توہینِ رسالت کی سزا · پروفیسر حبیب اللہ چشتی
Toheen-e-Risalat ki Saza par · Habibullah
PDF 1

مَلْعُوْنِيْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْا اُخِذُوْا وَقُتِلُوْا تَقْتِيْلًا وہ پھٹکارے ہوئے جہاں کہیں بھی ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کر قتل کیے جائیں

قرآن و حدیث اجماعِ اُمّت اور مذاہبِ عالم کی روشنی میں

توہینِ رسالت کی سزا

پروفیسر حبیب اللہ چشتی

مکتبہ جمالِ کرم

9۔ مرکز الاولیاء (بیسمنٹ) دربار مارکیٹ ۔ لاہور فون: 7324948

PDF 2

جملہ حقوق محفوظ ھیں

نام کتاب توہین رسالت کی سزا مصنف پروفیسر حبیب اللہ چشتی اشاعت اول اپریل 2004ء تعداد گیارہ سو زیر اہتمام ایم احسان الحق صدیقی ناشر مکتبہ جمال کرم لاہور قیمت

ملنے کے پتے

جو تو با زبان تو

PDF 3

محفوظ ھیں

توہین رسالت کی سزا پروفیسر حبیب اللہ چشتی اپریل 2004ء گیارہ سو ایم احسان الحق صدیقی مکتبہ جمال کرم لاہور

ے پتے

ل روڈ لاہور انفال سنٹر اردو بازار کراچی لاہور زہ کمیٹی چوک راولپنڈی کراچی آباد محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف بھیرہ شریف

جو عام شخص سے کوئی کرے گا بدگوئی
تو ہاتھ اس کے گلے پر پولیس کا ہو گا
زبان دراز کرے گا کوئی نبی ﷺ کے خلاف
تو پہلے ڈپٹی کمشنر سے پوچھنا ہو گا؟
PDF 4

محمد سید الكونين و الثقلين

والفريقين من عرب و من عجم

هو الحبيب الذى ترجى شفاعته

لكل هول من الاهوال مقتحم

﴿امام بوصیریؒ﴾

صفحہ 5
نین و الثقلین
ب و من عجم
يرجى شفاعته
وال مقتحم

﴿امام بوصیری﴾

فہرست عنوانات

انتساب 10 تقديم (شیخ الحدیث وفقہ قاضی محمد ایوب صاحب) 12 افتتاحیہ (ادیب شہیر رائے محمد کمال صاحب) 14 مقدمہ (سوئے منزل) 16 توہین رسالت کیا ہے؟ 23

قرآن حکیم اور توہین رسالت کی سزا 33

پہلی آیہ طیبہ 34 دوسری آیہ طیبہ 37

عالمی مجلس کانفرنس کی

صفحہ 6

تیسری آیہ طیبہ 41 چوتھی آیہ طیبہ 43 جواب 45 پانچویں آیہ طیبہ 47 چھٹی آیہ طیبہ 48

پہلی آیہ طیبہ 49 الوجہ الاول 50 الوجہ الثانی 51 الوجہ الثالث 52 الوجہ الرابع 53 دوسری آیہ طیبہ 54 تیسری آیہ طیبہ 56 چوتھی آیہ طیبہ 57 پانچویں آیہ طیبہ 60 احادیث مبارکہ اور توہین رسالت کی سزا 63 پہلی حدیث مبارکہ 64 دوسری حدیث مبارکہ 66 تیسری حدیث مبارکہ 66 چوتھی حدیث مبارکہ 67 پانچویں حدیث مبارکہ 69 چھٹی حدیث مبارکہ 71

ایک شبہ اور اس کا ازالہ ساتویں حدیث مبارکہ آٹھویں حدیث مبارکہ نویں حدیث مبارکہ دسویں حدیث مبارکہ توہین رسالت توہین رسالت کی اقوال اجماع

توہین رسا قدیم عراق میں توہین مذہب قدیم ایران میں توہین مذہب

مقال عالمی مجلس کانفرنس کے

صفحہ 7

41 43 45 47 48 49 49 50 51 52 53 54 56 57 60 ن رسالت کی سزا 63 64 66 66 67 69 71

ایک شبہ اور اس کا ازالہ 73 ساتویں حدیث مبارکہ 74 آٹھویں حدیث مبارکہ 74 نویں حدیث مبارکہ 77 دسویں حدیث مبارکہ 77 توہین رسالت اور صحابہ کرامؓ کا نقطہ نظر 79 توہین رسالت کی سزا اجماع امت کی روشنی میں 88 اقوال اجماع 89 (1) ائمہ فقہ کے نزدیک ذمی شاتم رسول ﷺ کا حکم 93 (i) فقہائے احناف کے نزدیک ذمی شاتم رسول ﷺ کا حکم 93 (ii) فقہائے مالکیہ کے نزدیک ذمی شاتم رسول ﷺ کا حکم 97 (iii) فقہائے حنابلہ کے نزدیک ذمی شاتم رسول ﷺ کا حکم 98 (iv) فقہائے شوافع کے نزدیک ذمی شاتم رسول ﷺ کا حکم 99 (۲) مسلمان شاتم رسول ﷺ کے متعلق ائمہ اربعہ کا موقف 101 (i) مسلمان شاتم رسول ﷺ کے متعلق فقہائے احناف کا نقطہ نظر 101 (ii) مسلمان شاتم رسول ﷺ کے متعلق فقہائے مالکیہ کا نقطہ نظر 103 (iii) مسلمان شاتم رسول ﷺ کے متعلق امام شافعی کا نقطہ نظر 104 (iv) مسلمان شاتم رسول ﷺ کے متعلق فقہائے حنابلہ کا نقطہ نظر 104 (v) مسلمان شاتم رسول ﷺ کے متعلق فقہائے ظاہریہ کا نقطہ نظر 105 توہین رسالت کی سزا اور مذاہب عالم 109 قدیم عراق میں توہین مذہب کی سزا 110 قدیم ایران میں توہین مذہب کی سزا 111

صفحہ 8

ہندو مذہب میں مذہبی عقائد و کتب کی توہین پر سزائیں 112 مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین کی سزا موت 113 یہودیت میں توہین مذہب کی سزا 114 توہین رسالت کی سزا 115 یہودیت کی مخالفت اور ہیکل کی توہین کی سزا 115 یوم سبت کی توہین کی سزا 116 مذہبی کاہن کی بات نہ ماننے کی سزا 117 شاتم رسول ﷺ کی توبہ کے احکام 118 توہین رسالت سے پیدا شدہ ارتداد اور مطلق ارتداد کے احکام مختلف ہیں 122 توہین رسالت کے مرتکب کی توبہ اور فقہائے احناف کا موقف 128 شاتم رسول ﷺ کی توبہ اور عصر حاضر کے فقہائے احناف کا موقف 136 جامعہ اشرفیہ لاہور 136 دارالعلوم ضیاء شمس الاسلام سیال شریف سرگودھا 137 مدرسہ انوارالعلوم ملتان 138 دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف 138 جامعہ محمدیہ رضویہ نوریہ بھکھی شریف 140 جامعہ نظامیہ لاہور 146 شاتم رسول ﷺ کی توبہ اور فقہائے مالکیہ کا موقف 150 شاتم رسول ﷺ کی توبہ اور فقہائے شافعیہ کا موقف 152 شاتم رسول ﷺ کی توبہ اور فقہائے حنبلیہ کا موقف 153 خلاصہ بحث 154 توہین رسالت کی سزا پر اعتراضات کا ایک تحقیقی جائزہ 159 مصادر و مراجع 174

شیخ التفسیر حضر جن کی بے یہ ناچیز چند حر

عالمی سیر کانفرنس کی مہ مقال

PDF 9

انتساب

استاد گرامی مرتبت

شیخ التفسیر حضرت علامہ محمد خان نوری مدظلہ کے نام!

جن کی بے پناہ محنتوں اور دعاؤں کے طفیل

یہ ناچیز چند حروف لکھنے کی سعادت سے بہرہ مند ہوا

محمد حبیب اللہ چشتی

PDF 10

حدیث دل

علامہ پروفیسر محمد افضل جوہر پرنسپل (ر) ایف ۔ جی ڈگری کالج سہالہ اسلام آباد جذبہ حب رسول ﷺ مومن کی میراث ہی نہیں اصل ایمان اور ایمان کی جان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومن صادق، توقیر و تعظیم اور ادب و احترام رسول ﷺ کو اپنی متاع جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا ہے۔ اور اگر کہیں اس پر ذرہ برابر آنچ آنے کا خدشہ بھی محسوس ہو تو وہ کل کائنات اور اپنی ذات قربان کر دینا حیات ابدی سمجھتا ہے۔ عشاق زار کا کہنا ہی کیا! گناہ گار سے گناہ گار مومن کے دل میں غیرت ایمانی جوش جنوں کا طوفان برپا کر دیتی ہے۔ پھر وہ نقد جاں ہتھیلی پر رکھ کر سر دار رقص کناں ہوتا ہے۔ چشم فلک ہزار بار اس کا نظارہ کر چکی ہے۔ آجکل ایک بار پھر وطن عزیز کچھ ایسی ہی ہیجانی کیفیات و حالات سے دوچار ہے۔ راقم نے اس نازک مسئلے اور اہم مرحلے پر ایمانی تقاضوں کے مطابق ، تاریخی جھروکوں اور علمی و تحقیقی وسعتوں سے مقدور بھر استفادہ کر کے عوام الناس کی آگاہی کے لئے اپنی کم علمی کے باوجود کوشش کی۔ اس مقصد کے لئے کتب احادیث و تفاسیر اور سیرت کا مطالعہ کیا۔ بے لگام این جی اوز، بے علم دو ٹکے کے ٹی وی اینکرز اور نفس پرست حکومتی و سیاسی کارندوں کی پُر اسرار مکروہ روش و خاموشی سے جو وسوسے جنم لے رہے تھے عام لوگ اُلجھن کا شکار ہو کر بیقراری سے اصل مسئلہ جاننا چاہتے تھے یہ اتنا آسان کام نہ تھا۔ اس کے لئے ماضی بعید و قریب اور عصر حاضر کے اہل علم و تحقیق کے رشحات قلم کو دیکھنا ضروری تھا۔ چنانچہ مختلف اہل قلم کی نگارشات کا مطالعہ کیا اس دوران معروف نوجوان مذہبی اسکالر فاضل شہیر برادر عزیز پروفیسر حبیب اللہ چشتی زاد مجدہ کی تصنیف "توہین رسالت کی سزا" کا مطالعہ کیا۔ اسے میں نے کہیں کہیں سے پہلے بھی پڑھا تھا ۔ لیکن اب جو بغور و غائر اس کا مطالعہ کیا تو اس کی کئی خوبیاں بلاشک و شبہ خوب نمایاں ہوئیں۔ میں بلا خوف تردید یہ کہتا ہوں کہ مصنف نے بڑی خوبی اور حکمت عملی سے نفس مضمون کی ایمانی

حقیقت، اہمیت اور ضرورت کا نکتہ نظر اور احکام بھی پوری کی اہمیت کا احاطہ کیا۔ اس نے ایسے استدلال قائم کئے اور جس نے اس کتاب کو منفرد و علم کی تحقیق اور اس تحقیق کی بـ توہین رسالت کی سزا پر قاضی اعتراضات ہو سکتے ہیں۔ جنـ طرح نکھار دیا ہے جو اہل علم مسلمہ ہے کہ ایسے قانونی اور تـ مواد تو پیش کر دیتے ہیں لیکن اس کا تسلسل جاری رکھنا جو تحقیق و تدقیق کے بالکل سانـ رخسار بھی آنکھوں کے آب اـ عشاء دیگر کتب کے بعد اس نـ وجہ سے تسلسل ٹوٹ جاتا بکہ تصورات میں سو گیا صبح اٹھا تو کے صفحات کے وہ نقوش آ ۔ سامعین میں سے شائد ہی کـ کھڑے ہو کر وقت کی تاخیـ ۔ جزاہ اللہ فاحسن الجزاء

عالمی مجلس کانفرنس مکـ

PDF 11

مقالات سیرت عالمی سیرت کانفرنس مکہ

اول

جی ڈگری کالج سہالہ اسلام آباد ی نہیں اصل ایمان اور ایمان کی جان ہے۔ حترام رسول ﷺ کو اپنی متاع جان سے بھی ر آنچ آنے کا خدشہ بھی محسوس ہو تو وہ کل کتا ہے۔ عشاق زار کا کہنا ہی کیا! گناہ گار جنوں کا طوفان برپا کر دیتی ہے۔ پھر وہ چشم فلک ہزار بار اس کا نظارہ کر چکی ہے۔ اقیات وحالات سے دوچار ہے۔ راقم نے کے مطابق، تاریخی جھرونکوں اور علمی و تحقیقی کی آگاہی کے لئے اپنی کم علمی کے باوجود سیر اور سیرت کا مطالعہ کیا ۔ بے لگام این جی اجی وسیاسی کارندوں کی پُر اسرار مگر وہ روش الجھن کا شکار ہو کر بیقراری سے اصل مسئلہ لئے ماضی بعید و قریب اور عصرِ حاضر کے اہل و مختلف اہل قلم کی نگارشات کا مطالعہ کیا اس اور عزیز پروفیسر حبیب اللہ چشتی زاد مجدہ کی ے میں نے کہیں کہیں سے پہلے بھی پڑھا تھا خوبیاں بلا شک و شبہ خوب نمایاں ہوتیں ۔ میں بی اور حکمت عملی سے نفس مضمون کی ایمانی

حقیقت، اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کیا۔ پھر ناموس رسالت کی سزا سے متعلق دوسرے مذاہب کا نکتہ نظر اور احکام بھی پوری دیانت سے بیان کئے۔ پھر کتاب وسنت کی روشنی میں نفس مضمون کی اہمیت کا احاطہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی قرآن وحدیث کے نصوص قطعی سے علمی، عقلی اور منطقی ایسے استدلال قائم کئے اور ایک ایک آیت وحدیث سے متعدد وجوہ ثبوت سزا کے پیش کئے جس نے اس کتاب کو منفرد بلکہ لاجواب بنا دیا پھر ان وجوہ واستدلال پر امت کے مشاہیر اہل علم کی تحقیق اور اس تحقیق کی مقبولیت سے اجماع امت کا ثبوت فراہم کر دیا۔ علاوہ ازیں توہین رسالت کی سزا پر مخالفین کی جانب سے وارد کئے گئے اعتراضات اور مزید برآں جو اعتراضات ہو سکتے ہیں۔ پیش بندی کے طور پر ان کا مسکت جواب دے کر نفس مسئلہ کو اس طرح نکھار دیا ہے جو اہل تحقیق اور عام قاری دونوں کے لئے یکساں مفید ہے۔ یہ بات بھی مسلمہ ہے کہ ایسے قانونی اور فنی عنوانات پر اظہار خیال کرنے والے اہل قلم علمی، قانونی اور فنی مواد تو پیش کر دیتے ہیں لیکن اس میں ذوق ادب، شیریں بیانی اور رنگ محبت کو نمایاں کرنا اور اس کا تسلسل جاری رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اور سچ پوچھئے تو قانونی وعلمی تحقیق وتدقیق کے بالکل ساتھ وہم رکاب، موصوف نے قاری کے خیالات وتصورات ہی نہیں رخسار بھی آنکھوں کے آب اشک سے وضو کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ راقم نے جمعرات کو بعد نماز عشاء دیگر کتب کے بعد اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو پڑھتا ہی چلا گیا کبھی کبھی رقت قلب کی وجہ سے تسلسل ٹوٹ جاتا پھر ذرا سنبھل کر شروع کر دیتا نہ جانے کب کتاب ختم کی پھر انہی تصورات میں سو گیا صبح اٹھا تو احساسات جوں کے توں تھے۔ جمعہ کی تقریر شروع کی تو کتاب کے صفحات کے وہ نقوش آنکھوں میں گھوم رہے تھے آنسو بار بار آنکھوں سے چھلک جاتے ۔ سامعین میں سے شاید ہی کوئی فرد ہو جس کی آنکھیں مسلسل اشکبار نہ رہی ہوں۔ موذن نے کھڑے ہو کر وقت کی تاخیر کا احساس دلایا۔ سلسلہ کلام منقطع کیا تو دل سے صدا آ رہی تھی ۔ جزاہ اللہ فاحسن الجزاء

صفحہ 12

تقديم

شیخ الحدیث والفقہ حضرت مولانا قاضی محمد ایوب صاحب

مفتی دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جہاں ہر دور اور ہر عہد میں اس محبوب کائنات، رحمت دو عالم احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے حضور آپ کے عاشقان باوفا عقیدت و محبت کے پھول پیش کرتے رہے ۔ وہاں کبھی کبھی ان سے بغض اور ان کے دین سے عداوت رکھنے والے ان کی شان میں زبان طعن بھی دراز کرتے رہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اوائل اسلام سے اہانت و گستاخی رسول ﷺ کے جرم قبیح کا ارتکاب کرنے والوں کو موت کی سزا دی جاتی رہی ہے کرہ ارض پر جہاں بھی اسلامی حکومت قائم ہوئی وہاں شاتم رسول ﷺ کے لیے موت کا قانون جاری رہا۔

عہد رسالت ، دور خلافت اور بعد میں شرق وغرب کی تمام اسلامی سلطنتوں میں گستاخی کرنے والوں کو ہمیشہ موت کی سزا دی جاتی رہی ۔

برصغیر پاک و ہند میں انگریز نے اپنے مفادات کے لئے مسلمانوں کا اپنے نبی کریم ﷺ سے رشتہ کمزور کرنے کا منصوبہ بنایا۔ فاقہ کش مسلمان کے تن سے روح محمد ﷺ نکال دینے کی سازش کی ۔ علامہ اقبال اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں

وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد ﷺ اس کے بدن سے نکال دو

اور رسول ﷺ کی شان اقدس میں گستاخیوں کا مذموم سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ انگریزی استعمار کے عہد میں جو تعزیرات بنائی گئیں ان میں گستاخ رسول ﷺ کے لئے سزا کا قانون نہ تھا اور وہی تعزیرات پاکستان کے قیام کے بعد بھی جاری رہیں اور اب فیڈرل شریعت کورٹ کے تاریخی فیصلہ سے قانون تبدیل ہو کر اس جرم کے لئے سزائے موت مقرر کی گئی ۔

صفحہ 13

زیر نظر کتاب ”توہین رسالت کی سزا“ عزیزم پروفیسر حبیب اللہ چشتی صاحب کی سعادت ازلی کا ثبوت ہے۔ جس میں انہوں نے توہین رسول ﷺ کرنے والوں کے لیے سزائے موت کے قانون کو قرآن و سنت، اجماع امت، اقوال ائمہ فقہ اور تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے۔ یہ کتاب جمال رسول ﷺ کا دلکش تذکرہ اور قانون توہین رسالت کا تاریخی مجموعہ ہے اس کتاب کا مطالعہ مسلمانوں میں اپنے رسول کریم ﷺ سے سچی اور گہری وابستگی پیدا کرے گا اور دشمنان رسول ﷺ کی سازشوں سے نپٹنے کے لئے انہیں تیار کرے گا۔ اپنے نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے کامل وابستگی کے بغیر دین کا دفاع ممکن نہیں ہے حضرت علامہ اقبال نے بلاسبب تو نہیں کہا تھا۔

اے تہی از ذوق و شوق و سوز و درد
می شناسی عصر ما با ما چہ کرد
عصر ما ما را ز ما بیگانہ کرد
از جمال مصطفیٰ ﷺ بیگانہ کرد

اس غفلت کی پیدا کردہ محرومی کا مداوا یہی ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ کی امت کے دل میں عشق مصطفیٰ ﷺ کی تپش تیز تر کر دی جائے۔ اور عزیزم پروفیسر حبیب اللہ چشتی صاحب کی یہ کتاب اس امر کی جانب ایک مخلصانہ کوشش ہے۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی یہ مساعی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ اور ہم سب کو اپنی جان، مال اور عزت و آبرو اپنے آقائے کریم ﷺ کی ناموس پر قربان کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور بروز حشر حضور ختم المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین حضرت محمد ﷺ کی شفاعت سے سرفراز فرمائے۔

آمین بجاہ طہ و یسین

﴿قاضی محمد ایوب﴾

صفحہ 14

افتتاحیہ

ادیب شہیر رائے محمد کمال صاحب

حضور پرنور، شافع یوم النشور، سید المرسلین، شفیع المذنبین، محبوب خدا، فخر انبیاء، احمد مجتبیٰ حضرت محمد ﷺ کی ذات بابرکات سے والہانہ وارفتگی و شیفتگی ہی اصل میں مغز قرآن، روح ایماں اور جان دیں ہے جب تک تاجدار مدینہ ﷺ کے ساتھ ہر ایک شے سے بڑھ کر محبت نہ ہو جائے ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔

رسول اکرم، شفیع معظم ﷺ وجہ تخلیق کائنات ہیں تمام سماوی کتابوں اور صحیفوں میں آپ کی بعثت و عظمت اور رحمت و صداقت کا بیان ہوا۔ خاتم النبیین اور رحمۃ للعالمین فرمایا گیا انجیل برناباس ( اناجیل میں سب سے صحیح اور قدیم ترین ہے ) میں مذکور ہے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ اللہ کے وہی پیغمبر ہیں جن کا دنیا کے تمام قبیلوں کو شدت سے انتظار ہے؟ یسوع مسیح علیہ السلام نے فرمایا نہیں میں وہ نہیں ہوں۔ وہ میرے بعد تشریف لائیں گے۔ ان کی بعثت کے بعد کوئی سچا نبی ورسول نہیں آئے گا مگر جھوٹے پیغمبروں کی ایک بھاری تعداد آتی رہے گی۔ مزید برآں اپنے طور پر کہتا ہوں کہ میں ان کے نعلین کے تسمے کھولنے کے قابل بھی نہیں۔

قرآن مجید، فرقان حمید میں محسن انسانیت ﷺ کی حرمت وتوقیر کے بارے میں بار بار ارشاد فرمایا گیا سچ تو یہ ہے کہ جو بدنصیب شخص آپ کے سایۂ رحمت کو نہیں مانتا وہ ایک مسلمان تو کیا انسان بھی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ انسانیت کا اولین تقاضا تو انسان کامل ﷺ کی اطاعت اور اعتراف عظمت ہے۔

دین اسلام میں تمام انبیاء ورسل کی گستاخی و بے ادبی کو ناقابل معافی جرم ٹھہرایا گیا ہے جبکہ رسول پاک ﷺ کا عشق و محبت تو ثبوت ایمان ہے۔ جو شخص آپ کی بے حرمتی و بے ادبی پر خاموش رہتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی اور کافر وزندیق نہیں ہو سکتا۔

صفحہ 15

تحریک شتامت رسول ﷺ کا پس منظر، دشمنان اسلام کی سازشوں سے عبارت ہے یہ ایک ایسا جرم ہے جس میں نیت نہیں دیکھی جاتی، تاویلوں کے گورکھ دھندے میں نہیں الجھا جاسکتا۔ توبہ و معذرت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ کافر و مسلم کی رعایت قابل اعتنا نہیں۔ شاتم رسول (ﷺ) کوئی ہو کسی جگہ کا رہنے والا ہو، کسی خاندان و نسل سے تعلق رکھتا ہو اور کسی بھی رنگ کا ہو بہر حال واجب القتل ہے، جو شخص ایک گستاخ رسول ﷺ کو مرتد و ملعون نہیں سمجھتا وہ خود بھی مرتد و ملعون ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ صفحہ کائنات پر اپنے آقا و مولا ﷺ سے عشق و وفا اور جذباتی و عملی وابستگی و پیوستگی کے جو انداز غلامان محمد ﷺ نے پیش کیے ہیں۔ ان کی مثال و نظیر کوئی دوسری تہذیب و قوم پیش نہیں کر سکتی۔ برصغیر پاک و ہند میں تحریک شتامت رسول ﷺ کو انگریز نے ابھارا تھا لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ خنجر بکف، تکبیر بلب پاکباز نوجوانان اسلام کے خنجر ہمیشہ شاتمان رسول ﷺ کا کام تمام کرتے رہے۔ بدقسمتی سے انگریز کا پالا ہوا ایک گروہ ایسا بھی تھا جس نے اپنے خبث باطن کو عباؤں اور قباؤں میں چھپا رکھا تھا۔ سادہ لوح عوام دھوکے میں مارے گئے۔ اس سازش کی ایک کڑی مرزا غلام احمد قادیانی ہے نام اور بھی ہیں المختصر یہ کہ شیطانی قوتیں اب گستاخی رسول ﷺ کا کھیل عالمی سطح پر کھیل رہی ہیں ان کا ایک مکروہ روپ سلمان رشدی ہے۔

اس موقع پر جب کہ مسلمان ہر محاذ پر پسپائی اختیار کیے ہوئے ہیں ان کی فکری و علمی بچارگی بھی قابل رحم ہے۔ آباؤ و اجداد کی ہر وراثت سے محروم اور محروم تمنا بھی، ایسے میں پروفیسر حبیب اللہ چشتی صاحب (فاضل بھیرہ شریف) نے خالصۂ علمی و تحقیقی انداز میں اسلامی کتب و رسائل کو کھنگال کر اپنی خوش مذاقی، خوش فکری، خوش نظری اور خوش علمی کا ثبوت دیا ہے یوں تو اس موضوع پر بہت سی کتابیں اور رسائل دیکھنے میں آئے ہیں۔ مگر انداز بیان میں یہ متانت و سنجیدگی، تڑپ، تلاش، ذوق اور جستجو کہاں؟ میں سمجھتا ہوں کہ موصوف نے ایک عظیم فریضہ سر انجام دیا ہے اور یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں۔

رائے محمد کمال

صفحہ 16

مقدمہ

(سوئے منزل)

پورے کا پورا دین سمٹ کر ذات مصطفیٰ ﷺ میں مرتکز ہو جاتا ہے۔ اسلام میں ہر چیز کا آخری اور حتمی حوالہ حضور اقدس ﷺ کی ذات گرامی ہی ہے۔ ذات باری تعالیٰ، وجود ملائکہ اور حقانیت آخرت سب پر ایمان حضور سید عالم ﷺ کی ذات اقدس پر ہی منحصر ہے۔ مولانا شاہ احمد رضا خان بریلویؒ نے کتنے احسن پیرایہ میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے

اللہ کی سرتا بقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں
ایمان یہ کہتا ہے میری جان ہیں یہ

امام المرسلین ﷺ کی ذات ہمایوں کا تمام دین کا منبع، مرکز اور محور ہونا اس حقیقت کو واشگاف الفاظ میں بیان کر رہا ہے کہ حضور ﷺ کی ذات اقدس کی توہین و تنقیص صرف فرد واحد کی توہین نہیں بلکہ یہ ذات باری تعالیٰ کی بھی توہین ہے کیونکہ حضور ﷺ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے نمائندہ اور سفیر ہیں اور اس ذات احد کے سب سے پیارے محبوب بھی سرکار ﷺ کی توہین تمام اہل ایمان کی بھی توہین ہے کیونکہ حضور ﷺ کی عزت و آبرو انہیں اپنی جانوں اور اپنی عزت و آبرو سے کہیں بڑھ کر محبوب ہے اور یہی ایمان کی نشانی ہے۔

اگر حضور سید عالم ﷺ کی ذات اقدس کی توہین و تنقیص کی جائے تو بلاواسطہ یہ اللہ تعالیٰ، ملائکہ، دین اسلام اور جمیع مومنین کی توہین تصور ہوگی۔

یہی وجہ ہے کہ اس جرم کی سزا بڑی سخت اور کڑی رکھی گئی ہے قرآن وسنت اور

صفحہ 17

اجماع امت کی روشنی میں یہ متفق علیہ فیصلہ ہے کہ حضور ﷺ کی شان اقدس میں ادنیٰ سی گستاخی کرنے والا بھی واجب القتل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر نبی ورسول علیہ السلام ہی اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کا نمائندہ اور سفیر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بھی۔ اس لیے اسلامی نقطہ نظر کے مطابق ہر نبی ورسول علیہ السلام کی توہین و تنقیص کرنے والا واجب القتل ہے۔

صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کا ہر مذہب اپنے مقتدا اور بانی مذہب کی گستاخی کی سزا قتل ہی تجویز کرتا ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں جہاں بھی اسلامی حکومت قائم ہوئی وہاں اس جرم کی یہی سزا تھی۔ کیونکہ قرآن وسنت اور اجماع امت کا یہی فیصلہ ہے کہ توہین رسالت کا مرتکب بطور حد واجب القتل ہوگا اور توبہ کر لینے سے بھی اسکی سزا معاف نہیں ہوگی کیونکہ حدود توبہ سے معاف نہیں ہوتیں۔

توہین رسالت کی سزا کسی جذباتی بنیاد پر نہیں رکھی گئی بلکہ یہ اسلام کے عقیدہ تہذیب و تمدن اور نشر و اشاعت کے تحفظ کی منطقی پکار ہے۔ ہر مسلمان کائنات کے دیگر معاملات میں مصالحانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے۔ لیکن ناموس رسالت کے منافی کسی ادنیٰ سے ادنیٰ حرکت کو برداشت کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے ہماری تاریخ ایسی سنہری مثالوں سے روشن و منور ہے کہ یہاں قانون اور آئین تحفظ ناموس رسالت ﷺ میں ناکام ہو گئے وہاں غلامان مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء نے ایسے لادین قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے خود اس گستاخ رسول ﷺ کو واصل جہنم کیا۔ اور پھر ہنستے مسکراتے پھانسی کے پھندے کو چوم کر ایک نئی تاریخ رقم کر گئے غازی علم الدین شہیدؒ، غازی عبدالقیوم شہیدؒ، غازی محمد صدیق شہید، غازی مرید حسین شہیدؒ اور دیگر شہدائے ناموس رسالت کی داستانیں ہمیشہ مشعل راہ بن کے جگمگاتی رہیں گی اور اہل ایمان کے دلوں میں عشق رسول ﷺ کی چنگاری کو تیز تر کرتی رہیں گے۔ اور امت مسلمہ کے سر ان شہیدان باوفا کی وجہ سے ہمیشہ بلند رہیں گے۔

صفحہ 18
ع خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج اس مسلمہ اور متفقہ مسئلہ کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نہ جانے یہ شوق جدت ہے، مفادات کا حصول یا شہرت و ناموری کا مکروہ جذبہ کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ قرآن وسنت سے ایسی کوئی سزا ثابت نہیں ہے یہ علماء نے خود تجویز کی ہے۔

اگر دین سے بے بہرہ لوگ ہی یہ کہتے تو اور بات تھی بڑے بڑے دانشور گردانے جانے والے بھی کچھ لوگ یہی ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں۔

معروف سکالر مولانا وحید الدین خان جن کی چند کتابیں بڑی قدر کی نگاہ سے بھی دیکھی جاتی ہیں تو اس مسئلہ میں تمام حدیں ہی تجاوز کر گئے کچھ پہلوؤں سے میرے دل میں مولانا وحید الدین خان کی قدر موجود تھی لیکن اس مسئلہ میں ان کی آراء پڑھ کر سخت دھچکا لگا کیونکہ ناموس رسول ﷺ سے بڑھ کر مجھے کوئی چیز پیاری نہیں۔

چونکہ مولانا کی کتابیں عموماً پڑھی جاتی ہیں ان کی اس فکری غلطی سے پردہ اٹھانا بہت ہی ضروری محسوس ہوتا ہے۔

مولانا اپنی کتاب ”شتم رسول کا مسئلہ“ میں لکھتے ہیں۔

”یہ مسئلہ دین میں ایک اضافہ ہے جس کے لیے نہ قرآن وحدیث میں کوئی صریح نص موجود ہے اور نہ رسول اللہ ﷺ کے عمل سے اس کی تصدیق ملتی ہے“ ص ۱۳۰

ایک جگہ پر لکھتے ہیں:

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام خیال یہ ہو گیا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی یا اس کا استہزاء ایک ایسا جرم ہے جو علی الاطلاق طور پر مجرم کو واجب القتل بنا دیتا ہے۔ یعنی جیسے ہی کوئی شخص ایسے الفاظ بولے جو مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی نظر آئے

صفحہ 19

اس کو فوراً قتل کر دیا جائے۔ اس قسم کا مطلق نظریہ شرعی اعتبار سے بے بنیاد ہے۔ اسلام میں اس کے لیے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں‘‘ ص ۱۵۲

غازی عبدالرشید شہیدؒ نے ایک گستاخ رسول ﷺ سوامی شردھانند کو قتل کر دیا جس نے ’’رنگیلا رسول‘‘ نامی ایک رسوائے زمانہ کتاب لکھی تھی اور غازی عبدالرشید کو اسی وجہ سے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ اور وہ بھی ناموس رسالت پر فدا ہونے والے شہیدوں کی صف میں شامل ہو گئے۔

ع یہ مرتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

لیکن افسوس ہے کہ مولانا وحید الدین خان نے اس واقعہ پر یوں تبصرہ کیا ہے۔

’’حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے عمل کو ناموس رسول ﷺ کے نام پر بے فائدہ جان دے دینا تو کہہ سکتے ہیں مگر اس کو ناموس رسول ﷺ کی حفاظت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ قربانی نہیں بلکہ نادانی ہے جس کا تعلق نہ عقل سے ہے اور نہ اسلام سے‘‘ ص ۷۲

اور بھی کچھ چھوٹی موٹی کتابیں شائع کروا کے تقسیم کی گئیں کہ توہین رسالت کی سزا قتل نہیں ہے یہ مولوی حضرات کا ایک خود ساختہ مسئلہ ہے۔

ایسے ہی اس سزا کو حقوق انسانی کے علمبردار ہونے کی مدعی تنظیمیں آزادی رائے کے منافی قرار دے رہی ہیں کہ آزادی رائے کا یہ مطلب آپ نے کہاں سے لے لیا کہ آپ ایک ارب تیس کروڑ انسانوں کے ایمانوں کے مرکز ومحور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیں۔ آزادی رائے کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ جس بھی مذہب کو اختیار کرنا چاہیں آپ آزاد ہیں۔ عیسائی بنیں، یہودی مسلمان یا کوئی اور مذہب اختیار کریں۔ لیکن کسی کے مقتدا اور پیغمبر کو گالی دینا یہ آزادی کی کون سی قسم ہے۔

کہاں گئے وہ جمہوریت کے علمبردار؟ ان سے پوچھا جائے کہ ایک آدمی اگر ایک ارب تیس کروڑ انسانوں کے مقتدا کی توہین کر کے ان کے تن بدن میں آگ لگا دے۔

صفحہ 20

ان کے سکون و اطمینان کو غارت کر دے تو وہ ایک قابل احترام ہے یا ایک ارب تیس کروڑ؟

تعجب ہے مولانا وحید الدین بھی توہین رسالت کے ارتکاب کو آزادی رائے کا ایک اظہار ہی سمجھ رہے ہیں جس کی وضاحت انہوں نے مذکورہ کتاب میں جگہ جگہ کی ہے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس کے سبب اس موضوع پر چند حروف لکھنے کا خیال میرے دل میں میرے رب جلیل نے ڈالا اور پھر محض اپنے فضل و کرم اور حضور نبی رحمت ﷺ کی نظر عنایت کے سبب اس کی تکمیل کا سامان بھی فرمایا: هذا من فضل ربی لیبلونی أأشكر ام اكفر میں نے اختصار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مقدور بھر سعی کی ہے کہ قرآن و سنت پر اور اجماع امت کی روشنی میں ثابت کیا جائے کہ توہین رسالت کی سزا قتل اور صرف قتل ہے دنیا کے دیگر مذاہب بھی اس سے متفق ہیں۔

اس میں جو حق اور صواب ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل عمیم اور حضور ﷺ کی نظر رحمت کا صدقہ ہے اور اگر کوئی خطا اور غلطی ہو گئی ہو تو وہ میری کم علمی اور بے بضاعتی کے سبب ہے۔ میری قارئین سے استدعا ہے کہ اگر وہ کوئی غلطی محسوس فرمائیں تو مجھے مطلع فرمائیں تاکہ اس کی تصحیح کی جاسکے۔

دعا ہے کہ رب جلیل میری یہ حقیر سی خدمت اپنی بارگاہ عالی میں قبول فرمائے اسے سامان رشد و ہدایت بنائے۔ اور اس کے صدقے مجھے، میرے والدین، جملہ اساتذہ کرام اور تمام عزیز و اقارب کو حضور شفیع المذنبین ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین

بارگاہ رسالتمآب ﷺ میں اس التجا کے ساتھ

یارسول اللہ ﷺ! یا حبیب اللہ ﷺ!
خدا جب تم سے فرمائے کہ لاؤ اپنی امت کو
ہماری طرف بھی کرنا اشارہ یا رسول اللہ ﷺ
صفحہ 21

میں ان تمام احباب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کی تکمیل میں بھی کسی بھی طرح مجھ سے تعاون فرمایا خصوصاً شیخ الحدیث والفقہ استاذی المکرم جناب قاضی محمد ایوب صاحب اور مشہور اہل قلم محترم المقام جناب رائے محمد کمال صاحب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنے تاثرات تحریر فرما کر میری حوصلہ افزائی فرمائی۔

محترم المقام جناب علامہ عبدالرحمن شاہ الازہری کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مسودہ کی تصحیح میں میرے ساتھ بھر پور تعاون فرمایا اور مجھے وقیع مشوروں سے نوازا۔ شکر گزار ہوں عزیزم احسان صدیقی سلمہ کا جنہوں نے اس کام کی طرف میری توجہ مبذول کروائی۔ ورنہ شاید میں اس سعادت سے محروم ہی رہتا اور پھر اسے دیدہ زیب طریقہ سے شائع کرنے کا اہتمام فرمایا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین اسلام کا سچا خادم بنائے اور ہمارے دلوں میں خلوص و للہیت پیدا فرمائے۔

ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الاخرة حسنة وقنا عذاب النار وادخلنا الجنة مع الابرار يا عزيز يا غفار يا ارحم الرحمين وصلى الله تعالى على رسوله المعظم و نبيه المكرم محمد صلى الله عليه وآله واصحابه اجمعين

طلبگار رحمت پروردگار امیدوار شفاعت سید الابرار ﷺ محمد حبیب اللہ چشتی ایف ۔ جی کالج H.8 اسلام آباد خطیب ۔ ڈی۔ سی ۔ سی ۔ ایل متوطن ۔ چک 135 جنوبی سلانوالی سرگودھا

صفحہ 22
دشمن احمد ﷺ پہ شدت کیجئے
ملحدوں کی کیا مروت کیجئے
ظالمو! محبوب ﷺ کا حق تھا یہی
عشق کے بدلے عداوت کیجئے
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجئے
صفحہ 23

توہین رسالت

کیا ہے؟

صفحہ 24

امت مسلمہ ہمیشہ اور ہر دور میں اس بات پر متفق رہی ہے کہ نبی کریمﷺ کی شان اقدس میں کسی بھی طریقہ سے گستاخی کرنے والا واجب القتل ہے وہ گستاخی صراحۃً کرے یا کنایۃً اشارہ کرے یا کسی بھی طریقہ سے۔ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، ہر حال میں واجب القتل ہوگا اور توبہ کر لینے سے بھی اس کا قتل معاف نہیں ہوگا اور کسی بھی نبیﷺ کی توہین کا یہی حکم ہوگا۔

نفس مسئلہ میں شروع ہونے سے پہلے اس چیز کی وضاحت ضروری ہے کہ کون کون سی بات توہین رسالت کے زمرہ میں آئے گی؟

کون کون سی بات توہین رسالت متصور ہوگی؟

اس مسئلہ میں اصولی بات یہ ہے کہ ہر وہ بات جسے عرف میں توہین آمیز کلمہ تصور کیا جائے گا جس میں کسی بھی ذریعہ سے حضور سید عالمﷺ کی توہین یا تنقیص کا پہلو نکلتا ہو وہ توہین رسالت متصور ہوگی بلکہ یہ اتنا نازک مقام ہے کہ بعض چیزیں جنہیں عرف میں توہین نہیں بھی سمجھا جاتا ، رسالت کے باب میں ایسا غیر مناسب رویہ بھی توہین و تنقیص تصور کیا جاتا ہے۔

ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا

جماہیر امت کی آراء ملاحظہ ہوں ۔

قاضی ابوالفضل عیاض بن موسیٰ اندلسی فرماتے ہیں :

اعلم وفقنا الله واياك ان جميع من سب النبى ﷺ او عابه او الحق به نقصا فى نفسه او نسبه او دينه او خصلته من خصاله او عرض به او شبهه بشیء علی طريق السب له والازراء عليه او لتصغير شانه او البغض

منه والعيب له فهو ساب ”جان لو (اللہ ت کو گالی دے، یا آپ پر عیب کی عادات میں سے کسی عاد دے یا آپ کو ناقص کہے یا لگائے وہ آپﷺ کی توہین والے کا ہے کہ اسے قتل کر دیا علامہ ابن تیمیہ فيجب ان يع اهل العرف سبا وانتقاص ”وہی سب اور عرف کے نزدیک جو چیز گستا قاضی ثناء اللہ پانی من اذى رسو من صفاته او بوجه من كفر ولعنه الله فى الدني ”جو بھی شخص حضو وجوہ میں سے کسی ایک وجہ

(۱) الشفا، ج ۲ ص ۲۱۴

(۲) الصارم المسلول ص

(۳) تفسیر مظہری ج

صفحہ 25

منه والعيب له فهو ساب له والحكم فيه حكم الساب يقتل (۱) ”جان لو (اللہ تعالیٰ تمہیں اور ہمیں نیک توفیق دے) کہ جو شخص حضور اکرم ﷺ کو گالی دے، یا آپ پر عیب لگائے، یا کسی نقص کی نسبت آپ کی ذات، نسب، دین یا آپ کی عادات میں سے کسی عادت کی طرف کرے۔ یا آپ کو بطریق گستاخی کسی چیز سے تشبیہہ دے یا آپ کو ناقص کہے یا آپ کی شان کو کم کرے یا آپ پر یا آپ کی کسی بات پر عیب لگائے وہ آپ ﷺ کی توہین کرنے والا ہوگا اس کے متعلق وہی حکم ہے جو آپ کو گالی دینے والے کا ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے گا“۔

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

فيجب ان يرجع في الاذى والسب والشتم الى العرف فما عده اهل العرف سبا وانتقاصا او عيبا او طعنا ونحو ذالك فهو من السب (۲) ”اذی، سب اور شتم کا مفہوم سمجھنے کیلئے عرف کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ اہل عرف کے نزدیک جو چیز گستاخی، تنقیص اور عیب شمار ہوگی اُن سب کو ’سب‘ کہا جائے گا“۔

قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں:

من اذى رسول اللہ ﷺ بطعن في شخصه او دينه او نسبه او صفة من صفاته او بوجه من وجوه الشين فيه صراحة او كناية او تعريضا او اشارة كفر ولعنه الله في الدنيا والآخرة واعد له عذاب جهنم (۳) ”جو بھی شخص حضور سید عالم ﷺ کو اشارہ و کنایہ، صریح و غیر صریح، عیب کی جملہ وجوہ میں سے کسی ایک وجہ سے یا آپ ﷺ کے دین یا آپ ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق

(۱) الشفا، ج ۲، ص ۲۱۴ مطبوعہ بیروت

(۲) الصارم المسلول، ص ۵۳۴

(۳) تفسیر مظہری، ج ۷، ص ۳۸۱ مطبوعہ کوئٹہ

صفحہ 26

کسی بھی قسم کی زبان درازی کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں اس پر لعنت کی اور اس کے لیے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے“

