ملزم کے حق میں جو شہادت تھی سیشن نے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا اور اس کے خلاف جو شہادت تھی‘ اسے درست سمجھا۔ اس پر جسٹس براڈوے نے کہا کہ جج کو اختیار ہے کہ وہ جس شہادت کو چاہے قبول

صفحہ 104

غازی علم الدین شہید

کرے جس کو چاہے مسترد کرے۔ قائد اعظم نے جواب دیا کہ یہ صحیح ہے مگر قبول و عدم قبول کے لیے دلیل بھی ہونی چاہیے۔

علم دین کو بے گناہ ثابت کرنے کے بعد قائد اعظم نے مقدمہ کے دوسرے پہلو پر نظر ڈالی اور کہا کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ملزم واقعی قاتل ہے تو بھی اس کی سزا پھانسی نہیں بلکہ عمر قید ہونی چاہیے۔ اس کے لیے قائد اعظم نے مندرجہ ذیل دلائل پیش کیے۔

قرار دیا۔ ملزم نے اسے پڑھا اور بھڑک اٹھا۔

غیرت کھا کر ایسا کیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے عدالت عالیہ کے سامنے مندرجہ ذیل تقریر کی جس میں عدالت عالیہ سے درخواست کی کہ وہ ملزم کو اس الزام سے بری کر دے۔ قائد اعظم نے فرمایا:

”سب سے پہلے میں اس پولیس افسر کی شہادت کی طرف عدالت عالیہ کی توجہ مبذول کراتا ہوں جس نے بیان کیا کہ ہم ملزم سے یہ اطلاع پاتے ہی کہ میں نے آتما رام کباڑی سے یہ چھری خریدی ہے فوراً اس کی دکان پر پہنچے۔ پولیس نے بذات خود کوئی تفتیش نہیں کی اور صرف ملزم کے بیان پر اکتفا کیا لیکن دفعہ 27 قانون شہادت کی رو سے ملزم کا بیان بطور شہادت پیش نہیں ہو سکتا۔ میں چاہتا ہوں کہ جج صاحبان اس کا فیصلہ صادر کریں۔ مسٹر جسٹس براڈوے نے کہا کہ شہادت کے قابل قبول یا ناقابل قبول ہونے کے سوال کا فیصلہ کرنا عدالت ماتحت کا کام ہے۔ قائد اعظم نے کہا: کہ آپ اس نقطہ پر اب نہیں تو آخر میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔

سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے قائد اعظم نے کہا کہ ”اب غور طلب امر یہ ہے کہ ملزم کو اس مقدمہ میں ماخوذ کرنے کی کافی وجوہ موجود ہیں یا نہیں۔ 6 اپریل کو راج پال قتل کیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ جس نے راج پال کو قتل کیا وہ کون تھا۔ استغاثہ کی شہادتوں میں دو عینی گواہوں کے بیانات ہیں۔ یہ دونوں گواہ کدار ناتھ اور بھگت رام ہیں۔ ان عینی گواہوں کے

صفحہ 105

غازی علم الدین شہید

قابل اعتماد ہونے کو پرکھنے کے لیے میں فاضل ججوں کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ یہ دونوں گواہ راج پال کے ملازم تھے۔ ان شہادتوں کے پرکھنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ ان کے بیانات کے اختلافات کو دیکھا جائے۔‘‘

قائد اعظمؒ نے کدارناتھ گواہ کا بیان پڑھ کر سنایا اور کہا کہ سخت تعجب کی بات ہے کہ اس بیان میں گواہ بھگت رام کا کہیں نام تک نہیں آیا حالانکہ وہ اس وقت دکان پر موجود تھا۔ برخلاف اس کے گواہ بھگت رام کا کہنا ہے کہ اس نے ملزم کا تعاقب کیا اور کدارناتھ کے ساتھ مل کر ملزم پر کتابیں پھینکیں۔ جرح کے موقع پر بھی کدارناتھ نے بھگت رام کا نام نہیں لیا حالانکہ ایک عینی شاہد کی حیثیت سے کدارناتھ کو بھگت رام کا نام سب سے پہلے لینا چاہیے تھا۔ یہ ایک نہایت ہی اہم نکتہ ہے اور عینی شہادت کا جزوِ اعظم ہے۔

کدارناتھ نے ارتکابِ جرم کا جس قدر وقت بتلایا ہے، طبی شہادت اس کی تردید کرتی ہے۔ طبی شہادت سے ظاہر ہوتا ہے کہ گواہ کے بیان کردہ وقت سے دوچند وقت صرف ہوا۔

