احتساب قادیانیت جلد 50 · ماہر القادری
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 50 · Mahir ul Qadri
PDF 1

ردّ قادیانیّت

رسائل

احتساب قادیانیت

جلد ٥٠

عالمی مجلس تحفّظ ختم نبوّت

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون : 061-4783486

PDF 2

رَدّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٥٠

• جناب ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت کینڈی • جناب ماہر القادری

• وفاقی حکومت پاکستان • جناب پروفیسر محمد اسماعیلؒ

• الحاج رحیم بخش ریٹائرڈ سیشن جج • جناب میاں محمد نوشہروی

• جناب باؤ تاج محمد محمود نگری • جناب ڈاکٹر نظیرؔ صوفی

• مولانا عبدالحمید سوہدرویؒ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد پچاس (٥٠)

مصنفین : جناب ماہر القادری جناب پروفیسر محمد اسماعیل جناب میاں محمد نوشہروی جناب ڈاکٹر نذیر صوفی جناب ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت کڑی وفاقی حکومت پاکستان الحاج رحیم بخش ریٹائرڈ سیشن جج جناب باؤ تاج محمد نکودری مولانا عبدالمجید سوہدروی

صفحات : ٥١٢

قیمت : ٣٥٠ روپے

مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور

طبع اوّل : فروری ٢٠١٣ء

ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٥٠

قادیانی کے غلط اقوال والہامات کی تشریح)

مرزا غلام احمد قادیانی حجر اسود کے ادنیٰ ترین خادم فضل الدین مرزائی کے تینوں پمفلٹوں کا جواب ، بمع چیلنج مناظرہ

(قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیاں)

(قادیانیوں کے خلاف اسلام سرگرمیاں روکنے کے لئے حکومت کے اقدامات)

(حکومت پاکستان کی توثیق)

پیش گوئی کا تجزیہ (عمر مرزا)

صفحہ ٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٥٠

☆ ...... عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا ٤ ١ ...... قادیانیت جناب ماہر القادری ١١ ٢ ...... قذف بالحق علی الباطل جناب پروفیسر محمد اسماعیل ٣٧ ٣ ...... اخلاق اور مرزا صاحب (مرزا غلام احمد جناب میاں محمد نوشہروی ٩٩ قادیانی کے غلط اقوال والہامات کی تشریح) ٤ ...... ختم نبوت افروز اظہار الحق جناب ڈاکٹر نظیر صوفی ١٦١ ٥ ...... جس کی بات نہیں اس کی ذات نہیں جناب ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت کنری ١٦٧ ٦ ...... امین الملک جے سنگھ بہادر کرشن گوپال، جناب ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت کنری ١٧٧ مرزا غلام احمد قادیانی حجر اسود کے ادنیٰ ترین خادم فضل الدین مرزائی کے تینوں پمفلٹوں کا جواب بمع چیلنج مناظرہ ٧ ...... ختم نبوت پر قومی اسمبلی کا متفقہ فیصلہ وفاقی حکومت پاکستان ١٩٣ ٨ ...... نئے آرڈیننس کا اجراء وفاقی حکومت پاکستان ٢٠٣ (قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیاں) ٩ ...... قادیانیت اسلام کے لئے سنگین خطرہ وفاقی حکومت پاکستان ٢٠٩ (قادیانیوں کے خلاف اسلام سرگرمیاں روکنے کے لئے حکومت کے اقدامات) ١٠ ...... قادیانی بدستور غیر مسلم ہیں وفاقی حکومت پاکستان ٢٣٥ (حکومت پاکستان کی توثیق) ١١ ...... ابن مریم الحاج رحیم بخش ریٹائرڈ سیشن جج ٢٤١ ١٢ ...... مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک جناب باؤ تاج محمد گودری ٣٣٩ پیش گوئی کا تجزیہ (عمر مرزا) ١٣ ...... داستان مرزا مولانا عبدالمجید سوہدروی ٣٨٧ ١٤ ...... احتساب قادیانیت ...... اشاریہ جلد ٥٠ حضرت مولانا اللہ وسایا ٤٦٥

صفحہ ٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عرض مرتب

الحمدللہ و کفیٰ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفے اما بعد! قارئین کرام! لیجئے اللہ رب العزت کے فضل وکرم واحسان سے احتساب قادیانیت کی جلد پچاس (٥٠) پیش خدمت ہے۔ اس جلد میں سب سے پہلے:

لاہوری مرزائیوں نے چند پمفلٹ بھیجے جس کا انہوں نے یہ جواب تحریر کیا۔ اسے کتابی شکل میں سید عبدالرحمن شاہ صاحب نے فیصل آباد سے شائع کیا۔

السلام ونزول ابن مریم): پروفیسر محمد اسماعیل پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک اور قادیانی مناظر قاضی نذیر کے درمیان مکالمہ ومباحثہ ہوا۔ بعد میں زہری قادیانی نے پمفلٹ شائع کیا۔ اس قادیانی پمفلٹ کا جواب یہ رسالہ ہے۔

تشریح): جناب حضرت مولانا میاں محمد نوشہروی کا یہ رسالہ ہے۔ جو انتہائی عقلی ونقلی دلائل سے بھر پور ہے۔ ایک خوبصورت قابل ستائش ولائق تحسین دستاویز ہے۔ ١٩٥٣ء سے پہلے کا مرتب کردہ ہے۔ اس کے علاوہ حضرت مولانا میاں محمد نوشہروی کے مزید تین رسائل کا اسی کتابچہ میں ذکر ہے۔ ١...... قرآن اور مرزا صاحب ، ٢...... حدیث اور مرزا صاحب ، ٣...... مرزا صاحب اور سچائی۔ یہ تینوں رسائل دستیاب نہ ہوسکے۔ خدا کرے مل جائیں تو بہت ہی خوب بلکہ خوب ترین ہوگا۔

کو مرزا قادیانی کی کتب سے ثابت کیا کہ آنحضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت، لعنتی، کذاب، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے کٹری م عالم ﷺ کی سیرت طیبہ کے عنوان پر خطاب کے دوران آپ ﷺ ک نبوت پر بیان کرتے ہوئے مرزا قادیانی ملعون کے تین حوالے پ مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ آٹھ ماہ بعد کٹری کے قادیانی ف میں چیلنج کیا کہ یہ حوالہ جات دکھائے جائیں تو تین صد روپیہ دینے ک دن ڈگری جامعہ اشاعت القرآن کے ناظم عمومی مولانا اکرام الحق ص پہنچ گئے اور سپیکر پر چیلنج کیا کہ آؤ حوالے دیکھو۔ رات کو جلسہ عام ہوا ج فضل الدین قادیانی، مرزا قادیانی کے خروج کی جگہ میں چھپ گیا۔ ب واپس تشریف لے گئے۔ قادیانیوں نے کہا کہ پمفلٹ کا جواب پمف پمفلٹ ”جس کی بات نہیں اس کی ذات نہیں“ ناظم مجلس تحفظ ختم نب کیا گیا۔

ادنیٰ ترین خادم فضل الدین مرزائی کے تینوں پمفلٹوں ک پمفلٹ سابقہ ”جس کی بات نہیں اس کی ذات نہیں“ کے شائع ہ تین پمفلٹ سائیکلو سٹائل تقسیم کئے۔ ان تینوں سائیکلو سٹائل پمفلٹو جو ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت کٹری نے شائع کیا۔

ریلوے اسٹیشن پر چناب ایکسپریس سے سفر کرنے والے نشتر میڈی اوباشوں نے تشدد، بربریت، ظلم وستم کا نشانہ بنایا۔ جس کے رد ١٩٧٤ء چلی۔ تب پاکستان کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار عل پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپرد کیا۔ پوری قومی اسمبلی کو ایک خص

صفحہ ٥

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

عرض مرتب

کفیٰ و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ اما بعد! اللہ رب العزت کے فضل و کرم و احسان سے احتساب قادیانیت کی ہے۔ اس جلد میں سب سے پہلے:

روف صحافی جناب ماہر القادری ایڈیٹر ”ماہنامہ فاران“ کراچی کو لٹ بھیجے جس کا انہوں نے یہ جواب تحریر کیا۔ اسے کتابی شکل میں یصل آباد سے شائع کیا۔

ق علی الباطل (مباحثہ بر موضوع رفع ، وفات عیسیٰ علیہ پروفیسر محمد اسماعیل پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک اور قادیانی مناظر و مباحثہ ہوا۔ بعد میں زبیری قادیانی نے پمفلٹ شائع کیا۔ اس ہے۔

صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی کے غلط اقوال و الہامات کی نامیاں محمد نوشہروی کا یہ رسالہ ہے۔ جو انتہائی عقلی و نقلی دلائل سے ل ستائش دلائل تحسین دستاویز ہے۔ ١٩٥٣ء سے پہلے کا مرتب ت مولانا میاں محمد نوشہروی کے مزید تین رسالہ کا اسی کتابچہ میں ذکر ب ، ٢..... حدیث اور مرزا صاحب ، ٣..... مرزا صاحب اور سچائی۔ ۔ خدا کرے مل جائیں تو بہت ہی خوب بلکہ خوب ترین ہوگا۔

ظہار الحق: جناب ڈاکٹر نظیر صوفی سیالکوٹی نے ٢٢ جون ١٩٧٢ء ت کیا کہ آنحضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت ، لعنتی، کذاب ، کافر اور

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے کنری ضلع تھر پارکر سندھ میں رحمت عالم ﷺ کی سیرت طیبہ کے عنوان پر خطاب کے دوران آپ ﷺ کے وصف خاص عقیدہ ختم نبوت پر بیان کرتے ہوئے مرزا قادیانی ملعون کے تین حوالے پیش کئے۔ جس میں اس نے مسلمانوں کے خلاف بدزبانی کی۔ آٹھ ماہ بعد کنری کے قادیانی فضل الدین نے ایک پمفلٹ میں چیلنج کیا کہ یہ حوالہ جات دکھائے جائیں تو تین صد روپیہ دینے کے لئے میں تیار ہوں۔ اگلے دن ڈگری جامعہ اشاعت القرآن کے ناظم عمومی مولانا اکرام الحق الخیری کتب مرزا لے کر کنری پہنچ گئے اور سپیکر پر چیلنج کیا کہ آؤ حوالے دیکھو۔ رات کو جلسہ عام ہوا۔ قادیانیوں کو سانپ سونگھ گیا۔ فضل الدین قادیانی ، مرزا قادیانی کے خروج کی جگہ میں چھپ گیا۔ مولانا اکرام الحق الخیری ڈگری واپس تشریف لے گئے۔ قادیانیوں نے کہا کہ پمفلٹ کا جواب پمفلٹ سے دیا جائے۔ چنانچہ یہ پمفلٹ ”جس کی بات نہیں اس کی ذات نہیں“ ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کی طرف سے شائع کیا گیا۔

ادنیٰ ترین خادم فضل الدین مرزائی کے تینوں پمفلٹوں کا جواب، مع چیلنج مناظرہ: پمفلٹ سابقہ ”جس کی بات نہیں اس کی ذات نہیں“ کے شائع ہونے پر فضل الدین مرزائی نے تین پمفلٹ سائیکلو سٹائل تقسیم کئے۔ ان تینوں سائیکلو سٹائل پمفلٹوں کا جواب اس رسالہ میں دیا گیا جو ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت کنری نے شائع کیا۔

ریلوے اسٹیشن پر چناب ایکسپریس سے سفر کرنے والے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء کو قادیانی اوباشوں نے تشدد، بربریت، ظلم وستم کا نشانہ بنایا۔ جس کے ردعمل میں ملک گیر تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء چلی۔ تب پاکستان کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ انہوں نے یہ مسئلہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپرد کیا۔ پوری قومی اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔

صفحہ ٧

قادیانی پوپ مرزا ناصر، لاہوری مہنت صدر الدین قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے گواہ کے طور پر پیش ہوئے۔ ان گواہان پر پاکستان اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے جرح کی۔ خصوصی کمیٹی کی کاروائی مکمل ہونے کے بعد ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ خصوصی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں قومی اسمبلی میں اس وقت کے وفاقی وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے متفقہ طور پر دوسری ترمیم کا بل پیش کیا۔ اس کی متفقہ منظوری کے بعد قائد ایوان جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے قومی اسمبلی میں خطاب کیا۔ قادیانی فتنہ سے متعلق ترمیم کا متن اور ٧ ستمبر ١٩٧٤ء قادیانی مسئلہ سے متعلق جناب بھٹو صاحب کی تقریر کا متن حکومت پاکستان پریس، فلم اینڈ مطبوعات منسٹری (وزارت اطلاعات) نے ”ختم نبوت پر قومی اسمبلی کا متفقہ فیصلہ“ کے نام سے شائع کیا۔ احتساب قادیانیت کی جلد ہذا میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے عہد اقتدار میں ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ لیکن اس پر قانون سازی نہ ہوسکی۔ جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے زمانہ میں اس پر قانون سازی ہوئی۔ اس آرڈیننس کے اجراء پر حکومت نے اس آرڈیننس کا مکمل متن شائع کیا جو اس جلد میں شامل کیا جارہا ہے۔

سرگرمیاں روکنے کے لئے حکومت کے اقدامات): جنرل محمد ضیاء الحق صاحب نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا۔ اس پر قادیانیوں نے واویلا کیا۔ حکومت پاکستان نے قادیانیت اسلام کے لئے سنگین خطرہ کے نام پر یہ دستاویز مرتب کر کے شائع کی جو بہت معلومات افزاء ہے۔

ترامیم یا آرڈیننس کے ذریعہ قانون میں تبدیلی کرتی ہے۔ مثلاً ایک حکم ہوتا ہے کہ یوں کر دیا جائے۔ جب ہو گیا، گولی چلی، چل گئی۔ اس نے اپنا عمل مکمل کر لیا۔ تو خالی خول کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔ وزارت قانون اس طرح گاہے بگاہے ان حکم ناموں کو جن پر عمل ہو چکا اور وہ اپنے محل پر

فٹ اور مؤثر ہے ان جیسے حکم ناموں کو منسوخ کرتی ہے۔ اقلیت قرار دیا گیا۔ اس کی رو سے آئین کی دفعہ ٢٦٠ استقرار و مؤثر برقرار۔ لیکن ”یہ ترمیم کر دی جائے“ یہ آرڈ کہ اس کے کسی عیار نے الفاظ ایسے تیار کئے ہیں کہ کہیں تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد عمر کی۔ تب حکومت سے یہ آرڈیننس جاری کر کے اعلان ک مؤثر و برقرار ہے۔ قادیانی بدستور غیر مسلم ہیں۔ یہ آرڈ میں شامل کیا جارہا ہے۔

لکھی۔ ابتداء قرآن مجید سے آخر تک جہاں کہیں مسیح و زیر بحث لا کر قرآن کے اعتبار سے مسیح علیہ السلام کے م قیامت غرض ایک ایک مسئلہ کو قرآن کے حوالہ سے خوب

العلوم فقیر والی ضلع بہاولنگر میں ایک بزرگ مدرس تھے۔ ضلع جالندھر میں ہے۔ باؤ تاج محمد صاحب قادیان م جو بعد میں قادیانی جماعت کے لیڈر بنے وہ آپ س میں رہائش کے حوالہ سے قادیانی جماعت کے خدوخا تھے۔ پوری قادیانی جماعت کے شب و روز ان کے س اور پھر عمر بھر قاسم العلوم کے در و دیوار کو علم و عمل کے ن انسان تھے۔ محنتی آپ کا وجود تھا۔ جسم کی طرح گفتگو ب کیا تھے موتی رولتے تھے۔ تحقیق کے خوگر، قلم و قرط چنیوٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنسوں پر تشریف لات

صفحہ ٧

نافذ اور مؤثر ہے ایسے حکم ناموں کو منسوخ کرتی ہے۔ دوسری ترمیم جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ اس کی رو سے آئین کی دفعہ ١٠٦ اور ٢٦٠ میں ترمیم کی گئی۔ ترمیم بدستور نافذ و مؤثر برقرار۔ لیکن ”یہ ترمیم کر دی جائے“ یہ آرڈیننس منسوخ ہوا تو بعض قانون دانوں نے کہا کہ اس میں کسی عیار نے الفاظ ایسے تیار کئے ہیں کہ کہیں ترمیم ہی نہ متاثر ہو جائے۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے اس کے لئے جدوجہد کی۔ تب حکومت سے یہ آرڈیننس جاری کرا کے اعلان و توثیق کی کہ قادیانیوں سے متعلق ترمیم مؤثر و برقرار ہے۔ قادیانی بدستور غیر مسلم ہیں۔ یہ آرڈیننس ١٩٨٤ء میں جاری ہوا۔ جو اس جلد میں شامل کیا جا رہا ہے۔

لکھی۔ ابتداء قرآن مجید سے آخر تک جہاں کہیں مسیح علیہ السلام کا تذکرہ ہے ان آیات قرآنیہ کو زیر بحث لا کر قرآن کے اعتبار سے مسیح علیہ السلام کے مقام و منصب، حیات، رفع، نزول، علامت قیامت غرض ایک ایک مسئلہ کو قرآن کے حوالہ سے خوب مبرہن کیا ہے۔ بہت عمدہ کتاب ہے۔

العلوم فقیر والی ضلع بہاولنگر میں ایک بزرگ مدرس تھے۔ جنہیں باؤ تاج محمد نکودری کہا جاتا تھا۔ نکودر ضلع جالندھر میں ہے۔ باؤ تاج محمد صاحب قادیان کے ہائی سکول میں ٹیچر بھی رہے۔ کئی قادیانی جو بعد میں قادیانی جماعت کے لیڈر بنے وہ آپ کے شاگرد تھے۔ باؤ تاج محمد صاحب قادیان میں رہائش کے حوالہ سے قادیانی جماعت کے خدوخال اور ان کے کردار و چال سے بخوبی واقف تھے۔ پوری قادیانی جماعت کے شب و روز ان کے سامنے تھے۔ تقسیم کے بعد آپ فقیر والی آئے اور پھر عمر بھر قاسم العلوم کے درودیوار کو علم وعمل کے درس دیتے رہے۔ آپ خوب مرنجان مرنج انسان تھے۔ منحنی آپ کا وجود تھا۔ جسم کی طرح گفتگو بھی مختصر کرتے تھے مگر پتہ کی ہوتی تھی۔ بولتے کیا تھے موتی رولتے تھے۔ تحقیق کے خوگر، قلم وقرطاس کے دھنی اور کتاب بینی کے رسیا تھے۔ چنیوٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنسوں پر تشریف لانا عمر بھر کا معمول رہا۔ ان دنوں قادیانی جلسہ

صفحہ ٩

چناب نگر میں بھی انہیں تاریخوں میں ہوتا تھا۔ وہ چنیوٹ سے چناب نگر جاتے اور قادیانیوں سے سابقہ قیام قادیان کی وجہ سے جو تعارف پہلے سے موجود تھا اس سے فائدہ اٹھاتے اور قادیانیوں کی نئی مطبوعات خرید لاتے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فقیروالی کے آپ امیر تھے۔ عالمی مجلس کے مرکزی رہنما حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر بھی کتابوں کے رسیا تھے۔ دونوں حضرات چنیوٹ کانفرنس پر جمع ہوتے ، سر جوڑتے ، فہرست تیار ہوتی۔ شام کو تمام نئی قادیانی کتب مولانا عبدالرحیم اشعر کے بستر پر لا کر باؤ تاج محمد صاحب ڈھیر کر دیتے۔

باؤ تاج محمد صاحب کا کتب خانہ خود بھی قادیانی اور رد قادیانی کتب کے حوالہ سے وقیع کتب خانہ تھا۔ ان کے پاس بعض قادیانی کتب ایسی تھیں جو مجلس کی مرکزی لائبریری کے لئے مولانا عبدالرحیم اشعر کو فوٹو کرانی پڑیں اور یہی کتابیں قومی اسمبلی میں جب قادیانی کیس پیش ہوا تو وہاں بھی کام آئیں۔ باؤ تاج محمد صاحب کے ایک بھائی غالباً نظیر نام تھا ملتان میں ہوتے تھے۔ ان سے ملاقات کے لئے ملتان تشریف لاتے تو زیادہ وقت ان کا مولانا عبدالرحیم اشعر کے ہمراہ ملتان کی لائبریری میں گزرتا۔ خوب شریف النفس انسان تھے۔ شرم و حیاء، اخلاق و کردار کی بلندی کا یہ عالم تھا کہ قادیان ایسے قحبہ خانے معصیتوں کے گڑھ میں بھی سالہا سال رہے۔ لیکن دشمن بھی آپ کی پاک دامنی کا معترف رہا۔ ان کی اس ذاتی شرافت کا یہ عالم تھا کہ ان کے قادیانی شاگرد بھی ان کے وضو کے پانی سے اشنان کرنے کو سعادت گردانتے تھے۔ باؤ تاج محمد صاحب سے فقیر کو ذاتی نیاز مندی کا شرف حاصل ہے۔ فقیروالی، ملتان، چنیوٹ میں آپ سے بارہا ملاقاتیں ہوئیں۔ جب بھی ملاقات ہوئی ان کی طرف سے شفقت اور فقیر کی طرف سے نیاز مندی میں اضافہ ہو جاتا۔ آپ کا وصال ١٩٨٩ء میں ہوا۔

ان کے بعد ایک بار ان کے ذاتی کتب خانہ سے بہت ساری کتابوں کا ڈھیر ملتان اٹھا لایا۔ فوٹو کرائے اور اصل واپس کر دیں۔ قاری عبدالخالق بجلہ یتیم والا واسطہ بنے۔ ارائیں برادری اور رشتہ داری باؤ صاحب کے عزیزوں سے قاری عبدالخالق صاحب رکھتے ہیں۔ یہی کام آئی اور اعتبار کا ذریعہ بنی۔ مرحوم کا کتب خانہ ان کے صاحبزادہ برادرم نثار صاحب کے پاس تھا۔ اس

سال جون، جولائی ٢٠١٢ء میں فقیر کا برطانیہ کا سفر تھا۔ واپسی نبوت کورس میں شمولیت کے لئے آنا پڑا۔ ملتان کے کتب خانہ کورس پر مولانا محمد قاسم رحمانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہا کہ بھائی نثار صاحب نے باؤ صاحب مرحوم کی قادیانیت پر ر لائبریری کے لئے عنایت کی ہیں۔ یہ کہ وہ ملتان دفتر پہنچ چکی تعجب بھی ہوا۔ خوشی تو خیر ہونا ہی تھی۔ باعث تعجب یہ امر تھا کہ دیتے تھے۔ وہ کیسے آمادہ ہو گئے؟ معلوم ہوا کہ باؤ صاحب مـ عالمی مجلس کے مرکزی کتب خانہ میں جمع کرادی جائیں۔ تعجـ سے عقیدت کے میٹر کی سوئی نے کئی چکر کاٹ لئے۔ خداونـ رحمتوں سے ڈھانپ دیں۔ بہت ہی عبقری شخصیت تھے۔ وہ تھے۔ زیر نظر ان کی کتاب اس جلد میں شامل کر رہے ہیں۔ ” کے لئے اس سے بہتر اور معلومات کا خزینہ کتاب فقیر کی نظر ہے۔ غالباً ”قادیانیت کا پوسٹ مارٹم“ یا کیا اس کا نام ہے ہفت روزہ ختم نبوت میں شائع ہوتے رہے۔ فقیر احتساب کے مضامین کو جمع نہیں کر رہا ہے اور وہ مضامین کا مجموعہ ہو رہی۔ لیکن اب حضرت مرحوم کی محبت غالب آ رہی ہے۔ تکمیل ہو جائے۔

یہ کتاب جون ١٩٣٣ء میں مرتب کی۔ اس پر حصہ اوّل لکـ فرمائیں“ درج ہے۔ دوسرا حصہ میرے ہاتھ نہیں لگا۔ موصوف نے حصہ اوّل کے ٹائٹل پر یہ تعارف درج کیا: ”مرزا غلام احمد قادیانی کا مذہب اور ان کـ

صفحہ ٩

سال جون ، جولائی ٢٠١٢ء میں فقیر کا برطانیہ کا سفر تھا۔ واپسی پر بھاگم بھاگ چناب نگر سالانہ ختم نبوت کورس میں شمولیت کے لئے آنا پڑا۔ ملتان کے کتب خانہ میں جانے کا موقع ہی نہ ملا۔ یہاں کورس پر مولانا محمد قاسم رحمانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاولنگر ملے۔ انہوں نے خوشخبری سنائی کہ بھائی نثار صاحب نے باؤ صاحب مرحوم کی قادیانیت و رد قادیانیت کی جملہ کتب ملتان دفتر کی لائبریری کے لئے عنایت کی ہیں۔ یہ کہ وہ ملتان دفتر پہنچ چکی ہیں۔ اس خبر سے چونکا بھی ضرور، تعجب بھی ہوا۔ خوشی تو خیر ہونا ہی تھی۔ باعث تعجب یہ امر تھا کہ نثار بھائی تو ان کتابوں کو ہوا نہ لگنے دیتے تھے۔ وہ کیسے آمادہ ہوگئے؟ معلوم ہوا کہ باؤ صاحب مرحوم کی وصیت تھی کہ میری یہ کتابیں عالمی مجلس کے مرکزی کتب خانہ میں جمع کرادی جائیں۔ تعجب تو ختم ہوا۔ لیکن باؤ صاحب مرحوم سے عقیدت کے میٹر کی سوئی نے کئی چکر کاٹ لئے۔ خداوند کریم مرحوم کی تربت کو اپنی بے پناہ رحمتوں سے ڈھانپ دیں۔ بہت ہی عبقری شخصیت تھے۔ وہ نام کے نہیں کام کے صاحب علم وفضل تھے۔ زیر نظر ان کی کتاب اس جلد میں شامل کر رہے ہیں۔ ”عمر مرزا“ پر مرزا کی پیش گوئی کے تجزیہ کے لئے اس سے بہتر اور معلومات کا خزینہ کتاب فقیر کی نظر سے نہیں گزری۔ آپ کی اور کتاب بھی ہے۔ غالباً ”قادیانیت کا پوسٹ مارٹم“ یا کیا اس کا نام ہے وہ آپ کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو ہفت روزہ ختم نبوت میں شائع ہوتے رہے۔ فقیر احتساب قادیانیت میں صرف کتب کو جمع کر رہا ہے۔ مضامین کو جمع نہیں کر رہا ہے اور وہ مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس لئے اس جلد میں وہ شامل نہیں ہورہی۔ لیکن اب حضرت مرحوم کی محبت غالب آ رہی ہے۔ شاید کسی دوسری جلد میں اس خواہش کی تکمیل ہو جائے۔

یہ کتاب جون ١٩٣٣ء میں مرتب کی۔ اس پر حصہ اوّل لکھا ہے۔ آخر میں ”دوسرے حصہ کا انتظار فرمائیں“ درج ہے۔ دوسرا حصہ میرے ہاتھ نہیں لگا۔ نہ معلوم کہ شائع بھی ہوا یا نہیں۔ مولانا موصوف نے حصہ اوّل کے ٹائٹل پر یہ تعارف درج کیا: ”مرزا غلام احمد قادیانی کا مذہب اور ان کے عقائد اس خوبی اور صراحت سے بیان

صفحہ ١٠

کئے گئے ہیں کہ ختم کئے بغیر چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔ لطف یہ کہ ہر بات مدلل اور معقول طرز بیان نہایت صاف اور سلیس پیرایہ دلکش اور سنجیدہ کہ خود بخود پڑھنے کو جی چاہے۔“

فقیر سو فیصد اس تعارف کی تائید کرتا ہے۔ جیسے سنا اس سے ہزار درجہ بہتر پایا کا مظہر یہ کتاب ہے۔

لیجئے قارئین ! احتساب قادیانیت کی جلد پچاس (٥٠) میں مندرجہ ذیل حضرات کے کتب و رسائل شامل ہیں:

........................................................................

گویا ٩ حضرات کے کل ١٣ رسائل و کتب احتساب قادیانیت کی جلد (٥٠) میں شامل اشاعت ہیں۔ فلحمد للہ علی ذلک!

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا ! ٢٦ شوال المکرم ١٤٣٣ھ ، بمطابق ١٤ ستمبر ٢٠١٢ء مرکز ختم نبوت چناب نگر

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانیت

جناب ماہر القادری

PDF 12

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

قادیانیت

جناب ماہر القادری

صفحہ ١٣

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قادیانیت پر بہت کچھ لکھا گیا۔ بہت ہی محنت اور عرق ریزی سے لکھا گیا۔ مگر اب بھی قادیانیت کے خدوخال اتنے نمایاں نہیں ہوئے کہ ہر شخص اسے پہچان جائے۔ لاعلمی کہئے یا کم فہمی کہ کچھ لوگ قادیانی علم کلام کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ ان ہی حضرات کے مطالعہ اور معلومات کے لئے ہم نے مولانا ماہر القادری مرحوم و مغفور کا یہ مفصل اور پُر از معلومات اداریہ کتابی شکل میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ خدا اسے مزید توفیق اور مدد کی دعا کرتے رہئے۔ والسلام! ...... سید محمد عبدالرحمٰن ...... مکتبہ سیدنا صدیق اکبرؓ نزد کارخانہ بازار فیصل آباد

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

خداوند تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے (یعنی اس کی عمر دراز کرتا ہے) تاکہ اس کے ظلم کا پیمانہ لبریز ہو جائے۔ پھر اس کو ایسا پکڑتا ہے چھوڑتا نہیں۔

(بخاری و مسلم)

ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب ہوگا (یعنی ظالم کو قیامت کے دن ہر طرف سے تاریکی ملے گی)

(بخاری و مسلم)

جو شخص ظالم کا ساتھ دے اس لئے کہ اس سے اس کو تقویت حاصل ہو اور وہ یہ جانتا ہو کہ وہ ظالم ہے۔ وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے (یعنی اس میں ایمان کامل نہیں رہتا)

(بیہقی)

مسئلہ قادیانیت پر پھر لکھنے کی اس لئے ضرورت محسوس ہوئی کہ لاہوری مرزائیوں کے مرکز لاہور سے تین کتابچے اور دو خط ہمیں وصول ہوئے ہیں۔ اس تمام لٹریچر کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی ”لاہوری جماعت“ مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مجدد، امام اور مسیح موعود مانتی ہے۔ ”نبی“ نہیں مانتی۔ ان رسالوں میں مرزائے قادیان کے وہ اقوال بھی پیش کئے گئے ہیں۔ جن میں لاہوری نے دعویٰ نبوت سے انکار کیا ہے اور مدعی نبوت کو کاذب اور کافر کہا ہے۔ عبدالمنان عمر نے طویل خط میں اپنے عقیدے کا اظہار کیا ہے۔ ”میں سیدنا محمد عربی علیہ الصلوٰۃ والسلام فداہ ابی و امی کو آخری نبی (خاتم النبیین) مانتا ہوں اور حضرت مرزا غلام احمد کو آپ کا محکوم، آپ کا خادم، آپ کے دین کو پھیلانے والا اور آپ

اے سید المرسلین خاتم النبیین، سیدنا محمد ﷺ کے حریف اور مد مقابل مدعی نبوت کے لئے اکرام و تعظیم کا کوئی لفظ ہماری زبان اور قلم سے نہیں نکل سکتا۔

(م۔ق)

٢؎ نقل کفر، نہ کفر باشد ...... علیہ ما علیہ

٢

کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے والا اور آپ کی بعض پیشین گوئیوں کا مصداق سمجھتا ہوں“ نبی اکرم ﷺ کی اس مشہور پیشین گوئی کا ”ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجددلها دينها“ پھر میرے نزدیک حضرت مرزا امتی ہیں اور یہ کہ محض قرآن مجید کی پیروی کے نتیجہ میں انہیں بعض غیب کی خبریں عطاء فرمائی گئی ہیں جو بشارتوں پر مشتمل ہوتی تھیں اور جن تک پوری کائنات میں بجز پیروی نبی اکرم ﷺ کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچ سکتا۔ اور اس طرح آپ حضور علیہ السلام کی روحانی بارش سے حصہ پا کر اور آپ کے فیض سے اور آپ کی غلامی کا شرف پا کر مبشرات سے حصہ پاتے اور بعض غیب کی خبروں پر مطلع ہو کر مکالمہ و مخاطبہ الہیہ پاتے تھے۔“

ایک کتابچہ میں جس کا عنوان ہے: ”جماعت ربوہ اور جماعت لاہوری“ صدر الدین صاحب لاہوری نے ربوہ کی قادیانی جماعت والوں کو کی اس غلط فہمی اور غلط اندیشی پر تنبہ کیا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی ماننا چھوڑ دیں اور انہیں صرف مجدد وقت، امام زماں اور مسیح موعود مانیں۔ ......!

لاہوری جماعت کے اس مسلک کے دجل وفریب، کذب و جہالت پر ہم آگے چل کر گفتگو کریں گے۔ سردست برسبیل تنزل (بعنوان ۔ لوفرضنا) ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ اگر لاہوری جماعت والے اپنے اس قول پر صادق ہیں تو انہیں ربوہ کی قادیانی جماعت سے پہلے اعلان کرنا چاہئے۔ کیونکہ مذکورہ بالا کتابچہ میں یہ عبارت بھی لگا دی گئی ہے کہ: ”نبوت کی وحی جاری ہونے سے اسلام کا تختہ الٹ جاتا ہے۔ غرضکہ اس (مرزا محمود احمد) نے نہایت شدومد سے یہ بیان کیا ہے کہ نبوت کا جاری ہونا اسلام کا خاتمہ ہے۔“

اس کتابچہ میں اس کا ضرور اعلان کیا گیا ہے کہ ”اہل ربوہ اور لاہوری جماعت کے درمیان جو اختلاف ہے۔ وہ فروعی نہیں بلکہ اصولی ہے۔ مگر اس کتابچہ میں اس امر کو چھپا لیا گیا ہے کہ غیر نبی کو، چاہے کہ وہ مجدد ہی کیوں نہ ہو، جو کوئی فرد اور گروہ ”نبی“ مانتا ہے وہ کفر کا ارتکاب کرتا ہے اور دائرہ اسلام اور امت محمدیہ سے خارج ہو جاتا ہے۔ اس کتابچہ کے آخر میں قادیانی جماعت ربوہ کو امت محمدیہ میں شامل سمجھ کر ”مصالحت“ کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ مصالحت ظاہر ہے کسی ایسے عقیدہ سے متعلق نہیں جس پر کفر و ایمان کا دارومدار ہے۔

١؎ حالانکہ ”ختم نبوت“ کا مسئلہ کفر و ایمان کا بنیادی مسئلہ ہے۔ جو قطعی اور یقینی ہے اور حرام و حلال نہیں ہے جو فقہی مذاہب کے اختلاف میں پایا جاتا ہے۔

٣

صفحہ ١٤

کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے والا اور آپ کی بعض پیشین گوئیوں کا مصداق سمجھتا ہوں۔ مثلاً حضور اکرمﷺ کی اس مشہور پیشین گوئی کا ”ان اللہ یبعث لهذه الامة علی رأس کل مائة سنة من یجدد لها دینها“ پھر میرے نزدیک حضرت مرزا امتی ہیں اور نبی اکرمﷺ کی غلامی اور محض قرآن مجید کی پیروی کے نتیجہ میں اللہ انہیں بعض غیب کی خبریں عطاء فرماتا تھا۔ جو اہم امور پر مشتمل ہوتی تھیں اور جن تک پوری کائنات میں بجز پیروی نبی اکرمﷺ کوئی مطلع نہیں کیا جا سکتا اور اس طرح آپ حضور علیہ السلام کی روحانی بارش سے حصہ پا کر اور آپ کے نور سے مستفید ہو کر اور آپ کی غلامی کا شرف پا کر مبشرات سے حصہ پاتے اور بعض غیب کی خبریں دیتے اور شرف مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ پاتے تھے۔“

ایک کتابچہ میں جس کا عنوان ہے: ”جماعت ربوہ اور جماعت لاہور کے عقائد“ صدر الدین صاحب لاہوری نے ربوہ کی قادیانی جماعت والوں کو مخاطب کر کے ان کی اس غلط فہمی اور غلط اندیشی پر متنبہ کیا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی ماننا چھوڑ دیں۔ بلکہ انہیں مجدد زماں اور مسیح موعود مانیں......!

لاہوری جماعت کے اس مسلک کے دجل وفریب، کذب و جہالت پر ہم آگے چل کر گفتگو کریں گے۔ سردست برسبیل تنزل (بعنوانِ لوفرضنا) ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ اگر لاہوری جماعت والے اپنے اس قول پر صادق ہیں تو انہیں ربوہ کی قادیانی جماعت کے ”کفر“ کا سب سے پہلے اعلان کرنا چاہئے۔ کیونکہ مذکورہ بالا کتابچہ میں یہ عبارت بھی نگاہ سے گزری: ”نبوت کی وحی جاری ہونے سے اسلام کا تختہ الٹ جاتا ہے۔ غرض انہوں (مرزا غلام احمد) نے نہایت شدومد سے یہ بیان کیا ہے کہ نبوت کا جاری ہونا اسلام کا خاتمہ ہے۔“

اس کتابچہ میں اس کا ضرور اعلان کیا گیا ہے کہ ”اہل ربوہ اور جماعت لاہور“ کے درمیان جو اختلاف ہے۔ وہ فروعی نہیں بلکہ اصولی ہے۔ مگر اس کتابچہ میں اس کا اعلان نہیں کیا گیا کہ غیر نبی کو، چاہے کہ وہ مجدد ہی کیوں نہ ہو، جو کوئی فرد اور گروہ ”نبی“ مانتا ہے۔ وہ کفر کا ارتکاب کرتا ہے اور دائرۂ اسلام اور امت محمدیہ سے خارج ہو جاتا ہے۔ اس کتابچہ میں تو قادیانیوں کی جماعت ربوہ کو امت محمدیہ میں شامل سمجھ کر ”مصالحت“ کی دعوت دی گئی ہے اور یہ ”مصالحت“ ظاہر ہے کسی ایسے عقیدہ سے متعلق نہیں جس پر کفر وایمان کا دارومدار ہے۔

١؎ حالانکہ ”ختم نبوت“ کا مسئلہ کفر وایمان کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہ وہ جائز و ناجائز اور حرام وحلال نہیں ہے جو فقہی مذاہب کے اختلاف میں پایا جاتا ہے۔

٣

صفحہ ١٥

پھر یہ انداز کس قدر ہمدردانہ ہے۔ جو ان دونوں جماعتوں (لاہوری پارٹی اور ربوہ جماعت) کے درمیان تعلق خاطر، عقائد کی یک رنگی اور مذہبی اخوت کا پتہ دیتا ہے وہ یہ کہ ہماری دونوں جماعتیں قرآن کریم وحدیث شریف کی نصوص کو مشعل راہ یقین کریں۔

(احمدیہ بلڈنگس لاہور کا کتابچہ ص ٣)

صحیح اعداد و شمار تو ہمارے پاس نہیں ہیں۔ مگر ایک سرسری اندازے کے مطابق ہمارے خیال میں قادیانیوں کی تعداد ساری دنیا میں چار لاکھ سے زائد نہ ہوگی۔ مسلمان جو ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کی تعداد اللہ کے فضل و کرم سے ساٹھ کروڑ ہے۔ یہ سب کے سب مسلمان مرزا قادیانی کو نبی کاذب اور مرتد سمجھتے ہیں۔ پھر جو اقوال مرزائے قادیان کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ ان میں کسی درجہ تناقض، بے ربطی اور بعید از قیاس تاویلیں اور فریب کارانہ توجیہیں پائی جاتی ہیں۔ لاہوری جماعت کا اگر واقعی یہ عقیدہ ہے کہ ”مرزائے قادیان کے دعوائے انکار سے کوئی مسلمان کافر نہیں ہوتا تو پھر امت میں اختلاف برپا کرنے اور کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو اذیت پہنچانے کے لئے وہ غلام احمد قادیانی کی ”مجددیت“ اور ”امامت“ کی طرف دعوت کیوں دیتے ہیں۔ ایسی مشتبہ اور مبغوض شخصیت جسے پوری امت مسلمہ انتہائی ناپسند کرتی ہو۔ کیا اس قابل ہے کہ اس کی ذات اور مشن کی طرف لوگوں کو بلایا جائے اور قرآن کریم کی تفسیروں تک میں اس کا ذکر کیا جائے۔ غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں آخر وہ کون سی ایسی دینی بصیرت اور اخلاقی حکمت پائی جاتی ہے جس کی امت مسلمہ محتاج ہے اور اس کی شخصیت کی طرف رجوع کئے بغیر دین واخلاق ادھورے رہتے ہیں۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز کو ”مجددیت“ زیب دیتی ہے کہ آپ نے شاہان بنو امیہ کی بدعتوں اور زیادتیوں کو مٹا کر چھوڑا اور اسلامی دنیا محسوس کرنے لگی کہ جیسے خلافت راشدہ کا دور سعید لوٹ آیا ہے۔ حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی جو ”مجدد الف ثانی“ کے لقب سے مشہور ہیں۔ ان کی استقامت، عزیمت، صداقت اور حق گوئی نے خاص ملوکیت کے دور میں بعض دینی معتقدات و اعمال کی تجدید کی اور غیر دینی رسموں کو مٹایا۔ یہاں تک کہ شہنشاہ جہانگیر کو اس فقیر بے نواء اور قلعہ گوالیار کے قیدی کے سامنے جھکنا پڑا۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے آغاز میں حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہید اور سید احمد شہید نے مشرکانہ رسوم وبدعات کے خلاف زبان وقلم سے جہاد کر کے تجدید واحیائے سنت کا عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی طرف تجدید واحیائے دین کی نسبت کی جاتی ہے اور کی جانی چاہئے۔ مگر ان میں سے کسی بزرگ کا یہ درجہ اور مرتبہ نہیں ہے کہ ان

کی ”مجددیت“ سے انکار کو کفر سمجھا جائے اور نہ مسلمانوں کو دعوت دینے ہی کو ایمان واسلام کی سب سے بڑی ضرورت س کی یہ عظیم شخصیتیں ہیں۔ دوسری طرف مرزا قادیانی ہے جس نہیں آیا۔ ماسوائے اس کے کہ اس نے پہلے مجدد، پھر موعود وم اور امت محمدیہ میں اتنا بڑا فرق واختلاف پیدا کر ڈالا کہ اپنی ا علاوہ مسلمانوں (غیر قادیانیوں) کو کافر اور گمراہ سمجھتی ہے۔

لاہوری جماعت کا مرزا غلام احمد کی ”مجددیت“ مسلمانوں کو بلانا اس شخص کے نام کے ساتھ ”حضور“ لکھنا ا قصیدے پڑھنا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بنیادی مقصد جیسی ہیں۔ یعنی ایک ہی شخصیت اور ذات دونوں جماعتوں شخصیت (یعنی مرزا) کو آیۂ حق مان کر اسی محور کے اردگر کوششیں جاری رہتی ہیں۔

اس صورت میں اکابر علماء امت کے نزدیک مسلک کفر وضلالت میں کوئی فرق نہیں۔ مولانا عبدالما اشرف علی تھانوی کی خدمت میں ایک خط بھیجا تھا۔ جس م ”ایک تراشہ ”پیغام صلح“ کا ملفوف ہے۔ ل لوگ ٹھیٹھ قادیانیوں کے مقابلہ میں بہت غنیمت ہیں۔“

مولانا دریا بادی کے اس استفسار کے جواب ”میں اس میں موافقت کرنے سے اس و نبوت مرزا کے ضرر سے اشد سمجھتا ہوں۔ کیونکہ وہ لوگ ہے اور محفوظ رہتے ہیں اور یہ لوگ جب نبوت کی نفی کر اور اشتیاق ہوتا ہے اس کی کتابیں دیکھنے کا..... اور پھر

توحید کے بعد ختم نبوت کا عقیدہ ان ایمانی سے ایک مسلمان کافر ہو جاتا ہے اور اس کی صرف تو چاہے اس میں اور ننانوے وجوہ اسلام پائی جاتی ہوں کسی کو کافر دائرہ اسلام سے خارج نہیں دیا جاسکتا ج

٥

صفحہ ١٥

پھر یہ انداز کس قدر ہمدردانہ ہے۔ جو ان دونوں جماعتوں (لاہوری پارٹی اور ربوہ جماعت) کے درمیان تعلق خاطر، عقائد کی یک رنگی اور مذہبی اخوت کا پتہ دیتا ہے وہ یہ کہ ہماری دونوں جماعتیں، قرآن کریم وحدیث شریف کی نصوص کو مشعل راہ یقین کریں۔

(احمدیہ بلڈنگس لاہور کا کتابچہ ص٣)

صحیح اعداد و شمار تو ہمارے پاس نہیں ہیں۔ مگر ایک سرسری اندازے کے مطابق ہمارے خیال میں قادیانیوں کی تعداد ساری دنیا میں چار لاکھ سے زائد نہ ہوگی۔ مسلمان جو ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کی تعداد اللہ کے فضل و کرم سے ساٹھ کروڑ ہے۔ یہ سب کے سب مسلمان مرزا قادیانی کو نبی کاذب اور مرتد سمجھتے ہیں۔ پھر جو اقوال مرزائے قادیان کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ ان میں کسی درجہ تناقض، بے ربطی اور بعید از قیاس تاویلیں اور فریب کارانہ توجیہیں پائی جاتی ہیں۔ لاہوری جماعت کا اگر واقعی یہ عقیدہ ہے کہ ”مرزائے قادیان کے دعوائے انکار سے کوئی مسلمان کافر نہیں ہوتا تو پھر امت میں اختلاف برپا کرنے اور کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو اذیت پہنچانے کے لئے وہ غلام احمد قادیانی کی ”مجددیت“ اور ”امامت“ کی طرف دعوت کیوں دیتے ہیں۔ ایسی مشتبہ اور مبغوض شخصیت جسے پوری امت مسلمہ انتہائی ناپسند کرتی ہو۔ کیا اس قابل ہے کہ اس کی ذات اور مشن کی طرف لوگوں کو بلایا جائے اور قرآن کریم کی تفسیروں تک میں اس کا ذکر کیا جائے۔ غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں آخر وہ کون سی ایسی دینی بصیرت اور اخلاقی حکمت پائی جاتی ہے جس کی امت مسلمہ محتاج ہے اور اس کی شخصیت کی طرف رجوع کئے بغیر دین و اخلاق ادھورے رہتے ہیں۔

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو ”مجددیت“ زیب دیتی ہے کہ آپ نے شاہان بنوامیہ کی بدعتوں اور زیادتیوں کو مٹا کر چھوڑا اور اسلامی دنیا محسوس کرنے لگی کہ جیسے خلافت راشدہ کا دور سعید لوٹ آیا ہے۔ حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندیؒ جو ”مجدد الف ثانی“ کے لقب سے مشہور ہیں۔ ان کی استقامت، عزیمت، صداقت اور حق گوئی نے خاص ملوکیت کے دور میں بعض دینی معتقدات و اعمال کی تجدید کی اور غیر دینی رسموں کو مٹایا۔ یہاں تک کہ شہنشاہ جہانگیر کو اس فقیر بے نواء اور قلعہ گوالیار کے قیدی کے سامنے جھکنا پڑا۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے آغاز میں حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہیدؒ اور سید احمد شہیدؒ نے مشرکانہ رسوم و بدعات کے خلاف زبان و قلم سے جہاد کر کے تجدید و احیاء سنت کا عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی طرف تجدید و احیاء دین کی نسبت کی جاتی ہے اور کی جانی چاہئے۔ مگر ان میں سے کسی بزرگ کا یہ درجہ اور مرتبہ نہیں ہے کہ ان

٤

کی ”مجددیت“ سے انکار کو کفر سمجھا جائے اور نہ مسلمانوں کا کوئی فرقہ ان دعوت دینے ہی کو ایمان واسلام کی سب سے بڑی ضرورت سمجھتا ہے۔ ایک یہ عظیم شخصیتیں ہیں۔ دوسری طرف مرزا قادیانی ہے جس کا کوئی تجدیدی نہیں آیا۔ ماسوائے اس کے کہ اس نے پہلے مجدد، پھر موعود مسیح اور اس کے بعد امت محمدیہ میں اتنا بڑا فرق و اختلاف پیدا کر ڈالا کہ اپنی ایک مستقل امت علاوہ مسلمانوں (غیر قادیانیوں) کو کافر اور گمراہ سمجھتی ہے۔

لاہوری جماعت کا مرزا غلام احمد کی ”مجددیت“ ”امامت“ اور مسلمانوں کو بلانا اس شخص کے نام کے ساتھ ”حضور“ لکھنا اس کی حق شناسی اور قصیدے پڑھنا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بنیادی مقصد کے اعتبار سے یہ جیسی ہیں ۔ یعنی ایک ہی شخصیت اور ذات دونوں جماعتوں کی عقیدت ومحبت شخصیت (یعنی مرزا) کو آیۂ حق مان کر اسی محور کے ارد گرد ان کی جدوجہد اور کوششیں جاری رہتی ہیں۔

اس صورت میں اکابر علماء امت کے نزدیک لاہوری جماعت مسلک کفر وضلالت میں کوئی فرق نہیں۔ مولانا عبد الماجد دریا بادی نے اشرف علی تھانویؒ کی خدمت میں ایک خط بھیجا تھا۔ جس میں یہ لکھا تھا:

”ایک ”تراشہ پیغام صلح“ کا ملفوف ہے۔ یہ لاہوری قادیانی لوگ ٹھیٹھ قادیانیوں کے مقابلہ میں بہت غنیمت ہیں۔“

مولانا دریا بادی کے اس استفسار کے جواب میں حضرت مولانا تھا ”میں اس میں موافقت کرنے سے اس لئے معذور ہوں کہ ان نبوت مرزا کے ضرر سے اشد سمجھتا ہوں۔ کیونکہ وہ لوگ جب نبی کہتے ہیں ت ہے اور محفوظ رہتے ہیں اور یہ لوگ جب نبوت کی نفی اور ولایت کا اثبات کرتے اور اشتیاق ہوتا ہے اس کی کتابیں دیکھنے کا ...... اور پھر دیکھ کر گمراہ ہو جاتے ہیں توحید کے بعد ختم نبوت کا عقیدہ ان ایمانی مسلمات میں شامل ہے ج سے ایک مسلمان کافر ہو جاتا ہے اور اس کی صرف تنہا یہی ایک ”وجہ کفر“ اس چاہے اس میں اور ننانوے وجوہ اسلام پائی جاتی ہوں۔ وہ شکل جس میں ”کفر“ کسی کو کافر دائرہ اسلام سے خارج نہیں دیا جا سکتا جیسے وہ مسلمان جو نماز کو د

٥

صفحہ ١٥

کی ”مجددیت“ سے انکار کو کفر سمجھا جائے اور نہ مسلمانوں کا کوئی فرقہ ان نفوس قدسیہ کی طرف دعوت دینے ہی کو ایمان واسلام کی سب سے بڑی ضرورت سمجھتا ہے۔ ایک طرف اسلامی تاریخ کی یہ عظیم شخصیتیں ہیں۔ دوسری طرف مرزا قادیانی ہے جس کا کوئی تجدیدی کارنامہ منظر عام پر نہیں آیا۔ ماسوائے اس کے کہ اس نے پہلے مجدد، پھر موعود مسیح اور اس کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور امت محمدیہ میں اتنا بڑا فرق و اختلاف پیدا کر ڈالا کہ اپنی ایک مستقل امت قائم کردی۔ جو اپنے علاوہ مسلمانوں (غیر قادیانیوں) کو کافر اور گمراہ سمجھتی ہے۔

لاہوری جماعت کا مرزا غلام احمد کی ”مجددیت“ ”امامت“ اور موعود مسیحیت کی طرف مسلمانوں کو بلانا اس شخص کے نام کے ساتھ ”حضور“ لکھنا اس کی حق شناسی اور صداقت وتقویٰ کے قصیدے پڑھنا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بنیادی مقصد کے اعتبار سے یہ دونوں جماعتیں ایک جیسی ہیں۔ یعنی ایک ہی شخصیت اور ذات دونوں جماعتوں کی عقیدت و محبت کا مرکز ہے اور اسی شخصیت (یعنی مرزا) کو آیۃ حق مان کر اسی محور کے اردگرد ان کی جدوجہد اور تبلیغ و تعلیم کی تمام تر کوششیں جاری رہتی ہیں۔

اس صورت میں اکابر علماء امت کے نزدیک لاہوری جماعت اور جماعت ربوہ کے مسلک کفر وضلالت میں کوئی فرق نہیں۔ مولانا عبدالماجد دریا بادی مدیر صدق جدید نے مولانا اشرف علی تھانویؒ کی خدمت میں ایک خط بھیجا تھا۔ جس میں یہ لکھا تھا:

”ایک ”تراشہ پیغام صلح“ کا ملفوف ہے۔ یہ لاہوری قادیانی جماعت کا پرچہ ہے یہ لوگ ٹھیٹھ قادیانیوں کے مقابلہ میں بہت غنیمت ہیں۔“

مولانا دریا بادی کے اس استفسار کے جواب میں حضرت مولانا تھانویؒ نے تحریر فرمایا:

”میں اس میں موافقت کرنے سے اس لئے معذور ہوں کہ ان کے ضرر کو معتقدینِ نبوتِ مرزا کے ضرر سے اشد سمجھتا ہوں۔ کیونکہ وہ لوگ جب نبی کہتے ہیں، سب کو نفرت ہو جاتی ہے اور محفوظ رہتے ہیں اور یہ لوگ جب نبوت کی نفی اور ولایت کا اثبات کرتے ہیں تو نفرت نہیں اور اشتیاق ہوتا ہے اس کی کتابیں دیکھنے کا ...... اور پھر دیکھ کر گمراہ ہو جاتے ہیں۔“

توحید کے بعد ختم نبوت کا عقیدہ ان ایمانی مسلمات میں شامل ہے۔ جس کا انکار کرنے سے ایک مسلمان کافر ہو جاتا ہے اور اس کی صرف تنہا یہی ایک ”وجہ کفر“ اسے کافر بنا دیتی ہے۔ چاہے اس میں اور ننانوے وجوہ اسلام پائی جاتی ہوں۔ وہ شکل جس میں ”کفریہ عقیدہ“ کے بعد بھی کسی کو کافر یا دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جا سکتا جیسے وہ مسلمان جو نماز کو دین کا رکن سمجھتا ہے اور

٥

صفحہ ١٧

اس کی فرضیت کا قائل ہے۔ مگر وہ ساتھ ہی یہ عقیدہ بھی رکھتا ہے کہ ”یقین“ کا درجہ کامل ہو جانے کے بعد ”نماز“ ساقط ہو جاتی ہے۔ یہ عقیدہ اگرچہ کفریہ ہے مگر اس عقیدہ رکھنے والے کو جو دوسرے ”وجوہ اسلام رکھتا ہے“ گمراہ سمجھا جائے گا مگر کافر دینِ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جائے گا۔ یہی حال بعض مسلمان فلسفیوں کے کفریہ اقوال اور آراء کا ہے۔ بعض ایسے گمراہ کن عقائد بھی ہیں جن کے ”کفر“ ہونے میں اختلاف ہے۔ مثلاً فارابی اور بو علی سینا کی تکفیر بعض شدید ضلالت آمیز عقائد واقوال کے سبب کی گئی ہے۔ مگر مجموعی طور پر تمام مسلمان فرقے ان فلسفیوں کو ”کافر“ اور دائرہ اسلام سے خارج نہیں سمجھتے۔ تو مرزا غلام احمد قادیانی کی حیثیت نہ حلاج بن منصور کی ہے اور نہ فارابی اور بو علی سینا جیسی ہے۔ اس شخص (مرزا قادیانی) کا اور اس کے ماننے والوں کا ارتداد اور کفر کھلا ہوا ہے۔ جس کے بارے میں مختلف الرائے نہیں ہے۔ مرزا اور اس کی امت و معتقدین کے کفر پر سب متفق ہیں۔

قادیانی کی لاہوری جماعت کے لٹریچر میں بعض صوفیوں کے اقوال جو مثال میں پیش کئے جاتے ہیں۔ تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ دین میں صوفیاء کے اقوال اور احوال کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ہر کسی کے قول و عمل کے جانچنے اور پرکھنے کی کسوٹی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ اس کسوٹی پر جس کسی کا بھی قول پورا نہیں اترے گا، اسے رد کر دیا جائے گا۔ جہاں تک بعض لوگوں کے اقوال اور کلمات اور افکار و تصورات کا تعلق ہے۔ ہر قسم کی گمراہی اور کفر کتابوں میں ملتا ہے۔ مثلاً شیطان موحد اعظم تھا۔...... فرعون کے ایمان کی تصدیق ...... یہودیوں کی گاؤ سالہ پرستی کی تاویل بلکہ تحسین ...... ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ ارواح کا اثبات ...... امرد پرستی کو معرفت الٰہی کا ذریعہ قرار دینا ...... اللہ تعالیٰ کے حلول واتحاد کا عقیدہ ...... اس قسم کے شطحیات، ہذیانات اور ہفوات کو دین کے کسی بنیادی عقیدہ کے جواز وعدم جواز کے لئے مثال وحجت کے طور پر پیش کرنا۔ دین ودانش سے جہالت و بے خبری کی دلیل ہے۔

اگر کوئی شخص اپنے خدا ہونے کا اعلان کر دے تو اس کے اس ”کفرِ تمام“ کے جواز یا تاویل کے لئے پچھلی کتابوں سے ”شعرِ تصوف“ کا ایک آدھ ایسا قول مل سکتا ہے، جس کو بنیاد بحث بنا کر گفتگو کی جا سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کو انسان کی طرح مجسم ماننا یہ کفریہ عقیدہ ہے۔ علامہ اقبال، اللہ کے ”تجسّم“ کے قائل نہ تھے۔ اس بارے میں ان کا عقیدہ اشاعرہ کے مسلک کے مطابق تھا۔ یہ واقعہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جسمانیت سے منزہ ہے۔ مگر کوئی شخص علامہ اقبال کے اس شعر کو: ٦

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا
یا میرا گریباں چاک، یا دامن یزداں چاک

اللہ تعالیٰ کے ”تجسّم“ پر دلیل لائے کہ علامہ اقبال اس کے بھی قائل نہ صرف یہ کہ جسم ہے بلکہ وہ اپنے جسم پر لباس بھی پہنے ہوئے ہے۔ جبھی تو یزداں چاک“ کہا ہے۔ تو ایسے گمراہ اور بے وقوف شخص کو سمجھا جائے گا کہ ا کے ہرگز قائل نہ تھے۔ یہ تو ایک شاعرانہ پیرایہ بیان اور ”ناز طفلانہ“ جیسی با توجیہ کو بھی قبول نہ کرے گا تو پھر کہا جائے گا جو تم نے سمجھا ہے اگر اقبال کا بھی اس شعر کو اور اس کے مرکزی خیال کو ہم سرے سے غلط سمجھتے ہیں اور ہمارے کتاب وسنت ہیں، کلام اقبال نہیں ہے۔

کسی صوفی کے یہاں ”فنا فی الرسول“ یا ولایت کے لئے ظل ہے تو رسول کی ذات میں فنا ہونے سے اس کا مقصد ”رسول جیسا“ ظلی یا بر ہے بلکہ فنا فی الرسول کا مقصد ہے۔ اپنی تمام مرضیات اور خواہشات کو رسو ومرضیات کے تابع بنا دینا اور اپنی شخصیت کو اطاعتِ رسول میں گویا کہ فنا نبوت سے مراد سیرت نبوت کا فیضان اور اس کا اتباع ہے۔ یعنی صاحب و ہے کہ اس کی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کی مقدس سیرت کا زیادہ عکس نظر آ زندگی اتباع رسول کا بہترین نمونہ ہو۔

”فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول“ کی اصطلاحیں نہ تو کتاب وسنت نہ فقہاء اور محدثین کے یہاں ملتی ہیں۔ ان اصطلاحوں کی دین وشریعت نہیں ہے۔ ”فنا فی الرسول“ کتاب وسنت کی رو سے کوئی منصب اور عہد ہونے کا کوئی دعویٰ کرے جس طرح اردو زبان میں محاورے کے طور پر کہ قوم کی خدمت کے لئے اپنے کو فنا کر دیا۔ اسی طرح یوں بھی کہتے ہیں کہ کے لئے فنا ہو گیا۔ مگر مرزا قادیانی نے ”فنا فی الرسول“ کی آڑ لے کر جو د کریم کی آیات کو مسخ کیا ہے وہ علم و دانش اور عقل و بصیرت کی ٹریجڈی ہے مفہوم کو جانتا ہو۔ قرآن میں تھوڑا بہت درک رکھتا ہو اور اس کے دل میں اور عظمت ہو۔ اس قسم کی خرافات اور ہذیانات نہیں بک سکتا: ٧

صفحہ ١٧
فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا
یا میرا گریباں چاک، یا دامن یزداں چاک

اللہ تعالیٰ کے ”تجسم“ پر دلیل لائے کہ علامہ اقبال اس کے بھی قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ کا نہ صرف یہ کہ جسم ہے بلکہ وہ اپنے جسم پر لباس بھی پہنے ہوئے ہے۔ جبھی تو انہوں نے ”یا دامن یزداں چاک“ کہا ہے۔ تو ایسے گمراہ اور بے وقوف شخص کو سمجھا جائے گا کہ اقبال، اللہ کے ”تجسم“ کے ہرگز قائل نہ تھے۔ یہ تو ایک شاعرانہ پیرایہ بیان اور ”ناز طفلانہ“ جیسی بات ہے۔ وہ شخص اس توجیہ کو بھی قبول نہ کرے گا تو پھر کہا جائے گا جو تم نے سمجھا ہے اگر اقبال کا بھی واقعی یہ مطلب تھا تو اس شعر کو اور اس کے مرکزی خیال کو ہم سرے سے غلط سمجھتے ہیں اور ہمارے لئے دین میں حجت کتاب وسنت ہیں، کلام اقبال نہیں ہے۔

کسی صوفی کے یہاں ”فنافی الرسول“ یا ولایت کے لئے ظل نبوت کی اصطلاح ملتی ہے تو رسول کی ذات میں فنا ہونے سے اس کا مقصد ”رسول جیسا“ ظلی یا بروزی نبی ہونا ہرگز نہیں ہے بلکہ فنافی الرسول کا مقصد ہے۔ اپنی تمام مرضیات اور خواہشات کو رسول اللہ ﷺ کے احکام ومرضیات کے تابع بنادینا اور اپنی شخصیت کو اطاعت رسول میں گویا کہ فنا اور گم کردینا ہے اور ظل نبوت سے مراد سیرت نبوت کا فیضان اور اس کا اتباع ہے۔ یعنی صاحب ولایت کی اصل شان یہ ہے کہ اس کی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کی مقدس سیرت کا زیادہ عکس نظر آئے۔ یعنی اس کی پوری زندگی اتباع رسول کا بہترین نمونہ ہو۔

”فنافی اللہ اور فنافی الرسول“ کی اصطلاحیں نہ تو کتاب وسنت میں بیان ہوئی ہیں اور نہ فقہاء اور محدثین کے یہاں ملتی ہیں۔ ان اصطلاحوں کی دین وشریعت میں کوئی اصل اور وزن نہیں ہے۔ ”فنافی الرسول“ کتاب وسنت کی رو سے کوئی منصب اور عہدہ نہیں ہے۔ جس پر فائز ہونے کا کوئی دعویٰ کرے جس طرح اردو زبان میں محاورے کے طور پر کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے قوم کی خدمت کے لئے اپنے کو فنا کردیا۔ اسی طرح یوں بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص اللہ اور رسول کے لئے فنا ہوگیا۔ مگر مرزا قادیانی نے ”فنافی الرسول“ کی آڑ لے کر جو دعوے کئے ہیں اور قرآن کریم کی آیات کو مسخ کیا ہے وہ علم ودانش اور عقل و بصیرت کی ٹریجڈی ہے۔ کوئی شخص جو نبوت کے مفہوم کو جانتا ہو، قرآن میں تھوڑا بہت درک رکھتا ہو اور اس کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت اور عظمت ہو۔ اس قسم کی خرافات اور ہذیانات نہیں بک سکتا:

٧

صفحہ ١٩

"حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل و نبی کے موجود ہیں، نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

لاہوری جماعت کے ارباب فکر سے ہم پوچھتے ہیں کہ مجدد یا امام وقت پر الہام ہوتا ہے یا "وحی" آتی ہے۔ وحی جب نبوت کے نام پر ہوگی تو "مہبط وحی" نبی ہی ہوگا اور وہ شخص خود یہ بھی کہہ رہا ہے کہ دس بیس نہیں سینکڑوں بار اسے رسول مرسل اور نبی بھی خدا کی جانب سے کہا گیا ہے۔ اس کو وحی ولایت (حالانکہ یہ اصطلاح بھی مرزا کے دعوؤں کے پیش نظر بڑے جھگڑے اور دھوکے کی اصطلاح ہے) بھی نہیں کہہ سکتے۔ یہ تو صاف واضح طور پر نبوت کا اعلان اور دعویٰ ہے۔ اس کے بعد مرزا قادیان کہتا ہے:

چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے یہ وحی اللہ ہے "ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ" (ص ٤٩٨ براہین احمدیہ) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کہہ کے پکارا گیا ہے۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

یہ آیت جب رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تھی تو حضور اور تمام صحابہ نے اس کا یہی مفہوم سمجھا کہ "ارسل رسولہ" سے ذات محمد ابن عبداللہ مراد ہے اور چودہ سو سال کی اس پوری مدت میں ساری امت اس کا یہی مفہوم سمجھتی رہی ہے۔ مگر مرزائے قادیان کہتا ہے کہ اس آیت میں اس عاجز کو رسول کہہ کر پکارا گیا ہے۔ کیا کوئی شخص جو اپنے دل میں اللہ کا خوف اور رسول اللہ ﷺ کی عظمت و محبت رکھتا ہے اور قیامت کے محاسبہ پر ان کا ایمان ہے۔ قرآن میں اتنی کھلی ہوئی معنوی تحریف کا ارتکاب کر سکتا ہے؟

لاہوری جماعت نے مرزا غلام احمد کا رسالہ "ایک غلطی کا ازالہ" جو شائع کیا ہے۔ اس میں مرزا لکھتا ہے: "نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت ١ کی جگہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال

ا۔ رسالہ میں یوں ہی چھپا ہے مگر یہ غالباً کتابت کی غلطی ہے صحیح لفظ غیریت ہونا چاہئے۔

٨

کے لئے اسی لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں ملی۔ گو بروز طور پر مگر نہ کسی اور کو۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤،

آخر اس دعوے کے لئے کتاب وسنت سے کیا کوئی دلیل ملتی لئے ایک کھڑکی فنا فی الرسول" کی ہوتی ہے اور جو "فنا فی الرسول" ہوتا نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے۔ جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ ظلی اور بر توجیہ مرزائے قادیان کے اپنے دماغ کی اختراع ہے۔ جسے کوئی صحیح العقل لئے بھی قبول نہیں کر سکتا۔ پھر اس کا یہ کہنا کہ محمد کی نبوت آخر محمد ہی کو ملی اور "عبداللہ ابن سبا کے اس ضلالت آمیز عقیدہ کی صدائے بازگشت ہے دوبارہ آ سکتے ہیں تو محمد ﷺ کیوں نہیں آ سکتے! اور یہ جملہ کہ محمد کی نبوت آ خطرناک اور گمراہ کن ہے۔ اور سنئے: "وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور

(ایک غلطی کا ازالہ

مرزا کا نام تو اس کے گھر والوں نے "غلام احمد" رکھا۔ وحی ا کس طرح رکھا گیا اور ساتھ ہی رسول" بھی۔ پھر رسول نام ہے یا لقب؟

"اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت کا نام پا لیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ اس میں انعکاس ہو گیا ہو نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے، گو ظلی طور پر۔۔۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص

آخر یہ کس مذہب کا "علم الکلام" اور کس دین کا فلسفہ ہے کہ کو گم ہو جاتا ہے کہ کمال و نہایت اتحاد کے سبب ان میں "غیریت" ہی باقی اور کتاب وسنت میں تو اس قسم کے تصورات و عقائد اور نکتہ آفرینیاں ہیں ن تناسخ اور اوتار وغیرہ کے فاسد عقائد رکھتے ہیں۔ وہ اس طرز فکر کی شاید داد د

اگر بفرض محال (خاک بدہن مدعی گستاخ) مرزا غلام احمد قاد بن گیا تھا اور محمد مصطفیٰ ابن عبداللہ اور غلام احمد قادیانی ابن غلام مرتضیٰ دونو رہی تھی تو دونوں کی صورت اور سیرت میں بھی اتحاد ہونا چاہئے۔ حالانکہ والسلام ظاہری حسن وصورت اور شکل و شمائل کے اعتبار سے بھی اپنی جگ قادیانی کے دیکھنے والوں نے اسے معمولی خوبصورت آدمی بھی نہیں کہا کتابوں میں دیکھا ہے وہ ایک بدصورت آدمی کا عکس ہے۔ جس کی آنکھ

٩

صفحہ ١٩

کے لئے اسی لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد ہی کو ملی۔ گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج١٨ص٢٠٧، ٢٠٨)

آخر اس دعوے کے لئے کتاب وسنت سے کیا کوئی دلیل ملتی ہے کہ ”خدا تک پہنچنے کے لئے ایک کھڑکی فنا فی الرسول“ کی ہوتی ہے اور جو ”فنا فی الرسول“ ہوتا ہے۔ اس کو ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے۔ جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ ظلی اور بروزی نبوت کی یہ تشریح و توجیہ مرزائے قادیان کے اپنے دماغ کی اختراع ہے۔ جسے کوئی صحیح العقل انسان ایک منٹ کے لئے بھی قبول نہیں کر سکتا۔ پھر اس کا یہ کہنا کہ ”محمد کی نبوت آخر محمد ہی کو ملی، گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو“ عبداللہ ابن سبا کے اس ضلالت آمیز عقیدہ کی صدائے بازگشت ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آ سکتے ہیں تو محمد ﷺ کیوں نہیں آ سکتے! اور یہ جملہ کہ محمد کی نبوت آخر محمد ہی کو ملی۔ کس قدر خطرناک اور گمراہ کن ہے۔ اور سنئے : ” وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی......“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج١٨ ص ٢٠٧)

مرزا کا نام تو اس کے گھر والوں نے ”غلام احمد“ رکھا۔ وحی الٰہی میں اس کا نام ”محمد“ کس طرح رکھا گیا اور ساتھ ہی ”رسول“ بھی۔ پھر رسول نام ہے یا لقب؟

”اگر کوئی شخص اس خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت اسی کا نام پا لیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ اس میں انعکاس ہو گیا ہو۔ تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے، گو ظلی طور پر......“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

آخر یہ کس مذہب کا ”علم الکلام“ اور کس دین کا فلسفہ ہے کہ کوئی امتی اپنے نبی میں ایسا گم ہو جاتا ہے کہ کمال و نہایت اتحاد کے سبب ان میں ”غیریت“ ہی باقی نہیں رہتی۔ اسلامی ادب اور کتاب وسنت میں تو اس قسم کے تصورات وعقائد اور نکتہ آفرینیاں کہیں نہیں ملتیں۔ ہاں! ہندو جو تناسخ اور اوتار وغیرہ کے فاسد عقائد رکھتے ہیں۔ وہ اس طرز فکر کی شاید داد دے سکیں۔

اگر بفرض محال (خاک بدہن مدعی گستاخ) مرزا غلام احمد قادیانی بقول اس کے محمد ثانی بن گیا تھا اور محمد مصطفیٰ ابن عبداللہ اور غلام احمد قادیانی ابن غلام مرتضیٰ دونوں میں غیریت باقی نہیں رہی تھی تو دونوں کی صورت اور سیرت میں بھی اتحاد ہونا چاہئے۔ حالانکہ خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والسلام ظاہری حسن وصورت اور شکل و شمائل کے اعتبار سے بھی اپنی جگہ بے مثال تھے اور مرزا قادیانی کے دیکھنے والوں نے اسے معمولی خوبصورت آدمی بھی نہیں کہا اور اس کا جو فوٹو ہم نے کتابوں میں دیکھا ہے وہ ایک بدصورت آدمی کا عکس ہے۔ جس کی آنکھ ”چندی“ تھی اور چندی

٩

صفحہ ٢١

آدمی (اعمش) خوبصورت نہیں ہوا کرتا۔ رسول اللہ ﷺ افصح العرب جن کو اللہ تعالیٰ نے ”جوامع الکلم“ عطاء فرمائے تھے۔ حضور کا ایک ایک جملہ فصاحت وادب کا شاہکار ہے اور اس ”ظل محمد“؟ غلام احمد قادیانی کی اردو بھی درست نہیں ہے۔ خود اس کے زمانے میں ہزاروں لاکھوں اہل قلم اس سے بہت اچھی اردو لکھتے اور بولتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے کبھی شعر نہیں کہا اور مرزا قادیانی نے اپنا مستقل دیوان چھوڑا ہے۔ مگر شعر و ادب کی تاریخ میں اس کی شاعری کو اہل نظر نے کوئی مقام نہیں دیا۔ اچھا ”ظل نبی“ ہے جو اپنے اصل کے برخلاف شعر کہتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ حسن و جمال میں بے مثال ہونے کے علاوہ صحت جسمانی کے لحاظ سے بھی اپنا جواب نہ رکھتے تھے اور کوئی مرض یا کسی قسم کی کمزوری حضور کے جسم و صحت میں نہیں پائی جاتی تھی۔ مگر اس ظل نبی (خاک بدہن کاذب) کی صحت کی داستان خود اسی کی زبانی سنئے:

ہی عارضہ ہو جب میں نے شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یہی یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٢ ص ٢٧، جدید ایڈیشن خط نمبر ١٥)

اور دوران خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا اور دوسرے جسم کے نیچے حصہ میں پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔“

(نسیم دعوت ص ٦٨ مصنفہ مرزا قادیانی، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٥)

گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت سے پیشاب سے جس قدر عوارض وغیرہ ہوتے ہیں، وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٤، ص ٤، مصنفہ غلام احمد قادیانی، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠، ٤٧١)

ہوں۔ یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٢ ص ٢٨٢، نمبر ٤١)

کو مراق کا مرض بھی لاحق تھا۔ مراق کا مرض حضرت مرزا قادیانی کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا۔ مرزا کا بیٹا بشیر احمد قادیانی کہتا ہے: ”بیان کیا مجھ سے میری والدہ

١٠

صاحبہ نے کہ ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت مسیح موعود (مرزا سے ناامید ہوگئی۔“

(سیرت المہدی

رسول اللہ ﷺ کے ظل اور بروز اور اتحاد و نفی غیریت ک دعویٰ کرتا ہے کہ: ”محمد کی نبوت آخر محمد ہی کو ملی۔“ شکل وصورت و حضور کی بالکل ضد واقع ہوا ہے۔ اصل اور ظل میں اتنا فرق۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ مراقی ضعف باہ، سل اور ذیابیطس ک اور ظل کس طرح ہو سکتا ہے جس کا مدینہ میں خیر مقدم ”اشرق ال کیا گیا۔ بے شک حضور حسن و جمال کے ”بدر کامل“ اور اخلاق و ع

”من وجهك المنير لقد نور القمر“

مرزا قادیانی اپنے ”ہفوات“ براہین احمدیہ کا اس اند زبور، توریت اور انجیل کی طرح کوئی صحیفہ آسمانی ہے کہ اس میں وحی الٰہی ہے اور وحی الٰہی پر ظاہر ہے ایمان لانا ہر مسلمان کا فرض ہ ”ایسا ہی میری مخالف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسب کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور وہ چونکہ نبی ہیں۔ اس لئے ہو گا جو مجھ پر کیا جاتا ہے۔ یعنی خاتم النبیین کی مہر ختمیت ٹوٹ جا

(ایک

مرزا کی بے بصیرتی اس کے ان اقوال ہی سے ظ مفسرین اسی خدشہ کا صدیوں پہلے جواب دے چکے ہیں جس ک کوئی نئے نبی نہیں ہیں۔ ان کا ظہور تو حضور سے پہلے ہو چکا ہے کا ظہور ہے اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں اس حیثیت محمدیہ کے تابع ہوں گے۔

جی ہاں! مرزا کا بیٹا اور جانشین مرزا محمود احمد اس کی اور مثیل کہا جاسکتا ہے کہ وہ جسمانی امراض کے معاملے میں میری صحت تو بچپن ہی سے خراب ہے۔ اس لحاظ سے تو میر تھی۔ بچپن ہی سے میری صحت خراب تھی اسی وجہ سے حضر تھی۔“

(خطبہ جمعہ محمود احمد مندرج

١١

صفحہ ٢١

صاحبہ نے کہ ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت ابا (مرزا) کو سل ہو گئی تھی۔ حتیٰ کہ زندگی سے ناامید ہو گئی ۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٥٥، روایت نمبر ٦٦)

رسول اللہ ﷺ کے ظل اور بروز اور اتحاد و نفی غیریت کا مدعی مرزا قادیانی جو یہاں تک دعویٰ کرتا ہے کہ: ”محمد کی نبوت آخر مجھ ہی کو ملی ۔“ شکل وصورت ، کلام و گفتگو اور جسمانی صحت میں حضور کی بالکل ضد واقع ہوا ہے۔ اصل اور ظل میں اتنا فرق۔ اس قدر مغائرت اور اختلاف ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ مراقی ضعف باہ ، سل اور ذیابیطس کا مریض ، اس انسان کامل کا بروز اور ظل کس طرح ہو سکتا ہے جس کا مدینہ میں خیر مقدم ”اشرق البدر علینا“ کے نغمہ سے کیا گیا ۔ بے شک حضور حسن و جمال کے ”بدر کامل“ اور اخلاق و نیکی کے مہر نیمروز تھے:

”من وجهك المنير لقد نور القمر“

مرزا قادیانی اپنے ”ہفوات“ براہین احمدیہ کا اس انداز سے ذکر کرتا ہے جیسے یہ قرآن، زبور ، توریت اور انجیل کی طرح کوئی صحیفہ آسمانی ہے کہ اس میں جو کچھ درج ہے وہ الہام ربانی اور وحی الٰہی ہے اور وحی الٰہی پر ظاہر ہے ایمان لانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔

”ایسا ہی میرے مخالف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور وہ چونکہ نبی ہیں۔ اس لئے ان کے آنے پر بھی وہی اعتراض ہوگا جو مجھ پر کیا جاتا ہے۔ یعنی خاتم النبیین کی مہر ختمیت ٹوٹ جائے گی ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

مرزا کی بے بصیرتی اس کے ان اقوال ہی سے ظاہر ہے۔ حالانکہ قرآن کریم کے مفسرین اسی خدشہ کا صدیوں پہلے جواب دے چکے ہیں جس کا خلاصہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوئی نئے نبی نہیں ہیں۔ ان کا ظہور تو حضور سے پہلے ہو چکا ہے۔ ختم نبوت توڑنے والی چیز نئے نبی کا ظہور ہے اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں اس حیثیت سے تشریف لائیں گے کہ شریعت محمدیہ کے تابع ہوں گے۔

جی ہاں ! مرزا کا بیٹا اور جانشین مرزا محمود احمد اس کی اصطلاحات کے مطابق مرزا کا ظل اور مثیل کہا جاسکتا ہے کہ وہ جسمانی امراض کے معاملے میں بھی باپ کی مثل تھا۔ ”وہ کہتا تھا کہ میری صحت تو بچپن ہی سے خراب ہے۔ اس لحاظ سے تو میری پہلی شادی بھی نہیں ہونی چاہئے تھی ۔ بچپن ہی سے میری صحت خراب تھی اسی وجہ سے حضرت مرزا نے حساب کی تعلیم چھڑا دی تھی ۔“

(خطبہ جمعہ محمود احمد مندرجہ الفضل قادیان ٢٣؍ مارچ ١٩٣٦ء)

صفحہ ٢٣

یہ سامنے کی بات اس شخص کے سمجھ میں نہیں آتی ، جس کا دعویٰ ہے کہ: ”مجھے اللہ تعالیٰ غیب سے مطلع فرماتا ہے اور میں بروزی اور ظلی نبی ہوں اور مجھے نبوت جو ملی تو وہ دراصل محمد ہی کی نبوت تھی۔“

قرآن کی تحریف اور دعوے

قرآن کریم کی آیات کے ساتھ مرزا قادیانی نے تحریف کا جو توہین آمیز سلوک کیا ہے وہ اس کی ضلالت کی کھلی ہوئی شہادت ہے۔ ہم دل پر جبر کر کے اس کے ہذیانات یہاں نقل کر رہے ہیں۔

”چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک وحی اللہ ہے: ”هو الذی ارسل رسوله بالهدى ودین الحق لیظهره علی الدین کله “ (براہین احمدیہ ص ٤٩٨) ”اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔“ پھر ...... اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب یہ وحی ہے: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم “ ”اسی وحی الہ میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨، ص ٢٠٦)

کی طرف اللہ کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں۔“

(البشریٰ جلد دوم ص ٥٦ ، تذکرہ ص ٣٥٢ طبع سوم)

ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣ ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٠)

نہیں بولتا بلکہ تم جو کچھ سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)

قرآن کریم کی یہ آیات جن کا مصداق حضور خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی ذات قدسی صفات ہے اور اس بارے میں دورائیں نہ ہوئی ہیں اور نہ ہو سکتی ہیں۔ مرزا کا اپنی ذات کو ان آیات کا مخاطب قرار دینا اللہ تعالیٰ اور قرآن کے ساتھ مذاق، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گستاخی وحی الہی کی معنوی تحریف اور کھلا ہوا دجل وفریب نہیں تو اور کیا ہے؟۔

حد ہو گئی ”دجل و تحریف“ کی کہ ظالم نے ”واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی “ کی یہ تاویل وتحریف کی کہ :”(یہ آیت ) اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے ۔ تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ نجات

١٢

پائے گا جو اس ابراہیم کا پیروکار ہوگا۔“ ١؎

(اربعین

ایسی باتیں وہی کر سکتا ہے جو مراقی اور آسیب زدہ ہو پوری طرح مصداق ہو اور جسے نہ خدا کا خوف ہو اور نہ بندوں کی شـ جو شخص اپنی شروع کی تحریروں میں لکھ چکا ہے کہ میں را اور حضور ہی کے واسطہ سے مجھے سب کچھ ملا ہے۔ پھر وہ ایسی کفریا ”اس کے (یعنی نبی کریم کے) لئے صرف چاند گرہن چاند اور سورج دونوں کا گرہن اب کیا تو انکار کرے گا۔“

(اعجا

اسی طرح ”آنحضرت ﷺ کے وقت کے تمام احکام میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی اور معجز موعو فضائل اور اسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی۔“

(براہین احمدیہ

فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہاء نہ تھا۔ بلکہ اس پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں اس وقت

(خطبہ ا

تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیا طرح مشابہ ہو۔ یعنی چودھویں صدی پس ان ہی معنوں کی طرف کہ: ”لقد نصرکم اللہ ٢؎ ببدر“

(خطبہ الہامیہ

مرزائے قادیان کے ان اقوال میں قدر مشترک ر فضیلت کا پہلو ہے۔ ان اقوال سے ہم نے کوئی نکتہ پیدا نہیں کیا غلام احمد نے بھی ان اقوال سے یہی بات سمجھی ہے۔ وہ اپنی تقریر مـ

١؎ ایک چھوٹے سے جملے میں تین، چار بار گے آیا ہے جس سے وحی والہام کو نسبت دی جاتی ہے۔

٢؎ قرآن کریم کو اپنی ہوائے نفس اور بزرگی جتانـ کتنی تکلیف دہ خباثت ہے۔

١٣

صفحہ ١٣

پائے گا جو اس ابراہیم کا پیروکار ہوگا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣١، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٠)

ایسی باتیں وہی کر سکتا ہے جو مراقی اور آسیب زدہ ہو اور ت یتخبطہ الشیطان کا پوری طرح مصداق ہو اور جسے نہ خدا کا خوف ہو اور نہ بندوں کی شرم۔

جو شخص اپنی شروع کی تحریروں میں لکھ چکا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کا متبع اور غلام ہوں اور حضور ہی کے واسطہ سے مجھے سب کچھ ملا ہے۔ پھر وہ ایسی کفریات بھی بکنے لگتا ہے:

”اس کے (یعنی نبی کریم کے) لئے صرف چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا گرہن اب کیا تو انکار کرے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

اسی طرح ”آنحضرت ﷺ کے وقت کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی اور صحابہ کے وقت میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی اور مسیح موعود کے وقت میں اس کے روحانی فضائل اور اسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٢، خزائن ج ٢١ ص ٦٦)

فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہاء نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں اس وقت پوری طرح تجلی فرمائی۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧٧، خزائن ج ١٦ ص ٢٦٦)

تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرلے جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو۔ یعنی چودھویں صدی پس ان ہی معنوں کی طرف اشارہ ہے۔ خدا کے اس قول میں کہ: ”لقد نصرکم اللہ ببدر“

(خطبہ الہامیہ ص ٨٤، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٦، ٢٧٥)

مرزائے قادیان کے ان اقوال میں قدر مشترک رسول اللہ ﷺ پر اس (مرزا) کی فضیلت کا پہلو ہے۔ ان اقوال سے ہم نے کوئی نکتہ پیدا نہیں کیا بلکہ اس کے بیٹے اور جانشین مرزا محمود احمد نے بھی ان اقوال سے یہی بات سمجھی ہے۔ وہ اپنی تقریر میں کہتا ہے:

جس سے وحی و الہام کو نسبت دی جاتی ہے۔

کتنی تکلیف دہ خباثت ہے۔

صفحہ ٢٥

”٤۔ آنحضرت ﷺ معلم ہیں اور مسیح موعود ایک شاگرد خواہ استاد کے علوم کا وارث پورے طور پر ہو جائے یا بعض صورتوں میں بڑھ جائے مگر استاد بہر حال استاد ہی رہتا ہے اور شاگرد، شاگرد ہی۔“

(تقریر محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الحکم قادیان ٢٨ / اپریل ١٩١٤ء منقول از الہدیٰ نمبر ٢، ٣)

اس کے بعد ایک قادیانی کے دو شعر ملاحظہ کیجئے جو مرزا قادیانی کے ان اقوال کا بروز اور ظل ہیں۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(قاضی ظہور الدین اکمل قادیانی، روزنامہ بدر قادیان ٢٥ / اکتوبر ١٩٠٦ء)

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨، ٤٧٧) میں مرزا قادیانی تمام انبیاء علیہم السلام پر اپنی فضیلت کا اعلان کرتا ہے:

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بعرفاں نہ کمترم ز کسے
آنچہ دادست ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بہ تمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

ان اشعار سے اکابر قادیان نے کیا مفہوم لیا۔ اس کا اندازہ مرزا بشیر احمد قادیانی کے ان جملوں سے کیا جا سکتا ہے۔

”اس کے (آنحضرت) کے شاگردوں میں علاوہ بہت سے محدثوں کے ایک نے نبوت کا بھی درجہ پایا اور نہ صرف یہ کہ نبی بنا، بلکہ مطاع کے کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر کے اولو العزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٥٧)

اور ”پس مسیح موعود کی ظلی نبوت کوئی گھٹیا نبوت نہیں۔ بلکہ خدا کی قسم اس نبوت نے جہاں آقا کے درجہ کو بلند کیا وہاں اس مقام پر کھڑا کر دیا جن تک انبیاء بنی اسرائیل نہ پہنچ سکیں۔“

(کلمۃ الفصل مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص ١٤٤ نمبر ٣ ج ١٤)

مرزا کے بیٹے کے یہ الفاظ: ”اس نبوت نے جہاں آقا کے درجہ کو بلند کیا“ غور طلب ہیں۔ یعنی مرزا کی ظلی نبوت کے سبب رسول اللہ ﷺ کے درجہ کو بلندی میسر آئی۔ لعنة الله علی من قال هكذا وهكذا !

١٤

ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچا لیا گیا ہے۔ مگر یوسف گیا اور اس امت کے یوسف (مرزا قادیانی) کی بریت کے لئے خدا نے گواہی دے دی اور بھی نشان دکھلائے مگر یوسف بن یعقوب اپنی بریت محتاج ہوا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم

یہ مضحکہ خیز تماشہ بھی دیکھئے: ”اور یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے کہ ”انا انزلناہ قری اس جگہ مجھے یاد آتا ہے کہ جس روزہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان درج ہے، ہوا تھا۔ اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صا میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑ پڑھا ”انا انزلناہ قریبا من القادیان “ تو میں نے سن کر بہ قرآن شریف میں لکھا ہے۔ تب میں نے دل میں کہا کہ واقعی طور پر قا میں درج ہے اور میں نے کہا کہ اور تین شہروں کا نام قرآن مجید میں ا مکہ، مدینہ، قادیان۔ یہ کشف تھا کئی سال ہوئے مجھے دکھلایا گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٦، ٧٥

ایک مراقی ہے کہ جو منہ میں آتا ہے، بکتا چلا جاتا ہے۔ ا کہئے کہ جو ان ہذیانات کو الہام وحی سمجھے ہوئے ہیں اور اس قسم کے خ قادیان کی عظمت کرتے ہیں اور اس کی ذات سے ان کی عقیدت میں کو کا وہ آخری درجہ ہے ذہن و قلب سے حق شناسی اور اچھے برے کے ج سے جاتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے۔

اس کفر ضلالت کی آخری پستی یہ ہے کہ:

(حقیقت الو

تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔“

کی) تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔“

(انجام آ

١٥

صفحہ ٢٥

ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچا لیا گیا ہے۔ مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا اور اس امت کے یوسف (مرزا قادیانی) کی بریت کے لئے پچیس برس پہلے ہی خدا نے آپ گواہی دے دی اور کئی نشان دکھلائے مگر یوسف بن یعقوب اپنی بریت کے لئے انسانی گواہی کا محتاج ہوا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧٦، خزائن ج ٢١ ص ٩٩)

یہ مضحکہ خیز تماشہ بھی دیکھئے: ”اور یہ بھی مدت سے الہام ہوچکا ہے کہ ”انا انزلناہ قریبا من القادیان“ اس جگہ مجھے یاد آتا ہے کہ جس روز یہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے، ہوا تھا۔ اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے فقرات کو پڑھا ”انا انزلناہ قریبا من القادیان“ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں لکھا ہے۔ تب میں نے دل میں کہا کہ واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ اور تین شہروں کا نام قرآن مجید میں اعزاز کے ساتھ لکھا ہے۔ مکہ، مدینہ، قادیان۔ یہ کشف تھا کئی سال ہوئے مجھے دکھلایا گیا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ تا ١٤١)

ایک مراقی ہے کہ جو منہ میں آتا ہے، بکتا چلا جاتا ہے۔ ان احمقوں اور جاہلوں کو کیا کہئے کہ جو ان ہذیانات کو الہام وحی سمجھے ہوئے ہیں اور اس قسم کے خرافات پڑھ کر بھی مرزائے قادیان کی عظمت کرتے ہیں اور اس کی ذات سے ان کی عقیدت میں کمی نہیں آتی۔ یہ کفر و ضلالت کا وہ آخری درجہ ہے ذہن و قلب سے حق شناسی اور اچھے برے کے جاننے پہچاننے کی تمیز سرے سے جاتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دلوں پر مہر لگادی جاتی ہے۔ اس کفر ضلالت کی آخری پستی یہ ہے کہ :

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔“

(تذکرہ ص ٩، طبع سوم)

کی) تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔“

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)

١٥

صفحہ ٢٧

(البشریٰ جلد اول ص ٥٦ ، تذکرہ ص ٤٣٧)

اور ایک چیز تیری تھی جس کا مالک میں بنایا گیا تو بھی اسی خرید و فروخت کا اقرار کر اور کہہ دے کہ خدا نے مجھ سے فروخت کی، تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ اولاد، تو تو مجھ میں سے اور میں تجھ میں سے ہوں۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات و مکاشفات مرزا ص ٤٢٠ ، طبع سوم )

یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مرزا قادیان کے ”برابری“ کے تعلقات اور معاملات ...... استغفر اللہ !

تمام اہل ایمان جانتے ہیں کہ مسیح موعود حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہوں گے۔ مرزا قادیان نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے لئے ابن مریم کا ثبوت ضروری تھا۔ سو وہ اس شخص کی ضلالت پروردہ ذہانت نے مہیا کردیا، کہتا ہے: ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زائد نہیں، بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا، پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

کسی شریف، معقول اور سمجھدار آدمی کے منہ سے بھلا ایسی بے تکی باتیں نکل سکتی ہیں؟ دیوانہ کی بڑ میں بھی ایک طرح کی معقولیت ہوتی ہے مگر:

یہ خرافات تو وہ ہیں کہ جو نہ دیکھے نہ سنے

”ہر ایک پہلو سے خدا نے مجھے آبرومند کیا۔ چنانچہ ہزار ہا شکر کا یہ مقام ہے کہ قریباً چار لاکھ انسان اب تک میرے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے اور کفر سے توبہ کر چکے ہیں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٥٣)

اول تو یہ تعداد انتہائی مبالغہ آمیز اور گمراہ کن ہے کہ چند ہزار کو چند لاکھ تک پہنچا دیا۔ پھر جن مسلمانوں نے مرزا کے ہاتھ پر توبہ کی ان کو وہ ”کافر“ کہتا ہے۔ یعنی مرزائے قادیان کو نبی ماننے سے پہلے وہ مسلمان کفر میں مبتلا تھے۔ اس صورت میں لاہوری جماعت کی یہ بات غلط اور بے اصل ہوتی ہے اور خود ان کے مسیح موعود کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

اب اگر مرزائے قادیان کے زمانہ حیات میں چار لاکھ قادیانی تھے تو آج ان کی تعداد تقریباً پچاس لاکھ ہونی چاہئے۔ پھر اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے غالب تعداد میں ”مسلمان“ ہی ہونے چاہئیں۔ سکھ اور ہندو تو شاذ و نادر ہی قادیانی بنے ہیں۔

١٦

جماعت لاہور کے اعتقادات یہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود ہیں اور یہ کہ ان کے دعوے کے انکار سے کوئی مسلمان کافر نہیں ہو جاتا لاہوری جماعت کے اس دجل و فریب کا پردہ مرزا اس طر ”کفر دو طرح پر ہے ایک کفر یہ کہ ایک شخص اسلام سے ہی کو رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ اور ا دونوں ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص

اقوال میں تناقض اور ہذیانات میں درجہ بدرجہ ترقی

١٨٩١ء میں بیشک مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ تھا:

اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقر ( جامع مسجد دہلی میں ) کہ جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل و منکر ہو اسے بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“ (مجمو

حضرت جبرائیل لا دیں اور پھر چپ ہو جاویں، یہ امر بھی ختم نبوت کے من

(ازالۃ الاوہام ص

اس صحیح صاف اور سچے عقیدہ کے بعد مرزا ولایت و مجددیت ک ”ان پر واضح رہے ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔ رسول اللہ“ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان ر بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمد اور با تباع آنجناب ﷺ اولیاء کو ملتی اور اس سے زیادہ جو شخص ہم پر الزام لگائے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑ اس طرف بھی نہیں، صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے۔“ (مجمو

یہ ولایت کا دعویٰ کیا اور کیوں؟ یہیں سے دماغ کا فساد اور ہوتا ہے۔ ”وحی ولایت“ خود بڑے جھگڑے اور خطرے کی بات ہے۔ اس ”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے ج ٣ ص ٣٢٠) پھر کہنے لگا:

١٧

صفحہ ٢٧

جماعت لاہور کے اعتقادات یہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود نبی اللہ نہیں ہیں۔ بلکہ مجدد ہیں اور یہ کہ ان کے دعوے کے انکار سے کوئی مسلمان کافر نہیں ہو جاتا۔‘‘

لاہوری جماعت کے اس دجل و فریب کا پردہ مرزا اس طرح چاک کر چکا ہے: ’’کفر دو طرح پر ہے ایک کفر یہ کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرتؐ کو رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

اقوال میں تناقض اور ہذیانات میں درجہ بدرجہ ترقی

١٨٩١ء میں بیشک مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ تھا:

اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار کرتا ہوں اس خانہ خدا (جامع مسجد دہلی میں) کہ جناب خاتم الانبیاءﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اسے بے دین اور دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

حضرت جبرائیل لاویں اور پھر چپ ہو جاویں، یہ امر بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١١)

اس صحیح صاف اور سچے عقیدہ کے بعد مرزا ولایت و مجددیت کا دعویٰ کرتا ہے: ’’ان پر واضح رہے ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ کے قائل ہیں اور آنحضرتﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمد اور باتباع آنجنابﷺ اولیاء کو ملتی ہے، اس کے ہم قائل ہیں اور اس سے زیادہ جو شخص ہم پر الزام لگائے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑتا ہے۔ غرض نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں، صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)

یہ ولایت کا دعویٰ کیا اور کیوں؟ یہیں سے دماغ کا فساد اور ذہن و فکر کی خرابی کا آغاز ہوتا ہے۔ ’’وحی ولایت‘‘ خود بڑے جھگڑے اور خطرے کی بات ہے۔ اس کے بعد: ’’نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا اور اس میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن

ج ٣ ص ٣٢٠) پھر کہنے لگا:

صفحہ ٢٩

”مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ ہی تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط ”مثیل مسیح“ ہونے کا دعویٰ ہے۔ جس طرح محدثیت نبوت سے مشابہ ہے ایسا ہی میری روحانی حالت ابن مریم کی روحانی حالت سے مشابہت رکھتی ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١) حالانکہ کشتی نوح میں مرزا نے اپنے کو ”ابن مریم“ ٹھہرایا ہے جس کا حوالہ اوپر دیا جا چکا ہے۔ ہوائے نفس نے اور آگے بڑھایا اور وہ اس حد تک پہنچ گیا: ”میرا دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں، جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥)

مسیح موعود کے دعوے کے بعد نبی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ”میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں، پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں جنہیں تم لوگ سچا مانتے ہو۔“ (اخبار بدر مورخہ ١٩؍ اپریل ١٩٠٦ء) اس دعوے میں ”بروزی“ اور ”ظلی“ ہونے کا دم چھلا بھی لگا دیا گیا اور گزشتہ انبیاء کرام کی مانند اپنے ”نبی“ ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ ١٨٩٩ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ عقیدہ تھا: ”میرے لئے کافی فخر ہے کہ میں ان لوگوں (صحابہ) کا مداح اور خاک پا ہوں جو جزوی فضیلت خدائے تعالیٰ نے انہیں بخشی ہے وہ قیامت تک اور شخص نہیں پاسکتا۔ (اعلان مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان اگست ١٨٩٥ء) مگر...... آگے چل کر کہا:

صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

پھر انبیاء کرام سے اپنے کو افضل ٹھہرایا اور رسول اللہ ﷺ تک پر خود کو فضیلت دی جس کے اقتباسات اوپر دیئے جاچکے ہیں۔ جو شخص صحابہ کرام کی خاک پا ہونے پر فخر کرتا تھا، پھر یوں کہنے لگا: ”خدا عرش پر تیری تعریف کرتا ہے، ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔“

(رسالہ درود شریف، بحوالہ اربعین نمبر ٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١١)

ہے۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٨)

ص ٤٢٠) اور مرزا قادیانی نے فرمایا کہ ”پہلا مسیح صرف مسیح تھا۔ اس لئے اس کی امت گمراہ ہو گئی اور موسوی سلسلہ کا خاتمہ ہوا۔ اگر میں مہدی ہوں اور (محمد) ﷺ کا بروز بھی، اس لئے میری امت

١٨

کے دو حصے ہوں گے۔ ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ اختیار کریں گے دوسرے جو مہدویت کا رنگ اختیار کریں گے۔“ (ارشاد مرزا غلام احمد جنوری ١٩١٦ء) اور پھر اس نبی کاذب نے اعلان کیا: ”آج سے ا تھا۔ خدا کے حکم سے بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار ا وہ اس رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔ سو اب میرے ظہور کے

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب
منکر نبی کا ہے جو رکھتا ہے یہ

(مجمو

اور جھوٹی نبوت کی اس ”پٹہ بازی“ میں ترپ کا یہ آخری بھی ہے اور نبی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ ا کو اور اس وحی کو جو میرے اوپر ہوتی ہے، فلک یعنی کشتی کے نام سے میری وحی میری تعلیم اور میری تربیت اور میری بیعت کو نوح کی کش لئے معیار نجات ٹھہرایا جس کے آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کا

(حا

موعود“ کو نہ ماننا کفر ہے۔ ٥...... جو انبیاء کرام سے اپنے کو افضل ا رسول ﷺ پر بھی کسی نہ کسی جہت سے اپنی فضیلت ثابت کرتا ہو کا اپنی ذات کو مخاطب اور مصداق جانتا ہو۔ اس کے بارے میں اس طرح دھوکہ دینا کہ مرزا نے مجدد، امام اور صرف مسیح موعود ہو نہیں کیا۔ کتنی جھوٹ اور غلط بات ہے۔ کشتی نوح میں مرزا نے قاد کر کہتا ہے کہ:

١٩

صفحہ ٢٩

کے دو حصے ہوں گے ۔ ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ اختیار کریں گے اور یہ تباہ ہو جائیں گے اور دوسرے جو مہدویت کا رنگ اختیار کریں گے۔“ (ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل ٢٦؍ جنوری ١٩١٦ء ) اور پھر اس نبی کاذب نے اعلان کیا: ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم سے بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔“

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ و قتال
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو رکھتا ہے یہ اعتقاد

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٨، ٢٩٧)

اور جھوٹی نبوت کی اس ”پتہ بازی“ میں ترپ کا یہ آخری پتہ: ”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے اوپر ہوتی ہے، فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی میری تعلیم اور میری تربیت اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے معیار نجات ٹھہرایا جس کے آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“

(حاشیہ اربعین ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

موعود“ کو نہ ماننا کفر ہے۔ ٥....... جو انبیاء کرام سے اپنے کو افضل سمجھتا ہوں ۔ ٦....... یہاں تک کہ رسول ﷺ پر بھی کسی نہ کسی جہت سے اپنی فضیلت ثابت کرتا ہو ٧....... اور قرآن کی متعدد آیات کا اپنی ذات کو مخاطب اور مصداق جانتا ہو۔ اس کے بارے میں لاہوری جماعت کا مسلمانوں کو اس طرح دھوکہ دینا کہ مرزا نے مجدد، امام اور صرف مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ کتنی جھوٹ اور غلط بات ہے۔ کشتی نوح میں مرزائے قادیان کسی ابہام و تشابہ کے بغیر کھل کر کہتا ہے کہ:

١٩

صفحہ ٣١

”ہلاک ہو گئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہیں کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور اس کے نوروں سے میں آخری نور ہوں بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“

(کشتی نوح ص ٥٦، خزائن ج ١٩ ص ٦١)

وہ جو کسی نے کہا ہے کہ ”دروغ گو را حافظ نباشد“ تو مرزا کے دروغ گو اور جھوٹے ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس کے کلام میں حد درجہ تناقض پایا جاتا ہے۔ کبھی کچھ کہتا ہے اور کبھی کچھ۔ اس کے اقوال اور احوال گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں۔ اس کے یہاں ایسے اقوال بھی ملتے ہیں جن میں دعویٰ کا انکار ہے مگر بعض دوسرے اقوال میں اس کے نبی ہونے کا دعویٰ بھی ہے۔ وہ خود کہتا ہے:

”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥) تو اپنے ہی قول کی رو سے کلام میں تناقض ہونے کے سبب مرزا جھوٹا قرار پاتا ہے۔ یہی وہ جادو ہے جو سر چڑھ کر بولا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں جھوٹوں اور لپاڑیوں کے کذب وافتراء کا پردہ چاک کر دیتا ہے۔

انگریزی حکومت کی نیازمندی

مرزا غلام احمد قادیانی کی سیرت و کردار کی یہی جھلک اسے بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کی وفاداری اور نیازمندی پر اس نے فخر کیا ہے: مرزا نے لکھا ہے کہ: ”میں نے کوئی کتاب یا اشتہار ایسا نہیں لکھا جس میں گورنمنٹ کی وفاداری اور اطاعت کی طرف اپنی جماعت کو متوجہ نہیں کیا اور اس لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔“ (ضرورت الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٣) جو شخص اپنے کو نبوت کا ظل اور بروز کہتا ہے وہ قرآن کے اولی الامر سے یہ مفہوم اخذ کرتا ہے کہ انگریزی حکومت اس حکم میں داخل ہے اور اس کافر حکومت کی اطاعت منصوص ہے۔

”یہ وہ فرقہ ہے جو فرقہ احمدیہ کے نام سے مشہور ہے اور پنجاب اور ہندوستان اور دیگر متفرق مقامات میں پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ فرقہ ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے

٢٠

خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے۔ گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام پر کارروائیوں کا ہونا ضروری ہے جس سے مسلمانوں کے دلوں میں منقوش اسلام کے لئے درحقیقت چشمہ فیض ہے۔“

(قادیانی رسالہ ریویو آف

جس شخص نے انگریزوں کی خوشنودی کی خاطر فریضہ جہاد حکومت انگریزی کو اسلام کے لئے چشمہ فیض سمجھا ہو۔ کیا وہ ولی، مجدد اور کے مسلمہ فریضہ اور منصوص رکن کو جس شخص نے منسوخ کر دیا۔ اس نے دین کی بنیادوں کو ڈھایا ہے؟۔ انگریز مسلمانوں کے جوش جہاد سے ڈرتا تھا قادیان نے انگریز کی دل دہی اور خوشنودی کے لئے دین کے اس عظیم دیا۔ اس گراوٹ، دنائت، بے شرمی اور اقتدار پرستی پر دعویٰ یہ کہ مجھ پر و مجھے شرف کلام سے نوازتا ہے۔ کیا مہدی کا ایسا کردار ہو سکتا ہے؟ اور سنئے

”اطلاع: براہین احمدیہ کے ص ٢٤١ میں ایک پیش گوئی گورنمنٹ اور وہ یہ ہے کہ 'وماکان اللہ لیعذبہم وانت فیہم اینما تولوا فث ایسا نہیں ہے کہ اس گورنمنٹ کو کچھ تکالیف پہنچائے۔ حالانکہ تو اس کی عملد تیرا منہ، خدا کا اسی طرف منہ ہے۔' کیونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ مجھے اس گور اور ظل حمایت میں دل خوش ہے اور اس کے لئے میں دعا میں مشغول ہوں مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ شام، نہ ایرا اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔ لہذا وہ اس الہام اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے تیرے سبب سے ہیں۔ چونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ۔ اب گورنمنٹ اس کو میرے زمانہ میں کیا کیا فتوحات نصیب ہوئیں۔ یہ الہام سترہ برس کا ہو سکتا ہے۔ غرض گورنمنٹ کے بمنزلہ حرز سلطنت کے ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارا

١؎ قرآن کریم کی ان آیات کا ترجمہ مرزا نے جن الفاظ میں کیا ہے اسی سے پروازی اور ساتھ ہی خباثت نفس کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔

٢١

صفحہ ٣١

خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے۔ گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام کی طرف سے ایسی کارروائیوں کا ہونا ضروری ہے جس سے مسلمانوں کے دلوں میں منقوش ہو جائے کہ یہ سلطنت اسلام کے لئے درحقیقت چشمہ فیض ہے۔“

(قادیانی رسالہ ریویو آف ریلیجنز ١٩٠٣ء جلد ١ اور نمبر ٢)

جس شخص نے انگریزوں کی خوشنودی کی خاطر ”فریضہ جہاد“ کو بیہودہ رسم کہا ہو اور حکومت انگریزی کو اسلام کے لئے چشمہ فیض سمجھا ہو۔ کیا وہ ولی، مجدد اور امام ہو سکتا ہے؟۔ اسلام کے مسلمہ فریضہ اور منصوص رکن کو جس شخص نے منسوخ کر دیا۔ اس نے دین کی تجدید کی ہے یا دین کی بنیادوں کو ڈھایا ہے؟۔ انگریز مسلمانوں کے جوش جہاد سے ڈرتا تھا اور مرعوب تھا۔ مرزائے قادیان نے انگریز کی دل دہی اور خوشنودی کے لئے دین کے اس عظیم رکن کی تنسیخ کا اعلان کر دیا۔ اس گراوٹ، دنائت، بے شرمی اور اقتدار پرستی پر دعویٰ یہ کہ مجھ پر وحی آتی ہے اور اللہ تعالیٰ مجھے شرف کلام سے نوازتا ہے۔ کیا مہبط وحی کا ایسا کردار ہو سکتا ہے؟ اور سنئے!

”اطلاع: براہین احمدیہ کے ص ٢٤١ میں ایک پیش گوئی گورنمنٹ برطانیہ کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ ”وماکان اللہ لیعذبہم وانت فیہم اینما تولوا فثم وجہ اللہ“ یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ اس گورنمنٹ کو کچھ تکالیف پہنچائے۔ حالانکہ تو اس کی عملداری میں رہتا ہو جدھر تیرا منہ، خدا کا اسی طرف منہ ہے۔ ١؎ کیونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ مجھے اس گورنمنٹ کی پر امن سلطنت اور ظل حمایت میں دل خوش ہے اور اس کے لئے میں دعا میں مشغول ہوں کیونکہ میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ شام، نہ ایران میں، نہ کابل میں! مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔ لہٰذا وہ اس الہام میں ارشاد فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات سب تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ۔ اب گورنمنٹ شہادت دے سکتی ہے کہ اس کو میرے زمانہ میں کیا کیا فتوحات نصیب ہوئیں۔ یہ الہام سترہ برس کا ہے۔ کیا یہ انسان کا فعل ہو سکتا ہے۔ غرض گورنمنٹ کے بمنزلہ حزب سلطنت کے ہوں“۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٦، ٣٦٧)

١؎ قرآن کریم کی ان آیات کا ترجمہ مرزا نے جن الفاظ میں کیا ہے اسی سے اس کی عربی دانی اردو انشاء پردازی اور ساتھ ہی خباثت نفس کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔

٢١

صفحہ ٣٣

حکومت انگریزی جیسی ظالم اور اسلام دشمن حکومت کے اقبال وشوکت اور فتوحات کو جو شخص اپنی دعا کا اثر بتاتا ہو اور کہتا ہو کہ ”میں گورنمنٹ کے لئے بمنزلہ حرز سلطنت ہوں۔“ کیا ایسا شخص دین، ملت اور مسلمانوں کا خیر خواہ ہوسکتا ہے؟ اور حکومت کا اس درجہ خوشامدی اور کاسہ لیس، جس نے شاعروں کو بھی بادشاہوں کی بھٹئی اور قصیدہ خوانی میں منزلوں پیچھے چھوڑ دیا ہو۔ مذمت کا مستحق ہے یا منقبت کا؟ اس نبی کاذب کا ایک اور عجیب وغریب کارنامہ ملاحظہ کیجئے۔

عدالتی اقرار نامہ

”عدالتی اقرار نامہ مرزا غلام احمد قادیانی بمقدمہ فوجداری اجلاس مسٹر جے، ایم ڈوئی صاحب بہادر، ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور، مرجوعہ ٥؍جنوری ١٨٩٩ء فیصلہ ٢٥؍ فروری ١٨٩٩ء نمبر بستہ قادیان نمبر مقدمہ ١/٣...... میں مرزا غلام احمد قادیانی بحضور خداوند تعالیٰ باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ:

خیال کئے جاسکیں کہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ ) ذلت پہنچے گی یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔

سربمہر بیاں کہ اسے کیا کہئے) کروں گا کہ وہ کسی شخص کو (خواہ مسلمان ہو، خواہ ہندو یا عیسائی وغیرہ) ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ عتاب الٰہی ہے، یہ ظاہر کرکے مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔

منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ) ذلت اٹھائے گا اور یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔

ہے، ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اس طریقہ پر عمل کریں جس طریق پر کار بند ہونے کا میں نے دفعہ ١ تا ٣ میں اقرار کیا ہے۔

العبد مرزا غلام احمد بقلم خود

گواہ شد خواجہ کمال الدین، بی اے، ایل ایل بی

دستخط جے ایم ڈوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ٢٤؍فروری ١٨٩٩ء

٢٢

مسیح موعود اور نبی اپنے ”الہام“ کے شائع نہ کرنے کا ا حضور پیش کر رہا ہے۔ آخر یہ کیا تماشا، سوانگ اور مضحکہ ہے؟ ”پہلے میرا عقیدہ یہ تھا کہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلا رسول تھے۔ مگر بعد ازاں مجھ پر وحی کی بارش ہوئی۔ مجھے اپنا سا مجھے رسول کہہ کر پکارتا ہے اور مجھے اس نے واضح طور پر اپنا رسول م

(حقیقت الوحی ص ١٤٩

کیا انبیاء اور رسول عقیدہ بھی بدل لیا کرتے ہیں؟ جھو حد وانتہا ہے؟ اور جہاں تک نسخ کا تعلق ہے، وہ فقہی احکام میں وارد حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے پ گے۔ اس حدیث کے مفہوم کی شرح وتفسیر مرزائے قادیان کی زبانی ”اب یہ بھی جاننا چاہئے کہ ”دمشق“ کا لفظ جو ”مسلم“ صحیح بخاری میں جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے مینارۂ سفید کے سے محقق لوگوں کو حیران کرتا چلا آیا ہے۔ واضح ہو کہ دمشق کے لفظ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام رکھا گیا ہے، جس میں الطبع اور یزید پلید کے عادات اور خیالات کے پیرو ہوں۔ خدا تعالیٰ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزید الطبع لوگ اس میں سکونت مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے۔“

(حاشیہ ازالۃ الاوہام ص ٦٣ تا ٧٣، خزائن

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمان

جائزہ

مرزا غلام احمد قادیانی ہی کے اقوال اور تحریروں سے اس وہ ایک ایسے پست دماغی شخص کی شخصیت ہے جو مراق، ضعف مریض رہا ہے۔ پھر یہ شخص شروع شروع میں ١٨٨٠ء تا ١٨٨٩ء تک کر منظر عام پر آتا ہے۔ پھر مہبط وحی ولایت، مجدد وقت اور مامور من ساتھ ہی مسیح علیہ السلام سے اپنی مماثلت کا اظہار بھی تقریباً دو تین

٢٣

صفحہ ٣٣

مسیح موعود اور نبی اپنے ”الہام“ کے شائع نہ کرنے کا ”اقرار نامہ“ انگریز مجسٹریٹ کے حضور پیش کر رہا ہے۔ آخر یہ کیا تماشا ، سوانگ اور مضحکہ ہے؟

”پہلے میرا عقیدہ یہ تھا کہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہمسر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ رسول تھے۔ مگر بعد ازاں مجھ پر وحی کی بارش ہوئی۔ مجھے اپنا سابقہ عقیدہ ترک کرنا پڑا۔ اب اللہ مجھے رسول کہہ کر پکارتا ہے اور مجھے اس نے واضح طور پر اپنا رسول مقرر کیا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣ ملخص)

کیا انبیاء اور رسول عقیدہ بھی بدل لیا کرتے ہیں؟ جھوٹ اور دجل و فریب کی بھلا کوئی حد و انتہا ہے؟ اور جہاں تک نسخ کا تعلق ہے، وہ فقہی احکام میں واقع ہوا ہے، عقائد میں نہیں۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے مینارۂ سفید کے پاس نازل ہوں گے۔ اس حدیث کے مفہوم کی شرح و تفسیر مرزائے قادیان کی زبانی سنئے:

”اب یہ بھی جاننا چاہئے کہ ”دمشق“ کا لفظ جو ”مسلم“ کی حدیث میں وارد ہے۔ یعنی صحیح بخاری میں جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے مینارۂ سفید کے پاس اتریں گے۔ یہ لفظ ابتداء سے محقق لوگوں کو حیران کرتا چلا آیا ہے۔ واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام رکھا گیا ہے، جس میں ایسے لوگ رہتے ہوں جو یزید الطبع اور یزید پلید کے عادات اور خیالات کے پیرو ہوں۔ خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرما دیا کہ یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزید الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں۔ دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے۔“

(حاشیہ ازالۃ اوہام ص ٦٣ تا ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٤ تا ١٣٨، حاشیہ ملخص)

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں

جائزہ

مرزا غلام احمد قادیانی ہی کے اقوال اور تحریروں سے اس کی جو شخصیت سامنے آتی ہے وہ ایک ایسے پست و عامی شخص کی شخصیت ہے جو مراق، ضعف باہ، سل، ذیابیطس اور سوء حفظ کا مریض رہا ہے۔ پھر یہ شخص شروع شروع میں ١٨٨٠ء تا ١٨٨٩ء تک مناظر اسلام اور مبلغ اسلام بن کر منظر عام پر آتا ہے۔ پھر مہبط وحی ولایت، مجدد وقت اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور ساتھ ہی مسیح علیہ السلام سے اپنی مماثلت کا اظہار بھی تقریباً دو تین سال (١٨٨٨ء تا ١٨٩٠ء) یہی

٢٣

صفحہ ٣٥

سلسلہ چلتا ہے۔ پھر ١٨٩١ء میں وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی موت کا اعلان کر کے خود اپنے مسیح موعود ہونے کا مدعی بنتا ہے اور اس کے بعد ١٩٠١ء میں اپنے نبی اور رسول ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ اس اعلان کے بعد قادیان میں ”جدید نبوت“ کا باقاعدہ انسٹی ٹیوشن اور محکمہ قائم ہو جاتا ہے۔ وہ خود ”علیہ السلام“ ہے اور اس کے ساتھی صحابہ اور ”رضی اللہ عنہم“ ہیں۔ اس کی بیوی ”ام المومنین“ ہے۔ اس کے اقوال میں تضاد اور تناقض کا یہ عالم ہے کہ:

”کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آ سکتا اور سیدنا مولانا محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے باہر سمجھتا ہوں۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥) مگر وہ پھر ”بروز“ اور ”ظل“ کی اصطلاحات کو پس پشت ڈال کر اپنی ایسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ جس میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ یہاں تک کہ ایک مستقل نبی اور رسول کی حیثیت سے فریضہ جہاد کی تنسیخ کا اعلان کر دیتا ہے اور اس طرح اپنے قول کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ میں فنافی الرسول ہوں اور مجھے جو کمالات ملے ہیں وہ محمد رسول ﷺ کے فیض اور واسطہ سے ملے ہیں ۔ مگر اس کے بعد وہ اپنے کو تمام انبیاء علیہم السلام بلکہ حضور خاتم النبیین ﷺ سے بھی افضل قرار دیتا ہے۔

کبھی کہتا ہے کہ میں ابراہیم اور موسیٰ ہوں۔ کہیں دعویٰ کرتا ہے کہ میں ہی محمد اور احمد ہوں اور اس کے بعد اس کی فساد زدہ طبیعت نے جو جھرجھری لی تو یہ بھی کہہ دیا کہ ہندوؤں کا اوتار کرشن بھی میں ہی ہوں۔

مرزا قادیانی کہیں یہ کہتا ہے کہ مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں۔ مگر اس کی تردید اس کی اپنی تحریر میں، ان الفاظ میں ملتی ہے:

”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرا دیا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زائد نہیں ، مجھے بذریعہ الہام کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنا دیا گیا۔ پس اسی طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

ا۔ مرزائے قادیان کی تحریروں کے اقتباسات اوپر دیئے جاچکے ہیں۔ ان کا اعادہ طوالت کا باعث ہوگا۔

٢٤

اس ضلالت کی بھلا کوئی حد و انتہا ہے کہ قرآن مجید کی وہ آیتیں مصداق نبی کریم ﷺ کی مقدس ذات ہے، انہیں اپنے اوپر منطبق کرتا ہے:

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٧)

(اربعین نمبر ٣ ص ١٥)

(انجام آتھم ص ٥٨)

یہ کفر و ضلالت اس حد تک پہنچی کہ اس نبی کاذب نے الوہیت کا دعویٰ

”میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں ہی خدا ہوں اور میں نے پیدا کئے ہیں۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٦٤، ٥٦٥)

مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی یہ کہا کہ قرآن میں قادیان کا ذکر کی قادیان سے مشابہت دی تا کہ مرزا کے دعویٰ مسیح موعود کے لئے ثبوت مل بلکہ الوہیت تک کا دعویٰ کر ڈالتا ہے۔ انگریزی حکومت کی نیاز مندی اور وفا کہتا ہے کہ حکومت انگریزی کو جو شان وشوکت اور فتوحات نصیب ہیں۔ ا اور دعا گوئی ہے اور میرا وجود انگریزی گورنمنٹ کے لئے بمنزلہ حرز سلطنت مجسٹریٹ کی عدالت میں اقرار نامہ داخل کرتا ہے کہ لوگوں کی رسوائی جن سے الہامات اب شائع نہیں ہوا کریں گے اور میں خدا کے پاس ایسی درخواست کروں گا جس سے کوئی شخص ذلیل یا مورد عتاب الہی ہوتا ہو۔ ”خانہ ساز ن عمل ہونا چاہئے۔

ایسے گھٹیا درجہ کا آدمی اس پست کردار اور جاہلوں جیسی سمجھ تحریروں میں شدید تناقض پایا جاتا ہے۔ جس کے دعوے مجذوب کی بڑ کے ہفوات و ہذیانات کفر و ارتداد سے لبریز ہیں کیا اس قابل ہے کہ اس ک نبی یا مسیح موعود اور مہدی منتظر یا مجدد و امام کا مقام دے۔ اس کی طرف لوگو

ا۔ جو شخص انبیاء کرام کی تنقیص کرتا ہو وہ اپنے قول کی صدا کرتوتوں کے ردعمل سے کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے۔

٢٥

صفحہ ٣٥

اس ضلالت کی بھلا کوئی حد و انتہا ہے کہ قرآن مجید کی وہ آیتیں جن کے مخاطب اور مصداق نبی کریم ﷺ کی مقدس ذات ہے، انہیں اپنے اوپر منطبق کرتا ہے:

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٧)

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٠)

(انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٥٨)

یہ کفر و ضلالت اس حد تک پہنچی کہ اس نبی کاذب نے الوہیت کا دعویٰ کر دیا:

"میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں ہی خدا ہوں اور میں نے ہی یہ زمین آسمان پیدا کئے ہیں۔"

(آئینہ کمالات ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی یہ کہا کہ قرآن میں قادیان کا ذکر آیا ہے۔ کہیں شہر دمشق کی قادیان سے مشابہت دی تاکہ مرزا کے دعویٰ مسیح موعود کے لئے ثبوت میسر آسکے۔ وہ جو نبوت بلکہ الوہیت تک کا دعویٰ کر ڈالتا ہے۔ انگریزی حکومت کی نیاز مندی اور وفاداری پر فخر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ حکومت انگریزی کو جو شان و شوکت اور فتوحات نصیب ہیں۔ ان کا سبب میری ذات اور دعا گوئی ہے اور میرا وجود انگریزی گورنمنٹ کے لئے بمنزلہ حرز سلطنت ہے۔ یہی شخص انگریزی مجسٹریٹ کی عدالت میں اقرار نامہ داخل کرتا ہے کہ لوگوں کی رسوائی جن سے ہوتی ہے۔ میرے وہ الہامات اب شائع نہیں ہوا کریں گے اور میں خدا کے پاس ایسی درخواست کرنے سے اجتناب کروں گا جس سے کوئی شخص ذلیل یا مورد عتاب الٰہی ہوتا ہو۔" خانہ ساز نبوت" کا یہی مزاج اور عمل ہونا چاہئے۔

ایسے گھٹیا درجہ کا آدمی اس پست کردار اور جاہلوں جیسی سمجھ بوجھ کا انسان! جس کی تحریروں میں شدید تناقض پایا جاتا ہے۔ جس کے دعوے مجذوب کی بڑ سے بھی فروتر ہیں اور جس کے ہفوات و ہذیانات کفر و ارتداد سے لبریز ہیں کیا اس قابل ہے کہ اس کو اصل نبی یا بروزی و ظلی نبی یا مسیح موعود اور مہدی منتظر یا مجدد و امام کا مقام دے۔ اس کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے۔

ے جو شخص انبیاء کرام کی تنقیص کرتا ہو وہ اپنے قول کی صدائے بازگشت اور اپنے کرتوتوں کے رد عمل سے کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے۔

٢٥

صفحہ ٣٦

جماعت ربوہ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف لوگوں کو دعوت دیتی ہے اور لاہوری جماعت اس کی مجددیت اور امامت کی طرف مسلمانوں کو بلاتی ہے۔ دونوں جماعتوں کی عقیدت و محبت کا مرکز ایک ہی شخصیت ہے۔ اس لئے دونوں جماعتیں ایک ہی جیسی ہیں اور ایک ہی طرح کی ضلالت میں مبتلا ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کی تحریر کا اقتباس اوپر درج ہو چکا ہے کہ: ”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں، نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے اللہ سے دعا کرتا ہوں۔

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٧٠)

مکہ، مدینہ، روم و شام اور ایران و کابل میں مسلمانوں کی حکومتیں تھیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو یہ حکومتیں اس لئے ناپسند تھیں کہ ان میں اس کی جھوٹی نبوت کی تبلیغ نہیں ہوسکتی تھیں۔ قادیانیت کافروں کی حکومت میں پنپ سکتی ہے۔ اس لئے قادیانی کسی ملک میں بھی مسلمانوں کی حکومت کو دل سے پسند نہیں کرتے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت پاکستان سے ان کی وفاداری اور تعلق خاطر کے معاملے میں ان کے دلوں کا کیا حال ہوگا۔؟

قادیانی جو اپنے مشن کی تبلیغ بڑی سرگرمی سے کر رہے ہیں۔ ان کے دجل وفریب سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے ہم نے بھی قادیانیت کے خدوخال نمایاں کر دیئے ہیں تاکہ مسلمان ان کے دام تزویر میں آنے سے محفوظ رہیں۔ انہیں قادیانیت کی تبلیغ کا حق حاصل ہے تو ہمیں اسلام کی مدافعت سے کون روک سکتا ہے۔

١۔ ہمارے غم وغصہ کی کوئی حد نہیں رہتی۔ جب قادیانیوں کا ایسا لٹریچر ہمارے پاس آتا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کے حریف نبی، کاذب کے نام کے ساتھ ”حضرت اقدس“ جیسے تعظیم وتکریم کے القاب و آداب لکھے جاتے ہیں۔ جس شخص نے انبیاء کرام اور ذات خاتم النبیین پر اپنی فضیلت و برتری کا اعلان کیا ہو اور بعض انبیاء کی تنقیص کی ہو۔ اس کے لئے ہماری زبان اور قلم سے تکریم کا لفظ نہیں نکل سکتا۔ جھوٹے نبی کے لئے وہی الفاظ استعمال کئے جائیں گے جو اس کے لائق ہیں۔ مرزائے قادیان نے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کی پرواہ نہیں کی اور اس کی وہ کتابیں قادیانی برابر شائع کر رہے ہیں۔ تو اس صورت میں چند لاکھ قادیانیوں کی دلدہی کے لئے حریف نبوت کا احترام وتکریم کرنے سے ہم معذور ہیں۔

٢٦

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

قذف بالحق

علی الباطل

جناب پروفیسر محمد اسماعیل

PDF 39

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

سمجھ آخر نبی مجھ کو رحم کر میری امت پر

قذف بالحق

علی الباطل

جناب پروفیسر محمد اسماعیل

صفحہ ٣٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پیش لفظ

الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لانبی بعدہ!

شعبہ نشر و اشاعت نظارت اشاعت لٹریچر و تصنیف صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ نے ایک رسالہ موسومہ ”مباحثہ بر موضوع رفع و وفات عیسیٰ علیہ السلام ونزول ابن مریم“ حال ہی میں شائع کیا ہے۔ ایک احمدی احتجاج علی زبیری کیمبل پوری کی کاوشوں سے یہ رسالہ منظر عام پر آیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ قاضی محمد نذیر فاضل لائل پوری کے ساتھ حیات مسیح پر میرا مناظرہ ہوا تھا لیکن زبیری صاحب نے میری اجازت کے بغیر میرا خط شائع کردیا۔ اگر وہ مجھے مطلع کرتے کہ وہ میرے دلائل چھپوانا چاہتے ہیں تو میں انہیں مناسب مواد مہیا کرتا۔ لیکن انہوں نے مطلقاً مجھے اطلاع نہیں دی اور رسالہ چھپوا کر میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ اس رسالے کے اندر اقتباسات تو میرے خط سے ضرورت کے مطابق لئے گئے ہیں۔ لیکن میری ایک بھی دلیل عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کے کذب کے متعلق نہیں دی۔ حسب عادت تلبیس، تاویل اور تحریف سے کام لیا ہے۔ اصل حقیقت منکشف کرنے کے لئے اور فریب دہی اور کذب بیانی کا پول کھولنے کے لئے خاکسار کی ایک حقیر سی کوشش ہدیہ قارئین کی جارہی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اسے گم کردہ راہوں کے لئے شمع ہدایت بنائے اور روزِ قیامت بندہ کو خاتم المرسلین کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین!