توہین رسالت کے متعلق علماء امت نے بعض چیزوں کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے کہ ان چیزوں کا ارتکاب کرنے والا توہین رسالت کا مرتکب ہوگا تا کہ اس مسئلہ کی نزاکتیں مزید واضح ہو جائیں۔ ان میں سے چند چیزیں ملاحظہ ہوں۔

(1) ذومعنی لفظ کا اطلاق

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یایھا الذین امنوا لاتقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا وللکافرین عذاب الیم (۱)

”اے ایمان والو تم راعنا نہ کہو بلکہ انظرنا کہو اور غور سے سنو اور کفر کرنے والوں کیلئے درد ناک عذاب ہے“۔

اس آیہ کریمہ کا پس منظر یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ صحابہ کرام کو وعظ فرماتے تو اگر کسی صحابی کو کوئی بات سمجھ نہ آتی تو وہ عرض کرتا راعنا یا رسول اللہ ﷺ۔ اے اللہ کے رسول ﷺ ہماری رعایت فرمائیے اور ہماری طرف توجہ فرمائیے۔ یہود کی لغت میں یہی لفظ بددعا کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ اور اس کا معنی تھا سنو تمہاری بات نہ سنی جائے۔ وہ اسی معنی کا لحاظ کرتے ہوئے یہ لفظ کہتے اور آپس میں ہنستے کہ پہلے تو ہم انہیں تنہائی میں بددعا دیتے تھے اب برسر مجلس بددعا دینے کا موقع ہاتھ آ گیا۔ حضرت سعد بن معاذ کو یہود کی لغت کا علم تھا۔ انہوں نے یہود کی اس سازش کو بھانپ لیا اور انہوں نے فرمایا اے یہود تم پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر تم نے آئندہ یہ لفظ بولا تو میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔ یہود کہنے لگے تم بھی

(۱) سورۃ البقرۃ: ۱۰۴

تو یہی لفظ کہتے ہو اس ب کے لفظ کے استعمال سے چونکہ یہود نے توہین کا راستہ اختیار کیا تھا ہوا کہ جو بھی لفظ کسی بھی معنی گستاخی تصور ہوگا۔ جیسے ” ذلیل“ ہوتا ہے لیکن یہ گھٹیا اور حقیر یہ قول بیان کیا گیا۔ يقولون لئن ر ”وہ کہتے ہیں نکال دے گا“۔ یہاں ذلت کا ذلیل کا لفظ استعمال ہی گھٹیا ذلیل۔ (ذلیل تو نبی کریم ﷺ برے معنی میں استعمال ہو

(۱) سورۃ المنافقون : ۸

(۲) فیروز اللغات ۔ مادہ ذ

صفحہ 27

تو یہی لفظ کہتے ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی اور اہل ایمان کو بھی راعنا کے لفظ کے استعمال سے روک دیا کیونکہ یہ ذو معنی اور مشترک لفظ تھا۔

چونکہ یہود نے راعنا کا مشترک اور ذو معنی لفظ بول کر حضور سید عالم ﷺ کی توہین کا راستہ اختیار کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے راعنا کا لفظ بولنا ہی منع فرما دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو بھی لفظ کسی بھی معنی اور لحاظ سے حضور ﷺ کی توہین کا سبب بنے وہ حضور ﷺ کی گستاخی تصور ہوگا۔

جیسے ”ذلیل“ کا لفظ اگرچہ عربی میں بے سروسامان کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے لیکن یہ گھٹیا اور حقیر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے قرآن مجید میں منافقین کا یہ قول بیان کیا گیا۔

يقولون لئن رجعنا الى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل (۱)

”وہ کہتے ہیں اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا“۔

یہاں ذلت کا لفظ عزت کے متضاد کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اور اردو میں تو ذلیل کا لفظ استعمال ہی گھٹیا معنی میں ہوتا ہے۔ فیروز اللغات میں ہے۔

ذلیل ۔ (ذلِیل) ع ۔ صف (۱) خوار (۲) رسوا، بدنام (۳) کمینہ (۲)

تو نبی کریم ﷺ پر ایسے الفاظ کا اطلاق توہین تصور ہوگا جو کسی بھی لحاظ سے کسی برے معنی میں استعمال ہوتے ہوں۔

(۱) سورہ المنافقون:۸

(۲) فیروز اللغات ۔ مادہ ۔ ذ ۔ ل ۔ ص ۳۶۳

صفحہ 28

(۲) کسی کو حضور ﷺ سے بڑا عالم کہنا

علامہ شھاب خفاجی فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے حضور ﷺ پر کسی کی علمی فضیلت ثابت کرتے ہوئے کہا فلاں اعلم منہ ۔ کہ فلاں شخص حضور ﷺ سے زیادہ علم والا ہے تو وہ کافر ہو جائے گا۔ (۱)

(۳) حضور ﷺ کی کملی کی طرف کوئی عیب منسوب کرنا

علماء امت نے وضاحت فرمائی ہے کہ حضور سید عالم ﷺ کی کملی مبارک کی توہین بھی کفر ہے علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

روى ابن وهب عن مالك من قال ان رداء النبي ﷺ وروى برده وسخ واراد به عيبه قتل (۲)

"ابن وھب نے امام مالک سے روایت کیا ہے کہ جس نے توہین کی نیت سے یہ کہا کہ نبی کریم ﷺ کی چادر میلی ہے اسے قتل کر دیا جائے گا"۔

(۴) حضور ﷺ کے بال مبارک کی توہین کرنا

علامہ شامی لکھتے ہیں:

وفي المحيط لو قال لشعر النبي ﷺ شعير يكفر عند بعض المشائخ وعند البعض لا يكفر الا اذا قال ذالك بطريق الاهانة . (۳)

محیط میں ہے کہ بعض مشائخ کے نزدیک کہ اگر کسی نے حضور ﷺ کے شعر مبارک کو توہین کی نیت سے شعیر (بصیغہ تصغیر) کہا تو وہ کافر ہو جائے گا اور بعض کے نزدیک اگرچہ توہین کی نیت نہ بھی ہو تب بھی حضور ﷺ کے شعر مبارک کو شعیر کہنے والا کافر ہو جائے گا"۔

(۱) نسیم الریاض ج ۴ ص ۳۳۳

(۲) الصارم المسلول ص ۵۲۹

(۳) رسائل ابن عابدین شامی ص ۳۲۶۔ مطبوعہ لاہور

صفحہ 29

(۵) حضور ﷺ کی سنت کا مذاق اڑانا

حضور سید عالم ﷺ کی کسی سنت مبارکہ کا حقارت سے تذکرہ کرنا بھی توہین رسالت متصور ہوگا۔

امام ابن بزاز حنفی فرماتے ہیں:

اگر کوئی شخص کہے کہ حضور ﷺ کا معمول تھا کہ آپ کھانا کھانے کے بعد اپنی انگلیاں چاٹ لیتے تھے اور کوئی سننے والا حقارت کی نیت سے کہے ایں بے ادبی است کفر کہ یہ تو آداب کے منافی ہے تو وہ شخص کافر ہو جائے گا۔ (۱)

اگر کسی نے کہا کہ ناخن تراشنا سنت ہے دوسرے نے کہا ٹھیک ہے اگرچہ سنت ہے مگر اس کے باوجود میں ناخن نہیں تراشتا۔ اس اسلوب کلام سے بھی وہ شخص کافر ہو جائے گا۔ (۲)

اگر کسی نے کوئی حدیث سنی پھر حقارت کرتے ہوئے کہنے لگا اس طرح کی بہت سی حدیثیں میں نے سنی ہوئی ہیں۔ اس طرح کہنے سے بھی وہ شخص دائرہ اسلام سے نکل جائے گا۔ (۳)

(۶) حضور ﷺ کے حسن و جمال پر تنقید کرنا

قاضی عیاض فرماتے ہیں:

افتی ابو محمد بن زید بقتل رجل سمع قوما یتذاکرون صفۃ النبی ﷺ اذ مر بھم رجل قبیح الوجہ واللحیۃ فقال لھم تریدون تعرفون صفۃ ھی فی صفتہ ھذا المار فی خلقہ و لحیتہ قال و لا تقبل توبتہ وقد کذب لعنہ اللہ و لیس یخرج من قلب سلیم الایمان. (۴)

(۱) فتاویٰ بزازیہ ج۶ ص ۳۲۸

(۲) خلاصۃ الفتاویٰ ج۴ ص ۳۸۶

(۳) فتاویٰ بزازیہ ج۶ ص ۸۶

(۴) الشفاء ج۲ ص ۲۳۹

صفحہ 30

امام محمد بن زید نے اس شخص کے قتل کا فتویٰ دیا جو ایک قوم کی باتیں سننے لگا جو حضور ﷺ کی صفات کا تذکرہ کر رہی تھی اچانک ایک قبیح چہرے، داڑھی والا شخص وہاں سے گزرا تو وہ شخص کہنے لگا کیا تم حضور ﷺ کی صفت جاننا چاہتے ہو تو حضور کی صفت، خلقت اور داڑھی مبارک اس گزرنے والے کی طرح ہے (معاذ اللہ) امام محمد بن ابو زید نے فرمایا اس کی توبہ قبول نہیں ۔ یہ جھوٹا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ ایسی باتیں اس شخص کے دل سے نہیں نکلتیں جس کا ایمان سلامت ہو۔

امام احمد بن سلیمان فرماتے ہیں:

من قال ان النبی کان اسود یقتل. (۱)

جس نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا رنگ سیاہ تھا اسے قتل کر دیا جائے گا۔

(۷) حضور ﷺ کا ذکر موقع کی مناسبت کے بغیر کرنا

ایک شخص نے دوسرے سے کہا تم میری فقیری کا مذاق اڑاتے ہو حالانکہ نبی کریم ﷺ نے بھی بھیڑ بکریاں چرائی تھیں امام مالک نے ایسے شخص کے خلاف فتویٰ دیا کہ اس نے نبی کریم ﷺ کا ذکر موقع و مناسبت کے بغیر کیا تھا اس لیے ایسے شخص کو اس کی سزا دی جائے۔ (۲)

ایسے ہی کسی شخص کا نبوت کا دعویٰ کرنا، آپ ﷺ کی طرف کسی جھوٹ کو منسوب کرنا، آپ ﷺ کی ذات پر طنز کرنا، آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی نعمت عظمیٰ تسلیم نہ کرنا، آپ ﷺ کے فقر کو اضطراری کہنا اور آپ ﷺ کی طرف کسی جہالت کو منسوب کرنا وغیرہ ہم سب چیزیں توہین رسالت کے زمرہ میں آئیں گی۔

(۱) الشفا، ج ۲ ص ۹۳۹ (۲) نفس مصدر ج ۲ ص ۲۳۲

صفحہ 31

توہین رسالت کا حکم

قرآن وسنت اور اجماع امت اس پر شاہد ہیں کہ توہین رسالت کا مرتکب بہر حال میں قتل کیا جائے گا۔

علامہ ابن تیمیہ نے امام اسحاق بن راہویہ کا یہ فرمان نقل کیا ہے:

اجمع المسلمون على ان من سب الله او سب رسوله او دفع شيئا مما انزل الله عز وجل او قتل نبيا من انبياء الله انه كافر بذالك وان كان مقرا بكل ما انزل الله . (۱)

امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول ﷺ کو گالی دی یا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کسی چیز کا انکار کیا یا اللہ تعالیٰ کے نبیوں میں سے کسی کو قتل کیا تو وہ کافر ہو جائے گا اگر چہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ چیزوں کا اقرار کرنے والا ہی ہو۔

پھر علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں:

ان الساب ان كان مسلما فانه يكفر ويقتل بغير خلاف وهو مذهب الائمة الاربعة وغيرهم ............. اجمع العلماء على ان شاتم النبي ﷺ والمنتقص له كافر والوعيد جاء عليه بعذاب له وحكمه عند الامة القتل ومن شك فى كفره وعذابه فقد كفر . (۲)

”توہین کرنے والا اگر مسلمان ہو تو وہ کافر ہو جائے گا اور بغیر کسی اختلاف کے قتل کیا جائے گا اور چاروں اماموں (امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل)

(۱) الصارم المسلول ص ۳

(۲) نفس مصدر ص ۴

صفحہ 32

اور سب کا یہی موقف ہے......... اس پر علماء کا اتفاق ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والا یا آپ کی تنقیص کرنے والا کافر ہو جائے گا۔ وہ عذاب الٰہی کا مستحق ٹھہرے گا۔ اور امت مسلمہ کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے جو اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہو جائے گا"۔

اس مسئلہ کی مزید تفصیل تو "اجماع امت" والے باب میں آئے گی انشاء اللہ سردست صرف امام ابن عابدین شامی کا نقطہ نظر عرض کر کے میں اس بات کو یہیں ختم کرنا چاہتا ہوں۔

وہ فرماتے ہیں:

والحاصل انه لا شك ولا شبهة فى كفر شاتم النبى وفى استباحة قتله وهو المنقول عن الائمة الاربعة (۱)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کے کفر اور اس کے مستحق قتل ہونے میں کوئی شک شبہ نہیں ائمہ اربعہ کا یہی موقف ہے"۔

اب قرآن وسنت اور اجماع امت کی روشنی میں اس موقف پر دلائل ملاحظہ ہوں

أقول وباللہ التوفیق ۔

(۱) ردالمحتار ج ۳ ص ۲۳۸

صفحہ 33

قرآن حکیم اور

توہین رسالت کی سزا

صفحہ 34

قرآن مجید میں توہین رسالت کے مرتکب کیلئے دوسزاؤں کا ذکر ہے۔

وہ مسلمان ہو یا کافر۔ دونوں سزاؤں کی کچھ تفصیل ملاحظہ ہو۔

(۱) توہین رسالت کفر ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں متعدد مقامات پر حضورﷺ کی تعظیم وتوقیر کا حکم فرمایا ہے جیسے ایک جگہ پر ارشاد ہوتا ہے۔

لتؤمنوا بالله ورسوله وتعزروه وتوقروه (۱)

تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو“۔

تو اہل ایمان پر حضور سید عالمﷺ کی تعظیم وتوقیر کا لازم ہونا عقائد قطعیہ میں سے ہے تو جو حضورﷺ کی شان اقدس میں توہین اور بے ادبی کا ارتکاب کرتا ہے وہ اس عقیدہ قطعیہ کا منکر ہونے کی وجہ سے کافر قرار پائے گا۔ توہین رسالت کے مرتکب کے کافر ہونے پر قرآن مقدس کے چند مقامات ملاحظہ ہوں۔

پہلی آیہ طیبہ

ياايها الذين امنوا لاترفعوا اصواتكم فوق صوت النبي ولا تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض ان تحبط اعمالكم وانتم لاتشعرون (۲)

(۱) سورہ الفتح ۹

(۲) سورہ الحجرات ۲

مقالہ کانفرنس مکہ عالمی سیرت

”اے ایمان والو حضور بات چلا کر کہو جیسے آپ اعمال اکارت نہ ہو جائیں اور

اس آیہ کریمہ میں کہ اس آیہ کریمہ میں بارگاہ ہے اور قرآن مجید میں صرف ک چند آیات ملاحظہ

من يكفر بالايم ”جو ایمان سے م

ولو اشركوا لم ”اگر وہ شرک کر

والذين كذبوا اور جنہوں نے ہ برباد ہو گئے“۔

لئن اشركت ل ”اگر تو نے شرک

ان کے علاوہ اور ہر مقام پر کفر اور شرک پر ہی

(۱) سورہ المائدہ: ۵

(۲) سورہ الاعراف: ۱۴۷

الاعراف: ۱۴۷

صفحہ 35

”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کرو اور نہ ان کے حضور بات چلا کر کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو“۔

اس آیہ کریمہ میں توہین رسالت کے مرتکب کے کافر ہونے پر وجہ استدلال یہ ہے کہ اس آیہ کریمہ میں بارگاہ نبوت میں اپنی آواز بلند کرنے پر ’’حبط اعمال‘‘ کی وعید سنائی گئی ہے اور قرآن مجید میں صرف کفر اور شرک اختیار کرنے پر ہی حبط اعمال کی سزا سنائی گئی ہے۔

چند آیات ملاحظہ ہو:

من یکفر بالایمان فقد حبط عملہ . (۱)

”جو ایمان سے منکر ہوا اس کا عمل ضائع ہوگیا“

ولو اشرکوا لحبط عنھم ماکانوا یعملون . (۲)

”اگر وہ شرک کرتے تو ان کے تمام اعمال برباد ہو جاتے“۔

والذین کذبوا بآیاتنا ولقاء الاخرۃ حبطت اعمالھم (۳)

اور جنہوں نے ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان کے اعمال برباد ہو گئے“۔

لئن اشرکت لیحبطن عملک (۴)

”اگر تو نے شرک کیا تو تیرے سب اعمال برباد ہو جائیں گے“۔

ان کے علاوہ اور بھی متعدد مقامات ہیں جہاں حبط اعمال کی سزا سنائی گئی ہے لیکن ہر مقام پر کفر اور شرک پر ہی یہ سزا سنائی گئی ہے۔

(۱) سورہ المائدہ: ۵ (۲) الانعام: ۸ (۳) سورہ الاعراف: ۱۴۷ (۴) الزمر: ۶۵

صفحہ 36

یہ درست ہے کہ بعض گناہ بعض اعمال کو برباد کر دیتے ہیں جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

يا ايها الذين امنوا لا تبطلوا صدقتكم بالمن والاذى (۱)

اے ایمان والو! احسان جتا کر اور اذیت دیکر اپنے صدقات باطل نہ کرو‘۔

لیکن پورے قرآن مجید میں کفر اور شرک کے علاوہ کسی گناہ پر بھی جملہ اعمال برباد کرنے کی وعید نہیں سنائی گئی۔ تو جب بارگاہ نبوت میں آواز اونچی کرنے سے جملہ اعمال برباد کرنے کی سزا سنائی گئی ہے۔ یعنی بارگاہ نبوت میں آواز اونچی کرنا کفر ہے تو شان رسالت میں کوئی گستاخی کفر کیسے نہ ہوگی۔

پھر اس آیہ کریمہ کا اختتام جس شدید طریقہ سے توہین رسالت کے مرتکب افراد کے جس برے انجام کی خبر دے رہا ہے اس کی وضاحت ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ کے ان پرشکوہ الفاظ میں سنیں:

’’اس جملہ میں جس محرومی و بد نصیبی کا بیان ہے اس کو سن کر بھی علم و زہد کا خمار اگر نہ اترے فضیلت و پارسائی کا طلسم اگر نہ ٹوٹے تو بد قسمتی کی انتہا ہے فرمایا جا رہا ہے کہ تمہارے سارے اعمال غارت ہو جائیں گے۔ سب نیکیاں ملیا میٹ ہو جائیں گی اور تمہیں خبر تک نہ ہوگی تم اس غلط فہمی کا شکار رہو گے کہ تم بڑے نمازی اور غازی ہو۔ صائم الدھر اور قائم اللیل ہو، مفسر ہو، محدث ہو، واعظ آتش بیان ہو اور جنت تمہارا انتظار کر رہی ہے اور جب وہاں پہنچو گے تو اس وقت پتہ چلے گا کہ اعمال کا جو باغ تم نے لگایا تھا اسے تو گستاخی کی بادِ صرصر نے خاک سیاہ بنا کے رکھ دیا ہے اس وقت کف افسوس ملو گے، سر پیٹو گے لیکن بے سود، لا حاصل‘‘۔ (۲)

(۱) سورہ البقرہ: ۲۶۴

(۲) ضیاء القرآن ج ۴ ص ۵۸۰

صفحہ 37

حضرت خواجہ فخر الدین سیالوی اس بارگاہ نازنین کی انہیں نزاکتوں کا تذکرہ ان رقت انگیز اشعار میں فرماتے ہیں؎

باب جبریل کے پہلو میں ذرا دھیرے سے
فخر کہتے ہوئے جبریل کو یوں پایا گیا
اپنی پلکوں سے در یار پہ دستک دینا
اونچی آواز ہوئی عمر کا سرمایہ گیا

علامہ خفاجی شرح شفا میں اس آیہ کریمہ کے ضمن میں فرماتے ہیں۔

ولا يحبط الاعمال الا لكفر لان الاعمال انما تتقبل من المؤمنين لان العمل المقبول ثمرة الايمان وهذا مذهب اهل السنة ان المحبط كفر اصلی او طار بردة . (۱)

اور اعمال کفر کی وجہ سے ہی برباد ہوتے ہیں اور اعمال صرف مومن کے ہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہوتے ہیں کیونکہ مقبول عمل ایمان کا نتیجہ ہے اور یہ اہل سنت کا مذہب ہے کہ اعمال کفر یا ارتداد کی وجہ سے ہی برباد ہوتے ہیں“۔

اس آیہ کریمہ کا ماحصل یہ ہے کہ بارگاہ رسالت کی ادنیٰ سی گستاخی سے سب اعمال برباد ہو جاتے ہیں اور اعمال صرف کفر و شرک سے ہی برباد ہوتے ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ بارگاہ رسالت کی ادنیٰ سی گستاخی بھی کفر ہے۔

دوسری آیہ طیبہ

ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله فی الدنيا والاخرة واعد لهم عذابا مهينا . (۲)

(۱) شرح شفا ج ۴ ص ۳۸۷

(۲) الاحزاب: ۵۷

صفحہ 38

”بے شک جو لوگ ایذا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا میں اور آخرت میں اور اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے“۔

مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی ایذاء کو اپنی ایذاء قرار دیا ہے جیسے حضور ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت اور حضور ﷺ کی معصیت کو اپنی معصیت قرار دیا ہے یہ عنداللہ حضور اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ اور وجاہت پر دلالت کرتا ہے اس آیہ کریمہ سے حضور اکرم ﷺ کو ایذا دینے والے کے کفر پر متعدد وجوہ سے استدلال ہوسکتا ہے۔

الوجہ الاول

اس آیہ کریمہ میں حضور ﷺ کو ایذاء پہنچانے والے کے متعلق فرمایا لعنهم الله في الدنيا والاخرة (اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی) قرآن مجید میں دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کا عذاب صرف اور صرف کافر کیلئے بیان کیا گیا ہے چند مقامات ملاحظہ ہوں۔

حضرت ہود کی کافر قوم کے متعلق فرمایا:

واتبعوا فى هذه الدنيا لعنة ويوم القيامة . (١)

”اور دنیا اور آخرت میں لعنت ان کے پیچھے لگی“

فرعون اور اس کی کافر قوم کے متعلق ارشاد ہوا

واتبعوا فى هذه لعنة ويوم القيامة . (۲)

”اس جہان اور قیامت میں ان کے پیچھے لعنت پڑی“

دوسرے مقام پر اسی کافر قوم کے متعلق ارشاد ہوا

(١) هود: ٦٠

(۲) هود: ٩٩

صفحہ 39

واتبعناهم في هذه الدنيا لعنة ويوم القيامة هم من المقبوحين (۱) ”اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگائی اور قیامت کے دن وہ برے ہیں“۔

تو جب دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت صرف اور صرف کافر کے لئے ہے اور حضور ﷺ کو ایذاء دینے والے پر دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے تو ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کو ایذاء دینے والا کافر ہے۔

الوجہ الثانی

دوسرا استدلال اعد لهم عذابا مهينا (اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے) سے ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں جہاں بھی عذاب کے لیے ماضی کا صیغہ اعد آیا ہے وہاں اس سے مراد کافر ہی ہے یہ درست ہے کہ مومن گنہگار بھی دوزخ میں جائیں گے (نعوذ باللہ من ذالک) لیکن چونکہ دوزخ بنائی کافروں کیلئے ہی گئی ہے اس لیے جب بھی جہنم یا عذاب کیلئے ماضی کا صیغہ آیا ہے تو اس سے مراد کافر ہی ہوتا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اعد للكافرين عذابا اليما. (۲) ”اس نے کافروں کیلئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے“

ان الله لعن الكافرين واعد لهم سعيرا. (۳) ”بے شک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت فرمائی اور ان کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

(۱) سورة القصص ۴۲

(۲) سورة الاحزاب ۸

(۳) سورة الاحزاب ۶۴

صفحہ 40

واتقوا النار التي اعدت للكافرين. (۱)

”اور اس آگ سے بچو جو کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے“

تو حضور اکرم ﷺ کو ایذاء دینے والے کیلئے اعد (ماضی کا صیغہ) اس کے کفر پر واضح دلیل ہے۔

الوجه الثالث

رسول کریم ﷺ کو ایذاء پہنچانے والے کے کفر پر اس آیہ کریمہ میں تیسرا استدلال ”عذابا مهينا“ سے ہے قرآن مجید میں عذاب کا لفظ دیگر صفات مثلاً الیم اور عظیم وغیرہ سے کافر اور مومن عاصی دونوں کیلئے آیا ہے لیکن عذاب مهین (ذلیل کردینے والا عذاب) کی ترکیب صرف اور صرف کافر کیلئے آئی ہے چند آیات ملاحظہ ہوں۔

فباءوا بغضب على غضب وللكافرين عذاب مهين. (۲)

”وہ غضب بالائے غضب کے مستحق ٹھہرے اور کافروں کیلئے ذلت کا عذاب ہے۔

ولا يحسبن الذين كفروا انما نملى لهم خير لانفسهم انما نملى لهم ليزدادوا اثما ولهم عذاب مهين (۳)

”اور کافر ہرگز اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ جو ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں وہ ان کیلئے بہتر ہے ہم تو اسی لیے ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں بڑھیں اور کافروں کیلئے ذلت کا عذاب ہے“۔

(۱) سورہ آل عمران: ۱۳۱ (۲) سورہ البقرہ: ۹۰ (۳) آل عمران: ۱۷۸

صفحہ 41

ومن يعص الله ورسوله ويتعد حدوده يدخله نارا خالدا فيها وله عذاب مهين (۱)

”اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدود سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔“

تو حضور ﷺ کو ایذاء پہنچانے والے کیلئے عذاب مهین کی سزا اس کے کفر پر واضح دلیل ہے۔

علامہ مفتی محمد شفیع اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

”مسئلہ: جو شخص رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح کی ایذاء پہنچائے ۔ آپ ﷺ کی ذات یا صفات میں کوئی عیب نکالے خواہ صراحۃً ہو یا کنایۃً وہ کافر ہو گیا اور اس آیت کی رو سے اس پر اللہ کی لعنت دنیا میں بھی ہوگی اور آخرت میں بھی کذاقال القاضی ثناء اللہ فی التفسير المظهری “ (۲)

تیسری آیہ طیبہ

ومنهم الذين يوذون النبى ويقولون هو اذن قل اذن خير لكم يومن بالله ويومن للمومنين ورحمة للذين امنوا منكم والذين يؤذون رسول الله لهم عذاب اليم ............. الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله فان له نار جهنم خالدا فيها ذالك الخزى العظيم. (۳)

”ان میں سے وہ بھی ہیں جو نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو کان کا کچا ہے آپ کہہ دیجئے کہ وہ کان تمہارے بھلے کیلئے ہے وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل

(۱) سورہ النساء: ۱۴

(۲) تفسیر معارف القرآن ج ۷ ص ۲۲۹

(۳) التوبۃ ۶۱ - ۶۳

صفحہ 42

ایمان کی بات پر یقین رکھتا ہے اور تم میں سے جو اہل ایمان ہیں یہ ان کیلئے رحمت ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کو دکھ دیتے ہیں ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔ ........ کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا اس کے لیے یقیناً دوزخ کی آگ ہے وہ ہمیشہ اس میں رہنے والا ہے یہ زبردست رسوائی ہے“۔

ان آیات طیبات میں کان کے کچے کہہ کر ایذاء دینے والے کو محاد رسول ﷺ (رسول کا مخالف) کہا گیا کیونکہ اسی سلسلہ کلام میں فرمایا الم يعلموا انه من يحادد الله الخ اس سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کو ایذاء دینا محاداۃ رسول ﷺ ہے۔

اب محاد رسول ﷺ کے متعلق قرآن مجید کی ایک اور آیت ملاحظہ ہو۔

لا تجد قوما يومنون بالله واليوم الأخر يوادون من حاد الله ورسوله ولو كانوا اباء هم اوابناء هم او اخوانهم او عشيرتهم . (۱)

”تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ پر اور آخرت پر کہ وہ ان لوگوں سے دوستی کریں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا کنبہ والے ہی کیوں نہ ہوں ۔

اس آیہ طیبہ سے معلوم ہوا کہ محاد رسول ﷺ سے دوستی رکھنا بھی ایمان کے منافی ہے تو تصور فرمائیں محاد رسول ﷺ خود کتنا بڑا کافر ہو گا ۔ جب ایذاء رسول ﷺ محاداۃ رسول ﷺ ہے اور محاداۃ رسول کفر ہے تو نتیجہ یہی نکلا کہ ایذاء رسول ﷺ کفر ہے۔

ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ان الذين يحادون الله ورسوله اولئک فی الاذلین (۲)

”بے شک وہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں سے ہیں“۔

(۱) المجادلہ ۔۲۲

(۲) المجادلہ ۔۲۰

صفحہ 43

اس آیہ کریمہ سے وجہ استدلال یہ ہے کہ اذل ذلیل سے اسم تفضیل کا صیغہ ہے یہ صرف کافر ہی ہوسکتا ہے کیونکہ مؤمن تو معزز ہوتا ہے ولله العزة ولرسوله وللمومنین . (۱) ”اور عزت تو اللہ تعالیٰ کیلئے اور اس کے رسول ﷺ کیلئے اور اہل ایمان کیلئے ہے“۔ پس ثابت ہوا کہ محاد رسول ﷺ اذل ہے اور اذل کافر ہے نتیجہ یہی نکلا کہ محاد رسول ﷺ کافر ہے اور رسول کریم ﷺ کو کان کا کچا کہہ کر ایذاء پہنچانے والے کو محاد رسول ﷺ کہا گیا جس سے حضور ﷺ کو ایذاء دینے والے کا کفر بالکل واضح اور عیاں ہے۔

چوتھی آیہ طیبہ

ولئن سالتهم ليقولن انما كنا نخوض ونلعب قل ابالله وآياته ورسوله كنتم تستهزءون لا تعتذروا قد كفرتم بعد ايمانكم الخ . (۲)

”(اے محبوب) اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے ہم تو یونہی آپس میں ہنسی کھیل میں تھے کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیات اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کیلئے رہ گئے ہیں؟ تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئے ہو“۔

یہ آیہ کریمہ غزوہ تبوک کے موقعہ پر نازل ہوئی جب منافقین نے کچھ ایسی باتیں کہیں جو حضور ﷺ کی اذیت کا باعث تھیں مثلاً مجاہد کہتے ہیں کہ کسی شخص کی اونٹنی گم ہوگئی تھی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اونٹنی فلاں جنگل میں ہے اس پر ایک منافق نے کہا محمد ﷺ غیب کیا جانیں تب یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی جیسا کہ تفسیر درمنثور اور تفسیر حسینی وغیرہ میں اسی آیہ کریمہ کی تفسیر میں ہے۔

معمر قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ غزوہ تبوک کیلئے تشریف لے جا رہے تھے تو منافقین نے کہا اس شخص کا گمان ہے کہ یہ روم کے محل اور قلعے فتح کرے گا جب

(۱) المنافقون: ۸

(۲) التوبہ: ۶۵۔۶۶

صفحہ 44

ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ہم تو مذاق کر رہے تھے اس وقت یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی۔ (۱) اس سے معلوم ہوا کہ حضورﷺ کے متعلق توہین آمیز کلمات کہنا اگر چہ بطور مذاق ہی ہو کفر ہے ملا علی قاری ان کے کفر کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں:

قال اهل التفسير كفرتم بقولكم في رسول الله ﷺ مالا يليق بجنابه المكرم (۲)

اہل تفسیر بیان کرتے ہیں کہ ان کا کفر یہ تھا کہ انہوں نے آپﷺ کے متعلق ایسے کلمات کہے تھے جو آپ کے شایان شان نہ تھے"۔

علامہ ابن تیمیہ اس آیہ کریمہ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وهذا نص في ان الاستهزاء بالله وبآياته وبرسوله كفر فالسب المقصود بطريق الاولى وقد دلت هذه الاية على ان كل من تنقص رسول الله ﷺ جادا او هازلا فقد كفر (۳)

یہ آیہ کریمہ اس مسئلہ میں نص ہے کہ اللہ تعالیٰ اسکی آیات اور اسکے رسولﷺ کا مذاق اڑانا کفر ہے پس گالی دینا تو بطریق اولیٰ کفر ہے یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص رسول کریمﷺ کی توہین کرے خواہ سنجیدگی سے یا ازراہ مذاق وہ کافر ہو جائے گا۔

علامہ ابن العربی فرماتے ہیں:

المسئلة الثانية لا يخلوان يكون ما قالوه من ذالك جدا او هزلا و هو كيف ما كان كفر فان الهزل بالكفر كفر لاخلاف فيه بين الائمة . (۴)

(۱) تفسیر کبیر ج ۱۶ ص ۱۲۲

(۲) شرح شفا ج ۲ ص ۴۰۴

(۳) الصارم المسلول ص ۵۳۳

(۴) احکام القرآن ج ۲ ص ۹۷۶

صفحہ 45

”انہوں نے جو کچھ کہا وہ یا تو بطور مذاق کہا ہو گا یا سنجیدگی سے اور وہ جیسے بھی ہو کفر ہے پس کفر کے ذریعے مذاق کرنا کفر ہی ہے ، ائمہ میں اس پر کوئی اختلاف نہیں،،

علامہ خفاجی شرح شفا میں فرماتے ہیں

فهو دليل على ان اذيته ﷺ كفر وهذا قول المفسرين في كفره (۱)

اس آیہ کریمہ میں دلیل ہے کہ حضور ﷺ کو ایذاء دینا کفر ہے اور مفسرین نے اس آیت سے حضور ﷺ کو ایذاء دینے والے کا کفر ثابت کیا ہے“۔

اشکال: یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ آیہ کریمہ منافقین کے متعلق نازل ہوئی وہ تو پہلے ہی مومن نہ تھے تو پھر یوں کیوں فرمایا گیا قد كفرتم بعد ايمانكم کہ تم ایمان کے بعد کافر ہو گئے۔

جواب: امام فخر الدین رازی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

قد كفرتم بعد ايمانكم .... يدل على احكام .... الحكم الثالث يدل على ان قولهم الذى صدر منهم كفر فى الحقيقة وان كانوا منافقين من قبل وان الكفر يمكن ان يتجدد من الكافر حالا فحال (۲)

”یہ آیہ کریمہ چند احکام پر دلالت کرتی ہے تیسرا حکم یہ ہے کہ ان کا قول جو ان سے صادر ہوا وہ حقیقت میں کفر ہے اگرچہ وہ اس سے قبل بھی منافق تھے بے شک ممکن ہے کہ کفر کافر سے وقتا فوقتا تازہ ہوتا رہے مزید فرماتے ہیں۔

قال الحسن المراد كفرتم بعد ايمانكم الذى اظهرتموه قال الاخرون ظهر كفركم للمومنين بعد ان كنتم عندهم مومنين (۳)

(۱) شرح شفا ج ۳ ص ۳۸۸

(۲) تفسیر کبیر ج ۱۶ ص ۱۲۲

(۳) نفس مصدر

صفحہ 46

حسن کہتے ہیں قد کفرتم سے مراد یہ ہے کہ تم اس ایمان کے بعد کافر ہو گئے جس کا تم اظہار کرتے تھے بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ تم مومنوں کے نزدیک مومن تھے اب یہ بات کہنے کی وجہ سے ان کے نزدیک بھی کافر ہو گئے ہو۔

قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں:

قد کفرتم اى اظهرتم الكفر بايذاء رسول الله والطعن فيه بعد ایمانکم ای اظهارکم الايمان. (۱)

"قد کفرتم یعنی تم نے حضور ﷺ کو ایذاء دے کر اور ذات رسول ﷺ میں طعن کر کے کفر کا اظہار کیا بعد ایمانکم یعنی ایمان کا اظہار کرنے کے بعد"۔

علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں:

(قد کفرتم الكفر باذى الرسول والطعن فيه (بعد ايمانكم) اى بعد اظهارکم له فانه قط لم يكونوا مومنين ولكن كانوا منافقين . (۲)

(قد کفرتم) یعنی تم نے رسول کریم ﷺ کو اذیت دے کر اور ذات رسول ﷺ میں طعن کر کے کفر کیا (بعد ایمانکم) یعنی اس سے پہلے تم ایمان کا اظہار کرتے تھے کیونکہ اس سے پہلے بھی وہ یقیناً مومن نہ تھے بلکہ منافق ہی تھے"۔

صاحب تفسیر المنار نے بھی تقریباً یہی بات لکھی ہے۔ (۳)

مفسرین کرام کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر چہ وہ پہلے ہی مومن نہ تھے بلکہ منافق تھے لیکن انہوں نے حضور ﷺ کو کان کا کچا کہہ کر ایسا جرم کیا جو کفر ہے اس طرح ان کا کفر مزید قوی ہو گیا یا وہ اپنے نفاق کو چھپا کر ایمان کا اظہار کرتے تھے۔ یہ کلمہ پر کلمہ کہنے سے ان

(۱) تفسیر مظہری ج ۴ ص ۲۶۱

(۲) تفسیر روح البیان ج ۳ ص ۴۵۹۔

(۳) تفسیر المنار ج ۱۰ ص ۶۱۵

صفحہ 47

کا کفر ظاہر ہو گیا۔ اس گفتگو سے بخوبی واضح ہوا کہ حضورﷺ کی شان اقدس میں نازیبا کلمہ کہنا یا آپﷺ کی توہین میں کوئی بات کہنا اگرچہ بطور مذاق ہی ہو کفر ہے۔ اور عمداً تو بدرجہ اولیٰ کفر ہوگی۔

پانچویں آیہ طیبہ

فلا وربك لايؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في انفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما. (۱)

”سو تیرے پروردگار کی قسم! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس کے تمام اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور نا خوشی نہ پائیں اور اسے خوشی سے تسلیم کر لیں“۔

یہ آیہ کریمہ اس بات کو بالکل واضح کرتی ہے کہ جو شخص حضورﷺ کے فیصلے کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم نہ کر لے وہ مومن نہیں ہوگا۔ حالانکہ فیصلے کو تسلیم نہ کرنے میں دنیاوی لالچ بھی سبب بن سکتا ہے تو جب حضورﷺ کے فیصلے کے خلاف دل میں تنگی محسوس کرنا بھی کفر ہے کیونکہ یہ چیز حضورﷺ کی ایذارسانی کا باعث بنتی ہے تو پھر حضورﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کرنا جو بدرجہ اولیٰ اذیت کا باعث ہے کتنا بڑا کفر ہوگا۔

اس آیہ کریمہ کے نزول کا پس منظر اس مفہوم کو مزید واضح کرتا ہے تمام مفسرین کرام نے اس آیہ طیبہ کا شان نزول قریب قریب الفاظ میں یہی لکھا ہے:

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک یہودی اور ایک (بظاہر) مسلمان میں کسی بات میں تنازعہ ہو گیا۔ دونوں فیصلہ کروانے کے لئے حضورﷺ کی بارگاہ اقدس میں آئے۔ چونکہ یہودی اس مقدمہ میں سچا تھا اس لیے آپﷺ نے

(۱) النساء: ۶۵

صفحہ 48

فیصلہ یہودی کے حق میں کر دیا جس سے وہ (نام نہاد) مسلمان راضی نہ ہوا۔ اس کے اصرار پر دونوں حضرت عمرؓ کے پاس وہی مقدمہ لیکر پہنچے آپ نے دونوں سے مقدمہ کی روئیداد سنی۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ حضور ﷺ اس یہودی کے حق میں فیصلہ فرما چکے ہیں تو آپ اندر تشریف لے گئے اور تلوار لیکر باہر تشریف لائے اور اس (بظاہر) مسلمان کا سر اڑا دیا اور فرمایا هكذا اقضى لمن لم يرض بقضاء الله ورسوله ” جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ سے راضی نہ ہو گا میں اس کا فیصلہ ایسے ہی کروں گا“۔

پھر مقتول کے ورثاء نے حضرت عمرؓ کے خلاف قصاص کا دعویٰ دائر کیا تو اللہ رب العزت نے یہ آیہ کریمہ نازل فرمائی۔

ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کے فیصلہ کو دل سے تسلیم نہ کرنا کفر ہے تو سب وشتم اور تنقیص رسالت تو بدرجہ اولیٰ کفر ہوگی۔

چھٹی آیہ مبارکہ

ومنهم من يلمزك في الصدقات (۱)

”اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو صدقات کی تقسیم میں تم پر طعن کرتا ہے“۔

اور ایک جگہ ارشاد ہوا:

ومنهم الذين يؤذون النبي۔ (۲)

”اور ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو نبی کو ایذا دیتے ہیں“۔

علامہ ابن تیمیہ ان آیات کے ضمن میں لکھتے ہیں:

”ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو شخص بھی رسول کریم ﷺ کو طعن دیتا یا آپ کو ایذاء پہنچاتا ہے وہ منافقین میں سے ہے اس لیے کہ الذین اور من کے الفاظ اسم موصول ہیں اور عموم کا مفہوم دیتے ہیں“۔ (۳)

(۱) التوبہ: ۵۸ (۲) التوبہ: ۶۱ (۳) الصارم المسلول ، ص ۳۴

صفحہ 49

اس سے معلوم ہوا کہ ایذا اور رسول ﷺ کفر اور منافقت ہے۔ قرآن مقدس میں اور بھی متعدد آیات اس مفہوم کو واضح کرتی ہیں اختصاراً انہیں آیات پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔

جب توہین رسالت سے ایک مسلمان کافر ہو جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مرتد ہو گیا اور مرتد واجب القتل ہوتا ہے۔ اور توہین رسالت کا ارتداد ایسا ارتداد ہے جس کی توبہ بھی قبول نہیں۔ تفصیل تو انشاء اللہ بعد میں آئے گی سر دست قاضی عیاض کا صرف یہی فرمان ملاحظہ ہو۔

من سب النبى ﷺ من المسلمين قتل ولم يستتب (۱) ”جو کلمہ گو بھی حضور ﷺ پر سب و شتم کرے گا اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی“۔

سطور بالا سے واضح ہوا کہ توہین رسالت کفر ہے۔

(۲) گستاخ رسول ﷺ واجب القتل ہے

قرآن حکیم نے توہین رسالت کے مرتکب افراد کی یہ سزا بھی بیان فرمائی کہ وہ ہر حال میں واجب القتل ہوں گے۔ توہین رسالت کے مرتکب افراد کے واجب القتل ہونے پر قرآن مجید سے چند آیات طیبات ملاحظہ ہوں۔

پہلی آیہ طیبہ

ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله فى الدنيا والاخرة واعد لهم عذابا مهينا والذين يؤذون المومنين والمؤمنت بغير ما اكتسبوا

(۱) الشفاء ج۲ ص۲۱۶

صفحہ 50

فقد احتملوا بهتانا واثما مبينا ...... ملعونين اينما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلا (۱)

”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لئے نہایت رسوا کن عذاب ہے۔ جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذاء دیں بغیر کسی جرم کے جو انہوں نے کیا وہ بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھانے والے ہیں ........ ان پر پھٹکار برسائی گئی ۔ جہاں بھی مل جائیں پکڑے جائیں اور خوب ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں“۔

ان آیات طیبات سے حضور سید عالم ﷺ کو ایذاء دینے والے کے قتل پر متعدد وجوہ سے استدلال ہو سکتا ہے۔ چند وجوہ ملاحظہ ہوں۔

الوجه الاول

پہلی وجہ علامہ ابن تیمیہ کے الفاظ میں سنئے :

انه قرن اذاه باذاه كما قرن طاعته بطاعته و من اذاه فقد اذی الله وقد جاء ذالك منصوص عنه ومن آذى فهو كافر حلال الدم . (۲)

”ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی اذیت کو اپنی اذیت قرار دیا جس طرح اس نے حضور ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت کہا ہے اور یہ چیز نص سے ثابت ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی اذیت کا مرتکب ہو وہ کافر اور مباح الدم ہوتا ہے“۔

علامہ خفاجی کا استدلال ملاحظہ ہو:

قرنه تعالى اذاه باذاه ولا خلاف فى قتل من سب الله وانما اللعن يستوجبه من هو كافر وحكم الكافر القتل لانه غير معصوم الدم ............... ومن كفر بسبه اشد من الكافر الاصلی . (۳)

(۱) الاحزاب : ۶۱ - ۵۸ - ۵۷

(۲) الصارم المسلول ص ۴۱

(۳) شرح شفا ج ۳ ص ۲۸۴

صفحہ 51

”ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی اذیت کو اپنی اذیت کہا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کو گالی دے اس کو قتل کرنے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں اور دنیا اور آخرت میں لعنت اس کے کفر کو مستلزم ہے اور کافر کا حکم قتل ہی ہے کیونکہ اس کا خون محفوظ نہیں ہوتا اور جو حضور ﷺ کی توہین کے سبب کافر ہو وہ تو اصلی کافر سے بھی بڑا کافر ہے۔

الوجه الثانی

ان آیات میں حضور ﷺ کی اذیت اور مومنین کو اذیت پہنچانے کی سزا مختلف بتائی گئی ہے مومنین کو اذیت پہنچانے والے کے متعلق فرمایا فقد احتملوا بہتانا واثما مبینا (انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لے لیا) اور حضور ﷺ کو اذیت پہنچانے والے کے متعلق فرمایا لعنہم اللہ فی الدنیا والآخرة واعد لہم عذابا مہینا (ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے )

اس فرق سے واضح ہوا کہ مومنین کو اذیت پہنچانا گناہ کبیرہ ہے جس کی سزا کوڑے مارنا بھی ہو سکتا ہے اور حضور ﷺ کو اذیت پہنچانے والا دنیا اور آخرت میں ملعون اور عذاب مہین کا مستحق ہے اگر مومنین کو اذیت پہنچانے والے کی سزا کوڑے ہے تو حضور ﷺ کو اذیت رسانی کی سزا کوڑوں سے بڑھ کر ہی ہونی چاہیے جو قتل ہی ہو سکتی ہے کیونکہ ملعون فی الدنیا والآخرة محفوظ الدم نہیں ہوتا۔

قاضی عیاضؒ اندلسی فرماتے ہیں:

فرق بین اذاہما واذی المؤمنین وفی اذی المومنین مادون القتل من الضرب والنکال فکان حکم موذی اللہ ونبیہ اشد من ذلک وہو القتل(۱)

(۱) الشفا ج۲ص۲۲۰

صفحہ 52

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اذیت اور مومنوں کی اذیت میں فرق کیا گیا۔ مومنوں کو اذیت پہنچانے کی سزا قتل سے کم ہے جیسے درے مارنا، اور جلاوطن کرنا وغیرہ۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی ﷺ کو اذیت دینے کی سزا اس سے شدید ہونی چاہیے جو قتل ہی ہے۔

علامہ خفاجی اس کی شرح میں فرماتے ہیں: (وهو القتل) راجع لحكم الاشد وحاصله الاستدلال على ان من سب النبی ﷺ يقتل (١)

”اس سے کوئی زیادہ شدید سزا ہی مراد ہو سکتی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو بھی نبی کریم ﷺ کی توہین کرے گا اسے قتل کر دیا جائے گا“۔

الوجه الثالث

اس مفہوم کی مؤید یہ حدیث پاک ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا من لكعب بن الاشرف فانه قد اذى الله ورسوله. (٢)

”کعب بن اشرف کی خبر کون لے گا اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی ہے“۔

حالانکہ وہ معاہد تھا لیکن حضور ﷺ کو اذیت دینے سے اس کا عہد ٹوٹ گیا اور حضور ﷺ نے یہ فرمایا تو صحابہ کرامؓ نے جا کر اسے قتل کر دیا (تفصیل اگلے باب میں آئے گی انشاء اللہ ) اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کو اذیت پہنچانے کی سزا قتل ہی ہے۔

علامہ خفاجی اس حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیں:

(١) شرح شفا ج ۴ ص ۳۸۵

(٢) صحیح بخاری۔ کتاب المغازی رقم الحدیث

صفحہ 53

فدلت هذه القصة على ان من سب النبی ﷺ واذاه من الكفار يقتل (۱)

”یہ واقعہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کفار میں سے جو بھی حضور ﷺ کی توہین کرے یا آپ کو اذیت دے اسے قتل کر دیا جائے گا“۔

الوجہ الرابع

اس سلسلۂ کلام میں پھر واضح طور پر حضور ﷺ کو اذیت پہنچانے والے کی سزا بیان فرمائی۔

ملعونين اينما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلا.