قائد اعظمؒ نے فرمایا کہ گواہ کا بیان ہے کہ جب ملزم پکڑا گیا تو اس نے کہا میں نے کوئی چوری نہیں کی ڈاکہ نہیں مارا میں نے صرف اپنے پیغمبرﷺ کا بدلہ لیا ہے۔ ایک لمحہ کے لیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ملزم بھاگتا جاتا تھا اور اس کا تعاقب بھی کیا گیا لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص گرفتار ہوتے ہی فوراً اس طرح اقبالِ جرم کر لے۔ یہ شہادت بھی پیش کی گئی ہے کہ وہ متواتر اقبالِ جرم کرتا رہا۔ پولیس کا ایسے موقع پر فرض تھا کہ وہ مجسٹریٹ کے روبرو ملزم کے بیانات قلم بند کراتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ہر ایک تجربہ کار پولیس افسر کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔ لوگوں کا بیان ہے کہ ملزم نے راج پال کی دکان پر آ کر بھی اقبالِ جرم کیا۔ ایسا غیر ممکن ہے۔ وہاں پولیس موجود تھی۔ یہ سب کہانی اس قدر غیر قدرتی ہے کہ اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔

قائد اعظمؒ نے کہا کہ یہ سب کہانی غلط ہے۔ گواہ نے نہ صرف بھگت رام کا نام ہی ترک کر دیا ہے بلکہ وزیر چند کا نام بھی چھوڑ دیا حالانکہ وزیر چند نے ملزم کا تعاقب کیا تھا۔ جرح

صفحہ 106

غازی علم الدین شہید

پر گواہ نے کہا کہ میں وزیر چند کے نام کے کسی شخص کو نہیں جانتا۔ میں اس شہادت پر صرف یہی کہوں گا کہ اگر گواہ سچ بولتا تو وہ بھگت رام کا نام ضرور لیتا۔ اس کے علاوہ وہ پولیس کے سامنے بھی وہ الفاظ بتاتا جو اس نے بعد میں ملزم کی طرف منسوب کیے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، اس لیے یہ کہانی فرضی ہے۔

دیوان وزیر چند کی شہادت پڑھ کر سناتے ہوئے قائد اعظم نے کہا کہ آیا فاضل جج صاحبان اس بات پر یقین کر سکتے ہیں کہ کدار ناتھ وزیر چند کو نہیں جانتا تھا۔ اگر اسے نام نہیں آتا تو وہ کہہ سکتا تھا کہ کوئی آدمی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد گواہ بھگت سنگھ بھی ایسی کہانی سناتا ہے۔ اس کا بیان ہے کہ ملزم کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا۔ ہر ایک گواہ ان الفاظ کے متعلق جو ملزم نے کہے، مختلف بیانات دیتا ہے۔ چنانچہ بھگت سنگھ نے کہا کہ ملزم نے کہا تھا کہ ”ہتھکڑیاں سونے کے کڑے ہیں“ نانک چند گواہ کا بیان ہے کہ ملزم نے کہا تھا کہ ”راج پال میرا دشمن نہیں بلکہ رسول اکرم کا دشمن ہے“ گواہ سچا نند نے کم و بیش وہی الفاظ کہے جو نانک چند نے کہے۔ لیکن گواہ ودیارتن جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس نے ملزم کو گرفتار کیا، بالکل مختلف الفاظ بیان کرتا ہے۔ گواہ نے پہلے کہہ دیا ہے کہ وہ ملزم کے صحیح الفاظ بیان نہیں کر سکتا مگر اس کا ملخص بتا سکتا ہوں۔

میں صاف کہہ دینا چاہتا ہوں کہ آتارام کباڑی ایک سکھایا ہوا گواہ ہے۔ اسے اسی روز معلوم ہو گیا تھا کہ راج پال مارا گیا ہے۔ پھر شناخت کی پریڈ ہوئی جس میں تین مرتبہ گھومنے کے بعد اس نے ملزم کو شناخت کیا۔ گواہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزم کی ناک کے قریب ایک نشان ہے۔ کیا چھری بیچنے والا اس قدر باریک بین ہو سکتا ہے کہ وہ اس بات کا بھی خیال رکھے کہ خریدار کی ناک کے پاس نشان بھی ہے۔ گواہ کا اپنا بیان ہے کہ ملزم کے کان میں دھاگہ پڑا ہوا تھا حالانکہ اس کی بینائی بھی اچھی نہیں۔

اس گواہ کا بیان ہے کہ میں فروخت کی ہوئی چھریوں کو پہچان سکتا ہوں لیکن بعد ازاں اس نے غلط چھری کو شناخت کیا۔ چھریاں عدالت میں پیش کی گئیں۔ قائد اعظم نے ٹوٹی ہوئی نوک دار چھری کی طرف جج صاحبان کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود ان چھریوں کو

