شہیدانِ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس پر قربان ہو جانے والے نامور شہیدانِ
محبت و وفا کی لازوال داستانیں جن کا مطالعہ آپ کے ایمان و ایقان کو ایک نئی
زندگی اور آپ کی دینی غیرت و حمیت کو ایک نیا ولولہ تازہ عطا کرے گا۔
ترتیب و تحقیق
محمد متین خالد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شہیدان ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
”توصیفِ رسالت ﷺ کی معراج، گستاخانِ رسول کے سر کاٹنے اور اپنا سر کٹانے کی عملی کوشش میں پوشیدہ ہے۔ کیوں کہ حمیت کے اس جذبے کے بغیر ایک مسلمان کا وجود ہی بے جواز ہو کر رہ جاتا ہے کہ امت کا اجماع اسی پر ہے کہ شانِ رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کرنے والے کو اُسی لمحے قتل کر دیا جائے کہ یہی اس کی سزا ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ اگر وہ دریدہ دہن مسلمان ہے تو اس کی توبہ کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا جائے۔ وہ بہر نوع واجب القتل ہے اور اس سلسلے میں کسی نوع کا تساہل، نہ خالقِ چرخ نیلی فام کو گوارا ہے نہ صاحبِ گنبد خضرا کو، کہ حضور ﷺ سے ذاتی، جذباتی اور شُعوری وابستگی ضروری ہے۔ یہ پاکیزہ تعلق جتنا ڈھیلا پڑتا جائے گا، ایمان بھی اسی قدر کمزور ہوتا چلا جائے گا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ وابستگی، نظریات ہی سے ہونی چاہیے۔ شخصیات سے نہیں۔ حضور ﷺ کی شخصیت سے شخصی اور ذاتی محبت ہی ہمارے دنیاوی اور اخروی وقار کی ضامن ہے۔ اہلِ مغرب آزادی اظہار کے دلفریب نعروں کی آڑ میں دراصل حضور ﷺ سے مسلمانوں کی شدید ترین محبت کو ختم کر کے اُن کی حمیت اور جمعیت کو پراگندہ کرنے کے درپے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا فوری قتل طے شدہ بات ہے خواہ وہ خانہ کعبہ کے غلاف ہی سے کیوں نہ لپٹا ہوا ہو اور یہ بھی لازم ہے کہ قاتل عدالت میں اپنا دفاع ہرگز نہ کرے بلکہ قتل کا برملا اعتراف کر کے اپنے لیے جنت اور دوسروں کے ایمان کے لیے منزل کا نشان چھوڑ جائے۔ اس ضمن میں صحابہ کرامؓ کا مقدس دور، ایثار و وفا کی ایمان افروز مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ مگر عصرِ حاضر بھی اس نوع سے، کلیتاً بانجھ نہیں ہے اور ہماری خاکستر میں ابھی کچھ چنگاریاں باقی ہیں۔“
شہیدان ناموس رسالت ﷺ
حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس پر قربان ہو جانے والے نامور شہیدانِ محبت و وفا کی لازوال داستانیں جن کا مطالعہ آپ کے ایمان و ایقان کو ایک نئی زندگی اور آپ کی دینی غیرت و حمیت کو ایک نیا ولولہ تازہ عطا کرے گا۔
ترتیب و تحقیق
محمد متین خالد
علم و عرفان پبلشرز
الحمد مارکیٹ، 40-اُردو بازار، لاہور۔ 37223584 ‘ 37232336 ‘ 37352332 www.ilmoirfanpublishers.com ilmoirfanpublishers@hotmail.com www.facebook.com/Ilmoirfanpublishers
جملہ حقوق محفوظ
نام کتاب شہیدانِ ناموسِ رسالتﷺ مصنف محمد متین خالد ناشر علم و عرفان پبلشرز مطبع آر ۔ آر پرنٹرز، لاہور قانونی مشیر محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سرورق محمد طیب محبوب کمپوزنگ طاہر علی، ظفر اقبال سن اشاعت 2019ء قیمت -/1000 روپے
علم و عرفان پبلشرز
الحمد مارکیٹ، 40-اُردو بازار، لاہور۔ 37223584 ' 37232336 ' 37352332 www.ilmoirfanpublishers.com ilmoirfanpublishers@hotmail.com www.facebook.com/Ilmoirfanpublishers
ترتیبِ عنوانات
- انتساب! 9
- سر بیچ کر متاع دل و جاں خریدنا پروفیسر محمد اقبال جاوید 11
- قربان جانے والوں کے قربان جائیے! محمد متین خالد 20
- شکریہ 23
شہیدان ناموس رسالت ﷺ
- غازی قاضی عبدالرشید شہیدؒ سردار علی صابری 25
- غازی علم الدین شہیدؒ محمد متین خالد 27
- شہیدِ محبت 34
- غازی علم الدین شہیدؒ صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی 66
- غازی علم الدین شہیدؒ اور قائد اعظمؒ مولوی محمد سعید 70
- غازی امیر احمد شہید، غازی عبداللہ شہید محمد حنیف شاہد 75
- غازی امیر احمد شہید، غازی عبداللہ شہید ضیاء جالوی 83
- غازی محمد صدیق شہیدؒ محمد ثاقب رضا قادری 91
- غازی عبدالقیوم شہیدؒ ساجد غنی اعوان 97
- غازی عبدالرحمان شہیدؒ محمد متین خالد 107
- غازی عبدالمنانؒ احمد خلیل جازم 122
- غازی مرید حسین شہیدؒ عزیز ملک 134
- غازی غلام محمد بٹ شہیدؒ محمد متین خالد 138
- غازی میاں محمد شہیدؒ محمد متین خالد 164
- غازی صوفی عبداللہ انصاری شہیدؒ محمد متین خالد 166
ڈاکٹر محمد اختر چیمہ 185
- غازی محمد حنیف شہیدؒ محمد متین خالد 193
- غازی زاہد حسینؒ محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ 194
- غازی حاجی محمد مانکؒ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی 196
- شہدائے اسلام آباد محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ 215
- غازی فاروق احمد محمد صدیق شاہ بخاری 223
- غازی عامر عبدالرحمان چیمہ شہیدؒ محمد متین خالد 227
- غازی محمد عمران وحید، غازی اقبال احمد خاں سید محمد معاویہ بخاری 253
- غازی ملک محمد ممتاز قادری شہیدؒ محمد متین خالد 257
- سیالکوٹ کی مجاہد خواتین محمد متین خالد 262
- گستاخ مصنفین، بلاگرز اور ان کا انجام محمد متین خالد 267
- گستاخان رسولؐ اور اُن کی سرکوبی کرنے والے خوش نصیب محمد متین خالد 316
اہم مضامین
- آداب بارگاہ رسالت ﷺ مولانا سید ابوبکر غزنوی 319
- قرآن وحدیث میں گستاخ رسولؐ کی سزا محمد متین خالد 335
- تحفظ ناموس رسالت ﷺ : اہمیت اور تقاضے پروفیسر محمد اکرم رضا 355
- شماتت سرکار ﷺ کی کوششیں اور مسلمان حکمران سید محمد سلطان شاہ 370
- اسم اعظم اعجاز احمد فاروقی 384
- تحفظ ناموس رسالت ﷺ راجا رشید محمود 395
- اقبال اور قانون توہین رسالت ظفر علی راجا ایڈووکیٹ 399
- قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ محمد متین خالد 411
- تحفظ ناموس رسالت ﷺ چند ایمان پرور گوشے محمد متین خالد 434
منظومات
- اے رسول خدا کے دشمن 547
حضرت حسان بن ثابتؓ 549
- محمد ﷺ کی محبت ابوالاثر حفیظ جالندھری 550
- جو شہیدان ناموس سرکار ﷺ ہیں حافظ لدھیانوی 551
- آبروئے مصطفیٰ ﷺ فیض الرسول فیضان 553
- ناموس رسالت ﷺ فیض الرسول فیضان 554
- جو شہیدان ناموس سرکار ﷺ ہیں راجا رشید محمود 555
- ناموس رسالت ﷺ ضیا محمد ضیا 557
- عشق نبی ﷺ والوں سے پوچھو، تخت سے تختہ بہتر ہے پروفیسر محمد یونس حسرت 558
- میرے نبی سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے صبیح الدین صبیح 560
- مگر تنقید آقا ﷺ پر گوارا نہیں کر سکتا اثر جون پوری 561
- وہ حکمِ قتل سن کر کیوں تھا ہشاش 562
- تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر منظوم کلام ساجد غنی اعوان 563
- شہیدان ناموس رسالت ﷺ پر اہم کتب 572
انتساب
یہ جون 1999ء کا واقعہ ہے۔ برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں واقع لڑکیوں کے اہم سکول Levenshulme High School کے ہال میں تقریری مقابلہ ہو رہا تھا۔ موضوع تھا Famous Religious Person (مشہور مذہبی شخصیت)۔ اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک مسلمان بچی نے حضور نبی کریم ﷺ کی شخصیت کو اپنی تقریر کا موضوع بنایا۔ اپنی تقریر کے دوران یہ بچی جب بھی لفظ ”محمد“ ادا کرتی تو غیر ارادی طور پر ”صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“ نہ کہتی۔ کلاس میں بیٹھی ایک بچی کو یہ حرکت انتہائی ناگوار گزری، اس غیر ارادی لغزش کو ایک دو دفعہ برداشت کرنے کے بعد اس بچی سے نہ رہا گیا، پھر وہ اچانک اپنی نشست سے اٹھی اور زور دار الفاظ میں بے اختیار پکار اٹھی۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ ہال میں سناٹا چھا گیا۔ سکول کی تاریخ میں پہلی بار کسی نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی تھی۔ بچی کو فوری طور پر ہال سے باہر نکال دیا گیا۔ یہودی و عیسائی اساتذہ اور ماہرین نفسیات پر مشتمل بورڈ نے بچی سے متعدد سوالات کیے اور اس بے ساختہ حرکت کے بارے پوچھا۔ بچی نے ہچکیوں اور سسکیوں میں ایمان افروز جواب دیا کہ جب کوئی شخص ہمارے پیارے نبی حضرت محمد (ﷺ) کا اسم گرامی استعمال کرتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ ادا کرے۔ میں اس پر کوئی Compromise نہیں کرسکتی۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی سن کر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ کہنا میرا ایمانی اور دینی استحقاق اور فریضہ ہے، اس فریضہ اور استحقاق کی ادائیگی سے مجھے ڈسپلن کے نام پر نہیں روکا جاسکتا۔
برطانیہ ایسے سیکولر، مادر پدر آزاد اور جنسی بے راہ روی کے شکار معاشرے میں ایسی بچیاں اسلام کے روشن اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں۔ میں اس کتاب کا انتساب اس بچی کے نام کرتا ہوں۔
ویل ڈن صبا حسین چوہدری! ............. ویل ڈن !! وی آل پراؤڈ آف یو !!!
سر بیچ کر متاعِ دل و جاں خریدنا
ایک عام انسان اپنے، اپنے والدین اور اعزہ کے خلاف استہزائی لب ولہجہ بھی برداشت نہیں کرتا، دشنام طرازی تو بہت دور کی بات ہے۔ بنابریں ایک مسلمان اس ذاتِ عظیم و جلیل (ﷺ) کی توہین کیسے برداشت کرسکتا ہے جو وجہ وجود کائنات ہے، جس کے حضور میں اونچی آواز بھی خالق کائنات کو پسند نہیں اور جس کو ایذا دینے والوں کے لیے ’’عذابِ الیم‘‘ کا اعلان ہے، رسوا کن عذاب بھی ان کے لیے ہے اور دنیا و آخرت کی پھٹکار بھی۔ اسی لیے ایسے ’’موذی‘‘ کا سر کچل دینے کا حکم ہے خواہ وہ غلافِ کعبہ ہی سے لپٹا ہوا کیوں نہ ہو۔ یہاں تک کہ مومن مردوں اور عورتوں کو کوئی تکلیف دیتا ہے تو وہ بھی صریح گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی رفتار، گفتار اور کردار کے بارے میں کسی نوع کی غیر محتاط گفتگو بھی ایذا رسانی ہے۔ صحابہ کرامؓ کی تنقیص واہانت بھی ایذا رسانی کے زمرے میں آتی ہے کیونکہ یہی وہ عظیم وجود ہیں جنھوں نے انسانیت کو وقار و اعتبار کی ثروت دی، ظلمت کو روشنی کا مزاج بخشا اور تخریب کو تہذیب کے اسلوب عطا کیے۔ اللہ تعالیٰ کو تو ان آثار کی توہین بھی گوارا نہیں جن کا تعلق کسی نہ کسی نوع سے، ان کے حبیب پاک ﷺ سے رہا ہے۔ وہ تو خود ان مقامات کی قسم کھاتا اور واقعات کے تسلسل کو سمجھانے کے لیے انھیں بطور شہادت پیش کرتا ہے کہ مکان اس لیے عزیز ہوتا ہے کہ وہ محبوب کا مکان رہ چکا ہوتا ہے۔
جن سے وہ گزرے ہیں یہ اُس رہگزر کی بات ہے
ناموس رسالت مآب ﷺ پر حملہ آور ہونے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا یا ان کے ہاتھوں، جاں سے گزر جانا، محبت ہی کے جنوں آفرین مظاہرے ہیں۔ گستاخان رسول کے مقابلے میں، جاں نثارانِ رسول کی فہرست کہیں طویل ہے اور یہ سلسلہ خیرالقرون سے تادمِ تحریر
جاری و ساری ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی دریدہ دہن ابھرا، فطرت نے کسی نہ کسی دل میں موجود محبت کی اس چنگاری کو شعلہ بنا کر ، اس کے مقابل لا کھڑا کیا کہ ...... ہر انسان موت سے خوفزدہ رہتا ہے لیکن مسلمان شہادت کی آرزو رکھتا ہے ، ہر انسان نفع اور نقصان کے حوالے سے سوچتا ہے لیکن مسلمان ہر چیز کو عقیدہ و ایمان کی ترازو میں تولتا ہے، عام انسان اپنی ناموس کی فکر میں رہتا ہے لیکن مسلمان اپنی جان کو حرمت رسول ﷺ پر لٹا دینے کو اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے ...... کیونکہ ہماری عزت، ہماری عظمت ، ہماری شوکت، ہماری سطوت، ہمارا جاہ و جلال، ہماری کامرانیاں، سب اسی نام ﷺ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ جب تک یہ نام زندہ ہے، تب تک ہم زندہ ہیں اور چونکہ یہ نام انمٹ ہے، اس لیے لیل و نہار کی گردشیں، صفحۂ دہر سے ہمارا نام بھی نہیں مٹا سکتیں ۔
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
حرمت رسول ﷺ پر جان لٹانے اور سر کٹانے والے زندہ جاوید بھی ہیں اور کامران بھی کہ اصل کامیابی ، اخروی کامیابی ہے۔ دنیا اور اس کی ساری کامرانیاں محض متاع غرور ہیں۔ قرآن کا فیصلہ ہے کہ ”جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے ، بے شک وہ کامیاب ہو گیا، دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے ۔“ (آل عمران : 185) شہید زندہ بھی ہے اور کامران بھی۔ اس کے لیے تو ”برزخی وقفہ“ ہے ہی نہیں۔ وہ اِدھر جامِ شہادت نوش کرتا ہے، اُدھر جنت کے سبھی دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں ۔
سودا ہے وہ کہ جس میں خسارہ کوئی نہیں
ہماری زندگی، دل کی دھڑکن سے وابستہ ہے جبکہ دل کی زندگی کسی کی یاد میں دھڑکنے سے عبارت ہے۔ یاد کا حسن ہی دل کو شادابی عطا کرتا ہے۔ یاد نہ رہے تو زندگی ایک کربناک تنہائی ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے دلوں کو اس ذات گرامی قدر ﷺ کی یاد نصیب ہے جو کائناتِ حسن بھی ہے اور حسن کائنات بھی۔ یہ یاد، رونق خلوت گہ خاطر بھی ہے اور
یہ ذکر، شمع شبستان تمنا بھی اور حق یہ ہے کہ ؎
اک واہمہ ہے زندگیٔ مستعار کا
اور
جو تری یاد میں اے جان جہاں گزرا ہے
خیر و شر کی آویزش اور چراغ مصطفوی ﷺ سے شرار بولہبی کی ستیزہ کاری کا سلسلہ ازل سے جاری ہے۔ مغرب کی یہی کوشش ہے کہ مسلمانوں کے دل اس یاد سے محروم ہو کر ویران ہو جائیں اور کسی طور روح محمد ﷺ اس امت کے بدن سے نکل جائے مگر فطرت اس مقصد میں اسے ناکام بنائے جا رہی ہے کہ اسے اس روح محمد ﷺ ہی کو تابندہ تر اور پائندہ تر بنا کر ملت بیضا کو ایک بار پھر اوج کمال بخشنا ہے۔ گو آج ہم بہر اعتبار، زار و نزار ہیں، مگر یہ امر غنیمت ہے کہ حضرت محمد ﷺ کا نام آتے ہی گنہگار سے گنہگار مسلمان کے دل کی دھڑکن یکا یک تیز ضرور ہو جاتی ہے۔ چونکہ نبی کریم ﷺ کی محبت ہی ہمارا ایمان ہے، اس لیے ہم یہ کسی طور برداشت نہیں کر سکتے کہ کسی بھی انداز سے ان کی آبرو پر آنچ آئے، اس ایک آبرو کو بچانے کے لیے، پوری امت مسلمہ کی جان، مال اور اولاد ایک ادنیٰ نذرانے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی نذرانہ ہمارا ناز بھی ہے اور نیاز بھی اور بفضلہٖ ہماری تاریخ نیاز و ناز کے ایسے مظاہروں سے رخشندہ ہے اور تابندہ بھی ...... منزل حسیں ہو تو راستے کے کانٹے بھی پھول بن جایا کرتے ہیں۔ مقصد دل آویز ہو تو وفا، صحرا کو بھی گھر کی طرح سجا دیا کرتی ہے، محبوب کا حسن، نظر افروز ہو تو جنوں زیر دار بھی رقصاں رہتا ہے۔ جان دینے والے تو جان دیا ہی کرتے ہیں مگر دیکھنے والے یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ جان، کس بارگاہ ناز کا نذرانہ بنی ہے، جنوں بہر کیف اور بہر حال سیانا ہوتا ہے کہ اُس کا دل اس کی آنکھ میں ہوتا ہے اور آنکھ دل میں ہوتی ہے، اور اس کی محفل میں زمانے کی گردشیں رک جایا کرتی ہے۔ شہیدان ناموس رسالت ﷺ کے کارنامے فی الواقع جنوں آفریں بھی ہیں اور جنوں پرور بھی ؎
ناصحو! پند گرو! راہ گزر تو دیکھو
ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے سرفروشی ایک ایسا سودا ہے جس میں خسارہ نہیں، فائدہ ہی فائدہ ہے کہ اسی سے ایمان کی تکمیل کا ثبوت ملتا ہے۔ اسی سے محبت کے اعتبار اور وفا کے افتخار کا پتا چلتا ہے کہ یہی واحد پیمانہ ہے اس عظیم وجلیل محبوب ﷺ کی محبت کا، جو وجہ کائنات ہے، جس نے اس ظلمت کدے میں ہدایت، سعادت اور رحمت کی کرنیں برسائیں۔ جس کی ذات پاک ﷺ سے ہماری حیاتِ مستعار کی ہر آبرو وابستہ ہے جو فی الواقع رُخِ جمالِ الٰہی کا آئینہ ہے اور دستِ فطرت کا وہ عظیم ترین شاہکار ہے جس پر خود حسن آفرین کو ناز ہے کہ...... طُور پر تجلیوں کی بارش اسی وقت تک کے لیے تھی جب تک کہ قدرت کے فن کو اوج کمال نہ ملا تھا۔ یہ فن ذات محمدی ﷺ کی صورت میں ظاہر ہو گیا اور تخلیق کو معراج کمال نصیب ہوگئی تو اب فنکار کی بے حجابی کی ضرورت باقی نہ رہی، تخلیق بے حجاب ہوگئی اور خالق چُھپ گیا، کیوں کہ اب تخلیق، خالق کی معرفت کے لیے کافی تھی........... یہی وجہ ہے خالق حقیقی نے اپنی محبت اور اپنی اطاعت کو اُسی ذاتِ اقدس سے وابستہ کر دیا اور یہی باعث ہے اس امر کا کہ مالک دوجہاں اُس کی شان میں ہلکی سی شوخی اور ادنیٰ سی گستاخی بھی برداشت نہیں کرتا...... نہ کسی ماتھے کی کوئی سلوٹ، نہ نگاہوں کا کوئی زاویہ اور نہ ہونٹوں کی کوئی حرکت...... اور تاریخ شاہد ہے کہ ایسی نازیبا سلوٹوں، ایسے ناپاک زاویوں اور ایسی گستاخ حرکتوں کے حامل وجود، غبار معصیت بن کر اُڑتے رہے ہیں۔ حق یہ ہے کہ جب بھی کوئی غیرت مند، محبوب خدا ﷺ کے بارے میں گستاخی کرنے والے کی زبان اس کی گدی سے کھینچ باہر کرتا ہے اور خود دار و رسن کو بوسہ دیتا ہے تو الٰہی ہونٹوں پر تبسم سا بکھر جاتا ہے اور ساتھ ہی اس کے لیے جنت کے سبھی ایوان کھل جاتے ہیں کہ وفا کا سوز ہی انسان کو کندن بنایا کرتا ہے اور
ہماری پندرہ سو سالہ تاریخ کے حاشیے ایسے ہی جاں نثاروں کے لہو سے گلرنگ ہیں جو اشارتاً اور کنایتاً بھی اپنے نبی کریم ﷺ کی توہین ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہیں کرتے، صراحتاً تو بہت دور کی بات ہے۔ حق یہ ہے کہ وہ شخص جو شانِ رسالت ﷺ میں توہین کا کوئی بول سن کر خاموش رہتا ہے اور محض لفظی ردِعمل پر اکتفا کرتا ہے، اس کی منافقت، دنیاوی اور اُخروی تذلیل پر منتج ہوا کرتی ہے کہ وہ ایمان کی شرطِ اول سے بھی محروم ہے۔ محبوب کی ایک نگہ ناز کے حصول کے لیے محبت ہی چاک گریباں نکل سکتی ہے اور محبت کے بغیر اطاعت کا ہر تصور
فریب نفس ہے جب کہ ایمان، عمل کے بغیر ایک لفظ ہے بے معنیٰ، ایک جسم ہے بے روح اور ایک خاکہ ہے بے رنگ...... محض پانی، پانی پکارنے سے پیاس نہیں بجھا کرتی اور صرف روٹی روٹی کی رٹ لگانے سے بھوک نہیں مٹا کرتی جب تک پانی پیا نہ جائے اور روٹی کھائی نہ جائے، بعینہ خود کو مسلمان، مسلمان کہنے سے انسان، مسلمان نہیں بنتا، جب تک اس کا عمل، اس کے ایمان کی تائید نہیں کرتا۔ محض لفظوں کی شطرنج بچھانے سے ناموس رسالت مآب ﷺ کے تحفظ کے تقاضے پورے نہیں ہوا کرتے کہ محض لفظی خوشنمائی، اعمال کی سیاہی کی دلیل ہوا کرتی ہے۔
ہے عمل مفقود، تقریریں بہت
بُغض دل میں منہ پہ تعریفیں بہت
کفر دل میں، لب پہ تکبیریں بہت
ایک اہل درد ہی ملتا نہیں
ورنہ درد دل کی تدبیریں بہت
آج خبر و نظر کے چمن میں نہ فکر و عمل کے سمن، ذوق کی رعنائی ہے نہ شوق کی زیبائی، سجدوں کا کیف ہے نہ آنسوؤں کی چمک، کوئی ویرانی سی ویرانی ہے...... زندگی سراب بھی ہے اور خراب بھی...... اور
سارے چمن میں درد کا مارا کوئی نہیں؟
کہنے والے کہتے ہیں کہ آج نعت کا دور ہے، وہ بھول جاتے ہیں کہ ہر دور ہی نعت کا دور رہا ہے کہ یہ صنف سخن ازل انوار بھی ہے اور ابد آثار بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ نعت، مخالفین اسلام کی لسانی گستاخیوں کے جواب کے لیے وجود میں آئی تھی۔ خود حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک رضا بھی اس میں شامل تھی اور اس کے خال و خط اور اسلوب و اصول بھی زبان رسالت ﷺ ہی نے متعین فرمائے تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دل آزار تحریریں بھی لکھی جاتی رہیں، وقت کے راجپال نئے نئے لبادوں میں سامنے بھی آتے رہیں اور عصر نو کے رُشدی ہنود و یہود کی سرپرستی میں دندناتے بھی رہیں اور حُب رسول ﷺ کے دعوے دار محض نعت گوئی میں مصروف رہیں۔ ایسی نعت گوئی قلم قلم اور حرف حرف منافقت ہے کہ اس میں محبت کا ادعا، غیرت کی چنگاری سے محروم ہے۔
توصیف رسالت ﷺ کی معراج، گستاخان رسولؐ کے سر کاٹنے اور اپنا سر کٹانے کی عملی کوشش میں پوشیدہ ہے۔ کیوں کہ حمیت کے اس جذبے کے بغیر ایک مسلمان کا وجود ہی بے جواز ہو کر رہ جاتا ہے کہ امت کا اجماع اسی پر ہے کہ شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کرنے والے کو اُسی لمحے قتل کر دیا جائے کہ یہی اس کی سزا ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ اگر وہ دریدہ دہن مسلمان ہے تو اس کی توبہ کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا جائے۔ وہ بہرنوع واجب القتل ہے اور اس سلسلے میں کسی نوع کا تساہل، نہ خالق چرخ نیلی فام کو گوارا ہے نہ صاحب گنبد اخضر کو، کہ حضور ﷺ سے ذاتی، جذباتی اور شعوری وابستگی ضروری ہے۔ یہ پاکیزہ تعلق جتنا ڈھیلا پڑتا جائے گا، ایمان بھی اسی قدر کمزور ہوتا چلا جائے گا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ وابستگی، نظریات ہی سے ہونی چاہیے۔ شخصیات سے نہیں۔ حضور ﷺ کی شخصیت سے شخصی اور ذاتی محبت ہی ہمارے دنیاوی اور اخروی وقار کی ضامن ہے۔ اہل مغرب آزادی اظہار کے دلفریب نعروں کی آڑ میں دراصل حضور ﷺ سے مسلمانوں کی شدید ترین محبت کو ختم کر کے اُن کی حمیت اور جمعیت کو پراگندہ کرنے کے درپے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا فوری قتل طے شدہ بات ہے خواہ وہ خانہ کعبہ کے غلاف ہی سے کیوں نہ لپٹا ہوا ہو اور یہ بھی لازم ہے کہ قاتل عدالت میں اپنا دفاع ہرگز نہ کرے بلکہ قتل کا برملا اعتراف کر کے اپنے لیے جنت اور دوسروں کے ایمان کے لیے منزل کا نشان چھوڑ جائے۔ اس ضمن میں صحابہ کرامؓ کا مقدس دور، ایثار و وفا کی ایمان افروز مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ مگر عصر حاضر بھی اس نوع سے، کلیتاً بانجھ نہیں ہے اور ہماری خاکستر میں ابھی کچھ چنگاریاں باقی ہیں۔
اللہ تعالیٰ، ناموس نبوتؐ کے تحفظ کے سامان خود فراہم کیا کرتے ہیں۔ ہم ایسے لوگ تحریریں لکھتے اور تقریریں کرتے رہ جاتے ہیں اور قدرت کسی سادہ دل کے جگر میں آگ لگا کر اس کے ایمان کو عمل کا خوش رنگ نقش بنا دیتی ہے کہ لالے کی حنا بندی فطرت کا محبوب مشغلہ ہے۔
بہ خاصاں می دہد شہ، بادۂ نوشیدۂ خود را
اس سلسلے میں دو واقعات محفوظ کرنا چاہتا ہوں۔ ایک کے راوی پروفیسر عطاء الرحمٰن
عتیق (سابق صدر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ) ہیں۔ 1953ء میں ختم نبوت کی تحریک زوروں پر تھی۔ سیالکوٹ دارالعلوم شہابیہ میں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور دیگر اکابرین جمع تھے۔ پروفیسر موصوف تب وہاں ایک کمسن طالب علم تھے اور مہمانوں کی خدمت پر مامور تھے۔ محفل میں مرزا قادیانی ملعون زیر بحث تھا کہ پروفیسر صاحب نے شاہ جی سے اچانک مخاطب ہو کر کہا کہ ”حضرت! جب اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا، آپ تبھی اسے قتل کر دیتے تو ان تقریروں کی نوبت ہی نہ آتی۔“ یہ سُن کر شاہ جیؒ زار زار رونے لگ گئے اور کافی دیر آبدیدہ اور گلوگیر رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاریخ نے یہ حقیقت بھی محفوظ رکھی ہے کہ جب علامہ اقبالؒ نے غازی علم الدین شہیدؒ کے شگفتہ چہرے کی آخری زیارت کی تو وہ بے اختیار کہہ اٹھے تھے کہ ”اسیں گلاں ای کردے رہے، تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا۔۔۔۔۔۔“
دوسرا ایمان افروز واقعہ پروفیسر میاں محمد یعقوب (شعبہ اردو نیشنل سائنس کالج گوجرانوالہ) یوں بیان کرتے ہیں۔
1966-67ء کی بات ہے میں لاہور کے سنٹرل ٹریننگ کالج میں B.Ed کا طالب علم تھا۔ وہاں ہمارے ایک بزرگ پروفیسر تھے چودھری فضل حسین، انھوں نے یہ واقعہ کلاس روم میں سنایا۔
”میں بیروت کی یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھا اور وہاں ہندوستان (تقسیم سے قبل) کے بہت سے طلبہ وطالبات زیرتعلیم تھے۔ ان میں سے ایک لڑکی (نام نہیں بتایا) بہت شوخ وشنگ اور الٹرا ماڈرن قسم کی تھی۔ اس کا تعلق ہندوستان کے کسی مسلمان نواب گھرانے سے تھا۔ وہ خود شاید فیشن کے طور پر کمیونزم کی پرچارک تھی۔ ایک دن ٹک شاپ پر اسلام اور کمیونزم کی بحث چل رہی تھی کہ اس ناہنجار لڑکی نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں ایک آدھ نازیبا لفظ کہہ دیا۔ میں نے اُسے بے نقط سنائیں، بہت برا بھلا کہا اور ہمیشہ کے لیے اس سے قطع کلامی کر لی۔ پھر یوں ہوا کہ مجھے (پروفیسر فضل حسین) اور اس نابکار لڑکی کو جو اپنی امارت اور حُسن پر بہت نازاں تھی، دورانِ تعلیم ہی برص کا حملہ ہوا۔ اس نے اپنے حُسن کو بچانے کے لیے اس وقت کے اعلیٰ ترین ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے رجوع کیا لیکن برص پھیلتا چلا گیا اور وہ خود بھی پھیلتی چلی گئی، یعنی بے انداز موٹی ہو گئی۔ ہندوستان واپسی پر اس کا کہیں رشتہ نہ ہو سکا اور اپنی مضحک ہیئت کذائی کی وجہ سے اس نے گھر سے نکلنا بھی چھوڑ دیا اور وہ جو کبھی جانِ محفل ہوا کرتی تھی، سوسائٹی میں نسیاً منسیاً
ہوگئی۔ اُدھر واپسی کے بعد میں نے جہلم کے ایک معمولی ڈاکٹر سے علاج کروایا اور اللہ کے فضل سے (چہرہ پر ایک آدھ داغ کے سوا) شفا ہوگئی۔“
تقریباً ساری کلاس نے سوال کیا۔ ”سر! اُسے تو حضور رحمۃ للعالمین ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کے سبب یہ سزا ملی، آپ پر برص کیوں حملہ آور ہوا؟“۔
بوڑھے پروفیسر کے جواب نے نہ صرف کلاس کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا بلکہ سب کو آنسوؤں سے رُلا دیا۔ فرمایا ”مجھے اس وجہ سے برص ہوا کہ میں نے گالیوں پر اکتفا کیوں کی اور اُسے اُسی دم قتل کیوں نہ کردیا۔“
جناب محمد متین خالد کو اللہ تعالیٰ نے قلب ونظر کی صالحیت کے ساتھ ساتھ حُب رسول ﷺ کی سعادت سے بھی نواز رکھا ہے۔ حضور ﷺ کی شان میں ان کی قلمی کاوشیں اور قادیانیت کے رد میں اُن کی تحریریں عبرت اور محبت کا پیغام بھی ہیں اور نشانِ راہ بھی اور خود ان کے لیے ذخیرۂ عقبیٰ اور توشۂ آخرت بھی...... زیرنظر تالیف ان شہیدانِ وفا کا دل آویز تذکرہ ہے جن کی اکثریت علمی، فکری، لسانی اور قلمی ثروت سے کم وبیش بے تعلق مگر قلبی، روحانی، جذباتی اور ایمانی حمیت سے کہیں بہرہ ور تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کی غیرت کو سنبھالا دے کر اسے شعلہ جوالہ بنا دیا اور انھوں نے لوحِ ایام پر اپنے لہو سے نعت کا مقطع لکھ دیا کہ ؎
یوں کہیں سجدۂ شکرانہ ادا ہوتا ہے
حافظ شیراز کا ایک شعر ہے ؎
بہ آب دیدہ و خون جگر طہارت کرد
گویا ”نماز نیاز“ ادا ہی نہیں ہوتی جب تک صدق دل کے ساتھ آب دیدہ اور خون جگر سے وضو نہ کیا جائے۔ خوش نصیب ہیں شہیدان ناموس رسالت ﷺ کہ انھوں نے اس گئے گزرے دور میں، یہی ”نماز نیاز“ ایک ایسے بانکپن کے ساتھ ادا کی کہ کائنات کی رشک آفرین محبتیں ان کے لیے وقف ہوگئیں اور قابل تحسین ہیں محترم محمد متین خالد کہ انھوں نے اس ”نماز نیاز“ کے بارے میں بکھرے قلمی شاہکاروں کو یکجا کیا۔ خدا کرے کہ یہ حسین کاوش بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں قبول ہو کہ یہی وہ آبگینہ ہے جس میں ان کی امت کی آبرو جھلکتی ہے اور ؎
زیر نظر اوراق کی غایت تدوین، توفیق عمل کو آواز دینا ہے۔ جو عطا ہو جائے تو تیمور کے گھر سے گئی ہوئی حمیّت آج بھی لوٹ سکتی ہے۔ تاریخ ہماری منتظر ہے اور وقت ہمیں اُمید بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ ...... اور آخر میں احسان دانشؔ کی ہم ’’پسماندگان‘‘ کے لیے ایک آرزو ؎
جسموں میں روح خالدؓ و طارقؒ رواں کرے
دے کر شعور زیست، ارادے جواں کرے
جو جم چکا ہے خون رگوں میں دواں کرے
تم کو رہ رسولؐ پہ چلنا نصیب ہو
کب سے گرے پڑے ہو، سنبھلنا نصیب ہو
پروفیسر محمد اقبال جاوید سابق صدر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج، گوجرانوالہ
۞.......۞.......۞
قربان جانے والوں کے قربان جایئے!
حضور خاتم النبیین علیہ التحیۃ والثناء سے لامحدود اور غیر مشروط محبت و احترام ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے۔ وہ جب تک نبی کریم ﷺ کو اپنے والدین، اولاد، عزیز رشتہ دار، دولت اور کاروبار حتیٰ کہ خود اپنی جان سے زیادہ عزیز ترین نہ جانے، مسلمان نہیں کہلوا سکتا۔ یہ قانون قرون اولیٰ کے صحابہ کرام سے لے کر قیامت کی آخری صبح تک اسلام قبول کرنے والے ہر شخص پر یکساں لاگو ہے۔ اس سے ذرہ برابر رُوگردانی، رتی بھر انحراف، معمولی لاپروائی اور ادنیٰ سی بے حسی بھی ایک مسلمان کو احسن تقویم کی چوٹیوں سے اٹھا کر اسے اسفل سافلین کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی بدبخت، مسلمانوں کے مرکز نگاہ اور محبوب ترین شخصیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی بھی توہین کرتا ہے تو غیرت و حمیت سے سرشار ہر مسلمان کا خون کھول اٹھتا اور اس کے رگ و پے میں لاوا سا دوڑنے لگتا ہے، دیکھتی آنکھوں اس کا وجود غیظ و غضب کی کڑکتی بجلیوں کا روپ دھار لیتا ہے اور اسے اس وقت تک کسی پہلو قرار نہیں آتا جب تک وہ شاتم رسول کے ناپاک اور غلیظ وجود سے اس دھرتی کو پاک نہیں کر لیتا۔ اس ہدف تک رسائی کے لیے وہ رات دن بے تاب رہتا ہے۔ اس جاں گسل مہم کو سر کرنے کے لیے چاہے اسے لاکھ چٹانیں اور خون کے سمندر ہی کیوں نہ عبور کرنا پڑیں، اس کے بے قابو جذبوں، ناقابل تسخیر جنوں اور کہسار صفت اخلاص و وفا کے سامنے کفر کی ہر طاقت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ راہ محبت کا یہ راہی اور لشکر عشق کا یہ سپاہی جانتا ہے کہ اس کی یہ جدوجہد ہی حاصل زندگی ہے۔ اسی میں اس کی بقا ہے اور یہ کہ یہ رہگزر شفاعت محمدی ﷺ کی طرف اور یہ راستہ اللہ کی خوشنودی کی طرف جاتا ہے۔
یہ شہیدان عشق و وفا اپنے ہاتھوں میں حق و صداقت کی مشعلیں اٹھائے، اپنے سینوں میں محبت مصطفیٰ کی شمعیں جلائے، اپنے دماغوں میں شہادت کی آرزو سمائے اور نظروں میں تصور
سینہ تانے موت کا انتخاب خود کرتے ہیں۔ اسی لیے تو موت ان سے دہشت زدہ رہتی ہے، ان کی روحیں دار ورسن کی طالب ہوتی ہیں، کسی شخص کو جتنی محبت زندگی سے ہوتی ہے، اس سے ہزار گنا پیار انھیں موت سے ہوتا ہے۔ بلاشبہ اسلام کی عزت و آبرو انھی کے دم قدم سے ہے۔
ان شہیدان ناموس رسالتؐ نے گورے اور کالے انگریز کی عدالت کے ایوانوں میں عزیمت واستقامت کا وہ مظاہرہ کیا کہ ہر مسلمان عش عش کر اٹھا اور کفر انگشت بدنداں ہو کر رہ گیا۔ وکلاء کے دلائل اور بے شمار دباؤ کے باوجود انھوں نے عدالت میں جس شان وشوکت اور ذوق وشوق کے ساتھ اپنے جرم کا بار بار اعتراف کیا، عدالتی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ پھانسی کی سزا سنتے ہی اپنی مرادوں کے بر آنے پر وہ وجد میں آ کر خوشی سے رقص کرتے...... اپنی قسمت پر ناز کرتے، حلیف وحریف حیران رہ جاتے کہ موت کی سزا کے منتظر ان جاں نثاروں کا وزن جیل کی کال کوٹھڑیوں میں کیسے بڑھ جاتا؟
کوئی لہجہ، کوئی طرزِ بیان، کوئی لغت، کوئی پیرایہ اظہار اتنی تاب نہیں رکھتا کہ وہ ان مجاہدین کی جرأت بے مثل کا قصیدہ کہہ سکے...... خراجِ تحسین پیش کر سکے...... یہی وجہ ہے شہیدان ناموس رسالتؐ آج بھی ہماری آنکھوں میں رہتے، دلوں میں بستے اور سانسوں میں مہکتے ہیں...... یہ ہماری جمع پونجی ہیں...... یہ ہمارا اثاثہ ہیں...... یہ ہمارا سرمایہ افتخار ہیں...... یہ اس گم کردہ راہ قوم کے رہنما اور برگشتہ بخت ملت کے محسن ہیں۔
غیرت وحمیت اور عشق ومستی سے عاری نام نہاد مسلمان اس لذت، اس سرمستی اور اس سرشاری سے نا آشنا ہیں۔ ویران کھنڈروں کی بوسیدہ چھتوں میں پناہ گزیں چمگادڑوں کو اس کا عرفان ہو سکتا ہے نہ ادراک اور نہ پہچان...... خوفِ سحر سے لرزاں...... تقدیر، تدبیر اور تعمیر کے لیے ترساں...... منزل کے بجائے پگڈنڈیوں کے خم و پیچ میں اُلجھ کر رہ جانے والے ہمیشہ خسارے میں رہتے ہیں۔
شہیدان ناموس رسالتؐ ...... آج بھی فردوس بریں سے ہر مسلمان سے شکوہ کناں ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ سے عشق و محبت کا دعویٰ کرنے والو! دعویٰ صرف کھوکھلے الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے کچھ عملی تقاضے بھی ہوتے ہیں...... اپنے دعوائے عشق کے سچا ہونے کا کوئی جیتا جاگتا ثبوت دو اور ثابت کرو اپنی محبت حضور نبی کریم ﷺ سے۔ دعوے اور ثبوت کے لیے زبان نہیں، خود حرکت میں آنا چاہیے۔ آزمائش اخلاص کی ہوتی ہے۔ دعوے پر پورا اترنے والے
اپنی حقیقی منزل کو پا لیتے ہیں لیکن حمیت سے عاری اور غیرت سے نا آشنا برائے نام مسلمان شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپانے پر مجبور ہوتے ہیں...... کم از کم مشاہدہ اور تاریخ تو یہی کہتی ہے۔
ہمارے ہاں کسی کا بیٹا، بھائی یا قریبی عزیز فوت ہو جائے تو رسم دنیا نبھانے کے لیے لواحقین سے تعزیت کی جاتی ہے لیکن ان غازیوں اور مجاہدوں کی قید و شہادت پر لوگوں نے ان کے لواحقین کو مبارک بادیں پیش کیں اور خود شہیدوں کی عفت مآب ماؤں نے فرطِ مسرت سے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ یہ لائقِ رشک کردار پوری ملت اسلامیہ کے لیے باعث صد فخر و ناز ہے۔
اسلام کی سربلندی اور امت مسلمہ کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کی خاطر ان شہیدانِ ناموسِ رسالت ﷺ نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کر کے اسلام کی عظمت کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ اپنے مقدس لہو سے چمنِ اسلام کی آبیاری کرنے والے یہ وہ خوش قسمت ہیں جن پر روحِ فطرت ناز کرتی ہے۔ یہ روشن کردار ہماری تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ان شہیدوں کی زندہ قبریں اہلِ عالم کے لیے آج بھی چشمۂ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ لوگ اسلام کے مقدر کے درخشاں ستارے ہیں۔ ان کی رفعت پر پوری ملت اسلامیہ رشک کرتی ہے۔ فردوسِ بریں بازو پھیلائے محبوبِ کائنات ﷺ کے ان محبوبوں کی منتظر ہے۔ حور و غلمان ایسے ہی قدسیوں کی راہ تکتے ہیں۔ فرشتے جبریلِ امیں کی قیادت میں اپنے ہاتھوں میں تاجِ عظمت لیے انھیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اللہ کی رضا پر راضی ہو جانے اور اس کے محبوب کی آبرو پر فدا ہو جانے والے ان خوش بختوں کو اللہ تعالیٰ اپنے دیدار سے مشرف فرماتے ہیں۔
شوق شہادت کی یہ سبیل آج بھی جاری و ساری ہے۔ کاتبِ وقت نے ہر کوچہ و بازار کی پیشانی پر یہ تحریر جلی رقم کر دی ہے۔
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
خاکپائے شہیدانِ ناموسِ رسالت محمد متین خالد لاہور mateenkh@gmail.com
شکریہ !!!
- سب سے پہلے میں اپنے مالک حقیقی کے سامنے سجدہ ریز ہوں کہ اگر اس کی بے پایاں
رحمت و عنایت نہ ہوتی تو یہ کتاب نہ وجود میں آتی اور نہ زیور طبع سے آراستہ ہوتی۔
- آسمان علم و ادب کے ماہتاب جناب پروفیسر محمد اقبال جاوید کا جنھوں نے گرانقدر
اور ایمان افروز تقریظ لکھ کر کتاب کو چار چاند اور پانچ سورج لگا دیے۔
- علمی و ادبی حلقوں میں نہایت معتبر شخصیات جناب جبار مرزا (اسلام آباد)،
جناب پروفیسر جمیل احمد عدیل (لاہور)، جناب عبدالرؤف (شام نگر لاہور)، جناب اسد اللہ ساقی گوریجہ (جڑانوالہ)، جناب محمد ثاقب قادری (لاہور)، جناب پروفیسر ڈاکٹر حامد رضا (فیصل آباد) اور جناب علامہ عبدالستار عاصم (لاہور) کا جنھوں نے کتاب کو خوب سے خوب تر بنانے کے لیے کئی مفید تجاویز دیں۔
- محسن و مربی جناب عبدالرؤف (اسلام آباد)، جناب محمد فرقان اور
جناب محبوب الرحمٰن (ماہنامہ ضیائے حرم) کا جنھوں نے کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں میری توقع سے بڑھ کر تعاون کیا۔
- عزیزان گرامی جناب ظفر اقبال، جناب طاہر علی، جناب محمد نعمان صادق بٹ
اور جناب محمد طیب اعوان کا جنھوں نے کمپوزنگ اور ڈیزائننگ میں سخت محنت کر کے کتاب کی خوبصورتی میں اضافہ کیا۔
- علم و عرفان پبلشرز کے مہتمم جناب گل فراز کا جنھوں نے اس کتاب کو باذوق رنگ دیا۔
محمد متین خالد
شیران
ناموسِ رسالت ﷺ
سردار علی صابری
غازی قاضی عبدالرشید شہیدؒ
(سن شہادت: 1927ء)
جمعرات 23 دسمبر 1926ء کو دلی کے ایک خوشنویس قاضی عبدالرشیدؒ نے غیرت اسلامی کے جذبے سے سرشار ہو کر فتنۂ ارتداد (شدھی) کے بانی اور رسالت مآب ﷺ کے شاتم سوامی شردھانند کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور اس سعادت عظمیٰ کے صلے میں پھانسی کے تختے پر حیات ابدی حاصل کی تھی۔ ہماری نئی نسلیں اب اس غریب کاتب کو بھولتی جارہی ہیں جس نے شاہ بطحا ﷺ کی ناموس پر قربان ہو کر اپنے ایمان کامل کا ثبوت دیا تھا۔
شردھانند، جالندھر (مشرق پنجاب) کا رہنے والا تھا۔ اصلی نام لالہ منشی رام تھا۔ آریہ سماج کا بہت پُر جوش و سرگرم کارکن تھا۔ دیانند اینگلو ویدک کالج لاہور کے انتظامی معاملات میں پرنسپل ہنس راج سے اختلاف ہوا تو ڈی اے او کالج کے مقابلہ میں ہردوارے کے قریب موضع کانگری میں ایک گروکل قائم کر ڈالا، جسے آج بھی شمالی ہند میں آریہ سماج کے ایک اہم تعلیمی و تبلیغی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ شردھانند نے عرصہ سے دلی میں سکونت اختیار کر رکھی تھی اور یہیں سے اس نے شدھی کی آگ بھڑکانے کے لیے اُردو میں روزنامہ ”تیج“ اور اس کے بیٹے نے ہندی میں روزنامہ ”ارجن“ جاری کیا۔ لمبا قد تھا، گندمی رنگ، داڑھی مونچھ صاف، سر منڈا ہوا، بڑی بڑی آنکھیں، آواز بہت بلند، سادھوؤں کا رنگین لباس۔ قتل کے وقت عمر پینسٹھ (65) سال کے لگ بھگ ہوگی۔ میرے سامنے شردھانند کی زندگی کے تین روپ ہیں۔ پہلا روپ میں نے خود نہیں دیکھا۔ سُنا اور اخبارات میں پڑھا ہے۔ دوسرے دو روپ اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔
پہلا روپ ”قوم پروری“ کا روپ ہے۔ 1919ء میں جب آل انڈیا کانگریس
کے سالانہ اجلاس پنڈت موتی لال نہرو کی زیر صدارت امرتسر میں منعقد ہوئے تو شردھانند مجلس استقبالیہ کا چیئرمین تھا۔ اس نے اپنے خطبہ صدارت میں ترکوں کے مصائب سے گہری ہمدردی ظاہر کی تھی اور خلافت کی بحالی کے لیے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا تھا۔ مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی چھندواڑہ (سی۔ پی) جیل سے رہا ہو کر جب کانگریس کے اجلاس میں شریک ہونے کے لیے سیدھے امرتسر پہنچے تو اس منظر کو دیکھنے والے بہت لوگ زندہ ہیں کہ مجلس استقبالیہ کے صدر شردھانند بڑی بے تابی سے کانگریسی پنڈال میں دوڑ کر علی برادران سے بغل گیر ہوئے تھے اور اسے ہندو مسلم اتحاد کا نا قابل شکست مظاہرہ بتایا تھا۔
شردھانند کا جو دوسرا روپ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ غالباً 1922ء کا ابتدائی حصہ تھا۔ مولانا محمد علی کے اخبار ”ہمدرد“ میں اعلان ہوا۔ شہر میں پوسٹر لگائے گئے کہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ”شری سوامی شردھانند جی مہاراج“ ہندو مسلم اتحاد کے موضوع پر مسلمانوں سے خطاب فرمائیں گے۔
دہلی کی جامع مسجد دنیائے اسلام کی ایک حسین ترین و مقبول ترین عبادت گاہ...... میں ایک ہندو سنیاسی کی تقریر...... بات تو انوکھی سی تھی۔ مگر وہ زمانہ تحریک خلافت کے شباب کا تھا۔ اگرچہ ہندوؤں کے دلوں میں اس وقت بھی مسلمانوں کے خلاف بغض و نفرت کی چنگاریاں دبی ہوئی تھیں۔ مگر صاف دل مسلمانوں کو اپنے ”ہندو دوستوں“ کے خلوص پر بہت اعتماد تھا۔ جامع مسجد میں یوں تو ہر جمعہ کو بالعموم نو دس ہزار مسلمان شریک نماز ہوتے ہیں لیکن آج کے جمعہ کا پوچھنا ہی کیا۔ جمعۃ الوداع کا ہلکا سا نقشہ نگاہوں کے سامنے آگیا۔ عظیم الشان صحن کے علاوہ ساری برجیاں اور چھتیں لوگوں سے پٹی پڑی تھیں۔ تینوں بڑے دروازوں کے باہر بھی لوگوں کے ٹھٹ لگے تھے۔
نماز ختم ہوتے ہی مولانا محمد علی نے شردھانند کی آمد کا اعلان کیا۔ تھوڑی دیر بعد پُر جوش نعروں اور خلافتی رضا کاروں کے جلو میں شردھانند عالم اسلام کی اس مایہ ناز مسجد میں داخل ہوا۔ مسجد کے پیش طاق یا درمیانی در کے سنگ، سنگ تراشی کا شاندار مکبر سلطنتِ مغلیہ کے آخری دور کی صناعی کا بہت دلکش نمونہ ہے۔ مولانا محمد علی کے ساتھ شردھانند اس بلند و بالا مکبر پر براجمان ہوا۔ مولانا کی مختصر تعارفی تقریر کے بعد اس مکبر سے جہاں ہمیشہ تکبیر کی آوازیں گونجتی تھیں، تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ہندو سادھو کی آواز تقریر بن کر گونجی۔ میں اس وقت حوض کے
آخری مشرقی کنارے پر تھا۔ شردھانند کی تقریر اصول و غایت کے اعتبار سے جیسی کچھ بھی ہو لیکن منافقت کا شاہکار ضرور تھی۔ شردھانند نے دل کا بھید چھپانے میں کمال کر دیا۔ اس کے ہر لفظ سے مترشح ہوتا تھا کہ اسے مسلمانوں سے بے پناہ محبت ہے اور وہ ہندو مسلم اتحاد کو آزادی کی کنجی سمجھتا ہے۔ یہ بات کسی کے وہم و گمان میں نہ آسکتی تھی کہ ہندو مسلم اتحاد کا یہی پرچارک سادھو صرف چند ماہ بعد اسلام اور مسلمان کا سب سے بڑا دشمن بن کر میدان میں آئے گا اور ہندوستان سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے کے لیے شدھی اور سنگھٹن جیسی خطرناک تحریکیں جاری کرے گا۔
شردھانند کا جو تیسرا روپ میرے سامنے آیا، وہ بہت ہی اشتعال انگیز، گھناؤنا اور قابل نفرت تھا۔ غالباً 1923ء کے آغاز میں اس کو دفعہ 124 الف کے تحت قید سخت کی سزا ہوئی تھی لیکن وہ معافی مانگ کر جیل سے رہا ہو گیا اور اس نے انگریز حکام کو خوش کرنے اور کچھ متعصب ہندوؤں کے جذبۂ اسلام دشمنی کو تسکین دینے کے لیے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تحریروں اور تقریروں کا لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا۔ شردھانند نے جیل سے رہا ہونے کے بعد روزنامہ ”تیج“ کے ایک مضمون میں اسلام پر جو پہلا حملہ کیا تھا، اس کے نجس الفاظ مجھے اب تک یاد ہیں۔
تحریک ترک موالات دم توڑ رہی تھی۔ گاندھی ایک دو ماہ بعد ضلع گورکھ پور کے ایک چھوٹے سے گمنام گاؤں چورا چوری کے معمولی سے واقعہ کو آڑ بنا کر تحریک ترک موالات کا گلا گھونٹنے والے تھے تاکہ مسلمانوں کے روز افزوں اثر و رسوخ سے کانگریس اور ہندوستان کی سیاست کو محفوظ کیا جائے۔ چنانچہ بڑے بڑے ہندو لیڈروں کے عملی اشتراک، اشیر باد اور بھاری سرمائے سے مسلمانوں کے خلاف شدھی اور سنگھٹن کی تحریکیں شروع کی گئیں۔ شدھی کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو جو ہندوؤں کے بیان کے مطابق ہندو نسل سے تعلق رکھتے ہیں، اسلام سے منحرف کر کے دوبارہ ہندو بنا لیا جائے اور سنگھٹن کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان سے مسلمانوں کا وجود ختم کرنے کے لیے نہ صرف مختلف مکاتب فکر کے ہندوؤں بلکہ سکھوں اور بودھوں کو بھی عظیم تر ہندو قومیت کے نام پر متحد کیا جائے اور جارحانہ حملوں کے لیے فوجی لائنوں پر مسلح دستے مرتب کیے جائیں۔
یو۔ پی کے بعض اضلاع میں کئی لاکھ کم تعلیم یافتہ مسلمان راجپوت آباد تھے جنہیں
ملکانہ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ شُدھی کا پہلا سخت حملہ انھی علاقوں پر ہوا۔ ملکانہ راجپوتوں کو دین اسلام سے منحرف کرنے کے لیے لالچ اور تشدد کے سارے حربے استعمال کیے گئے۔ تھوڑے بہت غریب راجپوتوں کا ایمان روپیہ کی طاقت سے خریدا گیا اور جو لوگ اسلام کا دامن چھوڑنے کو تیار نہ ہوئے، ان کے گھروں کو لوٹا اور جلایا گیا اور ان کی ناموس پر حملے کیے گئے۔
شُدھی کے خطرناک فتنے کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام قابل ذکر علما و مشائخ اور اکابر و مشاہیر نے جس اتحاد اور عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا، اسے اسلامی ہند کی تاریخ ہمیشہ فخر سے یاد رکھے گی۔ شُدھی اور سنگھٹن کا سلسلہ اگر سنجیدہ مباحث اور علمی دلائل تک محدود رہتا تب بھی غنیمت تھا، لیکن شردھانند اور اس کے آریہ سماجی بھگتوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلیظ گالیوں، بہتان تراشیوں اور انتہائی اشتعال انگیزیوں کو اپنا مستقل شعار بنا لیا۔ روزنامہ ”تیج“ دہلی میں شردھانند کے قلم سے اسلام اور مسلمانوں کو گالیاں دی جاتی تھیں اور قرآن مجید کی آیتوں کا مذاق فحش الفاظ میں اڑایا جاتا تھا۔ ہندی اخبار ”ارجن“ میں ہندوؤں کو مشتعل کرنے کے لیے عہد سابق کے مسلم سلاطین کے فرضی مظالم کی کہانیاں بہت بڑھا چڑھا کر شائع کی جاتی تھیں اور کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا جب ہندو عورتوں کے اغوا اور مسلمانوں کے ہاتھوں ان کے بے عزت کیے جانے کے دو چار جھوٹے قصے درج نہ کیے جاتے ہوں۔ ایک آریہ سماجی نے قرآن مجید کا جواب لکھنا شروع کیا۔ شردھانند کی اشیرباد سے ایک اخبار ”گرو گھنٹال“ جاری کیا گیا تھا جس کا مقصد مسلمانوں اور ان کے مقدس رہنماؤں (جن میں اولیاء کرام بھی شامل تھے) کو انتہائی شرم ناک الفاظ میں گالیاں دینا تھا۔
شردھانند کے ایک چیلے نے ”جڑپٹ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں حضور سرکار دو عالم ﷺ اور دیگر انبیائے کرام، خاص کر حضرت ابراہیم خلیل اللہ، حضرت لوط، حضرت ایوب، حضرت اسحاق علیہم السلام کی شان میں اس قدر سخت گستاخیاں بالکل عریاں الفاظ میں کی گئی تھیں کہ اس خباثت کا تصور بھی مشکل ہے۔ ”جڑپٹ“ میرے دفتر ”ریاست“ میں ریویو کے لیے آئی تھی اور دل پر پتھر رکھ کر اسے ایک نظر دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔
شردھانند کا کلیجہ اس قدر اشتعال انگیزیوں پر بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور اس نے خاندانِ مغلیہ کی بے گناہ شہزادیوں کے خلاف فحش ڈرامے لکھنے کی تحریک سارے ملک میں شروع کر دی۔ چنانچہ اس نوعیت کے کئی ڈرامے اردو ہندی میں لکھے گئے۔ شہزادی زینت آراء بیگم کے
متعلق ایک ڈرامہ اخبار ’’ریاست‘‘ میں میری نظر سے گزرا ہے، جس میں اس پاک دامن شہزادی کو انتہائی بدچلن عورت کے روپ میں پیش کیا گیا تھا۔ بعد میں جب آریہ سماجیوں نے اس ناپاک ڈرامے کو سٹیج پر پیش کرنے کی کوشش کی تو کئی شہروں میں ہنگامے بھی ہوئے۔
مسلمانوں کے سینے میں بھی دل تھا۔ وہ حضور نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس واعلیٰ میں شرمناک گستاخیاں، انبیائے کرام پر پُرخباثت حملے، قرآن مجید کی آیتوں کا مذاق اور بے گناہ مغل شہزادیوں کے خلاف فحش ڈرامے، جو سب کچھ شردھانند کی قیادت میں اس کے اشارے سے ہو رہا تھا، کب تک برداشت کرتے۔ ضبط و صبر کی آخر حد ہوتی ہے جس سے آگے بڑھنے کا نام بے غیرتی ہے۔ قاضی عبدالرشید مرحوم پیشہ کے لحاظ سے خوش نویس تھے۔ لمبا قد، چھریرا جسم، گندمی رنگ، لمبا چہرہ، کرتہ پاجامہ، ترکی ٹوپی۔ یہ ان کی عام پوشاک تھی۔ شردھانند کے زمانۂ قتل کے قریب اخبار ’’ریاست‘‘ میں فرائض کتابت انجام دیتے تھے۔ دفتر کوچہ بلاقی بیگم دہلی میں تھا۔ گلی میں دروازہ اور سپلینڈ روڈ کے سامنے برآمدہ۔ قیدِ علائق سے آزاد ہونے کے باعث، میں ’’ریاست‘‘ کے دفتر ہی میں دن رات رہتا تھا۔ قاضی صاحب کی نشست میری میز کے قریب تھی۔ دفتر میں آریہ سماجیوں کے جو اخبارات و رسائل اور دیگر پمفلٹ اور ڈرامے وغیرہ تبادلہ و ریویو کی غرض سے دفتر میں آتے رہتے تھے، وہ بہت غور و سنجیدگی سے پڑھتے رہتے تھے۔ نماز کے بہت پابند تھے۔ دفتر کے اوقات میں ظہر و عصر کی نمازیں ہمیشہ دریبہ کی مسجد میں جماعت سے ادا کرتے تھے اور آریہ سماجیوں کی نجس و ناپاک حرکتوں سے ان کے جذبات بے انتہا مجروح ہو چکے تھے۔
واقعۂ قتل سے تین چار دن پیشتر قاضی عبدالرشید مرحوم بہت گم سم رہتے تھے۔ کام میں دل نہ لگتا تھا۔ جب تک جی چاہتا کتابت کرتے اور جب چاہتے تو برآمدے میں بچھے ہوئے پلنگ پر پڑے رہتے تھے۔ ’’ریاست‘‘ کے پروپرائٹر سردار دیوان سنگھ ان دنوں نابھہ کے معزول آنجہانی مہاراجہ رِپُودمن سنگھ کے کسی سیاسی و ذاتی کام سے دو ہفتوں کے لیے شملہ گئے ہوئے تھے، دفتر کے انتظامات درست رکھنے اور اخبار کو بروقت نکالنے کی ساری ذمہ داری میرے اور سردار گجن سنگھ منیجر کے ذمے تھی۔ قاضی عبدالرشید مرحوم کو میں نے ان کی بے توجہی پر ایک دو مرتبہ ٹوکا لیکن کوئی اثر نہ ہوا۔
جمعرات (23؍ دسمبر) کو اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے کے لیے جوڑی جا رہی
تھی۔ دفتر کا وقت نو بجے مقرر تھا۔ دن کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے اور منشی قاضی عبدالرشید کا پتہ نہ تھا۔ چند اشتہاروں کے چربے اور مسودے انھی کے پاس تھے۔ قاضی صاحب کے اس قدر دیر سے آنے پر ہیڈ کاتب منشی نذیر حسین میرٹھی نے اعتراض کیا تو جھلا کر جواب دیا۔ ”چولہے میں گئی تمہاری کاپی“ یہ کہہ کر کام کرنے کے بجائے برآمدے میں پلنگ پر لیٹ رہے۔ میں نے اعتراض کیا۔ کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے سردار گجن سنگھ منیجر سے شکایت کی۔ ان کے اصرار پر برہم ہو گئے۔ بولے : ”مجھے نوکری کی پروا نہیں ، لکھ دو اپنے سردار کو، میں کام نہیں کرتا۔“ یہ کہہ کر پلنگ سے اٹھے ، قلمدان بغل میں دبایا اور چل دیئے۔ چار پانچ بجے سہ پہر کے درمیان دریبہ کے ہندو علاقے میں سنسنی اور بے چینی محسوس ہوئی۔ سامنے سڑک پر ایک دوزخی بھی گزرے۔ اس زمانے میں خبر رسانی کے ذرائع بہت محدود تھے۔ شہر میں ٹیلی فون تک کم تعداد میں تھے۔ ساڑھے پانچ چھ بجے شام کے درمیان روز نامہ ”تیج“ کا ضمیمہ شائع ہوا جس میں شردھانند کے قتل کی تفصیلات کے ساتھ قاضی عبدالرشید کی تصویر بھی تھی ، کہ ہتھکڑیاں پہنے پولیس کی حراست میں کھڑے تھے اور جسم پر چادر ہے۔ تفصیلات سے معلوم ہوا کہ قاضی صاحب مرحوم اسی چادر میں پستول چھپا کر شردھانند کے دفتر گئے تھے اور اسے گولی کا نشانہ بنادیا تھا۔
قاضی صاحب نے عدالت میں اقبالِ جرم کیا۔ 15/ مارچ 1927ء کو سیشن کورٹ سے پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ سیف الدین کچلو نے سیشن کورٹ میں کسی معاوضہ کے بغیر پیروی کرنے کے علاوہ لاہور ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کی مگر مسترد ہوگئی اور جولائی 1927ء کے آخری ہفتے یا اگست کے اوائل میں غازی عبدالرشید نے دلی سنٹرل جیل میں پھانسی کے تختے پر جامِ شہادت نوش کیا۔
پھانسی کے دن سنٹرل جیل کے سامنے مسلمانوں کا بے پناہ ہجوم تھا۔ ہزاروں برقع پوش عورتوں کے علاوہ بہت سے بچے بھی غیرتِ اسلامی کے جذبہ سے مخمور ہوکر گھروں سے باہر نکل پڑے تھے۔ لاش کو جیل کے اندر ہی غسل و کفن دیا گیا اور حکام نے جیل کے احاطے ہی میں دفن کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن عمائدِ شہر کے شدید اصرار پر شہید عبدالرشید کے وارثوں کو اس شرط پر لاش دینے کا فیصلہ کیا گیا کہ جنازہ کا جلوس نہیں نکالا جائے گا اور اسے جیل کے سامنے والے قبرستان میں نذرِ لحد کردیا جائے گا، لیکن جیل کا پھاٹک کھلتے ہی جب عاشقِ رسول کا جنازہ باہر نکلا تو مسلمانوں کا زبردست ہجوم اللہ اکبر اور یا رسول اللہ کے نعرے لگاتا ہوا دیوانہ وار ٹوٹ پڑا۔
جنازے کو حکام سے چھین لیا اور سامنے قبرستان لے جانے کے بجائے جامع مسجد روانہ ہو گیا۔ نعرۂ تکبیر کی معجزہ نما اثر انگیزی کا یہ کرشمہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خونی دروازے کے سامنے مسلح پولیس کے کئی سو آدمیوں نے صف بندی کر کے راستہ روک دیا تھا۔ جابجا گورا فوج کے جوان متعین تھے لیکن مسلمانوں کا ہجوم عاشق رسول عبدالرشید کے جنازے کو لے کر خونی دروازے کے سامنے پہنچا اور اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تو اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے کہ پولیس کے مسلح جوانوں کی صف کائی کی طرح پھٹ گئی۔ گورا فوج کے جوان سنگینیں تانے کھڑے رہے اور جنازے کا جلوس اس صفائی سے آگے بڑھا کہ جیسے آٹے سے بال نکلتا ہے۔ مسلح پولیس نے کئی بار راستہ روکنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ ناموسِ رسول ﷺ پر جان دینے والے عبدالرشید کی نمازِ جنازہ جامع مسجد میں پچاس ساٹھ ہزار مسلمانوں نے پڑھی (اس وقت دلی کی پوری آبادی تین لاکھ کے قریب تھی) نماز کے بعد شہر کے ممتاز مسلمانوں کی رائے تھی کہ لاش کو جیل کے سامنے والے قبرستان میں پہنچا دیا جائے جہاں قبر پہلے سے تیار تھی اور شہدا کے ورثاء متعلقہ حکام سے لاش کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن غازی انوار الحسن مرحوم (جو پہلے کانگریسی تھے، بعد میں انھوں نے دلی میں مسلم لیگ کے ایک بااثر راہنما کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ افسوس ہے کہ چند سال پیشتر ان کا انتقال لاہور میں ہو گیا) کی قیادت میں پُر جوش طبقے نے جنازے کو حضرت خواجہ باقی باللہ نقشبندی کی درگاہ مبارک میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا جو جامع مسجد سے کم و بیش تین میل دور ہے۔ دلی کے مستقل کوتوال شہر دیوی دیال نے ان دنوں رخصت لے رکھی تھی۔ شیخ نذیر الحق قائم مقامی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد مسلح پولیس نے گورا فوج کی مدد سے جنازے پر نمازِ مغرب سے پیشتر قطب روڈ کے پُل پر اس وقت قبضہ کر لیا جب کہ مسلمان حضور خواجہ باقی باللہ کی درگاہ مبارک کے قریب پہنچ چکے تھے۔ جنازہ، قبرستان میں مرحوم کے ورثاء کے حوالے کیا گیا جہاں عاشق رسول عبدالرشیدؒ کو ان کی ابدی خواب گاہ کی نذر کر دیا گیا۔
۞.......۞.......۞
محمد متین خالد
غازی علم الدین شہیدؒ
(سن شہادت: 1929ء)
بنیادی طور پر ہر مسلمان کو حضور رحمت للعالمین، شفیع المذنبین، خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے والہانہ عقیدت و محبت و احترام ہے۔ وہ آپ ﷺ کی ذات اقدس پر اپنی جان قربان کرنا موجب نجاتِ اُخروی اور شہادت ایسے بلند مرتبے پر فائز ہونے کو باعث صد افتخار سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:
- اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗ اُمَّهٰتُهُمْ (احزاب: 6)
”یعنی مسلمانوں کو حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی اپنی جانوں سے زیادہ مقدم ہے اور ادب و تعظیم کے لحاظ سے رسالت مآب ﷺ کی ازواج مطہرات مسلمانوں کی مائیں ہیں۔“
ایک دفعہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرطِ عقیدت و محبت کی وجہ سے فرمایا:
- ”مجھے حضرت محمد ﷺ، خود اللہ تعالیٰ سے بھی زیادہ عزیز ہیں کیونکہ آپ ﷺ کی
ذات بابرکات نے ہی مجھے اللہ جل جلالہ سے متعارف کرایا ہے“۔
اسی مضمون کو حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے یوں ادا کیا ہے:
بنگری با دیدۂ صدیق اگر
قوتِ قلب و جگر گردد نبی ﷺ
از خدا محبوب تر گردد نبی ﷺ
یعنی اگر تو میری بات کو سمجھے اور اس فلسفے پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کی آنکھوں سے نظر ڈالے تو دل اور جگر کی تمام قوتیں حضور نبی کریم ﷺ پر قربان ہونے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں
اور آپ ﷺ کی ذات گرامی خود اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہو جاتی ہے۔ حضور رحمت عالم ﷺ کے بہت سے جلیل القدر صحابہ کرام آپ ﷺ کی حرمت پر قربان ہوئے اور بعض عظمت اسلام کا پرچم بلند کرتے ہوئے شہادت کے جام نوش کرتے رہے۔ یہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہیں آپ ﷺ کی بابرکت صحبت میسر تھی۔ لیکن شمع رسالت ﷺ کے اُن پروانوں کی شہادت کا درجہ کیا ہوگا جو صدیوں بعد محض آپ ﷺ کا مبارک تذکرہ سن کر آپ ﷺ کی عزت و ناموس پر قربان ہو جائیں...... غازی علم الدین شہیدؒ بھی اسی شاہراہ جناں کا ایک مسافر ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہماری حالیہ تاریخ میں قافلہ جاں نثاران حرمت رسول ﷺ کے سردار غازی علم الدین شہید ہی ہیں۔ پاکستان کے دل لاہور کے وسط میں نئی انارکلی سے متصل ہسپتال روڈ پر ”راجپال اینڈ سنز“ کے نام سے ایک ہندو مہاشے راجپال کی کتابوں کی دکان تھی۔ اس دکان میں اکثر کتب ہندو دھرم سے متعلق ہوتی تھیں اور بعض کتب وہ خود بھی شائع کرتا تھا۔ راجپال کے دوستوں اور اس کی دکان پر آنے جانے والوں کی اکثریت ہندو متعصبین کی تھی۔ 1920ء کی دہائی میں عیسائیوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں میں بھی خواہ مخواہ مسلم دشمنی کا مرض عود کر آیا اور انھوں نے دین اسلام پر رکیک حملے شروع کر دیے۔ ہندوؤں نے اسلام کی مقدس شخصیات کی شان میں کذب و افترا اور دریدہ دہنی کے ایسے شرمناک مظاہرے کیے جن سے مسلم دل و دماغ میں غم و اضطراب کی آندھیاں چلنے لگیں۔ علاوہ ازیں وہ شدھی اور سنگٹھن جیسی بدنام زمانہ اسلام دشمن تحاریک کے ذریعے مسلمانوں کے قلب و جگر چھلنی کر رہے تھے۔ اسی دوران 1923ء میں راجپال پبلشر نے ایک بڑی دلخراش جسارت کرتے ہوئے ہمارے ہادی برحق، فخر موجودات، حضور سرور کائنات ﷺ (فداہ ابی و امی) پر انتہائی گستاخانہ اور دل آزار کتاب شائع کر دی جس سے ملت اسلامیہ کا لہو کھولنے لگا اور انھوں نے راجپال سے کہا کہ وہ ہزلیات پر مشتمل اپنی اس کتاب کو تلف کر دے مگر آریہ سماج لیڈران سے گہرا تعلق ہونے کی بنا پر اس نے نہ صرف مسلمانوں کا یہ مطالبہ یکسر نظر انداز کر دیا بلکہ اس گستاخانہ کتاب کا سستا ایڈیشن شائع کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔ اس پر ملت اسلامیہ میں اضطراب و ہیجان اور شدید غم و غصہ کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔ جب یہ فساد مزید بڑھا تو حکومت برطانیہ نے کتاب کی ضبطی کے ساتھ شہر میں دفعہ 144 کا نفاذ کر کے ہر قسم کے جلسے جلوسوں پر پابندی لگا دی۔ بعدازاں مسلمانوں کے شدید احتجاج پر حکومت نے ناشر کے خلاف
فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزام میں دفعہ 153 الف کے تحت مقدمہ درج کر کے راجپال کو گرفتار کر لیا۔
24 مئی 1924ء کو لاہور کے ایک مجسٹریٹ سی ایچ ڈرنی کی عدالت میں اس کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں ممتاز ہندو وکلاء نے راجپال کا دفاع کیا۔ طویل سماعت کے بعد 1924ء کے آخر میں عدالت نے راجپال کو چھ ماہ قید با مشقت اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنایا۔ راجپال نے اس فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل کر دی۔ یہ اپیل کرنل ایف سی نکولس نے سنی اور اس نے راجپال کی سزا میں نصف تخفیف کر دی۔ بعد ازاں ملزم کی طرف سے نگرانی کی ایک درخواست ہائی کورٹ میں پیش ہوئی جس کی سماعت کنور دلیپ سنگھ کی عدالت میں ہوئی۔ اس وقت پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر شادی لال تھے جن کی ذاتی سفارش پر راجپال رہا ہو گیا۔ جسٹس کنور دلیپ سنگھ کے فیصلے پر مسلمانوں میں طیش کی شدید لہر دوڑ گئی۔ اس فیصلہ کے خلاف شہر بھر میں جلسے جلوس ہوئے اور بہت ساری گرفتاریاں بھی ہوئیں۔
مسلمانوں میں راجپال کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے یعنی اس کے بری ہونے پر شدید غم وغصہ اور بے چینی تھی کہ 26 ستمبر 1927ء کو ایک غیور مسلمان خدا بخش نے شاتم رسول راجپال پر قاتلانہ حملہ کیا۔ یہ حملہ دن کے وقت اس کی دکان پر چاقو سے کیا گیا جس سے راجپال زخمی تو ضرور ہوا مگر واصل جہنم نہ ہوسکا۔ شاید یہ سعادت، قدرت نے کسی اور کے لیے رکھی تھی۔ حملہ کرنے والا غازی خدا بخش ولد محمد اکبر ایک کشمیری خاندان سے تھا۔ یکی گیٹ لاہور کا رہنے والا تھا۔ یہ دودھ فروش بھی تھا اور جلد ساز بھی۔ اس کا دل نور ایمان سے منور تھا۔ اس نے جمعہ کو ایک مقامی مسجد میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر تقریر سنی اور راجپال کا کام تمام کرنے کے لیے بے قرار ہو گیا تھا۔ بعد ازاں غازی خدا بخش گرفتار ہوا، کیس چلا اور اسے سات سال قید بامشقت کا حکم سنایا گیا۔ اس فیصلے سے ہندو تو قدرے مطمئن ہوگئے، راجپال بھی ٹھیک ہو گیا مگر اہل اسلام کے دلوں میں نیا جوش پیدا ہوا اور وہ پھر سے اس شاتم رسول کو از خود سزا دینے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔
راجپال کی ناپاک جسارت کے چرچے دور دور تک پھیل چکے تھے۔ چنانچہ شمع رسالت ﷺ کے ایک پروانے نے افغانستان میں ملعون راجپال کی شائع کردہ گستاخانہ کتاب کا تذکرہ سنا تو اس کا خون بھی کھولنے لگا۔ کابل کے اس غیور پٹھان کا نام عبد العزیز تھا۔ وہ لاہور
میں بغرض کاروبار آیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ جب وہ لاہور سے واپس کابل گیا تو وہاں بھی اس کے ہم وطن پے در پے ہونے والے دل آزار واقعات سے سخت رنجیدہ تھے۔ البتہ وہاں کا ایک اخبار ”امان افغان“ بڑی جرات کے ساتھ آریہ سماج اور انگریزی حکومت پر کڑی تنقید بھی کرتا تھا۔ اب جب عبدالعزیز اپنے وطن سے لوٹ کر آیا تو وہ بالکل ایک نیا انسان تھا اور وہ کاروبار کے بجائے اپنے شکار کی تلاش میں سیدھا لاہور وارد ہوا۔ یہاں چند روز تو وہ حالات کا جائزہ لیتا رہا، پھر ایک روز (9 اکتوبر 1927ء کو) وہ مسلسل تلاش کے بعد انارکلی کی جانب سے مہاشہ راجپال کی دکان پر پہنچا۔ وہاں پر دو ہندو آپس میں دین اسلام اور حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ پر بحث کر رہے تھے جس سے دین اسلام کی توہین کا پہلو نکلتا تھا۔ عبدالعزیز نے انھیں ایسی بحث سے منع کیا تو وہ مزید مشتعل ہو گئے۔ (اتفاق سے راجپال تو دکان پر موجود نہ تھا اور عارضی دیکھ بھال اس کا دوست سوامی ستیانند کر رہا تھا)۔ عبدالعزیز نے یہ سمجھا کہ معروف شاتم رسول یہی ہے۔ پھر وہ نہایت پھرتی سے چاقو نکال کر اس پر حملہ آور ہو گیا جس سے ستیانند شدید زخمی ہو گیا اور دیگر دو آدمیوں نانک چند بزاز اور چوٹی لال کو معمولی زخم آئے۔ اس واقعہ پر بہت سے ہندو دکان دار جمع ہو چکے تھے جنہوں نے غازی عبدالعزیز کو پکڑ کر حوالہ پولیس کیا جبکہ وہ مسلسل چلا کر کہہ رہا تھا کہ میں نے موذی راجپال کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اس واقعہ سے لاہور میں سنسنی پھیل گئی اور حکومت کو بھی سخت خطرہ محسوس ہونے لگا۔ چنانچہ دیگر حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ جج دلیپ سنگھ کی کوٹھی پر بھی سخت پہرہ لگا دیا گیا۔
تھانے میں عبدالعزیز نے اپنے بیان میں کہا کہ میں افغانستان کے علاقہ غزنی کا رہنے والا ہوں۔ میرے باپ کا نام عبداللہ ہے۔ پانچ چھ سال سے بغرض تجارت ہندوستان آتا رہتا ہوں۔ اجمیر، احمد آباد اور سندھ میں رہا ہوں، وہاں سے لاہور آیا اور لنڈا بازار کی سرائے میں ٹھہرا۔ کبھی مسجد شاہ محمد غوث میں بھی سو جاتا تھا۔ مجھے اس بات کا شدید دکھ ہے کہ میں اصل خبیث کو قتل نہ کر سکا لیکن میرے نزدیک سگ زرد بھی برادر شغال ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہندوؤں میں ذرہ برابر بھی عقل یا رواداری ہوتی تو وہ خود ہی راجپال کو سزا دیتے کیونکہ ہم مسلمانوں نے ہندوؤں کے مذہب کی ہمیشہ حفاظت کی اور کیا مجال کہ ہمارے عہد میں انھیں معمولی سی بھی ٹھیس لگی ہو۔ میرا یہ کارنامہ قابل ستائش ہے مگر فرنگی اور انصاف دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ بعد ازاں غازی عبدالعزیز نے ملاقاتیوں کے ایک گروہ سے فرمایا کہ میرے والد کو
میرے کارنامے پر فخر ہے۔ غازی عبدالعزیز کا مقدمہ 11 اکتوبر 1927ء کو مسٹر اوگلو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا اور 12 اکتوبر 1927ء کو سرسری سماعت کے بعد عدالت نے اسے 14 سال کی قید بامشقت سنا دی۔
حرمت رسول ﷺ کے ناپاک مجرم راجپال کو کیفر کردار تک پہنچانے کی سعادت اسلام کے سرفروش مجاہد غازی علم الدین شہید کے حصے میں آنے والی تھی۔ غازی علم الدین 4 دسمبر 1908ء بروز جمعۃ المبارک کو محلہ چابک سواراں المعروف سرفروشاں (سریانوالہ بازار) لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے آپ کو 6 سال کی عمر میں تکیہ سادھواں کی مسجد میں بٹھا دیا گیا، بعد ازاں انھیں اس مسجد سے بازار نوہریاں اندرون اکبری دروازہ بابا کالو کے مکتب کا طالب علم بنا دیا گیا لیکن وہ ابتدائی تعلیم سے آگے نہ بڑھ سکے۔ ان کے والد طالع مند اپنی روٹی روزی کے لیے لکڑی کے کام سے منسلک تھے۔ اسی لیے غازی صاحب نے بھی مستری نظام دین سے جو بھاٹی دروازہ کے اندر رہا کرتے تھے، اپنا آبائی پیشہ سیکھنا شروع کر دیا۔ آپ نے یہاں صرف چند ماہ ہی کام سیکھا، پھر آپ نے اپنے والد اور بڑے بھائی محمد دین سے نجاری کے کام میں خوب مہارت حاصل کی۔
غازی علم الدین کے والد میاں طالع مند ماہر ہنر مند تھے۔ انھوں نے 1911ء میں میر عثمان علی خاں نظام دکن کی دہلی والی کوٹھی میں کام کیا اور اپنے اچھے اور معیاری کام کی وجہ سے خود نظام کے دستخطوں سے حسن کارکردگی کی سند پائی۔ جن دنوں آریہ سماج کی پرفتن ایذا رسانیاں عروج پر تھیں، میاں طالع مند نے کوہاٹ ریلوے اسٹیشن پر کام کا ٹھیکہ لیا ہوا تھا۔ وہ اپنے نور نظر علم الدین کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ علم دین باقاعدگی سے ورزش کرتے اور اپنی بہتر صحت کی وجہ سے اپنی عمر سے زیادہ تنومند اور خوبصورت نوجوان نظر آتے تھے۔ آپ سڈول جسم، سرخ و سفید رنگت، چوڑی پیشانی اور سیاہ گھنگریالے بالوں کے مالک تھے۔ مارچ 1929ء میں علم دین کے بڑے بھائی محمد دین کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تو آپ نومولود بھتیجی کو دیکھنے لاہور آئے تو اس موقع پر آپ کی منگنی آپ کے ماموں سراج الدین کی دختر فاطمہ بی بی سے ہو گئی۔
یکم اپریل 1929ء کی رات غازی علم الدین شہید اپنے بڑے بھائی محمد دین کے ساتھ دہلی دروازہ کے قریب جلسہ سننے چلے گئے، جہاں سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ نے بڑی پرجوش تقریر کی۔ دفعہ 144 کا نفاذ تھا جس کی رو سے کسی نوع کا جلسہ یا اجتماع نہیں ہو سکتا تھا لیکن
مسلمانوں کا ایک فقید المثال اجتماع بیرون دہلی دروازہ درگاہ شاہ محمد غوثؒ کے احاطہ میں منعقد ہوا۔ وہاں اس بطل حریت نے ناموس رسالت ﷺ پر جو تقریر کی، وہ اتنی دل گداز اور پرسوز تھی کہ سامعین پر رقت طاری ہوگئی۔ کچھ لوگ تو دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ شاہ جیؒ نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
- ”مسلمانو! میں تمہاری سوئی ہوئی غیرت کو جھنجھوڑنے آیا ہوں۔ آج کفار نے توہین
رسالت ﷺ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انھیں شاید یہ غلط فہمی ہے کہ مسلمان مر چکا ہے۔ آؤ اپنی زندگی کا ثبوت دو۔ عزیز نوجوانو! تمھارے دامن کے سارے داغ صاف ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔ گنبد خضریٰ کے مکین تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔ ان کی آبرو خطرے میں ہے۔ ان کی عزت پر کتے بھونک رہے ہیں۔ اگر قیامت کے روز حضرت محمد ﷺ کی شفاعت کے طالب ہو تو پھر توہین رسالت ﷺ کرنے والی زبان نہ رہے یا پھر سننے والے کان نہ رہیں۔“
مشہور ادیب ڈاکٹر سید عبداللہ لکھتے ہیں کہ اس روز پانی اور آگ یعنی سرد آہوں اور گرم آنسوؤں کے ملاپ سے ان کی تقریر ڈھل رہی تھی۔ شاہ جیؒ نے خطاب کرتے ہوئے کہا:
- ”آج آپ لوگ جناب فخر رسل رسول عربی ﷺ کی عزت و ناموس کو برقرار رکھنے
کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ آج اس جلیل القدر ہستی کی عزت معرض خطر میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔ آج کوئی روحانیت کی آنکھ سے دیکھنے والا ہو تو دیکھ سکتا ہے کہ اس دروازے پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ اور ام المومنین حضرت خدیجہؓ آئیں اور فرمایا کہ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں؟“ ارے دیکھو! کہیں ام المومنین عائشہؓ دروازے پر تو نہیں کھڑی ہیں؟ (یہ سن کر مجمع پلٹا کھا گیا۔ مسلمانوں میں کہرام مچ گیا اور وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے) تمہاری محبت کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو لیکن کیا تمھیں معلوم نہیں کہ آج سبز گنبد میں رسول اللہ ﷺ تڑپ رہے ہیں۔ آج خدیجہؓ اور عائشہؓ پریشان ہیں۔ بتاؤ تمھارے دلوں میں امہات المومنینؓ کی کیا وقعت ہے؟ آج ام المومنین عائشہؓ تم سے اپنے حق کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وہی عائشہؓ جنھیں رسول اللہ ﷺ حمیرا کہہ کر پکارتے تھے۔ جنھوں نے سید عالم ﷺ کی رحلت کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ اگر تم خدیجہؓ اور عائشہؓ کی ناموس کے تحفظ کی خاطر جانیں دے دو گے تو کچھ کم فخر کی بات نہیں ہے۔ یاد رکھو! جس روز یہ موت آئے گی، پیام حیات لے کر آئے گی۔ اگر
کچھ پاس رسالت ﷺ ہے تو ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کرو‘‘۔
شاہ جی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا:
- ”جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے، ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے چین سے
نہیں رہ سکتے۔ پولیس جھوٹی، حکومت کوڑھی اور ڈپٹی کمشنر نااہل ہے۔ وہ ہندو اخبارات کی ہرزہ سرائی تو روک نہیں سکتا، لیکن علمائے کرام کی تقریریں روکنا چاہتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ دفعہ 144 کے یہیں پرخچے اڑا دیے جائیں۔ میں دفعہ 144 کو اپنے جوتے کی نوک تلے مسل کر بتا دوں گا۔
جلا کے راکھ نہ کر دوں تو داغ نام نہیں‘‘
داغ کا یہ شعر شاہ جی نے کچھ اس انداز سے پڑھا کہ لوگ بے قابو ہوگئے۔ اس تقریر نے مسلمانوں کی ایمانی غیرت وحمیت کو نئی جلا بخشی۔ لاہور میں بدنام زمانہ کتاب، اس کے مصنف اور ناشر کے خلاف جا بجا جلسے ہونے لگے۔ اس جلسہ کے چند روز بعد سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری، غازی عبدالرحمن اور مولانا حبیب الرحمن گرفتار کر لیے گئے۔ ان پر امن عامہ میں خلل ڈالنے کا مقدمہ بنا۔ اس کے علاوہ بھی سیکڑوں مسلمانوں کی گرفتاریاں ہوتی رہیں کیونکہ جب تک وہ اشتعال انگیز کتاب موجود تھی، مسلمانوں کے انتقامی شعلوں کا سرد ہونا ناممکن تھا۔
سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے خلاف مقدمہ کی وکالت ڈاکٹر محمد عالم بار ایٹ لا کر رہے تھے جو لاہور کے مسلمہ اور قابل بیرسٹر تھے۔ وہ اپنے وقت کے مانے ہوئے قانون دان تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے کسی مدرسہ سے دینی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی کسی پیر صاحب کے پاس جا کر سلسلۂ طریقت میں داخل ہونے کا اتفاق ہوا تھا۔ قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پریکٹس شروع کر دی۔ پس وہ انگریزی تہذیب میں رنگے ہوئے انسان تھے۔ مقدمہ پیش ہوا۔ شاہ جیؒ کی طرف سے ڈاکٹر محمد عالم پیروی کے لیے عدالت میں کھڑے ہوئے تو جج نے جو ہندو تھا، بڑے تحکمانہ لہجے میں کہا ”ڈاکٹر محمد عالم! آپ ایک فاضل وکیل ہو کر ایسے آدمی کے مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں جس نے برسرعام لوگوں کو ایک آدمی کے قتل کے لیے بھڑکایا اور ان کے جذبات کو برانگیختہ کیا۔ عینی شاہد کا بیان ہے کہ یہ بات سنتے ہی ڈاکٹر صاحب کے تیور بدل گئے، چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوئے اور ہوش وحواس نے بالکل جواب دے دیا۔ عدالت اور اس کے آداب کا خیال ہی نہ رہا۔ ڈاکٹر محمد عالم عدالت میں بے ساختہ پکار اٹھا کہ فاضل عدالت
کو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ بخاری کا جو قصور ہے، وہ ہوتا رہے۔ لیکن حق بات یہ ہے کہ اگر میرا بس چلے تو راجپال کو میں اپنے ہاتھوں سے جہنم رسید کر دوں ۔ جج نے حیرانی سے پوچھا! کیا کہہ رہے ہو؟ ہوش و حواس تو ٹھکانے پر ہیں۔ جواب دیا کہ میرے حواس ٹھکانے پر ہیں لیکن میں فاضل عدالت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں والدین کی توہین برداشت کر سکتا ہوں، کسی رشتہ دار کی تضحیک سن سکتا ہوں مگر محمد عالم بحیثیت مسلمان یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کے آقائے نامدار ﷺ کی ذات گرامی پر کسی قسم کا کوئی حرف آئے‘‘۔ بلاشبہ ہم بے نمازی تو ہو سکتے ہیں، روزہ تو چھوڑ سکتے ہیں، زکوٰۃ کی ادائیگی میں سست ہو سکتے ہیں، حج کے فریضہ میں کمزوری دکھا سکتے ہیں مگر بحیثیت مسلمان محبت رسول ﷺ کو دل سے نہیں نکال سکتے۔ ایک مسلمان کا دل محبت رسول ﷺ سے کبھی خالی نہیں ہو سکتا‘‘۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے پرجوش اور ایمان افروز کلمات اہل ایمان کے دلوں کی دھڑکنوں میں ڈھل گئے۔ اس کے علاوہ مسلمان علما و مشائخ بالخصوص حضرت پیر سید جماعت علی شاہؒ، مولانا ظفر علی خانؒ، علامہ اقبالؒ اور دوسرے مسلم زعماء نے مسلمانوں کے اندر عشق رسول ﷺ کی لافانی محبت کو دوچند کر دیا اور برصغیر کے کونے کونے سے گستاخ رسول راجپال کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ ہونے لگا۔
شاہ جیؒ کی تقریر سننے کے بعد غازی علم الدین شہیدؒ کی کیفیت عجیب سی ہو گئی تھی۔ آپ کے ذہن میں ہمہ وقت شاہ جیؒ کی ایمان افروز تقریر کے شعلہ بیاں الفاظ گونجتے رہتے۔ ایک رات غازی علم الدین شہیدؒ نے خواب میں نہایت نورانی شکل وصورت والے بزرگ کو دیکھا جنھوں نے غازی صاحب سے کہا:
’’علم الدین اُٹھو اور جاکر گستاخ رسول ملعون راجپال کا قصہ تمام کر دو‘‘۔
علم الدین ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے اور آپ کا تمام جسم پسینے میں شرابور تھا۔ آپ پریشانی کی حالت میں منہ اندھیرے ہی گھر سے نکلے اور اپنے دوست شیدے کے گھر جا پہنچے۔ پھر اسے ساتھ لیے بھاٹی چوک کی طرف نکلے۔ وہاں جب شیدے کو یہ خواب سنایا تو وہ پھٹی پھٹی نظروں سے آپ کی طرف دیکھنے لگا۔ آپ کے دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ ’’یہ خواب میں نے بھی دیکھا ہے‘‘ آپ بولے کہ ’’پہلے خواب میں نے دیکھا ہے، اس لیے پہلا عمل بھی میرا ہی ہوگا۔ راجپال کی زندگی کا خاتمہ میرے ہاتھوں ہی ہوگا‘‘ شیدے نے اعتراض کیا تو علم الدین نے کہا
”ابھی فیصلہ ہو جاتا ہے۔“ اس کے ساتھ ہی وہ اٹھے اور کاغذ کے دو ٹکڑے اٹھا لائے۔ ایک ٹکڑا شیدے کو دیا، ایک اپنے پاس رکھا اور شیدے کو اپنے کاغذ کے ٹکڑے پر نشان لگانے کو کہا۔ کچھ دیر بعد دونوں نے نشان لگا کر کاغذ کے ٹکڑے زمین پر پھینک دیے اور اسی میدان میں کھیلتے ہوئے ایک بچے کو بلا کر پرچی اٹھانے کو کہا۔ بچے نے جو پرچی اٹھائی، اس پر علم الدین کا نام تھا۔ یہ جان کر وہ خوشی سے اچھل پڑے۔ ”علم الدین اس طرح نہیں، ایک بار پھر پرچی پھینکو۔“ شیدے نے کہا۔ علم الدین نے ایک بار پھر پرچیاں پھینکیں تو پھر آپ کا نام نکل آیا۔ اس وقت شیدے کا چہرہ بالکل مرجھایا ہوا تھا۔ ”علم الدین دو دفعہ تمہارا نام نکلا ہے صرف ایک بار اور ......“ ”نہیں شیدے اب نہیں ...... فیصلہ ہو گیا ہے۔“ علم الدین نے کہا تو شیدے نے ان کی منت سماجت کرتے ہوئے کہا۔ ”علم الدین ...... صرف ایک بار پھر پرچی پھینکو ...... اب کی بار اگر تمہارا نام نکلا تو تمہاری قسمت۔“ ”ٹھیک ہے۔“ اتنا کہتے ہوئے علم الدین نے دونوں پرچیاں دوبارہ پھینکیں۔ جب بچے نے دوبارہ پرچی اٹھائی تو جو نام نکلا وہ پھر علم الدین ہی کا تھا۔ علم الدین کا چہرہ اس جیت کی خوشی سے سرخ ہو گیا تھا اور شیدہ افسردہ حالت میں آپ کی قسمت پر رشک کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں وہاں سے چل دیے۔
آپ نے 5 اپریل کو دوبارہ اپنے بھائی سے اسی موضوع پر گفتگو کی۔ بھائی نے بتایا کہ ”سوامی دیانند“ کا شاگرد ”مہاشہ کرشن“ ہے جو روزنامہ ”پرتاب“ کا مدیر ہے۔ اس نے یہ گستاخانہ کتاب لکھی جس میں رسول پاک ﷺ کی بدترین توہین کی گئی ہے، مگر ڈرپوک اتنا ہے کہ مسلمانوں کے غم وغصہ سے بچنے کے لیے ”پنڈت چموپتی“ کا فرضی نام بطور مصنف لکھ دیا۔ مگر جس شخص نے یہ کتاب چھاپی ہے، اس نے اپنا مکمل پتہ اور نام، کتاب پر درج کیا ہے۔ غازی علم الدین شہیدؒ نے اپنے بھائی سے دوبارہ اس دکان کا راستہ معلوم کیا جہاں راجپال بیٹھتا تھا۔ آپ نے اپنے بھائی سے یہ بھی پوچھا: ”اگر میں راجپال موذی کو واصلِ جہنم کردوں تو کیا ہو گا؟“ آپ کے بھائی نے جواب دیا: ”حضور شافع محشر حضرت محمد ﷺ آپ سے راضی ہوں گے اور آپ شہید ہو کر جنت الفردوس میں جائیں گے۔“
چنانچہ 6 اپریل 1929ء کو غازی علم الدین شہیدؒ نے صبح صاف ستھرا لباس زیب تن کیا۔ خوشبو لگائی اور سر پر گلابی رنگ کا رومال رکھا۔ اُس دن آپ نے اپنی والدہ سے اپنی پسند کا کھانا بنوایا۔ بھابھی کے ہاتھ کے بنے ہوئے چاول کھائے۔ اور والدہ صاحبہ سے چار آنے
وصول کیے، حالانکہ اس سے پہلے وہ صرف ایک آنہ وصول کرتے تھے۔ چار آنے وصول کر کے خوشی خوشی گھر سے نکلے اور لنڈا بازار جا کر لوہا بازار سے 13 انچ لمبی خنجر نما چھری خریدی اور اس کی تیز دھار کو پرکھا۔ یاد رہے کہ لوہا بازار اس زمانے میں ”آتما کباڑیئے“ کی دکان کے نام سے مشہور تھا۔ آپ نے چھری کو نہایت محفوظ طریقے سے اپنے کپڑوں میں چھپایا۔ نشۂ شہادت میں سرمست ہو کر راج پال کی دکان کی طرف چل دیے۔ دل میں عقیدت کے گلاب کھل رہے تھے۔ غازی علم الدین شہیدؒ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کی پاسداری کا جذبہ عظیم اپنے دل و دماغ میں سجائے ملعون راج پال کی دکان پر پہنچے۔ انارکلی میں ہسپتال روڈ پر عشرت پبلشنگ ہاؤس کے سامنے ہی راج پال کا دفتر تھا جہاں وہ بیٹھا کرتا تھا۔ راج پال کچھ دیر پہلے مذکورہ بالا کتاب چھاپنے کے سلسلے میں مقدمہ سے بری ہوا تھا۔ اس وقت دفعہ 295 سی تعزیرات ہند میں شامل نہ تھی۔ صرف فرقہ ورانہ فسادات پھیلانے کی دفعہ 295 قانون میں شامل تھی۔
تقریباً ایک بجے دن کا وقت تھا کہ آپ وہاں پہنچے ہی تھے کہ راج پال بھی اپنی کار میں وہاں آ پہنچا۔ راجپال کو دیکھتے ہی غازی علم الدین کی آنکھوں میں خون اتر آیا، اور پھر ان کی قوتِ سماعت سے وہی الفاظ ٹکرائے:
”علم الدین اُٹھو اور جا کر گستاخ رسول ملعون راجپال کا قصہ تمام کر دو“۔
راجپال اس وقت ”ہری دوار“ سے واپس آ رہا تھا۔ وہ دفتر میں جا کر اپنی کرسی پر بیٹھا اور پولیس کو اپنی آمد کی اطلاع دینے کے لیے فون کرنے کی سوچ رہا تھا کہ اتنے میں غازی علم الدین دفتر میں داخل ہوئے۔ اس وقت راج پال کے دو ملازم بھی وہاں موجود تھے۔ ”کدار ناتھ“ پچھلے کمرے میں کتابیں رکھ رہا تھا جبکہ ”بھگت رام“ راجپال کے پاس ہی کھڑا تھا۔ راجپال نے درمیانے قد کے گندمی رنگ والے جوان کو دفتر میں آتے دیکھا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ موت اس کے اتنا قریب آ چکی ہے۔ علم الدین نے ابھی راجپال کو صحیح طرح پہچانا نہیں تھا۔ چنانچہ آپ نے پوچھا: ”راجپال کون ہے؟“ راجپال سہم سا گیا اور کہا، ”میں ہی راجپال ہوں، کیا کوئی کام ہے؟“ آپ نے بجلی کی تیزی سے چھری نکالی اور پوری قوت کے ساتھ اس کے سینے میں گھونپتے ہوئے کہا: ”بس یہی کام تھا۔“ یوں آپ نے ملعون راجپال کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور اس بدبخت کے منہ سے صرف ”ہائے“ ہی نکل سکا۔ راجپال کے سینے خون
فوارے پھوٹ رہے تھے کہ اتنے میں شور بلند ہوا:
”ایک مسلمان نے راجپال کو قتل کر دیا ہے۔ قاتل خون آلود چھرا لہراتا ہوا مشرق کی جانب چلا گیا ہے۔ پکڑو۔ پکڑو......“
اسی اثنا میں مشتعل ہندوؤں نے راہ گزرتے ایک بے گناہ مسلمان فتح محمد کو پکڑ لیا اور اسے شدید زدوکوب کیا۔ غازی علم الدین، ملعون راجپال کو قتل کرنے کے بعد بڑے سکون کے ساتھ ہسپتال روڈ سے ہوتے ہوئے حضرت قطب الدین ایبکؒ کے مزار کے قریب لکڑیوں کے ٹال پر پانی کے نل سے اپنے ہاتھ اور کپڑوں سے خون کے نشانات صاف کرنے لگے۔ اچانک انھیں خیال آیا کہ کہیں وہ ملعون زندہ ہی نہ ہو۔ چنانچہ آپ بجلی کی سی تیزی سے فوراً دوبارہ راجپال کی دکان پر آئے اور غصے سے پریس میں پڑی ہوئی ایک مشین راجپال پر دے ماری۔ اس پر ”ستیارام سوداگر چوب“ کے بیٹے ”ودیانند“ اور دیگر ہندوؤں نے آپ کو پکڑ لیا جو شور سن کر باہر نکلے تھے۔ اسی دوران راجپال کے ملازم کیدار ناتھ نے آپ کو پہچان لیا اور شور مچا دیا کہ یہی اصل ملزم ہے۔ چنانچہ ہندوؤں کی ایک کثیر تعداد نے آپ کو قابو کر لیا۔ اس موقع پر جب غازی علم الدین کو علم ہوا کہ ملعون راجپال قتل ہو چکا ہے تو آپ نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے کہا: ”خدا کا شکر ہے کہ میری محنت ٹھکانے لگی کیونکہ میں نے صبح گھر سے نکلتے وقت دعا مانگی تھی کہ یا اللہ! یہ سعادت آج تو مجھے ہی بخش دے“۔ اسی دوران پولیس آ گئی جس نے غازی صاحب کو گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے وقت غازی صاحب نے سفید رنگ کی نہایت خوبصورت شلوار قمیص زیب تن کی ہوئی تھی۔ ان کے سر پر گلابی رنگ کا رومال اور ایک فاتح کی طرح چہرے پر نہایت اطمینانیت اور سکون نمایاں تھا۔
لاہور کے گلی کوچوں میں راجپال کے قتل کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ”راجپال اینڈ سنز“ کے مقتل کی طرف ہندو اُمڈے چلے آ رہے تھے۔ اس واقعہ کے بعد سارے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ شہر بھر کے ہندو سہم گئے۔ ہندو مسلم کشیدگی پر قابو پانے کے لیے لاہور میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا گیا۔ رات تک راجپال کی لاش کا پوسٹ مارٹم ہو چکا تھا اور صبح سویرے ہندوؤں کا ایک ہجوم میو ہسپتال کے اردگرد اکٹھا ہو گیا۔ پورا مجمع ہندو دھرم کی جے اور ویدک دھرم کی جے کے نعرے بلند کر رہا تھا۔ وہ بھجن گا کر جلوس کو شہر میں سے گزارنے کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن ضلعی حکام ہندو مسلم فساد کا خطرہ مول لینے سے گریزاں تھے، اس لیے وہ ہجوم کا
مطالبہ مان کر نئے مسائل میں نہیں اُلجھنا چاہتے تھے۔ بالآخر ضلعی حکام نے راجپال کی دھرم پتنی (بیوہ) سرسوتی دیوی کی طرف سے پرامن رہنے کی یقین دہانی کرانے پر لاش ورثا کے حوالے کر دی۔ راجپال کی نعش کو مہاتما ہنسراج جی نے آگ لگائی ، پھر اس کی راکھ کو راوی کی تند و تیز موجوں کے سپرد کر دیا گیا۔
راجپال کے ایک ملازم کیدار ناتھ نے اس قتل کی ایف آئی آر انار کلی تھانہ میں درج کرائی تھی جبکہ غازی علم دین کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ پولیس نے ہندوؤں کو خوش کرنے کے لیے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا تھا جس کی وجہ سے دورانِ تفتیش غازی علم دین کے گھر کی ہر چیز توڑ پھوڑ کر ضائع کر دی گئی۔ غازی علم دین کے والد طالع مند کو حکومت کی ناجائز سختیوں سے دو چار ہونا پڑا۔ پولیس میں اکثریت سکھوں کی تھی ، انھوں نے غازی صاحب کے اہل خانہ سمیت قریبی رشتہ داروں کو بے حد ذہنی اذیت دی۔ پولیس نے غازی علم دین کے بڑے بھائی محمد دین کو دہلی گیٹ لاہور کے قریب سے گرفتار کیا حالانکہ اُن کا اس واقعہ سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔
راجپال کے قتل کے بعد ہندو اخبارات و جرائد کا رویہ انتہائی متشددانہ اور دلآزار ہو گیا تھا۔ بیہودہ اداریے، مبالغہ انگیز خبریں اور غلط سلط مضامین جن میں کہا جاتا کہ ایک نہیں ہزاروں راجپال پیدا ہوں گے، ایک نہیں ہزاروں ایسی کتابیں لکھی جائیں گے۔ اس ضمن میں ہندو اخبارات ملاپ، پرتاپ، بندے ماترم وغیرہ راجپال ایسے ناپاک ذرے کو آفتاب سے تشبیہ دینے میں سفید کاغذ سیاہ کر رہے تھے۔
اسی دوران قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کے بڑے بیٹے اور قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین نے غازی علم الدین شہیدؒ کے سنہرے کارنامے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا:
- ”اسی طرح اس قوم کا جس کے جوشیلے آدمی قتل کرتے ہیں، خواہ انبیاء کی توہین کی
وجہ سے ہی وہ ایسا کریں، فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہار برأت کرے۔ انبیاء کی عزت کی حفاظت قانون شکنی کے ذریعہ نہیں ہو سکتی، وہ نبی کیا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنا پڑیں۔ جس کے بچانے کے لیے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ کی عزت کے لیے قتل کرنا جائز ہے، سخت نادانی ...... وہ لوگ (غازی علم الدین شہید، ناقل) جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں وہ بھی مجرم
ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے، وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔ میرے نزدیک تو اگر یہی شخص (راجپال کا) قاتل ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہوسکتا ہے جو اس کے پاس جاوے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی، لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے، تمہیں چاہیے خدا سے صلح کر لو۔ اس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ اسے بتایا جائے کہ تم سے غلطی ہوئی ہے۔“ (خطبہ جمعہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 16 نمبر 82 ص 7-8 مورخہ 19/ اپریل 1929ء)
اس قبیل کا دوسرا فتنہ پرور بھارتی نژاد متنازعہ مصنف وحید الدین خان، غازی علم الدین شہیدؒ کی توہین و تضحیک کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- ❑ ”اگر ناموس رسول کی حفاظت کا طریقہ یہی ہو جو غازی علم الدین نے اختیار کیا تو
یقیناً یہ مقصد حاصل نہیں ہوا، کیوں کہ اس قتل کے بعد شردھانند نے اس ملک کی اکثریت کے درمیان قومی ہیرو کی حیثیت اختیار کر لی۔ ملک کی تاریخ میں ان کو ”شہید“ کا مقام دیا گیا۔ 1947ء میں ہندوستان آزاد ہوا تو راجدھانی دہلی کے ممتاز مقام (چاندنی چوک) پر ان کا بلند و بالا مجسمہ عین شاہراہ پر نصب کر دیا گیا وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے کسی عمل کو ناموس رسول کے نام پر بے فائدہ جان دے دینا تو کہہ سکتے ہیں مگر اس کو ناموس رسول کی حفاظت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ یہ قربانی نہیں بلکہ نادانی ہے، جس کا تعلق نہ عقل سے ہے اور نہ اسلام سے۔“
(شتم رسول کا مسئلہ از وحید الدین خاں ص 71-72)
جلد ہی غازی علم الدین کے مقدمے کا چالان مسٹر ای ایس لوئیس (E.S. Lewis) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ پیشی کے روز غازی علم دین کو ہتھکڑیاں پہنا کر ایک بنچ پر بٹھا دیا گیا۔ آپ صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس تھے اور چہرے سے کسی قسم کی مایوسی یا اُداسی نہ ٹپکتی تھی۔ مسٹر لوئیس کو سب سے پہلے پولیس کے وکیل نے استغاثہ کی کہانی سنائی۔ بعد ازاں استغاثہ کے گواہان کیدار ناتھ، بھگت رام، پرمانند نانک چند اور آتمارام پیش ہوئے۔ ان سب نے اپنے انہی بیانات کو دہرایا جو قبل ازیں پولیس کو دیئے تھے۔ پوسٹ مارٹم کرنے والا سرجن بھی پیش ہوا۔ اس نے بتایا کہ مقتول کی موت اس کے پیٹ میں چھرا گھونپنے سے ہوئی۔ نقشہ نویس نے بھی پیش ہو کر اپنی کارروائی بتائی۔ اس کے بعد مسٹر لوئیس نے غازی علم الدین پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے اس کا بیان لیا اور بغیر صفائی لیے 25 اپریل
1929ء کو مقدمہ سیشن عدالت کے سپرد کر دیا۔
سیشن کورٹ میں ایسے مقدمات سننے کے لیے بمشکل ایک سال بعد باری آتی ہے مگر ہندوؤں کے اثر ونفوذ کی وجہ سے یہ کیس صرف ایک ہفتے بعد ہی سنا جانے لگا۔ مسٹر ٹیپ (J.K.M.Tapp) سیشن جج تھے۔ ٹیپ نے رسمی کارروائی کرتے ہوئے گواہان استغاثہ کے بیانات لینے شروع کیے۔ کئی دن تک سماعت ہوتی رہی۔ غازی علم دین کی طرف سے مسٹر سلیم بار ایٹ لاء نے انتہائی مدلل دلائل دیے اور اپنی قانونی گفتگو اور بحث سے قریباً قریباً یہ ثابت کر دیا تھا کہ اصل ملزم غازی علم دین نہیں ہے کیونکہ اسے واردات کرتے ہوئے راجپال کے ملازمین نے نہیں روکا، پھر وہ فرار بھی نہیں ہوا بلکہ اس نے آسانی سے گرفتاری دے دی، حالانکہ وہ بھاگ کر قریب ہی انارکلی کے پرہجوم بازار میں لوگوں کی بھیڑ میں گم ہوسکتا تھا۔ 22 مئی 1929ء کو سلیم صاحب نے مزید دلائل دیئے اور جج صاحب سے درخواست کی کہ علم دین کسی غلط فہمی کی بنا پر مجرم بن گیا ہے اور چونکہ یہ اصل قاتل نہیں، اس لیے اسے بری کیا جائے۔ عین اسی لمحے غازی علم دین زور زور سے چلانے لگے کہ ”شاتم رسول کا قاتل میں ہوں۔ میں نے ہی اس نابکار راجپال کو جہنم رسید کیا ہے“....... غازی علم الدین کے اقبال جرم کے بعد عدالت میں درمیانی مدت کا وقفہ ہوگیا، پھر کچھ ہی دیر بعد عدالت نے غازی علم دین کو موت کی سزا کا حکم سنا دیا۔ پھر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 374 کی رو سے اپنے فیصلے کے لیے یہ مسل ہائی کورٹ میں بھجوا دی گئی۔ فیصلے کے وقت عدالت کا کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور فیصلے کے بعد سب لوگوں کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے جبکہ تنہا علم دین ہی بہت مطمئن اور مسرور تھا۔
نوجوان عاشق رسول غازی علم الدین کا مقدمہ سب مسلمانوں کا مقدمہ بن گیا تھا۔ عدالت کی طرف سے غازی علم دین کی سزائے موت کا سن کر پورے ملک میں کہرام مچنا لازمی تھا۔ لاہور میں بہت سے احتجاجی جلسے منعقد ہوئے اور ہائی کورٹ میں مقدمہ لڑنے اور کسی قابل وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لیے چندہ مہم شروع کی گئی تو ایک خطیر رقم جمع ہوگئی۔ اس زمانے میں مسٹر تیج بہادر سپرو ایک شہرت یافتہ وکیل تھے، بعض حضرات نے ان کا نام تجویز کیا۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا گھرانہ ان دنوں علمی و ادبی اور دینی و سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھا، علامہ اقبال خود بھی غازی علم دین کے بڑے قدردان تھے، اس لیے انھیں بھی اس مقدمہ سے بہت گہرا لگاؤ تھا اور اکثر رات کو ان کے ہمعصر دوستوں کی مجالس میں غازی صاحب کے مقدمہ کا
بھی ذکر ہوتا۔ علامہ اقبالؒ کی خدمت میں جب باقاعدہ یہ معاملہ پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ سرتیج بہادر سپرو ایک شہرہ آفاق وکیل ہیں اور عربی کے بہت بڑے سکالر بھی ،مگر میرے خیال میں اس کیس کے لیے محمد علی جناح بہتر وکیل ثابت ہوں گے۔ سیشن کورٹ کے فیصلے کی مصدقہ نقل حاصل کر کے نامور وکلا نے اس کے بغور مطالعے کے بعد ہائی کورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کر دی تھی۔ چنانچہ علامہ اقبال کے مشورے سے ”علم دین ڈیفنس کمیٹی“ کے معززین نے بمبئی میں قائد اعظم محمد علی جناح سے رابطہ کیا اور پھر اس کیس کی پیروی کے لیے اُنھیں قائل کر کے لاہور لے آئے۔ لاہور کے معروف ماہر قانون مسٹر فرخ حسین بیرسٹر ایٹ لاء نے ان کی معاونت کی۔ مسٹر جے لال کپور مقتول راجپال کی جانب سے اور دیوان رام لال سرکار کی طرف سے پیش ہوئے۔ 15 جولائی 1929ء کو اس مقدمے کی سماعت جسٹس براڈوے (Broadway) اور جسٹس جان سٹون (Johnstone) ہائی کورٹ پنجاب نے کی۔ اس موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح نے بڑی فاضلانہ اور مدلل بحث کرتے ہوئے عدالت کو مندرجہ ذیل نکات بتائے:
- اگر کدار ناتھ اور بھگت رام چشم دید گواہ ہیں تو ان دونوں نے مل کر مقتول کو بچانے اور
قاتل کو پکڑنے کی کوشش کیوں نہ کی؟
- کدار ناتھ اور بھگت رام کی شہادت اس لیے بھی غیر مؤثر ہے کہ یہ دونوں مقتول
کے ملازم ہیں۔
- تھانے کی FIR میں بھگت رام کی موجودگی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس لیے یہ شہادت
غیر مؤثر ہے۔
- مقتول نے تحریر کے ذریعے مسلمانوں کی عظیم ترین مقدس ہستی حضور نبی کریم ﷺ کی
توہین کی جسے کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ مقتول کا یہ فعل محض اشتعال انگیزی ہے۔ اس لیے ملزم کے خلاف دفعہ 302 قتل عمد کے بجائے زیر دفعہ 308 قتل بوجہ اشتعال کارروائی کی جانی چاہیے اور ملزم کو موت کے بجائے زیادہ سے زیادہ سات سال کی قید کا مستوجب سمجھنا چاہیے۔
- استغاثہ کی کہانی کے مطابق ملزم نے چھرا آتما رام دکاندار سے خریدا ہے۔ آتما رام مذکور
بہت ہی بوڑھا ہے، اس کی نظر اتنی کمزور ہے کہ وہ ملزم کو بآسانی شناخت نہیں کر سکتا۔
- آتمارام گواہ کا بیان ہے کہ اس نے ایک نیا چھرا ملزم کے پاس بیچا تھا۔ مگر پولیس
نے جو چھرا برآمد کر کے عدالت میں پیش کیا ہے، وہ پرانا ہے اور اس کی نوک شکستہ ہے، اس سے کسی انسان کا قتل ہونا مشکل ہے۔
- حضور نبی کریم ﷺ کی ذات پر رکیک حملے کرنا اور اس طرح مختلف مذاہب میں
نفرت پھیلانا، زیر دفعہ 153۔ الف جرم ہے۔ متنازعہ کتاب انتہائی گستاخانہ اور دلآزار ہے۔ اسے پڑھ کر کوئی بھی مسلمان اپنے نبی ﷺ کی عزت و ناموس کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اندریں حالات اس جرم کو قتل عمد زیر دفعہ 302 ہرگز شمار نہیں کرنا چاہیے بلکہ زیر دفعہ 308 کے تحت پھانسی کے بجائے زیادہ سے زیادہ سات سال قید کی سزا ملنی چاہیے۔
- ملزم تقریباً 20 سالہ نوجوان ہے، اس کے لیے موت کی سزا انتہائی سنگین ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح کے مدلل اور ناقابل تردید حقائق بیان کرنے کے بعد مقتول کے وکیل مسٹر جے لال کپور نے دلائل دیئے جو غازی علم دین کی اپیل کے خلاف اور اس کی موت کی سزا بحال رکھنے کے حق میں تھے۔ چونکہ حکومت میں تمام لوگ ہندو یا سکھ تھے، اس لیے رحم کی اپیل کے خلاف انھی کا زور چل رہا تھا۔ چنانچہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد حاضرین کو کمرہ عدالت سے باہر نکلوا دیا گیا۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل رام دیوان لال کے دلائل سنے بغیر 17 جولائی 1929ء کو غازی علم دین کی اپیل خارج کر دی اور ماتحت عدالت کا فیصلہ بحال رکھا۔ اس بار بھی جب جیل میں غازی علم دین کو ہائی کورٹ میں اپیل نامنظور ہونے کے بارے میں بتایا گیا تو وہ قطعاً ملول ہونے کے بجائے بہت فرحاں و شاداں دکھائی دیے اور ان کا چہرہ تمتما رہا تھا۔
دل دے دیوے دی رشنائی جاوے وچ زمیناں
مسلمان اگرچہ سرکار انگلیشیہ کے یکطرفہ اور معاندانہ رویے سے بہت غمگین تھے مگر پریوی کونسل (Privy Council) (برطانوی بادشاہ کی خاص مجلس مشاورت، جس کا فیصلہ حتمی اور آخری ہوتا ہے) کے دروازے پر دستک دینے میں بھی ایک خاص مصلحت کارفرما تھی جبکہ سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تو ابتدا ہی سے مقدمہ بازی کے خلاف تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ غازی علم دین اور عدالت کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس معاملہ میں اپیل گناہ ہے اور غازی
علم دین کو ایسی حسین موت کی آغوش سے چھین لینا غازی علم دین کی ذات پر بڑا ظلم ہے مگر علامہ اقبال اور دیگر زعماء کی رائے تھی کہ اگر اپیل نہ کی گئی تو غیر مسلم اس کا یہ مطلب نکالیں گے کہ علم دین لاوارث ہے۔ چنانچہ حجت پوری کرنے کے لیے یہ قانونی کارروائی بھی ہونی چاہیے۔
پریوی کونسل لندن میں اپیل کے لیے کافی اخراجات درکار تھے، جس کے لیے فوری طور پر چندہ جمع کیا گیا اور پھر اس اپیل کا مسودہ بھی قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی نگرانی میں تیار ہوا جس میں واقعات اور قانونی ضابطوں کی نشاندہی کرنے کے علاوہ اس امر پر زیادہ زور دیا گیا تھا کہ پریوی کونسل یہ امر تسلیم کرے کہ مسلمان اپنے آخری نبی الزمان ﷺ سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور آپ ﷺ کی حرمت پر کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا موت ہونی چاہیے اور ایسے شاتم کو قتل کرنے والے کو غازی کا خطاب ملنا چاہیے۔
لیکن افسوس پریوی کونسل نے وہی کیا جس کی توقع تھی یعنی غازی علم دین کی اپیل نامنظور کر دی۔ اصل میں وہ مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوؤں کو زیادہ خوش کرنا چاہتی تھی۔ غازی علم دین کو جونہی اس فیصلے کی اطلاع ملی تو وہ ”اللہ اکبر“ کا نعرہ لگا کر خوشی سے اچھل پڑے اور کہا کہ ”کاتب تقدیر نے شہادت کا رتبہ پانا میری قسمت میں روزِ ازل ہی سے لکھ دیا تھا۔ ان شاء اللہ اب مجھے دربارِ رسالت ﷺ میں حاضری دینے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ یقیناً میری قربانی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی ہے اور وہ دن دور نہیں، جب میری روح بہشت بریں میں آقائے نامدار ﷺ کی زیارت سے مستفید ہو رہی ہوگی......“ اس کے بعد وہ انتہائی خوش و خرم رہنے لگے اور حقیقی منزل تک پہنچنے کے لیے بے قرار نظر آنے لگے۔
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلۂ رسم سیاست کا فسوں
اک فقط نام محمد ﷺ سے محبت کی ہے
ہم نے بدلا ہے زمانے میں محبت کا مزاج
ہم نے ہر دل کو نئی راہ وفا بخشی ہے
مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرۂ دار و رسن کو ضیا بخشی ہے
پریوی کونسل کے فیصلے سے مسلمان سخت غصے میں آگئے کہ اتنی مہذب اور متمدن قوم کے ججوں کو جو خود بھی اہل کتاب ہیں، کیوں ایک پیغمبر کی حرمت کا احساس نہ ہوا۔ چنانچہ مسلمانوں کے جوش واشتعال کو دیکھتے ہوئے کہ مبادا شہر میں کہیں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات نہ شروع ہو جائیں، حکومت نے مجاہد تحفظ ناموس رسالت غازی علم دین کو لاہور سے بہت دور میانوالی جیل منتقل کر دیا۔
غازی علم دین کی شہادت سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے غازی صاحب کے والد محترم میاں طالع مند کی میانوالی ریلوے اسٹیشن پر امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری سے ملاقات ہوئی۔ شاہ صاحب نے میاں طالع مند سے فرمایا۔ ”میاں صاحب! غازی صاحب کی شہادت کے روز نجانے کتنے غوث، قطب، ابدال اور شیوخ عظام تشریف لائیں گے، اس لیے ان کی موجودگی میں رونے پیٹنے سے گریز کرنا“۔
ذیل کا واقعہ قارئین کے لیے نہایت دلچسپی کا باعث ہوگا۔ مغربی پاکستان کے سابق گورنر نواب آف کالا باغ ملک محمد امیر خاں مرحوم کے والد نواب عطا محمد، غازی علم دین شہیدؒ سے بے حد عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ وہ میانوالی جیل میں غازی صاحب سے ملاقات کرنے کے لیے اکثر حاضر ہوا کرتے۔ ایک موقع پر انھوں نے میاں طالع مند سے کہا ”اگر آپ اجازت دیں تو میں علم دین کو (غالباً معروف زمانہ محمد خاں ڈاکو کے ذریعے) جیل سے فرار کروا دیتا ہوں“ جب یہ بات برادر غازی کے ذریعے حضرت علامہ اقبال تک پہنچی تو آپ نے فرمایا ”ہم ایسا کبھی نہ کریں گے۔ اگر غازی علم دین کو فرار کروایا گیا تو غیر مسلم ہمیں بزدلی کا طعنہ دیں گے، وہ سمجھیں گے کہ مسلمان ناموس رسالت ﷺ پر قربان ہو جانے کے بجائے اپنی زندگی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نکالا جائے کہ غازی علم دین اپنے اس فعل پر پچھتانے لگا تھا، پھر یہ ایک ایسا داغ ہوگا جو کبھی دھل نہ سکے گا“۔
حسن اتفاق سے ان دنوں راجہ زماں مہدی خاں میانوالی کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ وہ اسلامی تعلیمات سے محبت رکھنے والے نیک دل انسان تھے۔ انھیں غازی علم دین کے واقعہ کا علم ہوا تو وہ جیل میں ایک زائر کی حیثیت سے آئے اور انھوں نے گستاخ رسول کو جہنم واصل کرنے پر غازی علم دین کو مبارک دی اور کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ کے دربار میں حاضری کے موقع پر مجھ گنہگار کی مغفرت کے لیے بھی درخواست کرنا...... ڈپٹی صاحب کی غازی صاحب سے طویل
گفتگو بھی ہوئی جس میں غازی صاحب نے کہا کہ عام طور پر قتل کے ملزم دو تین سال تک جیلوں میں پڑے رہتے ہیں، تب جا کر انھیں پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے مگر میرے معاملے میں یہ معجزہ ہے کہ صرف سوا چھ ماہ ہی میں مقدمے کے تمام مراحل طے ہو گئے۔ میں چاہتا ہوں کہ اب مجھے زیادہ دن اس دار فانی میں نہ رکھا جائے اور جتنی جلد ممکن ہو، میری روح جسم کی قید سے آزاد کر دی جائے تا کہ میں بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضری دے سکوں ...... راجہ زماں مہدی کو یہ خیال آ رہا تھا کہ وہ پھانسی پانے والے بے شمار قیدیوں کو دیکھ چکے ہیں جو عام طور پر موت کی سزا سن کر حواس باختہ اور غم و فکر سے سوکھ کر کانٹا ہو جاتے ہیں مگر غازی علم دین کی کیفیت ہی کچھ اور ہے، کمال صبر و استقلال، چہرے پر نور، لبوں پر مسکراہٹ اور جسم کے وزن میں مسلسل اضافہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ انھیں حرمت رسول ﷺ پر قربان ہونے میں تائید ایزدی حاصل ہے۔
غازی علم دین شہیدؒ کی عظمت پر مبنی ایک ایمان افروز واقعہ ملاحظہ کیجیے:
- ❑ ”1953ء کی تحریک ختم نبوت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر قاضی
احسان احمد شجاع آبادیؒ گرفتار ہو کر میانوالی جیل میں قید ہوئے۔ دوران قید میں ان کی ملاقات عبداللہ نامی ایک ایسے خوش نصیب قیدی وارڈن سے ہوئی جو جیل میں غازی علم الدین شہیدؒ کی نگرانی پر مامور تھا۔ عبداللہ نے قاضی احسان احمد شجاع آبادی کو کئی مواقع پر غازی علم الدین شہیدؒ کے حالات و واقعات سنائے۔ ایک دن عبداللہ وارڈن نے قاضی صاحب کو بتایا کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ غازی علم الدین شہیدؒ والی کوٹھڑی میں قید ہیں۔ قاضی صاحب نے عبداللہ سے درخواست کی کہ وہ غازی علم الدین شہیدؒ کا کوئی ناقابل فراموش واقعہ سنائے۔ عبداللہ وارڈن کے چہرے پر مزید نورانیت اور بشاشت اتر آئی۔ پھر اس نے بتایا کہ 31 اکتوبر 1929ء کو جب غازی علم الدین شہیدؒ کو پھانسی ہونا تھی، اس سے ایک روز پہلے میں حسب معمول غازیؒ کی کوٹھڑی کا پہرہ دے رہا تھا۔ پیدل چلتے ہوئے میں کوٹھڑی سے ذرا فاصلے پر عام قیدیوں کی بیرک کی طرف آ گیا۔ مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ غازی کا کمرہ خوبصورت اور دلکش روشنیوں سے بھر گیا ہے۔ میں یہ سمجھا کہ شاید غازی علم الدین شہیدؒ نے اپنے کمرے کو آگ لگا لی ہے۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ نور کا ایک بادل ہے جو تیزی سے آسمانوں کی طرف چلا گیا۔ چنانچہ میں بھاگم بھاگ غازیؒ کی کوٹھڑی کی طرف بھاگا۔ اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پورا کمرہ بہترین اور مسحور کن خوشبوؤں سے معطر اور منور تھا۔ غازیؒ حالت سجدہ
میں زار و قطار رو رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد اٹھے تو میں نے ان کی قدم بوسی کی اور خود بھی بے اختیار رونا شروع کر دیا۔ پھر میں نے عرض کی، غازی صاحب یہ کیا ماجرا تھا؟ غازی صاحب نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے پھر عرض کی کہ حضرت! آپ یہ اہم راز اپنے سینے میں لے کر نہ جائیں اور اس واقعہ کی تفصیلات ضرور بتائیں، بہر حال غازی صاحب نے میرے بے حد اصرار پر فرمایا، عبداللہ! تمھیں معلوم ہے کہ مجھے کل پھانسی ہورہی ہے۔ میری دلجوئی اور حوصلہ افزائی کے لیے شافع محشر ، حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنے خاص صحابہؓ کرام کے ساتھ یہاں خود تشریف لائے اور بڑی محبت اور شفقت فرمائی۔ اس موقع پر حضرت علیؓ نے مجھ سے پوچھا کہ غازی بیٹا! تمھیں پھانسی کا خوف تو نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا۔ حضور! بالکل نہیں۔ فرمایا: بیٹا اگر کوئی خوف ہے تو آؤ ہمارے ساتھ چلو۔ میں نے پھر عرض کیا۔ حضور! نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔ میں تو بہت خوش اور مطمئن ہوں۔ پھر پیارے آقا و مولا حضور نبی کریم ﷺ نے میرے سر پر اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا: غازی بیٹا! پھانسی کے وقت جیل حکام تم سے تمہاری آخری خواہش پوچھیں گے، تم کہنا کہ میرے ہاتھ کھول دیں۔ میں پھانسی کا پھندا چوم کر خود اپنے گلے میں ڈالنا چاہتا ہوں تاکہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ مسلمان اپنے پیارے نبی ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہے۔ دوسرا یہ کہ تم روزہ رکھ کر آنا، میں تمام صحابہؓ کرام اور فرشتوں کے ہمراہ حوض کوثر پر تیرا استقبال کروں گا اور ہم سب روزہ اکٹھے افطار کریں گے“۔ یہ ہے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا صلہ!
نامور دانشور جناب صاحبزادہ خورشید گیلانی اپنے مضمون ”شہید محبت“ میں لکھتے ہیں:
”علامہ اقبالؒ کا ایک مصرع ہے:
یعنی بعض اوقات ایک آہ کے فاصلے پر منزل ہوتی ہے یا لمحے بھر میں سو سال کا سفر طے ہو جاتا ہے، یہ مصرع زبان پر آتے ہی ذہن بے اختیار شہید ناموسِ نبی ﷺ غازی علم الدین کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اس نے صدیوں کا سفر اس تیزی اور کامیابی سے طے کیا کہ ارباب زہد و تقویٰ اور اصحاب منبر و محراب بس دیکھتے ہی رہ گئے۔ اس نے ایک قدم انار کلی ہسپتال روڈ پر اٹھایا اور دوسرے قدم پر جنت الفردوس میں پہنچ گیا۔
اسی جنت کی تلاش میں زاہدوں اور عابدوں کے نجانے کتنے قافلے سرگرداں رہے، کیسے کیسے لوگ غاروں کے ہو کر رہ گئے، کئی پیشانیاں رگڑتے اور سر پٹختے رہے، ہزاروں سر بگریباں، چلہ کش اسی آرزو میں دنیا سے اٹھ گئے، لاکھوں طواف و سجود میں غرق رہے، بے شمار صوفی و ملا وقف دعا رہے، اَن گنت پرہیز گار خیال جنت میں سرشار رہے، خدا ان سب کی محنت ضرور قبول کرے گا، لیکن غازی علم الدین کا مقسوم دیکھیے! نہ چلہ کیا نہ مجاہدہ، نہ حج کیا، نہ عمرہ کیا، نہ حرم کا مجاور بنا، نہ مکتب میں داخلہ لیا، نہ خانقاہ کا راستہ دیکھا، نہ کنز قدوری کھول کر دیکھی، نہ رازی و کشاف کا مطالعہ کیا، نہ حزب البحر کا ورد کیا، نہ اسم اعظم کا وظیفہ پڑھا، نہ علم و حکمت کے خم و پیچ میں الجھا، نہ کسی حلقۂ تربیت میں بیٹھا، نہ کلام و معانی سے واسطہ رہا نہ فلسفہ و منطق سے آشنا ہوا، نہ مسجد کے لوٹے بھرے، نہ تبلیغی گشت کیا، نہ کبھی شیخی بگھاری نہ کبھی شوخی دکھائی، اسے پاکبازی کا خبط نہیں، محبوب حجازی ﷺ سے ربط تھا۔ وہ تسبیح بدست نہیں، مست مئے الست تھا، وہ فقیہ مسند آرا نہیں، فقیر سر راہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے مصلحت کیشی سے نہیں، جذبۂ درویشی سے کام لیا، چُنین و چُناں کے دائروں سے نکل کر کون و مکاں کی وسعتوں میں جا پہنچا، وہم و گمان کی خاک جھاڑ کر ایمان و عشق کے نور میں ڈھل گیا، نجانے ہاتف غیب نے چپکے سے اس کے کان میں کیا بات کہی کہ پل بھر میں دل کی کائنات بدل گئی ۔
اک شب میں ہی یہ پیدا بھی ہوا، عاشق بھی ہوا اور مر بھی گیا
خدا معلوم کتنی ریاضت سے آغوش بسطام نے بایزیدؒ کی پرورش کی، خاک بغداد نے جنیدؒ کو جنم دیا، شہر قونیہ نے مولانا رومؒ کو بنایا، دہلی نے شاہ ولی اللہؒ کو پیدا کیا اور ادھر علم الدین، بڑھئی کی دکان سے اٹھا اور ایک ہی جست میں زمان و مکان طے کر ڈالے‘‘۔
جو شخص بھی غازی علم الدین کی زیارت کے لیے جیل میں جاتا، وہ اسے از حد مطمئن اور خوش باش پاتا۔ آخر ایک دن کسی شخص نے اس اطمینان قلب اور مسرت ابدی کی وجہ پوچھی تو اس کے جواب میں جو کچھ اس پروانۂ رسالت نے فرمایا، اسے یوں منظوم کیا گیا ہے ۔
کہ سن کے موت کا فتویٰ بھی تو ملول نہیں
یہ سن کے بولا وہ جانباز مردِ غیرت مند
سمجھ گیا ہوں کہ تو عاشق رسول نہیں
ہزار دعویٰ ایمان کرے قبول نہیں
رسول پاکﷺ کی حرمت پہ جان دے دینا
نہ ہو اصول جو اپنا تو کچھ حصول نہیں
یہ حکم موت ہے میرے لیے پیام حیات
مئے بقا سے ہے لبریز، میرا جامِ حیات
اس طرح ایک اور گمنام شاعر نے بھی غازی علم الدین شہیدؒ سے جیل میں ملاقات کے بعد اس کا احوال کیا خوبصورت پیرائے میں بیان کیا، جسے بعدازاں روزنامہ سیاست لاہور نے 15 نومبر 1929ء کی اشاعت میں شائع کیا۔ اس نظم کو مسلمانوں کی کثیر تعداد نے بے حد سراہا۔
تُو حکم قتل سُن کر بھی ہے ہشاش
مقام ایسے پہ اب تیرا گزر ہے
جہاں ہوتا ہے شیروں کا جگر پاش
تجھے مرنے کا اپنے کیا نہیں غم
کہ آتا ہے نظر ہشاش بشاش
کہا اس مردِ غازی نے یہ سن کر
سنو، کرتا ہوں میں رازِ دلی فاش
مجھے ہے شوقِ دیدارِ محمدﷺ
ہو دل کو خوف سے مرنے کے کیوں پاش
میں سنتا ہوں، محمدﷺ کہہ رہے ہیں
کہ ’’علم الدینؒ خوش آئی و خوش باش‘‘
یہ مژدہ سُن کے سیروں بڑھ گیا خون
نظر آؤں میں کیوں غم کیش و طیاش
محمدﷺ کو مری آنکھوں سے دیکھو
پڑے ہو کیوں جہاں میں مثل خفاش
اُن دنوں پنجابی کے مشہور شاعر حضرت عشق لہر جن کا اصل نام چراغ دین تھا، کا پنجابی ادب میں طوطی بول رہا تھا۔ آپ کے غازی موصوف کے خاندان کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے۔ انھوں نے بھی غازی موصوف کی زیارت کی۔ آپ نے غازی علم الدین کو بے حد مسرور اور مطمئن پایا۔ ہاں بے قراری تھی تو واصل بحق ہونے کی تھی۔ آپ نے استاد سخن سے فرمائش کی کہ آپ کوئی شعر سنائیں۔ اس پر استاد عشق لہر نے غازی علم الدین کی فرمائش پر ذیل کے اشعار فی البدیہہ پڑھے:
آفرین غازی ترے حوصلے تے، راجپال کم بخت نوں ماریا اِی
جہڑا چکیا بوجھ محبتاں دا، چڑھ کے دار تے سروں اُتاریا اِی
بیڑا ڈوب کے نبیؐ دے دشمناں دا، علم الدینؒ توں کل نوں تاریا اِی
(اے علم الدین تم نے جس حوصلے ہمت اور بہادری سے کام لے کر کمبخت راج پال کا خاتمہ کیا ہے، وہ قابل صد تعریف ہے، تم نے اپنی جوانی کو اپنے نبی ﷺ کے نام پر قربان کر کے ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے، واقعی تمہیں حضور سرور کائنات ﷺ سے دلی محبت ہے اور تم نے اس دعویٰ کا جواب عملی صورت میں پھانسی کے تختے پر چڑھ کر دیا ہے۔ تم نے دشمنِ اسلام، شاتمِ رسول کو قتل کر کے اسلام کے لیے عزت اور سر بلندی حاصل کی ہے۔)
استاد عشق لہر کے بعد آپ سے سیال شریف کے سجادہ نشین حضرت خواجہ پیر حافظ محمد ضیا الدین سیالویؒ نے ملاقات کی۔ پیر صاحب آپ کے جمال و جلال سے اتنے مرعوب ہوئے کہ آپ اُن سے کوئی خاص بات تو نہ کر سکے، البتہ سورۃ یوسف پڑھنے لگ گئے۔ آپ ایک پختہ قاری اور حافظِ قرآن تھے مگر سورۃ یوسف کے پڑھنے کے لیے یارا نہ پا سکے اور وفورِ جذبات کی وجہ سے بار بار رُکنے لگے۔ اس پر غازی علم الدین نے ان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ بسم اللہ پڑھ کر ایک دفعہ پھر سے شروع کریں۔ چنانچہ آپ نے دوبارہ تلاوت شروع کی مگر روانی اب کے بھی نہیں تھی۔ عالم وجد میں گلوگیر ہو کر رُک جاتے اور کسی اور عالم میں پہنچ جاتے۔ غازی علم الدین جو قرآن شریف نہیں پڑھے ہوئے تھے اور جنہیں سورۃ یوسف پہلے ہرگز نہیں آتی تھی، پیر صاحب کو صحیح لقمے دیتے رہے اور اس طرح سورۃ یوسف مکمل کرنے میں پوری پوری مدد دی۔ پیر صاحب جب ملاقات کر کے باہر آئے تو فرطِ حیرت و استعجاب کی وجہ سے بول نہیں سکتے تھے۔ صرف اتنا ہی فرمایا کہ میں علم الدین کے لبادے میں
کوئی اور ہستی پاتا ہوں۔ کون کہتا ہے کہ غازی علم الدین ان پڑھ ہے، اسے تو علم لدنی حاصل ہے اور وہ کائنات کے تمام اسرار و رموز سے واقف ہے۔
غازی موصوف کی روحانی طاقت کے نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی قائل تھے۔ چنانچہ جیل میں جو شخص ذرا بیمار ہوتا ، آپ اُسے دو گھونٹ پانی اپنے ہاتھ سے پلا دیتے اور وہ خدائے غفور و رحیم کے حکم سے فوراً شفایاب ہو جاتا۔ آپ کے کمرے کے باہر برآمدے میں پانی کا ایک گھڑا ہر وقت موجود ہوتا۔ مشہور ہے کہ وہ پانی از حد روح افزا اور جاں نواز تھا۔ جیل میں موجود لوگ غازی موصوف کے ہاتھوں اس گھڑے کا پانی پی کر سرمدی لطف حاصل کرتے تھے۔ آپ نے شہادت سے پہلے اپنے مہمانوں اور افراد کنبہ کو اسی گھڑے سے پانی پلایا۔ غازی صاحب کے والد کا بیان ہے کہ وہ پانی کیا تھا، آب سلسبیل کے مانند تھا جس سے دل کو اتنی طراوت اور آنکھوں کو وہ ٹھنڈک ملی کہ بیان نہیں ہو سکتی۔ سب مہمانوں نے پانی کی تاثیر کی بے حد تعریف کی۔ اس پر آپ نے کہا کہ جس طرح آپ کو اس بابرکت پانی پینے سے خوشی حاصل ہوئی ہے، اسی طرح مجھے بھی تختۂ دار پر کھڑے ہو کر واصل باللہ ہونے میں بے حد خوشی ہوگی۔ پس میرے جانے کے بعد آہ و بکا کرنا، شین و شیون کرنا اور رونا دھونا کفران نعمت کے مترادف ہوگا۔ آپ قرآن مجید کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کریں اور اس کا ثواب میری روح کو بخشیں۔ صبر و حوصلے سے کام لیں اور اس عظیم کارنامے کو احسن طریقے سے سرانجام دینے پر خوشیاں منائیں تاکہ مسلمانوں میں اپنے پیارے نبی ﷺ سے سچی محبت پیدا ہو اور وہ آپ ﷺ کی ناموس پر قربان ہونے کے لیے تیار رہیں۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی شان دار مثال قائم کرنے کی سعادت بخشی ہے جسے سامنے رکھ کر تمام مسلمان متحد ہو کر کفر کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اگر کفار کو یقین ہو کہ ہر مسلمان شمع رسالت ﷺ کا سچا پروانہ ہے تو اُن میں سے کوئی بھی آپ ﷺ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ کر سکے گا۔
عین اسی وقت دوسری جانب ایک عجیب ہلچل مچی ہوئی تھی۔ غازی علم دین کے ورثا کی یہ درخواست مسترد ہو گئی تھی کہ علم دین کو پھانسی میانوالی کے بجائے لاہور میں دی جائے۔ انھیں اپنے اس مطالبہ کا واضح جواب ملنے کے بجائے کسی اور ذریعہ سے اس خبر کی بھنک لگ گئی کہ علم دین کو جلد ہی پھانسی دی جائے گی اور یہ کہ میت کو بھی لاہور لانے کی اجازت نہیں...... یہ خبر پورے لاہور میں تیزی سے پھیل گئی۔ بڑی تعداد میں لوگ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں گشت
کرنے لگے۔ مسلمانوں کی کثیر تعداد اخبارات کے دفاتر کا رُخ کر کے تازہ ترین صورت حال جاننے کی کوشش کرتی۔ چاروں جانب ”اللہ اکبر“ کے نعرے گونجنے لگے۔ علم دین زندہ باد کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ مسلمانوں کو اس بات پر بہت اشتعال تھا کہ میت کو لاہور لانے سے روکنے کے بہانے کیوں تراشے جارہے ہیں جبکہ غازی علم دین کی واضح وصیت ہے کہ انھیں لاہور میں دفن کیا جائے۔ مگر وقت کے حاکموں نے کسی کی ایک نہ سنی۔
30 اکتوبر 1929ء کو جب غازی علم دین سے ان کے اہل خانہ اور دیگر عزیز و اقارب جیل میں انھیں ملنے گئے تو انھیں معلوم ہوا کہ آج غازی علم دین صاحب بہت ہی خوش ہیں۔ اہل خانہ نے غازی صاحب سے اس بے پناہ خوشی کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”آج مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دیدار نصیب ہوا ہے جو مجھے خواب میں ملے اور خوشخبری سنائی۔ ”اے علم دین! تجھے مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے تیری قربانی قبول فرمالی ہے اور حضور خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کے دربار عالیہ میں تیرا تذکرہ کثرت سے ہوتا ہے“۔ میں اس پر خوش ہوں کہ عنقریب دربار رسالت مآبﷺ میں پہنچ جاؤں گا“۔
31 اکتوبر 1929ء بروز جمعرات پروانہ شمع رسالت غازی علم دین نے حسب معمول تہجد کی نماز پڑھی اور درود و وظائف میں مصروف تھے کہ انھیں کسی کے بھاری قدموں کی چاپ سنائی دی اور پھر کمرے کے بند دروازے کے سامنے ہی کسی کے رکنے کی آواز کے کھٹکے پر غازی صاحب نے جو ادھر دیکھا تو پھانسی دینے والے عملہ کو اپنا منتظر پایا۔ اس موقع پر داروغہ جیل کی آنکھوں سے شدت جذبات سے آنسو بہہ نکلے...... آپ نے اس کی طرف دیکھا اور کہا تم گواہ رہنا کہ میری آخری آرزو کیا تھی۔ آپؒ نے معمول سے بھی کم وقت میں نماز ادا کی...... اتنی جلدی آخر کس لیے تھی۔ ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ بات ہو کہ کہیں مجسٹریٹ یہ تصور نہ کرے کہ محض زندگی کی آخری گھڑیوں کو طول دینے کے لیے دیر کر رہا ہوں۔ داروغہ جیل نے بند دروازہ کھولا...... آپ اٹھے اور مسکراتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھے۔ دایاں پاؤں کمرے سے باہر رکھتے ہوئے انھوں نے مجسٹریٹ سے کہا۔ چلیے! دیر نہ کریں۔ اس کے ساتھ ہی آپ تیز تیز قدم اٹھاتے تختۂ دار کی جانب چل پڑے۔ ایک کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے آپ نے ہاتھ اٹھا کر ایک قیدی کو خدا حافظ کہا...... جواباً اس نے نعرۂ رسالتﷺ بلند کیا۔ تب جیل حکام اور مجسٹریٹ کو معلوم ہوا کہ جیل میں سبھی قیدی علم الدین کو مبارک باد دینے
کے لیے ساری رات سے جاگ رہے ہیں۔ کلمہ شہادت کے ورد سے فضا گونج رہی تھی۔ علم الدین لمحہ بھر کے لیے رکے...... مجسٹریٹ اور پولیس کے دستے کی طرف دیکھا، ان کے لب ہلے اور پھر چل دیے۔ تختۂ دار کے قریب متعلقہ حکام کے علاوہ مسلح پولیس کے جوان بھی کھڑے تھے۔ سب کی نظریں آپ پر جمی ہوئی تھیں۔ ان کی نظروں نے اس سے پہلے بھی کئی لوگوں کو تختۂ دار تک پہنچتے دیکھا تھا لیکن جس شان اور قوتِ ارادی سے انھوں نے علم الدین کو تختۂ دار کی جانب بڑھتے دیکھا، وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ انھیں کیا معلوم تھا کہ جو ’’حیات‘‘ علم الدین کو نصیب ہونے والی تھی، اس کا تو ہر مسلمان آرزو مند رہتا ہے۔ اس وقت آپ کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھی ہوئی تھی اور آپ کو مخصوص لباس پہنا دیا گیا۔ جب مجسٹریٹ نے آپ سے آپ کی آخری خواہش پوچھی تو آپ نے فرمایا: ’’میں پھانسی کا پھندا چوم کر خود اپنے گلے میں ڈالنا چاہتا ہوں تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کا دفاع کرنے والے موت سے نہیں ڈرتے اور بصد فخر و انبساط اس کا انتظار اور استقبال کرتے ہیں‘‘۔ مجسٹریٹ نے آپ کی یہ آخری خواہش مسترد کر دی۔ بعد ازاں علم الدین کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے۔ اس دوران میں آپ نے اردگرد کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’تم گواہ رہو کہ میں نے حرمت رسول ﷺ کے لیے راجپال کو قتل کیا ہے۔ اور گواہ رہنا کہ میں عشق رسول ﷺ میں کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے جان دے رہا ہوں۔ آپ نے کلمہ شہادت با آواز بلند پڑھا اور پھر رسن دار کو بوسہ دیا۔ علم الدین حقیقت میں ہر اس شے کو مبارک سمجھتے تھے جو ان کو بارگاہِ حبیب میں پہنچانے کا ذریعہ بن رہی تھی۔ آپ کے گلے میں رسہ ڈال دیا گیا۔ مجسٹریٹ کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور ایک خفیف اشارے کے ساتھ ہی آپ کے پاؤں کے نیچے سے تختہ کھینچ لیا گیا...... چند لمحوں میں ہی آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی...... اس نے جسم کو تڑپنے پھڑکنے کی بھی زحمت نہ ہونے دی۔ گویا حضرت عزرائیلؑ نے عاشق رسول ﷺ کی جان ان کے جسم سے رسہ لٹکنے سے پہلے ہی قبض کر لی ہو اور پھانسی کی زحمت سے بچا لیا ہو۔ ڈاکٹر نے موت کی تصدیق کی اور آپ کی نعش کو پھانسی کے تختہ سے اتارا گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
فرنگی حکومت نے غازی علم دین شہیدؒ کو موت کی سزا دے کر ہندو اکثریت کو تو خوش
کر لیا تھا مگر اس سے بھی اہم مسئلہ غازی موصوف کے کفن دفن کا تھا۔ انگریز کا خیال تھا کہ اگر غازی علم دین کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے میت کو لاہور بھیجا گیا تو یقیناً ہندو مسلم فسادات شروع ہو جائیں گے جن پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ غازی علم الدین شہیدؒ کی شہادت پر میانوالی میں فرنگی حکومت کے خلاف زبردست احتجاجی جلوس نکلے، ہڑتالیں ہوئیں، شہید کا سوگ منایا گیا، غم و غصہ کا اظہار ہوا۔ حکومت وقت نے میانوالی کے کئی افراد کو گرفتار کیا، ان پر مقدمہ چلایا جس میں ان کو چھ چھ ماہ قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔ غازی علم الدین شہیدؒ کی شہادت کے بعد ناعاقبت اندیش گورنر کی ہدایت کے مطابق جنازہ کے بعد غازی شہیدؒ کو بے یار و مددگار اور بے بس قوم کا فرد سمجھ کر اس کی پاک میت کو میانوالی جیل کے ایک احاطہ میں دفنا دیا گیا۔ یہ خبریں جب لاہور اور ملک کے دوسرے حصوں میں پہنچیں تو پوری مسلمان قوم گھروں سے باہر آگئی اور انھوں نے غازی موصوف کی میت لینے کے لیے اپنے مطالبے میں انتہائی شدت پیدا کی۔ لاہور کی تمام شاہراہوں بلکہ گلی کوچوں کے در و دیوار پر بھی جلی حروف میں لکھا پڑھا جا رہا تھا: ’’غازی علم دین کی میت ملت اسلامیہ کے حوالے کرو۔‘‘ کچھ مسلمان تو جوشِ ایمانی میں معہ بوریا بستر میانوالی پہنچ گئے کہ چاہے کتنی ہی مصیبت کیوں نہ اٹھانی پڑے، جب تک رسالت مآب ﷺ کے فدائی کی میت نہیں ملے گی، ہم واپس نہ آئیں گے۔ چنانچہ اسی روز (31 اکتوبر 1929ء) کی رات بعد نمازِ عشاء باغ بیرون موچی دروازہ میں ایک بہت بڑا جلسہ ہوا جس میں یہ قرارداد پاس ہوئی:
- ’’مسلمانانِ لاہور کا یہ جلسہ حکومت سے درخواست کرتا ہے کہ وہ غازی علم دین شہید کی
میت مسلمانوں کے حوالے کر دے تاکہ وہ شہید کی وصیت کے مطابق اسے لاہور میں دفن کر سکیں۔‘‘
چنانچہ اب جلسے جلوسوں کا سلسلہ چل نکلا۔ 5 نومبر کو ایک بہت زبردست جلوس امیر بخش پہلوان کی قیادت میں نکلا جس میں کالجز کے طلبا اور رضا کاروں نے اپنے اپنے بستر کاندھوں پر اٹھا رکھے تھے۔ جلوس جب بھاٹی دروازہ پہنچا تو جلسہ شروع ہو گیا۔ مولانا ظفر علی خاں حکومت پر زبردست نکتہ چینی کر رہے تھے۔ غلام مصطفیٰ حیرت کے بھائی الطاف حسین نے کہا: ’’اگر خواتین کا کوئی دستہ سول نافرمانی کے لیے تیار ہو تو میری والدہ سب سے پہلے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہے‘‘۔ اب احتجاج میں شدت آتی گئی۔ ہر مسلمان شہید کی لاش مسلمانوں کے حوالے کرنے کے مطالبہ پر کمر بستہ تھا۔ اس واقعہ سے پورے پنجاب بلکہ برصغیر میں غم و غصے کی فضا چھا گئی۔ اس جلسے کے اختتام پر مسلمان معززین کا ایک وفد ساڑھے چار بجے
گورنمنٹ ہاؤس میں گورنر پنجاب سر جیفری ڈی مونٹ مورنسی سے ملا۔ اس وفد میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ، سر میاں محمد شفیع، چوہدری دین محمد، سید مراتب علی شاہ اور میاں عبدالعزیز بیرسٹر وغیرہ شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایک اور وفد 6 نومبر کو اڑھائی بجے کے قریب دوبارہ گورنر پنجاب سے ملا۔ اس روز مذکورہ ارکان کے علاوہ مولانا ظفر علی خان، سر فضل حسین، خلیفہ شجاع الدین، میاں امیر الدین، مولوی غلام محی الدین قصوری اور مولانا سید حبیب شاہ وغیرہ سرفہرست تھے۔ سی آئی ڈی اور دیگر مخصوص ذرائع سے مسلم اور ہندوؤں کے جذبات کا گورنر کو بخوبی علم تھا۔ گورنر نے سب سے پہلا سوال یہ کیا کہ اگر میت کے لاہور آنے پر فساد ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اس پر علامہ اقبالؒ جھٹ بول اُٹھے: ”یور ایکسیلنسی! اگر ایسی بات ہوگئی تو میری گردن اُڑا دینا۔“ اس کے بعد آپ کے چہرے سے جلال برسنے لگا۔ کچھ ہی دیر بعد آپ کی آنکھیں پرنم ہوگئیں اور فرمایا: ”ہم عاشق رسول ﷺ کی محبت میں اپنے مطالبے سے کسی صورت دست بردار نہیں ہو سکتے۔“ حاضرین کے جوش کی یہ کیفیت دیکھ کر گورنر نے کہا۔ ”اچھا، آپ کو میت تو مل جائے گی مگر شرائط یہ ہیں کہ (1) جنازہ شہر کے اندر سے نہ گزرے۔ (2) مسلمان اپنے جذبات قابو میں رکھیں اور اشتعال انگیز نعرے نہ لگائیں۔ (3) قیام امن و امان کے لیے اخبارات میں ہیجان انگیز اداریے اور اشتعال والی خبروں کی اشاعت بند کردیں اور (4) مسلمان احتجاجی جلوس اور جلسے منعقد کرنا بند کردیں۔
باہمی رضا مندی سے یہ فیصلہ مشتہر کیا گیا۔ چنانچہ مسلمانوں کا ایک وفد سید مراتب علی شاہ گیلانی اور مرزا مہدی حسن مجسٹریٹ کی قیادت میں 13 نومبر 1931ء کو میانوالی پہنچا۔ راجہ مہدی زمان خان ڈپٹی کمشنر نے فرائض میزبانی ادا کیے۔ دوسرے دن علی الصبح شہید کی میت کو بصد احترام ڈپٹی کمشنر کے بنگلے پر لایا گیا۔ وہاں اسے سید مراتب علی شاہ کے بنوائے ہوئے ایک مضبوط تابوت میں بند کیا گیا۔ اس تابوت کے اندر جست لگا ہوا تھا اور جست پر روئی کی دبیز تہہ تھی۔ سر کی طرف نرم و ملائم تکیے رکھے تھے۔ وفد اور میانوالی کے موجود الوقت لوگوں کا بیان ہے کہ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود میت ایسی تھی کہ جیسے ابھی انھیں شہید کیا گیا ہو حتیٰ کہ چہرے پر جلال و جمال کا حسین امتزاج تھا اور ہونٹوں پر گلاب ایسی مسکراہٹ تھی۔ قبر کی مٹی سے جنت کی خوشبو آ رہی تھی۔ میت کو گیلانی صاحب نے تابوت میں خود اپنے ہاتھوں سے رکھا اور ایک گاڑی میں اسے میانوالی ریلوے اسٹیشن لے آئے جہاں ایک سپیشل ٹرین غازی علم دین کی
میت لاہور پہنچانے کے لیے منتظر کھڑی تھی۔ یہ تاریخی گاڑی شام ساڑھے چار بجے میانوالی سے روانہ ہوئی اور 14 نومبر کو 5 بج کر 35 منٹ پر لاہور سٹیشن پر پہنچی۔ جیل کی دو گاڑیاں شہید اور اس کے محافظوں کے استقبال کے لیے موجود تھیں۔ محکمہ ریلوے نے میت محکمہ جیل کے حوالے کی اور محکمہ جیل نے وہ تابوت جس میں حرمت رسول ﷺ کا فدائی استراحت فرما رہا تھا، مسلم لیگ کے دو نمائندوں یعنی ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ اور سر محمد شفیع کے حوالے کر کے رسید لے لی۔ میانوالی سے لاہور تک کا سفر بہت ہی آرام اور شان وشوکت سے طے ہوا۔ ہر جگہ عوام صرف گاڑی کی زیارت کرنے کے لیے دور دور سے آئے تھے۔ جہاں جہاں گاڑی رُکی، مسلمانوں نے شہید پر اپنی عقیدت ومحبت کے پھول نچھاور کیے اور پرجوش نعرے لگائے۔
غازی علم دین شہید کی میت کا استقبال کرنے اور ان کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے لاہور کے علاوہ برصغیر کے دور دراز شہروں سے مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا ایک سمندر تھا۔ شہید کا یہ جنازہ تاریخ میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے جس میں مسلمانوں کے قریباً تمام مسالک کے بڑے چھوٹے تمام افراد موجود تھے۔ ہر طرف نعرہ تکبیر، کلمہ شہادت اور درود شریف کی روح پرور گونج سنائی دے رہی تھی۔ سرکاری حفاظتی انتظامات بہت وسیع تھے مگر مسلمانوں کو انگریز سے الجھنے یا ہندو سے انتقام لینے کی ہرگز فکر نہ تھی بلکہ وہ تو حرمت رسول ﷺ کے محافظ کی زیارت اور ان کا جنازہ پڑھنے سے غرض رکھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑا جنازہ حضرت امام ابوحنیفہؒ کا ہوا ہے۔ ایک ہی روز میں ان کا جنازہ چھ مرتبہ پڑھا گیا اور ہر دفعہ کم وبیش 50 ہزار لوگوں نے شرکت کی۔ پھر حضرت امام ابن حنبلؒ کا دوسرا بڑا جنازہ تھا۔ تیسرا بڑا جنازہ غازی علم دین شہید کا تھا جس میں ایک اندازے کے مطابق چھ لاکھ سے زائد انسان شامل ہوئے اور بقول روزنامہ ’’انقلاب‘‘ آپ کے جنازہ کا جلوس 5½ میل لمبا تھا۔
شہید کی میت کے لیے چارپائی ڈاکٹر محمد دین تاثیر مرحوم، سابق پرنسپل اسلامیہ کالج، لاہور نے از راہ عقیدت پیش کی تھی اور تابوت سرکاری طور پر نیشنل کالج آف آرٹس میں تیار ہوا۔ چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس بندھے ہوئے تھے۔ چارپائی پر پھولوں کا بستر تھا اور اس بستر پر ایک چوبی تابوت تھا جو ہر قسم کی خوشبویات سے معطر تھا۔ اس تابوت میں مسلمانوں کے محبوب ہیرو کا جسد مبارک تھا۔ اس زمانے میں پرانی انارکلی اور چوبرجی کے درمیان کھیت تھے اور اس خیال سے کہ زائرین پانی کی قلت محسوس نہ کریں، کسانوں نے رہٹ چلا رکھے تھے۔ شہر بھر کے
ماشکی جگہ جگہ مشکیں بھرے پھر رہے تھے اور کارپوریشن کی پانی کی گاڑیاں ادھر اُدھر گشت کر رہی تھیں۔ فرط عقیدت سے معمور برقع پوش خواتین بھی اپنے پیارے نبی کریم ﷺ کی حرمت پر نثار ہونے والے سرفروش کا آخری سفر دیکھنے کے لیے کثیر تعداد میں میدان میں ایک کونے میں زیارت سے مستفیض ہونے کے لیے موجود تھیں۔
جلوس کے راستے میں جگہ جگہ میت پر پھولوں کی بارش کی گئی۔ شہید کے عقیدت مند ٹوکریوں، جھولیوں اور ٹوپیوں میں تروتازہ پھول بھر بھر کر لا رہے تھے۔ بعض لوگ گلاب، چنبیلی، موتیا اور رائبل کے عطر اور عرق کی بوتلیں انڈیل رہے تھے۔ کلمہ شہادت کا ورد بلند ہوتا جا رہا تھا۔ اخبارات ضمیمے شائع کر کے تازہ ترین حالات بتا رہے تھے۔ اکثر اخبارات کے حاشیے سیاہ تھے مگر اخبار ”سیاست“ کا سرورق شہید کے خون کی طرح سرخ تھا۔ اسی اخبار کے مالک سید حبیب ایک جید عالم اور مقبول مسلم رہنما تھے۔ آپ کے آنے پر علامہ اقبال نے پوچھا کہ شہید کی نماز جنازہ پڑھانے کا شرف کسے ہونا چاہیے؟ حبیب صاحب نے کہا کہ یہ شہید کے والد کا حق ہے جسے وہ نوازیں۔ طالع مند پاس ہی کھڑے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ حق مجھے ہے تو میں اسے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو تفویض کرتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے سید حبیب کے مشورے سے سن رسیدہ اور عالمِ بے بدل مولانا سید دیدار علی شاہ انوری کا نام تجویز کیا مگر وہ رش کی وجہ سے بروقت تشریف نہ لا سکے تھے۔ چنانچہ پہلی دفعہ نمازِ جنازہ مولانا محمد شمس الدین خطیب مسجد وزیر خان نے پڑھائی اور دوسری دفعہ نمازِ جنازہ سید دیدار علی شاہ نے پڑھائی۔
نمازِ جنازہ کے اختتام پر میت کا جلوس پھر میانی کی طرف روانہ ہوا۔ جنازے کے جلوس نے چوبرجی سے میانی صاحب تک کا نصف میل کا فاصلہ ایک گھنٹہ میں طے کیا۔ مولانا ظفر علی خاں نے قبر اپنی نگرانی میں بنوائی تھی۔ یہ بہاولپور روڈ اور عید گاہ کے شمال میں ایک پختہ سڑک کے کنارے واقع ہے۔ مولانا ظفر علی خاں نے لحد میں اتر کر اس کی جسامت کا جائزہ لیا اور کہا ”کاش! یہ مقام مجھے حاصل ہوتا“۔ مولانا محمد دیدار علی شاہ انوری اور علامہ اقبال نے میت کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا۔ لوگوں نے فرطِ جذبات سے لحد کے اندر اتنے پھول پھینکے کہ میت ان سے چھپ گئی۔ کچی اینٹوں سے تعویذ کو بند کیا گیا۔ کلمہ شہادت اور درود شریف کی گونج میں قبر پر مٹی ڈال دی گئی۔
شہیدِ ناموسِ رسالت غازی علم الدین شہیدؒ کے جنازہ پر امیر ملت حضرت پیر سیّد
جماعت علی شاہ علی پوری نے اپنی روحانی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
- ”دولت کا لالچ کیا ہے، نہ میرے دل میں کبھی حکومت کی خواہش پیدا ہوئی، نہ میں
کسی دنیاوی حاکم سے آج تک کبھی مرعوب ہوا، حمد و نعت کی وارفتگی میں میری تار نفس بجتی رہتی ہے۔ میں نے کسی کے آگے بڑھ جانے کے متعلق بھی نہیں سوچا، حسد کی آگ سے خداوند قدوس نے مجھے ہمیشہ بچائے رکھا مگر غازی علم الدین شہیدؒ کا حال دیکھ کر میرے دل میں اس آرزو نے ضرور انگڑائی لی، کاش! یہ خوش قسمت موت مجھے نصیب ہوتی! میں نے بیت الحرام میں نمازیں ادا کیں، مسجد نبوی ﷺ میں سجدہ ریزیوں کا لطف بھی اٹھایا، مگر جو کیفیت غازی علم الدین شہیدؒ کے جنازے میں شامل ہو کر حاصل ہوئی، وہ مجھے کسی اور جگہ نہ ملی۔ کیا عجب ہے کہ خود سرکار دو عالم ﷺ اپنے غلام کے جنازے میں شرکت کے لیے تشریف لائے ہوں اور میری اس کیفیت سرشاری کا سبب بھی یہی ہو“۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے حضرت علامہ اقبالؒ کے جو ملفوظات محفوظ کیے ہیں، ان میں علامہ اقبالؒ کا نہایت حسرت بھرے جذبات میں فرمایا ہوا یہ شہرہ آفاق جملہ بھی تھا جسے پہلی بار غازی علم الدین شہیدؒ کے جنازہ کے موقع پر اور بعدازاں کئی مجالس میں علامہ اقبالؒ کی زبان سے بار بار سنا گیا:
- ”اسیں تے گلاں ای کردے رہے تے ترکھان دا منڈا بازی لے گیا“۔ (یعنی ہم
باتیں ہی بناتے رہے اور بڑھئی کا لڑکا ہم سب سے بازی لے گیا)
مولانا ظفر علی خاں نے غازی علم الدین شہیدؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا:
- ”شہید علم الدین کے خون کی حدت سے غیرت وحمیت کے وہ چراغ روشن ہوئے
ہیں، جنھیں مخالف ہوا کے تند و تیز جھونکے بھی بجھا نہیں سکتے، آپؒ کی شہادت سے قوم کو ایک نئی زندگی ملی ہے، وہ زندگی جسے اب موت بھی نہیں مار سکتی“۔
ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم رہنما رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر نے آپ کی شہادت پر زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:
- آپ نے ایک حسین موت کو گلے لگا کر قوم کی عزت رکھ لی ہے۔ آپ کے جذبہ
سرفروشی سے ہماری رجعت قہقہری کی سیاہیاں دھل گئی ہیں۔ اس لیے آج ہر ایک غیرت مند مسلمان کے آئینہ دل میں شہید علم الدین کی تصویر دکھائی دیتی ہے“۔
امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے غازی صاحب کی شہادت پر کیا خوب فرمایا:
- ❑ ”غازی علم الدین شہید کی فضیلت قید حروف میں اسیر نہیں ہو سکتی۔ میں نے ہر
موضوع پر خطابت کے جوہر لٹائے ہیں مگر ان کے حال مطابق کچھ کہنے سے عاجز ہوں۔ میں تو سن فکر وعقل دوڑانے کے بجائے اس آیت کی تلاوت کیا کرتا ہوں۔ ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات ؕ بل احیآء ولکن لاتشعرون (البقرہ: 154)
برصغیر کے نامور شاعر حضرت استاد عشق لہرؔ نے غازی صاحب کو ان الفاظ میں ہدیہ تبریک پیش کیا:
- ❑ ”چودھویں صدی ایسے زمانے میں آپ نے محبت رسول ﷺ کا عملی ثبوت دے کر اپنے
نام کو خوب روشن کیا ہے۔ وہ کوہ طور کا ایک مقدس ذرہ تھا جو عشق والوں کی آنکھ کا سرمہ بن گیا ہے“۔
شہید ناموس رسالت غازی علم الدین شہیدؒ کی ایک زندہ کرامت یہ بھی ہے کہ زندگی میں جب کوئی مشکل یا پریشانی لاحق ہو تو دو رکعت نفل ادا کریں۔ پھر ایک تسبیح درود شریف پڑھ کر غازی علم الدین شہیدؒ کی لازوال قربانی کا واسطہ دے کر حضوری کی کیفیت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں تو آپ کی جائز حاجت ہر حال میں پوری ہوگی۔ عرصہ دراز سے یہ میرا اور میری فیملی کا آزمودہ نسخہ ہے۔ غازی صاحب کا مزارِ پاک لاہور کے مشہور قبرستان ”میانی صاحب“ نزد چوبرجی چوک لاہور میں آج بھی مرجع خلائق ہے۔ 30 اور 31 اکتوبر کو آپؒ کی برسی بڑی شان وشوکت سے منائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو محبت رسول ﷺ کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین!
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا!
صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی
شہید محبت
علامہ اقبال کا ایک مصرع ہے:
یعنی بعض اوقات ایک آہ کے فاصلے پر منزل ہوتی ہے یا لمحے بھر میں سو سال کا سفر طے ہو جاتا ہے، یہ مصرع زبان پر آتے ہی ذہن بے اختیار شہید ناموس نبی ﷺ غازی علم الدین کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، اس نے صدیوں کا سفر اس تیزی اور کامیابی سے طے کیا کہ ارباب زہد وتقویٰ اور اصحاب منبر ومحراب بس دیکھتے ہی رہ گئے۔ اس نے ایک قدم انارکلی ہسپتال روڈ پر اٹھایا اور دوسرے قدم پر جنت الفردوس میں پہنچ گیا۔
اسی جنت کی تلاش میں زاہدوں اور عابدوں کے نجانے کتنے قافلے سرگرداں رہے، کیسے کیسے لوگ غاروں کے ہو کر رہ گئے، کئی پیشانیاں رگڑتے اور سر پٹختے رہے، ہزاروں سر بگریباں، چلہ کش اسی آرزو میں دنیا سے اٹھ گئے، لاکھوں طواف وسجود میں غرق رہے، بے شمار صوفی وملا وقف دعا رہے، ان گنت پرہیز گار خیال جنت میں سرشار رہے، خدا ان سب کی محنت ضرور قبول کرے گا، لیکن غازی علم الدین کا مقام دیکھئے! نہ چلہ کیا نہ مجاہدہ، نہ حج کیا، نہ عمرہ کیا، نہ دیر میں قشقہ کھینچا، نہ حرم کا مجاور بنا، نہ مکتب میں داخلہ نہ خانقاہ کا راستہ دیکھا، نہ کنز قدوری کھول کر دیکھی نہ رازی وکشاف کا مطالعہ کیا، نہ حزب البحر کا ورد کیا نہ اسم اعظم کا وظیفہ پڑھا، نہ علم وحکمت کے خم وپیچ میں الجھا نہ کسی حلقہ تربیت میں بیٹھا، نہ کلام ومعانی سے واسطہ رہا نہ فلسفہ و منطق سے آشنا ہوا، نہ مسجد کے لوٹے بھرے نہ تبلیغی گشت کیا، نہ کبھی شیخی بگھاری نہ کبھی شوخی دکھائی، اسے پاکبازی کا خبط نہیں، محبوب حجازی ﷺ سے ربط تھا، وہ تسبیح بدست نہیں مست مئے الست تھا، وہ فقیہ مسند آرا نہیں، فقیر سر راہ تھا، یہی وجہ ہے کہ اس نے مصلحت کیشی سے نہیں،
جذبہ درویشی سے کام لیا، چنیں و چناں کے دائروں سے نکل کر کون و مکاں کی وسعتوں میں جا پہنچا، وہم و گمان کی خاک جھاڑ کر ایمان و عشق کے نور میں ڈھل گیا، نجانے ہاتف غیب نے چپکے سے اس کے کان میں کیا بات کہی کہ پل بھر میں دل کی کائنات بدل گئی ؎
اک شب میں ہی یہ پیدا بھی ہوا، عاشق بھی ہوا اور مر بھی گیا
خدا معلوم کتنی ریاضت سے آغوش بسطام نے بایزیدؒ کی پرورش کی، خاک بغداد نے جنیدؒ کو جنم دیا، شہر قونیہ نے مولانا رومؒ کو بنایا، دہلی نے شاہ ولی اللہؒ کو پیدا کیا اور ادھر علم الدینؒ بڑھئی کی دکان سے اٹھا اور ایک ہی جست میں زمان ومکان طے کر ڈالے۔
علامہ اقبالؒ کو جب غازی علم الدینؒ کے بارے میں بتایا گیا کہ ایک اکیس سالہ ان پڑھ اور مزدور پیشہ نوجوان نے گستاخ رسول راجپال کو بڑی جرأت اور پھرتی سے قتل بلکہ واصل جہنم کردیا ہے تو حضرت علامہؒ نے گلوگیر لہجے میں فرمایا:
”اسی گلاں ای کردے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا“
(ہم باتیں ہی بناتے رہے اور بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا)
حضرت علامہؒ نے غالباً اسی موقع کے لیے کہا ہے:
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں نے
جس زمانے میں یہ رسوائے زمانہ کتاب لکھی اور چھاپی گئی، شہر لاہور میں ظاہر ہے حق ہو کے زلزلے ہوں گے، علم و فضل کے چرچے ہوں گے، تقریر و تحریر کے ہمہمے ہوں گے، وعظ و نصیحت کے غلغلے ہوں گے، ادیبوں اور خطیبوں کے طنطنے ہوں گے، لیکن شاتم رسول کو اسفل السافلین میں پہنچانے کی سعادت کسی صوفی باصفا، کسی امام ادب وانشاء، کسی خطیب شعلہ نوا اور کسی سیاسی رہنما کے حصے میں نہیں آئی بلکہ ایسے مزدور کو ملی جو ممتاز دانشور نہیں معمولی کاریگر تھا، جس کی پیشانی پر علم و فضل کے آثار نہیں، ہاتھوں میں لوہے کے اوزار تھے، خدا معلوم وہ نمازی تھا یا نہیں لیکن صحیح معنوں میں غازی نکلا، وہ کلاہ دستار کا آدمی نہیں تھا مگر بڑے کردار کا حامل بن گیا۔
غازی علم الدین شہیدؒ کو دیکھ کر کم از کم یہ یقین ضرور ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی عبادت کے طول وعرض پر نہیں جاتا بلکہ کسی کے جذبۂ بے غرضی کو شرف قبولیت بخشتا ہے، اس
کے ہاں شب زندہ داری سے زیادہ دل کی بے قراری کام دیتی ہے، وہ کسی کے ماتھے کا محراب نہیں دیکھتا نہاں خانۂ قلب کا اضطراب دیکھتا ہے، اسے نیکیوں کے سفینے نہیں گوشۂ چشم پر آنسوؤں کے نگینے درکار ہوتے ہیں، اسے کسی کی خوش بیانی متاثر نہیں کرتی، کسی کی بے زبانی پہ پیار آ جاتا ہے، اسے بوعلی کی حکمت کے مقابلے میں کسی بڑھئی کی غربت پسند آ جاتی ہے، اگر یہ بات نہ ہوتی تو غازی علم الدینؒ کبھی مقام شہادت سے سرفراز نہ ہوتا۔
کسی غزوے کے دوران ایک شخص حضورﷺ کے دستِ مبارک پر مسلمان ہوتا ہے اور ساتھ ہی جہاد کی اجازت مانگتا ہے، چند لمحے قبل وہ سپاہ کفر میں شامل تھا، دو ساعتوں کے بعد وہ مجاہدین اسلام کا ساتھی بن جاتا ہے، دولت اسلام سے بہرہ مند اور جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر میدان میں اترتا ہے اور تھوڑی دیر بعد جام شہادت نوش کر جاتا ہے، جنگ کے خاتمے پر حضورﷺ شہدا کی لاشوں کا معائنہ فرما رہے تھے۔ جب ثابت بن اصیرؓ کی لاش پر پہنچے تو آپ نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’اس شخص کو دیکھو جس نے اسلام قبول کیا مگر نہ نماز پڑھی، نہ اس نے روزہ رکھا، نہ اسے حج کرنے کا موقع ملا، مگر سیدھا جنت میں پہنچ گیا۔‘‘
یہی حال غازی علم الدین شہیدؒ کا ہے، نہ اس نے فن تجوید و قرأت سیکھا، نہ عربی فارسی پڑھی، نہ رومیؒ کی مثنوی دیکھی، نہ زمخشری کی کشاف پڑھی، نہ دین کے اسرار و رموز سمجھے مگر ایک راز اس پر ایسا کھلا کہ مقدر کے بند کواڑ کھل گئے، قسمت کا دریچہ کیا کھلا کہ جنت کے دروازے کھل گئے، یہ عقل خود بیں کا کرشمہ نہیں عشق خدا بیں کا معجزہ تھا، کل تک دکان پر ٹھک ٹھک کرنے والا علم الدینؒ آج کروڑوں مسلمانوں کے سینے میں دل بن کر دھک دھک کر رہا ہے۔
غریب باپ کو کیا علم تھا کہ اس کی گود میں شہر محبت کا امیر پل رہا ہے، کچے گھروندے کو کیا خبر تھی کہ اس کے احاطے میں پکے عقیدے کا بچہ چل پھر رہا ہے، سنسان حویلی کو کیا پتہ تھا کہ ایمان کی دولت اس کے دامن میں بھری ہوئی ہے، محلہ چابک سوار کا علم الدینؒ میدانِ عشق کا شہسوار نکلا۔
غازی علم الدین شہیدؒ 1908ء میں پیدا ہوئے اور 31 اکتوبر 1929ء کو تعزیر جرم عشق میں پھانسی پا کر ہمیشہ کے لیے گستاخان رسول کے گلے کی پھانس بن گئے۔
21 برس کی عمر میں صدیوں کا سفر اس خوبی سے طے کیا کہ اس کی گردِ سفر کا ایک
ایک ذرہ کاروانِ شوق کے لیے نشانِ منزل بن کر رہ گیا ہے، نجانے عشاق کے اور کتنے قافلے اس راہ سے گزریں گے لیکن ان پر لازم ہوگا کہ وہ علم الدینؒ کے نقشِ کفِ پا کو چوم کر اپنی منزل کی بُو سونگھیں۔
لوگ زندہ جاوید ہونے کی آرزو میں مر مر کر جیتے اور جی جی کر مرتے ہیں۔ اُنھیں جینے کا فن تو آجاتا ہے، مرنے کا ڈھنگ نہیں جانتے۔ وہ غازی علم الدینؒ کی روح سے پوچھیں کہ مر کر امر ہو جانے کا کیا راز ہے؟ فنا کے گھاٹ اتر کر لا فانی بننے کا کیا طریقہ ہے؟ گمنام ہو کر شہرتِ دوام پانے کا کیا نسخہ ہے؟ کسی کے نام پر مٹ کر انمٹ ہونے کی رمز کیا ہے؟ جامِ شہادت کے ذریعے آبِ حیات پینے کا کیا گر ہے؟
غازیؒ کو میانوالی جیل میں پھانسی دی گئی اور وہیں دفن بھی کر دیا گیا، انگریز کا خیال تھا کہ اگر لاش برسرِ عام لاہور لائی گئی تو ضبط کے سب بندھن ٹوٹ جائیں گے، مگر مسلمانوں کا احتجاج پورے برصغیر میں شدید سے شدید تر ہو گیا، حکیم الامت علامہ اقبالؒ، سر محمد شفیع، میاں عبدالعزیز مالواڈہ اور مولانا غلام محی الدین قصوری گورنر سے ملے اور غازیؒ کی لاش مسلمانوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، بالآخر 14 نومبر کو لاش لاہور پہنچی، جنازہ چوبرجی جنازگاہ میں پہنچا، وہاں جنازہ کیا پہنچا، پورا لاہور پہنچ گیا، اس اعزاز و تکریم کو شہنشاہ ہند ظہیر الدین بابر، مغل اعظم، شاہجہاں، غیاث الدین بلبن اور دوسرے سلاطین جہاں آج تک ترستے ہوں گے جو اکرام و اعزاز ”ترکھاناں دے منڈے“ کو نصیب ہوا۔
غازیؒ آج قبرستان میانی صاحب میں آسودہ خاک ہے۔ اس خاک کا ہر ذرہ سرمہ چشمِ عشاق ہے، لوگ بقائے دوام پانے کے لیے خضر کی تلاش میں ہیں جو انھیں چشمہ حیواں تک پہنچا سکے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آبِ حیات کے دو گھونٹ انھیں حیات جاودانی بخش دیں گے لیکن انھیں معلوم نہیں کہ حضورﷺ کے تلوؤں کا دھوون ہی آب حیات ہے، اس کا ایک قطرہ حیاتِ ابد عطا کر دیتا ہے، علم الدینؒ اپنے دم خم سے نہیں، اُنھی کی خاکِ قدم بن کر زندہ و پائندہ ہے۔
مولوی محمد سعید
غازی علم الدین شہید
انگریز کے دور میں آزادی کی لگن کے دوش بدوش کئی ناہنجار تحریکیں بھی زور پکڑ رہی تھیں۔ مذہبی مناظرے تو ایک عرصہ سے ہوتے چلے آرہے تھے اور ان میں پھبتی کا رواج تھا۔ لیکن دشنام طرازی کی باقاعدہ ابتداء ہندوؤں کے ایک مخصوص فرقے آریہ سماج نے کی۔ مقصد محض مسلم آزاری تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف چند دریدہ دہن مصنفین نے اس شدت اور تواتر سے گندگی اچھالنا شروع کی کہ مسلمانوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ پوری مسلم قوم خیبر سے لے کر راس کماری تک شعلہ بدامن ہوگئی۔ انھی دریدہ دہن ناشروں میں ایک رسوائے زمانہ راجپال بھی تھا جس نے ایک کتاب ’’...................‘‘ شائع کی۔ مصنف کا نام مخفی رکھا گیا، عام خیال تھا کہ یہ کتاب پرتاپ کے مہاشہ کرشن کی ہے۔
مقدمہ چلا۔ مسلمانوں کے نقطۂ نظر کی نمائندگی سر محمد شفیع نے کی۔ سر محمد شفیع اپنے وقت کے چوٹی کے وکلاء میں سے تھے۔ ان کی ہائی کورٹ میں تقریر اتنی ولولہ انگیز تھی کہ اگلے روز ان کے ازلی دشمن زمیندار تک نے ’’سر شفیع کی عشق رسول ﷺ میں ڈوبی ہوئی تقریر‘‘ کی سرخی لگائی۔ راجپال کو ہلکی سی سزا ہوئی۔ مسلمانوں کی آتش انتقام کو ہندو نواز انگریز ججوں کی اشک شوئی سرد نہ کر سکی۔ سزا کچھ یوں دی گئی کہ جیسے مسلمانوں کے سر پر احسان دھرا جا رہا ہے۔
دلی میں شردھانند نے اور لاہور میں راجپال نے اس تحریک کو پروان چڑھایا۔ جب ان کے خبث باطن کے چرچے عام ہوئے اور پڑھے لکھے لوگوں کی محفلوں سے گزر کر عام مسلمانوں تک پہنچے تو ایک ہیجان بپا ہوگیا۔ چنانچہ راجپال پر حملے ہونا شروع ہوئے ، دو مرتبہ تو وہ بچ نکلا اور حملہ آور لمبی سزائیں بھگتنے کے لیے جیلوں میں ڈال دیئے گئے۔ حتیٰ کہ لاہور کے سریاں اوجھریاں والے بازار کے ایک بڑھئی طالع مند کے بیٹے علم الدین کو جب علم ہوا کہ حضور ﷺ کی شان میں ایسی بے محابا گستاخیاں ہو رہی ہیں تو اس نے تہیہ کرلیا کہ ایسے منہ پھٹ
کا علاج قطع شہ رگ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
اپریل کی ایک دوپہر کو جب لاہور کے بازار اور گلیاں سنسان تھیں۔ علم الدین چوہٹہ مفتی باقر سے ہسپتال روڈ تک آیا۔ اس نے راجپال کو بیٹھے دیکھا۔ جب آگے بڑھا تو راجپال سہم گیا۔ لیکن پیشتر اس سے کہ وہ مدافعت کرتا، اس نوجوان کا خنجر اس کے جگر کے پار اتر چکا تھا۔ خون کو فوارے کی صورت میں بہتا چھوڑ کر یہ جوان لکڑی کے گوداموں تک خراماں خراماں چلا گیا۔ پھر یکا یک خیال آیا کہ کہیں وار اوچھا نہ پڑا ہو اور راجپال کہیں پھر نہ بچ نکلا ہو۔ دل کی تشفی کے لیے لوٹا تو گرفتار کر لیا گیا۔ انارکلی کے ایک ذیلی بازار میں دن دہاڑے قتل اور وہ بھی ایک ایسے شخص کا جس کا نام ہر ایک کی زبان پر تھا۔ ہندو محلوں میں ہاہا کار مچ گئی۔ یہ خبر علم الدین کے محلے میں اس وقت پہنچی جب اس کی ماں اس کی سگائی کے لڈو بانٹ رہی تھی۔
مقدمہ چلا۔ سیشن جج نے پھانسی کی سزا دی۔ ہائیکورٹ میں اپیل ہوئی۔ علم الدین کی وکالت کے لیے بمبئی سے قائد اعظم محمد علی جناح تشریف لائے۔ مقدمہ کی سیاسی اور مذہبی نوعیت، جناح ایسے فاضل بیرسٹر کی آمد، ملک گیر دلچسپی، عدالت کے کمرے میں بلکہ احاطے میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ فین روڈ پر ہجوم جمع ہو رہا تھا، اور ہر لحظہ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس ہجوم میں آہنی جنگلے کے ساتھ مجھے بھی قدم رکھنے کی جگہ مل گئی۔ یکا یک آواز آئی، جناح آ رہے ہیں۔ ہم جنگلے کے سہارے ذرا اور اونچے ہو گئے۔ دور سے دیکھا کہ برآمدے میں جمع ہونے والے لوگ راستہ دے رہے ہیں، اور مسٹر جناح سیاہ گاؤن میں ملبوس بڑے وقار کے ساتھ عدالت کے کمرے کی جانب جا رہے ہیں۔ ان کے پیچھے علم الدین کے والد طالع مند تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک سیاہ رنگ کی صندوقچی تھی۔
بحث کے دوران قائد اعظم نے زیریں عدالت کے فیصلے اور گواہوں کے بیانات کے پرخچے اڑا دیئے۔ عدالت تک تو ہم لوگوں کی رسائی نہیں تھی کہ وہاں صوبے بھر کے نامور وکلاء کا ہجوم تھا۔ اگلے روز اخبارات میں جو روداد چھپی اس میں عاشقان رسول ﷺ کے لیے ایمان کی تازگی کا بڑا سامان تھا۔ ٹھیٹھ قانونی اعتبار سے قائد اعظم جناح کی تقریر نکتہ آفرینی اور اسلوب بیان کا شاہکار تھی۔
انگریز جج براڈوے نے دلائل سننے کے بعد وہی فیصلہ دیا جو متوقع تھا۔ علم الدین کی سزائے موت بحال رہی، اور اب لوگ اس کے واصل حق ہونے کے منتظر رہنے لگے۔ اسے
میانوالی جیل میں منتقل کر دیا گیا اور ایک صبح اسے تختہ دار پر کھینچ دیا گیا۔ اخباروں میں آخری لمحوں کی جو روداد چھپی، ان سے علم الدین کی پامردی نمایاں تھی۔ موت کو اس نے مردانہ وار خوش آمدید کہا اور بلند آواز سے ؎
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
پڑھا اور جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔
مسلمانوں کے لیے یہ بڑے اندوہ والم کی بات تھی کہ ان کا ایک ہیرو یوں پنجاب کے ایک دور دراز علاقے میں موت کی نیند سلا دیا جائے اور پھر اس کی قبر ان کی نگاہوں سے اوجھل رہے۔ چنانچہ غم وغصہ کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا اور باقاعدہ ایک تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔ وہ لوگ بھی باہم اکٹھے ہو گئے جن کی سیاسی راہیں مدتوں سے جدا جدا تھیں۔ اقبال، سر شفیع اور ظفر علی خان اس تحریک کے روحِ رواں تھے۔ سر شفیع کی سرکار دوستی ، ظفر علی خان کی سرکار دشمنی، اقبال کی بے نیازی سبھی پس منظر میں چلی گئیں۔ قوم کے سامنے اب علم الدین کی نعش کا حصول تھا۔ چنانچہ تحریک کا نعرہ ”نعش لیں گے یا نعش بن جائیں گے“ ٹھہرا۔
اقبال اور سر شفیع گورنر سے ملے اور اسے یقین دلایا کہ مطالبہ حصولِ نعش تک محدود ہے۔ اور اگرچہ آج کے دن مسلمانوں کے جذبات کی کوئی حد نہیں پھر بھی غیر مسلموں کی عزت و ناموس یا مال و دولت ان کے ہاتھ سے محفوظ رہیں گے۔ گورنر نے اس یقین دہانی کے بعد لاش مسلمانوں کے سپرد کر دینے کا فیصلہ دے دیا۔ دسمبر کی ایک یخ بستہ صبح کو نعش گاڑی میں لاہور لائی گئی۔ چھاؤنی کے سٹیشن پر پل کے نزدیک گاڑی رکی۔ اور گورا فوج کا ایک دستہ تابوت لے کر گورنر ہاؤس تک آیا۔ جہاں اسے مسلمان زعما کے سپرد کر دیا گیا۔
ایسا جنازہ جو علم الدین کو میسر آیا، تاریخ میں خال خال شخصیتوں کو میسر آیا ہوگا۔ لاہور کی نواحی بستیاں تو درکنار، دور دور کے مقامات سے لوگ اتنی تعداد میں آئے کہ اس شہر کے لیے ان کا سنبھالنا دشوار ہو گیا۔ وہ زمانہ ریلوے کی محدود آمد و رفت کا تھا۔ بسوں کی چلت ابھی عام نہیں ہوئی تھی۔ نجی موٹر گاڑیاں ابھی کم تھیں اور مسلمانوں کے یہاں قریب قریب مفقود تھیں۔ لیکن پھر بھی لوگ جالندھر، امرتسر، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، منٹگمری اور ملتان سے کھنچے چلے آ رہے تھے۔ نمازِ جنازہ کے لیے وہ میدان منتخب ہوا جسے چاند ماری کہتے تھے اور جہاں
آج کل چوبرجی کے کوارٹر اور دیگر آبادی پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ دریا کی ترائی تک بڑا سرسبز تھا۔ حد نظر تک سبزی کے کھیت تھے۔ نماز جنازہ کے بعد جب تابوت اٹھایا گیا تو چار پائی سے لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تھے تا کہ لوگ کندھا دینے کی سعادت سے محروم نہ رہیں۔ جنازے کے آگے آگے پھولوں سے لدی ہوئی ایک بیل گاڑی جارہی تھی، جو ہجوم میں پھول تقسیم کرتی جارہی تھی۔ جنازہ نزدیک آیا تو جو لوگ دیر سے کندھا دینے کے لیے منتظر کھڑے ہوتے ، ایک ہی ریلے میں سڑک سے دور جا پہنچتے ۔ چار پائی کے اردگرد ایک جم غفیر تھا۔
اکثر لوگوں نے کمر سے پٹکے باندھ رکھے تھے اور ایک عجیب سرمستی کے عالم میں لہرا رہے تھے، اور لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے جارہے تھے۔ الا اللہ کی ضرب پر ہر بار معلوم ہوتا کہ لاہور کی زمین تھرا اٹھی ہے۔ پھولوں کی بارش میں جنازہ آہستہ آہستہ میانی صاحب کے وسط تک بڑھتا رہا۔ قبر کے قریب اژدہام اتنا بے پناہ تھا کہ بڑے بڑے تنومند قبر تک پہنچنے سے عاجز تھے۔ میں نے بدقت تمام جب جھانک کے دیکھا تو لحد میں پھولوں کی سیج بچھی ہوئی تھی۔
قریب ہی ایک وسیع گڑھے کے وسط میں مولانا ظفر علی خاں کناروں پر امڈے ہوئے ہجوم کو انگریز کی ستم رانیوں کی داستان سنا رہے تھے۔ مجمع حسب معمول مسحور تھا۔ جب میاں سر محمد شفیع نے انھیں یہ یاد دلانے کی کوشش کی کہ یہ محل کسی سیاسی تقریر کا نہیں تو مولانا نے بجلی کی طرح تڑپ کر کہا کہ جب تک انگریز کا ظلم ختم نہیں ہوتا، اس کی داستان کیسے ختم ہوسکتی ہے؟ ہندو کو تو یہ افسانے سناتے عار محسوس نہیں ہوتی۔ ہم کیوں اتنے محجوب ہوں؟ وہ آزادی کے نغمے الاپتے ہیں۔ ہم غلامی پر کیوں کر قانع رہیں؟ سر شفیع نے مولانا کے تیور دیکھے تو ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی طرح وہی راستہ اختیار کیا جو مولانا کا ہر عافیت کوش حریف ایسے موقعوں پر اختیار کیا کرتا تھا۔ تقریر جاری رہی تا آنکہ علم الدین کا جسد خاکی لحد میں اتار دیا گیا۔ اور لاہور کا یہ غیر معروف نجار زادہ چند دنوں میں عالمگیر شہرت پا کر اسی شہر کی خاک میں آسودۂ راحت ہو گیا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف سب وشتم کی تحریک جو ہندوؤں میں اٹھی، وہ اس تحریک کا گھناؤنا پہلو تھی جس کی بناء عیسائی علما نے تحقیق کے پردے میں ڈالی تھی، اور جس کے دوران وہ وہ جھوٹ تراشے گئے کہ افشائے حق ہونے کے بعد خود ان کے ہم مذہبوں کی گردنیں ندامت سے جھک گئیں۔ آج یورپ کے علما میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے
اس تحقیق و تفتیش کو خود پائے حقارت سے ٹھکرا دیا ہے۔ انگریز جب آزادی مذہب کی آڑ میں غیر جانبدار ہو گیا تو گھٹیا قسم کے چند ہندو مصنفوں اور ریفارمروں نے پیغمبر اسلام ﷺ پر نجاست اچھالنے کو پیشہ بنا لیا۔ بہر کیف دلی میں عبدالرشید کے ہاتھوں شردھانند کیفر کردار کو پہنچا۔ لاہور میں علم الدین کے ہاتھوں راجپال اور کراچی میں عبدالقیوم کے ہاتھوں شاتمانِ رسول ﷺ کے اس انجام نے اس تحریک کا خاتمہ کر دیا۔
گاؤں میں سناتن دھرمیوں کی پاٹھ شالہ کے سامنے ایک آریہ سماجی دیوان چند بھاٹیہ آٹے کی چکی چلایا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ اچھی رسم و راہ تھی۔ جس روز عبدالقیوم نے کراچی میں پراچین کہانی کے مصنف کو قتل کیا، اتفاق سے میرا ادھر سے گزر ہوا۔ مجھے روک کے کہنے لگے: ”یار سنو! یہ قرآن کی تعلیم میں نقص ہے یا مسلمانوں میں قوتِ برداشت کی کمی ہے کہ مذہبی تحقیق کا جواب انھوں نے ہمیشہ خنجر سے دیا ہے۔“ میں نے کہا کہ اگر تحقیق گالی دینے کی نیت سے کی جائے تو؟ ابھی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ ایک معمر سکھ آگئے۔ پوچھنے لگے کیا بات ہے؟ میں نے بھاٹیہ کے سوال اور اپنے جواب کو دہرایا اور ان کی رائے پوچھی۔ وہ جوش میں آ کے کہنے لگے کہ اگر میرے گروؤں میں سے کسی کو گالی دی جائے تو میں تو سر اتار کر............