”پھٹکارے ہوئے جہاں کہیں بھی ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کر قتل کیے جائیں۔“

علامہ آلوسی اس آیہ طیبہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

وفی البحر الظاهر ان المنافقين يعنی جميع من ذكر في الآية انتهوا عما كانوا يؤذون به الرسول ﷺ والمومنين وتستر جميعهم كفوا خوفا ان يقع بهم ما وقع القسم هو الاغراء والجلاء والقتل. (۲)

”اور البحر المحیط میں ہے یعنی وہ تمام لوگ جن کا ذکر اس آیہ کریمہ میں آیا ہے وہ حضور ﷺ اور مومنین کی ایذا رسانی سے باز آ گئے وہ سب لوگ چھپ گئے اس سے خوف کھاتے ہوئے کہ کہیں وہ چیز واقع نہ ہو جائے جس کا اللہ تعالیٰ نے تاکیدا ذکر کیا یعنی حضور ﷺ کو ان پر غلبہ دینا، ان کو جلا وطن کرنا اور قتل کیا جانا“۔

امام رازی اسی مقام پر فرماتے ہیں:

ملعونين مطرودين من باب الله وبابك اذا خرجوا لا ينفكون عن المذلة ولايجدون ملجا بل اينما يكونون يطلبون ويوخذون ويقتلون. (۳)

(۱) شرح شفا ج ۲ ص ۳۹۰

(۲) روح المعانی ج ۲۲ ص ۹۲۔

(۳) تفسیر کبیر ج ص

صفحہ 54

”لعنت کیے گئے اور دھتکارے ہوئے اللہ کے در سے اور آپ کے در سے اور جب نکل جائیں گے تو ذلت سے نہ بچ سکیں گے اور نہیں پائیں گے کوئی ٹھکانہ ۔ جہاں بھی ہوں گے طلب کئے جائیں ، پکڑے جائیں اور قتل کیے جائیں“۔

علامہ شامی انہیں آیات کے تحت لکھتے ہیں:

هذه الايات تدل على كفره وقتله . ( ۱ )

یہ آیات شاتم رسول کے کفر اور قتل پر دلالت کرتی ہیں ۔

اور علامہ خفاجی اس آیہ طیبہ کے متعلق لکھتے ہیں ۔

والاية تدل على ان معنى لعنة الدنيا هي القتل فتدل على قتل من اذاه لان الله تعالى لعنه في الدنيا والآخرة

یہ آیت اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ (اللہ و رسول کو اذیت دینے والے پر ) دنیا میں لعنت سے مراد قتل ہے اور اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جو حضور ﷺ کو اذیت دے اسے قتل کر دیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے“ ۔

مذکورہ گفتگو سے بالکل واضح ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ کو اذیت پہنچانے والا واجب القتل ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ منافقین جب تک صرف منافقین تھے ان کے قتل کرنے کا حکم نہیں آیا تھا لیکن جب ان کا نفاق ذات رسالت ﷺ کی توہین و تنقیص تک پہنچا تو حکم آیا :

اينما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلا

”جہاں بھی ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کے قتل کیے جائیں“

دوسری آیہ طیبہ

ياايها الذين امنوا لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا وللكافرين عذاب اليم : ( ۳ )

(۱) رسائل شامی ص ۳۱۷ ۔

(۲) شرح شفا ج ۴ ص ۳۸۴

(۳) البقرہ : ۱۰۴

صفحہ 55

”اے ایمان والو ”راعنا“ نہ کہو بلکہ ”انظرنا“ کہا کرو۔ اور غور سے سنا کرو اور یہ کافر تو دردناک عذاب کے مستحق ہیں“۔

یہ آیۂ طیبہ پہلے بھی گذری ہے۔ یہ اس وقت نازل ہوئی جب بعض یہودیوں نے ”راعنا“ کا مشترک اور ذو معنی لفظ گستاخی کی نیت سے حضور ﷺ کی بارگاہ ناز میں بولنا شروع کر دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ذو معنی لفظ کا استعمال ہی حرام فرما دیا۔ اس کی جگہ ”انظرنا“ کا لفظ استعمال کرنے کا حکم دیا جس میں گستاخی کا شائبہ تک بھی موجود نہ تھا۔

اس آیۂ کریمہ سے شاتم رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے پر دلیل حضرت ابن عباس کا یہ قول ہے کہ اس آیۂ کریمہ کے نزول کے بعد مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہو گیا تھا کہ اگر کوئی شخص ایسا لفظ استعمال کرے جس میں توہین رسالت کا احتمال ہو تو وہ واجب القتل ہے۔

علامہ شوکانی لکھتے ہیں:

اخرج ابو نعیم فی الدلائل عنہ انہ قال المؤمنون بعد ھذہ الایۃ من سمعتموہ یقولہا فاضربوہ عنقہ. (۱)

حافظ ابو نعیم نے دلائل النبوہ میں ذکر کیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد اہل ایمان کا یہ عقیدہ ہو گیا تھا کہ جسے بھی حضور ﷺ کی بارگاہ اقدس میں توہین آمیز کلمہ بولتے ہوئے سنو اس کو قتل کر دو“۔

اس قول کی تائید حضرت سعد بن معاذ کے اس فرمان سے ہوتی ہے:

روی ان سعد ابن معاذ سمع الیہود یقولونہا لرسول اللہ ﷺ فقال یا اعداء اللہ علیکم لعنۃ اللہ لئن سمعتہا من رجل یقولہا لرسول ﷺ لاضربن عنقہ. (۲)

(۱) فتح القدیر ج ۱ ص ۱۲۵

(۲) قرطبی ج ۱ ص ۵۶، غرائب القرآن ج ۱ ص ۳۵۷

صفحہ 56

”اور مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ نے یہود کو جب یہ لفظ (راعنا) حضورﷺ کو کہتے ہوئے سنا تو انہوں نے فرمایا۔ اے اللہ کے دشمنوں! تم پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر میں نے دوبارہ تمہیں حضورﷺ کو یہ لفظ کہتے ہوئے سنا تو میں تمہاری گردن اڑا دوں گا“۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سعد بن معاذ کا عقیدہ تھا کہ جو بھی حضورﷺ کی بارگاہ اقدس میں کسی نازیبا کلمہ کا استعمال کرے اس کی گردن اڑا دینی چاہیے۔

مولانا محمد علی صدیقی کاندھلوی اسی آیہ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔

”گستاخی تو بڑی بات ہے شان نبوت میں تعریض بھی کفر ہے۔ حافظ ابن تیمیہ نے عذاب الیم کی تشریح کرتے ہوئے دنیا میں گستاخ نبوت کی سزا اس کے وجود سے زمین کو پاک کرنا بتایا ہے۔ اس پر تو ائمہ کا اتفاق ہے احناف، مالکیہ شوافع اور حنابلہ سب ایک زبان ہیں“۔ (۱)

تیسری آیہ طیبہ

الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانہم وہموا باخراج الرسول وہم بدءوکم اول مرۃ اتخشونہم فاللہ احق ان تخشوہ ان کنتم مومنین ۔ (۲)

”کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کے نکالنے کا قصد کیا حالانکہ پہل انہیں نے کی ہے۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو اور اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو“۔

وجہ استدلال یہ ہے کہ جن لوگوں نے اخراج رسولﷺ (رسولﷺ کو نکالنے) کا قصد کیا ان سے جنگ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور جن سے مقاتلہ کرنے کا حکم دیا

(۱) تفسیر معالم القرآن ج ۱ ص ۴۶۸۔ (۲) سورہ التوبہ:۱۳

صفحہ 57

جائے قدرت پانے پر انہیں قتل کرنا واجب ہوتا ہے۔ مفہوم یہ بنتا ہے کہ جن لوگوں نے اخراج رسول ﷺ کا قصد کیا انہیں قتل کرو اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ حضور ﷺ کو سب وشتم کرنا اخراج رسول ﷺ کے قصد سے کہیں بڑا جرم ہے۔

کیا تاریخ کے اوراق اس پر شاہد نہیں کہ جن لوگوں کی وجہ سے حضور ﷺ نے ہجرت فرمائی تھی انہیں تو اقرار جرم پر معاف کر دیا گیا اور انہیں لا تثریب علیکم الیوم کا مژدہ جانفزا سنایا گیا۔ لیکن جن دریدہ دہن لوگوں نے حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخیاں کیں جیسے ابن خطل اور حضور ﷺ کی مذمت میں اشعار کہے جیسے ابن خطل اور حضور ﷺ کی مذمت میں اشعار گانے والی لونڈیاں (تفصیل بعد میں آئے گی انشاء اللہ) انہیں چن چن کر قتل کیا گیا۔

پھر دنیاوی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اس سزا کو نافذ کرنے کا حکم ان پر جلال الفاظ میں فرمایا اتخشونہم واللہ احق ان تخشوہ ان کنتم مومنین ”کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔ اگر تم میں ایمان ہے تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی نسبت اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے“۔

ارباب اقتدار اس آیہ کریمہ کو غور سے پڑھیں شاید ایمان کی حرارت محسوس ہو۔ اور لوگوں کے ڈر سے حیلے بہانوں سے توہین رسالت کے مرتکب افراد کو سزا دینے کا حوصلہ نصیب ہو جائے۔

چوتھی آیہ طیبہ

وان نکثوا ایمانہم من بعد عہدہم وطعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر انہم لا ایمان لہم لعلہم ینتہون . (۱)

(۱) التوبہ: ۱۲

صفحہ 58

”اور اگر عہد کرنے کے بعد وہ اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعن کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو ان کی قسمیں کوئی چیز نہیں، ممکن ہے کہ اس طرح وہ باز آ جائیں“۔

اس آیہ کریمہ سے توہین رسالت کے مرتکب فرد کے واجب القتل ہونے پر دلیل یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حضور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سراپا دین اور جان ایمان ہے۔ اس آیہ کریمہ میں فرمایا گیا کہ اگر وہ تمہارے دین میں طعن کریں تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا اور تم پر ان سے قتال کرنا واجب ہوگا اور ظاہر ہے جس سے قتال کرنا واجب ہو وہ مباح الدم ہوتا ہے اور حتی الامکان اسے قتل کرنا واجب ہوتا ہے یہ آیہ کریمہ اس بات پر واضح دلیل ہے کہ اگر کوئی ذمی بھی حضور ﷺ کی شان اقدس میں طعن کرے گا تو وہ مباح الدم ہو جائے گا اور واجب القتل ہوگا۔

مفسرین کرام نے اس آیہ کریمہ سے یہی مسئلہ ثابت کیا ہے چند مفسرین کی آراء ملاحظہ ہوں ۔

امام ابوبکر الجصاص فرماتے ہیں:

ثم لما ضم ذالک الطعن فی الدین ممنوعون من اظہار الطعن فی دین المسلمین وهو يشهد لقول من يقول من الفقهاء ان من اظهر شتم النبی ﷺ من اهل الذمه فقد وجب قتله . ( ۱ )

”جب عہد میں یہ چیز شامل تھی کہ وہ دین میں طعن نہیں کریں گے تو اگر انہوں نے دین میں طعن کیا تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ یہی بات فقہاء کے اس قول کی بھی دلیل ہے کہ بے شک جس ذمی نے نبی مکرم ﷺ کو گالی دی تو اس کا قتل واجب ہو جائے گا“۔

(۱) احکام القرآن ج۳ ص۸۵۔

صفحہ 59

مزید فرماتے ہیں:

فاذا ثبت ذالک کان من اظھر سب النبی ﷺ من اھل العھد ناقضاً للعهد اذ سب رسول اللہ ﷺ من اکثر الطعن فی الدین۔ (۱)

”پس جب یہ ثابت ہو گیا کہ جو ذمی شخص نبی کریم ﷺ کو گالی دے تو وہ عہد کو توڑنے والا ہے۔ کیونکہ رسولِ کریم ﷺ کو گالیاں دینا دین میں طعن کرنے سے زیادہ برا ہے۔“

علامہ ابن کثیر اسی آیہ کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

(وطعنوا فی دینکم) عابوہ وانتقصوہ و من هھنا اخذ قتل من سب الرسول او من طعن فی دین الاسلام او ذکره بنقص۔ (۲)

(اور تمہارے دین میں طعن کریں) ”اگر وہ تمہارے دین پر عیب لگائیں یا اس میں نقص ڈھونڈیں (تو ان سے قتال کرو) اسی سے نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے یا دین میں طعن وتشنیع کرنے والے کے قتل کا حکم اخذ کیا گیا ہے“۔

امام قرطبی فرماتے ہیں:

اکثر علماء علی ان من سب النبی ﷺ من اھل الذمة او عرض او استخف بقدره وصفه بغیر الوجه الذی کفربه فانه یقتل۔ (۳)

”اکثر علماء نے کہا کہ ذمی جب نبی کریم ﷺ کو گالی دے آپ ﷺ کی توہین کرے یا آپ ﷺ کی قدر و منزلت کو کسی بھی طریقہ سے کم کرے۔ تو اس اظہار کفر کی وجہ سے اسے قتل کر دیا جائے گا“۔

مفسرین کرام کے اقوال سے واضح ہوا کہ اگر ذمی بھی حضور ﷺ کی شان اقدس میں توہین کرے گا تو وہ واجب القتل ہوگا۔

(۱) نفس مصدر۔

(۲) تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۱۴۸

(۳) تفسیر قرطبی ج ۸ ص ۸۳

صفحہ 60

پانچویں آیہ طیبہ

قاتلوا الذين لا يؤمنون بالله ولا باليوم الآخر ولا يحرمون ما حرم الله ورسوله ولا يدينون دين الحق من الذين اوتوا الكتاب حتى يعطوا الجزية عن يد وهم صاغرون. (۱) ”ان لوگوں سے لڑو جو اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان نہیں لاتے۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں جانتے نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔“

اس آیہ کریمہ سے وجہ استدلال یہ ہے کہ جب تک ذمی ذلیل ہو کر جزیہ نہ دیں ان سے قتال کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ جو حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی جرات کرتا ہے۔ ظاہر ہے وہ اپنے آپ کو ذلیل اور بے بس نہیں سمجھتا ورنہ وہ نبی الانبیاء ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی جرات نہ کرتا۔

چونکہ وہ اپنے آپ کو ذلیل نہیں سمجھتا اس لیے اس سے قتال کرنا واجب ہے وہ مباح الدم اور حتی الامکان واجب القتل ہوتا ہے۔ نتیجہ یہی نکلا کہ نبی کریم ﷺ کا گستاخ واجب القتل ہے۔

قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں: وهذا البحث يوجب انه اذا استعلى ذمى على المسلمين على وجه صار مستمرا حل للامام قتله . (۲) ”جب ذمی کسی بھی طریقہ سے مسلمانوں پر برتری کا خواہاں ہوگا تو اس کا قتل جائز ہو جائے گا۔“

(۱) سورۃ التوبہ: ۲۹ (۲) تفسیر مظہری ج ۲ ص ۱۹۲۔

صفحہ 61

امام یوسف بن اسماعیل النبہانی فرماتے ہیں:

المعلوم ان من اظهر سب نبينا ﷺ في وجوهنا وشتم ربنا على رؤوس الملاء منا وطعن في ديننا في مجامعنا فليس بصاغر لان الصاغر الذليل وهذا متعزز مراغم بل هذا غايته مايكون من الاذلال لنا والاهانة. (۱)

”اور یہ بات واضح ہے کہ جو شخص علانیہ ہمارے منہ پر نبی کریم ﷺ کو گالی دے۔ ہمارے رب کو برا کہے اور ہمارے دین میں طعنہ زنی کا مرتکب ہو ایسا شخص الصاغر نہیں ہے کیونکہ صاغر تو ذلیل اور حقیر کو کہتے ہیں ایسے شخص کو تو مغرور اور متکبر کہتے ہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ یہ شخص تو ہمیں ذلیل اور رسوا کر رہا ہے“۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد صاغرین (ذلیل و بے بس لوگوں) میں سے نہیں ہیں لہذا ان سے جنگ کرنا واجب ہے اور وہ مباح الدم اور واجب القتل ہیں۔

قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیات طیبات اس حقیقت کو آفتاب نیمروز کی طرح واضح اور عیاں کر رہی ہیں کہ توہین رسالت کا مرتکب کافر ہے وہ مباح الدم اور واجب القتل ہے۔ ان آیات طیبات کی تفسیر میں مفسرین کرام اور علماء امت نے یہی چیز ثابت کی ہے جو قارئین کرام پر بخوبی واضح ہوگئی ہوگی۔

لیکن اس کے باوجود مولانا وحید الدین خان نے نہ جانے یہ بات کیسے اور کیوں لکھ دی؟ لطف یہ ہے کہ اپنے اس قول کی تائید میں وہ کسی ایک مفسر کا قول بھی پیش نہ کر سکے۔ اس کے باوجود ان کے اس دعویٰ کو نہ جانے تجاہل عارفانہ کہا جائے یا کچھ اور۔

(۱) جواہر البحار ج ۳ ص ۲۰۲

صفحہ 62

وہ لکھتے ہیں:

”سارے قرآن میں ایسی کوئی آیت موجود ہی نہیں جس میں یہ حکم دیا گیا ہو کہ شاتم کو قتل کر دو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تر ایک خود ساختہ مسئلہ ہے اس کا خدا کی کتاب سے قطعاً کوئی تعلق نہیں“ (1)

فیصلہ قارئین خود فرما لیں کہ قرآن مجید کو مفسرین کرام نے بہتر سمجھا ہے یا مولانا وحید الدین خان نے؟ مفسرین کرام ان آیات طیبات سے کیا سمجھ رہے ہیں اور مولانا کس رخ پے چلے جا رہے ہیں اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه اللهم ارنا الاشیاء کماهی.

(1) شتم رسول ﷺ کا مسئلہ ص ۱۱۷

صفحہ 63

احادیث مبارکہ اور

توہین رسالت کی سزا

صفحہ 64

حدیث قرآن مجید کی اس عملی تفسیر کا نام ہے جو نبی کریم ﷺ نے وحی الٰہی کے ذریعہ سے فرمائی۔ احادیث مبارکہ کے بغیر قرآنی احکامات پر عمل پیرا ہونا ناممکن ہے۔ قرآن مجید کلیات کی کتاب ہے۔ اس کی تشریحات نبی کریم ﷺ نے اپنے قول، عمل اور تقریر سے بیان فرمائی ہے اصطلاح میں انہیں کو حدیث کہا جاتا ہے۔ توہین رسالت کے مرتکب فرد کا واجب القتل ہونا احکام قرآنی کے منشا کے عین مطابق ہے تو آئیے اس کی مزید تشریح و توضیح اس ذات اقدس ﷺ کے قول عمل اور تقریر میں دیکھیں جنہیں قرآنی اسرار و رموز پڑھانے والا خود خالق کائنات ہے الرحمن . علم القرآن اور قرآنی احکام کی وضاحت اور تعلیم جن کے فرائض نبوت میں شامل ہے وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس۔

ذخیرہ احادیث میں ایسی متعدد روایات ہیں جو توہین رسالت کے مرتکب فرد کے واجب القتل ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

چند احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں۔

پہلی حدیث مبارکہ

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں:

عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنهما ان اعمى كانت له ام ولد تشتم النبي ﷺ و تقع فيها فينهاها فلا تنتهى ويزجرها فلا تنزجر فلما كان ذات ليلة جعلت تقع فى النبي ﷺ وتشتمه فاخذ المغول فوضعه فى بطنها واتكأ عليها فقتلها فلما اصبح ذكر ذالك للنبى ﷺ فجمع الناس فقال انشد رجلا فعل ما فعل لى عليه حق الا قام فقال الاعمى يتخطى الناس وهو يتدلدل حتى قعد بين يدى النبى ﷺ فقال يا رسول الله انا صاحبها كانت تشتمك وتقع فيك فانهاها فلا تنتهى وازجرها فلا تنزجر ولى منها ابنان مثل اللؤلؤ و كانت بى رفيقة فلما كان البارحة جعلت تشتمك

صفحہ 65

وتقع فیک فاخذت المغول فوضعته فی بطنها واتکأت علیها حتی قتلتها فقال النبیﷺ اشهد ان دمها هدر. (۱)

حضرت عکرمہؓ حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا صحابیؓ کی ایک ام ولد تھی جو رسول کریمﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی اور آپ کی عیب جوئی کیا کرتی تھی۔ وہ صحابی اسے روکتے مگر وہ باز نہ آتی وہ اسے ڈانٹتے مگر وہ نہ رکتی۔ ایک رات اس نے حضورﷺ کو گالیاں دینا شروع کیں تو اس نابینا صحابیؓ نے ایک بھالا لیکر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اسے قتل کر دیا صبح کو اس کا تذکرہ رسول کریمﷺ سے کیا گیا تو رسول اللہﷺ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا ”میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں کہ جس نے جو کچھ کیا میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے“ یہ سن کر وہ نابینا صحابیؓ کھڑے ہو گئے وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آپ کے پاس آیا اور بیٹھ گیا وہ کانپ رہا تھا۔ اس نے کہا یا رسول اللہﷺ اسے میں نے قتل کیا ہے۔ وہ آپ کو گالیاں دیا کرتی تھی میں اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی تھی میں اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا مگر وہ پرواہ نہ کرتی اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں۔ وہ میری رفیقہ حیات تھی گزشتہ شب جب وہ آپ کو گالیاں دینے لگی تو میں نے بھالا لیکر اس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اسے زور سے دبایا۔ یہاں تک کہ میں نے اسے قتل کر دیا رسول کریمﷺ نے فرمایا ”گواہ رہو۔ اس کا خون رائیگاں گیا“ یعنی وہ مباح الدم تھی اس لیے کوئی قصاص وغیرہ نہیں ہے۔

رسول کریمﷺ کا اس کے خون کو رائیگاں اور ہدر قرار دینا اس چیز کو بخوبی واضح کر رہا ہے کہ توہین رسالت کے ارتکاب کے سبب وہ مباح الدم تھی۔ اس کے ناپاک وجود سے دھرتی کا سینہ پاک کرنا ہی تقاضائے ایمان تھا۔

مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے ”بذل المجہود“ میں لکھا ہے:

(۱) سنن ابی داؤد ج ۲ ص ۲۵۲ باب الحکم فیمن سب النبیﷺ سنن نسائی ج ۲ ص ۱۷۰

صفحہ 66

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا تو جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لئے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں ردقادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

قال الشوكاني وحديث ابن عباس وحديث الشعبى دليل على انه يقتل من شتم النبى ﷺ

”شوکانی کہتے ہیں کہ حدیث ابن عباس اور حدیث شعبی اس بات پر دلیل ہے کہ رسول کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کو قتل کر دیا جائے گا۔“

صاحب عون المعبود لکھتے ہیں:

فيه دليل على ان الذمى اذا لم يكف لسانه عن الله ورسوله فلا ذمة له فيحل قتله قاله السدى۔ (۱)

”اس میں دلیل ہے کہ ذمی اگر اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی توہین سے باز نہ آئے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا قتل جائز ہو جاتا ہے یہ سدی کا قول ہے۔“

دوسری حدیث مبارکہ

عن على ان يهودية كانت تشتم النبى ﷺ وتقع فيه فخنقها رجل حتى ماتت فابطل النبى ﷺ دمها۔ (۲)

”حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت حضور ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ ایک آدمی نے اس کا گلہ گھونٹ کر اسے قتل کر دیا حضور ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا“ اس کے ورثاء کو قصاص کا حق دار قرار نہ دینا اس کے واجب القتل ہونے پر واضح دلیل ہے۔“

تیسری حدیث مبارکہ

عن حسين ابن على عن ابيه ان رسول الله ﷺ قال من سب نبيا فاقتلوه ومن سب اصحابه فاضربوه۔ (۳)

(۱) عون المعبود ج ۴ ص ۲۲۶

(۲) مشکاۃ ج ۲ ص ۲۵ باب قتل اهل الردة والسعاة ۔ ابو داود ج ۲ ص ۲۵۲ مطبوعہ دہلی۔

(۳) الشفا ج ۲ ص ۱۲۲، فتاوی خيریه ج ۱ ص ۱۰۳۔

صفحہ 67

”حضرت امام حسینؓ اپنے والد گرامی حضرت علیؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جو کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کر دو اور جو میرے کسی صحابی کو گالی دے اسے کوڑے مارو“۔ یہ حدیث پاک کچھ مختلف الفاظ سے بھی منقول ہے ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں ۔ عن علی قال قال رسول اللہ ﷺ من سب الانبیاء قتل ومن سب اصحابی جلد۔ (۱) ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں : من سب نبیا فاقتلوہ و من سب اصحابی فاجلدوہ وفی روایۃ آخر من سب نبیا قتل ومن سب اصحابی جلد۔ ترجمہ تقریباً وہی ہے جو پہلے کیا گیا ہے ۔

چوتھی حدیث مبارکہ

کعب بن اشرف یہودی کا قتل بھی توہین رسالت کے مرتکب کے واجب القتل ہونے پر واضح دلیل ہے چونکہ حدیث طویل ہے اس لیے صرف ترجمہ پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔ ”حضرت جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا : من لكعب بن الاشرف فانه قد اذى الله ورسوله کہ تم میں سے کعب بن اشرف کی خبر کون لے گا اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو تکلیف دی ہے یہ سن کر محمد رضی اللہ عنہ بن مسلمہ کھڑے ہوئے عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ! کیا آپ فرماتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں فرمایا ”ہاں“ جس پر انہوں نے عرض کیا مجھے اجازت مرحمت فرمائیے میں اس سے نبٹنے کیلئے جس طرح مناسب سمجھوں معاملہ کروں تو حضورﷺ نے فرمایا جو چاہو کرو ۔ اس کے بعد حضرت محمد بن مسلمہ کعب کے پاس پہنچے اور کہا کہ دیکھو یہ شخص

(۱) کنز العمال ج۱۱ص۵۳۱۔ مجمع الزوائد ج۶ ص۲۶۰۔

صفحہ 68

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا تو جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

(رسول کریم ﷺ ) ہم سے زکوٰۃ مانگتا ہے حالانکہ ہم خود تنگ دست ہیں۔ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ تم ہمارے لیے کچھ قرض کا انتظام کرو کعب کہنے لگا یہ شخص ابھی تو تمہیں اور بھی تنگ کرے گا محمد بن مسلمہ کہنے لگے بات یہ ہے کہ ہم ایک بار اس کی پیروی کر چکے ہیں اب یہ اچھا نہیں لگتا کہ ایک دم اس کو چھوڑ دیں مگر دیکھ رہے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ خیر ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ ہمیں ایک یا دو وسق کھجوریں قرض دے دیں۔ سفیان کا بیان ہے کہ عمرو بن دینار نے کئی بار ہم سے یہ حدیث بیان کی لیکن ایک دو وسق کھجوروں کا ہم سے ذکر نہیں کیا۔ جب میں نے ان سے کہا کہ اس حدیث میں ایک دو وسق کھجوروں کا ذکر ہے تو کہنے لگے میرے خیال میں اتنی کھجوروں کا ذکر ہے۔ کعب نے کہا اچھا اس کا انتظام ہو جائے گا۔ مگر اس کے بدلے کچھ رہن رکھو۔ انہوں نے کہا ہم کیا چیز بطور رہن رکھیں کعب نے کہا اپنی عورتوں کو ہمارے پاس بطور رہن رکھو۔ جس پر انہوں نے کہا۔ بھلا ہم کس طرح اپنی عورتوں کو تمہارے پاس رہن رکھ دیں حالانکہ سارے عرب میں خوبصورت ترین لوگ آپ ہیں۔ اس نے کہا اچھا اپنے بیٹوں کو ہمارے پاس گروی رکھوا انہوں نے کہا اگر ہم اپنے بیٹوں کو رہن رکھیں گے تو لوگ ساری عمر طعنہ دیں گے کہ یہ وسق یا دو وسق پر گروی ہوئے تھے یہ بڑے شرم کی بات ہے۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ سکتے ہیں۔

اس گفتگو کے بعد محمد بن مسلمہ رات کو پھر آنے کا وعدہ کر کے چلے گئے۔ پھر رات کے وقت آگئے تو ابو نائلہ کو جو کعب کا رضاعی بھائی تھا ساتھ لائے۔ اس کی بیوی کہنے لگی اس وقت آپ کہاں جاتے ہیں۔ اس نے جواب دیا محمد بن مسلمہ اور اپنے بھائی ابو نائلہ سے ملنے۔ عمرو بن دینار کے سوا دوسرے حضرات نے کہا کہ عورت نے یہ بھی کہا کہ اس آواز سے تو خون ٹپک رہا ہے۔ وہ کہنے لگا محمد بن مسلمہ گویا میرا حقیقی اور ابو نائلہ رضاعی بھائی ہے اور شریف آدمی کو رات کے وقت اگر نیزہ مارنے کے لیے بھی بلایا جائے تو اسے جانا چاہیے۔ محمد بن مسلمہ کے ساتھ دو آدمی بھی تھے جب کعب سر پر چادر اوڑھے اترا (اس خیال

سے کہ مسلمانوں کا اسلحہ تھی۔ محمد بن مسلمہ کہنے سوا دوسرے راویوں نے عرب کی ایک ایسی عورت کوئی ثانی نہیں عمرو بن د نے کہا ہاں سونگھ لو محمد ب ایک مرتبہ اور اس نے ک لیا۔ اور ساتھیوں سے کہ خدمت میں آئے اور آ

اس حدیث کے حکم سے قتل کیا گیا ا اس نے اللہ اور اس کے لانه نقض "کہ اس آپ کو گالیاں دیں انفرادی اس کے دیگر جرائم پانچویں حد

(۱) صحیح بخاری

(۲) شرح صحیح

صفحہ 69

سے کہ مسلمانوں کا اسلحہ اس کے پاس رہن ہو جائے گا) تو اس کے بدن سے خوشبو آ رہی تھی۔ محمد بن مسلمہ کہنے لگے کہ میں نے آج تک ایسی عطر بیز خوشبو نہیں سونگھی تھی۔ عمرو کے سوا دوسرے راویوں نے یوں بیان کیا کہ کعب نے اس کے جواب میں کہا میرے پاس عرب کی ایک ایسی عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے اور حسن و جمال میں اس کا کوئی ثانی نہیں عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ نے کہا کہ میں تمہارا سر سونگھ لوں۔ کعب نے کہا ہاں سونگھ لو محمد بن مسلمہ نے اس کا سر خود بھی سونگھا اور ساتھیوں کو بھی سونگھایا۔ پھر کہا ایک مرتبہ اور اس نے کہا اچھا۔ اس طرح حضرت محمد بن مسلمہ نے کعب کا سر زور سے پکڑ لیا۔ اور ساتھیوں سے کہا ہاں اس کا سر لے لو۔ اور انہوں نے اسے قتل کر دیا پھر حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ کو اس کی خبر دی۔ (۱)

اس حدیث پاک سے بالکل واضح ہو رہا ہے کہ کعب بن اشرف کو نبی کریم ﷺ کے حکم سے قتل کیا گیا اور اس کے قتل کی علت یہ بیان فرمائی فانه قذ اذى الله ورسوله کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی ہے۔ امام نووی اس کی شرح میں فرماتے ہیں: لانه نقض عهد النبی ﷺ وهجاه وسبه (۲) ”کہ اس کو اس لیے قتل کیا گیا کہ اس نے معاہدہ توڑا، حضور ﷺ کی ہجو کی اور آپ کو گالیاں دیں۔“

انفرادی طور پر اس کے قتل کا سبب حضور ﷺ کی ہجو اور آپ کی توہین ہی تھا ورنہ اس کے دیگر جرائم میں تو دوسرے بھی کئی لوگ شامل تھے۔

پانچویں حدیث مبارکہ

حضور سید عالم ﷺ نے چند صحابہ کرام کو ابورافع یہودی کو قتل کرنے کے لئے بھیجا

(۱) صحیح بخاری ج ۲ ص ۵۲۸

(۲) شرح صحیح مسلم ج ۲ ص ۱۱۰

صفحہ 70

اس کے قتل کی علت یہ تھی کان ابو رافع یوذی رسول اللہ (ابو رافع حضور ﷺ کو اذیت پہنچایا کرتا تھا)

واقعہ کی تفصیلات ملاحظہ ہوں:

”حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ابو رافع یہودی کیلئے انصار سے چند حضرات کو بھیجا اور حضرت عبداللہ بن عتیک کو ان پر امیر مقرر فرمایا۔ کیونکہ ابو رافع حضور ﷺ کو اذیت دیا کرتا تھا اور سرزمین حجاز میں اس کا قلعہ تھا۔ جب یہ حضرات وہاں پہنچے تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ اور لوگ اپنے جانوروں کو لے جا رہے تھے۔ حضرت عبداللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آپ اسی جگہ بیٹھ جائیں میں جاتا ہوں اور دربان سے کوئی بہانہ کر کے اندر جانے کی کوشش کروں گا۔ پس یہ دروازے کے نزدیک جا پہنچے اور اپنے کپڑے اس طرح سمیٹ کر بیٹھ گئے جیسے کوئی رفع حاجت کیلئے بیٹھا ہو۔ دوسرے لوگ اندر داخل ہو چکے تھے لہٰذا دربان نے انہیں آواز دی کہ اے اللہ کے بندے اگر اندر آنا ہے تو آجاؤ ورنہ میں دروازہ بند کرنے لگا ہوں۔ میں اندر داخل ہو کر ایک جانب چھپ گیا۔ جب تمام لوگ داخل ہو گئے تو دربان نے دروازہ بند کر دیا اور چابیاں ایک کیل کے ساتھ لٹکا دیں۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں اٹھا چابیاں لیں اور دروازہ کھولا۔ ابو رافع کے پاس بالاخانے پر قصہ خوانی ہو رہی تھی۔ جب قصہ خواں اس کے پاس سے چلے گئے تو میں اس کی طرف چڑھنے لگا اور میں جس دروازے کو کھولتا اس کو اندر سے بند کر دیتا تھا تا کہ کوئی دوسرا داخل نہ ہو سکے اور اگر لوگوں کو میرا پتہ لگ بھی جائے تو میں ان کے پہنچنے تک ابو رافع کا کام تمام کر دوں۔ آخر کار میں اس تک پہنچ گیا اور وہ ایک اندھیرے کمرے میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ محو خواب تھا گھر کے اندر مجھے یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کدھر ہے پس میں نے آواز دی اے ابو رافع! اس نے کہا کون ہے؟ میں نے آواز کے مطابق تلوار سے وار کیا اور میرا دل دھڑک رہا تھا۔ اس سے کوئی مقصد حاصل نہ ہوا اور وہ چلانے لگا تو

صفحہ 71

میں کمرے سے باہر نکل آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے پھر اندر جا کر پوچھا اے ابو رافع! یہ آواز کیسی تھی اس نے کہا تیری ماں تجھے روئے۔ ابھی ابھی ایک آدمی نے گھر میں تلوار سے مجھ پر وار کیا تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ آواز سنتے ہی میں نے تلوار کا بھر پور وار کیا لیکن وہ مرا نہ تھا۔ پس میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر دبائی تو اس کی کمر سے پار نکل گئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے پس میں ہر ایک دروازے کو کھول کر باہر نکلتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک منزل سے اترتے ہوئے جب میں نے اپنا قدم آگے رکھا اور میں چاند رات میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ زمین پر آ پہنچا ہوں۔ پس میں اوپر سے زمین پر گرا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی۔ میں نے اسے عمامہ سے باندھ لیا اور دروازے پر بیٹھ گیا پھر اپنے دل میں کہا کہ آج کی رات اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک مجھے اس کے مرنے کا یقین نہ ہو جائے۔ جب مرغ نے اذان دی تو ایک شخص قلعہ کی دیوار پر کھڑا ہو کر کہنے لگا لوگو! اہل حجاز کا تاجر ابو رافع مر گیا ہے۔ پس میں اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ اب ہمیں یہاں سے چلے جانا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ابو رافع کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور سارا واقعہ عرض کیا آپ ﷺ نے فرمایا اپنا پاؤں پھیلاؤ۔ میں نے پھیلا دیا۔ تو آپ نے اس پر اپنا دست کرم پھیر دیا تو وہ ایسے ہو گیا جیسے اس میں سرے سے کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ (1)

ابو رافع کو خصوصی طور پر اسی لیے قتل کیا گیا کہ وہ حضور ﷺ کو اذیت دیتا تھا۔ توہین رسالت کے مرتکب افراد کے واجب القتل ہونے پر یہ روایت بھی واضح دلیل ہے۔

چھٹی حدیث مبارکہ

حدثنا يحيى ابن قزعة حدثنا مالك عن ابن شهاب عن انس ابن مالک رضی الله عنه ان النبی ﷺ دخل مكة يوم الفتح وعلى راسه المغفر

(1) صحیح بخاری ج ۲ ص ۵۲۸-۲۹ باب قتل ابی رافع کتاب المغازی

صفحہ 72

فلما نزعه جاء رجل فقال ابن خطل متعلق باستار الكعبة فقال اقتله (۱)

”ابن شہاب نے حضرت مالک بن انس سے روایت کی ہے کہ فتح مکہ کے دن حضورﷺ مکہ المکرمہ میں داخل ہوئے۔ تو آپ کے سر اقدس پر خود تھا جب آپ نے خود اتارا تو ایک شخص نے آ کر عرض کیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا اسے قتل کر دو۔“

اس روایت سے واضح ہوا کہ ابن خطل کو نبی کریمﷺ کے حکم سے قتل کیا گیا۔

ابن خطل کہاں اور کیسے قتل ہوا اس کے متعلق کنزالعمال کی یہ روایت ملاحظہ ہو:

(من مسند سائب ابن یزید ) رایت النبی ﷺ قتل عبداللہ ابن خطل يوم الفتح واخرجوه من استار الكعبة فضرب عنقه بين زمزم والمقام. (۲)

”سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریمﷺ (کے حکم سے) عبداللہ ابن خطل کو فتح مکہ کے دن قتل کیا گیا اس کو کعبہ کے پردوں کے نیچے سے نکالا گیا پھر اس کو زمزم اور مقام ابراہیم کے درمیان قتل کیا گیا“۔

فتح مکہ کے دن جب ہر سو عفو عام کا اعلان گونج رہا تھا اور خون کے پیاسوں کو بھی

لاتثریب علیکم الیوم وانتم الطلقاء

”آج تم پر کوئی گرفت نہیں تم سب آزاد ہو“ کا مژدہ جانفزا سنایا گیا۔ تو آخر ابن خطل کا وہ کون سا جرم تھا کہ اسے زمزم اور مقام ابراہیم کے درمیان قتل کیا گیا۔

قاضی عیاض اندلسی اس کے جواب میں فرماتے ہیں:

و كذا امره يوم الفتح بقتل ابن خطل و جاريتيه اللتين كانتا تغنيان بسبه ﷺ (۳)

(۱) نفس مصدر ج ۲ ص ۶۲۸ ۔ کتاب المغازی ۔

(۲) کنزالعمال ج ۱۰ ص ۵۰۳ مطبوعہ حلب

(۳) الشفاء ج ۲ ص ۳۲۱

صفحہ 73

قادیانی گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا اور جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لیے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

متعلق باستار الكعبة فقال اقتله (۱) بن انس سے روایت کی ہے کہ فتح مکہ کے دن آپ کے سر اقدس پر خود تھا جب آپ نے خود نہ کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے۔ آپ ﷺ

خطل کو نبی کریم ﷺ کے حکم سے قتل کیا گیا۔ والعمال کی یہ روایت ملاحظہ ہو: ایت النبی ﷺ قتل عبدالله ابن خطل فضرب عنقه بین زمزم والمقام . (۲) کہ میں نے رسول کریم ﷺ (کے حکم سے) اس کو کعبہ کے پردوں کے نیچے سے نکالا گیا پھر کیا گیا۔

اعلان گونج رہا تھا اور خون کے پیاسوں کو بھی

آزاد ہو“ کا مژدہ جاں فزا سنایا گیا۔ تو آخرین ابراہیم کے درمیان قتل کیا گیا۔ میں فرماتے ہیں: بن خطل و جاريته اللتين كانتا تغنيان

”ایسے ہی فتح مکہ کے دن ابن خطل اور اس کی دو لونڈیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا جو ایسے اشعار گاتی تھیں جن میں نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتی تھیں“

علامہ خفاجی فرماتے ہیں: فانه ﷺ لما فتح مكة امن الناس الا اربعة رجال وامراتين امر بقتلهم ولو دخلوا تحت استار الكعبة مستجيرين بها لانهم كانوا اظهروا عداوته واكثروا من ذمه وهجوه ﷺ كان لابن خطل قينتان تغنيان بهجوه (۱)

بے شک حضور ﷺ نے فتح مکہ کے دن سب لوگوں کو امن دے دیا مگر چار مردوں اور دو عورتوں کو امن نہ دیا ان کے متعلق فرمایا۔ اگر چہ وہ پناہ ڈھونڈتے ہوئے کعبہ کے پردوں کے نیچے چھپے ہوئے ہوں تب بھی انہیں قتل کر دو۔ کیونکہ وہ حضور ﷺ کی عداوت کا علانیہ اظہار کرتے تھے حضور ﷺ کی اکثر ہجو اور مذمت کرتے تھے اور ابن خطل کی دو لونڈیاں تھیں جو حضور ﷺ کے متعلق ہجویہ اشعار گایا کرتی تھیں۔

اس سے واضح ہوا کہ ابن خطل اور اس کی لونڈیوں کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ وہ حضور ﷺ کی شان ہمایوں میں توہین آمیز کلمات استعمال کیا کرتی تھیں۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

کہا جاتا ہے کہ ابن خطل کو قتل کروانے کا سبب یہ تھا کہ وہ مرتد ہوا تھا اور اس نے ایک آدمی کو قتل کیا تھا نہ کہ توہین رسالت۔

عرض یہ ہے کہ شواہد بتا رہے ہیں کہ اس کے قتل کا سبب توہین رسالت ہی تھا جیسا کہ محدثین نے تصریح فرمائی ہے ان کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر اسے محض ارتداد کی وجہ سے قتل کیا جاتا تو اسے توبہ کا موقع بھی دیا جاتا جیسا کہ مطلق ارتداد میں دیا جاتا ہے۔ اگر ایک آدمی کو قتل کرنے کی وجہ سے اسے قصاص میں قتل کیا جاتا تو اسے مقتول کے

(۱) شرح شفا ج ۴ ص ۳۹۲۔

صفحہ 74

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا اور جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لئے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

ورثاء کے حوالے کیا جاتا۔ وہ چاہتے تو معاف کر دیتے اور چاہتے تو قصاص میں قتل کر دیتے۔ لیکن حضورﷺ نے مطلق فرمایا کہ اسے قتل کر دو اگر چہ وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہو۔ تو معلوم ہوا کہ مطلق قتل کے حکم دینے کا سبب صرف یہ تھا کہ وہ حضورﷺ کو سب وشتم کیا کرتا تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

ساتویں حدیث مبارکہ

عدوى فقال خالد انا فبعثه النبي ﷺ فقتله .