صفحہ 107

ال نہیں جانتا۔ میں اس شہادت پر صرف یہی ضرور لیتا۔ اس کے علاوہ وہ پولیس کے سامنے رف منسوب کیے لیکن ایسا نہیں کیا گیا‘ اس لیے

ہوتے ہوئے قائد اعظمؒ نے کہا کہ آیا فاضل جج اور نہ چند کو نہیں جانتا تھا۔ اگر اسے نام نہیں عن کے بعد گواہ بھگت سنگھ بھی ایسی کہانی سناتا ھا۔ ظاہر ہے کہ وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا۔ لف بیانات دیتا ہے۔ چنانچہ بھگت سنگھ نے لائے ہیں‘ نانک چند گواہ کا بیان ہے کہ ملزم نظارام کا دشمن ہے“ گواہ سچا نند نے کم وبیش رپارٹن جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس نے گواہ نے پہلے کہہ دیا ہے کہ وہ ملزم کے صحیح

ام کباڑی ایک سکھایا ہوا گواہ ہے۔ اسے اسی شناخت کی پریڈ ہوئی جس میں تین مرتبہ گواہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزم کی ناک قدر باریک بین ہو سکتا ہے کہ وہ اس بات کا کتا ہے۔ گواہ کا اپنا بیان ہے کہ ملزم کے کان ہیں۔

چھوٹی چھریوں کو پہچان سکتا ہوں لیکن بعد سالت میں پیش کی گئیں۔ قائد اعظمؒ نے ٹوٹی ملاحظہ ہوئے کہا کہ آپ خود ان چھریوں کو

غازی علم الدین شہیدؒ دیکھ کر بتلائیں کہ ان میں کیا تمیز ہو سکتی ہے کہ آتمارام بتلانے کے وقت قابل ہو گیا کہ فلاں چھری ہے۔ ملزم کا بیان ہے کہ میں نے آتمارام کباڑی کی دکان سے چھری نہیں خریدی۔ قائد اعظمؒ نے فرمایا کہ سب انسپکٹر کی شہادت ہے کہ ملزم کی شلوار اور قمیض پر خون کے نشانات تھے۔ ملزم کے دیگر حصوں پر بھی معمولی نشانات تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کو بھی ضربات آئیں۔ ملزم کا بیان ہے کہ میرے ساتھ تشدد کیا گیا تھا۔ استغاثہ نے کہیں بھی یقینی طور پر بیان نہیں کیا کہ ملزم کے کپڑوں پر خون کے جو نشانات تھے وہ اسی قتل کی وجہ سے تھے۔ طبی شہادت ہے کہ یہ نشانات شاید مقتول کے قریب آنے سے لگ گئے۔ یہ امر واضح ہے کہ ملزم مقتول کے نزدیک نہیں آیا۔ اس میں شک نہیں کہ خون کے نشانات کسی انسان کے خون کے ہیں لیکن یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ یہ مقتول کے خون کے نشانات ہیں۔ اگر میری انگلی زخمی ہو جائے تو اس کے اندر سے بھی کافی خون نکل آتا ہے جس سے میرے کپڑوں پر بڑے بڑے نشانات لگ سکتے ہیں۔

اس کے بعد قائد اعظمؒ نے کہا کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ فاضل جج نے فیصلے میں غلطی کی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ دو ہندو اسیر ملزم کو مجرم بتاتے ہیں لیکن دو مسلمان اسیر اسے بے قصور ٹھہراتے ہیں۔ اگر اس وقت ہندو مسلم فرقوں میں کشیدگی تھی تو فاضل جج کا فرض تھا کہ وہ اپنی ذاتی رائے سے فیصلہ کرتا۔ اس کا کیا ثبوت ہے کہ ہندو اسیروں کی رائے فرقہ پرستانہ نہ تھی۔ اس کے علاوہ فاضل جج نے شہادتوں سے بھی غلط نتیجہ مرتب کیا۔

آخر میں قائد اعظمؒ نے کہا کہ ملزم نوجوان ہے۔ راجپال نے بدنام کتاب شائع کر کے مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کیا تھا۔ اس لیے سزائے موت سخت سزا ہے۔ ملزم پر رحم کیا جائے۔ لنچ کے بعد عدالت نے سرکاری وکیل کا جواب سنے بغیر حاضرین کو باہر نکال دیا اور فیصلہ محفوظ رکھا۔ سرکاری وکیل کی جوابی تقریر کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اپیل خارج کر دی گئی۔ چار بجے کے قریب عدالت نے فیصلہ سنایا اور اپیل نامنظور کر دی۔ (6)

یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب عدالت عالیہ نے غازی علم الدین کیس میں سیشن کے فیصلہ کو برقرار رکھا اور غازی علم الدین کی سزائے موت برقرار رکھی تو ہندو

صفحہ 108

غازی علم الدین شہید

اخبارات نے مسٹر محمد علی جناح کے خلاف زبردست زہر اگلنا شروع کر دیا۔ مشہور متعصب ہندو اخبار پرتاب نے اس مسئلہ پر کئی نوٹ لکھے۔ گپ شپ اور چانٹ کے نام سے دو کالم چھپتے تھے۔ ان میں قائد اعظمؒ کو رگیدا گیا۔ ایک جگہ لکھا کہ: ”مسٹر محمد علی جناح کی قابلیت علم دین کو موت کے منہ سے چھڑا نہ سکی“ (7) ایک جگہ لکھا کہ: ”مسٹر محمد علی جناح کو ایسا مطلقاً کمزور مقدمہ لینا ہی نہیں چاہیے تھا کیونکہ ہندوؤں کو ان کے خلاف ناواجب شکایات پیدا ہوگئی ہیں۔“

قائد اعظم محمد علی جناح نے جس قابلیت سے مقدمہ کی پیروی کی‘ اس پر روزنامہ الجمعیۃ دہلی نے اپنی اشاعت مورخہ 20 جولائی 1929ء کو ”مسٹر جناح کی باطل شکن تقریر“ کے زیر عنوان انہیں مندرجہ ذیل الفاظ میں خراجِ تحسین ادا کیا ”لاہور ہائی کورٹ سے بھی میاں علم الدین کی اپیل کا فیصلہ صادر ہو گیا اور پھانسی کا جو حکم سیشن عدالت سے ہوا تھا وہی بحال رہا۔ قائد اعظم کی مدلل اور مؤثر تقریر کو پڑھنے کے بعد اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے دلائل کس قدر وزنی تھے اور انہوں نے ماتحت عدالت کی شہادتوں میں جن نقائص کا ذکر کیا تھا‘ ان سے مقدمہ کس درجہ کمزور ہو گیا تھا مگر ہائی کورٹ کے ججوں نے خدا معلوم کن وجوہ کی بنا پر ان دلائل کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھا۔ اس وقت ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود نہیں ہے اس لیے ہم اس پر مفصل تنقید نہیں کریں گے۔ جب تک ہمارے سامنے اصل فیصلہ کے دلائل نہ آجائیں۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ قائد اعظم کی تقریر کے بعد پھانسی کی سزا کس طرح بحال رہ سکتی تھی۔“ (8)

(الجمعیۃ 20 جولائی 1929ء ص 4) (9)

حوالہ جات

PDF 109

خراجِ عقیدت

PDF 110

غازی علم الدین شہید

صفحہ 111

غازی علم الدین شہیدؒ

دُرج حب نبی ﷺ کا دردانہ

یاد آتا ہے ایک مستانہ
روح پرور ہے جس کا افسانہ
علم رکھتا تھا کم ہی علم الدینؒ
تھا مگر دین کا وہ فرزانہ
پاؤں رکھا ہی تھا جوانی میں
بن گیا وہ نبی ﷺ کا دیوانہ
شمع ناموسِ شاہِ بطحا پر
جل اُٹھا وہ مثالِ پروانہ
لے کے جاں راجپال کی اُس نے
کفر کا توڑ ڈالا بُت خانہ
دیکھ کر اس کے کارنامے کو
بولا اقبالؒ جیسا فرزانہ
ہم سبھی محو قیل و قال رہے
کر گیا کام ”ابن ترکھانہ“٭
صفحہ 112

غازی علم الدین شہیدؒ

برسرِ دار جان دی اس نے
پڑھ کے پہلے سے نفل شکرانہ
یوں دکھایا کہ مصطفےٰؐ کے لیے
جانتے ہم ہیں خون برسانا
کر کے جانِ عزیز کو قرباں
خلد کا لے لیا تھا پروانہ
ایسے عاشق کی یاد سے ہمدم
کوئی مسلم ہو کیسے بیگانہ
وہ ہے غازی، شہید بھی وہ ہے
دُرجِ حبِ نبیؐ کا دردانہ
ایسے مردِ عظیم کو الیاسؔ
پیش کر آفریں کا نذرانہ