میں نے کہا: بس؟ بھاٹیہ جی سن لیجئے۔“
بہر کیف مسلمان قوم نے اپنے غیظ و غضب کے اظہار میں کسی مداہنت کو روا نہیں رکھا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ایک جلسہ میں برملا کہہ دیا: ”اللہ سے گستاخی کرنے والوں سے تو وہ خود نپٹ لے گا، لیکن رسول کی طرف اٹھنے والی انگلی کو ہی نہیں، شانے سے بازو تک کو کاٹ دیا جائے گا۔“
یہ محض حادثہ نہیں تھا کہ خلافت ایجی ٹیشن کا اتحاد و اتفاق، ہندو مسلم فسادات کے خونیں سلسلے کی نذر ہو گیا، اور آزادی کی قرارداد پاس ہوتے ہی شاتمانِ رسول کی ایک کھیپ پیدا ہو گئی۔ صاف عیاں ہو چکا تھا کہ یا آزادی کا خواب پریشان کیا جا رہا ہے یا آنے والے دور کی ایک دھندلی سی تصویر دکھائی جا رہی ہے۔
۞......۞......۞
محمد حنیف شاہد
غازی علم الدین شہیدؒ اور قائد اعظمؒ
تحریک خلافت کے دوران ہندو مسلم اتحاد کے بے نظیر مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔ لیکن ہندو مسلم اتحاد کا یہ مصنوعی باب جلد ہی اپنے انجام کو پہنچا اور ہندوؤں نے تحریک کے ختم ہوتے ہی اس اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا۔ اس سلسلے میں ہندو مہاسبھا اور آریہ سماجیوں نے مسلمان کے مذہب، تمدن اور سیاسی تاریخ کو مسخ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ آریہ سماجیوں کی سرگرمیوں کے مرکز ویسے تو تمام ہندوستان میں موجود تھے لیکن لاہور ان کی سرگرمیوں کا خاص مرکز تھا۔ اسی سلسلے میں 1923ء میں لاہور کے ایک پبلشر راج پال نے پروفیسر چمپوپتی لال کی کتاب شائع کی جس میں حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر ناروا حملے کیے گئے تھے۔ اس کتاب کے چھپتے ہی مسلمانوں میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ چنانچہ اس کتاب کے پبلشر راج پال پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ چلا۔ ماتحت عدالت نے مقدمہ کی سماعت کے بعد ملزم کو 6 ماہ قید سخت اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا سنائی لیکن عدالت عالیہ کے چیف جسٹس سر شادی لعل نے (جو مسلمانوں کے لیے اپنے روایتی تعصب کے لیے بہت مشہور تھا) راج پال کو بری کر دیا۔ (1) اس واقعہ سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا اور 27؍ ستمبر 1927ء کو ایک مسلمان خدا بخش نے راج پال پر حملہ کیا لیکن وہ بدبخت بچ گیا۔ 9؍ اکتوبر 1927ء کو ایک اور نوجوان عبدالعزیز نے دوبارہ راج پال پر حملہ کیا لیکن اس بار بھی قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور وہ موت کے منہ میں جانے سے بچ گیا۔ (2)
اس کے بعد لاہور کے سریاں والا بازار کے غازی علم الدین نے راجپال پر حملہ کیا اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ غازی علم الدین کو گرفتار کر کے اس پر سیشن عدالت میں مقدمہ چلا جہاں اسے سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ سیشن عدالت کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی گئی جس کی پیروی کے لیے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو بمبئی سے لاہور
بلوایا گیا۔ اس سلسلے میں قائداعظمؒ نے عدالت عالیہ کو تار دیا کہ 15 / جولائی کو مقدمہ کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر کی جائے۔ (3)
چونکہ ایک ہائی کورٹ کا وکیل دوسرے ہائی کورٹ میں پریکٹس نہیں کر سکتا تھا، اس لیے بمبئی ہائی کورٹ کے مسٹر جناح نے جب پنجاب ہائی کورٹ سے علم الدین کے مقدمہ میں پیش ہونے کی اجازت مانگی تو پنجاب ہائی کورٹ کے جج مسٹر براڈوے نے اجازت دینے کی مخالفت کی لیکن چیف جسٹس سر شادی لعل نے قائداعظمؒ کو پیش ہونے کی اجازت دے دی۔ روزنامہ انقلاب (لاہور) نے چیف جسٹس کے اس فیصلہ کو ان کا ہوش مندانہ فعل قرار دیا اور لکھا کہ اگر وہ مسٹر محمد علی جناح کو مقدمہ میں پیش ہونے کی اجازت نہ دیتے تو مسلمانوں میں بے حد جوش پھیل جاتا۔ (4)
15 / جولائی 1929ء کو جسٹس براڈوے اور جسٹس جانسن کے روبرو مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ قائداعظمؒ محمد علی جناح نے مقدمہ کے واقعات کو سامنے رکھ کر انتہائی قابلیت کے ساتھ غازی علم الدین کی بے گناہی ثابت کی۔ سب سے پہلے قائداعظمؒ نے عینی گواہوں کے بیانات پر جرح کی۔ قائداعظمؒ نے عدالت کو بتلایا کہ عینی گواہ کدارناتھ مقتول کا ملازم ہے۔ اس لیے اس کی گواہی تامل اور غور کے بعد قبول کرنی چاہیے۔ دوسرے، کدارناتھ نے اپنے ابتدائی بیان میں بھگت رام گواہ کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ وہ بھی مقتول کی دکان کے ہی ایک حصے میں کام کر رہا تھا اور کدارناتھ کی طرح بھگت رام نے بھی بیان کردہ قاتل غازی علم الدین پر کتابیں پھینکیں اور اس کا تعاقب کیا۔ کدارناتھ نے ابتدائی بیان میں ملزم کے متعلق یہ نہیں کہا کہ اس نے گرفتاری کے بعد اقبال جرم کیا۔ سیشن عدالت میں وہ بیان دیتا ہے کہ ملزم نے کہا ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ کی توہین کا بدلہ لیا ہے۔ ان حقائق سے قائداعظمؒ نے یہ ثابت کیا کہ عینی گواہ نمبر 1 کدارناتھ جھوٹا ہے۔ اسی طرح قائداعظمؒ نے دوسرے عینی گواہ یعنی بھگت رام کی شہادت کو لے کر اس کی کمزوریاں واضح کیں۔ اس کے بعد انھوں نے وزیر چند، نانک چند اور پرمانند وغیرہ کے بیانات پر نقادانہ بحث کر کے ثابت کیا کہ کوئی بیان بھی اصلاً قابل اعتماد نہیں بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص بیان وضع کر کے مختلف آدمیوں کو طوطے کی طرح رٹا دیا گیا۔ قائداعظمؒ نے اپنی جرح سے سب سے اہم نکتہ یہ نکالا کہ عام بیانات کے مطابق واقعہ کے وقت مقتول کے آٹھ زخم لگے یعنی اٹھارہ انیس سال کے ایک معمولی نوجوان
نے دن دہاڑے تین مردوں میں گھس کر ایک کے جسم میں آٹھ دفعہ چھری گھونپی اور نکالی اور تین آدمی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ اس کو عقل انسانی صحیح تسلیم نہیں کر سکتی۔ اس کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے آتما رام کباڑی کی شہادت پر جرح کی اور اس کی شہادت کا تار و پود بکھیرا اور اس کے خلاف کئی دلائل قائم کیے۔
- (1) پہلی بات آپ نے یہ ثابت کی کہ کوئی دکان دار اتنا باریک بین نہیں ہو سکتا کہ
اپنے ہر گاہک کو یاد رکھے جو کہ اس کی دکان پر صرف ایک ہی مرتبہ آیا ہو۔ اس کباڑی نے ملزم کو شناخت پریڈ کے دوران ملزم کے چہرے کے ایک نشان کو دیکھ کر پہچانا ہے۔ ظاہر ہے کہ پولیس نے اسے یہ نشان بتلا دیا ہو گا جس کی بنا پر اس نے ملزم کو شناخت کر لیا۔
- (2) گواہ آتما رام کا دعویٰ تھا کہ وہ چاقو کو پہچان سکتا ہے لیکن جب چاقو اس کے
روبرو پیش کیے گئے تو وہ پہچان نہ سکا۔
گواہ آتما رام کباڑی اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اس کی نظر کمزور ہے۔ لہٰذا ان حقائق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آتما رام سکھایا پڑھایا ہوا گواہ ہے۔ استغاثہ کے یہی تین مبانی تھے۔ اوّل عینی گواہ، دوئم ملزم کو گرفتار کرنے یا کرانے والے، سوئم چاقو فروخت کرنے والا کباڑیا۔ ان مبانی کی انتہائی کمزوری ثابت کرنے کے ساتھ ہی استغاثہ کو قائد اعظم محمد علی جناح نے بالکل بے حقیقت کر دیا۔
اس کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے اس امر پر بھی سیر حاصل بحث کی کہ اگر علم دین قاتل نہیں تھا تو اس کے کپڑوں پر انسانی خون کے دھبے کس طرح لگے تھے۔ انھوں نے ڈاکٹر کا یہ بیان پیش کیا کہ مقتول کا خون فوارے کی طرح نہیں اچھلا اور جب حالت یہ ہے تو بیان کردہ قاتل کے جسم پر دھبے نہیں پڑ سکتے لیکن ڈاکٹر نے کہا کہ بیان کردہ قاتل کے کپڑے مقتول کی لاش سے چھو گئے ہوں گے۔ قائد اعظم نے کہا کہ ڈاکٹر کی شہادت کا یہ حصہ بالکل لغو ہے۔ اسے رائے دینے کا کوئی حق نہیں تھا۔ سیشن جج اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ مقتول کا خون فوارے کی طرح نہیں اچھلا اور اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ ملزم کے کپڑے مقتول کی لاش سے چھوئے نہیں لیکن لکھتا ہے کہ ڈاکٹر کی رائے کے مطابق یہ خون انسانی ہے اس لیے مقتول کا خون ہے اور چھری سے ٹپک کر ملزم کے کپڑوں پر گرا ہے۔ قائد اعظم نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ جس خون کے دھبے ملزم کے کپڑوں پر ہیں، وہ واقعی مقتول کا ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ یہ
خود ملزم کا خون ہے۔ ملزم کا بیان ہے کہ اسے گرفتار کرنے کے بعد ہندوؤں نے مارا پیٹا اور اس مار پیٹ سے اس کی انگلی اور ران پر زخم آئے۔
قائداعظمؒ نے ایک اہم بات یہ کہی کہ سیشن جج نے مسلم اسیسروں کی رائے کے سلسلے میں خواہ مخواہ ہندو مسلم سوال پیدا کیا۔ اس مقدمے میں چار اسیسر تھے۔ دو مسلمان اور دو غیر مسلم۔ مسلمان اسیسروں نے ملزم کو بے گناہ بتلایا، غیر مسلم اسیسروں نے جرم کا اثبات کیا۔ سیشن جج نے لکھا ہے کہ مسلم اسیسروں کے فیصلے بالکل ایماندارانہ ہوں، ان کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ وجہ بتلا دیں کہ فلاں فیصلے پر یقین نہیں کیا جاسکتا، اس لیے ہو سکتا ہے کہ ان کے دل میں فرقہ وار تعصب موجود ہو۔ قائداعظمؒ نے اس پر بحث کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان اسیسروں کے متعلق یہ کیوں کہا گیا، دوسرے اسیسروں کے متعلق کیوں نہیں کہا گیا۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ جج نے مسلمان اسیسروں کے متعلق تعصب کا اظہار کیا۔ ملزم کے حق میں جو شہادت تھی، سیشن نے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور اس کے خلاف جو شہادت تھی، اسے درست سمجھا۔ اس پر جسٹس براڈوے نے کہا کہ جج کو اختیار ہے کہ وہ جس شہادت کو چاہے قبول کرے جس کو چاہے مسترد کرے۔ قائداعظمؒ نے جواب دیا کہ یہ صحیح ہے مگر قبول و عدم قبول کے لیے دلیل بھی ہونی چاہیے۔
علم دین کو بے گناہ ثابت کرنے کے بعد قائداعظمؒ نے مقدمہ کے دوسرے پہلو پر نظر ڈالی اور کہا کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ملزم واقعی قاتل ہے تو بھی اس کی سزا پھانسی نہیں بلکہ عمر قید ہونی چاہیے۔ اس کے لیے قائداعظمؒ نے مندرجہ ذیل دلائل پیش کیے۔
- 1- ملزم کی عمر اٹھارہ انیس سال کی ہے۔
- 2- راج پال نے ایسی کتاب چھاپی جسے عدالت عالیہ نے بھی نفاق انگیز اور شر انگیز قرار
دیا۔ ملزم نے اسے پڑھا اور بھڑک اٹھا۔
- 3- ملزم نے کسی لغو اور ذلیل خواہش سے یہ ارتکاب نہیں کیا بلکہ ایک کتاب سے غیرت
کھا کر ایسا کیا۔
قائداعظمؒ محمد علی جناح نے عدالت عالیہ کے سامنے مندرجہ ذیل تقریر کی جس میں عدالت عالیہ سے درخواست کی کہ وہ ملزم کو اس الزام سے بری کر دے۔ قائداعظمؒ نے فرمایا: ”سب سے پہلے میں اس پولیس افسر کی شہادت کی طرف عدالت عالیہ کی توجہ مبذول کراتا ہوں جس نے بیان کیا کہ ہم ملزم سے یہ اطلاع پاتے ہی کہ میں نے آتما رام کباڑی سے یہ چھری
خریدی ہے، فوراً اس کی دکان پر پہنچے۔ پولیس نے بذات خود کوئی تفتیش نہیں کی اور صرف ملزم کے بیان پر اکتفا کیا لیکن دفعہ 27 قانون شہادت کی رو سے ملزم کا بیان بطور شہادت پیش نہیں ہوسکتا۔ میں چاہتا ہوں کہ جج صاحبان اس کا فیصلہ صادر کریں۔ مسٹر جسٹس براڈوے نے کہا کہ شہادت کے قابلِ قبول یا نا قابل قبول ہونے کے سوال کا فیصلہ کرنا عدالتِ ماتحت کا کام ہے۔
قائداعظمؒ نے کہا: کہ آپ اس نقطہ پر اب نہیں تو آخر میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔
سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے قائداعظمؒ نے کہا کہ ”اب غور طلب امر یہ ہے کہ ملزم کو اس مقدمہ میں ماخوذ کرنے کی کافی وجوہ موجود ہیں یا نہیں۔ 6؍اپریل کو راج پال قتل کیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ جس نے راج پال کو قتل کیا، وہ کون تھا۔ استغاثہ کی شہادتوں میں دو عینی گواہوں کے بیانات ہیں۔ یہ دونوں گواہ کدار ناتھ اور بھگت رام ہیں۔ ان عینی گواہوں کے قابل اعتماد ہونے کو پرکھنے کے لیے میں فاضل ججوں کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ یہ دونوں گواہ راج پال کے ملازم تھے۔ ان شہادتوں کے پرکھنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ ان کے بیانات کے اختلافات کو دیکھا جائے۔“
قائداعظمؒ نے کدار ناتھ گواہ کا بیان پڑھ کر سنایا اور کہا سخت تعجب کی بات ہے کہ اس بیان میں گواہ بھگت رام کا کہیں نام تک نہیں آیا حالانکہ وہ اس وقت دکان پر موجود تھا۔ برخلاف اس کے گواہ بھگت رام کا کہنا ہے کہ اس نے ملزم کا تعاقب کیا اور کدار ناتھ کے ساتھ مل کر ملزم پر کتابیں پھینکیں۔ جرح کے موقع پر بھی کدار ناتھ نے بھگت رام کا نام نہیں لیا حالانکہ ایک عینی شاہد کی حیثیت سے کدار ناتھ کو بھگت رام کا نام سب سے پہلے لینا چاہیے تھا۔ یہ ایک نہایت ہی اہم نکتہ ہے اور عینی شہادت کا جزوِ اعظم ہے۔
کدار ناتھ نے ارتکاب جرم کا جس قدر وقت بتلایا ہے، طبی شہادت اس کی تردید کرتی ہے۔ طبی شہادت سے ظاہر ہوتا ہے کہ گواہ کے بیان کردہ وقت سے دو چند وقت صرف ہوا۔
قائداعظمؒ نے فرمایا کہ گواہ کا بیان ہے کہ جب ملزم پکڑا گیا تو اس نے کہا میں نے کوئی چوری نہیں کی، ڈاکہ نہیں مارا، میں نے صرف اپنے پیغمبر ﷺ کا بدلہ لیا ہے۔ ایک لمحہ کے لیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ملزم بھاگتا جاتا تھا اور اس کا تعاقب بھی کیا گیا لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص گرفتار ہوتے ہی فوراً اس طرح اقبال جرم کر لے۔ یہ شہادت بھی پیش کی گئی ہے کہ وہ متواتر اقبال جرم کرتا رہا۔ پولیس کا ایسے موقع پر فرض تھا کہ وہ مجسٹریٹ کے روبرو ملزم کے
بیانات قلم بند کراتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ہر ایک تجربہ کار پولیس افسر کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔ لوگوں کا بیان ہے کہ ملزم نے راج پال کی دکان پر آ کر بھی اقبال جرم کیا۔ ایسا غیر ممکن ہے۔ وہاں پولیس موجود تھی۔ یہ سب کہانی اس قدر غیر قدرتی ہے کہ اس پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔
قائداعظمؒ نے کہا کہ یہ سب کہانی غلط ہے۔ گواہ نے نہ صرف بھگت رام کا نام ہی ترک کر دیا ہے بلکہ وزیر چند کا نام بھی چھوڑ دیا حالانکہ وزیر چند نے ملزم کا تعاقب کیا تھا۔ جرح پر گواہ نے کہا کہ میں وزیر چند کے نام کے کسی شخص کو نہیں جانتا۔ میں اس شہادت پر صرف یہی کہوں گا کہ اگر گواہ سچ بولتا تو وہ بھگت رام کا نام ضرور لیتا۔ اس کے علاوہ وہ پولیس کے سامنے بھی وہ الفاظ بتاتا جو اس نے بعد میں ملزم کی طرف منسوب کیے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، اس لیے یہ کہانی فرضی ہے۔
دیوان وزیر چند کی شہادت پڑھ کر سناتے ہوئے قائداعظمؒ نے کہا کہ آیا فاضل جج صاحبان اس بات پر یقین کر سکتے ہیں کہ کدار ناتھ، وزیر چند کو نہیں جانتا تھا۔ اگر اسے نام نہیں آتا تو وہ کہہ سکتا تھا کہ کوئی آدمی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد گواہ بھگت سنگھ بھی ایسی کہانی سناتا ہے۔ اس کا بیان ہے کہ ملزم کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا۔ ہر ایک گواہ ان الفاظ کے متعلق جو ملزم نے کہے، مختلف بیانات دیتا ہے۔ چنانچہ بھگت سنگھ نے کہا کہ ملزم نے کہا تھا کہ ”ہتھکڑیاں سونے کے کڑے ہیں“ نانک چند گواہ کا بیان ہے کہ ملزم نے کہا تھا کہ ”راج پال میرا دشمن نہیں بلکہ رسول اکرم کا دشمن ہے“ گواہ سچا نند نے کم و بیش وہی الفاظ کہے جو نانک چند نے کہے۔ لیکن گواہ ودیارتن جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس نے ملزم کو گرفتار کیا، بالکل مختلف الفاظ بیان کرتا ہے۔ گواہ نے پہلے کہہ دیا ہے کہ وہ ملزم کے صحیح الفاظ بیان نہیں کر سکتا مگر اس کا ملخص بتا سکتا ہوں۔
میں صاف کہہ دینا چاہتا ہوں کہ آتما رام کباڑی ایک سکھایا ہوا گواہ ہے۔ اسے اسی روز معلوم ہو گیا تھا کہ راج پال مارا گیا ہے۔ پھر شناخت کی پریڈ ہوئی جس میں تین مرتبہ گھومنے کے بعد اس نے ملزم کو شناخت کیا۔ گو اس گواہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزم کی ناک کے قریب ایک نشان ہے۔ کیا چھری بیچنے والا اس قدر باریک بین ہو سکتا ہے کہ وہ اس بات کا بھی خیال رکھے کہ خریدار کی ناک کے پاس نشان بھی ہے۔ گواہ کا اپنا بیان ہے کہ ملزم کے کان میں دھاگہ پڑا ہوا تھا حالانکہ اس کی بینائی بھی اچھی نہیں۔
اس گواہ کا بیان ہے کہ میں فروخت کی ہوئی چھریوں کو پہچان سکتا ہوں لیکن بعد ازاں
اس نے غلط چھری کو شناخت کیا۔ چھریاں عدالت میں پیش کی گئیں۔ قائد اعظمؒ نے ٹوٹی ہوئی نوک دار چھری کی طرف جج صاحبان کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود ان چھریوں کو دیکھ کر بتلائیں کہ ان میں کیا تمیز ہو سکتی ہے کہ آتما رام بتلانے کے وقت قابل ہو گیا کہ فلاں چھری ہے۔
قائد اعظمؒ نے فرمایا کہ سب انسپکٹر کی شہادت ہے کہ ملزم کی شلوار اور قمیض پر خون کے نشانات تھے۔ ملزم کے دیگر حصوں پر بھی معمولی نشانات تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کو بھی ضربات آئیں۔ ملزم کا بیان ہے کہ میرے ساتھ تشدد کیا گیا تھا۔ استغاثہ نے کہیں بھی یقینی طور پر بیان نہیں کیا کہ ملزم کے کپڑوں پر خون کے جو نشانات تھے وہ اسی قتل کی وجہ سے تھے۔ طبی شہادت ہے کہ یہ نشانات شاید مقتول کے قریب آنے سے لگ گئے۔ یہ امر واضح ہے کہ ملزم مقتول کے نزدیک نہیں آیا۔ اس میں شک نہیں کہ خون کے نشانات کسی انسان کے خون کے ہیں لیکن یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ یہ مقتول کے خون کے نشانات ہیں۔ اگر میری انگلی زخمی ہو جائے تو اس کے اندر سے بھی کافی خون نکل آتا ہے جس سے میرے کپڑوں پر بڑے بڑے نشانات لگ سکتے ہیں۔ اس کے بعد قائد اعظمؒ نے کہا کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ فاضل جج نے فیصلے میں غلطی کی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ دو ہندو اسیسر ملزم کو مجرم بتاتے ہیں لیکن دو مسلمان اسیسر اسے بے قصور ٹھہراتے ہیں۔ اگر اس وقت ہندو مسلم فرقوں میں کشیدگی تھی تو فاضل جج کا فرض تھا کہ وہ اپنی ذاتی رائے سے فیصلہ کرتا۔ اس کا کیا ثبوت ہے کہ ہندو اسیسروں کی رائے فرقہ پرستانہ نہ تھی۔ اس کے علاوہ فاضل جج نے شہادتوں سے بھی غلط نتیجہ مرتب کیا۔
آخر میں قائد اعظمؒ نے کہا کہ ملزم نوجوان ہے۔ راجپال نے بدنام کتاب شائع کر کے مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کیا تھا۔ اس لیے سزائے موت سخت سزا ہے۔ ملزم پر رحم کیا جائے۔ لنچ کے بعد عدالت نے سرکاری وکیل کا جواب سنے بغیر حاضرین کو باہر نکال دیا اور فیصلہ محفوظ رکھا۔ سرکاری وکیل کی جوابی تقریر کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اپیل خارج کر دی گئی۔ چار بجے کے قریب عدالت نے فیصلہ سنایا اور اپیل نامنظور کر دی۔ (5)
یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب عدالت عالیہ نے غازی علم الدین کیس میں سیشن کے فیصلہ کو برقرار رکھا اور غازی علم الدین کی سزائے موت برقرار رکھی تو ہندو اخبارات نے مسٹر محمد علی جناح کے خلاف زبردست زہر اگلنا شروع کر دیا۔ مشہور متعصب ہندو اخبار پرتاپ نے اس مسئلہ پر کئی نوٹ لکھے۔ گپ شپ اور چلنت کے نام سے دو کالم چھپتے تھے۔ ان
میں قائد اعظم کو رگیدا گیا۔ ایک جگہ لکھا کہ: ”مسٹر محمد علی جناح کی قابلیت علم دین کو موت کے منہ سے نہ چھڑا سکی“ (6) ایک جگہ لکھا کہ: ”مسٹر محمد علی جناح کو ایسا مطلقاً کمزور مقدمہ لینا ہی نہیں چاہیے تھا کیوں کہ ہندوؤں کو ان کے خلاف ناواجب شکایات پیدا ہو گئی ہیں۔“
قائد اعظم محمد علی جناح نے جس قابلیت سے مقدمہ کی پیروی کی، اس پر روزنامہ الجمعیۃ دہلی نے اپنی اشاعت مورخہ 20/ جولائی 1929ء کو ”مسٹر جناح کی باطل شکن تقریر“ کے زیر عنوان انھیں مندرجہ ذیل الفاظ میں خراج تحسین ادا کیا ”لاہور ہائی کورٹ سے بھی میاں علم الدین کی اپیل کا فیصلہ صادر ہو گیا اور پھانسی کا جو حکم سیشن عدالت سے ہوا تھا، وہی بحال رہا۔ قائد اعظمؒ کی مدلل اور مؤثر تقریر کو پڑھنے کے بعد اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے دلائل کس قدر وزنی تھے اور انھوں نے ماتحت عدالت کی شہادتوں میں جن نقائص کا ذکر کیا تھا، ان سے مقدمہ کس درجہ کمزور ہو گیا تھا مگر ہائی کورٹ کے ججوں نے خدا معلوم کن وجوہ کی بنا پر ان دلائل کو قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ اس وقت ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود نہیں ہے اس لیے ہم اس پر مفصل تنقید نہیں کریں گے۔ جب تک ہمارے سامنے اصل فیصلہ کے دلائل نہ آ جائیں۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ قائد اعظمؒ کی تقریر کے بعد پھانسی کی سزا کس طرح بحال رہ سکتی تھی۔“ (7)
(الجمعیۃ 20/ جولائی 1929ء ص 4) (8)
حوالہ جات
- 1- ”پیسہ اخبار“ لاہور
- 2- فقیر وحید الدین ”روزگارِ فقیر“ ص 110
- 3- ”پیسہ اخبار“ لاہور 24/ جولائی 1929ء
- 4- روزنامہ ”انقلاب“ 2/ اگست 1929ء
- 5- ایضاً 17/ جولائی 1929ء
- 6- ایضاً 20/ جولائی 1929ء
- 7- ”الجمعیۃ“ 20/ جولائی 1929ء
- 8- ”اقراء“ ص 164-71
۞.......۞.......۞
ضیاء جالوی
غازی امیر احمد شہید...... غازی عبداللہ شہید
(سن شہادت: 1932ء)
ابھی وہ جوان تھا، اس کی آرزوئیں بھی جوان تھیں، اور اُمنگیں بھی جوان تھیں۔ دُنیا کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے کے مواقع بھی اسے میسر تھے اور دنیا اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی بھی تھی، لیکن وہ مردِ مومن تھا اور اس کی غیرتِ ایمانی محبت رسول ﷺ کے مقابلے میں دنیا کی ہر چیز کو پرکاہ سمجھتی تھی۔ وہ اپنے رسول ﷺ کی ایک ایک ادا پر قربان ہونا چاہتا تھا۔ رسول کریم ﷺ کی محبت اس کے دل میں اس طرح رچ بس گئی تھی کہ اب اس سے دست کش ہونا اس کے بس سے بھی باہر تھا۔ وہ اس محبت کو بڑی فراخ دلی کے ساتھ اپنے دل میں بسائے ہوئے تھا۔ اس نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس محبت کی پرورش کرتے رہنے کا تہیہ کر لیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنی زندگی کی ساری پونجی اسی محبت کی نذر کر دے۔
اس نے کسی دارالعلوم سے دستار فضیلت حاصل نہیں کی تھی۔ کسی شیخ الحدیث کی بارگاہِ علم و فضل میں زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا بھی کوئی موقع اسے میسر نہیں آیا تھا۔ کسی بحرالعلوم سے اس کا کوئی رشتہ بھی نہیں تھا کہ کم از کم اسی نسبت پر وہ فخر کر سکتا۔ اس کی پیشانی پر سجدوں کا کوئی ٹریڈ مارک بھی نہیں تھا۔ کم از کم یہی ہوتا کہ اس کے کرتہ کا دامن اس کے ٹخنوں کی بلائیں لیتا ہوتا، تو اتفاق سے یہ بات بھی نہیں تھی۔ اس کا نامۂ اعمال بیوہ کی مانگ کی طرح صاف اور سپاٹ تھا، افشاں سے بھی محروم، سیندور سے بھی بے نیاز۔ اس کی عملی زندگی مفلس کی جیب کی طرح خالی تھی، نہ کھنکتے ہوئے سکے تھے، نہ بجتی ہوئی ریزگاریاں۔ اس کی علمی وجاہت لاوارث میت کی طرح بے گور و کفن تھی، اور اس کا خاندانی وقار ایک دھوپ تھی جو سورج کے ساتھ رخصت ہو چکی تھی۔ لیکن اس کے پاس ایک ڈگری تھی، وہ یہ کہ وہ مسلمان تھا اور اس کی تحویل میں محبت رسول ﷺ کی ایک دولت تھی، جس کو بڑی احتیاط سے اس نے اپنے نہاں خانۂ دل میں چھپا رکھا تھا۔ اس محبت کو وہ ہر
قسم کے دنیوی صلاح و فلاح کا ضامن سمجھتا تھا، اور اسی کو اُخروی نجات کا ذریعہ۔
امیر احمد کے دل میں ایمان کی جو چنگاری دبی ہوئی تھی، وہ وقت کے ساتھ ساتھ شعلۂ جوالہ بنتی گئی۔ امیر احمد اپنے خون جگر سے اس شجر محبت کو سینچتا رہا۔ قلب کے انتہائی خلوص اور دل کی شدید سچائی کے ساتھ اس کی امیدوں کا مرکز تنہا ایک ذاتِ رسالت مآب ﷺ تھی۔ وہ اپنے دل میں اسی ذات شریف کے لیے والہانہ جذبہ رکھتا تھا۔ اس کی جبین نیاز میں ہزاروں سجدے اسی ایک چوکھٹ کے لیے تڑپا کرتے تھے۔ اس کی آنکھیں اسی کے صحیفۂ رُخ کا نظارۂ جمال کرنا چاہتی تھیں۔ اس کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ کسی طرح وہ شمع نبوت پر پروانہ وار قربان ہو جائے۔ کسی طرح اس کا نام بھی اس محبوب دلنواز کے عاشقوں کی فہرست میں مندرج ہو جائے۔ کسی طرح وہ بھی ان کی ایک نگاہ لطف کا استحقاق حاصل کر سکے......
زمانے نے ایک کروٹ اور لی۔ وقت کا فاصلہ ایک قدم اور آگے چلا، اور اب امیر احمد زندگی کی اکیسویں منزل میں قدم رکھ رہا تھا۔ یہ عمر امنگوں کی بیداری کی ہوتی ہے۔ اس عمر میں تمنائیں جاگ اٹھتی ہیں اور ولولوں کو شہپر پرواز مل جاتا ہے۔ امیر احمد کو بھی امیدوں نے سبز باغ دکھائے، آرزوئیں جھولے جھلانے لگیں۔ دنیا ایک حسین پیکر میں اس کے سامنے بھی آئی۔ اور کچھ دنیا کی دلفریبیوں نے اسے اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ کچھ گھریلو ضرورتوں نے اسے دنیا حاصل کرنے کی ترغیب دی۔
وہ سوچنے لگا، اسے بھی حق پہنچتا ہے کہ اپنی جوان صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دنیا سے بقدر حوصلہ و ظرف فیضیاب ہو۔ داعیاتِ نفس اور تقاضائے شباب کا پورا کرنا بھی لازمۂ حیات ہے۔ اس کی بوڑھی ماں جو اس امید پر اس کے جوان ہونے کی راہ دیکھ رہی ہے کہ وہ اس کے بڑھاپے میں عصائے پیری ہوگا۔ اس کی خدمت کا وقت آخر کب آئے گا؟ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے یتیم بھائی بہنوں کی تربیت سے کب تک پہلو تہی کرے گا؟ آخر وہ وقت کب آئے گا جب وہ اپنی جوان بہنوں کے ہاتھ پیلے کرے گا؟...... لیکن ابھی وہ کچھ سوچ بھی نہ پایا تھا کہ کس طرح اپنے فرائض سے سبکدوش ہو؟ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کون سا قدم اٹھائے؟ اور اپنی زندگی کو خوشحال اور بامراد بنانے کے لیے کون سی صورت اختیار کرے؟ کہ اچانک ایک عجیب تصویر اس کی آنکھوں سے گزری، ایک غیر متوقع منظر اس کی آنکھوں نے دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ جس پیکر نور کو وہ مصور فطرت کا سب سے حسین شاہکار
سمجھتا تھا، کاغذ کے ایک ٹکڑے پر مرتسم ہے۔ گویا سمندر کوزے میں بند ہو گیا ہے اور بشریت کاغذ پر اتر آئی ہے۔ اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی تھی کہ جس جسم لطیف کا سایہ تک نہ تھا، اس کی تصویر کاغذ پر کیسے اتر سکتی ہے؟ پھر اس نے وہ سطریں پڑھیں جو بطور تعارف قلمبند ہوئی تھیں۔ وہ الفاظ پڑھے جو بطور القاب استعمال کیے گئے تھے۔ اور وہ دلخراش فقرہ پڑھا جس کو زیب عنوان بنایا گیا تھا، اور جس سے صاحب تصویر کی جلالت اسمی کا پتہ چلتا تھا۔ اور اب اس کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ کسی گستاخ نے اس کے محبوب ﷺ کا کارٹون بنایا ہے۔
وہ محبوب ﷺ جو کائنات کی عظیم وجلیل شخصیت ہے، جو دنیا کا نجات دہندہ بھی ہے اور فرمانروائے گیتی بھی...... جس نے انسانیت کی سب سے زیادہ خدمت کی اور جو دنیا والوں کو جینے کا سب سے اچھا سلیقہ سکھا گیا، اسی کی شان میں گستاخی کی گئی تھی، اسی کا مذاق اڑایا گیا تھا۔
امیر احمد غم سے نڈھال ہو گیا۔ وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہا تھا۔ آج اس کے دل پر ایک چوٹ لگی تھی۔ اس کے قلب کو ایک صدمہ پہنچا تھا۔ اس کے دل کا سکون چھن گیا، اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ سلب ہو گئی۔ کتاب اس کے سامنے ہی تھی۔ اس پر چھپی ہوئی تصویر اسے برابر دیکھے جا رہی تھی۔ وہ شدت درد سے چیخ اٹھا۔ گھاؤ گہرا تھا، اس لیے اس کی تکلیف بھی ناقابل برداشت تھی۔ اس کی روح زخم کی اس ناقابل برداشت اذیت سے بلبلا اٹھی۔ اس کے ہاتھ سے پیمانہ صبر چھوٹ گیا۔ اس کی ہمت جواب دے گئی۔ غم غلط کرنے کی کوئی صورت اسے نظر نہیں آ رہی تھی۔ سکون کی تلاش میں وہ اِدھر اُدھر بھٹکتا پھرا لیکن نہ خلوت کدہ اسے سکون بخش سکا، نہ جلوت میں اسے سکون میسر آیا۔ وہ پگڈنڈیوں پر بھی چلا، شاہراہوں پر بھی دوڑا۔ سکون وہاں بھی نہ تھا۔ وہ احباب کی بزم طرب میں بھی شامل ہوا اور اپنے شہر کی تفریح گاہوں کی بھی اس نے سیر کی۔ سکون کی تلاش وہاں بے سود تھی۔ اس کی جراحت دل کا اندمال وہاں بھی نہ تھا۔ وہاں بھی اس کا غم غلط نہ ہو سکا اور اب اس نے طے کر لیا کہ وہ جلد سے جلد کلکتہ پہنچے گا جہاں سے وہ رسوائے زمانہ کتاب شائع ہوئی تھی۔ جہاں سکون اس کا انتظار کر رہا ہے، جہاں اسے ابدی راحت میسر آئے گی، اور اس کا زخم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مندمل ہو جائے گا۔
تانگہ ہوا سے باتیں کرتا ہوا اسٹیشن کو جا رہا تھا۔ پشاور کی گلیاں آج ہمیشہ کے لیے چھوٹ رہی تھیں، لیکن امیر احمد کو اس کا غم نہیں تھا۔ اس کی جبین ہمت پر شکن بھی نہ تھی۔ اس کے پائے استقامت میں تزلزل بھی نہ تھا۔ وہ لڑکھڑایا بھی نہیں، ڈگمگایا بھی نہیں۔ وہ آگے ہی بڑھتا
گیا جیسے ندی دریا کی سمت دوڑتی ہے، جیسے چکور چاند کی طرف بھاگتا ہے۔
اس کا دوست عبداللہ اس کے ساتھ ہی تانگے پر سوار تھا۔ امیر احمد اس سے کہہ رہا تھا ”میں نے زندگی کی آخری سانس تک تم سے دوستی نبھانے کی قسم کھائی تھی، میں نے تمام عمر رفاقت کا وعدہ کیا تھا، اور میں نے زندگی کے ہر موڑ پر تمہارا ساتھ دیا بھی۔ میں نے تم سے بے پناہ محبت کی اور میرا سارا پیار تمہارے لیے وقف رہا۔ لیکن آج میں پہلی بار تمہارا ساتھ چھوڑ رہا ہوں۔ میں نے طے کر لیا ہے کہ اپنے آقا ﷺ پر صدقے ہو جاؤں، ان کی عزت و حرمت پر کٹ مروں اور ان کی بارگاہ ناز میں نقد جان بھی نذر کر دوں۔ کلکتہ میں اسی مقصد سے جا رہا ہوں۔ شوق شہادت ہی مجھے وہاں لے جا رہا ہے۔ میرے بعد تم میری بوڑھی ماں کا خیال رکھنا۔ اور اگر ہو سکے تو میرے یتیم بھائیوں اور بے سہارا بہنوں کی خبرگیری کرنا۔ یہ میری آخری گزارش ہے۔“
سلسلۂ کلام جاری تھا اور عبداللہ کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ جب امیر احمد اپنی گفتگو تمام کر چکا تو عبداللہ نے کہا:
”اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ میں تمہیں سٹیشن تک چھوڑنے جا رہا ہوں تو یہ تمہاری بھول ہے۔ میں زندگی کی آخری منزل تک تمہارے ساتھ ہوں۔ کلکتہ تم تنہا ہی نہیں جا رہے ہو، تمہارا عبداللہ بھی تمہارا رفیق سفر ہے۔ اپنے آقا ﷺ پر قربان ہو جانے کی تمنا اکیلے تمہارے ہی دل میں نہیں مچل رہی، اس میں، میں بھی تمہارا شریک کار ہوں۔ شہادت کی تڑپ میرے دل میں بھی ہے۔ میں بھی اپنے آقا پر قربان ہونے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ شمع پر جان دینا پروانوں کا پیدائشی حق ہے اور اس حق سے کوئی بھی انھیں محروم نہیں کر سکتا۔ تمہارے آقا صرف تمہارے آقا نہیں ہیں، وہ ہم سب کے آقا ہیں۔ ان کے بار احسانات سے تنہا تمہاری ہی گردن خم نہیں ہے، ہم سب ان کے منت کش کرم ہیں۔ ان کا جمال دلفروز ہماری آنکھوں کو بھی فروغ بخش رہا ہے اور ان کی تجلیوں سے ہمارا خانۂ دل بھی معمور ہے۔ میدان حشر کی تیز دھوپ میں ان کے سایۂ رحمت کی تلاش تنہا تمہی کو نہیں کرنی ہے۔ قبر کی منزل اور پل صراط کے سفر میں ان کے سہارے کی ہمیں بھی ضرورت ہے۔ ان کے دامن رحمت میں ہمیں بھی پناہ لینی ہے اور انھی کی کرم فرمائیوں پر ہماری نجات بھی منحصر ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جو سعادت تم تنہا حاصل کرنا چاہ رہے ہو، میں اس سے محروم ہو جاؤں؟ میں تمہارے ساتھ ہی کلکتہ چل رہا ہوں۔ ہم دونوں ایک ساتھ جام
شہادت نوش کریں گے۔ زندگی میں بھی ہمارا تمہارا ساتھ رہا ہے، مرنے کے بعد بھی ہم تمہارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا تمہارا انجام بھی ایک ہو۔ قبر سے ہم دونوں ایک ساتھ ہی اٹھیں۔ ساتھ ہی جنت کو چلیں اور ہم دونوں کے آقا ہم دونوں کی قربانیاں قبول فرمالیں اور ایک ہی ساتھ ہم دونوں کو اپنے دامنِ رحمت میں پناہ دے دیں۔‘‘
ابھی عبداللہ کی بات پوری نہیں ہو پائی تھی کہ امیر احمد نے اسے ٹوک دیا۔ ’’تم بھی چلے جاؤ گے تو ہم دونوں کی بوڑھی ماؤں کا کیا ہوگا؟ کس کو ہماری بہنوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر ہوگی؟ کون ہمارے بھائیوں کی دستگیری کرے گا؟‘‘
عبداللہ ایک مرتبہ پھر گرجا۔ ’’تمہاری عقل ماری گئی ہے۔ تم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ کارسازِ مطلق کوئی اور ہے۔ بھلا سوچو تو، جو خدا رحمِ مادر میں جنین کی پرورش کرتا ہے، وہ جوانوں کی تربیت سے کیسے غافل ہو جائے گا! پھر جان دینے والوں کو یہ سوچنے کی کیا ضرورت ہے کہ ان کے بعد دنیا کا کیا حال ہوگا؟ حضرت امام حسینؓ جس وقت میدانِ کرب و بلا میں جان دے رہے تھے، انھوں نے کہاں سوچا تھا کہ ان کے بعد ان کی سکینہ کس طرح رہے گی۔ بیمار زین العابدین کیسے اپنی زندگی کے ایام بسر کریں گے! شہر بانو پر کیا گزرے گی! گلشنِ بتول کے نونہالوں اور باغِ زہرا کی کلیوں کا کیا بنے گا! جان دینے والے تو بس جان دینا جانتے ہیں۔ ان کو اس سے کیا غرض کہ وہ اپنے پیچھے کتنے متعلقین چھوڑ رہے ہیں؟‘‘
پشاور کا سٹیشن آ گیا تھا، اس لیے گفتگو کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور دونوں دوست پلیٹ فارم پر کھڑی ہوئی گاڑی کی طرف چل پڑے۔
کلکتہ ایک عظیم شہر ہے، جہاں دن رات دھن برستا ہے، جہاں روزانہ لڈو پھوٹتے ہیں۔ جہاں ہر وقت چاندی لُٹتی ہے۔ کلکتہ دیکھنے کی آرزو ایک مدت سے ان دونوں کو تھی لیکن اب تک اس کا موقع انھیں نہیں ملا تھا۔ آج ان کی ٹیکسی کلکتہ کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی۔ کلکتہ میں ان کے لیے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کے دل میں تو کچھ اور ہی لگن تھی۔ یہ سٹیشن سے سیدھے لورچیت پور روڈ آئے اور موسیٰ سیٹھ کے مسافر خانہ میں قیام پذیر ہوئے۔ انھوں نے یہاں اپنا سامان اتارا اور ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس محلہ کی طرف چلے، جہاں سکون ان کا انتظار کر رہا تھا، اور طمانیت قلب ان کے لیے چشم براہ تھی۔ یہاں انھوں نے اس کتاب کے ناشر سے ملاقات کی جس نے ان کا سکون غارت کیا تھا اور وفا کیشوں کے جذبۂ محبت کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ اس کتاب
کا ناشر ہی اس کا مصنف بھی تھا اور اسی کے زیر اہتمام اس کی طباعت بھی عمل میں آئی تھی۔ انھوں نے کہا: ”اپنی کتاب سے فلاں حصہ نکال دو اس سے ہم مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور ایک معذرت نامہ بھی شائع کرو تا کہ جن لوگوں کی تم نے دل آزاری کی ہے، ان کی کچھ تسکین ہو جائے۔“ کتاب کے ناشر نے کہا: ”کتاب میں ایک تصویر شائع ہو گئی تو کون سی قیامت آ گئی۔ تمہارے رسول کے خلاف ایک آدھ جملہ لکھ دیا تو کیا ہو گیا۔ تم کہتے ہو کہ میں نے غلطی کی ہے، لیکن میں غلطی ماننے کے لیے تیار ہی نہیں۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے، ٹھیک ہی لکھا ہے۔ اگر میری تحریر سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہے تو ہوا کرے۔ میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا کہ معافی نامہ شائع کروں۔ اگر میری غلطی تسلیم بھی کی گئی تو اس کی سزا اتنی سنگین نہیں۔ میں اپنی غلطی کا ڈھنڈورہ نہیں پیٹ سکتا۔ تم جاسکتے ہو۔ تم میری دکان سے نکل جاؤ، میرا دماغ مت چاٹو۔“
امیر احمد کی آنکھیں شعلے اگلنے لگیں، اس کا چہرہ گلنار ہو گیا۔ اس کی رگیں تن گئیں اور وہ بے قابو ہو گیا۔ غلطی اور اس پر اصرار؟ گستاخی اور وہ بھی آقا ﷺ کی شان میں۔ اس نے ایک ہی جست کی۔ عبداللہ بھی اپنی جگہ سے اچھلا۔ دونوں اس نامراد پر ٹوٹ پڑے۔ پھر ایک بجلی تھی جو چمک گئی، ایک خنجر تھا جو کلیجہ میں اتر گیا اور اب یہ دونوں سڑک پر کھڑی ہوئی ٹریفک پولیس سے کہہ رہے تھے ”میں نے خون کیا ہے، میں قاتل ہوں۔ مجھے گرفتار کر لو۔“ پولیس مارے خوف و دہشت کے بھاگ کھڑی ہوئی۔ اب انھوں نے قریب کے تھانے کو فون سے اطلاع دی۔ ”میں فلاں مقام پر ٹھہرا ہوا ہوں، میں نے خون کیا ہے۔ تم یہاں آ جاؤ تا کہ میں خود کو قانون کے حوالے کر سکوں۔“ پھر دونوں گرفتار ہو گئے۔
عدالت میں آج ان دونوں کی پہلی پیشی تھی۔ آج ان کا مقدمہ کھلا تھا۔ ماہر قانون وکیلوں نے انھیں قانون کی زد سے بچا لینے کے لیے اپنی خدمات مفت پیش کیں۔ رؤسائے شہر نے ان کے مقدمہ کی پیروی کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ بچوں نے کئی دنوں سے مٹھائی اور چاکلیٹ کے سارے پیسے بچا بچا کر آج ہی کے لیے رکھ چھوڑے تھے۔ خواتین نے اپنے اپنے کانوں کی بالیاں آج ہی کے لیے اتار رکھی تھیں۔ سارا نگر یہ چاہتا تھا کہ یہ دونوں عدالت کی نگاہ میں مجرم نہ ثابت ہوں۔ کسی طرح یہ قانون کی زد سے بچ جائیں۔ خود حاکم کو بھی ان دونوں کی معصومیت پر ترس آ رہا تھا۔ وہ بھی یہی چاہتا تھا کہ یہ خلاصی پا جائیں۔ لیکن دشواری یہ تھی کہ خود یہ دونوں ایسا نہیں چاہتے تھے۔ شہادت کا شوق ان کے سروں میں سمایا ہوا تھا اور یہ جلد از جلد پھانسی کے
تختے کی طرف بڑھنا چاہتے تھے۔ آقا پر قربان ہو جانے کی تڑپ انھیں بے چین کیے دے رہی تھی۔ ان سے کہا گیا کہ کم از کم اپنی زبان سے اقبالِ جرم نہ کریں۔ صرف ایک بار کہہ دیں کہ انھوں نے خون نہیں کیا۔ لیکن دونوں یہی کہتے رہے ۔ ”میں نے خون کیا ہے، میں ہی قاتل ہوں ، میں نے ہی اس گستاخ کو اس کی گستاخی کی سزا دی ہے۔“
آخر فیصلہ کا دن آ ہی گیا۔ قانون کی نگاہ میں دونوں مجرم ثابت ہوئے اور دونوں ہی کے لیے پھانسی کی سزا تجویز کی گئی۔
آج شہر کی ساری آبادی علی پور جیل کے گرد سمٹ آئی تھی۔ ہر کوئی اشکبار آنکھوں سے ان دونوں کے چہروں کا جائزہ لے رہا تھا۔ وہ چہرے جن پر تقدس برس رہا تھا، معصومیت قربان ہو رہی تھی۔ تقدس برستا رہا۔ معصومیت ٹوٹتی رہی اور لوگ ان کا آخری دیدار کرتے رہے۔ سارے لوگوں کی نگاہیں ان کی طرف تھیں ، لیکن یہ دونوں کسی اور طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کی نگاہیں بار بار ایک طرف اٹھ اٹھ جاتی تھیں۔ دفعتاً ان کے چہروں پر اضطراب کی ایک کیفیت نمودار ہوئی اور ان کا چہرہ اتر گیا۔
ان دونوں کا آخری دیدار کرنے کے لیے ان دونوں کی مائیں بھی پشاور سے آ گئی تھیں ، اور اس وقت یہ دونوں بھی دیکھنے والوں کی صف میں کھڑی تھیں۔ جب انھوں نے ان دونوں کی اس حالت کا اندازہ کیا، برس پڑیں:
”دم آخر چہروں پر حزن و ملال کے آثار کیوں؟ زندگی جب اتنی ہی پیاری تھی تو موت کو دعوت کیوں دی تھی؟ کیا اللہ والوں کا یہی وطیرہ ہے؟ شیدائیان رسول ﷺ کا ایسا ہی کردار ہوتا ہے؟ سرفروش اسی طرح جان دیتے ہیں؟ خبردار! جو چہرے پر غم کی کیفیت پیدا ہونے دی۔ یاد رکھو! اگر تم نے ہنستے ہوئے جان نہیں دی، گر دار و رسن کا پُر تپاک خیر مقدم نہیں کیا، اگر مسکراتے ہوئے جامِ شہادت نوش نہیں کر سکے تو ہم تمہارا دودھ کبھی نہیں بخشیں گی۔ تم کو خوش ہونا چاہیے کہ آج تم اس سعادت سے بہرہ ور ہو رہے ہو، جو ہر کسی کا مقسوم نہیں۔
امیر احمد اور عبداللہ ایک ساتھ بول اٹھے: چہروں پر جو اضطراب کی لکیر آپ کو نظر آ رہی ہے ، وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ ہم لوگ جان سے جا رہے ہیں۔ ہمارے چہروں پر غم کی گھٹا اس لیے نہیں چھائی کہ ہم تختۂ دار پر چڑھنے ہی والے ہیں۔ ہماری پریشانیوں کی اصل وجہ
یہ ہے کہ جام شہادت پیش کرنے میں لوگ دیر کیوں کر رہے ہیں؟ ہماری نگاہیں اس وقت جو کچھ دیکھ رہی ہیں، اگر آپ دیکھ لیجئے تو آپ بھی ہماری جگہ آنے کی کوشش کیجئے۔ آپ کے اطمینان کے لیے ہم اتنا کہہ دینا کافی سمجھتے ہیں کہ ہمیں ہماری منزل مل گئی ہے۔ ہمارے آقاﷺ کالی کملی اوڑھے ہمارے سامنے کھڑے اپنے ہاتھوں کے اشارے سے اپنے پاس بلا رہے ہیں۔ لیکن ہمارے اور ان کے درمیان شرط یہ ٹھہری ہے کہ ہم جامِ شہادت نوش کرنے کے بعد ہی ان تک پہنچ سکیں گے۔
پھانسی کا پھندا آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہا تھا اور وہ ہنستے ہوئے جان دے رہے تھے۔ انھوں نے جان دے ڈالی، وہ دونوں شہید ہو گئے۔ رحمت کی گھٹائیں ان پر برس پڑیں اور وہ ان میں سر سے پاؤں تک ڈوب گئے۔ جنت کے جانے والے! جنت کا سفر مبارک ہو۔ اس کی سرمدی راحتیں مبارک ہوں۔ ابدی نعمتیں مبارک ہوں۔
ان شہیدانِ محبت کی آخری آرام گاہ کلکتہ کے گورا قبرستان میں ساتھ ساتھ ہیں جہاں سے آج بھی نامرادوں کو مرادیں ملتی ہیں اور محرومِ مسرت شادمانیوں سے ہمکنار کیے جاتے ہیں۔
محمد ثاقب رضا قادری
غازی امیر احمد شہید ...... غازی عبداللہ شہید
1931ء میں کلکتہ کے ایک بدطینت ہندو بھولا ناتھ سین نے ایک کتاب ”پراچین کہانی“ بنگالی زبان میں تحریر کی جس میں رسول اکرم، نور مجسم، شاہ بنی آدم، رسول محتشم ﷺ کے متعلق گستاخانہ عبارتیں شامل تھیں نیز ایک جعلی اور گستاخی پر مبنی تصویر کی نسبت بھی آپ کی طرف کی گئی تھی۔ اس کتاب کی اشاعت سے ملک بھر کے مسلمانوں میں بے چینی اور بے قراری کی فضا پیدا ہو گئی اور جگہ جگہ مذمتی جلسے اور کتاب کی ضبطی کے مطالبے ہونے لگے۔ اسلامی رسائل و اخبارات نے بھی اس ضمن میں متعدد مضامین شائع کیے۔ اسی حوالہ سے ایک مذمتی جلسہ بہ تاریخ 23 فروری 1931ء کو اہل سنت کی قدیم علمی درس گاہ انجمن حزب الاحناف (لاہور) کی جانب سے گڑھی شاہو (لاہور) میں صوفی غلام نبی (ہیڈ ماسٹر اسلامیہ اسکول، کوہ منصوری) کی زیر سر پرستی منعقد ہوا۔ اس جلسہ میں مولانا غلام محمد مکی نے آقائے دو جہان رحمت عالمیان سرور ذیشان ﷺ کی شان کے متعلق ایک طویل تقریر فرمائی ، سامعین پر اثر انگیزی کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف آنسوؤں کی جھڑی لگی تھی۔ جلسہ کے اختتام پر جناب معراج دین (ساکن گڑھی شاہو، لاہور) نے درج ذیل قراردادیں پیش کیں جو کہ باتفاق رائے منظور ہوئیں:
- 1- ہم جمیع مسلمانان گڑھی شاہو، لاہور۔ بھولا ناتھ کی اس کمینہ اور ناشائستہ حرکت پر جو
کہ وہ ’پراچین کہانی‘ میں عمل میں لایا ہے، نفرت اور حقارت کا اظہار کرتے ہیں۔
- 2- اور گورنمنٹ بنگال کے گوش گزار کرتے ہیں کہ اس کی تصنیف کی فوراً ضبطی کی جائے۔
- 3- نیز اس کو کمینہ حرکت کی پوری پوری سزا دی جائے۔
لیکن مسلمانوں کے بھر پور احتجاج کا انگریز سرکار پر کوئی اثر نہ ہوا بل کہ ہندو اکثریتی علاقوں میں اس کتاب کو اسکول کے نصاب میں شامل کر لیا گیا۔ بالآخر مسلمانوں کی غیرت ایمانی کا ظہور بھولا ناتھ سین مصنف ’پراچین کہانی‘ اور اس کے ملازموں کے قتل کی صورت میں
ہوا۔ لاہور کے دو غیور مسلمانوں نے بے سروسامانی کے عالم میں ہندوستان کے دُور اُفتادہ شہر کلکتہ کا سفر کیا اور موقع پا کر شاتم رسول پر حملہ کر کے واصل جہنم کر دیا۔
بھولا ناتھ سین اور اس کے ملازمین کے قتل کے سلسلہ میں لاہور کے دو نوجوان غازی امیر احمد شہید اور غازی عبداللہ خان شہید رحمہما اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب کہ ان دو ساتھیوں کے ساتھ اس قتل کی منصوبہ بندی میں ایک تیسری شخصیت صوفی محمد نذیر غوری سہروردی علیہ الرحمۃ بھی شامل تھی۔ چناں چہ اس ضمن میں ”جادۂ حق“ کے مصنف سید اویس علی سہروردی لکھتے ہیں:
”آپ (یعنی صوفی نذیر غوری سہروردی) نے اپنے دو ساتھیوں حضرت غازی امیر احمد (کشمیری بازار، لاہور) اور غازی عبداللہ (گڑھی شاہو، لاہور) کے ساتھ مل کر بھولا ناتھ سین کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا۔ تینوں دوست قبرستان میانی صاحب اکٹھے ہوتے اور مل بیٹھ کر اس کے ہر پہلو پر غور کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اپنے آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط کرنے کے لیے تیار کرتے مثلاً آپ کئی دن تک بہت کم کھا کر گزارہ کرتے یا ننگے جسم ٹاٹ کی بوری میں کئی کئی گھنٹے لیٹے رہتے۔ کئی ہفتوں کی تیاری کے بعد غازی امیر احمد اور غازی عبداللہ موقع محل دیکھنے روانہ ہوئے تا کہ واپس آ کر ایک ٹھوس پروگرام بنایا جائے مگر انھیں وہاں ایسا موقع ملا کہ اس (یعنی بھولا ناتھ) کی دوکان پر اس وقت اس کے علاوہ چند ملازم تھے اور وہ بھی اس سے قدرے فاصلے پر تھے چناں چہ انھوں نے موقع کو غنیمت جان کر کہ مبادا پھر موقع ملے یا نہ ملے یا کب ملے انھوں نے اسے اور اس کے دو ملازمین کو قتل کر دیا۔ حضرت قبلہ گاہی (یعنی صوفی نذیر غوری سہروردی) کو اطلاع ملی تو آپ بھی وہاں پہنچ گئے اور تقریباً دو ماہ ان کے ساتھ جیل میں رہنے کے بعد لاہور واپس آگئے ۔“ (جادۂ حق : 33، 34)
صوفی نذیر غوری سہروردی کے ملفوظات میں اس واقعہ کی مزید تفصیل یوں درج ہے:
”گڑھی شاہو والا جلسہ سن کر ہم تینوں (یعنی صوفی نذیر غوری، غازی امیر احمد، غازی عبداللہ) قبرستان میانی صاحب چلے گئے ، وہاں بیٹھ کر قسمیں کھائیں کہ اس گستاخِ رسالت کو قتل کر دینا چاہیے اور جو پکڑا جائے وہ دوسروں کا پتہ نہیں بتائے گا۔ اگلے روز سے ہم نے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا شروع کر دیا۔ کبھی بھوکے رہتے، کبھی موٹے اور کھردرے کمبل میں ننگے جسم سوتے تا کہ جسم کی قوت برداشت زیادہ ہو جائے۔
کچھ دنوں بعد غازی امیر احمد کو ہم نے کلکتہ بھیجا کہ جاؤ اور پتہ کر کے آؤ کہ وہ آدمی کہاں اور کیسے رہتا ہے۔ تقریباً دو ماہ بعد غازی امیر احمد بڑے بُرے حال میں واپس آیا۔ داڑھی بڑھی ہوئی اور پاؤں سُوجھے ہوئے تھے کیوں کہ پیسے تو تھے نہیں اور ہم نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ کسی سے مانگیں بھی نہیں۔ اس لیے وہ بھوکا، پیاسا، کبھی پیدل کبھی ریل پر بڑی مشکل سے پہنچا۔ اس نے آکر ہمیں بتایا کہ اس ہندو کی بہت بڑی دکان ہے جو کالج سٹریٹ پر واقع ہے۔ ہر وقت سات یا آٹھ آدمی اس کے اردگرد موجود رہتے ہیں اور دکان کے دونوں طرف دروازے ہیں۔
عید قربان پر ہم پھر قبرستان میانی صاحب گئے، دوبارہ قسمیں کھائیں اور پروگرام بنایا کہ امیر احمد اور عبداللہ پہلے جائیں اور حالات کا جائزہ لیں۔ اتنی دیر میں میں (یعنی نذیر غوری) بھی پہنچ جاؤں گا۔ پروگرام تو یہ تھا کہ پہلے وہ دہلی جائیں گے اور پھر کلکتہ، اتنے دنوں میں میں سیدھا کلکتہ پہنچ جاؤں اور پھر تینوں مل کر اس کا کام تمام کر دیں گے۔ مگر وہ سیدھے ہی کلکتہ چلے گئے۔ ان کے جانے کے چند روز بعد اخبار میں آ گیا کہ بھولا ناتھ سین قتل کر دیا گیا ہے اور دو پنجابی قاتل پکڑے گئے ہیں۔ میں نے یہ خبر اخبار میں پڑھی اور رات عبداللہ کے گھر (گڑھی شاہو) چلا گیا کہ پتہ کروں کہ اصل صورت حال کیا ہے کیوں کہ اخبارات میں نام غلط چھپے تھے۔ جاتی دفعہ میں اپنے ایک ہم راز جو بعد میں میرا پیر بھائی بنا‘ ملک مراتب علی سہروردی کو کہہ گیا کہ اگر رات دس بجے تک میں نہ پہنچا تو میرے گھر کہہ دینا کہ وہ پکڑا گیا ہے کیوں کہ لازمی بات ہے پولیس اس کے گھر ضرور پہنچی ہوگی۔
خیر رات میں جب اس کے گھر پہنچا‘ پہلے تو اردگرد کا جائزہ لیا مگر وہاں تو ہُو کا عالم تھا۔ میں نے اس کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے اس کی والدہ محترمہ نے دروازہ کھولا، میں نے ان کی خیریت دریافت کی اور عبداللہ کا پتہ پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ سیر کرنے کے لیے ریلوے کا پاس لے کر گیا ہوا ہے، پتہ نہیں کب آئے اور ہاں اس کے پرسوں بیٹا بھی پیدا ہوا ہے۔ کچھ دیر میں وہاں رُکا اور پھر گھر چلا آیا۔
......تقریباً چار پانچ دنوں بعد کلکتہ سے ان دونوں کا مجھے خط بھی آگیا جس میں تفصیلاً لکھا تھا کہ ہم نے تین آدمی قتل کر دیے ہیں۔ اس میں تحریر تھا کہ امیر احمد نے دو قتل کیے ہیں اور عبداللہ نے ایک۔
قتل کر کے دونوں مخالف سمت بھاگ گئے۔ عبداللہ دریائے ہگلی پر چلا گیا اور خون کے
چھینٹے وغیرہ دھو کر ذکریا سٹریٹ حاجی مولوی سرائے کی طرف آیا جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ دوسری طرف امیر احمد کو ایک پنجابی بدمعاش نے دیکھا تو کہا ٹھہر جا۔ اس نے کہا کہ کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا جو آدمی پیچھے دوڑے آ رہے تھے انھیں اس نے گالیاں دیں تو وہ بھی پیچھے ہو کر کھڑے ہو گئے۔...... اس پنجابی بدمعاش نے کہا کہ یہ چھری مجھے دے دو اور بتاؤ کیا بات ہے؟ امیر احمد نے کہا کہ میں کوئی اُچکا نہیں ہوں، میں دو آدمی قتل کر کے آیا ہوں۔ ابھی یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ پولیس بھی وہاں آ گئی اور اسے پکڑ کر ذکریا سٹریٹ میں لے گئی، وہاں عبداللہ بھی آ گیا۔ اب عبداللہ کہے کہ میں نے آدمی قتل کیے ہیں اور امیر احمد کہے کہ میں نے قتل کیے ہیں۔ ذکریا سٹریٹ میں مسلمانوں کی دکانیں زیادہ تھیں، اس لیے وہاں بہت سے مسلمان بھی اکٹھے ہو گئے اور ان کی حمایت کرنے لگے۔ یہ حمایت ان کے تختۂ دار پر پہنچنے تک جاری رہی اور دونوں کو ہر طرح کی آسائش وہاں کے مسلمانوں نے بہم پہنچائی، کھانا پینا، روپیہ پیسہ، ہر طرح سے انھیں خوش رکھنے کی کوشش کی۔
بہ ہر کیف پولیس نے جب دیکھا کہ تکرار بڑھ گئی ہے تو دونوں کو تھانے لے گئی۔ وہاں کے لوگوں کو جو مسلمان تھے جب صحیح صورت حال کا پتہ چلا تو ان کے متعلق ان کے دلوں میں اور بھی محبت بڑھ گئی۔ وہ فوراً میاں عبدالمجید عطر فروش جو وہاں کا صدر اور بہت امیر آدمی تھا‘ کے پاس پہنچے اور پورا ماجرا سنایا۔ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر تھانے پہنچا اور تھانے دار کو کہا کہ یہ اپنے آدمی ہیں، انھیں چھوڑ دو مگر غازی عبداللہ اور غازی امیر احمد ۔ دونوں نے کہا کہ ہم باہر نہیں آئیں گے، ہم نے قتل ہی اس لیے کیے ہیں کہ پھانسی چڑھ جائیں۔
....... چناں چہ دونوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ انھوں نے وہاں سے مجھے خط لکھا کہ یہاں کے مسلمان بہت تنگ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بیان دو کہ قتل ہم نے نہیں کیے ۔ ہم مہنگے ترین وکیل کرا کے تمہیں بچا لیں گے‘ تمہارا کیا خیال ہے؟ جوابی خط میں میں نے انھیں لکھا کہ چوں کہ ہمارا مقصد ہی یہ تھا، اس لیے معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جیل میں اک عجیب سماں میں نے دیکھا، وہاں کے مسلمانوں نے ہم تینوں کی خدمت کی انتہا کر دی۔ مکھن، دودھ، چائے اور طرح طرح کے کھانے روزانہ ہمارے لیے آتے۔ وہاں کا جیلر انگریز تھا اور اس کی رہائش ہماری بارک کے سامنے تھی۔ سارا دن اس کی بیوی کھڑکی میں بیٹھی رہتی اور ہمیں دیکھتی رہتی کہ چند دن بعد جن لوگوں کو پھانسی چڑھ جانا ہے وہ
کتنے خوش و خرم ہیں۔ (جادۂ حق : 114 تا 117)
غازی میاں امیر احمد اور غازی عبداللہ جیل میں آٹھ پہر کا روزہ رکھتے تھے۔ ان کا یہ معمول گرفتاری سے لے کر ان کی شہادت تک جاری رہا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان دونوں غازیان کا وزن پہلے کی نسبت بڑھ گیا تھا۔
اخبار الفقیہ (امرت سر) کے مطابق 7 مئی 1931ء کو دوپہر گیارہ بجے دونوں خوش پوش نوجوان بیسن برادرز بک سیلرز کی دوکان میں داخل ہوئے اور انھوں نے بھولا ناتھ سین مالک اور اس کے نوکر کو قتل کر دیا۔ بھولا ناتھ نے ان کو اپنا گاہک خیال کیا اور ان سے پوچھنے لگا کہ آپ کیا خریدیں گے؟ اس سوال پر انھوں نے اس پر چھرے سے سخت حملہ کیا۔ ہری داس اور بینر جی، بھولا ناتھ کی امداد کو آئے ان کو بھی چھرا گھونپ دیا گیا۔ بھولا ناتھ اور ہری داس فوراً مر گئے جب کہ بینر جی کی ٹانگ پر چھرا لگا، اس کو نازک حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ بھی مر گیا۔ (ہفت روزہ الفقیہ، امرت سر مورخہ 14 مئی 1931ء)
قتل کی تفتیش کے لیے کلکتہ پولیس کے ایک مسلمان انسپکٹر سید غلام حیدر شاہ لاہور وارد ہوئے اور ملزمان کے گھروں کی تلاشی لی۔ غازی عبداللہ شہید کے گھر سے غازی علم الدین شہید کی بڑے سائز کی تصویر برآمد ہوئی۔ 22 فروری کو گڑھی شاہو میں احتجاجی جلسہ کے انعقاد کے حوالہ سے انجمن حزب الاحناف کے منتظمین کو بھی شامل تفتیش کیا گیا۔ انسپکٹر نے مسلم اخبارات کے دفاتر کا بھی دورہ کیا اور احتجاجی جلسہ میں منظور ہونے والی قراردادوں کی تفصیلات حاصل کیں۔
دونوں مجاہدین نے پولیس کے رُوبرو اپنے فعل کا پہلے ہی اقبال کر لیا تھا، اس لیے کسی اور خارجی شہادت کی ضرورت باقی نہ رہی تھی۔ عدالت میں مقدمہ چلا۔ کلکتہ کے مسلمانوں نے مقدمہ کی پیروی کے لیے دونوں مجاہدین کے ورثاء کو تار بھیجا، چناں چہ غازی عبداللہ کے والد ماجد امرت سر سے اپنے ایک عزیز کے ساتھ کلکتہ پہنچے۔ غازی امیر احمد کے چچا زاد بھائی اور ان کی خالہ مقدمہ کی پیروی کے لیے کلکتہ روانہ ہوئے۔ ( کیوں کہ غازی امیر احمد کے والدین فوت ہو چکے تھے اور اس کا کوئی بھائی بھی نہ تھا۔)
اگست 1931ء کلکتہ ہائی کورٹ کے سیشن جج جسٹس لورٹ ولیمز نے بھولا ناتھ سین اور اس کے ملازموں کے قتل میں غازی عبداللہ خان اور غازی امیر احمد کو سزائے موت سنا دی۔ مسٹر گریگوری (وکیل ملزمین) نے عدالت سے درخواست کی کہ سزائے موت کی بجائے حبس دوام
بہ عبور دریائے شور کی سزا دے دی جائے لیکن جج نے وکیل ملزمان کے دلائل کو تسلیم نہ کیا اور پھانسی کی سزا کا فیصلہ سنا دیا۔
مسلمانان کلکتہ نے جناب عبداللطیف ایڈووکیٹ اور محمد رفیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف پریوی کونسل، برطانیہ میں اپیل کرنے کی درخواست دی جو کہ منظور ہو گئی لیکن پریوی کونسل نے بھی انتہائی سزا کا فیصلہ برقرار رکھا ۔ بالآخر 10 مارچ 1932ء کو ناموس رسالت کے دونوں جاں نثاروں کو شہید کر دیا گیا۔ مسلمانان کلکتہ کے دل میں پہلے ہی ان مجاہدین کی محبت و عقیدت رچ بس گئی تھی ۔ عدالت کی پیشیوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں مسلمان ان کی زیارت کے لیے حاضر ہوتے ۔ یوں ہی جیل کے باہر بھی شائقین دید کا تانتا بندھا رہتا۔ دونوں شہیدوں کی میت کو مسلمانوں کے قبرستان میں لے جایا گیا۔ یہاں مسلم رہنماؤں اور حکام کے مابین معاملات طے پائے ۔ مسلمانوں کی کثیر تعداد مسجد ناخدا (کلکتہ) میں جمع ہو گئی۔ حفظ امن کے لیے پولیس اور فوج کے متعدد دستے اہم مقامات پر متعین کر دیے گئے تاہم شہدا کی وصیت کے مطابق مسلمان پُر امن رہے۔ تقریباً پچاس ہزار مسلمانوں نے شہدا کی نماز جنازہ ادا کی۔
15 مارچ 1932ء کو مجلس خلافت، کلکتہ کا ایک جلسہ بیرسٹر حسین شہید سہروردی کی زیر صدارت منعقد ہوا، اس جلسہ میں شہیدان ناموس رسالت کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا اور حسین شہید سہروردی نے غازی عبداللہ شہید کے نومولود بیٹے کی کفالت کے لیے ماہ وار بیس روپیہ کا ذمہ لیا۔
18 مارچ 1932ء بروز جمعۃ المبارک کو تمام مساجد میں ”یوم شہیدان ناموس رسالت“ منانے کا فیصلہ ہوا، اور شہیدوں کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام ہوا۔
ساجد غنی اعوان
غازی محمد صدیق شہیدؒ
(سن شہادت: 1935ء)
دنیا میں لوگ پیدا ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں لیکن دائمی حیات صرف انھیں حاصل رہتی ہے جن کا ذوقِ نظر ارفع اور عزم نا قابل تسخیر ہو، جنہیں حق کی خاطر جینے اور حق کی خاطر مرنے کا سلیقہ ودیعت کیا گیا ہو، جن کا مطمعِ نظر یہ ہو کہ
جسے جینا نہیں آتا، اسے مرنا نہیں آتا
تاریخ نے جنہیں غازی اور شہید کے نام سے خراجِ تحسین پیش کیا، جن کی جرأت اور مردانگی نے قحط الرجال کے ماتم کو مٹا ڈالا، ہاں! یہ اُنھی پاک باز مجاہدوں کی کہانی ہے کہ جن کی لازوال قربانیوں سے انسانیت کو بقا حاصل ہے۔......... ایک دریدہ دہن ملعون پالامل سنار شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کا مرتکب ہوتا تو قدرتِ خداوندی اسے جہنم رسید کرنے کا بندوبست بھی اسی علاقہ سے کرتی ہے۔ ”قصہ زمین برسرِ زمین“ کا مصداق کچھ یوں واقع ہوتا ہے۔
خطہ پاک و ہند پر آزادی سے پہلے کچھ آزاد سُخن، زمانے کی تلخیوں سے بے نیاز، جانباز مجاہد، قبیلۂ عشاق کے مقتداء اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر عشق کے میدان میں ایسے معرکے سر کر گئے کہ تاریخ کی پیشانی ان کے اسمائے گرامی کے جھومر سے چمک رہی ہے۔ غازی محمد صدیق شہیدؒ کا نامِ نامی اُنھی عاشقانِ مصطفیٰ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا...... غازی محمد صدیقؒ خواجہ برادری ذات ببّر کے ایک عمومی ممبر تھے۔ آبائی سکونت شہر قصور ہے۔ شمعِ نبوت کے اس شیدائی کی ولادت 1914ء کے درمیانی مہینوں میں بروز عید الاضحیٰ، قربانی کے دن گیارہ بجے ہوئی۔ پانچ سال کا ہو جانے پر انھیں مسجد میں بٹھایا گیا۔ 1925ء تک دینی تعلیم کے علاوہ آپ پانچویں جماعت بھی پاس کر چکے تھے۔ چونکہ آپ کے والد ماجد شیخ کرم الٰہی فیروز پور چھاؤنی
میں، جو قصور سے قریباً پندرہ میل کے فاصلے پر ہے، پکے چمڑے کا آبائی پیشہ اختیار کئے ہوئے تھے، وہ اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے گئے۔ غازی صاحب کو چھاؤنی کے قریب ہی ایک تعلیمی ادارے میں داخل کرایا گیا، جہاں آپ تین سال تک زیر تعلیم رہے اور آٹھویں کا امتحان پاس کیا۔ اسی دوران آپ کے والد گرامی چند روز کی ناسازی طبیعت کے بعد جہانِ فانی سے کوچ فرما گئے۔ غازی محمد صدیق شہیدؒ کی والدہ محترمہ کا نام عائشہ بی بی تھا۔ آپ بڑی نیک سیرت اور حوصلہ مند خاتون تھیں۔ ان کی تربیت کا اثر موصوف کے تاریخی عمل سے 1935ء میں سامنے آیا جب شمع رسالت ﷺ کے یہ پروانے تختۂ دار کو رونق بخش گئے۔
آقا حضور حبیب کبریا ﷺ کے نام نامی سے ان کی محبت اور وارفتگی کی صحیح کیفیت کا بیان تو کسی صورت بھی الفاظ میں ممکن نہیں۔ ذات اقدس ﷺ سے ان کی محبت والفت والہانہ تھی۔ لباس ہمیشہ سنت کے مطابق رکھتے۔ نماز تو کبھی قضا نہ ہونے دی۔ روزے کے بھی سختی سے پابند تھے۔ غازی ممدوح کے برادر اصغر شیخ محمد شفیع طاہر صاحب نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے: ”چھوٹی عمر ہی میں آپ نے حضرت شیخ محمد صاحب نقشبندی محلہ پیرانوالہ، نزد دہلی دروازہ (فیروز پور) کے دست حق پرست پر بیعت کر لی تھی اور حفظ قرآن کے لیے بھی کوشاں رہنے لگے“۔ (ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد 4، شمارہ 4، ص 62) ”والد صاحب مرحوم کے انتقال کی وجہ سے دنیوی تعلیم ترک کرنی پڑی۔ غازی صاحب کے ہم جماعت طلبا سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ آپ کا بچپن سے اعلیٰ چال چلن تھا۔ صوم و صلوٰۃ میں پورے پورے پابند تھے“۔ (ماہنامہ انوار صوفیہ مئی 1935ء)
ایک طرف رنگِ مہر و وفا شوخ ہورہا تھا تو دوسری طرف ”قصور شہر“ کی فضائیں پالا مل سنار کے غلیظ وجود سے متعفن ہورہی تھیں۔ مسمی پالا مل سنار ایک صاحب ثروت ہندو سنار تھا۔ اس کی دکان درگاہ حضرت بابا بلھے شاہؒ سے ذرا دُور تھی۔ اس کی پشت پر ہندو ساہوکاروں کا ہاتھ تھا۔ بنیوں کے ٹولے کی حمایت میں ابتداءً وہ مسلمانوں کی معاشی ناسازگاریوں پر بکواس کرتا تھا۔ اس نے کئی بار برملا کہا ”قرضہ تو یہ واپس دیتے نہیں اور بنے پھرتے ہیں مسلمان“ ایک مرتبہ اس نے کہا ”مسلمانوں کا خدا اپنے بندوں سے زکوٰۃ کی بھیک مانگتا ہے جب کہ ان بے چاروں کو دو وقت کی روٹی بھی کھانے کو نہیں ملتی۔“ مسلمانوں کو چپ سادھے دیکھ کر اس کا حوصلہ روز بروز بڑھتا گیا اور اولیائے عظام (رحمہم اللہ) کے متعلق گالیاں بکنا اس کا معمول بن گیا۔
ہندوؤں کو اکٹھا کر کے نماز کی نقلیں اتارنا اور اپنی عجیب و غریب حرکات سے انھیں ہنساتے رہنا گویا اس کا ہر روز کا مشغلہ تھا۔ بات فحش کلامی سے بہت آگے جا چکی تھی۔
روزنامہ ”انقلاب“ لاہور کی 7/ ستمبر 1934ء کی اشاعت کے مطابق مسمی پالامل نے بے ادبیوں کا یہ کھلم کھلا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ 16/ مارچ کو جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو مردود مذکور نے نہ صرف نماز کا مضحکہ اڑایا بلکہ سرکارِ مدینہ ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات بکے۔ شانِ رسالت مآب ﷺ میں صریحاً گستاخی کی اس قبیح حرکت پر پورے شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مسلم معززین کے مشورے پر محمد کلیم پیر صاحب نے عدالت میں استغاثہ دائر کر دیا۔ مسٹر ٹیل مجسٹریٹ درجہ اول لاہور نے بڑی تندہی سے اس مقدمے کی موشگافیوں کو پیش نظر رکھا۔ بالآخر فریقین کے دلائل سننے کے بعد مجسٹریٹ مذکور نے اپنے فیصلے میں لکھا ”میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملزم نے واقعی توہینِ رسالت مآب ﷺ کی ہے، جس سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوئے اور سخت فساد کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ اس لیے پالامل کو چھ ماہ قید اور دو سو روپے جرمانہ کی سزا دی جا رہی ہے۔
10/ ستمبر 1934ء کے روزنامہ ”سیاست“ لاہور میں اس کی تفصیل یوں درج ہے ”پالامل سنار کے خلاف توہینِ پیغمبرِ اسلام ﷺ کے الزام میں مقدمہ چلتا رہا۔ ملزم نے مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف مسٹر بھنڈاری سیشن جج لاہور کی عدالت میں اپیل دائر کر دی۔ یہاں سے اسے تا فیصلہ ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔“
”ان دنوں فیروز پور روڈ سے گزرنے والوں نے سنا کہ لاہور چوبرجی کے نزدیک واقع مشہور گورستانِ میانی صاحب سے غم ناک چیخیں بلند ہو رہی ہیں۔ درد کی شدت اور آواز کا کرب مسلسل بڑھتا ہی چلا گیا۔ دل دہلا دینے والی یہ آہیں ”غازی علم الدین شہیدؒ“ کے مقبرے سے اٹھ رہی تھیں۔ معلوم ہوتا تھا جیسے آپ کہہ رہے ہوں کہ میں قبر میں تڑپ رہا ہوں۔ کون ہے جو میرے لیے سامانِ تسکین ڈھونڈ لائے۔ راجپال کا ہم ذوق قصور کی شاہراہوں پر دندناتا پھر رہا ہے۔ کیا میرے چاہنے والے مر گئے ہیں؟ اگر میرا کوئی جواں سال وارث زندہ ہے تو وہ خدا کے لیے تختۂ دار پر بزمِ رقص سجا کر مجھ سے ہم آغوش ہو جائے۔ وہ دیکھو سامنے آقا و مولیٰ ﷺ کوہِ رَضْویٰ کی چوٹیوں پر استقبال کے لیے تشریف فرما ہیں۔ ہے کوئی شہیدِ رسالت، جو آپ ﷺ کے بازوؤں میں سمٹ جائے۔“ (ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد 4، شمارہ 4، ص 64)
”انھی دنوں کا ذکر ہے ایک رات حافظ غازی محمد صدیق صاحبؒ نیند میں تھے کہ مقدر جاگ اٹھا۔ نصف شب بیت چکی تھی، جب آپ کو سرورِ بنی آدم، روحِ رواںِ عالم، دلیلِ کعبۂ مقصود، کاشفِ سِرِّ مکنون، خازنِ علمِ مخزون جناب احمد مجتبیٰ، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ سرکارﷺ نے فرمایا: ”قصور میں ایک بد نصیب ہندو پے در پے ہماری شان میں گستاخیاں کرتا چلا جا رہا ہے۔ جاؤ اور اس ناپاک زبان کو لگام دو۔“ قبلۂ صدق و وفا، کعبۂ اربابِ حلم و حیاء وارثِ علومِ اوّلین، مورثِ کمالاتِ آخرین، شہنشاہِ فضائل و کمالات، رحمتہ للعالمین حضور خاتم النبیین ﷺ کی حرمت و عزت کا یہ جانباز محافظ کئی روز تک شدتِ غم و غصہ سے پیچ و تاب کھاتا رہا۔ ان کے سینے میں جوشِ غضب کی چنگاریاں چٹخ رہی تھیں۔ ان کے دل میں ایک ہی جذبہ موجزن تھا کہ وہ جلد از جلد قصور پہنچ کر اپنے آقا و مولا ﷺ کے دشمن کو جہنم رسید کریں۔“
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد 4، شمارہ 4، ص 64-65)
10؍ستمبر 1934ء کی بات ہے انھوں نے اپنی والدہ ماجدہ سے عرض کی کہ ”مجھے خواب میں ایک دریدہ دہن کافر دکھلا کر بتایا گیا ہے کہ یہ ناہنجار توہینِ نبوی ﷺ کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اسے گستاخی کا مزہ چکھاؤں تا کہ آئندہ کوئی شاتم اس امر کی جرأت نہ کر سکے۔ میں قصور اپنے ماموں کے پاس جا رہا ہوں۔ گستاخ موذی وہیں کا رہنے والا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس ذلیل کتے کی ذلت ناک موت میرے ہی ہاتھوں واقع ہو گی۔ نیز مجھے تختۂ دار پر جامِ شہادت پلایا جائے گا۔ آپ دعا فرمائیں، بارگاہِ سرکار ﷺ میں میری قربانی منظور ہو اور میں اپنے اس عظیم فرض کو بطریقِ احسن نبھا سکوں۔“ ماں نے بخوشی اجازت دے دی۔ ایک مومنہ کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا مسرت ہو سکتی ہے کہ اس کا بیٹا دینِ اسلام کے کام آئے۔“
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد 4، شمارہ 4، ص 65)
”17؍ستمبر 1934ء کی شام کا واقعہ ہے حضرت قبلہ غازی صاحب دربار بابا بلھے شاہؒ کے نزدیک نیم کے درخت سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ عقابی نگاہیں آنے جانے والوں کا بغور جائزہ لے رہی تھیں۔ اتنے میں ایک ایسا شخص دکھائی دیا، جس نے چہرے پر کسی حد تک نقاب اوڑھ رکھا تھا۔ آپ نے جھٹ اس کی راہ روکی اور پوچھا ”تو کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ یہاں کیا کرتا ہے؟“ اسے اپنا نام بتانے میں تامل تھا۔ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی۔ آپ کو تنہا دیکھ کر اسے بھی حوصلہ ہوا۔ وہ کہنے لگا ”مسلمانوں نے پہلے میرا کیا بگاڑ لیا ہے اور اب کون سی
قیامت آجائے گی‘‘ الغرض غازی موصوف نے اسے پہچان لیا کہ یہی وہ گستاخ رسول ہے جسے ٹھکانے لگانے پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ غازی نے فرمایا کہ ”میں تاجدار مدینہ ﷺ کا غلام ہوں۔ کئی دنوں سے تیری تلاش میں تھا۔ اے دہن دریدہ ملیچھ! آج تو کسی طرح بھی ذلت ناک موت سے نہیں بچ سکتا۔ یہ کہہ کر آپ نے تہ بند سے رمپی (چمڑا کاٹنے کا اوزار) نکالی اور للکارتے ہوئے اس پر حملہ آور ہو گئے۔ حافظ محمد صدیقؒ متواتر وار کئے جارہے تھے اور زور زور سے نعرہ تکبیر لگا کر بے غیرت پر برس پڑے۔ واقعات کے مطابق پورے ساڑھے سات بجے بارگاہ رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والا یہ خناس شخص، جسے لوگ لالہ پالامل شاہ کے نام سے جانتے تھے، اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔‘‘
(ایضاً ص65-66)
’’مقتول مردود کے واویلا اور آپ کے نعرہ ہائے تکبیر سے کثیر تعداد میں لوگ اس جانب متوجہ ہو چکے تھے۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ ”غازیؒ اس وقت تک ملعون ساہوکار کی چھاتی سے نہیں اترے، جب تک اس کی موت کا پختہ یقین نہیں ہوگیا۔ غازی کا لباس ناپاک خون کے چھینٹوں سے آلودہ ہو چکا تھا۔ اردگرد بھی گندے لہو کے داغ ہی داغ تھے۔ مقتول کا چہرہ نہ صرف بری طرح مسخ ہوا، بلکہ ہیبت ناک شکل اختیار کر گیا تھا۔ یہاں تک کہ ڈر کے مارے کوئی قریب نہ پھٹکتا تھا۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق اس کے جسم پر چالیس زخموں کے واضح نشان تھے۔ موقع پر موجود افراد کا بیان ہے کہ اگر غازی صاحب فرار ہونا چاہتے تو باآسانی ایسا کر سکتے تھے مگر انھوں نے اپنے فرض سے فارغ ہوچکنے کے بعد دوگانہ نماز شکرانہ ادا کی اور قریبی مسجد کی سیڑھیوں پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ گئے اور وقفے وقفے سے زیر لب مسکراتے اور گنگناتے رہے۔ اس وقت تمام ہندوؤں کے چہرے اترے اترے تھے مگر غازی صاحبؒ نہایت مطمئن اور سرشار نظر آرہے تھے۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ کی یہ ادا مسلمانوں کی سربلندی اور غیرت مند فطرت کا منہ بولتا ثبوت بنی۔‘‘
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد 4، شمارہ 4، ص 66)
اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں
20؍ ستمبر 1934ء کو روزنامہ ”سیاست“ کے پرچہ میں یہ خبر ان الفاظ میں شائع ہوئی:
’’17؍ ستمبر گزشتہ شب گیارہ بجے کے قریب قصور سے یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ لالہ پالامل شاہ ساہوکار کو شام ساڑھے سات بجے قتل کر دیا گیا ہے۔ اس قتل کے سلسلے میں ایک
مسلمان محمد صدیق کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پالا شاہ کے خلاف توہین اسلام کے الزام میں مقدمہ چلتا رہا۔ مسٹریل مجسٹریٹ لاہور نے پالامل کو چھ ماہ قید اور 200 روپے جرمانے کی سزا دی۔ اس فیصلے کے خلاف اس نے مسٹر بھنڈاری سیشن جج لاہور میں اپیل دائر کی تھی۔ اس کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ قتل بلھے شاہؒ کی خانقاہ میں ہوا اور قتل کے الزام میں محمد صدیق کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس بڑی تندہی سے تفتیش کر رہی ہے۔“
”جب حضرت قبلہ غازی صاحبؒ سے پوچھا گیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو انھوں نے فرمایا ”بلاشبہ پالامل کو میں نے قتل کیا ہے کیوں کہ اس ملعون نے رسول کریم ﷺ کی توہین کی تھی۔“ 18/اکتوبر 1934ء کو قصور میں غازی محمد صدیقؒ کو خانصاحب چوہدری غلام مصطفیٰ سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مرد و زن کا جم غفیر ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لیے اشتیاق دیدار میں ایستادہ تھا۔ لگتا یوں تھا کہ گویا سارا پنجاب استقبال کے لیے امڈ آیا ہو۔ 11/اکتوبر 1934ء کو خانصاحب چوہدری غلام مصطفیٰ سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی عدالت نے یہ مقدمہ سیشن کورٹ کے سپرد کیا۔ 6/دسمبر 1934ء کو لاہور جیل میں سیشن جج مسٹریل کے روبرو غازی محمد صدیقؒ کے خلاف پالامل سنار کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ قتل عمد زیر دفعہ 302 تعزیرات ہند کی سماعت ہوئی۔ میاں عبدالعزیز اور مسٹر عبداللطیف گابا دو بیرسٹرز غازی صاحب کی طرف سے پیش ہوئے تھے۔ ”وکیل صفائی میاں عبدالعزیز صاحب بیرسٹر نے اپنی طرف سے بڑے مدلل اور جامع قانونی نکات فاضل جج کے سامنے بیان کئے۔ انھوں نے اپنی طویل بحث کے دوران کہا: ”میرا مسئلہ یہ ہے کہ ملزم کو مقتول سے کوئی ذاتی عداوت نہ تھی۔ اگر اس نے یہ فعل کیا ہے تو مذہبی عقیدہ کے تحت کیا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوان ملزم کا بیان کہ میں بیس سال بعد بھی توہین رسالت ﷺ کا انتقام لینے سے نہ ٹلتا۔ یہ کس جذبے کا ترجمان ہے؟ اس لیے کسی طور پر بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ اسلامی روایات کے مطابق رسول کریم ﷺ کی تعظیم و تکریم، اللہ تعالیٰ کے بعد دوسرے درجے پر ہے۔ پکے اور سچے مسلمان وہ ہیں، جو اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی شان میں کسی طرح کی ادنیٰ گستاخی کو بھی برداشت نہیں کر سکتے اور وہ آپ ﷺ کی شان برقرار رکھنے کے لیے اپنی جانیں دیوانہ وار فدا کرتے ہیں۔ محمد صدیقؒ کے دل میں بھی اٹھارہ ماہ سے یہی جذبہ موجزن تھا اور اس نے جذبہ ایمان سے سرشار شہنشاہ مدینہ ﷺ کی تعظیم و تکریم پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا...... لہٰذا بہت سے گزشتہ ایسے
مقدمات کی مثالیں موجود ہیں، جن کے حوالے سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ملزم کو زیادہ سے زیادہ حبس دوام کی سزا دی جائے ۔“ (ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد 4، شمارہ 4، ص 65)
”سیشن کورٹ میں فیصلے کے دن حضرت قبلہ حافظ صاحبؒ کی والدہ نے اپنے جواں سال بیٹے کی پیشانی چومتے ہوئے نہایت حوصلے کے ساتھ فرمایا ”میں خوش ہوں ۔ جس رسول ﷺ کی شان کے تحفظ کے لیے تم قربان گاہ جارہے ہو، اس محبوب کردگار ﷺ کی شان قائم رکھنے کے لیے مجھے تم جیسے بیس بیٹوں کی قربانی بھی دینا پڑی تو رب کعبہ کی قسم ! میں کبھی دریغ نہ کروں گی ۔“ روزنامہ ”انقلاب“ لاہور اور دیگر معاصر مسلم اخبارات میں غازی صاحبؒ کی والدہ کے اس جرأت مندانہ بیان کے علاوہ غازی موصوف کے بارے میں یہ بھی درج ہے کہ آپ نے ان ایمان پرور الفاظ کو سنتے ہی زور سے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور والدہ موصوفہ سے اپنے گناہوں اور غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں نے پالا مل کو قتل کر کے اپنے نبی ﷺ کی شان قائم رکھنے کے لیے جو قربانی پیش کی ہے، اس کی خاطر اگر مجھے ہزار مرتبہ بھی جینا یا مرنا پڑے تو تب بھی ہر دفعہ ناموس رسالت ﷺ پر پروانہ وار فدا ہوتا رہوں گا اور اسے صدق دل سے اپنا فرضِ عین سمجھتا ہوں ۔“ (ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد 4، شمارہ 4، ص 68)
13؍ دسمبر 1934ء کو سیشن کورٹ نے غازی محمد صدیقؒ کو موت کی سزا سنائی ۔ زندہ دلانِ قصور نے اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ لاہور میں اپیل گزار دی ۔ عدالت عالیہ میں 31؍ جنوری 1935ء کو سماعت ہوئی ۔ فیصلہ صادر کرنے کے لیے ایک ڈویژنل بنچ تشکیل دیا گیا ۔ اس میں چیف جسٹس اور جسٹس عبدالرشید شامل تھے ۔ فیصلہ کے طور پر سیشن کورٹ کا حکم بحال ہوا ۔“ (ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد 4، شمارہ 4 ص 69)
مقدمے کی یہ منازل اپنی جگہ، مگر سچ یہ ہے کہ : ”غازی محمد صدیقؒ دیدہ دانستہ اس جرم کا مرتکب ہوا ۔ اسے راجپال اور غازی علم الدین شہیدؒ کے واقعہ کا بھی بخوبی علم تھا ۔ اس نے سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے خود کو سزا کے لیے پیش کیا ۔ اگر اس واقعہ (شان رسالت ﷺ میں گستاخی) پر بیس سال بھی گزر جاتے تب بھی میں اسے ضرور بالضرور واصل جہنم کرتا ۔ ہمارے مذہب کے مطابق وہ ہرگز مسلمان نہیں بلکہ کوئی منافق ہے، جو نبی پاک ﷺ کی توہین سن کر خاموش رہے اور عصمت رسول ﷺ پر جان قربان نہ کرے ۔ کسی اور شخص کی ذات کا مسئلہ ہو تو برداشت ہو سکتا ہے، دنیوی امور میں کسی بھی فرد کی شان میں بکواس پر چپ رہا جاسکتا ہے لیکن
سرکارِ مدینہ ﷺ کے مقام و مرتبہ پر ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف غیظ وغضب، جوش و ولولہ اور غصہ کسی حالت میں بھی کم نہیں ہوسکتا۔ میں نے جو کچھ کیا، خوب غور وفکر کے بعد غیرتِ دینی کے سبب اپنے رسول ﷺ کی شان کو برقرار رکھنے کے لیے کیا ہے۔ اس پر مجھے قطعاً تاسف یا ندامت نہیں بلکہ میں اپنے اس اقدام پر بہت خوش اور نازاں ہوں۔ عدالت زیادہ سے زیادہ جو سزا دے سکتی ہے، جب چاہے دے دے۔ مجھے قطعاً حزن و ملال نہ ہوگا۔ مگر جب تک ہمیں شہنشاہ مدینہ ﷺ کی حرمت اور تقدس کے تحفظ کی ضمانت فراہم نہیں کی جاتی، کوئی نہ کوئی سرفروش نوجوان بزم دار و رسن میں چراغِ محبت جلاتا رہے گا۔ یہ تو ایک جان ہے، اس کی بات ہی کیا ہے، میں تو آپ ﷺ کی خاکِ قدم پر پوری کائنات بھی نچھاور کر ڈالوں تو میرا عقیدہ، ایمان اور عشق و وجدان یہی کہتا ہے کہ گویا ابھی حق غلامی ادا نہیں ہوسکا۔‘‘
غازی محمد صدیقؒ نے اپنی آخری وصیت میں فرمایا:
’’مجھے صرف قرآن اور صاحب قرآن ﷺ سے انس ہے۔ آپ بھی ہمیشہ انھی سے لو لگائے رکھیں۔ میری قبر پر کبھی کوئی خلافِ شرع عمل نہ کیا جائے اور نہ اس کی اجازت دینا۔ نیز قوالی بھی نہ ہو کہ سلسلہ نقشبندیہ میں اس کی ممانعت ہے۔ میری خوشی اسی میں ہے کہ خدانخواستہ اگر پھر بھی کہیں کوئی گستاخ رسول جنم لے تو میرے متعلقین میں سے ایک نہ ایک فرد باطل علامت کو ٹھکانے لگا دے۔‘‘
’’جیل حکام سے روایت ہے کہ تختۂ دار پر آپ کی زبان پر آخری الفاظ یہ جاری تھے ’’میرے اللہ! تیرا ہزار شکر کہ تو نے اپنے حبیب پاک ﷺ کی عظمت کے تحفظ کے لیے مجھ ناچیز کو کروڑوں مسلمانوں میں سے منتخب فرمایا۔‘‘
قربان گاہ میں خونِ دل کی حدت سے مشعل وفا کو فروزاں رکھنے والے اس خوبرو مجاہد کی عمر اس وقت 21 (اکیس) سال تھی۔ 6 مارچ 1935ء کو علیٰ الصبح آپ کو فیروز پور جیل میں جام شہادت پلایا گیا۔ دن ساڑھے دس بجے نعش لواحقین کے سپرد کی گئی۔ فیروز پور اور قصور سے بڑی تعداد میں مسلمان نعش لینے کے لیے جیل کے دروازہ پر موجود تھے۔ پھولوں سے سجی ایک لاری میں مبارک نعش فیروز پور سے قصور لائی گئی۔
’’شہید رسالت کا عظیم منصب عطا ہونے پر غازی محمد صدیقؒ کی والدہ صاحبہ نے
دیگر خواتین کو بھی اس موقع پر چیخ و پکار سے سختی کے ساتھ منع کر رکھا تھا۔ جب کوئی عورت تعزیت کی غرض سے ان کے پاس آتی تو آپ فرماتیں ”اس واقعہ پر غم و اندوہ کا کیا جواز ہے؟ حضور ﷺ پر قربان ہونا تو خوشی کا مقام ہے۔“
”جنازہ عید گاہ کے قریب اسلامیہ ہائی سکول قصور (موجودہ بوائز ڈگری کالج) کے ہال میں رکھا گیا، جہاں ان گنت مسلمان پُرنم آنکھوں سے شہید کی زیارت سے فیض یاب ہورہے تھے۔ لوگ ایک دروازے سے داخل ہوتے اور دوسرے دروازے سے نکل جاتے تھے۔ کافی دیر تک پردہ نشین مستورات شہید کا چہرہ مبارک دیکھنے کو آتی رہیں۔ ٹھیک ایک بجے جنازہ اٹھایا گیا اور جلوس کی صورت میں نصف میل کا فاصلہ پورے تین گھنٹے میں طے ہوا۔ نماز جنازہ پریڈ گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جس میں محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ جنازے کو کندھے دینے کے لیے چار پائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تھے۔ آپ کے جسد مبارک کو قبرستان میں پہنچایا گیا اور فدائی حبیب کبریا ﷺ غازی محمد صدیق شہیدؒ کو پورے چھ بجے سپرد اللہ جل شانہ کر دیا گیا۔“
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد 4، شمارہ 4، ص 71)
؎ ہے یہ شام زندگی، صبح دوام زندگی
”غازی حافظ محمد صدیق شہیدؒ قصور میں مدفون ہیں۔ لاہور سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر ضلع قصور واقع ہے۔ لاہور سے ہی مین فیروز پور روڈ پر آئیں تو، اس سڑک پر راؤنڈ اباؤٹ شروع ہوتے ہیں۔ پانچویں راؤنڈ اباؤٹ سے بائیں جانب جب شہر میں داخل ہونے لگیں تو قصور کا قدیم قبرستان شروع ہوتا ہے۔ اسے مرکزی قبرستان قصور یا پھر کوٹ غلام محمد خان والا قبرستان کہتے ہیں۔ یہی مین فیروز پور روڈ، گنڈا سنگھ بارڈر پر جا کر اختتام پذیر ہوتا ہے، اس سے آگے بھارت کی سرحد شروع ہو جاتی ہے۔ قصور کو اس لحاظ سے اہمیت حاصل ہے کہ یہاں پر ہر دو غازیان ناموس رسالت نے آقائے دو جہاں ﷺ کی شان رسالت میں گستاخی کرنے والے ملعونوں کو جہنم رسید کر کے شہادت پائی۔ غازی عبداللہ شہیدؒ کا تعلق ضلع قصور کے موضع پٹی سے تھا اور غازی محمد صدیق شہیدؒ بھی قصور شہر میں ہی رہتے تھے۔ قصور میں غازی میاں محمد صدیق شہیدؒ کا مزار شہری آبادی سے ملحقہ لنک کچہری روڈ پر اس قبرستان میں واقع ہے۔ مزار مبارکہ کے مقابل سڑک کے بائیں جانب ایک احاطہ میں حضرت خواجہ محی الدینؒ دائم الحضوری قصوری کا
مقبرہ ہے۔ اس سے تھوڑی دور فیروز پور روڈ پر غازی محمد صدیق شہیدؒ کا مزار موجود ہے‘‘۔
(از احمد خلیل جازم بحوالہ روزنامہ امت کراچی 9 مارچ 2017)
اے شہید جذبہ حب شفیع المذنبین ﷺ
جان کو اپنی فدا کر کے رسول پاک ﷺ پر
کر دیا روشن چراغ حب فخر عالمین ﷺ
اس طرف بوسہ دیا تیرے گلو نے دار کو
اس طرف بولے ملائک آفریں صد آفرین
کر گئی ہے قوم کو زندہ یہ قربانی تیری
مفتخر تجھ پر رہیں گے تا ابد اہل یقین
تیرے اس عزم مقدس کا یہ ادنیٰ ہے کمال
مثل پروانہ کھنچے آئے ہیں صد ہا مسلمین
جھولیاں بھر بھر کے گل ہائے عقیدت کی بہم
نعش پر تیری نچھاور کر رہے ہیں اہل دین
زندہ باد اے غازی دین محمد ﷺ زندہ باد
تا ابد نازل ہو تجھ پر رحمت رب العباد
محمد متین خالد
غازی عبدالقیوم شہیدؒ
(سن شہادت:1935ء)
تاریخ اسلام میں حرمت رسول ﷺ (فدہ ابی و امی) پر رتبہ شہادت حاصل کرنے والے بے شمار ہیں کیونکہ تحریکیں خون کی گرمی ہی سے نمو پاتی ہیں۔ آپ ﷺ کی عزت و آبرو پر سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی حضرت حارث بن ابی ہالہؓ تھے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے جب تن تنہا پہلی بار حرم کعبہ میں ”لا الہ الا اللہ“ کا نعرہ بلند کیا تو کعبہ کے مشرک مجاوروں اور پجاریوں میں تہلکہ مچ گیا۔ یہ نعرہ ان کے دلوں پر بجلی بن کر گرا۔ ہر طرف ایک غلغلہ سا بلند ہوا اور وہ زخم خوردہ درندوں کی طرح آپ ﷺ پر حملہ آور ہوئے۔ یہ خبر ملتے ہی حضرت حارث بن ابی ہالہؓ فوراً دوڑتے ہوئے آئے اور حضور نبی کریم ﷺ کو بچانے کے لیے آگے بڑھتے ہوئے مشرکین کی صف میں گھس گئے اور انھیں مارنا شروع کر دیا۔ اسی دوران وہ غصے میں بھرے ہوئے مشرکین کی تلواروں کا ہدف بن گئے اور ان کے خون سے حرم پاک کی زمین رنگین ہو گئی۔ یہ خون جو بارش کے پہلے قطرے کی طرح حرم کعبہ میں گرا، حرمت رسول ﷺ پر قربان ہو جانے والے پہلے شہید کو زندہ جاوید اور داستانِ تحریک تحفظ ناموس رسالت کو ہمیشہ کے لیے امر کر گیا۔
زیر نظر تحریر آفتاب رسالت مآب ﷺ کے ایک ایسے ہی فدائی غازی عبدالقیوم شہیدؒ کی داستان شجاعت ہے جو نوجوانی میں اپنے آقا و مولا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حرمت پر قربان ہو گیا...... اہمیت اس بات کی نہیں ہوتی کہ کوئی کتنا عرصہ زندہ رہا بلکہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ اس عالم فانی میں قدم رکھنے کے بعد اس ہستی نے کیا کارہائے نمایاں انجام دیے اور معاشرے میں کسی قدر روشنی تقسیم کی...... شہاب ثاقب کی زندگی طوالت کے اعتبار سے قابل ذکر نہیں ہوتی، تاہم جس انداز میں وہ شب تاریک کو چیر کر رکھ دیتا ہے، اس کا ذکر گرمیٔ محفل کا سبب ضرور بنتا ہے۔
اسلام کے سرفروش مجاہد غازی عبدالقیوم 1911ء میں ہزارہ کے قریب ایک گاؤں ”غازی“ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے گاؤں کے قریب ایک پرائمری سکول میں داخل ہوئے مگر غربت کی وجہ سے پانچویں کلاس بھی پاس نہ کر سکے اور کم سنی ہی میں گھر کے معاشی حالات سدھارنے کے لیے سرگرم ہو گئے۔ ان کے والد جناب عبداللہ خاں ڈاک بنگلے میں ملازم تھے جو 1932ء میں انتقال کر گئے۔ آپ اپنی والدہ محترمہ جنت بی بی سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کا بڑا بھائی بھی بعد ازاں کہیں ملازم ہو گیا تھا۔ چھوٹی بڑی چھ بہنیں تھیں۔ بڑی شادی شدہ تھیں۔ ان کے دیگر رشتہ داروں کے معاشی حالات ان کی نسبت کافی بہتر تھے۔
عبدالقیوم جب بارہ تیرہ سال کے ہوئے تو ذرا بہتر مزدوری کرنے کی دھن میں اپنے حقیقی چچا رحمت اللہ خاں کے پاس کراچی آگئے۔ چچا نے کام کے لیے ایک گھوڑا گاڑی بنا دی اور وہ بخوشی اپنے کام میں جت گئے۔ یہ کبھی کبھی اپنے گاؤں بھی آتے اور کئی ہفتے گزار کر واپس کراچی آ جاتے۔ وہ اپنے ہم عمر دوستوں سے بھی گپ شپ کرتے۔ اسی دوران اُن میں مذہبی رجحان پیدا ہونے لگا اور وہ صوم وصلوٰۃ کے پابند ہو گئے۔ مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے اور ہر سال با قاعدگی سے روزے رکھتے۔ شہادت سے قبل جب آخری بار غازی عبدالقیوم اپنے گاؤں ”غازی“ آئے تو ان کی والدہ محترمہ نے ان کی محنت اور ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے غازی کی شادی گاؤں ہی کی ایک لڑکی ”دریائی خانم“ کے ساتھ کر دی۔ اب غازی عبدالقیوم عمر کے بائیسویں برس میں تھے۔ ان کا دل ایمان کی عظمت، دین کی صداقت اور نبی پاک ﷺ کی محبت میں سرشار تھا۔ ایک روز انھیں مسجد میں چسپاں ایک اشتہار اور مسجد کے پیش امام سے معلوم ہوا کہ آریہ سماج حیدرآباد سندھ کے سیکرٹری نتھو رام نے ”تاریخ اسلام“ کے نام سے ایک گستاخانہ کتاب شائع کی ہے جس میں اس نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی کا ارتکاب کیا ہے جس پر کچھ مسلم زعما نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا تھا۔ اس مقدمہ کے نتیجہ میں نتھو رام کی یہ کتاب ضبط کر لی گئی اور اسے چند ماہ کی قید اور معمولی جرمانہ ہوا تھا۔ نتھو رام نے اپنی سزا کے خلاف عدالت میں اپیل کی اور وہ ضمانت پر رہا ہو گیا۔ اب اپیل کا کیس چل رہا تھا۔ مسلمان اسے زیادہ سے زیادہ سزا کے حق میں تھے اور ہندوؤں کا زور اس بات پر تھا کہ وہ نتھو رام کو بغیر قید و جرمانہ کے بری کروالیں۔
غازی عبدالقیوم نے جب یہ سب کچھ سنا تو اس کا خون جوش مارنے لگا اور انھوں نے
فوراً فیصلہ کیا کہ وہ اپنے پیارے آقا و مولا حضور نبی کریم ﷺ پر جھوٹے بہتان لگانے والے گستاخ رسول، نتھورام کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ عبدالقیوم نے اپنے مصمم ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹوہ لگائی کہ یہ مقدمہ کس عدالت میں ہے اور اس کی تاریخ پیشی کون سی ہے؟ ضروری معلومات حاصل کرنے کے بعد انھوں نے ایک بڑا چاقو خریدا، اس کی دھار مزید تیز کروائی اور 20 ستمبر 1934ء کو یعنی مقدمہ کی سماعت والے روز متعلقہ عدالت میں آ گئے۔ عدالت کے باہر مسلمان اور ہندو بڑی تعداد میں اس مقدمہ کی کارروائی سننے کے لیے موجود تھے۔ کمرۂ عدالت بھی لوگوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ عبدالقیوم نے بالکل انجان بن کر معلومات حاصل کیں اور جلد ہی انھیں معلوم ہو گیا کہ نتھورام سامنے بنچ پر بیٹھا ہے۔ یہاں اور لوگ بھی بنچ پر بیٹھے تھے۔ وہ چاپلوسی سے کام لیتے ہوئے نتھورام کے ساتھ ہی چپ چاپ بیٹھ گئے۔ پھر انھوں نے موقع دیکھ کر اپنے گھٹنے کو اوپر کر کے اس کی آڑ میں اپنی شلوار کے نیفے سے چاقو نکال کر اسے کھولا اور آناً فاناً کھڑے ہو کر نتھورام پر اس قدر زور سے وار کیے کہ اس کے پیٹ سے انتڑیاں باہر آ گئیں اور اس کی گدی سے بھی خون کا فوارہ ابل پڑا۔ ایک دم سے عدالت میں بھگدڑ سی مچی اور لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ شاتم رسول نتھورام اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا۔
غازی عبدالقیوم نے فلک شگاف ”نعرۂ تکبیر“ بلند کیا۔ گستاخ رسول کے جہنم واصل ہونے پر اس وقت چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ دونوں انگریز جج خوف سے کانپ رہے تھے۔ ان کے چہروں پر ہوائیاں سی اڑنے لگیں۔ اس اثنا میں ایک پستول بردار تھانے دار غازی عبدالقیوم کے قریب آیا تو انھوں نے اپنا خون آلود چاقو زمین پر پھینکتے ہوئے گرفتاری دے دی۔ اسی دوران ایک انگریز جج مسٹر ڈی این او سلیوان، جو ایڈیشنل جوڈیشل کمشنر بھی تھا، اپنے حواس بحال کر کے ڈائس سے نیچے اترا اور غازی عبدالقیوم پر تحکمانہ انداز میں بڑبڑایا: ”تو نے اسے مار ڈالا؟“ غازی عبدالقیوم جس کی آنکھوں میں پہلے ہی خون اترا ہوا تھا، نے بلا توقف جواب دیا: ”اس ناہنجار نے میرے آقا و مولا محبوب خدا حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی تھی، اس پر مسلمانوں نے مقدمہ کیا تو اسے صرف چند ماہ قید اور معمولی جرمانہ کی سزا دی گئی، اس پر بھی اس نے ضمانت کروالی اور اب پھر اپیل میں بہت پرجوش تھا کہ میں بری ہو جاؤں گا جبکہ اتنی بڑی گستاخی کے بعد یہ صرف اور صرف موت کا مستحق تھا۔“ پھر غازی عبدالقیوم نے جج او سلیوان سے اُلٹا سوال کر دیا: ”اگر کوئی شخص اس (کمرۂ عدالت میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی جانب اشارہ
کرتے ہوئے) کی سخت توہین و تضحیک کرے تو کیا آپ اسے چھوڑ دیں گے؟‘‘ اس بات پر جج چھت کو گھورنے لگا۔ غازی اب بھی جوش میں نعرۂ تکبیر اور نعرۂ رسالت بلند کر رہا تھا کہ پولیس انھیں وین میں بٹھا کر لے گئی۔
جو شہنشاہ مدینہ ﷺ کے گدا ہوتے ہیں
تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے اس اہم واقعہ پر کراچی ہی کیا بلکہ ملک بھر کے تمام بڑے شہروں میں ہندو اور مسلم تنظیموں کے الگ الگ سنجیدہ اجلاسوں میں مختلف قراردادیں پاس ہوتی رہیں۔ ہر تنظیم نے اس واقعہ پر اپنی اپنی آرا کا اظہار کیا۔ اس اثنا میں مشہور بیرسٹر سیّد محمّد اسلم شاہ نے غازی عبدالقیوم کے چچا رحمت اللہ سے ملاقات کر کے غازی عبدالقیوم کا مقدمہ بغیر کسی معاوضہ کے لڑنے کی پیش کش کی۔ چچا کی اجازت کے بعد یہ بیرسٹر غازی عبدالقیوم سے وکالت نامہ اور دیگر کاغذات پر دستخط کروانے جیل گئے تو انھوں نے غازی عبدالقیوم کو بہت مطمئن پایا۔ آئیے! اس ملاقات اور مقدمے کی روداد اُن کی زبانی سنتے ہیں:
’’اس سے پہلے بھی میں نے جیل میں قتل کے کئی ملزموں سے ضابطے کی ملاقاتیں کی تھیں، اور ان کی صورتیں بھی مجھے یاد ہیں مگر جو اطمینان اور سکون غازی عبدالقیوم کے چہرے سے ہویدا تھا، وہ کسی اور چہرے پر نظر نہ آیا۔ جب میں نے انھیں بتایا کہ میں آپ کا مقدمہ لڑوں گا، تو مرد مجاہد پکار اٹھا!
’’بیرسٹر صاحب! آپ مقدمہ لڑیں یا نہ لڑیں، میں نتھو رام کو کیفر کردار پہنچا کر بہت خوش اور مطمئن ہوں۔ میں نے اقبال جرم بھی کر لیا ہے اور میں کبھی بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا۔ میں نے اپنے آقا و مولا ﷺ پر جھوٹا بہتان لگانے والے کو واصل جہنم کیا ہے۔ میں اس قتل کا انکار کر کے شہادت جیسی عظیم سعادت سے ہرگز محروم نہیں ہونا چاہتا‘‘۔
میں نے نوجوان غازی کو تشفی دی اور کہا: تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو، چاہے تم اپنے بیان سے منحرف نہ ہونا، لیکن میں کوشش کروں گا کہ تمھیں کم از کم سزا ہو‘۔ مگر میری اس تشفی پر انھوں نے خوشی کا اظہار نہ کیا۔ میں نے دو چار باتیں اور کیں اور وکالت نامہ پر دستخط لے کر واپس آگیا۔
ہندوؤں کی پس پردہ سازشوں کے نتیجہ میں اینگلو انڈین قانون کا ضابطہ اپنی مخصوص
اور روایتی چال کے بجائے اتنی تیزی سے حرکت میں آیا کہ مہینوں کا کام گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔ پہلی رپورٹ کے بعد تفتیش اور چالان وغیرہ سب کچھ دو دن میں مکمل ہوگیا اور مقدمہ قتل عمد سماعت کے لیے ابتدائی عدالت میں پہنچ گیا۔ جب میں نے گواہان صفائی کی فہرست پیش کی تو اسے پڑھ کر مجسٹریٹ بہادر چونک اٹھے۔ میں نے دوسرے گواہوں کے علاوہ مولانا ظفر علی خاں، سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری، خواجہ حسن نظامی، علامہ اقبال، پیر سید غلام مجدد سرہندی، مولانا شوکت علی اور مفتی کفایت اللہ کے علاوہ متعدد مقتدر علما کو طلب کیا تھا۔ عدالت نے اعتراض کیا کہ یہ گواہ مقدمے سے غیر متعلق ہیں ، اس لیے نہیں بلائے جاسکتے۔ میں نے جواب دیا کہ جس جذبے کے تحت استغاثہ عبدالقیوم کو قاتل قرار دیتا ہے، اس جذبے کی نفسیاتی توجیہہ کی صحیح ترجمانی یہی حضرات کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے میری یہ دلیل جج کے فہم سے بالاتر تھی، چنانچہ اس نے قانونی موشگافیوں کو نہ سمجھتے ہوئے میری درخواست خارج کردی۔ میں نے فوراً جوڈیشل کمشنری کراچی میں اپیل دائر کردی جس کے دو جج اوسالون اور فیرس وقوعہ کے چشم دید گواہ تھے۔ اپیل دائر کرنے کے ساتھ ساتھ میں نے ان ججوں کے اختیار سماعت پر قانونی اعتراض بھی کر دیا۔ کراچی جوڈیشل میں اس وقت چار جج تھے۔ دو چھوٹے اور دو بڑے۔ ان میں سے تین اس درخواست کی سماعت کے اہل نہ تھے، چوتھے سیشن جج تھے۔ چنانچہ عدالت عالیہ کے ججوں نے ایک جج مسٹر لوبو (Lobo) کو طلب کر کے بنچ ترتیب دے لیا۔ اپیل کی سماعت شروع ہوئی اور بنچ نے بھی یہی فیصلہ دیا کہ ان غیر متعلقہ گواہوں کو بلانے کی کوئی گنجائش نہیں، چنانچہ اپیل خارج ہوگئی۔ دو تین روز بعد مقدمہ سیشن جج کراچی کی عدالت میں آگیا۔ مقدمے کی اہمیت کے پیش نظر عدالت نے اسے ”جیوری ٹرائل“ قرار دیا۔ جیوری 9 افراد پر مشتمل تھی جن میں چھ عیسائی، ایک پارسی اور دو ہندو تھے۔
قتل کے عام مقدموں کے برعکس اس مقدمے کا کام بہت سیدھا سادا اور مختصر تھا۔ صفائی کا تو کوئی گواہ تھا ہی نہیں، سارا دارو مدار قانونی بحث پر تھا۔ ثبوت میں اوّل تو خود عدالت عالیہ کے دو انگریز جج تھے۔ دوسرے غازی عبدالقیوم نے اپنے اقبالی بیان میں تسلیم کر لیا تھا کہ میں نے جونا مارکیٹ کی مسجد میں پیش امام کی زبانی نتھو رام کے گستاخانہ پمفلٹ کے مندرجات سنے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کل اس کی اپیل سماعت کے لیے عدالت میں پیش ہورہی ہے۔ چنانچہ اگلے روز میں نے اپنا کاروبار چھوڑا، بازار سے ایک خنجر خریدا، اسے تیز کرایا اور سماعت سے پہلے
ہی عدالت میں پہنچ گیا۔ ایک نامعلوم شخص کے ذریعے نتھو رام کو شناخت کیا اور پھر اس کے قریب ہی جا کر بیٹھ گیا۔ میں نے اسے کن اکھیوں سے دیکھا۔ یکا یک میرے سینے میں غیظ و غضب کا طوفان امنڈ آیا۔ میں آپے سے باہر ہو کر اپنی نشست سے اٹھا، شلوار کے نیفے میں چھپایا ہوا خنجر نکالا اور چشم زدن میں نتھو رام کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ اس کی آنتیں نکل آئیں اور وہ منہ کے بل گر پڑا۔ دوسرا وار اس کی گدی پر کیا اور یہ ضرب پہلی سے زیادہ کاری ثابت ہوئی، خون کا فوارہ پھوٹ نکلا اور چند ہی منٹ میں اس کا قصہ تمام ہو گیا۔
اس اقبالی بیان کی تائید میں ضابطے کے بیانات ہوئے اور استغاثے کے چشم دید گواہ (عدالت عالیہ کے دو جج) پیش ہوئے۔ جہاں تک واقعاتی پہلو کا تعلق تھا، بچاؤ کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ بس جذبے اور ارادے والی بات رہ گئی تھی۔ غازی موصوف کے اقبالی بیان سے صاف ظاہر تھا کہ اس نے یہ اقدام ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ کر کیا تھا۔ اس میں فوری اشتعال اور فوری عمل کا کوئی ہاتھ نہ تھا۔ تاہم میں نے کیس کو تقریباً انھی خطوط پر تیار کیا اور قانون سے زیادہ نفسیات انسانی اور تاریخ سے بحث کی۔ جیوری اور جج کے سامنے میں نے جو بحث کی، وہ شاید برطانوی ہند میں اپنی نوعیت کی واحد اور منفرد بحث تھی۔ جس روز بحث ہونا تھی، میں قانونی پلندوں کے بجائے قرآن کریم کا ایک نسخہ لے کر عدالت میں پیش ہوا۔ جج اور جیوری میرے ہاتھ میں قرآن پاک کا نسخہ دیکھ کر متحیر رہ گئے۔ عام وکلاء سے ذرا پیچھے ہٹ کر میں نے بلند آواز میں بحث کا آغاز کیا اور کہا:
”حضور والا و معزز صاحبانِ جیوری! مجھے مقدمے کے واقعے کے بارے میں کچھ نہیں کہنا کیوں کہ جہاں تک وقوعے کا تعلق ہے، وہ ثابت ہو چکا ہے۔ مجھے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ میرا یہ اقدام اس قانون پر مبنی تھا اور یہ آئین جو آج چین کی سرحد سے لے کر مراکش تک جاری و ساری ہے جسے کئی حکومتیں اپنے پینل کوڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، ہماری تہذیب اور ہمارے کلچر کی بنیاد ہے۔ میں جانتا ہوں کہ عدالت اس کوڈ سے انکار کر کے اس کے تقدس کو ٹھیس پہنچائے گی، لہٰذا میں اسے کھول کر نہیں دکھاؤں گا۔ لیکن مجھے جو کچھ کہنا ہے، اسی کے سہارے کہوں گا۔ اس میں بار بار مذہبی پیشواؤں کو بُرا کہنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا حادثہ نہیں ہے، گزشتہ چند سال میں ایسی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں، خصوصاً دلی اور لاہور میں بالکل اسی نوعیت کے دو قتل ہو چکے ہیں۔
حضور والا، صاحبان جیوری! ہر شخص جانتا ہے کہ فطرتِ انسانی دوسرے کی بدزبانی برداشت نہیں کرسکتی۔ اس سے نفسیاتی طور پر جواب اور انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں انسان اپنی استطاعت کے مطابق زبان، قلم یا ڈنڈے سے کام لے کر اپنی انا کی تسکین کرتا ہے۔ اگر گذشتہ واقعات کے فوراً بعد اس قسم کی حرکتوں کے انسداد کے لیے قانون کوئی موثر کارروائی کرتا تو نتھو رام کی وارداتِ قتل ہرگز نہ ہونے پاتی۔ مسلمان ایک عرصے سے ہندو اکثریت اور برطانوی حکومت کو سمجھا رہا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اس کے جذبات وحسیات کی شہ رگ ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کے معاملے میں وہ اتنا ذکی الحس واقع ہوا ہے کہ معمولی سی گستاخی پر بھی اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتا ہے۔ دوسرے کی جان تو ایک طرف، وہ خود اپنی جان کی کوئی قیمت نہیں سمجھتا۔ لیکن نہ ہندو اکثریت نے اس طرف دھیان دیا، نہ برطانوی حکومت کے کانوں پر کوئی جوں رینگی، چنانچہ نتیجہ ظاہر ہے۔ ماہر نفسیات ہونے کی حیثیت سے میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر اس مسئلہ کی طرف توجہ نہ دی گئی تو ایسے ہولناک واقعات آئندہ بھی ہوتے رہیں گے، انھیں نہ ہندو اکثریت روک سکے گی اور نہ تعزیرات ہند کی کوئی دفعہ۔‘‘
اس مرحلے پر جج نے مداخلت کی۔ ہاتھ کے اشارے سے مجھے روکا اور پہلو بدلتے ہوئے بولا: ’’کیا فاضل جورسٹ اپنی بحث سے فرقہ وارانہ منافرت کو نہیں ابھار رہے ہیں؟‘‘
حضور والا! میں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا ’’منافرت کا مخرج اور سرچشمہ جہاں ہے، دراصل وہیں سے نفرت کے جذبات ابھر رہے ہیں۔ میں تو مقتول نتھورام کی کتاب ’’تاریخِ اسلام‘‘ کے ابھارے ہوئے جذبہٴ منافرت کے عوامل ونتائج پر تقریر کر رہا ہوں۔ میں پھر عرض کرتا ہوں کہ اس ضمن میں مسلمان کے اعصاب، توازن برقرار رکھنے سے قاصر ہیں، اس لیے وہ نہ تعزیرات ہند سے گھبرائے گا نہ پھانسی کے پھندے سے ڈرے گا۔ حتیٰ کہ چین سے مراکش تک پھیلے ہوئے مسلمانوں کا بچہ بچہ اس فتنے کا سر کچلنے کے لیے میدان میں آجائے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسی صورت سے دوچار ہونے والے مسلمان کا سوچ سمجھ کر اٹھایا ہوا اقدام بھی فوری اشتعال کی تعریف میں آنا چاہیے۔‘‘
اس مرحلے پر میں نے قرآن مجید کو ذرا بلند کرتے ہوئے کہا ’’حضور والا! جو کچھ میں نے کیا ہے، اس قانون کی رو سے اپنا فرض سمجھ کر کیا ہے جس کے ساتھ چودہ سو برس سے میں نے پیمانِ وفا باندھ رکھا ہے اور ان خطوط پر پشت ہا پشت سے میرا تربیتی ماحول تشکیل ہوتا چلا
آ رہا ہے۔ میں نے اپنی دانست میں قانون کو نہیں، انصاف کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔ میرے اس اقدام میں شدید اور فوری غیظ و غضب کی کارفرمائی تو ضرور ہے مگر قاتل کے سے جذبے کا کوئی شائبہ دور دور تک نہیں ہے۔ پھر سب سے زیادہ معصوم جذبہ اس عہد کی پاسداری ہے جس پر میرے ایمان کی بنیاد ہے اور یہی چیز مجھے بے قصور اور سزا سے بری قرار دیتی ہے۔“
جج میری تقریر پر بہت جزبز ہوا۔ شاید یہ منطقی بحث اس کے مزاج کے لیے قابل قبول نہ تھی مگر میرے پاس بھی اپنے دفاع کو مستحکم کرنے کے لیے کوئی اور دلیل نہ تھی۔ اس نے ”عہد کی پاسداری“ کے الفاظ دہرائے اور بڑبڑاتے ہوئے کہا ”تم اپنے فہم و تدبر اور سطح سے نیچی بات کر رہے ہو، تمہارے جیسے فاضل مقنن سے اس کی توقع نہ تھی۔“ مجھے وکیل کی جبلت کے برعکس تاؤ آ گیا۔ پینترا بدلا اور کہا:
حضور والا! یوں سمجھ لیجیے کہ کچھ اس قسم کے عہد کی پاسداری نہ کرنے پر چار اگست 1914ء کو ہمارے شہنشاہ جارج پنجم نے ایک چھوٹے سے ملک کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا۔ عظیم برطانیہ کو اس جنگ میں سب سے بڑے رکن کی صورت میں شامل ہونا پڑا۔ ایک چھوٹے سے عہد کی خلاف ورزی کے نتیجے میں وہ خونریزی ہوئی کہ لاکھوں بچے یتیم ہو گئے، لاکھوں عورتوں کے سہاگ لٹ گئے اور دنیا کا جغرافیہ کچھ سے کچھ ہو گیا۔
میں نے جس عہد کا ذکر کیا، اس میں آج پچاس کروڑ مسلمان جکڑے ہوئے ہیں جو کسی قانونی دفعہ، پھانسی کے پھندے، تلوار کے گھاؤ یا بندوق کی گولی سے ڈر کر اس عہد سے روگردانی نہیں کر سکتے۔ لہٰذا جہاں تک ”ناموس محمدﷺ“ کا سوال ہے، مسلمانوں کا رونگٹا رونگٹا عبدالقیوم ہے۔ پس میری عرض ہے کہ ایک ایسے معصوم انسان کو جو ذہنی و تربیتی طور پر بلائنڈ فیتھ کی رسی میں جکڑا ہوا ہے، جو ایک اَن پڑھ دیہاتی نوجوان ہے اور اپنی افتاد طبع کے مطابق فوری اشتعال کے تحت اس فعل کا مرتکب ہوا ہے، جس کو آج بھی وہ اپنا فرض عین سمجھ رہا ہے، اسے کسی سزا کا مستوجب نہیں ہونا چاہیے۔ اگر عدالت یہ سمجھتی ہے کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کر گیا ہے تو اسے تھوڑی بہت قیدِ بامشقت سے زیادہ کوئی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ آپ کی عدالت جنسی رقابت کے معاملے میں رقیب کو دن دیہاڑے قتل کرنے والے اقبالی مجرم کو بری کر سکتی ہے اور اراضی کے قبضے اور بے دخلی کے سلسلے میں مالک کو ہلاک کرنے والے مزارع کے لیے صرف چار چھ سال کی سزا کافی سمجھتی ہے تو عبدالقیوم کے معاملے میں کیوں نرمی سے کام نہیں لے سکتی؟“
یہ بتایا جاچکا ہے کہ مقدمہ کی اہمیت کے پیش نظر نہ صرف کراچی بلکہ بہت سے دیگر شہروں سے آئے ہوئے لوگوں کا جم غفیر عدالت کے باہر جمع تھا۔ پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔ معروف ہندو وکلا اور صحافی وغیرہ بھی موجود تھے۔ چہار جانب ایک بے چینی اور اضطراب تھا۔ یہ 19 اکتوبر 1934ء کا دن تھا۔ عدالت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ ہوا۔ عدالت کے کمرہ میں ایک مہیب سناٹا تھا کہ اچانک کرسی پر جج نمودار ہوا اور جج کے پیشکار نے چپڑاسی سے کہا کہ ملزم حاضر کیا جائے۔ غازی عبدالقیوم بڑی شان بے نیازی کے ساتھ بیڑیاں پہنے، سر اٹھائے سنگین برداروں کے حلقے میں کٹہرے میں آ کھڑے ہوئے۔ پھر ایک موت کی سی خاموشی میں جج نے ایک فائل اُلٹ پلٹ کر دیکھی اور آہستہ سے فیصلہ سنا دیا۔ ”عبدالقیوم خاں، تمہیں موت کی سزادی جاتی ہے“۔
غازی عبدالقیوم نے سزا سنی تو بآواز بلند کہا: ”الحمدللہ“۔ وہ زیرلب مسکرا رہے تھے جبکہ پولیس کی وسیع نفری اندیشہ نقض امن کی صورت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے موجود تھی۔ ہندو تو فوراً ہی وہاں سے تتر بتر ہو گئے جبکہ مسلمانوں کا ہجوم منتشر کرنے کے لیے پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔ بعدازاں کراچی اور دیگر شہروں میں اسی مسئلے پر فرقہ وارانہ فسادات ہونے لگے۔ اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ یہاں سے بھی غازی عبدالقیوم کی اپیل خارج ہو گئی۔ پیشتر مسلم تنظیموں کے اجلاسوں میں یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا کہ عبدالقیوم کے لیے رحم کی اپیل کی جائے۔ اس زمانے میں سندھ چونکہ بمبئی کی عمل داری میں آتا تھا، اس لیے بیرسٹر سید محمد اسلم شاہ اور دیگر زعما نے بہت سوچ سمجھ کر ایک اپیل برائے رحم تیار کر کے گورنر بمبئی کو بھیج دی۔ پھر گورنر بمبئی کے دفتر سے جواب بھی آگیا کہ ہم اس رحم کی اپیل کا فیصلہ جلد کریں گے۔
اس اثنا میں جیل حکام کی جانب سے غازی عبدالقیوم کے رشتہ داروں سے ان کی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ جب غازی عبدالقیوم کو ان کے رشتہ داروں سے ملاقات کا بتایا گیا تو اس وقت بھی غازی عبدالقیوم تلاوت کلام پاک میں مصروف اور ہشاش بشاش نظر آ رہے تھے۔ والدہ کو دیکھ کر وہ فرط جذبات سے ان سے لپٹ گئے۔ ان کا چہرہ مسکرا رہا تھا بلکہ ایک نور سا جھلکتا تھا۔ والدہ محترمہ نے فرمایا: ”بیٹا! میں خوش ہوں کہ تم نے ایک بڑا کارنامہ انجام دیا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو قتل کیا لیکن اگر کچھ خیال ہے تو اتنا کہ میں تین ماہ قبل دریائی خانم کی تم سے شادی ہی نہ کرتی....... غازی عبدالقیوم نے جھٹ کہا:
”ہاں! ایسے بھی لوگ ہیں جو رات کو شادی کرتے ہیں اور صبح راہ خدا میں قربان ہو جاتے ہیں، انھیں بھی تو شہید کا درجہ ملتا ہے“۔ ماں نے ان کی بات سن کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے غازی عبدالقیوم سے سب کے لیے دعا کرنے کو کہا اور خود بھی ان کی بلندی درجات کے لیے دعا کی۔ اس کے بعد غازی عبدالقیوم کی ملاقات اس کی نئی نویلی دلہن دریائی خانم سے ہوئی۔ دریائی خانم نے بھیگی پلکوں سے اپنے تاجدار کا استقبال کیا اور نہایت آہستگی سے کہا: ”میں نے آپ کو اپنے سب حقوق معاف کیے“۔ غازی عبدالقیوم نے اہلیہ محترمہ کے لیے دعائے صبر فرمائی اور ہمشیرگان، بھائی، والدہ محترمہ اور جملہ عزیز واقارب کو بھی صبر کی تلقین فرماتے ہوئے فرمایا: ”یہ جان ناتواں جب شمع رسالت ﷺ پر نثار ہو جائے (یعنی میں شہید کر دیا جاؤں) تو انتہائی صبر سے کام لینا اور ایک آنسو بھی نہ بہانا...... اللہ حافظ“۔
دوسری جانب غازی عبدالقیوم سے محبت کرنے والی تنظیمیں اپنی بیٹھکوں اور اجلاسوں میں اس کوشش پر زور دے رہی تھیں کہ کس طرح رحم کی اپیل منظور کروائی جائے۔ چنانچہ اس غرض کے لیے کراچی سے ایک تین رکنی وفد لاہور میں حضرت علامہ اقبالؒ کی خدمت میں بھیجا گیا کہ وہ وائسرائے ہند سے مل کر غازی عبدالقیوم کی سفارش کریں تا کہ ان کی سزائے موت، عمر قید میں تبدیل ہو جائے۔ جب وفد نے علامہ اقبال سے اپنا مدعا بیان کیا تو علامہ اقبالؒ گہری سوچ میں ڈوب گئے، پھر عجیب تیوروں کے ساتھ دریافت کیا: ”کیا عبدالقیوم کمزور پڑ گیا ہے؟“
وفد کے اراکین نے کہا: ”نہیں، ایسا ہرگز نہیں، وہ تو اس پھانسی کو اپنے لیے بڑی سعادت سمجھ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں حرمت رسول ﷺ پر قربان ہو جاؤں تو اس سے بڑی کوئی بات نہیں اور یہ شہادت تو میں نے خرید لی ہے“۔
علامہ صاحبؒ اس مقدمے سے پہلے ہی آگاہ تھے۔ ان کا چہرہ تمتما رہا تھا۔ انھوں نے برہمی کے لہجے میں فرمایا: ”جب عبدالقیوم خود کہہ رہا ہے کہ میں نے یہ شہادت خریدی ہے تو میں اس کے اجر وثواب میں کیسے حائل ہو سکتا ہوں؟ کیا تم چاہتے ہو کہ میں ایک ایسے مسلمان کے لیے وائسرائے کی خوشامد کروں جو زندہ رہا تو غازی اور مر گیا تو شہید ہے؟“
چنانچہ وہ وفد چپ چاپ کراچی واپس آگیا۔
رحم کی اپیل مسترد ہونے کے فوراً بعد 19 مارچ 1935ء کو صبح 4 بجے چپکے سے غازی
عبدالقیوم کو تختہ دار پر چڑھا کر پھانسی دے دی گئی اور قبرستان میوا شاہ کے متولی کی اجازت سے اسی رات بارہ بجے کے قریب ایک درگاہ کے احاطے میں قبر بھی کھدوا دی گئی تھی۔ اس راز سے جیل کے حکام بالا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا متعلقہ پولیس ہی واقف تھی۔ غازی عبدالقیوم کے رشتہ دار اس بات سے قطعاً بے خبر تھے۔ انھیں آخری ملاقات کا موقع نہیں دیا گیا مگر پھانسی دینے کے فوراً بعد غازی عبدالقیوم شہید کے رشتہ داروں کو پولیس کی گاڑی بھیج کر انھیں نیند سے جگا کر کہا گیا کہ آپ عبدالقیوم سے آخری ملاقات کرلیں۔ جیل انتظامیہ کے ذمہ داران پولیس گاڑی میں بٹھا کر انھیں شہر سے دور میوا شاہ قبرستان کی جانب لیے جارہے تھے۔ رشتہ داروں کے استفسار پر پولیس نے بتایا کہ ”ہاں! عبدالقیوم یہیں ہے“۔ وہ ذرا آگے بڑھے تو منظر ہی کچھ اور تھا۔ پولیس نے ایک امام مسجد حافظ غلام رسول کو بلا کر 6، 7 آدمیوں کے ہمراہ شہید کی نماز جنازہ بھی ادا کر دی تھی اور اب وہ اس شہید کی میت قبر میں اتار رہے تھے۔ اس بات کی اطلاع ملتے ہی لوگوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ چنانچہ قبرستان میوا شاہ میں لمحہ بہ لمحہ ہجوم زیادہ ہونے لگا تو یہ مطالبہ بڑھ گیا کہ غازی عبدالقیوم شہید کا چہرہ دکھایا جائے اور ان کی نماز جنازہ کسی بڑے میدان میں ادا کی جائے۔ جب لوگ اور زیادہ ہوئے تو پولیس شہید کی میت قبرستان میں چھوڑ کر بھاگ گئی۔ اب آگے کا واقعہ بہت ہی زیادہ بھیانک اور دلخراش ہے۔ اب ہجوم میت کو ایک چارپائی پر رکھ کر عیدگاہ کی طرف چل پڑا۔ لوگ مزید آگئے۔ دفعہ 144 کے باوجود سینکڑوں سے مجمع ہزاروں میں بدل گیا۔ قریباً گیارہ بجے کا عمل ہوگا کہ یہ جلوس چوکی واڑ کی طرف روانہ ہوگیا اور شہید کی میت کا یہ جلوس ابھی عیدگاہ سے قریباً ایک سو گز کے فاصلے پر ہوگا کہ گوروں کے ایک فوجی دستے نے سامنے سے ان کا راستہ روکا۔ اسی اثنا میں ایک فوجی دستہ ان کے عقب میں آگیا۔ یہاں سڑک کے دونوں جانب مکان اور سڑکیں تھیں۔ اتنے میں ایک کار بھی آگئی جس میں ایک فوجی افسر کے ہمراہ دو آنریری مجسٹریٹ (جہانگیر پٹھاٹھا اور رائے بہادر شورام دیوان مل) بھی سوار تھے۔ یہ کار ہجوم کو چیرتی ہوئی جلوس کے آگے پہنچ گئی۔ اس پر جلوس کے شرکا میں سے کچھ لوگ بپھر گئے اور انھوں نے اس حرکت کو خلاف مذہب اور میت کی توہین کے مترادف قرار دیا۔ افسران نے ان کے احتجاج کو کوئی اہمیت نہ دی تو بعض مکرانی نوجوانوں نے جوش میں آ کر ان کی گاڑی پر چند پتھر پھینک دیے۔ ان میں سے ایک پتھر دیوان مل کو بھی جالگا، تاہم یہ کار جلوس کے آخری حصے پر پہنچ گئی۔ اس کے فوراً بعد فوجی دستوں کو حکم ملا....... فائر....... اور گوروں کی سسکس رجمنٹ
نے جلوس پر سیدھا فائر کھول دیا۔ فوراً ہی ایک قیامت برپا ہوگئی۔ لوگ شہید اور زخمی ہو کر گر رہے تھے۔ جس کا جدھر منہ تھا، وہ ادھر ہی بھاگ رہا تھا۔ شہید کی نعش زمین پر پڑی تھی۔ گورا فوج نے فائر سے قبل کوئی انتباہ کیا اور نہ ہی لاٹھی چارج کی نوبت آئی۔ کسی بھی شخص کو اس نوع کے غیر قانونی قتل عام کا گمان تک نہ تھا۔ اس کارروائی میں 49 مسلمان شہید اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے، حالانکہ اس قتل وغارت گری کے وقت مسٹر گبسن کمشنر سندھ، کراچی میں موجود تھے اور وہ لوگوں کو منتشر کرانے کے لیے دیگر ذرائع اختیار کروا سکتے تھے۔ موقع پر شہید ہونے والے زمین پر پڑے تھے۔ مجروحین اور وہ جنہیں گولیوں نے نہیں چھوا تھا، نے جیسے تیسے بھاگ کر میدان خالی کر دیا تو فوجیوں نے غازی عبدالقیوم شہید کا جسد خاکی میوا شاہ قبرستان لے جا کر دفن کر دیا۔
اب کراچی اور نزدیک کے شہروں میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ برصغیر کے قریباً تمام بڑے شہروں میں مسلمان تنظیموں نے احتجاجی اجلاس منعقد کیے۔ قراردادیں پاس کیں۔ وائسرائے و گورنر کو تار ارسال کیے گئے۔ مسلمان تنظیموں کا پر زور مطالبہ تھا کہ بلاوجہ اور بغیر وارننگ دیے، اتنے زیادہ مسلمانوں کو تہ تیغ کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ بہت سی تنظیمیں مسلمان شہدا کے پس ماندگان کے لیے معاوضہ کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ بعض تنظیمیں اپنے طور پر چندہ جمع کر کے رقم شہید خاندانوں تک پہنچانے کی سعی کر رہی تھیں۔ مسلم اخبار و جرائد میں بڑے بڑے زعما کی بے شمار تقاریر و تحاریر شائع ہوتی رہیں جنہوں نے اپنے قلم و زبان سے حکومت پر خوب تنقید کی۔ بعض تنظیمیں غازی عبدالقیوم شہید کا بڑا مزار بنانے کے لیے کوشاں رہیں۔ دوسری جانب پورے سندھ کی ہندو تنظیمیں بھی جلسے کر رہی تھیں اور گستاخ رسول ﷺ، مردود نتھورام کو قومی ہیرو اور ”شہید“ قرار دے رہی تھیں اور چندہ اکٹھا کر کے نتھورام کی یادگار بنانے کی فکر کر رہی تھیں۔ ان جلسوں میں مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز باتیں کی جاتیں۔
”الفقیہہ“ 17 اکتوبر 1934ء کی اشاعت میں غازی عبدالقیوم شہیدؒ کے مجاہدانہ بیان کے ضمن میں لکھتا ہے: ”ہر وہ شخص جو میرے آقا و مولا پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے، میرا عقیدہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توہین کرتا ہے اور میں اس جذبہ سے سرشار ہو کر اپنی زندگی اپنے آقا ومولا پر نچھاور کر رہا ہوں“۔
روزنامہ ”انقلاب“ نے اپنی اشاعت 13 اکتوبر 1934ء کے اداریہ میں لکھا: ”جہاں عدالت بھی غیر مسلم ہو اور جیوری میں بھی کوئی مسلمان نہ ہو، وہاں عدالت اور جیوری کے
ارکان یہ اندازہ کیونکر لگا سکتے ہیں کہ وہ کون سی آگ تھی جس نے عبدالقیوم کو جرم قتل کے ارتکاب پر مجبور کر دیا۔ یہ صحیح ہے کہ ان حضرات کو ان جذبات مقدسہ کا عمق معلوم نہیں لیکن کم از کم ان کو یہ تو سوچنا چاہیے تھا کہ عبدالقیومؒ کو نتھورام سے کوئی ذاتی عناد نہ تھا، نہ ان دونوں کے درمیان کوئی زر، زمین کا جھگڑا تھا۔ نتھورام نے اپنی کتاب ”تاریخ اسلام“ میں مسلمانوں کے آقا و مولا ﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے انھیں ناقابل برداشت اشتعال دلایا تھا۔ اگر ایسی حالت میں ایک پرجوش مسلمان محض حرمت رسول ﷺ کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر نتھورام کو قتل کر دیتا ہے تو یقیناً قانون کے پاس ایسی گنجائش موجود تھی جس سے کام لے کر عبدالقیومؒ کو کم از کم پھانسی سے بچایا جاسکتا تھا۔ عدالتوں میں بے شمار ایسے مقدمات پیش ہوتے ہیں جن میں جرم قتل ثابت ہونے کے مجرم کو پھانسی کی سزا نہیں دی جاتی“۔
حضرت سجادہ نشین سیال شریف اپنے ایک مکتوب میں غازی عبدالقیوم شہیدؒ سے متعلق ”انقلاب“ 18 دسمبر 1934ء کی اشاعت میں فرماتے ہیں: ”غازی عبدالقیوم فیصلہ عدالت کے ماتحت سزائے موت کے مستحق قرار پاگئے کیونکہ انھوں نے ایک جان کو ہلاک کر دیا تھا لیکن اگر عدالت ایک جان کا اتنا احترام کرتی ہے تو اس کو آٹھ کروڑ مسلمانوں کی جانوں کا احترام بھی کرنا چاہیے جو مقتول کی گستاخی اور دریدہ دہنی سے سخت مجروح و بسمل ہو چکی تھیں۔ برطانیہ کی عدالت اس کو نہیں سمجھ سکتی کہ رسول اکرم ﷺ کی ناموس کا مسلمانوں کے دل میں کس قدر احترام اور اس کی کس قدر عزت و وقعت ہے۔ اس ناموس کی حفاظت میں ایک مسلمان اپنی جان و مال و عزت، سب کچھ نہایت آسانی کے ساتھ قربان کر سکتا ہے۔ پس اگر حکومت ایک معمولی، بے وقعت انسان کی جان کی خاطر ضابطہ کو عمل میں لاتی اور اس کے لیے قانون بناتی ہے تو اس کا یہ فرض بھی ہونا چاہیے کہ جس ذات کے ساتھ صرف ہندوستان میں آٹھ کروڑ جانیں وابستہ اور اس کی ناموس کی حفاظت کے لیے سر بکف ہوں، اس کی بے ادبی اور گستاخی کرنے والے کے حق میں بھی سخت سے سخت سزا قانون کی دفعات میں شامل کرے، ایک معمولی جان کے ہلاک کرنے والے کی سزا تو پھانسی اور آٹھ کروڑ جانوں کو حواس باختہ اور بے دم کرنے والے کی سزا محض معمولی جو چند ماہ یا زیادہ سے زیادہ ایک سال میں ختم ہو جائے۔ اس طرح نہ تو گستاخی کا دروازہ بند ہو سکتا ہے اور نہ اپنے طور پر قانون ہاتھ میں لینے والوں کا فعل رک سکتا ہے، جب وہ دیکھیں گے کہ گستاخ اور بے ادب دریدہ دہن کو کافی سزا نہیں دی جائے گی تو کچھ
عجب نہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہو جائیں۔ پس عدالتوں کا یہ طرز عمل خود قانون کی بے احترامی کا باعث ہو رہا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی شان میں دریدہ دہنی بند ہونے کی صرف دو راہیں ہیں:
- 1- یہ کہ گستاخ اور دریدہ دہن کو انتہائی سخت سزا دی جائے جس سے دوسروں کو عبرت ہو
اور اس کو قانون کی دفعات میں شامل کیا جائے۔
- 2- یا پھر ان کو آزادی دی جائے جو بہ طور خود قانون ہاتھ میں لے کر سزا دے دیتے
ہیں۔ اس سے غازی عبدالقیوم کی سزا کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا“۔
جناب سعید صدیقی اپنے کالم ”ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز“ میں لکھتے ہیں:
”21 مارچ 1935ء کو مسلمان ممبر اسمبلی جناب کے ایل گابا نے تحریک التوا روک کر پولیس کے گولی چلانے اور مسلمانوں کی ہلاکتوں پر بحث کرنے کی تجویز پیش کی۔ SIR HENRY CRAIK ہوم ممبر نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا اگر مسلمانوں کے ہجوم کو جنازے کو کاندھا دینے کی اجازت دے دی جاتی تو امن و امان کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ قائد اعظم نے سر ہنری کریک کے موقف کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ قائد اعظم نے کہا کہ ان کے خیال میں معزز ممبر نے عقل و دانش کو بروئے کار لانے کے بجائے تن آسانی سے کام لیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ آنریبل ہوم ممبر نے 20 ہزار کے مجمع کو کنٹرول کرنے کا کیا انتظام کیا؟ جیل سے قبرستان دو میل کے فاصلے پر ہے، 20 ہزار کا مجمع قبرستان کیسے پہنچ گیا۔ بادشاہ آتا ہے تو آپ تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دیتے ہیں۔ آپ نے تو مجمع کو ذبح کرنے کے لیے ان پر گولی چلا دی۔ آپ کو معلوم تھا کہ لوگوں کے جذبات بھڑکے ہوئے ہیں، جنازے کو کاندھا دینا مجمع کا حق تھا۔ حالات کے خراب ہونے کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے، میرا مطالبہ یہ ہے کہ اس سنگین واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جائے۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آنریبل ہوم ممبر، کمیشن قائم کرنے کی کیوں مخالفت کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس موقع پر سول اتھارٹی کیا کر رہی تھی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا تھا؟ ہوم ممبر سر ہنری کریک نے کہا کہ گولی چلانے کا حکم فوجی کمانڈر نے دیا۔ قائد اعظم نے اس پر یہ ریمارکس دیئے کہ فوجی کمانڈر نے میرے خیال میں حالات کی نزاکت کا خیال نہیں کیا۔ گولی چلانے کا فیصلہ عجلت میں کیا یا اسے ERROR OF JUDGEMENT کہہ سکتے ہیں۔ کمیشن مکمل تحقیقات کرنے کا
ذمہ دار ہے۔ وہ حکومت کو آئندہ کے لیے سبق سکھائے گا۔ وہ انھیں عقل سکھائے گا کہ ایسے موقعوں پر دانشمندی کے کیا تقاضے ہوتے ہیں۔“ (روزنامہ جنگ، لاہور 21 جنوری 2011ء)
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ نے غازی عبدالقیوم کے جذبہ جوش شہادت سے کافی اثر قبول کیا تھا۔ چنانچہ انھوں نے ”ضرب کلیم“ میں غازی علم دین شہیدؒ اور غازی عبدالقیوم شہیدؒ کو ”لاہور و کراچی“ کے عنوان سے شاندار الفاظ میں خراج تحسین و عقیدت یوں پیش کیا ہے:
موت کیا ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خون جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ! اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں
حرف ”لا تدع مع اللہ الها آخر!“
احمد خلیل جازم
غازی عبدالرحمان شہیدؒ
(سن شہادت: 1936ء)
غازی عبدالرحمان شہیدؒ کا تعلق مانسہرہ کے علاقے بفہ کے ایک دور دراز گاؤں صابر شاہ سے تھا۔ آپ نے ناموس رسالت ﷺ پر اس شان سے جان قربان کی کہ آج صابر شاہ کے علاقے میں آپ کا نام احترام سے ”غازی بابا“ لیا جاتا ہے۔ غازی عبدالرحمان شہیدؒ نے مانسہرہ شہر میں ایک سکھ گستاخ رسول کو کلہاڑیوں کے وار کر کے واصل جہنم کیا اور شان رسالت ﷺ کی آبرو پر اپنی جان وار دی، یوں تاریخ کے صفحات پر امر ہو گئے۔ آپ کو ایبٹ آباد (چھاؤنی) جیل میں پھانسی دی گئی اور اس وقت آپ کی قبر صابر شاہ کے قدیمی قبرستان میں موجود ہے۔ ہم نے جب غازیان تحفظ ناموس رسالتؐ کے حوالے سے کام شروع کیا تھا تو معلوم نہ تھا کہ ان شہیدوں کے حالات زندگی کی تفاصیل کے لیے بعض اوقات ہمیں ایسی صبر آزما گھڑیوں سے گزرنا پڑے گا جن کے لیے ذہن قطعی طور پر تیار نہیں ہوتا۔ اس بار ہمیں ایسی ہی صبر آزما گھڑیوں سے گزرنا پڑا۔
ہمارا سفر پنڈی سے صابر شاہ تک کا تھا اور غازی عبدالرحمان شہیدؒ کے مزار پر حاضری سمیت ان کے حالات زندگی سے آگاہی حاصل کرنا مقصود تھا، مانسہرہ 1930ء کی دہائی میں ایبٹ آباد تحصیل کا ایک علاقہ گردانا جاتا تھا، اور یہ ضلع ہزارہ میں واقع تھا، آج بھی یہ ہزارہ ڈویژن میں شامل ہے لیکن 1976ء میں اسے ضلع کا درجہ حاصل ہوا، مانسہرہ پہاڑوں میں گھرا ہوا ایک خوبصورت علاقہ ہے، موجودہ ضلع بالاکوٹ، ایف آر کالا ڈھاکہ، مانسہرہ اور اوگی پر مشتمل ہے۔ ضلع کی جغرافیائی خصوصیات یہ ہے کہ اس کی سرحدیں کشمیر، شمالی علاقہ جات اور مالاکنڈ ڈویژن سے ملی ہوئی ہیں۔ شاہراہ ریشم اسی ضلع سے گزرتی ہے۔ تاریخی طور پر ضلع مانسہرہ سید احمد شہید کی جنگ بالاکوٹ کی وجہ سے مشہور ہے۔ جب ہم مانسہرہ پہنچے تو اردگرد کے پہاڑ برف سے
ڈھکے ہوئے تھے، اور اس کے مناظر بہت دلفریب تھے، مانسہرہ سے ہمارا ساتھ ایک ایسے نوجوان نے دیا جو اگر ہمارے ساتھ نہ ہوتے تو آج ہم یہ سطور لکھنے کے قابل نہ ہوتے، نعمان شاہ مقامی صحافی ہیں اور غازی شہید کے حوالے سے ہمارے ساتھ ایک ہفتے سے رابطے میں تھے۔ مانسہرہ بائی پاس جسے اب عبدالستار ایدھی روڈ کا نام دیا گیا ہے، اس پر ہم بفہ کی جانب گامزن تھے۔ نعمان نے ہمیں بتایا کہ ”خستہ حال روڈ ہمیں ’کوہ بھیڑ‘ لے جائے گا جسے نحوست کے معنوں میں جانا جاتا ہے، اب ایک خوبصورت سیاحتی مقام بن چکا تھا، اسے پار کر کے ہم بفہ جائیں گے۔“ وہ بفہ جو علامہ غلام غوث ہزاروی کا علاقہ ہے، سردی کی لپیٹ میں تھا، ہم اس سڑک پر تھے جس کے دائیں جانب ایک قبرستان آیا تو نعمان نے کہا کہ ”اس قبرستان میں ایک قبر کی جانب آپ کی توجہ چاہوں گا۔“ ہم نے سڑک سے ہی دیکھا تو چند قدموں کے فاصلے پر کچھ قبروں کے درمیان علامہ غلام غوث ہزاروی کا مرقد موجود تھا، جس کے کتبے پر ان کا نام نامی دور سے دکھائی دے رہا تھا، یہ مرقد آج بھی ان کے زور دلیل و زور تقریر کی گواہی دے رہا تھا۔ ترنگڑی کا علاقہ جہاں صابر شاہ قبرستان واقع ہے، وہاں ہمارے میزبان ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبر شاہد رفیق تھے، جو مانسہرہ ضلع کی ڈسٹرکٹ کونسل میں اپوزیشن لیڈر کے فرائض بھی سرانجام دے رہا تھا، ان کا گھر اس روڈ کے اوپر واقع تھا، جس کے سامنے کھیتوں کے اس پار صابر شاہ کا وہ گاؤں صاف دکھائی دے رہا تھا، جہاں غازی عبدالرحمان شہید نے ایک معروف سواتی خاندان میں آنکھ کھولی تھی۔ اگرچہ غازی عبدالرحمان شہیدؒ کے حوالے سے تاریخ کے صفحات پر بہت کم معلومات درج ہیں لیکن ہم اس امید پر بفہ کے علاقے ترنگڑی جا پہنچے جہاں پر یہ قصبہ صابر شاہ واقع ہے، اور اسی جگہ ایک عاشق رسولؐ نے جنم لیا اور جوانی کی دہلیز پر پہنچے۔ سفر کی تکان اور سڑکوں کی خستہ حالی نے اگرچہ بہت مضمحل کر رکھا تھا لیکن صابر شاہ پہنچ کر ساری تھکان زائل ہو گئی اور شہید ناموس رسالتؐ کے قبر پر حاضری اور ان کے خاندان سے بات چیت کی خواہش نے تازہ دم کر دیا۔
شاہد رفیق سے ہم نے صابر شاہ گاؤں کے اس شہید کے خاندان کے لوگوں سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تو انھوں نے فوری طور پر جہانگیر جو کہ غازی عبدالرحمان شہیدؒ کے رشتے میں پوتے ہیں، انھیں فون کیا اور فوری طور پر انھیں بلوا لیا، جہانگیر نوجوان آدمی ہے اور ان کے آتے ہی ہم غازی شہیدؒ کی قبر کی جانب چل دیئے، شاہد رفیق کا کہنا تھا کہ ”ہم نے غازی بابا کی وجہ سے اس پورے علاقے کا نام ’غازی تکیہ‘ رکھا ہے، کیوں کہ تکیہ ہماری زبان میں
مقبرے کو کہا جاتا ہے، میرے والد محمد رفیق خان نے یہ نام تجویز کیا تھا، میرے دادا کے غازی عبدالرحمان شہیدؒ اور ان کے خاندان کے ساتھ بہت اچھے مراسم تھے، اس کے بعد میرے والد صاحب کا بھی اس خاندان کے ساتھ بہت آنا جانا رہا۔ ہم صابر شاہ اور ترنگڑی کے درمیان واقع سڑک جس کا نام ”بفہ خوجگان روڈ“ ہے اس پر تھے، تھوڑی دور ہمیں روڈ کے دونوں جانب زمین کی نشاندہی کی گئی کہ یہ ساری جائیداد غازی عبدالرحمان شہیدؒ کی تھی، ایک جانب کھیت اور روڈ کی دوسری طرف گھر بنے ہوئے تھے، شاہد نے بتایا کہ ”غازی شہید کے ایک ہی بیٹے تھے جو ان کی شہادت کے وقت دو سال کے تھے، ان کا نام یوسف تھا، انھوں نے بعد میں یہ جائیداد بیچ دی تھی، ان کا بھی انتقال ہو چکا ہے۔“ اس جگہ سے اسی سڑک پر قریباً دو سو قدم آگے بائیں جانب صابر شاہ کا وہ تاریخی قبرستان تھا جہاں شہید کی قبر تھی، ہم اس خستہ حال قبرستان میں داخل ہوئے تو صرف ایک ہی پختہ قبر دیکھی جو شہید ناموس رسالت غازی عبدالرحمان شہیدؒ کی تھی، جب کہ باقی تمام قبروں کی حالت بہت بری تھی، قبر مبارک پر کتبہ لگا ہوا تھا، جس پر شہید کی تاریخ پیدائش سمیت شہادت تک کی تاریخ درج نہ تھی، ہمیں شاہد رفیق نے بتایا کہ ”یہ بورڈ بھی پنجاب سے ’سلسلہ حق شمسیہ پاکستان‘ والوں نے لگایا ہے اور انھوں نے ہی یہ دو سال قبل پختہ کی ہے ورنہ اس قبر کی حالت بھی دیگر قبروں سے مختلف نہ تھی وہ خصوصی طور پر شہید کے مزار کی تعمیر کی غرض سے یہاں آئے تھے۔“ اسی دوران غازی شہیدؒ کے ایک پوتے جو کہ ان دنوں تبلیغ پر گئے ہوئے تھے، ان سے فون پر رابطہ ہوا، ان سے غازی شہید کی شہادت کی تاریخ پوچھی گئی لیکن انھوں نے بتایا کہ انھیں کچھ معلوم نہیں ہے۔ خیر ہم نے قبر دیکھی، غازی شہید کے پوتے جہانگیر نے بتایا کہ ”غازی شہید کی قبر کے بائیں جانب جو قبر دکھائی دے رہی ہے، وہ ان کے ایک بھائی عبدالغنی کی ہے جب کہ اس کے دائیں جانب جو قبر ہے، جس کے درمیان سے درخت نکلا ہوا ہے وہ دوسرے بھائی عثمان کی ہے، عثمان کے ساتھ ہی ایک قبر تھی جو کہ غازی شہید کی بہن کی ہے۔“ پورے قبرستان میں کافی درخت موجود تھے، جہانگیر کا کہنا تھا کہ ”یہ قبرستان دو سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے، اب اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے، اس سے قبل یہ قبر صرف مٹی کی ایک ڈھیری تھی، پنجاب سے آنے والوں نے بڑی مشکل سے قبر کو پکا کرنے کی اجازت لی اور اس پر کتبہ بھی انھوں نے لگایا، تا کہ قبر محفوظ رہ سکے، ورنہ غازی شہید کی قبر کی حالت بھی انھی قبروں والی تھی، یہ ہمارا آبائی قبرستان ہے، اور اس کے ساتھ ہی ہماری جائیداد بھی ہے۔“ انھی
قبروں کے ساتھ ایک کھنڈر نما مکان دکھایا گیا جس کے بارے میں جہانگیر کا کہنا تھا کہ ”یہ سالار خان کا قدیمی مکان تھا، یہ غازی شہید کے رشتے میں بھتیجے لگتے تھے، انھوں نے ساری زندگی یہیں گزاری، جب غازی شہید اس سکھ کو جہنم واصل کرنے مانسہرہ جا رہے تھے تو انھوں نے سالار خان سے ہی کلہاڑی لی تھی، وہ اس وقت بکریاں چرایا کرتا تھا، اور چرواہوں کے پاس کلہاڑیاں ہوتی تھیں، چنانچہ انھوں نے سالار خان سے کلہاڑی لے کر اسے کہا تھا کہ میرے لیے دعا کرنا کہ میں جو کام کرنے جا رہا ہوں، اللہ پاک اس میں مجھے کامیاب فرمائے۔“ غازی صاحب کے حوالے سے جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں صرف سالار خان کا ہی ذکر موجود ہے، اس کے علاوہ ان کے خاندان کے کسی فرد کا کہیں ذکر موجود نہیں ہے۔ ہم نے شاہد رفیق سے کہا کہ آپ کے علاقے میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی ہستی کو پیدا کیا جس کا نام رہتی دنیا تک رہے گا، کیا وجہ ہے کہ آپ لوگوں نے اس شخصیت کی قبر تک کی دیکھ بھال کا فریضہ اس طرح سرانجام نہیں دیا جس طرح کا حق تھا، قبر مبارکہ کے آس پاس نہ صفائی ستھرائی کا انتظام تھا اور نہ ہی اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی موجود تھا، تو انھوں نے کہا کہ ”آپ ٹھیک کہتے ہیں، یہ ہمارا فرض ہے اور اب میرا آپ سے وعدہ ہے کہ میں بہت جلد غازی بابا کی قبر کے ارد گرد جنگلہ تعمیر کراتا ہوں اور اس کی صفائی ستھرائی کا مکمل انتظام کرتا ہوں، بفہ چوک پر غازی شہید کے نام کا بورڈ لگانا بھی ضروری ہے تاکہ آپ جیسے احباب اگر یہاں حاضری دینا چاہیں تو انھیں راستہ ملنے میں آسانی ہو، اس کے علاوہ قبر کے ساتھ جو روڈ ہے، وہاں ایک بڑا بورڈ لگا کر قبر کی نشاندہی کی جائے گی۔“
غازی عبدالرحمان شہیدؒ کی شہادت بھی 1930ء کی دہائی میں ہوئی، یہ وہ دہائی ہے جس میں برصغیر پاک و ہند کے متعدد غازیوں نے شان رسالت کے گستاخوں کو جہنم واصل کر کے شہادت پائی۔ انھوں نے ہنسی خوشی دار کو چوم کر آقائے نامدارﷺ کے قدموں میں جان کا نذرانہ پیش کیا۔ غازی عبدالرحمان شہید کے والد کھیتی باڑی کیا کرتے تھے، اور ان کا نام باز گل محمد تھا، جو کہ غازی شہید کے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے، باز گل کے ہاں غازی عبدالرحمان شہید نے 1908ء میں جنم لیا۔ نوجوانی میں غازی عبدالرحمان شہیدؒ کافی خودسر تھے، اور علاقے بھر میں ان جیسا نوجوان کوئی نہ تھا، وہ اپنی بات منوانے والے مضبوط قوت ارادی کے مالک تھے۔ غازی شہید کی نوجوانی کا وہ دور ایسا تھا جب برصغیر پر انگریزوں کی حکمرانی تھی، انگریزوں کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو، چنانچہ اسی کے پیش نظر انھوں نے
مسلمانوں اور ہندوؤں میں نفرت کا بیج بویا ، اس سے قبل برصغیر پر مسلمانوں کی حکومت رہی اور کبھی بھی اس طرح کی گستاخیاں دیکھنے کو نہیں ملتیں ، لیکن برطانیہ کے زیر تسلط برصغیر میں ان واقعات کو اسی تناظر یعنی لڑاؤ اور حکومت کرو، میں ہوا دی گئی، چنانچہ ہندوؤں میں ایسے افراد چنے گئے جنہوں نے شان رسالت ﷺ میں نازیبا الفاظ ادا کیے، بعض کتابیں لکھی گئیں جن میں پنڈت دیانند سرسوتی کی کتاب ”ستیارتھ پرکاش“ سر فہرست ہے، یہ کتاب 1875ء میں منظر عام پر آئی، تو پورے ہندوستان میں جگہ جگہ ہندوؤں نے شان رسالت ﷺ میں گستاخیوں کا عمل شروع کر دیا، انگریزوں نے نہایت مکاری سے اس سازش کے تانے بانے بنے ، ایک طرف یہ سلسلہ شروع کیا تو دوسری جانب جھوٹے نبی آنجہانی مرزا قادیانی کو ایک مہرے کی طرح استعمال کیا۔ مسلمانوں میں اس وقت کے جید علما اور مسلم عوام نے اپنے اپنے فرائض ادا کرنے شروع کر دیئے، اور ایسے بہت سارے گستاخوں کا تعاقب کر کے انھیں جہنم واصل کیا جنہوں نے شان رسالت ﷺ میں گستاخیاں کی تھیں، یہ واقعات ایک تسلسل سے چل نکلے اور 1923ء میں آکر ان میں مزید شدت پیدا ہو گئی، ہندوؤں کی ان گستاخیوں پر دیگر علما کے ساتھ ساتھ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی شخصیت نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا، وہ جگہ جگہ یہ پیغام پھیلاتے رہے کہ ” مسلمانو! میں تمہاری سوئی ہوئی غیرت کو جھنجھوڑنے آیا ہوں۔ آج کفار نے توہین رسالت ﷺ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انھیں شاید یہ غلط فہمی ہے کہ مسلمان مر چکا ہے۔ آؤ اپنی زندگی کا ثبوت دو۔ عزیز نوجوانو! تمھارے دامن کے سارے داغ صاف ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔ گنبدِ خضریٰ کے مکین تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔ ان کی آبرو خطرے میں ہے۔ ان کی عزت پر کُتے بھونک رہے ہیں۔ اگر قیامت کے روز حضرت محمد ﷺ کی شفاعت کے طالب ہو تو پھر توہین رسالت ﷺ کرنے والی زبان نہ رہے یا پھر سننے والے کان نہ رہیں“۔ یہ وہ الفاظ تھے جنہوں نے مسلمانوں اور خصوصاً نوجوانوں میں ایک نئی ایمانی روح پھونک دی۔ غازی عبدالرحمان شہیدؒ نوجوان تھے اور وہ ہر ہفتے جمعہ کی نماز ادا کرنے مانسہرہ کی جامع مسجد میں آیا کرتے تھے، مانسہرہ میں ان دنوں ان واقعات کے خلاف روزانہ احتجاج ہوتا تھا، جس میں ہندوؤں کی ان گستاخیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کی بات ہوتی تھی، غازی علم دین شہیدؒ کا واقعہ ایسا تھا جس نے مسلمانوں اور خصوصاً نوجوانوں میں ایک دینی جذبہ پیدا کر دیا تھا، یہی وجہ ہے کہ جتنے بھی غازیاں اس وقت یہ علم لے کر نکلے، ان سب کی
عمریں زیادہ تر پچیس سال سے کم تھیں۔
ہم اس وقت غازی عبدالرحمان شہید کی قبر پر موجود تھے جنہوں نے عین نوجوانی میں یہ کارنامہ سرانجام دیا اور ہمارے ساتھ غازی عبدالرحمان کے پوتے جہانگیر موجود تھے، ان سے ہم نے غازی شہید کی بیوہ کے حوالے سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ”ان کی بیوہ ان کے بعد بہت عرصہ زندہ رہیں، بلکہ ان کا انتقال اپنے اور غازی شہید کے بیٹے یوسف کے انتقال کے بعد ہوا، یہ کوئی دس بارہ سال پہلے کی بات ہے۔“ یوں اگر 1930ء کی دہائی کو ذہن میں رکھا جائے تو یہ ساٹھ ستر سال بنتے ہیں، ہم نے سوال کیا کہ کیا نوجوانی میں بیوہ ہونے کے بعد ایک بچے کی ذمہ داری انھوں نے ساری زندگی اکیلے ہی برداشت کی ، خاندان والوں نے نوجوان بیوہ کا نکاح ثانی کرنے کی کوشش نہیں کی تو جہانگیر نے کہا کہ ”نہیں! انھوں نے ساری زندگی غازی عبدالرحمان شہیدؒ کے نام پر گزار دی۔ غازی عبدالرحمان شہیدؒ کے سسر بدیع الزماں نے ساری زندگی ان کی اور غازی شہید کے بیٹے یوسف کی کفالت کی، کیوں کہ غازی شہید کی زمین بہت زیادہ تھی اور وہ اسی زمین پر کھیتی باڑی کر کے دونوں کی پرورش کرتے رہے ، اگرچہ غازی عبدالرحمان شہیدؒ کی بیوی اس وقت نوجوان تھی، لیکن انھوں نے ساری زندگی اپنے بیٹے کی آس میں گزار دی، وہ کہتی تھی کہ میں ایک شہید کی بیوہ ہوں اور روز قیامت اسی کے نام سے اٹھائی جاؤں گی، اس وقت غازی عبدالرحمان کے بیٹے کی عمر فقط دو یا تین سال رہی ہوگی، بعد میں غازی عبدالرحمان شہیدؒ کے سسر نے ان کی ساری زمین غازی شہید کے بیٹے کے حوالے کر کے اپنے فرائض سے سبکدوشی حاصل کی۔“ ہم نے جہانگیر خان سے پوچھا کہ غازی شہید کی شادی اپنے خاندان میں ہوئی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ ”خاندان تو نہیں تھا البتہ گاؤں میں ہی ہوئی تھی، یہ اب بھی چھوٹا سا گاؤں ہے، اس وقت تو یہ اور بھی چھوٹا تھا، اُن دنوں پچاس ساٹھ گھر تھے، سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے لوگ تھے۔“ ہم نے جہانگیر سے پوچھا کہ کیا غازی شہید جس گھر میں پیدا ہوئے، آپ وہیں رہتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ”نہیں میں تو وہاں نہیں رہتا لیکن ان کے ایک پوتے جو گاؤں سے باہر گئے ہوئے ہیں، وہ وہاں رہتے ہیں۔“ البتہ جہانگیر نے ہمیں یہ کہہ کر چونکا دیا کہ ”غازی شہید جہاں رہتے تھے، وہ مکان اب بھی موجود ہے اور جس کمرے میں ان کی رہائش تھی، وہ بھی اسی حالت میں ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔“ یہ ہمارے لیے بڑی بات تھی چنانچہ ہم نے انھیں کہا کہ ہمیں وہ کمرہ دکھایا جائے۔ ہم قبرستان سے
نکل کر صابر شاہ گاؤں کی طرف چل پڑے جہاں غازی شہیدؒ کی رہائش تھی، جس کے بارے بتایا گیا تھا کہ اس وقت سے لے کر آج تک وہ کمرہ جس میں غازی صاحب نے اپنی خانگی زندگی شروع کی تھی، اب بھی اسی حالت میں موجود ہے‘‘۔
غازی شہید کا کارنامہ اگرچہ صابر شاہ اور اس کے گرد نواح میں ہر کسی کو معلوم ہے لیکن اس کی تفصیلات سے آگاہی کسی کو نہیں ہے، شاہد رفیق کا کہنا تھا کہ ’’غازی عبدالرحمان شہیدؒ ہر جمعے کو مانسہرہ کی مرکزی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے جاتے تھے، یہاں چونکہ تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی، اس لیے ان کی یادداشتوں کو محفوظ نہیں کیا گیا، اتنا معلوم ہے کہ ایک جمعہ کو مسجد شہید گنج کے واقعہ پر لوگ کشمیر بازار میں جلوس نکال رہے تھے، مسجد شہید گنج کو گرانے اور گردوارہ بنانے کا واقعہ تو آپ کو یاد ہوگا، لاہور کے اس واقعے پر ہی یہ جلوس نکالا جارہا تھا اور یہاں مولوی غلام سرور تقریر کررہے تھے، اس کے ساتھ ہی غازی علم دین شہیدؒ کی شہادت پر بھی بات ہوئی اور انھوں نے کہا کہ ’’اگر حکومت گستاخان رسول کو سزا نہیں دے سکتی تو ایسے بدقماش لوگوں کا ہم خود ہی سر اتار لیں گے، مسلمانوں میں ابھی بھی غازی علم دین شہیدؒ موجود ہیں جو اس کے لیے اپنی جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے‘‘ اس وقت کشمیر بازار میں ہندو اور سکھ کاروبار پر چھائے ہوئے تھے، اکا دکا دکانیں مسلمانوں کی بھی تھیں لیکن زیادہ تر کاروبار ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھ میں تھا، آئے روز کوئی نہ کوئی واقعہ برصغیر میں ہورہا تھا، ہندو شان رسالت ﷺ میں گستاخیاں کررہے تھے اور مسلمان اس پر جلوس نکالتے یا کوئی شمع رسالت کا پروانہ انھیں جہنم واصل کر دیتا، اس کے لیے جلوس نکل رہے ہوتے، یہاں کشمیر روڈ پر ایک سکھ کی دکان تھی جس کی عمر چوبیس برس تھی اور وہ گاہے بگاہے شان رسالت ﷺ میں کوئی نہ کوئی گستاخانہ بات کرتا رہتا تھا، اس روز غازی عبدالرحمان شہیدؒ نماز ادا کر کے جلوس سے ہوتے ہوئے کچھ خریداری کرنے دکان پر آئے، جہاں کچھ سکھ کھڑے بات چیت کررہے تھے، وہاں اس ملعون سکھ نے کچھ گستاخانہ کلمات ادا کیے اور کہا کہ ’’مسلمان خواہ مخواہ جلوس نکالتے رہتے ہیں، ہمارا کاروبار خراب کرتے ہیں، اس پر غازی عبدالرحمان شہیدؒ نے اسے کہا کہ ’’اپنے جوش کو حد میں رکھو اور اپنی زبان کو لگام دو، تمہارے بھائی بند ایسی گستاخیاں نہ کریں تو مسلمانوں کو کیا ضرورت ہے جلوس نکالنے اور انھیں جہنم واصل کرنے کی، جس پر مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے‘‘، اس ملعون نے کہا کہ جو کچھ میرے بھائی بند کرتے ہیں، میں بھی وہی کروں گا، غازی شہید نے کہا کہ ’’پھر
مجھ پر فرض ہے کہ میں تمہاری زبان گدی سے کھینچ لوں۔ اس جمعہ کو تو بات رفع دفع کرا دی گئی لیکن اگلے جمعہ کو غازی عبدالرحمان شہید اپنے گاؤں سے جمعہ ادا کرنے کے لیے جانے لگے تو ان کے بھانجے سنگار خان جو کہ اپنی زمینوں میں مال مویشی چرا رہے تھے، اس کو اپنے پاس بلایا اس سے کلہاڑی لی اور اسے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا کہ ”بیٹا میرے لیے دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے“، سنگار خان کہتے تھے کہ میں اس وقت کم عمر تھا، لڑکپن کی وجہ سے مجھے معلوم نہ تھا کہ مجھ سے کس حوالے سے دعا کرنے کو کہہ رہے ہیں، چنانچہ میں نے انھیں کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں، لیکن انھوں نے مجھے ساتھ لے جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ”یہ میرا کام ہے تم جو کام کر رہے ہو وہی کرو“۔
چنانچہ آپ مانسہرہ کی طرف چل دیئے، آپ نے نماز جمعہ مرکزی جامع مسجد میں ادا کی اور اس کے بعد کشمیر بازار میں اس سکھ کی دکان کی جانب چل پڑے، جس نے گذشتہ جمعہ کو گستاخی کی تھی۔ پچھلے جمعہ کو انھوں نے اس سکھ کو وارننگ دی تھی کہ ”اگر تم نے یہ گستاخی بند نہ کی تو تمہاری زبان گدی سے کھینچ لوں گا ۔“ چنانچہ آج وہ اس سکھ کے سامنے جا کھڑے ہوئے، اس سکھ کے بارے کہا جاتا تھا کہ جب مسجد شہید گنج لاہور کو گردوارہ میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری ہوئے تو سکھوں کے حوصلے بلند ہو گئے تھے، وہ جگہ جگہ کرپانیں لہراتے پھر رہے تھے، اگرچہ مانسہرہ کے سکھ نسبتاً پرسکون تھے لیکن یہ ملعون اکثر کرپان لہرا لہرا کر مسلمانوں سے الجھتا، شان رسالت ﷺ میں گستاخی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا تھا، غازی شہیدؒ جب اس کی دکان پر پہنچے تو وہاں کچھ اور سکھ بھی موجود تھے جن کے درمیان بیٹھ کر وہ لعین ڈینگیں مار رہا تھا، اس وقت بھی وہ ملعون غازی علم دین شہیدؒ کے حوالے سے اپنی ناپاک زبان سے نازیبا کلمات کے ساتھ ساتھ شان رسالت ﷺ میں بھی گستاخی کا مرتکب ہو رہا تھا، ایسے میں غازی عبدالرحمان شہیدؒ اس کے سامنے جا پہنچے اور اسے کہا: ”محمد کا متوالا آ پہنچا ہے“، آپ نے آگے بڑھ کر اس پر کلہاڑی سے وار کیے، ایک دو وار سہنے کے بعد وہ بزدل وہاں سے بھاگ نکلا، کشمیر بازار جو کہ سکھوں کی آماجگاہ تھا اور جہاں پر ان کا معروف گردوارہ ”گرو سری سنگھ سبھا“ بھی تھا، جو آج بھی وہاں موجود ہے، اس کے سامنے سے ہوتا ہوا پرانے جی ٹی ایس کے اڈے کی جانب بھاگ نکلا، اس وقت بازار لوگوں سے بھرا ہوا تھا، کسی نے بھی غازی عبدالرحمان شہیدؒ کا ہاتھ روکنے کی کوشش نہ کی، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نام نہاد سرداروں کے سامنے جب کوئی جاں نثار
محمدؐ آجاتا ہے تو پھر اس کے آگے کوئی نہیں ٹھہر سکتا، اس کے وہ دوست جو اس کے ساتھ موجود تھے، پلک جھپکتے میں تتر بتر ہوگئے، اب صورت حال یہ تھی کہ وہ آگے آگے تھا اور غازی شہیدؒ کلہاڑی اٹھا کر اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہے تھے، پرانے جی ٹی ایس کے اڈے کے پاس اس ملعون کے بھائیوں کی سوڈا واٹر کی دکانیں تھیں، وہ بھاگتا ہوا ان میں جا داخل ہوا، وہاں اس کا بھائی جگت سنگھ موجود تھا، لیکن اس نے بھی آگے بڑھ کر غازی عبدالرحمان شہیدؒ کو روکنے کی کوشش نہ کی، یہ ملعون جان بچانے کی خاطر بھائی جگت سنگھ کی دکان میں موجود مشینوں کے نیچے جا گھسا، لیکن آپ نے اسے وہیں پر کلہاڑی کی ضربوں پر رکھ لیا، آپ نے اس پر کئی کاری وار کیے، جن سے وہ شدید زخمی ہوگیا، یہ صورت حال دیکھ کر پورا بازار بند ہوگیا، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی، غازی عبدالرحمان شہیدؒ ایبٹ آباد روڈ پر آ کر کشمیر روڈ سے ہوتے ہوئے مرکزی چوک پر آگئے، جسے اب تاجدار ختم نبوت چوک کہا جاتا ہے، یہ وہی چوک تھا جہاں پر مسجد گنج شہیداں کے لیے احتجاج ہوا تھا، یہاں پہنچے تو، خوشی ان کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی اور وہ اسی خوشی میں کہہ رہے تھے، ”میں نے اپنے آقا ﷺ کا بدلہ لے لیا۔ میں نے اپنے آقا ﷺ کا بدلہ لے لیا۔“ یہ نعرہ انھوں نے تین بار لگایا۔
غازی عبدالرحمان نے جب ملعون سکھ ”سورن سنگھ“ کو جہنم واصل کیا تو وہ کہیں بھاگے نہیں بلکہ مکمل طور پر سکون رہے۔ اسلم ناز خواجگانی کا کہنا تھا: ”جب غازی شہید نے اپنا بیان پولیس کو ریکارڈ کرایا تو کہا کہ ’میں نے مکمل ہوش و حواس میں اس ملعون سورن سنگھ کو جہنم واصل کیا ہے، اگر وہ میرے آقا و مولیٰ ﷺ کی توہین کا ارتکاب نہ کرتا تو میں اسے سزا نہ دیتا۔‘ چنانچہ غازی شہید کو گرفتار کرلیا گیا، تھانیدار نے غازی شہید کے ہاتھ سے کلہاڑی لے لی، ایک مسلمان ڈی ایس پی وہاں آیا اور اس نے غازی شہید سے کہا کہ یہاں سے بھاگ جاؤ، لیکن آپ نے کہا کہ نہیں، میں نہیں بھاگوں گا، پھر انگریز ایس پی آیا، اس نے کہا کہ جوان تم قتل کرکے بھاگ سکتے تھے، کیوں نہیں بھاگے، تو غازی شہید نے کہا کہ ’میں نے ایک گستاخ کو قتل کیا ہے بھاگ کر کیا کرنا ہے، میں نے اپنا کام کردیا آپ اپنا کام کریں‘۔ اس وقت مانسہرہ میں ایک ہی تھانہ ہوا کرتا تھا جو کہ اب تھانہ سٹی کہلاتا ہے، غازی شہید کو تھانے لایا گیا تو حوالاتی آپ کو دیکھ کر نعرے لگانے لگے، اور فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی، پورے ضلع ہزارہ میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی، یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، مانسہرہ شہر کی مکمل ناکہ بندی کردی گئی،
تیسرے روز غازی شہید کو بیوی بچوں کے ساتھ ملایا گیا۔ اس کے بعد آپ کا مقدمہ شروع ہوا اور پھر وہاں سے انھیں سنٹرل جیل ایبٹ آباد منتقل کر دیا گیا۔ جیل میں آپ نے کوئی نماز قضا نہ کی اور ہر وقت عبادت میں مصروف رہتے، آپ کا مقدمہ اس وقت ضلع ہزارہ کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش ہوا، کیوں کہ ضلع ہزارہ تھا ایبٹ آباد اور مانسہرہ ضلع نہیں بنے تھے، بلکہ مانسہرہ تو اس وقت تحصیل بھی نہیں تھی، آپ کے بڑے بھائی عبدالغنی کے ساتھ ساتھ گل احمد پٹواری جو اس علاقے کی معروف شخصیت تھے اور غازی شہید کے خالو بھی تھے انھوں نے مقدمے کی پیروی کی۔ اس وقت ہمارے سامنے سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ مقدمے کی پیروی کے لیے کون سے وکیل پیش ہوئے ، ایبٹ آباد میں کئی لوگوں سے اس حوالے سے بات کی گئی لیکن کسی کو اس بارے میں کچھ معلوم نہ تھا، صرف اسلم ناز خواجگانی کی تحریر سے اتنا معلوم ہو سکا ہے کہ چار وکلاء تھے جو اس مقدمے کی پیروی کر رہے تھے۔
اسلم ناز کا مزید کہنا تھا کہ ”سورن سنگھ سکھ کو قتل کرنے کا واقعہ 1935ء آخر یا پھر 1936ء کے پہلے مہینوں میں پیش آیا ، غازی عبدالرحمان شہید نے جب اس ملعون کو جہنم واصل کیا تو مقدمے کی پیروی کے لیے جو وکلاء پیش ہوئے انھوں نے غازی عبدالرحمان شہیدؒ سے کہا کہ آپ صرف اتنا کہہ دیں کہ میں مشتعل ہو گیا تھا، مجھے کچھ ہوش نہ تھا اور یہ سب کچھ میں نے اسی دوران کیا، تو ہم آپ کو بچا لیں گے، لیکن غازی عبدالرحمان شہیدؒ نے کہا کہ ”میں جھوٹ بول کر اپنا ثواب ضائع نہیں کرنا چاہتا۔“ چنانچہ عدالت نے غازی عبدالرحمان شہید کو پھانسی کی سزا سنا دی۔ غازی صاحب جب ایبٹ آباد جیل میں تھے تو ان کے رشتہ داروں نے ان کے بیٹے یوسف جس کی عمر اس وقت دو سال تھی، اسے اٹھا کر غازی شہید کو دکھایا کہ دیکھو تمہارا بیٹا ابھی بہت چھوٹا ہے، تم اس کی خاطر یہ قبول کر لو کہ تم نے جو کچھ کیا ہے، وہ ہوش کی حالت میں نہیں کیا، تو غازی نے کہا کہ ”میرے بعد میرے بیٹے کی پرورش کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، میں اس وجہ سے کبھی بھی اس بات سے انکار نہیں کروں گا۔“ غازی شہید کو جب کورٹ سے پھانسی کی سزا دی گئی تو ان کے وکلاء نے کہا کہ ہم ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے، لیکن غازی عبدالرحمان شہیدؒ نے سختی کے ساتھ اور صاف صاف کہہ دیا کہ ”اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، میں اب اپیل نہیں کروں گا، اس جان کی کوئی پروا نہیں ہے۔“ چنانچہ غازی عبدالرحمان شہیدؒ کو 27 جولائی 1936ء کو ایبٹ آباد جیل چھاؤنی میں پھانسی کا حکم دے دیا گیا، پھانسی کے دن آپ نے سکون
سے نماز فجر ادا کی اور پھانسی گھاٹ پر نعرہ تکبیر بلند کر کے دار کو منور کر دیا، یوں ناموس رسالتؐ کے پروانے نے 27 جولائی 1936 کو شہادت پائی۔ جب غازی شہید کو پھانسی دی گئی تھی تو انگریز سرکار نے میت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ نقض امن کے پیش نظر ایسا ممکن نہیں ہے، تو اس حوالے سے ضمانت گل احمد پٹواری نے دی تھی کہ نقض امن نہیں ہوگا، آپ میت ورثاء کے حوالے کریں، چنانچہ ان کی ضمانت پر میت ورثاء کے حوالے کی گئی تھی۔‘‘
اسلم ناز لکھتے ہیں کہ ”سواتی قوم کے اس ہیرو کی قبر اب ویران ہوتی جا رہی ہے، ہاں البتہ اس وقت وہاں ایک کنواں کھودا گیا تھا جو رفاع عامہ کے لیے تھا (یہ کنواں اب بھی وہاں موجود ہے) میں اس وقت علاقہ بھر کے واحد سکول لوئر مڈل سکول شیر پور میں شاید دوسری یا تیسری جماعت کا طالبعلم تھا، ایک روز بچے سکول میں ورزش کر رہے تھے کہ اچانک خاکی کی سمت سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر لوگ غازی شہید کی میت اٹھائے ہوئے آ رہے تھے، ہم سب بچے حیران رہ گئے کیوں کہ میت کے ساتھ ساتھ نور کا ہالا بھی دکھائی دے رہا تھا، سب بچوں نے حیران ہو کر ماسٹر صاحب سے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے جو چمک رہی ہے تو ماسٹر صاحب نے ہمیں سب کو اکٹھا کر کے کہا کہ بچو! آج غازی عبدالرحمان کو شہید کیا گیا ہے، اور یہ ان کی میت ہے جو لوگ اٹھا کر لا رہے ہیں، یہ اسی کی چمک ہے، آہستہ آہستہ وہ چمک ہمارے سکول کے پاس پہنچ گئی، ہمارے سکول میں چھٹی کر دی گئی اور پھر سکول کے تمام اساتذہ سمیت تمام بچے سکول سے نیچے اسی راستے میں اتر آئے جہاں سے میت نے گزرنا تھا، میت کے دیدار کے لیے بچے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، میں نے شہید کی میت کو دیکھا، سبحان اللہ، جیسے کوئی سو رہا ہو، اللہ اللہ، اس کا حسن اور اس کے چہرے پر بکھری مسکراہٹ، پھر جبیں پر بکھرے گھنے بالوں میں شبنم کے موتی یوں بکھرے ہوئے تھے، جیسے شہید کی میت کو آب نور سے غسل دیا گیا ہو، دراصل وہ جو چمک دکھائی دے رہی تھی، وہ اسی کی ضیاء تھی، لوگ اکھٹے ہو رہے تھے، اور نعرہ تکبیر بلند کیا جا رہا تھا، غازی عبدالرحمان شہیدؒ زندہ باد، اسلام زندہ باد کے نعروں سے فضا گونج رہی تھی۔ غازی شہید کی میت کو جب گاؤں کی طرف لایا گیا تو اس وقت ترنگڑی بالا، خوجگان، بفہ، بجنا، گاندھیاں، تناول، خاکی، اور اوگی سمیت پورے علاقے سے لوگ جمع ہو گئے، یہ پورا علاقہ وادیء پکھل کہلاتا ہے، ہر کوئی اس دن جنازے میں شریک تھا، بھیڑ کنڈ سے جب میت صابر شاہ لائی جا رہی تھی تو اس قدر ہجوم تھا کہ ”نالہ اچھڑ“ کا پل جو ہمشیریاں کے مقام پر
واقع ہے، ٹوٹ گیا، چنانچہ وہاں سے گاڑی میت سے اتار کر وارثان کے حوالے کر دی گئی، میت کے ساتھ اس قدر ہجوم تھا کہ میت کو گھر نہ لے جایا سکا اور وہیں صابر شاہ قبرستان کے کھلے میدان میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جنازے میں مولانا اسحاق مانسہروی بھی شریک ہوئے، انھی نے جنازہ پڑھایا، اس وقت جب تدفین ہوگئی تو بعد میں آپ کی قبر مبارک کے گرد چھوٹی سی چار دیواری ڈال کر جھنڈے لگا دیئے گئے تھے لیکن اب نہ چار دیواری ہے اور قبر کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی موجود ہے۔“ آج شہید ناموس رسالت غازی عبدالرحمان شہیدؒ کے اس کارنامے پر اگرچہ بظاہر گرد پڑی دکھائی دیتی ہے لیکن اس کی مہک ایسی ہے کہ صابر شاہ سمیت پورا علاقہ اس سے عطر بیز ہورہا ہے۔
۞......۞......۞
مجھے 295 سی تعزیرات پاکستان پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس طرح توہین رسالت کے قبیح فعل کو کئی ہندسوں سے ضرب دینا پڑتی ہے۔ پولیس کے ہاں رپورٹ درج کرانے والا توہین رسالتﷺ پر مبنی ناقابل بیان الفاظ کو دہرائے گا۔ پھر پولیس محرر ان الفاظ کو لکھ کر دہرائے گا۔ پھر پولیس کا تفتیشی افسر اپنی تفتیش میں ضمنیاں لکھتے وقت اور گواہوں کے بیانات زیر دفعہ 161 ضابطہ فوجداری لکھتے وقت اور چالان کی آخری رپورٹ مرتب کرتے وقت توہین آمیز الفاظ دہرائے گا۔ اس کے بعد عدالت اپنی کارروائی کے دوران گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرتے وقت اور ملزم پر چارج فریم کرتے ہوئے۔ غرض بے شمار مرتبہ توہین رسالتﷺ پر مبنی الفاظ کی گردان ہوگی۔ یہ صورت حال کسی بھی صاحب ایمان حضور پاک ﷺ کے کلمہ گو کے لیے قابل برداشت نہیں ہوسکتی۔ خصوصاً جب کہ نتیجہ بھی غیر یقینی ہو!