قبيحا فقتله فلم يشق ذالك على النبىﷺ . (۱)

”ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ ایک آدمی حضورﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا تو حضورﷺ نے فرمایا میرے اس دشمن کو کون کیفر کردار تک پہنچائے گا تو حضرت خالد بن ولید نے کہا یا رسول اللہ اس کام کیلئے میں حاضر ہوں پس نبی کریمﷺ نے انہیں بھیجا تو حضرت خالد بن ولید نے اسے قتل کر دیا ۔“

”ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے اپنے باپ کو آپ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سنا پس میں نے اسے قتل کر دیا۔ نبی کریمﷺ پر یہ گراں نہ گزرا۔

آٹھویں حدیث مبارکہ

روى عن ابن عباس رضی الله عنهما قال هجت امرأة من خطمة النبي ﷺ فقال من لي بها فقال رجل من قومها انا يا رسول الله فقتلها فاخبر النبى ﷺ لاينطح فيها عنزان وذكر بعض اصحاب المغازى وغيرهم قصتها .(۲)

(۱) الشفا ، ج ۲، ص ۲۲۲-۲۲۳

(۲) الصارم المسلول ص ۹۴۔

حضرت ابن ع کریمﷺ کی ہجو کہی۔ آپؐ آدمی نے کہا۔ یا رسول اللہ اس نے حضورﷺ کو اس ک ٹکراتیں‘‘ بعض اصحاب مغا آگے علامہ موص بیان کی ہے اس کا خلاصہ یہ عصماء بنت مر ایذاء دیا کرتی تھی۔ اسلام حضرت عمیر بن عدی الخطمی کہ اے اللہ میں تیرے حض میں اس عورت کو قتل کر دوں سے واپس تشریف لائے میں داخل ہوئے۔ وہ عور بچے سو رہے تھے۔ ایک ب سے اس عورت کو ٹٹولا تو ب کیا۔ پھر اپنی تلوار کو اس ک پھر صبح کی ن ہوئے تو حضرت عمیرؓ عرض کیا جی ہاں۔ یہ س نے رسول کریم ﷺ اس ضمن میں مجھ پر

صفحہ 75

قادیانی گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا تو جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

ف کر دیئے اور چاہتے تو قصاص میں قتل کر لئے قتل کر دو اگر چہ وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹا ا سبب صرف یہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کو سب

كان يسبه ﷺ فقال من يكفيني فقتله . ل يا رسول الله سمعت ابي يقول قولا ﷺ . (۱)

تھا ایک آدمی حضور ﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا تو کو کیفر کردار تک پہنچائے گا تو حضرت خالدؓ بن حاضر ہوں پس نبی کریم ﷺ نے انہیں بھیجا تو

میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے تے ہوئے سنا پس میں نے اسے قتل کر دیا۔ نبی

الله عنهما قال هجت امرأة من خطمة رجل من قومها انا يا رسول الله فقتلها زان و ذکر بعض اصحاب المغازی

حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ خطمہ قبیلے کی ایک عورت نے رسول کریم ﷺ کی ہجو کہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس عورت سے کو نمٹے گا۔ اس کی قوم سے ایک آدمی نے کہا۔ یا رسول اللہ یہ کام میں انجام دوں گا۔ چنانچہ اس نے جا کر اسے قتل کر دیا پس اس نے حضور ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ نے فرمایا ”دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکراتیں، بعض اصحاب مغازی اور دیگر اہل علم نے اس واقعہ کو تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

آگے علامہ موصوف نے اصحاب مغازی کے حوالہ سے اس واقعہ کی جو تفصیل بیان کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔

عصماء بنت مروان یزید بن زید بن حصن خطمی کی بیوی تھی یہ رسول کریم ﷺ کو ایذاء دیا کرتی تھی۔ اسلام میں عیب نکالتی اور آپ ﷺ کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتی تھی۔ حضرت عمیر بن عدی خطمی کو جب اس کی باتوں اور اشتعال انگیزی کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ اے اللہ میں تیرے حضور نذر مانتا ہوں کہ اگر تو حضور ﷺ کو بخیر و عافیت مدینہ لوٹا دے تو میں اس عورت کو قتل کر دوں گا رسول کریم ﷺ اس وقت بدر میں تھے جب آپ ﷺ بدر سے واپس تشریف لائے تو حضرت عمیرؓ بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے۔ وہ عورت اپنے اہل خانہ کے ساتھ سو رہی تھی۔ اس کے ارد گرد اس کے بچے سو رہے تھے۔ ایک بچہ اس کے سینے سے چمٹا دودھ پی رہا تھا حضرت عمیرؓ نے اپنے ہاتھ سے اس عورت کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہے حضرت عمیرؓ نے بچے کو الگ کیا۔ پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھا اور اس کی پشت کے پار کر دیا۔

پھر صبح کی نماز رسول کریم ﷺ کے ساتھ ادا کی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت عمیرؓ کو دیکھ کر آپ نے فرمایا ”کیا تم نے بنت مروان کو قتل کر دیا“ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں۔ حضرت عمیرؓ ڈرے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کی مرضی کے خلاف یہ کام نہ کیا ہو۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس ضمن میں مجھ پر کوئی چیز واجب ہے۔ فرمایا نہیں دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں

صفحہ 76

ٹکراتیں یعنی اس سے فتنہ پروری کا ظہور نہیں ہو گا۔ حضرت عمیر فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارد گرد دیکھا اور فرمایا اذا احببتم ان تنظروا الی رجل نصر اللہ ورسولہ الغیب فانظروا الی عمیر ابن عدی. کہ جب تم ایسے شخص کو دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور رسول ﷺ کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر ابن عدی کو دیکھ لو۔

جب حضرت عمیرؓ رسول کریم ﷺ کے پاس سے لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ اس عورت کے بیٹے لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ اسے دفن کر رہے ہیں انہوں نے حضرت عمیرؓ کو دیکھ کر کہا کہ اے عمیرؓ کیا تو نے اسے قتل کیا ہے حضرت عمیرؓ نے فرمایا: نعم فکیدونی جمیعا ثم لا تنظرون والذی نفسی بیدہ لو قلتم باجماعکم ماقالت لضربتکم بسیفی حتی اموت او اقتلکم

”ہاں تم نے جو کرنا ہے کر لو مجھے ڈھیل نہ دو مجھے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ اگر تم سب وہ بات کہو جو وہ کہا کرتی تھی تو میں اپنی تلوار سے تم پر وار کروں گا یہاں تک کہ میں مارا جاؤں یا تمہیں قتل کردوں۔ (۱)

شاتم رسول ﷺ کے مباح الدم ہونے پر یہ واقعہ بھی واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت عمیرؓ نے عصماء بنت مروان کو اس لیے قتل کیا کہ وہ حضور ﷺ کی ہجو گوئی کرتی تھی حالانکہ وہ معاہد تھی تو حضور ﷺ نے حضرت عمیرؓ پر قصاص وغیرہ واجب نہ کیا بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی غیبی مدد کرنے والا قرار دیا۔ پھر حضرت عمیرؓ سے اس کے بیٹوں نے کہا کہ اگر تم بھی وہ کہو جو یہ کہتی تھی تو میں تمہاری گردنیں بھی اڑا دوں گا۔ اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہورہی ہے کہ حضرت عمیرؓ کا یہ عقیدہ تھا کہ جو بھی حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے وہ واجب القتل ہے، اس کا سر قلم کرنا ہی تقاضائے ایمان ہے۔

علامہ خفاجی نے شرح شفا میں اس مقام پر حضور ﷺ کے فرمان مبارک لا ینطح فیہا عنزان کہ ”دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکراتیں“ کا مطلب بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں:

(۱) نفس مصدر ص ۹۵_۹۴

صفحہ 77

اے ذهب دمها هدر . ”یعنی اس عورت کا خون رائیگاں گیا :

نویں حدیث مبارکہ

يكفيني عدوى فقال الزبير انا فبادره فقتله زبير

خالد ابن ولید فقتلها . ( ۱ )

کو گالی دی تو حضورﷺ نے فرمایا میرے اس دشمن کی خبر کون لے گا۔ تو حضرت زبیر نے عرض کیا میں حاضر ہوں پس حضرت زبیر گئے اور اسے قتل کر دیا۔“

دشمن کو کون کیفر کردار تک پہنچائے گا پس حضرت خالد بن ولید گئے اور اسے قتل کر دیا۔

دسویں حدیث مبارکہ

روى ان رجلا كذب على النبى ﷺ فبعث عليا و الزبير ليقتلاه. (۲) مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریمﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کیا تو حضورﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو بھیجا تا کہ وہ اسے قتل کر دیں“۔

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے یہ حقیقت بالکل واضح اور عیاں ہو رہی ہے کہ نگاہِ نبوت میں شاتم رسولﷺ کی سزا قتل کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

ان واضح حقائق کے باوجود مولانا وحید الدین خان کا دعویٰ ملاحظہ ہو۔

(۱) المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص ۳۰۷

(۲) نفس مصدر ص ۳۰۸

صفحہ 78

قادیانی گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑ کر جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لئے انہوں نے پوری قوت صرف کی ۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

”پورے ذخیرہ حدیث میں کوئی معتبر روایت ایسی موجود نہیں جس کی عبارۃ النص میں یہ حکم دیا گیا ہو کہ سب وشتم کرنے والے کو قتل کر دو مثلاً اس کے الفاظ یہ ہوں من سب رسولکم فاقتلوہ ومن شتم نبیا من الانبیاء فیقتل حدا ۔ حدیث سے یہ حکم بطریق قیاس نکالا گیا ہے نہ کہ بطریق نص ۔ (۱)

اس کے جواب میں اولین گزارش تو یہ ہے کہ مذکورہ احادیث مبارکہ ہی اس دعوے کے بطلان کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ فرض کرو عبارۃ النص میں یہ حکم نہیں دیا گیا تو سوال یہ ہے کہ کیا احکام صرف عبارۃ النص سے ہی ثابت ہوتے ہیں کیا اشارۃ النص، دلالۃ النص اور اقتضاء النص سے احکام ثابت نہیں ہوتے۔ اگر احکام صرف عبارۃ النص سے ہی ثابت ہوتے ہیں پھر تو مولانا وحید الدین خاں صاحب شراب کی حرمت بھی ثابت نہ کر سکیں گے قرآن مجید میں یہ کہیں نہیں آیا الخمر حرام۔ جب باقی مسائل میں استنباط کے سارے طریقے معتبر ہیں تو آخر یہاں ہی عبارۃ النص کا مطالبہ کیوں؟

پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کا موقف کہ شاتم رسول علیہ الصلوۃ والسلام واجب القتل نہیں ہے‘ پر کون سی عبارۃ النص ہے مثلاً انہیں کے قانون کے مطابق کسی حدیث کے یہ الفاظ ہوں من سب رسولکم لا تقتلوہ ومن شتم نبيا من الانبياء لا يقتل ۔

اگر یہ الفاظ بھی عبارۃ النص سے ثابت نہیں ہیں تو پھر صاف واضح ہو رہا ہے کہ پوری امت کے موقف سے ہٹ کر ایک الگ موقف رکھنے والا قرآن وسنت کے مطابق چلنا نہیں چاہتا بلکہ قرآن وسنت سے وہ چیز ثابت کرنا چاہتا ہے جو اس کے ذوق کے مطابق ہے۔

خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق

بہر حال مذکورہ احادیث مبارکہ اس حقیقت کو بالکل واضح کر رہی ہیں کہ توہین رسالت کا مرتکب واجب القتل ہے۔

(۱) شتم رسول کا مسئلہ ص ۱۱۷

صفحہ 79

توہین رسالت اور

صحابہؓ کرام کا نقطۂ نظر

صفحہ 80

گزشتہ بحث سے توہین رسالت کے متعلق صحابہ کرام کا نقطہ نظر بھی بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ بعض صحابہ کرامؓ کو حضورﷺ نے خود ایسے افراد کو قتل کرنے کیلئے بھیجا جو توہین رسالت کے مرتکب ہوئے تھے اور بعض نے خود حضورﷺ کے گستاخ کو کیفر کردار تک پہنچایا اور پھر حضورﷺ کی بارگاہ اقدس میں صورت حال عرض کی تو حضورﷺ نے تحسین فرمائی۔ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اس سے توہین رسالت کے مرتکب افراد کے متعلق صحابہ کرامؓ کا موقف بالکل واضح اور عیاں ہو رہا ہے کہ معلم کائناتﷺ سے بلاواسطہ اکتساب فیض کرنے والے رشک ملائک ہستیوں کے نزدیک اس جرم کی سزا قتل اور صرف قتل ہی ہے۔ تاہم اس دعویٰ کو مزید مؤکد اور واضح کرنے کیلئے چند صحابہ کرام کے انفرادی اقوال و واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔

افضل البشر بعد الانبیاء حضرت صدیق اکبرؓ کا نقطہ نظر جاننے کیلئے یہ روایت ملاحظہ ہو:

عن عبدالله ابن مطرف عن ابی برزة قال کنت عند ابی بکر رضی اللہ عنہ فتغیظ علی رجل فاشتد علیہ فقلت تاذن لی یا خلیفة رسول اللہ ﷺ ان اضرب عنقہ قال فاذھبت کلمتی غضبہ فقام فدخل فارسل الی فقال ما الذی قلت آنفا قلت ائذن لی ان اضرب عنقہ قال اکنت فاعلا لو امرتک قلت نعم قال لا والله ما کانت لبشر بعد رسول اللہ ﷺ وقد استدل بہ علی جواز قتل ساب النبی جماعت من العلماء منھم ابو داؤد و اسماعیل ابن اسحق القاضی و ابوبکر ابن عبدالعزیز والقاضی ابو یعلی وغیرہم من العلماء وھذا الحدیث یفید ان سبہ ﷺ فی الجملة یبیح القتل ویستدل بعمومہ علی قتل الکافر والمسلم. (۱)

(۱) الصارم المسلول ص ۲۱۱

صفحہ 81

(یہ روایت سنن ابی داؤد میں بھی موجود ہے)۔

”حضرت مطرف بن عبداللہ حضرت ابو بردہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ تھا۔ آپ ایک آدمی پر ناراض ہوئے تو اس نے بھی غیظ و غضب کا اظہار کیا پس میں نے عرض کیا اے خلیفہ رسولﷺ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ حضرت ابو بردہؓ کہتے ہیں کہ میرے ان الفاظ نے حضرت ابو بکرؓ کے غصے کو ختم کر دیا۔ پس آپ اٹھے اور وہاں سے چلے گئے پھر ایک آدمی میری طرف بھیجا اور مجھ سے پوچھا کہ تم نے ابھی کیا کہا تھا میں نے عرض کیا کہ مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا اگر میں تمہیں اس کی اجازت دے دیتا تو کیا تم ایسا کر دیتے تو میں نے عرض کیا ہاں۔ تو آپ نے فرمایا نہیں خدا کی قسم یہ حکم صرف رسول کریمﷺ کیلئے تھا آپ کے بعد کسی بشر کیلئے بھی نہیں (کہ اس کے گستاخ کو قتل کیا جائے)

اس روایت سے علماء کی ایک جماعت نے توہین رسالت کے مرتکب کے مباح الدم ہونے پر استدلال کیا ہے۔ ان میں ابوداؤد، اسماعیل بن اسحق القاضی، ابوبکر ابن عبدالعزیز، قاضی ابویعلیٰ اور دیگر بہت سے علماء شامل ہیں اور اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضورﷺ کی توہین کرنے والا مباح الدم ہے اور حدیث پاک کا عموم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ گستاخ مصطفیٰﷺ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کیا جائے گا“۔

ایک اور روایت ملاحظہ ہو۔

بلغ المهاجر ابن امية امير اليمن لابى بكر ان امرأة هناك فى الردة غنت بسب النبيﷺ فقطع يدها ونزع ثنيتها فبلغ ابابكر فقال له لولا مافعلت لامرتك بقتلها لان حد الانبياء ليس يشبه الحدود (۱)

”والی یمن حضرت مہاجر بن امیہ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو بتایا کہ وہاں ایک عورت حضورﷺ کی مذمت میں اشعار گاتی تھی تو انہوں نے اس کے ہاتھ کاٹ دیئے ہیں

(۱) الشفا،ج۲ص۲۲۲

صفحہ 82

اور اس کے اگلے دانت نکال دیئے ہیں تو جناب صدیق اکبرؓ نے فرمایا اگر تم نے یہ سزا نہ دی ہوتی تو میں تمہیں حکم دیتا کہ اس عورت کو قتل کر دو کیونکہ انبیاء کرام کی گستاخی حد دوسرے لوگوں کی گستاخی کی حدود کے مشابہ نہیں ہوتی“۔

ان روایات سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے نزدیک شاتم رسول ﷺ کی سزا قتل ہی ہے۔

مظہر جلال نبوت حضرت عمرؓ فاروق کے متعلق ایک روایت تو گزر چکی ہے کہ آپ نے اس منافق کا سر قلم کر دیا تھا جس نے حضور ﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہ کیا تھا اور پھر وحی الٰہی نے فاروق اعظمؓ کے اس عمل کی حقانیت پر گواہی دی فلا و ربک لا یؤمنون الخ آیہ کریمہ نازل ہوئی اور بارگاہ نبوت سے فاروق کا لقب عطا ہوا۔

ایک اور روایت ملاحظہ ہو:

عن مجاهد اتی عمر برجل سب النبی ﷺ فقتله ثم قال عمر من سب الله تعالیٰ او سب احدا من الانبياء فاقتلوه ۔ (۱)

”مجاہد سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ کے پاس ایک ایسے بدبخت آدمی کو لایا گیا جس نے حضور ﷺ کو گالی دی تھی پس حضرت عمرؓ نے اسے قتل کر دیا پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا جو اللہ تعالیٰ یا انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کو گالی دے اسے قتل کردو“۔

حضرت عمرؓ نے اس آدمی کو بھی قتل کر دیا تھا جو کسی قوم کی امامت کرواتا تھا اور ہر باجماعت نماز میں سورہ عبس کی تلاوت ہی کرتا (۲) تھا کیونکہ اس کا خیال یہ تھا کہ اس سورہ پاک میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو جھڑکا ہے وہ توہین رسالت کی نیت سے اس کی تلاوت کرتا تھا تو آپ نے اسے قتل کر دیا تھا حالانکہ یہاں جس محبت بھرے اسلوب کو اختیار کیا گیا ہے اور بارگاہ نبوت کی جن نزاکتوں کا تذکرہ ہے اس کی تفصیل تفاسیر میں دیکھی جاسکتی ہے۔

(۱) جواہر البحار ج ۳ ص ۲۴۰۔ الصارم المسلول ص ۱۹۵

(۲) تفسیر روح البیان ج ۱۰ ص ۳۳۱۔

صفحہ 83

شہنشاہ ولایت حضرت علیؓ کے متعلق ایک روایت تو گزر چکی ہے کہ حضورﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو ایک ایسے آدمی کے قتل کرنے کیلئے بھیجا جس نے حضورﷺ کی توہین کی تھی۔ (۱)

حضرت علیؓ سے ہی مروی ہے کہ ایک عورت نے حضور نبی کریمﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا تھا تو ایک شخص نے اسے قتل کر دیا تو حضور نبی کریمﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔ (۲)

حضرت علیؓ نے ہی اس حدیث پاک کو روایت کیا ہے:

من سب نبیا فاقتلوہ و من سب اصحابی فاجلدوہ (۳)

’’جو کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کر دو اور جو کسی صحابی کو گالی دے اسے درے مارو‘‘

مصنف عبدالرزاق کی یہ روایت بھی ملاحظہ ہو:

علی النبی یضرب عنقہ۔ (۴)

حضرت علیؓ نے فرمایا جو حضورﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرے اسے قتل کر دیا جائے۔

ان روایات سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا موقف بالکل واضح ہے۔

حضرت عبداللہ ابن مسعود کا موقف جاننے کیلئے طحاوی باب استتابۃ المرتد کی یہ روایت ملاحظہ ہو:

جب آپ کوفہ کے قاضی تھے تو آپ کی عدالت میں پیروان مسیلمہ کذاب کو ارتداد کے جرم میں پیش کیا گیا جن لوگوں نے توبہ کر لی آپ نے انہیں معاف کر دیا لیکن

(۱) الشفا ج۲ ص ۲۲۲

(۲) سنن ابی داؤد ج۲ ص ۲۵۲

(۳) الصارم المسلول ص ۹۲۔

(۴) المصنف عبدالرزاق ج۵ ص ۵۸۔ ۳۰۷

صفحہ 84

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا اور جناب ملک جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لئے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

ایک شخص عبداللہ ابن نواحہ کو آپ نے باوجود توبہ کے سزائے موت دی۔ لوگوں نے پوچھا ایک ہی جرم پر دو مختلف سزائیں کیوں دی گئیں تو آپ نے فرمایا یہ عبداللہ بن نواحہ اور حجر بن وصال دونوں مسیلمہ کذاب کے سفیر کی حیثیت سے حضور ﷺ کی خدمت میں آئے تھے تو حضور ﷺ نے ان سے پوچھا کیا تم دونوں گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تو ان دونوں نے کہا کہ تم گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا اگر سفیروں کا قتل کرنا جائز ہوتا تو میں تمہیں قتل کروا دیتا۔ اب چونکہ ابن النواحہ گرفتار ہو کر آیا ہے اس لیے اسے قتل کروا دیا گیا“

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود کے نزدیک حضور ﷺ کی توہین کی سزا قتل ہی ہے۔

حضرت سعد ابن معاذ کے متعلق گزر چکا ہے کہ انہوں نے یہود سے فرمایا تھا کہ اگر تم نے دوبارہ بارگاہ رسالت میں راعنا کا لفظ بولا تو میں تمہیں قتل کردوں گا۔ (۱)

حضرت عمیر بن عدی نے اس عورت کو قتل کر دیا تھا جو حضور ﷺ کو سب وشتم کرتی تھی۔ (۲)

حضرت خالد بن ولید نے حضور ﷺ کے فرمان پر ایک گستاخ نبوت عورت کو قتل کیا۔ جس آدمی نے حضور ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اسے قتل کرنے کیلئے حضور ﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت خالد بن ولید کو ہی بھیجا تھا۔ حضرت خالد بن ولید نے مالک بن نویرہ کو اس لیے قتل کیا کہ اس نے اثنائے گفتگو حضور ﷺ کے متعلق تحقیرانہ اسلوب استعمال کرتے ہوئے حضرت خالد بن ولید سے کہا تھا یقول صاحبکم وہ تمہارا صاحب (یعنی حضور ﷺ) یوں کہتے ہیں۔ (۳)

(۱) تفسیر صاوی ج۱ ص۴۷ خازن ج۱ ص۷۲۔

(۲) الصارم المسلول ص۹۴

(۳) الشفا ج۲ ص۲۱۶

حضرت ابن عبا عن ابن عمر ابن عمرؓ لو سمعتہ لقت

”حضرت ابن رسول کریم ﷺ کو گالیاں کلمات سن لیتا تو اس کی گر کی شان اقدس میں گستاخ

چونکہ حضرت ا لیکن یہ وضاحت فرمادی ک

حضرت زبیر حضور ﷺ کو گالی دی تھی

حضرت ابن ولد کو اس لیے قتل کر دیا ت خون کو ھدر قرار دے دیا ت

حضرت محمد کیونکہ وہ حضور ﷺ کو گا

حضرت عبد روایت حضرت براء بن

(۱) تفسیر مظہری ج ۲

(۲) المصنف عبدالرزا

(۳) ابوداؤد ج۲ ص

(۴) صحیح بخاری ج ۲

(۵) نفس مصدر ج

صفحہ 85

حضرت ابن عمرؓ کے متعلق یہ روایت ملاحظہ ہو:

عن ابن عمر قال مر به راهب فقيل له هذا يسب النبي ﷺ فقال ابن عمر لو سمعته لقتلته انا لم نعطهم الذمة على ان يسبوا ﷺ (١)

"حضرت ابن عمرؓ کے پاس سے ایک راہب گزرا۔ جس کے متعلق کہا گیا کہ یہ رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا۔ اگر میں اس سے گستاخانہ کلمات سن لیتا تو اس کی گردن اڑا دیتا۔ ہم نے انہیں ذمی اس لیے نہیں بنایا کہ یہ حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کریں۔"

چونکہ حضرت ابن عمرؓ کے پاس نصاب شہادت پورا نہیں تھا اس لیے اسے قتل نہ کیا۔ لیکن یہ وضاحت فرمادی کہ اگر میں اسے گالیاں دیتے ہوئے سن لیتا تو میں اسے قتل کر دیتا۔

حضرت زبیرؓ نے حضور ﷺ کے حکم کی تعمیل میں ایک ایسے شخص کو قتل کیا جس نے حضور ﷺ کو گالی دی تھی۔ (۲)

حضرت ابن عباسؓ سے مروی یہ روایت گزر چکی کہ ایک نابینا صحابیؓ نے اپنی ام ولد کو اس لیے قتل کر دیا تھا کہ وہ حضور ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی تو حضور ﷺ نے اس کے خون کو ھدر قرار دے دیا تھا۔ (۳)

حضرت محمد بن مسلمہ نے حضور ﷺ کی ترغیب پر کعب بن اشرف کو قتل کر دیا تھا کیونکہ وہ حضور ﷺ کو ایذا دیتا تھا اس روایت کے راوی حضرت جابرؓ بن عبداللہ ہیں۔ (۴)

حضرت عبداللہ بن عتیک نے ایک گستاخ رسول ﷺ یہودی ابو رافع کو قتل کیا یہ روایت حضرت براء بن عازب سے مروی ہے۔ (۵)

(۱) تفسیر مظہری ج ۳ ص ۲۴۱

(۲) المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص ۳۰۷

(۳) ابوداؤد ج ۲ ص ۲۵۲

(۴) صحیح بخاری ج ۲ ص ۵۲۶

(۵) نفس مصدر ج ۲ ص ۵۲۹

صفحہ 86

حضرت سالم بن عمیر نے ایک گستاخ رسول ﷺ ابو عفک کو قتل کیا۔ (۱)

امام بخاری نے کتاب المغازی میں درج کیا ہے کہ حضرت معوذؓ اور معاذؓ نے جو ابو جہل کو قتل کرنے کا عزم مصمم کر رکھا تھا اس کی وجہ انہوں نے حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کو یہی بتائی تھی اخبرت انه يسب رسول الله ﷺ کہ ہم نے سنا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتا ہے۔

یہ تو تھا صحابہ کرامؓ کا نقطہ نظر۔ آئیے اب اس خلیفہ اسلام سے توہین رسالت کے مرتکب شخص کی سزا دریافت کریں جنہیں دنیا بجا طور پر ”عمر ثانی“ کے پرشکوہ لقب سے یاد کرتی ہے میری مراد حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز ہیں جن کے دور خلافت کو بجا طور پر اسلام کا سنہری زمانہ کہا جاتا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

عن خليد ان رجلا سب عمر بن عبدالعزیز فکتب عمر انه لا يقتل الا من سب رسول الله ﷺ ولكن اجلده على رأسه اسواطا . (۲)

”خلید سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے عمرؓ بن عبدالعزیز کو گالی دی۔ (اس کی سزا کے استفسار کرنے پر) حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز نے لکھا کہ صرف رسول کریم ﷺ کو گالی دینے والے کو ہی قتل کیا جائے گا لیکن میں اس کے سر پر کوڑے ماروں گا“۔

قاضی عیاض اندلسی لکھتے ہیں:

و من ذالك کتاب عمر ابن عبدالعزیز الى عامله بالكوفة وقد استشاره في قتل رجل سب عمر رضى الله عنه فكتب اليه عمر انه لا يحل قتل امرئ بسب احد من الناس الا رجلا سب رسول الله فمن سبه حل دمه . (۳)

ان (گستاخ رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے کے دلائل) میں سے وہ خط ہے جو حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز نے اپنے کوفہ کے والی کو اس وقت لکھا تھا جب اس نے ایسے آدمی کو قتل کرنے کے بارے میں مشورہ طلب کیا تھا جس نے حضرت عمرؓ کو گالی دی تھی۔

(۱) الصارم المسلول ص ۱۰۴

(۲) الصارم المسلول ص ۱۹۹

(۳) الشفا ج ۲ ص ۲۲۳

صفحہ 87

حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز نے اس کو جواب میں لکھا کہ رسول کریم ﷺ کے شاتم کے علاوہ اور کسی کو قتل نہیں کیا جائے گا جو حضور ﷺ کو گالی دے وہ مباح الدم ہو جاتا ہے“۔

صحابہ کرامؓ سے منقول یہ متعدد روایات اور متعدد صحابہؓ کا شاتمین رسول ﷺ کو قتل کرنا اور کسی صحابی کا بھی شاتم رسول ﷺ کے قتل پر اختلاف نہ کرنا اس حقیقت کو بالکل واضح کر رہا ہے کہ نجوم ہدایت اور معلم کائنات ﷺ کے سینہ نبوت سے بلا واسطہ اکتساب فیض کرنے والے اولین شاگردوں کا اس بات پر اجماع تھا کہ جو بھی حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے اس بدبخت کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ اس کی گردن اڑا دینا ہی تقاضائے ایمان ہے۔

علامہ ابن تیمیہ شاتم رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے پر اجماع صحابہ کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

واما اجماع الصحابه فلان ذالك نقل في قضايا متعددة ينشر مثلها ويستفيض ولم ينكرها احد فصارت اجماعا. (۱)

اس مسئلہ (شاتم رسول ﷺ کے وجوب قتل) پر اجماع صحابہؓ کا ثبوت یہ ہے کہ ان سے یہ بہت سے فیصلوں میں منقول ہے اور ایسی بات منتشر اور مشہور ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ان صحابہ میں سے کسی نے بھی اس کا انکار نہ کیا۔ اس طرح یہ اجماع صحابہؓ ہو گیا۔

علامہ خفاجی حضرت ابو برزہ سے منقول ایک روایت (جو پہلے گزر بھی چکی ہے) پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

فدل على ان قتل من سبہ ﷺ اتفقت عليه الصحابه. (۲)

”پس اس سے ثابت ہو گیا کہ جو بھی حضور ﷺ کو گالی دے گا اس کے قتل پر تمام صحابہ کرامؓ کا اتفاق ہے“۔

ثابت ہوا کہ تمام صحابہ کرامؓ توہین رسالت کے مرتکب فرد کے واجب القتل ہونے پر متفق ہیں۔

(۱) الصارم المسلول ص۱۹۴

(۲) شرح شفا ج ۳ ص ۴۵۸

صفحہ 88

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا اور جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لئے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

توہین رسالت کی سزا

اجماع امت کی روشنی میں

قرآن وسنت اور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس مدعی یا ہو کافر اس کی سزا قتل اس بحث میں س شخص کے واجب القتل ہو دیگر فقہائے اسلام کا موقف میں بھی توہین رسالت کے بالله عليه توكلت والي

اقوال اجماع

قاضی ابوالفضل ان جميع م او نسبه او دینه او خ السب له او الازراء له والحكم فيه حك الفتوى ومن لدن الم

”جو شخص بھی ذات ، نسب ، دین یا آ کرے یا بطریق گستا آپ ﷺ کی شان آپ ﷺ کو گالی د کا ہے کہ اسے قتل

(۱) الشفا ج ۲ ص

صفحہ 89

قادیانی گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا تو جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آ گئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

قرآن وسنت اور اجماع صحابہؓ سے یہ حقیقت عرض کی جا چکی ہے کہ جو شخص حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں اشارۃً یا کنایۃً بھی گستاخی کا مرتکب ہوگا وہ مسلمان ہونے کا مدعی ہو یا کافر اس کی سزا قتل ہے۔ دورِ صحابہؓ سے لیکر آج تک اس پر پوری امت کا اجماع ہے۔ اس بحث میں سب سے پہلے یہ واضح کیا جائے گا کہ توہین رسالت کے مرتکب شخص کے واجب القتل ہونے پر تمام امت کا اجماع ہے۔ پھر اس مسئلہ میں ائمہ اربعہ اور دیگر فقہائے اسلام کا موقف واضح کیا جائے گا تاکہ فقہ اسلامی کے اہم ماخذ اجماع کی روشنی میں بھی توہین رسالت کے مرتکب شخص کا واجب القتل ہونا واضح ہو جائے وما توفیقی الا بالله عليه توکلت واليه انيب۔

اقوالِ اجماع

قاضی ابوالفضل عیاض مالکی اندلسی فرماتے ہیں:

ان جميع من سب النبی ﷺ او عابه او الحق به نقصا فى نفسه او نسبه او دينه او خصلته من خصاله او عرض به او شبه بشئ على طريق السب له او الازراء عليه او تصغير لشانه او الغض منه والعيب له فهو ساب له والحكم فيه حكم الساب يقتل ..... وهذا كله اجماع من العلماء وائمة الفتوى ومن لدن الصحابه رضوان الله عليهم الى هلم جرّا۔ (۱)

”جو شخص بھی حضور ﷺ کو گالی دے یا آپ ﷺ پر عیب لگائے یا آپ ﷺ کی ذات، نسب، دین یا آپ ﷺ کی عادات میں سے کسی عادت کی طرف کسی نقص کی نسبت کرے یا بطریق گستاخی آپ ﷺ کو کسی چیز سے تشبیہ دے یا آپ ﷺ کو ناقص کہے یا آپ ﷺ کی شان کو کم کرے یا آپ ﷺ پر یا آپ ﷺ کی کسی بات پر عیب لگائے وہ آپ ﷺ کو گالی دینے والا شمار ہوگا اس کا وہی حکم ہے جو آپ کو (صراحۃً) گالی دینے والے کا ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے ۔“

(۱) الشفاء ج ۲ ص ۲۱۴

ت کی سزا کی روشنی میں

صفحہ 90

اس پر علماء امت اور صحابہ سے لیکر آج تک جتنے فتوی دینے والے ہو گزرے ہیں سب کا اتفاق واجماع ہے۔

چند سطور کے بعد قاضی عیاض مالکی لکھتے ہیں:

ولانعلم خلافا فی استباحة دمه بین علماء الامصار وسلف الامة وقد ذکر غیر واحد الاجماع علی قتله وتکفیره. (۱)

”ہمارے علم کے مطابق اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ایسا شخص مباح الدم ہے۔ اسلاف امت اور تمام دیار و امصار کے علماء اس بات پر متفق ہیں بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ ایسے شخص کے قتل و تکفیر پر اجماع ہے“۔

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

المسئلة الاولى: ان من سب النبی ﷺ من مسلم او کافر فانه یجب قتله هذا مذهب علیه عامة اهل العلم قال ابن المنذر اجمع عوام اهل العلم علی ان حد من سب النبی ﷺ القتل

پہلا مسئلہ: حضور ﷺ کو گالی دینے والا مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کرنا واجب ہے تمام اہل علم کا یہی مذہب ہے ابن المنذر کہتے ہیں کہ تمام اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ جو بھی حضور سید عالم ﷺ کی شان ہمایوں میں توہین کا ارتکاب کرے اسے قتل کی سزا دی جائے۔

چند سطور کے بعد علامہ موصوف لکھتے ہیں:

وقد حکی ابوبکر الفارسی من اصحاب الشافعی اجماع المسلمین علی ان حد من سب النبی ﷺ القتل کما ان حد من سب غیره الجلد.(۴)

”اصحاب شافعی میں سے ابوبکر فارسی نے کہا ہے کہ حضور ﷺ کی توہین کرنے والے کو قتل کیا جائے گا اس پر تمام اہل اسلام کا اجماع ہے جیسے حضور ﷺ کے علاوہ کسی کو گالی

(۱) نفس مصدر ص ۲۱۵۔

(۴) نفس مصدر ص ۴

صفحہ 91

دینے کی سزا کوڑے مارنا ہے‘‘۔

قد اتفقت نصوص العلماء من جميع الطوائف على ان التنقيص له كفر مبيح الدم.(۱)

”تمام مکاتب فکر کے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ حضور ﷺ کی شان اقدس میں تنقیص کرنا کفر ہے اور ایسا کرنے والا مباح الدم ہے‘‘۔

قاضی ثناء اللہ مظہریؒ لکھتے ہیں:

وقال الخطابى لا اعلم احدا خالف فى وجوب قتله.(۲)

”خطابی فرماتے ہیں کہ میں کسی بھی ایسے شخص کو نہیں جانتا کہ جو نبی کریم ﷺ کے گستاخ کے واجب القتل ہونے میں اختلاف رکھتا ہو‘‘۔

قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں:

قال بعض علماء نا اجمع العلماء على ان من دعا على نبي من الانبياء با لويل او بشئ من المكروه انه يقتل بلا استتابة وافتى ابو الحسن القابسی.(۳)

”بعض علماء نے کہا کہ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جو بھی انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی علیہ السلام کیلئے تباہی کی بددعا کرے یا کسی ناپسندیدہ چیز کی اس کو بغیر توبہ کا مطالبہ کیے قتل کر دیا جائے گا‘‘۔

مزید لکھتے ہیں:

قال ابن عتاب: الكتاب والسنة موجبان ان من قصد النبى ﷺ باذى او نقص معرضا اور مصرحا وان قل فقتله واجب فهذا الباب كله مما عداه العلماء شبا اور تنقضا يجب قتل قائله لم يختلف فى ذالك متقدمهم ولا متاخرهم.(۴)

(۱) نفس مصدر ص ۵۳۰ (۲) تفسیر مظہری ج ۷ ص ۳۸۶ (۳) الشفا ج ۲ ص ۲۱۵ (۴) نفس مصدر ص ۲۶۹

صفحہ 92

”امام ابن عتاب مالکی فرماتے ہیں کہ قرآن وسنت اس بات کو واجب کرتے ہیں کہ جو بھی نبی کریمﷺ کی ایذاء کا ارادہ کرے یا آپﷺ کی تنقیص کرے اشارۃً یا صراحۃً اگرچہ وہ توہین معمولی ہی کیوں نہ ہو تو اس کا قتل کرنا واجب ہے اس باب میں جن جن چیزوں کو علماء کرام نے سب اور تنقیص شمار کیا ہے بالاتفاق ان کے قائل کا قتل واجب ہے اس میں متقدمین یا متاخرین علماء میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا“۔

امام طحطاوی درج کرتے ہیں:

قال محمد ابن سحنون اجمع العلماء على ان شاتم النبی ﷺ والمنتقص له كافر والوعيد جار عليه بعذاب الله له وحكمه عند الامة القتل ومن شك فى كفره وعذابه فقد كفر (!)