محمد الیاس

☆ اس شعر اور اس سے پہلے شعر میں شاعر مشرق، حکیم الامت، علامہ اقبالؒ سے منسوب ایک روایت کی طرف اشارہ ہے۔ غازی علم الدین شہیدؒ ایک ترخان کے نورِ چشم تھے۔ جب حضرت علامہؒ کو خبر ملی کہ غازی علم الدینؒ نے شاتم رسول، راجپال کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے تو پنجابی میں فرمانے لگے۔ ”اسیں گلاں کر دے رہ گئے تے ترخان دا منڈا بازی لے گیا ۔“ (ہم باتیں ہی بناتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ترخان لڑکا بازی لے گیا) چنانچہ اس شعر میں ”ابنِ ترخانہ“ سے مراد ترخان کا بیٹا ہے۔

صفحہ 113

غازی علم الدین شہید

پھانسی گردن میں لگے ہونٹوں پہ ہو لیکن ہنسی

تو محبّ احمدِ مختار ہے، تجھ پر سلام
فخر کے قابل ترا کردار ہے، تجھ پر سلام
غازی علم الدین! وہ تیری شہادت یاد ہے
وہ عقیدت، وہ محبت، وہ شجاعت یاد ہے
ایک ہندو ایک کافر، بدطینت بدخصال
کام اس کا شیطنت، نام اس کا راجپال
وہ کتابِ بد میں، یاوہ گوئیاں لکھتا رہا
مصطفےٰ ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتا رہا
اس نے جب یہ واقعہ لوگوں سے کافر کا سنا
غازی علم الدین نے قتل اس کا آخر کر دیا
ہو ضیائی یوں رسول اللہ ﷺ کا عاشق کوئی
پھانسی گردن میں لگے ہونٹوں پہ ہو لیکن ہنسی
غیرتِ دینِ محمد ﷺ ہے مسلماں کے لیے
مشعلِ راہِ وفا ہے اہل ایماں کے لیے

سیف الحق ضیائی

٭ ٭ ٭

صفحہ 114

غازی علم الدین شہید

تو اہل صدق و وفا کا امام ہے غازی

رسول پاک کا ادنیٰ غلام ہے غازی
زہے نصیب کہ عالی مقام ہے غازی
نوید عظمت خیر الانام ہے غازی
تبھی تو مرجع ہر خاص و عام ہے غازی
شہید راہ خدا، جانثار دین نبی ﷺ
متاع خلد بریں تیرے نام ہے غازی
تو سنگ میل ہے روز جزا کی منزل کا
تو اہل صدق و وفا کا امام ہے غازی
ترا کمال ہے ایسا جسے زوال نہیں
کتاب عشق کا حرف دوام ہے غازی
سزا جو شاتم ختم رسل کو دی تو نے
اسی لیے ترا افضل مقام ہے غازی
نماز عشق سر دار جو پڑھی تو نے
وہ بے نیاز سجود و قیام ہے غازی
صفحہ 115

غازی علم الدین شہید

فدائے دین خدا، عاشق رسول کریم ﷺ
خلوص و مہر و وفا کا نظام ہے غازی
رتوں کے عکس نچھاور ہیں تیری تربت پر
طلوع صبح کہیں رنگ شام ہے غازی
شہید ہو کے یہ ثابت کیا زمانے پر
کہ تجھ پہ نار جہنم حرام ہے غازی
سرور حب نبی ﷺ سے جو مست و بیخود ہے
مئے الست کا لبریز جام ہے غازی
تمھارے جذبۂ سوز دروں کو شاہد کا
بصد خلوص و عقیدت سلام ہے غازی

پیرزادہ عطا محی الدین شاہد

صفحہ 116

غازی علم الدین شہیدؒ

بزمِ عشاق میں یوں کس نے بقا پائی ہے

تیرے کردار میں جس عشق سے رعنائی ہے
از ازل تا بہ ابد اس کی پذیرائی ہے
دیدۂ غیر میں جو نور ہے وہ ظلمت ہے
روشنی دین محمدﷺ سے نہیں پائی ہے
مجھ سے سالک ہیں بہت، تم سا علم دین نادر
ایک ہے، آدھ ہے یا ایک کا چوتھائی ہے
حادثے پلتے ہیں آغوشِ بلا میں جس کی
ذات تیری بھی وہی لالۂ صحرائی ہے
لے گئی سنتِ یوسف ہے تجھے زنداں میں
انگلیاں کاٹنے کی اس نے سزا پائی ہے
رشک صد خلدِ بریں مرقدِ پُرنور تیرا
قبر پہ پھول تیری حاشیہ آرائی ہے
بادہ خواروں کے لیے موت تیری راہِ نجات
سایۂ شاہِ مدینہ میں جو لے آئی ہے
التزاماً ہیں لکھے شعر تیری مدحت میں
بزمِ عشاق میں یوں کس نے بقا پائی ہے

ذوالفقار علی خان بقاء

صفحہ 117

غازی علم الدین شہیدؒ

اے غازی علم الدین!