محمد اسماعیل عفی عنہ

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

احتجاج علی زبیری کیمبل پوری نے ایک رسالہ بعنوان ”مباحثہ بر موضوع رفع و وفات عیسیٰ علیہ السلام ونزول ابن مریم“ ربوہ سے شائع کرایا ہے۔ پہلے زبیری صاحب کے دلائل سے متعلق اقتباسات ہیں اور بعد میں زبیری صاحب کے دلائل کے جواب میں خاکسار کے دلائل ہیں۔ صفحات کے نمبر اسی رسالے کے ہیں۔ ص ٤ تا ٦ پر لکھتے ہیں:

”وفات مسیح ثابت کرنے کے لئے زبانی بحث میں آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قیامت کے دن بیان والی آیت ”وکنت علیہم شہیدا مادمت فیہم فلما توفیتنی“ کی تفسیر سمجھانے کے لئے سورہ زمر کی آیت ”اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم

٢

تمت فی منامھا فیمسک التی قضیٰ علیھا الموت ویرسل ٤٢)“ پیش کی گئی۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ:

اللہ تعالیٰ نفس انسانی کی توفی موت کے وقت کرتا ہے اور جس کی توفی نیند کی حالت میں کرتا ہے۔ پس جس نفس پر موت وارد ہوا اسے صورت میں نیند کی حالت میں توفی یعنی قبض روح کرے تو اس روح کی واپس بھیجتا رہتا ہے۔

اس آیت سے ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے نفس یعنی روح اس کی دو صورتوں میں حصہ کیا گیا ہے۔ پہلی صورت موت کے وقت قبض صورت نیند کے وقت قبض روح کی ہے۔ جس نفس پر موت وارد ہوا اسے دنیا میں واپس نہیں بھیجتا اور جس نفس پر موت وارد نہ ہوئی ہو، خواہ وہ کی اس کو توفی صرف نیند کی صورت میں ہوتی ہے اور اس کی روح صرف ہے۔ پھر بیداری پر خدا تعالیٰ اسے واپس کر دیتا ہے۔

”فلما توفیتنی“ کے الفاظ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نیند کی صورت میں توفی وارد ہونے کے سے انکار کیا۔ اس پر آپ کو قاضی صاحب نے کہا پھر تو حضرت عیسیٰ موت کی صورت متعین ہو گئی۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں سکتے ہیں کہ جب تو نے مجھے وفات دے دی۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ ال میں یہ آیت نص صریح اور دلیل قطعی ہے۔ جس میں کسی تاویل کی گنجائش نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کی تیسری صورت وقوع میں آئی کی صورت کی توفی ہے۔ جو آیت ”ماقتلوہ بل رفعہ اللہ الیہ“ ”انی متوفیک ورافعک الیٰ“ کے وعدہ کے مطابق خدا تعالیٰ کے ساتھ آسمان پر اٹھا لینے سے کی ہے۔ اس پر آپ نے قاضی صاح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کے ذریعے خدا کی طرف اٹھا لینے کا طرف اٹھا لینے کا ذکر اور نہ خدا تعالیٰ کی طرف کسی کا روح مع الجسم کی محال ہے۔ کیونکہ اس سے خدا کا مجسم محدود المکان اور زوجہت ہونا لازمی

٣

صفحہ ٣٩

تمت في منامها فيمسك التي قضى عليها الموت ويرسل الاخرى (زمر: ٣٩ تا ٤٢)" پیش کی گئی۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ نفس انسانی کی توفی موت کے وقت کرتا ہے اور جس نفس کو موت نہ آئی ہو اس کی توفی نیند کی حالت میں کرتا ہے۔ پس جس نفس پر موت وارد ہو اسے روکے رکھتا ہے اور دوسری صورت میں نیند کی حالت میں توفی یعنی قبض روح کرے تو اس روح کی ایک مدت مقررہ کے لئے واپس بھیجتا رہتا ہے۔

اس آیت سے ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے نفس یعنی روح کی توفی ہی ہوتی ہے اور اس کی دو صورتوں میں حصر کیا گیا ہے۔ پہلی صورت موت کے وقت قبض روح کی ہے اور دوسری صورت نیند کے وقت قبض روح کی ہے۔ جس نفس پر موت وارد ہو اسے خدا تعالیٰ روک لیتا ہے اور دنیا میں واپس نہیں بھیجتا اور جس نفس پر موت وارد نہ ہونی ہو، خواہ وہ کوئی ہو عیسیٰ ہو یا کوئی اور ہو، اس کو توفی صرف نیند کی صورت میں ہوتی ہے اور اس کی روح صرف جسم کے اندر ہی قبض رہتی ہے۔ پھر بیداری پر خدا تعالیٰ اسے واپس کر دیتا ہے۔

سوال نمبر:١....... یہ آیت پیش کر کے محترم قاضی محمد نذیر صاحب نے آپ سے پوچھا تھا "فلما توفيتني" کے الفاظ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں آتے ہیں۔ کیا ان سے آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نیند کی صورت میں توفی وارد ہونے کے قائل ہیں؟ آپ نے اس سے انکار کیا۔ اس پر آپ کو قاضی صاحب نے کہا پھر تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کے لئے موت کی صورت متعین ہو گئی۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں فلما توفیتنی کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ جب تو نے مجھے وفات دے دی۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بارے میں یہ آیت نص صریح اور دلیل قطعی ہے۔ جس میں کسی تاویل کی گنجائش کا احتمال نہیں۔ اس پر آپ نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کی تیسری صورت وقوع میں آئی اور یہ رفع الجسم مع الروح کی صورت کی توفی ہے۔ جو آیت "ماقتلوه بل رفعه الله اليه" سے ثابت ہے۔ آیت "اني متوفيك ورافعك الى" کے وعدہ کے مطابق خدا تعالیٰ نے ان کی توفی جسم مع الروح کے ساتھ آسمان پر اٹھا لینے سے کی ہے۔ اس پر آپ نے قاضی صاحب نے کہا کہ قرآن مجید تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کے ذریعے خدا کی طرف اٹھا لینے کا ذکر کر رہا ہے۔ نہ آسمان کی طرف اٹھا لینے کا ذکر اور نہ خدا تعالیٰ کی طرف کسی کو روح مع الجسم کی صورت میں اٹھایا جانا تو امر محال ہے۔ کیونکہ اس سے خدا کا مجسم محدود المکان اور ذو جہت ہونا لازم آتا ہے اور یہ باتیں خدا کی

٣

صفحہ ٤١

شان کے لائق نہیں۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم کے ساتھ خدا کی طرف اٹھایا جانا ایک محال امر کو مستلزم ہونے کی وجہ سے باطل ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رفع والی توفی سے مراد یہی ہو سکتی ہے کہ سورۃ زمر کی حصریہ آیت کے مطابق ان کے اپنے بیان کی رو سے ان کی موت والی توفی ہوئی اور موت پر رفع الی اللہ سے مراد رفع روحانی ہی ہو سکتا ہے۔ نہ کہ رفع جسمانی جو محال ہونے کی وجہ سے باطل ہے۔‘‘

جواب ....... ص٤ پر آپ نے توفی کے معنی قبض روح کئے ہیں۔ حالانکہ توفی لفظ مفرد ہے اور قبض روح مرکب ، لہٰذا یہ معنے درست نہیں۔ اسی لئے سورۃ زمر کی آیت میں صرف یتوفی نہیں کہا ، بلکہ یتوفی الانفس کہا۔ اگر مفرد توفی کے معنے مرکب قبض روح ہیں۔ تو لفظ انفس کی کیا ضرورت تھی؟ پس ثابت ہوا کہ توفی کے حقیقی معنی مطلق قبض کے ہیں۔ نہ قبض روح کے۔

توفی کے وضعی اور حقیقی معنی ”اخذ الشی وافیا“ یعنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا ہیں۔ توفی ایک جنس ہے۔ اس کی نوع کا تعین کرنے کے لئے قرینہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

سورۃ آل عمران کی آیت ”انی متوفیک ورافعک الی“ میں ضمیر کا مرجع عیسیٰ ہیں جو کہ جسم اور روح کا مرکب ہیں۔ یہاں توفی کی نوع رافعا الی کے قرینے سے نیند متعین ہوگی۔ کیونکہ نیند اور رفع جسمی میں منافات نہیں۔ ”رافعک الی“ کہنے سے خدا کا مجسم، محدود المکان اور ذو جہت ہونا لازم نہیں آتا۔ قرآن مجید میں ہے : ”ومن یخرج من بیتہ مهاجرا الی الله ورسوله (١٠٠:٤)“ ”اور جو کوئی اپنے گھر سے نکلے گا ہجرت کرتے ہوئے اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف۔“

ہجرت کرنے والا جسم ، محدود المکان اور ذو جہت ہے اور رسول اللہ بھی مجسم ، محدود المکان اور ذو جہت ہیں۔ لیکن ہجرت الی اللہ کہنے سے ہجرت کرنے والے کی طرح اللہ تعالیٰ کا مجسم ، محدود المکان اور ذو جہت ہونا لازم نہیں آتا۔ ظاہر ہے کہ ہجرت الی اللہ سے مراد اللہ کے راستے میں اور اللہ کی رضا جوئی کے لئے ہجرت کرنا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : ”وقربناہ نجیا (٥٢:١٩)“ ”ہم نے اس (موسیٰ) کو سرگوشی کرنے کے لئے قریب کیا۔“

اللہ کی شان تو یہ ہے کہ : ”نحن اقرب الیہ من حبل الورید (٦:٥٠)“ ”یعنی ہم اس (انسان) کے شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں۔“ موسیٰ علیہ السلام انسان ہیں۔ ان کو قریب کرنے سے قریب کرنے والے یعنی اللہ تعالیٰ کا مجسم ، محدود المکان اور ذو جہت ہونا لازم نہیں آتا۔ بلکہ موسیٰ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب ظاہر ہوتا ہے۔ ”رفع“ کا لفظ ”وضع“ کے مقابل ہے۔

٤

جس کے معنی نیچے رکھنے کے ہیں۔ سو رفع کے معنی اوپر اٹھانے کے ہیں بـ اللہ الیہ“ میں ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو کہ روح اور جسم کا مـ جسمانی ہی مراد ہوگا۔ رفع روحانی نہیں ہو سکتا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے حـ علو مرتبہ کے اظہار کے لئے ہے۔ قرآن مجید میں ہے : ”أأمنتم من بكم الارض (١٦:٦٧)“ ”یعنی کیا تم اس سے جو آسمان میں ہـ میں دھنسا دے“ اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے۔ ”علوّ“ شان کی وجہ سے ہوا ہے اور چونکہ وہ آسمان میں ہے۔ سو اس کی طرف رفع ، آسمان کی طر اللہ کے معنی رفع الی السماء ہی ہوں گے۔

سوال نمبر : ٢...... ص ٦ پر آپ نے رفع والی توفی کا ذکر کیا ہے ۔ کہ توفی ایک جنس ہے اور رفع اس کی ایک نوع ہے اور یہی ہماری مراد ہـ ہیں : ”سورۃ زمر کی حصریہ آیت کے مطابق ان کے اپنے بیان کی رو ہوئی ۔“ گویا کہ آپ رفع اور موت کو ہم معنے قرار دے رہے ہیں۔ کیا عجیـ

جواب ...... ص ٩، ١٠ پر لکھتے ہیں : ”پس جب توفی کا مفہو صورتوں میں دائرہ ہے تو خدا تعالیٰ کے نفسِ انسانی کی توفی کی کوئی تیسری وفات والی توفی اور بصورت ”لم تمت فی منامها“ نیند والی توفی ہـ سکتی ۔“ قرآن مجید میں ہے : ”وتوفی کل نفس ماعملت (ا جائے گا ہر ایک نفس کو جو کچھ اس نے کمایا ہے۔“ یہاں توفی کا فاعل الـ انسانی ہے۔ تاہم یہ توفی نہ موت والی ہے اور نہ نیند والی۔

سوال نمبر : ٣...... ص١٠ پر لکھتے ہیں : ”پس توفی الگ فعل ہے او معنے الگ الگ ہیں لہٰذا ”انی متوفیک ورافعک الی“ میں وہ توفی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی اللہ ہوا اور وہ سورۃ زمر کی آیت کے خلا توفی ہی ہے۔ لاغیر۔“

جواب ....... یہاں پر آپ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی اللہ السلام زندہ انسان ہیں۔ کیونکہ روح کا نام عیسیٰ نہیں ہو سکتا۔ جب عیسیٰ ہی ہوگا اور چونکہ یہ توفی کے وقوع پر ہوا تو گویا آپ نے تسلیم کر لیا کہ توفی کی ایک نوع ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کی توفی آسمان پر زندہ اٹھائے جانے

٥

صفحہ ٤١

جس کے معنی نیچے رکھنے کے ہیں۔ سورفع کے معنی اوپر اٹھانے کے ہیں۔ آیت قرآنی ”بل رفعه الله الیہ “ میں ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو کہ روح اور جسم کا مرکب ہیں۔ پس یہاں رفع جسمانی ہی مراد ہوگا۔ رفع روحانی نہیں ہو سکتا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے رفع الی اللہ کا استعمال علو مرتبت کے اظہار کے لئے ہے۔ قرآن مجید میں ہے: ”أمنتم من في السماء أن يخسف بكم الارض (١٦:٦٧) “ یعنی کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے امن میں ہو کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے۔ ”علو“ شان کی وجہ سے اس کا آسمان میں ہونا بیان ہوا ہے اور چونکہ وہ آسمان میں ہے۔ سو اس کی طرف رفع ، آسمان کی طرف رفع ہوگا۔ پس رفع الی اللہ کے معنی رفع الی السماء ہی ہوں گے۔

سوال نمبر ٢: ....... ص ٦ پر آپ نے رفع والی توفی کا ذکر کیا ہے۔ جواب اس سے واضح ہے کہ توفی ایک جنس ہے اور رفع اس کی ایک نوع ہے اور یہی ہماری مراد ہے۔ لیکن آگے چل کر لکھتے ہیں: ”سورۃ زمر کی حصریہ آیت کے مطابق ان کے اپنے بیان کی رو سے ان کی موت والی توفی ہوئی ۔“ گویا کہ آپ رفع اور موت کو ہم معنے قرار دے رہے ہیں۔ کیا عجیب لغت دانی ہے؟

جواب ....... ص ١٠٩ پر لکھتے ہیں : ” پس جب توفی کا مضمون اثبات اور نفی کی ہر دو صورتوں میں دائرہ ہے تو خدا تعالیٰ کے نفس انسانی کی توفی کی کوئی تیسری صورت جو اس اثبات یعنی وفات والی توفی اور بصورت ’لم تمت فی منامها“ نیند والی توفی سے باہر ہو، متصور ہو ہی نہیں سکتی۔“ قرآن مجید میں ہے: ”وتوفی كل نفس ماعملت (١١١:١٦) “ اور پورا دیا جائے گا ہر ایک نفس کو جو کچھ اس نے کمایا ہے۔ یہاں توفی کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور مفعول نفس انسانی ہے۔ تاہم یہ توفی نہ موت والی ہے اور نہ نیند والی۔

سوال نمبر ٣: ....... ص ١٠ پر لکھتے ہیں: ”پس توفی الگ فعل ہے اور رفع الگ اور دونوں کے معنے الگ الگ ہیں لہٰذا ”اني متوفیک ورافعك الى “ میں وہ توفی مراد ہو گی جس کے وقوع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی اللہ ہوا اور وہ سورۃ زمر کی آیت کے لحاظ سے موت کے وقت والی توفی ہی ہے۔ لاغیر۔“

جواب ....... یہاں پر آپ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی اللہ مان رہے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام زندہ انسان ہیں۔ کیونکہ روح کا نام عیسیٰ نہیں ہو سکتا۔ جب عیسیٰ کا رفع ہوا تو یہ رفع جسمانی ہی ہوگا اور چونکہ یہ توفی کے وقوع پر ہوا تو گویا آپ نے تسلیم کر لیا کہ توفی ایک جنس ہے اور رفع اس کی ایک نوع ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کی توفی آسمان پر زندہ اٹھائے جانے سے ہی ہوئی۔

٥

صفحہ ٤٣

سوال نمبر ٤: ...... ص ١١٠، ١١١ پر لکھتے ہیں: ”جناب من! آیت ”انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج“ میں خود آپ نے حصر حقیقی نہیں مانا۔ بلکہ بظاہر حصر لکھا ہے۔ لہٰذا اس آیت میں صرف استغراق عرفی پایا جاتا ہے نہ کہ استغراق حقیقی۔ لہٰذا اس بحث میں یہ آیت پیش کرنے کا اوّل: تو آپ کو حق ہی نہیں پہنچتا۔ کیونکہ بظاہر حصر پر حقیقی حصر کا قیام نہیں کیا جاسکتا۔ دوم: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش گو بن باپ تھی۔ لیکن تھی نطفہ امشاج سے۔ ان کی ماں ہی میں ان غذاؤں سے مرکب نطفہ پیدا ہوا۔ یعنی نطفہ امشاج جو نفسیاتی تحریک سے بیضہ انوثیت میں قرار پکڑ کر حمل کی صورت اختیار کر گیا۔ پس مریم ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماں ہے اور وہی باپ۔

جواب ...... پھر اگر آدم کی پیدائش اگر مٹی سے ہوئی ہے تو آیت ”ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب (آل عمران: ٥٩)“ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش مٹی سے ہوئی ہے بلکہ آیت ”خلقکم من تراب (٣٠:١١)“ کے مطابق ہر انسان کی پیدائش مٹی سے ہوئی ہے۔ پس ہم اور آپ سب مٹی سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ قرآن مجید میں انسان کی پیدائش تراب (مٹی) صلصال کالفخار (بجنے والی مٹی) طین (کیچڑ) طین لازب (یعنی لس دار مٹی) سلالۃ من طین یعنی مٹی کے خلاصہ سے ہوتی ہے۔ یہ وہ حالتیں ہیں جن میں سے ہر شخص کو گزرنا پڑتا ہے اور مسیح اور آدم کو بھی ان میں سے گزرنا پڑا۔ نطفہ امشاج بھی ایک طینی حالت ہی رکھتا ہے۔ مگر آیت ”انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج“ میں حصر حقیقی خود آپ نے نہیں مانا۔ لہٰذا اگر حضرت آدم علیہ السلام نطفہ امشاج سے فرض نہ کی جائے تو بوجہ آیت میں استغراق عرفی پایا جانے کے آپ کو سورۃ زمر کی اس آیت کے حصر حقیقی کو توڑنے کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ یہ حصر اثبات اور نفی کے دونوں پہلوؤں میں گردش کر رہا ہے۔ ان دونوں پہلوؤں سے باہر خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کی توفی کا کوئی فعل کسی تیسری صورت وقوع میں نہیں آسکتا۔“

آیت ”انا خلقنا الانسان ...... الخ“ میں انا کے لفظ سے ظاہر ہے کہ حصر حقیقی ہے اور آیت ”اللہ یتوفی الانفس حین موتھا ...... الخ“ میں لفظ انا موجود نہیں ہے۔ لہٰذا توفی کا بذریعہ موت اور نیند عمل میں آنا حقیقی حصر نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش نطفہ سے جو مرد و عورت کے اختلاط سے پیدا ہوتا ہے۔ کسی انسان کی ماں کا اس کا باپ بھی ہونا آپ کے ذہن رسا سمجھے تو سمجھے، ہم تو بہر حال سمجھنے سے قاصر ہیں۔

سورۂ آل عمران کی پوری آیت آپ نے نہیں لکھی۔ پوری آیت یہ ہے: ”ان مثل

٦

عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے، اسے مٹی سے بنایا پھر اس ہو گیا۔ ﴾

اس آیت سے ثابت ہوا کہ آدم علیہ السلام کا قالب اللہ ت اس سے کہا ہو جا، تو وہ ہو گیا۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی تخلیق لفظ علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں قرآن مجید کی آیت ہے: ”الت فنفخنا فیھا من روحنا (٩١:٢١)“ ﴿اور (اے رسول) اس بی نے اپنی عفت کی حفاظت کی تو ہم نے ان (کے پیٹ میں) اپنی طر

ہر انسان کی تخلیق مٹی سے نہیں ہوئی۔ قرآن مجید میں ہے:

”وبدأ خلق الانسان من طین ثم جعل نسلہ م (٨:٣٢)“ ﴿اور انسان کی ابتدائی خلقت مٹی سے کی۔ پھر اس کی نس بنائی۔﴾ سورۂ فاطر کی آیت میں ”خلقکم من تراب“ سے آبا ”خلق من تراب“ کا تعلق نوع انسانی سے ہے۔ ”ثم من نطفۃ“ ک ہے۔

آپ کی بیان کردہ پانچ حالتوں میں سے ہر شخص کو نہیں گز ثبوت فراہم نہیں کیا۔ انسان کا مختلف آیات میں تراب، صلصال، ط اور سلالۃ من طین سے پیدا کیا جانا بیان ہوا ہے۔

آدم علیہ السلام پہلے انسان ہیں۔ ان پر ان میں سے کسی ا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے نہیں۔ نطفہ امشاج کا ایک طینی حالت رکھ ثابت نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق کے نطفہ امشاج میں سے ہو ہے۔ آدم علیہ السلام کی پیدائش یقیناً نطفہ امشاج سے نہیں، نہ ان کی م علیہ السلام کا باپ نہیں تھا۔ لہٰذا ان کی پیدائش نطفہ امشاج سے ہو س ان کی پیدائش آدم علیہ السلام کی طرح اللہ تعالیٰ کے لفظ ”کن“ کہنے س حصر کو توڑا جا سکتا ہے تو توفی کے موت اور نیند میں وقوع کے حصر کو کیو کو مثال بھی پیش کر دی گئی ہے کہ توفی کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور نفس ک موت یا نیند کے ذریعے نہیں ہوئی۔

٧

صفحہ ٤٣

عیسیٰ عنداللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون ” بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے، اسے مٹی سے بنایا پھر اس سے کہا ہو جا، پس وہ انسان ہو گیا۔ ﴾

اس آیت سے ثابت ہوا کہ آدم علیہ السلام کا قالب اللہ تعالیٰ نے مٹی سے تیار کیا۔ پھر اس سے کہا ہو جا، تو وہ ہو گیا۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی تخلیق لفظ ”کن“ کہنے سے ہوئی۔ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں قرآن مجید کی آیت ہے: ”التی احصنت فرجہا فنفخنا فیہا من روحنا (٩١:٢١)“ ”اور (اے رسول) اس بی بی (مریم) کو (یاد کرو) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی تو ہم نے ان (کے پیٹ میں) اپنی طرف سے روح پھونک دی۔ ﴾

”وبدأ خلق الانسان من طین ثم جعل نسلہ من سلالۃ من ماء مہین (٨:٣٢)“ ”اور انسان کی ابتدائی خلقت مٹی سے کی۔ پھر اس کی نسل ذلیل پانی کے خلاصہ سے بنائی۔“ سورہ فاطر کی آیت میں ”خلقکم من تراب “ سے آگے ”ثم من نطفۃ “ ہے۔ ’خلق من تراب “ کا تعلق نوع انسانی سے ہے۔ ”ثم من نطفۃ“ اس طلق کا تعلق ہر ہر فرد سے ہے۔

آپ کی بیان کردہ پانچ حالتوں میں سے ہر شخص کو نہیں گزرنا پڑتا۔ اس کا آپ نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ انسان کا مختلف آیات میں تراب، صلصال کالفخار ، طین، طین لازب اور سلالۃ من طین سے پیدا کیا جانا بیان ہوا ہے۔

آدم علیہ السلام پہلے انسان ہیں۔ ان پر ان میں سے کسی لفظ کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ لیکن عیسیٰ علیہ السلام کے لئے نہیں۔ نطفہ امشاج کا ایک طینی حالت رکھنا آپ نے کسی آیت سے ثابت نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق کے نطفہ امشاج میں سے ہونے کے حقیقی حصر کو ضرور توڑا ہے۔ آدم علیہ السلام کی پیدائش یقیناً نطفہ امشاج سے نہیں، نہ ان کی ماں تھی اور نہ ان کا باپ۔ عیسیٰ علیہ السلام کا باپ نہیں تھا۔ لہٰذا ان کی پیدائش نطفہ امشاج سے ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کی پیدائش آدم علیہ السلام کی طرح اللہ تعالیٰ کے لفظ ”کن“ کہنے سے ہوئی۔ جب یہاں حقیقی حصر کو توڑا جا سکتا ہے تو توفی کے موت اور نیند میں وقوع کے حصر کو کیوں نہیں توڑا جاسکتا۔ اوپر آپ کو مثال بھی پیش کر دی گئی ہے کہ توفی کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور نفس انسانی مفعول ہے۔ لیکن توفی موت یا نیند کے ذریعے نہیں ہوئی۔

٧

صفحہ ٤٥

سوال نمبر : ٥........ ص ١٢ پر لکھتے ہیں : ”پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ ’کنت انت الرقیب علیھم‘ ان کے اپنے قول میں دوبارہ واپس نہ آنے پر بطور اشارہ روشن دلیل ہیں۔ کیونکہ توفی کا دامن قیامت تک ممتد ہے اور اس وقت سے ان کی قوم خدا کی نگرانی میں چلی آرہی ہے اور قیامت تک انہیں نگرانی کا موقع نہ ملا ہوگا۔ لہٰذا اس جگہ وفات والی توفی متعین ہوگئی۔ اس جگہ توفی کوئی اور معنی لینا ”کنت انت الرقیب علیھم“ کے الفاظ کے قرینہ کی رو سے محال ہیں۔ ورنہ میاں صاحب! آپ کے عقیدہ کے مطابق اگر توفی سے اصالتاً واپس دنیا میں آئیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس بیان کو جھوٹا قرار دینا پڑے گا کہ اے خدا جب تو نے میری توفی کرلی۔ یعنی بقول آپ کے مجھے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ تو اس وقت سے لے کر اس دن تک جو قیامت کا دن ہے مجھے قوم کی نگرانی کا موقع نہیں ملا۔ بلکہ تو ہی اے خدا ان کا نگران چلا آ رہا ہے۔“

جواب ........ یہ بات غلط ہے کہ توفی کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کو قوم کی نگرانی کا موقع نہیں ملا ہوگا۔ سورۃ مائدہ کی آیت ”کنت انت الرقیب علیھم“ یعنی میں اپنی قوم پر گواہ تھا۔ جب تک ان کے درمیان رہا۔ پس جب تو نے میری توفی کرلی تو تو ان پر نگران تھا کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کی توفی اس وقت ہوئی جب کہ وہ اپنی قوم کے درمیان موجود تھے۔ توفی کی ضرورت کیا ہوئی۔ اس کا جواب سورۃ النساء کی آیت: ”ماقتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ“ ﴿یعنی یہودیوں نے یقینا عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا﴾ رفع ماضی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ واقعہ صلیب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا۔ کیونکہ اس آیت سے پہلے کی آیت ”وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وماقتلوہ وماصلبوہ“ سے ظاہر ہے کہ صلیب پر کوئی شخص قتل ضرور ہوا ہے۔ لیکن وہ شخص عیسیٰ نہیں تھے۔ سورۃ النساء میں ہے:

”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیھم شھید (١٥٩:٤)“ ﴿اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو عیسیٰ پر عیسیٰ کی موت سے پہلے ایمان نہیں لے آئے گا اور قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے۔﴾

لیؤمنن میں ل تاکیدی اور نون ثقیلہ مضارع میں خصوصیت کے ساتھ مستقبل کے معنی پیدا کرتے ہیں۔ جن اہل کتاب کا اس آیت میں ذکر ہے۔ وہ نزول قرآن کے بعد مستقبل میں عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے اور قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے۔ آیت ”کنت علیھم شھیدا ما دمت فیھم“ کے مطابق گواہ کا مشہود فیھم میں ہونا ضروری

٨

ہے۔ اگر قرب قیامت کے زمانے میں عیسیٰ علیہ السلا بعد اپنے اوپر ایمان لانے والے اہل کتاب پر شہادت مذکورہ آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آسکتے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی قوم میں عدم موجودگی کے قیامت تک ممتد ہونے کا ذکر نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلا قوم میں موجود نہ ہونے کے وقت کی ہے۔ اگر ق ہوں گے۔ جیسا کہ سورۃ النساء کی آیت: ”ویوم ال ہے۔

سوال نمبر: ٦ ........ ص ١٣ پر لکھتے ہیں: ”خدا کے توفی کے معنے موت اور نیند قرار دیتا ہے۔ تو ڈکشنری

جواب ........ توفی کے معنی موت نہیں ہیں البيوت حتى يتوفهن الموت“ ﴿پس انہیں کرلے۔﴾

موت کو فعل توفی کا فاعل قرار دیا گیا۔ فاعل سے صادر ہوتا ہے۔ عین ذات فاعل نہیں ہوت

سوال نمبر : ٧ ........ ص ١٤ پر لکھتے ہیں: ”جناب آپ توفی کے معنی زندہ آسمان پر اٹھا لینا کر کے اس ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید میں خدا کے ان کو اپنی طر الفاظ۔“

جواب ........ توفی کو رفع الی السماء کے چکا ہے کہ توفی ایک جنس ہے اور ان کی تعیین کے ل ورافعك کے مطابق قرینہ رفع الی اللہ ہے۔ جو ق ہے۔ گزشتہ صفحات میں یہ وضاحت گزری کہ رف اس پر مزید روشنی ڈالی جاتی ہے۔ ارشاد باری تعال

يوم كان مقداره خمسين الف سنة

ایک دن میں چڑھتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزا

صفحہ ٤٥

ہے، اگر قرب قیامت کے زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل نہیں ہوں گے تو اپنی توفی کے بعد اپنے اوپر ایمان لانے والے اہل کتاب پر شہادت کیسے دیں گے؟

مذکورہ آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ قوم میں واپس نہیں آسکتے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی قوم میں عدم موجودگی کے وقت قوم خدا کی نگرانی میں رہی۔ توفی کا دامن قیامت تک ممتد ہونے کا ذکر نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا قول جھوٹا نہیں ہوگا۔ خدا کی نگرانی ان کے قوم میں موجود نہ ہونے کے وقت کی ہے۔ اگر دوبارہ قوم کے اندر موجود ہوں تو ان پر گواہ ہوں گے۔ جیسا کہ سورۃ النساء کی آیت: ”ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا“ میں تصریح ہے۔

سؤال نمبر: ٦...... ص١٣ پر لکھتے ہیں: ”خدا کے قائم کردہ حصر حقیقی کو جو سورۃ زمر کی آیت میں توفی کے معنی موت اور نیند قرار دیتا ہے۔ توڑنے سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔“

جواب...... توفی کے معنی موت نہیں ہیں۔ قرآن مجید میں ہے: ”فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت“ ﴿پس انہیں گھروں میں روکے رکھو،حتی کہ موت انہیں قبض کرلے۔﴾

موت کو فعل توفی کا فاعل قرار دیا گیا ہے۔ فاعل اور فعل ایک نہیں ہوتے۔ کیونکہ فعل فاعل سے صادر ہوتا ہے۔ عین ذات فاعل نہیں ہوا کرتا۔ توفی کے حقیقی معنی موت ہرگز ہرگز نہیں۔

سؤال نمبر: ٧...... ص١٤ پر لکھتے ہیں: ”جناب میاں صاحب! یہ کیا بے علمی کی بات ہے کہ آپ توفی کے معنی زندہ آسمان پر اٹھا لینا کر کے اس لفظ کو رفع الی السماء کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید میں خدا کے ان کو اپنی طرف اٹھا لینے کا ذکر ہے نہ آسمان پر اٹھا لینے کے الفاظ۔“

جواب...... توفی کو رفع الی السماء کے مترادف قرار نہیں دیا گیا۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ توفی ایک جنس ہے اور ان کی تعیین کے لئے قرینہ دیکھنا پڑتا ہے۔ آیت متوفیک ورافعک کے مطابق قرینہ رفع الی اللہ ہے۔ جو قرینہ کہ آیت ”بل رفعہ اللہ“ میں بھی موجود ہے۔ گزشتہ صفحات میں یہ وضاحت گزری کہ رفع الی اللہ سے مراد رفع الی السماء ہی ہے۔ یہاں اس پر مزید روشنی ڈالی جاتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”تعرج الملائکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ (١:٧٠)“ ﴿فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی طرف ایک دن میں چڑھتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔﴾

٩

صفحہ ٤٧

عروج اوپر کی جانب حرکت کو کہتے ہیں عروج سے مراد عالم بالا کے فرشتوں اور روحوں کے منتہاء امر کی طرف چڑھنا مراد ہے۔ تفسیر مدارک میں اس کی تفسیر میں لکھا ہے: یعنی اللہ تعالیٰ کے عرش اور منتہائے امر کی طرف آتی ہے۔ سورۂ فاطر میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه (......)“ ﴿ کلمہ طیب اللہ کی طرف چڑھتا ہے اور نیک عمل اس (کلمہ طیب) کو اوپر اٹھاتا ہے ﴾ صعود اس حرکت کو کہتے ہیں۔ جو اوپر کی جانب ہو اسے عروج بھی کہتے ہیں اور خدا کی طرف کلمہ کے چڑھنے کے معنی ہیں۔ فرشتوں کا لوگوں کے اعمال کی کتابت میں لا کر آسمان کی طرف چڑھنا۔ ان معنوں کی تائید حضرت ابن مسعودؓ کی مندرجہ ذیل حدیث سے ہوتی ہے:

”ان العبدالمسلم اذا قال سبحان الله وبحمده والحمدلله ولا اله الا الله والله اكبر وتبارك الله قبض عليهن ملك فضمهن تحت جنا حه ثم يصعد بهن الى السماء فلا يمر بهن على جمع من الملائكة الا استغفر لها كلهن حتّى يجيئ بهن وجه الرحمن ثم قرء اليه يصعد الكلم الطيب ، الاية “ ﴿ بیشک جس وقت کوئی مسلمان سبحان اللہ وبحمدہ الخ پڑھتا ہے۔ تو ایک فرشتہ ان کلمات کو لے لیتا ہے اور اپنے بازوؤں کے نیچے لگا کر آسمان پر لے چڑھتا ہے۔ پس فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے وہ گزرتا ہے۔ وہ سب اس کے قائل کے لئے دعائے استغفار کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی جناب پاک میں تحفہ پیش کئے جاتے ہیں۔ ﴾

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ حدیث سنا کر پھر آیت ”الیہ یصعد الکلم الطیب“ پڑھا۔ صحیح بخاری میں باب ذکر الملٰئکۃ میں کراما کاتبین کی نسبت ”ثم یعرج الیه الذین باتوا فیکم“ پھر جو رات کو تم میں رہے۔ خدا کی طرف اوپر چلے جاتے ہیں، وارد ہے۔ عروج کا صلہ الی آیا ہے اور یہ صعود کا ہم معنی ہے اور مراد عروج حقیقی ہے۔ نہ کنائی نہ مجازی غرضیکہ عروج الی اللہ کے معنی صعود الی السماء یا آسمان کی طرف چڑھنا ہی ہیں۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے: ”يرفع اليه عمل الليل قبل عمل النهار“ ﴿ دن کا عمل صادر ہونے سے پہلے رات کا عمل خدا کی طرف مرفوع ہو جاتا ہے۔ ﴾ اس حدیث میں رفع کا صلہ الی آیا ہے اور اعمال کے رفع کی صورت اوپر کی مثال میں گزر چکی۔ امام نوویؒ نے اس حدیث کی شرح یوں فرمائی: ”فان الملئکة الحفظة يصعدون باعمال الليل بعد انقضآئه فى اول النهار ويصعدون باعمال النهار بعد انقضائه فى اول الليل“ ﴿ محافظ فرشتے

١٠

رات کے اعمال رات گزر جانے پر دن کے اول وقت میں لے چڑھتے اعمال دن گزرنے پر رات کے شروع میں لے چڑھتے ہیں۔ اس عبار رفع کا صلہ الی آتا ہے تو اس کے معنی شے مذکور کو الی کے مدخول کی طرف شے جوہر ہو۔ خواہ عرض سورۂ فاطر کی آیت ”اليه يصعد الكلم ال يرفعه“ کی جو تفسیر حدیث شریف سے اوپر مذکور ہوئی ہے۔ اس سے اللہ اور صعود الی السماء معنوں میں مساوی ہیں۔

قرآن مجید کی سورۂ یوسف کی آیت ہے: ”ورفع ابو (١٠٠:١٢)“ ﴿ یعنی یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھ کا مفعول والدین ہیں اور علیٰ کا مدخول عرش ہے اور حقیقتاً والدین کا عرش اسی طرح آیات قرآنی: ”انى متوفيك ورافعك الى“ اور ”بل ر علیہ السلام کا جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہے۔

معتبر تفسیروں مثلاً معالم، تفسیر کبیر، تفسیر رحمانی، جلالین، کثیر، بیضاوی، کشاف، سراج المنیر، خازن اور تفسیر عباسی نے ”رافعه السماء“ مراد لکھا ہے۔

سوال نمبر: ٨....... ص ١٥ پر لکھتے ہیں: جب آپ نے کہا ”ما نہیں۔ جیسا کہ اوصانی بالصلوٰة والزکوٰة مادمت حیا میں حیا کا لفظ ہے۔ نے آپ کو کہا تھا کہ ”مادمت فیهم“ اور ”مادمت حیا“ دو اسلوب کلام ہیں۔ پس جناب میاں صاحب اس بات کو تو ہر شخص جا عليهم شهيدا مادمت فيهم“ کے جملہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلا میں موجود ہونے کے زمانے تک قرار دیتے ہیں۔ اور ”مشهود عل ان کے حیا یعنی زندہ ہونے کو ہی چاہتا ہے۔

جواب....... آپ کا یہ کہنا کہ ”مادمت فیہم“ اور ”ماد کے لئے دو اسلوب کلام ہیں۔ صحیح نہیں۔ یہ تو درست ہے کہ جب تک رہے۔ لیکن اس بات کا امکان ہے کہ قوم میں موجود نہ ہوں لیکن زن ہے کہ وہ دوسرے آسمان پر زندہ ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام قوم میں موجو کہتے ہیں کہ ”رفع الی السماء“ سے ہوئی۔ آپ کہتے ہیں کہ وف

١١

صفحہ ٤٧

رات کے اعمال رات گزر جانے پر دن کے اول وقت میں لے چڑھتے ہیں اور اسی طرح دن کے اعمال دن گزرنے پر رات کے شروع میں لے چڑھتے ہیں۔ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ جب رفع کا صلہ الی آتا ہے تو اس کے معنی شے مذکور کو الیٰ کے مدخول کی طرف اٹھانا ہوتے ہیں۔ خواہ وہ شے جوہر ہو۔ خواہ عرض سورۃ فاطر کی آیت ”الیه یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعه“ کی جو تفسیر حدیث شریف سے اوپر مذکور ہوئی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ رفع الی اللہ اور صعود الی السماء معنوں میں مساوی ہیں۔

قرآن مجید کی سورۃ یوسف کی آیت ہے: ”ورفع ابویه علی العرش (١٠٠:١٢)“ ”یعنی یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا۔ اس آیت میں رفع کا مفعول والدین ہیں اور علیٰ کا مدخول عرش ہے اور حقیقتاً والدین کا عرش پر مرفوع ہونا مراد ہے۔ اسی طرح آیات قرآنی: ”انی متوفیک ورافعک الیٰ“ اور ”بل رفعه الله الیه“ میں عیسیٰ علیہ السلام کا جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہے۔ معتبر تفسیروں مثلاً معالم، تفسیر کبیر، تفسیر رحمانی، جلالین، جامع البیان، مدارک، ابن کثیر، بیضاوی، کشاف، سراج المنیر، خازن اور تفسیر عباسی نے ”رافعك الیّ سے رفع الی السماء“ مراد لکھا ہے۔

سوال نمبر : ٨....... ص ١٥ پر لکھتے ہیں: جب آپ نے کہا ”مادمت حیّا“ اس جگہ نہیں ۔ جیسا کہ اوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیّا میں حیّا کا لفظ ہے۔ تو جواب میں قاضی صاحب نے آپ کو کہا تھا کہ ”مادمت فیہم“ اور ”مادمت حیّا“ زندگی کے بیان کے لئے ہی دو اسلوب کلام ہیں۔ پس جناب میاں صاحب اس بات کو تو ہر شخص جان سکتا ہے کہ ”وکنت علیہم شہیدا مادمت فیہم“ کے جملہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے شاہد ہونے کا ذکر قوم میں موجود ہونے کے زمانے تک قرار دیتے ہیں۔ اور ”مشہود علیہم“ میں ان کا موجود ہونا ان کے حیا یعنی زندہ ہونے کو ہی چاہتا ہے۔

جواب....... آپ کا یہ کہنا کہ ”مادمت فیہم“ اور ”مادمت حیّا“ زندگی کے بیان کے لئے دو اسلوب کلام ہیں۔ صحیح نہیں۔ یہ تو درست ہے کہ جب تک قوم میں موجود رہے، زندہ رہے۔ لیکن اس بات کا امکان ہے کہ قوم میں موجود نہ ہوں لیکن زندہ ہوں۔ جیسا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ دوسرے آسمان پر زندہ ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام قوم میں موجود تھے کہ ان کی توفی ہوگئی۔ ہم کہتے ہیں کہ ”رفع الی السماء“ سے ہوئی۔ آپ کہتے ہیں کہ وفات سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کوئی

١١

صفحہ ٤٩

ایسا لفظ استعمال نہیں کرتا کہ معاملہ شک میں رہے۔ اگر ”فلما توفیتنی“ سے وفات مراد ہوتی تو اللہ تعالیٰ ضرور ”مادمت حیا“ کہتے۔ جیسا کہ دوسری آیت ”اوصانی بالصلوۃ والزکوۃ مادمت حیا“ میں کہا اس کے دو وجوہ ہیں کہ نماز و زکوٰۃ کی طرح شہادت کا فعل بھی زندگی بھر رہتا ہے۔ سو ”دمت حیا“ چاہئے۔ زندہ ہونے کی صورت میں شہادت کا فعل ان کے قوم میں موجود ہونے کو مستلزم ہوگا۔ قوم میں موجودگی کے ذکر کی ضرورت نہیں۔ دوسری نہایت اہم وجہ یہ ہے کہ ”مادمت حیا“ کہنے سے یہ امکان ختم ہو جاتا ہے کہ قوم میں موجود نہ ہوں اور زندہ ہوں۔ اس صورت میں ”دمت حیا“ کے بعد ”فلما توفیتنی“ میں توفی کی صورت موت متعین کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہوگا جو آپ کی مراد ہے۔

چونکہ لفظ توفی کے معنی ہیں۔ اس کو ایک معنی میں معین کرنے کے لئے ضرور کوئی قرینہ موجود ہونا چاہئے۔ آیات ”رافعک الی“ اور ”بل رفعہ اللہ الیہ“ عیسیٰ کی توفی سے رفع آسمانی مراد لینے کے لئے قرائن قویہ ہیں۔ پس ”فلما توفیتنی“ کے معنی ”فلما رفعتنی الی السماء“ ہوں گے نہ کچھ اور۔

سوال نمبر :٩....... ص ٧١ پر لکھتے ہیں : ”اگر ایک انسان زندہ تو ہو، مگر اپنی قوم کے اندر موجود نہ ہو۔ بالفرض اگر کسی اور جگہ اپنی قوم سے علیحدہ ہو کر گیا ہو۔ تو وہ اپنی قوم پر اس زمانہ حیات میں جس میں وہ قوم سے الگ ہوا۔ قوم پر گواہ نہیں ہو سکتا۔“

ص ٧١ پر لکھتے ہیں : ”کسی پر شہادت دینا اپنی زندگی میں اس کا حال دیکھنے پر ہی ممکن ہے۔ پس شہادت کی مناسبت سے اس موقع پر اسلوب کلام ”مادمت حیا“ کہنے کو نہیں چاہتا۔ ”مادمت فیھم“ کہنے کو ہی چاہتا ہے۔

جواب ....... سورۃ مائدہ کی آیت ”وکنت علیھم شہیداً مادمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم“ کے مطابق توفی کے وقت عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں میں موجود تھے۔ جن سے انہوں نے کہا تھا ”ان اعبدوا اللہ ربی وربکم“ یعنی عبادت کرو اللہ کی جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی۔ ظاہر ہے کہ یہ اہل فلسطین تھے۔ آپ کا عقیدہ یہ ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد عیسیٰ علیہ السلام ہجرت کر کے کشمیر چلے گئے اور ستاسی برس کشمیر میں رہنے کے بعد وہیں وفات پائی۔ آپ کے اپنے قول کے مطابق جب وہ کشمیر میں تھے تو فلسطین میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے اہل فلسطین پر گواہ نہ تھے۔ حالانکہ قرآن اعلان کر رہا ہے کہ توفی کے وقت ان پر گواہ تھے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ ”فیھم“ سے مراد اہل کشمیر ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام ٨٧ برس ان پر

١٢

گواہ رہے۔ تو پھر آپ آیت ”کنت علیھم شھیداً مادمت فیھم“ کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قوم ان کی زندگی میں نہیں بگڑی۔ جب وہ اہل فلسطین تو ان کو قوم کے بگڑنے نہ بگڑنے کا کیسے علم ہو سکتا ہے۔

پس ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب سے بچ کر کشمیر کی طرف بنیاد بات ہے۔ اگر واقعہ ایسا ہوتا تو قرآن میں ”مادمت فیھم“ نہ آتا ٨٧ برس ( آپ کے عقیدے کے مطابق) اہل فلسطین میں نہیں رہے کذب بیانی ہوگی۔ اس صورت میں موزوں لفظ ”دمت حیا“ ہی ہوتا۔

سوال نمبر :١٠....... ص ٧١ پر لکھتے ہیں کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علیھم شھیداً ما دمت فیھم“ ان کے حیا ہونے کو مستلزم بھی ہیں اور لئے کنایہ بھی۔“ لہٰذا ان کا اگلا فقرہ ”فلما توفیتنی کنت انت الرقیب ہونے کے مقابل میں واقع ہو کر ان کے وفات پا جانے کے لئے نص صریح اس جگہ حیا کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے۔ لہٰذا وہ وفات کے معنی دیتا ہے

جواب ....... زبیری صاحب! آپ کے اپنے قول کے مطابق برس کشمیر میں رہے اور اس زمانے میں اہل فلسطین میں موجود نہ ہونے تھے۔ دمت حیا کو زندہ ہونے کے لئے کنایہ بنانے کے لئے کشمیر کی طرف سو بائیس برس کی عمر پانے کے عقیدے کو خیر باد کہئے، جس کے لئے آپ غ بالفرض محال آپ مان بھی لیں تو بھی آپ کی دال نہیں گلتی۔

سارے قرآن میں کہیں بھی توفی کا لفظ حیات کے مقابلہ ہمیشہ حیات کے مقابلے میں موت استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ”الذی خلق ”ولا یملکون موتا ولاحیوۃ (٣:٢٥) ”فاحیا بہ

(٢:٦٧)

(١٦٤:٢) “

سوال نمبر :١١....... ص ٧١ پر لکھتے ہیں کہ حسب آیات : ”انی متو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی اللہ اس پیشین گوئی کے مطابق ان کی کے ساتھ ہی وقوع میں آیا اور اس توفی والے رفع کا ذکر آیت ”ماقتلوہ الیہ“ میں کیا گیا ہے۔“

جواب ....... آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی اللہ لکھ رہ

١٣

صفحہ ٤٩

گواہ رہے۔ تو پھر آپ آیت "كنت عليهم شهيدا مادمت فيهم" سے کیسے نتیجہ نکالتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قوم ان کی زندگی میں نہیں بگڑی۔ جب وہ اہل فلسطین میں موجود ہی نہیں تھے تو ان کو قوم کے بگڑنے نہ بگڑنے کا کیسے علم ہوسکتا ہے۔

پس ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب سے بچ کر کشمیر کی طرف ہجرت کرنا محض بے بنیاد بات ہے۔ اگر واقعہ ایسا ہوتا تو قرآن میں "مادمت فيهم" نہ آتا۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام ٨٧ برس (آپ کے عقیدے کے مطابق) اہل فلسطین میں نہیں رہے۔ نعوذ باللہ دمت فیھم کہنا کذب بیانی ہوگی۔ اس صورت میں موزوں لفظ "دمت حیا" ہی ہوتا۔

سوال نمبر : ١٠...... ص ١٧ پر لکھتے ہیں کہ "حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بلیغانہ الفاظ "وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم" ان کے حیا ہونے کو مستلزم بھی ہیں اور ان کے زندہ ہونے کے لئے کنایہ بھی۔" لہٰذا ان کا اگلا فقرہ "فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم" ان کے حیا ہونے کے مقابل میں واقع ہو کر ان کے وفات پا جانے کے لئے نص صریح ہوا۔ کیونکہ توفی کا لفظ اس جگہ حیا کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے۔ لہٰذا وہ وفات کے معنی دیتا ہے۔"

جواب...... زبیری صاحب! آپ کے اپنے قول کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام ٨٧ برس کشمیر میں رہے اور اس زمانے میں اہل فلسطین میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے ان پر گواہ نہ تھے۔ دمت فیھم کو زندہ ہونے کے لئے کنایہ بنانے کے لئے کشمیر کی طرف ہجرت کرنے اور ایک سو بیس برس کی عمر پانے کے عقیدے کو خیر باد کہئے، جس کے لئے آپ غالباً تیار نہ ہوں گے۔ اگر بالفرض محال آپ مان بھی لیں تو بھی آپ کی دال نہیں گلتی۔

سارے قرآن میں کہیں بھی توفی کا لفظ حیات کے مقابلے میں استعمال نہیں ہوا۔ ہمیشہ حیات کے مقابلے میں موت استعمال ہوا ہے۔ مثلاً "الذي خلق الموت والحيوة (٢:٦٧)" "ولا يملكون موتا ولا حيوة (٣:٢٥)" "فاحيا به الارض بعد موتها (١٦٤:٢)"

سوال نمبر : ١١...... ص ١٧ پر لکھتے ہیں کہ حسب آیات : "انی متوفيك ورافعك الى" ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی اللہ اس پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات کے بعد یا وفات کے ساتھ ہی وقوع میں آیا اور اس توفی والے رفع کا ذکر آیت "ماقتلوه يقينا بل رفعه الله الیہ" میں کیا گیا ہے۔"

جواب...... آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی اللہ لکھ رہے ہیں۔ مردہ جسم کو عیسیٰ

١٣

صفحہ ٥٠

نہیں کہتے اور نہ جسم کے بغیر صرف روح کو عیسیٰ کہتے ہیں۔ آپ خود عیسیٰ یعنی جسد معہ روح کا رفع الی اللہ مان رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ رفع الی اللہ وفات کے بعد یا وفات کے ساتھ ہی وقوع میں آیا۔ اگر یہ روحانی رفع ہے تو وفات کے ساتھ ہونا چاہئے۔ وفات کے بعد کا کیا مطلب۔ توفی والے رفع کا کیا مطلب۔ رفع کی صفت توفی نہیں ہوسکتی۔ البتہ رفع والی توفی سے توفی جنس کی نوع رفع جسمی مراد لی جاسکتی ہے۔ اس آیت میں توفی کا ذکر نہیں۔ اس آیت سے پہلے ”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وماقتلوه وما صلبوہ “ سے ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نہیں بلکہ کوئی اور شخص صلیب پر ضرور قتل ہوا ہے۔ اگر قتل نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہودیوں کا قول نقل نہ کرتے کہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قتل وصلیب کی نفی اس لئے کی کہ جو شخص قتل ہوا وہ صلیب پر قتل ہوا۔ اسے تو ”وما قتلوہ“ کافی تھا۔

کیونکہ اگر عیسیٰ علیہ السلام قتل نہیں ہوئے تو صلیب پر نہیں چڑھے۔ اگر صلیب پر چڑھتے تو قتل ہوجاتے۔ گویا کہ قتل کی نفی میں صلیب کی نفی شامل ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی یہ دعویٰ کریں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا تو گیا تھا لیکن صلیب پر مرے نہیں تھے۔ بچ گئے تھے۔ اس لئے ”ما صلبوہ “ سے تصریح کردی کہ یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا ہی نہیں۔ رفع فعل ماضی ہے۔ اس کی ماضویت بل سے پہلے واقعہ صلیب کی نسبت سے ہے۔ واقعہ صلیب سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان کی طرف رفع ہو گیا جو روح کا رفع مراد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ آیت ”بل رفعه الله اليه“ کے بعد ”وكان الله عزيزاً حكيما“ فرمایا یعنی کہ اللہ تعالیٰ بڑی طاقت اور حکمت والا ہے۔ روحانی رفع تو سب کا ہی ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے غلبے اور حکمت والی کون سی بات ہے۔ ظاہر ہے کہ خرق عادت کے طور پر زندہ انسان کو اٹھا کر آسمان پر لے جانا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا مظہر ہے۔

آپ کہتے ہیں کہ جو صلیب پر مرے نہیں ، وہ مصلوب نہیں کہلاتا تو عیسیٰ صلیب پر چڑھائے گئے لیکن صلیب پر مرے نہیں۔ یعنی مصلوب نہیں ہوئے اور ٨٧ برس بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں طبعی موت دی۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو ”ماقتلوه يقينا“ کی بجائے ”ما صلبوه یقینا“ استعمال ہوتا۔ کیونکہ بلاغت کلام کا تقاضہ ہے کہ ایسا لفظ استعمال ہو جو حقیقت حال کو پوری طرح واضح کردے۔ یعنی صلیب پر چڑھائے تو گئے لیکن مرے نہیں۔ آپ کی تصریح کے مطابق یہ کیفیت ”ماصلبوہ“ سے ہی بیان ہوسکتی ہے۔ اس لفظ کا مستعمل نہ ہونا آپ کے عقیدے کو روز

١٤

٥١

روشن کی طرح باطل ثابت کر رہا ہے۔

سوال نمبر: ١٢...... ص ٢٠ پر لکھتے ہیں کہ آیت : ”ماقتلوه يقي نا“ میں اضراب ابطالی نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ پہلے جملے ”ماقتلوه يقي نا“ کے ذریعے ابطال مقصود نہیں۔ کیونکہ ابطال کی صورت میں معنی یہ ہو جائی گے کہ قتل نہیں کیا کہنا تو باطل ہے اور رفع الی اللہ ثابت ہے۔ یہ بات تو بیان ظ اہر کے خلاف ہوگی۔ پھر کس طرح آپ نے لکھ دیا کہ اس آیت میں اضراب ہے۔ ج بکہ پہلا فقرہ بھی یہودیوں کی تردید میں مقصود بالذات ہے کہ حضرت عیسیٰ علی ہ السلام کو قتل نہیں کیا اور بل کے بعد ”رفعه الله اليه “ کہنا بھی متکلم کا اہم مق صود ہے۔ تو ان میں اضراب ابطالی اس کے دو فقروں میں پا یا نہیں جاتا۔ جواب...... اس جگہ بل ابطالیہ ہی ہے۔ ”ما قتلوه يقي نا“ سے قتل نہیں بلکہ قتل کے فعل کا ابطال ہے اور رفع کے فعل کا اثبات۔ علم اصول و نحو ک ی رو سے پہلے ایک امر کی نفی اور بعد میں ایک دوسرے امر کا اثبات ہوتا ہے اور ی ہاں دونوں امر ہیں۔ قرآن مجید میں ہے: ”ام یقولون به جنة بل جاءهم بالحق﴾ یہ منکر کہتے ہیں کہ اسے یعنی ( ہمارے پیغمبر) کو جنون ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لے کر آیا ہے۔﴿

ایک اور آیت میں ہے: ”وقالوا اتخذ الرحمن

(٢١:٢٦)

ولدا سبحانه بل عباد مكرمون﴾ ”﴿اور یہ مشرک کہتے ہیں کہ خدائے رحمن نے فرزند اخت یار کیا ہے۔ پاک ہے اس کی ذات بلکہ وہ تو اس کے معزز بندے ہیں۔ ﴾ پہلی آیت میں کلمہ بل سے ر سول کے جنون کا ابطال اور آپ کے حق کے ساتھ آنے کا اثبات کیا گیا ہے۔ دوسر ی آیت میں اللہ تعالیٰ کے معزز بندے ہونے کا اثبات اور اس کا بیٹا اختیار کرنے کی نفی ہے۔ پس ”بل“ سے پہلے مذکور قتل اور ما بعد رفع میں منافات ہے کہ اگر زندہ جسم کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا تو اس کو قتل نہیں کر سکتے۔ پہلی آیت میں بھی حق لے کر پہلے آئے۔ بعد میں کفار نے آپ کے متعلق جنون کا زعم کیا اور ”ماقتلوه يقينا بل رفعه الله اليه“ میں واقعہ صلیب سے پہلے اللہ تعا لیٰ نے آپ کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔

سوال نمبر: ١٣...... ص ٢٢ پر لکھتے ہیں، پس آیت ”ما قتلوه

١٥

صفحہ ٥١

روشن کی طرح باطل ثابت کر رہا ہے۔

سوال نمبر:١٢...... ص ٢٠ پر لکھتے ہیں کہ آیت : ” ماقتلوه یقینا بل رفعه الله اليه “ میں اضراب ابطالی نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ پہلے جملے ” ماقتلوه یقینا “ کا بل سے عطف کے ذریعے ابطال مقصود نہیں۔ کیونکہ ابطال کی صورت میں معنی یہ ہو جائیں گے کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا کہنا تو باطل ہے اور رفع الی اللہ ثابت ہے۔ یہ بات تو میاں صاحب ! آپ کو بھی مسلم نہیں ہوگی۔ پھر کس طرح آپ نے لکھ دیا کہ اس آیت میں اضراب ہے۔ جبکہ ” ماقتلوه یقینا “ والا فقرہ بھی یہودیوں کی تردید میں مقصود بالذات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے قتل نہیں کیا اور بل کے بعد ” رفعه الله اليه “ کہنا بھی متکلم کا اہم مقصد ہے۔ پس دونوں فقرے متکلم کا مقصود ہیں تو ان میں اضراب ابطالی اس کے دو فقروں میں پایا ہی نہیں جاسکتا۔“

جواب...... اس جگہ بل ابطالیہ ہی ہے۔ ” ماقتلوه یقینا “ کا ابطال مقصود نہیں۔ بلکہ قتل کے فعل کا ابطال ہے اور رفع کے فعل کا اثبات ۔ علم اصول ونحو کی رو سے بل ابطالیہ سے پہلے ایک امر کی نفی اور بعد میں ایک دوسرے امر کا اثبات ہوتا ہے اور یہ دونوں متضاد فی الحکم ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے : ” ام یقولون به جنة بل جاءهم بالحق (٧٠:٢٣) “ ﴿ کیا یہ منکر کہتے ہیں کہ اسے یعنی (ہمارے پیغمبر) کو جنون ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لے کر آیا ہے۔ ﴾

ایک اور آیت میں ہے : ” وقالوا اتخذ الرحمن ولدا سبحنہ بل عباد مکرمون (٢٦:٢١) “ ﴿ اور یہ مشرک کہتے ہیں کہ خدائے رحمٰن نے فرزند اختیار کیا ۔ وہ اس سے پاک ہے بلکہ وہ تو اس کے معزز بندے ہیں۔ ﴾ پہلی آیت میں کلمہ بل سے رسول ﷺ کی نسبت مجنونیت کا ابطال اور آپ کے حق کے ساتھ آنے کا اثبات کیا گیا ہے۔ دوسری آیت میں فرشتوں کے اللہ تعالیٰ کے معزز بندے ہونے کا اثبات اور اس کا بیٹا اختیار کرنے کی نفی کی گئی ہے۔

پس ” بل “ سے پہلے مذکور قتل اور ما بعد رفع میں منافات ہونی چاہئے ۔ اس لئے جب زندہ جسم کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا تو اس کو قتل نہیں کر سکتے ۔ پہلی آیت سے ظاہر ہے کہ نبی ﷺ حق لے کر پہلے آئے۔ بعد میں کفار نے آپ کے متعلق جنون کا زعم کیا۔ اسی طرح ” ماقتلوه یقینا بل رفعه الله اليه “ میں واقعہ صلیبی سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔

سوال نمبر:١٣....... ص ٢٢ پر لکھتے ہیں ، پس آیت ” ماقتلوه یقینا بل رفعه الله اليه “

١٥

صفحہ ٥٣

میں بل اسی امر کا فائدہ دے رہا ہے۔ یہ ”ماقتلوہ یقینا“ کی وضاحت کے لئے لایا گیا ہے۔ جو ایک درست فقرہ ہے اور مقصود متکلم بھی اور بل کے بعد کے فقرہ پر بڑھا دیا گیا ہے کہ مسیح کا رفع الی اللہ ہوا۔ یعنی اس لئے باعزت طبعی عمر گزار کر حسب آیت ”انی متوفیک ورافعک الیٰ“ طبعی وفات پائی اور اس کے ساتھ ہی بلند ہو گئے۔

جواب ....... خدا تعالیٰ کا یہ قول واقعہ صلیب سے ٦٠٠ سال بعد کا ہے۔ جبکہ قرآن مجید نازل ہوا اور مسیح کے عدم قتل اور اس کے رفع الی اللہ کے دونوں فعل وقوع میں آچکے تھے اور قصہ ماضی ہو چکے تھے اور عدم قتل کے فعل کا دامن ”رفعہ اللہ الیہ“ کے وقت تک پھیلا ہوا تھا۔ کیونکہ واقعہ صلیب کے بعد بھی مسیح کے مرفوع الی اللہ ہونے تک یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کر سکے۔

حضرت انس بن مالکؓ خادم رسول ﷺ کی روایت کے مطابق ”رفعہ اللہ الیہ“ کے الفاظ باعزت وفات کے لئے بھی آتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ: ”اکرم اللہ نبیه ان يريه فى امته مايكره فرفعه اليه وبقيت النقمة “ کہ خدا نے نبی کریم ﷺ کی عزت افزائی فرمائی کہ آپ کو امت کی مکروہ باتیں زندگی میں نہ دکھائیں اور آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ یعنی باعزت وفات دے دی۔ جس سے آپ کے مدارج بلند ہوئے اور خرابیاں بعد میں ظہور پذیر ہوئیں۔

انہی معنوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی اللہ ہوا کہ آپ نے باعزت طبعی عمر گزار کر وفات پائی اور آپ کے مدارج بلند ہوئے۔ ”ماقتلوہ یقینا“ کی وضاحت نہیں۔ صلیب پر عیسیٰ علیہ السلام کی بجائے کسی اور شخص کا قتل ہونا ”وقولهم انا قتلنا المسيح“ اور ”ماقتلوه وماصلبوه“ سے ثابت ہے۔ پھر بھی ”ماقتلوه یقینا“ سے مزید تاکید کردی کہ عیسیٰ علیہ السلام یقینا قتل نہیں ہوئے۔ غیر مسیح جس پر کہ عیسیٰ کی شباہت ڈالی گئی، کا قتل وصلب ”ولكن شبه لهم“ میں مذکور ہے۔ بل ابطالیہ ہی ہے۔ اس سے ماقبل میں عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی نفی ہے اور مابعد میں ان کے رفع الی اللہ کا بیان ہے ”رفعہ“ میں ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے جو کہ جسد اور روح کا مرکب ہے۔ سو رفعہ میں رفع سے مراد جسمی کے علاوہ کچھ اور مراد لینا جائز نہیں۔

مرزاغلام احمد قادیانی کے مذہب کے مطابق متوفيك ورافعك الیٰ میں ترتیب ذکری ضروری ہے۔ اگر رفع کے معنی عزت پانا یا درجات کی بلندی ہے تو متوفیک کی رو سے وفات ١٦

سے پہلے نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ رفع بعد میں ہے لیکن آپ لکھت حسب آیت ”انی متوفيك ورافعك الیٰ“ طبعی وفات پائ یہ اعتقاد تو مرزا قادیانی کے خلاف ہے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بلند ہونے کا کیا مطلب؟ اگر اس سے آپ کی مراد ر ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے پریشانی کے وقت یہ تسل وفات دے کر آپ کی روح کو اوپر اٹھالیگا۔

سورۃ آل عمران کی آیت ہے: ”واذقال الله ياع الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين ات يوم القيامة“ ﴿(وہ وقت یاد کرو) جب اللہ تعالیٰ نے کہا ا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور کافروں سے تجھے پاک کرو قیامت تک کافروں پر غالب رکھوں گا۔ ﴾

اس آیت مذکور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علی کئے جب یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے مکان کا محاصرہ ک ہونا تھا۔ اس وعدہ کا ایفاء آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ“ میں سے ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع عمل میں آگیا اور ایسا وا بھی مستقبل کے لئے تھا۔ آیت ”فلما توفيتنى“ می استعمال عیسیٰ علیہ السلام قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کے س اور جگہ یہ لفظ فعل ماضی کے طور پر استعمال نہیں ہوا۔

سوال نمبر :١٤ ....... ص ٢٢ پر ہی لکھتے ہیں کہ : ”واقعہ صلیب ہونے تک یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کرسکے مرفوع الی اللہ ہونا لکھا ہے۔ محض جسد یا روح کو مسیح نہیں کہا جا

سو آپ نے تسلیم کر لیا کہ رفع جسد مع روح کا ہی ہوا، کہ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع واقعہ صلیب سے پہلے وقوع پذیر ہو

جواب ....... آپ کا یہ عقیدہ کہ عیسیٰ علیہ السلام ک پر مرے نہیں۔ سورۃ النساء کی آیت ”وقولهم انا قتلنا یقینا“ تک واقعہ صلیب کا ہی ذکر ہے۔ آپ کہتے ہی ١٧

صفحہ ٥٣

سے پہلے نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ رفع بعد میں ہے لیکن آپ لکھ رہے ہیں کہ باعزت طبعی عمر گزار کر حسب آیت ”انى متوفيك ورافعك الى“ طبعی وفات پائی اور اس کے ساتھ ہی بلند ہو گئے۔ یہ اعتقاد تو مرزا قادیانی کے خلاف ہے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام نے زندگی میں عزت پالی تو وفات کے ساتھ بلند ہونے کا کیا مطلب؟ اگر اس سے آپ کی مراد روح کا رفع ہے تو یہ تو ہر انسان کا ہوتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے پریشانی کے وقت یہ تسلی دینے کی کیا ضرورت تھی کہ آپ کو وفات دے کر آپ کی روح کو اوپر اٹھا لیگا۔

سورۃ آل عمران کی آیت ہے: ”واذقال الله ياعيسى اني متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة“ ﴿(وہ وقت یاد کرو) جب اللہ تعالیٰ نے کہا: اے عیسیٰ میں تیرا وقت پورا کروں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور کافروں سے تجھے پاک کروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک کافروں پر غالب رکھوں گا۔﴾

اس آیت مذکور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اس وقت وعدے کئے جب یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے مکان کا محاصرہ کر لیا تھا۔ رفع کا وعدہ مستقبل میں پورا ہونا تھا۔ اس وعدہ کا ایفاء آیت ”بل رفعه الله اليه“ میں مذکور ہے۔ یہ رفع فعل ماضی ہے جس سے ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع عمل میں آ گیا اور ایسا واقعہ صلیب سے پہلے ہوا۔ توفی کا وعدہ بھی مستقبل کے لئے تھا۔ آیت ”فلما توفيتنى“ میں اس کے ایفاء کا ذکر ہے۔ لیکن اس کا استعمال عیسیٰ علیہ السلام قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں کریں گے۔ کسی اور جگہ یہ لفظ فعل ماضی کے طور پر استعمال نہیں ہوا۔

سوال نمبر:١٤...... ص٢٢ پر ہی لکھتے ہیں کہ: ”واقعہ صلیب کے بعد بھی مسیح کے مرفوع الی اللہ ہونے تک یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کر سکے۔“ یہاں آپ نے مسیح علیہ السلام کا مرفوع الی اللہ ہونا لکھا ہے۔ محض جسد یا روح کو مسیح نہیں کہا جا سکتا۔ مسیح جسد مع روح کا ہی نام ہے۔ سو آپ نے تسلیم کر لیا کہ رفع جسد مع روح کا ہی ہوا۔ گزشتہ صفحات میں ثابت کیا جا چکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع واقعہ صلیب سے پہلے وقوع پذیر ہوا۔

جواب...... آپ کا یہ عقیدہ کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے تو گئے، لیکن صلیب پر مرے نہیں۔ سورۃ النساء کی آیات ”وقولهم انا قتلنا المسيح“ سے لے کر ”وماقتلوه یقیناً“ تک واقعہ صلیب کا ہی ذکر ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر لٹکائے تو

١٧

صفحہ ٥٥

ضرور گئے لیکن مرے نہیں۔ گویا کہ آپ کے عقیدے کے مطابق ”وماقتلوہ یقینا بل رفعہ الیہ“ کا مطلب یہ ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام جو صلیب پر لٹک رہے تھے قتل نہیں ہوئے بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ ان معنوں سے بھی عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ اوپر اٹھایا جانا ظاہر ہے۔

سوال نمبر: ١٥...... آپ ص ٢٤ پر لکھتے ہیں: ”رفعہ اللہ الیہ“ کے الفاظ باعزت وفات کے لئے بھی آتے ہیں۔“

جواب ...... اگر آپ کے یہ معنی تسلیم کر لئے جائیں تو آیت مذکورہ بالا کے معنی یہ ہوں گے اور یہودیوں نے یقیناً عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو باعزت وفات دی۔ واضح رہے کہ آپ کے عقیدے کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام جو سولی پر لٹک رہے تھے۔ باعزت وفات پا گئے۔ گویا کہ قتل ہو گئے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قتل کی نفی کی ہے۔ اس طرح آیت میں تضاد واقع ہوگا۔

پھر مرزا غلام احمد قادیانی کا قول ہے کہ یہودی صلیب کی موت کو ملعون قرار دیتے تھے۔ تو کیا یہ معنی کر کے نعوذ باللہ عیسیٰ علیہ السلام کو ملعون ٹھہرانا چاہتے ہیں؟

آپ نے حضرت انس بن مالکؓ کی جو روایت نقل کی ہے۔ اس میں نبی کریمﷺ کا اکرام بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت کی مکروہ باتیں انہیں زندگی میں نہیں دکھائیں۔ اکرام تو نبی کریمﷺ کی ذات کا ہے۔ وفات کی عزت کیسے ہوئی۔

سوال نمبر: ١٦...... آپ ص ٢٥ پر لکھتے ہیں: ”یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ”انا قتلنا المسیح“ یعنی بے شک ہم نے مسیح کو قتل کر دیا ہے۔ اس قول سے مقصود ان کا یہ تھا کہ مسیح بوجہ قتل ہونے کے ملعون ہوا۔ یعنی اس نے رفع الی اللہ والی موت نہیں پائی۔“

جواب ...... عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر قتل سے بچ گئے۔ انہوں نے رفع الی اللہ والی موت پائی۔ نبی کریمﷺ کو صلیب کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ انہیں اللہ نے کیسے باعزت وفات دے دی اور پھر باعزت وفات سے معارج بلند ہونے کے کیا معنی۔ کیا وفات سے پہلے مدارج بلند نہیں تھے؟ وفات کے بعد بھی درجے زندگی میں اعمال صالحہ اور اللہ تعالیٰ کی عنایت و مہربانی کی وجہ سے بلند ہوتے ہیں، نہ کہ باعزت وفات پانے سے۔

قرآن مجید میں یہودیوں کے انبیاء کو قتل کرنے کا ذکر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں مقتول ہونے کی وجہ سے ملعون قرار نہیں دیا۔ جب قتل کی موت باعث لعنت ہے ہی نہیں تو طبعی وفات کیسے باعزت وفات قرار دی جاسکتی ہے؟

١٨

سوال نمبر: ١٧...... ص ٢٣ پر آپ نے علامہ زمخشری کی تفسیر کشاف ”اے عیسیٰ میں تیری مدت عمر پوری کرنے والا ہوں۔ معنی اس کے یہ ہیں قتل سے بچانے والا ہوں اور تجھے اس مقررہ مدت تک مہلت دینے والا لئے لکھ رکھی ہے اور تجھے طبعی موت دینے والا ہوں۔ تو ان کے ہاتھ سے

جواب ...... یہ بات تو ہم بھی کہتے ہیں۔ اس کو پیش کرنے کی اس تفسیر کشاف میں ”رافعك الیٰ“ کے معنی اے الی سمائی ومقری اور اپنے فرشتوں کی قرار گاہ کی طرف اٹھانے والا ہوں۔ نظر نہیں آ کہ یہ بھی آپ نقل فرماتے۔

سوال نمبر: ١٨...... ص ٤٤ پر آپ لکھتے ہیں: ”حضرت ابن عباس کتاب التفسیر میں متوفیک کے معنی ممیتک کے لکھے ہیں کہ میں تجھے مار

جواب ...... کاش کہ آپ مسیح علیہ السلام کے رفع اور توفی عباسؓ کا صحیح مذہب بیان کرتے۔ امام سیوطیؒ تفسیر درمنثور میں لکھتے ہیں ابن عباسؓ فی قولہ انی متوفيك ورافعك الیٰ ”یعنی آخر الزمان“ حضرت ضحاکؒ تابعی حضرت ابن عباسؓ سے قول الہ الیٰ“ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ مراد اس جگہ آخری زمانے میں وفات دوں گا۔ اسی طرح تفسیر ابی السعود میں ہے تعالیٰ رفعہ من غير وفاة ولا نوم كما قال الحسن و الصحیح عن ابن عباسؓ ”صحیح یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اٹھایا۔ جیسا کہ حسن بصری تابعیؒ نے کہا اور یہی امام ابن جریر طبر ابن عباسؓ سے صحیح طور پر ثابت ہے۔

تفسیر فتح البیان میں ہے کہ آیت ”وانہ لعلم للسـ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کا ایک نشان ہے، سے حضرت نزول کو قرب قیامت کی ایک نشانی جانتے تھے۔ محدث ابن جریر طـ جبير عن ابن عباس وان من اهل الكتاب الا لیؤمـ موت عیسیٰ“ آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمـ میں حضرت ابن عباسؓ کے شاگرد حضرت سعید بن جبیر تابعیؒ ۔

١٩

صفحہ ٥٥

سوال نمبر:١٧...... ص ٢٣ پر آپ نے علامہ زمخشری کی تفسیر کشاف سے عبارت نقل کی ہے: ”اے عیسیٰ میں تیری مدت عمر پوری کرنے والا ہوں۔ معنی اس کے یہ ہیں کہ میں تجھے کافروں کے قتل سے بچانے والا ہوں اور تجھے اس مقررہ مدت تک مہلت دینے والا ہوں۔ جو میں نے تیرے لئے لکھ رکھی ہے اور تجھے طبعی موت دینے والا ہوں۔ تو ان کے ہاتھ سے قتل نہیں ہوگا۔“

جواب...... یہ بات تو ہم بھی کہتے ہیں۔ اس کو پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ کی اس تفسیر کشاف میں ”رافعک الیٰ“ کے معنی اے الیٰ سمائی ومقر ملائکتی یعنی تجھ کو اپنے آسمان اور اپنے فرشتوں کی قرارگاہ کی طرف اٹھانے والا ہوں۔ نظر نہیں آئے۔ دیانت کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ بھی آپ نقل فرماتے۔

سوال نمبر:١٨...... ص ٢٤ پر آپ لکھتے ہیں: ”حضرت ابن عباسؓ کی طرف سے صحیح بخاری، کتاب التفسیر میں متوفیک کے معنی ممیتک کے لکھے ہیں کہ میں تجھے مارنے والا ہوں۔“

جواب...... کاش کہ آپ مسیح علیہ السلام کے رفع اور توفی کے بارے میں حضرت ابن عباس کا صحیح مذہب بیان کرتے ۔ امام سیوطیؒ تفسیر درمنثور میں لکھتے ہیں: ”عن الضحاک عن ابن عباس فی قوله انی متوفیک ورافعک الیٰ “ یعنی ”رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان“ حضرت ضحاک تابعیؒ حضرت ابن عباسؓ سے قول الٰہی ”انی متوفیک ورافعک الیٰ “ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ مراد اس جگہ یہ ہے کہ تجھے اٹھالوں گا۔ پھر آخری زمانے میں وفات دوں گا۔ اسی طرح تفسیر ابی السعود میں ہے: ”والصحیح ان الله تعالیٰ رفعه من غیر وفاة ولا نوم کما قال الحسن وهو اختیار الطبری وهو الصحیح عن ابن عباس“ ”صحیح یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر موت اور نیند کے اٹھایا۔ جیسا کہ حسن بصری تابعیؒ نے کہا اور یہی امام ابن جریر طبریؒ نے اختیار کیا اور یہی حضرت ابن عباسؓ سے صحیح طور پر ثابت ہے۔

تفسیر فتح البیان میں ہے کہ آیت ”وانه لعلم للساعة (٦١:٤٣)“ یعنی تحقیق وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کا ایک نشان ہے، سے حضرت ابن عباسؓ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو قرب قیامت کی ایک نشانی جانتے تھے۔ محدث ابن جریرؒ لکھتے ہیں: ”عن سعید ابن جبیر عن ابن عباس وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته قال قبل موت عیسیٰ “ ”آیت ”وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته “ کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ کے شاگرد حضرت سعید بن جبیر تابعیؒ نے ایک روایت میں حضرت ابن

١٩

صفحہ ٥٧

عباسؓ سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا کہ قبل موتہ سے مراد قبل موت عیسیٰ ہے۔ ﴾

کنزالعمال میں حضرت ابن عباسؓ سے مرفوعا مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”فعند ذالك ينزل اخى عيسى ابن مريم من السماء“ ﴿پس ان (مذکورہ) واقعات کے وقت میرا بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے اترے گا۔﴾

سوال نمبر:١٩...... ص٢٤ پر آپ نے امام فخرالدین رازیؒ کی تفسیر کبیر سے حوالہ دیا ہے۔

جواب...... کاش کہ آپ ان کی مندرجہ ذیل تحریریں بھی نقل کرتے: ”ان التوفی اخذا الشئ وافيا ولما علم الله ان من ألناس من يخطر بباله ان الذى رفعه الله لابده ذكر هذا الكلام ليدل على انه عليه الصلوة والسلام رفع بتامه الى السماء بروحه وبجسده (تفسیر کبیر جلد دوم)“ ﴿توفی کے معنی ہیں کہ کسی چیز کو پورا پورا لے لینا اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو اٹھایا تھا اور جسم کو نہیں اٹھایا تھا۔ اس لئے اللہ نے یہ کلام ’انی متوفیک‘ فرمایا تاکہ اس امر پر دلالت کرے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مع جسم اور روح کے زندہ آسمان پر اٹھایا۔﴾

٢...... ”قالوا ان قوله ورافعك الى يقتضى انه رفعه حيا والوا ولا يقتضى الترتيب فلم يبق الا ان يقول فيه تقديم وتاخير والمعنى رافعك الى ومطهرك من الذين كفروا ومتوفيك بعد انزالك فى الدنيا ومثله من التقديم والتاخير كثير فى القرآن (تفسیر کبیر جلد دوم)“ ﴿قول الٰہی ”ورافعك الیٰ“ تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندہ اٹھالیا اور واؤ (عاطفہ) ترتیب کی مقتضی نہیں۔ پس سوائے اس کے اور کچھ نہ رہا کہ کہا جائے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفار سے بالکل پاک صاف رکھنے والا ہوں اور تجھے دنیا میں نازل کرنے کے بعد وفات دینے والا ہوں اور اس قسم کی تقدیم و تاخیر قرآن مجید میں بکثرت ہے۔﴾

سوال نمبر:٢٠...... ص٢٥ پر لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں فرمایا کہ یہودی اسے قتل کر ہی نہیں سکتے۔ جیسے کہ ”ماقتلوہ“ کا مفاد ہے۔ ”بل رفعہ اللہ الیہ“ بلکہ خدا نے مسیح کو مرفوع الی اللہ والی وفات دی۔“ مرفوع الی اللہ وفات کی صفت ہے۔ یعنی اللہ کی طرف اٹھائی گئی موت۔ اللہ تعالیٰ البتہ موت وارد کرتا ہے۔

جواب...... موت اللہ کی طرف اٹھائی نہیں جاتی۔ رفعہ میں ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہے جو کہ جسم مع روح ہے۔ اسے ہی اللہ نے اوپر اٹھایا ہے۔

٢٠

سوال نمبر:٢١...... ص٢٥ پر لکھتے ہیں: ”آپ بل کے استعمال کا م سے پہلا واقعہ اور بل کے بعد کا واقعہ ہمیشہ ایک ہی وقت میں وقوع پزیر اتحاد آنی ہوتا ہے۔ ہم اس جگہ بل کا استعمال اتحاد آنی کے لئے نہیں بلکہ ہیں۔ ہمارے نزدیک مسیح کے صلیب سے بچنے کا واقعہ پہلے پیش آیا اور ب قتل کا فعل ان کی ساری زندگی پر محیط ہے۔ پھر طبعی عمر پا کر آپ کی وفات اور حسب وعدہ ”ورافعك الیٰ“ خدا نے ان کا ان کی وفات کے بعد لئے عدم قتل اور رفع الی اللہ میں اتحاد زمانی پایا گیا۔ جو اس جگہ الیٰ کا تقاضا

جواب...... گزشتہ صفحات میں تصریح کی جا چکی ہے کہ ر ماضویت بل سے پہلے مذکور واقعہ یعنی واقعہ صلیب کی نسبت سے ہے۔ قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ اٹھا لینے کا واقعہ واقعہ بعد میں۔ یہ بھی مفصل بیان ہو چکا ہے کہ صلیب پر قتل کسی ایسے شخ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی۔ آپ کے عقیدے کے مطابق عیسیٰ گئے۔ بہر حال آپ اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ ”ماقتلوہ یقینا “ ۔ بارے میں ہی ہے۔ آپ کے عقیدے کے مطابق عیسیٰ صلیب پر لٹک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف بلالیا۔ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ اگر آپ رفع کے وضعی اور حقیقی معنی اوپر ا ایسا کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں) تو ص٢٥ کے مطابق مرفوع الی اللہ و صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر قتل نہیں ہوئے۔ روح اپنی طرف اٹھالی۔ بالفاظ دیگر عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر قتل ہو گئے حالانکہ بل سے پہلے ان کے قتل کی نفی کی گئی ہے۔ تضاد کی اللہ والی وفات کرنا باطل ہے۔ بہر حال رفع کا معنی کچھ بھی کریں۔ مذکور واقعات میں اتحاد آنی ثابت ہے۔ گزشتہ صفحات میں وضاحت ہے اور اس سے ماقبل اور مابعد مذکورہ واقعات میں منافات ہوتی ہے عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر لٹکائے گئے لیکن مرے نہیں۔ قرآن مجید کی مجید میں ہے: ”واذا كففت بنى اسرائيل عنك (١١٠:٥)“ میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے دور روکے رکھا۔ ﴿جن کا لفظ دون

٢١

صفحہ ٥٧

سوال نمبر : ٢١ ...... ص ٢٥ پر لکھتے ہیں : ”آپ بل کے استعمال کا یہی مقصد جانتے ہیں کہ بل سے پہلا واقعہ اور بل کے بعد کا واقعہ ہمیشہ ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ گویا ان میں اتحاد آنی ہوتا ہے۔ ہم اس جگہ بل کا استعمال اتحاد آنی کے لئے نہیں بلکہ اتحاد زمانی کے لئے جانتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مسیح کے صلیب سے بچنے کا واقعہ پہلے پیش آیا اور یہودیوں کے ہاتھ سے عدم قتل کا فعل ان کی ساری زندگی پر محیط ہے۔ پھر طبعی عمر پا کر آپ کی وفات وعدہ انی متوفیک ہوئی اور حسب وعدہ ”و رافعک الی“ خدا نے ان کا ان کی وفات کے بعد اپنی طرف رفع کر لیا۔ اس لئے عدم قتل اور رفع الی اللہ میں اتحاد زمانی پایا گیا۔ جو اس جگہ بل کا تقاضا ہے۔“

جواب ...... گزشتہ صفحات میں تصریح کی جا چکی ہے کہ رفع فعل ماضی ہے۔ اس کی ماضویت بل سے پہلے مذکور واقعہ یعنی واقعہ صلیب کی نسبت سے ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ اٹھا لینے کا واقعہ پہلے پیش آیا اور صلیب کا واقعہ بعد میں۔ یہ بھی مفصل بیان ہو چکا ہے کہ صلیب پر قتل کسی ایسے شخص کا ہوا ہے۔ جس پر کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی۔ آپ کے عقیدے کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھائے گئے۔ بہرحال آپ اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ ”ماقتلوه یقینا“ کی آیت واقعہ صلیب کے بارے میں ہی ہے۔ آپ کے عقیدے کے مطابق عیسیٰ صلیب پر لٹک رہے تھے۔ صلیب پر مرے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف بلا لیا۔ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر مرے نہیں۔ پس زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ اگر آپ رفع کے وضعی اور حقیقی معنی اوپر اٹھانا مراد نہیں لیتے (حالانکہ ایسا کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں) تو ص ٢٥ کے مطابق مرفوع الی اللہ والی وفات ہی لے لیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر قتل نہیں ہوئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی روح اپنی طرف اٹھا لی۔ بالفاظ دیگر عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر قتل ہو گئے۔

حالانکہ بل سے پہلے ان کے قتل کی نفی کی گئی ہے۔ تضاد کی وجہ سے رفع کا معنی مرفوع الی اللہ والی وفات کرنا باطل ہے۔ بہرحال رفع کا معنی کچھ بھی کریں۔ بل سے پہلے اور بل کے بعد مذکور واقعات میں اتحاد آنی ثابت ہے۔ گزشتہ صفحات میں وضاحت کی جا چکی ہے کہ بل ابطالیہ ہے اور اس سے ماقبل اور مابعد مذکورہ واقعات میں منافات ہوتی ہے۔ آپ کے اس عقیدے کو کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر لٹکائے گئے لیکن مرے نہیں ۔ قرآن مجید کی نص باطل ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے :”واذ كففت بنى اسرائيل عنك (١١٠:٥)“ ”اور (وہ وقت یاد کرو) جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے دُور روکے رکھا۔ كف عن کا لفظ دوری کے لئے آتا ہے۔ صلیب

٢١

صفحہ ٥٩

پر چڑھانا تو کجا یہودی عیسیٰ علیہ السلام کے قریب بھی نہیں پھٹک سکے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے من جملہ احسانات میں سے یہ احسان بھی گنوائے گا۔ سو اس آیت میں کوئی تاویل نہیں ہو سکتی۔ چونکہ صلیب پر نہیں لٹکائے گئے اور نہ قتل ہوئے۔ سو انہیں زندہ جسم مع روح آسمان پر اٹھا لیا گیا۔

سوال نمبر:٢٢...... ص٢٦ پر جو آپ لکھتے ہیں: ”آپ کی وفات حسب وعدہ انی متوفیک ہوئی اور حسن وعدہ ’رافعك الیٰ‘ خدا نے ان کو ان کی وفات کے بعد اپنی طرف رفع کر لیا۔“

جواب...... یہاں اپنی طرف رفع کر لیا کیوں لکھتے ہیں۔ ص٢٥ والے معنی ”خدا نے مسیح کو مرفوع الی اللہ والی وفات دی“ کیوں نہیں کرتے۔ یا پھر ص٢٣ والے معنی کیوں نہیں کرتے کہ خدا نے مسیح کو باعزت وفات دے دی۔ صاف ظاہر ہے کہ آپ تلبیس کر رہے ہیں۔

سوال نمبر:٢٣...... ص٢٦ پر لکھتے ہیں: ”اب ہم کہتے ہیں کہ اگر بل سے پہلے ایک واقعہ کی نفی ہو تو ہمیشہ اسی وقت ایک واقعہ کا اثبات نہیں ہوتا۔ بلکہ نفی والے واقعہ سے کافی عرصہ بعد جا کر اثبات والا واقعہ وقوع میں آتا ہے۔ ہمارے اس بیان کی تائید قرآن مجید کی ذیل کی آیت سے ہوتی ہے اور یہ تائید جناب میاں صاحب آپ کے قاعدہ کی کلیت کو توڑ دیتی ہے۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: ’وما خلقنا السماء والارض وما بینهما لاعبين لواردنا ان نتخذه لهو لاتخذناه من لدنا ان كنا فاعلين بل نقذف بالحق على الباطل فيدمغه فاذا هو زاهق ولكم الويل مما تصفون‘ کافر کہتے تھے کہ خدا نے یہ زمین و آسمان کھیل کے طور پر بنائے ہیں (الانبیاء: ١٦، ١٧، ١٨) اس سے زیادہ ان کا کوئی مقصد نہیں۔ اس کی تردید میں اللہ نے فرمایا کہ:

﴿ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ۔ کھیلتے ہوئے نہیں بنایا۔ اگر ہم نے اس کا ارادہ کیا ہوتا تو پھر ہم اپنی طرف سے ایسا ہی کرتے ۔ اگر ہم کرنے والے ہوتے (یعنی اگر ہمارے شان کے مناسب ہوتا) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم تو حق کو باطل پر اٹھا مارتے ہیں ۔ تو وہ حق باطل کا کچومر نکال دیتا ہے اور تم لوگ خدا کا جو وصف بیان کرتے ہو (کہ اس نے بطور کھیل انہیں بنایا ہے، نہ کسی اور مقصد کے لئے) یہ تمہارے لئے تباہی کا باعث ہے۔﴾

اس آیت میں ”بل نقذف بالحق على الباطل فيدمغه فاذا هو زاهق“ کے الفاظ سے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان اشیاء بطور کھیل کے بنایا جانے کی نفی کا ہی مزید ثبوت مہیا کیا گیا ہے اور ان کے بنایا جانے کا اہم مقصد بیان کیا گیا ہے کہ ہم نبیوں کو بھیج کر حق

٢٢

کا باطل سے اس طرح مقابلہ کروا دیتے ہیں کہ حق باطل کا کچومر نکال د مقابلے میں بھاگ جاتا ہے۔

جناب من دیکھ لیجئے! ان آیات میں ”وما خلقنا السماء و لاعبين“ کے جملہ کا مضمون منفی ہے اور ”بل نقذف بالحق علی ال هو زاهق“ کا مضمون مثبت ہے۔ ان دونوں جملوں میں بل کے ذریعے جملے کا حکم بھی قائم ہے اور دوسری آیت کے جملہ کا حکم بھی جو بل کے بعد طرح دونوں جملے متکلم کا مقصود ہیں اور دوسرا جملہ پہلے کی تشریح کر رہا ہے اس تشریح پر اضافہ بھی کر رہا ہے۔ جس کا بیان کرنا خدا تعالیٰ کے نزدیک رکھتا ہے۔ دیکھئے اس جگہ بل سے پہلے منفی جملہ اور بل کے بعد اثباتی جملے م موجود نہیں۔ بلکہ ہزار ہا سال کا فرق ہے۔ کیونکہ حق کا باطل پر اٹھا مارنا خدا اور زمین اور ان کے درمیان اشیاء پیدا ہونے سے ہزار ہا سال بعد میں شر انبیاء کے بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔

پس جناب من! اتحاد آنی کے متعلق آپ کے قاعدہ کا کلیہ غ پہلے ایک واقعہ کی نفی اور اسی وقت ایک واقعہ کا اثبات بھی ہے اور دونوں وا ایک نہیں بلکہ ان میں لمبا فاصلہ موجود ہے۔ پس جب بل پر مشتمل مضمون فعلوں کے وقوع میں ہزار ہا سال کا فاصلہ ہو سکتا ہے تو آیت ”ماقتلوه الیہ“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیبی موت سے بچایا جانے کے بعد مرفوع الی اللہ کے فعل میں اگر ٨٧ برس کا عرصہ پایا گیا تو یہ امر کیون ہے؟ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ ان ٨٧ سالوں میں عدم قتل کا فعل چلتا رہا رفع الی اللہ تک اس کا دامن وسیع ہے۔ اس لحاظ سے دونوں فعلوں عدم قتل جو ٨٧ سال بعد ہوئی۔ باہم اتحاد زمانی رکھتے ہیں۔ جیسے خدا ن ’وما بینهما‘ کے پیدا کرنے کے بعد اس کا کھیل کے طور پر پیدا نہ ک ظہور تک ممتد ہے اور ان دونوں فعلوں میں اتحاد زمانی موجود ہے، نہ کہ اتح

جواب...... آپ نے ص ٢٦ پر جو پہلی آیت قرآنی ”نتخ ہوتا ہے کہ اپنی مطلب براری اور دھوکہ دہی کی خاطر آپ نے ایسا کیا۔ کہ اگر ایک آیت میں بل سے ماقبل اور مابعد کے واقعات میں اتحاد ز

٢٣

صفحہ ٥٩

کا باطل سے اس طرح مقابلہ کروا دیتے ہیں کہ حق باطل کا کچومر نکال دیتا ہے اور باطل حق کے مقابلے میں بھاگ جاتا ہے۔

جناب من دیکھ لیجئے ! ان آیات میں ”وماخلقنا السمآء والأرض وما بينهما لاعبين“ کے جملہ کا مضمون منفی ہے اور ”بل نقذف بالحق على الباطل فيدمغه فاذا هو زاهق“ کا مضمون مثبت ہے۔ ان دونوں جملوں میں بل کے ذریعے عطف پر پہلی آیت کے جملے کا حکم بھی قائم ہے اور دوسری آیت کے جملہ کا حکم بھی جو بل کے بعد آیا ہے، قائم ہے۔ اس طرح دونوں جملے متکلم کا مقصود ہیں اور دوسرا جملہ پہلے کی تشریح کر رہا ہے اور ایک اثباتی مقصد کا اس تشریح پر اضافہ بھی کر رہا ہے۔ جس کا بیان کرنا خدا تعالیٰ کے نزدیک بل کے بعد زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ دیکھئے اس جگہ بل سے پہلے منفی جملہ اور بل کے بعد اثباتی جملے کے اوقات میں اتحاد آنی موجود نہیں۔ بلکہ ہزارہا سال کا فرق ہے۔ کیونکہ حق کا باطل پر اٹھا مارنا خدا کی طرف سے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان اشیاء پیدا ہونے سے ہزار ہا سال بعد میں شروع ہوا جب کہ خدا نے انبیاء کے بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔

پس جناب من! اتحاد آنی کے متعلق آپ کے قاعدہ کا کلیہ ہونا باطل ہوا کہ بل سے پہلے ایک واقعہ کی نفی اور اسی وقت ایک واقعہ کا اثبات بھی ہے اور دونوں واقعات کے وقوع کا وقت ایک نہیں بلکہ ان میں لمبا فاصلہ موجود ہے۔ پس جب بل پر مشتمل مضمون کے دو جملوں میں دونوں فعلوں کے وقوع میں ہزار ہا سال کا فاصلہ ہو سکتا ہے تو آیت ”ماقتلوه يقينا بل رفعه الله الیه“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیبی موت سے بچایا جانے کے فعل اور ان کے وفات پا کر مرفوع الی اللہ کے فعل میں اگر ٨٧ برس کا عرصہ پایا گیا تو یہ امر کیونکر قابل اعتراض ہو سکتا ہے؟ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ ان ٨٧ سالوں میں عدم قتل کا فعل چلتا رہا ہے اور آپ کی وفات اور رفع الی اللہ تک اس کا دامن وسیع ہے۔ اس لحاظ سے دونوں فعلوں عدم قتل اور رفع الی اللہ والی توفی جو ٨٧ سال بعد ہوئی۔ باہم اتحاد زمانی رکھتے ہیں۔ جیسے خدا کے آسمانوں و زمین اور ”ومابينهما“ کے پیدا کرنے کے بعد اس کا کھیل کے طور پر پیدا نہ کئے جانے کا زمانہ انبیاء کے ظہور تک ممتد ہے اور ان دونوں فعلوں میں اتحاد زمانی موجود ہے، نہ کہ اتحاد آنی۔

جواب....... آپ نے ص ٢٢ پر جو پہلی آیت قرآنی ”نتخذ لهوا“ لکھا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اپنی مطلب براری اور دھوکہ دہی کی خاطر آپ نے ایسا کیا ہے۔ اول تو یہ ضروری نہیں کہ اگر ایک آیت میں بل سے ماقبل اور مابعد کے واقعات میں اتحاد زمانی پایا جاتا ہے تو دوسری

٢٣

صفحہ ٦١

آیت میں بھی ایسا ہی ہو۔ لیکن آپ کی منقولہ آیات میں تو اتحاد زمانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بل کا عطف تو مندرجہ ذیل دو فقروں پر ہے۔

چاہتے، کہ کھیل تماشا بنا لیں تو اپنے پاس سے بنا لیتے۔ مگر ہم ایسا کرنے والے نہ تھے۔“

باطل پر چوٹ لگاتے ہیں۔ تو وہ باطل کا سر کچل ڈالتا ہے اور اچانک اسے فنا کر دیتا ہے۔“

”وما خلقنا السماء والارض وما بینہما لاعبین“ پر بل کا عطف ہے ہی نہیں ۔ آپ اسے منفی مضمون کا جملہ بتا رہے ہیں۔ درحقیقت ”لواردنا ان نتخذ لہوا لاتخذناہ من لدنا ان کنا فاعلین“ کے جملہ کا مضمون منفی ہے۔ کیونکہ ”ان کنا فاعلین“ میں ان نافیہ ہے۔ آپ اس کا ذکر ہی نہیں کرتے ۔ اسی پر بل کا عطف بھی ہے۔ آپ خود ہی لکھ رہے ہیں:

”ان دونوں جملوں میں بل کے ذریعہ عطف پر پہلی آیت کے جملے کا حکم بھی قائم ہے اور دوسری آیت کے جملہ کا حکم بھی جو بل کے بعد آیا ہے قائم ہے۔ اس طرح دونوں جملے متکلم کا مقصود ہیں اور دوسرا جملہ پہلے کی تشریح کر رہا ہے اور ایک اثباتی مقصد کا اس تشریح پر اضافہ بھی کر رہا ہے۔ جس کا بیان کرنا خدا تعالیٰ کے نزدیک بل کے بعد زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

ان جملوں سے مراد جملہ نمبر ١ اور جملہ نمبر ٢ ہیں۔ بتائیے ان میں اتحاد زمانی کہاں ہے؟ واقعہ میں حق کی چوٹ لگا کر باطل کو فنا کر دینا پہلے متحقق ہوا۔ پیچھے کھیل تماشا بنانے کا ارادہ نہ ہونے کا ذکر کیا۔ اسی طرح آیت ”ماقتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ“ میں بھی پہلے مذکورہ واقعہ صلیبی پیچھے ہوا۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا۔

آپ خواہ مخواہ تعلی ...... کر رہے ہیں کہ آپ کی پیش کردہ آیات نے آیت ”ماقتلوہ یقینا ...... الخ“ کے ارد گرد بنا ہوا تانا بانا تار عنکبوت سے کمزور ثابت کر دیا ہے۔ آپ اپنی تلبیس سے دنیا کو دھوکہ تو نہیں دے سکتے۔

سوال نمبر : ٢٤...... ص ٣٠ پر لکھتے ہیں ”خدا اور بندے کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”نحن اقرب الیہ من حبل الورید“ کہ ہم انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں اور رفع جسمی دوری کو چاہتا ہے اور خدا مسیح سے دور نہ تھا۔ پس جب خدا اور مسیح کے درمیان کوئی فاصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا تو مسیح کے جسم کا رفع خدا کی طرف تجویز نہیں کیا

٢٤

جاسکتا۔ کیونکہ اس سے خدا کا محدود المکان ہونا لازم آتا ہے اور ذوالجہتہ ہو آتا ہے۔ پس مسیح کے خدا کی طرف رفع جسمی کا خیال باطل ہے کہ رفع سے ہی مراد لی جاسکتی ہے۔ ”لاغیر فتدبر“ قرآن مجید کی آیت ہے:

جواب...... ”ونادیناہ من جانب الطور الا (٥٢:١٩) ”اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور کی داہنی طرف سے آ لئے اپنے سے قریب کیا۔“ آواز اللہ تعالیٰ نے دی۔ اس آیت سے ال طرف سے محدود المکان ہونا ظاہر ہوتا ہے اور اس خیال کو بعد کے الفاظ ”و مزید تقویت ملتی ہے۔ آپ کے قول کے مطابق خدا اور موسیٰ علیہ السلام ک نہیں دیا جاسکتا تو خدا نے موسیٰ علیہ السلام کو جو جسم اور محدود المکان ہیں ا قریب جانے والا جس کے قریب جا رہا ہے اس کی طرف فاصلہ طے کر محدود المکان تسلیم کرنا پڑے گا۔ لیکن درحقیقت اللہ تعالیٰ نہ مجسم ہے نہ محدود علیہ السلام کا خدا کی طرف رفع ہو جانے کی وجہ سے خدا کا محدود المکان ہو بحث گزشتہ صفحات پر گزر چکی ہے۔ جہاں رفع مادی جسم ہو۔ جیسے آیت مل روح ) کا ہے تو وہاں اس جسم کو اوپر اٹھانا ہی مراد ہو سکتی ہے۔ شان اور بلن مثلاً:

”ورفعنا فوقکم الطور (٦٣:٢) ”ہم نے تمہارے ا

”اللہ الذی رفع السموات بغیر عمد ترونہا (٢:١٣) ”و آسمانوں کو بلند کیا اور تم دیکھ رہے ہو کہ کوئی ستون انہیں تھامے ہوئے ن درجات مقصود ہو تو درجات کا لفظ رفع کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ مثلاً ”ورفع (٢٥٣:٢) ”یعنی ان میں سے بعض کے درجے بلند کئے۔“ وہو ال الارض ورفع بعضکم فوق بعض (١٦٥:٦) ”اور وہی تو ہ میں تمہیں اپنا نائب بنایا اور تم میں سے بعض کے بعض پر درجے بلند کئے۔

سوال نمبر : ٢٥...... ص ٣١ پر لکھتے ہیں: ”مادمت فیہم“ اور ”م کے بیان کرنے کے ہی دو اسلوب ہیں۔

جواب...... ان کے اس جواب سے ظاہر ہے کہ ان کے نزد کے الفاظ مشہود علیھم میں ان کے زندہ ہونے کو چاہتے ہیں۔ پس یہ ال

٢٥

صفحہ ٦١

جاسکتا۔ کیونکہ اس سے خدا کا محدودالمکان ہونا لازم آتا ہے اور ذوالجہۃ ہونا بلکہ مجسم ہونا بھی لازم آتا ہے۔ پس مسیح کے خدا کی طرف رفع جسمی کا خیال باطل ہے کہ رفع سے شان اور بلندی درجات ہی مراد لی جاسکتی ہے۔ ”لا غیر فتدبر“ قرآن مجید کی آیت ہے:

جواب....... ”و نادیناہ من جانب الطور الایمن وقربنا نجیا (٥٢:١٩)“ ﴿اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور کی داہنی طرف سے آواز دی اور سرگوشیوں کے لئے اپنے سے قریب کیا ۔﴾ آواز اللہ تعالیٰ نے دی۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا کوہ طور کی داہنی طرف سے محدود المکان ہونا ظاہر ہوتا ہے اور اس خیال کو بعد کے الفاظ ”قربناہ نجیا“ سے مزید تقویت ملتی ہے۔ آپ کے قول کے مطابق خدا اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی فاصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا تو خدا نے موسیٰ علیہ السلام کو جو مجسم اور محدود المکان ہیں۔ اپنے قریب کیوں کیا؟ قریب جانے والا جس کے قریب جا رہا ہے اس کی طرف فاصلہ طے کرے گا اور اس کو بھی مجسم اور محدود المکان تسلیم کرنا پڑے گا۔ لیکن درحقیقت اللہ تعالیٰ نہ مجسم ہے نہ محدود المکان ۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کا خدا کی طرف رفع ہو جانے کی وجہ سے خدا کا محدود المکان ہونا لازم نہیں آتا۔ مفصل بحث گزشتہ صفحات پر گزر چکی ہے۔ جہاں رفع مادی جسم ہو۔ جیسے آیت بل رفعہ میں عیسیٰ (جسد معہ روح) کا ہے تو وہاں اس جسم کو اوپر اٹھانا ہی مراد ہو سکتی ہے۔ شان اور بلندی مراد نہیں لی جاسکتی۔

مثلاً :

”ورفعنا فوقكم الطور (٩٣:٢)“ ﴿ہم نے تمہارے اوپر طور پہاڑ کا اٹھایا ۔﴾

”اللہ الذی رفع السموات بغير عمد ترونها (٢:١٣)“ ﴿یعنی اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا اور تم دیکھ رہے ہو کہ کوئی ستون انہیں تھامے ہوئے نہیں ہے ۔ ﴾ جہاں رفع درجات مقصود ہو تو درجات کا لفظ رفع کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ مثلاً ”ورفع بعضهم درجات (٢٥٣:٢)“ ﴿یعنی ان میں سے بعض کے درجے بلند کئے۔ ﴾ ”وهو الذی جعلکم خلائف الارض ورفع بعضکم فوق بعض (١٦٥:٦)“ ﴿اور وہی تو (خدا) ہے، جس نے زمین میں تمہیں اپنا نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجے بلند کئے ۔ ﴾

سوال نمبر : ٢٥ ....... ص ٣١ پر لکھتے ہیں: ”مادمت فیھم“ اور ”مادمت حیا“ یہ زندگی کے بیان کرنے کے ہی دو اسلوب ہیں۔

جواب....... ان کے اس جواب سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک ”مادمت فیھم“ کے الفاظ مفہوم عام میں ان کے زندہ رہنے کو چاہتے ہیں۔ پس یہ الفاظ زندگی کے لئے کنایہ

٢٥

صفحہ ٦٣

ہیں۔ اس پر مفصل بحث گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ یہاں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ کنائی (فرضی) معنے لینے کا جواز تب ہے جب حقیقی معنے لینا ممنوع ہو۔ جب حقیقی معنی متعذر نہیں تو ہم کیوں کہیں کہ ”مادمت فیھم“ کے الفاظ ان کی زندگی کے لئے کنایہ ہیں۔ یہ الفاظ صرف ”مشھود علیھم“ کے درمیان ہی عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ثابت کرتے تھے۔ بلکہ ان کے درمیان موجود نہ ہونے کی صورت میں ان پر گواہ تو نہیں ہوں گے۔ لیکن اس میں موجود نہ ہوتے ہوئے زندہ تو رہ سکتے ہیں۔ جیسے کہ ہمارا اعتقاد ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دوسرے آسمانوں پر زندہ ہیں اور قرب قیامت کے زمانے میں آسمان سے نازل ہوں گے۔

سوال نمبر: ٢٦....... ص ٢١ پر آپ نے صحیح بخاری کی پوری حدیث نہیں لکھی۔ پوری حدیث یوں ہے: ”یوخذ برجال من اصحابی ذات الیمین وذات الشمال فاقول اصیحابی فیقال انھم لم یزالوا مرتدین علی اعقابھم منذ فارقتھم فاقول کما قال العبد الصالح عیسیٰ ابن مریم وکنت علیھم شھیدا ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم“ ۔ میری امت کے کچھ لوگوں کو دائیں بائیں سے پکڑا جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ تو مجھے کہا جائے گا کہ نہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ جب تو ان سے جدا ہوا۔ یہ دین سے برگشتہ ہو کر مرتد ہی رہے تو میں کہوں گا کہ جس طرح کہا ہو گا عبد صالح عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نے کہ الٰہی میں تو شاہد ان پر اس وقت تک رہا جب تک میں ان کے بیچ رہا۔ جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو صرف تو ہی ان پر نگہبان تھا۔ ۔

جواب....... فاقول کما قال کہنے سے یہ ضروری نہیں کہ کما سے پہلے اور بعد میں بیان کردہ واقعات ہر لحاظ سے ایک ہی ہوں۔ سورہ انبیاء میں ہے: ”کما بدأنا اول خلق نعیدہ (٢١:١٠٤)“ ۔ جس طرح ہم نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا تھا، اسی طرح دوبارہ پیدا کر کے چھوڑیں گے۔ ۔ ظاہر ہے کہ پہلی پیدائش ماں کے پیٹ سے باپ کے نطفے سے ہوتی ہے اور قیامت کے روز اس طرح پر نہیں ہوگی۔ صرف یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ اللہ جس طرح پہلی دفعہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ موت کے بعد بھی پیدا کر دینا اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔ اسی طرح ”فاقول کما قال العبد الصالح“ میں کما اس بات کے اظہار کے لئے ہے کہ جس طرح عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے شرک سے بری الذمہ ہیں۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ اپنی امت کے مرتدین کے ارتداد سے برأت کا اظہار کریں گے۔

باقی رہا یہ سوال کہ جب آنحضرت ﷺ کی توفی موت سے ہوئی ہے تو عیسیٰ علیہ السلام

٢٦

کی توفی کو رفع آسمانی سے کیوں تعبیر کریں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مطلق توفی جنس ہے موت نیند رفع وغیرہ اس کی انواع ہیں۔ ہمیں نوع کا تعین کرنے کے لئے قرائن کی تلاش و جستجو کرنی پڑتی ہے۔ ”ریب“ کے معنی ہر جگہ شک کے نہیں ہیں۔ بلکہ اس سے بعض جگہ حوادث زمانہ مراد ہے۔ اسی طرح ”بروج“ سے مراد ہر جگہ برج نہیں ہیں بلکہ بروج مشیدۃ سے اونچے اونچے محل مراد ہیں۔ اسی طرح گو ایک لفظ توفی دونوں پیغمبروں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ لیکن خصوصی حالات سے جو خارجی دلائل سے ثابت ہیں۔ نظر کر کے ہم مانتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی توفی رفع آسمانی سے ہوئی اور آنحضرت ﷺ کی توفی موت سے۔ علاوہ ازیں عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق آیات ”انی متوفیک ورافعک الیٰ“ اور ”بل رفعہ اللہ الیہ“ میں توفی کے ساتھ ہی اپنی طرف اٹھائے جانے کا ذکر ہے۔ برخلاف اس کے رسول اللہ ﷺ کی توفی موت ہی ثابت ہے۔ جو صحیح بخاری کے باب وفات النبی ﷺ میں ہے۔ ان وجوہات سے قرآن سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہیں ہوئی۔ بلکہ اس کے خلاف ثابت ہوتی ہے۔

سوال نمبر: ٢٧....... ص ٣٥ پر لکھتے ہیں: ”آپ نے لکھا ہے کہ جنگ بدر میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ تشریف لے جانے پر مکہ والوں پر عذاب آیا تھا۔ جناب صاحب! یہ بات آپ نے غلطی سے لکھی ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے مکہ میں موجود ہونے پر آیت ”وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم“ کے مطابق عذاب نہیں آ سکتا تھا۔ البتہ مکہ والوں پر ضرور عذاب آیا تھا۔ کیا جنگ بدر میں ستر کفار کا مارا جانا اور ستر کا قیدی ہونا عذاب نہیں تھا؟ جس سے مکہ والوں کو شکست فاش ہوئی تھی“ ۔ اگر کافروں کا جنگ میں مارا جانا عذاب نہیں ہوتا تو خدا تعالیٰ نے قرآن میں یہ کیوں فرمایا ہے: ”قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم (توبہ:١٤)“ ۔ کہ مسلمانوں! ان کافروں سے جنگ کرو خدا تعالیٰ تمہارے ہاتھوں انہیں عذاب دے گا۔ پس آپ کا یہ اعتراض بے معنی اور غلط ہے۔ وہ مکہ میں موجود تھے۔ جب بدر کے میدان میں مکہ والوں کے ستر سپاہی مارے گئے۔

جواب....... آپ کی منقولہ آیت میں اللہ کا مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب دینا تو ثابت ہے۔ اور آیت ”وما کان اللہ لیعذبھم......الخ“ میں اللہ کا براہ راست عذاب مراد ہے۔ میں نے یہ صحیح لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لے جانے کے بعد مکہ پر عذاب نہیں آیا تھا۔ البتہ آپ تاریخ کے خلاف لکھ رہے ہیں کہ مکہ پر عذاب آیا تھا۔

٢٧

صفحہ ٦٣

کی توفی کو رفع آسمانی سے کیوں تعبیر کریں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ توفی جنس ہے اور موت، نیند، رفع وغیرہ اس کی انواع ہیں۔ ہمیں نوع کا تعین کرنے کے لئے قرآن اور خصوصی حالات پر نظر کرنی پڑتی ہے۔ ”ریب“ کے معنی ہر جگہ شک کے ہیں۔ لیکن سورۃ الطور میں ریب المنون سے حوادث زمانہ مراد ہے۔ اسی طرح ”بروج“ سے مراد ہر جگہ ستارے ہیں۔ لیکن سورۃ نساء میں بروج مشیدۃ سے اونچے اونچے محل مراد ہیں۔

اسی طرح گو ایک لفظ توفی دونوں پیغمبروں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ لیکن ہر دو کے خصوصی حالات سے جو خارجی دلائل سے ثابت ہیں۔ نظر کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ عیسیٰ کی توفی رفع آسمانی سے ہوئی اور آنحضرت ﷺ کی توفی موت سے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی توفی بموجب آیات ”انی متوفیک ورافعک الی“ اور ”بل رفعہ اللہ الیہ (١٥٩:٤)“ آسمانوں کی طرف اٹھائے جانے کے بعد ہوئی اور رسول اللہ کی توفی موت سے ہونے کی دلیل حدیث سے ثابت ہے۔ جو صحیح بخاری کے باب وفات النبی ﷺ میں ہے۔ پس آیت ”فلما توفیتنی“ سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہیں ہوئی۔ بلکہ اس کے خلاف رفع آسمانی ثابت ہوا۔

سوال نمبر: ٢٧...... ص ٣٥ پر لکھتے ہیں: ”آپ نے اسلامی تاریخ کے خلاف یہ لکھ دیا کہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ تشریف لے جانے پر مکہ والوں پر عذاب نہیں آیا تھا۔“ جناب میاں صاحب! یہ بات آپ نے غلطی سے لکھی ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ تشریف لے جانے پر آیت ”ماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم“ کے مطابق مکہ سے مدینہ ہجرت فرما جانے پر مکہ والوں پر ضرور عذاب آیا تھا۔ کیا جنگ بدر میں ستر کفار کا معہ ان کے سردار ابو جہل کے مارا جانا عذاب نہیں تھا؟ جس سے مکہ والوں کو شکست فاش ہوئی؟ اگر مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کا جنگ میں مارا جانا عذاب نہیں ہوتا تو خدا تعالیٰ نے قرآن میں کیوں فرمایا ہے: ”قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم (توبہ:١٤)“ (کہ مسلمانو! ان حملہ آور کافروں سے جنگ کرو۔ خدا تعالیٰ تمہارے ہاتھوں انہیں عذاب دے گا۔ پس آپ مکہ والوں میں یقیناً اس وقت موجود نہ تھے۔ جب بدر کے میدان میں مکہ والوں کے ستر سپاہی مارے گئے۔“

آپ کی منقولہ آیت میں اللہ کا مسلمانوں کے ہاتھوں سے کفار کو عذاب دینا مذکور ہے اور آیت ”ماکان اللہ لیعذبھم ...... الخ“ میں اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ عذاب بیان ہوا ہے۔ میں نے یہ صحیح لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لے جانے پر مکہ والوں پر عذاب نہیں آیا تھا۔ البتہ آپ تاریخ کے خلاف لکھ رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ مکہ والوں میں یقیناً اس

٢٧

صفحہ ٦٥

وقت موجود نہ تھے۔ جب بدر کے میدان میں مکہ والوں کے ستر سپاہی مارے گئے۔ آپ کی موجودگی کے متعلق تو قرآن میں نص موجود ہے۔ سورۂ آل عمران میں ہے: "ولقد نصركم الله ببدر وانتم اذلة فاتقواالله لعلكم تشكرون اذتقول للمؤمنين الن يكفيكم ان يمدكم ربكم بثلاثة الاف من الملائكة منزلين" ﴿واقعہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے جنگ بدر میں تمہاری اس وقت مدد فرمائی تھی جب تم بے سرو سامان تھے۔ سو اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ تاکہ تمہیں شکر گزاری کی توفیق ہو۔ اے پیغمبر! اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ مومنوں سے فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتے آسمان سے نازل کر کے تمہاری مدد فرمائے۔﴾

اسی جنگ میں مٹھی بھر کنکریاں ہاتھ میں لے کر آنحضرت ﷺ نے قریش کی طرف پھینکیں اور فرمایا: ”اللہ ان کے چہرے مسخ کرے“ مشرکین میں سے کوئی بھی نہ بچا جس کی آنکھوں، منہ اور ناک میں مٹی نہ بھر گئی ہو۔ حق تعالیٰ نے آیت ذیل میں اسی طرح اشارہ فرمایا ہے: "وما رميت اذ رميت ولكن الله رمى (١٧:٨)" ﴿جب آپ نے مشرکین پر کنکریاں پھینکیں تو آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔﴾ آپ قرآن کی شہادت کے باوجود یہ غلط بیانی کرنے کی جرات کر رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جنگ بدر میں موجود نہ تھے۔

سوال نمبر: ٢٨ ...... ص ٣٥ پر لکھتے ہیں: ”اسی طرح جسمانی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فلسطین سے ہجرت وقوع میں آجانے پر اہل فلسطین میں بہ نفس نفیس موجود نہ تھے اور شہادت کے لئے بہ نفس نفیس موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔“ جواب ...... آپ کے قول کے مطابق توفی سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا مشہود علیہم یعنی اہل فلسطین میں موجود ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا اگر آپ توفی سے وفات مراد لیتے ہیں تو عیسیٰ علیہ السلام کی کشمیر کی طرف ہجرت ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ وفات سے پہلے وہ کشمیر میں تھے اور آیت کی رو سے اہل فلسطین میں ان کی موجودگی توفی کے وقت ضروری ہے۔ لہٰذا کشمیر کی طرف عیسیٰ علیہ السلام کی ہجرت ثابت نہ ہوئی۔

سوال نمبر: ٢٩ ...... ص ٤٧ پر لکھتے ہیں: ”یہ کون قادیانی مانتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جو صلیب پر لٹکایا ہوا تھا۔ اس کی موت صلیب پر واقع ہو گئی؟ اور یہ موت عزت والی تھی۔ جو اسے ملی؟ ہم تو واقعہ صلیب سے ٨٧ سال بعد ان کی طبعی وفات مانتے ہیں۔ جواب ...... آپ نے خود ص ٢٣ پر ”رفعه الله الیه“ کے معنی باعزت وفات لکھے ٢٨

ہیں اور ص ٣٠ پر باعزت وفات کے بعد بلند مدارج پانا، تو "ماقتلوه يقينا بل رفعه الله اليه" واقعہ صلیب واقعہ صلیب کا ذکر نہیں۔

آپ جو کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب "ماقتلوه يقينا" سے یہی ثابت ہے کہ صلیب پر بنیاد پر معنے یوں ہی کرنے پڑیں گے۔ یہودیوں نے یقیناً عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں وفات دے دی۔ اب اپنے ہی معنوں میں آپ کو انکار ”توفی ولا رفع (ص١٨)“ کہیں طبعی وفات پانا کہیں مرفوع الی اللہ والی وفات (ص٢٥) کہیں وفات کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ہو گیا۔ جو طبعی موت کے بعد ہوا سے کام لینا پڑتا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ بل ابطالیہ ہو تو کا اثبات ہونا چاہئے۔ اگر صلیب پر عزت کی موت نہیں کی حالت میں اتارے گئے۔ لیکن زندہ تھے۔ اسی وقت اتحاد زمانی نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ اوراق میں آپ کی پیش ہو چکی ہے اور کشمیر کی طرف ہجرت کرنے کے خود تراشیدہ سوال نمبر: ٣٠ ...... ص ٤٠ پر لکھتے ہیں: ”متوفیک ہے اور ”رافعک الی“ کا ذکر اس کے بعد ہے۔ لہٰذا طبعی کے بعد ہوا۔“

جواب ...... آپ نے ص ٣٠ پر رفع کے معنے لکھے ہیں۔ یہاں رفع الی اللہ کی بجائے یوں کیوں نہیں وفات کے بعد مدارج پانا طبعی وفات کے بعد ہوا۔ کیا یہ سوال نمبر: ٣١ ...... ص ٤١ پر لکھتے ہیں ”اے عیسیٰ (فلسطین سے چلا جا) تا کہ تو پہچانا نہ جائے اور دکھ نہ دیا جائے جواب ...... اس سے صاف ظاہر ہے کہ واقعی باقی عمر کسی اور جگہ بسر کی۔ آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ واقعہ ٢٩

صفحہ ٦٥

ہیں اور ص ٣٠ پر باعزت وفات کے بعد بلند مدارج پانا، آپ اس سے تو انکار نہیں کر سکتے کہ آیت ”ماقتلوه يقينا بل رفعه الله اليه“ واقعہ صلیب کے متعلق ہے۔ کیونکہ قرآن میں اور کہیں واقعہ صلیب کا ذکر نہیں۔

آپ جو کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا گیا تھا۔ لیکن مرے نہیں اور ”ماقتلوه يقينا “ سے یہی ثابت ہے کہ صلیب پر قتل نہیں ہوئے۔ آپ کو اپنے عقیدے کی بنیاد پر معنے یوں ہی کرنے پڑیں گے۔

یہودیوں نے یقیناً عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں باعزت وفات دے دی۔ اب اپنے ہی معنوں میں آپ کو انکار ہے۔ اس لئے کہیں تو اسکے معنی لکھتے ہیں ”توفی ولارفع (ص١٨) “ کہیں طبعی وفات پائی اور اس کے ساتھ ہی بلند ہو گئے (ص٢٢) کہیں مرفوع الی اللہ والی وفات (ص٢٥) کہیں وفات کے بعد اپنی طرف رفع (ص٢٦) اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ہو گیا۔ جو طبعی موت کے بعد ہوا۔ (ص٤٩) کوئی وجہ تو ہے جو آپ کو تلبیس سے کام لینا پڑتا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ بل ابطالیہ ہونے کی وجہ سے قتل کی نفی اور ساتھ ہی رفع کا اثبات ہونا چاہئے۔ اگر صلیب پر عزت کی موت نہیں مانتے۔ تو یہ مان لیں کہ صلیب پر سے غشی کی حالت میں اتارے گئے۔ لیکن زندہ تھے۔ اسی وقت اللہ نے انہیں طبعی موت دے دی۔ یہاں اتحاد زمانی نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ اوراق میں آپ کی پیش کردہ اتحاد زمانی والی آیت کی بھی تردید ہو چکی ہے اور کشمیر کی طرف ہجرت کرنے کے خود تراشیدہ افسانے کی بھی۔

سوال نمبر : ٣٠...... ص ٤٠ پر لکھتے ہیں : ”متوفيك“ کا لفظ طبعی عمر پا کر وفات پانے کو چاہتا ہے اور ”رافعك الى “ کا ذکر اس کے بعد ہے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی اللہ وفات طبعی کے بعد ہوا۔“

جواب ...... آپ نے ص ٣٠ پر رفع کے معنے باعزت وفات کے بعد بلند مدارج پانا لکھے ہیں۔ یہاں رفع الی اللہ کی بجائے یوں کیوں نہیں کہتے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باعزت وفات کے بعد مدارج پانا طبعی وفات کے بعد ہوا۔ کیا یہ معنی یہاں صحیح بیٹھتے ہیں؟

سوال نمبر: ٣١...... ص ٤١ پر لکھتے ہیں ”اے عیسیٰ ! ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاؤ۔ (فلسطین سے چلا جا) تا کہ تو پہچانا نہ جائے اور دکھ نہ دیا جائے۔“

جواب ...... اس سے صاف ظاہر ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد آپ نے ہجرت فرمائی اور باقی عمر کسی اور جگہ بسر کی۔ آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ واقعہ صلیب کے بعد عیسیٰ علیہ السلام نے کشمیر

٢٩

صفحہ ٦٧

کی طرف ہجرت کی اور ٨٧ برس وہاں گزار کر طبعی وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔ آیت ”کنت علیہم شہید امادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم“ کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کی توفی اس وقت ہوئی جب کہ وہ اپنی قوم کے اندر موجود ہونے کی وجہ سے اس پر گواہ تھے اگر آپ کی بات مان لیں تو چونکہ فلسطین سے چلے گئے اور وفات کے وقت کشمیر میں تھے۔ لہٰذا فلسطین میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے قوم پر گواہ نہیں ہو سکتے۔ آپ کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قوم ان کی توفی کے بعد بگڑی ہے اور ثبوت میں یہی آیت پیش کیا کرتے ہیں۔ یعنی ”وکنت علیہم شہید امادمت فیہم“ یعنی میں ان پر گواہ تھا، جب تک ان کے درمیان موجود رہا۔ آپ کی یہ بات صرف اسی صورت میں صحیح ہو سکتی ہے کہ توفی کے وقت عیسیٰ علیہ السلام اہل فلسطین میں موجود ہوں۔ جیسے کہ آیت میں تصریح ہے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کا کشمیر کی طرف ہجرت کرنا اور وہاں ٨٧ برس قیام کے بعد وفات پا کر مدفون ہونا باطل ٹھہرا۔

سوال نمبر : ٣٢...... ص ٤١ پر لکھتے ہیں: ”حدیث نبوی ان عیسیٰ اتی علیہ الفناء کے مطابق آپ وفات پا چکے ہیں۔“

جواب...... یہ حدیث ربیع نے مرسلا بیان کی ہے اور درمنثور جلد دوم ص ٣ پر ہے۔ اس میں آخری الفاظ یہ ہیں: ”قال الستم تعلمون ان ربنا حیی لایموت وان عیسیٰ یاتی علیہ الفناء قالوا بلی“ نبی کریم ﷺ نے (نصاریٰ کے وفد نجران) سے فرمایا کیا تم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ زندہ رہنے والی ہے۔ اس کو موت کبھی نہ آئے گی اور عیسیٰ علیہ السلام کو موت آنی ہے۔ انہوں نے اس کا اقرار کیا اور کہا بیشک ان کو موت تو آنی ہے۔ یہاں ”اتی علیہ الفناء“ نہیں ہے۔ یاتی علیہ الفناء یعنی عیسیٰ پر فنا آئے گی، آچکی نہیں۔

سوال نمبر : ٣٣...... ص ٤١ پر لکھتے ہیں: ”پس اگر آپ کو اتحاد آنی پر ہی اصرار ہے تو ان کی ہجرت الی الارض مان لیں“ اس تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتحاد زمانی کے عقیدے میں آپ متزلزل ہیں۔ ورنہ بالجزم اس پر قائم رہتے۔

جواب...... سوال تو رفع الی اللہ کا ہے اور ہم مان لیں ہجرت الی الارض کشمیر کی طرف ہجرت کے افسانے کا تیا پانچہ کیا جاچکا ہے۔

سوال نمبر : ٣٤...... ص ٤١ پر ہی لکھتے ہیں: ”آپ کو علامہ یوسف علی کا ترجمہ پیش کیا گیا تھا۔ وہی مان لیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عدم قتل ان کے رفع الی اللہ یعنی رسول ہونے کا ثبوت ہے۔ آخر ان معنوں سے آپ کو کیوں انکار ہے؟ اسی لئے تو انکار ہے کہ یہ تفسیر حضرت عیسیٰ علیہ

٣٠

السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے خلاف ہے۔

جواب...... کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی رسول ہوتا۔ قرآن مجید میں یہودیوں کے انبیاء کو قتل کرنے کا ذکر نعوذ باللہ قتل ہونے والے انبیاء، کیا انبیاء نہیں رہیں گے؟ اس رفع الی اللہ کے معنی رسول ہونا کس لغت میں لکھے ہیں؟

سوال نمبر : ٣٥...... ص ٤٣ پر لکھتے ہیں: ”آپ کا ریاضی ہو سکتا۔ یہ تب لاگو ہو سکتا ہے اگر حدیث ہذا میں یہ الفاظ ہوتے سے دگنی ہوئی ہے۔ اس کے برخلاف آپ نے الفاظ حدیث نہیں گزرا جس کی عمر پہلے نبی سے آدھی نہ ہوئی ہو۔

جواب...... ان الفاظ سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے نبی سے نصف عمر ضرور پائی ہے۔ اس سے کم نہیں۔ ان الفاظ والے نبی سے دوگنی عمر پائی ہے۔ پس ہر بعد والا نبی پہلے نبی ضرور پاتا رہا ہے۔ نصف عمر ضرور پائی۔ پس حضرت ابراہیم حضرت اسحق علیہ السلام نے ان سے نصف عمر ضرور پائی۔ خوا مساوی یا اس سے کم و بیش ہو۔ لیکن انہوں نے حضرت ابراہیم ہرگز نہیں پائی۔ یہی صورت عمر دوسرے انبیاء کی ہے جو اسحاق حدیث سے پہلے نبی کے لئے بعد والے نبی سے دوگنی عمر نہیں۔ پس آپ کا ریاضی کا حساب مردود ہے۔“

حدیث کا ترجمہ میں نے نہیں کیا۔ مرزا بشیر الدین حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ”لم یکن نبی الا عاش نصف سے پہلے نبی کی نصف عمر پائی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ نہیں ہو پہلے نبی سے آدھی نہ ہوئی ہو۔“ اگر یہ مراد ہوتی تو ”الا عاش الذی قبلہ“ ہوتا۔ خواہ یوں کہیں کہ بعد والے کی عمر پہلے کی عمر بعد والے سے دگنی ہوئی ہے۔ ایک ہی بات ہے اس معلوم ہے کہ یحییٰ علیہ السلام اور زکریا علیہ السلام نبی ہیں۔ لک نام نہیں لئے تھے۔ کیونکہ ان کا نام لئے بغیر بھی مقصد مل جات

٣١

صفحہ ٦٧

السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے خلاف ہے۔

جواب...... کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی رسول قتل ہو جائے تو وہ رسول ثابت نہیں ہوتا۔ قرآن مجید میں یہودیوں کے انبیاء کو قتل کرنے کا ذکر ہے۔ یحییٰ علیہ السلام قتل ہوئے تو نعوذ باللہ قتل ہونے والے انبیاء، کیا انبیاء نہیں رہیں گے؟ اس لئے آپ کی یہ تفسیر قابل قبول نہیں۔ رفع الی اللہ کے معنی رسول ہونا کس لغت میں لکھے ہیں؟

سوال نمبر: ٣٥...... ص ٤٣ پر لکھتے ہیں: ”آپ کا ریاضی کا قاعدہ اس حدیث پر لاگو نہیں ہوسکتا۔ یہ تب لاگو ہوسکتا ہے اگر حدیث ہذا میں یہ الفاظ ہوتے کہ ہر پہلے نبی کی عمر بعد آنے والے سے دگنی ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف آپ نے الفاظ حدیث کا ترجمہ خود یہ نقل کیا ہے کہ کوئی نبی نہیں گزرا جس کی عمر پہلے نبی سے آدھی نہ ہوئی ہو۔

جواب...... ان الفاظ سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بعد میں آنے والے نبی نے پہلے نبی سے نصف عمر ضرور پائی ہے۔ اس سے کم نہیں۔ ان الفاظ کا ہرگز یہ مفاد نہیں کہ پہلے نبی نے بعد والے نبی سے دوگنی عمر پائی ہے۔ پس ہر بعد والا نبی پہلے نبی سے اس حدیث کے مطابق نصف عمر ضرور پاتا رہا ہے۔ نصف عمر ضرور پائی۔ پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر اگر ١٧٥ سال تھی تو حضرت اسحاق علیہ السلام نے ان سے نصف عمر ضرور پائی۔ خواہ ان کی عمر بھی ابراہیم علیہ السلام کے مساوی یا اس سے کم و بیش ہو۔ لیکن انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر سے نصف سے کم عمر ہرگز نہیں پائی۔ یہی صورت عمر دوسرے انبیاء کی ہے جو اسحاق علیہ السلام کے بعد ہوئے۔ پس اس حدیث سے پہلے نبی کے لئے بعد والے نبی سے دوگنی عمر پانے کا غیر معقول استدلال درست نہیں۔ پس آپ کا ریاضی کا حساب مردود ہے۔“