عزیز ملک
غازی عبدالمنان
(سن وفات: 1937ء)
رسوائے عالم شردھانند اور راجپال کے عبرت ناک قتل پر چند ہی برس گزرے تھے کہ ناقابل اصلاح مہاسبھائی ذہنیت نے پھر ایک بار انگڑائی لی اور ضلع کیمبل پور کے ایک بدباطن کراڑ بچے نے شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کا ارتکاب کیا۔ ہوا یہ کہ حضرو تھانہ سے تین میل مشرق کی جانب ایک گاؤں برہ زئی میں آلو پیاز کی پھیری لگانے والے ادھیڑ عمر ہندو بھیشو نے کسی خاتون گاہک کو سودا بیچتے میں حد ادب کو پھلانگتے ہوئے، بلاوجہ شان رسالت ﷺ میں گستاخانہ حملہ کیا۔
وقتی طور پر بات رفت گزشت ہو گئی کیوں کہ آس پاس کوئی مرد اس وقت موجود نہ تھا۔ بھیشو ہانک لگاتا گاؤں سے باہر نکل گیا۔ وہ ایک نواحی قصبہ نرتوپہ کا رہنے والا تھا۔ اس کا اصل نام بھوشن اور عرفی نام بھیشو تھا۔ وہ برسوں سے آس پاس کے دیہات میں سبزی کی پھیری لگانے آتا۔ ہر چند اسے معلوم تھا کہ مسلمان دیہاتی ہی اس کے گاہک اور رزق کا وسیلہ ہیں، اس کی بے لگام زبان مسلمانوں کے بارے میں زہر اگلنے سے باز نہ رہتی۔ مسلمان صبر سے کام لیتے کہ کتے کی عف عف کا کیا جواب! آخر کار اس کے دل کی خباثت ابل کر ایک روز ہونٹوں تک آگئی۔ یہ جولائی 1937ء کے پہلے ہفتے کا واقعہ ہے۔ گاؤں بھر میں چرچا ہوا۔
تیسرے چوتھے روز گاؤں کا ایک اٹھارہ سالہ نوجوان عبدالمنان دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں غورغشی کے مدرسہ سے صرف ونحو کا درس لے کر گھر واپس پہنچا تو اس کے بڑے بھائی حافظ غلام محمود نے کہا کہ بعد دوپہر جب دھوپ ذرا ڈھل جائے تو مجھے سائیکل پر حضرو چھوڑ آنا، میں وہاں سے پنڈی کے لیے بس پکڑ لوں گا۔ عبدالمنان نے کہا۔ ”ٹھیک ہے آپ ذرا دیر آرام کر لیں، میں بھی مسجد میں جا کر ستا لوں۔“
وہ گھر سے باہر نکلا تو کسی نے اسے بتایا کہ بھیشو آج پھر گاؤں کی گلیوں میں ہانک لگاتا پھرتا ہے۔ عبدالمنان مسجد کے اندر جاتے جاتے رک گیا۔ اسے کچھ خیال آیا۔ ایک خیال جس نے اس کی تقدیر بدل دی۔ وہ تقدیر جس پر فرشتوں کو بھی رشک آئے۔ وہ تیزی کے ساتھ اپنے ایک دوست کے یہاں پہنچا اور اس سے کمانی دار چاقو مانگا جو حال ہی میں اس نے خرید کیا تھا اور عبدالمنان کو بہت پسند آیا تھا۔
چاقو لے کر وہ اپنے شکار کی تلاش میں نکلا۔ بھیشو اس دوران گاؤں سے باہر کھلے کھیتوں سے ہوتا ہوا ڈیڑھ فرلانگ دور جا چکا تھا۔ عبدالمنان نے تعاقب کیا اور کھیتوں سے پرے گھنے درختوں سے متصل ایک کنویں پر جا لیا جہاں بھیشو کچھ دیر ستانے کو رک گیا تھا۔ عبدالمنان اس کے پاس جا بیٹھا اور اِدھر اُدھر کی باتیں ہونے لگیں۔ بھیشو نے اس کے ہاتھ میں چاقو دیکھ کر پوچھا۔ ”یہ کیوں کھول رکھا ہے؟“ عبدالمنان نے جواب دیا۔ ”ابھی معلوم ہوا جاتا ہے۔“ دشمنِ رسول کو اپنے انجام کا احساس ہو گیا اور وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔
عبدالمنان نے پوچھا کہ تو نے اگلے روز شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کی جرأت کیوں کر کی۔ بھیشو کوئی معقول جواب نہ دے سکا تو عبدالمنان نے چاقو اس کے سینے میں پیوست کر دیا۔ وہ اُٹھ کر بھاگنے لگا مگر اجل کہاں جانے دیتی ہے۔ عبدالمنان نے اسے گھٹنوں تلے دبوچ کر دو تین وار اور کیے۔ کافر کا ناپاک خون کنویں کے حوالی کی مٹی میں جذب ہونے لگا۔ بھیشو نے صرف اتنا کہا کہ مار تو چکا ہے اب تو بس کر۔ دشمن کو ابھی تک زندہ جان کر عبدالمنان نے اس کی شہ رگ کو چاقو کی دھار پر لیا اور اس کا کام تمام کر ڈالا۔ چند زمیندار جو کنویں سے چند گز اُدھر اپنے کام میں مصروف تھے، شور سُن کر آگئے۔
کچھ دیر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ دیکھتے دیکھتے برہ زئی اور آس پاس کے دیہات سے مسلمان جمع ہو گئے۔ کسی نے حضرو تھانہ جا کر اطلاع کر دی اور پولیس آ گئی۔ ظہر کا وقت ہو چلا تھا جب پولیس کے جھرمٹ میں عبدالمنان کو حضرو لے جایا گیا۔ سینکڑوں آدمی تکبیر کے نعرے بلند کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں ساتھ ساتھ تھے۔ حضرو پہنچتے پہنچتے ہزاروں کا مجمع ہو گیا۔
تھانہ کے مسلمان انچارج نے عبدالمنان سے کہا کہ تم اپنا بیان میری ہدایت کے مطابق لکھواؤ۔ عبدالمنان نے کہا یہ پٹی تم کسی اور کو پڑھانا۔ میں نے اللہ کے حبیب ﷺ کی
محبت میں اپنا فرض ادا کیا ہے اور اب جھوٹ بول کر اپنے عمل کو ضائع نہیں کر سکتا۔
بہر کیف حضرو تھانہ میں عبدالمنان کا اقبالی بیان درج ہو گیا۔ تھانہ والوں نے کیمبل پور اطلاع دی کہ یہاں ہزاروں مسلمان مشتعل کھڑے ہیں۔ اندیشہ ہے کہیں ہندو مسلم تصادم نہ ہو جائے۔ کیمبل پور سے سپرنٹنڈنٹ پولیس اور دو تین چھوٹے افسر حضرو پہنچ گئے اور عبدالمنان کو کار میں کیمبل پور لے آئے۔ یہاں بھی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے عبدالمنان کو ہمدردانہ مشورہ دیا مگر اس نے جھوٹ بولنے سے انکار کر دیا۔
دو تین روز میں استغاثہ مکمل ہو گیا۔ اقبالی بیان تو موجود تھا ہی۔ عبدالمنان سیشن سپرد ہو گیا۔ ان دنوں مسٹر جی۔ ڈی۔ کھوسلہ کیمبل پور کے ڈسٹرکٹ سیشن جج تھے۔ فریقین نے اپنے اپنے گواہ پیش کیے۔ مقتول کی طرف سے دو تین جگادھری ہندو وکلاء نے پیروی کی۔ پیشی کے روز عدالت کے باہر ہزاروں کا مجمع تھا۔ دراز قامت اٹھارہ سالہ نوجوان عبدالمنان مجرموں کے کٹہرے میں بڑے وقار کے ساتھ کھڑا مقدمے کی کارروائی سنتا۔ مقتول کی بیوی بھی گواہی کے لیے پیش ہوئی اور اس نے جرح کے دوران اس حقیقت کا اعتراف کر لیا کہ بھیشو اکثر مسلمانوں کے خلاف زہر فشانی کرتا اور منع کرنے کے باوجود باز نہیں آتا تھا اور آخر کار وہی ہوا جو غیر متوقع نہیں تھا۔ بیوی کے بیان نے مقتول شوہر کے استغاثہ کا حصار توڑ کر رکھ دیا۔
جی۔ ڈی کھوسلہ نے قتل کو فوری اشتعال کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے عبدالمنان کو سات سال قید سخت کی سزا سنائی اور فیصلہ میں لکھا کہ مجرم اگر جواں سال نہ ہوتا تو اسے عمر قید کی سزا دی جاتی۔ جس وقت فیصلہ سنایا جا رہا تھا، عدالت کے باہر ان گنت مسلمان والہانہ نعرے لگا رہے تھے اور حب رسول ﷺ کی بارش اہل ایمان کے دلوں پر رم جھم برس رہی تھی۔ عبدالمنان کو عدالت کے عقبی دروازہ سے نکال کر عجلت کے ساتھ جیل پہنچا دیا گیا اور مجمع بہت دیر انتظار کرنے کے بعد منتشر ہو گیا۔ انھیں افسوس ہی رہا کہ اس روز وہ اس جیالے عاشق رسول ﷺ کی جھلک نہ دیکھ سکے۔
مسلمانوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کے لیے تگ و دو کی۔ ڈاکٹر محمد عالم بیرسٹر کا خیال تھا کہ اپیل ضرور کرنی چاہیے مگر کچھ دوسرے مقتدر مسلمان وکلاء نے مشورہ دیا کہ سزا میں اضافہ کا امکان ہے، اس لیے اپیل نہ کرنا ہی قرین مصلحت ہے چنانچہ اپیل نہ کی گئی۔ سات برس کی مدت قید چھوٹ کے ایام کی رعایت سے صرف پانچ برس رہ گئی جن میں سے عبدالمنان نے ایک برس
ملتان اور چار برس پنڈی جیل میں گزارے۔
ایک محفل میں گذشتہ دنوں مجھے غازی عبدالمنان سے ملاقات کا موقع ملا۔ میں اس کی باوقار اور متین شخصیت سے متاثر ہوا۔ اس نے یہ سارا واقعہ دھیمے لہجے میں مجھے خود سنایا۔
غازی عبدالمنان نے ان دنوں برہ زئی میں آٹا پیسنے کی مشین لگا رکھی ہے۔ اس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے جو پنڈی میں بیاہی ہوئی ہے۔ بڑا لڑکا انگلینڈ میں ہے اور خاصا متمول ہے۔
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہِ مصطفیٰ ﷺ پنہاں بگیر
محمد متین خالد
غازی مرید حسین شہیدؒ
(سن شہادت: 1937ء)
شافع محشر، فخر موجودات، حضور نبی کریم ﷺ (فدہ ابی و امی) کی ناموس پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے وفا شعاروں کی قطار خاصی طویل ہے۔ اسی صف میں مانند خورشید چمکتا ہوا ایک ستارہ غازی مرید حسین بھی ہے، جس نے اپنے عزم مصمم کے ساتھ تمام تر دنیاوی آسائشیں ترک کر کے، عین عالم شباب میں، نہایت منصوبہ بندی اور راز داری کے ساتھ ایک ہندو برہمن ڈاکٹر رام گوپال کو آپ ﷺ کی شان اقدس میں توہین کرنے پر جہنم رسید کیا اور رتبہ شہادت پر فائز ہوئے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ صدی کے دوسرے تیسرے عشرے میں بعض ہندو راہنماؤں نے مسلمانوں کو مذہبی طور پر ذہنی اذیت پہنچا کر مشتعل کرنے کا گویا ایک بیڑا اٹھا لیا تھا۔ پہلے ایک آریہ سماج لیڈر نے ”ستیارتھ پرکاش“ جیسی غلیظ کتاب لکھنے کی مذموم حرکت کی جس میں شعائر اسلام اور محسن انسانیت، حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ پر بیہودہ تنقید کی گئی۔ اسی دور میں قادیانیت کا فتنہ بھی بلند ہوا جس کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے توہین رسالت ﷺ کا بدترین ارتکاب کیا۔ ”سنگھٹن“ اور ”شدھی“ ایسی اسلام دشمن تحاریک بھی انگریزوں کی چھتری تلے اسی زمانے میں ایجاد ہوئیں، جن کا مقصد مسلمانوں کی شدید دلآزاری کر کے انھیں اسلام سے برگشتہ کرنا اور نومسلموں کو دوبارہ ہندو دھرم میں شامل کرنا تھا۔ شدھی تحریک کی بنیاد سوامی شردھانند نے رکھی تھی جسے بعد ازاں غازی عبدالرشید نے موت کے گھاٹ اتارا اور شہید کا درجہ پایا۔
تاریخ اسلام گواہ ہے کہ ہر دور میں حضور سرور کائنات ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے بہت سے سرفروش مجاہدین نے کارہائے نمایاں انجام دے کر ایسی روشن مثالیں
قائم کیں جن پر ملت اسلامیہ کو ہمیشہ ناز رہے گا۔ ایسی نابغہ روزگار ہستیوں میں غازی مرید حسین کا نام بھی شامل ہے جس کا کارنامہ تاریخ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا ایک روشن باب ہے۔ شمع رسالت ﷺ کا یہ پروانہ چکوال سے چار پانچ میل کے فاصلے پر چواسیدن شاہ جانے والی سڑک کے پہلو میں واقع معروف گاؤں ’بھلہ شریف‘ (کریالہ) میں 1914ء کو پیدا ہوا۔ ان کے والد محترم کا نام چودھری عبداللہ خاں ہے۔ چودھری عبداللہ خاں بھلہ کے ایک قابل احترام نمبردار اور باوقار بزرگ شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی اپنے گاؤں میں اچھی خاصی زمین تھی۔ آپ کے کردار میں حسن و سلیقہ تھا۔ ایک مرد مومن سے روحانی فیض کے سبب چوہدری عبداللہ کا دل سوز و گداز کی عجیب کیفیتوں سے لبریز تھا۔ بالعموم آنکھیں نم ہوتیں اور زبان یاد الٰہی میں مصروف۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی ہر نعمت سے نواز رکھا تھا۔
چکوال شمالی پنجاب میں پوٹھوہار کے ذیلی علاقہ دھنی میں واقع ہے جو قدیم تہذیب کا مسکن ہے۔ یہ علاقہ ازمنہ قدیم ہی سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے جو بہادر نوجوانوں، دلکش مناظر، تاریخی مقامات اور معدنیات کے وافر ذخائر کی وجہ سے مشہور ہونے کے علاوہ علم و ادب کی نشوونما میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اس علاقہ کی عسکریت پسندی سے متاثر ہو کر مولانا ظفر علی خانؒ نے کہا تھا؎
خاکِ پاکستان کی یہ ڈھال ہے
حقیقت یہی ہے کہ سر زمین چکوال بڑی مردم خیز اور مردم شناس ہے۔ یہاں معروف اولیاء کرام، عاشقان رسول ﷺ، شاعر، مصنف، سیاستدان اور غازی و شہید پیدا ہوئے۔ یہ شرف بھی اسی علاقے کو حاصل ہے کہ یہاں کے رہائشی حاجی احمد جیلانی نے اپنی زندگی میں ایک لاکھ مرتبہ قرآن پاک ختم کیا۔ جیلانی صاحب چکوال میں جہلم روڈ پر چونگی کے نزدیک مشرق کی جانب قبرستان میں مدفون ہیں۔ حاجی صاحب کی اس سعادت کے باعث یہ علاقہ اللہ رب العزت کی خاص رحمتوں کی آماجگاہ بن گیا ہے۔
غازی مرید حسین کے والد صاحب درویش صفت اور راست گو شخصیت کے مالک تھے۔ سچائی ان کی گھٹی میں رچ بس گئی تھی۔ غازی مرید حسین کی رگوں میں اسی راست باز والد ماجد کا خون تھا، جس نے جھوٹ بول کر اپنی جان بچانے کے بجائے سچ کا اعلان کر کے تختہ دار کو
چوم لیا۔ غازی مرید حسین کو جنم دینے والی پاکباز خاتون کا نام غلام عائشہ تھا۔ عبداللہ خان کی غلام عائشہ سے دوسری شادی تھی۔ شومئی قسمت کہ ان کی پہلی بیوی سے اولاد تو ہوئی ، مگر نوجوانی میں ہی فوت ہوگئی۔ بعد ازاں وہ بیوی بھی فوت ہوگئی۔ عبداللہ خان اس وقت بڑھاپے کی دہلیز پر تھے اور انھیں اس وقت ایک اچھی رفیقہ حیات کی ضرورت تھی جبکہ یہ خواہش فطری بھی تھی کہ ان کی جائیداد کا کوئی وارث پیدا ہو۔ انھی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عبداللہ خاں کے ایک قریبی عزیز نے غلام عائشہ کے والد سے بات کی تو انھوں نے اپنی رضا مندی ظاہر کر دی۔ محترمہ غلام عائشہ انتہائی نیک دل، متقی، سخی اور جہاندیدہ خاتون تھیں۔ غریبوں اور محتاجوں کی دل کھول کر مدد کرتیں۔ شاید یہی وہ اچھائیاں تھیں جو اللہ رب العزت کے حضور قبولیت پا گئیں اور 24 فروری 1914ء کو انھیں ایک چاند سا بیٹا عطا ہوا....... اُن کے ایک بزرگ جناب پیر سید محمد جمیل شاہ نے نومولود کا نام ”مرید حسین“ رکھا۔
عبداللہ خان خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آرزو کی تکمیل فرما دی تھی۔ اب مرید حسین ہی ان کی تمام محبتوں اور دلچسپیوں کا مرکز ومحور تھا مگر قسمت کے کھیل نرالے ہوتے ہیں۔ مرید حسین کی عمر ابھی بمشکل پانچ سال ہی ہونے کو تھی کہ عبداللہ خان کا انتقال ہو گیا۔ یوں آپ چھوٹی عمر ہی میں سایۂ پدری سے محروم ہو گئے۔ اب ان کی والدہ محترمہ غلام عائشہ کی بیوگی کا واحد سہارا صرف مرید حسین ہی تھے، چنانچہ والدہ صاحبہ نے اپنے لخت جگر کو محبت، توجہ اور پیار سے پالنا شروع کیا اور اپنے لاڈلے اور اکلوتے بیٹے کو کبھی بھی شفقت پدری سے محرومی کا احساس نہ ہونے دیا۔
جب مرید حسین عمر کی پانچ بہاریں پوری کر چکے تو آپ کی والدہ محترمہ نے انھیں قرآن حکیم اور دیگر اسلامی کتب کی تعلیم کے لیے سید محمد شاہ صاحب کے ہاں بھیج دیا۔ یہ بزرگ جامع مسجد بھلہ کے خطیب و امام تھے۔ دوسری جانب عام تعلیم کے حصول کی خاطر اپنے گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کروا دیئے گئے، جو اس وقت نامعلوم وجوہات کی بنا پر ”کالا سکول“ کہلاتا تھا۔ آپ کے اساتذہ گرامی میں جناب غلام محی الدین اور جناب خوشی محمد بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ دس سال کی عمر میں ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد انھیں قریبی قصبہ کریالہ کے اینگلو سنسکرت مڈل سکول میں بٹھا دیا گیا۔ آپ ابتدا ہی سے بلا کے ذہین اور محنتی تھے۔ مڈل کے امتحان میں آپ شاندار نمبروں میں پاس ہوئے۔ اس کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول چکوال (جو
اب ڈگری کالج بن چکا ہے) میں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوتے رہے۔ یہاں کے ہیڈ ماسٹر جناب نصیر الدین صاحب تھے۔ نماز روزہ وغیرہ کی سختی سے پابندی کرواتے تھے۔ مرید حسین دبلے پتلے مگر اس کے باوجود کھیلوں میں بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ ہاکی، کبڈی، کشتی اور والی بال بھی کھیلا کرتے۔ دو سال مزید پڑھنے کے بعد میٹرک کے امتحان منعقدہ 1931ء میں شامل ہوئے۔ 1932ء میں رزلٹ آیا تو آپ نے نہ صرف فرسٹ ڈویژن حاصل کی بلکہ پورے ضلع میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ غازی مرید حسین اعلیٰ تعلیم کا شوق اور وسائل رکھتے تھے مگر بعض ناگزیر وجوہ اور گاؤں کی نمبرداری کی ذمہ داری کے سبب انھیں سلسلۂ تعلیم منقطع کرنا پڑا۔
غازی مرید حسین ہمیشہ پاک صاف رہتے تھے۔ نماز باجماعت کی پابندی کا عالم یہ تھا کہ اذان کی آواز سنتے ہی مسجد کی جانب رواں دواں ہو جاتے۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ آپ کھانا یا دیگر کاموں میں مصروف ہوتے مگر اذان کی آواز سنتے ہی تمام مصروفیات وہیں چھوڑ کر مسجد کی جانب چل دیتے۔ آپ کی طبیعت ظاہری نمود و نمائش سے عاری تھی۔ آپ چودھراہٹ میں اکتاہٹ محسوس کرتے، نمبردار ہونے کی وجہ سے جب آپ نے گاؤں کی فلاح و بہبود میں دلچسپی لی تو اس بات کو گاؤں کے پرانے لوگوں نے اپنی ہتک سمجھ کر آپ کو ایک مقدمہ میں الجھا کر راہ سے ہٹانے کی منصوبہ بندی شروع کی مگر حالات ایسے بنتے گئے کہ یہ حاسد اپنی بھڑکائی ہوئی آگ میں خود ہی بھسم ہوگئے۔
غازی مرید حسین نے اپنے میلان طبع سے کچھ ہی عرصہ بعد یہ محسوس کر لیا تھا کہ نمبرداری ان پر ایک بوجھ ہے، حالانکہ سرکارِ انگلشیہ میں سرکاری کارندوں تک رسائی کے لیے یہ عہدہ بڑی عزت و تکریم والا گردانا جاتا تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ آپ کی نشوونما اور پرورش میں غیرت مندی اور خودداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی جبکہ نمبرداری کا نظام مکمل طور پر خوشامد اور چاپلوسی کی بوسیدہ عمارت پر قائم تھا۔ آپ کا مشاہدہ تھا کہ غلامی کے اس دور میں انگریز کے اہلکار اور پولیس کا عملہ مقامی لوگوں سے انتہائی ناروا سلوک کرتا ہے جس کا آپ کو بہت دُکھ تھا اور انھیں بہت مشکل نظر آتا تھا کہ وہ چاپلوسوں کی طرح ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں۔ یہی وہ خرابیاں تھیں جن کی وجہ سے آپ بے زار رہنے لگے۔ بالآخر آپ نے فیصلہ کیا کہ آپ انگریز اور ان کے کارندوں کی غلامی نہیں کریں گے۔ آپ کو انگریزوں سے نفرت ہوگئی تھی جو اس ملک پر زبردستی حکومت کر رہے تھے اور عیاری اور مکاری سے سب کو جکڑا ہوا تھا۔ ایک دن آپ چکوال
متعلقہ آفیسر کے پاس گئے اور چند قانونی تقاضوں کے بعد گاؤں کی نمبرداری سے دستبردار ہو گئے۔ اس طوق کو گلے سے اتار کر آپ نے سکون کا سانس لیا۔ تاہم آپ نے اپنی بساط کے مطابق عوامی خدمات کو اپنا شعار بنا لیا تھا۔ زندگی کی بے ثباتی اور خدمت خلق کی اہمیت کا اظہار اپنے ایک شعر میں یوں کرتے ہیں:
خدمت خلق خدا نہ کی اگر کچھ بھی نہیں
بقول شخصے: ”اس کی بے داغ جوانی پروان چڑھی تو صحیح معنوں میں ایک مسلمان اور صالح جوان کی جوانی تھی۔ نماز، روزہ، کسب حلال پر عمل، اللہ کی ذات پر ایمان خالص اور حضور نبی کریم ﷺ سے بے پایاں عقیدت جو عشق کی ریشمی چادر میں لپٹی ہوئی تھی، اس کے ایمان کے اجزائے ترکیبی تھے اور یہ کوئی خاص بات نہ تھی۔ اس وقت برعظیم کے ہر مسلمان کی تعمیر عموماً انھی اجزائے ترکیبی سے مرکب ہوتی تھی“۔
مرید حسین زندگی کی بتیس بہاریں دیکھ چکے تھے اور ہر طرح سے انتہائی خوبصورت اور باکردار نوجوان کے روپ میں ڈھل گئے تھے اور یہ روپ بھی ایسا کہ جس کا کوئی ثانی نہ ہو۔ یہی وہ وقت تھا جس میں آپ کے ذہن میں ایک اور مثبت تبدیلی آنے لگی اور آپ روحانی راہنمائی کے لیے بے قرار ہوئے۔ پھر کافی سوچ بچار کے بعد کسی پیر کامل کی بیعت کا فیصلہ کیا تاکہ روحانی فیض حاصل کیا جاسکے۔ چنانچہ سلسلہ چشتیہ کی ایک عظیم روحانی شخصیت حضرت خواجہ عبدالعزیز چشتیؒ سے بیعت ہونے کا فیصلہ کیا جو چاچڑ ضلع خوشاب کے مکین تھے۔ حضرت خواجہ صاحب نے بیسویں صدی کے آغاز ہی سے تبلیغ اسلام، تکمیل اخلاق اور روحانی اصلاح کے لیے خود کو وقف کر رکھا تھا۔ آپ تصوف کی بلندیوں پر فائز تھے۔ یہ آپ کی پرکشش شخصیت کا اعجاز تھا کہ ہر کوئی آپ کا گرویدہ تھا اور جو آپ کو ایک نظر دیکھتا، آپ کا اسیر ہو جاتا۔ اسی لیے بے شمار لوگ آپ کے حلقہ ارادت میں شامل تھے اور فیوض و برکات کی جھولیاں بھر رہے تھے۔ حضرت عبدالعزیزؒ کا حلقہ بیعت کافی وسیع تھا۔ حضرت قبلہ بھلہ سے ملحقہ گاؤں ”کریالہ“ میں اکثر اپنے ایک مرید صادق کے ہاں آتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ پیر صاحب جب اپنے مرید کے پاس کریالہ تشریف لائے تو غازی مرید حسین نے بھی آپ سے خصوصی ملاقات کی۔ بس یہی ملاقات روحانی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی جس نے آپ کی قسمت بدل کر رکھ دی۔
بعد ازاں غازی مرید حسین نے حضرت عبد العزیزؒ کو اپنے گھر دعوت پر بلایا اور حلقہ ارادت میں شامل ہو کر باقاعدہ زانوئے تلمذ تہہ کر کے بیعت کر لی۔ پھر آپ اکثر چاچڑ شریف جاتے اور علم و فیض حاصل کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں حضرت خواجہ عبد العزیزؒ نے ایک مرشد کامل کا فرض نبھایا، وہیں مرید حسین نے بھی ایک سچے مرید ہونے کا حق ادا کیا۔
غازی مرید حسین نے جب ہوش سنبھالا تو اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی اور ہندو ہر شعبے پر قابض تھے۔ مسلمانوں کے ساتھ ہندو بنیے کا رویہ انتہائی متعصبانہ اور ذلت آمیز تھا۔ ہندو، مسلمانوں کو ہر لحاظ سے کم تر سمجھتے تھے۔ اس دور میں تحفظ اسلام کی خاطر مسلمانوں میں تحریک بیداری کی اشد ضرورت تھی۔ چنانچہ غازی مرید حسین نے تحریک بیداری کے ذریعے مجبور و بے بس مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونکی اور ایک ولولہ تازہ پیدا کیا۔ آپ نے اسلامی تشخص کو ابھار کر انھیں متحد کرنے کا بیڑا اٹھایا تا کہ مسلم اتحاد اتنا مضبوط ہو کہ وہ کسی دوسری قوم کے آگے سرنگوں نہ ہوسکیں۔ علاوہ ازیں غازی مرید حسین نے اپنے اعتماد کے چند مخلص دوستوں پر مشتمل ایک انجمن تشکیل دے رکھی تھی جس کا رکن بننے کے لیے یہ حلف اٹھانا پڑتا تھا کہ میں وقت آنے پر ہر قسم کی قربانی دینے سے گریز نہ کروں گا۔ وفاداری شرط اول تھی اور یہی بات با ضابطہ رکنیت کی سند قرار پائی۔
اسی دوران آپ کی والدہ ماجدہ کے دل میں جوان اور خوبصورت بیٹے کے لیے شادی کی خواہش نے انگڑائی لی اور اکتوبر یا نومبر 1935ء میں بیس سالہ مرید حسین کی شادی محترمہ امیر بانو صاحبہ ہمشیرہ چوہدری خیر مہدی صاحب نمبردار بھلہ شریف سے انجام پائی۔ شادی بیاہ کی فضول رسمیں مرید حسین کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں۔ انھیں تصنع و بناوٹ سے نفرت تھی، اس لیے خلاف روایت آپ کی رسم نکاح نہایت سادگی اور خاموشی سے انجام پائی۔ نہ بینڈ باجہ، نہ ڈھول، نہ آتشبازی، ایسی حالت میں آپ کی والدہ صاحبہ نے حسرتاً کہا: ”بیٹے! شادی پر میرے ارمان پورے نہیں ہوئے، میرے لخت جگر کی شادی میں کچھ ہنگامہ نہ ہوا؟“ غازی مرید حسین اپنی والدہ سے بڑی عاجزی اور متانت سے بولے: ”ماں! آپ کو تو خوش ہونا چاہیے۔ میری بارات کو دیکھ کر تو ایک دنیا دنگ رہ جائے گی، جو بھی دیکھے گا، دانتوں میں انگلی دبائے گا اور لوگ حسرت سے کہیں گے کہ کاش! یہ شرف ہمیں نصیب ہوتا......“
محبت رسول ﷺ آپ کے دل میں سمائی ہوئی تھی اور ذکر مصطفیٰ ﷺ میں محو رہنے
کے لیے آپ اکثر درود پاک کا ذکر کرتے رہتے۔ مشہور ہے کہ ایک درویش صفت شخص آپ کے گھر کے قریب سے گزرا۔ آپ نے خیال فرمایا کہ دیکھوں اس میں روحانیت ہے بھی یا نہیں؟ اس خیال کے آتے ہی غازی مرید حسین نے آہستہ آہستہ درود پاک کا ورد شروع کر دیا۔ آپ کے اس ورد نے فقیر پر گویا بجلی گرا دی ہو۔ اس نے فوراً پلٹ کر سخت غصے کی حالت میں غازی مرید حسین کو پکڑنے کی کوشش کی اور کہا۔ ”تم نے میری پیٹھ پیچھے درود پاک پڑھ کر اس کی توہین کی ہے، اس کو میرے سامنے کیوں نہیں پڑھا اور بآواز بلند پڑھنے سے کیوں ہچکچاتے ہو؟“ چنانچہ مرید حسین اس درویش کی باطنی نظر سے بہت متاثر ہوئے۔
انھی دنوں ایک رات آپ سوئے ہوئے تھے کہ خواب میں شافع محشر، رحمت عالم، حضور نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے مرید حسین کو دو گستاخ مشرکوں کے چہرے دکھائے اور فرمایا کہ یہ دونوں ملعون مجھے شدید اذیت دیتے ہیں، جاؤ اور انھیں اس ناپاک حرکت کا سبق سکھاؤ۔ ان گستاخوں میں سے ایک ڈاکٹر رام گوپال تھا۔ آپ نے خواب میں بتائے گئے چہروں کا حلیہ اپنی لال رنگ کی نوٹ بک (جو وہ اکثر اپنے ساتھ رکھتے تھے) میں لکھ لیا اور قدرت کی طرف سے مزید راہنمائی کا انتظار کرنے لگے۔ اب آپ کی دلی کیفیت مولانا ظفر علی خان کے مطابق کچھ یوں تھی؎
میری ہزار جان ہو قربان مصطفیٰ ﷺ
رشتہ مرا خدا کی خدائی سے چھوٹ جائے
چھوٹے نہ مگر ہاتھ سے دامان مصطفیٰ ﷺ
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مسلمان چاہے اپنے مذہب سے کتنے ہی بیگانہ اور بے پروا ہوں، اخلاقی پستی میں ہوں، سیاسی اور معاشی طور پر کمزور ہوں، تب بھی وہ حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے سے سخت انتقام لیتے ہیں اور دوسری طرف قدرت بھی توہین رسالت ﷺ کرنے والے کو کسی صورت برداشت نہیں کرتی۔ جب بھی کوئی ایسا واقعہ رونما ہوا تو جلد ہی وہ شیطان فطرت اپنے بدانجام کو پہنچا۔ پاک و ہند کی تاریخ میں جہاں راجپال، رام گوپال، چرن داس اور پالامل جیسے بدفطرت اور بدطینت دکھائی دیتے ہیں، وہاں ناموس رسالت ﷺ کے محافظوں کے روپ میں وہ پاکباز ہستیاں بھی نظر آتی ہیں جنہوں نے ان
نابکاروں کو جہنم کا ایندھن بنا دیا۔ جذبہ ایمانی سے لبریز ان شاہینوں نے توہین رسالت ﷺ کی ہر جسارت کا قلع قمع کیا اور پھر نتیجتاً بے شمار مصائب کا مردانہ وار مقابلہ کر کے شہادت کے عظیم درجہ پر پہنچے۔ یہی وہ مقدس ارواح ہیں جن کے والہانہ استقبال کرنے کے لیے آخرت کی نعمتیں قطار اندر قطار کھڑی رہتی ہیں۔
غازی مرید حسین بھی تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا ایک زندہ جاوید کردار ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ احمد خاں نامی ایک مسلمان کی یہ خواہش تھی کہ اس کی گھوڑی خچر پیدا کرے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی گھوڑی پلول ضلع گوڑگاؤں کے مویشی ہسپتال لایا اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر رام گوپال سے درخواست کی گھوڑی کے ملاپ کے لیے گدھا فراہم کر دیں۔ یہ سنتے ہی شیطان صفت ڈاکٹر رام گوپال نے ماتحت عملہ کے ایک فرد کو حکم دیتے ہوئے کہا:
”جاؤ اور ............ کو لے کر گھوڑی سے ملاپ کرا دو۔“
احمد خاں نے استفسار کیا کہ ”یہ ............ کون ہے؟“
اس پر اس ملعون نے احمد خان کو بتایا: ”ہسپتال میں پہچان کے لیے ہر ایک جانور کا نام رکھا جاتا ہے اور اسی نام کے تحت اس کے کاغذات تیار ہوتے ہیں، انھی کاغذات کو دیکھ کر جانور کو خوراک مہیا کی جاتی ہے۔ اسی اصول کے مطابق ایک گدھے کا نام ..................... ہے۔“
غیرت مند احمد خاں یہ سن کر آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے کہا: ”اب مجھے کسی ملاپ کی ضرورت نہیں“ اور گھوڑی گھر لے آیا۔ احمد خاں نے گاؤں والوں کو رام گوپال کی اس مذموم حرکت کے متعلق آگاہ کیا اور علاقہ کے سرکردہ لوگوں کی ایک جماعت تیار کی جو ضلع کے ڈپٹی کمشنر حسن اختر کو ملی اور رام گوپال کی اس قبیح حرکت پر سخت احتجاج کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ڈاکٹر رام گوپال کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ کیا۔ ڈی سی کی ہدایت پر مویشیوں کے اس ہسپتال پر چھاپا مارا گیا تو احمد خاں کی باتوں کی تصدیق ہوئی تو مسلمانوں کو مزید طیش آ گیا۔ احتجاج کا سلسلہ دراز ہوا تو یہ خبر لاہور کے اخبار ”زمیندار“ میں شائع ہوئی، اس خبر کا عنوان تھا ”پلول کا گدھا“۔ خبر کی تفصیل وہی درج تھی جو آپ جان چکے ہیں۔
غازی مرید حسین اخبارات و رسائل کے مطالعہ کے لیے اکثر بھلہ کے پرائمری سکول میں آتے اور یہاں کے اساتذہ سے بھی باتیں کرتے۔ ایک دن وہ سکول آئے تو ”زمیندار“ اخبار میں ”پلول کا گدھا“ کے عنوان سے خبر پڑھی تو آگ بگولہ ہو گئے، غصے سے ان
کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ دلخراش خبر کوئی معمولی واقعہ ہرگز نہ تھا کہ جسے پڑھ یا سن کر مسلمان خاموش ہو رہتے۔ گو کہ قبل ازیں بھی ہندو، مسلمانوں کی مختلف طریقوں سے مذہبی دلآزاری کرتے رہتے تھے اور آپ ﷺ کی ذات بابرکات اور تعلیمات کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا۔ لیکن یہ ایک ایسی قبیح حرکت تھی جس سے انسانیت کی گردن شرم سے جھک جاتی ہے۔ اس شرمناک حرکت کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں مل سکتی۔ جس مسلمان نے بھی یہ خبر سنی، اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ جگہ جگہ احتجاج اور جلسے جلوس شروع ہو گئے۔ فرنگی حکومت پر یہ واضح کیا گیا کہ یہ انتہائی نازیبا حرکت مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہے اور اس کے خطرناک نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب تعزیرات ہند میں اس وقت کوئی ایسا قانون نہ تھا جس سے بانیانِ مذاہب کے ذاتی تحفظ کے لیے کوئی کارروائی کی جاسکے۔ ادھر مسلمانوں کے دل و دماغ میں نفرت و غصے کا طوفان برپا تھا۔ اس دوران رام گوپال کو قتل کرنے کی ناکام کوششیں بھی ہوئیں۔ حکومت نے رام گوپال کو سرکاری تحفظ دے دیا اور اس ملعون ڈاکٹر کو پلول سے تبدیل کر کے ہندوؤں کے گڑھ نارنوند تحصیل ہانسی ضلع حصار تعینات کر دیا تا کہ یہ مسلمانوں کے حملے سے محفوظ رہے۔ نارنوند کی آبادی کل چھ سات ہزار لوگوں پر مشتمل تھی اور یہاں مسلمانوں کے صرف تین گھر تھے۔ رام گوپال کو سرکاری تحفظ اس لیے فراہم کیا کہ وہ پنجاب کے مشہور سیاسی ہندو رہنما سر چھوٹو رام کا رشتہ دار تھا، اسی لیے دیگر ہندو بھی ڈاکٹر رام گوپال کے سرپرست تھے۔
غازی مرید حسین کو تو اس خبر کے بعد گویا کرنٹ لگ گیا تھا۔ انھوں نے چند قریبی راز دار دوستوں کو جمع کیا۔ رام گوپال کی ناپاک جسارت پر تفصیل کے ساتھ بات چیت ہوئی۔ آپ نے اپنی لال رنگ کی نوٹ بک میں سے بھی ساتھیوں کو بہت سی معلومات دیں۔ اس نوٹ بک میں وہ اہانت رسول ﷺ سے متعلق تمام معلومات درج کر لیا کرتے تھے۔ تمام ساتھی رام گوپال کی مذموم حرکت پر غصے اور نفرت کا اظہار کر رہے تھے۔ مرید حسین کی ایک مثبت سوچ یہ بھی تھی کہ شاتم رسول ﷺ ڈاکٹر رام گوپال کے قتل کا منصوبہ تبھی کامیاب ہو سکتا ہے کہ موجودہ ایمانی حالت کو مزید تقویت دی جائے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں جہاں کہیں کمی ہو، اس کو پورا کیا جائے۔ آپ صوم وصلوٰۃ کی سختی سے پابندی کرتے۔ آپ سب سے حسن سلوک سے پیش آتے۔ انکساری کا مظاہرہ کرتے۔ سلام کرنے میں پہل کرتے۔ وضو کا
بہت خیال کرتے ۔ خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ۔ ان سب کاموں کے باوجود یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہرگزرتے لمحے کے ساتھ رام گوپال کے خلاف آپ کے جذبات شدید سے شدید تر ہوتے جارہے تھے۔ توہین رسالت ﷺ کے اس واقعہ کے بعد آپ نے اپنے پورے علاقے میں ہندوؤں کا معاشی بائیکاٹ بھی کروایا اور مسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ کسی ہندو سے کوئی چیز نہ خریدیں ۔ اس کے باعث جب ہندوؤں کی آمدنی میں کمی آنے لگی تو وہ گھبرا اُٹھے۔ اس کی بازگشت دور دور تک سنی گئی ۔ ایک دو ہندو جرائد نے اس بات کو موضوع سخن بناتے ہوئے مسلمانوں کی تنگ نظری کا رونا رویا ۔
رام گوپال کو قتل کرنے کا تہیہ تو مرید حسین نے پہلے دن ہی کر لیا تھا ، یہی وجہ تھی کہ آپ کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو چکا تھا ۔ شادی بھی آپ کو دنیا کی خوشیوں کی جانب راغب نہ کر سکی ۔ گندم کی فصل بھی تیار ہو چکی تھی مگر اسے سنبھالنے میں بھی آپ کوئی دلچسپی نہ لے رہے تھے اور اپنی اندرونی کیفیت بھی کسی کو نہ بتاتے تھے۔ رام گوپال کو ٹھکانے لگانے سے قبل آپ اپنے پیر و مرشد عبدالعزیز چاچڑویؒ سے اجازت لینا ضروری سمجھتے تھے ۔ آپ اپنے مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رام گوپال کے قتل کا منصوبہ بتایا اور مرشد صاحب کی دعاؤں کو شامل حال کرنے کی گزارش کی ۔ پیر صاحب قبلہ نے فرمایا : ’’مرید حسین ! جس مشن کا تم ذکر کر رہے ہو ، اس کام میں تختہ دار پر بھی لٹکنا پڑتا ہے ، کیا تم اس کے لیے تیار ہو‘‘ ۔ عاشق صادق نے جواب دیا: ’’حضور! اگر آپ کی دعائیں اور مدد شامل رہی تو بخوشی تختہ دار کو بھی چوم لوں گا‘‘۔
غازی مرید حسین وعدہ کے مطابق گھر نہ پہنچے تو والدہ کی تشویش ایک قدرتی امر تھا۔ اب مرید حسین تلوار یا پستول کی تلاش میں بھیرہ آئے ۔ وہاں سے اپنے دوست شیر محمد جو راولپنڈی میں فوج میں تھے ، اس سے پستول کے حصول کی خواہش ظاہر کی ۔ شیر محمد سے آپ نے اپنے منصوبے کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ یہ ارادہ ترک کر دیں اور سیدھے گھر جائیں اور دلجمعی سے اپنا کام کاج کریں مگر آپ اپنی دھن کے پکے تھے ۔ اسلحہ کے حصول کے لیے کئی جگہ کے سفر کیے بلکہ آپ پشاور سے آگے قبائلی علاقے میں بھی گئے اور مشکوک ہونے کی وجہ سے گرفتار کر لیے گئے ۔ پولیٹیکل ایجنٹ کی طرف ان کی تصدیق کے لیے کاغذات بھلہ آئے اور پھر ضروری کارروائی کے بعد واپس بھیج دیے گئے ۔ یوں اس تصدیق نامہ کی وجہ سے آپ کو رہائی ملی ۔ بات صرف اتنی تھی کہ آپ گستاخ رسول ﷺ کو قتل کرنے کے لیے آلہ قتل چاہتے تھے۔ جہاں جہاں
جاتے ناکامی ہوتی، اُلٹا پکڑے جاتے لیکن آپ کے پایہ استقلال میں ذرا بھی لغزش نہ آئی۔
راستے میں مرید حسین پشاور سے رسالپور میں ایک دوست کے پاس آئے، جہاں انھوں نے اپنے کپڑے دھلائی کے لیے دیئے۔ جب کپڑے دھل کر آئے تو انھوں نے پہننے سے انکار کر دیا اور کہا: ”یہ کسی ہندو نے دھوئے ہیں۔ ان سے بدبو آ رہی ہے“۔ تحقیق پر یہ بات درست ثابت ہوئی، اور اہل نظر نے کہا کہ یہ اس مرد مومن کی صفائی باطن کی دلیل ہے جسے کرامت بھی کہا جا سکتا ہے۔
رسالپور سے واپس گھر پہنچے۔ وہ ایک مصمم فیصلہ کر چکے تھے۔ وہ اس مقام پر کھڑے تھے جہاں ایک طرف بیوہ ماں کی شفقت، وفا شعار بیوی کی محبت، برادری کے بندھن، دنیاوی مصلحتیں، سینکڑوں کنال زمین، لہلہاتے کھیت اور تیار فصلیں تھیں اور دوسری طرف عشقِ رسول ﷺ کا امتحان تھا۔ عقل سوچتی رہ گئی مگر عشق نے امتحان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ آپ سیدھے چکوال گئے اور ڈاک خانہ سے اپنی جمع شدہ رقم میں سے سات سو روپے نکلوائے (اس زمانہ کے سات سو روپے آج کل کے ستر ہزار سے بھی زیادہ تھے) اور کسی کو بتائے بغیر اپنے مشن پر روانہ ہو گئے۔ اپنے اسی مشن کے دوران آپ لاہور میں چند دن قیام کے بعد عازم دہلی ہوئے۔ یہاں آپ کے قیام کا مقصد یہاں کے حالات کا جائزہ لینا تھا تا کہ آپ گستاخِ رسول ﷺ کے خلاف مشن کو مکمل کامیاب بنائیں۔
ان دنوں بھلہ کے ایک کوچوان حاجی طورا خان دہلی میں مقیم تھے۔ غازی مرید حسین، حاجی طورا خان کے گھر گئے اور قریباً 25 روز تک یہیں ٹھہرے۔ آپ اکثر خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کے مزار پر جاتے اور روحانی سکون محسوس کرتے۔ آپ گھر میں اطلاع دیے بغیر دہلی میں رہ رہے تھے۔ آپ کی والدہ کو اس وجہ سے بہت تشویش تھی۔ انھیں کسی طرح معلوم ہو گیا کہ مرید حسین دہلی میں طورا خان کے گھر قیام کیے ہوئے ہیں تو انھوں نے اس پتے پر خط لکھا۔ علاوہ ازیں حاجی طورا خان بھی اتفاق سے بھلہ آئے ہوئے تھے، آپ کی والدہ ان کو بھی ملیں اور تاکید کی کہ مرید حسین کو جا کر سمجھائیں کہ جلد از جلد گھر لوٹ آئے اور اسے یہ بھی بتائیں کہ تمہاری والدہ بیمار اور پریشان ہے۔ مکانات کی حالت مخدوش ہے، ان کی مرمت کرنا ضروری ہے۔ آپ کو جب گھر کے ان حالات سے آگاہی ہوئی تو اپنی والدہ کو مندرجہ ذیل مضمون کا خط لکھا:
”پیاری والدہ صاحبہ! مجھے آپ کی تکالیف کا احساس ہے۔ اس عمر میں آپ کو میری خدمت کی ضرورت ہے اور یہ خدمت میرا فرض بھی ہے کیونکہ آپ کے پاؤں تلے میری جنت ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں اس وقت فوراً آنے سے معذرت طلب ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ والدہ ہونے کے ناتے آپ میری گستاخی معاف فرما دیں گی۔ دراصل میں ایک بہت ہی اہم کام میں مصروف ہوں ...... جہاں تک مکانوں کا تعلق ہے میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ چاہیں گر جائیں یا تباہ ہوں، مجھے ان دنیاوی مکانوں کی ضرورت نہیں۔ یہ کیسے مکان ہیں کہ باپ بناتا ہے اور بیٹے کو پھر ان کی مرمت کرنا پڑتی ہے۔ میں تو ایسی جھونپڑی بنانے کی تلاش میں ہوں جو ابدی ہو، جسے دوبارہ تعمیر اور مرمت کی ضرورت نہ ہو اور ایسی ہو کہ لوگ اس پر رشک کریں۔ آپ دعا فرمائیں کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاؤں....... آپ کا بیٹا: مرید حسین“
عجب چیز ہے لذت آشنائی
6 اگست 1936ء کو غازی مرید حسین نے جامع مسجد دہلی کے باہر سے تین روپے کا ایک بڑا چاقو خریدا۔ پیتل کے دستے کے اس بڑے چاقو کو پھر سان سے خوب تیز کرایا اور اسی روز 4 بجے شام طورا خاں کے بیٹے کی ہاکی لے کر دہلی سے حصار جانے والی بس پر سوار ہو گئے۔ آپ ہانسی کے مقام پر بس سے اترے اور غالباً یہاں ایک مسلمان کے گھر پر قیام کیا، اس مسلمان کا تعارف بس میں ہوا تھا۔ صبح اُٹھ کر نہر کے کنارے سفر کرتے ہوئے آپ نارنوند پہنچ گئے۔ اب آپ بالکل منزل کے قریب پہنچ چکے تھے۔ اس علاقے میں مسلمانوں کے صرف تین گھر تھے۔ کسی طرح معلوم کر کے ایک مسلمان کے گھر چلے گئے۔ میزبان نے انھیں مسافر سمجھ کر خوب آؤ بھگت کی۔ باتوں باتوں میں مرید حسین نے گاؤں کے حالات اور دیگر ضروری معلومات حاصل کیں۔ صبح نماز فجر ادا کرنے کے بعد آرام کیا۔ دیر سے بیدار ہوئے۔ نہا دھو کر نیا لباس زیب تن کیا۔ ناشتے کے بعد کچھ دیر چہل قدمی کا بہانہ بناتے ہوئے باہر نکل گئے۔ 7 اگست 1936ء کو نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد آپ ڈاکٹر رام گوپال کی رہائش کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے بارگاہ رب العزت میں یہ دعا مانگی:
”میرے اللہ تیرے اس نحیف ونزار اور ناچیز بندے کو اپنے آبائی وطن سے سینکڑوں میل دُور کافروں کی بستی نارنوند میں تیرے محبوب ﷺ کی محبت جس مقصد کے لیے کھینچ لائی ہے،
اس میں کامیابی و کامرانی عطا فرما۔‘‘ رام گوپال کا گھر اس کے ہسپتال سے ملحقہ تھا۔ گھر کے ساتھ ہی میدان تھا۔ اس نے اس میدان میں شیشم کے درخت کے نیچے ایک بچھی ہوئی چارپائی پر اخبار پڑھنا شروع کیا ہی تھا کہ وہ خواب خرگوش کے مزے لینے لگا۔ اس وقت اس نے صرف دھوتی اور بنیان پہنی ہوئی تھی۔ قریباً 35 گز دور اس کی بیوی ساوتری دیوی کشیدہ کاری میں مگن تھی۔ ذرا دور کمپوڈر بھی سویا ہوا تھا اور کچھ دور ہسپتال کا عملہ تاش کھیلنے میں مصروف تھا کہ آپ جذبہ ایمانی اور عشق رسول ﷺ سے سرشار ہو کر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس گستاخ رسول ﷺ کی جانب بڑھے۔ اسے غور سے دیکھا اور مخبر صادق ﷺ کے بتائے ہوئے حلیے کے مطابق اسے ہو بہو درست پا کر دل خوشی سے بلیوں اچھلنے لگا۔ اب مزید انتظار آپ کے بس میں نہ تھا۔ آپ اس شاتم رسول ﷺ کو ابدی نیند سلا دینا چاہتے تھے۔ غیظ و غضب کی وجہ سے آپ کی آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے۔ ساوتری دیوی کی ان پر نظر پڑی تو اس نے اپنے خاوند کو آواز دی مگر آپ اس موذی کے سر پر پہنچ چکے تھے۔ غازی مرید حسین نے اسے لات رسید کرتے ہوئے للکارا: ’’او گستاخ زمانہ کافر! اُٹھ، کہ آج تجھے تیری کرتوت کی سزا دینے محمد ﷺ کا غلام آیا ہے۔‘‘
رام گوپال اپنی دھوتی سنبھالتے اور آنکھیں ملتے ہوئے ہڑبڑا کر اُٹھا ہی تھا کہ آپ شیر کی طرح جھپٹے اور اس موذی کے پیٹ میں پورا چاقو گھونپ دیا۔ زخمی کی چیخ بلند ہوئی نہ ہائے ہائے کی آواز اُٹھی۔ آپ نے اس موقع پر ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ اس قدر زور اور جوش سے لگایا کہ ساوتری دیوی و دیگر لوگ چیختے چلاتے باہر کی طرف دوڑے۔ آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ میرا وار خالی گیا ہے، وگرنہ مقتول ضرور تڑپتا پھڑکتا اور چیختا چلاتا۔ یہ سوچ کر مرید حسین بھاگ کھڑے ہوئے کیونکہ آپ اس موذی کو فنا فی النار کرنے سے قبل ہرگز گرفتار نہیں ہونا چاہتے تھے۔ آپ نے چاقو ایک تالاب میں پھینکا اور خود چھپ کر بیٹھ رہے لیکن اب ہر طرف ایک بھگدڑ مچی تھی۔ ہندو یہ کہتے ہوئے دوڑ رہے تھے کہ ’’ڈاکٹر مر گیا ہے‘‘۔ ’’ارے لوگو! کوئی ڈاکٹر کو مار گیا ہے‘‘۔ آپ اس موذی کے مرنے کا سن کر خوشی سے نہال ہو گئے کہ گویا انھیں اپنی کھوئی ہوئی منزل مل گئی ہو۔
اس موقع پر آپ نے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا۔ مارے خوف کے کوئی شخص
آپ کے قریب نہ جاتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ایس ایچ او چودھری احمد شاہ کہوٹ کی معیت میں پولیس آگئی اور آپ کو گرفتار کر کے تھانے لے آئی۔ ساوتری دیوی کی معیت میں آپ کے خلاف FIR درج ہوئی۔ اس وقت عصر کا وقت تھا۔ آپ نے مسلمان تھانیدار سے کہا کہ میرے لیے پاک لباس اور وضو کے لیے پانی کا انتظام کریں۔ تھانیدار نے پانی مہیا کیا اور پاک صاف کپڑے بھی دیے۔ آپ نے نماز عصر نہایت خشوع وخضوع سے ادا کی اور شکر کیا کہ اس اہم مشن میں کامیابی ہوئی کیونکہ یہ ایسا منصوبہ تھا جسے مکمل کرنے کے لیے آپ کی راتوں کی نیند اور دنوں کا چین ناپید ہو چکا تھا۔
گستاخ رسول ہندو ڈاکٹر کے قتل کا چرچا چار دانگ عالم پھیل چکا تھا۔ یہ خبر اخبارات میں بھی شائع ہوئی۔ اگلے روز گوپی نامی پولیس کا ایک سپاہی تھانہ چکوال سے بھلہ آیا اور مرید حسین کے چچازاد بھائی خیر مہدی کو تھانے لے گیا۔ وہاں اس سے پوچھ گچھ ہوئی اور رام گوپال کے قتل کی اطلاع دی۔ خیر مہدی نے اہل خانہ کو تمام حالات سے آگاہ کیا۔ چنانچہ 10 اگست کو آپ کی والدہ، خیر مہدی اور چوہدری محمد بخش سکنہ تھرپال براستہ لاہور آپ سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے۔ جیل کی ضروری کارروائی کے بعد آپ کو ملاقات کے لیے لایا گیا۔ عاشق صادق بہت مسرور تھے۔ آپ نے دیکھتے ہی لوگوں کو مبارکباد دی اور اپنے اس اہم منصوبہ کی تکمیل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہی وہ اہم کام تھا جسے میں بڑی رازداری اور بے چینی سے مکمل کرنے میں مصروف تھا۔ آپ نے بتایا کہ انھوں نے کس طرح حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو قتل کیا۔ آپ نے یہ بھی بتا دیا کہ مقدمہ کی پیروی کرنے سے آپ کو ذرا بھی فائدہ نہ ہوگا۔ آپ لوگ پیسہ خرچ کریں گے یا تکلیف اُٹھائیں گے تو میں ذمہ دار نہیں۔
12 اگست کو دوبارہ ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ غازی مرید حسین مسکراتے ہوئے آئے تو خیر مہدی نے انھیں بتایا: ”وکیل سے بات ہو چکی ہے، ہمیں تسلی ہے کہ آپ بری ہو جائیں گے“۔ یہ سن کر غازی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا: ”میں نے اس گستاخ مردود کو دن دہاڑے قتل کیا ہے اور پھر میں اپنے بیان میں اس اقدام کا اعتراف بھی کر چکا ہوں۔ عدالت میں بھی میں اپنے بیان سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ اگر میں جھوٹ بول کر اپنی زندگی بچالوں گا تو میں اس عظیم سعادت سے محروم رہوں گا جو میں اپنی باطنی آنکھ سے دیکھتا ہوں۔ اس لیے آپ کو میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ روپیہ اور وقت برباد نہ کریں اور نہ پردیس میں پریشان ہوں۔ آپ
سب واپس چلے جائیں۔ میں بذریعہ خط آپ سے رابطہ رکھوں گا‘‘۔ اس قتل کی تفصیلات سے پورا ہندوستانی پریس زمین و آسمان کے قلابے ملا کر رام گوپال کی طرف داری میں رطب اللسان تھا۔ بس ایک واحد اخبار ”زمیندار“ ہی تھا جو قتل کے محرکات کا صحیح جائزہ لیتا اور انتہا پسند ہندوؤں کی گستاخیاں گنواتا اور آئندہ کے لیے انھیں تنبیہ بھی کرتا۔ غازی موصوف کو پہلے ہی روز ڈسٹرکٹ جیل حصار پہنچا دیا گیا جس سے غازی مرید حسین پورے ملک میں موضوع بحث بن گئے۔ جیل کے ارد گرد ملاقاتیوں کا ایک ہجوم رہنے لگا۔ مسلمان آپ کی زیارت کے لیے دور دور سے کھنچے چلے آتے۔ ضلع حصار میں کئی تنظیمیں وجود میں آگئیں۔ مسلم نوجوانوں بالخصوص طالب علموں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ لوگ باہر سے آنے والے قافلوں کے قیام و طعام کا بندوبست کرتے۔
مقدمہ کی ابتدائی سماعت ایک ہندو مجسٹریٹ پنڈت لکشمی دت نے شروع کی۔ ماتحت عدالت میں آپ کی جانب سے بیرسٹر جلال الدین قریشی، احمد زئی اور میاں منظور الدین ایڈووکیٹ بلا معاوضہ پیروی کر رہے تھے۔ مجسٹریٹ نے اگلی ہی پیشی پر فرد جرم عائد کر دی اور مقدمہ کی فائل سیشن کورٹ کے سپرد کر دی۔ سیشن جج کلونت رائے ایک متعصب ہندو تھا، اس نے خلاف ضابطہ سماعت کی تاریخ فوراً ہی مقرر کر دی۔ دوسری یا تیسری پیشی سے کیس کی سماعت کا با قاعدہ آغاز ہوا۔ گواہوں کی فہرست خاصی طویل تھی۔ دیگر گواہان میں ایک وٹرنری کمپاؤنڈر شونا ناتھ اور دوسرا ہیڈ ماسٹر دینا ناتھ بیراگی تھا۔ ان گواہان نے جتنا کچھ دیکھا تھا، بتایا۔ اب پوسٹ مارٹم کے سرجن ڈاکٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ چاقو کا پھل گو خاصا لمبا تھا اور تیز مگر اس کے ایک ہی وار سے پیٹ کی اندرونی شکستگی زیادہ حیران کن ہے نیز جسم سے خون نہ نکلنے کی وجہ دہشت اور سکتہ بھی ہو سکتی ہے۔
آئندہ پیشی پر برآمدگی کے گواہان، پولیس کا بیان، نقشہ نویس وغیرہ نے جائے واردات کے ماحول سے آگاہ کیا۔ متعصب جج کی جانب داری کا اظہار کھلم کھلا ہو رہا تھا۔ وہ گواہان کی لغزشوں کے باوجود اپنے سٹینوگرافر کو خلاف حقیقت عبارت لکھواتا رہتا تھا۔ مختصراً یہ کہ آپ کے نہایت قابل وکلا نے بہترین دلائل دیئے لیکن ان دلائل کے بعد غازی مرید حسین نے کمرہ عدالت میں نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے اقبال جرم کر لیا کہ گستاخ رام گوپال کو میں نے ہی قتل کیا ہے کیونکہ اس شاتم رسول نے میرے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کی جرأت کی
تھی۔ نتیجتاً جج نے انھیں موت کی سزا سنا دی۔ کہتے ہیں کہ جس روز غازی مرید حسین کو سزا سنائی گئی، اس روز آپ بہت مسرور اور خوش نظر آ رہے تھے جبکہ لواحقین بہت زیادہ رنجیدہ تھے۔ آپ کو جام شہادت نوش کرنے کی تڑپ تھی جبکہ دوسری جانب رشتہ دار انھیں عرش سے فرش کی طرف کھینچ رہے تھے۔ چنانچہ سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ معروف قانون دان جناب محمد سلیم صاحب نے غازی مرید حسین کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا کہ عدالتی ریکارڈ میں اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ ماتحت عدالت نے جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے، لہٰذا اس مقدمہ کی سماعت دوبارہ ہونی چاہیے۔ اس اپیل کی سماعت جسٹس میاں عبدالرشید صاحب اور ایک انگریز جج کولڈسٹریم نے کی۔ 1937ء کے ابتدائی مہینوں میں اس اپیل کی سماعت شروع ہوئی اور چند پیشیوں کے بعد بحث و فیصلے کی تاریخ مقرر ہوگئی۔ اس تاریخ پر سلیم صاحب نے بڑے وزنی دلائل پیش کیے اور جسٹس حضرات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
”مائی لارڈ! اگر ملزم کی جگہ جناب کی ذات ہوتی تو کیا پھر بھی آپ اسے انصاف کے تقاضوں کے مطابق گردانتے؟ اگر عدالت میرے موقف کو تسلیم نہیں کرتی تو مجھے حق پہنچتا ہے کہ یہ مقدمہ پریوی کونسل میں لے جاؤں“۔
اس پر زور اور مدلل بحث کے بعد جسٹس میاں عبدالرشید نے فیصلہ دیا کہ ”اس کیس کی دوبارہ سماعت جج جگن ناتھ زوتشی کریں گے“......
غازی مرید حسین کی جان بچانے کے لیے ملک کے چوٹی کے وکلا مقدمہ کی پیروی کرنے لگے۔ وکلا کی جرح پر گواہان استغاثہ حواس باختہ ہو جاتے اور حتیٰ کہ جج تک دنگ رہ جاتے۔ یہی وہ لمحات ہوتے جب آپ قانون کی موشگافیوں سے فائدہ حاصل کر سکتے تھے مگر جب غازی مرید حسین عدالت میں بیان دیتے تو واشگاف الفاظ میں قتل کا اقرار کرتے اور پھر ساری قانونی کوششیں دھری کی دھری رہ جاتیں۔ سیشن جج جگن ناتھ زوتشی نے غازی مرید حسین کے اقبال جرم پر انھیں سزائے موت سنا دی۔ اس پر غازی صاحب کے ورثا نے عدالت عالیہ میں اپیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب وکلاء کے مشورے کے مطابق آپ کے رشتہ داروں نے آپ کو اپنے اقبالی بیان سے منحرف ہو جانے پر مائل کرنے کے لیے ان سے جیل میں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری کیا اور انھیں باور کرایا گیا کہ سزائے موت محض آپ کو اعتراف قتل کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ اگر آپ ذرا کوشش کریں تو مقدمہ مبہم ہو سکتا ہے اور آپ سزائے موت سے بچ سکتے ہیں
...... غازی صاحب نے تمام گفتگو سننے کے بعد کہا: ”آپ لوگوں کی باتیں بجا ہیں اور میں آپ کی ہمدردیوں کا بے حد مشکور ہوں۔ مگر بات یہ ہے کہ آپ کی کوششوں کا مقصد مجھے زندہ رکھنا ہے لیکن میں تو شہادت کا تمنائی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں جھوٹ بول کر اپنی جان نہیں بچانا چاہتا بلکہ جان کا نذرانہ دینا چاہتا ہوں۔ میں آپ کے وکلاء کے مشورے پر عمل نہیں کر سکتا۔ میں تو عدالت میں علانیہ اعتراف قتل کروں گا...... میں نے تو آپ کو ابتدا ہی میں بتا دیا تھا کہ مقدمے کی پیروی بے کار ہے۔ اب بھی وقت ہے، مقدمے کی پیروی کا خیال ترک کردیں“۔
حصار جیل میں آپ کی اہلیہ محترمہ امیر بانو نے بھی ملاقات کی اور والدہ اور خالہ نے بھی آپ سے ملاقات کی اور ملتجیانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے غازی مرید حسین سے کہا۔ ”ہم دونوں بہنوں کا اب تم ہی سہارا ہو۔ ہمارے دکھوں اور بڑھاپے کا کچھ تو خیال کرو۔ خود ہی سوچو، تمہارے بعد میں ہمارا کون سہارا بنے گا۔ خدارا! ہمیں اندھیروں میں نہ پھینکو“۔ غازی مرید حسین نے کہا: ”کیا آپ مجھے لکھ کر دے سکتی ہیں کہ مجھے موت کبھی نہ آئے گی؟“ والدہ اور خالہ بولیں۔ ”یہ تو قدرت کا اٹل فیصلہ ہے۔ بھلا پھر ہم آپ کو کیسے ہمیشہ زندہ رہنے کی ضمانت دے سکتے ہیں؟“ پھر مرید حسین نے والدہ اور خالہ کو سمجھایا کہ آپ لوگ مجھے میرے مشن سے نہ روکیں۔ میری آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں، میں اس کی تفصیل آپ کو نہیں بتا سکتا۔ مہربانی کر کے آپ جام شہادت نوش کرنے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ مجھے شہادت کی شدید ترین خواہش ہے۔
علاوہ ازیں غازی مرید حسین حصار جیل میں اپنے پیر کامل حضرت عبدالعزیز چاچڑویؒ کے فراق میں بسمل کی طرح تڑپتے اور ٹپ ٹپ آنسو بہاتے رہتے۔ اگر کسی رات آپ کو خواب میں اپنے مرشد کا دیدار نصیب ہو جاتا تو ذوق و شوق مزید بڑھ جاتا اور ہر وقت یہی دعا کرتے رہتے کہ اسی طرح دیدار کرتا رہوں۔ یہ اسی بزرگ ہستی کا فیض تھا کہ آپ عشق حقیقی کی منازل آسانی سے طے کر رہے تھے۔ غازی مرید حسین کی والدہ کو ایک نیا خیال آیا اور انھوں نے غازی صاحب کو کہا کہ ٹھیک ہے، تم ہماری بات نہیں مانتے لیکن اگر پیر صاحب کہہ دیں کہ جان بچانا فرض ہے تو کیا مان جاؤ گے؟
غازی مرید حسین کے لیے اب ایک نیا امتحان تھا۔ والدہ کی باتیں سن کر آپ نے کہا: ”ہاں! پیر صاحب کہیں گے تو مان جاؤں گا۔“ اصل میں غازی مرید حسین کو یقین تھا کہ کوئی
سچا پیر اپنے مرید کو جھوٹ بول کر جان بچانے کے لیے نہیں کہہ سکتا، درآں حالیکہ پیر صاحب سے آپ کی ملاقات ہو جائے گی جس کے لیے آپ پہلے ہی تڑپ رہے تھے۔ شاید قدرت اسی طرح بندوبست کر رہی تھی۔ چنانچہ پیر صاحب کو غازی مرید حسین کی خواہش کا بتایا گیا کہ وہ آپ سے ملاقات کا متمنی ہے۔ پیر صاحب ملاقات کے لیے حصار جیل پہنچے۔ جب پیر کامل اور مرید صادق آمنے سامنے ہوئے تو انتہائی لطیف منظر تھا۔ مرید حسین نے اپنے مرشد کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور پھر فرط جذبات سے دونوں کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔
پیر صاحب نے پوچھا: ”کسی ہستی کے دیدار سے مشرف بھی ہوئے ہو یا نہیں؟“
غازی مرید حسین: قتل سے پہلے حضور سرور کائنات ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے دو کافروں کے حلیے دکھائے تھے جس میں سے ایک رام گوپال کا چہرہ تھا۔ دوسری مرتبہ قتل کرنے کے بعد حضور پاک ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا تھا کہ ابھی اس دنیا میں رہنا چاہتے ہو یا ہمارے پاس آنا چاہتے ہو؟ اس پر آقائے نامدار ﷺ کو بتایا تھا کہ میں جلد آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں۔
پیر صاحب: اگر یہ بات ہے تو پھر عشق سے قدم پیچھے کیوں ہٹاتے ہو، اپنی عظمت کو گہن کیوں لگاتے ہو، مجھے کیوں بلایا گیا۔ اس لیے کہ میں تمہیں جھوٹ بولنے پر مجبور کروں اور تم جان بچا سکو؟“
غازی مرید حسین: ”حضور، میں اس عشق کو نہ ضائع کروں گا، نہ پیچھے ہٹوں گا۔ میں آپ کے فراق میں بے تاب تھا، اس لیے زحمت دی“۔
پیر صاحب: ”یاد کرو جب تم میرے پاس آئے تھے اور اس مشن کی تکمیل کی اجازت چاہی تھی تو میں نے کہا تھا کہ یہ منزل اتنی آسان نہیں، اس کے لیے دار پر بھی چڑھنا پڑتا ہے تو تم نے کہا تھا کہ آپ کی دعائیں شامل حال رہیں تو دار پر بھی چڑھ جاؤں گا“
غازی مرید حسین: ”مجھے سب یاد ہے اے مرشد کامل!“
پیر صاحب: ”اپنے اقرار کو اقرار ہی رکھو اور تمام مصائب کا مقابلہ صبر سے کرو“۔
بعد ازاں آنسوؤں، ہچکیوں، سسکیوں میں یہ پیر و مرید ایک دوسرے سے رخصت ہوئے۔
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ینگ اور جج مین راؤ نے اس اپیل کی سماعت شروع کر دی جو غازی مرید حسین کی طرف سے بیرسٹر محمد علی، بیرسٹر سلیم اور ڈاکٹر عالم
لاہوری نے دائر کی تھی۔ دوران سماعت جج مین راؤ نے اس مقدمہ سے متعلق ماتحت عدالتوں کی کارروائی پڑھنی شروع کی۔ چیف جسٹس نے وکلاء کے دلائل سنے۔ وکلاء کے دلائل اور بحث کے مطابق قریب تھا کہ غازی مرید حسین کو بری کیے جانے کا فیصلہ ہو جاتا مگر اسی دوران جج مین راؤ نے غازی مرید حسین کے اقبالی بیان چیف جسٹس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ آپ ان بیانات کو بھی پڑھ لیں۔ ان بیانات کا پڑھنا تھا کہ چیف جسٹس غصے سے لال پیلا ہو کر بولا کہ تم لوگ عدالت کو دھوکا دے رہے ہو۔ اس نے فوراً فیصلہ لکھوایا کہ اپیل مسترد، سزائے موت بحال۔
شہیدان ناموس رسالت ﷺ پر نہایت علمی اور تحقیقی مضامین لکھنے والے پاکستان کے نامور صحافی و کالم نگار جناب احمد خلیل جازم اپنے مضمون ”غازی مرید حسین شہیدؒ“ میں لکھتے ہیں:
”حافظ عبدالکریم جو خوشاب کے رہنے والے تھے، وہ غازی صاحبؒ کے اہل خانہ کی اعانت کرنے پر کمر بستہ تھے۔ جب اس حوالے سے انھیں پنجاب کے ہوم سیکرٹری کا بتایا گیا تو انھوں نے فوری طور پر ہوم سیکرٹری سے اس بارے میں گفتگو کی اور ان سے پوچھا کہ کیسے غازی صاحبؒ کی پھانسی ختم کرائی جاسکتی ہے؟ ہوم سیکرٹری نے کہا میرے لیے قتل کے مجرم کی مدد کرنا مشکل امر نہیں ہے۔ لیکن یہاں معاملہ بالکل اُلٹ ہے، یہ مخصوص مقدمہ ہے۔ ہندو، غازی صاحبؒ کی پھانسی کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ ہوم سیکرٹری نے یہ بھی بتایا کہ ملعون ڈاکٹر رام گوپال، معروف ہندو سیاسی لیڈر سر چھوٹو رام کا رشتہ دار تھا۔ اس لیے چھوٹو رام پہلے ہی گورنر پنجاب سے سفارش کر چکا ہے کہ ہر قسم کی اپیل مسترد کر دی جائے اور سزائے موت بحال رکھی جائے۔ تاہم گورنر کے علم میں لائے بغیر غازی صاحبؒ کے بار بار اقبال جرم کو پاگل پن کے زمرے میں لایا جاسکتا ہے اور میں ان کے دماغی معائنے کے لیے لکھ سکتا ہوں۔ اگر ڈاکٹر انھیں پاگل قرار دے دیں تو پھر سزائے موت سے بچا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ہوم سیکرٹری پنجاب کے حکم پر غازی صاحبؒ کو پاگل قرار دینے کے لیے مینٹل ہسپتال لاہور بھجوا دیا گیا تا کہ اس طرح کم از کم سزائے موت سے بچا جاسکے۔
اس وقت لاہور مینٹل ہسپتال میں دو ڈاکٹر تھے۔ ایک تو انگریز ڈاکٹر تھا، جبکہ دوسرے ڈاکٹر حق نواز تھے۔ حق نواز، خان محمد سرفراز خان ساکن چکوال کے قریبی رشتہ دار تھے۔ چنانچہ ان کے ہی طفیل ڈاکٹر حق نواز سے رابطہ ممکن ہوا کہ کسی طرح غازی صاحبؒ کو پاگل قرار دینے میں مدد کریں۔ ڈاکٹر حق نواز، غازی صاحب کے روزانہ کے معمولات دیکھ کر ان کو سمجھاتے کہ
آپ کا انداز گفتگو، نماز کی ادائیگی اور تلاوت قرآن پاک سمجھدار اور عقل مند انسانوں جیسے ہیں۔ مطالعہ اور دیگر امور بھی ایک سلجھے ہوئے شخص کی طرح ہیں۔ ہمارے پاس کوئی ایسی مشین نہیں ہے کہ جس کی مدد سے آپ کو پاگل قرار دیا جاسکے۔ آپ اگر احمقانہ حرکتیں کریں گے تو ان کی بنیاد پر آپ کی دماغی حالت کو غلط قرار دیا جاسکتا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ پاگلوں جیسی حرکات کریں تاکہ ہمیں پاگل پن کا کوئی ثبوت مل سکے۔ اگر یہ سب کچھ آپ نہیں کر سکتے تو خدارا اپنی زبان بند رکھیں اور ایسی صورت میں کوئی کام انجام مت دیں۔ بس ہر بات کے جواب میں خاموشی اختیار کریں۔ اس موقع پر غازی صاحبؒ نے ڈاکٹر حق نواز سے جو گفتگو کی، وہ بھی ناقابل فراموش ہے۔ انھوں نے کہا: ”ڈاکٹر صاحب! آپ کے مشوروں کا بہت بہت شکریہ۔ لیکن آپ کو بتاؤں کہ میں پاگل نہیں ہوں بلکہ ایک معقول انسان ہوں۔ پاگل تو وہ لوگ ہیں جو مجھے پاگل بنارہے ہیں۔ جہاں تک اس طرح کی گفتگو کا تعلق ہے تو یہ ایک ناشکری کا عمل ہے۔ زبان، اللہ تعالیٰ کی ایک خاص عنایت ہے۔ میں اس عنایت ونعمت کا غلط استعمال یا خاموشی کیوں اختیار کروں۔ میرے لیے یہ ناممکن ہے کہ اس نعمت سے اللہ کا ذکر چھوڑ دوں۔ رہا تعلق اس بات کا کہ عاقل بن کر میں اپنی موت کو دعوت دے رہا ہوں، تو گزارش ہے کہ میں اپنی زندگی بچانے کے لیے جھوٹ کا سہارا نہیں لے سکتا۔ اللہ کے ہاں صدیق اور کذاب کا واضح فرق ہے۔ ایک کا ٹھکانہ جنت اور دوسرے کا جہنم ہے۔ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے واضح احکامات سے روگردانی کیسے کرسکتا ہوں؟ شاید آپ کو معلوم نہیں ہے کہ میں ایک زمیندار ہوں اور اپنے علاقے کا نمبردار بھی رہ چکا ہوں۔ میٹرک کر چکا ہوں، میرے دماغ میں کسی قسم کا فتور نہیں ہے۔ میں نے چھ ماہ کے پختہ ارادے کے بعد گستاخ رام گوپال کو جہنم رسید کیا ہے۔ آپ تو اس دنیا کے جھوٹ کا کہہ رہے ہیں، میں تو روز محشر بھی پکاروں گا کہ اس گستاخ کو میں نے اس وجہ سے قتل کیا ہے کہ اس نے میرے آقائے نامدار ﷺ کی شان میں اہانت کی تھی“۔ چنانچہ ڈاکٹر حق نواز نے غازی صاحب کے والد اور دیگر رشتہ داروں کو تمام تر گفتگو بیان کر دی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ غازی مرید حسینؒ ایک مرد حق ہیں اور اپنی صاف گوئی سے کبھی بھی باز نہیں آئیں گے۔ چنانچہ ڈاکٹروں نے لکھا کہ مرید حسینؒ میں ایسی کوئی علامت نہیں پائی گئی، جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ پاگل ہیں یا ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔ دراصل غازی صاحبؒ جان چکے تھے کہ اب ان کا آخری وقت آ چکا ہے، وہ جھوٹ، مکر اور
فریب سے اپنی جان ہرگز نہیں بچانا چاہتے تھے۔ چنانچہ دماغی ہسپتال کی رپورٹ عدالت کو بھجوا دی گئی اور اس میں لکھ دیا گیا کہ مرید حسین میں پاگل پن کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ بعد ازاں اس رپورٹ کی روشنی میں غازی صاحبؒ کو عدالت نے دوبارہ جہلم جیل بھجوا دیا‘‘۔
(روزنامہ امت کراچی 21دسمبر 2016ء)
لاہور ہائی کورٹ سے اپیل کے مسترد ہو جانے کے بعد آپ کے عزیز و اقارب کو یہ خواہش ہوئی کہ آپ کی شہادت کسی قریب ترین جیل میں ہو۔ خدا کی قدرت کہ چند دنوں بعد حصار جیل کے حکام کو آپ کی جہلم جیل میں منتقلی کے آرڈر مل گئے۔ مسلمانوں کے دلوں میں غازی صاحب سے متعلق والہانہ لگاؤ پیدا ہو چکا تھا، اس لیے حصار سے جہلم تک دوران سفر جہاں جہاں لوگوں کو آپ سے متعلق معلوم ہوا، وہ زیارت کے لیے دوڑے آئے اور اپنی دلی عقیدت وتحسین کے پھول نچھاور کرتے رہے۔
جو مشاغل آپ کے حصار جیل میں تھے، جہلم جیل میں بھی وہی مشاغل تھے۔ آپ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزارتے۔ قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہتے۔ مذہبی کتب پڑھتے۔ عارفانہ اور صوفیانہ شاعری پر بھی وقت صرف کرتے۔ کبھی کبھی اپنے اشعار کو پر سوز لہجے میں گنگناتے رہتے۔ آپ کا تخلص اسیر تھا جسے آپ اپنی شاعری میں استعمال کرتے۔
جہلم جیل میں قید کے دوران ایک عجیب واقعہ سے متاثر ہو کر ایک ہندو اسلام کی دولت سے مالا مال ہوا۔ ہوا یوں کہ غازی مرید حسین کی کوٹھڑی سے ملحقہ ایک ہندو کی کوٹھڑی تھی۔ یہ ہندو ڈنگہ (منڈی بہاؤالدین) کا رہنے والا تھا اور قتل کے مقدمے میں موت کی سزا کا منتظر قیدی تھا۔ یہ ہندو غازی صاحب کے دین اسلام سے بے حد لگاؤ اور موت سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس کی تمنا کرنے پر پہلے ہی متاثر تھا کہ ایک اور واقعہ نے اسے مزید حیران کر دیا۔ وہ یہ کہ ایک رات اس نے غازی صاحب کی کوٹھڑی کو منور اور روشن دیکھنے کے علاوہ کسی کے ساتھ انھیں گفتگو کرتے بھی سنا۔ صبح اُٹھ کر اس نے ہندو سپاہی سے دریافت کیا کہ رات کو تم نے غازی مرید حسین کی کوٹھڑی میں کوئی خصوصی روشنی دیکھی تھی؟ اس پر اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ پھر اس ہندو نے غازی صاحب سے اس واقعہ کا اظہار کیا کہ میں نے آپ کی کوٹھڑی کو روشن و منور دیکھا ہے اور کسی ہستی سے آپ کی گفتگو بھی سنی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی التجا کی کہ زندگی کے اس مرحلے پر آپ میری راہنمائی فرمائیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کے اس عاشق صادق نے
ہندو سے کہا کہ ”تمھیں راہنمائی اسی صورت میں مل سکتی ہے کہ میرے کہنے پر عمل کرو، سب سے پہلے اپنے بال کٹوا کر ہندوؤں کا طرزِ حیات بدلو۔ پھر ہندوؤں کے بجائے مسلمانوں کے لنگر سے پیٹ کی بھوک مٹاؤ اور دین اسلام قبول کرو“۔
اس ہندو نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔ اس کا کفریہ اندھیرا چھٹ چکا تھا۔ فوراً ہی قبول اسلام کے لیے رضا مند ہو گیا اور کلمہ شریف پڑھ کر اسلام کے دامن میں آگیا۔ غازی صاحب نے اس کا اسلامی نام ”غلام رسول“ رکھا...... غلام رسول کے ہندو سے مسلمان ہونے کا چرچا پوری جیل میں ہوا تو سپرنٹنڈنٹ جیل گیان چند چڈہ کو طیش آگیا، اس نے اس واقعہ کو اپنے مذہب کی توہین سمجھا اور مجرم کے گھر والوں کو بلا کر اس قصے سے آگاہ کیا۔ غلام رسول پر دباؤ ڈلوانے کی کوشش کی کہ وہ اپنے سابقہ مذہب پر واپس آئے۔ غلام رسول جو چند دن قبل اسلام کی دولت پا کر اپنی زندگی سنوار چکا تھا، کسی صورت میں اس دولت کو گنوانا نہیں چاہتا تھا، اس نے اپنے عزیز واقارب سے ملاقات کرنے ہی سے انکار کر دیا اور انھیں یہ پیغام بھیجا:
”میں اسلام قبول کر چکا ہوں اور اب میں کسی ہندو رشتہ دار سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ اگر رشتہ دار مجھ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اسلام قبول کریں، ورنہ ملاقات کی قطعاً ضرورت نہیں“۔
یہ شرط ان رشتہ داروں کے لیے ناقابل قبول تھی، اس لیے یہ ملاقات نہ ہوئی۔ ہندوؤں کی طرف مزید کوششیں بھی کی گئیں اور خصوصاً جیل سپرنٹنڈنٹ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر وہ غلام رسول کے استقامت ایمان میں دراڑ نہ ڈال سکا۔ اب غلام رسول نے ہندوؤں پر ایک اور کاری چوٹ لگائی اور اپنا وصیت نامہ یوں لکھا:
- ”میں مسلمان ہو چکا ہوں، اس لیے میری تجہیز وتکفین اسلامی طریقہ سے کی جائے۔
میری نعش کو میرے لواحقین کے حوالے کرنے کے بجائے جہلم کے ممتاز راہنما عبداللطیف احراری کے حوالے کیا جائے“۔
غلام رسول کی پھانسی کے بعد اس کی ہدایت پر من وعن عمل کیا گیا۔ اس کی تجہیز وتکفین اسلامی طریقہ سے کی گئی۔ جنازہ میں کافی مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس نو مسلم کو جہلم کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ ؎
اس وقت جہلم کے ڈپٹی کمشنر نواب زادہ سعید اللہ خاں تھے۔ عبداللطیف احراری اور
خیر مہدی نے اُن سے ملاقات کر کے غازی صاحب کے مقدمہ کی تفصیل سے آگاہ کیا اور پریوی کونسل میں اپیل کرنے کے لیے ان کی منظوری طلب کی کیونکہ یہ اپیل ڈپٹی کمشنر کی اجازت ہی سے دائر کی جاسکتی تھی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مجھے اعتراض نہیں مگر میں پہلے غازی صاحب سے ملاقات کروں گا۔ بعدازاں نواب زادہ صاحب نے منظوری طلب کرنے والے افراد کو بتایا کہ غازی صاحب اس اپیل کے حق میں نہیں۔ وہ تو زیارت رسول ﷺ میں تڑپ رہے ہیں۔ اب ان کا صبر کا پیمانہ چھلک رہا ہے اور وہ جلد سے جلد شہادت کے تمنائی ہیں۔ پریوی کونسل میں اپیل کر کے ہمیں ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
غازی مرید حسین کی شہادت کے دن قریب آرہے تھے اور آپ کے رشتہ داروں سے آخری ملاقاتیں ہورہی تھیں۔ اس موقع پر آپ کی والدہ نے بیٹے سے درخواست کی کہ بیٹا! اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ میرا دل مضبوط ہو جائے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مجھے تمہاری شہادت پر صبر وقرار نہ رہے۔ غازی مرید نے ماں سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں۔ ان شاء اللہ آپ کا دل اتنا مضبوط ہو جائے گا کہ لوگ کہیں گے کہ واقعی آپ ایک عظیم شہید کی والدہ کہلانے کی مستحق ہیں۔ اس آخری ملاقات میں آپ کی والدہ نے مرید حسین سے کہا: ”بیٹا! پھانسی کا پھندہ خود اپنے گلے میں ڈالنا، کسی بھنگی وغیرہ کو اس کی اجازت نہ دینا“ غازی صاحب نے کہا، ٹھیک ہے ماں جی“۔ آپ نے والدہ سے یہ بھی کہا کہ آپ نے شادی انتہائی سادگی سے کرنے پر کہا تھا کہ میری خوشیوں کی حسرت پوری نہیں ہوئی۔ ماں! اب میری بارات دیکھنا، اس دھوم دھام پر لاکھوں مائیں آپ پر رشک کریں گی۔ آپ نے اہلیہ سے ملاقات میں ان سے معافی مانگی اور کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ میں تمہارے حقوق ادا نہ کر سکا۔ امید ہے کہ میرے مشن کی وجہ سے معاف کر دو گی۔ محترمہ امیر بانو نے کہا کہ میرے لیے یہ کتنا بڑا اعزاز ہے کہ آپ سے منسلک ہوں اور تا زندگی آپ کی رہوں گی (یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ محترمہ امیر بانو چند برس بعد ہی یعنی 1943ء میں انتقال کر گئیں) آپ کے چچا زاد بھائی خیر مہدی نے بھی آپ سے کئی مسائل پر گفتگو کی اور آپ کی قبر کے بارے میں پوچھا کہ کہاں تیار کریں؟ غازی صاحب نے جواب دیا کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی مرضی پر چھوڑ دیں، قدرت اس کا خود بندوبست کر دے گی اور موزوں جگہ کا تعین بھی ہو جائے گا۔ بارہ افراد نے آپ سے آخری ملاقات کی جس میں مختلف باتیں ہوئیں۔ پھر آپ نے ان ملاقاتیوں سے خود ہی کہا کہ آپ لوگ جلدی جلدی مل کر فارغ ہو
جائیں کیونکہ میری زندگی میں جو چند پل رہ گئے ہیں، میں انھیں ضائع نہیں کرنا چاہتا بلکہ عبادت اور ذکر الٰہی میں گزارنا چاہتا ہوں۔
غازی مرید حسین نے اپنی وصیت خود تحریر کی جس پر مجسٹریٹ درجہ اول عبدالرحیم نے تصدیق کرتے ہوئے دستخط ثبت کیے۔ اس وصیت میں آپ نے اپنی والدہ اور بیوی امیر بانو کو اپنی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد وغیرہم کا وارث قرار دیا۔
آپ کی شہادت میں صرف چند روز باقی تھے کہ آپ نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو بتایا کہ میں بوقت شہادت جیل کی طرف سے پہنایا جانے والا سیاہ لباس نہیں پہنوں گا بلکہ اپنی پسند کا گھر سے بنا ہوا لباس زیب تن کروں گا۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے پہلے تو معذرت چاہی کہ میں جیل قواعد کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا لیکن پھر اس نے معاملہ کی باریکی کو سمجھتے ہوئے عدالت عالیہ سے رجوع کیا اور بتایا کہ اس مسئلے پر ہندو مسلم فساد کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ مسلمانوں کو غازی صاحب سے بے حد عقیدت ہے۔ چنانچہ آپ کو اپنی پسند کا لباس زیب تن کرنے کی اجازت مل گئی۔
24 ستمبر 1937ء بمطابق 18 رجب 1356ھ بروز جمعہ کو وہ ساعت مبارکہ آگئی جس کے آپ عرصہ سے منتظر تھے۔ عبدالرحیم مجسٹریٹ درجہ اول آپ کی شہادت پر مامور تھے۔ آپ نے غسل کیا، اپنی خواہش کے مطابق گھر کے کپڑے زیب تن کیے اور نماز ادا کی۔ پولیس کی موجودگی میں آپ کو مقام شہادت کی طرف لایا گیا۔ اس وقت آپ پریشان یا خوف زدہ ہونے کے بجائے بڑی جواں مردی کے ساتھ تختہ دار کی طرف گئے۔ آپ کو یقین کامل تھا کہ بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہونے والے ہیں۔ آپ کی پیشانی یوں چمک رہی تھی جیسے یکا یک افق پر کوئی روشن ستارہ نمودار ہو جائے۔ تختہ دار کے عینی شاہدین کا بیان ہے کہ غازی صاحب شہادت کے وقت نہایت مسرور اور ہشاش بشاش تھے۔ آپ نے مدینہ شریف کی طرف رُخ کر کے تین بار بآواز بلند کلمہ شریف پڑھا اور پھر درود پاک کے وظیفے میں جت گئے۔ آپ کو کہا گیا کہ زبان کو حرکت دینا بند کر دیں تو آپ نے جواب دیا کہ آپ اپنے کام کی تکمیل کریں میں تو اپنا ورد جاری رکھوں گا۔ پھر آپ نے پھانسی کا پھندہ چوم کر خود اپنے گلے میں ڈالا۔ عبدالرحیم مجسٹریٹ کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا۔ اسی لمحے فجر کی اذان گونجی اور ایک خفیف اشارے سے آپ کے پاؤں کے نیچے سے تختہ دار کھینچ لیا گیا....... چند ہی لمحوں میں آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ شہادت کے قریب آپ کی تمنا و آرزو کیا تھی؟ آپ ہی کے ایک شعر
میں ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں:
خواہش دیدار احمد ﷺ کے دگر کچھ بھی نہیں
جہلم شہر کے ایک عالم دین جیل میں موجود تھے جنہوں نے میت مبارک کو غسل دے کر کفنایا۔ جیل حکام نے غازی مرید حسین شہیدؒ کی میت اور ان کی اشیاء آپ کے چچا زاد بھائی کے حوالے کر دیں۔ لوگوں کو آپ کی تاریخ شہادت کا علم تھا۔ چنانچہ ہزاروں مشتاقانِ دید جہلم پہنچ چکے تھے۔ علاوہ ازیں آس پاس کے دیہاتوں سے لوگ اپنا کام کاج چھوڑ کر آ رہے تھے۔ یہ لوگ آپؒ کے آخری دیدار کی سعادت حاصل کرنا اور جنازے میں شرکت کے مشتاق تھے۔ اس دن جہلم شہر کی اکثر دکانیں بند تھیں اور شہر کے گلی کوچے درود و سلام سے گونج رہے تھے۔ آپؒ کی عظیم شہادت کو ہر مسلمان ہندوؤں کے خلاف اپنی فتح سمجھتا تھا۔ عاشق رسول ﷺ کا آخری دیدار کرنے والوں کا ہجوم دیکھ کر حکام گھبرا گئے۔ مجسٹریٹ نبی احمد نے کافی غور و خوض کے بعد شہر میں صرف جنازہ پڑھنے کی اجازت دی اور نو بجے کے قریب آپ کا جنازہ ایک کھلے میدان میں پڑھا گیا۔ صرف چند لوگوں نے آپؒ کا دیدار کیا تھا کہ میت کو سرکاری گاڑی میں ڈال کر پولیس کی نگرانی میں چکوال کے ایس ڈی او سید قطب کی معیت میں بھلہ کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ جہلم سے بھلہ کریالہ تقریباً 95 کلومیٹر ہے۔ اس طویل راستے پر سڑک کے کنارے متعدد مقامات پر مسلمانوں کے ایک جم غفیر نے شہید تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر اپنی عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کیے۔ راٹھیاں موڑ پر وارثوں کے مطالبہ پر آپؒ کی میت پولیس کی گاڑی سے اتار کر ملک اللہ بخش ساکن مکھیال کی بس میں رکھی گئی اور وہاں سے یہ قافلہ آگے روانہ ہوا۔ پھر سوہاوہ، ملہال، خان پور اور سہگل آباد میں بھی ہر جگہ شہید کے استقبال کے لیے لوگوں کا ایک جم غفیر تھا۔ ان جگہوں پر بھی نماز جنازہ ہوتی رہی اور لوگوں کی کثیر تعداد عاشق رسول ﷺ کا دیدار کرتی رہی۔ موخر الذکر مقام سہگل آباد میں پیر ترمذی نے خیر مہدی کو کہا کہ وارث کو چاہیے کہ آخری بار نماز جنازہ پڑھیں۔ یہاں ایک کھلے میدان میں حضرت بابا زماں شاہ نے آپؒ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ زیارت شہید کے بعد یہ قافلہ آگے روانہ ہوا۔ موضع ڈب میں بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس پر قربان ہو جانے والے اس عظیم مجاہد کا شاندار استقبال کیا گیا۔ یہاں پر صوبیدار غلام جیلانی اور دیگر حضرات نے آرائشی دروازے بنائے، رنگارنگ
جھنڈیاں لگائی گئیں۔ قافلہ آنے پر آپ کے لاشہ مبارک کا دیدار ہوا اور پھولوں کی بارش میں یہ قافلہ بھلہ کی جانب روانہ ہوا۔ بھلہ میں آپ کے استقبال اور جنازہ میں شرکت کے لیے بے شمار لوگ قرب و جوار سے آ کر پہلے ہی جمع تھے۔ یہاں بھی آرائشی دروازوں، جھنڈیوں اور ہر طرف خوشبوؤں کی بہار تھی۔ بڑا روح پرور منظر تھا۔ مکانوں کی چھتیں عورتوں اور بچوں بوڑھوں سے بھری ہوئی تھیں۔ شہید کا جسد خاکی جب گاؤں پہنچا تو اسے بس سے اتار کر چارپائی پر رکھا گیا تو آپؒ کی والدہ نے اعلان کیا کہ کوئی شخص گریہ و زاری نہ کرے بلکہ درود و سلام کا ورد جاری رکھیں۔ لوگوں کا اژدہام اس قدر زیادہ تھا کہ بھلہ اور کرہالہ کے درمیان بڑے وسیع و عریض میدان میں مولوی غلام محمد ساکن سدووال نے نمازِ جنازہ پڑھایا۔ جنازہ پڑھنے والوں کی قریباً 70 صفیں شمار کی گئیں۔ اعلان ہوا کہ لوگ اسی طرح کھڑے رہیں اور پھر شہید کی میت کو بغرض دیدار ان صفوں کے درمیان پھرایا گیا۔ بعد ازاں ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں آپ کو ”غازی محل“ میں سپرد کیا گیا۔ حضرت خواجہ عبدالعزیز صاحب چاچڑویؒ نے اپنے مرید خاص کی شہادت پر بیدم کے ان الفاظ میں انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔
سر دے کے دار پر جو سزاوار ہو گئے
ذوقِ فنا سے جب خبردار ہو گئے
اہلِ نیاز خاکِ درِ یار ہو گئے
بے شک وہ محرم اسرار ہو گئے
بیہوشیوں میں رہ کے جو ہوشیار ہو گئے
غازی محل بھلہ شریف میں ہر سال 18 رجب المرجب کو آپ کا یوم شہادت بڑی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔
ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما
محمد متین خالد
غازی غلام محمد بٹ شہیدؒ
(سن شہادت: 1937ء)
جہلم شہر میں دریا کے کنارے واقع شمالی محلہ میں ایک غیرت مند مسلمان غازی غلام محمد بٹ رہتے تھے۔ 27 مئی 1937ء کو عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلہ میں ایک جلوس مشین محلہ روڈ سے ہوتا ہوا بازار کلاں جہلم کی طرف گامزن تھا۔ جلوس کے شرکاء نہایت محبت وعقیدت سے درود و سلام پڑھ رہے تھے۔ اس اثناء میں غازی غلام محمد نے دیکھا کہ سکھ مت کا ایک پیرو کار سنت سنگھ اپل پارچہ فروش مسلمانوں کے ایک جلوس پر آوازیں کس رہا ہے۔ اسی اثناء میں ایک لڑکا گدھے پر سوار وہاں سے گزر رہا تھا تو اسے دیکھ کر اپل سنگھ بدبخت بولا : ”دیکھو مسلمانوں کا نبی براق پر چڑھ کر آ گیا ہے“ (نعوذ باللہ)
غلام محمد یہ سب کچھ سن رہے تھے۔ وہ غصہ سے آگ بگولہ ہو کر آگے بڑھے اور اپل سنگھ کو للکارتے ہوئے کہا: ”بے غیرت کتے ، اپنی زبان بند رکھ، ورنہ ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔“
مگر اپل سنگھ پھر بھی باز نہ آیا تو غازی نے اپنا چاقو نکالا اور پلک جھپکتے میں اس مردود کے سینے میں گھونپ دیا۔ پھر انھوں نے پے در پے وار کر کے اسے واصل جہنم کر دیا۔ قتل کے جرم میں آپ پر مقدمہ چلا، آپ نے مسٹر نالشا سیشن جج کے روبرو خوش دلی سے اپنے فعل کا اعتراف کیا۔ 30 جولائی 1937ء کو سیشن جج نے آپ کو سزائے موت سنائی۔ اس پر عدالت عالیہ میں اپیل کی گئی جو مسترد کر دی گئی۔ دسمبر 1937ء کو آپ کو جیل میں پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا۔ غازی غلام محمد شہیدؒ کا جسد خاکی جنازہ گاہ جہلم کے قریب مشہور قبرستان میں مدفون ہے۔ قبر پر نصب کتبہ کے مطابق آپ کی تاریخ شہادت 2 دسمبر 1937ء بمطابق 27 رمضان المبارک 1356ھ بروز جمعرات ہے۔
جو نہ مر مٹے محمدﷺ پہ مرا ہم سفر نہیں ہے
مسلمان تو اشارے کنائے کی گستاخی کو بھی ناقابل معافی قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک نعلین نبیﷺ کی نوک، تاج شاہی سے زیادہ معظم اور محترم ہے، ان کے ہاں آپ کا نقش کف پا سجدہ گاہ عشق ہے، اہل اسلام، کہکشاں کو آپ کے قدموں کی دھول سمجھتے ہیں، ارباب عشق کلی کی چٹک کو تبسم رسولﷺ کا صدقہ سمجھتے ہیں، صاحبانِ نظر کے عقیدے میں آب حیات، ان کے تلوؤں کا دھوون ہے، خلعت شاہی آپ کے لباس کی اترن ہے، دیارِ حبیبﷺ کے کوچے، جنت کے باغیچے ہیں بلکہ دردمندانِ عشق ہر اس شخص کو اپنا امام سمجھتے ہیں جو ان کی گلی کا گدا ہو۔ خواجہ فریدؒ نے کہا ہے:
تیڈے نام توں مفت وکانڈڑی آں
تیڈے باندیاں دی میں بانڈڑی آں
ہمہ در دے کتیاں نال ادب
محمد متین خالد
غازی میاں محمد شہیدؒ
(سن شہادت: 1938ء)
حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ (فداہ ابی و امی) کی عزت و ناموس پر قربان ہونے والے عظیم المرتبت شہداء میں غازی میاں محمد کا نام بھی نمایاں ہے۔ وہ ایک ایسے سچے عاشق رسول تھے جن کی خوش قسمتی پر پوری ملت اسلامیہ کو فخر و ناز ہے۔ وہ غازی بھی ہیں اور شہید بھی۔ یہ دونوں اعزاز صرف اسی کو حاصل ہوتے ہیں جس کا انتخاب خود قدرت کرتی ہے۔ یہ بڑے کرم کے فیصلے اور بڑے نصیب کی بات ہوتی ہے۔ کسی گستاخ رسول کو جہنم رسید کر کے ہنستے مسکراتے تختہ دار پر چڑھ جانا ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔ یہ منزل بڑی کٹھن، طویل اور دشوار گزار ہے مگر عاشقان صادق اسے کھیل سمجھ کر آتش نمرود میں کود پڑتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک شہادت کا مقام نبیّین اور صدیقین کے بعد تیسرے درجے پر آتا ہے جو پوری ملت بیضا کے لیے مایۂ افتخار سمجھا جاتا ہے۔
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
غازی میاں محمد تلہ گنگ ضلع چکوال میں 9 جون 1915ء کو صوبیدار ملک غلام محمد اعوان کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام فتح بیگم تھا۔ غلام محمد صاحب 1906ء میں کوئٹہ سے ایک سپاہی کے طور پر بھرتی ہوئے تھے۔ ان کی شادی خانہ آبادی 1908ء میں فتح بیگم سے انجام پائی۔ صوبیدار صاحب کئی سال تک اولاد جیسی نعمت سے محروم رہے۔ ان کی پلٹن عراق، شام اور فلسطین میں ٹھہری رہی۔ وہ مہینہ بھر کے لیے ترکی بھی گئے۔ ملک غلام محمد تین ماہ تک مسجد اقصیٰ کی حفاظت پر مامور رہے اور انھیں یہ سعادت بھی میسر ہوئی کہ مسجد ہٰذا کی صفائی کریں۔ وہ مسجد سے قالین نکال کر فرش وغیرہ دھوتے اور دوبارہ قالین بچھاتے۔ اس مقدس مسجد میں آپ
انتہائی خشوع وخضوع سے سجدہ ریز ہوتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتے۔ حتیٰ کہ قبلہ اوّل میں ان کی یہ پرسوز مناجاتیں سند قبولیت لائیں اور ان کی بیوی فتح بیگم کی سوکھی گود ہری ہوگئی اور 1915ء میں میاں محمد شہید آپ کے پہلے فرزند پیدا ہوئے۔
غازی میاں محمد چھ برس کی عمر کو پہنچے تو آپ کو پرائمری سکول میں داخل کرا دیا گیا۔ ساتویں جماعت تک آپ نے باقاعدگی سے پڑھائی کی لیکن پھر آپ کی طبیعت اس سے اچاٹ ہوگئی۔ عالم شباب میں پہنچے تو ڈرائیوری کا رجحان ہوا۔ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں ملازم ہوگئے جن کی بس سروس تلہ گنگ سے انجرہ ومیانوالی کے درمیان چلتی تھی، اس پر ڈرائیوری کرنے لگے۔ یہاں جی نہ لگا تو 1931ء میں کوئٹہ چلے گئے، وہاں ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بطور منشی کام کیا مگر اپنی سیلانی طبیعت کی وجہ سے آپ 1932ء کے شروع میں واپس اپنے گاؤں آگئے۔ 1933ء میں انڈین نیوی میں بھرتی ہوئے۔ اسی دوران آپ کی شادی آپ کی پھوپھی کی صاحبزادی سے انجام پائی۔ شادی کے وقت آپ کی عمر 17 برس کے قریب تھی۔ بقول شخصے: ’’میاں محمد کو بچپن ہی سے آنحضورﷺ کی ذات گرامی سے والہانہ لگاؤ تھا، انھیں بہت سی نعتیں یاد تھیں، جنہیں وہ اکثر تنہائی میں یار دوستوں میں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ وہ بڑے خوبصورت جوان تھے اور ہمیشہ نفیس اور عمدہ لباس زیب تن کیے رہتے۔ ان کو دیکھنے والوں نے ان کا حلیہ کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔ لمبا قد، دلکش خدوخال، سرخ وسپید رنگ، باریک ہونٹ، گھنی بھنویں، ناک معیارِ حسن کے عین مطابق، پیشانی چوڑی، آنکھیں چمکدار، خوبصورت سی چھوٹی داڑھی اور خاص ادا کی مونچھیں جن سے مردانہ وجاہت ٹپکتی تھی۔ سر پر کلاہ اور خوبصورت پگڑی۔ غرض پیکرِ حسن تھے۔‘‘
فوجی سروس کے دوران ایک ساتھی کی بدکلامی پر بگڑ کر اسے ہاکی سے پیٹا۔ فوجی ایکٹ کے مطابق انھیں تین ماہ کی سزا ہوئی اور ملازمت سے برطرفی بھی۔ سزا پوری کرنے کے بعد واپس گھر لوٹ آئے۔ قریباً عرصہ ایک سال بعد ایک بار پھر والد کے مشورہ سے 2 جنوری 1935ء کو بلوچ رجمنٹ میں سپاہی بھرتی ہوئے اور ابتدائی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد اسی برس کراچی سے مدراس بھیج دیئے گئے اور وہاں کی چھاؤنی جو سینٹ تھامس ماؤنٹ کے نام سے مشہور تھی، کے مقام پر بلوچ رجمنٹ نمبر 3/10 میں جا شامل ہوئے۔ اصل میں یہی وہ جگہ تھی جہاں قدرت نے ان سے ایک غیر معمولی کام لینا تھا۔
کراچی میں تربیت کے عرصہ کے دوران قدرت نے ان سے جو کام لینا تھا، اس کی ایک جھلک انھیں دکھا دی تاکہ مستقبل میں پیش آنے والی کٹھن منزل کی سمت متعین ہو سکے۔ 16/ مارچ 1935ء کو جب کراچی کی سرزمین شہیدوں کے لہو سے لالہ زار بنی تو میاں محمد نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہی نہیں بلکہ حرمت رسول مقبول ﷺ پر قربان ہونے والوں کی عزت افزائی کا بھی بھرپور نظارہ کیا۔ غازی عبدالقیوم شہید نے 20/ ستمبر 1934ء کو اپنی وفاؤں کا پہلا روشن اور زریں باب کراچی میں رقم کیا۔ نبی کریم ﷺ کی حرمت پر قربان ہو جانے کی راہ میں غازی عبدالقیوم مسلمانان ہند کے دلوں کی دھڑکن بنا ہوا تھا۔ کراچی میں چھ ماہ کے قیام کے دوران وہ اس واقعہ سے بے حد متاثر ہوئے۔ کیونکہ وہ ایک ہی منزل کے راہی تھے اور ان میں مقصد کی یکسانی اور ذہنی ہم آہنگی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔
16/ مئی 1937ء کا سورج بھی عام دنوں کی طرح طلوع ہوا۔ لیکن یہ میاں محمد کے لیے کڑے امتحان کا دن ثابت ہوا۔ شام کے چھ بجے ایک ایسے واقعہ کی بنیاد پڑی جو میاں محمد کو حیاتِ ابدی دلانے کے ساتھ ساتھ پوری ملت اسلامیہ کا محبوب بن گیا۔ اچانک اس کی امیدوں کے چراغ جل اٹھے اور ناموس مصطفیٰ ﷺ پر قربان ہونے کی سعادت بخشنے والا مبارک لمحہ آن پہنچا۔ خوش پوش میاں محمد کی قسمت یوں جاگی کہ وہ تھامس ماؤنٹ چھاؤنی کے کوارٹر گارڈ پر کھڑے سنتری کی ڈیوٹی نبھا رہے تھے۔ چھاؤنی میں بیٹھے ہوئے مختلف مذاہب اور قوم کے فوجی خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ ایک ہندو فوجی نے نعتیہ غزل پڑھی جس کے مقطع میں ”واہ واہ! پیارے محمدؐ“ کے الفاظ آئے، جس پر دوسرے سپاہی ہندو ڈوگرہ نے، جس کا نام چرن داس تھا، نہایت نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ پہلے فوجی نے پھر وہی نعت پڑھی تو گستاخ ڈوگرہ نے دوبارہ ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا: ”محمدؐ کو ....... کرو، کسی اور کا ذکر کرو۔ تُو کیسا ہندو ہے۔ تُو تو ہندو دھرم کا مجرم ہے۔ تیرا پاپ معاف نہیں کیا جا سکتا۔“ اس پر غازی میاں محمد شہید نے گستاخ ہندو سے کہا: ”اس کو محمد ﷺ کا نام اچھا لگتا ہے تو یہ ترنم کے ساتھ پڑھ رہا ہے، تم کو اچھا نہیں لگتا تو خاموش رہو، مگر ایسی بکواس نہ کرو......“ مگر وہ ہندو باز نہ آیا۔ اس نے کہا: ”میں ایسا ہی کروں گا، تمہارا کوئی حق نہیں کہ مجھے منع کرو!“ یہ سن کر غازی میاں محمد شہید کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور ان کا خون کھول اٹھا۔ ان کی دینی غیرت و حمیت نے جوش مارا۔ ہندو ڈوگرہ نے ان کے ایمان کو للکارا تھا۔
میاں محمد کی ڈیوٹی چھ بجے شام سے شروع ہو کر آٹھ بجے ختم ہوئی۔ اس دوران وہ ایک اہم فیصلہ کر چکے تھے۔ لیکن اتمام حجت کی خاطر انھیں ابھی ایک اور مرحلہ طے کرنا تھا۔ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر وہ سیدھے اپنے حوالدار کے پاس گئے اور تمام واقعہ تفصیل سے اسے کہہ سنایا۔ ساتھ ہی اپنے جذبات کا اظہار بھی کر دیا کہ وہ اگر برسرعام معافی کا خواستگار نہ ہوا اور تحریری توبہ نامہ لکھ کر نہ دیا تو پھر میرے لیے جان پر کھیل جانا فرض ہوجائے گا۔ حوالدار نے اس نازک مسئلہ پر کوئی خاص توجہ نہ دی اور صرف اتنا کہا کہ وہ اسے سمجھا دے گا لیکن اسے معافی مانگنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ شکایت پر جب کوئی شنوائی نہ ہوئی تو میاں محمد شہید مغموم حالت میں بیرک پہنچے، وردی تبدیل کر کے عشاء کی نماز ادا کی اور گڑگڑا کر یہ دعا مانگنے لگے ۔ ’’اے رب کائنات ! میں نے یہ عزم کر لیا ہے کہ تیرے محبوب حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کو جہنم رسید کر دوں ، اس لعین سے انتقام لینے کے لیے پیچ و تاب کھا رہا ہوں۔ اے مسبب الاسباب ! اپنے اس حقیر بندے کو ہمت و حوصلہ عطا فرما اور نبی پاک ﷺ کی حرمت پر جان لڑانے کی توفیق عطا فرما اور اپنی بارگاہ میں میری قربانی بھی قبول فرما۔‘‘
اس دعا سے فارغ ہوکر غازی میاں محمد شہید چپکے سے کوارٹر گارڈ پہنچے جہاں حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کمینہ فطرت ڈوگرہ سپاہی چرن داس ڈیوٹی دے رہا تھا۔ غازی میاں محمد شہید تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گارڈ روم میں داخل ہوئے، اپنی رائفل نکالی، اس میں دس گولیاں بھریں اور کمرے سے باہر آ کر ہندو ڈوگرہ کو للکارا:
’’ارے کم بخت ! اب بتا کہ حضور نبی ﷺ کی شان میں توہین کا مرتکب ہونے پر کیا میں ، تم سے باز پرس کا حق رکھتا ہوں یا نہیں؟‘‘
یہ سن کر اس لعین چرن داس نے بھی رائفل سنبھال لی مگر غازی میاں محمد شہید پہلے ہی سے تیار تھے۔ انھوں نے اپنی پہلی ہی گولی سے اس شیطان مردود کو ڈھیر کر دیا۔ غازی میاں محمد سخت غصے میں تھے، انھوں نے یکے بعد دیگرے تمام گولیاں اس پر چلا دیں اور میگزین خالی ہونے پر سنگین سے اس کا چہرہ مسخ کر دیا اور کہتے جاتے تھے : ’’بے غیرت ! اس ناپاک اور گندی زبان سے تُو نے میرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بکواس کی تھی۔ جی چاہتا ہے کہ تیرا پلید جسم کتوں اور کوؤں سے نچوا ڈالوں۔‘‘
غازی صاحب نے گستاخ رسول ﷺ کو واصل جہنم کرنے کے بعد خطرے کی گھنٹی
خود بجائی۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جب فائر شروع ہوا تو تمام سنتری گارڈ روم کی کوٹھڑیوں میں جا چھپے اور دروازے بند کر لیے۔ فائرنگ رکتے ہی ایک بگلر دوڑتا ہوا آیا۔ غازی صاحب نے اسے سختی سے منع کیا کہ تھوڑی دیر انتظار کرو۔ یہ بگلر خوف سے کانپ رہا تھا۔ جب غازی صاحب کو پوری طرح یقین ہو گیا کہ یہ مردود واصل جہنم ہو چکا ہے تو بگلر کو مسلسل بگل بجاتے رہنے کے لیے کہا۔ فائرنگ، خطرے کے الارم اور پھر بگل کی آواز پر تمام پلٹن اکٹھی ہوگئی۔ ایک آدمی نے بلند آواز میں آگے بڑھ کر پوچھا: ”قلعے میں فائر کس نے اور کیوں کیا ہے؟“ غازی صاحب نے جواب دیا۔ ”میں ہوں، سپاہی میاں محمد نمبر 15305۔“
اس شخص نے پھر کہا۔ ”کمانڈر صاحب کا حکم ہے کہ اپنی رائفل اندر ہی رکھ کر باہر آجاؤ!“ غازی میاں محمد نے کہا کہ ”اگر کوئی مسلمان افسر میرے پاس آئے تو میں رائفل رکھ کر خود کو اس کے حوالے کردوں گا۔“ پھر اس شخص نے تیسری بار کہا: ”تمہاری گرفتاری کے لیے ایک مسلمان افسر باہر کھڑا ہے، لہٰذا فوراً باہر آجاؤ۔“ نائب صوبیدار عباس خان نے غازی میاں محمد سے رائفل لے کر انھیں نہتا کیا۔ وہ ڈھوک ٹاہلیاں ضلع چکوال ہی کے رہنے والے تھے۔ غازی صاحب کو جب پلٹن کے سامنے لایا گیا تو ان کے ابتدائی بیانات انگریز کمانڈنگ آفیسر نے قلم بند کرتے ہوئے ان سے پوچھا: ”آپ نے ایسا کیوں کیا؟“ غازی صاحب نے کہا: ”چرن داس نے ہمارے نبی کریم ﷺ کی شان میں دریدہ دہنی کی تھی۔ میں نے اسے منع کیا تھا مگر وہ باز نہ آیا تو میں نے اسے ہلاک کردیا۔ میں نے اسے جہنم واصل کر کے اپنا فرض پورا کردیا۔ اب جیسا آپ چاہیں، قانون کا تقاضا پورا کریں۔“ کمانڈنگ آفیسر نے غازی صاحب سے پھر سوال کیا : ”کیا آپ مکمل ہوش وحواس میں سوچ سمجھ کر یہ بیان دے رہے ہیں؟“ غازی صاحب بولے: ”میں بالکل ہوش وحواس میں ہوں اور جو کچھ میں نے کہا، بالکل سوچ سمجھ کر کہا ہے۔ میرا ایک ایک حرف سچ ہے۔ میں نے چرن داس کے گستاخانہ رویے کی شکایت صوبیدار سے بھی کی تھی مگر انھوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔ کمانڈنگ آفیسر کو شک گزرا کہ شاید میاں محمد نے یہ سب نشے کی حالت میں کیا ہے۔ آپ کی آنکھوں میں خوشی کی مستی تھی اور آپ میں ازخود رفتگی اور بے خودی کی کیفیت پیدا ہوچکی تھی، چنانچہ آفیسر نے انھیں فوراً ہی طبی معائنے کے لیے بھجوادیا۔ ڈاکٹر (کرنل) نور احمد ان دنوں وہیں متعین تھے، انھوں نے آپ کا طبی معائنہ کیا اور غازی صاحب کو اخوت اسلامی کے جذبہ کے تحت کہا: ”آپ جو بیان کمانڈنگ آفیسر کے سامنے
دے چکے ہیں، اس سے صرف نظر تو ہوسکتا ہے لیکن جو بیان آپ اب دیں گے، تمام معاملہ اسی پر منحصر ہے۔ اس لیے سابقہ بیانات میں تبدیلی کرلینے ہی میں بہتری ہے۔‘‘ غازی صاحب نے جواباً کہا: ’’ڈاکٹر صاحب! آپ کا خیال ہوگا کہ اگر میں بیان بدل لوں تو میری جان بچ جائے گی ،مگر میں ایسا ہرگز نہیں چاہتا، میں انتہائی مسرت محسوس کر رہا ہوں کہ میں اپنے پیارے نبی ﷺ کی آبرو پر قربان ہوں گا۔ یہ تو ایک جان ہے۔ اگر ہزار جانیں بھی ہوتیں تو میں اپنے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے غلاموں کی عزت پر قربان کر دیتا‘‘۔ چنانچہ غازی میاں محمد صاحب نے جو بیان کمانڈنگ آفیسر کو دیا تھا، وہی بیان ڈاکٹر صاحب کو لکھوا دیا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی پہلی رپورٹ میں لکھا کہ میاں محمد نے کوئی نشہ وغیرہ نہیں کیا تھا، البتہ ان کی گفتگو سے جذباتی پن ضرور واشگاف نظر آرہا ہے۔
دوسری طرف قواعد کے مطابق ملعون چرن داس کا پوسٹ مارٹم ہوا، بعد ازاں چند شرائط پر لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی جنہوں نے اس کے مردہ وجود کو اپنے ہاتھوں سے آگ کے شعلوں میں جھونک دیا۔
قتل کی اس واردات کے فوراً بعد فوج کے اعلیٰ افسران نے پلٹن کے عہدے داروں کے ذریعے کچھ مصلحتوں کے پیش نظر سختی کے ساتھ اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ غازی میاں محمد صاحب کے والدین کو اس بارے کوئی اطلاع نہیں ہونی چاہیے، لیکن ایک جرأت مند مسلمان سید صدرالدین صاحب جو حوالدار تھے، نے بذریعہ تار صوبیدار (ریٹائرڈ) ملک غلام محمد صاحب کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی۔ بعد ازاں سید صدرالدین شاہ صاحب کو اس حکم کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کر لیا گیا، یہ سزا کسی جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ خلوص عمل کی سزا تھی مگر خوش قسمتی سے ہوا یہ کہ ان کا زیادہ سے زیادہ وقت غازی صاحب موصوف کی قربت میں گزرنے لگا اور اس رفاقت سے ان کا یہ تاریخی کردار اہمیت اختیار کرنے کے ساتھ غازی موصوف کی تنہائی کا راز دار بھی بن گیا۔
بذریعہ تار 20 مئی 1937ء کو تلہ گنگ میں یہ اطلاع پہنچی اور غازی میاں محمد صاحب کے والد بزرگوار 22 مئی کو مدراس کے لیے روانہ ہوئے اور پورے 4 روز تک راستے کی مصیبتوں اور سفر کی کلفتوں سے گزرتے 26 مئی کو مدراس پہنچے۔ اگرچہ اس وقت پلٹن مذکورہ کے صوبیدار میجر فضل خاں سکنہ چکوال تھے اور معاملے کی نوعیت بھی کچھ رعایت کی متقاضی تھی مگر
ایک طرف تو دوران اسیری غازی میاں محمد کے ساتھ سخت رویہ اپنایا گیا ، دوسری جانب ان کے والد محترم جو ایک بلوچ رجمنٹ کے سردار رہ چکے تھے (اور اب ریٹائرڈ پنشنر تھے ) کو بھی سرکاری کوارٹر کے بجائے شہر میں ٹھہرنا پڑا ۔ حتی کہ والد محترم کو اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے سرکاری پاس حاصل کرنا لازمی تھا اور ملاقات کے لیے بھی ایک محدود وقت دیا جاتا تھا۔ بعد ازاں آنے والی پلٹن کے کمپنی جے سی او نظام خان نے ان تلخ ایام کی یادیں ذہن میں تازہ کرتے ہوئے بتایا: ”جب بلوچ رجمنٹ میرٹھ چلی گئی اور 2/13 فرنٹیئر فورس رائفلز نے اس کی جگہ لی تو مجھے کرنل فری لین نے حکم دیا کہ آئندہ غازی میاں محمد سے متعلق تمام ذمہ داری ہم لوگوں کی ہے۔ کچھ روز بعد جب بلوچ رجمنٹ کے مقابلہ میں غازی میاں محمد صاحب نے فرنٹیئر فورس کے زیر نگرانی اچانک حالات میں تبدیلی محسوس کرتے ہوئے اس کی وجہ دریافت کی تو انھیں بتایا گیا کہ اگرچہ اس رجمنٹ کا صوبیدار میجر ہندو ہے مگر گارڈ انچارج نظام خان اور اس کے ساتھیوں نے دینی فرض سمجھتے ہوئے آپ سے ہر قسم کی سختی ختم کر کے آپ کی خدمت کو شعار بنا لیا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچ رجمنٹ کے چلے جانے کے بعد غازی میاں محمد کو ایک گورا پلٹن کے سپرد کیا گیا مگر دراصل انھیں فرنٹیئر فورس کے چارج ہی میں رکھا گیا۔ اس دوران گورا پلٹن کو غازی میاں محمد پر اس قدر اعتماد ہو گیا کہ جب دوسری مرتبہ صوبے دار ملک غلام محمد تلہ گنگ سے اپنی بیوی اور چھوٹے بیٹے عطا محمد کو لے کر مدراس گئے تو ایک دن کورٹ مارشل کیس کا ملزم غازی میاں محمد ایام اسیری میں عام اجازت سے اپنے چھوٹے بھائی کو سائیکل پر بٹھا کر ایئر پورٹ ہوائی جہاز دکھانے لے گیا۔ دراصل یہ سب کچھ شمع رسالتؐ کے پروانے کے لیے غیبی مدد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ غازی صاحب کے والد ملک غلام محمد کو غازی میاں محمد کے دور اسیری میں مدراس کے ایک پوسٹ ماسٹر سید سیف علی شاہ صاحب کے ہاں مقیم ہونا پڑا۔ شاہ صاحب بڑے نیک دل اور ہمدرد مسلمان تھے۔ انھوں نے بڑی فراخدلی اور محبت کے ساتھ غازی صاحب کے والد محترم اور دیگر رشتہ داروں کی رہائش کا بندوبست کیا اور بے حد خدمت کی۔ بنا بریں مدراس کے مقامی مسلمانوں نے بھی بڑی ہمدردی کا ثبوت دیا، اُن کی گہری دلچسپی اس بات سے بھی عیاں ہے کہ انھوں نے ملک غلام محمد صاحب کو مقدمے کی پیروی کی بھی پیشکش کی اور جملہ اخراجات بھی اپنے ذمہ لینے کی خواہش ظاہر کی مگر اس سلسلہ کی تمام تر ذمہ داریاں ملک
صاحب نے خود ہی سنبھالے رکھیں لیکن ان لوگوں کی محبتوں کا اعتراف کیے بنا کوئی چارہ نہیں۔ اس مقدمے کے پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک مقامی مسلمان سید نور حسین شاہ ایڈووکیٹ کی خدمات حاصل کی گئیں، جنہوں نے لندن سے وکالت کا امتحان پاس کیا تھا اور ایک عرصہ تک لندن ہی میں پریکٹس کرتے رہے تھے۔ ان کا آبائی تعلق مدراس ہی کے قریبی کسی گاؤں سے تھا۔ وہ نہایت دیانت داری سے یہ عظیم ذمہ داری نبھا رہے تھے مگر سوئے اتفاق کہ انھی دنوں وہ اپنے گاؤں گئے تو خاندانی رنجش کی بنا پر انھیں قتل کر دیا گیا۔ بعد ازاں یہ مقدمہ اس وقت کے مشہور قانون دان اصغر علی صاحب کے سپرد ہوا۔ یہ بھی برطانیہ کے فارغ التحصیل تھے اور نہایت مخلص ثابت ہوئے۔ انھوں نے نہ صرف یہ کہ کیس کی فیس نہیں لی بلکہ آمد و رفت اور مقدمہ کی تیاری میں اٹھنے والے بہت سے اخراجات بھی خود ادا کرتے رہے۔
فوج کے قانون کے مطابق مقدمہ کی کارروائی شروع ہونے سے قبل 31 مئی سے 6 جون تک انکوائری ہوتی رہی جو چھوٹے چھوٹے امور و عوامل سے متعلق تھی۔ 6 جون کو دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر نے غازی صاحب کا معائنہ کیا اور اپنی رپورٹ میں لکھا:
”میری رائے میں میاں محمد کو ایک ایسا مرض ہے جس کے باعث یہ کبھی کبھی جذبات کے غلبے میں آجاتے ہیں اور اس دوران یہ غلط اور صحیح میں تمیز نہیں کر سکتے۔ ان سے یہ فعل بھی اسی صورت حال میں سرزد ہوا ہے“۔
ازاں بعد غازی میاں محمد صاحب کا ایک اور دماغی معائنہ 19 جون کو گورنمنٹ مینٹل ہسپتال مدراس کے سپرنٹنڈنٹ نے کیا اور ان کی سفارش پر میاں محمد صاحب کو 25 جون سے 24 جولائی تک پورے ایک ماہ کے لیے مینٹل ہسپتال میں رکھا گیا۔ جب آپ ہسپتال میں داخل ہوئے ، اس وقت آپ کا وزن 133 پونڈ تھا اور ایک ماہ بعد جب آپ وہاں سے فارغ ہوئے تو آپ کا وزن کم ہونے کے بجائے ایک پونڈ مزید بڑھ چکا تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر مذکور نے اپنی رپورٹ میں یہ درج کیا:
”میں نے پورا ایک ماہ میاں محمد کو ٹیسٹ کیا، نفسیاتی جائزہ لیا، چھپ کر اور ظاہراً بھی نگرانی کی مگر انھیں اس دوران کبھی فکر مند، سوچ بچار کرتے یا پریشان ہوتے نہیں پایا۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ میاں محمد کا وزن ایک پونڈ بڑھ گیا ہے۔ اگر انھیں یہ فکر ہوتی کہ میں قتل کے ایک سنگین مقدمہ میں ملوث ہوں اور خدا جانے مجھے کس انجام سے دوچار ہونا پڑے گا، تو کسی نہ کسی
وقت تو یہ ضرور فکرمند اور پریشان ہوتے اور اس الجھن میں ان کا وزن کم ہونا چاہیے تھا نہ کہ زیادہ۔ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ انھیں ہرگز کوئی فکر نہیں کہ انھوں نے کیا کیا اور ان کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے؟ نیز یہ کہ جب چرن داس ایک ہی گولی لگنے سے مر گیا تھا تو ساری گولیاں چلانے اور پھر سنگین سے ضربات لگانے کی ضرورت نہ تھی اور ایسی حالت میں جب کہ کوئی چشم دید گواہ بھی نہ تھا، یہ اپنی جان بچانے کی کوشش کر سکتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا...... میرا طبی تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ارتکاب فعل جذباتیت سے مغلوب ہو کر ہوا۔ تمام معاملہ جذباتی نوعیت کا ہے۔ اس میں سنجیدگی یا پہلے سے منصوبہ بندی کا کوئی شائبہ نہیں......“
ڈاکٹری معائنہ کے بعد غازی میاں محمد صاحب کا جنرل کورٹ مارشل ہوا اور 16 اگست سے 20 اگست تک کارروائی ہوتی رہی۔ کل اٹھارہ گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوئے۔ تین ڈاکٹروں کی شہادت بھی ہوئی۔ جرح کے دوران سب کا مؤقف قریباً یہی تھا کہ ہماری رائے میں اس آدمی نے جو کچھ کیا ہے، وہ وقوعہ کے وقت اپنے جذبات قابو میں نہ رکھنے کا نتیجہ تھا“۔ مگر غازی میاں محمد اپنے سابقہ بیان پر ڈٹے رہے اور کہا: ”میں نے جو کچھ کیا، خوب سوچ سمجھ کر اور جان بوجھ کر کیا، کیونکہ چرن داس نے ہمارے رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی“۔
میری ہزار جان ہو قربان مصطفیٰ ﷺ
اس دوران غازی میاں محمد صاحب کو ایک قانونی مشورہ بھی دیا گیا کہ آپ یہ کہیں کہ گولی چلانا اپنی جان بچانے کے لیے جوابی کارروائی تھی لیکن غازی صاحب نے اپنے پہلے دیے گئے بیان سے انحراف کی تمام تاویلیں مسترد کر دیں اور دو ٹوک کہا: ”میں اپنی جان بچانے کے لیے اس واقعہ کو کوئی دوسرا رنگ نہیں دے سکتا، بلا عذر میری جان حاضر ہے“۔ چنانچہ حسب ضابطہ کورٹ مارشل کے فیصلے کی توثیق کے لیے کاغذات انڈین آرمی کے کمانڈر انچیف کے پاس بھجوا دیے گئے جو اس وقت موسم گرما کے سبب شملہ میں ٹھہرا ہوا تھا۔
ایامِ اسیری میں رمضان شریف کا مہینہ آیا جو انھوں نے جاگ کر گزارا۔ وہ رات دن نوافل اور درود شریف پڑھتے ۔ عید آئی تو غازی میاں محمد نے مسجد میں آزادانہ طور پر نماز عید کی ادائیگی کی خواہش کی۔ جمعدار علیم گل، نظام خان اور صوبیدار امیر خان کی ضمانت پر حکومت نے اجازت دے دی۔ عینی شاہد میجر غلام یٰسین کے بقول: ”عید آئی تو بڑی رد و قدح کے بعد غازی
میاں محمد کو ہماری پلٹن میں نماز عید میں شامل ہونے کی اجازت مل گئی۔ میں پچھلی صفوں ہی میں بیٹھا تھا کیوں کہ غازی میاں محمد نے پچھلی صفوں ہی میں بیٹھنا تھا جہاں ان کے لیے خاص جگہ بنائی گئی تھی۔ وہ اپنے اردلی اور سنتری کے ہمراہ تشریف لائے۔ دائیں بائیں کے چند نمازیوں سے مصافحہ کیا۔ ان کے چہرے پر وہ نور اور وقار تھا کہ ان کے دیکھنے سے ایمان تازہ ہو جائے۔ نماز عید کے بعد غازی میاں محمد نے حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:
”پیارے بھائیو! اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرو۔ آپس میں بھائیوں کی طرح اور پُرامن رہو۔ میں پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ایک ادنیٰ غلام ہوں۔ مجھ میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں کہ میرے ہاتھوں سے شانِ رسولؐ پر ناروا حملہ کرنے والے ایک مردود کو قرار واقعی سزا ملی ہے۔ تاجدارِ مدینہ ﷺ کی شان میں ذرا سی توہین بھی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ آئندہ بھی کسی گستاخ نے یہ حرکت کی تو ناموسِ رسالت ﷺ پر فدا ہونے کے لیے ہزاروں جانثار مقتل کی طرف بڑھیں گے۔ تمام بھائی دعا کریں کہ اللہ کریم مجھ سے راضی ہو جائے اور بارگاہِ رسالت ﷺ میں مجھ ناچیز کی یہ حقیر قربانی قبول ہو جائے۔“
آپ کے جذبہٴ ایمانی کا ایک اور مصدقہ واقعہ یوں ہے کہ مذکورہ چھاؤنی کے علاقہ میں پولیس کے ریٹائرڈ ڈپٹی انسپکٹر جنرل خان بہادر جے ایس کریم رہتے تھے۔ ایک روز انھوں نے غازی میاں محمد صاحب سے کہا کہ آپ پر کوئی خاص پابندی نہیں ہے اور مسلمانوں کے علاوہ پلٹن کے سبھی لوگ آپ پر اعتماد کرتے ہیں۔ اگر آپ کسی طریقہ سے میرے بنگلے تک آ جائیں تو میں آپ کو بحفاظت یہاں سے نکال کے جہاں جانا چاہیں گے، وہاں پہنچا دوں گا۔ یہ سن کر غازی صاحب نے جواباً کہا: ”آپ کا مطلب ہے میری جان بچ جائے گی! کیا آپ گارنٹی دے سکتے ہیں کہ میری موت کا معین وقت ٹل سکتا ہے۔ میں کسی صورت ان لوگوں کے اعتماد کو دھوکہ دے کر بھاگنے کی سوچ بھی نہیں سکتا“۔
غازی صاحب کے والد محترم ملک غلام محمد صاحب قریباً تین ماہ مدراس میں قیام کرنے کے بعد 22 اگست 1937ء کو واپس تلہ گنگ آگئے۔ پھر شملہ تک کا چکر بھی لگایا کہ اگر کوئی بہتری کی کوشش ہو جائے تو وہ بھی کر لیں۔ چونکہ حکومت انگریز کی تھی اور دیگر دفاتر میں بھی غیر مسلموں کی اکثریت تھی، نیز برطانوی سامراج اس بات سے بھی خائف تھا کہ ایسے واقعات کہیں راہ نہ پکڑ لیں، اس لیے غازی صاحب کے بری ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ چنانچہ
17 ستمبر کو کمانڈر انچیف نے حسب توقع سزا کی منظوری دے کر کاغذات مدراس بھیج دیے اور 23 ستمبر کو فوجی رواج کے مطابق پلٹن میں غازی صاحب کو سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا گیا۔
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
غازی میاں محمد کے والد صاحب نے 5 اکتوبر 1937ء کو دہلی میں وائسرائے ہند کے پاس فیصلہ کے خلاف اپیل کی جو مسترد کر دی گئی۔ بالآخر اسی وقت پنجاب ہائی کورٹ لاہور کے معروف وکیل ڈاکٹر شیخ محمد عالم کی وساطت سے ٹی ایم ولسن کمپنی کو متعلقہ کاغذات کی فائل بذریعہ ہوائی جہاز ارسال کی گئی کہ وہ پریوی کونسل لندن میں اپیل دائر کریں۔ چنانچہ 30 دسمبر 1937ء کو پریوی کونسل میں اپیل دائر کر دی گئی۔ مسٹر پرنگل جو برطانیہ کے معروف اور نمایاں وکیل تھے، نے اس اپیل کی پیروی کی۔ پریوی کونسل نے بھی مختصر سماعت کے بعد اس کیس کی فائل پر ’’نامنظور‘‘ کی مہر لگا دی اور یہ اپیل رد کیے جانے کی باضابطہ اطلاع 21 فروری 1938ء کو دے دی گئی۔
دریں اثناء غازی میاں محمد تمام عدالتی کارروائیوں میں الجھنے سے ناخوش تھے اور کہتے تھے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے ناموس رسالتﷺ پر جان قربان کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔ نہ جانے یہ سب لوگ مجھے اس سعادتِ عظیم سے کیوں محروم کرنا چاہتے ہیں۔
چنانچہ جب پریوی کونسل سے بھی اپیل خارج ہوگئی تو آپ کی شہادت بھی قریب ہو گئی۔ غازی میاں محمد کی والدہ محترمہ بیٹے کی ملاقات کے لیے جیل آئیں تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ وہ ماں جو شیر خوارگی کے زمانے میں آپ کو اپنے سینے سے چمٹائے رکھتی تھی۔ بچپن میں کبھی آپ کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھ گیا تو وہ یوں بلبلا اٹھتیں، جیسے یہ زخم خود ان کے جگر پر آیا ہو۔ سکول سے آتے ہوئے کچھ دیر ہو جاتی تو ماہی بے آب کی طرح تڑپتے ہوئے کہتیں: میرا بیٹا ابھی تک گھر کیوں نہیں آیا۔ اس انتظار میں والدہ کے کان گوش بر آواز ہوتے اور آنکھیں دروازے ہی میں اٹک جاتیں۔ بیٹے پر جوانی کی بہار آئی تو نور چشم ایک پل نظروں سے اوجھل ہو جاتا تو زمانہ سمٹتا ہوا محسوس ہوتا...... آج اسی بیٹے سے موت چند روز کے فاصلے پر تھی...... آج یہی بیٹا گلے میں پھولوں کے ہار سجائے ماں سے دستِ شفقت کا طلب گار تھا۔ گویا ماں سے عرض گزار ہو، ماں! میں سوئے مقتل جا رہا ہوں، مجھے اپنے کانپتے ہونٹوں سے خدا حافظ کہہ
دے۔ تاہم اس جذباتی موقع پر بھی غازی میاں محمد نے اپنے حواس کو قائم دائم رکھا اپنی والدہ محترمہ سے عرض کیا:
”ماں! میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا، جس سے آپ کو ندامت یا شرمندگی ہو بلکہ میں نے جو کچھ کیا ہے اس پر تو آپ کو بہت خوش ہونا چاہیے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ کی آنکھوں میں آنسو نہ ہوں“۔ آخر کار غازی صاحب نے والدہ محترمہ کو اس پر قائل کرلیا کہ وہ نہیں روئیں گی۔ جہاں تک ان کے والد ملک غلام محمد کے حوصلے اور صبر کا تعلق ہے، وہ بالکل جدا داستان ہے۔ انھوں نے ایک زمانہ دیکھا تھا اور بہت سے نشیب و فراز سے آشنا تھے۔ نہایت با ہمت اور صابر و شاکر انسان تھے۔ باپ بیٹے کا حوصلہ بڑھاتا تھا اور بیٹا باپ کا......
یہ امر قابل ذکر ہے کہ غازی میاں محمد صاحب 1933ء میں ہی رشتہ ازواج سے منسلک تھے۔ آپ ایک مدت اپنی شریکۂ حیات کے قریب رہے مگر اتفاق سے صاحب اولاد نہ ہوئے۔ دوران اسیری غازی صاحب کو یقیناً اپنی پاک سیرت بیوی کی یاد بھی ستاتی ہوگی مگر یہ غازی صاحب کی ملاقات کے لیے بعض مجبوریوں کے سبب نہ جاسکیں کیونکہ طویل سفر، خاندانی روایات اور پردے جیسی رکاوٹیں وغیرہ سدراہ بنیں۔ غازی میاں محمد شہید کی وصیت کے مطابق آپ کی زوجہ محترمہ نے شہید کے چھوٹے بھائی ملک نور محمد کے ساتھ 1939ء میں عقد ثانی کیا اور پھر ان کے چار بیٹے ہوئے۔
غازی صاحب کی زندگی کا واحد مقصد یہ تھا کہ وہ نبی پاک ﷺ کی عزت و آبرو پر اپنی جان نثار کر دیں۔ غازی میاں محمد نے اپنی شہادت سے صرف چار دن پہلے 7 اپریل 1938ء کو ایک خط اپنے چھوٹے بھائی ملک نور احمد صاحب کے نام اپنے ہاتھوں سے لکھا، جو خوش قسمتی سے اس خاندان کے پاس اب بھی محفوظ ہے۔ 4 فل سکیب صفحات پر مشتمل یہ طویل خط اپنے خاندانی حالات، ہدایات، نصیحتوں اور تسلی کے مضمون کے علاوہ ان کے جذبۂ قربانی کے اظہار کے لیے بہت موزوں ہے۔ اس خط کی نمایاں باتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں:
”میرے پیارے بھائی! نور محمد، سلامت باشد
از طرف آپ کا تابعدار خاکسار، چند گھڑیوں کا مہمان، میاں محمد
بعد السلام علیکم کے واضح ہو کہ یہاں پر خیریت ہے اور آپ سب کی خیریت و عافیت خداوند کریم سے نیک مطلوب چاہتا ہوں۔ بھائی! آپ تمام احوال سن ہی چکے ہوں گے۔ کل
مورخہ 6 اپریل 1938ء کو دہلی سے ایک خط جو کہ والد محترم کے نام آیا ہے، اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ لندن سے خبر آئی ہے کہ تمہاری اپیل نامنظور ہوگئی ہے اور میاں محمد کو موت کی سزا ہے جس کی بابت سزا کی تاریخ ادھر مدراس میں گورا پلٹن کا کمانڈنگ افسر مقرر کرے گا۔ بھائی صاحب! جو چٹھی والد صاحب کو ملی ہے، اس میں انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس قسم کی چٹھی ہم نے تمہارے گھر کے پتہ پر بھی بھجوادی ہے۔ بھائی جان! ابھی تک کوئی تاریخ بندہ کی قربانی کے لیے مقرر نہیں ہوئی لیکن امید ہے کہ شاید کل تک کوئی تاریخ مقرر ہو جائے۔ اگر انھوں نے زیادہ عرصہ رکھا تو تین دن کی معیاد رکھیں گے۔ خیر کچھ بھی ہو، خداوند کریم کی ذات بہتر جانتی ہے۔
بھائی جان! آپ کی برادرانہ محبت نے مجبور کیا ہے کہ آخری بار اپنے پیارے بھائی کو خط لکھوں اور چند باتیں نصیحت کی عرض کروں جن پر آپ کو ضرور عمل کرنا ہوگا، انھیں اچھی طرح پڑھ لینا اور یہ خط اپنے بھائی کی یادگار کے طور پر اپنے پاس محفوظ رکھنا۔
میرے پیارے بھائی! بندے کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ آپ کے دل پر اپنے بھائی کے جدا ہونے کا کس قدر غم ہوگا۔ پھر جدائی بھی وہ کہ آخری دفعہ بھائیوں کی ملاقات بھی نہ ہو۔ یہ سب اللہ کی شان ہے۔ آپ سب خداوند کریم کی رضا پہ راضی رہنا اور ہر حالت میں صبر کرنا، اللہ کا ہزار ہزار شکر ادا کرنا، اپنے غم کو اپنے دل کے اندر ہی رکھنا اور کسی پر ظاہر نہ کرنا۔
بھائی جان! آپ صبر کرنا اور خبردار! زبان پر شکایت کا ایک حرف بھی نہ آنے پائے۔
بھائی جان! اس وقت آپ پر نازک وقت ہے کہ والدین بھی گھر پر نہیں ہیں۔ ہمت اور استقلال سے کام لینا اور ادھر والد صاحب اور والدہ صاحبہ حوصلے سے ہیں۔ بھائی جان! بندہ یہ بات بآواز بلند کہنے پر تیار ہے کہ جناب والد صاحب کا جس قدر دل اور حوصلہ ہے، دنیا میں بہت کم آدمیوں کا ایسا حوصلہ ہوگا اور خداوند کریم انھیں اس چیز کا اجر دے گا۔ ان شاء اللہ!
بھائی جان! شاید آپ کے دل میں یہ خیال ہو کہ میاں محمد گھبرا گیا ہوگا! اگر آپ کے دل میں یہ شک ہے تو اس شک کو دور کر دینا...... بھائی جان! میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بندے کا دل اس قدر خوش ہے کہ اس خوشی کا اندازہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ میری دلی آرزو یہی تھی جو خداوند کریم نے پوری فرمادی۔ میں گناہ کے سمندر میں غرق تھا کہ میرے مالک نے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے اور میری بخشش کا سہارا بنا دیا اور اس مالک کی اس مہربانی کا ہزار ہزار شکریہ اور بھائی جان! آپ گھر میں سب کو تسلی دینا اور خود بھی مطمئن رہنا۔ بندہ کی
پھوپھی صاحبہ کو بھی تسلی دینا اور آپ کو اس بات کی سخت تاکید کرتا ہوں کہ آپ خود اور گھر کے دیگر افراد یعنی بندہ کی ہمشیرہ صاحبہ اور بندہ کی عیال اور بھائی جان فتح محمد، بھائی جان محمد خان، ان سب کو بالکل رونے نہیں دینا اور دوسرے آدمی جو آپ کے پاس افسوس کرنے آئیں گے، تمام مرد اور عورتوں کو نہیں رونے دینا۔ ان کو روکنا اور بتا دینا کہ میرے بھائی نے لکھا ہے کہ مجھ کو کوئی نہیں روئے گا اور بندے کی طرف سے بندے کی عیال (بیوی) کو واضح ہو کہ میں آپ پر نہایت خوش اور راضی ہوں اور دل و جان سے دعا گو ہوں کہ خداوند کریم نے جس طرح تمہیں اب تک میرے والدین کا فرماں بردار بنا رکھا ہے، آئندہ بھی اسی طرح قائم رکھے اور میں حد سے زیادہ خوش ہوں کیونکہ تم نے میرے والدین کی بڑی خدمت کی ہے۔ میں تم پر بہت ہی راضی ہوں اور تم نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی ہے جس پر معافی کا خواستگار ہونا پڑے لیکن پھر بھی انسان غلطی کر سکتا ہے۔ اگر تم سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو میں نے خدا واسطے تمہیں بخش دی اور خداوند کریم تم پر راضی ہو اور میں ہاتھ باندھ کر آپ سے معافی مانگتا ہوں۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو خدا واسطے مجھ خطاوار کو میری خطا بخش دینا۔ بندہ کو والدین کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ بہت غم زدہ رہتی ہیں، مگر آپ حوصلہ رکھنا اور جہاں تک ممکن ہو، صبر کرنا۔ خداوند کریم کو یہی منظور ہے تو پھر اس کے حکم کو کون روک سکتا ہے؟ بندہ نے والد صاحب کو آپ کے بارے میں سب باتیں عرض کر دی ہیں جو کہ آپ کو گھر واپس آنے پر بتا دیں گے۔ اگر آپ نے ان باتوں پر عمل کیا اور آپ نے اپنے ماموں صاحب کے کہنے پر عمل کیا تو آپ کو ان شاء اللہ کسی قسم کی پریشانی نہیں ہو گی۔ اپنے غریب، مسکین ماموں کا خیال کرنا۔ میں پھر خداوند کریم کا واسطہ دیتا ہوں کہ اپنے مسکین ماموں یعنی بندہ کے والد صاحب کی عزت کا خیال کرنا اور ان کے کہنے پر عمل کرنا اور رونے دھونے کے بجائے اپنے رب کو یاد کرنا۔ نماز پڑھنا اور اپنے رب کی بندگی کرنا اور بندہ کی بخشش کے لیے دعا فرمانا۔ آپ براہ مہربانی تسلی رکھنا۔ اب میں خط بند کرتا ہوں...... میری باتوں کا خیال رکھنا......‘‘
الغرض غازی میاں محمد نے اپنے بقیہ خط میں بھی اسی طرح اپنی ہمشیرہ صاحبہ، چھوٹے بھائی فتح محمد، ان کی ہمشیرہ ’نیکاں‘، پھوپھی وغیرہم کو بھی ایسے ہی القابات سے یاد کیا، انھیں تسلیاں دیں، ان سب کو صبر اور نماز روزے کی تلقین کی اور بتایا کہ تمہارا بھائی تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی خاطر خوشی خوشی قربان ہو رہا ہے۔ دنیاوی زندگی کوئی زندگی نہیں، اخروی زندگی
ہی سب کچھ ہے۔ امید ہے میرے فیصلے کے بعد والدین جلد ہی گھر لوٹ جائیں گے اور یہاں سے روانہ ہونے سے قبل آپ کو ضرور اطلاع مل جائے گی۔ غازی صاحب نے اپنی برادری میں محبت، بھائی چارے، سلوک کا درس دیتے ہوئے اپنے تمام اعزا واقارب کو فرداً فرداً نام لے کر اپنا آخری سلام عرض کیا اور خدا حافظ پر خط کا اختتام کر دیا...... آخر میں یہ الفاظ بھی تحریر تھے: ”آپ کا مسافر بھائی: میاں محمد“
اب غازی میاں محمد کی شہادت کا دن قریب آ گیا تھا، قواعد وضوابط کے مطابق 8 اپریل کو ان کا وزن کیا گیا جو کہ 138 پاؤنڈ تھا۔ مگر جب آپ نے چرن داس کو قتل کر کے گرفتاری دی تھی تو اس وقت غازی صاحب کا وزن 136 پاؤنڈ ریکارڈ کیا گیا تھا مگر قید کے دوران شمع رسالتؐ کے اس پروانے کے وزن میں دو پاؤنڈ کا مزید اضافہ ہو گیا اور وزن کا بڑھنا خوشی کا اعلان ہے، غم کی علامت ہرگز نہیں۔ اس بات پر ڈاکٹر حیران اور پریشان تھے کیونکہ جب موت آنکھوں کے سامنے ناچ رہی ہو تو خوشی وشادمانی کہاں سے آتی؟ پھانسی کا دن مقرر ہونے پر نگاہوں میں چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کیسی؟ مگر دوران اسیری میں وزن کا بڑھ جانا اک خاص راز ہے جسے سمجھنا ہر کسی کے بس میں نہیں، کوئی سیاستدان، سائنس دان، فلاسفر، حکیم و طبیب اس راز سے پردہ نہیں اٹھا سکتا، البتہ حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت و آبرو پر نثار ہونے والے اس راز کو پا لیتے ہیں، انھیں اپنا گراں بہا انعام سامنے نظر آ جاتا ہے تبھی تو وہ خوشی ومسرت کے ساتھ دولہا بنے شہادت کے شوق فراواں میں دار پر چڑھ جاتے ہیں۔
ہر زمان از غیب جانے دیگر است
3/10 بلوچ رجمنٹ کا ایک افسر پھانسی کے جملہ انتظامات کا جائزہ لینے کراچی سے مدراس آیا۔ یہ افسر اور متعلقہ یونٹ کا ایک دوسرا اعلیٰ عہدے دار غازی میاں محمد صاحب کے پاس گئے اور آپ کو بتایا کہ فلاں تاریخ آپ کی شہادت کا روز ہے، اپنی آخری خواہش کا اظہار کریں تو غازی صاحب نے اپنے والدین اور برادرِ خورد عطا محمد سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ (اس وقت مدراس میں غازی صاحب کے سب سے قریبی یہی رشتہ دار موجود تھے)۔ غازی میاں محمد صاحب کے ایک ساتھی کیپٹن نظام خان کے بقول افسران نے کہا کہ والدین یا بھائی میاں محمد صاحب سے آزادانہ ملیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ خودکشی کر لیں کیونکہ ایسے ماحول
میں بڑے دل گردے والوں کے حواس بھی جواب دے جاتے ہیں، لہٰذا کھلم کھلا ملنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تو نظام خان نے جواباً کہا: ”اس بات کا امکان نہیں، اس بات کا ذمہ میں لیتا ہوں کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا“۔ اب غازی صاحب نے آخری بار والدین سے ملنا تھا، اس ملاقات سے قبل میں جناب غازی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے شکریے کے چند الفاظ ادا کیے۔ میں نے گلو گیر آواز میں کہا کہ اگر پھر آپ نے احسان مندی کا اظہار کیا تو میں یہاں نہیں ٹھہر سکتا۔ آپ نے جو بے مثال قربانی دی ہے، اس کے لیے ہم سب ساتھی آپ کی خدمت کر کے فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ تو ہمارے لیے ایک نعمت خداوندی ہے۔ میں اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ میں مجاہدِ اسلام کی خدمت پر مامور ہوں۔ غازی صاحب کا باڈی گارڈ دستہ چھ سپاہیوں، ایک انگریز افسر اور مجھ پر مشتمل تھا۔ پھر آخری ملاقات ہوئی لیکن غازی صاحب کے چہرے پر تروتازگی اور آنکھوں کی چمک پہلے سے کہیں زیادہ تھی۔ غازی میاں محمد بڑے خوشگوار ماحول میں اپنے ماں باپ سے باتیں کرتے رہے۔ ان کی والدہ دیوانہ وار آپ کا سر چومتی تھیں، کبھی ان کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگاتی تھیں۔ غازی صاحب اپنے 7 سالہ بھائی عطاء کے ہاتھ چومتے اور سب سے کہتے کہ صبر کرو۔ اپنی شریکِ حیات سے متعلق وصیت کو دہرایا۔ نیز تاکید کرتے جاتے کہ خدائے واحد کی بندگی کرنا، نبی کریم ﷺ کی سچی محبت کو نہ چھوڑنا۔ گھریلو معاملات اور برادری کے تعلقات پر بھی مفصل بات چیت ہوئی۔ والد محترم کی آنکھیں بھی ڈبڈبائیں اور یوں ماں کی اپنے لختِ جگر کے ساتھ، باپ کی اپنے بیٹے سے اور بھائی کی بھائی سے آخری ملاقات مکمل ہوگئی۔ سرکاری طور پر غازی صاحب کی ایک تصویر لی گئی جو بعد ازاں آپ کے ورثاء کے حوالے کی گئی۔ غازی صاحب کی یہی تصویر خاندان کے پاس محفوظ ہے۔ اب آخری مرحلہ شروع ہوتا ہے۔
ان واقعات کے عینی شاہد جناب کیپٹن نظام خان نے بتایا کہ 11 اور 12 اپریل کی درمیانی شب جیل کی کوٹھڑی میں غازی میاں محمد صاحب اپنے والد صوبیدار ملک غلام محمد اور پلٹن کے مولوی صاحب کے ساتھ تمام رات تلاوت کلام مجید میں مشغول رہے۔ قرآن مجید ارشاد خداوندی ہے: ”اے نفس مطمئن، واپس چلو اپنے رب کی طرف اِس حال میں کہ تو اُس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ پس شامل ہو جاؤ میرے خاص بندوں میں اور داخل ہو جاؤ میری جنت میں“ (الفجر: 27 تا 30)۔ 12 اپریل 1938ء کو علی الصبح آپ نے غسل فرمایا، سفید لباس
زیب تن کیا، فجر کی نماز ادا کی۔ غازی صاحب کو جب تختہ دار کے قریب لے جایا گیا تو وہ بے حد خوش نظر آ رہے تھے۔ ان کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا کیونکہ وہ عنقریب اپنے خالق حقیقی کے پاس پہنچنے والے تھے اور اللہ رب العزت کی وہ نعمتیں جو جنت میں ان کی منتظر تھیں، ان کی آغوش میں جانے کے لیے بے قرار تھے۔ چنانچہ غازی صاحب کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھی گئی۔ پھر گلے میں ڈالنے کے لیے رسہ دیا گیا جسے غازی صاحب نے چوم کر گلے میں ڈالا۔ غازی صاحب نے بآواز بلند درود شریف پڑھا اور فلک شگاف نعرہ تکبیر بلند کیا۔ اسی لمحے غازی صاحب کے پیروں کے نیچے سے تختے کھینچ لیے گئے اور آپ کی روح خالق حقیقی سے جا ملی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
صلہ شہید کیا ہے؟ تب و تاب جاودانہ
10 صفر المظفر 1357ھ مطابق 12 اپریل 1938ء کو شہادت پانے والے اس 33 سالہ مجاہد کے ورثاء نے میت کو تلہ گنگ لے جانے کے لیے اپنے طور پر انتظامات کر لیے تھے مگر حکومت نے شہید کی میت کو وطن مالوف لانے کی اجازت نہ دی کیونکہ حکومت کو اس سے نقض امن کا خطرہ تھا، تاہم تجہیز و تکفین کے سلسلے میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کی پوری آزادی تھی۔
شہر مدراس کے مکینوں کو علم تھا کہ آج غازی میاں محمد کی شہادت کا دن ہے، اس لیے وہاں کی ساری مسلم آبادی ایک بڑے ہجوم کی شکل میں جمع ہو گئی۔ وہ سب غازی میاں محمد شہید کی نماز جنازہ میں شرکت اور آپ کے جنازے کو کندھا دینے کے مشتاق تھے۔ چنانچہ صبح سات بجے آپ کے جسد خاکی کو غسل کے لیے جامع مسجد لایا گیا۔ جنازہ کی نماز کے لیے 9 بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ آناً فاناً شہر کے گردو نواح میں یہ بات پھیلتی گئی کہ ایک پنجابی مسلمان سپاہی کو پھانسی دی گئی اور میت نماز جنازہ پڑھانے کے لیے جامع مسجد ”جاہی والا‘ لائی جا رہی ہے۔ یہ میت ایک فوجی ٹرک میں رکھی ہوئی تھی۔ میت ٹرک سے باہر لائی گئی۔ اس وقت تک نواحی بستیوں سے بھی مسلمانوں کے کئی قافلے آ چکے تھے۔ شہر میں تو شاید ہی کوئی مسلمان اس عظیم سعادت سے محروم رہا ہو۔ رسول اکرم ﷺ کے بے شمار نام لیوا اپنے شہید ناموس رسالت ﷺ کی زیارت کے لیے کھنچے چلے آئے تھے۔ کئی لوگ عطر کی شیشیاں اور پھولوں کی چادریں لیے دیدارِ شہید کے لیے بے تاب ہو رہے تھے۔ تقریباً 6 ہزار سے زائد مسلمانوں نے نماز جنازہ
پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ نماز جنازہ مولوی میر عالم صاحب نے پڑھائی۔ جنازہ کے بعد انھوں نے شہید کے والد موصوف کو ان الفاظ میں مبارک باد دی: ”بیٹے کی شہادت مبارک ہو!“ تین دفعہ ایسا کہا اور پھر زار زار رونے لگے۔
غازی میاں محمد شہید کے ایک ساتھی میجر غلام یٰسین کا بیان ہے کہ تجہیز و تکفین کی سعادت کا فریضہ انھیں نصیب ہوا تھا۔ ہم نے غازی میاں محمد شہید کی قبر مشہور بزرگ و ولی کامل حضرت پیر دستگیر سادیؒ کے پہلو میں پہلے ہی تیار کروا رکھی تھی۔ قبرستان کی انتظامیہ نے یہ جگہ از راہ عقیدت مرحمت فرمائی تھی، جہاں آپ کا مقبرہ ہے۔ بقول ان کے یہ جگہ اگر کوئی بڑا بادشاہ بھی مانگتا تو نہ مل سکتی تھی مگر ان کے لیے تو قبلہ سید المشائخ خود اشارہ فرما چکے تھے۔
مدراس (انڈیا) سنٹرل ریلوے سٹیشن سے تین میل دور واقع ایک بڑے قبرستان میں معروف ولی اللہ حضرت پیر سادیؒ کے مقبرہ اور مسجد کے درمیان، بائیں طرف، سطح زمین سے کافی اونچے چبوترے پر ایک قبر کے ساتھ نصب شدہ پتھر پر کلام پاک کی ایک آیت کے ساتھ ہی یہ لکھا ہے:
کل من علیہا فان O ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام
(الرحمٰن: 26 تا 27)
”قطعہ بروفات حسرت آیات میاں محمد صاحب (مرحوم) سابق سپاہی 3/10 بلوچ رجمنٹ فرزند غلام محمد صاحب صوبیدار بمقام تلہ گنگ، ضلع کیمبلپور، پنجاب تاریخ وفات: 10 ماہ صفر المظفر 1357ھ بمطابق 12 اپریل 1938ء
کیا خوب انتخاب تھا تیری حیات کا
بدلہ لیا ہے دشمن احمد ﷺ کا تُو نے خوب
منظور کر چکا ہے شہادت تیری خدا
مندرجہ بالا قطعہ ڈاکٹر مختار احمد قاضی صاحب نے خاص آپ کی شہادت کے لیے لکھوا کر نذر کیا تھا۔ غازی میاں محمد شہید کے والد اور ان کے چھوٹے بھائی ملک عطا محمد آپ کی شہادت کے بعد 16 اپریل 1938ء تک مدراس ہی میں رہے۔ اس دوران مقبرہ پختہ کروایا گیا اور لوح مزار نصب ہوئی۔ ازاں بعد بھی آپ کے والد گرامی ملک غلام محمد صاحب کپتان بہادر
عبدالرحمن خان صاحب (ریٹائرڈ ڈی آئی جی) کے ساتھ باقاعدہ خط و کتابت رہی۔ خان صاحب نے مدراس سے اپنے ایک طویل خط میں لکھا:
”ہزاروں لوگ قبلہ شہید علیہ الرحمۃ کے مزار پر فاتحہ خوانی کے لیے حاضری دیتے ہیں، خصوصاً جمعرات کے روز یہ سلسلہ متواتر چلتا ہے۔ زائرین عقیدت و احترام میں کھنچے چلے آتے ہیں اور اپنے دلوں کو نور ایمان سے بھرتے ہیں...... میں نے خود سنا ہے کہ بعض اوقات رات کو غازی میاں محمد شہیدؒ کے مزار سے تلاوت کلام پاک کی آواز آتی ہے......“
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں!
۞.......۞.......۞
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ
ڈاکٹر محمد اختر چیمہ
غازی صوفی عبداللہ انصاری شہیدؒ
(سن شہادت: 1938ء)
بلا شک و تردید حضرت محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ، نور مجسم، حضور اکرم، سید المرسلین، خاتم النبیین، تاجدار مدینہ، سرور سینہ، حبیب کردگار، مولائے غم گسار، طہٰ و یٰسین، مزمل و مدثر، اقدس و اکمل، اطیب و اطہر صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وازواجہ وسلم مقصود و مدعائے کائنات ہیں۔ روزِ ازل سے ہی خداوند قدوس نے حضور نبی کریم ﷺ کو علّو مراتب، ارفع درجات، اعلیٰ مقامات اور عمدہ کمالات سے سرفراز فرما دیا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے صدقے معافی ملی۔ طلوع اسلام سے لے کر آج تک شمع رسالت ﷺ کے پروانوں اور ختمی مرتبت کے دیوانوں کی کوئی کمی نہیں رہی ہے۔ لیکن تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ سینکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں عاشقانِ رسولؐ و محبان نبی ﷺ ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے وقتاً فوقتاً کافران و مشرکان و گستاخان و بے ادبان نبی آخر الزمان ﷺ کو کیفر کردار تک پہنچایا اور ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ کیا۔
بقول ایم۔ اے حکیم ایڈووکیٹ: ”جہاں اور جب کبھی بھی کسی مردود ازلی نے حضور نبی کریم ﷺ کی ذات والا صفات کے بارے میں گستاخی یا بے ادبی کی جسارت کی تو وہیں اس نور مجسم ﷺ کا کوئی پروانہ اُٹھا اور اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے، اس بدطینت کو کیفر کردار تک پہنچا کر دربار مصطفوی ﷺ میں سرخرو اور دولت دین و دنیا سے مالا مال ہوا۔ اسی قسم کے بیسیوں واقعات ماضی کے صفحات پر موجود ہیں۔ آج منجملہ ان کے ایک ایسا ہی واقعہ بیان کیا جاتا ہے جو اب تک کہیں مطبوعہ مواد کی شکل میں پیش نہیں ہو سکا ۔“
پروفیسر افضل حسین علوی کی روایت کے مطابق: ”برصغیر میں انگریزی عملداری کے آخری زمانے میں جن عاشقان و محبان حبیب خدا ﷺ نے جان کی بازی لگا کر ناموس
رسالت ﷺ کا تحفظ کیا اور جریدۂ عالم پر اپنی سرفروشی کے انمٹ نقوش چھوڑ گئے، ان میں دو غازیوں، علم الدین شہیدؒ اور غازی عبدالقیومؒ کو بڑی ہی شہرت نصیب ہوئی۔ خصوصاً غازی علم الدین کو جو شہرت دوام ملی، پاک و ہند میں شاید ہی کوئی مسلمان اس سے بے خبر ہو۔ مگر ایک نام ایسا ہے جس کا ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے سلسلے میں کارنامہ تو بہت بڑا ہے، لیکن بہت ہی کم لوگ اس عظیم عاشق رسولؐ کے نام اور کام سے واقف ہیں۔ یہ جاں نثارِ ناموسِ رسالتؐ صوفی عبداللہ تھے۔‘‘
غازی صوفی عبداللہ کا تعلق جولاہا قوم سے تھا اور وہ موضع پٹی تحصیل و ضلع قصور کا رہنے والا تھا۔ مولانا سید امین الحق صاحب ڈویژنل خطیب اوقاف نے ایک دفعہ دوران گفتگو پروفیسر علوی صاحب کے سامنے غازی عبداللہ کا آنکھوں دیکھا حلیہ اس طرح بیان کیا کہ ’’اس کا چہرہ خوبصورت، رنگ گورا اور بھری بھری سیاہ داڑھی تھی جو نہایت ہی بھلی لگتی تھی۔ جس وقت اسے باعثِ صد افتخار مہم کے لیے پروانۂ ماموریت ملا تو عمر تیس بتیس سے متجاوز نہ تھی۔ گویا ایک لحاظ سے عین عالم شباب تھا جب غازی عبداللہ کو اس امر ناگزیر پر مامور فرمایا گیا۔‘‘ چک نمبر 24 چھوٹی میں حرماں نصیب و بد بخت و بد طینت و بد باطن مسلمان جٹ نور محمد کاہلوں رہتا تھا جو قریب کے ایک گاؤں موضع ہرنالہ کی ایک عورت کے دام فریب میں پھنس کر دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا تھا اور پھر حضرت امام الانبیاء رحمۃ للعالمین ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی و اہانت کرتا اور مغلظات بکتا رہتا تھا۔ ہادیِ برحق فخر موجودات ﷺ نے خود غازی عبداللہ کو بذریعہ خواب اپنے شاتم و گستاخ کو ختم کرنے کا امر فرمایا۔ اس شخص کی سعادت مندی و خوش قسمتی کے کیا کہنے، جسے اس عظیم کارِ خیر کے لیے حضرت رسولِ خدا سرورِ کائنات ﷺ نے خود منتخب فرمایا ہو۔
پھر پروفیسر علوی لکھتے ہیں: میرے ناقص علم کی حد تک سلطان نور الدین زنگی کے بعد صوفی عبداللہ شاید وہ دوسری خوش نصیب ہستی ہے جسے خود رسول کریم ﷺ نے اپنے شاتم کو واصلِ جہنم کرنے کے لیے مامور فرمایا۔ یہ الگ بات ہے کہ زنگی ایک صاحبِ شوکت و حشمت بادشاہ تھے اور عبداللہ ایک فقیر اور درویش جو کپڑا بن کر اپنی گزران کرتے تھے۔ صوفی عبداللہ بے شک پیشے کے لحاظ سے ایک معمولی جولاہے تھے مگر دنیائے صدق و صفا میں جس سکے کی مانگ ہے، اس سے صوفی عبداللہ کا دامن بھی یقیناً اتنا ہی مالا مال تھا جتنا صدیوں پہلے بادشاہِ وقت نور الدین زنگی کا۔ چنانچہ حضور رسالت مآب ﷺ کی ایک ہی نظر التفات نے ایک فقیر
بے نوا کو شاہ جم جاہ کے برابر لا کھڑا کیا۔ جس طرح خواب میں سلطان نور الدین زنگی کو ارشاد فرمایا گیا تھا: ’’زنگی دیکھو، دو کتے سرنگ کھود کر میری قبر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جلد مدینے پہنچو اور ان کتوں کی خبر لو۔‘‘ صدیوں بعد تقریباً ایسے ہی کام کے لیے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں سے ایک فقیر بے نوا کو چنا گیا اور خواب میں اسے بارگاہ رسالت مآب ﷺ سے فرمان جاری کیا گیا کہ عبداللہ جاؤ، فلاں گاؤں پہنچو اور میرے شاتم کی خبر لو۔ سچ ہے کہ ؎
حق ہے کہ وہی شخص مقدر کا دھنی ہے
ہمارے ہر دو مآخذ میں چونکہ بعض معاملات میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دونوں مقامات سے الگ الگ منقولات و واقعات کو نقل کر دیا جائے، تاکہ قارئین و شائقین کے لیے اصل حقائق سے زیادہ واقفیت و آگاہی کا سامان میسر ہو جائے۔
ایم۔ اے حکیم ایڈووکیٹ نے اس گستاخ رسول کی داستان ارتداد اور غازی عبداللہ کے اس کو مکافات عمل تک پہنچانے کو سادے لفظوں میں اس طرح بیان کیا ہے:
’’1938ء میں رونما ہونے والا یہ واقعہ و سانحہ ضلع شیخوپورہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتا ہے جو چک نمبر 24 چھوٹی کے نام سے موسوم ہے۔ وہاں کے ساکن مذکورہ مردود مسمی نور محمد جٹ کاہلوں کے ایک شادی شدہ مسلمان عورت سے ناجائز تعلقات استوار ہو گئے جو قریب کے ایک موضع ہرنالہ کی رہنے والی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے اور کوشاں رہنے لگے کہ کسی طرح ان کی آپس میں شادی ہو جائے۔ لیکن عورت چونکہ پہلے ہی شادی شدہ تھی، اس لیے انھوں نے مشورہ کیا کہ اگر اسلام سے منہ موڑ لیں اور عیسائیت اختیار کر لیں تو یہ مرحلہ طے ہو سکتا ہے چنانچہ انھوں نے سانگلہ ہل جا کر ایک عیسائی پادری کے ہاتھوں عیسائیت و مسیحیت اختیار کر لی۔ مگر پھر بھی ان کی خواہش کے مطابق مسئلہ حل نہ ہوا تو بالآخر دونوں بھاگ کر امرتسر چلے گئے اور سکھ مذہب میں داخل ہو گئے۔ بدقماش نور محمد نے اپنا نام چنچل سنگھ اور بدکار عورت نے دلجیت کور رکھ لیا اور کچھ عرصہ امرتسر میں قیام کر کے مذہب کے قواعد و ضوابط کی تھوڑی بہت واقفیت حاصل کر لی۔ بعدازاں چک نمبر 24 چھوٹی میں آ کر آباد ہو گئے۔ جہاں بیشتر آبادی سکھوں کی تھی۔ سکھ ان کو ہمیشہ مشکوک نظروں سے دیکھتے اور باوجود ان کی یقین دہانی کے کہ وہ
واقعی دل سے سکھ مذہب اختیار کر چکے ہیں، سکھوں نے انھیں تسلیم نہ کیا اور چند شرائط پیش کیں، جن میں سے ایک یہ تھی کہ وہ سرعام جھٹکے کا گوشت کھائیں۔ اس بدبخت و بدقسمت جوڑے نے جھٹکے کا گوشت کھا کر یہ شرط پوری کر دی۔ اس کے بعد سکھوں نے دوسری شرط یہ پیش کی کہ اب سور کا گوشت کھاؤ۔ ان دونوں نے اعلانیہ سور کا گوشت بھی کھا لیا۔ لیکن سکھوں کو اتنی سخت شرائط منوا لینے کے باوجود بھی ان کی طرف سے دلجمعی نہ ہوئی۔ لہٰذا یہ طے پایا کہ ایک بڑا اجتماع جسے سکھ لوگ اکھنڈ پاٹھ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، منعقد کیا جائے اور یہ دونوں اس اجتماع میں سر عام پیغمبر اسلام ﷺ کی بے حرمتی کریں (نعوذ باللہ من ذلک) چنانچہ وہ دونوں یہ بھی کر گزرے۔ مگر اس حرکت سے آس پاس کے دیہات کے مسلمانوں کی سخت دلآزاری ہوئی۔ ان کی غیرت اسلامی جاگ اٹھی اور سارے علاقے میں ہیجان پھیل گیا، جس پر سکھوں نے مسلمانوں کے مجمع عام سے اس بے ہودہ و ناپسندیدہ حرکت کی معافی مانگی، مگر مسلمانوں کی تشفی نہ ہوئی۔ مسلمان بضد تھے کہ جس نابکار و ناہنجار جوڑے نے اس گستاخی و بے حرمتی کا ارتکاب کیا ہے، وہ تو سامنے نہیں آیا، نہ ہی ان لوگوں نے معافی مانگی ہے اور نہ ہی ان کو کوئی احساس ندامت ہوا ہے۔ اس پر ایک دوسرے اجتماع کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں اس بدکردار جوڑے نے بھی مسلمانوں سے معافی مانگ لی، البتہ سکھ مذہب کو ترک نہ کیا اور اس پر حسب سابق کاربند رہے۔
اس موقع پر غازی صوفی عبداللہ انصاری کی رگ حمیت پھڑکی۔ عبداللہ پٹی تحصیل قصور کا رہائشی تھا۔ ان دنوں چک نمبر 24 شریف میں اپنے پیر خانے پر موجود تھا۔ وہ پکا مسلمان اور سچا عاشق رسول تھا۔ اس نے مسلمانوں سے کہا کہ ان مرتدین نے جو گناہ عظیم کیا ہے، اس کی معافی تو اللہ پاک یا نبی کریم ﷺ کے سوا کوئی دوسرا شخص دینے کا مجاز و حق دار نہیں۔ لیکن انھوں نے جو گستاخی حضور شہنشاہ کونین ﷺ کی بابت کی ہے، اس کی سزا انھیں اسی دنیا میں ملنی چاہیے۔ اور یہ سزا انھیں میں دوں گا۔ میں بحیثیت ایک ادنیٰ غلام سرکار مدینہ کے ان کو واصل جہنم کروں گا۔
اس کے بعد صوفی عبداللہ کو یہی فکر دامن گیر رہتی کہ کب اور کس وقت اور کس طرح اس کی دلی آرزو و تمنا پوری ہوتی ہے۔ نماز پڑھتا اور خاموش بیٹھا یہی سکیمیں سوچتا رہتا۔ غریب محنتی آدمی تھا۔ بالآخر اس نے کہیں سے ایک معمولی چھری حاصل کر لی اور اسے تیز کیا اور اس راز کو سینے میں چھپائے چک نمبر 24 چھوٹی کی طرف چل دیا۔ اتفاقاً اسے راستے میں چنچل سنگھ کا حقیقی بھائی نتھو مل گیا۔ عبداللہ نہ چنچل سنگھ کو جانتا تھا اور نہ نتھو کو۔ بہرحال عبداللہ کے دریافت
کرنے پر نتھو نے اشارے سے بتایا کہ وہ دیکھو سامنے چنچل سنگھ اپنے کھیت میں کام کر رہا ہے۔ غریب الوطن مرد مجاہد اس کی جانب سیدھا ہو گیا اور اسے دور ہی سے للکار کر کہا کہ تیار ہو جاؤ، عاشق رسول آن پہنچا ہے۔ قوی ہیکل اور ہٹا کٹا چنچل سنگھ جو ہر وقت کرپان سے مسلح رہتا تھا، کرپان سونت کر عبداللہ کی طرف بہ ارادۂ پیکار بڑھا اور کرپان کا وار بھی کیا مگر وار خالی گیا۔ ادھر اللہ کے شیر نے نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہوئے قوتِ ایمانی کے جوش اور عشق نبی ﷺ کے زور سے چھری کے ساتھ حملہ کیا اور پہلے ہی وار میں گستاخ رسول ﷺ چنچل سنگھ کا پیٹ چاک کر ڈالا۔ وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ قریب ہی کھیتوں میں اس کی چہیتی بیوی دلجیت کور کام کر رہی تھی۔ عبداللہ نے اسے للکارا تو وہ بھاگ نکلی مگر عبداللہ نے اسے بھی کچھ ہی فاصلے پر جا لیا اور سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے چنچل سنگھ کے قریب لا کر ذبح کر دیا۔ کثیر تعداد میں سکھ یہ جانگداز منظر اپنے کھیتوں میں کھڑے دیکھتے رہے مگر ان کے قریب آنے اور ان کو بچانے کی جرات نہ کر سکے، بلکہ اتنی ہمت بھی نہ پڑی کہ غازی عبداللہ کو پکڑ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے دلوں پر اس قدر دہشت اور خوف طاری کر دیا تھا۔
پھر یہ جری مجاہد اور مرد غازی اس کام سے فارغ ہو کر بڑے اطمینان کے ساتھ قریبی سیم نالہ کی طرف گیا۔ وہاں اس نے غسل کیا۔ کپڑے دھوئے اور نوافل شکرانہ ادا کیے کہ خدا تعالیٰ نے اسے اس عظیم کارنامہ سے عہدہ برآ کیا اور کامیابی سے ہمکنار فرمایا۔ ازاں بعد غازی عبداللہ نے ہرنالہ جا کر خود ہی پولیس کے روبرو اقبال جرم کر لیا۔ لیکن چونکہ وہ تحصیل قصور کا رہنے والا تھا، ضلع شیخوپورہ میں کوئی گواہ اس کی شناخت نہیں کر سکتا تھا۔ اس بات کی آڑ میں مقدمہ کے دوران بعض مسلمانوں نے اس کو مالی و قانونی امداد کی پیش کش کرنے کے علاوہ یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اقبال جرم نہ کرے تو بآسانی عدالت سے بری ہو سکتا ہے۔ مگر اس عشق رسول ﷺ کے متوالے اور ناموس رسالت ﷺ کے دیوانے نے کسی پیش کش کو قبول نہ کیا اور کہا کہ میں اس ثواب عظمیٰ اور ثواب دارین سے محروم نہیں رہنا چاہتا۔ چنانچہ مقدمہ سیشن کورٹ سپرد ہوا تو وہاں بھی مرد مجاہد نے بصد خوشی اقبال جرم ہی کیا۔ پھر اس جرم کی پاداش میں لاہور جیل میں اسے پھانسی دے دی گئی اور اس شہید ملت کی میت کو گمنامی کی حالت میں موضع پٹی حال تحصیل امرتسر (بھارت) میں سپرد خاک کر دیا گیا‘‘۔
پروفیسر افضل حسین علوی نے اس مرتد اور مردود گستاخ رسول سکھ سے غازی صوفی
عبداللہ کے انتقام لینے کا واقعہ اس طریقہ سے نقل کیا: ”یہ واقعہ تقسیم برصغیر سے پہلے کا ہے۔ شاتم کا نام چلچل سنگھ تھا۔ یہ شقی پہلے مسلمان تھا اور سنا ہے کہ اچھا خاصا پڑھا لکھا تھا، مگر ایک سکھ عورت کے عشق میں ایسا مبتلا ہوا کہ بالکل ہی مت ماری گئی۔ اس عورت سے شادی کرنے کی خاطر مرتد ہو کر سکھ دھرم اختیار کر لیا اور اس کے گاؤں میں جا بسا جو ضلع شیخوپورہ میں وارث شاہ کے گاؤں جنڈیالہ شیر خاں کے قرب و جوار میں تھا۔ چلچل سنگھ نے حق کو کیا چھوڑا، اس کے اندر بھری ہوئی خباثتیں باہر امڈ آئیں۔ سکھوں کے اکسانے پر وہ جگہ جگہ حضرت رسول اکرم و پیغمبر اعظم ﷺ کی شانِ اقدس میں دریدہ دہنی اور یاوہ گوئی کرنے لگا۔ گاؤں کی تقریباً ساری آبادی سکھوں پر مشتمل تھی جو بے حد مالدار، ثروت مند، خوشحال اور حکومت میں اثر و رسوخ کے مالک تھے۔ ادھر مسلمانوں کے صرف چند گھر آباد تھے، وہ بھی ضعیف و نادار اور نہایت کمزوری و غریبی کی حالت میں تھے اور سکھوں کا مقابلہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔
چلچل سنگھ کے گاؤں سے کوسوں دور رہنے والے صوفی عبداللہ انصاری نے ایک رات خواب میں دیکھا۔ حضور پُرنور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”عبداللہ یہ مرتد مجھے دکھ پہنچا رہا ہے، اس کی زبان بند کرو۔“ اتنا فرما کر حضور سرورِ دو عالم ﷺ تشریف لے گئے۔ صوفی عبداللہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس کے کانوں میں ابھی تک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے الفاظ گونج رہے تھے۔ وہ اپنے اندر ایک عجیب سی قوتِ ایمانی اور جوش و جذبہ کھولتا محسوس کر رہا تھا۔ وہ اٹھا اور کسی کو بتائے بغیر مرتد و مردود سکھ کے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا۔ ذرا غور کیجئے! ایک تنِ تنہا مسلمان نوجوان، ان سکھوں کے گاؤں جا رہا تھا، جو اپنی سفاکی، خونریزی اور مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے ضلع بھر میں بدنام تھے اور جن کے سامنے مسلمان خود کو اتنا بے بس و بے کس پا رہے تھے کہ چلچل سنگھ کی ہرزہ سرائیاں اور اپنے پیارے نبی علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں اور گالیاں سن کر بھی خاموش رہے۔ وہ عبداللہ بادۂ عشقِ رسول ﷺ سے سرشار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم کی تعمیل میں چلا جا رہا تھا۔ اسے نہ سکھوں کی کثرت اور طاقت کی پروا تھی اور نہ اپنی بے چارگی و کم مائیگی کا احساس و خیال۔ بس ایک ہی دُھن اس کے سر پر سوار تھی کہ وہ کسی طریقے سے اپنے آقا و مولا ﷺ کا فرمان بجا لائے اور آخرت میں سرخرو ہو جائے۔ صوفی عبداللہ اسی دھن میں کھویا ہوا سکھوں کے اس گاؤں میں جا پہنچا۔ صبح کا وقت
تھا۔ چلچل سنگھ کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ وہ گاؤں سے باہر کنویں پر ہے۔ غازی اسلام نے کنویں کا رخ کر لیا۔ چلچل سنگھ کنویں پر بیٹھا تھا۔ بہت سے سکھ قریبی کھیتوں میں ہل چلا رہے تھے۔ کچھ اس بد باطن اور بد بخت سے ذرا ہٹ کر اسی کنویں پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ غازی عبداللہ نے ان کے بالکل پاس جا کر پوچھا: مجھے چلچل سنگھ سے ملنا ہے۔ ادھیڑ عمر کے ایک سکھ نے اشارہ سے بتایا: وہ سامنے بیٹھا ہے۔ پس عبداللہ بجلی کی سی تندی و تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور اسے دبوچ لیا۔ اس سے پیشتر کہ چلچل سنگھ اس ناگہانی افتاد سے سنبھلتا، صوفی عبداللہ نے اسے لٹا کر چھری اس کی گردن پر پھیر دی۔ چلچل سنگھ خاصا ہٹا کٹا اور موٹا تازہ تھا۔ لیکن ادھر عشق نبی ﷺ کی قوت کارفرما تھی۔ لہٰذا اس کی مضبوط گردن دیکھتے ہی دیکھتے کٹ گئی۔ خون کا فوارہ بہہ نکلا۔ غازی عبداللہ نے چھری زمین پر رکھ دی اور خود بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہو کر خدائے وحدہ لا شریک کا شکر بجالایا جس نے اسے اپنے حبیب و محبوب ﷺ کا حکم ماننے کی توفیق و طاقت بخشی۔ پھر اٹھ کر بھاگ نہیں نکلا بلکہ بڑے اطمینان و سکون کے ساتھ وہیں بیٹھ گیا۔
ایک عجیب عالم تھا۔ بد باطن چلچل سنگھ کی گردن کٹی پڑی تھی اور وہ تڑپ تڑپ کر ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ قاتل چند قدم کے فاصلے پر بیٹھا تھا مگر کسی سکھ میں اس کے قریب آنے کی ہمت نہ تھی۔ کچھ سکھوں نے بھاگم بھاگ اس سانحہ کی اطلاع پولیس کو دی۔ پولیس آئی تو اس وقت بھی غازی عبداللہ بے حد اطمینان سے چلچل سنگھ کی لاش کے قریب بیٹھا ہوا تھا جیسے پولیس کے انتظار میں ہو۔ پولیس کے سپاہی یہ منظر دیکھ کر دم بخود رہ گئے۔ حیران ہو کر سکھوں سے پوچھا: ”یہ اکیلا آدمی تھا اور تم ڈھیر سارے، تعجب ہے کہ چلچل سنگھ کو پھر بھی قتل سے نہ بچا سکے بلکہ اس کے قریب آنے کی ہمت بھی نہ کر سکے۔“ اس پر ان کا جواب اور بھی حیران کن تھا: ”یہ اکیلا کہاں تھا اس کے ساتھ تو مسلح جم غفیر تھا، جس کی وجہ سے ہمیں نہ قتل سے پہلے اس کی طرف بڑھنے کی جرأت ہوئی، نہ قتل کے بعد اس کے قریب پھٹکنے کی ہمت پڑی۔“ اور جب غازی عبداللہ سے پولیس افسر نے دریافت کیا: ”کیا واقعی تمہارے ساتھ کوئی مسلح گروہ تھا؟“ تو اس نے نفی میں جواب دیا۔ پھر ایک معنی خیز مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔
نتیجتاً غازی عبداللہ کو قتل عمد کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور عدالتی کارروائی کی گئی۔ غازی و مجاہد کی طرف سے مقدمے کی پیروی شیخوپورہ کے معروف وکیل ملک انور مرحوم نے کی۔ غازی علم الدین اور غازی عبدالقیوم کی طرح غازی عبداللہ سے بھی کہا گیا کہ اقبال جرم سے
انکار کر دو تو سزا سے بچ سکتے ہو مگر عبداللہ کا جواب بھی وہی تھا جو پہلے دو غازیوں اور شہیدوں کا تھا کہ ”اس طرح تم لوگ مجھے بارگاہ رسالت و نبوت میں حاضری سے محروم کرنا چاہتے ہو جو مجھے ہرگز منظور نہیں اور پھر یہ کہ اس جرم سے کیسے انکار کروں جس پر مجھے فخر و ناز ہے اور جو میری مغفرت و بخشش کے لیے میری زندگی کا سب سے بڑا نیک عمل ہے۔“ چنانچہ غازی عبداللہ کے نصیبوں میں چونکہ شہادت اور دربار رسالت میں فوری حاضری لکھی تھی، اس لیے فیصلہ عبداللہ کے خلاف ہوا اور اسے موت کی سزا سنا دی گئی۔ عدالت نے فیصلہ سنایا تو غازی کا چہرہ بشاشت سے چمک اٹھا اور جب اسے پھانسی کے تختے کی جانب لے کر گئے تو وہ زبان حال سے کہہ رہا تھا:
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
ہر دو مآخذ سے واقعہ مذکورہ کی جزئیات پیش کرنے کے بعد مضمون نگار عرض کرتا ہے کہ سرزمین پاکستان و ہند میں تفحص و جستجو اور غور و خوض سے ایسے بے شمار غازیانِ اسلام کا کھوج لگایا جا سکتا ہے جنہوں نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور عشق و محبت مصطفوی ﷺ میں اپنی جانیں اللہ و رسول ﷺ کی راہِ حقہ میں نثار کیں، مگر ماہرین تاریخ اور بالخصوص غیر مسلم مورخین نے ایسے سرفروشان نبی و جاں نثاران اسلام کے ساتھ زیادتی کی، انھیں پس پردہ رکھا، ان کو منظرِ عام پر نہ آنے دیا اور ایسے واقعات کی نشر و اشاعت سے حتی الامکان گریز کیا تا کہ اس قسم کی قربانیوں سے مسلمانوں میں نیا ولولہ پیدا نہ ہو، ان کا جذبۂ ایمانی جوش میں نہ آئے اور تہذیب مغرب کا وہ میٹھا زہر جو اس قوم کے مزاج میں شامل کیا جا رہا ہے، اس کا عمل رک نہ جائے مگر انھیں کیا معلوم تھا کہ ؎
ہر زمان از غیب جانِ دگر است
❁......❂......❁
محمد متین خالد
غازی محمد حنیف شہیدؒ
(سن شہادت: 1938ء)
غازی محمد حنیف شہید نے اپنی بے مثال وفاؤں کا باب مسلم ریاستی دارالحکومت بھوپال میں رقم کیا۔ کہا جاتا ہے کہ 1938ء میں وسط ہند کے اس تہذیبی شہر میں ایک گرلز ہائی سکول کی انگریز ہیڈ مسٹریس نے سوچی سمجھی سکیم کے تحت مدرسہ کی صفائی کے بہانے قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق ایک خاکروب کے ہاتھوں کوڑے میں ڈلوائے اور جب اس پر احتجاج کیا گیا تو اس بدزبان و بدنصیب عورت نے قرآن پاک، دین متین اور حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں نازیبا اور اشتعال انگیز الفاظ کہے۔ بھوپال کے ایک غیرت مند مسلمان نوجوان محمد حنیف نے جو پیشے کے اعتبار سے قصاب تھے، انگریز عورت کو راستے میں روک لیا اور اس سے کہا کہ وہ اپنی ناپاک جسارت اور شیطانی حرکت پر شہر کے مسلمانوں سے معافی مانگے اور اعلان توبہ کرے، حکومت کے نشہ میں چُور اس بنت ابلیس نے یہ مطالبہ ٹھکرا دیا اور مجاہد ملت کے ہاتھوں انجام کو پہنچی۔ غازی محمد حنیف اس غلط کار عورت کو کیفر کردار تک پہنچا کر تھانے میں خود حاضر ہو گئے۔ اقبالِ فعل کیا اور تمام عدالتوں میں اعترافِ حقیقت بیان فرمائی۔ کچھ عرصہ جیل میں گزارا۔ مقدمہ کی سماعت ہوئی اور محمد حنیف غازی کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔
جینا بھی برباد ہے، مرنا بھی اکارت
محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ
غازی زاہد حسین
علامہ اقبال کی رجز خوانی سے مسلمانان پاکستان منزل مراد کی جانب گامزن ہوئے۔ ذات رسالت مآب ﷺ سے انھیں جو بے پناہ عقیدت و محبت تھی، اس سے کون واقف نہیں اور خود بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے لنکنز ان میں داخلہ اس لیے لیا تھا کہ وہاں دنیا کی قانون ساز شخصیتوں میں حضور ﷺ کی ذات گرامی انھیں سب سے نمایاں نظر آئی۔ دراصل یہ مملکت خداداد پاکستان مسلمان رہنماؤں اور اسلامیان برصغیر کے عشق رسول کا مظہر ہے، اس لیے یہاں اندیشہ نہ تھا کہ کوئی سرکار رسالت مآب ﷺ کی جناب میں گستاخی کا مرتکب ہوگا، لیکن جس طرح بچھو اپنی زہرناک فطرت سے نیش زنی پر مجبور ہے، اسی طرح پاکستان میں بھی ایسے مار آستیں چھپے ہوئے تھے، جنہوں نے ملت اسلامیہ کو رسول عربی ﷺ کی شان میں گستاخی کر کے اسے ڈسنے کی کوشش کی، جس پر ملت کے غیرت مند نوجوانوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنے پیش رو شہیدوں کی طرح شمع رسالت پر پروانہ وار نثار ہونے کے لیے جس جرأت کا مظاہرہ کیا، اس کا تذکرہ تحفظ ناموس رسالت کے سلسلہ میں از بس ضروری تھا، جو نذر قارئین ہے۔
سال 1961ء میں ایک عیسائی مبلغ پادری سیموئیل نے مغلپورہ ورکشاپ میں دوران تبلیغ حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ زاہد حسین اور اس کے ساتھیوں نے سیموئیل کو سختی سے منع کیا کہ وہ اپنی ہرزہ سرائی بند کرے، لیکن وہ شیطان اپنی شرارت سے باز نہ آیا، جس پر زاہد حسین نے مشتعل ہو کر اس گستاخ کا سر پھاڑ دیا، جس کے نتیجہ میں وہ بدبخت ہلاک ہو گیا۔ زاہد حسین نے عدالت کے روبرو اعتراف قتل کر لیا، جس پر اس کو اشتعال انگیزی کی بنا پر صرف جرمانہ کی سزا دی گئی۔ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں نگرانی دائر کی گئی جو خارج ہوئی۔ اس مقدمہ کی پیروی ڈاکٹر جاوید اقبال ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ نے کی جو
اس وقت پیشہ قانون سے وابستہ تھے۔
سال 1964ء میں اس غازی زاہد حسین کو جب یہ معلوم ہوا کہ لاہور کی ایک دکان میں ایک رسوائے زمانہ کتاب ”اثمار شیریں“ فروخت ہو رہی ہے، جس میں رسول کریم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز مواد موجود ہے۔ اس پر یہ مرد غازی ایک بار پھر تڑپ اٹھا اور اپنے معتمد ساتھی الطاف حسین شاہ کے ساتھ مل کر اس نے دکان میں، جہاں یہ کتاب فروخت ہو رہی تھی، آگ لگا دی اور اس کے مینجر ہیکٹر گوہر پر الطاف حسین شاہ نے پستول سے قاتلانہ حملہ کر دیا لیکن وہ بال بال بچ گیا۔ عدالت کے سامنے جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو ان دونوں نے بلا پس و پیش اقبال جرم کیا، جس پر علاقہ مجسٹریٹ نے دونوں کو تین تین سال سزائے قید سنائی اور ایڈیشنل جج لاہور نے اس سزا کو بحال رکھا۔ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں نگرانی دائر ہوئی۔ زاہد حسین کے عزیزوں کو جو اس مقدمے کی پیروی کر رہے تھے، خواب میں بشارت ہوئی کہ میاں شیر عالم ایڈووکیٹ کو ملزمان کی جانب سے وکیل مقرر کریں۔ چنانچہ ان کی جانب سے میاں شیر عالم اور استغاثے کی جانب سے مسٹر جرمی ریٹائرڈ پبلک پراسیکیوٹر پیش ہوئے۔ مقدمہ جب جسٹس شیخ شوکت علی کے سامنے پیش ہوا تو فاضل جج نے مسٹر جرمی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”اگرچہ کہ وہ خود ایک گنہگار مسلمان اور مذہبی رواداری کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں، لیکن اس کتاب میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں جو قابل اعتراض باتیں منسوب کی گئی ہیں، وہ ان کے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں، جنہیں پڑھ کر ان کا خون بھی کھول رہا ہے۔“ اس لیے انھوں نے ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے انکار کر دیا اور حکومت کو ہدایت کی وہ اس کتاب کو فوری طور پر ضبط کر لے۔
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی
غازی حاجی محمد مانکؒ
موضع اکری سے تین چار میل کے فاصلہ پر واقع ایک بستی کا نام کرونڈی (تحصیل فیض گنج ، سندھ ) ہے۔ یہاں قادیانیت کا ایک کمینہ فطرت و شعبدہ باز مبلغ عبدالحق قیام پذیر تھا، جو امرتسر سے یہاں اُٹھ آیا تھا۔ علاقہ بھر میں یہ شخص نہایت عیار اور بدطینت خیال کیا جاتا۔ اس کے سیاسی اثر و رسوخ اور معاشی حیلہ سازیوں سے کئی سادہ لوح کلمہ گو، دولتِ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسے اپنی قوت مناظرہ پر بہت بھروسہ تھا۔ وہ کہتا تھا کہ میری یہ صلاحیت مرزا قادیانی کی نبوت کی ایک دلیل ہے۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ میں مرزا قادیانی کا جانشین نبی ہوں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کی انگوٹھی پر ”عبدالحق نبی اللہ“ نقش تھا۔ قادیانی مذکور کے دم قدم سے کفر و ارتداد نے خوب زور پکڑا۔ ایک دفعہ مناظرے کی بات چلی۔ 1967ء کے ابتدائی مہینوں کا ذکر ہے، فریقین ایک جگہ اکٹھے ہوئے تاکہ باہم شرائط طے ہو سکیں۔ مسلمانوں کی جانب سے مولانا لال حسین اختر نمائندہ تھے۔ مولانا موصوف کا معاملہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ یہ ابتداً مرزائیوں کے قریب رہے۔ ان کی تعلیم وتربیت پر قادیانیوں کی شاخ، لاہوری گروپ کے سربراہ محمد علی نے خاص توجہ دی۔ مختلف مدرسوں میں پڑھایا گیا۔ کہتے ہیں انھیں چھ زبانوں سے واقفیت تھی، فارغ التحصیل ہو چکنے پر وہ قادیانیت کی تبلیغ میں جُت گئے۔ پہلے پہل ”لاہوری جماعت“ کے آرگن ہفت روزہ ”پیغام صلح“ میں کام کیا اور پھر شعبہ مالیات کے محتسب مقرر ہوئے۔ تاہم آہستہ آہستہ ان پر مرزائی ابلہ فریبیاں منکشف ہونے لگیں۔ جھوٹ آخر جھوٹ ہوتا ہے۔ ملمع کاریوں کا دامن کب تک چاک نہ ہوگا؟ بقول ان کے وہ تذبذب میں تھے کہ انھیں بذریعہ خواب حق کی پہچان نصیب ہوئی۔ دوسری دفعہ تو واضح اشارہ ملا۔ میرا ضمیر مطمئن ہوگیا۔ میں نے جانا، مجھے منزل مل چکی ہے۔ بحمد اللہ اب میں مسلمان ہوں۔
قصہ کوتاہ مناظرے کے لیے مقام، وقت اور دیگر شرائط کا تعین ہورہا تھا کہ مولانا لال
حسین اختر صاحب نے قادیانی مبلغ عبدالحق سے پوچھا ”تم کس موضوع پر مناظرہ کرنا چاہتے ہو؟“ جواب ملا ”جس پہلو پر آپ کا جی چاہے۔“ مولانا بولے ”اگر یہ بات ہے تو میں کذب مرزا ثابت کرنا چاہتا ہوں۔“ یہ سن کر قادیانی ملچھ جل بھن کر رہ گیا اور غصہ میں جو بکواس کی، اسے نقل کرنے کا مجھ میں یارا نہیں۔ ان گستاخانہ الفاظ کے تصور سے ہی میرے دماغ کی شریانیں پھٹی جا رہی ہیں، سینے میں آگ لگی ہے۔ سوچتا ہوں ایک وہ وقت تھا جب عہد محکومی میں بھی ہمیں بارگاہ سرور کائنات ﷺ سے نسبت غلامی کی سندیں عطا ہوتی رہیں، تب ہم میں غازی علم الدین شہیدؒ کا ذوق و شوق موجود تھا۔ مائیں اپنے بچوں کو بتایا کرتی تھیں کہ نبی پاک ﷺ کے نعلین مبارک پر جانیں نچھاور کر دینا ہی ثبوت ایمان ہے۔ آج کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مہدی حسنوں وغیرہ کی کمی نہیں، ہر جگہ نور جہانیں بھی جمال آراء ہیں مگر حد نظر تک کوئی فاطمہ بنت عبداللہ یا لیلیٰ خالد دکھائی نہیں دیتی۔ کیا یہ ڈسکو رقاص راجپالی نسل کو کیفر کردار تک پہنچا سکیں گے؟
سگان آوارہ کی بہتات، انسانی صحت کے لیے ہمیشہ مضر رہی ہے۔ مناسب احتیاط نہ کی جائے تو بعض اوقات یہ باؤلے پن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کے کاٹے سے آدمیوں کی زندگی محفوظ، نہ جانوروں کا بچاؤ یقینی۔ اگر آپ اس حقیقت سے آگاہ ہیں تو پھر کتے مار مہم میں دیر کیوں؟ اب یہ سلسلہ شروع ہو جانا چاہیے کیوں کہ ملت کی بقا اسی میں مضمر ہے۔...... اگر کسی مسلمان کے لوح دل پر ”محمد ﷺ“ نہ لکھا ہو تو اس کے ایمان کا کوئی ثبوت نہیں۔ جس سینے میں شہنشاہ دو عالم ﷺ کے در اقدس پر، پلکوں سے جھاڑو دینے کی تمنا کروٹیں نہ لیتی رہے اور آپ کے نعلین مبارک سے لپٹ لپٹ کر مرنے کی آرزو نہ ہو تو خدا کی قسم، وہ کوئی مومن نہیں، پکا کافر و زندیق ہے۔ آمدم بروئے موضوع قادیانی شیطان کے چیلے عبدالحق نے جس دریدہ دہنی اور زہر افشانی کا مظاہرہ کیا، وہ اس قدر دل آزار اور روح فرسا ہے کہ سچے مسلمان یہ سننے کی تاب نہیں رکھتے۔ پڑھ لینے کے بعد بھی اگر کسی کی آنکھیں خون کے آنسو نہ روئیں اور اس صدمے سے دل دھڑکنا نہ چھوڑ دے تو وہ بخدا ہرگز مسلمان نہیں، ایک عظیم منافق ہے۔ شاتم رسول عبدالحق قادیانی کے گستاخانہ کلمات فقط اس نیت سے نقل کرنے والا ہوں کہ آقائے نامدار ﷺ کے دیوانوں اور پروانوں کو بتا دیا جائے کہ کفر و ارتداد کے بچھو کس کس طرح نیش زنی کرتے پھر رہے ہیں۔
مولانا لال حسین اختر صاحب کی اس رائے پر کہ میں مرزا قادیانی کے کذب پر مناظرہ کرنا چاہتا ہوں، قادیانی مبلغ کا خبث باطن آشکارا ہو گیا۔ غلاظت کے اس ڈھیر کی یاوہ گوئیاں سننے سے پہلے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر استغفر اللہ کا ورد کرتے رہیں۔ ظلمتِ شب کے دروغ باف پرستار نے یوں بکواس کی:
”اگر تم مرزا صاحب کے کاذب وملعون اور مردود و گمراہ ہونے پر اظہارِ خیال کرنا چاہتے ہو تو میں آپ کے رسول ...... ہونے پر بحث کروں گا۔“
ابلیس قادیان کے اس حرامی بیٹے کی ناپاک جسارت پر اہلِ ایمان، آتش غضب میں بھڑک اٹھے۔ یہ اتنا کاری زخم تھا کہ ہر ایک کا کلیجہ چھلنی ہو گیا۔ لوگ چاہتے تھے کہ اسے یہیں سنگسار کر دیا جائے مگر بعض ایسی الجھنیں پیش آئیں کہ اس نے راہِ فرار اختیار کر لی اور غضبناک مسلمان کفِ افسوس ملتے رہ گئے۔
جو فلسفہ لکھا نہ گیا خونِ جگر سے
قادیانی مذکورہ دنیاوی وجاہت کے اعتبار سے انتہائی ذی اثر تھا۔ اس کے پاس مال و زر کی کوئی کمی نہ تھی۔ مختلف اوقات میں سندھ کی صوبائی کابینہ کے کئی وزراء سے اس کی صاحب سلامت رہی۔ وہ اپنے مبتذل مقاصد کی تکمیل کے لیے بے دریغ سرمایہ لٹایا کرتے۔ جانے اس نے کتنے اور کس طرح کے گھناؤنے کاروبار رچائے رکھے۔ یہ حقیقت تو ہر ایک پر طشت از بام ہے کہ بے غیرت قادیانی عبدالحق نے کئی مجبور لڑکیوں کو جسم فروشی کے دھندے پر لگا رکھا تھا اور وہ اس کاروبار سے ہمیشہ ذاتی فائدے بھی اٹھاتا رہا۔
یہی وجہ ہے کہ عوام اس کے ابلیسانہ ہتھکنڈوں سے گھبراتے۔ محولہ بالا ملعون ومردود کے اثر و رسوخ کی ادنیٰ سی مثال ملاحظہ کریں۔ اس کے اشارے پر ایک غیور مسلمان کو موضع کرونڈی ضلع خیر پور میں اینٹیں مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ قصور یہ تھا کہ وہ ان کا مہرہ بننے پر رضامند نہ ہوسکا۔ جب اس بے گناہ کے لرزہ خیز قتل کی خبر پھیلی تو کوئی شخص میت اٹھا لانے کو تیار نہ تھا۔ تھانہ میں رپورٹ درج کروانا اور مقدمے کی پیروی تو دور کی بات ہے۔
الغرض حاجی محمد مانک صاحب ان دنوں بلوچستان میں تبلیغی دورے پر تھے۔ لوٹ کر آئے تو آپ کی سن رسیدہ والدہ محترمہ نے روتے ہوئے کہا: ”بیٹا میں آپ کو دودھ معاف نہ
کروں گی کہ آپ کے ہوتے ہوئے ایسے لوگ موجود ہیں جو ہمارے ملجا و ماوٰی، ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی جناب میں گالیاں بکتے ہیں۔“ ان کے استفسار پر بوڑھی والدہ نے پورا واقعہ کہہ سنایا۔ موصوف آٹھویں حج کی تیاری میں مصروف تھے۔ یہ درد ناک حادثہ سن کر آپ نے اس کا پروگرام منسوخ کر دیا۔ دراصل اماں حضور کی ملتجی نگاہیں پوچھ رہی تھیں کہ میرے لخت جگر! دربار حبیب ﷺ میں کون سا چہرہ لے کر جاؤ گے۔ جس کی فتنہ انگیزیوں سے خواب گاہِ نبی ﷺ پر جلال طاری ہے اور پیارے آقا ﷺ کی تربتِ انور شق ہو جاتی ہے، وہ بے غیرت تو تمہارے سامنے دندناتا پھر رہا ہے۔ اگر تم اپنے وطن میں ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ نہیں کر سکتے تو پھر مدینہ منورہ میں حاضری کا کیا مقصد؟
میں یہی سوال پوری قوم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس شہنشاہ ﷺ کی بارشِ رحمت کے چھینٹوں نے جامۂ بشریت میں لطف و کرم کے رنگ بھرے اور جن کی چارہ سازیوں نے بندوں کو خدا سے ملا دیا، اس نور مجسم ﷺ کی عزت خطرے میں ہو تو ہمارا زندہ رہنا بے غیرتی نہیں تو اور کیا ہے؟ واللہ، آپ رنجیدہ نہ ہوں تو اے مسلمانو! ان بے روح سجدوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ دربارِ نبوت ﷺ سے تعلقِ خاطر قائم نہ رہے تو یہ بے سرور عبادت بھی ایک نا قابلِ برداشت بوجھ ہے۔۔۔۔ الغرض جناب غازی صاحب نے کرب میں ڈوبے ہوئے لہجہ میں عرض کیا: اماں! میں وہ مسلمان نہیں ہوں جو ظاہری عبادات کو ہی منزلِ مقصود سمجھ بیٹھے۔ میرے کریم ﷺ ہر وقت میری دستگیری فرماتے ہیں۔ جب تک میرے جسم میں جان باقی ہے، اپنے پیا کے ہر نقش قدم کو لہو کے قطروں سے تابناک بناتا رہوں گا۔ شمع رسالت ﷺ کا پروانہ زندہ ہو تو واقعی شاتمِ نبی کی کوئی علامت قائم نہیں رہ سکتی۔ میں آپ کے ساتھ وعدہ کرتا ہوں کہ میں ان شاء اللہ بہت جلد اس قادیانی دشمنِ رسول کی بوٹیاں جنگلی سوروں سے نچوا دوں گا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ غازی عبدالقیوم شہیدؒ کی روح بے چین ہے۔ آخر نتھو رام کی معنوی اولاد ہمیں کب تک کچوکے لگاتی رہے گی؟ پس آپ خدا کے حضور میری کامیابی کے لیے دعا فرما دیں کہ میری جدوجہد کو بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں قبولیت کی سند عطا ہو جائے۔
رستے میں جو کھڑا تھا، وہ کہسار ہٹ گیا
54 سالہ ایک شخص کا کلیجہ رنج و الم کی آگ سے کباب ہو چکا ہے۔ آنکھوں میں
خشک آنسو اور سینے میں شورِ قیامت۔ اس کے دن بے سکون اور راتیں حسرت انگیز ہیں۔ اس کی معنی خیز لب بستگی بھی طرزِ فغاں ہے اور مفہوم انگیز گویائی ایک نوحہ۔ معلوم ہوا، اس پیکر حیرت اور مجسمہ غیرت کا نام الحاج غازی محمد مانکؒ ہے۔ ان کی وجہ غم بیان ہوئی کہ ناموسِ رسالت ﷺ پر ناروا حملے ہورہے ہیں۔ کریم آقا ﷺ کا کوئی دشمن زندہ ہو تو غلام کا عہدِ وفا کسی طور معتبر نہیں ہو سکتا۔ میں مرزائی شاتم رسول، عبدالحق کو ...... ابدی ذلتوں کا مرکز بنا کر یہ فرض کفایہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
بالآخر آپ ملتِ مصطفوی ﷺ کو درسِ حریت دے گئے۔ سب سے پہلے انھوں نے عوام الناس سے مردود قادیانی کی ناپاک جسارت کا تفصیلی واقعہ سنا، پھر اس پر علما کرام کی مہر تصدیق ثبت ہوئی۔ پس اب ظالم کو گستاخیوں کا مزہ چکھانا باقی تھا۔ چونکہ گستاخ قادیانی عبدالحق مذکور مسلمانوں کے متوقع جوش وخروش کی وجہ سے چوکنا ہو چکا تھا، لہذا حاجی محمد مانک صاحب کئی روز تک غور وخوض کرتے رہے کہ اس بے غیرت کو کس طرح تہ تیغ کیا جائے۔ آخر وہ ایک فیصلہ کر چکے اور پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آپ 7/ رمضان المبارک 21/ دسمبر 1966ء کو عبدالحق تک پہنچے۔
تفصیل اس واقعہ کی یہ ہے کہ مرزائی مبلغ عبدالحق ایک مدت سے آپ کو جانتا تھا، وہ مختلف اوقات میں الحاج محمد مانک صاحب سے کئی بار ملا۔ اس کی شروع سے سازش تھی کہ آپ کسی طرح رام ہوں۔ بوقتِ ملاقات وہ قادیانیت کی خوبیاں گنواتا۔ ایک مرتبہ اس نے آپ کو ربوہ چلنے کی پیش کش بھی کی۔ شیطانی ٹولے کی سازش تھی کہ آپ کے بیعت ہو جانے کی صورت میں جماعت کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔
غازی محمد مانک صاحب اس قادیانی مردود عبدالحق کو اپنے پنجرے تک لانے میں کیسے کامیاب ہوئے؟ انھوں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کون سا لائحہ عمل اختیار کیا؟ واردات کی رات کہاں بسر ہوئی؟ میرے خیال میں یہ ایک غیر ضروری حصہ ہے۔ اس پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے ذرا آگے بڑھتے ہیں۔ الغرض امر واقعہ یہ ہے کہ دہن دراز گستاخ ایک تنومند نوجوان تھا، جبکہ محافظِ ناموسِ رسالتؐ بوجہ کہولت کمزور و ناتواں اور اس معاملے میں راز داری بھی بہر حال لازم تھی۔ ان اسباب کے پیش نظر انھوں نے سوچا کہ کسی نہ کسی طرح بدزبان ملعون کو ٹھکانے لگانا ضروری ہے، ظاہری نمود اور افسانوی شہرت ضروری
نہیں ۔ بفضلہ تعالیٰ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوئے ؎
کہتا ہے کون اسے کہ مسلمان کی موت مر
ساتواں روزہ تھا۔ موت کا بھیانک سایہ لحظہ بلحظہ اس کمینہ فطرت درندے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ تقدیر کی گرفت اسے سیر کے بہانے مقام مرگ پر لے پہنچی۔ اب کسی لمحہ مسلم جانباز جھپٹ کر شکار کو اپنے مضبوط پنجوں میں جکڑنے والا تھا۔ آفتاب رحمت و استغناء، مہتاب حسن و وفا کے متوالے نے اس ارذل و اجہل علامت کو کس طرح لقمۂ اجل بنایا، یہ بڑی دلچسپ اور راحت انگیز داستان ہے۔ مناسب ہے کہ جہاد کی کہانی خود مجاہد کی زبانی سنی جائے۔ الحاج غازی مانک صاحب نے اپنے چاہنے والوں اور عزیز و اقارب کو جیل میں اس کی تفصیل بتاتے ہوئے بیان کیا:
”میرے پاس ایک ریوالور تھا اور چھوٹا سا چاقو بھی۔ باغ میں پہنچے تو عبدالحق قادیانی مزدوروں کے پاس آئندہ کام کے بارے میں ہدایات دینے چلا گیا۔ میں انھی سوچوں میں گم سم بیٹھا تھا کہ جانے کہاں سے آواز آئی ”اے بیدار بخت! تمہیں کاہے کا انتظار ہے۔ جرأت ایمانی سے کام لے کر اسے ابھی حوالۂ آتش کیوں نہیں کر دیتے۔“ یہ سُن کر میں جوش غیرت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ خدا معلوم مجھ میں اچانک اس قدر پھرتی اور قوت کیسے عود کر آئی؟ میں آج تک خود بھی اس معاملے کی گتھی نہیں سلجھا سکا۔ جب وہ مکروہ صورت قادیانی گستاخ رسول، عبدالحق مزدوروں کی طرف سے لوٹتے ہوئے نشانے کی زد میں پہنچ گیا تو غصہ سے میری حالت غیر تھی۔ دل چاہتا تھا کہ جلد از جلد یہ قضیہ نپٹا دوں۔ فوراً لبلبی دبا دی گئی۔ یکے بعد دیگرے آتشیں گولیاں اگلیں۔ ہر طرف اس خوفناک آواز سے سناٹا چھا گیا۔ جب فائر ختم ہو چکے تو دیکھا کہ ملعون بسلامت موجود ہے، غالباً گولیاں اس کے ارد گرد سے گزر گئیں۔ میں دم بخود تھا کہ اب کیا کروں؟ دوسری طرف اس پر بدحواسی طاری تھی۔ میرے یہ انداز دیکھتے ہوئے مسلسل چیخ رہا تھا کہ حاجی صاحب، تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ ایسا کیوں کر رہے ہو؟ خدا کے لیے مجھے نہ مارو، میں تمہارا کوئی دشمن تو نہیں...... ہمارے درمیان کچھ زیادہ فاصلہ نہ رہا۔ میری صرف ایک خواہش تھی کہ اسے بہر صورت مردہ حالت میں دیکھوں۔ قلابازی کھا کر اس پر جھپٹا اور گردن دبوچ لی۔ میں نے دیکھا کہ مجھ میں بجلی کی سی تیزی آ گئی ہے۔ میں تو اسے غیبی امداد ہی کہوں گا کہ وہ باوجود ہٹا کٹا ہونے کے موت کے خوف سے کانپ رہا تھا، حالانکہ ہم گتھم گتھا تھے۔ ہوا یہ کہ
بدبخت گھبراہٹ کے عالم میں زمین پر گر پڑا۔ موقع غنیمت جانتے ہوئے میں بہ سرعت اس کے سینے پر بیٹھ گیا۔ وہ بے حس وحرکت تھا۔ جانے کیوں اس کی قوتِ مزاحمت ختم ہوچکی تھی۔ معلوم ہوتا تھا جیسے یہ تن مردہ ہے اور اس میں جان باقی نہیں۔ الغرض میں نے بڑے اطمینان اور حوصلے کے ساتھ جیب سے چاقو نکال کر دانتوں سے کھولا، اس کی گردن پر ٹکایا اور زور زور سے چلانا شروع کردیا۔ جب اس کے ناپاک جسم سے سر کا بوجھ اتر چکا تو مقتول مردود کی زبان کاٹی اور پھر جبڑوں کو چیر پھاڑ دیا۔ وہ انگلی جس سے اشارہ کر کے بات کیا کرتا تھا، اسے بھی پنجے سے علیحدہ کر کے کہیں دور پھینکا۔ ساتھ ساتھ میری زبان سے بے ساختہ یہ جملے بھی ادا ہو رہے تھے کہ میرے نبی ﷺ کی گستاخی کرنے والوں کا حاجی مانک ہمیشہ یہ انجام کرتا رہے گا۔ ارے کتے، اب بھونکنے کی جرات کر۔ رسولِ پاک ﷺ کی شان اقدس میں یاوہ گوئیاں کرنے والے ذلیل کمینوں کو ہم اسی طرح ملیا میٹ کیا کرتے ہیں۔‘‘
یہ تو ہوا کہ شہر کو زیبائی مل گئی
الحاج محمد مانک صاحب کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔ آپ کی جرات مندانہ جدوجہد سے ہر کس و ناکس پر عیاں ہوگیا کہ رسول عربی ﷺ کے چاہنے والے ابھی زندہ ہیں اور ان کے ذوقِ شہادت پر ایک دنیا گواہ ہے۔ فدائے رسول عربی ﷺ نے ثابت کر دیا کہ زندگی وہی ہے جو سید الکونین ﷺ کے قدموں پر قربان ہو جائے وگرنہ زندگی، زندگی نہیں، موت ہے۔ آپ نوکِ خنجر سے یہ ابدی ولازوال فیصلہ لکھ گئے کہ ’’اس ذاتِ فخرِ موجودات ﷺ کی شان میں نازیبا الفاظ تو کجا، ہم تو ان کوچوں اور گلیوں کی توہین بھی برداشت نہیں کر سکتے، جن کے ذرات کو اس پیکر رفعت وعظمت کی کفش بوسی کی سعادت نصیب ہوئی۔ ایک زندگی کیا؟ ہزار بار زندگی نصیب ہو اور ہزار بار اس شہنشاہ کونین ﷺ کی ناموس پر نچھاور ہو جائے تو بھی دل کی تمنا بر نہ آئے۔ جس سینے میں عشقِ رسول ﷺ کا سوز نہیں، وہ سینہ نہیں بدبختیوں اور تاریکیوں کا قبرستان ہے۔ جس دل میں ناموسِ محمد ﷺ پر مر مٹنے کی تمنا نہیں، وہ دل نہیں، بوم و کرگس کا وحشت انگیز کاشانہ ہے۔‘‘
حاجی محمد مانک صاحب کے تمام کپڑے خون آلودہ ہو چکے تھے۔ ایک نشہ تھا جس سے آپ جھوم جھوم گئے۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ کی چاندنی کھیلنے لگی۔ آنکھوں میں خوشی سے
آنسوؤں کے چراغ جل اٹھے۔ یہ حالت کیوں نہ ہوتی؟ گستاخ زبان ان کے جوتوں کی ٹھوکروں میں ہے۔ مردود قادیانی چیخ چیخ، چلا چلا اور تڑپ تڑپ کر واصل جہنم ہوچکا، اس مکروہ میت کا بھیانک منظر کیا بتاؤں، جیسے سڑک پر خنزیر کئی روز سے مرا پڑا ہو۔ اس کے منہ کا وحشت ناک نقشہ مت پوچھو، معلوم ہوتا تھا کہ کوئی پاگل کتا اپنی زبان باہر نکالے بھونک بھونک کر مر گیا ہے۔ اس کے گلے میں لعنت کا طوق لٹک رہا تھا۔ ادھر غازی محمد مانک صاحب کے چہرے پر ایسی بشاشت جیسے موتیے کی ادھ کھلی کلی کا بانکپن، ہونٹوں پر خمار اور انکھڑیوں میں وہ مستی کہ جیسے بارش کی رُت میں بادہ خوار کو ساقی کا دستِ کرم یاد آ جائے۔ حضرت قبلہ غازی صاحب نے اس عظیم فریضہ سے سرخرو ہو چکنے پر چار میل کا سفر خراماں خراماں طے کیا۔ لطف یہ ہے کہ راستے میں کسی شخص نے یہ بھی نہیں کہا کہ حاجی صاحب کپڑوں کی کیا حالت بنا رکھی ہے اور نہ آپ کے تعاقب میں آنے کی کسی کو جرأت پڑی۔
قتل کی اطلاع ذرا سے وقفے میں دور دور تک پھیل گئی۔ یہ خبر اہل ضلالت کے دلوں پر بجلی بن کر گری، جبکہ کلمہ گوؤں کو مسرت و شادمانی کا سلیقہ سکھا رہی تھی۔ حاجی صاحب جائے واردات سے سیدھے ”اکری“ میں اپنے گھر تشریف لائے اور والدہ محترمہ کو خوش خبری سناتے ہوئے کہا ”میں نے قادیانی گستاخ رسول ﷺ عبدالحق مردود کو نار جہنم میں جھونک دیا ہے۔ اب تو مجھ سے خوش ہو جانا۔“ یہ سنتے ہی وہ اچھل پڑیں۔ اپنے ہاتھوں سے دودھ کا کٹورا پلاتے ہوئے فرمایا ”بیٹا تم نے میرا حق ادا کر دیا ہے۔“
یہاں سے غازی صاحب سیدھے جامع مسجد گئے۔ اپنے کپڑوں سے لہو کی ناپاک غلاظت اتاری۔ غسل فرمایا، نفل شکرانہ ادا کیے اور قرآن شریف کی تلاوت میں محو ہو رہے۔ اتنے میں رپورٹ درج ہونے پر پولیس بھی آپ کی گرفتاری کو آ پہنچی۔ پولیس اہلکاران آپ کے برادرِ اکبر محترم گل بہار صاحب سے ملے (جو ابھی تک صورتِ حال سے بے خبر تھے) اور حاجی موصوف کے بارے میں پوچھا۔ اصل حقائق کا علم ہونے پر وہ دوڑے دوڑے آئے اور کہا ”حاجی صاحب، پولیس آپ کی تلاش میں ہے۔ کیا عبدالحق قادیانی کو آپ نے ہی قتل کیا؟“ انھوں نے بتایا ”ہاں! اللہ تعالیٰ نے یہ کام مجھ گنہگار سے ہی لیا ہے۔ آئیے پولیس کے پاس چلتے ہیں۔“
تھانے میں وقوعہ کی اطلاع مولوی عبدالحق قادیانی کے بیٹے مرزا یعقوب نے دی، جس پر زیر دفعہ 302 باقاعدہ رپٹ درج ہوئی۔ جائے واردات سے پولیس سٹیشن ”فیض گنج“
تین میل بجانب مشرق واقع ہے۔ ایف آئی آر میں واقعہ قتل کی وضاحت یوں درج ہے:
”سائل بیان کرتا ہے کہ عبدالحق میرا باپ ہے اور ہمارا آموں کا اپنا باغ ہے جس میں ہم آموں کی پنیری بوتے ہیں۔ ہمارے پاس حاجی مانک آیا۔ ایک اور آدمی جس کا نام جان محمد بتایا گیا، بھی اس کے ساتھ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمیں آم کی پنیری چاہیے۔ آج (21/ستمبر 1966ء) تقریباً گیارہ بجے دن مقتول (عبدالحق قادیانی) مذکورہ ملزموں کے ہمراہ باغ سے جنوب کی طرف گیا۔ تھوڑی دیر بعد اچانک میرے باپ کی چیخ بلند ہوئی۔ ہم نے دیکھا کہ حاجی مانک نے اسے پکڑ کر نیچے گرا دیا اور پھر چاقو نکال کر ذبح کرنے لگا۔ آلۂ قتل حاجی مانک کے ہاتھ میں تھا۔ ہمیں نزدیک آتے دیکھ کر ملزمان بھاگ گئے۔ ہم نے بچشم خود مشاہدہ کیا کہ مقتول کی گردن کٹ چکی تھی۔ پیچھے سے کچھ حصہ کٹنا باقی تھا۔“
(پولیس ریکارڈ کے مطابق ایف آئی آر کا نمبر 87 جب کہ سیشن جج عدالت میں کیس نمبر 35 اور سن سماعت 1967ء ہے۔)
غازی محمد مانک صاحب پولیس کی حراست میں آ چکے تھے۔ آپ ہتھکڑیاں پہنے یوں خوش دکھائی دیتے، جیسے کہہ رہے ہوں ”زنجیروں میں جکڑے ہوئے ان ہاتھوں کی خوش قسمتی تم کیا جانو! میرا ذوقِ محبت کہتا ہے کہ اس قید پر ہزار آزادیاں قربان کر دوں۔ یہ پابجولاں کا بوجھ کیا؟ پھولوں کے گجرے ہیں جو میں نے کامیابی پر شاداں و فرحاں ہو کر سجا رکھے ہیں۔ کاش تم نے بھی میری طرح لطف آشنائی کا مزہ چکھ لیا ہوتا۔“
جب پولیس آپ کو موقع کی جانب لے جا رہی تھی تو عجب منظر تھا۔ کمر خمیدہ مانک سینہ تانے اکڑ اکڑ کر چلتے ہوئے دکھائی دیئے۔ ایک طرف مقتول مردود عبدالحق قادیانی کی میت اپنے انجام کا وحشت ناک نظارہ پیش کر رہی تھی۔ چونکہ مقتول کے جسم پر گولی کا کوئی زخم نہ تھا، اس لیے ریوالور کے متعلق پولیس نے زیادہ پوچھ گچھ کی اور نہ ہی آپ نے کچھ بتایا۔ الغرض چاقو کی برآمدگی ہوئی۔ کاغذات تیار کیے گئے اور دیگر ضروری کوائف کا اندراج ہوا۔ بعدازاں غازی ملت کو تھانے پہنچا دیا گیا مگر یہ پگلی دنیا نہیں جانتی کہ جسے جرم عشق پہ ناز ہو، بھلا اس کا نشہ بھی کبھی اترتا ہے۔
تصویر مدینے کی آنکھوں میں سجائی ہے
آج تھانے میں غازی صاحب کو پہلی رات تھی۔ آئیے ذرا معلوم کریں کہ آقائے
نامدار حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے غلام پر اتنا کرم فرمایا۔ ابر رحمت کے چھینٹوں سے ان کی بات کس طرح بنی رہی۔ بے چین خواہشوں کو کیسے اور کیوں کر چین آگیا۔ ہم نے دیکھنا ہے کہ رخ زیبا کے شیدائی نے بے حجاب جلوؤں کو کس قرینے سے اپنی بے تاب نگاہوں میں سمیٹا۔ اس راحت آمیز اور کیف آور واقعہ کی ابتداء یوں ہے کہ جب تیرگی کا قافلہ سطح زمین پر اتر چکا تو شہنشاہ دو عالم ﷺ نے اپنے چہرۂ انور سے نقاب الٹ دی۔ بس پھر کیا تھا؟ اہل نگاہ میں اجالے بٹ گئے۔ فدا کار رسالت ﷺ کے مقدر کا کیا کہنا؟ جن کی تسکین کا خود آفتاب نبوت ﷺ بندوبست فرمائیں۔
مصدقہ روایت ہے کہ متعلقہ پولیس افسر کی بیوی بڑی پاکباز، نیک سرشت اور عبادت گزار تھی۔ وہ نبی پاک ﷺ کے شہر کی ٹھنڈی ہوا کے لیے ہمیشہ تڑپا کرتی۔ ان کا تعلق پنجاب کے ایک معزز خاندان سے تھا اور یہ کہ اس خوش بخت خاتون کے باپ ایک باعمل اور متقی عالم دین تھے۔ قصہ مختصر نصف شب کے قریب موصوفہ سو رہی تھیں کہ یکا یک مقدر بیدار ہوگیا۔ خواب میں رسول پاک نبی کریم ﷺ تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حوالات میں ہمارا ایک مہمان آیا ہوا ہے، اس کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنا“۔ یہ نیک سیرت خاتون اسی لمحے اٹھ بیٹھیں۔ حد نظر تک اجالا ہی اجالا تھا۔ فضاؤں میں الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ کی وجد آفرین صدائیں گونج رہی تھیں۔ اب کہاں کی نیند اور کیسا اضطرار؟
انسپکٹر مذکور بغرض سحری گھر آئے تو ماحول بھینی بھینی خوشبوؤں میں رچا ہوا تھا۔ عجیب قسم کی راحت محسوس ہوئی۔ وہ کچھ نہ سمجھ سکے، جھٹ اپنی رفیقۂ حیات سے پوچھا کہ یہ ہوا، یہ رات، یہ چاندنی، کس کی ادا پر نثار ہیں۔ مہکی مہکی ہوا، بدلے ہوئے موسم کا پتہ دے رہی ہے۔ ہمارے گھر میں بہار کی یہ رونقیں کیسے اور کب سے آ بسیں۔ شرم و حیا کی اس تصویر نے سجدہ شکر سے سر اٹھایا اور اشکِ مسرت اپنے رخساروں سے پونچھتے ہوئے بولی:
”آج ہمارے پاک نبی ﷺ نے کرم فرمایا ہے۔ ان آنکھوں نے جب سے وہ جلوہ دیکھا، کسی اور نظارے کی حسرت نہیں رہی۔ شہنشاہ مدینہ ﷺ کے یاقوتی ہونٹوں سے ایسے ترنم ریز الفاظ سنے ہیں کہ میں اپنے مقدر پر مر مٹی ہوں۔ آپ ﷺ کی حرمت و ناموس کا کوئی محافظ آج تھانے میں پابند ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہر طرح سے ان کی مدارات کا خیال رکھیں۔“ اس ایمان پرور واقعہ کے بعد پولیس کے رویہ میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی۔ اب
انسپکٹر حاجی صاحب کے ساتھ تفتیشی افسر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک خادم کی طرح پیش آنے لگا۔ سحری و افطاری کا سامان بھی ادھر سے آ جاتا ۔ کپڑے دُھلے ہوئے ملتے۔ نماز اور تلاوت کے لیے ہر طرح کی سہولت دی جانے لگی۔ اللہ کی اس نیک بندی کو یہی دُھن تھی کہ تاجدارِ مدینہ ﷺ کے مہمان بہر حال خوش رہیں۔
یہ قید نہ تھی، ایک انعام تھا کہ آپ دنیوی جھمیلوں سے بے نیاز ہمہ وقت یادِ الٰہی میں مگن رہتے اور صبح و شام محبوب خدا ﷺ کے تصور میں گزار دیتے۔ کہتے ہیں ایک موقع پر کسی پولیس افسر نے پوچھا کہ حاجی صاحب! آپ نے باوجود کبرسنی کے، اسے کس طرح ہلاک کر دیا؟ جواب ملا ”ایک ضعیف صحابی، اللہ کی راہ میں جان دینے کی بڑی تڑپ رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے انھیں ایک نوکدار ہڈی عطا فرمائی اور وہ کفار کو جہنم میں دھکیلتے ہوئے واصلِ بحق ہو گئے ۔ میں بھی وہی ذوق وشوق لے کر اٹھا تھا۔“ تھانے میں آپ کو دو ہفتے کے قریب ٹھہرایا گیا اور اس دوران آپ کو بفضلہ تعالیٰ ہر آسائش میسر رہی۔
وہ خوش قسمت سائل ، جو دامن پھیلائے ہوئے بارگاہِ نبوت ﷺ میں آ جائے، اسے اتنی خیرات ملتی ہے کہ کاسۂ گدائی سے کیسۂ شاہی کو ذرا نسبت نہیں رہتی اور مانگنے والوں کو گلہ تنگی داماں ہو جاتا ہے، بلکہ اہلِ دل کی نگاہ میں دربارِ محمد ﷺ سے تو بن مانگے ملتا ہے۔ وہ نادان ہیں جو یہاں بھی دستِ طلب بڑھا دیں۔
حضور رحمۃ للعالمین ﷺ کی چوکھٹ سے کیا کیا نہیں ملتا؟ فقیروں کو کشکول سے نوازنا، مانگنے کا سلیقہ عطا فرمانا اور پھر خود ہی ظرفِ طالب کو بھر دینا، ان کی ایک نگاہ کی بات ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ آپ ﷺ فقط سوال ہی پورا نہیں کرتے، سائل کو سوال سے ہمیشہ کے لیے بے نیاز بھی کر دیتے ہیں۔
جب تفتیش کا مرحلہ ختم ہو چکا تو افسرانِ بالا کی ہدایت پر حاجی صاحب (محمد مانکؒ) کو ڈسٹرکٹ جیل خیر پور میں بھیج دیا گیا۔ یہاں ابرِ رحمت ایک بار پھر امڈ آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جیل سے ملحقہ ایک سید گھرانے کی رہائش تھی۔ غازی صاحب کے ادھر آتے ہی ایک سیدانی کو شہنشاہِ دو عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ نے فرمایا ”بیٹی! جیل میں آج شام سے ہماری عصمت و ناموس کا ایک نگہبان محبوس ہے۔ لوگ اسے حاجی مانک کے نام سے جانتے ہیں۔ اسے کھانے وغیرہ کی تکلیف نہ ہونے دینا۔“ علی الصبح گلشنِ زہراؑ کی اس پاکیزہ کلی نے تمام روداد
اپنے بھائی سید امام علی شاہ صاحب کے گوش گزار کی۔ انھوں نے حاجی صاحب کے متعلق معلوم کروایا۔ پتہ چلا کہ وہ ایک قاتل ہے۔ اس پر پریشانی لاحق ہوئی۔ دوسرے روز پھر جمال قدس کا دیدار نصیب ہوا اور تاکید فرمائی گئی کہ یہی تو ہماری عظمتوں کے پاسبان ہیں۔
دورانِ اسیری ان کی طرف سے باقاعدہ کھانا پہنچتا رہا۔ نان ونفقہ کا یہ ایسا اہتمام تھا جو من و سلویٰ تناول کرنے والوں کے لیے باعث رشک ہے، اس لیے کہ خود محسن انسانیت ﷺ نے اپنے مخلص غلام کی خاطر اس کا حکم فرمایا۔
پولیس اور تفتیش کے قانونی تقاضے پورے ہوچکے تھے۔ اب حسب ضابطہ مقدمے کی ابتدائی سماعت سول کورٹ میں شروع ہوئی۔ یہاں آپ نے کوئی بھی بیان دینے سے انکار کیا۔ ازاں بعد مسل سیشن کورٹ میں روانہ کر دی گئی۔ اس وقت سیشن جج جناب محمد علی عبدالرحمٰن صاحب تھے۔ انھوں نے کیس کو بطریق احسن نپٹایا۔ مقدمہ سیشن عدالت میں زیر سماعت تھا۔ ایک پیشی پر فاضل جج نے آپ سے پوچھا کہ بتائیں مقتول کی طرز گستاخی کیا تھی؟ یہ سن کر غازی صاحب پر کپکپاہٹ طاری ہوگئی اور کہا ”جناب جو کلمات میں سننا گوارا نہیں کر سکتا، وہ اپنی زبان سے کیسے ادا کر سکتا ہوں؟“