تم زندہ ہو پائندہ ہو اے غازی علم الدین
زمین و فلک نے لکھی ہے تیری داستاں حرف زرین
آپ کے والد میاں طالع مند معزز ایک ترکھان تھے
وہ کاریگر جفاکش تھے لاہور شہر کی شان تھے
تین دسمبر سن انیس سو آٹھ جہاں میں آپ لائے تشریف
والدین نے رکھا علم الدین آپ کا اسم شریف
گورا رنگ نشیلی آنکھیں آپ تھے بہت حسین
تم زندہ ہو پائندہ ہو اے غازی علم الدین
دینی دنیاوی علموں سے آپ تھے مالا مال
مثل شمع آپ تھے تھے آپ بلند خیال
جان و جگر سے آپ کو تھا رسول اکرم سے پیار
آپ کے چہرے پر رہتی تھی ہر دم سدا بہار
حمد و ثناء کے پھولوں سے تھا گلشن دل رنگین
تم زندہ ہو پائندہ ہو اے غازی علم الدین
صفحہ 118

غازی علم الدین شہید

شب و روز عبادت میں جب ہو گئے آپ جوان
آپ کی نوری پیشانی پر تھا سجدوں کا ایک نشان
ساری دنیا کہتی تھی مکی مدنی کا دیوانہ
بھرا ہوا تھا آپ کے دل کا خوشیوں سے پیمانہ
عبادات اور سخاوت کے آپ تھے بہت شوقین
تم زندہ ہو پائندہ ہو اے غازی علم الدین

٭

اک فرم تھی ہسپتال روڈ پر راجپال اینڈ سنز
راجپال ہندو نے لکھی رسول خدا پر طنز
سوئے ہوئے اہل اسلام یک دم اُٹھے جاگ
غازی علم دین کے دل میں جل اُٹھی اک آگ
راجپال ایک کوا تھا تھے علم الدین شاہین
تم زندہ ہو پائندہ ہو اے غازی علم الدین

٭

نشے میں مایا بادہ کے تھا راجپال مغرور
آنحضرت کی الفت میں تھے غازی صاحب مخمور
غازی جی نے راجپال کو تھا منع کیا سو بار
گرج کر بولا راجپال او بھاگ میرے اغیار
صفحہ 119
جب ہو گئے آپ جوان
تھا سجدوں کا ایک نشان
مکی مدنی کا دیوانہ
خوشیوں سے بیگانہ
آپ تھے بہت شوقین
اے غازی علم الدین
راجپال اینڈ سنز
رسولِ خدا پر طنز
یک دم اٹھے جاگ
جل اٹھی اک آگ
تھے علم الدین شاہین
اے غازی علم الدین
تھا راجپال مغرور
تھے غازی صاحب غیور
تھا منع کیا سو بار
او بھاگ پرے بدکار

غازی علم الدین شہیدؒ

علم دین کے ایک وار سے لالہ ہو گیا خاک نشین
تم زندہ ہو پائندہ ہو اے غازی علم الدین

*

اکتیس اکتوبر سن انتیس کو تھے جیل میں میانوالی
مرد و زن تھے اشکبار یہ شہادت تھی متوالی
علامہ اقبال، سر محمد شفیع مولوی محمد بخش نے کیا خطاب
غازی علم دین شہید ہے یہ اسلام کا ہے مہتاب
لفظ پاک شہادت نے دلوں کو بخشی کچھ تسکین
تم زندہ ہو پائندہ ہو اے غازی علم الدین

*

میانی شریف لاہور شہر میں آپ کا دربار ہے عالیشان
لوگ دُور دراز سے آ کر وہاں پڑھتے ہیں قرآن
بلند فضا میں شجروں پر ہرے جھنڈے لہراتے ہیں
پھولوں کی بارش ہوتی ہے نغمے طیور سُناتے ہیں
عرس شریف پہ شاہ و گدا اور آتے ہیں مسکین
تم زندہ پائندہ ہو اے غازی علم الدین

*

امداد صدیقی کی ہے دُعا اللہ جنت بریں مقام کرے
عرش معلے روز محشر آنحضرت سے ہم کلام کرے
صفحہ 120

غازی علم الدین شہید

اسلام کو کر دیا روشن اور غیرت کر دی افشاں
کائنات میں آپ نے کر دیا دین اسلام درخشاں
شمس و قمر بھی دنیا کو کرتے ہیں تلقین
تم زندہ ہو پائندہ ہو اے غازی علم الدین