”محمد ابن سحنون فرماتے ہیں کہ تمام امت کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول کریم ﷺ کی توہین کرنے والا یا آپ ﷺ کی ذات اقدس کی تنقیص کرنے والا کافر اور وعید عذاب کا مستحق ہے اور پوری امت کے نزدیک اسے قتل کیا جائے گا۔ جو شخص ایسے شخص کے کافر اور مستحق عذاب ہونے میں شک کرے وہ خود کافر ہے“۔

یہاں تک تو مطلق اجماع امت کا ذکر تھا کہ حضورﷺ کی توہین کرنے والا مسلمان ہو یا غیر مسلم واجب القتل ہے اگر چہ ائمہ اربعہ کا موقف بھی اس ضمن میں سمجھا جا سکتا ہے لیکن اب میں کچھ تفصیل سے ائمہ اربعہ کا موقف بیان کرتا ہوں۔

توہین رسالت کا مرتکب یا کافر ہوگا یا مسلمان۔ پھر کافر یا حربی ہوگا یا ذمی۔ کیونکہ حربی کافر تو ویسے ہی مباح الدم ہوتا ہے۔ البتہ ذمی کے احکام اس سے مختلف ہوتے ہیں۔ پہلے ذمی کافر جو توہین رسالت کا ارتکاب کرے اس کا حکم ائمہ اربعہ کے نزدیک بیان کیا جائے گا پھر مسلمان کا۔ اقول وبالله التوفيق

(۱) جواہر البحار ج ۳ ص ۲۰۰

صفحہ 93

ائمہ فقہ کے نزدیک ذمی شاتم رسولﷺ کا حکم

ائمہ اربعہ کے نزدیک اگر ذمی کافر حضور سید عالمﷺ کی شان اقدس میں سب و شتم کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا یادرہے کہ حربی کافر تو ویسے ہی مباح الدم ہوتا ہے اس جرم سے وہ تو بدرجہ اولیٰ واجب القتل ہو جائے گا اس لیے اس بحث میں صرف ذمی کافر پر بحث کی جائے گی۔

ائمہ فقہ کا موقف ملاحظہ ہو:

فقہائے احناف کے نزدیک ذمی شاتم رسولﷺ کا حکم

امام علاؤ الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں:

ویؤدب الذمی ویعاقب علیٰ سب دین الاسلام او القران او النبیﷺ و العینی واختیاری فی السب القتل وتبعه ابن ھمام و به افتی شیخنا الخیر رملی و ھو قول الشافعی....... والحق انه یقتل عندنا اذا اعلن بشتمه علیه السلام وصرح به فی سیر الذخیرہ حیث قال و استدل محمد لبیان قتل المراۃ اذا اعلنت بشتم الرسول بما رویٰ ان عمرو بن عدی لما سمع عصماء بنت مروان توذی رسول اللہﷺ فقتلها لیلا و مدحهﷺ علیٰ ذالک (۱)

”ذمی اگر اسلام یا قرآن یا نبیﷺ کو گالی دے تو اسے سزادی جائے گی اور زد و کوب کیا جائے گا۔...... علامہ عینیؒ نے فرمایا سب وشتم کی صورت میں میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ اس ذمی کو قتل کر دیا جائے گا۔ امام ابن ہمام کا بھی یہی نقطہ نظر ہے میں (صاحب درمختار) کہتا ہوں کہ ہمارے شیخ الرملی نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے....... اور ہمارے نزدیک حق یہ ہے کہ اس ذمی کو قتل کیا جائے گا جبکہ وہ علی الاعلان حضورﷺ کو سب وشتم کرتا ہو سیر الذخیرہ میں بھی اس کی تصریح ہے جس طرح کہ امام محمد نے

(۱) درمختار ج ۳ ص ۲۷۹-۸۰

صفحہ 94

قادیانی گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا اور جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لئے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ مؤلف صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

اس عورت کے بارے میں فرمایا جو حضور ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا کہ جب حضرت عمیر بن عدی نے عصماء بنت مروان کے متعلق سنا کہ وہ حضور ﷺ (کی توہین کر کے آپ) کو اذیت پہنچاتی ہے تو انہوں نے اسے رات کو قتل کر دیا تو حضور ﷺ نے اس فعل پر حضرت عمیر بن عدی کی تعریف فرمائی“ ۔

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:

و ذکره (الامام محمد) فی السیر الکبیر فیدل علی جواز قتل الذمی المنهی عنه عن قتله بعقد الذمة اذا اعلن بالشتم ايضا واستدل بذالک فی شرح السیر الکبیر بعدة احادیث منها حدیث ابی اسحق الهمدانی قال جاء رجل الی رسول الله ﷺ وقال سمعت امراء ة من یهود وهی تشتمک والله یا رسول الله انها لمحسنة الی فقتلتها فاهدر النبی ﷺ دمها . (۱)

”امام محمد نے السیر الکبیر میں لکھا ہے کہ اس میں اس پر دلالت ہے کہ ذمی کو بوجہ عہد ذمہ قتل سے امان مل چکی ہے جب علانیہ حضور ﷺ کی شان اقدس میں سب وشتم بکے تو اس کا قتل کرنا جائز ہے اور شرح السیر الکبیر میں اس کے قتل کے جواز پر بہت سی احادیث سے استدلال کیا گیا ہے ان میں ایک ابواسحق الھمدانی کی (بیان کردہ) حدیث ہے کہ ایک آدمی جب حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میں ایک یہودی عورت کو آپ کو گالیاں دیتے ہوئے سنا خدا کی قسم وہ مجھ پر بہت احسان کرنے والی تھی (اس کے باوجود بھی) میں نے اسے قتل کر دیا پس حضور ﷺ نے اس کے خون کو ھدر قرار دے دیا“۔

یعنی اس کے قاتل پر کوئی قصاص وغیرہ نہیں ہے کیونکہ وہ توہین رسالت کے ارتکاب کے سبب مباح الدم ہوچکی تھی۔

(۱) رد المحتار ج۳ ص ۴۸۰

علامہ شامی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں فلو اعلن بشتمه او اعلن * مجیب ذمی علانیہ (کیونکہ حضور ﷺ کو گالی دے یا اس چیز کا عادی نہ ہو آج کل اس پر فتوی دیا جاتا ہے۔

قاضی ثناء اللہ مظہری لکھتے ہیں وفی الفتاوى من سبه ولا تقبل توبته سواء كان مسلماً ما روى ابو يوسف عن حفص ابن سب النبي ﷺ فقال له لو سمعته

”فتاوی میں امام ابو یوسف کہ جو حضور ﷺ کو گالی دے وہ قتل کر دیا جائے مومن ہو یا کافر اس سے واضح ہوا کہ ہے اس کی تائید اس روایت سے ہوتی سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے دیتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا کہ میں اسے یقینا قتل کر دیتا ہم نے رسالت میں توہین کرتے رہیں“

علامہ ابن تیمیہ ایک اور

(۱) نفس مصدر، ج۳ ص ۲۱۸

(۲) تفسیر مظہری ج۲ ص ۱۹۱

صفحہ 95

علامہ شامی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

فلو اعلن بشتمه او اعتاده قتل ولو امراة وبه يفتى اليوم (١)

٭پس جو ذمی علانیہ (کیونکہ شریعت کا حکم ظاہر پر جاری ہوتا ہے۔ مؤلف) حضور ﷺ کو گالی دے یا اس چیز کا عادی ہو تو اسے قتل کر دیا جائے گا اگر چہ وہ عورت ہی کیوں نہ ہو آج کل اسی پر فتوی دیا جاتا ہے۔“

قاضی ثناء اللہ مظہری بھی فرماتے ہیں:

وفى الفتاوى من مذهب ابى حنيفة ان من سب النبى ﷺ يقتل ولا تقبل توبته سواء كان مؤمنا او كافرا بهذا يظهر انه ينتقض عهده ويؤيده ماروى ابو يوسف عن حفص ابن عبدالله ابن عمر ان رجلا قال له سمعت راهبا سب النبى ﷺ فقال له لو سمعته لقتلته انا لم نعطهم العهود على هذا (۲)

”فتاویٰ میں امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جس نے بھی نبی کریم ﷺ کو گالی دی وہ قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی برابر ہے کہ وہ مومن ہو یا کافر اس سے واضح ہوا کہ حضور ﷺ کو سب و شتم کرنے سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس کو امام ابو یوسفؒ نے حفص بن عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ میں نے ایک راہب کو حضور ﷺ کو گالی دیتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا کہ اگر میں اسے حضور ﷺ کو گالیاں دیتے ہوئے سن لیتا تو میں اسے یقیناً قتل کر دیتا ہم نے انہیں (ذمیوں کو) اس لیے تو امان نہیں دی کہ وہ شانِ رسالت میں توہین کرتے رہیں۔“

علامہ ابن تیمیہ ایک مقام پر امام ابو حنیفہؒ کا موقف یوں بیان کرتے ہیں:

(١) نفس مصدر، ج ۳ ص ۲۱۸

(۲) تفسیر مظہری ج ۳ ص ۱۹۱

صفحہ 96

ان الذمی اذا سبه لا يستتاب بلا تردد فانه یقتل لکفرہ الاصلی کما یقتل الاسیر الحربی . (۱)

"امام ابو حنیفہؒ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی ذمی رسول کریمﷺ کو گالی دے تو اس سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر اسے قتل کر دیا جائے گا کیونکہ اسے اس کے کفر اصلی کے سبب قتل کیا جائے گا جیسا کہ کافر حربی کو قتل کیا جاتا ہے۔"

امام ابن ہمام فرماتے ہیں:

والذی عندی ان سبه علیه السلام او نسبته الی مالا ینبغی الی الله ان کان ممالا یعتقدونه کنسبة الولدالی الله تعالیٰ الذی یعتقده النصاریٰ والیهود اذا اظهر یقتل به وینقض عهده . (۲)

"میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ ذمی نے اگر حضورﷺ کو گالی دی یا غیر مناسب چیز اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی اگر وہ ان کے معتقدات سے خارج ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹے کی نسبت کرنا جیسا کہ یہود و نصاریٰ کا عقیدہ ہے جب وہ ان چیزوں کا اظہار کرے گا تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور اسے قتل کر دیا جائے گا۔"

ایک اور حنفی فقیہہ مولانا گل محمد لکھتے ہیں:

ومن سب نبیا اواهل شریعة اواهان الکلام المجید اوعاب او الحق نقصافی دینه اونسـبه او خصلة من خصاله سواء کان الشاتم من امة محمدﷺ او من غیره سواء کان من اهل الکتاب اوغیره فقد کفر واستحق القتـل وعلیه الفتوی . (۳)

"جس نے نبی مکرمﷺ یا صاحب شریعت کو گالی دی یا قرآن مجید کی توہین کی یا

(۱) الصارم المسلول ص ۳۲۶ (۲) رد المحتار ج ۳ ص ۲۷۹ (۳) فتاوی نور محمدی ص ۱۳۱

صفحہ 97

حضور ﷺ کے دین، آپ ﷺ کے نسب یا آپ ﷺ کی کسی عادت میں عیب نکالا یا تنقیص کی برابر ہے وہ آپ ﷺ کا امتی ہو یا نہ ہو، اہل کتاب میں سے ہو یا نہ ہو وہ کافر ہو جائے گا اور قتل کا مستحق ہو گا اسی پر فتویٰ ہے"۔

فقہائے مالکیہ کے نزدیک ذمی شاتم رسول ﷺ کا حکم

قاضی عیاض اندلسی مالکی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف لطیف ”الشفا بتعریف حقوق المصطفٰی ﷺ“ میں جگہ جگہ اس کی وضاحت فرمائی کہ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والا مسلمان ہو یا کافر واجب القتل ہے جیسا کہ کچھ حوالے پہلے گزر چکے ہیں جنہیں دہرانے سے طوالت کا خطرہ ہے قاضی عیاض امام مالک کا مسلک بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ومن رواية ابی المصعب وابن ابی اویس سمعنا مالکا یقول من سب رسول الله او شتمه او عابه او تنقصه قتل مسلما کان او کافرا ولا یستتاب وفی کتاب محمد اخبرنا اصحاب مالک انه قال من سب النبی ﷺ او غیره من النبیین من مسلم او کافر قتل ولم یستتب (۱)

”ابومصعب اور ابن ابی اویس سے منقول ہے کہ ہم نے امام مالک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو بھی حضور ﷺ کو سب و شتم کرے یا آپ ﷺ کی طرف کوئی عیب منسوب کرے یا کسی بھی طرح آپ ﷺ کی تنقیص کرے وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے گا۔ امام محمد نے اپنی کتاب میں امام مالک کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جو بھی حضور ﷺ یا دیگر انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی ﷺ کی توہین کرے وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔“

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

روی بعض المالکیة اجماع العلماء علی ان من دعا علی نبی من الانبیاء بالویل او بشئ من المکروه انه یقتل بلا استتابة. (۲)

(۱) الشفا ج ۲ ص ۲۱۷ (۲) الصارم المسلول ص ۵۲۹

صفحہ 98

قادیانی گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا تو جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

”بعض مالکیہ نے اس پر علماء کا اجماع روایت کیا ہے کہ جو بھی انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی علیہ السلام کیلئے تباہی یا کسی ناپسندیدہ چیز کی دعا مانگے اسے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کر دیا جائے گا“۔

فقہائے حنابلہ کے نزدیک ذمی شاتم رسول ﷺ کا حکم

علامہ ابن تیمیہؒ حنبلی امام احمد بن حنبل کا موقف ان الفاظ میں تحریر کرتے ہیں:

قال الامام احمد فى رواية حنبل كل من شتم النبى ﷺ او تنقصه مسلما كان او كافر فعليه القتل وارى ان يقتل ولا يستتاب (۱)

”حنبل کی روایت کے مطابق امام احمدؒ نے فرمایا کہ جو شخص بھی رسول کریم ﷺ کو گالی دے یا آپ ﷺ کی شان میں تنقیص کرے وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے گا۔ میری رائے میں اسے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جائے گا“

مزید لکھتے ہیں:

وفى رواية ابى طالب سئل احمد عمن شتم النبى ﷺ قال يقتل قد نقض العهد

”ابوطالب سے مروی ہے کہ امام احمدؒ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو حضور ﷺ کو گالی دے تو آپ نے فرمایا اسے قتل کر دیا جائے گا کیونکہ اس کا عہد ٹوٹ چکا ہے“

ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

قال ابوالصقر اسالت اباعبدالله عن رجل من اهل الذمة شتم النبى ﷺ ماذا عليه قال اذا قامت البينة عليه يقتل من شتم النبى ﷺ مسلما كان او كافرا۔ (۲)

(۱) نفس مصدر ص ۲۹۶

(۲) نفس مصدر ص ۵۔۶

ابوالصقرؒ کہتے میں پوچھا جس نے نبی کری نے جواب دیا کہ جب اس مسلمان ہو یا کافر۔

فقہائے شوافع کے

امام شافعیؒ اور شان اقدس میں توہین کر علامہ علاؤ الدین ويؤدب ال او النبى ﷺ ...... وق الهمام قلت وبه افتى ”ذمی کو ادب قرآن یا نبی کریم ﷺ موقف یہ ہے کہ وہ جب کا بھی یہی قول ہے ہما قاضی عیاضؒ قال ابو النبي ﷺ يقت واسحاق وهو مذ

(۱) درمختار ج ۳

(۲) الشفا ج ۲ ص

صفحہ 99

ابوالصقراد کہتے ہیں میں نے ابوعبداللہ (امام احمد) سے ایک ذمی شخص کے بارے میں پوچھا جس نے نبی کریم ﷺ کی توہین کی تھی کہ اس کے متعلق شرعی حکم کیا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ جب ایسے شخص کے خلاف شہادت مل جائے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ وہ مسلمان ہو یا کافر۔

فقہائے شوافع کے نزدیک ذمی شاتم رسول ﷺ کا حکم

امام شافعی اور ان کے اصحاب کا بھی یہی موقف ہے کہ اگر کوئی ذمی حضور ﷺ کی شان اقدس میں توہین کرے تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور وہ واجب القتل ہوگا۔

علامہ علاؤ الدین حصکفی امام شافعی کا موقف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ویؤدب الذمی و یعاقب علی سبہ دین الاسلام او القرآن او النبی ﷺ ...... وقال العینی واختیاری فی السب ان یقتل وتبعه ابن الهمام قلت وبه افتی شیخنا الخیر الرملی وهو قول الشافعی۔ (۱)

”ذمی کو ادب سکھایا جائے گا اور اسے سزا دی جائے گی جب وہ دین اسلام یا قرآن یا نبی کریم ﷺ کو سب وشتم کرے ...... علامہ عینی کہتے ہیں کہ اس بارے میں میرا موقف یہ ہے کہ وہ جب بھی اس توہین کا ارتکاب کرے اسے قتل کر دیا جائے گا۔ امام ابن ہمام کا بھی یہی قول ہے ہمارے شیخ رملی کا بھی یہی فتویٰ ہے اور امام شافعی کا بھی یہی موقف ہے“۔

قاضی عیاض اندلسی لکھتے ہیں:

قال ابوبکر ابن المنذر اجمع عوام اهل العلم علی ان من سب النبی ﷺ یقتل وممن قال ذالک مالک ابن انس و اللیث و احمد و اسحاق و هو مذهب الشافعی۔ (۲)

(۱) درمختار ج ۳ ص ۲۷۹

(۲) الشفاء ج ۲ ص ۲۱۵۔

صفحہ 100

”ابوبکر ابن منذر فرماتے ہیں کہ اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ جو بھی حضور نبی کریم ﷺ کو گالی دے (وہ مسلمان ہو یا کافر) اسے قتل کر دیا جائے گا امام مالک بن انس، لیث ، احمد اور اسحاق کا یہی موقف ہے اور امام شافعی کا مذہب بھی یہی ہے“۔

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

وقد حکی ابوبکر الفارسی من اصحاب الشافعی اجماع المسلمین علی ان حد من سب النبی ﷺ القتل کما ان حد من سب غیرہ الجلد (۱)

”اصحاب شافعی میں سے ابوبکر فارسی نے کہا ہے کہ اس پر تمام امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ حضور ﷺ کو گالی دینے والے کی سزا یہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے گا جیسا کہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی کو گالی دینے والے کی سزا کوڑے مارنا ہے“۔

علامہ ابن تیمیہ ہی امام شافعی کا موقف یوں بیان فرماتے ہیں:

امام الشافعی فالنصوص عنہ نفسہ ان عہدہ ینتقض بسب النبی ﷺ و انہ یقتل وقد حکاہ ابن المنذر والخطابی وغیرھما (۲)

”امام شافعیؒ سے صراحۃً منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اسے قتل کر دیا جائے گا، ابن المنذر، خطابی اور دیگر علماء نے اسی طرح نقل کیا ہے ۔“

علامہ مذکور ہی اس بحث کے آخر میں نتیجۃً امام شافعی کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ان من سب النبی ﷺ ینتقض العہد ویوجب القتل کما ذکرناہ عن شافعی نفسہ .

”نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اسے قتل کرنا واجب ہے جیسا کہ ہم نے خود امام شافعی سے نقل کیا ہے“۔

(۱) الصارم المسلول ص۴ (۲) نفس مصدر ص۹ ۔

صفحہ 101

مذکورہ بحث سے یہ بات بالکل واضح ہو رہی ہے کہ سب ائمہ کے نزدیک اگر کوئی ذمی توہین رسالت کا ارتکاب کرے گا تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور وہ واجب القتل ہوگا۔

مسلمان شاتم رسول ﷺ کے متعلق ائمہ اربعہ کا موقف

ذمی کے بعد اب اس بحث کے دوسرے پہلو کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ اگر کوئی کلمہ گو جو اسلام کا مدعی بھی ہو حضور ﷺ کی توہین و تنقیص کرے تو اس کے متعلق ائمہ اربعہ کا کیا موقف ہے؟

اس پر بھی تمام ائمہ کا اتفاق ہے کہ توہین رسالت کا مرتکب شخص مرتد ہو جائے گا اگرچہ عام ارتداد میں توبہ سے قتل معاف ہو جاتا ہے لیکن توہین رسالت سے مرتد ہونے والا ہر حال میں واجب القتل ہوگا توبہ سے اس کا قتل تو معاف نہیں ہوگا (اس پر تفصیلی بحث بعد میں آئے گی ان شاء اللہ) البتہ اس کی میت سے مسلمان میت والا سلوک کیا جائے۔

اس مسئلہ میں فقہائے امت کا نقطہ نظر ملاحظہ ہو:

مسلمان شاتم رسول ﷺ کے متعلق فقہائے احناف کا نقطہ نظر

امام ابو بکر احمد بن علی الرازی فرماتے ہیں: (وان نكثوا ايمانهم الخ کے تحت) وقال الليث في المسلم يسب النبي ﷺ انه لايناظر ولايستتاب ويقتل مكانه وكذالك اليهودى والنصارى . (۱)

”اور لیث نے ایسے مسلمان کے بارے میں جو نبی کریم ﷺ کو گالی دیتا ہو۔ فرمایا بے شک اس سے مناظرہ نہیں کیا جائے گا، نہ اسے مہلت دی جائے گی اور نہ ہی اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا بلکہ اسے اس جگہ پر قتل کر دیا جائے گا اور ایسے ہی (توہین رسالت کے مرتکب) یہودی اور عیسائی کا بھی حکم ہے“۔

(۱) احکام القرآن ج ۳ ص ۱۰۵

صفحہ 102

ایک اور جگہ فرماتے ہیں: ولا خلاف بين المسلمين ان من قصد النبى ﷺ فهو ممن ينتحل الاسلام انه مرتد يستحق القتل. (۱)

”اس مسئلہ میں کسی مسلمان کو بھی اختلاف نہیں کہ جس شخص نے بھی حضور ﷺ کی توہین کی اور آپ کی اذیت کا قصد کیا اگر چہ وہ مسلمان کہلاتا ہو۔ وہ مرتد ہے مستحق قتل ہے“۔

قاضی عیاض اندلسی امام سرخسی الحنفی کی کتاب المبسوط للسرخسی سے نقل کرتے ہیں: وفي المبسوط عن عثمان ابن كنانة من شتم النبى ﷺ من المسلمين قتل او صلب حيا ولم يستتب والامام مخير في صلبه او قتله. (۲)

”مبسوط میں عثمان بن کنانہ سے مروی ہے کہ مسلمانوں میں سے جو بھی حضور ﷺ کو گالی دے اسے قتل کر دیا جائے گا یا اسے زندہ سولی پر لٹکا دیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے امام کو اختیار ہے کہ وہ اسے زندہ سولی پر لٹکائے یا قتل کرے“۔

علامہ انور شاہ محدث کشمیری اپنی کتاب ”اکفار الملحدین“ میں اسی پس منظر میں لکھتے ہیں:

” شاتم رسول ﷺ کافر و مرتد قرار دیا جائے گا اور اس کا قتل واجب ہے اور اسے کوئی معافی نہیں دی جائے گی اور علماء کا اس پر اتفاق ہے اور جو شخص گستاخ نبوت کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی حد کفر میں داخل ہو جائے گا (مزید لکھتے ہیں) نبی کریم ﷺ کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے گستاخ کو معاف فرما دیں یا اسے قتل کر دیں چنانچہ یہ دونوں باتیں واقع ہوئیں لیکن امت پر شاتم رسول کا قتل واجب ہے اور شاتم کی توبہ قبول نہیں ہے۔

امام ابن ہمام حنفی فرماتے ہیں:

(۱) نفس مصدر ص ۱۰۶

(۲) الشفا ج ۲ ص ۲۱۶

صفحہ 103

كل من ابغض رسول الله ﷺ كان مرتدا فالساب بطريق الاولى ثم يقتل حداً عندنا۔(۱)

”جو بھی شخص رسول کریم ﷺ سے دل میں بغض رکھے وہ مرتد ہے تو آپ ﷺ کو گالی دینے والا تو بطریق اولیٰ مرتد ہوگا پھر ہمارے نزدیک اسے بطور حد کے قتل کیا جائے گا۔“

مسلمان شاتم رسول ﷺ کے متعلق فقہائے مالکیہ کا نقطہ نظر

قاضی عیاض مالکی لکھتے ہیں:

حكاه مطرف عن مالك فى كتاب ابن حبيب من سَبَّ النبی ﷺ من المسلمين قتل ولم يستتب ۔(۲)

”کتاب ابن حبیب میں مطرف نے امام مالک سے روایت کیا ہے کہ جو مسلمان بھی نبی کریم ﷺ کو سب و شتم کرے اسے قتل کر دیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔“

محمد ابن سحنون مالکی فرماتے ہیں:

اجمع العلماء على ان شاتم النبى ﷺ و المنقص له كافر والوعيد جار عليه بعذاب الله وحكمه عند الامة القتل و من شک فی كفره وعذابه فقد كفر (۳)

”اس پر تمام علماء کا اجماع ہے کہ حضور ﷺ کو گالی دینے والا کافر ہو جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید ہے۔ اور پوری امت کے نزدیک اس کا حکم قتل ہے اور جو اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہے“۔

اور یہ روایت بھی امام مالک کے نقطہ نظر کو واشگاف الفاظ میں واضح کرتی ہے:

سأل الرشيد مالكا فى رجل شتم النبى ﷺ و ذكر له ان فقهاء العراق افتوه بجلده فغضب مالك وقال يا امير المؤمنين ما بقاء الامة بعد شتم نبيها من شتم الانبياء قتل ومن شتم اصحاب النبى جلد۔ (۴)

(۱) فتح القدير ج ۶ ص ۳۰۷ (۲) الشفا ج ۲ ص ۲۱۶ (۳) نسیم الریاض ج ۳ ص ۴۳۸ (۴) الشفا ج ۲ ص ۲۲۳

صفحہ 104

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا تو جناب کے محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لیے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

”خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو حضور ﷺ کو گالی دے۔ ہارون نے لکھا تھا کہ عراق کے فقہاء نے شاتم رسول ﷺ کے لیے کوڑوں کی سزا تجویز کی ہے۔ تو امام مالک نے غضب ناک ہو کر فرمایا وہ امت کیسے زندہ رہے گی جو نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں سب وشتم پر خاموش رہے۔ جو کسی بھی نبی کو گالی دے اسے قتل کر دیا جائے اور جو صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے مارے جائیں“۔

اس کے بعد قاضی عیاض فرماتے ہیں: جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام عراقی فقہاء نے شاتم رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ خلیفہ ہارون الرشید نے کن فقہاء کا ذکر کیا ہے شاید کسی غیر معروف مفتی نے یہ کہا ہو یا کسی نے خواہش نفس کے تحت ایسا فتویٰ دے دیا ہو۔ بہر کیف فقہاء عراق کے نزدیک شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہی ہے۔

مسلمان شاتم رسول ﷺ کے متعلق امام شافعی کا نقطہ نظر

علامہ شامی فرماتے ہیں: قال ابن المنذر اجمع عوام اهل العلم على ان من سب النبی ﷺ یقتل وممن قال ذالک مالک ابن انس و اللیث واحمد واسحاق وھو مذھب الشافعی . (۱)

”ابن منذر کہتے ہیں کہ اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ جو بھی (مسلمان ہو یا کافر) حضور ﷺ کو گالی دے اسے قتل کر دیا جائے گا مالک بن انس، اللیث، احمد اور اسحاق کا یہی موقف ہے اور امام شافعی کا بھی یہی نقطہ نظر ہے“۔

مسلمان شاتم رسول ﷺ کے متعلق فقہائے حنابلہ کا موقف

امام احمد بن حنبل اور ان کے اصحاب کا موقف اس بارے میں وہی ہے کہ توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والا ہر حال میں واجب القتل ہے علامہ ابن تیمیہ حنبلی کی کتاب

(۱) ردالمحتار ج ۳ ص ۲۹۰

”الصارم المسلول“ اس دعوٰی یہی موقف بیان کیا ہے ایک مق قال الامام احم او کافرا فعلیہ واری ان ”امام احمد فرماتے قتل کر دیا جائے گا میری را پھر فرماتے ہیں ردة وھو موجب للقتل ”ہمارے اصحا اشارةً گالی دینا بھی ارتداد جیسے صراحۃً گالی دینے والا مزید فرماتے ہ او تنقصه مسلما کان ”امام مالک کی تنقیص کرے وہ مسلم واضح ہوا کہ متفق ہیں۔ شاتم ر اس مسئلہ کے ایک مضمون سے

(۱) الصارم المسلول

صفحہ 105

’’الصارم المسلول‘‘ اس دعویٰ کی منہ بولتی دلیل ہے انہوں نے متعدد مقامات پر امام احمد کا یہی موقف بیان کیا ہے ایک مقام پر لکھتے ہیں:

قال الامام احمد کل من شتم النبی ﷺ او تنقصه مسلما کان او کافرا فعلیه و اری ان یقتل ولا یستتاب . (۱)

’’امام احمد فرماتے ہیں کہ جو بھی حضور ﷺ کو گالی دے وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے گا میری رائے میں اسے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جائے گا‘‘۔

پھر فرماتے ہیں: وقال اصحابنا التعریض بسب الله و رسوله ﷺ ردة وهو موجب للقتل کالتصریح

’’ہمارے اصحاب (حنابلہ) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اشارۃً گالی دینا بھی ارتداد ہے اور اس سے بھی وہ آدمی ایسے ہی واجب القتل ہو جاتا ہے جیسے صراحتاً گالی دینے والا‘‘۔

مزید فرماتے ہیں: قال مالک و احمد کل من شتم النبی ﷺ او تنقصه مسلما کان او کافرا فانه یقتل و لا یستتاب

’’امام مالک اور امام احمد فرماتے ہیں کہ جو بھی حضور ﷺ کو گالی دے یا آپ ﷺ کی تنقیص کرے وہ مسلمان ہو یا کافر اسے بغیر توبہ کا مطالبہ کیے قتل کر دیا جائے گا‘‘۔

واضح ہوا کہ ائمہ اربعہ ہر حال میں شاتم رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے پر متفق ہیں۔

شاتم رسول ﷺ کے متعلق شیعہ حضرات کا نقطہ نظر

اس مسئلہ میں امامیہ حضرات کا موقف سمجھنے کیلئے میں علامہ محمد حسین اکبر اجتہادی کے ایک مضمون سے متعلقہ بحث نقل کرتا ہوں:

(۱) الصارم المسلول ص ۵۲۷

صفحہ 106

’’امامیہ اثنا عشریہ (ملت جعفریہ) کا قطعی عقیدہ وہی ہے جو برادران احناف، شوافع، حنابلہ یا مالکین کا ہے۔

سب وشتم یعنی گالی گلوچ ایک معاشرتی برائی ہے۔ اسلام نے اس برائی کا قلع قمع کرنے کیلئے اسے ہر حالت میں قابل تعزیر قرار دیا ہے۔

عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس شخص کے متعلق پوچھا جس نے کسی شخص کو اتہام کے بغیر گالی دی ہو اور اس نے گالی دینے والے کے خلاف دعویٰ کر دیا تو کیا اس کو کوڑے لگائے جائیں گے آپ نے فرمایا بطور تعزیر لگائے جائیں گے اور گالی اتہام کی حد تک پہنچ جائے تو بطور حد سزا تجویز کی ہے۔

قرآن کریم نے انسان تو انسان پتھروں کو گالی نہ دینے کی ہدایت کی ہے۔

ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدوا بغير علم

(الانعام : ۱۰۸)

ترجمہ: ’’اور تم ان کو گالی نہ دو جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں اس لیے کہ یہ لوگ بے سمجھے بوجھے اللہ تعالیٰ کو زیادتی سے گالی نہ دینے لگیں‘‘۔

حضرت رسول اللہﷺ نے دشنام طرازی کی سخت مذمت اور ممانعت فرمائی ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مومن کو گالی دینا ہلاکت کے گڑھے میں گرنا ہے۔

عن ابی جعفر عليه السلام قال قال رسول اللہ ﷺ سباب المسلم فسوق وقتاله كفر اكل لحمه معصية وحرمة ماله كحرمة دمه (۱)

’’امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ مومن کو گالی دینا فسق ہے۔ اس سے جنگ کرنا کفر ہے۔ اس کی غیبت کرنا گناہ ہے اور اس کا مال اس کے خون کی طرح محترم ہے‘‘۔

(۱) (اصول کافی ج ۳ ص ۳۶۰)

صفحہ 107

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا تو جناب ... محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

کا قطعی عقیدہ وہی ہے جو برادران احناف،

اخلاقی برائی ہے۔ اسلام نے اس برائی کا قلع قمع کر دیا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس شخص کے جس نے گالی دی ہو اور اس نے گالی دینے والے کے مارے جائیں گے آپ نے فرمایا بطور تعزیر لگائے کو بطور حد سزا تجویز کی ہے۔ دوسروں کو گالی نہ دینے کی ہدایت کی ہے۔

من دون الله فیسبوا الله عدوا بغير علم

(الانعام : ۱۰۸)

جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں اس لیے کہ یہ گالی نہ دینے لگیں‘‘۔

دشنام طرازی کی سخت مذمت اور ممانعت فرمائی ہے۔

روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن علیہ السلام قال قال رسول اللہ ﷺ سباب قتاله معصية وحرمة ماله كحرمة دمه (۱)

روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کفر ہے اور اس کی غیبت کرنا گناہ ہے اور اس کا

اصول کافی جلد ۲ ص ۳۶۰ امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا کہ باہم گالی دینے والے افراد میں سے جس نے ابتدا کی وہ ظالم ہے امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے دشمنوں کو گالی دینے سے سختی سے روکا ہے اور آپ نے اس پر لعنت کی ہے۔

غرضیکہ گالی دینا ایک بڑی ذلیل اور پست حرکت ہے اس کی قباحت اور رکاکت خصوصاً اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کسی معاشرہ میں کسی محترم شخصیت کو نشانہ سب و شتم بنایا جائے خاص کر جو لوگ دینی وقار کے مالک ہیں وہ بہر حال اس حد تک قابل اعتبار سمجھے جاتے ہیں کہ انتہائی دنی الطبع انسان بھی ان کے متعلق گستاخانہ رویہ اختیار نہیں کرتے۔ خصوصاً اللہ تعالیٰ کے نمائندے جو اس دنیا میں تشریف لائے۔ ان کی بارگاہ عظمت میں کوئی نازیبا کلمہ کہنا خباثت نفس کی انتہا سمجھا جائے گا۔ انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کا مرتکب سخت سزا کا مستحق ہے اسلام نے اس کی کیا سزا تجویز کی ہے (وسائل الشیعہ ج ۱۸ ص ۴۶۰)

محمد بن مسلم امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ ہذیل میں ایک شخص جناب رسالتمآب ﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا (معاذ اللہ ) جب اس کی خبر رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو فرمایا کون ہے اس کے لیے؟ تو انصار میں سے دو صحابی کھڑے ہو گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ فرض ہم انجام دیں گے چنانچہ وہ دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ وہ ایک عرب کے پاس پہنچے اور اس ہذیلی کے متعلق پوچھ گچھ کی۔ جبکہ وہ اپنی بھیڑوں کے چرانے میں مصروف تھا اس لیے دونوں کو دیکھ کر پوچھا تم کون ہو؟ اور تمہارا کیا نام ہے؟ ان دونوں اصحاب نے اس سے پوچھا کیا تو فلاں بن فلاں ہے؟ اس نے کہا ہاں یہ سن کر دونوں صحابی گھوڑے سے اتر پڑے اور اس کی گردن مار دی۔

جو شخص جناب خاتم الانبیاء ﷺ اور دیگر انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک کو بھی گالی دے وہ قتل کی سزا کا مستحق ہے (وسائل شیعہ )

من سب نبیاً قتل: جو شخص کسی بھی نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے گا۔ جناب

صفحہ 108

رسالتماب ﷺ کو گندہ دہنی کا نشانہ بنانے والوں کو قتل کر دینے کا حق ہر کلمہ گو کو حاصل ہے اس کیلئے حاکم وقت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر حالات کا تقاضا ہو اور حاکم وقت کا دروازہ کھٹ کھٹانا پڑے تو حاکم کا فرض ہے کہ آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا سر اڑا دے۔

مذہب امامیہ: امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے متعلق سب لوگوں کی ذمہ داری یکساں ہے پس جو شخص بھی کسی کو میرا ذکر گالی سے کرتے ہوئے سنے تو اس پر واجب ہے کہ اس گستاخ کو قتل کر دے حاکم تک یہ مقدمہ لے جانے کی ضرورت نہیں ہے تاہم اگر حاکم کے سامنے اس قسم کا مقدمہ پیش ہو تو اس پر فرض ہے کہ جس نے میرے باب میں زبان درازی کی ہو اسے قتل کر دے۔

یہی حکم ”تحریر الوسیلہ“ ج ۲ ص ۶۰۶، شرائع الاسلام کتاب الحدود ص ۱۶۷ الشیعہ فی عقائدہم و احکامہم ص ۲۴۱ عقائد از شیخ ابو جعفر بابویہ قمی، ملا باقر مجلسی، ترجمہ عارف حسین لاہوری کتاب الحدود والتعزیرات از آیۃ اللہ السید محمد شیرازی ص ۴۴۸، ۴۶۶ حصہ اول میں موجود ہے کہ جب کوئی عاقل، بالغ ، مختار اور باخبر ہو اور پھر حضرت رسول اللہ ﷺ کو سب کرے قتل کیا جائے گا۔

آیت اللہ آقائے السید القاسم الخوئی مدظلہ نے مبانی تکملہ منہاج ج ۱ ص ۲۶۶۔۲۶۵ میں افادہ فرمایا ہے کہ حضور پیغمبر ﷺ کو گالی دینے والے کا قتل کرنا سننے والے پر واجب ہے بشرطیکہ اس کی جان، عزت اور مال خطیر کو خطرہ لاحق نہ ہو یہی فتویٰ آیت اللہ آقائے شریعت مداری مدظلہ اور دیگر علمائے اعلام شیعہ کا ہے“(۱)

(۱) مضمون بحوالہ ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت ص ۲۲۰ تا ۲۲۷

صفحہ 109

توہین رسالت کی سزا

اور مذاہب اور مذاہب اور عالم

صفحہ 110

مذہبی عقیدتیں بڑی نازک اور حساس ہوتی ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی مذہب اپنے زندہ شعور کے ساتھ پایا جاتا ہے وہاں ہی اس مذہب کے مقتدا اور بانیان مذہب کی توہین پر کڑی سے کڑی سزائیں رکھی گئی ہیں اور مذہب کی مقتدر شخصیتوں کی توہین کو قابل گردن زدنی جرم قرار دیا گیا ہے۔ البتہ اگر کسی جگہ عیاشی کو ہی بطور مذہب اپنا لیا جائے تو پھر وہاں سوچ کے دھارے بدل جاتے ہیں اور ان کے مردہ ضمیر ”آزادی رائے“ کے نام پر ہر چیز کو قبول کر لیتے ہیں۔

اگر مذہب کے ساتھ ربط ایک زندہ شعور کے ساتھ موجود ہو تو بانیان مذہب کی توہین کی سزا ہر وقت اور ہر جگہ قتل ہی رہی ہے۔

آئیے تاریخ کے چند صفحات پلٹیں اور مختلف مذاہب میں بانیان مذاہب کی توہین کی سزا کا ایک جائزہ لیں۔

قدیم عراق میں توہین مذہب کی سزا

نمرود کے عہد میں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدائے واحد کی عبادت کا درس دیا اور بتوں کی بے بسی کا اعلان کیا۔ اپنے چچا آزر سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:

یابت لم تعبد ما لا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیئا (۱)

”اے میرے چچا ! ان کی عبادت کیوں کرتے ہو جو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کو کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں“۔

ان میں سے کوئی بات بھی غلط نہ تھی اس کے باوجود آپ کے چچا نے اس بات کو بتوں کی توہین سمجھا اور آپ سے کہا۔

لئن لم تنته لارجمنک واھجرنی ملیا (۲)

(۱) سورہ مریم۔ ۴۲

(۲) سورہ مریم۔ ۴۶

صفحہ 111

’اگر تو باز نہ آیا تو پتھروں سے مار ڈالوں گا ایک لمبی مدت تک مجھ سے دور ہو جا‘ اگر مذہبی عقیدتیں باقی ہوں تو جھوٹے مذہب بھی اپنی مقتدر ہستیوں کی توہین پر سنگسار کرنے پر تلے نظر آتے ہیں۔

قرآن حکیم اس چیز کو بھی بیان کرتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ نے بت توڑ دیئے۔ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے لاجواب بھی ہو گئے۔ لیکن انہوں نے ایک دوسرے سے پوچھا کہ بتوں کی اس توہین پر ابراہیمؑ کو کیا سزا دی جائے تو لوگ پکار اٹھے۔

قالوا حرقوہ و انصروا الہتکم ان کنتم فعلین (۳)

”کہنے لگے اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی کچھ مدد کرو اگر تم نے کچھ کرنا ہی ہے“

صرف کہا نہیں بلکہ انہوں نے عملی طور پر آگ کا ایک بہت ہی بڑا الاؤ روشن کیا۔ روئے زمین پر اتنی بڑی آگ نہ پہلے دیکھی گئی اور نہ بعد میں اور انہوں نے حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں پھینک بھی دیا تو میرے رب جلیل کی قدرت سے آگ ٹھنڈی ہو گئی اور ابراہیمؑ کیلئے سلامتی بن گئی۔ لیکن یہ حقیقت بہر حال ثابت ہو گئی کہ بتوں کی توہین کرنے والے کو زندہ جلانے کا عقیدہ رکھتے تھے۔

قدیم ایران میں توہین مذہب کی سزا

تیسری صدی عیسوی کے اواخر میں ایران پر بہرام اول کی حکمرانی تھی اس کے دور حکومت میں مانی کو مذہبی عقائد کی توہین کرنے کے جرم میں قتل کیا گیا۔ بادشاہ کے حکم سے مانی کی کھال اتار کر اس میں بھس بھر کر اسے جندی شاہ پور کے دروازے پر لٹکایا گیا۔ بہرام کے حکم سے مانی کے بارہ ہزار پیروکار بھی قتل کئے گئے۔ (۴)

(۳) سورہ الانبیاء : ۶۸

(۴) تاریخ ایران ج ۱ ص ۳۵۹

صفحہ 112

ضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری علیہ الرحمہ ایران کے نظام عدل و انصاف پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

قانون میں تین قسم کے افعال کو جرم قرار دیا گیا تھا۔

عقائد میں بدعت پیدا کرے۔

میں میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔

یعنی الحاد، بغاوت، غداری اور میدان جنگ سے فرار کی سزا فوری موت تھی۔ (۱)

ان سطور سے واضح ہو رہا ہے کہ قدیم ایران میں مذہبی مقتداؤں کی توہین کی سزا یہاں تک کہ بادشاہی سے غداری کی سزا بھی موت تھی تو ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے جو پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین یا آپ ﷺ سے غداری کی سزا موت ہونے پر چین بہ جبیں ہورہے ہیں۔

ہندو مت میں مذہبی عقائد و کتب کی توہین پر سزائیں

ہندو دھرم کی مذہبی کتاب کی توہین پر بڑی سخت اور کڑی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ ویدوں کی توہین کرنے والے کو ناستک (کافر) قرار دیا گیا ہے۔