استغاثہ کے تمام گواہ قادیانی تھے۔ انھوں نے اپنے بیانات میں غازی صاحب کو مجرم ٹھہرایا۔ تاہم بغرض صفائی عدالت کی اجازت سے مسلمان گواہ بھی پیش ہوئے، جنہوں نے اس امر کے ثبوت فراہم کیے کہ مقتول مذکور مرزائیوں کا ایک یاوہ گو اور نمائندہ مبلغ تھا اور یہ کہ اس نے اہلِ اسلام کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا تھا۔
سیشن کورٹ میں مرافعہ کی ایک مدت تک سماعت ہوتی رہی۔ غازی صاحب کی طرف سے مشہور ماہر قانون جناب سید غوث علی شاہ صاحب ایڈووکیٹ (سابق وزیراعلیٰ سندھ) نے پیروی کی، جو ان دنوں خیر پور میں پریکٹس کر رہے تھے۔ آپ نے مقدمے میں خاص دلچسپی کا اظہار کیا۔ بڑے وزنی دلائل اور اہم قانونی نکات عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایک منفرد نوعیت کا مذہبی مقدمہ ہے۔ ملزم کے مذہبی جذبات کو بری طرح مجروح کیا گیا تھا، جس سے مشتعل ہو کر اس نے قتل کا فیصلہ کر لیا۔ لہٰذا حاجی صاحب کو باعزت طور پر بری کر دینا چاہیے۔
وکلاء صاحبان کا خیال تھا کہ غازی ممدوح عدالت میں اپنے اقدام سے انکار کر دیں
گے مگر آپ نے یہ مؤقف تسلیم نہ کیا اور برابر بضد رہے کہ خواہ کوئی فیصلہ ہو، اس معاملہ میں ہرگز جھوٹ نہ بولوں گا۔ مجھ میں انکار کی جرأت ہرگز نہیں۔ بالآخر جب پوچھا گیا تو آپ نے تمام احوال عدالت کے روبرو بیان کیے اور ہر کہیں اپنے فعل کا متواتر اقرار کیا۔
دوش پر لاکھوں سر ہوں تو کٹاتے جاؤ
سیشن کورٹ خیر پور میں سماعت کے پہلے دن مقدمے کی سرگزشت فاضل جج کے گوش گزار کی گئی۔ الحاج غازی مانک صاحب کی جانب سے ایڈووکیٹ سید غوث علی شاہ صاحب پیروکار تھے جب کہ مسٹر علی عباس پبلک پراسیکیوٹر نے وکیل معاونت کا دم بھرا۔
(تفتیشی افسران اور دیگر پولیس ملازمین کے بیانات کا خلاصہ درج ذیل ہے)
ایف آئی آر درج کرنے کے بعد ہیڈ کانسٹیبل شکایت کنندہ کے ساتھ جائے وقوعہ پر گیا اور صورت حال ملاحظہ کی۔ لاش آم کے درخت کے نیچے پڑی تھی۔ لاش پر کئی گہرے زخم پائے گئے۔ نیز محمد اسلم اور یعقوب کی موجودگی میں تفتیشی رپورٹ تیار کرنے کے بعد نعش پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال بھیجی گئی اور گواہان محمد صادق، عبدالمجید اور بشیر احمد کے بیانات قلمبند کیے۔
رات دس بجے پولیس نے ملزم کے گھر چھاپہ مارا۔ حاجی مانک گرفتاری کے لیے از خود پیش ہو گیا اور پوچھ گچھ کی۔ ملزم نے اپنی جیب سے چاقو نکال کر دیا، جس پر خون کے دھبے نہ تھے۔ ملزم، دوران تفتیش باقاعدہ اعتراف فعل کرتا رہا۔ لہٰذا اسے 24/دسمبر 1966ء کو مختار کار مجسٹریٹ درجہ اوّل فیض گنج کے روبرو پیش کیا۔ ملزم نے ہمارے اور ذیلی عدالت کے روبرو عبدالحق قادیانی کے قتل کا اقرار کیا لیکن بالکل اکیلے نہ کہ جان محمد کے ساتھ، جیسا کہ استغاثہ کے بیان میں ہے۔
سیشن عدالت میں الحاج غازی مانک صاحب کے بیانات سے موضوع کا ایک نیا رخ ہمارے سامنے آتا ہے۔ گزشتہ صفحات میں درج کر چکا ہوں کہ ایک قادیانی مردود عبدالحق نے شرائط مناظرہ طے کرتے وقت رسول اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ الفاظ بکے تھے۔ اس پر اہل ایمان کے دلوں میں غضب کا لاوا پھوٹ پڑا مگر غازی محمد مانک صاحب نے عدالت میں ایک اور بھی وجہ بیان فرمائی۔ درحقیقت معاملہ یوں ہے کہ جب مرزائی خبیث عبدالحق کی طرف سے گستاخی کا واقعہ پیش آیا تو جناب حاجی مانک صاحب موجود نہ تھے، ازاں بعد اتفاقاً
آپ کو مزید تصدیق کے لیے بے غیرت ملیچھ عبدالحق قادیانی سے ملنے کا موقع بہم پہنچ گیا۔
چنانچہ بقول آپ کے ”مستری حسن محمد قادیانی، ایک بہانے سے مجھے قادیانی مبلغ عبدالحق کے پاس لے گیا۔ وہ چونکہ دونوں ہم مذہب تھے، اس لیے انھوں نے آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی سے متعلق گفتگو چھیڑ دی اور ترغیب دیتے رہے کہ میں قادیانی مذہب میں شامل ہو جاؤں۔ وہ کوشاں رہے کہ کسی طرح میں مرزا قادیانی کی نبوت کو درست تسلیم کر لوں۔ مگر میرے لیے یہ بات قطعاً ناقابلِ برداشت تھی، بالآخر مقتول عبدالحق قادیانی نے کہا کہ میں ثابت کروں کہ مرزا غلام احمد کیسے نبی نہیں تھا؟ جواباً میری ایک دلیل یہ تھی کہ تمہارے مرزا نے دو پیشین گوئیاں کیں، جو بلاشبہ غلط ثابت ہوئیں۔ اوّل یہ کہ مرزا قادیانی نے کہا کہ عبداللہ آتھم 15 یوم کے اندر مر جائے گا اور دوم یہ کہ اس کی محمدی بیگم سے شادی ہوگی۔ اس پر جب مرزائی ملعونوں سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو انھوں نے مجھ سے کہا ’اگر ایسا ہے تو تم ثابت کرو کہ حضرت محمد ﷺ نبی برحق تھے؟‘ جب میں نے قرآن پاک کی ایک آیت تلاوت کی تو بے غیرت قادیانی مبلغ ”عبدالحق“ کمینگی پر اتر آیا اور بکنے لگا کہ تم اور تمہارے نبی ﷺ ...... ہیں اور یہ کہ تمہارے رسول پاک ﷺ تو ”................“ (معاذ اللہ...... نقل کفر، کفر نہ باشد) تھے۔ میں قوتِ ایمانی سے مشتعل ہو گیا اور مسواک بنانے اور فروٹ کاٹنے والے چاقو سے اس ذلیل کو ذلت کی موت سے دوچار کر دیا۔ جناب غازی مانک کے وکیل مسٹر غوث علی شاہ نے بڑی جاندار اور مدلل بحث کی انھوں نے کہا کہ ملزم...... اپنے بیانات میں بالکل سچا ہے لیکن مستغیث کا دعویٰ درست ثابت نہیں ہوتا۔ حقیقت حال یہ ہے کہ واقعی کسی نے نہیں دیکھا اور چشم دید گواہ فرضی ہیں، لہٰذا قانونی طور پر ساتوں گواہان قابلِ اعتبار نہیں ٹھہرتے۔ جب کہ دوسری طرف ملزم نے پولیس، مجسٹریٹ اور دیگر ذیلی عدالتوں کے روبرو اپنے فعل کا متواتر اعتراف کیا ہے۔ الغرض درج ذیل نکات وضاحت طلب ہیں۔
- 1- آیا، مولوی عبدالحق قادیانی زخموں کے نتیجے میں مرا؟
- 2- یہ کہ ملزم نے ہی مقتول کو زخم لگائے ہیں؟
- 3- ملزم نے آئینی اعتبار سے کون سا جرم کیا ہے؟
اولاً، یہ نکتہ بالخصوص توجہ کا متقاضی ہے کہ ڈاکٹر سید عرفان احمد (جس نے پوسٹ مارٹم کیا) کی رائے میں موت کا سبب خوف و ہراس بنا...... قطع نظر نکتہ کے، ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ملزم
نے کس نوعیت کا جرم کیا ہے...... ویسے بھی ملزم طبعی عمر کے آخری درجہ پر ہے۔ بنا بریں مذہبی جذبات مشتعل ہونے کی وجہ سے ملزم کو بری کر دیا جانا چاہیے۔
بالآخر 20؍اپریل 1968ء کو سیشن جج نے فیصلہ صادر کیا، جس کی رو سے تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ فاضل جج نے اپنے تاثرات میں لکھا۔
تمام گواہ قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ بادی النظر یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ موقع پر موجود نہ ہوں۔ استغاثہ میں مبینہ جزئیات و تفصیلات دماغ پر کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑتیں۔...... میڈیکل آفیسر سید عرفان احمد ولد محمد حسن سکنہ فیض گنج بہ عمر 36 سال نے حلفیہ بیان دیا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے وقت بیرونی معائنہ سے میں نے درج ذیل زخم پائے۔
- 1- ایک گہرا زخم 5 1/2" x 1/2" x 3" (گردن کے سامنے کی طرف ہڈی تک آر پار)
- 2- ایک گہرا زخم 1" x 1/2" x 1/2" (زبان کی بائیں طرف)
- 3- ایک گہرا زخم 1/4" x 1/2" x 1/2" (زبان کی دائیں طرف)
- 4- ایک گہرا زخم 1/4" x 1/2" (دائیں رخسار پر)
- 5- ایک گہرا زخم 1/2" x 1/4" x 1" (دائیں ہاتھ پر)
- 6- ایک گہرا زخم 1" x 1/4" x 1" (بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر)
- 7- ایک گہرا زخم 1 1/2" x 1/4" x 1/2" (دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر)
اور یہ کہ تمام زخم ایک تیز دھار آلہ سے لگائے گئے ہیں۔ لاش کے اندرونی معائنہ سے مندرجہ ذیل زخموں کا پتہ چلا۔ منہ کی اندرونی سطح اور بائیں طرف سے زبان بری طرح زخمی تھی۔ نسیں مکمل طور پر کٹی ہوئی تھیں۔ میں اندرونی معائنے سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ شاید موت، ڈر اور خوف سے ہوئی۔ دونوں چشم دید گواہ (محمد یعقوب، محمد صدیق) جو کہ آنجہانی عبدالحق کے قریبی رشتہ دار ہیں، یہ بتانے سے قاصر رہے کہ واقعہ سے فوراً پہلے مقتول اور قاتل کے درمیان کیا گفتگو ہوئی۔ دوسری طرف ملزم کے بیانات کے حوالہ سے دیکھا جائے تو احمد دین و الیاس احمد بنام حکومت (پی ایل ڈی 1967ء لاہور 649) میں ہے کہ جہاں ملزم کا بیان سزا کی بنیاد بنے تو بیان کو اس کی کلی حالت میں تسلیم کیا جائے۔ اس قانونی نظریہ کی مزید تصدیق غلام محمد بنام حکومت (پی ایل ڈی، 1968ء پاکستان جنرل) میں ہائی کورٹ کے فیصلہ سے ہو چکی ہے۔
ہمارے پاس یہ تازہ فیصلہ موجود ہے، جس میں ملزم نے سائیں غریبو کو قرآن پاک
پھاڑنے پر مار دیا تھا۔ عزت مآب نے اس میں اس طرح بیان کیا ”ہر مسلمان قرآن پاک کو گناہوں سے نجات کا ذریعہ مانتا ہے، اس کو کسی قسم کا پھاڑنا یا بے حرمتی یقینی طور پر مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہوگی اور پھر ایک عالم کے لیے تو اور بھی زیادہ جو مختلف ماحول میں جوان ہوا اور بالکل مختلف تربیت حاصل کی۔
موجودہ مقدمے میں مقتول نے پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کے خلاف نازیبا کلمات استعمال کیے، اس لیے ملزم اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور اس نے جلدی میں (ایمانی تقاضوں کے تحت) ایسا کیا، لہٰذا اشتعال انگیزی ظاہر ہوئی، پس میرے خیال میں اسے ایکسپشن 8 تعزیرات پاکستان کا فائدہ پہنچتا ہے۔
مسٹر غوث علی شاہ فاضل قانون دان، جو ملزم کی طرف سے پیش ہوئے، نے بہت سی کتابوں کا ذکر کیا ہے، جن سے قادیانی مذہب کے لوگوں کا حضرت محمدﷺ کے خلاف گستاخانہ رویہ ثابت ہوتا ہے، اس لیے ملزم حاجی محمد مانک کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 304 کے تحت تین سال قید کی سزا سناتا ہوں۔ ساتھ ہی یہ امر ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کہ ملزم دل کا مریض ہے، اس بنیاد پر اسے جیل میں کلاس بی عنایت کی جائے۔
آپ کو سزا کی یہ مدت خیر پور کی ضلعی جیل میں گزارنا تھی۔ غازی صاحب نے اپنے تعلق داروں اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے ارکان کو منع کر دیا تھا کہ وہ عدالتِ عالیہ میں اپیل ہرگز دائر نہ کریں، دوسری جانب سے قادیانیوں نے ہائیکورٹ سندھ میں نگرانی کی اپیل گزاری، جسے متعلقہ جسٹس نے سرسری سماعت کے بعد رد کر دیا اور یوں عدالتی چکر بازیاں اور قانونی چارہ جوئیاں ختم ہوگئیں۔
ابتداءً مقدمے کی پیروی غازی موصوف کے برادرِ اکبر گل بہار صاحب کرتے رہے۔ چونکہ بمشکل گزراوقات ہورہی تھی، اس لیے زمین کو گروی رکھنا پڑا۔ جب صحیح صورت حال تاجدارِ ختم نبوتﷺ کے پروانوں کے علم میں آئی تو انھوں نے دست تعاون بڑھایا اور جملہ مصارف اپنے ذمہ لے لیے۔ رہن شدہ زمین آپ کے صاحبزادگان کو آزاد کرا دی، نیز آپ کے جوشِ ایمانی کو پورے علاقے میں متعارف کرایا اور بالخصوص سکھر میں مختلف میٹنگیں ہوتی رہیں، جن میں قانونی دفاع بھی زیرِ غور رہتا۔
یہ تذکرہ بھی بڑا پُرلطف ہے کہ سنٹرل جیل سکھر میں الحاج موصوف کے 3 برس
کیسے گزرے؟ حقیقت یہ ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ہی آپ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ پیشی کے موقع پر عدالت میں سینکڑوں لوگ فقط اس نیت سے ٹوٹ پڑتے کہ غازی صاحب کی زیارت ہوجائے گی۔ عرصۂ اسیری میں ہزاروں افراد نے آپ سے ملاقات کی۔ بڑے بڑے اہل نظر آپ سے ملنے تشریف لائے۔ حضرت صاحبزادہ جناب محمود اسعد صاحب سجادہ نشین خانقاہ عالیہ ہالیجی شریف آپ کی ملاقات کو اکثر و بیشتر آیا کرتے۔ وہ فرماتے ہیں کہ غازی صاحب پر رسول اکرم ﷺ کی خاص نظر کرم ہے۔ ایک وقت آئے گا جب لوگ فخر کیا کریں گے کہ میں نے ان کی زیارت کی تھی۔
آپ کے ساتھ جیل کے عملے کا سلوک بہت اچھا تھا۔ جیل خانہ کے سینئر افسروں نے انھیں ہر ممکن سہولتیں بہم پہنچائیں۔ یہ بھی سرکار مدینہ ﷺ کا خاص کرم ہے کہ آپ جہاں جہاں بھی پہنچے، لوگوں کے دلوں میں محبت کا جذبہ پیدا ہوا۔ حکام جیل تو گہری عقیدت رکھتے تھے، الغرض جب سزا کی مدت پوری ہو گئی تو آپ کو بیرون شہر سے مینارہ روڈ معصوم شاہ تک، ایک منظم جلوس کی شکل میں لایا گیا۔ اس روز اتنا عظیم اجتماع تھا کہ لوگ حیران رہ گئے۔ کئی ذمہ دار افراد نے آنکھوں دیکھا حال بتایا کہ جلوس پورے تین میل لمبا تھا۔ بعد میں اس نے جلسے کی صورت اختیار کر لی۔ پرجوش تقاریر ہوئیں۔ ”غازی مانک زندہ باد“ کے نعرے لگے۔ چائے اور کھانے کا بھی اہتمام تھا۔ دور دراز علاقوں سے بسلسلۂ زیارت حاضر ہونے والوں کی تو کوئی گنتی نہیں۔ جلسہ وجلوس میں سندھ کے معروف اکابرین موجود تھے۔ جناب ایاز خاں صاحب (سابق ممبر مرکزی مجلس شوریٰ و سابق رکن مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان) جن کا تعلق جمعیت العلماۓ پاکستان سے ہے اور ہر دلعزیز اور مخلص راہنما ہیں، نے آغاز سے آخر تک ہر اہم معاملے میں تعاون فرمایا۔ مقدمہ میں ان کا مشورہ اور عملی تعاون شامل رہا۔ کئی مرتبہ جیل تک ملاقات کے لیے تشریف لائے اور جلوس میں بھی شامل ہوئے۔ نیز اس موقع پر آپ نے ایک معرکہ آرا دل نشین تقریر بھی فرمائی۔
رہائی کے بعد جب حضرت قبلہ غازی صاحب کی ضیافتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحبان نے بالخصوص دعوت منظور کی۔ سپرنٹنڈنٹ جیل جناب منظور حسین خان پنور صاحب، جو آج کل آئی جی جیل خانہ جات سندھ ہیں، نے ہر دوراہے پر جناب غازی ممدوح سے نیک برتاؤ کیا۔ آپ کا ابتدائی تعلق حسین آباد ضلع خیر پور
سے ہے۔ ایسے صاحب کردار افسر بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں۔ جب تک الحاج موصوف بقید حیات رہے، آپ سے وقتاً فوقتاً ملتے رہنا ان کا معمول تھا۔ بعض اوقات تو سپیشل ملاقات کے لیے تشریف آوری ہوتی۔ محترم سپرنٹنڈنٹ جناب پنہور صاحب بتاتے ہیں کہ ایک رات میں گشت پر تھا۔ غازی محمد مانک صاحب کی کوٹھڑی کے قریب سے میرا گزر ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ماحول خوشبوؤں میں رچا ہوا ہے اور عجب قسم کی روشنی بھی دیکھی۔ قریب پہنچا تو دکھائی دیا کہ غازی صاحب قبلہ رو سر بسجدہ ہیں۔ وہ پہلا دن تھا جب میرے دل میں عقیدت پیدا ہوئی اور پھر روز بروز بڑھتی ہی چلی گئی۔ اب آپ سے ملتا ہوں تو دل مطمئن ہو جایا کرتا تھا۔ ہم لوگ ہمیشہ دعاؤں کی درخواست کیا کرتے ۔
کاش! مل جائیں مجھے کوچۂ جاناں کے دیئے
غازی محمد مانک مرحومؒ نے تمام زندگی مرزائیوں کے خلاف جہاد کیا۔ 1974ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا ’’میں نے پچاس مجاہدوں سے ان کے خون کے ساتھ دستخط لیے ہیں کہ اگر گورنمنٹ نے قادیانی گماشتوں کو اقلیت قرار نہ دیا تو ہم سندھ میں ان کے تمام مکانوں کو نذر آتش کر دیں گے۔‘‘ ایک اور موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’خدا کی قسم! اگر تمام دنیا بھی ہماری دشمن ہو جائے تو ہم تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا کام کرتے رہیں گے اور اس عظیم مقصد کے لیے ہر مصیبت بخوشی جھیلیں گے‘‘۔
ایک بار جناب الحاج محمد مانک صاحب نے اپنے قریبی حلقہ کو بتایا کہ ابھی میں نے قادیانی مقتول کو واصل فی النار نہیں کیا تھا، جب مجھے اشارہ ہوا کہ تم سے ایک بڑا کام لیا جانے والا ہے۔ غازی صاحب کے بقول ان کی بہت بڑی خواہش تھی کہ مرزائیوں کے خلاف کوئی انتہائی قدم اٹھائیں اور یہ کہ وہ اس سلسلے میں ایک بار ربوہ بھی تشریف لے گئے مگر بوجہ اپنے شکار تک رسائی نہ ہوسکی ۔ بالآخر اس عظیم المرتبت مجاہد کو اپنے حبیب پاک ﷺ کی عظمت کا پرچم بلند کرتے، شاتمان نبی کی مادی قوتیں مٹاتے، بہ آواز بلند عشق رسول ﷺ کا نعرہ لگاتے اور اسلام کی شمعیں جلاتے ہوئے سفر آخرت کے لیے تیار پایا گیا ۔
آپ کی مضطرب روح جلد از جلد محبوب خدا ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا چاہتی تھی۔ 2 اکتوبر 1983ء مطابق 22 ذی الحجہ بروز ہفتہ چار بجے دن کی بات ہے کہ اس غازی مرد نے
اپنے عزیز واقارب سے فرمایا کہ ”مجھے گاؤں کے قبرستان میں ہی مسنون طریقہ سے سپرد خاک کیا جائے ۔ میری خوشی اسی میں ہے کہ آپ لوگ ہمیشہ تاجدارِ ختم نبوت ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کرتے رہیں اور آپ ﷺ کے ہر گستاخ کو ذلت ناک موت سے دوچار کریں۔ مجھے انتظار ہے حاجی غلام محمد صاحب کو بلواؤ۔“ اس کے ساتھ ہی آپ کی نبض ڈوبنے لگی ۔ تارِ نفس کی آمد و شد کا سلسلہ اکھڑتا چلا گیا۔ آپ کا رخ مدینہ منورہ کی سمت تھا اور برابر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے جا رہے تھے کہ اچانک طائرِ روح نے قفسِ عنصری سے اڑان لی اور گنبدِ خضرا پر بوسے لٹاتا ہوا نغمہ سنج ہو گیا۔ نمازِ جنازہ دو بار پڑھی گئی ۔ پہلی بار مولوی نور احمد صاحب، جو گاؤں کے رہائشی اور آپ کے عزیز تھے، کی اقتدا میں ادا ہوئی جب کہ دوسری دفعہ مولانا رحیم بخش صاحب امام تھے۔ جنازے میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ مصدقہ اطلاع کے مطابق آخری رسومات میں کم از کم بیس ہزار نفوس شامل ہوئے۔
غازی محمد مانگٹؒ اکثر فرمایا کرتے: ”اوائل عمری سے ہی میری سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ نبی پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہو۔ میں مدتوں درود و وظائف میں جتا رہا۔ سات حج کیے، باقاعدگی کے ساتھ نمازیں پڑھیں مگر ہمیشہ اس عظیم شرف سے محروم رہا۔ آخر میری قسمت اس وقت جاگی، جب میں نے اپنے نوکِ قلم سے نشانِ باطل (عبد الحق قادیانی) کو کھرچ ڈالا۔ اب کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس میں حضور خاتم النبیین ﷺ نے دست گیری نہ فرمائی ہو۔ ہر وقت ہر روز قربت کے مزے لوٹتا ہوں ۔ بس میری زندگی کے روز و شب ان (ﷺ) کی نگاہِ کرم سے گزر رہے ہیں۔“
۞......۞......۞
محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ
شہدائے اسلام آباد
(سن شہادت: 1989ء)
پاکستان میں انفرادی اور اجتماعی کوششوں کی بدولت جب توہین رسالت کے جرم کی سزائے موت کا قانون قومی اسمبلی نے منظور کر لیا تو اس پر یورپ، بھارت اور خود پاکستان کا سیکولر ذہن تلملا اٹھا۔ یہودی لیڈروں کے یہ عزائم جیوئش کرانیکل کے ذریعہ کھل کر سامنے آگئے تھے، جس میں انھوں نے ببانگ دہل اعلان کیا تھا: ”ہم پاکستان میں اسلامی نظام کبھی قائم نہیں ہونے دیں گے ۔“ اس کے علاوہ یورپ اور امریکہ میں اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے بھی وہ خوف زدہ ہو گئے تھے اور انھیں ڈر تھا کہ اسلام پھر ایک زندہ قوت بن کر دنیا پر نہ چھا جائے۔ ان کے خیال میں جب تک مسلمانوں کے دل و دماغ سے ذاتِ مصطفوی ﷺ کا رشتۂ محبت و عقیدت اور جذبۂ احترام و تکریم ختم نہ کیا جائے ، وہ اس اٹھتے ہوئے طوفان کو روک نہیں سکتے۔ اس کے لیے انھوں نے ایک نہایت گھٹیا اور انتہائی گھناؤنی سکیم تیار کی۔ انھوں نے ایک آبرو باختہ، ضمیر فروش اور رسوائے زمانہ شیطان صفت ملعون ملحد رشدی کی خدمات حاصل کیں اور اس خبیث سے ”شیطانی آیات“ نامی ایک کتاب لکھوائی، جو عفونت میں سنڈاس سے بدتر تھی۔ یہ کتاب وائی کنگ پبلی کیشنز کے یہودی ادارے نے اکتوبر 1988ء میں شائع کی۔ اس کتاب کو ناول کی شکل دے کر اس میں ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ التحیۃ والسلام، ختم الرسل امام الانبیاء حضور رسالت مآب ﷺ ، اہل بیت، ازواج مطہرات اور اصحاب رسولؐ کی شان میں جو زبان استعمال کی گئی ہے، وہ شیطان کا ایجنٹ ہی استعمال کر سکتا ہے۔ ان ذوات قدسی پر جس فحش انداز میں حملے کیے گئے ہیں، آج تک دنیا کے کسی ذلیل اور رذیل ترین شخص کو ایسی جسارت نہیں ہوئی۔ پہلے تو شیطانی خرافات سمجھ کر مسلمانوں نے اس کا نوٹس نہیں لیا کیوں کہ اس مجہول النسب نے اس سے پہلے اپنی کتاب ”مڈ نائٹ چلڈرن“ (Mid-Night
Children) میں اپنے ”حسب نسب“، اپنی ”مادر زاد“ اولاد اور حاشیہ نشینوں کو نشانہ تضحیک بنایا اور ایک دوسری کتاب شیم (Shame) میں جس پرلے درجہ کی بے حیائی اور بے شرمی کا مظاہرہ کیا تھا، اس پر اردو کے مقبول شاعر اور انگریزی ادب کے معروف نقاد فیض احمد فیض نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ”مغرب کی اس سے بڑھ کر بدنصیبی اور کیا ہوگی کہ رشدی جیسے شخص کو برطانیہ کے ناول نگاروں میں شامل کیا گیا ہے۔“ اس کتاب کے بارے میں بھی یہی سمجھا گیا کہ اس میں بھی کچھ اسی قسم کی خرافات ہوں گی لیکن کسے خبر تھی کہ گندگی اور غلاظت اس بری طرح اس کے منہ کے راستے خارج ہوگی کہ اس کا تعفن دنیا میں ہر پاکیزہ اور طہارت پسند انسان کے لیے ناقابل برداشت ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ گندگی اور غلاظت کے کیڑے ایسی گندگی کے ڈھیر میں پلتے بڑھتے ہیں اور اسی سے اپنی خوراک حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اگر اتفاقاً انھیں اس ڈھیر سے علیحدہ کر لیا جائے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ ”شیطانی آیات“ میں اس نے اہل یورپ کو بے حد ننگی اور انتہائی فحش گالیاں دی ہیں، جس کو وہ شیر مادر سمجھ کر بڑی آسانی سے ہضم کر گئے ہیں۔
ان کے آبرو باختہ معاشرے میں اخلاق، تہذیب، شرافت، شائستگی، نفاست اور پاکیزگی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ شاید اس لیے غلیظ اور گندی گالیاں کھا کر وہاں کی اکثریت کو نفسیاتی طور پر لذت اور ایک گونہ خوشی محسوس ہوتی ہے۔ اس کتاب کے 547 صفحات ایسی فحش گالیوں سے بھرے پڑے ہیں جو زبان قلم پر نہیں لائے جاسکتے۔ سفید فام عورت کے بارے میں یہ فحش نگار لکھتا ہے ”سفید فام عورت کو، جنسی اختلاط، کے بعد اٹھا کر پھینک دینا چاہیے۔“ ”جنسی اختلاط“ کے الفاظ ہم نے انگریزی زبان میں استعمال ہونے والے ایک عامیانہ لفظ کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھے ہیں، جسے اس شیطان نے بطور گالی استعمال کیا ہے۔ چنانچہ اس نے ایک انگریز عورت ”پامیلا“ (Pameela) کو بطور داشتہ استعمال کرنے کے بعد شادی کا ڈھونگ رچا کر چھوڑ دیا۔ پھر اس نے ایک امریکی عورت میرین وگنز (Marrine Wiggins) سے ناجائز تعلقات قائم کر لیے لیکن قانونی مجبوریوں کی وجہ سے اسے منکوحہ بنا کر اس سے بھی گلو خلاصی حاصل کر لی۔ برطانیہ اور امریکہ کو اپنے اس ناول نگار داماد پر فخر ہے، جس نے ان کے عصمت فروش معاشرے کو برسر عام ننگا کر کے دنیا کو دکھلایا ہے، اس پر طرفہ تماشا یہ ہے کہ اپنے گھٹیا بازاری ناول میں اس نے برطانیہ کی وزیر اعظم مسز تھیچر کو ”شہوت
برانگیختہ کتیا‘‘ کہہ کر پکارا ہے اور اس کی ہوس ناک سگِ مجنون کی طرح رال ٹپکاتے شاہی محل کے اندر کوئین الزبتھ کا پیچھا کرتی ہے۔ ’’حرام زادہ‘‘ (Bastard) ’’رنڈی‘‘ ماں اور بہن کی گالیوں کا جس آزادانہ طور پر استعمال اس کتاب میں کیا گیا ہے، اس کا حوصلہ تو شاید شیطان بھی نہ کر سکے۔ بہر حال انگریزوں اور امریکیوں کا یہ حوصلہ قابل داد ہے کہ ایسی ننگی ، شرمناک اور فحش گالیاں اپنے اور اپنے لیڈروں کے بارے میں سن کر وہ مشتعل یا منفعل نہیں ہوئے ، بلکہ اس فحش نگاری کو ادب عالیہ یا لٹریچر سمجھ کر اس کی اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جب یہ کتاب شائع ہونے کے بعد یورپ اور امریکہ کے بازاروں میں فروخت ہونے کے لیے پہنچی اور مسلمانوں کو اپنے محبوب آقا اور مولا ، ان کی ازواج مطہرات ، اہل بیت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کی شان میں اہانت اور گستاخیوں کا علم ہوا تو ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ یہ تو ان کے اپنے پیارے رسول ﷺ ، آل رسول ﷺ ، ازواج و اصحاب رسول ﷺ کی عزت و ناموس کا معاملہ تھا۔ وہ تو یہودیوں اور عیسائیوں کے پیغمبروں کی توہین بھی برداشت نہیں کر سکتے جن کی وہ اپنے پیارے نبی ﷺ کی طرح ہی تعظیم وتکریم کرتے ہیں۔ اس کتاب میں ان کی ذات پر بھی جا بجا سوقیانہ اور رکیک حملے کیے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ کا ذکر بے محل نہ ہوگا، جو سال 1988ء میں میرے قیام لندن کے دوران پیش آیا، جو یہودی ذہنیت کا مظہر ہے۔
ان دنوں لندن کے سینما گھروں میں ایک یہودی فلم ساز مارٹن اسکور سس کی ایک انتہائی شرم ناک فلم "The Last Temptation of Chirst" نمائش کے لیے پیش کی جانے والی تھی، جس میں (نعوذ باللہ ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک طوائف کے ساتھ سرگرم اختلاط دکھلایا گیا تھا۔ مسلم جیورسٹس لندن آفس کے چیئرمین جناب ریاض احمد نے برٹش فلمز انسٹی ٹیوٹ کو نوٹس دیا کہ اس فلم کی نمائش برطانیہ کے قانون بلاس فیمی کی خلاف ورزی ہے۔ اگر اس فلم کی نمائش کو نہ روکا گیا تو پھر اس کے فلم ساز اور مالکان سینما کے خلاف لندن کے مسلمان شہریوں کی جانب سے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس پر وہاں کے عیسائی شہریوں کو بھی غیرت آئی اور کیتھولک چرچ کے راہنماؤں نے ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا نوٹس دیا۔ اس کے بعد لندن میں اسلامی ملکوں کے مقیم مسلمان نوجوانوں نے برطانیہ کی جماعت اسلامی کے تعاون سے پلازہ سینما کے سامنے، جہاں اس شرم ناک فلم کی نمائش ہورہی تھی، جمعہ 12 ستمبر 1988ء کو پکٹنگ شروع کی، جس میں عیسائی فرقوں کے راہنماؤں نے بھی خود
یہودیوں کا ایک مذہبی گروہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گیا۔ جس کے نتیجہ میں لندن کے زیر زمین سٹیشنوں میں جہاں جہاں جناب مسیحؑ کے ساتھ اس طوائف کے نیم برہنہ قد آدم پوسٹر لگائے گئے تھے، ہٹا لیے گئے اور فلم بُری طرح فلاپ ہوئی۔ اس واقعہ کے ذکر سے یہ اظہار مقصود تھا کہ مسلمان تو دوسرے مذاہب اور ادیان کے پیغمبروں کے بارے میں گستاخی اور شرارت برداشت نہیں کر سکتے، تو پھر وہ کیوں کر اور کیسے اپنے محبوب پیغمبرﷺ کی شان میں کسی بے ادبی اور شرانگیزی کو برداشت کر لیتے۔
شیطان رشدی کی کتاب جیسے ہی لندن کی مارکیٹ میں فروخت کے لیے پہنچی تو وہاں کے مسلمانوں نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیا اور انھوں نے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کر دیئے۔ 29؍ نومبر 1988ء کو لندن میں اسلامی ملکوں کے سفیروں کا اجلاس ہوا، جس میں پاکستان، کویت اور صومالیہ کے سفیروں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔ جس کے ذمہ یہ کام سونپا گیا کہ وہ حکومت برطانیہ سے سفارتی سطح پر مذاکرات کر کے اس کتاب کی فروخت پر پابندی عائد کرائے۔ 28؍ جنوری 1989ء کو لندن میں برطانیہ کے گوشہ گوشہ سے آئے ہوئے کئی لاکھ مسلمانوں نے اپنے شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے ایک بہت بڑا مشتعل، مگر منظم جلوس نکالا جو برطانیہ کی تاریخ میں سب سے بڑا مظاہرہ تھا، جس میں نہ صرف اس شیطانی کتاب کو ضبط کرنے کا مطالبہ کیا گیا بلکہ اس کے مصنف کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا اور مسلم ایکشن فرنٹ (The Muslim Action Front) کی تشکیل بھی عمل میں آئی تاکہ ان مطالبات کی تکمیل کے لیے عملی اقدام کیے جائیں۔ ان مظاہروں اور اس کتاب کے مندرجات کا نوٹس لیتے ہوئے پوپ نے بھی ویٹی کن سٹی میں اس کتاب کی اشاعت، خرید اور فروخت کو ممنوع قرار دیا۔
اس کتاب کے اقتباسات جب منظر عام پر آئے تو مسلمان سراپا اضطراب بن گئے۔ پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کے دل و دماغ، زبان و قلم اور رگ و پے سے اس شیطانی کتاب اور اس کے شیطان مصنف کے خلاف غم و غصہ اور نفرت کا لاوا ابلنے لگا، جس کے ہولناک نتائج کا اندازہ کرتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے اس کتاب کی فوری ضبطی کا حکم دیا جس پر بلا تاخیر عمل درآمد ہوا۔ پاک و ہند کے علاوہ ملائشیا، جنوبی افریقہ، مصر، سوڈان، عمان اور سعودی عرب کی حکومتوں نے بھی اس کتاب کو قابل ضبطی قرار دیا لیکن یہ
کارروائی بھی مسلمانوں کے لیے وجہ تسلی نہ ہوسکی اور اس کے خلاف شدید ردِعمل کے طور پر ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے طول و عرض میں مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ برطانیہ اور امریکہ میں اس کتاب کی اشاعت روک دی جائے اور اس کتاب کے خبیث مصنف کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ امریکہ میں بھی اس بے ہودہ اور شیطانی کتاب کے مصنف اور اس کے ناشروں کے خلاف نہ صرف وہاں کے مقیم مسلمانوں نے کھل کر احتجاج کیا، بلکہ بعض مقامات پر، جن دکانوں میں یہ کتاب فروخت ہو رہی تھی، انھیں بھی نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی گئی۔ امریکہ میں یہودی لابی کے غیر معمولی کنٹرول کے باوجود غیر متعصب تعلیم یافتہ طبقہ نے بھی وہاں کے کثیرالاشاعت اخبارات، جرائد اور رسائل میں اس کی مذمت کی۔ چنانچہ 19/ جنوری 1989ء کو روزنامہ نیویارک ٹائمز اور اس کے بعد واشنگٹن ٹائمز نے اس کتاب کے خلاف تبصرے شائع کیے اور لکھا کہ یہ کتاب نہ صرف سطحی اور گھٹیا ہے بلکہ شر انگیز بھی ہے۔ اس بات سے اہل یورپ اور امریکہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا واقف ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک انسانی اقدار اعلیٰ کا سرچشمہ ذات ختمی مرتبت ﷺ ہے، جن کے نام و ناموس کا تحفظ ان کی اپنی ذات، جان و مال اور ملک و قوم، سب سے بڑھ کر ہے۔ مسلمان ملک و قوم اس کی حفظ و پاسبانی اس لیے کرتے ہیں کہ ان دونوں کا تعلق براہ راست اس ذات گرامی سے ہے جو انھیں ہر چیز سے عزیز تر ہے۔
یوں تو اس شیطانی کتاب نے دنیا کے تمام مسلمانوں کے جذبات کو سخت مجروح کیا تھا، لیکن ایران اور اسلامیان پاک و ہند ایک نہایت ہی اذیت ناک کرب و ابتلا سے گزر رہے تھے۔ پاکستان کے بزرگ سیاست دان نواب زادہ نصر اللہ خان، خبیث رشدی کی اس کمینہ حرکت پر تڑپ اٹھے۔ 7/ فروری 1989ء کو ان کی تحریک استحقاق پر قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ’’شیطانی خرافات‘‘ اور اس کے مصنف کے خلاف قراردادِ مذمت منظور کی اور یہ تجویز پاس کی کہ پاکستانی حکومت برطانیہ اور امریکہ سے اس کتاب کی ضبطی اور اس کی اشاعت کو رکوانے کے لیے سفارتی سطح پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
ان ہی دنوں میں مجلس تحفظ ناموس رسالت کے سرگرم اراکین اور قائدین نواب زادہ نصر اللہ خان، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمٰن، مولانا کوثر نیازی، میجر (ریٹائرڈ) محمد امین منہاس، مولانا قاری عبدالعزیز جلالی، مولانا محمد عبداللہ اور دیگر دردمند
کارکنوں کا اجتماع ہوا، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت امریکہ کو مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرنے اور اسلامی ملکوں کو اس صورت حال سے واقف کرانے کے لیے اراکین اسمبلی، دانشوروں اور معروف دینی اور سماجی شخصیتوں کی راہنمائی میں ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جائے۔ اس سلسلہ میں مجلس نے ایک پروگرام بنایا کہ اسلام آباد میں ایک پرامن جلوس امریکن سنٹر تک جائے گا، جس کی وساطت سے حکومت امریکہ کو اسلامیان پاکستان میں اس کتاب کی اشاعت سے پیدا ہونے والے اندوہناک اضطراب اور گہری تشویش سے آگاہ کیا جائے گا اور اس سے یہ مطالبہ بھی کیا جائے گا کہ وہ اس فحش کتاب کی اشاعت اور فروخت پر پابندی عائد کرے جو ساری دنیا میں مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث بنی ہوئی ہے۔ چنانچہ پروگرام کے مطابق یہ جلوس حکومت پاکستان سے اجازت حاصل کرنے کے بعد 12/فروری 1989ء کو لال مسجد آب پارہ سے نکل کر بلیو ایریا امریکن سنٹر کے قریب پہنچا تو وہاں پر متعین پولیس نے مرکزی حکومت کی ہدایات پر شرکائے جلوس کو امریکن سنٹر میں داخل ہو کر اپنے مطالبات پہنچانے سے روکنے کے لیے درمیان میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ بالآخر حکومت اور انتظامیہ کی بے تدبیری اور سہل انگاری کی وجہ سے پولیس نے نہتے معصوم شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجہ میں سمن زارِ مصطفیٰ کے سات نونہال خون شہادت سے رنگین قبا ہوئے، جن کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں:
- 1- نوجوان طالب علم ظفر اقبال فرزند مرزا سلطان محمد پرنسپل قندیل انسٹی ٹیوٹ راولپنڈی
- 2- جواں سال طالب علم حافظ نوید عالم فرزند مظفر خان ساکن ایبٹ آباد
- 3- جواں سال طالب علم نور الہدیٰ فرزند محمد شعیب سواتی
- 4- جواں سال طالب علم محمد شاہد فرزند محمد یونس سکنہ راولپنڈی
- 5- شیر دل نوجوان حق نواز فرزند عظیم اللہ ساکن مانسہرہ
- 6- جان نثار نوجوان محمد ارشد فرزند محمد صادق ساکن اٹک
- 7- جان باز نوجوان محمد فاروق فرزند عبداللہ ساکن راولپنڈی
ان کے علاوہ بے شمار جاں نثاران مصطفیٰ ﷺ اس فائرنگ سے زخمی اور مضروب ہوئے۔
یہ قافلہ بلاکشان محبت لال مسجد سے روانہ ہوا تھا اور سینوں پر گولیاں کھا کر ساری ملت کو سرخرو کیا۔ ان میں سے کسی کی پشت پر ایک خراش تک نہیں پائی گئی۔ ان معصوم نوجوانوں
کی شہادت کی خبر سارے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ حکومت نے صورت حال کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے اس الم ناک سانحہ کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جج جناب جسٹس اعجاز نثار کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا، جس نے 20؍ فروری 1990ء سے اس بارے انکوائری شروع کی۔ کمیشن نے 156 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے۔ جن میں اکابرین اور شرکائے جلوس کے علاوہ انتظامیہ اور پولیس کے گواہ بھی شامل تھے۔ کمیشن کے سامنے کل 289 دستاویزات جن میں موقع واردات کی تصاویر کے علاوہ اخبارات کے تراشے اور ویڈیو فلم بھی تھی، پیش کیے گئے۔ فاضل جج نے تمام حالات اور واقعات کا انتہائی حزم واحتیاط سے جائزہ لینے کے بعد 146 صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کی، جو اب منظر عام پر آچکی ہے۔ اس موقع پر یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل فاضل جج موصوف نے راقم الحروف کی رٹ پیٹیشن پر، جو ایسی ہی ایک قابل اعتراض کتاب (A Lamp Spreading Light) کی اشاعت کے خلاف تھی۔ اس کے مصنف راتق لوتھر اور پرنٹر پبلشرز کے خلاف توہین رسالت کے جرم میں دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔
سانحہ اسلام آباد کے بارے میں جو تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی ہے، اس میں قانون اور انصاف کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے کمیشن جس نتیجہ پر پہنچا ہے اس کے چند اہم پہلو حسبِ ذیل ہیں:
یہ کہ جلوس مذہبی نوعیت کا تھا، اس کے پیش نظر کوئی سیاسی مقاصد حاصل کرنا نہ تھا۔ کمیشن کی نظر میں مسلمانوں کا یہ جائز حق تھا کہ وہ ایسی شیطانی کتاب اور اس کے مصنف کے خلاف اپنے گہرے غم وغصہ اور تشویش کا اظہار کرتے۔ درحقیقت وہ جس کاز کو لے کر نکلے تھے، وہ عظیم تر اور لائقِ ستائش تھا۔ وہ تو اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کے حضور جذبۂ سپاس و عقیدت پیش کرنے کے لیے گئے تھے کہ ختم المرسلین ﷺ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ کمیشن نے پولیس کے اس موقف کو مسترد کر دیا کہ اس نے صرف ہوائی فائرنگ کی تھی اور قرار دیا کہ پولیس کو صورت حال قابو میں رکھنے کے لیے کوئی کارروائی ناگزیر تھی تو پھر بھی مظاہرین کے سینوں کا نشانہ لے کر فائرنگ کا کوئی جواز نہ تھا۔ کمیشن نے آخر میں کہا ہے کہ اس سانحہ میں جو قربانیاں دی گئی ہیں وہ بلاشبہ بہت عظیم ہیں۔ ان کے خون کی کوئی بھی قیمت ادا نہیں کرسکتا۔ تاہم کمیشن نے حکومت کو یہ سفارش کی ہے کہ ان شہیدوں کے ورثاء کو کم از کم پچاس
ہزار فی کس معاوضہ ادا کیا جائے، لیکن چونکہ یہ معاملہ سیاسی نوعیت کا نہ تھا اس لیے سفارش پر حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی اور تادم تحریر مضروبین کو اور شہیدوں کے ورثاء کو کوئی خون بہا یا معاوضہ نہیں دیا گیا۔
آفرین ہے ان شہیدوں کے ماں باپ اور ورثاء پر اور مضروبین راہ وفا پر کہ جن کا تعلق غریب اور متوسط گھرانوں سے ہونے کے باوجود حکومت کی اس بے حسی پر جب صاحب دل حضرات نے انھیں مالی امداد کی پیش کش کی تو انھوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ آخر ان شہیدوں کا لہو رنگ لائے بغیر نہیں رہا۔ ملت کے یہ تابندہ ستارے ہماری نظروں سے اوجھل تو ضرور ہوئے لیکن اپنے پیچھے افق پر روشنی کی ایک ایسی تابندہ لکیر چھوڑ گئے جس کے سامنے شفق کی سرخی بھی ماند پڑ گئی۔ پاکستان کے علاوہ ہندوستان میں بھی اس ملعون رشدی کے خلاف بمبئی میں، جو اس مردود کی جنم بھومی ہے، ایک عظیم الشان جلوس نکلا۔ وہاں کی پولیس نے بھی اس کی مزاحمت کی اور نہتے شہریوں کے جلوس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجہ میں چھ سرفروشان اسلام رتبۂ شہادت سے سرفراز ہوئے اور کئی جاں نثار مضروب اور زخمی ہوگئے۔
۞......۞......۞
محمد صدیق شاہ بخاری
غازی فاروق احمد
اقوام عالم میں یہ اعزاز صرف مسلمانوں کو حاصل ہے کہ اللہ رب العزت کے فرستادہ تمام پیغمبر ان کے نزدیک عصمت و حرمت کے اعتبار سے یکساں محترم و معزز ہیں۔ مسلمانوں کو لا نفرق بین احد من رسلہ کا فرمان ربانی نہ صرف ہمیشہ مستحضر رہتا ہے بلکہ وہ اس کا عملی ثبوت دینے کے لیے بھی ہر آن تیار و چوکس رہتے ہیں۔ حضرت آدمؑ سے لے کر نبی آخر الزمان ﷺ تک تمام انبیاء ورسل مسلمانوں کے اپنے ہیں۔ اور ان سب کی عزت و ناموس انھیں ویسے ہی عزیز و محترم ہے جیسے نبی ﷺ کی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں اگر توہین انبیاء کا ارتکاب ہو تو سب سے پہلے جس قوم کے دل سے ہوک سی اٹھتی ہے اور سب سے پہلے جو قوم میدان عمل میں اترتی ہے، وہ بلاشبہ قوم مسلم ہے۔
چند برس قبل بی۔بی۔سی ٹیلی ویژن نے سیدنا مسیح علیہ السلام کی ”جنسی زندگی“ کے موضوع پر ایک بے ہودہ فلم دکھائی تو دنیا نے حیرت سے دیکھا کہ اس فلم کی نشر و اشاعت پر پورے برطانیہ میں صرف مسلم کمیونٹی نے زبردست احتجاج کیا اور ایسا احتجاج کیا کہ نہ صرف اس فلم کی مزید نشر و اشاعت روک دی گئی بلکہ اس حرکت کے ذمہ داروں کو اپنے مسلم ناظرین سے معافی بھی مانگنی پڑی۔ اس طرح آرٹ کے نام پر ہفت روزہ نیوز ویک نے سال 1996ء میں اپنی کسی اشاعت میں حضرت آدمؑ اور حضرت حوّاؑ کی برہنہ خیال تصاویر اپنے سرورق پر چھاپ دیں تو اس وقت بھی احتجاج کرنے میں جو قوم صف اوّل میں تھی، وہ مسلمان ہی تھے۔
اس تناظر میں مسلم قوم کی نفسیات کا مطالعہ ہر ذی شعور اور بے تعصب فرد کو یقیناً اس نتیجے پر پہنچائے گا کہ جب مسلمانوں کے نزدیک سب انبیاء ورسل یکساں محترم ہیں تو پھر باقی دنیا پر بھی یہ عقلی اور فطری فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کے نبی ﷺ کی عزت و ناموس کے معاملہ میں اس ذمہ داری کا ثبوت دیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ حقیقت حالات اس کے
برعکس ہے۔ اور یہ معکوس عمل ہی مسلمانوں میں ردعمل کی نفسیات کو جنم دیتا ہے۔ عمل اور ردعمل انسانی طبیعت کا خاصہ ہے۔ اور یہ ایک بدیہی امر ہے کہ یا تو ایسا عمل ہی وجود میں نہ آئے کہ جس پہ سخت ردعمل پیدا ہونے کا اندیشہ موجود ہو یا پھر ردعمل کے ظہور کے سہل اور مثبت راستے موجود ہوں۔ اور اگر یہ راستے پر پیچ اور صعب بنا دیئے جائیں تو ایسی صورت میں سخت بلکہ پرتشدد عمل کا روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے اور مزید یہ کہ اس صورت حال میں اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو اس سخت ردعمل کا فی الواقع مجرم اصل میں وہ عمل ہی ہوتا ہے کہ جس نے اس ردعمل کو جنم دیا ہو۔
ایسی ہی صورت حالات وطن عزیز پاکستان میں بھی جاری ہے۔ ناموسِ رسالت ﷺ کے ضمن میں ایک طویل جدوجہد کے بعد اگرچہ پارلیمنٹ اور اعلیٰ عدالتوں کی مداخلت سے ایک قانون تو بن گیا مگر اس کے نفاذ کے ضمن میں ہر دور کی حکومتی مشینری کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ اس کی راہ میں ایسی رکاوٹیں حائل کر دی جائیں کہ اس کا نفاذ غیر مؤثر ہو کر رہ جائے۔ اور اگر بھول کر کبھی کوئی کیس رجسٹر ہو ہی جائے تو پھر مغرب کے خوف سے ملزمان کو باعزت بری کروا کے بصد ادب واحترام بیرون ملک پہنچا دیا جائے۔
یہی وہ پس منظر اور تاریخ ہے جو عاشقانِ مصطفیٰؐ اور غازیِ علم الدین کے وارثوں کو ملکی قانون سے بے نیاز کر دیتی ہے اور وہ نقدِ جان ہتھیلی پہ لیے اپنے آقا ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں کود پڑتے ہیں اور جسدِ ملت میں صدیوں سے جاری قانون کی پاسداری کرتے ہوئے گستاخِ رسول کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔
1994ء میں ایک دفعہ پھر فیصل آباد میں یہ تاریخ دہرائی گئی۔ فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے دفتر میں عارضی طور پر تعینات ایک سینئر عیسائی ٹیچر (معروف ترقی پسند شاعر) نعمت احمر کو مبینہ طور پر سرکارِ دو عالم ﷺ کی گستاخی کرنے اور شعائرِ اسلام کا مذاق اڑانے کی بنا پر ایک مسلمان نوجوان غازی فاروق احمد نے چھری کے پے در پے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ میانی اور چک 242 ر۔ب دسوُہہ کے گاؤں کے سکولوں میں تعیناتی کے دوران نعمت احمر کے بارے میں شکایت پائی جاتی تھی کہ وہ گستاخِ رسولؐ ہے اور طلباء کے سامنے عقائدِ اسلام اور اکابرینِ اسلام کے بارے میں نامناسب ریمارکس دیتا تھا۔ چک 242 ر۔ب دسوُہہ کے متعدد لوگوں اور بالخصوص اساتذہ نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کو نعمت احمر عیسائی ٹیچر کے خلاف درخواستیں بھی دی تھیں۔ مقتول کے خلاف تھانہ ڈجکوٹ میں اس کے نامناسب ریمارکس کے
خلاف پرچہ بھی درج ہوا تھا۔ افسوس کہ نہ تو پولیس نے کوئی کارروائی کی اور نہ ہی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے کوئی توجہ دی۔ البتہ حفظ ماتقدم کے طور پر اسے عارضی طور پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (مردانہ) میں تعینات کر دیا گیا۔ اس طرح علاقہ کے لوگوں میں غم وغصہ کی لہر مزید تیز ہو گئی کہ شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والے اور اسلام کے خلاف نازیبا ریمارکس دینے والے عیسائی ٹیچر کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے کے بجائے اسے مزید تحفظ دیا گیا۔ علاقہ بھر میں مقتول کے خلاف سخت اشتعال پایا جاتا تھا۔ چنانچہ غازی فاروق قصائی جو چک نمبر 242 ر۔ب دسوھہ کا رہائشی تھا، دفتر میں آیا اور اسے اپنی برانچ سے باہر بلوا کر دفتر کے احاطہ میں کھلی جگہ پر لے آیا جہاں غازی نے چھری کے تقریباً پانچ وار کیے جس سے وہ شدید زخمی ہو کر تڑپنے لگا اور کسی قسم کی طبی امداد پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔ غازی فاروق خون آلود چھری کے ساتھ وہیں کھڑا، خوفزدہ ہو کر بھاگنے والے افراد کو پکارنے لگا کہ ”مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے شان رسول ﷺ میں گستاخی کرنے والے کو قتل کر کے جہاد کیا ہے اور میں نے اپنے لیے جنت خرید لی ہے۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے چھری نیچے پھینک دی اور لوگوں سے کہا کہ پولیس کو بلوا کر مجھے اس کے حوالے کر دیا جائے۔ چنانچہ اطلاع ملنے پر پیپلز کالونی پولیس نے موقع پر پہنچ کر اس کو گرفتار کر لیا۔
عیسائی گستاخ رسولؐ کا قتل قطعی ذاتی عداوت یا رنجش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایف آئی آر میں بھی اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ چک 242 ر۔ب کی تعیناتی کے دوران جب وہ تعلیم و تدریس کرتا تھا تو رسول اکرم ﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کی تھی۔ تنظیم اساتذہ کے ایک وفد نے امجد حسین امجد کی سربراہی میں فیصل آباد کے علما کے ایک اجلاس میں جو تفصیلات بیان کیں، اس سے کہیں یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ مقتول نعمت احمر اور مسلمان فاروق کے درمیان کوئی ذاتی تنازعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فاروق نے عیسائی ٹیچر کو قتل کرنے کے بعد سرعام اعلان کیا تھا کہ:
”میں نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو قتل کر کے جہاد کیا ہے اور میں نے اپنے لیے جنت خرید لی ہے۔“
عیسائی ٹیچر کے قتل کے بعد عیسائی رہنماؤں نے اس کیس کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ عیسائیوں کی طرف سے جلوس نکالا گیا، عیسائی رہنما خصوصاً جے سالک، سابق وفاقی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور پیٹر جان سہوترا، جارج کلیمینٹ اور بشپ جان جوزف نے
فیصل آباد میں مختلف جگہوں پر جو اشتعال انگیز تقریریں کیں اور اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، اس کے ردعمل میں مسلمانوں نے اپنے جذبات پر قابو پائے رکھا ورنہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو جاتا۔ اس موقع پر عیسائی رہنماؤں کو سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ عیسائی پاکستان میں اقلیت ہیں، جنہیں معاشرہ میں باوقار مقام حاصل ہے۔ انھیں آئینی اور قانونی طور پر وہ تمام مراعات حاصل ہیں جو پاکستانی ہونے کے ناتے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ اگر کوئی مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا حضرت مریم کی توہین کرے تو وہ قابل تعزیر ہے۔ محکمہ تعلیم اور پولیس کی روایتی تساہل پسندی اور غفلت کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا۔ غازی فاروق کا اقدام اس کے مذہبی جذبات کے مجروح ہونے کا نتیجہ تھا۔ اگر محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے بروقت کارروائی کی ہوتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔
4/ جون 1994ء کو فیض احمد بھٹہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے گستاخ رسول نعمت احمر کے قاتل غازی فاروق احمد کو 14 سال قید بامشقت کی سزا کا حکم سنایا۔
مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن سرکار دو جہاں ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک اقلیت کے لیے یہ کسی طور پر مناسب نہیں کہ وہ اکثریت پر اپنا رعب جمانے اور اپنا فیصلہ تھوپنے کی کوشش کرے۔ غازی فاروق نے جس جہت سے اپنے اس عمل کو دیکھا، اس میں وہ اپنے اس دعویٰ میں یقیناً حق بجانب نظر آتا ہے مگر ان لوگوں کے لیے اس دعویٰ کو سمجھنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن لگتا ہے کہ جن کی آنکھیں لندن و واشنگٹن کے جلوؤں سے خیرہ رہتی ہیں۔ مگر وہ جو اپنی آنکھوں میں خاکِ مدینہ بسانے کی آرزو رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک فاروق کا عمل نہ صرف مستحسن ہے بلکہ قابل رشک بھی ہے اور وہ خود بھی اس صف میں جگہ پانے کے منتظر رہتے ہیں۔ اور اس ضمن میں قانون کی دفعات ان کی راہوں کی زنجیر نہ پہلے کبھی بنی تھیں اور نہ کبھی آئندہ بن سکیں گی۔ اللہ کرے کہ یہ حقیقت ہمارے ہر آن بدلتے حکومتی چہروں، لندن و واشنگٹن پلٹ دانشوروں اور علمی دنیا کے بزرجمہروں کی سمجھ میں بھی آجائے۔ سمجھ میں آجائے تو ان کا اپنا بھلا ہے۔ اور اگر نہ بھی آئے تو بھلا عاشقانِ مصطفیٰؐ کا اس سے کیا بگڑتا ہے!
محمد متین خالد
غازی عامر عبدالرحمٰن چیمہ شہیدؒ
(سن شہادت: 2006ء)
آج نہیں تو کل، اس راز سے ضرور پردہ اٹھے گا کہ 11 ستمبر 2001ء کو نیویارک امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی کے واقعہ میں صہیونی اور صلیبی طاقتیں ملوث تھیں جبکہ مسلمانوں کو ایک منظم سازش کے تحت اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تا کہ پوری دنیا میں سیلاب کی طرح تیزی سے پھیلتے ہوئے دین اسلام کے آگے بند باندھا جا سکے۔ اس سے پہلے 1994ء میں ہارورڈ یونیورسٹی کے مشہور یہودی پروفیسر سموئیل ہن ٹنگٹن نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "The Clash of Civilizations and the Remaking of New World Order" میں مغرب کو اس بات پر بے حد مشتعل کیا کہ اگر اسلام ختم نہ کیا گیا تو آئندہ مستقبل میں یہ پورے یورپ میں چھا جائے گا۔ اس نے اپنی کتاب میں اسلام اور مسلمانوں کو ایک مستقل خطرہ اور ہؤا بنا کر پیش کیا۔ اس کے بعد اس موضوع پر بے شمار کتب، مضامین اور تھنک ٹینکس کی رپورٹس منظر عام پر آئیں جنھوں نے مغرب کے ہر شخص کو اسلام سے تصادم کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا۔ الیکٹرانک میڈیا نے ڈراموں، فلموں، مباحثوں اور نام نہاد خبروں کے ذریعے ایک خاص ماحول پیدا کیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ 9/11 کا واقعہ کوئی اتفاقی نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے خلاف ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔
30 ستمبر 2005ء کو ڈنمارک کے اخبار (JYLLANS POSTEN) جیلنز پوسٹن نے حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں 12 نہایت توہین آمیز اور نازیبا کارٹون شائع کیے۔ اس پر مسلم دنیا کا ردعمل نہایت نرم رہا۔ پھر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے ایک منظم سازش کے تحت جنوری 2006ء میں 22 ممالک کے 75 اخبارات و رسائل نے ان کارٹونوں کو دوبارہ شائع کیا۔ 200 ریڈیو اور ٹی وی چینلوں نے انھیں بار بار نشر کیا۔ ہالینڈ کے
اخبارات نے لکھا کہ ہم یہ کارٹون ہر ہفتے شائع کیا کریں گے تاکہ مسلمان اس کے عادی ہو جائیں۔ اٹلی کے ایک وزیر نے ان خاکوں کی ٹی شرٹ استعمال کی اور اسے بطور فیشن فروغ دینے کا اعلان کیا۔ یہ سب کچھ آزادی اظہار، آزادی صحافت اور سیکولر جمہوریت کے نام پر کیا گیا۔
اخبار جیلنز پوسٹن کی پیشانی پر یہودیوں کا عالمی نشان ”سٹار آف ڈیوڈ“ بنا ہوا ہے، جو اس کے متعصب یہودی ہونے کا برملا اظہار ہے۔ یاد رہے کہ توہین آمیز خاکے ویسٹر گارڈ نامی مشہور ملعون یہودی کارٹونسٹ نے بنائے۔ اس اخبار نے 2 سال قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں خاکے شائع کرنے سے محض اس لیے انکار کر دیا کہ اس سے عیسائیوں کے جذبات متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر جب پوری دنیا میں احتجاج شروع ہوا تو اس سلسلے میں میڈیا پر ہر جگہ آزادی اظہار کے حق کا تذکرہ ہونے لگا۔ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کی حدود میں دخل اندازی کی جائے۔ ایک شخص جب دوسروں کی مذہبی تعلیمات، ان کی مقدس شخصیات، نظریات و تصورات پر بے جا تنقید، تضحیک، استہزا اور تذلیل کرے گا تو یہ آزادی نہیں بلکہ جارحیت اور دہشت گردی کا ارتکاب ہے۔
یورپ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی سزا، سزائے موت رہی ہے، جو اب بھی عمر قید کی صورت میں موجود ہے۔ جبکہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان یا دیگر اسلامی ملکوں میں حضور نبی کریم ﷺ کی توہین کی سزا سرے سے ہی ختم ہو جائے کیونکہ اس سے عیسائیوں اور قادیانیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ آزادی اظہار کے حوالے سے مغرب کا رویہ منافقانہ ہے۔ یورپی ممالک میں جرمنی میں یہودیوں کے قتل عام اور مظلومیت کو پورا تحفظ دیا جاتا ہے۔ اس قتل عام کو ”ہولوکاسٹ“ (Holocaust) کا نام دیا گیا ہے۔ یہودیوں کا کہنا ہے کہ جرمنی میں 50 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا اور دیگر بے شمار ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔ حالانکہ یہ سارا افسانہ ہے۔ معتبر اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں تو اس وقت صرف 6 لاکھ یہودی آباد تھے، جن میں سے 4 لاکھ بھاگ کر دیگر ممالک بالخصوص ڈنمارک میں مقیم ہو گئے تھے۔ اب اگر کوئی شخص اپنی کسی کتاب، مضمون یا تقریر میں اس تعداد کو کم کر کے بیان کرے یا ان واقعات میں سے کسی ایک خبر کا بھی انکار کرے تو وہ 20 سال قید کی سخت سزا کا مستوجب ہے اور اسرائیل خود سزا دینے کے لیے اس شخص کو متعلقہ حکومت سے مانگ سکتا ہے۔ کیا عجیب منطق
ہے کہ ہولوکاسٹ کے بارے میں سچ بولنے سے مغرب کی توہین ہوتی ہے جبکہ مسلمانوں کی مقدس اور محبوب ترین ہستی حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے اور خاکے شائع کرنے سے مسلمانوں کی کوئی توہین نہیں ہوتی؟ یہ تضاد مغرب کے لبرل ازم کا پورا پول کھولتا ہے۔
ڈنمارک کے وزیراعظم نے نہایت متکبر، خودپسندی اور مسلمانوں سے استہزا کا رویہ اختیار کیا۔ انھوں نے 11 مسلم ممالک کے سفیروں سے ملنے سے انکار کر دیا۔ 27 مسلمان تنظیموں کے 17 ہزار مسلمانوں کے دستخطوں سے بھرپور احتجاج پر مشتمل یادداشت کو وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ جبکہ دوسری طرف امریکی صدر جارج بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے مسلمانوں سے اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے ڈنمارک کے وزیراعظم کو ٹیلی فون کر کے اپنے تعاون کا یقین دلایا جس پر اس نے ایک اخباری بیان میں کہا:
"Islamic world must realise that we are not isolated."
’’اسلامی دنیا کو محسوس کرنا چاہیے کہ ہم تنہا نہیں ہیں۔‘‘ (انٹرویو ڈیلی ٹائمز 14 فروری 2006ء)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک اخبار کی شرارت نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے خلاف ایک عالمی مہم کا حصہ ہے اور سب کا ہدف اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانا اور اسلام کی سب سے بڑی مقدس شخصیت حضور نبی کریم ﷺ کی برملا توہین کرنا ہے تاکہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوں۔ پوری امت مسلمہ نے ان خاکوں کے خلاف اپنی تمام تر سیاسی کمزوری کے باوجود غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرپور احتجاج کیے اور یورپی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ ہر مسلمان غیظ و غضب اور رنج و الم کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ اس موقع پر مسلمانوں کا مشتعل اور جذباتی ہونا ایک فطری امر تھا۔
حضور خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (جس کا مفہوم ہے) کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، والدہ، اولاد، کاروبار، تمام انسانوں حتی کہ اس کی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ اسی طرح حضرت امام مالکؒ کا فرمان ہے کہ جب تک روئے زمین پر ایک بھی مسلمان موجود ہے، کسی گستاخ رسول کو زندگی کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ اس ایمانی تعلیم کی روشنی میں 20 مارچ 2006ء کو ایک پاکستانی طالب علم عامر عبدالرحمن چیمہ نے جرمنی کے شہر برلن میں Axel Springer Publishing کی عمارت میں واقع توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے جرمنی کے اخبار
DIE WELT ڈی ویلٹ کے چیف ایڈیٹر HENRYK BRODER ہینرک بروڈر پر قاتلانہ حملہ کیا جس پر وہ شدید زخمی ہو گیا اور کئی دن بعد ڈاکٹروں کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہ کر نہایت عبرتناک حالت میں جہنم واصل ہو گیا۔ جرمنی اور یورپ کے اخبارات (جن میں جے لینڈ پوسٹن، ڈر سپیگل اور زیتوگ برگر نمایاں ہیں) نے اس حملے کی خبر کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر اچھالا اور نمایاں کر کے شائع کیا۔
باوقار شخصیت اور پاکیزہ فطرت کے مالک غازی عامر عبد الرحمن چیمہ شہید 4 دسمبر 1977ء کو گوجرانوالہ ڈویژن کے ضلع حافظ آباد کے محلہ گڑھی اعوان میں پیدا ہوئے۔ عامر کے والد پروفیسر نذیر احمد چیمہ نے ان کا نام عبد الرحمن رکھا جبکہ والدہ ثریا بیگم نے ان کا نام عامر رکھا۔ یوں ان کا نام عامر عبد الرحمن بن گیا۔ عامر چیمہ کے والد محترم پروفیسر نذیر احمد چیمہ گورنمنٹ حشمت علی اسلامیہ کالج راولپنڈی میں پروفیسر تھے جہاں سے 30 سالہ ملازمت پوری کرنے کے بعد وہ حال ہی میں ریٹائرڈ ہوئے۔ پروفیسر صاحب 30 سال پہلے اپنی ملازمت کے سلسلہ میں راولپنڈی شفٹ ہو گئے تھے۔ آج کل وہ مکان نمبر 45-DK-319-Z گلی نمبر 18 (ٹیوب والی گلی) ڈھوک کشمیریاں میں رہائش پذیر ہیں۔ شہید عامر والدین کے اکلوتے بیٹے تھے جبکہ ان کی تین بہنیں صائمہ، کشور اور سائرہ ہیں۔ صائمہ اور کشور شادی شدہ جبکہ سائرہ ابھی غیر شادی شدہ ہے۔ عامر عبد الرحمن شہید نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول راولپنڈی سے شروع کی جبکہ میٹرک 1993ء میں گورنمنٹ کمپری ہینسو ہائی سکول راولپنڈی سے کیا۔ ایف ایس سی سرسید کالج راولپنڈی سے، اور 1996ء میں راولپنڈی چھوڑ کر فیصل آباد چلے گئے۔ یہاں شہید نے نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں داخلہ لے کر 2000ء میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ شہید نے سب سے پہلے رائیونڈ کی ماسٹر ٹیکسٹائل مل میں ملازمت اختیار کی۔ وہاں کچھ عرصہ ملازمت کر کے دوبارہ الکرم ٹیکسٹائل مل کراچی میں ملازمت اختیار کی۔ کچھ عرصہ بعد پھر یہاں سے ملازمت چھوڑ دی اور لاہور چلے گئے۔ یہاں یونیورسٹی آف مینجمنٹ ٹیکنالوجی میں پڑھانا شروع کیا۔ مگر اسی دوران شہید کو جرمنی کی یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اور وہ 26 نومبر 2004ء کو اپنے خرچ پر ماسٹر آف ٹیکسٹائل مینجمنٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی چلے گئے، جہاں وہ جرمنی کے شہر مونشن گلاڈباغ (Monchengladbach) میں نیدر ہائن یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز میں زیر تعلیم تھے۔ دوران تعلیم وہ ایک بار صرف
والدین کو ملنے پاکستان آئے اور آخری بار 22 اکتوبر 2005ء کو پاکستان سے واپس جرمنی چلے گئے۔ شہید نے اپنی پڑھائی کے تین سمسٹر مکمل کر لیے تھے۔ اس دوران ڈنمارک اور جرمنی سمیت یورپ کے دیگر اخبارات نے حضور نبی کریم ﷺ کے نازیبا خاکے شائع کر دیے۔ عامر نے دل میں اس امر کا اظہار کیا کہ وہ گستاخ رسول کو کسی بھی صورت میں زندہ نہیں چھوڑے گا۔ عامر چیمہ کا ابھی آخری سمسٹر باقی تھا کہ وہ اخبارات میں توہین آمیز خاکے شائع ہونے کے بعد مارچ کے آغاز میں برلن اپنے عزیزوں کے پاس آ گیا اور جرمنی کے اخبار ڈی ویلٹ (دی ورلڈ) کے آفس کی 15 روز تک ریکی کرتا رہا۔ اسی دوران عامر چیمہ نے برلن کی ایک دکان سے خنجر خریدا جس سے اس نے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کے برلن میں موجود چیف ایڈیٹر پر 20 مارچ 2006ء کو قاتلانہ حملہ کیا۔ عامر نے اس پر خنجر کے کئی وار کیے جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ تاہم موقع پر موجود سیکورٹی گارڈز نے اسے پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ اگلے روز 21 مارچ 2006ء کو متعلقہ جج کے روبرو عامر چیمہ کو برلن کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ایک پاکستانی مترجم انوار الحق شاد نے عامر چیمہ پر لگائے گئے الزامات پڑھ کر سنائے۔ عامر چیمہ نے بھری عدالت میں قاتلانہ حملے کا جرم قبول کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ رہائی کے بعد بھی نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں پر دوبارہ حملہ کرے گا۔ جرمن حکام کی جانب سے اسے کسی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ 23 مارچ کو برلن کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں عامر چیمہ کے خلاف جرمن پینل کوڈ کی دفعہ 113 اور 240 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق:
- 1- عامر چیمہ نے ڈی ویلٹ کے دفتر میں داخل ہو کر چیف ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کیا۔
- 2- سکیورٹی گارڈ کو شکاری چاقو اور بم کے ذریعے دھمکیاں دیں۔
- 3- گرفتاری کے وقت پولیس کے فرائض میں مداخلت اور مزاحمت کی۔
جرمن حکام کا اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوسکتا ہے کہ انھوں نے عامر چیمہ پر بھونڈا الزام لگاتے ہوئے نہ صرف اس پر بم ڈال دیا بلکہ اپنے سرکاری ریکارڈ میں اس کی برآمدگی بھی ظاہر کر دی۔ افسوس! یہ اس ملک کا حال ہے جو دنیا بھر میں حقوق انسانی، انصاف اور جمہوریت کا سب سے بڑا علمبر دار ہے۔
جرمن پولیس اور مختلف حکومتی ایجنسیاں برلن جیل میں 44 دن تک عامر چیمہ کو
دوران حراست ذہنی و جسمانی اذیتیں دے کر پرتشدد تفتیش کرتی رہیں، دراصل صلیبی اہلکار وحشیانہ تشدد کے ذریعے عامر چیمہ سے یہ کہلوانا چاہتے تھے کہ اس کا تعلق القاعدہ جیسی تنظیم سے ہے۔ مگر عامر چیمہ نے کہا کہ اس کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ بحیثیت ایک مسلمان کے اس نے جذبہ عشق رسالت ﷺ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا فرض ادا کیا ہے۔ جرمنی اور پاکستان میں ان کے عزیزوں سمیت ان کے تعلق دار لوگوں سے بھی تحقیقات کی گئیں لیکن ان کا کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے تعلق ثابت نہ ہوسکا۔ اس کے باوجود عامر چیمہ کو برلن کی جیل میں مسلسل 44 دن ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جاتی رہیں جس کے نتیجہ میں 3 مئی 2006ء کو وہ شہید ہو گیا۔ حالانکہ 27 اپریل کو برلن کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں عامر کا کیس سماعت کے لیے منظور ہو چکا تھا، جہاں اس نے قانون کا سامنا کرنا تھا۔ لیکن ہٹلر کے ظالم اور درندہ صفت بیٹوں نے اسے ماورائے عدالت قتل کردیا۔
تم کتنی بازی ہارو گے
ہر گھر سے عامر نکلے گا
تم کتنے عامر مارو گے
جرمنی میں مقیم عامر چیمہ کے قریبی عزیزوں کو ان کی موت کی اطلاع 4 مئی 2006ء کو ملی۔ انھوں نے کہا کہ وہ چند روز قبل عامر چیمہ سے ملاقات کرنے گئے تھے مگر انھیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انھیں یقین ہے کہ عامر چیمہ کو تشدد کر کے شہید کیا گیا ہے۔ تاہم جیل انتظامیہ نے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی ہے۔ کیونکہ صبح جب وہ عامر چیمہ کو سیل سے نکالنے لگے تو وہ مردہ حالت میں پائے گئے۔
عامر چیمہ کے والدین کو جب اپنے بیٹے کی شہادت کے واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ بے حد خوش ہوئے۔ شہید کے والد پروفیسر نذیر احمد چیمہ نے کہا کہ ان کے بیٹے نے حب رسول ﷺ میں ایسا کیا ہے، اس کی کوئی دشمنی نہ تھی۔ انھوں نے کہا ہمارے بیٹے نے غازی علم دین شہید کی یاد تازہ کر دی ہے، اتفاق سے دونوں کی تاریخ پیدائش بھی ایک ہے۔ انھوں نے کہا عامر چیمہ نے آخری بار 5 مارچ کو فون کیا اور اپنے دوست اور کزن کی شادی پر اسے مبارکباد دینے کے لیے کہا۔ اس نے کبھی بھی کارٹونوں کی اشاعت کے بارے میں یا اس قسم کے اقدام
کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ جرمنی میں مقیم ہمارے عزیز محمد کاشف شہزاد نے 8 اپریل 2006ء کو فون کیا لیکن فون کٹ گیا، پھر انھوں نے ہمارے ایک اور عزیز کو فون کر کے قاتلانہ حملے کے واقعہ کے بارے میں بتایا جس نے ہمیں ساری صورتحال سے مطلع کیا۔ بعد ازاں 4 مئی کو ہمارے ایک عزیز نے عامر چیمہ کی شہادت کے بارے میں ہمیں اطلاع دی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر افسوس نہیں بلکہ خوشی اور فخر ہے کیونکہ اس نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی خاطر جان دی ہے۔ میرے بیٹے کی شہادت کے عظیم رتبے کو خودکشی کا رنگ دے کر جرمن حکومت واقعہ کی نوعیت تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اس ضمن میں ہماری حکومت اور وزارت خارجہ کا کردار انتہائی بے حسی اور بے حمیتی پر مبنی ہے۔ ہم پہلے بھی اپنے سفارت خانے اور وزارت خارجہ پر بھروسہ کر کے بیٹھے رہے جبکہ ہمیں خاموش رہنے کی تلقین کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ عامر چیمہ کے جسد خاکی کی واپسی میں تاخیری حربوں کے ذریعے جرمن حکومت اور یہودی لابی اپنے جرم کے ثبوت مٹانا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عامر چیمہ کو 20 مارچ 2006ء کو گرفتار کیا گیا جبکہ ہمیں 22 مارچ کو گرفتاری اور 4 مئی کو اس کی شہادت کی اطلاع ملی۔ اس سے قبل دوران حراست جرمن میں پاکستانی سفارت خانے کے نائب سفیر خالد عثمان قیصر نے ہمیں فون کر کے کہا کہ ”آپ کے بیٹے نے ایسا کر کے پاکستانیوں کے لیے مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔“ انھوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو 20 مارچ سے شہادت تک قید تنہائی میں رکھا گیا اور ہر قسم کی ملاقاتوں پر بھی پابندی رکھی گئی۔ جبکہ انھوں نے معاملے کو اس بنیاد پر کھولنے کی کوشش نہیں کی کہ اسلام دشمن قوتیں کہیں اس واقعہ کو القاعدہ یا طالبان سمیت کسی دہشت گردی کے نیٹ ورک سے جوڑنے کی کوشش نہ کریں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ میرے بیٹے نے اس واقعہ کو اتنا راز میں رکھا کہ مجھے بھی کانوں کان خبر نہ ہونے دی، کسی تیسرے شخص سے مشاورت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ میرے بیٹے کا تنہا فیصلہ تھا اور اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ ہتھیار اٹھایا جس کے لیے اس نے صرف اپنے دل و دماغ سے مشاورت کی اور جذبہ ایمانی کے تحت ہم سب کو چھوڑ کر عظیم رتبے پر فائز ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ عامر پہلے صرف میرا بیٹا تھا، اب وہ پوری امت مسلمہ کا قابل فخر سپوت بن چکا ہے۔ اس نے اپنی زندگی کا مقصد حاصل کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ عامر بچپن سے ہی مذہبی سوچ کا حامل تھا۔ اسلامی شعائر کے خلاف کوئی بات نہ سنتا تھا۔ اس کی عادات عام نوجوانوں سے مختلف تھیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی توہین پر بے چین
ہونا ہر مسلمان کی طرح اس کا بھی فطری عمل تھا مگر اس نے تمام مسلمانوں سے بڑھ کر عملی قدم اٹھایا اور تاریخ میں سنہرے حروف سے اپنا نام درج کروا لیا۔
یہ اثاثہ بعد میرے بھی تو گھر میں چاہیے
عامر چیمہ کی والدہ ثریا بیگم نے کہا میں خوش قسمت ہوں کہ اللہ نے مجھے ایسا بیٹا دیا جس نے سرکار دو عالمﷺ کے نام پر اپنی زندگی کی پروا نہ کرتے ہوئے انتہائی اقدام سے بھی گریز نہیں کیا۔ جب عامر کی پیدائش ہونے والی تھی تو میری والدہ (عامر چیمہ کی نانی) حج پر گئی ہوئی تھیں۔ انھوں نے خانہ کعبہ میں خواب دیکھا کہ مجھے پریوں نے گھیرا ہوا ہے اور مٹھائیاں تقسیم کر رہی ہیں۔ میری والدہ نے وہاں سے فون کر کے مجھے یہ خواب سنایا تھا۔ کچھ دنوں بعد عامر پیدا ہوا۔ مجھے اس خواب کی تعبیر اس کی شہادت سے آج مل گئی ہے۔ عامر چیمہ میرا اکلوتا بیٹا تھا، اگر میرے اور بیٹے بھی ہوتے تو میں انھیں اسی راستے پر بھیجتی، مجھے اپنے بیٹے کی شہادت کا کوئی دکھ نہیں، مجھے فخر ہے کہ میرے بیٹے نے نبی کریمﷺ کی محبت میں ایسا کیا ہے۔ ہم نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجا تھا کہ وہ دنیاوی طور پر کامیاب انسان بنے لیکن اس نے اپنی منزل پالی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے بیٹے نے یورپ پر پہلا پتھر مارا ہے۔ باقی لوگوں کو بھی شہید عامر کی تقلید کرنی چاہیے۔ حرمت رسولﷺ پر ہم سب کی جانیں قربان ہو جائیں تو بھی آخرت میں کامیابی کے لیے یہ قربانی بہت کم ہے۔ شہید کی دادی نے کہا کہ میرا بیٹا سچا عاشق رسول تھا جس کو ظالموں نے بڑی بے دردی سے شہید کر دیا۔ عامر چیمہ کے کزن عمران حیدر اور بلال حیدر نے کہا کہ عامر ایک شریف نفس انسان تھا۔ وہ نبی کریمﷺ کا سچا عاشق تھا۔
ایک مرتبہ وہ فیصل آباد میں ایک ٹیکسٹائل مل میں 30 ہزار ماہانہ کی ملازمت کرتا تھا۔ وہ نوکری اس نے صرف اس لیے چھوڑ دی کہ اس مل کی دیوار پر ایک ٹائل ایسی لگی تھی جس پر اسم محمدﷺ سے ملتی جلتی شبیہ تھی۔ عامر نے اس مل مالک کو کہا کہ اس ٹائل کو یہاں سے ہٹا دیں۔ عمل درآمد نہ ہونے پر اس نے وہ نوکری ہی چھوڑ دی۔ عامر پانچ وقت کا نمازی تھا، وہ اسلام کی خاطر جان قربان کرنے کے عزم کا ہمیشہ اظہار کرتا تھا۔ جرمنی میں عامر چیمہ کے یونیورسٹی کے دوستوں نے کہا کہ عامر نے کسی قسم کے ارادے کا اظہار نہیں کیا تھا۔ البتہ اسے ڈنمارک اور جرمنی کے اخبارات میں توہین آمیز خاکے شائع ہونے کا بہت دکھ تھا جس کا اس نے بدلہ لیا۔ عامر چیمہ
شہید کی رہائش گاہ کے سامنے راولپنڈی کے شہریوں نے عظیم عاشق رسول کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ہزاروں گلدستوں اور بے شمار کارڈز کا ڈھیر لگا دیا۔
عامر عبدالرحمن چیمہ کے استاد محترم جناب محمد یحییٰ علوی صاحب جو کہ گورنمنٹ جامعہ سکول فار بوائز راولپنڈی میں استاد ہیں اور اسلامیات اور عربی کی تدریس کر چکے ہیں، فرماتے ہیں: ”الحمد للہ میرا معمول ہے کہ ہر شب جمعہ کو کم از کم 500 مرتبہ درود شریف پڑھ کر سوتا ہوں۔ 4 مئی کو نماز عشاء ادا کرنے کے بعد جب میں مسجد سے نکلا تو ایک دوست نے بتایا کہ پروفیسر نذیر چیمہ صاحب کا بیٹا عامر جو گستاخ رسول پر حملے کے جرم میں جرمنی میں گرفتار تھا، شہید کر دیا گیا۔ یہ خبر سن کر مجھے بہت صدمہ ہوا اور عامر کی یادیں دل میں بسائے سو گیا۔ صبح سے کچھ دیر قبل میں نے خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑے میدان میں بہت زیادہ قمقمے جگمگا رہے ہیں۔ اور ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے۔ اس دوران میں نے دیکھ کہ اس روشن میدان میں ایک بلند سٹیج سجا ہوا ہے اور اس پر حضور ﷺ جلوہ افروز ہیں۔ آپ کے رخِ زیبا سے نور ہی نور پھوٹ رہا ہے۔ آپ ﷺ کے ساتھ خلفائے راشدین بھی موجود ہیں۔ اسی اثناء میں میدان کی دوسری طرف سے سفید لباس میں ملبوس عامر شہید آتے ہیں اور تیز قدموں کے ساتھ حضور ﷺ کی طرف بڑھتے ہیں۔ آقا ﷺ عامر کو اپنی طرف آتا دیکھ کر خوشی اور مسرت سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور آغوش مبارک وا کر کے عامر کو پکارتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”مرحبا! اے میرے بیٹے۔ پھر سرکار دو عالم ﷺ فرماتے ہیں۔ حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) یہ دیکھو کون آیا ہے۔ میں عامر کو تمہارے سپرد کر رہا ہوں، تم اس کا خیال رکھنا۔“ بس اسی لمحے قریبی مسجد سے اذان فجر بلند ہوئی اور میری آنکھ کھل گئی۔“
9 مئی 2006ء کو وفاقی وزارت داخلہ میں اعلیٰ سطحی اجلاس سیکرٹری داخلہ سیّد کمال شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں شہید عامر چیمہ کا جسد خاکی پاکستان لانے، نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس راولپنڈی کو ہدایت کی گئی کہ وہ روٹس اور سیکورٹی پلان تیار کریں۔ مزید براں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے راولپنڈی اور ساروکی ضلع گوجرانوالہ میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا گیا
تاکہ کم سے کم لوگ جنازے میں شریک ہوں۔ پروگرام کے مطابق عامر چیمہ کی میت 10 مئی کو صبح ساڑھے چار بجے اسلام آباد ائیر پورٹ پہنچے گی جہاں سے اس کو ڈھوک کشمیریاں لایا جائے گا اور 10 بجے حشمت علی کالج کے گراؤنڈ میں نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ بعدازاں وزیر آباد کے نواحی گاؤں ساروکی میں سپرد خاک کیا جائے گا جبکہ وزیر آباد کے شہری دریائے چناب کے پل پر ایمبولینس کا استقبال کریں گے۔ اس موقع پر شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہوگا جبکہ شہید کے جسد خاکی کو بڑے جلوس کی شکل میں آبائی گاؤں پہنچایا جائے گا۔ اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مطالبہ کیا کہ شہید ناموس رسالت عامر چیمہ کی میت کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے۔
عامر چیمہ کی شہادت 3 مئی 2006ء کو ہوئی۔ مگر جرمن حکومت نے پوسٹ مارٹم کروا لینے کے باوجود تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے شہید کا جسد خاکی 9 دن کے بعد 12 مئی 2006ء کو پاکستانی سفارت خانے کے اہلکاروں کے سپرد کیا۔ شہید کا جسد خاکی واپس لانے میں تاخیر کی سازشوں میں جرمنی کی طرح حکومت پاکستان بھی ملوث ہے۔ میت کی حوالگی میں تاخیر کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں جرمن میں پاکستان کے نائب سفیر خالد عثمان قیصر نے کہا کہ جرمن حکام رولز پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہفتہ اور اتوار کے دن کام نہیں کرتے۔ جرمنی کے ایک سابق صدر کو انتقال کے دس روز بعد دفنایا گیا۔ جرمنوں کے نزدیک انتقال کے فوری بعد یا تاخیر سے دفنانا کوئی معنی نہیں رکھتا، تاہم پہلے ضروری پراسس کو پورا کیا جاتا ہے۔ میت کی جلد تدفین ہمارے نزدیک ضروری نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ میت کی حوالگی کے بعد واپسی کی کارروائی پوری کرنے میں 2 دن لگ سکتے ہیں۔
شہید کی میت 13 مئی 2006ء کو صبح 9 بج کر 20 منٹ پر ایمسٹرڈیم سے پی آئی اے کی پرواز 764-PK کے ذریعے لاہور کے علامہ اقبال ائیر پورٹ لائی گئی جہاں درجنوں افراد نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ عاشق رسول کے جسد خاکی کا استقبال کیا۔ جہاز کے مسافروں کو شہید کے جسد خاکی سے بے خبر رکھا گیا۔ اس موقع پر لاہور ائیر پورٹ پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس نے ہوائی اڈے کے داخلی اور خارجی راستے بند کر رکھے تھے جس سے بے شمار عاشقان رسول شہید کی میت کے استقبال سے محروم رہے۔ شہید کی میت کو وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کے صوبائی وزیر کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے وصول کیا۔ اس موقع پر عامر چیمہ کے چچا عصمت اللہ چیمہ اور ان کے ماموں حاجی محمد اسلم بھی موجود تھے۔ بعد میں میت کو
فوری طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے ہیلی کاپٹر پر راہوالی ائیر بیس گوجرانوالہ کینٹ لے جایا گیا۔ راہوالی ائیر بیس پر ڈی سی او گوجرانوالہ راؤ منظر حیات نے میت وصول کی۔ یہاں حکومتی ایجنسیوں اور پولیس کی بھاری نفری کی نگرانی میں ایمبولینس کے ذریعے میت عامر چیمہ کے آبائی گاؤں ساروکی پہنچائی گئی۔ جنازے کے قافلے کی قیادت پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ ڈی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر عارف مشتاق کر رہے تھے۔ یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے انتظامیہ نے شہید کی میت کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ لاکھوں لوگوں نے مین روڈ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے میت کا استقبال کیا۔ ہزاروں افراد گاڑی کے ساتھ بھاگتے ہوئے گاؤں تک گئے۔ تاحد نگاہ انسانوں کا جم غفیر نظر آ رہا تھا۔ راہوالی سے لے کر ساروکی چیمہ تک راستے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ 10 تھانوں کی پولیس، ایلیٹ فورس، ریزرو پولیس، دو ایس پی، پانچ ڈی ایس پی اور ٹریفک پولیس کا عملہ ڈیوٹی دے رہا تھا۔ لوگوں نے میت والی ایمبولینس پر جگہ جگہ گل پاشی کی۔ تمام راستے نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے گونجتے رہے۔ ساروکی چیمہ کو اہل دیہہ نے خوبصورت رنگ برنگی جھنڈیوں، خیر مقدمی بینروں، شہید عامر چیمہ کی تصاویر اور پوسٹروں سے رات گئے سجا دیا تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ
13 مئی کو علی الصبح گوجرانوالہ شہر اور اس کے گردونواح کے دیہاتوں میں مساجد سے اعلانات کیے جاتے رہے کہ آج شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے سب کام چھوڑ کر اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی جائے۔ ایک دن پہلے ہی یہ خبر عوام میں پھیل گئی تھی کہ شہید عامر چیمہ کا جسد خاکی وزیر آباد لایا جا رہا ہے جبکہ مقامی سول انتظامیہ اور پولیس نے انتہائی راز داری سے موضع ساروکی میں اپنے طور پر تدفین کے ضروری انتظام کر لیے تھے۔ 13 مئی 2006ء کو عامر چیمہ کے جنازہ کے سلسلہ میں تحصیل وزیر آباد کے تمام چھوٹے بڑے دیہات جن میں وزیر آباد، علی پور چٹھہ، رسولنگر، ساروکی، احمد نگر، گکھڑ منڈی اور دوسرے علاقوں میں مکمل ہڑتال تھی۔ بار ایسوسی ایشن وزیر آباد نے بھی متفقہ طور پر ہڑتال کر رکھی تھی۔ صبح سویرے سے ہی لوگ قافلوں کی صورت میں بسوں، ویگنوں اور ٹرالیوں کے ذریعے جنازگاہ پہنچ رہے تھے۔ مزید برآں مقامی ٹرانسپورٹروں نے وزیر آباد سے ساروکی نماز جنازہ کی ادائیگی کے لیے جانے والوں کو فری سہولت فراہم کی۔ شدید گرمی اور حبس کے باوجود لاکھوں لوگ دھوپ میں بڑے
جوش اور جذبے کے ساتھ گھنٹوں کھڑے رہے اور شہید کے آخری دیدار میں بیتابی کا اظہار کیا اور کہا کہ شہید کے جنازے میں شرکت ایک اعزاز ہے اور ہم اس نوجوان کا چہرہ دیکھنے کے لیے آئے ہیں جس نے ایمانی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حرمت رسول ﷺ کے لیے جان قربان کر کے تمام مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد شہید کے والد سے بھی ہاتھ ملانے کے لیے انتہائی جوش و جذبے کا مظاہرہ کرتی رہی۔
شہید کی میت جب ساروکی گاؤں پہنچی تو لاکھوں افراد نے پُر جوش جذبات میں عامر چیمہ شہید زندہ باد، عامر چیمہ شہید تیرے خون کا حساب لیں گے، غلام ہیں غلام ہیں، رسول ﷺ کے غلام ہیں، غلامیٔ رسول میں، موت بھی حیات ہے، شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے، جو ہو نہ عشق مصطفیٰ، تو زندگی فضول ہے کے فلک شگاف نعرے لگائے اور عامر شہید کے خون کا حساب لینے کی قسمیں کھاتے رہے۔ بے شمار لوگ کلمہ طیبہ اور درود شریف کا ورد کرتے رہے۔ نوجوانوں کی مختلف ٹولیاں نعت خوانی میں مصروف تھیں۔ عامر چیمہ کی میت کو سب سے پہلے ان کے آبائی گھر لایا گیا جہاں ان کے والد، والدہ، دادی، بہنوں اور دیگر عزیز و اقارب نے میت کا چہرہ دیکھا۔ ان کی والدہ نے درود شریف پڑھ کر میت پر پھونک ماری۔ اس کے بعد آخری دیدار کے لیے میت کو گھر کے باہر رکھا گیا جہاں لاکھوں افراد نے شہید کا آخری دیدار کیا۔ شہید کے تابوت سے خوشبو آ رہی تھی۔ گاؤں والوں نے میزبانی کے خوب فرائض سرانجام دیے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کو فخر ہے کہ ان کے گاؤں کا نوجوان دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر بازی لے گیا ہے۔ گاؤں والے جگہ جگہ ٹھنڈے مشروبات کی سبیلیں لگا کر لوگوں کو پانی پلانے میں مصروف رہے۔ پورے گاؤں کے لوگوں نے اپنے گھر شرکائے جنازہ کے وضو، پانی، غسل، آرام اور کھانے کے لیے کھول دیے۔ زمینداروں نے پورے علاقے میں ٹیوب ویل چلا دیے، جبکہ حکومت کی طرف سے کسی قسم کے کوئی انتظامات نہ کیے گئے۔ جب شہید کا جنازہ تدفین کے لیے اٹھایا گیا تو فضا کلمہ طیبہ کے ورد سے گونج اٹھی۔ میت کے اوپر مسلسل ہزاروں من پھولوں کی پتیاں نچھاور ہوتی رہیں۔ آہوں اور سسکیوں کا ایک تسلسل تھا جو تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ یہ ایک ایسا ایمان پرور منظر تھا جسے صدیوں نہ بھلایا جا سکے گا۔ عامر چیمہ کی میت کو کندھا دینے کے لیے ہر شخص اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا تھا۔ اس لیے ہر کسی کی خواہش تھی کہ وہ عامر چیمہ شہید کے تابوت کو کندھا دے۔ کئی عاشق رسول ﷺ تابوت کو ہاتھ لگا کر اپنے پورے جسم پر پھیرتے اور
اس کو اپنے لیے باعث برکت کہتے ۔
نماز جنازہ پیر کرنل (ر) ڈاکٹر محمد سرفراز محمدی سیفی نے پڑھائی ۔ نماز جنازہ میں ایک اندازے کے مطابق 5 لاکھ سے زائد لوگ موجود تھے ۔ جس جگہ نماز جنازہ پڑھائی گئی ، وہ 16 ایکڑ سے زائد رقبہ تھا جسے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت راتوں رات ہی ہموار کر کے نماز جنازہ کے لیے تیار کر لیا تھا ۔ اگر نماز جنازہ وقت سے تین گھنٹے پہلے نہ پڑھائی جاتی تو یہ تعداد 2 تا 3 گنا مزید بڑھ سکتی تھی ۔ نماز جنازہ میں گوجرانوالہ ، گجرات ، سیالکوٹ ، جہلم ، گوجر خان ، راولپنڈی ، لاہور ، قصور ، منڈی بہاؤ الدین کے علاوہ دیگر اضلاع کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے 5 لاکھ کے قریب لوگوں نے شرکت کی ۔ شہید کے جسد خاکی کو جب لحد میں اتارا گیا تو فضا نعرہ تکبیر سے گونج اٹھی ۔ اس موقع پر نہایت جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے ۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رورہے تھے اور الوداع الوداع عامر شہید الوداع کے نعرے لگا رہے تھے ۔
عامر شہید کی نماز جنازہ کے متعلق عوام کو کنفیوژن میں رکھا گیا ۔ اخبارات اور مختلف ٹی وی چینلوں پر نماز جنازہ کا وقت سہ پہر 4 بجے بتایا گیا تھا مگر حکومتی مداخلت سے جنازہ پہلے ہی پڑھا دیا گیا ۔ ہزاروں افراد مقررہ وقت 4 بجے سہ پہر ساروکی چیمہ پہنچے تو تدفین ہو چکی تھی ۔ بعد ازاں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ، جو عامر شہید کے والد کی خواہش پر جماعت الدعوۃ کے مولانا امیر حمزہ نے پڑھائی ۔ غائبانہ نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی ۔ یاد رہے کہ نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر وفاقی یا صوبائی حکومت کی کسی قابل ذکر شخصیت نے شرکت نہیں کی ۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب غازی علم الدین شہید کے روحانی بیٹے عامر چیمہ کی میت کو نماز جنازہ کے لیے ساروکی لایا گیا تو جیسے ہی شہید کے جسد خاکی کو ایمبولینس سے باہر نکالا گیا تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے موسم خوشگوار ہو گیا اور ٹھنڈی ہوا اس وقت تک جاری رہی جب تک شہید کی نماز جنازہ ادا کی جاتی رہی ۔ اس موقع پر لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ شہید کی برکت سے ایسا ہوا ہے ۔ لاکھوں کے اس اجتماع میں ہر شخص امن وامان اور نظم وضبط برقرار رکھنے میں مصروف تھا ۔ مختلف سیاسی اور مذہبی نظریات رکھنے کے باوجود سب لوگ رواداری کا مظاہرہ کر رہے تھے ۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر شخص عامر چیمہ کے عظیم کارنامہ پر اس کے والدین کو مبارکباد پیش کر رہا تھا ۔ گوجرانوالہ ڈویژن کی تاریخ میں گزشتہ ایک صدی کے دوران اس قدر بڑا جنازہ کا اجتماع دیکھنے
میں نہیں آیا۔ لوگ رات گئے تک ساروکی چیمہ آتے رہے اور قبر پر فاتحہ خوانی کرتے رہے۔
عامر شہید کے والد پروفیسر نذیر چیمہ نے کہا کہ انتظامیہ نے زبردستی میرے بیٹے کو ساروکی کے قبرستان میں دفن کیا ہے، حکومت نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا ہے۔ وزیر مملکت طارق عظیم نے وعدہ کیا تھا کہ جہاں آپ طے کریں گے، شہید کی تدفین ہوگی۔ ہماری سب کی خواہش تھی کہ تدفین راولپنڈی میں ہو۔ مگر حکومت نے عامر چیمہ کی نماز جنازہ راولپنڈی میں ادا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک عام آدمی ہوں جس کا اکلوتا بیٹا شہید ہوا ہے، میں حکومت کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہوں؟ ہمارے اوپر بہت دباؤ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈی آئی جی راولپنڈی، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر حامد علی خاں اور ڈی سی او راولپنڈی میرے گھر ملاقات کے دوران اس بات پر زور دے رہے تھے کہ عامر چیمہ شہید کا جنازہ ساروکی میں پڑھایا جائے۔ ہمارے انکار پر ڈی پی او راولپنڈی سعود عزیز نے دھمکی دی کہ ہماری بات مان لو ورنہ بیٹے کا آخری دیدار بھی نہ کر سکو گے اور تدفین بھی ہم کریں گے۔ اس طرح انھوں نے ہمیں مجبور کر دیا کہ ہم شہید کی میت کو تدفین کے لیے ساروکی لے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنے بیٹے کی زبردستی تدفین کا معاملہ اپنے رب پر چھوڑ دیا ہے۔ اگر راولپنڈی میں جنازے اور تدفین کے حوالے سے حکومت رکاوٹ پیدا نہ کرتی تو ملکی تاریخ کے ایک عظیم اجتماع کے ذریعے دنیا کو اہم پیغام ملتا۔ عامر شہید کی والدہ نے کہا کہ میں خوش ہوں کہ میرے بیٹے نے عشق رسول ﷺ میں قربانی دی۔ میرا شیر جوان بیٹا نبی ﷺ کی محبت پر قربان ہو گیا۔ غازی عامر نے اب واپس نہیں آنا لیکن میں مسلمانوں سے کہتی ہوں کہ وہ گستاخان رسولؐ کا بھرپور مقابلہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ میرے لیے یہ بات بہت تکلیف دہ ثابت ہوئی ہے کہ بیٹے کی وصیت پوری نہیں کی گئی اور حکومت نے زبردستی شہید بیٹے کی تدفین آبائی گاؤں ساروکی میں کروائی ہے۔ میری قوم سے اپیل ہے کہ وہ شہید کی ماں کو انصاف دلائے اور حکومت کے غلط فیصلے پر احتجاج کرے۔ اللہ نے میرے بیٹے کو شہادت کا اعلیٰ رتبہ دیا لیکن حکمرانوں نے شہید کے جنازہ میں شرکت کرنے والے قافلوں کو روک کر اللہ کی ناراضگی مول لی ہے، ہمیں راولپنڈی سے ایک ڈی ایس پی کی زیر قیادت پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ زیر حراست افراد کی طرح زبردستی لایا گیا ہے۔ ہم حکومت کے اس رویے کی مذمت کرتے ہیں۔ شہید کی ہمشیرہ
کشور نذیر چیمہ نے کہا کہ شہید کے لواحقین کو پولیس کی نگرانی میں دو فلائنگ کوچوں میں بھر کر قیدیوں کی طرح پنڈی سے ان کے آبائی گاؤں ساروکی لایا گیا ہے۔ ڈی پی او راولپنڈی سعود عزیز پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ گزشتہ روز ہمارے گھر آئے جہاں انھوں نے میرے والد کو دھمکی دی کہ یہاں حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے، اگر آپ آبائی گاؤں میں تدفین پر راضی نہ ہوئے تو ہم از خود سرکاری انتظامات میں عامر چیمہ شہید کو ساروکی چیمہ میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد دفن کر دیں گے اور آپ لوگ عامر چیمہ کا آخری دیدار بھی نہیں کر سکیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ملنے والی دھمکی کے بعد ہم گھر والوں نے باہمی مشورہ سے فیصلہ کیا کہ اس طرح بھائی شہید کا آخری دیدار کرنے سے بھی محروم رہ جائیں گے۔ لہٰذا حکومت کی بات مان لی جائے اور راولپنڈی کے بجائے ساروکی میں ہی تدفین کا حکومتی فیصلہ تسلیم کر لیا جائے۔ شہید کی ہمشیرہ کشور نے کہا کہ ہم سیاسی جلسہ کر رہے ہیں نہ جلوس نکال رہے ہیں نہ ہم نے لوگوں کو جنازہ میں شرکت کی دعوت دی ہے، لوگ اگر آنا چاہتے ہیں تو ہم انھیں کیسے روک سکتے ہیں۔ حکومت نے شہید کی وصیت کا بھی احترام نہیں کیا اور ہمیں دھمکی دے کر آبائی گاؤں میں تدفین پر مجبور کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت دباؤ ڈال رہی ہے کہ شہید عامر چیمہ کی میت کو زیادہ دیر تک گاؤں میں نہ رکھا جائے اور گاؤں لاتے ہی نماز جنازہ پڑھا کر ساڑھے گیارہ بجے تک دفن کر دیا جائے۔ افسوس ہے کہ حکومت نے اپنے وعدہ کے خلاف عامر بھائی شہید کی تدفین گاؤں میں کروائی ہے جبکہ ہم گزشتہ 30 سال سے پنڈی میں رہائش پذیر ہیں اور اپنے عزیزوں کی یہیں تدفین کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ عامر کی تدفین بھی پنڈی میں کی جاتی۔ مگر حکومت نے جبراً عامر کا جسد خاکی ان کے آبائی گاؤں لاکر طے شدہ پروگرام سے پہلے تدفین کروا دی۔ سرکاری اہلکار مسلسل میرے والد کے ساتھ ہیں اور انھیں شدید ذہنی اذیت دی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت ایک پاکستانی شہری کی جان نہیں بچا سکتی تو اس کی وصیت کو پورا کر کے شہید کے خاندان کو دلاسا دیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا پیارا، بہادر اور اکلوتا بھائی اسلام پر قربان ہو گیا۔ عامر شروع ہی سے بہت زیادہ مذہبی ذہن رکھتا تھا۔ غازی علم دین شہید ان کی پسندیدہ شخصیت تھی، وہ اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے کہ کاش میں بھی کچھ ایسا کروں۔ عامر شہید کی بہنوں نے کہا کہ عامر کو فوج میں جانے کا شوق رہا جس کی بڑی وجہ ان کے دل میں مچلنے والا جذبہ شہادت تھا۔ وہ آرمی انجینئرنگ کور میں
سلیکٹ بھی ہو چکے تھے مگر پھر کسی وجہ سے نہیں جاسکے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے عامر چیمہ کا آخری خط 9 مئی 2006ء کو راولپنڈی میں ان کے اہلخانہ کے سپرد کیا جو فرط جذبات سے خط سے لپٹ کر رونے لگے۔ شہید کے والد محترم کو چار صفحات کے اس خط میں صرف دو صفحات حوالے کیے گئے۔ اس بات پر بھی شائد ہمیشہ کے لیے پردہ پڑا رہے گا کہ شہید عامر چیمہ نے خط کے باقی دو صفحات پر کیا تحریر کیا تھا۔ عامر چیمہ نے اپنے خط میں واضح طور پر لکھا کہ ان شاء اللہ میری موت خودکشی پر ہرگز نہ ہوگی۔ عامر چیمہ کی وصیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے پہلے ہی جرمن حکام کے رویہ سے معلوم ہو چکا تھا کہ اسے شہید کر دیا جائے گا۔ چونکہ عامر شہید شہادت کی موت کا متلاشی تھا، اس لیے اس سے خودکشی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
عامر عبدالرحمٰن چیمہ نے اپنے آخری خط میں لکھا:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
”تمام مسلمانوں اور میرے والدین سے گزارش ہے کہ مجھے جیل میں مرنے کی صورت میں جلد از جلد بغیر پوسٹ مارٹم کے جنت البقیع میں یا کسی بہت بڑے قبرستان میں دفنایا جائے تاکہ آخرت میں میرے لیے آسانی ہو۔ میرے والدین سے گزارش ہے کہ اگر مجھے سعودی عرب جنت البقیع میں دفن کرنے کا انتظام ہو جائے تو اس کی اجازت دے دیں۔ دوسری صورت میں کسی ایسے بڑے قبرستان میں دفنائیں جہاں بہت سے نیک لوگوں کی قبریں ہوں اور میرا جنازہ بڑا کرنے کی کوشش کریں تاکہ میرے لیے آسانی ہو۔
باقی تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ میرے لیے دعا کریں اور غائبانہ نماز جنازہ (اگر ہو سکے تو) ادا کریں تاکہ میرے لیے آسانی ہو۔ میں تمام لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ان شاء اللہ میری موت خودکشی پر ہرگز نہیں ہوگی۔ میرے والدین، بہنوں اور دیگر عزیز و اقارب و دوستوں اور تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ میرے گناہ معاف کر دیں اور میرے ذمہ کوئی قرض ہو تو معاف کر دیں اور میرے لیے دعا کریں تاکہ آخرت کے حساب کتاب میں میرے لیے آسانی ہو۔ میرے لیے بخشش کی دعا کریں۔ اللہ آپ کی دعاؤں کو قبول فرمائے۔ اگر ہو سکے تو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں کوئی میرے لیے دعا کرے۔ سعودی حکومت سے درخواست ہے کہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ میں میرا نام لے کر دعا کروائی جائے، تاکہ میرے لیے آسانی ہو اور مجھے جنت
البقیع میں دفن کرنے کی اجازت دی جائے ۔‘‘
(عامر عبدالرحمٰن)
پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے جرمن پولیس کے ہاتھوں ایک عاشق رسول ﷺ عامر چیمہ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جرمن حکومت کی شدید مذمت کی۔ دریں اثنا پاکستان کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے عامر چیمہ کی شہادت پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی یورپی یا امریکی باشندے کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا تو عالم مغرب سراپا احتجاج بن جاتا۔ لیکن حکومت پاکستان نے جرمن حکومت سے کوئی باضابطہ احتجاج نہیں کیا۔ پاکستانی سفارت خانے اور حکومت نے اپنے شہری کو بچانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت جرمنی سے اپنا سفیر واپس بلاتی اور کسی غیر جانبدار ملک سے پوسٹ مارٹم کروا کر اس کی موت کی تحقیقات کرواتی اور پھر انصاف کے حصول کے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتی لیکن حکمرانوں نے مغرب کی ناراضگی کے خوف سے نازیبا خاکوں کی اشاعت پر بھی کوئی اہم قدم نہیں اٹھایا تھا اور پھر ایک عاشق رسول ﷺ کی جرمن پولیس کے ہاتھوں شہادت پر بھی حکومت نے بزدلانہ اور مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا۔ عامر چیمہ کی شہادت میں حکومت برابر کی شریک ہے کیونکہ وہ اپنے شہری کو بازیاب کرانے اور تحفظ دینے میں ناکام رہی۔ عامر چیمہ کی شہادت مسلم حکمرانوں کی بے حسی پر طمانچہ ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بے غیرتی ہوگی کہ حکومت کا کوئی بھی قابل ذکر نمائندہ ان کے ہاں تعزیت کے لیے نہیں گیا۔ جرمنی میں پاکستانی سفارت خانے نے نہ تو جرمن حکومت سے کوئی باضابطہ احتجاج کیا، نہ ہی کوئی تحقیقی رپورٹ پاکستان بھجوائی۔ پاکستانی سفارت خانے نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے عامر چیمہ کے خاندان کو پیش کش کی کہ عامر کے جسد خاکی کو جرمنی میں ہی دفن کر دیا جائے لیکن عامر کے والدین نے اس پیشکش کو فوری طور پر مسترد کر دیا اور کہا کہ خدارا آپ ہمارے زخموں پر مزید نمک نہ چھڑکیں اور تاخیری حربے اختیار نہ کریں بلکہ فوری طور پر ہمارے بیٹے کی میت پاکستان بھجوائی جائے۔ پاکستان ایمبیسی کے سیکرٹری خالد حسین نے کہا تھا کہ اس مسئلے کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے گا لیکن ابھی تک اس بات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے وزارت خارجہ اور جرمنی میں پاکستان کے سفیر کا کردار قابل مذمت ہے۔ پاکستان میں رہنے والا کوئی عیسائی اگر توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو یورپی ممالک صرف اپنے عقیدے اور مذہب کی بنیاد پر مقدمہ درج ہونے کے باوجود اسے یہاں سے اٹھا کر لے جاتے
ہیں اور جرمنی جیسے ملک انھیں اپنے ملکوں میں پناہ دے کر پروٹوکول فراہم کرتے ہیں مگر ہماری حکومت اپنے ہی شہریوں کے بلا جواز قتل پر خاموش تماشائی بنی رہی۔ اس موقع پر نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کی مجرمانہ خاموشی افسوسناک ہے۔ ان کے منافقانہ کردار سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان کی تاریں باہر سے ہلتی ہیں۔
جرمن محکمہ انصاف کی ترجمان جولیان بیئر ہینی Juliane Baer Henney نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ عامر چیمہ نے اپنے لباس سے پھندا بنا کر اپنے سیل کی کھڑکی سے لٹک کر موت کو گلے لگا لیا۔ بعد میں پاکستان میں جرمنی کے سفیر ڈاکٹر گنڈ مولیک بھی اپنے اخباری بیانات میں یہی راگنی الاپتے رہے۔
ہمارے قتل کو کہتے ہیں خودکشی کی ہے
یہ قتل عام نہیں تم نے خودکشی کی ہے
در حقیقت عامر چیمہ پر یہ الزام بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ عامر چیمہ جرمن پولیس کی تحویل میں تھا۔ وہ خودکشی نہیں کر سکتا تھا۔ عامر چیمہ نے دوران تفتیش اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس نے ڈنمارک کے اخبار میں حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف نازیبا خاکوں کی اشاعت پر جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر ملعون ایڈیٹر کے دفتر میں داخل ہو کر اسے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ لہٰذا عامر چیمہ کی طرف سے خود کشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کی شہادت حقوق انسانی کے جھوٹے دعویداروں کے منہ پر طمانچہ ہے جنھوں نے اسے نازی ازم کے تحت اذیتیں دے دے کر قتل کیا، اس طرح وہ ایک بھیانک جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔
چاہیے تو یہ تھا کہ عامر چیمہ کے اقبال جرم کے بعد پولیس حکام اسے جیل کے بجائے قانون کے مطابق کورٹ میں لے کر آتے۔ ٹرائل کرتے اور جرم ثابت ہونے پر اسے سزا سناتے۔ مگر جرمن پولیس نے مقدمہ چلایا ہی نہیں بلکہ ماورائے عدالت عامر چیمہ کو 44 دن تک برلن میں واقع موبٹ (Moabit Prison) جیل کے ٹارچر سیل میں رکھا جہاں جرمن پولیس، خفیہ ایجنسیوں اور جیل حکام نے عامر چیمہ کے ساتھ دہشت گردوں والا سلوک کرتے ہوئے اپنے روایتی تشدد کی انتہا کر دی۔ 130 سالہ پرانی یہ جیل قیدیوں پر ٹارچر اور تشدد کے
حوالے سے بے حد بدنام ہے۔ ایک موقع پر تفتیشی افسر نے عامر چیمہ کو مشروط طور پر رہا کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرمن ٹیلی ویژن پر آ کر اعلان کرے کہ وہ ذہنی مریض ہے، دماغی طور پر تندرست نہیں ہے اور اس نے یہ قدم محض جذبات میں آ کر اٹھایا ہے۔ مزید براں یہ کہ اس فعل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور میں اپنے کیے پر بے حد شرمندہ اور نادم ہوں۔ شہید عامر چیمہ نے نہایت تحمل سے تفتیشی آفیسر کی تمام باتیں سنیں اور پھر اچانک شیر کی طرح دھاڑا اور اس آفیسر کے منہ پر تھوک دیا اور روتے ہوئے کہا ”میں نے جو کچھ کیا ہے وہ نہایت سوچ سمجھ کر اور اپنے ضمیر کے فیصلے کے مطابق کیا ہے۔ مجھے اپنے فعل پر بے حد فخر ہے۔ یہ میری ساری زندگی کی کمائی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے ایک تو کیا، ہزار
تفتیش کی اس رپورٹ کو من وعن تسلیم کر لیا اور اس طرح ایک پاکستانی مسلمان کے ناحق قتل میں مجرمانہ کردار ادا کیا۔ برنی ٹرسٹ کے چیئرمین انصار برنی نے بھی جرمن حکام کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس واقعہ کو خودکشی قرار دیا۔ انصار برنی بھی مجبور تھے۔ اگر وہ جرمن حکام کی اس راگنی میں شامل نہ ہوتے تو جرمن حکومت کی طرف سے ملنے والی لاکھوں ڈالر سالانہ امداد سے محروم ہو جاتے۔ جرمن فلاسفر گوئبلز نے کیا خوب کہا تھا کہ اتنا جھوٹ بولو، اتنا جھوٹ بولو، اتنا جھوٹ بولو کہ اس پر سچ کا گمان ہونے لگے۔ بالکل یہی فلسفہ عامر چیمہ شہیدؒ کی ہلاکت پر جرمن حکام اور پاکستانی بزرجمہروں نے اپنایا۔
یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ گستاخ رسول کو جہنم واصل کرنے کی دانستہ کوشش کرنے والا باشعور نوجوان خودکشی نہیں کر سکتا۔ عامر چیمہ پر خودکشی کا الزام لگانا اس کی توہین ہے۔ اس نے جس مقدس مشن کے لیے قربانی دی، وہ اس کے تقاضے جانتا تھا۔ وہ بزدل نہیں بلکہ بہادر تھا۔ بزدل لوگ خودکشی کیا کرتے ہیں۔ اس کی بے باک جرأت و بہادری ہی اس امر کی گواہی ہے کہ اس نے کافروں کے ملک میں رہ کر گستاخ رسول پر حملہ کیا۔ عامر چیمہ پر خودکشی کا الزام محض اس لیے لگایا گیا تاکہ واقعہ کا رخ موڑا جاسکے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ جرمن حکومت نے ایک ماہ تک عامر چیمہ کی اس کے والدین سے بات نہ کروائی اور نہ ہی جرمنی میں مقیم اس کے رشتہ داروں کو جسد خاکی دکھایا جس سے پتہ چل سکے کہ اس نے خودکشی کی ہے یا دوران حراست شہید کیا گیا۔ حکومتی اداروں نے صیہونی زبان کی ترجمانی کر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا۔ عامر عبدالرحمٰن نے پہلی پیشی کے موقع پر جج کے سامنے برملا اظہار کیا تھا کہ ”میرا تعلق کسی تنظیم سے نہیں۔ میں القاعدہ کے کسی کارکن کو نہیں جانتا اور نہ ہی میرا طالبان سے کوئی تعلق ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کرنے والوں کو قتل کرنے کے لیے مجھے قدرت کی طرف سے ہدایات ملی ہیں۔ میں نے شاتم رسول پر دانستہ حملہ کیا ہے اور مجھے اس اقدام پر فخر ہے۔ آئندہ بھی اگر کسی نے شان رسالت ﷺ میں توہین کا ارتکاب کیا تو میں یہی راستہ اختیار کروں گا۔“
یہ حوصلہ اگر ہے تو دیوانگی میں ہے
جرأت و استقامت سے اقبال جرم کرنے والے عاشق رسول کی شہادت کو خودکشی قرار
دینا صیہونی سازش اور غلامان مصطفیٰ ﷺ کے جذبات کو منفی رنگ دینے کی ناکام کوشش ہے۔ جرمنی میں پاکستانی سفارت خانے کے نائب سفیر خالد عثمان قیصر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جرمن پولیس نے پاکستانی سفارت خانے کو عامر چیمہ کی گرفتاری سے آگاہ نہیں کیا بلکہ انھیں اس وقت اطلاع ملی جب یہ مسئلہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں اٹھایا گیا۔ پھر ہم نے جرمن حکام کو ایک درخواست دی جس پر انھوں نے ہمیں بتایا کہ عامر چیمہ کا کیس عدالت میں ہے اور پراسیکیوٹر اس کے خلاف تیار کی گئی چارج شیٹ کی دستاویزات تیار کر رہا ہے جبکہ سماعت کی تاریخ کا تعین کیا جانا باقی ہے۔ پاکستانی مشن کے حکام نے 21 اپریل کو عامر چیمہ سے فون پر بات کی، عامر نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے اور میرے والدین کو بھی یہی بتایا جائے۔ چند دنوں بعد خبر آ گئی کہ عامر چیمہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جرمن حکومت نے سفارت خانے کو مطلع کیا کہ عامر چیمہ نے 3 مئی کو اپنے گلے میں پھندا لگا کر اپنے سیل میں خودکشی کر لی جبکہ لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے اور رپورٹ سفارت خانے کو چند روز تک ملے گی جس کے بعد نعش راولپنڈی بھیج دی جائے گی۔
شہید عامر چیمہ کے والد نذیر احمد کا کہنا ہے کہ عامر چیمہ کی گرفتاری سے شہادت تک کے تمام عرصے میں کسی حکومتی شخصیت نے خود ہم سے رابطہ کیا نہ ہمدردی کی اور نہ ہی کسی تعاون کا یقین دلایا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ہماری حکومت جرمنی سے یہ پوچھے کہ دوران حراست اگر ایک شخص نے خودکشی بھی کی ہے تو جیل انتظامیہ کدھر تھی اور اس وقت ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟ انھوں نے عامر چیمہ کی خودکشی کے تاثر کی مکمل نفی کرتے ہوئے کہا کہ عامر نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات کو تحریری طور پر قبول کر لیا تھا، اس کے باوجود اسے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور اس کے خلاف ٹرائل نہیں کیا گیا۔ ایف آئی آر میں اس پر جو دفعات لگائی گئی تھیں، اس کے مطابق اسے ڈی پورٹ یا دو چار ماہ کی سزا ہو سکتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کسی گورے کے کتے کو کانٹا بھی چبھ جاتا تو کمیشن بیٹھ جاتے اور معافیاں شروع ہو جاتیں جس طرح کہ سی آئی اے کے مخبر ڈینئیل پرل کی کراچی میں موت پر ہوا۔ مجھے رنج یہ ہے کہ ہمارا فارن آفس بھی خودکشی کی تھیوری میں شریک ہو گیا۔ ان لوگوں سے میں کیا توقع رکھ سکتا ہوں۔ شہید کی ہمشیرہ نے کہا کہ حکومت ہمیں وہ تفصیلات فراہم کرے جو جرمنی میں 20 مارچ سے 3 مئی 2006ء تک ہمارے بھائی پر پولیس حراست میں پیش آئیں کہ وہ کن حالات میں رہا۔
سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور عوام کے پرزور احتجاج پر وزارت خارجہ نے ایف آئی اے کی دو رکنی خصوصی ٹیم عامر چیمہ کی شہادت کی تحقیقات کے لیے جرمنی روانہ کی۔ تحقیقاتی ٹیم میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق کھوسہ اور پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن چوہدری تنویر احمد شامل تھے۔ جرمن حکومت نے انھیں صرف 5 دن کے لیے قلیل مدت کا ویزہ جاری کیا۔ یہ تحقیقاتی ٹیم 10 مئی 2006ء سہ پہر پی آئی اے کی پرواز PK-623 کے ذریعہ لاہور سے جرمنی روانہ ہوئی جہاں اس نے جرمن پولیس کے ہاتھوں عامر عبدالرحمن چیمہ کی جیل میں مبینہ تشدد سے شہادت کے سلسلے میں تحقیقات کیں۔
وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر طارق عظیم نے کہا ”تحقیقاتی رپورٹ کے بعد جرمنی کے خلاف ایکشن لیں گے اور جرمنی کی یکطرفہ رپورٹ پر انحصار نہیں کریں گے۔ عامر عبدالرحمن چیمہ بے گناہ تھا۔ اس کی ہلاکت میں جرمن پولیس اور جیل حکام برابر کے شریک ہیں۔“
دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے 15 مئی 2006ء کو ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم جرمن حکام کے ساتھ اس مسئلہ پر تحقیقات کر رہی ہے اور انھیں وہاں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ وطن واپسی پر وہ حکومت کو رپورٹ پیش کریں گے۔ انھوں نے کہا پاکستان اور جرمنی کے درمیان کثیر الجہتی تعلقات ہیں اور اس سانحہ سے ان تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔“ جبکہ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ جرمنی کی حکومت نے عامر چیمہ کی گرفتاری سے لے کر جیل میں موت تک تمام معلومات فراہم نہیں کیں بلکہ صرف چیدہ چیدہ باتوں سے ہی آگاہ کیا۔ ایف آئی اے نے ایک فارم بھی دفتر خارجہ کے توسط سے جرمنی کی حکومت کو بھجوایا جس میں عامر چیمہ کیس سے متعلق مزید 20 سوالات اٹھائے گئے مگر جرمن حکومت نے ان کے کسی ایک سوال کا بھی جواب نہیں دیا بلکہ ایک ناقص سی رپورٹ حکومت پاکستان کو فراہم کی جس میں پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ کا ذکر کیے بغیر کہا گیا کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی ہے۔
15 جون 2006ء کو سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس سینیٹر ایس ایم ظفر کی زیر صدارت ہوا۔ کمیٹی نے عامر چیمہ کی ہلاکت پر بروقت عدالتی کارروائی شروع نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ڈپلومیٹک چینل پر انحصار نہیں کر سکتے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ حقائق سامنے لانے کے لیے فوری طور پر جوڈیشل انکوائری شروع کی جائے۔
جرمن حکام کو انکوائری کے لیے جو 30 سوال بھیجے گئے ہیں، وہ کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں۔ اٹارنی جنرل کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے تا کہ لائن آف ایکشن طے کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران سینیٹرز لطیف کھوسہ اور ڈاکٹر خالد رانجھا پر مشتمل دو رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو دفتر خارجہ اور اٹارنی جنرل سے مل کر عامر چیمہ کے کیس میں قانونی طریقہ کار کے بارے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جرمنی سے حتمی رپورٹ جلد حاصل کی جائے اور پاکستان اور جرمنی کے درمیان 1982ء کے معاہدہ کی کاپی بھی کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے۔
عامر چیمہ کی شہادت کی تحقیقات کے لیے جرمنی جانے والی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق کھوسہ نے کمیٹی کے روبرو انکشاف کیا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ عامر چیمہ کی موت خودکشی سے نہیں ہوئی بلکہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے پوسٹ مارٹم کے وقت لی گئی تمام تصاویر کو دیکھا، عامر چیمہ کی شہ رگ کٹی ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔ اس کی گردن کے گرد رسی کے نشانات موجود تھے جس سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا گلہ گھونٹا گیا ہے۔ اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں تھی جو اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ عامر چیمہ نے پھانسی نہیں لی اور یہ سب جھوٹ تھا۔ ہماری درخواست پر ہمیں عامر کا جیل سیل بھی دکھایا گیا تھا جس کی چھت پر پنکھا موجود نہیں تھا۔ تاہم جرمنوں کے مطابق عامر نے دیوار کے اوپر لگی کھڑکی کی سلاخوں سے خود کو پھانسی دی تھی۔ ہم نے جرمن حکام سے سفید رنگ کی رسی کی سیل میں دستیابی کی وجہ سمیت متعدد سوالات کیے مگر جرمن حکام نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔ سینیٹر لطیف کھوسہ نے ان سے سوال کیا کہ کیا عامر کی گردن کی ہڈی اوپر کی طرف سے ٹوٹی تھی؟ اس پر طارق کھوسہ نے کہا کہ نہیں عامر کی ہڈی نہیں ٹوٹی تھی۔ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس طرح تو یہ بات واضح ہے کہ عامر کی موت کسی اور وجہ سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ جرمن حکام نے ہمیں جرمن جیل کے سیل میں عامر چیمہ کے ساتھی قیدی سے پوچھ گچھ، واقعہ کی تحقیقات سے متعلق دستاویزات اور متعلقہ افسران سے بھی سوال جواب کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ امر بھی نہایت قابل ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ کی طرف سے جرمن حکام کو تحقیقات سے متعلق 40 اہم سوالات بھیجے گئے ہیں مگر جرمن حکام نے آج تک کسی ایک سوال کا بھی جواب نہیں دیا جبکہ وزارتِ خارجہ اس سلسلہ میں کئی بار جرمن حکام کو
یاد دہانی کروا چکی ہے۔
بعد ازاں پاکستانی تحقیقاتی ٹیم نے عامر چیمہ کی موت کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کے ذریعے وزیر اعظم شوکت عزیز کو بھجوادی۔ 2 رکنی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ توہین رسالت ﷺ پر مبنی خاکوں کی اشاعت پر متعلقہ اخبار کے ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار پاکستانی طالب علم عامر عبد الرحمن چیمہ کو جیل میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی حالت غیر ہو گئی اور وہ تقریباً مرنے والا ہو گیا کہ اسے پھندے سے لٹکا کر شہید کر کے خودکشی کا رنگ دے دیا گیا۔ حالانکہ جرمنی کے قوانین کے مطابق وہاں کی جیلوں میں ہر قیدی خواہ وہ ملزم ہو یا مجرم اس کی کڑی نگرانی کے لیے عملہ تعینات ہوتا ہے، وہاں جدید ترین کیمرے بھی نصب ہوتے ہیں جن سے باقاعدہ ویڈیو تیار ہوتی ہے۔ اگر عامر چیمہ نے خودکشی کی تھی تو جیل حکام کو فوری طور پر اسے روکنا چاہیے تھا اور اگر وہ اس میں ناکام رہے ہیں تو انھیں ویڈیو دکھا کر مسلمانوں کو مطمئن کرنا چاہیے کہ عامر چیمہ نے خود کشی کی ہے۔ چونکہ عامر چیمہ کو وحشیانہ تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا، لہذا جرمن حکام اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک جھوٹ بولتے رہے۔
معروف پاکستانی سرجن ڈاکٹر جاوید نے عامر چیمہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ عامر چیمہ کی موت خودکشی کا نتیجہ نہیں ہے کیونکہ اس کی Pathology اور Autopsy کی رپورٹیں بالکل ٹھیک اور Clear ہیں۔ مزید اس کی موت کے بعد کے تمام ٹیسٹ بھی ایک صحت مند آدمی کی طرح بالکل نارمل ہیں۔ جبکہ خودکشی کے مرتکب شخص کا بلڈ پریشر اور شوگر لیول نارمل نہیں رہتا بلکہ بہت زیادہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ جناب ڈاکٹر جاوید کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی متضاد چیزیں ہیں جس سے عامر چیمہ پر خودکشی کا الزام غلط ثابت ہو جاتا ہے۔
دنیا بھر کے مسلمان حضور نبی کریم ﷺ کے خاکے شائع کرنے اور آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے اخبارات اور حکومتوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے مگر دینی غیرت و حمیت اور عشق رسول ﷺ کی دولت سے سرشار عامر عبدالرحمن چیمہؒ نے عملاً اخبار کے ایڈیٹر پر حملہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان اپنی جان تو قربان کر سکتا ہے مگر اپنے آقا و مولا حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں معمولی سی گستاخی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لحاظ سے
عامر چیمہ تمام مسلمانوں پر بازی لے گیا۔ لہذا حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ عامر چیمہ کی اعلیٰ ترین خدمت اور قربانی کے صلے میں اسے ملک کا سب سے بڑا سول اور فوجی اعزاز ”نشانِ حیدر“ دے اور 3 مئی کو اس کے یوم شہادت پر ہر سال ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کرے۔ یہاں افسوس کے ساتھ اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ حکومت ہر سال 14 اگست کو تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات کو مختلف ایوارڈز سے نوازتی ہے جن کی اکثریت اس کی اہل نہیں ہوتی۔ بعض شخصیات نہ صرف اسلام اور پاکستان سے الرجک بلکہ ان کی نظریاتی اساس کی بھی مخالف ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود حکومت محض ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے لالچ کے طور پر انھیں یہ ایوارڈ دیتی ہے جبکہ یہ سب لوگ مل کر عامر چیمہ کی گردِ راہ کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔
یہ ایک زندہ جاوید حقیقت ہے کہ عامر چیمہ کی شہادت پورے عالمِ اسلام کے ماتھے کا جھومر ہے۔...... فرشتے بھی اس کی قسمت پر رشک کر رہے ہیں۔...... وہ غازی علم الدین شہید کے نقشِ قدم پر چل کر امر ہو گیا۔...... وہ اسلامی دنیا کا ہیرو ہے۔...... پوری امت مسلمہ کو اس شہید پر فخر ہے۔...... ہر مسلمان اس کی شہادت کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔...... اس کی شجاعت و بہادری، جوش و جرأت اور عزم ایقان و عرفان سے عالمی کفر لرزہ براندام ہے۔...... اس کی للکار پورے عالم میں مجاہد کی اذان ثابت ہوئی۔...... وہ عزیمت اور عظمت کا امین ہے۔...... وہ گلشنِ اسلام میں گلاب بن کر مہکا ہے۔...... مستقبل کا مورخ اس کے جرأت مندانہ کردار کو اپنے قلم سے سلامِ عقیدت پیش کرے گا۔...... اس نے عزیمت و شہادت کے ذریعے تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کا حق ادا کر دیا...... اس کا مقدس خون عالمی کفر پر قرض ہے۔...... اس کی موت پوری ملتِ اسلامیہ کی حیات ہے۔...... اس کے عظیم الشان کارنامے کو عشقِ محمد ﷺ کا عرفان حاصل ہے۔...... اس نے پورے عالمِ اسلام کی لاج رکھ لی...... اس نے اپنی قیمتی جاں قربان کر کے گلشنِ اسلام کی حفاظت کی ہے۔...... وہ ایک ایسا آفتاب ہے جس کی روشنی سے بے شمار تاریک دل منور ہوئے۔...... اس نے فطرت کے عجائب خانے میں اسلام کی روحِ غیرت کی تصویر سجا دی۔...... اس کے لہو کی دھار سے گلستانِ اسلام ہمیشہ کے لیے شاداب ہو گیا۔...... اس کا جوش و جذبہ معاذؓ و معوذؓ کا ترجمان ہے۔...... وہ مستقبلِ حیات کا تاریخ ساز عنوان ہے۔...... وہ ہر گستاخِ رسول ﷺ کے لیے ضربِ خنجر براں ہے۔...... اس کے تصور سے جنت سامنے آ کر مسکراتی ہے۔...... اس نے ہونٹوں کو
مردان حق کا تبسم عطا کیا...... اس کا جنوں حکمت و ادراک کا امام ہے۔...... وہ راہ وفا میں سر کٹا کر غیرت و حمیت کا خوبصورت استعارہ بن گیا...... وہ عشق کی وادیوں میں پیکر تقدس و ایمان ہے...... اس کا کردار صدق و وفا کا شاہکار ہے...... اس نے شفق زار حقائق میں اپنے قیمتی لہو سے رنگ بھرا ہے...... اس نے آرزوئے شہادت میں دوران حراست مصائب کے آہن و آتش کے طوفان میں بڑی استقامت اور استقلال کا مظاہرہ کیا...... اس نے اسلامی غیرت و حمیت کے جذبوں کو از سر نو زندہ کیا...... اس نے اپنی لازوال جرات و بہادری اور جذبہ جانفشانی سے دین قیم کی آبرو رکھ لی...... اس نے حق کی محبت میں سرشار ہو کر بت خانہ افرنگ میں اذان حق کہی...... اس نے الحادی فضاؤں اور مصنوعی خداؤں کی موجودگی میں اسلام کی اقدار کا چراغ روشن کیا...... وہ وفا کا پیکر، دارورسن سے بیخوف اور شہید محبت ہے...... عامر چیمہ کا احسان ہے کہ آج ہر مسلمان سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوا...... یہ اس کے پاکیزہ لہو کا اعجاز ہے کہ جس نے پوری ملت اسلامیہ کو بیدار کیا...... عامر تیرا شکریہ !!!
فروغ دیدۂ افلاک ہے تُو
ترے صید زبوں افرشتہ و حور
کہ شاہین شہ لولاکؐ ہے تُو!
سید محمد معاویہ بخاری
غازی محمد عمران وحید، غازی اقبال احمد خاں
حضور سرور دو عالم ﷺ کے ایک ارشاد گرامی کا مفہوم کم و بیش یہ ہے کہ ”میری امت کے وہ لوگ بہت درجے والے ہوں گے جنہوں نے مجھے دیکھا ہوگا نہ مجھے دیکھنے والوں کی زیارت سے مستفید ہوئے ہوں گے مگر وہ اپنے ایمان میں اس قدر کامل ہوں گے کہ دین و ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے راہ وفا میں قربان ہو جائیں گے۔“ آپ ﷺ کے فرمان مبارک کی صداقت آپ سے محبت کرنے والے عشاقان رسول ﷺ کے بے مثال کارناموں کے ذریعے تقریباً 1500 برسوں سے ثابت ہوتی چلی آ رہی ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ مسلمانوں پر ابتلاء و آزمائش کے ہزاروں ادوار گزرے ہیں مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ خواجہ بطحا ﷺ کی عزت و حرمت پر کٹ مرنے والے ناپید ہو گئے ہوں۔ حکمرانوں کی بزدلی و بے راہ روی کے سبب تباہ و برباد ہونے والے معاشروں کی اجتماعی گمراہی کے باوجود ایک عزیمت پسند گروہ ہر دور میں موجود رہا ہے جس نے راہِ حق میں اپنی مزاحمت کو ناموافق حالات کے دوران بھی پوری قوت سے جاری و ساری رکھا۔ تاریخ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گستاخانِ رسول ﷺ کو دنیا میں کہیں پناہ نہیں مل سکی اور اگر کسی سبب سے ان کی مہلت عمر دراز ہوئی بھی تو ایسے جرم عظیم کا ارتکاب کرنے والے زندگی بھر ایک لمحہ بھی سکون و عافیت سے نہیں گزار سکے۔ فدا کارانِ رسول ﷺ ہمیشہ ان کے تعاقب میں رہے اور اسی تعاقب کے خوف نے ان گستاخ بدبختوں کی زندگیاں عبرت کا نمونہ بنائے رکھیں۔ اور جب کسی سرفروش کو موقع ملا، اس نے شاتم رسول کو انجام تک پہنچانے میں لمحہ بھر تاخیر نہیں کی۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ دریدہ دہن گستاخانِ رسول پر قہر بن کر ٹوٹنے والے غازی خدا بخش سے لے کر عامر شہید چیمہ اور اب شہر سلطان کے دو نوجوان محمد عمران وحید اور اقبال احمد خان تک کارِ عزیمت سرانجام دینے والے کسی خانقاہ کے گدی نشین تھے نہ کسی موروثی ولایت کے تخت نشین، ان کا حسب نسب کسی مخدوم و مکرم خاندان کی اسناد پر ثبت
سے بھی مزین نہیں تھا۔ یہ لوگ طاقت ور تھے نہ سرمایہ دار۔ ان کی اکثریت ایسے معدوم قبیلوں میں پروان چڑھی تھی جن کی ناموری کی کوئی داستان کسی مؤرخ نے قلم بند نہیں کی تھی۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ ہر قسم کی مصلحت پسندی اور حیل و حجت سے نیاز بندگان بے ریا و صدق و صفا پر مشتمل غریب الدیاروں کا یہ قافلہ مشیتِ الٰہی کے اسرار کے تحت ہی ترتیب پا گیا اور ان سے ایسے کارنامے سرزد ہوئے کہ پھر جہان بھر کے وارثان تخت و تاج اور حاملان نسب و حسب ان کے قدموں سے اٹھتی دھول میں گم ہوگئے۔
توہین رسالت ﷺ ایک ایسا جرم عظیم ہے جس کی سزا بہ سند حدیث مبارک سوائے قتل کے اور کچھ نہیں۔ شریعت اسلامیہ میں ہر گستاخ رسول کو سزا دینے کی اولین ذمہ داری بنیادی طور پر مسلم مملکتوں کے حکمرانوں کے ذمہ ہے مگر یہ حکم چونکہ عمومی بھی ہے، اس لیے ہر مسلمان کو بھی اس عقیدہ کا پابند بنایا گیا ہے کہ:
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
عجب اتفاق ہے کہ فدا کاران ناموس رسالت ﷺ کی ادائیں کم و بیش ایک جیسی تھیں، ان کی اکثریت غیر معروف عام افراد پر مشتمل تھی۔ چند خوش نصیبوں کے استثنا کے ساتھ باقی سب کم عمر نوجوان تھے۔ مزید یہ کہ توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کو نشان عبرت بناتے ہوئے انھوں نے جو ہتھیار استعمال کیے، جو الفاظ ادا کیے اور جس عزم و استقامت کا مظاہرہ کیا، اس میں انتہائی قدر مشترک اور مماثلت پائی جاتی ہے۔ 16/ جون 2006ء کو ضلع مظفرگڑھ کی کچہری میں گستاخ رسول ستاری گوپانگ کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرنے والے شہر سلطان کے رہائشی محمد عمران وحید اور اقبال احمد خان کے کارنامے نے 75 برس پہلے پشاور کے دو نوجوانوں غازی امیر احمد خان شہید اور غازی عبداللہ شہید کی یاد تازہ کر دی۔
تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا فریضہ ادا کرتے ہوئے دیوانہ وار نثار ہو جانے والے ایسے فدا کاروں کی روشن داستانیں (سوائے استثنائی صورت حال کے) ہمارے بڑے اخبارات و جرائد میں بالعموم شائع نہیں ہوتیں، جب کہ روشن خیال الیکٹرانک میڈیا پر تو باقاعدہ ان واقعات کی تشہیر انتہا پسندانہ اقدام کے طور پر کی جاتی ہے اور ٹی وی مذاکروں میں مدعو کیے گئے مشائخ و علما دانشور، ادیب اور فلاسفر حضرات پر مشتمل ایک طبقہ ایسے واقعات کی مذمت قسط
وار پروگراموں کے ذریعہ کر رہا ہے۔ حرمت رسول پر کٹ مرنے والے عشاقان رسول ﷺ کے حالات و واقعات میڈیا پر اس لیے بیان نہیں کیے جاسکتے کہ بقول حاکم اس سے ماحول میں انتہا پسندی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ وطن عزیز کی فضائیں گواہ ہیں کہ ہمیشہ کی طرح موجودہ سات سالہ دور ابتلاء و جبر میں بھی جذبۂ ایمانی کو پست اور دین وعقیدہ کی بنیادیں مسمار کر دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی۔ بے لگام بدنہادوں کی سر پرستی اور ان کی ہرزہ سرائی کے مضر اثرات نے ماحول کو اس حد تک آلودہ کردیا ہے کہ اب دینی حمیت و غیرت کے حوالے، یقین و اعتبار کے بام بلند پر فروزاں نظر نہیں آتے۔ ایسی صورت حال یقیناً ہر اس شخص کے لیے سوہان روح اور بظاہر مایوسی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے جس کے اختیار کی حدیں صرف اس کی ذات تک محدود ہو چکی ہوں لیکن 17 / جون 2006ء کو اخبارات میں شائع ہونے والی خبر نے امیدوں کے چراغ ایک بار پھر روشن کر دیئے ہیں۔ عزم و ہمت کی ڈگمگاتی لو ایستادہ ہو کر یوں فروزاں ہوئی ہے کہ تیز دھار خنجر کی طرح ابلیس وقت کے سینے میں اتر گئی۔ میں نے 19/ اپریل 2006ء کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں جتوئی کے علاقے چوک پرمٹ کے ایک بدبخت عبدالستار عرف ستاری گوپانگ کا تفصیلی تذکرہ کیا تھا۔ اس تفصیل کا اجمال یہ ہے کہ 13 / مارچ 2006ء کی شام جتوئی کے علاقے چوک پرمٹ میں ضلع کونسل کے ٹھیکیدار ٹال ٹیکس عبدالستار عرف ستاری گوپانگ نے ایک ٹرالر ڈرائیور محمد اکرم کو ٹال ٹیکس ادا نہ کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ڈرائیور محمد اکرم اور علاقہ کے لوگوں نے ستاری گوپانگ کو معاملہ سے درگزر کرنے کی التجا اور بے جا تشدد سے باز رکھنے کے لیے خدا اور رسول کے واسطے دیئے، لیکن بے رحم ستاری گوپانگ نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں ایسے ناپاک الفاظ ادا کیے جو موقع پر موجود لوگوں کے لیے ناقابل برداشت ہو گئے۔ اس واقعہ کی خبر ضلع بھر میں پھیلی اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے ستاری گوپانگ کے خلاف بھرپور احتجاج کیا تھا۔ ضلعی انتظامیہ نے حالات کی سنگینی کے پیش نظر کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ستاری گوپانگ کو گرفتار کیا بلکہ اس کے خلاف توہین رسالت ﷺ کے جرم میں دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔ ستاری گوپانگ 13/ مارچ سے پولیس حراست میں تھا اور اسے کڑی نگرانی کے ساتھ عدالت میں پیشی کے لیے لایا جاتا تھا۔ 16 / جون جمعہ کے روز بھی ستاری گوپانگ کو مقدمہ کی پیشی کے لیے ضلع مظفر گڑھ کچہری میں ایڈیشنل سیشن جج سید عون محمد رضوی کی عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ستاری گوپانگ کو جیسے ہی بخشی خانے سے
کچہری لایا گیا، چاقوؤں سے مسلح دو نوجوانوں محمد عمران وحید اور اقبال احمد خان نے اس پر حملہ کر دیا اور پلک جھپکنے کی مہلت میں اس پر کئی وار کر ڈالے۔ ستاری گوپانگ شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ ذرائع کے مطابق شہر سلطان کے رہائشی محمد عمران وحید کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے جب کہ اقبال احمد بی ایس سی کا طالب علم ہے۔ دونوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انھوں نے بغیر کسی مزاحمت کے خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔ گرفتاری کے بعد عمران وحید اور اقبال احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے ایک گستاخ رسول کو قتل کیا ہے، توہین رسالت ﷺ کے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانا ہمارا مشن تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی دی۔ ہمیں اپنے اس فعل پر کوئی پشیمانی نہیں ہے۔
۞......۞......۞
محمد متین خالد
غازی ملک محمد ممتاز قادری شہیدؒ
(سن شہادت: 2016ء)
14 جون 2009ء کو ضلع ننکانہ صاحب کے ایک نواحی گاؤں اٹانوالی میں عیسائی مذہب کی مبلغہ آسیہ مسیح نے قرآن مجید اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں نہایت نازیبا، دل آزار اور گستاخانہ کلمات کہے جن کو دہرانے کی میرا قلم اجازت نہیں دیتا۔ آسیہ مسیح کے شوہر عاشق مسیح نے فوری طور پر وفاقی وزیر اقلیتی اُمور شہباز بھٹی سے رابطہ کیا جن کی مداخلت سے کئی دن تک ملزمہ کے خلاف پرچہ درج نہ ہوسکا۔ وفاقی وزیر کی اس حرکت سے علاقہ بھر میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ بالآخر 19 جون 2009ء کو آسیہ مسیح کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت ایف آئی آر نمبر 326 درج کر لی گئی۔ ملزمہ کو گرفتار کرکے حفاظتی اقدام کے طور ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ بھیج دیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کیس کی تفتیش پنجاب پولیس میں نیک نامی اور دیانت داری کی مثالی شہرت رکھنے والے جناب سید محمد امین بخاری ایس پی شیخوپورہ نے کی، جنھوں نے 26 جون 2009ء کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت آسیہ مسیح کا بیان ریکارڈ کیا اور نہایت جانفشانی، غیر جانبداری اور شفاف طریقے سے اس کیس کے تمام پہلوؤں کی مکمل تفتیش کرتے ہوئے آسیہ مسیح کو واقعی ملزمہ قرار دیا اور اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ملزمہ آسیہ مسیح کا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اور قرآن مجید کے متعلق گستاخانہ باتیں کرنا ثابت ہوا ہے۔ ملزمہ نے یہ تمام باتیں نہ صرف تسلیم کی ہیں بلکہ اپنی غلطی کی معافی بھی مانگی ہے۔
اس مقدمہ کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب جناب محمد نوید اقبال کی عدالت میں ہوئی۔ تقریباً ڈیڑھ سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ 8 نومبر 2010ء کو اس مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج نے جرم ثابت ہونے پر ملزمہ آسیہ مسیح کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت سزائے موت کا مستحق قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا:
”یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس گاؤں میں عیسائی حضرات کی ایک کثیر تعداد مسلمانوں کے ساتھ کئی نسلوں سے آباد ہے۔ لیکن ماضی میں اس قسم کا کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ مسلمان اور عیسائی دونوں ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور اعتقادات کے سلسلے میں برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر توہین رسالت ﷺ کا اس قسم کا کوئی واقعہ پہلے کبھی اس گاؤں میں پیش آیا ہوتا، تو یقیناً فوجداری مقدمات اور مذہبی جھگڑے اس گاؤں میں پہلے سے موجود ہوتے۔ لہٰذا اس دفعہ یقیناً توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب ہوا ہے جس کے باعث مقدمہ درج ہوا اور عوامی اجتماع منعقد ہوا اور یہ معاملہ اس قصبے اور اردگرد میں موضوع بحث بن گیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ نہ تو ملزمہ خاتون نے اپنی صفائی میں کوئی شہادت پیش کی، اور نہ ہی دفعہ 340(2)، ضابطہ فوجداری کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات غلط ثابت کیے۔ مندرجہ بالا بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ استغاثہ نے اس مقدمہ کو کسی شک و شبہ سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ تمام استغاثہ گواہان نے استغاثہ کے مؤقف کی متفقہ اور مدلل انداز میں تائید و تصدیق کی ہے۔ استغاثہ گواہان اور ملزمہ، اُن کے بزرگوں، یا ان کے خاندانوں میں کسی دشمنی کا وجود نہیں پایا جاسکا۔ لہٰذا ملزمہ خاتون کو ناجائز طور پر اس مقدمہ میں ملوث کیے جانے کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ ملزمہ کو اس مقدمہ میں کوئی رعایت دیئے جانے کا بھی کوئی جواز موجود نہیں۔ لہٰذا میں ملزمہ مسماۃ آسیہ بی بی زوجہ عاشق کو زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان موت کی سزا کا مجرم ٹھہراتا ہوں۔“
اس فیصلہ کے خلاف دُنیا بھر کی سیکولر لابیاں، نام نہاد ”انسانی حقوق“ کی تنظیمیں اور عیسائی نمائندے میدان میں آگئے۔ عیسائی پوپ بینڈکٹ نے آسیہ ملعونہ کے دفاع میں احتجاج کرتے ہوئے اس فیصلہ کی مذمت کی اور کہا کہ وہ ایسے کسی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہونے دیں گے۔ پوپ نے ویٹی کن میں منعقدہ خصوصی دُعائیہ تقریب میں آسیہ مسیح کی رہائی کے لیے نہ صرف اس کا نام لے دُعا کرائی بلکہ صدرِ پاکستان سے بھی اپیل کی کہ اس کی سزا معاف کی جائے۔ اُنھوں نے حکومتِ پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قانون توہین رسالت کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ پوپ کے بیان کے بعد 20 نومبر 2010ء کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر عدالت سے مجرمہ قرار دی جانے والی خاتون سے ملنے کے لیے فوراً ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ پہنچے۔ جہاں اُنھوں نے سپرنٹنڈنٹ جیل شیخوپورہ کے وی آئی پی کمرہ میں آسیہ مسیح سے خصوصی ملاقات کی اور
اُسے حکومتی سطح پر ہر ممکن امداد کا یقین دلایا۔ وہ گورنر ہاؤس سے اپنے ساتھ آسیہ مسیح کو ملنے والی سزا کی معافی کی ٹائپ شدہ درخواست بھی ہمراہ لائے تھے۔ گورنر سلمان تاثیر نے میڈیا کی موجودگی میں آسیہ مسیح سے کہا کہ یہ آپ کی طرف سے تحریر کردہ درخواست ہے، آپ اس پر دستخط کردیں تاکہ میں بطور گورنر اس درخواست کو صدر پاکستان تک پہنچا کر سزا کی معافی ممکن بنوا سکوں۔ سزا معافی کے بعد آپ کو یورپ کے کسی ملک میں بھجوا دیا جائے گا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملعونہ آسیہ مسیح کو معصوم قرار دیا اور کہا کہ دُنیا کی کوئی طاقت آسیہ مسیح کو سزا نہیں دے سکتی۔ اُنہوں نے کہا کہ قانون توہین رسالت ایک ’’امتیازی، غیر انسانی اور کالا قانون‘‘ ہے، جس کو ہر حالت میں ختم ہونا چاہیے۔ اس پریس کانفرنس کے ذریعے یورپی ممالک کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ حکومت آسیہ مسیح کو سزا دینے کے حق میں نہیں ہے اور حکومت ایسے تمام قوانین کو بھی ختم کر دے گی جو اقلیتوں کی ’’آزادی اظہار‘‘ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد نوید اقبال، جنھوں نے شان رسالت ﷺ میں گستاخی کا جرم ثابت ہونے پر آسیہ مسیح کو سزائے موت سنائی تھی، کو ٹیلی فون کیا اور نہایت غلیظ زبان استعمال کی۔ اس کے بعد وہ آئے روز مختلف ٹی وی چینلز پر برملا کہتے رہے کہ قانون توہین رسالت ﷺ ضیاء الحق کے دور میں انسانوں کا بنایا ہوا ’’کالا قانون‘‘ ہے، اسے ختم ہونا چاہیے۔ یادرہے کہ سلمان تاثیر اس سے پہلے بھی قانون توہین رسالتؐ کے خاتمہ کے لیے کئی بار متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات دے چکے تھے۔ اس کے ردّعمل میں دی یونیورسٹی آف فیصل آباد سے ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے، نیک بخت طالب علم صاحبزادہ عطا الرسول مہاروی نے 16 نومبر 2009ء کو یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن میں مہمان خصوصی گورنر پنجاب سلمان تاثیر سے احتجاجاً براؤنز میڈل وصول کرنے سے انکار کیا اور حقارت سے کہا کہ آپ نہ صرف گستاخانِ رسول کی سرپرستی کرتے ہیں، بلکہ توہین رسالت ایکٹ 295/C کو ظالمانہ اور ختم کرنے کے بیانات بھی جاری کرتے ہیں۔ اس طرح آپ بذات خود توہین رسالتؐ کے مرتکب ہوئے ہیں، لہٰذا آپ سے میڈل وصول کرنا میں گناہ سمجھتا ہوں۔
30 نومبر 2010ء کو ملک کے جید علما کرام نے قانون توہین رسالت کو ’’کالا قانون‘‘ کہنے اور ملعونہ آسیہ مسیح کی بے جا حمایت و سرپرستی کرنے پر سلمان تاثیر کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ 4 جنوری 2011ء کو گورنر سلمان تاثیر کو ان کے سرکاری محافظ غازی ملک
محمد ممتاز قادری نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ۔ واقعات کے مطابق گورنر پنجاب، اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس ٹو کی کہسار مارکیٹ میں واقع ایک مہنگے ریسٹورنٹ میں اپنے کاروباری دوست شیخ وقاص کے ساتھ کھانا کھا کر واپس اپنی گاڑی کی طرف آرہے تھے کہ ان کے سرکاری محافظ گن مین غازی ملک محمد ممتاز قادری نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس پر وہ شدید زخمی ہو گئے ۔ انھیں فوری طور پر پولیس کی گاڑی میں ڈال کر پولی کلینک لے جایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے ۔ غازی ملک محمد ممتاز قادری نے موقع پر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ۔ گرفتاری کے وقت وہ حیران کن حد تک نہایت پرسکون اور مطمئن نظر آرہا تھا ۔ اس نے ابتدائی تحقیقات میں اعتراف کیا کہ ”گورنر پنجاب نے قانون توہین رسالت کو ’’کالا قانون‘‘ قرار دیا تھا، اس لیے گستاخ رسول کی سزا موت ہے ۔ سلمان تاثیر گستاخ رسول تھا ۔ اس نے چونکہ قانون توہین رسالت کے تحت عدالت سے سزا پانے والی ملعونہ آسیہ مسیح کو بچانے کا عندیہ دے کر خود کو گستاخ رسول ثابت کر دیا تھا۔ اس پر میں نے اپنا فرض پورا کر دیا ۔ حضور نبی کریم ﷺ مجھے اپنی غلامی میں قبول کر لیں ۔ موت اور زندگی میں کوئی فرق نہیں“۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں ”اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین پر فساد پیدا ہو جائے مگر اللہ سب جہانوں پر فضل کرنے والا ہے“۔ (البقرہ: 251)
یکم اکتوبر 2011ء کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 2 کے جج سیّد پرویز علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں سلمان تاثیر قتل کیس میں ملک ممتاز حسین قادری کو دو بار سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ۔ ہفتہ کے روز اڈیالہ جیل میں صبح 10 بجے چند منٹ کی سماعت کرتے ہوئے ملک ممتاز قادری کو پہلے انگریزی میں فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا تو اس پر انھوں نے کہا کہ مجھے انگریزی نہیں آتی، لہذا اردو میں بتایا جائے ۔ جس پر عدالت نے کہا کہ ممتاز قادری! آپ کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے الزام میں دو بار سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا دی جاتی ہے۔ ملک ممتاز حسین قادری نے عدالتی فیصلے کی کاپی وصول کرتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا : ”الحمد للہ رب العالمین“۔ یہ سزائے موت نہیں بلکہ اعلان شہادت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے میری محبت کو قبول کر لیا ہے ۔ مجھے سو بار بھی زندگی ملی تو ہر بار گستاخان رسول کو اس انجام سے دو چار کرتا رہوں گا۔ عاشقان رسول میری خوش بختی پر مٹھائیاں تقسیم کریں ۔ ملک ممتاز حسین قادری نے سزا کے بعد اپنے سیل نمبر 3 میں ملاقات کرنے والوں کو آبدیدہ کر دیا ۔ ملک ممتاز
کے والد ملک بشیر اعوان ، بھائی نذیر اعوان اور تاثیر اعوان کے علاوہ وکیل صفائی راجہ شجاع الرحمن نے سیل نمبر 3 میں خصوصی ملاقات کی جو 35 منٹ تک جاری رہی۔ والد نے بیٹے کو دیکھ کر تین بار اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور الحمد للہ کہتے ہوئے بیٹے کا ماتھا چوم کر گلے لگا لیا۔ ممتاز قادری اس موقع پر انتہائی خوش تھا اور اپنے والد کو عدالتی فیصلے پر مبارکباد دی۔ انھوں نے وکیل صفائی کو دیکھ کر شکوہ کیا کہ آپ خالی ہاتھ آگئے ہیں ،مٹھائی کہاں ہے؟ ممتاز قادری نے کہا کہ خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شہادت کے لیے چن لیا ہے۔ ممتاز قادری نے سب کو سیل میں بٹھا کر سورۃ کوثر کی تلاوت کی اور اس کے بعد ”رسول اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر“ نعت پڑھی۔ ممتاز قادری کے بھائی غمزدہ تھے مگر ایک دوسرے کو مبارک بادیں دیتے رہے۔
6 اکتوبر 2011ء کو ملک ممتاز حسین قادری کے وکیل نے اس فیصلہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعہ 6 میں جن بنیادی نکات کا ذکر ہے، ان کا اس کیس میں اطلاق نہیں ہوتا۔ 7 اکتوبر 2011ء کو مذہبی جماعتوں کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال، مظاہرے اور ریلیاں منعقد ہوئیں۔ جمعہ کے اجتماعات میں عدالتی فیصلے کے خلاف قراردادیں منظور کی گئیں۔ 9 مارچ 2015ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو ججوں نے ممتاز قادری کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی جہاں 7 اکتوبر 2015ء کو عدالت نے اپیل خارج کردی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کی گئی۔ یہاں بھی 14 دسمبر 2015ء کو عدالت نے نظرثانی اپیل مسترد کردی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ چنانچہ 29 فروری 2016 کو غازی ممتاز حسین قادری کو اڈیالہ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ شہادت کے دوسرے دن یکم مارچ 2016ء کو لیاقت باغ راولپنڈی میں لاکھوں افراد نے آپ کی نماز جنازہ ادا کی۔ بعد ازاں اسلام آباد کے نواح ”بہارہ کہو“ کے قریب آپ کے آبائی گاؤں اٹھال“ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ آج کل یہاں بہت خوبصورت مزار ہے جہاں روزانہ ہزاروں عاشقانِ رسول ﷺ فاتحہ خوانی اور شہید تحفظ ناموس رسالت ﷺ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔
❁......❁......❁
محمد متین خالد
سیالکوٹ کی مجاہد خواتین
حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ (فداہ ابی و امی) کی عزت و ناموس پر ماضی قریب میں اپنی جانیں نثار کرنے والے شہدا میں لاہور کے غازی علم الدین، ہزارہ کے غازی عبدالقیوم، دہلی کے غازی عبدالرشید، تلہ گنگ چکوال کے غازی میاں محمد اور غازی مرید حسین رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ شامل ہیں۔ ناموس رسالت ﷺ پر قربان ہو جانا، انتہائی جرأت و شجاعت اور دینی غیرت و حمیت کا کام ہے۔ یہ ایک ایسی سعادت عظیم ہے جس کے نتیجے میں یہ شہدا بغیر حساب کتاب کے حضور نبی اکرم ﷺ کی نظر التفات حاصل کر کے جنت مکانی ہو گئے۔...... آپ ﷺ کی بعثت سے قبل بھی انسانیت کی ہدایت کے لیے اللہ رب العزت نے اپنے پیغمبر بھیجے۔ حضرت ابراہیم، آپ کے فرزند اکبر حضرت اسماعیل، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام ایسی ہستیاں بھی ہمارے انبیا ہیں اور ان سب پر ایمان لانا ہمارے لیے لازم ہے۔ اگر کوئی مسلمان ان انبیا و رسل پر ایمان نہیں لاتا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے یعنی وہ مسلمان ہی نہیں...... حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو تمام انبیاء علیہم السلام پر اس لیے فضیلت حاصل ہے کہ آپ ﷺ نبی آخر الزماں ہیں، خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد آئندہ کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، یہی ختم نبوت ہے۔
میں خیال کر رہا تھا کہ شان رسالت ﷺ میں دریدہ دہنی کرنے والوں کو سبق سکھانے والے صرف مرد حضرات ہی ہیں اور ایسی خواتین کی مثال بہت کم ملتی ہے جنھوں نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے سلسلہ میں کوئی نمایاں کارنامہ انجام دیا ہو۔ تاریخ اسلام میں ایک انتہائی نڈر اور بہادر صحابیہ حضرت ام عمارہؓ کا نام بھی ملتا ہے جو جنگ احد میں حضور اکرم ﷺ کی حفاظت کے لیے نہ صرف آپ ﷺ کے ساتھ ساتھ رہیں بلکہ کفار سے جنگ بھی کرتی رہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کا بیٹا بھی اسی جنگ میں شریک تھا۔ ایک موقع پر حضرت ام عمارہؓ کی نظر پڑی
کہ ان کے بیٹے کا ایک بازو کٹ گیا ہے تو حضرت عمارہؓ نے فوراً اپنا دوپٹہ بیٹے کے زخم پر باندھتے ہوئے اسے حکم دیا: ”بہادری کے ساتھ کفار سے لڑو، چاہے لڑتے لڑتے شہید ہو جاؤ“....... یہی وجہ ہے کہ جب ہم شہدا کی بہادری اور دلیری کے واقعات پڑھتے ہیں تو ہمارا رواں رواں کھڑا ہو جاتا ہے اور جسم کے ہر رونگٹے سے نعرۂ تکبیر کی گونج سنائی دینے لگتی ہے۔ میرا ذہن مرد و خواتین کی شجاعت اور دلیری کی ادھیڑ بن میں تھا کہ روزنامہ ”امت“ کی ایک چونکا دینے والی رپورٹ میری نظر سے گزری۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
نارووال کے نواحی گاؤں ”رعیہ خاص“ کی رہائشی شہناز بی بی دختر غلام محمد، موضع ننگل مرزا کے عبدالرزاق مغل سے بیاہی ہوئی ہے۔ شہناز کی چھوٹی بہن رضیہ، جس کی عمر 9 یا 10 برس ہوگی، کبھی کبھی اپنی بہن شہناز کے یہاں آتی اور کئی کئی روز تک اپنی بہن کے پاس ٹھہرتی۔ یہ 2004ء کا واقعہ ہے کہ ننگل مرزا کے فضل عباس ولد نذر عباس نے اپنی ایک تقریر میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شان میں (نعوذ باللہ) بعض انتہائی گستاخانہ کلمات کہے۔ فضل عباس کی اس گستاخانہ تقریر کی خبر آن کی آن جنگل میں آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی۔ پہلے تو قرب و جوار کی آبادی نے احتجاج شروع کیا مگر کچھ ہی دیر میں یہ احتجاج پورے شہر میں پھیل گیا اور یہ کشیدگی اس حد تک بڑھی کہ شہر میں بڑے پیمانے پر بدامنی کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ کئی روز تک فضل عباس کے خلاف پسرور شہر میں احتجاجی جلوس نکلتے رہے، بالآخر فضل عباس کے خلاف تھانہ پسرور میں ایف آئی آر نمبر 50/2004، زیر دفعہ 295-A درج کر لی گئی۔ یہ ایف آئی آر اہل سنت والجماعت سیالکوٹ کے ضلعی صدر قاری شفیق ڈوگر کی مدعیت میں درج کی گئی جو خود بھی پسرور کے رہائشی، مشہور سماجی کارکن اور تاجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی دوران حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے فضل عباس خاموشی سے ڈنمارک فرار ہو گیا، کچھ عرصہ بعد اس نے اپنے بیوی بچے بھی وہاں بلا لیے۔ تاہم فضل عباس کبھی کبھار چوری چھپے اپنے دیگر رشتہ داروں سے ملنے کے لیے پاکستان آتا رہا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب یہ سانحہ ہوا تو اس وقت موضع ننگل مرزا میں شہناز کی چھوٹی بہن رضیہ اس سے ملنے آئی تھی اور گستاخی کے مرتکب فضل عباس کے خلاف احتجاج جاری تھا جس کا رضیہ پر بہت زیادہ اثر ہوا۔ دوسری جانب توہین رسالت ﷺ کے مقدمے میں پیش نہ ہونے پر عدالت نے فضل عباس کو اشتہاری ملزم بھی قرار دے دیا۔ مدعی قاری شفیق ڈوگر نے
کچھ عرصہ تو اس مقدمے کی پیروی کی مگر جب ملزم بیرون ملک فرار ہو گیا تو انھوں نے بھی کیس میں دلچسپی لینا کم کر دی اور پھر یہ مقدمہ قریباً غیر فعال ہو چکا تھا۔ رضیہ کے آبائی گاؤں ”رعیہ خاص“ کے قریب ہی موضع ”ازود افغاناں“ واقع ہے، اس بستی کی رہائشی دو خواتین افشاں اور آمنہ، رضیہ کی سہیلیاں ہیں۔ یہ تینوں خواتین پڑھی لکھی اور خصوصاً غازی علم الدین شہیدؒ، غازی عامر چیمہ شہیدؒ اور غازی ملک محمد ممتاز قادری شہیدؒ سے بے حد متاثر تھیں اور ان شہداء کے بارے میں کتب اور دیگر مضامین پڑھتی رہتی تھیں۔
مقدمہ کی پیروی نہ ہونے پر فضل عباس مارچ 2017ء میں پاکستان آیا اور اس نے اپنی عبوری ضمانت کروالی، پھر وہ علاقے میں کھلے بندوں گھومنے پھرنے لگا۔ دریں اثنا فضل عباس کے بعض خیر خواہوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ یہاں پر اس طرح کھلے عام نہ پھرے، کیونکہ اسے دیکھ کر عوام میں اشتعال پیدا ہو سکتا ہے لیکن فضل عباس نے اس مشورہ کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ موضع ننگل مرزا، پسرور شہر کی مغربی جانب قریباً آدھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں پر فضل عباس کے آنے کی اطلاع ان تینوں خواتین (رضیہ، افشاں اور آمنہ) کو بھی ہو گئی اور انھوں نے باہم مشورہ کر کے فضل عباس کو سبق سکھانے کا منصوبہ بنایا۔ رضیہ وقوعہ سے چند روز قبل ہی اپنی بہن شہناز کے گھر موضع ننگل مرزا آ گئی۔ اس دوران اس کا افشاں اور آمنہ سے فون پر رابطہ تھا۔ پھر افشاں اور آمنہ بھی نارووال سے بذریعہ بس رضیہ کے پاس آ گئیں۔ افشاں ایک 30 بور کا پستول بھی اپنے ہمراہ لائی تھی۔
فضل عباس کے چچا اظہر عباس شمسی پیری مریدی بھی کرتے تھے اور لوگ دم اور تعویذ کے لیے ان کے پاس آتے رہتے تھے۔ 19 اپریل 2018ء رضیہ، افشاں اور آمنہ برقعے پہن کر اظہر عباس کے گھر پہنچ گئیں اور ان سے سر درد کے دم کی درخواست کی۔ دم کروانے کے بعد یہاں کے رواج کے مطابق انھیں کچھ رقم بطور نذرانہ بھی پیش کی۔ پھر ان سے کہا کہ فضل عباس کو بلا دیں تاکہ وہ ہمیں سڑک تک چھوڑ آئیں۔ فضل عباس اس وقت گھر کے قریب ہی ڈیرے پر موجود تھا۔ چچا کے بلانے پر وہ آ گیا اور ان خواتین کو سڑک تک چھوڑنے کے لیے ساتھ ہو لیا۔ راستے میں چلتے چلتے اچانک افشاں نے فضل عباس کی طرف گھوم کر پستول سے فائرنگ کی اور گولی سیدھی اس کے سینے پر دائیں جانب لگی۔ دوسری گولی چیمبر میں پھنس جانے کی وجہ سے افشاں مزید فائر نہ کر سکی۔ اس دوران فضل عباس زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ تینوں
خواتین آہستہ آہستہ چلتے ہوئے سامنے سٹور پر پہنچیں اور وہاں اطمینان سے کولڈ ڈرنک لے کر پینے لگیں۔ فائر کی آواز سن کر گاؤں کے لوگ وہاں اکٹھے ہونے لگے تھے۔ کچھ لوگوں نے فضل عباس کو طبی امداد کے لیے اٹھانے کی کوشش کی تو خواتین نے انھیں پستول کے زور سے پیچھے ہٹا دیا۔ اس دوران پولیس کو اطلاع ہو چکی تھی۔ پولیس ٹھیک پون گھنٹے بعد وہاں پہنچی۔ اس پورے دورانیے میں رضیہ، افشاں اور آمنہ بجائے فرار ہونے کے سکون سے وہیں بیٹھی رہیں۔ پولیس نے خواتین کو گرفتار کرنے کے علاوہ زخمی فضل عباس کو اٹھا کر ہسپتال پہنچایا۔ تینوں خواتین کو جب پولیس وین میں تھانے لایا جا رہا تھا تو وہ راستے میں فضل عباس کے واصل جہنم ہونے کی دعائیں کرتی رہیں۔ بعدازاں حوالات میں انھیں فضل عباس کے مرنے کی اطلاع دی گئی تو اس پر ان خواتین نے پر جوش نعرے لگائے ، درود شریف پڑھا اور نعت خوانی کی۔
ان خواتین نے پولیس کو اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ انھوں نے جو بھی کیا، اس کے لیے انھیں قطعاً کوئی شرمندگی نہیں، بلکہ انھیں بہت اطمینان ہوا ہے اور انھوں نے گرفتاری اس لیے دی تاکہ ان کے گھر والوں کو پریشان نہ ہونا پڑے۔ تھانہ پسرور میں اس واقعہ کی ایف آئی آر نمبر 12/2018، زیر دفعہ 302، 34، 109 مقتول کے چچا اظہر عباس کی مدعیت میں درج کی گئی۔ ایف آئی آر میں (1) رضیہ (2) اس کی ہمشیرہ (3) بہنوئی عبدالرزاق مغل (4) افشاں (5) آمنہ اور (6) قاری شفیق ڈوگر کو ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا۔ مقتول کی عمر 50 برس جبکہ تینوں خواتین کی عمریں 22 سے 30 سال کے درمیان ہیں۔ سب انسپکٹر تھانہ پسرور صدر سعید احمد نے بتایا کہ ابتدائی طور پر رضیہ، افشاں اور آمنہ ہی گرفتار کی گئی ہیں جنھیں مقامی مجسٹریٹ نے 14 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔ اس بات کا پتہ نہیں چل سکا ہے کہ آیا یہ جرم انھوں نے خود کیا یا کسی کے اکسانے پر ایسا کیا ہے۔ ابھی تک یہی پیش رفت ہو سکی ہے کہ ان تینوں خواتین نے ملزم فضل عباس کو قتل کرنے کے لیے یہ پستول 5 ہزار روپے میں ایک لڑکے سے خریدا تھا۔
تینوں خواتین نے دوران ریمانڈ بتایا کہ ان کا کسی بھی مذہبی جماعت یا مذہبی راہنما سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انھوں نے یہ قتل کسی کے اکسانے پر کیا ہے۔ فضل عباس کے قتل کا فیصلہ ان کا ذاتی تھا۔ نیز پولیس نے اس لڑکے کی تلاش شروع کر دی جس سے انھوں نے 5 ہزار روپے میں پستول خریدا تھا۔ بعدازاں اسد خان نامی یہ لڑکا بھی گرفتار ہو گیا۔ یہ نوجوان افشاں کی
فیملی ہی میں پلنے والا لڑکا ہے۔ پولیس تفتیش میں اس نے بتایا کہ اس نے بھائی کے کہنے پر پستول گھر پہنچایا تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ پستول فضل عباس کو قتل کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔ اسد خان کے وکیل نے اس کی ضمانت کے لیے درخواست دائر کی اور پھر اسد خان اور افشاں بی بی کی درخواست ضمانت منظور ہو گئی۔ ان لڑکیوں کے موبائل فون بھی ایکسپرٹس سے چیک کروائے گئے مگر اس بات کا کوئی سرا ہاتھ نہیں لگ سکا کہ انھوں نے فضل عباس کو کسی دیگر پارٹی کے کہنے پر جہنم رسید کیا ہے۔ فضل عباس کے چچا اظہر عباس نے عدالت میں ایک درخواست گزاری کہ اس مقدمہ قتل میں دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل کی جائے مگر عدالت ہذا نے یہ درخواست مسترد کردی۔ دریں اثنا قاری شفیق ڈوگر کو اس قتل میں ملزم نامزد کرنے پر یہاں کی مقامی آبادی نے سخت احتجاج کیا۔ شفیق ڈوگر کے بیٹے محمد زبیر کا کہنا ہے کہ ہاں ، یہ ضرور ہے کہ شفیق صاحب نے تیرہ سال پہلے فضل عباس کے خلاف توہین رسالت ﷺ کا مقدمہ درج کروایا تھا جو فضل عباس کے ملک چھوڑنے پر ڈوگر صاحب نے بھی مقدمہ چھوڑ دیا تھا۔ اب اتنے برسوں بعد اسے فضل عباس کے قتل میں نامزد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ مدعی پارٹی نے مقدمہ میں ان کے والد کا نام محض انتقامی کارروائی کے طور پر شامل کیا ہے۔
پولیس ، فضل عباس کے قتل کا چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کر چکی ہے۔
محمد متین خالد
گستاخ مصنفین ، بلاگرز اور ان کا انجام
اسلام اپنے مخالفین کے جذبات کا اس قدر لحاظ رکھتا ہے کہ ان کے جھوٹے اور باطل عقائد کے خلاف مخصوص آداب و حدود سے متجاوز ہو کر رائے زنی نہیں کرنے دیتا تو حقیقت میں وہ غیروں کے اس حق کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ جو عقائد چاہیں رکھیں اور جن آرا کو چاہیں اختیار کریں، انھیں جبراً عقائد کو چھوڑنے اور رائے تبدیل کرنے کی سطح پر نہیں لایا جائے گا۔ البتہ جس طرح ان کی دل آزاری کی مسلم معاشرے کے افراد کو اجازت نہیں، ٹھیک اسی اصول کے تحت ان کے لیے بھی ہرگز یہ روا اور جائز نہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑائیں، قرآن کی توہین کریں یا حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ایسی ہرزہ سرائی اور بدزبانی کریں جو مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرے۔ وہ اپنے عقائد پر قائم رہنے میں آزاد ہیں لیکن اسلامی عقائد پر حملے کرنے کو ان کا حق آزادی اظہار نہیں مانا جاسکتا۔ آج کے معروف و مشہور افکار میں سے وہ چاہیں تو سیکولر ازم کو اپنائیں یا کمیونزم یا سوشلزم کو۔ مغربی تہذیب کے گن گائیں یا عیسائیت و یہودیت میں سے کسی کے محاسن گنوائیں۔ لیکن انھیں اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی کہ مسلمان معاشرے میں رہتے ہوئے وہ اسلام کے خلاف جو چاہیں کہتے پھریں اور کہنے میں جو انداز اور جو الفاظ چاہیں، استعمال کرتے پھریں۔ عمل اور ردعمل اور علت اور معلول کا قانون ہر کہیں بروئے ظہور آتا ہے۔ مسلمان کے عقائد پر حملہ ہوگا، اس کے دین کی تحقیر کی جائے گی، اس کے اساسات ایمان پر وار ہوگا اور اس کے مرکز عقیدت پر ضرب لگائی جائے گی، اس کے نبی ﷺ اور قرآن کے بارے میں زبان درازی کا مظاہرہ ہوگا تو اس کے اندر غیظ و غضب کے جذبات ابھرنا ناممکن اور غیر فطری نہیں ہوگا۔ مغرب کا دینی حمیت سے بے گانہ معاشرہ اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ مسلمان کے لیے دین و ایمان کی کیا قدر و قیمت
ہے۔ اس معاشرے کی بے روح دانش یہ جانتی ہی نہیں کہ مسلمان بے عمل اور گناہ گار تو ہو سکتا ہے لیکن اگر اس کے اندر دینی حس جاری و ساری ہو تو وہ بے غیرت ہرگز نہیں ہو سکتا۔ مسلمان ناموس دین اور آبروئے رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے جان کو قربان کر دینا بہت کم قیمت سمجھتا ہے۔ وہ راہ حق میں جان کا نذرانہ دے کر بھی بہ انداز تاسف یہی کہتا ہے :
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں جنم لینے والے خوفناک فتنوں میں ایک بڑا فتنہ فکری الحاد کا ہے جس کا مقصد امت مسلمہ کو اس کے روشن ماضی سے کاٹ کر اسے دین اسلام کی چودہ سو سالہ متفقہ متوارث تعبیر سے محروم کر دینا ہے۔ یہ نام نہاد روشن خیال طبقہ جو فسطائی طاقتوں اور مغربی آقاؤں کا زرخرید غلام ہے، قرآن وحدیث کی ایسی من مانی تشریحات کرتا ہے جو سراسر توہین کے زمرے میں آتی ہیں۔ اسلام کے مبنی بر فطرت احکامات کو عقل کے ترازو میں تولتا ہے۔ اگر یہ ان کی موٹی عقلوں میں سما جائے تو ٹھیک ورنہ ان کی ایسی تاویلات کرتا ہے کہ الامان الحفیظ ۔ جدیدیت کے اس سیلاب بلا خیز کو ایک طرف تو اسلام دشمن عناصر کا سہارا ہے تو دوسری طرف میڈیا کی پشت پناہی ۔ مغرب کے پروردہ جن بد باطن اور کج فکر لوگوں نے اسلام کی پاکیزہ شبیہ کو مسخ کرنے میں اہم رول ادا کیا، ان میں جہاں ملعون سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین ایسے دین بیزار افراد سر فہرست ہیں، وہاں ذیل کے گستاخ اور دریدہ دہن نام نہاد دانشور بھی شامل ہیں، آئیے، دیکھتے ہیں یہ کون ہیں، کس کے ایجنڈے پر کام کرتے ہیں اور ان کے کیا افکار و نظریات ہیں؟
عزیز نشین
ترکی کا معروف ملحد ادیب عزیز نشین اپنی تحریروں اور تقریروں میں اسلام کی تعلیمات کا جی بھر کر مذاق اڑاتا تھا۔ اس نے اپنی کتابوں میں قرآن، اسلام اور حضور نبی کریم ﷺ کی بے حد توہین کی۔ دین اسلام کا تمسخر اڑانے والے اس ملعون پر کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے مگر بچ گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 1989ء میں اسے ملعون سلمان رشدی کی متنازع کتاب "The Stanic Verses" کا ترکی میں ترجمہ کرنے پر امن و سلامتی کا ایوارڈ دیا۔ مغرب کا یہ اقدام اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ اسلامی شعائر واقدار کی تضحیک اور توہین رسالت ﷺ کو
آزادی اظہار رائے سمجھتا ہے:
گیانی پالما
جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ اپنی کتاب ”ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت“ میں لکھتے ہیں:
مسلمانوں کی نفرت اور غم وغصہ صرف ”شیطانی آیات“ کے رسوائے زمانہ مصنف رشدی تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اس گندی اور ناپاک کتاب کے اسپانسر، پبلشر اور ناشروں کی شرارتوں کو بھی وہ برداشت نہ کر سکے۔ اسی سلسلہ میں ٹوکیو کا ایک واقعہ لاہور کے ایک سرفروش نوجوان عدنان رشید سے متعلق ہے۔ رشدی کی اس کتاب کا جاپانی زبان میں ترجمہ کرانے والے اٹلی کے ایک یہودی ایجنٹ گیانی پالما پر اس شاہین بچہ نے اس وقت قاتلانہ حملہ کر دیا جب کہ وہ ٹوکیو میں اس کتاب کی تقریب رونمائی کے لیے وہاں کے انٹرنیشنل پریس کلب میں افتتاح کرنے کے لیے آیا ہوا تھا۔ اس حملہ کا حال خود عدنان رشید کی زبانی سنئے، جو اس نے جاپان سے اپنی رہائی کے بعد لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کیانی ہال میں سنایا:
”یہ واردات اس طرح ہوئی کہ اٹلی کے ایک اسپانسر پبلشر گیانی پالما نے سلمان رشدی کی کتاب ”شیطانی آیات“ (The Satanic Verses) کا ترجمہ جاپانی زبان میں ”ہتوشی آگاشی“ سے شائع کرایا، جس کی سیل کے لیے ریڈیو، ٹیلی ویژن اور پرنٹ میڈیا میں زبردست پبلسٹی شروع ہو گئی۔ جس پر جاپان کے اور جاپان میں باہر سے آئے ہوئے مسلمانوں میں بے چینی اور تشویش پیدا ہوئی۔ یہ تو ہم آپ سب جانتے ہیں کہ پاکستان، دین اسلام اور خاص طور پر تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے معاملے میں سب سے پیش پیش رہا ہے۔ چنانچہ جاپان میں پاکستان ایسوسی ایشن کے چیئرمین حسین خان اور سیکرٹری جنرل رئیس صدیقی اور ٹوکیو میں رہنے والے مسلمان، جن میں، میں بھی شامل تھا نے یہ طے کیا کہ پہلے ہم پر امن طریقہ سے حکومت جاپان سے اپیل کریں گے کہ وہ اس کتاب کی اشاعت کو رکوانے کا انتظام کر دے۔ اس سلسلہ میں ہمارے وفد مسلسل ٹوکیو پولیس کمشنر اور دوسرے متعلقہ افسران سے ملتے رہے لیکن انھوں نے معذوری ظاہر کی کہ جاپان کا قانون انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
13 فروری 1990ء کو انٹرنیشنل پریس کلب ٹوکیو میں اس شیطانی کتاب کی رونمائی
کا اعلان ہوا۔ ہم نے 11 فروری کو ٹوکیو میں ایک پرامن جلوس نکالا اور کانفرنس کے منتظمین سے مطالبہ کیا کہ اس کتاب کی اشاعت روک دی جائے اور اس کانفرنس کو منسوخ کیا جائے، جو اس کتاب کی رونمائی کے لیے منعقد ہو رہی ہے لیکن نہ تو منتظمین نے اور نہ حکومت جاپان نے ہمارے اس احتجاجی جلوس کا کوئی نوٹس لیا۔ بالآخر ایک طے شدہ منصوبہ کے تحت میں 13 فروری کو ایک پریس مین (Press Man) کے ہمراہ جرنلسٹ بن کر اس کلب میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا، جس کے باہر اور اندر سخت حفاظتی انتظامات تھے۔ کتاب کی رونمائی کراتے ہوئے اٹلی کے اس یہودی ایجنٹ گیانی پالما نے پہلے تو مسلمانوں کا مذاق اڑایا، جو اس کتاب کی اشاعت کے سلسلہ میں ہنگامہ آرائی کر رہے تھے، جسے میں نے بمشکل ضبط کیا لیکن جب اس نے ہمارے رسول پاک ﷺ کے بارے میں کتاب کے حوالہ سے چند ریمارک پاس کیے تو پھر مجھ سے ضبط نہ ہو سکا اور نہیں معلوم مجھ میں اس وقت کہاں سے اتنی طاقت آگئی تھی کہ حفاظتی گارڈ کی موجودگی میں، میں نے جھپٹ کر اس ملعون کو گرا لیا اور کوشش کی کہ اپنے سٹیل کے نوکدار پین (Pen) کو اس کی گردن کے آر پار کر کے اس کو جان سے مار دوں لیکن فوراً ہی سیکیورٹی فورس نے پوری قوت سے مجھے دبوچ لیا اور پین کو میرے ہاتھ سے چھین کر بڑی مشکل سے پالما کو مجھ سے چھڑا لیا۔ مجھے بری طرح سے زدوکوب کرنے کے بعد گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا گیا۔ جاپان میں مجھ پر مقدمہ چلا اور وہاں کے قانون کے تحت مجھے ایک سال قید کی سزا ہوئی لیکن میری اس کارروائی کے بعد جاپان کے بڑے بڑے اداروں نے اس شیطان کی کتاب کو فروخت کرنا بند کر دیا۔
میری اس گرفتاری کے خلاف ٹوکیو میں جاپانی اور دیگر ملکوں کے مسلمانوں نے جلوس نکالنے شروع کیے۔ ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے جاپان کے سفارت خانہ سے میری رہائی کے سلسلہ میں رابطہ قائم کیا۔ پاکستان میں سیاسی تنظیموں، اداروں، سٹوڈنٹس یونینز اور تاجروں نے بھی میری گرفتاری کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے۔ پریس نے بھی میری بھرپور حمایت کی۔ شاید اسی وجہ سے وقت سے پہلے مجھے رہا کر کے ملک بدر کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد سب سے پہلے میں یہاں آپ سب حضرات کے خلوص اور محبت کا شکریہ ادا کرنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور آپ کی معرفت پاکستان اور دنیا کے تمام مسلمان بھائیوں، بزرگوں اور
دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، جن کی دعائیں اور ہمدردیاں میرے شامل حال رہی ہیں۔ لیکن افسوس مجھے صرف اس بات کا ہے کہ شیطان رشدی کے ایجنٹ اور اس کی ناپاک کتاب کے سپانسر پبلشر پالما کو ختم کر کے لاہور کے شیر دل جوان غازی علم الدین کی طرح مجھے شہادت نصیب نہ ہوسکی، جو میری دلی آرزو تھی۔ سیکیورٹی فورس اور پولیس کی بھاری جمعیت کی مداخلت کی وجہ سے وہ بزدل پالما میرے ہاتھوں سے بچ کر بھاگ جانے میں کامیاب ہو گیا۔ بہر حال جب بھی مجھے موقع ملے گا ، ان شاء اللہ ، رشدی اور اس کے ایجنٹوں کو واصل جہنم کر کے چھوڑوں گا۔“
ادیب نجیب
مصر کا معروف ادیب نجیب محفوظ اپنی تحریروں میں اسلام کی تعلیمات کا مذاق اُڑاتا تھا۔ اس کا ناول ”غیبلوی کی اولاد“ نہایت متنازع اور دل آزار تھا۔ اس ناول میں اللہ تعالیٰ، انبیاء کرام اور بالخصوص حضور نبی کریم ﷺ کی توہین کی گئی تھی۔ یہ ناول بیروت سے 1967ء میں شائع ہوا تھا۔ اس ڈرامائی ناول کے مطابق ایک بڑی جاگیر ہے، جس کا مالک ”الجبلاوی“ خدا بنا بیٹھا ہے۔ اس کا چھوٹا بیٹا آدم ، نافرمان ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں ایک گلی تعمیر ہوتی ہے، پھر چار بطل جلیل یعنی ہیرو سامنے آتے ہیں، جن میں سے تین کے نام موسیٰ، عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ ہیں ، چوتھا سائنس دان ہے۔ چاروں اس گلی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور اس گلی کے بدمعاشوں کو ٹھکانے لگانا چاہتے ہیں۔ 1975ء میں نجیب نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ گلی کے بدمعاش دراصل ناصر کے فوجی افسروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس ناول کو 1981ء میں ادب کا نوبل انعام ملا جس سے مزید اس ناول کی مخالفت بڑھ گئی۔ ایک مسلمان نے نجیب پر چاقو سے قاتلانہ حملہ کیا مگر وہ بچ گیا۔ اس کے دوسرے ملحدانہ ناول ”اولا حاوتنا“ پر نوبل پرائز دیا گیا۔ اس ناول میں مصنف نے خدا کو ”الجبلاوی“ (ایک ظالم جاگیردار) اور دنیا کو ”بستی“ کی علامت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے الٰہی صفات پر ملحدانہ زہر افشانی کی ناپاک جسارت کی ۔ یہ ناول اپنے فکری مواد کے علاوہ فنی معائب کا بھی شاہکار ہے اور خود مغربی ناقدین نے ناول کے مطلوبہ ادبی اور فنی محاسن سے اسے عاری قرار دیا ہے۔ لیکن ستم بالائے ستم کہ یہ ناول بھی نوبل پرائز کا مستحق ٹھہرا۔ ظاہر ہے کہ نوبل پرائز کی انعام یافتگی کی کشش کا باعث اسلام دشمن فکر اور مسلم کش نظریات ہیں اور کیوں نہ ہو، کہ اسلام کے خلاف ہر اُٹھنے والی آواز غیر مسلموں، خصوصاً اہل مغرب کے لیے، مقدس ترین ، فکر انگیز اور قابل احترام آواز ہے، خواہ اس کی آواز میں کتنا ہی ہلکا
اور بے سرا پن کیوں نہ ہو۔
آیان ہرسی علی
ڈچ پارلیمنٹ کی ممبر صومالی خاتون آیان ہرسی علی کی لکھی ہوئی نہایت گستاخانہ اور متنازعہ فلم "Submission" 2004ء میں ریلیز ہوئی جس میں حضور نبی کریم ﷺ کی توہین کی گئی اور دین اسلام کی تصویر کو نہایت مسخ کرتے ہوئے پیش کیا گیا۔ اس فلم کا فلمساز اور پروڈیوسر تھیون وان گوگ تھا جس نے اسلام دشمن طاقتوں کے ایما پر اس فلم کو مکمل کیا۔ اس مختصر فلم کی اشتعال انگیزی کا اندازہ تو اس کو دیکھ کر ہی لگایا جا سکتا ہے جس میں ایک عورت ایسے لباس میں ملبوس ہے جس میں اس کا جسم چھلکتا ہے اور اسی حالت میں وہ نماز ادا کر رہی ہے۔ فلم میں جہاں جہاں آیات قرآنی کی تلاوت ہوئی ہے یا کسی آیت کا حوالہ دیا گیا ہے، اُس موقع پر خاتون کے برہنہ جسم کے کسی حصے پر آیت کو لکھا دکھایا گیا ہے۔ 2004ء میں جب یہ فلم نشر ہوئی تو فلم کے ڈائریکٹر تھیون وان گوگ کو ایک ڈچ مسلمان نے ایمسٹرڈیم میں واصل جہنم کر دیا اور مسلمانوں کے نام پر دھبہ اس عورت کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی۔ جولائی 2005ء میں ہالینڈ میں پیدا ہونے والے 26 سالہ اس مراکشی نوجوان غازی محمد بویری کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ محمد بویری نے عدالت میں اعتراف قتل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اسے دوبارہ موقع ملا تو وہ پھر بھی ایسا ہی کرے گا۔ ملعون تھیون وان گوگ کے جسم میں چاقو کے ساتھ اس غازی نے جو پیغام چھوڑا تھا، وہ اسی عیان کے لیے تھا۔ رکن پارلیمان عیان ہرسی علی اب اپنی زندگی کو بچانے کے لیے پولیس کی نگرانی میں ہے۔ اسے یقین ہے کہ ہالینڈ میں مقیم ایک ملین مسلمانوں میں سے کوئی ایک غازی ضرور اس سے زندگی کی ڈور چھین لے گا، مگر ابھی قدرت کی طرف سے اسے ڈھیل مل رہی ہے۔
آصف محی الدین
بنگلہ دیش میں حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کے حوالے سے سب سے بڑا نام تو ملعونہ تسلیمہ نسرین ہی کا ہے۔ تاہم انٹرنیٹ عام ہونے اور سوشل میڈیا میں بلاگنگ کے رجحانات زور پکڑنے کے بعد اسلامی دنیا کے اس بڑے ملک میں ایسے کئی نام ابھر کر سامنے آئے ہیں جو ان ذرائع ابلاغ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دین اسلام اور شان رسالت ﷺ
میں توہین کا کوئی موقع نہیں گنواتے اور بار بار اسلام کے پیروکاروں اور عاشقان رسول کے غیظ و غضب کو دعوت دیتے رہتے ہیں۔ ان میں سے کئی عبرت ناک انجام سے دو چار بھی ہو چکے ہیں۔ ان ملعونوں میں ایک نمایاں نام آصف محی الدین ہے جو 1984ء میں ڈھاکا میں ایک درمیانے درجے کے سرکاری ملازم کے گھر پیدا ہوا۔ مسلمان گھرانوں کی روایت کے مطابق سکول میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اسے مسجد میں قرآن پڑھنے کے لیے بھی بھیجا گیا۔ لیکن نجانے کیسے وہ نوعمری میں ہی تلمیذ رحمان کے بجائے شیطان کا چیلا بن گیا۔ اس کا کہنا تھا: (نعوذ باللہ ) ”مجھے بہت سی احمقانہ باتیں سکھائی گئیں۔ مثلاً اگر میں نے نیکی کے کام کیے اور نماز روزہ کیا تو مجھے جنت میں حوریں ملیں گی، ورنہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں جلوں گا“۔ بالآخر اس نے صرف 13 سال کی عمر میں خود کو بے دین اور دہریہ (Atheist) قرار دے دیا۔ بعد ازاں اس نے مزید سائنسی تعلیم حاصل کرنا شروع کی تو اس کے ملحد نظریات میں شدت آتی گئی اور اس نے سولہ سال کی عمر سے دین اسلام کے پیروکاروں کے ”غیر سائنسی“ دعووں کو چیلنج کرنا شروع کر دیا اور اس موضوع پر ڈھاکا کے اخبارات میں مضامین شائع کرانا شروع کر دیے۔ اس نے 2008ء میں کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کی اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے گستاخانہ بلاگنگ کے کیریئر کا آغاز کر دیا۔ اپنے بلاگ پر اس کی تحریروں کے پسندیدہ موضوعات، اسلام میں مردوں کو عورتوں پر ”ظلم وستم“ کی اجازت اور ترغیب اور حضور نبی کریم ﷺ کی عائلی زندگی پر گستاخانہ اعتراضات تھے۔ جبکہ وہ اسلام میں مرتد کے لیے سزائے موت کے قانون کے خلاف بھی بار بار آواز اٹھاتا رہا۔ اس حوالے سے رفتہ رفتہ اسے لادین اور گستاخ بلاگرز کے سرغنہ کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ دوسری جانب اس کی گستاخانہ تحریروں کی وجہ سے اسلام پسند حلقوں میں اس کے خلاف غم وغصے کے جذبات شدت اختیار کرتے چلے گئے۔ ان کی طرف سے بنگلہ دیشی حکومت سے ایسے گستاخ بلاگروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑتا چلا گیا۔ لیکن حسینہ واجد حکومت کی طرف سے ایسے کسی احتجاج پر کان نہیں دھرا گیا کیونکہ بھارت سے مستعار لیے گئے بنگلہ دیشی آئین کے مطابق یہ ایک سیکولر ریاست ہے۔ ادھر حسب روایت اپنی ان خدمات پر اس شخص کو مغرب کی طرف سے نوازنے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔ 2012ء میں اسے جرمنی کی طرف سے ”دی باب بیسٹ آف آن لائن ایکٹیوازم ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔ جبکہ ڈوئچے ویلے ٹی وی اور ریڈیو کی طرف سے آصف محی الدین کے بلاگ کو بنگلہ دیش کے
سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگز میں سے ایک قرار دیا گیا۔ جب آصف محی الدین کی دریدہ دہنی حد سے تجاوز کر گئی اور بنگلہ دیشی حکومت سے اس کے خلاف کارروائی کی تمام التجائیں بے سود رہیں تو جنوری 2013ء میں چار نوجوانوں نے آصف محی الدین کے گھر کے سامنے اس پر چاقوؤں سے حملہ کر دیا۔ تاہم شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ جانبر ہونے میں کامیاب رہا۔ اس حملے کے بعد وہ کچھ عرصے تک پوشیدہ اور منظر عام سے غائب رہا۔ لیکن پھر اس نے پہلے سے بھی زیادہ زور و شور سے پبلک بلاگنگ ویب سائٹ www.somewhereinblog.net پر اپنی شیطانی تحریروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس کے جواب میں گستاخ بلاگز کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ”حفاظت اسلام“ کی طرف سے بنگلہ دیش میں توہین رسالت ﷺ کا قانون نافذ کرنے کے مطالبے کے ساتھ ایک عظیم الشان جوابی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں لگ بھگ دس لاکھ شرکا شامل تھے جو گستاخوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان ملعونوں کو کیفر کردار تک پہنچانے والوں کے لیے خطیر انعامات کے اعلانات بھی کیے گئے۔ بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے طاقت کے زور پر مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں 32 مظاہرین شہید ہو گئے اور دارالحکومت ڈھاکہ میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ تاہم گستاخ بلاگروں کے خلاف احتجاجی مہم کمزور پڑنے کے بجائے مسلسل زور پکڑتی گئی۔ بالآخر بنگلہ دیشی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور وزیر اعظم حسینہ واجد نے ایسے بلاگروں کے خلاف، آئین میں موجود مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے قانون کے تحت اقدامات کا اعلان کیا جس کے تحت بنگلہ دیش ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی طرف سے آصف محی الدین اور چند دیگر بلاگرز کے بلاگز بند کر دیے گئے اور www.somewhereinblog.net سمیت کئی ویب سائٹس بلاک کر دی گئیں۔ تاہم ان اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے گستاخ بلاگرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کا مطالبہ جاری رہا۔ چنانچہ حسینہ حکومت کو اپریل 2013ء میں آصف محی الدین اور تین دیگر بلاگرز کو گستاخانہ تحریروں پر گرفتار کر کے جیل بھیجنا پڑا، جبکہ ایک اخبار ”امردیش“ پر بھی گستاخانہ مضامین چھاپنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ان اقدامات پر حکومت کو ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ آزاد خیال اور لادین بنگالی طبقے کی سب سے نمایاں ویب سائٹ ”مکتومونا“ کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں بلاگرز کو گرفتار کر کے
آزادی اظہار کا حق کچلنے پر حکومت سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ان ”قلمکاروں“ پر تشدد کے خدشے کا اظہار کیا گیا تھا۔ یہی نہیں، سینٹر فار انکوائری (CFI) نامی ادارے کی طرف سے امریکی سیکرٹری جان کیری سے مطالبہ کیا گیا کہ بنگلہ دیشی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ دین اسلام پر تنقید اور توہین رسالت ﷺ کے مرتکب لادین بلاگرز کی گرفتاری جیسی پالیسی سے پسپائی اختیار کرے۔ بہت سی دیگر طاقتور تنظیموں کی طرف سے بھی ان بلاگرز کی فوری رہائی کے لیے زبردست دباؤ ڈالا گیا، اس کے ساتھ ہی زیر حراست گستاخ بلاگرز کی رہائی کے لیے دنیا بھر میں مظاہرے کرائے گئے۔ جبکہ ان ہی جیسے دیگر گستاخ بلاگرز نے بھی ان بلاگرز سے اظہار یکجہتی کیا۔ ان میں ملعون سلمان رشدی، ملعونہ تسلیمہ نسرین، ملعون ہیمنت مہتا، ملعونہ مریم نمازی، ملعون پی ایم مائرز، ملعون اوبجیت رائے، ملعون انوایم، ملعون قیوم چوہدری، ملعون رامیندو موجمدار اور ملعون ظفر اقبال شامل تھے۔ ان میں سے تین بلاگروں کو بالآخر ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ تاہم عدالت نے آصف محی الدین کو ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کر دیا اور 2 جون 2013ء کو اسے جیل بھیج دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ معاملہ ذرا سا ٹھنڈا پڑتے ہی تین ماہ بعد اسے بھی رہا کر دیا گیا۔ اس پر عائد تمام الزامات جوں کے توں برقرار ہیں۔ تاہم وہ ان کی جواب دہی کے لیے عدالت کے سامنے پیش ہونے کے بجائے جرمنی کی جانب سے دی گئی شہریت حاصل کر کے وہاں کے شہر برلن میں عیاشی کی زندگی گزار رہا ہے اور اپنے بلاگ پر مسلسل دین اسلام کی تعلیمات اور شان رسالت ﷺ میں توہین کا مرتکب ہو رہا ہے۔
راجب
بنگلہ دیش کا ایک اور گستاخ بلاگر، راجب، اسلام اور شان رسالت ﷺ کے خلاف اپنے مضامین دو ویب سائٹس پر فرضی نام سے شائع کرتا تھا۔ اسے بھی گستاخ بلاگرز میں سرخیل کی حیثیت حاصل رہی۔ اسے اس اعتبار سے سب سے زیادہ چالاک و مکار قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس نے اعلانیہ دہریہ ہونے کے باوجود اپنی خبیثانہ تحریروں پر حب الوطنی کا نقاب اوڑھ رکھا تھا۔ وہ نام نہاد جنگ آزادی میں مفروضہ جنگی جرائم کے مرتکبین کے خلاف کارروائی کے مطالبات کی آڑ میں تعلیمات اسلام اور حضور نبی اکرم ﷺ کی سنتوں اور حیات مبارکہ کا (نعوذ
باللہ) مذاق اڑایا کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے حسینہ واجد کے قریبی ساتھیوں اور بھارت نواز حلقوں میں بھی گہرا اثر ورسوخ حاصل تھا۔ اس کی اسلام اور شان رسالت ﷺ میں توہین پر مشتمل تحاریر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو جماعت اسلامی کے کھاتے میں ڈال کر دبا دیا جاتا تھا۔ راجب پیشے کے اعتبار سے آرکیٹیکٹ تھا، لیکن اس کی دلچسپی کا اصل مرکز گستاخانہ بلاگنگ ہی تھا۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے اپنی غلیظ تحریروں سے اپنے تعلق پر مزید پردہ ڈالنے کے لیے Somewhereinblog.net,amarblog.com اور nagorikblog.com جیسی ویب سائٹس پر ’’تھابا بابا‘‘ کے فرضی نام سے دریدہ دہنی کیا کرتا تھا۔ راجب کا منتخب کردہ یہ فرضی نام نہ صرف اس کے دل کے چور کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ دین اسلام اور شان رسالت ﷺ کے خلاف اس کے خبث باطن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ کیونکہ بنگالی زبان میں لفظ ’’تھبا‘‘ کھلی ہتھیلی یا پنجے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا ایک عمومی مفہوم ’’لعنت‘‘ بھی لیا جاتا ہے۔ لہٰذا بنگلہ دیش کے اسلام پسند حلقوں کی طرف سے راجب کے خلاف اعتراضات میں اس فرضی نام ( تھبا بابا یعنی لعنت دینے والا بابا ) کو بھی مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ وہ اسلام یا شان رسالت ﷺ میں توہین پر مبنی ہر تحریر کی ابتدا اور اختتام ’’تھبا‘‘ کی گردان سے کیا کرتا تھا۔ ان تمام مکاریوں کے باوجود حسینہ واجد کی حکومت پر ملعون راجب کے خلاف کارروائی کے مطالبات زور پکڑتے گئے، جس میں حسب روایت جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے حلقے پیش پیش تھے۔ چنانچہ اپنے خلاف ممکنہ کارروائی کا رخ موڑنے کے لیے اس شاطر شخص نے 2013ء کے آغاز میں اپنے ہم روش گستاخ بلاگرز اور عوامی لیگ میں اپنے ہمدرد حلقوں کی مشاورت اور معاونت سے جنگی جرائم کے الزامات میں جماعت اسلامی کے گرفتار رہنما عبدالقادر ملا کو دی جانے والی عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں بدلنے کے مطالبات کو باقاعدہ مہم کی شکل دے دی۔ اس حوالے سے شاہ باغ کے مقام پر احتجاج کی کال دے دی۔ اس احتجاج کے دوران حکومت سے نہ صرف جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیموں کی سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی، بلکہ توہین شان رسالت ﷺ کے خلاف آواز اٹھانے والے تمام اسلام پسند حلقوں، خصوصاً ملعون آصف محی الدین پر قاتلانہ حملوں کی ذمہ دار ٹھہرائی جانے والی نئی تنظیم، ’’حفاظت اسلام بنگلہ دیش‘‘ کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ ان مظاہروں کے جواب میں جماعت اسلامی اور حفاظت اسلام کی قیادت میں جوابی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے حکومت وقت سے
بنیادی مطالبات میں راجب اور اس جیسے توہین رسالت ﷺ کے مرتکب تمام ملعون گستاخوں کو گرفتار کر کے مقدمہ چلانا اور مجرم ثابت ہونے پر سزائے موت دینا شامل تھا۔ ان مظاہروں میں پاکستان کی طرح توہین رسالت ﷺ کے خلاف قانون کے نفاذ کا مطالبہ بھی زور و شور سے سامنے آیا۔ یہی وہ مطالبہ تھا جس پر حسینہ واجد کی حکومت نے ان مظاہروں کو پاکستان پسندوں کی طرف سے بنگلہ دیش سے غداری کی طرف پیش رفت سے تعبیر کرتے ہوئے انھیں طاقت کے زور پر دبانے کا حکم دیا۔ اس کا نتیجہ لگ بھگ تین درجن مظاہرین کی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بننے کی صورت میں برآمد ہوا۔ تاہم ان شہادتوں سے احتجاج مزید زور پکڑ گیا۔ بالآخر حسینہ واجد حکومت کو احتجاج ٹھنڈا کرنے کے لیے گستاخ بلاگروں اور ایسے توہین آمیز مواد کی اشاعت کی ذمہ دار ویب سائٹوں اور اخبارات کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کرنا پڑا۔ اگرچہ اس حوالے سے ملعون آصف محی الدین سمیت کچھ بلاگروں کی عارضی گرفتاری اور ویب سائٹس اور اخبارات پر پابندی جیسے نمائشی اقدامات بھی سامنے آئے۔ تاہم حکومتی پارٹی میں اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے ملعون راجب نہ صرف اپنے خلاف کسی بھی کارروائی سے محفوظ رہا، بلکہ اس نے نئے فرضی ناموں سے اپنی گستاخانہ تحریروں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا۔