حدیث کا ترجمہ میں نے نہیں کیا۔ مرزا بشیر الدین محمود نے کیا ہے اور یہ ترجمہ غلط ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ”لم يكن نبى الا عاش نصف الذى قبله“ ”ہر نبی نے اپنے سے پہلے نبی کی نصف عمر پائی ہے۔“ اس کا ترجمہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ”کوئی نبی نہیں گزرا جس کی عمر پہلے نبی سے آدھی نہ ہوئی ہو۔“ اگر یہ مراد ہوتی تو ”الا عاش نصف او اکثر من نصف الذی قبله“ ہوتا۔ خواہ یوں کہیں کہ بعد والے کی عمر پہلے سے نصف ہوتی ہے یا یوں کہیں کہ پہلے کی عمر بعد والے سے دگنی ہوتی ہے۔ ایک ہی بات ہے اس لئے میرا استدلال درست ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ یحییٰ علیہ السلام اور زکریا علیہ السلام نبی ہیں۔ لیکن میں نے عمداً بعض ہم عصر انبیاء کے نام نہیں لئے تھے۔ کیونکہ ان کا نام لئے بغیر بھی مقصد مل جاتا ہے۔ اس حدیث کا ضعیف ہونا تو اس

٣١

صفحہ ٦٩

امر سے بھی واضح ہے کہ ایک ہی زمانے میں کئی انبیاء موجود تھے۔ مثلاً ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، اسحاق اور لوط علیہما السلام ہمعصر تھے۔ ان میں اگلے پچھلے کی تعیین کیسے ہو گی۔ اگر حدیث کو درست تسلیم کر لیا جائے تو اسے ظاہری معنوں پر محمول کرنا پڑے گا۔ یعنی پچھلے نبی کی عمر پہلے کی عمر کا نصف ہوئی۔ اس لحاظ سے اگر مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہیں تو عمر نبی کریم ﷺ کی عمر کا نصف یعنی تقریباً ٣٢ سال ہونی چاہئے۔ لیکن مرزا قادیانی نے ٧٠ برس کے قریب عمر پائی۔ یہ ان کے کاذب ہونے کی دلیل ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہونا ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے الفاظ کے ظاہری معنی ہی لئے ہیں۔ کیونکہ ان سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ١٢٠ سال بیان ہوئی ہے۔ سو ان کی عمر ١٢٠ سال کا نصف یعنی ساٹھ سال ہونی چاہئے۔ غرضیکہ حدیث کو صحیح تسلیم کرنے سے مرزا قادیانی کے دعویٰ کی تکذیب ہوتی ہے اور صحیح تسلیم نہ کرنے سے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہوتی۔ پس حدیث کی صحت یا عدم صحت آپ کو چنداں مفید نہیں۔

سوال نمبر : ٣٦....... ص ٣٥، ٣٦ پر لکھتے ہیں : ”پھر قرآن مجید میں ”فلما توفیتنی“ کے الفاظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر نص صریح ہیں۔ اور ”کنت انت الرقیب علیہم “ کے الفاظ ان کی دوسری بار دنیا میں واپسی کے خلاف ہیں۔ پس جب وہ اپنے بیان کی رو سے دوبارہ دنیا میں نہیں آئے ہوں گے اور ان کے اس اپنے بیان میں توفی کا ذکر ہے۔ جس کا دامن قیامت تک وسیع ہے۔ تو توفی کے معنے جسم مع الروح کے آسمان پر اٹھا لینا کرنا آپ کو کیا فائدہ دے سکتا ہے؟ کیونکہ ”کنت انت الرقیب علیہم “ کی رو سے ان کی دنیا میں واپسی تو محال ہے۔ ورنہ ان کے اس بیان کو جھوٹا قرار دینا پڑے گا کہ میری توفی کے بعد ان کا تو ہی نگران رہا ہے۔ یعنی مجھے پھر ان کی نگرانی کا موقع نہیں ملا۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دنیا میں اصالتاً واپس آنا ہوتا اور توفی کے معنے ان کے نزدیک اس جگہ جسم مع الروح کے آسمان پر اٹھا لینا ہوتے تو پھر وہ یہ جواب نہ دیتے کہ جب تو نے دوبارہ مجھے دنیا میں بھیجا تو میں نے اپنی قوم کو صلیب کا پجاری اور گمراہ پایا اور میں نے صلیب کو توڑ دیا اور سب کو مسلمان بنا دیا۔ مگر ان کا ایسا بیان موجود نہیں اور نہ مذکور توفی کا دامن قیامت کے دن تک پھیلا ہوا ہے۔

لہٰذا یہ توفی وفات والی ہو سکتی ہے۔ ورنہ ان کی دوسری توفی کا ذکر قرآن سے دکھائیں اور اپنے علم پر گھمنڈ کرنا چھوڑ دیں۔ جناب میاں صاحب! آپ کا یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل خدا نے کسی اور شخص کو دے کر صلیب پر مروا دیا۔ بالضرور۔

٣٢

یہودیوں کے لئے ہدایت کا سامان نہیں رکھتا بلکہ خدا کا صلیب پر چڑھا کر مروا دینا ظلم عظیم ہے۔ جو خدا تعالیٰ ک يظلم مثقال ذرة (٤٠:٤) ”جب خدا کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل دے کر مروا دینا تو صرف خ "تعالیٰ شأنہ عن مثل ہذہ الہفوات“

جواب ...... گزشتہ صفحات میں ثابت کیا جاچکا ہ ”رفعتنی الی السماء“ ہیں۔ لاغیریہ بھی ثابت کیا جا علیہم “ کے الفاظ ان کی دوسری بار دنیا میں واپسی کے خلا دیا کہ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئے ہوں گے۔ ان کے دوبارہ ثابت نہیں ہوتا کہ میری توفی کے بعد تو ہی ان کا نگران رہا۔ ان کی عدم موجودگی کے وقت قوم اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں رہی۔ کیوں نہ کہا کہ دوبارہ دنیا میں گیا تھا اور میں نے سب ک بنا دیا تھا۔ تو یہ تو سوال چنا جواب گندم والی بات ہوئی۔ اللہ تعا دن یہ سوال ہوگا ”اے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ م بنالو۔“ عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے، تیرے لئے پاکی ہ ایسی بات کہوں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں ن علم ہوتا۔ تو جانتا ہے کہ میرے جی میں کیا ہے اور میں نہیں ج غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ میں نے تو ان س دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی ا درمیان موجود رہا۔ پس جب تو نے میری توفی کر لی تو تو ہ ہے۔ (المائدہ ع ١٦)

سوال تو ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں ن اللہ کے سوا معبود بنایا اور عیسیٰ علیہ السلام نے ان کا مناسب ج کی عبادت کی تعلیم دی تھی۔ اگر یہ سوال ہوتا کہ کیا آپ ن کے پجاریوں کو مسلمان بنا دیا تھا۔ تو وہ آپ کا تجویز کرد توفی والی توفی ہے۔ اس کا دامن قیامت تک ممتد نہیں ہے۔

٣٣

صفحہ ٦٩

یہودیوں کے لئے ہدایت کا سامان نہیں رکھتا بلکہ گمراہی کا موجب ہے اور بے گناہ کو خدا کا صلیب پر چڑھا کر مروا دینا ظلم عظیم ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی شان کے منافی ہے۔ ”ان اللہ لا يظلم مثقال ذرة (٤:٤٠)“ جب خدا کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا تو تو کسی دوسرے شخص کو بلا جرم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل دے کر مروا دینا تو صرف ظلم ہی نہیں بلکہ دھوکہ دہی بھی ہے۔

”تعالىٰ شأنه عن مثل هذه الهفوات“

جواب....... گزشتہ صفحات میں ثابت کیا جاچکا ہے کہ ”توفیتنی“ کے معنی ”رفعتنی الی السماء“ ہیں۔ لا غیر یہ بھی ثابت کیا جاچکا ہے کہ ”کنت انت الرقیب علیهم“ کے الفاظ ان کی دوسری بار دنیا میں واپسی کے خلاف نہیں۔ یہ انہوں نے کہیں بیان نہیں دیا کہ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئے ہوں گے۔ ان کے دوبارہ دنیا میں آنے سے ان کا یہ بیان جھوٹا ثابت نہیں ہوتا کہ میری توفی کے بعد تو ہی ان کا نگران رہا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ قوم میں ان کی عدم موجودگی کے وقت قوم اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں رہی ہے۔ باقی آپ کا یہ کہنا کہ عیسیٰ نے یہ کیوں نہ کہا کہ دوبارہ دنیا میں گیا تھا اور میں نے سب صلیب کے پوجنے والوں کو مسلمان بنا دیا تھا۔ تو یہ تو سوال چنا جواب گندم والی بات ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن یہ سوال ہوگا ”اے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو خدا بنالو۔“ عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے، تیرے لئے پاکی ہے۔ میرے شایانِ شان نہیں کہ میں ایسی بات کہوں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو تجھے ضرور اس کا علم ہوتا۔ تو جانتا ہے کہ میرے جی میں کیا ہے اور میں نہیں جانتا کہ تیرے نفس میں کیا ہے اور تو غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ میں نے تو ان سے وہی بات کہی تھی۔ جس کا تو نے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی اور میں ان پر گواہ تھا۔ جب تک ان کے درمیان موجود رہا۔ پس جب تو نے میری توفی کر لی تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (المائدہ ع١٦)

سوال تو ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنایا اور عیسیٰ علیہ السلام نے ان کا مناسب جواب دیا ہے کہ میں نے تو صرف اللہ کی عبادت کی تعلیم دی تھی۔ اگر یہ سوال ہوتا کہ کیا آپ نے دوبارہ دنیا میں جانے کے بعد صلیب کے پجاریوں کو مسلمان بنا دیا تھا۔ تو وہ آپ کا تجویز کردہ جواب دیتے۔ ان کے بیان میں مذکور توفی والی توفی ہے۔ اس کا دامن قیامت تک ممتد نہیں ہے۔ بلکہ موت تک ہے۔

٣٣

صفحہ ٧٠

قرآن مجید میں توفی کا لفظ ایک خاص مصلحت کے پیش نظر استعمال ہوا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم میں موجود ہی تھے کہ ان کو توفی ہو گئی۔ اس توفی کے لئے قرینہ آیات قرآنی ”انی متوفيك ورافعك الی“ میں ”بل رفعه الله اليه“ میں موجود ہے۔ واقعہ صلیب سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے۔

صحیح بخاری میں جو کہ ”اصح الکتب“ بعد کتاب اللہ ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے: ”والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم فيكسر الصليب ويقتل الخنز يرويضع الجزية“ ﴿اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ ایک وقت ضرور آنے والا ہے جب تمہارے درمیان ابن مریم نازل ہوں گے۔ پس صلیب کو توڑیں گے۔ سور کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔﴾

اس حدیث میں قرب قیامت کے زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول بیان ہوا ہے۔ اس کی تائید میں حضرت ابو ہریرہؓ نے سورۃ النساء کی مندرجہ ذیل آیت پیش کی: ”وان من اهل الكتاب الاليؤمنن به قبل موته“ ﴿اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جو عیسیٰ کی موت سے پہلے ایمان نہیں لے آئے گا۔﴾ ”ليؤمنن“ میں لام تاکیدی اور نون ثقیلہ مضارع میں خصوصیت کے ساتھ مستقبل کے معنی پیدا کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نزول قرآن کے بعد کسی زمانے میں تمام اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔ یہ آیت عیسیٰ کے آسمان پر زندہ ہونے کے بارے میں نص ہے اور صحیح احادیث میں صراحت ہے کہ نزول کے بعد عیسیٰ علیہ السلام شادی کریں گے۔ ان کی اولاد ہوگی۔ ٤٥ سال دنیا میں رہیں گے۔ اس کے بعد وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے اور نبی کریم ﷺ کے مقبرے میں دفن ہوں گے۔

عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ”فلما توفيتني“ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ”مادمت فيهم فلما توفيتني“ کے الفاظ کے اندر عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے چار مراحل موتیوں کی طرح سمو دیئے ہیں۔ رفع آسمانی سے پہلے ٣٣ برس کی دنیاوی زندگی ”دمت فيهم“ میں آگئی۔ اس کے بعد رفع الی اللہ توفیتنی میں آ گیا۔ نزول کے بعد دنیا میں ٤٥ برس کا قیام بھی ”دمت فيهم“ میں آ گیا اور اس کے بعد ”قبل موته“ میں مذکور طبعی موت فلما توفیتنی میں آگئی۔ کیونکہ توفی کے معنی وفات آتے ہیں۔

٣٤

٧١

آپ پر واضح ہو گیا ہو گا کہ صرف ”مادمت فيهم“ او استعمال کر کے عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے چاروں مراحل قرآن اللہ کا اعجاز ہے۔ اگر ”فلما توفيتني“ سے وفات مراد ہوتی تو استعمال ہوتا۔ کیونکہ آپ کا خیال ہے کہ ”دمت فيهم“ حیات میں ہمیشہ حیات کے مقابلے میں موت آیا ہے۔ حیات کا تقابل مو ”قبل موته“ میں موت استعمال ہوا ہے تو یہاں کیوں نہیں ہو بجائے ”مادمت حيا“ ہوتا اور ”توفيتنى“ کی بجائے ”ا السلام کو وفات شدہ قرار دینے میں حق بجانب ہوتے۔

قرآن مجید کے فیصلے کے مطابق یہودی عیسیٰ علیہ السلا قائل ہیں۔ ان کو اصل صورت حال سے آگاہ کرنا گمراہی کا موجب تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی شکل دے کر صلیب پر چڑھا کر نہیں عیسیٰ علیہ السلام کے حواری یہودا اسکر یوتی نے عیسیٰ علیہ السلام رشوت لے کر عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑوانا چاہا۔ کیا اللہ تعالیٰ کے پیغمبر اسی یہودا اسکر یوتی پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈالی گئی اور اسے صفحات پر مفصل بیان ہو چکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے قرآن مجید کے محکم دلائل سے ثابت ہے۔

سوال نمبر: ٣٧ ....... ص ٣٧، ٣٨ پر لکھتے ہیں: ”سنئے یہودی تو ا قتل ہو جانے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ گو وہ آسمانی بیان کے مطابق خو تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیبی موت سے بچا لیا اور یہو پھر انہیں طبعی عمر پانے کے بعد وفات دے کر ان کا اپنی طرف ”مطهرك من الذين كفروا“ کا وعدہ متقاضی تھا کہ خدا تعالیٰ نجاست سے پاک ہونے کا اعلان کرے، جس نجاست سے یہو تھے اور ان کے متعلق یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ لعنتی موت مرے ہی طرح پورا کیا کہ رسول کریم ﷺ پر وحی نازل کر کے اعلان فرما دیا ب الله اليه“ کہ مسیح یقیناً یہودیوں کے ہاتھ سے قتل نہیں ہوا اور ن اسے باعزت وفات دے کر اس کے درجے بلند کئے۔ یہ تطہیر آ

٣٥

صفحہ ٧١

آپ پر واضح ہو گیا ہوگا کہ صرف ”مادمت فیہم“ اور ”فلما توفیتنی“ کے الفاظ استعمال کر کے عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے چاروں مراحل قرآن نے بیان کر دیئے ہیں۔ یہ کلام اللہ کا اعجاز ہے۔ اگر ”فلما توفیتنی“ سے وفات مراد ہوتی تو ضرور ”فلما اماتنی“ کا لفظ استعمال ہوتا۔ کیونکہ آپ کا خیال ہے کہ ”دمت فیہم“ حیات کے لئے کنایہ ہے اور قرآن مجید میں ہمیشہ حیات کے مقابلے میں موت آیا ہے۔ حیات کا تقابل کہیں وفات سے نہیں ہوا اور جب ”قبل موتہ“ میں موت استعمال ہوا ہے تو یہاں کیوں نہیں ہوا۔ اگر ”مادمت فیہم“ کی بجائے ”مادمت حیا“ ہوتا اور ”توفیتنی“ کی بجائے ”اماتنی“ ہوتا تو آپ عیسیٰ علیہ السلام کو وفات شدہ قرار دینے میں حق بجانب ہوتے۔

قرآن مجید کے فیصلے کے مطابق یہودی عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر قتل ہونے کے قائل ہیں۔ ان کو اصل صورت حال سے آگاہ کرنا گمراہی کا موجب کیوں ہے۔ کسی بے گناہ کو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی شکل دے کر صلیب پر چڑھوا کر نہیں مارا۔ برنابا کی انجیل کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کے حواری یہودا اسکریوتی نے عیسیٰ علیہ السلام سے غداری کی اور یہودیوں سے رشوت لے کر عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑوانا چاہا۔ کیا اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کے ساتھ غداری جرم نہیں ہے؟ اسی یہودا اسکریوتی پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈالی گئی اور اسے ہی صلیب پر قتل کیا گیا۔ گزشتہ صفحات پر مفصل بیان ہو چکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے کسی اور شخص کا صلیب پر قتل ہونا قرآن مجید کے محکم دلائل سے ثابت ہے۔

سوال نمبر: ٤٧ ...... ص ٤٧، ٤٨ پر لکھتے ہیں : ”سنیے یہودی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یقیناً قتل ہو جانے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ گو وہ آسمانی بیان کے مطابق خود در حقیقت شک میں تھے۔ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیبی موت سے بچا لیا اور یہودیوں کی سازش ناکام بنادی اور پھر انہیں طبعی عمر پانے کے بعد وفات دے کر ان کا اپنی طرف رفع والا وعدہ پورا فرما دیا۔ لیکن ”مطهّرك من الذين كفروا“ کا وعدہ متقاضی تھا کہ خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس نجاست سے پاک ہونے کا اعلان کرے، جس نجاست سے یہودی آپ کو ملوث قرار دے رہے تھے اور ان کے متعلق یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ لعنتی موت مرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو اس طرح پورا کیا کہ رسول کریم ﷺ پر وحی نازل کر کے اعلان فرما دیا ”ماقتلوه یقیناً بل رفعه اللہ الیہ“ کہ مسیح یقیناً یہودیوں کے ہاتھ سے قتل نہیں ہوا اور نہ لعنتی موت مرا ہے۔ بلکہ خدا نے اسے باعزت وفات دے کر اس کے درجے بلند کئے۔ یہ تطہیر آیت قرآنیہ کے ذریعہ آپ کے

٣٥

صفحہ ٧٣

مرفوع الی ہونے کے بعد ہوئی۔ لہٰذا آیت میں ترتیب ذکری قائم رہی۔

جواب....... قرآنی بیان کے مطابق یہودی عیسیٰ علیہ السلام کے یقیناً قتل ہو جانے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ قرآنی بیان کے مطابق شک میں نصاریٰ تھے۔ جو کہتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام مصلوب ہونے کے بعد تیسرے روز قبر سے نکل کر آسمان پر مرفوع ہوگئے۔ آپ ص ٢٤٧ پر جو لکھتے ہیں کہ انہیں طبعی عمر پانے کے بعد وفات دے کر ان کا اپنی طرف رفع والا وعدہ بھی پورا فرما دیا۔ یہاں آپ یوں کیوں نہیں لکھتے کہ انہیں طبعی عمر کے بعد وفات دے کر عزت کی موت دے کر درجات بلند کرنے کا وعدہ پورا فرما دیا۔ تاکہ عبارت کے بھونڈے پن سے آپ کے اس بیان کا پول کھل جائے کہ رفع کے معنے باعزت موت کے بعد درجات کا بلند ہونا ہوتے ہیں۔ سورۂ آل عمران کی آیت ”انی متوفیک ورافعك الیٰ“ کے وعدے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اس وقت کئے جب یہود حضرت مسیح کو قتل کرنے اور صلیب پر چڑھانے کی تدبیر کر کے انہیں پکڑنے آئے۔ مرزا قادیانی (اربعین نمبر ٣ ص ٨ ، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٢) پر لکھتے ہیں: ”یہودیوں نے حضرت مسیح کے قتل وصلیب کا حیلہ سوچا تھا۔ خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے بچالوں گا اور تیسرا اپنی طرف رفع کروں گا۔“

مرزا قادیانی بھی معنی ”متوفیک ورافعك الیٰ“ کے ہی کر رہے ہیں۔ لیکن اپنی مذعومہ حقیقت کو چھپا رہے ہیں۔ ان کے زعم میں اس کے معنی ہونے چاہئیں ”تجھے وفات دوں گا اور تجھے عزت کی موت دے کر تیرے درجات بلند کروں گا۔“ لیکن خدا تعالیٰ نے ان سے حق اگلوا لیا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل وصلیب دونوں سے بچانے کا وعدہ تھا۔ آیت ”مطهرك“ یعنی تجھے کفار سے پاک رکھوں گا۔ اس کی مزید تاکید کرتی ہے ”مطهرك“ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے۔ سو تطہیر کا وعدہ ان ہی سے متعلق ہے اور تطہیر ان کافروں سے ہے جو ان کو پکڑ کر صلیب پر لٹکانا چاہتے تھے۔ اس وعدہ کا ایفا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کافروں کی زندگی میں ہی ہونا چاہئے۔ جس کا اعتراف مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا بیان میں کیا گیا ہے۔

آپ کی عقل کہاں کھوگئی کہ چھ سو برس بعد قرآن میں وحی کے نزول کے ذریعے اس وعدہ کے ایفاء ہونا لکھ رہے ہیں۔ تطہیر کا وعدہ صلیب کے واقعہ سے پہلے ہوا۔ اس وقت جب مسیح علیہ السلام مصلوب ہی نہیں ہوئے تھے تو انہیں لعنتی موت میں ملوث کرنے کا کیا مطلب؟ جب ایسا ہوا ہی نہیں تو اس سے تطہیر چہ معنی، پریشانی کے وقت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے وعدے سے کیا اطمینان ہوگا جو چھ سو برس بعد ایک آیت کے نزول سے پورا ہونے والا تھا۔ ذرا ہوش کے ناخن لیں۔ ٣٦

تفسیر سراج منیر میں نسائی اور مردویہ کی ”فاجتمعت اليهود على قتله واخبره الله با صحبة اليهود“ ﴿جب یہود مسیح کو قتل کرنے کے لئے اسے خبر دی کہ میں تجھے آسمان پر اٹھاؤں گا اور کفار یہود کی (آئینہ کمالات ص ٤٦ ، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر مـ صاف دلالت کرتے ہیں کہ وعدہ جلد پورا ہونے والا ہے اس جگہ اگر توفی کے معنی موت اور رفع الی اللّٰـ لیا جائے تو یہود نامسعود کی تدبیر کامیاب ٹھہرتی ہے اور خـ ہوتا ہے۔ پس واضح ہو گیا کہ توفی کے معنی یہی ہو سکتے ہیں توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا لینے کے۔﴾

تفسیر معالم میں حضرت ابن عباسؓ سے روایـ فادخله في خوخة في سقفها روزنة فرفعه الله شبه عيسىٰ فقتلوه وصلبوه“ ﴿جب یہـ جبرائیل کو بھیج کر مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا اور اسی بدبخت کو مـ کیا اور صلیب پر چڑھایا۔﴾

اسی روایت کو (درمنثور) میں نسائی وابن مـ سیوطیؒ اور امام ابن جریرؒ نے بھی اسے نقل کیا ہے۔ تطـ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو نجس اور پلید قرار دیا نجس (٢٨:٩) “ ﴿یعنی مشرکین نجس ہیں۔﴾

جریرؒ ہی سے نقل کرتے ہیں: ”عن ابن جریج ومطهرك من الذين كفروا قال فرفعه اياه كفروا“ ﴿ابن جریج نے قول الہٰی ’انی متوفيك عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لینا ہی آپ کی توفی اـ من الذین کفروا“ کے معنی یہ ہوئے کہ کفار کے شـ (ازالہ اوہام ص ٣٨٠، خزائن ج ٣ ص ٢٩٥) پـ ان (یہود) کے حوالہ کیا گیا۔ تازیانے لگائے گئے ٣٧

صفحہ ٧٣

تفسیر سراج منیر میں نسائی اور مردویہ کی حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے: ”فاجتمعت اليهود على قتله واخبره الله بانه يرفعه الى السماء ويطهره من صحبة اليهود“ ﴿جب یہود مسیح کو قتل کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اسے خبر دی کہ میں تجھے آسمان پر اٹھا لوں گا اور کفار یہود کی صحبت سے پاک رکھوں گا۔﴾

(آئینہ کمالات ص ٤١٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”وعدہ کے الفاظ صاف دلالت کرتے ہیں کہ وعدہ جلد پورا ہونے والا ہے۔ اس میں کچھ توقف نہیں۔“ اس جگہ اگر توفی کے معنی موت اور رفع الی اللہ سے وفات کے بعد درجے بلند ہونا مراد لیا جائے تو یہود نا مسعود کی تدبیر کامیاب ٹھہرتی ہے اور نعوذ باللہ کفار سے تطہیر کا وعدہ جھوٹ ثابت ہوتا ہے۔ پس واضح ہو گیا کہ توفی کے معنی یہی ہو سکتے ہیں: ”التوفی اخذ الشئ وافیا“ ﴿یعنی توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا لینے کے۔﴾

تفسیر معالم میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے: ”فبعث الله جبرائیل فادخله في خوخة في سقفها روزنة فرفعه الى السماء من تلك الروزنة فالقی الله شبه عيسى فقتلوه وصلبوه“ ﴿جب یہوداہ اسکریوطی مکان کے اندر پہنچا تو خدا نے جبرائیل کو بھیج کر مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا اور اسی بدبخت کو مسیح کی شکل پر بنا دیا۔ پس یہود نے اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔﴾

اسی روایت کو (درمنثور) میں نسائی وابن مردویہ سے نقل کیا ہے۔ حافظ ابن کثیرؒ، امام سیوطیؒ اور امام ابن جریرؒ نے بھی اسے نقل کیا ہے۔ تطہیر سے مراد کفار کے ہاتھ سے صاف بچالینا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو نجس اور پلید قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ”انما المشرکون نجس (٢٨:٩)“ ﴿یعنی مشرکین نجس ہیں۔﴾ محدث ابن جریرؒ اپنی تفسیر جلد ٢ ص ١٤٧ پر ابن جریج رومیؒ سے نقل کرتے ہیں: ”عن ابن جريج قوله اني متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا قال فرفعه اياه اليه توفيه اياه وتطهيره من الذين کفروا“ ﴿ابن جریجؒ نے قول الٰہی ”انی متوفیک“ کے بارے میں کہا کہ خدا تعالیٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لینا ہی آپ کی توفی ہے اور یہی کفار سے تطہیر ہے۔﴾ ”مطهرك من الذين کفروا“ کے معنی یہ ہوئے کہ کفار کے شر سے تجھے صاف بچالوں گا۔

(ازالہ اوہام ص ٣٨٠، خزائن ج ٣ ص ٢٩٥) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”پھر بعد اس کے مسیح ان (یہود) کے حوالہ کیا گیا۔ تازیانے لگائے گئے۔ گالیاں سننا طمانچہ کھانا، ہنسی اور ٹھٹھے میں

٣٧

صفحہ ٧٤

اڑائے جانا اس نے دیکھا۔ آخر صلیب پر چڑھا دیا۔“ ملاحظہ فرمایا مرزا قادیانی کے فرمودات میں تضاد آپ نے ! اربعین کی محولہ بالا عبارت میں ہے کہ خدا تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل وصلیب سے بچانے کا وعدہ کیا اور یہاں لکھ رہے ہیں کہ ان کو یہودیوں نے صلیب پر چڑھا دیا اور رسوا کن اور گستاخانہ حرکات ان کے ساتھ کیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے گا کہ میری وہ نعمتیں یاد کرو جو میں نے تم پر کی تھیں۔ مجملہ ان میں سے ایک مندرجہ ذیل آیت میں مذکور ہے: ” اذکففت بنی اسرائیل عنك اذ جئتهم بالبينات فقال الذين كفروا منهم ان هذا الا سحر مبين (١١٠:٥)“ ﴿اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے دور روکے رکھا۔ جب تو معجزات لے کر ان کے پاس آیا تو ان میں سے کافروں نے کہا کہ یہ تو محض کھلم کھلا جادو ہے۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے روکنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نعمت فرماتا ہے۔﴾

نعوذ باللہ ! اگر یہودیوں کے ہاتھوں عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھ جائیں تو اللہ تعالیٰ کا عیسیٰ علیہ السلام سے یہود کو روکنے کو اپنا احسان بیان کرنا جھوٹ ہوگا۔ ایسا اعتقاد رکھنا کفر ہے۔

ایک دفعہ نبی کریم ﷺ بعض صحابہ کے ہمراہ یہود کے قبیلے بنی نضیر کے گاؤں میں تشریف لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اطلاع دی کہ یہود مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ فوراً وہاں سے نکل آئے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہود کے شر سے بالکل محفوظ رکھا اور الٹا یہود پر وبال جلاوطنی نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو یہ نعمت یوں یاد کرائی ہے: ”یا ایھا الذین آمنوا اذكروا نعمة الله عليكم اذ ھم قوم ان يبسطوا اليكم ايديهم فكف ايديهم عنکم“ ﴿اے مسلمانو ! تم اللہ کی وہ نعمت یاد کرو جو اس نے تم پر کی۔ جب قوم کفار نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو ہم نے ان کے ہاتھ تم سے روکے رکھے۔﴾

”اذکففت ... الخ“ دوسری آیت ”ومطھرك من الذین کفروا“ کی صحیح تفسیر ہے کہ اس میں تطہیر سے مراد یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہودیوں کے ہاتھ سے پاک رہیں گے۔ جملہ معتبر تفاسیر میں اس آیت کے ذیل میں یہی مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے ہاتھ میں گرفتار نہیں ہونے دیا اور وہ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے۔ تفسیر فتح البیان میں ہے: ”ولما اتی عیسیٰ بھذہ البینات قصد الیہود بقتلہ فخلصه الله منهم ورفعه الى السماء“ ﴿اور جب عیسیٰ علیہ السلام نے یہ روشن نشانات دکھائے تو یہود نے آپ

٣٨

٧٥

کے قتل کا قصد کیا۔ سو خدا نے آپ کو صاف نکال لیا اور آسمان کی طرف نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”واذكففت بنى اسرائيل عنك“ ﴿اور جـ اسرائیل کو﴾ اور یہ نہیں فرمایا ”وانکففتک عن بنی اسرائیـ سے جیسے کہ دوسرے مقام پر بنی اسرائیل کو اپنی نعمت یاد کرائی ”واذنـ يسومونكم سوء العذاب (٤٩:٢)“ ﴿اور جب بچایا ہم نـ تھے تم کو بہت بڑا عذاب﴾ اس صورت میں وہم پڑ سکتا ہے کہ یہود ہوگا اور آپ کو کچھ اذیت بھی پہنچائی ہوگی۔ مگر آخر اللہ تعالیٰ نے آ ہوگا۔

قرآن نے نجات (بچانا) کی بجائے کف (ہٹا رکھنا) نہیں کہا کہ ”كففتك عن بنى اسرائيل “ یعنی ہٹا رکھا تجھ کو ”کففت بنی اسرائیل عنك“ یعنی میں نے بنی اسرائیل کـ عیسیٰ علیہ السلام کو ضرر پہنچانا چاہتے تھے لہذا ان کو ہی ہٹانے کا ذکـ دوری کے لئے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو عیسیٰ علیہ السـ کیسے انہیں کوئی اذیت پہنچا سکتے یا سولی پر چڑھا سکتے ہیں۔ ترتیب سکتی ہے کہ ”متوفيك“ کے معنی تجھے پورا پورا لے لوں گا، یا تیـ گا، کئے جائیں۔ ”رافعك“ کے معنی اپنی طرف اٹھالوں گا مراد ہـ کفروا“ کے معنے تجھے کافروں یعنی کفار کے ہاتھ سے بچالوں گا،

سوال نمبر: ٣٨ ...... ص ٤٩ پر لکھتے ہیں: ”ہم یہ کہتے ہیں ہو گئے۔ مگر صلیب پر ان کی موت واقع نہیں ہوئی۔ بلکہ ان کو صلیب میں تھے۔ جسے یہودیوں نے موت کی حالت سمجھ کر یہ دعویٰ کیـ پر مار دیا۔ صلیب پر لٹکانا تو صلب کی کارروائی میں پہلا کام ہے ہوتا ہے۔ جب تک موت کی حالت وقوع میں نہ آئے صلب کا عـ کہتے ہیں کہ مسیح مصلوب نہیں ہوئے۔ کیونکہ صلیب پر لٹکایا جا۔ ان کی موت واقع نہیں ہوئی۔ لہذا صلیب کی کارروائی انجام تکـ پورا نہیں ہوا۔ صرف ابتدائی کارروائی ضرور ہوئی ہے کہ انہیں صلیـ

٣٩

صفحہ ٧٥

کے قتل کا قصد کیا۔ سو خدا نے آپ کو صاف نکال لیا اور آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ ﴿ یہاں ایک دقیق نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"واذ کففت بنی اسرائیل عنک" ﴿اور جب ہٹا رکھا میں نے تجھ سے بنی اسرائیل کو﴾ اور یہ نہیں فرمایا "واذ کففتک من بنی اسرائیل" یعنی جب تجھ کو بنی اسرائیل سے جیسے کہ دوسرے مقام پر بنی اسرائیل کو اپنی نعمت یاد کرائی "واذ نجینکم من آل فرعون یسومونکم سوء العذاب (٤٩:٢)" ﴿اور جب بچایا ہم نے تم کو آل فرعون سے پہنچاتے تھے تم کو بہت بڑا عذاب﴾ اس صورت میں وہم پڑ سکتا ہے کہ یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کر لیا ہوگا اور آپ کو کچھ اذیت بھی پہنچائی ہوگی۔ مگر آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیا ہوگا۔

قرآن نے نجات (بچانا) کی بجائے کف (ہٹا رکھنا) استعمال کیا ہے۔ قرآن نے یہ نہیں کہا کہ "کففتک عن بنی أسرائيل" یعنی ہٹا رکھا تجھ کو بنی اسرائیل سے بلکہ یوں کہا کہ "کففت بنی اسرائیل عنک" یعنی میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکے رکھا۔ کیونکہ یہود عیسیٰ علیہ السلام کو ضرر پہنچانا چاہتے تھے لہٰذا ان کو ہی ہٹانے کا ذکر کیا۔ کف کا صلہ عن ذکر کیا۔ جو دوری کے لئے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو عیسیٰ علیہ السلام سے دور ہٹائے رکھا۔ پھر وہ کیسے انہیں کوئی اذیت پہنچا سکتے یا سولی پر چڑھا سکتے ہیں۔ ترتیب ذکری اس صورت میں قائم رہ سکتی ہے کہ "متوفیک" کے معنی تجھے پورا پورا لے لوں گا، یا تیرا وقت پورا کر کے طبعی موت دوں گا، کئے جائیں۔ "رافعک" کے معنی اپنی طرف اٹھالوں گا مراد ہوں اور "مطہرک من الذین کفروا" کے معنے تجھے کافروں یعنی کفار کے ہاتھ سے بچالوں گا، کئے جائیں۔

سوال نمبر: ٣٨ ...... ص ٤٩ پر لکھتے ہیں: "ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح صلیب پر لٹکائے تو گئے۔ مگر صلیب پر ان کی موت واقع نہیں ہوئی۔ بلکہ ان کو صلیب سے اتارا گیا تو وہ غشی کی حالت میں تھے۔ جسے یہودیوں نے موت کی حالت سمجھ کر یہ دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے مسیح کو صلیب پر مار دیا۔ صلیب پر لٹکانا تو صلب کی کارروائی میں پہلا کام ہے اور انتہاء اس کی موت کا واقع ہونا ہوتا ہے۔ جب تک موت کی حالت وقوع میں نہ آئے صلب کا فعل پورا نہیں ہوتا۔ اسی لحاظ سے ہم کہتے ہیں کہ مسیح مصلوب نہیں ہوئے۔ کیونکہ صلیب پر لٹکایا جانے کے بعد ہماری تحقیق کے مطابق ان کی موت واقع نہیں ہوئی۔ لہٰذا صلیب کی کارروائی انجام تک نہیں پہنچی اور صلیب دینے کا فعل پورا نہیں ہوا۔ صرف ابتدائی کارروائی ضرور ہوئی ہے کہ انہیں صلیب کی لکڑی پر لٹکایا گیا اور اس کے

٣٩

صفحہ ٧٧

صدمہ سے وہ بے ہوش ہو گئے۔“

جواب ...... پچھلے صفحات میں تصریح گزر چکی ہے کہ آیات قرآنی مطهرك من الذین کفروا اور وکففت بنی اسرائيل عنك واضح طور پر عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر چڑھنے کی تردید کر رہی ہیں۔ قرآن نے یہودیوں کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا۔ اگر یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی غشی کی حالت کو موت سمجھا ہوتا۔ تو ان کا عیسیٰ علیہ السلام کو مقتول بیان کرنا خلاف واقعہ ہوتا۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ ان کے قول کو نقل نہ کرتا یا پھر وضاحت کر دیتا کہ یہود کا عیسیٰ علیہ السلام کو مقتول قرار دینا جھوٹ ہے۔ بلکہ وہ غشی کی حالت میں صلیب پر سے اتار لئے گئے۔ ”ماقتلوہ“ اور ”وماصلبوہ“ میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قتل اور صلب کی نفی کی گئی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ صلیب سے کوئی شخص قتل ضرور ہوا ہے۔ لیکن وہ عیسیٰ علیہ السلام نہیں تھا۔ یہ آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ صلیب پر لٹکانا صلب کی کارروائی میں پہلا کام ہے۔ ”ما صلبوہ“ میں صلب کی کارروائی کی نفی کی گئی ہے۔ کارروائی کی بحیثیت مجموعی نفی ہونے کی صورت میں اس کے ایک حصہ یعنی ابتداء کا اثبات کیسے ہو گیا۔ آپ کے قول کے مطابق جو صلیب پر چڑھ جائے اور صلیب پر مرے نہیں وہ مصلوب نہیں کہلاتا۔ تو ازراہ کرم یہ بتادیں کہ ایسے شخص کے لئے عربی زبان میں کونسا لفظ موضوع ہے۔

قاموس عصری میں صلب کے معنی ”علق على الصليب“ لکھے ہیں ”ما صلبوہ“ کے معنی ہوں گے ”ما علقوہ علی الصليب“ یعنی اسے صلیب پر نہیں لٹکایا۔ جو شخص غیراز مسیح صلیب پر قتل ہوا۔ اس کا ذکر سورۃ النساء کی آیت ”ولکن شبه لهم“ میں ہے۔ یہ شخص عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل بنایا گیا تھا۔ تفسیر کشاف قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت بیان کرنے میں مانی ہوئی ہے۔ اس میں لکھا ہے ”ولکن شبه لهم من قتلوہ“ لیکن شبیہہ بنایا گیا واسطے ان کے جس کو قتل کیا انہوں نے۔

تفسیر رحمانی میں ہے: ”ولکن قتلوہ وصلبوہ من القی علیه شبهه“ ﴿لیکن انہوں نے اس کو قتل کیا اور صلیب دی جس پر مسیح کی شباہت ڈالی گئی تھی۔﴾

سوال نمبر : ٣٩ ....... ص ٥٢ پر لکھتے ہیں : ”کپڑے کا کھونٹی پر لٹکانا تو کپڑے کی حفاظت کے لئے ہوتا ہے اور کسی کا صلیب پر لٹکایا جانا اس کی موت کے لئے۔ کیونکہ صلب موت کی سزا کی ایک قسم ہے۔ جب تک موت واقع نہ ہو۔ صلب کی کارروائی پوری نہیں ہو سکتی۔ آپ کی اس بحث میں شکست روزِ روشن کی طرح ظاہر ہے۔ صلب کی کارروائی موت کے لئے لٹکانے کا مستلزم

٤٠

ہے ”ما صلبوہ“ کے یہی معنی ہوں گے کہ یہود نے عیسیٰ علیہ ا لٹکایا۔“

جواب ...... یہ بات آپ کو ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ حوال ہوتے ہیں۔ وہ صرف ان کی ابتدائی صورت کے لئے ہیں۔ نتیجہ ان م

صاحب قاموس العصرى نے صلب کے معنی ”علق على الصليب cuss لکھے ہیں۔

سوال نمبر: ٤٠ ....... ص ٥٢ پر لکھتے ہیں : ”مسیح اور مہدی کو دو قرار کھا چکے ہیں۔ آپ نے مہدی اور مسیح دو قرار دیئے۔ ہم نے احادیث امام مہدی ہونا ثابت کر دیا اور آپ نے مان بھی لیا کہ مسیح موعود امام مہ شکست کو چھپانے کے لئے لکھتے ہیں کہ مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام آپ اور امام مہدی کے ظہور کے متعلق جو احادیث ہیں۔ ان کو متواتر قرا بیان سراسر غلط ہے۔ آپ کو زبانی بحث میں بتایا گیا تھا کہ علامہ ابن حدیثوں پر جرح کی ہے اور ان میں سے قلیل الاقل کو ہی ثابت مانا ہے

جواب ...... یہ آپ کی کذب بیانی ہے کہ میں مسیح اور مہد کھا چکا ہوں۔ یہ میں نے تسلیم کیا تھا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ا ہے۔ لیکن یہ میں نے نہیں مانا کہ امام مہدی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام

قادیانی انجام آتھم کے (ص ٦٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں : ”میں کسی خونی مسیح کے آنے کا قائل نہیں اور نہ خونی م

ظاہر ہے کہ مسیح اور مہدی دو مختلف اشخاص ہیں۔ رسالہ (کشف الغطا مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اور مسلمانوں کے قدیم فرقوں کو ایک ایسے اور حسین کی اولاد سے ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ بنی فاطمہ سے کوئی مہدی آی

کتاب ”غلام احمد قادیانی“ مؤلفہ محمد داؤد مطبوعہ ربوہ کے ہیں: ”اور اس امر سے قطعاً منکر نہیں ہوں کہ آسمان سے اسلامی لڑائی کوئی شخص مہدی کے نام سے جو بنی فاطمہ سے ہوگا، بادشاہ وقت ہو گا

مذکورہ بالا تحریروں میں مہدی کے بنی فاطمہ سے ہونے ک الگ الگ شخصیت ہونا تسلیم کیا ہے۔ مرزا قادیانی (ایک غلطی کا ازالہ

٤١

صفحہ ٧٧

ہے ”ماصلبوہ“ کے یہی معنی ہوں گے کہ یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کو مارنے کے لئے نہیں لٹکایا۔“

جواب....... یہ بات آپ کو ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ جو الفاظ افعال کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ وہ صرف ان کی ابتدائی صورت کے لئے ہیں۔ نتیجہ ان میں داخل نہیں ہوتا۔ اس لئے صاحب قاموس العصری نے صلب کے معنی ”علق علی الصلیب“ اور Hang on a cross لکھے ہیں۔

سوال نمبر : ٤٠....... ص٥٢ پر لکھتے ہیں: ”مسیح اور مہدی کو دو قرار دینے میں بھی آپ شکست کھا چکے ہیں۔ آپ نے مہدی اور مسیح دو قرار دیئے۔ ہم نے احادیث نبویہ سے موعود ابن مریم کا امام مہدی ہونا ثابت کر دیا اور آپ نے مان بھی لیا کہ مسیح موعود امام مہدی بھی ہے۔ اب آپ اپنی شکست کو چھپانے کے لئے لکھتے ہیں کہ مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام آپ کے نزدیک الگ الگ ہیں اور امام مہدی کے ظہور کے متعلق جو احادیث ہیں۔ ان کو متواتر قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ آپ کا بیان سراسر غلط ہے۔ آپ کو زبانی بحث میں بتایا گیا تھا کہ علامہ ابن خلدون نے مہدی کی تمام حدیثوں پر جرح کی ہے اور ان میں سے قلیل الاقل کو ہی ثابت مانا ہے۔“

جواب....... یہ آپ کی کذب بیانی ہے کہ میں مسیح اور مہدی کو دو قرار دینے میں شکست کھا چکا ہوں۔ یہ میں نے تسلیم کیا تھا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو اماما، ہادیا اور اماما مہدیا کہا گیا ہے۔ لیکن یہ میں نے نہیں مانا کہ امام مہدی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے الگ شخصیت نہیں۔ مرزا قادیانی انجام آتھم کے (ص٦٨، خزائن ج١١ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں:

”میں کسی خونی مسیح کے آنے کا قائل نہیں اور نہ خونی مہدی کا منتظر۔“ اس تحریر سے ظاہر ہے کہ مسیح اور مہدی دو مختلف اشخاص ہیں۔ رسالہ (کشف الغطاء ص١٢، خزائن ج١٤ ص١٩٤) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اور مسلمانوں کے قدیم فرقوں کو ایک ایسے مہدی کا انتظار ہے جو بنی فاطمہ اور حسین کی اولاد سے ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ بنی فاطمہ سے کوئی مہدی آنے والا نہیں۔“

کتاب ”غلام احمد قادیانی“ مؤلفہ محمد داؤد مطبوعہ ربوہ کے ص٨٦٤ پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اور اس امر سے قطعاً منکر نہیں ہوں کہ آسمان سے اسلامی لڑائیوں کے لئے مسیح نازل ہوگا اور کوئی شخص مہدی کے نام سے جو بنی فاطمہ سے ہوگا، بادشاہ وقت ہوگا۔“

مذکورہ بالا تحریروں میں مہدی کے بنی فاطمہ سے ہونے کا انکار کیا ہے اور مسیح اور مہدی کا الگ الگ شخصیت ہونا تسلیم کیا ہے۔ مرزا قادیانی (ایک غلطی کا ازالہ کے ص٥، خزائن ج١٨ ص٢١٢) کے

٤١

صفحہ ٧٩

حاشیہ پر لکھتے ہیں: ”ایک دادی ہماری شریف خاندان سادات سے اور بنی فاطمہ میں سے تھی اور یہ حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔“

چونکہ مرزا قادیانی بنی فاطمہ میں سے نہیں، سو مہدی بننے کے لئے مہدی کے بنی فاطمہ میں سے ہونے کا انکار کیا۔ لیکن حدیث صحیحہ کی تردید کرنے کی بھی جرأت نہ ہوئی اور اپنا بنی فاطمہ میں سے ہونا ثابت کرنے کے لئے مذکورہ بالا کشف بیان کیا اور سلسلہ مادری سے نسب کو معتبر رکھا۔ حالانکہ نسب سلسلہ پدری سے معتبر ہوتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ١٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٥) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”آنحضرت ﷺ پیشینگوئی فرماتے ہیں کہ مہدی خلق اور خلق میں میری مانند ہوگا۔ میرے نام جیسا اس کا نام ہوگا۔ میرے باپ کے نام کی طرح اس کے باپ کا نام۔“

اگر ابن خلدون نے مہدی کی تمام حدیثوں پر جرح کی ہے اور مرزا قادیانی کو ان کی صحت کا انکار ہے تو یہ حدیث نقل کیوں کی ہے۔ حالانکہ اس کی رو سے مہدی موعود کا نام محمد بن عبداللہ ہونا چاہئے اور مرزا قادیانی کا نام غلام احمد بن غلام مصطفیٰ ہے جو ان کے دعویٰ مہدویت میں کاذب ہونے کی دلیل ہے۔

امام مہدی کے ظہور سے متعلق احادیث کو میں نے بلاسند متواتر قرار نہیں دیا۔ حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں: ”تواتر الاخبار بان المهدي من هذه الامة وان عيسى يصلي خلفه “ یعنی احادیث رسول اللہ ﷺ اس بارے میں تواتر کو پہنچ چکی ہے کہ مہدی اس امت میں سے ہوں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

ابن خلدون کا ظہور مہدی سے انکار صحیح نہیں۔ کیونکہ معتبر علمائے حدیث نے مرفوعاً بعض احادیث کو نقل کیا ہے۔ جو ظہور مہدی پر حجت قاطعہ ہیں۔ محمد بن اسنوی اپنی کتاب مناقب شافعی میں لکھتے ہیں: ”فقد تواتر الاخبار من رسول الله ﷺ بذكر المهدي وانه من اهل بيته “ یعنی حضور ﷺ سے بذریعہ تواتر ثابت ہو چکا ہے کہ مہدی ظاہر ہوں گے اور وہ خاندان نبوت میں سے ہوں گے۔ شارح عقیدہ سفارینی نے امام مہدی کی تشریف آوری کے متعلق معنوی تواتر کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ تحریر فرماتے ہیں:

”امام مہدی کے خروج کی روایتیں اتنی کثرت سے موجود ہیں کہ اس کو معنوی تواتر کی حد تک کہا جا سکتا ہے اور یہ بات علمائے اہل سنت کے درمیان اس درجہ مشہور ہے کہ اہل سنت کے عقائد میں ایک عقیدے کی حیثیت سے شمار کی گئی ہے۔ ابو نعیم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی وغیرہم نے

٤٢

صحابہ و تابعین سے اس باب میں متعدد روایتیں بیان کی ہیں۔ جن کے آمد کا قطعی یقین حاصل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا امام مہدی کی تشریف آوری عقائد اہل سنت والجماعت یقین کرنا ضروری ہے۔

اسی طرح حافظ سیوطیؒ نے بھی یہاں تواتر معنوی کا دعویٰ منہاج السنہ کے ص ٥٣٤ پر تحریر فرماتے ہیں: ”الاحادیث التي المهدي صحاح رواه احمد وابوداؤد منها حديث حذيفہ وابی سعید و علی“ یعنی جن حدیثوں سے امام مہدی کے خروج صحیح ہیں۔ ان کو امام احمد، امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے روایت فر مسعودؓ، ام سلمہؓ، ابوسعیدؓ اور علیؓ کی حدیثیں ہیں۔ ترمذی اور ابوداؤد ﴿ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو خدا تعالیٰ اس دن کو دراز کرے گا۔ میرے خاندان میں سے ایک شخص کو بھیجے گا جس کا نام میرے نام پـ میرے باپ کے نام پر ہوگا۔ وہ زمین کو عدل وانصاف سے معمور کر وقت سے پہلے ظلم وستم سے معمور تھی۔ ابو داؤد نے ام سلمہؓ سے ایک ترجمہ یہ ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مہدی میری عترت یعنی فا

مرزا غلام احمد قادیانی نے اس خیال کی تردید کی ہے کہ اولاد سے ہوگا۔ سو وہ مہدی موعود نہیں ہو سکتے۔

سوال نمبر: ٤١...... ص ٥٣ پر لکھتے ہیں: ”مسیح موعود کا امام ہونا بخاری اور مسلم سے ثابت کیا جا چکا ہے۔ بخاری میں نازل ہونے وا منکم “ قرار دیا گیا ہے اور صحیح مسلم میں ”فامکم منکم“

جواب...... صحیح بخاری کی حدیث ہے: ”کیف انتم وامامکم منکم “ ﴿ تم کیسے ہو گے جب تمہارے درمیان ابن میں سے ہوگا۔ ﴿ دنیا میں صرف ایک ہی شخص ہوا ہے جس کی پیدائـ علیہ السلام ہیں۔ لہٰذا اس سے کوئی دوسرا شخص مراد نہیں لیا جا سکتا۔ قرینہ صارفہ موجود نہ ہو۔ یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں۔ پس نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کے درمیان نازل ہوں گے۔ اس کا نـ

٤٣

صفحہ ٧٩

صحابہ و تابعین سے اس باب میں متعدد روایتیں بیان کی ہیں۔ جن کے مجموعے سے امام مہدی کی آمد کا قطعی یقین حاصل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا امام مہدی کی تشریف آوری پر حسب بیان علماء اور حسب عقائد اہل سنت والجماعت یقین کرنا ضروری ہے۔

اسی طرح حافظ سیوطیؒ نے بھی یہاں تواتر معنوی کا دعویٰ کیا ہے۔ حافظ ذہبی مختصر منہاج السنۃ کے ص ٥٣٤ پر تحریر فرماتے ہیں: ”الاحادیث التی یحتج بھا علی خروج المہدی صحاح رواہ احمد وابوداؤد منھا حدیث ابن مسعود وام سلمة وابی سعید وعلی “ یعنی جن حدیثوں سے امام مہدی کے خروج پر استدلال کیا گیا ہے وہ صحیح ہیں۔ ان کو امام احمد، امام ابو داؤد اور امام ترمذی نے روایت فرمایا ہے کہ ان میں سے ابن مسعودؓ، ام سلمہؓ، ابو سعیدؓ اور علیؓ کی حدیثیں ہیں۔ ترمذی اور ابو داؤد کی روایت کا ترجمہ یہ ہے: ﴿حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر دنیا کے فنا ہونے میں صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو خدا تعالیٰ اس دن کو دراز کرے گا۔ یہاں تک کہ رب بزرگ و برتر میرے خاندان میں سے ایک شخص کو بھیجے گا جس کا نام میرے نام پر ہوگا اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہوگا۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے معمور کر دے گا۔ جس طرح کہ وہ اس وقت سے پہلے ظلم و ستم سے معمور تھی۔﴾ ابوداؤد نے ام سلمہؓ سے ایک حدیث روایت کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے﴿ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مہدی میری عترت یعنی اولاد فاطمہؓ سے ہوگا۔﴾

مرزا غلام احمد قادیانی نے اس خیال کی تردید کی ہے کہ مہدی بنی فاطمہ اور حسین کی اولاد سے ہوگا۔ سو وہ مہدی موعود نہیں ہو سکتے۔

سوال نمبر : ٤١ ....... ص ٥٣ پر لکھتے ہیں: ”مسیح موعود کا امام ہونا اور امت میں سے امام ہونا تو بخاری اور مسلم سے ثابت کیا جا چکا ہے۔ بخاری میں نازل ہونے والے مسیح ابن مریم کو ”امامکم منکم“ قرار دیا گیا ہے اور صحیح مسلم میں ”فامکم منکم“

جواب ....... صحیح بخاری کی حدیث ہے: ”کیف انتم اذانزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم“ ﴿تم کیسے ہوگے جب تمہارے درمیان ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔﴾ دنیا میں صرف ایک ہی شخص ہوا ہے جس کی پیدائش بلا باپ ہوئی ہے اور وہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ لہٰذا اس سے کوئی دوسرا شخص مراد نہیں لیا جا سکتا۔ جب تک کہ اس کے لئے قوی قرینہ صارفہ موجود نہ ہو۔ یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں۔ پس اسرائیلی مسیح عیسیٰ علیہ السلام ہی نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کے درمیان نازل ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے مسلمانوں

٤٣

صفحہ ٨١

کے درمیان موجود نہیں ہوں گے۔ نزول کے بعد ان میں آئیں گے۔ نزول رفع کے مقابلے میں ہے اور چونکہ ”رفع الی السما“ ہوتا ہے سو نزول آسمان سے ہوگا۔ ”امامکم ، منکم“ مکمل فقرہ ہے اور پہلے فقرے پر واؤ کے ذریعے اس کا عطف ہے۔ سو امام سے مراد ابن مریم نہیں ہے۔ اس لئے کتاب غلام احمد قادیانی مؤلفہ محمد داؤد کے ص ٨٦ پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اس کو سچ مچ ابن مریم ہی نہ سمجھ لو: بل ھو امامکم منکم“

دیکھا آپ کے معنے کرنے کے لئے مرزا قادیانی کو ”بل ھو“ اپنے پاس سے حدیث میں داخل کرنا پڑا۔ آپ کے خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود نے ”دعوة الامیر“ کے ص ٢٧ پر حدیث کا ترجمہ یوں کیا ہے: ”تمہارا کیا حال ہوگا۔ جب تم میں ابن مریم نازل ہوگا اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا ۔“ انہوں نے تاویل سے کام نہیں لیا۔ صحیح ترجمہ کیا ہے۔ پس ابن مریم کا امت محمدی میں سے ہونا ثابت نہ ہوا۔

قادیانی مرزا عبدالحق صاحب نے ”نزول مسیح“ کے ص ٣٢ پر یہ حدیث نقل کی ہے: ”عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ﷺ قال کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم فامکم منکم فقلت لابن ابی ذئب ان الاوزاعی حدثنا عن الزھری عن نافع عن ابی ھریرة وامامکم منکم قال ابن ابی ذئب ھل تدری ما امکم منکم قلت تخبرنی قال فامکم بکتاب ربکم عزوجل وسنة نبیکم صلعم“ (حضرت ابوہریرہؓ سے روایت مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تمہارے درمیان اتریں گے۔ وہ تم میں سے تمہارے امام ہوں گے۔ راوی ولید بن مسلم کہتا ہے میں نے ابن ابی ذئب سے کہا اور اوزعی نے زہری سے۔ زہری نے نافع سے اور نافع نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔“ کا کیا مطلب ہے میں نے کہا تو مجھے بتا۔ اس نے کہا ”تمہارے رب عزوجل کی کتاب اور نبی کریم ﷺ کی سنت کے ساتھ تمہاری امامت کرے گا۔“ اور اوزاعی کی روایت مرزا عبدالحق نے نزول مسیح ص ٢٩ پر نقل کی ہے: ”ان ابو ھریرة قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذ انزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم“ اسی لئے ولید بن مسلم نے ابن ابی ذئب نے کہا کہ اوزاعی نے فامکم منکم کی بجائے ”وامامکم منکم“ کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ چونکہ احتمال تھا کہ ”فامکم منکم“ سے مراد کوئی امت محمدی کا فرد مثلاً (مرزا قادیانی) نہ لے لیا جائے۔ ابن ابی ذئب نے وضاحت کر دی کہ ابن مریم نزول کے بعد قرآن مجید اور سنت نبوی پر عمل پیرا ہوں

٤٤

گے۔ ظاہر ہے کہ نزول سے پہلے کسی اور کتاب وسنت پر عمل پیرا سکتے ہیں۔ لاغیر!

سوال نمبر : ٤٢...... مرزا عبدالحق نے نزول مسیح ص ٣٣ پر

”یعنی (مسیح موعود) تابع ہوں گے شریعت محمدیؐ کے اور پیروکا

جواب...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ پیغمبر ہمارے پیغمبر کے ظہور پر ختم ہو گیا۔ اب جب وہ دنیا میں آ شریک ہو کر قرآن اور حدیث کے موافق عمل کریں گے۔“

جب آپ نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کے اجرا پیش کرتے ہیں تو امام نوویؒ کے قول کو جو نبی کریم ﷺ کے ا کرنے میں آپ پس و پیش کیوں کرتے ہیں؟

(کنز العمال ج ٧ ص ١٩٩) پر عبداللہ بن مغفلؓ سے ہے: ”ثم ینزل عیسی بن مریم مصدقا بمحم عدلا فیقتل الدجال“ (پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلا کریں گے۔ ان کے طریقے سے چلیں گے۔ ہدایت یافتہ گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔)

اس حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام کو امام مہدی کہا نماز پڑھیں گے اس کا نام محمد بن عبداللہ ہے۔

سوال نمبر : ٤٣...... ص ٥٤ پر لکھتے ہیں: ”آپ لا جوا الاعیسیٰ“ والی حدیث کو ہی رد کرنا چاہتے ہیں۔

اس حدیث کا کوئی راوی مجہول اور متروک الحد بصریؒ ہیں، ختم نہیں ہوتا۔ بلکہ صحابی تک اور صحابی سے رسـ انس بن مالک صحابی سے روایت کی ہے۔ جس روایت میں نہ منقطع۔ آپ نے ابن ماجہ سے یہ حدیث دیکھی ہی نہیں۔

”حدیث لامھدی الاعیسیٰ بن مریم بن خالد الجندی عن ابان بن صالح عـ النبی ﷺ وھو تفرد بہ عن محمد بن

٤٥

صفحہ ٨١

گے ۔ ظاہر ہے کہ نزول سے پہلے کسی اور کتاب وسنت پر عمل پیرا ہوں گے ۔ سو یہ اسرائیلی مسیح ہی ہو سکتے ہیں۔ لاغیر!

سوال نمبر : ٤٢...... مرزا عبدالحق نے نزول مسیح ص ٣٢ پر امام نووی کے نوٹ کا ترجمہ دیا ہے: ”یعنی (مسیح موعود) تابع ہوں گے شریعت محمدی کے اور پیروی کریں گے قرآن اور حدیث کی ۔ جواب....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ پیغمبر ہیں۔ لیکن ان کی پیغمبری کا زمانہ ہمارے پیغمبر کے ظہور پر ختم ہو گیا ۔ اب جب وہ دنیا میں آئیں گے تو ہمارے پیغمبر کی امت میں شریک ہو کر قرآن اور حدیث کے موافق عمل کریں گے ۔“

جب آپ نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کے اجراء کے لئے فقہاء اور آئمہ کے اقوال پیش کرتے ہیں تو امام نووی کے قول کو جو نبی کریم ﷺ کے ارشاد پاک کے عین مطابق ہے ، تسلیم کرنے میں آپ پس و پیش کیوں کرتے ہیں؟

(کنز العمال ج ٧ ص ١٩٩) پر عبداللہ بن مغفلؓ سے مروی ایک مرفوع حدیث بیان کی گئی ہے: ”ثم ينزل عیسیٰ بن مریم مصدقاً بمحمد علی ملته اماماً مهدياً وحكماً عدلاً فيقتل الدجال“ ﴿پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے ۔ محمد ﷺ کی تصدیق کریں گے ۔ ان کے طریقے سے چلیں گے ۔ ہدایت یافتہ امام ہوں گے اور منصف حاکم ہوں گے ۔ دجال کو قتل کریں گے ۔﴾

اس حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام کو امام مہدی کہا گیا ہے ۔ لیکن جن امام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے اس کا نام محمد بن عبداللہ ہے ۔

سوال نمبر : ٤٣...... ص ٥٤ پر لکھتے ہیں : ”آپ لاجواب ہونے کے بعد اب ”لا المهدی الا عیسیٰ “ والی حدیث کو ہی رد کرنا چاہتے ہیں ۔

اس حدیث کا کوئی راوی مجہول اور متروک الحدیث نہیں اور اس کا سلسلہ تابعی پر جو حسن بصری ہیں ، ختم نہیں ہوتا ۔ بلکہ صحابی تک اور صحابی سے رسول اللہ ﷺ تک چلتا ہے ۔ حسن نے یہ انس بن مالک صحابی سے روایت کی ہے ۔ جس روایت میں صحابی کا ذکر نہ ہو ۔ وہ مرسل کہلاتی ہے نہ منقطع ۔ آپ نے ابن ماجہ سے یہ حدیث دیکھی ہی نہیں ۔ حافظ ابن قیم المنار میں لکھتے ہیں :

”حديث لا مهدی الا عیسیٰ بن مريم رواه ابن ماجه من طريق محمد بن خالد الجندی عن ابان بن صالح عن الحسن عن انس بن مالک عن النبی ﷺ وهو تفرد به عن محمد بن خالد شاذ غير معروف عند اهل

٤٥

صفحہ ٨٣

الجماعة من اهل العلم والنقل وقد تواترت الاخبار من رسول الله ﷺ بذكر المهدي وانه من أهل بيته امام بیہقی اپنی سنن میں لکھتے ہیں: تفرد به محمد بن خالد هذا “ حاکم ابو عبداللہ کی اس حدیث کے بارے میں اسناد یہ ہے ’عن محمد بن خالد ابان بن ابي عياش عن الحسن عن النبي ﷺ “ وہ لکھتے ہیں: ”فرجع الحديث الى روايته محمد بن خالد وهو مجهول عن ابان بن ابي عياش وهو متروك عن الحسن وهو منقطع والاحاديث الدالة على خروج المهدى اصح اسنادا“ اس حدیث کا مدار محمد بن خالد پر ہے جو نقادانِ حدیث کے نزدیک مجہول ہے۔ اسناد حدیث میں اختلاف ہے۔ ابن عیاش دوسرے اسناد میں داخل ہے۔ وہ محدثین کے نزدیک متروک الحدیث قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے حدیث اضعف ہے۔ دوسرے اسناد میں حسن تابعی تک پہنچ کر حدیث منقطع ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس درجہ اضعف سے بھی نیچے ہے۔ ”میاں محمد افضل“ کے نام آپ نے مہدی کے نام اور اس کے باپ کے نام کے بارے میں جو حدیث لکھی ہے۔ اس کا معقول جواب آپ کو قاضی صاحب کی طرف سے مل چکا ہے کہ ظل کامل اور آئینہ میں عکس اصل سے جدا نہیں ہوتا۔ پس مسیح موعود اور امام مہدی ظلی طور پر محمد بن عبداللہ ہی ہے۔

جواب ....... نامعلوم آپ کونسا تصوف پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اصل نبی کریم (محمد بن عبداللہ) ہیں۔ ظل مہدی موعود (غلام احمد بن غلام مرتضیٰ) ہے۔ یہاں اصل بھی جوہر ہے اور ظل بھی جوہر ہے۔ آئینے کے اندر عکس عرض ہے یہ آپ کیسے کہتے ہیں کہ آئینہ میں عکس اصل سے جدا نہیں ۔ کیا جوہر اور عرض ایک ہو سکتے ہیں؟ اصل اور ظل دونوں مجسم ہیں آئینہ کہاں سے آگیا؟

سوال نمبر : ٤٤....... ص ٥٥ پر لکھتے ہیں ”شیخ عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں: ”هذا وجود جدی محمد لا وجود عبد القادر “ کہ یہ وجود میرے دادا محمد صلعم کا وجود ہے نہ عبدالقادر کا وجود۔ اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ آپ بروزی ظلی طور پر محمد بن عبداللہ ہی ہیں۔“

جواب....... اگر بروزی اور ظلی طور پر عبدالقادر محمد بن عبداللہ ہیں۔ تو مہدی موعود تو شیخ عبد القادر ہوئے۔ مرزا قادیانی کیسے مہدی موعود بن گئے؟ ظل اور بروز کے وجود کے لئے قرآن وحدیث سے کوئی سند لائیں۔

سوال نمبر : ٤٥....... ص ٥٥ پر لکھتے ہیں : ”جناب من! ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آپ کو یہ شعر لکھ بھیجا تھا:

٤٦

فرماچکے ہیں سیدکونین مصطفیٰ عیسیٰ

جواب ...... جناب مرزا! کیا التواء کے معنی آپ نہیں؟ اور کیا التواء کر دینے کے معنی ملتوی کر دینا نہیں؟ آپ نے وہ فرمان نبوی تو نقل کر دیا ہوتا جس میں عیسیٰ مسیح کی طرف منسوب ہے۔ دنیا میں عیسیٰ بن مریم علیہ السل اور ان کو ہی قرآن مجید میں مسیح کہا گیا ہے۔ چونکہ عیسیٰ علیہ السل عیسیٰ کو عیسیٰ کہنے کے لئے کوئی قوی قرینہ صارفہ ہونا چاہئے۔

(ازالۃ الاوہام طبع دوم ص١٩٠، خزائن ج٣ص١٩٢) پر مرزا مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر لی کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام مجھ پر لگاتا ہے وہ م ہوں۔“

اس تحریر کے مطابق جو لوگ مرزا قادیانی کو مسیح م مسیح موعود تو انہیں سارے احمدی جانتے ہیں۔ پس وہ سب ک مسیح کی شخصیت مسیح موعود سے مختلف ہے۔ مرزا قادیانی مسیح م سے انہیں ایسا سمجھا ہے مسیح موعود وہ ہے جس کے نزول کی نبی ”لیوشکن ان ينزل فيكم ابن مریم “ اور ”ک مریم “ میں پیشگوئی فرمائی ہے۔ پس وہ اسرائیلی مسیح عیسیٰ ب وہی مراد ہے، نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی۔

حضرت ابو ہریرہؓ والی حدیث میں ’يضع الـ کہنے کے مطابق ”يضع الحرب “ ہی مان لیا جائے تو پھر آتے ہیں، نہ کہ ملتوی کرنے کے۔ کیا آپ لغت میں ’یضع

سوال نمبر : ٤٦....... ص ٥٦، ٥٧ پر لکھتے ہیں : ”حضرت ہے، اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت پکڑ گیا ہے اور اس ز کی کوشش کریں۔ مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔ د جب تک کہ خدائے تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر ک

جواب....... آپ نے مرزا قادیانی کی (خطبہ الہ

٤٧

صفحہ ٨٣
فرماچکے ہیں سیدکونین مصطفیٰ عیسیٰ مسیح جنگوں کا کردے گا التوا

جواب...... جناب مرزا! کیا التواء کے معنی آپ کی لغت میں ملتوی ہونے کے نہیں؟ اور کیا التواء کر دینے کے معنے ملتوی کر دینا نہیں؟ آپ نے وہ فرمان نبوی تو نقل کر دیا ہوتا جس میں جنگوں کے التواء کا ذکر ہے اور التواء عیسیٰ مسیح کی طرف منسوب ہے۔ دنیا میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سوا کوئی بلا باپ پیدا نہیں ہوا اور ان کو ہی قرآن مجید میں مسیح کہا گیا ہے۔ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام اسم علم ہے۔ لہٰذا کسی شخص غیر از عیسیٰ کو عیسیٰ کہنے کے لئے کوئی قوی قرینہ صارفہ ہونا چاہئے۔

(ازالہ اوہام طبع دوم ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) پر مرزا لکھتے ہیں: ”اس عاجز نے جو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ میں نے ہرگز دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام مجھ پر لگاتا ہے وہ مفتری اور کذاب ہے۔ میں مثیل مسیح ہوں۔“

اس تحریر کے مطابق جو لوگ مرزا قادیانی کو مسیح موعود خیال کرتے ہیں، وہ کم فہم ہیں۔ مسیح موعود تو انہیں سارے احمدی جانتے ہیں۔ پس وہ سب کم فہم ٹھہرے۔ یہ بھی واضح ہے کہ مثیل مسیح کی شخصیت مسیح موعود سے مختلف ہے۔ مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں۔ کیونکہ کم فہم لوگوں نے غلطی سے انہیں ایسا سمجھا ہے مسیح موعود وہ ہے جس کے نزول کی نبی کریم ﷺ نے صحیح بخاری کی احادیث ”لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم“ اور ”کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم“ میں پیشگوئی فرمائی ہے۔ پس وہ اسرائیلی مسیح عیسیٰ بن مریم ہیں۔ آپ کے مقولہ شعر میں وہی مراد ہے، نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی۔

حضرت ابوہریرہؓ والی حدیث میں ”یضع الجزیۃ“ کا لفظ آتا ہے۔ اگر آپ کے کہنے کے مطابق ”یضع الحرب“ ہی مان لیا جائے تو پھر بھی یضع کے معنے موقوف کرنے کے آتے ہیں، نہ کہ ملتوی کرنے کے۔ کیا آپ لغت میں ”یضع“ کے معنی ملتوی کرنا دکھا سکتے ہیں؟

سوال نمبر :٤٦...... ص ٥٦، ٥٧ پر لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف لکھا ہے، اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمہ اسلام کی کوشش کریں۔ مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔ دین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلائیں جب تک کہ خدائے تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرے۔“

جواب...... آپ نے مرزا قادیانی کی (خطبہ الہامیہ ص ٢، خزائن ج ١٦ ص ٢٨) کا یہ قول بھی

٤٧

صفحہ ٨٥

نقل کر دیا ہوتا: ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم سے بند ہے۔ میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔“

سوال نمبر: ٤٧....... آپ کو ص ٥٧ پر یہ لکھنے کی جرات کیسے ہوئی: ”پس دشمن کے مذہبی جنگ چھیڑنے پر جہاد بالسیف کا حکم عود کر آئے گا اور واجب العمل ہو جائے گا۔ کیونکہ اسلام میں جہاد بالسیف یعنی القتال مسلمانوں کی طرف سے اسی صورت میں کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ حملہ میں ابتداء کافروں کی طرف سے ہو۔“

جواب ....... جب مرزا قادیانی کے ظہور کے تلوار کا جہاد ہے ہی نہیں تو جہاد کا حکم کیسے عود کر آئے گا۔ (ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ت ، خزائن ج ١٦ ص ١٧) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے۔ وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٨، ٢٩٧ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧ ، خزائن ج ١٧ ص ٧٨، ٧٧) پر مرزا قادیانی کے یہ اشعار موجود ہیں:

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دین کے لئے حرام ہے اب جنگ و قتال
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ و جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

قرآن مجید میں جہاد کا حکم قیامت تک نافذ العمل ہے۔ اس ضمن میں آخری احکام سورۂ توبہ کے اندر موجود ہیں۔ ان میں یہ پابندی نہیں کہ جہاد اسی صورت میں فرض ہے کہ حملہ کی ابتداء کفار کی طرف سے ہو اور نہ ہی ایسے حالات کا ذکر ہے جس میں کہ اسے بند یا ملتوی کیا جا سکتا ہے۔ یہ آخری احکام ہیں جو آنحضرتﷺ کے وصال کے قریب نازل ہوئے۔ سورۂ توبہ کے تیسرے رکوع کی آیات کا ترجمہ یہ ہے ﴿اہلِ کتاب میں ان سے لڑو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روزِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور نہ سچے دین کو قبول کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ رعیت ہو کر جزیہ دیں اپنی پستی کا احساس کر کے۔﴾ اس سورۃ کے رکوع ٩ میں ہے ﴿اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔﴾

اسی کے رکوع ١٣ میں ہے ﴿اے ایمان والو! ان کافروں سے جنگ کرو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا ہے اور جانے رہو کہ اللہ تو پرہیز گاروں کے ساتھ

٤٨

ہے۔﴾

مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ١٣٨، خزائن ج یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو من جانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم و تنسیخ یا کسی ایک کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے

قارئین خود ہی فیصلہ فرمالیں کہ قرآن کے جہاد کے اپنے ہی فیصلے کے مطابق کیا ٹھہرتے ہیں؟ میں نے یہ نہیں کہا کے نہیں ہو سکتے۔ میرا کہنا یہ تھا کہ حرب کے معنی مطلق جنگ شامل ہے۔

سوال نمبر : ٤٨....... ص ٥٨، ٥٧ پر لکھتے ہیں : ” مسیح موعود مسلمانوں سے مذہبی لڑائی ختم کی ہوئی تھی اور جہاد بالسیف کی موعود علیہ السلام نے حسب حدیث نبوی یضع الحرب کافروں کو قرار دے دیا کہ اب ہمارا لڑنا تم سے جائز نہیں رہا۔ کیونکہ جہاد تم سے مذہبی لڑائی نہیں لڑیں گے۔“

جواب ....... گزشتہ صفحات میں ثابت کیا جا چکا مطابق مسیح موعود نہیں۔ لہٰذا یضع الحرب کی بحث لاحاصل ہے۔ آ بات سے ظاہر ہے کہ ص ٥٦ پر آپ لکھتے ہیں : ” آپ کو مرزا نظر آئے گا۔“ ص ٥٨ پر لکھتے ہیں کہ : ”مرزا قادیانی نے حس کی مذہبی لڑائی کو آئندہ یہ کہہ کر موقوف قرار دے دیا۔“

آپ کے نزدیک ملتوی کرنا اور موقوف قرار د

جب مرزا قادیانی خود مسیح موعود ہونے سے انکار کر چکے ہیں ہو؟ ان کے دعویٰ کے مطابق انہیں مثیل مسیح کیوں نہیں کہتے قول کے مطابق عیسیٰ ابن مریم ہیں۔

سوال نمبر: ٤٩....... ص ٥٩ پر لکھتے ہیں: ”نزول مسیح کی اوزارھا “ کے الفاظ آئے ہیں۔ اگر الحرب سے مراد مذھ

٤٩

صفحہ ٨٥

ہے۔ ﴾

مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠) پر لکھتے ہیں: ”ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور اب کوئی ایسی وحی اور الہام من جانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم و تنسیخ یا کسی ایک حکم کی تبدیلی یا تغیر کر سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مؤمنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“

قارئین خود ہی فیصلہ فرمالیں کہ قرآن کے جہاد کے حکم کو منسوخ کر کے مرزا قادیانی اپنے ہی فیصلے کے مطابق کیا ٹھہرتے ہیں؟ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ ”حرب“ کے معنے مذہبی جنگ کے نہیں ہو سکتے۔ میرا کہنا یہ تھا کہ حرب کے معنی مطلق جنگ کے ہیں۔ اس میں مذہبی جنگ بھی شامل ہے۔

سوال نمبر : ٤٨...... ص ٥٧، ٥٨ پر لکھتے ہیں: ”مسیح موعود کے زمانہ حیات میں کفار نے چونکہ مسلمانوں سے مذہبی لڑائی ختم کی ہوئی تھی اور جہاد بالسیف کی شرائط موجود نہ رہی تھیں۔ اس پر مسیح موعود علیہ السلام نے حسب حدیث نبوی یضع الحرب کافروں کی مذہبی لڑائی آئندہ یہ کہہ کر موقوف قرار دے دیا کہ اب ہمارا لڑنا تم سے جائز نہیں رہا۔ کیونکہ جہاد بالسیف کی شرائط موجود نہیں لہٰذا ہم تم سے مذہبی لڑائی نہیں لڑیں گے۔“

جواب...... گزشتہ صفحات میں ثابت کیا جا چکا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے قول کے مطابق مسیح موعود نہیں ۔ لہٰذا یضع الحرب کی بحث لاحاصل ہے اور آپ کا راست باز نہ ہونا اس بات سے ظاہر ہے کہ ص ٥٦ پر آپ لکھتے ہیں: ”آپ کو مرزا قادیانی کا جنگوں کو ملتوی قرار دینا نظر آئے گا۔“ ص ٥٨ پر لکھتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی نے حسب حدیث نبوی یضع الحرب کافروں کی مذہبی لڑائی کو آئندہ یہ کہہ کر موقوف قرار دے دیا۔“

آپ کے نزدیک ملتوی کرنا اور موقوف قرار دے دینا ہم معنی ہیں؟ اللہ کے بندے جب مرزا قادیانی خود مسیح موعود ہونے سے انکار کر چکے ہیں۔ انہیں زبردستی مسیح موعود کیوں بناتے ہو؟ ان کے دعوے کے مطابق انہیں مثیل مسیح کیوں نہیں کہتے۔ مسیح موعود تو مرزا قادیانی کے اپنے قول کے مطابق عیسیٰ ابن مریم ہیں۔

سوال نمبر : ٤٩...... ص ٥٩ پر لکھتے ہیں: ”نزول مسیح کی ایک حدیث میں جو ”تضع الحرب اوزارها“ کے الفاظ آئے ہیں۔ اگر الحرب سے مراد مذہبی جنگ لی جائے جیسا کہ قرآن میں یہ

٤٩

صفحہ ٨٧

لفظ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ تو مراد اس سے یہی ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ حیات میں مذہبی جنگیں ختم ہو چکی ہوں گی۔ چنانچہ آپ کے دعوے کے وقت ایسا وقوع میں آچکا ہے۔ اگر اس جگہ الحرب سے مراد مطلق لڑائی لی جائے تو ان معنوں کی توجیہ ہم اپنے تحریری جواب میں جو آپ کے ستر نکات کے جواب میں لکھا گیا، لکھ چکے ہیں۔ اسے دوبارہ پڑھیں۔ اس صورت میں تضع الحرب اوزارها کا تعلق زمانہ مسیح موعود سے بلحاظ قرون ثلاثہ کے ہے کہ اس زمانہ میں اسلام دنیا میں غالب آجائے گا اور دنیا کی اکثریت مسلمان ہو جائے گی اور ہر قسم کی لڑائی بند ہو جائے گی۔ انشاء اللہ۔ اس سے پہلے پہلے ملکی لڑائیاں جاری رہیں گی۔ چنانچہ حدیثوں میں مسیح موعود کے زمانہ میں یاجوج ماجوج کے خروج کا ذکر ہے جو قرآنی بیان کے مطابق یموج بعضھم فی بعض کا مصداق بننے والے تھے۔ یعنی ایک دوسرے کے خلاف انہوں نے سمندر کی لہروں کی طرح اٹھتے رہنا تھا اور صحیح مسلم کی حدیث نبوی میں انہی کے متعلق وارد معلوم ہوتا ہے۔

”انی قد اخرجت عبادا لی لا یدان لاحد بقتالهم“ کہ میں نے اپنے ایسے بندے نکالے ہیں کہ کسی کو ان سے لڑنے کی طاقت نہیں ہوگی۔“

علامہ طبرانی نے اوسط والصغیر ج ١ ص ٢٥٧ میں ایک حدیث نقل کی ہے: ”عن ابی ھریرة قال رسول الله ﷺ الا ان عیسیٰ ابن مریم لیس بینی وبینہ نبی ولا رسول الا انه خلیفتی فی امتی من بعد یقتل الدجال ویکسر الصلیب وتضع الجزیة وتضع الحرب اوزارها، الا من ادرکه فلیقراء منکم عليه السلام“ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول ﷺ نے فرمایا بیشک میرے اور عیسیٰ بن مریم کے درمیان کوئی نبی اور رسول نہیں۔ سنو یقیناً وہ میری امت میں میرے بعد میرا خلیفہ ہے۔ سنو بیشک وہ دجال کو قتل کرے گا اور صلیب کو توڑے گا اور جزیہ موقوف کردے گا اور لڑائی اپنے اوزار رکھ دے گی۔ سنو جو تم میں سے اسے پائے تو اسے السلام علیکم کہے۔

سوال نمبر : ٥٠...... آپ نے ص ٥٦ پر لکھا ہے: ”مسیح موعود جزیہ کو بھی تب ہی موقوف کر سکتا ہے جب لڑائی کے موقوف کر دینے کا اعلان کیا جائے۔“

جواب ...... ! گویا عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہر قسم کی جنگ ختم ہو جانی چاہئے۔ یہ بلحاظ قرون ثلاثہ آپ نے کہاں سے نکالا اور پھر کہہ رہے ہیں۔ اس سے پہلے پہلے ملکی لڑائیاں جاری رہیں گی۔ لڑائی کے اوزار رکھنے سے پہلے ملکی لڑائیاں جاری رہنے کا کہاں ذکر ہے؟۔ جزیہ موقوف کرنے کا ذکر ہے اور آپ نے تسلیم کیا ہے کہ جزیہ موقوف ہونے سے جنگ موقوف ہو جائے

٥٠

گی۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی جنگیں بند ہو جائیں گی

گزشتہ صفحات میں مرزا قادیانی کا قول نقل کیا جا چکا ہے

حدیث میں مسیح موعود عیسیٰ بن مریم کی خدمات مفوضہ کا ذکر ہے ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ان کی امت جو اپنے آپ کو مانتی ہے۔ ان کے زعم باطلہ اور عقیدہ فاسدہ پر کاری ضرب لگا ضروری ہے۔ اس حدیث کے مسیح موعود کا مصداق اگر مرزا قادیا کیا ہے؟۔

دجال تو ابھی ظاہر ہی نہیں ہوا اور کیا مرزا قادیانی موقوف ہو جب غیر مسلم باقی نہ رہیں۔ ابھی تو روئے زمین پر کر کب بند ہوئی ہیں؟ مرزا قادیانی کے فوت ہونے کے بعد ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو حق کہنے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرما

یاجوج ماجوج کے متعلق آپ نے پورا فقرہ کیوں نہی الله الی عيسىٰ انی قد اخرجت عبادا لی لا ی ویبعث الله ياجوج وماجوج وهم من کل وہ (عیسیٰ) اس طرح ہوں گے۔ دفعتہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف بندے نکالے ہیں جن سے لڑنے کی کسی کو طاقت نہیں۔ پر اور اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر پست زمین سے دھوکہ دینے کے لئے نامکمل فقرہ لکھا۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام مقدر ہے۔ مرزا قادیانی کی طرف نہ تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی مرزا قادیانی اپنے ساتھیوں کو یاجوج ماجوج سے بچانے کے آپ ہیں کہ پھر بھی ان کی صداقت کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں نہ ہوں۔ مرزا قادیانی کا کاذب ہونا تو اظہر من الشمس ہے۔

سوال نمبر : ٥١...... ص ٦٢ پر لکھتے ہیں: ” استعارہ صریح مشبہ بہ کا ذکر ہی آتا ہے اور قرینہ سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ مراد ا رو سے احادیث نبویہ میں ابن مریم کے نزول کی پیشین گوئی قادیانی جو مشبہ ہیں۔ مذکور نہیں۔ بلکہ صرف مشبہ بہ ابن مریم

٥١

صفحہ ٨٧

گی۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی جنگیں بند ہو جائیں گی۔ نہ کہ تین سو سال کے بعد۔

گزشتہ صفحات میں مرزا قادیانی کا قول نقل کیا جا چکا ہے کہ وہ مسیح موعود نہیں۔ اس حدیث میں مسیح موعود عیسیٰ بن مریم کی خدمات مفوضہ کا ذکر ہے۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں انہیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ان کی امت جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں۔ ان کو مسیح موعود مانتی ہے۔ ان کے زعم باطلہ اور عقیدہ فاسدہ پر کاری ضرب لگانے کے لئے مزید تفصیل میں جانا ضروری ہے۔ اس حدیث کے مسیح موعود کا مصداق اگر مرزا قادیانی ہیں تو کیا انہوں نے دجال کو قتل کیا ہے؟۔

دجال تو ابھی ظاہر ہی نہیں ہوا اور کیا مرزا قادیانی نے جزیہ موقوف کیا ہے؟ جزیہ تو تب موقوف ہو جب غیر مسلم باقی نہ رہیں۔ ابھی تو روئے زمین پر کروڑوں غیر مسلم موجود ہیں اور جنگیں کب بند ہوئی ہیں؟ مرزا قادیانی کے فوت ہونے کے بعد متعدد ہولناک لڑائیاں لڑی جا چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو حق کہنے اور قبول کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

یاجوج ماجوج کے متعلق آپ نے پورا فقرہ کیوں نہیں لکھا جو کہ یوں ہے ”اذ اوحی الله الى عيسى انى قد اخرجت عبادا لى لا يدان لاحد بقتالهم فحرز عبادى الى الطور ويبعث الله ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون“ جس وقت وہ (عیسیٰ) اس طرح ہوں گے۔ دفعۃً اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی کرے گا کہ بیشک میں نے اپنے بندے نکالے ہیں جن سے لڑنے کی کسی کو طاقت نہیں۔ پس میرے بندوں کو کوہ طور پر لے جا اور اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر پست زمین سے نکل پڑیں گے“ آپ نے خلق خدا کو دھوکہ دینے کے لئے نامکمل فقرہ لکھا۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں یاجوج ماجوج کا خروج مقدر ہے۔ مرزا قادیانی کی طرف نہ تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی۔ نہ ہی یاجوج ماجوج نکلے اور نہ ہی مرزا قادیانی اپنے ساتھیوں کو یاجوج ماجوج سے بچانے کے لئے کوہ طور پر لے کر گئے ہیں۔ لیکن آپ ہیں کہ پھر بھی ان کی صداقت کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ الحرب کے معنی مذہبی جنگ ہوں یا نہ ہوں۔ مرزا قادیانی کا کاذب ہونا تو اظہر من الشمس ہے۔

سوال نمبر:٥١...... ص٦٢ پر لکھتے ہیں: ”استعارہ صریحہ میں مشبہ کا ذکر بالکل نہیں ہوتا۔ بلکہ مشبہ بہ کا ذکر ہی آتا ہے اور قرینہ سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ مراد اس سے مشبہ خود ہے۔ اس تعریف کی رو سے احادیث نبویہ میں ابن مریم کے نزول کی پیشین گوئی بطور استعارہ کے ہے۔ اس میں مرزا قادیانی جو مشبہ ہیں۔ مذکور نہیں۔ بلکہ صرف مشبہ بہ ابن مریم کا ذکر موجود ہے اور مراد اس سے مشبہ

٥١

صفحہ ٨٩

کا مسیح موعود ہونا ہے اور اس پر قرینہ ”وامامكم منكم“ صحیح بخاری اور ”فامكم منكم“ صحیح مسلم کے الفاظ ہیں۔“

جواب ...... گزشتہ صفحات میں ازالہ اوہام میں مرزا قادیانی کی تحریر پیش کی جا چکی ہے کہ ان کا دعوے مثیل مسیح ہونے کا ہے۔ جسے کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ جو انہیں مسیح ابن مریم کہتا ہے وہ مفتری اور کذاب ہے۔ حدیثوں میں مسیح موعود عیسیٰ بن مریم ہیں اور مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں۔ سو نزول کی پیشینگوئی عیسیٰ بن مریم ہی کے بارے میں ہے۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام اسم علم ہے۔ دنیا میں عیسیٰ کے سوا کوئی اور بلا باپ پیدا نہیں ہوا۔ نزول کی پیشین گوئی استعارہ نہیں ہو سکتی۔

ابو داؤد، حاکم اور امام احمد سے ایک حدیث مروی ہے: ”عن ابي هريرة ان رسول الله ﷺ قال ليس بيني وبينه نبي يعني عيسى نبي وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض بين ممصرتين كأن راسه يقطروان لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك المسيح الدجال (ابوداؤد ج ٢ ص ١٤٠) “ ﴿حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ اور بیشک وہ (آسمان سے) اتریں گے۔ پس جب تم اسے دیکھو پس اسے پہچان لینا۔ میانہ قد کے مرد، سرخ سپید رنگ دو زرد رنگ کی چادریں اوڑھے ہوں گے۔ ایسا معلوم ہوگا کہ سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ گو پانی نے بالوں کو چھوا تک نہ ہوگا۔ پس وہ لوگوں سے اسلام کے لئے جنگ کرے گا۔ پس صلیب کو توڑے گا۔ خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ موقوف کر دے گا اور اللہ تعالیٰ اس کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام مذاہب کو مٹا دے گا اور مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا۔﴾

اس حدیث کے اندر مشبہ مذکور نہیں۔ آپ کہتے ہیں مرزا قادیانی ہیں۔ میں کہتا ہوں نہیں زہیری صاحب ہیں۔ آپ کس دلیل سے میری بات کو رد کریں گے؟ اگر آپ کی بات مان بھی لیں کہ حدیث میں موعود عیسیٰ مرزا غلام احمد قادیانی ہے تو کیا اسلام کے لئے انہوں نے لوگوں سے جنگ کی ہے؟ کسرِ صلیب اور قتلِ خنزیر میں تو آپ تاویل کرلیں گے۔ کیا ان کے زمانے میں جزیہ موقوف ہوا؟ کیا ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام مذاہب مٹ گئے؟ کیا ان کے زمانے

٥٢

میں مسیح دجال ہلاک ہوا؟ کچھ بھی نہیں ہوا۔ لیکن پھر بھی آپ و مہدویت کسی شک و شبہ سے بالا تر ہے۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیثوں میں ’امامت قادیانی کی امامت کے لئے آپ کو قرینہ نظر آ گیا۔ بے شک نہیں۔ وہاں استعارہ کی تعریف کا اطلاق کر کے عیسیٰ بن مریم قرار دیں گے؟ درمنثور ج دوم ص ٢٤٥ پر روایت درج ہے:

الله ﷺ من ادرك منكم عيسى بن مريم فليق روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے تم میں سے ملاقات ہو وہ ان کو میری جانب سے ضرور سلام کہہ دے۔﴾

محدث ابن حاتم نے حضرت حسن بصریؒ سے رو مرفوعا قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان قبل يوم القيامة “ ﴿حضرت حسن بصریؒ روایت کر ارشاد فرمایا عیسیٰ علیہ السلام ابھی مرے نہیں اور قیامت سے ہے۔﴾ اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور چونکہ لوٹ کر آئیں گے۔ سو یہ وہی ہیں جو اپنی قو علیہ السلام جو رسولا الی بنی اسرائیل تھے۔ قرب قیام ہوں گے۔﴾

(مسند احمد بن حنبل ج ٢ ص ٤٣٩) پر یہ حدیث در ان رسول الله ﷺ قال لا تزال طائفة من ام ناواهم حتى ياتى امر الله تبارك وتعالى وين حصینؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا م رہے گی جو اپنے دشمنوں کے مقابلہ پر غالب رہے گی۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم اتریں۔﴾ کنز العمال ص ٢٠٣ پر ر

”عن ابن عمر مرفوعا كيف ته اخرها“ ﴿ابن عمرؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے جس کے اول میں تو میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ ہیں۔

٥٣

صفحہ ٨٩

میں مسیح دجال ہلاک ہوا؟ کچھ بھی نہیں ہوا۔ لیکن پھر بھی آپ کے نزدیک مرزا قادیانی کی مسیحیت ومہدویت کسی شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیثوں میں ”امـامـكـم مـنكم وامكم منكم“ میں مرزا قادیانی کی امامت کے لئے آپ کو قرینہ نظر آ گیا۔ بے شمار احادیث میں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں۔ وہاں استعارہ کی تعریف کا اطلاق کر کے عیسیٰ بن مریم کے وجود کو مرزا قادیانی کا وجود کیسے قرار دیں گے؟ درمنثور ج دوم ص ٢٤٥ پر روایت درج ہے: ”عـن انـس قـال قـال رسـول الله ﷺ مـن ادرك مـنـكـم عيسىٰ بن مريم فليقراه مني السلام“ ”حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس شخص کی بھی عیسیٰ بن مریم سے ملاقات ہو وہ ان کو میری جانب سے ضرور سلام کہہ دے۔ ﴾

محدث ابن حاتم نے حضرت حسن بصریؒ سے روایت کی ہے: ”عــن الــحــســن مرفوعا قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسىٰ لم يمت انه راجع اليكم قبل يوم القيامة “ ”حضرت حسن بصریؒ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود سے ارشاد فرمایا عیسیٰ علیہ السلام ابھی مرے نہیں اور قیامت سے پہلے ان کو لوٹ کر تمہارے پاس آنا ہے۔ ﴾ اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اب روئے زمین پر نہیں لہٰذا آسمان پر ہیں اور چونکہ لوٹ کر آئیں گے۔ سو یہ وہی ہیں جو اپنی قوم کے درمیان سے چلے گئے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام جو رسولا الی بنی اسرائیل تھے۔ قرب قیامت کے زمانہ میں آسمان سے نازل ہوں گے۔ ﴾

(مسند احمد بن حنبل ج ٣ ص ٣٦٩) پر یہ حدیث درج ہے: ”عن عمران بن حصينؓ ان رسول الله ﷺ قال لا تزال طائفة من امتى على الحق ظاهرين على من ناواهم حتى ياتى امر الله تبارك وتعالىٰ وينزل عيسىٰ بن مريم “ ”عمران بن حصینؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی جو اپنے دشمنوں کے مقابلہ پر غالب رہے گی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو اور حضرت عیسیٰ ابن مریم اتریں۔ ﴾ کنز العمال ص ٢٠٣ پر مندرجہ ذیل حدیث موجود ہے:

”عن ابن عمر مرفوعا كيف تهلك امة وانا فى اولها وعيسىٰ فى اخرها“ ”ابن عمرؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ بھلا وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کے اول میں تو میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ ہیں۔ ﴾ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ

٥٣

صفحہ ٩١

السلام کا نزول یقینی ہے۔ نصاریٰ عیسیٰ علیہ السلام کی امت ہیں۔ اس امت کے اول میں عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ لیکن محمدﷺ اس امت کے آخر میں شمار نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ وہ اس امت میں سے نہیں ۔ ان کا مقام امت محمدیہ کے اول میں ہی ہو سکتا ہے۔ امت محمدیہ کے آخر میں عیسیٰ علیہ السلام کا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری بحیثیت رسول کے نہیں ہوگی۔ سو ان کا شمار امت محمدیہ میں ہوگا۔ کسی نئی امت کی ابتداء نہیں کریں گے۔

ان احادیث میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے نزول کی خبر ہے اور ہرگز ہرگز کوئی قرینہ نہیں جس سے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا وجود غیر از مسیح کا وجود سمجھا جائے۔

سوال نمبر: ٥٢...... آپ ص ٦٣ پر لکھتے ہیں: ”استعارہ صرف اس وقت کہلاتا ہے جبکہ مستعارلہ (مشبہ) کا ذکر بالکل لپیٹ دیا جائے اور کلام کو اس سے خالی رکھا جائے ۔“

جواب....... آپ کی اس تعریف کے مطابق مشبہ کا ذکر کلام میں ہونا ضروری ہے۔ مذکورہ بالا احادیث میں یہ شرط نہیں پائی جاتی۔ پس عیسیٰ علیہ السلام بن مریم کے ظہور کی پیشینگوئیاں بطور استعارہ کے نہیں ۔

سوال نمبر: ٥٣...... ص ٦٦ پر لکھتے ہیں: ”جناب میاں صاحب! آپ نے آیت قرآنیہ :”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “سے یہ استدلال کیا تھا کہ آخری زمانہ میں جب ابن مریم نازل ہوں گے تو سب اہل کتاب ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔ ہم نے اس کے جواب میں آپ کو قرآن کریم کی آیت:”وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ “سے سمجھایا تھا کہ آپ کے یہ معنی غلط ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید کی اس آیت کی رو سے ظاہر ہے کہ یہود کا وجود جو منکر مسیح ہیں۔ قیامت کے دن تک رہے گا۔ آپ اس کا کوئی معقول جواب نہیں دے سکتے اور پھر یہ لکھ رہے ہیں ۔ ”آپ کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ کل مخلوق مسیح موعود کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔ ہم نے آپ کو جواب دیا تھا کہ اگر ہم میں سے کسی نے ایسی عبارت لکھی ہے تو مراد اس کی یہ ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اسلام کا کل ادیان پر غلبہ ہو جائے گا اور اکثریت اسلام میں داخل ہو جائے گی اور تین صدیوں میں ایسا ہوگا۔ کل کا لفظ ایسی عبارتوں میں ’الاکثر حکم الکل “ کے معنوں میں استعمال ہوگا۔ کیونکہ نادر کالمعدوم ہوتا ہے۔“

جواب....... میرے معنے غلط نہیں ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کو آپ مجدد صدی مانتے ہیں۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: ”و نباشد ہیچ کس از اہل کتاب البتہ ایمان آورد بعیسیٰ پیش

٥٤

از مردن عیسیٰ و روز قیامت باشد عیسیٰ گواہ برایشاں‘ حاشیہ میں اس یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ را البتہ ایمان آرند۔“

مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول قادیان اپنی کتاب فص پر لکھتے ہیں: ”نہیں کوئی اہل کتاب میں سے، مگر البتہ ایمان لاوے اس کی کے اور دن قیامت کے ہوگا وہ اس کے گواہ۔“ کیا آپ خلیفہ گے؟۔

مرزا قادیانی کا ترجمہ ”الحق“ دہلی کے ص ٣٢، خزائن ج کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں ل استقبال ہی ہے۔ کیونکہ آیت اپنے نزول کے بعد کے زمانہ کی خب آیت کی دلالت صریحہ ہے۔“

مرزا قادیانی نے اعتراف کیا ہے کہ آیت اپنے نزول ہے۔ اگر ہر اہل کتاب نے اپنی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ا علیہ السلام کے زمانے سے لے کر نزول قرآن کے زمانے تک مر حاوی ہونی چاہئے۔ لیکن مرزا قادیانی کے اعتراف کے مطابق یہ ا اس کا اطلاق نزول قرآن کے بعد مرنے والے اہل کتاب پر ہی ہو کتابی نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے ابی بن کعبؓ کی قرأت ”قبل موتھم

(ازالہ اوہام ص ٣٧١، خزائن ج ٣ ص ٢٩٠) پر مرزا قادیانی ن اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ پر...... ایم اس کے کہ اس حقیقت پر ایمان لاوے کہ مسیح اپنی طبعی موت سے مر گی

یہ ترجمہ کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے ”موتہ“ کی ضمیر ع ہے۔ ”وھو المراد، الی یوم القیامۃ “ سے مراد یوم قیامت کو ج

قرآن پاک میں ہے: ”قل اللہ یحییکم ثم یمی القیامۃ لا ریب فیہ “ ﴿آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو زندہ رکھت ہے۔ پھر وہی تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا۔﴾

اس آیت سے ظاہر ہے کہ قیامت کے دن سے مراد و جائیں گے اور یہ دن دنیا کی ہلاکت کے بعد آئے گا۔ اس دن یہو

٥٥

صفحہ ٩١

از مردن عیسیٰ دروز قیامت باشد عیسیٰ گواہ برایشاں‘ حاشیہ میں اس کا مطلب یہ لکھتے ہیں: ”یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ را البتہ ایمان آرند۔“

مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول قادیان اپنی کتاب فصل الخطاب ج دوم کے ص٨٠ پر لکھتے ہیں: ”نہیں کوئی اہل کتاب میں سے، مگر البتہ ایمان لاوے گا۔ ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہوگا وہ اس کے گواہ۔“ کیا آپ خلیفہ اول کے معنے بھی غلط قرار دیں گے؟۔

مرزا قادیانی کا ترجمہ ”الحق“ دہلی کے ص٣٦، خزائن ج٤ ص١٦٢ پر یہ ہے: ”کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔ دیکھو یہ بھی تو خالص استقبال ہی ہے۔ کیونکہ آیت اپنے نزول کے بعد کے زمانہ کی خبر دیتی ہے۔ بلکہ ان معنوں پر آیت کی دلالت صریحہ ہے۔“

مرزا قادیانی نے اعتراف کیا ہے کہ آیت اپنے نزول کے بعد کے زمانہ کی خبر دیتی ہے۔ اگر ہر اہل کتاب نے اپنی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا ہے۔ تو یہ آیت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے لے کر نزول قرآن کے زمانے تک مرنے والے تمام اہل کتاب پر حاوی ہونی چاہئے۔ لیکن مرزا قادیانی کے اعتراف کے مطابق یہ ان پر حاوی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اس کا اطلاق نزول قرآن کے بعد مرنے والے اہل کتاب پر ہی ہوسکتا ہے۔ اس لئے موتہ کا مرجع کتابی نہیں ہوسکتا۔ اسی وجہ سے ابی بن کعب کی قرأت ”قبل موتہم“ مردود ہے۔

(ازالہ اوہام ص٣٧٢، خزائن ج٣ ص٢٩٠) پر مرزا قادیانی ترجمہ یوں کرتے ہیں: ”کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ پر ...... ایمان نہ رکھتا ہو (قبل موتہ) قبل اس کے کہ اس حقیقت پر ایمان لاوے کہ مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔“

یہ ترجمہ کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے ”موتہ“ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیری ہے۔ ”وھو المراد، الی یوم القیامۃ“ سے مراد یوم قیامت کو چھوڑنا نہیں ہوتا۔

قرآن پاک میں ہے: ”قل اللہ یحییکم ثم یمیتکم ثم یجمعکم الی یوم القیامۃ لاریب فیہ“ ﴿آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو زندہ رکھتا ہے۔ پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے۔ پھر وہی تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا۔﴾

اس آیت سے ظاہر ہے کہ قیامت کے دن سے مراد وہ دن ہے جب مردے زندہ کئے جائیں گے اور یہ دن دنیا کی ہلاکت کے بعد آئے گا۔ اس دن یہود اور نصاریٰ کا وجود نہیں ہوگا۔

٥٥

صفحہ ٩٣

پس قیامت کے دن تک عیسیٰ علیہ السلام کے متبعین کے یہود پر غلبے سے مراد یہ ہے کہ جب یہود کا وجود رہے گا۔ مسلمان اور نصاریٰ ان پر غالب رہیں گے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے تو یہود کا وجود نہیں رہے گا۔ سو عیسیٰ علیہ السلام کے متبعین کے ان پر غلبے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ قرآن مجید کی ایک اور آیت ہے: ”ومن اضل ممن يدعوا من دون الله من لايستجيب له الى يوم القيامة وهم عن دعائهم غفلون (الاحقاف ٥:٤٦)“ ﴿اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہو گا۔ جو اللہ کے سوا کسی اور کو پکارے۔ جو قیامت تک بھی اس کے بات نہ سنے۔ بلکہ انہیں ان کے پکارنے کی خبر نہ ہو۔ پکارا جانے والا قیامت کے دن تک پکارنے والے کی پکار کو نہیں سنتا۔﴾ اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ پکارنے والا قیامت کے دن تک پکارتا رہے گا۔ اس کا مفہوم یہی ہے کہ پکارنے والا زندگی بھر پکارتا رہے۔ معبودان باطلہ اس کی پکار کو نہیں سنتے۔ وہ موت تک ہی پکار سکتا ہے۔ لیکن اس عرصے کی پکار کو قیامت کے دن تک کی پکار بیان کیا ہے۔ اسی طرح سے مسلمانوں اور نصاریٰ کی یہود پر فوقیت یہود کے وجود تک ہے۔ پس آپ کا یہ خیال غلط ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد سب اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔ ضرور لائیں گے۔ ان ہی کے متعلق فرمایا: ”ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا“ ﴿اور (عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔﴾

گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ آپ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ گواہ کا مشہود علیہم کے درمیان موجود ہونا ضروری ہے۔ پس ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ میں ”موتہ“ کی ضمیر کتابی کی طرف نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ہر کتابی کی موت کے وقت عیسیٰ علیہ السلام موجود نہیں ہوتے۔ سو بموجب سورۂ المائدہ کی آیت ”وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم“ وہ اس بات پر گواہ نہیں ہو سکتے۔ سو لا محالہ ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہی ماننا پڑے گا۔ یہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر نص ہے۔ قرب قیامت کے زمانے میں آسمان سے نزول کے بعد ان پر موت آئے گی۔ آپ خود ہی لکھ رہے ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اسلام کا کئی ادیان پر غلبہ ہو جائے گا اور ساتھ ہی یہ کہ تین صدیوں میں ایسا ہوگا۔ خدا اور رسول نے اس مدت کا تعین نہیں کیا۔ جب غلبے کی پیشگوئی انہوں نے کی ہے تو مدت کا اندازہ بھی انہیں ہی ٹھہرانا چاہئے۔ نہ کوئی مرزا غلام احمد قادیانی کو۔

گزشتہ صفحات میں مسند امام احمد بن حنبلؒ کی ایک حدیث کے یہ الفاظ نقل کئے جاچکے

٥٦

ہیں: ”يهلك الله فى زمانه الملل كلها غير الاسلام“ کے زمانے میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا تمام مذاہب کو مٹا دے گا۔ نہیں۔ ایسا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ان کی زندگی میں ہو زندگی میں ایسا نہیں ہوا۔ سو وہ اپنے دعویٰ مسیحیت میں کاذب ہیں

سوال نمبر ٥٣: ...... ص ٦٧ پر لکھتے ہیں: ”آپ بھی خاتم النبی کے بطور مسیح موعود آنے کے قائل ہیں اور ہم بھی ایک امتی کو آنحض طور پر مسیح موعود مانتے ہیں۔ پس خاتم النبیین کے ان معنوں میں والے نبی ہیں۔ ہم دونوں اصولی طور پر متفق ہیں۔ ہم میں اور آ کے تعین میں اختلاف ہے۔ اس کے امتی نبی کے منصب میں کوئی

جواب....... ہم نہ تو امت محمدیہ میں سے کسی شخص کے کے بطور مسیح موعود آنے کے۔ گزشتہ صفحات میں تصریح ہو چکی اصالتاً نبی اکرم ﷺ کی امت میں بطور خلیفہ آئیں گے۔ ایک حد کریم ﷺ امت محمدیہ کے اول میں ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام صورت میں ہو سکتے ہیں جبکہ نزول کے بعد ایک نئی امت کو آئیں۔

گزشتہ صفحات میں مرزا قادیانی کا یہ اعلان بھی نقل کا ہے۔ جسے کم فہم لوگ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ سمجھ بیٹھے ہ ہونے کا دعویٰ ہی نہیں تو آپ کو آنحضرت ﷺ کے نائب الم تکلف میں کیوں پڑتے ہیں۔ اس طرح تو بقول مرزا قادیانی ہم ان معنوں میں نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے کہ ان کے بعد غیر تشریعی نبی آ سکتا ہے۔ ہم مطلقاً نبوت کے نبو ہیں۔ نہ ان کے بعد کوئی تشریعی نبی آ سکتا ہے اور نہ غیر تشریعی کے خلیفہ کے طور پر آ سکتا ہے۔ کیونکہ وہ بحیثیت نبی اور رس دے گا۔

(حمامة البشریٰ ص ٩، خزائن ج ٧ ص ١٨٥) پر مرزا قا الرجل لا يؤمن بالملئكة ولا يعتقد بان م

٥٧

صفحہ ٩٣

ہیں: ”یهلك الله فى زمانه الملل كلها غير الاسلام“ (یعنی اس (عیسیٰ علیہ السلام) کے زمانے میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا تمام مذاہب کو مٹا دے گا۔) یہاں تین صدیوں کا کوئی ذکر نہیں ۔ ایسا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ان کی زندگی میں ہی ہونا ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کی زندگی میں ایسا نہیں ہوا۔ سو وہ اپنے دعویٰ مسیحیت میں کاذب ہیں۔

سوال نمبر: ٥٣ ...... ص ١٧ پر لکھتے ہیں: ”آپ بھی خاتم النبیین کے بعد ایک تابع اور امتی نبی کے بطور مسیح موعود آنے کے قائل ہیں اور ہم بھی ایک امتی کو آنحضرت ﷺ کے نائب المبعوث کے طور پر مسیح موعود مانتے ہیں۔ پس خاتم النبیین کے ان معنوں میں کہ رسول کریم ﷺ شریعت لانے والے نبی ہیں۔ ہم دونوں اصولی طور پر متفق ہیں۔ ہم میں اور آپ میں صرف مسیح موعود کی شخصیت کے تعین میں اختلاف ہے۔ اس کے امتی نبی کے منصب میں کوئی اختلاف نہیں۔“

جواب ...... ہم نہ تو امت محمدیہ میں سے کسی شخص کے نبی ہونے کے قائل ہیں اور نہ کسی کے بطور مسیح موعود آنے کے۔ گزشتہ صفحات میں تصریح ہوچکی ہے کہ اسرائیلی مسیح عیسیٰ علیہ السلام اصالتاً نبی اکرم کی امت میں بطور خلیفہ آئیں گے۔ ایک حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ نبی کریم ﷺ امت محمدیہ کے اول میں ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام اس کے آخر میں۔ آخر میں اسی صورت میں ہو سکتے ہیں جبکہ نزول کے بعد ایک نئی امت کھڑی نہ کریں۔ یعنی بطور نبی کے نہ آئیں۔

گزشتہ صفحات میں مرزا قادیانی کا یہ اعلان بھی نقل کیا جا چکا ہے کہ ان کا دعویٰ مثیل مسیح کا ہے۔ جسے کم فہم لوگ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ سمجھ بیٹھے ہیں۔ جب مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ہی نہیں تو آپ کو آنحضرت ﷺ کے نائب المبعوث کے طور پر مسیح موعود ماننے کے تکلف میں کیوں پڑتے ہیں۔ اس طرح تو بقول مرزا قادیانی آپ کم فہم لوگوں میں شمار ہوں گے۔ ہم ان معنوں میں نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے کہ وہ آخری صاحب شریعت نبی ہیں اور ان کے بعد غیر تشریعی نبی آسکتا ہے۔ ہم مطلقاً نبوت کے نبوت محمدی کے ساتھ ختم ہونے کے قائل ہیں۔ نہ ان کے بعد کوئی تشریعی نبی آسکتا ہے اور نہ غیر تشریعی۔ البتہ ایک سابق نبی آنحضرت ﷺ کے خلیفہ کے طور پر آسکتا ہے۔ کیونکہ وہ بحیثیت نبی اور رسول کے آکر ایک نئی امت کو جنم نہیں دے گا۔

(حمامة البشریٰ ص ٩، خزائن ج ٧ ص ١٨٥) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”يقولون ان هذا الرجل لا يؤمن بالملئكة ولا يعتقد بان محمد ﷺ خاتم الانبياء ومنتهی

٥٧

صفحہ ٩٥

المرسلين لانبی بعده وهو خاتم النبيين فهذه كلها مفتريات وتحريفات سبحان ربی ماتکلمت مثل هذا ان هو الا كذب والله يعلم انهم من الدجالين“ ”اور وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص ملائکہ کو نہیں مانتا اور محمد ﷺ کو خاتم الانبیاء نہیں مانتا۔ حالانکہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور وہی خاتم الانبیاء ہیں۔ پس یہ مفتریات اور تحریفات ہیں۔ میرا رب پاک ہے۔ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی اور یہ سراسر جھوٹ اور کذب ہے اور اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ دجال ہیں۔“

(حقیقت النبوت ص٩٢) پر لکھتے ہیں: ”اے لوگو! اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“ ان حوالہ جات سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک نبوت اور رسالت آنحضرتؐ پر ختم ہوگئی اور آپ کے بعد نبوت کا مدعی کاذب، کافر ، مفتری اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

(ازالہ اوہام ص٤٦٢، خزائن ج٣ ص٣٢٠) پر لکھتے ہیں: ”نبوت کا دعویٰ نہیں۔ بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔ جو کہ خدا کے حکم سے کیا گیا ہے۔“ (حقیقت النبوت ص٢٧٢) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ اصل میں نزاع لفظی ہے۔ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ کرے جو بلحاظ کمیت اور کیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اس میں پیشین گوئیاں کثرت سے ہوں۔ اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ ایسے دعوےٰ کو ہم کفر سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے جن پر کتاب نازل نہیں ہوئی تھی۔ صرف خدا کی طرف سے پیشینگوئیاں کرتے تھے۔ وہ نبی کہلائے۔ یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔ بھلا ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لئے کون سا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملہموں سے ممتاز کرے۔“

(الوصیت ص١١، خزائن ج٢٠ ص٣١١) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اور جبکہ وہ مکالمہ اور مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ رہے اور کھلے کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو۔ تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام موسوم ہوتا ہے۔ جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔ پس اس طرح بعض افراد نے باوجود امتی ہونے کے نبی کا خطاب پایا۔“ یہاں بعض افراد کے نبی ہونے کا لکھا ہے لیکن (تحفۃ الاذہان مارچ ١٩١٤ء) میں لکھتے ہیں: ”اس امت میں صرف نبی ایک ہی آسکتا ہے جو مسیح

٥٨

موعود (مرزا قادیانی) ہے اور کوئی قطعاً نہیں آسکتا۔“ نبی کریم ﷺ ”لا نبی بعدی“ فرمائیں تو غیر تشریعی قادیانی ”خاتم النبیین“ ہونے کا دعویٰ کریں تو غیر تشریعی ان تضادات کے باوجود مرزا قادیانی کو اپنے دعویٰ نبوت تو اور کیا ہے؟۔

سوال نمبر:٥٥....... ص٦٨ پر لکھتے ہیں: ”قاضی صا کے ص٤١ پر حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کی یہ عبارت درج کی ہے: ”فالنبوة جارية الى يوم القيامة و انقطع فاتشريع جزء من اجزاء النبوة فل واخباره من العالم اذلو انقطع لم يبق للعالم (فتوحات مکیہ ج٢ ص١٠٠ باب ٣٧ نمبر ٨٢) ” جاری ہے۔ گو تشریعی نبوت منقطع ہو گئی ہے۔ پس شریعت امر محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اخبار غیبیہ ا جائے۔ کیونکہ اگر یہ بند ہو جائے تو پھر دنیا کے لئے کوئی روحانی وجود کو باقی رکھ سکے۔“

جواب....... اگر نبوت مخلوق میں قیامت کے کے مطابق صرف وہی امت محمدیہ میں نبی کیوں ہے؟ ازیں وہ صرف مسیح موعود کے آنحضرت ﷺ کے بعد نبی ہی کی ورق گردانی کریں اور دیکھیں کہ حضرت شیخ محی الدی ہیں۔

(فتوحات مکیہ ج٢ ص١٢٥) پر لکھتے ہیں: ”ان ع الامة فى اخرالزمان ويحكم بشريعة محم زمانے میں اس امت میں نازل ہوں گے اور محمد ﷺ کی (فتوحات مکیہ ج٣ ص٣٣١) پر حضرت ابن عربی بل رفعه الله الى هذه السماء واسكنه فيها مرے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان کی طرف اٹھا لیا او

صفحہ ٩٥

موعود (مرزا قادیانی) ہے اور کوئی قطعاً نہیں آ سکتا۔‘‘ نبی کریم ﷺ ’’لا نبی بعدی‘‘ فرمائیں تو غیر تشریعی نبوت کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور مرزا قادیانی ’’خاتم النبیین‘‘ ہونے کا دعویٰ کریں تو غیر تشریعی نبوت بھی ختم! یہ کہاں کا انصاف ہے؟۔ ان تضادات کے باوجود مرزا قادیانی کو اپنے دعویٰ نبوت میں صادق سمجھنا عقل کا دیوالیہ پن نہیں تو اور کیا ہے؟۔

سوال نمبر: ٥٥ ...... ص ٦٨ پر لکھتے ہیں: ’’قاضی صاحب نے اپنی کتاب شان خاتم النبیین کے ص ٤١ پر حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی یہ عبارت ان کی کتاب فتوحات مکیہ سے نقل کر کے درج کی ہے: ’’فالنبوة جارية الى يوم القيامة فى الخلق وان كانت التشريع قد انقطع فالتشريع جزء من اجزاء النبوة فانه يستحيل ان ينقطع خبر الله واخباره من العالم اذ لو انقطع لم يبق للعالم غذاء يتغذى به فى بقاء وجوده (فتوحات مکیہ ج ٢ ص ١٠٠ باب ٣٢ نمبر ٨٢) ’’یعنی نبوت مخلوق میں قیامت کے دن تک جاری ہے۔ گو تشریعی نبوت منقطع ہو گئی ہے۔ پس شریعت نبوت کے اجزاء میں ایک جزء ہے۔ یہ امر محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اخبار غیبیہ اور حقائق و معارف کا علم دیا جانا بند ہو جائے۔ کیونکہ اگر یہ بند ہو جائے تو پھر دنیا کے لئے کوئی غذا باقی نہیں رہے گی جس سے وہ اپنے روحانی وجود کو باقی رکھ سکے۔‘‘

جواب ...... اگر نبوت مخلوق میں قیامت کے دن تک جاری ہے تو مرزا قادیانی کے قول کے مطابق صرف وہی امت محمدیہ میں نبی کیوں ہے؟ کوئی دوسرا قطعاً کیوں نہیں ہو سکتا؟ علاوہ ازیں وہ صرف مسیح موعود کے آنحضرت ﷺ کے بعد نبی ہونے کے قائل ہیں۔ آیئے فتوحات مکیہ ہی کی ورق گردانی کریں اور دیکھیں کہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ مسیح موعود سے کون مراد لیتے ہیں۔

(فتوحات مکیہ ج ٢ ص ١٢٥) پر لکھتے ہیں: ’’ان عيسى عليه السلام ينزل فى هذه الامة فى اخر الزمان ويحكم بشريعة محمد ﷺ‘‘ ﴿بیشک عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں اس امت میں نازل ہوں گے اور محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے۔﴾

(فتوحات مکیہ ج ٣ ص ٣٤١) پر حضرت ابن عربی لکھتے ہیں: ’’انه لم يمت الى الان بل رفعه الله الى هذه السماء واسكنه فيها ‘‘ ﴿ابھی تک وہ (عیسیٰ علیہ السلام) نہیں مرے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان کی طرف اٹھا لیا اور انہیں اس میں سکونت پذیر کر دیا۔﴾

٥٩

صفحہ ٩٧

حضرت شیخ ابن عربیؒ حیات مسیح کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک مسیح موعود وہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جنہیں بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ چونکہ مرزا قادیانی آنحضرتؐ کے بعد صرف مسیح موعود کی نبوت کے قائل ہیں اور ابن عربیؒ کے بیان کے مطابق مسیح موعود نہیں۔ پس وہ اپنے نبوت کے دعوٰی میں کاذب بلکہ کذاب ٹھہرے۔

سوال نمبر :٥٦ ...... ص٦٩ پر لکھتے ہیں: ”اس پر قاضی صاحب نے یہ نوٹ دیا ہے۔ مطلق نبوت جو ان بزرگوں کے نزدیک بند نہیں ہوئی۔ المبشرات والی نبوت ہے۔ جسے رسول کریم ﷺ نے حدیث ”لم یبق من النبوة الا المبشرات“ میں باقی قرار دیا ہے۔ جسے بالفاظ دیگر المبشرات والی نبوت یا نبوت غیر تشریعی کہا جاسکتا ہے۔“

جواب ...... جب مبشرات والی نبوت کی صفت ہوگی تو وہ مطلق کیسے رہی۔ مطلق میں تو کسی قسم کی قید نہیں ہونی چاہئے۔ وہ مبشرات سے مشروط کیونکر ہوسکتی ہے۔ آپ نے جو حدیث نقل کی ہے۔ اس میں مذکور مبشرات آنحضرت ﷺ کی اپنی تشریح کے مطابق نبوت کا ایک جزو یا حصہ ہیں۔ ایک روایت میں مبشرات کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے یہ بھی تشریح فرمائی ہے کہ مبشرات سے مراد رویائے صالحہ یعنی اچھے خواب ہیں۔ پس مبشرات کے باقی رہنے کو ہرگز ہرگز اجزائے نبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

سوال نمبر :٥٧ ...... ص٧١ پر لکھتے مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل تحریریں نقل کی ہیں:

شریعت کے نبی ہوسکتا ہے۔ مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔“ (تجلیات الٰہیہ ص ٢٥، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

ایک تو کمالات نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی جو ان کی امت سے باہر ہو۔ بلکہ ہر ایک کو جو شرف مکالمہ الٰہیہ ملتا ہے۔ وہ انہی کے فیض اور انہی کی وساطت سے ملتا ہے اور وہی امتی کہلاتا ہے۔ نہ کوئی مستقل نبی۔“

(تتمہ چشمہ معرفت ص ٩، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٠)

جواب ...... ان تحریروں میں مرزا قادیانی غیر تشریعی نبی ہونے کا دعوٰی کر رہے ہیں۔ لیکن دراصل مستقل اور تشریعی نبوت کے مدعی ہیں۔ (اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) پر لکھتے ہیں : ”اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے:”هوالذی ارسل رسوله بالہدیٰ ودین الحق لیظهره علی الدین

٦٠

کله“ اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اپنی رسالت اور تشریعی قادیانی (اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦) پر لکھتے ہیں : ”م رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب و اخلاق کے (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٤، ٤٣٥) پر لکھتے ہ شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے، نہ ہر ایک مفتری، تو اول ا افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ سو اس لئے یہ بھی تو ا نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی وجہ سے بھی ہمارے م میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام ”قل للمؤمنین یغضوا فروجہم ذٰلک ازکیٰ لہم“ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسے ہی اب تک میر نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے تعالٰی فرماتا ہے: ”ان ہٰذا لفی صحف الاولیٰ صحف اب تعلیم توریت میں موجود ہے۔“

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے تشریعی نبوت کا دعوٰی خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢) پر لکھتے ہیں : ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا کی طرف س ہیں۔ لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہی اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت اور مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں بن جاتا۔“

اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے فیصلے کے مطابق تشریعی نبی ٹھہریں گے۔ (حقیقت الوحی ص ١٧٩، خ لکھتے ہیں: ”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک کفر یہ کہ ایک شخص اسلام سے ا خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں م جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خ نبیوں کتاب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خ

٦١

صفحہ ٩٧

کلمہ ”اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اپنی رسالت اور تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ مرزا قادیانی (اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦) پر لکھتے ہیں: ”خدا وہی ہے کہ جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب واخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦) پر لکھتے ہیں: ”اور اگر یہ کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے، نہ ہر ایک مفتری، تو اول تو یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ سوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی وجہ سے بھی ہمارے مخالفین ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام ”قل للمؤمنين يغضوا من ابصارهم ويحفظو فروجهم ذالك ازكى لهم“ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی ہے اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسے ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ان هذا لفي صحف الاولى صحف ابراهيم وموسى“ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں موجود ہے۔“

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ (تریاق القلوب ص ١٣١، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢) پر لکھتے ہیں: ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لائے ہیں۔ لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت اور مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“

اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا ہے تو وہ اپنے فیصلے کے مطابق تشریعی نبی ٹھہریں گے۔ (حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک کفر یہ کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول کی تاکید ہے اور پہلے نبیوں کتاب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان سے منکر

٦١

صفحہ ٩٨

ہے ۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں ۔“ اس تحریر میں مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا ہے۔ پس مرزا قادیانی کا دعویٰ تشریعی نبوت کا ہے۔ گزشتہ صفحات میں مرزا قادیانی کی تحریروں کے حوالے گزر چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد تشریعی نبوت کا دروازہ بند ہے۔ پس اپنے ہی بیان کے مطابق مرزا قادیانی تشریعی نبوت کا دعویٰ کرنے کی بنا پر کذاب ہیں۔

سوال نمبر:٥٨...... ص٧٢ پر لکھتے ہیں کہ جناب من! آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصالتاً آنے کے قائل ہیں۔ جنہیں قرآن میں نبی اور رسول قرار دیا گیا ہے۔ پس آپ بھی آنحضرت کو خاتم بمعنی آخری نبی نہیں مانتے۔ سچ بتائیے اور خدا کو حاضر ناظر جان کر بتائیے کیا یہ عقیدہ رکھتے ہوئے آپ کے نزدیک آنحضرت ﷺ غیر مشروط آخری نبی ہیں؟۔

جواب...... آنحضرت ﷺ کے فرمان ”لانبی بعدی “ سے ظاہر ہے کہ بلحاظ زمانہ وہ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ ان سے پہلے پیدا ہونے والا نبی زمانے کے لحاظ سے آخری نہیں ہوگا۔ نبیوں کو ختم کرنے والے محمد ﷺ ہی ہوں گے۔ اگر آپ کے کہنے کے مطابق آنحضرت ﷺ کو مشروط آخری نبی ہی مان لیا جائے تو پھر مرزا قادیانی کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی۔ گزشتہ صفحات میں مرزا قادیانی کا یہ بیان گزر چکا ہے کہ وہ مسیح موعود نہیں۔ کم فہم لوگوں نے انہیں ایسا سمجھا ہے۔ وہ تو مثیل مسیح ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد مسیح موعود عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی ہے۔ کسی مثیل مسیح کے ان کے بعد کے زمانے میں پیدا ہونے کی پیش گوئی نہیں کی۔ پس مرزا قادیانی مسیح موعود نہ ہونے کی وجہ سے نبی نہیں ہو سکتے۔

آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص کو تشریعی یا غیر تشریعی نبوت ملنے کا امکان نہیں۔ اگر نبی کریم ﷺ کی متابعت کی وجہ سے آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی تو حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کو ملتی ۔ جیسا کہ حدیث بھی ہے: ”لو کان بعدی نبی لکان عمر “ اور حضرت علیؓ کے بارے میں فرمایا: ”انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ “...... ایک اور حدیث میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صدیق اکبرؓ کو حضرت ابراہیم کے مشابہ قرار دیا۔ مگر وہ نبی نہیں بنائے گئے۔

آپ کے رسالے میں جملہ جواب طلب امور کا حسب استطاعت جواب دے دیا گیا ہے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قبول حق کے لئے آپ کا شرح صدر کرے:

جب کھل چکی سچائی پھر اس کو مان لینا نیکوں کی ہے یہ خصلت راہ ہدیٰ یہی ہے

٦٢

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں سب سے آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

اخلاق

اور

مرزا صاحب

(مرزا غلام احمد قادیانی کے غلط اقوال وال

جناب میاں محمد نوشہ

PDF 101

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا محمد و علیٰ آلہ و صحبہ اجمعین

اخلاق

اور

مرزا صاحب

(مرزا غلام احمد قادیانی کے غلط اقوال والہامات کی تشریح)

جناب میاں محمد نوشہروی

صفحہ ١٠١

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اعادہ

یہ تو یقینی بات تھی کہ مرزا قادیانی حق پر نہیں۔ مگر یہ بات کہ ان کے ہاں کس قدر جھوٹ ہے۔ اس میں ایک مسلمان کے ہاں دو رائیں ہو سکتی ہیں اور جب اس موضوع کو جانچا پرکھا تو اندازہ سے بڑھ کر جھوٹ سامنے آیا۔ اس سلسلہ کی پہلی کتاب تھی ”قرآن اور مرزا صاحب“ اس میں مرزا قادیانی کی ان بہت سی باتوں کو لایا گیا جن کا حوالہ انہوں نے بڑی شدومد کے ساتھ قرآن سے دیا مگر وہ قرآن میں ہیں نہیں اور جو انہوں نے بیان کیا قرآن میں اس کے خلاف موجود ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ جس آدمی کی دس بیس نہیں سینکڑوں باتیں قرآن کے خلاف صادر ہوں۔ اس کے متعلق اس کے نبی ہونے کا یا نہ ہونے سے زیادہ اہم یہ سوال ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں؟ کیونکہ قرآن کا فیصلہ ہے کہ کافر ظالم ہیں اور سب سے بڑا ظالم خدا پر جھوٹ گھڑنے والا ہے۔

دوسرے نمبر پر حدیث رسول ہے۔ اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر رسول خدا کی طرف سے ایک بات بیان کرتا ہے تو حدیث کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ دوزخی ہے۔ یہ اس آدمی کی سزا ہے جو مجرد ایک حدیث یا حدیث کا ایک مسئلہ کسی کو جان بوجھ کر غلط بتائے۔ لیکن جو صرف حدیث کے خلاف بات بتانے پر ہی اکتفا نہ کرے۔ بلکہ اسے سچا منوائے اس کا پرچار کرے، اس پر اصرار کرے اور ایک فرض واجب کی طرف اس غلط بات کی تبلیغ کرے اور پھر اسی غلط بات کو قائم رکھنے کے لئے ایک جماعت اور تنظیم بھی بنائے۔ آپ اندازہ کریں کہ وہ کتنا بڑا دوزخی ہے؟۔ کتاب ”حدیث اور مرزا صاحب“ میں مرزا قادیانی کی بہت سی اور باتوں کو لایا گیا ہے جو انہوں نے حدیث کے حوالہ سے بتائی ہیں۔ یا تو حدیث میں ہیں نہیں یا حدیث میں اس کے الٹ بیان ہے۔

کفر اور دوزخ جس کے گلے پڑے اس سے کسی مسلمان کو سروکار نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ سوال پھر باقی رہتا ہے کہ عام انسانی اخلاق میں وہ کس معیار کا انسان ہے۔ اس کی بات اور رائے میں کیا جماؤ ہے۔ تضاد جھوٹ اور فضول گوئی سے اس کی باتیں کہاں تک پاک ہیں؟ یہ کتاب اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے لکھی گئی ہے۔ اس میں ان کی وہ بہت سی باتیں لائی گئی ہیں جو انہوں نے سچائی اخلاق اور سمجھ بوجھ سے نکل کر لکھی یا کہی ہیں اور ساتھ ہی پہلی دو کتابوں کے موضوع سے جو کچھ رہ گیا ہے۔ وہ بھی بیان کر دیا گیا ہے۔ واللہ الموفق!