منوسمرتی کا قول ہے:

ناستکو وید نندک: (۲)

”ویدوں کی نندا یعنی بے قدری کرنے والا ناستک ہے“ اور پھر ناستک کی سزا بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔

(۱) ضیاء النبی ج ۱ ص ۹۶

(۲) ستیارتھ پرکاش مترجم چموپتی ایم۔ اے۔ ص ۲۸۷

صفحہ 113

”جو ناستک، ڈاکو، چور...... مورکھ...... وید ودیا ورودھی مکھیہ...... ہیں ان سب د شٹوں کو آپ (سمولان وتاشیہ ) مول سہت نشٹ کر دیجئے۔ (۱)

”جو ناستک ( کافر ) ڈاکو، چور، جاہل ویدوں کے علم کے مخالف ہیں ان سب بدذاتوں کو آپ (سمولدن وناشیہ ) جڑ بنیاد کے ساتھ تباہ و برباد کر دیجئے“۔

ویدوں کے حکم کے مطابق ویدک دھرمی راجہ کا فرض تھا کہ وہ ویدک دھرم کے مخالفوں کو ہمیشہ تباہ و برباد کرے اور انہیں آگ میں جلا دے۔

سوامی جی نے پرمیشور کا حکم ہندی زبان میں ان لفظوں میں بیان کیا ہے۔

”ہے تیز دنڈ دینے والے راج پرش دھرم کے دوشی شتروں کو نیرنتر وشائیں کر کے سوکھے کاشٹ کا سمان جلائیے۔

”اے سخت دنڈ دینے والے راج پرش (یعنی راجہ ) آپ دھرم کے مخالف دشمنوں کو ہمیشہ (آگ میں) جلائیے۔ جو ہمارے دشمنوں کو حوصلہ دیتا ہے آپ اس کو الٹا لٹکا کر خشک لکڑی کی مانند جلائیے۔ (۲)

مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین کی سزائے موت

چین کے فوجداری قوانین کے مطابق بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین کرنا جرم ہے۔ جس کا ارتکاب کرنے والے مجرم کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ ایسے ہی ایک مجرم کو سزائے موت سنائی گئی اور اس کا سر قلم کر دیا گیا۔ وانگ ہونگ نامی شخص اور اس کا ساتھی صوبہ سی چوان کے ایک مندر میں چھپ گئے اور رات کے وقت آری کی مدد سے مہاتما بدھ کے بت کا سر کاٹ کر لے گئے۔ جس پر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور ۲۹ مارچ کو عدالت نے جرم ثابت ہو جانے پر مذکورہ شخص کو سزائے موت سنا دی اور اس کا سر قلم کر دیا۔ (۳)

(۱) سوامی دیانند اور ان کی تعلیم ص ۲۶۱

(۲) نفس مصدر ص ۲۱۷

(۳) روزنامہ جنگ لاہور ۶۔ اپریل ۱۹۹۰ بحوالہ ماہنامہ منہاج لاہور ص ۸۶

صفحہ 114

یہودیت میں توہین مذہب کی سزا

اسلامی تاریخ اور بائبل اس پر شاہد ہیں کہ قبل مسیح میں یہودیت میں خدا، رسول، یوم سبت اور مذہبی عقائد وشعائر کی توہین کے ارتکاب پر بڑی سخت سزائیں متعین تھیں یہاں تک کہ انہیں موت کی سزائیں دی جاتیں اور سنگسار کر دیا جاتا۔

یہودی احکامات سے انکار کی سزا موت تھی خدا کی توہین سزائے موت تھی

بائبل میں ہے:

”اور جو خداوند کے نام کفر بکے ضرور جان سے مارا جائے۔ ساری جماعت اسے قطعی سنگسار کرے۔ خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جب وہ پاک نام پر کفر بکے تو وہ ضرور جان سے مارا جائے“ (۱)

یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی توہین کا الزام لگا کر ہی ان کے قتل کا مطالبہ کیا تھا۔

متی کی انجیل میں ہے:

”سردار کاہن نے اس سے کہا میں تجھے زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تو خدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔ یسوع نے اس سے کہا تو نے خود کہہ دیا بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اس کے بعد تم ابن آدم کو قادر مطلق کی دہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے اس پر سردار کاہن نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اس نے کفر بکا ہے۔ اب ہم کو گواہوں کی کیا حاجت رہی۔ دیکھو تم نے ابھی یہ کفر سنا ہے۔ تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا وہ قتل کے لائق ہے۔ (۲)

(۱) کتاب مقدس احبار باب ۲۴ فقرہ ۱۶ (۲) کتاب مقدس ۔ متی باب ۲۶ فقرات ۶۵-۶۳

صفحہ 115

یہودیوں نے پیلاطس بادشاہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا ۔

”ہم اہل شریعت ہیں اور شریعت کے موافق وہ قتل کے لائق ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا بنایا ہے“۔

توہین رسالت کی سزا

مسیحیت کے ایک مبلغ ستفنس پر یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین کا الزام لگایا اسی جرم کی پاداش میں اسے سرعام سنگسار کیا گیا بائبل کی کتاب ’رسولوں کے اعمال‘ میں واقعہ مکمل تفصیلات کے ساتھ درج ہے اس کے ضروری مقامات ملاحظہ ہوں ۔

”اس پر انہوں نے آدمیوں کو سکھا کر کہلوا دیا کہ ہم نے اس کو موسیٰ اور خدا کے خلاف کفر کی باتیں کرتے سنا۔ پھر وہ عوام اور بزرگوں اور فقیہوں کو ابھار کر اس پر چڑھ گئے۔ اور پکڑ کر صدر عدالت میں لے گئے اور گواہ کھڑے کیے جنہوں نے کہا کہ یہ شخص اس پاک مقام اور شریعت کے برخلاف بولنے سے باز نہیں آتا“(۱)

”..........اور شہر سے باہر نکال کر اس کو سنگسار کرنے لگے اور گواہوں نے اپنے کپڑے ساؤل نام ایک جوان کے پاؤں کے پاس رکھ دیئے۔ پس یہ ستفنس کو سنگسار کرتے رہے اور وہ یہ کہہ کر دعا کرتا رہا کہ اے خداوند یسوع! میری روح کو قبول کر“(۲)

یہودیت کی مخالفت اور ہیکل کی توہین کی سزا

یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کے ایک اور حواری پولس کو بھی مذہب اور شریعت کی مخالفت کرنے پر قتل کر دینے کا مطالبہ کیا تھا اس پر الزام یہ تھا کہ اس نے ہیکل کی توہین کی ہے اور وہ لوگوں کو یہودیت کے خلاف تعلیم دیتا ہے۔

(۱) نفس مصدر ۔ اعمال ۔ باب ۶ فقرات ۱۱ تا ۱۳۔

(۲) نفس مصدر اعمال باب ۷۔ فقرات ۵۸ تا ۵۹

صفحہ 116

بائبل کی کتاب ”اعمال“ میں ہے:

”جب وہ سات دن پورے ہونے کو تھے تو آسیہ کے یہودیوں نے اسے ہیکل میں دیکھ کر سب لوگوں میں ہلچل مچائی اور یوں چلا کر اس کو پکڑ لیا کہ اے اسرائیلو! مدد کرو یہ وہی آدمی ہے جو ہر جگہ سب آدمیوں کو امت اور شریعت اور اس مقام کے خلاف تعلیم دیتا ہے بلکہ اس نے یونانیوں کو بھی ہیکل میں لاکر اس پاک مقام کو ناپاک کیا ہے انہوں نے اس سے پہلے ترفمس افسی کو اس کے ساتھ شہر میں دیکھا تھا۔ اسی کی بابت انہوں نے خیال کیا کہ پولس اسے ہیکل میں لے آیا ہے اور تمام شہر میں ہلچل پڑ گئی اور لوگ دوڑ کر جمع ہوئے اور پولس کو پکڑ کر ہیکل سے باہر گھسیٹ کر لے گئے اور فوراً دروازے بند کر لیے گئے جب وہ اسے قتل کرنا چاہتے تھے تو اوپر پلٹن کے سردار کے پاس خبر پہنچی کہ تمام یروشلم میں کھلبلی پڑ گئی ہے وہ اسی دم سپاہیوں اور صوبہ داروں کو لے کر ان کے پاس نیچے دوڑا آیا اور وہ پلٹن کے سردار اور سپاہیوں کو دیکھ کر پولس کی مار پیٹ سے باز آئے۔ اس پر پلٹن کے سردار نے نزدیک آکر اسے گرفتار کیا اور دو زنجیروں سے باندھنے کا حکم دیکر پوچھنے لگا کہ یہ کون ہے اور اس نے کیا کیا ہے۔ بھیڑ میں سے بعض کچھ چلائے اور بعض کچھ پس جب ہلڑ کے سبب سے کچھ دریافت نہ کر سکا تو حکم دیا کہ اسے قلعہ میں لے جاؤ۔ جب سیڑھیوں پر پہنچا تو بھیڑ کی زبردستی کے سبب سے سپاہیوں کو اسے اٹھا کر لے جانا پڑا کیونکہ لوگوں کی بھیڑ یہ چلاتی ہوئی اس کے پیچھے پڑی کہ اس کا کام تمام کر“ (۱)

یوم سبت کی توہین کی سزا

یہودیوں میں سبت یعنی ہفتہ کا دن بڑا مقدس اور قابل احترام ہے جو بھی یوم سبت کی بے حرمتی کرے یہودی مذہب میں اس کی سزا قتل ہے۔

(۱) نفس مصدر اعمال باب۲۱۔ فقرات ۲۷ تا ۳۶

صفحہ 117

”خروج“ میں یوم سبت کی توہین کی سزا کے متعلق مرقوم ہے:

”پس تم سبت کو ماننا اس لیے کہ وہ تمہارے لیے مقدس ہے جو کوئی اس کی بے حرمتی کرے گا وہ ضرور مار ڈالا جائے جو اس میں کچھ کام کرے وہ اپنی قوم سے کاٹ ڈالا جائے۔ (۱)

”چھ دن کام کاج کیا جائے۔ لیکن ساتواں دن تمہارے لیے روز مقدس یعنی خداوند کے آرام کا دن ہو جو کوئی اس میں کچھ کام کرے وہ مار ڈالا جائے۔

مذہبی کاہن کی بات نہ ماننے کی سزا

بائبل کے بیان کے مطابق مذہبی کاہن کی بات نہ ماننے کی سزا بھی قتل ہے۔

کلام مقدس کی کتاب ”استثناء“ کے یہ فقرات ملاحظہ ہوں:

”اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے کہ اس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کیلئے کھڑا رہتا ہے یا اس قاضی کا کہا نہ سنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے۔ اور تو اسرائیل میں سے ایسی برائی کو دور کر دینا۔ اور سب لوگ سن کر ڈر جائیں گے اور پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں گے‘ (۲)

تعجب ہے جب بتوں کی توہین کی سزا آگ میں جلا دینا ہے۔ مہاتما بدھ کے مجسمہ کی توہین کی سزا قتل ہے، ہندوؤں کی مذہبی کتب وعقائد کی سزا قتل ہے، حضرت موسیٰ کی توہین کی سزا قتل ہے۔ یوم سبت کی توہین کی سزا قتل ہے اور کاہنوں کی بات نہ ماننے کی سزا قتل ہے۔ تو توہین رسالت کی سزا قتل ہونے پر تعجب کیوں ہے؟ اور یہ واویلا کیوں ہے؟

مختلف مذاہب میں توہین مذہب کی یہ سزائیں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ توہین رسالت کی سزا بھی قتل ہی ہونی چاہیے۔

(۱) نفس مصدر خروج باب ۳۱ فقرہ ۱۴ (۲) نفس مصدر استثناء باب ۱۷ فقرہ ۱۲

صفحہ 118

شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توبہ

کے احکام

صفحہ 119

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا اور جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لئے انہوں نے پوری قوت صرف کی ۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آ گئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

118

صلی اللہ

علیہ وسلم کی توبہ

کے احکام

توبہ نام ہے ایک بندے کا اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پلٹ آنے کا، گذشتہ گناہوں پر ندامت کے آنسو بہانے اور آئندہ اپنی خواہشات کو مرضی مولیٰ کے سامنے قربان کر دینے کے عزم مصمم کا ، اپنے رب جلیل سے انہیں راہوں پر چلنے کا وعدہ کرنے کا جو تاجدار کونین ﷺ کے نقش کف پا سے مزین ہیں ہاں ! توبہ خدائے رحمٰن و رحیم کو بڑی محبوب ہے ۔ جب بندہ اس کریم کے آستانے پہ جھکتا ہے۔ جب عرق انفعال سے اسکی پلکیں بھیگ جاتی ہیں تو رحمت یزداں دوڑ کے اس کا استقبال کرتی ہے رحمٰن و رحیم رب اس گنہگار کو اپنی آغوش رحمت میں لے لیتا ہے۔

ہوئیں بارشیں کرم کی اسی وقت آسماں سے
جو لپٹ کے رو دیئے ہم تیرے سنگ آستاں سے

لیکن توبہ کے باب میں سنت الہٰیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ سے ان گناہوں کو تو معاف کر دیتا ہے جو خالصۃً اسی کی ذات سے متعلق ہوتے ہیں جنہیں اصطلاح میں حقوق اللہ کہا جاتا ہے لیکن وہ گناہ جن کا تعلق بندوں سے ہوتا ہے انہیں معاف کرنے کا حق بھی اس نے بندوں کو ہی دے رکھا ہے گویا حقوق العباد توبہ سے معاف نہیں ہوتے۔ اگر مظلوم ظالم کو معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے معاف کر دے گا اور اگر مظلوم اسے معاف نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ باوجود قادر مطلق ہونے کے اسے معاف نہیں کرے گا۔

مثلاً اگر کوئی کسی کو گالی دیتا ہے تو جب تک جسے گالی دی گئی ہے وہ اسے معاف نہ کرے گالی دینے والا اگر چہ لاکھ مرتبہ توبہ کرتا رہے اس کی دنیاوی سزا اسے ضرور ملے گی اور توبہ اس کی دنیاوی سزا کو ختم نہیں کرائے گی اور یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جیسے گالی دی گئی وہ اگر اپنی زندگی میں اسے معاف نہ کرے تو بعد میں کسی کو بھی اس کی طرف سے معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے بلکہ مجرم کو دنیاوی سزا ملے گی ہاں اگر وہ خلوص نیت سے توبہ کرے گا

صفحہ 120

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا اور محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لئے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

تو اس کا اجر اسے آخرت میں ملے گا۔

پھر خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ جب ایک عام آدمی کو دی گئی گالی کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہو سکتی تو وہ ذات اقدس ﷺ جن کے نام اقدس کے صدقے نبض ہستی تپش آمادہ ہے۔ جو باعث تکوین روزگار ہیں۔ ستاروں کی سجی کہکشاں جن کے قدموں کی دھول ہے۔ پوری کائنات کو جن کے در سے عزت کی بھیک ملی ہے جن کی زندگی کا لمحہ لمحہ انسانیت کی بہتری میں صرف ہوا۔ پوری خدائی میں جن کے مثیل ونظیر کا تصور بھی محال ہے۔ جن کی عظمت کا عالم یہ ہے۔

اپنی مثال آپ ہے تو کائنات میں
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے

جن کی ذات اقدس کی توہین سے نہ صرف کروڑوں انسانوں کے دل شدت جذبات سے بھڑک اٹھتے ہیں بلکہ ملاء اعلیٰ کے باسی بھی غیظ و غضب سے چلا اٹھتے ہوں گے۔

تو کیا اس ذات اقدس واطیب ﷺ کو گالی دینے والے کی سزا صرف توبہ کر لینے سے معاف ہو جائے گی؟ کیا شاتم رسول ﷺ کی توبہ سے اس کی سزا کے معاف کرنے کے قائلین یہی کہنا چاہتے ہیں کہ کوئی دریدہ دہن اٹھے شہنشاہ کونین ﷺ کی شان اطیب اطہر میں گالیاں بکے اور پھر کہہ دے میں توبہ کرتا ہوں تو تم اسے معاف کر دو گے؟

ع بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبیست

نہیں ایسا نہیں ہو سکتا خدا کی قسم ایسا نہیں ہو سکتا۔ جب زید کو دی گئی گالی کی سزا بکر معاف نہیں کر سکتا۔ تم کون ہوتے ہو تاجدار کونین ﷺ کی ذات اقدس کو دی گئی گالی کی سزا کو معاف کرنے والے؟ یہ منصب تمہیں کس نے دے دیا؟ نہیں تمہیں ایسا

کوئی اختیار نہیں ہے۔ قرآن حکیم کا یہی فیصلہ ہے۔ اور علماء ربانیین کا یہی موقف ہے۔

قرآن کریم کی اسی آیہ کر ان الذين يؤذون ا واعدلهم عذابا مهينا ۔ ( ما اكتسبوا فقد احتملوا بهتانا و ”بے شک جو ایذا دیتے ہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور اللہ نے ان مردوں اور عورتوں کو بے کیے ستاتے ہی قابل غور بات یہ ہے کہ س اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت رسانی تو جب مومنین کو اذیت اور اس پر آپ بھی متفق ہیں تو حض معاف ہو سکتی ہے؟ کیا آپ نہیں دیکھتے قتل کرنے کی خبر دی تو حضور ﷺ موقع کیوں نہ دیا۔ عبداللہ بن حضور سید عالم ﷺ نے اس

(۱) الاحزاب ۵۸-۵۷

صفحہ 121

کوئی اختیار نہیں ہے۔

قرآن حکیم کا یہی فیصلہ ہے۔ احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے فقہائے امت اور علماء ربانیین کا یہی موقف ہے۔

قرآن کریم کی اس آیہ کریمہ میں غور فرمائیے:

ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله فى الدنيا والآخرة واعد لهم عذابا مهينا . والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ما اكتسبوا فقد احتملوا بهتانا واثما مبينا . (۱)

”بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور اللہ نے ان کیلئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کیے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لے لیا“۔

قابل غور بات یہ ہے کہ مومنین کو اذیت پہنچانے کی سزا صرف کھلا گناہ ہے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت رسانی کی سزا دنیا اور آخرت میں لعنت اور ذلت کا عذاب ہے۔

تو جب مومنین کو اذیت پہنچانے کی سزا توبہ کر لینے سے معاف نہیں ہو سکتی اور اس پر آپ بھی متفق ہیں تو حضور ﷺ کو اذیت پہنچانے کی سزا توبہ کر لینے سے کیسے معاف ہو سکتی ہے؟

کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب بھی کسی صحابیؓ نے کسی توہین رسالت کے مرتکب کو قتل کرنے کی خبر دی تو حضور ﷺ نے اس کی تحسین فرمائی اور یہ نہ فرمایا کہ تم نے اسے توبہ کا موقع کیوں نہ دیا۔ عبداللہ بن ابی سرح تو فتح مکہ کے دن آیا ہی توبہ کرنے کیلئے تھا۔ لیکن حضور سید عالم ﷺ نے اس کی بیعت لینے میں توقف فرمایا تا کہ کوئی صحابی اسے قتل کر دے

(۱) الاحزاب ۵۷۔۵۸

صفحہ 122

لیکن جب صحابہ کرام اس توقف کا مطلب نہ سمجھ سکے تو حضورﷺ نے اس سے بیعت تو لے لی لیکن آپ نے فرمایا ”تم نے اسے قتل کیوں نہ کر دیا“

علماء نے لکھا ہے کہ حضورﷺ کو یہ حق حاصل تھا کہ آپ اپنے شاتم کو معاف فرما دیں یا سزا دیں لیکن سرکارﷺ کے وصال کے بعد کسی کو بھی آپﷺ کے شاتم کو معاف کرنے کا حق حاصل نہیں ہے وہ ہر حال میں واجب القتل ہے۔

قرآن وسنت کی مراد یہی ہے فقہائے امت کا یہی فتویٰ ہے لیکن شاتم رسولﷺ کی توبہ کے متعلق ائمہ اربعہ کا موقف جاننے سے پہلے ایک ضروری بحث ملاحظہ فرمائیں۔

توہین رسالت سے پیدا شدہ ارتداد اور مطلق ارتداد کے احکام مختلف ہیں

اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر کوئی بندہ مرتد ہو جائے تو اس پر اسلام پیش کیا جائے گا اگر وہ اسلام قبول کر لے تو اسے معاف کر دیا جائے گا ورنہ وہ قتل کر دیا جائے گا۔

لیکن توہین رسالت کے سبب جو ارتداد پیدا ہوتا ہے وہ مطلق ارتداد سے بہت بڑا جرم ہے۔ چونکہ اس نے کائنات کی سب سے معزز اور محترم ذاتﷺ کو گالی دی ہے اور کروڑوں انسانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے اس لیے وہ ہر حال میں قتل کا مستحق ہے۔

مطلق ارتداد میں توبہ سے اس کا قتل ساقط ہو جائے گا لیکن جو ارتداد سب النبیﷺ کی وجہ سے پیدا ہو گا اس میں توبہ کر لینے سے بھی اس کا قتل معاف نہ ہوگا۔

ظاہر ہے اگر ایک آدمی بالفرض اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرتا ہے اور دوسرا آدمی حضور اقدسﷺ کو گالی دیتا ہے تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگرچہ اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنا بھی جرم ہے کیونکہ یہ بھی اپنے ضمن میں تکذیب رسالت لیے ہوئے ہے۔ لیکن جو بدبخت حضورﷺ کو گالی دیتا ہے وہ تکذیب رسالت سے بھی بڑھ کر ایک جرم کر رہا ہے اور وہ ہے ”شتم رسالت“ تو چونکہ دوسرے کا جرم سب سے بڑا ہے اس لیے اس

صفحہ 123

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا اور جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

نہ سمجھ سکے تو حضور ﷺ نے اس سے بیعت تو لے وں نہ کر دیا“ کو یہ حق حاصل تھا کہ آپ اپنے شاتم کو معاف فرما ل کے بعد کسی کو بھی آپ ﷺ کے شاتم کو معاف میں واجب القتل ہے۔

فقہائے امت کا یہی فتویٰ ہے لیکن شاتم رسول ﷺ لکھنے سے پہلے ایک ضروری بحث ملاحظہ فرمائیں۔

د اور مطلق ارتداد کے احکام مختلف ہیں

اگر کوئی بندہ مرتد ہو جائے تو اس پر اسلام پیش کیا معاف کر دیا جائے گا ورنہ وہ قتل کر دیا جائے گا۔ جو ارتداد پیدا ہوتا ہے وہ مطلق ارتداد سے بہت بڑا ب سے معزز اور محترم ذات ﷺ کو گالی دی ہے اور ک کیا ہے اس لیے وہ ہر حال میں قتل کا مستحق ہے۔ تا ہو جائے گا لیکن جو ارتداد سب النبی ﷺ کی وجہ اس کا قتل معاف نہ ہوگا۔

یں اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرتا ہے اور دوسرا یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگرچہ اسلام کو چھوڑ کر بھی اپنے ضمن میں تکذیب رسالت لیے ہوئے ہے وہ تکذیب رسالت سے بھی بڑھ کر ایک جرم نکہ دوسرے کا جرم سب سے بڑا ہے اس لیے اس

کی سزا بھی عام ارتداد سے بڑی ہوگی۔

اس کے متعلق فقہائے امت کا نقطہ نظر ملاحظہ ہو۔

علامہ ابن نجیم حنفیؒ لکھتے ہیں:

لا فرق بين ردة وردة من انه اذا اسلم ويستثنى منه مسائل الأولى الردة بسب النبی ﷺ (۲)

”ہر ارتداد برابر ہوتا ہے۔ اگر اسلام کی طرف راغب ہو جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا لیکن بعض مسائل اس سے مستثنیٰ ہیں پہلا یہ ہے کہ اگر کوئی حضور ﷺ کو گالی دے کر مرتد ہو (تو اسے قتل ہی کیا جائے گا)“

علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:

ليس سبه ﷺ كالارتداد القبول فيه التوبة لان الارتداد معنى ينفرد به المرتد لا حق فيه لغيره من الادميين فقبلت توبته ومن سب النبی ﷺ او احدا من الانبياء صلوات الله عليهم و سلامه فانه يكفر ويجب قتله ثم ان ثبت على كفر ولم يتب ولم يسلم يقتل كفراً بلاخلاف وان تاب واسلم اختلف فيه المشهور من المذهب القتل حدا. (۳)

”شاتم رسول ﷺ کا ارتداد دوسرے ارتداد کی طرح نہیں ہے کیونکہ دوسرا ارتداد انفرادی عمل ہوتا ہے۔ اس میں کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا۔ اس لیے اس کی توبہ قابل قبول ہوتی ہے مگر جس نے حضور ﷺ یا دیگر انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کو گالی دی وہ کافر ہو جائے گا اور اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کرے پھر تو بلا اختلاف اسے کفر کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اور اگر توبہ کر لے مشہور مذہب کے مطابق اسے بطور حد قتل کیا جائے گا ۔“

(۲) بحر الرائق ج ۵ ص ۱۳۵

(۳) تنقیح حامدیہ ج ۱ ص ۴۵

صفحہ 124

علامہ علاؤ الدین حصکفی لکھتے ہیں: (و كل مسلم ارتد فتوبته مقبولة الا) جماعة من تكررت ردته على مامر (الكافر بسب النبى) من الانبياء فانه يقتل حدا ولاتقبل توبته مطلقا. (۱) ”ہر مسلمان جو مرتد ہو جائے اس کی توبہ مقبول ہو گی مگر وہ لوگ جو بار بار مرتد ہو جائیں جیسا کہ پہلے گزرا۔ جو کسی بھی نبی علیہ السلام کو گالی دینے کی وجہ سے مرتد ہو جائے تو اسے بطور حد قتل کیا جائے گا۔“ اور اس کی توبہ مطلق قبول نہ ہوگی۔

علامہ شامی لکھتے ہیں: كل مسلم ارتد فتوبته مقبولة الا احد عشر من تكررت ردته وساب النبی ﷺ. (۲) ”اور اگر کوئی بھی مسلمان مرتد ہو جائے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی مگر گیارہ آدمیوں کی توبہ قبول نہ ہوگی (اور وہ واجب القتل ہی ٹھہریں گے) جو بار بار مرتد ہو اور جو حضور ﷺ کو گالی دے۔“

قاضی عیاض مالکی ابو محمد نصر کی رائے یوں لکھتے ہیں: ولیس سبه ﷺ كالارتداد المقبول فيه التوبة لان الارتداد معنی ینفرد به المرتد لاحق فيه لغيره من الآدمین فقبلت توبته ومن سب النبی ﷺ تعلق فيه حق لآدمی فكان كالمرتد يقتل حين ارتداده او يقذف

(۱) درمختار ج ۳ ص ۲۹۰

(۲) ردالمحتار ج ۳ ص ۲۹۸

صفحہ 125

فان توبته لا تسقط عنه حد القتل والقذف (۱) ”حضور ﷺ کی گستاخی دوسرے ارتداد کی طرح نہیں ہے جس میں توبہ قبول ہو جاتی ہے کیونکہ مطلق ارتداد ایک انفرادی عمل ہے اس میں کسی اور شخص کا حق متعلق نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس کی توبہ قبول کی جاسکتی ہے۔ لیکن ہرزہ کار، دوعالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا معاملہ دوسرا ہے کیونکہ اس میں حضور ﷺ کا حق بھی متعلق ہو گیا ہے اور یہ بات اس طرح سمجھی جائے گی کہ جس نے اپنے ارتداد کے وقت کسی کو قتل کیا ہو یا کسی پر تہمت لگائی ہو تو اس طرح اس کے توبہ کر لینے سے قتل اور تہمت کی حد ساقط نہیں ہوگی“۔

علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

ان سب رسول الله ﷺ مع كونه من جنس الكفر والحراب اعظم من مجرد الردة عن الاسلام فانه من المسلم ردة وزيادة كما تقدم تقريره فاذا كان كفر المرتد قد تغلظ لكونه قد خرج عن الدين بعد ان دخل فيه فاوجب القتل عينا فكفر الساب الذى اذى الله ورسوله وجميع المومنين من عباده اولى ان يتغلظ فيوجب القتل عينا لان مفسدة السب فى انواع الكفر اعظم من مفسدة مجرد الردة. (۲)

”رسول کریم ﷺ کو گالی دینا کفر و قتال کی جنس میں سے ہونے کے باوجود تنہا ارتداد سے بھی عظیم تر جرم ہے اس لیے ایک مسلمان کا رسول کریم ﷺ کو گالی دینا ارتداد بھی ہے اور اس سے بڑھ کر جرم بھی۔ جب دین میں داخل ہو کر اس سے نکل جانے کی وجہ سے مرتد کا کفر دوبالا ہو گیا ہے تو اس کا قتل کرنا عین واجب ہے بنابریں رسول کریم ﷺ کی توہین

(۱) الشفا ج۲ ص ۲۵۶۔

(۲) الصارم المسلول ص ۲۹۲۔۲۹۳

صفحہ 126

کرنے والا جس نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور تمام مومن بندوں کو اذیت دی۔ اس کے کفر کا شدید تر ہونا اولی ہے اس لیے وہ یقیناً قتل کا مستحق ہے اس لیے کہ کفر کی انواع میں گالی کا فساد ارتداد سے بھی عظیم تر ہے“۔

فقہاء کرام کی آراء سے بخوبی واضح ہو گیا کہ توہین رسالت سے پیدا شدہ ارتداد مطلق ارتداد سے بھی بہت بڑا جرم ہے جس کی سزا ہر حال میں قتل ہے۔ مطلق ارتداد میں توبہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے جبکہ اس ارتداد میں انہیں قتل ہی کیا جاتا ہے۔ اس کی تائید میں صحابہ کرامؓ کا یہ عمل ملاحظہ فرمائیں۔

مظہر جلال نبوت حضرت فاروق اعظمؓ کے متعلق یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ آپ نے اس (نام نہاد) مسلمان کو توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کر دیا تھا جس نے حضور ﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہ کیا تھا۔ اور بارگاہ نبوت سے ”فاروق“ کا لقب پایا تھا اور اس بندے کو بھی قتل کر دیا تھا جو حضور ﷺ کی توہین کی نیت سے سورہ عبس کی تلاوت کرتا تھا۔

لیکن مطلق مرتد کے متعلق یہ روایت ملاحظہ فرمائیں۔ صرف ترجمہ پر اکتفا کرتا ہوں۔

”محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے پاس ایک آدمی حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی جانب سے آیا۔ حضرت عمرؓ نے وہاں کے حالات پوچھے اس نے بتائے۔ پھر حضرت عمرؓ نے پوچھا کوئی عجیب واقعہ تو پیش نہیں آیا۔ اس نے کہا کہ پیش آیا ہے اور وہ یہ کہ ایک آدمی اسلام لانے کے بعد کافر ہو گیا حضرت عمرؓ نے دریافت کیا کہ تم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا اس نے کہا کہ ہم نے اس کی گردن اڑا دی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا تم نے اسے تین دن کیلئے قید و بند میں نہ رکھا کہ اسے ہر روز روٹی کھلاتے اور اس سے توبہ کا مطالبہ کرتے رہتے۔ ممکن تھا وہ توبہ کر لیتا اور اللہ کے دین کی طرف لوٹ آتا۔ پھر فرمایا اے اللہ میں اس وقت حاضر نہ تھا اور نہ ہی میں نے اس بات کا

صفحہ 127

حکم دیا اور نہ ہی اسے سن کر راضی ہوا‘‘ (1)

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ کے نزدیک وہ آدمی جو حضور سید عالم ﷺ کی گستاخی کا مرتکب ہو وہ تو فوراً ہی واجب القتل ہے لیکن جو مطلق مرتد ہو اس پر اسلام پیش کیا جائے گا۔

حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کے متعلق پہلے گزر چکا ہے کہ جب وہ کوفہ کے قاضی القضاۃ تھے۔ تو آپ کی عدالت میں مسیلمہ کذاب کے پیرو ارتداد کے جرم میں پیش کیے گئے جنہوں نے توبہ کرتے ہوئے معافی کی درخواست کی۔ آپ نے انہیں معاف کر دیا۔ لیکن ایک شخص عبداللہ بن نواحہ کو آپ نے باوجود توبہ کے سزائے موت دی۔ لوگوں نے پوچھا ایک ہی جرم کی دو مختلف سزائیں کیوں ہیں؟ تو حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے فرمایا۔ ابن النواحہ وہ آدمی ہے جو حضور ﷺ کی خدمت میں حجر بن وثال کے ساتھ سفیر بن کے آیا تھا حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ اس پر ان دونوں نے کہا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے (یعنی گستاخانہ جواب دیا) جس پر حضور ﷺ نے فرمایا اگر سفارت کاروں کا قتل جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ اب چونکہ ابن النواحہ گرفتار ہو کر آیا ہے اس لیے میں نے اسے باوجود توبہ کے سزائے موت دی ہے۔

ان شواہد سے بخوبی واضح ہو رہا ہے کہ مطلق ارتداد میں تو توبہ قابل قبول ہے لیکن توہین رسالت سے پیدا شدہ ارتداد کی سزا توبہ کے باوجود بھی قتل ہی ہے۔

آئیے اب توہین رسالت کے مرتکب کی توبہ کے متعلق ائمہ اربعہ اور علمائے امت کا نقطہ نظر ملاحظہ کریں۔ سب سے پہلے فقہائے احناف کا نقطہ نظر ملاحظہ ہو:

(1) نفس مصدر ص ۳۲۰

صفحہ 128

توہین رسالت کے مرتکب کی توبہ اور فقہائے احناف کا موقف

عظیم حنفی مفسر قاضی ثناء اللہ المظہری المتوفی 1225ھ امام ابن ہمام اور دیگر علماء کا موقف اس طرح بیان کرتے ہیں:

قال ابن همام كل من ابغض رسول الله ﷺ كان مرتدا فالساب بطريق الاولى ويقتل عندنا حدا فلا تقبل توبته فى اسقاط القتل قالوا هذا مذهب اهل الكوفة ومالك ونقل عن ابى بكر الصديق رضى الله عنه ولا فرق بين ان يجئ تائبا بنفسه او شهدوا عليه بذالك بخلاف غيره من موجبات الكفر فان الانكار فيها توبة ولا تعمل الشهادة معه حتى قالوا يقتل ان سب سكران ولا يعفى عنه ولابد من تقييده بما اذا كان سكره بسبب محظور باشره باختياره بلا اكراه والا فهو كالمجنون وقال الخطابى لا اعلم احدا خالف فى وجوب قتله وما قتله فى حق من حقوق الله تعالىٰ فتعمل توبته فى اسقاط قتله ولا يحكم بارتداد من اتى بكلمة الكفر سكران فى غير سباب النبى ﷺ . (۱)

”امام ابن ہمام فرماتے ہیں کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بغض رکھا وہ مرتد ہے آپ ﷺ کو گالی دینے والا تو بطریق اولیٰ مرتد ہوگا وہ ہمارے (ائمہ احناف کے) نزدیک بطور حد قتل کیا جائے گا۔ اور قتل کے معاف ہونے میں اس کی توبہ نامقبول ہوگی۔ علماء کرام نے فرمایا کہ اہل کوفہ اور امام مالک کا یہی مذہب ہے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بھی یہی منقول ہے اور اس میں اس بات کا بھی کوئی فرق نہیں کہ وہ توہین رسالت کا مرتکب خود بخود توبہ کرتا ہوا پیش ہو یا اس کی توبہ پر لوگوں نے گواہی دی بہرصورت وہ قتل کیا جائے گا

(۱) تفسیر مظہری ج ۲ ص ۲۸۲۔ فتح القدیر ج ۳ ص ۴۰۷

صفحہ 129

اس کی توبہ اسے قتل کرنے سے نہ بچائے گی بخلاف دیگر موجبات کفر کے کہ ان میں اس کا انکار خود توبہ قرار پائے گا۔ اس کے ساتھ شہادت مفید نہ ہوگی۔ علماء کرام نے یہاں تک فرمایا کہ جس نے نشہ کی حالت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو گالی دی اسے بھی قتل کر دیا جائے گا لیکن اسے اس شرط سے مشروط کرنا چاہیے کہ جب اس کا نشہ کسی ممنوعہ چیز کے اختیاری طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے ہو اور بلا اجبار واکراہ اس نے اس کا استعمال کیا ہو۔ ورنہ وہ مجنون کی طرح ہوگا۔ امام خطابی فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی نے بھی توہین رسالت کے مرتکب کے واجب القتل ہونے میں اختلاف کیا ہو۔ اور حقوق اللہ میں سے کسی حق میں قتل کیے جانے میں توبہ مفید ہوگی اور جس نے حالت نشہ میں کلمہ کفر کہا اس کے مرتد ہونے کا حکم نہ دیا جائے گا سوائے نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کے“۔

امام خیر الدین رملی الحنفی اسی پس منظر میں فرماتے ہیں:

انه حد فلا يسقط بالتوبة لا متصور فيه خلاف لاحد لانه حق تعلق به حق العبد فلا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين.(۱)

”نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کا قتل بطور حد لازم ہے جو توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتا۔ اور اس بارے میں میں کسی مسلمان کے اختلاف کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ یہ ایک بندے کا حق ہے جس طرح دیگر حقوق العباد ان کے معاف کیے بغیر معاف نہیں ہو سکتے اسی طرح یہ حضور ﷺ کا حق ہے جسے کوئی بھی معاف نہیں کر سکتا۔“

صاحب ردالمحتار علامہ شامی فرماتے ہیں:

(قوله فانه يقتل حدا) يعنى ان جزاء القتل على وجه كونه حدا لذا عطف على قوله و لا تقبل توبته لان الحد لا يسقط بالتوبة فهو عطف تفسير

(۱) تنبیہ الولاۃ والحکام ص ۳۲۸

صفحہ 130

و افاد انه حكم الدنيا اما عند الله فهى مقبولة كما فى البحر (۱)

(قولہ ۔ اسے بطور حد قتل کیا جائے گا) یعنی توہین رسالت کے مرتکب کی سزا بطور حد قتل ہے۔ اسی لیے اسے اس پر عطف کیا کہ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی تو یہ عطف تفسیر ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ اس کی توبہ کا قبول نہ ہونا اور اس کا قتل کیا جانا یہ دنیاوی حکم ہے۔ مگر عند اللہ اس کی توبہ قبول ہوگی (یعنی وہ آخرت کی سزا سے بچ جائے گا) جیسا کہ البحر میں ہے“۔

علامہ ابن نجیم حنفی فرماتے ہیں:

مرتد اگر توبہ کرے تو اس کا قتل معاف ہو جائے گا لیکن

يستثنى منه مسائل الاولى الردة بسبه ﷺ . (۲)

”مرتد کے اس حکم سے بعض مسائل مستثنیٰ ہیں (یعنی انہیں توبہ کے باوجود بھی قتل کیا جائے گا) پہلا آدمی وہ ہے جو حضور ﷺ کو گالی دینے کی وجہ سے مرتد ہوا ہو“۔

فقہ حنفی کے مشہور فتاویٰ ”فتاویٰ خیریہ“ میں ہے۔

الا اذا سب الرسول ﷺ او احدا من الانبياء عليهم السلام فانه يقتل حدا ولا توبة له اصلا سواء بعد القدرة عليه او جاء تائبا من قبل نفسه كالمتزندق لانه حد وجب فلا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين وكحد القذف لا يسقط بالتوبة . (۳)

”(مرتد کی توبہ قبول کی جائے گی) مگر جو آدمی حضور نبی مکرم ﷺ یا کسی اور نبی علیہ السلام کو گالی دینے کی وجہ سے مرتد ہو جائے تو اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا۔ اس کی توبہ

(۱) ردالمحتار ج ۳ ص ۲۹۰

(۲) البحر الرائق ج ۵ ص ۱۳۵

(۳) فتاویٰ خیریہ ج ۱ ص ۱۰۲

صفحہ 131

بالکل قبول نہیں کی جائے گی چاہے اس پر قدرت پانے یا اس کے خلاف گواہی موجود ہونے کے بعد وہ توبہ بھی کرے۔ یا وہ اپنے آپ تو بہ کرے جیسے زندیق ہے۔ اس لیے کہ یہ قتل کی سزا ایک حد ہے جو واجب ہوچکی ہے اور یہ حد توبہ کرنے سے ساقط نہ ہوگی جیسے تمام انسانی حقوق ہیں اور جیسے حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔“

ایک اور حنفی فقیہہ مولانا گل محمد لکھتے ہیں:

من اهان النبی ﷺ او تمنى مضرة له او عاب في دينه صريحا كان او كناية او عيره او استحقره بشئ مما جرى عليه في حياته و الحكم في الكل القتل حدا . (۱)

”جس نے حضور ﷺ کی توہین کی یا آپ ﷺ کیلئے کسی نقصان کی تمنا کی صراحۃ یا کنایۃ آپ ﷺ کے دین میں عیب جوئی کی یا حضور ﷺ کی حیات مبارکہ پر کسی بھی ذریعہ سے تنقید کی۔ ان سب چیزوں میں اسے بطور حد قتل کیا جائے گا۔“

اسی بحث کے آخر میں نتیجہ نکالتے ہوئے فرماتے ہیں۔

فالفتوى على عدم قبول التوبة عند ابی حنیفة و اصحابه و سفیان والاوزاعی . (۲)

”امام ابو حنیفہ ، ان کے اصحاب ، سفیان اور اوزاعی کے مفتی بہ قول کے مطابق شاتم رسول ﷺ کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی“۔

امام خیر الدین الحنفی فرماتے ہیں:

قلنا اذا شتمه عليه السلام سكران لا يعفى و يقتل حدا و هذا مذهب ابی بکر رضی الله عنه و الامام الاعظم و البدرى و اهل الكوفة

(۱) فتاوی نورالھدی ص ۱۳۱

(۲) نفس مصدر ص ۱۳۱

صفحہ 132

والمشهور من مذهب مالک واصحابه في الاشباه كل كافر تاب فتوبته مقبوله في الدنيا والاخره الا جماعة الكافره بسبب نبي ...... الخ. (۱)

”ہم کہتے ہیں جب بھی کسی نے نشہ کی حالت میں حضورﷺ کو گالی دی تو اسے معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے بطور حد قتل کیا جائے گا حضرت ابوبکر، امام اعظم ، البدری اور اہل کوفہ کا یہی مذہب ہے امام مالک اور ان کے اصحاب کا بھی مشہور قول کے مطابق یہی مذہب ہے۔ الاشباہ میں ہے کہ جب بھی کوئی کافر توبہ کرے گا تو اسکی توبہ دنیا اور آخرت میں مقبول ہو گی۔ مگر ایک جماعت کی توبہ قبول نہ ہو گی وہ جو کسی نبی کو گالی دینے کی وجہ سے کافر ہوا ہو.......“

علامہ موصوف مزید لکھتے ہیں:

(سائل) في نصراني ذمی تجرأ على الجناب الرفيع المحمدىﷺ بالسب فماذا يلزمه شرعا خصوصا اذا كان قصده غيظ المسلمين ومدحة النصرانية ومذمة الاسلامية (اجاب) يبالغ في عقوبته ولو بالقتل فقد صرح علماءنا بانه يجوز الترقى فى التعزير الى القتل اذا عظم موجبه ولا شئ من موجبات التعزير اعظم من سب الرسول ﷺ وهذا الذي تميل اليه نفس المومن فينبغي لحكام المسلمين قتله كي لايتجرأ اعداء الدين الى احراق افئدة المسلمين بسب نبيهم من الكفرة المتمردين.(۲)