15 فروری 2013ء کو راجب نے حسب معمول اپنے ایک نئے بلاگ پر اسلام میں شراب نوشی اور آزادانہ جسمانی تعلقات جیسے ”ذاتی“ افعال کے خلاف سخت سزاؤں پر کڑی تنقید کا حامل ایک مضمون پوسٹ کیا اور اپنے ہم خیالوں سے شاہ باغ میں احتجاج میں بھر پور شرکت کی اپیل کی تاکہ بنگلہ دیش جیسے سیکولر ملک میں بڑھتی ”اسلامی بنیاد پرستی“ کا راستہ روکا جاسکے۔ اسی رات، راجب اپنے زیر انتظام چلنے والی شاہ باغ احتجاجی مہم کے بارہویں روز ڈھاکا کے علاقے میر پور میں واقع اپنے گھر کے باہر قتل کر دیا گیا۔ حملہ آوروں نے پہلے تیز دھار آلوں سے اس کے سر، جبڑے اور شانوں پر زخم لگائے اور پھر اس کا گلا چیر کر کام تمام کر دیا۔ اس کی خون میں ڈوبی ہوئی لاش کی حالت اتنی خراب تھی کہ اس کے قریبی دوستوں کو بھی اسے پہچاننے میں مشکل پیش آئی۔ پولیس کو اس کی لاش کی گردن کے گرد ایک گمچھا (رومال) بھی لپٹا ہوا ملا۔ اس سے کچھ ہی فاصلے پر دو خون آلود کھانڈے ملے جنہیں حملہ آور فرار ہوتے وقت وہاں چھوڑ گئے تھے۔ جبکہ لاش کے پاس سے وہ لیپ ٹاپ بھی پولیس کو ملا، جسے راجب اپنے بلاگز پر گستاخانہ مواد شائع کرنے کے لیے استعمال کیا کرتا تھا۔ تین درجن سے زائد بے گناہ مظاہرین کی موت پر مکمل
بے حسی کا مظاہرہ کرنے والی بنگلہ دیشی حکومت اس ملعون کی ہلاکت پر بجلی کی سی تیزی سے حرکت میں آئی اور وزیر داخلہ محی الدین خان عالمگیر نے راجب کے اہل خانہ کو بہت جلد قاتلوں کی گرفتاری کا یقین دلایا۔ جبکہ وزیراعظم حسینہ واجد تعزیت کے لیے بنفس نفیس ڈھا کا کے پالاش نگر میں واقع راجب کے آبائی گھر پہنچ گئیں۔ اگلے روز راجب کا تابوت شاہ باغ چوک میں لے جایا گیا جہاں سیکولر پسند مظاہرین نے اس کی ہلاکت پر احتجاج کیا، تاہم نماز جنازہ پڑھنے کی کسی نے زحمت نہیں کی اور تابوت کو براہ راست قبرستان بھیج دیا گیا۔
دو مارچ کو حکومت کے شدید دباؤ کے تحت پولیس کے ڈیٹیکٹیو بیورو نے پانچ طالب علم نوجوانوں محمد فیصل بن نعیم عرف دویپ (دیپ)، مقصود الحسن انیق، احسان رضا رمان، نعیم سکد راراد اور نفیس امتیاز کو راجب کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ حکومت کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ گرفتار کیے جانے والے نوجوان ایک نئی انتہا پسند تنظیم انصار اللہ بنگلہ کے ارکان ہیں جو جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے طلبہ ونگ اسلامی چھاتر وشبر کی ذیلی تنظیم ہے۔ حکومت کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو بتایا گیا کہ یہ تنظیم یمن سے تعلق رکھنے والے القاعدہ انوار العولکی کے نظریات سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ جبکہ اسلامی چھاتر وشبر کے رہنما رضوان الآزاد رانا کو قتل کی اس کارروائی کا ماسٹر مائنڈ قرار دے کر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے القاعدہ سے براہ راست تعلق کا دعویٰ بھی کر دیا گیا۔ لگ بھگ تین سال بعد 30 دسمبر 2015ء کو عدالت نے ان پانچوں گرفتار افراد میں سے محمد فیصل بن نعیم کو قتل کا اصل مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی، جبکہ رانا کو بھی مفرور قرار دیتے ہوئے اس کی غیر حاضری میں اسی سزا کا حق دار قرار دیا گیا۔ ایک اور گرفتار ملزم مقصود الحسن کو بھی قتل میں شریک قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ یہی نہیں، ایک اور سرگرم رہنما مفتی جاسم الدین رحمانی سمیت مزید افراد کو پانچ سے دس سال قید کی سزا کا مستحق قرار دیا گیا۔ حکومتی عہدے داروں کے دعوے کے مطابق پانچوں مرکزی ملزمان نے عدالت میں مجسٹریٹ کے روبرو قتل کے ارتکاب کا اقرار کیا تھا۔ وہ پانچوں بااثر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ ان میں سے انیق، رضا اور اراد نے جائے واردات کے معائنے اور راجب کے معمولات کا جائزہ لینے کے لیے قتل سے ایک دن پہلے اس کے گھر کے سامنے کرکٹ بھی کھیلی تھی۔ لیکن ان گرفتاریوں کے باوجود اسلام کے شیدائیوں اور شمع رسالت کے پروانوں کی طرف سے حکومتی سرپرستی میں سرگرم گستاخ بلاگروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا سلسلہ مزید زور پکڑ گیا۔ 7 مارچ 2013ء کو ایک اور گستاخ بلاگر سنی الرحمان کو بھی خنجروں کے وار کر کے جہنم رسید کر دیا گیا۔
اوبجیت روئے
ایک اور گستاخ بلاگر ملعون اوبجیت روئے نے اسلام مخالف توہین آمیز مواد پھیلانے کے لیے ویب سائٹ بنا رکھی تھی۔ اسے مغربی ممالک کی بھر پور سپورٹ بھی حاصل رہی۔ اوبجیت رائے 12 ستمبر 1972ء کو ڈھاکا میں پیدا ہوا۔ اسے بنگلہ دیش میں گستاخ بلاگرز کی سرگرمیوں میں سب سے بڑے مددگار اور پشت پناہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ نہ صرف خود اسلامی تعلیمات پر گستاخانہ طعنہ زنی اور توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہوتا رہا بلکہ اپنے جیسے دیگر دریدہ دہن بلاگرز کے لیے ایک گستاخانہ ویب سائٹ ”مکتومونا“ بھی قائم کر رکھی تھی۔ اوبجیت کو دیگر بنگلہ دیشی گستاخ بلاگرز پر یہ سبقت حاصل تھی کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکی تنظیموں میں گہرا اثر ورسوخ رکھتا تھا۔ وہ ان کے سامنے خود کو ایک روشن خیال (مادر پدر آزاد) مفکر، عقلیت پسند (rationalists)، تشکیک پسند، بے دین اور جنسی آزادی کے علم بردار کے طور پر پیش کر کے خصوصی اہمیت اختیار کر چکا تھا۔ اوبجیت رائے کو اعلیٰ سطحی حلقوں میں بھی خاصا اثر ورسوخ حاصل تھا کیونکہ اس کا باپ اجوئے رائے، ڈھاکا یونیورسٹی میں فزکس کا پروفیسر تھا، جسے حکومت کی طرف سے ایکوشے پدک ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ بہت سے حکومتی عہدے دار اور سیاسی شخصیات اس کے شاگردوں میں شامل تھے جبکہ اوبجیت نے بنگال یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے مکینیکل انجینئرنگ میں بیچلر ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ اس نے سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی سے بائیو میڈیکل انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹریٹ بھی کیا تھا۔ وہ اپنی انجینئرنگ کی تعلیم کے ابتدائی برسوں میں ہی تمام مذاہب پر زہریلی تنقید کے حوالے سے یونیورسٹی میں ”ناستک“ (منکر خدا) کے طور پر مشہور ہو گیا تھا۔ اس نے مئی 2001ء میں لادین حلقوں کے لیے مخصوص یاہو گروپ کی حیثیت سے ”مکتومونا“ کا آغاز کیا۔ لیکن اسے اپنی حد درجہ گستاخ تحریروں کے حوالے سے اپنے جیسے ملعونوں کی طرف سے اس قدر زبردست پذیرائی ملی کہ اس نے ”مکتومونا“ کو ایک باقاعدہ ویب سائٹ کی شکل دے دی۔
اسی دوران اوبجیت رائے بنگلہ دیش سے امریکا منتقل ہو چکا تھا اور وہاں کی ریاست اٹلانٹا کے شہر جیورجیا میں کمپیوٹر انجینئر کی حیثیت سے ملازمت حاصل کر لی۔ رفتہ رفتہ اس کی
ویب سائٹ نے دریدہ دہن بلاگروں کے محور و مرکز کی شکل اختیار کر لی اور اس ویب سائٹ کی گستاخانہ تحریروں کی وجہ سے مغربی ممالک کی طرف سے بھی زبردست حوصلہ افزائی کی جانے لگی۔ جب اس نے 2008ء میں ”مکتومونا“ میں ”ایمان کا وائرس“ (Virus of Faith) کے نام سے ایک حد درجہ ملحدانہ اور گستاخانہ مضامین کا سلسلہ لکھا تو دہریوں کے حلقوں میں اس کی دھوم مچ گئی اور اس ویب سائٹ کی ”خدمات کے اعتراف میں اس کے کرتا دھرتا اوبجیت رائے کو جرمنی کی سب سے بڑی میڈیا کمپنی ڈوچے ویلے کی طرف بابز (بیسٹ آف بلاگز) ایوارڈ کے لیے چن لیا گیا۔ یہ مضامین بعد ازاں کتابی شکل میں شائع ہوئے اور مخصوص حلقوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس کے بعد اس نے اپنی ویب سائٹ پر اپنے پسندیدہ موضوع ”ہم جنس پرستی“ پر بھی Homosexuality: A Scientific and socio-psychological investigation عنوان سے غلیظ مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ حسب سابق اسے آزاد خیال ملکی اور غیر ملکی حلقوں میں زبردست داد و تحسین سے نوازا گیا اور کتاب کی شکل میں بھی اس کی پذیرائی کی گئی۔ تاہم اس کی اصل شہرت اور بعد ازاں اسلام پسند حلقوں میں زبردست نفرت اور تنقید کا سبب بننے والی کتاب کا نام ”فلسفہ کفر“ (Philosophy of Disbelief) تھا جو 2011ء میں منظر عام پر آئی اور آج بھی اس کا شمار گستاخی کے حوالے سے سرفہرست خرافات میں ہوتا ہے۔ یہی وہ موقع تھا جب پہلی مرتبہ اوبجیت رائے کی نہایت قابل اعتراض تحریروں پر عوامی سطح پر منفی ردعمل نمایاں ہوا اور بنگلہ دیشی حکومت سے اوبجیت رائے کی کتابوں پر پابندی لگانے کے مطالبات سامنے آئے۔ لیکن سیکولر حکومت نے اس مطالبے کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دیتے ہوئے کوئی بھی قدم اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس طرح گستاخ ملحدوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ اس سے حوصلہ پاتے ہوئے اوبجیت رائے نے ”ایمان کا وائرس، ایک انقلابی تجزیہ“ (The virus of faith: faith in the evolutionary analysis) کے نام سے اپنی دریدہ دہنی کا سلسلہ مزید آگے بڑھایا۔ اس دوران میں اسلام پسندوں میں اوبجیت کے خلاف ناراضی، بلکہ نفرت شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی تھی اور اوبجیت رائے کے ساتھ ساتھ اس کی کتابیں اور مضامین چھاپنے اور فروخت کرنے والے اداروں کو دھمکیاں موصول ہونے کا سلسلہ بھی زور پکڑ رہا تھا۔ اس کے نتیجے میں ایک بنگلہ دیشی ای کامرس سائٹ
Rokomari.com نے اویجیت رائے کی کتابیں فروخت کرنے کا سلسلہ بند کر دیا۔ تاہم اس وقت تک اویجیت رائے کی بنگالی زبان میں آٹھ کتابیں شائع ہو چکی تھیں۔ اس دوران اویجیت رائے کی تحریریں لادینیت کی تبلیغ سے ہٹ کر مکمل طور پر اسلامی شعائر اور حضور نبی کریم ﷺ کی توہین پر مرکوز ہوچکی تھیں۔ پھر وہ اپنی بیوی سمیت امریکا سے بنگلہ دیش منتقل ہو گیا اور اس کی یہی مہم جوئی بالآخر اس کے کیفر کردار تک پہنچنے کا سبب بن گئی۔
26 فروری 2015ء کی شام اویجیت رائے اپنی بیوی کے ساتھ کتابوں کی ایک نمائش میں شرکت کے لیے گیا جہاں سے وہ دونوں ایک سائیکل رکشا کے ذریعے اپنے ٹھکانے کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کا رکشا رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ڈھاکا یونیورسٹی کے چوراہے کے نزدیک پہنچا ہی تھا کہ دو نوجوانوں نے رکشا روک لیا اور انھیں گھسیٹ کر فٹ پاتھ پر نیچے اتار لیا۔ ان نوجوانوں نے اویجیت کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور نعرۂ تکبیر بلند کر کے اس پر چاقوؤں کے پے در پے وار کیے۔ اسے بچانے کی کوشش میں اس کی بیوی کو بھی کچھ زخم آئے۔ ان دونوں کو ڈھاکا میڈیکل کالج ہاسپٹل لے جایا گیا، جہاں رات ساڑھے دس بجے اویجیت رائے جہنم واصل ہو گیا۔ اویجیت رائے کی ہلاکت کے فوراً بعد ”انصار اللہ بنگلہ دیش“ نامی تنظیم کی طرف سے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ ”گستاخ ٹارگٹ ایک امریکی شہری بھی تھا، یعنی ٹو ان ون۔ 2 مارچ 2015ء کو بنگلہ دیشی پولیس کی ریپڈ ایکشن بٹالین نے فارابی شفیع الرحمان نامی ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا کہ فارابی، اویجیت رائے کی رہائش، شناخت اور نقل و حرکت کے حوالے سے حملہ آوروں کی مدد کرنے میں ملوث ہے۔ جبکہ پولیس کے مطابق فارابی، بلاگز اور سوشل میڈیا ویب سائٹس بشمول فیس بک کے ذریعے اویجیت کو کئی بار دھمکیاں دے چکا تھا کہ ڈھاکا واپس لوٹتے ہی اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اس مرحلے پر بنگلہ دیشی حکومت سے اویجیت کے قتل کی تحقیقات میں امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی کی مدد بھی طلب کر لی۔ 18 اگست 2015ء کو پولیس نے انصار اللہ بنگلہ کے تین مبینہ کارکنان کو گرفتار کر لیا، جن میں سے ایک برطانوی شہری توحید الرحمان ہے جسے پولیس مرکزی منصوبہ ساز قرار دیتی ہے۔ فارابی شفیع الرحمان اور توحید الرحمان کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔
واثق الرحمان بابو
اسی طرح ملعون واثق بابو اسلام مخالف اور توہین رسالت ﷺ پر مبنی سرگرمیوں میں پیش پیش تھا۔ اپنے بلاگ پر چارلی ہیبڈو میں شائع ہونے والا گستاخانہ کارٹون بھی پوسٹ کیا۔ شناخت انتہائی خفیہ رکھی ہوئی تھی پھر بھی اسے ڈھونڈ کر جہنم رسید کر دیا گیا۔ یکم جون 1988ء کو ڈھاکا کے علاقے تیج گاؤں میں پیدا ہونے والا واثق الرحمان عرف بابو بنگلہ دیش کے انتہائی گستاخ بلاگرز میں سے ایک تھا۔ اسے اپنے ملحدانہ اور توہین آمیز خیالات کی وجہ سے اسلام دشمن حلقوں میں سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا تھا۔ وہ ملعون اوبجیت رائے کی ملحدانہ ویب سائٹ ”مکتومونا“ اور پبلک بلاگ سائٹ www.somewhereinblog.net پر ”بے وقوف شخص“ (Stupid Person) کے نام سے اپنا بلاگ چلاتا تھا۔ تاہم لادین اور گستاخ حلقوں میں اس کی شہرت اور مقبولیت کا اصل سبب اس کی طرف سے اپنے فیس بک پیج پر اسلام کی سچائی اور ختم نبوت کے بارے میں اٹھائے جانے والے 52 توہین آمیز، دل آزار اور گستاخانہ اعتراضات تھے، جنہیں کوئی صاحب ایمان سننا یا پڑھنا گوارہ نہیں کر سکتا تھا۔
واثق الرحمان بابو کی ملحدانہ اور گستاخانہ سرگرمیاں دراصل اس کی ملعون اوبجیت رائے سے گہری وابستگی اور اس کے عقائد کی پیروی کی عکاس ہیں۔ بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان غلیظ عقائد کے حوالے سے اوبجیت رائے کو واثق ملعون کے گرو اور پنڈت کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کی گستاخانہ تحریریں نہایت تواتر اور نمایاں انداز میں اوبجیت رائے کی ویب سائٹ ”مکتومونا“ پر شائع ہوا کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ملعون اوبجیت رائے کے جہنم رسید ہونے پر اپنے فیس بک پیج پر ایک ٹوئٹ ہیشٹیگ پر مشتمل تصویر لگائی، جو ”میں اوبجیت ہوں“ (I AM AVIJIT) پر مشتمل تھی۔ اس نے اپنے فیس بک پیج پر بھی اوبجیت کی ہلاکت کا سوگ سیاہ پس منظر میں I AM AVIJIT کی پوسٹ لگا کر منایا تھا۔
گستاخ بلاگر واثق عرف بابو ملعونہ تسلیمہ نسرین کا بھی زبردست پرستار تھا اور اس کی سالگرہ کی اپنے فیس بک پیج پر مبارک باد دیا کرتا۔ تاہم واثق ملعون دراصل اس وقت عاشقان اسلام کی نفرت کا مرکز بنا، جب اس نے گستاخانہ خاکے چھاپنے والے فرانسیسی رسالے چارلی ہیبڈو پر حملے اور اس سے وابستہ ملعونوں کے جہنم رسید ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اس جریدے میں شامل ایک گستاخانہ کارٹون کو اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کیا۔ ان مسلسل گستاخیوں
کے نتیجے میں اسلام پسندوں میں واثق ملعون کے خلاف ناراضی، بلکہ نفرت شدید سے شدید تر ہوتی چلی جارہی تھی اور اسے فیس بک پیج پر دھمکیاں موصول ہونے کا سلسلہ بھی زور پکڑ رہا تھا۔ جب امریکا پلٹ ملعون اوبجیت رائے اپنی گستاخانہ سرگرمیوں کی پاداش میں جہنم رسید ہوا تو واثق الرحمان نے عبرت پکڑنے کے بجائے اپنی سرگرمیاں مزید تیز کر دیں۔ اس کے دوستوں نے اسے خبردار کرتے ہوئے اپنی فیس بک پوسٹس کے حوالے سے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا، لیکن واثق ملعون نے اپنے دوستوں کے خدشات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ اسے کوئی نہیں پہچانتا، کیونکہ اس کے فیس بک پیج پر تو اس کی تصاویر تک موجود نہیں ہیں۔ لیکن اس کی یہ خوش فہمی اس کی موت کے ذریعے دور ہونے والی تھی۔ 30 مارچ 2015ء کی صبح واثق ملعون اپنی رہائش گاہ سے کام پر جانے کے لیے نکلا۔ اس نے پچاس گز فاصلہ ہی طے کیا ہو گا کہ تین نوجوانوں نے خنجروں اور بغدوں کے ساتھ اس پر حملہ کر دیا۔ اس کے چہرے، گردن اور سر پر گہرے زخم آئے اور ڈھاکا میڈیکل کالج اینڈ اسپتال لے جائے جانے پر ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی جبکہ پولیس اس کی تحویل میں موجود ووٹر کارڈ کے ذریعے بمشکل اس کی لاش پہچان پائی۔ ملعون واثق پر حملے کے فوراً بعد پولیس نے دونو نوجوانوں کو اس حملے کے الزام میں گرفتار کر لیا اور جائے واردات سے خون میں لتھڑے آلات قتل بھی برآمد کر لیے۔ دونوں گرفتار نوجوانوں میں سے ایک کو ذکر اللہ کے نام سے شناخت کیا گیا جو چٹا گانگ کے ایک مدرسے کا طالب علم تھا جبکہ دوسرے نوجوان عارفل کو میر پور کے دارالعلوم مدرسے میں زیر تعلیم بتایا گیا۔ پولیس کے مطابق دونوں نوجوانوں نے اپنی کارروائی کا اقرار کر لیا ہے۔ ان کے تیسرے ساتھی کا نام ابو طاہر بتایا جاتا ہے۔ ان دونوں سے تفتیش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ وہ آپس میں دوست ہیں اور گزشتہ کئی ماہ سے واثق کی گستاخانہ تحریروں کی وجہ سے پیچ و تاب کھا رہے تھے۔ بالآخر انھوں نے اسے کیفر کردار تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔
آننت بجوائے داس
بنگلہ دیش کے مشہور شہر سلہٹ میں 1982ء میں پیدا ہونے والے گستاخ بلاگر آننت بجوائے داس نے اپنے کالج کے ابتدائی دنوں میں ہی دہریت کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔ اس حوالے سے اس نے لادین بنگالی مصنف رابندر ناتھ ٹیگور کو اپنا گرو قرار دے رکھا تھا۔ وہ نہ صرف بے باکی سے اپنے ملحدانہ نظریات کا پرچار کرتا، بلکہ دیگر نوجوانوں کو بھی باپ، دادا کا
”فرسودہ“ مذہب چھوڑ کر آزاد روی اور روشن خیالی کی راہ پر گامزن ہونے کی دعوت دیتا تھا۔ وہ اسلام اور ہندو مذہب دونوں کے پیروکاروں کو دہریہ بنانے کے لیے فحش مواد اور فلموں کی مفت فراہمی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے میں ماہر تھا۔ 2005ء میں اس نے سلہٹ ہی میں آزاد خیال لوگوں پر مشتمل ایک تنظیم قائم کی جس میں شامل بیشتر نوجوان شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے تعلق رکھتے تھے۔ اس تنظیم میں نووارد نوجوانوں کو گھیرنے کے لیے مفت ٹیوشن پڑھانے کا جھانسا دیا جاتا اور فحش انگلش لٹریچر کے بنگالی ترجمے اور بعد ازاں پورن فلموں کی اجتماعی نمائش پر لگا کر انھیں رفتہ رفتہ اپنے رنگ میں رنگ لیا جاتا۔ علاوہ ازیں اس تنظیم کے اجتماعات میں مذہب کی غیر سائنسی تعلیمات اور مذہب اور سائنس کے مبینہ باہمی تضادات کو بحث کا موضوع بنایا جاتا تھا۔ اسی دوران آننت بجوائے نے بلاگنگ کے شعبے میں بھی اپنے قدم جمانا شروع کر دیئے اور اس مقصد کے لیے اس نے گستاخانہ اور لادینی تحریروں کے لیے مرکزی حیثیت رکھنے والی بنگالی زبان کی ویب سائٹ ”مکتومونا“ کا انتخاب کیا۔ پھر اس کی تمام تر تحریروں کا رخ لادینیت کے پرچار سے ہٹ کر خالصتاً اسلام دشمنی اور توہین رسالت ﷺ کی طرف ہو گیا۔ اس حوالے سے اسے ملعون اویجیت رائے کی طرف سے زبردست پذیرائی اور سرپرستی حاصل ہوئی اور 2006ء میں اسے ”مکتومونا“ ویب سائٹ کی طرف سے Rationalist Award (عقلیت پسندی کا اعزاز) سے بھی نوازا گیا۔ اسی دوران وہ بطور ایڈیٹر ایک مقامی سائنس میگزین ”جکتی“ (منطق) بھی نکال رہا تھا، جس میں شائع ہونے والی بیشتر گستاخانہ تحریریں اس کی ہوتی تھیں۔ لیکن وہ اس کے مصنف کے طور پر فرضی نام شائع کیا کرتا تھا۔ اپنے سائنسی نظریات کے لیے اس نے دنیا کے سب سے بڑے اور معروف دہریے سائنس دان چارلس ڈارون کو اپنے روحانی استاد کی حیثیت دے رکھی تھی۔ اسلامی تعلیمات پر طنز اور توہین آمیز تحریروں میں وہ چارلس ڈارون کے نظریات کی روشنی میں حضرت آدم علیہ السلام اور دیگر پیغمبروں کی شان میں گستاخی کا عادی تھا۔ اس نے چارلس ڈارون پر ایک کتاب بھی لکھی۔ یہی نہیں، اس نے اپنے ایک دہریے دوست سدھارتھ دھر کے ساتھ مل کر ڈارون کے ہم خیال اسپین نژاد امریکی ماہر حیاتیات فرانسسکو جے ایالہ کی کتاب ”کیا میں بندر ہوں؟“ میں ارتقا کے بارے میں 6 بڑے سوالات“ (Six Big Questions About Evolution: Am I a Monkey) کا بنگالی زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ وہ اپنے ملحدانہ نظریات سے ہم آہنگ عقیدت پسندوں کی ایک تنظیم کا بھی سربراہ تھا۔ تاہم رفتہ رفتہ
اسلام سے اس کے بغض کی نظریاتی جنگ اس وقت ایک عملی سیاسی جدوجہد میں تبدیل ہو گئی، جب اس نے ”گنا جاگرن منچھ“ نامی ایک تنظیم میں سرگرم کارکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کر لی۔
بعض صحافیوں کے مطابق اس نے ملعون آصف محی الدین کو اس کی گستاخانہ تحریروں پر غیظ و غضب کا نشانہ بننے اور بعد ازاں با آسانی جرمنی میں شہریت ملنے کے بعد، اسی کی شہ پر اس مذموم راہ کا انتخاب کیا۔ اس کی طرف سے مختلف یورپی ملکوں کو ”انتہا پسندوں“ سے لاحق خطرات کے دعووں کے تحت سیاسی پناہ کی درخواستیں بھجوائی گئی تھیں۔ جبکہ ملعون واثق اور ملعون اوبجیت رائے کے جہنم رسید ہونے کے بعد اس نے ان کی اموات کو ٹھوس جواز کے طور پر اپنی سیاسی پناہ کی درخواستوں کا حصہ بھی بنایا تھا، لیکن اسے کوئی مثبت جواب نہیں مل سکا۔ بالآخر آننت کے ہمدرد و ہم خیال دوست آصف محی الدین نے اسے بنگلہ دیش سے نقل مکانی کا موقع فراہم کرنے کے لیے ایک ٹھوس منصوبہ تیار کیا۔ مصنفین کی بین الاقوامی تنظیم PEN کی سویڈن کی شاخ کی طرف سے اسے ”یوم آزادی صحافت“ کے موقع پر مئی 2015ء میں سویڈن میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس کا دعوت نامہ بھجوایا گیا۔ لیکن آننت کی بدقسمتی کہ بنگلہ دیش میں سویڈن کے سفارت خانے نے اس بنیاد پر اسے اپنے ملک کا ویزا دینے سے انکار کر دیا کہ وہ سویڈن سمیت کئی یورپی ممالک سے سیاسی پناہ کی درخواست کر چکا ہے۔ اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ سویڈن پہنچنے کے بعد وہ وہیں غائب ہو جانے کی کوشش کرے گا۔ اسی اثنا میں آننت بجوئے کی اپنی آخری منزل کی روانگی کا ویزا کٹ چکا تھا۔ 12 مئی 2015ء میں وہ سلہٹ میں واقع اپنے گھر سے بینک جانے کے لیے نکلا جہاں وہ ملازمت کرتا تھا۔ وہ کچھ ہی دور گیا تھا کہ چار نقاب پوش افراد نے اسے گھیر لیا اور کھانڈوں سے پے در پے وار کر کے شدید زخمی کر دیا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ آنند کو مقامی ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ وہاں پہنچنے سے پہلے ہی جہنم واصل ہو چکا تھا۔ آننت کی ہلاکت پر بنگلہ دیش کے آزاد خیال حلقوں کے ساتھ ساتھ مغربی میڈیا میں بھی زبردست واویلا کیا گیا اور بنگلہ دیشی حکومت کو مجرمانہ غفلت کا مرتکب اور سویڈن کی حکومت اور خصوصاً بنگلہ دیش میں واقع سفارت خانے کو اس کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، جس نے اسے ویزا دینے سے انکار کیا تھا۔ ادھر آننت کی موت کا اس کے ہم خیال اور گستاخانہ کتاب کے ترجمے میں شریک دوست سدھارتھ دھر، نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنی جان کو خطرے کی بنیاد پر چند ماہ بعد سویڈن ہی کی شہریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
اگست 2015ء میں بنگلہ دیشی پولیس نے دو نوجوانوں کو گرفتار کر کے دعویٰ کیا کہ ان کا تعلق انتہا پسند تنظیم انصار اللہ بنگلہ سے ہے اور وہ ایک برطانوی شہری توحید الرحمان کی معاونت سے اوبجیت رائے اور آننت بجوائے داس کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ اس حوالے سے قانونی کارروائی کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔
محمد بن شیخ اولد مخائیتر
اسلامی جمہوریہ موریطانیہ براعظم افریقا کے شمال مغربی حصے میں واقع ایک ایسا ملک ہے، جس کی لگ بھگ سو فیصد آبادی سنی العقیدہ مسلمان ہے۔ 30 دسمبر 2013ء کا ذکر ہے، موریطانیہ کی عربی زبان کی نیوز ویب سائٹ ’’اقلام حرۃ‘‘ پر ’’الدین والدین لمعلمین‘‘ کے عنوان سے محمد الشیخ بن محمد نامی شخص کا ایک مضمون شائع ہوا، جس پر اس کی تصویر بھی موجود تھی۔ موریطانیہ میں لوہاروں کا شمار معاشرے کے سب سے مفلس اور کم تر طبقے میں ہوتا ہے۔ تاہم مذکورہ مضمون میں محمد الشیخ نے نچلے طبقے اور خصوصاً غلاموں سے زیادتیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا گیا تھا کہ یہ طبقہ اپنی غیر انسانی روایات کو برحق ثابت کرنے کے لیے (نعوذ باللہ ) اللہ کے نبی ﷺ کی سنتوں کا سہارا لیتا ہے۔ یہی نہیں، مضمون نگار نے گستاخی کا برملا ارتکاب کرتے ہوئے سراپا رحمت حضور نبی محترم ﷺ کو گستاخانہ القاب سے پکارنے کے علاوہ ان پر اقربا پروری اور حجاز میں یہودی غلاموں پر ظلم و ستم (استغفر اللہ ) کا بہتان بھی لگایا تھا۔ اس مضمون میں دیگر کئی مقامات پر بھی ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جو بدترین توہین رسالت ﷺ کے زمرے میں آتے تھے۔ اس نے مختلف غزوات مبارکہ کے موقع پر حضور نبی کریم ﷺ کے طرز عمل اور ان کی طرف سے کیے گئے مختلف جنگی فیصلوں کو بھی تضحیک کا نشانہ بنایا۔
اقلام کی ویب سائٹ پر اس گستاخانہ مضمون کی اشاعت کے فوری بعد موریطانیہ کی خالصتاً راسخ العقیدہ مسلمانوں پر مشتمل آبادی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور یہ مضمون سوشل میڈیا پر دھڑا دھڑ شیئر کیا جانے لگا۔ اسی اثنا میں ملک کے سرکردہ علما نے مضمون کا جائزہ لے کر متفقہ طور پر فتویٰ جاری کیا کہ یہ مضمون لکھنے والے نے دیدہ و دانستہ توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کیا ہے، وہ اپنی اس دریدہ دہنی کے نتیجے میں مرتد ہو چکا ہے اور اسلامی شرعی قانون کا تقاضا ہے کہ ایسے گستاخ اور مرتد شخص کو سزائے موت سے ہمکنار کیا جائے۔ یہ فتویٰ منظر عام پر آتے ہی عوام کی طرف سے اس گستاخی کے مرتکب شخص کا پتا لگانے اور اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے
مطالبات شدت اختیار کرنے لگے۔ جبکہ مذکورہ نیوز ویب سائٹ کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ اس پر اقلام ویب سائٹ نے وہ مضمون ہٹاتے ہوئے اعلانیہ معذرت کی اور اس کے ساتھ ہی یہ انکشاف بھی کر دیا کہ اس گستاخانہ تحریر کے راقم ، 29 سالہ بلاگر کا پورا نام محمد بن شیخ اولد مخائیتر ہے، جو پیشے کے اعتبار سے اکاؤنٹنٹ ہے اور نواذیبو (موریطانیہ کا دوسرا سب سے بڑا شہر) میں واقع ایک لوڈنگ کمپنی میں ملازم ہے۔ اس وضاحت کی اشاعت کے ساتھ ہی علما، مساجد کے اماموں اور مدارس کے معلمین کی قیادت میں عوام الناس کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان مظاہروں میں محمد بن شیخ اولد کو فوری گرفتار کرنے اور اسلامی قوانین کے مطابق سزائے موت دینے کے مطالبات اس قدر شدت اختیار کر گئے کہ موریطانیہ کی حکومت کو حرکت میں آنا پڑا۔ 2 جنوری 2014ء کو پولیس نے شیخ اولد کو گرفتار کر لیا اور اس پر کرمنل کوڈ کے آرٹیکل 306 کے تحت ارتداد کا مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ تاہم یہ خبریں عالمی میڈیا میں سامنے آنے کے بعد حسب دستور نام نہاد آزادی اظہار کی محافظ عالمی تنظیمیں متحرک ہو گئیں اور شیخ اولد کے خلاف قائم مقدمہ ختم کر کے اسے رہا کرنے کے مطالبات سامنے آنے لگے۔ تاہم عوامی سطح پر شیخ اولد کے خلاف جس قدر شدید جذبات پائے جاتے تھے، اس کے پیش نظر موریطانیہ کے صدر کے لیے ایسا کوئی قدم اٹھانا آسان نہ تھا۔ چنانچہ شیخ اولد کی گرفتاری کے آٹھ دن بعد صدر محمد اولد عبدالعزیز کی طرف سے بیان سامنے آیا ”ہم رسول اکرم ﷺ کی توہین کرنے والے ہر شخص اور ایسا گستاخانہ مواد چھاپنے والوں کے خلاف اللہ کے قانون کا اطلاق کریں گے“۔ تاہم مغربی طاقتوں کے دباؤ کے تحت فوجی آمر حکومت نے شیخ اولد کے خلاف باقاعدہ عدالتی کارروائی کی بھی جرأت نہیں کی اور اسے لگ بھگ ایک سال تک بغیر مقدمہ چلائے جیل میں رکھا گیا۔ جبکہ حکومت کا خیال غلط ثابت ہوا کہ لوگ یہ قصہ فراموش کر دیں گے۔ کیونکہ کچھ عرصہ انتظار کے بعد شیخ اولد کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کر کے اسے سزائے موت دینے کے مطالبات ایک بار پھر زور پکڑ گئے اور جب حکومت نے عوام الناس کی بات سنی ان سنی کر دی تو بہت سے حلقوں کی طرف سے شیخ اولد کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے بھاری انعامات کی پیشکشیں سامنے آنے لگیں۔ ایک معروف عالم ابی اولد علی کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ گستاخ بلاگر کو جہنم رسید کرنے والے کو 15 لاکھ اوقیہ (لگ بھگ پانچ لاکھ روپے) انعام دیا جائے گا۔ جبکہ کاروباری افراد کے ایک گروپ نے شیخ اولد کے سر کی
قیمت 40 لاکھ اوقیہ (لگ بھگ ساڑھے تیرہ لاکھ روپے) مقرر کر دی ۔
شدید ترین عوامی دباؤ کے نتیجے میں بالآخر 23 دسمبر 2014ء کو شیخ اولد کے خلاف نوازیبو کی مقامی عدالت میں مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی جو دو دن چلی۔ عدالتی کارروائی کے دوران شیخ اولد نے اپنے جرم کا اقرار تو کیا، تاہم دانستہ گستاخی کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ تاہم عدالت نے اس کے وکیل کا یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ شیخ اولد کو موت کی سزا دینے کے بجائے دو سال قید کی سزا تک محدود رکھا جائے، کیونکہ آرٹیکل 306 کے تحت مجرم پائے جانے والے شخص کو اپنی غلطی پر ندامت اور پچھتاوے کے اظہار کے بعد اس نرمی کا حق قرار دیا جاتا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مجرم کے پاس صرف تین دن کے اندر اپنے جرم پر پچھتاوے کے برملا اظہار کا موقع دستیاب ہوتا ہے، چنانچہ عدالت نے سزائے موت سنا دی اور اسے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن یہ عدالتی فیصلہ سامنے آتے ہی دنیا بھر کی انسانی حقوق کی محافظ، آزادی اظہار کی تنظیموں اور مختلف مغربی اخبارات میں اس فیصلے کے خلاف زبردست احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا اور موریطانیہ کے صدر محمد اولد عبدالعزیز پر شدید دباؤ ڈالا جانے لگا کہ اس فیصلے کو کالعدم کیا جائے اور شیخ اولد کو معافی دے کر رہا کر دیا جائے۔ ادھر اس گستاخ کو سزائے موت دیئے جانے پر عدالت کے اندر اور باہر بے پناہ خوشی کا اظہار کیا گیا اور پورے ملک میں تقریباً جشن کا عالم تھا۔ اپریل 2016ء تک جیل میں رہنے کے بعد شیخ اولد نے موریطانیہ کی کورٹ آف اپیل میں فیصلے کے خلاف اپیل کرتے ہوئے جواز پیش کیا کہ اس کے پچھتاوے کے اظہار کی بنیاد پر اسے رعایت دی جائے۔ لیکن عدالت نے شیخ اولد کے پچھتاوے کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم برقرار رکھا۔ اب حتمی فیصلہ ملک کی سپریم کورٹ کو کرنا تھا۔ اس تمام عرصے کے دوران شیخ اولد گمنامی سے نکل کر عوامی سطح پر نفرت کی علامت بن چکا ہے۔ 15 نومبر 2016ء کو موریطانیہ کے دارالحکومت نواکشوط میں ایک عجیب ہی سماں تھا۔ لاؤڈ اسپیکر سے لیس ہزاروں مظاہرین نے ملک کی سپریم کورٹ کو گھیرے میں لے رکھا تھا، جو سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھنے کے حق میں نعرے لگا رہے تھے، عدالت عظمیٰ نے اپنا فیصلہ 20 دسمبر 2016ء تک کے لیے محفوظ کر لیا۔ تاہم اس کی نوبت نہ آسکی۔ 13 دسمبر 2016ء کو عدالت عظمیٰ کی طرف سے اعلان سامنے آیا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کے پینل میں ردو بدل کی وجہ سے منصوبے کے مطابق
20 دسمبر 2016ء کو شیخ اولد کے مقدمے کے فیصلے کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے ایک جج کو موریطانیہ میں کسی اور عدالتی عہدے پر ٹرانسفر کر دیا گیا اور نئے جج کی تقرری کے بعد مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ پھر اچانک حیرت انگیز طور پر کوئی وجہ ظاہر کیے بغیر اعلان کیا گیا کہ نئے جج کی تقرری کے بعد اس مقدمے کی سماعت نئے سرے سے شروع کی جائے گی۔ اس نئے مقدمے کی تاریخ کا اعلان تا حال نہیں کیا گیا ہے۔
رائف بدوی
ملعون رائف بدوی 13 جنوری 1984ء کو سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے ایک بڑے شہر الخبر میں پیدا ہوا۔ رائف بدوی کو مغربی سیکولر طبقہ ”آزادیٔ اظہار کا علمبردار“ اور اسلامی روایات کا باغی قرار دیتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس کی بنائی ہوئی ویب سائٹ ”اطلقوا سراح اللیبرالیین السعودیین (Free Saudi Liberals) پر پہلے سے موجود اور مسلسل شیئر کیے جانے والے مواد کا جائزہ لیں تو پہلی نظر میں ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ سعودی عرب کی شرعی عدالت کی طرف سے اسے گستاخ اور مرتد قرار دے کر سنائی جانے والی دس سال قید، ایک ہزار کوڑوں اور دس لاکھ ریال جرمانے کی سزا بلا جواز ہرگز نہیں ہے۔ پھر جب ہم دنیا کو مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اس کی تحریروں پر مشتمل کتاب ”رائف بدوی: 1000 کوڑے، کیونکہ میں وہی کہتا ہوں، جو میں سوچتا ہوں“۔ (1000 Lashes: Because I Say What I Think) کے آن لائن فروخت کے اشتہارات دیکھتے ہیں، جن میں گستاخان کے شیطانی گروہ میں سب سے نمایاں، ملعون سلمان رشدی یہ کتاب پڑھنے کی پر زور سفارش کرتا نظر آتا ہے، تو معاملہ شک و شبہ سے بالاتر ہونے لگتا ہے۔ ملعون رشدی کہتا ہے کہ ”رائف بدوی ایک اہم آواز ہے، جسے ہمیں غور سے سننا چاہیے“۔ ظاہر ہے، جس آواز کو سننے کی سفارش یہ غلیظ شخص کر رہا ہو، وہ اس کے شیطانی پیغام ہی سے ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔
رائف بدوی نے اپنی ویب سائٹ پر ”آزادانہ رائے“ کا اظہار شروع کیا تو نام نہاد روشن خیال مقامی اور عالمی حلقوں نے اس کی بھر پور پذیرائی کی اور اس ویب سائٹ پر مضامین اور تبصرے لکھنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ادھر رائف کی تحریروں میں اسلامی شریعت میں متعین سزاؤں کو ”ظالمانہ“ قرار دیا جانے لگا اور توہین رسالت ﷺ سمیت دین اسلام کی مقدس شخصیات کو تمسخر اور تضحیک کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ سیکولرازم کی تبلیغ کرتے ہوئے
رائف بدوی نے اسے دنیا بھر میں ترقی کا واحد راستہ قرار دیا تھا۔ رائف بدوی کی تحریروں میں یہی وہ باتیں تھیں ، جن کی بنیاد پر اسے الحاد اور توہین رسالت ﷺ کا مجرم ٹھہرایا گیا، جس کی تصدیق برطانوی روزنامہ گارجین میں شائع شدہ اس کی تحریروں کے انتخاب کے مطالعے سے کی جاسکتی ہے۔ مثلاً گارجین میں 12 اگست 2010ء کو شائع شدہ اپنی ایک تحریر میں رائف کا کہنا تھا کہ (سعودی عرب میں ) جیسے ہی کوئی مفکر اپنے نظریات کا اظہار کرنے لگتا ہے، اس کے خلاف کافر قرار دینے کے سینکڑوں فتوے صادر کر دیے جاتے ہیں، جبکہ اس کا قصور ”صرف“ اتنا ہوتا ہے کہ بعض مقدس شخصیات اور نظریات کے بارے میں سوالات اٹھانے کی جرأت کی تھی‘‘۔
28 ستمبر 2010ء کو اس نے سعودی عرب کے اسلامی ریاست ہونے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سیکولر ازم کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے لکھا ”دنیا کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی قوم نے مذہبی طرز حکومت کی بنیاد پر ترقی نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی تمام ترقی یافتہ قوموں میں سیکولر نظام حکومت رائج ہے اور سعودی عرب سمیت تمام مذہبی نظام حکومت رکھنے والے ممالک مسلسل زوال کی طرف گامزن ہیں۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ سعودی عرب سمیت تیسری دنیا کے ممالک کو پہلی دنیا کی صف میں شامل کرنے کا واحد عملی طریقہ سیکولر ازم ہی ہے۔ میں اسرائیل کے عرب سرزمین پر قبضے کی حمایت نہیں کرتا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ کوئی مذہبی ریاست، اسرائیل کی جگہ لے جس کا واحد مقصد (سعودی عرب کی طرح) اپنے لوگوں میں موت اور جہالت کا کلچر پھیلانا ہو، جبکہ ہمیں جدیدیت اور امید کی ضرورت ہے۔ مذہبی عقائد پر مبنی ریاستوں کے پاس لوگوں کو خدا سے ڈرانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ مذہبی ریاستیں تو اپنی عوام کو ایمان کے نام پر خوف کے دائرے میں قید کیے رکھتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کسی بھی مذہب کا بنی نوع انسان کی تمدنی ترقی سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا‘‘۔
رائف بدوی کے اس طرح کے ”آزادانہ“ خیالات پر عوامی صدائے احتجاج بلند ہونے کا سلسلہ 2007ء کے آغاز میں شروع ہو گیا تھا۔ بالآخر 2008ء میں اسے الحاد کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن پوچھ گچھ کے بعد اگلے دن اسے رہا کر دیا گیا۔ تاہم اس تنبیہ کے باوجود رائف نے اپنی ”آن لائن سرگرمیوں“ کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی ویب سائٹ کا ہم نام فیس بک پیج بھی بنا لیا جس کی وجہ سے اس کے نظریات سے ”مستفید“ ہونے
والوں کا دائرہ مغربی ممالک تک پھیل گیا اور اس کی تحریریں ہزاروں کی تعداد میں شیئر کی جانے لگیں۔ لیکن اس دوران میں سعودی حکومت مسلسل عوامی شکایات کے نتیجے میں ایک بار پھر اس کے خلاف حرکت میں آگئی۔ 31 مئی 2012ء کو الجزیرہ ویب سائٹ پر اس کے مضمون ”لبرل ازم مذہبوں اور عقائد کا محافظ ہے“ (Liberalism protects religions and beliefs) نے اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکے کا کام کیا اور 17 جون 2012ء کو اسے ”برقی ذرائع کے ذریعے دین اسلام کی تضحیک“ کے الزام کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں اس پر ارتداد کا الزام بھی عائد کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں اسے سزائے موت دی جاسکتی تھی۔
رائف بدوی کی گرفتاری کے فوراً بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسے ”ضمیر کا قیدی“ قرار دے دیا، یعنی جسے صرف ”اظہار رائے“ کا حق استعمال کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے سعودی حکومت پر الزامات واپس لینے کے لیے زور ڈالتے ہوئے کہا ”رائف کو پورا حق ہے کہ اپنی ویب سائٹ اور مذہب اور مذہبی شخصیات کو بحث کا موضوع بنائے“۔ رائف کو 17 دسمبر 2012ء کو جدہ کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا اور اس کے خلاف مرتد ہونے کے الزام میں مقدمے کی کارروائی شروع کی گئی۔ 30 جولائی 2013ء کو اسے اسلامی اقدار کی خلاف ورزی اور ملحدانہ عقائد کے پرچار کا مرتکب قرار دے کر 600 کوڑوں اور سات سال قید کی سزا سنائی گئی اور ویب سائٹ بند کرنے کا حکم صادر کیا گیا۔ 7 مئی 2014ء کو ایک اور عدالت نے اسے توہین اسلام کا مرتکب قرار دیتے ہوئے، اس کی سزا میں اضافہ کر دیا اور ایک ہزار کوڑوں اور دس سال قید کے علاوہ اس پر دس لاکھ ریال جرمانہ بھی عائد کر دیا۔
9 جنوری 2015ء کو ایک ہزار کوڑوں کی پہلی قسط کے طور پر رائف بدوی کو سینکڑوں افراد کے سامنے پچاس کوڑے مارے گئے۔ جبکہ باقی کوڑوں کی سزا بیس ہفتوں میں مکمل کی جانی تھی۔ لیکن یہ خبر سامنے آتے ہی عالمی ذرائع ابلاغ میں ان ”غیر انسانی سزاؤں“ کے خلاف شدید احتجاج اور مغربی حکومتوں کی طرف سے شدید دباؤ کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ سعودی حکومت کو غالباً اس طرح کے عالمی ردعمل کا اندازہ نہیں تھا، چنانچہ اگلے ہفتے مقررہ کوڑوں کی سزا رائف بدوی کو خراب صحت کے جواز کے تحت ملتوی کر دی گئی۔ اس دوران رائف بدوی کی بیوی انصاف بدوی اپنے بچوں سمیت کینیڈا میں سیاسی پناہ حاصل کر چکی تھی اور اس نے مختلف ذرائع ابلاغ میں رائف بدوی کی سزا کے خلاف ایک زبردست مہم شروع کر دی تھی۔ جبکہ انسانی حقوق
کی مختلف تنظیموں کی طرف سے رائف بدوی کی زور دار حمایت کے ساتھ ساتھ اسے مختلف اعزازات سے نوازنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی زوروں پر رہا۔ اور اب تک اسے بائیس عالمی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ جبکہ اسے 2015ء اور 2016ء میں نوبل انعام سمیت متعدد دیگر اعزازات کے لیے بھی نامزد کیا جا چکا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ رائف بدوی ابھی تک قید میں تو ہے، تاہم اسے مزید کوڑوں کی سزا دینے کا سلسلہ گزشتہ دو سال سے ملتوی ہوتا چلا آ رہا ہے۔ تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ رائف بدوی کی بیوی انصاف بدوی نے نو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے بھی اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے اپنے شوہر کی سزائیں ختم کروانے اور رہا کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سہیل عربی
ایران کے دارالحکومت تہران میں 21 اگست 1985ء کو پیدا ہونے والے ملعون بلاگر سہیل عربی نے 2009ء کے آغاز میں اپنے اصل نام سے فیس بک پر ایک پیج بنایا اور کچھ ہی دنوں میں اپنے گستاخانہ اور مادر پدر آزاد تحریری مواد کی وجہ سے ایرانی سوشل میڈیا کے آزاد خیال طبقے میں اس کی پذیرائی ہونے لگی۔ اس کی غلیظ تحریروں کو ملنے والی لائکس (Likes) کی تعداد پہلے سینکڑوں اور پھر ہزاروں تک پہنچنے لگی، جبکہ اس کے فرینڈز کی تعداد بھی پانچ ہزار کی حتمی حد تک پہنچ گئی، جس کے بعد اس کی تحریریں پڑھنے والے فالوورز (Followers) کی تعداد بھی ہزاروں تک پہنچ گئی۔ سہیل عربی کے ان مداحوں میں سے اکثر دہریت کے پیروکار تھے، جن کا شیئر کردہ تمام تر تحریری و تصویری مواد یعنی پوسٹیں (Posts) دین اسلام، حضور نبی کریم ﷺ اور حرمت اہل بیت کے خلاف ہرزہ سرائی پر مشتمل ہوتی تھیں۔ سہیل عربی بھی رفتہ رفتہ کٹر دہریہ بن گیا اور اس نے اپنی پوسٹ میں شعائر اسلام اور مقدس مذہبی شخصیات کا مضحکہ اڑانے کو اپنا معمول بنا لیا۔ اس حوالے سے اسے بیوی نسترن نعیمی کی بھی مکمل حمایت حاصل تھی۔
2009ء کے وسط میں سہیل عربی نے مسلسل موصول ہونے والی فرینڈ شپ آفرز کی قبولیت کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے ایک اور فیس بک پیج بنا لیا۔ اس دوران دنیا بھر کی طرح ایران میں بھی فیس بک کا رجحان بجلی کی سی تیزی سے پھیل رہا تھا جبکہ عالمی سطح پر فیس بک استعمال کرنے والے مختلف زبان بولنے والے مختلف اقوام کے افراد کے باہمی روابط میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ خصوصاً دہریت کے پیروکاروں کی طرف سے دنیا بھر میں اپنے
نیٹ ورکس کو باہم مربوط کرنے کی زبردست کوششیں جاری تھیں اور فیس بک ان کے لیے اس مقصد کے حصول کا سب سے آسان اور مؤثر ذریعہ تھا۔ اس نیٹ ورک کا حصہ بننے کے بعد سہیل عربی نے فیس بک پر یکے بعد دیگرے نئے پیج بنانے شروع کر دیے اور رفتہ رفتہ اس کے بنائے ہوئے صفحات کی تعداد آٹھ تک پہنچ گئی اور وہ لگ بھگ ایک لاکھ دہریوں سے مسلسل رابطے میں رہنے لگا۔
بالآخر 2012ء کے آغاز میں اس کی گستاخانہ پوسٹس پر ایران کے مذہبی رجحانات رکھنے والے فیس بک یوزرز کی طرف سے غیظ وغضب کا اظہار سامنے آنے لگا اور اپنے ہی جیسے ملعونوں کی طرف سے داد وتحسین وصول کرنے کے عادی سہیل عربی کو روزانہ درجنوں کے حساب سے لعنت ملامت کے پیغامات موصول ہونے لگے۔ اس دوران اس کی مختلف گستاخانہ پوسٹس، اسلامی تعلیمات سے متعلق گروپس میں شیئر بھی کی جا رہی تھیں۔ رفتہ رفتہ سہیل عربی کی دریدہ دہنی کے خلاف انقلاب اسلامی ایران کے محکمے کے پاس توہین رسالت ﷺ ، حرمت اہل بیتؑ اور شعائر اسلام کا مذاق اڑانے کی شکایات جمع ہونے لگیں۔ نتیجتاً نومبر 2013ء میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے اہلکاروں نے تہران میں واقع اس کے گھر پر چھاپا مارا اور اسے بیوی سمیت گرفتار کر کے لے گئے۔ اس کا لیپ ٹاپ، گھر کے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک اور موبائل فون بھی قبضے میں لے لیے گئے۔
اس کی بیوی نسترن کو تو دو گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا۔ تاہم اسے ایون جیل میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے وارڈ 2-A میں منتقل کر دیا گیا اور اس کے خلاف دو مہینے تک تحقیق اور پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری رہا۔ سہیل عربی کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ اسے تشدد اور نفسیاتی حربوں کا نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم جب اسے مذہبی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے استغاثہ کی طرف سے اس کی گستاخانہ پوسٹس کی 75 سے زائد تصویریں پوسٹ کیے جانے کے بعد اپنے جرم کا اقرار کر لیا جس پر اسے باضابطہ تعزیری کارروائی کے لیے عدلیہ کی زیرنگرانی کام کرنے والے ایون جیل کے سیکشن 30-A میں منتقل کر دیا گیا اور تہران کی تعزیری عدالت کے پانچ ججوں پر مشتمل پینل نے مقدمے کی سماعت شروع کر دی۔
مقدمے کی کارروائی شروع ہونے پر استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے مواد کا جائزہ لینے کے بعد پانچوں ججوں نے خیال ظاہر کیا کہ بادی النظر میں سہیل عربی کی طرف سے
توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب واضح ہے۔ تاہم اس کے باوجود وکلاء صفائی کو اپنے مؤکل کے دفاع میں دلائل دینے کی دعوت دی گئی۔ اس پر سہیل کے وکیلوں نے موقف قائم کیا کہ ان کا مؤکل اپنے اعتراف پر قائم ہے۔ لیکن اس نے یہ پوسٹس ایسی کیفیت میں شیئر کیں جب اس کی ذہنی حالت دگرگوں تھی اور یہ کہ وہ اپنے نظریات کا پرچار نہیں کر رہا تھا، بلکہ محض اپنے دوستوں سے اپنے ذاتی خیالات کا تبادلہ کر رہا تھا۔ تاہم عدالت نے سہیل عربی کے وکیلوں کا یہ موقف مسترد کر کے اسے توہین رسالت ﷺ کے باعث ارتداد کا مرتکب قرار دے کر 30 اگست 2014ء کو پھانسی کی سزا سنا دی۔ نومبر 2014ء میں اس فیصلے کے خلاف ایران کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی۔ لیکن اسے معافی دینے یا سزا میں نرمی کے بجائے سپریم کورٹ نے پیش کردہ شواہد کی روشنی میں اسے فساد فی الارض کے ناقابل معافی جرم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے تین سال قید کی سزا کا اضافہ کر دیا۔
ادھر حسب روایت توہین رسالت ﷺ کو ”اظہار رائے کی آزادی“ قرار دینے والی عالمی قوتیں پوری طرح حرکت میں آ چکی تھیں جبکہ دہریوں کی معروف ویب سائٹ www.atheistrepublic.com سمیت انٹرنیٹ کی تمام لادین برادری بھی پوری طرح حرکت میں آ چکی تھی اور ایرانی حکومت پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ دسمبر 2014ء کے آغاز میں ہیومن رائٹس واچ نے ایرانی حکومت پر زور دیا کہ سہیل عربی کو معافی دے کر رہا کر دیا جائے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر ایرک گولڈ اسٹائن نے اپنے بیان میں کہا ”یہ انتہائی ہولناک صورت حال ہے کہ کسی کو صرف اس کی فیس بک پوسٹس کو گستاخانہ، جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی یا توہین آمیز قرار دے کر پھانسی کے تختے پر چڑھا دیا جائے۔ ایران کو اپنے تعزیری قانون پر فوراً نظر ثانی کر کے ایسی شقوں کو ختم کر دینا چاہیے جو پرامن اظہار رائے کو جرم ٹھہراتی ہوں، خصوصاً جن کے تحت سزائے موت دی جا سکتی ہو“۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے بھی سہیل عربی کو فوری معافی دے کر آزاد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایرانی حکومت نے اسے معافی دینے کے مطالبات مسترد کر دیے، تاہم اس سزا پر عمل درآمد بھی نہیں کیا۔ اس دوران مغربی میڈیا میں ”مظلوم و معصوم“ سہیل عربی کے خلاف اس بے رحمانہ سزا کو زور و شور سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری تھا اور اس کی رہائی کے مطالبات کو سعودی عرب کے ملعون رائف بدوی کی رہائی کے مطالبے میں شامل کر کے احتجاجی مظاہروں کا حصہ بنا دیا
گیا۔ یہ دباؤ رفتہ رفتہ اپنا اثر دکھانے لگا اور دنیا کے سامنے خود کو ”آزاد خیال“ اور ”اظہار رائے کی آزادی“ کا حمایتی ثابت کرنے کے خواہش مند ایرانی صدر نے ذرائع ابلاغ کی سنسر شپ میں نرمی کی پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی سہیل عربی کو معافی اور رہائی ملنے کی امیدیں ایک بار پھر زور پکڑ گئیں۔ بالآخر یہی ہوا، جب عدلیہ نے سہیل کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا ازسرنو جائزہ لیا تو ستمبر 2015ء کے آخر میں اس کے خلاف سزائے موت منسوخ کر کے نئی سزا سنادی، جس کے تحت اسے 13 عدد مذہبی کتابیں پڑھنی ہیں اور دو سال پر مشتمل دینی تعلیم کا کورس مکمل کرنا ہوگا، جس کے بعد اسے رہا کر دیا جائے گا۔
ناہض حتر
1960ء میں اردن کے دارالحکومت عمان میں پیدا ہونے والے ملعون ناہض حتر کا پیدائشی مذہب عیسائیت تھا۔ تاہم جوانی کی حدود تک پہنچتے پہنچتے اس نے دہریت اختیار کر لی اور بطور صحافی اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز کیا۔ بعدازاں اس نے ملکی سیاست میں بھی گہری دلچسپی لینا شروع کر دی اور بائیں بازو کی آزاد خیال سیاسی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگا۔ خصوصاً سیاسی گروپس ”نیشنل پروگریسیو کرنٹ“ اور ”جورڈینیئن سوشل لیفٹ موومنٹ“ میں وہ مرکزی قائدین میں شامل رہا۔ وہ اردن کی سیاست میں اسلامی نظریات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا سخت ناقد تھا۔ وہ اردن میں اسلامی شعائر کو فروغ دینے کے لیے کوشاں اعتدال پسند اسلامی تنظیموں کو نشانہ بنانے کا بھی کوئی موقع ضائع نہیں کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے سالہا سال سے اردن کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ ملعون ناہض حتر کے دل میں موجود اللہ رب العزت، دین اسلام اور رسول کریم ﷺ کے خلاف بے پناہ بغض اس وقت نمایاں ہوا، جب اس نے فیس بک پر اپنے لادینی اور گستاخانہ نظریات کا اظہار شروع کیا۔ اپنی ان تحریروں کے لیے وہ عموماً جمہوریت، اظہار رائے کی آزادی، بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی آڑ لیا کرتا تھا۔ اس دوران وہ اسلامی تنظیموں کی طرف سے اپنی جان کو لاحق خطرات کا بھی زور و شور سے واویلا کرتا، حالانکہ انتہا پسند اسلامی تنظیموں کے خلاف شاہ عبداللہ دوم کی بے لچک پالیسی شک و شبہ سے بالاتر تھی اور اسلامی شعائر کے خلاف ناہض کی متعدد تحریروں کے خلاف شدید صدائے احتجاج بلند کیے جانے کے باوجود اردنی حکومت کی طرف سے اسے کبھی تنبیہ نہیں کی گئی تھی۔ شاہ عبداللہ دوم کی طرف سے ملنے والی اس ڈھیل کے نتیجے میں ناہض حتر کا قلم ہر
گزرتے دن کے ساتھ مزید بے لگام ہوتا چلا گیا اور اس نے اپنی تحریروں میں وقتاً فوقتاً نماز، روزہ، قربانی اور حج جیسے بنیادی اسلامی عقائد کو بھی طنز و تضحیک کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اپنی ان تحریروں پر جہاں وہ اسلام پسند حلقوں کی تنقید کا نشانہ بنتا تھا، وہیں اردن کے نام نہاد آزاد خیال اور لادین حلقوں میں اس کی زبردست پذیرائی کی جاتی تھی اور اس کی ہر فیس بک پوسٹ کو نہایت زور و شور سے لائک اور شیئر کیا جاتا تھا۔ لیکن پھر بالآخر اس کی یہی مادر پدر آزاد، اسلام دشمن پیش قدمی اسے منطقی انجام تک پہنچانے کا سبب بن گئی۔
اگست 2016ء میں ملعون ناہض حتر نے سوشل میڈیا نیٹ ورک پر اللہ تعالیٰ، حضور نبی کریم ﷺ اور شہادت کے نتیجے میں مسلمانوں کے جنت الفردوس میں جانے اور وہاں اللہ کی طرف سے انعامات سے نوازے جانے کی اسلامی تعلیمات کی تضحیک پر مبنی مزاحیہ کارٹون پوسٹ کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ ان گستاخانہ کارٹونوں میں ملعون ناہض نے عراق میں فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد مسلمانوں کے جنت میں پہنچنے کے مناظر کی عکاسی کی تھی اور اسے فرضی حوروں کے ساتھ جنت کے میووں اور مشروبات سے داد عیش دیتے دکھایا تھا۔ تاہم اس ملعون دہریے کی گستاخانہ جدت طرازی یہیں تک محدود نہ رہی، بلکہ اس نے ان شیطانی خاکوں میں (نعوذ باللہ، استغفر اللہ) اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم ﷺ کی بھی نہایت توہین آمیز اور گستاخانہ عکاسی کی، جس کی تفصیل بیان کرنا ایمان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان گستاخانہ خاکوں کے منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی عرب دنیا، خصوصاً اردن میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور دین اسلام کے شیدائیوں نے اس مردود و ملعون کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبات کے ساتھ ملک کے گوشے گوشے میں بڑے بڑے مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ بالآخر شاہ عبداللہ دوم کی حکومت کو اس ناپاک جسارت پر عملی کارروائی پر مجبور ہونا پڑا اور وزیر اعظم نے ملعون ناہض حتر کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دے دیا۔ لہٰذا اس کے خلاف پینل کوڈ کی دفعہ 278 کے تحت ”توہین مذہب“ کے ارتکاب کے الزام میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا گیا۔ اس پر ناہض نے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا، جبکہ عوام کی طرف سے زبردست غیظ و غضب کا اظہار سامنے آنے پر وہ گستاخانہ خاکے بھی فیس بک سے ہٹا دیئے گئے۔ جبکہ سرکاری احکامات کے تحت اس مقدمے کی رپورٹنگ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ بعد ازاں ملعون ناہض کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں اس نے معذرت
کرتے ہوئے صفائی پیش کی کہ اہل ایمان ان خاکوں کے پس پردہ طنز کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ اسے دو ہفتوں تک زیر حراست رکھنے کے بعد نہ صرف ضمانت پر رہا کر دیا گیا بلکہ اس کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکار بھی تعینات کر دیئے گئے۔ تاہم یہ تمام احتیاطی اور حفاظتی انتظامات بے سود رہے۔ 25 ستمبر 2016ء کو ملعون ناہض اپنے مقدمے کی سماعت کے لیے دارالحکومت عمان کے قصر عدل میں واقع عدالت کے سامنے پہنچا تو اسے بہت نزدیک سے یکے بعد دیگرے تین گولیاں مار کر جہنم رسید کر دیا گیا۔ اسے کیفر کردار تک پہنچانے والے مجاہد اسلام کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ اس خوش نصیب کو انچاس سالہ ریاض اسماعیل عبداللہ کی حیثیت سے شناخت کیا گیا جو عمان کی ایک مسجد کا سابقہ امام ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس کا کسی انتہا پسند تنظیم سے تعلق نہیں، بلکہ اس نے غیرت ایمانی سے مجبور ہو کر ملعون ناہض کو جہنم رسید کیا ہے۔ ریاض اسماعیل عبداللہ تا حال زیر حراست ہے اور اس کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جارہا ہے۔
آلون ٹان جائی
مسلم اکثریت ملک ملائیشیا میں رمضان المبارک غیر معمولی احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے اور بازاروں میں بیشتر کھانے کی دکانیں اور ریسٹورنٹ صبح سے عصر تک بند رہتے ہیں۔ اگرچہ وہاں غیر مسلم افراد کے دن میں کھانے پینے پر کوئی باضابطہ روک ٹوک نہیں، تاہم اپنے مسلمان ہم وطنوں کے عقیدے کے احترام میں وہاں کے بودھ، عیسائی اور تاؤ مذہبوں کے پیروکار بھی سر عام کھانے پینے سے گریز کرتے ہیں۔ جبکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی کھانے پینے کی الگ جگہوں کا اہتمام عام ہے۔ جولائی 2013ء میں بھی حسب روایت ملائیشیا میں نہایت جوش و جذبے اور عقیدت و احترام سے ماہ رمضان کا استقبال کیا گیا۔ اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں دین اسلام کے پیروکاروں کو اس مبارک مہینے کی آمد پر مبارکباد کے پیغامات اور اشتہارات شائع ہوئے۔ لیکن فیس بک پر فحش تصویروں اور سفلی جذبات کو ہوا دینے والی تحریریں شیئر کرنے کے حوالے سے چینی نسل کے ایک نوجوان جوڑے کی طرف سے پوسٹ کیے جانے والا ایک با تصویر پیغام ایسا بھی تھا، جس نے پورے ملک کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی، اور کچھ ہی گھنٹوں کے اندر ملائیشیا کے ایک سے دوسرے سرے تک احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پچیس سالہ آلون ٹان جائی نامی ایک نوجوان
اور اس کی چوبیس سالہ گرل فرینڈ ویوین لی کی طرف سے اس تازہ پوسٹ میں موجود تصویر میں وہ دونوں ”باک کٹ ٹیہ“ (Bak Kut Teh) نامی کھانے سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے جو خنزیر کے گوشت سے تیار کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس تصویر پر ان دونوں کی طرف سے اپنے مسلمان دوستوں کو ان الفاظ میں رمضان شریف کی آمد کی مبارک باد پیش کی گئی تھی کہ ”مہکتے، لذیذ اور اشتہا انگیز باک کٹ ٹیہ کے ساتھ پہلے روزے کی افطار مبارک“۔ خنزیر کے نام سے بھی نفرت کرنے والے راسخ العقیدہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مزید تضحیک کا نشانہ بنانے کے لیے اس ملعون جوڑے نے اس تصویر پر جلی حروف میں ”حلال“ کا لوگو بھی چسپاں کر رکھا تھا۔ جبکہ تصویر کے کیپشن میں لکھا تھا ”ہمیں ملائیشیا کے نسلی گروہوں کے درمیان ان کے پسندیدہ کھانوں کے تبادلے کے ذریعے اس مقدس مہینے کا جشن منانے اور ملائیشیا کی حقیقی روح متعارف کرانے کا موقع دیں۔ لذیذ مقامی سوغاتوں سے لطف اندوز ہونے کا حق نسلی اور مذہبی حدود کی پابندیوں سے آزاد ہونا چاہیے۔ آلون ٹان جائی اور ویوین لی“۔
اس گستاخ جوڑے کی اس شیطانی جسارت سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اس ماہ مقدس کی مسلمانوں کے دلوں میں بے پناہ عزت اور خنزیر سے حد درجہ کراہت اور دینِ اسلام میں اس کا گوشت کھانے پر مکمل ممانعت سے پوری طرح واقف ہیں، اور انھوں نے جان بوجھ کر ایسی تصویر اور الفاظ کا انتخاب کیا، جن سے مسلمانوں کے دینی عقائد کی بھر پور تضحیک کر کے ان کے دلوں کو زخمی کر سکیں۔ ملعون جوڑے کی طرف سے یہ گستاخانہ پوسٹ فیس بک پر شیئر کیے جانے کے فوراً بعد سوشل میڈیا ویب سائٹ استعمال کرنے والے مسلمانوں کی طرف سے غم وغصے کا شدید اظہار سامنے آنے لگا اور چند گھنٹوں میں اس کے خلاف ایک ہزار سے زائد مخالفانہ تبصرے کیے گئے، جن میں ماہ صیام میں عقیدت و احترام سے معمور روزے داروں کی تضحیک اور ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر اس جوڑے کی شدید مذمت کی گئی اور ان سے اسے فوری طور پر پیج سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن اس پوسٹ کے اصل محرک آلون نے یہ مطالبات ماننے سے صاف انکار کر دیا اور کسی ندامت یا پچھتاوے کی بھی کوئی علامت نہیں دکھائی بلکہ وہ اپنی مفت کی ”شہرت“ پر مسرور دکھائی دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ ٹھیک ہے کہ دس پندرہ ہزار فیس بک استعمال کرنے والے افراد نے اس کی پوسٹ پر غم و غصے کا اظہار کیا، لیکن چار ہزار سے زائد افراد نے اسے پسند بھی کیا ہے اور اب تک اسے تین سو سے زائد بار شیئر بھی کیا جاچکا ہے۔
ملائیشیا کی حکومت کے ذرائع ابلاغ کے مشیر شیخ رفیع عبدالرحمن کے مطابق مذکورہ جوڑے کے خلاف ہزاروں شکایات موصول ہوئی تھیں اور ان کے خلاف ابتدائی طور پر ملائیشیا کے آئین کے کمیونیکیشنز اینڈ میڈیا ایکٹ 1988ء کی دفعہ 211 (توہین آمیز مواد) اور 233 (انٹرنیٹ کی سہولیات کا غلط استعمال) کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے اس جوڑے کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیئے، لیکن اسے ابتدائی طور پر کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ ادھر آلون اپنی اس ”شہرت“ کو پوری طرح کیش کرانے پر تلا ہوا تھا۔ اس نے زیرِ زمین رہتے ہوئے نام نہاد انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کی علمبردار مقامی اور عالمی تنظیموں سے رابطہ کر کے حمایت کی اپیل کی۔ اس کا فوری ردعمل سامنے آیا اور ملائیشیا کی حکومت کو اپیلیں موصول ہونے لگیں کہ آلون کے خلاف پولیس کے وارنٹ واپس لیے جائیں۔ تاہم تین دن بعد پولیس نے آلون کو یونیورسٹی آف کوالالمپور کے ایک کیمپس سے گرفتار کرلیا۔ اس دوران ملائیشیا کے علما کی طرف سے آلون کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات دن بہ دن زور پکڑ رہے تھے۔ لیکن لگ بھگ ایک ہفتہ جیل میں گزارنے کے بعد آلون عدالت کے سامنے پیش ہوا تو اس نے اپنا جرم قبول کرتے ہوئے غیر مشروط معذرت پیش کی اور آئندہ ایسی کسی بھی حرکت سے گریز کرنے کا وعدہ کیا، جس پر عدالت نے اسے نہ صرف ضمانت پر رہا کر دیا، بلکہ اس کی طرف سے زندگی کو لاحق خطرات کے پیش نظر بغرض ملازمت سنگاپور جانے کی بھی اجازت دے دی۔ لیکن آلون کی طرف سے عدالت کے سامنے یہ معافی تلافی محض ایک جھانسا ثابت ہوئی، کیونکہ سنگاپور منتقل ہونے کے کچھ ہی دنوں بعد وہ ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاپتا ہو گیا۔ اس کے بعد سے وہ آج تک انٹرپول کے مطلوبہ مجرموں میں شامل ہے، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق وہ امریکا پہنچ کر سیاسی پناہ حاصل کر چکا ہے اور لاس اینجلس میں مقیم ہے۔
الیکزینڈر آن
انڈونیشیا 17 ہزار سے زائد چھوٹے، بڑے جزائر پر مشتمل، دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔ اس کے مغربی صوبے سماٹرا کے ضلع پلاؤ پنجنگ کے مسلمان گھرانے میں 1981ء میں پیدا ہونے والے اسکندر آن، کی پرورش اسلامی معاشرے کی روایات کے مطابق کی گئی۔ لیکن کم عمری میں ہی اس کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں شبہات جنم
لینے لگے اور گیارہ سال کی عمر میں اس نے اپنے بڑوں کے سامنے اپنے ملحدانہ نظریات پیش کرنے بھی شروع کر دیئے۔ رفتہ رفتہ اس نے اسلامی عبادات مثلاً نماز، روزہ سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اس کے گھر والوں نے اسے راہ راست پر لانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن وہ کسی کی بات پر کان دھرنے کو تیار نہ ہوا۔ بالآخر گھر والوں نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ ادھر ادھر سر ٹکرانے کے بعد خود ہی راہ راست پر آ جائے گا۔ لیکن اسکندر آن ، ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اندھیروں میں گم ہوتا چلا گیا۔ اس نے اپنا نام اسکندر سے بدل کر الیگزینڈر رکھ لیا تھا۔ 2008ء میں اس نے خود کو اعلانیہ ملحد و مرتد قرار دے دیا۔ اس نے مغربی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ خدا نام کی کوئی چیز (نعوذ باللہ) موجود نہیں ہے“۔ اس دوران اس نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کے بعد ایک سرکاری کالج میں ریاضی کے استاد کی حیثیت سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بھی کر دیا۔ اس دوران وہ سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہو چکا تھا اور اپنے علاقے سے منسوب ایک ملحدانہ فیس بک گروپ بھی قائم کر لیا تھا، جس پر وہ اپنے لادینی نظریات کا کھل کر پرچار کیا کرتا۔ اس دوران میں وہ جوش شیطانی میں بہت سی گستاخانہ جسارتیں بھی کر گزرتا تھا۔ تاہم انڈونیشیا میں فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد محدود ہونے اور اس مخصوص گروپ تک عام لوگوں کی رسائی اجازت سے مشروط ہونے کی وجہ سے دین اسلام کے بارے میں اس کی ہرزہ سرائی منظر عام پر نہ آسکی اور کسی نے اس کی پکڑ نہ کی لیکن رفتہ رفتہ دہریے پن سے تائب ہونے والے کچھ افراد کے ذریعے اس گروپ کی گستاخانہ سرگرمیاں اسلامی حلقوں تک پہنچنے لگیں اور اس گروپ پر نظر رکھی جانے لگی۔
بالآخر جنوری 2012ء میں الیگزینڈر آن، کو اللہ کی طرف سے دی گئی ڈھیل ختم کر کے رسی کھینچ لی گئی۔ 13 جنوری 2012ء کو اس نے مذکورہ فیس بک گروپ میں کی گئی اپنی پوسٹ میں لکھا (استغفر اللہ، نقل کفر، کفر نہ باشد) ”خدا کوئی وجود نہیں رکھتا۔ جنت، دوزخ، فرشتے اور شیطان سب من گھڑت باتیں ہیں“۔ بات اگر لادینیت پر مبنی بکواس تک محدود رہتی تو شاید اس کی بچت ہو جاتی۔ لیکن اس ملعون پر شیطان پوری طرح قابض تھا، چنانچہ اس نے اپنی ایک اور پوسٹ میں توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب بھی کر دیا۔
الیگزینڈر آن کی یہ دونوں شیطانی پوسٹس انڈونیشیا کی علما کونسل کے نوٹس میں آگئیں اور انھوں نے الیگزینڈر کے خلاف پولیس کو توہین رسالت ﷺ کی رپورٹ درج کرا دی جس کے بعد پولیس نے ان الزامات کی تحقیق شروع کر دی، لیکن اسے گرفتار نہیں کیا گیا۔ ادھر اس
گستاخانہ جسارت کے باوجود الیگزینڈر کا آزادی سے گھومنا پھرنا عاشقان رسول کے لیے ناقابل برداشت ہو چلا تھا۔ چنانچہ 18 جنوری 2012ء کو وہ نوکری پر جانے کے لیے گھر سے نکلا تو چند نوجوانوں نے راستے میں گھیر کر زبردست پٹائی کی۔ اگر پولیس موقع پر نہ پہنچ جاتی تو اس کا جہنم رسید ہونا یقینی تھا۔ پولیس نے اس کی مرہم پٹی کرائی اور اسے حفاظتی تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے الیگزینڈر کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے، دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور ذرائع ابلاغ کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا، جس پر مذہبی حلقوں کی طرف سے شدید احتجاج سامنے آیا اور اس کے خلاف توہین رسالت ﷺ کا مقدمہ قائم کرنے اور ارتداد کا مرتکب ہونے پر سر قلم کرنے کے مطالبات کیے جانے لگے۔ اسلامی تنظیموں کے اتحاد ”دی اسلامک سوسائٹی فورم“ کی طرف سے بیان جاری کیا گیا کہ ممکنہ پانچ سالہ قید کی سزا نا کافی ہے، الیگزینڈر سزائے موت کا مستحق ہے۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ”اس کی حرکت برداشت نہیں کی جاسکتی۔ اس طرح کے لوگوں کو ملک میں لادینیت اور ارتداد پھیلانے سے روکنا ضروری ہے“۔ اس پر پولیس اور وزارت داخلہ کی طرف سے یقین دلایا گیا کہ توہین رسالت ﷺ کے الزام کی بھی تحقیق کی جائے گی اور الزام ثابت ہونے پر مقدمے میں متعلقہ دفعات کا اضافہ کر دیا جائے گا۔
تاہم بعدازاں انڈونیشیا کی وزارت مذہبی امور کے رابطہ افسر خیرل نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ الیگزینڈر کو سزائے موت ملنا خارج از امکان ہے، کیونکہ انڈونیشیا کے قانون میں توہین اسلام اور توہین رسالت ﷺ کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا موجود ہے۔ البتہ اسے سرکاری ملازمت سے فوری طور پر برطرف کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ اس نے سرکاری ملازمت کی درخواست میں دورغ گوئی کا ارتکاب کرتے ہوئے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا۔ تاہم الیگزینڈر کے خلاف مغربی سماٹرا کی موارو سیجنگ ضلعی عدالت میں مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی تو سرکاری وکیل نے الیگزینڈر کے خلاف تین الزامات عائد کرتے ہوئے اس کے لیے ساڑھے تین سال قید کی سزا طلب کی جبکہ عدالت نے ان تین میں سے دو الزامات، لادینیت اور گستاخانہ مواد پھیلانے کو نظر انداز کر کے صرف سنگین ترین الزام یعنی توہین رسالت ﷺ کے تحت کارروائی کی اور صرف 30 ماہ قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا۔ مقدمے کی صدارت کرنے والے جج ایکا پراسیتیا دھرما نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ”ہم اسے الیکٹرانک انفارمیشن اور ٹرانزیکشنز
لا کے تحت دوسال اور چھ ماہ قید کی سزا بھگتنے کے لیے جیل بھیجتے ہیں۔ اس نے جو کچھ کیا، اس سے عوام میں اشتعال پیدا ہوا اور اسلام کے پیروکاروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی‘‘۔ جبکہ اس پر دس کروڑ (انڈونیشین) روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
دوسری جانب الیگزینڈر کی گرفتاری کے فوراً بعد ہی انڈونیشیا اور دنیا بھر میں انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کی علمبردار تنظیموں کی طرف سے صدائے احتجاج بلند ہونا شروع ہو گئی۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے انڈونیشیا کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ الیگزینڈر کے خلاف قائم مقدمہ واپس لے کر اسے رہا کر دیا جائے۔ اس دوران لادینی حلقوں کی طرف سے وائٹ ہاؤس کو اس گرفتاری پر مداخلت کے لیے مجبور کرنے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن کا بھی سلسلہ شروع ہوا۔ لیکن یہ پٹیشن مطلوبہ ایک لاکھ دستخط موصول کرنے میں نا کام رہی اور صرف آٹھ ہزار دستخط جمع ہو پائے۔ البتہ الیگزینڈر آن کو سنائی جانے والی برائے نام سزا کے باوجود ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کی قید کو ”انڈونیشیا میں اظہار رائے کی آزادی کو زبردست دھچکا“ قرار دیتے ہوئے اسے ضمیر کا قیدی قرار دے دیا۔ الیگزینڈر آن کو 31 جنوری 2014ء کو جیل سے رہا ہونا تھا، تاہم اسے ذرائع ابلاغ کی یلغار سے بچانے کے لیے 27 جنوری کو ہی رہا کر دیا گیا، جس کے بعد سے وہ منظر عام پر نہیں آیا اور اس کا فیس بک گروپ بھی بند ہو چکا ہے۔
البیر صابر عیاد
مصر سے تعلق رکھنے والا بدنام زمانہ دہریہ البیر صابر عیاد 1985ء میں قاہرہ کے ایک خوش حال قبطی عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ انجینئر اور ماں ڈاکٹر ہے۔ اس کی پرورش روایتی عیسائی گھریلو ماحول میں ہوئی، تاہم اس کے والدین خاصے آزاد خیال واقع ہوئے تھے اور ان کی ویک اینڈ کی رات عموماً ناچ گانے اور پینے پلانے کی محفلوں میں گزرتی تھی۔ لہٰذا اتوار کی صبح عبادت کے لیے گرجا گھر جانے کی شاذ و نادر ہی نوبت آتی۔ اس ماحول میں پلنے بڑھنے والے البیر کے لیے مذہب محض چند بے معنی رسوم و رواج کی حیثیت رکھتا تھا۔ لہٰذا نوجوانی کی حدود میں داخل ہوتے ہوتے وہ مذہب سے تقریباً لاتعلق ہو گیا، جبکہ اس کے والدین نے بھی اس کی روش پر اعتراض کی ضرورت محسوس نہ کی۔ البیر نے قاہرہ یونیورسٹی میں فلسفے کے شعبے میں داخلہ لیا، جہاں تمام مذاہب اور ان کے بارے میں سائنسدانوں اور فلسفیوں
کی آرا کا مطالعہ اس کے نصاب کا حصہ تھا۔ یہاں مذاہب پر لیکچرز کے دوران خدا کے وجود، عدم وجود، مذاہب کی حیثیت اور بنیاد کے حوالے سے اس کی اپنے پروفیسرز سے اکثر بحث ہونے لگی، جو اس کے لادینی نظریات کی وجہ سے بعض اوقات تلخ کلامی تک پہنچ جاتی۔ بالآخر معاملے کی نزاکت بھانپ کر اس کے والدین نے اسے آرٹس کے شعبے سے نکلوا کر کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم پر لگا دیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب البیر نے اپنے نظریات کے پرچار کے لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال شروع کیا۔ فیس بک اور ٹوئیٹر پر اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے ملحدانہ پوسٹ شیئر کرنے کی وجہ سے اسے عرب دنیا کے لادین حلقوں میں خاصی پذیرائی ملنے لگی۔ اس حوصلہ افزائی کے نتیجے میں اس نے اپنے نام سے ایک ویب سائٹ بھی بنالی۔ تاہم اس وقت تک اس کی لادینیت کا پرچار ایک مخصوص حلقے تک محدود تھا۔
پھر جولائی 2012ء میں توہین رسالت ﷺ اور اسلام دشمنی پر مبنی ایک شیطانی شارٹ فلم Innocence of Muslims تیار کر کے یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دی گئی اور 11 ستمبر 2012ء کو اس فلم کو عربی میں ڈب کر کے یوٹیوب پر ریلیز کر دیا گیا، جس میں شامل گستاخانہ مواد کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے مختلف ممالک میں اس کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور یوٹیوب کی انتظامیہ سے اس فلم کو ویب سائٹ سے ہٹانے اور یہ فلم بنانے والے ملعون کی گردن زنی کے پرزور مطالبات کیے جانے لگے۔ ان مظاہروں میں شریک افراد کا احتجاج دبانے کی کوشش کے نتیجے میں ہونے والے تصادم میں 50 سے زائد افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اس شیطانی فلم کو امریکہ میں مقیم ایک قبطی عیسائی Nakoula Basseley Nakoula نے لکھا اور پروڈیوس کیا تھا اور Sam Bacile کے فرضی نام سے یوٹیوب پر اپ لوڈ کیا تھا، جس کی ابتدا موجودہ دور میں مصر میں قبطی عیسائیوں پر مسلم اکثریت کے نام نہاد مظالم سے ہوتی ہے، لہٰذا اس فلم میں البیر کی غیر معمولی دلچسپی کا سبب سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ اس گستاخانہ فلم کی عربی زبان میں ریلیز کے فوراً بعد البیر نے اس فلم کا یوٹیوب لنک اپنے تمام فیس بک فرینڈز سے شیئر کرنا شروع کر دیا۔ یہ وہی وقت تھا جب غیرت ایمانی سے سرشار مصری مظاہرین کی طر ف سے قاہرہ میں واقع امریکی سفارت خانے کا گھیراؤ کر کے احتجاج کیا گیا۔ البیر کی طرف سے اس شیطانی فلم کو دیکھنے کی دعوت عام نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور اس کی اس گستاخانہ
حرکت کی خبر آناً فاناً اس سے واقف تمام لوگوں میں پھیل گئی۔ اگلے روز یعنی 12 ستمبر کو غصے سے بھرے ہوئے مسلمانوں کے ایک ہجوم نے البیر صابر کے گھر کا گھیراؤ کر لیا، جو اس مردود کی طرف سے شیطانی حرکت پر اس کا سر قلم کرنے کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس پر البیر کی والدہ نے پولیس کو فون کر کے مدد طلب کی اور الزام لگایا کہ مظاہرین کی طرف سے گھر کے دروازے توڑ کر اندر گھسنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور گھر کو آگ لگانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ البیر اور اس کے اہل خانہ کو علم نہیں تھا کہ پولیس کے پاس پہلے ہی ان کے خلاف توہین رسالت ﷺ کی شکایت درج کرائی جا چکی ہے۔ چنانچہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر اس وقت تو مظاہرین کو منتشر کر دیا، تاہم اگلے روز انھوں نے البیر کے گھر پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کر لیا اور اس کا کمپیوٹر اور موبائل فون ضبط کر لیے گئے۔ پولیس نے کمپیوٹر سے دستیاب شواہد، اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویب سائٹ پر دستیاب شیطانی مواد کی بنیاد پر اس کے خلاف مصر کے تعزیری قانون کی دفعات 98، 160 اور 161 کے تحت اسلام اور عیسائیت کی تضحیک، اللہ تعالیٰ کا انکار، رسول کریم ﷺ کی تضحیک اور انبیا علیہم السلام کی شان میں گستاخی کا مقدمہ درج کر کے اسے جیل بھیج دیا۔ تاہم ان الزامات کے ثابت ہونے پر بھی اسے زیادہ سے زیادہ چھ سال قید کی سزا دی جا سکتی تھی۔ البیر جیل میں اپنے خلاف مقدمے کا منتظر تھا کہ ایک رات ساتھی قیدیوں نے اس کی دریدہ دہنی کا مزا چکھانے کے لیے اس پر حملہ کر دیا اور بری طرح مار پیٹ کر ادھ موا کر دیا۔ ایک قیدی نے استرے سے اس کی گردن کاٹنے کی کوشش بھی کی، جس سے اس کی گردن پر گہرا زخم آیا، تاہم جیل کے عملے نے مداخلت کر کے اسے جہنم رسید ہونے سے بچا لیا۔ جبکہ اس دوران البیر کے گھر کے سامنے مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔ مقدمے کی کارروائی شروع ہونے پر وکیل استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ البیر نے نہ صرف حضرت محمد ﷺ، حضرت عیسیٰ، حضرت مریم اور حضرت جبرئیل علیہم السلام کی شان میں گستاخی کی، بلکہ اللہ رب العزت کو بھی تضحیک کا نشانہ بنایا۔ اس دوران حسب روایت انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کی علمبردار تنظیموں اور مغربی حکومتوں کی طرف سے البیر کے حق میں شور شرابا شروع ہو گیا۔ مختلف این جی اوز البیر کی رہائی کے لیے مظاہرے بھی کر رہی تھیں۔ یہی نہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے حسب معمول البیر کو بھی ضمیر کا قیدی قرار دے دیا گیا جو ان کے نقطہ نظر میں ”پرامن انداز میں صرف اور صرف اپنا اظہار رائے کی آزادی کا حق“ استعمال کر رہا تھا۔ تاہم 12 دسمبر
2012ء کو عدالت نے دستیاب شواہد کی روشنی میں البیر کو مجرم قرار دے کر تین سال قید کی سزا سنا دی، لیکن صرف ایک ماہ بعد یعنی 26 جنوری 2013ء کو اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جس کے فوراً بعد وہ مصر سے سوئٹزرلینڈ فرار ہو گیا۔ اس کی ویب سائٹ اور فیس بک پیج بدستور فعال ہیں اور البیر کی طرف سے آسمانی مذاہب، اللہ رب العزت اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں گستاخی کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔
پونم شنکر
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک کے سرکاری اور نجی اداروں، حتیٰ کہ گھروں میں بھی پاکستان سمیت پسماندہ مسلمان ممالک کے باشندوں کے بجائے غیر مسلم ممالک کے شہریوں خصوصاً بھارتیوں کو ملازمت دینے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ 1976ء میں بھارت کے صوبے تلنگانہ کے ایک انتہائی پسماندہ گاؤں شلا پلی میں پیدا ہونے والے پونم شنکر نے ہندو دیو مالائی کردار ”بھگوان شیوا“ کی پوجا کرنے والے ایک کٹر ہندو گھرانے میں پرورش پائی۔ وہ صرف چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کر سکا، جس کے بعد وہ لگ بھگ دس سال تک چھوٹی موٹی مزدوریاں کرتا رہا۔ بائیس سال کی عمر میں شادی اور اگلے ہی سال باپ بن جانے کے بعد اس نے مستقل ملازمت کی تلاش شروع کی۔ لیکن اپنی معمولی تعلیم کی وجہ سے اسے مالی کی ملازمت پر اکتفا کرنا پڑا۔ پانچ سال پہلے اسے خالصتاً اسلامی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عقیدت کے مرکز ملک سعودی عرب میں مالی کی ملازمت کے موقع کی خبر ملی تو وہ اس ملازمت کی خاطر اپنی تمام جمع پونجی داؤ پر لگانے پر تیار ہو گیا۔ پونم شنکر نے جیسے ہی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے مضافاتی علاقے میں واقع ضلع المجمعۃ میں مشہور تعمیراتی کمپنی التعمیر میں بطور مالی شمولیت اختیار کی، اس کے خاندان کے مالی حالات بدلنے لگے۔ وہ پورے تین سال بعد تین ماہ کی چھٹیاں گزارنے اپنے گاؤں گیا اور واپس آنے کے بعد ایک بار پھر ریال کمانے میں جٹ گیا۔ لیکن پیٹ بھرا ہونے کی وجہ سے اس کے ذہن کے گوشوں میں خوابیدہ دین اسلام سے نفرت کرنے والا کٹر ہندو جاگ اٹھا تھا۔ 12 نومبر 2016ء کے دن وہ فارغ وقت میں حسب معمول اپنے اسمارٹ فون پر انٹرنیٹ کھول کر بیٹھ گیا۔ وہ گوگل امیجز پر ہندو دھرم کے دیوی دیوتاؤں کی تصویریں دیکھ رہا تھا کہ اس کی نظر وہاں موجود ایک ایسی شیطانی تصویر پر پڑی جس میں اس کا ”بھگوان شیوا“ خانہ کعبہ کے اوپر آلتی پالتی مارے بیٹھا نظر آ رہا تھا
(معاذ اللہ)۔ پونم شنکر یہ تصویر دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھا۔ اس نے وہ تصویر اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کر دی۔ کچھ ہی دیر میں اس کی یہ پوسٹ بھارت اور سعودی عرب سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں موجود اس کے دوستوں اور رشتے داروں کی واہ، واہ سمیٹنے لگی اور اسے دھڑا دھڑ شیئر کیا جانے لگا۔ تاہم اس دوران میں شنکر کی یہ حرکت اس کے ساتھ کام کرنے والے چند بھارتی مسلمانوں کے علم میں بھی آچکی تھی۔ انھوں نے شنکر کے فیس بک پیج پر یہ گستاخانہ پوسٹ اور اس پر انتہا پسند ہندوؤں کے تضحیک بھرے تبصرے دیکھے تو ان کی غیرت ایمانی جوش میں آئی اور انھوں نے پونم شنکر کو گھیر کر اس کی زبردست پٹائی کی اور پھر مقامی پولیس کے پاس جا کر اس کا کچا چٹھا بیان کر دیا۔ پونم شنکر گرفتار کر کے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور اس کا اسمارٹ فون تحویل میں لے کر اس کے خلاف شکایت کی تحقیق شروع کر دی گئی۔ کچھ ہی دیر میں سچائی کھل کر سامنے آگئی اور پونم شنکر نے اپنی گستاخانہ جسارت کا اعتراف بھی کر لیا۔ اس پر معاملہ ریاض کی مذہبی پولیس کے ہاتھ میں آگیا۔ پونم شنکر نے ایک بار پھر اپنے جرم کا اقرار کیا۔ پونم شنکر کی طرف سے اعتراف اور تمام شواہد کی روشنی میں اسے توہین اسلام کا مرتکب قرار دے دیا گیا، جس کی سزا سعودی عرب کے قانون کے مطابق سرعام سرقلم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسے جیل میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں والے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ تاہم اس سے پہلے اسے فون پر بھارت میں گھر والوں سے رابطہ کر کے صورت حال بتانے کی اجازت دے دی گئی۔ اس نے روتے ہوئے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ اسے توہین اسلام کا مجرم قرار دے کر سزائے موت کی کال کوٹھری میں بھیجا جا رہا ہے۔ وہ سخت خوف زدہ ہے۔ یہاں پر جمعہ کو سزائے موت پانے والے درجنوں مجرموں کے سر قلم کیے جاتے ہیں، کسی بھی جمعہ کو اس کی باری آسکتی ہے۔
یہ فون کال موصول ہوتے ہی پونم شنکر کے گھر میں کہرام مچ گیا۔ انھوں نے مداخلت کے لیے اعلیٰ بھارتی حکام سے رابطے کی کوشش شروع کر دی۔ جبکہ اس دوران بھارت اور سعودی عرب کے تمام ذرائع ابلاغ میں بھی اس معاملے کی خبر پھیل چکی تھی اور بھارتی حلقوں میں ’’صرف ایک تصویر‘‘ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے جرم میں سزائے موت کے حکم کو انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ قرار دیا جا رہا تھا۔ اس واویلے میں انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں بھی شریک ہو چکی تھیں۔ پونم شنکر کے علاقے کے کلکٹر کی طرف سے نیو دہلی میں مودی سرکار کو اس معاملے سے آگاہ کرنے کی کوششیں بے سود ثابت ہو رہی تھیں۔ ادھر یکے بعد دیگرے کئی جمعہ کے دن
گزر چکے تھے اور وہ جمعہ کبھی بھی آسکتا تھا جب پونم شنکر کا سر قلم کر کے اسے جہنم رسید کر دیا جاتا۔ بالآخر 22 دسمبر 2016ء کو ٹائمز آف انڈیا میں اس معاملے سے متعلق خبر کی اشاعت کے نتیجے میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ اس نے سعودی عرب میں بھارتی کمیشن کو اس معاملے کو دیکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملعون پونم شنکر کو سزائے موت سے بچانے کے لیے بھارتی مشینری پوری طرح حرکت میں آگئی اور سعودی حکمرانوں پر زور ڈالا جانے لگا کہ پونم شنکر کے جرم کی سنگینی کو نظر انداز کر کے اس سے خصوصی رعایت برتی جائے۔ دو ہی دن بعد پونم شنکر کے گھر والوں کو سعودی عرب میں بھارتی ہائی کمشنر کا فون موصول ہوا کہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بہت جلد معاملہ ٹھیک ہو جائے گا۔ چنانچہ 25 جنوری 2015ء بروز بدھ، اللہ رب العزت کے گھر، امت مسلمہ کے سب سے مقدس مقام خانہ کعبہ کی شان میں بدترین گستاخی کی پاداش میں سزائے موت کا حکم صادر ہونے کے بعد کال کوٹھری میں سر قلم کیے جانے کے منتظر پونم شنکر کی سزا میں نرمی کر دی گئی۔ صرف چار ماہ قید اور پانچ ہزار ریال جرمانے کی سزا بھگتنے کے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔
سیون نسانیان
ترکی کے سابق وزیراعظم اور موجودہ صدر رجب طیب اردگان کو زوال کی پستیوں میں ڈوبے اپنے ملک کو ترقی و کامیابی کے سفر پر گامزن کرنے کی بنیاد پر ایک عظیم رہنما قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم اکثر تجزیہ نگاروں کے مطابق کمال اتاترک کے پھیلائے ہوئے لادینیت کے اندھیروں میں سات عشروں سے ڈوبے ترکی کی کایا پلٹ کے ایک بار پھر دین اسلام کو ترکوں کی سیاسی، سماجی اور ذاتی زندگی کا محور و مرکز بنانا طیب اردگان کا ایک ایسا لازوال کارنامہ ہے، جو انھیں تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ اس کٹھن جدوجہد میں جہاں انھیں ملک میں لادینیت برقرار رکھنے پر ملک کے مقتدر حلقوں کی مخالفت کا سامنا رہا ہے، وہیں مغربی ممالک کی شہ پر آزادی اظہار رائے کے نام پر دین اسلام اور مقدس شخصیات کی شان میں توہین کرنے والے لبرلز اور دہریوں کو لگام دینا بھی ان کے لیے چیلنج بنا رہا ہے۔ اگر اس آخرالذکر معاملے میں رعایت کی جاتی تو ترکی کو ایک ترقی پسند اسلامی جمہوریہ بنانے کی تمام تر کوششیں رائیگاں چلی جاتیں۔ لہٰذا طیب اردگان کی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے ترکی میں برسر اقتدار آنے کے فوراً بعد دین اسلام کے بنیادی ستونوں پر تنقید اور خصوصاً شان رسالت ﷺ میں گستاخی کے
مرتکب کسی بھی شخص کو سخت ترین سزا دے کر عبرت کا نشان بنانے کی ٹھان لی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس حوالے سے اردگان حکومت کی سنجیدگی بھانپنے میں کچھ حلقوں کو خاصی دیر لگی۔ اس کی ایک مثال آرمیائی نسل کا دہریہ اور ماہر لسانیات سیون نسانیان ہے، جسے ستمبر 2012ء میں اپنے بلاگ پر توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کرنے پر عبرت ناک خمیازہ بھگتنا پڑا۔
سیون نسانیان نے 1956ء میں استنبول میں کٹر ترین لادینی سماجی ماحول میں آنکھ کھولی، جہاں سرعام نماز و روزہ کا ”مرتکب“ قید و بند کی سزا کا مستحق ٹھہرایا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ داڑھی رکھنا بھی قانوناً ممنوع تھا۔ اس نے کالج تک کی تعلیم استنبول میں مکمل کی جس کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے امریکہ منتقل ہو گیا۔ جہاں اس نے 1979ء میں یالے یونیورسٹی سے بی اے اور یونیورسٹی آف کولمبیا سے 1983ء میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد وہ ترکی واپس لوٹ آیا اور استنبول کی بلگی یونیورسٹی میں لسانی تاریخ کی تدریس شروع کی اور بعد ازاں جدید ترکی زبان کی اصطلاحات کی ایک لغت بھی مرتب کی۔ اس کے علاوہ وہ تہذیبی و تاریخی موضوعات پر بھی باقاعدگی سے مضامین اور اخباری کالم لکھا کرتا تھا، جس میں وہ اسلامی طرز زندگی اور خصوصاً عثمانی خلافت کی مختلف شخصیات و روایات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کرتا تھا۔
رجب طیب اردگان کے اقتدار میں آنے اور ملک میں اسلامی اصلاحات متعارف کرانے کے ساتھ ہی سیون نسانیان کی توپوں کا رخ اسلام پسند حکومت کی طرف ہو گیا۔ وہ اسلامی شعائر کے فروغ کے خلاف مزاحمت کرنے والے ”دانش وروں“ کے ہر اول دستے میں شامل ہو گیا۔ تاہم دین اسلام اور حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف اس کی دریدہ دہنی اس وقت ترکی کے اسلام پسند حلقوں کی تنقید اور احتجاج کا نشانہ بننا شروع ہوئی، جب ستمبر 2012ء میں مصر کے ایک بدبخت قبطی عیسائی نے اپنی بنائی ہوئی مختصر فلم Innocence of Muslims میں رسالت مآب ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی غلیظ جسارت کی، جس کے خلاف دنیا بھر میں پر تشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اس موقع پر طیب اردگان بھی اس توہین آمیز جسارت کی شدید مذمت کرنے والے عالمی رہنماؤں میں شامل تھے۔ یہی نہیں، رجب طیب اردگان کی طرف سے ترکی میں توہین رسالت ﷺ کے خلاف سخت ترین قوانین متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا گیا۔
اس پر ملک کے تمام لا دین حلقوں کی طرح سیون نسانیان بھی بری طرح بھڑک اٹھا۔ اس نے اپنے کالموں میں طیب اردگان پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کی اسلام پسندی کو
شہری آزادی غصب کرنے اور ترکی کو ”پندرہ سو سال پہلے کے تاریک دور“ (معاذ اللہ) میں واپس لے جانے کی کوششوں کا علمبردار قرار دیا۔ تاہم اپنے بلاگ پر طیب اردگان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے کے جوش میں وہ توہین رسالت ﷺ کی گھناؤنی حرکت سے بھی باز نہ رہ سکا۔ اس نے 22 ستمبر 2012ء کو حکومت کی طرف سے توہین رسالت ﷺ کے خلاف قانونی بل پیش کرنے کے ارادے کی مذمت کرتے ہوئے شان رسالت ﷺ میں بدترین گستاخانہ کلمات تحریر کیے اور اللہ رب العزت کو بھی تضحیک کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے نظریات کو اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ حاصل ہے۔
ملعون سیون نسانیان کی طرف سے یہ گستاخانہ کلمات سامنے آنے کے فوراً بعد ترکی میں عاشقان رسول کی طرف سے شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا اور بڑے بڑے ملک گیر مظاہروں میں گستاخ سیون نسیان کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جبکہ خود طیب اردگان کے قریبی ساتھیوں نے بھی ملعون سیون کی اس جسارت پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ اس دوران اس کے خلاف مختلف شہروں میں مقدمات درج کرانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ بالآخر پولیس نے اسے گرفتا کر لیا اور اسے پہلے استنبول کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ مئی 2013ء میں اسے سب سے پہلے ترکی کے تعزیری قانون کی دفعہ 216 کے تحت ”مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا مرتکب“ قرار دیتے ہوئے 15 ماہ قید کی ابتدائی سزا سنائی گئی۔ چونکہ اس جرم کے ارتکاب کے لیے ذرائع ابلاغ کا سہارا لیا گیا تھا، چنانچہ اس سزا میں نو ماہ قید کا مزید اضافہ کر دیا گیا۔ اس پر سیون نے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی اور اپنے مقدمے کی خود پیروی کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس کا طرز تحریر گستاخانہ تھا، اس پر عدالت کے تمام ججوں نے نہ صرف اس کے خلاف زیریں عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا، بلکہ وہی جرم دہرانے پر اس کی سزائے قید میں چار سال کا اضافہ کر دیا۔ اس دوران سیون نسانیان کی طرف سے سی این این اور دیگر مغربی ذرائع ابلاغ میں بھی اپنے گستاخانہ الفاظ دہرانے کا سلسلہ جاری تھا، جس پر اس کے خلاف مزید مقدمات درج کرائے گئے۔ جبکہ دو دیگر عدالتوں میں بھی اس کے خلاف مقدموں کا سلسلہ جاری تھا، جن میں اسے مجرم قرار دیتے ہوئے الگ الگ سزائیں سنائی گئیں۔ بالآخر 2 جنوری 2014ء کو اسے مجموعی طور پر سولہ سال اور سات ماہ قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا۔ سیون نسانیان کی ویب سائٹ کے مطابق 29 جنوری
2017ء کو اسے استنبول کی سخت حفاظتی انتظامات والی جیل میں قید کی سزا بھگتتے ہوئے 1123 دن گزر چکے ہیں۔ جبکہ اسے 2024ء تک پیرول پر رہائی کی درخواست جمع کرانے کا حق نہیں ہے۔ اس دوران حسب روایت دنیا بھر کی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں، ذرائع ابلاغ اور مغربی حکومتوں کی طرف سے سیون نسانیان کو رہا کرانے کے لیے شور و غوغا کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن ترکی کی حکومت نے ان پر کوئی کان نہیں دھرا۔
حمد النقی
تیل کے وسیع ذخائر کے حوالے سے مشہور خلیجی عرب ملک کویت کے دارالحکومت کویت سٹی میں 1986ء میں جنم لینے والے حمد النقی نے شعور کی حدود میں قدم رکھا تو اپنے روشن خیال اہل خانہ کو ہمیشہ دین اسلام پر تنقید کرتے دیکھا۔ اس نے 2006ء میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ یہی وہ دور تھا جب اس نے فیس بک پر اپنے خیالات اور نظریات کے منظم پرچار کا سلسلہ شروع کیا اور آئندہ سال کے آغاز تک وہ نئی متعارف ہونے والی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئیٹر پر بھی بھر پور انداز میں متحرک ہو چکا تھا۔ اسی دوران وہ جوش و جذبات میں کچھ ایسی انتہا پسندانہ ٹویٹس بھی کر گزرا جو حضور نبی اکرم ﷺ ، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ، خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ کی شان میں شدید گستاخی کے زمرے میں آتی ہیں۔ امت مسلمہ کی ان محبوب ترین ہستیوں کے بارے میں حمد النقی کی یہ دریدہ دہنی سامنے آتے ہی اس کی ان ٹویٹس اور فیس بک پوسٹس پر مذمت اور غم و غصے سے بھر پور پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اس کی گستاخانہ جسارت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے کویت اور انٹرنیٹ سے منسلک اسلامی دنیا میں پھیل گئی۔ 2012ء میں اس کے خلاف کویت سٹی اور دیگر شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ ہو گیا، جن میں حکومت سے حمد النقی کو فوراً گرفتار کرنے اور اس پر مقدمہ چلا کر سزائے موت دینے کے مطالبات کیے جا رہے تھے۔ خود کویت کی قومی اسمبلی میں متعدد ممبران نے بھی اس ملعون کو فوری طور پر جیل میں ڈالنے اور کویتی آئین کے مطابق سخت ترین سزا دے کر دوسروں کے لیے نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کیا۔
اپنے خلاف یہ غیر معمولی ردعمل دیکھ کر حمد النقی نے پہلے اپنی ان ٹویٹس کو اپنا اظہار رائے کی آزادی کا حق قرار دیا۔ لیکن پھر اپنے اہل خانہ سے مشاورت کے بعد ان ٹویٹس اور فیس بک پوسٹس کو ڈیلیٹ کر کے یہ دعویٰ کیا کہ اس کا ان گستاخانہ پیغامات سے کوئی تعلق نہیں
بلکہ کسی نے اس کے یہ اکاؤنٹ ہیک کر کے اس کی طرف سے یہ توہین آمیز پیغامات پوسٹ کر دیئے تھے۔ تاہم اپنے بچاؤ کی کارروائی اور صفائی پیش کرنے میں حمد النقی نے بہت دیر کر دی تھی۔ اس دوران میں کویت سٹی اور دیگر شہروں میں اس کی گستاخانہ حرکت کے خلاف کئی درخواستیں مع دستاویزی ثبوت پولیس کے پاس جمع کرائی جا چکی تھیں۔ 27 مارچ 2012ء کو پولیس نے حمد النقی کے گھر پر چھاپا مارا اور اسے گرفتار کر کے اس کا لیپ ٹاپ اور موبائل فون اپنی تحویل میں لے لیے۔ بعد ازاں اسے کویت کی مرکزی جیل بھیج دیا گیا اور پولیس نے اس کے خلاف مقدمے کی تیاری شروع کر دی۔ لیکن اس سے پہلے کہ اسے عدالت میں پیش کیا جاتا، 19 اپریل 2012ء کو ایک قیدی نے ایک تیز دھار آلے سے اس کی گردن کاٹنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں اس کے گلے پر زخم آئے۔ اس پر اسے دوسرے قیدیوں کے غیظ وغضب سے بچانے کے لیے الگ کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔
ابتدائی سطح کی عدالت میں مقدمے کی کارروائی شروع ہونے پر پولیس نے کویتی آئین کی قومی سلامتی سے متعلق دفعہ 15 کے تحت دانستہ ایسی خبر، بیان یا جھوٹ یا شرانگیز مواد یا افواہ پھیلانے کے جرم میں، جس سے ریاست کے قومی مفاد کو نقصان پہنچ سکتا ہو، ملزم کے لیے کم از کم تین سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا، جبکہ اس کے ساتھ ہی عوام کے مذہبی عقائد کا مذاق اڑانے اور دینی جذبات کو ٹھیس پہنچانے، نیز انتہائی مقدس مذہبی شخصیات کی تضحیک وتوہین کے الزام میں تعزیری دفعہ 111 کے اطلاق کی درخواست بھی دی۔ دفعہ 101 اور ذیلی دفعات کے ذریعے ریاست میں مذہبی منافرت، انتشار اور تفرقہ پھیلانے، نیز ہمسایہ دوست ممالک سے تعلقات خراب کرنے کی سازش کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ ان الزامات کے ثبوت میں اس کے فیس بک پیج پر شیئر کی گئی متعلقہ پوسٹس اور ٹویٹر اکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے پیغامات کی عکسی تصاویر بھی پیش کی گئیں۔
حمد النقی نے عدالت میں اپنی صفائی میں اپنے فیس بک اور ٹویٹر اکاؤنٹ ہیک کیے جانے کا دعویٰ کیا، جسے پولیس نے آئی ٹی ماہرین کی مدد سے غلط ثابت کر دیا۔ جس پر عدالت نے 5 جون 2012ء کو حمد النقی کو مذکورہ بالا تمام جرائم کا مرتکب قرار دے کر دس سال قید کی سزا سنا دی۔ اس دوران حمد النقی کی گرفتاری کے فوراً بعد سے انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کی علمبردار ان گنت تنظیموں کی طرف سے اسے رہائی دلانے کے لیے زبردست
مہمیں بھی چلائی جارہی تھیں، لیکن کویتی حکومت نے عدالتی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کیا۔ 20 جولائی 2014ء کو حمد النقی کے وکلاء نے اپنے مؤکل کے خلاف زیریں عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی، لیکن عدالت عظمیٰ نے یہ اپیل خارج کرتے ہوئے اپنی ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا اور حمد النقی کویت کی مرکزی جیل میں آج بھی اپنی شیطانی جسارت کی سزا بھگت رہا ہے۔
اشرف فیاض
سعودی عرب میں 1980ء میں پیدا ہونے والے شاعر اور مصور اشرف فیاض کا باپ فلسطین میں غزہ کی پٹی کے علاقے خان یونس سے تعلق رکھنے والا ایک مہاجر تھا۔ باپ کے دباؤ پر اس نے تعلیم کے حوالے سے کبھی بے توجہی نہیں برتی۔ کالج میں پہنچنے تک اسے ادب اور فنون لطیفہ سے گہرا لگاؤ پیدا ہو چکا تھا اور رفتہ رفتہ وہ روایتی اصولوں سے ہٹ کر دہریت کی تبلیغ کرنے لگا۔ 2014ء میں فیس بک اور ٹوئٹر پر لکھے جانے والے اپنے کچھ گستاخانہ تبصروں کی وجہ سے اپنے مداحوں ہی میں سے چند ایک کی طرف سے اسے مرتد قرار دیا گیا اور اسے دوبارہ دائرہ اسلام میں شامل ہونے کا مشورہ دیا گیا۔ لیکن اس نے مشوروں پر مزید گستاخانہ تبصرے کرتے ہوئے ان افراد کو اپنے دوستوں کی فہرست سے خارج کر دیا۔ ان ہی دنوں اس کے شعری مجموعے ”التعليمات بالداخل“ میں شامل کئی نظموں کے الفاظ اور خیالات کے ذریعے اللہ رب العزت اور حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی، قرآن کی تضحیک اور لا دینیت کے پرچار پر اس کے خلاف کئی باضابطہ شکایات درج ہوئیں اور سعودی مذہبی پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کے خلاف مقدمہ چلا تو وکیل استغاثہ نے فیس بک اور ٹوئیٹر پر اس کے مختلف مضامین اور تبصرے، نیز اس کی کتاب میں شامل کئی نظموں کے اشعار عدالت کے روبرو پیش کیے، جس پر عدالت نے اس کے خلاف تمام مذکورہ بالا الزامات برحق تسلیم کرتے ہوئے چار سال قید اور آٹھ سو کوڑوں کی سزا سنائی اور ذرائع ابلاغ میں اپنی گستاخی پر توبہ کرنے اور آئندہ کے لیے تائب ہونے کا اعلان کرنے کا حکم جاری کیا۔
اشرف فیاض نے اپنے وکیلوں کے مشورے پر اپیلیٹ کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کرتے ہوئے اپنے جرائم قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم عدالت نے نہ صرف اس کے خلاف فیصلہ برقرار رکھا، بلکہ اس کی طرف سے توبہ نہ کیے جانے پر اس کی سزا تبدیل کر
کے 17 نومبر 2015ء کو سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ اس فیصلے کے سامنے آتے ہی اسے محض اپنے ذاتی خیالات کے ”فن کارانہ“ اظہار پر سزا کا مستحق ٹھہرائے جانے پر دنیا کی انسانی حقوق کے تحفظ اور اظہار رائے کی آزادی کی علمبردار تنظیموں کی طرف سے جاری احتجاجی مہم میں مزید شدت آگئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت بے شمار اداروں کی طرف سے شاہ سلمان سے یہ ”ظالمانہ“ سزا منسوخ کرنے اور اشرف فیاض کو رہا کرنے کے مطالبات بار بار دہرائے جانے لگے۔ اس قدر زور و شور سے ہاہا کار کے نتیجے میں بالآخر فروری 2016ء میں اشرف فیاض کی سزائے موت کو آٹھ سال قید اور آٹھ سو کوڑوں کی سزا میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ میں جاں بخشی کے باوجود اس سزا کو بھی ظالمانہ قرار دیا جا رہا ہے اور اسے واپس لینے کے مطالبات مسلسل جاری ہیں۔
جبیر میجری اور البجی
مارچ 2012ء میں تیونس کے دو گستاخ بلاگرز جبیر میجری اور البجی نے شان رسالت ﷺ میں گستاخی کی انتہا کر دی۔ انھوں نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایسے گستاخانہ کارٹون شیئر کیے جن کی تفصیل بیان کرنا بھی اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ فرانس کے شیطانی رسالے میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے ان دونوں شیطانوں کی غلیظ جسارت کا عشر عشیر بھی نہیں تھے۔ اپنی اس حرکت پر انھیں اپنے ہی جیسے دہریوں کی طرف سے داد و تحسین تو ملی لیکن ان کے شائع کردہ یہ گستاخانہ خاکے اس کے علاقے کے دو وکیلوں کی نظروں میں بھی آگئے، جنہوں نے اس کے خلاف پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرادی۔ 5 مارچ 2012ء کو پولیس نے چھاپا مار کر جبیر کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا، تاہم بجی بروقت اطلاع ملنے پر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے کسی نامعلوم مقام پر روپوشی اختیار کر لی۔ 9 مارچ 2012ء کو جبیر کو ابتدائی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس پر اور بجی پر اس کی غیر حاضری میں توہین رسالت ﷺ ، دین اسلام کی تضحیک ، لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور ملک میں امن و امان کی صورت حال کو خطرے سے دوچار کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ جبیر کے وکیل صفائی احمد سالمی نے عدالت کے سامنے مؤقف پیش کیا کہ اس کے مؤکل کی اس حرکت کو اس کی خراب ذہنی حالت کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے۔ کیونکہ وہ گزشتہ 6 سال سے بے روزگار ہے۔ اس نے عدالت سے اپنے مؤکل کا نفسیاتی اور طبی معائنہ
کرانے کی اپیل کی جو عدالت نے اس موقع پر غیر ضروری قرار دے کر مسترد کردی۔ وکیل استغاثہ کو ان دونوں دہریوں کے شیطانی کرتوت ثابت کرنے کے لیے کوئی غیر معمولی تگ و دو نہیں کرنی پڑی۔ اس نے تین پیشیوں میں جبیر اور مجدی کے فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹس کے متعدد اسکرین شاٹس، نیز ان کی اپ لوڈ کردہ کتابوں کے چند نشان زد صفحات عدالت کے سامنے پیش کیے۔
28 مارچ 2012ء کو عدالت نے جبیر اور مجدی کو (اس کی غیر حاضری میں) استغاثہ کی طرف سے عائد کیے گئے تمام الزامات کا مرتکب تسلیم کرتے ہوئے، ساڑھے سات سال قید اور بارہ سو تیونسی دینار (لگ بھگ آٹھ سو امریکی ڈالر) جرمانے کی سزا سنا دی۔ جبیر کو سزا بھگتنے کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ اس کی شیطانی حرکات کی خبر اس سے پہلے جیل پہنچ چکی تھی۔ چنانچہ وہاں پہنچنے کے کچھ ہی دنوں کے اندر جیل کے کئی قیدیوں نے وقتاً فوقتاً اس کی پٹائی کی، بعد ازاں قیدیوں کے ہاتھوں جہنم رسید ہونے سے بچانے کے لیے اسے قید تنہائی کا مستحق قرار دے دیا گیا۔
اس دوران میں جبیر اور مجدی کو اپنی آزادانہ رائے کے اظہار کی پاداش میں ملنے والی ”ظالمانہ“ سزا کا تمام مغربی ممالک میں چرچا شروع ہو گیا اور انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں نے شور و غل اور واویلا بھی شروع کر دیا تھا۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ادھر جبیر جیل میں قید تنہائی میں سڑ رہا تھا، اور ادھر اس سے کہیں زیادہ گھناؤنی خرافات کے باوجود مجدی صاف بچ نکلا اور ملک سے فرار ہونے اور یونان میں سیاسی پناہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ جبیر کے وکیل نے جون 2012ء میں اس کی سزا کے خلاف اپیلیٹ کورٹ میں اپیل دائر کی جو مسترد ہو گئی اور بعد ازاں اعلیٰ ترین عدالت نے بھی ماتحت عدالتوں کی سزا کی جوں کی توں توثیق کر دی۔ اب اس کے پاس ساڑھے سات سال جیل میں سڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ لیکن اس دوران میں تیونس کے صدر منصف مرزوقی پر اس کی رہائی کے لیے مغربی حکومتوں کی طرف سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس کمیشن سمیت کئی تنظیموں کی طرف سے اس کی آزادی کے لیے مظاہرے کیے جا رہے تھے اور آن لائن پٹیشن جمع کرائی جا رہی تھی۔ بالآخر تیونس کے صدر نے اس دباؤ سے ہار مان لی اور 4 مارچ 2014ء کو جبیر کو معافی دے کر رہا کر دیا گیا۔ آخری اطلاعات کے مطابق جبیر سویڈن پہنچ چکا ہے۔ جہاں گزشتہ دو سال سے سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسے یورپ کی جنت کہلانے والے اس ملک
کی یاترا راس نہیں آئی اور اسے یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی کئی ویڈیو کلپس میں سویڈن کی حکومت کے ظلم وستم کا شکوہ کرتے دیکھا جاسکتا ہے، جو اس کی سیاسی پناہ کی درخواست پر کارروائی کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسے روزانہ صرف اڑھائی یورو وظیفہ دیا جاتا ہے اور اسے کوئی ملازمت کرنے یا شہر چھوڑنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ یعنی وہ وہاں عملاً قیدی کی زندگی گزار رہا ہے۔
چارلی ایبڈو
2015ء میں پیرس (فرانس) کے مشہور زمانہ میگزین ”چارلی ایبڈو“ نے حضور نبی کریم ﷺ کی بدترین توہین کرتے ہوئے ان کے نہایت نازیبا خاکے شائع کیے جس کے نتیجہ میں دو مسلح افراد نے رسالہ کے دفتر پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں 12 افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اخبار کے چیف ایڈیٹر سمیت چار کارٹونسٹ بھی شامل تھے۔
(اس مضمون کی تیاری کے سلسلہ میں تحفظ ناموس رسالتﷺ کے موضوع پر اپنی کتب اور روزنامہ امت کراچی کے کئی شماروں سے استفادہ کیا)۔
محمد متین خالد
گستاخانِ رسولؐ اور ان کی سرکوبی کرنے والے خوش نصیب لوگ
(عہدِ رسالتﷺ سے لے کر دورِ حاضر تک)
گستاخ کا نام قتل کرنے والے کا نام اور گستاخ کا انجام سن وقوعہ بشر منافق حضرت عمرؓ ...... عقبہ بن ابی محیط حضرت علیؓ 2ھ ابولہب موذی بیماری میں مر گیا ...... اروہ زوجہ ابولہب فرشتے نے گلا گھونٹ دیا ...... عتیبہ بن ابولہب شیر نے چیر ڈالا ...... ابوجہل حضرت معاذؓ، حضرت معوذؓ 2ھ خالد بن سفیان ہذلی حضرت عبداللہ بن انیسؓ نے سر لا کر حضورﷺ کے قدموں میں رکھ دیا امیہ بن خلف حضرت بلالؓ 2ھ نضر بن حارث حضرت علیؓ 2ھ عصماء (یہودی شاعرہ) نابینا صحابی عمیر بن عدیؓ 3ھ ابوعفک حضرت سالم بن عمیرؓ 3ھ کعب بن اشرف حضرت ابونائلہؓ، محمد بن مسلمہؓ، حارث بن اوسؓ 3ھ ابورافع حضرت عبداللہ بن عتیکؓ 3ھ ابوعزہ جمحی حضرت عاصم بن ثابتؓ 3ھ حارث بن طلال حضرت علیؓ 8ھ
ابن خطل حضرت ابوبرزہؓ 8ھ حویرث بن نقید حضرت علیؓ 8ھ قریبہ (گستاخ باندی) فتح مکہ کے موقع پر قتل ہوئی 8ھ ارنب (گستاخ باندی) فتح مکہ کے موقع پر قتل ہوئی 8ھ مالک بن نویرہ حضرت خالد بن ولیدؓ ...... ریجی نالڈ (عیسائی گورنر) سلطان صلاح الدین ایوبیؒ ...... دو گستاخ عیسائی سلطان نور الدین زنگی 577ھ ابراہیم فرازی قاضی ابن عمرو کے حکم پر قتل کیا گیا 577ھ یولوجینس پادری فرزند عبدالرحمن حاکم اندلس 859ء فلورا (عیسائی عورت) حاکم اندلس عبدالرحمن 851ء میری (عیسائی عورت) حاکم اندلس عبدالرحمن 851ء پرفیکٹس پادری قاضی اندلس ...... یوحنا پادری قاضی اندلس ...... اسحاق پادری حاکم اندلس عبدالرحمن 851ء سانکو پادری حاکم اندلس عبدالرحمن 851ء جرمیاس پادری حاکم اندلس عبدالرحمن 851ء جانقوس پادری حاکم اندلس عبدالرحمن 851ء سیسی نند پادری حاکم اندلس عبدالرحمن 851ء پولوس پادری حاکم اندلس عبدالرحمن 851ء تھیوڈو میر پادری حاکم اندلس عبدالرحمن ...... آئیزک پادری قاضی اندلس ...... شردھانند غازی قاضی عبدالرشیدؒ 1926ء راجپال غازی علم الدین شہیدؒ 1927ء بھولا ناتھ سین غازی امیر احمد شہیدؒ، عبداللہ شہیدؒ 1931ء پالامل سنار غازی حافظ محمد صدیق شہیدؒ 1934ء
نتھورام غازی عبدالقیوم شہیدؒ 1934ء ویربھان نامعلوم مسلمان 1935ء سورن سنگھ غازی عبدالرحمٰن شہیدؒ (مانسہرہ) 1936ء ڈاکٹر رام گوپال غازی مرید حسین شہیدؒ 1936ء چرن داس غازی میاں محمد شہیدؒ 1937ء بھوشن عرف بھوشو غازی عبدالمنان 1937ء نامعلوم گستاخ رسول (عورت) غازی محمد حنیف شہیدؒ 1937ء اپل سنگھ غازی غلام محمد بٹ شہیدؒ 1937ء چنچل سنگھ غازی صوفی عبداللہ انصاری شہیدؒ 1938ء نینوں مہاراج غازی عبدالخالق قریشیؒ 1946ء رام داس غازی مہر محمد امینؒ ، غازی چوہدری محمد اعظمؒ 1946ء پادری سیموئیل غازی زاہد حسینؒ 1961ء عبدالحق قادیانی غازی حاجی مانکؒ 1967ء لیکھ رام آریہ سماجی نامعلوم مسلمان ...... نعمت احمر عیسائی غازی محمد فاروقؒ 1994ء یوسف کذاب کوٹ لکھپت جیل لاہور میں انجام کو پہنچا 2000ء ہیزرک بروڈر ایڈیٹر غازی عامر عبدالرحمٰن چیمہؒ 2006ء عبدالستار عرف ستاری گوپانگ غازی محمد عمران وحیدؒ ، غازی اقبال احمد خانؒ 2006ء سلمان تاثیر غازی ملک محمد ممتاز قادری شہیدؒ 2011ء
۞.......۞.......۞
اہم مضامین
مولانا سید ابوبکر غزنوی
آداب بارگاہ رسالت ﷺ
قرآن مجید کے تیس پاروں میں کسی ہستی کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی اس قدر شدت اور شرح و بسط سے تلقین نہیں کی گئی جس قدر حضور اقدس ﷺ کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ خداوند قدوس کا ارشاد ہے:
- ❑ يَاَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لَا
تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ O (الحجرات: 2)
ترجمہ: ”اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے اونچا مت ہونے دو اور ان کے ساتھ بلند آواز سے بات مت کیا کرو جیسا کہ تم آپس میں زور زور سے بولتے ہو، اگر تم نے ایسا کیا تو سوء ادب کی پاداش میں تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں گے اور تمہیں خبر تک نہ ہوگی“۔
یعنی تمہاری نمازوں اور روزوں کو لے کے میں کیا کروں گا اور تمہاری عبادت و ریاضت سے مجھے کیا حاصل ، اگر تمہیں میرے محبوب ﷺ کی بارگاہ میں بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے۔
جب یہ مذکورہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ نے قسم کھائی کہ اب میں رسول اللہ ﷺ سے بات اتنی دھیمی آواز سے کروں گا جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو اور سیدنا حضرت عمر فاروقؓ، رسول اللہ ﷺ سے اس قدر آہستہ بات کرتے تھے کہ حضور ﷺ بار بار پوچھتے کہ عمر تم کیا کہہ رہے ہو؟
صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ثابت بن قیسؓ کی مجلس میں غیر حاضری کو محسوس کیا، ایک شخص نے کہا، میں آپ کو ان کی خبر لا دیتا ہوں۔ وہ گئے تو انھوں نے دیکھا کہ وہ سر جھکائے بیٹھے ہیں، پوچھا، کیا حال ہے۔
ثابتؓ نے کہا:
- شَرٌّ، كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَ هُوَ
مِنْ أَهْلِ النَّارِ
”حال برا ہے، ثابت اپنی آواز حضور ﷺ کی آواز سے بلند کیا کرتا تھا، اس کے عمل غارت ہو گئے اور وہ دوزخی ہو گیا“
وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور انھیں بتایا کہ وہ یوں کہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اس سے جا کر کہو:
- اِنَّکَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَ لَکِنَّکَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
(بخاری، جلد 2، صفحہ 18)
”تم اہل دوزخ میں سے نہیں ہو، تم تو جنت میں جانے والوں میں سے ہو“
یعنی آیت کا وہ مطلب نہیں ہے جو ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھا، حضور ﷺ کی موجودگی میں شور کرنا سوء ادب ہے اور جو پیدائشی طور پر پاٹ دار آواز رکھتا ہو، وہ معذور ہے۔ پھر اس آیت کے ساتھ ہی اگلی آیت میں وضاحت کی کہ تقویٰ اور پرہیزگاری تو یہ ہے کہ میرے حبیب ﷺ کی بارگاہ میں تم شائستگی سے اور دھیمی آواز میں بات کرو۔
- اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ
قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰی.
(الحجرات: 3)
ترجمہ: ”یقیناً وہ لوگ جو بارگاہِ رسالت میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے پرہیزگاری کے لیے جانچ لیا ہے“
قبیلۂ بنو تمیم کے چند لوگ حضور ﷺ سے دوپہر کے وقت مکان پر ملنے کی خاطر آئے، آپ اس وقت سو رہے تھے۔ وہ لوگ آپ کا نام لے لے کر پکارنے لگے۔ آیت نازل ہوئی:
- اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَاءِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ ہ
(الحجرات: 4)
ترجمہ: ”وہ لوگ جو کمروں سے باہر کھڑے ہو کر آپ کو آوازیں دیتے ہیں، ان میں سے اکثر سمجھ بوجھ سے عاری ہیں“
پہلی امتیں اپنے انبیاء کو نام لے کر پکارتی تھیں، قرآن مجید میں ہے کہ بنی اسرائیل نے کہا:
- يٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ. (البقرۃ: 61)
ترجمہ: ”اے موسیٰ! ہم ایک کھانے پر قناعت نہیں کریں گے“ اور مسیح کے حواریوں نے کہا تھا:
- يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ
(المائدہ: 112)
ترجمہ: ”اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب آسمان سے ہمارے لیے رزق اتار سکتا ہے“۔ حضرت عیسیٰ کا نام لے کر انھیں خطاب کیا۔ مگر وہ تو سید الاولین وسید الآخرین تھے، وہ تو سرورِ دنیا و دیں تھے، وہ تو حبیب رب العالمین تھے، پس اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو حضورﷺ کا نام لے کر پکارنے سے منع فرمایا۔ سورۂ نور میں ہے:
- لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا. (النور: 63)
ترجمہ: ”جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو، پیغمبر کو یوں نہ پکارا کرو“ تفسیر درمنثور میں ہے، ابونعیم، عبداللہ بن عباسؓ سے اس آیت کی تفسیر میں یوں رقم طراز ہیں کہ اس آیت کے اترنے سے پہلے لوگ حضورﷺ کو یا محمد اور یا ابا القاسم کہہ کر پکارتے تھے، اس آیت کے اترنے کے بعد صحابہ کرامؓ آپ کو یا نبی اللہﷺ اور یا رسول اللہﷺ کہہ کر پکارنے لگے۔
غور کیجیے کہ شریعت محمدیہ میں جیسے توحید کا تصور آخری ارتقائی منازل سے گزرا اور ہر اعتبار سے بے داغ، صاف ستھرا اور جامع ہو گیا اور شرک کی تمام راہوں اور تمام وسائل اور ذرائع کو بند کر دینے کے لیے وہ تمام اقوال واعمال جو منجر الی الشرک ہو سکتے تھے، بھی ناجائز قرار دیے گئے۔ اسی طرح انبیائے کرام اور اہل اللہ کا ادب بھی آخری ارتقائی منازل سے گزرا۔ بارگاہِ رسالت کے آداب بھی نکھرے، تہذیب وشائستگی اور احترام کی کئی لطافتوں اور باریکیوں کو ملحوظ رکھنے کی تلقین کی گئی۔
اگر اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اس کے حبیبﷺ کو نام لے کر نہ پکارا جائے تو اس کی یہ مشیت، عدل اور انصاف پر مبنی ہے۔ جب وہ خود خدا ہو کر انھیں نام لے کر خطاب نہیں کرتا ہے تو بندوں کو کیا حق حاصل ہے کہ انھیں نام لے کر پکاریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تمام
انبیاء کو ان کے ذاتی ناموں سے خطاب کیا:
- يٰاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ.
(البقرة:35)
ترجمہ: ”اے آدم! تو اور تیری بیوی بہشت میں رہو“
- يٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا.
(ہود:48)
ترجمہ: ”اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر جا“
- يٰٓاِبْرٰهِيْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا.
(الصّٰفّٰت:104، 105)
ترجمہ: ”اے ابراہیم! تو نے خواب کو سچ کر دکھایا“
- يٰمُوْسٰٓى اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ.
(طٰہ:12)
ترجمہ: ”اے موسیٰ! میں ہوں تیرا پروردگار، تو اتار ڈال اپنی جوتیاں“
- يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَىَّ.
(آل عمران:55)
ترجمہ: ”اے عیسیٰ! میں دنیا میں تیرے رہنے کی مدت پوری کروں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا“
- يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِى الْاَرْضِ.
(ص:26)
ترجمہ: ”اے داؤد! ہم نے تجھے زمین پر اپنا نائب بنا دیا“
- يٰزَكَرِيَّآ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ نِ اسْمُهٗ يَحْيٰى.
(مریم:7)
ترجمہ: ”اے زکریا! ہم تجھے بشارت دیتے ہیں ایک لڑکے کی، جس کا نام یحییٰ ہے“
- يٰيَحْيٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ.
(مریم:12)
ترجمہ: ”اے یحییٰ! کتاب کو مضبوطی سے تھامو“
قرآن مجید کو ”بسم اللہ“ سے لے کر ”والناس“ تک پڑھ ڈالیے، اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو کہیں بھی ذاتی نام سے خطاب نہیں کیا۔ کہیں ”يٰاَيُّهَا الرسول“ کے خطاب عزت سے نوازا، کہیں ”يٰاَيُّهَا المزمل“ کی صدائے محبت سے پکارا اور کہیں ”يٰاَيُّهَا المدثر“ کی ندائے شفقت سے سرفراز فرمایا۔
میں ان آیتوں کا ذکر کر رہا ہوں جن میں بارگاہ رسالتﷺ کے احترام کی تلقین کی گئی ہے اور جن میں ان کی تعظیم کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ فرمایا:
- يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ
سَمِیْعٌ عَلِیْمٌO (الحجرات: 1)
ترجمہ: ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے“
اس آیت میں یہ تلقین کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کے سامنے اپنی بات پیش نہ کرو۔ حضور ﷺ سے کسی قول یا عمل میں پیش قدمی نہ کرو۔ بعض لوگوں نے حضور ﷺ سے پہلے عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کی تو ان سے کہا گیا کہ آپ ﷺ سے پیش قدمی نہ کریں۔ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے:
”اگر روزے کے بارے میں شک ہو اور رسول اللہ ﷺ روزہ نہ رکھیں تو روزہ رکھنے میں پہل نہ کرو۔ لوگ آپ ﷺ سے کوئی بات دریافت کریں تو آپ ﷺ کے جواب دینے سے پہلے کوئی پوچھنے والے کو جواب نہ دے بیٹھے کہ یہ گستاخی ہے“
بارگاہِ رسالت ﷺ کے جو آداب قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو سکھائے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی لفظ جس میں ابہام یا ایہام ہو، کوئی لفظ جو ذو معنی ہو اور ایک معنی اس لفظ کا توہین آمیز بھی ہو، حضور ﷺ کے ساتھ بات چیت کرتے نہ بولیے۔ فرمایا:
- یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا وَ لِلْکٰفِرِیْنَ
عَذَابٌ اَلِیْمٌO (البقرة: 104)
ترجمہ: ”اے ایمان والو! تم راعنا (ہماری رعایت کیجیے) نہ کہا کرو، تم انظرنا کہا کرو اور ان کی بات سنو اور جو بارگاہِ رسالت کے آداب ملحوظ رکھنے سے انکار کر دیں، ان کے لیے درد ناک عذاب ہے“
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرامؓ بارگاہِ رسالت میں بیٹھے آپ کے ارشادات سے جب مستفید ہوتے اور کوئی بات اچھی طرح سمجھ میں نہ آتی تو راعنا کہتے تھے، یعنی ہماری رعایت کیجیے۔ یہودی بھی یہی لفظ کہتے اور عین کے کسرہ کے اشباع کے ساتھ راعنا یا راعینا کہتے، یعنی اے ہمارے چرواہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات بھانپ لی اور ان شرارت پسند یہودیوں سے کہنے لگے:
”اگر اب میں نے یہ لفظ تم سے سنا تو بخدا تم کو قتل کر ڈالوں گا“
وہ بولے تم خود بھی تو یہی کہتے ہو، اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی، جس کے معنی یہ ہیں
کہ تم اس لفظ راعنا ہی کو چھوڑ دو، جس میں اہانت کا کوئی پہلو نکل سکتا ہے۔ تم انظرنا کہا کرو تا کہ سوء ادب کا کوئی شائبہ باقی نہ رہے۔
سورۂ فتح کی اس آیت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کی بعثت کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ان کی تعظیم بجالائی جائے۔ فرمایا:
- ❑ اِنَّا اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا ہ لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ
تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ. (الفتح:8، 9)
ترجمہ: ”ہم نے آپ کو بھیجا کہ آپ (کائنات کے سامنے) حق کی گواہی دینے والے ہیں، (راہِ حق پر چلنے والوں کو) بشارت دینے والے اور (راہِ حق سے انحراف کرنے والوں کو برے نتائج سے) ڈرانے والے ہیں (ہم نے آپ کو اس لیے بھیجا) تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور تاکہ تم ان کی تعظیم اور توقیر بجالاؤ“
پھر سورۂ اعراف کی اس آیت میں وضاحت کے ساتھ یہ بات کہی گئی ہے کہ فلاح و کامرانی ان ہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو حضورﷺ کی تعظیم بجالاتے ہیں۔
- ❑ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ
اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ o (الاعراف:157)
ترجمہ: ”پس جو لوگ ان پر ایمان لائے اور جنہوں نے ان کی تعظیم کی اور ان کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو ان کے ساتھ اتارا گیا، یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں“
اصل بات یہ ہے کہ جسے حضورﷺ کی جتنی معرفت ہے، وہ اتنا ہی اس بارگاہ میں مؤدب ہے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سب سے زیادہ حضور اقدسﷺ کی معرفت تھی، اسی لیے بارگاہِ رسالت میں سب سے زیادہ مؤدب تھے۔
صحیح بخاری میں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز حضورﷺ قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں مصالحت کی غرض سے تشریف لے گئے، جب نماز کا وقت ہوا تو مؤذن نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھ کر اقامت کہی اور انھوں نے امامت کی۔ نماز کے دوران حضورﷺ بھی تشریف لے آئے اور صف میں کھڑے ہو گئے، صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آگاہ کرنے کے لیے نمازیوں نے تصفیق کی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گوشۂ چشم سے دیکھا کہ حضورﷺ کھڑے ہیں، حضورﷺ نے
اشارے سے فرمایا، اپنی جگہ کھڑے رہو، صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے لیے یہ بات ممکن نہ پائی کہ وہ امامت کریں اور رسول اللہ ﷺ مقتدی ہوں۔ آپ پیچھے ہٹ کر صف میں کھڑے ہو گئے اور حضور ﷺ کو آگے ہونا پڑا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا:
’’اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں خود حکم دیا تھا تو اپنی جگہ پر کھڑا رہنے سے تمہیں کس چیز نے باز رکھا؟‘‘
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:
- مَا كَانَ لِابْنِ أَبِيْ قُحَافَةَ أَنْ يُّصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ
(صحیح بخاری، جلد 1، صفحہ 94)
’’ابو قحافہ کے بیٹے کے لیے یہ زیبا نہ تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے آگے کھڑا ہو‘‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد ابو قحافہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے اور انھوں نے حضور ﷺ کی شان میں کوئی ناشائستہ کلمہ منہ سے نکالا۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے منہ پر طمانچہ کھینچ مارا، حضور ﷺ نے پوچھا تو عرض کی:’’یا رسول اللہ (صلی اللہ علیک وسلم)! اس وقت میرے پاس تلوار نہ تھی، ورنہ ایسی گستاخی پر ان کی گردن اڑا دیتا‘‘ اس پر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی:
- لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰهَ وَ
رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْا اٰبَآءَ هُمْ اَوْ اَبْنَآءَ هُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَ اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ ؕ وَ يُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ ؕ اَلَا اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَO (المجادلہ:22)
ترجمہ: ’’آپ نہ پائیں گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور روز آخرت پر کہ وہ ایسوں سے دوستی کریں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہوئے ، گو وہ ان کے اپنے باپ دادا ہوں یا ان کے اپنے بیٹے ہوں یا ان کے اپنے بھائی ہوں یا ان کی اپنی برادری کے لوگ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنے فیضان سے ان کی تائید کی اور انھیں ایسی بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، وہ ہمیشہ وہیں رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی ، یہ خدائی لشکر ہے ، خبردار اللہ ہی کا لشکر فلاح پانے والا ہے‘‘
کنز العمال ہی میں ہے کہ ایک بدوی حضرت ابوبکر صدیق کے پاس آیا اور کہنے لگا:
- أَنْتَ خَلِيفَةُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ
”آپ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ہیں؟“ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا، تو پھر آپ کیا ہیں؟ فرمایا:
- أَلْخَالِفَةُ بَعْدَهٗ
جوہری نے صحاح میں لکھا ہے کہ خالفہ گھرانے کے اس شخص کو کہتے ہیں جس میں کچھ خیر نہ ہو۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے آپ کو حضور ﷺ کا خلیفہ یا جانشین کہنا بھی سوء ادب خیال کیا:
شاہی بفتراک تو مردار نہ بندند
سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضور ﷺ کے بعد منبر پر کھڑے ہوئے تو جس پائے پر حضور ﷺ کھڑے ہوتے تھے، اس پائے پر کھڑا ہونا سوء ادب خیال کیا او ر اس سے نچلے پائے پر کھڑے ہوئے، پھر جب حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زما نہ آیا تو انھوں نے بھی اس پائے پر کھڑا ہونا سوء ادب خیال کیا جس پر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوتے تھے، وہ اس سے بھی نچلے پائے پر کھڑے ہوئے۔
صلح حدیبیہ کی جو شرائط کفار قریش اور مسلمانوں کے درمیان ٹھہریں، بظاہر اہانت آمیز تھیں، مثلاً یہ کہ اس سال مسلمان مکے میں داخل نہیں ہوں گے اور عمرہ نہیں کریں گے اور اگر قریش میں سے کوئی شخص مسلمانوں کے پاس چلا جائے تو اسے واپس کر دیا جائے گا اور مسلمانوں میں سے اگر کوئی شخص قریش سے جا ملے تو اسے واپس نہیں کریں گے۔
یہ شرائط بظاہر اہانت آمیز تھیں، خود سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مضطرب ہو کر تحریر معاہدہ سے پہلے حضور ﷺ کے پاس پہنچے اور عرض کرنے لگے: ”کیا آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں؟ کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟“ حضور ﷺ نے فرمایا: یقیناً ہیں۔ سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: پھر ہم ان ذلت آمیز شرائط کو کیوں قبول کریں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا پیغمبر ہوں، میں اس کے حکم سے سرتابی نہیں کروں گا
اور وہ ہرگز مجھے ضائع نہیں کرے گا‘‘
گو سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات از راہ تحیر کی تھی اور اس میں سوء ادب کا کوئی شائبہ نہ تھا، مگر لب و لہجہ اس ادب و تعظیم سے ہٹ گیا تھا جس کے وہ عادی تھے۔ زندگی بھر ڈرتے رہے کہ کہیں بارگاہ رسالت میں سوء ادب نہ ہو گیا ہو۔ اس کی تلافی کے لیے صدقہ و خیرات کرتے رہے اور نوافل پڑھتے رہے۔ خود فرمایا کرتے تھے:
- عَمِلْتُ لَهَا أَعْمَالًا (صحیح مسلم، جلد 2، صفحہ 106)
”میں نے اس کی تلافی کے لیے کئی نیکیاں کیں“
حضور ﷺ نے سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قریش کی طرف صلح حدیبیہ کے موقع پر سفارت کے لیے بھیجا تو قریش نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طواف کرنے کی اجازت دی لیکن آپ نے طواف کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا:
- مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ حَتّٰى يَطُوفَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ
”جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم طواف نہ کریں، میرے لیے زیبا نہیں کہ میں طواف کروں“
صحیح مسلم میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صلح نامہ حدیبیہ لکھا تو اس میں یہ عبارت بھی تھی:
- هٰذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ
مشرکوں نے کہا کہ لفظ ”رسول اللہ“ نہ لکھو، اگر رسالت کے ہم قائل ہوتے تو جھگڑا کس بات کا تھا۔
حضور ﷺ نے فرمایا، اس لفظ کو مٹا دو۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:
- مَا كَانَ لِي أَنْ أَمْحُوَ هٰذَا
”مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں اس لفظ کو مٹاؤں“
پھر حضور ﷺ نے خود اس لفظ کو مٹا دیا۔ (مشکوٰۃ شریف، جلد 2، صفحہ 355)
ایک دفعہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ ﷺ نے پوچھا:
- أَنَا أَكْبَرُ أَوْ أَنْتَ؟
”میں عمر میں بڑا ہوں یا تم بڑے ہو؟“
حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:
- أَنْتَ أَكْبَرُ وَ أَكْرَمُ وَ أَنَا أَسَنُّ مِنْكَ
”آپ مجھ سے بڑے ہیں (مرتبے کے اعتبار سے) اور مجھ سے زیادہ معزز ہیں، ہاں سن رسیدہ میں آپ سے زیادہ ہوں“ (کنزالعمال)
حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اکبر کا لفظ اپنے لیے استعمال کرنا مناسب خیال نہ کیا، اس لیے کہ مقام اور رتبے کے اعتبار سے جو دوسروں سے بڑا ہو، اسے بھی اکبر کہتے ہیں۔ لفظ اکبر میں سوءِ ادب کے کسی پہلو کے نکلنے کا احتمال نہ تھا۔
حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن شریک کی روایت ہے کہ میں حضور ﷺ کے پاس آیا تو ان کے آس پاس صحابہ یوں بیٹھے ہوئے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں، یعنی ادباً اور تعظیماً ساکت و صامت اور غیر متحرک بیٹھے تھے اور حدیث شریف میں ہے:
- إِذَا تَكَلَّمَ أَطْرَقَ جُلَسَائُهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُؤُسِهِمُ الطَّيْرُ
ترجمہ: ”جب حضور ﷺ گویا ہوتے تھے تو صحابہ کرام سر جھکائے ہوئے بیٹھتے تھے اور حرکت نہ کرتے تھے“ (حاشیہ مشکوٰۃ، صفحہ ۱۴۲، بحوالہ مرقاۃ)
عروہ بن مسعود کو جب قریش نے صلح حدیبیہ کے سال، رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا تو اس نے دیکھا کہ صحابہ حضور ﷺ کی کس قدر تعظیم کرتے ہیں۔ اس نے یہ منظر دیکھا:
- إِنَّهُ لَا يَتَوَضَّأُ إِلَّا ابْتَدَرُوا وَضُوءَهُ وَ لَا يَبْصُقُ بُصَاقًا إِلَّا تَلَقَّوْهُ بِأَكُفِّهِمْ وَ لَا
تَسْقُطُ مِنْهُ شَعْرَةٌ إِلَّا ابْتَدَرُوهَا وَ إِذَا أَمَرَهُمْ اِبْتَدَرُوا أَمْرَهُ وَ إِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ وَ مَا يُحِدُّوْنَ النَّظَرَ إِلَيْهِ تَعْظِيمًا لَّهُ
ترجمہ: ”حضور ﷺ جب بھی وضو فرماتے، صحابہ ان کے وضو کے پانی کی طرف لپکتے (اسے بدن پر ملتے تھے) ان کا لعاب دہن صحابہ کے ہاتھوں پر رہتا تھا اور ان کا جو موئے مبارک گرتا، صحابہ اس کی طرف لپکتے اور جب وہ انھیں حکم دیتے تو فوراً حکم بجا لاتے، جب وہ بات کرتے تو صحابہ اپنی آوازوں کو پست کر لیا کرتے تھے اور ادباً اور احتراماً انھیں تیز نظروں سے نہ دیکھتے تھے“ (صحیح بخاری، جلد 1، صفحہ 379)
عروہ بن مسعود نے قریش سے جا کر کہا:
”اے قریش کے لوگو! میں نے قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے بھی دربار دیکھے ہیں، خدا
کی قسم کسی بادشاہ کی بھی ایسی تعظیم بجا نہیں لائی جاتی جیسی صحابہ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعظیم بجا لاتے ہیں‘‘ (صحیح بخاری، صفحہ 379)
یہی حال ائمہ کرام کا تھا۔
حضرت امام مالک بن انسؓ جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتے یا ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا جاتا تو ان کے چہرے کا رنگ بدل جاتا اور آپ سراپا تعظیم ہو جاتے، یہاں تک کہ ان کے بعض ہم نشینوں کو ان کی یہ غایت درجہ کی تعظیم گراں گزرتی۔ ایک دن آپ سے پوچھا گیا کہ حضور ﷺ کے نام مبارک آنے پر یہ آپ کو کیا ہو جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا:
- لَوْ رَأَيْتُمْ مَّا رَأَيْتُ لَمَا أَنْكَرْتُمْ عَلَى مَا تَرَوْنَ
’’اگر حضور ﷺ کی وہ شان اور عظمت تم دیکھتے جو میں دیکھ رہا ہوں تو تمہیں میری اس غایت درجے کی تعظیم وتکریم پر اچنبھا نہ ہوتا‘‘
حدیث شریف کا درس دینے سے پہلے آپ غسل فرماتے، نہایت عمدہ لباس پہنتے، خوش بو لگاتے اور نہایت خشوع وخضوع سے حدیث بیان فرماتے۔ جب تک آپ درس دیتے رہتے، آپ کی مجلس میں خوش بو برابر مہکتی رہتی۔
حضرت عبداللہ بن مبارکؒ فرماتے ہیں، میں ایک دن امام مالکؒ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت حدیث شریف کا درس دے رہے تھے، آپ کو بچھو نے کئی بار کاٹا، آپ کے چہرے کا رنگ زرد ہو گیا لیکن آپ پورے صبر اور ضبط کے ساتھ حدیث بیان کرتے رہے۔ جب آپ درس ختم کر چکے اور لوگ چلے گئے تو میں نے پوچھا کہ درس دیتے وقت آپ پر یہ کیا کیفیت طاری ہوئی؟ آپ نے بتایا، مجھے بچھو نے کئی بار کاٹا لیکن میں حدیث کی عظمت واکرام کے باعث ضبط کیے ہوئے بیٹھا رہا۔
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ جذب القلوب میں لکھتے ہیں کہ امام مالکؒ مدینہ طیبہ میں اپنے گھوڑے پر سوار نہ ہوتے تھے۔ فرماتے تھے کہ مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس زمین کو گھوڑے کے سموں سے پامال کروں جس سے رسول اللہ ﷺ کے مبارک قدموں نے لمس کیا ہے۔
حضرت امام احمد بن حنبلؒ مدینہ منورہ کی حدود شروع ہوتیں تو جوتا اتار لیتے تھے اور وہ اپنے وقت کے امام، وہ عظیم محدث اور فقیہ ننگے پاؤں مدینے کی سرزمین پر چلتے تھے کہ مبادا جس جگہ حضور اقدس ﷺ نے قدم رکھے ہوں، وہاں وہ اپنی جوتیاں رکھ دیں۔
ادب کی یہ کیفیتیں حاصل نہیں ہوسکتیں جب تک حضورﷺ کی ذات کی معرفت نہ ہو، جب تک یہ معرفت حاصل نہ ہو کہ وہ تاریخ انسانیت کے مرکز و محور ہیں اور ازل سے لے کر آج تک جتنی مخلوق پیدا ہوئی ہے، ارض وسما میں اور مابین السموات والارض اور آج سے لے کر ابد تک جتنی مخلوق پیدا ہونے والی ہے، ارض وسما اور مابین السموات والارض، کوئی نہیں جو ان کی گرد پا کو چھو سکے۔
سب سے بڑا ادب حضورﷺ کا، ان کی اطاعت ہے۔ ان کے ہر حکم کے سامنے گردن جھکا دینا ہے اور چون و چرا کیے بغیر اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔ ہر وہ شخص جو ان کے نام پر لرزتا اور آنسو بہاتا ہے مگر ان کی اتباع اور ان کی اطاعت سے گریزاں ہے، حقیقی ادب سے محروم ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:
- مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَo
(المآئدة: 47)
ترجمہ: ”جو لوگ آئین محمدی کو نافذ نہیں کرتے ہیں یہی لوگ فاسق، یہی لوگ میری اطاعت سے باہر ہوگئے ہیں، یہی لوگ مجھ سے سرکش ہیں“
یہ سمجھنا فاش غلطی ہے کہ بارگاہ رسالتﷺ کے جو آداب قرآن مجید میں بتائے گئے ہیں، وہ صحابہ کرام ہی کے لیے تھے اور حضورﷺ کی مجلس ہی کے ساتھ مخصوص تھے، نہ حضورﷺ کی مجلس رہی، نہ صحابہؓ رہے، تو کیا ان آیات کی حیثیت محض تاریخی ہو کر رہ گئی ہے؟ آج بھی رسول اللہﷺ کا نام لیتے ہوئے، حدیث شریف پڑھتے ہوئے، مسجد نبوی میں حاضر ہوتے ہوئے، حضورﷺ کے ادب کو ویسا ہی ملحوظ رکھنا چاہیے۔
سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی میں دیکھا کہ دو آدمی زور زور سے بول رہے ہیں، سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا:
- اَتَدْرِیَانِ اَیْنَ اَنْتُمَا؟
”تمہیں کچھ ہوش ہے کہ تم کہاں کھڑے ہو؟“
پوچھا، تم کہاں سے آئے ہو؟ انھوں نے کہا، ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔ سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:
- لَوْ کُنْتُمَا مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ لَاَوْجَعْتُكُمَا ضَرْبًا
”اگر تم مدینہ شریف کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت پیٹتا“
یعنی تم باہر کے رہنے والے ہو اور مسجد نبوی کے آداب سے واقف نہیں ہو تمہیں معذور سمجھ کر معاف کرتا ہوں ۔
(مشکوٰۃ شریف، جلد ۱، صفحہ ۷۱)
اسی طرح عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور، حضرت امام مالکؒ سے مسجد نبوی میں کسی مسئلے پر بحث کر رہا تھا، بحث کے دوران اس کی آواز بلند ہو گئی، امام مالکؒ نے خلیفہ کو ڈانٹا اور فرمایا:
- لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ فِىْ هٰذَا الْمَسْجِدِ
”اس مسجد میں آواز بلند مت کیجئے“ پھر سورۂ حجرات کی آیتیں پڑھیں اور یہ بھی فرمایا:
- اِنَّ حُرْمَتَهٗ مَيْتًا كَحُرْمَتِهٖ حَيًّا
حضور ﷺ کی دنیا سے پردہ پوشی کے بعد ان کی حرمت یقیناً ویسی ہی ہے جیسی زندگی میں تھی“
صحابہ کرامؓ کے ساتھ حضور ﷺ کے تعلق کی کئی نوعیتیں تھیں، صحابہ ان سے روحانی فیض بھی حاصل کرتے تھے اور کتاب و حکمت کی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے۔
- يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ.
(آل عمران: 164)
ترجمہ: ”وہ ان کا روحانی تزکیہ کرتے تھے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے تھے“
حضور ﷺ ان کے شیخ بھی تھے اور معلم بھی تھے۔ پس مشائخ کا ادب، اساتذہ کا ادب، بزرگوں کا ادب اور اس ادب کے سلیقے اور قرینے بھی ہمیں بارگاہ رسالت ہی سے سیکھنا ہیں، کسی اور کے دروازے پر تو نہیں جانا ہے۔
آخر میں ایک بات کہتا ہوں، موحد ہو کر مؤدب ہونا بڑی بات ہے۔ موحد ہونے کے یہ معنی نہیں کہ انسان بے مہار ہو جائے، اہل اللہ کی شان میں گستاخیاں کرے، اپنے محسنوں کا گریبان پھاڑے اور یہ سمجھے کہ میں غیر اللہ کی نفی کر رہا ہوں۔ اسی طرح بزرگوں کے ادب کے یہ معنی نہیں کہ انھیں اٹھا کر خدا بنا دیا جائے۔ کچھ لوگوں کو توحید کا مفہوم تو کچھ سمجھ میں آیا مگر انھیں اہل اللہ کی معرفت حاصل نہ ہوئی اور ان کا ادب و احترام ملحوظ نہ رکھا، کچھ لوگوں کو ادب کی توفیق ہوئی مگر ان کی توحید میں خلل واقع ہوا، یہ دونوں بیماریاں بہت پرانی ہیں۔ مذاہب عالم کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ جب بھی کسی مذہب کے پیرو راہ راست سے منحرف ہوئے، یہی دو بیماریاں ان کی تباہی کا باعث ہوئیں۔ عیسائیوں کے بارے میں قرآن مجید میں ہے:
- اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ.
(التوبہ: 31)
ترجمہ: ”انھوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اپنے عالموں اور راہبوں کو خدا بنایا تھا اور مسیح ابن مریم کی الوہیت کے قائل ہو گئے تھے“
یہودیوں کو ایک اور بیماری بھی تھی، اپنے محسنوں کا گریبان پھاڑتے تھے۔ جن سے فیض حاصل کرتے تھے، ان ہی کے ساتھ بدتمیزی اور بدلحاظی سے پیش آتے تھے بلکہ نوبت یہاں تک پہنچی تھی:
- يَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيْرِ حَقٍّ. (آل عمران: 21)
ترجمہ: ”انبیا کو ناحق قتل بھی کر ڈالتے تھے“
پس پھر ایک بار کہتا ہوں کہ موحد ہو کر مؤدب ہونا اور مؤدب ہوتے ہوئے موحد ہونا بہت بڑی سعادت ہے اور ہم اللہ تعالیٰ سے اس سعادت کی بھیک مانگتے ہیں:
- اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ o صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ
الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَo (الفاتحہ: 5 تا 7)
ترجمہ: ”یا اللہ! ہمیں سیدھی راہ پر چلا، ان لوگوں کی راہ پر جن پر تو نے کرم کیا، ان یہودیوں کی راہ پر نہ چلانا جو بے ادب اور گستاخ تھے، جو بدتمیز اور بد لحاظ تھے اور جن پر تیرا غضب نازل کیا گیا اور نہ ان عیسائیوں کی راہ پر چلانا جنہوں نے بندوں کو خدا بنا لیا تھا اور گمراہی میں مبتلا ہوئے“
- سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَo
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo (الصّٰفّٰت: 180 تا 182)
۞......۞......۞
محمد متین خالد
قرآن وحدیث میں گستاخ رسول کی سزا
حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس، تعظیم وتکریم اور آپ ﷺ کی بارگاہ کا ادب و احترام ہر مسلمان پر فرض ہے۔ یہی اصل ایمان اور اس کی بنیاد ہے۔ آپ ﷺ کی عزت و تعظیم سے ذرا سا بھی انحراف ایک مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات، احادیث مبارکہ اور صحابہ کرامؓ کا طرز عمل ہمیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ادب سکھاتے ہیں۔ اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں معمولی سی بے ادبی یا گستاخی خواہ یہ عمداً ہو یا سہواً، قصداً ہو یا غیر ارادی طور پر، کفر و ارتداد ہے۔ دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کا مقام و مرتبہ متعین و واضح ہے۔ آپ ﷺ کی اطاعت اور ناراضی اللہ کی اطاعت و ناراضی ہے۔ اللہ رب العزت اس بات کو سخت ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص اس کے حبیب مکرم حضور خاتم النبیین ﷺ کی گستاخی کرتے ہوئے انھیں ایذا دے۔ اگر کوئی بدبخت ایسا کرتا ہے تو اس کے متعلق قرآن مجید میں سخت ترین احکامات موجود ہیں جن کی تفصیل ذیل میں دی جا رہی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
- فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ O ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا
اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ.
(الانفال:12، 13)
ترجمہ: ”سو تم مارو (ان کی) گردنوں کے اوپر اور چوٹ لگاؤ ان کے ہر بند پر۔ یہ حکم اس لیے ہے کہ انھوں نے مخالفت کی اللہ کی اور اس کے رسول کی۔ اور جو مخالفت کرتا ہے اللہ کی اور اس کے رسول کی تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
اس آیت میں جو لفظ ”یشاقق“ استعمال ہوا ہے، لغت میں اس کے معنی مخالفت کے
علاوہ عداوت رکھنا اور تکلیف وایذا پہنچانا بھی آتے ہیں۔ (المنجد ص 396)۔ نیز مفسرین اس آیت میں ”یشاقق اللہ و رسولہ“ سے مراد اللہ کے رسول کو ایذا پہنچانے اور ان سے گستاخی کی جسارت کرنا لیتے ہیں اور ایسے گستاخوں کی اس دنیا میں سزا موت اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔ (تفسیر ابن کثیر جلد 2، ص 325) جیسا کہ دوسری آیات میں بھی ذکر کیا گیا ہے:
- وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ
الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيْراً۔ (النساء: 115)
ترجمہ: ”اور جو شخص مخالفت کرے (اللہ کے) رسول کی اس کے بعد کہ روشن ہو گئی اس کے لیے ہدایت کی راہ اور چلے اس راہ پر جو الگ ہے مسلمانوں کی راہ سے تو ہم پھیرنے دینگے اُسے جدھر وہ خود پھرا ہے اور ڈال دینگے اسے جہنم میں اور یہ بہت بری پلٹنے کی جگہ ہے“۔
- لَعَذَّبَهُمْ فِى الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِى الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ O ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا
اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَن يُشَاقِقِ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ۔ (الحشر: 3 تا 4)
ترجمہ: ”ان کو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیے آگ کا عذاب (تیار) ہے۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ کی مخالفت کرے تو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔“
دین اسلام اور رسول کریم ﷺ کے دشمنوں اور گستاخوں کے بارے میں یہ قرآنی احکام بالکل واضح ہیں اور اس بارے میں کسی نرمی کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ جو کہ سراپا رحمت ہیں، انھوں نے بھی ”رحمۃ للعالمین“ ہونے کے باوجود قانون شکن عناصر اور گستاخوں سے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی۔ خود آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
- إِنِّي أُبْعَثُ لِأُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ إِنَّمَا بُعِثْتُ بِضَرْبِ الرِّقَابِ أَي الْأَعْنَاقِ
وَشَدِّ الْوَثَاقِ (صحیح مسلم)
ترجمہ: ”میں اللہ کے عذاب کے ساتھ لوگوں کو عذاب دینے کے لیے رسول بنا کر نہیں بھیجا گیا لیکن میں بے حرمت باغیوں اور کافروں کی گردنیں قلم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔“
جب کافروں نے نبی کریم ﷺ کو بے اعتبار ومشکوک ٹھہرانے کی کوشش کی اور آپ کو تکلیف وایذا پہنچانے کی کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی اور آپ ﷺ کی شان میں ہرقسم کی گستاخی کی تو مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ وہ ان سردارانِ کفر سے جنگ کریں جو لوگوں کو رسول اللہ ﷺ
اور آپ ﷺ کے پیغامِ حق کے خلاف برانگیختہ کرتے تھے :
- وَطَعَنُوْا فِیْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ اِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ.
(توبہ: 12)
ترجمہ : ”اور طعن کریں تمہارے دین پر تو جنگ کرو کفر کے پیشواؤں سے۔ بیشک ان لوگوں کی کوئی قسمیں نہیں ہیں (ایسوں سے جنگ کرو) تاکہ یہ لوگ (عہد شکنی سے) باز آجائیں“۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
- وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ. (الاحزاب: 53)
ترجمہ : ”اور تمہیں زیب نہیں دیتا کہ تم اذیت پہنچاؤ اللہ کے رسول کو۔“
- اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ
عَذَاباً مُّهِيْناً (الاحزاب: 57)
ترجمہ : ”بیشک جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو اللہ تعالیٰ انھیں اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے رسوا کن عذاب“۔
جس طرح ہم اپنے پیاروں کی شان میں کی گئی گستاخی برداشت نہیں کرتے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہٗ ، بھی اپنے حبیب مکرم ، رسولِ معظم ، احمد مجتبیٰ ، محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کی توہین و تضحیک برداشت نہیں کرتے ۔ اس کا ارتکاب کرنے والے شخص کے لیے دردناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ سورۂ توبہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
- وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (توبہ: 61)
ترجمہ: ”اور جو لوگ دُکھ پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول کو ان کے لیے دردناک عذاب ہے“۔
یہ اور اس سے قبل تحریر کی گئی آیات اس بات کا ثبوت مہیا کرتی ہیں کہ توہین دین و رسالت نا قابل معافی جرم ہے جس کی سزا موت ہے اور حضور نبی اکرم ﷺ کے عمل سے اس سزا کی تصدیق و توثیق ہوتی ہے کیوں کہ آپ نے ایسے کافر ، بے حرمت اور گستاخ افراد کی گردن مارنے کا حکم خود کئی بار صادر فرمایا ہے۔
قرآن حکیم نے اسلام اور نبی کریم ﷺ کے خلاف کافرانہ حرکتوں ، بے حرمتی ، شر اور غداری پر مصر افراد کے لیے سخت اور طویل سوہانِ روح عذاب کا اعلان کیا ہوا ہے :
- سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ (توبہ: 101)
ترجمہ: ”ہم عذاب دیں گے انھیں دوبار پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف“۔
قرآن حکیم کے یہ احکام واضح طور پر بتاتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کے دشمن، شاتم، الزام لگانے والے اور آپ ﷺ کی شان اقدس میں تنقید یا گستاخی کرنے والے کی برسرعام تحقیر کرنی چاہیے اور اس کو اس جرم کی حقیقی اور واحد سزا موت (جو نبی کریم ﷺ کے عمل سے بھی ثابت ہے) تک پہنچانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
جو شخص حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں توہین کرتا ہے، دراصل وہ مفسد فی الارض ہوتا ہے اور اسلام فتنہ و فساد پھیلانے والوں کو قتل کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:
- (1) ”اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت ہے۔“ (البقرہ:191)
- (2) ”اور لڑتے رہو ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (وفساد) اور ہو جائے دین صرف
اللہ کے لیے۔“ (البقرہ:193)
- (3) ”فتنہ (وفساد) قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔“ (البقرہ: 217)
قرآن حکیم میں کئی مزید آیات بھی ہیں جنہیں ماہرین فقہ، توہین رسالت ﷺ کی سزا کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ یہاں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سورۃ التوبہ کی آیات 64 تا 66 ایسی صورت حال سے متعلق ہیں جن میں کفار کا ایک گروہ اپنی مجالس میں، جو ظاہر ہے ان کے نجی مقامات پر ہوں گی، حضور نبی کریم ﷺ کا تمسخر اُڑایا کرتے تھے۔ ایسا کوئی موقع نہ تھا کہ ان لوگوں کے عمل کے باعث مسلمانوں کے جذبات میں اشتعال پیدا ہوتا۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ توہین رسالت ﷺ یا حضور نبی کریم ﷺ کے اسم مبارک کی بے حرمتی کے جرم کے تعین کے لیے یہ ضرورت نہیں کہ اس جرم کے مرتکب شخص نے یہ جرم مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے، غصہ دلانے یا برانگیختہ کرنے کے ارادے سے ہی کیا ہو۔ جب توہین رسالت ﷺ ثابت ہو جائے تو اس جرم کے مرتکب کو، اس کے مقصد سے قطع نظر، سزا ضرور دی جائے گی۔ تاہم، کسی عمل کے متعلق یہ تعین کرنے کے لیے کہ یہ عمل توہین کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں، متعلقہ شخص کے عزائم کو بھی زیر غور لایا جائے گا۔ خصوصاً ایسی صورت میں، جب اس موقع پر استعمال کیے جانے والے الفاظ واضح نہ ہوں۔ البتہ صریح الفاظ میں نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والا اپنے عقائد، گفتار اور کردار سے اللہ تعالیٰ اور
اس کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے۔ اس حالت کو قرآن مجید کی زبان میں مشاقّہ اور محادّہ کہتے ہیں۔ یہی حالت جب میدانِ عمل میں رونما ہوتی ہے تو محاربۃ کہلاتی ہے۔ قرآن مجید نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محاربہ کرنے والوں کی سزا سورۃ مائدہ میں مندرجہ ذیل تجویز کی ہے۔
- ❑ ”بلاشبہ سزا اُن لوگوں کی جو جنگ کرتے ہیں اللہ سے اور اُس کے رسول ﷺ سے
اور کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد برپا کرنے کی یہ ہے کہ انھیں (چن چن کر) قتل کیا جائے یا سولی دیا جائے یا کاٹے جائیں اُن کے ہاتھ اور اُن کے پاؤں مختلف طرفوں سے یا جلاوطن کر دیئے جائیں۔ یہ تو اُن کے لیے رسوائی ہے دنیا میں اور اُن کے لیے آخرت میں (اس سے بھی) بڑی سزا ہے۔ (مائدہ: 33)
بقول حضرت مولانا احسن احمد عبدالشّکور: ”یُقتّلوا کے لفظ پر توجہ فرمائیے کہ قرآن مجید، ملعون گستاخ رسول کو سوسائٹی کے لیے جس قدر خطرناک سمجھتا ہے اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ وہ ملعون کے صرف قتل ہی کو نہیں کہتا بلکہ اس کا مطالبہ تقتيل کا ہے۔ مرتد اور شاتم رسول دونوں کے جرم کی نوعیت ایک ہے، فرق ہے، تو صرف یہ کہ ارتداد گو بڑا گھناؤنا جرم ہے۔ مگر پھر بھی یہ بغاوت کا پہلا قدم ہے اور توہین رسالت اور شتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو بغاوت کی آخری سرحد ہے جس کے بعد کوئی درجہ باقی نہیں رہتا۔ اس کی سزا بس تقتيل (بوٹی بوٹی کر دینے کی) ہے۔ اب دین یہی کہتا ہے کہ زمین کو اس نجس وجود سے پاک کر دیا جائے۔ جن لوگوں کو عربی زبان کے اسالیب سے تھوڑی سی واقفیت ہے وہ جانتے ہیں کہ قتل اور تقتيل میں کیا جوہری فرق ہے۔“ (ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان، جون 2011ء)
حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا جزو ایمان ہے۔ علمائے اسلام، دورِ صحابہؓ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس شخص کو پیار اور تعلق خاطر نہیں، وہ سرے سے مومن ہی نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی قابل گردن زدنی ہے۔ دراصل ایمان نام ہے محبت رسول (ﷺ) کا۔ حُب رسول (ﷺ) کے بغیر ایمان کی تکمیل ناممکن ہے بلکہ مسلمان ہونے کی شرطِ اوّلین، محبت مصطفیٰ علیہ التحیّۃ والثناء ہے۔ بخاری شریف کتاب الایمان میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے
کہ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا:
- لا یومن احدکم حتی اکون احب الیه من والده و وَلَدِهِ والناس اجمعین.
”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک میری ذات اسے اس کے والدین، اولاد حتیٰ کہ تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے“۔ (صحیح البخاری: 15)
امام بخاریؒ نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: ”حب الرسول من الایمان“ ترجمہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے“۔ اس کے برعکس ہر وہ قول وعمل اور عقیدہ نواقضِ ایمان سے ہے جو رسالت اور صاحبِ رسالت ﷺ سے بغض اور ان کے متعلق طعن وتشنیع پرمشتمل ہو، کیونکہ اس سے کلمہ شہادت کے دوسرے جزو کا انکار لازم آتا ہے اور ایسا کرنے سے وہ گواہی کالعدم ہو جاتی ہے جس کے ذریعے انسان اسلام میں داخل ہوا تھا۔
حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
- مَنْ سَبَّ نَبِيًّا قُتِلَ وَ مَنْ سَبَّ أَصْحَابَهُ جُلِدَ.
ترجمہ: ”جس نے کسی نبی کو گالی دی، اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے کسی صحابی کو گالی دی، اسے کوڑے مارے جائیں گے“ (طبرانی جلد نمبر 1 صفحہ 236)
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: ”یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نبی کو گالی دینے والے کو قتل کرنا واجب ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جائے نیز یہ کہ قتل اس کے لیے حد شرعی ہے“ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول از علامہ ابن تیمیہؒ)
اس سلسلے میں مختلف صحابہ کرامؓ کے فرامین حسب ذیل ہیں:
حضرت ابوبکرؓ کا فرمان ہے:
- لا والله ما كانت لِبَشر بعد محمدؐ (سنن ابوداؤد: 4363)
ترجمہ: ”اپنی توہین کرنے والے کو قتل کروادینا حضرت محمدﷺ کے علاوہ کسی کے لیے روا نہیں ہے“۔
حضرت عمرؓ کے پاس ایک آدمی لایا گیا کہ وہ نبی ﷺ کو برا بھلا کہتا تھا تو فرمایا:
- ”جس نے اللہ کو یا انبیائے کرامؑ میں سے کسی کو گالی دی تو اسے قتل کر دیا جائے“
(الصارم المسلول: ص 419)
- حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ ”جس نے رسول اللہ ﷺ کی توہین کی، اس کی گردن مار
دی جائے۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق: ج 5 ص 308)
- حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا فرمان ہے:
’’جس مسلمان نے اللہ یا اس کے رسول ﷺ یا انبیا میں سے کسی کو گالی دی، اس نے اللہ کے رسول کی تکذیب کی، وہ مرتد سمجھا جائے گا اور اس سے توبہ کروائی جائے گی، اگر وہ رجوع کرلے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا اور جو معاہدہ کرنے والا شخص خفیہ یا اعلانیہ، اللہ یا کسی نبی کو بُرا کہے تو اس نے وعدے کو توڑ دیا، اس لیے اسے قتل کر دو۔‘‘ (زاد المعاد 60/5)
- حضرت ابو برزہؓ فرماتے ہیں:
’’میں حضرت ابو بکرؓ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپؓ کسی شخص سے ناراض ہوئے تو وہ شخص درشت کلامی پر اتر آیا۔ میں نے کہا: اے خلیفہ رسول ﷺ! آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کی گردن اُڑا دوں؟ میرے الفاظ سے ان کا سارا غصہ جاتا رہا اور وہ وہاں سے اُٹھ کر گھر چلے گئے اور مجھے بلا بھیجا۔ میں گیا تو مجھ سے فرمایا کہ ابھی تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: یہ کہا تھا کہ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس شخص کی گردن اُڑا دوں۔ فرمایا: اگر میں تم کو حکم دیتا تو تم یہ کام کرتے؟ عرض کی: آپ فرماتے تو ضرور کرتا۔ فرمایا: نہیں! اللہ کی قسم، یہ بات (کہ بدکلامی پر گردن اڑا دی جائے) حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں۔‘‘
(سنن ابوداؤد: 4363)
مطلب یہ کہ صرف رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدزبانی کرنے والا سزائے موت کا مستوجب ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی انسان ایسا نہیں جس کی توہین کرنے والے کو سزائے موت دی جائے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کو یہ حق حاصل تھا کہ اپنے گالی دینے والے کو قتل کرا دیں۔ آپ ﷺ کو یہ حق بھی حاصل تھا کہ اس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیں جس کے بارے میں لوگوں کو کچھ علم نہ ہو کہ اسے کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ اس معاملہ میں لوگوں کو آپ ﷺ کی اطاعت کرنی چاہیے، اس لیے کہ آپ ﷺ اسی بات کا حکم دیتے ہیں جس کا اللہ نے انھیں حکم دیا ہو اور آپ ﷺ اللہ کی نافرمانی کا کبھی حکم نہیں دیتے۔ جو آپ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے، وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی دو خصوصیات ہیں: (1) آپ ﷺ جس کو قتل کرنے کا حکم دیں، اس میں آپ ﷺ کی
اطاعت کی جائے۔ اور (2) جو شخص آپ ﷺ کو گالیاں دے، آپ ﷺ اس کو قتل کر سکتے ہیں۔ آپ ﷺ کو یہ دوسرا اختیار جو دیا گیا تھا، وہ آپ ﷺ کے وصال کے بعد بھی باقی ہے۔ لہٰذا جو شخص آپ کو گالی دے یا آپ ﷺ کی شان میں سخت الفاظ کہے تو اسے قتل کرنا جائز ہے بلکہ آپ ﷺ کے وصال کے بعد یہ حکم مؤکد تر ہوجاتا ہے، اس لیے کہ آپ ﷺ کا تقدس اور حرمت وصال کے بعد اور زیادہ کامل ہوجاتی ہے اور آپ ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کی ناموس و آبرو میں سہل انگاری اور تغافل شعاری ممکن نہیں۔ اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو مطلقاً قلت و کثرت کو ملحوظ رکھے بغیر گالی دینے سے ایسے شخص کا قتل مباح ہوجاتا ہے۔ علاوہ بریں اس حدیث کے عموم سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ ایسے شخص کو قتل کیا جائے قطع نظر اس سے کہ وہ مسلم ہو یا کافر۔“ (الصارم المسلول: ص 94)
علامہ ابن تیمیہؒ نے مسئلہ زیر بحث پر قرآن و سنت کے نصوص اور صحابہ و تابعین کا مسلسل تعامل ذکر کرتے ہوئے آخر میں خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ کسی شخص نے ان کو برا بھلا کہا اور ان کی ہتک عزت کی۔ غالباً اس علاقے کے گورنر نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے استصواب کیا ہوگا کہ ایسے مفسد شخص کو قتل کر دیا جائے؟ تو اس کے جواب میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے گورنر کو لکھا کہ قتل صرف اس شخص کو کیا جاتا ہے جو شانِ رسالت ﷺ میں دریدہ دہنی کرے۔ لہٰذا اس شخص کو قتل تو نہ کیا جائے، البتہ سرزنش کے لیے اس کے سر پر کوڑے لگائے جائیں اور یہ کوڑے لگانا بھی محض اس شخص کی اصلاح اور بہتری کے لیے ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں اس کے کوڑے لگانے کا بھی حکم نہ دیتا۔ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
”حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا یہ واقعہ مشہور ہے جبکہ وہ خلیفہ راشد، قرآن و سنت کے عالم اور بے حد متبع سنت ہیں۔ پس شاتم رسول ﷺ کا واجب القتل ہونا صحابہؓ و تابعینؒ کا اجماعی فیصلہ ہے اور کسی ایک صحابیؓ اور ایک تابعیؒ سے بھی اس کے خلاف منقول نہیں۔“
(الصارم المسلول: ص 205)
خلاصہ یہ کہ اسلامی قانون کی رُو سے توہین رسالت ﷺ کا مرتکب سزائے موت کا مستحق ہے اور اس مسئلہ پر تمام صحابہؓ و تابعینؒ اور فقہائے اُمت متفق ہیں۔
اسی حوالے سے دورِ نبوی کے واقعات اور ان پر نبی کریم ﷺ کا ردّعمل ملاحظہ کیجیے:
حضرت علیؓ سے مروی ہے:
- ’’ایک یہودی عورت، رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا تو آپ ﷺ نے اس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔‘‘
(ابو داؤد: 4362)
امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
- ’’یہ حدیث اس مسئلہ میں واضح حکم رکھتی ہے کہ نبی ﷺ کو گالیاں دینے والے کو قتل کرنا جائز ہے۔ نیز یہ کہ ایسے ذمی کو بھی قتل کیا جاسکتا ہے، پھر مسلم مرد یا عورت اگر آپ کو گالیاں دیں تو ان کو بطریق اولیٰ قتل کرنا جائز ہے۔ اس لیے کہ یہ عورت بھی ان لوگوں میں سے تھی جن کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے تمام یہودیوں کے ساتھ مطلق معاہدہ کیا گیا تھا اور ان پر جزیہ بھی نہیں لگایا گیا تھا۔ اہل علم کے مابین یہ مسئلہ متواتر کا درجہ رکھتا ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ علمائے سیر میں سے کوئی بھی اس کی مخالفت نہیں کرتا کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو عام یہودیوں سے بلا جزیہ معاہدہ کیا گیا تھا۔ اور امام شافعیؒ کا یہ قول درست ہے۔‘‘ (الصارم المسلول: ص 62)
جب رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کے ساتھ جزیہ کے بغیر معاہدہ کیا پھر ایک یہودی عورت کے خون کو اس لیے رائیگاں قرار دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی یا ایک یہودی عورت کے خون کو جس پر جزیہ عائد کیا گیا تھا اور وہ دینی احکام کے پابند بھی تھے، بے کار ٹھہرا دیں تو یہ اولیٰ وافضل ہے اور اگر اس عورت کا قتل جائز نہ ہوتا تو آپ اس عورت کے قاتل کے فعل کی مذمت فرماتے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
- ’’جس نے کسی معاہد کو بلا وجہ قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا۔‘‘
(ابن حبان: 291/11، رقم: 8382)
اور آپ ﷺ اس عورت کی ضمانت یا معصوم کو قتل کرنے کا کفارہ واجب کرتے۔ جب اس عورت کے خون کو آپ ﷺ نے رائیگاں قرار دیا تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کا خون مباح تھا۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے:
- ”ایک نابینا صحابیؓ کی ایک اُم ولد لونڈی تھی جو رسول اللہ ﷺ کو (نعوذ باللہ) گالیاں
دیا کرتی تھی۔ وہ اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی، وہ ڈانٹتا مگر وہ رُکتی نہ تھی۔ ایک رات اس نے رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے کا آغاز کیا تو اس نے بھالا لے کر اس کے شکم میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبایا جس سے وہ ہلاک ہو گئی۔ صبح کو اس کا تذکرہ رسول کریم ﷺ سے کیا گیا تو لوگوں کو جمع کر کے آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے یہ قتل کیا اور میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔ یہ سن کر ایک نابینا صحابیؓ کھڑا ہوا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آپ ﷺ کے پاس آیا اور بیٹھ گیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! (اسے میں نے قتل کیا ہے) وہ آپ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی، میں اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی تھی، میں اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا مگر وہ پروا نہ کرتی۔ اس کے بطن سے میرے دو موتیوں جیسے بیٹے ہیں، وہ میری رفیقہ حیات تھی۔ گزشتہ شب جب وہ آپ ﷺ کو گالیاں بکنے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اسے زور سے دبایا حتیٰ کہ وہ مرگئی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گواہ رہو کہ اس کا خون رائیگاں ہے۔“ (سنن ابوداؤد: 4361)
مندرجہ بالا واقعہ میں اگر اس عورت کو قتل کرنا ناروا ہوتا تو رسول کریم ﷺ فرما دیتے کہ اس کو قتل کرنا حرام ہے اور اس کا خون معصوم ہے۔ معصوم کو قتل کرنے کی وجہ سے اس پر کفارے کو واجب قرار دیتے اور اگر وہ اس کی لونڈی نہ ہوتی تو اس پر دیت کو واجب قرار دیتے۔ جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا خون ہدر (رائیگاں) ہے اور ہدر وہ خون ہوتا ہے جس کا قصاص دیا جاتا ہے نہ دیت اور نہ کفارہ تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ ذمی ہونے کے باوجود مباح الدم تھی۔ گویا گالیاں دینے کے مذموم فعل نے اس کے خون کو مباح کر دیا تھا۔ مزید برآں آپ ﷺ نے اس کے خون کو اس وقت ہدر قرار دیا۔ جب آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ گالیاں دینے کی وجہ سے اس کو قتل کیا گیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اس کا موجب و محرک یہی ہے اور اس واقعہ کی دلالت اس پر واضح ہے۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ: ص 68)
امام شوکانیؒ فرماتے ہیں:
- ”حدیث ابن عباسؓ اور حدیث شعبیؒ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص نبی ﷺ
کو گالیاں دے، اسے قتل کر دیا جائے۔ ابن منذر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ جو شخص صریحاً نبی کو گالیاں دے، اس کا قتل کرنا واجب ہے۔ ابوبکر فارسی جو ائمہ شافعیہ میں سے ہیں، نے
کتاب الاجماع میں نقل کیا ہے کہ جو شخص نبی ﷺ کو گالیاں دے تو وہ تمام ائمہ کے نزدیک کافر ہے۔ اگر وہ توبہ بھی کر لے تو پھر بھی اس سے سزائے قتل ساقط نہیں ہو سکتی، کیونکہ (نبی پر) قذف کی حد قتل ہے اور حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔“
(نیل الاوطار: 189/7)
نسائی کے شارح امام سندھی فرماتے ہیں:
- ”حدیث ابن عباسؓ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ذمی آدمی جب اللہ اور اس کے
رسول کے خلاف زبان درازی سے باز نہ آئے تو اس کا معاہدہ ختم اور اس کا قتل جائز ہے۔“
(حاشیہ نسائی: 109/7)
امام خطابیؒ فرماتے ہیں:
- ”شاتم رسولؐ کے قتل کے واجب ہونے میں مسلمانوں میں سے کسی کا اختلاف نہیں
ہے لیکن جب شاتم ذمی ہو تو اس میں اختلاف ہے۔ امام مالکؒ و احمد بن حنبلؒ کے نزدیک یہود و نصاریٰ میں سے کوئی بھی آپ ﷺ کو گالیاں دے تو اسے قتل کیا جائے گا، الا یہ کہ وہ مسلمان ہو جائے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ ذمی آدمی اگر آپ ﷺ کو گالی دے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اس سے معاہدہ ختم ہو جائے گا اور وہ اس سلسلہ میں کعب بن اشرف کے قتل والی حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔“
(معالم السنن: 295/3)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، فرماتے ہیں:
- ”خطمہ قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو کی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
اس عورت سے کون نمٹے گا؟ اس کی قوم سے ایک آدمی نے کہا: یارسول اللہ ﷺ! یہ کام میں انجام دوں گا۔ چنانچہ اس نے جا کر اسے قتل کر دیا۔
(الصارم المسلول: ص 95)
مشہور سیرت نگار واقدی نے اس واقعہ کو پوری تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ عصما بن مروان، بنی اُمیہ بن زید کے خاندان سے تھی اور یزید بن حصن خطمی کی بیوی تھی۔ یہ رسول کریم ﷺ کو ایذا دیا کرتی تھی۔ اسلام میں عیب نکالتی اور آپ ﷺ کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا کرتی تھی۔ عمیر بن عدی خطمی کو جب اس کی باتوں اور اشتعال بازی کا علم ہوا تو اس نے کہا اے اللہ! میں تیرے حضور نذر مانتا ہوں کہ اگر تو نے رسول اللہ ﷺ کو بخیر و عافیت مدینہ لوٹا دیا تو میں اس عورت کو قتل کر دوں گا۔ رسول کریم ﷺ اس وقت بدر میں تھے، جب آپ ﷺ بدر سے واپس آئے تو عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے۔
اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے اور ایک بچہ اس کے سینے کے ساتھ چمٹا ہوا تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی۔ عمیر نے اپنے ہاتھ سے عورت کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیر نے بچے کو الگ کیا پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھا اور اس کی پشت کے پار کر دیا۔ پھر صبح کی نماز رسول کریم ﷺ کے پیچھے ادا کی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ کیا تو نے بنتِ مروان کو قتل کر دیا ہے؟ عرض کی: جی ہاں! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں۔ عمیر اس بات سے ڈرا کہ اس نے رسول کریم ﷺ کی مرضی کے خلاف کام کیا ہو۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ کیا اس ضمن میں مجھ پر کوئی چیز واجب ہے۔ فرمایا: سنیں دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکراتیں ۔ یہ فقرہ پہلی مرتبہ رسول کریم ﷺ سے سُنا گیا۔ عمیر کہتے ہیں کہ پھر رسول کریم ﷺ نے ارد گرد دیکھا اور فرمایا: اگر تم ایسا شخص دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر کو دیکھ لو۔
جب حضرت عمیرؓ، رسول اللہ ﷺ کے یہاں سے لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ اس عورت کے بیٹے لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ اسے دفن کر رہے ہیں۔ جب سامنے آتے دیکھا تو وہ لوگ عمیرؓ کی طرف آئے اور کہا: اے عمیرؓ ! اسے تو نے قتل کیا ہے؟ عمیرؓ نے کہا: ہاں تم نے جو کرنا ہے کر لو اور مجھے ڈھیل نہ دو۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم سب وہ بات کہو جو وہ کہا کرتی تھی تو میں اپنی تلوار سے تم پر وار کروں گا، یہاں تک کہ میں مارا جاؤں یا تمہیں قتل کردوں ۔ اس دن سے اسلام بنی خطمہ میں پھیل گیا۔ قبل ازیں ان میں سے کچھ آدمی ڈر کے مارے اپنے اسلام لانے کو پوشیدہ رکھتے تھے۔
(الصارم المسلول: ص94 و مجمع الزوائد: 460/6)
- ❑ واقدی نے لکھا ہے کہ بنو عمرو بن عوف میں ایک شیخ تھا جس کو ابو عفک کہتے تھے۔
نہایت بوڑھا تھا اور اس کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔ یہ شخص مدینہ آ کر لوگوں کو رسول کریم ﷺ کی عداوت پر بھڑکایا کرتا تھا۔ اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ جب رسول کریم ﷺ بدر تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتح و کامرانی سے نوازا تو وہ حسد کرنے لگا اور بغاوت پر اُتر آیا اُس نے رسول کریم ﷺ اور صحابہؓ کی مذمت میں ایک ہجویہ قصیدہ کہا۔
سالم بن عمیر نے نذر مانی کہ میں ابو عفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے مارا جاؤں گا۔ سالم اس کی غفلت کی تلاش میں تھا۔ موسم گرما کی ایک رات تھی اور ابو عفک موسم گرما
میں قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے صحن میں سو رہا تھا۔ اندریں اثنا سالم بن عمیر آیا اور تلوار اس کے جگر پر رکھ کر اُسے قتل کر دیا اور وہ بستر پر چیخنے لگا۔ اس کے ہم خیال بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے، پہلے اس کے گھر میں لے گئے اور پھر قبر میں دفن کر دیا۔ کہنے لگے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ بخدا اگر ہم کو قاتل کا پتہ چل جائے تو ہم اسے قتل کر دیں گے۔
(کتاب المغازی از علامہ واقدی جلد 2،ص 766)
حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
- ”اس واقعہ میں اس امر کی واضح دلیل موجود ہے کہ معاہد اگر اعلانیہ نبی کو گالیاں دے تو
اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ اسے دھوکے سے قتل کیا جا سکتا ہے۔“ (الصارم المسلول: ص 104)
معروف حدیث جس سے حضرت امام شافعیؒ نے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ ذمی اگر رسول کریمﷺ کو گالیاں دے تو اسے قتل کیا جائے۔ اس کا عہد و امان اس سے باقی نہیں رہتا، وہ کعب بن اشرف کا واقعہ ہے۔ امام خطابی المعالم (ج 3 ص 295) میں حضرت امام شافعیؒ سے نقل کرتے ہیں کہ ذمی اگر رسول کریمﷺ کو گالیاں دے تو اسے قتل کیا جائے۔ اس فعل سے مسلمانوں کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ اس پر انھوں نے کعب بن اشرف کے واقعہ سے استدلال کیا ہے۔
- کعب بن اشرف ایک مالدار یہودی سردار تھا۔ یہ بدطینت اور شیطان صفت انسان
لوگوں کو خاص طور پر قریش مکہ کو حضور نبی اکرمﷺ کے خلاف جنگ کرنے پر ابھارتا اور برانگیختہ کیا کرتا تھا۔ ہمیشہ اس ٹوہ میں لگا رہتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح دھوکے سے پیغمبر آخرالزمان حضرت محمدﷺ کو قتل کرا دے۔ فتح الباری میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ اس نے اس غرض فاسد کے تحت رسول اکرمﷺ کو ایک دعوت پر بھی مدعو کیا تھا مگر رسول کریمﷺ کو اللہ رب العزت نے جبریل علیہ السلام کے ذریعہ بروقت آگاہ کر دیا اور آپ بال بال بچ گئے۔
اس پر مسلمانوں کی طرف سے قاتلانہ کارروائی کی مفصل روداد سیدنا جابر بن عبداللہؓ یوں بیان کرتے ہیں:
- ”رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا: ’’مَن لكعب بن الاشرف، فانه قد
آذى الله و رسولہ؟‘‘ ”کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا؟ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو بہت زیادہ ستا رہا ہے۔“ اس پر سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض
کی: یارسول اللہ ﷺ! کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر ڈالوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں مجھے یہ پسند ہے۔ انھوں نے عرض کی: کیا آپ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں گے کہ بقدرِ ضرورت اس سے جو مناسب سمجھوں، بات کرلوں؟ (خواہ ظاہراً وہ بری اور ناجائز ہی ہو) آپ ﷺ نے فرمایا: اجازت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس چیز کی اجازت مرحمت فرمائی۔ رات کے وقت جب یہ لوگ مدینہ منورہ سے کارروائی کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو سید الاولین والآخرین، امام الانبیا والمرسلین ﷺ نے بنفس نفیس ان کو جنت البقیع (اصل نام الغرقد) تک آ کر الوداع کیا۔ یہ سن 3 ہجری تھا، ربیع الاوّل کا مہینہ تھا۔ چاندنی رات تھی۔ مجاہدین کی اس مختصر چھاپہ مار گوریلا ٹیم کو رخصت کرتے وقت آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جاؤ! اللہ تمہاری مدد کرے۔‘‘
محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس آئے اور اس سے کہا: یہ شخص (اشارہ رسول اکرم ﷺ کی جانب تھا) ہم سے صدقہ مانگتا رہتا ہے اور اس نے ہمیں مشقت میں مبتلا کر رکھا ہے، اس لیے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں۔ اس پر کعب بن اشرف کہنے لگا: ابھی آگے آگے دیکھنا ہوتا ہے کیا، اللہ کی قسم! تم بالکل اکتا جاؤ گے۔ سیدنا محمد بن مسلمہ نے کہا: چونکہ ہم نے اب ان کی اطاعت کر لی ہے۔ اس لیے جب تک یہ معاملہ نہ کھل جائے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے، انھیں چھوڑنا بھی مناسب نہیں، میں تم سے ایک وسق (ایک وسق ساٹھ صاع کے برابر ہوتا ہے جو تقریباً ایک سو تیس کلو کے برابر بنتا ہے) غلہ بطور قرض لینے آیا ہوں۔
کعب بن اشرف نے کہا: ہاں! میرے پاس کوئی چیز گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: کونسی چیز تم گروی میں چاہتے ہو؟ کعب بن اشرف نے کہا: اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو۔ سیدنا محمد بن مسلمہ نے کہا: تم عرب کے نہایت خوبصورت مرد ہو، ہم تمھارے پاس اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں؟ کعب بن اشرف نے کہا: پھر اپنے بچوں کو گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ نے جواب دیا: ہم اپنے بچوں کو کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں؟ کل کلاں انھیں اسی بات پر گالیاں اور طعنے دیے جائیں گے کہ یہ تو وہی ہے، جسے ایک وسق یا دو وسق غلے کے بدلے گروی رکھا گیا تھا۔ یہ تو ہمارے لیے بہت بڑی ذلت ہو گی۔ البتہ ہم تمھارے پاس اپنے ’’لائمہ‘‘ گروی رکھ دیتے ہیں (حدیث کے ایک راوی سفیان کہتے ہیں: لائمہ سے مراد ہتھیار اور اسلحہ تھا)۔
محمد بن مسلمہ نے دوبارہ ملاقات کرنے کا وعدہ کیا۔ (کچھ دنوں کے بعد) وہ رات
کے وقت کعب بن اشرف کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ابو نائلہ بھی تھے اور وہ کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی تھے۔ پھر اس کے قلعہ کے پاس جا کر انھوں نے آواز دی۔ وہ باہر آنے لگا تو اس کی بیوی نے کہا: اس وقت (اتنی رات گئے) باہر کہاں جارہے ہو؟ کعب بن اشرف نے کہا: باہر محمد بن مسلمہ اور میرا (رضاعی) بھائی ابو نائلہ (مجھ سے ملنے آئے ہیں)...... حدیث کے ایک راوی عمرو بن دینار کے سوا دوسرے راوی سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ اس کی بیوی نے اس سے کہا تھا: مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہو۔ کعب نے جواب دیا: (نہیں ایسی کوئی بات نہیں بلکہ وہ) میرے بھائی محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابو نائلہ ہیں۔
عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ جب سیدنا محمد بن مسلمہ اندر گئے تو ان کے ساتھ دو آدمی اور تھے۔ سفیان سے پوچھا گیا: کیا عمرو بن دینار نے ان کے نام بھی لیے تھے؟ انھوں نے بتایا کہ عمرو بن دینار نے بعض کا نام لیا تھا۔ عمرو بن دینار کے علاوہ دوسرے راوی سفیان بن عیینہ نے ابو عبس بن جبر، حارث بن اوس اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہم کے نام بتائے تھے۔ تاہم عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ محمد بن مسلمہ اپنے ساتھ دو آدمی اور لائے تھے۔ اور انھیں یہ ہدایت کی تھی کہ جب کعب ہماری طرف آئے گا تو میں اس کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لوں گا اور انھیں سونگھوں گا۔ جب تمھیں اندازہ ہو جائے کہ میں نے اس کا سر پوری طرح اپنے قبضہ میں لے لیا ہے تو پھر تم تیار ہو جانا اور اسے قتل کر ڈالنا...... عمرو بن دینار نے ایک دفعہ یہ بیان کیا کہ محمد بن مسلمہ نے فرمایا، پھر میں اس کا سر تمھیں بھی سنگھاؤں گا......