٭ امداد صدیقی

٭ ٭ ٭

صفحہ 121

غازی علم الدین شہیدؒ

گھور اندھیروں میں اُجالا، غازی علم الدین شہیدؒ

گھور اندھیروں میں اُجالا، غازی علم الدین شہیدؒ
ہر محفل کا چاند ستارا، غازی علم الدین شہیدؒ
جو ہے تیری تربت اس پر روز فرشتے آتے ہیں
نور کی بارش ہوتی ہے رحمت کے بادل چھائے ہیں
دشمن دیں کو تو نے مارا، غازی علم الدین شہیدؒ
گھور اندھیروں میں اُجالا، غازی علم الدین شہیدؒ
ہر محفل کا چاند ستارا، غازی علم الدین شہیدؒ
ارفع و اعلیٰ کام کیا ہے ماشاء اللہ خوب کیا
سب سے بالا کام کیا ہے ماشاء اللہ خوب کیا
اپنا ہے بس ایک ہی نعرہ، غازی علم الدین شہیدؒ
گھور اندھیروں میں اُجالا، غازی علم الدین شہیدؒ
تیرے دل کے اندر جو تھی ہو گئی پوری تیری مراد
زندہ باد، زندہ باد، زندہ و پائندہ باد
قوم کا پیارا راج دُلارا، غازی علم الدین شہیدؒ
گھور اندھیروں میں اُجالا، غازی علم الدین شہیدؒ
ہر محفل کا چاند ستارا، غازی علم الدین شہیدؒ

سید پھل آگروی

صفحہ 122

غازی علم الدین شہیدؒ

حرمت کا نبی ﷺ کی پاسباں تھا غازیؒ

ایثار و وفا کا امتحاں تھا غازیؒ
جرأت کا، عزم کا نشاں تھا غازیؒ
دی جان مگر عدو کو غارت کر کے
حرمت کا نبیؐ کی پاسباں تھا غازیؒ
کردار تھا سر بسر، کہاں تھا گفتار
توہین نبیؐ پہ تھا برہنہ تلوار
بجلی سا گرا عدو پہ آفت بن کر
اُلفت سے حضورؐ کی ہوا تھا سرشار
پیشِ رسن و دار ڈٹ گیا ہے غازیؒ
پل میں نقشہ الٹ گیا ہے غازیؒ
گونجی ہے فلک فلک صدائے تکبیر
حرمت پہ نبیؐ کی کٹ گیا ہے غازیؒ
ہے موت کیا؟ موت کی اذیت کیا ہے
غم کیا ہے؟ بلا ہے کیا؟ مصیبت کیا ہے
صفحہ 123

غازی علم الدین شہید

آقاؐ کی محبتوں کی سرشاری میں
ہے دار کیا؟ دار کی حقیقت کیا ہے

....... ❖ .......

اشکال کو رکھ دیا ہے آساں کر کے
اک نیک عمل سے، جان قرباں کر کے
آیا تھا نبیؐ کا درد دل میں لے کر
کیا خوب گیا ہے اس کا درماں کر کے

....... ❖ .......

اشرف ہے، شریر کو مٹایا جس نے
حرمت کو نبیؐ کی، ہاں! بچایا جس نے
سو بار سلام اُس جری غازی کو
ہنس ہنس کے گلے موت کو لگایا جس نے

....... ❖ .......

اچھا ہے متقی، نمازی ہونا
الفت سے حجاز کی حجازی ہونا
دشمن جو ملے نبیؐ کا پھر واجب ہے
سر اُس کا اُڑا کے مثل غازی ہونا

....... ❖ .......

فائق نہ ہوا، کوئی نمازی تجھ پر
مرتاض بھی لے سکا نہ بازی تجھ پر
صفحہ 124

غازی علم الدین شہید

اک بڑھ کے تو ہی ہوا نبیؐ پر قرباں
اللہ کی رحمتیں ہوں غازی تجھ پر

……… ٭ ………

دنیا میں ہے جب تلک شجاعت باقی
آقاؐ سے عقیدتوں کی نسبت باقی
اُن سب کی رفاقتوں میں غازی کا نام
واللہ، رہے گا تاقیامت باقی

……… ٭ ………

ایفائے عہد کا قرینہ سیکھو
زہراب صداقتوں کا پینا سیکھو
ہر لمحہ رہے نبیؐ کی حرمت ملحوظ
غازی کی طرح سے مر کے جینا سیکھو