”(سوال) اس ذمی عیسائی کے متعلق شرعاً کیا حکم ہے جو حضور ﷺ کو گالی دینے کی جرات کرتا ہے خصوصاً جبکہ وہ گستاخی مسلمانوں کو جلانے اور عیسائیت کی تعریف کرنے اور اہل اسلام کی مذمت کے ارادے سے کرے۔

(۱) فتاویٰ خیریہ ج۱ ص۱۰۳۔۱۰۲

(۲) فتاویٰ خیریہ ج۱ ص۱۰۴

صفحہ 133

(جواب) اس کو سزا دینے میں بہت زیادہ سختی کی جائے گی اگر چہ اسے قتل کرنے کے ساتھ ہی ہو ہمارے علماء نے وضاحت کی ہے کہ جب اس کا گناہ بہت بڑا ہو تو سزا میں اسے قتل کرنا مباح ہے تو پھر حضور ﷺ کو گالی دینے سے بڑھ کر اور کون سا گناہ قتل کا موجب ہو سکتا ہے۔ اور ایک مومن کا دل یہی چاہتا ہے پس مسلمانوں کے حاکموں کو چاہیے کہ توہین رسالت کے مرتکب کو قتل کر دیں تا کہ سرکش کافروں میں سے کوئی بھی دین کا دشمن حضور ﷺ کو گالی دے کر مسلمانوں کے دلوں کو جلانے کی جرات نہ کرے۔

امام اجل طاہر بن عبدالرشید البخاری فرماتے ہیں: کہ نبی کریم ﷺ کی کسی بھی طریقے سے توہین کرنے والا کافر ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ:

ان تاب لم تقبل توبته ابدا لا عند الله ولا عند الناس وحكمه في الشريعة المطهرة عند متاخرين المجتهدين اجماعا وعند المتقدمين القتل . (۱)

”اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ کبھی بھی نہ اللہ کے نزدیک مقبول ہے اور نہ بندوں کے نزدیک اور ایسے شخص کا حکم شریعت مطہرہ میں متاخرین اور متقدمین مجتہدین کے نزدیک بالاتفاق یہ ہے کہ اسے لازمی طور پر قتل کر دیا جائے“۔

قاضی ثناء اللہ مظہری حنفی فرماتے ہیں:

من سب النبي ﷺ يقتل ولا تقبل توبته سواء كان مومنا او كافرا . (۲)

”جو بھی نبی کریم ﷺ کو گالی دے اسے قتل کر دیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی برابر ہے کہ وہ مومن ہو یا کافر“۔

(۱) خلاصۃ الفتاوی باب الفاظ الکفر ص ۳۸۶ (۲) تفسیر مظہری ج ۲ ص ۱۳۶

صفحہ 134

علامہ اسماعیل حقی اپنی شہرہ آفاق تفسیر روح البیان میں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”مسئلہ بعض فقہاء کرام نے فرمایا کہ ایسا بد بخت اگرچہ مسلمان بھی ہو تب بھی نبی اکرمﷺ کے اعزاز و اکرام کی وجہ سے اسے لازمی طور پر قتل کر دیا جائے گا اس لیے کہ یہ ہمارے آقا و مولیٰﷺ کے حقوق میں سے ہے اور ہم کون ہوتے ہیں کہ ان کی عزت و عظمت کو گھٹانے والے کو معاف کر دیں۔ جب اسلام لانے سے عام مسلمانوں کے حقوق معاف نہیں ہوتے تو مسلمانوں کے آقاﷺ کے حقوق کس طرح معاف ہو سکتے ہیں۔ مثلاً اسلام لانے سے قبل کسی کو قتل کیا تھا یا کسی پر بہتان تراشا تھا۔ تو اسلام لانے پر اسے نہ قتل معاف ہے نہ بہتان تراشی کی غلطی۔ جب ایک عام انسان کا حق اسلام لانے سے معاف نہیں ہو سکتا تو حضور علیہ السلام کے حقوق کس طرح معاف ہو جائیں گے اگر چہ وہ مذکورہ غلطیوں اور حضور علیہ السلام کی تحقیر سے توبہ کرلے تو بھی اس کی توبہ قبول نہیں بایں معنی کہ اسے ضرور قتل کیا جائے گا اگرچہ اس نے کلمہ شہادت بھی پڑھا ہے۔

مسئلہ: لیکن ایسے شخص کی اسلامی حیثیت برقرار رہے گی یعنی جو سابقہ جرائم یعنی نبوت کی تنقیص یا عام مسلمانوں کے حقوق سے تائب ہو کر مرے یا اسے قتل کر دیا جائے تو اس کی موت اسلام پر سمجھی جائے گی یہاں تک کہ اسے مسلمانوں کی طرح غسل دیا جائے گا اور اس پر نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی اور اسے مسلمانوں کے گورستان میں مسلمانوں کی طرح دفنایا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ نبوت کے گستاخ کو قتل کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ گستاخی سے توبہ کرے تو قتل معاف نہیں ہوگا اور نہ ہی اس بارے میں اس کی توبہ قابل قبول ہے البتہ اس کا اسلام لانا صحیح ہوگا کہ مسلمان ہو جانے کے بعد بھی اسی نبوت کی گستاخی کی وجہ سے قتل کیا جائے گا لیکن اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔“ (1)

(1) تفسیر روح البیان (اردو) پارہ ١٠ ص ١٠٨

صفحہ 135

اعلیٰ حضرت مولانا الشاہ احمد رضا خان بھی اسی مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

”سید عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ ہزار ہا ائمہ دین کے نزدیک اصلاً قبول نہیں اور ہمارے علمائے حنفیہ میں سے امام بزازی و امام محقق علی الاطلاق ابن الہمام و علامہ مولیٰ خسرو و صاحب درر و علامہ زین ابن نجیم صاحب بحرالرائق والاشباہ والنظائر، وعلامہ عمر بن نجیم صاحب نہر الفائق ، وعلامہ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ صاحب تنویر الابصار، و علامہ خیر الدین رملی صاحب فتاویٰ خیریہ و علامہ شیخ زادہ صاحب مجمع الانہر وعلامہ مدقق علی بن محمد حصکفی صاحب در مختار غیرہم عمائد کبار علیہم رحمۃ اللہ العزیز الغفار نے اختیار فرمایا یہاں تحقیق المسئلہ فی الفتاوی الرضویہ اس لیے کہ عدم قبول توبہ صرف حاکم اسلام کے یہاں ہے کہ وہ اس معاملہ میں بعد توبہ بھی سزائے موت دے ورنہ اگر توبہ صدق دل سے ہے تو عنداللہ مقبول ہے کہیں یہ بدگو اس مسئلہ کو دستاویز نہ بنالیں کہ آخر توبہ قبول نہیں پھر کیوں تائب ہوں؟ نہیں نہیں توبہ سے کفر مٹ جائے گا۔ مسلمان ہو جاؤ گے جہنم ابدی سے نجات پاؤ گے اس قدر پر اجماع ہے کما فی ردالمحتار وغیرہ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (1) “

ایک اور حنفی فقیہ مولانا امجد علی اعظمی لکھتے ہیں:

”مرتد اگر ارتداد سے توبہ کرے تو اس کی توبہ مقبول ہے مگر بعض مرتدین مثلاً کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا کہ اس کی توبہ مقبول نہیں توبہ قبول کرنے سے مراد یہ ہے کہ توبہ کرنے کے بعد بادشاہ اسلام اسے قتل نہ کرے گا۔ (2) “

مکتبہ دیوبند کے مقتدر عالم دین علامہ شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں:

(1) تمہید الایمان ص ۴۲، ۴۱ مطبوعہ سکھر

(2) بہار شریعت حصہ نہم ص ۱۴۴

صفحہ 136

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑ او محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

ان ایذاء النبیﷺ کفر وھذا ثابت قد نص علیہ ائمتنا وافتوا بقتل من تعرض لذالک کفر ولا تقبل توبتہ۔ (١)

”بے شک حضورﷺ کو اذیت دینا کفر ہے۔ ہمارے ائمہ نے اسے وضاحت سے بیان کیا ہے۔ اور ایسے کافر کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ دیا ہے اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی“۔

شاتم رسولﷺ کی توبہ اور عصر حاضر کے فقہائے احناف کا موقف

ہم نے یہی سوال استفتاء کی صورت میں مختلف حنفی مفتیان عظام کی خدمت میں بھیجا استفتاء کی عبارت یہ تھی۔

الاستفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین درایں مسئلہ کہ اگر کوئی بدبخت انسان حضور نبی مکرمﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو کیا توبہ کر لینے سے اس کا قتل ساقط ہو جائے گا؟ بینوا توجروا

السائل حبیب اللہ چشتی ڈی۔سی۔سی۔ایل۔جہلم

اس استفتاء کے جو جوابات ہمیں موصول ہوئے وہ یہ ہیں۔

جامعہ اشرفیہ لاہور

”اگر توبہ صدق دل سے کرے گا تو آخرت کا گناہ معاف ہو جائے گا“۔

(١) فتح الملہم شرح مسلم ج١ ص ٢٧٠

دار العلوم ضیاء شمس ال صورت مسؤل میں گستاخ ہوا وہ واجب کتب فتاویٰ میں صراحۃ م باب المرتدی وفی البزا یجدد النکاح و الرسولﷺ او واح اصلا سواء کان ي کالمتزندق فانہ لانہ حق تعلق بہ حق مندرجہ بالا ہو تو وہ واجب القتل افضل الصلوٰۃ والتسلیم کسی کا خلاف واختلا وہ واجب القتل ہی

صفحہ 137

دارالعلوم ضیاء شمس الاسلام سیال شریف سرگودھا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب وهو الموفق للصواب

صورت مسئولہ میں مرتد شخص جو نبی کریم ﷺ کی اعلیٰ اقدس مقدس و مطہر شان میں گستاخ ہو وہ واجب القتل ہی ہے اس کی توبہ شرعاً مردود اور نامقبول ہے۔ جیسا کہ کتب فتاویٰ میں صراحۃً مرقوم ہے (فتاویٰ خیریہ ج۱ ص۱۵۱)

باب المرتدین میں ہے:

وفي البزازية في المرتد ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذالك ثم يجدد النكاح وزال عنه موجب الكفر والارتداد وهو القتل الا اذا سب الرسول ﷺ او واحد من الانبياء عليهم السلام فانه يقتل حدا ولا توبة له اصلا سواء كان بعد القدرة عليه والشهادة او جاء تائبا من قبل نفسه كالمتزندق فانه حد وجب فلا يسقط بالتوبة ولا يتصور فيه خلاف لاحد لانه حق تعلق به حق العبد فلا يسقط بالتوبة الخ

مندرجہ بالا فقہاء کرام کی تصریح سے واضح ہے کہ کسی بھی نبی علیہ السلام کا گستاخ ہو تو وہ واجب القتل ہے توبہ سے اس کا قتل ساقط نہیں ہوتا۔ تو سید الانبیاء والمرسلین علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کی ذات اقدس کا گستاخ قتل ہی کی حد میں ختم کیا جائے گا جس میں کسی کا خلاف و اختلاف تک نہیں ہے توبہ کرے یا نہ کرے توبہ پر قادر ہو یا نہ ہو ہر حال میں وہ واجب القتل ہی ہے۔

واللہ تعالیٰ ورسولہ الاعلیٰ اعلم غلام احمد عفی عنہ مدرس دارالعلوم ضیاء شمس الاسلام سیال شریف ضلع سرگودھا

صفحہ 138

قادیانی گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا تو جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لیے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

مدرسہ انوارالعلوم ملتان

”ایسا شخص واجب القتل ہے اور ایسے شخص کی توبہ بھی قبول نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم

(دستخط مفتی صاحب ۹۵-۲-۱۰)

دارالعلوم محمودیہ غوثیہ بھیرہ شریف

الجواب بعون الملک الوھاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ارشاد خداوندی ہے:

لتومنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ وتسبحوہ بکرۃ واصیلا

(ترجمہ) تاکہ اے لوگو تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول مکرم پر اور تاکہ تم ان کی مدد کرو اور دل سے ان کی تعظیم کرو اور پاکی بیان کرو اللہ کی صبح و شام۔ (سورہ فتح: ۹)

ان الذین یوذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والاخرۃ
واعد لھم عذابا مھینا

(ترجمہ) بے شک جو لوگ ایذاء پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کیلیے رسوا کن عذاب۔ (سورہ الاحزاب آیت نمبر ۵۷)

والذین یوذون رسول اللہ لھم عذاب الیم

(ترجمہ) اور جو لوگ دکھ پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول کو ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

ان آیات سے روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول

صفحہ 139

کریم ﷺ پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے رسول مکرم ﷺ کی بصد احترام مدد کی جائے اور دل سے ان کی تعظیم کی جائے اور اللہ تعالیٰ کی صبح و شام تسبیح بیان کی جائے اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کو اذیت پہنچاتے ہیں اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ان پر لعنت بھیجتا ہے اور آخرت میں بھی ان پر پھٹکار ہے اور ان کے لئے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل اور رسوا کرنے والا ہے اور پھر مستقل آیت میں فرما دیا کہ جو بدبخت اللہ کے رسول ﷺ کی دل آزاری کرتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

اسی وجہ سے علماء اسلام نے بارگاہ رسالت میں گستاخی کرنے والوں کے لیے یہ متفقہ فیصلہ دیا ہے کہ یہ بدبخت دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں اور واجب القتل ہیں اور ان کی توبہ بھی قبول نہیں ہو گی۔ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب شفا شریف میں تحریر فرماتے ہیں:

ومسالة ساب النبي ﷺ اقوى لا يتصور فيها الخلاف على الاصل المتقدم لانه حق متعلق للنبى ﷺ ولامته بسبه لا تسقطه التوبة كسائر حقوق الادمیین.

”کہ گستاخ نبی ﷺ (عام لوگوں کی شان میں گستاخی کرنے والے) سے کہیں زیادہ قوی (مجرم) ہے۔ اس میں مذکورہ اصول کے مطابق کسی قسم کے اختلاف کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ یہ ایسا حق ہے جس کا تعلق (براہ راست) نبی کریم ﷺ سے ہے اور آپ ﷺ کے واسطہ سے ساری امت کے ساتھ ہے۔ اس لیے تمام آدمیوں کے حقوق کی طرح سرکار دو عالم ﷺ کے حق کو توبہ ساقط نہیں کرے گی“۔

اس سے آگے قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

صفحہ 140

قال محمد بن سحنون ولم يزل القتل من المسلم بالتوبة من سبه ﷺ لانه ينتقل من دينه الى غير وانما فعل شيئا حده عندنا القتل لا عفو فيه لاحد.

”محمد بن سحنون فرماتے ہیں کہ سرکار دوعالم ﷺ کی گستاخی کا ارتکاب کرنے سے مسلمان سے قتل کی سزا زائل نہیں ہو گی کیونکہ اس نے ایک دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار نہیں کیا بلکہ اس نے تو ایسا فعل کیا ہے کہ جس کی حد، ہمارے نزدیک صرف قتل ہے۔ اس میں کسی کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔“

اور فقہ حنفی کے مشہور فتاویٰ ”فتاویٰ خیریہ“ میں بھی گستاخ رسول ﷺ کی سزا قتل تحریر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ توبہ کرنے سے یہ حد ساقط نہیں ہو گی۔ جیسے باقی تمام انسانی حقوق ہیں اور جیسے حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔

(فتاویٰ خیریہ ج۱ ص ۱۰۲)

هذا ما عندی والله اعلم بالصواب كتبه العبد المنيب محمد ایوب مفتی دارالافتاء المحمدیہ الغوثیہ بھیرہ ۱۹-۷-۱۹۹۵

جامعہ محمدیہ رضویہ نوریہ بھکھی شریف

الجواب منه الهداية الصواب

حضور ﷺ کی تعظیم فرض عین بلکہ جان ایمان ہے اور آپ ﷺ کی شان ارفع واعلیٰ میں ادنیٰ گستاخی بھی کفر و ارتداد ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے۔ اگر مہلت طلب کرے تو تین دن کی مہلت دینا بعض کے نزدیک واجب ہے اور بعض فقہاء مستحب قرار دیتے ہیں

صفحہ 141

اگر اس مدت میں توبہ کر لے تو اس کی توبہ دنیاوی احکام میں معتبر ہوگی اور اس پر قتل کا حکم نہ کیا جائے گا لیکن سید الانبیاء علیہ التحیۃ والثناء یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کر کے مرتد ہونے والے کی توبہ قبول نہ کی جائے گی اور وہ توبہ کرے پھر بھی قتل کیا جائے گا اور آخرت کا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد ہے قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

انا ارسلناک شاھدا ومبشرا و نذیرا لتؤمنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ وتسبحوہ بکرۃ و اصیلا

”بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی پاکی بولو“

نیز فرمایا:

قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی فرمادو اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اتباع محبت کے ساتھ پیروی کو کہتے ہیں اور حدیث پاک میں ہے:

لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین

تم میں سے کوئی آدمی (کامل) مومن نہیں جب تک اپنے باپ بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت نہ کرے۔

محبت کو تعظیم لازم ہے ہر محب کے دل میں محبوب کی تعظیم ہوتی ہے۔ حدیث پاک میں اگر محبت سے اس کا لازم معنی لیا جائے تو مطلب یوں ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن ہی نہیں جب تک میری تعظیم اس کے دل میں سب سے زیادہ نہ ہو

اور اللہ تبارک تعالیٰ نے امت مسلمہ کو نبی کریم ﷺ کو پکارنے میں آپس میں ایک دوسرے کی طرح پکارنے سے اور ساتھ چلنے میں آپ سے آگے چلنے سے منع فرمایا

ارشاد ربانی ہے۔

صفحہ 142

يايها الذين امنوا لا تقدموا بين يدى الله ورسوله. لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضا يا يهالذين امنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبى ولا تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض ان تحبط اعمالكم و انتم لا تشعرون

”اے ایمان والو! تم اپنی آوازیں نبی کریم ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کرو۔ جیسا کہ آپس میں کرتے رہتے ہو (اگر کرو گے) تو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تمہیں اس کا احساس و شعور بھی نہ ہوگا یعنی اس گستاخی اور بے ادبی سے تم کافر ہو جاؤ گے کیونکہ اعمال کا مکمل ضیاع کفر کے بغیر نہیں اور گمراہی اتنی سخت ہوگی کہ اس نقصان کا احساس بھی ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح دوسری آیت میں ایسے لفظ کے استعمال سے منع فرمایا جس سے کوئی دوسرا آدمی بے ادبی والا معنی سمجھ سکتا ہو۔ یعنی لفظ کے کئی معنی ہوں جن میں سے ایک معنی کے اعتبار سے بے ادبی گستاخی بن سکتی ہو تو وہ لفظ بولنا بھی منع ہے اگر چہ بولنے والا گستاخی کا معنی نہ بھی لے اور اس حکم کے بعد استعمال کرے تو وہ کافر ہو گا قرآن کریم میں ہے:

يا ايها الذين امنوا لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا واسمعوا و للكافرين عذاب اليم

راعنا کا لفظ صحابہ کرام استعمال کرتے جس کا معنی لیتے ہماری رعایت فرمائیے۔ لیکن یہ لفظ یہودیوں کے نزدیک ایک گالی تھا جلالین شریف میں ہے ہی بلغۃ الیہود سب من الرعونة اور اسے رعونت سے مشتق تصور کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کے استعمال سے صحابہ کرام کو منع فرما دیا۔ آیت کے آخری حصے کا مرتب کرنا اس معنی کا فائدہ دیتا ہے کہ اب جو یہ لفظ استعمال کرے گا کافر ہوگا اور اسے درد ناک عذاب دیا جائے گا۔

صفحہ 143

شفا شریف میں ہے: ان جميع من سب النبى ﷺ او عابه او الحق به نقصا في نفسه او دينه او نسبه او خصلة من خصاله او عرض به او شبهه على طريق السب له او الازراء عليه او التصغير لشانه او الغض منه او العيب له فهو ساب له والحكم فيه حكم الساب.

”ہر وہ شخص جو سید اکرم ﷺ کے حضور میں بے ہودہ بکے یا کوئی عیب لگائے یا ذات اقدس یا دین مقدس یا نسب اطہر یا خصائل شریفہ میں کسی خصلت کے ساتھ کوئی نقص منسوب کرے۔ یا پہلو دار بات کہہ کر گستاخی سے پیش آئے۔ یا شان اعلیٰ کے ساتھ بطور بدگوئی یا توہین یا شان گھٹانے میں یا مرتبہ کم کرنے یا عیب لگانے کے کوئی شئے مشابہ کرے وہ ساب یعنی گالی دینے والا ہے اور اس کا یہی حکم ہے جو انبیاء کرام وعلیٰ نبینا علیہم الصلوٰۃ والسلام کو گالی دینے والے کا ہے اور یہی حکم اس کا ہے جو حضور طاہر و مطہر محمد ﷺ کی طرف برائی کے ساتھ کوئی ایسا امر منسوب کرے جو حضور ﷺ کے منصب اعلیٰ کے لائق نہ ہو اسی میں ہے۔“

قال محمد ابن سحنون اجمع العلماء ان شاتم النبی ﷺ والمنتقص له كافر

(ترجمہ) محمد بن سحنون نے فرمایا کہ تمام علماء نے اتفاق کیا ہے کہ نبی پاک ﷺ کو گالی دینے والا اور ان کی تنقیص شان کرنے والا کافر ہے۔

فتاویٰ بزازیہ میں ہے کہ امام موسیٰ کاظم کے صاحبزادے عبداللہ نے ائمہ اہل بیت سے روایت کیا کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا: من سب نبيا ﷺ فاقتلوه ومن سب اصحابى فاضربوه

صفحہ 144

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا اور جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لئے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

”جو کوئی کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کر دو اور جو میرے صحابہ کو گالی دے اسے تعزیر لگاؤ اور اسی میں ہے۔“

قال ابن سحنون المالکی اجمع العلماء ان شاتمہ کافر وحکمہ القتل و من شک فی عذابہ و کفرہ کفر.

ابن سحنون مالکی فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کے کفر پر علمائے امت کا اتفاق واجماع ہے اور اس کی سزا قتل ہے اور جو کوئی شخص اس کے کفر و عذاب میں شک کرے گا وہ بھی کافر ہوگا۔

اسی میں فرمایا کہ مرتد کو توبہ کرنے کا حکم دیا جائے ۔ اگر توبہ کرلے تو اس سے قتل کی سزا اٹھ جائے ۔ مگر نبی کو گالی دینے والے کو توبہ کے بعد بھی قتل کیا جائے گا۔

ویؤمر بالتوبۃ والرجوع عن ذالک ثم یجدد النکاح عنہ زال عنہ موجب الکفر والارتداد وھو القتل الااذا سب الرسول علیہ الصلوۃ والسلام او واحد من الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام فانہ یقتل حدا ولا توبۃ لہ اصلاً

اور اسی میں ہے:

ھذا مذھب ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ والامام الاعظم والثوری واھل الکوفۃ والمشھور من مذھب مالک واصحابہ

اور بحر الرائق میں فرمایا کہ جب مرتد پھر مسلمان ہو جائے اور ارتداد سے توبہ کرلے اور اسے چھوڑ دیا جائے گا مگر چند مسائل مستثنیٰ ہیں۔

گا الا فی الردۃ بسبب سبہ ﷺ۔

دیگر مرتد ہو تو وہ اور فتح القدیر کل من ابغض الاولیٰ ثم یقتل حدا غی اھل الکوفۃ ومالک وا جو شخص نبی کریم گالی دے وہ بطریق اولیٰ اگرچہ ارتداد سے توبہ کر یہی منقول ہے ۔ اور مختار قال ابو بکر علی ان من سب ال واللیث واحمد و اس یعنی امام جائے گا اور امام اعظم ہے اور اس میں ہے ال وحکی ف اوبرئ منہ او کذبہ اور طبر تنقیص کرنے وا

صفحہ 145

(۲) الردة بسب الشيخين ابی بکر وعمر رضی الله عنهما جو فاروق اعظم اور صدیق اکبر کو گالی دیکر مرتد ہو تو وہ بھی ہر حال میں قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ معتبر نہ گی۔

اور فتح القدیر میں ہے۔ كل من ابغض رسول الله ﷺ بقلبه كان مرتدا فالساب بطريق الاولى ثم يقتل حدا عندنا فلاتقبل توبته فى اسقاطه القتل قالوا هذا مذهب اهل الكوفة و مالک و نقل عن ابی بکر صدیق رضی الله تعالى عنه۔

جو شخص نبی کریمﷺ سے دل میں بغض رکھے وہ مرتد ہو جاتا ہے تو جو زبان سے گالی دے وہ بطریق اولی کافر ہو گا اور اس کی سزا قتل ہے جو بطور حد اس پر جاری ہو گی۔ اگر چہ ارتداد سے توبہ کر لے یہ اہل کوفہ اور امام مالک کا مذہب ہے اور صدیق اکبر سے بھی یہی منقول ہے۔ اور منحة الخالق میں علامہ شامی فرماتے ہیں:

قال ابوبکر بن المنذرى رحمة الله عليه اجمع عوام اهل العلم على ان من سب النبى ﷺ يقتل وممن قال ذالک مالک ابن انس والليث واحمد و اسحق وهو مذهب الشافعي۔

یعنی امام شافعی، مالک، احمد بن حنبل کا یہی مذہب ہے کہ ایسا آدمی قتل کیا جائے گا اور امام اعظم کا مذہب اس سے پہلے بزازیہ و فتح القدیر وغیرہ سے نقل کیا گیا ہے اور اس میں ہے:

و حكى الطبرى مثله عن ابي حنيفة و اصحابه فى من ينتقصه ﷺ او برئ منه او كذبه

اور طبری نے امام اعظم اور ان کے اصحاب سے یہی حکم آپﷺ کی شان میں تنقیص کرنے والے اور بیزاری کا اظہار کرنے والے کے متعلق بھی بیان فرمایا ہے۔

صفحہ 146

هذا ماعندی وهو حق بالیقین وبه یلیق الرجیم اللعین والله تعالیٰ اعلم وصلی الله علی حبیبه محمد و آله وسلم کتبہ اصغر علی رضوی مفتی جامعہ محمدیہ بھکھی شریف

جامعہ نظامیہ لاہور

نبی کریم ﷺ کو گالیاں دینے والا حداً واجب القتل ہے۔ جبکہ اس کا گالیاں دینا مشہور ہو۔ یا دو عادل مقبول الشہادہ گواہوں کی گواہی سے ثابت ہو جائے۔ خواہ گالی دینے والا کافر اصلی حربی، ذمی، مستامن ہو یا کافر مرتد ہو اس کی توبہ قبول نہیں یہ جو مشہور ہے کہ مرتد کی توبہ قبول ہے اس سے مراد وہ مرتد ہے جو انبیاء علیہم السلام کو گالیاں دینے والا نہ ہو اور جو انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کو گالی دے اور شرعی طور پر اس کا ثبوت بھی ہو جائے اس کی توبہ قبول نہیں ہے۔

والکافر بسب نبی من الانبیاء فانه یقتل حدا و لا تقبل توبته مطلقا

توبہ قبول نہیں اس مرتد کی جو کافر ہوا بسب گالی دینے کے کسی نبی کو انبیاء علیہم السلام میں سے ومن شک فی عذابه و کفره کفر (درمختار ج ۳ ص ۲۶۲) جو نبی کو گالی دینے والے کے عذاب اور کفر میں شک کرے کافر ہو گیا اور شامی میں ہے:

(فانه یقتل حدا) یعنی ان جزاء ه القتل علی وجه کونه حدا ولذا عطف علیہ قوله ولا تقبل توبته لانه الحد لا يسقط بالتوبة فهو عطف تفسیر و افاد انه حکم الدنیا اما عند الله تعالیٰ فهی مقبولة کمافی البحر .

(شامی ج ۲ ص ۲۳۶)

صفحہ 147

قادیانی گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا تو جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

حبیبه محمد و آله وسلم

لف

ب القتل ہے۔ جبکہ اس کا گالیاں دینا کما سے ثابت ہو جائے۔ خواہ گالی دینے کی توبہ قبول نہیں یہ جو مشہور ہے کہ مرتد ہم السلام کو گالیاں دینے والا نہ ہو اور شرعی طور پر اس کا ثبوت بھی ہو جائے

ه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا ب گالی دینے کے کسی نبی کو انبیاء علیہم کفر (درمختار ج ۲ ص ۳۰۲) جو نبی کو فر ہو گیا اور شامی میں ہے: القتل على وجه كونه حدا ولذا حدا لا يسقط بالتوبة فهو عطف هى مقبولة كمافى البحر .

(شامی ج ۲ ص ۲۳۶)

نبی کو گالی دینے والی اگر عورت ہو اسے بھی قتل کر دیا جائے گا واستدل محمد لبيان قتل المرءة اذا اعلنت بشتم الرسول ﷺ بما روی ان عمر ابن عدی لما سمع عصماء بنت مروان توذى الرسول فقتلها ليلا مدحه ﷺ علی ذالک کتاب السیر. الذخيرة الالعیینیہ لابن کمال پاشا (درمختار ج ۲ ص ۳۰۴)

یعنی امام محمد نے رسول اللہ ﷺ کو باعلان واظہار گالی دینے والی عورت کے قتل کے بیان پر اس سے استدلال فرمایا کہ عمر بن عدی رضی اللہ عنہ نے جب عصماء بنت مروان سے سنا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو ایذاء پہنچاتی ہے تو اسے رات کو قتل کر دیا تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن عدی کی مدح فرمائی۔

شامی میں ہے:

هذا الاستدلال من الامام محمد رحمة الله عليه على جواز قتل المرأة من اهل الحرب كما ذكر فى السير الكبير فيدل على جواز قتل الذمى المنهى عن قتله بعقد الذمة اذا اعلن بالشتم ايضا و استدل لذالك فى شرح السير الكبير بعدة احاديث منها حديث ابی اسحق قال جاء رجل الى النبى ﷺ وقال الهمدانی انی سمعت امراة من يهود وهی تشتمک والله یا رسول الله انها لمحسنة الى فقتلتها فهدر النبى دمها.

(رد المحتار ج ۳ ص ۳۰۶)

یعنی مذکورہ بالا حدیث سے عمر بن عدی کا یہ استدلال امام محمد نے کتاب السیر میں جو ظاہر الروایہ سے ہے فرمایا کہ عورت جب رسول اللہ ﷺ کو علی الاعلان سب کرے تو اس کے قتل کا جواز ثابت ہے تو یہ اہل حرب کی عورتوں کو قتل کرنے کی نہی اور رکاوٹ سے مستثنیٰ ہے جیسا کہ انہوں نے سیر کبیر میں فرمایا تو یہی حدیث ذمی مرد کے قتل پر بھی دلیل ہے جس کو بوجہ معاہدہ ذمہ قتل سے روکا گیا جب وہ سرکار دو عالم ﷺ کو علانیہ سب کرے تو اسے بھی قتل

صفحہ 148

کرنا جائز ہے شرح سیر کبیر میں ہے اور اس امر پر کئی احادیث سے استدلال کیا گیا جن میں سے ایک ابو اسحق ہمدانی کی روایت ہے کہ ایک صحابی رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوئے عرض کی ایک عورت یہودیوں میں سے ہے اور اللہ کی قسم وہ میری محسنہ ہے میں نے اس سے سنا کہ وہ آپﷺ کو سب وشتم بک رہی تھی تو میں نے اسے قتل کر دیا تو رسول اللہﷺ نے اس عورت کا خون رائیگاں قرار دیا۔

مست اگر کلمہ کفر بکے اس پر مرتد ہونے کا حکم نہیں لگتا مگر جو مست نبی کریمﷺ کو گالیاں دے اس پر مرتد ہونے کا حکم نافذ ہو گا۔ درمختار میں ہے:

لا تصح ردة السکران الا الردة بسب النبیﷺ فانہ یقتل

ولا یعفی عنہ. (درمختار علی ھامش رد المحتار ج ۴ ص ۲۲۲)

اور اشباہ میں ہے کہ صحیح نہیں مرتد ہونا مست کا مگر نبی کریمﷺ کو گالی دینے والے کا ارتداد صحیح ہے اس واسطے کہ وہ قتل کیا جائے گا اور اس کا قصور معاف نہ کیا جائے گا۔

مسلمانوں پر رسول اللہﷺ کی تعظیم فرض ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وتعزروہ وتوقروہ۔ رسول کی تعظیم کرو اور توقیر کرو (فتح آیت ۹)

اور نصرت بھی فرض (ولنصروہ الاعراف ۱۵۷)

بلکہ تمام رسل کی تعظیم کرنا فرض ہے۔

وامنتم برسلی وعزرتموھم

اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو۔ قرآن محض کافر کو تو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے لیکن گستاخ کو زندہ رہنے کا حق نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ کو انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ میں ایسا لفظ زبان پر جاری کرنا بھی پسند نہیں جس میں کسی نبی کی گستاخی کا ادنیٰ شائبہ بھی پایا جائے جیسا کہ ارشاد ہے:

صفحہ 149

يايها الذين امنوا لاتقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا وللكافرين عذاب الیم. (البقره. ۱۰۴) (ترجمہ) اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کیلئے دردناک عذاب ہے اور ارشاد فرمایا

ان الذين يوذون الله ورسوله لعنهم الله فى الدنيا والاخرة واعدلهم عذابا مهينا . (الاحزاب .۵۸) (ترجمہ) بے شک جو تکلیف دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کیلئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

گستاخ رسول کی سزا حد قتل ہے اگر وہ علانیہ گستاخی کرتا ہے یا گستاخی میں مشہور ہے یا بار بار گستاخی کا مرتکب ہو چکا ہے تو اس کو حد قتل کے ساتھ عبرت کیلئے امام سولی پر بھی لٹکا سکتا ہے تا کہ دوسروں کو عبرت ہو جیسا کہ ڈاکوؤں کے بارے میں سورہ النساء آیت ۳۳ میں مذکور ہے نیز جس شخص پر نصاب گواہی نہ ہونے کے بنا پر گستاخی کی حد جاری نہ ہو سکے اور قرائن سے معلوم ہوا کہ اس نے گستاخی کی ہے اس کو حداً قتل تو نہیں کیا جائے گا البتہ تعزیر اس کو ضرور لگائی جائے گی۔

واللہ اعلم بالصواب

علی احمد سندیلوی غفرلہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

قارئین کرام ! فقہائے احناف کا موقف آپ کے سامنے ہے اس سے یہ حقیقت بالکل بے نقاب ہو رہی ہے کہ گستاخ رسول ﷺ کی توبہ سے اس کا قتل معاف نہیں ہوگا وہ ہر حال میں واجب القتل ہی ٹھہرے گا اگر کوئی قول ان اقوال کے خلاف بھی ثابت ہو جائے تو اسے ہم شاذ قرار دیں گے اور فتویٰ انہیں اقوال کی روشنی میں دیا جائے گا کہ توہین رسالت کا مرتکب ہر حال میں واجب القتل ہے۔

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

صفحہ 150

شاتم رسول ﷺ کی توبہ اور فقہائے مالکیہ کا موقف

قاضی عیاض مالکی اندلسی لکھتے ہیں:

و من رواية ابي المصعب وابي اويس سمعنا مالكا يقول من سب رسول الله ﷺ او شتمه او عابه او تنقصه قتل مسلما كان او كافرا ولا يستتاب وفي كتاب محمد اخبرنا اصحاب مالک انه قال من سب النبی ﷺ او غيره من النبيين من مسلم او كافر قتل ولم يستتب ...... قال عبدالله بن عبد الحكيم من سب النبی ﷺ من مسلم او کافر قتل ولم يستتب وحكى الطبرى مثله عن اشهب عن مالک. (1)

"ابوالمصعب اور ابواویس کہتے ہیں کہ ہم نے امام مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو بھی حضور ﷺ کو سب وشتم کرے یا آپ ﷺ کی ذات اقدس میں عیب نکالے، یا آپ ﷺ کی تنقیص کرے وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی کتاب محمد میں ہے کہ اصحاب مالک کہتے ہیں کہ امام مالک نے فرمایا کہ جو حضور ﷺ یا کسی نبی علیہ السلام کو گالی دے اسے قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی عبداللہ بن عبدالحکیم کہتے ہیں کہ جو بھی حضور ﷺ کو گالی دے وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔ طبری نے اشہب سے اور انہوں نے امام مالک سے ایسے ہی روایت کیا ہے"۔

علامہ عبدالرحمٰن الجزیری الفقہ علی المذاہب الاربعہ کی کتاب النکاح میں اسی پس منظر میں فرماتے ہیں:

(1) الشفاء ج 2 ص 216۔

صفحہ 151

قادیانی گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا تو جناب محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

لکیہ کا موقف

اویس سمعنا مالكا يقول من سب تنقصه قتل مسلما كان او كافرا نا اصحاب مالك انه قال من سب م او كافر قتل ولم يستتب ...... قال النبی ﷺ من مسلم او کافر قتل ولم عن مالک۔ (1) کہ ہم نے امام مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ﷺ کی ذات اقدس میں عیب نکالے، یا اسے قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول لوگ کہتے ہیں کہ امام مالک نے فرمایا کہ جو قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہ کی حضور ﷺ کو گالی دے وہ مسلمان ہو یا کافر کے طبری نے اشھب سے اور انہوں نے ب الاربعہ کی کتاب النکاح میں اسی پس

ومن الامور المكفرة التي لاتقبل التوبة عند المالكية سب النبي ﷺ او التعريض بمقامه الكريم..... لايسقط عنه القتل بالتوبة او الرجوع الى الاسلام لان سبه ﷺ جزائه الاعلام حداً والحدود لا تسقط بالتوبة

”مالکی حضرات کے نزدیک بعض ایسے کفریہ امور ہیں جن میں توبہ قبول نہیں کی جاتی۔ وہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینا یا آپ ﷺ کے علو مرتبت پر تنقید کرنا ہے۔۔۔۔۔۔ توبہ یا اسلام کی طرف رجوع کرنے سے اس کا قتل معاف نہیں ہوگا کیونکہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کی سزا بطور حد اسے ہلاک کرنا ہے اور حدیں توبہ سے معاف نہیں ہوتیں۔“

علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:

فاعلم ان مشهور مذهب مالك واصحابه وقول السلف وجمهور العلماء قتله حداً لا كفرا، ان اظهر التوبة منه ولهذا لاتقبل عندهم التوبة.

”جان لو کہ امام مالک ان کے اصحاب، سلف اور جمہور علماء کا قول یہی ہے کہ ساب الرسول کو حدًا قتل کیا جائے گا۔ پس ان کے نزدیک اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی“۔ (1)

قاضی عیاض مالکی اسی پس منظر میں لکھتے ہیں:

قال الشيخ ابو الحسن القالبي رحمه الله اذا اقر السب وتاب منه واظهر التوبة قتل بالسب لانه هو حده وقال ابو محمد ابن زيد مثله بينه وبين الله توبته تنفعه.(2)

”شیخ ابوالحسن قالبی نے فرمایا کہ جب کسی شخص نے حضور ﷺ کو گالی دینے کا اقرار کیا اور اس کے بعد توبہ کر لی اور توبہ کا اظہار کیا تو اس کو گالی کے سبب قتل کیا جائے گا

(1) رسائل ابن عابدین ج1 ص 318۔

(2) الشفا ج2 ص 256

صفحہ 152

کیونکہ یہ اس کی حد ہے ابو محمد بن ابو زید نے بھی یہی کہا ہے البتہ اس کی توبہ اسے آخرت میں نفع دے گی۔

مذکورہ بالا عبارات سے واضح ہوا کہ فقہائے مالکیہ کے نزدیک بھی توہین رسالت کے مرتکب کو توبہ کر لینے کے باوجود بھی قتل کیا جائے گا۔

شاتم رسول ﷺ کی توبہ اور فقہائے شافعیہ کا موقف

علامہ ابن حجر مکی عسقلانی شافعی فرماتے ہیں:

نقل ابن المنذر الاتفاق على ان من سب النبی ﷺ صریحا واجب قتله و نقل ابوبکر الفارسی احد ائمة الشافعیه فی کتاب الاجماع على ان من سب النبی ﷺ مما هو قذف صریح کفر باتفاق العلماء فلو تاب لم يسقط عنه القتل لان حد قذفه القتل لا يسقط بالتوبة.