بالآخر کعب بن اشرف چادر لپیٹے ہوئے باہر آیا۔ اس کے سر سے خوشبو پھوٹ رہی تھی۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: اس سے زیادہ عمدہ خوشبو میں نے پہلے کبھی نہیں سونگھی۔ عمرو کے سوا دوسرے راوی سفیان بن عیینہ نے بیان کیا: کعب بن اشرف اس بات پر بولا: میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو ہر وقت عطر میں بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی نظیر نہیں۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں: محمد بن مسلمہ نے کہا: کیا تمھارے سر کو سونگھنے کی مجھے اجازت ہے؟ اس نے کہا: سونگھ سکتے ہو۔ محمد بن مسلمہ نے کعب بن اشرف کا سر سونگھا اور ان کے بعد ان کے ساتھیوں نے بھی سونگھا۔ پھر دوسری دفعہ محمد بن مسلمہ نے سر کو سونگھنے کی اجازت مانگی۔ اس نے دوسری دفعہ بھی اجازت دے دی۔ پھر جب محمد بن مسلمہ نے پوری طرح اسے اپنے قبضہ میں کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ۔ چنانچہ انھوں نے اپنا خنجر اس کے پیٹ میں
گھونپ دیا۔ وہ چند لمحے تڑپا اور ٹھنڈا ہو گیا۔ انھوں نے سر کاٹ کر ساتھ لیا اور روانہ ہو گئے۔ بقیع پہنچ کر بلند آواز میں تکبیر کہی۔ حضور ﷺ مسجد میں اپنے رب کے حضور کھڑے تھے، تکبیر کی آواز سُن کر سمجھ گئے کہ مہم کامیاب رہی ، اتنے میں یہ لوگ آ پہنچے۔ آپ ﷺ نے دیکھتے ہی یہ ارشاد فرمایا: ”افلحت الوجوه “ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے۔ ان لوگوں نے جواباً عرض کی: ووجهک یا رسول اللّٰه ! اور سب سے پہلے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک ، اے اللہ کے رسول ﷺ۔ پھر کعب بن اشرف کا سر آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ ﷺ نے الحمدللہ کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
(فتح الباری: ج 7 ص 340)
اس معرکہ میں حضرت حارث بن اوسؓ شدید زخمی ہوئے۔ صحابہ کرامؓ ان کو اٹھا کر حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں لائے تو آپ ﷺ نے ان کے زخم پر اپنا لعاب مبارک لگایا، جس سے زخم فوراً مندمل ہو گیا۔
امام نوویؒ نے قاضی عیاضؒ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے: ”کسی شخص کے لیے ہرگز جائز نہیں ہے کہ کعب بن اشرف کے قتل کے واقعہ کو دھوکہ دہی قرار دے۔ سیدنا علی بن ابی طالبؓ کی مجلس میں کسی انسان نے ایسی بات کہہ ڈالی تھی تو سیدنا علیؓ بن ابی طالب نے فوراً اس کا سر قلم کرنے کا حکم دے دیا تھا۔“
جب یہود کو اس واقعہ کا علم ہوا تو یک لخت مرعوب اور خوفزدہ ہو گئے اور جب صبح ہوئی تو یہود کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ ہمارا سردار اس طرح مارا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتا تھا اور لوگوں کو ہمارے خلاف قتال پر برانگیختہ کرتا اور آمادہ کرتا تھا۔ یہود دم بخود رہ گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے اور بعد ازاں آپ ﷺ نے ان سے ایک عہد نامہ لکھوایا کہ یہود میں سے آئندہ کوئی اس قسم کی حرکت نہ کرے گا۔
(طبقات ابن سعد : ج 2 ص 34)
امام بخاریؒ نے ”الجامع الصحیح “ میں درج ذیل واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک بہت بڑے اسلام دشمن اور رسولِ دشمن ابو رافع یہودی کے بارے میں ہے۔ وہ رسول اکرم ﷺ سے سخت دشمنی رکھتا تھا اور دوسرے لوگوں کو بھی رسول اللہ ﷺ سے دشمنی کرنے پر ابھارتا تھا۔ صحیح بخاری میں اس بارے میں جو واقعہ ہے، سیدنا براءؓ بن عازب اس کو یوں بیان فرماتے ہیں:
- ”رسول اللہ ﷺ نے ابورافع یہودی (کے قتل) کے لیے چند انصاری صحابہؓ کو بھیجا
اور سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ کو ان کا امیر مقرر کیا۔ ابورافع یہودی رسول اکرم ﷺ کو تنگ کیا کرتا تھا اور آپ ﷺ کے دشمنوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ سرزمین حجاز میں اس کا ایک قلعہ تھا اور وہیں وہ سکونت پذیر تھا۔ جب وہ اس کے قلعہ کے قریب پہنچے تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ لوگ اپنے مویشی لے کر (اپنے گھروں کو) واپس ہو چکے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم لوگ یہیں ٹھہرے رہو! میں (اس قلعہ پر) جا رہا ہوں اور دربان پر کوئی تدبیر کروں گا تاکہ میں اندر جانے میں کامیاب ہو جاؤں۔ چنانچہ وہ (قلعہ کے پاس) آئے اور دروازے کے قریب پہنچ کر انھوں نے خود کو اپنے کپڑوں میں اس طرح چھپا لیا جیسے کوئی قضائے حاجت کر رہا ہو۔ قلعہ کے تمام آدمی اندر داخل ہو چکے تھے۔ دربان نے آواز دی۔ اے اللہ کے بندے! اگر اندر آنا ہے تو جلدی آ جا، میں اب دروازہ بند کر دوں گا۔ (سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ نے کہا:) چنانچہ میں بھی اندر چلا گیا اور چھپ کر اس کی حرکات و سکنات دیکھنے لگا۔
جب سب لوگ اندر آ گئے تو اس نے دروازہ بند کیا اور کنجیوں کا گچھا ایک کھونٹی پر لٹکا دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ فرماتے ہیں: اب میں ان کنجیوں کی طرف بڑھا اور انھیں اٹھا لیا۔ پھر میں نے قلعہ کا دروازہ کھول لیا۔ ابورافع کے پاس رات کے وقت داستانیں بیان کی جا رہی تھیں، اور وہ اپنے خاص بالا خانے میں تھا۔ جب رات کے وقت قصہ گوئی کرنے والے (داستان گو) اس کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے تو میں اس کے مخصوص کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔ اس تک پہنچنے کے لیے اس دوران میں، میں جتنے دروازے کھولتا تھا، انھیں اندر سے بند کرتا جاتا تھا۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اگر قلعہ والوں کو میرے متعلق علم ہو بھی جائے تو اس وقت تک یہ لوگ میرے پاس نہ پہنچ سکیں جب تک میں اسے قتل نہ کر لوں۔ آخر میں اس کے قریب پہنچ ہی گیا۔ اس وقت وہ ایک تاریک کمرے میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ (سو رہا) تھا۔ مجھے کچھ اندازہ نہ ہو سکا کہ وہ کہاں ہے؟ اس لیے میں نے آواز دی: ابورافع! وہ بولا: کون ہے؟ اب میں نے آواز کی طرف بڑھ کر تلوار کی ایک ضرب لگائی۔ اس وقت میرا دل دھک دھک کر رہا تھا، یہی وجہ ہوئی کہ میں اس کا کام تمام نہیں کر سکا۔ جب وہ چیخا تو میں کمرے سے باہر نکل آیا اور تھوڑی دیر تک باہر ہی ٹھہرا رہا۔ پھر دوسری مرتبہ اندر گیا۔ میں نے پھر آواز بدل کر پوچھا: ابورافع! یہ آواز کیسی تھی؟ وہ بولا: تیری ماں غارت ہو۔ ابھی ابھی مجھ پر کسی نے تلوار سے حملہ کیا ہے۔ (سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ
فرماتے ہیں: ) میں نے پھر (آواز کی طرف بڑھ کر) تلوار کی ایک ضرب لگائی۔ اگرچہ میں اس کو خوب لہولہان تو کر چکا تھا مگر وہ ابھی مرا نہیں تھا۔ اس لیے میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر دبائی جو اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی۔ مجھے اب یقین ہو گیا کہ میں اسے قتل کر چکا ہوں۔
چنانچہ میں نے ایک ایک کر کے دروازے کھولنے شروع کیے۔ بالآخر ایک زینے پر پہنچا۔ میں یہ سمجھا کہ میں زمین پر پہنچ چکا ہوں۔ (لیکن ابھی میں پہنچا نہ تھا) اس لیے میں نے اس پر پاؤں رکھ دیا اور نیچے گر پڑا۔ چاندنی رات تھی۔ اس طرح گر پڑنے سے میرے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی اور میں دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک یہ نہ معلوم کرلوں کہ آیا میں اسے قتل کر چکا ہوں یا نہیں؟ جب مرغ نے اذان دی تو اسی وقت قلعہ کی فصیل (دیوار) پر ایک آواز دینے والے نے کھڑے ہو کر آواز دی: لوگو! میں اہل حجاز کے تاجر ابورافع کی موت کا اعلان کرتا ہوں۔ تب میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ چلنے کی جلدی کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ابورافع کو (میرے ہاتھوں) قتل کرا دیا ہے (آپ نے اپنے عمامہ سے پاؤں کی ہڈی کو باندھا اور ایک پاؤں پر اچھلتے ہوئے قلعہ سے باہر آ گئے)۔
پھر میں نبی اکرمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ کو ابورافع کے قتل کی اطلاع دی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اپنا پاؤں آگے کرو۔‘‘ میں نے اپنا پاؤں آگے کیا تو آپﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا، میرا پاؤں فوراً ایسا اچھا ہو گیا جیسے کبھی اس میں مجھ کو کوئی تکلیف ہوئی ہی نہ تھی۔‘‘ (صحیح بخاری جلد 2، ص 577)
جو مسلمان حضور نبی کریمﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے، تو اس کو قتل کر دینے کا تذکرہ بھی زیر نظر حدیث میں ملتا ہے۔ یہاں ان واقعات کی تفصیلی بحث پیش نظر نہیں، اس لیے یہ واقعہ بلا تبصرہ ملاحظہ کیجیے:
- ’’حضرت مکحول بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی مسلمان اور منافق کے درمیان کسی
بات پر جھگڑا ہو گیا وہ دونوں رسول اللہﷺ کے پاس آئے، آپﷺ نے منافق کے خلاف فیصلہ فرما دیا۔ پھر وہ دونوں حضرت ابوبکر کی طرف چلے گئے، انھوں نے کہا: جو رسول اللہﷺ کے فیصلے کو نہیں مانتے، میں اس کے درمیان فیصلہ نہیں کر سکتا۔ پھر وہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور ان سے سارا واقعہ بیان کیا۔ عمرؓ نے کہا: میرے واپس آنے تک تم یہیں ٹھہرنا، حضرت عمرؓ گھر
سے تلوار سونت کر آئے اور منافق کو قتل کر دیا اور کہا: جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا، اس کے لیے میں اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل کردی۔ (فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ ۔ النساء: 65) اسی وجہ سے حضرت عمرؓ کا لقب ’فاروق‘ پڑ گیا۔‘‘
(تفسیر درمنثور: 181/2، تفسیر ابن کثیر: 789/1)
معروف گستاخ رسول عبدالعزی ابن خطل کا نام عبداللہ تھا۔ وہ پہلے مسلمان تھا۔ بعد ازاں اسلام چھوڑ کر مشرک ہو گیا۔ اس نے اپنے ساتھ دو گانے والی لونڈیاں ارنب اور قریبہ رکھی ہوئی تھیں جن سے وہ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف ہجویہ اور توہین آمیز گیت کہلوایا کرتا تھا۔ شان رسالت ﷺ میں توہین کے ارتکاب پر اس کی جسارتیں بہت بڑھ چکی تھیں۔ فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو سب مخالفین حتی کہ بدترین دشمنوں کو بھی معافی دے دی گئی۔ ایک شخص نے آپ ﷺ کو خبر دی کہ آپ کا گستاخ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اُسے قتل کر دو۔ چنانچہ اس گستاخ رسول کو قتل کرنے کی سعادت سیدنا ابو برزہ اسلمیؓ، حضرت زبیرؓ اور حضرت سعد بن حریثؓ کے حصہ میں آئی۔ انھوں نے اس گستاخ کو کعبۃ اللہ کے پردوں سے نکال کر زمزم کے کنویں اور مقام ابراہیم کے درمیان قتل کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ گستاخ رسولؐ کو بیت اللہ شریف (جو امن کی جگہ ہے) میں بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کے حکم سے ابن خطل کی دونوں لونڈیوں ارنب اور قریبہ کو بھی شان رسالتؐ میں گستاخی کے جرم میں قتل کر دیا گیا تھا۔
(سنن نسائی، کتاب المحاربہ جلد 2، ص 169)
آخر میں عبداللہ بن ابی سرح کے اسلام لانے کا واقعہ نہایت غور کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس واقعہ سے بہت سے مسائل سمجھ آتے ہیں۔ عبداللہ بن ابی سرح پہلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی تھے۔ بعد ازاں مرتد ہو کر کفار سے جا ملے اور حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں بے حد ہرزہ سرائی کرنے لگے۔ حضرت عثمان بن عفانؓ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ فتح مکہ کے دن جان بچانے کی خاطر چھپ گئے۔ حضرت عثمانؓ ان کو لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ اس وقت بیعت لے رہے تھے۔ عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! عبداللہ حاضر ہے۔ اس سے بھی بیعت لے لیجیے۔ آپ ﷺ نے کچھ دیر سکوت فرمایا، بالآخر حضرت عثمانؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار درخواست کرنے لگے تو نبی ﷺ نے عبداللہ
بن ابی سرح سے بیعت لے لی اور ان کا اسلام قبول فرمالیا۔ اسی طرح ان کی جان بخشی ہو گئی۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم میں سے کوئی بھی سمجھدار نہ تھا کہ جب میں نے عبداللہ کی بیعت سے ہاتھ روک لیا تھا تو تم میں سے کوئی اُٹھ کر اس کو قتل کر ڈالتا۔ جواب میں کسی نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اس وقت اپنی آنکھ سے کوئی اشارہ فرما دیتے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے۔ نبی کے لیے اشارہ کرنا زیبا نہیں ۔‘‘ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول از علامہ ابن تیمیہ، کتاب المغازی از علامہ واقدی جلد 2، ص 860)
اس واقعے سے جہاں بہت سے دیگر مسائل سمجھ آتے ہیں، وہاں یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اہانت کے مرتکب شخص کو قتل کرنے کی مکمل کوشش کی جائے گی۔
(اس مضمون کی تیاری کے سلسلہ میں جناب محمد فرقان اور مولانا محمد علی جانباز کے مضامین سے استفادہ کیا گیا۔ ان حضرات کے مضامین میری کتاب ”ناموس رسالت ﷺ کے خلاف مغرب کی شر انگیزیاں“ میں موجود ہیں۔)
۞.......۞.......۞
پروفیسر محمد اکرم رضا
تحفظ ناموس رسالت ﷺ اہمیت اور تقاضے
حضور سلطانِ دو عالم، افتخارِ آدم و بنی آدم حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی ذاتِ گرامی حسنِ صورت اور جمالِ سیرت کے لحاظ سے اس قدر اکمل اور جامع ہے کہ ازل سے ابد تک کے تمام شخصی و تہذیبی محاسن ایک جگہ پر جمع کر دیئے جائیں تو پھر بھی ان کا موازنہ محبوبِ خدا علیہ التحیۃ والثناء کی جامع الصفات شخصیت کی ہمہ جہتی فضیلت کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے آپ کا اسمِ گرامی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکھا گیا کہ آپ سے بڑھ کر کسی اور شخصیت کی تعریف و مدحت ممکن ہی نہیں ہے اور اسی لیے آپ کو ”احمد“ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صفاتی نام سے پکارا گیا کہ آپ سے زیادہ اور کوئی ہستی اپنے خالق کی توصیف کا حق ادا نہیں کر سکتی۔ جب ایک مسلمان عشق و عقیدت کو اپنا راہنما تسلیم کر کے اپنے آقا و مولا (علیہ التحیۃ والثناء) کی عظمتوں کا تصور کرتا ہے تو ورطۂ حیرت میں کھو جاتا ہے کہ ہمارا نبی ﷺ کس قدر ارفع و اعلیٰ ہے، کس قدر بلند مرتبت اور عالی نسب ہے، کس قدر فضیلت مآب ہے، کس قدر محترم، مکرم اور اکرم ہے، کس قدر رحمت شعار اور ہر عالم کے لیے وجہِ افتخار ہے، کس درجہ مظہرِ الطافِ کردگار ہے تو فکرِ انسانی عاجز ہو کر اسی پر اکتفا کرتی ہے کہ:
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
محبوب جس قدر بے مثال اور بے نظیر ہوگا، اس کے چاہنے والوں کے دلوں میں محبت کا جذبہ اسی قدر تیز تر اور سر بلند ہوگا اور جب اس محبوب کی شخصیت اور احترام کے روشن نقوشِ محبِّ صادق کے قلب و جان میں نقش ہو جائیں گے تو پھر یہ چاہت اپنی انتہائی سر بلندیوں کو چھوتے ہوئے اس عشقِ سرمدی کا روپ اختیار کر لے گی جس کی بدولت محبوب کی ناموس اور
اس کے مقام و مرتبہ پر تصدق ہو جانا ایک فطری تقاضا تصور کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سلطان اقالیم دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام محبوب خدا بھی ہیں اور عشاق کی چاہتوں کا مرکز بھی۔ آپ ﷺ کے جمال جہاں آرا کو جس نے ایک مرتبہ دیکھا، دیکھتا ہی رہ گیا۔ آپ ﷺ کے کمال سیرت کو جس نے ایک بار دل میں بسا لیا، پھر ہمیشہ کے لیے اُنھی کے در کا ہو کر رہ گیا۔ آپ ﷺ کی حیثیت اس شمع لازوال کی تھی جس کی تب و تاب میں جملہ انبیاء و رسل کے محامد و محاسن کی جھلک محسوس ہوتی تھی۔ پروانے، شمع کی ایک جھلک دیکھ کر قربانی و ایثار کے نام پر ایک لمحہ کے لیے بھی جھجک کا شکار نہیں ہوتے بلکہ اس کے حسن جہاں افروز پر قربان ہونے کو ہی اپنی سب سے بڑی کامرانی سمجھتے ہیں۔ حضور سرور کائنات (علیہ الصلوٰۃ والسلام) جب شمع انوار توحید کی صورت میں جلوہ گر ہوئے تو پھر جاں نثاریوں اور فدا کاریوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ سلسلہ صحابہؓ کرام کے دور سعید سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے اور ان شاء اللہ ابد کی آخری ساعتوں تک ناموس مصطفوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پروانہ وار نثار ہونے کا یہ جذبہ اہل ایمان کے دلوں کی دھڑکن بن کر سلامت رہے گا۔
تحفظ ناموس مصطفیٰ ﷺ کی اصل روح حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان اقدس ہے کہ ”تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اسے مال، جائیداد، اولاد، ماں باپ حتیٰ کہ اس کی اپنی زندگی سے عزیز تر نہ ہو جاؤں۔“
حفیظ جالندھری کے لفظوں میں:
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محمد ﷺ کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی
خدا کے دامن توحید میں آباد ہونے کی
تحفظ ناموس رسالت ﷺ ہر صاحب ایمان کے دل کی آواز اور اس کی عقیدت کا اعزاز ہے۔ ہر مسلمان اپنے آقا و مولا (علیہ الصلوٰۃ والثناء) کی عزت و توقیر پر فدا ہونا ایمان کی بنیاد سمجھتا ہے۔ یہی تعلیمات قرآنی کی تاثیر ہے اور یہی احکام ربانی کی تفسیر ہے۔ عترت رسول ﷺ پر کٹ مرنا اور ناموس رسالت ﷺ پر جان لٹا دینا ابدی کامرانی کی دلیل ہے۔ میں پندرھویں صدی ہجری کے پہلے عشرہ میں مادّیت کی ظاہری چکا چوند اور باطل
فلسفوں کی بے اساس روشنیوں سے جان بچا کر تخیل کے راہوار پر سوار عشق وعقیدت کو خضر راہ بناتے ہوئے حیاتِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان ایمان افروز ادوار کا احاطہ کرتا ہوں جب مہر عالمتاب نبوت اپنے چاہنے والوں کے درمیان بنفسِ نفیس جلوہ گر تھا۔ ہر طرف انوار کی ضوباری تھی، فضائیں تجلی ریز تھیں تو ہوائیں عطر بیز، ہر ساعت حاصل زندگی تھی تو ہر لمحہ پیامِ کمال شوق۔ عشاق کی آنکھیں تھیں کہ سلطانِ خوبانِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلووں کو دیکھ کر سیری نہیں ہوتی تھیں۔ میں تاریخ کی اوٹ میں جھانکتا ہوں تو غزوہ بدر کا آوازہ میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ یہ میرے لاشعور کی آواز ہے جو نسلاً بعد نسلاً میری سانسوں اور یادوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ میرے آقا ومولا ﷺ کفار کے مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے انصار کے احسانات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ کفار مکہ کی لڑائی ہم سے ہے، تم اگر پیچھے ہٹنا چاہو تو میری طرف سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا، سب دم بخود ہیں، سانسیں رک چکی ہیں۔ معاً حضرت سعد بن عبادہؓ کی آواز گونجتی ہے:
- ”خدا کی قسم! آپ فرما دیں تو ہم سمندر میں کود جائیں۔“
ابھی سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرحبا ہی کہا تھا کہ حضرت مقدادؓ گویا ہوئے:
- ”ہم قومِ موسیٰ کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیں۔ ہم آپ
کے دائیں سے، بائیں سے، سامنے سے اور پیچھے سے لڑیں گے۔“
پھر تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے نام پر بدر کا معرکہ بپا ہوتا ہے۔ نہتے افراد لوہے میں غرق افراد کو تہ تیغ کر رہے ہیں۔ دو ننھے شاہین حضرت معاذؓ اور حضرت معوذؓ مجاہدانہ یلغار کے ساتھ آگے بڑھ کر ابو جہل پر جھپٹتے ہیں اور قبل اس کے کہ وہ موت کے ان معصوم پیامبروں کے جذبے کا امتحان لینے کے لیے خود کو آمادہ کر سکے، یہ شاہین ننھی تلواروں کے ساتھ اسلام کے سب سے بڑے دشمن اور سلطانِ دو عالم (ﷺ) کے سب سے بڑے بدخواہ کو فنا فی النار کر دیتے ہیں۔ اس کا انعام انھیں یوں عطا ہوتا ہے کہ شہادت کی خلعتِ لہو رنگ انھیں اپنے دامن میں ڈھانپ لیتی ہے۔
یہ عقل کی نہیں، عشق کی جنگ تھی۔ یہ خرد کا نہیں، جذبے کی تپش کا معرکہ تھا، جس میں جذبۂ محبت رسول (ﷺ) کی روشن مثالیں اس کثرت کے ساتھ نظر آتی ہیں کہ عقل دم بخود ہو کر عشق کی قد آوری کے پیچھے پناہ ڈھونڈنے لگتی ہے۔ اس غزوہ میں سیدنا صدیق اکبرؓ تحفظ
ناموس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں اور اپنے باپ ابوجہل کی زیر قیادت لڑ رہے تھے۔ جب اس بیٹے نے اسلام قبول کر لیا تو ایک دن سیدنا صدیق اکبرؓ سے عرض کیا:
- ”ابا جان! آپ غزوۂ بدر میں متعدد مرتبہ میری تلوار کی زد میں آئے مگر میں نے محبت
پدری سے مغلوب ہو کر تلوار کو پیچھے ہٹا لیا۔“
سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا:
- ”بیٹے! مجھے رب کعبہ اور شان مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم، تو ایک
مرتبہ بھی میری تلوار کی زد میں آ جاتا تو مقام مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تحفظ کے نام پر تیری گردن اڑا دیتا۔“
تحفظ ناموس رسالت ﷺ خدا کو کس قدر عزیز ہے؟ ...... میں خود سے سوال کرتا ہوں تو معاً میرا باطن پھر مجھے اسی دورِ قدسی میں لے جاتا ہے جب جنت کے گلزاروں کی بشارت دینے والے آقا ﷺ تبلیغ اسلام اور اعلائے کلمۃ الحق کے مقدس مشن کو عام کرتے ہوئے مکی زندگی میں دشمنان تیرہ باطن کی طرف سے مسلط کردہ ہر قسم کے شدائد برداشت کر رہے تھے۔
ایک روز سلطان دو عالم (ﷺ) نے قریش مکہ کے ہجوم کو بلایا، پہلے اپنے کردار کے بارے میں دریافت کیا۔ جب بدترین مخالفین نے بھی انھیں امین اور صادق تسلیم کر لیا تو پھر انھیں توحید خداوندی اور اپنی رسالت کا سرمدی پیغام سنایا۔ بس پھر کیا تھا، آپ کے چند جانثاروں کے علاوہ پورا مجمع آپ پر آوازے کسنے لگا، جن میں سے بدترین آوازہ آپ کے بدبخت چچا ابولہب کا تھا جس نے ذلت کی انتہا کو چھو کر کہا:
”اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے وہ ہاتھ ٹوٹ جائیں جن سے تو نے ہمیں یہاں بلایا ہے۔“
ابولہب کے اس خبث باطن، دریدہ دہنی اور انتہائی ذلیل طرز گفتگو نے زمین و آسمان کو لرزا دیا، کرسی و عرش کپکپا اٹھے۔ وہ جس کے لبوں سے جنت کی بشارت اور شفاعت کا مژدہ عطا ہو، جس کے ہاتھ اپنے اندازِ بخشش سے گداؤں کو غنی کر دیں، اس کے بارے میں اس درجہ خرافات۔ ہر شخص مہر بہ لب تھا۔ میرے آقا خاموش تھے۔ بہت کچھ کہہ سکتے تھے مگر شان رحمۃ للعالمینی آڑے آ رہی تھی۔ آپ کے صبر اور خاموشی کا انتقام آوازۂ خداوندی نے لیا اور رب کریم نے ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کے مخالف سے اس درجہ سخت انداز میں خطاب کیا کہ
پورے قرآن میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ابولہب اور اس کے خاندان پر ابدی اور دائمی لعنتوں کے سلگتے ہوئے پتھر برس رہے ہوں۔ خدائے جبار و قہار مصروف ارشاد تھا:
- ”ٹوٹ جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ و برباد ہو گیا۔ کوئی فائدہ نہ پہنچایا اُسے
اس کے مال نے اور جو اس نے کمایا۔ عنقریب وہ جھونکا جائے گا شعلوں والی آگ میں اور اس کی بیوی بھی۔ بدبخت ایندھن اٹھانے والی، اس کے گلے میں مونج کی رسی ہو گی“۔
(اللھب: 1 تا 5)
اور چشم عالم نے دیکھا کہ وہی کچھ ہوا جو ارشاد خداوندی تھا، ابولہب ذلت و رسوائی کی موت مرا اور اس کی بیوی اس قدر عبرت ناک انجام سے دوچار ہوئی کہ موت کے وقت دنیا میں ہی اس کی نظروں میں عذاب جہنم کا نقشہ کھنچ گیا۔ سچ تو یہ ہے:
نبیؐ سے بچ بھی جائیں تو خدا سے کیسے بچتے ہیں
قرآن حکیم نے جس قدر زور عظمت و شان مصطفوی (ﷺ) پر زور دیا ہے اور احترام محبوب خدا ﷺ کی جتنی تاکید کی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کو ناموس حضور (ﷺ) کا تحفظ کس قدر عزیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدائے کریم قرآن میں حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے غیر معمولی محامد و محاسن بیان کر کے ہی آپ کی ناموس کے تحفظ کو ایمان کا لازمی جزو قرار دے سکتا تھا۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو قرآن حکیم حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے ظاہری و باطنی کمالات کا اعلان عام ہے۔ آپ کی رحمت عام، آپ کی شفاعت انس و جاں کا پیغام، کہیں یٰسٓ اور مزمل و مدثر کے خطاب، کہیں آپ کے شہر مقدس کی قسم، کہیں آپ کی پسندیدہ اشیاء کی قسم، کہیں آپ کی دلی خواہش پر تبدیلی قبلہ کا حکم، کہیں آپ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دینا، کہیں آپ کو ہر قسم کے فیوض و برکات کی کثرت کا مژدہ سنانا، کہیں آپ کے دشمنوں کو ذلیل و خوار کرنا اور ابتر بتانا، کہیں آپ کو ”ورفعنا لک ذکرک“ کا تاج پہنانا، کہیں آپ کی اطاعت و خوشنودی بتانا، کہیں آپ کو عرش اعلیٰ پر بلا کر مہمان خاص کا خلعت دوام پہنانا، کہیں آپ کے ہاتھوں دین متین کا اکمال کر کے آپ کو رہتی دنیا تک کے لیے محسن اعظم کی مسند خاص پر بٹھانا اور تمام اعزازات و اکرامات عطا کر کے خود ہی آپ کی محافظت کا ذمہ اٹھانا کہ:
- کافر چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے اور انکار فرماتا ہے اللہ مگر
یہ کہ کمال تک پہنچا دے اپنے نور کو اگرچہ ناپسند کریں اس کو کافر۔
(التوبہ: 32)
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
اب ظاہر ہے کہ ایک صاحب ایمان اس ہستی عظیم کی ناموس اور عزت کے لیے جان لڑا سکتا ہے جو خدا کو بھی عزیز ہو اور مخلوق خدا کو بھی ، جو افضل الخلائق بھی ہو اور ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کا مصداق بھی۔ خدا اپنے ملائکہ کی جمعیت کے ساتھ جس کی شان میں رطب اللسان ہو کر فخر محسوس کر رہا ہو، ایسی عدیم النظیر ہستی پر اپنی متاعِ حیات لٹا کر بھی مسلمان سمجھتا ہے کہ اس نے بہت سستا سودا کیا ہے کیوں کہ جس زندگی کو وہ قربان کر رہا ہے، وہ تو خدا کی دی ہوئی امانت ہے جب کہ اس فداکاری کے بدلے میں جو القاباتِ سرمدی عطا ہو رہے ہیں، وہ ایک جان کیا ہزاروں زندگیوں کی مجموعی قدرو قیمت سے کہیں زیادہ افضل وسر بلند ہیں۔
اس لیے جب ہم تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے جذبے کی اصل، مقام مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثناء) کی رفعتوں کو قرار دیتے ہیں تو یہ عقدہ ایک آن میں حل ہو جاتا ہے کہ تحفظ مقام حضور (ﷺ) پر قربان ہونے والے کیوں مسکراتے ہوئے موت کی وادیوں کی طرف چلتے رہے۔ موت اس کائنات کی سب سے بھیانک حقیقت ہے مگر عشاقِ مصطفیٰ (علیہ الصلوٰۃ والثناء) کے لیے موت کی حیثیت فقط ایک پل کی تھی جسے عبور کر کے حبیب اپنے حبیب سے جا ملتا تھا۔
تحفظ ناموسِ رسالت مآب ﷺ کا احساس دل کی خلوتوں سے ابھرتا، آنکھوں سے عقیدت کے آنسوؤں کا خراج لیتا، جذبات کو ناموسِ حضور (ﷺ) پر مر مٹنے کے لیے آمادہ کرتا اور سر کو درگاہِ رسول (ﷺ) پر فدا کاری کے آداب سکھاتا ہے۔ ماضی ہو یا حال، یا حال کی کوکھ سے ابھرنے والا مستقبل، ہر لحظہ ہر آن امتِ مصطفوی (ﷺ) کے پیش نظر اپنے آقا و مولیٰ (علیہ التحیۃ والثناء) کی عزت و ناموس پر کٹ مرنے کا جذبہ موجود رہا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا، عشق وعقیدت کی کٹھن راہوں پر وہی چل سکتا ہے جس کے دل میں مقام مصطفیٰ (ﷺ) کی شمع پوری ایمانی تب وتاب کے ساتھ جل رہی ہو۔ ہم عقیدت واحترام کے حوالے سے عشاقِ رسول (ﷺ) کے کارواں کے سالار حضرت امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے ایک تاریخی حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں:
”ایک مرتبہ خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی نے رسول (ﷺ) کی مسجد میں امام مالکؒ سے مناظرہ کیا۔ اثنائے مناظرہ میں آواز بلند کی۔ حضرت امام نے فرمایا اے امیر المومنین! اس مسجد
میں اپنی آوازوں کو بلند مت کرو کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یوں ادب سکھایا ہے کہ اپنی آواز حضور نبی کریم ﷺ کی آواز سے پست رکھا کرو۔ حضور ﷺ کا احترام وصال شریف کے بعد بھی ویسا ہی ضروری ہے جیسا حالت حیات میں تھا۔ یہ سن کر ابو جعفر دھیما پڑ گیا اور کہنے لگا۔ امام مالک! کیا میں قبلہ رُو ہو کر دعا مانگوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب منہ کروں۔ امام مالکؒ نے جواب دیا کہ تم رسول ﷺ کی طرف سے اپنا منہ کیوں پھیرتے ہو، حالانکہ وہ قیامت کے دن تمہارے اور تمہارے باپ آدم کے وسیلہ ہیں، بلکہ تم حضور ﷺ ہی کی طرف منہ کرو اور آپ ہی کے وسیلے سے دعا مانگو، اللہ تعالیٰ قبول کرے گا۔ کیوں کہ ارشاد باری ہے ”اور اگر یہ لوگ جس وقت اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، آپ کے پاس آتے اور خدا سے مغفرت مانگتے اور پیغمبر ان کے لیے بخشش مانگتے تو یقیناً وہ اللہ کو معاف کرنے والا مہربان پاتے۔ (النساء: 64)“ (شفا شریف۔ وفاء الوفا جزو اول)
اسی طرح ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اگر مسجد نبوی (ﷺ) کے گرد کسی مکان میں میخ ٹھونکنے کی آواز سنتیں تو کہلا بھیجتیں کہ رسول کریم (ﷺ) کو اذیت نہ دو۔ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے اپنے گھر کے دونوں کواڑ مصانع میں بنوائے کہ مبادا لکڑی کی تیاری میں اس کی آواز سے رسول (ﷺ) کو اذیت پہنچے۔ (وفاء الوفا، جزو اول)
حضرت نافع روایت کرتے ہیں کہ عشاء کے وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسجد نبوی (ﷺ) میں تھے۔ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز کان میں آئی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا، تم کون ہو؟ اس نے اپنا تعلق بنو ثقیف سے بتایا۔ سیدنا عمرؓ نے پھر پوچھا کیا تم اس شہر کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا کہ میں طائف کا رہنے والا ہوں۔ یہ سن کر آپ نے اسے تنبیہ کی کہ اگر تم مدینہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا۔ اس مسجد میں آوازیں بلند نہیں کی جاتیں۔ (وفاء الوفا)
سیدنا امام مالک علیہ الرحمہ نے تمام عمر مدینہ منورہ میں بسر کی۔ وہاں تو حیات مصطفیٰ (ﷺ) کا تصور ہی احترام و عقیدت کی حد تھا کہ حضور (ﷺ) ہماری آوازوں کو اسی طرح سماعت فرما رہے ہیں جس طرح حیات ظاہری میں فرماتے تھے۔ اور اسی لیے وہ بلند آہنگ لہجے میں بات کرتے ہوئے اس احساس کے ساتھ لرز اٹھتے تھے کہ کہیں گستاخی کا ارتکاب نہ ہو جائے کیوں کہ یہاں تو یہ تمنا مچل رہی ہوتی ہے کہ:
اونچی آواز ہوئی، عمر کا سرمایہ گیا
اس تناظر میں یہ امر مسلمہ ہے کہ محبّ اسی محبوب پر اپنی جان قربان کرتا ہے جو صورت وسیرت میں اکمل ترین ہے اور جو اس ظاہری آنکھوں سے نہاں ہو کر بھی اس کے قلب و جاں میں عیاں ہے، جس کو ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کے لیے عشاق کی نگاہیں ہمیشہ ہجر کی نمی سے وضو کرتی رہتی ہیں مگر جب قرآنِ حکیم کے مقدس متن کے پیش منظر میں جھانکتے ہیں تو اس محبوب رب لم یزل کا نوری سراپا، نگاہِ باطن کو خیرہ کرنے لگتا ہے۔ دراصل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی حیاتِ باطنی اور آپ کی بے عیب شخصیت کا تصور ہی وہ قوت ہے جو چاہنے والوں کے دلوں میں ہر آن موجزن رہتی ہے۔ یہی قوت کبھی عشق وعقیدت کا روپ اختیار کرتی ہے اور کبھی محبت و وارفتگی کے نام پر جاں سپردگی کے آداب سکھاتی ہے۔ کبھی مردہ رگوں میں خونِ زندگی بن کر دوڑتی اور کبھی بنجر دلوں کی کھیتیوں کو شہیدِ الفت مولانا کفایت علی کافی رحمتہ اللہ علیہ کے جذبہ شہادت کے نام پر احساساتِ عشقِ حضور (ﷺ) کو اس گلاب کی تازگی عطا کرتی ہے کہ:
پر رسولؐ اللہ کا دینِ حسن رہ جائے گا
اس وقت جب کہ میں تحفظِ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کے نام پر تاریخ واحادیث کے حوالے سے جگمگاتے ہوئے ستاروں کو یکجا کر کے انھیں ایک کہکشاں کا روپ دینے کی کوشش کر رہا ہوں تو میرے سامنے نکہت ونور کی اس طرح جلوہ گری نظر آتی ہے کہ میری باطنی نگاہیں تاریخ کی اوٹ میں پناہ لے کر بھی اس کی لمعہ افشانیوں کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔ میں ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے تاریخی حقائق کو ترتیب کا روپ دینا چاہتا ہوں مگر عشق وعقیدت کے ایمان افروز نظائر اپنی اپنی اوّلیت اور زمانی و مکانی فوقیت ثابت کرنے کے لیے میرے خامۂ عاجز اور ذہنِ ناپختہ کی سعی کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ عشاقِ حضور (ﷺ) واقعات اور تحفظ مقام مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثنائ) کے نام پر قربانیوں کو ترتیب دینا مجھے اپنے بس سے باہر نظر آتا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ چودہ صدیوں کے ایمان افروز افق پر تواتر سے بکھری ہوئی داستانِ عقیدت کو ترتیب دینا کسے آتا ہے۔ یہاں تو قدم قدم پر جان کی بازی لگتی ہے، دل و جان نذر کرنے پڑتے ہیں، خرد کی تیرہ شبی سے جان چھڑا کر جنوں کی فداکاری کو شعار بنانا پڑتا ہے۔ یہاں لفظوں کی مناجات نہیں بلکہ عمل کی سوغات مقبول ہوتی ہے، یہاں اشعار کے بے رنگ
گجرے نہیں بلکہ شہادت کے لہو رنگ گلدستے باریاب ہوتے ہیں:
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
میں تخیل کو پھر خضر راہ بناتا ہوں، مجھے کہیں سیدنا زیدؓ اور کہیں سیدنا خبیبؓ کفار کے نرغے میں نظر آتے ہیں۔ ایک منظم سازش ہے کہ مسلم مبلغین، حفاظ اور شارحینِ دین مصطفیٰ (ﷺ) کو کسی نہ کسی بہانے مدینہ منورہ سے دور دراز کی بستیوں میں لے جا کر شہید کر دیا جائے۔ یہ عشاقِ سرمست اپنے آقا و مولا (علیہ التحیۃ الثناء) سے اجازت طلب کر کے جاتے ہیں مگر نگاہوں میں ہمہ وقت آپ ہی کے جلوے ہیں۔ کفار سیدنا زیدؓ کو اپنی بستی میں لے جا کر ظلم و تشدد کی انتہا کر دیتے ہیں، انھیں کانٹوں پر گھسیٹا جاتا ہے، پتھروں کی بارش کی جاتی ہے، لباس تار تار ہے تو جسم فگار، ہر بنِ مو سے لہو رس رہا ہے، میلوں تک گھسیٹ کر لے جانے کے بعد ایک میدان کو ان کا مقتل بنا دیا جاتا ہے، سولی گاڑ دی جاتی ہے۔ کفار کا سردار نہایت تکبر سے پوچھتا ہے:
’’زید! اب تو تم کہتے ہو گے کہ میں نے اسلام قبول کیوں کیا اور کاش اس وقت پھانسی کے پھندے میں میری گردن نہ ہوتی بلکہ محمد کی گردن ہوتی۔‘‘ (نعوذ باللہ)
تو اس وقت زیدؓ نے اپنے جسم کی بکھرتی ہوئی قوتوں کو یکجا کیا، پھانسی کے پھندے کو راہِ وفا کا نذرانہ سمجھ کر قبول کرتے ہوئے جو جواب دیا وہ قیامت تک ناموسِ مصطفیٰ (ﷺ) کے لیے جان لٹانے والوں کو عقیدت کا چلن سکھاتا رہے گا۔ میں پلکوں کے کناروں پر لرزاں آنسوؤں کو روک کر تاریخ کی زبان سے سیدنا زیدؓ کا یہ جواب سن کر اپنی نامسلمانی پر پشیماں ہونے لگتا ہوں کہ:
- ’’خدا کی قسم! میں تو یہ بھی گوارا نہیں کرتا کہ میرے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ کو اس
وقت جہاں بھی وہ رونق افروز ہوں، کانٹا بھی چبھے کہ جس سے انھیں (معمولی سی بھی) تکلیف پہنچے اور میں آرام سے اپنے اہل و عیال کے ساتھ بیٹھا رہوں۔‘‘
اور پھر تاریخ کے حوالے سے تحفظ ناموسِ مصطفیٰ (ﷺ) کا زریں عنوان بن کر مجھے غزوۂ احد کا وہ مجاہد یاد آتا ہے جو زخموں سے چور ہے۔ اس کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہیں جہاں تیروں اور تلواروں کے زخم نہ لگے ہوں، اس پر نزع کا عالم طاری ہے۔ اس کے ساتھی اسے پانی
پلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ کہتا ہے کہ میری آخری تمنا رخِ مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثناء) کی زیارت ہے کہ جس کے لیے قربان ہورہا ہوں، آخری سانسوں میں وہ سامنے ہو۔ حضورﷺ کو اطلاع ملتی ہے۔ آپ اس مجاہد کی طرف چلتے ہیں۔ ادھر سے وہ اپنی بکھرتی ہوئی سانسوں کی ڈوری کو سمیٹتے ہوئے محبوب دو عالم (ﷺ) کی طرف لپکتا ہے۔ گھسٹتے گھسٹتے وہ سلطان دو عالمﷺ کے قریب پہنچ گیا۔ میرے آقا (علیہ التحیۃ والثناء) کی چشمِ رحمت نواز نے اس کی طرف دیکھا۔ اس بجھتے ہوئے چراغ میں زمانے بھر کی روشنی سمٹ آئی۔ اس نے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے حضور (ﷺ) کی طرف دیکھا۔ محبوب ومحبّ کی نگاہیں ملیں۔ دونوں طرف آنسو تھے۔ ایک طرف کے آنسوؤں میں رحمتِ بے کراں کی جلوہ سامانی تھی تو دوسری طرف کے اشکوں میں سرخروئی کی شادمانی۔
پھر اسی غزوۂ احد کے حوالے سے مجھے وہ جواں ہمت، بلند بخت اور سعید قسمت خاتون تحفظِ ناموسِ سرکارﷺ کا ایک نیا عنوان رقم کرتی نظر آتی ہے جو اس غزوہ میں سلطان دو عالم کی شہادت کی افواہ سن کر مدینہ سے روتی ہوئی چل پڑی تھی۔ راستے میں لوگ ملتے گئے۔ کسی نے کہا تمہارا باپ شہید ہوگیا، کسی نے خاوند اور بھائیوں کی شہادت کی خبر سنائی تو کسی نے بیٹوں کی شہادت کے بارے میں آگاہ کیا۔ وہ خاتون سب کی شہادت پر ’الحمد للہ، الحمد للہ‘ کا آوازہ بلند کرتی ہوئی فقط یہی سوال کرتی رہی کہ:
- ❑ ”میرے لیے خوشی کا مقام ہے کہ میرے خاندان کا ہر فرد ناموسِ رسالتﷺ پر
تصدق ہوگیا۔ مگر میں نے تم سے ان کے بارے میں پوچھا ہی کب ہے۔ مجھے تو یہ بتاؤ کہ حضور رحمۃ للعالمین (ﷺ) کیسے ہیں؟“
اور پھر اسے سامنے سے آقائے دو عالمﷺ تشریف لاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ادبار کے بادل چھٹ گئے ہوں، رنج و آلام مٹ گئے ہوں، مصائب کا خاتمہ ہوگیا ہو...... اس کی بے چین روح کو یکلخت قرار آگیا ہو۔ بے قرار ساحلِ تمنا کو سکون کی دولت عطا ہوگئی، اس کے آنسوؤں کے جھرنے یکلخت تھم گئے۔ اس مقام پر حفیظ جالندھری میرے اور اس محسنِ اسلام خاتون کے درمیان حائل ہوکر ترجمانی کا فریضہ سنبھال لیتے ہیں:
پکار اٹھی کہ اب میری تسلی ہی تسلی ہے
کوئی پرواہ نہیں، سارا جہاں زندہ سلامت ہے
ماضی اور حال میرے سامنے گڈ مڈ ہو رہے ہیں۔ میں دبی ہوئی راکھ میں چنگاریاں تلاش کر رہا ہوں۔ میں خرد گزیدہ ہوں، اس لیے کوشش میں ہوں کہ انگلیاں جھلسنے نہ پائیں۔ عصرِ حاضر کا کتنا بڑا فریب ہے۔ تحفظِ ناموسِ مصطفیٰ (ﷺ) کی صدا بھی بلند کی جائے اور قربانی و ایثار کو قصۂ پارینہ سمجھ کر صرف چند الفاظ کو ہی متاعِ سرخروئی تصور کر لیا جائے۔ مصلحت کو امام اور خرد کو چراغِ راہ سمجھ لیا جائے۔ کتنا بہادر، وجیہہ اور تاریخ ساز تھا نواسۂ رسولؐ جو اپنے تمام خاندان کی زندگیوں کے سرمائے کو ایک مالا میں پرو کر کربلا کی تپتی ہوئی سرزمین پر لے آیا تھا۔ جسے نجانے کس کس نے روکا ہو گا مگر وہ تو راکبِ دوشِ نبوت تھا، جگر گوشۂ مصطفیٰ (ﷺ) اور نورِ فاطمۃ الزہراؓ تھا۔ اسے فقط ایک ہی احساس دامن گیر تھا کہ یہ وقت امتحان ہے۔ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ پر اس سے زیادہ کٹھن وقت اور کیا آئے گا کہ شعائرِ اسلام کی حرمت کو پامال کر دیا جائے۔ ملوکیت کے ٹوٹے ہوئے بت پھر سے کعبہ کی پاسبانی کا فریضہ سنبھال لیں۔ اس شہزادۂ گلگوں قبا شہسوارِ کربلا نے، جسے دنیا حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے نام سے پکارتی ہے، اپنی جان ہی قربان نہیں کی بلکہ گلستانِ نبوت کی ایک ایک کلی نذرِ خزاں کر دی۔ ناموسِ مصطفیٰ (ﷺ) کے لیے یہ اتنی بڑی قربانی ہے کہ میں چاہوں بھی تو اس کی تفصیل میں نہیں جا سکتا۔ یہاں تو قلم لرزنے اور وجدان کانپنے لگتا ہے۔ تصور دم توڑنے اور تخیل فریاد کناں ہونے لگتا ہے اور میں روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ”صلوا علیہ وآلہٖ“ کا ورد کرتا ہوا عہدِ حال میں لوٹ آتا ہوں کیونکہ:
لیکن کہاں یہ دل کہ دیا جائے اس کو طول
ماضی سے حال کی جانب تاریخ کا سفر جاری ہے۔ یہ روشنی کا سفر ہے۔ کہیں کہیں ایسے فرعونوں کی آوازیں ابھرتی ہیں جو ”انا ولا غیری“ کے طلسم کے شکار ہو کر ناموسِ مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثناء) پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں مگر فوراً ہی وقت کی بساط پر ایسے فداکارانِ ﷺ بھی ابھرتے ہیں جو ان فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ناموسِ مصطفیٰ (ﷺ) کا پرچم اس بلندی پر لہرا دیتے ہیں کہ طاغوتی قوتوں کا ہر جھکڑ اسے سرنگوں کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ جیسی شخصیات ناموسِ رسالت (ﷺ) کے چراغ کو ایک لحظہ کے
دیے بھی گل نہیں ہونے دیتیں۔ حتیٰ کہ انگریزی استبدادیت کے مہیب سائے برصغیر پاک و ہند کے مسلم تشخص کو ختم کر کے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
برطانوی سامراج نے اگرچہ 1857ء کی جنگ آزادی جیت لی تھی مگر وہ اس حقیقت سے بہرہ ور ہو چکا تھا کہ اس کے مظالم مسلمانوں کو تو کچل سکتے ہیں مگر ان کے باطن میں پوشیدہ روح اسلام کو مٹا نہیں سکتے۔ وہ مولانا کفایت علی کافی، مولانا غلام امام شہید، مولانا فضل حق خیر آبادی، مولانا عنایت اللہ کاکوری، مفتی صدر الدین آزردہ، مولانا احمد اللہ مدراسی اور جنرل بخت خاں (رحمہم اللہ تعالیٰ) کی صورت میں شمع ناموس رسالت ﷺ کے پروانوں کی فدا کاری کا لافانی جذبہ دیکھ چکا تھا اور اس نے سمجھ لیا تھا کہ:
روح محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو
یہی ”روح محمدؐ“ ہے جسے ہم تحفظ ناموس رسالت کے جذبے کا دوسرا نام دے سکتے ہیں۔ اس مقصد کی خاطر اس نے تہذیب وتمدن کے کتنے ہی جال پھیلائے۔ حرص و آز اور مصلحت اندیشی کے سبق پڑھائے۔ ہندو عفریت نے برطانوی سامراج کا پورا پورا ساتھ دیا۔ ہر دو باطل قوتوں کی ایک ہی تمنا تھی کہ مسلمان اپنے ماضی سے دستبردار ہو کر ہندو قومیت سے رشتہ استوار کر لیں۔ مگر یہاں شیخ احمد سرہندی، امام احمد رضا فاضل بریلوی، حضرت علامہ محمد اقبال (رحمہم اللہ تعالیٰ) کی تعلیمات دلوں کو اسلامی نظریاتی تشخص کی قدر و قیمت سے بہرہ ور کر رہی تھیں۔ مسلمانوں پر انتہائی کٹھن وقت تھا۔ ایک طرف برطانوی استعماریت کی قہر سامانیاں اور دوسری طرف ہندو سامراج کی ازلی اسلام دشمنی...... ان سب کے ساتھ ساتھ، قومیت پرست علما کا نظریہ وطنیت اور پھر اس پر مستزاد آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی خانہ ساز نبوت...... کلمہ حق کہنے پر زبان کٹتی تھی، غلامان رسول (ﷺ) پر عرصہ حیات تنگ تھا۔ ان تمام اسلام دشمن قوتوں کا ایک ہی مدعا تھا کہ اسلامیان ہند کے باطن سے اس جذبے کو کھرچ کر ختم کر دو جو ناموس رسالت ﷺ پر معمولی سا حرف بھی برداشت نہیں کر سکتا اور جب میدان وفا میں آگے بڑھتا ہے تو قلت و کثرت، نتائج اور انجام و عواقب سے بے نیاز ہو کر فقط محبت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ناموس مصطفیٰ (ﷺ) ہی کو مقدم جانتا ہے۔
اس جذبۂ محبت رسول (ﷺ) کو ختم کرنے کے لیے اور مسلمانوں کی پرسکون زندگی
کو تہ و بالا کرنے کے لیے انگریزوں اور ہندوؤں نے وقت کے سمندر میں کتنے ہی پتھر پھینکے مگر وہ مسلمانوں کے جذبۂ عشق رسول (ﷺ) کو ختم نہ کر سکے۔ مختلف ادوار میں غیرت اسلامی سے بہرہ ور اصحاب ایمان آگے بڑھتے رہے اور ہر ایک شاتم رسولؐ کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرتے رہے، حتیٰ کہ راجپال نے ”.......................“ کی صورت میں بحر پرسکون میں ایک بہت بھاری پتھر دے مارا۔
اگر محبان رسول ﷺ اس چوٹ کو برداشت کر جاتے تو پھر ناموس رسالت ﷺ پر پے در پے حملوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ مگر غازی خدا بخشؒ اور غازی عبد العزیزؒ کے بعد ناموس رسالت ﷺ کے عظیم پاسدار غازی علم الدین شہیدؒ نے راجپال کو اس طرح سے کیفر کردار تک پہنچایا کہ پھر کسی کو راجپال کہلانے یا کسی گستاخ رسولؐ کو ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کے تقدس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوسکی۔ ایک مرد حق نے وہ کام کر دکھایا جو بعض اوقات ایک منظم سپاہ سے بھی ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی ناموس رسالتؐ کی بالاتری کا اعجاز ہے کہ اس دور پُر آشوب میں
غازی علم الدین شہیدؒ تو عشق مصطفیٰ ﷺ کے نام پر فدا ہو گئے مگر ہمارے لیے پیغام چھوڑ گئے کہ محبت رسول (ﷺ) فقط زبانی دَعاوِیٰ کا نام نہیں یہ تو موت کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا دوسرا نام ہے۔ آج غازی علم الدین شہیدؒ کا نام محض ایک شخص کا نام نہیں بلکہ یہ تو جرأت و ہمت کا استعارہ ہے، حمیت اسلامی کا شاہپارہ ہے، شوکت ایمان کی تنویر ہے، تحفظ ناموس رسالت کی عملی تفسیر ہے۔ وقت کے قرطاس پر خون کی دھاروں سے نقش لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ رقم کرنے کا فسانہ ہے، اپنے آقا ومولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غلاموں کی وابستگی کا جذبہ بے کراں ہے۔
تاریخ اسلام کے بطل جلیل غازی علم الدین شہیدؒ کی وساطت سے عہد حال کے ظلمت کدوں کو منور کرتے ہوئے جہاں میں اس فخر سے سرشار ہوتا ہوں کہ میں نے غازی علم الدین علیہ الرحمہ کی صدی پائی ہے، وہاں یہ احساس مجھے انتہائی مضمحل اور میرے فکری اعصاب کو بوجھل اور خستہ کر دیتا ہے کہ غازی علم الدین شہیدؒ نے اپنی لہو رنگ قربانی سے تحفظ ناموس مصطفوی (ﷺ) کی جو داستان رقم کی تھی، اس کے اجالے ماند نہ پڑ جائیں۔ غازی علیہ الرحمہ نے تو اس وقت سامراجی قوتوں کے قلعے میں شگاف ڈال دیا تھا جب مسلمان انتہائی مجبور و بے
بے بس اور محکوم و لاچار تھے۔ مگر آج تو ہم ایک آزاد مملکت کے شہری ہیں۔ مملکت خداداد پاکستان غازی علم الدین شہیدؒ اور ان جیسے دوسرے عشاق مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثناء) کی قربانیوں کا ثمرہ ہے۔...... مگر اس ملک میں جو کہ فقط اور فقط اسلام اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، تحفظ ناموس رسالتؐ کے لیے ہم نے اب تک کیا کیا ہے؟؟
- O ...... کیا اب بھی ایسی دل آزار تحریریں نہیں لکھی جا رہیں جس سے ناموس رسالت
مآب (ﷺ) پر زد پڑتی ہے۔
- O ...... کیا وقت کے راجپالوں نے اپنے لیے نئے نئے روپ اور چہرے تلاش نہیں
کر لیے؟
- O ...... شرارِ بولہبی کے مقابلے میں ہم اپنی مصلحت اندیشیوں کی بدولت چراغِ مصطفوی
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لو کو مدھم کرنے کا باعث تو نہیں بن رہے؟
- O ...... تقسیم ہند سے قبل کوئی غیر مسلم حضور (ﷺ) کی شان میں معمولی سی گستاخی کرتا تھا تو
پوری امت اسلامیہ کا غیظ و غضب آتش فشاں بن جاتا تھا۔ آج اس سے بڑا ظلم اپنوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔ مگر ہم ہیں کہ دلوں سے عشق کی آگ کے بجھنے کا آخری منظر دیکھنے کے متمنی بنے بیٹھے ہیں!
- O ...... پہلے تحفظ ناموس رسالتؐ پوری امت مسلمہ کی غیرت کا امتحان تھا مگر اب ہم نے
اسے بھی فرقہ واریت کی نذر تو نہیں کر دیا؟
- O ...... ایک شیطان رُشدی شیطانی خرافات لکھ کر مسلمانوں کے جذبات اور ناموس وعزت
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھیل کر ہماری حمیت کے لٹنے کا تماشا دیکھ رہا ہے اور ہم بے بسی کے آنسوؤں میں ڈوب کر سوچ رہے ہیں کہ کیا غازی علم الدین شہیدؒ ہی ہماری اسلامی حمیت کے ترکش کا ’’خدنگ آخریں‘‘ تھا اور کیا اپنی اس بے چارگی کو من حیث القوم تسلیم کر کے اپنی صدیوں کی غیرت مندانہ روایات سے دستکش تو نہیں ہو چکے؟
کتنے ہی سوالات ہیں جو تحفظ ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کے حوالے سے ہمیں جھنجھوڑتے ہیں۔ مگر ہم نے اپنی خرد کو رہن غیر کر کے اپنی متاع فکر کو متاع رائیگاں سمجھ لیا ہے۔ ہمارے احساسات پر آہستہ آہستہ مصلحت اندیشی کا کہر جمتا جا رہا ہے۔ لیکن تاریخ اس حقیقت ازلی کی شاہد ہے کہ عشق سرور کونین (ﷺ) محض وقتی جذبہ نہیں بلکہ یہ تو لاہوتی اور سرمدی نغمہ ہے جو
زمان و مکان کے فاصلوں اور تاریخی مسافتوں کو ایک آن میں ختم کر کے غلاموں کا رشتہ اس آقا و مولا (علیہ التحیۃ والثناء) سے جوڑ دیتا ہے جس کی رحمتہ للعالمینی ہر دور کے خستہ سامانوں کو جینے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ عشق رسول (ﷺ) کبھی فنا نہیں ہوتا۔ ہمارا رسول (ﷺ) لافانی ہے۔ ان (ﷺ) کے اقوال و ارشادات، فرمودات اور احکام غیر فانی ہیں۔ ان (ﷺ) کی سیرت کے نقوش دائمی اور اس کے وجود کا احساس ہمارے اپنے وجود کے ہونے کی دلیل ہے۔...... وہ ہے تو سب کچھ ہے۔ ان سے کٹ کر ہماری حیثیت ذرۂ ریگ سے بھی کمتر ہے۔ اسی مظہر انوارِ خدا ﷺ کی محبت، اس کی لاثانی شخصیت کا اظہار اور اس کے لطف فرماتے ہوئے باطنی وجود کا اقرار ہی تشکیک و اوہام کے سایوں کو ختم کر کے ہمیں ان کی ناموس کی حفاظت کے انداز عطا کر سکتا ہے۔
نفس گم کردہ می آید، جُنیدؒ و بایزیدؒ ایں جا
نہ آدم یافتے توبہ نہ نوحؑ از غرقِ نَجَّینَا جامی
سید محمد سلطان شاہ
شماتت سرکار ﷺ کی کوششیں اور مسلمان حکمران
جب بھی کسی شاتم نے رسول مکرم، نبی معظم، نور مجسم، احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کی شان اقدس میں سر مو گستاخی کا ارتکاب کیا، عشاق مصطفیٰ ﷺ کے قلوب میں ایسی آتش غضب بھڑکی جس نے توہین و تضحیک کے مرتکب لعنتی کو بھسم کر دیا۔ تاریخ اسلام کی ورق گردانی سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ جب بھی کسی ملک میں شماتت رسولؐ کی کوئی تحریک چلی تو محبان رسول (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اس فتنے کی سرکوبی کے لیے جہاد بالقلم کے علاوہ جہاد بالسیف کا عملی مظاہرہ کیا اور منبروں پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور لوگوں کو سڑکوں پر لانے کے بجائے خدا تعالیٰ کے بے عیب محبوب (ﷺ) کی تنقیص کرنے والوں کو واصل جہنم کر کے دم لیا۔ انھوں نے سرور کونین علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بھونکنے والے کتوں کے گلے کاٹ دیئے اور ہر اس بدبخت قلم کار کو فنا فی النار کیا جس نے ایسی کوئی نامعقول جسارت کی۔ شماتت خیر الانام علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریک صرف ہندوستان میں نہیں چلی بلکہ اس سے قبل بھی اس فتنے نے اندلس میں سر اٹھایا تھا۔ ہاں یہ برصغیر پاک و ہند کا تخصص ہے کہ یہاں شاتمیت کے بھوتوں کا قلع قمع کرنے والوں نے خود بھی جام شہادت نوش کیا۔ جب کہ بلاد اسلامیہ میں جب بھی کسی بدبخت نے حضور نبی کریم ﷺ کی توہین و تضحیک کی یا ان کی حیات طیبہ کو غلط رنگ دے کر تمسخر اڑایا تو مسلم حکمرانوں نے ایسے اشخاص کو قتل کروا کر اپنے مومن ہونے کا ثبوت دیا۔ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے مسلمان خلفاء و فقہا سبھی کا یہ موقف رہا ہے کہ جب کسی نے حضور سرور کائنات علیہ الصلوۃ واکمل التحیات کی شان میں گستاخی کی تو فوراً اس کے قتل کا حکم صادر کیا گیا۔ زیر نظر مضمون میں مختلف ادوار کے مسلم حکمرانوں کی چند مثالیں ملاحظہ کیجئے جنہوں نے اپنے زمانے کے ”رشدیوں“ کو ان کی
ناپاک جسارتوں کے باعث قتل کرا دیا تھا۔
عہد نبوی (ﷺ) میں گستاخان رسول کا انجام:
حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے عہد سعید میں گستاخی رسول (ﷺ) کا ارتکاب کرنے والے کئی افراد کو قتل کیا گیا۔ ایک نابینا صحابی نے اپنی بیوی کو اس لیے قتل کر دیا کہ وہ سرکار دو جہاں ﷺ کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی۔ حضور اقدس ﷺ نے اس صحابی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اس عورت کا خون رائیگاں ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے، کسی نے عرض کی، حضور ﷺ! ابن خطل کعبہ سے لپٹا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا ”اقتلوہ“ اسے قتل کر دو۔ یہ عبداللہ بن خطل رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں شعر کہہ کر آپ (ﷺ) کی شان میں توہین و تنقیص کیا کرتا تھا۔ اس نے دو گانے والی لونڈیاں (فرتنا اور قریبہ) اس لیے رکھی ہوئی تھیں کہ وہ حضور ﷺ کی ہجو میں اشعار گایا کریں۔ جب حضور اکرم ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا تو اسے غلاف کعبہ سے باہر نکال کر باندھا گیا اور مسجد حرام میں مقام ابراہیم اور زم زم کے درمیان اس کی گردن اڑا دی گئی۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب ”الشفاء“ میں یہ واقعہ بھی رقم کیا ہے کہ ایک شخص نے سرور عالم ﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کی۔ حضور اقدس ﷺ نے اس کی اس حرکت پر فرمایا کہ کون غیور ہے جو اس دریدہ دہن گستاخ کو اس حرکت کا مزہ چکھائے۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”میری خدمات اس کام کے لیے حاضر ہیں اور اس مرد مجاہد نے اس گستاخ کو گستاخی کی سزا دی ۔“
صحابہ کرامؓ اور شاتمان رسول (ﷺ):
تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کسی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے سرکار مدینہ ﷺ کی توہین و تضحیک کی یا آپ ﷺ پر سب و شتم کیا تو انھوں نے ایسے بد بخت شخص کو قتل کر دیا۔ حضرت سیف اللہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کو اس لیے قتل کر دیا کہ اس نے گفتگو میں سرکار دو عالم ﷺ کے لیے ”صاحبکم“ (تمہارے ساتھی) کا لفظ استعمال کر کے تعریض کی تھی۔ ابن وہب نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ ایک راہب نے سرکار دو عالم ﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کی۔ جب ابن عمر رضی اللہ عنہ
کے سامنے اس کا تذکرہ کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ سامعین نے اس کو قتل کیوں نہیں کیا۔ خلیفہ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنی خلافت کے زمانے میں اطلاع ملی کہ آپ کے ماتحت ایک والی نے ایک عورت کے دانت اکھیڑ دیئے ہیں، کیوں کہ اس عورت نے حضور ﷺ کی شان میں ناروا کلمات بکے تھے۔ آپ نے فرمایا ”اب سزا دی جا چکی ہے۔ ورنہ میں حکم دیتا کہ عورت کو قتل کر دیا جائے۔ اس لیے کہ حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس میں ذرا بھی گستاخی کا ارتکاب کرنے والے کی سزا قتل ہے۔“
مندرجہ بالا واقعات سے مترشح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہمیشہ گستاخ رسول (ﷺ) کو واجب القتل سمجھا۔ اور اپنے پیارے آقا و مولا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان اقدس میں ذرا بھی گستاخی کرنے والے کو سزا دی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کے نزدیک شاتم رسول کی سزا:
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کا مختصر دور خلافت بنو امیہ کی تاریخ کا ایک زریں باب ہے۔ انھوں نے اپنے پیشرو حکمرانوں کے طرز عمل سے ہٹ کر حکومت کی اور ملوکیت کو ایک بار پھر خلافت میں بدل دیا۔ اسی لیے بعض مورخین انھیں پانچویں ”خلیفۂ راشد“ کے لقب سے موسوم کرتے ہیں۔ آپ سرکار مدینہ ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرنے والے کو واجب القتل سمجھتے تھے۔ ایک مرتبہ کوفہ کے عامل کے استفسار پر آپ نے تحریر فرمایا کہ سوائے اس شخص کے جو سرور عالم ﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کا مرتکب ہو، کسی دوسرے کو گالی دینے کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا۔
موسیٰ بن مہدی عباسی اور گستاخ پیغمبر خدا (ﷺ):
عباسی خلیفہ موسیٰ بن مہدی الملقب بہ ہادی کے عہد میں ایک شخص نے قبیلہ قریش کو برا بھلا کہا۔ اس سلسلے میں حضور نبی کریم ﷺ کی ذات پاک کے متعلق بھی گستاخی کی۔ وہ ہادی کے سامنے لایا گیا۔ اس نے علما و فقہاء کو جمع کر کے اس کے متعلق فتویٰ لیا۔ انھوں نے اس کے قتل کا فتویٰ صادر کیا۔ اس پر خلیفہ نے کہا کہ اس کی سزا کے لیے قریش ہی کی اہانت کافی تھی (کیوں کہ یہ سرکار مدینہ ﷺ کا خاندان ہے) اس دشمن خدا نے رسول اللہ ﷺ کو بھی شامل کر لیا۔ چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا۔
خلیفہ ہارون الرشید اور امام مالکؒ:
ہارون الرشید عباسی نے امام مالکؒ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو سرکارﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کرتا ہو۔ ہارون الرشید نے لکھا تھا کہ علما نے شاتم رسول عربیﷺ کے لیے کوڑوں کی سزا تجویز کی ہے، آپ کا اس سلسلے میں کیا فتویٰ ہے؟ امام مالکؒ نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔ جو شخص حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو گالی دے، وہ ملت اسلامیہ کا فرد نہیں رہتا، ایسا شخص واجب القتل ہے۔ امام مالکؒ کا موقف یہ تھا کہ جو شخص حضور نبی کریم ﷺ کی ذرا بھی اہانت کرے، اس کی گردن اڑا دی جائے۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ ایک نے کہا تم اُمّی (ان پڑھ) ہو۔ اس نے کہا ”اُمّی تو حضور اکرم ﷺ بھی تھے“۔ اس پر امام صاحب نے اس کے قتل کا فتویٰ صادر فرمایا۔
سلطان نور الدین زنگیؒ اور دو بد بخت نصرانی:
577ھ میں سلطان نور الدین زنگیؒ کے زمانے میں روضۂ پاک میں نقب زنی کی ناپاک جسارت کی گئی۔ مگر اللہ تعالیٰ جل مجدہ، نے شر پسندوں کا منصوبہ خاک میں ملا دیا۔ سلطان کو خواب میں حضور سرور کونینﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپﷺ نے دو نیلی آنکھوں والے آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ان سے میری حفاظت کرو۔ سلطان کو سخت تشویش ہوئی، اُٹھ کر وضو کیا۔ نفل ادا کیے مگر جونہی لیٹے پھر وہی خواب دیکھا۔ غرضیکہ تین دفعہ ایسا ہوا تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اپنے وزیر جمال الدین کے مشورے پر فوراً مدینہ کی تیاری شروع کر دی۔ سولہویں دن مدینہ طیبہ پہنچا۔ ریاض الجنہ میں تحیۃ المسجد ادا کرنے کے بعد سوچنے لگا کہ حصول مقصد کے لیے کیا تدبیر اختیار کرنی چاہیے۔ آخر وزیر نے اعلان کیا کہ بادشاہ مدینہ منورہ میں تشریف لائے ہیں، وہ اہل مدینہ کو انعامات سے نوازیں گے۔ ہر شخص حاضر ہو کر اپنا حصہ لے لے۔ ایک ایک آدمی آتا گیا، بادشاہ انعامات تقسیم کرتا رہا۔ وہ ہر شخص کو بغور دیکھتا اور خواب میں نظر آنے والی شکلوں کو تلاش کرتا رہا۔ حتیٰ کہ مدینہ کے تمام لوگ گزر گئے مگر مجرمین کا کھوج نہ لگایا جا سکا۔ بادشاہ نے استفسار کیا کہ کوئی رہ گیا ہو تو حاضر کیا جائے۔ بڑی سوچ بچار کے بعد بادشاہ کو بتایا گیا کہ صرف دو مغربی باشندے ہیں جو نہایت متقی ہیں اور انھوں نے گوشہ نشینی اختیار کر رکھی ہے۔ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے ہیں۔ بادشاہ نے
انھیں بھی طلب کر لیا اور انھیں ایک نظر دیکھتے ہی پہچان لیا۔ ”کون ہو اور یہاں کیوں پڑے ہو؟“ انھوں نے بتایا کہ ہم مغرب کے رہنے والے ہیں۔ حج کے لیے آئے تھے۔ روضہ انور کی زیارت کے لیے مدینہ آئے تو حضورﷺ کے پڑوس میں رہنے کے شوق میں یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ بادشاہ ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر ان کی رہائش گاہ پر پہنچا جو ایک قریبی سرائے میں تھی۔ مگر وہاں کوئی مشکوک چیز نظر نہ آئی جس کی وجہ سے بادشاہ اور پریشان ہو گیا۔
مدینہ پاک کے لوگوں نے ان کی صفائی میں بہت کچھ کہا کہ یہ تو نہایت پرہیزگار ہیں۔ ریاض الجنۃ میں نماز پڑھتے ہیں۔ روزانہ جنت البقیع کی زیارت کرتے ہیں اور ہر شنبہ کو قبا میں نفل ادا کرتے ہیں۔ یہ قائم اللیل اور صائم النہار ہیں۔ اس سے بادشاہ کی تشویش میں اور اضافہ ہوا۔ دفعتاً بادشاہ کے دل میں کچھ خیال آیا اور اس نے ان آدمیوں کے مصلیٰ کو الٹ دیا۔ بوریہ کا مصلیٰ ایک پتھر کے اوپر تھا۔ پتھر اٹھایا گیا تو نیچے سرنگ نمودار ہوئی جو دور تک روضہ انور کے قریب پہنچ چکی تھی۔ بادشاہ نے اس کمینہ حرکت کا سبب دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ وہ نصرانی ہیں اور عیسائی بادشاہوں نے انھیں بیش بہا دولت دے کر اس کام پر مامور کیا ہے کہ کسی طرح وہ حضور نبی کریم ﷺ کے حجرۂ مقدس میں داخل ہو کر آپ کا جسم عنبریں یہاں سے نکال کر لے جائیں۔ ان کا طریقۂ واردات یہ تھا کہ رات بھر سرنگ کی کھدائی کرتے اور مشکوں میں مٹی بھر کر بقیع کے مضافات میں ڈال آتے۔ سلطان نور الدین زنگیؒ یہ باتیں سن کر آتش غضب سے بھڑک اٹھا۔ ساتھ ہی رقت بھی طاری ہو گئی کہ اسے اس کام پر مامور کیا گیا ہے۔ چنانچہ ان دو عیسائیوں کو صبح کے وقت قتل کرا دیا اور شام کے وقت ان کی ناپاک نعشوں کو نذر آتش کر کے خاکستر کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس بیدار بخت بادشاہ نے حجرۂ پاک کے چاروں طرف اتنی گہری بنیادوں کو سطح زمین تک بھر دیا تا کہ آئندہ کسی ملعون کو نبی پاک ﷺ کی لحد مبارک کی توہین کا موقع نہ مل سکے۔
فقہائے اندلس اور گستاخ رسول ﷺ:
ابراہیم فرازی ماہر علوم اور اپنے زمانے کا مشہور شاعر تھا۔ وہ قاضی ابوالعباس بن طالب کی علمی مجلس میں شریک ہوا کرتا تھا۔ جب اس کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ وہ خداوند تعالیٰ، انبیاء علیہم السلام اور خاتم الانبیاءﷺ کی بارگاہ میں گستاخیاں کرتا ہے اور استخفاف اور استہزاء
کے کلمات استعمال کرتا ہے تو قاضی بن عمار اور دیگر فقہاء نے اس کو عدالت میں طلب کیا اور اس کی گستاخیوں کے ثبوت کے بعد اس کے قتل اور پھانسی کا حکم دیا۔ چنانچہ پہلے اس کے پیٹ میں چھری ماری گئی اور اس کے بعد اس کو اٹھا کر سولی پر لٹکایا گیا۔ بعد میں اس کی نعش سولی سے اتار کر جلا دی گئی۔
سپین میں تحریک شماتت رسول ﷺ:
جہاں بھی دو مختلف مذاہب کے پیروکار موجود ہوں اور ایک کا مذہب دوسرے کی مکمل طور پر نفی کرتا ہو، وہاں باہمی چپقلش ناگزیر ہو جاتی ہے۔ اگر ایک گروہ اصنام پرست اور دوسرا بت شکن ہو اور وہ ایک ہی خطے کے مکین ہوں تو ان کا برسر پیکار ہونا لازمی امر ہے۔ چنانچہ توحید کے پرچارک، تثلیث یا ثنویت کے حامیوں کے ساتھ اپنی کوشش کے باوجود صلح و آشتی سے نہیں رہ سکتے۔ اس لیے جب مسلمان مشرق کو زیر نگیں بنا لینے کے بعد مغرب میں وارد ہوئے اور وہاں کے عیسائیوں کے ساتھ ایک ہی وطن میں رہنے لگے تو دونوں اقوام کے متصادم نظریات نے ایک چپقلش کو جنم دیا۔ مسلمان اندلس میں حکمران تھے تو انھوں نے عیسائیوں سے رواداری کا سلوک کیا۔ عبدالرحمٰن الاوسط انتہائی رحم دل حکمران تھا۔ اس کے عہد میں سپین میں بہت سے نصرانی حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ مسلمانوں کے عمدہ اخلاق نے عیسائیوں کو بہت متاثر کیا اور وہ عربی زبان اور اسلامی تمدن کی طرف مائل ہو گئے۔ نصرانی پادریوں کو اس پر سخت غصہ اور رنج ہوا۔ اسی زمانے کا ایک متعصب عیسائی الوارو رقمطراز ہے:
”میرے ہم مذہب عیسائی عربوں کی شاعری اور افسانوں سے حظ اٹھاتے ہیں۔ وہ مسلمان فقیہوں اور فلسفیوں کی کتابیں مطالعہ کرتے ہیں۔ اس غرض سے نہیں کہ ان کی تردید کریں بلکہ اس لیے کہ صحیح اور نفیس عربی لکھنی آجائے۔ پادریوں کو چھوڑ کر آج کون سا عیسائی ہے جو کتب مقدسہ کی تفسیریں لاطینی زبان میں مطالعہ کرتا ہو۔ کون سا عیسائی ہے جو انجیل یا انبیاء اور حواریوں کے حالات پڑھتا ہو۔ افسوس کہ ایسے نوجوان عیسائی جو ذہانت اور لیاقت میں اونچا درجہ رکھتے ہیں، ان کو سوائے عربی کے کسی اور زبان سے واقفیت نہیں۔“
جوں جوں عیسائیوں میں مشرقیت بڑھتی گئی، پادریوں کی تشویش میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور مسلمانوں کے خلاف ان کے نفرت بھرے جذبات بڑھتے گئے۔ امیر عبدالرحمٰن کی رواداری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے شماتت رسول (ﷺ) کی تحریک شروع کی۔ اس کا
ذکر کرتے ہوئے لین پول لکھتا ہے:
”اندلس میں عیسائیوں کو اپنے مذہبی مراسم آزادی سے انجام دینے کی جو رعایتیں حاصل تھیں، ان کی طبائع کی کج روی سے اس کا عجیب برعکس قسم کا نتیجہ ظاہر ہوا۔ اندلس کے پادری، کلیساؤں کے پچھلے اقتدار کو بحال کرنے کے خواہاں تھے لیکن اسلامی حکومت کی اس روادارانہ روش سے ان کو عیسائیوں کے جذبات کے برانگیختہ کرنے کا موقع نہ مل سکتا تھا۔ اس لیے انھوں نے چند غالی مسیحیوں میں یہ خیالات پیدا کیے کہ مذہب کی اصل روح تکلیفیں اٹھانے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے حکمرانوں کو مشتعل کر کے انسانی جسم اور گوشت پوست کو تکلیفیں پہنچائی جائیں تاکہ روح کا تزکیہ و تقدیس ہو سکے۔ اس تحریک کا بانی قرطبہ کا ایک راہب یولوجیس تھا۔ وہ مجاہدے کی راہبانہ زندگی کی وجہ سے عیسائیوں میں عقیدت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اس نے چند نوجوانوں میں فدائیت کا جذبہ پیدا کیا کہ اپنی روح کو پاک کرنے کے لیے اس نئے دین اسلام اور اس کے داعی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) پر سب وشتم کریں۔ اسلامی قانون کی رو سے اسلامی حکومت میں شاتم رسول (ﷺ) کی سزا قتل ہے۔ گویا یہ نوجوان حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیروی کریں گے اور اپنی جانوں کو قربان کر کے جامِ ”شہادت“ نوش کریں گے۔“
حضور نبی کریم ﷺ پر سب وشتم کی اس تحریک کے متعلق محمد احسان الحق سلیمانی رقم طراز ہیں:
”امیر (عبدالرحمان) کے عہدِ دولت کے آخری ایام عیسائیوں پر سختی اور تشدد کے سبب بہت بُرے گزرے۔ عیسائی مذہبی دیوانے بے ہودہ شہرت اور لغو شہادت کی خاطر مسجدوں کو ناپاک بنا دیتے اور نبی اکرم ﷺ کی شان عالی میں بے ہودہ باتیں کہتے۔ سختی سے کام لیا گیا اور نرمی سے بھی لیکن یہ سلسلہ بند نہ ہوا۔ ان واقعات نے امیر کی صحت پر برا اثر ڈالا اور وہ مرض سکتہ کے سبب 852ھ میں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔“
شاتمانِ رسول (ﷺ) کی یہ تحریک امیر عبدالرحمان الاوسط کے دور میں شروع ہوئی اور اس کے فرزند ارجمند امیر محمد بن عبدالرحمان کے عہد میں اپنے انجام کو پہنچی۔ دونوں باپ بیٹوں نے توہین رسول (ﷺ) کا ارتکاب کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کا حکم دیا۔ یہ تحریک 234ھ (850ء) میں شروع ہوئی اور 246ھ (860ء) میں ختم ہوئی۔
اس دوران بہت سے شاتمانِ مصطفیٰ (ﷺ) کو واصل جہنم کیا گیا۔ سٹینلے لین پول
کے بقول 851ء کے موسم گرما کے دو مہینے سے کم عرصے کے اندر گیارہ گستاخوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ ہیرلڈ لیورمور تعداد بتائے بغیر بہت سے عیسائی ظالموں کے قتل کیے جانے کا ذکر کرتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں 53 افراد کے شتامت رسول (ﷺ) کی پاداش میں قتل کیے جانے کا تذکرہ ملتا ہے۔ این میری شمل بھی عیسائی گستاخوں کی دانستہ طور پر پیغمبر اسلام ﷺ کی بے ادبی کرنے کی سزا میں قتل ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
اب ان معروف بدبختوں کا ذکر کیا جاتا ہے جنہوں نے جھوٹی شہرت کے لیے اپنی آخرت برباد کر لی۔
1- یولوجیس:
اندلس میں چلائی جانے والی تحریک شتامت رسول (ﷺ) کا بانی پادری یولوجیس تھا۔ وہ قرطبی خاندان کا آدمی تھا۔ یہ خاندان جس قدر عیسائی مذہب سے شغف رکھتا تھا، اسی قدر اسلام سے عداوت رکھنے میں مشہور تھا۔ یولوجیس کا دادا (اس کا نام بھی یولوجیس ہی تھا) جس وقت مسجد کے مینار سے مؤذن کی آواز سنتا تھا تو اپنے جسم پر نشانِ صلیب بناتا تھا اور داؤد نبی کا یہ زبور گانے لگتا تھا۔ ”اے خدا! چپ نہ ہو۔ اے خدا! چین نہ لے، کیوں کہ تیرے دشمن اودھم مچاتے ہیں اور ان لوگوں نے جو تجھ سے کینہ رکھتے ہیں، سر اٹھایا ہے۔“ یولوجیس کی تعلیم شروع ہی سے اس غرض سے ہوئی تھی کہ پادری بنے۔ خانقاہ سینٹ زولوس کے پادریوں کی شاگردی میں اس نے دن رات اس قدر محنت کی کہ اپنے ہم مکتبوں ہی سے نہیں بلکہ استادوں سے بھی (مسلم دشمنی میں) بڑھ گیا۔ اس کے بعد وہ پوشیدہ طور پر قرطبہ کے مشہور ومعروف علمائے مسیحی بالخصوص رئیس راہبان اسپرا کے درس میں شریک ہونے لگا جو انتہائی متعصب اور اسلام کا بدترین دشمن تھا۔ اس نے یولوجیس پر اپنا اثر دکھایا اور اسی رئیس راہبان نے اس کے دل میں اسلام کی طرف سے نفرت و عداوت پیدا کر دی جو بعد میں یولوجیس کی طبیعت کا خاصہ ہو گئی۔
یولوجیس شروع میں سینٹ زولوس کے گرجا گھر میں شماس کے عہدے پر مقرر ہوا، پھر وہاں کا پادری ہو گیا۔ عیسائی اس کی نیکیوں کی تعریف کرنے لگے۔ یہ بدبخت جہاں پیغمبر اسلام ﷺ سے عداوت رکھتا تھا، وہاں جب بھی کوئی مہوش اور پری جمال چہرہ دیکھتا، اس کی زلفِ پُرپیچ کا اسیر ہو کر رہ جاتا۔ پروفیسر رائن ہارٹ ڈوزی نے کئی موقعوں پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یولوجیس دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔ لکھتا ہے ”راہبات کی خانقاہوں کا جا
کر معائنہ کرنے میں اس کو خاص لطف حاصل ہوتا تھا۔ ایک اور مقام پر لکھتا ہے ”باوجود اس سخت اور افسردہ زندگی کے، عشق مجازی کی ایک نازک شعاع نے اس کے دل کو روشن کر دیا۔“
قرطبہ کے اسی پادری نے 850ء میں سر عام پیغمبر اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی گستاخی اور بے ادبی کرنے کی تحریک کا آغاز کیا۔ یہ امیر عبدالرحمٰن کا دور تھا۔ یولوجیئس نے لاطینی زبان میں کسی عیسائی کی لکھی ہوئی پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت کی کتاب کا مطالعہ کیا جس میں معجزات مصطفیٰ ﷺ کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس سے اس کے دل میں حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اتفاق سے اس کی ملاقات رسول اکرم ﷺ پر سب وشتم کرنے کی سزا میں کوڑے کھانے والی فلورا سے ہوگئی۔ پہلی ملاقات ہی میں اس نے یولوجیئس کو اپنے دامِ محبت میں اسیر کرلیا۔ ایک خط میں پہلی ملاقات اور کوڑوں کے زخموں کا ذکر کرتے ہوئے یولوجیئس اپنی محبوبہ فلورا کو لکھتا ہے:
”ایک زمانہ تھا کہ تم نے اپنی مجروح گردن جس پر تازیانے کے نشان تھے، مجھے دکھانے کی عزت بخشی تھی۔ افسوس اس وقت وہ خوبصورت لمبے لمبے بال جن میں حسین گردن چھپی رہتی تھی، موجود نہ تھے۔۔۔۔۔ نرمی سے میں نے اپنا ہاتھ تمہارے زخموں پر رکھا۔ اے کاش مجھ کو یہ مسرت نصیب ہوئی ہوتی کہ ایک بوسے سے ان زخموں کو اچھا کر دیتا۔ مگر ہمت نہ پڑی۔۔۔۔۔۔ جس وقت تم سے رخصت ہوا تو زمین پر میرے قدم اس طرح پڑتے تھے جیسے کوئی خواب میں چلتا ہو اور میری آہوں کا یہ حال تھا کہ بند ہونا نہ جانتی تھیں۔“
یہ ہے اس رسوائے زمانہ شخص کا ذاتی کردار جو خلاصۂ موجودات اور دیباچۂ کائنات ﷺ جیسی ہستی کے متعلق نازیبا باتیں گھڑتا اور عیسائیوں کو ان کی توہین و تضحیک پر اکساتا تھا۔ امیر عبدالرحمٰن نے تحریک شماتت رسول (ﷺ) کے سرگرم ارکان کو قید خانہ میں ڈال دیا۔ ان میں یولوجیئس بھی تھا۔ جب فلورا کو بھی زنداں میں ڈالا گیا تو یہاں بچھڑے دلوں کو ایک بار پھر وصل کی گھڑیاں میسر آئیں، جس کا یولوجیئس بے چینی سے منتظر تھا۔ یہاں اس نے اپنا رسالہ ”یادگار شہدا“ مکمل کیا اور 24؍نومبر 851ء کو اپنی محبوبہ فلورا کے قتل پر ایک پُردرد گیت لکھا۔ اس کے بعد عبدالرحمٰن کی وفات سے ایک سال قبل اسے رہا کیا گیا۔ لیکن یہ اپنی مجنونانہ حرکتوں سے باز نہ آیا اور عبدالرحمٰن کے فرزند ارجمند کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچا۔ اس کے قتل کے بعد اس کی چلائی ہوئی تحریک خود بخود ختم ہوگئی۔ لیورمور نے لکھا ہے کہ 859ء میں یولوجیئس کا سر قلم کیا گیا۔
2- فلورا:
فلورا قرطبہ کی ایک نوجوان اور حسین دوشیزہ تھی۔ اس نے تحریک شماتت رسول (ﷺ) میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور خود کو جہنم کا ایندھن بنا کر، اپنی جوانی کی خواہشات کو دل میں بسائے یولوجیس کی آنکھوں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو گئی۔ فلورا کا باپ مسلمان اور ماں عیسائی تھی۔ باپ کا سایہ بچپن ہی میں سر سے اٹھ گیا۔ ماں نے اسے عیسائیت کی تعلیم دی۔ بائبل کی اس عبارت سے کہ ”وہ شخص جو لوگوں کے سامنے میرا انکار کرے گا، میں اس کے باپ کے سامنے، جو آسمان میں ہے، اس سے انکار کر دوں گا“۔ اس کے جذبات برانگیختہ ہوئے۔ وہ بھائی کے گھر سے نکل بھاگی اور عیسائیوں میں جا کر پناہ گزیں ہو گئی۔ جب اس کے فرار ہونے کی ذمہ داری عیسائی پادریوں کے سر ڈالی گئی تو وہ گھر واپس آئی اور دین مسیحی قبول کرنے کا اعلان کیا۔ بھائی نے اس کو سمجھایا مگر وہ عیسائیت پر قائم رہی۔ اس کا معاملہ شرعی عدالت میں لایا گیا۔ اس کے بھائی نے قاضی سے کہا ”یہ میری بہن ہے۔ ہمیشہ اسلام کی عزت کرتی تھی اور میرے ساتھ نماز، روزہ ادا کرتی تھی مگر عیسائیوں نے اسے گمراہ کر دیا، ہمارے رسول مقبول ﷺ کی طرف اس کے دل میں نفرت پیدا کی اور اس بات کا یقین دلایا کہ عیسیٰ خدا ہے“۔ قاضی نے فلورا سے پوچھا۔ ”تمہارا بھائی جو کچھ کہتا ہے، کیا یہ سچ ہے؟“ فلورا نے جواب دیا۔ ”قاضی! کیا تو اس بے دین کو میرا بھائی کہتا ہے۔ یہ میرا بھائی نہیں ہے۔ میں اس کو اب اپنا بھائی نہیں سمجھتی۔ جو کچھ وہ کہتا ہے، سب جھوٹ ہے۔ میں کبھی مسلمان نہ تھی۔ میں نے بچپن سے ہمیشہ مسیح پر ایمان رکھا اور مسیح ہی میرا خدا ہے“۔
قاضی نے فلورا کی کم سنی کے باعث اس کے قتل کا حکم جاری کرنے کے بجائے اس کی گردن پر کوڑے لگوائے اور اسے بھائی کے حوالے کر کے کہا ”اس کو دین برحق کی تعلیم دو۔ اگر پھر بھی وہ اس حالت کو نہ بدلے تو اسے میرے پاس لاؤ“۔ اسے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ چند دن بعد وہ چھت پر چڑھ کر وہاں سے گلی میں کود گئی اور ایک عیسائی کے گھر میں روپوش ہو گئی۔ یہیں اس کی ملاقات یولوجیس پادری سے ہو گئی جو اس کے عشق میں پھنس گیا۔ کافی عرصہ کے بعد ایک دن کلیسا گئی اور وہاں میری نامی عیسائی لڑکی سے ملی۔ وہ بھی اس کی طرح حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں نازیبا الفاظ کہتی تھی۔ چنانچہ دونوں قاضی کے پاس آئیں اور حضور نبی رحمت ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات پے در پے کہے۔ قاضی نے ان کو باز رہنے کی تلقین کی۔ پھر گرفتار کر کے
قید خانہ میں بھیج دیا جہاں یولوجینس پہلے ہی قید تھا۔ یہ دونوں لڑکیاں گستاخی کا ارتکاب کرتی رہیں۔ چنانچہ 24؍ نومبر 851ء کو انھیں قتل کر دیا گیا۔ لین پول اس کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ فلورا اگر کسی جائز مقصد پر اپنی جان قربان کرتی تو زیادہ ناموری کی مستحق ہوتی۔
3-پرفیکٹس:
پرفیکٹس سینٹ ایکس کلوس کے گرجا کا ایک پادری تھا۔ عربی پر مہارت رکھتا تھا۔ ایک دن بازار میں کچھ خریدنے نکلا۔ وہاں چند مسلمانوں سے گفتگو کرنے لگا۔ معمولی بات چیت کے بعد مذہب کا ذکر چھڑا۔ مسلمانوں نے پادری سے کہا ”تم ہمارے رسول مقبول ﷺ اور مسیح علیہ السلام کے متعلق کیا رائے رکھتے ہو؟“ پادری نے کہا۔ ”مسیح میرا خدا ہے۔ تم اپنے پیغمبر کی نسبت نہ پوچھو کہ ہم عیسائی ان کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں۔“ جب مسلمانوں نے قاضی کو اس کی گفتگو نہ بتانے کا یقین دلایا تو اس نے حضور خاتم النبیین ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہے اور ان پر سب وشتم کیا۔ ایک دن جب وہ سڑک پر جا رہا تھا تو ان لوگوں نے جن کے سامنے اس نے بے ہودہ الفاظ کہے تھے، مسلمانوں کو اس کی نازیبا حرکت کی اطلاع دے دی۔ لوگ اسے پکڑ کر قاضی کے پاس لے گئے اور قاضی سے فریاد کی کہ اس پادری نے ہمارے نبی کریم ﷺ کی شان میں نہایت بے ادبی کے الفاظ کہے ہیں۔ قاضی نے پادری سے پوچھا تو اس نے کانپتے ہوئے قطعی انکار کر دیا۔ لیکن قاضی نے شرع کے مطابق اس کے قتل کا حکم سنایا اور اسے بیڑیاں پہنا کر جیل بھیج دیا، جہاں اس شاتم رسول (ﷺ) نے پھر اپنی سابقہ روش کا اعادہ کیا، چنانچہ مقررہ دن اس کا سر قلم کر دیا گیا۔
4-یوحنا:
یوحنا ایک عیسائی سوداگر تھا۔ وہ اپنا مال بیچنے کے لیے یہ صدا لگایا کرتا تھا ”قسم ہے محمد ﷺ کی، میرے مال سے بہتر کہیں مال نہ ملے گا۔ چاہے کتنا ہی ڈھونڈو گے۔“ اس کے ہم پیشہ مسلمان تاجروں نے اس سے کہا ”یوحنا! تُو ہمارے پیغمبر خدا ﷺ کا نام ہر وقت لیتا رہتا ہے کہ جو لوگ تجھ سے ناواقف ہیں، وہ تجھے مسلمان سمجھیں۔ ہم ہرگز اس بات کو برداشت نہیں کرتے کہ جھوٹی باتوں پر تو ہمارے رسول مقبول کا نام لے کر ان کی قسمیں کھائے۔“ یوحنا نے معذرت کی کہ اس کی نیت یہ نہ تھی کہ مسلمانوں کے دل کو کسی طرح تکلیف پہنچے۔ جھگڑا زیادہ بڑھا تو اس نے کہا ”اچھا اب میں تمہارے پیغمبر (ﷺ) کا نام کبھی نہ لوں گا۔ اور لعنت ہے
اس پر جو نام لے۔‘‘ لوگ یوحنا کو پکڑ کر قاضی کے پاس لائے، جس نے اسے چار سو درے لگانے کا حکم دیا۔ اس سزا کے بعد یوحنا کو گدھے کی دم کی طرف منہ کر کے سوار کرایا گیا اور اس صدا کے ساتھ تشہیر کی گئی کہ ”دیکھو! یہ ہے سزا اس کی جو ہمارے پیغمبر (ﷺ) کی جناب میں بے ادبی کرتا ہے۔‘‘ اس کے بعد اس کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر زنداں میں ڈال دیا گیا۔
5- راہب اسحاق:
اسحاق قرطبہ کے عیسائی ماں باپ کا بیٹا تھا۔ عربی زبان خوب جانتا تھا۔ ابھی نوعمر ہی تھا کہ امیر عبدالرحمن کے دربار میں اس کو کاتب کی جگہ مل گئی۔ لیکن 24 برس کی عمر میں دنیا سے کنارہ کش ہو کر حبانوسس کی مسیحی خانقاہ میں گوشہ نشین ہو گیا، جہاں متعصب پادریوں کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے اس کے دل میں جوش پیدا ہوا کہ وہ اپنی جان دے کر بزرگی حاصل کرے۔ ایک دن وہ خانقاہ سے نکل کر قرطبہ پہنچا اور قاضی کے سامنے آ کر کہا ”میں آپ کا دین قبول کرنا چاہتا ہوں۔ مہربانی کر کے آپ مجھے اس کی ہدایات کریں۔‘‘ قاضی اس سے خوش ہو کر اسے دین اسلام کے متعلق بتانے لگا، تو اس نے برملا حضور نبی کریم ﷺ پر سب وشتم کیا۔ جب قاضی نے سمجھایا تو اس کو بھی برا بھلا کہا۔ قاضی نے اسے جیل بھیج دیا۔ امیر عبدالرحمن نے اس گستاخ رسول (ﷺ) کی بابت حکم جاری کیا کہ اسے پھانسی دی جائے اور اس کی لاش کوئی دن تک پھانسی پر اسی طرح لٹکا رہنے دیا جائے کہ سر نیچے ہو اور پاؤں اوپر ہوں۔ اس کے بعد لاش جلا کر اس کی راکھ دریا میں بہا دی جائے۔ چنانچہ جون 851ء میں ان احکام کی تعمیل ہوئی۔
6- سانکو:
اسحاق کے قتل کے دو دن بعد ایک افرنجی عیسائی نے، جس کا نام سانکو تھا اور امیر عبدالرحمن کی محافظ فوج کا ایک سپاہی اور پادری یولوجیس کا شاگرد تھا، پیغمبر اسلام (ﷺ) کو گالیاں دیں اور قتل ہو کر واصل جہنم ہوا۔ رائن ہارٹ ڈوزی کے علاوہ لین پول کی کتاب کے ترجمے میں اس کا نام سانچو لکھا ہے۔ شاید اصل نام سینکو یا سانکو تھا۔
7- جرمیاس اور جانبتوس سمیت چھ راہب:
سانچو کے قتل کے بعد اتوار کے دن (7 /جون 851ء) چھ راہب جن میں ایک اسحاق کا چچا جرمیاس اور دوسرا ایک راہب جانبتوس تھا، جو اپنے حجرے میں ہمیشہ تنہا پڑا رہتا تھا،
قاضی کے سامنے آئے اور کہا ”ہم بھی اپنے دینی بھائیوں سانکو اور اسحاق کے الفاظ کا اعادہ کرتے ہیں۔ اور پھر حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر سب وشتم کرنے لگے۔ یہ چھ کے چھ قتل کر دیئے گئے۔ لین پول نے بھی ان کے نام بتائے بغیر ان کے توہینِ رسول (ﷺ) کے ارتکاب کرنے اور قتل کر دیئے جانے کا ذکر کیا ہے۔
8- سیسی نند:
سینٹ ایکس کلوس کے گرجا کا ایک پادری جس کا نام سیسی نند تھا، نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی گستاخی کا مرتکب ہو کر واصلِ جہنم ہوا۔
9- پولوس:
پولوس سینٹ ایکس کلوس کے گرجا میں شماس تھا۔ سیسی نند نے قتل ہوتے وقت اسے اس ذلت کی موت مرنے کی وصیت کی تھی۔ چنانچہ یہ لعین بھی سیسی نند کے قتل کے چار دن بعد 20؍جولائی کو حضور سید عالم ﷺ کے خلاف نازیبا کلمات کہنے کے باعث قتل کر دیا گیا۔
10- تھیودومیر:
تھیودومیر شہر قرمونہ کا ایک جوان راہب تھا۔ توہینِ رسول (ﷺ) کا مرتکب ہو کر مسلم حکومت کے حکم سے قتل ہوا۔
11- آئیزک:
پرفیکٹس کی طرح آئیزک بھی قاضی کی عدالت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ جیسے ہی اس کو مسلمان کرنے کے لیے دینی عقائد اس کے سامنے بیان کیے گئے، اس نے بھی سب وشتم شروع کر دیا۔ قاضی کے لیے برداشت کرنا دشوار ہو گیا۔ اس نے اس ذلیل کو ایک طمانچہ رسید کر کے کہا کہ جانتا ہے کہ اسلام میں اس کی سزا قتل ہے۔ اس نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر یہاں آیا ہے، اس لیے کہ خدا فرماتا ہے کہ مبارک ہیں وہ لوگ جو دین داری کے لیے ستائے گئے۔ آسمان کی بادشاہت انھی کے لیے ہے۔ اس شاتمِ رسول (ﷺ) کو بھی قتل کر دیا گیا۔ شاید آئیزک جرمیاس اور جانتوس کا ساتھی تھا کیوں کہ پروفیسر رائن ہارٹ ڈوزی نے میری کے ذکر میں آئیزک کو مذکورہ بالا چھ راہبوں میں شمار کیا ہے۔
12- میری:
میری، آئیزک کی بہن تھی جو بھائی کے قتل کے بعد رات دن رویا کرتی تھی۔ وہ بھی قرطبہ کی ایک مسیحی خانقاہ کی راہبہ تھی۔ اتفاقاً اس کی ملاقات فلورا سے ہوگئی۔ دونوں نے قاضی کے سامنے حضور سرور کائنات ﷺ کی شان میں بے ادبی کی۔ میری نے قاضی سے مخاطب ہو کر کہا: میں ان چھ ”شہیدوں“ میں سے ایک کی بہن ہوں جو تیرے پیغمبر (ﷺ) کو دشنام دے کر قتل ہوا ہے۔ پھر وہ انتہائی گھٹیا الفاظ زبان پر لائی۔ چنانچہ اسے بھی فلورا کے ساتھ 24/نومبر 851ء کو قتل کر دیا گیا۔
یہ اُن بد نصیب مردوں اور عورتوں کا ذکر تھا جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا اور ان کو امیر عبدالرحمن اور اس کے بیٹے محمد بن عبدالرحمن کے عہد میں قتل کیا گیا۔ شاید ان کے علاوہ بھی کچھ اور لوگوں کو پیغمبر اسلام ﷺ کی گستاخی کے جرم میں قتل کیا گیا ہو۔ مجھے صرف مذکورہ بالا نام مل سکے جن کا مختصراً ذکر کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مسلم مورخین نے اوّل تو ان کا ذکر کرنا ہی مناسب نہیں سمجھا اور اگر ان کے متعلق کچھ لکھا بھی ہے تو انتہائی مختصر لکھا ہے۔ تاہم مسیحی مورخین نے خوب بڑھا چڑھا کر ان گستاخوں کا تذکرہ کیا ہے۔
❁......۞......❁
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۱۳۹۲ حامد
اعجاز احمد فاروقی
اسم اعظم
ایک دن معلم شاہ عبداللہ کمرۂ اساتذہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ اور اساتذہ بھی موجود تھے۔ باہمی گفتگو جاری تھی جس کا کوئی مرکزی موضوع نہیں تھا، جو کوئی سخن گفتنی آگے بڑھاتا، کچھ دیر کے لیے باہمی گفتگو کا موضوع بن جاتا۔ عین اس وقت عبداللہ نے مصر کے جنرل نجیب کی خودنوشت سوانح عمری کا ذکر چھیڑ دیا، جس کا نام جنرل نجیب نے ”مصر کی تقدیر“ رکھا تھا۔ شاہ عبداللہ نے چونکہ انھی ایام میں یہ کتاب پڑھی تھی، لہٰذا بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ اس کا تعارف کرانے لگے۔ انھوں نے جنرل نجیب کے زمانۂ طالب علمی کا ایک واقعہ سنایا کہ جنرل نجیب نے لکھا ہے:
”میں جس زمانے میں گورڈن کالج (خرطوم) میں بی۔اے کا طالب علم تھا تو ایک دن انگریزی کے پیریڈ میں انگریزی کے استاد نے اپنے موضوع سے ہٹ کر یہ کہا کہ مصر پر انگریزوں کی حکومت ہے۔ میں یہ تبصرہ سن کر غضب ناک ہو گیا اور کھڑے ہو کر گرج کر کہا پروفیسر صاحب! آپ جھوٹ بولتے ہیں، مصر پر انگریزوں کی حکومت نہیں بلکہ انگریزوں کا قبضہ ہے۔ حاکم اور غاصب کا فرق سن کر پوری جماعت میری ہمنوا ہو گئی لیکن پروفیسر مشتعل ہو گیا اور پنجے جھاڑ کر میرے پیچھے پڑ گیا۔“
عین اس وقت نویں جماعت کا ایک طالب علم سید احمد کسی کام سے کمرے میں آ گیا۔ شاہ عبداللہ نے اسی وقت اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا ”کیا آپ میں سے کسی نے یہ معرکۃ الآرا کتاب پڑھی ہے؟“
”نہیں“ سب کا متفقہ جواب تھا۔
اس وقت شاہ جی کو احساسِ برتری کی ایک نامعلوم تیز رَو بہا کر لے گئی، انھوں نے
کہا ’’بڑی عجیب بات ہے کہ کتاب کو بازار میں آئے ہوئے ایک برس ہو گیا ہے اور آپ میں سے کسی صاحب نے ابھی تک یہ کتاب نہیں پڑھی۔‘‘ سننے والوں کے لیے یہ جملہ خاصا ناگوار اور تکلیف دہ تھا کہ اس میں ان کی تحقیر کا خاصا سامان موجود تھا، تاہم عبداللہ صاحب کو یہ احساس نہیں ہوا۔ وہ جنرل نجیب کے ذہن کا تجزیہ کرنے لگے کہ حکمران اور غاصب کا جو تصور جنرل کے ذہن میں راسخ ہو چکا تھا، وہ کیا نتائج پیدا کر سکتا تھا۔
اس وقت ان کے ساتھی یہ باتیں سننے کے خواہش مند نہیں تھے۔ اتنے میں آواز آئی
’’جناب والا۔‘‘
سننے والوں نے دیکھا کہ سید احمد کچھ کہنے کے لیے بے قرار ہو رہا تھا، اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ اس نے شاہ عبداللہ کی طرف متوجہ ہو کر کہا ’’جناب! میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘
شاہ عبداللہ اپنے طالب علم کی طرف ملتفت ہوئے۔ اس وقت اس کے چہرے پر ایک عجیب و غریب رونق نمایاں تھی۔ ’’جناب! کیا آپ نے قرآن مجید اسی انہماک سے پڑھا ہے جیسے جنرل نجیب کی کتاب پڑھی ہے؟‘‘
شاہ عبداللہ کے لیے یہ سوال بجلی کا جھٹکا ثابت ہوا۔ وہ اک دم سکتے میں آ گئے اور چونکہ بات کلام اللہ کی تھی، لہٰذا انھوں نے اعترافاً کہا ’’نہیں تو! کیوں کیا بات ہے؟‘‘
’’جناب والا! اس کتاب کو زمین پر اترے کئی صدیاں گزر چکی ہیں اور آپ نے ابھی تک اسے نہیں پڑھا۔‘‘
یہ کہہ کر سید احمد خاموش ہو گیا مگر یہ سن کر شاہ عبداللہ گنگ ہو گئے، بقیہ اساتذہ سید احمد کی ذہانت پر عش عش کر اٹھے۔ اس نے انھیں احساس کمتری کے اس زمین دوز ٹھکانے سے باہر نکال لیا جہاں شاہ عبداللہ نے انھیں نادانستہ طور پر پہنچا دیا تھا۔
سید احمد کا یہی جملہ تھا جو ایک بے پناہ انجام کی خوشگوار ابتدا بیان کر رہا تھا۔
سالانہ امتحانات ہوئے تو مدرسے کا روایتی جلسہ تقسیم انعامات منعقد ہوا۔ اس تقریب میں روایت کے مطابق محکمہ تعلیم کے سربراہ کے علاوہ سکول کی انتظامیہ کے ارکان شریک ہوئے، اخباروں کے نمائندے بھی آئے ہوئے تھے۔ اس روز فی الواقعہ سکول میں بڑی گہما گہمی تھی جو ایسی تقریب کے موقع پر ہمیشہ اور ہر جگہ دیکھنے میں آتی ہے۔
تقریب کلام پاک کی تلاوت سے شروع ہوئی، پھر صدر معلم نے مدرسے کی سالانہ رپورٹ پڑھی۔ پھر محکمہ تعلیم کے ناظم تعلیمات نے تقریر کی جس کے بعد انتظامیہ کے صدر نے سکول کو بہتر بنانے کے لیے اپنے آئندہ عزائم کا اعلان کیا۔ مدرسے کے اوّل، دوم اور سوم آنے والے طلباء کو انعامات اور توصیفی اسناد دی گئیں۔ ان کی بڑی تکریم کے ساتھ حوصلہ افزائی ہوئی۔ ان کے والدین بہت مسرور دیکھے گئے۔ تقسیم انعامات کے بعد ایک پروگرام شروع ہوا جس میں بعض طلباء کو مباحثے میں حصہ لینا تھا، بعض کو نظمیں پڑھنی تھیں، بعض نے مضامین سنانے تھے۔ اس پروگرام میں سید احمد نے نعت پڑھنی تھی اور اسی سے آخری پروگرام کا آغاز ہونا تھا۔
سید احمد نے مائیک پر نعت پڑھنی شروع کی۔ بلاشبہ اس کی آواز میں کوئی حلاوت نہ تھی مگر سننے والے محسوس کر رہے تھے کہ کثرتِ مشق نے آواز میں ایک وجد آفرین کیفیت پیدا کر دی تھی اور علامہ اقبالؒ کے ترنم کی طرز اس پر مستزاد تھی۔ پورا مجمع محویت کے ساتھ سن رہا تھا مگر سکول کے صدر معلم پیلے ہورہے تھے کیوں کہ سید احمد، مولانا الطاف حسین حالی کی مشہور نعت یوں پڑھ رہا تھا ؎
مرادیں غریبوں کی بر لانے والے
غریبوں کے مولا یتیموں کے والی
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والے
معلوم نہیں سید احمد کو کیا سوجھی تھی یا سجھائی گئی تھی کہ تصرف لفظی سے کام لیتے ہوئے وہ ’والا‘ کے بجائے ’والے‘ پڑھ رہا تھا۔
جونہی سید احمد نے نعت ختم کی، صدر معلم نے اُسے آڑے ہاتھوں لیا اور نہایت غصے میں اس سے پوچھا ’’برخوردار! تمہیں اردو کون صاحب پڑھاتے ہیں؟‘‘
’’جناب شباہت حسین یوسف زئی صاحب!‘‘
’’یوسف زئی صاحب آپ کہاں ہیں؟‘‘
اس پر شباہت حسین یوسف زئی کھڑے ہو گئے۔
’’انھیں اُردو آپ پڑھاتے ہیں؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
”آپ پٹھان ہیں؟“
”جی ہاں۔“
”آپ کو اُردو آتی ہے؟“
”جی ہاں! آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟“
”آپ نے اس چھوکرے کو نعت غلط کیوں یاد کرائی؟“
یہ جملہ سن کر نوجوان پٹھان معلم طیش میں آ کر سرخ ہو گیا، اس نے بڑے تیز و تند لہجے میں کہا:
”جناب پہلے تو آپ اپنی اُردو درست کریں۔ آپ میرے انتہائی عزیز طالب علم کے لیے چھوکرے کا لفظ استعمال کر رہے ہیں جو کسی طرح سے مناسب نہیں۔ آخر آپ کو اتنا غصہ کس بات پر آیا ہے؟“
”آپ یہ بتائیں آپ نے اسے نعت غلط کیوں یاد کرائی ہے؟“
”نعت کیسے غلط ہے؟“
”غلط اس طرح ہے کہ مولانا حالی نے لکھا ہے ’وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا‘ اور یہ پڑھ کر گیا ہے ’وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے۔“
یہ سُن کر پٹھان معلم اس جگہ سے اٹھ کر مائیک پر آ گیا اور اس اعتراض کا جواب اس نے مجمع عام کو یہ دیا:
”صاحبو! میں نے سید احمد کو اسی طرح نعت یاد کرائی جیسے حالی مرحوم نے لکھی ہے مگر سید احمد اسے اس طرح پڑھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا تھا۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ میرے والد نے مجھے نعت پہلے ہی سے اسی طرح یاد کرا رکھی ہے جیسی اس نے آپ کے سامنے پڑھی ہے اور ایسا کرنے کے لیے اس کے پاس دلیل یہ تھی کہ تکریمِ رسولؐ، حب رسولؐ اور ادبِ رسولﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ میں ’والا‘ کو ’والے‘ پڑھوں۔ مجھے اس کی دلیل درست معلوم ہوئی، اس کے دل میں تکریمِ رسولﷺ کے جو جذبات تھے، ان کا پاس کرتے ہوئے میں نے اسے اسی طرح پڑھنے دیا اور مشق کراتا رہا جیسے اس کے والد کی تمنا تھی۔“
”شاباش، شاباش۔“ ہال سے آوازیں اُٹھیں۔
اگلے دن کے اخبارات سکول میں بپا ہونے والے ہنگامے کی روئیداد سے بھرے
تھے۔ خبر تھی کہ صدر معلم صاحب غیر مسلم تھے لیکن انھوں نے خود کو مسلمان ظاہر کر رکھا تھا۔ قصہ کوتاہ سات دن کے اندر سکول میں نئے صدر معلم آگئے اور پرانے برطرف ہو گئے۔ ان پر ایک لاکھ اکتالیس ہزار روپے کے غبن کا پرانا مقدمہ از سر نو دائر کر دیا گیا۔
سکول سات روز کے بعد کھلا، اب سید احمد جو بلاشبہ ہر ایک کی آنکھ کا تارا بن کر آیا، لڑکوں کا ہیرو تھا اور اساتذہ کا عزیز ترین طالب علم ۔ جس طرح ایک بیج درخت بن کر صدہا پھل دیتا ہے، اس تمثیل پر اس واقعہ نے سکول میں نتائج در نتائج پیدا کیے اور یہ سلسلہ ایک زمانے تک چلتا رہا۔ چھ مہینے گزر گئے۔ موسم گرما کی تعطیلات کے بعد سکول دوبارہ کھلا۔ ایک دن انگریزی کے استاد نے شاہ عبداللہ سے سید احمد کی بڑی شکایت کی اور خشت اوّل ہی یہ جملہ تھا ”صاحب! یہ سید احمد بڑا گستاخ لڑکا ہے، بات نہیں مانتا۔“
”کیوں، کیا ہوا؟“
”ہونا کیا تھا، آج میں نے اسے تختہ سیاہ صاف کرنے کو کہا مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔ تختہ سیاہ پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا، بس صاحبزادے اسی بات پر اڑ گئے کہ میں کلمہ طیبہ پر گندا کپڑا نہیں پھیروں گا۔ بھلا یہ کوئی اڑنے کی بات تھی؟“
”آپ کے بگڑنے کی اس میں کیا بات ہے۔ آپ اس پر توجہ کیوں نہیں دیتے کہ اس کے دل میں کلمہ طیبہ کی کس قدر تکریم موجود ہے۔ پھر آخر وہ ابھی لڑکا ہی تو ہے۔“
”نہیں صاحب! وہ آپ لوگوں کا لاڈلا ہے اور ہم سے مسخری کرتا ہے۔“
شاہ عبداللہ نے مزید کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا مگر اتنا ضرور کہا ”میں اسے سمجھا دوں گا، آئندہ آپ کو شکایت نہیں ہوگی۔“
ایک دن شاہ عبداللہ کاپیاں دیکھ رہے تھے۔ انھیں ایک عجیب مشاہدہ نصیب ہوا۔ جب وہ سید احمد کی کاپی دیکھ کر اس کی غلطیاں نشان زد کر کے دستخط کرنے کے بعد اسے رکھنے لگے تو کاپی ان کے ہاتھ سے نیچے گر پڑی۔ انھوں نے جب اسے اٹھایا تو کاپی کونے سے پکڑے جانے کے باعث کھل گئی۔ جو صفحہ کھلا اس پر مندرجہ ذیل تحریر رقم تھی مگر خط تحریر سید احمد کا نہیں تھا:
حجازی۔ احمد الکبیر....... شامی۔ احمد کامل الثابت اردنی۔ احمد...... مصری احمد البنا مراکشی۔ احمد عبداللہ...... ترکی۔ احمد الپتگین
پاکستانی۔ لطیف احمد ...... بھارتی۔ رشید احمد
انڈونیشیا۔ احمد سویکارنو ...... الجزائری۔ احمد بوکانی
لبنانی۔ احمد ذوالنون ...... ایرانی۔ احمد رضا
نائیجیریا۔ احمد فولانی ...... افغانی۔ داؤد احمد رضا
علی ہذا القیاس یہ فہرست کافی طویل تھی ، اس کے نیچے لکھا تھا:
اسمِ مشترک، قدرِ مشترک: احمدؔ
شاہ عبداللہ کچھ سمجھ نہ سکے کہ یہ سب کیا ہے، انھوں نے سید احمد کو بلا کر پوچھا
”برخوردار یہ کیا ہے؟“
”جناب! مجھے معلوم نہیں۔“
”یہ کس نے لکھا ہے؟“
”ابا جی نے۔“
”کس مقصد کے لیے؟“
”جناب والا! معلوم نہیں۔ رات ہی انھوں نے یہ لکھا ہے، پھر مجھے کچھ سمجھانے کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ ماموں ملنے آگئے۔ انھوں نے مجھے کہا کہ یہ بات پھر کسی وقت تمھیں سمجھاؤں گا۔“ ”اچھا، مگر خوب اچھی طرح سمجھنا۔“
جیسے جیسے وقت گزرتا چلا گیا، شاہ عبداللہ کو یقین ہوتا چلا گیا کہ کوئی رفیع الشان سندِ کمال سید احمد کا انتظار کر رہی ہے جو ایک زمانے کے لیے مینارۂ نور ثابت ہوگا۔
مگر ایک دن ایسا آیا کہ سب کیے کرائے پر پانی پھر گیا۔ وہ خوش نما ٹاپو غرق ہو گیا جس پر شاہ عبداللہ سند باد جہازی کی طرح خیمہ زن تھا۔ تب حقیقت کھلی کہ وہ ٹاپو نہیں تھا، وہیل مچھلی تھی جس نے سند باد جہازی کو فریبِ نظر کی ہمرنگ زمین میں مقید کر لیا تھا۔
واقعہ کچھ یوں ہوا: مہینے کا آخری دن تھا اور اس دن اسلامیات کے معلم نہیں آئے تھے۔ نویں جماعت میں ان کا گھنٹہ خالی جا رہا تھا۔ صدر معلم نے شاہ عبداللہ کو وہاں جانے کے لیے کہہ دیا، وہ چلے تو گئے مگر بادلِ نخواستہ۔ جماعت میں خاصا شور بپا تھا، شاہ عبداللہ جماعت کے اندر داخل ہوئے تو شور و غل تھم گیا اور لڑکے خاموش ہو گئے۔ جماعت کو پُر سکون دیکھ کر شاہ عبداللہ رجسٹر کھول کر بیٹھ گئے اور حاضریوں کا حساب کرنے لگے۔ لڑکوں نے انھیں اپنی طرف
سے غافل پایا تو اپنی اپنی کارروائیوں کے لیے ہوشیار ہو گئے اور آہستہ آہستہ پر پرزے نکالنے لگے تا آنکہ شور کا آہنگ اتنا بلند ہو گیا کہ عبداللہ کے لیے کام پر توجہ مرکوز کرنا دشوار ہو گیا۔ انھوں نے رجسٹر بند کیا اور کھڑے ہوئے تو ایک بار پھر شور بیٹھ گیا، اب انھوں نے بھی بیٹھنے کے بجائے کھڑا رہنا پسند کیا اور پوچھا ”سید احمد یہ کس مضمون کا گھنٹہ ہے؟“
”جناب، اسلامیات کا۔“
”اسلامیات کی کتاب مجھے دو؟“
کتاب انھیں دی گئی۔
”آپ نے کہاں تک پڑھ لیا ہے؟“
معلوم ہوا کہ لڑکے حضور ﷺ کی پیدائش سے لے کر ہجرت تک کا حال پڑھ چکے ہیں۔ اب آگے پڑھنا تھا۔ عبداللہ آگے پڑھانے کے موڈ میں نہیں تھے مگر جماعت کی مجموعی ہیبت اور جناتی قوت کو قابو کرنے کے لیے ضروری تھا کہ لڑکوں کو کام میں مصروف کر دیا جائے۔ لہٰذا انھوں نے بہتر یہی سمجھا اور حصۂ آموختہ سے سوالات کرنے شروع کیے۔ سوالات ان کے منہ سے نکلتے رہے اور جوابات لڑکوں کی زبان سے۔
پھر انھوں نے سید احمد سے ایک سوال کیا۔
سید احمد ہکا بکا کھڑا تھا اور گم سم بھی تھا۔
شاہ عبداللہ قدرے حیران ہوئے کہ اچانک سید احمد کا رنگ فق کیوں ہو گیا ہے۔
”سید احمد تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟“
”جی بالکل ٹھیک ہے۔“
”اچھا بتاؤ بانی اسلام کون تھے؟“
”اللہ کے رسول“
”کہاں پیدا ہوئے؟“
”مکہ معظمہ میں۔“
”ان کا روضۂ اطہر کہاں ہے؟“
”ان کا اسم گرامی کیا ہے؟“
یہ سوال سنتے ہی سید احمد ایک دم گنگ، اس کا رنگ متغیر ہو گیا اور اس کے چہرے پر
خوف اور ندامت کی کیفیات آگے پیچھے دوڑنے لگیں۔ شاہ عبداللہ نے نہایت ہی گہری نظروں سے اس کا چہرہ دیکھا اور پڑھا، وہاں کوئی مجرمانہ کیفیت نمایاں نہیں تھی، تمسخر اڑانے کی کسی کیفیت کی غمازی بھی نہیں تھی، البتہ یہ احساس ضرور ہوا کہ وہ اندرونی طور پر نا آسودہ اور زخمی جذبات کی زد میں ہے، پھر اس نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔ اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے لڑکے اسے نہایت دھیمے لہجے میں نبی آخر الزماں کا اسم مبارک بتا رہے تھے۔ بقیہ جماعت بھی اس کے رویے پر تلملا رہی تھی۔ عبداللہ نے لڑکوں کو خاموش رہنے کی سختی سے ہدایت کر دی۔ ان کا پارہ چڑھنے لگا، خون گرم ہونے لگا۔ مسلسل خاموشی سے بھڑک کر عبداللہ نے سید احمد کو ڈیسک سے باہر آنے کے لیے کہا۔ وہ بڑی انکساری اور محبت کے ساتھ باہر آ گیا، اس کا یہ منکسر رویہ دیکھ کر شاہ عبداللہ کا بگڑتا ہوا مزاج پھر سے ذرا حلیم ہو گیا۔
”سید احمد! تمہیں اللہ کے رسولوں کے نام آتے ہیں؟“
”جی آتے ہیں۔“
”تمہیں اللہ کے آخری رسولؐ کا نام بھی آتا ہے؟“
”جی آتا ہے۔“
”ان کا صرف ایک نام یا زیادہ؟“
”جی ذاتی نام تو ایک ہے، صفاتی نام بہت سے ہیں۔“
”تمہیں ان کے سارے نام یاد ہیں؟“
”جی یاد ہیں۔“
”اچھا، پھر ان کا اسم مبارک بتاؤ؟“
اور عین اس مقام پر پھر سے ڈرامے کے المیہ منظر کا آغاز ہو گیا، سید احمد پھر سے عالم گویائی سے شہرِ خموشاں کی طرف ہجرت کر گیا اور شاہ عبداللہ کا باطن حلم اور شفقت سے غضب اور تشدد کی سمت کا مسافر ہو گیا۔ تشدد عملی صورت گری کے قریب پہنچ رہا تھا مگر ابھی تک تشدد کی رَو حیرت اور استفہامیہ حصار ہی میں تھی۔ شاہ عبداللہ نے اپنے آپ پر غالباً آخری بار قابو پا کر پوچھا:
”سید احمد تم عیسائی ہو؟“
”جی نہیں۔“
”ہندو ہو؟“
”جی نہیں۔“
”کمیونسٹ ہو؟“
”جی نہیں۔“
”پھر کیا ہو؟“
”جی میں مسلمان ہوں۔“
”شاباش! مسلمان ہو تو اپنے نبی ﷺ کا اسم مبارک بتاؤ۔“
جواب میں خاموشی کے سوا کچھ نہ ملا۔ وہ کسی پہلو سے سید احمد کو سمجھ نہیں پارہے تھے جس نے انھیں تکریم رسول ﷺ دی تھی، وہ آج نامِ رسول ﷺ لینے سے گریزاں تھا۔ وہ لڑکا جو رجسٹر اپنے ہم جماعتوں سے لے کر ان کی اصلاح کیا کرتا تھا کہ جہاں بھی Mohd لکھا ہوتا کاٹ کر Muhammad لکھ دیا کرتا تھا، آج وہ اپنے قلم سے ہزاروں بار لکھے ہوئے نام کو زبان سے ادا کرنے سے منکر ہورہا تھا، جو کلمہ طیبہ پر کپڑا پھیرنے سے گریز کرتا تھا، آج اس نے لبوں پر خاموشی کا ورق چسپاں کر دیا تھا۔
وہ سید احمد کو گھور رہے تھے۔ انھوں نے زچ ہو کر چیخ کر کہا ”سید احمد یہ کیا فراڈ ہے، تم بولو گے یا نہیں؟“ اس چیخ کو سن کر بھی سید احمد نے گویائی کی طرف ہجرت نہیں کی۔
اب یہاں طبل جنگ بج گیا اور تیمور لنگ کی افواج قاہرہ نے دہلی پر حملہ کر دیا، حملہ شدید سے شدید تر ہوتا چلا گیا۔ دہلی کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ سید احمد کا رنگ سرخ ہوگیا، ناک سے خون بھی بہہ نکلا، بال الجھ گئے اور قمیص شکنوں کا پلندہ ہوگئی۔ آخر شاہ عبداللہ کے ہاتھ تھک گئے، بید چٹخ کر بیکار ہو گیا۔ سید احمد کا انگ انگ دکھ رہا تھا، آنکھیں اشکبار تھیں اور سسکیوں کی آواز کافی بلند تھی لیکن اب بھی اس کے چہرے پر جواب دینے کی کیفیت نمودار نہیں ہوئی تھی۔ وہاں تو ایک سرمدی احساس جگمگا رہا تھا اور سید احمد جیسے کہہ رہا تھا، مجھے بے شک مار ڈالو، دفن کر دو، مگر میرا منہ......“
شاہ عبداللہ نے تھک ہار کر جسامت کا جائزہ لیا تو بظاہر تو وہ پہاڑ تھی مگر بباطن اس کے اندر آتش گیر لاوا بھڑک رہا تھا۔ شاید ان کے لیے سید احمد کی شدید پٹائی ناقابل برداشت تھی۔ وہ ایک بار پھر ان کی آنکھ کا تارا بن گیا تھا۔ وہ اس کے لیے سرکشی پر آمادہ ہوتی چلی جارہی تھی۔
اتنے میں آدھی چھٹی کا گھنٹہ بج گیا۔ لڑکے بے تابانہ اٹھ کھڑے ہوئے اور سید احمد کو
اپنے حصار میں لے لیا۔ شاہ عبداللہ نے گرج کر کہا۔ ”میں اگلے گھنٹہ میں پھر آؤں گا اور اس کا دماغ درست اور زبان چالو کر کے دم لوں گا۔“
شاہ عبداللہ کا خون کھول رہا تھا۔ وہ کمرے سے باہر نکلے اور کمرۂ اساتذہ میں جانے کے بجائے کینٹین میں چلے گئے اور کڑک قسم کی چائے لانے کو کہا۔ اب جو خیالات ان کے ذہن کی غلام گردشوں میں گشت کر رہے تھے، وہ حقارت، غضب اور احساسِ عزت کی شکست وریخت نے مہیا کیے تھے۔ انھیں یقین ہو رہا تھا کہ وہ لڑکا کوئی نو عمر عبداللہ بن سبا، حسن بن صباح یا کمسن شیخ الجبال ہے۔ یہ اور اس کا باپ دونوں سازشی قرامطی ہیں۔ انھیں اُجاڑنے کے لیے چنگیز خاں ہی بننا پڑے گا۔ معلوم نہیں یہ کیا کھیل، کھیل رہے ہیں اور آئندہ کیا کر گزریں؟ اب لازم ہے کہ دیہات سے دربار تک ان کا تعاقب کیا جائے۔ جب گھنٹہ بجا تو شاہ عبداللہ پھر سے نئے جوش و خروش کے ساتھ اسی کلاس پر چڑھ دوڑے۔ بعد میں جماعت کے دوسرے استاد آئے تو انھیں عبداللہ نے اپنی جماعت میں جانے کی ہدایت کر دی۔ شاہ عبداللہ نے پہلے جماعت کا جائزہ لیا۔
لڑکوں کے موڈ پر ایک خوشگوار فرحت اور سرخوشی چھائی ہوئی تھی، ان کی آنکھوں میں بغاوت کا شرارہ بجھ چکا تھا تاہم انھیں یہ احساس ہو رہا تھا جیسے یہ جماعت بحیثیت مجموعی اپنی فتح اور ان کی شکست کا اعلان کر رہی ہے۔ ہر لڑکا سید احمد کی وکالت کرنے کے لیے بے کل ہو رہا تھا اور سید احمد ...... چپ چاپ سر جھکائے بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا سرخ اور سپید چہرہ دھلا ہوا تھا۔ بالوں پر پانی کے قطرے کہیں کہیں جھلک رہے تھے۔ ناک میں ایک طرف روئی کا پھایا دیا ہوا تھا۔ خون بہنا بند ہو گیا تھا۔ سید احمد کے مطمئن چہرے پر سکون کے سوا کسی اور احساس کا سراغ لگانا مشکل ہو رہا تھا۔ اس تبدیل شدہ فضا نے عبداللہ کے شکوک کی قوت کو دو چند کر کے انھیں ایک نئی کشمکش سے دوچار کر دیا تھا جو ایک طرف حلم اور نرمی کا تقاضا کر رہی تھی اور دوسری طرف سختی اور مار پیٹ کا۔ دو چار منٹ میں آدھی چھٹی کی کیفیت رخصت ہو گئی۔ جماعت مطمئن اور خاموش تھی۔ کشمکش سے دوچار شاہ عبداللہ نے کہا ”سید احمد! کھڑے ہو جاؤ۔“
سید احمد یوں کھڑا ہو گیا جیسے وہ اس حکم نامے اور عتاب نامے کا ادراک کر چکا تھا اور کھڑا ہونے کے لیے بے چین ہو رہا تھا، جیسے اسے اپنی معصومیت کی وکالت کرنی ہو۔
”بتاؤ، تم کس قسم کے فرد ہو؟“
”جی، مسلمان قوم سے۔“
”تمہارے والد مسلمان ہیں یا قرامطی؟“
”جی، وہ مسلمان ہیں۔“
”اور قرامطی کون ہے؟“
”جی، مجھے معلوم نہیں قرامطی کیا ہوتا ہے۔“
”یہ تمہیں ابھی پتہ چل جائے گا۔ تمہیں اپنے رسول کا نام آتا ہے؟“
”جی آتا ہے۔“
”اچھا بتاؤ، نبی آخر الزماں کا اسم مبارک کیا ہے؟“
”جی، آپ کا اسم مبارک ہے محمد مصطفیٰ ﷺ ۔“
اس کے بعد شاہ عبداللہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، انہیں اپنے کانوں پر یقین نہ آسکا۔
انہوں نے پھر کہا ”نبی آخر الزماں کا اسم مبارک کیا ہے؟“
”جناب ! آپ کا اسم مبارک ہے محمد ﷺ ۔“
سید احمد نے درود شریف پڑھتے ہوئے کہا اور بعدازاں اس نے دوبارہ درود شریف پڑھا۔
شاہ عبداللہ اس وقت مفتوح ، مفلوج تھے، خاموش تھے، متحیر تھے۔ انہوں نے ایک بار پھر سید احمد کو دیکھا اور پوچھا ”سید احمد یہ نام تمہیں پہلے بھی یاد تھا یا بھول گیا تھا؟“
”جی ، بہت اچھی طرح یاد تھا۔“
”پھر پہلے تمہیں کیوں سانپ سونگھ گیا تھا؟“
”جی ، میں اس وقت باوضو نہیں تھا۔“
”کیا مطلب، سید احمد؟“ شاہ عبداللہ نے ایک دم پھٹ کر پوچھا۔
”جی ، میں اس وقت بے وضو تھا۔“
”یہ کیا بات ہوئی؟“
”جی، یہ میرے والد کا حکم ہے کہ مرتے مر جانا پر کبھی اپنے رسول ﷺ کا نام بے وضو مت لینا۔ الحمد للہ کہ میں نے ایسا ہی کیا۔“
اتنا کہہ کر سید احمد خاموش ہو گیا۔
راجا رشید محمود
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
محبت حقیقت ہے
محبت خدا ہے
محبت بندگی بھی تو ہے
محبت خدا کے محبوب ﷺ کا حق ہے اور ان کے امتیوں کا فرض۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت ہی کا نام تو اسلام ہے۔
جس کے محبوب، خدا کے محبوب (ﷺ) نہیں، وہ مسلمان نہیں اور ...... جو محبت میں جان عزیز کو عزیز نہ سمجھے، وہی محب ہے۔
محبوب کی عظمت کو سلام کرنا، محبوب کی عزت سے محبت کرنا، محبوب کی حرمت پہ مر مٹنا، محبوب کی ناموس کی مردانہ وار حفاظت کرنا ...... اس راہ میں جان لے لینا یا جان دے دینا ہی معراج محبت ہے۔
غازی علم الدین، غازی عبدالرشید، غازی مرید حسین، غازی میاں محمد، غازی محمد صدیق، غازی عبدالقیوم، غازی محمد عبداللہ ...... ایسے شہیدان ناموس سرکار (ﷺ) ہی محبت کی راہ میں عظمت کے مینار ہیں۔
آسمان محبت کے ان درخشندہ و تابندہ ستاروں کو زمین کے حقیر ذروں کا سلام! ہمارا سلام عقیدت اگر ان کی بارگاہ میں شرف قبول پالے تو ہماری زندگی باجواز ٹھہرے۔ ازل ابد کے ان زندوں سے نسبت ہمیں بھی زندہ رکھ سکتی ہے۔ خدا ہماری اس نسبت کو زندہ رکھے!!!
قصر تاریخ کے شکستہ حصوں میں راجپال، شردھانند، پالامل، سلمان رشدی اور ان جیسے دوسرے بھوت پریت بھونکتے بھونکتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس مخلوق کا سلسلہ نسب ”حمالة الحطب“ اور ”بعد ذلک زنیم“ کے کھنڈرات میں ملتا ہے۔
اس نسل کے پھیلے ہوئے ہونٹوں اور لٹکتی ہوئی زبانوں کا انقطاع تاریخ کے ہر دور کی اہم ضرورت رہی ہے۔
تاریخ کے ہر عہد اور قصرِ تاریخ کے ہر حصے کی یہ اہم ضرورت، وقت پر متصرف کسی شخص نے پوری کر دکھائی۔
جب بھی ایسا موقع آیا...... گویا جوانمردی اور جان سپاری کا سورج بامِ قصر پر چمکا۔ جھروکوں سے جھانکنے والے چہروں پر حیرت و استعجاب کے نقوش گہرے ہو گئے۔ آس پڑوس کے باسیوں نے نعرہ ہائے تحسین بلند کیے۔ تھڑ دلوں کی زبانیں گنگ ہوگئیں، حوصلہ مندوں نے سینے تان لیے۔
ناموسِ رسالت ﷺ کے محافظ وقت پر حکمران تھے، دلیری ان کے قدم چومتی رہی۔ دنیا حیران ہوئی...... کہ ان سے پہلے جان لینے اور جان دینے کا عمل اتنا معمولی کب تھا۔
قصرِ تاریخ کے کھنڈرات کو شاتمیت کے بھوتوں کا مدفن بنا کر خوشی سے دار پر جھول جانے والے...... انسانیت کا ناز ہیں، ملت کا سرمایہ ہیں، اللہ کے محبوب ہیں۔
ان کے ذکر میں جھک جانے والے سر، کہیں نہیں جھکتے!!
یہ افتخار کوئی کم تو نہیں کہ میں غازی لاہور، غازی علم الدین شہیدؒ کے مزار پر سیلوٹ مارتا رہتا ہوں۔
یہ اعزاز بھی بہت بڑا ہے کہ میں اس ملت کا فرد ہوں...... حقیر، کم مایہ اور نکما سہی...... جس میں کئی شہیدانِ ناموسِ رسالت ﷺ پیدا ہوئے۔
لیکن اس حقیقت میں بھی تو میرے سر اٹھا کر چلنے کا جواز موجود ہے کہ میرے آبا و اجداد بھی اسی ضلعے کے باسی تھے جس نے مرید حسینؒ اور میاں محمدؒ کو جنم دیا۔
بھلہ کریالہ اور تلہ گنگ اب چکوال میں ہیں تو چوآسیدن شاہ کی وادیٔ گل بھی وہیں ہے۔ محمد عبداللہؒ کے جیالے صاحبزادے نے رام گوپال، اور صوبیدار غلام محمدؒ کے جوانمرد
فرزند نے چرن داس کو کیفر کردار تک پہنچایا ...... خدا کرے راجا غلام محمدؒ کے بیٹے کے ہاتھ رُشدی کی گردن تک پہنچیں وہ جہنم رسید ہو اور، یہ گوہر مراد پالے۔ خدا کرے، شماتت سرکار (ﷺ) کی کسی بھی کوشش میں حصہ لینے والے ہر فرد کا انجام عبرت ناک ہو!
شاتمانِ رسولؐ کے دشمن،
استقامت کے تراشے ہوئے پیکر،
ایمان کی تجسیم کے مکمل شاہکار،
جنہوں نے جذبوں کی ثقاہت کو دار کی کسوٹی پر کس کے دیکھ لیا۔
شماتت سرکار (ﷺ) کی کسی خبر سے جن کا رُواں رُواں سرکشیدہ نظر آیا، انھوں نے ضروری کارروائی کی تو شماتت کی ہر جسارت سرنگوں ہوئی اور حفاظتِ حرمت کی کوشش سربلند ٹھہری!
جن کے ایثار پیشہ سراپا میں وہ خون پایا گیا جس کا گروپ غیرت ہے۔ یہ خون ان کی رگوں میں دوڑتا پھرتا اس لیے رہا کہ کسی کام آئے، غیرت گروپ کا یہ خون پہلے اُچھلا اور بے غیرتی کے مجسموں کو دبوچ لیا، پھر اُبلا اور شہادت کو گلے لگا لیا۔
خون کا غیرت گروپ ...... دنیا کی عظمتیں جس کی حیثیت کے سامنے سر فگندہ بیٹھی ہیں اور عقبیٰ کی نعمتیں اس کے خیر مقدم کو سروقد کھڑی ہیں۔ مرحبا، غیرت گروپ، صد مرحبا!!
نعت صفحۂ قرطاس پر بھی رقم کی جاتی ہے اور دل کے کینوس پر بھی۔ نعت بحور و قوافی کی پابندی سے بھی کہی جاتی ہے اور نثر کی رنگینیوں اور نیرنگیوں کے جلو میں بھی۔
نعت، دماغ میں موجود ذخیرہ الفاظ سے بھی بیان کی جاتی ہے اور دل کی کیفیات کے بل بوتے پر بھی۔
میں اور آپ، نعت کے حروف، الفاظ، تراکیب اور مصرعے روشنائی ہی سے لکھتے ہیں...... اور، شہیدان ناموس رسالت ﷺ نے مزرع نعت کی آبیاری اپنے خون پاک سے کی ہے۔
ہم نے مرغ تخیل کو عروض کی قیود میں جکڑ کر...... اور انھوں نے طائر روح مقید کو آزاد کر کے، نعت کے بند لکھے ہیں۔
ہم نے خیالات کی اڑان سے الفاظ کے نگینے جڑے ہیں، انھوں نے خون قلب کے ترشح سے مصرع ہائے تر کی صورت دیکھی ہے۔
محافظان حرمت آقا و مولا (علیہ التحیۃ والثناء) نے نعت کے ارقام کی خواہش میں، روشنائی کے طور پر اپنی رگوں سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ دیا، تو گویا لاثانی خالق و مالک کے لاثانی محبوب (ﷺ) کی حقیقی نعت لکھنے کا اہتمام کیا۔
جاں نثاران حرمت سرکار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس عدیم النظیر اسلوب میں یہ نعت رقم کی ہے، خداوندا! ہمیں بھی وہ اسلوب اپنانے کی توفیق مرحمت فرما!
ہم نعت کہتے کہتے، نعت پڑھتے سنتے، محبت کے اس جادے پر گامزن ہو جائیں جو سلمان رشدی کے قتل کی منزل پر پہنچا دے!
اور،...... بدلے میں ہمیں دار کو بوسہ دینے کی سعادت مل جائے!!
۞......۞......۞
ظفر علی راجا ایڈووکیٹ
اقبال اور قانون توہین رسالت ﷺ
یہ ایک تسلیم شدہ قانونی حقیقت ہے کہ کسی فریق کے کردار اور قانونی رویّے جانچنے کے لیے تین امور کو پیمانہ بنایا جاتا ہے۔ یعنی
- 1- ذہنی رجحان (STATE OF MIND)
- 2- بیان (STATEMENTS)
- 3- عمل (CONDUCT)
توہین رسالت کے حوالے سے دیکھا جائے تو بیرسٹر محمد اقبال مندرجہ بالا تینوں پیمانوں کے مطابق شاتم رسولؐ کی سزائے موت کے حوالے سے اپنا ایک نظریہ رکھتے تھے۔ شاتم رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون حدیث اور سنّتِ رسولؐ سے ثابت ہے۔ لیکن چونکہ تعزیراتِ ہند میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں تھا جسے روبہ عمل لا کر شاتمان رسول کو رائج الوقت عدالتی نظام کے ذریعے قرار واقعی سزا سنائی جاسکتی، اس لیے گاہے بگاہے مسلمان نوجوان اپنے پیغمبر کی توہین برداشت نہ کر پاتے تھے اور مذکورہ جرم کے مرتکب شخص کو غیرتِ اسلامی کے تحت موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے۔ بیرسٹر محمد اقبال کی زندگی میں دو ایسے واقعات پیش آئے۔ اس کے علاوہ کشمیر میں قرآن کی توہین اور لاہور میں مسجد شہید کرنے کے سانحات بھی رونما ہوئے۔ ان تمام جرائم پر مقدمات میں تعزیراتِ ہند کے مطابق ججوں نے فیصلے سنائے۔ لیکن علامہ اقبالؒ نے اپنے قول و فعل سے ثابت کیا کہ وہ تعزیراتِ ہند کے مقابلہ میں اسلامی تعزیری قانون کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس ضمن میں علامہ اقبالؒ کے قول و فعل کی تصدیق مندرجہ ذیل واقعات سے ہوتی ہے۔
سلیم یوسف چشتی نے اپنے ایک مضمون ”اقبال کے بعض ملفوظات“ میں اقبال سے ایک ملاقات کا احوال قلمبند کیا ہے۔ یہ ملاقات 3/اکتوبر 1930ء کو بیرسٹر اقبال کے میکلوڈ روڈ
والے گھر (یا دفتر) میں ہوئی تھی۔ سلیم یوسف چشتی راوی ہیں کہ انھوں نے ایک جرمن عالم الہیات شلائر میچر کی کتاب میں پڑھا کہ مذہب کی بنیاد عقل کے بجائے فیلنگ (FEELINGS) پر ہے تو مذکورہ ملاقات میں اس فلسفے کی روشنی میں اقبال سے یہ سوال کیا: ”مذہب کا دارو مدار عقل پر ہے یا جذبات پر؟“ یہ سن کر اقبال نے فرمایا: ”یہ سوال ہی غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایگو (EGO) یعنی خودی اپنے اردگرد کی دنیا کا جائزہ لیتی ہے تو اس میں جذبہ، شعور اور ارادہ تینوں کارفرما ہوتے ہیں۔ مذہب کا تعلق انسان سے ان تینوں پہلوؤں سے ہے۔ کوئی جذبہ ایسا نہیں جس میں خودی کے دوسرے پہلو (شعور اور ارادہ) شامل نہ ہوں۔ انسان خالص جذبات یا خالص شعور یا خالص ارادے سے نا آشنا ہے۔ مثلاً علم الدین شہید کا جذبہ اس کی مکمل شخصیت کی گہرائی سے ابھرا تھا اور اس میں شعور اور ارادہ بھی شامل تھا۔“
ڈاکٹر وحید قریشی نے اس گفتگو کے حوالے سے لکھا ہے کہ اقبال تا دمِ وفات علم الدین کے عشقِ رسولؐ کے مداح رہے اور ہمیشہ اس کا ذکر بڑی عقیدت کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ (منتخب مقالات ۔ اقبال ریویو مرتبہ ڈاکٹر وحید قریشی، صفحہ 410)
خواجہ عبدالوحید لاہور کی سماجی زندگی کے شناسا تھے۔ وہ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے بچپن میں اقبال کو دیکھا اور اقبال کی زندگی کے آخری ایام تک ان کا تعلق خاطر قائم رہا۔ اندرون بھاٹی دروازے میں خواجہ عبدالوحید کے والد خواجہ کریم بخش کی رہائش گاہ لاہور کا ایک اہم ادبی مرکز گردانی جاتی تھی۔ یہاں بیرسٹر سر عبدالقادر، مولوی احمد دین وکیل، بیرسٹر شہاب الدین، اسلامی قوانین کے ماہر مفتی عبداللہ ٹونکی، مولانا ظفر علی خان اور بیرسٹر شیخ محمد اقبال اکثر اپنی شامیں گزارا کرتے تھے۔ خواجہ عبدالوحید نے اپنی ڈائری میں 29؍ اپریل 1935ء کے دن حسب ذیل عبارت لکھی:
”پرسوں رات علامہ سر محمد اقبال نے بڑی پُر جوش باتیں کیں۔ جب کبھی ان سے ملتا ہوں، جی چاہتا ہے کہ ان کی باتیں لکھتا جاؤں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا اور بعد میں اکثر باتیں بھول جاتا ہوں۔ اس روز آپ نے فرمایا...... ”جو جذبہ آج شاتم رسولؐ کی سزا کے طور پر ہندو کے خلاف ظاہر ہو رہا ہے وہ عنقریب انگریزوں کی طرف رُخ پھیرنے والا ہے۔“ (خواجہ عبدالوحید
کی ”یاد ایام“ میں ذکر اقبال ،مضمون ڈاکٹر انور سدید،روزنامہ نوائے وقت 21؍اپریل 2011ء) شاتم رسولؐ کی سزا کے حوالے سے بیرسٹر محمد اقبال نے جن خیالات کا اظہار کیا، ان کی بنیاد غازی عبدالقیوم شہید اور غازی علم الدین شہید کے وہ اقدامات تھے جن کے نتیجے میں دو شاتمانِ رسول کواپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔
توہین رسالت کرنے والوں کی خلاف قانونی کارروائی کے سلسلے میں بیرسٹر اقبال کی کاوشات کا اندازہ اس بات سے اچھی طرح لگایا جا سکتا ہے کہ جب ہسپتال روڈ لاہور کے ایک ہندو کتب فروش راجپال نے توہین رسالت پر مبنی کتاب ”رنگیلا رسول“ شائع کی تو لاہور کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں میں بھی مسلمانوں نے راجپال کی اس جسارت کے خلاف عمومی مظاہرے شروع کر دیئے۔ اس پر صورتِ حال کو منظم رکھنے کے لیے بیرسٹر اقبال نے ایک خصوصی اجلاس بلایا۔ اس اجلاس میں بڑے مشہور اور خطاب یافتہ وکلاء اور جج صاحبان نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں ناموسِ رسولؐ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف استغاثہ دائر کرنے والے مختلف مذہبی جماعتوں کے نمائندگان بھی شامل کئے گئے۔ استغاثہ مکمل ہونے پر مروجہ طریقہ کار کے مطابق اسے مسٹر فیل بوتھ (اینگلو انڈین) مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر کیا گیا۔ استغاثے کی پیروی کے لیے اقبال کے مشورے سے شیخ محمد نصیب ایڈووکیٹ کو منتخب کیا گیا تھا۔ اقبال کے کہنے پر شیخ محمد نصیب نے مولانا غلام مرشد سے متعدد ملاقاتیں کیں اور جرح و بحث کی تیاری کی۔ مولانا غلام مرشد بتاتے ہیں کہ مقدمہ کی تیاری کے سلسلے میں مشاورت کے دوران اکثر علامہ اقبال کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تھے۔ مقدمہ جب انجام کو پہنچا تو عدالت نے راجپال کو مجرم قرار دے کر چھ ماہ کی سزا سنا دی۔ (اقبالیات نقوش از تسلیم احمد تصور، صفحہ 268 تا 271) اس فیصلے پر اقبال نے بے پناہ مسرت کا اظہار کیا۔ (بعد ازاں راجپال نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی جسے ایک غیر مسلم جج نے سنا اور راجپال کو بری کر دیا)۔ اس فیصلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ 6؍جنوری 1929ء کو جبکہ راجپال اپنی دکان میں بیٹھا ہوا تھا۔
محلہ سریانوالہ اندرون شہر کے ایک ترکھان علم الدین نے چاقو سے حملہ کر کے اسے واصل جہنم کر دیا۔ علم الدین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ چلا۔ مقدمہ کے اختتام پر سیشن جج لاہور نے مورخہ 22؍مئی 1929ء کو علم الدین کو سزائے موت سنائی۔ اس فیصلے کے خلاف علم الدین کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ علم الدین کی
جانب سے اپیل کی پیروی بیرسٹر محمد علی جناح اور بیرسٹر فرخ حسین نے کی۔ اپیل کا فیصلہ 17؍ جولائی 1929ء کو سنایا گیا جس میں سزائے موت کی توثیق کی گئی۔ اس کے بعد علم الدین کی جانب سے لندن میں رحم کی اپیل کی گئی۔ یہ اپیل بھی مسترد کر دی گئی۔ 31؍ اکتوبر 1929ء کو میانوالی کی جیل میں اس عاشقِ رسول کو تختہ دار پر کھینچ دیا گیا۔ اس طرح اٹھارہ انیس سال کا یہ نوجوان شہادت کا رتبۂ بلند پر فائز ہو کر مکین جنت بنا۔
غازی علم الدین کا مقدمہ لاہور کی سیشن عدالت میں زیر سماعت تھا۔ ہندو جاتی راجپال کے قتل پر احتجاج کا دائرہ وسیع کر رہی تھی۔ 9؍ اپریل کو اس سلسلے میں ہندوؤں نے لاہور کے علاوہ قصور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، راولپنڈی، گوجر خان، راجہ جنگ، کوہاٹ اور موجودہ آزاد کشمیر کے اضلاع میر پور اور کوٹلی میں احتجاجی اجلاس منعقد کئے۔ ان اجلاسوں میں راجپال کے قتل کی مذمت اور غازی علم الدین کو سزائے موت دینے کے مطالبات کئے گئے۔ ہندوؤں کے اس احتجاجی دباؤ کا توڑ کرنے کے لیے لاہور میں بیرسٹر محمد اقبال، بیرسٹر میاں عبدالعزیز، بیرسٹر محمد شفیع اور مراتب علی شاہ نے ایک اجلاس میں علم الدین کے حق میں قرارداد پاس کروائی۔ اس کے بعد اس کی پیروی میں دوسرے شہروں کے مسلمانوں نے بھی علم الدین کے حق میں قراردادیں پاس کیں۔ (غازی علم الدین شہید از ظفر اقبال نگینہ صفحہ 47) موجودہ آزاد کشمیر کے اضلاع میر پور اور کوٹلی تک ان قراردادوں کا سلسلہ وسیع ہوتا چلا گیا۔
غازی علم الدین کے مقدمہ کی پیروی کا آغاز بیرسٹر فرخ حسین نے کیا۔ بعدازاں اس ذمہ داری میں بیرسٹر خواجہ فیروز الدین بھی شامل ہو گئے۔ (غازی علم الدین شہید از ظفر اقبال نگینہ صفحہ 52) بیرسٹر خواجہ فیروز الدین اقبال کے نہ صرف بہت عقیدت مند تھے بلکہ ان کے رشتہ دار بھی تھے۔ اس لیے یہ بات بعید از قیاس ہے کہ انھوں نے یہ ذمہ داری سنبھالنے سے قبل بیرسٹر اقبال سے مشورہ نہ کیا ہو۔ خود علامہ اقبال چونکہ توہین رسالت کے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے حق میں تھے اور ان کا ایمان تھا کہ شاتمِ رسول کو جہنم واصل کرنے والا جنت اور بخشش کا حقدار بن جاتا ہے۔ اس لیے وہ قانونی حیلہ سازیوں کے ذریعے اس کی آخرت کو خراب کرنے کے حق میں رائے نہیں دیتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ان غازیان اسلام سے پوری ہمدردی رکھنے کے باوجود ان کے خلاف قائم مقدمات میں بطور وکیل شامل نہیں ہوئے۔ لاہور کے دانشوروں اور قانون دانوں نے باہمی رضامندی سے علم الدین ڈیفنس
کمیٹی بھی تشکیل دی۔ اس کمیٹی میں بھی بیرسٹر عبدالعزیز، بیرسٹر محمد شفیع اور بیرسٹر اقبال شریک ہوتے رہے۔ غازی علم الدین پر تحقیق کے حوالے سے خصوصی شہرت رکھنے والے وکیل سیف الحق ضیائی نے راقم الحروف کو مولانا محمد بخش مسلم اور بیرسٹر عبدالعزیز مالواڈہ کے حوالے سے بتایا کہ مقدمے کے دوران بیرسٹر اقبال شروع سے آخر تک عدالتی کارروائی سے آگاہی حاصل کرتے رہے۔ ایسا بھی ہوا کہ غازی علم الدین سیشن کورٹ میں مقدمہ کی پیشی پر آئے تو بیرسٹر اقبال نے ان کا ماتھا چوما اور سینے سے سینہ لگا کر ملے۔ اس روایت کا ذکر سیف الحق ضیائی ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب غازی علم الدین شہید میں بھی کیا ہے۔
(غازی علم الدین شہید از سیف الحق ضیائی صفحہ 205)
لاہور ہائی کورٹ میں 2011ء کے دوران بیرسٹر فاروق حسن نے غازی علم الدین کا کیس ری اوپن کرنے کے لیے رٹ دائر کی۔ اس رٹ کے ایک پیرے سے انکشاف ہوتا ہے کہ سزائے موت کے خلاف اپیل میں وکالت کے لیے بیرسٹر محمد علی جناح کو وکیل مقرر کرنے میں بھی بیرسٹر محمد اقبال سے مشورہ کیا گیا تھا اور علم الدین ڈیفنس کمیٹی کی جانب سے بیرسٹر اقبال نے بیرسٹر محمد علی جناح کو پانچ سو روپے فیس بذریعہ منی آرڈر ارسال کی تھی۔ بیرسٹر محمد علی جناح نے یہ فیس وصول کر کے رسید واپس بھجوائی اور اس کے ساتھ ایک ہزار روپے کا منی آرڈر اپنی طرف سے بھیجا اور ہدایت کی کہ یہ رقم علم الدین ڈیفنس کمیٹی کے فنڈ میں جمع کر لی جائے۔
غازی علم الدین کو 31 اکتوبر 1929ء کے دن میانوالی میں پھانسی دی گئی۔ اس روز جیل کے باہر علم الدین کے والد طالع مند اور سینکڑوں مسلمان انتظار میں موجود تھے کہ وہ غازی کا جسد خاکی وصول کر کے شان شایان طریقے سے شہید کی تدفین کریں گے۔ لیکن حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جیل حکام نے حکومت سے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ شہید کی نعش مسلمانوں کے حوالے نہ کی جائے۔ فساد خلق کے خوف سے جیل حکام نے قیدیوں کے قبرستان میں ایک گڑھا کھود کر اس میں شہید کی نعش کو بغیر غسل دیئے رکھا اور اس کے اوپر ایک کمبل ڈال کر اسے پاٹ دیا۔ اس خبر کے باہر آتے ہی مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہو گئے۔ مولانا ظفر علی خان نے اپنے اخبار زمیندار کا خصوصی ضمیمہ شائع کیا۔ جس کی شہ سرخی میں لکھا تھا:
”میاں علم الدین جنت میں جا پہنچے“
”حکام نے ان کی نعش ان کے والد کی اجازت کے بغیر جیل کے احاطہ میں دفن کر
دی۔ سرکار کی فرعونیت اور حکام کے عدمِ تدبر کا شرمناک مظاہرہ۔“
مسلمانان ہند نے جب یہ خبر پڑھی تو ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ماتمی جلوس نکلنے لگے۔ ہڑتالیں، جلسے اور قراردادیں پاس ہونے لگیں۔ غازی کا جسدِ خاکی وارثان کے حوالے کرنے کے پُر جوش مطالبے ہونے لگے۔ ہزاروں لوگ میانوالی کی طرف روانہ ہو گئے۔ جیل حکام اس صورتِ حال سے خوف زدہ ہو گئے اور انھیں یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں لوگ زبردستی شہید کا جسدِ خاکی نکال کر نہ لے جائیں۔ لہٰذا اس صورتِ حال سے بچنے کے لیے پولیس کے مسلح دستے قبرستان میں متعین کر دیئے گئے۔
31 اکتوبر کو لاہور میں مسلمانوں کا ایک بڑا جلوس ننگے سر نکلا۔ اندرون لاہور سے سفر کا آغاز کر کے یہ جلوس بھاٹی دروازہ سے گزر کر بلدیہ کے باغات سے موری گیٹ، لوہاری گیٹ اور شاہ عالمی دروازے سے ہوتا ہوا موچی دروازہ پہنچا جہاں بہت بڑا جلسہ ہوا اور مقررین نے علم الدین شہید کے جسدِ خاکی کے حصول کے لیے پُر جوش تقاریر کیں۔ جلوس کے احترام میں مسلمانوں نے اپنی دکانیں بند رکھیں۔ مسلمانوں کی مشتعل جذباتی کیفیت کے پیش نظر بیرسٹر سر محمد شفیع، بیرسٹر محمد اقبال، بیرسٹر عبد العزیز اور مولانا محی الدین قصوری پر مشتمل ایک وفد نے گورنر پنجاب سے ملاقات کی اور نعش کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ جوابی طور پر گورنر نے یہ مطالبات وفد کے سامنے رکھے کہ:
”موجودہ ایجی ٹیشن کو بند کیا جائے۔ اخبارات ایسی خبریں اور مضامین شائع نہ کریں جن سے حالات خراب ہوں۔ جلسے جلوس روک دیئے جائیں۔ نعش لے کر لاہور شہر کے اندر جلوس نہ نکالا جائے اور جنازہ میں شریک لوگ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے کسی خاص قوم کے جذبات کو ٹھیس لگے۔“
بیرسٹر اقبال اور دیگر قانون دانوں نے باہم مشورے کے بعد وعدہ کیا کہ وہ مسلمانوں سے ان امور پر عمل کے لیے اپیل کریں گے۔ گورنر نے صورت حال پر مزید غور کے لیے وقت مانگا۔ لہٰذا شام سات بجے بیرسٹر اقبال، بیرسٹر سر محمد شفیع، بیرسٹر عبد العزیز اور مولانا محی الدین قصوری نے دوبارہ گورنر سے ملاقات کی جس میں طے پایا کہ نعش کی حوالگی کی اطلاع مسلمانوں کو بیس گھنٹے پہلے دی جائے گی اور ایک مسلمان مجسٹریٹ شہید کی نعش میانوالی سے لاہور لائے گا۔
13 نومبر کو ایک سپیشل ٹرین علم الدین شہید کی صندوق میں بند نعش لے کر لاہور کے لیے روانہ ہوئی اور بغیر کہیں رکے ہوئے لاہور چھاؤنی کے سٹیشن پر ٹھہر گئی۔ بعدازاں شہید کی نعش سینٹرل جیل کے حکام کے حوالے کی گئی جنہوں نے پونے سات بجے پونچھ ہاؤس کے سامنے بیرسٹر اقبال، بیرسٹر سر محمد شفیع اور میونسپل کمشنر کی موجودگی میں مسلمان معززین کے حوالے کر کے با قاعدہ رسید حاصل کی۔ سات بجے کے قریب میت چوبرجی کی جناز گاہ میں لائی گئی۔ 14؍نومبر کی صبح جنازے کا وقت مقرر ہوا۔ علی الصبح مولانا سیّد حبیب کے جناز گاہ میں پہنچنے پر بیرسٹر محمد اقبال نے سوال کیا کہ جنازہ کون پڑھائے گا۔ شہید علم الدین کے والد سے پوچھا گیا تو انھوں نے یہ حق اقبال کو دے دیا۔ اقبال نے سیّد حبیب سے مشورے کے بعد حضرت مولانا سیّد محمد دیدار علی شاہ کا اسم گرامی تجویز کیا۔ لیکن شاہ صاحب کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان کے آنے میں تاخیر ہو سکتی ہے، اس صورت حال میں دوسری مرتبہ قاری محمد شمس الدین کا نام تجویز ہوا جو مسجد وزیر خان کے امام تھے۔ لہٰذا نماز جنازہ قاری محمد شمس الدین نے پڑھائی۔ جنازے میں شرکت کے لیے مسلمانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تابوت کے ساتھ چل رہا تھا جس میں مستورات کی بھی ایک بڑی تعداد کلمہ شہادت کا ورد کر رہی تھی۔ تمام راستہ پھولوں سے بھرا ہوا تھا۔ گیارہ بجے کے قریب تدفین کے مراحل شروع ہوئے تو مولانا ظفر علی خان تدفین سے قبل شہید کے لیے بنائی قبر میں اتر گئے اور فرمایا:
”کاش یہ سعادت مجھے نصیب ہوتی“
شہید کے لاشے کو اشک بار آنکھوں کے ساتھ جن لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا، ان میں بیرسٹر محمد اقبال بھی شامل تھے۔ انھوں نے گلو گیر لہجے میں کہا:
- □ ”یہ جوان ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا۔“
جنازے کے جلوس میں آغاز سے اختتام تک بیرسٹر محمد شفیع، بیرسٹر محمد اقبال، مولانا ظفر علی خان، حکیم احمد حسن، غلام مصطفیٰ حیرت اور ملک لال خان قیصر ہجوم کو پُرسکون اور قابو میں رکھنے کے لیے مصروفِ عمل رہے۔ 18 نومبر کو مذکورہ بالا کمیٹی کی جانب سے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ذریعے مندرجہ ذیل بیان جاری کیا گیا:
”چونکہ میاں علم الدین شہید کی میت حکام نے ہمارے حوالہ کر دی اور شہید کی وصیت کے مطابق امن اور بغیر کسی ناگوار واقعہ کے میانی صاحب میں سپرد خاک کر دی گئی۔ ہم
مسلم قوم کی طرف سے ہز ایکسیلینسی سر جافرے ڈی مونٹ مورنسی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے از راہ عنایت ہمارے وفد کی اس درخواست کو قبول کر لیا کہ میت لاہور میں دفن کرنے کے لیے ہمارے حوالے کر دی جائے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے دور اندیشانہ یہ فعل نہ صرف اہل وفد بلکہ تمام مسلم قوم کے لیے عمیق اطمینان کا موجب ہوا ہے۔ جنازہ کے موقع پر مسلمانوں کے عظیم الشان اجتماع نے جس بردباری کا ثبوت دیا ہے، تمام جماعتوں اور فرقوں کے باشندگان لاہور اس کی تعریف کرتے ہیں۔“
اس اعلان پر جن اکابر نے دستخط کئے ان میں بیرسٹر محمد شفیع ، بیرسٹر ڈاکٹر علامہ سر محمد اقبال، بیرسٹر میاں عبدالعزیز، سیّد محسن شاہ ایڈووکیٹ جیسے قانون دانوں کے علاوہ میاں امیر الدین، ملک محمد حسین اور مولوی غلام محی الدین کے نام نامی شامل ہیں۔
توہین رسالت ﷺ اور ختم نبوت سے متعلق اسلام کے قانون اور عقیدے پر اقبال کے تحریر کردہ ایک انگریزی مضمون کا حوالہ بھی اہم ہے۔ اس مضمون کا عنوان ISLAM" "AND AHMEDISM ہے۔ بیرسٹر اقبال نے مرزا غلام احمد قادیانی کی جاری کردہ احمدی تحریک پر مباحث کے تسلسل میں اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کے لیے یہ مضمون سپرد قلم کیا تھا۔ مذکورہ مضمون پہلی مرتبہ مجلہ ”اسلام“ کی اشاعت 22؍ جنوری 1936ء میں زیورِ اشاعت سے آراستہ ہوا۔ (تصنیفات اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ صفحہ 337) بعد ازاں اس مضمون کا اردو ترجمہ تصدق حسین تاج نے کیا اور اسے اپنی مرتب کردہ کتاب ”مضامین اقبال“ میں شائع کیا۔ یہ کتاب 1943ء میں اشاعت پذیر ہوئی۔ اس مضمون میں ختم نبوت اور توہین رسالت کی سزا سے متعلق اقبال کی تحریر کا ایک اقتباس اس طرح ہے۔
- ”ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر یہ دعویٰ کرے کہ مجھ میں ہر دو
اجزاء نبوت کے موجود ہیں یا کہ مجھے الہام ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل ہے۔ مسیلمہ کذاب کو اسی بنا پر قتل کیا گیا...... حالانکہ جیسا طبری لکھتا ہے وہ حضور رسالت مآبؐ کی نبوت کا مصدق تھا اور اس کی اذان میں حضور رسالت مآبؐ کی نبوت کی تصدیق تھی......“ (مضامین اقبال از تصدق حسین تاج، تصنیفات اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ...... رفیع الدین ہاشمی صفحہ 362، روزنامہ نوائے وقت، کالم: علامہ اقبال اور اصول ختم نبوت ( محمد آصف بھلی ایڈووکیٹ)، مورخہ 21 ستمبر 2011ء)
علم الدین شہید کی پھانسی کے بعد ایک روز کچھ طلباء بیرسٹر اقبال سے ملاقات کے لیے آئے۔ ان میں سے ایک طالب علم محمد محمود نے ان سے سوال کیا:
”علم الدین کی موت شہادت ہے یا نہیں۔“
اقبال نے جواب دیا:
”اس کا انحصار نیت پر ہے۔ اگر یہ حقیقت ذہن میں ہو کہ حملہ آور کا اصل مقصد پیغمبر کے ذاتی وقار کو نقصان پہنچانا ہی نہیں بلکہ اس کے لائے ہوئے پیغام کو مجروح اور اس ایمان محکم کو متزلزل کرنا ہے جو اس پیغام رشد و ہدایت پر قائم و استوار ہے تو یہ حملہ صرف انسانی یا پیغمبرانہ وقار کا قتل نہیں رہتا بلکہ اس ایمان اور عقیدہ کا قتل بھی بن جاتا ہے۔ اس کوشش یا اقدام کے خلاف ہر مدافعت یقیناً اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہوتی ہے اور وہی اس کا ٹھیک ٹھیک اجر دینے والا ہے۔“
فقیر سیّد وحیدالدین جو اس موقع پر موجود تھے، لکھتے ہیں کہ اس گفتگو کے بعد اقبال نے نہایت رقت انگیز لہجہ میں فرمایا: ”میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص میرے پاس آ کر کہے کہ تمہارے پیغمبرؐ نے ایک دن میلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔“
(روزگارِ فقیر سیّد وحید الدین صفحہ 113)
بیرسٹر اقبال اسلام کے قانون توہین رسالت پر ایمان رکھتے تھے اور چونکہ تعزیراتِ ہند میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں تھا جو اسلامی قانون کا متبادل ہو سکتا اور اس کے مطابق شاتمانِ رسولؐ کو سزا مل سکتی، اس لیے وہ تعزیراتِ ہند کے تحت علم الدین اور عبدالقیوم جیسے غازیوں کے مقدمات میں بطور وکیل خدمات دینا ان غازیان کے اجر و ثواب کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف خیال کرتے تھے۔ اس بات کا ثبوت اقبال کی مسلمانوں کے ایک وفد سے ملاقات میں ہونے والی گفتگو سے بھی ملتا ہے۔ عدالتوں نے غازی عبدالقیوم کی جب حتمی طور پر سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا تو مسلمانوں کا ایک وفد بیرسٹر اقبال کے پاس آیا اور اقبال سے استدعا کی کہ وہ وائسرائے ہند کے پاس رحم کی اپیل داخل کریں اور کوشش کریں کہ سزائے موت عمر قید میں تبدیل ہو جائے۔ اقبال نے کچھ دیر اپیل کی تجویز پر غور کے بعد دریافت کیا کہ کیا عبدالقیوم کمزور پڑ گیا ہے۔ جواب میں وفد نے بتایا کہ نہیں وہ تو بار بار کہتا ہے کہ میں نے گستاخ رسولؐ کو قتل کر کے شہادت خریدی ہے، مجھے پھانسی کے پھندے سے بچانے کی کوشش مت کرو۔ اس پر
اقبال نے جواب دیا کہ جب وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے تو میں اس کے اجر و ثواب کی راہ میں کیسے حائل ہوسکتا ہوں۔ (مکالماتِ اقبال، راشد سعید، صفحہ 163، 164)
راشد سعید اپنی کتاب ”مکالمات اقبال“ میں لکھتے ہیں کہ ”ضربِ کلیم“ میں لاہور اور کراچی کے عنوان سے جو اشعار ہیں، وہ (علم الدین شہید کے مقدمے) اور غازی عبدالقیوم کی رحم کی اپیل دائر کرنے سے بیرسٹر اقبال کے انکار کے پس منظر میں دیکھنا چاہئیں۔ اقبال نے توہین رسالت کے حوالے سے ہندوستان یا برطانیہ کی عدالتوں سے انصاف طلب کرنے کو بے فائدہ قرار دیا اور بہ زبانِ شاعری کہا:
موت کیا شے ہے، فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
بیرسٹر اقبال نے اپنی زندگی ہی میں مذہبی اہمیت کے مقامات اور انبیا کرام کی توہین کے خلاف قانون سازی کی کاوشات کا آغاز کر دیا تھا اور اس سلسلے میں ایک مسودہ قانون بھی تیار کر لیا تھا۔
تعزیراتِ ہند پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ 1898ء میں فوجداری قانون میں دفعہ 158-A کا اضافہ کیا گیا جس میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور اس کے نتیجے میں فتنہ فساد پھیلانے والوں کو دو سال قید اور جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی تھیں۔ شاتمانِ رسولؐ کے خلاف مقدمات بھی اسی دفعہ کے تحت عدالتوں میں زیرِ سماعت آتے تھے۔ 1927ء میں مسلمانوں کی اشک شوئی کے لیے دفعہ 295-A کو فوجداری قوانین میں شامل کیا گیا۔ اس دفعہ میں کہا گیا تھا کہ مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرنے یا ایسی کوشش کرنے والے کو دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔
قانون توہین رسالت و مذہب کے حوالے سے بیرسٹر اقبال نے جو خواب دیکھا تھا، اس کی تعبیر کا سلسلہ قیام پاکستان کے بعد 23/مارچ 1956ء سے شروع ہوا جب دفعہ 295-A میں پہلی ترمیم کی گئی۔ بعد ازاں 1980ء میں ایک ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے تعزیرات پاکستان میں 298-A کا اضافہ کیا گیا جس کے ذریعے اُمہات المؤمنین، کسی اہل
بیت یا خلفائے راشدینؓ یا اصحاب رسولؐ کی بے حرمتی، توہین یا ان پر طعنہ زنی اور بہتان تراشی پر تین سال کی سزا یا سزائے تازیانہ یا بیک وقت دونوں سزائیں نافذ العمل بنائی گئیں لیکن اس قانون میں کوتاہی یہ ہوئی کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لیے کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی تھی۔
بعد ازاں ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کے قانون دانوں سے طویل مشاورت کے بعد، جن میں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل جناب محمد اسماعیل قریشی اور یہ خاکسار راقم الحروف بھی شامل تھا، قومی اسمبلی کی رکن محترمہ نثار فاطمہ نے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا جو فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ نمبر 3 سال 1986ء کی صورت میں منظور ہوا۔ اس کے نتیجے میں تعزیرات پاکستان میں دفعہ 295 سی کا اضافہ کیا گیا۔ اس دفعہ کی عبارت حسب ذیل ہے:
حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی شان میں اہانت آمیز کلمات کا استعمال
’’اگر کوئی شخص الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں، تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے بہتان تراشی کرے یا اشارتاً یا کنایتاً، بالواسطہ یا بلا واسطہ حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کی توہین کرے، تو اسے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔‘‘
متذکرہ بالا قانون میں اہانتِ رسولؐ کی سزا موت تو رکھی گئی تھی لیکن متبادل سزا عمر قید بھی تجویز کی گئی تھی جو قرآن و سنت کے منافی تھی لہٰذا ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کے صدر جناب محمد اسماعیل قریشی نے شریعت کورٹ میں اس قانون کے مذکورہ حصہ کو حذف کروانے کے لیے وفاقی شرعی عدالت پاکستان میں پٹیشن دائر کر دی۔
وفاقی شرعی عدالت نے جناب محمد اسماعیل قریشی کی پٹیشن 30؍اکتوبر 1990ء کو ایک تفصیلی فیصلہ صادر کرتے ہوئے منظور کر لی اور قرار دیا کہ اہانتِ رسولؐ کی سزا بطور حد صرف سزائے موت ہے۔ اس فیصلہ میں حکومت کو یہ ہدایت بھی کی گئی کہ اس دفعہ میں ایک اور شق کا اضافہ کیا جائے جس کی رُو سے دوسرے پیغمبروں کی اہانت کی سزا بھی سزائے موت مقرر کی جائے۔ (PLD 1991 FSC 10) اس طرح توہینِ رسالتؐ کے قانون نے حتمی حیثیت اختیار کر لی۔
فقہ اسلامی کی رُو سے توہینِ رسالت کے تعزیری قانون کے حوالے سے اقبال کے
جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے راجا رشید محمود نے لکھا ہے کہ سورۃ القلم میں خالق کائنات نے ولید بن مغیرہ، جس نے اللہ کے رسول کو ”مجنون“ (نعوذ باللہ ) کہہ کر ان کی توہین کی تھی، کے دس عیب گنوائے اور اسے ”ذَالِکَ زَنِیْم“ (یعنی تخم حرام) قرار دیا تھا۔ اقبال نے قرآنی احکامات کی پیروی کرتے ہوئے حضور ﷺ کی توہین کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کی اور تمام عمر جہاد کیا۔ (اقبال اور احمد رضا، راجا رشید محمود صفحہ 54)
بیرسٹر اقبال نے توہین رسالت کے حوالے سے اپنے ایک مضمون میں حضرت محمد ﷺ کے زمانے ہی میں گستاخ رسول مسیلمہ کذاب کے واجب القتل ہونے کو قانونی جواز بنایا تھا یعنی اسے اسلامی قانون کے مطابق درست قرار دیا تھا۔ اقبال کے وژن کو پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے 1991ء میں ایک مستقل قانون کے سانچے میں ڈال کر فقہ اسلامی کے حوالے سے اقبال کی قانون فہمی پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
❁.......❁.......❁
نفس گم کردہ می آید ، جُنیدؒ و با یزیدؒ ایں جا
محمد متین خالد
قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ
قانون توہین رسالت ﷺ (295/C) پارلیمنٹ سے کب، کیوں اور کیسے منظور ہوا؟ اب اس قانون کو ختم اور غیر مؤثر کرنے کے لیے پس پردہ کیا کیا سازشیں ہورہی ہیں؟ چشم کشا انکشافات اور بے جا اعتراضات کے مسکت جوابات سے بھرپور ایمان افروز تحریر
حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تمام مسلمانوں کے لیے مرکز ملت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ کی عزت وتکریم ان کے ایمان کی اساس ہے۔ آپ ﷺ کی ذات گرامی اہل ایمان کے لیے اُن کے ماں باپ، اولاد، جان و مال اور عزت و آبرو سے زیادہ عزیز ہے۔ ہمارے ایمان کا دارو مدار آپ ﷺ سے تعلق پر ہے۔ اللہ رب العزت کے بعد کائنات کی جو ہستی سب سے زیادہ بلند مقام و مرتبہ پر فائز ہے، وہ بلاشبہ آپ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کوئی ایسی بات یا کوئی ایسا کام کرے جس سے آپ ﷺ کی عزت و وقار میں رتی برابر بھی فرق آئے۔ قرآن مجید میں کسی ہستی کا ادب واحترام ملحوظ رکھنے کی اس قدر شدت سے تلقین نہیں کی گئی جس قدر حضور نبی کریم ﷺ کا ادب واحترام ملحوظ رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
- يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لَا
تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ o (الحجرات: 2)
ترجمہ: ”اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے اونچا مت ہونے دو اور ان کے ساتھ بلند آواز سے بات مت کیا کرو جیسا کہ تم آپس میں زور زور سے بولتے ہو، اگر تم نے
ایسا کیا تو سوء ادب کی پاداش میں تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں گے اور تمہیں خبر تک نہ ہو گی، یعنی تمہاری نمازوں اور روزوں کو لے کے میں کیا کروں گا اور تمہاری عبادت و ریاضت سے مجھے کیا حاصل، اگر تمہیں میرے محبوب ﷺ کی بارگاہ میں بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے۔
پھر اس آیت کے ساتھ ہی اگلی آیت میں وضاحت کی کہ تقویٰ اور پرہیز گاری تو یہ ہے کہ میرے حبیب ﷺ کی بارگاہ میں تم شائستگی سے اور دھیمی آواز میں بات کرو۔
- إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللَّهُ
قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوى. (الحجرات: 3)
ترجمہ: ”یقیناً وہ لوگ جو بارگاہِ رسالت میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے پرہیز گاری کے لیے جانچ لیا ہے“
حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت کرنا جزو ایمان ہے۔ علمائے اسلام، دورِ صحابہؓ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس شخص کو پیار اور تعلقِ خاطر نہیں، وہ سرے سے مومن ہی نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی قابلِ گردن زدنی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
- ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک میری ذات اسے
اس کے والدین، اولاد حتیٰ کہ تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائے“۔ (صحیح البخاری: 15)
سیدنا حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
- مَنْ سَبَّ نَبِيًّا قُتِلَ وَ مَنْ سَبَّ أَصْحَابَهُ جُلِدَ.
ترجمہ: ”جس نے کسی نبی کو گالی دی، اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے کسی صحابی کو گالی دی، اسے کوڑے مارے جائیں گے ۔“ (طبرانی جلد نمبر 1 صفحہ 236)
خلاصہ یہ کہ اسلامی قانون کی رُو سے توہینِ رسالت ﷺ کا مرتکب سزائے موت کا مستحق ہے اور اس مسئلہ پر تمام صحابہؓ و تابعینؒ اور فقہائے اُمت متفق ہیں۔
اب اسی حوالے سے دورِ نبوی کے واقعات اور ان پر نبی کریم ﷺ کا ردِّعمل ملاحظہ کیجیے:
سیدنا حضرت علیؓ سے مروی ہے:
- ”ایک یہودی عورت، رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ ایک شخص نے اس کا
گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا تو آپﷺ نے اس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔‘‘
(ابوداؤد: 4362)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے:
- ❑ ’’ایک نابینا صحابیؓ کی ایک اُم ولد لونڈی تھی جو رسول اللہﷺ کو (نعوذ باللہ) گالیاں
دیا کرتی تھی۔ وہ اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی، وہ ڈانٹتا مگر وہ رُکتی نہ تھی۔ ایک رات اس نے رسول کریمﷺ کو گالیاں دینے کا آغاز کیا تو اس نے بھالا لے کر اس کے شکم میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبایا جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔ صبح کو اس کا تذکرہ رسول کریمﷺ سے کیا گیا تو لوگوں کو جمع کر کے آپﷺ نے فرمایا: میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے یہ قتل کیا اور میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔ یہ سن کر ایک نابینا صحابیؓ کھڑا ہوا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آپﷺ کے پاس آیا اور بیٹھ گیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہﷺ! (اسے میں نے قتل کیا ہے) وہ آپﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی، میں اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی تھی، میں اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا مگر وہ پروا نہ کرتی۔ اس کے بطن سے میرے دو موتیوں جیسے بیٹے ہیں، وہ میری رفیقہ حیات تھی۔ گزشتہ شب جب وہ آپﷺ کو گالیاں بکنے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اسے زور سے دبایا حتیٰ کہ وہ مرگئی۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: گواہ رہو کہ اس کا خون رائیگاں ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 4361)
معروف گستاخ رسول عبدالعزی ابن خطل کا نام عبداللہ تھا۔ وہ پہلے مسلمان تھا۔ بعدازاں اسلام چھوڑ کر مشرک ہو گیا۔ اس نے اپنے ساتھ دو گانے والی لونڈیاں ارنب اور قریبہ رکھی ہوئی تھیں جن سے وہ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف ہجویہ اور توہین آمیز گیت کہلوایا کرتا تھا۔ شانِ رسالتﷺ میں توہین کے ارتکاب پر اس کی جسارتیں بہت بڑھ چکی تھیں۔ فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریمﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو سب مخالفین حتیٰ کہ بدترین دشمنوں کو بھی معافی دے دی گئی۔ ایک شخص نے آپﷺ کو خبر دی کہ آپ کا گستاخ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اُسے قتل کردو۔ چنانچہ اس گستاخ رسول کو قتل کرنے کی سعادت سیدنا ابو برزہ اسلمیؓ، حضرت زبیرؓ اور حضرت سعد بن حریثؓ کے حصہ میں آئی۔ انھوں نے اس گستاخ کو کعبۃ اللہ کے پردوں سے نکال کر زمزم کے کنویں اور مقام ابراہیم کے درمیان قتل کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ گستاخ رسول کو بیت اللہ شریف (جو امن کی جگہ
ہے ) میں بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کے حکم سے ابن خطل کی دونوں لونڈیوں ارنب اور قریبہ کو بھی شانِ رسالت میں گستاخی کے جرم میں قتل کر دیا گیا تھا۔
تحفظ ناموس رسالت ﷺ دین اسلام کی اساس ہے اور پوری امت مسلمہ کی روح بھی۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ ہر مسلمان کا اولین فرض ہے اور اپنے اس فرض کی انجام دہی کے لیے وہ ہر وقت کوشاں رہتا ہے۔ ملت اسلامیہ کا ہر فرد تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر مر مٹنا اپنی سعادت ہی نہیں بلکہ اسے اپنے لیے حیات جاوداں بھی سمجھتا ہے۔ مسلمانوں کی یہ قیمتی متاع دشمنان اسلام کی آنکھوں میں ہمیشہ کھٹکتی رہتی ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے قلوب و اذہان سے محبت رسول ﷺ کی روشن شمع گل کر دی جائے۔ وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی کل کائنات، ان کی محبتوں اور عقیدتوں کا مرکز اور ان کی اخروی شفاعت کا واحد اور آخری سہارا صرف اور صرف ذات محمد ﷺ ہے۔ ان کا مشن ہے کہ مسلمانوں کے پرکیف بدن سے ’’روح محمد ﷺ‘‘ نکال کر انھیں بے روح کر دیا جائے، ان کے سینوں میں محبت رسول ﷺ کی شمع بجھا دی جائے، ان کے دلوں سے احترام نبی ﷺ کا جذبہ ختم کر دیا جائے، کیونکہ اس کے بغیر کسی بھی محاذ پر مسلمانوں سے مقابلہ مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اس لیے یہ ملعون گاہے بگاہے امت مسلمہ کی غیرت وحمیت کا ٹیسٹ لیتے رہتے ہیں، تا کہ انھیں معلوم ہو سکے کہ مسلمان اپنے نبی کی ناموس کے مسئلہ پر کتنے غیرت مند ہیں۔
حضرت امام مالکؒ کا فتویٰ ہے کہ جو شخص خواہ وہ کسی بھی نبی کی امت میں سے ہو، اگر اپنے نبی کی توہین سن کر خاموش رہتا ہے اور اس پر اپنا ردِعمل ظاہر نہیں کرتا، تو ایسا شخص اپنے نبی کی امت سے خارج ہو جاتا ہے۔ یہ بات ملت اسلامیہ کے ہر فرد کو کان کھول کر سن لینی چاہیے اور جان لینی چاہیے کہ جس دن امت محمدیہ ﷺ نے ملا ازم، بنیاد پرستی، رجعت پسندی اور تاریک خیالی کے طعنوں کے خوف سے کسی بھی شخص کی طرف سے شان رسالت ﷺ میں کی گئی گستاخی کو روشن خیالی، ترقی پسندی یا رواداری کے ہیضہ میں مبتلا ہو کر برداشت کر لیا، اس پر آنکھیں بند کر لیں، اس پر کسی مصلحت کو غالب کر لیا، جان، مال، عزت اور رشتہ و تعلق کو ناموس رسول ﷺ پر ترجیح دے دی، خاکم بدہن وہ دن امت مسلمہ کی زندگی کا آخری دن ہو گا، خدا کی رحمتیں اور برکتیں روٹھ جائیں گی۔ اجتماعی مصیبتوں اور پریشانیوں کا ایک طوفان عذاب الٰہی کی صورت میں امڈ آئے گا اور دل کی آنکھیں رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کے آثار (انفرادی اور
اجتماعی) شروع ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو ایسے وقت سے محفوظ رکھے۔ مئی 1986ء میں ویمن ایکشن فورم کی چیئرمین عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں شریعت بل کے خلاف تقریر کرتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف نہایت توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔ عاصمہ جہانگیر کی شان رسالت ﷺ میں گستاخی کے ارتکاب پر راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے معزز اراکین جناب عباد الرحمٰن لودھی ایڈووکیٹ اور جناب ظہیر احمد قادری ایڈووکیٹ نے سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ ان توہین آمیز الفاظ کو واپس لے کر اس گستاخی پر معافی مانگے۔ عاصمہ جہانگیر کے انکار اور اپنے الفاظ پر مسلسل اصرار پر سیمینار میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ اگلے دن جب اس واقعہ کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو پورے ملک میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں کی طرف سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر توہین رسالت کی سزا نافذ کی جائے اور اِس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو عبرتناک سزا دی جائے۔ دریں اثناء انھی دنوں عاصمہ جہانگیر نے برملا اعلان کیا کہ ”میرے شوہر طاہر جہانگیر قادیانی ہیں۔ میں اس سلسلہ میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتی۔ وہ ہم سے بہت بہتر ہیں ۔“ (روزنامہ جنگ لاہور 26 جون 1986ء)
عاصمہ جہانگیر کی اس دریدہ دہنی کے خلاف ملک بھر میں سب سے پہلے جس مجاہدہ نے بھرپور آواز اٹھائی، وہ آواز دینی غیرت وحمیت سے سرشار ممبر قومی اسمبلی محترمہ آپا نثار فاطمہؒ کی تھی۔ انھوں نے اس سلسلہ میں اسمبلی میں بھی پوری قوت ایمانی کے ساتھ صدائے احتجاج بلند کی اور تحریک استحقاق پیش کی۔ اس کے جواب میں حکومتی بنچوں کی طرف سے کہا گیا کہ عاصمہ جہانگیر کی اس حرکت سے چونکہ مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے، لہٰذا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 کے تحت اُس کے خلاف مقدمہ درج ہوسکتا ہے، جس کی سزا ایک سال قید ہے۔ یعنی ان کے نزدیک ایک عام آدمی کی توہین اور حضور سرور کائنات، امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں توہین یکساں ہے۔ (نعوذ باللہ)
قرآن وسنت میں گستاخ رسول کی سزا موت ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت تعزیرات پاکستان میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان اقدس میں توہین کی کوئی سزا نہیں تھی، اس لیے عاصمہ جہانگیر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہ ہوسکی۔ اس نازک صورت حال میں اسلامی جذبہ سے سرشار تحفظ ناموس رسالت کی مجاہدہ محترمہ آپا نثار فاطمہؒ نے ہمت مردانہ سے کام لیتے ہوئے
قومی اسمبلی میں تعزیرات پاکستان میں توہین رسالت ﷺ کی سزا شامل کرنے کا ایک بل پیش کیا جس میں توہین رسالت ﷺ کی اسلامی سزا، سزائے موت تجویز کی گئی۔ 7 دن کی طویل بحث کے بعد 9 جولائی 1986ء کو قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قانون توہین رسالت ﷺ منظور کیا۔ تعزیرات پاکستان کی دفعات میں نیا اضافہ کرتے ہوئے 295 سی کے تحت حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں توہین کرنے والے ملزم کو موت یا عمر قید کی سزا کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ 8 اکتوبر 1986ء کو ایوان بالا یعنی سینیٹ نے بھی اس قانون کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ یوں پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلہ کے مطابق تعزیرات پاکستان میں قانون توہین رسالت ﷺ 295 سی کا نیا اضافہ ہوا جو مندرجہ ذیل ہے۔
295-C. Use of derogatory remark etc., in respect of the Holy Prophet. whoever by words, either spoken or written, or by visible representation, or by any imputation, innuendo, or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of the Holy Prophet Muhammad (peace be upon him) shall be punished with death or imprisonment for life, and shall also be liable to fine.
دفعہ 295 سی: رسول پاک کے لیے اہانت آمیز الفاظ کا استعمال: ’’کوئی شخص بذریعہ الفاظ زبانی، تحریری یا اعلانیہ، اشارتاً، کنایتاً، بہتان تراشی کرے اور رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرے، اسے سزائے موت یا سزائے عمر قید دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔‘‘
1973ء کے متفقہ دستور کی دفعہ نمبر 227 میں اہلیان پاکستان کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ خلاف اسلام دفعات کی نشاندہی کر کے ان کو قرآن وسنت کے مطابق تبدیل کراسکتے ہیں۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے زیر نگرانی تیار کردہ اس دستور میں دیئے ہوئے حق کو استعمال کرتے ہوئے 1987ء میں سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ جناب محمد اسماعیل قریشی نے وفاقی شرعی عدالت میں ایک پٹیشن دائر کی کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے قانون توہین رسالت منظور کرتے ہوئے تعزیرات پاکستان میں 295 سی کا اضافہ کیا۔ یہ دفعہ اس لیے قابل اعتراض ہے کہ اس میں ملزم کو دی جانے والی متبادل سزا، سزائے عمر قید ان احکامات اسلامی کے خلاف
ہے جو قرآن مجید اور سنت رسول کریم ﷺ میں دیئے گئے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں کسی قسم کی کوئی بے ادبی یا اہانت آمیز بات شرعی حد کے دائرہ میں آتی ہے اور اس کی سزا میں حکومت ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ بھی سوئی کے نوک کے برابر کوئی تبدیلی یا ترمیم کرنے کا اختیار نہیں رکھتی اور یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ لہٰذا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی میں درج سزا ”یا عمر قید“ کو ختم کیا جائے۔
اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت نومبر 1989ء کو شروع ہوئی۔ وفاقی شرعی عدالت کا یہ فل بنچ جناب جسٹس گل محمد خاں چیف جسٹس، جناب جسٹس عبدالکریم خان کندی، جناب جسٹس عبادت یار خاں، جناب جسٹس عبدالرزاق اے تھہیم اور جناب جسٹس فدا محمد خاں پر مشتمل تھا۔ عدالت نے 8 دن (26 تا 29 نومبر 1989ء، 4 تا 7 مارچ 1990ء) اس درخواست کی سماعت کی اور متعدد سکالروں، تمام مسالک کے جید علما کرام اور اس موضوع پر دسترس رکھنے والے سینئر قانون دانوں کو بھی طلب کیا، تاکہ وہ اس موضوع پر اپنی آراء پیش کر کے عدالت کی قانونی معاونت کریں۔
30 اکتوبر 1990ء کو عدالت نے اس درخواست کا متفقہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ حضرت محمد ﷺ کی توہین یا ان کے اسم مبارک کی بے حرمتی کے جرم میں متبادل سزا، تاحیات قید، اسلام کی واضح نصوص (احکام) کے منافی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ دفعہ 295 سی میں ”یا عمر قید“ کا لفظ توہین رسالت کے حوالہ سے شریعت اسلامیہ کے خلاف ہے، اس لیے صدر پاکستان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ 30 اپریل 1991ء تک اس قانون کی اصلاح کریں اور ”یا عمر قید“ کے الفاظ ختم کریں، اور یہ کہ اگر تاریخ مقررہ تک ایسا نہ کیا گیا تو پھر اس کے بعد یہ الفاظ خود بخود کالعدم متصور ہوں گے اور صرف سزائے موت، ملک کا قانون بن جائے گا، چنانچہ مقررہ تاریخ تک یہ کام نہ ہوسکا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق یہ الفاظ خود بخود کالعدم ہوگئے۔ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ میں توہین رسالت کی سزا، سزائے موت کو قرآن اور سنت رسول ﷺ سے اخذ کردہ اور درست قرار دیا۔ (PLD 10 FSC 1991) یاد رہے کہ پاکستان کے آئین کی دفعہ D-203 کے تحت وفاقی شرعی عدالت ہی اس امر کی مجاز ہے کہ وہ کسی قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کرے۔ آئین کی شق D-203 کے مطالعہ کے بعد اس سلسلہ میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
اس آئینی شق میں کہا گیا ہے:
- ”عدالت از خود نوٹس پر یا پاکستان کے کسی شہری کی پٹیشن پر یا وفاقی یا کسی صوبائی
حکومت کی پٹیشن پر یہ اختیار رکھتی ہے کہ وہ قرآن اور سنت رسول ﷺ کے اصولوں کی روشنی میں کسی بھی قانون یا اس کی شق کے اسلام کے مطابق یا اسلام سے متصادم ہونے کا فیصلہ کر سکے“۔
یہ بات ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ قوانین وضع کرنے، ان پر نظرثانی کرنے، ان میں ترمیم کرنے، ان کی تنسیخ کرنے کے وسیع تر اختیارات رکھتی ہے۔ پارلیمانی طریقہ کار اور قانون سازی کی روایات کے مطابق پارلیمنٹ کی طرف سے وضع کردہ قانون توہین رسالت کئی دہائیوں سے نافذ العمل ہے اور آئینی عدالت کے کڑے معیار پر پورا اتر چکا ہے۔ یہ کہنا کہ قرآن وسنت میں توہین رسالت کی سزا موت نہیں ہے، وفاقی شرعی عدالت اس اعتراض کا آئینی شق D-203 کی ذیلی شق 2 کے تحت پہلے ہی باریک بینی سے جائزہ لے چکی ہے اور اس کے فیصلہ کی رو سے موجود قانون قرآن وسنت کے عین مطابق ہے اور قرار دیا گیا ہے کہ گستاخ رسول کے لیے موت کی سزا کے علاوہ کسی بھی قسم کی متبادل سزا اسلامی تعلیمات سے متصادم ہو گی۔ آئین کی شق D-203 کی ذیلی شق 2 کی شق (b) کے تحت یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے۔
حکومت نے وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی، اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا، بلکہ اس کا مقصد فیصلہ کے بعض پہلوؤں کی وضاحت حاصل کرنا تھا۔ بعد ازاں حکومت نے سپریم کورٹ سے یہ اپیل واپس لے لی۔ بعض سیکولر اور قادیانی حضرات نے حکومت کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس سنگین جرم کے لیے صرف موت کی سزا قائم رکھنے پر اپنے ذہنی تحفظات کا اظہار کیا۔ لیکن ان لوگوں کے یہ ذہنی تحفظات عوامی سطح پر کوئی پذیرائی حاصل نہ کر سکے۔ نہ صرف رائے عامہ کے رہنماؤں نے، بلکہ منتخب اداروں اور قانون ساز اسمبلیوں نے بھی عوامی جذبات کو زبان دی۔
2 جون 1992ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی، جس میں حکومت سے کہا گیا کہ حضرت محمد ﷺ کی توہین پر صرف اور صرف سزائے موت ہی دی جانی چاہیے۔ سینٹ نے بھی یہی راہ عمل اختیار کی۔ 8 جولائی 1992ء کو سینٹ میں ترمیمی قانون متفقہ طور پر منظور کیا گیا، جس میں اس جرم کے لیے صرف موت کی سزا دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ گویا توہین
رسالت کا حالیہ قانون تین مختلف سمتوں سے ہونے والی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان کے مجموعہ تعزیرات کا حصہ بنا ہے:
- 1- قومی اسمبلی میں آپا نثار فاطمہ کا پیش کردہ بل اور اس کے نتیجے میں محدود قانون سازی۔
- 2- جناب محمد اسماعیل قریشی کی 1987ء میں وفاقی شرعی عدالت کو دی جانے والی درخواست
اور اس پر وفاقی شرعی عدالت کا 1990ء کا فیصلہ (یہی اس قانون کا اصل محرک ہے)
- 3- آخر کار جون 1992ء میں پارلیمنٹ میں سزائے عمر قید کے خاتمے کا بل پیش ہونا
اور اس کا منظور ہو جانا، گو کہ اس آخری مرحلہ کی ضرورت نہ تھی، کیونکہ شرعی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں مقررہ تاریخ گزر جانے کے بعد قانون خود ہی تبدیل ہو چکا تھا، تاہم پارلیمان کی قانون سازی نے اس ترمیم کی مزید تائید کر دی۔ اب اس قانون کو دستور 1973ء میں دیئے ہوئے حق کے استعمال یا قومی اسمبلی کی 1992ء میں منظوری کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے، ظاہر ہے کہ یہ ہر دو اقدامات کسی آمر کے ذریعے حاصل نہیں ہوئے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ قانون توہین رسالت تو فاضل عدالت اور پارلیمنٹ کی متفقہ منظوری کا حاصل ہے، جبکہ اس کو غیر مؤثر کرنے کی باضابطہ ترمیم 2004ء میں پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں ہوئی۔
قانون توہین رسالت ﷺ اسلام کا ایک متفقہ شرعی تقاضا اور پاکستانی پارلیمنٹ کا منظور شدہ قانون ہے، اس کے باوجود افسوس ناک امر یہ ہے کہ 32 سال سے اس قانون کے نفاذ کے باوجود آج تک کسی کو توہین رسالت کی سزا نہیں دی جاسکی جس کی ایک وجہ سیکولر عناصر کا یک طرفہ بدترین پروپیگنڈا اور شدید عالمی دباؤ ہے تو دوسری طرف پاکستانی حکومتوں کی منافقت بھی ہے کہ اس قانون کے معاً بعد اس قانون میں ایسی ترامیم کر دی گئیں جس سے قانون ناقابل عمل ہو گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ سیکولر قوتوں کے شدید پروپیگنڈہ کے نتیجے میں جو شخص بھی توہین رسالت کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ اہانت اس کے لیے خصوصی اعزاز کا سبب بن جاتی ہے۔
یاد رہے کہ نیشنل کمیشن برائے عدل و امن کی رپورٹ کی رو سے پاکستان میں 1986ء تا 2009ء تک کل 986 کیس سامنے آئے ہیں جن میں 479 کا تعلق مسلمانوں سے اور صرف 199 کا تعلق عیسائیوں سے ہے۔ ان تمام مقدمات میں کسی ایک ملزم کو بھی سزائے
موت نہیں دی گئی۔ اس سے ایک طرف حکومت کے منافقانہ کردار کا پتہ چلتا ہے تو دوسری طرف سے اس اعتراض کی حقیقت بھی کھل جاتی ہے کہ یہ قانون اقلیتوں کے خلاف بنایا گیا ہے۔ اگر عوام کی مرضی پر عمل کرنے کے اصول کا کچھ مقصد ہے، اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے عوام کے اجتماعی ضمیر کا اظہار ہے، تو یہ قانون ہماری قومی تاریخ میں سب سے زیادہ عوامی قانون تسلیم کیا جانا چاہیے۔ افسوس ہے کہ اس قانون کے مخالفین (قادیانی اور سیکولر حضرات) پارلیمنٹ کے اس متفقہ فیصلے کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہیں بلکہ وہ اس سلسلہ میں وفاقی شرعی عدالت کے تاریخی فیصلہ کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ وہ مسلمانوں کی اکثریت کے مذہبی جذبات کو رائی برابر بھی وقعت نہیں دیتے بلکہ اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے بعض دفعہ ایسی دل آزار اور اشتعال انگیز گفتگو کرتے ہیں کہ جس سے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
قانون توہین رسالت ﷺ کو صدر ضیاء الحق سے منسوب کر کے یہ عاقبت نا اندیش پاکستان کے عوام میں پائی جانے والی مارشل لا کے خلاف نفرت کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ورنہ اسلامی شریعت اور اسلامی تاریخ سے معمولی سی واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ قانون توہین رسالت ﷺ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں نافذ رہا ہے۔ قاضی عیاض نے ”الشفا“ میں ذکر کیا ہے کہ خلیفہ عباسی ہارون الرشید نے حضرت امام مالکؒ سے دریافت کیا کہ ”شاتم رسول ﷺ“ کی کیا سزا ہے؟ عراقی فقہا تو کہتے ہیں کہ ایسے شخص کو کوڑوں کی سزا دی جائے ۔“ اس پر حضرت امام مالکؒ جلال میں آگئے اور فرمایا ”اگر رسول خدا ﷺ کو دشنام کا ہدف بنایا جائے گا تو امت باقی نہیں رہے گی۔ جو شخص انبیا کو دشنام دے، اس کی سزا قتل ہے۔“ پروفیسر منور مرزا کے بقول ”یہ فیصلہ یا فتویٰ تقریباً ہر اسلامی سلطنت میں نافذ رہا، چنانچہ یہ فیصلہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے بھی نافذ کیا اور جلال الدین اکبر نے بھی“۔
قانون توہین رسالت ﷺ کے معترضین کا کہنا ہے کہ آپ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں، آپ ﷺ سراپا رحمت وشفقت ہیں، آپ ﷺ نے اپنے دشمن کو ہمیشہ معاف کیا۔ لہٰذا گستاخ رسول کو بھی معاف کر دینا چاہیے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی محبت تکمیل ایمان کی نشانی ہے۔ اگر اس میں ذرا سی بھی خامی ہوگی، تو ایمان نامکمل ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت ، مومن کا گراں بہا سرمایہ
ہے اور کسی مومن کا دل اس سے خالی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی محبت مقصود حقیقی کے قرب اور اس کی ذات و صفات کے صحیح تصور کا واحد ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں حضور نبی کریم ﷺ کا تعارف وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ کی سند جاری کرتے ہوئے کرواتے ہیں۔ آپ ﷺ سراپا رحمت ہیں، محسن انسانیت ہیں۔ جو شخص آپ ﷺ سے ذرا سا بھی بغض و عناد رکھتا ہے، آپ ﷺ کی شان میں معمولی سی بھی گستاخی کرتا ہے، وہ ازخود ”رحمت“ سے اپنا تعلق منقطع کر لیتا ہے۔ ایسا شخص کائنات کا بدترین اور بدقسمت ترین شخص ہے اور کسی رعایت اور ہمدردی کا مستحق نہیں۔ جو بدبخت شخص، حضور نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں توہین کا مرتکب ہوتا ہے، طعن و تشنیع کرتا ہے، تضحیک و استہزا کرتا ہے، آپ ﷺ کی تعلیمات کا مذاق اڑاتا ہے، آپ ﷺ کے رتبہ کو گھٹاتا ہے ...... اور پھر جب اسے اس جرم عظیم کی سزا ملتی ہے تو وہ اور اس کے حواری اس پر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ آواز بلند کرتے ہیں کہ حضور ﷺ تو رحمت للعالمین ہیں، آپ ﷺ نے تو کبھی دشمنوں سے بھی بدلہ نہیں لیا۔ طائف کے میدان میں آپ ﷺ پر بے حد ظلم و تشدد ہوا مگر آپ ﷺ نے اس کے لیے بددعا تک نہ کی۔ ایک عورت آپ ﷺ پر روزانہ کوڑا کرکٹ پھینکتی تھی مگر آپ ﷺ نے کبھی اس کا برا نہیں مانا۔ (یہ واقعہ من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ شاید یہ واقعہ ہمارے کسی تعلیمی نصاب میں بھی شامل ہے۔ یہ واقعہ عوام الناس میں معروف اور زبان زد عام ہے۔ مگر احادیث یا سیرت النبی ﷺ یا تاریخ کی کسی مستند کتاب میں درج نہیں۔ نجانے یہ فرضی قصہ کس نے وضع کیا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”جس نے جھوٹی بات میری طرف منسوب کی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے) ان بدبختوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ عزیمت، ابتلا، برداشت، صبر اور آزمائشوں کا دور تھا جسے مکی دور کا نام دیا جاتا ہے ..... مگر مدنی دور میں اسلامی سلطنت قائم ہوتے ہی نئے قوانین نافذ ہو گئے۔
رواداری کے ہیضہ میں مبتلا اسلامی تاریخ سے نابلد دانش خوروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عرینہ کی ایک جماعت وفد کی صورت میں آئی جس میں آٹھ آدمی تھے۔ یہ لوگ مسلمان کی حیثیت سے آئے اور انھوں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ یہ لوگ بہت زیادہ لاغر اور کمزور تھے ان کے رنگ زرد اور پیٹ بڑے بڑے تھے۔ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی: ”یا رسول اللہ ﷺ! ہمیں ٹھکانہ دیجئے اور کچھ کھانے کا انتظام فرما
دیجئے“۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان لوگوں کو اپنے پاس صفہ پر (یعنی مسجد سے ملحق اس چبوترے پر جہاں دوسرے بہت سے نادار صحابہؓ کا مسکن تھا) ٹھکانہ دیا، ایک روز انھوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی: ”ہم لوگ دیہاتی یعنی کسان نہیں بلکہ مویشی پالنے اور ان کے دودھ پر گزر بسر کرنے کے عادی ہیں“۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہتر ہو گا کہ تم لوگ (شہر سے باہر) ہماری دودھیاری اونٹنیوں کے ساتھ رہو“۔ غرض ان لوگوں نے مدینہ سے باہر جا کر رہائش اختیار کی اور اونٹوں کے پاس رہنا شروع کر دیا اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایت پر عمل کیا جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت و شفا عطا فرمائی اور وہ تندرست ہو گئے۔ غرض جب یہ لوگ تندرست ہو گئے تو اسلام سے منحرف ہو کر دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے اور اس چراگاہ میں (آپ ﷺ کا) جو چرواہا تھا، اس کو قتل کر دیا۔ یہ چرواہا نبی کریم ﷺ کا غلام یسار تھا، انھوں نے یسار کو قتل کر کے اس کے ناک، کان اور آنکھ کاٹ کر لاش کا مثلہ کر دیا۔ پھر اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اس کی زبان اور آنکھوں میں کانٹے چبھو دیئے، یہاں تک کہ اسی حالت میں وہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد یہ لوگ نبی رحمت ﷺ کی اونٹنیاں لے کر فرار ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو جب اس واقعہ کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے بیس گھڑ سوار ان کے پیچھے روانہ فرمائے اور ان پر حضرت سعید ابن زیدؓ کو امیر مقرر فرمایا، ان سواروں کے ساتھ نبی کریم ﷺ نے ایک ایسا شخص بھی بھیجا جو نشان قدم پر مجرموں کا پیچھا کر رہا تھا۔ آخر ان سواروں نے ان لوگوں کو جا لیا اور چاروں طرف سے گھیر کر ان سب کو گرفتار کر لیا۔ صحابہ کرامؓ ان کو لے کر مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ کے حکم پر ان کے ہاتھ پیر کاٹے گئے اور آنکھوں میں گرم سلاخیں چبھائی گئیں، پھر ان لوگوں کو حرہ میں لے جا کر ڈال دیا گیا جو سیاہ پتھروں کا علاقہ تھا اور ایسا لگتا تھا جیسے ان پتھروں کو آگ میں جلا دیا گیا ہے۔ یہاں یہ لوگ پیاس سے بے تاب مگر کہیں پانی نہیں تھا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس کی شدت سے زمین کو اپنے دانتوں سے کھود رہا تھا کہ مٹی کی نمی سے تسکین ہو مگر وہ نمی بھی نہ ملی، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ (بخاری شریف)
مخالفین قانون توہین رسالت ﷺ کا کہنا ہے کہ یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے، یورپ میں توہین رسالت (Blasphemy) کی کوئی سزا نہیں ہے۔ لہٰذا اس قانون کو ختم ہونا چاہیے۔
اسلام میں انسانی حقوق کا تصور مغرب سے بہت پہلے سوا 14 سو سال سے موجود ہے اور اس کا خلاصہ حضور نبی کریم ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع ہے۔ اسلام بلا امتیاز مذہب و ملت تمام انسانوں کے حقوق کی نہ صرف ضمانت دیتا ہے، بلکہ قوّتِ نافذہ رکھتا ہے اور قانونی چارہ جوئی کا حق بھی دیتا ہے۔ اسلام نے جہاں رنگ و نسل کے فرق کی بنیاد پر انسانی تفاوت کو مٹایا ہے، وہاں تمام انسانوں کو اولادِ آدم ہونے پر برابر قرار دیا اور نیکی اور تقویٰ کو وجۂ امتیاز ٹھہرایا ہے۔
دراصل انسانی حقوق کی آڑ میں امت مسلمہ کے خلاف مذموم سازشوں کا جال بنا جا رہا ہے۔ قانون توہین رسالت ﷺ کسی بھی اعتبار سے انسانی حقوق کے منافی نہیں۔ یہ انسانی حقوق کی روح اور فلسفے کے عین مطابق ہے۔ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر جو 30 صفحات پر مشتمل ہے، اس کا آغاز ہی ان تمہیدی الفاظ سے ہوتا ہے:
’’ہر گاہ کہ نوع انسانی کے جملہ افراد کی فطری تکریم اور ان کے مساوی اور ناقابلِ انتقال حقوق، دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہیں۔‘‘ اور اس چارٹر کی پہلی شق کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے:
- ’’تمام انسان آزاد اور تکریم و حقوق کے لحاظ سے برابر ہوتے ہیں۔ انھیں پیدائشی
طور پر عقل اور ضمیر عطا کیا جاتا ہے اور انھیں ایک دوسرے سے برادرانہ سلوک کرنا چاہیے۔‘‘
اگر مندرجہ بالا جملوں کے پس پشت کارفرما مقصد کی روح کو سامنے رکھا جائے تو کہنا پڑتا ہے کہ ’’نوع انسانی کے جملہ افراد کی تکریم‘‘ میں محسن انسانیت ﷺ کی تکریم کو اولین درجہ عطا کیا جانا چاہیے۔ انسانی تاریخ میں شرف تخلیق حضرت محمد ﷺ سے کوئی انسان فضیلت، بزرگی، رتبہ اور عزت و منزلت میں بڑھ کر نہ گزرا ہے نہ قیامت تک آئے گا۔
معترضین کا کہنا ہے کہ قانون تحفظ ناموس رسالت کا غلط استعمال ہوتا ہے، لہٰذا اسے ختم کر دینا چاہیے۔
ہمارے خیال میں معترضین کا یہ موقف نہایت احمقانہ ہے۔ اگر اس اعتراض کو درست مان لیا جائے تو ’’جرم و سزا‘‘ کی دنیا میں کسی بھی تعزیری ضابطے یا قانون کے وجود کا جواز باقی نہیں رہے گا۔ آج تک کسی بھی قانون کو محض اس بنا پر ختم نہیں کیا گیا کہ اس کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ قتل، زنا، ڈکیتی اور چوری جیسے سنگین جرائم کے متعلق قوانین کے غلط استعمال کی خبریں پاکستان اور دیگر ممالک کے حوالے سے آئے روز چھپتی رہتی ہیں۔
”قانون کا غلط استعمال“، اگر ایسی وجہ ہے جس کی بنیاد پر قانون میں ترمیم ناگزیر ہو تو اس ”منطق“ سے تو دنیا کے سارے ہی قوانین میں ترمیم لازمی ٹھہرتی ہے۔ دنیا کا کون سا ایسا قانون ہے جس کا غلط استعمال نہ ہو رہا ہو؟ آج ایک طرف قتل، چوری، ڈکیتی، عصمت دری، اغوا برائے تاوان اور زمینوں کے ناجائز قبضے میں ملوث ملزمان قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے صاف بچ نکلتے ہیں تو دوسری طرف ہزاروں معصوم اور بے گناہ انسان قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے ہی جیل کی کال کوٹھریوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے پر مجبور ہیں۔ آپ کس کس قانون کو بدلیں گے؟ قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے قانون بدلا نہیں جاتا، بلکہ اس کو مؤثر رکھتے ہوئے غلط استعمال کو روکنے کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
بقول شخصے: ”اگر قانون کا غلط استعمال کسی فرد یا پولیس کے غلط کردار کی وجہ سے ہے، تو اس کا علاج قانون کی منسوخی نہیں ہے۔ اس وجہ سے تو ہر قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ قیامِ امن، انسداد دہشت گردی، لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانیوں کی روک تھام کے قوانین حکومتیں بے دردی کے ساتھ اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، کیا اس وجہ سے ان سب کو منسوخ کر دیا جائے؟ قتل کے قانون کے تحت پولیس اور بااثر لوگ بے گناہوں کو پھانستے ہیں، ان کو لوٹا جاتا ہے، بعض پھانسی پر بھی چڑھ جاتے ہیں، کیا ان کو بھی منسوخ کر دیا جائے؟ کوئی بھی معقول آدمی یہ بات نہیں کہے گا۔“
ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کا قانون ایک غیر متنازع اور متفق علیہ معاملہ ہے۔ اسے اختلافی مسئلہ بنا کر پیش کرنا یا اس کے غلط استعمال کا واویلا کر کے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنا اہل ایمان کے جذبات مجروح کرنے کی ناپاک سازش ہے۔
مزید یہ اعتراض کہ قانون توہین رسالت کا غلط استعمال مذہبی رہنماؤں کے اکسانے پر ہوتا ہے، جھوٹ اور غلط فہمی پر مبنی ہے۔ ہمارے ہاں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (قتل) کا عموماً غلط استعمال ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی قتل کرتا ہے مگر ذاتی انتقام اور خاندانی دشمنیوں کے نتیجہ میں قاتل کے کئی رشتہ داروں کو مقدمہ میں غلط طور پر نامزد کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ لوگ اس سارے وقوعہ سے بالکل بے خبر اور لاتعلق ہوتے ہیں۔ اس مقدمہ میں نامزد کیے جانے کے بعد وہ سالہا سال تک تھانہ اور عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات انھیں اس مقدمہ میں سزا بھی ہو جاتی ہے۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کسی خاندان کے واحد
کفیل یا چند پیاروں کو قتل کر دیا گیا اور الٹا مقدمہ بھی ورثا پر بنا دیا گیا۔ پوچھنا چاہیے کہ کیا یہ بھی مذہبی رہنماؤں کے اکسانے پر ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ ایک معاشرتی رویہ ہے جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ اس طرح ممکن ہے کہ کہیں قانون توہین رسالت کا غلط استعمال ہو، لیکن اس میں مذہبی رہنماؤں کو قصور وار ٹھہرانا غلط اور انصاف کے خلاف ہے۔
مستند اعداد و شمار کے مطابق قانون توہین رسالت ﷺ کے تحت 2018ء تک جن لوگوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ ان میں سے 51 فیصد مسلمان، 26 فیصد قادیانی، 21 فیصد عیسائی اور 2 فیصد دیگر عقائد کے لوگ ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قانون توہین رسالت کے تحت سب سے زیادہ متاثر مسلمان ہوئے ہیں۔ اس لیے مذکورہ قانون کو کسی ایک خاص اقلیت کے حوالے سے دیکھنا درست نہیں۔ قانون توہین رسالت ﷺ ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ گستاخان رسول کو توہین رسالت کی کھلی چھٹی دے دی جائے۔
پاکستان میں بدقسمتی کی متعدد وجوہ کی بنا پر واقعاتی حقیقت یہ ہے کہ کون سا قانون ایسا ہے، جس کی خلاف ورزی نہیں ہورہی؟ کیا ہماری جیلوں میں جھوٹے مقدمات میں پھنسائے گئے کثیر تعداد میں بے گناہ عورتوں اور بچوں سمیت بہت سے قیدی موجود نہیں ہیں؟ تو پھر تبدیلی صرف اور صرف تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں کیوں؟ تعزیرات پاکستان کی کئی شقوں (193، 194، 195 وغیرہ) میں من گھڑت جھوٹا الزام لگانے والے اور جھوٹی شہادت دینے والوں کے لیے جرم کی نوعیت کے اعتبار سے سات سال قید، دس سال قید بامشقت، مالی جرمانہ، عمر قید سے لے کر سزائے موت تک کا قانون موجود ہے تو پھر صرف تحفظ ناموس رسالت کو ڈیل کرنے والی دفعہ ہی کیوں تبدیل یا غیر موثر کی جائے؟
کہا جاتا ہے کہ مغرب میں ہر طرح کی آزادی اظہار ہے، آزادی اظہار یورپ کا مذہب ہے، وہ اس پر کسی معمولی قدغن کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ لہٰذا مسلمانوں کو یورپ کے اس ”مذہب“ کا احترام کرنا چاہیے۔ پاکستان میں آزادی اظہار پر پابندی ہے، اس لیے یہ ترقی نہیں کر سکا۔
مغرب جو آزادی اظہار، آزادی رائے، آزادی تقریر و تحریر، حقوق انسانی، امن و آشتی، روشن خیالی، علم و شعور، وسعت نظر، تحمل، برداشت، عدم تشدد، مذہبی رواداری، شہری آزادی، فہم و تدبر، جمہوریت، حقوق نسواں اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ مہذب ہونے کا پرچارک اور بلا شرکت
بڑے چیمپیئن بننے کا دعویدار ہے۔ یہاں ہر رنگ، ہر نسل، ہر قوم اور ہر مذہب کے افراد رہتے ہیں جنہیں یکساں حقوق حاصل ہیں مگر مسلمانوں کے ساتھ اسلام دشمنی کی آڑ میں نفرت انگیز اور متعصبانہ رویہ رکھا جاتا ہے۔ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ، مغرب میں شراب خانوں کو مدینہ اور نائٹ کلبوں کو مکہ کا نام دیا جاتا ہے، کبھی جوتیوں پر قرآنی آیات منقش کر دی جاتی ہیں، کبھی زیر جامہ اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے والی تحریریں لکھ دی جاتی ہیں، مسلمانوں کی مسجدوں پر حملے اور ان کی بے حرمتی معمول کی بات ہے، گنبد اور مینار بنانے پر پابندی ہے۔ برقع اور سکارف کو اپنی تہذیب کے خلاف قرار دے کر پابندی لگا دیتے ہیں۔ راہ چلتی برقع پہنے خواتین پر تھوکا جاتا ہے۔ حالانکہ وہاں مردوں اور عورتوں کے سر عام ننگے ہونے پر کوئی پابندی نہیں۔ داڑھی اور پگڑی کو نفرت کی علامت بنا دیا گیا ہے، ایسے مسلمانوں پر ملازمت کے دروازے بند ہیں۔ اسامہ بن لادن کی داڑھی اور پگڑی والی تصویریں جوتوں اور انڈر ویئر پر شائع کر کے فروخت کی جاتی ہیں۔ خواتین کے ملبوسات پر مقدس قرآنی آیات چھاپنا، پھر ان ملبوسات کی نمائش کے لیے خواتین کی کیٹ واک کرنا، شراب کی بوتلوں کے ڈھکنوں، کوکا کولا کے کین، فٹ بال اور جوتوں پر کلمہ طیبہ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا نام لکھنا، اسلام کی مقدس شخصیات کے کرداروں پر فلمیں بنانا، مسجد اقصیٰ میں خنزیر کا سر رکھنے کے شر انگیز واقعات، پرنٹ میڈیا میں اسلامی مقدس شخصیات کی خیالی تصاویر شائع کرنا اور ان کے خیالی مجسمے بنانا، اسم محمد کو انگریزی میں بگاڑ کر لکھنا، رسائل و جرائد اور کتابوں میں توہین کرنا، انٹرنیٹ پر قرآنی آیات میں تحریف کرنا، فرشتوں، پیغمبروں، رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی فرضی تصاویر اور غلط فرضی معلومات فراہم کرنا تو مغرب کا روزہ مرہ کا معمول ہے۔ افسوس ہے کہ یہ سب کچھ آزادی مذہب اور آزادی اظہار کے نام پر کیا جاتا ہے۔
نہایت افسوس کی بات ہے کہ مغرب گستاخی رسولؐ کو آزادی اظہار سے تعبیر کرتا ہے لیکن اس کے ہاں کسی شخص کو یہ جرأت نہیں کہ وہ ہولوکاسٹ (Holo Caust) پر ایک لفظ بھی ادا کر سکے۔ ہولوکاسٹ کا مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا تھا کہ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے دور اقتدار میں پولینڈ کے شہر شونز میں بنائے گئے گیس چیمبرز میں تقریباً 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا۔ اس بنیاد پر یہودیوں کی نمائندہ تنظیم ”نیشنل جیوش کانفرنس“ نے یورپی اقوام سے مطالبہ کیا کہ ”ہٹلر نے دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کا قتل عام کیا ہے، جس میں 60 لاکھ یہودی مارے گئے اور اب بہت تھوڑے سے یہودی باقی بچے ہیں جن کے پاس زمین کا کوئی
ایسا خطہ موجود نہیں، جہاں وہ آزاد اور خود مختار حیثیت سے رہ سکیں، لہٰذا انھیں دوبارہ زندگی کی شروعات کے لیے ایک علیحدہ ریاست دی جائے۔ اس پروپیگنڈہ کے نتیجہ میں اُن کو اسرائیلی ریاست الاٹ کر دی گئی۔ بعد میں تحقیق ہوئی تو یہودیوں کا دعویٰ سراسر جھوٹا اور من گھڑت نکلا۔ تب یہودیوں نے ایک قانون بنوا دیا کہ ہولوکاسٹ کی مبینہ صداقت کو کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ جو شخص ہولوکاسٹ کے جھوٹ پر تحقیق کرے گا، وہ قابل گردن زدنی ہوگا۔ 19 جون 2004ء کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے حکومت کو یہ اختیار دیا کہ دنیا میں کبھی، کسی جگہ بھی اگر کوئی شخص 60 لاکھ کی تعداد کو کم بتانے کی کوشش کرے تو وہ اس پر مقدمہ چلا سکتی ہے اور اس ملک سے اسے نفرت پھیلانے کے جرم "Hate Criminal" کے طور پر مانگ سکتی ہے، گرفتار کر سکتی ہے اور سزا دے سکتی ہے۔ جرمنی جیسا ملک سالانہ 50 ملین مارک آج تک اسرائیل کو ادا کر رہا ہے اور یہ جرمانہ 2030ء تک ادا کیا جائے گا۔ اب وہاں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی اُس وقت جرمنی میں 60 لاکھ کے قریب یہودی موجود تھے؟
توہین رسالت ﷺ کے قانون پر سیخ پا ہونے والے وہ لوگ ہیں جو بنی نوع انسان کے عظیم محسنوں یعنی اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں کے خلاف بغض رکھتے ہیں اور ان کی بے ادبی اور گستاخی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس لیے وہ توہین رسالت کے قبیح اور گھناؤنے فعل کے مجرموں کے ساتھ ہمدردی کے جوش میں احترام انسانیت اور احترام قانون جیسی اعلیٰ اقدار کو بھی پامال کر دیتے ہیں۔ جب ایک عام انسان کی توہین قانوناً جرم ہے تو کیا مسلمانوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے دل و جان سے عزیز پیغمبر ﷺ کی توہین کو سنگین جرم قرار دیں!