حزیں کاشمیری

٭ …… ٭ …… ٭

صفحہ 125

غازی علم الدین شہید

اس کی قربانی سے روشن فکر یہ ہر گام ہے

دہر کی تاریخ میں غازی کا اُونچا نام ہے
یہ مجاہد ہے خدا کا، غیرت اسلام ہے
جان اپنی وار دی اس نے شہ لولاک پر
یہ غلام مصطفیٰ ہے، شوکت پیغام ہے
سر وہی سر ہے جو کٹ جائے نبی کے نام پر
اہل ایماں کو یہ غازی کی صلائے عام ہے
مرد غازی ہے، شہید رفعت ایمان بھی
اس کے حق میں یہ بنام مصطفیٰ انعام ہے
زندہ باد اے جذبہ عشق محمد مصطفیٰ
اس کی قربانی سے روشن فکر یہ ہر گام ہے
کر دیا خود کو تصدق عزت سرکار پر
کیا نرالی زندگی ہے، کیا حسیں انجام ہے
غازی علم الدین مر کر بھی ہے زندہ اے رضا
اس کی عظمت پر نچھاور گردش ایام ہے

محمد اکرم رضا

صفحہ 126

غازی علم الدین شہیدؒ

سب دی اکھیاں وچ سما گیا ایں علم الدینؒ توں، ذریا طور دیا

علم دین! محمدؐ دے نام اُتوں، میاں جان جوانی نوں واریا ائی
آفرین غازی ترے حوصلے تے، راجپال کم بخت نوں ماریا ائی
جہڑا چکیا بوجھ محبتاں دا، چڑھ کے دار تے سروں اُتاریا ائی
بیڑا ڈوب کے نبیؐ دے دشمناں دا، علم الدینؒ توں کل نوں تاریا ائی
وچ چودھویں صدی دے ہویا روشن تیرا عشق، عاشق حضورؐ دیا
جھوٹا دار دی پینگھ تے جھوٹیا ای شوق نال ساتھی منصور دیا
سب دی اکھیاں وچ سما گیا ایں علم الدینؒ توں، ذریا طور دیا
عشق لہر دی عرض دربار اندر پہلے کریں مسافرا دور دیا

استاد عشق لہر

PDF 127

شہیدان ناموس رسالت ﷺ

غازی علم الدین شہیدؒ

طبع جدید

شہیدان ناموس رسالت ﷺ میں ایک نمایاں نام غازی علم الدین شہیدؒ کا ہے۔ اکیس بائیس برس کی عمر کے اس عاشق رسول ﷺ نوجوان کا تعلق لاہور سے تھا۔ اس نے ایک گستاخ رسول کافر کو جہنم واصل کر کے اپنے آقا ومولا ﷺ سے سچی محبت اور عقیدت کا حق ادا کر دیا اور اپنی جان حضور ﷺ کی ناموس پر نثار کر دی۔ زیر نظر کتاب اسی مرد حق آگاہ کے تذکار جمیل پر مشتمل ہے۔ اس کو وطن عزیز کے نامور مؤلف اور محقق جناب محمد متین خالد کی محب رسول دختر نیک اختر نے یہ محسوس کر کے مرتب کیا کہ ہماری نژاد نو میں بہت کم ایسے افراد ہیں جو غازی علم الدین شہیدؒ کے نام اور عظیم کارنامے سے آگاہ ہیں۔ کتاب چھ مقالات پر مشتمل ہے، سب سے طویل مقالہ محترمہ خولہ متین کا ہے جو انہوں نے بڑی دلسوزی اور جامعیت کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔

ان مقالات میں غازی علم الدینؒ کی بچپن سے جوانی اور شہادت تک کی زندگی کے تمام مراحل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس مرد غیور نے عین عنفوان شباب میں ایک گستاخ رسول ﷺ کو کس طرح کیفر کردار تک پہنچایا، مقدمے کا کس طرح سامنا کیا اور جام شہادت کس ذوق وشوق سے پیا، یہ تمام واقعات پڑھ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے اور علم الدین شہیدؒ کی غیرت دینی، حب رسول ﷺ اور ہمت مردانہ پر رشک آتا ہے۔ نثری مقالات کے علاوہ کتاب میں چند خوبصورت نظمیں بھی شامل ہیں۔ جن میں غازی علم الدینؒ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

دعا ہے کہ اس کتاب کی شکل میں خولہ متین سلمہا کا بارگاہ رسالت ﷺ میں ہدیۂ عقیدت و محبت اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، ان کو ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے اور دین وادب کی بیش از بیش خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

طالب الہاشمی

علم وعرفان پبلشرز

34۔ اردو بازار، لاہور، فون: 7232336 فیکس: 7352332 www.ilmoirfanpublishers.com E-mail: ilmoirfanpublishers@hotmail.com ers@hotmail.com