٢

مرزا قادیانی اور اس کی امت کے خیال کو ہم ایک فرد کی اس سوال کو بھی یہاں دہرانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کی پیش نظر قرآن کا یہ حال کیوں ہو گیا ہے کہ وہ ایک آدمی کی سمجھ میں اس کے فہم سے محروم رہ رہی ہے۔ ایک کتاب جو خدا نے نازل فرما انتہاء کو کیوں پہنچ گئی ہے کہ نبوت اور ختم نبوت جیسے اہم عقیدہ میں نہیں رہا۔ اس مفروضہ کے لئے کون سی بنیاد موجود ہے کہ ایک آن صدیوں پہلے اور اب کے روئے زمین پر رہنے والے سب مسلمانو مسلمان مدعی نبوت کو کافر کہنے پر متفق چلے آئے ہیں۔ مگر قادیانی سـ کے حق میں تھا۔ بہت خوب! مگر یہ نکتہ مسلمانوں کے علم میں کیوں نہیـ

قرآن پر بہتان ...... مثیلوں کا سیلاب

”قرآن کریم و حدیث صحیحہ‘ یہ بشارت متواتر دے دوسرے مثیل بھی آئیں گے ۔“ (ازالہ اوہام ص ٤١٤، خزائن ج ٣ ص ٣١٦) ہے“ اور حدیثیں مثیل ابن مریم کے آنے کا وعدہ دیتی ہیں۔ ( ص ٣٩٩) جہاں ایک سائنسدان یا ڈاکٹر لوگوں کو ایسے جراثیم کا حال ہیں یا بالکل نظر نہیں آتے تو بے چارے دور بین وخوردبین سے نا کا وجود مان لیتے ہیں۔ ایسے لوگ بے شک سادہ دل اور ان پڑھ ان کے ماننے میں لگاتے ہیں اور وہ یہ کہ انہیں جراثیم کا حال بتا۔ اور ہاتھی اونٹوں کا انکار نہ کریں۔ اگر وہ جراثیم کا سراغ لگانے ۔ کرنے لگیں تو عوام اسے ڈاکٹر کی بجائے پاگل کا نام دیتے ہیں۔ جراثیم کیا دیکھیے؟

ہماری الجھن یہ ہے کہ ایک شخص جو نبی ، مجدد، مسیح ، مہد ہے۔ وہ جو بات قرآن کے متواتر مقامات پر پاتا ہے اور نہ صرف احادیث میں بتاتا ہے۔ وہ نہ ہمیں قرآن میں کہیں دکھائی دیتی ۔ دوسری عبارت میں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”قرآ کتنا بڑا جھوٹ ہے یہ جو انہوں نے قرآن کے خلاف روا رکھا ہے

٣

صفحہ ١٠١

مرزا قادیانی اور اس کی امت کے خیال کو ہم ایک فرد کی رائے کا نام دے کر ایک دفعہ اس سوال کو بھی یہاں دہرانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کی جو پوزیشن بنائی ہے۔ اس کے پیش نظر قرآن کا یہ حال کیوں ہو گیا ہے کہ وہ ایک آدمی کی سمجھ میں بیٹھتا ہے اور پوری مسلمان قوم اس کے فہم سے محروم ہو رہی ہے۔ ایک کتاب جو خدا نے نازل فرمائی ہے۔ اس کی رسوائی اب اس انتہاء کو کیوں پہنچ گئی ہے کہ نبوت اور ختم نبوت جیسے اہم عقیدہ میں بھی اس کا بیان صاف اور واضح نہیں رہا۔ اس مفروضہ کے لئے کون سی بنیاد موجود ہے کہ ایک آج کے آدمی کی رائے درست اور صدیوں پہلے اور اب کے روئے زمین پر رہنے والے سب مسلمانوں کی بات غلط۔ اب تک تمام مسلمان مدعی نبوت کو کافر کہنے پر متفق چلے آئے ہیں۔ مگر قادیانی کہتے ہیں کہ وہ تشریعی مدعی نبوت کے حق میں تھا۔ بہت خوب! مگر یہ نکتہ مسلمانوں کے علم میں کیوں نہیں آسکا؟

قرآن پر بہتان...... مثیلوں کا سیلاب

”قرآن کریم وحدیث صحیحہ‘ یہ بشارت متواتر دے رہی ہیں کہ مثیل ابن مریم اور دوسرے مثیل بھی آئیں گے۔“ (ازالہ اوہام ص ٤١٢، خزائن ج ٣ ص ٣١٤) ”قرآن مسیح بن مریم کو مارتا ہے، اور حدیثیں مثیل ابن مریم کے آنے کا وعدہ دیتی ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٣٦ ، خزائن ج ٣ ص ٣٩٩) جہاں ایک سائنسدان یا ڈاکٹر لوگوں کو ایسے جراثیم کا حال بتاتا ہو جو دور بین سے نظر آتے ہیں یا بالکل نظر نہیں آتے تو بے چارے دور بین وخورد بین سے ناواقف ہوتے ہیں وہ ان جراثیم کا وجود مان لیتے ہیں۔ ایسے لوگ بے شک سادہ دل اور ان پڑھ ہوتے ہیں۔ مگر ایک شرط وہ بھی ان کے ماننے میں لگاتے ہیں اور وہ یہ کہ انہیں جراثیم کا حال بتانے والے ڈاکٹر پہاڑوں، دریاؤں اور ہاتھی اونٹوں کا انکار نہ کریں۔ اگر وہ جراثیم کا سراغ لگانے کے ساتھ ان بڑی چیزوں کا انکار کرنے لگیں تو عوام اسے ڈاکٹر کی بجائے پاگل کا نام دیتے ہیں۔ کیونکہ جسے پہاڑ نظر نہ آئیں، وہ جراثیم کیا دیکھے؟

ہماری الجھن یہ ہے کہ ایک شخص جو نبی، مجدد، مسیح ، مہدی تمام انبیاء کا مظہر اور سب کچھ ہے۔ وہ جو بات قرآن کے متواتر مقامات پر پاتا ہے اور نہ صرف ایک حدیث میں۔ بلکہ درجنوں احادیث میں بتاتا ہے۔ وہ نہ ہمیں قرآن میں کہیں دکھائی دیتی ہے اور نہ کسی حدیث میں۔

دوسری عبارت میں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ : ”قرآن عیسی علیہ السلام کو مارتا ہے۔“ کتنا بڑا جھوٹ ہے یہ جو انہوں نے قرآن کے خلاف روا رکھا ہے اور اسے رٹتے رٹتے نہیں تھکے۔

٣

صفحہ ١٠٣

ہمیں ان تیس آیات کی تعداد بھی معلوم ہے جن کے اندر مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کی موت دکھائی ہے اور جن میں ہر ایک حضرت مسیح کی زندگی اور نزول کی زبردست دلیل ہے۔ مگر یہ کہہ دینا کہ قرآن فلاں کو مارتا ہے۔ یہ تو کسی بھی دلیل کا نام نہیں۔ اس طرح تو قرآن سب لوگوں کو مارتا ہے۔ مگر پھر بھی لوگ ہیں کہ وہ زندہ رہ رہے ہیں اور جو حدیث کی بات ہے کسی ایک حدیث میں بھی موجود نہیں کہ کوئی مثل مسیح آئے گا۔ یہ سب مرزا قادیانی کی دماغی مشق ہے۔

پھر آپ اس سوچنے کہ یہ مثیل مجاز اور بروز وغیرہ کا چکر کیا ہے اور یہ کس لئے پیش آیا ہے؟۔ پہلے جہاں ختم نبوت کا عقیدہ کسی اختلاف کے بغیر موجود تھا۔ وہاں مرزا قادیانی کو نبی بننے کا شوق چرایا۔ اس کے لئے ظاہر ہے کہ مجازی نبی کی ایک انوکھی قسم کی اصطلاح ہی کارآمد تھی۔ اس وجہ سے آپ مجازی اور ظلی نبی بن بیٹھے۔ اس کے بعد ختم نبوت کی تاریخی ہیئت کا جائزہ لیا تو اس میں حیات مسیح اور نزول مسیح کا شگاف نظر آیا۔ حالانکہ ان سے پہلے کبھی کسی کی نظر اس شگاف پر نہیں پڑی تھی۔ انہوں نے نزول مسیح کے خلاف ختم نبوت کی دہائی دینی شروع کی اور پھر خود ہی اس کا حل یہ تلاش کر لیا کہ مسیح تو نہیں۔ کیونکہ وہ چل بسے البتہ ان کی مثل کسی اور کو آنا ہے اور آنا بھی کس کو ہے۔ میری خدمات اس کام کے لئے حاضر ہیں۔ یعنی ”گٹھڑی اندر کو گری اور میں باہر گر گیا“ اس سارے قصے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مثل اور بروز جو کچھ بھی ہے۔ یہ سب ان کا اپنا کیا دھرا ہے اور اس کا بڑا عامل ذاتی کھپت کا مسئلہ تھا۔

جہاں تک اس حیلہ کا تعلق ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ نزول مسیح کے مسئلہ سے ٹوٹنے نہ پائے اور ان کے نزول کی بجائے ان کے کسی مثل کا آنا مان لیا جائے۔ اس میں حقیقت کم اور تصنع زیادہ ہے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ خود ان کے نزول میں وہ کیا خرابی ہے جو ان کے مثل آنے میں نہیں۔ جو خرابی معاذ اللہ ان کے نزول میں دکھائی گئی ہے۔ اس سے زیادہ نہیں تو وہ ضرور ان کے مثل میں بھی ہوگی۔ پھر اصل کو چھوڑ کر مثل لانے کا حاصل کیا؟ خدا کے ساتھ اگر کسی اور کو خدا ماننا کفر و شرک ہے تو خدا کی مثل کوئی اور فرض کرنا آخر کون سا ثواب کا کام ہے؟۔ جہاں ختم نبوت کا عقیدہ موجود ہے وہاں اگر کسی مثل نبی یا مجازی نبی کو در آمد کیا گیا تو وہ ہرگز نبی کا کام نہیں دے گا اور نقصان اس کا یہ ہوگا کہ اس سے عقیدہ ختم نبوت باطل ہو کر رہ جائے گا۔ ٹھیک یہی کیفیت مرزا قادیانی نے عملاً قائم کر کے دکھائی ہے۔ اس کے ماننے والوں کے ہاں عقیدہ ختم نبوت ایک گالی ہے اور وہ ان تمام برکات سے محروم ہیں جو نبی کی صحبت سے آدمی کے پلے پڑتی ہیں۔

٤

ایک اور سوال یہاں یہ سامنے آتا ہے کہ جب مرزا جو اور حقیقی مسیح نہ تھے تو انہیں مسلمانوں سے الگ ختم نبوت کے معنے آئی؟ ان کے ہاں جب نبی کے مثل اور مسیح کے مثل آنے سے ختم کوئی فرق نہ آتا تھا تو اس کے بعد انہوں نے امتی نبی یا غیر شرعی نبی کیوں کہا کہ ختم نبوت کے معنے ہیں نبی بنانے والی مہر اور پھر اس پر غیر شرعی نبی تراش سکتی ہے نہ کہ دوسرے۔ اس طرز عمل کی بنیاد خدا جاتی۔ داؤں اور پینتروں کی دنیا میں البتہ اس کا چلن ہے۔ یہی م چلایا تو اس کے بعد تمام انبیاء اور سب شہیدوں صدیقوں کے مثل دعا یہی بتاتی ہے اور ساتھ ہی بے شمار نسبتوں کے مالک ہو گئے۔

پھر اس بات میں کیا تک ہے کہ قرآن مسیح کو مارتا ہے کرتی ہے۔ کیا حدیث کا قرآن کے خلاف جانے کے بغیر اور کوئی قرآن نے ایک آدمی کو مارا اور حدیث نے دوسری طرف اس قرآن نے حضرت مسیح کو مارا تھا تو حدیث بھی اس کو مارنے پر کا اہتمام کیا ہے تو کیا :

من چہ سرایم وطنبوره من

غرض یہ سب دعوے ہیں ایک دوسرے سے زیادہ دلیل ہے اور نہ مرزا قادیانی کے بغیر کوئی اور ان کا قائل ہے۔

نزول مسیح اور قرآن

”صحابہ کا مذہب دوبارہ نزول مسیح اجمالی تھا۔ حمل نہ ہے۔“ (تحفہ بغداد ص ٧، خزائن ج ٧ ص ٨) ”آیت قد خلت میں دور کر دی اور اسلام میں یہ پہلا اجماع تھا کہ سب نبی فوت ہو خزائن ج ١٤ ص ٣٦) ”معتزلہ تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فو ص ٣٠، خزائن ج ١٤ ص ٣٢ حاشیہ) ”ایک گروہ مسلمانوں کا اس ب عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نازل ہوں گے ص ١٥٢) ”وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو تمام مسلمان

٥

صفحہ ١٠٣

ایک اور سوال یہاں یہ سامنے آتا ہے کہ جب مرزا جو مثل نبی اور مثل مسیح تھے۔ حقیقی نبی اور حقیقی مسیح نہ تھے تو انہیں مسلمانوں سے الگ ختم نبوت کے معنے دکھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کے ہاں جب نبی کے مثل اور مسیح کے مثل آنے سے ختم نبوت قائم رہتی تھی اور اس میں کوئی فرق نہ آتا تھا تو اس کے بعد انہوں نے امتی نبی یا غیر شرعی نبی کی اصطلاح کیوں نکالی اور یہ کیوں کہا کہ ختم نبوت کے معنے ہیں نبی بنانے والی مہر اور پھر اس پر بھی نہ رہے اور کہا کہ یہ مہر صرف غیر شرعی نبی تراش سکتی ہے نہ کہ دوسرے۔ اس طرز عمل کی بنیاد خدا کی شریعت میں تو کہیں نہیں پائی جاتی۔ داؤں اور پینتروں کی دنیا میں البتہ اس کا چلن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بن جانے کا چکر چلایا تو اس کے بعد تمام انبیاء اور سب شہیدوں صدیقوں کے مثل بن بیٹھے اور کہا کہ سورۂ فاتحہ کی دعا یہی بتاتی ہے اور ساتھ ہی بے شمار نسبتوں کے مالک ہو گئے۔

پھر اس بات میں کیا تک ہے کہ قرآن مسیح کو مارتا ہے اور حدیث اس کے مثل کا وعدہ کرتی ہے۔ کیا حدیث کا قرآن کے خلاف جانے کے بغیر اور کوئی کام نہیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ قرآن نے ایک آدمی کو مارا اور حدیث نے دوسری طرف اس کے مثل ایک اور لا کھڑا کیا۔ اگر قرآن نے حضرت مسیح کو مارا تھا تو حدیث بھی اس کو مارنے پر اکتفا کرتی۔ اس نے اس کی مثل کا اہتمام کاہے کو کیا:

من چہ سرایم و طنبورۂ من چہ سرا

غرض یہ سب دعوے ہیں ایک دوسرے سے زیادہ بے سروپا۔ نہ ان کے حق میں کوئی دلیل ہے اور نہ مرزا قادیانی کے بغیر کوئی اور ان کا قائل ہے۔

نزول مسیح اور قرآن

”صحابہ کا مذہب دوبارہ نزول مسیح اجماعی تھا۔ حمل نزول مسیح بر معنے حقیقی مخالف قرآن ہے۔“ (تحفہ بغداد ص ٧، خزائن ج ٧ ص ٨) ”آیت قد خلت من قبلہ الرسل پیش کر کے یہ غلطی دور کر دی اور اسلام میں یہ پہلا اجماع تھا کہ سب نبی فوت ہو گئے ہیں۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٦) ”معتزلہ تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔ (حقیقت الوحی ص ٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢ حاشیہ) ”ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نازل ہوں گے۔“ (حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) ”وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو تمام مسلمانوں کا تھا۔ لیکن بعد اس کے اس بارہ

٥

صفحہ ١٠٥

میں بارش کی طرح وحی الہی نازل ہوئی۔"

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

حضرت مسیح کے نزول کے بارہ میں یہ مختلف ومتضاد خیالات ایک ہی شخص کے ہیں جو نہ صرف ایک شخص ہی ہے بلکہ نبی ورسول ہونے کا مدعی رہا ہے۔ پہلے کہا کہ تمام صحابہ نزول مسیح کے قائل تھے۔ پھر اسی سانس میں کہا کہ ان کا نزول مسیح ماننا قرآن کے خلاف ہے اور بس اجمالی نزول ہی مانا جائے۔ آپ سوچیں گے کہ یہ اجمالی نزول ماننے میں خوبی ہے جبکہ یہ قرآن کے خلاف ہے۔ ہم بتائے دیتے ہیں کہ اجمالی نزول مسیح ماننے سے مرزا صاحب کو نبی اور مسیح اور مثیل مسیح ماننے کی گنجائش پیدا کر لی جاتی ہے۔ خوبی اس میں یہ ہے۔

دوسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ آیت ”قد خلت من قبله الرسل“ محمد ﷺ سے پہلے سب رسول گزر چکے ہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ رسول خدا کی وفات پر یہ آیت حضرت ابو بکر صدیق نے پڑھی تھی اور اس کے پڑھنے پر صحابہ نے اجماع قائم کیا تھا کہ پہلے انبیاء فوت ہو گئے ہیں۔ یعنی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور پہلے بتایا تھا کہ نزول مسیح پر صحابہ کا عقیدہ تھا۔ گویا جن صحابہ کا نزول پر عقیدہ تھا انہوں نے اجماع کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ اسے اگر صحیح مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صحابہ معاذ اللہ! فہم لطیف سے محروم تھے۔ ورنہ مر گئے کے نزول پر ان کا عقیدہ کیسے ہو سکتا تھا۔ یہ عقیدہ لاکھ اجمالی سہی۔ مگر مر گئے کے حق میں اس کی کیا ضرورت تھی۔ سیدھی بات ہے ایک آدمی مر گیا ہے۔ اب اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ قرآن یا حدیث میں اس کے نزول کا بیان اور صحابہ کرام کے ہاں اس کے نزول کا عقیدہ پایا جائے۔ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کی غرض اس سے اٹکی تھی۔

تیسری عبارت میں وہ صحابہ کرام کے عقیدہ نزول مسیح کو چھوڑ کر معتزلہ کے عقیدہ پر گرتے ہیں۔ خدا معلوم اب کوئی ہے بھی یا نہیں معتزلہ جب تھے تو ان کا یہ عقیدہ تھا بھی یا نہیں۔

چوتھی عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا ایک گروہ اس عقیدہ پر تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور پانچویں عبارت میں وہ بتاتے ہیں کہ میرے سمیت سب مسلمانوں کا عقیدہ تھا کہ وہ آسمان سے نازل ہوں گے۔ یعنی اوپر کی عبارت میں جو عقیدہ ایک گروہ کا تھا۔ وہ نیچے سب مسلمانوں کا عقیدہ ہو گیا اور پھر اسی عقیدے کو دھوکہ بہانے کے لئے ان پر وحی کی بارش ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ محمد ﷺ پر وحی کی جو بارش ہوئی اور اس میں نزول مسیح کا فیصلہ دیا گیا۔ اس بارش میں کیا خرابی تھی کہ اسے نہ مانا جائے اور ان کی بارش کو مانا جائے۔ جسے خود

نہ مان سکتے تھے۔ ایک سمجھدار آدمی کو تو کوئی اپنے جیسا انسان بنا قادیانی پر خدا کی وحی کی بارش ہوئی تو خدا کا یہ حکم ان کے ہاں توجہ ک

اس کے بعد اوپر کی آیت کو لیجئے جس کا حصہ انہوں نے سے مضمون یوں ہے: ”محمد بس اللہ کا رسول ہے، اس سے پہلے سب

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ سب رسول مر گئے ہیں ل لیجئے کہ سب رسول مر گئے ہیں۔ اس سے بھی مرزا قادیانی کے ن رسول سب وہی تھے جو محمد ﷺ سے پہلے مر گئے ہیں۔ تو پھر انہیں میں ”خلت“ کا لفظ ہے۔ ماتت کا نہیں۔ خلا کے معنے ہیں خلا میں قرآن ہی میں ہے ”واذا خلوا الى شياطينهم قالوا انا کے ہاں تنہا ہوتے ہیں تو ان کے ساتھی ہونے کا دم بھرتے ہیں معنے گزرے اور خلا میں پہنچنے کے ہوں۔ جیسا کہ یہ اس کے حقیقی کے لئے جائیں اور مفہوم ہو کہ سب نبی فوت ہو گئے ہیں تو بھی ا مسیح علیہ السلام اور محمد ﷺ بہرحال شامل نہیں۔ اس لئے کہ انہیں ہے اور موت کے ہر تذکرہ پر انہیں زندہ مانا جائے گا۔ محمد ﷺ کو اور ان پر ہی قرآن نازل ہو رہا تھا۔

رہے حضرت مسیح تو ان کے حق میں سورۃ النساء کا ب اور نہ سولی دیا۔ بلکہ ان کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ نیز سورہ بقرہ گزر جانے کا بیان ہوا ہے ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو والوں سے الگ دکھایا گیا ہے۔ نیز سورۃ النساء میں یہ بھی ہے کتاب ان پر ایمان لائیں گے اور وہ قیامت کے روز ان پر گ

قادیانی کہتے ہیں کہ اللہ نے حضرت مسیح کو اٹھایا نہیں بلکہ انہیں طرف اٹھا لیا۔ آیت کے اس مفہوم پر ظاہر ہے کہ ان کا کوئی کے مرتبہ کو اپنی طرف اٹھانے کی خدا کو کیا پڑی تھی اور ان کے سے کیا خطرہ ہو سکتا تھا۔

آیت کا بیان اس بارہ میں نص ہے کہ اللہ نے ان

٧

صفحہ ١٠٥

نہ مان سکتے تھے۔ ایک سمجھدار آدمی کو تو کوئی اپنے جیسا انسان بات کہے تو وہ مان جاتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی پر خدا کی وحی کی بارش ہوئی تو خدا کا یہ حکم ان کے ہاں توجہ کے قابل ہوا کہ مسیح تو ہے۔

اس کے بعد اوپر کی آیت کو لیجئے جس کا حصہ انہوں نے دیا ہے۔ اس کا پہلا حصہ لانے سے مضمون یوں ہے: ”محمد بس اللہ کا رسول ہے، اس سے پہلے سب رسول گزر چکے ہیں۔“

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ سب رسول مر گئے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لئے یہی بات مان لیجئے کہ سب رسول مر گئے ہیں۔ اس سے بھی مرزا قادیانی کے پلے تو کچھ نہیں رہے گا۔ کیونکہ جب رسول سب وہی تھے جو محمد ﷺ سے پہلے مر گئے ہیں۔ تو پھر انہیں کیوں رسول مانا جائے۔ مگر آیت میں ”خلت“ کا لفظ ہے۔ مات کا نہیں۔ خلا کے معنے ہیں خلا میں جانا یا ایک جگہ سے گزر جانا۔ خود قرآن ہی میں ہے ”واذا خلوا الی شیطینہم قالوا ان معکم“ جب منافق اپنے سرغنوں کے ہاں تنہا ہوتے ہیں تو ان کے ساتھی ہونے کا دم بھرتے ہیں۔ یہ تو اس وقت ہے کہ خلت کے معنے گزرنے اور خلا میں پہنچنے کے ہوں۔ جیسا کہ یہ اس کے حقیقی معنے ہیں اور اگر اس کے معنے موت کے لئے جائیں اور مفہوم ہو کہ سب نبی فوت ہو گئے ہیں تو بھی ان فوت ہونے والوں میں حضرت مسیح علیہ السلام اور محمد ﷺ بہر حال شامل نہیں۔ اس لئے کہ انہیں قرآن نے ایک دفعہ زندہ قرار دیا ہے اور موت کے ہر تذکرہ پر انہیں زندہ مانا جائے گا۔ محمد ﷺ کو تو اسی آیت میں زندہ ٹھہرایا گیا ہے اور ان پر ہی قرآن نازل ہو رہا تھا۔

رہے حضرت مسیح تو ان کے حق میں سورۃ النساء کا بیان ہے کہ نہ یہود نے انہیں قتل کیا اور نہ سولی دیا۔ بلکہ ان کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ نیز سورۃ بقرہ کی دو آیات میں جن رسولوں کے گزر جانے کا بیان ہوا ہے ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام شامل نہیں اور انہیں گزر جانے والوں سے الگ دکھایا گیا ہے۔ نیز سورۃ النساء میں یہ بھی ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے اور وہ قیامت کے روز ان پر گواہ ہوگا۔ سورۃ النساء کی آیت پر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اللہ نے حضرت مسیح کو اٹھایا نہیں بلکہ انہیں زمین پر رکھا اور ان کے مرتبہ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ آیت کے اس مفہوم پر ظاہر ہے کہ ان کا کوئی امتی ہی سر دھن سکتا ہے۔ کیونکہ ان کے مرتبہ کو اپنی طرف اٹھانے کی خدا کو کیا پڑی تھی اور ان کے بلند مرتبہ کو دشمنوں کے قتل اور سولی سے کیا خطرہ ہو سکتا تھا۔

آیت کا بیان اس بارہ میں نص ہے کہ اللہ نے ان کو قتل وصلیب سے بچا لیا اور انہیں اپنی

٧

صفحہ ١٠٧

طرف اٹھالیا۔ یہ نص صریح اگر نہ مانی جائے تو جہاں ایمان کو خطرہ ہے وہاں یہ کسی طرح ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ نے ان کو قتل اور سولی سے کیسے بچایا تھا۔ ان کا یہ مفروضہ بھی خاصا دلچسپ ہے کہ تمام رسولوں کے مرجانے پر صحابہ کا یہ پہلا اجماع تھا۔ گویا انہیں کرنے کو کوئی کام نہ تھا یا وہ اس کے بغیر کسی کام پر متفق نہ تھے اور یا بعد میں اس پر بہت اجماع ہوئے تھے اور وہ پہلا اجماع تھا۔ حیرت ہے کہ نزول مسیح کی متواتر احادیث کو درجنوں صحابہ اور سینکڑوں ہزاروں تابعین اور راویوں نے محدثین کو بتایا اور پھر لاکھوں مسلمانوں نے کتب حدیث میں انہیں پڑھا اور کروڑوں کو بتایا اور پھر لاکھوں مسلمانوں نے کتب حدیث میں انہیں پڑھا اور کروڑوں نے سنا۔ مگر سوائے مرزا قادیانی کے کسی نے نزول مسیح کو اجماع کے خلاف نہیں کہا۔ معتزلہ کا عقیدہ نامعلوم کہاں مرزا قادیانی نے پڑھا ہے اور کہا کہ وہ اب تک اس کے قائل ہیں۔ مرزا قادیانی کو یہ تک معلوم نہیں کہ معتزلہ کا اب کوئی وجود نہیں۔ بس صرف ان کا نام سن رکھا تھا۔ یا خود اپنی امت کو یہ لقب دیا۔ نزول مسیح کے بارہ میں اس کثرت کے ساتھ احادیث وارد ہیں کہ ان کا انکار آج تک کسی کو نہیں ہوا اور جو بات رسول خدا سے یقین کے ساتھ ثابت ہو ان کا انکار آپ کی نبوت ورسالت کا انکار ہوتا ہے۔ معتزلہ ہوں یا خوارج وہ رسول خدا کے منکر نہیں تھے۔

اس کے بعد کہتے ہیں کہ ایک گروہ کا نزول پر اعتقاد تھا۔ پھر کہتے ہیں کہ سب مسلمانوں کا یہی عقیدہ تھا اور پھر مجھ پر بارش کی طرح وحی برسی کہ مسیح تو ہے۔ پہلے آپ اس پر سوچئے کہ وحی کی بارش کا بھی کہیں رواج سنا گیا ہے۔ جب ایک شخص خدا کے اس حکم کو نہ مانے جو نبی کے ذریعہ اسے پہنچتا ہو تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ لیکن جسے خدا تعالیٰ براہ راست حکم دے اور وہ اس حکم کو نہ مانے اور وحی کی بارش کے انتظار میں رہے۔ تو یہ وہ جرم ہے جو عالم واقعہ میں صرف ابلیس سے صادر ہوا ہے۔ اس بناء پر مرزا قادیانی کا جرم خود ان کے اقرار کے مطابق شیطان کا جرم ہے اور دعوے ہیں۔ سب انبیاء سے اونچا تخت ہونے کے دوسری طرف آپ نزول مسیح کے عقیدہ کا ثبات دیکھیں کہ جب تک مرزا قادیانی وحی کی بارش میں بہہ نہیں گئے۔ یہ عقیدہ ان کے دل کی گہرائیوں سے نہ سرکا۔ اب مسلمان بے چارے جن پر وحی کی ایسی بارش نہیں ہوتی۔ آخر جیتے جاگتے اس قرآن اور سنت والے عقیدہ کو کیسے جواب دیں۔

وحی یا الہام

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ سے بطور الہام خدا کا کلام کرنا مریم سے بطور الہام

٨

خدا کا کلام کرنا۔ حواریوں سے بطور الہام خدا کا کلام کرنا خود

(کذا)

یہ تینوں باتیں جو مرزا قادیانی نے بڑی دلیری ہیں۔ قرآن میں ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملتا۔ ان کا کوئی امتی انعام پائے گا۔ حیرت تو یہ ہے کہ جو اللہ کی کتاب پر جھوٹ پیغمبر ماننے کو بھی آمادہ ہو جاتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ جو شخـ عام پائی جانے والی حقیقت کے بتانے میں جھوٹ سے کا کے لئے سچائی کا کیا سامان کرے گا۔ جہاں کے متعلق اسـ پہنچے گا۔ یہ کہنا بجا ہے کہ الہام کا لفظ قرآن میں موجود نہیں انسانی کے حق میں وارد ہے جو بچوں اور بڑوں کے لئے کـ نہیں ملتا۔

حیات مسیح

"اول: اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کـ قصہ وقت نزول آیت ماضی کا ایک قصہ تھا۔"

اس عبارت میں مرزا قادیانی کا اشارہ سورۃ آ ابتداء میں "اِذْ" کا حرف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ صرف مـ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تجھے دنیا سـ کافروں سے پاک کروں گا اور تیرے پیچھے چلنے والوں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بیان کے شروع میں چونکہ "اِذْ" لئے حضرت مسیح کو خدا نے جو پانچویں وعدے دلائے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ "اِذْ" کبھی ماضی کے لئے سہی اور جو قیامت کے دن کا ہے۔ کیا یہ بھی گزشتہ زمانے کا ہے آپ حیران ہوں گے کہ خود حضرت مسیح کے موجود ہے۔ کیونکہ اس کے اول و آخر قیامت کا بیان۔ میں "اِذْ" کا جس قدر استعمال مستقبل کے لئے ہے۔

٩

صفحہ ١٠٧

خدا کا کلام کرنا۔ حواریوں سے بطور الہام خدا کا کلام کرنا خود قرآن شریف میں مندرج ہے۔

(براہین احمدیہ ص ٢١٩، خزائن ج ١ ص ٢٤٢، ٢٤٣)

یہ تینوں باتیں جو مرزا قادیانی نے بڑی دلیری کے ساتھ قرآن کے حوالہ سے پیش کی ہیں ۔ قرآن میں ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملتا۔ ان کا کوئی امتی اگر یہ قرآن سے دکھا دے تو منہ مانگا انعام پائے گا۔ حیرت تو یہ ہے کہ جو اللہ کی کتاب پر جھوٹ جڑتا ہے۔ کچھ عقل کے اندھے اسے پیغمبر ماننے کو بھی آمادہ ہو جاتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ جو شخص دنیا میں سورج اور اجالے کی طرح عام پائی جانے والی حقیقت کے بتانے میں جھوٹ سے پرہیز نہیں کرتا یا وہ بھلا عالم بالا کی باتوں کے لئے سچائی کا کیا سامان کرے گا۔ جہاں کے متعلق اسے معلوم ہے کہ کوئی تحقیق کے لئے نہیں پہنچے گا۔ یہ کہنا بجا ہے کہ الہام کا لفظ قرآن میں موجود نہیں۔ صرف سورۂ شمس میں اس کا صیغہ نفس انسانی کے حق میں وارد ہے جو بچوں اور بڑوں کے لئے یکساں ہے اور کہیں یہ کلمہ ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔

حیات مسیح

”اول: اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت ماضی کا ایک قصہ تھا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٠٢، خزائن ج ٣ ص ٤٢٥)

اس عبارت میں مرزا قادیانی کا اشارہ سورۂ مائدہ کی ایک آیت کی طرف ہے۔ اس کی ابتداء میں ”اذ“ کا حرف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ صرف ماضی کے لئے ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تجھے دنیا سے لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور کافروں سے پاک کروں گا اور تیرے پیچھے چلنے والوں کو کافروں پر روز قیامت تک فائق کروں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بیان کے شروع میں چونکہ ”اذ“ ہے جو صرف ماضی کے لئے ہوتا ہے۔ اس لئے حضرت مسیح کو خدا نے جو پانچوں وعدے دلائے تھے۔ وہ گزشتہ زمانہ میں پورے ہو چکے ہیں ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ ”اذ“ کلمہ ماضی کے لئے سہی اور چاروں وعدے بھی گئے۔ یہ پانچواں وعدہ جو قیامت کے دن کا ہے۔ کیا یہ بھی گزشتہ زمانے کا ہے اور قیامت نہیں آئے گی؟

آپ حیران ہوں گے کہ خود حضرت مسیح کے قصہ میں ”اذ“ کا کلمہ دو جگہ مستقبل کے لئے موجود ہے۔ کیونکہ اس کے اول و آخر قیامت کا بیان ہے۔ جو ابھی آنی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں ”اذ“ کا جس قدر استعمال مستقبل کے لئے ہے۔ اس کا شمار ہونا مشکل ہے۔ مگر مرزا قادیانی

٩

صفحہ ١٠٩

ہیں کہ اسے خاص ماضی کے لئے کہتے ہیں اور ذرا خدا سے نہیں ڈرتے۔ دوسری طرف اگر اسے ماضی کے لئے مانا جائے تو فقط یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ وعدہ گزشتہ زمانہ میں کیا گیا تھا نہ کہ گزشتہ زمانہ میں پورا ہو گیا تھا۔ کیونکہ اتنی عقل تو ہر آدمی رکھتا ہے کہ وعدہ ہمیشہ آنے والے معاملہ کا ہوتا ہے۔ موجود اور گزشتہ بات کا وعدہ نہیں ہوا کرتا۔ اس بناء پر جو آدمی صرف ”اِذْ“ کی وجہ سے کہے کہ وعدے جو حضرت مسیح علیہ السلام کو دیئے گئے وہ وعدہ دیتے وقت ہی پورے کر دیئے گئے تھے۔ وہ کتنے بڑے مغالطہ کا شکار ہے۔ قرآن کے نزول کے وقت اللہ نے حضرت مسیح سے کئے گئے وعدوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ وہ وعدے پورے بھی ہو گئے ہیں۔ وہ مرزا قادیانی کا اپنا بیان ہے کہ قرآن میں یہ وعدے پورے ہو چکنے کا بھی بیان ہے۔

پہلا وعدہ پورا پورا لے لینے کا بیان

اب آپ ان پانچوں وعدوں کی نوعیت پر غور کیجئے کہ وہ حضرت مسیح کے نزول سے پہلے پورے ہونے والے تھے بھی یا نہیں۔ پہلا وعدہ ان کے لے لینے کا تھا۔ جس کے لئے قرآن میں توفی کا لفظ ہے۔ اس وعدہ کا مرزا قادیانی نے نبی بننے سے پہلے مفہوم یہ لیا تھا کہ: ”اے عیسیٰ! میں تجھے پورا پورا انعام دوں گا۔“ اور نبی ہونے کے بعد کہا کہ: ”اے عیسیٰ! میں تجھے مار ڈالوں گا۔“ اور یہ اس لئے کہ دشمن حضرت مسیح کو سولی چڑھانا چاہتے تھے۔ جو تورات میں لعنت کی موت بتائی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ تورات میں اصل مجرموں کے سولی پر مرنے کو لعنت کی موت کہا گیا ہو۔ نہ کہ مطلق سولی کی موت کو اس لئے کہ قرآن سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی اور انجیل میں تو حضرت مسیح کا یہ ارشاد تکیہ کلام کے طور پر متواتر پایا جاتا ہے کہ جو اپنی صلیب آپ اٹھائے وہ میرے ساتھ چلے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو لعنتی بننے کا سبق دیتے تھے۔ اس وجہ سے یہ مفروضہ باطل ہے اور پھر اگر اسے کسی درجہ میں مان لیا جائے تو خدا انہیں ویسے ہی سولی سے بچا لیتا۔ کسی وعدے کی ضرورت تو جب ہوتی کہ دشمن اپنے پروگرام سے حضرت مسیح کو واقف رکھتے اور اس وقت بھی ضرورت اس وعدہ کی تھی کہ: ”میں تجھے سولی کی موت سے بچاؤں گا۔“ نہ اس وعدہ کی کہ: ”میں تجھے مار ڈالوں گا۔“ اس لئے یہ معنے عقل اور واقعہ کے خلاف ہیں۔ صحیح معنے توفی کے ہیں۔ پورا پورا قبضہ میں لے لیا اور مطلب یہ کہ اللہ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے لے لینے والا ہوں۔

یہ درست ہے کہ مجازاً توفی کے معنے نیند کے اور اسی طرح موت کے بھی ہیں۔ اس لئے کہ نیند سے آدمی کے صرف حواس گم ہوتے ہیں۔ باقی سب کچھ موجود رہتا ہے اور موت سے آدمی

١٠

کی صرف جان جاتی ہے۔ جسم نہیں جاتا: ”پورا پورا اگر انسانی ذکا وہ صرف حضرت مسیح ہیں۔“ انہیں خدا نے جسم، حواس اور روح بتایا جائے کہ خدا کے ارشاد کو حقیقت سے نکال کر مجاز بنانا کون بلکہ یہ ایک مسلمان کا شیوہ بھی کب ہے۔ اس صورت میں جسم وعدہ خدا نے حضرت مسیح سے کیا تھا۔ اس کے مطابق خدا نے یہ وعدہ پورا ہو گیا۔

دوسرا وعدہ انہیں اپنی طرف اٹھا لینے کا تھا

وہ بھی پورا ہو گیا ہے۔ جیسے اس کا مفصل بیان سو نتیجہ لازم اتارنا ہوتا ہے۔ اس لئے خدا ان کو اسی دنیا میں دو عمر پوری کر کے رحلت فرمائیں گے۔ چنانچہ سورۃ النساء کی آ وفات سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے ہوں گے۔ یہی بات انجیل میں بھی پائی جاتی ہے۔ جیسے آگے متعلق کہتے ہیں کہ خدا نے ان سے مار ڈالنے کا وعدہ فرمایا کی آیت کے بارہ میں وہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب خود اپنی مو گے۔ مگر اوپر ہم بیان کر چکے ہیں کہ مار ڈالنے کا مژدہ کسی کوئی خبریت کا پہلو نہیں۔ نہ تو یہ معلوماتی چیز ہے اور نہ بشا مند ہوتے جہاں تک مرتبہ بلند کرتا ہے۔ وہ پہلے ہی ان کو مجسم چیز نہیں کہ اسے خدا کہیں سے اٹھا کر لے جاتا اور ترجمہ سے معلوم کر سکتا ہے کہ اس میں موت والا ضمیر حضر کہ وہ اپنے سے قریب اسم کے لئے ہوتا ہے۔ پھر اس بیان ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہوں لانے والے اہل کتاب کی گواہی دیں گے۔ بہر حال حضرت مسیح دنیا میں نزول فرمائیں اور سب اہل کتاب ال

تیسرا وعدہ کافروں سے پاک کرنا

تیسرا وعدہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح سے یہ تھ

١١

صفحہ ١٠٩

کی صرف جان جاتی ہے۔ جسم نہیں جاتا: ”پورا پورا اگر انسانی وکائناتی دنیا میں خدا نے کسی کولیا ہے تو وہ صرف حضرت مسیح ہیں ۔“ انہیں خدا نے جسم، حواس اور روح سمیت دنیا سے لے لیا ہے۔ ہمیں بتایا جائے کہ خدا کے ارشاد کو حقیقت سے نکال کر مجاز بنانا کون سی پیغمبرانہ خصوصیات سے ہے؟۔ بلکہ یہ ایک مسلمان کا شیوہ بھی کب ہے۔ اس صورت میں جسم مع روح پورے کا پورا لے لینے کا جو وعدہ خدا نے حضرت مسیح سے کیا تھا۔ اس کے مطابق خدا نے ان کو اپنے قبضہ میں لے لیا اور خدا کا یہ وعدہ پورا ہو گیا۔

دوسرا وعدہ انہیں اپنی طرف اٹھا لینے کا تھا

وہ بھی پورا ہو گیا ہے۔ جیسے اس کا مفصل بیان سورۃ النساء میں موجود ہے اور اٹھانے کا نتیجہ لازم اتارنا ہوتا ہے۔ اس لئے خدا ان کو اسی دنیا میں دوبارہ نازل بھی کرے گا اور پھر اپنی طبعی عمر پوری کر کے رحلت فرمائیں گے۔ چنانچہ سورۃ النساء کی آیت میں یہ وضاحت بھی ہے کہ ان کی وفات سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔ یہی بات انجیل میں بھی پائی جاتی ہے۔ جیسے آگے آتا ہے۔ مرزا قادیانی اس آیت کے متعلق کہتے ہیں کہ خدا نے ان سے مار ڈالنے کا وعدہ فرمایا تھا اور پھر مرتبہ بلند کرنے کا سورۃ النساء کی آیت کے بارہ میں وہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب خود اپنی موت سے پہلے حضرت مسیح پر ایمان لائیں گے۔ مگر اوپر ہم بیان کر چکے ہیں کہ مار ڈالنے کا مژدہ کسی وعدہ کی تعریف میں نہیں آتا اور اس میں کوئی خیریت کا پہلو نہیں۔ نہ تو یہ معلوماتی چیز ہے اور نہ بشارت ہے کہ حضرت مسیح اس کے ضرورت مند ہوتے جہاں تک مرتبہ بلند کرنا ہے۔ وہ پہلے ہی ان کا بلند تھا۔ اللہ کے رسول تھے اور مرتبہ کوئی مجسم چیز نہیں کہ اسے خدا کہیں سے اٹھا کر لے جاتا اور سورۃ النساء کی آیت آدمی قرآن کے کسی ترجمہ سے معلوم کر سکتا ہے کہ اس میں موت والا ضمیر حضرت مسیح کا ہے۔ کیونکہ ضمیر کا یہ خاصہ ہے کہ وہ اپنے سے قریب اسم کے لئے ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد حضرت مسیح کی قیامت میں گواہی کا بیان ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہوں تو آخری زمانہ میں وہ اپنے اوپر ایمان لانے والے اہل کتاب کی گواہی دیں گے۔ بہر حال یہ وعدہ اسی صورت پورا ہو سکتا ہے جب حضرت مسیح دنیا میں نزول فرمائیں اور سب اہل کتاب ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوں۔

تیسرا وعدہ کافروں سے پاک کرنا

تیسرا وعدہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح سے یہ تھا کہ میں تجھے کافروں سے پاک کروں گا۔

١١

صفحہ ١١١

ان کے حق میں کافروں کی تین قسمیں ہیں۔ ایک ان کے منکر۔ دوسرے ان کو ناجائز باپ کا بیٹا کہنے والے اور تیسرے انہیں خدا ماننے والے۔ واقعات وحالات گواہ ہیں کہ یہ تینوں قسم کے کافر اس وعدہ کے وقت سے اب کہیں زیادہ ہیں۔ اس لئے کہ اس وعدہ کے وقت ان کو خدا ماننے والا ان کے قتل کا اور سولی پر ان کی موت کا کوئی قائل تھا۔ جس حد تک ان الزامات کو علمی اور اثباتی طور پر دھونے کا تعلق ہے۔ قرآن کو ماننے والوں کے لئے وہ پاک ہیں نہ کہ دنیا کے سب انسانوں کے لئے ۔ لیکن اللہ نے ان کو کافروں سے پاک کرنے کا وعدہ دلایا تھا نہ کہ کافروں کے الزام سے اس لئے جب تک کافر موجود ہیں۔ ان سے حضرت مسیح کو پاک کرنے کا وعدہ موجود ہے۔ جو ظاہر ہے کہ ان کے نزول کے بعد ہی پورا ہو گا۔ اس بناء پر اللہ کے وعدہ کو سچا ماننے کے لئے حضرت مسیح کا نزول ماننا ضروری ہے۔ حیرت ہے کہ قادیانی اور لاہوری آپس میں کفر و اسلام کا اختلاف رکھنے کے باوجود وفات مسیح پر متفق ہیں۔

چوتھا وعدہ کافروں پر غلبہ

چوتھا وعدہ اس آیت میں حضرت مسیح سے یہ تھا کہ اللہ تیرے پیچھے چلنے والوں کو کافروں پر غالب رکھے گا۔ اگر مسلمانوں کو حضرت مسیح کے پیچھے چلنے والا مانا جائے تو یہ وعدہ کسی قدر پورا دکھائی دیتا ہے۔ مگر مسلمان ان سے زیادہ اور براہ راست محمدﷺ کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ عیسائی اگرچہ کچھ زمانہ یہودیوں پر غالب رہے ہیں۔ مگر وہ انکے اٹھائے جانے کے بعد غالب ہوئے اور بعد میں وہ مسیح کے پیچھے چلنے کی بجائے سینٹ پال کے پیچھے چل کر تثلیث پرستی میں بہہ گئے۔ اس لئے یہ وعدہ بھی حضرت مسیح کے نزول کے بعد صحیح معنوں میں پورا ہوگا۔ آپ کے ماننے والے اس وقت فائق ہوں گے اور نہ ماننے والے تلوار کی دھار پر رکھے جائیں گے۔ جیسے حدیث میں اس کی وضاحت ہے کہ آپ کافروں سے جزیہ وصول کرنے کی بجائے فقط اسلام قبول کریں گے۔

پانچواں وعدہ غلبہ قیامت تک

پانچواں وعدہ یہ کہ آپ کے پیچھے چلنے والوں کو کافروں پر جو فوقیت وفضیلت حاصل ہوئی وہ قیامت تک قائم رہے گی۔ کیونکہ ان کو مغلوب دکھانے والا کوئی نہ ہوگا۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح تو فوت ہوگئے۔ جس کے ثبوت میں انہوں نے ایک نہیں دو جگہ کشمیر اور شام میں ان کی قبر بھی دکھائی ہے۔ جہاں کے کچھ لوگوں نے ان کو بتایا کہ یہ کسی نبی کی قبر ہے۔ ایک مرہم بھی ان کے نام سے ۔ کہتے ہیں کہ جب مسیح فوت ہو گئے تو اب مسیح میں ہوں اور میرے ماننے والے

١٢

اور کسی طرح نہیں بلکہ حجت و برہان یعنی جھگڑا مجادلہ کر کے مغز کھانے سے پر قیامت تک غالب رہیں گے اور دونوں گروہ قیامت تک باقی رہیں گے

ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہیے

اب یہی وجہ ہے کہ ان کے امتی محمدﷺ کے وجود کو ہضم کر کے نے مرزا قادیانی کی خبر دی تھی نہ کہ محمدﷺ کی بشارت ۔ اس اعتبار سے ہوئے۔ اول : حضرت مسیح کو اللہ کی طرف سے جو وعدہ ملا ۔ اسے اپنے حق نے جو محمدﷺ کی بشارت فرمائی تھی ۔ وہ ان کے نام پڑی ۔ سوم: حضرت کافروں سے تجھے پاک کر کے انہیں مٹا دوں گا۔

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ کافر قیامت تک رہیں گے اور وہ ہیں۔ معاذ اللہ ! یعنی موت کی بشارت حضرت مسیح کو اور فوقیت کی بشارت اللہ نے حضرت مسیح کو جن کافروں سے پاک کر دکھانے کا وعدہ فرمایا اٹھائے جانے کے بعد وجود میں آیا ہے۔ مثلاً ان کے قتل کے قائل یہو اور ان کی موت کے قائل یہ قادیانی ان سب عناصر نے حضرت مسیح عصمت و تقدس کو تار تار کرتے ہیں۔ ایک دوسرے سے بڑھ کر سرگرمی عناصر سے نمٹنے کے لئے حضرت مسیح کو نازل ہونا ہے۔ ان میں سے ایک اب چوتھے اور پانچویں وعدہ کا حضرت مسیح کی ذات سے میں ہزاروں اور لاکھوں پیغمبر گزرے۔ اکثریت ان کی وہی تھی کہ خود کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر ان کی وفات کے لوگوں کو ان کی قدر و قیمت معلوم ہوئی اور ان کے پیچھے چلنے والے غا کے متعلق روایات یہ ہیں کہ آپ کے ہاں متواتر دو دن کبھی چولہا گرم زکوۃ لینے والا کوئی نہیں رہا تھا۔ اس طرح ہر نبی کی کچھ خاص اور عام جاری ہے۔ بعد والے نبی کا غلبہ پہلے نبی کی ان خصوصیات پر غا رہیں۔ ٹھیک یہی پوزیشن حضرت مسیح کی تھی کہ ان کے ماننے والے غا اس حد تک سب کا معاملہ یکساں تھا۔ فرق صرف یہ کہ دو کو ان کی آنکھوں کے سامنے ہلاک کر دیا گیا اور حضرت مسیح کے م

١٣

صفحہ ١١١

اور کسی طرح نہیں بلکہ حجت و برہان یعنی جھگڑا مکالمہ کر کے مغز کھانے سے میرے نہ ماننے والوں پر قیامت تک غالب رہیں گے اور دونوں گروہ قیامت تک باقی رہیں گے۔

ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہیے!

اب یہی وجہ ہے کہ ان کے امتی محمدﷺ کے وجود کو تسلیم کر کے کہتے ہیں کہ حضرت مسیح نے مرزا قادیانی کی خبر دی تھی نہ کہ محمدﷺ کی بشارت۔ اس اعتبار سے اس موقع پر تین عدد جھوٹ ہوئے۔ اول: حضرت مسیح کو اللہ کی طرف سے جو وعدہ ملا۔ اسے اپنے حق میں لیا۔ دوم: حضرت مسیح نے جو محمدﷺ کی بشارت فرمائی تھی۔ وہ ان کے نام پڑی۔ سوم: حضرت مسیح سے اللہ کا وعدہ تھا کہ کافروں سے تجھے پاک کر کے انہیں مٹادوں گا۔

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ کافر قیامت تک رہیں گے اور وہ مجھے نہ ماننے والے مسلمان ہیں۔ معاذ اللہ! یعنی موت کی بشارت حضرت مسیح کو اور فوقیت کی بشارت ہم کو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے حضرت مسیح کو جن کافروں سے پاک کر دکھانے کا وعدہ فرمایا تھا۔ ان کا بڑا حصہ ان کے اٹھائے جانے کے بعد وجود میں آیا ہے۔ مثلاً ان کے قتل کے قائل یہودی اور صلیبی و تثلیثی عیسائی اور ان کی موت کے قائل یہ قادیانی ان سب عناصر نے حضرت مسیح اور ان کی والدہ کے دامن عصمت و تقدس کو تار تار کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر سرگرمی دکھائی ہے۔ اس طرح جن عناصر سے نمٹنے کے لئے حضرت مسیح کو نازل ہونا ہے۔ ان میں سے ایک خطرناک عنصر یہ ہے۔

اب چوتھے اور پانچویں وعدہ کا حضرت مسیح کی ذات سے تعلق جوڑنے پر غور کیجئے۔ دنیا میں ہزاروں اور لاکھوں پیغمبر گزرے۔ اکثریت ان کی وہی تھی کہ خود ان کو اور ان کے ماننے والوں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر ان کی وفات کے اور مخالفوں کی ایذاء کے بعد لوگوں کو ان کی قدر و قیمت معلوم ہوئی اور ان کے پیچھے چلنے والے غالب ہو گئے۔ خود رسولﷺ کے متعلق روایات یہ ہیں کہ آپ کے ہاں متواتر دو دن کبھی چولہا گرم نہیں ہوتا تھا۔ مگر آپ کے بعد زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں رہا تھا۔ اس طرح ہر نبی کی کچھ خاص اور ساری کی ساری عام سنت آج تک جاری ہے۔ بعد والے نبی کا غلبہ پہلے نبی کی ان خصوصیات پر پڑا جو شریعت الہی میں باقی نہ رہیں۔ ٹھیک یہی پوزیشن حضرت مسیح کی تھی کہ ان کے ماننے والے بعد میں غالب ہوگئے۔

اس حد تک سب کا معاملہ یکساں تھا۔ فرق صرف یہ کہ دوسرے انبیاء کے سب منکروں کو ان کی آنکھوں کے سامنے ہلاک کر دیا گیا اور حضرت مسیح کے مخالف و بدخواہ ان کے اٹھائے

١٣

صفحہ ١١٣

جانے کے بعد بھی باقی نہ رہے اور ان پر الزامات لگاتے رہے۔ ان الزامات کی وجہ سے انہیں کافروں سے پاک دکھانے کا وعدہ دلایا گیا اور ان کے مخالفوں کے باقی رہ جانے کی وجہ سے ان کے پیچھے چلنے والوں کو کافروں پر غالب کرنے کا وعدہ ہوا۔ اس سے یہ وجہ سمجھ میں آجاتی ہے کہ کسی اور نبی کو ایسا کوئی وعدہ کیوں دلایا گیا جو حضرت مسیح کے ساتھ ہوا تھا۔ اب آپ سوچیں کہ اگر حضرت مسیح کے دنیا میں نہ رہتے ہوئے یہ وعدے پورے ہونے تھے۔ تو بھلا انہیں کیوں بتایا اور انہیں ان وعدوں سے کیا دلچسپی ہوسکتی تھی؟۔ یہ کافروں سے پاک کرنے کا اور انہیں مقہور کرنے کا عمل اگر ان کی قبر کو دکھانا تھا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ اس کا تذکرہ ان سے کیا جاتا۔ یہ وعدے ایک طرف وعدے تھے اور دوسری یہ آگاہی تھی کہ وہ الزامات آپ پر لگائیں گے۔ اب جو آپ کے منکر اور بدخواہ تھے۔ ان کی سزا تو قرآن میں بیان کردی گئی کہ خدا نے ان کو اپنی پاک اور حلال نعمتوں سے محروم رکھ کر ذلت وخواری کی زندگی دی اور جو بعد میں الزام لگانے والے تھے۔ ان سے آپ کو پاک دکھانے کا وعدہ دلایا گیا۔ چونکہ ان کا جرم منکروں سے زیادہ ہے۔ اس لئے ان کے وجود سے آپ کو پاک کرنے اور ان کو ختم کردینے کا وعدہ دلایا گیا۔

یہاں اس نکتہ پر غور کرنا بھی بے محل نہیں ہوگا کہ انجیل میں حضرت مسیح کے زندہ اٹھائے جانے کا اور پھر آپ کے نزول کا تذکرہ بڑے تکرار کے ساتھ موجود ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ اگر ان کا اٹھایا جانا اور پھر نزول فرمانا دونوں باتیں غلط تھیں تو قرآن میں ان کا رد کیوں نہ کیا گیا؟ انہیں خدا ماننے والوں سے بھی نہ کہا گیا کہ وہ مر گئے ہیں۔ یہ بات اگر قرآن میں رد کے بغیر چھوڑی جاتی تو بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم آپ کے اٹھائے جانے اور نزول فرمانے کو درست ماننے کے پابند تھے۔ مگر یہی نہیں کہ اسے رد نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس سے بڑھ کر قرآن میں ان دونوں باتوں کا صریح بیان نص کے طور پر موجود ہے اور قرآن وحدیث میں ان سارے کاموں کی تفصیل دی گئی ہے جو نزول کے بعد حضرت مسیح کریں گے۔ آخر خدا کی کتاب وشریعت کو جھٹلانے کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے۔ اس طرح مرزا قادیانی کے ذمہ آٹھ عدد جھوٹ ہیں۔ قرآن کو جھٹلایا۔ حدیث اور انجیل کو اور ان پانچ وعدوں کو جو خدا نے حضرت مسیح سے کئے ہیں۔ ادھر ایک عام جھوٹ کی سزا اللہ کی لعنت ہے۔

حدیث پر بہتان ...... میں مسیح ہوں!

”حدیث کا مضمون یہ ہے کہ تم میں ابن مریم اترے گا اور پھر بیان کے طور پر کھول دیا ١٤

کہ وہ ایک تمہارا امام ہوگا جو تم میں سے ہی ہوگا۔“ (از مرزا قادیانی کا کہنا یہ ہے کہ حدیث میں مسلمانوں کو میں سے ہوگا۔ کہیں آسمان سے نازل نہیں ہوگا۔ اس پر ہمیں غور لوگوں کو مخاطب کیا گیا۔ ان میں مرزا قادیانی ہیں۔ جب ان سے کا یہ مطلب لیا تھا یا نہیں اور ان کے بعد ان کے امتیوں کے بغ کا قائل ہے یا نہیں؟

سب کو معلوم ہے کہ صحابہؓ اس حدیث کے پہلے مخاطب انقطاع نبوت اور نزول مسیح کے معتقد تھے۔ کیونکہ ان میں سے ک ان کانوں سے نہیں سنا تھا۔ جن سے قادیانی سنتے ہیں۔ جب حقیق پر مرزا قادیانی کو مسیح کی گدی کے امیدواروں میں شامل ہونے ک بنیادی عقائد میں مسلمانوں سے الگ راہ نکالنے کے بعد وہ ان می

اس کے بعد یہ دیکھئے کہ کسی اور نے بھی اس حدیث ہے کہ کسی ایک کا نام بھی اس کے بغیر اس کے لئے پیش نہیں مفہوم کیا ہے۔ خود مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ جہاں قرآن کی آ زیادہ آیتوں پر عمل کرنا چاہئے۔ یہی حال مختلف احادیث کا ہوت گا۔ اس صورت میں مرزا قادیانی کی تیس آیات کی تعداد سے کریں۔ سب نہیں تو اکثر آیات حضرت مسیح کی زندگی ونزول پر ہے اور پھر آخری درجہ میں یہی حال حدیث کے معنوں کا ہے غالب ہے۔ اس بیان کے بعد ہم یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ مر بنانے میں جھوٹ سے کام لیا ہے۔ وجہ یہ کہ علم حدیث کا اولین درایت کے خلاف نہ ہو۔ آدمی کی عقل میں سمائے۔ اب ایک م متعلق یہ کہنا کہ وہ کل تمہارے پاس آئے گا اور وہ تم ہی میں سے بات دکھائی دیتی ہے۔ سہولت کے لئے ہم حدیث کے الفا کا مطلب خود معلوم کرلیں۔

’’کیف انتم اذانزل فیکم ابن مریم وام ١٥

صفحہ ١١٣

کہ وہ ایک تمہارا امام ہوگا جو تم میں سے ہی ہوگا۔‘‘

(ازالۃ اوہام ص ٤٤، خزائن ج ٣ ص ١٢٤)

مرزا قادیانی کا کہنا یہ ہے کہ حدیث میں مسلمانوں کو فرمایا گیا ہے کہ مسیح بن مریم تم ہی میں سے ہوگا۔ کہیں آسمان سے نازل نہیں ہوگا۔ اس پر ہمیں غور کرنا ہوگا کہ اس حدیث میں جن لوگوں کو مخاطب کیا گیا۔ ان میں مرزا قادیانی ہیں۔ جب ان سے پہلے کسی اور نے بھی اس حدیث کا یہ مطلب لیا تھا یا نہیں اور ان کے بعد ان کے امتیوں کے بغیر کوئی اور عقل رکھنے والا بھی اس کا قائل ہے یا نہیں؟

سب کو معلوم ہے کہ صحابہؓ اس حدیث کے پہلے مخاطب تھے اور وہ بعد کے سب مسلمان انقطاع نبوت اور نزول مسیح کے معتقد تھے۔ کیونکہ ان میں سے کسی نے بھی ختم نبوت ونزول مسیح کو ان کانوں سے نہیں سنا تھا۔ جن سے قادیانی سنتے ہیں۔ جب حقیقت یہ ہے تو پھر اس حدیث کی پکار پر مرزا قادیانی کو مسیح کی گدی کے امیدواروں میں شامل ہونے کا مشورہ کس حکیم نے دیا اور ان دو بنیادی عقائد میں مسلمانوں سے الگ راہ نکالنے کے بعد وہ ان میں شامل رہے۔ کب؟

اس کے بعد یہ دیکھئے کہ کسی اور نے بھی اس حدیث کا یہ مطلب لیا ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ کسی ایک کا نام بھی اس کے بغیر اس کے لئے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے بعد حدیث کا مفہوم کیا ہے۔ خود مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ جہاں قرآن کی آیات میں تناقض ہو (معاذ اللہ) تو زیادہ آیتوں پر عمل کرنا چاہئے۔ یہی حال مختلف احادیث کا ہوگا اور ایک حدیث کے مختلف معنوں کا۔ اس صورت میں مرزا قادیانی کی تیس آیات کی تعداد سے مرعوب ہوئے بغیر آپ موازنہ کریں۔ سب نہیں تو اکثر آیات حضرت مسیح کی زندگی ونزول پر گواہ ہیں۔ یہی پوزیشن احادیث کی ہے اور پھر آخری درجہ میں یہی حال حدیث کے معنوں کا ہے کہ نزول مسیح کا مفہوم ان کے اندر غالب ہے۔ اس بیان کے بعد ہم یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اس حدیث کے معنے بنانے میں جھوٹ سے کام لیا ہے۔ وجہ یہ کہ علم حدیث کا اولین اصول یہ ہے کہ وہ قرآن اور اصول درایت کے خلاف نہ ہو۔ آدمی کی عقل میں سمائے۔ اب ایک مرے اور دفن شدہ آدمی مثلاً زید کے متعلق یہ کہنا کہ وہ کل تمہارے پاس آئے گا اور وہ تم ہی میں سے ہوگا۔ یہ صریح طور پر ایک پاگل کی بات دکھائی دیتی ہے۔ سہولت کے لئے ہم حدیث کے الفاظ اور معنے کر دیتے ہیں۔ آپ ان کا مطلب خود معلوم کرلیں۔

”كيف انتم اذا نزل فيكم ابن مريم وامامكم منكم

(بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسلم

١٥

صفحہ ١١٥

ج ١ ص ٨٧) ”تم کیسے ہو گے جب تمہارے درمیان ابن مریم علیہ السلام نازل ہوگا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔

اب اس حدیث کا جو مسلمانوں نے مطلب لیا ہے۔ اس کی تائید میں ہم ایک اور حدیث دیتے ہیں۔ جو حضرت جابر سے صحیح مسلم میں ہے:

”لاتزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل بنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله لهذه الامة (مسلم ج ٢ ص ١٣٤، مسند احمد ج ٣ ص ٣٤٥)“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہ کر جنگ کرے گی۔ قیامت تک وہ لوگ غالب رہیں گے۔ فرمایا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور ان کا امیر ان سے کہے گا آئیے نماز میں ہماری امامت کیجئے۔ وہ فرمائیں گے نہیں! تم آپس میں ہی ایک دوسرے کے امام ہو۔ اس بزرگی سے جو اللہ نے اس امت کو دی ہے۔

دیکھ لیں ہم نے دونوں احادیث کے الفاظ سے واضح کر دیا ہے کہ پہلی حدیث کی تشریح دوسری سے ہوتی ہے۔ لگے ہاتھوں آپ دینی لڑائی اور جہاد کے حرام ہونے پر مرزا قادیانی کے فیصلہ و فتویٰ کو بھی نگاہ میں رکھ لیں اور اس پر بھی سوچ لیں کہ جب ایک مکروہ اور مباح کو حرام بتانے والا مسلمان نہیں رہتا تو فرض کو حرام ٹھہرانا کس پیغمبرانہ خصوصیت کا نام ہے؟۔

امتیوں کا کمال

نبی امت میں ہو تو اس سے افضل نہیں ہوں گے۔ علمی تبصرہ.......!

نبی ہو ۔“ کوئی صاحب قاضی محمد نذیر لائل پوری قادیانی ہیں، انہوں نے مولانا مودودی کے رسالہ ختم نبوت پر علمی تبصرہ فرمایا ہے اور اس میں یہ دو احادیث بھی وہ لائے ہیں اور ترجمہ ان کا یہ ہے جو آپ کے سامنے ہے۔ بس اتنی کسر رہ گئی ہے کہ ترجمہ حدیث میں مرزا آف قادیان لکھنا وہ بھول گئے ہیں اور سب کچھ مکمل ہے۔ اب ہم حدیث کے اصل الفاظ دے کر ان کا سادہ ترجمہ جو عام مسلمانوں سے بن آتا ہے۔ وہ دیتے ہیں۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو سکے گا کہ اوپر ترجمہ میں جو جھوٹ بھرا ہے۔ وہ حدیث کے کس گوشہ سے نکالا گیا ہے اور کس ڈھٹائی سے مرزا قادیانی کو سب سے افضل بنایا گیا ہے؟

١٦

”ابوبكر افضل هذه الامة الا ان يكون نبياً ہے سوائے اس بات کے کہ وہ نبی ہو ۔“

”ابوبكر افضل الناس بعدی الا ان يكون لوگوں سے اچھا ہے۔ سوائے اس بات کے کہ وہ نبی ہو ۔“

سوچئے! یہاں ”آئندہ اور کوئی نبی اس امت سے ہو جائے گے۔“ یہ کس لفظ کے معنے ہیں؟ اور پھر یہ کہ جہاں امت میں نبی آ اس میں کسی کا افضل اور سب سے افضل ہونا کیا معنی؟ ۔ امت تو ہوگی امت کا نبی یا وہ جسے بعد والا نبی افضل ٹھہرائے گا۔

اور ہو سکتا ہے کہ وہ سب پہلی امتوں کے افضل لوگوں باہر کوئی اور نبی ہو سکتا ہو تو ایک جگہ کے نبی کے لئے یہ کہنے کا موقع نہ امت سے یا سب لوگوں سے افضل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے کسی صحابی کے حق میں ایسی کسی فضیلت کا فیصلہ وقوع میں نہیں آیا۔ رسول آنا تھا اور نہ کوئی امت ہونی تھی۔ نہ افضل نہ غیر افضل ۔ اس لئے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے حق میں یہ ارشاد فرمایا کہ اس امت میں ابوبکر حدیث کسی اور امت اور نئے نبی کی آمد کی جڑ کاٹ رہی ہے۔ مگر مرزا قادیانی کا بھرم قائم کر رہے ہیں:

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ

پھر یہیں سے حضرت مسیح کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔ آئندہ کی نبوت کو بڑے زور و شور کے ساتھ منواتے ہیں۔ مگر ان ثبوت کو مرزا قادیانی کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں۔ اس حدیث کو سب لوگوں سے افضل فرمایا گیا اور سب لوگوں میں حضرت مسیح ہیں۔ اس لئے کہ جو نبی کی زیارت وہ حاصل کریں گے وہ ابو بکر اور تھی ۔ اس کے علاوہ عقیدہ وعمل میں وہ صحابہؓ سے کسی درجہ میں بھی نہیں کو ماننے والا ان سب سے بڑھے بغیر نہیں رہتا۔ گویا وہ پرانے نبی ضابطہ نئے نبیوں کے لئے ہے کہ وہ نہیں آسکتے ۔ پہلے زمانہ کا ایک نبی

١٧

صفحہ ١١٥

"ابوبکر افضل هذه الامة الا ان يكون نبيا" ابوبکر اس امت سے افضل ہے سوائے اس بات کے کہ وہ نبی ہو۔"

"ابوبکر افضل الناس بعدی الا ان يكون نبيا" ابوبکر میرے بعد سب لوگوں سے اچھا ہے۔ سوائے اس بات کے کہ وہ نبی ہو۔"

سوچئے! یہاں "آئندہ اور کوئی نبی اس امت سے ہو جائے تو اس سے افضل نہیں ہوں گے۔" یہ کس لفظ کے معنے ہیں؟ اور پھر یہ کہ جہاں امت میں نبی آنے ہوں وہاں امت کیسی اور اس میں کسی کا افضل اور سب سے افضل ہونا کیا معنی؟ ۔ امت تو ہوگی بعد کے نبی کی اور افضل ہوگا امت کا نبی یا وہ جسے بعد والا نبی افضل ٹھہرائے گا۔

اور ہو سکتا ہے کہ وہ سب پہلی امتوں کے افضل لوگوں سے بڑھ جائے۔ اگر بعد میں یا باہر کوئی اور نبی ہو سکتا ہو تو ایک جگہ کے نبی کے لئے یہ کہنے کا موقع نہیں آسکتا کہ فلاں آدمی سب امت سے یا سب لوگوں سے افضل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے کسی نبی کی طرف سے اس کے کسی صحابی کے حق میں ایسی کسی فضیلت کا فیصلہ وقوع میں نہیں آیا۔ رسول اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آنا تھا اور نہ کوئی امت ہونی تھی۔ نہ افضل نہ غیر افضل۔ اس لئے آپ نے قطعیت کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق کے حق میں یہ ارشاد فرمایا کہ اس امت میں ابوبکر سب سے افضل ہیں۔ گویا یہ حدیث کسی اور امت اور نئے نبی کی آمد کی جڑ کاٹ رہی ہے۔ مگر ہمارے قادیانی قاضی اس سے مرزا قادیانی کا بھرم قائم کر رہے ہیں:

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

پھر یہیں سے حضرت مسیح کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔ مرزا قادیانی اور ان کے امتی مسیح آئندہ کی نبوت کو بڑے زور و شور کے ساتھ منواتے ہیں۔ مگر ان کے نزول کا انکار کر کے ان کی نبوت کو مرزا قادیانی کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں۔ اس حدیث میں مطلقاً حضرت ابوبکر صدیق کو سب لوگوں سے افضل فرمایا گیا اور سب لوگوں میں حضرت مسیح کے زمانہ کے صحابی بھی شامل ہیں۔ اس لئے کہ جو نبی کی زیارت وہ حاصل کریں گے وہ ابوبکر اور ان کے ساتھیوں کو بھی حاصل تھی۔ اس کے علاوہ عقیدہ و عمل میں وہ صحابہ سے کسی درجہ میں بھی نہیں بڑھیں گے۔ حالانکہ نئے نبی کو ماننے والا ان سب سے بڑھے بغیر نہیں رہتا۔ گویا وہ پرانے نبی ہیں۔ معلوم ہوا کہ ختم نبوت کا ضابطہ نئے نبیوں کے لئے ہے کہ وہ نہیں آسکتے۔ پہلے زمانہ کا ایک نبی جو آخری نبی کی آمد پر زندہ تھا

نما

صفحہ ١١٧

اور اس کے مشن کا ایک حصہ باقی تھا۔ اس کا دوبارہ لوگوں کے پاس وارد ہونا ختم نبوت کے منافی نہیں ۔ جس سے نئے نبی کا نیا عقیدہ لازم نہ آئے۔

اب آپ قاعدہ اور زبان کی طرف آئیے ۔ دونوں احادیث کے آخر ترجمہ میں ”وہ“ کا لفظ موجود ہے۔ اسے ضمیر کہا جاتا ہے۔ اس کا قاعدہ ہے کہ یہ اسم کے لئے آتا ہے اور اسم کے بعد آتا ہے۔ اگر اس قاعدہ کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیں تو اس عبارت میں ایک اسم اور اس کی صفت ہے۔ یعنی ابوبکر اور یہ ضمیر اسی کا ہے۔ اس عبارت کو ذرا یہ شکل دیں اور دیکھیں:

”ابو بكر افضل هذه الامة الا ان يكون زيد“ ابوبکر اس امت سے افضل ہے۔ سوائے اس بات کے کہ وہ زید ہو۔“

اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو اور زید ہوں گے وہ ابوبکر سے افضل ہو جائیں گے۔ بلکہ مفہوم یہ ہے کہ ابوبکر سب امت سے افضل تو ہے مگر وہ زید کے مرتبہ کا نہیں۔ اس زید کے مرتبہ کا جو پیدا ہو چکا ہے۔ مقصود یہ کہ ابوبکر سب کچھ ہے۔ مگر نبی نہیں۔ اس کے ساتھ (کوئی نبی ہو جائے گا تو ابوبکر اس کے برابر نہ ہوگا) یہ قصہ اگر ملایا جائے تو مطلب یہ سامنے آتا ہے کہ جو بعد میں کوئی نبی ہو گا۔ ابوبکر اس سے افضل نہیں۔ دوسرے سب انبیاء سے تو افضل ہے۔ معاذ اللہ!

ایمانیات کا مذاق

”اگر ظاہر پر ان حدیثوں کا حمل کرنا ہے تو چند قبروں کو کھودو اور ان میں سانپ اور بچھو دکھاؤ۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٥ خزائن ج ٣ ص ٣١٦)

مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ اگر ختم نبوت اور نزول مسیح کی احادیث کے لفظی معنی ہی لوگ لیتے ہیں تو انہیں عذاب قبر کی احادیث کے بھی لفظی معنے قبول کرنے چاہئیں اور اگر حدیث میں قبر کے اندر سانپوں اور بچھوؤں کا عذاب سنایا گیا ہے تو کسی ایک آدھ قبر سے سانپ اور بچھوؤں وغیرہ کا مشاہدہ ہمیں کراؤ۔ اسے کہتے ہیں ”گھوڑے کی بلا طویلہ کے سر۔“ مرزا قادیانی کو خود عذاب قبر کے بارے میں شک تھا اور بے چارے مولویوں کو اس محنت میں ڈالا کہ مجھے قبر کا عذاب دکھاؤ اور وہ بھی قبریں کھود کر اور کھدائی کی مشقت بھی تم ہی اٹھاؤ۔ کبھی دنیا میں ایسا ہوا ہے کہ مشقت ایک آدمی اٹھائے اور شک دوسرے کا زائل ہو۔ پھر جلد بازی یہ کہ نہ قبریں کھودیں نہ یہ معلوم کیا کہ کس قبر کا مردہ سانپ اور بچھوؤں کے عذاب کا مستحق ہے اور کیوں ہے؟۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آدمی کی قبر سانپوں کا گھر ہوتا ہو۔ مگر وہ تو بہ کر کے مرا ہو یا اس کے حقوق ادا کر دیئے ہوں۔ یہ سب کچھ سوچے سمجھے بغیر انہوں نے نہ صرف عذاب قبر کا انکار کیا بلکہ اس کا مذاق بھی اڑایا۔ ایک پیغمبر کا کام سوائے

١٨

اس کے اور ہو بھی کیا سکتا ہے کہ وہ اپنے سے بڑے نبی کا مخول اڑا ہم پوچھتے ہیں کہ نزول مسیح اور ختم نبوت کی احادیث میں آخر جان احادیث سے ان کا کیا جوڑ ہے اور پھر عذاب قبر کی احادیث میں آ ہے۔ اگر قبر کے منکر و نکیر کو گائے بھینس کبھی سمجھا جاتا تو اس کے عذا ان کے مشنری اس بات کا ڈھول پیٹتے ہیں کہ اس وقت روحانی ترق پہلے اتنی صدیوں میں اس کی ضرورت نہ تھی۔ یہ بھی تو بے سروپا مفر انسان تصنیف کرنے لگیں اور وہ معیار مانا جائے۔

حقیقت میں ضرورت نبی کی راگنی بالکل زمانہ حال کی ہو کر آنے والا کبھی نہیں کہہ سکتا کہ میں کسی کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں کہ اس نے فی الواقع کسی ضرورت کو پورا کیا ہے۔ بجا نے مجھے بھیجا ہے اور اس بھیجنے کی ضرورت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہو۔ پہلے اگر کسی نبی نے اپنی ضرورت کی دوہائی نہیں دی اور اس عقیدہ ختم نبوت کے ماحول پر اثر نہیں تو اور کیا ہے؟۔ لوگ صدیو اور انہیں نئے سرے سے ضرورت نبی کا درس دیا جاتا ہے تا کہ روحانی ترقی کا راستہ یہ تجویز کیا کہ حدیث اور قرآن اور اللہ ور ہے۔ یعنی مسلمانوں کو دہریہ بنا کر ان کی روحانی ترقی کا سامان مسلمان بلکہ ایک اچھی قسم کے بے دین کا بھی کب ہو سکتا ہے او پھبتی اڑانے کے بعد آدمی اس قابل رہ جاتا ہے کہ اسے مسلمانو

اس کے ساتھ آپ تھوڑا روحانی ترقی کے لئے ن روحانی فیض کا موازنہ کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کا رو کے لئے قیامت تک جاری ہے۔ یعنی وہی روحانی فیض دوسرو ترقی کے لئے کارآمد نہیں اور اس کے لئے نئے نبی کی ضرورت کو موجود ہے اور امت کی روحانی ترقی کے لئے موجود نہیں۔

تحقیق اور حدیث

”مقررہ تاریخوں میں ہزارہا عیسائی سال بسال حدیث سے ثابت ہوا کہ وہ عیسیٰ کی قبر ہے۔“

(ست بچن ص ۔

١٩

صفحہ ١١٧

اس کے اور ہو بھی کیا سکتا ہے کہ وہ اپنے سے بڑے نبی کا مخول اڑائے اور لوگوں کو اس پر ہنسائے؟ ہم پوچھتے ہیں کہ نزول مسیح اور ختم نبوت کی احادیث میں آخر مجاز کا کتنا حصہ ہے اور عذاب قبر کی احادیث سے ان کا کیا جوڑ ہے اور پھر عذاب قبر کی احادیث میں آج تک کسی مسلمان نے مجاز نہ مانا ہے۔ اگر قبر کے منکر ونکیر کو گائے بھینس کبھی سمجھا جاتا تو اس کے عذاب سے کوئی ڈرتا کب۔ وہ اور ان کے مشنری اس بات کا ڈھول پیٹتے ہیں کہ اس وقت روحانی ترقی کے لئے جتنی ضرورت ہے اور پہلے اتنی صدیوں میں اس کی ضرورت نہ تھی۔ یہ بھی تو بے سروپا مفروضہ ہے کہ ضرورت نبی کا فلسفہ انسان تصنیف کرنے لگیں اور وہ معیار مانا جائے۔

حقیقت میں ضرورت نبی کی راگنی بالکل زمانہ حال کی ایجاد ہے۔ اللہ کی طرف سے نبی ہو کر آنے والا کبھی نہیں کہہ سکتا کہ میں کسی کی ضرورت پوری کرنے آیا ہوں اور نہ منکر کبھی یہ مان سکتے ہیں کہ اس نے فی الواقع کسی ضرورت کو پورا کیا ہے۔ بجائے اس کے نبی یہ بتاتا ہے کہ اللہ نے مجھے بھیجا ہے اور اس بھیجنے کی ضرورت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ چاہے کسی اور کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ پہلے اگر کسی نبی نے اپنی ضرورت کی دوہائی نہیں دی اور اب اس کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے تو یہ عقیدہ ختم نبوت کے ماحول پر اثر نہیں تو اور کیا ہے؟۔ لوگ صدیوں سے عقیدہ ختم نبوت پر پختہ ہیں اور انہیں نئے سرے سے ضرورت نبی کا درس دیا جاتا ہے تاکہ ان کی روحانی ترقی ہو اور پھر اس روحانی ترقی کا راستہ یہ تجویز کیا کہ حدیث اور قرآن اور اللہ و رسول کی تعلیمات کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو دہریہ بنا کر ان کی روحانی ترقی کا سامان کیا جاتا ہے۔ نبی تو کیا یہ شیوہ ایک مسلمان بلکہ ایک اچھی قسم کے بے دین کا بھی کب ہو سکتا ہے اور کیا اس حد تک قرآن وحدیث کی پھبتی اڑانے کے بعد آدمی اس قابل رہ جاتا ہے کہ اسے مسلمانوں میں شمار کیا جائے۔

اس کے ساتھ آپ تھوڑا روحانی ترقی کے لئے نبی کی ضرورت اور خاتم النبیین کے روحانی فیض کا موازنہ کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کا روحانی فیض امت میں نئے نبی بنانے کے لئے قیامت تک جاری ہے۔ یعنی وہی روحانی فیض دوسروں کو نبی بنائے گا جو امت کی روحانی ترقی کے لئے کارآمد نہیں اور اس کے لئے نئے نبی کی ضرورت ہے۔ یہ روحانی فیض نئے نبی بنانے کو موجود ہے اور امت کی روحانی ترقی کے لئے موجود نہیں۔

تحقیق اور حدیث

”مقررہ تاریخوں میں ہزارہا عیسائی سال بسال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں۔ سو اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وہ عیسیٰ کی قبر ہے۔“ (ست بچن ص ١٦٤ خزائن ج ١٥ ص ٣٠٩) ”ہم نے کسی

١٩

صفحہ ١١٩

کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی قبر بلدہ شام میں ہے۔ مگر اب تحقیق ہمیں یہ لکھنے پر مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر وہی ہے جو کشمیر میں ہے۔"

(ست بچن ص ٥، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٧)

"سری نگر میں یہ واقعہ عام طور مشہور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ قبر ہے۔ اس مزار کا زمانہ تخمیناً دو ہزار برس بتلاتے ہیں اور عوام اور خواص میں یہ روایت بکثرت موجود ہے کہ یہ نبی شام کے ملک سے آیا تھا۔"

(تریاق القلوب ص ٥٢، خزائن ج ١٥ ص ٢٤٥)

اس تحقیق وضبط کی کون داد نہ دے گا۔ مرزا قادیانی کو ایک حدیث ہاتھ لگی کہ: ”یہود ونصاریٰ پر اللہ کی لعنت کہ انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا کر چھوڑا۔" حدیث تو اپنے مضمون میں واضح تھی مگر برا ہو ہوا پرستی کا مرزا قادیانی اس سے سمجھے کہ یہود ونصاریٰ تمام نبیوں کی قبریں پوجتے ہیں۔ ان کی بھی جنہیں وہ نبی کی بجائے کچھ اور کہتے ہیں۔ کیونکہ یہود تو حضرت مسیح کو نبی نہیں کہتے اور ان کی بھی جو زندہ ہیں اور پھر اسی حدیث سے یہ بھی سمجھ لیا کہ جن قبروں کو وہ پوجتے ہیں وہ انبیاء کی قبریں ہوتی ہیں اور انہی انبیاء کی ہوتی ہیں۔ جن کی وہ بتاتے ہیں۔ یہ تو تھا ان کے ہاں حدیث کا مفہوم۔ دوسری طرف خارجی تحقیق نے ان کی حدیث دانی کا ساتھ نہیں دیا اور یہ حالت ہوئی کہ بار بار حضرت مسیح کی قبر کو بنانا اور مٹانا پڑا۔ مگر مسئلہ ہے کہ حل ہونے میں نہیں آیا۔

چنانچہ پہلی عبارت میں بتایا کہ شام میں لوگ حضرت مسیح کی قبر کو پوجتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو کر اسی قبر میں دفن ہیں اور حدیث کے یہ مطابق ہے۔ اس کے بعد تحقیق سے پتہ چلا کہ ان کی قبر تو کشمیر میں ہے اور وہ یوں کہ سری نگر میں یہ بات مشہور ہے کہ یہ قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے اور یہ بات مشہور ہے کہ کوئی نبی دو ہزار برس پہلے شام سے یہاں آیا تھا۔ یہ مان لیا اور حدیث کو سچا کیا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ پہلے انہوں نے کسی کتاب میں شام کی قبر کا ثبوت پہنچایا تھا۔ اقتباس کو ست بچن میں غلط ٹھہرایا مگر دو صفحہ بعد اسی کتاب میں شام کی قبر کو سچا کیا اور تیسری کتاب میں پھر اسے باطل قرار دیا۔ یعنی دو دفعہ ثابت کیا اور دو مرتبہ باطل بھی کیا۔

پھر بات کا انداز کیا نرالا ہے کہ یہ مشہور ہے۔ مشہور بھی یہ دونوں باتیں ہیں۔ کسی نبی کا شام سے آنا اور پھر دفن کے بعد اس کی قبر کا حضرت مسیح کی قبر ہو جانا۔ اس بے مثال تحقیق سے وہ ختم نبوت و نزول مسیح کا عقیدہ باطل کر رہے ہیں۔ نامعلوم کب شام و کشمیر میں جا کر دیکھا کہ وہ واقعہ مشہور ہے اور کن لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ مسلمانوں کے ہاں یا بے دینوں اور مرتدوں کے ہاں۔ کیونکہ یہ ہوائی نہ عیسائی عقیدہ کے مطابق ہے اور نہ اسلامی عقیدہ کے اور نہ عقل کے۔ اگر کوئی نبی آیا تھا تو اس کی قبر بھی کسی نبی کی قبر کیوں نہ ہوئی۔ حضرت مسیح کی قبر کیوں ہو گئی؟۔

٢٠

استدلال کا یہ کتنا نادر نمونہ ہے کہ چونکہ حدیث میں انبی اس لئے ہو نہیں سکتا کہ حضرت مسیح کی قبر نہ ہو اور لوگ اسے نہ پوجت یہ بیان بھول جاتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے انبیاء کو قتل کرتے تھ نے حضرت مسیح کو قتل کیا ہوگا۔ معاذ اللہ! پھر وہ کشمیر میں کیسے پہنچ گئ یہیں سے وہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے جو قادیانیوں کے ب بھی اس میں الجھاتے رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے ب آنا منقطع ہے تو حضرت مسیح کیوں نازل ہوں گے۔ ان کا نزول اسے نہ مانا جائے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن کا یہ بیان کہ وہ انبیا کیوں نہیں توڑتا کہ انہوں نے حضرت مسیح کو قتل نہیں کیا؟۔

امت سے یہودی

"حدیثوں سے ثابت ہے کہ اسی امت سے یہود پیدا

یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کہا جائے کہ بکریوں سے ہاتھی کہاں یہودی۔ یہ بات اگر کوئی اپنے طور پر کہتا تو پاگل قرار پاتا تو سننے والے کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آ دراصل مرزا قادیانی اپنے آپ کو مسیح بتانے لگے اور اپنے منکر جس قدر بہتان بھی قرآن وحدیث پر باندھنا پڑا۔ اس سے انہ سے کام لیا۔ نانک کی باتوں سے لے کر شاہ نعمت اللہ اور گلاب ش مرہم کو کام میں لائے بغیر نہیں چھوڑا اور مسیح ، مہدی ، ذوالقرنی کے بغیر کسی کو معلوم نہیں کہ کچھ ہیں بھی یا کچھ نہیں۔ حواریوں کی سے اتر کر لگائی تھی۔ وہ مرہم مرزا قادیانی کے ہاں اس بات کا ث ہیں۔ اگر سولی پر آپ مرتے یا زندہ اٹھائے جاتے تو وہ مرہم ک آدمی وہ مرہم لگائے۔ وہ مر جاتا ہے اور حضرت مسیح نے بھی وہ یعنی خودکشی کر کے مرے۔ معاذ اللہ!

کلمات کفریہ ...... ہم بڑے اور بہت بڑے

"اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر"

٢١

صفحہ ١١٩

استدلال کا یہ کتنا نادر نمونہ ہے کہ چونکہ حدیث میں اہل کتاب کی قبر پرستی کا بیان ہے۔ اس لئے ہو نہیں سکتا کہ حضرت مسیح کی قبر نہ ہو اور لوگ اسے نہ پوجیں۔ مگر اس کے ساتھ وہ قرآن کا یہ بیان بھول جاتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے انبیاء کو قتل کرتے تھے۔ اس بیان کے مطابق تو انہوں نے حضرت مسیح کو قتل کیا ہوگا۔ معاذ اللہ! پھر وہ کشمیر میں کیسے پہنچ گئے؟۔

یہیں سے وہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے جو قادیانیوں کے لئے درد سر بنا ہے اور مسلمانوں کو بھی اس میں الجھاتے رہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے پڑھائے پر کہتے ہیں کہ اگر نبیوں کا آنا منقطع ہے تو حضرت مسیح کیوں نازل ہوں گے۔ ان کا نزول ختمِ نبوت کو توڑتا ہے۔ اس لئے اسے نہ مانا جائے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن کا یہ بیان کہ وہ انبیاء کو قتل کرتے تھے۔ اسے یہ بیان کیوں نہیں توڑتا کہ انہوں نے حضرت مسیح کو قتل نہیں کیا؟۔

امت سے یہودی

"حدیثوں سے ثابت ہے کہ اسی امت سے یہود پیدا ہوں گے۔"

(حقیقت الوحی ص٣٠، خزائن ج٢٢ ص٣٢)

یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کہا جائے کہ بکریوں سے ہاتھی ہوں گے۔ بھلا کہاں یہ امت اور کہاں یہودی۔ یہ بات اگر کوئی اپنے طور پر کہتا تو پاگل قرار پاتا اور جو حدیث سے اس کا حوالہ دے تو سننے والے کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پاگل سمجھے یا بتانے والے کو۔ دراصل مرزا قادیانی اپنے آپ کو مسیح بتانے لگے اور اپنے منکروں کو یہودی۔ اس مقصد کے لئے جس قدر بہتان بھی قرآن وحدیث پر باندھنا پڑا۔ اس سے انہوں نے دریغ نہیں کیا اور ہر ذریعہ سے کام لیا۔ اٹکل کی باتوں سے لے کر شاہ نعمت اللہ اور گلاب شاہ کی پیشین گوئیوں اور حواریوں کی مرہم کو کام میں لائے بغیر نہیں چھوڑا اور مسیح، مہدی، ذوالقرنین اور سب کچھ بن کر رہے۔ یہ اللہ کے بغیر کسی کو معلوم نہیں کہ کچھ ہیں بھی یا کچھ نہیں۔ حواریوں کی مرہم وہ ہے جو حضرت مسیح نے سولی سے اتر کر لگائی تھی۔ وہ مرہم مرزا قادیانی کے ہاں اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں۔ اگر سولی پر آپ مرتے یا زندہ اٹھائے جاتے تو وہ مرہم کبھی نہ لگاتے۔ جس کا مطلب ہے جو آدمی وہ مرہم لگائے۔ وہ مر جاتا ہے اور حضرت مسیح نے بھی وہ مرہم مرنے کی غرض سے لگائی تھی۔ یعنی خودکشی کر کے مرے۔ معاذ اللہ!

کلمات کفریہ ...... ہم بڑے اور بہت بڑے

"اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا اور تمام انبیاء کے نام میری

٢١

صفحہ ١٢١

طرف منسوب کئے۔"

(حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)

"خدا اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح بن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔"

(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)

سب انبیاء کا مظہر

پہلی عبارت میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میں سب انبیاء کا مظہر ہوں اور سب کے نام میرے نام ہیں۔ یہ بات قرآن کو ماننے والے آدمی کے ہاں زبان پر لانا کفر سے کم نہیں۔ اسے تو جانے ہی دیجئے۔ سوچنا یہ ہے کہ کسی کا مظہر بننے اور اس کا نام لینے کی ضرورت کیسے پیش آتی ہے اور یہ کہ مظہر ہوتا کیا ہے؟۔ اس عبارت سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت کو شاید مظہر کی حقیقت معلوم تک نہ تھی۔ ورنہ اللہ یا رسول کے حق میں اسے استعمال نہ کرتے۔ یقین مانیں کہ قرآن اور حدیث میں یہ لفظ کہیں وارد نہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دینی نہیں۔ دینی عقائد سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔ یہ جب حقیقت ہے کہ جو بات دین میں موجود نہیں کسی نبی نے نہیں بتائی اور کسی صحابیؓ سے سننے میں نہیں آئی۔ وہ مرزا قادیانی کے حصہ میں کہاں سے آگئی؟۔ حالانکہ قرآن کو ماننے والا آدمی یہ عقیدہ رکھنے کا پابند ہے کہ ایک پیغمبر اپنے نام اور صفت میں دوسرے تمام انبیاء سے نرالا نہیں ہو سکتا۔ ہر پیغمبر اپنے سے پہلے نبی کی تصدیق کے بغیر نبی نہیں ہوتا اور نہ اس کی خصوصیات سے الگ ہوتا ہے۔ جب یہ واقع اور حقیقت ہے کہ کوئی پیغمبر کسی دوسرے پیغمبر کا مظہر نہیں ہوتا تو مرزا قادیانی کس طرح ایک آدھ کے نہیں، سب انبیاء کے مظہر بن بیٹھے؟۔

اس کے بعد یوں سمجھئے کہ مادی چیز اور بے مثال چیز کا کوئی مظہر نہیں ہوتا۔ مادی چیزیں یہ زمین، آسمان، پہاڑ، دریا وغیرہ حواس میں آنے والی چیزیں ہیں۔ یہ سب چیزیں جہاں خود موجود ہیں۔ ان کے مظہر کی ضرورت نہیں رہی۔ بے مثال چیز تو اس کا جب مظہر تیار کیا جائے تو وہ بے مثال نہیں رہ جاتی اور صرف وہ چیز جو مثالی ہو لیکن مادہ کی جنس سے نہ ہو۔ اس کا مظہر ہو سکتا ہے۔ یہ طے کرنا ہمارا اور آپ کا کوئی فرض نہیں کہ مثالی اور غیر مادی چیز کون سی ہے۔ ہم صرف یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کا وجود مثالی اور غیر مادہ تھا کہ مرزا قادیانی ان کے مظہر بنے اور اگر خواہ مخواہ وہ ان سب کے مظہر بنے ہیں تو ان کے اس وجود کے مظہر ہوئے جو زندگی میں

٢٢

ان کا تھا یا اس کے جواب موجود ہے اور پھر جس وجود کے بھی مظہر بنے کے لئے بنے۔ اس ضرورت کے لئے جس کے تحت اللہ نے ان کو پیدا کے تحت وہ فوت ہوئے؟۔ ظاہر ہے کہ دونوں میں سے جس ضرورت ہوئے بے کار ہوئے۔ کیونکہ ان دونوں کو تو اللہ نے انبیاء کے ذریعہ عجیب و غریب دعویٰ کا عقلی پہلو۔

دوسری طرف اس دعویٰ کے مطابق وہ محمدﷺ سے بھی آنحضرتﷺ کی طرف سے اس قسم کا کوئی دعویٰ موجود نہیں اور پھر سب نے ان کو سب کے جو نام دیئے تو کس ضرورت کے پورا کرنے کو دی ایسے آدمی کو دیتا ہے جسے ان سب کا مظہر نہیں بنایا تھا۔ یہ سوچنا پھر بھی کیونکر دیتے۔ بس ایک تعویذ ہوتا۔ گلے میں لٹکانے کے لئے اور جو لو مان بیٹھے ہیں۔ وہ ان ناموں پر ریجھ سکتے تھے۔ بشرطیکہ اس دعویٰ کے

آسمانی تخت؟

دوسری عبارت میں ان کے دعویٰ کی تصدیق بھی واقعات پیغمبر نے کہا ہوتا کہ مجھے آسمان سے تخت ملا ہے تو ہم یہ سوچنے کے ق کے تخت سے اونچا ہے یا ان کے لئے کوئی تخت ہے بھی یا نہیں۔ ان لئے کوئی بنیاد نہیں اور اس سے بڑھ کر یہ خود اپنے مضمون میں جھوٹ او آسمان سے کئی تخت اترے ہیں۔ مگر عالم واقعہ میں کسی نبی نے اپنے ت دعویٰ کسی سے کبھی نہیں منوایا۔ اس بناء پر یہ دعویٰ سماعت اور پرکھ کے ق

قرآن کا معتقد صرف اس کو نبی ماننے کا پابند ہے جو پہلے سے کسی امر میں نرالا نہ ہو۔ جب پہلے کسی ایک نے تخت اترنے وال بہت سے تخت اتارنے کا بیان دیتے ہیں۔ تو یہ کسی طرح بھی ان کی نے اپنے تخت کا دعویٰ نہیں کیا اور مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ کر دکھایا : نرالا دعویٰ ہے۔ جو پہلے کسی سے بن نہیں آیا۔

مسیح سے افضل؟

تیسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ اپنے ساتھ خدا رسول کہ وہ حضرت مسیح سے افضل ہیں۔ معلوم نہیں کہ حضرت مسیح سے مر

٢٣

صفحہ ١٢١

ان کا تھا یا اس کے جواب موجود ہے اور پھر جس وجود کے بھی مظہر بنے۔ کس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بنے۔ اس ضرورت کے لئے جس کے تحت اللہ نے ان کو پیدا فرمایا۔ یا اس کے لئے جس کے تحت وہ فوت ہوئے؟۔ ظاہر ہے کہ دونوں میں سے جس ضرورت کے لئے بھی وہ انبیاء کا مظہر ہوئے بے کار ہوئے۔ کیونکہ ان دونوں کو تو اللہ نے انبیاء کے ذریعہ پورا کر دیا ہے۔ یہ ہے اس عجیب و غریب دعویٰ کا عقلی پہلو۔

دوسری طرف اس دعویٰ کے مطابق وہ محمدﷺ سے بھی بڑھ گئے ہیں۔ اس لئے کہ آنحضورﷺ کی طرف سے اس قسم کا کوئی دعویٰ موجود نہیں اور پھر سب کا مظہر بنا دینے کے بعد خدا نے ان کو سب کے جو نام دیئے تو کس ضرورت کے پورا کرنے کو دیئے؟۔ نام تو ان کے خدا کسی ایسے آدمی کو دیتا ہے جسے ان سب کا مظہر نہیں بنایا تھا۔ یہ سوچنا پھر بھی باقی ہے کہ کسی اور کو بھی یہ نام کیونکر دیتے۔ بس ایک تعویذ ہوتا۔ گلے میں لٹکانے کے لئے اور جو لوگ مرزا قادیانی کو نبی یا رسول مان بیٹھے ہیں۔ وہ ان ناموں پر ریجھ سکتے تھے۔ بشرطیکہ اس دعویٰ کے لئے کوئی ثبوت موجود ہو۔

آسمانی تخت؟

دوسری عبارت میں ان کے دعویٰ کی تصدیق بھی واقعات سے نہیں ہوئی۔ اگر پہلے کسی پیغمبر نے کہا ہوتا کہ مجھے آسمان سے تخت ملا ہے تو ہم یہ سوچنے کے قابل ہوتے کہ ان کا تخت اس کے تخت سے اونچا ہے یا ان کے لئے کوئی تخت ہے بھی یا نہیں۔ ان حالات میں تو ایسے دعویٰ کے لئے کوئی بنیاد نہیں اور اس سے بڑھ کر یہ خود اپنے مضمون میں جھوٹ اور باطل ہے۔ اس میں ہے کہ آسمان سے کئی تخت اترے ہیں۔ مگر عالم واقعہ میں کسی نبی نے اپنے لئے تخت اترنے کا کوئی عقیدہ یا دعویٰ کسی سے کبھی نہیں منوایا۔ اس بناء پر یہ دعویٰ سماعت اور پرکھ کے قابل نہیں۔

قرآن کا معتقد صرف اس کو نبی ماننے کا پابند ہے جو پہلے انبیاء کی تصدیق کرتا ہو اور ان سے کسی امر میں نرالا نہ ہو۔ جب پہلے کسی ایک نے تخت اترنے والا قصہ نہیں بتایا اور مرزا قادیانی بہت سے تخت اتارنے کا بیان دیتے ہیں۔ تو یہ کسی طرح بھی ان کی تصدیق نہیں اور جب پہلے کسی نے اپنے تخت کا دعویٰ نہیں کیا اور مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ کر دکھایا ہے تو یہ بالکل نرالا پن ہے اور نرالا دعویٰ ہے۔ جو پہلے کسی سے بن نہیں آیا۔

مسیح سے افضل؟

تیسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ اپنے ساتھ خدا رسول اور تمام انبیاء کو ملا کر کہتے ہیں کہ وہ حضرت مسیح سے افضل ہیں۔ معلوم نہیں کہ حضرت مسیح سے مرزا قادیانی کو کیا پرخاش ہوئی اور

٢٣

صفحہ ١٢٣

یہ بھی بتانا بھول گئے کہ اپنے کارنامے کیا ہیں؟۔ انگریزوں کی قصیدہ خوانی میں پچاس الماریاں یا کوئی اچھا کام بھی ہے؟ اور یہ نہیں بتایا کہ یہ حضرت کا ذاتی الہام ہے یا قرآن وحدیث میں بھی اس کا کوئی سراغ موجود ہے؟۔ اگر پہلی بات ہے تو پھر اس کی درستی کی بحث بے کار ہے اور اگر دوسری بات ہے تو کسی اور کے علم میں کیوں نہ آسکی۔ جب ان کے بغیر کسی اور کے علم میں خدا رسول اور تمام انبیاء کرام کا یہ فیصلہ نہیں آیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حضرت کا ذاتی الہام ہے۔ اگر یہی بات ہے تو اس میں تمام انبیاء اگر گزشتہ پیغمبروں کو بتایا گیا ہے تو مرزا قادیانی جھوٹے اور ان کا الہام جھوٹا اور اگر ان سے پہلے اور پچھلے انبیاء کو کہا گیا تو جو ابھی آئے نہیں ان کا فیصلہ جب پیشگی سنایا گیا تو بھی مرزا قادیانی جھوٹے اور ان کا الہام جھوٹا۔ ایک طرف یہ مراتب ہیں اور دوسری طرف اپنے آپ کو خاک کا کیڑا بتایا۔ آدم زاد ہونے کا انکار کیا اور کہا کہ میں آدمی کے جسم کا گندہ حصہ ہوں۔

خدا میرا پابند

”میں نے اپنے لئے اور دوستوں کے لئے بہت سے احکام قضاء وقدر لکھے۔ جن کے ہونے کے لئے میں نے ارادہ کیا۔ وہ کاغذ جناب باری کے آگے رکھ دیا۔ خدا تعالیٰ نے سرخ سیاہی سے دستخط کر دیئے اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی۔ اس کو جھاڑا اور معاً جھاڑنے سے سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور میرے ایک مخلص عبداللہ کے کپڑوں پر پڑے۔“

(تریاق القلوب ص ٣٣، خزائن ج ١٥ ص ١٩٧ ملخص)

یہ مرزا قادیانی نے اپنا ایک الہام بیان کیا ہے۔ اب آپ کو الہام کی کیفیت پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ الہام اللہ کی طرف سے اس کے بندہ کو کسی بات کی اطلاع و آگاہی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ خدا نے ان کو بتایا کہ تو نے یہ کچھ ارادہ کر کے یہ کچھ حاصل کیا تھا۔ گویا الہام کے بغیر انہیں اپنے ارادہ اور کمائی کا کچھ علم نہ تھا۔ خیر اسے چھوڑ کر آپ اصل واقعہ پر غور کیجئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی شیطانی الہام تھا۔ کیونکہ شیطانی الہاموں کی شناخت کا طریقہ کار قرآن وحدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ جھوٹ اور گناہ والے ہوتے ہیں۔ اس بناء پر صاف ظاہر ہے کہ ان کا یہ الہام شیطانی ہے۔

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے لئے اور دوستوں کے لئے تقدیر کی جن باتوں کا ارادہ کر کے لکھا اس کی منظوری خدا نے دی۔ حالانکہ قاعدہ ہے کہ اللہ کا ارادہ اس کے بندہ کو ماننا لازم ہے۔ نہ کہ بندہ کا ارادہ خدا کو۔ یہاں معلوم ہوتا ہے گویا مرزا قادیانی تقدیر کے احکام جاری

٢٤

کرتے ہیں اور خدا ان کے احکام کو مان رہا ہے۔ معاذ اللہ پھر لکھی ہے۔ وہ بھی خوب ہے اور ان کے ایک مخلص کے کپڑوں قلم سے جھڑے وہ کہتے ہیں کہ اس سے قسم لے کر اس بات سرخ ابھی تک اس کے کپڑوں پر موجود ہے اور اس سے جو قسـ دیا ہے۔ یعنی وہ اپنے بیٹوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھانے تـ کرامت لوگوں کو بتانے سے انکاری ہے۔ نامعلوم ایسی قسم تـ ہے اور اس سے حاصل کیا ہو سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کـ اور پیشین گوئیوں کی کثرت سے تنگ آگئے تھے یا پھر اپنے حـ گئی۔ کچھ نہ سوجھے خدا کرے کوئی۔ پھر سیاہی جھاڑنے پر غور دوات میں ڈالتا ہے تو ایسے ڈالتا ہے کہ سیاہی ضرورت کـ پیش نہیں آتی یا جھاڑے بغیر لکھ لیتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ نـ جو جھاڑا تو ان کے مخلص کے کپڑے سرخ کر ڈالے۔ نامعلو سیاہی کے ساتھ وہ کیوں نہیں پائے گئے۔

خدا سے بڑھ کر

”مجھے الہام ہوا کہ خدا تیرے ساتھ ہے اور تـ

”میں نے نوشتہ قضا و قدر کی نصف قید کو ہاتھ سـ

یا احمد یتم اسمک و

(تحفہ غول

پہلی عبارت میں جس الہام کا ذکر ہے۔ وہ شـ اشکال اس میں یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے پیدا ہونے اور کھڑا ہونے کا پتہ چل گیا۔ مگر جب وہ جنم کی دنیا میں نہیں وقت خدا کہاں کھڑا تھا اور یہ کہ کسی اور کو ایسا الہام کیوں معقول و مشروع ہو۔

حضرت پیران پیر صاحب کے متعلق یـ عبدالقادر ! ہم تیری عبادت سے راضی ہوئے ہیں اور تـ

٢٥

صفحہ ١٢٣

کرتے ہیں اور خدا ان کے احکام کو مان رہا ہے۔ معاذ اللہ پھر انہوں نے سرخ سیاہی کی جو داستان لکھی ہے۔ وہ بھی خوب ہے اور ان کے ایک مخلص کے کپڑوں پر جو سرخ سیاہی کے قطرے خدا کے قلم سے جھڑے وہ کہتے ہیں کہ اس سے قسم لے کر اس بات کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ وہ سیاہی سرخ ابھی تک اس کے کپڑوں پر موجود ہے اور اس سے جو قسم لی جائے۔ اس کا نمونہ بھی انہوں نے دیا ہے۔ یعنی وہ اپنے بیٹوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھائے۔ خوب رہا ان کا مخلص جو بلا قسم ان کی کرامت لوگوں کو بتانے سے انکاری ہے۔ نامعلوم ایسی قسم کا قرآن یا حدیث میں کہاں بیان ہوا ہے اور اس سے حاصل کیا ہو سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مخلص بھی ان کے روزانہ الہامات اور پیشین گوئیوں کی کثرت سے تنگ آگئے تھے یا پھر اپنے مخلص کی انہوں نے تقدیر نہیں بنائی ہو گی۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ پھر سیاہی جھاڑنے پر غور کیجئے۔ ایک سمجھدار انسان جب قلم کو دوات میں ڈالتا ہے تو ایسے ڈالتا ہے کہ سیاہی ضرورت کے مطابق لگتی ہے اور جھاڑنے کی ضرورت پیش نہیں آتی یا جھاڑے بغیر لکھ لیتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ سے اتنا بھی نہ ہو سکا۔ معاذ اللہ! اور قلم جو جھاڑا تو ان کے مخلص کے کپڑے سرخ کر ڈالے۔ نامعلوم کاغذ اور قلم دوات کہاں گئے اور سرخ سیاہی کے ساتھ وہ کیوں نہیں پائے گئے۔

خدا سے بڑھ کر

”مجھے الہام ہوا کہ خدا تیرے ساتھ ہے اور خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہو ۔“

(تریاق القلوب ص ٢٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٢٧)

”میں نے نوشتہ قضا قدر کی نصف قید کو ہاتھ سے کاٹ دیا۔“

(ص ٣٢، خزائن ج ١٥ ص ١٩٤)

یا احمد یتم اسمک ولا یتم اسمی

(تحفہ بغداد ص ٢٤، براہین ص ٢٤٢، خزائن ج ٢١ ص ١١٧)

پہلی عبارت میں جس الہام کا ذکر ہے۔ وہ شیطانی الہام اور کفر کی بات تو ہے ہی۔ عقلی اشکال اس میں یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے پیدا ہونے اور کھڑا ہونے کے بعد تو خدا کو معاذ اللہ اپنے کھڑا ہونے کا پتہ چل گیا۔ مگر جب وہ عدم کی دنیا میں تھے اور نہ کھڑے ہوتے تھے۔ اس وقت خدا کہاں کھڑا تھا اور یہ کہ کسی اور کو ایسا الہام کیوں نہ ہوا۔ یہی تو صحیح الہام کی پرکھ ہے کہ وہ معقول و مشروع ہو۔

حضرت پیران پیر صاحب کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ انہیں آواز آئی اے عبدالقادر! ہم تیری عبادت سے راضی ہوئے ہیں اور تجھ پر تمام حرام چیزیں حلال کر دی ہیں۔ یہ

٢٥

صفحہ ١٢٥

آواز جب انہیں بار بار آئی تو انہوں نے خدا سے استغفار کی اور آواز بند ہو گئی۔ اس کے بعد ابلیس ان کے قریب آیا اور کہنے لگا۔ مجھے بتائیے ! آپ کو کیسے پتا چل گیا کہ یہ شیطانی آواز ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں نے سوچا کہ یہ عجیب قسم کا انعام تو رسول اللہ ﷺ کے حصہ میں بھی نہیں آیا اور میں کیا چیز ہوں۔ اس سے پتہ چل گیا کہ یہ شیطانی الہام ہے اور شیطانی آواز ہے۔ مرزا قادیانی کو جب یہ انوکھا الہام ہوا تو انہوں نے سوچا نہیں کہ میرے کھڑے ہونے کی جگہ خدا کے کھڑے ہونے میں خدا کی بزرگی ہے یا میری بڑائی۔ ہمارے جیسے گناہ گار تو خدا کے حق میں کھڑے ہونے اور بیٹھنے کے الفاظ کا استعمال بھی کفر کے برابر سمجھتے ہیں۔

دوسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ ان کے ایک مرید پر مقدمہ چل رہا تھا اور خواب میں ایسا ہوا کہ خدا نے اس کے مقدمہ کے کاغذات مکمل کرنے کے بعد میرے پاس بھیجے۔ نامعلوم کس لئے ۔ پڑتال کے لئے یا منظوری کے لئے ۔ جب کاغذات میرے سامنے پیش کئے گئے تو میں نے وہ قید جو اس کے لئے خدا نے ثبت فرمائی تھی ۔ نصف کاٹ دی اور نصف بحال رکھی ۔ اسے کہتے ہیں کہ رضا بقضاء مرزا قادیانی ۔ گویا خدا کی حکومت میں سپریم کورٹ کے جج تھے۔ ایسا جج حکومت سے بڑھ کر اس کے قانون کو سمجھنے والا ہوتا ہے۔ گویا انہوں نے خدا کی حکومت کو انگریزی حکومت پر قیاس کیا۔ ایک مسلمان کو اگر ایسا بے ہودہ قسم کا خواب آئے تو اس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ اس پر توبہ و استغفار کرے۔ کجا یہ کہ وہ کسی اور کے ہاں اس کا ذکر کرے یا اس صریح کفریات و بغاوت کو خدا کا الہام کہنے لگے۔

تیسری عبارت میں وہ اپنے ایک الہام کا ذکر کرتے ہیں۔ اس کا سیدھا سادہ مطلب تو یہ ہے کہ اللہ نے ان سے فرمایا۔ اے احمد ! تیرا نام تمام ہے اور میرا نام ناتمام نہیں۔ قادیانی معنے اس کے یہ ہیں کہ چونکہ تو فانی ہے۔ اس لئے تیرا نام تمام ہونے کا محتاج ہے اور میرا نام تمام ہونے کا محتاج نہیں۔ پہلی بات کے کفر ہونے پر تو قادیانی بھی مسلمانوں سے متفق ہیں۔ اس لئے انہوں نے اس الہام کے معنے بدلنے کی ضرورت سمجھی۔ ہم پوچھتے ہیں کہ ان کے اپنے معنوں میں کفر کے بغیر اور کیا ہے؟ ۔ یہ معنے ریت میں اپنا منہ چھپانے کے برابر ہی تو ہیں۔ اگر بات یہی تھی کہ ان کا نام ان کے وجود کی طرح فانی و ناتمام تھا تو خدا نے یہ مرزا قادیانی کو اور انہوں نے لوگوں کو کس لئے بتایا۔ یہ کون سی بات ہے۔ اس کے اندر معلوماتی قسم کی۔ اگر کوئی بات نہیں تو یہ نکما الہام ہے جو بہر حال شیطان ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے۔ اب شیطانی الہام کو خدا کا الہام کہنا کفر نہیں تو اور کیا ہے؟۔ دوسری طرف جب یہ ہو گیا کہ ان کا نام کامل ہونے کا محتاج ہے تو اس کے ساتھ یہ بتانے

٢٦

میں کیا رکھا تھا کہ خدا کا نام تمام ہونے والا نہیں۔ ہر پہلو سے لانے کا کوئی جواز نہیں۔ میں سب سے بڑا

(چشـ

اپنے فضل و کرم سے اس عاجز کو عطاء فرمائے ہیں۔ وہ اسم ہوئے۔"

معجزات سے ہزار ہا درجہ افضل ہے جو صرف بطور کتھا باقی ہیں۔"

پہلی عبارت میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میر اور نیک ہے اور سب لوگوں میں انبیاء علیہم السلام بھی شا ہے کہ ایسا ہی ہو۔ ورنہ اور تو اس کے حق میں کوئی عقلی اور ش مکابرہ ہے۔

دوسری عبارت میں انہیں الہام میں اللہ تعا تیرے ساتھ ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ جیسے زمین طرح تیرے ساتھ ہوں۔ یہ بھی کفر کا بول ہے۔ اس ۔ حقیقت و خلاف عقل ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ زمین و آسمان ۔ ملتے ہیں۔ یہ نرا شیطانی الہام ہے۔

تیسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ مجھے اشا تک کسی کو میسر نہیں ہوا۔ یہ بھی شاید والی بات ہے اور محـ میں الہامات کا ڈھنڈورا، پیشینگوئیوں کا چرچا، جھگڑا اور ان کی امت کے ورثہ میں آیا ہے۔ کسی پادری اور سناتن

٢٧

صفحہ ١٢٥

میں کیا رکھا تھا کہ خدا کا نام تمام ہونے والا نہیں۔ ہر پہلو سے بات کفر کی ہے اور اس کے زبان پر لانے کا کوئی جواز نہیں۔

میں سب سے بڑا

(چشمہ معرفت ص ٣٤٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٩)

(براہین احمدیہ ص ٤٨٧، خزائن ج ١ ص ٥٧٩)

اپنے فضل و کرم سے اس عاجز کو عطاء فرمائے ہیں۔ وہ امم سابقہ میں سے کسی کو آج تک عطاء نہیں ہوئے۔"

(براہین احمدیہ ص ٥٠٢، خزائن ج ١ ص ٥٩٧)

معجزات سے ہزار ہا درجہ افضل ہے جو صرف بطور کتھا یا قصہ کے حد منقولات میں بیان کئے جاتے ہیں۔"

(براہین احمدیہ ص ٤٢٨، خزائن ج ١ ص ٥١٢)

پہلی عبارت میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میری روح سب لوگوں سے بڑھ کر پاک اور نیک ہے اور سب لوگوں میں انبیاء علیہم السلام بھی شامل ہیں۔ ان کے امتیوں کے ہاں ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو۔ ورنہ اور تو اس کے حق میں کوئی عقلی اور شرعی ثبوت موجود نہیں۔ مجرد ایک دعویٰ اور مکابرہ ہے۔

دوسری عبارت میں اپنے الہام میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین و آسمان میری طرح تیرے ساتھ ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ جیسے زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں۔ میں بھی اسی طرح تیرے ساتھ ہوں۔ یہ بھی کفر کا بول ہے۔ اس لئے کہ اللہ پر مشابہت ہے۔ یہ بھی خلاف حقیقت و خلاف عقل ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ زمین و آسمان کے ساتھ چمٹا ہے نہ زمین آسمان اللہ سے ملتے ہیں۔ یہ نرا شیطانی الہام ہے۔

تیسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ مجھے اشاعت اسلام کا جو گر حاصل ہوا ہے۔ وہ آج تک کسی کو میسر نہیں ہوا۔ یہ بھی شان والی بات ہے اور محض ان کے امتیوں کے ہاں۔ ورنہ اپنے حق میں الہامات کا ڈھنڈورا، پیشینگوئیوں کا چرچا، جھگڑا اور مباہلہ۔ یہی کچھ مرزا قادیانی کا ذاتی سرمایہ ان کی امت کے ورثہ میں آیا ہے۔ کسی پادری اور سناتن دھرمی سے مناظرہ جیت لیا ہوگا۔

٢٧

صفحہ ١٢٧

چوتھی عبارت میں وہ اپنی کارگزاریوں کو معجزہ ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ معجزہ ان معجزات سے ہزار ہا درجہ افضل ہے جو قرآن وحدیث میں انبیاء کرام کی طرف سے بیان ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ تو معاذ اللہ کتھا ہیں۔ معجزہ تو وہ ہے جو میں دکھاتا ہوں۔ یہ صریح طور پر قرآن کی توہین، معجزات کا انکار اور انبیاء کرام سے اپنی برتری کا دعویٰ ہے۔ جو کفر سے بڑا کفر ہے۔

چھوٹے میاں!

”فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء“ بیٹا بزرگ حق اور بڑائی کا مظہر گویا خدا آسمان سے اتر آیا۔

(ازالۃ اوہام ص ١٥٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

مرزا قادیانی خود بھی مسیح موعود بنے اور اپنے بیٹے کو بھی بنایا۔ نامعلوم دونوں میں اصل کون ہے اور نقل کون؟۔ دمشق کے مشرقی منارہ پر حضرت مسیح کے نزول کا جو بیان حدیث میں ہے۔ اسے پہلے تو جھٹلا دیا اور یہ جھٹلا دینا ان کے ہاں مشکل کام نہیں۔ پھر خیال آیا کہ گھر تو ہمارا بھی مشرق کی طرف ہے اور کہا کہ قادیان دمشق ہے اور اس کی مسجد کا منارہ دمشق کا منارہ ہے۔ یہ سب پلٹے کھانے کے بعد بھی ضمیر کی ملامت سے اور لوگوں کے حملوں سے تنگ آئے تو کہا کہ دمشق والی بات اور دوسری پیشینگوئیاں میرے بیٹے کے ہاتھوں پوری ہوں گی۔ کیونکہ وہ نہ صرف مسیح موعود ہے بلکہ اس کا نزول اللہ کا نزول ہے۔ معاذ اللہ معاذ اللہ ! اب امتیوں سے سنا ہے کہ چھوٹے میاں نے خصوصی سفر کر کے دمشق والی بات پوری کر دی ہے اور وہاں سے منارہ پر اتر دکھایا ہے۔ لگے ہاتھوں آپ بیٹا بزرگ کی ترکیب پر غور کر لیں۔ والد بزرگ تو بنتے تھے۔ بیٹا بزرگ اب بنا ہے۔

حضرت مسیح کی توہین

”عیسیٰ بن مریم مریم کے خون سے اور مریم کی منی سے پیدا ہوئے۔“

(براہین احمدیہ ٥ ص ٤٩، خزائن ج ٢١ ص ٥٠)

”خون حیض کھاتا رہا اور انسانوں کی طرح ایک گندی راہ سے پیدا ہوا اور پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا۔“

(ست بچن ص ١٧٤، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٨ ملخص)

یہ ہیں ہمارے مسیح موعود کے وہ سنہری حروف سے لکھنے کے قابل بول جن سے وہ کہتے ہیں کہ اگر مردے زندہ نہ ہوں۔ اندھے اور کوڑھی اچھے نہ ہوں تو مجھے سچا نہ مانا جائے اور جن پر امتی جھوم جھوم کر رہ جاتے ہیں۔

یہ بات حضرت مسیح حضرت مریم کی منی سے پیدا ہوئے ، اسے قرآن کو ماننے والا آدمی تو زبان پر لا نہیں سکتا۔ قرآن میں حضرت مسیح کی جو جسمانی ترکیب ہے وہ بس اتنی ہے کہ وہ : ”اللہ

٢٨

کے رسول ہیں۔ اس کا کلمہ ہیں جو مریم کو اس نے القاء کیا اور اس کی طرف اس ترکیب میں اور تو سب کچھ ہے۔ مگر مریم کی منی اور حیض کا یہی کچھ عقل اور مشاہدہ بتاتا ہے۔ قرآن میں انسانی تخلیق کا مادہ نطفہ کو صرف مرد کی منی کو کہا جاتا ہے اور مرزا قادیانی خود مانتے ہیں کہ حضرت حضرت مسیح کے لئے حضرت مریم کی منی کہاں سے آئی تھی۔ بلا مباشرت بھی تو اس سے بچہ کہاں پیدا ہوتا ہے۔

دوسری طرف حضرت مریم کی منی اور حیض کا تصور تک لانا تو کفر سے کم نہیں۔ قرآن اس سے روکتا ہے۔ نیز کبھی کسی عورت کے نہ کسی بچہ نے حیض کا خون کھایا ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچہ کچھ کھا پی لیتا۔ جب وہ پیدا ہو کر باہر کی فضاء میں آتا ہے تو حرارت غریزی اسے سانس کا ضرورت مند ہوتا ہے اور حرارت غریزی سے ہی بھوک ہوتی ۔ تو وہ حیض کا خون کیا کھائے۔ جو کچھ اس کی ضرورت کے لئے ماں کے نالی کے ذریعہ اس کے اندر پہنچتا ہے۔ جو پیدائش کے وقت ہی ناف سے غور کریں کہ حضرت مسیح نے کیوں تنہا حیض کا خون کھایا اور کسی دوسرے

اس کے بعد مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح گندی ر انہوں نے اپنے جیسے لوگوں کی راہ پر قیاس کرتے ہوئے کہا ہوگا۔ ورنہ میں گندی راہ نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اتنا یقین تو پہلے بھی تھا کہ قرآ نہیں۔ مگر یہ اب معلوم ہوا ہے کہ حضرت مریم کی شرمگاہ کی پاکیزگی کی دہرایا۔ اس کی ضرورت ایک تو یہ تھی کہ ان کی شرمگاہ جب اس کیفیت خاوند والی عورت کی شرمگاہ محفوظ نہیں رہ سکتی تو خدا نے دوسری پاکباز ان کی پاکیزگی کے ذکر سے کیا اور حضرت مریم کے حق میں ان سب شرمگاہ پاک اور محفوظ ہے۔ دوسری ضرورت قرآن کے اس بیان کی آکر یہ کہنا تھا کہ حضرت مریم کی راہ گندی تھی۔ اس لئے خدا نے ان رد فرما دیا۔ بتائیے اس سے بڑھ کر قرآن کے سچا اور ان کے جھوٹا ہونے

دنیا میں ایسے لوگ بھی بہت ہیں جو حلال جانوروں کے کرتے ہیں۔ یہ پیغمبری خوب ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو گندی راہ سے

٢٩

صفحہ ١٢٧

کے رسول ہیں۔ اس کا کلمہ ہیں جو مریم کو اس نے القاء کیا اور اس کی طرف سے روح ہیں۔“

اس ترکیب میں اور تو سب کچھ ہے۔ مگر مریم کی منی اور حیض کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ یہی کچھ عقل اور مشاہدہ بتاتا ہے۔ قرآن میں انسانی تخلیق کا مادہ نطفہ کو بتایا گیا ہے جو صرف اور صرف مرد کی منی کو کہا جاتا ہے اور مرزا قادیانی خود مانتے ہیں کہ حضرت مسیح کا باپ نہیں تھا۔ پھر حضرت مسیح کے لئے حضرت مریم کی منی کہاں سے آئی تھی۔ بلا مباشرت اگر کہیں عورت کو منی آئے بھی تو اس سے بچہ کہاں پیدا ہوتا ہے۔

دوسری طرف حضرت مریم کی منی اور حیض کا تصور تک لانا بھی ایک مسلمان کے لئے کفر سے کم نہیں۔ قرآن اس سے روکتا ہے۔ نیز کبھی کوئی بھی عورت کے خون سے پیدا نہیں ہوا اور نہ کسی بچہ نے حیض کا خون کھایا ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچہ کچھ کھائے تو کیا۔ وہ سانس بھی نہیں لیتا۔ جب وہ پیدا ہو کر باہر کی فضاء میں آتا ہے تو حرارت غریزی اسے پہنچتی ہے اور اس کے بعد وہ سانس کا ضرورت مند ہوتا ہے اور حرارت غریزی سے ہی بھوک ہوتی ہے۔ جب اسے بھوک نہ ہو تو وہ حیض کا خون کیا کھائے۔ جو کچھ اس کی ضرورت کے لئے ماں کے پیٹ سے جاتا ہے وہ ایک نالی کے ذریعہ اس کے اندر پہنچتا ہے۔ جو پیدائش کے وقت ہی ناف سے کاٹ دی جاتی ہے۔ آپ غور کریں کہ حضرت مسیح نے کیوں تنہا حیض کا خون کھایا اور کسی دوسرے نے کیوں نہیں کھایا۔

اس کے بعد مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح گندی راہ سے پیدا ہوئے۔ یہ شاید انہوں نے اپنے جیسے لوگوں کی راہ پر قیاس کرتے ہوئے کہا ہوگا۔ ورنہ حضرت مریم کے وجود مقدس میں گندی راہ نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اتنا یقین تو پہلے بھی تھا کہ قرآن کا کوئی حرف بلا ضرورت نہیں۔ مگر یہ اب معلوم ہوا ہے کہ حضرت مریم کی شرمگاہ کی پاکیزگی کا خدا نے خصوصی بیان کیوں دہرایا۔ اس کی ضرورت ایک تو یہ تھی کہ ان کی شرمگاہ جب اس کیفیت سے محفوظ رہی جس سے ایک خاوند والی عورت کی شرمگاہ محفوظ نہیں رہ سکتی تو خدا نے دوسری پاکباز بیبیوں کی پاکیزگی کا بیان خود ان کی پاکیزگی کے ذکر سے کیا اور حضرت مریم کے حق میں ان سب سے بڑھ کر یہ فرمایا کہ اس کی شرمگاہ پاک اور محفوظ ہے۔ دوسری ضرورت قرآن کے اس بیان کی یہ تھی کہ مرزا قادیانی کو دنیا میں آکر یہ کہنا تھا کہ حضرت مریم کی راہ گندی تھی۔ اس لئے خدا نے ان کے جھوٹ اور بہتان کو پیشگی رد فرما دیا۔ بتائیے اس سے بڑھ کر قرآن کے سچا اور ان کے جھوٹا ہونے کا ثبوت ہو سکتا ہے؟

دنیا میں ایسے لوگ بھی بہت ہیں جو حلال جانوروں کے گوبر کو گندگی کہنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ پیغمبری خوب ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو گندی راہ کی پیداوار بتاتے ہیں اور ان کی

٢٩

صفحہ ١٢٩

ماؤں کا اپنی ماں کے برابر ادب نہیں کرتے۔ جو تمام مسلمانوں کی مائیں اور دنیا بھر کی محسن ہیں۔ آخر میں جھوٹ کی حد پھلانگتے ہوئے کہا کہ صلیب پر کھینچا گیا۔ حالانکہ نص قرآنی یہ ہے کہ مسیح نہ قتل ہوئے نہ سولی چڑھے۔

یہ تصدیق

"ان کی استعدادیں بھی ناقص تھیں اسی لئے وہ کتابیں ناقص ہیں۔"

(ست بچن ص ١٤٩، خزائن ج١٠ ص ٢٧٣)

"حضرت مسیح کی سات پیش گوئیاں جھوٹی ہوئیں۔"

(براہین احمدیہ ص ٣٦، خزائن ج٢١ ص ٤٢)

"یونس نبی کی قطعی پیش گوئی جس کے ساتھ کوئی شرط نہ تھی، پوری نہیں ہوئی۔"

(حقیقت الوحی ص ١٧٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٢)

پہلی عبارت میں مرزا قادیانی بتاتے ہیں کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کی خود اپنی استعداد بھی ناقص تھی اور ان پر اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی کتابیں بھی ناقص تھیں۔ یہ بات کوئی ہماری طرح کا گنہگار جو قرآن کو مانتا ہو۔ وہ تو اپنی زبان پر لا نہیں سکتا اور نہ ہی انہیں ناقص کہنے والے کو نبی مان سکتا ہے۔ اس لئے کہ قرآن میں نبی کی خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ تمام انبیاء کی تصدیق کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ انہیں ناقص بتانا ان کی تصدیق کی کوئی قسم نہیں۔ دوسری طرف قرآن میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تمہارا دین وہی ہے جو پہلے انبیاء کا تھا اور رسول ﷺ سے فرمایا گیا کہ آپ کو وہی وحی اسی طرح بھیجی گئی جیسے حضرت نوح علیہ السلام اور بعد کے تمام انبیاء کو بھیجی گئی تھیں۔ اب اگر آنحضور ﷺ کو وحی ناقص نہیں ہوئی تو پہلے سب کو کیسے ناقص وحی ملی؟۔

اور جب نبی خدا کے اور کتابیں خدا کی تھیں تو انہیں ناقص بتانا کس ایمان کا تقاضا ہے۔ مگر مرزا قادیانی ان کے نقص سے اپنا کمال دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی تعلیم سے لوگ نبی نہیں ہوتے تھے۔ ہمارے نبی کی تعلیم سے لوگ نبی بنتے ہیں۔ میں بن گیا ہوں یہ ہوشیاری کی انتہاء ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے باپ کو ذلیل کرنے کے بعد اس کی بزرگی کا نشان یہ بتائے کہ یہ حضرت بیٹوں کو باپ کا درجہ دیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے باپ اس خوبی سے محروم ہیں۔

دوسری عبارت میں وہ اپنی تین ہزار اور دس ہزار جھوٹی پیشین گوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے حضرت مسیح کی پیشین گوئیوں کو جھوٹا بتاتے ہیں۔ یہ بات بھی ان کی تصدیق کے خلاف اور کھلا کفر ہے اور پھر پیشین گوئیوں جیسا نکما کام ایک نبی کا کب ہو سکتا ہے؟۔ اس کا کام تو ہوتا ہے

٣٠

اللہ کی تعلیم پہنچانا اور لوگوں کی سیرتیں بنانا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کیوں ضروری ہے۔ اس لئے کہ جھوٹا سچوں کی تصدیق کر کے زندگی میں جھوٹا ہو اسی کو یہ کہنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ فلاں لئے ایسی سات پیشین گوئیوں کا قرآن یا حدیث میں کوئی تذکر ذاتی الہام ہے۔

چوتھی عبارت میں بھی وہ اپنی پیشگوئیوں سے تو جہ علیہ السلام پر بہتان جڑتے ہیں اور ذرا خدا سے نہیں ڈرتے۔ پیشگوئی کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔ مرزا قادیانی کو اس کا کو معلوم کیا ہوگا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی خبر لینا ضروری ہے پیش گوئی تھی اور فلاں بات واقع ہوئی تھی۔

تیسری عبارت میں وہ حضرت مسیح پر خود اپنی شر لگاتے ہیں۔ حضرت خود انارکلی کی ایک دکان سے عمر بھر شراب خوری کے الزام سے بچتا اور حضرت مسیح کے مثل بننا چاہا اس۔ بغیر نہ رہ سکا اور شکل دیکھنے کے بعد شیشہ کو توڑنا چاہا۔ اس کے تو نبی پر حرام خوری کا الزام آتا ہے تو پھر یہ کہنا پڑا کہ ان کی شر سب کچھ جائز تھا۔ حالانکہ یہ بھی جھوٹ ہے اور وہ بھی جھوٹ کے حواریوں کے مبلغ بھی شاگردوں کو ان تمام برائیوں سے منع فرمایا گیا ہے۔ لیکن شراب کا لفظ انجیل میں پایا اور حضر ایک جھوٹ کو ڈھب پر لانے کے لئے بہت سے جھوٹوں سے

اب آپ اس پر غور کریں کہ ایک آدمی کی کچھ د نبی ہو جاتا ہے؟۔ ایک جھوٹے سے جھوٹا آدمی بھی اپنی ایک پیشین گوئی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ غلط خیال بھی کفر سے کم نہیں کہ خدا کی طرف سے ایک بات کہ نے اس عقیدہ کو پامال کرنے کے لئے جو مشقت اٹھائی۔ پہلے استعارات کا تصور پیش کیا۔ جس کے تحت قرآنی احکما استعارات سے بھرا ہوا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس بات کا

٣١

صفحہ ١٢٩

اللہ کی تعلیم پہنچانا اور لوگوں کی سیرتیں بنانا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ نبی پر دوسرے نبیوں کی تصدیق کیوں ضروری ہے۔ اس لئے کہ جھوٹا سچوں کی تصدیق کر کے اپنا جھوٹ چلا نہیں سکتا۔ جس کی زندگی میں جھوٹ ہو اس کو یہ کہنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ فلاں نبی کی پیشگوئیاں جھوٹی تھیں اور اسی لئے ایسی سات پیشین گوئیوں کا قرآن یا حدیث میں کوئی تذکرہ نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ حضرت کا ذاتی الہام ہے۔

چوتھی عبارت میں بھی وہ اپنی پیشگوئیوں سے توجہات موڑنے کے لئے حضرت یونس علیہ السلام پر بہتان جڑتے ہیں اور ذرا خدا سے نہیں ڈرتے۔ نامعلوم حضرت یونس علیہ السلام کو پیشگوئی کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔ مرزا قادیانی کو اس کا کوئی الہام ہوا ہو گا اور الہام ہی میں یہ معلوم کیا ہو گا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی خبر لینا ضروری ہے اور یہ بتانا چھوڑ دیا کہ فلاں بات کی پیش گوئی تھی اور فلاں بات واقع ہوئی تھی۔

تیسری عبارت میں وہ حضرت مسیح پر خود اپنی شراب نوشی کے لئے شراب کی تہمت لگاتے ہیں۔ حضرت خود انار کلی کی ایک دکان سے عمر بھر شراب لیتے اور پیتے رہے اور چونکہ حرام خوری کے الزام سے بچنا اور حضرت مسیح کے مثل بننا چاہا اس لئے ان پر بھی شراب کی تہمت لگائے بغیر نہ رہ سکا اور شکل دیکھنے کے بعد شیشہ کو توڑنا چاہا۔ اس کے بعد جب کسی نے سمجھایا کہ اس طرح تو نبی پر حرام خوری کا الزام آتا ہے تو پھر یہ کہنا پڑا کہ ان کی شریعت میں شراب جواء اور چوری وغیرہ سب کچھ جائز تھا۔ حالانکہ یہ بھی جھوٹ ہے اور وہ بھی جھوٹ حضرت مسیح کا شراب پینا کہاں۔ ان کے حواریوں کے مبلغ بھی شاگردوں کو ان تمام برائیوں سے منع کرتے تھے۔ جن سے قرآن میں منع فرمایا گیا ہے۔ لیکن شراب کا لفظ انجیل میں پایا اور حضرت مسیح پر شراب کا الزام جڑ دیا اور پھر ایک جھوٹ کو ڈھب پر لانے کے لئے بہت سے جھوٹوں سے کام لینا پڑا۔

اب آپ اس پر غور کریں کہ ایک آدمی کی کچھ پیشین گوئیاں ہی صحیح واقعہ ہوں تو کیا وہ نبی ہو جاتا ہے؟۔ ایک جھوٹے سے جھوٹا آدمی بھی اپنی ایک پیشگوئی تو سچی کر دکھاتا ہے۔ اگر نبی کی پیشین گوئی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ غلط ثابت ہو۔ ایک مسلمان کے ہاں ایسا خیال بھی کفر سے کم نہیں کہ خدا کی طرف سے ایک بات کی غلط اطلاع ہو جاتی ہے۔ مرزا قادیانی نے اس عقیدہ کو پامال کرنے کے لئے جو مشقت اٹھائی ہے۔ وہ انہیں کا خاصہ ہے۔ سب سے پہلے استعارات کا تصور پیش کیا۔ جس کے تحت قرآنی احکام کی جڑ پیڑ ہلا کر رکھ دی اور کہا کہ قرآن استعارات سے بھرا ہوا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس بات کا پتہ چلاتے کہ استعارہ کیا ہوتا ہے۔ وہ

٣١

صفحہ ١٣١

استعارہ کو مجاز کے معنی میں لیتے ہیں اور مجاز کے لئے کسی ضرورت کے قائل نہیں۔ جب آدمی خدا کی کتاب کو مجاز بنادے تو کسی اور چیز کا کب اس کے ہاں اعتبار رہ جاتا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد وہ کہنے لگے کہ نبی خدا کی وحی یا پیشین گوئی کو سمجھ نہیں پاتا اور کہا کہ اس پر سب انبیاء کا اجماع ہے۔ بغیر اس کے کہ ان کا زمانہ پاتے آپ سوچیں کہ اگر انسان انسان کو بات کہے اور سمجھا کر کہے اور خدا اپنے بندے کو ارشاد کرے اور سمجھائے بغیر چھوڑ دے تو خدا معاذ اللہ اچھا یا انسان؟ پھر ایک قدم اور آگے بڑھے اور کہا کہ نبی کی پیشین گوئیاں جھوٹی بھی ہوتی ہیں اور جھوٹی پیشین گوئیاں کرنے اور شیطانی الہام ہونے پر بھی وہ نبی ہوتا ہے۔ معاذ اللہ! اسی طرح انہوں نے نہ صرف ختم نبوت و نزول مسیح کے عقیدہ کو باطل کیا کہ بلکہ نبوت توحید اور صفات خداوندی کا بھی کچھ نہیں چھوڑا۔ جب مسلمانوں اور انبیاء کو کسی کھاتہ میں نہ ڈال کر خدا کے وعدہ کی اور خدا کی بات کی سچائی کو باطل ثابت کرنے پر زور دیا جانے لگے تو پھر ایمان اور اسلام میں کسی کے لئے کشش ہی کیا رہ جاتی ہے؟ جھوٹ سے ملی جلی سچائی اور کہاں نہیں ملتی کہ اس کے حصول کے لئے دین اسلام کی طرف آیا جائے۔

کفر میں احتیاط

”اس زمانہ میں قادیان میں وہ نور چمک رہا تھا کہ اردگرد کے مسلمان اس قصبہ کو مکہ کہتے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٦٤ حاشیہ )

”توریت اور انجیل میں ہمارے نبی ﷺ کی نسبت اور ایسے ہی حضرت مسیح کی نسبت بھی کوئی ایسی کھلی کھلی اور صاف پیش گوئی نہیں پائی جاتی۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٧٤، خزائن ج ٣ ص ٢٣٩)

”دراصل وہ الہام ایک ناپاک روح کی طرف سے تھا نوری فرشتہ کی طرف سے نہ تھا اور ان نبیوں نے دھوکہ کھا کر اسے ربانی سمجھ لیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

پہلی عبارت میں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مسلمان ہمارے قادیان کو اس کے نور کی وجہ سے مکہ کہا کرتے تھے۔ اب یہ نور کیا تھا اور وہ مسلمان کون تھے؟ تو یہ آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ نور خود حضرت والا کی اپنی ذات گرامی ہے اور مسلمان ہیں ان کی امت والے اور ان کی ذات کا کلمہ پڑھنے والے۔ ورنہ کوئی مسلمان تو اپنے حواس قائم رکھتے ہوئے مدینہ کو مکہ کے برابر کہنے سے بھی تامل کرتا ہے۔ قادیان اور دربار امرتسر کی تو بات ہی دوسری ہے۔ یہ بات تو مرزا قادیانی ہی جانتے ہوں گے کہ ایسا کہنے والا کبھی کوئی تھا بھی یا نہیں۔ اگر تھا تو مرزا قادیانی سوچتے کہ اس کافرانہ بول پر فخر کرنے کی کون سی بات ہے؟۔ اگر کوئی عقل کا اندھا ان کے نور کی زیادہ تعریف

٣٢

کرتے ہوئے انہیں خدا کہہ دیتا تو کیا وہ اس پر فخر کرتے؟ یا وہ اردگرد کے مسلمانوں کی یہ بات ظاہر کی تاکہ اگر کوئی اعتراض کر کے ساتھ شہر مکہ اور قبرستان کو جنت البقیع بھی بنالیا جائے۔ چنا لگائے ہوئے پودا سے باغ بنالیا گیا ہے اور ان کے کنبہ کے ن کی خرید وفروخت ہورہی ہے۔

دوسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ پہلی کتابوں میں سہی مگر وہ صاف اور واضح نہیں۔ مجھے آپ صاف اور واضح ک بشارت جیسی مرزا قادیانی کی آمد کی خبر قرآن وحدیث میں صا دکاندار جب کاروبار مندا پاتا ہے تو اپنی چوکی پر بیٹھے بیٹھے کہہ د اجناس میں کیڑے پڑ گئے ہیں تاکہ لوگ اس کی چیزوں کی پڑتا اس سے آسانی کے ساتھ یہ سمجھا جاتا ہے کہ مرزا ق علامات پر کس قدر یقین تھا؟ آپ سوچئے اگر وہ خود اپنی سچائی آنے کے لئے آیات اور احادیث پاتے تو ان کے لئے یہ ک پہلے بھی جو آئے ہیں۔ کسی پیشگی اطلاع کے بغیر آئے ہیں۔ ہم انسانی حکومت بھی ایسی ہے جو اپنا حاکم یا افسر کسی علاقہ میں ب ہمراہ لوگوں کو اس کی تعیناتی کا کوئی واضح ثبوت نہ پہنچائے۔ جب جاتی تو پھر سوچئے کہ انسانوں کا انتظام اچھا یا خدا کا؟ یہ بات کہ کوئی صاف بشارت معاذ اللہ! پہلی کتابوں میں موجود نہیں ب نہیں کہہ سکتا جو بشارتیں ان دونوں حضرات علیہا السلام کی ا ہیں۔ انہیں چھوڑ کر صرف قرآن کے بیان کو ہم لیں گے۔ قر حضرت زکریا علیہ السلام کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت گے اور حضرت مسیح کی تصدیق کریں گے۔ نیز حضرت مریم کو کی بشارت فرمائی۔ جس کا مطلب ہے کہ حضرت زکریا حضر السلام کو ماننے والے سب لوگ حضرت مسیح کو نبی ماننے کے پ اپنی تاریخی روایات میں ان کی نبوت کا اعلان اور ان کی دعو موجود ہے۔ تمام مسلمانوں کے لئے ہے۔ بتائیے! اس سے

٣٣

صفحہ ١٣١

کرتے ہوئے انہیں خدا کہہ دیتا تو کیا وہ اس پر فخر کرتے؟ یا ڈوب مرتے۔ پھر کمال ہوشیاری سے اردگرد کے مسلمانوں کی یہ بات ظاہر کی تاکہ اگر کوئی اعتراض کرے تو اس سے بچا جا سکے اور اس کے ساتھ شہر مکہ اور قبرستان کو جنت البقیع بھی بنا لیا جائے۔ چنانچہ اس وقت مرزا قادیانی کے اسی لگائے ہوئے پودا سے باغ بنا لیا گیا ہے اور ان کے کنبہ کے نئے مرکز ربوہ (چناب نگر) میں قبروں کی خرید وفروخت ہو رہی ہے۔

دوسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ پہلی کتابوں میں رسول اللہ ﷺ کی بشارت ہے تو سہی مگر وہ صاف اور واضح نہیں۔ سمجھے آپ صاف اور واضح کا مطلب؟۔ ایسی صاف اور واضح بشارت جیسی مرزا قادیانی کی آمد کی خبر قرآن وحدیث میں صاف اور کھلی کھلی دی گئی ہے۔ ہوشیار دکاندار جب کاروبار مندا پاتا ہے تو اپنی چوکی پر بیٹھے بیٹھے کہہ دیتا ہے کہ سامنے والی دکان کی تمام اجناس میں کیڑے پڑ گئے ہیں تاکہ لوگ اس کی چیزوں کی پڑتال کے خیال سے باز آئیں۔

اس سے آسانی کے ساتھ یہ سمجھا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کو ذاتی طور پر خود اپنی سچائی کی علامات پر کس قدر یقین تھا؟۔ آپ سوچئے اگر وہ خود اپنی سچائی پر یقین کرتے اور اپنے پیغمبر بن کر آنے کے لئے آیات اور احادیث پاتے تو ان کے لئے یہ کہنے کا موقعہ ہی کیوں آتا کہ مجھ سے پہلے بھی جو آئے ہیں۔ کسی پیشگی اطلاع کے بغیر آئے ہیں۔ ہم پھر جاننا چاہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی انسانی حکومت بھی ایسی ہے جو اپنا حاکم یا افسر کسی علاقہ میں بھیجے اور پھر اس سے پہلے یا اس کے ہمراہ لوگوں کو اس کی تعیناتی کا کوئی واضح ثبوت نہ پہنچائے۔ جب انسانوں کی ایسی حکومت نہیں پائی جاتی تو پھر سوچئے کہ انسانوں کا انتظام اچھا یا خدا کا؟ یہ بات کہ رسول اللہ ﷺ کی اور حضرت مسیح کی کوئی صاف بشارت معاذ اللہ! پہلی کتابوں میں موجود نہ تھیں۔ قرآن پر ایمان رکھنے والا آدمی تو یہ نہیں کہہ سکتا جو بشارتیں ان دونوں حضرات علیہما السلام کی اس وقت انجیل اور بائبل میں موجود ہیں۔ انہیں چھوڑ کر صرف قرآن کے بیان کو ہم لیں گے۔ قرآن کی سورۂ بقرہ میں ہے کہ اللہ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ نبی ہوں گے اور حضرت مسیح کی تصدیق کریں گے۔ نیز حضرت مریم کو بھی ان کی اور ان کے تمام کارناموں کی بشارت فرمائی۔ جس کا مطلب ہے کہ حضرت زکریا حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہما السلام کو ماننے والے سب لوگ حضرت مسیح کو نبی ماننے کے پابند تھے اور اس بات کے پابند تھے کہ اپنی تاریخی روایات میں ان کی نبوت کا اعلان اور ان کی دعوت ثبت کریں اور یہ پابندی اب بھی موجود ہے۔ تمام مسلمانوں کے لئے ہے۔ بتائیے! اس سے بڑھ کر ان کے حق میں بشارت اور کھلی

٣٣

صفحہ ١٣٣

پیشین گوئی اور کیا ہو سکتی ہے؟ اور انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں بشارتوں کی تعداد تواتر کی حد تک ہے۔

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے حق میں پہلی کتابوں کی بشارتیں جو خود ان کے اندر اب تک موجود ہیں۔ ان کا قصہ تو دور کا ہے۔ ہم قرآن ہی کے بیان پر اکتفاء کریں گے۔ سورۂ اعراف میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ نے فرمایا تھا کہ میری رحمت متقی پرہیزگاروں کا حصہ ہے اور وہ ہیں جو نبی امی کا اتباع کریں گے۔ جسے وہ تورات انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے۔ جو انہیں نیکی کا حکم اور برائی کی ممانعت کرے گا۔ پاک چیزیں ان کے لئے حلال اور ناپاک حرام ٹھہرائے گا۔ ان سے ان کے بوجھ ہلکے کرے گا اور طوق اتارے گا جو انہیں پڑے ہوں گے اور سورۂ فتح کے اخیر جہاں محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کی صفات وخصوصیات کا بیان ہے۔ وہاں یہ بھی ہے کہ ان کی یہی صفات تورات اور انجیل میں بھی موجود ہیں۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تورات اور انجیل کو ماننے والے سب نبی امی کی آمد سے واقف تھے۔ اسی لئے قرآن میں دو جگہ پر ہے کہ اہل کتاب اسے ایسا پہچانتے جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے۔ بتائیے وضاحت اور کس چیز کا نام ہے۔ ایک تو بات بتائی جاتی ہے کہ کوئی مکان یہاں بنے گا۔ یہ بھی اپنے مفہوم میں صاف ہے۔ مگر یہ بات کہ مکان کا یہ رقبہ ہوگا۔ یہ اونچائی ہوگی۔ اتنے دروازے اور کھڑکیاں ہوں گی۔ اس سے زیادہ وضاحت اور کیا ہو اور اس کا انکار قرآن اور سب کتابوں کا انکار ہے؟۔

مرزا قادیانی کی مصیبت یہ تھی کہ مرید ان سے ان کی سند پوچھتے تھے تا کہ اس سے مسلمانوں کا منہ بند کریں۔ جواب میں مرزا قادیانی کہتے تھے کہ اگر میرے پاس کوئی سند نہیں تو کسی اور نبی کے پاس کب سند ہوئی ہے اور اگر کسی نبی کے پاس سند نام کی کوئی چیز تھی تو وہ صاف اور کھلی نہ تھی اور پھر اس کے لئے نام ان دو کا لیا جن کے نبی ہونے پر ان کے منکروں اور دہریوں تک کو اتفاق ہے۔ ابو جہل بھی یہ نہ کہہ سکا کہ آپ نبی نہیں۔

اس جگہ آپ اس نکتہ پر غور کیجئے کہ اللہ نے تمام امتوں سے آنے والے رسولوں پر ایمان لانے کا عہد کیا اور پھر اس عہد پر چلانے کا جو انتظام کیا وہ کیا تھا اور کتنا ضروری تھا؟۔ پرانے امتیوں کے پاس جب ایک نیا رسول آتا تو اس عہد کے ایک حصہ پر لوگوں کو قائم پاتا۔ وہ یہ ماننے ہوئے تھے کہ نبی آنا ہے۔ انہیں فیصلہ صرف اس بات کا کرنا ہوتا تھا کہ جو آیا ہے وہ نبی ہے یا نہیں اور اس کے لئے پہلے نبی کی بات ہی سند ہو سکتی تھی۔ یہ قاعدہ یہود ونصاریٰ، مشرکین عرب اور تمام

٣٤

دنیا کی قوموں اور امتوں کے حق میں یکساں واقعہ ہوا۔ تمام آمد پر شاہد تھے۔ اس لئے دنیا کے کسی آدمی کی زبان پر آ آئی کہ کوئی نبی آنے والا نہیں۔ اگر کسی کو انکار کے لئے کوئی وہ نہیں جو آنا تھا۔ اس سے آگے منکر یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ ج انکار کے لئے ہٹ دھرمی کے بغیر کوئی معقول بنیاد موجود نہ

یہ جب حقیقت ہے تو اگر پہلے نبی کی سند موجود اور بت پرستوں کا حال برابر ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ اس صورت ماننے کا حکم تھا اور نہ انکار کرنے والوں نے اس کا انکار کیا مرزا قادیانی نے جو بات کہی ہے اس سے ان کی نبوت ت ایک ہو کر رہتے ہیں۔ بلکہ اس سے تو سب کہہ سکتے ہیں حالانکہ اس طرح وہ سب کے منکر ہیں۔

تیسری عبارت میں مرزا قادیانی کسی بادشاہ مقام میں تھا اور اس کی فتح کی جن چار سو نبیوں نے اطلا اور زمانہ میں جمع ہو کر یہ اطلاع دی تھی اور وہ کس کے ک زیادہ ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے ہاں تو ایک نبی کی ایک کے برابر کفر ہے۔ یہ وقت بھی آنا تھا کہ اس کفر کے مرتکب

انگریز پرستی

”مسیح کو خدا آسمان سے مدد دے گا۔ اب ج

(حقی

”میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاع اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی ہیں۔“

”ان حدیثوں سے صریح اور کھلے طور پ ہے۔“

”آخری مسیح بھی کلمتہ اللہ ہے اور روح الل سے زیادہ کامل ہے۔“

٣٥

صفحہ ١٣٣

دنیا کی قوموں اور امتوں کے حق میں یکساں واقعہ ہوا۔ تمام تاریخی آثار بنی اسماعیل سے ایک نبی کی آمد پر شاہد تھے۔ اس لئے دنیا کے کسی آدمی کی زبان پر آنحضرت ﷺ کے بارہ میں یہ بات نہیں آئی کہ کوئی نبی آنے والا نہیں۔ اگر کسی کو انکار کے لئے کوئی گوشہ مل سکا تو وہ یہی تھا کہ جو آیا ہے یہ وہ نہیں جو آنا تھا۔ اس سے آگے منکر یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ جو آنا تھا وہ فلاں ہے۔ اس بناء پر ان کے انکار کے لئے ہٹ دھرمی کے بغیر کوئی معقول بنیاد موجود نہ تھی اس لئے ان پر حجت تمام ہوئی۔

یہ جب حقیقت ہے تو اگر پہلے نبی کی سند کو موجود نہ مانا جائے نہ تو اس کے بعد مسلمانوں اور بت پرستوں کا حال برابر ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں تو ماننے والوں نے اسے مانا جسے ماننے کا حکم تھا اور نہ انکار کرنے والوں نے اس کا انکار کیا جس کا انکار منع تھا۔ دوسرے الفاظ میں مرزا قادیانی نے جو بات کہی ہے اس سے ان کی نبوت شاید بن جائے۔ مگر اس سے کفر اور اسلام ایک ہو کر رہتے ہیں۔ بلکہ اس سے تو سب کہہ سکتے ہیں کہ جس کا ہم نے انکار کیا وہ نبی نہ تھا۔ حالانکہ اس طرح وہ سب کے منکر ہیں۔

تیسری عبارت میں مرزا قادیانی کسی بادشاہ کی کہانی لائے۔ نامعلوم وہ کس زمانہ و مقام میں تھا اور اس کی فتح کی جن چارسو نبیوں نے اطلاع دی تھی۔ معلوم نہیں انہوں نے کس جگہ اور زمانہ میں جمع ہو کر یہ اطلاع دی تھی اور وہ کس کے کہے پر جھوٹی ثابت ہوئی۔ چارسو نبی تو بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے ہاں تو ایک نبی کی ایک بات کو جھوٹا بتانا کفر ہے اور خدا کے انکار کے برابر کفر ہے۔ یہ وقت بھی آنا تھا کہ اس کفر کے مرتکب کو نبی مان لیا گیا۔

انگریز پرستی

”مسیح کو خدا آسمان سے مدد دے گا۔ اب جہاد حرام ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٧٣ حاشیہ)

”میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

”ان حدیثوں سے صریح اور کھلے طور پر انگریزی سلطنت کی تعریف ثابت ہوتی ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٣٥)

”آخری مسیح بھی کلمتہ اللہ ہے اور روح اللہ بھی ہے۔ بلکہ ان دونوں صفات میں وہ پہلے سے زیادہ کامل ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ٣٨٤)

٣٥

صفحہ ١٣٥

اوپر کی عبارت میں مرزا قادیانی اپنے آپ کو مسیح کہتے ہیں اور اس سے پہلے ہمیشہ سے کہتے رہے کہ میں مسیح نہیں ہوں۔ جس کا احادیث میں وعدہ ہے۔ بلکہ اس کی مثل ہوں۔ گویا اصل اور مثل ان کے ہاں ایک ہی ہیں۔ پھر اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ میں جو مسیح ہوں۔ مجھے خدا آسمان سے مدد دے گا اور اس وجہ سے جہاد حرام ہے۔ یہ الفاظ کئی وجوہ سے کفر ہیں۔ اول تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کو اور قرآن میں رسول خدا ﷺ اور صحابہ کرام کو جب جہاد کا حکم فرمایا گیا تھا تو وہ سب کے سب خدا کی آسمانی مدد سے معاذ اللہ محروم تھے۔ یہ آسمانی مدد کی نعمت صرف مرزا قادیانی کا حصہ ہے اور تکلیف اور مشقت ان کا حصہ تھا۔ یہ بات بھی کفر سے کم نہیں۔ اس کے بعد یہ کہہ اٹھنا کہ اب جہاد جو سب سے اہم فرض تھا، وہ حرام ہو گیا ہے۔ یہ تو سو کفر کا ایک کفر ہے۔ کیونکہ شریعت کے ایک مباح و مکروہ کو حرام بتانا جہاں ایمان کے خلاف ہے۔ وہاں ایک فرض کو حرام کہنا کفر نہیں تو اور کیا ہے؟ ۔ پھر پہلے مارنے ڈرانے کی ضرورت تھی اور اب دلیل کی ضرورت ہے۔ آپ سوچئے کہ کل اور آج میں فرق کیا ہے۔ پہلے زمانہ کے لوگ پیادہ چل کر اور اونٹوں پر سوار ہو کر حج کو جاتے تھے۔ اب موٹر اور جہاز کے ذریعہ جاتے ہیں۔ تو کیا اب اونٹ کی سواری کرنا حرام ہو گیا ہے۔ بات صرف انگریز کی خوشنودی کی تھی۔ ورنہ فرض کسی زمانہ سے بدل نہیں جاتا۔

دوسری عبارت میں اپنی دین بیزاری کا کھلا اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے انگریز کی اطاعت اور جہاد کی ممانعت میں لکھ لکھ کر پچاس الماریاں بھر دی ہیں۔ یہ بات وہ شخص کہتا ہے جس کا ایک دل فریب نعرہ یہ ہے کہ میں شریعت اسلامیہ میں کوئی تبدیلی لانے کے لئے نہیں آیا ہوں۔ میں تو بس ایک معمولی قسم کا نبی ہوں۔ جس کے انکار سے بھی کوئی کافر نہیں ہوتا۔ ادھر وہ دین میں کوئی تبدیلی لاتے اور دوسری طرف وہ ایسی بات لکھ کر کہ پچاس الماریاں بھرتے ہیں۔ جس کا زبان پر لانا بہت بڑا کفر ہے۔ بالکل یہی پوزیشن انگریز کی اطاعت کی ہے۔ خدا کی شریعت جس اطاعت کو حرام کرتی ہے اور خدا کا قرآن جس کافر کے ساتھ جہاد اور جنگ کو لازم کرتا ہے۔ اس کی جب اطاعت اور وفاداری فرض ہونے لگے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ احکام خدا اور رسول کا اور حدود شریعت کا احترام کیا رہ جائے۔ اس کے بعد تو آدمی کا نفس جس فرض کو چاہے حرام کرے اور جس حرام کو چاہے فرض بنالے۔

تیسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ احادیث جن میں ہے کہ حضرت مسیح کے زمانہ میں بچے سانپوں سے اور بھیڑیے بھیڑوں سے کھیلیں گے۔ اس سے وہ تین اور کڑیاں اپنے پاس سے ملا کر انگریزوں کی تعریف اخذ کرتے ہیں۔ یعنی مسیح ٹھہرے وہ خود، اور ان کے زمانہ میں جو حکومت

٣٦

سانپوں اور بچوں کو کھلا رہی ہے۔ وہ ہے انگریزی حکومت انگریزی حکومت کی فضیلت کا بیان ٹھیک اسی طرح جیسے بھوکے یہاں ہوں۔ ایک آدمی مجھے ادھر سے دو روٹیاں لا کر دے گا روٹیاں کھانے کو جمع ہو جائیں گی۔ اس انگریزی حکومت کی فضـ پائے۔ گویا قرآن اور حدیث کفار کی فضیلت میں ہیں۔ حالـ بدعتی کی تعظیم کرتا ہے وہ اسلام کو گرانے میں سامان اور مدد کافروں کی حکومت سے بہر حال کم مجرم ہوتا ہے۔ یہاں انگـ کے ساتھ۔

چوتھی عبارت میں وہ دو مسیح بنا کر اپنے آپ کو آ کہ میں پہلے مسیح سے زیادہ کامل ہوں۔ حالانکہ ان کا ڈھنڈ ہوں اور ساری دنیا جانتی ہے کہ اصل سے مثل کبھی زیادہ کامل اور اس کے برابر ماننا کفر ہے تو اس سے زیادہ کامل کہنا تو زیا دہ کفر ہے۔

”توریت سے ثابت ہے کہ جو مصلوب ہو وہ صلیب پر مر جائے۔“

”یہ نتیجہ ضروری ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا بـ

”چاروں انجیلیں جو چونسٹھ انجیلوں سے چھٹـ بیان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوا

”توریت میں لکھا ہے کہ جو کاٹھ پر لٹکایا جائے

”قرآن کریم کا منشاء ’ماقتلوہ ‘ کے لفـ نہیں گیا۔“

پانچوں عبارات جھوٹ تو ہیں ہی۔ دیکھنا صـ بھرا ہے اور کون سی عبارت قرآن کے زیادہ خلاف ہے؟ کہ حضرت مسیح سات آٹھ دن سولی پر نہیں رہے۔ یعنی

٣٧

صفحہ ١٣٧

سولی چڑھنا اسے کہا جاتا ہے جو سولی پر مرے۔ لیکن جو شوقیہ سولی پر چڑھ کر اپنی مرضی سے اتر جائے وہ سولی چڑھنا نہیں ہوتا۔

دوسری عبارت میں وہ ایک خواب کو حقیقت بتاتے ہیں جو حضرت مسیح کو سولی چڑھانے والے حاکم کی بیوی نے دیکھا۔ اسے خواب میں فرشتہ نے بتایا کہ اگر مسیح کی موت سولی سے ہوئی تو اس سے ساری قوم پر تباہی آئے گی۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ چونکہ یہ تباہی نہیں آئی۔ اس لئے ظاہر ہے کہ مسیح سولی پر نہیں مرا۔ یہ بھی جھوٹ ہے مگر جب قرآن کی رو سے یہ سارا قصہ ہی لاحاصل ہے۔ تو اس کا یہ خواب والا جزو ماننا کیا معنی؟ اس کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ تورات کے اسی بیان کی وجہ سے اللہ نے حضرت مسیح کو اٹھائے جانے کا وعدہ دلایا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ دشمن تجھے سولی پر مار کر لعنتی نہیں بنائیں گے۔ بلکہ میں تجھے ان سے پہلے ماروں گا۔ یہ ایک بالکل بے سروپا مفروضہ ہے۔ جس کی رو سے قرآن کی آیت کو لانا بھی قرآن کی ہتک ہے اور خود انجیل میں متواتر موجود ہے۔ حضرت مسیح نے فرمایا جو اپنی صلیب خود ہی اٹھائے وہ میرے ساتھ آئے۔

تیسری عبارت میں تو انہوں نے جھوٹ کی حد کر دی ہے اور چوتھی عبارت اس مفروضہ کو رد کرتی ہے کہ سولی چڑھنا سولی پر مرنا ہوتا ہے۔ پانچویں عبارت سے نص قرآنی کا انکار کر کے کفر میں اپنے آپ کو ڈالتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اگر قرآن کا منشاء اس کے الفاظ سے واضح نہیں ہوتا تو اس سے زیادہ نکمی کتاب اور کون سی ہو سکتی ہے۔ معاذ اللہ اسی طرح اگر ہر آدمی کو قرآن کا منشاء بنانے کی آزادی مل جائے تو پھر قرآن کا حشر معلوم۔

اب ہم آپ کو مرزا قادیانی کے اس لاجواب جھوٹ کا تجزیہ کریں گے کہ چونسٹھ انجیلوں کے بیان کے مطابق حضرت مسیح کی موت سولی پر نہیں ہوئی۔ یوں سمجھئے کہ انجیل کا بیان قرآن کے خلاف ہے اور مرزا قادیانی کی تخلیق قرآن وانجیل دونوں کے خلاف جاتی ہے۔ سب سے پہلے سولی قتل کے متعلق حضرت مسیح کا اپنا بیان پڑھیں۔ انہوں نے خود اپنے شاگردوں سے فرمایا تھا:

اسے غیر قوموں کے حوالہ کریں گے تاکہ اسے ٹھٹھوں میں اڑائیں اور کوڑے ماریں اور مصلوب کریں اور تیسرے دن زندہ کیا جائے گا۔ (متی باب ٢٠ ص ٢٤ مرقس باب ٨ ص ٣٢، باب ٩ ص ٣٤، باب ١٠ ص ٣٤ لوقا باب ٩ ص ٦٢، باب ١٨ ص ٧٣، باب ٢٤ ص ٨٠، یوحنا باب ٢ اص ٩٧)

ہے یا نہیں۔ یسوع نے پھر بڑی آواز سے چلا کر جان دے دی اور مقدس کا پردہ اوپر سے نیچے تک

٣٨

پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا اور زمین لرزی اور چٹانیں تڑک گئیں اور اور دفن کے بعد جی اٹھنے اور دنیا کے آخر تک حضرت مسیح کے رہنے مرقس باب ١٥ ص ٥٠، لوقا باب ٢٣ ص ٧٩، باب ٢٤ ص ٨١، یوحنا باب ١٩ باب ٥ ص ١١٢)

جب وہ دن قریب آئے کہ وہ اوپر اٹھایا جائے تو ایسا باندھی۔ (لوقا باب ٩ ص ٦٣) لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے شریع رہے گا۔ (یوحنا باب ١٢ اص ٦٧) وہ بادلوں کے ساتھ آنے والا ہے،

(یوحنا کا مکاشفہ)

اس سے مرزا قادیانی کے جھوٹ کی افراط کا اندازہ ک کی حاجت نہیں۔ صرف یہ دیکھئے کہ حضرت مسیح کے زندہ اٹھا رہنے اور پھر نازل ہونے کا بیان بہر حال انجیل میں موجود تھا۔ بھی اُس کا ماننا ایمان کا جزو ہوتا۔ ادھر ہوا یہ کہ قرآن وحدیث زیادہ واضح کر دیا گیا ہے۔ اسے اب غلط بتانا کتنی بڑی ڈھٹائی لطف یہ ہے کہ اس ڈھٹائی اور انکار والا آدمی نہ صرف مسلمان م ہے۔ یہ عقدہ ابھی تک حل نہیں ہوا کہ مرزا قادیانی نے اپنی کس انکار کیا۔ شاید اس لئے کہ ان کا مشن ہی جھوٹ پھیلانا تھا اور قر کہ اگر سولی پر مرنا ہی سولی چڑھنا ہوتا تو قرآن صرف حضرت اور سولی دونوں کا رد ہے۔ پھر اگر عیسائی ان کی سولی پر موت ب بنے؟ اس کے بعد ایک نظریہ بھی دیکھیں ”اکادیہ علی الغاویہ“ می

اٹھا لیا اور تیسرے آسمان پر اپنے پاس رکھ لیا۔

کے خاتمہ تک نہ مروں گا۔

رسول ﷺ آئیں گے اور یہ دھجی اڑائیں گے اور لوگوں پر وا

٣٩

صفحہ ١٤٧

پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا اور زمین لرزی اور چٹانیں تڑک گئیں اور قبریں کھل گئیں اور اُس کے دفن کا اور دفن کے بعد جی اٹھنے اور دنیا کے آخر تک حضرت مسیح کے رہنے کا بیان ہے۔ (متی باب ٢٧ ص ٦٠، مرقس باب ١٥ ص ٤٧، لوقا باب ٢٣ ص ٥٣، باب ٢٤ ص ٥١، یوحنا باب ١٩ ص ٤٠، ٣٩، اعمال باب ١٠ ص ٤١، باب ١ ص ١١،٩)

جب وہ دن قریب آئے کہ وہ اوپر اٹھایا جائے تو ایسا ہوا کہ اس نے یروشلم جانے کو کمر باندھی۔ (لوقا باب ٩ ص ٥١) لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے شریعت کی بات سنی ہے کہ مسیح ابد تک رہے گا۔ (یوحنا باب ١٢ ص ٣٤) وہ بادلوں کے ساتھ آنے والا ہے۔ ہر ایک آنکھ اسے دیکھے گی۔

(یوحنا کا مکاشفہ باب ١ ص ٧، ١۔ پطرس باب ٣ ص ٢٢)

اس سے مرزا قادیانی کے جھوٹ کی افراط کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس پر مزید کچھ کہنے کی حاجت نہیں۔ صرف یہ دیکھئے کہ حضرت مسیح کے زندہ اٹھائے جانے اور آخری زمانہ تک زندہ رہنے اور پھر نازل ہونے کا بیان بہر حال انجیل میں موجود تھا۔ جسے اگر قرآن میں ذکر نہ کیا جاتا تو بھی اُس کا ماننا ایمان کا جزو ہوتا۔ ادھر ہوا یہ کہ قرآن وحدیث میں اسی بات کو دوہرا کر اس کو اور زیادہ واضح کر دیا گیا ہے۔ اسے اب غلط بتانا کتنی بڑی ڈھٹائی ہے اور انکار کی کتنی زیادتی ہے اور لطف یہ ہے کہ اس ڈھٹائی اور انکار والا آدمی نہ صرف مسلمان ہونے کا مدعی ہے بلکہ پیغمبر بھی کہلاتا ہے۔ یہ عقدہ ابھی تک حل نہیں ہوا کہ مرزا قادیانی نے اپنی کس غرض کے تحت انجیل کے اس بیان کا انکار کیا۔ شاید اس لئے کہ ان کا مشن ہی جھوٹ پھیلانا تھا اور قرآن کے خلاف جانا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر سولی پر مرنا ہی سولی چڑھنا ہوتا تو قرآن صرف حضرت مسیح کے قتل کا رد کرتا۔ مگر اس میں قتل اور سولی دونوں کا رد ہے۔ پھر اگر عیسائی ان کی سولی پر موت کے قائل نہ تھے تو وہ ان کا کفارہ کیسے بنے؟ اس کے بعد ایک نظر یہ بھی دیکھیں ”الکادیہ علی الغادیہ“ میں ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا تھا:

اٹھا لیا اور تیسرے آسمان پر اپنے پاس رکھ لیا۔

کے خاتمہ تک نہ مروں گا۔

رسول ﷺ آئیں گے اور یہ شبہ اڑائیں گے اور لوگوں پر واضح کریں گے کہ میں زندہ ہوں۔

٣٩

صفحہ ١٣٩

رفع مسیح کے بارہ میں انجیل کا یہ بیان قرآن سے بالکل ملتا ہے اور اس کی حرف بحرف تصدیق میں ہے اور اس میں کوئی مجاز نہیں۔

عام جھوٹ اور فضولیات...... میں سب کچھ ہوں

میں کبھی آدم ،کبھی موسیٰ ،کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)

”ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق ۔“

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)

اوپر کی عبارت میں مرزا کا ایک شعر ہے۔ یعنی وہ بات اور کلام جس کا نبی کی ذات سے کوئی واسطہ نہیں ہوسکتا اور جس سے تحقیق پہنچانے والا کلام خالی ہوتا ہے۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ میری بے شمار نسلیں ہیں۔ جو اوپر کی طرف سے ہوں تو مطلب یہ نکلتا ہے کہ ان کے بے شمار باپ ہیں اور اگر نیچے کی طرف سے ہوں تو یہ بے معنی بات ہے۔ اس لئے کہ ایک آدمی کی نسل ایک ہی ہوسکتی ہے اور اگر اس کی بیوی نے کئی خاوند رکھے ہوں تو بھی ان میں سے ہر ایک کی نسل ایک ہی رہے گی۔ اس بناء پر یہ تو ایک نادان کی بات ہے۔ جو نادان آدمی کی زبان پر ہی آسکتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے کئی باپ ہوں تو بھی بیٹا ایک کا ہی وہ ہوسکتا ہے۔

دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ میں کبھی آدم ہوں ،کبھی موسیٰ اور کچھ اور۔ جہاں تک اس امر واقعہ کا تعلق ہے۔ حضرت آدم ہمیشہ ہی آدم رہے۔ ایک لمحہ کے لئے بھی موسیٰ نہ ہوسکے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی وقت آدم نہ ہوئے۔ اب کیا مرزا قادیانی کو کسی ایسی طاقت کا مالک مان لیا جائے کہ وہ ان سب سے بڑے بھی ہیں اور حضرت آدم سے لے کر محمد ﷺ تک ہر ایک نبی کا وجود کبھی نہ کبھی بدلتے رہتے ہیں اور خود اپنا اصل وجود بھی قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ اس سے اور تو اور پہلے تمام انبیاء کا وجود بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے اور مستقل حیثیت سے صرف مرزا قادیانی ہی ماننے کے قابل رہ جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان سب کا وجود چھیننے اور غارت کرنے کے قابل ٹھہرتا ہے اور مرزا قادیانی کا وجود لافانی ولازوال قرار پاتا ہے۔ یہ خیال ایک مسلمان اور مومن انسان کے نزدیک تو پرلے درجہ کا کفر ہے۔ ان حضرات کے دنیا سے رخصت ہوجانے کا مطلب یہ کب ہے کہ ان کا وجود کسی اور کا اوڑھنا بچھونا بننے لگے۔

٤٠

دوسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ متضاد باتوں وا گویا وہ خود اپنے منافق اور پاگل ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ کسی کی نہیں ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ خود ان کے مریدوں میں بعض نہیں مانتے تھے اور اگر ان کا اپنا کنبہ ان کی نبوت کا قائل نبوت کی قبر کا بھی کہیں نشان نہ ہوتا۔

خدا کی صفات

شریف میں مندرج ہیں۔ تو وہ اسی جہان میں خدا کو دیکھ لے گا

(ضمیر

(ضمیر

نومید ہے۔“

(کرا

ثابت و مسلم واجب ہونے کے بعد کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ ا کہ اللہ نے ہر ایک حیوان کو انسان کے لئے مسخر بنا رکھا ہے ا بہا دینا اس کے لئے جائز کردیا ہے۔“

(کر

ثواب و عقاب نہیں ۔“

پہلی عبارت میں مرزا قادیانی کی بات واقعا انبیاء علیہم السلام اور ان کے صحابہ، اللہ کے احکام پر ٹھیک طر تک یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں نے خدا کو اپنی آنکھوں سے ہمارے چلن پر چلے وہ خدا کو دیکھ لے گا۔ اس لئے یہ دعویٰ با

دوسری عبارت میں وہ اپنی عجیب و غریب نبو ہیں۔ جو پہلے قدم پر تو الٹے پاؤں لوٹی ہے۔ قصہ یوں ہو حدیث سے کوئی قطعی دلیل ہاتھ نہ لگی۔ کبھی ختم نبوت کے

٤١

صفحہ ١٣٩

دوسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ متضاد باتوں والا آدمی یا تو منافق ہوتا ہے یا پاگل ۔ گویا وہ خود اپنے منافق اور پاگل ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ کیونکہ متضاد باتیں ان سے بڑھ کر اور کسی کی نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ خود ان کے مریدوں میں سے بعض انہیں نبی مانتے تھے اور بعض نہیں مانتے تھے اور اگر ان کا اپنا کنبہ ان کی نبوت کا کاروبار چلانے کو موجود نہ ہوتا تو ان کی نبوت کی قبر کا بھی کہیں نشان نہ ہوتا۔

خدا کی صفات

شریف میں مندرج ہیں۔ تو وہ اسی جہان میں خدا کو دیکھ لے گا۔“

(براہین احمدیہ ص ١٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٥)

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٨٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٥)

نو پید ہے۔“

(کرامات الصادقین ص ٨٧، خزائن ج ٧ ص ١٤٨)

ثابت ومسلم واجب ہونے کے بعد کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اللہ پر کسی کو کوئی حق نہیں۔ تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے ہر ایک حیوان کو انسان کے لئے مسخر بنا رکھا ہے اور معمولی ضرورت کے لئے ان کا خون بہا دینا اس کے لئے جائز کر دیا ہے۔“

(کرامات الصادقین ص ٧٢، خزائن ج ٧ ص ١١٤)

ثواب وعقاب نہیں۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٣٣٥، خزائن ج ٣ ص ٢٧١)

پہلی عبارت میں مرزا قادیانی کی بات واقعات اور مشاہدہ کے بالکل خلاف ہے۔ انبیاء علیہم السلام اور ان کے صحابہ، اللہ کے احکام پر ٹھیک طرح عمل دکھاتے رہے۔ مگر کسی نے آج تک یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں نے خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور نہ کسی نے یہ کہا ہے کہ جو ہمارے چلن پر چلے وہ خدا کو دیکھ لے گا۔ اس لئے یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔

دوسری عبارت میں وہ اپنی عجیب وغریب نبوت پر ایک عجیب وغریب دلیل لائے ہیں۔ جو پہلے قدم پر ہی انہیں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ قصہ یوں ہوا کہ اپنی نبوت کے حق میں انہیں قرآن و حدیث سے کوئی قطعی دلیل ہاتھ نہ لگی۔ تو ختم نبوت کے معنی بناتے نبی تراشتے رہے۔ صاحب

٤١

صفحہ ١٤٩

دوسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ متضاد باتوں والا آدمی یا تو منافق ہوتا ہے یا پاگل۔ گویا وہ خود اپنے منافق اور پاگل ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ کیونکہ متضاد باتیں ان سے بڑھ کر اور کسی کی نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ خود ان کے مریدوں میں سے بعض انہیں نبی مانتے تھے اور بعض نہیں مانتے تھے اور اگر ان کا اپنا کنبہ ان کی نبوت کا کاروبار چلانے کو موجود نہ ہوتا تو ان کی نبوت کی قبر کا بھی کہیں نشان نہ ہوتا۔

خدا کی صفات

شریف میں مندرج ہیں۔ تو وہ اسی جہان میں خدا کو دیکھ لے گا۔"

(براہین احمدیہ ٥ ص ١٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٥)

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٨٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٥)

نو پیدا ہے۔"

(کرامات الصادقین ص ٧٨، خزائن ج ٧ ص ١٢٨)

ثابت و مسلم واجب ہونے کے بعد کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اللہ پر کسی کو کوئی حق نہیں۔ تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے ہر ایک حیوان کو انسان کے لئے مسخر بنا رکھا ہے اور معمولی ضرورت کے لئے ان کا خون بہا دینا اس کے لئے جائز کر دیا ہے۔"

(کرامات الصادقین ص ٧٢، خزائن ج ٧ ص ١١٤)

ثواب وعقاب نہیں۔"

(ازالہ اوہام ص ٣٣٥، خزائن ج ٣ ص ٢٧١)

پہلی عبارت میں مرزا قادیانی کی بات واقعات اور مشاہدہ کے بالکل خلاف ہے۔ انبیاء علیہم السلام اور ان کے صحابہ، اللہ کے احکام پر ٹھیک طرح عمل دکھاتے رہے۔ مگر کسی نے آج تک یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں نے خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور نہ کسی نے یہ کہا ہے کہ جو ہمارے چلن پر چلے وہ خدا کو دیکھ لے گا۔ اس لئے یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔

دوسری عبارت میں وہ اپنی عجیب وغریب نبوت پر ایک عجیب وغریب دلیل لائے ہیں۔ جو پہلے قدم پر تو انہیں الٹی پڑی ہے۔ قصہ یوں ہوا کہ اپنی نبوت کے حق میں انہیں قرآن و حدیث سے کوئی قطعی دلیل ہاتھ نہ لگی۔ کبھی ختم نبوت کے معنے نئے نبی تراشتے رہنا۔ صاحب

٤١

صفحہ ١٤١

شریعت نبیوں کو اور حضرت مسیح کو نہ آنے دینا اور ختم بمعنے مہر۔ اپنی ان باتوں میں تو انہیں کوئی معقولیت دکھائی نہ دی اور پھر خدا کی صفت کلام کی دہائی دی اور کہا کہ بتاؤ اگر میں نبی نہیں تو خدا کلام کس سے کرتا ہے؟۔ لوگوں نے کہا کہ آپ سے پہلے خدا کس سے باتیں کرتا تھا؟ اس کے جواب میں مرزا قادیانی کو صفات میں تعطل کا عقیدہ قائم کرنا پڑا اور کہا کہ مجھ سے پہلے خدا کی یہ صفت معطل ہو گئی تھی۔ مگر اس کو ہمیشہ تک معطل رہنے دینا اچھا نہیں۔ اس لئے میں نے خدا کے بنوانے کا کام اپنے ذمہ لے لیا ہے اور اب مجھے نبی مانو۔ اول تو صفات باری میں تعطل کا عقیدہ ہی اسلام سے کوسوں دور ہے۔ اس کے بعد یہ عجیب بات ہے کہ خدا کی صفت کلام مرزا قادیانی کے جنم تک تعطل کا شکار رہی۔ لیکن اس کی سننے اور دیکھنے وغیرہ کی تمام صفات میں کوئی تعطل نہیں آیا۔ تعطل آیا تو اسی صفت میں اور اتنا ہی جو مرزا قادیانی کی نبوت کے لئے کارآمد تھا۔

آپ ذرا اس مسئلے کو دوسرے پہلو سے لیں۔ سوال یہ ہے کہ جب کائنات کی کوئی چیز موجود نہ تھی تو اس وقت خدا کس سے کلام کرتا تھا اور اس کی سب صفات کا اس وقت کیا مصرف تھا۔ اس کا حل مرزا قادیانی نے یہ بتایا کہ بعض اجناس مخلوق کا وجود دائمی تھا۔ سبحان اللہ ! اجناس مخلوق تھیں اور مخلوق ہوتے ہوئے بھی ان کا وجود دائمی تھا۔ اس سے پلٹ کر وہ اپنے پہلے مقام پر آجاتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ جن اجناس مخلوق کے دائمی وجود نے ابتدائے عالم سے پہلے خدا کی صفات کو تعطل سے سہارا دیا۔ وہ مرزا قادیانی سے پہلے خدا کی صفت کلام کو معطل ہونے سے کیوں نہ بچاسکیں؟۔ صاف نظر آتا ہے کہ یہ تعطل کا ڈھونگ انہوں نے اپنی ذاتی اغراض کے لئے رچایا ہے ورنہ کہاں صفات اور کہاں تعطل؟۔

تیسری عبارت میں ہے کہ غضب اور ناراضی خدا کی ذاتی صفت نہیں۔ بلکہ وہ نئی پیدا ہو کر خدا کی صفات میں شامل ہوئی ہے اور اس لئے پیدا ہوئی ہے کہ بعض چیزیں کامل نہ تھیں۔ سر دھنئے اس پر یا سر پیٹئے اگر بعض چیزیں کامل نہ تھیں۔ تو خدا انہیں کامل بناتا اس نے اپنے اندر غصہ کیوں پیدا کیا اور پھر اگر غضب کی صفت اچھی تھی تو اسے دوسری اچھی صفات کی طرح ازلی ہونا چاہئے تھا اور اگر بری تھی تو کبھی بھی خدا اسے اختیار نہ فرماتا۔ اس کے ساتھ مرزا قادیانی یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا کی صفات میں تغیر نہیں آتا۔ حد ہمیشہ سے ایک حال پر رہتی ہے۔

چوتھی عبارت میں وہ عدل سے بھی خدا کو بیگانہ دکھاتے ہیں۔ عدل کا خود اپنے ہاں ایک تصور قائم کر کے کہتے ہیں کہ حقیقی عدل تو یہ ہے کہ اس پر خدا کی کارروائیاں صحیح نہیں اترتیں۔ اس لئے حقیقی عدل کہیں اور ہو تو ہو۔ خدا کے ہاں اس کا کوئی وجود نہیں اور اس کے ثبوت میں

٤٢

جانوروں کی مثال لاتے ہیں۔ اس پر کوئی دہریہ ہی سوچ سکتا کرے۔ یہ بات تو اسی وقت کی ہے کہ پہلے انسان کے ان فرما حیثیت سے موازنہ کیا جائے۔ جن کو خدا نے اسے پابند بنایا ہ آسمان اور پہاڑ عاجز آگئے تھے۔ پانچویں عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ غیر انسانی مخلو ہی اس پر آخرت کا حساب ہوگا۔ یہ ان کا ذاتی الہام ہو سکتا ہ وجود نہیں۔ حدیث میں تو یہ بھی ہے کہ اگر سینگ والی بکری کس اس کا بدلہ چکایا جائے گا۔ دوسری طرف اگر جانوروں کی روح پر رحم کرنے اور ظلم نہ کرنے کے کوئی معنے نہیں رہ جاتے۔

پانچ اور پچاس

”پانچ اور پچاس میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہ پورا ہو گیا۔“

”میرا نام مریم رکھا اور اس مریم میں نفخ روح کی روحانی حمل سے مجھے عیسیٰ بنادیا۔“

”ابتداء سے انتہاء تک جس قدر انبیاء علیہم السلا دیئے۔“

کرم خاکی ہوں میرے پیارے
ہوں بشر کی جائے نفرت اور

(برا

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ ک حصے شائع کریں گے۔ مگر تجربہ سے اندازہ ہوا کہ پچاس شائع کرنا آسان نہیں اور لوگ وعدہ نہیں بھولتے تھے ضرورت پیش آئی کہ پچاس اور پانچ میں صرف نام درست نہیں ہوگا کہ پانچ جلدیں اس کتاب کی ہوں ہیں۔ پہلی کو جب ایک باب اور دوسری فصل سے شروع چوتھی سرے سے غائب اور پانچویں ایک متن اور کئی

٤٣

صفحہ ١٤١

جانوروں کی مثال لاتے ہیں۔ اس پر کوئی دہریہ ہی سوچ سکتا ہے۔ کجا کہ کوئی مسلمان اس پر غور کرے۔ یہ بات تو اسی وقت کی ہے کہ پہلے انسان کے ان فرائض کا جانوروں کی غیر ذمہ دارانہ حیثیت سے موازنہ کیا جائے۔ جن کو خدا نے اسے پابند بنایا ہے اور جن کے اٹھانے سے زمین و آسمان اور پہاڑ عاجز آگئے تھے۔

پانچویں عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ غیر انسانی مخلوق کی نہ ہی روح باقی رہتی ہے اور نہ ہی اس پر آخرت کا حساب ہوگا۔ یہ ان کا ذاتی الہام ہو سکتا ہے۔ قرآن یا حدیث میں تو اس کا کہیں وجود نہیں۔ حدیث میں تو یہ بھی ہے کہ اگر سینگ والی بکری کسی دوسری بکری کو مارے تو آخرت میں اس کا بدلہ چکایا جائے گا۔ دوسری طرف اگر جانوروں کی روح فنا مانی جائے تو پھر اس کے بعد ان پر رحم کرنے اور ظلم نہ کرنے کے کوئی معنے نہیں رہ جاتے۔

پانچ اور پچاس

"پانچ اور پچاس میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔"

(براہین نمبر ٥ ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)

"میرا نام مریم رکھا اور اس مریم میں نفخ روح کا ذکر کیا اور آخر کتاب میں اسی مریم کے روحانی حمل سے مجھے عیسیٰ بنا دیا۔"

(براہین احمدیہ ص ٨٤، خزائن ج ٢١ ص ١٠ ملخص)

"ابتداء سے انتہاء تک جس قدر انبیاء علیہم السلام کے نام تھے۔ وہ سب میرے نام رکھ دیئے۔"

(براہین احمدیہ ص ٨٥، خزائن ج ٢١ ص ١١٢)

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ کے بارے میں لکھا تھا کہ ہم اس کے پچاس حصے شائع کریں گے۔ مگر تجربہ سے اندازہ ہوا کہ پچاس حصوں کا کہنا آسان ہے۔ ان کا لکھنا اور شائع کرنا آسان نہیں اور لوگ وعدہ نہیں بھولتے تھے۔ اس پر انہیں ایک اور منطق جھاڑنے کی ضرورت پیش آئی کہ پچاس اور پانچ میں صرف نام ہی کا فرق ہے۔ آگے آپ کا یہ سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا کہ پانچ جلدیں اس کتاب کی ہوں گی۔ کیونکہ عالم واقعہ میں صرف دو جلدیں ہیں۔ پہلی کو جب ایک باب اور دوسری فصل سے شروع کیا تو آخر تک وہی تین جلدیں ہو گئیں اور چوتھی سرے سے غائب اور پانچویں ایک متن اور کئی قسم حاشیوں کے ساتھ موجود ہے۔ جس کا

٤٣

صفحہ ١٤٢

مطالعہ سزا کا کام دیتا ہے۔

عام لوگ تو ایسی باتیں کرنے والے کو فاتر العقل سمجھتے ہیں۔ مگر امتی ان کے ایسے ارشادات کو حدیث معراج سے ملاتے ہیں۔ وہی معراج جسے امتی مانتے نہیں اور ان کے پیغمبر اسے خواب کہتے ہیں۔ نادان لوگ اگر اپنے پیروں کو شراب پیتا دیکھیں، تو بھی اسے شراب معرفت کا نام دیتے ہیں۔ حدیث معراج کو آج تک تمام فقہاء محدثین نے سنا اور پڑھا مگر کسی کو یہ نہیں سوجھی کہ اس کی رو سے پانچ اور پچاس برابر ہیں۔ خود مرزا قادیانی نے پچاس کی جگہ پانچ روپے پر کبھی اکتفاء نہیں کیا ہوگا۔ یہی حال ان کے امتیوں کا ہے۔ وہ بھی کسی کو پانچ کی جگہ پچاس نہیں دیتے۔ اس پر حدیث معراج سے کسی مسلمان کے نزدیک سچ اور جھوٹ کی حدود کسی طرح زائل نہیں ہوتیں۔ اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ خدا نے جب بندوں کے فرض میں رعایت برتی تو ہمیں بھی دوسروں سے رعایت برتنا چاہئے۔ پھر حدیث معراج میں یہ کب ہے کہ پانچ اور پچاس کو ایک نقطہ کے فرق کی وجہ سے برابر سمجھتے یہ کہنا تو ہر لحاظ سے پچاس من کا جھوٹ ہے۔

دوسری عبارت میں وہ اپنے الہام کا ذکر کرتے ہیں کہ خدا نے مجھے مریم بنا کر مجھ میں سے مجھ کو پیدا کر کے عیسیٰ بنا دیا ہے۔ یہ پانچ اور پچاس سے بھی زیادہ لطیفہ ہے۔ اس کے شیطانی الہام ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی اپنی اس کتاب کو وحی بتاتے ہیں۔

تیسری عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ تمام انبیاء کے نام خدا نے ان سے لے کر مجھے دے دیئے ہیں۔ اب آپ سوچیں کہ اگر ان ناموں کی کوئی حقیقت اور تاثیر تھی اور اس تاثیر پر پہلے نبیوں کا حق تھا تو وہ مرزا قادیانی کو کیوں ملے اور اگر وہ انہیں کا ذاتی حق تو پہلوں کو کیوں ملا۔

چوتھی عبارت تو پھر دنیا کے عجائبات سے سمجھئے۔ پہلے انہیں الہام ہوا کہ تو سب انبیاء سے افضل ہے۔ پھر یہ کہ تو سب کے برابر ہے۔ پھر یہ کہ تو نبی ہے۔ امتی نبی ہے۔ پھر یہ کہ تو صرف امتی ہے اور پھر یہ کہ آدمی بھی نہیں کیڑا مکوڑا ہے اور سب کے بعد یہ کہ تو آدمیوں کی شرمگاہ ہے اور شرمگاہ کا بھی وہ حصہ جہاں سے پاخانہ آتا ہے۔

نہیں ...... مگر ہے

(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦)

(چشمہ معرفت، خزائن ج ٢٣ ص ٣)

٤٤

١٤٣

ہیں ۔"

(ازالہ

نزدیک مسلم ہے۔ پس میں وہی مہدی ہوں۔"

(حقیقت ال

اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان نہیں بن جاتا۔"

(تریاق القلوب ص

(حقیقت ال

پہلے عبارت میں مرزا اپنے مہدی ہونے کا انکار کر تے ہیں۔ مسیح تو سب کو معلوم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ قادیانی کی ذاتی اصطلاح ہے۔ اس کے معنے ہیں ایسا مسیح جس کا و ان کے بغیر ان کے ہاں اور کون ہو سکتا ہے؟۔ اب وہ ہیں اور مسیح اس سے زبان گھس جاتی ہے، تو اس کا انکار بھی کر دیتے ہیں۔

دوسری عبارت میں وہ پہلی بات کا رد کر کے کہتے ہیں عیسیٰ ابن مریم کہلائے گا۔ یہ کہلائے گا بھی خوب ہے۔ ذرا سو اور ہے غلام احمد، پسر چراغ بی بی ، وہ عیسیٰ ابن مریم کہلائے گا ک بہر حال پہلی بات کا دوسری دفعہ میں انکار ہے۔

تیسری عبارت میں پہلی دونوں باتوں کا انکار کر کے کہتے ہیں کہ میں نہ مسیح موعود بلکہ مسیح موعود کے مثل ہوں۔

چوتھی عبارت میں پہلے سب دعوؤں کو بھول جاتے ہیں یعنی وہ خود سب سے بڑے مہدی ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے امت کے علماء اور چاروں اماموں کا اتفاق ہے۔ جیسے یہود کہتے بھلا کہاں چاروں امام و محدثین اور کہاں مرزا قادیانی۔ آ پ کو ڈوب مرنا چاہئے۔ ادھر چاروں امام اور تمام مدعی نبوت کے کافر ہونے

٤٥

صفحہ ١٤٣

ہیں ۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

نزدیک مسلم ہے۔ پس میں وہی مہدی ہوں ۔“

(چشمہ معرفت، خزائن ج ٢٣ ص٢)

(حقیقت الوحی ص ١٨٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٠)

اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ۔ ان کے انکار کی وجہ سے کوئی کافر نہیں بن جاتا ۔“

(تریاق القلوب ص ١٣١، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢ حاشیہ)

(حقیقت الوحی ص ١٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

پہلے عبارت میں مرزا اپنے مہدی ہونے کا انکار کر کے کہتے ہیں کہ میں مسیح موعود ہوں ۔ مسیح تو سب کو معلوم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں ۔ یہ مسیح موعود کیا ہوتا ہے۔ یہ مرزا قادیانی کی ذاتی اصطلاح ہے۔ اس کے معنے ہیں ایسا مسیح جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ایسا ظاہر ہے کہ ان کے بغیر ان کے ہاں اور کون ہو سکتا ہے؟۔ اب وہ ہیں اور مسیح موعود کی رٹ ہے۔ مگر جب کبھی اس سے زبان گھس جاتی ہے۔ تو اس کا انکار بھی کر دیتے ہیں۔

دوسری عبارت میں وہ پہلی بات کا رد کر کے کہتے ہیں کہ میں مہدی ہوں مگر وہ مہدی جو عیسیٰ ابن مریم کہلائے گا۔ یہ کہلائے گا بھی خوب ہے۔ ذرا سوچئے جو آدمی عیسیٰ ابن مریم ہے نہیں اور ہے غلام احمد پسر چراغ بی بی ، وہ عیسیٰ ابن مریم کہلائے گا کیسے اور کوئی اسے یہ مانے گا کیسے۔ بہر حال پہلی بات کا دوسری دفعہ میں انکار ہے۔

تیسری عبارت میں پہلی دونوں باتوں کا انکار کر کے کہتے ہیں کہ میں نہ مہدی ہوں اور نہ مسیح موعود بلکہ مسیح موعود کے مثل ہوں ۔

چوتھی عبارت میں پہلے سب دعوؤں کو بھول جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم یعنی وہ خود سب سے بڑے مہدی ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے سب سے بڑے مہدی ہونے پر تمام امت کے علماء اور چاروں اماموں کا اتفاق ہے۔ جیسے یہود کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم یہودی تھے۔ بھلا کہاں چاروں امام ومحدثین اور کہاں مرزا قادیانی۔ آدمی کا جھوٹ بھی کسی سلیقہ سے ہونا چاہئے ۔ ادھر چاروں امام اس مدعی نبوت کے کافر ہونے پر متفق ہیں ۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ تو

٤٥

صفحہ ١٤٤

یہاں تک ہے کہ مدعی نبوت سے اس کی نبوت کی دلیل طلب کرنے والا بھی کافر ہوتا ہے۔ یعنی اگر کوئی اس سے پوچھے کہ تو شریعت والا نبی ہے یا بے شریعت تو بھی کافر ہو جاتا ہے اور امام ابو حنیفہؒ نے اپنی کتاب فقہ اکبر میں اہل سنت کے عقائد میں یہ عقیدہ بھی شامل کیا ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا مانا جائے۔ بتائیے مرزا قادیانی کب آسمان سے نازل ہوئے ہیں۔

پانچویں عبارت میں وہ پہلے سب باتوں کا انکار کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسیح مثل مسیح اور سب کچھ ٹھہراتے ہیں۔ داد دیجئے اس تخلیقی دماغ کی ۔

چھٹی عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ جو ملہم متکلم اور نبی ہو اور سب کچھ ہو۔ جیسے وہ خود ہیں اور نئی شریعت نہ لایا ہو تو اس کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ اس نکتہ پر ان کے امتیوں کو غور کرنا چاہئے کہ وہ مسلمانوں کے پیچھے نماز کیوں نہ پڑھیں۔ جبکہ ان کے پیغمبر صاحب اپنے نہ ماننے والوں کو مسلمان بتاتے ہیں۔

ساتویں عبارت میں وہ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اوپر کی بات کا رد کر کے کہتے ہیں کہ مجھے نہ ماننے والا اور کافر کہنے والا دونوں خدا کے نزدیک برابر ہیں اور ایک قسم ہیں۔ اس سے اوپر کی بات پوری طرح رد ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے چارے قادیانیوں کے سب کو سلام کہنے اور کسی کو مسلمان نہ ماننے کی۔

نزول مسیح

اسلام جمیع اقطار آفاق میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ حصہ ٣ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ)

(تحفہ بغداد ص ٢٨، خزائن ج ٧ ص ٣٢)

(کرامات الصادقین ص ٢٥، خزائن ج ٧ ص ١٥٢)

(ازالۃ اوہام ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩)

کے ساتھ بھی آوے اور ممکن ہے کہ دمشق میں ہی نازل ہو۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٩٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥١)

٤٦

١٤٥

پہلی عبارت میں مرزا قادیانی تمام مسلمانوں کو اور اسلام کو غالب دکھانا مانتے ہیں۔ دوسری عبارت میں اس ماننے والے کو کافر کہتے ہیں۔ یعنی اپنے آپ کو، تیسری عبار کہ حضرت مسیح کو جو مردہ نہ مانے وہ مسلمان نہیں اور خدائے ہیں کہ مسیح میں ہوں اور اگر کوئی نازل ہوتا ہے تو نازل کر کے بات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت سے مسیح آسکتے ہیں عبارت میں وہ پھر پلٹ کر کہتے ہیں کہ مسیح نہیں آئے گا او ساتھ ایمان لانے کا قرآن میں بیان ہے۔ وہ ہر زمانے خلاصہ بیان سے یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ مرزا قادیانی اب ہم صرف آخری نکتہ کو لیں گے۔ جس کا تع ہے کہ پہلے وہ آیات بیان کی جائیں جن کی طرف اس میں

”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى بن صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا ف الا اتباع الظن وماقتلوه يقينا بل رفعه الله ال من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم

یہود کا کہنا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رس نے قتل کیا نہ اسے سولی دیا بلکہ وہ ان کے لئے شبہ بنا دیا گیا میں اختلاف کیا وہ اس کے متعلق شک میں ہیں۔ انہیں اسے انہوں نے یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی ہے اور کوئی اہل کتاب سے ایسا نہیں ہوگا جو اس پر اس ضرور لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔

ان آیات سے اول نظر میں یہ بات سامنے دعویٰ تھا اور اسی کا اللہ نے رد فرمایا ہے۔ ان کے سولی فرماتے ہوئے اللہ نے اسی سے یہود کو جھوٹا دکھایا مطل

٤٧

صفحہ ١٤٥

(ازالہ اوہام ص ٣٦٨، خزائن ج ٣ ص ٢٨٩)

پہلی عبارت میں مرزا قادیانی تمام مسلمانوں کی طرح حضرت مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا اور اسلام کو غالب دکھانا مانتے ہیں ۔ دوسری عبارت میں اسی عقیدہ کو ختم نبوت کے خلاف اس کے ماننے والے کو کافر کہتے ہیں ۔ یعنی اپنے آپ کو ، تیسری عبارت میں وہ اس سے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کو جو مردہ نہ مانے وہ مسلمان نہیں اور خدا سے دور ہے۔ چوتھی عبارت میں وہ کہتے ہیں کہ مسیح میں ہوں اور اگر کوئی نازل ہونا ہے تو نازل کر کے دکھاؤ۔ پانچویں عبارت میں وہ اوپر کی بات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت سے مسیح آسکتے ہیں اور وہ اصل مسیح بھی آسکتا ہے۔ چھٹی عبارت میں وہ پھر پلٹ کر کہتے ہیں کہ مسیح نہیں آئے گا اور جن کی آمد پر اہل کتاب کے اس کے ساتھ ایمان لانے کا قرآن میں بیان ہے۔ وہ ہر زمانے کے اہل کتاب کے بارہ میں ہے۔ اس خلاصہ بیان سے یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ مرزا قادیانی خود اپنے فیصلہ کے تحت کافر ہیں ۔

اب ہم صرف آخری نکتہ کو لیں گے۔ جس کا تعلق قرآن کے بیان سے ہے۔ مناسب ہے کہ پہلے وہ آیات بیان کی جائیں جن کی طرف اس میں اشارہ ہے۔ سورۃ النساء میں ہے:

"وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى بن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الااتباع الظن وماقتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزا حكيما ه وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا"

﴿یہود کا کہنا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ کو قتل کیا ہے حالانکہ نہ اسے انہوں نے قتل کیا نہ اسے سولی دیا بلکہ وہ ان کے لئے شبہ بنا دیا گیا ۔ سچ یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا وہ اس کے متعلق شک میں ہیں ۔ انہیں اس کا کچھ علم نہیں اور بس گمان کی پیروی ۔ اسے انہوں نے یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا ۔ اللہ غالب حکمت کا مالک ہے اور کوئی اہل کتاب سے ایسا نہیں ہوگا جو اس پر اس کی موت سے پہلے ایمان نہیں لائے گا ۔ ضرور لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا ۔﴾

ان آیات سے اول نظر میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہود کو حضرت مسیح کے لفظ قتل کا دعویٰ تھا اور اسی کا اللہ نے رد فرمایا ہے۔ ان کے سولی چڑھنے کا بیان انجیل میں ہے۔ اس کا رد فرماتے ہوئے اللہ نے اسی سے یہود کو جھوٹا دکھایا مطلب یہ کہ اگر وہ تمہارے ہاتھوں قتل ہوئے تو

٤٧

صفحہ ١٤٧

یہ سولی کا قصہ کیا ہے۔ پھر اس قتل اور سولی دونوں باتوں کا تقابل کر کے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سب عناصر شبہ کا شکار ہیں۔ جس کا ثبوت ان کے مختلف بیانات ہیں اور پھر سب کے رد میں فرمایا کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا نہ سولی سے اور نہ بغیر سولی کے۔ بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا ہے۔ آگے اس کی مزید تاکید میں یہ دلیل دی کہ وہ جس کے یہ قتل اور سولی کا دعویٰ کرتے ہیں، زندہ موجود ہے اور وقت آنے پر روئے زمین کے تمام اہل کتاب اس کی وفات سے پہلے اس پر ایمان لائیں گے۔ جن پر وہ قیامت کے دن گواہ ہوگا۔

اس سے واضح ہے کہ سولی کی موت کا لعنت ہونا اور اس لعنت کے رو سے حضرت مسیح کا درجہ بلند بتانا اور ان کے صلیب سے نہ مرنے پر اہل کتاب کا ایمان لانا۔ یہ تینوں باتیں جو مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں زوروشور سے بیان کی ہیں۔ قرآن نے ان کا نوٹس تک نہیں لیا۔ خود تورات میں جہاں یہ بات درج ہے وہاں مجرموں کی پھانسی اور سولی کا بیان ہے۔ جسے مرزا قادیانی نے کچھ سے کچھ بنادیا ہے۔ اب ان کا یہ کہنا کہ اہل کتاب خود اپنی موت کے وقت حضرت مسیح کے سولی سے نہ مرنے پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ کس قدر بے بنیاد ہے۔ یہودی جو پہلے ہی ان کی سولی کے قائل نہیں۔ ان کا اس پر ایمان لانا کیا معنے اور اس کا کوئی اشارہ قرآن میں کہاں ہے۔ یہاں تو ایسے ایمان کا ذکر ہے جس سے یہود ونصاریٰ دونوں محروم ہیں۔ کیونکہ اہل کتاب وہ دونوں ہیں نہ کہ تنہا ان میں سے ایک اور ایمان بھی وہ ہے جو ہمیشہ سے مومنوں کا شیوہ رہا ہے اور جس کا ایک جزو حضرت مسیح کا سولی سے بچنا نہیں بلکہ ان کا زندہ اور قابل نزول ماننا ہے۔ ایسا ایمان سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ حضرت مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ نہ خدا ہیں نہ خدا کے بیٹے اور نہ ناجائز باپ کے بیٹے اور نہ مردہ۔

ہم نے اوپر قرآن کی جو آیات دی ہیں ان کے مضمون پر غور کیجئے۔ اس میں حضرت مسیح کے گیارہ عدد ضمیر ہیں۔ ان میں دسویں ضمیر کے تحت موت کا ذکر ہے۔ وہ بھی حضرت مسیح کا ضمیر ہے اور اس کی وفات اور قتل کا رد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ ضمیر اپنے سے پہلے قریب تر اسم یا ضمیر کی جگہ کام کرتا ہے۔ اس وجہ سے جب نواں ضمیر حضرت مسیح کا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ دسواں ضمیر ان کا نہ ہو اور کسی دور والے اسم کا ہو۔ یہ ایک نہایت اہم قاعدہ ہے جس کو انسان اگر کہیں اپنے ناقص علم کی وجہ سے توڑ دے تو یہ اس کی غلطی ہوتی ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق ایسا گمان کرنا بہت بڑی زیادتی ہے اور پھر یہ فیصلہ بندوں پر چھوڑا کہ وہ چاہیں تو اسے کافر کا ضمیر مانیں اور چاہیں تو نبی کا۔ اس اصول کے تحت جب دسواں ضمیر حضرت مسیح کا ہے تو اس سے ثابت ہے کہ ٤٨

حضرت مسیح زندہ ہے۔

مرزا قادیانی یہاں ایک عجیب کھیل کھیلے ہیں۔ وہ سے پتہ چلتا ہے کہ آیت میں جن کی موت کا ذکر ہے وہ ایک ایمان بھی وہ مرتے وقت خدا اور آخرت پر نہیں لاتے بلکہ سولی پر نہیں مرے یہ قرآت جو محاورہ اور روزمرہ کے بالکل خلاف ہوگا۔ ہمیں تو اس کا کہیں سراغ نہیں مل سکا۔ اس صورت میں کوئی ربط نہیں رہ جاتا اور نہ اس میں کوئی خصوصیت پائی جاتی ہے اہل کتاب مرنے سے پہلے اور زندگی کی حالت میں ایمان لا باقی رہتا ہے کہ حضرت مسیح گواہ کن لوگوں پر ہوں گے۔ اپنی کسی اور پر۔ اگر پہلی بات ہے تو پھر اس قرآت کی طرف ج کچھ نہ پڑا۔ اس صورت میں بھی حضرت مسیح جب نزول ف والے تمام اہل کتاب کے قیامت کو گواہ ہوں گے۔

باپ کا نام بیٹے کو

"حضرت اسماعیل بخاری صاحب کا مذہب یہ کہ سچ مچ ابن مریم آسمان سے اترے گا۔" مرزا قادیانی نے امام بخاری کا نام سب جگہ ا اسماعیل ان کے باپ کا نام تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے میں تمام اہل سنت اور مسلمانوں کے خلاف عقیدہ پر تھے۔ اور اس کا انہیں شعور تک نہ ہوسکا۔ اسی طرح ابن عباسؓ پر قائم کر دکھایا۔ جھوٹ میں یہ جسارت جس امام کی ہو اس صرف اتنا تھا کہ امام بخاری ابن عباسؓ سے روایت لاتے وفات دوں گا۔ بس اتنی بات پر مرزا قادیانی نے ڈھول بخاری کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام مرگئے ہیں او مطلب یہ نہیں کہ وہ فوت ہوگئے ہیں۔ اگر چہ بجائے خو وعدہ دلانا بشارت ہے اور نہ اطلاع۔ اسی طرح ان کا ک وہی مانو اور بخاری میں حدیث ہے کہ امام مہدی کے تشری ٤٩

صفحہ ١٤٧

حضرت مسیح زندہ ہے۔

مرزا قادیانی یہاں ایک عجیب کھیل کھیلے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی ایک اور قرأت سے پتہ چلتا ہے کہ آیت میں جن کی موت کا ذکر ہے وہ ایمان لانے والے اہل کتاب ہیں اور ایمان بھی وہ مرتے وقت خدا اور آخرت پر نہیں لاتے بلکہ اس بات پر لاتے ہیں کہ حضرت مسیح سولی پر نہیں مرے یہ قرأت جو محاورہ اور روزمرہ کے بالکل خلاف ہے۔ اس کا علم تنہا مرزا قادیانی کو ہوگا۔ ہمیں تو اس کا کہیں سراغ نہیں مل سکا۔ اس صورت میں اس بیان کا قتل اور سولی کے ذکر سے کوئی ربط نہیں رہ جاتا اور نہ اس میں کوئی خبریت پائی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ کوئی بتانے کی بات نہیں کہ اہل کتاب مرنے سے پہلے اور زندگی کی حالت میں ایمان لائیں گے۔ مگر اس کے بعد بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ حضرت مسیح گواہ کن لوگوں پر ہوں گے۔ اپنی موجودگی میں ایمان لانے والوں پر یا کسی اور پر۔ اگر پہلی بات ہے تو پھر اس قرأت کی طرف جانے سے بھی مرزا قادیانی کے پلے تو کچھ نہ پڑا۔ اس صورت میں بھی حضرت مسیح جب نزول فرمائیں گے تو اپنے اوپر ایمان لانے والے تمام اہل کتاب کے قیامت کو گواہ ہوں گے۔

باپ کا نام بیٹے کو

”حضرت اسماعیل بخاری صاحب کا مذہب یہی تھا۔ وہ ہرگز اس بات کے قائل نہ تھے کہ مسیح ابن مریم آسمان سے اترے گا۔“

(ازالہ اوہام ص٩٦، خزائن ج٣ ص١٥٣)

مرزا قادیانی نے امام بخاری کا نام سب جگہ اسماعیل اور محمد اسماعیل لکھا ہے۔ حالانکہ اسماعیل ان کے باپ کا نام تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے امام پر یہ بہتان باندھا کہ وہ نزول مسیح میں تمام اہل سنت اور مسلمانوں کے خلاف عقیدہ پر تھے۔ یہ وہ جھوٹ ہے جس پر تمام عمر قائم رہے اور اس کا انہیں شعور تک نہ ہو سکا۔ اسی طرح ابن عباسؓ پر جھوٹ کہ اس جھوٹ پر تمام صحابہ کا اجماع قائم کر دکھایا۔ جھوٹ میں یہ جسارت جس امام کی ہو اس کے امتی جو جھوٹ بولیں کم ہے۔ قصہ صرف اتنا تھا کہ امام بخاری ابن عباسؓ سے روایت لائے کہ اللہ نے فرمایا تھا کہ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا۔ بس اتنی بات پر مرزا قادیانی نے ڈھول بجایا کہ ابن عباسؓ و تمام صحابہؓ اور امام بخاریؒ کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام مر گئے ہیں اور یہ تک نہ سمجھ پائے کہ وفات دوں گا کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فوت ہو گئے ہیں۔ اگرچہ بجائے خود یہ معنی بھی درست نہیں۔ کیونکہ وفات کا وعدہ نہ تو بشارت ہے اور نہ اطلاع۔ اسی طرح ان کا کہنا کہ حدیث قرآن کے مطابق ہو صرف وہی مانو اور بخاری میں حدیث ہے کہ امام مہدی کے تشریف لانے پر آسمان سے آواز آئے گی کہ

٤٩

صفحہ ١٤٩

یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے۔ حالانکہ بخاری میں یہ سب باتیں موجود نہیں اور خود انہوں نے لکھا ہے کہ مہدی کے بارہ میں کوئی حدیث بھی صحیح نہیں اور یہ کہ نبی اگر غلطی کرتا ہے تو اس پر قائم نہیں رہتا۔ مسلمانوں کے ہاں تو نبی غلطیوں سے پاک ہوتے ہیں۔ مگر یہ جھوٹ جو انہوں نے جوڑے ہیں۔ ان کی وجہ سے تو وہ خود اپنے معیار کے مطابق بھی جھوٹے ہیں۔

ختم نبوت

(ست بچن ص ٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٨)

ہوں۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ٢٠٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٧٤)

النبیین رکھا ہے۔“

(تحفہ بغداد ص ٢٨، خزائن ج ٧ ص ٣٣)

پر ختم ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

انداز نہیں۔“

(کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦)

پہلی عبارت میں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ قرآن وحدیث کے جو معنے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائے ہیں انہیں ترک کرنا بے ایمانی ہے۔ دوسری عبارت میں وہ اس اصل کے ساتھ صحابہ و تابعین کے اجماع کو بھی ملا کر کہتے ہیں کہ ان کی رائے کے خلاف معنے کرنا بھی ظلم ہے۔ تیسری عبارت میں کہتے ہیں کہ اللہ نے آنحضور ﷺ کو خاتم النبیین فرماتا ہے اور آپ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ چوتھی عبارت میں وہ اقرار کرتے ہیں کہ نبی آخر الزمان پر تمام نبوتیں ختم ہیں۔ خواہ وہ اصل ہوں یا ظلی۔ امتی ہوں یا بروزی پانچویں عبارت میں وہ اوپر کی تمام پابندیوں کو دھرا چھوڑ دیتے ہیں اور بغیر کسی دلیل کے تمام صحابہ اور ساری امت کے خلاف چل کر کہتے ہیں کہ اطاعت میں فنا ہو کر نبی بن بیٹھنا ختم نبوت کے خلاف نہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ ختم نبوت کے یہ معنے صحابہ واہل بیت میں کس نے بتائے ہیں۔ یہ سوچنا آپ کا کام ہے کہ یہ طرز بے ایمانی ہے یا ظلم یہ اطاعت میں فنا ہونا اور پھر فنا ہو جانے کے بعد نبی بن جانا بھی خوب ہے۔

٥٠

یہ بات کہ صحابہؓ گو اطاعت میں فنا ہونے سے نبوت کیو مرزا قادیانی دو باتیں کہتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کی استعداد ناقص تھی معاذ اللہ ! دوسری یہ کہ اس وقت اور نبی کی ضرورت نہ تھی۔ یہ دونو ہونے کے ساتھ متضاد ہیں۔ اگر استعداد شرط تھی تو صحابہؓ کی استعدا اطاعت میں فنا ہونا کیوں شرط ہوا اور اگر دونوں باتیں شرط تھیں تو اس کے ساتھ اب مزید مدت کی شرط کیوں لگائی گئی۔ ایک آدمی اگر دکھاتا ہے تو کیا وہ اس وجہ سے ناکام مانا جائے گا کہ اس فن کی ضرور ہے اس میں اگر ہماری سمجھ معیار ہو تو اس وقت بیرون عرب نبی کی ض ابھی تک اسلام نہیں پہنچا۔ سب باتیں وارفتگی کی یہ کہی جاتی ہیں۔ دوسری طرف خدا اور رسول کی اطاعت میں کیا دھوکا رسول خدا کا یہ فرمانا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ دعویٰ نبوت کی د جو کلمہ گو امتی آپ ﷺ کی اس ممانعت کو خاطر میں نہیں لاتا وہ اطاعت گزار ہو سکتا ہے۔ کوئی نیکی کا کام نہ کرنے والا مسلمان بھی یہی وجہ ہے کہ اسلامی شریعت میں اس جرم کی سزا قتل اور صرف قت نبی تراش بتائے جہاں ہر آن نبی تراشے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ دیکھئے کہ اطاعت کرتے کرتے نبی ہے۔ جس سے وہ کہتے ہیں کہ ختم نبوت میں خلل نہیں آتا۔ دوسر عقیدہ قرآن وحدیث میں موجود ہے۔ اس کے متعلق کہتے ہیں ہے؟ حالانکہ ختم نبوت اور نزول مسیح کا عقیدہ دونوں جب شریع کھڑکی پھبتی کسنا کیا معنے؟ مگر جب وہ خود نبوت کا دروازہ چہ جاتے ہیں۔ کیونکہ ہم جو کہہ بیٹھے پر اڑ جاتے ہیں۔ اس طرح خ جاسکتا ہے۔

تہذیب کا نمونہ

(ہا

٥١

صفحہ ١٤٩

یہ بات کہ صحابہؓ کو اطاعت میں فنا ہونے سے نبوت کیوں نہ ملی۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی دو باتیں کہتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کی استعداد ناقص تھی اور میری استعداد کامل ہے۔ معاذ اللہ! دوسری یہ کہ اس وقت اور نبی کی ضرورت نہ تھی۔ یہ دونوں باتیں انتہائی غلط ہیں اور غلط ہونے کے ساتھ متضاد ہیں۔ اگر استعداد شرط تھی تو صحابہؓ کی استعداد میں کیا کمی تھی اور اس کے ساتھ اطاعت میں فنا ہونا کیوں شرط ہوا اور اگر دونوں باتیں شرط تھیں تو صحابہؓ میں دونوں موجود تھیں۔ اس کے ساتھ اب مزید مدت کی شرط کیوں لگائی گئی۔ ایک آدمی اگر ایک فن میں کامیابی اور مہارت دکھاتا ہے تو کیا وہ اس وجہ سے ناکام مانا جائے گا کہ اس فن کی ضرورت نہیں اور جو ضرورت کی بات ہے اس میں اگر ہماری سمجھ معیار ہو تو اس وقت بیرون عرب نبی کی ضرورت تھی اور بعض علاقوں میں ابھی تک اسلام نہیں پہنچا۔ سب باتیں وارفتگی کی یہ کہی جاتی ہیں۔

دوسری طرف خدا اور رسول کی اطاعت میں کیا دعوائے نبوت کی ممانعت شامل نہیں؟ رسول خدا کا یہ فرمانا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ دعویٰ نبوت کی ممانعت ہی تو ہے اور آپﷺ کا جو کلمہ گو امتی آپﷺ کی اس ممانعت کو خاطر میں نہیں لاتا وہ ظاہر ہے کہ آپﷺ کا کتنا بڑا اطاعت گزار ہو سکتا ہے۔ کوئی نیکی کا کام نہ کرنے والا مسلمان بھی اس سے بڑھ کر مجرم نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی شریعت میں اس جرم کی سزا قتل اور صرف قتل ہے۔ کجا کہ وہ نبوت محمدی کو نئی تراش بتائے جہاں ہر آن نبی تراشے جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ یہ دیکھئے کہ اطاعت کرتے کرتے نبی بن جانا یہ ان کا اپنا الہام یا اجتہاد ہے۔ جس سے وہ کہتے ہیں کہ ختم نبوت میں خلل نہیں آتا۔ دوسری طرف حضرت مسیح کے نزول کا جو عقیدہ قرآن وحدیث میں موجود ہے۔ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ ختم نبوت کے بعد یہ کھڑکی ہے؟ حالانکہ ختم نبوت اور نزول مسیح کا عقیدہ دونوں جب شریعت میں ہیں تو ان میں سے ایک پر کھڑکی پھبتی کسنا کیا معنی؟ مگر جب وہ خود نبوت کا دروازہ چوپٹ کھولتے ہیں تو یہ کھڑکی بھول جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ جو کہہ بیٹھے پر اڑ جاتے ہیں۔ اس طرح ظاہر ہے کہ ہر حکم توڑنے کا بہانہ بنایا جاسکتا ہے۔

تہذیب کا نمونہ

(براہین احمدیہ ص ١٣٧، خزائن ج٢١ ص ٣٠٥)

(ازالہ اوہام ص ١٨٧، خزائن ج ٣ ص ١٩٠)

٥١

صفحہ ١٥١

طرح اس کے گرد ہو گئے تھے۔“

(تریاق القلوب ص ١٤٨، خزائن ج ١٥ ص ٣٦٣)

نے کہا نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ٹپچی ٹپچی۔ پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

پہلی عبارت میں مرزا قادیانی اپنے کسی گستاخ کو جلی کٹی سناتے ہوئے آپے سے باہر ہوتے ہیں۔ وحی ان پر بارش کی طرح برستی تھی اور پیشین گوئیاں انہیں جھاڑتے رہنے کا خبط تھا۔ جاتے جاتے ایک ساتھ کئی عدد پیشین گوئیاں سنا دیتے اور پھر عورت، مرد، بچے، بوڑھے مسلم، غیر مسلم اور پاگل تک کو گواہ بناتے ۔ ادھر کوئی خط ملا ۔ ادھر پاس والے ہندوؤں کو دہائی دینا شروع کر دی کہ دیکھو رام لال اتنے دنوں کے بعد اتنے روپے کا منی آرڈر آجائے گا۔ بھول نہ جانا اور گواہ رہنا۔ جہاں حالات یہ تھے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ان پیشین گوئیوں کی پڑتال نہ ہوتی ۔ چنانچہ پڑتال ہوئی اور مرزا قادیانی جب اپنی پیشین گوئیوں کے غلط معنے اور غلط تاویلیں کرتے کرتے تھک گئے تو آخر کار بازاری زبان پر اترنے کے لئے مجبور ہوئے۔ اب ان کے امتی اس کوشش میں ہوں گے کہ یہ کتوں کی عوعو بھی کہیں ”صاف صاف“ قرآن سے دکھائیں۔ کیونکہ وہ ان کی ہر بات قرآن سے دکھانے کے عادی ہیں اور خود مرزا قادیانی بھی اپنی گالیوں کی سند قرآن سے پہنچاتے تھے۔ معاذ اللہ!

دوسری عبارت میں کہتے ہیں کہ سب رسولوں کے گرد ان کے مخالف کتوں کی طرح جمع ہو گئے تھے۔ اس طرح انہوں نے رسولوں کی مدافعت کے رنگ میں اپنے آپ کو رسول اور اپنے مخالفوں کو کتے بنا دکھایا۔ اور یہ ہوشیاری قابل داد ہے۔

تیسری عبارت میں وہ اپنے ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں جو عربی میں ہے اور اس کا ترجمہ یہ ہے کہ کتا کتے کی موت مرے گا۔ یہ ان کا کوئی مکر ہوگا ۔مگر الہام خوب ہے۔ تہذیب سے دور ہونے کے ساتھ بے معنے ہے۔ اس کے شیطانی انجام ہونے میں کیا شبہ ہے۔ انہوں نے خود لکھا ہے کہ آدمی جب الہام کی خواہش کرے تو شیطان اسے الہام کرتا ہے اور یہ خواہش آپ کو معلوم ہے کہ ان کے بغیر اور کسے تھی؟۔

چوتھی عبارت میں وہ اپنے کسی خواب یا الہام کا تذکرہ کرتے ہیں کہ مجھے کسی نے بہت سے روپے دئیے۔ یعنی بلی کا خواب چھیچھڑے۔ جب میں نے اس سے نام پوچھا تو نہ بتایا۔ پھر

٥٢

پوچھا تو انہیں اپنے الہام پہنچانے والے پر یقین تھا۔ آخر اس کبھی کسی کی زبان پر نہیں آیا۔ یعنی ٹپچی، ٹپچی اور پھر پنجابی م بے معنے لفظ نہیں۔ بعض الہام انہیں انگریزی میں بھی ہو سے دور بات ہے۔ ایسے روپوں والے الہامات سے جن کہتے ہیں کہ دہریوں کو خدا کا قائل کیا جا سکتا ہے۔ سچ ہے:

گر تو قرآن بدیں نمط خوانی
جرد

لچکدار طرز

گیا۔“

مرزا قادیانی کو شاہ نعمت اللہ کی پیشین گوئی دیکھا کہ آخری زمانہ میں کسی مجدد کا نام احمد ہوگا۔ اس پ ہو سکتا ہے؟۔ لیجئے! شاہ نعمت اللہ کی تصدیق بھی ہمیں نہیں کہ اس میں کیا تھا۔ یہ ٹکڑا اس کا ایک سنا تھا:

دوکس بنام احمد گمراہ کند خلقت

یعنی احمد نام کے دو آدمی لوگوں کی گمراہی ایسے ہوں گے۔ یہ ان کی بات سولہ آنے درست ثاب الاماشاء اللہ گمراہی کے بغیر کچھ نہیں آیا۔ بہرحال مرزا ق اور احمد بنا کر اپنے آپ کو شاہ نعمت اللہ کی پیشین گو تیرھویں صدی کے اخیر میں آنا ہے۔ اس کے لئے ض

٥٣

صفحہ ١٥١

پوچھا تو انہیں اپنے الہام پہنچانے والے پر یقین تھا۔ آخر اسے بھی اپنا نام یاد آ گیا اور نام وہ بتایا جو کبھی کسی کی زبان پر نہیں آیا۔ یعنی ٹچی ٹچی، ٹیچی اور پھر پنجابی میں اس کے معنے بتا کر ظاہر کیا کہ یہ گویا بے معنے لفظ نہیں۔ بعض الہام انہیں انگریزی میں بھی ہوئے جو قرآن کے صریح خلاف اور عقل سے دور بات ہے۔ ایسے بوقلموں والے الہامات سے جن کی یہ شاندار عبارت اور ترکیب ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ دہریوں کو خدا کا قائل کیا جا سکتا ہے۔ سچ ہے:

گر تو قرآن بدیں نمط خوانی ببری رونق مسلمانی

لچکدار طرز

(آسمانی نشان ص ١٥، خزائن ج ٤ ص ٣٧٦)

(ازالۃ اوہام ص ١٨٦، خزائن ج ٣ ص ١٩٠)

(حقیقت الوحی ص ١٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٣)

(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٦٣ ، خزائن ج ٢١ ص ٨٠)

گیا۔“

(کشتی نوح ص ٨، خزائن ج ١٩ ص ٩)

مرزا قادیانی کو شاہ نعمت اللہ کی پیشین گوئی کہیں سے میسر آئی یا خود بنالی۔ اس میں دیکھا کہ آخری زمانہ میں کسی مجدد کا نام احمد ہوگا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ احمد ہمارے بغیر اور کون ہوسکتا ہے؟۔ لیجئے! شاہ نعمت اللہ کی تصدیق بھی ہمیں حاصل ہوگئی۔ مجدد کے متعلق تو ہمیں معلوم نہیں کہ اس میں کیا تھا۔ یہ ٹکڑا اس کا ایک سنا تھا:

دو کس بنام احمد گمراہ کند خلقت اور ہر کس بنام احمد گمراہ کند خلقت

یعنی احمد نام کے دو آدمی لوگوں کی گمراہی کا باعث ہوں گے۔ یا سب احمد نام والے ایسے ہوں گے۔ یہ ان کی بات سولہ آنے درست ثابت ہوئی ہے اور احمد نام والوں کا حصہ میں الا ماشاء اللہ گمراہی کے بغیر کچھ نہیں آیا۔ بہرحال مرزا قادیانی نے اپنے نام سے غلام کا لفظ جدا کیا اور احمد بنا کر اپنے آپ کو شاہ نعمت اللہ کی پیشین گوئی پر ڈھال دیا۔ اس کے بعد خیال آیا کہ تیرہویں صدی کے اخیر میں آنا ہے۔ اس کے لئے ضرورت ہوئی کہ ان کے نام کے تیرہ سو عدد

٥٣

صفحہ ١٥٣

ہوں۔ جو ظاہر ہے کہ احمد میں موجود نہیں۔ اس پر اپنے نام کا جو چھانٹ کر احمد بنایا تھا۔ پلاسٹک کی طرح بڑھایا اور وہ پھیل کر غلام احمد قادیانی ہو گیا۔ اب اگر بیسویں صدی سے ان نام کو ملانے کی ضرورت پیش آئی تو اس کے اول مرزا قادیانی اور اخیر خان ہندی پنجابی وغیرہ لگا کر پورا کر دکھاتے ورنہ ظاہر ہے کہ ماں باپ نے تو ان کے نام میں نہ قادیانی ملایا ہو گا اور نہ غلام کا ٹانکا ہوگا۔

تیسری عبارت میں وہ کسی مجلس کے آدمیوں کی تعداد ایسے الفاظ میں بتاتے ہیں جن کو کوئی جتنے آدمی سمجھ لے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔

چوتھی عبارت میں وہ قرآن کو پیچھے ڈال اور ڈارون کے نظریہ پر چل کر حضرت آدم علیہ السلام کو ماں باپ کے ہاں پیدا ہونے والا بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ جڑواں پیدا ہوئے اور پھر کہتے ہیں کہ دیکھ لو میں بھی جڑواں پیدا ہوا ہوں۔ یہ بات کوئی مسلمان تو نہیں کہہ سکتا۔

پانچویں عبارت میں اپنے آپ کو آدم اور خلیفہ ظاہر کرتے ہیں۔ گویا خود اپنے باپ ہوئے۔

متعدد جھوٹ

”حضرت مسیح نے جو حضرت یحییٰ کی نسبت سے کہا تھا کہ جو ایلیا جو آنے والا تھا یہی ہے۔ جمہور کے اجماع کے خلاف تھا۔ اس وجہ سے انہوں نے نہ مسیح قبول کیا۔ نہ یحییٰ کو۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٣٤٧)

اس تھوڑی سی عبارت میں مرزا قادیانی نے جھوٹوں کا انبار لگا دیا ہے اور یہی ریت کا تودہ بنیاد ہے ان کے مثل مسیح ہونے کی۔ نہ تو حضرت مسیح نے لوگوں سے یہ فرمایا کہ ایلیا کے مثل کسی کو آنا تھا اور وہ یحییٰ ہی ہے اور نہ ہی یہ بات لوگوں کے اجماع کے خلاف تھی اور نہ اس وجہ سے لوگ حضرت مسیح اور حضرت یحییٰ کے منکر ہوئے۔ انہوں نے صرف اپنے شاگردوں سے یہ فرمایا تھا جو شاید وہ حضرت یحییٰ کے حق میں سمجھے ہوں گے اور وہ ان دونوں حضرات کو نبی مانتے تھے۔ انجیل کی اصل عبارت ہی آپ دیکھیں اور پھر یہ بھی معلوم کریں کہ اس خالص جھوٹ پر مرزا قادیانی کے مثل مسیح ہونے کا گھروندا کیسے تعمیر ہو گیا؟۔ نہ ایلیا کا آسمان کو جانا تسلیم کیا اور نہ ان کا آسمان سے اترنا دکھائی دیا اور خود اپنی طرف سے حضرت یحییٰ کو ان کے مثل گردانا اور اس کے بعد کہا کہ نہ حضرت مسیح آسمان پر اٹھائے گئے اور نہ آسمان سے نازل ہوں گے اور مجھے اسی طرح ان کے مثل مانو جیسے یحییٰ ایلیا کے مثل تھے۔ مگر یحییٰ نے کب کہا تھا کہ مجھے ایلیا مانو۔ یہاں تو بات اور ہے۔ حیرت تو ان کے قادیانی اور لاہوری امتیوں پر ہے جو دن میں دس دس مرتبہ اس کہانی کو سبق کی

٥٤

طرح دہراتے ہیں اور اس پر تقریریں اور مناظرے ک اور نہیں سوچتے کہ کتنے بڑے دھوکہ میں انہیں ڈالا گیا ہ

ساتھ لے کر جلجال سے چلا۔“

تجھے معلوم ہے کہ خداوند آج تیرے سر پر سے تیرے ا

لئے کیا کروں۔“

نے ان دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیا بگولے میں آسمان

پاس بھیجوں گا۔“

لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ ایلیا تو آچکا اور انہوں ن اسی طرح ابن آدم ان کے ہاتھ سے دکھ اٹھائ بپتسمہ دینے والے کی بابت کہا۔“

ان نکات پر آپ غور کریں۔ ان میں ک ہے یا کسی نے اپنے کو آسمان سے نازل ہونے وال موجود ہے یہ ہے کہ ایلیا ء کو خدا نے بگولے میں آس کے شاگردوں نے ان سے باتیں کرتے دیکھے ا بھی انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ بتا دیا تھا کہ و مسیح کے متعلق انجیل میں اور خود قرآن وحدیث م دوبارہ نازل ہوں گے۔ یہ بات مرزا قادیانی ک جوڑتے ہیں جو خود ان کے ماننے والوں کے بغیر

صفحہ ١٥٣

طرح دہراتے ہیں اور اس پر تقریریں اور مناظرے کرتے ہیں جس کا کوئی ایک جزو بھی صحیح نہیں اور نہیں سوچتے کہ کتنے بڑے دھوکہ میں انہیں ڈالا گیا اور وہ لوگوں کو ڈال رہے ہیں۔

ساتھ لے کر جلجال سے چلا۔"

(سلاطین باب ٢ ص ٣١٦)

تجھے معلوم ہے کہ خداوند آج تیرے سر پر سے تیرے آقا کو اٹھا لے گا۔"

(سلاطین باب ٢ ص ١٦)

لئے کیا کروں۔"

(سلاطین باب ٢ ص ٣١٦)

نے ان دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیا بگولے میں آسمان پر چلا گیا۔"

(سلاطین باب ٢ ص ٣١٦)

پاس بھیجوں گا۔"

(ملاکی باب ٤ ص ٨٩٣)

(مرقس باب ٨ ص ٤٢ ، متی باب ١٧ ص ٤١)

لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ ایلیا تو آچکا اور انہوں نے اسے نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا۔ اسی طرح ابن آدم ان کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ اب شاگرد سمجھ گئے کہ اس نے انہیں یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بابت کہا۔"

(متی باب ١٧ ص ٤١)

ان نکات پر آپ غور کریں۔ ان میں کہیں یہ بات نہیں پائی جاتی کہ کوئی کسی کی مثل آیا ہے یا کسی نے اپنے کو آسمان سے نازل ہونے والے کی مثل بنایا تھا۔ جو بات ان میں واضح طور پر موجود ہے یہ ہے کہ ایلیاہ کو خدا نے بگولے میں آسمان پر اٹھایا اور پھر وہ نازل ہوئے۔ حضرت مسیح کے شاگردوں نے ان سے باتیں کرتے دیکھے اور پھر غائب ہو گئے اور اٹھائے جانے سے پہلے بھی انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ بتا دیا تھا کہ خدا مجھے اٹھانے والا ہے۔ ٹھیک یہی بات حضرت مسیح کے متعلق انجیل میں اور خود قرآن وحدیث میں موجود ہے کہ اللہ نے انہیں اٹھا لیا ہے اور وہ دوبارہ نازل ہوں گے۔ یہ بات مرزا قادیانی کو راس نہیں آئی اور اس کی بجائے ایک ایسی کہانی جوڑتے ہیں جو خود ان کے ماننے والوں کے بغیر کسی کا دماغ قبول نہیں کرتا۔

٥٥

صفحہ ١٥٥

انجیل کا یہ بیان کہ ایلیا آئے گا اور سب کچھ بحال کر دے گا اور پھر ساتھ یہ کہ ایلیا تو آچکا ہے اور انہوں نے اسے پہچانا نہیں۔ یہ دونوں باتیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ مگر یہ کہیں بھی موجود نہیں کہ کسی نے اٹھ کر کہا ہو کہ چھوڑو ایلیا کو وہ مر گیا ہے اور میں اس کے مثل ہوں۔ جیسے مرزا قادیانی کا کردار ہے۔ حضرت مسیح کے شاگردوں کے متعلق جو ہے کہ انہوں نے ایلیاء کی آمد حضرت یحییٰ کے حق میں سمجھی۔ یہ بھی نہ حضرت مسیح کی بات ہے اور نہ ان کے شاگردوں کی اور بس کاتب انجیل کا بیان ہے۔ اس لئے کسی بھی سند کے قابل نہیں اور نہ ہی مرزا قادیانی کے حالات سے مناسبت رکھتا ہے۔

دوسری طرف یہ حضرت ایلیاء کا اپنا ارشاد ہے کہ خدا مجھے اٹھالے گا اور ملاکی نبی کا بیان ہے کہ خدا انہیں نازل کرے گا اور حضرت مسیح کے شاگردوں کا مشاہدہ ہے کہ خدا نے ان کو نازل کیا۔ نص اور سند تو اس کا نام ہے۔ نہ اس کا کہ شاگرد کچھ سمجھے۔ نامعلوم سمجھے بھی یا نہیں اور پھر ان کے کچھ سمجھنے سے یحییٰ ایلیا کے مثل ہو گیا اور مرزا قادیانی مسیح کے مثل ہو گئے اور ان کا کچھ سمجھنا حضرت مسیح کا ارشاد ہو گیا۔

میں مسلمان ہوں

"میں کوئی نیا دین یا نئی تعلیم لے کر نہیں آیا بلکہ میں بھی تمہاری طرح تم میں سے ایک مسلمان ہوں۔"

(ازالہ اوہام ص ١٨٢، خزائن ج ٣ ص ١٨٧)

اس عبارت میں مرزا قادیانی اپنے آپ کو ایک مسلمان اور صرف مسلمان ظاہر کر کے کہتے ہیں کہ میں دین میں کوئی نئی بات ملانے یا اس سے کچھ کم کرنے نہیں آیا۔ اب آپ اس سوال میں نہ جائیے کہ پھر آپ نبی بن کر آئے کس لئے ہیں؟۔ ہم یہاں ان کی نئی باتوں کی ایک فہرست دے کر ثابت کریں گے کہ انہوں نے اس ایک بات میں سو مرتبہ جھوٹ بولا ہے اور کم از کم سو باتیں ایسی کہی ہیں جن کا کوئی مسلمان قائل نہیں۔

٥٦

٥٧

صفحہ ١٥٥

اور پھر ساتھ یہ کہ ایلیا تو تی ہیں۔ مگر یہ کہیں بھی کے مثل ہوں۔ جیسے مرزا ہوں نے ایلیاہ کی آمد کے شاگردوں کی اور بس زا قادیانی کے حالات

گا اور ملا کی نبی کا بیان کہ خدا نے ان کو نازل بھی یا نہیں اور پھر ان گئے اور ان کا کچھ سمجھنا

رح تم میں سے ایک

(خزائن ج ٣ ص ١٨٧)

مسلمان ظاہر کر کے ۔ اب آپ اس سوال اتوں کی ایک فہرست ہے اور کم از کم سو باتیں

٥٧

صفحہ ١٥٧

٥٨...... صحابہ کا اجماع غلط ٥٧...... یہ دعویٰ کہ نبی وحی کو نہیں سمجھتا ٦٠...... مسیح کے قتل دجال پر اتفاق نہ کرنا ٥٩...... وفات مسیح پر اہل کتاب کا اجماع ٦٢...... دس ہزار مسیح کی آمد ممکن ٦١...... نبی آخرالزمان کی آمد پہلی کتابوں میں نہ تھی ٦٤...... ابن عباس پر وفات مسیح کا الزام ٦٣...... آیات مسیح متشابہات ہیں ٦٦...... عذاب جہنم وقتی ہوگا ان کے خلیفہ دوزخ کے منکر ٦٥...... یاجوج ماجوج کا انکار ٦٨...... مسیح کو عجیب کاموں میں مہارت تھی ٦٧...... مغرب سے طلوع آفتاب کا انکار ٧٠...... صفات باری میں تعطل ٦٩...... مسیح و مہدی ایک ہیں ٧٢...... حضرت مسیح کی تکفیر ہوگی ٧١...... نبوت و ختم نبوت لفظی نزاع ٧٤...... شہید کو نبی پر جزوی فضیلت ٧٣...... مجازی نبوت ٧٦...... تقدیر کا انکار ٧٥...... صفات باری میں فرق ٧٨...... اپنا نام تمام اور خدا کا نام تمام ٧٧...... خدا کے عدل کا انکار ٨٠...... ضرورت سے نبوت ٧٩...... استعداد سے نبوت ٨٢...... میرا معجزہ پہلے معجزوں سے افضل ٨١...... اطاعت سے نبوت ٨٤...... خدا میرے ساتھ ہے ٨٣...... خدا کی صفت غضب سے انکار ٨٦...... جو مجھے ملا کسی کو نہیں ملا ٨٥...... خدا میرے پیچھے ٨٨...... صحابہ کے سچے اتباع سے انکار ٨٧...... توفی کے معنی مسیح مر گیا ٩٠...... الہام برابر وحی ہونے پر اجماع ٨٩...... صحابہ کی استعداد سے انکار ٩٢...... مسیح مجازی نبی ٩١...... مباہلہ ٩٤...... قبول اسلام کے بغیر نجات ممکن ٩٣...... مسیح ایک عام مسلمان ٩٦...... مسیح کو آسمان سے اتارنا ٩٥...... نزول مسیح کی احادیث میں استعارہ ہے ٩٨...... تیرہویں صدی پر مسیح کی آمد پر اجماع ٩٧...... خدا اور تمام انبیاء نے مجھے مسیح سے افضل ٹھہرایا ہے ١٠٠...... احادیث میں دجال استعارہ ہے ٩٩...... قبروں میں سانپ بچھو دکھاؤ ١٠١...... قرآن استعارات سے بھرا ہے

٥٨

مقابلہ سے فرار

اشاعۃ السنۃ کے صفحات میں لکھا ہے کہ اس سے غلطیاں اور فتح الاسلام و توضیح المرام کے کلمات کفر کے متعلق بیگ کی موت کے متعلق جواب پیش کیا جائے اور پھر یہ سوال سے واقف ہو۔ پھر جوابات کے جواب کا جواب پوچھا جائے مقابلہ کی عربی تفسیر لکھنا ملہم ہونے کی کیا دلیل ہے۔ اس کے ان مراحل سے گزرنے کے بعد تفسیر عربی اور قصیدہ نعتیہ میں مقا

(کرامات

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی ک اس کے ہمراہ دوسرے علماء بھی تھے اور اس نے مقابلہ کی یہ شر پر ہم نے میدان چھوڑ کر بھاگنے بغیر چارہ نہ دیکھا اور بھاگ آ یہ پسپائی کی واحد مثال۔ بھلا بتائیے ان شرائط میں کون سی بات سچے کو یقین ہو وہ ہر ٹیڑھی چال کا مقابلہ کر کے غالب آتا ہے اور ب قادیانی کی اسی سنت پر اب قادیانیوں کا عمل ہے۔ انہیں اگر باتیں بنانے کو کہے تو وہ نہایت شاندار جرات کے ساتھ میدان ۔ مارتے ہیں کہ ان کی کسی بات کو سیدھا دکھانا محال سے زیادہ مشکل ۔

بزرگان امت پر بہتان

قادیانی کہتے ہیں کہ تیرہ بزرگ مرزا قادیانی عائشہ، امام راغب اصفہانی، محی الدین ابن عربی، ملا علی قا جیلانی، جناب عبدالوہاب شعرانی، محمد طاہر گجراتی، حضرت محمد قاسم نانوتوی، نواب صدیق حسن خان ۔

پہلے چار بزرگوں کو انہوں نے جس طرح اپنا بارے میں کھولا ہے۔ مولانا عبدالحئی نے حضرت مسیح کے قیاس

٥٩

صفحہ ١٥٧

مقابلہ سے فرار

اشاعۃ السنہ کے صفحات میں لکھا ہے کہ اس سے پہلے کتاب دافع الوسواس کی زبان غلطیاں اور فتح الاسلام وتوضیح المرام کے کلمات کفر کے متعلق ٨٥ سوالات کا جواب اور مرزا احمد بیگ کی موت کے متعلق جواب پیش کیا جائے اور پھر یہ سوال ہوگا کہ تم نجوم اور رمل اور مسمریزم سے واقف ہو۔ پھر جوابات کے جواب کا جواب پوچھا جائے گا۔ سلسلہ وار پھر ہم پوچھیں گے کہ مقابلہ کی عربی تفسیر لکھنا ملہم ہونے کی کیا دلیل ہے۔ اس کے علاوہ ملہم ہونے کی اور دلیل کیا ہے۔ ان مراحل سے گزرنے کے بعد تفسیر عربی اور قصیدہ نعتیہ میں مقابلہ کیا جائے گا۔“

(کرامات الصادقین ص ٢٣، خزائن ج ٧ ص ٦٤، ٦٥)

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کو ہم نے تفسیر میں مقابلہ کرنے کو کہا۔ اس کے ہمراہ دوسرے علماء بھی تھے اور اس نے مقابلہ کی یہ شرائط پیش کیں جو اوپر درج ہیں اور اس پر ہم نے میدان چھوڑ کر بھاگے بغیر چارہ نہ دیکھا اور بھاگ آئے۔ یہ ہے امتی کے ہاتھوں پیغمبر کی پٹائی کی واحد مثال۔ بھلا بتائیے ان شرائط میں کون سی بات بے جا ہے؟ جس شخص کو اپنی سچائی پر یقین ہو وہ ہر ٹیڑھی چال کا مقابلہ کرکے غالب آتا ہے اور کبھی پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لیتا۔ ٹھیک مرزا قادیانی کی اسی سنت پر اب قادیانیوں کا عمل ہے۔ انہیں اگر کوئی مرزا قادیانی کی باتوں کو موضوع بنانے کو کہے تو وہ نہایت شاندار جرأت کے ساتھ میدان سے بھاگ آتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی کسی بات کو سیدھا دکھانا محال سے زیادہ مشکل ہے۔

بزرگان امت پر بہتان

قادیانی کہتے ہیں کہ تیرہ بزرگ مرزا قادیانی کو نبی ماننے کے قائل ہیں۔ حضرت عائشہ، امام راغب اصفہانی، محی الدین ابن عربی، ملا علی قاری، مولانا روم، پیران پیر سید عبدالکریم جیلانی، جناب عبدالوہاب شعرانی، محمد طاہر گجراتی، حضرت شاہ ولی اللہ، مولانا عبدالحئی لکھنوی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، نواب صدیق حسن خان۔

پہلے چار بزرگوں کو انہوں نے جس طرح اپنا بنالیا ہے۔ اس کا پول ہم نے دو کتابوں میں کھولا ہے۔ مولانا عبدالحئی نے حضرت مسیح کے قیاس سے غیر شارع نبی کو دوسری زمینوں میں

٥٩

صفحہ ١٥٩

ممکن بتایا ہے۔ یہ فرضی قیاس ان کا غلط سہی۔ مگر انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اس سے زمین میں کوئی اور نبی پیدا ہوگا اور نانوتوی صاحب نے عشق رسول میں قریب قریب وہی کچھ کہا ہے جو منصور حلاج نے خدا کے عشق میں کہا تھا۔ دونوں کا حساب اللہ کے پاس ہے۔ نہ منصور خدا ہوا نہ کوئی طفیلی نبی ہے۔ مولانا روم کا یہ شعر مثنوی دفتر اول میں بتایا گیا ہے۔ جو وہاں موجود نہیں:

مگر کن در راہ نیکو خدمتے تا نبوت یابی اندر امتے

اس میں مکر و شرارت سے امتی آدمی کو نبی بن دکھانے کا سبق دلایا گیا ہے اور مرزا قادیانی نے یہی کچھ کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ شعر انہی کا ہو اور مولانا روم کے سر مڑھ دیا گیا ہو۔

حضرت پیران پیر صاحب کی جو عبارت کئی واسطوں سے نقل ہو کر آئی ہے۔ اس کا ترجمہ خود قادیانیوں سے ہی سنئے!

”بے شک اللہ تعالیٰ ہمیں خلوت میں اپنے کلام اور اپنے رسول کے کلام کے معنے سے آگاہ کرتا ہے اور اس مقام کا رکھنے والا انبیاء، اولیاء میں سے ہوتا ہے۔“ اس کے الفاظ پر غور کیجئے! اگر اس کا مطلب یہی ہے کہ مرزا قادیانی نبی ہیں تو حضرت پیران پیر صاحب کیوں نبی نہیں؟۔ انہوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں اور نہ ہی کوئی انہیں نبی مانتا ہے۔ یعنی مدعی سست گواہ چست۔

عبدالکریم جیلی کا انسان کامل ابن عربی کی فصوص الحکم ہے اور فصوص الحکم کے بارہ میں حضرت مجدد نے فرمایا تھا:

ما را نص باید نہ کہ فص

اس کا ترجمہ خود قادیانیوں سے سنئے: ”ہر نبی ولایت ولی مطلق سے افضل ہے اور اسی لئے کہا گیا ہے کہ نبی کا آغاز ولی کی انتہاء ہے۔“

خط کشیدہ الفاظ پکار رہے ہیں کہ نبی کی ابتدائی حدود کو چھونے سے پہلے ہی ولی کے سفر کی انتہاء ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے خیالی نبی ولایت کا عالم واقعہ میں کوئی وجود نہیں اور اس کے کوئی معنے نہیں۔ مصنف نے حضرت مسیح اور خضر کے قیاس پر اسے بامعنے بنانا چاہا۔ مگر مثال تو کسی ایسے کی ہونی چاہئے جو امتی سے نبی بنا ہو اور نبی مانا گیا ہو۔ تا کہ وہ قادیانیوں کے دعویٰ کے کام آئے۔

امام شعرانی کی طرف سے وہ بتاتے ہیں کہ صرف شارع نبی کا آنا منع ہے۔ غیر شارع

٦٠

نبی آ سکتا ہے اور شارع کیوں نہیں آ سکتا اس کی دلیل یہی ہے کہ شر تعلیم کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد غیر شارع نبی کے آنے کی دلیل ہوں گے۔ مگر یہ دونوں باتیں مرزا قادیانی کے خلاف ہیں۔ غیر شارع بغیر ڈھونڈنے سے نہیں ملتی اور اسے وہ مانتے نہیں۔

امام محمد طاہر نے جو کچھ لکھا ہے وہ حضرت عائشہؓ کے اس سند نہیں اور جس کے متعلق خود قادیانی مانتے ہیں کہ وہ بھی حضرت عیسیٰ اور نواب صدیق حسن خان کا نام وہ محض دھوکہ کے لئے لائے ہیں۔

اقتباس الانوار اور تفسیر ابن العربی سے بھی دو حوالے مسیح کسی نئے بدن سے نزول فرمائیں گے۔ ابن عربی نے تو آ کھینچا تانی کا موضوع بنا کر چھوڑا ہے جو ظاہر ہے کسی خدا رس ہو سکتا۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح کے نزول کا قادیانی دوستوں کے حوالے اور استدلال کا حال معلوم ہے۔ پھر دعویٰ ہے اور پہلی کتاب کی دلیل یہ نقل ہے کہ ایک حدیث میں م کوئی نہیں۔ مگر حدیث میں ان کے کسی بروزی جسم یا وجود کا بیان کوئی نام بتایا گیا ہے۔

دوسری طرف حدیث کی تحقیق کے ساتھ یہ بھی جاننا ض نزول فرمانے میں کیا خرابی ہے؟۔ جو ان کے بروزی جسم میں نہیں شکل بدل کر آنا کیوں اچھا ہوا؟۔ یہی صورت خدا کے بروز کے ب کو کیوں نہ صحیح مان لیا جائے۔ جو کچھ معقول بھی ہے۔ انسان کے ب

تاریخ طبری اردو جلد اول حصہ چہارم اور حصہ اول جل بتاتے ہیں کہ مسلمہ کذاب شارع نبی بنا تھا اور باغی تھا اور حضرت تھے۔ ذرا ان بستیوں سے آذان اور اقامت کو سن لیتا۔ اس سے میں مرزا قادیانی کی نبوت کو چھپاتے ہیں۔ اس کا جواب یہی ہے

بک رہا ہے جنون میں کیا کیا کچھ کچھ ن

٦١

صفحہ ١٥٩

نبی آ سکتا ہے اور شارع کیوں نہیں آ سکتا اس کی دلیل یہی ہے کہ شریعت محمدی کامل ہے۔ کسی نئی تعلیم کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد غیر شارع نبی کے آنے کی دلیل یہی ہے کہ حضرت مسیح نازل ہوں گے۔ مگر یہ دونوں باتیں مرزا قادیانی کے خلاف ہیں۔ غیر شارع نبی کی دلیل حضرت مسیح کے بغیر ڈھونڈنے سے نہیں ملتی اور اسے وہ مانتے نہیں۔

امام محمد طاہر نے جو کچھ لکھا ہے وہ حضرت عائشہؓ کے اس قول کی شرح ہے جس کی کوئی سند نہیں اور جس کے متعلق خود قادیانی مانتے ہیں کہ وہ بھی حضرت مسیح کے حق میں ہے۔ شاہ ولی اللہ اور نواب صدیق حسن خان کا نام وہ محض دھوکہ کے لئے لائے ہیں۔

اقتباس الانوار اور تفسیر ابن العربی سے بھی دو حوالے قادیانی لائے ہیں کہ حضرت مسیح کسی نئے بدن سے نزول فرمائیں گے۔ ابن عربی نے تو آنجناب کی پیدائش کو بھی فلسفیانہ کھینچا تانی کا موضوع بنا کر چھوڑا ہے جو ظاہر ہے کسی خدا سے ڈرنے والے آدمی کا کام نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح کے نزول کا بھی کیمیائی تجزیہ کیا ہو۔ اگرچہ قادیانی دوستوں کے حوالے اور استدلال کا حال معلوم ہے۔ پھر اس کی کسی دلیل کا وجود نہیں نرا دعویٰ ہے اور پہلی کتاب کی دلیل یہ نقل ہے کہ ایک حدیث میں ہے کہ مہدی حضرت مسیح کے بغیر کوئی نہیں۔ مگر حدیث میں ان کے کسی بروزی جسم یا وجود کا بیان نہیں اور نہ اس بات کے قائل کا کوئی نام بتایا گیا ہے۔

دوسری طرف حدیث کی تحقیق کے ساتھ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ خود حضرت مسیح کے نزول فرمانے میں کیا خرابی ہے؟۔ جو ان کے بروزی جسم میں نہیں ہوگی۔ اگر ان کا آنا اچھا نہیں تو شکل بدل کر آنا کیوں اچھا ہوا؟۔ یہی صورت خدا کے بروز کے بارہ میں مان کر تثلیث و بت پرستی کو کیوں نہ صحیح مان لیا جائے۔ جو کچھ معقول بھی ہے۔ انسان کے بروز کی بحث کیا معنی؟

تاریخ طبری اردو جلد اول حصہ چہارم اور حصہ اول جلد چہارم میں مختلف حوالوں سے وہ بتاتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب شارع نبی بنا تھا اور باغی تھا اور حضرت ابوبکرؓ اپنے سپاہیوں سے فرماتے تھے۔ ذرا ان بستیوں سے اذان اور اقامت کو سن لینا۔ اس سے وہ خود اپنی اذان اور نماز کے پردہ میں مرزا قادیانی کی نبوت کو چھپاتے ہیں۔ اس کا جواب یہی ہے:

بک رہا ہے جنون میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

٦١

صفحہ ١٦٠

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت زمین کے کسی گوشہ میں دوسرے نبی کی ضرورت نہ تھی۔ بہر حال اگر اس کے ماننے والے بغاوت سے قتل کے قابل تھے تو ابوبکرؓ کو ان کی اذان پر کان دھرنے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی اور قرآن میں شارع و غیر شارع نبی پر ایمان لانے کی یہ تفریق کہاں ہے؟ ۔ اگر مرزا قادیانی کو انگریزی پرستی فرض اور جہاد حرام ہونے کی وحی ہو تو وہ نبی اور کوئی دوسرا بے چارہ اسی وحی کا دم بھرے تو باغی۔

ایک اہم نکتہ

مرزا قادیانی خود کہتے ہیں کہ پہلے کبھی کوئی امتی نبی نہیں ہوا۔ ایسا صرف میں ہی ہوں اور کہ میرے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔

قادیانی کہتے ہیں کہ ان پر ایمان لانے کا تمام انبیاء سے عہد لیا گیا تھا۔ معاذ اللہ! تاہم قرآن کی سورت مائدہ میں بنی اسرائیل سے اللہ کا ایک عہد موجود ہے۔ جس میں نماز اور زکوٰۃ کے ساتھ رسولوں پر ایمان لانے کا بھی ان کو پابند کیا گیا تھا۔ یہ عہد اگر پہلے انبیاء کے حق میں لیا جائے تو لا حاصل ہے۔ اس لئے کہ انہیں تو وہ رسول مان چکے تھے اور اگر بعد والوں کے حق میں مانا جائے کہ بعد میں جو رسول ہو اس پر ایمان لاؤ تو اس سے وہ یہ کہہ کر بھاگ سکتے تھے کہ بعد کو آنے والا رسول ہے نہیں۔ اس لئے ہم اسے نہیں مانتے ۔ اللہ نے اس کے تدارک میں ایک تو انہیں یہ ماننے کا پابند بنایا کہ بعد میں اور رسول آئیں گے۔ دوسرے ان سے فرمایا کہ تم اپنے ہی رسولوں کے ساتھ ایمان میں مضبوطی دکھانا۔ اگر ان کی ہر بات کو مانا تو جس نئے نبی ماننے کا وہ حکم دیں اسے بھی ماننا۔ بعد میں حضرت مسیح نے بھی اپنے حواریوں سے یہ عہد لیا۔ اس عہد کے تحت نبی آخر الزمان کا منکر پہلے تمام رسولوں کا منکر ہے۔ بالکل اسی طرح ختم نبوت اور نزول مسیح کا منکر محمد ﷺ کا منکر ہے اور جملہ انبیاء کا منکر آدمی کسی ایک نبی کو اگر اپنے دل سے نبی مانتا ہو تو وہی ایک اسے باقی رسولوں پر ایمان لانے کا پابند بنائے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ اس لئے کہ وہ پہلے کی تصدیق کر کے بعد والے کی خبر دے گا اور اس کی تصدیق اور خبر کو نہ ماننا خود اس کا انکار ہوگا۔

٦٢

خاتم النبیین ﷺ

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

ختم نبوت

افروز اظہار

جناب ڈاکٹر حفیظ

PDF 163

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

ختم نبوت

افروز اظہار الحق

جناب ڈاکٹر نظیر صوفی

صفحہ ١٦٣

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اظہار مقصد

مرزائیت کی روح ختم نبوت سے انکار ہے۔ بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان نے نبوت مرزا کے اثبات میں بڑا زور مارا اور اپنی جماعت کو اسی بنیاد پر استوار کیا ہے۔ لیکن جہاں تک بانی جماعت کا تعلق ہے۔ اپنی تمام مراقیانہ تعلیوں کے باوجود وہ ختم نبوت کے قطعی طور پر قائل رہے۔ اس زمانہ میں بھی جسے میاں بشیر الدین محمود نے ان کا دور نبوت گردانا اور جس دور کے الہامات کو اپنی جماعت کے لئے معیار ایمان ٹھہرایا۔ میں نے سوچا کہ متلاشیان حق کے لئے مسئلہ ختم نبوت کو اسی معیاری دور کے الہامات کی کسوٹی پر پرکھ دیا جائے۔

شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات
اور وہ ہدایت پا جائے

نظیر صوفی ١١/ جمادی الاول ١٣٩٢ھ

اللهم انی اعوذبك من فتنة المسيح الدجال!