سیکولر حضرات کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ہمیں مولویوں کا پاکستان نہیں بلکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ کا پاکستان چاہیے۔
سیکولر حضرات کو معلوم ہونا چاہیے کہ مذکورہ بالا دونوں شخصیات نہ صرف اسلامی تعلیمات سے بے حد متاثر تھیں بلکہ وہ دونوں عملی زندگی میں بھی اس پر عمل پیرا تھے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے گستاخ رسول راجپال کو جہنم واصل کرنے والے غازی علم الدین شہیدؒ کا مقدمہ لڑا تھا۔ انھوں نے مقدمہ کے واقعات کو سامنے رکھ کر انتہائی قابلیت کے ساتھ غازی علم الدین کا مقدمہ لڑا۔ انھوں نے انتہائی مدلل اور علمی دلائل دیئے۔ عینی گواہوں کے بیانات اور سیشن جج کے فیصلہ کی کمزوریوں کو واضح کر کے کیس کے بخیے ادھیڑ دیئے۔ مختصراً
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی ذات پر رکیک حملے کرنا جرم ہے۔ راجپال کی کتاب انتہائی دلآزار ہے۔ اسے پڑھ کر کوئی بھی مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ کی ناموس کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ملزم کا یہ قتل انتہائی اشتعال انگیزی پر مبنی ہے، اس لیے غازی علم الدین کے خلاف زیر دفعہ 302 قتل عمد کے بجائے 308 قتل بوجہ اشتعال کارروائی کی جانی چاہیے اور ملزم کو موت کے بجائے سات سال قید کی سزا کا مستوجب سمجھنا چاہیے۔
اگر قائداعظم سیکولر ہوتے تو وہ غازی علم الدین شہیدؒ کے مقدمے کی پیروی کے بجائے روایتی سیکولروں کی طرح یہ کہتے کہ چونکہ سیکولرازم کے تحت ہر شخص کو فکر کی آزادی کا حق حاصل ہے، اس لیے راجپال نے اہانت رسولؐ پر مبنی مواد شائع کر کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے، اس لیے میں ”آزادی اظہار کے علمبردار“ راجپال کی طرف سے عدالت میں پیش ہوں گا۔ جبکہ گستاخ راجپال کو قتل کرنے والے غازی علم دین کا مقدمہ لڑنے کے لیے قائداعظم محمد علی جناحؒ خصوصی طور پر لاہور آتے رہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ قائداعظم غازی علم دین کے اقدام کو درست سمجھتے تھے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بھی جواب ہے جو یہ بودی دلیل دیتے نظر آتے ہیں کہ گستاخ کی سزا ہے بھی تو وہ مسلم ممالک میں نافذ کرنے کے لیے ہے، کیونکہ جس وقت غازی علم دین نے راجپال کو انجام تک پہنچایا اور قائداعظم نے ان کا مقدمہ لڑا، اس وقت برصغیر پر انگریزوں کی حکمرانی تھی۔
اسی طرح غازی علم الدین شہیدؒ کے جنازہ کے موقع پر تحریک پاکستان کے فکری باپ حضرت علامہ اقبالؒ نے روتے ہوئے تاریخی جملہ فرمایا:
معترضین کا کہنا ہے کہ اگر قانون توہین رسالت ختم کر دیا جائے تو نہ صرف اقلیتوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو جائے گا بلکہ اس سے کچھ بھی فرق نہ پڑے گا۔
معترضین کا یہ مطالبہ نہایت مضحکہ خیز ہے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا یہ قانون قرآن وسنت پر مبنی اور متفقہ علیہ ہے۔ اسے ختم کرنے کا مطالبہ مسلمانوں کی دل آزاری اور اسلامی بنیادی عقیدے پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ انتہا پسند عناصر اس قانون کو ختم کرنے کے کیوں درپے اور بضد ہیں جبکہ یہ قانون اقلیتوں کا محافظ ہے۔
مجموعہ ضابطہ فوجداری (Criminal Procedure Code) کے تحت تقریباً تمام مقدمات کی تفتیش ایک عام پولیس آفیسر ASI کرتا ہے۔ لیکن اگر کسی ملزم کے خلاف
قانون توہین رسالت (295/C) کے تحت مقدمہ درج ہو تو مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 156-A کے تحت تفتیش کرنے والا آفیسر کسی صورت بھی ایس پی (SP) کے عہدے سے کم نہیں ہوگا۔ یادرہے کہ ایس پی یا ڈی پی او پورے ضلع کا سربراہ اور عموماً سی ایس ایس آفیسر ہوتا ہے۔ وہ اس کیس کی پوری دیانتداری، غیر جانبداری اور دلجمعی کے ساتھ تفتیش کرے گا اور اگر وہ شواہد و واقعات کی بنا پر یہ محسوس کرے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ غلط درج ہوا ہے تو وہ اسے اپنی تفتیش میں بے گناہ قرار دے کر مقدمہ خارج کر دے گا۔ علاوہ ازیں اگر ملزم، ایس پی کی تفتیش یا اس کے رویے سے مطمئن نہ ہو تو پولیس رولز کے مطابق اعلیٰ پولیس حکام کو درخواست دے کر تفتیش تبدیل کرواسکتا ہے۔ اس پر کوئی دوسرا ایس پی یا اس سے کوئی بڑا آفیسر DIG وغیرہ اس کیس کی تفتیش کرے گا۔ اس کے بعد مقدمہ/ چالان سیشن کورٹ میں آتا ہے جہاں استغاثہ کے تمام گواہ پیش ہوتے ہیں جن پر ہر طرح سے جرح ہوتی ہے۔ پھر گواہان صفائی پیش ہوتے ہیں، ملزم کا اپنا بیان ریکارڈ ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے وکلا اپنے دلائل دیتے ہیں۔ پراسیکیوٹر بھی اپنی قانونی رائے سے عدالت کو مطلع کرتا ہے۔ آخر میں جج صاحب پورے ریکارڈ کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیتے اور فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ یہاں اگر ملزم بری ہو جائے تو ٹھیک ورنہ وہ اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے جہاں دو معزز جسٹس صاحبان اس سارے کیس کا مکمل جائزہ لیتے اور فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ اگر یہاں بھی ملزم کے خلاف فیصلہ آجاتا ہے تو وہ سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں ایسے کیس کی سماعت تین جج صاحبان کرتے ہیں۔ اگر یہاں بھی فیصلہ ملزم کے خلاف ہو جائے تو وہ اس پر نظر ثانی اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اگر یہاں بھی فیصلہ خلاف آجائے تو سزا کے خلاف صدر مملکت کے پاس رحم کی اپیل کی جاسکتی ہے۔ ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اتنے سارے مواقع میسر آنا نہایت خوش آئند بات ہے۔ اس طریقہ کار کی موجودگی میں قانون توہین رسالت کی تنسیخ کا مطالبہ غیر قانونی اور غیر منصفانہ ہے۔ ملزم کے خلاف سزا کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ اگر یہ قانون موجود نہ ہو تو لوگ مشتعل ہو کر ملزم کو موقع پر ہی قتل کر دیں گے۔
اس قانون سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ یہ قانون تو ملزم کو عوام کے غیظ وغضب سے نکال کر تحفظ فراہم کرتا ہے اور ملزم کو صفائی کا موقع ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1200 سے زائد مقدمات میں اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے اب تک کسی کو بھی سزائے
موت نہیں ہوئی ہے۔ اگر ان ملزمان کو عوام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا تو شاید ایک بھی زندہ نہ بچ سکتا۔ یہ اس قانون کے جواز اور ضرورت کا اہم پہلو ہے۔ قانون توہین رسالت ختم ہونے سے ایک نئے فتنے کا دروازہ کھل جائے گا اور لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر خود کارروائی کریں گے جو قابل افسوس ہوگا اور جسے روکنا ناممکن ہو جائے گا؟
قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والوں سے ایک سوال یہ ہے کہ اس قانون کی موجودگی میں آخر انھیں کس بات کا ڈر یا خوف ہے؟ ہمارے خیال میں ڈر یا خوف اسے ہوتا ہے جس کے دل میں چور ہو۔ مثال کے طور پر ایک شخص شراب نہیں پیتا، اسے شرابی کی سخت سے سخت سزا پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ ایک شخص زنا کے قریب بھی نہیں پھٹکتا، اسے زنا کے مرتکب ملزم کو دی جانے والی سخت ترین سزا سے کیا اندیشہ۔ ایک شخص ڈکیتی کی واردات کا سوچ بھی نہیں سکتا، اسے ڈکیتی کے ملزم کو دی جانے والی سزا پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ اس طرح اگر کسی نے توہین رسالت کا ارتکاب نہیں کرنا یا وہ اس کا سوچ بھی نہیں سکتا تو اسے اس قانون پر کیا اعتراض اور خدشہ ہے۔ ڈر اور خوف کا شکار صرف وہی لوگ ہیں جن کے دل میں چور ہے، جو توہین رسالت کا ارتکاب کرنا چاہتے ہیں، جو مسلمانوں کی مقدس ترین ہستی کی شان میں توہین و تنقیص کا لائسنس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک مغربی ایجنڈا ہے جس کی تکمیل کے لیے ایک انتہا پسند گروہ سرگرم عمل ہے۔ اگر معترضین کا یہ ناجائز مطالبہ مان لیا گیا تو کل کلاں ان کے مطالبات کی فہرست مزید بڑھ جائے گی۔ وہ تو یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین پاکستان سے قرارداد مقاصد کو ختم کیا جائے۔ تمام اسلامی قوانین کو منسوخ کیا جائے۔ شراب اور زنا پر عائد پابندی ختم کی جائے۔ پاکستان کے ساتھ لفظ اسلامی جمہوریہ ختم کیا جائے، قرآن مجید پر نعوذ باللہ نظر ثانی کی جائے...... آخر آپ چند مٹھی بھر سیکولر حضرات کے کس کس مطالبہ کو پورا کریں گے؟ پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر بنائے گئے کتنے قوانین ختم کریں گے؟ کیا اکثریت کے کوئی حقوق نہیں؟ کیا اکثریت کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے کا کوئی حق نہیں۔
اگر یہ قانون موجود نہ ہو تو پھر مجرموں (گستاخوں) اور ان کے حامیوں پر عدالت کے دروازے بند ہو جائیں گے جس کی وجہ سے ہر شخص قانون اپنے ہاتھ میں لے کر مجرموں سے انتقام لے گا جس سے ملک میں انارکی پھیلے گی۔ قانون ختم ہونے پر ملک گیر احتجاج کا ایک نہ تھمنے والا طوفان اٹھے گا، ہر گلی سے مسلمان نکلیں گے اور گستاخوں کو خود کیفر کردار تک پہنچائیں گے اور یہ
ملکی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا۔
معتبر ذرائع کے مطابق اس قانون کے تحت 1986ء سے لے کر اب تک بارہ سو سے زائد مقدمات درج ہوئے ہیں مگر آج تک ان میں سے کسی ایک کو بھی سزائے موت نہیں دی گئی۔ نتیجتاً 40 سے زائد ملزمان مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ قانون توہین رسالت پر قانون کی روح کے مطابق موثر انداز میں عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ یہ بھی ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ماتحت عدالتیں تمام قانونی شواہد و واقعات کی موجودگی میں پورے طور پر مطمئن ہو کر ملزمان کو سزا سناتی ہیں جس کے بعد مغربی دنیا اس پر احتجاج کرتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے اور ملزم کی رہائی کے لیے سفارتی سطح پر ہر طرح کا دباؤ ڈالا جاتا ہے جس سے مجبور ہو کر حکومت ملزم کو عدالت سے بری کروانے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔ اور بالآخر ملزم ”باعزت“ طور پر رہائی حاصل کر کے پورے پروٹوکول کے ساتھ بیرون ملک روانہ ہو جاتا ہے۔ جب کسی کو یہ معلوم ہو کہ مسلمانوں کے مقدس ترین ہستی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں توہین کرنے پر نہ صرف اُسے کوئی سزا نہیں ملے گی بلکہ اپنی مرضی کے مغربی ملک میں فیملی سمیت ویزا، نیشنلٹی اور لاکھوں ڈالر ملیں گے تو اس کی نہ صرف حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ وہ یقیناً ایسے قبیح فعل کا ارتکاب ضرور کرے گا۔
یہ بات بھی بڑی فکر انگیز ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صدر پاکستان اور گورنرز وغیرہ کو خاص استثنا حاصل ہے کہ وہ کچھ بھی کریں (خواہ بڑے سے بڑا فوجداری جرم ہی کیوں نہ ہو) یا کچھ بھی کہیں، انھیں ملک کی کسی عدالت میں نہیں بلایا جا سکتا۔ مزید براں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عدلیہ اور حساس اداروں پر تنقید قابل جرم ہے جس کی قانون میں سخت سزا مقرر ہے۔ اس طرح تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123 بی کے تحت پاکستانی پرچم کی توہین قابل جرم ہے۔ معترضین نے ان سزاؤں پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس صدر، گورنر، عدلیہ، حساس اداروں یا پاکستانی جھنڈے سے بھی کم ہے۔ تانگے میں جتے گھوڑے کی طرح آنکھوں پر کھوپے چڑھا کر صرف ایک ہی رُخ پر دیکھنا قرین انصاف نہیں۔ اگر یہ قانون ختم ہو گیا تو ملک بھر میں لاء اینڈ آرڈر کا ایسا مسئلہ پیدا ہو جائے گا جس کی تلافی شاید ناممکن ہو۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں لکھا تھا:
- ”مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295۔سی کے احکامات نے یہ بات ممکن بنا دی
ہے کہ ملزموں کا عدالتی طریقہ کار سے مواخذہ کیا جاسکے اور معاشرہ میں یہ رجحان پیدا کر دیا ہے کہ قانونی کارروائی کا سہارا لیا جائے۔ تعزیرات پاکستان کی مذکورہ بالا دفعہ کے تحت مقدمے کے اندراج سے ملزم کو ایک عرصہ حیات میسر آ جاتا ہے۔ اس امر کے پورے مواقع کے ساتھ کہ وہ اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے عدالت میں اپنا دفاع کرے اور سزایابی کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں میں اپیل ، نگرانی وغیرہ جیسی داد رسی کا فائدہ اٹھائے ۔ کوئی بھی شخص ، کجا ایک مسلمان ، ممکنہ طور پر اس قانون کی مخالفت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ من مانی کا سدباب کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے۔ اگر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295۔سی کے احکامات کی تنسیخ کر دی جائے یا انھیں دستور سے متصادم قرار دے دیا جائے تو معاشرہ میں ملزموں کو جائے واردات پر ہی ختم کرنے کا پرانا دستور بحال ہو جائے گا۔‘‘
(پی ایل ڈی 1994ء لاہور 485)
قارئین کرام ! اس وقت اسلام دشمن بیرونی طاقتوں کے دباؤ پر پاکستان میں قانون توہین رسالت ﷺ کو پس پردہ غیر مؤثر یا ختم کیے جانے کے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ قانون توہین رسالت ﷺ کو ختم کیے جانے کا مطلب ہے کہ (نعوذ باللہ ) گستاخان رسول کو حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں توہین کرنے کا کھلا لائسنس دے دیا جائے ۔ حضور شافع محشر ﷺ کے ایک ادنیٰ امتی ہونے کے ناطے ہمیں اس قانون کی حفاظت کے لیے اپنی حیثیت سے بڑھ کر تمام ضروری کاوشیں اور وسائل بروئے کار لانے چاہئیں۔ یاد رکھیے! جو شخص دامے درمے قدمے سخنے کسی بھی طریقے سے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا کام کرتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کام کی ترغیب اور تلقین کرتا ہے تو یقیناً وہ قبر وحشر میں ہر قسم کے خوف سے آزاد ہو گا ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس اور ختم نبوت کا تحفظ کرنے والے خوش نصیبوں کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی توفیق اور خاص رحمت کے بغیر ممکن نہیں ۔ اللہ تعالیٰ یہ اہم کام صرف انھی لوگوں سے لیتے ہیں جن کی بخشش اور مغفرت کرنا مقصود ہو۔ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس کا تحفظ اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب ہے۔ اس سے معرفت کا نور پیدا ہوتا ہے۔ دعائیں قبول ہوتی ہیں، رزق میں برکت پیدا ہوتی ہے، یہ عظیم الشان کام قبر میں چراغ نجات ہے، اندھیرے میں روشنی ہے، جہنم کی آگ کے لیے آڑ ہے، پل صراط سے جلدی سے گزارنے والا ہے۔ اس حقیقت میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ حرمت رسول ﷺ کے تحفظ کے لیے کام کرنے والا ہر شخص جنتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کے ایک ارشاد پاک کا مفہوم ہے ’’اگر کسی نے
ہم پر کوئی احسان کیا ہے تو ہم نے اس کا بدلہ دے دیا ہے سوائے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے کہ ان کے احسانات کا بدلہ قیامت کے دن انھیں اللہ تعالیٰ دے گا‘‘۔ یہ قاعدہ و قانون اب بھی موجود ہے۔ آج بھی اگر کوئی شخص حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت اور عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے تو حضور علیہ الصلوٰۃ السلام اس کے اس فعل سے نہ صرف بے حد خوش ہوتے ہیں بلکہ آپ ﷺ، اس شخص کے اس احسان کا بدلہ قیامت کے دن اپنی شفاعت کے ذریعے ادا فرمائیں گے...... ایک گنہگار امتی کو اس سے بڑھ کر اور کیا انعام چاہیے! حقیقت یہ ہے کہ تمام دعاؤں سے تو دنیا ملتی ہے۔ مگر تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے کام سے سرکار دو جہاں یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ملتے ہیں، جب آپ ﷺ مل گئے تو پھر کمی کس چیز کی ہے۔ دنیا میں بھی کامیابی، آخرت میں بھی کامیابی۔
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ
محمد متین خالد
تحفظ ناموس رسالت ﷺ چند ایمان پرور گوشے
نسبتیں اُس وقت محترم ہوتی ہیں جب وہ ارفع اور اعلیٰ انسانوں سے ہوں اور جب ایسی ہستی کی نسبت کا حوالہ آئے جو خالق کون و مکاں کے بعد سب سے بڑی ہو تو نسبت کتنی وقیع ہوگی، حوالہ کتنا معتبر ہوگا اور ذکر کتنا متبرک ہوگا، کوئی اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔
نسبت رسول ﷺ کائنات کی سب سے قیمتی دولت ہے۔ یہ نسبت کا ہی فیضان ہے کہ جس جگہ پر حضور سرور ہر عالم ﷺ آرام فرما رہے ہیں، وہ جگہ عرش معلیٰ اور کعبہ و کرسی سے بھی اعلیٰ وافضل ہے۔ یہ بھی نسبت کا فیض ہے کہ اصحاب کہف کا کتا، حضرت اسماعیل علیہ السلام کا دنبہ، حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی، حضرت عزیر علیہ السلام کا گدھا اور حضور نبی کریم ﷺ کا براق جنت میں جائیں گے۔ یہ نسبت کی برکت ہے کہ خانہ کعبہ میں ایک رکعت کا ثواب ایک لاکھ کے برابر اور مسجد نبوی ﷺ میں ایک رکعت کا ثواب پچاس ہزار رکعتوں کے برابر ملتا ہے۔ یہ نسبت کا ہی حسن ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے حجر اسود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ کسی کو نفع۔ اگر رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔ یہ نسبت کی ہی برکت ہے کہ قرآن مجید کی تعظیم وتکریم تو مسلمہ ہے ہی، مگر غلاف کی بھی تعظیم اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ قرآن مجید کے نسخہ کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ یہ بھی نسبت کا فیض ہے کہ ایک ہی بھٹے سے تیار ہونے والی اینٹ کسی گھر یا مسجد کی تعمیر میں استعمال ہوتی ہے مگر احترام کے حوالے سے دونوں میں فرق ہے۔ اسی طرح پانی دنیا بھر میں ہر جگہ موجود ہے لیکن آب زم زم کا کوئی مقابلہ نہیں۔ کیا یہ سارے حسن اتفاق نسبت کی مرہون منت نہیں؟
آنکھ ہو یا دل، ہاتھ ہو یا پاؤں، جب اس کا تعلق کسی سے ہو جاتا ہے تو اس کی طرف
کھنچتا چلا جاتا ہے۔ مقناطیس سے چمٹ کر لوہا خود کب جدا ہو سکتا ہے۔ صفا و مروہ کی عام پہاڑیوں کو بے بسی کے غار سے نکالنا نسبت ہی کا کام ہے۔ اب جو ساری کائنات کی بہاریں ان پر فدا ہو رہی ہیں تو کیا اس میں ان کا کوئی ذاتی وصف بھی ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدموں کی ٹھوکر لگنے والے پانی کے چشمے کے سوتے دو اڑھائی ہزار سال سے خشک نہیں ہو رہے تو آخر کیوں؟ کس کی نسبت نے ان کو شہرت کے بام عروج تک پہنچا دیا ہے۔ نظم کائنات میں چاروں طرف بکھرے ہوئے ہزاروں نہیں، لاکھوں شعبہ جات میں یہ کرشمہ سازیاں دیکھی جاسکتی ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ نسبت ہی باعث نجات ہے۔
ہے قابل فخر یہ گرامی نسبت
بلاشبہ نسبتیں عظیم ہوتی ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ سلسلۂ خیر کا ہو تو نجات اخروی مقدر بنتی ہے اور مقصد دنیا ہو تو بھی سیم و زر کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ یہ محض لکیروں اور ستاروں کی گفتگو نہیں، زمینی حقیقت ہے کہ جس نے جس سے تعلق استوار کیا، وہ ربط اس کے بخت سنوار گیا۔ حضور رحمت عالم ﷺ کا اسم گرامی اتنا عظیم ہے کہ سو سالہ کفر و طغیان میں ڈوبا ہوا شخص بھی یہ نام لے کر ایمان و اتقیٰ کی آخری سرحدوں کو فوراً چھو لیتا ہے۔ یہ اسی عظیم ترین محبوب ﷺ کی نسبت کا رنگ ہے۔ اگر چڑھ جائے تو منسوب اس نسب کے حوالہ سے ساری دنیا کے لیے محسود بن جائے۔ جس شخص کو نسبت رسول ﷺ نصیب ہو جائے، اس کا رتبہ بدل جاتا ہے۔ یہی وہ متاع عظیم ہے جس پر صحابہ کرامؓ فخر کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کی فضیلت حالت ایمان میں حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کے سبب ہے اور ان کے رتبے تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ امت مسلمہ کو باقی تمام امتوں سے زیادہ فضیلت صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وجہ سے عطا ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی آمد سے قبل مدینہ کو یثرب (آفات اور بیماریوں والی جگہ) کہا جاتا تھا مگر آپ ﷺ کے مبارک قدموں کی نسبت سے مدینہ کی مٹی میں شفا رکھ دی گئی۔
کسی چیز کے ساتھ کسی چیز کو نسبت ہوتی ہے تو اس نسبت کی قدر اس چیز کے مطابق ہوتی ہے جس کے ساتھ اس کو نسبت ہوتی ہے۔ ارفع و اعلیٰ چیز کے ساتھ نسبت رکھنے والی چیز بھی معزز ہو جاتی ہے۔ خانہ کعبہ کے غلاف کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اگر کسی کو مل جائے تو وہ اس سعادت پر فخر کرتا ہے۔ یہ سب نصیب کی بات ہے۔ محبوب سے نسبت رکھنے والی چیز محبوب ہوتی ہے۔
نسبت اگر احسن ہو تو لاریب پستی کو بھی بلندی کا شرف مل جاتا ہے۔ خاک کی نسبت اگر نعلین پاک سے ہو جائے تو وہ اہل نظر کی آنکھ کا سرمہ بن جاتی ہے اور جس کی نسبت سرکار دو عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ سے ہو جائے تو اُس کے مقدر کے کیا کہنے!......
نسبت رسول ﷺ سند ایمان ہے۔ اس کے بغیر ایمان کا کوئی اعتبار نہیں۔ ایک مسلمان کے لیے نسبت رسول ﷺ بہت بڑا اعزاز ہے۔ دین اسلام کی سلامتی اور ایمان کے استحکام کا انحصار نسبت رسول ﷺ کی موجودگی پر ہے۔ اگر یہ نسبت قائم ہے تو دین و ایمان کی عمارت سلامت ہے اور اگر خدا نخواستہ یہ نسبت ٹوٹ جائے تو سمجھ لیجیے کہ سب کچھ رائیگاں چلا گیا۔ حضور نبی کریم ﷺ سے محبت و عقیدت کا تقاضا ہے کہ ہم ہر اس چیز سے محبت کریں جس کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نسبت ہے۔
تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے ہر مجاہد کو نہ صرف حضور نبی کریم ﷺ سے خاص نسبت حاصل ہو جاتی ہے بلکہ اسے آپ ﷺ کا خصوصی قرب و فیض بھی نصیب ہوتا ہے۔ وہ آپ ﷺ کی خاص رحمت، نگاہ التفات اور شفاعت کا مستحق ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو ثابت کرتا ہے کہ اگر وہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور مبارک میں ہوتا تو جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد میں حصہ لیتا۔ اس کا یہ صادق جذبہ اُسے حمایتی رسول، حواری رسول اور عاشق رسول ﷺ بنا دیتا ہے۔ یہ نسبت اتنی عظیم ہے کہ دنیا کی کوئی نسبت اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔ تحفظ ختم نبوت کی نسبت اگر کسی کو نصیب ہو جائے تو اسے اپنے مقدر پر رشک کرنا چاہیے۔
نازاں ہوں کہ نسبت ہے مجھے نام سے تیرے
فصل بہار سے باغوں کی نسبت ہوا کو ہر وقت عطر بیز اور خوشبودار کر دیا کرتی ہے۔
شیخ سعدی کا فرمان ہے:
رسید از دست محبوبے بدستم
کہ از بوئے دل آویز تو مستم
بگفتا من گل ناچیز بودم
جمال ہم نشیں درمن اثر کرد
وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم
ترجمہ: ایک دن ایک نہایت ہی خوشبودار مٹی حمام میں مجھے ایک محبوب کے ہاتھ سے ہاتھ میں آئی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تو مشک یا عبیر کہ میں تیری دل آویز خوشبو سے مست ہو گیا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں ایک ناچیز سی مٹی ہوں لیکن مدتوں گلاب کے ساتھ رہی۔ جمال ہم نشیں نے مجھ پہ اثر کیا وگرنہ میں تو وہی بے مایہ سی مٹی ہوں جو تھی، یہ خوشبو اُس کی نسبت اور رفاقت کا اثر ہے۔
محبت رسول ﷺ ............. ایمان کی آکسیجن
آکسیجن انسان کی بقا کے لیے بنیادی اور سب سے اہم ضرورت ہے۔ کھانا پانی ایک مدت تک نہ بھی ملے تو انسان زندہ رہ سکتا ہے لیکن آکسیجن تھوڑی دیر کے لیے بھی نہ ملے تو انسان کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ خون میں آکسیجن کی مقدار اور دباؤ میں کمی کے باعث انسان کی حالت نازک اور تشویشناک ہو جاتی ہے۔ دراصل ہمارا جسم کروڑوں خلیوں کا مرکب ہے اور خلیہ ہی زندگی کی بنیاد ہے اور آکسیجن ہر خلیے کی بنیادی ضرورت۔ اگر خلیوں کو حسب ضرورت آکسیجن نہ ملے تو ان کی موت واقع ہو جاتی ہے اور خلیوں کی موت ہی انسان کی موت ہے۔ سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچائی ہوئی آکسیجن خون کے دوران کے ساتھ ساتھ دل سے ہوتی ہوئی جسم کے کروڑوں خلیوں تک پہنچتی ہے۔ آکسیجن دل و دماغ، آنکھوں، کانوں اور جسم کے دوسرے حصوں میں باقاعدگی کے ساتھ پہنچتی رہتی ہے جس کے نتیجے میں دل و دماغ، آنکھیں اور کان نہایت عمدگی کے ساتھ اپنا اپنا کام انجام دیتے رہتے ہیں۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے نہ صرف غنودگی، ذہنی تھکان، سر درد اور متلی کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے بلکہ تشنج، اینٹھن اور جھٹکے شروع ہو جاتے ہیں بعض اوقات انسان کوما میں چلا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے فیصلے کرنے کی قوت اور یادداشت بُری طرح متاثر ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو دل، دماغ، آنکھوں اور کانوں کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں، وہ صرف طبعی کارکردگی کے لیے ہی نہیں ہیں کہ دل صرف خون کے دوران کے لیے پمپ کا کام کر رہا ہو، دماغ انسانی جسم کی نشوونما یا انسانی حرکات وسکنات کے لیے احکامات جاری کرنے ہی میں مصروف ہو، آنکھیں صرف دیکھ رہی
ہوں یا کان صرف سُن رہے ہوں، بلکہ نفسانی اور روحانی کارکردگی میں بھی ان کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ آنکھیں نہ صرف دیکھ سکتی ہیں بلکہ حق و باطل میں تمیز بھی کرسکتی ہیں، کان نہ صرف سُن سکتے ہیں بلکہ سُن کر حق و باطل میں فرق کو محسوس کر سکتے ہیں۔ آنکھوں اور کانوں کی فراہم کردہ معلومات کی بنا پر دماغ تدبر کرتا اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کر سکتا ہے پھر اس فیصلے کو دل قبول کر بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔
جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ محبت رسول ﷺ ایمان کی آکسیجن ہے جو روح کو تقویت پہنچاتی ہے۔ یہ آکسیجن جس قدر وافر، شفاف اور منزہ ہوگی، اسی قدر ایمان مضبوط ترین اور روح حق شناس ہوگی۔ جن لوگوں کے پھیپھڑوں میں محبت رسول ﷺ کی آکسیجن پہنچتی رہتی ہے، ان کی آنکھیں، کان اور دماغ حق کو نمایاں کرتے اور حق کی تائید کرتے ہیں جس کی وجہ سے دل حق کو قبول کر لیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے لامحدود اور غیر مشروط محبت ایمان کی بنیاد ہے۔ اگر اس میں خامی ہوگی، تو ایمان ناقص ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت، مومن کا گراں بہا سرمایہ ہے اور کسی مومن کا دل اس سے خالی نہیں ہوسکتا کیونکہ یہی محبت مقصود حقیقی کے قرب اور اس کی ذات و صفات کے صحیح تصور کا واحد ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ: ”اے پیغمبر ﷺ! آپ ان لوگوں سے صاف صاف کہہ دیجئے کہ اگر تمھارے ماں باپ، تمہاری اولاد، تمھارے بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ قبیلہ اور تمہارا وہ مال و دولت جس کو تم نے محنت سے کمایا ہے اور تمہاری وہ چلتی ہوئی تجارت جس کی کساد بازاری سے تم ڈرتے ہو اور تمھارے رہنے کے وہ اچھے مکانات جو تم کو پسند ہیں (پس دنیا کی محبوب و مرغوب چیزیں) اللہ، اللہ کے رسول ﷺ اور اللہ کے دین کی راہ کی جدوجہد سے زیادہ تمھیں محبوب ہیں تو انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم اور فیصلہ نافذ کرے اور یاد رکھو، اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا“۔ (توبہ: 24)
یہ آیت اس باب میں دلیل ہے کہ آپ ﷺ کی محبت ضروری اور لازمی ہے اور جس شخص کو ان مذکورہ آٹھ اشیاء میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے رسول ﷺ سے زیادہ پیاری ہو، اسے ایسا گم کردہ راہ بتلایا ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں فرماتے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کو اپنی جان سے بھی پیارا سمجھا جائے۔ ایک اور جگہ پر ارشاد خداوندی ہے: النبی اولٰی بالمومنین من انفسہم۔ (احزاب: 6) ”مؤمن کا اپنی جان پر جتنا حق
ہے، اس سے زیادہ اس کی جان پر نبی ﷺ کا حق ہے‘‘۔
دراصل ایمان نام ہے محبت رسول (ﷺ) کا۔ حُب رسول (ﷺ) کے بغیر ایمان کی تکمیل ناممکن ہے بلکہ مسلمان ہونے کی شرط اوّلین، محبت مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء ہے۔ بخاری شریف کتاب الایمان میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا:
- لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و وَلَدِہِ والناس اجمعین.
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک میری ذات اسے اس کے والدین، اولاد حتیٰ کہ تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے‘‘۔
(صحیح البخاری:15)
اور ایک روایت میں ہے کہ ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہوجاؤں‘‘۔
زیر نظر حدیث کا حاصل یہ ہے کہ تکمیل ایمان کا مدار حبّ رسول پر ہے جس شخص میں نبی اعظم و آخر ﷺ سے اس درجہ کی محبت نہ ہو، اس کے ایمان کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین صفات جس میں پائی جائیں وہ ایمان کی شیرینی کو پالے گا۔ پہلی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ دوسری: اگر کسی سے محبت رکھے تو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے۔ تیسری: یہ کہ کفر میں جانے کو اسی طرح برا سمجھے جس طرح آگ میں گرائے جانے کو برا سمجھتا ہے‘‘۔
(بخاری ومسلم)
اسی طرح حضرت انس بن مالکؓ سے ایک اور روایت ہے کہ ’’ایک شخص بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ! یہ فرمائیے کہ قیامت کب برپا ہوگی؟ شافع محشر ﷺ نے اس سے پوچھا: مَا اَعْدَدْتَ لَهَا تم نے قیامت کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان! میں نے نہ تو زیادہ نمازیں پڑھی ہیں، نہ زیادہ روزے رکھے ہیں اور نہ زیادہ صدقات ہی دیے ہیں۔ لَكِنِّيْ اُحِبُّ اللهَ وَرَسُوْلَهُ۔ البتہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا: ’’اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ تُو اس کے ساتھ ہوگا جس سے تُو محبت کرتا ہو گا‘‘۔
(صحیح بخاری)
ہر مسلمان فاقہ کشی کی زندگی تو گزار سکتا ہے لیکن اگر اس کے قلوب واذہان سے روح
محمد ﷺ نکال لی جائے تو یہ فوراً مر جائے گا کیونکہ اس کی سانسیں محبتِ رسول ﷺ سے وابستہ ہیں۔ اگر اس کو محبتِ رسول ﷺ کی روحانی تسکین اور ٹھنڈک سے الگ کر دیا جائے تو زمانے کی گرمی اسے جھلسا کے رکھ دیتی ہے۔ عطرِ سخن یہ کہ مسلمانوں کا جینا مرنا غلامی رسول ﷺ سے وابستہ ہے۔ محبتِ رسول ﷺ ایسی متاعِ گرانمایہ ہے جس کے سامنے تمام ارضی و سماوی نعمتیں ہیچ ہیں۔ یہ ایک ایسا یدِ بیضا ہے جس کے مقابلے پر دنیا و جہاں کی تمام چیزیں سحرِ سامری سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت ایک ایسا پھول ہے جو اگر کسی کے دل میں ایک بار کھل اُٹھے تو پھر کبھی نہیں مرجھاتا بلکہ اس کی رنگینی، شگفتگی اور تازگی روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہے۔ وقت کے تیز و تند تھپیڑے اور زمانے کے آہنی ہاتھ اُس کی کومل پنکھڑیوں کو نہ تو چھو سکتے ہیں اور نہ ہی تاراج کر سکتے ہیں۔ یہ وہ ارفع پھول ہے جس کی خوشبو روح کو لطافت اور من کو بالیدگی بخشتی ہے۔ خوش بخت ہیں وہ لوگ جن کے دلوں کے آنگن میں محبتِ رسول ﷺ کے پھول کھلے ہیں اور ان کی خوشبو اُن کے رگ و پے میں بس گئی ہے۔ وہ بڑے اعلیٰ لوگ ہیں اور اُن سے بڑی دولت پوری کائنات میں نہیں۔ رسول پاک ﷺ سے محبت تو مسلماں کی زندگی کی ہر ہر سانس میں مہکتی اور دھیمی دھیمی آنچ کی طرح اس کے ہر قطرۂ خون میں دہکتی رہتی ہے۔ کلمہ گو مسلمان جو بھی ہو اور جیسا بھی ہو، اپنے دل میں سبز مخمل میں لپٹی ایک چھوٹی سی ڈبیہ ضرور رکھتا ہے جس میں محمد عربی ﷺ کی محبت کا گلاب ہر آن مہکتا رہتا ہے۔
اہل عشاق کا کہنا ہے کہ آمنہؓ کے لعل، سید الانبیا ﷺ کا اسمِ گرامی تشنہ لبوں پہ شبنم بکھیرے اور چشمِ تر میں چراغاں نہ ہو ...... سانسوں میں خوشی کے آبگینے نہ پھوٹیں ...... دل کی دھڑکنیں حرفِ سپاس نہ بنیں ...... اور اقلیمِ روح میں شہنائیاں نہ بج اٹھیں ...... تو سمجھو کہ تمہارے جذبۂ محبت میں کچھ کمی رہ گئی ہے ...... ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سید الانبیا ﷺ کا اسمِ گرامی اور ذکرِ خیر لبوں پر آئے اور لہو کی ایک ایک بوند وجد میں نہ آئے ...... یہ کیسے ممکن ہے کہ لب اسم محمد ﷺ کو چومیں اور پلکیں بہرِ سلامی نہ جھک جائیں ...... اہلِ عشاق کی تو دنیا ہی دوسری ہے ...... وہ تو آپ ﷺ کی بارگاہِ ناز میں آنسوؤں کا رقص بھی بے ادبی میں شمار کرتے ہیں ...... دل کا زور سے دھڑکنا بھی سوئے ادب خیال کرتے ہیں ...... یہاں تو سانس بھی آہستہ لینے کا حکم ہے ...... وہ تو قیامِ مدینہ میں شہرِ مدینہ کی مقدس گلیوں میں جاروب کشی کی سعادت نصیب ہونے پر ناز کرتے ہیں اور آپ ﷺ کے نقشِ پا کے دل آویز تصور میں دل کو حرم کی گلیوں سے آباد رکھتے
ہیں...... گلاب ہونٹوں کو درود سلام کی شبنم سے تر رکھتے ہیں اور اس کیف و مستی میں ڈوب کر پلکوں کی منڈیروں پہ آنسوؤں کے چراغ جلاتے ہیں ...... اور ان کی سانسیں اسم محمد ﷺ کے ذکر سے معطر رہتی ہیں ...... اور وہ چشمِ خیال میں گنبد خضریٰ کی دید میں محو رہتے ہیں ...... جب تک اس طرح سے نقش پائے رسول ﷺ سے اکتساب فیض نہ کیا جائے ...... راہ محبوب ﷺ کے ذروں سے روشنی اخذ نہ ہوگی ...... جب تک ممدوح رب دو جہاں کی رحمت سے رعنائیاں کشید نہ کی جائیں ...... نہ ایمان کے تقاضے پورے ہوں گے اور نہ حریم دیدہ و دل میں چراغاں ہوگا اور نہ شمع کے پروانوں میں خود سپردگی کی کیفیت پیدا ہوگی اور نہ جاں سپاری کا جذبہ عمل کی بھٹی کے عمل سے گزر کر کندن بنے گا ؎
محبت اصل ہے ان ﷺ کی نہ تیری ہے نہ میری ہے
حُسنِ آدمؑ سے بے خبر ابلیس محرومِ محبت تھا، اِس لئے راندۂ درگاہ قرار دے دیا گیا ..... ابلیس کا معبود تو تھا، محبوب نہیں تھا ..... اور مردود ہونے کیلئے بس اتنا ہی کافی ہے۔ بلاشبہ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔ محبت سے ادب پیدا ہوتا ہے، وہ ادب جس میں جمال محبوب ﷺ کی چاشنی ہو اور مقام محبوب ﷺ قصر احساس کی زینت بنے۔ بلاشبہ عاشقان رسول کے رگ و پے میں حضور ﷺ کا نام نامی اور ذکر گرامی سنتے ہی محبت ادب سے دوزانو ہو جاتی ہے، پلکیں عالمِ خیال میں پائے اقدس کا بوسہ لینے لگتی ہیں، آنکھیں رم جھم برسنے لگتی ہیں اور بدن ہیں کہ لرزہ براندام ہو جاتے ہیں۔ شاید اسی مقام کے پیش نظر قدسی مقال اقبال نے کہا تھا: ........... باخدا دیوانہ باش با محمدؐ ہوشیار ...... حضور ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا جزو لازم ہے اس کے بغیر ایمان کی تکمیل ممکن ہی نہیں اور اطاعت کیلئے ضروری ہے کہ ہم جس ہستی کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، اس کی محبت و عقیدت اور ادب و احترام دل میں موجود ہو۔ حضور ﷺ سے محبت ہی شریعت پہ عمل کرنا سہل اور آسان بناتی ہے، اس کے بغیر نہ تو صراط مستقیم کی نشاندہی ہوتی ہے اور نہ منزل عرفان سے ہمکنار ہوا جاتا ہے۔ دانائے سبل، مولائے کل، ختم الرسل ﷺ کی توقیر فرضِ عین ہے جو محبت اور ادب کے بغیر ناممکن ہے۔ توقیر وہی توقیر ہے جس کا مبدا ادب ہے اور تعظیم وہی تعظیم ہے جس کا منشا محبت ہو۔ محبت ادب سکھاتی ہے اور ادب اتباع ؎
ذات نبیﷺ بلند ہے، ذات خدا کے بعد
دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفیٰﷺ کے بعد
محبت رسولﷺ روح ایماں بھی ہے اور تسکین قلب و جاں بھی ، یہ آبروئے ملت بھی ہے اور وقار زندگی بھی۔ محبت رسولﷺ دل کے شبستاں میں کھلا ہوا ایک ایسا پھول ہے جسکی بہار بے خزاں ہے۔ یہ ایک ایسی حسیں سحر ہے جسکی شام ہوتی ہی نہیں ، یہ ایک ایسی بادۂ انگبیں ہے جس کے سرور کے بغیر روح کو چین آتا ہی نہیں۔ آپﷺ کی محبت ایک ایسا پھول ہے جو اگر کسی کے دل میں ایک بار کھل اٹھے تو پھر کبھی نہیں مرجھاتا۔ یہ وہ مقدس جذبہ ہے جو کبھی ماند نہیں پڑتا ، یہ وہ نایاب پھول ہے جسکی خوشبو روح کو لطافت اور من کو بالیدگی بخشتی ہے۔ ہماری زندگی کی بقا کا راز آپﷺ کے دامن کرم سے وابستگی میں پنہاں ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس گم گشتہ میراث سے ایک نئے ولولے کے ساتھ رشتہ جوڑیں۔ اگر ہم آج بھی اپنے اجڑے ہوئے قلب و جگر کو مئے الفت رسولﷺ سے آباد کر لیں تو ہماری عظمت رفتہ گردش ایام کی طرح لوٹ سکتی ہے۔ محبت رسولﷺ ہم پہ قرض ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ہم اس فرض سے کس طرح عہدہ برا ہوتے ہیں۔۔
انﷺ کی محبت کے سوا کچھ نہ خدارا مانگو
بقول شخصے: ”ہر انسان آکسیجن سے سانس لیتا ہے لیکن مسلمان کی سانس کا دوسرا نام عشق رسولﷺ ہے۔ ہر انسان پانی پی کر جیتا ہے لیکن مسلمان حُب رسولﷺ کی آب و ہوا میں زندہ رہتا ہے۔ ہر انسان آنکھ سے دیکھتا ہے لیکن مسلمان کی آنکھ کا سرمہ خاک مدینہ و نجف ہے۔ ہر انسان کے پہلو میں دل دھڑکتا ہے لیکن مسلمان کے دل کی دھڑکن یاد رسولﷺ ہے۔ ہر انسان کی رگوں میں خون دوڑتا ہے لیکن مسلمان کی رگوں میں محبت آل رسولﷺ گردش کرتی ہے۔ ہر انسان زندگی کو زندگی سمجھ کر بسر کرتا ہے لیکن مسلمان خدا اور رسولﷺ کی خوشنودی کے لیے زندگی گزارتا ہے۔ ہر انسان آزادی کا خواہاں ہے لیکن مسلمان غلامی رسولﷺ کا طلب گار ہے۔ ہر انسان نفع ونقصان کے حوالے سے سوچتا ہے لیکن مسلمان ہر چیز کو عقیدہ وایمان کے
ترازو میں تولتا ہے۔ ہر انسان اپنی ناموس کی فکر میں رہتا ہے لیکن مسلمان اپنی جان کو حرمتِ رسولؐ پر لٹا دینے کو اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے‘‘۔
محبت رسول ﷺ ایمان کی جان، اس کی پہچان اور سایہ رحمٰن ہے، محبت رسول ﷺ تمام مصائب کا علاج ہے۔ محبت رسول ﷺ سرمایہ دین و دنیا، قبر و حشر میں چراغِ وفا، پیغامِ شفا اور روحانی علاج ہے۔ محبت رسول ﷺ زیبائش اعمال، ہر زخم کا اندمال، بیماریوں میں ڈھال، زخموں کا مرہم، سرچشمہ برکات اور قلب سکون ہے۔ محبت رسول ﷺ کی وجہ سے ایک مسلمان کی روحانی آنکھیں، کان اور دل و دماغ روشن ہو جاتے ہیں۔ گمراہی و ضلالت کے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں۔ مرنے کے بعد بھی اسے ایک اعلیٰ درجہ کی دائمی اور سرمدی زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جن بدقسمت مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول ﷺ کی آکسیجن کم یا ناخالص ہوتی ہے، ان کے دل سیاہ، دماغ مفلوج اور چہرے پر نحوست کے آثار جلد ہی ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایمانی اعتبار سے ان پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ ان کی دماغی صلاحیت کم سے کم تر ہوتی جاتی ہے۔ وہ ایک چلتی پھرتی لاش تو ہو سکتے ہیں، مسلمان نہیں۔ وہ ایمانی طور پر کوما یعنی بے ہوشی میں چلے جاتے ہیں۔ انھیں کچھ سدھ بدھ نہیں رہتی کہ ان سے جو کچھ سرزد ہو رہا ہے، کیا سرزد ہو رہا ہے۔ وہ دماغی طور پر اتنے پست ہو جاتے اور اپنے ہوش و حواس اس قدر کھو دیتے ہیں کہ حق و باطل اور نیکی و بدی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے۔ ان میں دینی غیرت و حمیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ ’’گنگا گئے تو گنگا رام، جمنا گئے تو جمنا داس‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے عقیدہ کے اظہار میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گستاخانِ رسولؐ کے ساتھ تعلقات قائم کر لیتے ہیں۔ ان کے ساتھ کھاتے پیتے، اٹھتے بیٹھتے اور خوشی و غمی میں شریک ہوتے ہیں، ان کے ساتھ معاشی و معاشرتی تعلقات قائم کر لیتے ہیں، ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں۔ ان کی مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں، یاد رکھنا چاہیے کہ گستاخ رسول سے دوستی کا مطلب اپنے دل سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو رخصت کرنا ہے۔ جب تک کوئی مسلمان گستاخانِ رسول سے دوستی اور محبت کی پینگیں بڑھاتا رہے گا، اس وقت تک وہ ایمانی آکسیجن کی کمی کا شکار رہے گا جس کے نتیجہ میں وہ نہایت مہلک اور خطرناک روحانی امراض کا شکار ہو جائے گا۔ ایسے لوگ صحیح فیصلے کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ وہ رواداری اور بے غیرتی کے ہیضہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے فوری طور پر محبت
اس کا اعلیٰ انتظام کیا جائے تاکہ وہ ایمانی موت کے منہ میں جانے سے بچ جائیں، کیونکہ بے شمار مسلمان اس آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ایمانی موت کے شکنجے میں پہنچ چکے ہیں۔ بقول صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی ”محبت رسول ﷺ ایسا رشتہ ہے جو دل و جاں کو کھینچتا ہے۔ یہ وہی روحِ محمد ﷺ (محبت رسولؐ) ہے جو ذہنوں اور دلوں کو سرشار کرتی ہے۔ جو حضور نبی کریم ﷺ کے ہر چاہنے والے کے خون میں رواں دواں ہے، DNA کی طرح۔ پس محبت رسول ایسا موضوع ہے جس کی روشنی سے حضورؐ کے کسی نام لیوا کا دل محروم نہیں، جس کی تپش سے ہر سینہ معمور ہے، جس کا گداز ہر کلمہ گو محسوس کرتا ہے۔ محبت رسول کوئی فن نہیں کہ کوئی صاحبِ فن ہی اس پر اظہار خیال کرے اور کوئی شعبۂ علم نہیں کہ کوئی بڑا عالم یہ گتھی سلجھائے۔ بلکہ یہ سراسر ایک کیفیت ہے، ذوق ہے، تڑپ اور وارفتگی ہے، والہانہ پن ہے، سوز دروں ہے، گداختگی اور شیفتگی ہے۔ عین ممکن ہے کہ کوئی غازی علم الدین شہیدؒ ایسا محنت کش اس میدان میں الفارابی اور البیرونی سے بہت آگے ہو۔ کوئی دیوانہ عہد کے تمام فرزانوں سے بازی لے جائے۔ کوئی سادہ لوح کسی نکتہ سنج سے زیادہ خوش نصیب ہو۔ خاک بسر اور چاک گریباں اس کوچے کا زیادہ راز دار ہو“۔
معروف کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں: ”فرانس میں ایک دن میں ایک کافی شاپ میں بیٹھا کافی پی رہا تھا کہ میری برابر والی ٹیبل پر ایک داڑھی والا آدمی مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں اٹھ کر اس کے پاس جا بیٹھا اور میں نے اس سے پوچھا ”کیا آپ مسلمان ہیں؟ اس نے مسکرا کر جواب دیا ”نہیں، میں جارڈن کا یہودی ہوں۔ میں ربی ہوں اور پیرس میں اسلام پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں۔ میں نے پوچھا ”تم اسلام کے کس پہلو پر پی ایچ ڈی کر رہے ہو؟“ وہ شرما گیا اور تھوڑی دیر سوچ کر بولا ”میں مسلمانوں کی شدت پسندی پر ریسرچ کر رہا ہوں“۔ میں نے قہقہہ لگایا اور اس سے پوچھا ”تمہاری ریسرچ کہاں تک پہنچی؟“ اس نے کافی کا لمبا سپ لیا اور بولا ”میری ریسرچ مکمل ہو چکی ہے اور میں اب پیپر لکھ رہا ہوں“۔ میں نے پوچھا ”تمہاری ریسرچ کی فائنڈنگ کیا ہے؟“ اس نے لمبا سانس لیا، دائیں بائیں دیکھا، گردن ہلائی اور آہستہ آواز میں بولا ”میں پانچ سال کی مسلسل ریسرچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمان اسلام سے زیادہ اپنے نبی (ﷺ) سے محبت کرتے ہیں۔ یہ اسلام پر ہر قسم کا حملہ برداشت کر جاتے ہیں لیکن یہ اپنے نبی (ﷺ) کی ذات پر اٹھنے والی کوئی انگلی برداشت نہیں کرتے“۔ یہ جواب میرے لیے حیران کن تھا، میں نے کافی کا مگ میز پر رکھا اور سیدھا ہو کر
بیٹھ گیا، وہ بولا ”میری ریسرچ کے مطابق مسلمان جب بھی لڑے، یہ جب بھی اٹھے اور یہ جب بھی لپکے اس کی وجہ محمد (ﷺ) کی ذات تھی، آپ خواہ ان کی مسجد پر قبضہ کر لیں، آپ ان کی حکومتیں ختم کردیں، آپ قرآن مجید کی اشاعت پر پابندی لگا دیں یا آپ ان کا پورا پورا خاندان مار دیں، یہ برداشت کر جائیں گے لیکن آپ جونہی ان کے رسول (ﷺ) کا نام غلط لہجے میں لیں گے، یہ تڑپ اٹھیں گے اور اس کے بعد آپ پہلوان ہوں یا فرعون، یہ آپ کے ساتھ ٹکرا جائیں گے“۔ میں حیرت سے اس کی طرف دیکھتا رہا، وہ بولا ”میری فائنڈنگ ہے جس دن مسلمانوں کے دل میں محمد رسول اللہ (ﷺ) کی محبت نہیں رہے گی، اس دن اسلام ختم ہوجائے گا۔ چنانچہ آپ اگر اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو مسلمانوں کے دل سے ان کا رسول نکالنا ہوگا“۔ اس نے اس کے ساتھ ہی کافی کا مگ نیچے رکھا، اپنا کپڑے کا تھیلا اٹھایا، کندھے پر رکھا، سلام کیا اور اٹھ کر چلا گیا۔ لیکن میں اس دن سے ہکا بکا بیٹھا ہوں، میں اس یہودی ربی کو اپنا محسن سمجھتا ہوں کیونکہ میں اس سے ملاقات سے پہلے تک صرف سماجی مسلمان تھا لیکن اس نے مجھے دو فقروں میں پورا اسلام سمجھا دیا، میں جان گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اسلام کی روح ہے اور یہ روح جب تک قائم ہے، اس وقت تک اسلام کا وجود بھی سلامت ہے جس دن یہ روح ختم ہوجائے گی اس دن ہم میں اور عیسائیوں اور یہودیوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا ۔“
ایک مغربی سکالر نے کہا تھا: ”مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی کہ ایک مسلمان مغرب میں پیدا ہوتا ہے، اس کا سارا لائف سٹائل مغربی ہوتا ہے، اس میں تمام شرعی عیب بھی موجود ہوتے ہیں، لیکن جب اسلام اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر آتا ہے تو اس مغربی مسلمان اور کٹر مولوی کے ردعمل میں کوئی فرق نہیں ہوتا، آخر کیوں......؟ جواب ملا، یہ وہ بنیادی بات ہے جسے مغرب کبھی نہیں سمجھ سکتا، یہ دلوں کے سودے ہوتے ہیں اور دلوں کے سودے کبھی بیوپاری کی سمجھ میں نہیں آسکتے۔ نبی اکرم ﷺ کی ذات ایمان کی وہ حساس رگ ہوتی ہے جو برف سے بنے مسلمان کو بھی آگ کا بگولہ بنا دیتی ہے۔ مسلمان دنیا کے ہر مسئلے پر سمجھوتہ کر لیتا ہے لیکن وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جو انسان کو جلاتی نہیں، اسے بناتی ہے، اسے دوبارہ زندہ کرتی ہے اور تم اور تمہارے لوگ اس کیفیت، اس سرور کو کبھی نہیں سمجھ سکتے کہ تم لوگوں نے زندگی میں محبت رسول ﷺ کا مزہ چکھا ہی نہیں ہے۔
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
حضور نبی کریمﷺ کی محبت تکمیل ایمان کی نشانی ہے۔ اگر اس میں ذرا سی بھی خامی ہوگی، تو ایمان نامکمل ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت ، مومن کا گراں بہا سرمایہ ہے اور کسی مومن کا دل اس سے خالی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی محبت مقصودِ حقیقی کے قرب اور اس کی ذات و صفات کے صحیح تصور کا واحد ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں حضور نبی کریم ﷺ کا تعارف وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ کی سند جاری کرتے ہوئے کرواتے ہیں۔ آپﷺ سراپا رحمت ہیں، محسنِ انسانیت ہیں۔ جو شخص آپﷺ سے ذرا سا بھی بغض و عناد رکھتا ہے، آپﷺ کی شان میں معمولی سی بھی گستاخی کرتا ہے، وہ از خود ”رحمت“ سے اپنا تعلق منقطع کر لیتا ہے۔ ایسا شخص کائنات کا بدترین اور بدقسمت ترین شخص ہے اور کسی رعایت اور ہمدردی کا مستحق نہیں۔ جو بد بخت شخص ، حضور نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں توہین کا مرتکب ہوتا ہے، طعن و تشنیع کرتا ہے، تضحیک و استہزا کرتا ہے ، آپﷺ کی تعلیمات کا مذاق اڑاتا ہے، آپﷺ کے رتبہ کو گھٹاتا ہے....... اور پھر جب اسے اس جرم عظیم کی سزا ملتی ہے تو وہ اور اس کے حواری اس پر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ آواز بلند کرتے ہیں کہ حضورﷺ تو رحمت للعالمین ہیں، آپﷺ نے تو کبھی دشمنوں سے بھی بدلہ نہیں لیا۔ ایک عورت آپﷺ پر روزانہ کوڑا کرکٹ پھینکتی تھی مگر آپﷺ نے کبھی اس کا برا نہیں مانا۔ (یہ واقعہ من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ شاید یہ واقعہ ہمارے کسی تعلیمی نصاب میں بھی شامل ہے ۔ یہ واقعہ عوام الناس میں معروف اور زبان زد عام ہے۔ مگر احادیث یا سیرت النبی ﷺ یا تاریخ کی کسی مستند کتاب میں درج نہیں ۔ نجانے یہ فرضی قصہ کس نے وضع کیا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے جھوٹی بات آپﷺ کی طرف منسوب کی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے) طائف کے میدان میں آپﷺ پر بے حد ظلم و تشدد ہوا مگر آپﷺ نے ان کے لیے بددعا تک نہ کی ...... ان بدبختوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ عزیمت، ابتلا، برداشت، صبر اور آزمائشوں کا دور تھا جسے مکی دور کا نام دیا جاتا ہے....... مگر مدنی دور میں اسلامی سلطنت قائم ہوتے ہی نئے قوانین نافذ ہو گئے ۔
رواداری کے ہیضہ میں مبتلا اسلامی تاریخ سے نابلد دانش خوروں کو معلوم ہونا چاہیے
کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عرینہ کی ایک جماعت وفد کی صورت میں آئی جس میں آٹھ آدمی تھے۔ یہ لوگ مسلمان کی حیثیت سے آئے اور انھوں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ یہ لوگ بہت زیادہ لاغر اور کمزور تھے۔ ان کے رنگ زرد اور پیٹ بڑے بڑے تھے۔ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ”یا رسول اللہ ﷺ! ہمیں ٹھکانہ دیجئے اور کچھ کھانے کا انتظام فرما دیجئے“۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان لوگوں کو اپنے پاس صفہ پر (یعنی مسجد سے ملحق اس چبوترے پر جہاں دوسرے بہت سے نادار صحابہؓ کا مسکن تھا) ٹھکانہ دیا، ایک روز انھوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: ”ہم لوگ دیہاتی یعنی کسان نہیں بلکہ مویشی پالنے اور ان کے دودھ پر گزر بسر کرنے کے عادی ہیں“۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہتر ہو گا کہ تم لوگ (شہر سے باہر) ہماری دودھیاری اونٹنیوں کے ساتھ رہو“۔ غرض ان لوگوں نے مدینہ سے باہر جا کر رہائش اختیار کی اور اونٹوں کے پاس رہنا شروع کر دیا اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایت پر عمل کیا جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت و شفا عطا فرمائی اور وہ تندرست ہو گئے۔ غرض جب یہ لوگ تندرست ہو گئے تو اسلام سے منحرف ہو کر دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے اور اس چراگاہ میں (آپ ﷺ کا) جو چرواہا تھا، اس کو قتل کر دیا۔ یہ چرواہا نبی کریم ﷺ کا غلام یسار تھا، انھوں نے یسار کو قتل کر کے اس کے ناک، کان اور آنکھ کاٹ کر لاش کا مثلہ کر دیا۔ انھوں نے یسار کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اس کی زبان اور آنکھوں میں کانٹے چبھو دیئے، یہاں تک کہ اسی حالت میں وہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد یہ لوگ نبی رحمت ﷺ کی اونٹنیاں لے کر فرار ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو جب اس واقعہ کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے بیس گھڑ سوار ان کے پیچھے روانہ فرمائے اور ان پر حضرت سعید ابن زیدؓ کو امیر مقرر فرمایا، ان سواروں کے ساتھ نبی کریم ﷺ نے ایک ایسا شخص بھی بھیجا جو نشان قدم پر مجرموں کا پیچھا کر رہا تھا۔ آخر ان سواروں نے ان لوگوں کو جا لیا اور چاروں طرف سے گھیر کر ان سب کو گرفتار کر لیا۔ صحابہ کرامؓ ان کو لے کر مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ کے حکم پر ان کے ہاتھ پیر کاٹے گئے اور آنکھوں میں گرم سلاخیں پھرائی گئیں، پھر ان لوگوں کو حرہ میں لے جا کر ڈال دیا گیا جو سیاہ پتھروں کا علاقہ تھا اور ایسا لگتا تھا جیسے ان پتھروں کو آگ میں جلا دیا گیا ہے۔ یہاں یہ لوگ پیاس سے بے تاب مگر کہیں پانی نہیں تھا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس کی شدت سے زمین کو اپنے دانتوں سے کھود رہا تھا کہ مٹی کی نمی سے تسکین ہو مگر وہ نمی بھی نہ ملی، یہاں تک کہ وہ اسی عبرتناک
حالت میں تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ (بخاری شریف)
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
- خلیفہ ہارون رشیدؒ (763ء۔809ء) نے امام مالکؒ (711ء۔795ء) سے نبی
اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم دریافت کیا اور یہ بھی کہا کہ بعض علما عراق نے جلد یعنی کوڑے مارنے کا فتویٰ دیا ہے جو شریعت میں قذف یعنی تہمت لگانے کی سزا ہے۔ امام مالکؒ اس خفیف سزا کو سنتے ہی برہم ہو گئے اور نہایت غصہ کے لہجہ میں یہ فرمایا:
- ما بقاء الامۃ بعد شتم نبیہا.
ترجمہ: اس امت کی کیا زندگی اور کیا جینا ہے کہ جس کے نبی کو گالیاں دی جائیں۔
- من شتم الانبیاء قتل ومن شتم اصحاب النبی جلد.
ترجمہ: جو شخص انبیائے کرام علیہم السلام کو گالیاں دے، اس کو قتل کیا جائے اور جو شخص صحابہ کرامؓ کو سب و شتم کرے، اس کے تعزیری کوڑے لگائے جائیں۔
علامہ خفاجی اس کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں۔
- فلا یحل لاحد سمعہ الا قتل قائلہ او بذل روحہ فی جہادہ.
(نسیم الریاض 399 ج 4)
ترجمہ: پس کسی کے لیے روا نہیں کہ نبی کی شان میں گستاخی سنے بجز اس کے کہ یا تو اس گستاخ کی جان لے لے یا اپنی جان خدا کی راہ میں دے دے۔
- امام زیلعی نے واقدی کی کتاب الردۃ سے نقل کیا ہے کہ عمان کے علاقے میں جب
حضرت حذیفہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کچھ لوگوں نے توہین رسالت ﷺ کی تو انھوں نے کہا تم مجھے میرے ماں باپ کی گالی دے لو مگر شان رسالت ﷺ میں کچھ نہ کہو۔ جب وہ باز نہ آئے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ جو اس علاقے کے گورنر تھے، انھوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر اس واقعہ سے مطلع کیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو شدید غصہ آگیا۔ آپ نے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دو ہزار کا لشکر بھیجا جنہوں نے ان کے خلاف جہاد کر کے ان کو شکست دی۔ وہ شکست کھا کے دوبارہ شہر میں داخل ہو گئے اور قلعے میں پناہ لی۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ایک مہینے تک ان کا محاصرہ کیا۔ جب وہ مجبور ہو گئے تو انھوں نے صلح کی درخواست کی۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے شرط لگائی کہ غیر مسلح ہو کر باہر
آؤ۔ پھر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان کے قلعہ میں داخل ہو گئے۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے سرداروں میں سے ایک سو سرداروں کو توہین رسالت ﷺ کے جرم میں قتل کیا۔
(نصب الرایہ جلد نمبر 3 صفحہ 452، دارالکتب الاسلامیہ لاہور)
- امام شہاب الدین محمد بن احمد البشیہی متوفی 850ھ نے اپنی کتاب ”المستطرف من
کل فن مستظرف“ کے پچھترویں باب کی دوسری فصل کے اختتام پر صفحہ 530 طبع قدیمی کتب خانہ صفحہ 689 طبع المختار، قاہرہ پہ لکھا ہے۔
”بحرین کے کچھ بچے لاٹھیوں سے ہاکی وغیرہ کھیل رہے تھے۔ قریب ہی ایک پادری بیٹھا تھا۔ گیند اس کے سینے کو جا لگی۔ اس نے گیند پکڑی، بچے گیند مانگنے لگے۔ ان بچوں میں سے ایک نے کہا اگر تو ویسے نہیں دیتا تو ہم حضرت محمد ﷺ کے صدقے تجھ سے سوال کرتے ہیں، ہماری گیند دے دے۔ اس پادری نے نہ صرف گیند دینے سے انکار کیا بلکہ رسول اللہ ﷺ کو گالی بھی دے دی۔ جونہی بچوں نے اس کی زبان سے شان رسالت ﷺ میں گالی سنی تو انھوں نے لاٹھیوں سے اس پر حملہ کر دیا اور اس وقت تک مارتے رہے جب تک وہ لعنتی مر نہ گیا۔ یہ کیس حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پیش کیا گیا۔ خدا کی قسم! حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی فتح اور مال غنیمت کے ملنے پر اتنے خوش نہیں ہوئے جتنے بچوں کے اس گستاخ پادری کو قتل کرنے پر خوش نظر آئے اور کہا ”اب اسلام غالب آ گیا۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے نبی ﷺ کو گالی دی گئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محبت کی وجہ سے غصے میں آ گئے۔ پس غالب ہوئے اور کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پادری کے خون کو باطل قرار دے دیا۔
قارئین کرام دیکھیے! یہاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان بچوں سے ناراض نہیں ہوئے کہ تم نے مجھ سے یا امیر بحرین سے پوچھے بغیر ہی ایسا کیوں کیا بلکہ ان کے اس عمل پر نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلام کا غلبہ کہا۔
- حضرت امام قاضی محمد بن ابی منظور انصاری رحمۃ اللہ متوفی 337ھ جو عبیدی
حکمرانوں کی طرف سے قیروان کے قاضی تھے۔ ان کے پاس توہین رسالت کے مرتکب ایک یہودی کو پیش کیا گیا۔ وہ اسے دیکھ کر جذبات کو کنٹرول نہ کر سکے اور عدالت ہی میں اسے مکے مار مار کر جان سے مار دیا۔ (سیر اعلام النبلاء جلد نمبر 11 صفحہ 580 طبع دارالفکر)
ایمان کے حقیقی اور واقعی ہونے کے لیے دو باتیں ضروری ہیں۔ محمد رسول ﷺ کی تعظیم اور محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت کو تمام جہان پر تقدیم۔ اس کی آزمائش کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کو جن لوگوں سے کیسی ہی تعظیم، کیسی ہی عقیدت، کیسی ہی دوستی، کیسی ہی محبت ہو جیسے تمھارے استاد، تمھارے پیر، تمھارے بھائی، تمہاری اولاد، تمھارے احباب، تمھارے بڑے، تمھارے دوست، تمھارے مولوی، تمھارے حافظ، تمھارے مفتی، تمھارے واعظ وغیرہ وغیرہ۔ اگر وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کریں تو اصلاً تمھارے قلب میں ان کی عظمت اور ان کی محبت کا نام و نشان نہ رہے۔ (تمہید ایمان بآیات القرآن)
شفا شریف میں امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ کا فتویٰ ہے کہ ”اگر کسی نے حضور اقدس ﷺ کی نعلین شریف کی بھی توہین کی تو واجب القتل ہے“ اگر کوئی مسلمان حضور ﷺ کی شان میں صراحۃً گستاخی کرنے کے بعد توبہ بھی کرلے، تب بھی واجب القتل ہے۔ حضرت سیدنا امام مالکؒ کے نزدیک یہ توبہ قبول نہیں۔ توبہ کرنے کے بعد بھی گستاخ رسول واجب القتل ہے کیونکہ یہ سزا کفر کی وجہ سے نہیں بلکہ حد شرعی کے تحت ہوگی۔
ڈاکٹر اظہر وحید اپنے گرانقدر مضمون ”باخدا دیوانہ باشد با محمد ہوشیار“ میں لکھتے ہیں: ”بعض سادہ لوح لوگ سیرت پاک سے عفو و درگزر کی مثالیں دیتے ہیں اور امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کو درگزر سے کام لینے کا ”حکیمانہ“ مشورہ دیتے ہیں۔ وہ سادہ دل ایک سادہ سا نکتہ بھول جاتے ہیں کہ علم جس مرکز سے ملتا ہے، اسی مرکز پر استعمال نہیں ہوتا۔ عفو و درگزر کا علم اس لیے دیا گیا ہے کہ اگر تم پر کوئی ظلم و زیادتی کرے تو اسے ذاتی سطح پر معاف کر دیا کرو۔ اس علم کا مدعا یہ ہرگز نہیں کہ اسے ہی علم دینے والے پر استعمال کرنا شروع کر دو۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کو معاف کرنے کی سند پوری اسلامی تاریخ میں ڈھونڈنے سے نہیں ملے گی۔ جن اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گستاخان رسول کے سر قلم کیے، کیا اُن پر کوئی حد جاری ہوئی؟ فتح مکہ کے موقع پر جب بدر اور اُحد کے قاتلوں کو بھی عام معافی دے دی گئی، دربار نبوی ﷺ سے گستاخان نبوت کے بارے میں یہ حکم تھا کہ اگر وہ کعبہ کے پردوں کے پیچھے بھی چھپے ہوں تو انھیں ڈھونڈ کر قتل کر دیا جائے۔ گویا اپنے دشمن کو معاف کرنے کی تعلیم ہے، دشمن خدا کو نہیں ...... اور دشمن خدا کون ہے؟ جو خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دے ...... رسول خدا ﷺ کو اذیت دینا اس کے سوا اور کیا ہوگا کہ منجانب الہیٰ
تفویض شدہ منصب رسالت کی توہین کی جائے۔ درحقیقت جب کوئی توہین رسالت کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ براہ راست غیظ وغضب الہی کو دعوت دیتا ہے۔ وہ خالق کائنات کی غایت تخلیق پر حملہ آور ہوتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی ہیں، اس لیے یہاں توہین کا ارتکاب کرنے والا گویا مالک کائنات کے اس عظیم منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کے تحت اس نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث فرمائے۔ جو شہر علم کے دو بدو ہو جائے، وہ ابوالحکم بھی ہو تو ابو جہل قرار پاتا ہے۔ یہ روزمرہ کی حقیقت ہے کہ اس شہر کے در کو پشت کرنے والے جہل اور گمان کی وادیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ شہر علم تو دور کی بات شان رسالت کی طرف بھی اگر کوئی اپنے گمان کی ٹیڑھی آنکھ سے دیکھے تو اس کی فہم میں ٹیڑھ پیدا ہو جاتا ہے، اس کی عقل کو گرہن لگ جاتا ہے، اُس کے ادراک کو گرہ لگ جاتی ہے اور وہ دوست اور دشمن میں تمیز کرنے کی سادہ سی صلاحیت بھی کھو بیٹھتا ہے۔
وز رسالت در تن ما جاں دمید
حرف بے صوت اندریں عالم بُدیم
از رسالت مصرع موزوں شدیم
از رسالت در جہاں تکوین ما
از رسالت دین ما آئین ما
از رسالت صد ہزار ما یک است
جزو ما از جزو ما لاینفک است
اللہ تعالیٰ نے ہماری ملت کا جسم پیدا کیا اور اس جسم میں رسالت کے ذریعے سے جان پھونکی۔ ہم اس دنیا میں ایسے الفاظ تھے جن کی کوئی آواز نہ تھی۔ رسالت کی برکت سے ہم نے ایک موزوں مصرع کی شکل اختیار کر لی۔ ہمارا وجود اس دنیا میں رسالت سے ہے۔ رسالت ہی سے ہمیں دین ملا، رسالت ہی سے شریعت ملی۔ رسالت ہی کی برکت ہے کہ ہم لاکھوں ہونے کے باوجود ایک ہیں۔ ہمارا ایک جزو دوسرے جزو سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ اسے کبھی الگ نہیں کیا جاسکتا۔ (یعنی ملت اسلامیہ ایک وحدت ہے)
از رسالت حلقہ گرد ما کشید
حلقہ ملت محیط افزاستے
مرکز او وادی بطحاستے
ما ز حکم نسبت او ملتیم
اہل عالم را پیام رحمتیم
از میان بحر او خیزیم ما
مثل موج از ہم نمی ریزیم ما
وہ پاک ذات جس کی شان یہ ہے کہ جسے چاہتی ہے کامیابی کی راہ پر لگا دیتی ہے۔ اس نے ہمارے اردگرد رسالت کا حلقہ کھینچ دیا ہے یعنی ہم سب کو رسالت کے ذریعے سے باہم جوڑ دیا ہے۔ وہ ایسا حلقہ ہے جس کا محیط ہر لحظہ بڑھتا جا رہا ہے اور اس کا مرکز وادی بطحا ہے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ نسبت کی بنا پر ملت و قوم بن گئے اور دنیا والوں کے لیے رحمت کا پیغام ہیں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سمندر سے موج کی طرح اٹھتے ہیں لیکن خدا کی ہم پر خاص رحمت ہے کہ موج کی طرح بکھر کر نابود نہیں ہوتے۔
عاشق صادق حضرت ابوبکر صدیقؓ جن کے بارے میں حضور نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر ایک پلڑے میں سارے پیغمبروں کے صحابہؓ کا اور میرے صحابہؓ کا ایمان رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان رکھا جائے تو ان کا پلڑا جھک جائے گا یعنی اس امت کے صحابہ اور پچھلی تمام امتوں کے صحابہ کے ایمان سے زیادہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان ہے۔ غیرت رسول کریم ﷺ کے سلسلے میں آپؓ کا ایک ایمان افروز واقعہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔
حدیبیہ کے دن قریش کا ایک ایلچی عروہ بن مسعود ثقفی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آ کر کہنے لگا: میں نے قریش کو دیکھا ہے، وہ شیروں کی کھالیں پہنے آپ سے نبرد آزمائی کے لیے بالکل تیار بیٹھے ہیں اور آپ کو بیت اللہ سے روکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ اے محمد! خدا کی قسم! میں یہاں ایسے چہرے اور ایسے اوباش لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو اسی لائق ہیں کہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے موجود تھے، انھوں نے غصے میں
آ کر اسے کہا: امصص بظر اللات انحن نفرعنه وندعه؟ جا! اپنے معبود (بت) لات کی شرمگاہ کو چوس! ہم حضور ﷺ کو چھوڑ کر کیوں بھاگیں گے؟ اس کے بعد عروہ دوبارہ نبی ﷺ سے گفتگو کرنے لگا جب وہ گفتگو کرتا تو آپ ﷺ کی ریش مبارک پکڑ لیتا۔ عروہ کے بھتیجے سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ، نبی ﷺ کے پاس ہی کھڑے تھے۔ ہاتھ میں تلوار تھی اور سر پر زرہ، عروہ جب نبی ﷺ کی ریش مبارک کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو وہ تلوار کا دستہ اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے: اخر یدک عن لحیة رسول اللہ ﷺ یعنی اپنا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کی ریش مبارک سے پرے رکھو۔ آخر عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا یہ کون ہے؟ یہ تو بڑا تندخو اور سخت طبیعت کا مالک ہے۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: یہ تمہارا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے۔ (اللہ اکبر) کوئی قرابتداری اور رشتہ داری نہیں۔ اس کے بعد عروہ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے تعلق خاطر کا منظر دیکھنے لگا۔ پھر سردارانِ قریش کے پاس واپس آیا اور بولا: اے برادرانِ قریش! بخدا میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے پاس جا چکا ہوں، بخدا میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں، جتنی محمدؐ کے ساتھی محمدؐ کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ کھنکار بھی تھوکتے تھے تو کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ پر پڑتا تھا اور وہ شخص اسے اپنے جسم اور اپنے چہرے پر مل لیتا تھا اور جب وہ کوئی حکم دیتے تھے تو اس کی بجا آوری کے لیے سب دوڑ پڑتے تھے اور جب وضو کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ ان کے وضو کے پانی کے لیے لوگ لڑ پڑیں گے اور جب کوئی بات بولتے تھے تو سب اپنی آوازیں پست کر لیتے تھے اور فرطِ تعظیم کے سبب انھیں بھرپور نظر سے نہ دیکھتے تھے اور انھوں نے تم پر ایک اچھی تجویز پیش کی ہے، لہٰذا اسے قبول کرلو۔ (الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوریؒ)
یہ شانِ لطافت ہے کہ سایہ نہیں کوئی
اے شوق نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے
یہ سرکارؐ کا جلوہ ہے تماشا نہیں کوئی
حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابوجہل:
مکہ کی فضا ظلم و جور کے ان سیاہ بادلوں سے گھمبیر تھی کہ اچانک ایک بجلی چمکی اور مقہوروں کا راستہ روشن ہوگیا، یعنی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے۔ ان کے اسلام لانے
کا واقعہ 6 نبوی کے اخیر کا ہے اور اغلب یہ ہے کہ وہ ماہ ذی الحجہ میں مسلمان ہوئے تھے۔
ان کے اسلام لانے کا سبب یہ ہے کہ ایک روز ابو جہل کوہِ صفا کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ ﷺ کو ایذا پہنچائی اور سخت الفاظ کہے۔ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے، اور کچھ بھی نہ کہا لیکن اس کے بعد اس نے آپ ﷺ کے سر پر ایک پتھر دے مارا، جس سے ایسی چوٹ آئی کہ خون بہہ نکلا۔ پھر وہ خانہ کعبہ کے پاس قریش کی مجلس میں جا بیٹھا۔ عبداللہ بن جدعان کی ایک لونڈی کوہِ صفا پر واقع اپنے مکان سے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کمان حمائل کیے شکار سے واپس تشریف لائے تو اس نے ان سے ابو جہل کی ساری حرکت کہہ سنائی۔ حضرت حمزہؓ غصے سے بھڑک اُٹھے...... یہ قریش کے سب سے طاقتور اور مضبوط جوان تھے۔ ماجرا سن کر کہیں ایک لمحہ رُکے بغیر دوڑتے ہوئے اور یہ تہیہ کیے ہوئے آئے کہ جوں ہی ابو جہل کا سامنا ہوگا، اس کی مرمت کردیں گے۔ چنانچہ مسجد حرام میں داخل ہوکر سیدھے اس کے سر پر جا کھڑے ہوئے اور بولے: ’’او سرین پر خوشبو لگانے والے بُزدل! تو میرے بھتیجے کو گالی دیتا ہے حالانکہ مَیں بھی اسی کے دین پر ہوں‘‘۔ اس کے بعد کمان سے اس زور کی مار ماری کہ اس کے سر پر بدترین قسم کا زخم آ گیا۔ اس پر ابوجہل کے قبیلے بنو مخزوم اور حضرت حمزہؓ کے قبیلے بنو ہاشم کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف بھڑک اُٹھے۔ لیکن ابوجہل نے یہ کہہ کر انھیں خاموش کر دیا کہ ابو عمارہ کو جانے دو۔ میں نے واقعی اس کے بھتیجے سے بدتمیزی کی تھی۔ (الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوریؒ)
حضور نبی کریم ﷺ کا چچا ابولہب آپ کا پڑوسی تھا۔ وہ آپ کو اذیت دینے کے لیے اپنے گھر کا پاخانہ اور گندگی آپ کے دروازے پر پھینک دیتا تھا۔ اس کے جواب میں آپ صرف اتنا فرماتے، اے بنو عبد المطلب! تم کیسے ہمسائے ہو؟ ایک روز حضرت حمزہؓ نے اُسے ایسا کرتے دیکھ لیا تو پاخانہ اُٹھا کر ابولہب کے سر پر ڈال دیا۔ وہ سر جھاڑتا جاتا اور کہتا جاتا صابی، احمق۔ ابولہب پھر یہ حرکت کرنے سے باز آ گیا۔
سیدنا حضرت عمر فاروقؓ اور ایک منافق امام مسجد:
حضرت عمر فاروقؓ کے عظیم فضائل ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جل شانہٗ نے حق بات کو عمرؓ کی زبان اور دل میں رکھ دیا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی پیغمبر ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔ نیز آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں شیاطین انس و جن
کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر کے ڈر سے بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔
حضرت عبداللہ ابن اُمِّ مکتومؓ جو اُمُّ المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے خالوزاد بھائی تھے اور ان خوش نصیبوں میں سے تھے جن کا شمار ’السابقون الاولون‘ میں ہوتا ہے، یہ نابینا تھے۔ ایک روز بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں شیبہ، عتبہ پسرانِ ربیعہ، ابوجہل، امیہ ابن خلف، ولید ابن مغیرہ، عباس ابن عبدالمطلب اور دیگر رؤسائے قریش حاضر تھے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بڑی دلسوزی اور محویت سے انھیں کفر و شرک کے اندھیروں سے نکالنے کی سعی فرما رہے تھے۔ ’’حریص علیکم‘‘ کی شان اپنے پورے جوبن پر تھی۔ دریں اثنا عبداللہ ابن اُمِّ مکتومؓ حاضر ہوئے۔ نابینا ہونے کی وجہ سے محفل کا رنگ نہ دیکھ سکے۔ انھوں نے اپنے شوقِ فراواں سے مجبور ہو کر آتے ہی عرض کی: ’یارسول الله علمنی مما علمک اللہ‘ (اے اللہ کے رسول ﷺ جو اللہ نے آپ کو سکھایا، اس میں سے مجھے بھی سکھائیے)
یہ مداخلت بیجا حضور کو پسند نہ آئی۔ رخِ انور پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے۔ آدابِ مجلس کا تقاضا بھی یہی تھا کہ جو سلسلہ کلام پہلے شروع ہے، وہ ختم ہو جائے تو نئی بات چھیڑی جائے۔ یہاں تو حضور ﷺ تبلیغ کا نہایت اہم ترین فریضہ ادا کرنے میں مصروف تھے۔ عبداللہ پہلے ہی مسلمان ہو چکے تھے۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس بے شمار مواقع تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ کی دلجوئی کرتے ہوئے سورہ عبس نازل فرمائی تاکہ دنیا کو پتا چل جائے کہ اس بارگاہ میں شکستہ دلوں اور سوختہ جگروں کی جو قدر و منزلت ہے وہ کسی اور کی نہیں۔
جو لوگ ان آیات سے سرورِ عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مرتبہ عالیہ کی تنقیص کرتے ہیں، وہ پرلے درجے کے کم فہم ہیں۔ پہلے بھی اہل نفاق کا یہ شیوہ تھا۔ علامہ اسماعیل حقی لکھتے ہیں کہ حضرت فاروق اعظمؓ کو پتہ چلا کہ ایک امام ہمیشہ نماز میں اسی سورت کی قراءت کرتا ہے تو آپ نے ایک آدمی بھیجا جس نے اس کا سر قلم کر دیا چونکہ وہ حضور کے مرتبہ عالی کی تنقیص کے ارادے سے اس کی قراءت کیا کرتا تھا تاکہ مقتدیوں کے دل میں بھی حضور کی عظمت کم ہو جائے۔ اس لیے نگاہِ فاروق میں وہ مرتد تھا، اور مرتد واجب القتل ہوا کرتا ہے (روح البیان) ایسے مقامات پر انسان کو سنبھل کر قدم اٹھانا چاہیے مبادا ایمان کی شمع گل ہو جائے۔
(ضیاء القرآن از ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ)
عطا کر جان لفظوں کو دُعاؤں میں اثر دے دے
ملائک ہم نے کیا کرنے ہمیں کوئی بشر دے دے
ترستی ہے یہ دنیا خدا کوئی عمرؓ دے دے
سلطان نورالدین زنگیؒ:
سلطان نورالدین ایک عابد شب بیدار تھا۔ وہ ایک عظیم الشان سلطنت کا فرمانروا ہونے کے باوجود ایسا مرد درویش تھا، جس کی راتیں مصلیٰ پر گزرتی تھیں اور دن میدان جہاد میں۔ وہ عظمت و کردار کا ایک عظیم پیکر تھا، جس نے اپنی نوک شمشیر سے تاریخ اسلام کا ایک روشن باب لکھا۔ سلطان نورالدینؒ رات کا بیشتر حصہ عبادات و مناجات میں گزارتا تھا۔ اس کا معمول تھا کہ نماز عشاء کے بعد بکثرت نوافل پڑھتا اور پھر رسول اکرم ﷺ پر سیکڑوں مرتبہ درود وسلام بھیج کر تھوڑی دیر کے لیے بستر پر لیٹ جاتا۔ چند ساعتوں کے بعد پھر نمازِ تہجد کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا اور صبح تک نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ عبادات میں مشغول رہتا۔
ایک شب وہ اوراد و وظائف سے فارغ ہو کر بستر پر لیٹا تو خواب میں تین بار رسول کریم ﷺ کی زیارت ہوئی۔ بعض روایتوں میں سلطان نے متواتر تین رات حضور نبی رحمت ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ ہر مرتبہ دو آدمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور ﷺ نے فرمایا: ”نورالدین! یہ آدمی مجھے ستا رہے ہیں، ان کے شر کا استیصال کر“ نورالدین یہ خواب دیکھ کر سخت مضطرب ہوا۔ بار بار استغفار پڑھتا اور رو رو کر کہتا، میرے آقا و مولا کو میرے جیتے جی کوئی ستائے، یہ نہیں ہو سکتا۔ میری جان، مال، آل، اولاد سب آقائے مدنی پر نثار ہے۔ خدا اس دن کے لیے نورالدین کو زندہ نہ رکھے کہ حضور ﷺ غلام کو یاد فرمائیں اور وہ دمشق میں آرام سے بیٹھا رہے۔ سلطان نورالدین بے چین ہو گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ مدینہ منورہ میں ضرور کوئی ایسا ناشدنی واقعہ ہوا ہے، جس سے سرورِ کونین ﷺ کی روح اقدس کو تکلیف پہنچی ہے۔ خواب سے بیدار ہوتے ہی اس نے بیس اعیان دولت کو ساتھ لیا اور بہت سا خزانہ گھوڑوں پر لدوا کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ اہل دمشق سلطان کے یکا یک عازم سفر ہونے سے بہت حیران ہوئے، لیکن کسی کو معلوم نہ تھا کہ اصل بات کیا ہے؟
دمشق سے مدینہ منورہ پہنچنے میں عام طور پر بیس پچیس دن لگتے تھے، لیکن سلطان نے
یہ فاصلہ نہایت تیز رفتاری کے ساتھ طے کیا اور سولہویں دن مدینہ منورہ جا پہنچا۔ اہل مدینہ اس کی اچانک آمد پر حیران رہ گئے۔ سلطان نے آتے ہی شہر میں آنے جانے کے دروازے بند کرا دیے، پھر منادی کرا دی کہ آج تمام اہل مدینہ اس کے ساتھ کھانا کھائیں، تمام اہل مدینہ نے نہایت خوش دلی سے سلطان کی دعوت قبول کی۔ اس طرح مدینہ منورہ کے تمام لوگ سلطان کی نظر سے گزر گئے۔ لیکن ان میں وہ آدمی نہیں تھے، جن کی شکلیں اسے خواب میں دکھائی گئیں تھیں۔ سلطان نے اکابر شہر سے پوچھا کہ کوئی ایسا شخص تو باقی نہیں رہا، جو کسی وجہ سے دعوت میں شریک نہ ہو سکا ہو، انھوں نے عرض کی کہ اہل مدینہ میں تو کوئی شخص ایسا نہیں رہا، جو دعوت میں شریک نہ ہوا ہو۔ البتہ دو خدارسیدہ مغربی زائر جو مدت سے یہاں مقیم ہیں، نہیں آئے۔ یہ دونوں بزرگ عبادت میں مشغول رہتے ہیں، اگر کچھ وقت بچتا ہے تو جنت البقیع میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں۔ اس کے سوا وہ کسی سے ملتے ملاتے نہیں۔ سلطان نے حکم دیا، ان دونوں کو بھی ضرور یہاں لاؤ، جب وہ دونوں سلطان کے سامنے حاضر کیے گئے، تو اس نے ایک نظر میں پہچان لیا کہ یہ وہی دو آدمی ہیں، جو اسے خواب میں دکھائے گئے تھے۔ انھیں دیکھ کر سلطان کا خون کھول اٹھا، لیکن تحقیق حال ضروری تھی، کیونکہ ان کا لباس زاہدانہ اور شکل وصورت مومنوں کی سی تھی۔ سلطان نے ان دونوں سے پوچھا کہ تم دونوں کہاں رہتے ہو؟ انھوں نے بتایا کہ روضہ اقدس کے قریب ایک مکان کرایہ پر لے رکھا ہے اور اسی میں ہر وقت ذکر الہی میں مشغول رہتے ہیں۔
سلطان نے انھیں وہیں اپنے آدمیوں کی نگرانی میں چھوڑا اور خود اکابر شہر کے ہمراہ اس مکان میں جا پہنچا، یہ ایک چھوٹا سا مکان تھا، جس میں نہایت مختصر سامان مکینوں کی زاہدانہ زندگی کی شہادت دے رہا تھا۔ اہل شہر ان دونوں کی تعریف میں رطب اللسان تھے اور بظاہر کوئی چیز قابل اعتراض نظر نہیں آتی تھی، لیکن سلطان کا دل مطمئن نہیں تھا۔ اس نے مکان کا فرش ٹھونک بجا کر دیکھنا شروع کیا۔ یکا یک سلطان کو ایک چٹائی کے نیچے فرش ہلتا ہوا محسوس ہوا۔ چٹائی ہٹا کر دیکھا تو ایک چوڑی سل تھی، اسے سرکایا گیا تو ایک خوفناک انکشاف ہوا۔ یہ ایک سرنگ تھی، جو روضہ اقدس کی طرف جاتی تھی۔ سلطان سارا معاملہ آناً فاناً سمجھ گیا اور بے اختیار اس کے منہ سے صدق الله و صدق رسوله النبی الکریم نکلا۔
سادہ مزاج اہل مدینہ بھی ان بھیڑ نما بھیڑیوں کی یہ حرکت دیکھ کر ششدر رہ گئے، سلطان اب قہر وجلال کی مجسم تصویر بن گیا اور اس نے دونوں ملعونوں کو پابہ زنجیر کر کے اپنے
سامنے لانے کا حکم دیا، جب وہ سلطان کے سامنے پیش ہوئے، تو اس نے ان سے نہایت غضبناک لہجہ میں مخاطب ہو کر پوچھا...... سچ سچ بتاؤ تم کون ہو؟ اور اس ناپاک حرکت سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ دونوں ملعونوں نے نہایت بے شرمی اور ڈھٹائی سے جواب دیا، اے بادشاہ! ہم نصرانی ہیں (بعض روایتوں میں ہے کہ یہ دونوں یہودی تھے) اور اپنی قوم کی طرف سے تمھارے پیغمبر کے جسد مبارک کو چرانے پر مامور ہوئے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس سے بڑھ کر اور کوئی کار ثواب نہیں ہے، لیکن افسوس کہ عین اس وقت جب ہمارا کام بہت تھوڑا باقی رہ گیا تھا، تم نے ہمیں گرفتار کر لیا۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ یہ سرنگ حضرت عمر کے جسد مبارک تک پہنچ چکی تھی، یہاں تک کہ ان کا ایک پاؤں ننگا ہو گیا تھا۔
سلطان کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔ اس نے تلوار کھینچ کر ان دونوں بدبختوں کی گردنیں اڑا دیں اور ان کی لاشیں بھڑکتی ہوئی آگ کے الاؤ میں ڈلوا دیں۔ یہ کام انجام دے کر سلطان پر رقت طاری ہو گئی اور شدت گریہ سے اس کی ہچکی بندھ گئی، وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں روتا ہوا گھومتا تھا اور کہتا تھا ”زہے نصیب کہ اس خدمت کے لیے حضور ﷺ نے اس غلام کا انتخاب فرمایا“...... جب ذرا قرار آیا تو سلطان نے حکم دیا کہ روضۂ نبوی ﷺ کے گرد ایک گہری خندق کھودی جائے اور اسے پگھلے ہوئے سیسے سے پاٹ دیا جائے۔
سلطان کے حکم کی تعمیل میں روضۂ اطہر کے چاروں طرف اتنی گہری خندق کھودی گئی کہ زمین سے پانی نکل آیا، اس کے بعد اس میں سیسہ بھر دیا گیا تاکہ زمانہ کی دستبرد سے ہر طرح محفوظ رہے۔ یہ سیسے کی دیوار روضۂ اقدس کے گرد آج تک موجود ہے اور ان شاء اللہ ابد تک قائم رہے گی۔ آج بھی اہل اسلام سلطان نورالدین کا نام نہایت محبت اور احترام سے لیتے ہیں اور ان کا شمار ان نفوس قدسی میں کرتے ہیں، جن پر سید البشر نے خود اعتماد کا اظہار فرمایا اور ان کے محبّ رسول ﷺ ہونے کی تصدیق فرمائی۔
(”نورالدین محمود زنگی“ از طالب الہاشمی)
”پرویز“...... تخت رہا نہ تاج:
یہ 6 ہجری کی بات ہے۔ خسرو پرویز کو اطلاع دی گئی کہ مدینے سے ایک قاصد آیا ہے۔ نوشیروان کے پوتے نے بڑے تعجب سے پوچھا۔ ”مدینہ سے؟ بتایا گیا، ہاں!“ شہنشاہوں
کے دربار میں سفیر، شہنشاہوں، بادشاہوں اور امیروں کی طرف سے آتے ہیں۔ یہ مدینے میں کون سی سلطنت قائم ہوئی ہے، جہاں سے اب سفیر بھی آنے لگے؟ حکم دیا ”اچھا، اس قاصد کو ہمارے حضور پیش کیا جائے“۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ پیش ہوئے۔ عرب کے صحرا نشینوں کا حلیہ ...... ڈھیلے ڈھالے کپڑے، پیوند زدہ جوتیاں، شان و طمطراق کا کوئی شائبہ بھی عبداللہ رضی اللہ عنہ کو چھو کر نہ گیا تھا، یہ سفیر تھا یا فقیر! دربارِ عجم کے حاضر باش خود بھی اس ہیئت سے کچھ خوش نہ تھے اور شہنشاہ کے غصے کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ پہلی ہی نظر میں بے شمار سلوٹیں اس کے ماتھے پر ابھر آئی تھیں۔ شہنشاہ نے ایک درباری سے مخاطب ہو کر کہا ”پوچھو کیا عرض کرنا چاہتا ہے؟“ درباری نے وہ الفاظ دہرائے ”کیا عرض کرنا چاہتے ہو؟“ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ خسرو پرویز کی ذہنی کشمکش سے بالکل بے پروا آگے بڑھے اور حضور اکرم ﷺ کا، نامۂ مبارک اس کے حوالے کیا۔ کیا ہے؟ خسرو نے پوچھا۔ بتایا گیا عرب میں ایک نبی (ﷺ) مبعوث ہوئے ہیں۔ انھوں نے آپ کے نام ایک خط بھیجا ہے۔ نبی (ﷺ) کا خط ......! ہمارے نام!!! خسرو پرویز کا غصہ برابر بڑھتا جا رہا تھا۔ پوچھا ”کیا لکھا ہے اس میں؟“ خط پڑھ کر سنایا گیا۔ ”خدائے رحمن و رحیم کے نام سے محمد ﷺ پیغمبر کی طرف سے کسریٰ والی فارس کے نام ...... یہاں تک خط پڑھا جا سکا تھا کہ خسرو کا چہرہ تمتما اٹھا اور وہ غصے سے کانپنے لگا۔ بولا! ”شہنشاہ فارس کا نام اپنے نام کے بعد! ہم سے یہ گستاخی! شہنشاہ عجم کی یہ تحقیر! یہ ہمارے دست نگر، یوں ہمارے منہ آنے لگے؟ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ عرب میں خط کا یہی طریقہ رائج ہے لیکن وہ خدائی خوار تو ادھار کھائے بیٹھا تھا کہ کسی طرح مسلمان سفیر کو شکوہ سلطانی کا جلوہ دکھائے۔ بولا بادشاہ یمن کو آج ہی حکم بھیجا جائے کہ ان پیغمبر کو جنہوں نے ہمیں خط بھیجنے کی جرأت کی ہے۔ فوراً ہمارے دربار میں پیش کیا جائے۔ نامۂ مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر چاک کیا اور اس کے پرزے اڑا دیے۔ ملائک نے ان پرزوں کو آنکھوں سے لگایا۔
پھر تھوڑے ہی دنوں میں دنیا نے دیکھ لیا کہ پیغام حق کس قدر قوت والا تھا۔ دس برس سے بھی کم عرصے میں اس سلطنت عجم کے پرزے اڑ گئے۔ اس کی گستاخی قدرت کی طرف سے یہ سزا ملی کہ چند ہی دنوں میں اس کے بیٹے شیرویہ نے اسے تخت سے اتار کر قتل کر دیا اور سولہ ہجری میں شان کسریٰ کے اس قلعہ سفید کے فرش کو عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے بھائی بند اپنے پیوند زدہ جوتوں سے روند رہے تھے۔ نہ وہ تخت رہا نہ تاج! (تحریر: شاہ بلیغ الدین)
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ اور پرنس ریجی نالڈ:
ایک دفعہ شیطان صفت پرنس والیٔ کرک ریجی نالڈ نے جزیرہ نمائے عرب پر لشکر کشی کا قصد کیا تا کہ مدینہ منورہ میں حضرت محمد ﷺ کے روضہ مبارک کو منہدم اور مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کو مسمار کر دے (نعوذ باللہ)۔ جب وہ سمندری راستے سے حملہ آور ہوا تو مسلمان مقابلے کے لیے مدینہ پاک سے روانہ ہوئے۔ اس کی فوج، اسلامی لشکر کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ وہ اپنے جہازوں کو چھوڑ کر پہاڑوں کی جانب بھاگی۔ مسلم سپاہ کے جیالوں نے ان کا تعاقب کیا اور ان کے ٹکڑے کر دیے۔ ریجی نالڈ جیسا شاتم رسولؐ خود بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہو گیا لیکن ابلیس کا یہ فرزند اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور مسلمانوں کو دکھ پہنچانا اور حضور ﷺ کی توہین کا ارتکاب کرنا، اس کی فطرت کا جزولاینفک بن گیا۔ لین پول کا بیان ہے کہ ریجی نالڈ نے 1179ء میں مسلمانوں کا ایک کارواں لوٹ لیا اور اس کے تمام آدمی گرفتار کر لیے۔ بادشاہ یروشلم نے اس پر اعتراض کیا اور کارواں کے لوگوں کی رہائی اور لوٹے ہوئے مال کی واپسی کے لیے سفیر بھیجے۔ ریجی نالڈ نے ان کا مذاق اڑایا۔ 1183ء میں اس نے پھر یہی حرکت کی۔ 1186ء میں مسلمان تاجروں کے ایک قافلے کو لوٹ کر اہل قافلہ کو گرفتار کیا۔ جب ان لوگوں نے اس سے رہائی کے لیے کہا تو اس نے یہ طعن آمیز جواب دیا ’’تم محمد (ﷺ) پر ایمان رکھتے ہو، اس سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ آ کر تم کو چھڑائے‘‘۔ جس وقت سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کو ریجی نالڈ کی اس گستاخانہ گفتگو کی خبر ملی تو اس نے قسم کھا کر کہا، اس صلح شکن کافر کو خدا نے چاہا تو میں اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا۔
صلیبی لڑائیوں کے سلسلے میں ایک موقع پر فرنگیوں کو شکست ہو گئی۔ فرنگی بادشاہ اور اس کے سر بر آوردہ ساتھی مسلمانوں کے ہاتھ گرفتار ہو گئے۔ ان سب کو سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان میں ریجی نالڈ بھی تھا۔ سلطان کو دیکھ کر اسے اپنی بداعمالیاں یاد آگئیں اور ساتھ ہی سلطان کی قسم بھی یاد آ گئی، جس نے ریجی نالڈ کا خون خشک کر دیا۔ پیاس سے اس کا برا حال تھا۔ اس نے سلطان سے پانی مانگا۔ سلطان نے اسے پانی دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ تم گستاخ رسولؐ ہو، تمھیں پانی نہیں دیا جا سکتا۔ پھر سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے اس کو اس کی تمام بداعمالیاں شمار کرائیں اور یہ بھی کہا کہ اس وقت میں محمد رسول اللہ ﷺ سے مدد چاہتا ہوں۔ اور یہ کہہ کر اپنے ہاتھوں سے اس موذی کا سر قلم کر دیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہم
مسلمانوں کا یہ دستور نہیں ہے کہ لوگوں کو خواہ مخواہ قتل کرتے رہیں۔ ریجی نالڈ تو صرف حد سے بڑھی ہوئی بداعمالیوں اور حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے۔
قرآن مجید اور ولید بن مغیرہ:
قرآن مجید بدنام زمانہ گستاخ رسول ولید بن مغیرہ کے عیوب بیان کرتے ہوئے اسے ”زنیم“ یعنی ”حرام زادہ“ قرار دیتا ہے۔ (القلم: 10 تا 13)
مولانا اشرف علی تھانویؒ تحریر کرتے ہیں: ”جس طرح حدیث شریف کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بار درود شریف پڑھنے سے دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں، اسی طرح قرآن مجید کے اشارہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ حضور نبی کریم ﷺ کی شانِ ارفع میں ایک گستاخی کرنے سے نعوذ باللہ منہا اس شخص پر منجانب اللہ دس لعنتیں نازل ہوتی ہیں۔ چنانچہ ولید بن مغیرہ کے حق میں اللہ تعالیٰ نے بسزاء استہزاء یہ دس کلمات ارشاد فرمائے۔ حلاف، مھین، ھماز، مشاء بنمیم، مناع للخیر، معتد، اثیم، عتل، زنیم، مکذب لآیات“۔ (زادالسعید)
ان دس نشانیوں کا مطلب یہ ہوا:
- 1- بہت زیادہ جھوٹی قسمیں کھانے والا۔
- 2- بے وقعت اور بے حیثیت یعنی ذلیل
- 3- طعنے دینے والا اور چرب زبان۔
- 4- لوگوں کی چغلیاں کھانے والا۔
- 5- نیکی کے کاموں سے روکنے والا۔
- 6- ہر چیز میں حد سے بڑھ جانے والا۔
- 7- ناپاک اور پلید۔
- 8- بات بات پر جھگڑنے والا۔
- 9- زنیم یعنی حرام زادہ۔
- 10- اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے والا۔
امام قرطبیؒ نے اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے: ”جب ولید بن مغیرہ نے یہ آیات سنیں تو وہ اپنی والدہ کے پاس گیا اور تلوار ننگی کر کے
ماں سے کہنے لگا کہ مسلمانوں کا نبی محمد (ﷺ) غلط بیانی نہیں کرتا اور مسلمانوں کے نبی (ﷺ) نے میرے بارے میں دس علامات بیان کی ہیں۔ 9 کا فیصلہ میں خود کرسکتا ہوں، دسویں کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ 9 کی 9 علامتیں میرے اندر موجود ہیں۔ اب دسویں کی تصدیق تو کر کہ کیا میں ولد الزنا ہوں یا نہیں؟ اس کی ماں نے اسے جواب دیا: تیرا باپ اس قابل نہ تھا کہ اس کے نطفہ سے اولاد ہوسکے، چنانچہ میں نے ایک چرواہے سے زنا کروایا اور تیرا تولد ہوا۔ مسلمانوں کے رب نے سچ فرمایا ہے کہ تو ولد الزنا ہے‘‘۔
(الجامع الاحکام القرآن 18 / 234)
گستاخان رسول ﷺ سے نفرت:
نبی کریم ﷺ کے ایک چچا کا نام عبدالعزٰی تھا۔ قرآن مجید نے اس کا لقب ابولہب رکھا۔ خود آپ ﷺ نے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کے لیے ’’کذاب‘‘ (بہت بڑا جھوٹا) کا لفظ استعمال کیا جو نفرت وحقارت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اب وہ پوری دنیا میں مسیلمہ کذاب کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ مشہور گستاخ رسول اور کافر ابو جہل کا نام عمرو بن ہشام جبکہ لقب ابوالحکم (عقل کا باپ) تھا مگر رسالت مآب ﷺ نے اسے ’’ابو جہل‘‘ کا لقب دیا کہ وہ حق دیکھ کر بھی جہالت کا شکار رہا۔ یہ لقب ایسا مشہور ہوا کہ بہت سے لوگوں کو اس کا اصل نام بھی یاد نہ رہا۔ ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے اسے اپنی امت کا ’’فرعون‘‘ قرار دیا۔ غزوہ احد میں مشرکین میں سے لڑائی کے لیے جو کافر سب سے پہلے نکلا، اس کا نام ابو عامر انصاری اوسی تھا، اسے راہب بھی کہا جاتا تھا۔ لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا نام ’’فاسق‘‘ رکھا۔ جھوٹے مدعی نبوت طلیحہ اسدی کے نائب عیینہ بن حصن فزاری کو آپ ﷺ نے ’’احمق مطاع‘‘ کا خطاب دیا یعنی ’’بے وقوف سردار‘‘۔ اس طرح آپ ﷺ نے مشہور منافق عبداللہ بن ابی کو ’’رئیس المنافقین‘‘ کا خطاب دیا۔
اللہ کی مخلوق میں بس وہؐ اللہ کا مقصود ہے
شک نہیں اس میں ذات ہی اسؐ کی وجہ ہست و بود ہے
اسؐ کا محبّ، محبوب ہے حق کا اور دشمن مردود ہے
مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے تذکرہ میں آتا ہے کہ حضرت کی عادت تھی کہ جب کبھی گفتگو یا درس کے دوران میں مرزا قادیانی کا نام آتا تو طبیعت میں جلال آجاتا۔ کذاب،
لعین، مردود، شقی، بدبخت ازلی، محروم القسمت، دجال اور شیطان کہہ کر مرزا قادیانی کا نام لیتے اور اس کے بعد بد دعائیہ جملے ارشاد فرما کر اس کے قول کو نقل کرتے۔ کسی خادم نے پوچھا یا شیخ! آپ جیسا نفیس الطبع آدمی، جب مرزا قادیانی کا نام آتا ہے تو اس طرح غضب ناک ہو جاتا ہے؟ اس پر آپ نے فرمایا میاں! میرا ایمان ہے کہ جس طرح حضور علیہ السلام سے محبت رکھنی چاہیے، اس طرح آپ ﷺ کے دشمنوں سے بغض رکھنا بھی ایمان ہے۔ آپ ﷺ کا سب سے بڑا دشمن مرزا قادیانی بدبخت تھا۔ اس لیے اس مردود سے جتنا اظہارِ بغض ہوگا، اتنا ہی زیادہ حضور علیہ السلام کا قرب نصیب ہوگا۔ میں یہ اس لیے کرتا ہوں کہ تم اپنے باپ کے دشمن کو اور حکومت اپنے باغیوں کو برداشت نہیں کرتی تو میں حضور علیہ السلام کے دشمن کو کس طرح برداشت کر لوں؟ بعض عاشقانِ رسول ﷺ کا قول ہے کہ گستاخ رسول ﷺ سے بغض و عناد اور عداوت و نفرت رکھنے کا ثواب درود شریف کے اجر و ثواب کے برابر ہے۔ کیونکہ دونوں چیزیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت و عقیدت کی وجہ سے ہیں۔ اس لیے وہ مرزا قادیانی اور اس قبیل کے دیگر گستاخوں کو خنزیر ایسے ناپاک جانور سے تشبیہ دیتے ہیں۔
مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض ترقی پسند اور روشن خیال حضرات، مرزا قادیانی اور دیگر گستاخوں کے لیے صاحب، جناب اور ایسے ہی دیگر احترامیہ القابات استعمال کرتے ہیں جو انتہائی قابلِ مذمت اور قابلِ نفرین ہے۔ گستاخانِ رسول ﷺ کے لیے کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان استعمال کرنا، لکھنؤ کا گلابی لہجہ اختیار کرنا، شاہی آداب بجالانا، اپنے دل میں مروت و مودت پیدا کرنا، بدذوقی ہی نہیں معصیت بھی ہے۔ اسے اخلاق اور رواداری کا نام دینے کا حوصلہ وہی شخص کر سکتا ہے جس کا دل غیرت و حمیت اور سینہ عشقِ رسول ﷺ سے خالی ہو۔ ابوجہل، ابولہب، ولید بن مغیرہ، مسیلمہ کذاب، راجپال، سلمان رشدی، مرزا قادیانی وغیرہ کیا حسنِ اخلاق یا پھول پیش کیے جانے کے مستحق ہیں؟ ان سے رواداری برتنا کس زمرے میں آتا ہے؟ ان کے لیے عزت و تکریم کا صیغہ استعمال کرنا کہاں کی دانشوری ہے؟
رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا رسول اللہ ﷺ کی ناراضی کا مستحق اور غضبِ الٰہی کا سزاوار ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح اعلان ہے:
- ”اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لانے والوں کو تم نہ پاؤ گے کہ وہ ان لوگوں سے دوستی
کریں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی ہے، اگرچہ وہ (مخالفین) اُن (اہلِ
ایمان) کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے (ہی کیوں نہ) ہوں۔ (مجادلہ: 22) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد پاک ہے ”دنیا میں جو شخص جس کے ساتھ محبت کرتا ہوگا قیامت کے روز اسی کے ساتھ (اس کا حشر) ہوگا۔“
عربی کہاوت ہے کہ دوست تین قسم کے ہوتے ہیں۔ (1) دوست (2) دوست کا دوست (3) دشمن کا دشمن۔ اسی طرح دشمن بھی تین طرح کے ہوتے ہیں۔ (1) دشمن (2) دوست کا دشمن (3) دشمن کا دوست۔
ظاہر بات ہے رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کا دوست، رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کا دشمن، رسول اللہ ﷺ کے دوستوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
حضرت حسانؓ بن ثابت کی گستاخانِ رسول کے خلاف شاعری:
حضرت حسانؓ بن ثابت اسلام کی دینی شاعری کے بانی تھے۔ انھیں شاعرِ رسول اللہ ﷺ بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت حسانؓ نے دفاعِ اسلام اور شاعرِ رسول اللہ ﷺ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی ادب و روایات کا بھی دفاع کیا۔ ان کے اشعار کی کاٹ کفار کے لیے تلوار کی دھار سے زیادہ کاری ثابت ہوئی۔ ابتدا میں کفار و مشرکین نے شعر و شاعری کے ذریعے نبی ﷺ اور اصحابِ نبی ﷺ کا بھرپور مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ معاملہ روز بروز بڑھتا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے رسول اللہ کی اپنے ہتھیاروں سے مدد کی ہے (یعنی انصار) انھیں اب زبانوں سے ان کی مدد کرنے میں کونسی چیز مانع ہے؟ جواب میں شعرائے رسول ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور اس طرح ذاتِ اقدس ﷺ کے زیر نگرانی شعرا کی ایک جماعت قائم ہو گئی جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم کی تعمیل اس طرح کی کہ نہ صرف کفار کی بدزبانی اور گستاخیوں کے جواب دیے بلکہ رسول کریم ﷺ کی عزت و آبرو کی حفاظت و دفاع کی خاطر اپنی جان و مال اور عزت و آبرو سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔ حضرت حسانؓ بن ثابت کے ایک شعر کا مفہوم ہے: ”میرے باپ دادا اور خود میری عزت و آبرو محمد ﷺ کی عزت و ناموس کے لیے ڈھال ہے“۔
اغانی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے حسان بن ثابتؓ سے فرمایا کہ ہجو شروع کرنے سے پہلے ابوبکرؓ کے پاس جاؤ، وہ تمھیں مکہ والوں کے بارے پوری تفصیلات بتا
دیں گے۔ ان کی جنگوں اور ان کے حسب و نسب کے بارے میں پوری معلومات فراہم کر دیں گے، پھر ان کی ہجو کرو، جبریل علیہ السلام تمھارے ساتھ ہیں۔ حضرت محمد ﷺ نے یہ بات اس لیے کہی تھی کہ آپ ﷺ خود بھی مکی اور قریشی تھے جبکہ حسانؓ بن ثابت مدنی اور انصاری تھے اور مکہ والوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے۔ اس لیے خطرہ تھا کہ کہیں ایسی بات ہجو میں نہ کہہ جائیں جس میں حضور نبی کریم ﷺ یا آپ ﷺ کے قریبی رشتہ داروں پر چوٹ پڑ جائے جس کا اظہار آپ ﷺ نے حسانؓ بن ثابت سے کر دیا تھا۔ چنانچہ حسانؓ بن ثابت جب ابوبکرؓ کے پاس آئے تو انھوں نے حسانؓ بن ثابت کو قریش کے حسب و نسب کے بارے میں جملہ معلومات دے کر ان کی ڈھکی چھپی برائیاں اور برے اور بھلے لوگوں کی نشاندہی کی۔ چنانچہ حسانؓ بن ثابت نے مکہ والوں اور قریشیوں کی اس طرح ہجو کی اور اس طرح ان کی بے عزتی کی کہ وہ سن کر تلملا اٹھتے تھے۔ لیکن حضور ﷺ پر چھینٹ نہیں پڑتی تھی۔ چنانچہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ یہ (اس قسم کے ہجویہ اشعار) مکہ والوں کے لیے تیروں سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ یہ انداز ہجو قریش والوں کے لیے اتنا سخت تکلیف دہ ہے جیسے گھور اندھیری رات میں کسی پر تیز تلوار سے اچانک بھرپور وار کر دیا جائے۔
حضرت حسانؓ بن ثابت کے اشعار قرآنی معانی و مفاہیم سے مستفاد ہوتے۔ مدح رسول ﷺ کے ساتھ ساتھ کفار کی ہجو و قدح میں بھی دفتر کے دفتر کہہ ڈالے جس سے مشرک شعرا سر پیٹ کر رہ گئے۔ انھیں ہجو و قدح میں خاص ملکہ حاصل ہو گیا تھا۔ اس لیے ان کی ہجووں میں اس بلا کی تیزی، گرمی، شدت اور فصاحت و بلاغت ہوتی کہ کفار عرب پناہ مانگتے تھے۔
حضرت حسانؓ بن ثابت خاص طور سے اور کعب بن مالکؓ عام طور سے مکہ والوں کی جنگوں میں شکستوں، معرکہ کارزار سے فرار اور ان کی بزدلی اور بخل کے قصوں کو نمک مرچ لگا کر بیان کرتے تھے۔ ان کی بداخلاقیوں، بے حیائی اور حسب ونسب میں ملاوٹوں، کمزوریوں اور برائیوں کو اچھالتے تھے، جنھیں سن کر مکہ والے جل اٹھتے تھے اور بھنائے بھنائے پھرتے تھے مگر کچھ نہ بن پڑتی تھی۔
عہد رسالت ﷺ میں حضرت عبداللہؓ بن رواحہ، حضرت کعبؓ بن مالک انصاری اور حضرت حسانؓ بن ثابت شہرہ آفاق مخضرم شعرا تھے، جنھوں نے مشرکین کی ہجووں کا جواب نہایت مؤثر اور دل نشیں انداز میں دیا، لیکن حضرت حسانؓ کی خدمت حضور خاتم النبیین ﷺ کے
لیے اس وجہ سے بیش قیمت تھی کہ وہ کفار کی یاوہ گوئی کا مقابلہ بڑی دل جمعی کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ روح القدس حضرت جبرائیل علیہ السلام اس سلسلے میں ان کی مدد فرمایا کرتے تھے۔ مسند احمد کی روایت ہے کہ شعرائے قریش کی ہجووں کا جواب دینے کا معاملہ طے ہوا تو حضور پاکﷺ نے حضرت کعب بن مالک کو کہلا بھیجا کہ قریش کی ہجو اور لغویات کا جواب دو۔ انھوں نے حکم کی تعمیل کی۔ لیکن حضورﷺ کو ان کے جوابی اشعار پسند نہ آئے۔ کیونکہ آپﷺ اس سے بھی زیادہ بھرپور اور جارحانہ انداز میں جواب چاہتے تھے۔ پھر آپﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ کو یہ کام تفویض کیا۔ انھوں نے بھی جوابی ہجو کہی۔ لیکن اس مرتبہ بھی حضورﷺ کو پسند نہ آئی۔ اس کے بعد حضرت حسان کو پیغام ارسال کیا کہ تم یہ کام کرو۔ لوگ ان کے پاس حاضر ہوئے اور حضورﷺ کا پیغام سنایا تو انھوں نے بڑے پُرعزم لہجے میں کہا، ”یا رسول اللہﷺ! میں اس کام کے لیے حاضر ہوں، اور اپنی زبان پکڑ کر کہا کہ خدا کی قسم! اب اس کے ذریعے بصریٰ اور صنعا کے درمیان کسی دوسری بات سے مجھے خوشی نہ ہوگی یعنی اب یہ زبان صرف آپﷺ کی طرف سے مدافعت اور آپﷺ کی طرف سے زبانی جنگ کے لیے وقف ہے۔ میں گستاخان رسولﷺ کو اپنی زبان سے ٹھیک کردوں گا“۔ اور واقعی انھوں نے وہی کر دکھایا جو کہا تھا۔
حضور سرور عالمﷺ نے حضرت حسان بن ثابت سے ارشاد فرمایا، ”تم ان لوگوں کی ہجو کیسے کرو گے جبکہ میں خود انھی کا ایک فرد ہوں؟ تو انھوں نے جواب دیا، ”فقال: انی اسلک منھم کما تسل الشعرة العجین“۔ یعنی میں آپﷺ کو ان میں سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح آٹے کے خمیر سے بال کھینچ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا، ”انصار کے تین اشخاص مشرکین کی ہجو کریں گے، حسان بن ثابت، کعب بن مالک اور عبداللہ بن رواحہ۔ حسان بن ثابت اور کعب بن مالک یہ دونوں حضرات مشرکین کے جواب میں جنگ و جدال اور موروثی عیوب کو ظاہر کریں گے اور حسب و نسب کے ذریعے عار دلائیں گے۔ دوسری طرف عبداللہ بن رواحہ انھیں بت پرستی اور کفر پر لعنت و ملامت کریں گے۔
معاصرین میں حسان و کعب کی زبان آوری مشرکین پر سخت گراں ہوا کرتی تھی اور عبداللہ بن رواحہ کا جواب قدرے سہل اور نرم ہوتا۔ لیکن اسلام لانے کے کچھ دنوں کے بعد جب ان کے اندر اسلام کی گہری بصیرت آ گئی تو ان کی ہجو بھی بڑی سخت ثابت ہوئی۔
ایک حدیث میں نبی کریمﷺ نے فرمایا:
- ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: امرت عبدالله بن رواحة
فقال و احسن وامرت کعب بن مالک فقال و احسن، وامرت حسان بن ثابت فشفى و اشتفى.
”میں نے عبداللہ بن رواحہ کو قریش کی ہجو کا حکم دیا تو انھوں نے بہ حسن و خوبی انجام دیا، پھر کعب بن مالک کو حکم دیا تو انھوں نے بھی اچھے طریقے سے نبھایا، پھر جب حسان بن ثابت کو حکم دیا تو انھوں نے حجت پوری کر دی۔“
حضرت حسانؓ کا کلام یہود و نصاریٰ پر زیادہ شاق اس وجہ سے تھا کہ وہ اوثان پرستی کے اعتقادی امراض و معائب کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ قریش کی ناکامیوں، موروثی و خاندانی کمزوریوں کو اجاگر کرتے تھے، جس سے قریش تکلیف و خفت سے پانی پانی ہوجاتے تھے۔
حضرت محمد ﷺ نے حضرت حسانؓ کو جو خدمت تفویض فرمائی، اسے انھوں نے بہ حسن و خوبی اور عقیدت کے ساتھ ادا کیا۔ حضور پاک ﷺ اس مدافعت سے نہایت خوش ہوتے تھے۔ ابن حجر عسقلانیؒ نے ”اصابہ“ میں ابوداؤد شریف کے حوالے سے حدیث نقل کی ہے جو حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے: ”نبی کریم ﷺ حضرت حسانؓ کے لیے مسجد نبوی ﷺ میں منبر بچھواتے تھے جس پر کھڑے ہو کر وہ کفار عرب کی ہجووں کا جواب دیتے اور اپنے آقا مصطفیٰ ﷺ کی مدح میں نغمہ سرا ہوتے تھے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے کہ حسانؓ کے یہ ہجویہ اشعار کفار کے لیے اندھیرے میں چلنے والے تیروں سے بھی زیادہ کارگر ہیں۔
دوسری روایت کے مطابق ایک مرتبہ حضور پاک ﷺ نے حضرت حسانؓ سے ارشاد فرمایا:
- یا حسان اجب عن رسول الله صلی الله علیه وسلم اللهم ایده بروح القدس.
اے حسان میری طرف سے جواب دو، اے خدا! روح القدس کے ذریعے اس کی مدد کر۔
ایک دفعہ یوں ارشاد فرمایا:
- یقول لحسان بن ثابت اهجهم او هاجهم و جبرئیل معک.
اے حسان! مشرکین کی ہجو کر، جبرئیل امین تیرے ساتھ معاونت کریں گے۔
حضرت حسانؓ کی شاعری، واقعاتی اور حقیقت پر مبنی ہوا کرتی تھی۔ ان کی ہجو و قدح میں جہاں گستاخان رسولؐ کی سرکوبی ہوتی، وہیں رسول پاک ﷺ اور صحابہ کرامؓ کا دفاع بھی شامل ہوتا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی اسلامی حمیت و غیرت پر آنچ آتی تو ان کے جذبات اس
طرح برانگیختہ اور موجزن ہوتے جس طرح دیگچی کا پانی جوش کھاتا ہے۔ دین حق کی راہ میں کوئی سنگین مسئلہ درپیش ہوتا تو اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے اور مشرکین پر بھر پور وار کرتے۔
حضرت حسان بن ثابتؓ کی زبان کی کاٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب حضرت محمد ﷺ کے ایک مبلغ کو الحارث بن عوف المری کی امان میں قتل کر دیا گیا تو حسانؓ اس غداری کو معاف نہ کر سکے۔ اس کا ذکر اتنی تلخ ہجو سے کیا کہ الحارث اسے سن کر چیخ چیخ کر رونے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی پناہ میں آ کر مزید ہجو کرنے سے حسانؓ کو منع کرنے کی درخواست پیش کی۔ دراصل مشرکین اور دشمنانِ رسولؐ کے جواب دیتے وقت حسانؓ بن ثابت کے کلام میں اتنی بلندی اور رفعت پیدا ہوتی تھی کہ ان کا کہا ہوا قصیدہ ادبی لحاظ سے ایک شہ پارہ بن جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت محمد ﷺ نے انھیں اپنا شاعر منتخب فرمایا۔ حضور ﷺ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کا کلام مکہ والوں کے دل میں برچھی کی طرح پار ہو جاتا ہے اور اس طرح حسانؓ اپنے دل کو اور میرے دل کو بڑا سکون پہنچاتے ہیں۔ ان کی انھیں خصوصیات کی وجہ سے نقادوں نے حسانؓ بن ثابت کو میدان شعر و شاعری کا استاد مانا ہے۔
معرکۂ بدر میں کفار کو ذلت آمیز شکست ہوئی اور ان کے بڑے بڑے سردار واصلِ جہنم ہوئے تو مکہ میں کہرام مچ گیا۔ کفار کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشہور گستاخ رسول کعب بن اشرف یہودی جگہ جگہ مجمع لگا کر حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف لوگوں کو ابھارنے اور اشتعال دلانے والے اشعار سناتا اور مقتول کفار کی شان میں مرثیے کہنے لگا۔ اس کے ردّعمل میں حضرت حسانؓ بن ثابت نے اپنی دینی غیرت وحمیت کے پیش نظر کعب بن اشرف کے اشعار کا دندان شکن جواب دیا۔ آپ نے اپنے ایک شعر میں کہا:
شبه الكليب الى الكليبة يتبع
تو نے کمینے غلاموں کو تو (بہت کچھ) رلایا (اب) تُو بھی رو جس طرح کم عمر کتا، کم عمر کتیا (سے مجامعت) کے بعد آواز نکالتا ہے۔
(سیرت ابن ہشام ص 31)
شعر کے بارے میں جب کعب بن مالکؓ نے آپ ﷺ سے دریافت کیا تو حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’مومن اپنی تلوار سے جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی‘‘ یہ فرما کر آپ ﷺ نے مسلمان شعرا و ادبا پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کی ہے۔ آج ہمیں جس فکری
اور ثقافتی یلغار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اب اگر ہمیں اس کو روکنا ہے اور اپنی تہذیب، اپنے نظریات اور اپنی قدروں کے ساتھ جینا ہے تو اس کے لیے جہاد بالسیف کے ساتھ ساتھ جہاد بالقلم کی بھی ضرورت ہے۔ اب یہ مسلمان اہلِ قلم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فکری اور ثقافتی یلغار کے آگے بند باندھ لیں اور حقِ قلم ادا کریں۔
حضرت عبداللہؓ اور ان کا والد عبداللہ بن اُبی منافق :
5ھ میں بنو المصطلق کی مشہور جنگ ہوئی، اس میں ایک مہاجر اور ایک انصاری کی باہم لڑائی ہو گئی، معمولی بات تھی مگر بڑھ گئی۔ ہر ایک نے اپنی اپنی قوم سے دوسرے کے خلاف مدد چاہی اور دو فریق ہو گئے۔ قریب تھا کہ آپس میں لڑائی ہو جائے مگر بعض لوگوں نے درمیان میں پڑ کر صلح کرا دی۔ عبداللہ بن اُبی منافقوں کا سردار اور مسلمانوں کا سخت مخالف تھا مگر چونکہ اسلام ظاہر کرتا تھا، اس لیے اس کے ساتھ سخت برتاؤ نہ کیا جاتا تھا، اس کو جب اس قصے کی خبر ہوئی تو اس نے حضور اقدس ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے اور اپنے دوستوں سے خطاب کر کے کہا کہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا دھرا ہے۔ تم نے ان لوگوں کو اپنے شہروں میں ٹھکانا دیا، اپنے مالوں کو ان کے درمیان آدھوں آدھ بانٹ دیا، اگر تم ان لوگوں کی مدد کرنا چھوڑ دو تو ابھی سب چلے جائیں۔ اور یہ بھی کہا کہ خدا کی قسم اگر ہم مدینہ پہنچ گئے تو ہم عزت والے مل کر ان ذلیلوں کو وہاں سے نکال دیں گے۔ حضرت زیدؓ بن ارقم نو عمر بچے تھے، وہاں موجود تھے، یہ سن کر تاب نہ لا سکے، کہنے لگے خدا کی قسم تو ذلیل ہے تو اپنی قوم میں بھی ترچھی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ تیرا کوئی حمایتی نہیں اور محمد ﷺ عزت والے ہیں۔ رحمٰن کی طرف سے بھی عزت دیے گئے ہیں اور اپنی قوم میں بھی عزت والے ہیں۔ عبداللہ بن اُبی نے کہا، اچھا میں تو ویسے ہی مذاق میں کہہ رہا تھا مگر حضرت زیدؓ نے حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں جا کر عرض کیا کہ عبداللہ بن ابی نے یہ بکواس کی ہے۔ حضرت عمرؓ نے حضور ﷺ سے درخواست کی کہ اگر اجازت ہو تو اس کافر کی گردن اڑا دی جائے مگر حضور ﷺ نے اجازت مرحمت نہ فرمائی۔ عبداللہ بن اُبی کو جب اس کی خبر ہوئی کہ حضور ﷺ تک یہ قصہ پہنچ گیا ہے تو حاضر خدمت ہو کر جھوٹی قسمیں کھانے لگا کہ میں نے کوئی ایسا لفظ نہیں کہا ہے۔ زید نے جھوٹ نقل کر دیا ہے۔ انصار کے بھی کچھ لوگ حاضر خدمت تھے، انھوں نے بھی سفارش کی کہ یا رسول اللہ ﷺ عبداللہ قوم کا سردار ہے، بڑا آدمی شمار ہوتا ہے۔ ایک بچہ کی بات اس کے مقابلے میں قابل قبول نہیں، ممکن ہے کہ سننے میں کچھ
غلطی ہوئی ہو یا سمجھنے میں۔ حضور ﷺ نے اس کا عذر قبول فرمالیا۔ حضرت زیدؓ کو جب اس کی خبر ہوئی کہ اس نے جھوٹی قسموں سے اپنے کو سچا ثابت کردیا اور زید کو جھٹلا دیا تو شرم کی وجہ سے باہر نکلنا چھوڑ دیا۔ بالآخر سورۂ منافقون نازل ہوئی جس سے حضرت زیدؓ کی سچائی اور عبداللہ بن ابی کی جھوٹی قسموں کا راز کھل گیا۔ حضرت زیدؓ کی وقعت موافق و مخالف سب کی نظروں میں بڑھ گئی اور عبداللہ بن ابی کا قصہ بھی سب پر ظاہر ہو گیا۔ عبداللہ بن ابی کے بیٹے کا نام بھی عبداللہؓ تھا۔ وہ بڑے پکے مسلمان اور سچے عاشقِ رسولؐ تھے، دیکھنے والوں کی نگاہوں پر خیرہ کن بجلی کوند گئی، منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے جب عبداللہؓ جنگ سے واپسی کے وقت مدینہ منورہ سے باہر تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے اور باپ سے کہنے لگے: اس وقت تک مدینہ میں داخل ہونے نہیں دوں گا جب تک تُو اس کا اقرار نہ کرے کہ تُو ذلیل ہے اور محمد ﷺ عزیز ہیں۔ اس کو بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ہمیشہ سے باپ کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرنے والے تھے مگر حضور ﷺ کے مقابلے میں باپ کی کوئی عزت ومحبت دل میں نہ رہی۔ آخر اس نے مجبور ہو کر اقرار کیا کہ واللہ میں ذلیل ہوں اور محمد ﷺ عزیز ہیں، اس کے بعد وہ مدینہ میں داخل ہوسکا۔ (تاریخ خمیس ص 172)
حضرت عمر فاروقؓ اور ایک منافق:
حضور ﷺ کے زمانہ میں ایک یہودی اور ایک منافق میں کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ یہودی چاہتا تھا کہ جس طرح بھی ہو، میں اسے حضرت محمد مصطفیٰؐ کی خدمت میں لے چلوں۔ چنانچہ وہ کوشش کر کے اسے حضور ﷺ کی بارگاہ عدالت میں لے آیا، اور حضور نے واقعات سن کر فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا۔ وہ منافق یہودی سے کہنے لگا کہ میں تو عمرؓ کے پاس چلوں گا اور ان کا فیصلہ منظور کروں گا۔ یہودی بولا! عجب اُلٹے آدمی ہو، کوئی بڑی عدالت سے ہو کر چھوٹی عدالت میں بھی جاتا ہے، جب تمھارے پیغمبر ﷺ فیصلہ دے چکے تو اب عمرؓ کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر وہ منافق نہ مانا اور اس یہودی کو لے کر حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور حضرت عمرؓ سے فیصلہ طلب کرنے لگا۔ یہودی بولا! جناب پہلے یہ بات سن لیجئے کہ ہم اس سے قبل محمد ﷺ سے فیصلہ لے آئے ہیں اور انھوں نے فیصلہ میرے حق میں فرما دیا ہے مگر یہ شخص اس فیصلہ پر مطمئن نہیں اور اب یہاں آپ کے پاس آپہنچا ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ بات سنی تو منافق سے پوچھا، کیا یہودی جو کچھ بیان کر رہا ہے، درست ہے؟ منافق نے کہا ہاں سرکار ﷺ اس کے حق میں فیصلہ کرچکے ہیں۔ فاروق اعظمؓ نے فرمایا، اچھا ٹھہرو میں ابھی آیا اور
ابھی تمہارا فیصلہ کرتا ہوں ۔ یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے، پھر ایک تلوار لے کر نکلے اور اس منافق کی گردن یہ کہتے ہوئے اڑادی کہ جو حضور ﷺ کا فیصلہ نہ مانے ، اس کا فیصلہ یہ ہے ۔ حضور ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا واقعی عمرؓ کی تلوار کسی مومن پر نہیں اٹھتی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمادی۔ فلا وربک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم (النساء: 65) تیرے ربّ کی قسم ! یہ لوگ کبھی مومن نہیں ہوسکتے ، جب تک تمھیں اے اللہ کے رسولؐ! اپنا حکم نہ مانیں اور تمہارا فیصلہ تسلیم نہ کریں ۔ (تاریخ الخلفاء ص 88)
یہ وہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جب حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر فتح کیا ، اور اس کے گورنر بنے تو کچھ عرصہ بعد بؤونہ کا مہینہ آگیا ۔ (یہ ماہ جون کا قبطی نام ہے )۔ مہینہ کے شروع ہوتے ہی مصر کے قدیم قبطی باشندوں کا ایک وفد حضرت عمروؓ کے پاس آیا ، اور کہنے لگا کہ : ”جناب امیر! ہمارے دریائے نیل کو ایک عادت ایسی پڑی ہوئی ہے کہ اگر اسے پورا نہ کیا جائے تو وہ چلنا بند ہو جاتا ہے “ حضرت عمروؓ نے پوچھا : ” وہ کیا ؟ “ کہنے لگے : ”عادت یہ ہے کہ بؤونہ کے مہینہ کی بارہ راتیں پوری ہوجاتی ہیں تو ہم ایک نوجوان دوشیزہ کو تلاش کر کے اس کے والدین کو راضی کرتے ہیں اور اسے بہترین زیور اور کپڑوں سے آراستہ کر کے دریا میں ڈال دیتے ہیں ، اس کے بعد وہ خوب بہنے لگتا ہے “ ۔
حضرت عمروؓ نے فرمایا: ”اسلام میں ایسا نہیں ہوسکتا ، اسلام تمام پچھلی (جاہلانہ) رسموں کو منہدم کرتا ہے “ ۔ وفد یہ سن کر چلا گیا ، لیکن ہوا واقعہ یہی کہ بؤونہ (جون ) ابیب (جولائی ) اور مسری (اگست ) تینوں مہینے گزر گئے اور دریائے نیل خشک پڑا رہا ، یہاں تک کہ لوگ وہاں سے دوسرے مقامات کی طرف جانے کا ارادہ کرنے لگے ، حضرت عمروؓ نے یہ دیکھا تو حضرت عمرؓ کو خط لکھ کر مشورہ طلب کیا ۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ : ”تم نے ٹھیک کیا ، اسلام واقعی پرانی (جاہلانہ ) رسموں کو منہدم کرتا ہے ، میں تمہارے پاس ایک پرچہ بھیج رہا ہوں ، اسے دریائے نیل میں ڈال دینا “ ۔
حضرت عمروؓ نے وہ پرچہ کھول کر دیکھا تو اس میں لکھا تھا:
- ❑ ”من عبدالله عمر امیر المومنین الی نیل مصر اما بعد فان کنت
تجری من قبلک فلا تجر وان کان الله الواحد القهار الذی یجریک، فنسال الله الواحد القهار ان یجریک“۔
”اللہ کے بندے امیر المومنین عمر کی طرف سے مصر کے دریائے نیل کے نام، حمد و صلوٰۃ کے بعد...... اگر تو اپنی مرضی سے بہا کرتا ہے تو بہنا بند کردے، اور اگر خدائے واحد وقہار جو تجھے چلاتا ہے، تو ہم اسی خدائے واحد وقہار سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تجھے بہنے پر مجبور کردے“۔
حضرت عمرو بن عاصؓ نے یہ پرچہ نصاریٰ کی عید صلیب سے ایک دن پہلے دریا میں ڈال دیا، مصر کے باشندے وہاں سے بھاگنے کی پوری تیاریاں کرچکے تھے، اس لیے کہ ان کی زندگی کا دارومدار نیل کے پانی پر تھا، لیکن عید صلیب کے دن جب صبح کو جاکر دیکھا تو نیل پوری آب و تاب کے ساتھ بہنا شروع ہوچکا تھا، اور ایک رات میں پانی کی سطح سولہ ذراع (گز) بلند ہوگئی۔
دیدۂ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے
حضرت عبداللہ ابن ام مکتومؓ اور ان کی لونڈی :
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم کی بڑی چہیتی اور خدمت گزار لونڈی تھی جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں بے ہودہ اور گستاخانہ باتیں کیا کرتی تھی۔ وہ نابینا صحابیؓ منع کیا کرتے، وہ باز نہ آتی۔ وہ اس کو ڈانٹتے مگر وہ نہ مانتی۔ ایک شب اس نے کچھ بکواس شروع کی تو حضرت ابن ام مکتومؓ نے چھرا لے کر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور ام ولد کو ہلاک کر ڈالا۔ صبح کو اس کی تحقیقات ہوئیں۔ حضرت ابن ام مکتومؓ نے حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنے فعل کا اقرار کیا اور پورا واقعہ بیان کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: سب گواہ رہو کہ ام ولد کا خون رائیگاں ہے (یعنی کوئی قصاص وغیرہ نہیں)۔ اس واقعہ سے حضرت ابن ام مکتومؓ کا حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ والہانہ محبت اور پاس ادب ثابت ہوتا ہے۔
حضرت عمیر بن عدیؓ اور عصماء بنت مروان :
جب ایک اور گستاخ ملعونہ عصماء بنت مروان کو اس کے ایک قریبی رشتے دار اور غیرت مند صحابی حضرت عمیر بن عدیؓ (جو نابینا تھے) نے قتل کیا تو حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ”لوگو! اگر تم کسی ایسے شخص کی زیارت کرنا چاہتے ہو جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نصرت و امداد کرنے والا ہے تو میرے اس جاں نثار کو دیکھ لو“۔ جب حضرت عمر فاروقؓ نے گستاخ رسول ﷺ کے نابینا قاتل کے بارے میں پیار سے کہا کہ دیکھو اس نابینا نے
کتنا بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اعمیٰ (نابینا) نہ کہو بلکہ بصیر و بینا کہو کیونکہ اس کی بصیرت و غیرت ایمانی زندہ و تابندہ ہے“۔ حضرت عمیرؓ نور بصارت سے محروم تھے۔ اس لیے آپ ﷺ نے تمام صحابہ کرامؓ کو انھیں اندھا کہنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: اب اسے عمیر البصیر کہا کرو (یعنی وہ عمیر جو نور بصیرت والا ہے)
حضرت عمیر بن عدیؓ جب دربار رسالت ﷺ سے اپنے گھر کی طرف لوٹے تو انھیں معلوم ہوا کہ عصماء ملعونہ کو اس کے خاندان کے لوگ دفن کر رہے ہیں۔ ان کے قبیلہ کے بعض سرکردہ افراد نے ان سے پوچھا: کیا تم نے یہ قتل کیا ہے؟ انھوں نے بلا تامل کہا: ہاں! کیا ہے اور تم سے بھی کہتا ہوں کہ اگر تم سب گستاخی کا وہ جرم کرو جو اس نے کیا تھا تو میں اکیلا تم سب کو بھی قتل کر دوں گا یا خود شہید ہو جاؤں گا۔ اس پر انھیں جرأت نہ ہوسکی کہ وہ حضرت عمیرؓ کا بال تک بھی بیکا کریں۔ اس واقعہ کے بعد اس خاندان میں اسلام کی خوب اشاعت ہوئی۔
م ح م د لکھ دینا
جب حرم کی اذان یاد آئے
آنسوؤں سے بلال لکھ دینا
جو اُٹھائے رسول ﷺ پر اُنگلی
قتل اُس کا حلال لکھ دینا
حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور ان کا مشرک باپ:
حضرت ابوعبیدہ بن جراح کمال شجاعت کے مالک اور تلوار کے دھنی تھے۔ حتیٰ کہ رات کو سوتے وقت بھی تلوار کو کبھی نیام میں نہ کیا۔ سوتے وقت بھی شمشیر عریاں اپنے سرہانے رکھ کر سوتے تھے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر شمشیر زنی اور جانبازی کا وہ ثبوت دیا کہ جس کی مثال تاریخ عالم میں مشکل سے ملے گی۔ مشرکین قریش کی ایک ہزار غرقِ آہن فوج کے سامنے لوہے کی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ نے اپنے مشرک باپ کو دیکھا تو محمد ﷺ کے غلام کو جلال آ گیا۔ آپ غیظ وغضب کے عالم میں مشرک باپ پر جھپٹے اور جونہی باپ بیٹے کی زد میں آیا، تلوار کے ایک کاری وار میں مشرک باپ کا سر زمین پر خاک وخون میں لوٹ رہا تھا۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ اور ان کا فرزند :
سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ ایک وسیع الظرف شخصیت اور اعلیٰ حسب نسب کے مالک تھے۔ آپؓ بڑے حلیم، بردبار اور غمگسار شخص تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ بہت سے معاملوں میں ثانی رہے۔ مثلاً تصدیق نبوت میں ثانی، قبول اسلام میں ثانی، ہجرت میں ثانی، غار ثور میں ثانی، مگر محبت مصطفیٰ ﷺ میں آپ ہمیشہ اوّل رہے۔ قرآن مجید فرقان حمید نے محبت رسول ﷺ کا یہ پیمانہ مقرر کیا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی محبت دنیا کی ہر چیز پر غالب آجائے۔ اس معیار پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ پورے اُترے۔ محبت مصطفیٰ ﷺ آپ کی رگوں میں خون بن کر دوڑتی تھی اور اسی محبت کی بدولت آپ میں باقی تمام کمالات پیدا ہوئے۔ ایک دفعہ کسی نے سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ سے پوچھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ محبت ہے یا اللہ کے رسول ﷺ سے؟ ایک خشک زاہد فوراً ہی جواب دے گا کہ مجھے اللہ کی ذات سے زیادہ محبت ہے کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ زیادہ محبت اس کے نزدیک شرک ہوگا مگر حضرت صدیق اکبرؓ نے فوراً جواب دیا کہ مجھے اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ زیادہ محبت ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہم بھی یہیں موجود تھے اور اللہ بھی۔ نہ اُس نے ہم کو پوچھا نہ ہم نے اُسے پہچانا۔ اللہ کا رسول ﷺ آ گیا تو ہم نے اللہ کو پہچان لیا اور اللہ نے ہمیں۔
مفہوم کیا ہے اس کے سوا لا الہ کا
حضرت ابوبکرؓ کے فرزند عبدالرحمنؓ جنگ بدر سے پہلے حالت کفر میں تھے۔ جنگ بدر میں وہ مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے۔ عین جنگ میں حضرت ابوبکرؓ اپنے فرزند کی زد میں آ گئے، تو محبت فرزندی نے جوش مارا اور انھوں نے اپنا رخ دوسری طرف پھیر لیا۔
اصحاب رسولؓ کی مجلس گرم تھی۔ جنگ بدر کا تذکرہ چھڑا تو حضرت عبدالرحمنؓ نے جو اس وقت مسلمان ہوچکے تھے، اپنے جلیل القدر والد حضرت ابوبکر صدیقؓ سے اس واقعے کا ذکر کیا اور کہنے لگے، ابا جان! غزوہ بدر کے موقع پر آپ کتنی مرتبہ میرے سامنے آئے مگر میں نے باپ سمجھ کر آپ کو چھوڑ دیا، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا! بیٹا اگر تم میرے سامنے ایک مرتبہ بھی آ جاتے تو میں محبت پدری کی پروا نہ کرتا اور تمھیں ہرگز نہ چھوڑتا بلکہ تمہارا کام تمام کر دیتا کیونکہ اس وقت تم میرے محبوب ﷺ کے دشمن بن کر آئے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک دفعہ یہ دعا مانگی ”اے اللہ! ابوبکر کو قیامت کے دن میرے ساتھ درجہ میں رکھنا“۔ یعنی اعزاز و اکرام کے اعتبار سے میرے ساتھ رکھنا۔ حضور ﷺ نے نہایت شفقت کے طور پر ایسا فرمایا۔ معلوم ہوا کہ کوئی مسلمان دنیاوی رشتوں میں پھنس کر دین حق سے اعراض نہیں کر سکتا۔ سوچنا چاہئے! کیا آج ہم میں یہ جذبہ موجود ہے۔
اٹھو! کہ عشق رسالت ﷺ کا اہتمام کریں
فتح مکہ کے روز جن اشخاص کو مباح الدم (واجب القتل) قرار دیا گیا
8 ہجری میں نبی اکرم ﷺ نے جب مکہ مکرمہ میں پرچم اسلام بلند کیا تو آپ ﷺ نے تمام اہل مکہ کے لیے عفو عام کا اعلان کر دیا ، سوائے ان معدودے چند لوگوں کے جنھوں نے اس سے پہلے مسلمانوں کو بہت اذیتیں دی تھیں ۔ خواہ اپنے عمل اور کردار سے یا اپنے قول اور گفتار سے ۔
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے اپنی مایہ ناز تصنیف فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ، مشہور مؤرخ اسلام علامہ ابن ہشامؒ نے اپنی معروف تالیف ”سیرت النبی ﷺ کامل“ میں اور مشہور مصنف الشیخ صفی الرحمٰن مبارکپوریؒ نے سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر اپنی عالمی شہرت یافتہ کتاب ”الرحیق المختوم“ میں ان افراد کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ مختلف کتب تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فتح مکہ کے روز عام معافی کے اعلان کے باوجود جن کو مباح الدم (واجب القتل) دیا گیا تھا، وہ کل تیرہ افراد تھے، جن میں سے 9 مرد اور 4 عورتیں تھیں۔ اور وہ درج ذیل تھے:
- 1- عبد العزیٰ بن خطل
- 2- حارث بن نفیل: تاریخ میں شاید اسی کا دوسرا نام ”حویرث بن نقید بن وہب بن عبد
بن قصی“ مذکور ہے۔ کیونکہ دونوں قسم کے ناموں کے تحت ذکر کردہ جرم اور کیفیت و سزا ایک جیسی مذکور ہے۔
- 3- مقیس بن صبابہ کنانی
- 4- حارث بن طلاطل (طلاطلہ ) خزاعی
- 5- عبد العزیٰ بن خطل کی دو لونڈیوں میں سے ایک، جس کا نام ارنب اور غالباً اس کی
کنیت ام سعد تھی۔
- 6- قریبہ، یہ بھی ابن خطل کی لونڈی تھی
- 7- عبداللہ بن سعد بن ابی سرحؓ
- 8- عکرمہؓ بن ابی جہل
- 9- ہبار بن اسود
- 10- کعب بن زہیر
- 11- ہند بنت عتبہ
- 12- فرتنا عبدالعزی بن خطل کی لونڈیوں میں سے ایک، یہ مسلمان ہوگئی تھی۔
- 13- بنی عبدالمطلب میں سے کسی شخص کی ایک لونڈی جس کا نام ”سارہ“ یا ”ام سارہ“ تھا۔
مذکورہ بالا فہرست میں سے اوّل الذکر پہلے چھ تو اس اعلان کے مطابق قتل کر دیے گئے ۔ چاہے ان میں سے کوئی کعبہ کے پردوں کے ساتھ بھی لٹکا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کو اور مسلمانوں کو انھوں نے بہت زیادہ پریشان کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخیاں اور آپ ﷺ کو اذیتیں ان کی طرف سے انتہا کو پہنچی ہوئی تھیں۔ گویا اپنے قول اور فعل سے پریشان کرتے تھے جبکہ پہلے چھ کے بعد بقیہ سات افراد کا جرم قدرے کم تھا۔ انھوں نے اپنے جرائم سے سچی توبہ کی، معافی کے خواستگار ہوئے، اسلام قبول کیا اور اسلام میں رہتے ہوئے اچھا کردار اور رویہ پیش کیا۔ لہٰذا ان کو معاف کر دیا گیا۔
گستاخانِ رسولؐ کی سرکوبی:
ایک مسلمان کو حلقہ بگوشِ اسلام سے زیادہ حلقہ بگوشِ محمد مصطفیٰ ﷺ ہونا چاہئے۔ تاکہ اس کا نام آپ ﷺ کے سچے امتیوں میں آسکے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ فرماتے ہیں: ”تحفظِ ناموسِ رسالت کے سلسلہ میں میری زبان تلوار کی طرح تیز ہے“۔ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ ہر صاحبِ ایمان کے دل کی آواز اور اس کی عقیدت کا اعزاز ہے۔ ہر مسلمان اپنے آقا ومولیٰ کی عزت وتوقیر پر فدا ہونا حاصلِ ایمان سمجھتا ہے۔ یہی تعلیماتِ قرآنی کی تاثیر اور یہی احکاماتِ ربانی کی تفسیر ہے۔ عزتِ رسول ﷺ پر کٹ مرنا اور ناموسِ رسالت ﷺ پر جان لٹا دینا، ابدی کامرانی کی دلیل ہے۔
حفیظ جالندھری کے الفاظ میں:
بسا ہو جب کہ نقش حب محبوب خدا دل میں
محمد ﷺ کی محبت دین حق کی شرط اوّل ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محمد ﷺ کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی
خدا کے دامن توحید میں آباد ہونے کی
محمد ﷺ کی محبت آن ملت، شان ملت ہے
محمد ﷺ کی محبت روح ملت، جان ملت ہے
محمد ﷺ کی محبت خون کے رشتوں سے بالا ہے
یہ رشتہ دنیوی قانون کے رشتوں سے بالا ہے
محمد ﷺ ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا
پدر، مادر، برادر، مال، جاں، اولاد سے پیارا
یہی جذبہ تھا اُن مردان غیرتمند پر طاری
دکھائی جن کے ہاتھوں حق نے باطل کو نگونساری
سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ اور گستاخ رسولؐ ابو رافع یہودی
امام بخاریؒ نے ”الجامع الصحیح“ میں درج ذیل واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک بہت بڑے اسلام دشمن اور رسولؐ دشمن ابو رافع یہودی کے بارے میں ہے۔ وہ رسول اکرم ﷺ سے سخت دشمنی رکھتا تھا اور دوسرے لوگوں کو بھی رسول اللہ ﷺ سے دشمنی کرنے پر ابھارتا تھا۔ صحیح بخاری میں اس بارے میں جو واقعہ ہے، سیدنا براءؓ بن عازب اس کو یوں بیان فرماتے ہیں:
”رسول اللہ ﷺ نے ابو رافع یہودی (کے قتل) کے لیے چند انصاری صحابہؓ کو بھیجا اور سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ کو ان کا امیر مقرر کیا۔ ابو رافع یہودی رسول اکرم ﷺ کو تنگ کیا کرتا تھا اور آپ ﷺ کے دشمنوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ سرزمین حجاز میں اس کا ایک قلعہ تھا اور وہیں وہ سکونت پذیر تھا۔ جب وہ اس کے قلعہ کے قریب پہنچے تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ لوگ اپنے مویشی لے کر (اپنے گھروں کو) واپس ہو چکے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ نے اپنے ساتھیوں
سے کہا: تم لوگ یہیں ٹھہرے رہو! میں (اس قلعہ پر ) جا رہا ہوں اور دربان پر کوئی تدبیر کروں گا تاکہ میں اندر جانے میں کامیاب ہو جاؤں۔ چنانچہ وہ ( قلعہ کے پاس ) آئے اور دروازے کے قریب پہنچ کر انھوں نے خود کو اپنے کپڑوں میں اس طرح چھپا لیا جیسے کوئی قضائے حاجت کر رہا ہو۔ قلعہ کے تمام آدمی اندر داخل ہو چکے تھے۔ دربان نے آواز دی۔ اے اللہ کے بندے! اگر اندر آنا ہے تو جلدی آ جا، میں اب دروازہ بند کردوں گا۔ (سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ نے کہا:) چنانچہ میں بھی اندر چلا گیا اور چھپ کر اس کی حرکات و سکنات دیکھنے لگا۔
جب سب لوگ اندر آگئے تو اس نے دروازہ بند کیا اور کنجیوں کا گچھا ایک کھونٹی پر لٹکا دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ فرماتے ہیں: اب میں ان کنجیوں کی طرف بڑھا اور انھیں اٹھا لیا۔ پھر میں نے قلعہ کا دروازہ کھول لیا۔ ابو رافع کے پاس رات کے وقت داستانیں بیان کی جا رہی تھیں، اور وہ اپنے خاص بالا خانے میں تھا۔ جب رات کے وقت قصہ گوئی کرنے والے (داستان گو ) اس کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے تو میں اس کے مخصوص کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔ اس تک پہنچنے کے لیے اس دوران میں، مَیں جتنے دروازے کھولتا تھا، انھیں اندر سے بند کرتا جاتا تھا۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اگر قلعہ والوں کو میرے متعلق علم ہو بھی جائے تو اس وقت تک یہ لوگ میرے پاس نہ پہنچ سکیں جب تک میں اسے قتل نہ کر لوں۔ آخر میں اس کے قریب پہنچ ہی گیا۔ اس وقت وہ ایک تاریک کمرے میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ (سورہا) تھا۔ مجھے کچھ اندازہ نہ ہو سکا کہ وہ کہاں ہے؟ اس لیے میں نے آواز دی: ابو رافع! وہ بولا: کون ہے؟ اب میں نے آواز کی طرف بڑھ کر تلوار کی ایک ضرب لگائی۔ اس وقت میرا دل دھک دھک کر رہا تھا، یہی وجہ ہوئی کہ میں اس کا کام تمام نہیں کر سکا۔ جب وہ چیخا تو میں کمرے سے باہر نکل آیا اور تھوڑی دیر تک باہر ہی ٹھہرا رہا۔ پھر دوسری مرتبہ اندر گیا۔ میں نے پھر آواز بدل کر پوچھا: ابو رافع! یہ آواز کیسی تھی؟ وہ بولا: تیری ماں غارت ہو۔ ابھی ابھی مجھ پر کسی نے تلوار سے حملہ کیا ہے۔ (سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ فرماتے ہیں: ) میں نے پھر (آواز کی طرف بڑھ کر ) تلوار کی ایک ضرب لگائی۔ اگرچہ میں اس کو خوب لہولہان تو کر چکا تھا مگر وہ ابھی مرا نہیں تھا۔ اس لیے میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر دبائی جو اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی۔ مجھے اب یقین ہو گیا کہ میں اسے قتل کر چکا ہوں۔
چنانچہ میں نے ایک ایک کر کے دروازے کھولنے شروع کیے۔ بالآخر ایک زینے پر
پہنچا۔ میں یہ سمجھا کہ میں زمین پر پہنچ چکا ہوں۔ (لیکن ابھی میں پہنچا نہ تھا) اس لیے میں نے اس پر پاؤں رکھ دیا اور نیچے گر پڑا۔ چاندنی رات تھی۔ اس طرح گر پڑنے سے میرے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی اور میں دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک یہ نہ معلوم کرلوں کہ آیا میں اسے قتل کر چکا ہوں یا نہیں؟ جب مرغ نے اذان دی تو اسی وقت قلعہ کی فصیل (دیوار) پر ایک آواز دینے والے نے کھڑے ہو کر آواز دی: لوگو! میں اہل حجاز کے تاجر ابو رافع کی موت کا اعلان کرتا ہوں۔ تب میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ چلنے کی جلدی کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ابو رافع کو (میرے ہاتھوں) قتل کرا دیا ہے (آپ نے اپنے عمامہ سے پاؤں کی ہڈی کو باندھا اور ایک پاؤں پر اچھلتے ہوئے قلعہ سے باہر آگئے)۔
پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ کو ابو رافع کے قتل کی اطلاع دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا پاؤں آگے کرو“۔ میں نے اپنا پاؤں آگے کیا تو آپ ﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا، میرا پاؤں فوراً ایسا اچھا ہو گیا جیسے کبھی اس میں مجھ کو کوئی تکلیف ہوئی ہی نہ تھی“۔
سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری اور گستاخ رسول کعب بن اشرف یہودی:
کعب بن اشرف ایک مالدار یہودی سردار تھا۔ یہ بدطینت اور شیطان صفت انسان لوگوں کو خاص طور پر قریش مکہ کو نبی اکرم ﷺ کے خلاف جنگ کرنے پر ابھارتا اور برانگیختہ کیا کرتا تھا۔ ہمیشہ اس ٹوہ میں لگا رہتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح دھوکے سے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو قتل کرا دے۔ فتح الباری میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ اس نے اس غرض فاسد کے تحت رسول اکرم ﷺ کو ایک دعوت پر بھی مدعو کیا تھا مگر رسول کریم ﷺ کو اللہ رب العزت نے جبریل علیہ السلام کے ذریعہ بر وقت آگاہ کر دیا اور آپ بال بال بچ گئے۔
اس پر مسلمانوں کی طرف سے قاتلانہ کارروائی کی مفصل روداد سیدنا جابر بن عبداللہؓ یوں بیان کرتے ہیں:
”رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا: ”کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا؟ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو بہت زیادہ ستا رہا ہے“۔ اس پر سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں اس
کو قتل کر ڈالوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں مجھے یہ پسند ہے۔ انھوں نے عرض کیا: کیا آپ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں گے کہ بقدر ضرورت اس سے جو مناسب سمجھوں، بات کرلوں؟ (خواہ ظاہراً وہ بری اور ناجائز ہی ہو) آپ ﷺ نے فرمایا: اجازت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس چیز کی اجازت مرحمت فرمائی۔ رات کے وقت جب یہ لوگ مدینہ منورہ سے کارروائی کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو سید الاولین والآخرین، امام الانبیاء والمرسلین ﷺ نے بنفس نفیس ان کو جنت البقیع (اصل نام الغرقد) تک آکر الوداع کیا۔ سبحان اللہ کتنی عظیم جماعت ہے جو تحفظ ناموس رسالت کا عزم لیے گستاخ رسول کی سرکوبی کے لیے جا رہی ہے۔ اس جماعت کی قیادت محمد بن مسلمہ کر رہے ہیں جو گستاخ رسول کعب بن اشرف کے بھانجے ہیں۔ وہ ان کا ماموں ہے۔ لیکن حرمت رسول ﷺ کے لیے اپنی جان، مال، ماں باپ، بیوی، بچے، رشتہ دار، اولاد، تجارت، کاروبار حتی کہ جان تک سب قربان ہے۔ یہ کتنا سعادت مند قافلہ ہے جس کو الوداع کرنے کے لیے حضور نبی کریم ﷺ بنفس نفیس خود شہر مدینہ سے باہر تشریف لائے اور ان کے مشن کی کامیابی کے لیے خود دُعا فرمائی۔
یہ سن 3 ہجری تھا، ربیع الاوّل کا مہینہ تھا۔ چاندنی رات تھی۔ مجاہدین کی اس مختصر چھاپہ مار گوریلا ٹیم کو رخصت کرتے وقت آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جاؤ! اللہ تمہاری مدد کرے‘‘۔
محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس آئے اور اس سے کہا: یہ شخص (اشارہ رسول اکرم ﷺ کی جانب تھا) ہم سے صدقہ مانگتا رہتا ہے اور اس نے ہمیں مشقت میں مبتلا کر رکھا ہے، اس لیے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں۔ اس پر کعب بن اشرف کہنے لگا: ابھی آگے آگے دیکھنا ہوتا ہے کیا، اللہ کی قسم! تم بالکل اکتا جاؤ گے۔ سیدنا محمد بن مسلمہ نے کہا: چونکہ ہم نے اب اس کی اطاعت کر لی ہے۔ اس لیے جب تک یہ معاملہ نہ کھل جائے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے، انھیں چھوڑنا بھی مناسب نہیں، میں تم سے ایک وسق (ایک وسق ساٹھ صاع کے برابر ہوتا ہے جو تقریباً ایک سو تیس کلو کے برابر بنتا ہے) غلہ بطور قرض لینے آیا ہوں۔
کعب بن اشرف نے کہا: ہاں! میرے پاس کوئی چیز گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: کونسی چیز تم گروی میں چاہتے ہو؟ کعب بن اشرف نے کہا: اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو۔ سیدنا محمد بن مسلمہ نے کہا: تم عرب کے نہایت خوبصورت مرد ہو، ہم تمھارے پاس اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں؟ کعب بن اشرف نے کہا: پھر اپنے بچوں کو گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ نے جواب دیا: ہم
اپنے بچوں کو کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں؟ کل کلاں انھیں اسی بات پر گالیاں اور طعنے دیے جائیں گے کہ یہ تو وہی ہیں جنھیں ایک وسق یا دو وسق غلے کے بدلے گروی رکھا گیا تھا۔ یہ تو ہمارے لیے بہت بڑی ذلت ہوگی۔ البتہ ہم تمھارے پاس اپنے ”لائمہ“ گروی رکھ دیتے ہیں (حدیث کے ایک راوی سفیان کہتے ہیں: لائمہ سے مراد ہتھیار اور اسلحہ تھا)۔ کعب نے کہا ٹھیک ہے۔
محمد بن مسلمہ نے دوبارہ ملاقات کرنے کا وعدہ کیا۔ (کچھ دنوں کے بعد) وہ رات کے وقت کعب بن اشرف کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ابو نائلہ بھی تھے اور وہ کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی تھے۔ پھر اس کے قلعہ کے پاس جا کر انھوں نے آواز دی۔ وہ باہر آنے لگا تو اس کی بیوی نے کہا: اس وقت (اتنی رات گئے) باہر کہاں جا رہے ہو؟ کعب بن اشرف نے کہا: باہر محمد بن مسلمہ اور میرا (رضاعی) بھائی ابو نائلہ (مجھ سے ملنے آئے ہیں)...... حدیث کے ایک راوی عمرو بن دینار کے سوا دوسرے راوی سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ اس کی بیوی نے اس سے کہا تھا: مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہو۔ کعب نے جواب دیا: (نہیں ایسی کوئی بات نہیں بلکہ وہ) میرے عزیز محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابو نائلہ ہیں۔
بالآخر کعب بن اشرف چادر لپیٹے ہوئے باہر آیا۔ اس کے سر سے خوشبو پھوٹ رہی تھی۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: اس سے زیادہ عمدہ خوشبو میں نے پہلے کبھی نہیں سونگھی۔ عمرو کے سوا دوسرے راوی سفیان بن عیینہ نے بیان کیا: کعب بن اشرف اس بات پر بولا: میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو ہر وقت عطر میں بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی نظیر نہیں۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں: محمد بن مسلمہ نے کہا: کیا تمھارے سر کو سونگھنے کی مجھے اجازت ہے؟ اس نے کہا: سونگھ سکتے ہو۔ محمد بن مسلمہ نے کعب بن اشرف کا سر سونگھا اور ان کے بعد ان کے ساتھیوں نے بھی سونگھا۔ پھر دوسری دفعہ محمد بن مسلمہ نے سر کو سونگھنے کی اجازت مانگی۔ اس نے دوسری دفعہ بھی اجازت دے دی۔ پھر جب محمد بن مسلمہ نے پوری طرح اسے اپنے قبضہ میں کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ۔ چنانچہ انھوں نے اپنا خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ وہ چند لمحے تڑپا اور ٹھنڈا ہو گیا۔ انھوں نے سر کاٹ کر ساتھ لیا اور روانہ ہو گئے۔ بقیع پہنچ کر بلند آواز میں تکبیر کہی۔ حضور ﷺ مسجد میں اپنے رب کے حضور کھڑے تھے، تکبیر کی آواز سُن کر سمجھ گئے کہ مہم کامیاب رہی، اتنے میں یہ لوگ آ پہنچے۔ آپ ﷺ نے دیکھتے ہی یہ ارشاد فرمایا: ”افلحت الوجہ“ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے۔ ان لوگوں نے جواباً
عرض کیا : ووجھک یا رسول اللہ ! اور سب سے پہلے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک ، اے اللہ کے رسول ﷺ ۔ پھر کعب بن اشرف کا سر آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا ۔ آپ ﷺ نے الحمد للہ کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔ (فتح الباری : ج 7 ص 340)
اس معرکہ میں حضرت حارث بن اوسؓ شدید زخمی ہوئے ۔ صحابہ کرامؓ ان کو اٹھا کر حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں لائے تو آپ ﷺ نے ان کے زخم پر اپنا لعاب مبارک لگایا ، جس سے زخم فوراً مندمل ہو گیا ۔
امام نوویؒ نے قاضی عیاضؒ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے :
- ❑ کسی شخص کے لیے ہرگز جائز نہیں ہے کہ کعب بن اشرف کے قتل کے واقعہ کو دھوکہ
دہی قرار دے ۔ سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مجلس میں کسی شخص نے ایسی بات کہہ ڈالی تھی تو سیدنا حضرت علیؓ نے فوراً اس کا سر قلم کرنے کا حکم دے دیا تھا‘‘ ۔
پہلے مجاہد ختم نبوت حضرت فیروز دیلمیؓ اور مدعی نبوت اسود عنسی :
جب اسود عنسی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو اہل یمن کی ایک بہت بڑی جماعت دین اسلام سے پھر گئی اور مرتد ہو گئی ۔ اس مرتد جماعت کے افراد نے اسود عنسی کی پیروی اختیار کر لی ۔ نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ اسود عنسی ’’صنعاء‘‘ شہر پر غالب آ گیا ۔ اس وقت صحابی رسولؐ سیدنا فیروز دیلمیؓ نے اسود عنسی کے سامنے ظاہر کیا کہ گویا وہ اس کے خاص لوگوں میں شامل ہے اور بہترین معاونین میں سے ہے ۔ لیکن دل کے اندر ایک پروگرام تھا کہ میں نے اسے قتل کرنا ہے ۔ امام بخاریؒ نے سیدنا فیروز دیلمیؓ کے واقعہ کو اپنی ’’الجامع الصحیح‘‘ میں بیان فرمایا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں : کسی بیان کرنے والے نے مجھے وہ خواب یوں بیان کیا ہے (دوسری روایت میں اس بیان کرنے والے کا نام سیدنا ابو ہریرہؓ منقول ہے ) کہ رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں :
ترجمہ : ’’مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا کہ میرے ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دیے گئے ہیں ۔ میں ان سے بہت گھبرایا اور میں نے دونوں کنگنوں کو نا پسند کیا ۔ پھر مجھے حکم ہوا اور میں نے انھیں پھونک مار دی تو وہ دونوں کنگن اُڑ گئے ۔ میں نے اس خواب کی یہ تعبیر کی ہے کہ نبوت کے دو جھوٹے دعویدار عنقریب نکلنے والے ہیں‘‘ ۔ روایت بیان کرنے والے تابعی جناب عبید اللہ بن عبداللہؒ فرماتے ہیں ۔ نبوت کے ان دو جھوٹے دعویداروں میں سے ایک اسود عنسی تھا
جسے سیدنا فیروز دیلمیؓ نے یمن میں قتل کیا تھا۔ اور دوسرا مسیلمہ کذاب تھا‘‘۔ امام ابن جریر طبریؒ نے سیدنا فیروز کے واقعہ میں اپنی سند کے ساتھ ضحاک بن فیروز دیلمیؒ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ میرے والد فیروز نے ہمیں بتایا کہ: ’’سیدنا وبر بن یحنسؓ رسول اللہ ﷺ کا نامۂ گرامی (خط) لے کر ہمارے پاس آئے۔ اس خط میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہمارے لیے یہ حکم تھا کہ (1) تم نے اپنے دین ’’اسلام‘‘ پر قائم اور ڈٹے رہنا ہے۔ (2) دشمنانِ اسلام کے خلاف جنگ میں برسرپیکار رہنا ہے۔ (3) اسود عنسی کذاب کا کام تمام کرنا ہے، چاہے کسی خفیہ پلاننگ سے وہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچے یا پھر دو بدو جنگ سے اور (4) ہر وہ شخص جس کے پاس جرأت و بہادری اور پرہیزگاری اور دینداری کے جذبات ہیں، اس تک میرا یہ پیغام پہنچا دیں۔ (سیدنا فیروزؓ فرماتے ہیں) ہم نے آپ ﷺ کے حکم نامہ پر پورا پورا عمل کیا۔
اسود عنسی ملعون نے حضرت محمد ﷺ کی حیات ہی میں مرتد ہو کر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا تھا، جو دراصل اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کے خلاف کھلی بغاوت تھی، لہٰذا اس پر حضرت محمد ﷺ کا بے چین و مضطرب ہونا بالکل فطری تھا، کیونکہ اسود عنسی کا دعویٰ نبوت دراصل منصبِ نبوت و رسالت اور تاجِ ختمِ نبوت پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف تھا، جس سے آپ ﷺ کو ذہنی، قلبی اور شدید روحانی اذیت پہنچی تھی۔ جب حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے اسود عنسی کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر آپ ﷺ کی راحت رسانی کا انتظام کیا تو انھیں لسانِ نبوت سے: ’’فاز فیروز‘‘....... فیروز کامیاب ہو گیا....... کی بشارت سے نوازا گیا۔
- □ ”عن ابن عمر قال اتى النبى ﷺ الخبر من السماء الليلة اللتى قتل
فيها الاسود العنسى، فخرج علينا فقال: قتل الاسود البارحة قتله رجل مبارک من اهل بيت مبارکين، فقيل من هو؟ قال: فيروز الديلمى“.
(کنز العمال ص 572 ج 13، اتحاف السادہ ص 18 ج 7)
ترجمہ: ’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس رات اسود عنسی کو قتل کیا گیا، حضرت محمد ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دے دی گئی تھی، آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: گزشتہ رات اسود عنسی کو قتل کر دیا گیا، اس کو مبارک گھر والوں میں سے ایک مبارک شخص نے قتل کیا ہے، آپ ﷺ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! وہ کون شخص ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: وہ فیروز دیلمیؓ ہے۔
شہیدان ناموس رسالت ﷺ:
اس عالم فانی میں جو ہستیاں صحیفہ عشق رسول ﷺ کی عملی تفسیر تھیں، ان کا چشمہ فیض آج بھی دائمی زندگی کا انمٹ ثبوت پیش کر رہا ہے۔ غازی علم الدین شہیدؒ، غازی عبدالقیوم شہیدؒ، غازی عبدالرشید شہیدؒ، غازی محمد صدیق شہیدؒ، غازی میاں محمد شہیدؒ، غازی مرید حسین شہیدؒ، غازی عبداللہ شہیدؒ سے ہم نسبت غلامی اس لیے رکھتے ہیں کہ وہ ناموس رسالت ﷺ پر پروانہ وار فدا ہوگئے اور ان کی خوش نصیب مائیں تحسین و آفرین کے پھولوں کی مستحق ہیں۔ انھوں نے ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے اپنے جگر گوشوں کو پھولوں کے ہار پہنا کر سوئے مقتل روانہ کیا تھا۔
محترم راجا رشید محمود (مدیر اعلیٰ ماہنامہ ”نعت“ لاہور) تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی کوششیں“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔
”ایک ہستی............
کہ جہاں پیدا ہوئی، جہاں اس کا بچپن گزرا، جہاں اس نے اوائل شباب اور پھر بھرپور شباب کے دن گزارے، جس چھوٹے سے گاؤں میں اس کے چالیس تینتالیس سال بیتے تھے۔ اس کے روشن کردار نے دیکھنے والوں، ملنے والوں، اس کے ساتھ کاروبار کرنے والوں کی آنکھیں خیرہ کیے رکھیں۔ وہ ہستی اپنے قبیلے کی آنکھ کا تارا ہی نہ تھی، وہاں کے سب قبیلے اس کو ”حکم“ مانتے تھے۔ اس کے شفاف اور بے داغ کردار وعمل کی، اس کی دانش وحکمت کی، اس کی صداقت و امانت کی قسم کھاتے تھے، اپنی امانتیں اس ہستی کے پاس رکھواتے تھے، اپنے مناقشات اس سے فیصل کراتے تھے۔ جب وہ ہستی کوہِ صفا پر کھڑی ہوئی تو کوئی ایک آواز ایسی نہ تھی جو اس کے خلاف اُٹھتی، کوئی ایک انگلی نہ تھی جو اس کی زندگی کے کسی پہلو کی طرف اٹھ سکتی۔
وہ ہستی............
جس نے اپنی نبوت و رسالت کا اعلان فرمایا، خدائے وحدہٗ لاشریک کی عبادت کی راہ دکھائی، خود ساختہ بتوں اور مظاہرِ فطرت کو پوجنے سے منع کیا، آباء واجداد کی راہوں پر چلنے والوں کو ان کی غلط روی کا احساس دلانے کی کوشش کی، تو مخالفتیں ہوئیں، حق کو تسلیم نہ کرنے کی روش اختیار کی گئی، اس ہستی کی دعوت کے راستے میں کانٹے بھی بچھائے گئے....... لیکن....... اس
کی سیرت پر حرف زنی نہ کی جاسکی ۔ بات نہ مانی لیکن جھوٹا نہ کہا جاسکا۔ اس ہستی اور اس کے مٹھی بھر ساتھیوں کا مقاطعہ تک کیا گیا، لین دین روک دیا گیا، مگر اپنی امانتوں کا امانت دار اس کے سوا کسی اور کو نہ بنایا جاسکا۔
وہ ہستی.............
اپنا شہر چھوڑ کر دوسرے شہر کو ہجرت بھی کی گئی ، اسے مار دینے تک کی سازشوں نے سو اونٹوں کی پیشکش تک بات پہنچائی۔ اس دوسرے شہر میں بھی کوشش کی گئی کہ ان کا ناطقہ بند کیا جائے ۔ لڑائیاں تک لڑی گئیں، لیکن ان کے بے داغ اور مصفیٰ کردار پر کلوخ اندازی تو کیا، ہلکے پھلکے جھوٹ کی کوئی تلوار بھی سیدھی نہ کی جاسکی ۔
وہ ہستی.............
جس کی دعوت وتبلیغ نے جھوٹے خداؤں کے سروں کو نیچا دکھایا ، جھوٹوں کی کمر توڑ دی ، آس پڑوس ہی نہیں، دور دور کے رہنے والے اس ہستی کی بارگاہ میں حاضر ہو ہو کر اس کی حقانیت کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے لگے ۔ ایسے میں بھی معاندین اس ہستی کی مہر آسا شخصیت کی طرف کسی اعتراض کی نگاہ نہ اٹھا سکے۔
وہ ہستی.............
چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اور اس ہستی کے ماننے والوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کی خواہشیں دل میں پالنے والی طاقتوں کی ساری کوششوں کے باوجود، آج بھی نظر رکھنے والے، صاحب دل اور اہل انصاف جس کی سیرت و کردار کے حضور حرفِ استحسان پیش کرتے ہیں۔ جس شخص کی نگاہِ نقد اس ہستی کی سیرت کے تمام گوشوں میں جستجو کرتی ہے، اسے خوبیوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ وہ خوبیاں جو شخصیت کو تو بڑا ثابت کرتی ہی ہیں، معاشرے کو بھی صاف ستھرا بناتی ہیں، ماحول کو بھی ہر آلودگی سے پاک رکھتی ہیں، انسانیت کو اس کے اوج کمال تک پہنچانے کی راہ دکھاتی ہیں...... اس مبارک ہستی کی زندگی کے ایک ایک گوشے سے پھوٹتی ہیں۔
اس صورت حال میں جب کوئی بدبخت، خیرہ چشم ، خود نما شخص اس ہستی معصوم کی شان میں کسی گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے تو کائنات کا ذرہ ذرہ اس پر نگاہِ غیظ ڈالتا ہے، کائنات کا مالک ومختار اسے ”اَبْتَر“ کرتا ہے۔ اس کے ”زنیم“ ہونے کا اعلان فرماتا ہے۔ جس ہستی کے
لیے کائناتیں تخلیق کی گئیں، جسے رب کریم نے اپنے اوصاف کا مظہر بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا، جس کی معصومیت اپنے ذمے رکھی ، جس کی جان کے دشمن بھی اس کی ذات کے کسی گوشے کی طرف انگشت نمائی نہ کر سکے ...... اس کے خلاف کچھ کہنے والے، اس کی شان سے فروتر کوئی کلمہ ادا کرنے والے، اس کی ناموس وحرمت پر ژاژ خائی کی جسارت کرنے والے سے بڑھ کر مستحق قتل اور کون ہو سکتا ہے۔
حضورِ پُرنور ہادئ اعظم ، نور مجسم رحمتِ ہر عالم ﷺ ، خالق و مالکِ حقیقی جل شانہ کے محبوب ہیں۔ متفق علیہ حدیثِ پاک ہے ”حضور سرورِ کائنات علیہ السلام والصلوٰۃ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی تمام محبتوں سے زیادہ محبت میرے ساتھ نہ رکھے، وہ مسلمان نہیں۔ پھر خدا کے محبوب ﷺ کی شان میں کسی گستاخی کو برداشت کرنے سے بڑھ کر کفر کیا ہوگا۔ اور اگر کوئی اپنی سب سے محبوب ہستی کی ناموس پر کوئی چھینٹا پڑنے دے تو اس کا ایمان کہاں ہے؟
اصل میں اسلام دشمن طاقتیں وقتاً فوقتاً ایسی جسارتوں کے ذریعے مسلمانوں کے ایمان کا امتحان لیتی رہتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ”روحِ محمد ﷺ“ مسلمانوں کے دل سے نکال دیں۔ لیکن ہر زمانے میں ناموس رسالت کے کسی نہ کسی محافظ نے ایسی کوششوں، ایسی تحریکوں کے سدِ باب کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے عالمِ کفر پر ثابت کر دیا ہے کہ ہم ان کی تہذیبی، ثقافتی، سیاسی یورشوں کے آگے تو سرنگوں نظر آتے ہیں مگر جہاں ہمارے آقا و مولا علیہ التحیۃ والثناء کی حرمت و ناموس کا موقع آتا ہے، ہمارے لیے جان لینا اور جان دینا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
عہدِ نبوی (ﷺ) اور عہدِ صحابہ (رضی اللہ عنہم) سے لے کر آج کے دورِ انحطاط تک جہاں کہیں ایسا واقعہ پیش آیا، غیرتِ اسلامی کا ایک نہ ایک علمبردار اٹھا اور اس نے ملبوسِ شماتت کے پرخچے اڑا دیے ...... قصرِ تاریخ کے شکستہ حصوں میں مرزا قادیانی، راجپال، شردھانند، پالامل، سلمان رشدی اور ان جیسے دوسرے بھوت پریت ہونکتے بھونکتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس مخلوق کا سلسلہ نسب ”حَمَّالَةَ الْحَطَبْ“ اور ”بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْم“ کے کھنڈرات میں ملتا ہے۔ اس نسل کے پھیلے ہوئے ہونٹوں اور لٹکتی ہوئی زبانوں کا انقطاع تاریخ کے ہر دور کی اہم ضرورت رہی ہے۔ تاریخ کے ہر عہد اور قصرِ تاریخ کے ہر حصے کی یہ اہم ضرورت، وقت پر متصرف کسی شخص نے پوری کر دکھائی۔ جب بھی ایسا موقع آیا، گویا جوانمردی اور جاں سپاری کا سورج بامِ قصر پر چمکا۔ جھروکوں سے جھانکنے والے چہروں پر حیرت و استعجاب کے نقوش گہرے ہو گئے۔ آس
پڑوس کے باسیوں نے نعرہ ہائے تحسین بلند کیے۔ پتھر دلوں کی زبانیں گنگ ہوگئیں، حوصلہ مندوں نے سینے تان لیے۔
ناموسِ رسالت ﷺ کے محافظ ، وقت پر حکمران تھے، دلیری ان کے قدم چومتی رہی، دنیا حیران ہوئی کہ ان سے پہلے جان لینے اور جان دینے کا عمل اتنا معمولی کب تھا۔ قصرِ تاریخ کے کھنڈرات کو شاتمیت کے بھوتوں کا مدفن بنا کر خوشی سے دار پر جھول جانے والے...... انسانیت کا ناز ہیں، ملت کا سرمایہ ہیں، اللہ کے محبوب ہیں، ان کے ذکر میں جھک جانے والے سر کہیں نہیں جھکتے!!“
غازی علم الدین شہیدؒ اور قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ:
غازی علم الدین شہیدؒ کی عظمت پر مبنی ایک ایمان افروز واقعہ ملاحظہ کیجیے: ”1953ء کی تحریک ختم نبوت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ گرفتار ہو کر میانوالی جیل میں قید ہوئے۔ دورانِ قید میں ان کی ملاقات عبداللہ نامی ایک ایسے خوش نصیب قیدی وارڈن سے ہوئی جو جیل میں غازی علم الدین شہیدؒ کی نگرانی پر مامور تھا۔ عبداللہ نے قاضی احسان احمد شجاع آبادی کو کئی مواقع پر غازی علم الدین شہیدؒ کے حالات و واقعات سنائے۔ ایک دن عبداللہ وارڈن نے قاضی صاحب کو بتایا کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ غازی علم الدین شہیدؒ والی کوٹھری میں قید ہیں۔ قاضی صاحب نے عبداللہ سے درخواست کی کہ وہ غازی علم الدین شہیدؒ کا کوئی ناقابلِ فراموش واقعہ سنائے۔ عبداللہ وارڈن کے چہرے پر مزید نورانیت اور بشاشت اتر آئی۔ پھر اس نے بتایا کہ جس دن یعنی 31 اکتوبر 1929ء کو جب غازی علم الدین شہیدؒ کو پھانسی ہونا تھی، اس سے ایک روز پہلے میں حسب معمول غازیؒ کی کوٹھڑی کا پہرہ دے رہا تھا۔ پیدل چلتے ہوئے میں کوٹھری سے ذرا فاصلے پر عام قیدیوں کی بیرک کی طرف آ گیا۔ مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ غازی کا کمرہ خوبصورت اور دلکش روشنیوں سے بھر گیا ہے۔ میں یہ سمجھا کہ شاید غازی علم الدین شہیدؒ نے اپنے کمرے کو آگ لگا لی ہے۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ نور کا ایک بادل ہے جو تیزی سے آسمانوں کی طرف چلا گیا۔ چنانچہ میں بھاگم بھاگ غازیؒ کی کوٹھری کی طرف بھاگا۔ اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پورا کمرہ بہترین اور مسحور کن خوشبوؤں سے معطر اور منور تھا۔ غازیؒ حالتِ سجدہ میں زار و قطار رو رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد اٹھے تو میں نے ان کی قدم بوسی کی اور خود بھی بے اختیار رونا شروع کر دیا۔
پھر میں نے عرض کیا، غازی صاحب یہ کیا ماجرا تھا؟ غازی صاحب نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے پھر عرض کیا کہ حضرت! آپ یہ اہم راز اپنے سینے میں لے کر نہ جائیں اور اس واقعہ کی تفصیلات ضرور بتائیں، بہر حال غازیؒ نے میرے بے حد اصرار پر فرمایا، عبداللہ! تمھیں معلوم ہے کہ مجھے کل پھانسی ہو رہی ہے۔ میری دلجوئی اور حوصلہ افزائی کے لیے شافع محشر ، حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنے خاص صحابہ کرام کے ساتھ یہاں خود تشریف لائے اور بڑی محبت اور شفقت فرمائی۔ اس موقع پر حضرت علیؓ نے مجھ سے پوچھا کہ غازی بیٹا! تمھیں پھانسی کا خوف تو نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا۔ حضور! بالکل نہیں۔ فرمایا: بیٹا اگر کوئی خوف ہے تو آؤ ہمارے ساتھ چلو۔ میں نے پھر عرض کیا۔ حضور! نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔ میں تو بہت خوش اور مطمئن ہوں۔ پھر پیارے آقا و مولا حضور نبی کریم ﷺ نے میرے سر پر اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا: غازی بیٹا! پھانسی کے وقت جیل حکام تم سے تمہاری آخری خواہش پوچھیں گے، تم کہنا کہ میرے ہاتھ کھول دیں۔ میں پھانسی کا پھندا چوم کر خود اپنے گلے میں ڈالنا چاہتا ہوں تاکہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ مسلمان اپنے پیارے نبی ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہے۔ دوسرا یہ کہ تم روزہ رکھ کر آنا، میں تمام صحابہ کرام اور فرشتوں کے ہمراہ حوض کوثر پر تیرا استقبال کروں گا اور ہم سب روزہ اکٹھے افطار کریں گے“۔
مولانا محمد علی جوہرؒ:
ایک عام مسلمان کا حضور اکرم ﷺ کے ساتھ عقیدت و محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ ناموس رسالت ﷺ پر کٹ مرنے کو اپنے لیے مایہ فخر سمجھتا ہے۔ مولانا محمد علی جوہرؒ کی ایمانی غیرت و حمیت کے یہ الفاظ تقریباً ہر مسلمان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں:
”جہاں تک خود میرا تعلق ہے، مجھے نہ قانون کی ضرورت ہے نہ عدالتوں کی حاجت، اگر کوئی اس قدر شقی القلب ہے کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے، ان میں سب سے اشرف و مکرم نبی سرور کونین، باعث تکوین دو عالم ﷺ کا جو تقدس میرے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، اس کا اتنا پاس بھی نہیں کرتا کہ اس عظیم برگزیدہ ہستی کی توہین کر کے میرے قلب کو چور چور کرنے سے احتراز کرے...... تو مجھ سے جہاں تک صبر ہوسکے گا، صبر کروں گا، جب صبر کا جام لبریز ہو جائے گا تو اٹھوں گا اور اس گندہ دل، گندہ دماغ، گندہ دہن کافر کی جان لے لوں گا یا اپنی جان اس
کی کوشش میں کھو دوں گا‘‘۔
(مولانا محمد علی جوہر، آپ بیتی اور فکری مقالات، صفحہ 232)
تجھ سے سیکھے گا زمانہ ترے انداز کبھی
مولانا محمد علیؒ جوہر کو تاج برطانیہ کی سطوت وجلال اور اس کی قہرمان عدالتوں کا رعب و دبدبہ مانع نہ تھا۔ یہ 1921ء کا واقعہ ہے۔ مولانا محمد علیؒ جوہر کو دیگر رہنماؤں کے ہمراہ برطانوی حکومت کے خلاف جرم بغاوت کی پاداش میں کراچی لایا گیا جہاں ان کا مقدمہ ایک انگریز جج کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔
مولانا محمد علی جوہرؒ، اراکین جیوری سے خطاب کرتے ہوئے انگریزی قانون بغاوت کی دھجیاں اڑانے لگے۔ آپ نے اس امر کی بھی وضاحت کی کہ ایک مسلمان سب سے پہلے اپنے رسول ﷺ کے لائے ہوئے دین کا وفادار ہوتا ہے جس کی رو سے اس پر برطانوی فوج میں ملازمت حرام ہے۔ اس تاریخ ساز خطاب میں آپ نے اپنے آقا ومولا ﷺ کے خطبۂ حجۃ الوداع کا حوالہ دیا جو انسانی آزادی کا اوّلین چارٹر ہے۔ اس پر مولانا محمد علی جوہرؒ اور عدالت کے مابین جو مکالمہ ہوا، وہ بڑا ہی ایمان افروز تھا۔ اس سے آپ کا رسالت مآب ﷺ سے بے پناہ محبت واحترام اور ادب وعقیدت کا اندازہ ہوتا ہے۔
انگریز جج: ختم کرو یہ قصہ اور چھوڑو اپنے پیغمبر (ﷺ) کی بات کو۔
مولانا جوہر: (طیش میں آکر انتہائی غصے کے عالم میں) اپنے محبوب آقا ﷺ کا ذکر کروں گا اور ضرور کروں گا، اپنے الفاظ واپس لو (پھر گرج کر پوری قوت سے بولے)...... ”میں کہتا ہوں اپنے الفاظ واپس لو۔ خبردار! جو شخص بھی میرے محبوب پیغمبر ﷺ کی شان میں گستاخی کرے گا، میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا، اسے میں جان سے مار دوں گا‘‘۔
مولانا بپھرے ہوئے شیر کے مانند گرج رہے تھے۔ انگریز جج نے جب یہ صورتحال دیکھی تو سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بلایا اور حکم دیا ’’ان کو یہاں سے ہٹا دو‘‘ لیکن مولانا جوہرؒ کے غیظ وجلال کو دیکھ کر اس کو بھی ہمت نہ پڑی کہ قریب آتا۔ آپ مسلسل بولتے چلے گئے۔ بالآخر شدت جذبات سے مغلوب ہو کر آپ کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو گیا۔ گلا رندھ گیا جس کے بعد آپ کچھ نہ کہہ سکے۔
بیرسٹر ڈاکٹر محمد عالم:
رسوائے زمانہ راجپال کی دل آزار کتاب جب منظر عام پر آئی تو مسلمانوں کو بہت ملال ہوا۔ علما نے جلسے کیے، احتجاج کیا گیا، ملعون راجپال کے خلاف بہت زیادہ جوش پھیلا۔ گستاخی رسول ﷺ پہ مسلمانان عالم کے دل مجروح ہوئے۔ فیصلہ ہوا کہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ چونکہ حکومت انگریز کی تھی، اس لیے یہ ساری کارروائی غیر مؤثر ہوکر رہ گئی بلکہ الٹا اُن علما کے خلاف مقدمات بنائے گئے جنہوں نے راجپال کے خلاف اپنے ایمانی جذبات کا اظہار پبلک جلسوں میں کیا تھا۔ چنانچہ سیّد عطا اللہ شاہ بخاریؒ کے خلاف بھی مقدمہ دائر کر دیا گیا اور الزام یہ لگایا گیا کہ شاہ جیؒ نے عوام کو راجپال کے قتل کے لیے اُکسایا اور ترغیب دی۔ سیّد عطا اللہ شاہ بخاریؒ کی وکالت ڈاکٹر محمد عالم بار ایٹ لا کر رہے تھے جو لاہور کے مسلّمہ اور قابل بیرسٹر تھے۔ وہ اپنے وقت کے مانے ہوئے قانون دان تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے کسی مدرسہ سے دینی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی کسی پیر صاحب کے پاس جا کر سلسلۂ طریقت میں داخل ہونے کا اتفاق ہوا تھا۔ قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پریکٹس شروع کر دی۔ پس وہ انگریزی تہذیب میں رنگے ہوئے انسان تھے۔ مقدمہ پیش ہوا۔ شاہ جیؒ کی طرف سے ڈاکٹر محمد عالم پیروی کے لیے عدالت میں کھڑے ہوئے تو جج نے جو ہندو تھا، بڑے تحکمانہ لہجے میں کہا ’’ڈاکٹر محمد عالم! آپ ایک فاضل وکیل ہو کر ایسے آدمی کے مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں جس نے برسرِ عام لوگوں کو ایک آدمی کے قتل کے لیے بھڑکایا اور ان کے جذبات کو برانگیختہ کیا۔ عینی شاہد کا بیان ہے کہ یہ بات سنتے ہی ڈاکٹر صاحب کے تیور بدل گئے، چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوئے اور ہوش و حواس نے بالکل جواب دے دیا۔ عدالت اور اس کے آداب کا خیال ہی نہ رہا۔ ڈاکٹر محمد عالم عدالت میں بے ساختہ پکار اٹھا کہ فاضل عدالت کو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ بخاریؒ کا جو قصور ہے، وہ ہوتا رہے۔ لیکن حق بات یہ ہے کہ اگر میرا بس چلے تو راجپال کو میں اپنے ہاتھوں سے جہنم رسید کر دوں۔ جج نے حیرانی سے پوچھا! کیا کہہ رہے ہو؟ ہوش و حواس تو ٹھکانے پر ہیں۔ جواب دیا کہ میرے حواس ٹھکانے پر ہیں لیکن میں فاضل عدالت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں والدین کی توہین برداشت کر سکتا ہوں، کسی رشتہ دار کی تضحیک سن سکتا ہوں مگر محمد عالم بحیثیت مسلمان یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کے آقائے نامدار ﷺ کی ذات گرامی پر کسی قسم کا کوئی حرف آئے‘‘۔ بلاشبہ ہم بے نمازی تو ہو سکتے ہیں، روزہ تو چھوڑ سکتے ہیں، زکوٰۃ کی ادائیگی
میں سست ہو سکتے ہیں، حج کے فریضہ میں کمزوری دکھا سکتے ہیں مگر بحیثیت مسلمان محبت رسول ﷺ کو دل سے نہیں نکال سکتے۔ ایک مسلمان کا دل محبت رسول ﷺ سے کبھی خالی نہیں ہو سکتا‘‘۔
سر محمد شفیع:
تقسیم ہند سے قبل کا واقعہ ہے۔ ایک انگریز میجر کی بیوی نے اپنے مسلمان خانساماں کے سامنے حضور ﷺ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کیے جس پر اس مرد غیرت مند نے اسی وقت اس انگریز میم کا کام تمام کر دیا۔ یہ مقدمہ لاہور ہائی کورٹ پہنچا تو ڈویژن بنچ میں دو انگریز جج اس مقدمہ کی سماعت کر رہے تھے۔ ملزم کی جانب سے اس وقت کے سیاسی رہنما اور ممتاز قانون دان میاں سر محمد شفیع جو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن بھی تھے، مقدمہ کی پیروی کر رہے تھے۔ یہاں ہمیں سر محمد شفیع کے سیاسی معتقدات سے بحث نہیں بلکہ سرکار (انگریز) دربار میں رسائی کے باوجود ان کی دینی حس کی بابت بتلانا مقصود ہے۔ اس مقدمہ میں دورانِ بحث میاں محمد شفیع کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے جس پر مقدمہ کی سماعت کرنے والے ججوں نے حیرت سے پوچھا۔ سر شفیع! کیا آپ جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا بلند پایہ وکیل بھی اس طرح جذباتی ہو سکتا ہے؟ اس پر سر شفیع نے رنج اور حسرت بھرے لہجے میں جواب دیا:
”جناب! آپ کو نہیں معلوم، ایک مسلمان کو اپنے پیغمبر ﷺ کی ذات سے کتنی گہری عقیدت اور محبت ہوتی ہے۔ سر شفیع بھی اگر اس وقت وہاں ہوتا تو وہ یہی کر گزرتا جو اس ملزم نے کیا ہے“۔
ایمان کے لیے جان کو قربان کریں گے
معروف سیرت نگار محترم منیر احمد ملک محبت رسول ﷺ میں گندھی ہوئی اپنی گرانقدر غیر مطبوعہ کتاب ”نامے مرے محبوب ﷺ کے نام“ میں لکھتے ہیں:
”محبت رسول ﷺ روحِ ایماں بھی ہے اور تسکینِ قلب و جاں بھی، یہ آبروئے ملت بھی ہے اور وقارِ زندگی بھی۔ حضور ﷺ کے اک ثنا گر کے الفاظ میں ”ایمان کی عمارت خواہ کتنی ہی بلند و بالا کیوں نہ ہو، اگر بنیادوں میں حُب رسول ﷺ کی آمیزش نہیں تو کچھ بھی نہیں، وہ تمام بلندی پستی کا اک ڈھیر ہے اور اس ڈھیر پہ کھڑے ہو کر خوشنودی خدا کا ایک ذرہ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا“ گاہے گاہے جبینِ خیال پہ یہ سوال بے ساختہ ابھر آتے ہیں کہ من حیث القوم ہم بے ننگ و نام کیوں ہیں؟ ہماری پستی و ادبار، عسرت و نکبت، محکومی و غلامی کی وجہ کیا ہے؟ ہماری
ملت بیضا عظمت رفتہ سے محروم کیوں ہے؟ ہماری امت مسلمہ قحط الرجال کا شکار کیوں ہے؟ ذلت ورسوائی، جبر واستبداد اور ٹھوکریں قوم رسول ہاشمی ﷺ کا کیوں مقدر بن چکی ہیں؟
گستاخیء فرشتہ ہماری جناب میں
ان سوالوں کا جواب حکیم الامت علامہ اقبالؒ کی بصیرت اور دور رس نگاہ میں کچھ اس طرح ہے:
مسلماناں چرا زارند و خوارند
ندا آمد، نمی دانی کہ ایں قوم
دلے دارند و محبوبے ندارند
میں ایک رات مناجات میں بارگاہ الہی میں زار و قطار رو دیا اور سوال کیا کہ مسلمان اتنے زار و نزار اور عاجز و خوار کیوں ہیں؟ جواب آیا کہ تو جانتا نہیں، یہ قوم دل تو رکھتی ہے مگر دلبر نہیں رکھتی۔ یعنی ان لوگوں کے پاس دل تو ہے مگر اس دل میں بسنے والا کوئی محبوب نہیں۔
ایک دانشور کا قول ہے ”غریب وہ نہیں جس کے پاس زادِ راہ نہ ہو بلکہ غریب وہ ہے جس کی کوئی مراد (محبوب و مطلوب زندگی) نہ ہو“۔ یعنی نامراد وہ ہے جس کا کوئی محبوب و مقصود نہ ہو اور یہ ایک بہت بڑے زیاں کا سودا ہے کہ زاد لے لیا جائے اور مراد کو چھوڑ دیا جائے۔ رزق کی خاطر رزاق کو بھلا دیا جائے، دنیا سنوارنے کی خاطر دین کو نظر انداز کر دیا جائے، نتیجتاً نہ دین باقی رہتا ہے اور نہ دُنیا ساتھ دیتی ہے۔ عرب کے ایک فصیح البیاں شاعر کا بیان ہے : ”ہم دین کا ملبوس چاک کر کے اپنی دنیا کے ملبوس کی رفوگری کرتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ دنیا باقی رہتی ہے اور نہ دین۔ اس نامرادی اور ایمان کی محوریت سے محرومی نے مسلمانوں کو اوج ثریا کی بلندیوں سے تحت الثریٰ کی پستیوں میں گرا دیا ہے“۔
پروفیسر محمد اقبال جاوید کے الفاظ میں ”حکیم الامت کی نظر میں ملت بیضا کا دل ایک ایسا پھول ہے جو خوشبو سے محروم ہے۔ دل تمنائے محبوب سے زندہ ہوتے اور تابندہ رہتے ہیں۔ اگر آرزو کی یہ لطافت اور یاد کی یہ چاہت چھن جائے تو نخلِ دل کے برگ و بار مُرجھا جاتے ہیں اور زندگی ویرانیوں کا مرکز بن جاتی ہے، گویا دل کی بہار گل ہائے آرزو کے مہکنے
سے ہے۔ اسی لیے دل کو شہر آرزو کہتے ہیں۔ شہر آرزو محبوب کے تصور سے ہی بستا ہے اور محبوب کے تصور کے بغیر دل محض گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اور اس دل سے نکلنے والی آواز محض بے کیف الفاظ کا مجموعہ تو ہو سکتی ہے مگر اس میں اثر آفرینی کی نشتریت پیدا نہیں ہو سکتی ۔عقل سے لے کر حکمت تک ، علم سے لے کر نظر تک اور خودی سے لے کر بے خودی تک جتنی منزلیں ہیں ، ان تک پہنچنے کیلئے علامہ اقبالؒ کے نزدیک اُسوہ حسنہ ہی واحد راستہ ہے۔ یہی وہ تعلق ہے جسے اپنا کر انسانی زندگی پہ مہر و ماہ رشک کرتے ہیں اور اس نسبت سے ہٹ کر زندگی بے آبروئی اور رسوائی کو اپنا مقدر بنا لیتی ہے۔
بقول تاجدار دار الاحسان ”اے تہذیب حاضر کے متوالے! تیرا دل محبت رسول ﷺ سے سرشار نہیں ، تیری روح میں بلالؓ کی سی تڑپ نہیں ، تیرے قلب میں صدیقؓ جیسا سوز نہیں ، تیرے کردار میں عمرؓ کا سا جلال نہیں ، تیری نگاہ میں عثمانؓ کی سی حیا نہیں ، تیرے پاس علیؓ کا فقر نہیں ، تیری ہستی میں مولائے حسینؓ کے کردار کی مستی نہیں ، تو کبھی ہیروں میں تُلا کرتا تھا ، آج تیری اتنی بے قدری کیوں ؟ تیری بے قدری اُن ﷺ سے دوری کی بدولت ہے“۔
تجھ سے کٹ کر در بدر بے آبرو ہونے لگی
کہکشاں رنگ ”اوج“ کے نعت نمبر کے ایک تزئین کار کی خوبصورت سوچ میں: ”زمانے کے درد و آشوب اور مصائب و آلام کے حوالے سے ملت اسلامیہ اپنے ادیبوں اور شاعروں کے وسیلے سے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں اپنا فسانہ غم سناتی اور نگاہ کرم کی طلب گار ہوتی رہی ہے۔ رومی و جامی ، عرفی و خاقانی ، سعدی و سینائی ، قدسی و بوصیری ، حالی و مینائی ایک ہی نگاہ کے تمنائی اور ایک ہی زلف کے اسیر ہیں۔ ان کے کف دست تمنا پہ حضور ﷺ کی نگاہ التفات کے چراغ اب بھی جل رہے ہیں۔ ...... ”چشم رحمت بکشا سوئے من انداز نظر“ ...... ”اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے“ کی صدائے دلنواز اب بھی کانوں میں رس گھول رہی ہے۔ ...... ملت بیضا کے آشفتہ لبوں پہ استغاثے کا رنگ اب بھی نمایاں ہے۔ کربلائے عصر کی تشنہ لبی ساقی کوثر کے در اقدس کی اب بھی تمنائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ ہمارے قومی انحطاط اور دینی زوال کا سبب، جمال مصطفیٰ ﷺ سے بیگانگی قرار دیتے ہیں اور قوم کے اس مرض کہن کا چارہ بھی بالآخر مولائے کائنات ﷺ کی نگاہ چارہ ساز ہی میں ڈھونڈتے ہیں۔
وہ ملت کے زخم بیکسی کا مرہم اور درد عاجزی کا دارو اُن کی نظر کرم ہی میں تلاش کرتے ہیں‘‘۔
رمید از سینہ او سوز آہے
دلش نالد! چرا نالد؟ نداند
نگاہے یا رسول اللہ نگاہے
مسلماں وہ فقیر کج کلاہ ہے جسکے سینے سے آپ ﷺ کی محبت کا سوز رخصت ہوگیا ہے۔ اسی لیے اسکا دل محوِ گریہ ہے۔ وہ کیوں گریہ کناں ہے، وہ یہ نہیں جانتا۔۔۔ یارسول اللہ ﷺ!۔۔۔ اس کے حال زار پہ نگاہ کرم فرمائیے، اس پہ نظر عنایت کیجئے۔
مادیت کے اس پرفتن دور میں دین کا اثاثہ ہم سے لُٹتا اور محبت رسول ﷺ کی میراث ہم سے چھنتی جارہی ہے لیکن خاکسترِ دل میں شعلۂ محبت رسول ﷺ کی چنگاری دبی ہے ابھی بجھی نہیں، نامِ مصطفےٰ ﷺ ہماری رگِ جان پہ رقم ہے۔ کوششِ اغیار کے باوجود زمانے کے ہاتھوں چُھپا ہے، ابھی تک مٹا نہیں، محبت رسول ﷺ کی آبرو، شہیدانِ ناموسِ رسالت ﷺ کے دم سے قائم ہے۔ آقائے دو جہاں ﷺ کی عزت و ناموس پہ مر مٹنے والوں سے ابھی دنیائے رنگ و بو خالی نہیں ہوئی۔ خاکم بدہن! اگر میرے حضور ﷺ کی حرمت و تکریم پہ کہیں حرف آرائی ہو تو کوئی نہ کوئی دیوانہ غازی علم الدین شہیدؒ کی صدائے بازگشت بن کر اپنی جاں کا نذرانہ پیش کرنے سے کبھی گریزاں نہیں ہوتا۔ جسم سے جاں کے جدا ہونے کا منظر محبت رسول ﷺ کے دیئے کی ٹمٹماتی ہوئی لَو میں تا حشر چراغاں کر جاتا ہے جس کی روشنی میں عشاق کا قافلہ سخت جاں فکرِ سود و زیاں سے بے نیاز سرگرمِ سفر رہتا ہے۔
ڈاکٹر سید محمد عبداللہ سابق پرنسپل اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی، لاہور کا کہنا ہے: ’’مسلمان فراخ دل قوم ہے مگر اس کی فراخ دلی کا مذاق اُڑا کر جب بھی کسی نے ان کے آقا و مولا ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو مسلمانوں نے موت کو زندگی پر ترجیح دی اور مسلمانوں کی یہ غیرت آج بھی قائم ہے۔۔۔۔۔۔ اگرچہ انگریزی تعلیم نے مسلمانوں میں بے حمیتی پیدا کر دی ہے مگر پھر بھی عوام الناس و جمہور مسلمان آج بھی اس گناہ کو برداشت نہیں کرسکتے‘‘۔
مشہور بیوروکریٹ اور ادیب قدرت اللہ شہاب نے اس سلسلے میں مسلمانوں کے جذبات کا تجزیہ کرتے ہوئے کافی حد تک صحیح لکھا ہے: ’’رسول کریم ﷺ کے متعلق اگر کوئی
بدزبانی کرے تو لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے کی بازی لگا بیٹھتے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں، بلکہ تجربہ تو اسی کا شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموسِ رسالت ﷺ پر اپنی جان عزیز کو قربان کر دیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد وتقویٰ میں ممتاز تھے، ایک عام مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت ﷺ کے حق میں مضطرب ہوتا ہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے، خواص میں یہ عقیدت ایک جذبے اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔‘‘
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی امت نے بھی اپنے نبی ﷺ سے اتنی محبت نہیں کی جس قدر مسلمانوں نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو ٹوٹ کر چاہا ہے۔ ملت اسلامیہ کی تاریخ محبت رسول کے مظاہر سے مالا مال ہے۔ مسلمانوں نے آپ ﷺ کو ہمیشہ اپنے جان و مال اور اہل وعیال سے بڑھ کر چاہا اور آپ ﷺ کو اپنی تمام تر محبتوں کا مرکز ومحور جانا۔ آپ ﷺ کی مقدس و مطہر حیثیت محض ایک محسن کی ہی نہیں بلکہ ایک مسلمان کا مرکزِ محبت بھی ہے۔ اس والہانہ عقیدت و ارادت کا نام ہی ایمان ہے اور اس کے بغیر ایمان کی تکمیل ممکن ہی نہیں۔ جس دل میں آپ ﷺ کی محبت نہیں، وہ پتھر کا ایک بے حس ٹکڑا تو ہو سکتا ہے مگر دل نہیں اور محبت بھی وہ جس کے آگے دنیا کی تمام محبتیں ہیچ ہیں۔ اس محبت کا سبب وہ دعوتِ حق ہے جس کیلئے آپ تشریف لائے۔ آپ ﷺ کی اپنی ذات اس کا عملی پیکر تھی اور جس کے عملی نمونے کے سانچے میں حیات انسانی کو ڈھالا جانا مقصود تھا۔
9 ہجری رمضان المبارک میں چند افراد پر مشتمل بنی ثقیف کا ایک وفد بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوا اس وفد کی آستانہ نبوت پہ حاضری کو تاریخ نے ایک منفرد مقام دیا۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر اسی قبیلہ کی طرف سے عروہ بن مسعود، حضور ﷺ کے پاس آئے۔ واپسی پر انھوں نے قریش کو بتایا کہ میں دنیا کے بہت سے شہنشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں لیکن محمدؐ سے ان کے ساتھیوں کو جو عقیدت و احترام، تعظیم وتکریم اور محبت ہے، وہ میں نے کہیں نہیں دیکھی۔ محمدؐ وضو کرتے ہیں تو لوگ پانی پر اس طرح لپکتے ہیں کہ اُس کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرنے نہیں پاتا اور اگر وہؐ اپنے غنچہ دہن سے اپنے لعابِ اقدس کا زرگل زمین کی زینت بناتے ہیں تو لوگ فرطِ عقیدت سے اس کو اپنے خوش بخت ہاتھوں اور زندگی افروز چہروں کا غازہ بنا لیتے
ہیں ۔ محمد ﷺ کے لب لعلیں پہ لفظ بوسہ دیتے ہیں تو لوگوں کے جسم و جاں ساکت وصامت ہو جاتے ہیں۔ محمد ﷺ کے لب گوہر بار کسی ارشاد کیلئے وا ہوں تو ہر جانثار اس کی تعمیل میں دیوانہ وار لپکتا تھا۔ ان کے سامنے لب کشا ہوتے ہیں تو ریشم کے سے کومل اور گداز لہجے میں ان کے سامنے دوزانو نیچی نگاہ کیے ہوئے۔
محبت کی تاریخ میں ایک اور روشن باب بھی رقم ہے کہ جنگِ احد میں دشمنوں نے میرے حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کی خبر اڑا دی ۔ آپ کی محبت کی ایک دیوانی اس خبر پہ گھر کی چوکھٹ سے نکل کھڑی ہوئی اور گلی گلی کی خاک چھاننے لگی ۔ وہ ہر آنے والے سے میرے حضور ﷺ کے بارے میں پوچھتی ۔ ایک فرزانے نے کہا تیری جنت تجھ سے روٹھ گئی ہے، دوسرے نے خبر دی کہ تیرا سہاگ لٹ چکا، تیسرے نے کہا کہ تیرا نام لیوا کوئی بھی باقی نہیں رہا۔ لیکن اس پگلی نے سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر پھر وہی سوال دہرایا کہ میرے حضور ﷺ کس حال میں ہیں؟ دردمندوں نے تشفی دی کہ بخیر و عافیت ہیں مگر محبّت رسول ﷺ میں بے چین دل کو چین کہاں؟ اس نے التجا کی کہ میرا محبوب نظر میری آنکھوں کو دکھا دو۔ غم گساروں نے محبوب دو جہاں ﷺ کی طرف اشارہ کیا تو دل صد پارہ کو قرار آ گیا اور آنکھ یہ کہتے ہوئے پُرنم ہوگئی۔
اے شہہ دیں! تیرے ہوتے ہوئے کیا چیز ہیں ہم
اسی معرکہٴ احد میں جب کہ مسلمانوں کی صفیں درہم برہم ہوگئیں تو آپ ﷺ نے پکارا ”کون ہے جو مجھ پر جان دیتا ہے“ دفعتاً سات جاں نثار نکلے اور ایک ایک کر کے شمعِ رسالت پر قربان ہو گئے۔
قرآن وحدیث کے بحر بیکراں کے جواہر ریزے اس امر کی گواہی دیتے ہیں اور تاریخِ اسلام کے تابندہ نقوش اس بات کے شاہد ہیں کہ محبّت رسول ﷺ کی چنگاریاں ہمیشہ سے دل مومن کا عزیز ترین اثاثہ رہی ہیں۔ ایمان کا اولین تقاضہ یہ ہے کہ دنیا کی ہر شے اور کائنات رنگ وبو کی تمام رعنائیاں محبوب خدا ﷺ پر نثار کر دی جائیں تو باوجود اس کے حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا کیونکہ صفحہ ہستی اور فردوس بریں کے سب حسیں بھی اگر آپ کی خاک پاک کی گرد پر قرباں ہو جائیں تو جذبہٴ صادق کی تسکین پھر بھی ممکن نہیں۔ جس شخص کا سینہ حُب رسول ﷺ کا
اُمتی نہیں، وہ سب کچھ تو ہوسکتا ہے مگر مسلماں نہیں اور جو تیرہ بخت آپ کے دامن رحمت سے وابستگی کا دعویدار ہونے کے باوجود اپنے آقا مولا کی ذات اقدس میں تنقیص کے پہلو تلاش کرتا پھرے، وہ مسلمان تو کیا انسان بھی نہیں ہوسکتا۔ ایک سیاہ فام حبشی غلام (حضرت بلالؓ) کی کشت دل سوز و درد کی فصل سے لہلہا اُٹھی تو وہ ملت اسلامیہ کا مؤذن بنا۔ جب ایک کم سن نژاد اسامہ بن زیدؓ یہ منشور لے کر اٹھا کہ ”غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے“ تو وہ سرکش عمائدین قریش کا سردار ٹھہرا۔ ؎
خدا کے دامن توحید میں آباد ہونے کی
ذرا اپنی خرد کی جبیں پر فکر کا ستارہ سجا کر سوچئے اگر محبت رسول کا واسطہ درمیان سے اُٹھ جائے تو وہ کون سے دیوار ہوگی جو ہمیں کفار سے جدا رکھے گی؟ وحدت ملی اور قومی غیرت کس شے کا نام ہوگا؟ اور اگر اس سے انکار ممکن نہیں کہ ان سب رشتوں اور وابستگیوں کی بنیاد حضور اکرم ﷺ کی ذات والا صفات ہے تو جو چیز تمہیں سید الانبیاء رحمۃ للعالمین کے دامن کرم سے جُدا کرتی ہے، ان کی عزت و احترام میں آڑے آتی ہے تو کیا وہ تمہیں ماں باپ، بہن ، بھائی، مال و منال اور زندگی کی ہر اس خوشی سے محروم نہیں کرنا چاہتی جس سے تمہاری دنیاوی زندگی کے سہارے اور عاقبت کے تمام حسین تصورات وابستہ ہیں۔ ایسی طاغوتی (شیطانی) قوت جو تمہیں عشق و اطاعت رسول اور احترام و توقیر کے تمام آداب سے تہی دامن کر دینا چاہتی ہے، کیا وہ قابل نفرت نہیں؟
اتحاد کا مرکزی تصور جب تک عشق و اطاعت رسالت مآبؐ نہ بن جائے، ہم ملتِ واحدہ نہیں بن سکتے۔ امتیازات رنگ و نسل و زبان و وطن اور علاقائیت کے باوجود اگر ہم تاریخی وحدت ہیں تو احکامات رسالت کی پابندی سُنتِ مطہرہ سے وابستگی اور عشق محمدی ﷺ کے جامع کلمہ کی بنا پر۔ بقول حکیم الامت ؎
زین جہت با یک دگر پیوستہ ایم
پس ملت کے تمام طبقات کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ جو شخص حضور ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق اشارتاً یا کنایتاً سُوءِ ادبی کرتا ہے، اُسے مسترد کر دیا جائے چاہے وہ کتنے ہی مقام
و مرتبے کا مالک کیوں نہ ہو۔ کیا ہم وہی مسلمان ہیں جن کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھنے والی مٹی تہذیب کے چہرے کا غازہ بن جایا کرتی تھی، نہیں نہیں ! کیونکہ ............ اپنی وفاؤں کا مرکز بدلنے والے پسر کبھی بھی میراث پدر کے سزاوار نہیں ہوا کرتے ............ اس نازک دوراہے پر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اُس گم گشتہ میراث سے ایک نئے ولولے کے ساتھ رشتۂ اُلفت جوڑیں۔ اگر ہم آج بھی اپنے اُجڑے ہوئے قلب وجگر کو مئے الفتِ رسول سے آباد کرلیں تو عظمتِ رفتہ گردش ایام کی طرح لوٹ سکتی ہے۔
اقبالؒ کے الفاظ میں ............ ’’یارسول اللہ ﷺ! ہماری زندگی کا راز آپؐ کے دامن کرم سے وابستگی میں مضمر ہے۔ آپ کا دامن بہار چھوڑ دینا مر جانے کے مترادف ہے۔ پھول کی طرح بادِ خزاں سے مرجھانے کے برابر ہے۔ آپ کا دامن ہمارے لیے بہار کی مانند ہے۔ جس طرح بہار سے جدائی پھولوں کے لیے موت کا پیغام ہے، اسی طرح امت مسلمہ کی زندگی آپ کے دامنِ کرم سے وابستگی اور موت اس سے علیحدگی میں ہے۔ ایک پیکرِ محسوس سے لافانی محبت کا اظہار، حسنِ جمالِ مصطفویٰ ﷺ کو جی بھر کے خراجِ تحسین اور ممدوحِ کائنات ﷺ سے غیر معمولی عقیدت کا اظہار ایک مسلماں کے لیے نغمۂ بہار ہے۔ تم ریاضِ مصطفویٰ کی ایک کلی ہو، بہار مصطفویٰ کی ہواؤں سے بڑھ کر پھول بن جاؤ۔ پہلے محبت رسول کی دل میں گرمی پیدا کرو، افعال و مقالات رسول خود بخود شعار بن جائیں گے اور پھر دنیا و آخرت دونوں تمہارے دامن میں ہوں گے۔ محبتِ رسول کا دعویٰ اور خدا کی نافرمانی، مجھے اپنی جان کی قسم! یہ تو بڑی انوکھی بات ہے۔ اگر تم اپنے دعویٰ محبت میں سچے ہوتے تو اس کی اطاعت کرتے کیوں کہ محبت تو اپنے محبوب خوشنودی کی تمنائی ہوتی ہے۔ محبت زبانی اقرار کا نام نہیں، عشق کا اولیں تقاضا اپنی ذات کو محبوب کے حوالے کردینا ہے۔ محبت مکمل خود سپردگی مانگتی ہے اور محبوب کے رنگ میں رنگے جانا ہی محبت کا مقصود ہے‘۔
محبت رسول ﷺ دل کے شبستان میں کھلا ہوا ایک ایسا پھول ہے جس کی بہار، بے خزاں ہے۔ یہ ایک ایسی حسیں سحر ہے جس کی شام ہوتی ہی نہیں، یہ ایک ایسی بادۂ انگبیں ہے جس کے سرور کے بغیر رُوح کو چین ہی نہیں آتا۔ آپ ﷺ کی محبت ایک ایسا پھول ہے جو اگر کسی کے دل میں ایک بار کھل اٹھے تو پھر کبھی نہیں مرجھاتا بلکہ اس کی رنگینی، شگفتگی اور تازگی روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہے۔ وقت کے تیز وتند تھپیڑے اور زمانے کے آہنی ہاتھ اس کی کومل پنکھڑیوں کو نہ تو چھو سکتے ہیں اور نہ ہی تاراج کر سکتے ہیں۔ یہ وہ مقدس جذبہ ہے، جو کبھی ماند نہیں پڑتا، یہ وہ نایاب
پھول ہے جس کی خوشبو، روح کو لطافت اور من کو بالیدگی بخشتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس گم گشتہ میراث سے ایک نئے ولولے کے ساتھ رشتہ الفت جوڑیں۔ اگر ہم آج بھی اپنے اجڑے ہوئے قلب و جگر کو مئے الفت رسول ﷺ سے آباد کر لیں تو ہماری عظمت رفتہ گردش ایام کی طرح لوٹ سکتی ہے۔
بلاشبہ محبت رسول ﷺ تقاضائے ایمان اور مومن کی میراث ہے۔ جب تک مسلمانوں نے اپنی اس وراثت کو حرزِ جاں بنائے رکھا، ثریا ہمارا ہدف تھی اور پروین ہماری شکار گاہ، رعب و دبدبہ ہماری دلہن، عزت و سر بلندی ہمارا حصہ، موت ہماری ادا، شہادت ہماری تمنا، فتح ہمارا مقدر، حکومت و جہانبانی ہمارا حق اور کامیابی و کامرانی ہماری لونڈی تھی۔ جب ناعاقبت اندیشی کے سبب، ہم سے محبت رسول ﷺ کی دولت چھن گئی تو یہودی جرنیل کے پاؤں کی بیدردانہ ٹھوکریں نہایت خود نمائی اور خودستائی کے ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی کی شکستہ قبر سے پوچھ رہی تھیں ”اب تیری تُربت کے وارث کہاں ہیں؟“ ........... ہائے وہ سلطان صلاح الدین ایوبی ...... جس نے فلسطین، شام، اردن، لبنان اور مصر پر حکومت کی، بیت المقدس فتح کیا، اس کی شہادت کے بعد اس کی ذاتی جائیداد کا حساب کیا گیا تو پتہ چلا کہ اس کے پاس ایک گھوڑا، ایک تلوار، ایک زرہ، ایک دینار اور 36 درہم کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ شدید خواہش کے باوجود محض رقم نہ ہونے کی وجہ سے حج نہ کر سکا۔
ایک سچے مسلمان کے نزدیک آپ ﷺ کی غلامی پہ ہزاروں آزادیاں قربان۔ اس متاع گرانبہا کے سامنے تمام ارضی و سماوی نعمتیں ہیچ ہیں۔ یہ ایک ایسا ید بیضا ہے جس کے مقابلے پر دنیا بھر کی دولت، سحر سامری سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ محبوب سے تعلق و نسبت رکھنے والی ہر چیز کا ادب و احترام، تعظیم و تکریم، تقاضائے محبت ہے اور محبت مصطفیٰ ﷺ تقاضائے تکمیل ایمان ہے۔ محبت بھی ایسی کہ جس پر والدین کی عظمتوں کے مہکتے گلاب، اولاد کی محبتوں کی شگفتہ کلیاں، بہنوں کے لطف و کرم کے سنبل و ریحاں، شاہراہ زیست پہ چلنے والے ہمسفروں کی سچی رفاقتوں اور منزہ خلوص کے شجر ہائے سایہ دار، رشتہ داروں اور اعزہ و اقربا کی پرخلوص ہمدردیاں اور وفا کیشیاں، شب و روز جہد مسلسل سے حاصل شدہ مال و منال، کاروبار زندگی کی وسعتیں، قصر و محلات کی زیبائیاں اور رعنائیاں، ہاں ہاں یہ سب کچھ، چشم زدن میں بغیر تامل و تفکر کے نچھاور و قربان کر دیا جائے تب حضور ﷺ سے معیار محبت کا میزان بنتا ہے۔ بقول مولانا محمد اسلم
شیخوپوری ”جہاں تک حضور سرور عالم ﷺ کا تعلق ہے تو آپ ﷺ کی محبت ہر مسلمان کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔ آپ ﷺ کی یاد آنے سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ وہ آپ ﷺ کی غلامی کو آزادی سے کہیں زیادہ عزیز جانتا ہے۔ وہ اپنے اور اپنے اہل وعیال کے ناموس سے زیادہ ناموس رسالت ﷺ کو حرز جاں بنائے رکھتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ بظاہر دین سے دور دکھائی دیتا ہے، اس کی شکل وصورت اور سیرت و کردار سے اس کے محمدی ہونے کا بھی ثبوت بھی نہیں ملتا لیکن ۔
آبروئے ما ز نام مصطفیٰ ﷺ ست
کے مصداق دل مسلم میں محبت رسول ﷺ کا آبگینہ انتہائی نازک ہے۔ جب اس کو ٹھیس لگتی ہے یا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں، دل کے پہلو میں محبت رسول ﷺ کی سلگتی ہوئی چنگاری شعلہ جوالا بن جاتی ہے اور وہ دریدہ دہن کی گستاخ زباں کو گدی سے کھینچ لینے کے لیے تڑپنے لگتا ہے۔ یہ محبت کا معاملہ ہے جو حضور ختمی مرتبت ﷺ سے جاملتا ہے۔
بقول جناب محمد عارف برلاس ”روح محمد ﷺ ہی تو وہ آکسیجن ہے جس کے بغیر ہماری زندگی بے معنی ہے، یہ آکسیجن تو DNA کی طرح ہماری رگ رگ میں سرایت کرچکی ہے اور کبھی DNA بھی کسی سے تبدیل ہوا؟“
حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زیدؓ کے لیے اپنے بیٹے سے زیادہ وظیفہ مقرر کیا، میرے بیٹے نے مجھ سے شکایت کی کہ کیا اسامہؓ میں مجھ سے زیادہ فضیلت ہے کہ آپ نے اس کا وظیفہ مجھ سے زیادہ مقرر کیا ہے؟ میں نے کہا اسامہؓ کو تجھ پر یہ فضیلت ہے کہ وہ زیدؓ بن حارث کا بیٹا ہے جسے حضور نبی کریم ﷺ تیرے باپ سے زیادہ محبوب رکھتے تھے۔ اس لیے میرے نزدیک رسول خدا ﷺ کا محبوب، میرے محبوب سے زیادہ افضل ہے۔
ایک روز خواجہ غلام فریدؒ کی خدمت میں ایک ضرورت مند حاضر ہوا اور اپنے سیّد ہونے کے حوالے سے امداد کا طلبگار ہوا۔ آپ نے اس کی بے حد تکریم کی، شفقت سے اپنے پاس بٹھایا، خوب تواضع کی اور کچھ رقم دے کر اُسے رخصت کیا۔ خواجہ صاحب کا ایک مرید کہنے لگا ”حضور! یہ تو علاقہ جام پور کا ایک مراثی تھا! آپ نے فرمایا، مجھے معلوم ہے لیکن وہ اس عظیم
ہستی ﷺ کے وسیلے کو لے کر میرے پاس آیا تھا جس کی محبت ایمان کی علامت اور جس کا احترام اسلام کی بنیاد ہے یہ غلام اپنے آقا ﷺ کے وسیلے سے کس طرح منہ موڑ سکتا تھا۔ یہ کہا اور آبدیدہ ہو گئے۔
جگر مراد آبادی کی قبر کو اللہ نور سے بھر دے۔ مشاعرے کی شب علی گڑھ یونیورسٹی کے طالب علم شوخی پر اتر آئے اور غزل کے شاعر سے نعت کی فرمائش کر دی۔ شاعر نے بچ نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن علی گڑھ کے نوجوانوں سے کون بچ سکتا تھا۔ کہا ”ٹوپی لاؤ“ ادب سے سر پر رکھی، نشست کو مؤدب کیا اور مصرعہ پڑھا......
مصرع دُہرایا اور رو دیئے پھر پڑھتے اور روتے رہے۔ ایک ایک کر کے سارے لوگ چلے گئے۔ کشادہ عمارت سے قدموں کی چاپ رخصت ہوئی مگر وہ مصرع پڑھتے اور روتے رہے...... ”اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہ ﷺ...... مدحت سلطان مدینہ ﷺ“ کوئی کھیل نہیں جو لفظ و بیاں سے کھیلا جائے جہاں غالب سا عبقری بھی گنگ ہو گیا اور کہا تو فقط یہ کہا:
کہ آں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد ﷺ است
قدرت اللہ شہاب اپنی شہرہ آفاق کتاب ”شہاب نامہ“ میں ایک ایمان افروز واقعہ لکھتے ہیں:
”ایک روز پرائمری سکول کا استاد رحمت الٰہی میرے پاس آیا۔ وہ چند ماہ بعد ملازمت سے ریٹائر ہونے والا تھا۔ اس کی تین جوان بیٹیاں تھیں۔ رہنے کے لیے اپنا گھر بھی نہ تھا۔ پنشن نہایت معمولی تھی، اسے یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ ریٹائر ہونے کے بعد وہ کہاں رہے گا؟ لڑکیوں کی شادیاں کس طرح ہوسکیں گی؟ کھانے پینے کا خرچ کیسے چلے گا؟
اس نے مجھے سرگوشی میں بتایا کہ پریشانی کے عالم میں وہ کئی ماہ سے تہجد کے بعد رو رو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریادیں کرتا رہا ہے۔ چند روز قبل اسے خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی۔ حضور ﷺ نے اُسے فرمایا کہ تم جھنگ جاکر ڈپٹی کمشنر کو اپنی مشکل بتاؤ، اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ پہلے تو مجھے شک ہوا کہ یہ شخص مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، میرے چہرے پر شکوک و شبہات اور تذبذب کے آثار دیکھ کر رحمت الٰہی آبدیدہ ہو گیا اور بولا جناب! میں
جھوٹ نہیں بول رہا، اگر جھوٹ بولتا تو اللہ کے نام پر بولتا، حضور ﷺ کے نام پر کیسے جھوٹ بول سکتا ہوں؟ اس کی اس منطق پر میں نے حیرانی کا اظہار کیا تو اس نے فوراً کہا آپ نے سنا نہیں کہ؎
یہ سن کر شہاب لکھتے ہیں کہ میرا شک پوری طرح رفع تو نہ ہوا لیکن سوچا کہ اگر یہ شخص غلط بیانی سے کام لے رہا ہے تو کیا ہوا؟ اس عظیم ہستی کے اسم گرامی کا سہارا تو لے رہا ہے جس کی لاج رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے خفیہ طور پر اس کے ذاتی حالات کی تحقیقات کروائی تو تصدیق ہوگئی کہ وہ سچ بول رہا ہے۔ چنانچہ میں نے آٹھ مربّعے زمین جسے جلد از جلد کاشت میں لایا جاسکے، رحمت الٰہی کے نام الاٹ کردی۔ تقریباً دس سال بعد جب میں صدر ایوب کے ساتھ کراچی میں کام کر رہا تھا تو ایوانِ صدر میں میرے نام ایک خط آیا جو کہ ماسٹر رحمت الٰہی کی جانب سے تھا۔ لکھا تھا کہ زمین پر محنت کرکے تینوں بیٹیوں کی شادی کردی ہے۔ اپنی بیوی کے ساتھ حج کا فریضہ بھی ادا کرلیا ہے۔ اپنے گزارے اور رہائش کے لیے تھوڑی سی زمین خریدنے کے علاوہ ایک کچا کوٹھا بھی تعمیر کرلیا ہے۔ اب اسے ان آٹھ مربّعوں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ چنانچہ اس الاٹمنٹ کے مکمل کاغذات اس خط کے ساتھ واپس بھیج رہا ہوں۔
شہاب کہتے ہیں کہ میں یہ خط پڑھ کر سکتے میں آگیا اور اسی طرح گم صم بیٹھا تھا کہ صدر ایوب کمرے میں آگئے تو انھوں نے استفسار کیا۔ میں نے انھیں رحمت الٰہی کا پورا واقعہ سنا دیا۔ وہ بہت حیران ہوئے۔ سچ تو یہ ہے کہ رحمت الٰہی جیسے ہی تو لوگ ہیں جن کو نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوتی ہے“۔
علامہ عبدالرشید غازی اپنے فکر انگیز مضمون ”طویل رات“ میں مسلمانوں کی بے حسی اور بے حمیتی پر نوحہ گری کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جا رہی ہے......؟ نیند آنکھوں سے کوسوں دُور......کروٹ پر کروٹ بدلے جاتا ہوں......لیکن نیند ہے کہ آتی ہی نہیں......یہ آخر مجھے کیا ہو گیا ہے......؟ اللہ نے سب کچھ تو دے رکھا ہے...... مال و متاع، گھر بار، پرہیزگار بیوی اور فرمانبردار اولاد اور وہ سب کچھ جس کی کوئی تمنا کرے......پھر ان میں سے کچھ بھی تو کھویا نہیں کہ جس پر فکر یا رنج ہو...... لیٹے لیٹے اچانک ایک منظر نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے......عموریہ کا بازار ہے جہاں ایک عیسائی نے ایک مسلمان عورت کے چہرے پر تھپڑ مار دیا......عورت نے
روتے ہوئے دہائی دی۔ ہائے معتصم!! مجھے سمجھ نہ آیا کہ عموریہ میں رہنے والی اس عورت نے تھپڑ پر اپنے خلیفہ کو دہائی کیوں دی؟ وہاں سے سیکڑوں میل کی مسافت پر موجود خلیفہ معتصم باللہ کا اس مسئلہ سے کیا تعلق ......؟ میرے ناخوابیدہ اور بے چین ذہن نے اس گتھی کو سلجھانے کی بہتیری کوشش کی لیکن ناکام رہا ...... نیند ہے کہ آتی ہی نہیں اور یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ ...... ہر طرف شاہی دربان ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ خلیفۂ وقت اپنے شاہانہ تخت پر بڑی شان وشوکت سے جلوہ افروز ہے ...... اس کے دائیں بائیں وزیر مشیر اور دیگر خواص اپنی اپنی مخصوص نشستوں پر بیٹھے ہیں ...... خلیفہ معتصم باللہ کا خصوصی کارندہ انھیں معمول کے حالات بتاتے ہوئے عموریہ میں ایک مسلمان عورت کے چہرے پر تھپڑ رسید ہونے کا واقعہ سناتا ہے تو اچانک خلیفہ اپنے تخت شاہی سے اٹھ کر اونچی آواز میں ”لبیک“ کہتا ہے۔ سب حیران ہیں کہ اچانک ایسے خوشگوار ماحول میں خلیفہ اتنی معمولی سی بات پر اتنا برہم اور بیتاب کیوں ہو گیا ...... پھر خلیفہ اپنے درباریوں کے سامنے اس عورت کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے اس ملک پر لشکر کشی کے ارادے کا اظہار کرتا ہے۔ درباری اسے روکنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں کہ حالات سازگار نہیں ہیں ...... معروضی حالات اجازت نہیں دیتے ...... زمینی حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں ...... اس قسم کے اقدامات میں بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ...... شورشیں امڈ امڈ آئیں گی ...... خواہ مخواہ دشمنیاں، دوریاں اور بدامنیاں پیدا ہو جائیں گی ...... پھر ہمارے حالات بھی اجازت نہیں دیتے ...... اسلحہ کی کمی ہے ...... وسائل کا فقدان ہے ...... اس لیے جہاں پناہ! آپ ایسا ہرگز نہ کریں ...... لیکن خلیفہ بضد ہے کہ اس مسلمان بہن کی پکار نے میرا سکون غارت کر ڈالا ہے ...... مجھے اب گھر اچھا لگتا ہے نہ کھانا، نہ پینا اور نہ ہی سونا ...... میں اس وقت تک چین سے نہ بیٹھوں گا جب تک اپنی مسلمان بہن کا بدلہ نہ لوں ...... اور پھر خلیفہ وقت کے حکم سے طبل جنگ بجا دیا جاتا ہے ...... دربار کا یہ منظر اگرچہ میری نگاہوں سے غائب ہو جاتا ہے لیکن تاریخ کے بہت سے بوسیدہ اوراق میرے ذہن پر عکس ڈالتے چلے جاتے ہیں اور مجھے تاریخ کے دھندلکے میں اسی قسم کے کئی دیگر مناظر بھی دکھائی دینے لگتے ہیں ...... احساس ہوتا ہے کہ ایک وقت تھا جب مسلمان ایک عام مسلمان کی حرمت و تقدس پر کٹ مرجایا کرتے تھے ...... تاریخ کے یہ اوراق چونکہ میرے آباؤ اجداد کے ہیں، اس لیے بھی مجھے بھلے لگتے ہیں اور انھیں یاد کر کے کچھ سکون آ جاتا ہے ...... لیکن نیند ہے کہ اب بھی کوسوں دور ...... اور یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جا رہی ہے؟
میں سوچتا ہوں کہ ایک عام مسلمان کی عزت و ناموس کی اس طرح قدر کی جاتی تھی تو پھر جو لوگ مراتب میں زیادہ ہیں...... اللہ کے ولی ہیں...... ان کی حرمت کی کیا قدر کی جاتی ہوگی؟ پھر علمائے دین، محدثین کرام، تابعین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عزت وعظمت اور ان کی حرمت کا کیا معاملہ ہوگا...... اور پھر تاجدار ختم نبوت ﷺ کے تو کیا ہی کہنے...... یہی سوچتے سوچتے اچانک میرے ذہن پر یورپین اخبارات میں شائع ہونے والے توہین آمیز اور شرانگیز خاکے آجاتے ہیں...... میں لرز جاتا ہوں...... اور پورے بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ میں اٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں...... دل کی دھڑکنیں یک دم تیز ہوتی چلی جاتی ہیں...... آنکھوں سے ایک سیل رواں ہے کہ جاری ہو جاتا ہے...... دل کرتا ہے کہ دھاڑیں مار مار کر روؤں...... کرب ہے کہ ناقابل بیان...... کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے...... یوں لگتا ہے کہ دل بے قابو ہو کر باہر نکل پڑے گا...... یا اللہ! یہ مجھے کیا ہو گیا...... میں نے تو بڑے بڑے حادثات کو بھی بڑے صبر وتحمل سے سہہ لیا...... مجھ پر تو میرے والد گرامی کی شہادت کا دلدوز سانحہ بھی گزر گیا...... لیکن اللہ جانتا ہے کہ اس وقت بھی مجھ پر یہ کیفیت طاری نہیں ہوئی...... میں نے اپنے آپ کو سمجھانا شروع کیا...... مجھے اس مسئلہ پر اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے...... میرے اندر سویا ہوا ”روشن خیال“ یک بیک انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھا...... اور اس نے مجھے سمجھانا شروع کر دیا کہ دیکھو اس معاملے میں آخر تم کر ہی کیا سکتے ہو؟ پھر یہ کہ چند مذہبی جماعتوں کی طرف سے گزشتہ جمعہ کو اسلام آباد میں اسی مسئلہ پر بھر پور مظاہرہ بھی کیا جا چکا ہے...... اس میں بش کے پتلے جلائے گئے...... گستاخ مغربی ممالک کے خلاف نعرے لگائے گئے...... ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان بھی کیا گیا...... یہ سب کچھ سوچ کر میرے دل کو ایک گونہ قرار سا آ گیا...... اور میں دوبارہ بستر پر دراز ہو کر یہی باتیں سوچ کر نیند کی حسین وادیوں میں کھونے کی کوشش کرنے لگا...... مختلف ممالک میں ہونے والے مظاہروں کے مناظر مجھے تھپکیاں دے کر لمحہ بہ لمحہ پرسکون کرتے چلے جارہے تھے...... لیکن...... نہیں......! نہ جانے کیوں دل کے اندر ایک بے نام سی خلش ہے کہ پھر سے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے...... رہ رہ کر میرے دل سے درد کی ایسی ٹیسیں اٹھتی ہیں کہ میں تھرا کر رہ جاتا ہوں...... ذلت کا احساس...... ایسے جیسے کسی نے راہ چلتے سرعام مجھے غلیظ ترین گالی دے دی ہو...... مجھے بھرے بازار میں رسوا کر دیا ہو...... میرا دل بڑی تیزی سے دھڑکنے لگا...... اور میں ایک مرتبہ پھر بے چین ہو کر کروٹیں بدلنے لگا...... نیند ہے کہ کوسوں دور ہے اور یہ رات
نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جارہی ہے؟
مجھے بار بار خیال آتا ہے کہ اگر کسی شخص کو بھرے بازار میں ماں کی گالی دے دی جائے تو کیا وہ خون خرابے پر نہیں اتر آئے گا...... کیا وہ یہ تذلیل برداشت کر لے گا...... اور پھر میں سوچنے لگتا ہوں کہ آج آقا مدنی ﷺ کی عزت و حرمت پر حرف آچکا ہے...... کروڑوں مسلمانوں کی موجودگی میں ایسا کیسے ممکن ہو گیا...... مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ تاریخی جملہ یاد آنے لگا جب انھوں نے کہا تھا ”دین میں کمی کی جائے اور میں زندہ رہوں، یہ کیسے ممکن ہے؟“...... لیکن دوسری طرف حالت یہ ہے کہ ہمارے وہی معمولات، پہلے جیسے شب و روز، وہی قہقہے، وہی مسکراہٹیں، وہی کاروبارِ زندگی، وہی اللہ و رسول سے بغاوت اور نافرمانی کا چلن...... مجھے بار بار خیال آتا ہے کہ کچھ بھی تو نہیں بدلا...... ایسے لگتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں...... ہاں البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ وقتاً فوقتاً مظاہرے ہو جاتے ہیں، ہم نعرے لگا کر، تقریریں کر کے، قراردادیں منظور کر کے، کچھ لکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں...... ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوگئے...... میں سوچتا ہوں کہ کیا اتنا کافی ہے؟ میرے اندر سے آواز آتی ہے نہیں اور میں پھر بے تاب ہو جاتا ہوں...... اٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں...... پھر وہی کیفیت کہ نیند ہے کہ کوسوں دُور اور یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جارہی ہے؟
پھر میں سوچنے لگتا ہوں کہ اسلام تو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حضور ﷺ کی ذات گرامی ہمارے لیے ہماری جان و مال، آل اولاد اور اعزہ و اقربا سے زیادہ جب تک عزیز نہ ہو جائے تب تک ہمارا ایمان ہی کامل نہیں ہوسکتا...... لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ اگر کوئی ہماری ماں کی طرف نگاہ غلط انداز میں اٹھائے تو ہم اس کی آنکھیں پھوڑ دینے کے در پے ہو جاتے ہیں...... کسی کی زبان ہمارے والد کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہو تو ہم اسے گدی سے کھینچ لینے کا قصد کر لیتے ہیں...... کوئی ہمارے بھائی کے ساتھ لڑ پڑے تو ہم کشت و خون پر تل جاتے ہیں...... لیکن ذرا ہم سب دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے معاملے میں ہمارے دلوں کی یہی کیفیت ہے...... ہمارے جذبات میں وہی تلاطم ہے؟ ہماری غیرت ایمانی میں ایسا ہی جوش و خروش ہے؟ یہ سوچ کر احساس رسوائی سے میرا سر جھک جھک جاتا ہے...... مجھے شرم سے پسینہ آنے لگتا ہے...... میں سوچتا ہوں کہ روئے زمین پر بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کی ذلت و رسوائی میں اب کیا کسر باقی رہ گئی ہے؟
اے رحمت مجسم ﷺ! کفار نے ہماری بے غیرتی اور بزدلی کا سہارا لیا۔ انھوں نے بے شمار مظالم اور بے تحاشا ستم رانیوں کے بعد آخر اپنے ترکش کا آخری تیر بھی چلا لیا۔ وہ سیاہ باطن گورے آپ ﷺ کی حرمت سے کھیلنے لگے، اُن کی دریدہ دہنی اور گستاخی نے خاکوں اور کارٹونوں کی شکل اختیار کرلی۔ آپ ﷺ کے نام لیوا بے بس اور بے کس تھے لیکن اس کے باوجود مراکش سے انڈونیشیا تک ۔ وہ انتقام کا عزم لے کر میدانوں میں نکل آئے۔ اگر مسلم حکمران چاہتے تو وہ ان ممولوں کو وقت کے شہبازوں سے ٹکرا دیتے اور پھر دنیا عشق مصطفی ﷺ کے حقیقی نظارے دیکھتی۔
مگر اے میرے آقا ﷺ!
آج ہم میں کوئی محمدؓ بن مسلمہ نہیں، کوئی عبداللہؓ بن عتیک نہیں، کوئی عبداللہؓ بن انیس نہیں، کوئی نور الدین زنگیؒ نہیں، کوئی صلاح الدین ایوبیؒ نہیں، ہاں آقاe! آج ہماری صفوں میں کوئی علمؒ دین، کوئی مرید حسینؒ، کوئی عبدالقیوم، کوئی عبدالرشیدؒ، کوئی بابو معراج دینؒ، کوئی حاجی مالکؒ اور کوئی عامر چیمہؒ بھی نہیں، آقاe! کوئی بھی نہیں جو آپ ﷺ کے گستاخوں کے وجود سے اس صفحۂ ہستی کو پاک کر سکے۔
کاش آج کفر کی ان چالوں کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے ریگستان عرب کے باسیوں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی وفا کے سچے گیت گانے والوں، شعلوں کی باڑھ میں جسموں کو جھلسا دینے والوں، ننگی تلواروں کے سائے میں غیرت ایمانی رکھنے والوں کا سا ایمان مل جائے جو عظمت رسول ﷺ کی خاطر، توہین رسالت کا انتقام لینے کے لیے سرفروشی اور جانثاری کا حق ادا کر کے، محبت رسول ﷺ کی عظیم ادائیں، تاریخ کے صفحات پر روایتی الفاظ سے نہیں، سطحی روایتوں سے نہیں بلکہ اپنے چھالوں سے نیلگوں پانی اور اپنے تازہ خون کے سرخ قطروں سے تحریر کروا سکیں۔ ڈھونڈھ اے چشم عبرت ڈھونڈھ! شاید تجھے کہیں سے فاروقیؓ کردار کے حامل جوان مل جائیں جن کے سینوں میں غیرت حق کی کوئی رمق باقی ہو۔ کوئی زبیر بن عوامؓ کا سا پیکر مل جائے جس کے سینے میں غیرت حق نے جوانی کی آگ بھر دی ہو۔
نامور اسلامی سکالر جناب پروفیسر سید عبدالرحمٰن بخاری ”ناموس رسول ﷺ اور عہد جدید کا چیلنج“ کے عنوان سے لکھتے ہیں:
”دنیا بھر کے کافروں کو اگر سچ مچ کسی چیز سے خطرہ ہے تو وہ مسلمانوں کا جذبہ عشق
رسول ﷺ ہے۔ انھیں ڈر ہے تو شہیدان ناموس رسالت ﷺ کے لہو کی سرخی سے۔ وہ کانپتے ہیں غازی علم دین شہیدؒ کی تڑپ اور غازی عبدالقیوم شہیدؒ کے جذبوں سے۔ غازی مرید حسین شہیدؒ کی امنگوں اور غازی محمد صدیق شہیدؒ کے ولولوں سے۔ وہ گھبراتے ہیں غازی میاں محمد شہیدؒ کے جوش بے پایاں اور غازی عبداللہ شہیدؒ کے عزم جواں سے۔ ان کا بدن لرزتا ہے غازی عبدالرشید شہیدؒ کی جرأت اور غازی عامر چیمہ شہیدؒ کی للکار سے۔ وہ جانتے ہیں عالم کفر کی موت جن مسلمانوں کے ہاتھوں لکھی ہے، وہ شمع رسالت ﷺ کے ایسے ہی پروانے ہیں۔
چودہ صدیوں پر پھیلی تاریخ گواہ ہے کہ شمع رسالت ﷺ کے انھی پروانوں نے شجرِ اسلام کی آبیاری ہر دور میں اپنے لہو سے کی ہے۔ اسلام انھی کے دم سے ہر عہد میں تابندہ رہا ہے۔ صحابیتؓ اسی جذبۂ عشق مصطفیٰ ﷺ اور والہانہ سرفروشی سے دمک رہی ہے۔ اہلبیتؓ کی جاں نثاری نے ریگ زار کربلا میں اپنے لہو کی جو سرخی نچوڑی تھی، آج بھی اسلام کے گلشن میں ساری بہار اسی کی ہے۔ یہ عشق مصطفیٰ ﷺ کا جذبہ ہی ہے جو ایمان کی کھیتی کو ہرا بھرا رکھتا ہے۔ اس بات کو جتنا کفار جانتے ہیں، اتنا شاید مسلمان بھی نہیں جانتے۔ اس لیے دنیا بھر کے کفار سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر مسلمانوں کے اس جذبۂ عشق رسول ﷺ سے ڈرتے ہیں اور وہ صدیوں سے اپنی ساری توانائیاں اسی ایک نقطے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ کسی طرح اہل ایمان کے دل سے جذبۂ عشق رسول ﷺ کی تپش مٹا دیں۔ یہی ان کا منصوبہ کل بھی تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا اور یہی ہے عہد جدید کا سب سے بڑا چیلنج عاشقان رسول ﷺ کے لیے۔
چنانچہ علامہ اقبالؒ نے عہد حاضر کی ابلیسی طاقتوں کے دجل وفریب، مکر وسازش اور فتنہ وآزار کی تمام پرتیں کھول کر دکھا دی ہیں۔ اپنے ایک شعر میں وقت کے اس نباض نے عہد جدید میں امت مسلمہ کے سب سے بڑے اضطراب اور المیہ کو یوں اجاگر کیا ہے ؎
از جمال مصطفیٰ ﷺ بیگانہ کرد
ترجمہ: ہمارے زمانے نے ہم کو ہم سے بے گانہ کر دیا...... اور جمال مصطفیٰ ﷺ کے عرفان سے بے گانہ کر دیا۔
مسلماناں چرا زارند و خوارند
دلے دارند و محبوبے ندارند
ارمغان حجاز
ترجمہ: ایک رات خدا کے حضور بہت رویا کہ مسلمان ذلیل وخوار کیوں ہیں۔ صدا آئی کہ تو نہیں جانتا کہ یہ قوم دل تو رکھتی ہے لیکن محبوب (حضورﷺ) نہیں رکھتی۔
جمال مصطفیٰﷺ سے اہل ایمان کو بیگانہ کرنے کی سازش کہاں سے پھوٹی اور کیسے پروان چڑھی، یہ عالم آشکار ہے۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام دشمن قوتیں تاریخ کے مختلف ادوار میں دین حق کو مٹانے کے لیے اپنے سب حربے آزما چکیں، لیکن اسلام مٹنے کے بجائے مزید ابھرتا گیا۔ سکڑنے کے بجائے اور پھیلتا گیا۔ دبنے کے بجائے سب پر حاوی ہوتا گیا۔ دیکھو مدعیان نبوت ابھرے اور دم توڑ گئے۔ مرتدین بھاگے اور مٹ گئے یا لوٹ آئے۔ سبائی، فتنے لے کر اٹھے اور خود بھی فتنوں سمیت معدوم ہو گئے۔ خارجی بگڑے اور لڑ لڑ کر ختم ہو گئے۔ یورپ کے صلیبی لشکر طوفان اٹھاتے ہوئے آئے اور صدیوں تک آتے رہے لیکن مجاہدین اسلام کے گھوڑوں کی اڑائی ہوئی گرد میں ڈوب گئے۔ تاتاری صحرائے گوبی سے اٹھے اور آندھی بگولے کی طرح ہر سو چھا گئے، مگر جب وہ اہل اسلام کی کھوپڑیوں کے مینار بنا چکے، تو یکبارگی پلٹے اور سب کے سب حلقہ بگوش اسلام ہو کر کعبہ کی دہلیز پر جھک گئے۔ بقول اقبال ؎
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
تاریخ کے یہ سب ادوار جب دشمن دیکھ اور بھگت چکا تو اس نے فیصلہ کیا کہ اب اپنے ترکش کا آخری تیر چلا دینا چاہیے تا کہ امت مسلمہ کا سینہ ایسا گھائل ہو کہ پھر یہ زخم مٹ نہ سکے۔ یہ تیر کون سا تھا، اور یہ کس زہر ہلاہل میں بجھا ہوا تھا؟ اس کا رمز شناس بھی دانائے عصر علامہ اقبال ہی ہے۔ وہ بیسویں صدی میں استعمار کی حکمرانی کا راز فاش کر رہا ہے اور ابلیس کا اپنے فرزندوں کے نام سب سے بڑا حکم سنا رہا ہے۔ لیجئے سنیے! ابلیس کا سب سے بڑا حکم کیا تھا؟
روح محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو
یہ حکم بیسویں صدی کے آغاز میں جاری ہوا اور پھر شیطان کی ذریت اس آخری
مشن کی تکمیل میں لگ گئی۔
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جھوٹی نبوت کا دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی ابھرا اور اپنے پیچھے ایک ایسی نجس تاریخ چھوڑ گیا ہے جس کے تعفن سے ہمیشہ انسانیت کا دم گھٹتا رہے گا۔ فتنہ مرزائیت، اسلام کے خلاف انگریزوں کی ایسی بدترین سازش ہے جسے انھوں نے محض شروع ہی نہیں کیا بلکہ آج تک اسے پال رہے ہیں اور ایک سو سال سے زیادہ عرصہ پر پھیلی ہوئی اس سازش کی مسلسل لمحہ لمحہ دیکھ بھال کر رہے ہیں۔...... مرزا قادیانی تو نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد 7 سال کے اندر اندر مر گیا۔ لیکن اس کے مکر و فریب کا پردہ اسی وقت پوری طرح چاک ہو گیا تھا اور یہ بات اس کے سرپرستوں کے لیے بہت پریشانی کا باعث تھی۔ ان کی سازش پہلے ہی لمحے ناکامی کے خطرے سے دوچار ہو گئی تھی۔ بس یہی وہ مرحلہ تھا جب انگریزوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے اس خودکاشتہ پودے کو آخر تک انھیں خود سنبھالنا ہو گا۔ لمحہ لمحہ اس کی نگہداشت کرنی ہوگی۔ اسے ہر موسم کی سختی سے، ہر باد مخالف کے تھپیڑے سے، ہر خطرے اور ہر اندیشے سے بچانا ہوگا اور داد دیجئے کہ اب تک وہ اپنے اس فریب کو پوری طرح نبھا رہے ہیں اور بڑی کامیابی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔
انگریز اچھی طرح اس بات کو جانتے ہیں کہ آج اگر انھوں نے مرزائیت کی سرپرستی چھوڑ دی تو یہ فتنہ لمحوں میں اپنی موت آپ مر جائے گا۔ انھیں یہ بھی احساس ہے کہ مرزائیت کی موت، یہود و نصاریٰ کی ایک اور بدترین صلیبی شکست ہو گی۔ کیونکہ مرزائی امت مسلمہ کے خلاف جو جنگ لڑ رہے ہیں، یہ ان کی اپنی نہیں، صلیبیوں کی جنگ ہے۔ کیا بد نصیبی ہے مرزائیوں کی۔ خدا نے انھیں فاران کے چاند سید المرسلین ﷺ کے سایہ رحمت سے نوازا، مگر انھوں نے مہتاب عرب ﷺ کی ٹھنڈی، میٹھی، کومل چاندنی کو ٹھکرا کر نصرانیت کی صلیب اٹھا لی اور امت مسلمہ کے خلاف بیسویں صدی کی سب سے مکروہ صلیبی جنگ شروع کر دی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہر پچھلی صلیبی جنگ کی طرح بالیقین اس تازہ صلیبی جنگ میں بھی آخری فتح اسلام ہی کی ہوگی اور تاریخ انسانیت کی بدترین شکست کا داغ بالآخر قادیانیوں کے مکروہ چہرے پر ثبت ہوگا کہ یہی خدا کا اٹل فیصلہ ہے۔
جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا. (بنی اسرائیل: 81) حق آ گیا اور باطل نابود ہو گیا بیشک باطل کو نابود ہونا ہی تھا۔
ذرا بیسویں صدی کی تاریخ پڑھیے۔ واقعات کا تسلسل دیکھیے۔ حالات کے نشیب و فراز میں جھانکیے۔ زندگی کی پاتال میں اتریے۔ افراد کو جانچیے۔ ملت کو پرکھیے۔ قدم قدم اسی امتحان عشق کا سفر طے ہوتا نظر آئے گا۔ لمحہ لمحہ اسی آزمائش میں گزرتا محسوس ہوگا اور نفس نفس اسی ابتلا کا گداز ہوگا۔ دیکھیے، بیسویں صدی کا سورج چمکتے ہی خدا نے قادیان کے ملعون مرزا قادیانی کو عاشقان مصطفیٰ ﷺ کے سامنے امتحان بنا کر کھڑا کر دیا۔ 1901ء تک مرزا خود کو مہدی اور مسیح موعود کہتا رہا۔ 1901ء میں برملا اس نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا اور یہ دعویٰ خاتم الانبیا حضرت محمد ﷺ کو ماننے والے ہر مسلمان کے جذبۂ عشق کا امتحان تھا۔ مرزا کے خبیث ذہن کی سازش، اس کے وجود کی ہر حرکت اور اس کی زبان کی ہر جنبش اہل محبت مسلمانوں کا امتحان بن گئی۔ وہ جب تک زندہ رہا، اس کی ہر سانس محمد مصطفیٰ ﷺ کے دیوانوں کا امتحان تھی اور جب وہ مر گیا تو اس کی ہر یادگار ہمارے جذبۂ عشق رسول ﷺ کے لیے سراپا چیلنج بن گئی اور جب تک اس دھرتی کے سینے پر ایک بھی مرزائی سانس لیتا رہے گا، اہل محبت کا امتحان باقی رہے گا۔
انگریز برصغیر میں اترا تو اسے یہاں دو قوتیں نظر آئیں، ایک ہندو اور دوسری مسلمان۔ انگریز نے فیصلہ کیا وہ ان دونوں قوموں کو باہم لڑاتا اور خود ان پر حکومت کرتا رہے گا۔ بس پھر کیا تھا۔ انگریز نے ہندو مسلم لڑائی شروع کرا دی۔ مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑی لڑائی، ان کے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ کی عزت و ناموس پر حملہ ہے، اور انگریز نے ایسے ہندو ڈھونڈ لیے جو سرور کائنات محسن انسانیت ﷺ کی ناموس اطہر پر حملے کرنے لگے۔ کہیں راجپال سامنے آیا اور کہیں نتھو رام، کہیں چرن داس اٹھا اور کہیں پالامل سنار۔ کہیں چلچل سنگھ بڑھا اور کہیں رام گوپال۔ کہیں ننیوں مہاراج ابھرا اور کہیں لیکھ رام۔ غرض یہ کہ شردہانند اور اس کے چیلے میرے آقا و مولا رحمت دو جہاں ﷺ کی توہین کرتے رہے اور اہل عشق و محبت کے لیے امتحان گاہ سجاتے رہے۔
خدا کا شکر ہے، امت اس امتحان عشق رسول ﷺ میں سرخرو ٹھہری اور خاص طور پر برصغیر کے مسلمان۔ بیسویں صدی کے ہر طلوع ہوتے سورج کی پہلی کرن، ہر ڈھلتی شام کی آخری لو، ہر شب چاند کی سندر کومل چاندنی، ہر فصل بہار کی شادابی، ہر کھلتے پھول کی رعنائی، ہر بہتے دریا کی روانی، ہر چہچہاتے طائر کی نغمہ خوانی، ہر چہرۂ جمال کی تابانی، ہر خاموش روح کی ترنگ اور ہر دھڑکتے دل کی امنگ اس بات کی شہادت دے گی کہ رحمت کائنات سرور
دو جہاں ﷺ کے غلاموں نے عشق کے ہر امتحان میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وفا کی لاج نبھائی ہے۔
ادھر راجپال، چرن داس، نتھو رام، پالامل، چھپل سنگھ، رام گوپال، نینوں مہاراج، لیکھ رام اور شردھانند نے سر اٹھایا اور ادھر شمع رسالتؐ کے پروانے علم الدین، عبدالرشید، مرید حسین، میاں محمد، عبدالقیوم، محمد صدیق، خدا بخش، عبداللہ اور عبدالرحمن یکے بعد دیگرے اٹھے اور ان گستاخوں کے سر کچل کر خود پروانہ وار اپنے آقا و مولا ﷺ کی ناموس اطہر پر قربان ہو گئے۔ کیا امتحانِ عشق میں اس سے بڑھ کر سرخروئی کی اور کوئی ادا ہوگی! ان شہیدوں نے اپنے خون سے محبت اور وفا کی وہ انمول داستان لکھی ہے جس پر زمین کے سب ذرے اور آسمان کے سب تارے ہمیشہ ناز کرتے رہیں گے۔
عالمی سطح پر اس وقت اغیار کی دسیسہ کاریوں نے جو سب سے بڑی گھمبیر سازش اسلام کے خلاف بُنی ہے، وہ ناموس رسالت ﷺ کے خلاف طرح طرح کے ان تازہ حملوں میں جھلک رہی ہے اور افسوس یہ ہے کہ عہدِ موجود میں اہلِ ایمان کی غیرتِ دینی کے شعلے بجھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، علامہ اقبال کے الفاظ میں ؎
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے
آج دنیا میں ایک سو پچیس کروڑ مسلمان سانس لے رہے ہیں اور ہر سانس میں دکھ کی آگ بھری ہے۔ ہر مسلمان کا سینہ چھلنی ہے۔ ہر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ یا اللہ ! یہ دن بھی آنا تھا کہ ہم جی رہے ہیں اور ہمارے آقا ﷺ کی توہین ہوئی ہے ؎
میرے آقا ﷺ کی توہین ہوئی ہے
اے دینِ حق کے متوالو!....... شمع رسالت ﷺ کے پروانو!...... کیا ہمارا ضمیر اب کبھی جاگ نہ پائے گا...... کیا رب کی دھرتی پر اب کبھی ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کی شمعیں نہیں جلیں گی...... کیا اب ہمارے ایمان کی کھیتی سدا بنجر ہی رہے گی...... کیا حرمت رسول ﷺ پر جان نچھاور کرنے کے جذبے صرف ایک بھولی بسری تاریخ بن کر رہ جائیں گے...... ”حرمت رسول ﷺ پر جان بھی قربان ہے“ کے نعرے صرف دیواروں پر ہی سجے رہیں گے...... کیا
ہمارے لہو کی بوندوں میں اب کبھی عشق رسول ﷺ کی بجلیاں رقص نہیں کریں گی...... کیا ہماری پلکوں میں اب کبھی یادِ مصطفیٰ ﷺ کی نمی نہیں اترے گی...... کیا ہم خود کو شفاعت مصطفیٰ ﷺ کی آرزو سے ہمیشہ محروم رکھنے پر تلے ہوئے ہیں......؟ کیا کہا...... نہیں!...... تو پھر...... قارئین کرام...... نکلیے اپنے گھروں سے باہر...... تھام لیجیے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا البیلا پرچم...... تا آنکہ چند کرنیں عشق مصطفیٰ ﷺ کی ہمارے وجود کی پہنائیوں میں تھر تھرانے لگیں...... اور ہمارے ایمان کو ایک بار پھر سہارا مل جائے...... نسبت رسول ﷺ کی بہاروں کا......
(”توہین رسالت ﷺ کے فتنے، تاریخ کے آئینے میں“ از پروفیسر سید عبدالرحمن بخاری)
جناب پروفیسر محمد اکرم رضا اپنے فکر انگیز مضمون ”تعلق بالرسول ﷺ کی ابدی گواہی فدائے ناموس مصطفیٰ ﷺ غازی علم الدین شہیدؒ“ میں لکھتے ہیں:
”محبت رسول خدا ﷺ اہل ایمان کے لیے سرمایۂ اعزاز بھی ہے اور وجہ افتخار بھی۔ محبت رسول ایسی خوشبو کے مانند ہے جو کسی خوش بخت کے قلب و جاں میں بس کر نہ صرف اس کی حیات مستعار کو مہکا دیتی ہے بلکہ اس کی لطافت آفرینی سے وہ خوش بخت زمانے بھر کے لیے قابل صد رشک بن جاتا ہے۔ حضور ﷺ کی محبت اہل ایمان سے جن عملی رفعتوں کی متقاضی ہوتی ہے، ان میں سب سے اہم تقاضا ناموس مصطفیٰ ﷺ پر ہدیۂ جان نچھاور کرنا ہے۔ چودہ صدیوں سے زائد عرصہ پر محیط تاریخ اسلام پر نگاہ ڈالیں تو مختلف ادوار میں عشاق دلنواز ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر متاع جاں تصدق کرتے نظر آتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کا دور قدسی ہو یا بعد کے ادوار، ہر جگہ اور ہر مقام پر فرزندان اسلام محبت و عقیدت کی عملی تفسیر پیش کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ ہر مسلمان کے قلب و جان میں یہی حقیقت ابدی جلوہ گر نظر آتی ہے کہ زندگی وہی زندگی ہے جو شمع ناموس رسول ﷺ پر پروانہ وار قربان ہو جائے۔
زمانے کے افق پر ضوفشانی کے مظہر ایسے بے شمار عشاق رسول کے اسمائے گرامی دلوں کو حرارت ایمانی عطا کرتے نظر آتے ہیں جنہوں نے عظمت و شان مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء پر متاع حیات نثار کر کے نہ صرف محبت رسول ﷺ کے حقیقی تقاضوں کی بجا آوری کا حق ادا کر دیا بلکہ بارگاہ خداوندی میں خود کو حیات دائمی کا حقدار بھی ٹھہرا لیا۔ بزم عالم شاہد ہے کہ حق و باطل کی آویزش میں غلامان مصطفیٰ نے حق کی سربلندیوں کے لیے اپنی زندگیوں کی کبھی پروا نہیں کی۔ حضور ﷺ کی ذات گرامی، مرکز و محور ایمان ہے، اس لیے باطل، عظمت اسلام پر حملہ آور ہونے
کے لیے ہمیشہ ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ضرب کاری لگانے کی کوشش کرتا ہے۔
چراغ مصطفویٰ سے شرار بو لہبی
تاریخ عشق و عقیدت کے روشن اوراق گواہ ہیں کہ عشاق رسول کی لازوال قربانیوں کی بدولت ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع کی لو کبھی بھی مدھم ہونے نہیں پائی۔ جب کبھی شرار بولہبی نے کسی شاتم رسول کے قالب میں سما کر عظمت و شان حضور ﷺ پر ضرب لگانی چاہی، اسی وقت کسی صاحب ایمان نے حبیب و زید رضی اللہ عنہما کی داستانوں کو دہراتے ہوئے اپنی جان پر کھیل کر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت اسلامیہ کے دلوں کی دھڑکنوں میں بسا دیا‘‘۔
جناب محمد اسامہ سروانوی اپنے ایمان پرور مضمون ’’اِک عشق مصطفیٰ ﷺ ہے، اگر ہو سکے نصیب‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ایک مسلمان کو یہ احساس رہتا ہے کہ وہ گناہگار ہے، روسیاہ ہے، خدا کا مجرم ہے لیکن وہ کتنا ہی گیا گزرا کیوں نہ ہو، جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ کوئی ہاتھ ناموس رسالت ﷺ کے دامن کی طرف بڑھ رہا ہے تو وہ برداشت نہیں کر سکتا۔ پھر مغربی تہذیب میں رنگے اس مسلمان پر سے مغربی مے کا نشہ ایک لمحے میں ہرن ہو جاتا ہے۔ ایمان کی چنگاری جس پر کروڑوں گناہوں کی دھول جمی ہوتی ہے، ایمانی غیرت کے ایک جھونکے سے سلگنے لگتی ہے اور سلگ کر شعلہ جوالہ بن جاتی ہے۔ جذبات کا تلاطم پھر اس کے بس میں نہیں رہتا۔ وہ نیند کی حسین وادیوں میں کھونے کی کوشش کرتا ہے لیکن حرمت مصطفیٰ ﷺ کی پکار اسے جھنجھوڑنے لگتی ہے اور اس کا سکون تہہ و بالا ہو جاتا ہے۔ پھر راکھ کے اس ڈھیر سے کروڑوں چنگاریاں جنم لیتی ہیں۔ توہین رسالت ﷺ کی چبھن اس میں بیداری کی لہر پیدا کر دیتی ہے۔ وہ بپھر جاتا ہے۔ سر پر کفن باندھ کر میدان عمل میں آ جاتا ہے۔ پھر یہ جنگ عقل کے دائرے سے نکل کر عشق کا غلاف اوڑھ لیتی ہے۔ پھر خرد کا نہیں، جذبات کی تپش کا معرکہ شروع ہو جاتا ہے۔ دشمن، وقت کے سمندر میں پتھر پھینکتا ہے لیکن جذبۂ عشق و محبت مدھم تک نہیں ہوتا، جب بھی اس بحر سکون پذیر کو حرکت دی گئی تو اس کی موجیں مخالف کو تنکا سمجھ کر بہا لے گئیں، شمع رسالت ﷺ کا کوئی پروانہ، میدان وفا میں قدم رکھتا ہے تو انجام و عواقب سے بے نیاز ہو کر آگے بڑھتا ہے۔ وہ آکسیجن کا نہیں، عشق رسول ﷺ کا سانس لیتا ہے۔ صفحۂ دہر میں ہر انسان پانی پی کر جیتا ہو گا لیکن مسلمان
حب رسول ﷺ کی آب و ہوا میں زندہ رہتا ہے۔ اس کے دل کی دھڑکن یاد رسول ہے۔ اس کی رگوں میں محبت رسول ﷺ گردش کرتی ہے۔ یہ آزادی کا نہیں، غلامیٔ رسول ﷺ کا طلب گار رہتا ہے۔ یہ ہر چیز کو ایمان اور عشق مصطفیٰ ﷺ کے ترازو میں تولتا ہے۔ یہ اپنے مقصود زندگی کو بیان کرتا ہے تو اس پیرائے میں
ورنہ دھرا ہی کیا ہے جہان خراب میں
اور اس کے جذبات صرف الفاظ تک محدود نہیں رہتے بلکہ وقت آنے پر یہ سر بیچ کر اس متاع دل و جاں کو خرید کر دکھا دیتا ہے۔ اس کے نزدیک نعل نبی ﷺ کی نوک، تاج شاہی سے زیادہ معظم ہے۔ یہ حضور ﷺ کے نقش کف پا کو سجدہ گاہ عشق سمجھتا ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ آب حیات، آپ ﷺ کے قدموں کی دھوون ہے اور خلعت شاہی آپ ﷺ کے لباس کی اُترن! یہ دیار حبیب ﷺ کے کوچوں کو جنت کے باغیچے سمجھتا ہے، یہ آقا کی گلی کے گدا کو اپنا امام سمجھتا ہے۔
یہاں آ کر اس کے پاؤں مصلحت کی بیڑیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس کے شکستہ اور مجروح جذبات کا ملبہ، کفر کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ اسی ذات پاک ﷺ سے ہماری حیات مستعار کی ہر آبرو وابستہ ہے جو جمال الٰہی کا آئینہ اور دست فطرت کا وہ عظیم شاہکار ہے جس پر حسن آفریں بھی ناز کرتا ہے۔ یہ لفظوں کی شطرنج بچھانے سے زیادہ عمل کا جام پینے پر یقین رکھتا ہے۔ جب فکر و عمل کا چمن نہ ہو، ذوق کی رعنائی نہ ہو، شوق کی زیبائی نہ ہو، سجدوں کا کیف نہ ہو، آنسوؤں کی جھڑی نہ ہو، الغرض زندگی سراب بھی ہو اور خراب بھی تو پھر یہ احساس اسے اس حد تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ ذات اقدس ﷺ میں کسی ماتھے کی سلوٹ، کسی نگاہ کا زاویہ اور کسی ہونٹ کی حرکت برداشت نہیں کر سکتا۔ اس وفا کا سوز اسے کندن بنا دیتا ہے، بقول شاعر ؎
ارے یہی احساس ہی تو ہے جس نے سوا چودہ سو سالہ تاریخ کے حاشیوں کو جانثاروں کے لہو سے گلرنگ کر دیا۔ اسی احساس نے تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو ”اسد اللہ“ کے لقب سے نواز کر حلقہ بگوش اسلام کیا تھا۔ آدمیت کے سروں کا جھومر، بھتیجا۔ جس پر ابو جہل کا ہاتھ اُٹھتا ہے اور جب اس کی اس حرکت کا علم فخر موجودات کے اس چچا کو ہوتا ہے جو غیرت و حمیت کا پتلا تھا تو
بیت اللہ کے سامنے ابوجہل کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں: کیا تم نے میری موت کی خبر سن لی تھی، اس لیے میرے بھتیجے پر ہاتھ اٹھایا؟ کان کھول کر سن لو، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ابھی اتنے لاوارث نہیں ہوئے۔ محمد کی توہین اگر اس لیے کی ہے کہ وہ نیا دین لے کر آئے ہیں تو حمزہ کی زبان سے بھی سن لو ’’اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ و اشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ‘‘۔ اسی احساس کی کوکھ سے عبداللہ بن عتیک جیسے مجاہد جنم لیتے ہیں جنھوں نے شقی القلب ابورافع یہودی کے ناپاک وجود سے کرۂ ارض کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاک کر دیا تھا۔ یہی احساس محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو منظر کائنات پر لایا جنھوں نے گستاخ رسول کعب بن اشرف کو نار جہنم کا ایندھن بنا دیا تھا اور حرمت رسول ﷺ پر فدا ہونے کا سلسلہ صرف اسی دور کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ فدایان محمد ﷺ کا یہ لشکر ہر زمانے میں رہا ہے۔ آریہ سماج حیدر آباد کے سیکرٹری نتھورام نے تاریخ اسلام کے نام سے کتاب لکھی جس میں سرکارِ دوعالم ﷺ کی شان اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا، یہ بات غازی عبدالقیوم تک پہنچی تو انھوں نے کہا سندھ میں اس قدر مسلمان ہیں لیکن کسی نے یہ پوچھا تک نہیں کہ اس بدزبان کو شان اقدس میں یاوہ گوئی کی جرات کیسے ہوئی؟ اس مردود کا فیصلہ انگریز کی عدالت میں نہیں، عبدالقیوم کا خنجر کرے گا۔ پھر واقعتاً ایسا ہی ہوا۔ کمرۂ عدالت میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ غازی عبدالقیوم بھی گئے اور نتھورام کے قریب بیٹھ گئے۔ پھر یکا یک خنجر نکالا اور اس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ نتھورام بری طرح زخمی ہوگیا۔ اس کے ناپاک وجود سے ناپاک خون بہنے لگا اور علاج معالجہ سے قبل ہی وہ فنا فی النار ہوگیا۔ جج نے پوچھا آپ نے ایسا کیوں کیا؟ غازی عبدالقیوم نے کہا اس خنزیر کی اولاد نے میرے آقا ومولا ﷺ کی گستاخی کی ہے اور اس کی سزا صرف یہی ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں آئندہ بھی گستاخان رسولؐ کے لیے یہی کارروائی عمل میں لاؤں گا، جس کا مظاہرہ میں نے نتھورام کے ساتھ کیا ہے۔ 13 اکتوبر 1933ء کو کراچی کی عدالت سے غازی عبدالقیوم کو سزائے موت کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ کیا منظر تھا! ادھر سے غازی کو موت کا پروانہ آتا ہے اور ادھر وہ بآواز بلند ’’الحمدللّٰہ‘‘ کا نعرہ لگاتا ہے۔ عدالت کے کٹہرے سے نکلا تو نعرہ تکبیر بلند کرتا ہوا نکلا۔ 14 اکتوبر کو صبح دس بجے رشتہ داروں سے ملاقات ہوئی۔ والدہ محترمہ بھی موجود تھیں۔ رب کعبہ کی قسم! ہم اس ماں پر ناز نہ کریں تو کیا کریں جس کے لخت جگر کو چند لمحوں بعد تختہ دار پر جھولنا تھا، لیکن تاریخ ہمیشہ اس عظیم ماں کے الفاظ اپنے
دامن امانت میں سنبھال رکھے گی جس نے کہا تھا۔ ”بیٹا! میں بہت خوش ہوں کہ تم نے ناموس سرور کونین ﷺ پر اپنے آپ کو قربان کر دیا ہے“۔ پھر چشم فلک نے وہ لمحہ بھی دیکھا کہ غازی نے لواحقین کو وصیت کرتے ہوئے کہا: ”میں شہید کر دیا جاؤں تو نہایت صبر سے کام لینا، اگر تم میں سے کسی نے آنسو بہائے تو میں بارگاہ سرور دو عالم ﷺ میں اس سے شرمندہ ہوں گا“۔ اور پھر اس عاشق صادق کی بے قرار روح پھانسی کے پھندے پر قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ پھانسی کے پھندے پر جھومتی ہوئی غازی کی لاش بزبان حال کہہ رہی تھی ؎
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا، کروڑوں جہاں نہیں
بالیقین غازی عبدالقیوم! تم نے عشق کا حق ادا کر دیا۔ عشق کی انتہا جان کی بازی لگا دینا ہے۔ سو وہ تم نے لگا دی۔ تمھیں نیا سفر مبارک ہو۔ بہشت کی نعمتیں مبارک ہوں لیکن میرے آقا ﷺ کی روح تو آج بھی تڑپ رہی ہے۔ آج تیرا کردار کون دہرائے گا؟ آج تجھ جیسی تاریخ کون رقم کرے گا؟ میرے آقا ﷺ! معاف کرنا! آپ ﷺ کی گستاخی پر گستاخی ہورہی ہے لیکن ہم کچھ نہ کرسکے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ مغرب کے بھنگیوں کو، کوڑھ دماغوں کو نتھورام بننے کا شوق ہے تو میرے آقا ﷺ! آپ ﷺ کی امت کا کوئی فرد بھی غازی عبدالقیوم کی تاریخ دہرانا اپنے لیے سعادت سمجھے گا ؎
نبی ﷺ کے عشق کا سودا نہیں تو کچھ بھی نہیں“
حضرت مولانا محمد منظور نعمانی ؒ اپنے گرانقدر مضمون ”ناموس رسول ﷺ اور سرفروشانِ اسلام“ میں لکھتے ہیں:
”ابھی اس وقت کی یاد ہمارے دلوں میں محفوظ ہے، جب ہمارے اقبال کا پرچم دنیا کے بڑے حصہ پر لہرا رہا تھا۔ انسانی آبادی کا بڑا رقبہ ہمارے زیرنگیں تھا۔ زمین کے گوشہ گوشہ پر اسلامی شوکت وسطوت کا ڈنکہ بج رہا تھا۔ اقتدار ہمارا غلام تھا، دولت ہماری کنیز اور دنیا کی کوئی طاقت نہیں تھی کہ مسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکتی۔ لیکن ہماری بداعمالیوں اور سیہ کاریوں کی بدولت وہ حالت قائم نہ رہی۔ ہمارا اقبال رخصت ہوا، ہمارا عروج، زوال سے بدل گیا، ہمارا کارواں لٹ گیا، ہماری سلطنت تاراج ہوئی، ہم سے دولت چھن گئی، ہم مفلس اور دنیا
والوں کی نظروں میں ذلیل ہو گئے اور بے شک آج ہم بیکس ہیں، محروم ہیں۔ لیکن الحمد للہ کہ خدا کا یقین اور اس کی عظمت، رسول ﷺ پر ایمان اور اس کی محبت جو غیر فانی دولت اور ازلی امانت ہے، ہمارے سینوں میں محفوظ ہے اور یہی وہ چیز ہے جو نہ صرف ہر مسلمان کے لیے طغرائے امتیاز ہے بلکہ وہ اس کو دنیا و ما فیہا اور حتیٰ کہ اپنے دل و جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا ہے۔
مسلمان سے اس کی دولت و ثروت چھینی جاسکتی ہے، اس کی آبرو ریزی کی جاسکتی ہے، اس کے ماں باپ کو گالیاں دی جاسکتی ہیں، اس کو مارا پیٹا جاسکتا ہے، حتیٰ کہ اس کی جان بھی لی جاسکتی ہے اور ان تمام چیزوں پر وہ صبر بھی کر سکتا ہے۔ لیکن یہ ناممکن ہے کہ اس کے سامنے اس کے روحانی سرتاج، اس کے آقا و مولا ﷺ کی عزت و ناموس پر حملہ کیا جائے اور وہ اسے برداشت کر سکے۔ کیونکہ اس کا ایمان ہے کہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کی عظمت و عزت کی حفاظت دنیا اور آخرت کی ہر چیز پر سب سے زیادہ مقدم ہے۔ ہر مؤمن کا خدا سے معاہدہ ہے کہ تیرے نام کی عزت اور تیرے رسول ﷺ کے ناموس کے لیے جان تک کی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کروں گا اور مسلمان زندگی میں جتنی بار ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ پڑھتا ہے، در حقیقت وہ اس معاہدے کی تجدید کرتا ہے۔ قرآن نے اس کو بتلایا ہے کہ مسلمان اسی وقت تک حقیقی ایمان کا حامل ہے، جب تک کہ وہ اپنی دولت، مکانات، باغات، عزیز و اقارب، بھائی بہن، ماں باپ، بیوی بچے، حتیٰ کہ اپنی عزیز جان تک کو خدا اور اس کے رسول ﷺ کے راستہ میں قربان کرنے کے لیے بالکل تیار ہو اور اگر ان چیزوں میں سے کسی کی وقعت خدا اور اس کے رسول ﷺ کی عزت و عظمت کے مقابلہ میں غالب آ گئی تو قرآن کی اصطلاح میں وہ مؤمن نہیں، منافق ہے۔
ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ ناموس نبوت ﷺ کے تحفظ کے سلسلہ میں جو موت آئے، در حقیقت وہ موت نہیں بلکہ ایک اعلیٰ درجہ کی دائمی اور سرمدی زندگی ہے۔
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
دنیا کی یہ زندگی چند لمحوں کی زندگی ہے جو صرف ایک ہی بار ملتی ہے۔ چھن جانے کے بعد پھر کبھی نہیں ملتی جو شخص اس مختصر وقفہ کو سچے موتی حاصل کرنے کے بجائے بے قیمت سنگریزوں کے بٹورنے اور ان سے کھیلنے میں ضائع کرتا ہے، اس کی نادانی کا کوئی ٹھکانہ ہے؟
اور یہی وجہ ہے کہ ہر قرن اور ہر زمانہ میں بکثرت اس کی نظیریں ملتی ہیں کہ شمع نبوت ﷺ کے پروانوں نے ناموسِ نبی ﷺ پر قربان ہوکر اپنی فدائیت کا ثبوت دیا ہے اور اس کو اپنے کمال کی انتہائی معراج سمجھا ہے۔ شہیدِ اسلام حضرت زید بن دثنہؓ کا وہ واقعہ ہماری نظروں کے سامنے ہے کہ دشمنانِ اسلام ان کو گرفتار کرکے قتل کرنے کے لیے مقتل میں لاتے ہیں اور ان کا سردار حضرت زیدؓ سے پوچھتا ہے۔
- ❑ ”انشدک الله یا زید اتحب ان محمداً عندنا لان مکانک یضرب
عنقه وانک فی اھلک“
زید میں تم کو تمھارے خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم اس کو پسند کرتے ہو کہ یہاں تمھارے بجائے...... کی گردن ماری جائے اور تم (چین سے) اپنے اہل وعیال میں رہو۔
حضرت زیدؓ بے بس ہیں۔ مگر نہایت برافروختہ ہوکر جواب دیتے ہیں:
- ❑ ”والله ما احب ان محمداً الان فی مکانه الذی ھو فیه تصیبه شوکة
توذیه وانا جالس فی اھلی“
اللہ کی قسم مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ ہمارے آقا حضرت محمد (ﷺ) اپنی جگہ پر ہوں اور ان کو معمولی کانٹا بھی لگ جائے جس سے ان کو تکلیف ہو اور میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوں۔
وقت کی نزاکت اور حضرت زیدؓ کے ان محبت میں ڈوبے ہوئے الفاظ کو دیکھو اور ان سے ان کے دلی جذبات کا اندازہ لگاؤ تو معلوم ہوگا کہ شمعِ نبوت ﷺ کا ہر پروانہ اپنے آقا ومولا کے متعلق یہی جذبات رکھتا ہے۔
ہر مسلمان (بشرطیکہ نام کا مسلمان نہ ہو) رسول اللہ ﷺ کی عزت کو ایک اپنی جان نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی جان سے زیادہ قیمتی سمجھتا ہے۔ اس کو ایک درجہ میں یہ تو گوارا ہے کہ دنیا بھر کے سارے مسلمانوں کو فنا کردیا جائے مگر وہ کسی طرح یہ گوارا نہیں کرسکتا کہ ایک بھی مسلمان موجود ہو اور اس کی موجودگی میں ناموسِ رسالت ﷺ پر حملہ ہو۔ وہ اس منحوس وقت کے آنے سے پہلے اپنی موت بہتر سمجھتا ہے۔
حضرت امام مالکؒ نے خلیفہ ہارون رشیدؒ کے اس خط کے جواب میں جس میں انھوں نے ایک گستاخِ رسولؐ کے متعلق استفسار کیا تھا، اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے لکھا تھا ”مابقاء امة بعد سب نبیھا“ نبی کو گالیاں دیے جانے کے بعد امت کی کیا زندگی ہے؟
ہمارا یہ محض زبانی دعوٰی ہی نہیں بلکہ تاریخ اسلام کا ہر صفحہ دنیا کے سامنے اس کے عملی نمونے پیش کر رہا ہے۔ غزوۂ اُحد میں شہید ہونے والے مسلمانوں میں ایک بزرگ صحابی حضرت سعدؓ بن ربیع انصاری ہیں، یہ دشمنان اسلام کی تلواروں سے شدید زخمی ہوئے، ایک طرف پڑے ہیں۔ ایک دوسرے انصاری صحابی اُبیؓ بن کعب، رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ان کی تلاش میں نکلتے ہیں اور اس وقت ان کے پاس پہنچتے ہیں جبکہ ان کی مقدس روح اس خاکی قفس سے پرواز کر کے ملاء اعلیٰ میں جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ بس خفیف سی کچھ رمق باقی ہے۔ حضرت اُبیؓ نے اس شہید ہونے والے بسمل نیم جان سے کہا ”مجھے رسول اللہ ﷺ نے تم کو دیکھنے کے لیے بھیجا ہے؟“ یہ مبارک نام سنتے ہی نہ معلوم بدن میں کیا برقی طاقت سی دوڑ گئی، آنکھیں کھولیں اور فرمایا۔ میں بظاہر اس دنیا سے جانے والوں میں ہوں۔ پس حضور نبی کریم ﷺ کو میرا آخری سلام پہنچا دینا اور میری طرف سے انصار سے کہہ دینا کہ سعدؓ مرتے مرتے یہ کہہ گیا ہے کہ: ”لا عذرلکم عنداللہ تعالٰی ان یخلص الی نبیکم وفیکم عین تطرف“ ”جب تک تم میں ایک مسلمان بھی زندہ ہے، اگر دشمن حضور ﷺ تک پہنچ گیا تو تم اللہ کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہو گے کیونکہ تم نے لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ پر فدا ہونے کی بیعت کی تھی“۔ یہ فرمایا اور بس حضرت سعدؓ کی سعید روح منزل مقصود پر پہنچ گئی۔
اللہ اللہ جانکنی کے اس نازک وقت کو دیکھو اور سعدؓ کے ان والہانہ جذبات کو، پھر کیا یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے یہ سرفروشانہ جذبات (جو درحقیقت ان کو زید اور سعد جیسے اسلاف سے وراثتاً ملے ہیں) کسی تدبیر سے دبائے جاسکتے ہیں:
مسلمان جب تک مسلمان ہے اور اس دنیا میں زندہ ہے، یہ ناممکن ہے کہ کوئی اس کے رسول ﷺ کی عزت پر حملہ کرے اور وہ برداشت کر سکے۔ یہ اس کی ذات کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیارے اور مقدس دین کا معاملہ ہے۔ اس کی دینی غیرت کو یقیناً زبردست چرکا لگے گا۔ اس کی دینی حمیت کی آگ ضرور بھڑک اٹھے گی اور اس وارفتگی کے عالم میں وہ سب کچھ کر گزرے گا جو قانوناً اس کو نہیں کرنا چاہیے تھا۔ لہٰذا اگر دنیا چاہتی ہے کہ مسلمان اپنی سرفروشی کا مظاہرہ نہ کرے تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ کوئی اس کے رسول ﷺ کی توہین کر کے اس کی دینی غیرت اور حمیت کو چیلنج نہ دے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کو مسلمان کے دل کے
نہایت نازک گوشہ میں نازک ترین مقام حاصل ہے۔ کسی دشمن اسلام کا اس میں قدم رکھنا بلکہ ترچھی نگاہ سے اس کی طرف دیکھنا بھی ایک آفت ہے۔
مسلمان کا مطالبہ یہ نہیں کہ ساری دنیا اس کے دین میں داخل ہو کر اس کے خدا کو خدا اور رسول ﷺ کو رسول ماننے لگے۔ اس کو اس پر بھی اصرار نہیں کہ تمام انسان خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اتنی ہی عزت کرنے لگیں جتنی کہ وہ خود کرتا ہے۔ بلکہ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کا نام دنیا میں عزت سے لیا جائے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ یہ مسلمان ہی کا مطالبہ نہیں بلکہ انسانیت اور شرافت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ لیکن کچھ بدقسمت، بدسرشت، وہ بھی ہیں جو انسانیت وشرافت کے اس معقول مطالبہ کے سامنے بھی سر نہیں جھکاتے اور رحمت عالم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور پھر انجام وہ ہوتا ہے جو راجپال اور نتھو رام کا ہوا۔ اس پر حقیقت سے نا آشنا بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان دیوانہ ہے، وحشی ہے، بہیمانہ حرکتیں کرتا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ کہنے والے خود احمق ہیں۔ ان کو مسلمانوں کے جذبات اور احساس کا اندازہ ہی نہیں، تہذیب وتمدن کے روشن خیال یہ مدعی ذرا مجھے بتلائیں کہ اگر کوئی بدنصیب ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی والدہ کے ساتھ بجبر حرام فعل کرے تو ان کی غیرت کا تقاضا کیا ہوگا؟ کیا اس وقت ان کی فطرت قانونی زنجیریں توڑنے پر مجبور نہ کرے گی؟ کیا وہ اس ناپاک حرام کار شخص کو صفحہ ہستی سے مٹانے یا خود مٹ جانے کے لیے تیار نہ ہوں گے؟ اگر ان کی فطرت ماؤف نہیں ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یقیناً وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے اور کر گزریں گے۔ تو پھر اس مسلمان کا کیا قصور ہے، جس کے دل و جان سے زیادہ عزیز، ماں باپ سے زیادہ قریب، حضور خاتم النبیین ﷺ کی توہین کر کے اس کے انتقامی جذبہ بلکہ اس کی اسلامی فطرت اور ایمانی غیرت کو خطرناک چیلنج دیا گیا ہو۔ میں غیر اسلامی دنیا کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کو اپنے پیغمبر کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے جس قدر کہ اور لوگوں کو اپنے ماں بہن کی عصمت دری کی۔
ہم تو یہی کہیں گے کہ اگر چاہتے ہو کہ دنیا میں امن وامان رہے تو مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے مت کھیلو، ورنہ یقین رکھو کہ ہر راجپال کی گستاخیاں غازی علم الدین شہیدؒ، اور ہر نتھو رام کی گالیاں غازی عبدالقیوم شہیدؒ پیدا کریں گی اور پھر ملک کا امن وامان خطرے میں پڑ
جائے گا۔ اگر حکومت وقت چاہتی ہے کہ اس کی سلطنت میں اس قسم کی وارداتیں نہ ہوں تو اس کو چاہیے کہ روحانی پیشواؤں (حضرات انبیاء علیہم السلام) کی عزت و حرمت کے قوانین کو سخت بنا کر پہلے راجپالوں اور نتھوراموں کی پیداوار روک دے۔ اس کے بعد خدا نے چاہا تو علم الدینؒ اور عبدالقیومؒ کی پیداوار خود ہی بند ہو جائے گی۔ لیکن جب تک یہ آگ نہیں بجھتی ، غیرت مند مسلمان اس کو بجھانے کے لیے اپنی جانوں پر کھیلنے کے لیے ہمیشہ کمر بستہ رہیں گے‘‘۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری 2007ء)
جناب میاں عبدالرشیدؒ اپنی کتاب ”نور بصیرت“ میں ایک ایمان پرور واقعہ لکھتے ہیں: ”یہ 1934ء کا واقعہ ہے۔ پاکستان بننے سے تیرہ برس پہلے کا، یہ وہ دور تھا جب ایک سازش کے تحت ہندوؤں اور عیسائیوں نے حضور رسالت مآب ﷺ کی شان میں باقاعدگی سے دریدہ دہنی شروع کر رکھی تھی۔ دراصل غیر مسلموں کو مسلمانوں کی دو باتوں سے زیادہ ڈر لگتا ہے، ایک عشق رسول پاکؐ سے اور دوسرے جذبۂ جہاد سے۔ اس لیے ان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کے دلوں سے حضور ﷺ کی محبت اور جذبۂ جہاد اور شہادت کا شوق نکال دیں۔
میرے ایک دوست فہد احمد اُن دنوں انگلستان سے ڈاکٹری پاس کر کے آئے اور پالم پور کے ہندو علاقہ میں بطور اسسٹنٹ سول سرجن تعینات ہوئے۔ بالکل مغربی وضع قطع میں رہتے تھے، ڈاڑھی مونچھ مُنڈی ہوئی۔ مونہہ میں پائپ، نماز روزہ سے لا تعلق۔ مسجد سے دُور، کلب لائف کے رسیا، پالم پور کے آفیسرز کلب میں ان کے سوائے باقی سب افسر غیر مسلم تھے، ایک روز کلب میں ایک لمبے تڑنگے ہندو فارسٹ افسر نے جناب رسالت مآب ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی شروع کر دی۔ ہمارے دوست اگرچہ مغرب زدہ تھے، مگر برداشت نہ کر سکے۔ اس ہندو افسر کو پکڑا اور فرش پر دے مارا اور پھر لاتوں اور گھونسوں سے اس کی خوب مرمت کی، وہاں بہت سے ہندو افسر موجود تھے، مگر کسی نے آگے آنے کی جرأت نہ کی۔ اس ہندو افسر نے دوسرے روز خود بھی معافی مانگی۔
حضور ﷺ کے نام پر غیرت دکھانے کا یہ اثر ہوا کہ اس نوجوان مسلم افسر پر حضور ﷺ کی نظرِ کرم ہو گئی۔ خود بخود دین سے رغبت پیدا ہو گئی۔ ایک ہفتہ کے اندر اندر اس کی نماز باجماعت قائم ہو گئی، پھر دینی کتب کا شوق پیدا ہوا۔ خواب میں کعبۃ اللہ کی زیارت ہوئی۔ دو برس بعد جدہ میں ملازمت مل گئی، ساڑھے چار برس وہاں رہے۔ حج کیے۔ حضور ﷺ کے
روضہ مبارک کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ ایک بزرگ کے وسیلہ سے روحانی دولت پائی۔ حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ بعد کی زندگی میں دنیوی اور دینی ہر دو نعمتوں سے مالا مال ہوئے، بیٹوں نے اعلیٰ عہدے پائے، بیٹیاں اچھے گھروں میں بیاہی گئیں۔ اور یہ سب کچھ حضور ﷺ کے نام پر غیرت دکھانے سے پایا۔
دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کر دے
(نور بصیرت از میاں عبدالرشیدؒ)
معروف صحافی جناب محمد عارف برلاس ”میراث مومن“ کے عنوان سے لکھتے ہیں: ”یہ اس وقت کا ہندوستان ہے جب ملک کسی مرکزی حکومت کے تحت نہیں تھا۔ جابجا ریاستیں اور رجواڑے قائم ہو چکے تھے۔ ان ریاستوں میں ایک ”مالوہ“ بھی تھی جس کا حکمران ”باز بہادر“ شراب و شباب کا رسیا اور ”بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“ کے فلسفے پر عمل پیرا تھا۔ وہ اپنی منظور نظر ہندو کنیز کے حسن کا اس قدر اسیر ہو چکا تھا کہ اسے امور سلطنت سے بھی کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی اور تمام انتظام اس ہندو کنیز کے قریبی عزیز کے ہاتھ میں آ گیا تھا۔ ایک روز جب کہ باز بہادر شراب کے نشے میں دھت اپنی منظور نظر کے پہلو میں لیٹا ہوا تھا کہ اسے کنیز کے قریبی عزیز کی جانب سے شان رسالت ﷺ میں نازیبا کلمات ادا کرنے کی اطلاع ملی۔ یہ سنتے ہی باز بہادر کے دل میں دبی ایمان کی چنگاری جوالا مکھی کی صورت اختیار کر لی اور اس نے اسی وقت اس گستاخ رسول کا سر تن سے جدا کرنے کا حکم دیا۔ باز بہادر کے اس فیصلے پر اس کی محبوبہ تلملا اٹھی اور اس نے باز بہادر کو اس فیصلے سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا، جس پر باز بہادر گویا ہوا۔
(اے محبوب تجھے میں نے اپنا دل دیا تھا، ایمان نہیں)
اس واقعہ کے بعد بھی جب کہ ہندوستان میں انگریز سرکار کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا، ہندوؤں اور انگریزوں نے مسلمانوں کے ملجا و ماویٰ حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات مبارک کو توہین کا نشانہ بنانے کی جسارت کی گئی مگر ہندوؤں اور انگریزوں کو اس گئے گزرے وقت میں بھی مسلمان کی غیرت ایمانی کے باعث منہ کی کھانی پڑی۔ کیونکہ چھ میں سے پانچ شاتمین رسول
موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے جبکہ چھٹا حملے میں شدید زخمی ہوا۔ لاہور میں گستاخ رسول کو واصل جہنم کرنے کی سعادت ایک بڑھئی کے بیٹے غازی علم دین کے حصے میں آئی جبکہ کراچی میں یہ اعزاز عبدالقیوم کو حاصل ہوا۔ بعد ازاں یہ غازیان دین یہ کہتے ہوئے خوشی خوشی تختہ دار پر جھول گئے۔
لعنت خدا کی ایسے خواص و عوام پر
(ماہنامہ ”تھرٹی ڈیز انٹرنیشنل“ فروری، مارچ، 2011ء)
نازاں ہوں کہ نسبت ہے مجھے نام سے تیرےﷺ:
حضور نبی کریم ﷺ کے اسم گرامی کی چاشنی کے سبب ”طول دادم داستانے را“ کے مصداق پروفیسر انور رومان کی زبانی پھول کلیوں سے مُرصّع یہ روایت لب اظہار کی زینت ہے...... ماسٹر صاحب بولے ”ابے او چھوٹو بیٹھ جاؤ“...... بچے نے کھڑے ہو کر کہا ”جناب ! میرا نام چھوٹو نہیں ہے“، ”تو پھر کیا نام ہے تمھارا“ ماسٹر صاحب نے جھلا کر پوچھا ”جناب میرا نام محمد جان ہے“، ”تو بیٹھ جاؤ جان صاحب“ ماسٹر صاحب نے طنزاً کہا۔ ”جناب ! میرا نام جان صاحب نہیں، محمد جان ہے! محمد جان!“ بچے نے زور دے کر کہا ”تو آپ بیٹھ جائیں محمد جان!“ ماسٹر صاحب ملائمت سے بولے تو بچہ اپنے نام کی نسبت کی چاشنی میں ڈوب کر یہ سوچتا ہوا بیٹھ گیا:
نازاں ہوں کہ نسبت ہے مجھے نام سے تیرے
محمد ﷺ کے نام پر......!
اللہ ایک مٹھاس بھرا لفظ ہے جس میں ساری کائنات کی شیرینی سما جاتی ہے۔ ایک مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بکریوں کا ریوڑ چرا رہے تھے کہ ایک شخص قریب سے گزرا۔ گزرتے ہوئے اس نے اللہ کی شان میں ”سبحان الذی الملک والملکوت سبحان ذی العزة والعظمة والهيبة والقدرة والکبریاء والجبروت (ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس کی زمین و آسمان پر بادشاہی ہے، پاک ہے وہ ہستی جو عزت وعظمت، ہیبت و قدرت، بڑائی و دبدبے والی ہے) کے الفاظ بآواز بلند کہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
جب اپنے پیارے محبوب حقیقی کی تعریف اتنے خوبصورت انداز میں سنی تو دل مچل اٹھا، فرمایا ”اے میرے بھائی!...... یہ الفاظ ذرا ایک مرتبہ اور کہہ دینا“ اس نے کہا ”مجھے اس کے بدلے میں کیا دیں گے؟“ آپ نے فرمایا ”آدھا ریوڑ“ اس نے یہ الفاظ دہرا دیئے تو آپ کو اتنا حظ محسوس ہوا کہ بیقرار ہو کر فرمایا ”اے بھائی! یہ الفاظ ایک مرتبہ پھر کہہ دیجیئے“ اس نے پھر کہا ”اب مجھے اس کے بدلے میں کیا دیں گے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”بقیہ آدھا ریوڑ“ اس نے یہ الفاظ سہ بار دہرا دیئے۔ آپ کو محبوب کی تحسین سے اتنا کیف وسرور ملا کہ بے ساختہ کہہ اٹھے ”اے بھائی! یہ الفاظ ایک مرتبہ اور کہہ دیجیئے“۔ اس نے کہا ”اب تو آپ کے پاس دینے کو کچھ بھی نہیں، اب آپ مجھے کیا دیں گے؟“ آپ نے فرمایا ”میں تیری بکریاں چرایا کروں گا، تم ایک مرتبہ میرے محبوب کی تعریف اور کر دو“ اس نے کہا ”اے ابراہیم خلیل اللہ! آپ کو مبارک ہو میں تو ایک فرشتہ ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے کہ جاؤ میرے خلیل کے سامنے میرا نام لو اور دیکھو کہ وہ اپنے محبوب کے نام کے کیا دام لگاتا ہے؟“
اب محبت کی اس تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے۔ اللہ رب العزت کو اس پوری کائنات میں سب سے زیادہ پیار اپنے حبیب مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے ہے۔ جس کا اظہار قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ پر کیا ہے۔ جو شخص حضور کریم ﷺ سے محبت وعقیدت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنا محبوب بنالیتا ہے۔
سابق لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمٰن سخن سرا ہیں کہ ایک دفعہ گارڈن کالج راولپنڈی کے انگریز پرنسپل مسٹر گورڈن فلیش مین ہوٹل میں ایک مذاکرے میں مدعو تھے۔ مذاکرے کی کارروائی کے بعد عشائیہ میں اُس وقت کی علمی ادبی شخصیات بھی مدعو تھیں۔ دورانِ گفتگو موضوع کا رُخ پاکستان میں موجود لیڈر شپ کی طرف مڑ گیا۔ ہر کوئی لیڈرشپ پر حرف آرائی میں سبقت لے جانے میں بڑھ چڑھ کر دلائل پیش کر رہا تھا جبکہ وہ انگریز پرنسپل سب کی باتوں کو بغور سن رہا تھا لیکن بحث میں حصہ لینے سے گریزاں تھا۔ اچانک ایک دانشور نے ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ”مسٹر گورڈن!....... آپ بھی کسی شخصیت سے متاثر ہیں؟ انھوں نے فوری ہاں میں جواب دیا، سب اُن کی طرف دیکھنے لگے اور ان کی پسندیدہ شخصیت کو جانچنے کے لیے انتہائی بے تابی کا اظہار کرنے لگے۔ محفل میں خاموشی چھا گئی، آخر سکوت کو توڑتے ہوئے اس دانشور نے سوال کیا ”کیا آپ ان کا نام بتانا پسند کریں گے؟“ اُنہوں نے زیر لب مسکراتے ہوئے جواب
دیا” نام تو مجھے بھی معلوم نہیں لیکن اتنا جانتا ہوں کہ پاکستان میں میرے طویل مدتی قیام میں اس جیسا سچا اور خوددار مسلمان میں نے نہیں دیکھا۔ سب نے تفصیل جاننا چاہی تو مسٹر گورڈن نے بتایا کہ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ گارڈن کالج سے متصل پارک میں (جو اب لیاقت باغ کے نام سے موسوم ہے)، میں روزانہ شام کو چہل قدمی کے لیے جایا کرتا تھا، ایک روز جونہی میں مین گیٹ کے اندر داخل ہوا اور جوگنگ کے لیے چند قدم ہی بڑھائے تھے کہ ایک فقیر میلے کپڑوں میں ملبوس ہاتھ میں کشکول اٹھائے میرے سامنے آن کھڑا ہوا اور بڑی ہی لجاجت سے مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا ”بابا! یسوع مسیح کے نام پر کچھ دے دو“۔ میں سنی ان سنی کر کے جوگنگ کے لیے چل پڑا، وہ یسوع مسیح کا نام ورد کرتا ہوا میرے مذہبی جذبات کو اپنے مطلب کے حصول کے لیے ابھارتے ہوئے مسلسل میرا پیچھا کر رہا تھا، میں اُس کی اس حرکت پر سخت زچ ہو گیا اور اُس سے پیچھا چھڑانے کی غرض سے میں نے بے ساختہ کہا ”تونے جو سارا دن مانگ مانگ کر اپنا آدھا کشکول سکوں سے بھر رکھا ہے، یہ سارے سکے محمد ﷺ کے نام پر مجھے کیوں نہیں دے دیتے؟“
اتنا کہنے کی دیر تھی کہ اُس مفلوک الحال شخص نے پورا کشکول میرے سامنے اُلٹ دیا اور بچوں کی طرح میری منتیں کر کے انتہائی لجاجت سے کہنے لگا ”صاحب! میرے دن بھر کی یہ ساری کمائی خدا را لے لیجیے، مجھ پر آپ کا احسانِ عظیم ہوگا“ میں نے ہر ممکن کوشش کی اور ہر حربہ استعمال کیا کہ کسی طرح وہ اپنی ریزگاری واپس لے لے۔ بالآخر میں نے سارے سکے سمیٹ کر اس کی طرف قدم بڑھایا ہی تھا کہ وہ یہ جا وہ جا گیٹ سے باہر نکل چکا تھا لیکن اس کے کہے ہوئے الفاظ آج بھی میرے کانوں میں رس گھول رہے ہیں ”صاحب! ایک عیسائی نے میرے محبوب محمد ﷺ کے نام پر معمولی سی ریزگاری مانگی ہے۔ میرے لیے اس سے بڑی عزت افزائی اور کیا ہوگی؟ کاش صاحب! آپ مجھ سے جان دینے کی بات کرتے تو بخدا اُن ﷺ کا یہ ادنیٰ امتی آپ کو بتاتا کہ ہمارے عشق کی انتہا کہاں تک ہے“۔
میں نے روئے محمد ﷺ کو سوچا بہت اور چاہا بہت
میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبوئیں جاتی نہیں
میں نے اسمِ محمد ﷺ کو لکھا بہت اور چوما بہت
(نامے میرے محبوب کے نام از منیر احمد ملک، ماہنامہ ”کاروان نعت“ لاہور اگست، 2011ء) جناب قدرت اللہ شہاب اپنی شہرہ آفاق کتاب ”شہاب نامہ“ میں محبت رسول ﷺ سے لبریز ایک واقعہ لکھتے ہیں:
”جب میری عمر پانچ یا چھ سال کے قریب تھی تو اس زمانے میں مجھے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی خاص ذاتی لگاؤ نہ تھا۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کے باعث میکانکی طور پر کلمہ جانتا تھا اور دینیات کے استاد کے خوف سے نماز کی سورتیں اور دعائیں طوطے کی طرح رٹ رکھی تھیں۔ آبادی سے دور ایک مجنوں صفت، مجذوب نما شخص ویرانے میں بیٹھا رہتا تھا اور ہمہ وقت ”لا الہ الا اللہ“ کی ضربیں لگاتا رہتا تھا۔ میں اور میرا ایک ہم عمر ہندو دوست ”لا الہ الا اللہ“ کے وزن پر مہمل، مضحکہ خیز اور کبھی کبھی غلط قافیے جوڑ کر مذاق بھی اُڑایا کرتے تھے۔ مجذوب نے ہمیں بار بار ڈانٹا کہ ہم اللہ کے نام کی بے حرمتی نہ کریں لیکن ہم باز نہ آئے۔ ایک روز ہم دونوں اسی مشغلے میں مصروف تھے کہ ایک شخص ادھر سے چند نعتیہ اشعار الاپتا ہوا گزرا جس کا ایک مصرع یہ تھا ع
یہ مصرع سن کر میرا ہندو دوست زور زور سے ہنسنے لگا اور اس نے اسم محمد ﷺ کی شان میں کچھ گستاخیاں بھی کیں۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، لپک کر ایک پتھر اُٹھایا اور اسے گھما کر ہندو لڑکے کے منہ پر ایسے زور سے دے مارا کہ اس کے سامنے کا آدھا دانت ٹوٹ گیا۔
یہ حقیقت ہے کہ اس زمانے میں شعوری طور پر اللہ اور رسول اللہ ﷺ دونوں کے ساتھ یکساں بیگانگی تھی۔ پھر لاشعور کی وہ کون سی لہر تھی جو اللہ کے ساتھ مذاق پر تو خاموش رہتی تھی لیکن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گستاخی پر آناً فاناً جوش میں آگئی تھی؟ یوں بھی عام مشاہدہ یہی ہے کہ اگر کوئی ہمیں گالی دے تو غصہ آتا ہے۔ ہمارے ماں باپ کو گالی دے تو اور زیادہ غصہ آتا ہے اللہ تعالیٰ کے خلاف زبان طعن دراز کرے تو دل کڑھتا ہے اور گالی گلوچ تک نوبت آسکتی ہے۔ لیکن رسول خدا ﷺ کے متعلق بد زبانی کرے تو اکثر لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی تک لگا بیٹھتے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسول ﷺ پر اپنی جان عزیز کو قربان کر دیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم وفضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد وتقویٰ میں ممتاز
تھے۔ ایک عامی مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شان رسالت ﷺ کے حق میں مضطرب ہوتا ہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے۔ خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ یہ جذبہ یا جنون نہ تو کسی منظم تحریک کی پیداوار ہے اور نہ ہی کسی خاص برین واشنگ کا نتیجہ ہے۔ اس کے برعکس یہ تو ایک خود کار تخلیقی عمل کی طرح جنم لے کر فطرت انسانی کے ایسے نہاں خانوں میں پوشیدہ رہتا ہے جس کا بسا اوقات ہمیں خود بھی علم نہیں ہوتا۔ زیادہ نیک لوگوں میں عقیدت رسول کی حدت پائی جاتی ہے اور نسبتاً کم نیک لوگوں میں عقیدت رسول میں شدت پائی جاتی ہے۔ عقیدت کی حدت اور شدت کا یہ وسیع و عریض ہمہ گیر پھیلاؤ یقیناً اس آیت کریمہ کی منہ بولتی تفسیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بشارت دی ہے: ”ورفعنالک ذکرک: ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا“ (الم نشرح، 4) ظاہری طور پر اس بشارت کا مظہر وہ ذکر رسول ہے جو درود و سلام اور اذان اور نماز میں بار بار ہر جگہ ہر آن لازمی طور پر کیا جاتا ہے لیکن باطنی طور پر اس کا کھلا مظہر احترام رسالت ﷺ کی وہ پوشیدہ حقیقت ہے جو ہر اچھے یا برے مسلمان کے لاشعور میں اسی طرح جاری و ساری رہتی ہے جس طرح کہ خون اس کی رگوں میں گردش کرتا ہے“۔
(شہاب نامہ: ص 1217)
بقول شخصے ”شہاب نامہ“ میں واقعات دھیمے مگر تیکھے انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ جناب قدرت اللہ شہاب کا یہی نیم طنزیہ انداز واقعہ کو لطیفہ کا رنگ دے دیتا ہے اور اگر واقعہ مرزائیوں سے متعلق ہو تو یہ طنز تیر کا کام دیتا ہے۔ ایوبی دور کا ایک دلچسپ واقعہ یوں بیان کرتے ہیں۔
”ایک روز صدر ایوب نے حسب معمول اپنے ”سیاسی فلسفہ“ پر طولانی تقریر ختم کی تو ایک سینئر افسر وجد کی کیفیت میں آکر جھومتے ہوئے اٹھے اور سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر عقیدت سے بھرائی ہوئی آواز میں بولے ”جناب آج تو آپ کے افکار عالیہ میں پیغمبری شان جھلک رہی تھی“۔
یہ خراج وصول کرنے کے لیے صدر ایوب نے بڑی تواضع سے گردن جھکائی۔ یہ سینئر افسر مرزائی عقیدے سے تعلق رکھتے تھے۔ معاً مجھے یہ خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں صدر ایوب سچ مچ اس جھوٹ موٹ کے اڑن کھٹولے میں سوار ہو کر بھک سے اوپر کی طرف نہ اڑنے لگیں۔ چنانچہ اس غبارے کی ہوا نکالنے کے لیے میں بھی اس طرح عقیدت سے سینے پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو گیا
اور نہایت احترام سے گزارش کی ’’جناب ان صاحب کی باتوں میں بالکل نہ آئیں، کیونکہ انھیں صرف خود ساختہ پیغمبروں کی شان کا تجربہ ہے۔‘‘ (شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب صفحہ 874)
ایک اور موقع پر جناب قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں:
’’ہالینڈ میں پہنچ کر محکمہ پروٹوکول کے ایک افسر نے مجھے برسبیل تذکرہ یہ بتایا کہ اگر ہم سور کے گوشت (پورک، ہیم، بیکن وغیرہ) سے پرہیز کرتے ہیں تو بازار سے بنا بنایا قیمہ نہ خریدیں کیونکہ بنے ہوئے قیمے میں ہر قسم کا ملا جلا گوشت شامل ہو جاتا ہے۔ اس انتباہ کے بعد ہم لوگ ہالینڈ کے استقبالیوں کا ایک من بھاتا ’’کھاجا‘‘ قیمے کی گولیاں (Meat Balls) کھانے سے اجتناب کرتے تھے۔ ایک روز قصر امن (Peace Palace) میں بین الاقوامی عدالت عالیہ کا سالانہ استقبالیہ تھا۔ چوہدری ظفر اللہ خاں (سابق قادیانی وزیر خارجہ) بھی اس عدالت کے جج تھے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ قیمے کی گولیاں، سرکے اور رائی کی چٹنی میں ڈبو ڈبو کر مزے سے نوش فرما رہے تھے، میں نے عفت سے کہا آج تو چوہدری صاحب ہمارے میزبان ہیں۔ اس لیے قیمہ بھی ٹھیک ہی منگوایا ہوگا۔ وہ بولی ذرا ٹھہرو، پہلے پوچھ لینا چاہیے۔ ہم دونوں چوہدری صاحب کے پاس گئے۔ عفت نے پوچھا، چوہدری صاحب، یہ تو آپ کی ریسپشن (Reception) ہے۔ قیمہ تو ضرور آپ کی ہدایت کے مطابق منگوایا گیا ہوگا؟ چوہدری صاحب نے جواب دیا۔ ریسپشن (Reception) کی انتظامیہ کا محکمہ الگ ہے، قیمہ اچھا ہی لائے ہوں گے۔ لو یہ کباب چکھ کر دیکھو۔ عفت نے ہر قسم کے ملے جلے گوشت کا خدشہ بیان کیا تو چوہدری صاحب بولے ’’بعض موقعوں پر بہت زیادہ کرید میں نہیں پڑنا چاہیے۔ حضور کا فرمان بھی یہی ہے‘‘ دین کے معاملے میں عفت بے حد منہ پھٹ عورت تھی۔ اس نے نہایت تیکھے پن سے کہا، یہ فرمان آپ کے حضور (مرزا قادیانی) کا ہے یا ہمارے حضور ﷺ کا؟‘‘ (از قدرت اللہ شہاب صفحہ 1068)
کالی کملی والا ﷺ:
’’معزز حاضرین! ہم صدق دل سے آپ کی یہاں تشریف آوری اور پوری دلجمعی سے شرکت پر شکر گزار ہیں۔ ایسی محفلیں دنیا داری کی مجلسوں سے ہزار گنا زیادہ فضیلت رکھتی ہیں۔ ان میں شمولیت انسان کی عظمت و رتبے میں بلندی اور سعادت کا باعث بنتی ہیں۔
شرکائے مکرم! جیسا کہ آپ جانتے ہیں آج کے اس نعتیہ مقابلے میں حصہ لینے
والے تمام ثناء خوان اپنی پرسوز آواز میں انتہائی خوش الحانی سے نعت خوانی کر چکے ہیں۔ ہمارے معزز جج صاحبان آج کے نعتیہ مقابلے کے نتائج مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔ ہمارا یہ پروگرام پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کے باہمی اشتراک سے آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔
احباب معظم ! چونکہ آج کے نعتیہ مقابلے کے تمام نعت خواں حضرات نے بہت محبت اور عمدہ طریقے سے نعتیہ کلام سنایا۔ ان میں سے کسی بھی نعت خواں کے انداز یا آواز کو دوسرے سے کم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے ہمارے جج صاحبان کو بھی انعامی نتائج مرتب کرنے میں قدرے دقت پیش آرہی ہے۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ جب تک جج صاحبان فیصلہ مرتب نہیں کرتے، سامعین میں سے کسی صاحب کو نعتیہ کلام کا ذوق ہو تو وہ اسٹیج پر تشریف لے آئے...... خاموشی...... چونکہ پروگرام براہ راست دکھایا جارہا ہے، اس لیے وقت کو انتہائی قیمتی سمجھتے ہوئے میں عرض گزار ہوں کہ جسے بھی عشق نبی ﷺ کا دعویٰ ہو، دل میں آپ ﷺ کی محبت ہو اور لب سے نعت کے پھول جھڑنے کو بے تاب ہوں تو وہ اسٹیج پر آجائے اور نعت رسول مقبول ﷺ سنانے کی سعادت حاصل کرے......
ٹھک...... ٹھک...... ٹھک۔
سب حاضرین، پروڈیوسر، کیمرہ مین، ڈائریکٹر سمیت نعتیہ مقابلے کے کمپیئر سید زاہد گیلانی آواز کی طرف متوجہ ہوئے۔ ایک اسی پچاسی سال کا ضعیف، سفید بالوں والا بابا لاٹھی کی ٹھک ٹھک کے ساتھ اسٹیج کی طرف آرہا تھا۔ ان کا دوسرا ہاتھ چودہ پندرہ سالہ بچے نے تھاما ہوا تھا۔
یہ کیا......؟ یہ کون ہے......؟ کیا یہ نعت سنائے گا جس کے منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت...... عشق نبی ﷺ کی اس عظیم الشان مجلس میں سرگوشیوں نے مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسا شور پیدا کیا۔
پروگرام لائیو تھا، اس لیے کوئی آگے بڑھ کر ان کو نہ روک سکا۔ جناب کمپیئر صاحب آگے بڑھے۔ دلی ناگواری اور بیزاری ان کے لہجے میں گھس آئی۔ تاہم چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کیمرہ کی طرف منہ کر کے بولے۔
’’ار...... رے! آپ بابا جی کہاں آرہے ہیں، یہ نعتیہ مقابلہ ہے‘‘۔ چار پانچ گھنٹوں سے کرسیوں پر بیٹھے عاشقان رسول ﷺ بھی کوفت سی محسوس کر رہے تھے۔
”پتا نہیں بابا جی کو کیا وخت پڑا ہے، پوپلے منہ سے کیا پڑھیں گے؟“ دوسری آواز آئی۔
کیمرہ کے سامنے آنے اور جلوے دکھانے کے لیے یہی بابا رہ گیا تھا؟
ان کی ظاہری ہیئت اور حلیے کو دیکھتے ہوئے کسی من چلے نے فقرہ کسا...... ”ہاں بھئی گلیوں میں مانگ مانگ کر گلا صاف اور سُر نکھر گیا ہوگا۔“
پروڈیوسر نے کمپیئر کو آنکھیں دکھائیں۔
”گیلانی کے بچے! تجھے کس حکیم نے مشورہ دیا تھا حاضرین کو پیشکش کرنے کا“۔
کمپیئر نے ماتھے سے پسینہ صاف کیا، انھوں نے کوشش کی کہ جلدی سے مائیک پر قبضہ جمالیں تاکہ نہ رہے بابا نہ رہے بابا کی نعت .......لیکن کسی غیر مرئی قوت نے ان کی ٹانگوں میں رکاوٹ ڈال دی۔
بابا جی اس لڑکے کی مدد سے اسٹیج پر پہنچ چکے تھے۔
”مائیک پر آ کر اب وہ بڑی متانت، شائستگی اور شگفتگی سے سلام دعا کے بعد درود پاک پڑھ رہے تھے۔
”لمبا پروگرام لگتا ہے.......“ پروڈیوسر نے اندازہ لگایا۔
کیا پروگرام بغیر نتائج کے ختم کر دیا جائے؟ ان کی سات سالہ ٹی وی ملازمت اور پانچ سالہ پروڈکشن میں ایسی نازک صورت حال پہلی دفعہ پیدا ہوئی تھی۔ رہ رہ کے وہ گیلانی صاحب کو کوسنے لگتے۔ روشنی کی کرن نے جھلک دکھائی۔ جج صاحبان سے نتیجہ لے کر سنا دیا جاتا ہے۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد جو ہوگا، دیکھا جائے گا....... پروڈیوسر صاحب جج صاحبان کی طرف بھاگے۔
اتنے میں بابا جی گلا کھنکھار کر صاف کر چکے تھے۔
سرگوشیاں ، تبصرے، فقرے ماحول قابو سے باہر ہو رہا تھا۔
سفید داڑھی والے بابا جی نے سُر پکڑا
آوازوں کا شور کچھ مدھم ہو گیا۔
صبح سے بیٹھے دل جلوں اور کچھ من چلوں نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔
پورے ہال پر سناٹا چھا گیا۔
جج صاحبان کے قلم تھم گئے، کمپیئر زاہد گیلانی کے چہرے پر چمک آگئی۔
حاضرین دل و جان سے متوجہ ہوگئے، کیمرہ مین اور ٹی وی کے عملے نے بابا جی کو فوکس کیا۔
آواز تھی یا جادو کی ایک لہر ...... سُر تھا یا بہتا دریا، کیا لے تھی جو سب کو ساتھ بہائے جا رہی تھی آواز میں کوئی نوپختگی یا کپکپاہٹ نہیں تھی۔ بلاشبہ یہ وہی آواز تھی جو دیواروں سے گلے مل کر واپس آجاتی ہے۔
ایکا ایکی ہر طرف ...... گونج ہی گونج ...... سوز ہی سوز ...... گداز ہی گداز ...... چشم نم سے بابا جی نے سب کو دیکھا۔
سبحان اللہ، سبحان اللہ ...... یکبارگی اک وجد کی کیفیت طاری ہوگئی۔ پرندے سنتے تو جھوم جھوم کر داد دیتے ...... بابا جی نے پھر آغاز کیا۔
سارے جگ نالوں چنگیاں مدینے دیاں پاک گلیاں
چند منٹ قبل بیزار، کوفت زدہ، اکتائے لوگوں کی مجلس، اب فرشتوں کے پروں میں گھری رحمت و سکینت کی محفل بن چکی تھی۔
نبی ﷺ کی مدحت پر مبنی اس شہر کے تذکرے سے سجی یہ نعت کب ختم ہوئی؟ کب بابا جی نے مائیک آف کیا؟ کب وہ اسٹیج سے اترے؟ کسی کو ہوش نہ رہا۔
حواس بحال ہوئے تو سب کے دل محبوبِ خدا ﷺ کے ذکر سے مشکبار اور آنکھیں اشک بار تھیں۔
گیلانی صاحب کو چہرے پر کوئی نامانوس سی چیز محسوس ہوئی، شاید مکھی آگئی تھی۔ انھوں نے بے خیالی میں ہاتھ چہرے پر پھیرا، ان کو علم ہی نہ ہوا تھا کہ کب ان کے آنکھوں نے آنسوؤں سے ان کا چہرہ بھگو دیا۔
پروڈیوسر صاحب ایک طرف ٹشو سے رخسار صاف کرتے پائے گئے۔
لرزتی آواز کے ساتھ گیلانی صاحب نے مائیک سنبھالا، سبحان اللہ، جزاک اللہ۔
شاہِ دوسرا، محبوبِ خدا، وجہ تخلیق کائنات ﷺ کے حضور نعتیہ کلام پیش کرنے کی یہ
سعادت ہمارے ایک بہت محترم بزرگ نے حاصل کی...... اشک آنکھ سے نکلیں تو نعت ہوتی ہے...... محض لفظوں کی جادوگری سے نعت ممکن نہیں۔ میں ناچیز بزرگوارم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اللہ انھیں مزید توصیف و ثنا کی توفیق دے۔ میں واپس اپنے جج صاحبان کی طرف پلٹتا ہوں جو یقیناً اپنے نتائج مرتب کر چکے ہوں گے۔
تشریف لاتے ہیں جناب زکریا محمود صاحب، جو کہ مشہور نعت خواں، گولڈ میڈلسٹ اور محبت نبی ﷺ میں پور پور ڈوب کر نعت پڑھنے کے لیے پہلی آڈیو کیسٹ کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
معزز حاضرین! درود پاک کا زیر لب ورد جاری رکھیں۔ تقریب اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے، بس تھوڑی سی ساعتیں اور ہیں......
زکریا محمود صاحب مائیک کے سامنے آئے...... گم صم پھر گلا صاف کرتے ہوئے بولے: میں معذرت خواہ ہوں کہ نتائج مرتب کرنے میں بہت مشکل پیش آ رہی ہے۔ بلا شبہ جو نعتیں، نعت خواں حضرات نے پڑھیں انھوں نے داؤدی الحان میں سماں باندھ دیا۔ میں یہی سوچتا رہا کہ کس کو پہلے، دوسرے اور تیسرے انعام کا حقدار قرار دیا جائے۔ جب ہم نے یہ فیصلہ کر لیا...... تو ہال سے ہمارے کوئی معزز بزرگ تشریف لائے۔ ان کا نعتیہ کلام سننے کے دوران بارہا مجھے اپنا دل پہلو سے نکلتا ہوا محسوس ہوا۔ مدینے کی گلیوں کے تذکرے پر میں نے اپنے آپ کو طیبہ کی فضا میں محسوس کیا۔ میں نے چشم تصور میں اپنے آپ کو روضہ رسول پر گناہوں کے بوجھ تلے دبے موجود پایا۔
میرے ذہن میں...... میرے دماغ میں...... میری آنکھوں کے سامنے زندگی میں پہلی دفعہ وہ تصوراتی منظر آیا جیسے تمام صحابہ کرام کے درمیان میرے آقا، میرے مدنی سرکار، میرے محبوب ہادی ﷺ تشریف فرما ہیں۔ میں نے ان کے تابدار گیسو، میں نے ان کے ضیائے چشم زہرہ، میں نے ان کا تابناک حسن اپنی آنکھوں سے دیکھا...... جج صاحب نے آنکھوں کو ٹشو پیپر سے صاف کیا۔
میں نے تمام عمر اپنے آپ کو نعتیں پڑھنے میں مصروف رکھا۔ میں نے ہر طرح کی آواز میں نعتیں سنیں، وجد طاری ہوا، میں عشق نبی میں روتا بھی رہا...... لیکن ایسی کیفیت کبھی نہیں ہوئی۔ یہ کوئی اعجاز تھا میرے رب کا یا کچھ اور معاملہ؟ میں نہیں جانتا...... میں آج کی محفل کا
صدر، آج کی اس سعادت مند تقریب کا مہمان خصوصی انھی بزرگ کو سمجھتا ہوں...... جنہوں نے یہ محفل لوٹ لی ہے....... جج صاحب تقریر کر رہے تھے کہ انھیں کمپیئر کی چٹ موصول ہوئی۔ پلیز نتائج کا اعلان کر دیا جائے کہ وقت ختم ہو رہا ہے‘‘۔
جج صاحب نے چٹ پڑھ کر ایک طرف رکھی۔ چند لمحوں کے لیے حاضرین کی طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں بولے۔
نبی ﷺ کی محبت میں کوئی پہلے، دوسرے یا تیسرے نمبر پر نہیں ہوتا ، ہاں آواز و انداز کے حوالے سے کہہ سکتے ہیں...... میں اس کے لیے اپنے دوسرے معزز بھائی اکرم فیض ہاشمی صاحب کو مدعو کرتا ہوں ، وہ آ کر نتائج کا اعلان کریں۔
پہلے جج صاحب نیچے اترے ، دوسرے جج صاحب نے مائیک سنبھالا۔ دن کے اڑھائی بج رہے تھے۔
میں اپنی قلبی کیفیات کو ویسے ہی محسوس کرتا ہوں جیسے مجھ سے پہلے میرے محترم کہہ چکے ہیں۔ نعت خوانی کے اس مقابلے میں سچ پوچھیں تو ان بزرگ کی آمد کے بعد کسی اور کا چراغ جل ہی نہیں سکتا...... میں دعوے سے کہتا ہوں خالی اچھی آواز یا سُر اور لے، تان گانے بجانے کے لیے تو کافی ہو سکتے ہیں لیکن نعت خوانی کے لیے بنیادی شرط عشق رسول ﷺ کے علاوہ ان کی سنت پر عمل ہے۔ ضرور یہ بزرگ ان سے مالا مال ہوں گے۔ بہر حال آج کی محفل ان کے نام ہے، تاہم قواعد وضوابط کے مطابق یہ صاحبان پہلے، دوسرے، تیسرے نمبر پر رہے ہیں۔ میں ان کو حکومت پاکستان اور پی ٹی وی کی طرف سے مبارکباد اور پانچ پانچ ہزار کے چیک پیش کرتا ہوں اور اپنی جیب سے ان بزرگ کی خدمت میں نہایت معمولی، بہت حقیر سا نذرانہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس درخواست کے ساتھ کہ پروگرام ختم ہونے کے بعد وہ اپنی قلبی کیفیات اور اپنا تعارف ضرور پیش کریں گے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو! اس شعر کے ساتھ آج کے نعتیہ مقابلے کی پرنور محفل برخاست ہوتی ہے۔
سجی ہے محفل کونین مصطفیٰ ﷺ کے لیے
میرا نام نور محمد ہاشمی ہے میں فیصل آباد ڈویژن کے ایک دور دراز کالج کا پرنسپل رہا ہوں۔ اپنے علاقے میں، میں ڈاکٹر نور ہاشمی کے نام سے جانا جاتا ہوں اور قلمی حوالے سے میرا
نام ن۔م ہے۔
حاضرین ظہرانے اور نماز کے بعد پھر کرسیوں پر تشریف فرما تھے۔ سوائے ان اکا دکا لوگوں کے، جو دور دراز شہروں سے آئے تھے اور انھیں رات ہونے سے قبل واپس اپنے ٹھکانے پر پہنچنا تھا۔ بس اب پروگرام آن ائیر نہیں جارہا تھا۔...... فرق صرف اتنا تھا کہ اب حاضرین ہی ناظرین تھے۔ ن۔م اور ڈاکٹر نور ہاشمی کے نام پر لوگ چونکے۔
ارے...... یہ فلاں اخبار میں کالم لکھتے ہیں......
اوہ...... انھوں نے تو فلاں فلاں موضوع پر فلاں ڈائجسٹ میں بہت اچھا لکھا تھا۔ چند گھنٹے قبل بھیک مانگتے ہوئے گلا صاف ہونے کی پھبتی کسنے والے خود ہی ندامت کے دریا میں غرق تھے۔
’’آپ میری آپ بیتی سننا چاہتے ہیں، مجھے نہیں علم، اس میں آپ کے لیے کیا کشش ہوگی، حالانکہ میں نے اپنی زندگی میں آج پہلی دفعہ نعت پڑھی ہے، کسی مجلس میں اس سے قبل نعت پڑھنے کا کوئی تجربہ نہیں‘‘۔
’’زبردست‘‘، ’’ناقابلِ یقین‘‘ جیسے تبصرے ہوا میں پھیلے۔ یہ سب تو میں نے آج اپنی مرحومہ اماں کو یاد کرتے ہوئے بے ساختہ کیا...... مجھے آج اپنی اماں بہت یاد آرہی تھیں...... میں رہ نہ سکا، حالانکہ آج کا ردِعمل خوشگوار نہیں تھا‘‘۔ وہ کہتے کہتے رکے۔
اس کی داستان سے آپ کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے جو پاکستان بننے سے بیس سال قبل شیخوپورہ کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوا تو اس کا باپ آنکھ کھولنے سے قبل دنیا سے رخصت ہو چکا ہو۔ کوئی دادا نانا، چچا ماموں جیسی محبت بھری ہستی اس کو میسر نہ ہو۔ بس اک ماں...... کل کائنات...... اس بچے نے ہوش سنبھالا تو طاعون، گلٹی، وبا جیسے الفاظ کثرت سے سننے کو ملتے جنہوں نے اس کے پورے خاندان کو فنا کے گھاٹ اتار دیا۔ ماں کی جتنی زیادہ توجہ کسی بچے کو میسر آئے، وہ اتنا ہی چڑچڑا ہوتا جاتا ہے۔ بے حد لاغر، پچکے منہ، پھولے پیٹ اور لمبی لمبی بانسی تیلیوں جیسی ٹانگیں، ایسا بچہ جو دو لقمے نہیں کھاسکتا...... کھانے کے دوران ہی پیٹ کا درد اور قے اسے کھانے سے متنفر کراتے جارہے ہیں۔ ماں دن کو چرخہ کاتتی ہے اور کھچڑی، دلیہ، دہی زبردستی بنا بنا کر اسے کھلاتی ہے۔ وہ بچہ ہے یا بیماریوں کی پوٹ!
اس کی ماں اب بھی اس بچے کے تصور کی دنیا کو آباد کرتی ہے تو بیٹھے بیٹھے ہچکیوں سے رونا، بے قراری سے تڑپنا، بلکنا یاد آتا ہے۔ کچھ ذہن پر زور ڈالے تو اب بھی اس بچے کو یاد ہے
وہ توتلی آواز میں ماں سے پوچھتا ہے:
”بے بے تو تیوں لوتی ہے؟“
”کچھ نہیں“۔ کہہ کر ماں کا دوپٹے کے پلو سے آنسو پونچھنا بھی یاد ہے...... وہ مریل مدقوق بچہ چھ سال کا ہوا تو تین میل کے فاصلے پر ماں اسے اسکول داخل کرانے جاتی ہے۔ دو تین دن وہ بچہ اسکول گیا پھر رونے بیٹھ گیا۔
”بے بے اسکول نہیں جاؤں گا“۔
مرغی کی طرح ہر وقت پروں میں سمیٹنے والی محبتوں کے دریا نچھاور کرنے والی ماں شیر کی طرح دھاڑتی ہے۔
”کیوں اسکول نہیں جائے گا؟“
”مجھ سے اتنی دور پیدل نہیں جایا جاتا، میں تھک جاتا ہوں“۔ وہ بچہ جواب دیتا ہے۔
”میں صدقے، میں واری، ماں نے طاقچے سے سرسوں کا تیل نکالا، بازو اوپر چڑھائے اور گھنٹہ لگا کے خوب مالش کی پھر گرم پانی سے نہلایا، دھلے کپڑے پہنا کر سرمہ لگا کر اسے آئینے کی طرح سامنے کھڑا کیا۔
”رج کے پیارا ہے میرا پترا، اب چیتے کی طرح بھاگتا دوڑتا جائے گا اسکول......“
اس مالش نے بمشکل ہفتہ بھر اثر کیا پھر اتنا راستہ طے کرتے کرتے ٹانگیں لوہے کی بن جاتیں، سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگتا اور آدھے راستے میں ہمت جواب دے جاتی...... باقی سفر وہ رک رک کر دن ڈھلے تک طے کر کے گھر پہنچتا تو ماں گلی کی نکر میں صدقے واری کرتی اسے گھر لے آتی۔
وہ روتا، بلبلاتا...... ”اب تو میں نے کل سے اسکول بالکل نہیں جانا...... جو مرضی ہو جائے میں کسی دن گر کر مر جاؤں گا تجھے پتا بھی نہیں چلے گا......“ وہ غصے سے بڑبڑاتے ہوئے زہر انڈیلتا ہے......
ماں جلدی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتی۔
”ناں، ناں میرے نور محمد، ایسے نہیں کہتے۔ علم کی حفاظت تو فرشتے کرتے ہیں تو درود پڑھتا جایا کر، تجھے کچھ بھی نہیں ہوگا، دیکھ لینا“۔ وہ یقین سے کہتی۔
”درود میں کیا طاقت کی گولیاں رکھی ہیں جو مجھے کچھ نہیں ہوگا......“ وہ بچہ جھلا کر کہتا۔
ہاں دماغ کی طاقت، دل کی راحت، آنکھوں کی ٹھنڈک، دل کی چاہت سب کچھ تو اس میں ہے...... وہ پیار سے کہتی...... اور کوئی نہ کوئی لالچ دے کر منا کر ہی دم لیتی۔ روتے دھوتے وہ بچہ دوسری کلاس میں پہنچ گیا لیکن بدقسمتی سے اسے ٹائیفائیڈ ہو گیا...... حکیموں اور معالجوں نے اسے زیادہ چلنے سے منع کیا تو وہی کمزور سی ماں اسے گود میں اٹھا کر تین میل دور اسکول میں پہنچاتی...... اسکول کے احاطے میں بیٹھ کر اپنا کام کاج نمٹاتی، پھر کبھی کندھوں پر لاد کے کبھی کمر پر سوار کر کے کبھی گود میں بٹھا کے واپس لاتی تو وہ خود صدیوں کی بیمار لگتی۔ وہ بچہ ناسمجھی سے کہتا۔
”بے بے تو اسکول سے ہٹا کیوں نہیں لیتی مجھے؟ اتنی کھیچل (مشقت) میں خوامخواہ پڑتی ہے اور پھر راتوں کو اٹھ اٹھ کر کندھے دباتی ہے...... روتی کرلاتی ہے۔ کیا رکھا ہے، پڑھائی میں؟“
ماں کی آنکھوں سے چھم چھم آنسوؤں کی برسات شروع ہو جاتی...... ”پتر ایک ہی تو خواب دیکھا ہے ساری حیاتی...... تو پڑھے گا نہیں تو بڑا افسر کیسے بنے گا؟ کیسے کمائی کرے گا؟ کیسے مجھے میرے کالی کملی والے آقا ﷺ کے پاس لے کر جائے گا......؟ میں تو دن گن گن کر گزارتی ہوں“۔
”ہائیں، یہ کالی کملی والا کون ہے......؟“ بچے نے آنکھیں پٹپٹا کر پوچھا۔ ”اور یہ رہتا کہاں ہے؟“
”کالی کملی والا ہی تو سب کچھ ہے...... اور میرے دل میں رہتا ہے......“ اس نے سرگوشی کی اور ایک دم قطعیت سے کہنے لگی ”بس اب تو ٹھیک ہو جائے گا تو تجھے میں تانگہ لگوا دوں گی یا ماسٹر جی کے سائیکل پر چلے جایا کرنا......“ ماسٹر جی ہمارے پڑوسی تھے۔
رو دھو کے اس نے پانچ جماعتیں پاس کر لیں لیکن اب اس کی ماں بیمار ہو گئی۔ زندگی کی امید نہ رہی، سارا دن وہ چارپائی پر کھانستی رہتی یا تھوڑا بہت کام کرتی...... پھر تھک کر لیٹ جاتی۔
اس بچے نے جو اب عمر میں زیادہ سیانا ہو گیا تھا، ماں کی یہ حالت دیکھ کر فیصلہ کیا کہ پڑھائی چھوڑ کر ماں کے علاج کے لیے لاہور جایا جائے جب اس نے ماں کو اپنا خیال بتایا تو ماں کو جیسے کرنٹ لگا۔
توبہ توبہ، نہ پت، میں پڑھائی چھوڑنے کی اجازت نہیں دوں گی۔ میں نے تو یہ سوچا تھا کہ کمائے گا اور ایک دفعہ بس ایک دفعہ سوہنے محبوب ﷺ کے روضے پر لے جائے گا لیکن لگتا ہے یہ مجھ گنہگار کے نصیب میں نہیں...... میری آنکھیں مدینہ کو دیکھے بغیر ہی بند ہو جائیں گی......
پتر...... پتر نور محمد، رب کی سونہہ (قسم) تو میرے مرنے کے بعد ضرور جانا۔ تو ضرور اللہ کے رسول ﷺ کے در پر حاضری دینا....... ان سے کہنا....... ان سے کہنا....... کھوں کھوں کھوں کھوں۔
کھانستے کھانستے وہ بے دم ہو کر گر پڑی....... وہ بچہ اب نوجوانی کی دہلیز پر دستک دے رہا تھا۔ اس کی مدقوق صحت اور بانسی ٹانگوں پر صحت کا پانی پھر گیا تھا۔
ماں کو اللہ نے سانسوں کی ڈوری سے باندھے رکھا لیکن صحت سے وہ کوسوں دور ہوتی چلی گئی۔ کئی دفعہ وہ کھانستے اور بلغم تھوکتے تھوکتے ایک پوٹلی کھول کر دکھانے لگتی۔
”نور محمد، اگر میرے کالی کملی والے کے در پر جانے کے لیے پیسہ پورا نہ ہو تو یہ جمع جتھہ کر رکھا ہے، یہ ضرور شامل کر لینا۔“
نور محمد اب اپنی بستی کا واحد لڑکا تھا جو لاہور پڑھنے کے لیے گیا۔ پاکستان بن چکا تھا۔ اس کے بچپن کی سنہری یادوں میں اس کی ماں کی یہ خواہش بھی شامل تھی کہ مجھے مدینے لے کر جانا....... وہ لاڈ سے اب بھی ماں سے پوچھتا۔
”بے بے تجھے اگر ایسی بہو ملے جو تیرے شوق میں روڑے ڈالے تو پھر.......؟“ اس کی بے بے کی آنکھوں کا نور تیزی سے ختم ہوتا جا رہا تھا....... لیکن بڑی آس و نراس کے ساتھ بولی:
”تو کیا ہوا؟ تیری پڑھائی میں بھی تو رکاوٹ آئی تھی۔ تُو رکا؟ اگر مجھے سچا شوق اور چاہت ہو گی تو تیرے لے جائے بغیر بھی پہنچ جاؤں گی۔“
شرارت سے بی اے کے طالب علم بیٹے نے پوچھا۔
”بے بے تو یہیں بیٹھ کر درود پڑھ لے“۔
ہونہہ! غصے سے اس بوڑھے وجود نے ہنکارا بھرا....... ”ارے بے وقوف تیرے باپ کی جدائی نے مجھے اتنا نہیں رلایا جتنا مدینہ کی تڑپ نے رلایا ہے“۔
”لیکن تجھے نظر تو آتا نہیں اب، تو وہاں جا کر کیا کرے گی؟“
”میں دل کی آنکھوں سے دیکھوں گی۔ اس کے دیدار کی حسرت اور پیاس جسم کی آنکھوں سے نہیں، دل کی آنکھوں سے بجھتی ہے۔ پتر میں اس کو اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھوں گی....... سورج چاند سے زیادہ حسین چہرے والے تاجدار ختم نبوت کے در پر جاؤں گی“۔
وہ بھل بھل رونے لگی۔
وہ بچہ جانتا تھا کہ اس کی ماں کے دن کی ابتدا اور انتہا اسی کے ذکر سے ہوتی۔ وہ اس کے لیے دنیا کے ہر خونی رشتے سے بڑھ کر تھا۔ اس کی چاہت پر وہ دنیا کی ہر چاہت قربان کرسکتی تھی۔ وہ بچہ اب جانتا تھا کہ روتے روتے ماں، آنکھ میں تنکا پڑ گیا ہے، کہہ کر جو اسے ٹالتی تھی وہ تنکا نہیں...... جدائی کا، ہجر کا شہتیر ہوتا تھا جو دل میں گڑا ہوا تھا...... وہ بن پانی کی مچھلی جب تک مدینہ طیبہ کی سرزمین کو نہیں چھولے گی، بے قرار رہے گی۔ وہ مائی حلیمہ کے سوہنے لعل کی دھنوں سے جو ساری زندگی دل کو بہلاتی رہی ہے...... اب اسے جانا ہی جانا ہے...... چاہے آج یا کل۔
کچھ اخبارات، رسائل میں مضامین لکھنے، کسی دکان پر دو چار گھنٹے لگا کر، ایک دو لڑکوں کو گھروں میں ٹیوشن پڑھا کر اس کے پاس اتنی رقم ہو چکی تھی کہ وہ ماں کی خواہش کو پورا کر سکتا تھا۔
پاسپورٹ، ٹکٹ ضروری کاغذات مکمل ہوئے تو ماں دونوں آنکھوں کی بصارت سے محروم ہو چکی تھی۔ جس نے ساری زندگی اپنی بستی اور تین میل دور شیخوپورہ سے آگے سفر نہیں کیا تھا، اسے اب ہزاروں میل کا سفر درپیش تھا۔ شیخوپورہ سے لاہور اور لاہور سے کراچی کا سفر تین دن میں پورا ہوا۔ کراچی کے سمندری ساحل پر پہنچ کر اس بچے نے مذاق سے کہا۔ ”بے بے تین دن لگے ہیں مدینہ پہنچنے میں......“
اندھی آنکھوں اور کسی حد تک قوت گویائی سے محروم ماں نے ناک سکوڑ کر کہا۔
”یہ ہوا میرے نبی ﷺ کے شہر کی نہیں، خوامخواہ مخول نہ کر“۔
”تو کیا تجھے مدینے کی ہوا کی پہچان ہے؟“ بیٹے نے پوچھا۔
”ہاں...... میں مدینہ گئی نہیں۔ میں نے اس شہر نور کو نہیں دیکھا، پر میں ساری زندگی اسی شہر میں رہی ہوں“۔ عجیب سے درد بھرے لہجے میں ماں بولی۔
نہ بحری جہاز کے سفر نے ماں کو تھکایا، نہ بیماری قریب پھٹکی۔ بحری جہاز پر لمبے سفر کے اثرات نے بھی ماں کو تنگ نہ کیا۔ زیر لب درود پڑھتے پڑھتے وہ دن بھی گزار دیتی اور رات بھی۔
چھ فٹ کا وہ بیٹا ماں کے چہرے کی الوہی چمک کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔
یہ شاید اسی نور کی ایک معمولی سی کرن تھی جو اس کے آقا ﷺ کو عطا ہوا تھا۔
آٹھ دن اور نو راتیں گزریں تو جدہ آیا......
جوانی کی عمر کے باوجود وہ لڑکا تھکن اور بخار محسوس کر رہا تھا لیکن ستر پچھتر سالہ ماں بڑے ولولے سے دیواریں ٹٹول ٹٹول کر دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی۔
”پتر مکے مدینے نہیں جانا......یہاں کیوں بیٹھا ہے“۔ پتر نے کہا ”بے بے تجھے کیا علم کہ یہ مکہ مدینہ نہیں ہے؟“ یہ تو مجھے نہیں علم کہ یہ کون سا شہر ہے، پر یہ میرے رسول ﷺ کا شہر نہیں......اللہ کے واسطے پتر دیر نہ کر......!“ آٹھ دن خانہ کعبہ میں رہنے کے بعد جب وہ مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو اُس کو ماں کے عشق کا امتحان مقصود ہوا......بغیر بتائے وہ ماں کو لے کر سفر پر روانہ ہوا......پہلی جگہ پڑاؤ تھا۔
بیٹے نے کہا ”بے بے مدینہ آ گیا!“
بے بے نے انکار میں سر ہلا دیا......”پتر، تو مجھے نہ بتا، میں تجھے بتاؤں گی مدینہ کب آئے گا......میری روح تو وہیں ہے، میں خالی اینٹوں کا کھنڈر ادھر ہوں......وہاں پہنچی تو تجھے خود ہی پتا چل جائے گا“۔
پتر نور محمد نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ لیکن وہ سوچتا رہا۔ ساری زندگی جس خواب کے تانے بانے بنے تھے۔ جس کی آس پر زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا، جب اسے وہ تعبیر ملے گی تو کیا ہوگا؟
ماں دن بھر کے سفر سے نڈھال پانی پینے کے لیے سڑک پر آئی۔ بیٹے نے پانی کا گلاس ماں کو تھمایا۔
پتا نہیں کیا سوچ کر ماں نے انکار کر دیا......”اب تو نبی ﷺ کے دربار میں جا کر پیاس بجھے گی“۔
جب بس کی خرابی اور دو گھنٹے عربی ڈرائیور کی گمشدگی اور بازیابی کے بعد بس چلی......نیند کے ٹھنڈے میٹھے جھونکے سب کو اپنی گرفت میں لے چکے تھے......کوئی ایک فرد ایسا نہ تھا جو اونگھ نہ رہا ہو۔ کچھ ہی دیر گزری ہوگی، ماں پنجرے میں قید پرندے کی طرح پھڑپھڑائی۔
میرے سوہنے نبی ﷺ کا دیس آ گیا۔
پتر نور محمد، میرے رب کے محبوب ﷺ کا گھر آ گیا۔
میرے آقا، کالی کملی والے......میرے محبوب......تاجدار ختم نبوت ﷺ کا شہر......
ہڑبڑا کر تمام سواریاں اٹھ بیٹھیں......عربی ڈرائیور نے سب کو مخاطب کر کے کچھ کہا جس کا ترجمہ معلم نے یہ کیا کہ آپ کو مبارک ہو، دیار نبی ﷺ کی حدود شروع ہو چکی ہیں......
درود پڑھیے احترام کے ساتھ...... محبت کے ساتھ تیاری کیجیے۔
وہ کیا جنون تھا، وہ کیا جذبہ تھا، جوانوں کو مات کر کے اس ماں نے روضہ رسول ﷺ پر حاضری دی۔
مسجد نبویؐ میں پہلی نماز جمعہ کی پڑھی اور دوسری جانب سلام پھیرا تو ...... پنجرہ خالی ہو چکا تھا ...... پرندہ اڑ چکا تھا......
روح جسم کی قید سے آزاد ہو چکی تھی۔ اس ماں کی زندگی کی ریاضتوں کا حاصل حصول ہی یہی تھا کہ موت آئے تو تیرے در پر آئے...... اس کے عشق کی داستان محبوب ﷺ کے آستانے پر جا کر ختم ہو گئی۔ میں نمانا اپنے آپ کو ان کی توجہ کا مرکز سمجھتا رہا، وہ کسی اور کی توجہ کا مرکز تھیں۔ لیکن جب کہیں میں نعت سنتا ہوں ...... جب کہیں مدینے کا ذکر ہوتا ہے، میرا غم مجھے جینے نہیں دیتا۔ میں کیا کروں ...... میرے بس میں نہیں رہتا۔ میں تڑپتا ہوں ...... روتا ہوں...... اک سوز کی آگ ہے جو مجھے سلگاتی ہے۔
اک عشق ہے جو مجھے تڑپاتا ہے ...... محبوب ﷺ کے ساتھ ساتھ میری ماں کا چہرہ بھی تو نظروں میں ہوتا ہے۔ میرے اندر کا زخم ہرا ہو جاتا ہے......
میرا لوں لوں، نعت ہو جاتا ہے، میری بوٹی بوٹی نعت بن جاتی ہے اور میں اس کی زبان بن جاتا ہوں۔“
(ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل، کراچی 27 اکتوبر، 2006ء)
حضرت ابن انیسؓ اور گستاخ رسولؐ خالد الہذلی:
درج ذیل واقعہ پر بار بار غور کیجیے تا کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ آخر کیوں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کی صحبت و معیت کے لیے ان تابندہ و درخشاں جانباز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتخاب فرمایا۔ ماہ محرم 4ھ کی 5 تاریخ کو رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر ملی کہ خالد بن سفیان ہذلی، نبی اکرم ﷺ کو قتل کرنے کے لیے فوج جمع کر رہا ہے تو آپ ﷺ نے اپنے محبّ صادق جاں نثار صحابی حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خالد الہذلی میرے قتل کے درپے ہے اور مجھے اذیت پہنچا رہا ہے۔ حضرت ابن انیسؓ نے کہا: روحی لروحک فداء مرنی بما تشاء ۔ میری جان آپ ﷺ پر قربان، حکم کیجیے! آپ ﷺ نے فرمایا: مکہ جاؤ اور خالد الہذلی کا سر میرے پاس لے کر آؤ۔ اللہ اکبر! ابن انیسؓ نے یہ نہیں کہا: میں اکیلا کیسے اس کا
مقابلہ کر سکوں گا، مجھے کچھ افراد درکار ہیں، میرے پاس اسلحہ نہیں۔ یہ بڑی مشکل اور پُر خطر مہم ہے، نہیں نہیں....... ابن انیسؓ تن تنہا، اللہ رب العزت کی ذات عالیہ پر بھروسا رکھتے ہوئے مکہ گئے اور 18 روز باہر رہ کر 23 محرم کو واپس تشریف لائے۔ وہ خالد کو قتل کر کے اس کا سر بھی ہمراہ لائے تھے۔ آج ہماری حالت تو یہ ہے کہ مرغی یا بکری کو ذبح کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ لیکن صحابہؓ کرام رضوان اللہ علیہم وہ جوانمرد، بہادر اور دلیر لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ کے باغیوں اور نبی ﷺ کے گستاخوں کی گردنیں کاٹنے کے خوگر تھے۔ جب خدمت نبوی ﷺ میں پیش ہو کر انھوں نے خالد الہذلی کا سر آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ ﷺ نے ابن انیسؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: یہ چہرہ کامیاب ہوا اور انھیں ایک عصا مرحمت فرمایا اور فرمایا، کہ یہ میرے اور تمھارے درمیان قیامت کے روز نشانی رہے گا۔ چنانچہ جب حضرت ابن انیسؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے وصیت کی کہ یہ عصا بھی ان کے ساتھ ان کے کفن میں لپیٹ دیا جائے۔
(زادالمعاد 108/2، وابن ہشام 720-719/2)
برادران گرامی! کل قیامت کے دن جب ابن انیسؓ وہ عصا لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو تمام لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ یہ عصا اللہ کے رسول ﷺ کی ناموس کے تحفظ کی علامت ہے۔ بتائیے! آج ہم نے تحفظ حرمت رسول ﷺ کے لیے کیا قربانی پیش کی ہے کہ جسے بطور علامت ہم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش کرسکیں گے؟
جس کی ہوائیں تند نہیں وہ کیسا طوفان
مسلمان کے زندہ رہنے کے لیے ایک مقصد ہونا چاہیے کہ جس کے لیے وہ مر سکے۔ اس سلسلہ میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ سے بڑھ کر اعلیٰ و ارفع مقصد اور کیا ہو سکتا ہے؟ ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ جنگ یمامہ کے شہدا کی پیروی میں تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں جو موت آئے، درحقیقت وہ موت نہیں بلکہ ایک اعلیٰ درجہ کی دائمی اور سرمدی زندگی ہے۔
عشق والے ہیں جو ہر چیز لٹا دیتے ہیں
غیرت مند کتا اور عیسائی پادری:
آج وقت پھر کسی معاذؓ و معوذؓ، ابن انیسؓ اور صحابہؓ کرام جیسے قابل فخر غلامان محمد ﷺ
کا منتظر ہے؟ یہ واقعہ سنیے اور آئیے ہم سب مل کر اپنی بزدلی اور کم ہمتی پر روئیں۔ ہلاکو خان کے نام سے کون واقف نہیں۔ تاریخ کے اس جابر تاتاری جنگجو حکمران کی ایک بیوی کا نام ظفر خاتون تھا۔ ظفر خاتون عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی تھی اور اس کی وجہ سے ہلاکو خان کے زیر تسلط علاقوں اور رعایا میں عیسائیت کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع مل رہا تھا۔ عورتوں کی آڑ میں اپنے مذہبی عقائد کا پرچار کلیسا کا پرانا مشغلہ رہا ہے اور ایسے کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے سے اہل صلیب کم ہی چوکتے ہیں۔ بہرکیف ہلاکو خان کی حکومت عیسائیت کے فروغ کے لیے ایک مضبوط سہارے کا کام دے رہی تھی۔ ایک دفعہ عیسائیوں کی کوشش سے ہلاکو خان کے ایک اہم جنگی سردار نے عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔
یہ شخص حکومت وقت میں اتنے اہم کردار کا حامل تھا کہ پوری عیسائی دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کلیسا نے اس سردار کو عیسائیت میں خوش آمدید کہنے کے لیے ایک تقریب جشن کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے مرکزی کلیسا کے کئی پادری خصوصی نمائندے بن کر آئے۔
تقریب کا آغاز ہوا تو مختلف پادریوں نے باری باری اُٹھ کر تقریریں کیں اور عیسائیت کے فضائل بیان کیے۔ اسی دوران ایک پادری کی باری آئی تو اس بدبخت نے اپنی تقریر شروع کرتے ہی پیغمبر اسلام ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی شروع کر دی۔ اتفاق سے وہاں قریب ہی ایک تاتاری سپاہی کا شکاری کتا بندھا ہوا تھا۔ اس کتے کے کان میں جب پادری کے الفاظ پہنچے تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ سخت طیش میں آ گیا اور پھر اس نے اپنی رسی چھڑا کر پادری پر حملہ کر دیا لیکن عین اسی لمحے لوگ آگے بڑھے، پادری کو اس عذاب سے خلاصی دلائی اور کتے کو دوبارہ رسی سے باندھ دیا گیا۔
یہ صورتحال دیکھ کر بعض لوگوں نے پادری سے کہا کہ تم نے ایک قابل احترام ہستی کے بارے میں نازیبا باتیں کیں، اس لیے کتے نے تم پر حملہ کر دیا لیکن اس بدبخت کا اصرار تھا کہ میں چونکہ تقریر کے دوران اشارے کر رہا تھا، اس لیے کتا یہ سمجھا کہ میں اس پر حملہ آور ہونے لگا ہوں۔ بس اسی لیے، اس نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ یہ کہہ کر پادری نے دوبارہ اپنی تقریر شروع کی اور کچھ دیر بعد پھر رسول اللہ ﷺ کی شان میں دریدہ دہنی شروع کر دی۔ اُدھر کتے نے دوبارہ یہ الفاظ سنے تو پھر طیش میں آ گیا۔ اس نے اپنی رسی چھڑائی اور شیر کی طرح جست لگا کر اس بدبخت پادری پر حملہ آور ہو گیا۔ اب کی بار کتے نے اس کی گردن کو دبوچ لیا اور اس وقت تک
نہیں چھوڑا، جب تک کہ وہ بدطینت انسان تڑپ تڑپ کر مر کر جہنم واصل نہیں ہو گیا۔ اس طرح اللہ رب العزت نے ایک بے سمجھ جانور کو گستاخ رسولؐ پر حملہ کے لیے آمادہ کر دیا اور اپنی قدرتِ کاملہ کا مظاہرہ کیا کہ ہم کسی کے محتاج نہیں، بے سمجھ جانوروں سے بھی اپنے محبوب کا بدلہ لے سکتے ہیں۔ (الدرر الکامنہ از امام حجر ابن عسقلانی ج 1، ص 202، اس واقعہ کو محدث علامہ ذھبیؒ نے صحیح اسناد کے ساتھ ’’معجم الشیوخ‘‘، صفحہ 387 پر بھی نقل کیا ہے۔)
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی گستاخی کرنے والے سے قدرت کا یہ انتقام دیکھ کر وہاں موجود چالیس ہزار افراد نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔
شاید آپ نے پڑھ رکھا ہو کہ جس طرح ابولہب رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا تھا، ویسے ہی اس کا بیٹا عتیبہ بھی گستاخ تھا۔ اس بدبخت نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی تکلیف پہنچائی کہ آپ ﷺ نے اس کے لیے بددعا کی...... ’’اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتا مسلط فرما‘‘۔ اُسے جب اس بددعا کا پتا چلا تو باجود کافر ہونے کے اس کی نیند حرام ہو گئی۔ ہر وقت خطرے سے دوچار رہتا کہ کب محمد (ﷺ) کی بددعا رنگ لائے گی اور قدرت اُس سے انتقام لے گی۔ ایک دفعہ تجارتی قافلے کے ہمراہ محوِ سفر تھا کہ رات کا اندھیرا چھا گیا۔ اس نے لوگوں سے کہا کہ سارے قافلے کا سامان میرے اردگرد رکھ دو اور خود بھی میرے آس پاس حلقہ بنا کر پڑاؤ ڈالو تا کہ کوئی جانور حملہ نہ کر سکے۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، مگر رات کے کسی پہر نجانے کہاں سے کوئی درندہ آیا اور اس ملعون شخص کو چیر پھاڑ کر چلا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس درندے نے ملعون عتیبہ کا ناپاک خون پیا اور نہ اس کا پلید گوشت کھایا۔
اللہ کے بندو! سوچو......! نبی اکرم ﷺ کی توہین پر ایک کتا غضبناک ہو گیا اور اس نے کس انداز سے اپنے غیرت مند ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ آج ہماری غیرت کہاں رخصت ہو گئی؟ اللہ کی قسم! جمادات و حیوانات بھی رسولِ پاک ﷺ کے دیدار کے شوق میں تڑپ گئے، کیا آج یہ شوق ہمارے اندر سے بالکل ختم ہو چکا ہے؟
از جمال مصطفیٰ بیگانہ کرد
(اس فتنہ پرور زمانے نے ہمیں اپنے آپ سے اور جمال مصطفیٰ ﷺ کی معرفت سے بیگانہ کر دیا ہے)
ایک ایسے وقت میں ...... جب بے بسی نے ہماری کمر توڑ ڈالی ہے، بزدلی نے ہمارے دلوں میں گھر کر لیا ہے، مصلحتوں کے جال میں ہم بے دست و پا ہو چکے ہیں اور سرحدوں نے ہمارے قدم جکڑ لیے ہیں، ہم اپنے آقا ﷺ کی حرمت و ناموس کا انتقام لینے کے لیے اور کچھ نہیں کر سکتے تو آئیے! سب مل کر یہ دعا کریں کہ ...... ”اے اللہ ! ان گستاخوں میں سے ہر ایک پر اپنے کتوں میں سے ایک ایک کتا مسلط فرما!“ (آمین)
کہ اس کرب و بلا میں سخت جانوں کی ضرورت ہے
کہاں ہیں سیدالکونین ﷺ کی امت کے دیوانے؟
کہ ناموس نبی ﷺ کے پاسبانوں کی ضرورت ہے
یہ ہے احترام رسول ﷺ :
حضور نبی کریم ﷺ کا احترام، اللہ کا احترام ہے۔ حضور ﷺ کے احترام سے خالی دل ایمان وتقویٰ سے خالی ہوتے ہیں۔ ہندوستان کی سرزمین پر بہت سے حکمرانوں نے حکومت کی ہے مگر ان میں سلطان ناصر الدینؒ جیسا کوئی نہ ہوگا۔ ناصر الدین، سلطان التمشؒ کے بیٹے تھے۔ وہی التمشؒ جن کی پرہیز گاری کا مشہور واقعہ ہے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کی وصیت کے مطابق، ان کا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس نے کبھی نماز تہجد قضا کی ہو اور نہ کسی غیر محرم عورت پر نگاہ ڈالی ہو۔ ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں مشائخ ، علما، رؤسا اور عام افراد موجود تھے مگر ان شرائط پر کوئی بھی پورا نہ اترتا تھا۔ آخر سلطان التمشؒ آگے بڑھے اور حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کی نماز جنازہ پڑھائی کہ وہ حضرت خواجہؒ کی شرائط پر پورے اترتے تھے۔
سلطان ناصر الدینؒ اسی پرہیز گار باپ سلطان التمشؒ کا بیٹا تھا۔ ملکی امور میں مہارت کے علاوہ پرہیز گاری اور اطاعت خداوندی میں بھی کامل تھا، قرآن کریم کی کتابت کر کے گھر کا خرچ چلاتا تھا۔ سرکاری خزانہ سے ایک پائی بھی اپنے گھریلو اخراجات میں خرچ نہ کی۔ ناصر الدین بائیس سال تک ہندوستان پر حکمران رہا۔ ان کے دور حکمرانی میں ان کی بیوی گھر کا سارا کام کاج خود کرتی ، کھانا پکانا ، جھاڑو دینا اور برتن دھونا، ان کے معمولات تھے۔ ایک دفعہ روٹی پکاتے ہوئے اس کا ہاتھ جل گیا، اور سلطان ناصر الدین سے کہا کہ گھر کے کام کاج کے لیے لونڈی خرید لیجیے، سلطان نے جواب دیا کہ میری مالی حالت ایسی نہیں، سرکاری خزانہ کا میں نگران
اور رعیت کا خادم ہوں، سرکاری خزانہ سے لینے کا حقدار نہیں ہوں۔ صبر کرو، اللہ تمھیں محنت کا اجر دے گا۔ آج پاکستان میں سرکاری خزانہ کو ہمارے حکمران اپنے باپ کی جاگیر اور وراثت سمجھتے ہیں اور ملکی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔
سلطان ناصر الدینؒ کے درباری بھی اس کی طرح عابد و زاہد تھے۔ ایک دن سلطان نے اپنے قریبی درباری کو اس کے اصلی نام کے بجائے وقتی طور پر فرضی نام سے پکارا، درباری فرضی نام سن کر حیران ہوا کہ بادشاہ کو میرا نام تک یاد نہیں۔ مجھے فرضی نام سے پکار کر میری تذلیل کی ہے اور اس غصہ میں تین دن تک دربار میں جانا چھوڑ دیا۔ چوتھے دن حاضر ہوا تو سلطان ناصر الدین نے اس سہ روزہ غیر حاضری کا سبب پوچھا۔ درباری نے جواب دیا: آپ نے اس دن میرے نام سے نہ پکارا تو میں سمجھا کہ آپ ناراضگی کی وجہ سے میرا نام لینا نہ چاہتے ہیں، سلطان ناصر الدین نے کہا، واللہ! ایسا نہیں تھا، یہ فرضی نام کسی ناراضگی کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ اس وقت نام نہ لینے میں یہ حکمت تھی کہ میں اس وقت بے وضو تھا، چونکہ یہ آقائے نامدار، شافع محشر حضور خاتم النبیین ﷺ کا ہمنام تھا۔ اس لیے مجھے شرم آئی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام مبارک ایسی حالت میں میری زبان سے ادا ہو جبکہ میں بے وضو تھا۔ حضور ﷺ کے نام کی یہ توقیر، یہ احترام سبحان اللہ۔ بات وہی ہوئی۔
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبیست
یاد رکھیے! کوئی بھی عزت مند اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دروازے سے منہ موڑے گا تو اسے کہیں بھی عزت نہ ملے گی۔ عزت و احترام کے مستحق خدا اور اس کا رسول ﷺ ہیں اور انھی کے ساتھ محبت و وابستگی میں ہماری عزت کا دارومدار ہے۔
ایک مجذوب نے کہا تھا کہ محبت کس سے کی جائے؟ دنیا سے، یہ تو عارضی ہے، پھول سے، یہ تو مرجھا جاتا ہے۔ دولت سے، یہ تو رشتے ختم کر دیتی ہے، بلندی سے، یہ تو منہ کے بل گرا دیتی ہے، خوشی سے، یہ تو وقتی ہوتی ہے، لوگوں سے، یہ تو بے وفا ہوتے ہیں، تو پھر آخر محبت کس سے کی جائے؟ مجذوب نے کہا: صرف حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے جو اس دن بھی ساتھ نبھائیں گے جب ماں باپ، بیوی حتیٰ کہ اپنی سگی اولاد بھی بھول جائے گی۔ اسی لیے تو ہم دعا کرتے ہیں۔ یا اللہ! دل میں عشق مصطفیٰ ﷺ، سینے میں محبت مصطفیٰ ﷺ، پاکستان میں نظام
مصطفیٰ ﷺ ، قبر میں پہچان مصطفیٰ ﷺ ، حوض کوثر پر جام مصطفیٰ ﷺ ، آخرت میں شفاعت مصطفیٰ ﷺ اور جنت میں رفاقت مصطفیٰ ﷺ عطا فرما۔ آمین!
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرّۂ ریگ کو دیا تُو نے طلوعِ آفتاب
شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقرِ جنید و بایزید تیرا جمالِ بے نقاب
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب!
منظومات
اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ ط كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ ط
اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ ط كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ ط
حضرت حسان بن ثابتؓ
اے رسولِ خدا ﷺ کے دشمن
اے اللہ کے محبوب ﷺ! میری آنکھ نے آج تک
آپ سے زیادہ حسین نہ دیکھا ہے، (نہ دیکھے گی)
اور کسی عورت نے آپ سے زیادہ خوبصورت بچہ پیدا نہیں کیا
آپ کو ہر عیب سے پاک اور مبرا پیدا کیا گیا ہے
گویا کہ آپ کی تخلیق اس طرح کی گئی جیسے آپ کی مرضی تھی
اے رسولِ خدا ﷺ کے دشمن! تو نے بُرائی کی ہے، کس
کی؟ محمد ﷺ کی، جو سرتاپا کرم اور نوازش ہیں
جس نے ہر ایک پر مہربانی کی ہے، جو اللہ کا رسول ﷺ
ہے، اور جس کی عادت پاک ہی وفا کرنے کی ہے
اے آمنہ کے لعل، میں نے آپ کی تمنا کی ہے،
میں محبت کرنے والا ہوں اور ہر محبت کرنے والے کی ایک تمنا ہوتی ہے
۞......۞......۞
ابوالاثر حفیظ جالندھری
محمد ﷺ کی محبت
بسا ہو جب کہ نقش حُب محبوب خدا دل میں
محمد ﷺ کی محبت دین حق کی شرط اوّل ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محمد ﷺ کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی
خدا کے دامن توحید میں آباد ہونے کی
محمد ﷺ کی محبت آن ملت، شان ملت ہے
محمد ﷺ کی محبت روح ملت، جان ملت ہے
محمد ﷺ کی محبت خون کے رشتوں سے بالا ہے
یہ رشتہ دنیوی قانون کے رشتوں سے بالا ہے
محمد ﷺ ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا
پدر، مادر، برادر، مال، جاں، اولاد سے پیارا
یہی جذبہ تھا ان مردان غیرت مند پر طاری
دکھائی جن کے ہاتھوں حق نے باطل کو نگونساری
حافظ لدھیانوی
جو شہیدانِ ناموسِ سرکارﷺ ہیں
خدا کی رحمت ہو ان شہیدانِ محبت پر
نشانِ پا کو ان کے چومتی ہے عظمتِ شاہی
نبوت کا کیا شاداب اپنے خون سے گلشن
دکھاتی ہے یہی جوہر اگر ہو روحِ ایمانی
وفا کیشوں، شہیدوں، غازیوں، طاعت گزاروں کو
میسر آگئی ان کو سکون و امن کی منزل
دعا گو ان شہیدوں کے لیے ہے روحِ پیغمبرؐ
فدا ان جاں نثاروں پر ہوئی جنت کی رعنائی
چمکتا ہو تصور جس میں ناموسِ رسالتﷺ کا
عطا کی ہے خدائے پاک نے وارفتگی ان کو
رہِ حق کے مسافر واجب التعظیم ہوتے ہیں
رضائے حق کے جویا، خوگرِ تسلیم ہوتے ہیں
شہیدوں نے دیا ہے درس ہم کو جاں نثاری کا
فنا ہو کر دکھایا راستہ عالی وقاری کا
گزر آئے ہیں میدانِ عمل میں سرخرو ہو کر
سراپا ملتِ اسلامیہ کی آبرو ہو کر
گلستانِ وفا کی ہے بہار جاوداں ان سے
ہے عشق و سوز و مستی کا درخشندہ نشاں ان سے
زبانوں پر ترانے ہیں انہی کی کامرانی کے
حصولِ شادمانی کے، حیاتِ جاودانی کے
ہے ان کی ہر ادا میں نکہت و خوشبو محبت کی
جنابِ مصطفیٰ کی ذات سے حسنِ عقیدت کی
شہادت ایک تمغہ ہے شجاعت کا، حمیت کا
یہ اک اعجازِ لافانی ہے، آقا کی محبت کا
شہادت گاہِ الفت میں ہے تزئین و ضیا ان سے
دلوں کا نور ہے ان سے، خیالوں کی جلا ان سے
اسی سے دامنِ فکر و نظر ہوتا ہے نورانی
یہی جذبہ ہے جس سے خون مسلم میں ہے جولانی
حبیبِ اللہ کی الفت کو سوز جاں میں ڈھالا ہے
شہادت ان کے جذب و شوق کا رنگین حوالہ ہے
ملے گا تا ابد ہر ایک دل میں احترام ان کا
قیامت تک رہے گا زندہ و پائندہ نام ان کا
۞.......۞.......۞
پروفیسر فیض الرسول فیضان
آبروئے مصطفیٰ ﷺ
جان تو کیا چیز ہے کل جہان بھی قربان ہے
اس گلِ تر کی بدولت سب چمن رنگین ہے
علم کی تفسیر ہے وجدان کی تطہیر ہے
کیوں نہ ہو آخر اسی محبوب سے منسوب ہے
وہ حقیقت میں حقیقت آشنا ہو جائے گا
یہ ہی میرا دین ہے یہ ہی میرا ایمان ہے
پروفیسر فیض رسول فیضان
ناموس رسالتﷺ
منصب محبوبیت اس کو عطا ہو جائے گا
جو بھی خوش قسمت فنا فی المصطفیٰ ہو جائے گا
بے ادب کا ہر عمل حبط و فنا ہو جائے گا
اس کا اک اک سانس حق کا آئینہ ہو جائے گا
اس طرح سے تجھ پہ راضی خود خدا ہو جائے گا
۞......۞......۞
راجا رشید محمود
جو شہیدان ناموس سرکارﷺ ہیں
ان پہ لطف و کرم خاص اللہ کا، جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
منزل زیست کے ہیں وہی رہنما جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
ان پہ حرمت نبیؐ کی ہوئی آشنا جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
ڈرنے والے اجل سے کہاں ہیں بھلا، جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
پائیں گے خود پیمبرؐ سے اس کا صلہ جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
ان کے مدفن سے فردوس کا فاصلہ جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
ان سے ٹوٹے نہ یہ ربط، یہ سلسلہ جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
شان ان کی ذرا حشر میں دیکھنا جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
ہیں انھیں خوف کس کا، انھیں حزن کیا جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
جاؤں، کر لوں انھیں رہبر و رہنما جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
کر عطا ان کا جذبہ مجھے اے خدا جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
ان کا مل جائے محمود کو راستہ جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
ضیاء محمد ضیاء
ناموس رسالت ﷺ
کہ آنچ آنے نہیں دیتے غلام آقا ﷺ کی عزت پر
گیا بچ کر نہ زندہ پھر وہ اپنی اس جسارت پر
جھپٹتا ہے کوئی دیوانہ اس ابلیس فطرت پر
کیا سب کچھ تصدق اپنا ناموس رسالتؐ پر
مگر چلتے رہے اہل وفا راہ عزیمت پر
ہے ناز اسلام کو ان جاں نثاران نبوت پر
خدا رحمت کرے ان عاشقان پاک طینت پر
تحفظ فرض ہے ناموس پیغمبر ﷺ کا امت پر
بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں“
پروفیسر محمد یونس حسرت
عشق نبی ﷺ والوں سے پوچھو، تخت سے تختہ بہتر ہے
ظلم کے طوفانی دریاؤ، ہم سے الجھنا ٹھیک نہیں
جور و جفا کی تیرہ گھٹاؤ، ہم سے الجھنا ٹھیک نہیں
اس دنیا میں جس کی دنیا عشق نبی سرورؐ ہے
ہر افضل سے افضل ہے وہ، ہر برتر سے برتر ہے
کوئی بڑا اعزاز نہیں ہے اس اعزازِ شہادت سے“
ظلم کے سنگیں ایوانو! تم چاہے سو سو وار کرو
وقت کے فرعونوں سے کہہ دو، تم جو چاہو کر گزرو
جان اگر جاتی ہے جائے، ہاں، قائم ایمان رہے
دنیا اور دنیا کی دولت، سب اس پر قربان رہے
ہے ناموس مسلمانوں کا ناموسِ ختم نبوت سے“
۞......۞......۞
صبیح الدین صبیح
میرے نبی ﷺ سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
میرے نبی ﷺ سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
کہ اپنا سب کچھ گنبد خضراء کل بھی تھا اور آج بھی ہے
دونوں جہاں میں ان کا چرچا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
اے بھارت، کشمیر ہمارا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
یہ کہ ایک تصویر تمنا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
اثر جون پوری
مگر تنقید آقاﷺ پر گوارا نہیں کر سکتا
کہ حملہ ذاتِ عالی پر گوارا کر نہیں سکتا
مگر تنقید آقاﷺ پر گوارا کر نہیں سکتا
سلامت رکھے اپنا سر، گوارا کر نہیں سکتا
مگر گستاخی سرورﷺ گوارا کر نہیں سکتا
صحافت اس قدر خود سر، گوارا کر نہیں سکتا
مگر گردِ رُخِ انور، گوارا کر نہیں سکتا
۞......۞......۞
وہ حکم قتل سُن کر کیوں تھا ہشاش
تُو حکم قتل سُن کر بھی ہے ہشاش
جہاں ہوتا ہے شیروں کا جگر پاش
کہ آتا ہے نظر ہشاش بشاش
سنو، کرتا ہوں میں رازِ دلی فاش
ہو دل کو خوف سے مرنے کے کیوں پاش
کہ ”علم الدینؒ خوش آئی و خوش باش“
نظر آؤں میں کیوں غم کیش و طیاش
پڑے ہو کیوں جہاں میں مثل خفاش
(روزنامہ ”سیاست“ لاہور 15/نومبر 1929ء)
ساجد غنی اعوان
تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر منظوم کلام
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا ﷺ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
(مولانا ظفر علی خاں)
موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ! اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں
حرف لا تدع مع الله الها اخر
(علامہ اقبالؒ)
اک بات دل حزیں نے کی مجھ سے بھی
آقا ﷺ پر کریں زباں درازی جو لوگ
لازم ہے اُڑا کے رکھ دو گردن ان کی
(حزیں کاشمیری)
تم پہ غالب آ نہیں سکتی جہاں میں کوئی شے
سر میں رکھتے ہو اگر روشن چراغ آرزو
حفظ ناموس نبیؐ کا داعیہ گر دل میں ہے
(راجا رشید محمود)
اساس کعبہ ایماں ہے احترام رسول
نبی ﷺ کے نام پہ جاں دینے والے زندہ ہیں
بقائے زیست کا ساماں ہے احترام رسول
(محمد افضل کوٹلوی)
یا پلا دیتا ہے کوئی جام کوثر دار پر
یہ غلامان محمدؐ کی پرانی ریت ہے
کودتے ہیں آگ میں، چڑھتے ہیں اکثر دار پر
کس قدر ہے تیرے عاشق کو شہادت کی خوشی
کس قدر مسرور ہے، اللہ اکبر دار پر
کھینچتا ہے کیوں مجھے محبوب کی آغوش سے
اور رہنے دے مجھے جلاد، دم بھر دار پر
(اصغر حسین خاں نظیر لدھیانوی)
ہے زیادہ عظمتِ انساں سے ناموس رسول ﷺ
قیمتی ہے غازیوں کی جاں سے ناموس رسولﷺ
عزت و آرام و جاں دے دیں، مسلمان کٹ مریں
اور بچائیں شدت ارماں سے ناموس رسولﷺ
آدمی کے واسطے ایمان سب کچھ ہے نثار
بڑھ کے ہے لیکن کہیں ایماں سے ناموس رسولﷺ
(اصغر نثار قریشی)
وہ ہے بدبخت و بدقسمت وہی محروم رحمت ہے
خدا کے قہر سے وہ شخص بچ سکتا نہیں ہرگز
وہ جو گستاخ دربار گہر بار نبوت ہے
نبی کے نام پر مٹنا سند ہے خلد پانے کی
فدا ہونا شہ کونینﷺ پر پیغام جنت ہے
تحفظ ہو سکے ہم سے نہ گر ناموس احمدﷺ کا
تو پھر یہ زندگی اپنی سراسر ایک تہمت ہے
(پروفیسر محمد اکرم رضا)
مرزائی کا دعویٰ تو ہے صورت نہیں ہوتی
پڑھتے ہیں محمدﷺ کا زباں سے یہ کلمہ
شرح کلمہ، ختم نبوت نہیں ہوتی
آئین کی رو سے وہ مسلمان نہیں ہیں
تاویل کی محتاج شریعت نہیں ہوتی
انصاف کی آواز میں لکنت نہیں ہوتی
چپ رہتا مظفر، تو گنہگار ٹھہرتا
سچ کہنے سے توہین عدالت نہیں ہوتی
(مظفر وارثی)
محبتوں سے مرتب حسین قوسِ قزح
شہادتوں کی شفق رنگ سرخیوں کے طفیل
فلک ہے حرمتِ آقاﷺ تو دین قوسِ قزح
(راجا رشید محمود)
آج تک بھی یہی جذبہ ہے مسلمانوں میں
دوستو آؤ محمدﷺ پہ نچھاور کر دیں
تار جتنے بھی بقایا ہیں گریبانوں میں
(شورش کاشمیریؒ)
کہ اس کرب و بلا میں سخت جانوں کی ضرورت ہے
کہاں ہیں سید الکونین کی امت کے دیوانے؟
کہ ناموسِ نبیﷺ کے پاسبانوں کی ضرورت ہے
(شورش کاشمیریؒ)
ان کے حضورؐ عشق کے دیپک جلائے جا
آئے گی موت واقعتاً ایک دن ضرور
پھر موت کیا ہے کچھ نہیں غیرت دکھائے جا
ناموس مصطفیٰ کا تقاضا ہے ان دنوں
مہر و وفا کے نام پہ گردن کٹائے جا
(شورش کاشمیریؒ)
ناچ تگنی کا حریفوں کو نچایا جائے گا
کر رہے ہیں اہلِ ربوہ سازشوں پہ سازشیں
اب انھیں اسلام کے در پہ جھکایا جائے گا
ہم کسی بھی دشمنِ اسلام کے ساتھی نہیں
ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھایا جائے گا
(شورش کاشمیریؒ)
سر کوئی شے ہی نہیں، یہ بھی کٹایا جائے گا
صورتِ حالات کے ویرانہ آباد میں
دبدبہ فاروق اعظمؓ کا بٹھایا جائے گا
(شورش کاشمیریؒ)
میں کسی حاکم کے آگے ہاتھ پھیلاتا نہیں
میرا موقف ہے شہادت اب مجھے جینا نہیں
(شورشؔ کاشمیری)
ہم مسلمانوں کی غیرت کو مٹا سکتے نہیں
یادگارِ ابنِ ملجم ہے غلام احمد کی پود
ہم کسی عنواں، اسے خاطر میں لا سکتے نہیں
(شورشؔ کاشمیری)
ہم نے اس مقصد کو ہر مقصد پہ اولیٰ کر دیا
خواجۂ کونینؐ کی غیرت کا پرچم گاڑ کر
دیدہ و دل کو نثارِ راہِ بطحا کر دیا
(شورشؔ کاشمیری)
شعلہ سامانی دکھاؤ، شعلہ سامانو! اٹھو
فتنہ یہ اٹھا ہے ہنگامہ اٹھانے کے لیے
مشعلِ نورِ محمدﷺ کو بجھانے کے لیے
یہ بلا آئی ہے تم سب کو جگانے کے لیے
غیرتِ دینی تمہاری آزمانے کے لیے
تم ہو ناموسِ محمدﷺ کے نگہباں یاد ہے
تم مسلماں ہو، مسلماں ہو، مسلماں یاد ہے
(سید امین گیلانی)
وہ قدم دوزخ میں جائیں گے اگر ہٹ جائیں گے
تم بھی اس جانِ دو عالم سے وفاداری کرو
اس کے دشمن سے کھلا اظہارِ بیزاری کرو
(سید امین گیلانی)
کیوں نہ جگر ہو ٹکڑے ٹکڑے اور دل پارہ پارہ ہو
صبر کی حد ہوتی ہے کوئی کب تک آخر صبر کریں
اس بے شرمی کے جینے سے بہتر ہے ہم ڈوب مریں
(سید امین گیلانی)
مرتدوں کی زد میں یا رب ارضِ پاکستان ہے
جان ہو قربان ناموسِ رسالتﷺ کے لیے
دل میں جامی کے ہمیشہ سے یہی ارمان ہے
(جامی بی اے علیگ)
سرِ مقتل بھی ان کا ذکر کرنا عین ایماں ہے
جو فتنہ ملتِ بیضا کی بنیادوں سے ٹکرائے
میرے نزدیک اس کا سر کچلنا عین ایماں ہے
(فیروز فتح آبادی)
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلۂ رسم سیاست کا فسوں
اک فقط نام محمدﷺ سے محبت کی ہے
ہم نے بدلا ہے زمانے میں محبت کا مزاج
ہم نے ہر دل کو نئی راہ و نوا بخشی ہے
مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرۂ دار و رسن کو بھی ضیاء بخشی ہے
(حفیظ رضا پسروری)
اس کی گفتار اس کے کردار سے
دین کی آبرو کل بھی خطرے میں تھی!
دین کی آبرو آج بھی خطرے میں ہے!
(شریف جالندھری)
چن چن کے میں اس قوم کو مٹی میں ملا دوں
(مولانا ظفر علی خاں)
کس کام میں مصروف ہے باطن کی ہوا دیکھ
(عتیق الرحمان)
میں پوچھتا ہوں یارانِ وطن یہ خار چمن میں کیونکر ہیں؟
(جانباز مرزا)
محدود میں آ رہے یہ وسعت کیونکر
فکر و فہم و خرد سے جو عاری ہوں
ان پر ہو عیاں نبیﷺ کی عظمت کیونکر
(حزیں کاشمیری)
اب عشقِ مصطفیٰﷺ میں بھی جاں دے کے دیکھ لے
(غازی مرید حسین شہیدؒ)
۞......۞......۞
شہیدانِ ناموسِ رسالت پر اہم کتب
- شہیدانِ ناموسِ رسالتؒ ...... محمد متین خالد
- ناموس رسالت کے سات شہید ...... رائے محمد کمال
- غازیان ناموس رسالتؒ ...... محمد ثاقب رضا قادری
- غازی علم الدین شہیدؒ ...... خولہ متین
- غازی علم الدین شہیدؒ ...... محمد ظفر اقبال نگینہ
- غازی علم الدین شہیدؒ ...... فرحان ذوالفقار
- غازی علم الدین شہیدؒ ...... رائے محمد کمال
- غازی علم الدین شہیدؒ (منظوم) ...... سیف الحق ضیائی
- غازی علم الدین شہیدؒ ...... عبدالرشید عراقی
- غازی علم الدین شہیدؒ ...... محمد عثمان نوری
- سیرت غازی علم الدین شہیدؒ ...... محمد حسیب القادری
- غازی علم الدین شہیدؒ ...... کامران اعظم سوہدروی
- غازی علم الدین شہیدؒ (پمفلٹ) ...... راؤ جاوید اقبال
- غازی علم الدین شہیدؒ ...... میاں محمد ابوالفتح
- غازی علم الدین شہیدؒ سے غازی عامر چیمہؒ تک ...... محمد مقصود احمد
- غازی علم الدین شہیدؒ ...... محمد امان اللہ مغل
- غازی علم الدین شہیدؒ ...... محمد عاطف قادری
- غازی علم الدین شہیدؒ ...... قاری گلزار احمد مدنی
- غازی علم الدین شہیدؒ ...... پیر غلام دستگیر نامی
- نیا قصہ شہادت، غازی علم الدین شہیدؒ ...... نامعلوم
- نیا قصہ غازی علم الدین شہیدؒ ...... منشی ظفر حسین ظفر این ایچ اے صاحب
- غازی و شہید مرید حسینؒ ...... محمد کعب شریف
- غازی مرید حسین شہیدؒ ...... رائے محمد کمال
- نواں قصہ غازی مرید حسین شہیدؒ ...... طالب حسین رشک
- قصہ غازی مرید حسینؒ ...... قاضی جلال حسین
- غازی میاں محمد شہیدؒ ...... رائے محمد کمال
- غازی میاں محمد شہیدؒ ...... محمد وسیم انجم
- غازی محمد اسحاق شہیدؒ ...... جلال الدین ڈیروی
- غازی محمد صدیق شہیدؒ ...... رائے محمد کمال
- عامر عبدالرحمن چیمہؒ ...... محمد متین خالد
- عامر عبدالرحمن چیمہؒ ...... محمد امیر القادری
- شہید وفا (عامر عبدالرحمن چیمہؒ) ...... وسیم شاہ اولکھ
- غازی عامر چیمہ شہیدؒ ...... اسلم زبیر
- غازی عامر نذیر چیمہ شہید ...... اشراف کشمیری
- غازی عامر چیمہ شہیدؒ ...... محمد مقصود احمد
- غازی عامر چیمہ شہیدؒ ...... محمد اسماعیل شجاع آبادی
- شہید ناموس رسالت (عامر چیمہؒ) ...... رانا عبدالوہاب
- شہید عامر چیمہؒ ...... عابد تہامی
- غازی عبدالرحمن چیمہ شہیدؒ ...... خالد محمود قادری
- غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہیدؒ ...... افضال احمد انور
- شمشیر بے نیام بر گستاخ بے لگام ...... محمد دلپذیر اعوان
- غازی ممتاز حسین قادریؒ ...... مفتی محمد حنیف قریشی
- پروانہ شمع رسالت (غازی ممتاز حسین قادریؒ) ...... مفتی ظفر جبار چشتی
- مسئلہ توہین رسالت اور ممتاز قادریؒ ...... خالد محمود قادری
- غازی یا قاتل ...... عمیر محمود صدیقی
- تذکار شہید ناموس رسالت ...... سردار محمد اکرم بٹر
- کروں تیرے نام پہ جاں فدا ...... محمد کاشف رضا
- ملک محمد ممتاز حسین قادریؒ ...... علامہ شکور احمد ضیا سیالوی
- غازی ملک ممتاز حسین قادری کا اقدام ...... علامہ محمد خلیل الرحمٰن قادری
- ممتاز قادری کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا شرعی
جائزہ ...... علامہ محمد خلیل الرحمٰن قادری
- ملک ممتاز حسین قادری شہیدؒ ...... مولانا محمد شہزاد قادری
- شہیدان ناموس رسالتؒ نمبر ...... ماہنامہ نعت لاہور نمبر جنوری
1991 تا مئی 1991ء (5 شمارے)
- عاشقان پاک طینت نمبر ...... ماہنامہ درویش لاہور، مئی 1994ء
- غازی عامر عبدالرحمٰن چیمہ شہیدؒ نمبر ...... ماہنامہ نعت لاہور ستمبر
2006ء
- غازی عامر عبدالرحمٰن چیمہ شہیدؒ نمبر ...... ماہنامہ فکر لاثانی
- تحفظ ناموس رسالت نمبر (غازی ممتاز حسین قادری شہید) ...... ماہنامہ
مصطفائی نیوز، کراچی مارچ اپریل 2016ء
- ملک ممتاز حسین قادری شہید نمبر خصوصی اشاعت ...... ماہنامہ العاقب
لاہور جنوری تا مارچ 2017ء
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک گرانقدر تحفہ
تحفظ ختم نبوت اہمیت اور فضیلت
محبت رسول ﷺ سے لبریز دینی غیرت وحمیت اور ایمان ویقین کو تازہ کرنے والی ایک فکر انگیز تحریر
ایک ایسی تاریخی و تحقیقی کتاب محمد مبین خالد
- جو جنگ یمامہ سے لے کر آج تک (14 صدیوں پر مشتمل) دینی غیرت وحمیت اور
ایمانی جرأت وبسالت سے لبریز ولولہ انگیز حقائق و واقعات سے مزین ہے۔
- جو ”ختم نبوت زندہ باد“ کا ورد کرنے والے کفن بردوش مجاہدوں کی زندہ و جاوید روداد
اور چشم کشا مشاہدات و تجربات پر مبنی ہے۔
- جس میں ”شہیدان ناموس رسالت ﷺ“ کے ماہتابی اور آفتابی کرداروں کا روشن
تذکرہ ہے۔
- جو قلم کی سیاہی سے نہیں، دلی سوز و گداز اور خون جگر سے لکھی گئی ہے۔
- جس کے مطالعہ سے خون رگوں میں جوش مارتا اور قاری تاریخ کے جھروکوں سے ہر واقعہ اپنی
پرنم آنکھوں سے براہ راست دیکھتا ہے۔
- جس کا ہر لفظ پاکیزہ، ایمان پرور، پرسوز اور باطل شکن ہے۔
- جس کے مطالعہ سے ہر مسلمان کے روح و قلب میں محبت رسول ﷺ کے خوابیدہ
جذبات و احساسات اجاگر ہو جاتے ہیں۔
- جس میں ”غداران ختم نبوت“ کا عبرتناک انجام، ہر قادیانی نواز کے لیے عبرت ونصیحت
کا سبق لیے ہوئے ہے۔
- جو قادیانی اور قادیانی نوازوں کی آنکھوں کا آشوب اور ان کے حلق میں چبھتا کانٹا ہے۔
- جس کا مطالعہ کارکنان ختم نبوت کے ایمان و ایقان کو ایک نئی زندگی بخشتا ہے اور وہ ایک
نئے ولولے اور تازہ جذبے کے ساتھ اس محاذ پر برسر پیکار رہتے ہیں۔
آنکھوں کے راستے دل میں اتر جانے والی یہ کتاب ہر مسلمان کے لیے ایک گرانقدر تحفہ ہے...... اسے پڑھئے...... سمجھئے...... اور اس کی روشنی کو پھیلائیے...... شفاعت محمدی ﷺ آپ کی منتظر ہے!
علم و عرفان پبلشرز الحمد مارکیٹ، 40- اُردو بازار، لاہور۔
قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ
قومی اسمبلی میں قانون توہین رسالت ﷺ منظور کیے جانے کی مکمل کارروائی
محمد متین خالد
- تاریخ کے نازک اور اہم لمحات کی ایسی روداد جسے پڑھتے ہوئے ہر قاری پر ایسی وجدانی کیفیت طاری ہوتی ہے، گویا وہ قومی اسمبلی میں بیٹھا براہ راست خود یہ کارروائی دیکھ رہا ہے۔
- قومی اسمبلی میں قانون توہین رسالت ﷺ منظور کیے جانے کے موقع پر کس نے کیا کہا، کس نے حمایت کی، کس نے مخالفت کی، کس نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی، تمام پوشیدہ حقائق بے نقاب ہوتے ہیں۔
- قانون توہین رسالت ﷺ کے مخالفین کے اعتراضات کے مسکت و جامع اور مستند ومؤثر جوابات جس سے تمام شکوک وشبہات کا مؤثر ازالہ ہو جاتا ہے۔
- ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت ﷺ کے موضوع پر نادر و نایاب اور علمی وتحقیقی مضامین کا خوبصورت انتخاب جس کا مطالعہ نہ صرف آپ کی بصارت و بصیرت کو ایک نئی جلا بخشے گا بلکہ آپ کو اس نوع کی تمام کتب سے بے نیاز کر دے گا۔
معروف کالم نگار و اینکر پرسن جناب غلام نبی مدنی اور وکیل تحفظ ناموس رسالت ﷺ جناب محمد نوید شاہین (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) کی گرانقدر اور فکر انگیز تقاریظ کے ساتھ
لمحہ بہ لمحہ چشم کشا حقائق و واقعات ...... پہلی بار منظر عام پر
ایک ایسی قومی و تاریخی دستاویز جس کا مدتوں سے انتظار تھا
پڑھیے اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے آگے بڑھیے!
علم و عرفان پبلشرز الحمد مارکیٹ، 40-اُردو بازار، لاہور۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر قربان ہو جانے والے خوش نصیبوں کا ایمان افروز تذکرہ
شہیدان ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
ترتیب و تحقیق: محمد متین خالد
غازی علم دین شہیدؒ غازی عبدالقیوم شہیدؒ غازی عبدالرشید شہیدؒ
غازی میاں محمد شہیدؒ غازی عبداللہ شہیدؒ غازی عبدالرحمان شہیدؒ
غازی حاجی محمد مانکؒ غازی غلام محمد بٹ شہیدؒ غازی محمد صدیق شہیدؒ
غازی مرید حسین شہیدؒ غازی عبدالمنانؒ غازی امیر احمد شہیدؒ غازی عبداللہ شہیدؒ
غازی فاروق احمد غازی ملک ممتاز حسین قادریؒ غازی عامر عبدالرحمن چیمہؒ
اس کے علاوہ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر اور بہت سے دوسرے اہم مقالات
- ظلمت دہر میں ”چراغ اسم محمد ﷺ“ کی اجلی اور کنول لوؤں سے اجالا کرنے والے ضوریز و ضیابار ماہتابی و آفتابی کرداروں کا روشن تذکرہ
- تھانوں کی تنگ و تاریک حوالاتوں، پھانسی گھاٹوں کی بے نور فضاؤں اور جیلوں کی کال کوٹھڑیوں میں ”آبروئے ما ز نام مصطفیٰ ﷺ است“ کا ورد کرنے والے کفن بردوش مجاہدوں کی زندہ جاوید روداد اور انوکھے مشاہدات
- ایک ایسی کتاب جس کا ایک ایک لفظ ناموس رسالت ﷺ پر حملہ آور ہونے والے بدطینت انسان نما ابلیسوں کے ایوانوں کے لیے برق قضا کی حیثیت رکھتا ہے۔
- یہ کتاب محض ایک کتاب نہیں ........ خواجہ بطحا ﷺ کی حرمت پر کٹ مرنے والوں اور دشمنان رسالت مآب کے ناپاک وجود سے دھرتی کو پاک کرنے والی پاکیزہ ہستیوں کا مختصر مگر مبسوط انسائیکلوپیڈیا ہے۔
اپنی نوعیت کی منفرد کتاب جس کا مطالعہ آپ کے جذبہ ایمانی کو ایک نیا ولولہ عطا کرے گا
علم و عرفان پبلشرز الحمد مارکیٹ، 40-اُردو بازار، لاہور۔ فون: 37223584 ' 37232336 ' 37352332 www.ilmoirfanpublishers.com ilmoirfanpublishers1@gmail.com www.facebook.com/Ilmoirfanpublishers