علامہ ابن منذر نے نقل کیا ہے کہ اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ کو صراحتاً گالی دی اسے قتل کرنا واجب ہے ابوبکر فارسی جو کہ ائمہ شافعیہ میں سے ہیں نے کتاب الاجماع میں لکھا ہے کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ کو قذف صریح کے ساتھ گالی دی اس کے کفر پر علماء کا اتفاق ہے اگر وہ توبہ کرے تب بھی اس سے قتل ساقط نہیں ہو گا کیونکہ یہ حد قذف ہے اور حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی“۔

علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں:

مالك و الشافعي و احمد ابن حنبل و ليث ابن سعد و سائر العلماء العظام فلا تقبل توبتهم ولا يعتبر اسلامهم و يقتلون حداً (۱)

(۱) تنقیح حامدیہ ج ۱ ص ۱۰۵

ص ۱۰

صفحہ 153

”امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، لیث بن سعد اور دیگر تمام اکابر علماء کا موقف یہی ہے کہ ایسے آدمی کی توبہ اور اسلام قبول نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے بطور حد قتل کیا جائے گا،،

اس سے بخوبی واضح ہو رہا ہے کہ فقہائے شافعیہ کے نزدیک بھی توہین رسالت کا مرتکب توبہ کے باوجود واجب القتل ہی رہے گا۔

شاتم رسول ﷺ کی توبہ اور فقہائے حنابلہ کا موقف

علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

قال الامام احمد فى رواية حنبل كل من شتم النبى ﷺ كان مسلما او كافرا فعليه القتل وارى ان يقتل ولا يستتاب ...... قال عبدالله سألت ابى عمن شتم النبى ﷺ قال قد وجب عليه القتل ولا يستتاب خالد ابن وليد قتل رجلا شتم النبى ﷺ ولم يستتبه. (۱)

”حنبل کی روایت کے مطابق امام احمد نے فرمایا کہ جو بھی حضور ﷺ کو گالی دے وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اور میرا خیال ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے اور اسکی توبہ بھی قبول نہ کی جائے ........ عبداللہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد (امام احمد) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے حضور ﷺ کو گالی دی کہ کیا اسکی توبہ قبول کی جائے گی تو انہوں نے فرمایا۔ اس کا قتل واجب ہو چکا اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ حضرت خالد بن ولید نے ایک شاتم رسول ﷺ کو قتل کیا اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا۔“

علامہ موصوف مزید لکھتے ہیں:

ان الامام احمد قال لاتقبل توبة من شتم النبى ﷺ لان المعرة تلحق النبى ﷺ بذلك وكذلك قال ابن عقيل قال اصحابنا فى سب

(۱) الصارم المسلول ص ۲۹۶

صفحہ 154

النبي ﷺ لانه لا تقبل توبته من ذالك لما تدخل من المعرة من السب على النبي ﷺ وهو حق آدمى ولا يعلم اسقاطه . (۱)

”امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ جو حضور ﷺ کو گالی دے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ اس سے حضور ﷺ کو عار لاحق ہوتی ہے ایسے ہی ابن عقیلؒ نے کہا ہمارے اصحاب سب رسول ﷺ کے متعلق کہتے ہیں کہ ایسے شخص کی توبہ قبول نہ کی جائے کیونکہ گالی سے رسول کریم ﷺ کو عار لاحق ہوتی ہے۔ نیز دشنام طرازی آدمی کا حق ہے اس کے متعلق معلوم نہیں کہ اس نے اسے معاف بھی کیا ہے یا کہ نہیں“۔

چند سطور کے بعد علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

وكذالك ذكر جماعات آخرون من اصحابنا انه يقتل ساب النبي ﷺ لا تقبل توبته سواء كان مسلما او كافرا

”ہمارے اصحاب (حنابلہ) کی دیگر جماعتوں نے کہا ہے کہ حضور ﷺ کے دشنام دہندہ کو قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی وہ مسلمان ہو یا کافر“۔

قارئین محترم! مذکورہ بالا عبارات سے حنبلی حضرات کا نقطہ نظر بالکل واضح ہے کہ وہ توہین رسالت کے مرتکب کی توبہ کو قبول نہیں کرتے۔ بلکہ اسے ہر حال میں واجب القتل ہی گردانتے ہیں۔

خلاصہ بحث

فقہائے امت کا موقف آپ نے ملاحظہ فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا توبہ نہ کرے اور اپنی بات پر ڈٹا رہے جیسے ہمارے زمانہ میں شیطان رشدی اور تسلیمہ نسرین وغیرہ اپنی کفریہ تحریروں پر ڈٹے ہوئے ہیں

(۱) نفس مصدر ص ۲۹۷

صفحہ 155

تو اس کے واجب القتل ہونے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں ہے بلکہ ائمہ اربعہ کے نزدیک وہ واجب القتل ہے لیکن اگر وہ اپنے نظریات سے توبہ کر لیتا ہے تو پھر آئمہ کرام کے نقطہ نظر کا خلاصہ یہ ہے:

امام مالک اور امام احمد بن حنبل کے قول کے مطابق شاتم رسول ﷺ کے توبہ کرنے کے باوجود بھی اسے قتل کیا جائے گا ہاں اگر وہ صدق دل سے توبہ کرتا ہے تو اللہ اسے آخرت میں اجر دے گا لیکن توبہ کر لینے سے اس کا قتل قطعاً معاف نہیں ہوگا۔

امام ابو حنیفہ اور امام شافعیؒ کے مشہور قول کے مطابق بھی اس کی توبہ قبول نہ ہوگی بلکہ وہ واجب القتل ہی ٹھہرے گا۔

لیکن آپ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر وہ قبل الاخذ توبہ کرلے تو اس کا قتل معاف ہو جائے گا۔

علامہ شامی اس پس منظر میں لکھتے ہیں:

فعند ابی حنیفۃ تقبل فلا یقتل وعند بقیۃ الائمۃ لا تقبل ویقتل حداً (۱)

”امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اسے قتل نہیں کیا جائے گا باقی ائمہ کے نزدیک اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اسے بطور حد قتل کیا جائے گا“۔

لیکن ہم آپ کے عدم قبول توبہ کے قول کو محکم اور قبول توبہ کے اس قول کو شاذ قرار دیں گے اور فتویٰ عدم قبول توبہ کے قول پر ہی دیا جائے گا۔

اس کی درج ذیل وجوہات ہیں:

ہی فقہائے امت کی اکثریت کے موافق ہے۔

(۱) ردالمحتار ج ۴ ص ۲۳۶

صفحہ 156

جیسے امام مالک، علامہ ابن تیمیہ، علامہ شامی، ابوسلیمان خطابی، امام ابن ہمام اور امام خیرالدین رملی کے حوالے سے گزر چکا ہے ان کے اقوال کی صداقت اسی وقت متحقق ہو سکتی ہے کہ قبول توبہ کے قول کو شاذ قرار دیا جائے۔

کے حوالے سے گزر چکا ہے۔ تو ظاہر ہے کہ فتویٰ مشہور قول پر ہی ہوگا نہ کہ کسی ایک قول پر

اس صدی کے مشہور حنفی سکالر مولانا سید محمد متین ہاشمی اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے آخر میں رقمطراز ہیں:

”ان سارے دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ سب النبی ﷺ میں حق اللہ کے ساتھ حق العبد بھی شامل ہے۔ اس لیے یہ گناہ توبہ سے معاف نہیں ہو سکتا۔ آیات قرآنی، احادیث رسول ﷺ اجماع صحابہؓ اور اجماع فقہاء کے مقابلہ میں استتابت کا ایک قول امام ابو حنیفہ سے ملتا ہے لیکن یہ اصول فقہ کا ایک قاعدہ ہے کہ اگر اجماع صحابہؓ اور اجماع ائمہ بمع ایک قول امام ابو حنیفہ کے مل جائے تو امام صاحب کے اس قول کو ترک کر دیا جائے گا جو مذکورہ اجماعات کے خلاف ہو اور اس قول کو ترجیح دی جائے گی جو اجماعات کا مؤید ہو اس طرح ایک مسئلہ پر فقہائے امت کا اجماع منعقد ہو جائے گا۔ (۱)

کل جس طرح لادینیت کی ہوا چلی ہوئی ہے یورپ کی تہذیب سے مرعوب کچھ مسلمان جس طرح اسلامی تعلیمات کی مضحکہ خیز تعبیرات کر رہے ہیں اگر اس قول کو اختیار نہ کیا جائے تو

(۱) مضمون منقول از ناموس رسالت ص ۲۰۴

صفحہ 157

مقام نبوت ﷺ کا تحفظ ناممکن ہو جائے گا کیونکہ کوئی بھی دریدہ دہن گستاخی کرے گا اور پھر ’’توبہ‘‘ کرے گا۔ تو سد ذرائع کی حکمتیں بھی اس کی متقاضی ہیں کہ عدم قبول توبہ کے قول کو ہی محکم قرار دیا جائے اور اسی پر فتویٰ دیا جائے۔

اور یہ چیز بھی ملحوظ خاطر رہے کہ فقہائے احناف کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ بوقت ضرورت دوسرے امام کے قول پر عمل ہو سکتا ہے جیسے مفقودالخبر خاوند کے مسئلہ میں آج کل عموماً امام مالکؒ کے قول پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ تو اگر امام ابو حنیفہؒ کا کوئی قول عدم قبول توبہ کا نہ بھی ہوتا تب بھی حالات زمانہ اسی کے متقاضی تھے کہ عدم قبول توبہ کے قول پر ہی فتویٰ دیا جائے۔ اب جبکہ امام صاحب کا ایک قول بھی عدم قبول توبہ کا ہے تو پھر بدرجہ اولیٰ اسی قول پر فتویٰ دیا جائے گا۔

ہاں یہ حقیقت ہے کہ اگر کوئی توبہ کر لیتا ہے تو اس سے اس کا قتل تو ساقط نہ ہوگا البتہ اس پر مسلمان میت کے احکام نافذ ہوں گے جیسا کہ علامہ حقی الحنفیؒ لکھتے ہیں:

فالمختار ان من صدر منه ما يدل على تخفيفه عليه السلام بعمد وقصد من عامة المسلمين يجب قتله ولا تقبل توبته بمعنى الخلاص من القتل وان اتى بكلمة الشهادة والرجوع والتوبة لكن لو مات بعد التوبة او قتل حداً مات ميتة الاسلام في غسله وصلاته و دفنه ولو اصر على السب و تمادى عليه وابى التوبة منه فقتل على ذالك كان كافرا وميراثه للمسلمين ولا يغسل ولا يصلى عليه ولا يكفن بل تستر عورته ويوارى كما يفعل بالكفار (۱)

’’اور مختار قول یہ ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسی بات کہے جو حضور ﷺ کی شان میں گستاخی پر دلالت کرے تو اس کو قتل کرنا واجب ہے اور اس کی توبہ

(۱) تفسیر روح البیان ج۳ ص۴۹۴

صفحہ 158

سے اس کا قتل معاف نہیں ہوگا۔ اگرچہ وہ کلمہ شہادت پڑھے اپنے قول سے رجوع کرے یا توبہ کرے لیکن اگر وہ توبہ کے بعد مر گیا یا اسے بطور حد قتل کیا گیا تو اس پر مسلمان میت کے احکام نافذ ہوں گے۔ اس کو غسل دیا جائے گا۔ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اسے دفن کیا جائے گا لیکن اگر وہ اپنی گستاخی پر ڈٹ جائے اور توبہ سے انکار کر دے تو اس طریقے سے اس کی موت کفر پر سمجھی جائے گی اس کی وراثت مسلمانوں کیلئے ہوگی۔ اس کو غسل نہیں دیا جائے گا نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اور اسے کفن نہیں پہنایا جائے گا بلکہ اس کی شرمگاہ ڈھانپ دی جائے گی اور اس پر مٹی ڈال کر اسے چھپا دیا جائے گا۔ جیسا کہ کافروں کے ساتھ کیا جاتا ہے“۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ائمہ اربعہ کے نزدیک شاتم رسول ﷺ کے توبہ کر لینے سے اس کا قتل معاف نہیں ہوگا بلکہ وہ واجب القتل ہی ٹھہرے گا۔ اگر وہ خلوص نیت سے توبہ کرتا ہے تو اس پر مسلمان میت کے احکام نافذ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اسے آخرت میں اجر عطا فرمائے گا۔

هذا ما عندی والله تعالىٰ اعلم بالصواب

صفحہ 159

توہین رسالت کی سزا پر اعتراضات

کا ایک تحقیقی جائزہ

صفحہ 160

قرآن و سنت اور اجماع امت کی روشنی میں یہ بات طے شدہ ہے کہ توہین رسالت کا مرتکب واجب القتل ہے، اگر وہ توبہ بھی کرے تو اس کا قتل معاف نہیں ہوگا البتہ توبہ اسے آخرت میں نفع دے گی جیسا کہ گذشتہ صفحات میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔

لیکن اس سزا پر بسا اوقات غیر مسلم حضرات اور کچھ متجددین مسلمان بھی عجیب و غریب قسم کے اعتراضات کرتے ہیں ان کے اعتراضات پر ایک جائزہ پیش خدمت ہے۔

اقول وباللہ التوفیق

اعتراض:

کہا جاتا ہے کہ حضور ﷺ تو رحمۃ اللعالمین ہیں تو آپ نے اپنے شاتمین کو قتل کیوں کروایا؟ کیا یہ سزا رحمۃ اللعالمین ہونے کے منافی نہیں ہیں۔

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضور سید عالم ﷺ شان رحمۃ اللعالمین سے اس خاکدان گیتی میں جلوہ افروز ہوئے لیکن معترضین کو یہ کس نے بتا دیا کہ مجرم کو اس کے جرم کی سزا دینا اور کائنات میں امن قائم کرنے کیلئے کسی مجرم پر حد قائم کرنا شان رحمۃ اللعالمین ﷺ کے خلاف ہے۔

یہ تو ایسے ہی ہے کہ کوئی یہ کہے کہ جب اللہ تعالیٰ رحمن اور رحیم ہے تو اس نے قوم لوط، قوم صالح، قوم شعیب اور دوسری ان گنت نافرمان قوموں کو عذاب بھیج کر تباہ و برباد کیوں کر دیا اور وہ کافروں کو ہمیشہ دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں کیوں جلائے گا؟

اگر کافروں اور مشرکوں کو تباہ و برباد کر دینا اور انہیں ہمیشہ دوزخ کی آگ میں جلانا اللہ تعالیٰ کے رحمن و رحیم ہونے کے منافی نہیں ہے تو ایک دریدہ دہن توہین رسالت

صفحہ 161

کے مرتکب کو کیفر کردار تک پہنچا کر معاشرہ میں امن اور سکون قائم کرنا رحمۃ للعالمین ہونے کے منافی کیسے ہوسکتا ہے؟

مثلاً ملعون رشدی نے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی شان اقدس میں جو بکواسات بکے ہیں۔ ان سے کروڑوں مومنوں کے دلوں کا سکون واطمینان برباد ہو گیا ہے علاوہ ازیں ملعون کے حامی بھی رسول مطلق ﷺ کی گستاخی پر تڑپ اٹھے ہوں گے اور ایذاء رسول ﷺ دراصل ایذاء الٰہی ہی ہے تو اب دو ہی صورتیں ہیں :

یا تو ملعون رشدی کو سزا نہ دے کر کروڑوں انسانوں کا سکون برباد کر دیا جائے اور پوری دنیا میں بسنے والے جملہ غلامان مصطفیٰ ﷺ کو بے چین اور مضطرب رہنے دیا جائے یا اسے سزا دیکر کروڑوں انسانوں ، لا محدود ملائکہ اور خود رب دوجہاں کی رضا کا سامان کیا جائے۔

ظاہر ہے ایک انسان کو اس کے جرم کی سزا دے کر کروڑوں انسانوں اور ان گنت ملائکہ کو سکون واطمینان کی دولت سے مالا مال کرنا ہی شان رحمۃ للعالمین کا تقاضا ہے۔

اگر ایسے دریدہ دہن اور منہ پھٹ درندے کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے تو ایک گندی مچھلی نہ جانے کتنے تالابوں کو گندہ کرے گی اور اسے سزا سے محفوظ دیکھ کر نہ جانے کتنے بد بخت اپنے سینوں میں چھپے ہوئے بغض و تعصب کا اظہار کرنے لگیں گے جس سے دنیا میں لا محدود پیمانے پر فساد پھیلے گا۔ جیسے بازو بچانے کے لیے گلی سڑی انگلی کو کاٹ دینا ہی قرین دانشمندی ہے ایسے ہی معاشرہ کو سلامت رکھنے کیلئے ایک منہ پھٹ درندے کو قتل کر دینا ہی شان رحمۃ للعالمین کے عین مطابق ہے۔

اعتراض :

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سزا غیر مسلموں کے سر پر ننگی تلوار ہے اور غیر مسلموں کے خلاف ایک سازش ہے۔

صفحہ 162

جواب:

اسلام غیر مسلموں کو اپنی ریاست میں جس قدر حقوق دیتا ہے اور جیسے ان کی جان و مال کا تحفظ کرتا ہے کسی دوسرے مذہب میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ غیر مسلم اس ذات اقدس کو بھی گالیاں دینا شروع کر دیں جس کے صدقے وہ امن اور سکون کی زندگی گزار رہے ہیں مسلمان نہ کسی پیغمبر علیہ السلام کی توہین کرتا ہے اور نہ اپنے پیغمبر ﷺ کی توہین برداشت کرتا ہے۔

جو شریف النفس غیر مسلم شرافت سے رہتے ہیں اسلام ان کے جان و مال کی ایسے ہی حفاظت کرتا ہے جیسے اہل اسلام کے جان و مال کی۔ لیکن غیر مسلموں کو آخر کیا پڑی ہے؟ جو پیغمبر اسلام ﷺ پر طعن وتشنیع ہی کریں گے تو ان پر یہ سزا نافذ ہوگی۔ وہ شرافت سے رہیں تو وہ اس سزا کے مستحق کیوں ٹھہریں گے؟

اور پھر یہ سزا صرف غیر مسلموں کیلئے ہی تو نہیں اگر کوئی بدبخت مسلمان بھی ایسا کرے گا تو اسے بھی یہی سزا دی جائے گی جیسے ماضی قریب میں ملعون رشدی اور تسلیمہ نسرین یہ دونوں بدبخت مسلمان ہونے کے مدعی ہیں دونوں اس سزا کے مستحق ہیں۔ تو جب اس سزا میں مسلم اور غیر مسلم دونوں برابر ہیں تو پھر یہ تلوار آخر غیر مسلموں کے سر پر ہی کیوں لٹک رہی ہے؟

اور یہ حقیقت بھی ملحوظ خاطر رہے کہ یہ سزا صرف حضور ﷺ کے گستاخ کیلئے ہی نہیں ہے بلکہ کسی بھی پیغمبر علیہ السلام کی توہین کرنے والے کیلئے ہے۔ جو کسی بھی پیغمبر کی توہین کرے گا وہ واجب القتل ہوگا یہ قانون تو ہر پیغمبر علیہ السلام کی عزت کا محافظ ہے۔

عیسائی حضرات کو تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عزت بھی محفوظ ہوگئی نہ یہ کہ وہ اسے ننگی تلوار قرار دیں جیسا کہ طارق قیصر نے کہا:

”اسلام آباد ( دوران توہین رسالت ﷺ قانون پر بحث شروع ہو مسلموں کے خلاف استعما مسلموں اور خاص طور پر مسیح اور بائبل کی رو رسول کی گستاخی کی سزا بھی آخر کیا ضرورت ہے؟ اور حقوق انسانی رہی ہیں تعجب ہے کہ وہ در بے حس قاتل تو انہیں حقوق نظر کیوں نہیں آتا جو فلسطی اندھے ہو جاتے ہیں جو کش لاشیں اور سسکتے بچے انہیں صفت انسانوں کے ظلم کی

اعتراض

یہ بھی کہا آڑ میں ذاتی بدلے (۱) روزنامہ جنگ

صفحہ 163.

"اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) قومی اسمبلی میں جمعرات کو قانون سازی کے دوران توہین رسالت ﷺ کے مجرموں کو عمر قید کی بجائے سزائے موت دینے کے مسودہ قانون پر بحث شروع ہوئی۔ اقلیتی ارکان نے خدشے کا اظہار کیا کہ اس قانون کو غیر مسلموں کے خلاف استعمال کیا جائے گا......... اقلیتی رکن طارق قیصر نے کہا کہ یہ بل غیر مسلموں اور خاص طور پر مسیحیوں کیلئے ننگی تلوار ہے۔ (1)

اور بائبل کی روشنی میں گزر چکا ہے کہ بائبل کی روشنی میں رسول تو کجا نائبین رسول کی گستاخی کی سزا بھی قتل ہے۔ تو پھر سمجھ نہیں آتی کہ عیسائیوں کو یہ شور و غوغا کرنے کی آخر کیا ضرورت ہے؟

اور حقوق انسانی کی جو تنظیمیں اس قانون کو انسانی حقوق کے منافی قرار دے رہی ہیں تعجب ہے کہ وہ دریدہ دہن جس نے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے اس کا قتل تو انہیں حقوق انسانی کے خلاف نظر آتا ہے لیکن انہیں آگ اور خون کا وہ کھیل نظر کیوں نہیں آتا جو فلسطین میں کھیلا جا رہا ہے خون کی وہ بہتی ندیاں دیکھنے سے وہ کیوں اندھے ہو جاتے ہیں جو کشمیر اور عراق میں بہائی جا رہی ہیں جلے گھر، لٹی عصمتیں ، تڑپتی لاشیں اور سسکتے بچے انہیں کیوں نظر نہیں آتے جو عراق، افغانستان، بوسنیا اور چیچنیا میں درندہ صفت انسانوں کے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔

بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بوالعجبیست

اعتراض

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس قانون کو ذاتی دشمنی کیلئے استعمال کیا جائے گا اور اس کی آڑ میں ذاتی بدلے لیے جائیں گے۔

(1) روزنامہ جنگ کراچی ۱۷ اگست ۱۹۹۲ء

صفحہ 164

جواب:

یہ اعتراض کرنے والوں نے شاید اسلام کے قانون عدل کا مطالعہ نہیں کیا۔ اسلام یہ تو نہیں کہتا کہ یونہی کسی نے جا کر کہا کہ فلاں آدمی نے فلاں جرم کیا ہے تو قاضی کہے کہ مجرم کو پکڑو اور قتل کر دو۔ بلکہ جرم کو ثابت کرنے کے لیے مدعی کو گواہ پیش کرنے پڑیں گے۔ اگر نصاب شہادت پورا نہ ہوا تو حد ساقط ہو جائے گی۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے تو یہاں تک فرمایا اِدرؤا الحدود بالشُبہاتِ کہ شبہات کی وجہ سے بھی حدود کو معاف کردو۔

اگر مدعی ثابت ہو جائے تو وہ مستوجب سزا ہوگا۔ اس تناظر میں دیکھیں کہ اس اعتراض کی کیا حقیقت باقی رہ جاتی ہے اور اس قانون کو ہی محل تنقید کیوں بنایا جارہا ہے۔ کیا دیگر قوانین کی آڑ میں ذاتی دشمنیاں نہیں چلتیں۔ کیا قتل، چوری اور زنا کے جھوٹے مقدمات درج نہیں ہوتے تو اس غلط روش کا حل یہ نہیں کہ اس قانون کو ہی ختم کر دیا جائے۔ بلکہ مکمل اسلامی نظام عدل کی روش میں اس کا فیصلہ کیا جائے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ حیلے بہانوں سے اس قانون میں اتنی سختی کر دی جائے کہ عملی طور پر یہ قانون بے اثر ہو کر رہ جائے جیسے ایک سابقہ حکومت نے اس قانون کو بے اثر کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارے۔ کہ اس جرم کا مقدمہ عام تھانوں میں درج نہیں ہو سکے گا۔ بلکہ ڈی۔سی۔ درج کرے گا۔ جس کا تذکرہ مظفر وارثی نے یوں کیا ہے۔

جو عام شخص سے کوئی کرے گا بدگوئی
تو ہاتھ اس کے گلے پر پولیس کا ہو گا
زبان دراز کرے گا کوئی نبی ﷺ کے خلاف
تو پہلے ڈپٹی کمشنر سے پوچھنا ہو گا

تعجب ہے کہ جب قائد اعظم کی توہین کا مقدمہ عام تھانے میں فوری درج ہو سکتا

صفحہ 165

ہے تو پیغمبر انقلاب ﷺ کی توہین کا مقدمہ درج کرنے میں یہ تذبذب اور لیت و لعل کیوں؟ کہیں یہ دل میں چھپی ہوئی لادینیت کا ڈرتے ڈرتے اظہار تو نہیں۔

اعتراض:

ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اگر شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہی تھا تو عہد نبوت میں ان یہودیوں کو قتل کیوں نہ کیا گیا جو سلام کرتے وقت ”السام علیکم“ (تم پر موت آئے) کہتے تھے۔

جواب:

اس کے جواب میں پہلی گزارش تو یہ ہے کہ اسلام کے احکام بتدریجاً نافذ کیے گئے۔ یہ شروع اسلام کی بات ہے۔ اس وقت حضور نبی کریم ﷺ ان کی ایذاء رسانی پر صبر فرماتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا فرمایا تو پھر حضور اکرم ﷺ کے بہت سے گستاخوں کو قتل کیا گیا۔ جیسا کہ شروع میں جہاد فرض نہ تھا تو مسلمان کفار کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرتے تھے۔ جب جہاد فرض ہو گیا تو میدان جہاد میں سینکڑوں کافر مارے گئے۔

ایسے ہی پہلے حضور اکرم ﷺ ان کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرتے تھے۔ جب اسلام کو غلبہ نصیب ہوا تو بہت سے گستاخ قتل کیے گئے جیسے ابن خطل، اس کی دو لونڈیاں، کعب بن اشرف اور ابو رافع وغیرہ ہم۔ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اپنی توہین کرنے والے کو معاف کرنا یا اسے سزا دینا۔ یہ حق صرف نبی کریم ﷺ کو ہی حاصل تھا کہ وہ اپنے شاتم کو معاف کر دیں۔ جیسا کہ آپ نے ابی سرح کو معاف فرما دیا یا اپنے شاتم کو سزا دیں جیسا کہ ابن خطل وغیرہ کو قتل کروایا اب کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ حضور ﷺ کے شاتم کو معاف کرے۔ اب اسے صرف قتل ہی کیا جائے گا۔

صفحہ 166

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں: ان النبی ﷺ کان لہ ان یعفو عمن شتمہ و سبہ فی حیاتہ ولیس لامتی ان یعفو عن ذالک ۔ (۱) ”حضور سید عالم ﷺ کو اپنی حیات طیبہ میں یہ حق حاصل تھا کہ آپ اپنے شاتم کو معاف کر دیں لیکن آپ کے امتی کو معاف کرنے کا حق حاصل نہیں“۔

اعتراض:

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس قانون کے حامی صرف چند انتہا پسند اور کم علم لوگ ہیں۔ پڑھا لکھا طبقہ اس کی تائید نہیں کرتا۔

جواب:

یہ قانون اجماع امت کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ اگر بالفرض صرف علماء ہی اس کے حامی ہوتے تب بھی اس کی صداقت اور حقانیت میں ذرہ برابر شک نہیں تھا لیکن یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اس قانون کی صداقت کے معترف صرف علماء، فقہاء، انتہا پسند، اور ”جنونی ملاں“ ہی نہیں۔ بلکہ اچھے اچھے مغربی تعلیم یافتہ لوگ جنہوں نے روحِ اسلام کو ضائع نہ کیا۔ زمستانی ہوا کی تیزی بھی جن سے لندن میں آداب سحر خیزی نہ چھڑا سکی۔ جو یورپی تہذیب کے سامنے احساس کمتری کا شکار نہ ہوئے وہ اس قانون کی صداقت کو تسلیم کرنے میں برابر کے ”مجرم“ ہیں۔ کیا تاریخ اس حقیقت کو جھٹلا سکتی ہے کہ غازی علم الدین شہید کے مقدمہ قتل کی پیروی برصغیر کے چوٹی کے وکیل قائد اعظم محمد علی جناح نے کی تھی۔ کیا اس رقت انگیز اور کیف آور منظر کو فراموش کیا جا سکتا ہے جب غازی علم الدین کی شہادت پر علامہ اقبال نے رشک سے کہا تھا:

(۱) الصارم المسلول ص ۱۹۵

صفحہ 167

”اسیں گلاں کر دے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا“ اور وہ منظر بھی من کی دنیا میں ہمیشہ محفوظ رہے گا جب علامہ اقبال نے اشکبار آنکھوں سے غازی علم الدین شہید کو لحد میں اتارتے ہوئے یہ شعر پڑھا تھا۔

ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خون جن کا حرم سے بڑھ کر

اسی جرم میں ایک خانساماں نے ایک انگریز میجر کی بیوی کو قتل کر دیا۔ میاں سر محمد شفیع جو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن بھی تھے نے اس مقدمہ کی پیروی کی۔ دوران بحث ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ہائی کورٹ کے انگریز ججوں نے حیرت سے پوچھا سر شفیع! کیا آپ جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا بلند پایہ وکیل بھی اس طرح جذباتی ہو سکتا ہے۔ سر شفیع نے جواب دیا:

”جناب! آپ کو معلوم نہیں کہ ایک مسلمان کو اپنے پیغمبر ﷺ کی ذات سے کتنی گہری عقیدت اور محبت ہوتی ہے۔ سر شفیع بھی اگر اس وقت ہوتا تو وہ بھی یہی کر گزرتا جو کہ اس ملزم نے کیا ہے“۔ (۱)

جو اس قانون کو ملاں کی ”بنیاد پرستی“ کا نام دے رہے ہیں وہ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ کہیں وہ یورپی تہذیب کی تقلید میں احساس کمتری کا اس قدر شکار تو نہیں ہو گئے کہ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کیلئے ان کی زبانیں گنگ ہو گئیں ہیں الٹا غلامان رسول ﷺ پر طعن و تشنیع کے تیر برسا رہے ہیں۔ کل بروز حشر شفیع عاصیاں ﷺ کو بھی منہ دکھانا ہے۔ خدارا! چند روزہ زندگی کیلئے اپنی عاقبت برباد نہ کرو۔ قلندر لاہوری کی اس پکار پر کان دھرو۔

(۱) روزنامہ جنگ یکم اپریل ۱۹۹۵

صفحہ 168
دین ہاتھ سے دیکر اگر آزاد ہو ملت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ
توفیق عمل مانگ نیا گان کہن سے
شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را

اعتراض:

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کو سزا دینا انسانوں کا کام نہیں ہے بلکہ یہ کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔

ابوالبیان نامی ایک صاحب لکھتے ہیں:

”قرآن کریم نے نہایت حکیمانہ انداز سے توہین رسالت کے چیپٹر CHAPTER کو بند کیا ہے اور اس کی سزا کا معاملہ انسانوں کے ہاتھ میں نہیں دیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ میں رکھا ہے جیسا کہ فرمایا۔

انا کفیناک المستھزئین. الحجر : ۹۶ (۱)

”ہم تمہاری طرف سے ان استہزا کرنے والوں کیلئے کافی ہیں“۔

جواب:

مذکورہ آیہ طیبہ مکی دور میں نازل ہوئی جب اہل اسلام اپنے دشمنوں سے بدلہ لینے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اس آیہ کریمہ کا مفاد یہ ہے کہ اگر تم ان سے بدلہ نہ لے سکو تو ہم اس پر پوری طرح قادر ہیں اس سے یہ حکم مستنبط کرنا کہ شاتم رسول ﷺ کو سزا ہی نہ دینی چاہیے قرآن کی تفسیر نہیں تحریف معنوی ہے اور یہ استنباط ایسے ہی ہے کہ:

اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی

(۱) توہین رسالت کی سزا؟ ص ۱۶

صفحہ 169

اگر یہی مطلب ہوتا تو آخر نبی کریم ﷺ توہین رسالت کے مرتکب افراد کو سزا کیوں دلواتے۔ صحابہ کرامؓ انہیں قتل کیوں کرتے اور توہین رسالت کے مرتکب کے واجب القتل ہونے پر اجماع امت کیوں ہوتا۔ پوری امت کے نقطہ نظر کو چھوڑ کر ایک الگ راستہ کا انتخاب کرنا گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔

مفسرین کرام نے اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں جو کچھ لکھا وہ اس مفہوم کو بالکل واضح کر رہا ہے کہ اگر اہل اسلام اپنی کمزوری کے سبب ان سے بدلہ نہ لے سکیں تو اللہ تعالیٰ انہیں سزا دینے کیلئے کافی ہے نہ یہ کہ اس آیہ کریمہ سے یہ استنباط کیا جائے کہ اسے سزا دینی ہی نہیں چاہیے۔

امام قرطبی اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

”یہ مذاق کرنے والے رؤساء اہل مکہ میں سے پانچ شخص تھے ولید بن مغیرہ ان کا سردار تھا دوسرا عاص بن وائل تھا تیسرا اسود بن المطلب تھا چوتھا اسود بن عبد یغوث اور پانچواں حارث بن طلاطلہ تھا۔

اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کیا ان کا واقعہ ابن سحاق نے یوں بیان کیا ہے کہ جبریل علیہ السلام حضور ﷺ کے پاس آئے جب کہ یہ لوگ کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔ جبریل کھڑے ہو گئے آپ ﷺ بھی کھڑے ہو گئے۔ وہاں سے اسود بن عبدالمطلب گزرا۔ حضرت جبریل نے ایک سبز پتہ اسود کی طرف پھینکا۔ پس وہ اندھا ہو گیا اور اس کی آنکھ میں سخت درد ہونے لگا۔ اور وہ اپنا سر دیوار سے پٹکنے لگا پھر اسود بن عبد یغوث گزرا۔ حضرت جبریل نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے پیٹ میں پانی کی بیماری ہو گئی اور وہ پیٹ پھولنے سے مر گیا۔ پھر حارث بن طلاطلہ گزرا۔ حضرت جبریل نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے سر سے خون آنے لگا۔ وہ اسی سے مر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس آیت میں اس کا ذکر ہے“ (1)

(1) تفسیر قرطبی ج ۱۰ ص ۶۲ ۔ ۶۱

صفحہ 170

مولانا وحید الدین خاں جو خود اپنی کتاب ”شتم رسول کا مسئلہ“ میں اس آیہ کریمہ سے ایسا ہی استدلال کرتے ہیں جو ابوالبیان صاحب نے کیا۔ لیکن اپنی تفسیر میں ان کے قلم سے بھی یہی لکھا گیا۔

”ہر اس بات کو وہ (داعی) خدا کے حوالے کر دے جس سے نمٹنے کی طاقت وہ اپنے اندر نہ پاتا ہو“ (۱)

اگر اہل اسلام کمزور ہوں اور اللہ تعالیٰ ابابیل بھیج کر کعبہ کی حفاظت فرمائے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اہل اسلام کعبہ سے حفاظت سے ہی بری الذمہ ہو جائیں اور وہ کہیں کہ یہ تو خدا کا کام ہے۔

اس آیہ کریمہ سے مذکورہ استدلال بھی اسی نوعیت کا استدلال ہے۔

ہاں ایک لحاظ سے اس آیہ کریمہ کا حکم اب بھی باقی ہے اگر مسلمان اس سزا کے قائل تو ہوں لیکن کسی وجہ سے اس پر قادر نہ ہو سکیں جیسے ملعون رشدی کا معاملہ ہے تو یہ ملعون اللہ تعالیٰ کی سزا اور گرفت سے قطعاً نہ بچ سکیں گے۔

لیکن اس آیت سے اس سزا کے خلاف استدلال اپنی رائے کو قرآن پر مسلط کرنا ہے اور انہیں لوگوں میں شامل ہونا ہے جن کے متعلق اقبال نے کہا تھا

خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق

اعتراض:

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا کام صرف دوسروں کو دعوت دینا ہے انہیں توہین رسالت کے مجرموں کو سزا دینے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ مولانا وحید الدین خان نے اس مسئلہ پر بہت زور دیا ہے ایک مقام پر وہ لکھتے ہیں۔

(۱) تفسیر تذکیر القرآن ج ۱ ص ۷۰۶

صفحہ 171

”مذکورہ آیت (الحجر ۹۴) اور اس طرح کی دوسری قرآنی آیتوں سے واضح ہے کہ مسلمانوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پیغمبر کی لائی ہوئی تعلیمات کو لوگوں کے سامنے پیش کریں نہ یہ کہ پیغمبر ﷺ کے خلاف گستاخی کرنے والوں سے لڑائی لڑتے رہیں۔ پہلا کام اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ذمہ کیا ہے اور دوسرا کام اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جس کام کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ مؤثر طور پر اپنے ذمہ لے رکھا ہے اس کے لیے وہ بے فائدہ طور پر شور و غل کرتے ہیں اور جس کام کو اللہ نے خود ان کے ذمہ کیا ہے۔ اس کے لیے وہ متحرک نہیں ہوتے۔ اس نوعیت کی سرگرمی خدا کے مقابلہ میں سرکشی ہے نہ کہ خدا کے حکم کی تعمیل“ (۱)

جواب:

بادی النظر میں تو یہ بات بڑی اچھی لگتی ہے لیکن حقیقت میں یہ پرفریب الفاظ کا صرف ایک کھیل ہے۔ دعوت کی اہمیت و ضرورت سے انکار نہیں واقعی وہ اہل اسلام کے کرنے کا کام ہے لیکن دعوت کی آڑ میں توہین رسالت کے مرتکب کو سزا نہ دینے کا فلسفہ تراشنا صرف اور صرف اپنے خیالات و نظریات کا جواز ثابت کرنے کی ایک کوشش ہے نہ کہ قرآن و سنت کی پیروی۔

نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ اور صحابہ کرامؓ کی قابل تقلید زندگیاں اپنے اندر دونوں نمونے رکھتی ہیں۔ دعوت بھی اور شاتم رسالت کو قتل کرنا بھی۔

گزشتہ صفحات میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے کہ خود حضور ﷺ کے حکم سے کئی شاتمین کو قتل کیا گیا اور بہت سے لوگوں کو خود صحابہ کرام نے قتل کیا اور بڑی منصوبہ بندی سے قتل کیا۔

ہاں اس بارے میں مولانا وحید الدین خان اور ابوالبیان صاحب وغیرہما کا نقطہ نظریہ ہے کہ انہیں توہین رسالت کے سبب قتل نہیں کیا گیا بلکہ دوسرے جرائم کی وجہ سے قتل کیا گیا کہ انہوں نے نقض عہد یا مسلمانوں کے خلاف سازش کی وغیرہ۔

(۱) شتم رسول ﷺ کا مسئلہ ص ۱۷۰

صفحہ 172

پہلی بات تو یہ ہے کہ انہیں توہین رسالت کے جرم میں ہی قتل کیا گیا جیسا کہ امت مسلمہ کا نقطۂ نظر ہے جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے دوسری بات یہ ہے کہ چلو فرض کرلیں انہیں دوسرے جرائم میں قتل کیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ لوگ بڑے ذہین تھے اپنے معاشرہ میں بڑے معزز تھے تو ایسے ذہین لوگ اگر بگڑ بھی گئے تھے تو چاہیے تو یہ تھا کہ ان پر زیادہ محنت کی جاتی نہ یہ کہ انہیں قتل کردیا جاتا۔

بہرا ہوں میں تو چاہیے دونا ہو التفات
سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر

(غالب)

تو مولانا وحید الدین خان کے نقطۂ نظر کے مطابق ان کو قتل کرنا یا کروانا دعوتی نقطۂ نظر کے خلاف ہوگا اور ان کے الفاظ میں یہ خدا کے مقابلہ میں سرکشی تصور کیا جائے گا۔

غنیمت ہے کہ انہوں نے خدا کے مقابلہ میں سرکشی والا تیر موجودہ مسلمانوں پر ہی چلایا ورنہ نہ جانے کون کون سی مقدس شخصیات اس کی زد میں آجاتیں۔

ایک میرے آشیاں کے چار تنکوں کیلئے
برق کی زد میں گلستان کا گلستان رکھ دیا

اسلام کے دین دعوت ہونے کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ توہین رسالت کے مجرموں کو سزا نہ دی جائے بلکہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ ہر کام کی ایک حد اعتدال ہوتی ہے۔ اگر کتا کاٹنے کو دوڑے تو آپ دلیل نہیں دیں گے کہ بھئی میں نے آپ کا کوئی قصور نہیں کیا بلکہ اس کے سر پے پتھر مارا جائے گا۔

نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ اور صحابہ کرامؓ کی مقدس زندگیاں ہمیں دعوت کا حکم بھی دیتی ہیں اور شاتمین رسالت کو سزا دینے کو بھی اسے خدا کے مقابلہ میں سرکشی قرار دینا خدا و رسول ﷺ کے مقابلہ میں سرکشی ہے نہ کہ خدا کے حکم کی تعمیل۔

صفحہ 173

اعتراض:

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر شاتم رسول کا واجب القتل ہونا مان لیا جائے تو پھر دنیا کے تمام عیسائی، یہودی اور دیگر غیر مسلم واجب القتل قرار پائیں گے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے کئی فرقے بھی ایک دوسرے کو گستاخ رسول ﷺ کہتے ہیں اس طرح تو وہ سب ہی واجب القتل قرار پائیں گے تو پھر بات کہاں جا کے ٹھہرے گی؟

جواب:

جہاں تک تمام غیر مسلموں کے واجب القتل ہونے کا تعلق ہے تو گزارش یہ ہے کہ کسی کو پیغمبر نہ ماننا اور بات ہے اور کسی کو گالیاں دینا ایک اور بات تو اس قانون کی رو سے تمام غیر مسلم کیسے واجب القتل قرار پائیں گے۔ اس کی زد میں صرف وہی لوگ آئیں گے جو اس جرم کا ارتکاب کریں گے۔

جہاں تک مسلمانوں کے باہمی فرقوں کا تعلق ہے کہ وہ ایک دوسرے کو گستاخ رسول قرار دیتے ہیں تو کیا وہ سارے واجب القتل ہوں گے۔

تو گزارش یہ ہے کہ توہین رسالت کی سزا میں نہ کسی فرقے کا فرق پڑے گا اور نہ کسی مذہب کا ہر مجرم کو سزا ملے گی وہ جس بھی فرقے کا ہوگا۔ البتہ یہ حقیقت بھی ضرور ذہن نشین رہنی چاہیے کہ کسی کا کسی کو گستاخ قرار دے دینا اور بات اور عدالت کا کسی کو گستاخ قرار دینا اور بات ہے۔ سزا صرف کہنے سے نہیں ملے گی بلکہ جرم ثابت ہونے سے ملے گی۔ اس لیے یہ سب گریز کی راہیں ہیں نہ کہ کوئی ٹھوس دلائل۔ ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ اللھم ارنا الاشیاء کما ہی وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ و نور عرشہ سیدنا و مولانا محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین

صفحہ 174

مصادر و مراجع

النیشابوری (29) الشفا

صفحہ 175

مصادر و مراجع

کلام اللہ کلام مقدس امام فخر الدین رازی علامہ اسماعیل حقی علامہ احمد بن علی الرازی الجصاص علامہ ابن عربی علامہ شہاب الدین سید محمود آلوسی حافظ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل ابن کثیر ابو البرکات عبداللہ بن احمد ابن محمود النسفی ابو عبداللہ محمد بن احمد انصاری القرطبی علامہ نظام الدین احمد ابن محمد ابن الحسین النیشاپوری علامہ محمد بن علی صابونی علامہ ابو بکر جابر الجزائری علامہ محمد ابن عمر الزمخشری جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری علامہ محمد علی الصدیقی کاندھلوی مولانا محمد علی الصدیقی کاندھلوی

صفحہ 176
PDF 177

مَلْعُوْنِیْنَ ۘ اَیْنَمَا ثُقِفُوْا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا

وہ پھٹکارے ہوئے جہاں کہیں بھی ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کر قتل کیے جائیں

قرآن و حدیث، اجماعِ اُمت اور مذاہبِ عالم کی روشنی میں

توہینِ رِسالت کی سزا

پروفیسر حبیب اللّٰہ چشتی

مکتبہ جمالِ کرم لاہور

PDF 178

توہین رسالت کی سزا کے بارے میں امت مسلمہ کبھی ابہام کا شکار نہیں ہوئی لیکن دور حاضر میں بعض اہل قلم نے روایت سے ہٹ کر رائے قائم کی ہے۔ معروف بھارتی قلم کار جناب وحیدالدین خان کی رائے ہے کہ ”موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام خیال یہ ہوگیا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی یا اس کا استہزاء ایک جرم ہے جو علی الاطلاق طور پر مجرم کو واجب القتل بنادیتا ہے۔ یعنی جیسے ہی کوئی شخص ایسے الفاظ بولے جو مسلمانوں کو رسول ﷺ کی شان میں گستاخی نظر آئیں، اس کو فوراً قتل کردیا جائے۔ اس قسم کا مطلق نظریہ شرعی اعتبار سے بے بنیاد ہے۔ اسلام میں اس کے لیے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں“۔

جناب وحید الدین خان کے نزدیک توہین رسالت کی سزا قتل نہیں، بلکہ ”یہ مسئلہ دین میں ایک اضافہ ہے جس کے لیے نہ قرآن وحدیث میں کوئی صریح نص موجود ہے اور نہ رسول اللہ ﷺ کے عمل سے اس کی تصدیق ملتی ہے“۔

جناب حبیب اللہ چشتی نے مذکورہ بالا نقطہ نظر کا جائزہ قرآن وسنت کی روشنی میں لیا ہے، اور ثابت کیا ہے کہ جمہور فقہائے امت نے ہمیشہ شاتم رسول کو واجب القتل قرار دیا ہے۔ کیا شاتم رسول کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے؟ اس سوال پر انہوں نے وطن عزیز کے مختلف اصحاب فتویٰ کی رائے بھی درج کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے ”گستاخ رسول کی توبہ سے اس کا قتل معاف نہیں ہوگا، وہ ہر حال میں واجب القتل ہی ٹھہرے گا۔۔۔۔۔“

(ص ۱۴۹)

(ششماہی نقطہ نظر اسلام آباد)

مکتبہ جمال کرم دربار مارکیٹ، لاہور 042-7324948, 0321-4300441