تعین دور نبوت بانی مرزائیت

میاں بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی قادیانی نے تحقیقاتی عدالت ہائی کورٹ لاہور میں ١٣/ جنوری ١٩٥٤ء کو سوال نمبر ١٩ کے جواب میں حلفیہ بیان دیا کہ: ”جہاں تک مجھے یاد ہے، انہوں نے ١٨٩١ء میں نبی ہونے کا اعلان کیا۔“ اور اس سے قبل ١٩٣٥ء میں مجسٹریٹ درجہ اول گورداسپور کی عدالت میں بھی بسلسلہ مقدمہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری حلفیہ بیان دیا تھا کہ آپ نے اخیر ١٨٩٠ء یا ١٨٩١ء کے شروع میں دعویٰ نبوت کیا۔

میاں محمود کے یہ حلفیہ بیان اور آخری ہونے کی وجہ سے ان کی اس موضوع پر تمام پہلی تحریروں اور بیانوں کو منسوخ کرتے ہیں۔ یعنی ان کا (حقیقت النبوت ص ١٢١ اور القول الفصل ص ٢٤ وغیرہ) میں اعلان نبوت کا تعین ١٩٠١ء اور ١٩٠٢ء میں کر کے بربنائے نام نہاد دعویٰ نبوت اس سے پہلے کے الہامات کو منسوخ کہنا غلط ٹھہرا۔ کیونکہ اعلان نبوت تو خود میاں محمود کے حلفیہ بیانوں کی رو سے ١٨٩٠ء کے اخیر یا ١٨٩١ء کے شروع میں ہوا تھا۔ پس حقیقت النبوت اور القول الفصل میں پیش کردہ ان کے اپنے ہی نقطہ نظر کے مطابق اب ختم نبوت کی بابت بانی جماعت کے ١٨٩٠ء کے

٢

١٨٩٠ء کے بعد کے فرمودات غلامان مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے حجت ہیں اور ان پر ایمان لانا جزو الایمان ہے۔ کیونکہ فرمایا بانی جماعت نے:

”جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا اور منکر ہے، کافر ہے۔“

ختم نبوت از روئے اظہار الحق

دراصل مرزائیت ختم نبوت سے انکاری ہے۔ لیکن اپنی مزعومہ ماموریت کے بعد کی تحریرات میں ١٨٩١ء تا ١٩٠٢ء بھی اس کے قطعی اور یقینی طور پر قائل تھے اور اس کے منکر کو کاذب بے دین، دشمن، بے شرم و بے حیا، لعنتی، مفتری اور دجال سمجھتے تھے ۔ ایسے ہی القاب سے نوازتے ہیں۔

بانی مرزائیت کے مذہب کا لب لباب

”ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ ہمارا عقیدہ ہے جو اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں اور اسی پر ہم بفضل تعالیٰ اس عالم سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ہاتھوں اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت اپنے مرتبہ اتمام کو پہنچ چکی ہے جس کو انسان اختیار کر کے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔“

ختم المرسلین کے بعد مدعی نبوت کاذب اور کافر

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠) ”میں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں مدعی نبوت ہوں اور اس کو منافی عقیدہ اسلام سمجھتا ہوں۔ بلکہ میں اپنے عقائد میں اہل سنت والجماعت مدعی نبوت و رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ وحی رسالت مکمل ہو کر نبی کریم ﷺ پر ختم ہو گئی۔ یہ وہ عقائد ہیں جو میں نے اپنی کتابوں میں لکھے ہیں کہ آنحضرت ﷺ بغیر کسی استثنا کے خاتم الانبیاء ہیں“

”کیا نہیں جانتے تم کہ خداوند کریم و رحیم نے ان کو خاتم قرار دیا ہے اور ہمارے نبی ﷺ نے اپنے آپ کو خاتم الانبیاء فرمایا ہے“

صفحہ ١٦٣

بعد کے فرمودات غلامان مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے آخری حجت ٹھہریں گے۔ جنہیں قبول کرنا ان پر لازم فی الایمان ہے۔ کیونکہ فرمایا بانی جماعت نے: ”وہ جو خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

ختم نبوت افروز اظہار الحق

مرزائیت ختم نبوت سے انکاری ہے۔ لیکن جہاں تک بانی جماعت کا تعلق ہے۔ ان کی مزعومہ ماموریت کے بعد کی تحریرات از ١٨٩١ء تا ١٩٠٧ء سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ختم نبوت کے قطعی اور یقینی طور پر قائل تھے اور اس کے منکر کو کاذب، کافر، بے دین، خارج از امت، قرآن کا دشمن، بے شرم و بے حیا، لعنتی، مفتری اور دجال سمجھتے تھے۔ اظہار الحق کے لئے چند حوالہ جات نظر نواز ہیں۔

بانی مرزائیت کے مذہب کا لب لباب

”ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ : ”لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ“ ہمارا اعتقاد ہے۔ جو اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں اور جس کے ساتھ ہم فضل وتوفیق باری تعالیٰ اس عالم سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین وخیر المرسلین ہیں۔ جن کے ہاتھوں اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت مرتبہ اتمام کو پہنچ گئی۔ جس کے ذریعے سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٣٧، خزائن ج ٣ ص ١٦٩)

ختم المرسلین کے بعد مدعی نبوت کاذب اور کافر

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠) ”میں نے سنا ہے کہ شہر دہلی کے علماء یہ مشہور کرتے ہیں کہ میں مدعی نبوت ہوں اور منکر اعتقاد اہل اسلام ہوں۔ اظہاراً للحق لکھتا ہوں کہ یہ سراسر افتراء ہے۔ بلکہ میں اپنے عقائد میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ مانتا ہوں اور ختم المرسلین کے بعد مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہو کر نبی کریم ﷺ پر ختم ہو گئی۔ یہ وہ عقائد ہیں۔ جن کے ماننے سے کافر بھی مومن ہو سکتا ہے۔“

آنحضرت ﷺ بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین ہیں

”کیا نہیں جانتے تم کہ خدا کریم ورحیم نے ہمارے نبی ﷺ کو بغیر کسی استثنا کے خاتم النبیین قرار دیا ہے اور ہمارے نبی ﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر لا نبی بعدی کے ساتھ فرمائی ہے۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

٣

صفحہ ١٦٥

منکر ختم نبوت بے دین اور منکر اسلام

”اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اسے بے دین اور منکر اسلام سمجھتا ہوں۔“

(اشتہار دہلی ٢٣؍اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

منکر ختم نبوت دشمن قرآن، کافر ابن کافر

”خدا جانتا ہے کہ میں ...... نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“ (فیصلہ آسمانی ص ٤، خزائن ج ٤ ص ٣١٤) ”آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت کو جاری کرنے والے کافر کی اولاد، قرآن کے دشمن اور بے شرم و بے حیا ہیں۔ اے لوگو! مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو۔ دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو، جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“

(آسمانی فیصلہ ص ١٥، خزائن ج ٤ ص ٣٣٥)

منکر ختم نبوت خارج از امت

(نشان آسمانی مطبوعہ ٢٩؍مئی ١٨٩٢ء)

”نہ مجھے دعوائے نبوت نہ خروج از امت۔ نہ میں منکر معجزات و ملائک اور نہ لیلۃ القدر سے انکاری ہوں اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ پیارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب ﷺ کے بعد اس امت کے لئے کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔“

(نشان آسمانی ص ٢٨، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)

منکر ختم نبوت لعنتی، مفتری، جھوٹا، کذاب

(کتاب البریہ مطبوعہ ٢٤؍جنوری ١٨٩٨ء)

”اگر یہ اعتراض ہے کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو بجز اس کے کیا کہیں کہ ”لعنة الله علی الكاذبين المفترين“ یعنی جو شخص مجھے نبی مانتا ہے وہ لعنتی و مفتری ہے۔ افتراء کے طور پر ہم پر تہمت لگاتے ہو کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔“

(کتاب البریہ ص ١٨٢ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢١٥)

منکر ختم نبوت دجال

(حمامتہ البشریٰ مطبوعہ ٢٧؍جولائی ١٩٠٣ء)

”اور کہتے ہیں کہ یہ شخص ..... محمد ﷺ کو خاتم الانبیاء نہیں مانتا۔ حالانکہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا اور وہی خاتم الانبیاء ہیں۔ پاک ذات ہے میرا رب، میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی اور یہ سراسر جھوٹ اور کذب ہے اور اللہ جانتا ہے کہ یہ

٤

لوگ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبی ماننے والے دجال

ختم المرسلین کے بعد مدعی نبوت کاذب و کافر

(حقیقت الوحی مطبوعہ ١٥؍مئی ١٩٠٧ء)

”تحقیق ہ اور ان پر مرسلین کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔“ (ضمیمہ حقیقت ال خاتم المرسلین ﷺ کے بعد دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذ

جھوٹا ہے کذاب ہے؟

پس بانی مرزائیت کی مذکورہ بالا ١٨٩١ء سے لے کہ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو اس عالم سے کوچ کرنے سے پہل ہر دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب و کافر مانتے تھے اس عقیدہ کے باوجود میاں محمود باپ کا منہ چڑاتے ہوئے اگر میری گردن پر ایک طرف تلوار رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم کہو ک تو میں اس سے کہوں گا کہ تو جھوٹا اور کذاب ہے۔“

جبکہ بانی جماعت نے الہامیہ طور پر یہ بتایا ہے کہ ایسا بدبخت جو خود رسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شر میں ”محمد رسول الله وخاتم النبيين“ کو خدا کا کلام بتم کے بعد نبی اور رسول ہوں۔“

(انجام آتھم ص ٢٧

اور میاں محمود نے خود بھی اس الہامیہ تفسیر کو ”اس آیت میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کے بعد کوئی شخص بھی ایسا نہیں آئے گا کہ جس کو مقام

میاں محمود کی یہ تناقض بیانی آئینہ حق نما جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ال دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق ہ

صفحہ ١٦٥

لوگ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبی ماننے والے دجال ہیں۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٢)

ختم المرسلین کے بعد مدعی نبوت کاذب و کافر

(حقیقت الوحی مطبوعہ ١٥؍ مئی ١٩٠٧ء) ”تحقیق ہمارے رسول کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان پر مرسلین کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔“ (ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٨) ”اور ختم المرسلین ﷺ کے بعد دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب و کافر جانتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

جھوٹا ہے کذاب ہے؟

پس بانی مرزائیت کی مذکورہ بالا ١٨٩١ء سے مئی ١٩٠٧ء تک کی تحریرات سے ظاہر ہے کہ وہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو اس عالم سے کوچ کرنے سے پہلے تحقیقی طور پر ختم المرسلین ﷺ کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب و کافر مانتے تھے۔ لیکن ان کے ختم نبوت پر اس قطعی اور یقینی عقیدہ کے باوجود میاں محمود باپ کا منہ چڑاتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں آئے گا تو میں اس سے کہوں گا تو جھوٹا اور کذاب ہے۔“

(انوار خلافت ص ٦٥)

جبکہ بانی جماعت نے الہامیہ طور پر باب نبوت مسدود قرار دیتے ہوئے فرمایا: ”کیا ایسا بد بخت جو خود رسالت کا دعویٰ کرتا ہے، قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور جو آیت ’ولکن رسول الله وخاتم النبيين‘ کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں آنحضرت کے بعد نبی اور رسول ہوں۔“

(انجام آتھم ص ٢٧ مطبوعہ ٢٢ جنوری ١٨٩٧ء، خزائن ج ١١ ص ٢٧ حاشیہ)

اور میاں محمود نے خود بھی اس الہامیہ تفسیر کی تائید ١٩١٠ء میں اس طرح کی تھی۔

”اس آیت میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی شخص بھی ایسا نہیں آئے گا کہ جس کو مقام نبوت پر کھڑا کیا جائے۔“

(رسالہ تشحیذ الاذہان بابت اپریل ١٩١٠ء)

میاں محمود کی یہ متناقض حالت آئینہ حق نما کیونکہ بقول بانی جماعت: ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١١١ حصہ ٥، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥) اور ”ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)

٥

صفحہ ١٦٦

بانی جماعت کی شان مراقیہ کی بوالعجبیاں تو ان کے ختم نبوت پر قطعی اور یقینی ایمان کی وجہ سے بطور مراقیہ شطحیات صرف نظر کی جاسکتی تھیں۔ لیکن چونکہ مرزا بشیر الدین محمود کی نظر میں وہ اپنے دعوٰی سے ہم رسول اور نبی ہیں۔ (بدر ٢٥/ مارچ ١٩٠٨) کی رو سے حقیقی نبی اور رسول تھے۔ اس لئے مذکورہ بالا الہام اور میاں محمود کی تائیدی تفسیر آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کی روشنی میں جھوٹا، کذاب، بدبخت، پاگل اور منافق اب کون کون ہے؟۔ تناقض کلام کی غلام احمدیہ کسوٹی پر قارئین خود پرکھ لیں: ”عیاں را چہ حاجت بیاں“

البتہ مجھے تو ہر دو کی متناقض کلامی میں مراقی خام خیالیاں کارفرما نظر آتی ہیں ...... کہ بانی جماعت نے فرمایا: ”مجھ کو دو بیماریاں ہیں...... مراق اور کثرت بول۔“

(بدر قادیان ٧/ جون ١٩٠٦ء)

”حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“

(سیرت المہدی ج ٢ ص ٥٥، روایت نمبر ٣٦٩)

خلیفہ ثانی میاں محمود نے فرمایا: ”مجھ کو کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“

(ریویو قادیان اگست ١٩٢٦ء)

”ہسٹریا جن مردوں کو ہو ان کو مراق کہتے ہیں۔“

(الفضل قادیان ٣٠/ اپریل ١٩٢٢ء)

خلیفہ اول نے فرمایا: ”مراق مالیخولیا کی ایک شاخ ہے۔“

(بیاض نور الدین حصہ ١ ص ٢١١)

”اور ڈاکٹر شاہ نواز بانی جماعت کے مرید و معالج خاص نے طبی نکتہ نظر سے فرمایا: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا یا مرگی کا مرض ہے تو اس کے دعوٰی کی تردید کے لئے کسی ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن تک اکھاڑ دیتی ہے۔“

(ریویو، قادیان اگست ١٩٢٦ء)

پس باپ بیٹے کی شان مراقیہ میں الجھے بغیر زیر نظر حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ بانی تحریک مرزائیت اپنے مفروضہ دور ماموریت میں بھی حضور ﷺ کے بعد نبوت و رسالت کے ہر مدعی اور ایسے نبیوں کے پیروکاروں کو دائرہ اسلام سے خارج، بے دین، کاذب، کافر، لعنتی، مفتری اور دجال کہتے اور سمجھتے تھے۔ پس ایسے بے دین، منکر اسلام لوگ خارج از امت ہونے کی وجہ سے ہر زمانہ میں کافر و دجال کہلائیں گے۔ مسلمان ہرگز نہیں۔ اپنے امام کے اس سیدھے سادے فیصلے کی تائید مرزائی بھی کریں گے۔ انشاء اللہ!

”اس لئے کہ جو خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

٦

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مجلس تحفظ ختم النبوۃ

پاکستان

جس کی بات

اس کی ذات

جناب ناظم مجلس تحفظ

PDF 169

محمد رسول اللہ خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

جس کی بات نہیں

اس کی ذات نہیں

جناب ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت کنری

صفحہ ١٦٩

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لانبي بعده وعلى اصحابه الذين اوفوا عهده! اما بعد!

اوائل اگست ١٩٥٣ء میں مرزائیوں نے لندن میں میٹنگ کی جس میں سرظفر اللہ خان نے مرزائی حکومت قائم ہونے کی خوشخبری بیان کی۔ اس آواز نے مرزائیت کی متعفن لاش میں وہ صور پھونکا کہ مرزائی ہر جگہ جارحانہ کارروائی میں مصروف ہو گئے۔

وہی مناظرہ بازی کا چیلنج ۔ وہی مرزا غلام احمد کے نبی و مرسل ہونے کے بلند و بانگ دعوے اطراف ملک میں لوٹائے جانے لگے۔ جابجا اہل اسلام سے برملا کہا گیا کہ نبوت جاری ہے۔ مرزا غلام احمد نبی برحق ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ ان کی قبر کشمیر میں ہے اور جس مسیح کی آمد کی خبر احادیث میں دی گئی ہے اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہیں اور احادیث میں جامع دمشق کے جس منارہ کا ذکر ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس پر نازل ہوں گے۔ اس سے مراد قادیان کا وہ منارہ ہے جو غلام احمد کے دعاویٰ کے بعد قادیان میں تعمیر کیا گیا۔

ایسے ہی حالات کنری میں پیدا کر کے اہل اسلام کا ناطقہ بند کر دیا گیا۔ چنانچہ کنری کے معززین اہل اسلام نے مرکز ملتان سے رابطہ قائم کیا اور حضرت امیر مرکزیہ مولانا محمد علی جالندھری زید مجدہم نے کنری میں سیرۃ النبی ﷺ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حضور سرور کائنات ﷺ کے وصف خاص ختم نبوت کو تفصیل سے بیان فرمایا اور اس حدیث کی تشریح بیان فرماتے ہوئے کہ:

"حضور پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد تیس دجال پیدا ہوں گے اور نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ لیکن وہ جھوٹے اور کذاب ہوں گے ۔" مرزا غلام احمد کے دعوے نبوت کا ذکر کیا اور کہا کہ اس نے اہل اسلام کو برا بھلا کہا ہے۔

مرزائیوں کی صفت ہے کہ وہ اپنا ہتھیار اس وقت استعمال کرتے ہیں جب ان کے مقابل کوئی نہ ہو۔ چنانچہ فضل الدین مرزائی نے ایک پمفلٹ اس وقت شائع کیا جبکہ مولانا محمد علی جالندھری اور اس کے ساتھی کنری سے جاچکے تھے اور مولانا کے پیش کردہ حوالہ جات کو غلط کہا اور لکھا کہ یہ صحیح ہیں تو ثابت کر کے مبلغ تین صد روپے انعام حاصل کیا جائے۔

معززین اہل اسلام نے فوری طور پر خادم ختم نبوت مولانا اکرام الحق الخیری کو ڈگری

٢

سے بلا کر جلسہ کا انتظام کیا۔ مولانا نے اصل حوالہ جات تمہاری کتابیں موجود ہیں۔ آؤ اور اصل حوالے مطالعہ کرو رہے۔ جب مولانا اکرام الحق چلے گئے تو آسمان سر پر اٹھا لیا تین صد روپے دینے کو تیار ہیں۔

لہٰذا یہ چند حوالہ جات بطور نمونہ مرزائیوں کی کتابوں کسی اور مرزائی میں ایمانی جرات تو درکنار، اگر انسانی شرافت روپے ادا کرے۔

سب سے پہلے فضل الدین مرزائی نے ختم نبوت مار، آتش زنی، قتل وغارت سے تعبیر کیا۔ آئیے سب سے پہلے اہل اسلام کے جملہ فرقوں کے متفقہ مطالبات کو پیش کرنے ہوا۔

اہل اسلام کے سب فرقوں نے مل کر مرزائیت وقت کے گورنر جنرل نے علماء سے کہا کہ اگر آپ کے مطا امریکہ ناراض ہو جائیں گے۔ ہمیں گندم کہاں سے ملے گی مرزائیت کا مربی انگریز خوش ہو۔ عوام نے پرامن تحریک شرو تھا کہ تشدد کا جواز پیدا کیا جائے۔ یہ فرض مرزائیوں نے ادا نے ایک جیپ میں سوار فوجی وردی پہنے مرزائی لاہور میں فائرنگ کرتے رہے تاکہ بدامنی پیدا ہو۔ اس جیپ کا ذکر ہے۔

چونکہ یہ انکوائری مجلس عمل ( جو تمام مسلمان فرقو اور تحریک کی جانچ پڑتال کے متعلق قائم کی گئی تھی اور اس نے ثابت کرنا تھا۔ اس لئے آپ کے نزدیک "منیر انکوائری رپو اسی سے مرزائیوں کے متعلق جج صاحبان کی رائے کا مطالعہ

منیر انکوائری رپورٹ

آنے لگا تو احمدی آنے والے واقعات کے متعلق متفکر ہو

٣

صفحہ ١٦٩

سے بلا کر جلسہ کا انتظام کیا۔ مولانا نے اصل حوالہ جات پیش کئے اور مرزائیوں کو چیلنج دیا کہ یہ تمہاری کتابیں موجود ہیں۔ آؤ اور اصل حوالے مطالعہ کرو۔ مرزائی بھیگی بلی بن کر گھر میں بیٹھے رہے۔ جب مولانا اکرام الحق چلے گئے تو آسمان سر پر اٹھا لیا کہ تمہارے مولوی جھوٹے ہیں۔ ہم تو تین صد روپے دینے کو تیار ہیں۔

لہٰذا یہ چند حوالہ جات بطور نمونہ مرزائیوں کی کتابوں سے پیش ہیں۔ اب فضل الدین یا کسی اور مرزائی میں ایمانی جرات تو درکنار، اگر انسانی شرافت کا کوئی ذرہ بھی موجود ہے تو تین صد روپے ادا کرے۔

سب سے پہلے فضل الدین مرزائی نے ختم نبوت کی تحریک ١٩٥٣ء کو غنڈہ گردی، لوٹ مار، آتش زنی، قتل و غارت سے تعبیر کیا۔ آئیے سب سے قبل اسی انکوائری کی روشنی میں دیکھیں کہ اہل اسلام کے جملہ فرقوں کے متفقہ مطالبات کو پیش کرنے کی وجہ سے قتل و غارت کیوں شروع ہوا۔

اہل اسلام کے سب فرقوں نے مل کر مرزائیوں کے متعلق مطالبات پیش کئے۔ اس وقت کے گورنر جنرل نے علماء سے کہا کہ اگر آپ کے مطالبات منظور کر لئے جائیں تو انگریز اور امریکہ ناراض ہو جائیں گے۔ ہمیں گندم کہاں سے ملے گی۔ علماء اسلام کو گرفتار کر لیا گیا۔ تا کہ مرزائیت کا مربی انگریز خوش ہو۔ عوام نے پرامن تحریک شروع کی۔ اسے دبانے کے لئے ضروری تھا کہ تشدد کا جواز پیدا کیا جائے۔ یہ فرض مرزائیوں نے ادا کیا چنانچہ ابتداء مارچ ١٩٥٣ء میں ربوہ سے ایک جیپ میں سوار فوجی وردی پہنے مرزائی لاہور آتے رہے اور اندھا دھند مسلمانوں پر فائرنگ کرتے رہے تا کہ بدامنی پیدا ہو۔ اس جیپ کا ذکر ”انکوائری رپورٹ“ کے ص ١٥٩ پر موجود ہے۔

چونکہ یہ انکوائری مجلس عمل (جو تمام مسلمان فرقوں کی مشترکہ انجمن تھی) کے مطالبات اور تحریک کی جانچ پڑتال کے متعلق قائم کی گئی تھی اور اس نے اس وقت کی حکومت کے طرز عمل کو صحیح ثابت کرنا تھا۔ اس لئے آپ کے نزدیک ”منیر انکوائری رپورٹ“ صحیفہ آسمانی سے کم نہیں۔ آئیے اسی سے مرزائیوں کے متعلق جج صاحبان کی رائے کا مطالعہ کریں۔

منیر انکوائری رپورٹ

آنے لگا تو احمدی آنے والے واقعات کے متعلق متفکر ہونے لگے۔ ١٩٣٥ء سے ١٩٤٧ء کے آغاز

٣

صفحہ ١٧٠

تک ان کی بعض تحریروں سے منکشف ہوتا ہے کہ انہیں پہلے انگریزوں کا جانشین بننے کی توقع تھی۔ لیکن جب پاکستان کا دھندلا سا خواب مستقبل کی ایک حقیقت کا روپ اختیار کرنے لگا تو ان کو یہ امر کس قدر دشوار معلوم ہوا کہ ایک نئی مملکت کے تصور کو مستقل طور پر گوارا کر لیں۔ انہوں نے اس وقت اپنے آپ کو عجب گومگو کی حالت میں پایا ہوگا۔ ان کی بعض تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تقسیم کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ اگر ملک تقسیم ہو گیا تو وہ اسے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کی وجہ واضح طور پر یہ تھی کہ احمدیت کے مرکز قادیان کا مستقبل بالکل غیر یقینی نظر آ رہا تھا۔ جس کے متعلق مرزا قادیانی بہت سی پیش گوئیاں کر چکے تھے۔“

(منیر انکوائری رپورٹ ص ٢٠٩)

حوالہ نمبر ٢ منیر انکوائری رپورٹ

”لیکن مطالبات کا تعلق احمدیوں سے تھا اور وہ مطالبات اس لئے وجود میں آئے تھے کہ احمدیوں کے بعض عقائد اور ان کی سرگرمیاں مخصوص انداز کی تھیں اور وہ دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ اور ممیز ہونے پر زور دے رہے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مطالبات احمدیوں کے عقائد اور ان کی سرگرمیوں ہی کی وجہ سے پیدا ہوئے۔“

(منیر انکوائری رپورٹ ص ٢٧٩، ٢٨٠)

حوالہ نمبر ٣

”تاہم بدلے ہوئے حالات کے مطابق ان (احمدیوں) کی سرگرمیوں اور ان کی جارحانہ نشر و اشاعت میں کوئی تغیر پیدا نہ ہوا اور غیر احمدی مسلمانوں کے خلاف دل آزار باتیں کہیں جاتی رہیں۔ کوئٹہ میں مرزا بشیر الدین محمود نے جو تقریر کی وہ نہ صرف نامناسب بلکہ اشتعال انگیز تھی۔ اس تقریر میں انہوں نے بلوچستان کے صوبے کی پوری آبادی کو احمدی بنا لینے اور اس صوبہ کو مزید جدوجہد کے مرکز کی حیثیت سے استعمال کرنے کی علی الاعلان حمایت کی۔ اس طرح جب انہوں نے اپنے پیروؤں کو یہ ہدایت کی کہ تبلیغ احمدیت کے پروپیگنڈہ کو تیز کر دیں تا کہ ١٩٥٢ء کے آخر تک پوری مسلم آبادی احمدیت کی آغوش میں آ جائے تو گویا مسلمانوں کو تبدیلی مذہب کے متعلق کھلا نوٹس دے دیا اور جب مرزا غلام احمد کو نہ ماننے والوں کے متعلق ’دشمن یا مجرم یا محض مسلمان‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے تو جن لوگوں کی توجہ ان ارشادات کی طرف مبذول کرائی گئی۔ ان کا مشتعل ہونا لازمی تھا۔“

(منیر رپورٹ ١٩٥٣ء ص ٢٨٠)

حوالہ نمبر ٤ منیر رپورٹ ١٩٥٣ء

٤

١٧١

دیا۔ اگر ان کے خلاف احساسات اتنے شدید نہ ہوتے تو ہم بھی ہر قسم کی مختلف مذہبی جماعتوں کو اپنے گرد جمع کرنے میں کا

حوالہ نمبر ٥

ہے کہ مرزا غلام احمد نے دوسرے انبیاء کے مقابلے میں جن ہیں، اپنا ذکر مبالغہ آمیز انداز سے کیا ہے اور احمدی اپنے المومنین، ام المومنین، سیدۃ النساء، صحابہ کرام جیسی اصطلاحات کے اہل بیت یا ان کے حلقہ احباب سے مخصوص طور پر منسو واحترام کی سرمایہ دار بن چکی ہے۔“

٩ اصل حوالے پیش خدمت ہیں

پہلا حوالہ...... (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، ٥٤٧ ، خزائن ج ٥ ص اصل الفاظ مرزا قادیانی ملاحظہ ہوں:

معارفها ويقبلنى ويصدق دعوتى الا ذريت قلوبهم فهم لا يقبلون“ یعنی ”ان کتابوں کو سب مسلما کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مجھے قبول کرتے ہیں ہیں۔ مگر بدکار رنڈیوں کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کرد ناظرین کرام! مرزا غلام احمد کی اصل عبارت او فیصلہ کریں کہ بقول فضل الدین صاحب یہ زمانہ مستقبل بعید ایسا ہوگا تو پھر خود ہی حال کا ترجمہ کیوں کیا۔ دیکھو ٹریکٹ مذ محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف ومطالب سے سوال یہ ہے کہ آدھی عبارت کا ترجمہ زمانہ حال مستقبل کے ساتھ وابستہ کرنا، کہاں کی دیانت وامانت ـ قادیانی فضل الدین نے یہ بھی بڑ ہانک دی کہ سب مسلمان کی تصدیق کریں گے۔ (ص ١٠)

٥

صفحہ ١٧١

دیا۔ اگر ان کے خلاف احساسات اتنے شدید نہ ہوتے تو ہم نہیں سمجھتے کہ احراری اس حالت میں بھی ہر قسم کی مختلف مذہبی جماعتوں کو اپنے گرد جمع کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔“

(منیر انکوائری رپورٹ ١٩٥٣ء ص ٢٨٠)

حوالہ نمبر ٥

ہے کہ مرزا غلام احمد نے دوسرے انبیاء کے مقابلے میں جن میں ہمارے رسول ﷺ بھی شامل ہیں، اپنا ذکر مبالغہ آمیز انداز سے کیا ہے اور احمدی اپنے بعض اشخاص کے مقابلے میں امیر المومنین، ام المومنین، سیدۃ النساء، صحابہ کرام جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جو نبی کریم ﷺ کے اہل بیت یا ان کے حلقہ احباب سے مخصوص طور پر منسوب ہونے کی وجہ سے خاص تقدس واحترام کی سرمایہ دار بن چکی ہے۔“

(منیر انکوائری رپورٹ ١٩٥٣ء ص ٢٠٩، ٢١٠)

اصل حوالے پیش خدمت ہیں

پہلا حوالہ...... (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً کا ہے۔ طبع قادیان) اصل الفاظ مرزا قادیانی ملاحظہ ہوں:

معارفها ويقبلني ويصدق دعوتي الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون“ یعنی ”ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مجھے قبول کرتے ہیں اور میری دعوت کی تصدیق کرتے ہیں ۔ مگر بدکار رنڈیوں کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے ، وہ مجھے قبول نہیں کرتے ۔“

ناظرین کرام! مرزا غلام احمد کی اصل عبارت اور اس کا ترجمہ درج کر دیا ہے۔ خود ہی فیصلہ کریں کہ بقول فضل الدین صاحب یہ زمانہ مستقبل بعید کے بارے میں پیش گوئی ہے کہ آئندہ ایسا ہوگا تو پھر خود ہی حال کا ترجمہ کیوں کیا۔ دیکھو ٹریکٹ مذکورہ ص ١٠ (ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف ومطالب سے فائدہ اٹھاتے ہیں ...... الخ )

سوال یہ ہے کہ آدھی عبارت کا ترجمہ زمانہ حال کے ساتھ وابستہ کرنا اور آدھی کا زمانہ مستقبل کے ساتھ وابستہ کرنا ، کہاں کی دیانت وامانت ہے اور نیز اگلی عبارت کے ترجمہ میں قادیانی فضل الدین نے یہ بھی بڑ ہانک دی کہ سب مسلمان مجھے قبول کر لیں گے اور میرے دعوے کی تصدیق کریں گے۔ (ص١٠)

٥

صفحہ ١٧٣

گویا (نعوذ باللہ) سب مسلمان قادیانی ہو جائیں گے۔ اچھی تاویل کی ہے مرزا قادیانی کی عبارت کی۔ یعنی عذر گناہ بدتر از گناہ۔ جناب قادیانی مبلغ صاحب کل مسلم کا جملہ ہر مسلمان کو مرزا کے ماننے والوں میں شامل کرتا ہے۔ آگے ”الاّ“ کا استثناء رنڈیوں کی اولاد کو خارج کرتا ہے۔ کیا سارے پاکستان کے مسلمان قادیانی کتابوں کو مانتے ہیں اور مرزا قادیانی کی تصدیق کرتے ہیں یا سب مسلمان مرزا کو ان تیس دجالوں میں شمار کرتے ہیں۔

یقیناً سب مسلمان جب جھوٹا سمجھتے ہیں تو اس خطاب میں سارے مسلمان شامل ہیں۔ بلکہ مرزا غلام احمد کا لڑکا مرزا فضل احمد (جس کا جنازہ مرزا غلام احمد نے اس کو نبی نہ ماننے پر پڑھنے سے انکار کر دیا تھا) بھی اس ذریۃ البغایا میں شامل ہو جاتا ہے۔ باقی فضل الدین مرزائی نے ”بغایا“ کے لفظی ترجمہ پر بحث کی ہے اور لغات کی کتب سے دور کی کوڑی لائے ہیں۔ ہم بغایا کا ترجمہ مرزا قادیانی کی کتب سے پیش کرتے ہیں جو مرزائیوں کے نزدیک وحی الٰہی کا درجہ رکھتی ہے۔

(حجۃ اللہ ص ٧٨، خزائن ج ١٢ ص ٢٣٥)

کیا۔“

از راہ خبث خود ایذاء دادی پس من صادق نیم۔ اگر تو اے نسل بدکاراں بذلت نمیری۔“

(انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ٤٩)

طرف۔“

غور فرمائیے! فضل الدین مرزائی ”بغایا“ کا ترجمہ سرکش، بے دین، نافرمان کرتے ہیں اور مرزا قادیانی ”بغایا“ کا ترجمہ بازاری اور بدکار عورت کرتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں:

من چہ می سرائم وطنبورہ من چہ می سراید

دوسرا حوالہ

ان العداء صارو خنازير الفلا ونساء هم من دونهن الاكلب

یعنی ”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

ہیں۔“

٦

نجم الہدیٰ مرزا غلام احمد قادیانی کی تصنیف عربی کے بالمقابل اردو میں کیا گیا ہے جس کو بعینہ نقل ک فضل الدین صاحب نے اپنے پمفلٹ ک اس میں اعداء سے مراد پادری ہیں۔ سبحان اللہ ! مرزا قادیانی اسی کتاب کے (ص ١٠، خزائن وجعلني المسيح الموعود...... الخ “ یعنی لوگوں کو خبر کی تو یہ بات اس ملک کے لوگوں پر شاق گ تکذیب کی۔“

سچ ہے دروغ گو را حافظہ نباشد۔ غور فرما ہیں تو کیا مرزا غلام احمد دعویٰ مسیحیت سے قبل پادریوں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو پادریوں نے انہیں کافر ان دعاوی کے باعث اس کے کفر کا فتویٰ دیا۔ ہیں: ”وكانوا يجتمعون بان المسيح ينزل

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزا

عليه الاكابر من الفضلاء ہیں کہ مسیح آسمان سے اترے گا جیسا کہ کتابوں میں لکھ فضل الدین اور مرزا قادیانی کے سب امتی کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں نازل ہو اتفاق نہیں ہے تو فرمائیے اس شعر میں اعداء سے مراد کے صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود نے عامتہ المسلمین کو

فرستادہ خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے

(انجام آتھم ص ٦٢

اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

فضل الدین کہتے ہیں کہ یہ شعر ١٨٩٨ء احمد جنوری ١٨٩٧ء میں کہتے ہیں کہ: ”میں خدا کا فر جہنمی ہیں۔“

٧

صفحہ ١٧٣

نجم الہدی مرزا غلام احمد قادیانی کی تصنیف ہے۔ عربی زبان میں ہے اور اس کا ترجمہ عربی کے بالمقابل اردو میں کیا گیا ہے جس کو بعینہ نقل کر دیا گیا ہے۔ فضل الدین صاحب نے اپنے پمفلٹ میں کہا کہ یہ کتاب ١٨٩٨ء میں لکھی گئی اور اس میں اعداء سے مراد پادری ہیں۔ سبحان اللہ!

مرزا قادیانی اسی کتاب کے (ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٥) پر رقم طراز ہیں: ”وَمَنَّ عَلَیَّ وجعلنی المسیح الموعود......الخ“ یعنی ”اور جب میں نے اپنے مسیح موعود ہونے کی لوگوں کو خبر کی تو یہ بات اس ملک کے لوگوں پر شاق گزری اور مجھے انہوں نے کافر ٹھہرایا اور میری تکذیب کی۔“

سچ ہے دروغ گو را حافظہ نباشد۔ غور فرمائیے اگر اس عبارت میں اعداء سے مراد پادری ہیں تو کیا مرزا غلام احمد دعویٰ مسیحیت سے قبل پادریوں کے نزدیک مسلمان تھے اور جب انہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو پادریوں نے انہیں کافر کہا یا اہل اسلام نے بالاتفاق مرزا قادیانی کے ان دعاوی کے باعث اس کے کفر کا فتویٰ دیا۔ مرزا غلام احمد اسی کتاب میں آگے لکھتے ہیں: ”وکانوا یجتمعون بان المسیح ینزل من السماء کما جاء فی الکتاب واتفق علیہ الاکابر من الفضلاء (نجم الہدی ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٦) یعنی ”اور وہ یہ حجت پیش کرتے ہیں کہ مسیح آسمان سے اترے گا جیسا کہ کتابوں میں لکھا ہے اور اس پر اکابر فضلاء کا اتفاق ہے۔“

فضل الدین اور مرزا قادیانی کے سب امتی خدا را بتائیں کہ اہل اسلام کا متفقہ فیصلہ یہ نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں نازل ہوں گے اور اس پر اکابر علماء اسلام و فضلاء کرام کا اتفاق نہیں ہے تو فرمائیے اس شعر میں اعداء سے مراد مسلمان ہیں یا پادری؟ اب مرزا قادیانی اور اس کے صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود نے عامۃ المسلمین کو دشمن کہا یا نہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

فرستادہ خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢ مصنفہ غلام احمد جنوری ١٨٩٧ء)

فضل الدین کہتے ہیں کہ یہ شعر ١٨٩٨ء کا ہے اور دشمن سے مراد پادری ہیں۔ مرزا غلام احمد جنوری ١٨٩٧ء میں کہتے ہیں کہ: ”میں خدا کا فرستادہ ہوں اور میرے نہ ماننے والے دشمن اور جہنمی ہیں۔“

٧

صفحہ ١٧٥

تاکہ ان پر غالب آنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہو، ترقی بھی نہیں ہو سکتی۔ تمام انبیاء کی جماعتیں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں۔ پہلوں میں ہم سے زیادہ ایمان نہ تھا۔“

(خطبہ جمعہ خلیفہ محمود احمد مندرجہ اخبار الفضل قادیان ٢٥؍اپریل ١٩٣٠ء)

یک نہ شد دو شد۔ بشیر الدین محمود نے نہ صرف سب مسلمانوں کو اپنا دشمن گردانا بلکہ مرزا غلام احمد نے محض اہل اسلام کو دشمن اور جہنمی کہا اور محمود احمد نے اپنے کو حضور ﷺ کے صحابیوں جیسا ایمان دار کہا۔

تیسرا حوالہ ...... فضل الدین مرزائی کی عبارت

تیسرا اعتراض مولوی محمد علی جالندھری نے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے یہ اٹھایا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”جو مجھے نہیں مانتا اور میری فتح کا قائل نہیں وہ ولد الحرام ہے۔“

جواب....... مرزا غلام احمد کے الٹے سیدھے دعاویٰ کے پیش نظر اہل اسلام نے ١٨٨٢ء میں ہی اس کی مخالفت شروع کر دی۔ مرزا غلام احمد نے دشمنان اسلام کے ایماء پر اہل اسلام میں تفرقہ بازی پیدا کرنے کے لئے مجدد، مسیح اور نبی ہونے کا دعوے کیا اور اہل اسلام کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے کبھی کبھار عیسائیوں سے بھی مناظرے کئے۔ چنانچہ ایسا ہی مناظرہ مسٹر عبداللہ آتھم عیسائی امرتسری سے ہوا جو تحریری تھا اور پندرہ یوم تک جاری رہا۔ جب علمی طور پر عبداللہ آتھم کو خاموش نہ کرا سکے تو ایک عدد پیشین گوئی کر دی کہ پندرہ دن مناظرہ ہوا ہے۔ ایک دن سے ایک ماہ مراد ہے۔ اگر عبداللہ آتھم پندرہ ماہ کے اندر اندر نہ مرے تو مجھے ذلیل کیا جائے۔ گلے میں رسہ ڈالا جائے اور پھانسی دیا جائے۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٣٥)

یہ دعویٰ ٥؍جون ١٨٩٣ء کو کیا گیا۔ پندرہ ماہ ٥؍ستمبر ١٨٩٤ء کو پورے ہو گئے۔ لیکن عبداللہ آتھم نہ مرا۔ یہ بات مرزا غلام احمد، اس کے خاندان اور امت پر نہایت شاق گزری۔ عبداللہ آتھم کی موت کے لئے وظائف پڑھے گئے۔ دعائیں کی گئیں۔ حتیٰ کہ جب ایک دن باقی رہ گیا تو مرزا قادیانی نے بہت سے چنے لے کر رات بھر ان پر ایک سورت پڑھائی اور علی الصبح وہ چنے خود مرزا قادیانی نے ایک ویران کنویں میں گرائے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ پیچھے دیکھے بغیر جلدی جلدی واپس چلو۔ اہل اسلام مرزا غلام احمد کے متعلق اس کے دعاویٰ کی وجہ سے کفر کا فتویٰ دے چکے تھے۔ جب مذکورہ پیشین گوئی جھوٹی ہوئی تو اہل اسلام نے اسے مرزا غلام احمد کے

٨

جھوٹے ہونے کی دلیل کے طور پر بیان کیا۔

مرزا قادیانی اپنی کتاب (انوار الاسلام ص ٢٥، خزائن غزنوی گروہ کے لوگو! اے امرتسر کے مسلمانو! مگر اسلام کے اور منشیو! خوب سوچ لو کہ تم کیا کر رہے ہو ...... الخ۔“ اسی کتاب شخص اس صاف فیصلہ کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم و حیاء کو کام ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکو، انکار اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس زادہ نہیں۔“

غور فرمائیے! پیش گوئی مرزا غلام احمد قادیانی کا اس پر بھی اس کی فتح کے قائل نہ ہوں تو وہ ولد الحرام بنیں اور

چوتھا اعتراض

فضل الدین مرزائی کا یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب تھی ...... الخ۔ پمفلٹ مذکور

جواب ....... اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ مولانا محمد بننے سے قبل تقسیم کے حق میں نہ تھے تو اس سے کیسے ثابت ہوتا

جواب نمبر ٢....... بلاشبہ بہت سے حضرات خصوصاً شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ مرحوم مغفور نے ملکی تقسیم کی مخالفت کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق محفوظ کرانے سواد اعظم نے تقسیم کے حق میں رائے دی تو تقسیم سے قبل قائد سے اتفاق کیا اور تقسیم کے بعد انہوں نے اور ان کے ساتھیوں کام کیا۔ کیونکہ ان کی رائے سیاسی رائے تھی اور سیاسی رائے قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح کانگریس کے ساتھ اشتراک ذریعہ ہندوستان کی آزادی کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن انہوں نے اپنی رائے بدلی ...... لیکن مرزائی از روئے الہام تقسیم کے

٩

صفحہ ١٧٥

جھوٹے ہونے کی دلیل کے طور پر بیان کیا۔

مرزا قادیانی اپنی کتاب (انوار الاسلام ص ٢٥ ، خزائن ج ٩ ص ٢٦) پر رقم طراز ہیں : ”اے

غزنوی گروہ کے لوگو ! اے امرتسر کے مسلمانو مگر اسلام کے دشمنو! اے لدھیانہ کے سخت دل مولویو

اور منشیو! خوب سوچ لو کہ تم کیا کر رہے ہو...... الخ ۔“ اسی کتاب کے ص ٣٠ پر لکھتے ہیں : ”اب جو

شخص اس صاف فیصلہ کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے

بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم و حیاء کو کام نہیں لائے گا اور بغیر اس کے کہ جو

ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکو، انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا

اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال

زادہ نہیں۔“

غور فرمائیے ! پیش گوئی مرزا غلام احمد قادیانی کرے، وہ جھوٹی ثابت ہو اور اگر مسلمان

اس پر بھی اس کی فتح کے قائل نہ ہوں تو وہ ولد الحرام بنیں اور حلال زادہ نہ ٹھہریں۔

چوتھا اعتراض

فضل الدین مرزائی کا یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کی پارٹی پاکستان کی مخالف

تھی...... الخ ۔ پمفلٹ مذکور

جواب ...... اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ مولانا محمد علی صاحب اور ان کی جماعت پاکستان

بننے سے قبل تقسیم کے حق میں نہ تھے تو اس سے کیسے ثابت ہو گیا کہ واقعی مرزا غلام احمد سچا ہے؟

جواب نمبر ٢....... بلاشبہ بہت سے حضرات خصوصاً ہماری جماعت کے مؤسس حضرت امیر

شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ مرحوم مغفور نے ملکی تقسیم کی مخالفت کی تھی اور مسلمانان ہند کو مشورہ دیا تھا

کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق محفوظ کرانے کے لئے جدوجہد کی جائے۔ لیکن جب

سواد اعظم نے تقسیم کے حق میں رائے دی تو تقسیم سے قبل ہی حضرت امیر شریعت قدس سرہ نے اس

سے اتفاق کیا اور تقسیم کے بعد انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ملکی استحکام کے لئے بڑھ چڑھ کر

کام کیا۔ کیونکہ ان کی رائے سیاسی رائے تھی اور سیاسی رائے بدلتی رہتی ہے۔ ایک زمانہ میں خود

قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل رکھتے تھے اور مشترک جدوجہد کے

ذریعہ ہندوستان کی آزادی کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن ہندو کی تنگ نظری کی وجہ سے قائد اعظم نے

اپنی رائے بدلی ...... لیکن مرزائی ازروئے الہام تقسیم کے خلاف تھے اور ہیں۔ ان کا مذہبی عقیدہ تھا

٩

صفحہ ١٧٦

اور یہ کہ: ”ممکن ہے عارضی طور پر افتراق ہو اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہو گی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٥ اپریل ١٩٤٧ء)

سیاسی رائے بدل جاتی ہے، عقیدہ نہیں بدلتا۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ مرزائی عقیدۂ تقسیم کے خلاف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بشیر الدین محمود کی لاش کو امانتاً ربوہ میں دفن کیا ہے۔ انہیں جونہی موقع ملا یہ اس کی لاش کو قادیان لے جائیں گے۔ یہودی اور نصرانی دشمن اسلام ہیں۔ اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کرلیا۔ اہل اسلام کو ہزاروں کی تعداد میں شہید اور مسلمان خواتین کی بے حرمتی کی۔ لیکن مرزائیوں کا مشن اسرائیل میں جوں کا توں محفوظ و مامون ہے۔ اس لئے کہ مرزائیوں کے نزدیک بیت المقدس اور خانہ کعبہ کی کوئی عزت نہیں۔ ان کے نزدیک قادیان ہی سب کچھ ہے۔ ملاحظہ ہو:

زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

”لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں۔ مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے سے نقصان اور خطرہ کیونکہ سلسلۂ آسمانی ہے اور حکم ربانی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٥٢، خزائن ج ٥ ص ٣٥٢)

”یہاں (قادیان میں) آنا نہایت ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود غلام احمد نے اس کے متعلق بہت زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہیں آتے۔ مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی نہ کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔“

(حقیقت الرؤیا ص ٤٦)

فضل الدین صاحب! یہ ہیں آپ کی پاکستان کی خدمات اور اب تقسیم کے بعد کے عزائم۔ آپ اور آپ کی جماعت کو اہل اسلام سے مشترکہ مسائل سے کوئی ہمدردی نہیں۔ آپ کے نزدیک قادیان ہی سب کچھ ہے۔ لیجئے اب اصل حوالے آپ کے پیش کر دیئے ہیں۔ آپ جب کہیں ہم آپ کی اصل کتب آپ کو دکھلا سکتے ہیں۔ اب اگر آپ انسانی شرافت اور اپنی ذات کا لحاظ ہے تو تین صد روپے ادا کریں ۔ وما علینا الا البلاغ!

١٠

خاتم النبیین

امین الملک جے سنگھ

کرشن گوپ

مرزا غلام احمد قادیانی حجر اسود کے ادنیٰ ترین خادم

تینوں پمفلٹوں کا جواب بمع چش

جناب ناظم مجلس تحفظ ختم ن

PDF 179

وقومیں جدا جدا ہیں۔ ے۔ بہرحال ہم چاہتے ہیں

فضل مورخہ ١٥ اپریل ١٩٣٧ء)

کہتے ہیں کہ مرزائی عقیدہ ش کو امانتاً ربوہ میں دفن کیا ودی اور نصرانی دشمن اسلام تعداد میں شہید اور مسلمان محفوظ و مامون ہے۔ اس نہیں ۔ ان کے نزدیک

ارض حرم ہے س جگہ نفلی حج سے ثواب بانی ہے۔“

٣٥٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

موعود غلام احمد نے اس ے ان کے ایمان کا خطرہ کوئی نہ کاٹا جائے۔ پھر ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی

(حقیقت الرؤیا ص ٤٦)

اب تقسیم کے بعد کے ردی نہیں۔ آپ کے یے ہیں۔ آپ جب اقت اور اپنی ذات کا

خاتم النبیین لا نبی بعدی

انی آخر الانبیاء وانتم آخر الامم

امین الملک جے سنگھ بہادر

کرشن گوپال

مرزا غلام احمد قادیانی حجر اسود کے ادنیٰ ترین خادم فضل الدین مرزائی کے

تینوں پمفلٹوں کا جواب ، بمع چیلنج مناظرہ

جناب ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت کنری

صفحہ ١٧٩

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لانبى بعده. امابعد!

اہالیان کنری (ضلع تھر پارکر) اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ حضرت مولانا محمد علی جالندھری جب بھی ڈگری کے سالانہ جلسے پر تشریف لاتے ہیں۔ واپسی پر کنری میں ایک تقریر سیرت النبیؐ پر کر جاتے ہیں۔ اس طرح گزشتہ سال وہ آئے اور تقریر کر کے چلے گئے۔ سیرت میں ان کا خاص موضوع ”ختم نبوت محمدﷺ“ ہوتا ہے۔ ان کی تقریر اگر اتنی بری اور اشتعال انگیز تھی کہ جس سے منافرت پھیلنے کا ڈر اور نقص امن عامہ کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا، تو انصاف تو یہ تھا کہ اس سے اگلے ہی دن اس بات کا نوٹس لیا جاتا۔ پہلے مسلمانان کنری سے کہا جاتا، ورنہ بصورت دیگر حکومت کا دروازہ کھٹکھٹاتے۔ لیکن یہاں کیا ڈرامہ کھیلا گیا کہ پورے آٹھ ماہ کے بعد مجمع کو ایک پمفلٹ ”مولوی محمد علی جالندھری کی اشتعال انگیزی اگر جرأت ایمانی ہے تو اصل حوالے پیش کریں اور مبلغ ٣٠٠ روپے نقد انعام لیں“ فضل الدین مرزائی بازاروں میں بانٹ رہے تھے۔ مرزائی حضرات خوش تھے کہ لو بھئی ہم نے میدان مار لیا۔ لیکن یہ ان کی بھول تھی۔ اہل حق دنیا میں بھیک مانگ کر نہیں جیتے۔ چنانچہ اگلے ہی دن مولوی اکرام الحق صاحب اجمیری ڈگری سے آئے اور اس پمفلٹ کے تار و پود بکھیر دیئے۔ انہوں نے مرزائیان کنری کو بار بار چیلنج کیا کہ آؤ! اور اپنے حوالے اپنی کتابوں میں دیکھو۔ اس وقت تو ان کے سامنے آنے کی کسی کو جرأت نہ ہوئی۔ جب وہ چلے گئے تو پھر لگے پر پرزے نکالنے کہ اس پمفلٹ کا جواب تحریری دو۔ حالانکہ اپنے پمفلٹ میں اس بارے میں ایک لفظ بھی مذکور نہیں کہ تحریری جواب دو۔ ہم نے کہا چلو بھئی یونہی سہی۔ ان کے پمفلٹ کے جواب میں ہم نے پمفلٹ ”جس کی بات نہیں اس کی ذات نہیں“ شائع کیا۔ مدلل جواب دیا ۔ پاکیزہ اور سعید روحوں کے لئے تو انصاف یہ ہے کہ اتنا ہی کافی ہے۔ مگر ان زنگ آلود قلوب کا کیا کیا جائے؟

اس پمفلٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے فضل الدین مرزائی نے ٢٠، ٢٥ روز بعد پھر ٢، ٢ صفحات کے سائیکلو اسٹائل ٣ عدد پمفلٹ شائع کر دیئے۔ دوسرے لفظوں میں اب بات کو مزید آگے بڑھانے کا ذمہ دار خود فضل الدین مرزائی ہے۔ فضل الدین مرزائی صاحب! اب اگر آپ نے پہل کر ہی دی ہے تو تمہیں مرزا قادیانی کی قسم میدان چھوڑ کر نہ بھاگنا۔ ورنہ پھر ہم کہیں گے ”جس کی بات نہیں اس کی ذات نہیں“ مرزا قادیانی کی باتیں ہمارے قلم لکھیں گے۔ فیصلہ عوام

٢

کریں گے۔ جب تم اپنے کذب کی مکمل سند پا لو تو خدا کے کے نفاذ کے لئے حکومت کے دروازے مت کھٹکھٹانا بلکہ بہاد گے ”جس کی بات نہیں اس کی ذات نہیں ۔“

اب فضل الدین مرزائی کے تینوں پمفلٹوں کا ج

”قل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زه نام نہاد مجلس کے ناظم کا نام تک درج نہیں جس سے خطاب پمفلٹ ”ندائے حق نمبر ١“ میں لکھتے ہیں کہ ناظم مجلس تحفظ ختم ن کوئی کتاب پڑھنی نصیب نہیں ہوئی، صرف الیاس برنی کی ک سمجھتا ہے۔“

قارئین کرام! بس اسی عبارت پر ہی فضل الدین فریب پرکھ لیجئے۔ پہلے لکھتا ہے کہ نام نہاد مجلس کے ناظم کا الیاس برنی کی کتاب ”قادیانی مذہب“ کو ہی صحیفہ آسمانی ناظم کون ہے تو پہلے جھوٹ بولا ہے اور اگر نہیں پتہ تو دوسری لعنت ہوتی ہے۔ لعنت الله على الكاذبين!

آگے ارشاد ہوتا ہے ”گو کتابچہ میں درشت کلامی ک محترم فضل الدین صاحب آپ کا یہ اعتراض سے پہلے آپ نے اپنے پمفلٹ پر بھولے سے ہی ایک تقریریں ، تحریریں پڑھی ہوتیں بلکہ خود مرزا غلام احمد قادیا کہنے کی کبھی جرأت نہ ہوتی ۔ جس قوم کے نبی کا پورا لٹریچر درشت کلامی پر تنقید کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے کہ وہ اپ ہو رہا ہے۔ باقی میری تحریر جسے تم نے درشت کلامی کا نام دی قادیانی بھی دے رہے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:

”سو جاننا چاہئے کہ جن مولویوں نے ایسا خیا سے خدا تعالیٰ منع فرماتا ہے۔ یہ ان کی اپنی سمجھ کا قصور ہے ضروری ہیں اور اپنے ساتھ ثبوت رکھتے ہیں۔ وہ ہر ایک جائز بلکہ واجبات وقت سے ہے۔“

٣

صفحہ ١٧٩

کریں گے۔ جب تم اپنے کذب کی مکمل سند پالو تو خدا کے لئے کنری کے بازاروں میں دفعہ ١٤٤ کے نفاذ کے لئے حکومت کے دروازے مت کھٹکھٹانا بلکہ بہادروں کی طرح مان لینا ورنہ ہم پھر کہیں گے ”جس کی بات نہیں اس کی ذات نہیں۔“

اب فضل الدین مرزائی کے تینوں پمفلٹوں کا جواب لیجئے: سب سے پہلے پمفلٹ ”قل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا“ ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں اس نام نہاد مجلس کے ناظم کا نام تک درج نہیں جس سے خطاب کیا جاسکے۔ اس کے ساتھ دوسرے پمفلٹ ”ندائے حق نمبر ١“ میں لکھتے ہیں کہ ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت کنری جسے بانی جماعت احمدیہ کی کوئی کتاب پڑھنی نصیب نہیں ہوئی، صرف الیاس برنی کی کتاب قادیانی مذہب کو ہی صحیفہ آسمانی سمجھتا ہے۔“

قارئین کرام! بس اسی عبارت پر ہی فضل الدین مرزائی کا صدق یا کذب، جھوٹ یا فریب پرکھ لیجئے۔ پہلے لکھتا ہے کہ نام نہاد مجلس کے ناظم کا پتہ نہیں۔ دوسری جگہ لکھتا ہے کہ ناظم الیاس برنی کی کتاب ”قادیانی مذہب“ کو ہی صحیفہ آسمانی سمجھتا ہے۔ اب اسے یا تو یہ پتہ نہیں کہ ناظم کون ہے تو پہلے جھوٹ بولا ہے اور اگر اسے پتہ ہے تو دوسری جگہ جھوٹ بولا ہے۔ جھوٹے پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ لعنت الله علی الکاذبین!

آگے ارشاد ہوتا ہے ”گو کتابچہ میں درشت کلامی سے کام لیا گیا ہے۔“

محترم فضل الدین صاحب آپ کا یہ اعتراض سر آنکھوں پر۔ لیکن کاش یہ بات لکھنے سے پہلے آپ نے اپنے پمفلٹ پر بھولے سے ہی ایک نظر ڈال لی ہوتی۔ مرزا محمود احمد کی تقریریں، تحریریں پڑھی ہوتیں بلکہ خود مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب کو پڑھا ہوتا تو تمہیں یہ بات کہنے کی کبھی جرات نہ ہوتی۔ جس قوم کے نبی کا پورا لٹریچر درشت کلامی سے بھرا ہوا ہو۔ اسے درشت کلامی پر تنقید کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے کہ وہ اپنے نبی کی ایک عظیم الشان سنت کا تارک ہورہا ہے۔ باقی میری تحریر جسے تم نے درشت کلامی کا نام دیا ہے تو محترم اس بات کی اجازت تو مرزا قادیانی بھی دے رہے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:

سو جاننا چاہئے کہ جن مولویوں نے ایسا خیال کیا کہ گویا عام طور پر ہر ایک سخت کلامی سے خدا تعالیٰ منع فرماتا ہے۔ یہ ان کی اپنی سمجھ کا قصور ہے۔ ورنہ وہ تلخ الفاظ جو اظہار حق کے لئے ضروری ہیں اور اپنے ساتھ ثبوت رکھتے ہیں۔ وہ ہر ایک مخالف کو صاف صاف سنا دینا نہ صرف جائز بلکہ واجبات وقت سے ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٤، خزائن ج ٣ ص ١١٤)

٣

صفحہ ١٨١

اگر اب بھی آپ کی تسلی نہیں ہوئی تو سن لو ! مومن دوستوں میں موم کی طرح نرم اور اللہ کے دشمنوں کے سامنے فولاد کی طرح سخت ہوتا ہے۔

اسے بار بار پڑھیے حتیٰ کہ یہ بات آپ کے اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔ آگے چل کر فرماتے ہیں ”ناظم صاحب مذکور نے بعض بے تعلق باتیں لکھی ہیں۔ جن کا انعامی پمفلٹ سے کوئی تعلق نہیں ۔“

ٹھیک ہے بھائی ! تو انکوائری رپورٹ سے عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مولانا محمد علی جالندھری کو جو چاہے ثابت کر دیں اور جب ہم بھی اسی انکوائری رپورٹ سے تمہاری متعفن لاش لوگوں کو دکھاتے ہیں تو وہ بے تعلق باتیں بن جاتی ہیں۔ سچ ہے:

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

فضل الدین صاحب یہ تو گنبد کی مثال ہے۔ جیسے کہے گا ویسی سنے گا۔

پہلا حوالہ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً) کی مندرجہ بالا عبارت لکھ کر پھر وہی گھسے پٹے اعتراضات پیش کئے گئے ہیں۔ جن کا مدلل جواب ہم پہلے کتابچہ میں دے چکے ہیں۔ اگر فضل الدین صاحب کو سمجھ نہیں آئے تو بسم اللہ! ہم پھر حاضر ہیں:

کھلا ہے فیض کا چشمہ نہالے جس کا جی چاہے

”تلك كتب ينظر اليها، كل مسلم بعين محبة المودة وينتفع من معار فها و يقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون“

”ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مجھے قبول کرتے ہیں اور میری دعوت کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر بدکار رنڈیوں کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے۔ وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“

قارئین کرام! اس عبارت کی فصاحت و بلاغت کا موازنہ قرآن کریم سے کرنا تو میرے بس کی بات نہیں۔ ہاں البتہ اگر فضل الدین مرزائی اسے قرآنی پیشین گوئی کے مماثل سمجھتا ہے تو یہ اس کا عقیدہ ہے۔ میں تو صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ:

چہ نسبت خاک را بعالم پاک

حضرات فضل الدین نے ایک سیدھی سادی بات کو الجھانے کی ناکام کوشش کی ہے۔

٤

اس معمے کو حل کرنے سے پہلے مذکورہ عبارت (آئینہ پھر پڑھئے۔ اس میں دو باتیں بالکل صاف ہیں۔ کتابوں کو محبت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے کرتے ہیں اور ان کی دعوت کی تصدیق کرتے ہیں دوسری بات یہ ہے کہ ذریۃ البغایا قادیانی کو قبول نہیں کرتے۔ اب سوال یہ ہے کہ ذری ماننے والے مسلمانوں کو نہایت فراخ دلی سے عط عورتوں کی اولاد کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ خود مرزا قادیا

تمت بالخزى يا ابن بغاء “ (انجام آتھم ص بذلت میری۔“

تیری ماں پاک دامن تھی اور زانیہ نہیں تھی۔“

ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں کی نسل سے نہیں ۔

میں بھی ذریۃ البغایا کے معنی رنڈیوں اور زنا کار عور

قارئین کرام! اب مرزا قادیانی تو ا البغایا کہہ رہے ہیں اور یہی بات مولانا محمد علی جالن دے رہا ہے۔ اب فضل الدین مرزائی کبھی محاور ہے۔ کبھی مضارع کی بحث چھیڑتا ہے اور کبھی مست پیشینگوئیوں کا واسطہ دے کر کہہ رہا ہے کہ دیکھو الدین صاحب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ نبی کا ہر ایک لفظ کے جو معنی بتا گئے وہ میرے لئے حرف آ

صفحہ ١٨١

اس معنے کو حل کرنے سے پہلے مذکورہ عبارت ( آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پھر پڑھئے۔ اس میں دو باتیں بالکل صاف ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ سب مسلمان مرزا قادیانی کی کتابوں کو محبت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور انہیں قبول کرتے ہیں اور ان کی دعوت کی تصدیق کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ ذریۃ البغایا جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے وہ مرزا قادیانی کو قبول نہیں کرتے۔ اب سوال یہ ہے کہ ذریۃ البغایا کیا بلا ہے جو مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والے مسلمانوں کو نہایت فراخ دلی سے عطا فرمائی ہے۔ ذریۃ البغایا رنڈیوں اور پیشہ ور عورتوں کی اولاد کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

تمت بالخزى يا ابن بغاء “ (انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨٢) ”اگر تو اے نسل بدکاراں بذلت نہ مری۔“

(الفضل ٢ جولائی ١٩٣٢ء ، ملک عبدالرحمن گجراتی)

تیری ماں پاک دامن تھی اور زانیہ نہیں تھی۔“

(احمدیہ پاکٹ بک ص ٣٠)

ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں کی نسل سے نہیں ہے۔“ (نور الحق حصہ اول ص ١٢٣، خزائن ج ٨ ص ١٦٣)

میں بھی ذریۃ البغایا کے معنی رنڈیوں اور زنا کار عورتوں کی اولاد کے کئے گئے ہیں۔

قارئین کرام! اب مرزا قادیانی تو اپنے نہ ماننے والوں کو ڈنکے کی چوٹ پر ذریۃ البغایا کہہ رہے ہیں اور یہی بات مولانا محمد علی جالندھریؒ نے کہی کہ دیکھو مسلمانو! مرزا تمہیں گالیاں دے رہا ہے۔ اب فضل الدین مرزائی کبھی محاورہ کا سہارا لیتا ہے۔ کبھی لغات کو اٹھا اٹھا کر لا رہا ہے۔ کبھی مضارع کی بحث چھیڑتا ہے اور کبھی مستقبل بعید کی دھائی دیتا ہے۔ کبھی قرآن کریم کی پیشنگوئیوں کا واسطہ دے کر کہہ رہا ہے کہ دیکھو جی یوں نہیں۔ اصل بات یوں ہے۔ لیکن فضل الدین صاحب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ نبی کا ہر قول امتی کے لئے حجت ہوتا ہے۔ میرے آقا محمدؐ ایک لفظ کے جو معنی بتا گئے وہ میرے لئے حرف آخر ہیں۔ اب دنیا بھر کی کتابیں لے آؤ چاہے دنیا

٥

صفحہ ١٨٣

بھر کے ادیب اکٹھے ہو جائیں اور اس لفظ کا کوئی دوسرا معنی بیان کریں۔ میں سب کو اٹھا کر باہر پھینک دوں گا۔ تو پھر مجھے کہنے دو کہ یہ کیسی ذریۃ البغایا امت ہے جو اپنے نبی کے قول کے بدلے لعنتوں کا سہارا ڈھونڈتی ہے اور یوں کھلم کھلا ان کا خود انکار کرتی ہے۔ جو نبی کے احکام پس پشت ڈال دے اس کے گمراہ ہونے میں کسے شک ہے؟۔

پر ایک بہتان ہے۔ امام صاحب سب مسلمانوں کے لئے یکساں ہیں۔ شیعہ، سنی جھگڑوں سے ان کی شخصیت بہت اونچی ہے۔ وہ دین کے اہم ستون ہیں۔ میرے پاس اس کا یہ ثبوت ہے کہ ہمارے امام حضرت ابو حنیفہؒ، امام باقر کے شاگرد ہیں۔ ان کے فرزند امام جعفر صادقؒ سے بھی فیض یافتہ ہیں۔ شیعہ سنی علماء اس بات پر متفق ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ کا کمال امام باقر ہی کے فیض صحبت کا نتیجہ ہے۔ عقل سے کام لیں۔ کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ امام باقر خود تو امام ابو حنیفہؒ کی تربیت کرے اور خود ہی اسے ذریۃ البغایا کہے۔ یہ تحریر مابعد زمانے میں جب شیعہ سنی نزاعات حد سے بڑھے۔ کسی شیعہ نے ان کے نام سے منسوب کر کے کتاب میں بڑھا دی۔ اب اگر تم میں ہمت ہے تو روایت در روایت سے ثابت کر کے مرزا قادیانی کی کتاب آئینہ کمالات اسلام سے مذکورہ عبارت نکال دو۔ لیکن تم ایسا کبھی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ تمہیں پتہ ہے کہ مرزا قادیانی کے دامن میں صرف ایک پھول نہیں۔ بلکہ ایسے پھولوں کے ہزار ہا پودے کھڑے ہیں۔

دوسرا حوالہ...... (نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣) کا شعر پڑھ کر کہتے ہیں کہ مسلمان کا لفظ دکھا دو۔ فضل الدین طارق صاحب تخلص تو طارق رکھ لیا مگر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تم شاعری کے نام سے ہی نا آشنا ہو اور یہ دم چھلا بھی محض دکھلاوے کے لئے لگایا گیا ہے۔ ورنہ یہ شعر لکھ کر تم ہم سے اس بات کا کبھی مطالبہ نہ کرتے کہ اس میں مسلمان کا لفظ دکھاؤ۔ شعر اور نثر میں یہی فرق ہے کہ شعر میں تھوڑے لفظوں میں بات مکمل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب شعر کی تشریح کی جاتی ہے اور اس کے شان نزول پر اور مطلب پر بحث کی جاتی ہے تو پھر ساری چیزیں ایک ایک کر کے سامنے آ جاتی ہیں۔ بس اب اتنی بحث پڑھ کر پھر سے اس شعر پر غور کرو۔ اس کا ماخذ تلاش کرو۔ شان نزول معلوم کرو۔ کس کے لئے بولا گیا ہے۔ کب بولا گیا ہے۔ کیوں بولا گیا ہے۔ فضل الدین کہتا ہے کہ اس سے مراد پادری ہیں۔ میں کہتا ہوں پادری کا لفظ دکھا دو۔ فیصلہ ہو گیا جب تم تفصیل میں جا کر دور کی کوڑی لا کر پادری ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرو گے تو میں نزدیک ہی سے ثابت کر چکا ہوں کہ اس میں بھی ہم مسلمانوں کو ہی گالی دی گئی ہے۔ (ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣) پر یہ شعر

٦

ہے اور (ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٦) پر وضاحت ہے۔ پہلا شعر نہیں، پھر ذرا غور سے پڑھیں۔ اللہ آپ کو سمجھ عطا فرمائے۔

تیسرا حوالہ...... عبداللہ آتھم سے مناظرہ سے متعلق ہے کرتے تو بہتر تھا۔ کیونکہ اس واقعہ سے مرزا قادیانی کے الہامات ہے۔ مرزا قادیانی نے عبداللہ آتھم کی موت کی تاریخ مقرر کی ٥ شام آئی تو مرزا قادیانی کے گھر کہرام مچ گیا۔ رات بھر مرزا قادیانی اور علی الصبح وہ چنے خود ایک ویران کنویں میں گرائے اور ساتھیوں جلدی واپس چلو۔ لیکن عبداللہ آتھم پھر بھی نہ مرا۔ اہل اسلام! لئے ایسے ذلیل حربے استعمال کرتے ہیں؟ جب اللہ نے وحی سے کیا تھا تو مرزا نے چنے کیوں پڑھے۔ اس نے وحی الٰہی کی خلاف صاحب ان کا جواب مرحمت فرمائیں گے جب مرزا قادیانی نے تو مسلمانوں نے جھوٹا کہنا شروع کر دیا۔ مرزا قادیانی نے لکھا صاف سمجھا جائے گا کہ اسے ولد الحرام بننے کا شوق ہے ۔‘‘ سمجھ قادیانی کھائیں اور حرام زادہ مسلمان بنیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار

جواب سنئے۔ لکھتے ہیں: ”پون صدی سے آپ لوگوں نے احمدی کوشش کی، مگر ناکامی اور ذلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا بدترین مثال اور کیا ہو گی کہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے حوالہ تو بات اپنے دل کی کہہ دی۔ فضل الدین صاحب تاریخ اسلام اٹھا کونہ تھا جس پر اسلام کے بیٹوں نے اپنے گھوڑے نہیں دوڑائے تم نے پون صدی کا حوالہ تو دیا مگر اپنی کارگزاری بھی تو پیش کر گئے۔ پاکستان میں قدم قدم پر مسلمان تمہارے جھوٹ کا پول نہیں کہ برسرعام آ کر مرزا کی نبوت پر تقریر کر سکو۔ اگر یہ حقیقت کہ اپنی چار دیواریوں سے باہر نکل کر ہمارے سامنے چوک تقریر کر دو اور پتہ چل جائے کہ پون صدی میں تم نے کون سا شیر ہوتا ہے۔ لیکن تم تو گیدڑوں سے بھی بزدل ہو۔ جسے اس

٧

صفحہ ١٨٣

ہے اور (ص ١٠، خزائن ج ٣ ص ٥٦) پر وضاحت ہے۔ پمفلٹ ”جس کی بات نہیں اس کی ذات نہیں“ پھر ذرا غور سے پڑھیں۔ اللہ آپ کو سمجھ عطاء فرمائے۔

تیسرا حوالہ ...... عبداللہ آتھم سے مناظرہ سے متعلق ہے۔ خادم صاحب اس واقعہ کا ذکر نہ کرتے تو بہتر تھا۔ کیونکہ اس واقعہ سے مرزا قادیانی کے الہاموں اور خدائی مدد کا پول کھل جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے عبداللہ آتھم کی موت کی تاریخ مقرر کی ٥ ستمبر ١٨٩٤ء، لیکن جب ٤ ستمبر کی شام آئی تو مرزا قادیانی کے گھر کہرام مچ گیا۔ رات بھر مرزا قادیانی نے چنوں پر سورت پڑھوائی اور علی الصبح وہ چنے خود ایک ویران کنویں میں گرائے اور ساتھیوں سے کہا کہ پیچھے دیکھے بغیر جلدی جلدی واپس چلو۔ لیکن عبداللہ آتھم پھر بھی نہ مرا۔ اہل اسلام! کیا نبی اپنے مخالفین کو مارنے کے لئے ایسے ذلیل حربے استعمال کرتے ہیں؟ جب اللہ نے وحی کے ذریعہ آتھم کی موت کا دن مقرر کیا تھا تو مرزا نے چنے کیوں پڑھے۔ اس نے وحی الٰہی کی خلاف ورزی کیوں کی۔ کیا فضل الدین صاحب ان کا جواب مرحمت فرمائیں گے جب مرزا قادیانی مذکورہ واقعہ میں جھوٹے ثابت ہوئے تو مسلمانوں نے جھوٹا کہنا شروع کر دیا۔ مرزا قادیانی نے لکھا : ”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا صاف سمجھا جائے گا کہ اسے ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔“ سبحان اللہ ! مناظرہ میں شکست تو مرزا قادیانی کھائیں اور حرام زادہ مسلمان بنیں۔ فاعتبروا یااولی الابصار!

نمبر ١ ...... اب دوسرا پمفلٹ ندائے حق نمبر ١۔ ندائے احمق ہی کہنا بہتر ہوگا، کے اعتراض کا جواب سنئے۔ لکھتے ہیں: ”پون صدی سے آپ لوگوں نے احمدیت کے راستہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ مگر ناکامی اور ذلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔“ بزدلی اور دھاندلی کی اس سے بدترین مثال اور کیا ہو گی کہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے حوالہ تو شورش کشمیری کے نام سے لکھ دیا مگر بات اپنے دل کی کہہ دی۔ فضل الدین صاحب تاریخ اسلام اٹھائیے ! پون صدی میں دنیا کا کون سا کونہ تھا جس پر اسلام کے بیٹوں نے اپنے گھوڑے نہیں دوڑائے تھے اور اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا تھا۔ تم نے پون صدی کا حوالہ تو دیا مگر اپنی کارگزاری بھی تو پیش کرو۔ قادیان سے دھکے دے کر نکالے گئے۔ پاکستان میں قدم قدم پر مسلمان تمہارے جھوٹ کا پول کھول رہے ہیں۔ تم میں اتنی جرأت نہیں کہ برسرعام آکر مرزا کی نبوت پر تقریر کر سکو۔ اگر یہ حقیقت نہیں تو آؤ میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ اپنی چار دیواریوں سے باہر نکل کر ہمارے سامنے چوک پر کھڑے ہو کر مناقب مرزا پر ایک تقریر کر دو اور پتہ چل جائے کہ پون صدی میں تم نے کون سا تیر مار لیا ہے۔ اپنی گلی میں تو کتا بھی شیر ہوتا ہے۔ لیکن تم تو گیدڑوں سے بھی بزدل ہو۔ جسے اپنے گھر میں کچھ کہنے کی جرأت نہیں، وہ

٧

صفحہ ١٨٥

باہر کیا کرے گا۔

کرتے ہیں۔“ سبحان اللہ ! کیا خوبصورت الفاظ ہیں۔ ہمارے علماء پر تو تحقیقاتی رپورٹ کی دفعہ لگا کر خوش ہو گئے۔ لیکن اپنے ہی مرزا غلام احمد قادیانی کی خبر تک نہ لی کہ اصل میں وہی تو جھوٹ، مکر وفریب، غیظ وغضب والی صفات کے قافلہ کا سرخیل کارواں ہے۔ جس کی نفسیات کا یہ عالم ہے کہ وہ گن گن کر نمبر وار لعنت، لعنت کی رٹ لگائے اور یہ تعداد ہزار تک پہنچا کر دم لے اور غصہ میں لوگوں کو حرام زادہ اور رنڈیوں کی اولاد تک کہنے سے نہ چوکے۔

فضل الدین صاحب! تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں انصاف سے کہنا کہ آیا ایسے شخص کو تم شریف کہنا شرافت کو گالی دینے کے مترادف نہیں سمجھتے؟ آیا اس قبیل کے شخص کا شمار انسانوں میں ہوگا یا حیوانوں میں؟ بس میرا یہی جواب ہے:

اتنا نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

علمائے اسلام کے متعلق میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں:

تردامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

میں اسلام کا بول بالا کر رہی ہے۔ محترم فضل الدین صاحب ہم قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ لہٰذا تمہاری ساری تگ و دو قادیانیت کے لئے تو ہو سکتی ہے۔ اسلام کے لئے نہیں۔ دنیا کے کونہ کونہ کے مسلمان حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہیں مانتے۔ لہٰذا نئی نبوت کا پرچار اسلام کی کوئی خدمت نہیں۔ رہی یہ بات کہ یورپ کا فرنگی تمہیں مسلمان سمجھتا ہے تو فرنگی کو تمہارا اسلام مبارک، ہم نے تو ہاتھ باندھے۔

مشن بھیجے ہیں۔ فضل الدین صاحب چین کے کناروں سے لے کر کاشغر کی وادیوں تک محمد ﷺ کے نام لیوا بستے ہیں۔ اپنے اپنے علاقوں میں تبلیغ اسلام و ارشاد ہم نے بانٹ رکھی ہے۔ ہم ایران میں جا کر تبلیغ اسلام کرتے پھریں کیوں پاکستان میں تبلیغ ختم ہو گئی؟ ایران میں ہمارے ایرانی بھائی تبلیغ میں مصروف ہیں۔ ہر مسلمان اپنے اپنے مورچہ پر ڈٹا ہوا ہے۔ مدینہ یونیورسٹی اور جامعہ ازھر کے طلبہ افریقہ میں تبلیغ کا فریضہ بحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں۔ جماعت احمدیہ تو ایک کروڑ

٨

روپیہ کے بل بوتے پر دنیا میں گھوم رہی ہے۔ لیکن کبھی تم رائے ونڈ کی تبلیغی جماعت کو بھی دیکھا ہے۔ اپنے خرچ پر رہے ہیں۔ دور کیوں جاتا ہے عالیجاہ محلہ مشہور کے باز شی چھاتی پر چڑھ کر ”لا اله الا الله محمد رسول الله “ یہاں محمد سے مراد مرزا قادیانی نہیں جیسا کہ مرزا قادیانی وقت محمد کی جگہ میرا تصور کیا کرو۔) فضل الدین تو اپنی ڈفلی باقی رہی بات تیری تبلیغ کی کہ وہاں جا کر تمہ اپنوں کے حوالے سے یہ ہے۔ ”تمہارے مبلغ سور کا گوش ١٩٢٣ء) ” ننگے ناچ دیکھتے ہیں۔ خود مرزا محمود نے بجمعہ جنوری ١٩٣٤ء) ”لونڈیوں کو ساتھ لئے پھرتے ہیں۔“( طرز تبلیغ کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی گئی ہے۔ مبلغ عنہ دوست سے ملے۔ کہیں چائے پر چلے گئے۔ کسی اور اج پس قادیان رپورٹ لکھ دی کہ ہم نے تین سو آدمیوں کو تمہیں مبارک، ہمیں تو معاف ہی کرو۔“

ختم نبوت کے نام پر جاری شدہ کاروبار بند کیجئے۔“ فض محمد علی جالندھری کو یہ مشورہ دے کر کیا جماعت احمد جماعت احمدیہ کا باقاعدہ رکن بن گیا ہے؟ (٣) کیا اس کا مزہ تو جب تھا کہ وہ مولانا محمد علی جالندھری کو یہ مش دعوت دیتا اور خود بھی آپ کی دشمنی چھوڑ دیتا۔ لیکن مہ ہیں کہ شورش کاشمیری قادیانیوں کا آج بھی اتنا ہی دشمنان اسلام کی دھجیاں روز اول کی طرح بکھیر رہا نے یہ باتیں لکھی ہیں۔ اس کتاب میں شورش کاشمیری اتارا ہے۔ عقل سلیم کے لئے وہی کافی ہے۔ قادیان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔ جواب بھی شن

٩

صفحہ ١٨٥

روپیہ کے بل بوتے پر دنیا میں گھوم رہی ہے۔ لیکن کبھی تو نے حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رائے ونڈ کی تبلیغی جماعت کو بھی دیکھا ہے۔ اپنے خرچ پر دنیا کے کونے کونے میں اللہ کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ دور کیوں جاتا ہے عالیجاہ محمد، مشہور مکے باز شیر اسلام محمد علی کلے تیرے مربی امریکہ کی چھاتی پر چڑھ کر ”لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ“ کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ (واضح رہے کہ یہاں محمد سے مراد مرزا قادیانی نہیں جیسا کہ مرزا قادیانی نے قادیانیوں سے کہا ہے کہ کلمہ پڑھتے وقت محمد کی جگہ میرا تصور کیا کرو۔) فضل الدین تو اپنی ڈفلی بجاتا پھر، ہمیں اس سے کیا۔

باقی رہی بات تیری تبلیغ کی کہ وہاں جا کر تمہارے مبلغ کیا کرتے ہیں وہ بھی تمہارے اپنوں کے حوالے سے یہ ہے۔ ”تمہارے مبلغ سور کا گوشت کھاتے ہیں۔“ (الفضل قادیان ٢١ اگست ١٩٢٤ء) ”ننگے ناچ دیکھتے ہیں۔ خود مرزا محمود نے بمعہ چودھری ظفر اللہ کے دیکھا۔“ (الفضل ٢٨/ جنوری ١٩٣٤ء) ”لونڈیوں کو ساتھ لئے پھرتے ہیں۔“ (اخبار پیغام صلح ج ٢٤، ٣؍ جون ١٩٣٤ء) آپکے طرز تبلیغ کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی گئی ہے۔ مبلغ عبداللہ صاحب قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”کسی دوست سے ملے۔ کہیں چائے پر چلے گئے۔ کسی اور اجتماع میں چند آدمیوں سے ملاقات ہو گئی۔ پس قادیان رپورٹ لکھ دی کہ ہم نے تین سو آدمیوں کو احمدیت یا اسلام کا پیغام پہنچا دیا۔ ایسی تبلیغ تمہیں مبارک، ہمیں تو معاف ہی کرو۔“

٤....... شورش کاشمیریؒ کے حوالہ سے لکھا ہے: ”مولوی محمد علی آپ خدا کو کیا جواب دیں گے۔ ختم نبوت کے نام پر جاری شدہ کاروبار بند کیجئے۔“ فضل الدین صاحب! شورش کاشمیری نے مولانا محمد علی جالندھری کو یہ مشورہ دے کر کیا جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے؟ (٢) کیا وہ جماعت احمدیہ کا باقاعدہ رکن بن گیا ہے؟ (٣) کیا اس نے فتنہ قادیانیت کو سچا تسلیم کر لیا ہے؟ بات کا مزہ تو جب تھا کہ وہ مولانا محمد علی جالندھری کو یہ مشورہ دے کر آپ کے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دیتا اور خود بھی آپ کی دشمنی چھوڑ دیتا۔ لیکن میں جانتا ہوں۔ میں ہی نہیں آپ بھی جانتے ہیں کہ شورش کاشمیری قادیانیوں کا آج بھی اتنا ہی دشمن ہے جتنا پہلے تھا۔ اس کا قلم آج بھی دشمنان اسلام کی دھجیاں روز اول کی طرح بکھیر رہا ہے۔ جس کتاب کے حوالے دے دے کر تم نے یہ باتیں لکھی ہیں۔ اس کتاب میں شورش کاشمیری نے مرزائیت کے منہ سے جس طرح نقاب اتارا ہے۔ عقل سلیم کے لئے وہی کافی ہے۔ قادیانیوں کے خلاف شورش کاشمیری آج بھی محمد علی کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔ جواب بھی نہ سمجھے تو اسے خدا سمجھے۔

٤....... آگے چل کر لکھتے ہیں: ”تحفظ ختم نبوت کے نام پر جمع شدہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کہاں خرچ ٩

صفحہ ١٨٧

کیا ” فضل الدین صاحب ایمان لگتی کہنا کہ اس ڈیڑھ لاکھ میں آپ نے کتنا چندہ دیا تھا؟ حیران کیوں ہو گئے۔ جواب دو۔ کتنا چندہ دیا تھا تم نے ، اگر کچھ نہیں تو آپ کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھنے لگے ہیں؟ جن مسلمانوں نے چندہ دیا ہے وہ اس کا حساب مولانا محمد علی سے خود لیں گے۔ تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر مولانا محمد علی صاحب نے یہ رقم خورد برد کر لی ہے تو تمہیں تو ربوہ میں گھی کے چراغ جلانے چاہئیں کہ یوں اتنی کثیر رقم جو تمہارے خلاف استعمال ہوتی وہ ضائع ہو گئی اور اگر رقم محفوظ ہے (یقیناً محفوظ ہے) تو چار آنسو بہا لو۔ کیونکہ اس سے اگر دس مبلغ بھی تیار ہو گئے تو انشاء اللہ تیرے جیسے سو، سو خادموں سے ایک ایک ٹکرائے گا۔

ڈیڑھ لاکھ کا حساب ہم لیں گے جنہوں نے چندہ دیا ہے۔ تمہارے حسابوں میں جو لاکھوں کے غبن ہوتے ہیں۔ کبھی ہم نے بھی اس طرح انگلی اٹھائی؟ ہم نہ چندہ دیتے ہیں نہ یہ سوال کرتے ہیں۔ سادہ لوح مرزائی تمہارے نبی کی کھیتی ہیں۔ ربوہ والے (چناب نگر ) جیسے جی چاہے اس کھیتی کو کاٹیں۔ ہمیں اس سے کیا غرض غریب مرزائی پیٹ پر پتھر باندھ کر عشر تم تک پہنچائیں اور تمہارا خلیفہ (محمود) اس دولت کے بل بوتے پر داد عیش دیتا پھرے ہمیں کیا؟ ملاحظہ ہو تاریخ محمودیت ربوہ کا مذہبی آمر، براہین احمدیہ کی پچاس جلدوں کی قیمت وصول کر کے ان کے بدلے پانچ جلدیں عوام کو دے کر بقایا رقم تیرا نبی مرزا غلام احمد قادیانی شیر مادر سمجھ کر ہضم کر گیا۔ ملکہ عالیہ بھوپال برسوں تک اس رقم کی یاد دہانی کراتی رہیں۔ لیکن صاحب بہادر کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ سچ ہے:

بادہ عصیاں سے دامن تر بتر ہے شیخ کا
پھر بھی دعویٰ ہے کہ اصلاح دو عالم ہم سے ہے

ندائے حق نمبر ١ (ندائے احق نمبر ١) کے آخر میں فضل الدین مرزائی نے کچھ راز و نیاز کی باتیں کی ہیں۔ ان کا جواب دینے سے پہلے مداری کی پٹاری کے تیسرے پمفلٹ ندائے ملت نمبر ٢ (ندائے احمق نمبر ٢) کا جواب دے دینا بہتر سمجھتا ہوں۔ ندائے حق نمبر ١ کے پانچویں اعتراض کا جواب اس کے بعد ذرا کھل کر دیا جائے گا۔ ہاں تو قارئین کرام پمفلٹ نمبر ٢ میں فضل الدین مرزائی صاحب کہتے ہیں کہ مولوی محمد علی جالندھری کو جوش خطابت میں اتنا بھی یاد نہیں رہتا کہ جو حکم دینے لگا ہوں اس کی نظیر صحابہ کرامؓ کے ہاں تو نہیں ملتی البتہ مکہ کے مشرکین یا یزید کے دربار میں ملے گی۔

سبحان اللہ! فضل الدین مرزائی صاحب کیا محمد علی جالندھری نے نبوت کا اعلان کر دیا

١٠

ہے یا مسیح موعود ہونے کا؟ امام مہدی بن بیٹھا ہے یا مجدد ومحدث ہے یا خلیفہ بن بیٹھا ہے۔ اس نے کون سا حکم دیا ہے جو طبع نازک محمد علی کے ڈانڈے یزید ومشرکین مکہ سے ملانا پڑے۔ اگر تجھے اس کی نسبت ان سے ملا جس نے برسر عام تاج وتخت ختم نبوت علیہا السلام پر زنا کی تہمت لگائی۔ جس نے عیسیٰ علیہ السلام پر شر ہے تو مرزا قادیانی کو کہہ جس نے فخر سے کہا تھا کہ قادیان میں ہ کہ وہ ظلی طور پر یزید ہی ہو کیونکہ اسی کے قلم نے (خاکم بدہن) ح کا ڈھیر لکھا۔ اس ظالم سے پوچھ حسینؓ سے اس کی کیا لڑائی تھی ک اس کے روپ میں جنم لے کر جناب حسینؓ کی عزت وتوقیر کم ک کون سا حصہ ہے جو تیرے بناسپتی نبی کے چرکوں سے بچا ہو۔

ہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہو جاتے

اور اس کو کہتے ہیں خون انصاف!

میری نگاہ شوق پر اس درجہ سختیاں ان کی

نمبر ٢ ...... محمد علی جالندھری سے پوچھتے ہیں کہ جب قرآن لے رکھا ہے تو یہ تمہاری بھاگ دوڑ کس کام کی؟

جواب :۔ فضل الدین صاحب آپ کے نبی مرزا قادیانی ہوئے تھے۔ پھر یہ جو تم ملکوں ملکوں کی خاک چھانتے پھرتے اسے ضرور کامیاب کرے گا۔ آپ آرام سے گھر بیٹھے رہیں

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آس
مجھے ہے حکم اذاں لا الــــــــــــہ

اعتراض نمبر ٦ کے ضمن میں مسجد شہید گنج اور کشم شہیدوں کو رو رہے ہیں جو مسجد شہید گنج اور سرزمین کشمیر پر قر

فضل الدین مرزائی ! یہ بات تیری سمجھ میں نہیں بات کبھی نہ پوچھتا۔ محترم اسلام میں جہاد کا حکم مسلمانوں کو د ہو یا بیت المقدس، سر زمین کشمیر ہو یا ارض فلسطین، جزیرہ پروانوں کی طرح فدا ہورہے ہیں۔ بغداد پر برطانیہ کا قبضہ

١١

صفحہ ١٨٧

ہے یا مسیح موعود ہونے کا؟ امام مہدی بن بیٹھا ہے یا مجدد ومحدث۔ امیر المومنین کا لقب اختیار کر لیا ہے یا خلیفہ بن بیٹھا ہے۔ اس نے کون سا حکم دیا ہے جو طبع نازک پر اتنا ناگوار گزرا کہ حضور کو مولانا محمد علی کے ڈانڈے یزید ومشرکین مکہ سے ملانا پڑے۔ اگر تجھے مشرکین مکہ سے اتنا ہی پیار ہے تو اس کی نسبت ان سے ملا جس نے برسر عام تاج وتخت ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا۔ جس نے سیدہ مریم علیہا السلام پر زنا کی تہمت لگائی۔ جس نے عیسیٰ علیہ السلام پر شرابی ہونے کا بہتان باندھا۔ یزید کہنا ہے تو مرزا قادیانی کو کہہ جس نے فخر سے کہا تھا کہ قادیان میں یزید الطبع لوگ بستے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ظلی طور پر یزید ہی ہو کیونکہ اسی کے قلم نے (خاکم بدہن خاکم بدہن) حسینؓ کو پاخانہ (گوہ) کا ڈھیر لکھا۔ اس ظالم سے پوچھ حسینؓ سے اس کی کیا لڑائی تھی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یزید نے پھر اس کے روپ میں جنم لے کر جناب حسینؓ کی عزت وتوقیر کم کرنے کی کوشش کی ہو۔ جسد اسلام کا کون سا حصہ ہے جو تیرے بناسپتی نبی کے چرکوں سے بچا ہو۔ اس پر:

ہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

اور اس کو کہتے ہیں خون انصاف!

میری نگاہ شوق پر اس درجہ سختیاں ان کی نگاہ شوخ پر کچھ بھی سزا نہیں

نمبر ٢....... محمد علی جالندھری سے پوچھتے ہیں کہ جب قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے تو یہ تمہاری بھاگ دوڑ کس کام کی؟

جواب:۔ فضل الدین صاحب آپ کے نبی مرزا قادیانی بقول خود خدائی نشانات لے کر پیدا ہوئے تھے۔ پھر یہ جو تم ملکوں ملکوں کی خاک چھانتے پھرتے ہو۔ کیوں؟ اور اگر مرزا سچا ہے تو اللہ اسے ضرور کامیاب کرے گا۔ آپ آرام سے گھر بیٹھے رہیں۔ باقی محمد علی جالندھری کو یہ حکم ہے:

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ الا اللہ

اعتراض نمبر ١ کے ضمن میں مسجد شہید گنج اور کشمیر کا ذکر خیر فرماتے ہوئے ان لاکھوں شہیدوں کو رو رہے ہیں جو مسجد شہید گنج اور سرزمین کشمیر پر قربان ہو گئے۔

فضل الدین مرزائی! یہ بات تیری سمجھ میں نہیں آئے گی۔ کیونکہ اگر تو جانتا ہوتا تو یہ بات کبھی نہ پوچھتا۔ محترم اسلام میں جہاد کا حکم مسلمانوں کو دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسجد شہید گنج ہو یا بیت المقدس، سرزمین کشمیر ہو یا ارض فلسطین، جزیرہ قبرص ہو یا صحرائے سینائی۔ مسلمان پروانوں کی طرح فدا ہو رہے ہیں۔ بغداد پر برطانیہ کا قبضہ ہوا اور تیرے گھر قادیان میں گھی کے

١١

صفحہ ١٨٩

چراغ جلیں۔ وادی سیناء میرے بھائیوں کی لاشوں سے پٹ جائے اور تیری اسرائیل سے سفارت چلے شہدائے کشمیر سے تیرا کیا رشتہ؟

ایں چہ بوالعجبی است؟

لکھی ہے کیا یہ ہر دو حضرات قادیانی ہو چکے ہیں۔ آپ کی دعوت کو سچا تسلیم کرتے ہیں۔ اگر نہیں تو آپ کا یہ اعتراض بالکل لغو اور بے ہودگی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ مہدی مانتے ہیں نہ عیسیٰ مانتے ہیں اور نہ ہی نبی مانتے ہیں۔ بلکہ ان تیس دجالوں اور کذابوں میں ایک مانتے ہیں جن کی خبر میرے محمد عربی ﷺ نے اپنی امت کو دی تھی۔ پس بات ختم ہو گئی۔ کیونکہ اس میں نبیوں والی ایک بھی صفت نہیں۔ کذابوں والی سینکڑوں صفات ہیں۔ (١) محی الدین ابن عربیؒ۔ (٢) شاہ ولی اللہ دہلویؒ۔ (٣) حضرت مولانا رومؒ۔ (٤) امام عبدالوہاب شعرانیؒ۔ (٥) حضرت امام محمد طاہرؒ۔ (٦) امام ربانی مجدد الف ثانیؒ۔ (٧) سید عبدالکریمؒ۔ (٨) نواب صدیق حسنؒ۔ (٩) حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ۔ (١٠) ملا علی قاریؒ کا نام لے کر کہتے ہیں کہ یہ سب حضرات امکان نبوت کے قائل ہیں۔ جی ہاں! ان بزرگوں کی کتب موجود ہیں۔ لیکن قادیان و ربوہ میں ان کے حوالے کئی بار شائع ہو چکے ہیں اور اب ان کی تشہیر فضل الدین مرزائی کے ہاتھوں کتابوں میں ہو رہی ہے۔ ناداں سمجھتا ہے کہ بڑے بڑے علمائے اسلام کا نام لے کر شاید مرزا قادیانی کا دامن نبوت صاف ہو جائے گا۔ لیکن:

ایں خیال است و محال است و جنوں

بے وقوف! حق کا دریا تو اپنی پوری آب و تاب سے جاری رہے گا۔ جو صدق دل اس میں قدم رکھے گا پار ہو جائے گا اور جو کذاب آئے گا اس کا بیڑا غرق ہو جائے گا۔

قارئین کرام! اب ہم حسب وعدہ پمفلٹ ندائے حق نمبر ١ کے پانچویں اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ فضل الدین مرزائی نے پھر اسی سوال کو اٹھایا ہے کہ احرار نے پاکستان کی مخالفت کی اور اپنے لئے ١٩٤٧ء کا حوالہ دیا۔ پھر سائمن کمیشن کی آمد پر رپورٹ کا حوالہ دیا ہے۔ شاید یہ سمجھتا ہے کہ یوں لوگوں کے سامنے چور چور پکار کر میں صاف بچ جاؤں گا۔ نہیں محترم یہ بالکل ناممکن ہے۔

١٢

مان لیا۔ احرار پاکستان کی دشمن ہے پھر اس سے یہ کیسے ثابت ہوا

کیونکہ احرار سیاسی پارٹی تھی اور مجلس مذہبی تنظیم۔ توڑنے کے لئے تو یہی جواب کافی ہے لیکن چونکہ اس نے پاکستان کی جنگ میں تاریخ کا سہارا لیا ہے۔ لہذا میں چاہتا ہوں شیشے میں اس کا منہ دکھاؤں اور ملت اسلامیہ بھی جماعت احرار جائے۔ فضل الدین صاحب! احرار تقسیم ہند کے مخالف تھے یا

”کسی نے پوچھا شاہ جی ملکی سیاست میں آپ کا کیا نے ہندوستانیوں کے ذہنوں سے انگریزوں کو نکال پھینکا اور لگائی۔ میں تو وہاں بھی گیا ہوں جہاں دھرتی پانی دینے سے آزادی کے کس تصور کے لئے لڑ رہا ہوں تو اس کے لئے کیا چاہتا ہوں۔ اس ملک سے انگریز نکلیں۔ نکلیں کیا؟۔ لے جائیں غور کیا جائے گا۔ بابو تم نکاح سے پہلے چھوارے بانٹنا چاہتے ہوں۔ تمام عمر انگریزوں سے لڑتا رہا اور لڑتا رہوں گا اور اگر گے تو میں ان کا منہ چوم لوں گا۔ میں تو ان چیونٹیوں کو کھانڈ کاٹ کھائیں۔ خدا کی قسم! میرا صرف ایک دشمن ہے وہ بر اینٹ سے اینٹ بجادی بلکہ اس خیرہ چشمی پر بھی حد ہو گئی کہ پیدا کیا۔ پھر اس خودکاشتہ پودے کی آبیاری کی۔ اب اس کو

(شاہ جی) سیاسی نظریہ بدل جاتا ہے۔ لیکن مذہبی عقیدہ نہیں پاکستان بننے سے پہلے ہی شاہ جی تقسیم قبول کر جی کے نظریات ملاحظہ فرمائیے:

”فرماتے ہیں ایک شخص ایک خاندان میں شادی اور دوسرے رشتہ دار اس رشتہ پر راضی نہیں۔ باوجود اس اپنے پرائے اگر چہ اس رشتہ پر راضی نہ تھے۔ لیکن شادی دعوتیں کرتے ہیں۔ وہ کون سا دیوث باپ ہوگا جو اپنی

١٣

صفحہ ١٨٩

مان لیا۔ احرار پاکستان کی دشمن ہے پھر اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی سچا ہے؟

کیونکہ احرار سیاسی پارٹی تھی اور مجلس مذہبی تنظیم ہے۔ قارئین کرام! فضل الدین کا منہ توڑنے کے لئے تو یہی جواب کافی ہے لیکن چونکہ اس نے پاکستان سے اپنی محبت اور حصول پاکستان کی جنگ میں تاریخ کا سہارا لیا ہے۔ لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ خود فضل الدین مرزائی کو اس شیشے میں اس کا منہ دکھاؤں اور ملت اسلامیہ بھی جماعت احمدیہ کی تاریخی خدمات سے روشناس ہو جائے۔ فضل الدین صاحب! احرار تقسیم ہند کے مخالف تھے نہ کہ آزادی ہند کے ملاحظہ ہو:

”کسی نے پوچھا شاہ جی ملکی سیاست میں آپ کا نظریہ کیا ہے؟ شاہ جیؒ نے فرمایا: ”میں نے ہندوستانیوں کے ذہنوں سے انگریزوں کو نکال پھینکا ہے۔ میں نے کلکتہ سے خیبر تک دوڑ لگائی۔ میں تو وہاں بھی گیا ہوں جہاں دھرتی پانی دینے سے عاجز ہے۔ اب سوال یہ رہا کہ میں آزادی کے کس تصور کے لئے لڑ رہا ہوں تو اس کے لئے سمجھ لیجئے کہ اپنے ملک میں اپنا راج میں چاہتا ہوں۔ اس ملک سے انگریز نکلیں، نکلیں کیا بُر لے جائیں۔ اس کے بعد آزادی کے خطوط پر غور کیا جائے گا۔ بابو تم نکاح سے پہلے چھوارے بانٹنا چاہتے ہو۔ پھر میں دستوری نہیں سپاہی ہوں۔ تمام عمر انگریزوں سے لڑتا رہا اور لڑتا رہوں گا اور اگر ایسے وقت میں سور بھی میری مدد کریں گے تو میں ان کا منہ چوم لوں گا۔ میں تو ان چیونٹیوں کو کھانڈ کھلانے کو تیار ہوں جو صاحب بہادر کو کاٹ کھائیں۔ خدا کی قسم! میرا صرف ایک دشمن ہے وہ ہے فرنگی۔ جس ظالم نے مسلمان ملکوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی بلکہ اس خیرہ چشمی پر بھی حد ہو گئی کہ تحریف کے لئے مسلمانوں میں جعلی نبی پیدا کیا۔ پھر اس خودکاشتہ پودے کی آبیاری کی۔ اب اس کو چہیتے بچہ کی طرح پال رہا ہے۔“

(شاہ جی) سیاسی نظریہ بدل جاتا ہے۔ لیکن مذہبی عقیدہ کبھی نہیں بدلتا۔“

پاکستان بننے سے پہلے ہی شاہ جیؒ تقسیم قبول کر چکے تھے اور جب پاکستان بن گیا تو شاہ جی کے نظریات ملاحظہ فرمائیے:

”فرماتے ہیں ایک شخص ایک خاندان میں شادی کرنا چاہتا ہے مگر اس کا باپ اور بھائی اور دوسرے رشتہ دار اس رشتہ پر راضی نہیں۔ باوجود اس کے وہ شادی کر ہی لیتا ہے۔ ماں باپ اپنے پرائے اگرچہ اس رشتہ پر راضی نہ تھے۔ لیکن شادی ہونے کے بعد مبارکبادیں دیتے اور دعوتیں کرتے ہیں۔ وہ کون سا دیوث باپ ہو گا جو اپنی اس بہو کی عصمت پر حملہ کرنے یا اس کو

١٣

صفحہ ١٩١

نقصان پہنچانے کی اجازت دے۔ پاکستان بن چکا ہے۔ اب اس کی حفاظت ہمارا جزو ایمان ہے ۔ تم میری رائے کو خود فروشی کا نام دو۔ میری رائے ہار گئی ۔ اس کہانی کو یہیں ختم کر دو اب پاکستان نے جب بھی پکارا اللہ باللہ اس کے ذرہ ذرہ کی حفاظت کروں گا ۔ مجھے یہ اتنا ہی عزیز ہے جتنا کوئی اور دعویٰ کر سکتا ہے۔ میں قول کا نہیں عمل کا آدمی ہوں۔ اس طرف کسی نے آنکھ اٹھائی تو وہ پھوڑ دی جائے گی۔ کسی نے ہاتھ اٹھایا تو وہ کاٹ دیا جائے گا۔ میں اس وطن اور عزت کے مقابلہ میں نہ اپنی جان عزیز سمجھتا ہوں اور نہ اولاد ۔ میرا خون پہلے بھی تمہارا تھا اور اب بھی تمہارا ہے۔“

قادیانیوں کے پاکستان کے متعلق کیا نظریات تھے۔ وہ بھی تاریخ کے سینہ میں محفوظ ہیں۔

1....... ” جب تقسیم ملک سے مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا دھندلا سا امکان افق پر نظر آنے لگا تو قادیانی آنے والے واقعات کے متعلق متفکر ہونے لگے۔ ١٩٤٥ء سے ١٩٤٧ء کے آغاز تک ان کی بعض تحریروں سے یہ منکشف ہوتا ہے کہ انہیں پہلے انگریزوں کا جانشین بننے کی توقع تھی۔ لیکن جب پاکستان کا دھندلا سا خواب مستقبل کی ایک حقیقت کا روپ اختیار کرنے لگا تو ان کو یہ امر کسی قدر دشوار معلوم ہوا کہ ایک نئی مملکت کو گوارا کر لیں۔ ان کی بعض تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ تقسیم کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ اگر ملک تقسیم ہو گیا تو وہ اسے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کریں گے۔“ (انکوائری رپورٹ ص ٢٠٩)

قارئین کرام غور کرنا ! انکوائری رپورٹ کی مذکورہ عبارت کو مرزا محمود احمد کا یہ رویاء صادق سچ ثابت ہو رہا ہے : ” ابتداء میں حضور نے اپنا ایک رویا بیان فرمایا جس میں ذکر تھا کہ گاندھی جی آئے ہیں اور حضور کے ساتھ ایک ہی چارپائی پر لیٹنا چاہتا ہے اور ذرا سی دیر لیٹنے پر اٹھ بیٹھے اور گفتگو شروع کر دی۔ اس رویا کی تعبیر میں حضور نے فرمایا کہ ممکن ہے عارضی طور پر افتراق ہو۔ (اسی لئے جماعت احمدیہ کا الہامی عقیدہ ہے کہ پاکستان کا وجود عارضی ہے) اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے ۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں شیر وشکر ہو کر رہیں ۔“

(مرتبہ منیر احمد ، وقاص احمد ، الفضل ١٥ اپریل ١٩٤٧ء)

فضل الدین مرزائی ١٩٤٧ء کا حوالہ دے کر عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ اگر قادیانی جماعت حقیقتاً مسلم لیگ کے ساتھ تھی تو ١٩٣٦ء میں لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر پنڈت نہرو کا شاہانہ استقبال کر کے اسے فخر وطن کا خطاب کیوں دیا؟ اور اس کی مکمل تفصیل الفضل ١٢؍ مئی ١٩٣٦ء میں شائع کی گئی۔ اس کی سرخی کا عنوان تھا ”فخر وطن پنڈت جواہر لال نہرو کالا ہور میں شاندار استقبال“

١٤

فضل الدین صاحب! قادیان سے آپ کے والنٹئیر لاہور پہنچے۔ آپ کے قائد اعظم آل انڈیا نیشنل لیگ اللہ خان قادیانی اور صدر آل انڈیا نیشنل لیگ شیخ بشیر احمد قادی اور ان دونوں نے نہرو کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے سے آویزاں تھے :

ation welcome you) rties union) rial)

پنڈت نہرو کا شاہانہ استقبال اور وہ بھی ١٩٣٦ کرنے کیلئے الہامی عقیدہ بھی گھڑ لیا۔ گاندھی جی سے خواب دعویٰ مسلمانی ۔ اسے کہتے ہیں : ”رند کے رند رہے ہاتھ سے فضل الدین مرزائی اپنے منہ سے وہ نقاب اتا تو پاکستان کی جنگ کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتا ہے لیکن کیا نے باؤنڈری کمیشن کی بارگاہ میں اپنا میمورنڈم پیش کیا کہ ہے کہ ہماری ایک الگ ریاست ہونی چاہئے ۔ کچھ پنڈت مجھ کو دنیا میں ملے گی نہ کہیں جائے پناہ کچھ تو انگریز کو ظل اللہ تیرے نبی نے کہا۔ ہندو ۔ دجل و نفاق کا کوئی حربہ کارگر نہ ہوا تو نام نہاد فضل عمر یعنی مردود و مطرود ہو کر سر زمین پاک میں پناہ گزیں ہوئی۔ مگر آکر قادیانی امت نے یہ مرثیہ خوانی شروع کر دی :

وہ دن جب کہ تھے ہم کیا
ہماری تھی دنیا
مگر اب یہ حالت ہو
کہیں بھی نہیں

اب حصول قادیان کے پیش نظر اکھنڈ بھار

١٥

صفحہ ١٩١

فضل الدین صاحب! قادیان سے آپ کے تین سو والنٹیر اور سیالکوٹ سے دو سو والنٹیر لاہور پہنچے۔ آپ کے قائد اعظم آل انڈیا نیشنل لیگ کورز چودھری اسد اللہ خان برادر ظفر اللہ خان قادیانی اور صدر آل انڈیا نیشنل لیگ شیخ بشیر احمد قادیانی بنفس نفیس پلیٹ فارم پر موجود تھے اور ان دونوں نے نہرو کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے۔ حسب ذیل ماٹو جھنڈیوں پر خوبصورتی سے آویزاں تھے:

پنڈت نہرو کا شاہانہ استقبال اور وہ بھی ١٩٤٦ء میں اس کے بعد پاکستان کو قبول نہ کرنے کیلئے الہامی عقیدہ بھی گھڑ لیا۔ گاندھی جی سے خواب میں بھی راز و نیاز کی باتیں اور پھر بھی دعویٰ مسلمانی۔ اسے کہتے ہیں: ”رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔“

فضل الدین مرزائی اپنے منہ سے وہ نقاب اتار دے جسے دنیا منافقت کا نقاب کہتی ہے تو پاکستان کی جنگ کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتا ہے لیکن کیا تو یہ بھول گیا کہ تیرے گرو گھنٹال مرزا محمود نے باؤنڈری کمیشن کی بارگاہ میں اپنا میمورنڈم پیش کیا کہ قادیان ایک یونٹ بن چکا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہماری ایک الگ ریاست ہونی چاہئے۔ کچھ پنڈت نہرو کو پرانی رشتہ داری یاد دلا کر کہا:

مجھ کو دنیا میں ملے گی نہ کہیں جائے پناہ کچھ تو سوچ اے مجھے محفل سے اٹھانے والے

انگریز کو ظل اللہ تیرے نبی نے کہا۔ ہندو سے رشتہ تیرے خلیفہ نے جوڑا لیکن جب دجل و نفاق کا کوئی حربہ کارگر نہ ہوا تو نام نہاد فضل عمر یعنی خلیفتہ المسیح اور اس کی تمام خانہ ساز امت مردود و مطرود ہو کر سر زمین پاک میں پناہ گزیں ہوئی۔ مگر انتقام قدرت کی قہر نمائی ملاحظہ ہو یہاں آ کر قادیانی امت نے یہ مرثیہ خوانی شروع کر دی:

وہ دن جب کہ تھے ہم مکیں قادیاں میں
ہماری تھی دنیا ہمارا زمانہ
مگر اب یہ حالت ہوئی جا رہی ہے
کہیں بھی نہیں ہمارا ٹھکانہ

(الفضل ٢٢ مئی ١٩٤٨ء)

اب حصول قادیان کے پیش نظر اکھنڈ بھارت کا الہام گھڑ مارا:

١٥

صفحہ ١٩٢
اے دجل تسبیح میں زنار کے ڈورے نہ ڈال
یا برہمن کی طرف ہو یا مسلمان کی طرف

پاکستان کے عاشقو! ذرا اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر اتنا تو جواب دو کہ چودھری ظفر اللہ نے حضرت قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں نہ پڑھی؟ لفظوں کے گورکھ دھندے میں الجھا کر فضل الدین صاحب تم عوام کو دھوکا نہیں دے سکتے:

کس کس سے چھپاؤ گے تحریک ریا کاری
محفوظ ہیں تحریریں مرقوم ہیں تقریریں

یہ دیکھو تینوں پمفلٹوں کا جواب دینے کے بعد میں امت مرزائیہ سے یہ بات پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ جس نبی کی غلامی کا طوق تم اپنے گلے میں ڈالے پھر رہے ہو وہ بندہ تھے یا خدا؟ امتی تھے یا نبی؟ عورت تھے یا مرد؟ ماں تھے یا باپ؟ مسلمان تھے یا کافر؟ کرم خاکی تھے یا بشر خاکی؟ جائے نفرت انسان تھے یا پتھر؟

پوری دنیائے قادیانیت کو میرا کھلا چیلنج ہے۔ وہ اس سوال کا جواب قیامت تک نہیں دے سکتی۔ فضل الدین مرزائی تیرے دین کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جسے میرے بزرگوں نے تشنہ چھوڑا ہو۔

سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے قادیان میں کھڑے ہو کر فضل عمر مرزا محمود کو جو چیلنج دیا تھا وہ آج بھی فضاؤں میں اسی طرح گونج رہا ہے۔ تیرے خلیفہ کو تو جرأت نہ ہوئی تو کسی باغ کی مولی ہے۔

فضل الدین مرزائی آج تجھے غلامان محمد پھر کھلا چیلنج دے رہے ہیں کہ تو گورنمنٹ سے منظوری لے کر اپنے جتنے مبلغوں کو چاہے لے آ۔ جہاں تیرا جی چاہے لے آ۔ مرزا ناصر احمد خلیفہ سوم کو لے آ۔ جلال الدین شمس کو لے آ۔ ابوالعطا جالندھری کو لے آ۔ خود آ جا۔ پورے دنیائے قادیانیت کو لے آ اور ہم سے مناظرہ کرلے۔ اگر ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا ثابت نہ کر سکیں تو سارے کے سارے آپ کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے ورنہ بصورت دیگر آپ کو مرزائیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کرنا ہوگا۔

شیشے کے محل میں بیٹھ کر دیوار سنگلاخ پر پتھر نہ برسائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا مٹی کا ڈھیلہ ہی آپ کے شیش محل کو چکنا چور کر دے:

دیوار سنگلاخ پہ پتھر ہیں پھینکتے
شیشے میں بیٹھ کر یہ حماقت تو دیکھئے

وماعلينا الا البلاغ!

١٦

خاتم النبیین لا نبی بعدی

ختم نبوت

پر

قومی اسمبلی کا متفقہ

وفاقی حکومت

PDF 195

ب وہ کہ چودھری ظفر ے میں الجھا کر فضل

ے یہ بات پوچھنے کی ہے کہ وہ بندہ تھے یا کرم خاکی تھے یا بشر

ت تک نہیں دے تہ چھوڑا ہو۔ کو جو چیلنج دیا تھا وہ غ کی مولی ہے۔ تو گورنمنٹ سے زا ناصر احمد خلیفہ پورے دنیائے ثابت نہ کر سکیں تو آپ کو مرزائیت

ہو کہ ہمارا مٹی کا

خاتم النبیین

لَا نَبِیَّ بَعْدِی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

ختم نبوت

پر

قومی اسمبلی کا متفقہ فیصلہ

وفاقی حکومت پاکستان

صفحہ ١٩٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ان صفحات میں خصوصی کمیٹی کی قرارداد کا متن، آئین میں ترمیم کا بل اور وزیراعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر کا متن دیا جا رہا ہے۔ جو انہوں نے ٧ ستمبر ١٩٧٤ء اس وقت کی، جبکہ پارلیمنٹ نے ختم نبوت کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے قانون پاس کیا۔

قرارداد

قومی اسمبلی کے کل ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی متفقہ طور پر طے کرتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات قومی اسمبلی کو غور اور منظوری کے لئے بھیجی جائیں۔ کل ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی اپنی رہنماء کمیٹی اور ذیلی کمیٹی کی طرف سے اس کے سامنے پیش یا قومی اسمبلی کی طرف سے اس کو بھیجی گئی قراردادوں پر غور کرنے اور دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو حسب ذیل سفارشات پیش کرتی ہے۔

اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔

مذکورہ بالا سفارشات کے نفاذ کے لئے خصوصی کمیٹی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور شدہ مسودہ قانون منسلک ہے۔

تشریح....... کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق (٣) کی تصریحات کے مطابق محمدﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے، وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہوگا۔

١٩٧٤ء میں مقتضیہ قانونی اور ضابطہ کی ترامیم کی جائیں۔

٢

مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ

(قومی اسمبلی میں پیش کئے

(اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مزید ترمی

ہر گاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں درج کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔ لہٰذا بذریعہ ہذا حسب

گا۔ (٢) یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔

آئین کہا جائے گا۔ دفعہ ١٠٦ کی شق (٣) میں لفظ فر جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ گے۔

شق درج کی جائے گی۔ یعنی: ”(٣) جو شخص محمدﷺ جو آخری نبی ہیں، طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمدﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے، وہ آئین ہے۔“

بیان اغراض و وجوہ

جیسا کہ تمام ایوان کی خصوصی کمیٹی کی سفار اس بل کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں محمدﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طو ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح

٣

صفحہ ١٩٥

...... کہ پاکستان کے تمام شہریوں خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، کے جان و مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔

(قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کے لئے)

(اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مزید ترمیم کرنے کے لئے ایک بل)

ہر گاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں درج اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔ لہٰذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے:

گا۔ (٢) یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔

آئین کہا جائے گا۔ دفعہ ١٠٦ کی شق (٣) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ”اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں)“ درج کئے جائیں گے۔

شق درج کی جائے گی۔ یعنی:

”(٣) جو شخص محمدﷺ جو آخری نبی ہیں، کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمدﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے، وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔“

بیان اغراض و وجوہ

جیسا کہ تمام ایوان کی خصوصی کمیٹی کی سفارش کے مطابق قومی اسمبلی میں طے پایا ہے۔ اس بل کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طرح ترمیم کرنا ہے تا کہ ہر وہ شخص جو محمدﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمدﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے، اسے غیر مسلم قرار دیا جائے۔

عبدالحفیظ پیرزادہ وزیر انچارج

٣

صفحہ ١٩٧

وزیراعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر

جناب ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم پاکستان کی اس تقریر کا متن، جو انہوں نے قومی اسمبلی میں ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو کی تھی۔

جناب سپیکر! میں جب یہ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لئے اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ ہم نے اس مسئلے پر ایوان کے تمام ممبروں سے تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ جن میں تمام پارٹیوں کے اور ہر طبقہ خیال کے نمائندے موجود تھے۔ آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے۔ یہ ایک قومی فیصلہ ہے۔ یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے، خواہشات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ فقط حکومت ہی اس فیصلے کی تحسین کی مستحق قرار پائے اور نہ ہی میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایک فرد اس فیصلے کی تعریف وتحسین کا حق دار بنے۔ میرا کہنا ہے کہ یہ مشکل فیصلہ، بلکہ میری ناچیز رائے میں کئی پہلوؤں سے بہت ہی مشکل فیصلہ، جمہوری اداروں اور جمہوری حکومت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔

یہ ایک پرانا مسئلہ ہے۔ نوے سال پرانا مسئلہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔ اس سے ہمارے معاشرے میں تلخیاں اور تفرقے پیدا ہوئے۔ لیکن آج کے دن تک اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ ماضی میں بھی پیدا ہوا تھا۔ ایک بار نہیں بلکہ کئی بار۔ ہمیں بتایا گیا کہ ماضی میں اس مسئلے پر جس طرح قابو پایا گیا تھا ۔ اسی طرح اب کی بار بھی ویسے ہی اقدامات سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اس سے پہلے کیا کچھ کیا گیا۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ ١٩٥٣ء میں کیا، کیا تھا۔ ١٩٥٣ء میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے وحشیانہ طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔ جو اس مسئلے کے حل کے لئے نہیں۔ بلکہ اس مسئلے کو دبا دینے کے لئے تھا۔ کسی مسئلے کو دبا دینے سے اس کا حل نہیں نکلتا۔ اگر کچھ صاحبان عقل و فہم حکومت کو یہ مشورہ دیتے کہ عوام پر تشدد کر کے اس مسئلے کو حل کیا جائے اور عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات کو کچل دیا جائے ، تو شاید اس صورت میں ایک عارضی حل نکل آتا۔ لیکن یہ مسئلے کا صحیح اور درست حل نہ ہوتا۔ مسئلہ دب تو جاتا اور پس منظر میں چلا جاتا۔ لیکن یہ مسئلہ ختم نہ ہوتا۔

٤

ہماری موجودہ مساعی کا مقصد یہ رہا ہے کہ اس مسئلے آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ ہم نے صحیح اور درست حل تلاش کر

۔ یہ درست ہے کہ لوگوں کے جذبات مشتعل ہوئے۔ غیر متو امن کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ جائیداد اور جانوں کا اتلاف ہوا گزشتہ تین ماہ سے تشویش کے عالم میں رہی اور اس پر گھٹن طرح کی افواہیں کثرت سے پھیلائی گئیں اور تقریریں کی گئیں کا سلسلہ جاری رہا۔ میں یہاں اور اس وقت یہ دہرانا نہیں چا موجودہ مسئلے کی وجوہات کے بارے میں بھی کچھ کہنا نہیں چاہ طرح اس نے جنگل کی آگ کی طرح تمام ملک کو اپنی لپیٹ می مناسب نہیں کہ میں موجودہ معاملات کی تہہ تک جاؤں۔ لیکن ایوان کی توجہ اس تقریر کی طرف دلاؤں جو میں نے قوم سے خطا

اس تقریر میں، میں نے پاکستان کے عوام سے و اور اصولی طور پر مذہبی مسئلہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد اسلام پر ہ میں آیا تھا۔ اگر کوئی ایسا فیصلہ کر لیا جاتا جسے اس ملک کے مسل اور اعتقادات کے خلاف سمجھتی تو اس سے پاکستان کی سا اندیشہ تھا۔ چونکہ یہ مسئلہ خالص مذہبی تھا۔ اس لئے میری حکوم میرے لئے مناسب نہ تھا کہ اس پر ١٣ جون کو کوئی فیصلہ دیا جا

لاہور میں مجھے کئی ایک ایسے لوگ ملے جو اس مسل رہے تھے کہ آپ آج ہی ، ابھی ابھی اور یہیں وہ اعلان ک مسلمانوں کی اکثریت چاہتی ہے۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا ک آپ کی حکومت کو بڑی داد وتحسین ملے گی اور آپ کو ایک ف ناموری حاصل ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے عوام گنوا دیا تو آپ اپنی زندگی کے ایک سنہری موقع سے ہاتھ

احباب سے کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور بسیط مسئلہ ہے۔ سال سے پریشان کر رکھا ہے اور پاکستان بننے کے ساتھ ہی

٥

صفحہ ١٩٧

ہماری موجودہ مساعی کا مقصد یہ رہا ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے اور میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ ہم نے صحیح اور درست حل تلاش کرنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ درست ہے کہ لوگوں کے جذبات مشتعل ہوئے۔ غیر معمولی احساسات ابھرے۔ قانون اور امن کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ جائیداد اور جانوں کا اتلاف ہوا۔ پریشانی کے لمحات آئے۔ تمام قوم گزشتہ تین ماہ سے تشویش کے عالم میں رہی اور اس پر کشمکش اور بیم و رجا کے عالم میں رہی۔ طرح طرح کی افواہیں کثرت سے پھیلائی گئیں اور تقریریں کی گئیں۔ مساجد اور گلیوں میں بھی تقریروں کا سلسلہ جاری رہا۔ میں یہاں اور اس وقت یہ دہرانا نہیں چاہتا کہ ٢٢ اور ٢٩ مئی کو کیا ہوا تھا۔ میں موجودہ مسئلے کی وجوہات کے بارے میں بھی کچھ کہنا نہیں چاہتا کہ یہ مسئلہ کس طرح رونما ہوا اور کس طرح اس نے جنگل کی آگ کی طرح تمام ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میرے لئے اس وقت یہ مناسب نہیں کہ میں موجودہ معاملات کی تہہ تک جاؤں۔ لیکن میں اجازت چاہتا ہوں کہ اس معزز ایوان کی توجہ اس تقریر کی طرف دلاؤں جو میں نے قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے ١٣ جون کو کی تھی۔

اس تقریر میں، میں نے پاکستان کے عوام سے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ یہ مسئلہ بنیادی اور اصولی طور پر مذہبی مسئلہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد اسلام پر ہے۔ پاکستان مسلمانوں کے لئے وجود میں آیا تھا۔ اگر کوئی ایسا فیصلہ کر لیا جاتا جسے اس ملک کے مسلمانوں کی اکثریت اسلام کی تعلیمات اور اعتقادات کے خلاف سمجھتی تو اس سے پاکستان کی علت غائی اور اس کے تصور کو بھی ٹھیس لگنے کا اندیشہ تھا۔ چونکہ یہ مسئلہ خالص مذہبی تھا۔ اس لئے میری حکومت کے لئے یا ایک فرد کی حیثیت سے میرے لئے مناسب نہ تھا کہ اس پر ١٣ جون کو کوئی فیصلہ دیا جاتا۔

لاہور میں مجھے کئی ایک ایسے لوگ ملے جو اس مسئلے کے باعث مشتعل تھے۔ وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ آپ آج ہی، ابھی ابھی اور یہیں وہ اعلان کیوں نہیں کر دیتے جو کہ پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت چاہتی ہے۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ یہ اعلان کر دیں تو اس سے آپ کی حکومت کو بڑی داد و تحسین ملے گی اور آپ کو ایک فرد کے طور پر نہایت شاندار شہرت اور ناموری حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کا یہ موقع گنوا دیا تو آپ اپنی زندگی کے ایک سنہری موقع سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ میں نے اپنے ان احباب سے کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور بسیط مسئلہ ہے۔ جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو نوے سال سے پریشان کر رکھا ہے اور پاکستان بننے کے ساتھ ہی یہ پاکستان کے مسلمانوں کے لئے بھی

٥

صفحہ ١٩٩

پریشانی کا باعث بنا ہے۔ میرے لئے یہ مناسب نہ تھا کہ میں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا اور کوئی فیصلہ کر دیتا۔

میں نے ان اصحاب سے کہا کہ ہم نے پاکستان میں جمہوریت کو بحال اور قائم کیا ہے۔ پاکستان کی ایک قومی اسمبلی موجود ہے۔ جو ملکی مسائل پر بحث کرنے کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ میری ناچیز رائے میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے قومی اسمبلی ہی مناسب جگہ ہے اور اکثریتی پارٹی کے رہنما ہونے کی حیثیت سے میں قومی اسمبلی کے ممبروں پر کسی طرح کا دباؤ نہیں ڈالوں گا۔ میں اس مسئلے کے حل کو قومی اسمبلی کے ممبروں کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں اور ان میں میری پارٹی کے ممبر بھی شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر میری اس بات کی تصدیق کریں گے کہ جہاں میں نے کئی ایک مواقع پر انہیں بلا کر اپنی پارٹی کے مؤقف سے آگاہ کیا وہاں اس مسئلے پر میں نے اپنی پارٹی کے ایک ممبر پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔ سوائے ایک موقع کے جبکہ اس مسئلے پر کھلی بحث ہوئی تھی۔

جناب سپیکر! میں آپ کو یہ بتانا مناسب نہیں سمجھتا کہ اس مسئلے کے باعث اکثر میں پریشان رہا اور راتوں کو مجھے نیند نہیں آئی۔ اس مسئلے پر جو فیصلہ ہوا ہے۔ میں اس کے نتائج سے بخوبی واقف ہوں۔ مجھے اس فیصلے کے سیاسی اور معاشی رد عمل اور اس کی پیچیدگیوں کا علم ہے۔ جس کا اثر مملکت کے تحفظ پر ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا پاکستان وہ ملک ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کی اس خواہش پر وجود میں آیا کہ وہ اپنے لئے ایک الگ مملکت چاہتے تھے۔ اس ملک کے باشندوں کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ میں اس فیصلے کو جمہوری طریقے سے نافذ کرنے میں اپنے کسی بھی اصول کی خلاف ورزی نہیں کر رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلا اصول یہ ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے۔ اسلام کی خدمت ہماری پارٹی کے لئے اولین اہمیت رکھتی ہے۔ ہمارا دوسرا اصول یہ ہے کہ جمہوریت ہماری پالیسی ہے۔ چنانچہ ہمارے لئے فقط یہی درست راستہ تھا کہ ہم اس مسئلے کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کرتے۔ اس کے ساتھ ہی میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنی پارٹی کے اس اصول کی بھی پوری طرح سے پابندی کریں گے کہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد سوشلزم پر ہو۔ ہم سوشلسٹ اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ جو کیا گیا ہے، اس فیصلے میں ہم نے اپنے کسی بھی اصول سے انحراف نہیں کیا۔ ہم اپنی پارٹی کے تین اصولوں پر مکمل طور سے پابند رہے ہیں۔ میں نے کئی بار کہا ہے کہ اسلام کے بنیادی اور اعلیٰ

٦

ترین اصول، سماجی انصاف کے خلاف نہیں اور سوشلزم کے بھی خلاف نہیں ہیں۔

یہ فیصلہ مذہبی بھی ہے اور غیر مذہبی بھی۔ مذہبی متاثر کرتا ہے جو پاکستان میں اکثریت میں ہیں اور غیر رہتے بستے ہیں۔ ہمارا آئین کسی مذہب وملت کے خلا شہریوں کو یکساں حقوق دیئے ہیں۔ ہر پاکستانی کو اس با بغیر کسی خوف کے اپنے مذہبی عقائد کا اظہار کر سکے۔ پاک اس امر کی ضمانت دی گئی ہے۔ میری حکومت کے لئے پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ یہ کوئی ابہام کی گنجائش نہیں رکھنا چاہتا۔ پاکستان کے شہر اور مقدس اسلامی فرض ہے۔

جناب سپیکر! میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہو اور بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ فرض پوری طرح اور مکمل طور پر ادا ذہن میں شبہ نہیں رہنا چاہئے۔ ہم کسی قسم کی غارت گر شہری کی توہین اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے۔

جناب سپیکر! گزشتہ تین مہینوں کے دوران گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ کئی لوگوں کو جیل میں بھیجا ہمارا فرض تھا۔ ہم اس ملک میں بدامنی کا اور تخریبی عناصر ک خاتمہ کریں۔ ان کے تحت ہمیں یہ سب کچھ کرنا پڑا۔ لیکن متفقہ طور سے ایک اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ آپ کو یقین دلاتا جلد از جلد غور کریں گے اور جب کہ اس مسئلے کا باب بند ہوچک نرمی کا برتاؤ کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ مناسب وقت جائے گی اور انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ جنہوں نے اس عر اور مسئلہ پیدا کیا۔

جناب سپیکر! جیسا کہ میں نے کہا ہمیں امید

٧

صفحہ ١٩٩

ترین اصول، سماجی انصاف کے خلاف نہیں اور سوشلزم کے ذریعے معاشی استحصال کو ختم کرنے کے بھی خلاف نہیں ہیں۔

یہ فیصلہ مذہبی بھی ہے اور غیر مذہبی بھی۔ مذہبی اس لحاظ سے کہ یہ فیصلہ ان مسلمانوں کو متاثر کرتا ہے جو پاکستان میں اکثریت میں ہیں اور غیر مذہبی اس لحاظ سے کہ ہم دور جدید میں رہتے بستے ہیں۔ ہمارا آئین کسی مذہب و ملت کے خلاف نہیں۔ بلکہ ہم نے پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق دیئے ہیں۔ ہر پاکستانی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ فخر و اعتماد سے بغیر کسی خوف کے اپنے مذہبی عقائد کا اظہار کر سکے۔ پاکستان کے آئین میں پاکستانی شہریوں کو اس امر کی ضمانت دی گئی ہے۔ میری حکومت کے لئے اب یہ بات بہت اہم ہوگئی ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ یہ نہایت ضروری ہے اور میں اس بات میں کوئی ابہام کی گنجائش نہیں رکھنا چاہتا۔ پاکستان کے شہریوں کے حقوق کی حفاظت ہمارا اخلاقی اور مقدس اسلامی فرض ہے۔

جناب سپیکر! میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں اور اس ایوان کے باہر کے ہر شخص کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ فرض پوری طرح اور مکمل طور پر ادا کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی شخص کے ذہن میں شبہ نہیں رہنا چاہئے۔ ہم کسی قسم کی غارت گری اور تہذیب سوزی یا کسی پاکستانی طبقے یا شہری کی توہین اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے۔

جناب سپیکر! گزشتہ تین مہینوں کے دوران اور اس بڑے بحران کے عرصے میں کچھ گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ کئی لوگوں کو جیل میں بھیجا گیا اور چند اور اقدامات کئے گئے۔ یہ بھی ہمارا فرض تھا۔ ہم اس ملک پر بدامنی کا اور نراجی عناصر کا غلبہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ جو ہمارے فرائض تھے۔ ان کے تحت ہمیں یہ سب کچھ کرنا پڑا۔ لیکن میں اس موقع پر جبکہ تمام ایوان نے متفقہ طور سے ایک اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ہر معاملے پر فوری اور جلد از جلد غور کریں گے اور جب کہ اس مسئلے کا باب بند ہو چکا ہے۔ ہمارے لئے یہ ممکن ہوگا کہ ان سے نرمی کا برتاؤ کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ مناسب وقت کے اندر اندر کچھ ایسے افراد سے نرمی برتی جائے گی اور انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ جنہوں نے اس عرصے میں اشتعال انگیزی سے کام لیا یا کوئی اور مسئلہ پیدا کیا۔

جناب سپیکر! جیسا کہ میں نے کہا ہمیں امید کرنی چاہئے کہ ہم نے اس مسئلے کا باب بند

٧

صفحہ ٢٠١

کر دیا ہے۔ یہ میری کامیابی نہیں، یہ حکومت کی بھی کامیابی نہیں، یہ کامیابی پاکستان کے عوام کی کامیابی ہے۔ جس میں ہم بھی شریک ہیں۔ میں سارے ایوان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ یہ فیصلہ متفقہ طور پر نہ کیا جاسکتا اگر تمام ایوان کی جانب سے اور اس میں تمام پارٹیوں کی جانب سے تعاون اور مفاہمت کا جذبہ نہ ہوتا۔ آئین سازی کے موقع کے وقت بھی ہم میں تعاون اور سمجھوتے کا یہ جذبہ موجود تھا۔ آئین ہمارے ملک کا بنیادی قانون ہے۔ اس آئین کے بنانے میں ستائیس برس صرف ہوئے اور وہ وقت پاکستان کی تاریخ میں تاریخی اور یادگار وقت تھا جب اس آئین کو تمام پارٹیوں نے قبول کیا اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اسی جذبے کے تحت ہم نے یہ مشکل فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

جناب سپیکر! کیا معلوم کہ مستقبل میں ہمیں زیادہ مشکل مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔ لیکن میری ناچیز رائے میں جب سے پاکستان وجود میں آیا، یہ مسئلہ سب سے زیادہ مشکل مسئلہ تھا۔ کل کو اس سے زیادہ پیچیدہ اور مشکل مسائل ہمارے سامنے آسکتے ہیں۔ جن کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن ماضی کو دیکھتے ہوئے اس مسئلے کے تاریخی پہلوؤں پر اچھی طرح غور کرتے ہوئے میں پھر کہوں گا کہ سب سے زیادہ مشکل مسئلہ یہ تھا۔ گھر گھر میں اس کا اثر تھا۔ ہر دیہات میں اس کا اثر تھا اور ہر فرد پر اس کا اثر تھا۔ یہ مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا چلا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک خوفناک شکل اختیار کر گیا۔ ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا ہی تھا۔ ہمیں تلخ حقائق کا سامنا کرنا ہی تھا۔ ہم اس مسئلے کو ہائی کورٹ یا اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد کر سکتے تھے یا اسے اسلامی سیکرٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاسکتا تھا۔ ظاہر ہے کہ حکومت اور حتیٰ کہ افراد بھی مسائل کو ٹالنا جانتے ہیں اور انہیں جوں کا توں رکھ سکتے ہیں اور حاضرہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے معمولی اقدامات کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم نے اس مسئلے کو اس انداز سے نمٹانے کی کوشش نہیں کی۔ ہم اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ اس جذبے کے تحت قومی اسمبلی ایک کمیٹی کی صورت میں خفیہ اجلاس کرتی رہی۔ خفیہ اجلاس کرنے کے لئے قومی اسمبلی کے پاس کئی ایک وجوہات تھیں۔ اگر قومی اسمبلی خفیہ اجلاس نہ کرتی تو جناب! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ تمام سچی باتیں اور حقائق ہمارے سامنے آسکتے؟ اور لوگ اس طرح آزادی اور بغیر جھجک کے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے۔ اگر ان کو معلوم ہوتا کہ یہاں اخبارات کے نمائندے بیٹھے ہیں اور لوگوں تک ان کی باتیں پہنچ رہی ہیں اور ان کی تقاریر اور بیانات کو اخبارات کے ذریعے شائع کر کے ان کا ریکارڈ ٨

رکھا جا رہا ہے تو اسمبلی کے ممبر اس اعتماد اور کھلے دل سے انہوں نے خفیہ اجلاسوں میں کیا۔ ہمیں ان خفیہ اجلاسوں چاہئے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ کا کے اظہار کا ایک موزوں وقت ہے۔ چونکہ اسمبلی کی کار ممبر کو، اور ان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی جو ہمارے سام کہہ رہے ہیں۔ اس کا سیاسی یا کسی اور مقصد کے لے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے گا۔

میرے خیال میں یہ ایوان کے لئے ضرور کارروائی کو ایک خاص وقت تک ظاہر نہ کریں۔ وقت ہم ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کو آشکار کر دیں۔ کی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان خفیہ اجلاسوں کے ریکارڈ کو کہوں تو یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ بات ہوگی۔ میں کرنے کے لئے ، اور ایک نیا باب کھولنے کے لئے، کے لئے ، اور قومی مفاد کو محفوظ رکھنے کے لئے ، اور پا اس مسئلے کی بابت ہی نہیں بلکہ دوسرے مسائل کی میں ایوان پر یہ بات عیاں کر دینا چاہتا ہوں کہ اس میں اور بات چیت اور مفاہمت کے لئے نیک شگون کو ہمارے لئے خوشی کا باعث ہے اور اب ہم آگے بڑھی سمجھوتے کے جذبے کے تحت طے کریں گے۔

جناب سپیکر ! میں اس سے زیادہ کچھ ن میرے جو احساسات تھے۔ میں انہیں بیان کر چکا مذہبی معاملہ ہے۔ یہ ایک فیصلہ ہے جو ہمارے عقی فیصلہ ہے اور پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ عوامی خ انسانی طاقت سے باہر تھا کہ یہ ایوان اس سے بہتر

صفحہ ٢٠١

رکھا جا رہا ہے تو اسمبلی کے ممبر اس اعتماد اور کھلے دل سے اپنے خیالات کا اظہار نہ کر سکتے جیسا کہ انہوں نے خفیہ اجلاسوں میں کیا۔ ہمیں ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کا کافی عرصہ تک احترام کرنا چاہئے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ کوئی بات بھی خفیہ نہیں رہتی۔ لیکن ان باتوں کے اظہار کا ایک موزوں وقت ہے۔ چونکہ اسمبلی کی کارروائی خفیہ رہی ہے اور ہم نے اسمبلی کے ہر ممبر کو، اور ان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی جو ہمارے سامنے پیش ہوئے یہ یقین دلایا تھا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں۔ اس کا سیاسی یا کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے گا۔

میرے خیال میں یہ ایوان کے لئے ضروری اور مناسب ہے کہ وہ ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کو ایک خاص وقت تک ظاہر نہ کریں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے لئے ممکن ہو گا کہ ہم ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کو آشکار کر دیں۔ کیونکہ اس کے ریکارڈ کا ظاہر ہونا بھی ضروری ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان خفیہ اجلاسوں کے ریکارڈ کو دفن ہی کر دیا جائے۔ ہرگز نہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ بات ہوگی۔ میں فقط یہ کہتا ہوں کہ اگر اس مسئلے کے باب کو ختم کرنے کے لئے، اور ایک نیا باب کھولنے کے لئے، نئی بلندیوں تک پہنچنے کے لئے، آگے بڑھنے کے لئے، اور قومی مفاد کو محفوظ رکھنے کے لئے، اور پاکستان کے حالات کو معمول پر رکھنے کے لئے اس مسئلے کی بابت ہی نہیں بلکہ دوسرے مسائل کی بابت بھی، ہمیں ان امور کو خفیہ رکھنا ہوگا۔ میں ایوان پر یہ بات عیاں کر دینا چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کے حل کو، دوسرے کئی مسائل پر تبادلہ خیال اور بات چیت اور مفاہمت کے لئے نیک شگون سمجھنا چاہئے۔ ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ یہ حل ہمارے لئے خوشی کا باعث ہے اور اب ہم آگے بڑھیں گے اور تمام نئے قومی مسائل کو مفاہمت اور سمجھوتے کے جذبے کے تحت طے کریں گے۔

جناب سپیکر! میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ اس معاملے کے بارے میں میرے جو احساسات تھے۔ میں انہیں بیان کر چکا ہوں۔ میں ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے۔ یہ ایک فیصلہ ہے جو ہمارے عقائد سے متعلق ہے اور یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے اور پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہے۔ میرے خیال میں یہ انسانی طاقت سے باہر تھا کہ یہ ایوان اس سے بہتر کچھ فیصلہ کر سکتا اور میرے خیال میں یہ بھی ممکن

٩

صفحہ ٢٠٢

نہیں تھا کہ اس مسئلے کو دوامی طور پر حل کرنے کے لئے موجودہ فیصلے سے کم کوئی اور فیصلہ ہو سکتا تھا۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو اس فیصلے سے خوش نہ ہوں۔ ہم یہ توقع بھی نہیں کر سکتے کہ اس مسئلے کے فیصلے سے تمام لوگ خوش ہو سکیں گے جو گزشتہ نوے سال سے حل نہیں ہو سکا۔ اگر یہ مسئلہ آسان ہوتا اور ہر ایک کو خوش رکھنا ممکن ہوتا تو یہ مسئلہ بہت پہلے حل ہو گیا ہوتا۔ لیکن یہ نہیں ہو سکا۔ ١٩٥٣ء میں بھی یہ ممکن نہ ہو سکا۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ١٩٥٣ء میں حل ہو چکا تھا۔ وہ لوگ اصل صورتحال کا صحیح تجزیہ نہیں کر سکے۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس فیصلے پر نہایت ناخوش ہوں گے۔ اب میرے لئے یہ ممکن نہیں کہ میں ان لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کر سکوں۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ یہ ان لوگوں کے طویل المیعاد مفاد کے حق میں ہے کہ یہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔ آج یہ لوگ ناخوش ہوں گے ان کو یہ فیصلہ پسند نہیں ہوگا۔ ان کو یہ فیصلہ ناگوار ہوگا۔ لیکن حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اور مفروضے کے طور پر اپنے آپ کو ان لوگوں میں شمار کرتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ ان کو بھی اس بات پر خوش ہونا چاہئے کہ اس فیصلے سے یہ مسئلہ حل ہو گیا اور ان کو آئینی حقوق کی ضمانت حاصل ہوگئی۔

مجھے یاد ہے کہ جب حزب مخالف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے یہ تحریک پیش کی تو انہوں نے ان لوگوں کو مکمل تحفظ دینے کا ذکر کیا تھا۔ جو اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔ ایوان اس یقین دہانی پر قائم ہے۔ یہ ہر پارٹی کا فرض ہے۔ یہ حکومت کا فرض ہے۔ حزب مخالف کا فرض ہے اور ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کی یکساں طور پر حفاظت کریں۔ اسلام کی تعلیم، رواداری ہے۔ مسلمان رواداری پر عمل کرتے رہے ہیں۔ اسلام نے فقط رواداری کی تبلیغ ہی نہیں کی بلکہ تمام تاریخ میں اسلامی معاشرے نے رواداری سے کام لیا ہے۔ اسلامی معاشرے نے اس تیرہ و تاریک زمانے میں یہودیوں کے ساتھ بہتر سلوک کیا جبکہ عیسائیت ان پر یورپ میں ظلم کر رہی تھی اور یہودیوں نے سلطنت عثمانیہ میں آ کر پناہ لی تھی۔ اگر یہودی دوسرے حکمران معاشرے سے بچ کر عربوں اور ترکوں کے اسلامی معاشرے میں پناہ لے سکتے تھے تو پھر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری مملکت اسلامی مملکت ہے۔ ہم مسلمان ہیں۔ ہم پاکستانی ہیں اور یہ ہمارا مقدس فرض ہے کہ ہم تمام فرقوں، تمام لوگوں اور پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں طور پر تحفظ دیں۔

جناب سپیکر! ان الفاظ کے ساتھ میں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں۔ آپ کا شکریہ!

١٠

خاتم النبیین لا نبی بعدی

نئے آرڈین

اجرا

(قادیانیوں کی اسلام

وفاقی حکومت

PDF 205

خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

نئے آرڈیننس کا

اجراء

(قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیاں)

وفاقی حکومت پاکستان

صفحہ ٢٠٥

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

پیش لفظ

صدر مملکت نے قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں کو روکنے کے لئے اور قانون میں ترمیم کے لئے ایک آرڈیننس بنام قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلافِ اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیر) ١٩٨٤ء نافذ کیا ہے۔ یہ آرڈیننس ٢٦؍ اپریل ١٩٨٤ء کو نافذ کیا گیا ہے۔

تعزیرات پاکستان میں دفعہ ٢٩٨۔ بی کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کی رو سے قادیانی گروپ، لاہوری گروپ کے کسی بھی ایسے شخص کو جو زبانی یا تحریری طور پر یا کسی فعل کے ذریعے مرزا غلام احمد کے جانشینوں یا ساتھیوں کو ”امیر المومنین“ یا ”صحابہ“ یا اس کی بیوی کو ”ام المومنین“ یا اس کے خاندان کے افراد کو ”اہل بیت“ کے الفاظ سے پکارے، یا اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد“ کہے، ایسے شخص کو تین سال کی سزا اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

اس دفعہ کی رو سے قادیانی گروپ، لاہوری گروپ یا احمدیوں کے ہر اس شخص کی بھی یہی سزا ہو گی جو اپنے ہم مذہب افراد کو عبادت کے لئے جمع کرنے یا بلانے کے لئے اس طرح کی اذان کہے یا اس طرح کی اذان دے جس طرح کہ مسلمان دیتے ہیں۔

ایک نئی دفعہ ٢٩٨۔ سی کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کی رو سے متذکرہ گروپوں میں سے ہر ایسا شخص جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے اور اپنے عقیدے کو اسلام کہے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی انداز میں مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرے، اس سزا کا مستحق ہوگا۔

اس آرڈیننس نے قانون فوجداری ١٨٩٨ء کی دفعہ ٩٩۔ اے میں بھی ترمیم کر دی ہے۔ جس کی رو سے صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ ایسے اخبار، کتاب اور دیگر دستاویز کو جو کہ تعزیرات پاکستان میں اضافہ شدہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شائع کی گئی، کو ضبط کر سکتی ہے۔

٢

اس آرڈیننس کے تحت سب پاکستان پریس اینڈ میں بھی ترمیم کر دی گئی ہے۔ جس کی رو سے صوبائی حکومتوں کو بند کر دے جو تعزیرات پاکستان کی اس نئی اضافہ شدہ دفعہ کی خ یا اخبار چھاپتا ہے۔ اس اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کر دے ج اور ہر اس کتاب یا اخبار پر قبضہ کر لے جس کی چھپائی یا اشاع

آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ آرڈینن

آرڈیننس نمبر ٢٠ مجریہ ١٩٨٤ء

قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خ لئے قانون میں ترمیم کا آرڈیننس !

چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی ج

کہ ایسے حالت موجود ہے جن کی بناء پر فوری کارروائ

٥ جولائی ١٩٧٧ء کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں ا استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع

حصہ اول

ابتدائیہ...... مختصر عنوان او

(امتناع و تعزیر) آرڈیننس ١٩٨٤ء کے نام سے موسوم ہو گا

آرڈیننس عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غ

اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی ح

٣

صفحہ ٢٠٥

اس آرڈیننس کے تحت ویسٹ پاکستان پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس ١٩٦٣ء کی دفعہ ٢٢ میں بھی ترمیم کر دی گئی ہے۔ جس کی رو سے صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ ایسے پریس کو بند کر دے جو تعزیرات پاکستان کی اس نئی اضافہ شدہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی کتاب یا اخبار چھاپتا ہے۔ اس اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کر دے جو متذکرہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ہر اس کتاب یا اخبار پر قبضہ کر لے جس کی چھپائی یا اشاعت پر اس دفعہ کی رو سے پابندی ہے۔ آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ آرڈیننس کا متن مندرجہ ذیل ہے:

آرڈیننس نمبر ٢٠ مجریہ ١٩٨٤ء

قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کا آرڈیننس

چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے...... اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بناء پر فوری کارروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے...... لہٰذا اب ٥؍ جولائی ١٩٧٧ء کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا ہے۔

حصہ اول

ابتدائیہ...... مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

(امتناع و تعزیر) آرڈیننس ١٩٨٤ء کے نام سے موسوم ہوگا۔

آرڈیننس عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہوگا

اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود مؤثر ہوں گے۔

٣

صفحہ ٢٠٧

حصہ دوم

مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) کی ترمیم

ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعات …… ٢٩٨۔ب اور ٢٩٨۔ج کا اضافہ مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥، ١٨٦٠ء میں باب ١٥ میں دفعہ ٢٩٨۔الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا۔ یعنی

٢٩٨۔ب بعض مقدس شخصیات یا مقامات کیلئے مخصوص القاب، اوصاف یا

خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال

ہیں) کا کوئی شخص جوالفاظ کے ذریعے، خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے۔

صحابی، یا رضی اللہ عنہ کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔

کرے یا مخاطب کرے۔

کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔ یا

تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔

ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے

٤

مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان طرح اذان دے، جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم لئے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب

٢٩٨۔ قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان

تبلیغ یا تشہیر کرے

قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی ہیں) کا کوئی شخص جو بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا ا موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحر اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے۔ کسی ایک قسم کی دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب

حصہ سوم

مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١

مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨ ازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے۔ دفعہ ٩٩۔الف میں ذیلی دفعہ

نوعیت کا کوئی مواد جس کا حوالہ مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آ ذیلی دفعہ (١) کی شق (ی ی) میں دیا گیا ہے، شامل کر دیئے جائیں ہا

دفعہ ٢٩٨۔ب یا دفعہ ٢٩٨۔ج“ شامل کر دیئے جائیں گے۔

٥

صفحہ ٢٠٧

مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہوگا۔

٢٩٨۔ قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے یا اپنے مذہب کی

تبلیغ یا تشہیر کرے

قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے۔ کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔

حصہ سوم

مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) کی ترمیم

مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں جس کا حوالہ بعد ازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے۔ دفعہ ٩٩۔الف میں ذیلی دفعہ (١) میں

نوعیت کا کوئی مواد جس کا حوالہ مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس ١٩٦٣ء کی دفعہ ٢٤ کی ذیلی دفعہ (١) کی شق (ی ی) میں دیا گیا ہے، شامل کر دیئے جائیں گے اور:

دفعہ ٢٩٨۔ج“ شامل کر دیئے جائیں گے۔

٥

صفحہ ٢٠٨

ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء کی جدول دوم کی ترمیم

مذکورہ مجموعہ میں جدول دوم میں دفعہ ٢٩٨۔الف سے متعلق اندراجات کے بعد حسب ذیل اندراجات شامل کر دیئے جائیں گے۔ یعنی:

١ ٢ ٣ ٤ ٥ ٦ ٧ ٨ ٢٩٨۔ب بعض مقدس شخصیات ایضاً ایضاً ناقابل ایضاً تین سال کے ایضاً کے لئے مخصوص القاب، ضمانت لئے کسی ایک قسم اوصاف اور خطابات کی سزائے قید وغیرہ کا ناجائز استعمال اور جرمانے

١ ٢ ٣ ٤ ٥ ٦ ٧ ٨ ٢٩٨۔ج قادیانی گروپ وغیرہ کا ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً شخص جو خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے

حصہ چہارم

مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آرڈینینس ١٩٦٣ء (مغربی پاکستان آرڈینینس نمبر ٣٠ مجریہ ١٩٦٣ء) کی ترمیم

٦..... مغربی پاکستان آرڈینینس ١٩٦٣ء کی دفعہ ٢٤ کی ترمیم

مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آرڈینینس ١٩٦٣ء (مغربی پاکستان آرڈینینس نمبر ٣٠ مجریہ ١٩٦٣ء) میں دفعہ (٢٤) ذیلی دفعہ (١) میں شق (ی) کے بعد حسب ذیل نئی شق شامل کر دی جائے گی۔ یعنی: "(ی ی) ایسی نوعیت کی ہوں جن کا حوالہ مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) کی دفعات ٢٩٨۔الف، ٢٩٨۔ب یا ٢٩٨۔ج میں درج کیا گیا ہے۔"

PCPPI-2255(84)D.F.P.-5,000-6-6-84:

٦

خاتم النبیین

قادیانی

اسلام کے لئے سنگی

قادیانیوں کے خلاف اسلام

روکنے کے لئے حکومت کے

وفاقی حکومت پاک

PDF 211

اندراجات کے بعد حسب

٧ ٨ تین سال کے ، ایضاً لئے کسی ایک قسم کی سزائے قید اور جرمانے

٧ ٨ ایضاً ایضاً

آرڈیننس نمبر ٣٠ مجریہ ذیل نئی شق شامل کر دی پاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥ کیا گیا ہے۔“ PC

خاتم النبیین لا نبی بعدی

مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

قادیانیت

اسلام کے لئے سنگین خطرہ

قادیانیوں کے خلاف اسلام سرگرمیاں

روکنے کے لئے حکومت کے اقدامات

وفاقی حکومت پاکستان

صفحہ ٢١٠

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قادیانی مسئلہ

قادیانی گروہ ، لاہوری گروہ اور احمدیوں کی مخالف اسلام سرگرمیوں (امتناع و سزا) آرڈیننس (١٩٨٤ء) کے نفاذ سے قادیانی مسئلہ اپنے حتمی حل کے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو اب تقریباً ایک سو سال کا ہو چکا ہے۔ اس کی ابتداء ایک استعماری طاقت کی انگیخت پر ہوئی اور جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا گیا۔ اس نے نہ صرف برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے درمیان تلخی اور تفرقہ پیدا کیا۔ بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک کی مسلمان اقوام خصوصاً افریقی مسلمان بھی اسی طرح کی تلخی اور تفرقہ کا شکار ہوئے۔

ختم نبوت (یعنی حضرت محمد ﷺ خدا کے آخری نبی ہیں) کا تصور اسلام میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں ”کوئی بھی مذہبی معاشرہ جو اپنی اساس کے لئے ایک نئی نبوت کا متقاضی ہو اور تمام ایسے مسلمانوں کو جو (اس نئی نبوت کے) الہامات کو ماننے سے انکار کریں ، کافر قرار دے، اسے ہر مسلمان اسلام کے استحکام کے لئے ایک شدید خطرہ سمجھتا ہے۔ ایسا ہونا ضروری ہے کیونکہ مسلمان معاشرے کے استحکام کا تحفظ صرف ختم نبوت کے تصور سے ہی ہوتا ہے۔“

بطور نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ قادیانیوں کی ارادت انہیں دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قادیانیوں نے خود اپنے آپ کو مسلم قومیت سے الگ کیا ہے۔ قادیانی لٹریچر میں متعدد اظہارات اس امر کے ملتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام لوگ جو مرزا غلام احمد کی نبوت پر صاد نہیں کرتے۔ انہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنی تصنیف حقیقت الوحی میں صاف طور پر بیان کرتا ہے کہ: ”وہ اور ان کے مخالفین ہر دو فریق بیک وقت مسلمان نہیں تسلیم کئے جاسکتے ۔“ (حقیقت الوحی مطبوعہ قادیان ١٩٠٧ء ص ١٦٢، ١٦٤، ١٧٩، ١٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧، ١٦٨ ملخص، وغیرہ) اپنی ایک اور تصنیف ”انجام آتھم“ میں وہ اپنے مخالفین کو ”اہل جہنم“ قرار دیتے ہیں۔ (انجام آتھم مطبوعہ قادیان ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)

مرزا غلام احمد کے جانشین جن میں ان کے بیٹے خلیفہ دوم اور قادیانیوں کے مصلح موعود مرزا بشیرالدین محمود احمد بھی شامل ہیں بعینہ ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔ تاہم اس ضمن میں شدید ترین بیان جس میں قادیانیوں اور مسلمانوں کے اختلافات کا نچوڑ پیش کیا گیا ہے۔ مولوی محمد علی کا

٢

صفحہ ٢١١

ہے جو خود ایک قادیانی فاضل ہیں۔ لیکن قادیانی تحریک کے نرم تر حصے کے بانی بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ”اسلام کے ساتھ احمدیہ تحریک کا تعلق ویسا ہی ہے جیسا عیسائیت کا یہودیت سے تھا۔“

آنے والے صفحات میں اس تخریب کار تحریک کی ابتدائی تاریخ، اس کے بنیادی اصولوں کا تجزیہ اور استعماری طاقتوں کے ساتھ اس کے تعاون کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مزید برآں امت مسلمہ کے قادیانی تحریک کے متعلق خیالات اور اس کے قادیانیت کے خلاف ردعمل کی صدائے بازگشت بھی ہے۔ ایک مسلمان کے لئے یہ قضیہ نہ صرف تکلیف دہ ہے۔ بلکہ خطرناک نتائج سے پر بھی ہے۔ قادیانی تحریک اس بناء پر اور بھی تہلکہ خیز ہے کہ یہ اسلام کے حصار کے اندر سے غدارانہ طور پر عمل کرنے کی خواہاں ہے۔ ہر چند کہ اس کا اپنا تشخص پاکستان کے مروجہ قانون اور قادیانی امت کی از خود امت مسلمہ سے علیحدگی کی روشنی میں اسلام کے بالکل برعکس ہے۔ تمام دنیا کے مسلمانوں کو اس مرتد سلسلے کی ابتداء، اس کے مقصودات اور اس کی سرگرمیوں سے آگاہ ہونا چاہئے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے انہیں ملت اسلامیہ سے حتمی طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کیونکہ قادیانی ملت اسلامیہ کا حصہ نہیں ہیں۔

اسلام میں ختم نبوت کا تصور

ختم نبوت پر ایمان اسلامی عقائد کا بنیادی نظریہ ہے۔ اس امر حقیقت پر مسلمان غیر متزلزل عقیدہ رکھتے ہیں کہ محمدﷺ سلسلۂ انبیاء کے وہ آخری نبی تھے جنہیں انسانیت تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے پر مامور کیا گیا تھا۔ ختم نبوت پر ایمان رکھنے کا قدرتی حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ کی تعلیمات جامع، حتمی اور مکمل ہیں۔ آنحضورﷺ کی حیات طیبہ پر تاریخ کی تحقیقی نگاہیں ہمیشہ مرکوز رہی ہیں اور آنحضورﷺ کی ذات بابرکات ہی وہ واحد ذات ہے جس کی طرف انسانیت رہنمائی کیلئے ہمیشہ پراعتماد انداز میں دیکھتی چلی آئی ہے۔

نئے نبی کی آمد کے بارے میں جب قرآن مجید کی متعلقہ آیات کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ کوئی نیا نبی اس وقت مبعوث ہوتا تھا جب سابق نبیوں کی تعلیمات عام طور پر بھلا دی جاتی تھیں یا ان کو مسخ کر دیا جاتا تھا یا ان میں شدید انداز کی آمیزش کر دی جاتی تھی یا زمانی اور مکانی تغیرات کی بناء پر ان میں ترامیم یا تدوین نو کی ضرورت لاحق ہو جاتی تھی۔ لیکن حضرت محمدﷺ کی تعلیمات حتمی، آفاقی، مکمل اور پوری طرح محفوظ ہیں۔ لہٰذا ان تعلیمات کے ہوتے ہوئے کسی نئے نبی کی آمد کی مطلقاً گنجائش یا ضرورت نہیں۔ تمام تر اسلامی تاریخ کے دوران ختم نبوت کا یہ تصور اسلام کے اساسی اصولوں میں شامل رہا ہے اور مسلمانوں کے

٣

صفحہ ٢١٢

انداز نظر، رویے اور احساسات پر اس تصور کی چھاپ بہت گہری رہی ہے۔

تورات اور انجیل کے صحائف اس بات پر گواہ ہیں کہ تمام سابق انبیاء اپنے سے بعد آنے والے انبیاء کی آمد کی پیش گوئی کرتے رہے ہیں۔ لیکن قرآن حکیم میں اس طرح کا کہیں کوئی اشارہ بھی نہیں۔ اس کے برعکس ہمیں قرآن حکیم میں ایسی واضح آیات ملتی ہیں جو کسی شک وشبہ کے بغیر اس حقیقت کا اظہار کرتی ہیں کہ رسالت کا منصب اختتام پذیر ہو چکا ہے اور باب نبوت ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ احادیث نبویؐ میں اس موضوع پر کئی مصدقہ اور متفق علیہ حدیثیں موجود ہیں جنہیں تواتر کی بلند حیثیت بھی حاصل ہے۔

یہ عقیدہ اصول دین میں سے ہے اور ہمہ گیر ہے۔ امت مسلمہ میں ہمیشہ اس عقیدے کے متعلق یک جہتی اور اجماع رہا ہے اور اسے ہمیشہ ایمان کا ایک غیر متنازعہ جزو تسلیم کیا جاتا رہا ہے اور یہ ایک ایسی پائیدار بنیاد ہے جس کے اوپر اسلام کی صرف نظریاتی عمارت ہی استوار نہیں، اس کی تہذیبی تعمیر بھی ایستادہ ہے۔ رسول اکرم ﷺ کے بعد اگر کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو اسے مسلمانوں نے بے درنگ کاذب اور مرتد گردانا ہے اور پوری امت نے کبھی کسی ایسے شخص کے ساتھ بحث و تمحیص کو ضروری نہیں سمجھا نہ ہی گوارہ کیا ہے۔

تکمیل دین اور حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس میں نبوت کا اتمام اس امر کی دلیل ہے کہ آنحضور ﷺ جو پیغام لائے تھے۔ اس میں زندگی کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ فکر اسلامی کے ارتقاء اور مسلم معاشرے کی تشکیل میں قرآن حکیم کے آخری کتاب اور رسول پاکؐ کے آخری نبی ہونے کے تصور نے گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔

مشہور و معروف صاحب فکر مؤرخ ابن خلدون، امام ابن تیمیہؒ ان کے روشن ضمیر شاگرد ابن قیمؒ، شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور علامہ اقبالؒ جیسے عظیم مسلمان مفکرین جنہوں نے ختم نبوت کے علمی، معاشرتی اور سیاسی مضمرات پر بحث کی ہے۔ اس موضوع پر علامہ اقبالؒ کے خیالات اس رسالہ میں آپ آگے چل کر ملاحظہ فرمائیں گے۔

اس مختصر سی بحث میں یہ بات آئینے کی طرح صاف اور واضح ہو جاتی ہے کہ ختم نبوت پر ہمارا عقیدہ جزو ایمان ہے جو محض کسی مافوق الفطرت اہمیت کا لگا بندھا قانون نہیں۔ بلکہ اس کے اپنے معاشرتی مضمرات بھی ہیں اور ان مضمرات کی بدولت اس نے ایک اسلامی تہذیب کی تشکیل میں بہت مدد دی ہے۔ اس نے مسلمانوں کے سامنے آنحضرت ﷺ کی ذات کو معیار کی صورت میں رکھا ہے۔ اس نے ان کے لئے اخلاقی اور روحانی کردار کا ایک ابدی نظام اقدار استوار کیا

ہے۔ اس نظریے نے مختلف ادوار مختلف نسلوں اور مختلف پرو کر ایک امت بنایا ہے۔ اس نے انسان کے ذہنی استقلا طور پر ایک منفرد تہذیبی تعمیر کے لئے بنیادیں قائم کی ہیں

ختم نبوت کے سلسلے میں آنحضور ﷺ کا یہ ار تیس جھوٹے مدعیان نبوت آئیں گے لیکن میں خاتم النبی

اس ضمن میں یہ تاریخی حقیقت بھی عام پڑھنے و کی حیات طیبہ کے دوران مسیلمہ کذاب نے نبی ہونے ک

ایک خط بھی لکھا تھا جس کے عنوان میں تحریر کیا: ”من مس رسول اللہ “ اس کا خیال تھا کہ آنحضور ﷺ بھی جو کے لئے تصدیق نامہ ہو جائے گا۔ لیکن نبی اکرم ﷺ نے ا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّ

”من محمد رسول الله الى مسي الهدی“ اس جواب سے مسیلمہ، کذاب کے نام سے ہ رہے گا۔ اس نے یہ فیصلہ بھی کر دیا کہ آنحضور ﷺ کے بع ہے۔

قادیانیت کا ظہور

سامراج کی سیاسی بالا دستی اور عسکری تسلط کی ب مبلغین کا ایک ریلا ہندوستان میں وارد ہوا۔ ہندوستا موجودگی نے مسلمانوں کے جذبات میں تلخی گھول دی او کشیدگی پیدا ہوئی۔ برصغیر کے طول و عرض میں مسلمانو مذاکروں اور علمی مباحثوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شرو اکھڑے ہوئے عسکری میدان میں شکست خوردہ اور ثقا ایسے مواقع عام طور پر مذہبی اور سیاسی مہم جوؤں کے لی حال سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ایسے ہی نازک موقع پر قادیانی سلسلہ پنجاب م اس سلسلے کو اس کے سامراجی آقاؤں کی مکمل سرپرستی حا

صفحہ ٢١٤

ہے ۔ اس نظریے نے مختلف اور مخالف نسلوں اور مختلف رنگ روپ کے انسانوں کو ایک لڑی میں پرو کر ایک امت بنایا ہے۔ اس نے انسان کے ذہنی استفسارات کو مہمیز لگائی ہے اور اس طرح واضح طور پر ایک منفرد تہذیبی تعمیر کے لئے بنیادیں قائم کی ہیں۔

ختم نبوت کے سلسلے میں آنحضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ میرے بعد تیس جھوٹے مدعیان نبوت آئیں گے لیکن میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

اس ضمن میں یہ تاریخی حقیقت بھی عام پڑھے لکھے لوگوں پر روشن ہے کہ آنحضور ﷺ کی حیات طیبہ کے دوران مسیلمہ کذاب نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور ٨ھ میں آنحضور ﷺ کو ایک خط بھی لکھا تھا جس کے عنوان میں تحریر کیا: ”من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله “ اس کا خیال تھا کہ آنحضور ﷺ بھی جواباً اسے اسی طرح لکھیں گے اور یہ تحریر اس کے لئے تصدیق نامہ ہو جائے گی۔ لیکن نبی اکرم ﷺ نے جواب اس طرح شروع کیا:

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

”من محمد رسول الله الى مسيلمة كذاب، سلام على من اتبع الهدی“ اس جواب سے مسیلمہ، کذاب کے نام سے ایسا معروف ہوا کہ ابد تک یونہی معروف رہے گا۔ اس نے یہ فیصلہ بھی کر دیا کہ آنحضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہر شخص کاذب ہے۔

قادیانیت کا ظہور

سامراج کی سیاسی بالا دستی اور عسکری تسلط کی بدولت اس کے عقب میں غیر ملکی عیسائی مبلغین کا ایک ریلا ہندوستان میں وارد ہوا۔ ہندوستان کی مذہبی اور ثقافتی زندگی میں ان کی موجودگی نے مسلمانوں کے جذبات میں تلخی گھول دی اور اس طرح سے صورت حالات میں سخت کشیدگی پیدا ہوئی۔ برصغیر کے طول و عرض میں مسلمانوں اور عیسائی مبلغین کے درمیان تند و تیز مذاکروں اور علمی مباحثوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس وقت مسلمان سیاسی طور پر اکھڑے ہوئے، عسکری میدان میں شکست خوردہ اور ثقافتی طور پر احساس کمتری کا شکار ہو چکے تھے۔ ایسے مواقع عام طور پر مذہبی اور سیاسی مہم جوؤں کے لئے بہت سازگار ہوتے ہیں اور وہ صورت حال سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ایسے ہی نازک موقع پر قادیانی سلسلہ پنجاب کے ایک دور افتادہ قصبے میں شروع ہوا۔ اس سلسلے کو اس کے سامراجی آقاؤں کی مکمل سر پرستی حاصل تھی۔ جدید تحقیقی کوششوں نے یہ بات

٥

صفحہ ٢١٥

ثابت کر دی ہے کہ سامراجیوں کی شہہ پر ہی یہ منصوبہ بنایا گیا اور اس منصوبے کے تخلیق کرنے والے عیار ذہن جلد ہی مرزا غلام احمد قادیانی کی متذبذب شخصیت کی تلاش میں کامیاب ہو گئے ۔ جن کی ذات میں انہیں اپنا وہ متوقع مدعی نبوت مل گیا جو امت مسلمہ کی مذہبی استقامت اور ذہنی پختگی کو مجروح کرنے کی ذمہ داری قبول کر سکتا تھا۔

مرزا غلام احمد ١٨٣٩ء میں قادیان کے چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے۔ مرزا غلام احمد کے پردادا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک اچھے خوش حال زمیندار تھے اور اس کے پاس زمین کے وسیع قطعات تھے اور ان وسیع قطعات سے اچھی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ لیکن سکھوں کے دور حکومت میں ان کے دادا مرزا عطاء محمد کا سکھ حکمرانوں سے تصادم ہوا اور ان کی بہت سی زمین ان کے ہاتھوں سے نکل گئی اور مرزا کے والد ایک اوسط درجے کے زمیندار رہ گئے ۔

مرزا قادیانی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں جونیئر کلرک کی حیثیت سے ملازم ہوگئے۔ جہاں انہیں پندرہ روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ بعض اہل قلم نے لکھا ہے کہ مرزا کو گھر کا کچھ مال غبن کرنے کی پاداش میں ان کے باپ نے گھر سے نکال دیا تھا اور اسی وجہ سے انہیں قادیان سے نکلنے اور سیالکوٹ میں معمولی سی ملازمت اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تقریباً چار سال تک انہوں نے یہ ملازمت کی اور ١٨٦٨ء میں اسے خیر باد کہا۔ اس چار سال کے عرصہ میں انہوں نے انگریزی زبان سکھانے کے کورس میں جو برطانوی افسروں نے اپنے ہندوستانی ملازمین کے فائدے کے لئے جاری کیا تھا، تعلیم حاصل کر کے انگریزی زبان میں شد بد پیدا کر لی۔ زبان دانی کے اس ابتدائی معیار میں اپنی کامیابی سے وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے مقامی عدالتی ملازمتوں کے لئے اہل قرار دیئے جانے کے لئے ایک مختصر امتحان میں شرکت کی۔ لیکن وہ امتحان میں ناکام ہو گئے اور عدالتی عہدہ دار نہ بن سکے۔

مرزا غلام احمد قادیانی اپنا شجرہ نسب وسطی ایشیاء کے مغلوں سے ملاتے ہیں۔ اپنی ابتدائی تحریروں کے مطابق وہ مغلوں کی برلاس شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔ (کتاب البریہ دوسرا ایڈیشن ١٨٩٨ء ص ١٣٤ ، خزائن ج ١٣ ص ١٦٢) بعد میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں الہام کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ ان کا شجرہ نسب ایرانیوں سے ملتا ہے۔ یہ دعویٰ غالباً اس لئے کیا گیا کہ رسول پاک ﷺ کی اس حدیث کا مصداق خود کو ٹھہرا سکیں ۔ جس میں آنحضور ﷺ نے اشاعت اسلام میں ایرانی مسلمانوں کے کردار کی بہت تعریف کی تھی ۔

تاہم وہ اپنی زندگی کے آخری مرحلے تک اس امر کا تعین نہ کر سکے کہ وہ کون سے سلسلہ

٦

نسب سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے مغ عرصے کے بعد انہوں نے بیان کیا کہ ان کا کچھ تعلق سر اور آخر کار انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں از روئے الہام خ نے اس بات کا اقرار کیا کہ ایک نام نہاد کشف کے علاوہ ایرانی الاصل ہیں۔ (اربعی

جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں سکھوں کے دور کے پردادا کی بہت سی زمین ہاتھ سے نکل گئی تھی۔ چنانچہ چرکے کھانے کی وجہ سے انہیں سکھ قوم سے بیزاری ہو انگریز تھے، لہٰذا ان کا خاندان انگریزوں کا حاشیہ بردار ہو گیا کہ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں اپنے مسلمان بھا غلام احمد اپنے والد کے انگریز پرستانہ کردار پر فخر کرتے ہ ”میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب در انگریزی کے ایسے خیر خواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسد خرید کر اور پچاس جنگجو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ

تاہم ان کے خاندان کی حالت پتلی ہوتی ج نے مسلمان بھائیوں کے خلاف مدد بہم پہنچائی تھی۔ اس زمینیں ضبط کرتے رہے۔ چنانچہ صاحبزادہ بشیر احمد قاد انہوں نے ہماری خاندانی جاگیر ضبط کر لی اور صرف ہ نقدی کی صورت میں مقرر کر دی جو ہمارے دادا صا اور پھر تایا صاحب کے بعد بالکل بند ہوگئی ۔“

(سیرت المہدی ح

مرزا قادیانی نے اپنی زندگی کی ابتدائی دہا بسر کیں۔ وہ خود کہتے ہیں کہ انہیں اتنی بھی توقع نہ تھی کے پاس سرمایہ تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔ لیکن ج نبوت کے) شروع کئے۔ ان کے پاس نذرانوں وغی

٧

صفحہ ٢١٥

نسب سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے مغل قوم سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کیا۔ پھر کچھ عرصے کے بعد انہوں نے بیان کیا کہ ان کا کچھ تعلق سادات یعنی آنحضورﷺ کی اولاد سے ہے اور آخر کار انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں از روئے الہام بتایا گیا ہے کہ وہ ایرانی الاصل تھے۔ انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ ایک نام نہاد کشف کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی ثبوت نہیں کہ وہ واقعی ایرانی الاصل ہیں۔

(اربعین جلد دوم ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٥ حاشیہ)

جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں سکھوں کے دور حکومت میں ان کے ساتھ تصادم میں مرزا کے پردادا کی بہت سی زمین ہاتھ سے نکل گئی تھی۔ چنانچہ خاندانی لحاظ سے سکھوں سے اتنے بڑے چرکے کھانے کی وجہ سے انہیں سکھ قوم سے بیزاری ہوگئی اور چونکہ سکھوں کا خاتمہ کرنے والے انگریز تھے، لہٰذا ان کا خاندان انگریزوں کا حاشیہ بردار ہوگیا اور اس حاشیہ برداری میں اتنا آگے نکل گیا کہ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف انگریزوں کی مدد کی۔ مرزا غلام احمد اپنے والد کے انگریز پرستانہ کردار پر فخر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب دربار گورنری میں کرسی نشین بھی تھے اور سرکار انگریزی کے ایسے خیرخواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جنگجو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٨، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٠)

تاہم ان کے خاندان کی حالت پتلی ہوتی چلی گئی اور جس گورنمنٹ عالیہ کو ان کے باپ نے مسلمان بھائیوں کے خلاف مدد بہم پہنچائی تھی۔ اس نے بھی ان کی کوئی قدر نہ کی۔ بلکہ ان کی زمینیں ضبط کرتے رہے۔ چنانچہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”اس کے بعد انگریز آئے تو انہوں نے ہماری خاندانی جاگیر ضبط کر لی اور صرف سات سو روپیہ سالانہ کی ایک اعزازی پنشن نقدی کی صورت میں مقرر کر دی جو ہمارے دادا صاحب کی وفات پر صرف ایک سو اسی رہ گئی اور پھر تایا صاحب کے بعد بالکل بند ہوگئی۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٤١، روایت نمبر ٤٩ صاحبزادہ بشیر احمد)

مرزا قادیانی نے اپنی زندگی کی ابتدائی دہائیاں نہایت فقر و فاقہ اور بڑی خستہ حالی میں بسر کیں۔ وہ خود کہتے ہیں کہ انہیں اتنی بھی توقع نہ تھی کہ وہ دس روپے مہینہ بھی کما سکیں۔ کیونکہ ان کے پاس سرمایہ تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے دعوے (مجدد، محدث اور نبوت کے) شروع کئے۔ ان کے پاس نذرانوں وغیرہ کی ریل پیل شروع ہوگئی اور عمر کے آخری

٧

صفحہ ٢١٧

سالوں تک تو ان کی کمائی میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔ چنانچہ ١٩٠٧ء تک ان کی کمائی ڈھائی لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کسی کا لکھ پتی ہونا بہت بڑا اعزاز ہوتا تھا۔

اپنی زندگی کے آخری حصے میں وہ دولت میں کھیلتے رہے۔ ان کا معیار زندگی اتنا بلند ہو گیا کہ خود ان کے پیرو کار اس پر نکتہ چینی اور ناپسندیدگی کا اظہار کرنے لگے۔

مرزا قادیانی کی شخصیت

اپنی جوانی کے زمانے میں مرزا قادیانی صرع اور اعصابی دوروں کی بیماریوں میں مبتلا رہے۔ کبھی کبھی وہ ہسٹریا کے حملوں کی وجہ سے بے ہوش ہو جایا کرتے تھے۔ انہیں ذیابیطس کا مرض بھی تھا۔ یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ بعد میں انہوں نے اپنی دو بیماریوں یعنی مراق اور ذیابیطس کو اپنے حق میں ایک دلیل بنا کر گھڑ لیا۔ انہوں نے لکھا:

”دیکھو میری بیماری کے متعلق بھی آنحضور ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔“

(ارشاد مرزا غلام احمد ، مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان، قادیان، ماہ جون ١٩٠٦ء)

مرزا قادیانی عربی الفاظ کے صحیح تلفظ سے قاصر تھے۔ وہ قریب المخرج عربی حروف کو الگ الگ لہجے میں نہ بول سکتے تھے۔ مثلاً ق اور ک کو۔ بعض اوقات ان کے ملاقاتی ان کی اس کمزوری پر اعتراض کرتے تھے۔ مگر مرزا قادیانی اپنی صفائی میں کچھ نہ کہہ سکتے تھے۔

(الفضل مورخہ ١٤ ستمبر ١٩٣٨ء)

ان کے بعض قریبی عزیز ان کے سخت مخالف تھے۔ ان میں ایک مرزا شیر علی صاحب تھے۔ جو رشتے میں ان کے سالے تھے اور ان کے بیٹے مرزا فضل احمد کے خسر بھی۔ بڑے وجیہہ انسان تھے۔ سفید براق داڑھی اور تسبیح ہاتھ میں۔ بہشتی مقبرے کے قریب بیٹھے رہتے اور جو لوگ مرزا سے ملنے آتے انہیں کچھ اس طرح کے الفاظ میں سمجھایا کرتے:

”مرزا صاحب سے میری قریبی رشتہ داری ہے۔ آخر میں نے کیوں نہ اسے مان لیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اس کے حالات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک دکان ہے جو لوگوں کو لوٹنے کے لئے کھولی گئی ہے۔ میں مرزا کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہوں۔ میں اس کے حالات سے خوب واقف ہوں۔ اصل میں آمدنی کم تھی۔ بھائی نے جائیداد سے بھی محروم کر دیا۔ اس لئے یہ دکان کھول لی ہے۔ آپ لوگوں کے پاس کتابیں اور اشتہار پہنچ جاتے

٨

ہیں ۔ آپ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کتنا بڑا بزرگ ہوگا۔ یہ رہتے ہیں۔ یہ باتیں میں نے آپ کی خیر خواہی کے لئے

(تقریر مرزا بشیر الدین محمود جلسہ سا

مرزا قادیانی کی تحریروں کو پڑھنا ایک خشک او سب تحریروں میں نہ تو علمی رنگ ہوتا ہے نہ ادبی چاشنی ۔ تھا۔ ان کی تحریر تیسرے درجے کی زمانہ وسطیٰ کی تحریروں ک ، کوسنے اور کبھی کبھی گالیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کر گوئیوں سے بھری پڑی ہیں۔ جو ان کے مخالفین کی موت

مرزا غلام احمد کے دعوے

قادیانیت کا گہرا مطالعہ کرنے والے فاضل چار ادوار میں تقسیم کیا ہے۔

کا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ انہیں ایک مقامی مبلغ اسلام مبلغ جو شمالی پنجاب میں عیسائی مشنریوں، ہندو پنڈتوں مباحثوں میں مصروف رہتا تھا۔

کیا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجدید دین کے ا منصب انہیں مثیل مسیحا کی حیثیت سے دیا گیا ہے۔ مثی السلام کی طرح کا ہو۔

ہونے کا دعویٰ کیا۔ یعنی ایک ایسا نبی جو آنحضرت ﷺ

لفظ نبی کے مکمل معنوں میں نبی ہیں۔

مرزا غلام احمد کے دعوے اتنے الجھے ہو ڈھیر کو سائنسی اور دانشورانہ تحریروں کے قالب میں اوقات باہم دگر ایسے متصادم ہوتے ہیں اور بسا اوقا

٩

صفحہ ٢١٧

ہیں ۔ آپ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کتنا بڑا بزرگ ہوگا۔ پتہ تو ہم کو ہے جو دن رات اس کے پاس رہتے ہیں۔ یہ باتیں میں نے آپ کی خیر خواہی کے لئے آپ کو بتائی ہیں ۔“

( تقریر مرزا بشیر الدین محمود جلسہ سالانہ ١٩٣٥ء ، مطبوعہ الفضل ٧ اپریل ١٩٣٦ء)

مرزا قادیانی کی تحریروں کو پڑھنا ایک خشک اور غیر دلچسپ مشغلہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کی سب تحریروں میں نہ تو علمی رنگ ہوتا ہے نہ ادبی چاشنی۔ مسائل سے نمٹنے کا ان کا انداز بڑا پھسپھسا تھا۔ ان کی تحریر تیسرے درجے کی زمانہ وسطی کی تحریروں کی طرح تھی۔ وہ اپنے مخالفین کو دل کھول کر کوستے اور کبھی کبھی گالیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان کی بہت سی تحریریں نام نہاد پیش گوئیوں سے بھری پڑی ہیں۔ جو ان کے مخالفین کی موت کے بارے میں ہوتی ہیں۔

مرزا غلام احمد کے دعوے

قادیانیت کا گہرا مطالعہ کرنے والے فاضلین نے مرزا قادیانی کے دعوؤں کی تاریخ کو چار ادوار میں تقسیم کیا ہے۔

کا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ انہیں ایک مقامی مبلغ اسلام کی حیثیت سے شہرت حاصل تھی۔ ایک ایسا مبلغ جو شمالی پنجاب میں عیسائی مشنریوں، ہندو پنڈتوں اور آریہ سماجی ودوانوں سے مذہبی بحث مباحثوں میں مصروف رہتا تھا۔

کیا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجدید دین کے اہم کام پر مامور کیا گیا ہے۔ تجدید دین کا یہ منصب انہیں مثیل مسیحا کی حیثیت سے دیا گیا ہے۔ مثیل مسیحا ایسا شخص ہوتا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح کا ہو۔

ہونے کا دعویٰ کیا۔ یعنی ایک ایسا نبی جو آنحضرت ﷺ کی متابعت میں اور آپؐ کے زیر سایہ ہو۔

لفظ نبی کے مکمل معنوں میں نبی ہیں۔

مرزا غلام احمد کے دعوے اتنے الجھے ہوئے اور اتنے متنوع ہیں کہ الجھاوؤں کے اس ڈھیر کو سائنسی اور دانشورانہ تحریروں کے قالب میں ڈھالنا انتہائی مشکل کام ہے۔ دعوے بسا اوقات باہم دگر ایسے متصادم ہوتے ہیں اور بسا اوقات مضحکہ خیز بھی ہوتے ہیں کہ ان کو صاف اور

٩

صفحہ ٢١٩

عام فہم زبان میں پیش کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ تاہم ان کی تحریروں کا مفصل جائزہ ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ان کے دعوؤں کو مختصراً مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت پیش کریں۔

١...... نبوت کا دعوٰی۔ ٢...... آنحضور ﷺ کا بروز ہونے کا دعوٰی۔ ٣...... تمام انبیاء سے برتری کا دعوٰی۔ ٤...... مسیح موعود ہونے کا دعوٰی۔ ٥...... ناسخ جہاد ہونے کا دعوٰی۔

اس مختصر سے مقالے میں ہمارے لئے ان تمام دعوؤں کا مفصل جائزہ اور محاکمہ بہت مشکل ہے۔ لہٰذا یہاں ہم اپنے آپ کو نبوت کے دعوؤں کے جائزے تک محدود رکھتے ہیں۔

مرزاغلام احمد کا دعوٰیِ نبوت

جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ مرزاغلام احمد نے ابتداء میں نبوت کے دعوٰی کی حقیقی خواہش کا واضح طور پر اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے آغاز نبوت کے بارے میں ذہنی انتشار پیدا کرنے سے کیا اور پھر بتدریج لیکن تیزی سے اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ بڑے تذبذب اور کئی متصادم اظہارات کے بعد انہوں نے بالآخر نبی ہونے کا دعوٰی کیا۔ یہاں ہم ان کے لاتعداد شذرات میں سے چند ایک پیش کرتے ہیں۔ جن سے یہ ظاہر ہوگا کہ وہ نبوت کا دعوٰی کن الفاظ میں اور کس کس انداز میں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں، تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اپنے آپ کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں۔ آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہئے۔ صرف سچے خوابوں کا آنا تو کافی نہیں یہ تو چوڑے چماروں کو بھی آجاتے ہیں۔ مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ ہونا چاہئے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں پیش گوئیاں ہوں۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی ہیں۔ امرِ حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہیں ہونا چاہئے۔

(حقیقۃ النبوۃ ص ٢٧٢، مرزا بشیر الدین محمود، اقتباس از اخبار بدر، قادیان، مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء)

مرزاغلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی ایک تالیف حقیقت النبوۃ میں مرزا قادیانی کی نبوت کے بارے میں نہایت صریح اور واضح الفاظ میں دعوٰی کیا ہے کہ ”شریعت اسلام کے مطابق لفظ نبی کی جو تشریحات کی گئی ہیں۔ ان کی روشنی میں حضرت صاحب (مرزا قادیانی) حقیقی نبی ہیں، نہ کہ محض اصطلاحی۔“ (حقیقۃ النبوۃ، مرزا بشیر الدین محمود ص ١٧٤)

١٠

زندگی کے دوسرے دور میں بھی جب مرزا رکھا۔ ان کی تحریروں میں مستقبل کے دعوؤں کی کچھ کچھ جھلک ہیں۔ ”مسیح موعود جو آنے والا ہے۔ اس کی علامت یہ لکھی سے وحی پانے والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے ہے۔ سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے۔“ (ازالہ

بعض دیگر پیراگراف بھی ان کی کتابوں میں م ارتقائی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس زمانے میں ان کا بڑ ہیں۔ لیکن آئندہ آنے والے مزید دعاوٰی کی ابتداء ان می ”اور مصنف (مرزاغلام احمد) کو اس بات کو بھی علم دیا گیا ہ والا) ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم دوسرے سے بہ شدت مناسبت و مشابہت ہے۔“

اسی طرح مثیل مسیح ہونے کے بارے میں لکھتے نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں۔ بلکہ مجھے تو فقط مثی محدثیت نبوت سے مشابہ ہے۔ ایسا ہی میری روحانی حا مشابہت رکھتی ہے۔“

لیکن کچھ عرصہ بعد مثیل مسیح سے ترقی کر کے و دل میں یقین کرلیا کہ پہلے وہ اپنے مقام و مرتبہ کو نہیں سمجھے تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے۔ تب میں نے معلوم کیا کہ میں نئی بات نہیں ہے۔ یہ وہی دعوٰی ہے جو براہین احمدیہ میں با

(کشتی نو

”اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی مراد ہوں۔ میری نسبت ہی کہا گیا کہ ہم اس کو نشان بناو مریم ہے جو آنے والا تھا اور جس میں لوگ شک کرتے ہیں شک نا فہمی سے ہے۔“

مرزاغلام احمد نے صرف مثیل مسیح اور مسیح مو

١١

صفحہ ٢١٩

زندگی کے دوسرے دور میں بھی جب مرزا نے اپنے دعوؤں کو مجددیت تک محدود رکھا۔ ان کی تحریروں میں مستقبل کے دعوؤں کی کچھ کچھ جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں: ”مسیح موعود جو آنے والا ہے۔ اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا۔ یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں۔ کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے۔ جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے۔ سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٠١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)

بعض دیگر پیراگراف بھی ان کی کتابوں میں ملتے ہیں جو ان کے دعوؤں کے دوسرے ارتقائی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس زمانے میں ان کا بڑا دعویٰ یہ تھا کہ وہ مجدد ہیں یا مثیل مسیح ہیں۔ لیکن آئندہ آنے والے مزید دعاوٰی کی ابتداء ان میں بخوبی نظر آتی ہے۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں: ”اور مصنف (مرزا غلام احمد ) کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت (دین کی تجدید کرنے والا) ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک دوسرے سے بہ شدت مناسبت و مشابہت ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤)

اسی طرح مثیل مسیح ہونے کے بارے میں لکھتے ہیں: ”مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں۔ بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔ جس طرح محدثیت نبوت سے مشابہ ہے۔ ایسا ہی میری روحانی حالت مسیح ابن مریم کی روحانی حالت سے مشابہت رکھتی ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١)

لیکن کچھ عرصہ بعد مثیل مسیح سے ترقی کر کے وہ مسیح موعود بن گئے اور انہوں نے اپنے دل میں یقین کر لیا کہ پہلے وہ اپنے مقام و مرتبہ کو نہیں سمجھے تھے۔ وہ لکھتے ہیں ”مگر جب وقت آ گیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے۔ تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس دعویٰ مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ وہی دعویٰ ہے جو براہین احمدیہ میں بار بار بہ تصریح کیا گیا ہے۔“

(کشتی نوح از مرزا غلام احمد ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١)

”اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری نسبت ہی کہا گیا کہ ہم اس کو نشان بنا دیں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ ابن مریم ہے جو آنے والا تھا اور جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک نافہمی سے ہے۔“

(کشتی نوح ص ٤٨، خزائن ج ١٩ ص ٥٢)

مرزا غلام احمد نے صرف مثیل مسیح اور مسیح موعود بننے پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے

١١

صفحہ ٢٢٠

اپنے آپ کو مریم بھی پایا۔ کشتی نوح ہی میں رقم طراز ہیں:

”سو چونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائے گی۔ گو اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے۔ دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر ...... مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ الہام کے جو سب سے آخر میں براہین احمدیہ کے حصے چہارم میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اسی طور سے میں ابن مریم ٹھہرا، خدا نے براہین احمدیہ کے وقت میں اس سرّ خفی کی مجھے خبر نہ دی۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

بعض اوقات قادیانی دعویٰ کرتے ہیں کہ مرزا استعاراتی رنگ میں نبی تھے اور آنحضور ﷺ کے بروز یعنی عکس تھے۔ جہاں تک بروزی نبوت کا تعلق ہے۔ ایک کامل، مکمل اور حقیقی نبوت اور بروزی نبوت میں کوئی تفاوت نہیں۔ مرزا قادیانی کے قول کے مطابق خود رسول کریم ﷺ بھی بروزی نبی تھے۔ (استغفر اللہ) اور وہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بروز تھے۔ چنانچہ تحفہ گولڑویہ میں ایک مقام (ص ٩٧، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٦) پر انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ہے: ”کیا ہمارے رسول کریم ﷺ بروز (عکس) ہونے کی بناء پر نبی نہیں تھے؟

ختم نبوت سے صریحی انکار

ختم نبوت سے صریحی انکار کے لئے مرزا غلام احمد عجیب و غریب دلیلیں لاتے اور طرح طرح کی تاویلیں کرتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں: ”محمدی ختم نبوت سے باب نبوت بالکلی بند نہیں ہوا، کیونکہ باب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی الٰہی بند نہیں ہوا۔“

(تشحیذ الاذہان، قادیان نمبر ٨، ج ١٢، اگست ١٩١٧ء)

”اور بالآخر یادرہے کہ اگر ایک امتی کو جو محض پیروی آنحضرت ﷺ سے درجہ وحی اور الہام اور نبوت پاتا ہے، نبی کے نام کا اعزاز دیا جائے تو اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی کیونکہ وہ امتی ہے۔“

(چشمہ مسیحی، مرزا غلام احمد، ص ٦٩، خزائن، ج ٢٠ ص ٣٨٣)

”ہمیں اس سے انکار نہیں کہ رسول کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ مگر ختم کے وہ معنی نہیں جو ’جہال‘ کا سواد اعظم سمجھتا ہے اور جو رسول کریم ﷺ کی شان اعلیٰ و ارفع کے سراسر خلاف ہے کہ آپ نے نبوت کی نعمت عظمیٰ سے اپنی امت کو محروم کر دیا، بلکہ یہ ہیں کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ اب وہی نبی ہو گا جس کی آپ تصدیق کریں گے۔“

(اخبار الفضل قادیان ج ٢٧، ٢٢ ستمبر ١٩٣٩ء)

١٢

٢٢١

”اگر کوئی شخص کہے کہ جب نبوت ختم ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدائے عزوجل نے اس ا ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ کی نبوت کا کمال، امت اور اس کے بغیر محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے، جو اہل عقل

(ترجمہ استفا

مرزا غلام احمد نے ختم نبوت کے سلسل نہایت گستاخانہ انداز بیان بھی اختیار کیا ہے جو اہانت ”وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الٰہیہ سے مشرف سکھاتا ہے کہ صرف چند منقول باتوں پر انسانی ترق رہ گئی ہے اور خدائے حی و قیوم کی آواز سننے اور اس آواز بھی غیب سے کسی کان تک پہنچتی ہے تو وہ ایک ہے یا شیطان کی۔“

(ضمی

”اور یہی محبت تو ہے جو مجھے اس بات ہونے کے عقیدے کو جہاں تک ہو سکے باطل کروں کہ مان لیا جائے کہ آپ کے بعد کوئی نبی ہی نہیں ناقص اور آپ کی تعلیم کمزور ہے کہ اس پر چلن آنحضرت ﷺ کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور آپ کی بعثت ۔ بتاؤ اس عقیدہ سے آنحضرت ﷺ رحمۃ للعالمین من ذالک) اگر اس عقیدے کو تسلیم کر لیا جائے تو نعوذ باللہ دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور پر آ ۔ ہے۔“

(

”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو ہے۔ آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہی

٣

صفحہ ٢٢١

"اگر کوئی شخص کہے کہ جب نبوت ختم ہو چکی تو اس امت میں نبی کس طرح ہو سکتا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدائے عزوجل نے اس بندہ (یعنی مرزا قادیانی) کا نام اس لئے نبی رکھا ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ کی نبوت کا کمال، امت کے کمال کے ثبوت کے بغیر ہرگز ثابت نہیں ہوتا اور اس کے بغیر محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے، جو اہل عقل کے نزدیک بے دلیل ہے۔"

(ترجمہ استفتاء عربی ضمیمہ حقیقت الوحی ص ١٦، خزائن ج ٢٢ ص ٦٣٧)

مرزا غلام احمد نے ختم نبوت کے سلسلے میں اپنے فاسد خیالات کے اظہار کے لئے نہایت گستاخانہ انداز بیان بھی اختیار کیا ہے جو اہانت رسول سے کم نہیں۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں:

"وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے، جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ صرف چند منقول باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الہیٰ آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اور خدائے حی و قیوم کی آواز سننے اور اس کے مکالمات سے قطعی نومیدی ہے اور اگر کوئی آواز بھی غیب سے کسی کان تک پہنچتی ہے تو وہ ایسی مشتبہ آواز ہے کہ کہہ نہیں سکتے کہ وہ خدا کی آواز ہے یا شیطان کی۔"

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

"اور یہی محبت تو ہے جو مجھے اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ باب نبوت کے بکلی بند ہونے کے عقیدے کو جہاں تک ہو سکے باطل کروں کہ اس میں آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے....... کہ مان لیا جائے کہ آپ کے بعد کوئی نبی ہی نہیں آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا فیضان ناقص اور آپ کی تعلیم کمزور ہے کہ اس پر چل کر انسان اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات نہیں پاسکتا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور آپ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو بند کر دیا۔ اب بتاؤ اس عقیدہ سے آنحضرت ﷺ رحمۃ للعالمین ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف (نعوذ باللہ من ذالک) اگر اس عقیدے کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ (رسول اللہ ﷺ ) نعوذ باللہ دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے۔ جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ لعنتی مردود ہے۔"

(حقیقت النبوت ص ١٨٦، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود)

"اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔"

(انوار خلافت از مرزا بشیر الدین محمود ص ٦٥)

١٣

صفحہ ٢٢٣

”اگر کوئی شخص مخلی بالطبع ہو کر اس بات پر غور کرے گا...... روز روشن کی طرح اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ مسیح موعود ضرور نبی ہے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک شخص کا نام قرآن کریم نبی رکھے۔ آنحضرت ﷺ نبی رکھے، کرشن نبی رکھے، زرتشت نبی رکھے، دانیال نبی رکھے اور ہزاروں سالوں سے اس کے آنے کی خبریں دی جا رہی ہوں لیکن باوجود ان سب شہادتوں کے وہ غیر نبی کا غیر نبی رہے۔“

(حقیقت النبوۃ، مرزا بشیر الدین محمود ص ١٩٨)

دوسرے انبیاء سے مقابلہ

مرزا قادیانی کا ایک عجیب و غریب دعویٰ یہ ہے کہ ان کا روحانی قد و قامت دیگر انبیاء سے کہیں بلند ہے۔ اس قسم کے دعوؤں کی مثالیں دینے کے لئے ہم مرزا قادیانی کی تحریروں میں سے بعض اقتباسات پیش کرتے ہیں:

”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ پر ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہرگز نہ دکھا سکتا۔“ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی اس سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“

(چشمہ معرفت از مرزا غلام احمد قادیانی ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

”خدا نے میرے ہزار ہا نشانوں میں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں جن کی تائید کی گئی۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٧)

”خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں اور مجھ کو خاتم النبیین اور سید المرسلین کا بروز بنایا اور بھید اس میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ابتداء سے ارادہ فرمایا تھا کہ اس آدم کو پیدا کرے گا کہ آخری زمانہ میں خاتم الخلفاء ہوگا۔“ (خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٤)

”دنیا میں کوئی ایسا نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں

حضرت محمد ﷺ ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خد میری نسبت ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ ہیں۔ سو ضرور ہے کہ ہر نبی کی شان مجھ میں پائی جا

”آنحضرت ﷺ کی امت کا ایک فر سے تمام انبیاء کا واحد مظہر اور بروز ہوگا اور جس ک اور وہ حسب ذیل کلام سے اپنے نطق حقیقت کو بیا

زنده شد ہر نبی ز آمدنم

اور یہ کہ:

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں

اور یہ کہ:

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا

بعض دلچسپ اور عجیب و غریب تاویلات

احادیث نبویؐ میں بڑی صراحت اور و دمشق میں اتریں گے اور مسلمانوں کو عظیم فریب کانا لیکن مرزا قادیانی اس حدیث کو مضحکہ خیز تاویل س دعوؤں کے مطابق ان پر یہ الہام نازل ہوا ہے کہ ایک ایسا مقام مراد لیا گیا ہے جس میں ایسے لوگ ر کے کردار کے ساتھ مماثلت رکھتے ہیں۔ مرزا قاد دلوں پر خدا اور اس کے رسول کے لئے کوئی محبت نہی بلکہ اپنے اوہام اور سفلی خواہشات کے تابع ہیں۔ ہ کے دل میں کوئی قدر نہیں۔ وہ یوم آخرت پر ایمان کی ہیں۔ اللہ نے مرزا غلام احمد پر وحی نازل فرم

٥

صفحہ ٢٢٣

حضرت محمدﷺ ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اس کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت ”جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء“ فرمایا یعنی خدا کا رسول سب نبیوں کے پیرایوں میں ۔ سو ضرور ہے کہ ہر نبی کی شان مجھ میں پائی جائے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٤ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

”آنحضرتﷺ کی امت کا ایک فرد اور واحد وجود ایسا بھی ہوگا جو آپ کے اتباع سے تمام انبیاء کا واحد مظہر اور بروز ہوگا اور جس کے ایک ہی وجود سے سب انبیاء کا جلوہ ظاہر ہوگا اور وہ حسب ذیل کلام سے اپنے نطق حقیقت کو بیان فرمائے گا تو کچھ خلاف نہ ہوگا۔ یعنی:

زندہ شد ہر نبی زآمدنم ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)

اور یہ کہ:

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین ٥ ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)

اور یہ کہ:

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا منم محمدؐ واحمد کہ مجتبےٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)

بعض دلچسپ اور عجیب و غریب تاویلات

احادیث نبویؐ میں بڑی صراحت اور وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم دمشق میں اتریں گے اور مسلمانوں کو عظیم فریب کار ”الدجال“ کے فتنہ عظیم سے نجات دلائیں گے۔ لیکن مرزا قادیانی اس حدیث کو مضحکہ خیز تاویل سے اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ ان کے دعوؤں کے مطابق ان پر یہ الہام نازل ہوا ہے کہ دمشق سے مراد اصلی شہر دمشق نہیں بلکہ اس سے ایک ایسا مقام مراد لیا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو اپنے مذہبی رویہ کے اعتبار سے یزید کے کردار کے ساتھ مماثلت رکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے قول کے مطابق دمشق کے لوگوں کے دلوں پر خدا اور اس کے رسول کے لئے کوئی محبت نہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پرواہ نہیں کرتے۔ بلکہ اپنے اوہام اور سفلی خواہشات کے تابع ہیں۔ وہ نفس امارہ کے مطیع ہیں اور روح انسانی کی اس کے دل میں کوئی قدر نہیں۔ وہ یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ یہ سب خصوصیات دمشق کے لوگوں کی ہیں۔ اللہ نے مرزا غلام احمد پر وحی نازل فرمائی کہ قادیان کے لوگوں کی ایسی ہی خصوصیات

١٥

صفحہ ٢٢٥

ہیں ۔لہٰذا قادیان دمشق کا مثیل ہے۔جہاں عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہونا تھا۔

(مفہوم از حاشیہ ازالہ اوہام ص ٧٣ تا ٧٤، خزائن ج ٣ ص ١٣٣ تا ١٣٦ ملخص)

قادیان اور دمشق کو ایک قرار دینے کے بعد مرزا قادیانی اپنے مسیح ابن مریم ہونے کی عجیب وغریب تاویل کرتے ہیں۔جس میں پہلے وہ اپنے آپ کو مریم تصور کرتے ہیں اور پھر حضرت عیسیٰ کی روح اپنے اندر پھونکے جانے کا ماجرا بیان کرتے ہیں۔ جس کا حوالہ اس سے پہلے آچکا ہے۔

گزشتہ چودہ سو سال کے دوران خاتم النبیین کی تمام دنیا میں مسلمہ تشریح اور تفسیر یہ رہی ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی تھے اور ان کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہوگا۔ آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ بھی خاتم النبیین کی قرآنی اصطلاح کا یہی مفہوم لیتے تھے اور اسی غیر متزلزل عقیدے کی بنیاد پر وہ ہر ایسے آدمی کے خلاف صف آراء رہے جس نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ زمانہ بعد میں اسلام کی پوری تاریخ کے دوران امت مسلمہ نے ایسے آدمی کو کبھی معاف نہیں کیا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔

نئے دعوائے نبوت کے نتائج واثرات

نبوت کے دعوے کے مضمرات میں سے ایک حتمی چیز یہ ہے کہ جو شخص کسی مدعی نبوت کی صداقت کا منکر ہو وہ خود بخود کافر ہو جاتا ہے۔اس لئے قادیانیوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے کھلے الفاظ میں اس امر کا اظہار کیا ہے کہ جو لوگ مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت پر ایمان نہیں لاتے وہ کافر ہیں۔ اس سلسلے میں بعض متعلقہ تحریروں کے اقتباسات حسب ذیل ہیں: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے ،خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت از میاں محمود احمد ص ٣٥)

”ہر ایک شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا۔ یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل از بشیر احمد قادیانی مطبوعہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ج ١٤ ص ١١٠)

قادیانیت اسلام کے خلاف ہے

قادیانی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ان کے اور دیگر مسلمانوں کے درمیان وجہ اختلاف صرف مرزا غلام احمد کی نبوت ہی نہیں بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا خدا، ان کا اسلام، ان کا قرآن، ان کے روزے فی الحقیقت ان کی ہر چیز باقی مسلمانوں سے مختلف ہے۔ اپنی ایک تقریر

میں جو الفضل کے ٣٠ جولائی ١٩٣١ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ س رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگو اور مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی حج، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ا

اسی طرح اپنی ایک تقریر میں جو اخبار بدر بشیر الدین محمود نے احمدیت اور اسلام کے مختلف ہ نشانوں کو کیوں چھوڑتے ہو۔ تم ایک برگزیدہ نبی ( مخالف اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت (مرزا قادیان غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں مگر حضرت (مرزا قادیانی) جو تمہیں خدا نے نشان دیئے، جو انعام خدا نے تم پر کیا

نئے مذہب کے مضمرات

قادیانیوں نے اس ہمہ گیر قسم کے اختلا اور باقی مسلمانوں سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کر منظم کیا۔ قادیانیوں کے لٹریچر سے مندرجہ ذیل شہاد ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سختی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ باہر سے لوگ اس جتنی دفعہ بھی پوچھو گے، اتنی دفعہ ہی میں یہی جواب نہیں، جائز نہیں، جائز نہیں ۔“ (انوار خلافت ، مجموعہ تقا ”سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ وا آپ کو خدا نے بتایا ہے کہ احمدیوں پر حرام اور قطعی نماز پڑھیں۔ اگر کوئی احمدی ان تینوں قسم کے لوگوں عمل حبط ہوجائیں گے اور اس کا پتہ بھی نہیں لگے گا

(اخ

”ہمارا فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسل ٧

صفحہ ٢٢٥

میں جو الفضل کے ٣٠ جولائی ١٩٣١ء کے شمارے میں ’’مسلمانوں سے اختلاف‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود احمد کہتے ہیں:

”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“

اسی طرح اپنی ایک تقریر میں جو اخبار بدر میں مورخہ ١٠ جنوری ١٩١١ء کو شائع ہوئی۔ مرزا بشیر الدین محمود نے احمدیت اور اسلام کے مختلف ہونے کے بارے میں کہا: ”تم اپنے امتیازی نشانوں کو کیوں چھوڑتے ہو۔ تم ایک برگزیدہ نبی (مرزا قادیانی) کو ماننے والے ہو اور تمہارے مخالف اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت (مرزا قادیانی) کے زمانہ میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی اور غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں مگر حضرت (مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ تم کون سا اسلام پیش کرو گے۔ کیا جو تمہیں خدا نے نشان دیئے، جو انعام خدا نے تم پر کیا وہ چھپاؤ گے؟“

نئے مذہب کے مضمرات

قادیانیوں نے اس ہمہ گیر قسم کے اختلافات کو اپنے منطقی نتائج کی آخری حد تک پہنچایا اور باقی مسلمانوں سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کر لئے اور اپنے آپ کو ایک علیحدہ امت کے طور پر منظم کیا۔ قادیانیوں کے لٹریچر سے مندرجہ ذیل شہادت اس کے ثبوت کے لئے کافی ہے:

”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے، اتنی دفعہ ہی میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں، جائز نہیں، جائز نہیں۔“

(انوار خلافت، مجموعہ تقاریر بشیر الدین محمود ص ٨٩)

”سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صاف اور صریح الفاظ میں لکھا ہے کہ آپ کو خدا نے بتایا ہے کہ احمدیوں پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر، مکذب اور متردد کے پیچھے نماز پڑھیں۔ اگر کوئی احمدی ان تینوں قسم کے لوگوں میں سے کسی کے پیچھے نماز پڑھے گا تو اس کے عمل حبط ہو جائیں گے اور اس کا پتہ بھی نہیں لگے گا۔“

(اخبار الفضل قادیان ج ٨ نمبر ٣١ مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٢٠ء)

”ہمارا فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں

١٧

صفحہ ٢٢٧

کیونکہ وہ ہمارے نزدیک اللہ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“

(انوار خلافت ص ٩٠ مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود)

غیر احمدی سے رشتے کی ممانعت

”مرزا غلام احمد نے ایک قادیانی کے خلاف جس نے ایک غیر قادیانی کو اپنی بیٹی نکاح کر دی تھی۔ سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ ایک اور شخص نے بار بار اسی طرح کی اجازت چاہی اور بیان کیا کہ اسے حالات کا دباؤ ایسا کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس سے یہی کہا کہ اپنی لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ مرزا قادیانی کی وفات کے بعد اس نے لڑکی غیر احمدیوں میں دے دی تو مرزا قادیانی کے خلیفہ اول حکیم نور الدین نے اس شخص کو امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی باوجود یکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“

(انوار خلافت از میاں بشیر الدین محمود ص ٩٣، ٩٤)

مرزا قادیانی نے اپنے پیروؤں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کریں جس طرح کا سلوک آنحضور ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ روا رکھا تھا۔ ان کی نمازیں غیر قادیانیوں سے الگ کر دی گئی ہیں۔ انہیں اپنی بیٹیاں مسلمانوں کے نکاح میں دینے سے منع کیا اور کسی قادیانی کو کسی مسلمان کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا حکم دیا۔ (اس ضمن میں چودھری ظفر اللہ کا کردار تمام دنیا کو معلوم ہے کہ انہوں نے قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شمولیت نہ کی حالانکہ وہ موقع پر موجود تھے۔)

مرزا بشیر الدین محمود کہتے ہیں: ”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئی۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کے لئے اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ وناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت بھی ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم نے یہود کو بھی سلام کہا۔“

(کلمتہ الفصل از بشیر احمد ج ٣ ص ١٦٩)

سامراجیوں کے ساتھ وفاداری

تحریک قادیانیت کی ابتداء ہی سے قادیانی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ ایک نئی

٢٨

نبوت کا دعویٰ کسی آزاد اسلامی مملکت میں پروان نہیں چڑھ مسلمان کبھی اس قسم کے دعوے کو گوارہ نہیں کر سکتے اور اس دے سکتے۔ جس سے امت کے استحکام کو نقصان پہنچے۔ وہ ا جو ابتدائے اسلام سے آج تک کذابوں یعنی نبوت کے جھو آئے ہیں۔ وہ تاریخ اسلام کے حوالے سے جانتے ہیں کہ ا پیدا ہونے والے نئے فرقوں کو اسلامی دنیا میں کبھی پھولنے ک توقع نہیں ہو سکتی تھی کہ دنیا کے کسی آزاد مسلم معاشرے میں ہو سکتا ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ ان اندر ہی نشو و نما پا سکتی ہے۔ لہٰذا وہ تمام اسلام دشمن قوتوں کو ا ہیں۔ نام نہاد اسرائیل فوج کے اندر اس کا وجود اب ایک کھ مستقل دفتر قائم ہے۔

یہ بات ان کے مفادات کے عین مطابق ہے کے نیچے رہیں اور صرف اسی صورت میں انہیں کھل کھیلنے کہ ان کی سرگرمیوں کے شکار صرف معصوم اور ناخواندہ م ہیں کہ مسلم عوام غیر مسلموں کے تسلط کے تحت ہی رہیں تا کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ غیر مسلم حکومتوں کے ساتھ اعلان کرتے چلے آئے ہیں۔ جبکہ ایک آزاد اور خود مخ باعث نہیں رہی۔

مندرجہ بالا حقائق کے اثبات کے لئے مرزا چند بیانات میں سے اقتباسات دیئے جاسکتے ہیں۔ ان

”اس گورنمنٹ کا ہم پر اس قدر احسان ہ مکہ میں گزارہ ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں تو پھر کس طرح کے خلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں۔“ (مرزا غلام

”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح ک میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں مگر اس گورنمنٹ میں اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے س

١٩

صفحہ ٢٢٧

نبوت کا دعویٰ کسی آزاد اسلامی مملکت میں پروان نہیں چڑھ سکتا۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمان کبھی اس قسم کے دعوے کو گوارہ نہیں کر سکتے اور اس قسم کی سرگرمیوں کی کبھی اجازت نہیں دے سکتے۔ جس سے امت کے استحکام کو نقصان پہنچے۔ وہ اس سلوک کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں جو ابتدائے اسلام سے آج تک کذابوں یعنی نبوت کے جھوٹے مدعیوں کے ساتھ روا رکھتے چلے آئے ہیں۔ وہ تاریخ اسلام کے حوالے سے جانتے ہیں کہ اس قسم کے جھوٹے ادعائے نبوت سے پیدا ہونے والے نئے فرقوں کو اسلامی دنیا میں کبھی پھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ لہٰذا ان کو کبھی یہ توقع نہیں ہو سکتی تھی کہ دنیا کے کسی آزاد مسلم معاشرے میں ان کی اس نئی نبوت کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کی یہ نئی نبوت کسی غیر مسلم حکومت کے اندر ہی نشو و نما پا سکتی ہے۔ لہٰذا وہ تمام اسلام دشمن قوتوں کو اپنی پوری وفاداری کا یقین دلاتے رہے ہیں۔ نام نہاد اسرائیلی فوج کے اندر اس کا وجود اب ایک کھلا راز ہے۔ اسرائیل کے اندر ان کا ایک مستقل دفتر قائم ہے۔

یہ بات ان کے مفادات کے عین مطابق ہے کہ مسلمان ہمیشہ غیر مسلموں کی ایڑیوں کے نیچے رہیں اور صرف اسی صورت میں انہیں کھل کھیلنے کے مواقع نصیب ہو سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی سرگرمیوں کے شکار صرف معصوم اور ناخواندہ مسلمان ہو سکتے ہیں۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ مسلم عوام غیر مسلموں کے تسلط کے تحت ہی رہیں تاکہ وہ ان مسلمانوں کا اچھی طرح استحصال کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ غیر مسلم حکومتوں کے ساتھ ہمیشہ غیر مشروط اور پر خلوص وفاداری کا اعلان کرتے چلے آئے ہیں۔ جبکہ ایک آزاد اور خود مختار مسلم ریاست ان کے لئے کبھی خوشی کا باعث نہیں رہی۔

مندرجہ بالا حقائق کے اثبات کے لئے مرزا غلام احمد اور ان کے پیروؤں کے چند در چند بیانات میں سے اقتباسات دیئے جاسکتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

”اس گورنمنٹ کا ہم پر اس قدر احسان ہے کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارہ ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس (برطانوی حکومت) کے خلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں۔“

(مرزا غلام احمد قادیانی، ملفوظات احمدیہ ج اول ص ٣١٢)

”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح کر سکتا ہوں نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ شام میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔ لہٰذا اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے لئے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری

19

صفحہ ٢٢٩

دعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)

”یہ سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ پھر تمہارا ٹھکانہ کہاں ہے؟ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ہو چکے ہو۔ سو تم اس خدا داد نعمت کی قدر کرو اور تم یقیناً سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ نے سلطنت انگریزی تمہاری بھلائی کے لئے ہی اس ملک میں قائم کی ہے اور اگر اس سلطنت پر کوئی آفت آئے تو وہ آفت بھی تمہیں نابود کر دے گی۔ یہ مسلمان لوگ جو اس فرقہ احمدیہ کے مخالف ہیں۔ تم ان کے علماء کے فتوے سن چکے ہو۔ یعنی یہ کہ تم ان کے نزدیک واجب القتل ہو اور ان کی آنکھ میں ایک کتا بھی رحم کے قابل ہے مگر تم نہیں۔ تمام پنجاب اور ہندوستان کے فتوے بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہارے نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو۔ سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں۔ جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کئے جانے سے بچے ہوئے ہو۔ ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ سنو! انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہاری وہ سپر ہے۔ پس تم جان و دل سے اس سپر کی قدر کرو اور ہمارے مخالف جو مسلمان ہیں۔ ہزار ہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں۔ کیونکہ وہ ہمیں واجب القتل نہیں سمجھتے۔ وہ تمہیں بے عزت نہیں کرنا چاہتے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٤)

سامراجی طاقت کے ساتھ وفاداری

لا تعداد مواقع پر مرزا غلام احمد قادیانی نے برطانوی حکومت کے ساتھ اپنی گہری وفاداری اور خلوص کا اظہار کیا۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ وہ کیسے فخریہ انداز میں اپنے آپ کو برطانوی استعمار پسندوں کا قدیمی خیر خواہ کہتے ہیں۔ ایک اور موقع پر وہ اپنے آپ کو انگریزوں کا خود کاشتہ پودا کہتے ہیں۔ ہم مرزا قادیانی کی بعض تحریروں کے اقتباسات دیتے ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ استعمار پسندوں کے کتنے گہرے وفادار ہیں۔

مرزا غلام احمد کی طرف سے ایک عرضداشت جو ہزایکسی لینسی لیفٹیننٹ بہادر کو بھیجی گئی (جس کا متن تبلیغ رسالت جلد ہشتم مطبوعہ فاروق پریس قادیان ، اگست ١٩٢٢ء میں ہے) بڑی دلچسپ ہے۔ اس عرضداشت میں انہوں نے برطانوی حکومت کے ساتھ اپنے خاندان کی گہری

٢٠

وفاداری ان تعریفی سندات کے حوالے سے ثابت کرنے ، فنانشل کمشنر پنجاب اور دیگر برطانوی افسروں نے ان کے خدمات سرانجام دینے کے عوض عطا کی تھیں۔ وہ اپنے خطا بھی گنواتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو ساٹھ سال کی اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں کو ب اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کو کروں جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے اور لاکھوں انسان صرف اس قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو س جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی، فارسی اور اردو تالیف کر کے کہ ہم لوگ کیونکر امن وامان اور آرام اور آزادی سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔“

اس کے علاوہ وہ فخریہ انداز میں ان بے شمار حکومت برطانیہ کی حمایت میں لکھی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں ان شام، کابل اور روم تک پہنچایا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں، ان کو

”میں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریز کہ در حقیقت وہ ایک ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ کی سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ میں نے بیسیوں کتابیں عربی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں بلکہ

٢١

صفحہ ٢٢٩

وفاداری ان تعریفی سندات کے حوالے سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو کمشنر لاہور ڈویژن ، فنانشل کمشنر پنجاب اور دیگر برطانوی افسروں نے ان کے والد غلام مرتضیٰ کو برطانوی حکومت کی خدمات سرانجام دینے کے عوض عطا کی تھیں۔ وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کی وفادارانہ خدمات بھی گنواتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو ساٹھ سال کی عمر تک پہنچتا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کو دور کروں جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں ...... اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہو گئی اور میں نے نہ صرف اس قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی ، فارسی اور اردو تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن وامان اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

اس کے علاوہ وہ فخریہ انداز میں ان بے شمار کتابوں کا ذکر بھی کرتے ہیں جو انہوں نے حکومت برطانیہ کی حمایت میں لکھی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھیں ہیں جو اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب ،مصر، شام، کابل اور روم تک پہنچایا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں، ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٦،١٥٥)

”میں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریزی کی ایک ایسی خدمت میں مشغول ہوں کہ درحقیقت وہ ایک ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے بزرگوں سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ میں نے بیسیوں کتابیں عربی ، فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں۔ بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان

٢١

صفحہ ٢٣١

کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بہ زر کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایسی جماعت تیار کر رہے ہیں کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لئے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے لئے دلی جاں نثار۔‘‘

(عریضہ بہ عالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی منجانب مرزا، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٦٦، ٣٦٧)

’’میں سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں مجھے پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔ سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔‘‘

(شہادت القرآن ص و، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠، ٣٨١)

پاکستان کے اندر قادیانی ریاست کے لئے منصوبہ

قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں کی سب سے بڑی گھناؤنی سازش یہ تھی کہ اس نئی اسلامی مملکت کو ایک قادیانی حکومت میں تبدیل کر دیا جائے۔ جس کے کرتا دھرتا قادیانی ہوں۔ مملکت پاکستان میں سے ایک حصہ کاٹ کر ایک قادیانی ریاست قائم کی جائے۔ قیام پاکستان کے ایک سال ہی کے اندر قادیانیوں کے سربراہ نے ٢٣؍ جولائی ١٩٤٨ء کو کوئٹہ میں ایک تقریر کی جو ١٣؍ اگست ١٩٤٨ء کے الفضل میں شائع ہوئی۔ امیر جماعت احمدیہ نے اپنے پیروؤں کو مندرجہ ذیل نصائح دیں:

’’برطانوی بلوچستان جسے اب پاک بلوچستان کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی کل آبادی پانچ لاکھ ہے۔ اگرچہ اس صوبہ کی آبادی دوسرے صوبوں کی آبادی سے کم ہے۔ لیکن ایک اکائی کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ ایک مملکت میں اس کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے ایک معاشرے میں ایک فرد کی۔ اس کی مثال کے لئے آدمی امریکہ کے دستور کا حوالہ دے سکتا ہے۔ امریکہ میں ہر ریاست کو سینٹ میں برابر نمائندگی ملتی ہے۔ چاہے کسی ریاست کی آبادی دس ملین ہو یا ایک سو ملین۔ مختصر یہ کہ اگرچہ پاک بلوچستان کی آبادی صرف پانچ لاکھ ہے یا ریاستوں کی آبادی ملا کر دس لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایک یونٹ کے لحاظ سے اس کی اپنی اہمیت ہے۔ ایک بڑی آبادی کو

احمدی بنانا مشکل ہے۔ لیکن ایک چھوٹی آبادی کو احمدی بنا طرح اس معاملے کی طرف توجہ دے تو اس صوبے کو تھوڑے جاسکتا ہے۔ یاد رکھیں ہمارا تبلیغی مشن کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ تبلیغ کے لئے ایک مضبوط اڈہ ابتدائی ضرورت ہوتی ہے کو مضبوط بنانا چاہئے۔ کسی مقام پر اپنا اڈہ بنائیے۔ یہ اڈہ صوبے کو احمدی بنالیں تو ہم کم از کم ایک صوبے کو اپنا صو کہہ سکتا ہے۔‘‘

یہ تقریر اپنی تشریح خود کرتی ہے۔ اس سے یہ پاکستان کے اندر سے اپنا ایک ملک تراشنے کا منصوبہ بنایا کی امت کو کاٹ کر اپنی ایک امت بنالی تھی۔

قادیانیت کے خلاف ردّعمل

جب سے مرزا غلام احمد کی تحریروں میں انحرا مسلمانوں نے واضح طور پر اس بات کا اظہار کر دیا کہ مرز سے خارج ہیں۔ باقی علماء کے مقابلے میں علامہ اقبالؒ اسلام کا غدار کہتے ہیں۔ اگرچہ علمائے دین کا ایک بڑا طب کے مذہبی منصب کو ابتدا ہی میں بھانپ لیا تھا، تاہم غ نے ان کے حتمی ارادوں کو سمجھا۔ علماء اپنی دینی بصیرت ہتھیاروں سے حل کرنے میں مصروف تھے۔ کیونکہ ان وہ اس کے مقابلے کے لئے ویسے ہی ہتھیار لے کر میدا شخص تھے جنہوں نے اس تحریک کے چہرے سے نقاب الہامات کی با احتیاط نفسیاتی تحلیل شاید اس کی شخصیت ثابت ہوسکے۔

قادیانی تحریک کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد کی تاریخ میں احمدیت کا کردار یہ ہے کہ ہندوستان کی م مہیا کی جائے۔ قادیانیوں کے سیاسی کردار پر تبصرہ کرت درست ہے کہ قادیانی بھی ہندی مسلمانوں کی سیاسی

٢٣

صفحہ ٢٣١

احمدی بنانا مشکل ہے۔ لیکن ایک چھوٹی آبادی کو احمدی بنانا آسان ہے۔ اس لئے اگر قوم پوری طرح اس معاملے کی طرف توجہ دے تو اس صوبے کو تھوڑے ہی عرصے میں احمدیت کی طرف لایا جاسکتا ہے۔ یاد رکھیں ہمارا تبلیغی مشن کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جب تک ہمارا ایک مضبوط اڈا نہ ہو۔ تبلیغ کے لئے ایک مضبوط اڈہ ابتدائی ضرورت ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ کو سب سے پہلے اپنے اڈے کو مضبوط بنانا چاہئے۔ کسی مقام پر اپنا اڈہ بنائیے۔ یہ اڈہ کہیں بھی ہو جائے ۔ اگر ہم اس سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو ہم کم از کم ایک صوبے کو اپنا صوبہ کہہ سکتے ہیں اور یہ کام بآسانی کیا جا سکتا ہے۔“

یہ تقریر اپنی تشریح خود کرتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح قادیانیوں نے پاکستان کے اندر سے اپنا ایک ملک تراشنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جیسا کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی امت کو کاٹ کر اپنی ایک امت بنا لی تھی۔

قادیانیت کے خلاف ردّعمل

جب سے مرزا غلام احمد کی تحریروں میں انحراف کے اولین آثار نظر آنے لگے۔ سچے مسلمانوں نے واضح طور پر اس بات کا اظہار کر دیا کہ مرزا اور ان کے پیروکار کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ باقی علماء کے مقابلے میں علامہ اقبال ان پر زیادہ سختی سے معترض تھے۔ وہ انہیں اسلام کا غدار کہتے ہیں۔ اگر چہ علمائے دین کا ایک بڑا طبقہ ایسا تھا جس نے مرزا کے ارادوں کو ان کے مذہبی منصب کو ابتداء ہی میں بھانپ لیا تھا۔ تاہم بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں عام لوگوں نے ان کے حتمی ارادوں کو سمجھا۔ علماء اپنی دینی بصیرت کے بل بوتے پر قادیانی مسئلہ کو مذہبی ہتھیاروں سے حل کرنے میں مصروف تھے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں ایک خالصتاً مذہبی تحریک تھی اور وہ اس کے مقابلے کے لئے ویسے ہی ہتھیار لے کر میدان میں اترے تھے۔ غالباً علامہ اقبال پہلے شخص تھے جنہوں نے اس تحریک کے چہرے سے نقاب اٹھایا۔ ان کا خیال تھا کہ بانی تحریک کے الہامات کی با احتیاط نفسیاتی تحلیل شاید اس کی شخصیت کی اندرونی زندگی کے تجزیہ کے لئے موثر ثابت ہو سکے۔

قادیانی تحریک کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ مسلمانوں کی مذہبی فکر کی تاریخ میں احمدیت کا کردار یہ ہے کہ ہندوستان کی موجودہ سیاسی محکومی کے لئے ایک الہامی بنیاد مہیا کی جائے۔ قادیانیوں کے سیاسی کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں : ”یہ بات بھی اتنی ہی درست ہے کہ قادیانی بھی ہندی مسلمانوں کی سیاسی بیداری پر پریشان ہو رہے ہیں۔ کیونکہ وہ

٢٣

صفحہ ٢٣٢

محسوس کرتے ہیں کہ ہندی مسلمانوں کے سیاسی وقار میں اضافہ ان کے اس ارادے کو کہ وہ رسول عربی کی امت میں سے ہندوستانی نبی کی امت تراش لیں، یقیناً ناکام بنا دے گا۔“

شاید علامہ اقبال ہی تھے۔ جنہوں نے پہلی بار اس مسئلے کا آئینی حل تجویز کیا۔ ایک استعماری طاقت کی حاکمیت کے ان دنوں میں اس مسئلے کا اس سے بہتر کوئی حل ممکن نہ تھا۔ علامہ اقبال نے کہا تھا: ”ہندوستان کے حکمرانوں کے لئے بہترین طریقہ کار میرے خیال میں یہ ہے کہ وہ قادیانیوں کو ایک علیحدہ قوم قرار دیں۔ یہ بات خود قادیانیوں کے اپنے طریق کار کے عین مطابق ہو گی اور ہندوستانی مسلمان ان کو ویسے ہی برداشت کر لیں گے جیسا کہ وہ باقی مذہبوں کے پیروؤں کو برداشت کرتے ہیں۔“

علامہ اقبال کا تجویز کردہ حل جلد ہی ہندی مسلمانوں کا ایک مشترکہ مطالبہ بن گیا۔ لیکن اس کا امکان نہ تھا کہ برطانوی حکومت اسے قبول کر لے کیونکہ قادیانیت کی تحریک خود بانی تحریک کے الفاظ میں ”حکومت برطانیہ کا خود کاشتہ پودا تھی ۔“

قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے عوام اور حکومت نے قادیانیوں کے حق میں بڑی رواداری کا ثبوت دیا۔ انہیں پاکستان آنے اور قادیان سے اپنا مرکز ربوہ منتقل کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کے ممتاز رہنماء سر ظفر اللہ کو وزارتی منصب عطاء کیا گیا۔ لیکن اس شفیقانہ اور کھلے دل کے رویے کے باوجود جو حکومت اور عوام کی طرف سے روا رکھا گیا۔ قادیانیوں نے اپنی معاند اسلام سرگرمیوں سے اجتناب نہ کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو کافر کہنے کا عمل جاری رکھا۔ یہاں تک کہ سر ظفر اللہ خان نے بابائے قوم کی نماز جنازہ میں بھی شرکت نہ کی۔ کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اس کے غلط عقائد کے مطابق قائد اعظم مسلمان نہ تھے۔

قیام پاکستان کے بعد چند ہی سال کے دوران جب قادیانیوں نے مسلمانوں کو جارحانہ انداز میں تبدیلی مذہب پر مائل کرنے کی کوششیں شروع کی تو ان کے خلاف ایک ہمہ گیر تحریک شروع ہو گئی۔ جس نے بدقسمتی سے تشدد کا راستہ اختیار کر لیا اور آخر کار ١٩٥٣ء میں صوبہ پنجاب میں مارشل لاء کے نفاذ پر منتج ہوا۔ اگرچہ تحریک کو مارشل لاء کے نفاذ سے دبا دیا گیا۔ لیکن مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ اس مسئلے نے پاکستان کے سیاسی وجود میں نفرت اور فرقہ واریت کا زہر گھولنا شروع کر دیا۔ اس اثناء میں قادیانیوں نے بیرون ملک وفود بھیجنے شروع کر دیئے۔ جہاں انہوں نے اپنے لئے تبلیغی مراکز قائم کرنے شروع کر دیئے۔ انہوں نے اس قسم کے تبلیغی مراکز افریقہ، یورپ اور شمالی امریکہ کے ممالک میں قائم کئے۔ لیکن چونکہ عددی اعتبار سے کہیں بھی وہ نمایاں قوت نہ تھے جبکہ پاکستان

٢٤

٢٣٣

میں ان کی تعداد قابل لحاظ تھی اور وہ یہاں مضبوط اور دوسرے ملکوں میں ان کے ساتھ آسانی سے نمٹ اور متحدہ عرب امارات اور دیگر مسلم ممالک میں انہیں غی بالآخر ١٩٧٤ء میں پاکستان نے بھی وق نتیجے میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک آئینی تر خارج قرار دیا۔ آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ایک نئی شق درج ذیل ہے: ”کوئی شخص جو محمد ﷺ کی کامل اور غی آخری نبی یا لفظ نبی کے کسی معنی یا تعریف کے مطا کرے یا کسی ایسے مدعی نبوت کو نبی تسلیم کرے یا ق کے لئے مسلمان نہیں ہے۔“

قومی اسمبلی نے ضابطہ فوجداری پاکستان کی تشریح میں مندرجہ ذیل الفاظ کا اضافہ کیا۔

تشریح: کوئی مسلمان حضرت محمد ﷺ کی دفعہ ٢٦٠ کی شق (٣) میں اس کا تعین کیا گیا ہے۔ ا

قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد کے آئینی ترمیم سے پیدا ہونے والی قانونی اور ضابطے بلاشبہ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے اصو کر دیا۔ لیکن آئینی ترمیم سے پیدا ہونے والی قا ترامیم نہ کی گئی تھیں۔ اس سے قادیانیوں کے لئے انداز میں جاری رکھ سکیں جو آئینی ترامیم کی روح نتائج کو بالکل صفر کے برابر کر دیا۔

موجودہ حکومت کے لئے باعث اعزا محفوظ رکھنے کے لئے اس سمت میں ایک اہم اور ف میں ایک آرڈیننس نافذ کیا ہے تاکہ قانون میں گروہ، لاہوری گروہ اور دیگر احمدیوں کو معاند اسلا یہ آرڈیننس مندرجہ ذیل قانونی وسائل مہیا کرتا ہے

٢٥

صفحہ ٢٣٣

میں ان کی تعداد قابل لحاظ تھی اور وہ یہاں مضبوط اور اچھی طرح قدم جمائے ہوئے تھے۔ اس لئے دوسرے ملکوں میں ان کے ساتھ آسانی سے نمٹ لیا گیا اور ترکی، افغانستان ، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اور دیگر مسلم ممالک میں انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا۔

بالآخر ١٩٧٤ء میں پاکستان نے بھی وہی راستہ اختیار کیا اور ایک اور عوامی تحریک کے نتیجے میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ایک نئی شق (٣) کا اضافہ کیا گیا۔ اس نئی شق کی عبارت درج ذیل ہے: ”کوئی شخص جو محمدﷺ کی کامل اور غیر مشروط ختم نبوت پر ایمان نہ رکھتا ہو، خدا کے آخری نبی یا لفظ نبی کے کسی معنی یا تعریف کے مطابق حضرت محمدﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرے یا کسی ایسے مدعی نبوت کو نبی تسلیم کرے یا مذہبی مصلح مانے وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے لئے مسلمان نہیں ہے۔“

قومی اسمبلی نے ضابطہ فوجداری پاکستان میں ترمیم کی اور اس ضابطہ کی دفعہ ٢٩٥۔الف کی تشریح میں مندرجہ ذیل الفاظ کا اضافہ کیا۔

تشریح: کوئی مسلمان حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت کے تصور کے خلاف جیسا کہ آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق (٣) میں اس کا تعین کیا گیا ہے۔ اس دفعہ کے تحت سزا کا مستوجب ہوگا۔

قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے یہ سفارش بھی کی کہ متعلقہ قوانین میں آئینی ترمیم سے پیدا ہونے والی قانونی اور ضابطے کی تبدیلیوں کے لئے ترامیم کر دی جائیں۔

بلاشبہ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے اصولی طور پر اس ایک سو سال کے پرانے مسئلہ کو حل کر دیا۔ لیکن آئینی ترمیم سے پیدا ہونے والی قانونی اور ضابطے کی تبدیلیوں کے لئے اب تک ترامیم نہ کی گئی تھیں۔ اس سے قادیانیوں کے لئے گنجائش پیدا ہو گئی تھی کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو ایسے انداز میں جاری رکھ سکیں جو آئینی ترامیم کی روح کے بالکل منافی تھا۔ اس سے آئینی ترمیم کے نتائج کو بالکل صفر کے برابر کر دیا۔

موجودہ حکومت کے لئے باعث اعزاز ہے کہ اس نے ہمارے دین کی بنیادی تعمیر کو محفوظ رکھنے کے لئے اس سمت میں ایک اہم اور دلیرانہ اقدام کیا۔ صدر مملکت نے ابھی حال ہی میں ایک آرڈیننس نافذ کیا ہے تاکہ قانون میں مناسب تبدیلی لائی جائے۔ جس سے قادیانی گروہ ، لاہوری گروہ اور دیگر احمدیوں کو معاند اسلام سرگرمیوں میں مشغول ہونے سے روکا جائے۔ یہ آرڈیننس مندرجہ ذیل قانونی وسائل مہیا کرتا ہے۔

٢٥

صفحہ ٢٣٢

ایکٹ XLV مجریہ ١٨٦٠ء میں دفعہ ٢٩٨ب اور ٢٩٨ج کا اضافہ

٢٩٨۔الف ...... ایسے القابات، تعریفات اور خطابات وغیرہ کا غلط استعمال جو بعض مقدس ہستیوں اور مقامات کے لئے مخصوص ہیں۔

ہیں) اگر بذریعہ الفاظ تحریری یا تقریری یا مرئی علامت کے: الف ...... رسول اکرم ﷺ کے کسی خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو بذریعہ اشارت یا بطور مخاطبت ”امیر المومنین“، ”خلیفۃ المسلمین“، ”صحابی“ یا ”رضی اللہ عنہ“ کہے۔ ب ...... کسی فرد کی طرف سے حضرت محمد ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ کے سوا اشارت یا اسے مخاطب کرتے ہوئے ”ام المومنین“ کہے۔ ج ...... کسی فرد کو ماسوائے اہل بیت حضرت محمد ﷺ کے بذریعہ اشارت یا مخاطبت ”اہل بیت“ کہے۔

(سادہ یا بامشقت) قید کی سزا کا مستوجب ہوگا۔ جو تین سال تک کے لئے ہوسکتی ہے۔ نیز سزائے جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔

موسوم کرتے ہیں) سے تعلق رکھنے والا ہو۔ اگر بذریعہ الفاظ تحریری یا تقریری یا مرئی علامت اپنے مذہب کی عبادت کے لئے بلانے کے طریقے کو اذان کہے یا مسلمانوں کے انداز میں اذان کہے۔ کسی طرح کی (سادہ یا بامشقت) قید کی سزا کا مستوجب ہوگا۔ جس کی میعاد تین سال تک ہوسکتی ہے اور وہ سزائے جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔

٢٩٨۔ج ...... (قادیانی گروہ وغیرہ کا کوئی فرد جو خود کو مسلمان کہتا ہو یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا اشاعت کرتا ہو۔)

کوئی شخص جو قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ (جو اپنے آپ کو احمدی یا کسی اور نام سے پکارتے ہیں) سے تعلق رکھتا ہو۔ اگر بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر پیش کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کہے یا بطور اسلام اس کا حوالہ دے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا اشاعت کرے یا دوسروں کو بذریعہ الفاظ تقریری یا تحریری یا مرئی علامات سے کسی بھی اور طریقے سے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرے۔ دونوں میں سے کسی ایک طرح کی سزائے قید کا مستوجب ہوگا۔ جس کی میعاد تین سال تک ہوسکتی ہے۔ نیز سزائے جرمانہ کا مستوجب ہوگا۔

٢٦

لَا نَبِيَّ بَعْدِي محمد رسول اللہ خاتم النبیین قادیانیت بدستور غیر مسلم (حکومت پاکستان) وفاقی حکومت

PDF 237

خاتم النبیین لا نبی بعدی

جو آخری نبی ہیں سب سے ہے ان کی شان بڑی

قادیانی

بدستور غیر مسلم ہیں

(حکومت پاکستان کی توثیق)

وفاقی حکومت پاکستان

صفحہ ٢٣٧

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قادیانی فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی آئینی حیثیت کے متعلق مختلف حلقوں میں کچھ عرصے سے شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ان شبہات کو دور کرنے کی غرض سے صدر مملکت نے گزشتہ ماہ کی بارہویں تاریخ کو ترمیم دستور (استقرار) کا فرمان مجریہ سال ١٩٨٢ء (صدارتی فرمان نمبر ٨ مجریہ سال ١٩٨٢ء جاری کیا تھا۔ جس کی رو سے اعلان کیا گیا ہے اور مزید توثیق کی گئی ہے کہ وفاقی قوانین (نظر ثانی و استقرار) آرڈی ننس مجریہ سال ١٩٨١ء نمبر ٢٧ مجریہ سال ١٩٨١ء کے جدول اول میں دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء (نمبر ٤٩ بابت سال ١٩٧٤ء) کی شمولیت سے ان ترامیم کا جو اس کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور ١٩٧٣ء میں قادیانیوں کی حیثیت کے بارے میں عمل میں لائی گئی ہیں، تسلسل متاثر ہوا ہے اور نہ ہوگا اور وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور ١٩٧٣ء کے جزو کی حیثیت سے برقرار رہیں گی۔ نیز قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کے اشخاص کی (جو خود کو احمدی) کہتے ہیں، ”غیر مسلم“ کے طور پر حیثیت تبدیل ہوئی ہے اور نہ ہوگی اور وہ بدستور ”غیر مسلم“ ہیں۔ وضاحتی فرمان کے بعد عام حالات میں اس مسئلے کی نسبت چہ میگوئیوں کا سلسلہ بند ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر باایں ہمہ چند مفاد پرست عناصر حقائق کا رخ موڑ کر اس ضمن میں بے چینی اور بے اطمینانی کی فضا پیدا کرنے میں بدستور کوشاں نظر آتے ہیں۔ ان عناصر کی ریشہ دوانیوں کا مؤثر طریقے سے سدباب کرنے کی خاطر اس مسئلے کی مزید صراحت اور وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔

مجلس شوریٰ کے گزشتہ اجلاس میں راجہ محمد ظفر الحق، قائم مقام وزیر قانون و پارلیمانی امور نے قاری سعید الرحمٰن اور مولانا سمیع الحق ممبران وفاقی کونسل کی جانب سے قادیانیوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں پیش کردہ تحریک التواء کے متعلق مورخہ ١٢/ اپریل ١٩٨٢ء کو ایک مفصل بیان دیا تھا۔

وزیر موصوف نے اس مسئلے کے پیش منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء (نمبر ٤٩ بابت سال ١٩٧٤ء) کے ذریعے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور ١٩٧٣ء کے آرٹیکل ٢٦٠ میں شق (٣) کا اضافہ کیا گیا اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ اس ضمن میں آرٹیکل ١٠٦ کی شق (٣) میں صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم نشستوں کی

٢

تقسیم کی وضاحت کرتے ہوئے قادیانی فرقہ کے افرا گیا۔ متذکرہ بالا آئینی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے مو عوام کی نمائندگی کے ایکٹ مجریہ سال ١٩٧٦ء میں دی مسلم اقلیتی نشستوں سے ہے۔ اس جدید دفعہ ٤٧۔الف ”غیر مسلموں“ کے زمرے میں شامل کر دیا گیا۔ ظاہ حیثیت بطور ”غیر مسلم“ اقلیت متعین ہو جانے کی بناء پر پارلیمان و صوبائی اسمبلیوں کے (انتخابات) کے فرما اعلان نمبر ٥ مجریہ سال ١٩٧٧ء) میں بھی بذریعہ صدار کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے سلسلے میں ”غیر مسلم“ کے الگ الگ زمرے طے کر دیئے گئے کسی اسمبلی کے انتخاب کے لئے اہل قرار نہیں پا سکتا مسلموں“ کی نشستوں سے متعلق جداگانہ انتخابی فہرس

بعد ازاں فرمان عارضی دستور مجریہ سال متذکرہ بالا حیثیت بطور غیر مسلم برقرار رکھی گئی۔ چناں جمہوریہ پاکستان کے دستور ١٩٧٣ء جو فی الحال معط کا حصہ بناتے وقت آرٹیکل ٢٦٠ کو بھی شامل کیا گیا۔

اس واضح قانونی پوزیشن کے باوجو حیثیت کے متعلق شک کا اظہار کیا گیا جسے دور کر ١٩٨١ء میں آرٹیکل نمبر ١۔الف کا اضافہ کیا گیا۔ جس مذکورہ فرمان نیز تمام وضع شدہ قوانین اور دیگر قانونی لی جائے گی جس کا ذکر فرمان عارضی دستور مجر (استقرار) کے فرمان مجریہ سال ١٩٨٢ء میں ہ آرٹیکل ١۔الف میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کر اشخاص کو (جو خود کو احمدی کہتے ہیں) غیر مسلموں کے

صفحہ ٢٣٧

تقسیم کی وضاحت کرتے ہوئے قادیانی فرقہ کے افراد کو غیر مسلم اقلیت کے زمرے میں شامل کیا گیا۔ متذکرہ بالا آئینی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد عوام کی نمائندگی کے ایکٹ مجریہ سال ١٩٧٦ء میں دفعہ ٤٧۔الف کا اضافہ کیا۔ جس کا تعلق غیر مسلم اقلیتی نشستوں سے ہے۔ اس جدید دفعہ ٤٧۔الف میں بھی قادیانی گروپ سے متعلق افراد کو ”غیر مسلموں“ کے زمرے میں شامل کر دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ تبدیلی بھی قادیانیوں کی آئینی حیثیت بطور ”غیر مسلم“ اقلیت متعین ہو جانے کی بناء پر معرض وجود میں آئی۔ اسی طرح ایوان ہائے پارلیمان وصوبائی اسمبلیوں کے (انتخابات) کے فرمان مجریہ سال ١٩٧٧ء (فرمان صدر بعد از اعلان نمبر ٥ مجریہ سال ١٩٧٧ء) میں بھی بذریعہ صدارتی فرمان نمبر ١٧ مجریہ سال ١٩٧٨ء ترمیم کر کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے سلسلے میں اہلیت اور نااہلیت کے متعلق ”مسلم“ اور ”غیر مسلم“ کے الگ الگ زمرے طے کر دیئے گئے۔ جس کے نتیجے میں کوئی شخص اس وقت تک کسی اسمبلی کے انتخاب کے لئے اہل قرار نہیں پاسکتا جب تک کہ اس کا نام ”مسلمانوں“ یا ”غیر مسلموں“ کی نشستوں سے متعلق جداگانہ انتخابی فہرستوں میں سے کسی ایک میں درج نہ ہو۔

بعد ازاں فرمان عارضی دستور مجریہ سال ١٩٨١ء جاری کرتے وقت بھی قادیانیوں کی متذکرہ بالا حیثیت بطور غیر مسلم برقرار رکھی گئی۔ چنانچہ فرمان عارضی دستور کے آرٹیکل ٢ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور ١٩٧٣ء جو فی الحال معطل ہے، کے کچھ آرٹیکل کو فرمان عارضی دستور کا حصہ بناتے وقت آرٹیکل ٢٦٠ کو بھی شامل کیا گیا۔

اس واضح قانونی پوزیشن کے باوجود کچھ حلقوں میں قادیانیوں کی آئینی و قانونی حیثیت کے متعلق شک کا اظہار کیا گیا جسے دور کرنے کے لئے فرمان عارضی دستور مجریہ سال ١٩٨١ء میں آرٹیکل نمبر ١۔الف کا اضافہ کیا گیا۔ جس کی رو سے یہ قرار پایا کہ ١٩٧٣ء کے دستور اور مذکورہ فرمان نیز تمام وضع شدہ قوانین اور دیگر قانونی دستاویزات میں مسلم اور غیر مسلم سے مراد وہی لی جائے گی جس کا ذکر فرمان عارضی دستور مجریہ سال ١٩٨١ء کے حوالے سے ترمیم دستور (استقرار) کے فرمان مجریہ سال ١٩٨٢ء میں ہے۔ فرمان عارضی دستور مجریہ سال ١٩٨١ء کے آرٹیکل ١۔الف میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کرتے ہوئے قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کے اشخاص کو (جو خود کو احمدی کہتے ہیں) غیر مسلموں کے زمرے میں شامل کیا گیا۔

٣

صفحہ ٢٣٩

وزیر موصوف نے وفاقی قوانین (نظرثانی واستقرار) آرڈیننس مجریہ سال ١٩٨١ء (نمبر ٢٧ مجریہ سال ١٩٨١ء) کے جدول میں دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء (نمبر ٤٩ بابت سال ١٩٧٤ء) کی شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عام طے شدہ مروجہ طریقہ کار کے مطابق وزارت قانون وقتاً فوقتاً ایک تنسیخی اور ترمیمی قانون کا نفاذ کرواتی ہے۔ جس کے ذریعے ان قوانین کو، جن سے مروجہ قوانین میں ترمیم کی گئی ہو اور جو اپنا مقصد حاصل کر چکے ہوں، منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اسی مروجہ طریقہ کار کے پیش نظر متذکرہ بالا وفاقی قوانین (نظرثانی واستقرار) آرڈیننس سال ١٩٨١ء جاری کیا گیا۔ اس ضمن میں وزیر موصوف نے قانون عبارات عامہ بابت سال ١٨٩٧ء کی دفعہ ٦۔الف کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہر وہ ترمیم جو کسی ترمیمی قانون کے ذریعے کسی دیگر قانون میں عمل میں لائی گئی ہو، ترمیمی قانون کی تنسیخ کے باوجود مؤثر رہتی ہے۔ بشرطیکہ ترمیمی قانون کو تنسیخ کے وقت وہ باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو۔

اس سے یہ بات واضح اور عیاں ہے کہ ترمیم کرنے والے قانون کی تنسیخ کے باوجود اس کے ذریعے معرض وجود میں آنے والی ترمیم زندہ اور مؤثر رہتی ہے اور ترمیمی قانون کا عدم اور وجود ایسی ترمیم کی بقاء کے لئے یکساں ہے۔ اس لئے یہ کہنا قطعاً بجا نہ ہوگا کہ ترمیم اسی صورت میں باقی رہے گی جبکہ متعلقہ ترمیمی قانون کا وجود برقرار رہے گا۔ ترمیمی قانون منسوخ کر دیا جائے یا موجود رہے، ترمیم بہر حال نافذ العمل رہتی ہے۔ چنانچہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء کی وفاقی قوانین (نظرثانی واستقرار) آرڈیننس مجریہ سال ١٩٨١ء کی جدول اول میں شمولیت سے مذکورہ ترمیمی قانون کے ذریعہ سے کی جانے والی ترامیم پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور وہ بدستور قائم اور رائج ہیں۔ ان سب امور کے باوصف اس مسئلہ کو پھر سیاسی رنگ دینے اور ابہام پیدا کرنے کی ناجائز کوشش جاری رہی۔ لہٰذا جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے: ”ان مقامات سے بھی بچنا چاہئے جہاں تہمت لگنے کا اندیشہ پایا جائے“ مذکورہ بالا شک و ابہام دور کرنے کے لئے حکومت نے ایک مزید قدم اٹھایا اور صدر مملکت نے ایک انتہائی واضح اور مکمل فرمان جاری کر دیا جو کہ صدارتی فرمان نمبر ٨ مجریہ سال ١٩٨٢ء کے نام سے موسوم ہے۔ ان کا متن مندرجہ ذیل ہے:

”چونکہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء (نمبر ٤٩ بابت سال ١٩٧٤ء) کے ذریعے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور ١٩٧٣ء میں ترامیم کی گئی تھیں تاکہ صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی کی غرض سے قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کے اشخاص (جو خود کو احمدی

٤

کہتے ہیں) غیر مسلموں میں شامل کیا جائے اور تاکہ یہ قرا حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایما اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغـ پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو، دستور یا قانون کی اغراض سے مسلـ

اور چونکہ فرمان صدر نمبر ٧ مجریہ سال ١٩٧٨ اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم بشمول قادیانی گرو خود کو احمدی کہتے ہیں) مناسب نمائندگی کے لئے حکم وضع ١٩٨١ء (فرمان سی۔ ایم۔ ایل۔ اے نمبر ١ مجریہ سال ١٩٨١ جو متعلقہ تھے، اپنا جزو قرار دیا تھا۔

اور چونکہ مذکورہ بالا فرمان میں واضح طور پر سے ایسا شخص مراد ہے جو وحدت و توحید قادر مطلق اللہ ذ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہو او پر نہ ایمان رکھتا ہو نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمدﷺ بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو د شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو، جس میں عیسائی، ہندو، سک شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص (جـ ہیں) یا کوئی بہائی اور جدولی ذاتوں میں سے کسی ایک سـ

اور چونکہ مذکورہ بالا دستور (ترمیم ثانی) ایـ مذکورہ بالا ترامیم شامل کرنے کا اپنا مقصد حاصل کر استقرار) آرڈیننس مجریہ سال ١٩٨١ء (نمبر ٢٧ مجریـ اور مجموعہ قوانین سے ایسے قوانین کو بشمول مذکورہ بالا ا تھا جو اپنا مقصد حاصل کر چکے ہیں۔

اور چونکہ جیسا کہ مذکورہ بالا آرڈیننس میـ دیگر قوانین کے متن میں جو ترامیم مذکورہ بالا ایکٹ و مذکورہ بالا آرڈیننس کے اجراء سے متاثر نہیں ہوئی ہیـ

٥

صفحہ ٢٣٩

کہتے ہیں) غیر مسلموں میں شامل کیا جائے اور تاکہ یہ قرار دیا جائے کہ کوئی شخص جو خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان نہ رکھتا ہو یا حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو، یا ایسے دعویدار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو، دستور یا قانون کی اغراض سے مسلمان نہیں ہے۔“

اور چونکہ فرمان صدر نمبر ١٧ مجریہ سال ١٩٧٨ء کے ذریعے مجملہ اور چیزوں کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم بشمول قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ کے اشخاص کی (جو خود کو احمدی کہتے ہیں) مناسب نمائندگی کے لئے حکم وضع کیا گیا تھا۔ اور چونکہ فرمان عارضی دستور، ١٩٨١ء (فرمان سی۔ ایم۔ ایل۔ اے نمبر ١ مجریہ سال ١٩٨١ء) نے مذکورہ بالا دستور کے ایسے احکام کو جو متعلقہ تھے، اپنا جزو قرار دیا تھا۔

اور چونکہ مذکورہ بالا فرمان میں واضح طور پر لفظ ’مسلم‘ کی تعریف کی گئی ہے۔ جس سے ایسا شخص مراد ہے جو وحدت وتوحید قادر مطلق اللہ تبارک وتعالیٰ، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے اور لفظ ’غیر مسلم‘ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو، جس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) یا کوئی بہائی اور جدولی ذاتوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔

اور چونکہ مذکورہ بالا دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء نے دستور میں مذکورہ بالا ترامیم شامل کرنے کا اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا۔ اور چونکہ وفاقی قوانین (نظر ثانی و استقرار) آرڈیننس مجریہ سال ١٩٨١ء (نمبر ٢٧ مجریہ سال ١٩٨١ء) مسلمہ طریقہ کار کے مطابق اور مجموعہ قوانین سے ایسے قوانین کو بشمول مذکورہ بالا ایکٹ نکال دینے کے مقصد سے جاری کیا گیا تھا جو اپنا مقصد حاصل کر چکے ہیں۔

اور چونکہ جیسا کہ مذکورہ بالا آرڈی ننس میں واضح طور پر قرار دیا گیا۔ مذکورہ بالا دستور یا دیگر قوانین کے متن میں جو ترامیم مذکورہ بالا ایکٹ یا دیگر ترمیمی قوانین کے ذریعے کی گئی ہوں۔ مذکورہ بالا آرڈی ننس کے اجراء سے متاثر نہیں ہوئی ہیں۔

٥

صفحہ ٢٤٠

لہٰذا اب ٥؍جولائی ١٩٧٧ء کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے قانونی صورت حال کے استقرار اور اس کی مزید توثیق کے لئے حسب ذیل فرمان جاری کیا ہے:

مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

(نظرثانی واستقرار) آرڈیننس مجریہ سال ١٩٨١ء (نمبر ٢٧ مجریہ سال ١٩٨١ء) کی جدول اول میں دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء (نمبر ٤٩ بابت سال ١٩٧٤ء) کی شمولیت سے، جس کی رو سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور ١٩٧٣ء میں مذکورہ بالا ترامیم شامل کی گئی ہیں۔

حیثیت سے برقرار رہیں یا:

کے طور پر حیثیت تبدیل نہیں ہوئی ہے اور نہ ہوگی اور وہ بدستور غیر مسلم ہیں۔

متذکرہ بالا متن سے ظاہر ہے کہ قادیانیوں کی آئینی و قانونی حیثیت بطور غیر مسلم قطعی طور پر مسلمہ اور قائم ہے۔ کچھ حلقوں نے اس اندیشہ کا اظہار کیا ہے کہ متذکرہ بالا صدارتی فرمان اور فرمان عارضی دستور مجریہ سال ١٩٨١ء چونکہ عارضی قانونی اقدامات ہیں، لہٰذا ان کے منسوخ ہو جانے پر مسلم اور غیر مسلم کی تعریف جو فرمان عارضی دستور کے آرٹیکل نمبر ٢۔الف میں بیان کی گئی ہے، بھی ختم ہوجائے گی اور چونکہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء (نمبر ٤٩ بابت سال ١٩٧٤ء) جس کی رو سے ١٩٧٣ء کے دستور میں ترامیم کرکے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ وفاقی قوانین (نظر ثانی واستقرار) آرڈی ننس مجریہ سال ١٩٨١ء کے ذریعے منسوخ ہوچکا ہے۔ اس لئے دستور کے بحال ہونے پر قادیانیوں کی قانونی و آئینی حیثیت اسی طرح ہوگی جیسی کہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء کے نفاذ سے پیشتر تھی۔

جیسا کہ مفصل بیان کیا جاچکا ہے، دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء کی رو سے جو ترامیم ١٩٧٣ء کے دستور کے آرٹیکل ٢٦٠ و آرٹیکل ١٠٦ میں عمل میں لائی گئی تھیں، وہ بدستور قائم اور نافذ ہیں۔

٦

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

ابن مریم

الحاج رحیم بخش ریٹائرڈ

PDF 243

اِنَّہٗ لَعِلمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُونِ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّستَقِیمٌ

بیشک عیسیٰ ؑ قیامت کی نشانی ہیں پس تم اس میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو یہی سیدھا راستہ ہے

ابن مریم

الحاج رحیم بخش ریٹائرڈ سیشن جج

صفحہ ٢٤٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

التماس

اس کتاب کا روئے سخن ان مومنوں کی طرف سے ہے۔ جو قرآن کریم کو منزل من اللہ مانتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ کی وسیع قدرت کو اپنے علم اور تجربے سے محدود نہیں کرتے۔ بلکہ اپنی بے بضاعتی کو نگاہ رکھتے ہوئے قرآنی آیات کے بین مطالب کو چھوڑ کر خواہ مخواہ مشتبہ یا مجازی معنوں کی الجھنوں میں نہیں پڑتے اور حتی الوسع ہر قسم کی تاویل سے گریز کرتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ بن مریم کی نسبت جو ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ وہ بلا کم و کاست اس کتاب میں درج کر دیا گیا ہے۔ اس الحاد و کفر کے زمانے میں لوگوں کو یہ یقین دلانا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تاحال زندہ ہیں اور یہ کہ وہ دوبارہ قرب قیامت کو تشریف لائیں گے۔ ایک امر محال ہے تاہم ناظرین سے التماس کرتا ہوں کہ وہ اپنے مفروضہ عقائد کو تھوڑی دیر کے لئے بالائے طاق رکھ کر کتاب کے نفس مضمون ودلائل پر غور فرمائیں اور دیکھیں کہ وہ کس نتیجہ پر پہنچتے ہیں ۔ وما علینا الا البلاغ !ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة . انك انت الوهاب! رحيم بخش!

کچھ مدت ہوئی کہ میں نے ایک رسالہ موسومہ بہ ”قرآن اور ایک غلط فہمی کا ازالہ“ شائع کیا تھا۔ اس میں اس عام خیال کی تردید کی تھی کہ قرآن مجید کی موجودہ ترتیب بذریعہ وحی رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے عمل میں نہیں آئی اور چند مثالیں دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ قرآن کریم شروع سے آخر تک مربوط اور مرتب ہے اور اس کی تعلیم میں تدریجی ارتقاء ہے اور ہر ایک آیت اپنی اپنی جگہ پر سیاق و سباق کے لحاظ سے نہایت موزوں واقع ہوئی ہے۔ مگر ساتھ ہی اس آیت کا اپنی ہم جنس اور ہم مضمون آیات سے آغاز قرآن سے ختم قرآن تک ایک خاص ربط ہے اور اس کی تدریجی توضیح اور ارتقاء ہے۔ جس کو عموماً تکرار گمان کیا جاتا ہے۔ اسی رسالے میں ایک آیت کی تشریح کرتے ہوئے یہ بھی لکھا تھا کہ قرآن کریم میں ترتیب الفاظ بھی معجزے سے کم نہیں اور یہ کہ اس پر انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ کچھ عرض کیا جائے گا۔ اس وعدے کے ایفاء میں ایک رسالہ بنام ”گلدستہ معانی“ دو سال سے زیادہ عرصہ ہوا، شائع کیا تھا اور اس میں

٢

ایک مثال دے کر یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر ترتیب قرآنیہ کے سمجھنے میں نہایت آسانی ہو جاتی ہے اور خ

میں چاہتا ہوں کہ جس نظریہ کو میں نے اہل بصیرت زیادہ غور و خوض کریں۔ کیونکہ یہ نظریہ دیدہ و دانستہ یا نادانستہ کئے ہیں، قلع قمع کر دیتا ہ ڈالنے کے لئے لکھا گیا ہے جس سے مسلمانوں میں انجام کیا ہوگا اور کب تک مسلمان اس خانہ جنگی میں گے۔ دیگر میرے خیال میں آتا ہے کہ جب تک آ کرنے میں مدنظر نہ رکھا جائے ، صحیح مفہوم قرآنی الفاظ عام لوگوں کی زبان پر ہیں ۔ مگر ان تمام آی رسالے میں کیا ہے ، دین حنیف کا صحیح مفہوم سمجھن چاہتا ہوں، وہ حسب ذیل ہیں :

الفاظ کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے کن کن امور سورۃ قیامہ کی تفسیر میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی حم ہے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ کلام اللہ کی تفسیر اس جائے :

دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ وہ کلمہ اس جگہ اپنے حقیقی اور کے)

تا کہ کلام بے نسق و بے ربط نہ ہو جائے۔

صفحہ ٢٤٣

ایک مثال دے کر یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر ترتیب الفاظ کو مد نظر رکھا جائے تو بعض دیگر مسائل قرآنیہ کے سمجھنے میں نہایت آسانی ہو جاتی ہے اور خاص کر اختلافی مسائل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ جس نظریہ کو میں نے ان دونوں رسالوں میں پیش کیا ہے۔ اس پر اہل بصیرت زیادہ غور و خوض کریں۔ کیونکہ یہ نظریہ ان تمام باطل اعتراضات کا جو اہل مغرب نے دیدہ و دانستہ یا نا دانستہ کئے ہیں، قلع قمع کر دیتا ہے۔ یہ رسالہ ایک ایسے اختلافی مسئلے پر روشنی ڈالنے کے لئے لکھا گیا ہے جس سے مسلمانوں میں کچھ ایسا تفرقہ پیدا ہو چکا ہے کہ معلوم نہیں اس کا انجام کیا ہوگا اور کب تک مسلمان اس خانہ جنگی میں مبتلا ہو کر دیگر مسائل ضروریہ سے تغافل برتیں گے۔ دیگر میرے خیال میں آتا ہے کہ جب تک کہ ترتیب الفاظ اور تدریجی ارتقاء کو ہر مسئلے کے حل کرنے میں مد نظر نہ رکھا جائے، صحیح مفہوم قرآنی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ دین حنیف کے الفاظ عام لوگوں کی زبان پر ہیں۔ مگر ان تمام آیات کو پڑھنے کے بغیر جن کا ذکر میں نے پہلے رسالے میں کیا ہے، دین حنیف کا صحیح مفہوم سمجھنا مشکل ہے۔ اختلافی مسائل جن پر میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں، وہ حسب ذیل ہیں:

پیشتر اس کے کہ اصل مضمون پر کچھ لکھا جائے، یہ امر قابل غور ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے کن کن امور کا مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ شاہ عبدالعزیز نے سورۃ قیامہ کی تفسیر میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت کی حقیقت کا بیان کرتے ہوئے ایک مقدمہ سپرد قلم کیا ہے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ کلام اللہ کی تفسیر اس کو کہتے ہیں کہ تین چیزوں کی رعایت اس میں پائی جائے:

دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ وہ کلمہ اس جگہ اپنے حقیقی اور اصلی معنوں میں استعمال ہوا ہے یا بطور مجاز یا محاورہ کے)

تا کہ کلام بے نسق و بے ربط نہ ہو جائے۔

٣

صفحہ ٢٤٥

سوم ....... یہ کہ نزول وحی کے گواہوں کا فہم اس تفسیر کے مخالف واقع نہ ہو۔ وہ گواہ پیغمبرﷺ اور اصحاب کرام ہیں۔ (اس میں شان نزول شامل ہے )

پھر ان تینوں چیزوں میں سے ایک فوت ہو جائے اور دوسری دو باقی رہیں تو اس کو تاویل کہتے ہیں اور اگر پہلی چیز فوت ہو جائے (یعنی اصلی و مجازی معنی) لیکن دوسری اور تیسری باقی رہیں تو اس کو تاویل قریب کہتے ہیں اور اگر دوسری فوت ہو جائے (یعنی سیاق و سباق) اور پہلی اور تیسری باقی رہے یا تیسری فوت ہو جائے (یعنی جو کچھ رسول اللہ ﷺ یا اصحاب سے مروی ہے) لیکن پہلی اور دوسری باقی رہیں تو ان دونوں صورتوں کو تاویل بعید کہتے ہیں۔ اگر یہ تینوں چیزیں فوت ہو جائیں تو اس کا نام تحریف ہے۔

مقدمہ ہذا کے ان اصولوں پر کسی صاحب رائے کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔ لیکن جو صاحب تاویل قریب اور بعید بلکہ تحریف کرتے ہیں۔ ان کے دلائل پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سرسید بھی ان میں سے ایک ہیں۔ بہتر ہوگا کہ میں انہی کے الفاظ میں ان کے دلائل پیش کروں:

انسان کا، مندرجہ ذیل باتوں کا محقق ہونا ضروری ہے۔ جس لفظ کے جو معنی قرار دیئے گئے ہوں، اس کی نسبت جاننا چاہئے کہ وہ لفظ ان ہی معنوں میں وضع کیا گیا ہے۔“

دوسرے معنوں میں مستعمل نہیں ہوا ہے۔“

میں سے کس معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ ضمائر جن کا مرجع مختلف ہوسکتا ہے۔ وہ بھی الفاظ مشترک المعنی میں شامل ہیں۔“

متبادر ہوتے ہیں یا مجازی معنوں میں ۔“

کوئی تخصیص بھی ہے یا نہیں؟“

٤

معارضہ بھی ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو وہ معنی اس ک ہے۔ بلکہ تمام علمائے اسلام نے سینکڑوں مقامات استویٰ ہونے میں اس کے ہاتھ اور منہ اور ساق کے اصلی معنی اس لئے نہیں لئے گئے کہ دلیل عقلی الفاظ کے ایسے معنی جو دلیل عقلی سے محال ہیں، یا نے بیان کیا ہے یا تجربہ کے مخالف ہیں، چھوڑ کر دو

سرسید کے دلائل نمبر ١ لغایت نمبر ٦ پ سرسید احمد نے کل معجزات سے انکار کیا ہے۔ بلکہ وہ لکھتے ہیں: ”جو قانون قدرت کہ انسان نے تجر کہ جب تمام قانون فطرت ابھی تک نامعلوم ہیں مستثنیات ثابت ہوئے ہیں۔ مگر ان کے خیال می کوئی وجودی شے نہیں ہے۔ بلکہ صرف ایک خیالی من الحق شيئاً“

”علاوہ اس کے امکان کا اطلاق اس چیز کا کبھی وقوع ثابت نہ ہوا ہو تو اس پر امکان کا ا مستثنیات کا مدعی ہو۔ اس کو ان مستثنیات کے کبھی

میں ان دونوں امور پر بحث کروں گ لوگ قانون قدرت میں مستثنیات (یا خرق عاد ہوتے رہتے ہیں اور خدا اپنے مقبول بندوں کو معج ہے۔

”وقالوا لولا نزل عليه آيا آية ولكن اكثرهم لايعلمون (انعام:٣٧) کوئی معجزہ خدا کے ہاں سے کیوں نہیں اترا۔ کہہ نہیں جانتے۔﴾

صفحہ ٢٤٥

معارضہ بھی ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو وہ معنی اس کے صحیح نہ ہوں گے اور یہ بات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بلکہ تمام علمائے اسلام نے سینکڑوں مقامات میں اس کی پیروی کی ہے۔ مثلاً خدا کے عرش پر استوا ہونے میں اس کے ہاتھ اور منہ اور ساق ہونے میں اور مثل ان کے اور بہت سے لفظوں کے اصلی معنی اس لئے نہیں لئے گئے کہ دلیل عقلی ان کے برخلاف تھی۔ پس کوئی وجہ نہیں ہے کہ اور الفاظ کے ایسے معنی جو دلیل عقلی سے محال ہیں، یا خود اس قانون فطرت کے مخالف ہیں جو خود خدا نے بیان کیا ہے یا تجربہ کے مخالف ہیں، چھوڑ کر دوسرے معنی نہ لئے جائیں۔"

سرسید کے دلائل نمبر ١ لغایت نمبر ٦ پر تو جرح کی ضرورت نہیں ہے۔ نمبر ٧ کی بناء پر سرسید احمد نے کل معجزات سے انکار کیا ہے۔ بلکہ روح الامین کو ملکہ نبوت کہہ دیا ہے۔ اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں: ”جو قانون قدرت کہ انسان نے تجربہ سے قائم کیا ہے۔ اس کی نسبت کہا جا سکتا ہے کہ جب تمام قانون فطرت ابھی تک نامعلوم ہیں۔ ممکن ہے کہ کوئی قانون فطرت ایسا ہو جس سے مستثنیات ثابت ہوئے ہیں۔ مگر ان کے خیال میں یہ کہنا کافی نہیں ہے۔ اس لئے کہ امکان عقلی تو کوئی وجودی شے نہیں ہے۔ بلکہ صرف ایک خیالی غیر محقق الوقوع ہے۔" "وان الظن لا یغنی من الحق شیئا"

"علاوہ اس کے امکان کا اطلاق اس چیز پر ہوتا ہے جو کبھی ہو اور کبھی نہ ہو۔ لیکن جس چیز کا کبھی وقوع ثابت نہ ہوا ہو تو اس پر امکان کا اطلاق غلط ہے۔ غرضیکہ جو شخص قانون فطرت میں مستثنیات کا مدعی ہو۔ اس کو ان مستثنیات کے کبھی واقع ہونے کو ثابت کرنا بھی لازم ہے۔"

میں ان دونوں امور پر بحث کروں گا۔ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ جن چیزوں کو ہم لوگ قانون قدرت میں مستثنیات (یا خرق عادت) کہتے ہیں، وہ معجزات ہیں اور معجزات صادر ہوتے رہتے ہیں اور خدا اپنے مقبول بندوں کو معجزات عطا کرتا ہے۔ سورہ انعام رکوع نمبر ٤ میں آیا ہے:

"وقالوا لولا نزل علیہ آیۃ من ربہ ، قل ان اللہ قادر علی ان ینزل آیۃ ولکن اکثر ھم لا یعلمون (انعام:٣٧) " (اور کفار کہتے ہیں کہ ان پر (آنحضرت پر) کوئی معجزہ خدا کے ہاں سے کیوں نہیں اترا۔ کہہ دو خدا اس پر قادر ہے کہ معجزہ نازل کرے لیکن لوگ نہیں جانتے۔) ﴾

٥

صفحہ ٢٤٦

”وما منعنا ان نرسل بالایات الا کذب بھا الاولون وآتینا ثمود الناقۃ مبصرۃ فظلموا بھا وما نرسل بالایات الا تخویفا (اسراء:٥٩)“ ﴿اور ہمیں معجزات بھیجنے سے بجز اس کے اور کوئی وجہ مانع نہیں ہوتی کہ اگلوں نے انہیں جھٹلایا اور ہم نے قوم ثمود کو (معجزے سے) اونٹنی عطا کی (جو ہماری قدرت کی) دکھانے والی تھی۔ تو ان لوگوں نے اس پر ظلم کیا (یہاں تک کہ مارڈالا) اور ہم تو معجزے صرف ڈرانے کی غرض سے بھیجا کرتے ہیں۔﴾

نوٹ: یہاں آیت کے معنی سوائے معجزے کے اور کچھ نہیں ہوسکتے۔ اس لئے مجھے سر سید صاحب کے اس دعویٰ سے کہ قرآن کریم میں آیت اور آیات بینات سے احکام مراد ہوتے ہیں۔ جو انبیاء کو وحی کئے جاتے ہیں، اختلاف ہے۔ اگر ان دونوں آیتوں میں آیات کے معنی احکام کے لئے جائیں تو ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور پر کبھی کوئی حکم نازل نہیں فرمایا۔

وہ کہتے ہیں کہ جو انسان نے اپنے تجربے سے ثابت کیا ہے، مستثنیات ثابت ہونی چاہئیں۔ لیکن معجزہ تو ایسا امر ہے کہ جسے انسانی تجربہ کے خلاف نہیں کہا جاسکتا۔ اس امر کی کافی شہادت ہے کہ معجزے ہوتے رہتے ہیں۔ ہر ایک مذہب اس پر گواہ ہے۔ سورۂ انفال میں آیا ہے: ”وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی (انفال:١٧)“ ﴿اور تو نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی۔﴾

روایت سے تصدیق ہوتی ہے کہ جنگ بدر میں جب لڑائی کی شدت ہوئی تو حضورؐ نے ایک مٹھی کنکریاں لشکر کفار کی طرف پھینکیں۔ خدا کی قدرت کنکریوں کے ریزے ہر کافر کی آنکھ تک پہنچے۔ وہ سب آنکھیں ملنے لگے۔ ادھر سے مسلمانوں نے حملہ کردیا اور کفار کو شکست دی۔ گو بظاہر کنکریاں حضورؐ نے اپنے ہاتھ سے پھینکی تھیں۔ لیکن ہر سپاہی کی آنکھ میں کنکریوں کا جانا کسی بشر کا فعل عادۃً نہیں ہوسکتا۔ یہ صرف خدائی ہاتھ تھا جس نے مٹھی بھر کنکریوں سے فوج کا منہ پھیر دیا۔

معجزات ایک نبی یا رسول اپنے ارادے یا حکمت سے صادر نہیں کرتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ جس وقت مشیت ایزدی ہو اپنے نبی کے ہاتھ سے معجزات کے ساتھ اکثر لفظ ”باذن اللہ“ آیا ہے یعنی خدا کی اجازت سے۔ اس کے متعلق دیگر آیات لکھنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن مستثنیات کا سوال خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات سے ہی حل ہوجاتا ہے۔

٦

سرسید نے قانون فطرت کو ثابت کر اور نطفہ کے ایک مدت معین تک مقررہ جگہ میں ر پیش کی ہیں: ”لقد خلقنا الانسان من صـ مکین ...... فتبارک اللہ احسن الخالقـ گیلی مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اس کـ رکھا۔ پھر ہم نے نطفے کو جما ہوا خون بنایا۔ پھر ہم نـ ہڈیوں پر گوشت کا لوتھڑا چڑھایا۔ پھر ہم نے اس کـ کیا۔ تو (سبحان اللہ!) خدا بابرکت ہے جو سب بـ ”ومن آیاتہ ان خلقکم یتفکرون (روم:٢٠‘٢١)“ ﴿اور اس کی قد سے پیدا کیا پھر یکا یک تم آدمی بن کر (زمین پـ میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تم رہ کر چین کرو اور تم لوگوں کے درمیان الفت پیـ والوں کے لئے (قدرت خدا) کی یقینی بہت سی نشـ

سرسید کے بعد قادیانی جماعت کا فرقہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلا باپ پیدا ہوئے۔ مگر عقیدہ ہے کہ وہ بلا باپ پیدا نہیں ہوئے۔ مولوی نسلہ من سلالۃ من ماء مھین (سجدہ:٨) سے چلایا ہے۔﴾ اور ”انا خلقنا الانسان مـ وعورت کے ملے ہوئے نطفے سے پیدا کرتے ہیں

مولوی صاحب کی دلیل ہے کہ جس نے اپنے اس قانون کے خلاف یا الگ رنگ میـ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے، اسی رنگ کے کوئی سوال نہیں کہ اسے ایسا کرنے کی قدرت کرنے کی قدرت ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ مـ

صفحہ ٢٤٧

سرسید نے قانون فطرت کو ثابت کرنے کے لئے یہ جو جوڑے (یعنی زن ومرد) سے اور نطفہ کے ایک مدت معین تک مقررہ جگہ میں رہنے سے انسان پیدا ہوتا ہے، مفصلہ ذیل آیات پیش کی ہیں : ”لقد خلقنا الانسان من سلالة من طین ثم جعلنہ نطفة فی قرار مکین ...... فتبارک اللہ احسن الخالقین (مومنون: ١٢ تا ١٤) ” اور ہم نے آدمی کو گیلی مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ جگہ (عورت کے رحم ) میں نطفہ بنا کر رکھا۔ پھر ہم نے نطفے کو جما ہوا خون بنایا۔ پھر ہم ہی نے منجمد خون کو گوشت کا لوتھڑا بنایا۔ پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت کا لوتھڑا چڑھایا۔ پھر ہم نے اس کو (روح ڈال کر) ایک دوسری صورت میں پیدا کیا۔ تو (سبحان اللہ !) خدا با برکت ہے جو سب بنانے والوں سے بہتر ہے۔﴾

”ومن آیاتہ ان خلقکم من تراب ثم اذا انتم بشر تنتشرون...... یتفکرون (روم : ٢٠، ٢١) ” اور اس کی قدرت کی نشانیوں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکا یک تم آدمی بن کر (زمین پر) چلنے پھرنے لگے اور اسی کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تمہاری جنس کی بیبیاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے ساتھ رہ کر چین کرو اور تم لوگوں کے درمیان الفت پیدا کر دی۔ اس میں شک نہیں کہ اس میں غور کرنے والوں کے لئے ( قدرت خدا ) کی یقینی بہت سی نشانیاں ہیں۔﴾

سرسید کے بعد قادیانی جماعت کا فروغ ہوا۔ اس کے بانی مرزا غلام احمد نے یہ تو مانا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلا باپ پیدا ہوئے۔ مگر ان کے پیروؤں سے لاہوری جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ بلا باپ پیدا نہیں ہوئے۔ مولوی محمد علی نے دو آیتیں مزید پیش کی ہیں : ”ثم جعل نسلہ من سللة من ماء مہین (سجدہ: ٨) ” یعنی آفرینش اول کے بعد اس کی نسل کو نطفے سے چلایا ہے۔﴾ اور ”انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج (دھر: ٢) ” ہم انسان کو مرد وعورت کے ملے ہوئے نطفے سے پیدا کرتے ہیں۔﴾

مولوی صاحب کی دلیل ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ با تصریح یہ نہ فرمائے کہ عیسیٰ کو ہم نے اپنے اس قانون کے خلاف یا الگ رنگ میں پیدا کیا تھا۔ اس وقت تک یہی ماننا پڑے گا کہ وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے، اسی رنگ کے تھے۔ ان کے خیال میں یہاں اللہ کی قدرت پر کوئی سوال نہیں کہ اسے ایسا کرنے کی قدرت ہے یا نہیں۔ اس کو ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کرنے کی قدرت ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ قرآن شریف یا حدیث صحیح سے ثابت ہوتا ہے کہ

٧

صفحہ ٢٤٩

اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور جب خود وہ ایک قانون بناتا ہے تو جب تک خود ہی نہ فرمائے کہ فلاں معاملے میں اس نے اسی قانون کے خلاف اپنی قدرت کا اظہار کیا۔ اس وقت تک خود بخود ہمارا کسی امر کو اس قانون کے خلاف سمجھ لینا جائز نہیں۔

ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے۔ آؤ دیکھیں قرآن کریم اس بارے میں کیا کہتا ہے اور مستثنیات ثابت کرتا ہے یا نہیں؟

اللہ تعالیٰ سورۂ بقرہ رکوع میں فرماتے ہیں: ”وقالوا اتخذ اللہ ولدا سبحانه بل له ما فی السموات والارض و اذا قضى امر فانما يقول له كن فيكون (بقرہ:١١٧)“ ﴿اور کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنالیا، وہ پاک ہے بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے، اسی کا ہے۔ سب اسی کے فرمانبردار ہیں۔ آسمانوں اور زمینوں کا موجد ہے اور جب کوئی حکم جاری کرتا ہے صرف اسے کہہ دیتا ہے، ہو، سو وہ ہو جاتا ہے۔﴾

بدیع یا ابداع کے معنی ہیں ایسا بنانا جس کا پہلے نمونہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے جب یہ لفظ استعمال ہو تو معنی ہوتے ہیں بغیر آلہ، مادہ، زمانہ اور مکان کے کسی چیز کا معرضِ وجود میں آنا۔ اس معنی کو خود مولوی محمد علی نے اپنی تفسیر بیان القرآن میں ص ١٠٩ پر بیان کیا ہے۔ اگرچہ یہاں عیسائیوں کے اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن اللہ تھے۔ مگر ساتھ ہی : ”بديع السموات والارض واذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون“ کہہ کر اس امر کی تشریح کر دی کہ اس کا بلا باپ ہونا ابن اللہ ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ خدا جب بغیر آلہ اور مادہ کے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر سکتا ہے۔ تو وہ اپنے حکم سے ایک عورت کے رحم میں نطفہ بغیر ظاہری باپ کے پیدا کر سکتا ہے اور اس لئے دوسری جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے وقت یہی الفاظ کہے گئے ہیں۔ جب حضرت زکریا علیہ السلام کو یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دی جاتی ہے تو کہتے ہیں:

”قال رب ان يكون لي غلام وقد بلغني الكبر و امرأتی عاقر (آل عمران :٤٠)“ ﴿اس نے کہا میرے رب مجھے لڑکا کیونکر ہو سکتا ہے حالانکہ مجھ پر بڑھاپا آچکا ہے اور میری عورت بانجھ ہے۔﴾ جواب ملتا ہے:

”كذالك الله يفعل ما يشاء (آل عمران :٤٠)“ ﴿اسی طرح ہوگا، خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔﴾

٨

(آگے مزید توضیح آتی ہے) لیکن جب ہیں: ”قالت رب انی يكون لی ولد ولم يمـ لگی پروردگار! مجھے لڑکا کیونکر ہوگا۔ حالانکہ مجھے کسی مر جواب ملتا ہے: ”قال كذالك الله يـ يقول له كن فيكون (آل عمران:٤٧)“ ﴿اُ ہے تو صرف کہہ دیتا ہے ”ہو“ اور وہ ہو جاتا ہے۔﴾

اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے بوڑھے دیا کہ جو اللہ چاہتا ہے کرتا ہے۔ مگر حضرت مریم علیہا يشاء“ کی جگہ نہ صرف ”كذالك يفعل ما يشاء كن فيكون“ کے جملے کا اضافہ کر دیا۔ جس سے میں پیدا کیا۔ یعنی مستثنیات سے ہے۔

قرآن کریم نے اس تفریق کو ہر طرح نسبت فرمایا: ”وبرا بوالديه ولم يكن جبا کے حق میں سعادت مند تھے اور سرکش و نافرمان نہ

لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یجعلنی جبارا شقيا (مریم:٣٢)“ ﴿اور مجھ نہیں بنایا۔﴾

باپ کا ذکر نہیں کیا کیونکہ ظاہری باپ ن ووهبنا له يحيى واصلحنا له زوجه (ا نے ان کو بیٹا یحییٰ عطاء کیا اور ہم نے ان کی بیوی کو

لیکن اگلی آیت میں فرمایا: ”والتی روحنا وجعلنها وابنها آية للعلمين ( کی حفاظت کی تو ہم نے ان (کے پیٹ) میں اپنی بیٹے (عیسیٰ) کو سارے جہاں کے واسطے (اپنی قد

صفحہ ٢٤٩

(آگے مزید توضیح آتی ہے) لیکن جب حضرت مریم کو بشارت دی جاتی ہے تو وہ کہتی ہیں: ”قالت رب انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر (آل عمران:٤٧)“ ﴿کہنے لگی پروردگار! مجھے لڑکا کیونکر ہوگا۔ حالانکہ مجھے کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔﴾

جواب ملتا ہے: ”قال كذالك الله يخلق ما يشاء ٠ اذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون (آل عمران:٤٧)“ ﴿اسی طرح خدا جو چاہتا ہے اور جب حکم جاری کرتا ہے تو صرف کہہ دیتا ہے ”ہو“ اور وہ ہو جاتا ہے۔﴾

اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے بوڑھے باپ اور بانجھ عورت سے لڑکا پیدا کر دیا اور کہہ دیا کہ جو اللہ چاہتا ہے کرتا ہے۔ مگر حضرت مریم علیہا السلام کے جواب میں ”كذالك يفعل ما يشاء“ کی جگہ نہ صرف ”كذالك يخلق ما يشاء“ کہا بلکہ ”واذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون “ کے جملے کا اضافہ کر دیا۔ جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک الگ رنگ میں پیدا کیا۔ یعنی مستثنیات سے ہے۔

قرآن کریم نے اس تفریق کو ہر طرح سے مدنظر رکھا ہے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی نسبت فرمایا: ”وبرا بوالديه ولم يكن جبارا عصيا (مریم:١٤)“ ﴿اور اپنے ماں باپ کے حق میں سعادت مند تھے اور سرکش و نافرمان نہ تھے۔﴾

لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ان سے کہلایا: ”وبرا بوالدتى ولم يجعلني جبارا شقيا (مریم:٣٢)“ ﴿اور مجھ کو اپنی والدہ کا فرمانبردار بنایا اور سرکش و نافرمان نہیں بنایا۔﴾

باپ کا ذکر نہیں کیا کیونکہ ظاہری باپ نہیں تھا۔ دوسری جگہ فرمایا ہے: ”فاستجبنا له ووهبنا له يحيى واصلحناله زوجه (انبياء:٩٠)“ ﴿ہم نے اس کی دعا سن لی اور ہم نے ان کو بیٹا یحییٰ عطا کیا اور ہم نے ان کی بیوی کو ان کے لئے اچھا بنا دیا۔﴾

لیکن اگلی آیت میں فرمایا: ”والتی احصنت فرجها، فنفخنا فيها من روحنا وجعلنها وابنها آية للعلمين (انبياء:٩١)“ ﴿اور وہ بی بی جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی تو ہم نے ان (کے پیٹ) میں اپنی طرف سے روح پھونک دی اور ان کو اور ان کے بیٹے (عیسیٰ) کو سارے جہاں کے واسطے (اپنی قدرت کی) نشانی بنایا۔﴾

٩

صفحہ ٢٥١

انہی وجوہات کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تھا اور وجوہات بھی ہیں۔ جن کا ذکر آگے آئے گا۔ مگر چونکہ آج کل کی دنیا مادہ پرست زیادہ ہے اور خدا کی قدرت کو اپنے تجربے اور علم کے اندر محدود کرنا چاہتی ہے۔ اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ خدا کی قدرت جس کو دوسرے الفاظ میں ”کن فیکون“ کہا گیا ہے، کے متعلق کچھ اور لکھا جائے اور وہ بھی قرآن سے۔ ساتھ ہی میں یہ دکھانے کی کوشش کروں گا کہ اصطلاح ”کن فیکون“ میں بھی ارتقاء ہے۔

پہلی دفعہ ”کن فیکون“ سورۃ بقر کی مذکورہ بالا آیت میں آیا ہے یعنی: ”بدیع السموات والارض . واذاقضى امر فانما يقول له كن فيكون“ اس آیت مبارکہ میں لفظ ”بدیع“ کہہ کر یہ ظاہر کیا گیا کہ بغیر مادے، اسباب وغیرہ کے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کر دیا۔ دوسری دفعہ ”کن فیکون“ سورۃ آل عمران کی اس آیت میں ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ یعنی: ”قالت رب انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر. قال كذالك الله يخلق ما يشاء اذا قضى امرفانما يقول له كن فيكون “ یعنی جسے اپنی قدرت سے چاہے، پیدا کر سکتا ہے اور آگے چل کر اسی سورۃ میں اس کی ایک مثال بیان کر دی: ”ان مثل عيسى عند الله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون (آل عمران: ٥٩)“ ﴿خدا کے نزدیک تو جیسے عیسیٰ کی حالت ویسا آدم کی حالت ان کی مٹی کا پتلا بنا کر کہا کہ ہو جا۔ پس فوراً ہی وہ انسان ہو گیا۔﴾

اور یہی اس کا ارتقاء ہے۔ ساتھ ہی بلا باپ ہونے کی مزید تشریح ہے۔ پھر سورۃ انعام میں فرمایا: ”ان اقيموا الصلوٰة واتقوه وهوالذى اليه تحشرون وهو الذي خلق السموات والارض بالحق ويوم يقول له كن فيكون (انعام:٧٢)“ ﴿اور یہ کہ قائم رکھو نماز اور ڈرتے رہو اللہ سے اور وہی ہے جس کے آگے تم سب اکٹھے ہو گے اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر اور جس دن (کسی چیز کو) کہتا ہے کہ ہو جا تو (فوراً) ہو جاتی ہے یا یہ کہ جس دن کہے گا کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گا یعنی حشر۔﴾

یہی ارتقاء ہے۔ ان کو اس طرح بدل دے گا جس طرح کہ پیدا کیا تھا۔ معاذ اللہ زمین و آسمان یا آدم علیہ السلام کے پیدا کرنے کے بعد خدا سے یہ طاقت و قدرت سلب نہیں ہو گئی۔ بلکہ ہمیشہ قائم رہے گی۔ پھر سورہ نحل میں فرمایا:

١٠

”واقسموا بالله جهد ايمانهم لايبعـ حقا ولكن اكثر الناس لا يعلمون . ليبين لهم كفروا انهم كانوا كاذبين . انما قولنا لشئ (انعام: ١٠٩)“ ﴿اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی پـ جائے ۔ بیشک اٹھائے گا۔ وعدہ ہو چکا ہے اس پر پکا۔ لیکـ ظاہر کر دے ان پر جس بات میں کہ جھگڑتے ہیں اور تا کـ کہا کسی چیز کو جب ہم اس کو کرنا چاہیں، یہی ہے کہ کہیں اسـ

اس آیت میں ارتقاء یہ ہے کہ مردوں کو زند ارادے سے ہر ایک بات بسرعت تمام وقوع پذیر ہو جاتـ قدرت کا قانون ہی ایسا ہے۔ پھر سورۂ مریم میں یوں آیـ ”ذلك عيسى ابن مريم قول الحق يتخذ من ولد سبحانه اذا قضى امرفانما ﴿یہ ہے کہ عیسیٰ بیٹا مریم کا سچی بات جس میں لوگ جھگڑ پاک ذات ہے جب ٹھہرا لیتا ہے کسی کام کو کرنا سو یہی کہـ

اس آیت مبارکہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلا قادر مطلق ہے کہ ایک بچے کو بن باپ پیدا کر دے اور طرح یہ سزاوار نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ اس سے پہـ فیصلہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ اس سے ارتقاء ظاہر ہے۔

اس آیت مبارکہ کا منشاء قریباً وہی ہے جس اس لئے جیسا کہ اپنے رسالہ الموسوم بہ ”قرآن اور ایـ کوئی آیت ایک بیان شدہ مضمون کی دوبارہ آ جائے شروع ہوتا ہے۔ جیسا کہ آگے آتا ہے: ”قال من يحيى العظام وهى رمـ وهو بكل خلق عليم . الذى جعل لكم من

١١

صفحہ ٢٥١

”واقسموا بالله جهد ايمانهم لا يبعث الله من يموت بلى وعدا عليه حقا ولكن اكثر الناس لا يعلمون ، ليبين لهم الذى يختلفون فيه ليعلم الذين كفروا انهم كانوا كاذبين ، انما قولنا لشى اذا اردنا ان نقول له كن فيكون (انعام : ١٠٩) ” ﴿اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی سخت قسمیں کہ نہ اٹھائے گا اللہ جو کوئی کہ مر جائے۔ بیشک اٹھائے گا۔ وعدہ ہو چکا ہے اس پر پکا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اٹھائے گا تا کہ ظاہر کر دے ان پر جس بات میں کہ جھگڑتے ہیں اور تا کہ معلوم کرلیں کافر کہ وہ جھوٹے تھے۔ ہمارا کہا کسی چیز کو جب ہم اس کو کرنا چاہیں، یہی ہے کہ کہیں اس کو ہو جا تو وہ ہو جائے۔﴾

اس آیت میں ارتقاء یہ ہے کہ مردوں کو زندہ کرنا کیا مشکل ہے جب اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہر ایک بات بسرعت تمام وقوع پذیر ہو جاتی ہے اور کوئی چیز مانع نہیں ہو سکتی، اس کی قدرت کا قانون ہی ایسا ہے۔ پھر سورۂ مریم میں یوں آیا ہے:

”ذالك عيسى ابن مريم قول الحق الذى فيه يمترون ما كان لله ان يتخذ من ولد سبحانه اذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون (مريم : ٣٥) “ ﴿یہ ہے کہ عیسیٰ بیٹا مریم کا سچی بات جس میں لوگ جھگڑتے ہیں۔ اللہ ایسا نہیں کہ رکھے اولاد۔ وہ پاک ذات ہے جب ٹھہرا لیتا ہے کسی کام کو کرنا سو یہی کہتا ہے اس کو کہ ”ہو“ وہ ہو جاتا ہے۔﴾

اس آیت مبارکہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مزید وضاحت ہے کہ وہ ایسا قادر مطلق ہے کہ ایک بچے کو بن باپ پیدا کر دے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ خدا کے لئے کسی طرح یہ سزاوار نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ اس سے پہلی آیت میں ارادے کا ذکر کیا تھا۔ اس میں فیصلہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ اس سے ارتقاء ظاہر ہے۔

اس آیت مبارکہ کا منشاء قریباً وہی ہے جس کا ذکر آیات سورۂ بقر، آل عمران میں ہے۔ اس لئے جیسا کہ اپنے رسالہ الموسوم بہ ”قرآن اور ایک غلط فہمی کا ازالہ“ میں بتا چکا ہوں کہ جب کوئی آیت ایک بیان شدہ مضمون کی دوبارہ آ جائے تو سمجھنا چاہئے کہ اس مضمون کا دوسرا باب شروع ہوتا ہے۔ جیسا کہ آگے آتا ہے:

”قال من يحيى العظام وهى رميم قل يحييها الذى انشأها اول مرة وهو بكل خلق عليم ، الذى جعل لكم من الشجر الاخضر نارا فاذا انتم منه

١١

صفحہ ٢٥٣

توقدون . اوليس الذى خلق السماوات والارض بقادر على ان يخلق مثلهم بلى وهو الخلاق العليم . انما امره اذا اراد شيئا ان يقول له كن فيكون . فسبحان الذى بيده ملكوت كل شئ واليه ترجعون (يٰس:٨٠)“ ﴿کہنے لگا کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جب کھوکھری ہوگئیں۔ تو کہہ ان کو زندہ کرے گا جس نے بنایا ان کو پہلی بار۔ وہ سب طرح بنانا جانتا ہے۔ جس نے بنادی تم کو سبز درخت سے آگ، پھر اب تم اس سے سلگاتے ہو کیا جس نے بنایا آسمان اور زمین، نہیں بنا سکتا ان جیسے کیوں نہیں؟ اور وہی ہے اصل بنانے والا اس کا حکم یہی ہے کہ جب کرنا چاہے کسی چیز کو تو کہے اس کو ”ہو“ وہ اسی وقت ہوجائے۔ سو پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ ہے حکومت ہر چیز کی اور اسی کی طرف پھر کر چلے جاؤ گے۔﴾

ارتقاء ظاہر ہے کہ جہاں وہ خالق ہے علیم بھی ہے۔ اس لئے ریزہ ریزہ شدہ چیزوں کو بھی وہ اپنے حکم ”کن“ سے جمع کر سکتا ہے جس سے وہ چیز بن جاتی ہے۔ ساتھ ہی چونکہ یہ الفاظ ”انما امره اذا اراد شيئا ان يقول له كن فيكون“ پہلے آچکے ہیں۔ اس لئے امید رکھنی چاہئے کہ آئندہ ایک نیا باب آئے گا۔

”هو الذى خلقكم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم يخرجكم طفلا ثم لتبلغوا اشدكم ثم لتكونوا شيوخا ومنكم من يتوفى من قبل ولتبلغوا اجلا مسمى ولعلكم تعقلون . هو الذى يحيى ويميت فاذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون (مومنون:٦٧)“ ﴿وہی ہے جس نے بنایا تم کو خاک سے پھر پانی کی بوند سے، پھر خون جمے ہوئے سے پھر تم کو نکالتا ہے بچہ، پھر جب تک کہ پہنچو تم اپنے پورے زور کو پھر جب تک کہ ہو جاؤ بوڑھے اور کوئی تم میں ایسا ہے جو مر جاتا ہے پہلے سے اور جب تک کہ پہنچو لکھے وعدے کو اور تا کہ تم سوچو، وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے، پھر جب حکم کرے کسی کام کو یونہی کہے اس کو کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے۔﴾

اس میں ارتقاء ہے کہ نہ صرف خلق نئی پیدا کرنا اس کا کام ہے، بلکہ کسی کی حیات و ممات پر بھی اس کا قانون ویسا ہی چلتا ہے۔ اس کی قدرت میں ہے کہ وہ کسی کو زندہ رکھے یا فنا کا حکم دے دے۔ اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ اس کے بعد لفظ ”کن فيكون“ قرآن میں نہیں آیا۔

١٢

اللہ تعالیٰ نے ان آیات مبارکہ میں ہر زندہ کرنے کی نسبت حتمی طور پر فرما دیا کہ یہ اس کے اگر کوئی نہ مانے کہ اللہ تعالیٰ بغیر باپ پیدا کر سکتا ہ اپنے اذن یا حکم سے ظاہر فرما سکتا ہے، تو اسے اختیار لفظ ”سنة الله“ کے معنی میں تدریجی او خرق عادت یا معجزے کے نہ ماننے والے ہیں: ”ولن تجد لسنة الله تبديلا (احز تبدل نہ پاؤ گے۔﴾

اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ن فرمایا ہے؟ بہتر ہوگا کہ ہم یہ دیکھیں کہ آیا سنت کے ”سنتہ“ کا ذکر سورۃ الانفال رکوع ٥ میں یوں آیا ہے ”قل للذين كفروا ان ينتهو مضت سنة الاولين (الانفال:٣٨)“ معاف ہوا ان کو جو کچھ کہ ہو چکا اور اگر پھر بھی وہی اگلے لوگ پیغمبروں کی تکذیب و عداوت سے تباہ ہ ہی سلوک کیا جائے گا۔

پھر سورۃ حجر رکوع ١ میں یوں آیا ہے: ”م يستهزون كذالك نسلكه فى قلوب الم الاولين (الحجر:١٢)“ ﴿اور نہیں آتا ان کے طرح بٹھا دیتے ہیں اس کو دل میں گناہ گاروں کے پہلوں کی۔﴾

ارتقاء یہ ہے کہ سورۃ انفال میں پہلے فر جائے گی۔ اس جگہ یہ فرما دیا کہ اگر حسب عادت وہ نہیں انجام کار، اللہ حق کا بال بالا کرے گا۔ یعنی کافر

١٣

صفحہ ٢٥٣

اللہ تعالیٰ نے ان آیات مبارکہ میں ہر قسم کی مخلوق کی حیات و ممات یا اس کے دوبارہ زندہ کرنے کی نسبت حتمی طور پر فرما دیا کہ یہ اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ان آیات کے بعد بھی اگر کوئی نہ مانے کہ اللہ تعالیٰ بغیر باپ پیدا کر سکتا ہے یا اللہ تعالیٰ کوئی معجزہ کسی پیغمبر کے ہاتھ سے اپنے اذن یا حکم سے ظاہر فرما سکتا ہے، تو اسے اختیار ہے۔ قرآن کے الفاظ تو صاف ہیں۔

لفظ ’’سنۃ اللہ‘‘ کے معنی میں تدریجی ارتقاء

خرق عادت یا معجزے کے نہ ماننے والے قرآن کریم کی اس آیت کا سہارا بھی لیتے ہیں: ’’ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا (احزاب:٦٢)‘‘ ﴿اور تم اللہ کی عادت میں ہرگز تغیر و تبدل نہ پاؤ گے۔﴾

اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کون سی اپنی عادت کا اس بارے میں ذکر فرمایا ہے؟ بہتر ہوگا کہ ہم یہ دیکھیں کہ آیا سنت کے ذکر میں بھی کوئی ارتقاء ہے؟ سب سے پہلے لفظ ’’سنۃ‘‘ کا ذکر سورۃ الانفال رکوع ٥ میں یوں آیا ہے:

’’قل للذین کفروا ان ینتھوا یغفرلھم ما قد سلف وان یعودوا فقد مضت سنۃ الاولین (الانفال:٣٨)‘‘ ﴿تو کہہ دے کافروں کو کہ اگر وہ باز آجائیں تو معاف ہوا ان کو جو کچھ کہ ہو چکا اور اگر پھر بھی وہی کریں تو پڑ چکی ہے راہ اگلوں کی یعنی جس طرح اگلے لوگ پیغمبروں کی تکذیب و عداوت سے تباہ ہوئے یا ان کو سزا دی گئی، اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا جائے گا۔

پھر سورۃ حجر رکوع ١ میں یوں آیا ہے: ’’مایاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزؤن کذالک نسلکہ فی قلوب المجرمین لا یؤمنون بہ وقد خلت سنۃ الاولین (الحجر:١٢)‘‘ ﴿اور نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول مگر کرتے ہیں اس سے ہنسی، اس طرح بٹھا دیتے ہیں اس کو دل میں گناہ گاروں کے یقین نہ لاویں گے اس پر اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی۔﴾

ارتقاء یہ ہے کہ سورۃ انفال میں پہلے فرمایا تھا کہ اگر وہ باز آجائیں تو ان کو معافی دی جائے گی۔ اس جگہ یہ فرما دیا کہ اگر حسب عادت وہ استہزاء اور تکذیب کرتے رہیں گے تو مضائقہ نہیں انجام کار، اللہ حق کا بول بالا کرے گا۔ یعنی کافر یونہی ہمیشہ جھٹلاتے اور ہنسی کرتے آئے ہیں۔

١٣

صفحہ ٢٥٥

یہاں تک کہ ان کے دلوں میں تکذیب بیٹھ جاتی ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ لیکن انجام کار حق کا بول بالا رہا۔ پھر سورۂ بنی اسرائیل رکوع نمبر ٨ میں یوں آیا ہے:

”وان كادوا ليستفزونك من الارض ليخرجوك منها واذا لا يلبثون خلافك الا قليلا ٠ سنة من قد ارسلنا قبلك من رسلنا ولا تجد لسنتنا تحويلا (٧٦)“ ﴿اور وہ تو چاہتے تھے کہ گھبرا دیں تجھ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیں تجھے یہاں سے اور اس وقت نہ ٹھہریں گے وہ بھی تیرے پیچھے مگر تھوڑا، دستور چلا آیا ہے اس رسولوں کا جو تم سے پہلے بھیجے ہم نے اور نہ پائے گا تو ہمارے دستور میں تفاوت۔﴾ یعنی چاہتے ہیں کہ تجھے تنگ کر کے اور گھبرا کر مکے سے نکال دیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ ایسا کیا تو وہ خود زیادہ دنوں تک یہاں نہ رہ سکیں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسی طرح ہوا۔

ارتقاء اس میں یہ ہے کہ جس ہلاکت اور سزا کا ذکر سابقہ دو آیتوں میں آچکا ہے۔ اس کی ایک مثال بیان فرمادی۔ یعنی ہمارا دستور رہا ہے کہ جب کسی پیغمبر کو نہ رہنے دیا تو بستی والے خود بھی نہ رہے۔ آگے سورۃ الکھف رکوع نمبر ٨ میں آیا ہے:

”وما منع الناس ان یؤمنوا اذ جاء هم الهدی ویستغفروا ربهم الا ان تاتیهم سنة الاولین او یاتیهم العذاب قبلا (٥٠)“ ﴿اور لوگوں کو جو روکا اس بات سے کہ یقین لے آئیں جب پہنچی ان کو ہدایت اور گناہ بخشوائیں اپنے رب سے سوائے اس انتظار کے کہ پہنچے ان پر رسم پہلوں کی یا آ کھڑا ہو ان پر عذاب سامنے کا۔﴾

ارتقاء اس میں یہ ہے کہ ان کی ضد اور عناد کو دیکھتے ہوئے کچھ اور انتظار نہیں رہا۔ مگر یہی کہ پہلوں کی طرح ان کو سزا دی جائے یا عذاب الہی آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہو۔ پھر سورۂ احزاب میں آیا ہے:

”ماكان على النبي من حرج فيما فرض الله له سنة الله في الذين خلوا من قبل وكان امر الله قدرا مقدورا الذين يبلغون رسالة الله ويخشونه ولا يخشون احدا الا الله ٠ وكفى بالله حسيبا (٣٩)....... ولا تطع الكفرين والمنافقين ودع اذا هم وتوكل على الله وكفى بالله وكيلا (٤٨)“ ﴿نبی پر کچھ مضائقہ نہیں اس بات میں جو مقرر کر دی اللہ نے اس کے واسطے دستور چلا آیا ہے۔ جیسا اللہ کا ان

١٤

لوگوں میں جو گزرے پہلے اور ہے حکم اللہ کا مقرر ٹھہر چکا۔ جو پہنچاتے ہیں پیغام اللہ کے اور ڈرتے ہیں اس سے اور نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے اور اللہ بس ہے حساب لینے۔ محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے، لیکن رسول اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔ اور اللہ سب چیزوں کا جاننے والا۔ اے ایمان والو! یاد کرو اللہ کو بہت یاد کرنا۔ اور پاکی بولو اس کی صبح اور شام وہی ہے جو رحمت بھیجتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے تاکہ نکالے تم کو اندھیرے سے اجالے میں اور ہے ایمان والوں پر مہربان، تحفہ ان کا جس دن ملیں گے اس سے سلام ہے، اور رکھا واسطے ان کے ثواب عزت کا۔ اے نبی ہم نے بھیجا تجھے بتانے والا اور خوشخبری سنانے اور ڈرانے والا اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور چراغ چمکتا۔ اور خوشخبری سنا ایمان والوں کو کہ ان کے لئے خدا کی طرف سے بڑا فضل ہے۔ اور نہ کہا مان منکروں اور منافقوں کا اور چھوڑ دے ان کا ستانا اور بھروسہ کر اللہ پر اور اللہ بس ہے کام بنانے والا۔﴾

اس میں ارتقاء یہ ہے کہ سابقہ پیغمبروں پر جس قدر انعامات تھے یہ ان سب کا مجموعہ ہے۔ یہی سنت اللہ ہے اور کہ ان احکام کے پہنچانے میں نہ کسی سے ڈریں اور نہ ان کی پرواہ کریں۔ یہ بدبخت زبان اور عمل سے آپ کو ستائیں تو ان کا بدلہ نہ لیں بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ وہ اپنی قدرت و رحمت سے کام بنائے گا۔ ان کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ آپ تبلیغ رسالت چھوڑ کر اپنا کام چھوڑ بیٹھیں۔

نوٹ : بہت مناسب تھا میں خاتم النبیین کے سلسلہ میں اس آیت کا ترجمہ نہ کرتا کیونکہ لفظ خاتم النبیین یہاں کیوں آیا۔ یہ ایک وسیع مضمون ہے۔ اور ترجمہ کرنے سے انسان اصل موضوع معین سے دور جا پڑتا ہے۔ لیکن یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ ترجمہ شیخ الہند حضرت محمود الحسنؒ کا ہے۔ اور جو صاحب اس کا یہ ترجمہ کریں گے وہ اس عبارت کو اپنے مطلب پر لایا کریں گے۔ وہ لوگ غلطی پر ہیں۔ اس لئے کہ قرأت متواترہ جو ہر قسم کی تحریف سے پاک ہے سند ہے۔ اس لئے میرے خیال میں خاتم کے معنی بھی سب کے نزدیک متفق علیہ ہے۔ اس کے بعد ”سنة الله“ کا لفظ احزاب کے پانچویں رکوع میں بھی آیا ہے۔

”لئن لم ينته المنافقون والذين في قلوبهم مرض والمرجفون في المدينه لنغرينك بهم ٠ ثم لا يجاورونك فيها الا قليلا (٦٠) ملعونين اينما اخذوا وقتلوا تقتيلا ٠ سنة الله في الذين خلوا من قبل ولن تجد لسنة الله

١٥

صفحہ ٢٥٥

لوگوں میں جو گزرے پہلے اور ہے حکم اللہ کا مقرر ٹھہر چکا وہ لوگ جو پہنچاتے ہیں پیغام اللہ کے اور ڈرتے ہیں اس سے اور نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے اور بس ہے اللہ کفایت کرنے والا ، محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے، لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر اور ہے اللہ سب چیزوں کا جاننے والا ۔ اے ایمان والو! یاد کرو اللہ کو بہت سی یاد اور پاکی بولتے رہو اس کی صبح اور شام وہی ہے جو رحمت بھیجتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے تاکہ نکالے تم کو اندھیروں سے اجالے میں اور ہے ایمان والوں پر مہربان ، دعا ان کی جس دن ان سے ملیں گے، سلام ہے اور تیار رکھا واسطے ان کے ثواب عزت کا۔ اے نبی ہم نے تجھ کو بھیجا بتانے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور چمکتا ہوا چراغ اور خوشخبری سنا دے ایمان والوں کو کہ ان کے لئے خدا کی طرف سے بڑی بزرگی اور کہا مت مان منکروں کا اور دغا بازوں کا اور چھوڑ دے ان کا ستانا اور بھروسہ کر اللہ پر اور بس ہے کام بنانے والا ۔﴾

اس میں ارشاد یہ ہے کہ سابقہ پیغمبروں کی طرح جو حکم خدا ہو وہ نبی کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ یہی سنت اللہ ہے اور کہ ان احکام کے پہنچانے میں کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ کے۔ اگر یہ بدبخت زبان اور عمل سے آپ کو ستائیں تو ان کا خیال چھوڑ کر اللہ ہی پر بھروسہ رکھئے۔ وہ اپنی قدرت ورحمت سے کام بنائے گا۔ ان کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ آپ طعن وتشنیع وغیرہ سے گھبرا کر اپنا کام چھوڑ بیٹھیں ۔

نوٹ : بہت مناسب تھا میں خاتم النبیین پر یہاں کچھ لکھتا اور اس کی وضاحت کرتا کہ لفظ خاتم النبیین یہاں کیوں آیا۔ یہ ایک وسیع مضمون ہے۔ اگر اس پر قلم اٹھاؤں تو اس رسالے کے موضوع معین سے دور جا پڑوں گا۔ لیکن یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ میں حضور ﷺ کو صحیح معنوں میں خاتم الانبیاء مانتا ہوں اور جو صاحب اس کا یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ آئندہ کوئی نبی حضور ﷺ کی مہر لگ کر آیا کریں گے۔ وہ لوگ غلطی پر ہیں۔ اس لئے کہ قرآن وحدیث میں جہاں تک میرا علم ہے، کوئی سند نہیں ہے۔ اس لئے میرے خیال میں حضور کے بعد دعویٰ نبوت صریح نص قرآنی کے خلاف ہے۔ اس کے بعد ”سنة الله“ کا لفظ احزاب کے رکوع نمبر ٨ میں یوں آیا ہے:

”لئن لم ينته المنافقون والذين في قلوبهم مرض والمرجفون في المدينه لنغرينك بهم . ثم لا يجاورونك فيها الا قليلا . ملعونين اينما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلا . سنة الله في الذين خلوا من قبل . ولن تجد لسنة الله

١٥

صفحہ ٢٥٧

تبدیلا (٦٠ تا ٦٢) ”البتہ اگر باز نہ آئے منافق اور جن کے دل میں روگ ہے اور جھوٹی خبریں اڑانے والے مدینہ میں تو ہم لگا دیں گے تجھ کو ان کے پیچھے پھر نہ رہنے دیں گے تیرے ساتھ اس شہر میں مگر تھوڑے دنوں، پھٹکارتے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور مارے گئے جان سے، دستور پڑا ہوا ہے اللہ کا ان لوگوں میں جو پہلے ہوچکے ہیں اور تم خدا کی عادت میں ہرگز تغیر وتبدل نہ پاؤ گے۔“

پہلے فرمایا تھا کہ ان کی شرارتیں اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ ان کو سزا ملے اور حضور ﷺ کو یہ ہدایت کی گئی کہ جو اللہ تعالیٰ حکم دے اس کے کہنے یا کرنے میں کسی کافر یا منافق کی یاوہ گوئی کی پرواہ نہ کریں۔ اس آیت مبارکہ میں ارتقاء یہ ہے کہ یہاں پر بعض سزاؤں کا ذکر فرما دیا۔ جو ان کو دی جائیں گی اور بالآخر دی گئیں۔

اس کے بعد ”سنة“ کا لفظ سورۂ فاطر رکوع نمبر ٥ میں یوں آیا ہے: ”واقسموا بالله جهد ايمانهم ............ عليما قديرا (٤٢ تا ٤٤)“ اور قسمیں کھاتے تھے اللہ کی تاکید کی قسمیں کہ اگر آئے گا کوئی ان کے پاس ڈر سنانے والا البتہ بہتر راہ چلیں گے، ہر ایک امت سے پھر جب آیا ان کے پاس ڈر سنانے والا اور زیادہ ہو گیا ان کا بدکنا، غرور کرنا ملک میں اور داؤ کرنا بُرے کام کا اور برائی کا داؤ الٹے گا ۔ انہی داؤں والوں پر پھر اب وہی راہ دیکھتے ہیں پہلوں کے دستور کی۔ سو تو نہ پائے گا اللہ کا دستور بدلنا اور نہ پائے گا اللہ کا دستور ٹلنا۔ کیا پھرے نہیں ملکوں میں کہ دیکھیں کیا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اور تھے ان سے سخت زور میں اور اللہ وہ نہیں جس کو تھکا سکے کوئی چیز آسمانوں میں اور زمین میں ۔ وہی ہے سب کچھ جانتا ، کر سکتا یعنی بڑی بڑی زور آور قومیں مثلاً عاد، ثمود اللہ کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔ یہ بے چارے کیا چیز ہیں اور اگر پکڑے اللہ لوگوں کو ان کی کمائی پر نہ چھوڑے زمین کی پیٹھ پر ایک بھی چلنے جلنے والا ۔ پر ان کو ڈھیل دیتا ہے، مقررہ وعدے تک پھر جب آئے ان کا وعدہ تو اللہ کی نگاہ میں ہیں اس کے سب بندے۔“

اس میں ارتقاء یہ ہے کہ مجرموں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر وہ مکر و تدبیریں اور داؤ گھات شروع کردیں گے تو یہ فریب ان کا انہیں پر الٹے گا ۔ چند روز اپنے دل میں خوش ہولیں کہ ہم نے تدبیریں کر کے یوں نقصان پہنچا دیا۔ مگر انجام کار ان کو سزا ملنی ہے ۔ اللہ کا علم محیط اور قدرت اس کی کامل ہے ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ بجائے سزا کے مجرموں پر انعام واکرام ہونے لگیں۔ ”ولن تجد لسنة الله تحويلا“ نہ یہ ہو سکتا ہے کہ مجرموں سے سزا ٹل کر غیر مجرموں کو دی ١٦

جائے۔ پھر سورۂ مومن رکوع نمبر ٩ میں آیا ہے: ”فلما جأت رسلهم بالبينات فرحوا ماكانوا به يستهزؤن ٠ فلما رأوا بأسنا قالوا به مشركين ٠ فلم يك ينفعهم ايمانهم لما رأوا عباده ٠ وخسر هنالك الكافرون (٨٣ تا ٨٥) جب آئے ان کے کھلی نشانیاں لے کر، اترانے لگے اس پر جو ان کے پاس علم تھا۔ پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہماری آفت کہنے لگے ہم ایمان لائے اللہ پر اور ہم نے انکار کیا ان چیزوں کا جن کو شریک بتلاتے تھے۔ پس نہ نفع دیا ان کو ان کے ایمان نے جس وقت دیکھ چکے ہمارا عذاب، رسم پڑی ہوئی اللہ کی جو چلی آتی ہے اس کے بندوں میں اور گھاٹے میں رہے اس جگہ منکر۔“

پہلے کہا جا چکا ہے کہ مکر وفریب حق کے مقابلے میں کہ دنیاوی علم پر اترانا بھی کچھ کام نہیں دیتا، لہٰذا سن رکھو کہ ہمارے عذاب کو دیکھو گے تو اس وقت ضرور اللہ وحدہ پر ایمان لانا موجب نجات نہیں، نہ اس سے عذاب ٹل سکتا ہے۔

آخری دفعہ لفظ ”سنة الله“ سورۂ فتح میں آیا ہے۔ ....... ولن تجد لسنة الله تبديلا (٢٣) اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر چیز اللہ کے قابو میں ہے۔ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ پھر نہ پائے گا کوئی حمایتی اور نہ مددگار۔ رسم پڑی ہوئی اللہ کی جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تو ہرگز نہ پائے گا اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی۔

اس میں ارتقاء یہ ہے کہ پہلے فرمایا تھا اگر منافقین باز نہ آئے تو وہ ذلیل وخوار ہوں گے۔ یہاں فرمایا کہ اگر حق وباطل کا کسی موقع پر مقابلہ ہو جائے تو آخر کار اہل حق غالب اور اہل باطل مغلوب ہوں گے۔ اس کے بعد سنت اللہ کا لفظ قرآن کریم میں نہیں آیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سنت اللہ دراصل شے کیا ہے؟ وہ یہی ہے کہ دین حق کی تبلیغ میں کفار ومشرکین اور منافقوں کے استہزاء اور عداوت سے ڈر کر اپنے کام کو نہ چھوڑا جائے۔ اللہ تعالیٰ حق کو باطل کے مقابلے میں ہمیشہ غالب کرتا ہے۔ اس لئے ١٧

صفحہ ٢٥٧

جائے ۔ پھر سورۂ مومن رکوع نمبر ٩ میں آیا ہے : ”فلما جآت رسلهم بالبينات فرحوا بما عندهم من العلم وحاق بهم ماكانوا به يستهزؤن ، فلما راؤ بأسنا قالوا آمنا بالله وحده وكفرنا بما كنا به مشركين . فلم يك ينفعهم ايمانهم لما راؤ بأسنا . سنة الله التى قدخلت فى عباده . وخسر هنالك الكافرون (٨٣ تا ٨٥) “﴾ پھر جب پہنچے ان کے پاس رسول ان کے کھلی نشانیاں لے کر، اترانے لگے اس پر جو ان کے پاس تھی، پھر الٹی پڑی ان پر وہ چیز جس پر وہ ٹھٹھا کرتے تھے۔ پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہماری آفت کو، بولے ہم یقین لائے اللہ اکیلے پر اور ہم نے چھوڑ دیں وہ چیزیں جن کو شریک بتلاتے تھے پھر نہ ہوا کہ کام آئے ان کو یقین لانا ان کا جس وقت دیکھ چکے ہمارا عذاب، رسم پڑی ہوئی اللہ کی چلی آتی ہے اس کے بندوں میں اور خراب ہوئے اس جگہ منکر۔ ﴿

پہلے کہا جا چکا ہے کہ مکر وفریب حق کے مقابلے میں شکست کھا جاتے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ دنیاوی علم پر اترانا بھی کچھ کام نہیں دیتا ، لہٰذا سن رکھو کہ عداوت وغیرہ سے باز آؤ۔ کیونکہ جب ہمارے عذاب کو دیکھو گے تو اس وقت ضرور اللہ وحدہ پر ایمان لاؤ گے۔ مگر اس وقت ایمان لانا موجب نجات نہیں ، نہ اس سے عذاب ٹل سکتا ہے۔

آخری دفعہ لفظ ”سنة الله“ سورۂ فتح میں اس طرح آیا ہے : ”واخرى لم تقدروا عليهم ...... ولن تجد لسنة الله تبديلا (٢١ تا ٢٣) “ ﴾ اور ایک فتح اور جو تمہارے بس میں نہ آئی وہ اللہ کے قابو میں ہے ۔ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے اور اگر لڑتے تم سے کافر تو پھیرتے پیٹھ۔ پھر نہ پاتے کوئی حمایتی اور نہ مددگار۔ رسم پڑی ہوئی اللہ کی چلی آتی ہے پہلے سے اور کسی کو قدرت نہیں کہ وہ کام نہ ہونے دے جو سنت کے موافق ہونا چاہئے تھا۔ ﴿

اس میں ارتقاء یہ ہے کہ پہلے فرمایا تھا اگر شرارتی لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو وہ ذلیل وخوار ہوں گے یا ہلاک ہوں گے۔ یہاں فرمایا کہ جب اہل حق اور اہل باطل کا کسی فیصلہ کن موقع پر مقابلہ ہو جائے تو آخر کار اہل حق غالب اور اہل باطل مغلوب و مقہور ہو جاتے ہیں۔

اس کے بعد سنت اللہ کا لفظ قرآن کریم میں نہیں آیا۔ دیکھ لیا آپ نے کہ سنت اللہ دراصل شے کیا ہے؟ وہ یہی ہے کہ دین حق کی تبلیغ ورسالت کرنے والے رسول، کافروں اور منافقوں کے استہزاء اور عداوت سے ڈر کر اپنے کام نہیں چھوڑتے ۔ بلکہ خداوند کریم ان کو اہل باطل کے مقابلے میں ہمیشہ غالب کرتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کا اپنی قدرت کاملہ سے

١٧

صفحہ ٢٥٩

جس وقت جس طرح اور جو چاہے پیدا کرنا سنت اللہ کے خلاف ہے، صحیح نص قرآنی کے منشاء کے مطابق نہیں۔ بلکہ سنت اللہ وہی ہے جو مذکورہ بالا آیات میں تفصیلاً بیان کی گئی ہے۔

ولادت مسیح کے متعلق قرآن اور عیسائیوں کی کتب مقدسہ کا نکتہ نظر

سرسید لکھتے ہیں کہ: ”تمام عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام کا خطبہ (حضرت یوسف) سے ہوا تھا۔ یہودیوں کے ہاں خطبہ کا یہ دستور تھا کہ شوہر اور زوجہ میں اقرار ہو جاتا تھا کہ اس قدر میعاد کے بعد شادی کر لیں گے۔“ اس پر سرسید لکھتے ہیں کہ: ”یہ معاہدے حقیقت میں عقد نکاح تھے۔ صرف زوجہ کا گھر میں لانا باقی رہ جاتا تھا اور وہ اس میعاد پر ہوتا تھا۔ جو اس معاہدے میں قرار پاتی تھی اور پھر اس پر ایزاد کرتے تھے کہ اگر بعد میں اس رسم کے اور قبل

گناہ شرعی اولاد جائز تصور ہوتی تھی۔ شاید خلاف دستور ہونے کی بناء پر معیوب بھی گنی جاتی ہو اور دونوں کے لئے کسی قدر شرم وخجالت کا باعث ہوتی ہو ۔“

١۔ اس مرحلے پر پیشتر اس کے کہ اس پر بحث کی جائے، اس غلطی کا رفع کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جب ہم لوقا، متی وغیرہ کی کتابوں کا ذکر کرتے ہیں۔ جن کو عیسائی نیا عہد نامہ بمقابلہ ( تورات جو عہد نامہ عتیق کہلاتی ہے) کہتے ہیں، تو ہم انجیل کہتے ہیں۔ حالانکہ انجیل وہ کتاب مقدس تھی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ جیسا کہ سورۂ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وآتینه الانجیل فیه هدی ونور (٤٦)“ ﴿اور اس کو ہم نے دی انجیل جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔﴾ عیسائی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ متی، لوقا، مرقس اور یوحنا نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق حضرت عیسیٰ کی زندگی، حالات اور احکام کو درج کیا ہے اور زیادہ سے زیادہ یہ بموجب انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، ان میں حضرت کی زندگی کے پچاس دنوں کے حالات ہیں۔ اس لئے ہم لوگوں کو ہمیشہ ان کتابوں کو انجیل یا اناجیل کہنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات زندگی کی کتابیں ہیں۔ جن کا بہت سے واقعات کے متعلق آپس میں اختلاف ہے۔ باوجود اس کے میرا خیال ہے کہ جو واقعات ان چاروں کتابوں میں درج ہوں، اور قرآن کریم میں بھی وہ واقعات اسی طرح بیان کئے گئے ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ پھر بھی ہم ان کی تاویل کریں یا یہ کہیں کہ ایسا نہیں، ایسا ہو گا۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ایسے بہت سے واقعات ہیں جن کا ذکر آگے آئے گا۔

١٨

دیکھئے! کس طرح اپنی رائے اور مفروضہ ایک من گھڑت تاویل ہے جس پر زیادہ لکھنا فضول ہے قرآن کریم میں سورۂ مائدہ کی آیت ’وآت آیا ہے: ”وانزلنا عليك الكتاب بالحق مصد عليه (٤٨)“ ﴿اور اتاری ہم نے آپ پر کتاب سچ کی اور مضامین پر نگہبان۔﴾

یعنی خدا کی جو امانت تورات اور انجیل و غیـ دیگر مضامین کے قرآن میں محفوظ ہے۔ ہاں بہت سی غـ جا بجا ان غلط واقعات کی جو عیسائیوں کی کتابوں میں دیکھتے ہیں کہ عیسائیوں کی کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ

لوقا اپنی کتاب میں حضرت یحییٰ علیہ السلـ میں لکھتا ہے کہ حضرت یحییٰ کے رحم مادر میں آنے کـ میں ایک کنواری عورت کے پاس گئے۔ جس کی منگنی داؤد کے خاندان سے تھا اور اس کنواری کا نام مریم پسندیدہ ہو اور خیال رکھو کہ تمہیں حمل ٹھہر جائے گا اور وغیرہ اور خداوند اس کو اپنے باپ داؤد کا تخت دے گا،

مریم علیہا السلام نے کہا کہ یہ کس طرح ہو فرشتے نے جواب دیا کہ روح الامین تیرے اندر داخـ وہ خدا کا بیٹا کہلائے گا۔

آگے ٣: ٢٣ میں وہ شجرہ نسب یوں در جوزف کا، بیٹا ہیلی کا وغیرہ۔

متی...... اپنی کتاب کو یوں شروع کرتا ہے۔ یہ کتا ١، ١۔ ١٨،١ میں وہ لکھتا ہے کہ عیسیٰ مسیح کی پیدائش اس کے ساتھ منگنی ہو گئی تھی۔ مگر پیشتر اس کے کہ وہ مباشـ سے حاملہ ہے۔ جوزف اس کا خاوند چونکہ ایک راسـ

١٩

صفحہ ٢٥٩

دیکھئے! کس طرح اپنی رائے اور مفروضہ تخیل پر قرآن کی تفسیر کی بنیاد رکھتے ہیں: ”یہ ایک من گھڑت تاویل ہے، جس پر زیادہ لکھنا فضول ہے۔“

قرآن کریم میں سورۃ مائدہ کی آیت ”واتیناہ الانجیل“ کے ایک آیت بعد یوں آیا ہے: ”وانزلنا علیک الکتاب بالحق مصدقاً لما بین یدیہ من الکتاب ومھیمنا علیہ (٤٨) “﴿اور اتاری ہم نے آپ پر کتاب سچی تصدیق کرنے والی سابقہ (اصل) کتابوں کی اور مضامین پر نگہبان۔﴾

یعنی خدا کی جو امانت تورات اور انجیل وغیرہ کتب سماوی میں ودیعت کی گئی تھی، وہ مع دیگر مضامین کے قرآن میں محفوظ ہے۔ ہاں بہت سی فروعات چھوڑ دی گئیں۔ بلکہ قرآن کریم میں جابجا ان غلط واقعات کی جو عیسائیوں کی کتابوں میں انبیاء سے منسوب تھے، تردید کی گئی۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیوں کی کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی نسبت کیا درج ہے؟

لوقا اپنی کتاب میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے آیت ٢٦ میں لکھتا ہے کہ حضرت یحییٰ کے رحم مادر میں آنے کے چھ ماہ کے بعد حضرت جبرئیل گاؤں ناصرہ میں ایک کنواری عورت کے پاس گئے۔ جس کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوئی تھی اور یوسف حضرت داؤد کے خاندان سے تھا اور اس کنواری کا نام مریم تھا۔ فرشتے نے مریم کو کہا کہ تم خدا کی بہت پسندیدہ ہو اور خیال رکھو کہ تمہیں حمل ٹھہر جائے گا اور تم ایک بچہ جنوگی۔ جس کا نام یسوع رکھنا وغیرہ وغیرہ اور خداوند اس کو اپنے باپ داؤد کا تخت دے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔

مریم علیہا السلام نے کہا کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔ میں تو کسی مرد کے پاس نہیں گئی۔ تو فرشتے نے جواب دیا کہ روح الامین تیرے اندر داخل ہو جائے گی وغیرہ۔ اس لئے جو لڑکا پیدا ہوگا وہ خدا کا بیٹا کہلائے گا۔

آگے ٢٣:٣ میں وہ شجرۂ نسب یوں دیتا ہے۔ عیسیٰ بیٹا (جیسا کہ خیال کیا جاتا تھا) جوزف کا، بیٹا ہیلی کا وغیرہ۔

متی ...... اپنی کتاب کو یوں شروع کرتا ہے۔ یہ کتاب عیسیٰ مسیح بیٹے داؤد کے بیٹے ابراہیم نے کی ١،١۔١٨،١ میں وہ لکھتا ہے کہ عیسیٰ مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ عیسیٰ مسیح کی ماں مریم کی جوزف کے ساتھ منگنی ہوگئی تھی۔ مگر پیشتر اس کے کہ وہ مباشرت کریں۔ اسے معلوم ہوا کہ وہ روح الامین سے حاملہ ہے۔ جوزف اس کا خاوند چونکہ ایک راست باز آدمی تھا اور مریم کو بدنام نہیں کرنا چاہتا

١٩

صفحہ ٢٦١

تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اسے پوشیدہ طور پر علیحدہ کر دے۔ جب اس نے اپنا ارادہ پختہ کر لیا تو ایک فرشتہ اس کو خواب میں نظر آیا جس نے کہا کہ مریم کو اپنی عورت بنانے سے مت خوف کھاؤ۔ کیونکہ روح الامین سے اس کو حمل ٹھہرا ہے اور وہ ایک لڑکا جنے گی۔ جس کا نام تم عیسیٰ رکھنا۔ یہ وہ ہے جو لوگوں کو ان کے گناہ بخشوائے گا تا کہ وہ پیشین گوئی پوری ہو جائے کہ کنواری ایک بچہ پیدا کرے گی۔ جس کا نام امی مینوئل ہوگا۔ جس کے لفظی معنی ہیں خدا ہمارے ساتھ ہے۔ ١٨ الغایت ٢٣

متی کی کتاب کے مطابق جوزف کے باپ کا نام یعقوب تھا۔ ان بیانات سے خواہ ان میں کیسے ہی اختلاف ہیں۔ ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی ظاہری باپ نہ تھا۔ قرآن کریم میں جیسا کہ سورۂ مریم میں آیا ہے کہ خداوند کریم فرماتے ہیں: ”ہم نے مریم کے پاس فرشتہ بھیجا جو پورا آدمی بن کر اس کے سامنے آیا۔“ حضرت مریم نے کہا: ”میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو ہے خدا سے ڈرنے والا۔“ فرشتے نے جواب دیا: ”میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ دوں تجھ کو لڑکا پاکیزہ صاف۔“ مریم نے کہا: ”میرے لڑکا کیسے ہو گا جبکہ مجھے کسی انسان نے چھوا بھی نہیں اور میں بدکار بھی نہیں۔“ فرشتے نے کہا: ”کہ یونہی ہے تیرے رب نے کہا یہ مجھ پر آسان ہے اور اسے ہم کرنا چاہتے ہیں لوگوں کے لئے نشانی اور یہ امر طے ہو چکا ہے۔“ پھر پیٹ میں لیا اس کو۔

قارئین کرام! نے دیکھ لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی نسبت قرآن کا بیان لوقا اور متی کے بیان سے ملتا جلتا ہے۔ اب ہم کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بلا باپ نہیں ہوئی تھی۔ بلاشبہ لوقا میں یہ ذکر ہے: ”کیا یہ بڑھئی کا بیٹا نہیں اور اس کی ماں مریم اور اس کے بھائی یعقوب، یوسف، شمعون اور یہودہ نہیں وغیرہ وغیرہ۔“

لیکن یہودی آخر تک حضرت مریم علیہا السلام پر الزام لگاتے رہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: ”بل طبع الله عليها بكفرهم فلا يؤمنون الا قليلا و بكفرهم وقولهم على مريم بهتانا عظيما (النساء: ١٥٦،١٥٥) “بلکہ اللہ نے مہر کر دی ان کے دل پر ان کے کفر کے باعث، سو ایمان نہیں لائے مگر کم اور ان کے کفر پر اور مریم پر بڑا طوفان باندھتے ہیں۔﴾

اگر یہودی یہ مان لیتے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلا باپ پیدا ہوئے تو یہ جھگڑا اتنا طول نہ پکڑتا۔ علاوہ ازیں قرآن کریم میں آتا ہے سورۂ مریم رکوع ٢:

٢٠

”فاتت به قومها تحمله قالوا یـ ہارون ماکان ابوک امراً سوء وما کانت نکلم من کان فی المهد صبیا ٠ قال انی عـ گود میں اپنے لوگوں کے پاس، وہ اس کو کہنے لـ ہارون کی نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکـ کیونکر بات کریں اس سے جو کہ ہے گود میں لڑکا۔ وہ بولـ

اس سے سرسید کے اس گمان کا کہ شاید مـ تردید ہوتی ہے۔ اگر نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے قوم یہ طعنہ نہ دیتی جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ بعض زکریا کو اس لئے قتل کیا گیا تھا کہ حضرت مریم علیہا السلاـ ان وجوہات کی بناء پر تو میں یہی کہوں گا کـ

بلا باپ پیدا ہوئے۔

رفع الی السماء

اسی طرح حال رفع الی السماء کا ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کو بجائے صلیب دلوانے کے آسمان پر اـ زمہریر یا بقول دیگر کرہ حارہ سے نکل گئے۔ یا کیا وہ وہاں زیادہ وقت صرف کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کا تـ

اول سوال یہ ہے کہ آیا اللہ تعالیٰ کو یہ قدـ آسمانوں پر زندہ لے جائے۔ میں نے اپنے رسالے ’ ثابت کر دیا ہے کہ حضور ﷺ معراج شریف کی رات کو سے بمعہ جسد مبارک آسمانوں پر تشریف فرما ہوئے۔

اس سے پہلے میں نے ایک مضمون میں یہ آسمانوں پر ہے۔ چونکہ وہ مضمون رسالہ کی شکل میں طبع وہ آیات قرآنی جن پر میں نے انحصار کیا تھا، یہاں درـ نتائج اخذ کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ سورۂ نور میں یوں فرماتا ہـ

.” والله خلق کل دابة من ماء فمـ

٢١

صفحہ ٢٦١

”فاتت به قومها تحمله قالوا يامريم لقد جئت شيئا فريايا اخت هارون ماكان ابوك امرأ سوء وما كانت امك بغيا فاشارت اليه قالوا كيف نكلم من كان فى المهد صبيا٠ قال انى عبداللہ (٢٧ تا ٣٠)“ ﴿پھر لائی اس کو اپنی گود میں اپنے لوگوں کے پاس، وہ اس کو کہنے لگے۔ اے مریم تو نے یہ چیز طوفان کی، اے بہن ہارون کی نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار، پھر ہاتھ سے بتلایا اس لڑکے کو، بولے ہم کیونکر بات کریں اس سے جو کہ ہے گود میں لڑکا۔ وہ بولا میں بندہ ہوں اللہ کا۔﴾

اس سے سرسید کے اس گمان کا کہ شاید رخصتی سے پہلے ہم صحبت ہونا معیوب ہوگا، کی تردید ہوتی ہے۔ اگر نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے صحبت ہو جاتی تو حضرت مریم علیہا السلام کی قوم یہ طعنہ نہ دیتی جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ بعض مسلمان مؤرخوں نے تو یہ لکھا ہے کہ حضرت زکریا کو اس لئے قتل کیا گیا تھا کہ حضرت مریم علیہا السلام کو ان سے تہمت دیتے تھے۔ ان وجوہات کی بناء پر تو میں یہی کہوں گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی قدرت سے بلا باپ پیدا ہوئے۔

رفع الی السماء

اسی طرح حال رفع الی السماء کا ہے۔ اگر قرآن کریم سے یہ واضح ہو جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجائے صلیب دلوانے کے آسمان پر اٹھا لیا گیا تو پھر یہ کہنا کہ وہ کس طرح سے کرہ زمہریر یا بقول دیگر کرہ حارہ سے نکل گئے۔ یا کیا وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں۔ ایسے سوال ہیں کہ جن پر زیادہ وقت صرف کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کا جواب بھی اپنے موقع پر آ جائے گا۔

اول سوال یہ ہے کہ آیا اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت حاصل ہے یا نہیں کہ وہ کسی انسان کو آسمانوں پر زندہ لے جائے۔ میں نے اپنے رسالے ”تحفہ معراج شریف“ میں اپنی طرف سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حضور ﷺ معراج شریف کی رات کو اول بیت المقدس لے جائے گئے اور وہاں سے بمعہ جسد مبارک آسمانوں پر تشریف فرما ہوئے۔

اس سے پہلے میں نے ایک مضمون میں یہ دکھایا تھا کہ جیسی آبادی زمین پر ہے ویسے ہی آسمانوں پر ہے۔ چونکہ وہ مضمون رسالہ کی شکل میں طبع نہیں ہوا اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ آیات قرآنی جن پر میں نے انحصار کیا تھا، یہاں درج کر دی جائیں تا کہ اہل ذوق اس سے خود نتائج اخذ کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ سورۂ نور میں یوں فرماتا ہے:

”واللہ خلق کل دابة من ماء فمنهم من يمشى على بطنه ومنهم من

٢١

صفحہ ٢٦٣

يمشي على رجلين ومنهم من يمشى على اربع يخلق الله مايشاء ان الله على كل شى قدیر (٤٥) “ ﴿اور اللہ نے بنایا ہر پھرنے والے کو پانی سے پھر کوئی ہے چلتا ہے اپنے پیٹ پر (جیسے سانپ، مچھلی) اور کوئی ہے کہ چلتا ہے دو پاؤں پر (جیسے آدمی اور طیور ) اور کوئی ہے کہ چلتا ہے چار پر (جیسے گائے، بھینس وغیرہ) بناتا ہے اللہ جو چاہتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کر سکتا ہے، یعنی کسی جاندار کو چار سے زیادہ پاؤں وغیرہ دے تو بعید نہیں۔﴾

دوسری جگہ سورۃ النمل میں آیا ہے: ”ولله يسجد ما في السموات ومافي الارض من دابة وملئكة وهم لا يستكبرون ٭ يخافون من فوقهم ويفعلون ما يؤمرون (٤٩، ٥٠) “ ﴿اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ جانداروں سے اور فرشتے اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ڈر رکھتے ہیں اپنے رب کا اوپر سے اور کرتے ہیں جو حکم پاتے ہیں۔﴾

اس آیت مبارکہ میں ظاہر ہے کہ ”دابہ ، ملئکہ“ سے الگ چیز ہے۔

سورۃ الشوریٰ میں یوں آیا ہے: ”ومن آياته خلق السماوات والارض وما بث فيهما من دابة وهو على جمعهم اذا يشاء قدير (٢٩:) “ ﴿اور ایک اس کی نشانی ہے بنانا آسمانوں کا اور زمین کا اور جتنے بکھیرے ہیں ان میں جانور اور وہ جب چاہے ان سب کو اکٹھا کر سکتا ہے۔﴾

دیکھئے اس آیت مبارکہ میں صاف فرمادیا کہ آسمانوں اور زمین میں جاندار ہیں جو کہ فرشتوں کے علاوہ ہیں۔ بعض مفسرین نے تو غالباً یونانی فلسفہ سے ڈر کر ”فیھما“ کی نسبت یہ ”فیھا“ کی جگہ آیا ہے اور اپنی اس غلطی کی ایک اور غلطی سے تائید کرنا چاہی۔ یعنی سورۃ الرحمٰن کی یہ آیت حوالہ میں پیش کی : ”يخرج منهما اللؤلؤ والمرجان (رحمٰن:) “ ﴿ نکلتا ہے ان دونوں میں سے موتی اور مونگا۔﴾

ان کا خیال تھا کہ صرف کھارے سمندر ہی سے یہ چیزیں نکلتی ہیں۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔ بلکہ میٹھے اور کھارے دونوں پانیوں سے موتی اور مونگا نکلتے ہیں۔ جیسا کہ جغرافیہ دان جانتے ہیں۔

عالم بالا کی نسبت سائنس دانوں کا یہ خیال ہوتا جاتا ہے کہ مریخ میں کوئی آبادی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اپنے کلام پاک میں فرمادیا کہ آسمان میں دابہ یعنی چلنے پھرنے والی جاندار چیزیں ہیں تو ہم اس میں اپنی ناقص عقل اور تجربہ کی بناء پر کیوں شک کریں۔ اگر دابہ آسمانوں میں رہ سکتے ہیں تو زمین کا ایک دابہ یعنی انسان (عیسیٰ علیہ السلام) کو خداوند کریم وہیں لے جائے تو اس کی نسبت

٢٢

کیوں یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ وہ کہاں رہتا ہو گا

یورپین مسلمان کو یہ دلیل دی تو اس نے کہا ”اب مجھے عیس کچھ شک نہیں کرنا چاہئے ۔“

عیسائیوں کی کتابوں میں یہ درج ہے کہ م گئے۔ قرآن کریم میں بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اگ السلام کیوں نہیں جاسکتے؟ اس کی نسبت آگے ذکر آئے

سورۃ الرحمٰن کی ایک آیت سے بھی اس امر جن اس کرۂ عالم سے باہر جاسکتا ہے : ” یٰمعشر الجـ من اقطار السموات والارض فانفذوا لا تـ گروہ جنوں کے اور انسانوں کے، اگر تم سے ہو سکے تو نک نکل بھاگو۔ نہیں نکل سکتے، بدون سند کے۔“

مولانا شبیر احمد عثمانی نے جن کی تفسیر قرآن ہر طرح سے پڑھنے کے قابل ہے اور جس کے حواشی تدوین میں کئی جگہ استفادہ کیا گیا ہے، اس پر حسب ذی ”اللہ کی حکومت سے کوئی چاہے کہ نکل بھا ہے۔ کیا خدا سے زیادہ کوئی قوی اور زور آور ہے۔ پھر جہاں پناہ لے گا۔ نیز دنیا کی معمولی حکومتیں بدون سنـ دیتیں تو اللہ بدون سند کے کیوں نکلنے دے گا؟

میرے خیال میں اس آیت مبارکہ سے ثا سند عطا کریں وہ باہر جاسکتا ہے۔ ایک مثال سے شاید ہوا سے بھاری چیز ہوا میں ٹھہر سکتی ہے۔ اگرچہ ہم پرند تو ہوائی جہاز ہزاروں من بوجھ اٹھا کر ہوا میں اڑتے پھر انسان ہزاروں کوس کے فاصلے سے دوسرے کی آوا بولنے والے کی شکل بھی دیکھ سکتا ہے۔ جب تک یہ چیـ (قدرت) کہا جاتا تھا۔ لیکن اب تو انسان نے یہ علم حا اب یہی چیز قانونِ قدرت میں شامل ہوگئی ہے۔ اس

٢٣

صفحہ ٢٦٣

کیوں یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ وہ کہاں رہتا ہوگا اور کیا کھاتا پیتا ہوگا۔ جب میں نے ایک یورپین مسلمان کو یہ دلیل دی تو اس نے کہا ”اب مجھے عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے متعلق کچھ شک نہیں کرنا چاہئے۔“

عیسائیوں کی کتابوں میں یہ درج ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ قرآن کریم میں بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اگر وہ آسمان پر چلے گئے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیوں نہیں جاسکتے؟ اس کی نسبت آگے ذکر آئے گا۔

سورۃ الرحمٰن کی ایک آیت سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ خدائی سند سے انسان یا جن اس کرۂ عالم سے باہر جاسکتا ہے: ”یٰمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموات والارض فانفذوا لا تنفذون الا بسلطان (٣٣)“ ﴿اے گروہ جنوں کے اور انسانوں کے، اگر تم سے ہو سکے تو نکل بھاگو آسمان اور زمین کے کناروں سے تو نکل بھاگو۔ نہیں نکل سکو گے بدون سند کے۔“

مولانا شبیر احمد عثمانی نے جن کی تفسیر قرآن مجید (مطبوعہ مدینہ برقی پریس بجنور ١٣٥٢ء) ہر طرح سے پڑھنے کے قابل ہے اور جس کے حواشی اور تحت المتن نوٹوں سے اس رسالے کی تدوین میں کئی جگہ استفادہ کیا گیا ہے۔ اس پر حسب ذیل نوٹ لکھا ہے:

”اللہ کی حکومت سے کوئی چاہے کہ نکل بھاگے تو بدون قوت اور غلبہ کے کیسے بھاگ سکتا ہے۔ کیا خدا سے زیادہ کوئی قوی اور زور آور ہے۔ پھر نکل کر جائے گا کہاں۔ دوسرا قلمرو کونسا ہے جہاں پناہ ملے گا۔ نیز دنیا کی معمولی حکومتیں بدون سند اور پروانہ راہداری اپنی قلمرو سے نکلنے نہیں دیتیں تو اللہ بدون سند کے کیوں نکلنے دے گا؟

میرے خیال میں اس آیت مبارکہ سے کیوں یہ نتیجہ نہ نکالا جائے کہ جس کو اللہ تعالیٰ سند عطا کریں وہ باہر جاسکتا ہے۔ ایک مثال سے شاید یہ معاملہ سمجھ آجائے۔ پہلے کس کو یقین تھا کہ ہوا سے بھاری چیز ہوا میں ٹھہر سکتی ہے۔ اگرچہ ہم پرندوں کو روز ہوا میں اڑتے دیکھتے تھے۔ مگر اب تو ہوائی جہاز ہزاروں من بوجھ اٹھا کر ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں۔ پہلے کسے یقین آسکتا تھا کہ ایک انسان ہزاروں کوس کے فاصلے سے دوسرے کی آواز سن سکتا ہے۔ اب اس پر مستزاد یہ ہے کہ بولنے والے کی شکل بھی دیکھ سکتا ہے۔ جب تک یہ چیزیں معلوم نہ تھیں۔ تو ان کے خلاف فطرت (قدرت) کہا جاتا تھا۔ لیکن اب تو انسان نے یہ علم حاصل کر لیا اور اسے تجربہ ہو چکا ہے۔ اس لئے اب یہی چیز قانون قدرت میں شامل ہو گئی ہے۔ اس سے زیادہ اچھی مثال مادے کی ہے۔ آج

٢٣

صفحہ ٢٦٥

سے دس بیس سال پہلے یہی سمجھا جاتا تھا کہ مادہ فنا نہیں ہوتا بلکہ بعض مذاہب میں اس کو خدا اور روح کے ساتھ ازلی کہا گیا ۔ کیونکہ انہیں اس کی خلقت کا علم نہیں تھا۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ میں ”بدیع السموات والارض“ ہوں۔ یہ آیت پہلے دی جا چکی ہے۔ معلوم نہیں اس سے کیا کیا خیالات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہوں گے۔ کیونکہ خداوند کریم نے یہاں فرما دیا ہے کہ اس نے زمین و آسمان کو بغیر آلے اور مادے کے پیدا کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ سورۃ ہود میں فرماتے ہیں: ”وهو الذي خلق السموات والارض في ستة ايام وكان عرشه على الماء ليبلوكم ايكم احسن عملا (٧)“ ﴿اور وہی ہے جس نے بنایا آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں اور تھا اس کا تخت پانی پر تاکہ آزمائے تم کو کہ کون تم میں سے اچھے کام کرتا ہے۔﴾

یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش سے پہلے پانی مخلوق ہوا۔ جو آئندہ اشیاء کا مادہ حیات بننے والا تھا۔ جیسا کہ سورۃ انبیاء میں آیا ہے: ”وجعلنا من الماء كل شئ حيى (٣٠)“ ﴿اور بنائی ہم نے پانی سے ہر چیز جس میں جان ہے۔﴾

اب سائنس دانوں کا بھی یہی خیال ہے کہ پہلے پانی تھا اور مادہ جس کو ازلی سمجھتے تھے۔ برقی طاقت کا ایک کرشمہ ہے۔ سائنس دانوں نے ہر ذرہ مادہ کی (ایٹم) کی تحقیق کر لی ہے اور اس کے اجزا بھی معلوم کر لئے ہیں۔ گویا یہ پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ سائنس دان تو اب اس دھن میں لگے ہوئے ہیں کہ ایک بڑی توپ کے منہ میں بیٹھ کر کرہ ہوا سے نکل جائیں اور چاند پر جا پہنچیں۔

مگر ہم اب تک اس خیال میں ہیں کہ خدا کی سند اور پروانہ راہداری بھی ہو تب بھی کوئی آسمانوں تک نہیں جا سکتا۔ اس واسطے نہ معراج جسمانی تھا اور نہ اور کوئی آسمان پر آیا گیا۔ شاید اسی لئے حضرت آدم علیہ السلام کا بھی بہشت میں رہنا نہیں مانا جاتا۔ آخر وہ بھی تو انسان تھے۔ اگر وہ اللہ کی قدرت میں زمین پر اتارے گئے تھے تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک کو زمین سے آسمان پر لے جائے: ”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة، انك انت الوهاب“

پس اگر قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر لے جانے کا ذکر ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس پر یقین نہ کریں اور من گھڑت تاویلیں کریں۔ اس پر بحث کرنے سے پہلے بہتر یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی تمام آیات جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر

٢٤

ہے ۔ اپنے ساتھ رکھ لیں اور یہ بھی دیکھیں کہ حضرت عیسیٰ کریم میں کوئی معجزانہ تدریجی ارتقاء ہے یا نہیں، جس کی رعایت ہے۔ ترجمہ کرنے میں حضرت شاہ عبدالقادر اور تاویل بعید اور فریب سے احتراز کیا جائے گا۔ ورنہ اس طرح میں اپنے موضوع سے دور جا پڑوں گا۔ یہ جائے گی جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و ممات پائی گئی ہے۔ ”وما توفيقى الا بالله“

آیت نمبر ١ متعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر پہلی دفعہ سورۃ البقرہ میں آیا الكتاب وقفينا من بعده بالرسل وآتينا بروح القدس . افكلما جاءكم رسول بما كذبتم وفريقا تقتلون . وقالوا قلوبنا غلف ما يؤمنون (٨٧،٨٨)“ ﴿اور یہ تحقیق بات ہے (توریت) اور ان کے بعد بہت سے پیغمبروں کو ان کے کو (بھی بہت سے) واضح اور روشن معجزے دیئے اور مدد کی۔ کیا تم اس قدر بدمماغ ہو گئے ہو کہ جب کوئی خلاف کوئی حکم لے کر آیا تو تم اکڑ بیٹھے۔ پر تم نے بعض کو اور کہنے لگے کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھا ہوا ہے۔ پر لعنت کی ہے۔ پس کم ہی لوگ ایمان لاتے ہیں۔﴾

سلسلہ کلام اس طرح کہ یہودیوں کو بتا راست بازی اور حق پرستی کی جگہ نفسانی خواہشات حق کی مخالفت کرتے ہو۔ تمہاری راہ نمائی کے لئے موسیٰ علیہ السلام کے بعد پے در پے رسولوں کو بھیج کر علیہ السلام کو صریح معجزے دے کر روح القدس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے معجزات بکثرت ظہور میں اس لئے آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔

٢٥

صفحہ ٢٦٥

ہے ۔ اپنے ساتھ رکھ لیں اور یہ بھی دیکھیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلقہ بیان میں قرآن کریم میں کوئی معجزانہ تدریجی ارتقاء ہے یا نہیں، جس سے ثابت کرنا اس رسالے کی اصل غرض وغایت ہے۔ ترجمہ کرنے میں حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کے مجوزہ اصولوں کو مدنظر رکھا جائے گا اور تاویل بعید اور قریب سے احتراز کیا جائے گا۔ ہر ایک آیت کی تفسیر تو نہ کی جائے گی۔ کیونکہ اس طرح میں اپنے موضوع سے دور جا پڑوں گا۔ تاہم ان الفاظ یا کلمات کی تشریح ضرور کی جائے گی جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات وممات کے متعلق کوئی دلیل اخذ کی جاسکتی ہے یا کی گئی ہے۔ ”وما توفیقی الا باللہ“

آیت نمبر ١ متعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر پہلی دفعہ سورۃ البقرہ میں یوں آیا ہے: ”ولقد آتينا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل و آتينا عيسى ابن مريم البينات وايدناه بروح القدوس ، افكلما جاءكم رسول بما لا تهوى انفسكم استكبرتم ففريقا كذبتم وفريقا تقتلون . وقالوا قلوبنا غلف ، بل لعنهم الله بكفرهم فقليلا مايؤمنون (٨٧،٨٨) “ ﴿ ”اور یہ تحقیقی بات ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی (توریت) اور ان کے بعد بہت سے پیغمبروں کو ان کے قدم بہ قدم لے چلے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کو (بھی بہت سے) واضح اور روشن معجزے دیئے اور پاک روح (جبرائیل) کے ذریعہ سے ان کو مدد کی۔ کیا تم اس قدر بدمماغ ہو گئے ہو کہ جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس تمہاری خواہش نفسانی کے خلاف کوئی حکم لے کر آیا تو تم اکڑ بیٹھے۔ پر تم نے بعض پیغمبروں کو جھٹلایا اور بعض کو جان سے مار ڈالا اور کہنے لگے کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھا ہوا ہے (ایسا نہیں) بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کی ہے۔ پس کم ہی لوگ ایمان لاتے ہیں۔﴾

سلسلۂ کلام اس طرح کہ یہودیوں کو بتایا جا رہا ہے کہ تمہاری عادت ہو گئی ہے کہ تم نے راست بازی اور حق پرستی کی جگہ نفسانی خواہشات کی پرستش شروع کر دی ہے۔ اس لئے داعیان حق کی مخالفت کرتے ہو۔ تمہاری راہ نمائی کے لئے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے بعد پے درپے رسولوں کو بھیج کر سلسلۂ ہدایت جاری رکھا۔ بالآخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صریح معجزے دے کر روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کی (جس کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے معجزات بکثرت ظہور میں آئے) مگر تم اپنی خواہشات کو نہیں چھوڑتے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔

٢٥

صفحہ ٢٦٦

آیت نمبر ٢ متعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام

پھر رکوع نمبر ١٦ میں آیا ہے: ”قولو امنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم و اسماعيل واسحاق ويعقوب والاسباط وما اوتى موسى و عيسى وما اوتى النبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون (بقرہ:١٣٦) ”﴿(اور اے مسلمانو تم یہ) کہو کہ تم تو خدا پر ایمان لائے ہو اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا (قرآن) اور جو (صحیفے) ابراہیم و اسماعیل و اسحاق و یعقوب اور اولاد یعقوب علیہم السلام پر نازل ہوئے تھے (ان پر) اور جو (کتاب) موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو دی گئی (اس پر) اور جو پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے انہیں دیا گیا (اس پر) ہم تو ان میں سے کسی (ایک) میں بھی تفریق نہیں کرتے اور ہم تو خدا ہی کے فرمانبردار ہیں۔﴾

ان آیات مبارکہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن تمام اگلے انبیاء کی لائی ہوئی کتابوں کا مصدق ہے اور یہ تعلیم دیتا ہے کہ مسلمان ان تمام تعلیموں پر ایمان رکھتے ہیں جو دنیا کے تمام نبیوں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملی ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو نظر انداز نہیں کرتے۔

تشریح ارتقاء

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت نمبر ١ سے ارتقاء یہ ہے کہ ان کو بھی خدا کی طرف سے احکام ملے تھے اور یہ کہ اصول اور احکام وہی تھے جو دنیا کے اور نبیوں کو ملے تھے۔ نمبر ٢ میں صرف معجزوں کا ذکر تھا اور یہاں اس تعلیم کا ذکر ہے جو انہیں ملی۔

آیت نمبر ٣ متعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام

پھر آگے رکوع ٣٣ میں یوں آیا ہے: ”تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض منهم من كلم الله ورفع بعضهم درجات واتينا عيسى ابن مريم البينات وايدناه بروح القدس ولوشاء الله ما اقتتل الذين من بعد هم ماجاء تهم البينات ولكن اختلفوا فمنهم من امن ومنهم من كفر ولوشاء الله مااقتتلوا ولكن الله يفعل مايريد (بقرہ: ٢٥٣) ”﴿یہ سب رسول (جو) ہم نے (بھیجے) ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں جن سے خود خدا نے بات کی اور بعض کے (اور طرح پر) درجے بلند کئے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کو کیسے کیسے روشن معجزے عطا کئے اور روح القدس (جبرئیل) کے ذریعے سے ان کی مدد کی اور اگر خدا چاہتا تو جولوگ (ان پیغمبروں)

٢٦

٢٦٧ کے بعد ہوئے۔ وہ اپنے پاس روشن معجزے آچکنے پر آپس گئی۔ پس ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض کافر ہ میں نہ لڑتے مگر خدا وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔﴾

یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ انبیاء اگرچہ نبوت میں لحاظ سے اپنے اپنے درجے رکھتے ہیں۔ ان میں فرق مراتب

تشریح ارتقاء

یہاں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر انہی الفا کیا تھا۔ جس سے حسب قاعدہ یہ امید رکھنی چاہئے کہ آئند ہی معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ ’رفع بعضهم درجات“ بعد ”رفع الى السماء“ کا ذکر آئے تو تلبیس نہ واقع نہ لے لیا جائے۔ یہی اس کا ارتقاء ہے۔

رفع کی بحث

قرآن کریم کے مطالعے سے یہ ظاہر ہوتا ہ ہے۔ مثلاً سورۃ یوسف، رکوع نمبر ١١ میں آیا ہے: ”ورفع سجدا (١٠٠)“ ﴿اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو ت میں ۔﴾

اس آیت میں رفع کے معنی عزت کے ساتھ رکوع ١٥ میں آیا ہے: ”واذ يرفع ابراهيم القوا ابراہیم اور اسماعیل نے خانہ کی بنیاد اٹھائی ۔﴾

اسی طرح سورۃ بقر میں ایک سے زیادہ دفعہ یہاں بھی گویا مادی چیزوں کے بلند کرنے کا ذکر ہے۔ الذين آمنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صو اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر۔﴾ سورۃ الغاشیہ میں ﴿(بھلا کیا نظر نہیں کرتے) آسمان پر کہ کیسا اس کو بلن سورۃ نور کے رکوع ٥ میں آیا ہے: ”فی ب میں کہ اللہ نے حکم دیا، ان کو بلند کرے گا۔﴾

٢٧

صفحہ ٢٦٧

کے بعد ہوئے۔ وہ اپنے پاس روشن معجزے آچکنے پر آپس میں نہ لڑ مرتے مگر ان میں پھوٹ پڑ گئی۔ پس ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض کافر ہو گئے اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ آپس میں نہ لڑتے مگر خدا وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ ﴾

یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ انبیاء اگرچہ نبوت میں مساوی ہیں۔ لیکن اپنی خصوصیات کے لحاظ سے اپنے اپنے درجے رکھتے ہیں۔ ان میں فرق مراتب ضرور ہے۔

تشریح ارتقاء

یہاں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر انہی الفاظ میں کیا ہے جن میں نمبر ١ کی آیت میں کیا تھا۔ جس سے حسب قاعدہ یہ امید رکھنی چاہئے کہ آئندہ ایک نیا باب معنی شروع ہوگا اور ساتھ ہی معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ ”رفع بعضهم درجات“ کے لانے کی غرض یہ ہے کہ جب اس کے بعد ”رفع الی السماء“ کا ذکر آئے تو تلبیس نہ واقع ہو اور اس کو بھی رفع درجات کے معنی میں نہ لے لیا جائے۔ یہی اس کا ارتقاء ہے۔

رفع کی بحث

قرآن کریم کے مطالعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رفع کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً سورہ یوسف، رکوع نمبر ١١ میں آیا ہے: ”ورفع ابويه على العرش وخروا له سجدا (١٠٠)“ ﴿اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر اور سب گرے اس کے آگے سجدے میں۔﴾

اس آیت میں رفع کے معنی عزت کے ساتھ اونچی جگہ پر بٹھانے کے ہیں۔ پھر سورہ بقر رکوع ١٥ میں آیا ہے: ”واذيرفع ابراهيم القواعد من البيت واسماعيل “ ﴿جب ابراہیم اور اسماعیل نے خانہ کی بنیاد اٹھائی۔﴾

اسی طرح سورہ بقر میں ایک سے زیادہ دفعہ آیا ہے: ”ورفعنا فوقكم الطور“ یہاں بھی گویا مادی چیزوں کے بلند کرنے کا ذکر ہے۔ پھر سورۂ الحجرات میں آیا ہے: ”یاایھا الذين آمنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبى “ ﴿اے ایمان والو! بلند نہ کرو، اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر۔﴾ سورۂ الغاشیہ میں آیا ہے: ”والى السماء كيف رفعت “ ﴿(بھلا کیا نظر نہیں کرتے) آسمان پر کہ کیسا اس کو بلند کیا ہے۔﴾

سورۂ نور کے رکوع ٥ میں آیا ہے: ”في بيوت اذن الله ان ترفع “ ﴿ان گھروں میں کہ اللہ نے حکم دیا، ان کو بلند کرے گا۔﴾

٢٧

صفحہ ٢٦٩

یہاں بھی یہ لفظ تحقیر اور تعظیم و تکریم دونوں معنوں کو شامل ہے۔ پھر سورۃ الواقعہ میں آیا ہے: ”اذا وقعت الواقعة ليس لوقعتها كاذبة خافضة رافعة (آیت ١ تا ٣) ” جب ہو پڑے گی وہ پڑنے والی نہیں اس کے ہو پڑنے میں کچھ جھوٹ ، پست کرنے والی بلند کرنے والی ہے﴾ اس کے معنی ہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے متکبروں کو اسفل السافلین کی طرف دھکیل کر دوزخ میں پہنچا دے گی اور کتنے ہی متواضعین کو جو دنیا میں پست و حقیر نظر آتے تھے، ایمان اور عمل صالح کی بدولت جنت کے اعلیٰ مقامات پر فائز کرے گی (یعنی قیامت) لفظ ” رافعة “ اس آیت مبارکہ میں تکریم اور بلندی رتبہ دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ باقی سب جگہ جہاں درجات بلند کرنے کا ذکر ہے۔ رفع اور درجات دونوں لفظ یکجا استعمال ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آیت زیر بحث یعنی بقرہ رکوع ٣٣ ” رفع بعضهم درجات “ میں ہے۔ اسی طرح سورہ ٦ آیات ٨٣، ١٦٥ میں اور ١٢، ٧٦ اور ٤٠، ١٥ اور ٥٨۔ ١١ میں۔

باقی دو مقام ایسے ہیں کہ جہاں پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ ” رفع “ بمعنی بلندی مرتبہ ہے۔ ایک سورۂ مریم رکوع نمبر ٤ میں آیا ہے : ” واذكر في الكتاب ادريس انه كان صديقا نبيا ورفعناه مكانا عليا “ اور ذکر کر کتاب میں ادریس کا وہ تھا سچا نبی اور اٹھا لیا ہم نے اس کو ایک اونچے مکان پر۔ ﴾

یہاں دو احتمال ہیں۔ ایک عام احتمال یہ ہے کہ جس سے میں متفق نہیں کہ ” رفعناه مكانا عليا “ سے مراد بلندی ، منزلت و مرتبہ ہے۔ دوم یہ کہ حقیقۃً اونچا مقام آسمان مراد ہے۔ یعنی وہ مانند عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھا لئے گئے اور وہاں زندہ ہیں۔

شیخ امام ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ مجاہدؒ سے ” رفعناه مكانا عليا “ کے بارے میں روایت ہے کہ مجاہد نے کہا کہ ادریس علیہ السلام اٹھائے گئے اور مرے نہیں جیسے عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے ہیں اور سفیانؒ نے منصور سے، اس نے مجاہد سے روایت کی کہ چوتھے آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ اور حسن بصریؒ نے کہا ”مکانا عليا“ وہ جنت ہے جس میں اٹھا لئے گئے۔

بخاریؒ کی حدیث معراج میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان دوم پر دیکھا اور صحیح وہ ہے جو صحیحین میں دوسرے طرق سے ہے کہ آسمان چہارم پر دیکھا۔ ترمذیؒ کی جامع میں اور ابن المنذر اور ابن مردویہ نے تفسیر میں انسؓ سے حدیث معراج

٢٨

میں روایت کیا ہے کہ حضورؐ نے ادریس علیہ السلام کو آسمان چہارم پر دیکھا۔ امام ابن کثیرؒ کہتے ہیں حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کا زمانہ اس قدر پرانا ہے کہ ان کے حالات تفصیل سے معلوم ہونا ممکن نہیں ہے اور سیوطیؒ نے ابن مسعودؓ اور ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ ادریس علیہ السلام یہی الیاس علیہ السلام ہیں اور سیوطیؒ نے اس کی تائید کی ہے اور حضرت الیاس علیہ السلام کا آسمان پر جانا توریت سے ثابت ہے۔ قرآن پاک میں بھی اس طرف اشارہ ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔

دوسرے رفع کے متعلق جس آیت پر انحصار کیا جاتا ہے وہ یہ ہے: ”ولو شئنا لرفعنا بها ولكن اخلد الى الارض“ بہتر ہوگا کہ اس موقع پر آیت زیر بحث کا ماقبل و مابعد کی آیتیں دی جائیں:

”واتل عليهم نبا الذى آتينه آياتنا فانسلخ منها فاتبعه الشيطان فكان من الغوين (١٧٥) ولوشئنا لرفعنه بها ولكنه اخلد الى الارض واتبع هواه فمثله كمثل الكلب ، ان تحمل عليه يلهث او تتركه يلهث ذلك مثل القوم الذين كذبوا بايتنا فاقصص القصص لعلهم يتفكرون (الاعراف: ١٧٦)“ ﴿اور (اے رسول) تم ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا کی تھیں۔ پھر وہ اس سے نکل بھاگا تو شیطان نے اس کا پیچھا کیا پھر وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اگر ہم چاہتے تو ہم اسے انہیں آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کرتے مگر وہ تو خود ہی دنیا کی طرف جھک پڑا اور اپنی نفسانی خواہش کا تابعدار بن بیٹھا تو اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تو بھی زبان نکالے رہے اور اس کو چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے یہی حال ان لوگوں کا ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو (اے رسول) یہ قصے ان سے بیان کر دو تاکہ یہ لوگ خود بھی غور کریں۔ ﴾

مفسرین کے نزدیک یہ آیت ”بلعم بن باعورا“ کے بارے میں ہے جو نبوت اور ہدایت کو چھوڑ کر عورت کے اغواء اور دولت کے لالچ میں آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں بددعا کرنے کے لئے تیار ہو گیا تھا۔ لیکن ”فانسلخ منها“ اور ”اخلد الى الارض“ کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں یہ الفاظ بمعنی ” رفعناه “ بلندی مرتبہ کے معنوں میں آئے ہیں۔

٢٩

صفحہ ٢٦٩

میں روایت کیا ہے کہ حضور نے ادریس علیہ السلام کو آسمان چہارم پر دیکھا اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کا زمانہ اس قدر قدیم ہے کہ ان کا صحیح حال کسی تفصیل سے معلوم ہونا ممکن نہیں ہے اور سیوطیؒ نے ابن مسعودؓ سے روایت کی کہ ابن مسعودؓ نے کہا کہ ادریس علیہ السلام یہی الیاس علیہ السلام ہیں اور سیوطیؒ نے کہا کہ اسناد اسی کی حسن ہیں۔ حضرت الیاس علیہ السلام کا آسمان پر جانا توریت سے ثابت ہے اور قرآن کریم میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔

دوسرے رفع کے متعلق جس آیت پر انحصار کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے: ”ولوشئنا لرفعنا بها ولكن اخلد الى الارض“ بہتر ہوگا کہ اس کے صحیح معنے سمجھنے کے لئے اس سے ماقبل وما بعد کی آیتیں دی جائیں:

”واتل عليهم نبا الذي آتينه آيتنا فانسلخ منها فاتبعه الشيطن فكان من الغوين (١٧٧) ولو شئنا لرفعنه بها ولكن اخلد الى الارض واتبع هواه فمثله كمثل الكلب ٠ ان تحمل عليه يلهث او تتركه يلهث ذالك مثل القوم الذين كذبوا بايتنا فاقصص القصص لعلهم يتفكرون (اعراف:١٧٥، ١٧٦)“ اور (اے رسول) تم ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو۔ جسے ہم نے اپنی آیتیں عطا کی تھیں۔ پھر وہ اس سے نکل بھاگا تو شیطان نے اس کا پیچھا پکڑا اور آخر کار وہ گمراہ ہو گیا اور اگر ہم چاہتے تو ہم اسے انہیں آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کر دیتے مگر وہ تو خود ہی پستی کی طرف جھک پڑا اور اپنی نفسانی خواہش کا تابعدار بن بیٹھا تو اس کی مثل اس کتے کی ہے کہ اگر اس کو دھتکار دو تو بھی زبان نکالے رہے اور اس کو چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہ مثل ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو (اے رسول) یہ قصے ان لوگوں سے بیان کر دو تا کہ یہ لوگ خود بھی غور کریں۔﴾

مفسرین کے نزدیک یہ آیت ”بلعم بن باعوا“ کے حق میں نازل ہوئی جو اللہ کی آیت اور ہدایت کو چھوڑ کر عورت کے اغواء اور دولت کے لالچ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں بددعا کرنے کے لئے تیار ہو گیا تھا۔ لیکن ”فانسلخ واخلد الى الارض“ کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں یہ الفاظ بمعنی ”رفعناہ“ مجازی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں

٢٩

صفحہ ٢٧١

نہ کہ اصلی معنوں میں۔ نہ وہ سانپ تھا کہ کینچلی چھوڑ کر نکل گیا اور نہ ہی زمین کے ساتھ چمٹ گیا تھا بلکہ اس کا حال کتے کی طرح ہو گیا جس کی زبان باہر لٹکی ہوئی ہو اور ہانپ رہا ہو۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کو بلند مراتب پر فائز نہ کیا۔ پھر بھی اس رفع میں وہی دو معنی شامل ہو سکتے ہیں یعنی رفع مقام اور تکریم جس کا ذکر میں نے سورۂ واقعہ کی آیت کی تشریح میں کیا ہے۔

سورۂ فاطر ١٠ میں آیا ہے: "من كان يريد العزة فللّٰه العزة جميعا اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه" ﴿جس کو چاہئے عزت تو اللہ کے لئے ہے ساری عزت اور اس کی طرف چڑھتا ہے کلام ستھرا اور کلام نیک اس کو بلند کرتا ہے۔﴾

خواہ اس کے معنی یہ لیں کہ اچھے کلام کو بدوں، اچھے کاموں کے پوری رفعت شان حاصل نہیں ہوتی یا کہ ستھرا کلام اچھے کام کو اونچا اور بلند کرتا ہے۔ اس میں کسی مادی چیز کے رفع کا ذکر نہیں۔

سورۂ انشراح میں آیا ہے: "ورفعنا لك ذكرك" ﴿اور بلند کیا ہم نے مذکور تیرا﴾ اگر چہ حضورﷺ کا نام مبارک اذان وغیرہ میں بلند کیا جاتا ہے۔ مگر ساتھ اس کے معنوں میں یہ بھی شامل ہے کہ آسمانوں اور ملا اعلیٰ میں بھی آپ کا نام بلند ہے۔ یہاں بھی کوئی مادی چیز مذکور نہیں ہے۔ درجات بھی مادی چیز نہیں ہیں۔ مگر چونکہ "اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه" اور "ورفعنا لك ذكرك" میں مدعا کلام صاف ظاہر ہے۔ اس لئے ان کی تشریح کی مزید کی ضرورت نہیں۔ لیکن جہاں ترقی درجات کا سوال پیدا ہوتا ہے وہاں درجات کا لفظ ضروری طور پر آیا ہے۔

تشریح ارتقاء

آپ یہ سن کر مسرور ہوں گے کہ رفع درجات کے بیان میں بھی ارتقاء ہے۔ پیغمبروں کے آپس میں درجوں کے متعلق یہی آیت ہے: "من هم من كلم الله ورفع بعضهم درجات (بقرہ:٢٥٣)" ﴿کوئی تو وہ ہے کہ کلام کیا اس سے اللہ تعالیٰ نے بلند کئے بعضوں کے درجے۔﴾ آگے درجات کا لفظ سورۂ انعام میں یوں آیا ہے:

"وتلك حجتنا آتينها ابراهيم على قومه نرفع درجات من نشاء ان ربك حكيم عليم" ﴿اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے دی تھی ابراہیم کو اس کی قوم کے

٣٠

مقابلے میں، درجے بلند کرتے ہیں ہم جس کے ہے۔﴾

یعنی ابراہیم علیہ السلام کو ایسے دلائل قاہر کا کام ہو سکتا ہے۔ جو ہر شخص کی استعداد سے پوری ط کی مناسبت موقع اور مقام پر رکھتا ہے۔ یعنی آیت می ہے اور یہاں ایک پیغمبر کا اپنی قوم پر۔ پھر سورۂ انعام

الارض ورفع بعضكم فوق بعض درجات العقاب وانه لغفور رحيم (١٦٥)" ﴿اور اس درجے تم میں ایک کو ایک پر تاکہ آزمائے تم کو اپنے کرنے والا ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔﴾

یعنی خدا نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنا لے کر کیسے کیسے حاکمانہ تصرفات کرتے ہو اور تمہارے جائے کہ ان حالات میں کون شخص کہاں تک خدا کا حک پہلی آیت میں تو ایک پیغمبر کی دوسرے اس کی قوم پر فضیلت کا ذکر ہے اور یہاں ان کے م

سورۂ یوسف میں یوں آیا ہے: "كذالك كدنا ليوسف الا ان يشاء الله نرفع درجات من نشاء و تدبیر بتائی یوسف کو وہ ہر گز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہیں، ہر جاننے وال

سورۂ یوسف میں یوں آیا ہے: "كذلك كدنا ليوسف ماكان ليا الله نرفع درجات من نشاء و فوق كل یوسف کو وہ ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو قانون بلند کرتے ہیں جس کے چاہیں، ہر جاننے والے سے

٣١

صفحہ ٢٧١

مقابلے میں، درجے بلند کرتے ہیں ہم جس کے چاہیں تیرا رب حکمت والا ہے، جاننے والا ہے۔﴾

یعنی ابراہیم علیہ السلام کو ایسے دلائل قاہرہ دے کر ان کی قوم پر غالب کرنا اس علیم وحکیم کا کام ہو سکتا ہے۔ جو ہر شخص کی استعداد سے پوری طرح باخبر ہے اور اپنی حکمت سے ہر چیز کو اس کے مناسب موقع اور مقام پر رکھتا ہے۔ یعنی آیت میں ایک پیغمبر پر دوسرے پیغمبر کی فضیلت کا ذکر ہے اور یہاں ایک پیغمبر کا اپنی قوم پر۔ پھر سورۂ انعام میں آیا ہے: "هو الذي جعلكم خلئف الارض ورفع بعضكم فوق بعض درجات ليبلوكم فى ما اتكم ان ربك سريع العقاب وانه لغفور رحیم (١٦٥) " ﴿اور اس نے تم کو نائب کیا زمین میں، اور بلند کر دیئے درجے تم میں ایک کے ایک پر تاکہ آزمائے تم کو اپنے دیئے ہوئے حکموں میں تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔﴾

یعنی خدا نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا تاکہ تم اس کے دیئے ہوئے اختیار میں سے لے کر کیسے کیسے حاکمانہ تصرفات کرتے ہو اور تمہارے درمیان بے حد فرق مدارج رکھا تاکہ ظاہر ہو جائے کہ ان حالات میں کون شخص کہاں تک خدا کا حکم مانتا ہے۔

نمبر ١ آیت میں تو ایک پیغمبر کی دوسرے پیغمبر پر فضیلت کا ذکر تھا۔ نمبر ٢ میں ایک پیغمبر کا اس کی قوم پر فضیلت کا ذکر ہے اور یہاں ان کے خالص پیروؤں کا دوسرے لوگوں پر۔ پھر سورۂ یوسف میں یوں آیا ہے:"كذالك كدنا ليوسف ما كان لياخذ اخاه في دين الملك الا ان يشاء الله نرفع درجات من نشاء و فوق كل ذی علم عليم "﴿ہم نے یوں تدبیر بتائی یوسف کو وہ ہر گز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر کہ چاہے اللہ ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہیں، ہر جاننے والے سے اوپر ہے ایک جاننے والا۔﴾ پھر سورۂ یوسف میں یوں آیا ہے:

"كذلك كدنا ليوسف ما كان لياخذ اخاه في دين الملك الا ان يشاء الله نرفع درجات من نشاء و فوق كل ذی علم عليم "﴿ہم نے یوں تدبیر بتائی یوسف کو وہ ہر گز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر کہ چاہے اللہ ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہیں، ہر جاننے والے سے اوپر ہے ایک جاننے والا۔﴾

٣١

صفحہ ٢٧٣

یعنی جسے چاہیں ہم حکمت و تدبیر سکھلائیں یا اپنی تدبیر لطیف سے سربلند کریں۔ دنیا میں ایک آدمی سے زیادہ دوسرا اور دوسرے سے زیادہ تیسرا جاننے والا ہے۔ مگر سب جاننے والوں کے اوپر ایک جاننے والا ہے۔ یعنی خداوند کریم نے اس آیت مبارکہ سے یہ بتلادیا کہ کس طرح علم وحکمت کی بناء پر ایک پر ایک فوقیت رکھتا ہے۔ مگر سب اس کے علم میں محدود ہیں۔

آگے سورۃ المومن میں یوں آیا ہے : ”رفیع الدرجات ذو العرش یلقی الروح من امره على من يشاء من عباده لينذر يوم التلاق“ ﴿وہی ہے اونچے درجوں والا مالک عرش کا، اتارتا ہے بھید کی بات (یعنی وحی) اپنے حکم سے جس پر چاہے اپنے بندوں میں تا کہ وہ ڈرائے ملاقات کے دن سے۔﴾

تشریح ارتقاء

پچھلی آیت میں یہ فرمایا تھا کہ خداوند کریم کا علم سب سے زیادہ ہے اور اس آیت میں اپنی ہر قسم کی فوقیت کا ذکر فرمایا یہاں تک کہ وحی جس کے ذریعہ ایک پیغمبر کو دوسرے پر فوقیت ہوتی ہے۔ اس کا فیض ہے۔ پھر سورۂ زخرف میں یوں آیا ہے : ”وقالوا لولا نزل هذا القرآن على رجل من القريتين عظيم . اهم يقسمون رحمة ربك . نحن قسمنا بينهم معيشتهم فى الحيوة الدنيا ورفعنا بعضهم فوق بعض درجات ليتخذ بعضهم بعضا سخريا ورحمة ربك خير مما يجمعون“ ﴿اور کہتے ہیں کیوں نہ اترا یہ قرآن کسی بڑے مرد پر ان دونوں بستیوں میں سے کیا وہ بانٹتے ہیں تیرے رب کی رحمت کو ہم نے بانٹ دی ہے روزی ان کی دنیا کی زندگانی میں، اور بلند کر دیئے درجے بعض کے بعض پر کہ ٹھہرا لے ایک دوسرے کو خدمت گار اور تیرے رب کی رحمت بہتر ہے ان چیزوں سے جو جمع کرتے ہیں۔﴾

تشریح ارتقاء

اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا تھا کہ ہم جس پر چاہتے ہیں وحی کرتے ہیں۔ یہاں پر یہ فرمایا کہ دنیاوی ساز و سامان جس پر نبوت و رسالت کا شرف ظاہر ہے۔ ان کی تجویز سے نہیں بانٹا تو پیغمبری ان کی تجویز پر کیسے دی جائے۔

آگے سورۃ المجادلہ میں فرمایا : ”يا ايها الذين آمنوا اذا قيل لكم تفسحوا فى المجالس فافسحوا يفسح الله لكم واذا قيل انشزوا فانشزوا يرفع الله الذين ٣٢

آمنوا منكم والذين اوتوا العلم درجات والله ب والو! جب کوئی تم کو کہے کہ کھل کر بیٹھو مجلسوں میں تو کھل جا کہے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو۔ اللہ بلند کرے گا ان ک اور علم والوں کے درجے اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔﴾

اس آیت مبارکہ میں حضور ﷺ کی مجلس میں بی ہیں۔ مگر ساتھ ہی بتا دیا کہ حضور ﷺ کی صحبت سے زیادہ فی درجے بلند ہو سکتے ہیں جو آداب محفل جاننے کے علاوہ اہل ترقی کرتے ہیں۔

میں نے وہ تمام آیات یہاں درج کر دی ہیں ہے یا جن سے بلندی درجات کا کوئی مفہوم نکل سکتا ہے۔ ح آئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں : ”واذ قال الله ياعيسى عمران : ٥٥) ”﴿جب عیسیٰ سے خدا نے فرمایا، اے عیسیٰ لوں گا۔﴾

”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه ل الله اليه (النساء: ١٥٧، ١٥٨) ”﴿اور نہیں قتل کیا اس ک دوسرا شخص عیسیٰ کے مشابہ کر دیا) وہ شبہ میں رہے اور عیسیٰ کو نے انہیں اپنی طرف بلا لیا۔﴾

ان الفاظ میں دیگر امور کے علاوہ جن کا ذکر آ متعلق نہیں ہے۔ بلکہ ان الفاظ کے معنی تو یہ ہیں کہ اللہ ن کے لفظ ”الی“ سے ہوتی ہے۔ جہاں جہاں درجات و استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ”ولكل درجات مما عملوا ہیں ، ان کے عمل کے ۔﴾ پھر سورۃ انفال میں آیا ہے : ”اولئك هم المؤمنون حقا لهم د كريم (٤)“ ﴿وہی ہیں سچے ایمان والے، ان کے معافی اور روزی عزت کی۔﴾ ٣٣

صفحہ ٢٧٣

آمنوا منكم والذین اوتوا العلم درجات والله بما تعملون خبیر“ ”اے ایمان والو! جب کوئی تم کو کہے کہ کھل کر بیٹھو مجلسوں میں تو کھل جاؤ۔ اللہ کشادگی دے تم کو اور جب کوئی کہے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو۔ اللہ بلند کرے گا ان کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں تم میں سے اور علم ان کے درجے اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔“

اس آیت مبارکہ میں حضورﷺ کی مجلس میں بیٹھنے والوں کو آداب مجلس سکھائے گئے ہیں۔ مگر ساتھ ہی بتا دیا کہ حضورﷺ کی صحبت سے زیادہ فیض وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں اور انہی کے درجے بلند ہو سکتے ہیں جو آداب محفل جاننے کے علاوہ اہل علم و ایمان ہیں۔ وہی لوگ مراتب میں ترقی کرتے ہیں۔

میں نے وہ تمام آیات یہاں درج کر دی ہیں جن میں رفع اور درجات کا ذکر یکجا آیا ہے یا جن سے بلندی درجات کا کوئی مفہوم نکل سکتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو الفاظ آئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں: ”اذ قال الله ياعيسى انى متوفيك ورافعك الىٰ (آل عمران:٥٥) ”جب عیسیٰ سے خدا نے فرمایا، اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا...... اور تم کو اٹھا لوں گا۔“

”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم ...... وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه (النساء:١٥٧، ١٥٨) ”اور نہیں قتل کیا اس کو اور نہ ہی سولی دیا مگر ان کے لئے (ایک دوسرا شخص عیسیٰ کے مشابہ کر دیا) وہ شبہ میں رہے اور عیسیٰ کو ان لوگوں نے یقیناً قتل نہیں کیا۔ بلکہ خدا نے انہیں اپنی طرف بلا لیا۔“

ان الفاظ میں دیگر امور کے علاوہ جن کا ذکر آگے آئے گا، کوئی لفظ بلندی درجات کے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ ان الفاظ کے معنی تو یہ ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا جس کی تائید صلہ کے لفظ ”الیٰ“ سے ہوتی ہے۔ جہاں جہاں درجات ملنے کا ذکر ہے، وہاں درجہ یا درجات کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ”ولكل درجات مما عملوا (انعام:) ”ہر ایک کے لئے درجے ہیں، ان کے عمل کے۔“ پھر سورۃ انفال میں آیا ہے:

”اولئك هم المؤمنون حقا لهم درجات عند ربهم ومغفرة ورزق كريم (٤) ”وہی ہیں سچے ایمان والے، ان کے لئے درجے ہیں اپنے رب کے پاس اور معافی اور روزی عزت کی۔“

٣٣

صفحہ ٢٧٥

اسی طرح اور جگہ آیا ہے۔ اس لئے میرے خیال میں قرآن کریم کا اپنا طرز بیان اور اس کی خالص اصطلاحات یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کی نسبت یہ قرار دینا کہ اس سے مراد رفع درجات ہے، صحیح نہیں۔ معترضین کے اس سوال کا جواب کہ چونکہ رفع آسمانی ایک محال چیز ہے۔ اس لئے اس کی تاویل کرتے ہیں، پہلے دیا جا چکا ہے۔

نوٹ: ”رافعک الیٰ“ سے مراد ”الی محل کرامتی ومقر ملائکتی“ ﴿یعنی ایسے مقام پر جہاں میری کرامت ہے اور جہاں میرے ملائکہ رہتے ہیں۔﴾

اللہ تعالیٰ کے ہر جگہ موجود ہونے یا اس کے جہت سے پاک ہونے کی نسبت اکثر لوگوں میں کچھ غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے۔ بعض تو یہ کہتے ہیں کہ وہ ہر جگہ اور ہر چیز میں ہے۔ اگر یہ کہا جاتا کہ وہ اپنے علم اور قدرت کے لحاظ سے ہر جگہ ہے تو بالکل صحیح ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ وہ ہر مٹی کے برتن میں، ہر لوہے کی چیز میں یا ہر انسان، شجر و حجر میں بذات خود موجود ہے، تو یہ صحیح نہیں۔ بعض فلسفی تو وحدت الوجود کے قائل ہیں اور بعض ہمہ اوست کے ماننے والے۔ مگر ان تخیلات پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم سورۃ السجدہ میں آتا ہے:

”یدبر الامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون ٭ ذلک عالم الغیب والشہادۃ العزیز الرحیم“ ﴿تدبیر سے اتارتا ہے کام آسمان سے زمین تک، پھر چڑھتا ہے وہ کام اس کی طرف ایک دن میں جس کا پیمانہ ہزار برس کا ہے تمہاری گنتی میں، یہ ہے جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر کا، زبردست رحم کرنے والا۔﴾

دوسری جگہ سورۃ الملک میں یوں آیا ہے: ”ءامنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذا ہی تمور٭ ام امنتم من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا فستعلمون کیف نذیر (١٦، ١٧)“ ﴿کیا تم نڈر ہو گئے ۔ اس سے جو آسمان میں ہے کہ دھنسا دے تم کو زمین میں، پھر تب ہی لرزنے لگے یا نڈر ہو گئے، اس سے جو آسمان میں ہے، اس بات سے کہ برسا دے تم کو مینہ پتھروں کا، تو سوجان لوگے کیسا ہے میرا ڈرانا۔﴾

پھر سورہ طٰہٰ میں آیا ہے: ”تنزيلًا ممن خلق الارض والسمٰوات العلٰی الرحمٰن علی العرش استویٰ (٤، ٥)“ ﴿(قرآن) اتارا ہوا ہے اس کا جس نے بنائے زمین اور آسمان اونچے، وہ بڑا مہربان ہے عرش پر قائم ہوا۔﴾

٣٤

سورۃ الشوریٰ میں آیا ہے: ”لیس کمثلہ شئ نہیں ہے اس کی طرح کا کوئی، یعنی بیشک ہر چیز کو دیکھتا سنتا ہ طرح نہیں، یعنی اس کے کمالات کی کیفیت بیان نہیں کر ہے: ”ماکان لی من علم بالملاء الاعلٰی اذ یختص انا نذیر مبین (٦٩، ٧٠)“ ﴿مجھ کو کچھ خبر نہ تھی اوپر کی مجل ہیں۔ مجھ کو تو یہی حکم آتا ہے کہ (خدا کے عذاب سے) صاف ص ”ملاء اعلیٰ“ (اوپر کی مجلس) ملائکہ مقربین کی م الہیہ اور تصریفات کونیہ ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ سورۂ انجم میں آیا ہ عند سدرۃ المنتہٰی عندھا جنۃ الماوٰی (١٣ تا ١٥ اترتے ہوئے ایک بار اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، اس کے گی۔

نوٹ: یہ ذکر ہے شب معراج جبرئیل علیہ السلام سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جس کے قریب بہشت ہے۔ سورۂ ا الذین عند ربک لا یستکبرون عن عبادتہ ویس ﴿بے شک جو تیرے رب کے نزدیک ہیں، وہ تکبر نہیں کرتے اس کی پاک ذات کو اور اسی کو سجدے کرتے ہیں۔﴾

اس آیت میں فرشتوں کا ذکر ہے کہ ان کو اللہ تع آیت مبارکہ کے الفاظ ”عندربک“ قابل غور ہیں۔

آیات بالا سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ جہت کا آسمانوں میں ہونے کا صاف ذکر ہے۔ فرشتے تو آسمان لئے اگر ”رفعہ اللہ الیہ“ سے مراد ہو کہ اللہ تعالیٰ نے حضر کی طرف جہاں مقرب فرشتے رہتے ہیں، اٹھا لیا۔ تو اس پر ہ اس معنی کے کرنے سے اللہ تعالیٰ کے لئے جہت یا مکان مقرر ہاں! کچھ لوگ ایسے ہیں جو آسمان کے وجود کے

٣٥

صفحہ ٢٧٥

سورۃ الشوریٰ میں آیا ہے: ”ليس كمثله شئ وهو السميع البصير (١١)“ ﴿نہیں ہے اس کی طرح کا کوئی، یعنی بیشک ہر چیز کو دیکھتا سنتا ہے۔﴾ مگر اس کا دیکھنا سننا مخلوق کی طرح نہیں، یعنی اس کے کمالات کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی۔ پھر سورۃ ص میں آیا ہے: ”ماكان لى من علم بالملاء الاعلى اذ يختصمون ان يوحى الى الا انما انا نذير مبين (٦٩،٧٠)“ ﴿مجھ کو کچھ خبر نہ تھی اوپر کی مجلس کی جب وہ آپس میں تکرار کرتے ہیں۔ مجھ کو تو یہی حکم آتا ہے کہ (خدا کے عذاب سے) صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔﴾ ”ملاء اعلیٰ“ (اوپر کی مجلس) ملائکہ مقربین کی مجلس ہے۔ جن کے توسط سے تدابیر الہیہ اور تصریفات کونیہ ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ سورۃ النجم میں آیا ہے: ”ولقد رآه نزلة اخرى عند سدرة المنتهى عندها جنة الماوى (١٣ تا ١٥)“ ﴿اور اس کو اس نے دیکھا ہے، اترتے ہوئے ایک بار اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، اس کے پاس ہے بہشت آرام سے رہنے کی۔

نوٹ: یہ ذکر ہے شب معراج جبرئیل علیہ السلام کا حضور ﷺ کو اترتے ہوئے دیکھنا سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جس کے قریب بہشت ہے۔ سورۃ الاعراف کے آخر میں آیا ہے: ”ان الذين عند ربك لايستكبرون عن عبادته ويسبحونه وله يسجدون (٢٠٦)“ ﴿بے شک جو تیرے رب کے نزدیک ہیں، وہ تکبر نہیں کرتے اس کی بندگی سے اور یاد کرتے ہیں اس کی پاک ذات کو اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔﴾

اس آیت میں فرشتوں کا ذکر ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی میں عار نہیں ہے۔ اس آیت مبارکہ کے الفاظ ”عند ربك“ قابل غور ہیں۔

آیات بالا سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ جہت فوق کی نسبت دی جاتی ہے اور ملا اعلیٰ کا آسمانوں میں ہونے کا صاف ذکر ہے۔ فرشتے تو آسمان ہی کی جہت سے اترتے ہیں۔ اس لئے اگر ”رفعه الله اليه“ سے مراد ہو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے مقام قرب کی طرف جہاں مقرب فرشتے رہتے ہیں، اٹھا لیا۔ تو اس پر یہ اعتراض کس طرح وارد ہوسکتا ہے کہ اس معنیٰ کے کرنے سے اللہ تعالیٰ کے لئے جہت یا مکان مقرر کیا جاتا ہے؟۔

ہاں! کچھ لوگ ایسے ہیں جو آسمان کے وجود کے ہی قائل نہیں تو یہ ان کا زاویہ نظر ہے۔

٣٥

صفحہ ٢٧٧

ابھی تک تو کرہ ہوائی میں حضرت انسان چند میلوں سے اوپر جا نہیں سکا۔ قرآن کریم میں تو آتا ہے : "وفی السماء رزقکم وما توعدون فورب السماء والارض انه لحق مثل ما انکم تنطقون (ذاریات : ٢٢) " "اور آسمان میں ہے روزی تمہاری اور جو تم سے وعدہ کیا گیا سو قسم رب آسمان اور زمین کی کہ یہ بات تحقیق ہے جیسے کہ تم بولتے ہو۔"

اسی سورت میں آگے آیا ہے : "والسماء بنينها بايد وانا لموسعون والارض فرشناها فنعم الماهدون (ذاریات : ٤٨) " "اور بنایا ہم نے آسمان کو ہاتھ کے بل سے اور ہم کو سب مقدور ہے اور زمین کو بچھایا ہم نے سو کیا خوب بچھانا جانتے ہیں۔"

نیز قرآن کریم میں ہے : "ومن کل شی خلقنا زوجین لعلکم تذکرون (ذاریات: ٤٩) " "اور ہر چیز کے بنائے ہم نے جوڑے تاکہ تم دھیان کرو۔"

چند سال قبل یہ کون یقین کر سکتا تھا کہ ہر چیز کا نر و مادہ ہے۔ لیکن اب سائنس دانوں نے تو چند سالوں سے یہ بھی مان لیا ہے کہ پتھر جیسی چیز میں بھی نر و مادہ ہے۔ بلکہ ہر ایک نوع میں نر و مادہ کی تقسیم پائی جاتی ہے۔ اس تحقیقات سے پہلے وہ لوگ جو قرآن کے معنی کرنے میں فلسفے یا اپنی معلومات کے پابند ہیں، بھی کہتے تھے کہ "کل شیء" سے مراد جاندار چیزیں ہیں۔ یا زیادہ سے زیادہ بعض لوگوں نے درختوں کو بھی شامل کر لیا تھا۔ جیسا کہ اوپر میں نے کہا ہے کہ ہماری معلومات ہی کیا ہیں کہ ان کی بناء پر قرآن کریم کو اللہ کا کلام مانتے ہوئے اس کے صاف لفظی معنوں میں کسی تاویل رکیک کی جرات کریں۔ اس لئے رفع الی السماء کے وہی معنی درست ہیں جو اس کے الفاظ ظاہر کر رہے ہیں۔

آیت نمبر ٤ متعلق عیسیٰ علیہ السلام

اس کے بعد سورۂ آل عمران رکوع ١٣ میں اس طرح آیا ہے :

"اذقالت الملئکة یامریم ان الله یبشرک بکلمة منه اسمه المسیح عیسی ابن مریم وجیها فی الدنیا والاخرة ومن المقربین و یکلم الناس فی المهد وکهلا ومن الصالحین ، قالت رب انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر قال کذالک الله خلق مایشاء اذاقضی امرا فانما یقول له کن فیکون ، ویعلمه الکتب والحکمة والتوراة والانجیل ، ورسولا الی بنی اسرائیل انی قد

٣٦

جئتکم بایة من ربکم انی اخلق لکم من الطین طیرا باذن الله، وابرئ الاکمه والابرص وا بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم، ان فی ومصدقا لما بین یدی من التوراة ولاحل وجئتکم بایة من ربکم فاتقوالله واطیعون ، صراط مستقیم ، فلما احس عیسی منهم الکفر الحواریون نحن انصار الله، امنا بالله واش انزلت واتبعنا الرسول فاکتبنا مع الشهد الماکرین ، اذقال الله یعیسی انی متوفیک کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذ مرجعکم فاحکم بینکم فیماکنتم فیه تختلفون آدم ، خلقه من تراب ثم قال له کن فیک الممترین"

(وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب فرشتوں نے ( سے ایک لڑکے کے پیدا ہونے کی خوشخبری دیتا ہے۔ جس اور آخرت (دونوں) میں باعزت (آبرو) اور خدا کے جب جھولے میں پڑا ہوگا اور بڑی عمر ہو کر (دونوں حالتو اور نیکوکاروں میں سے ہوگا۔ (یہ سن کر مریم تعجب سے حالانکہ مجھے کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ ارشاد ہوا اسی طر کام کا کرنا ٹھان لیتا ہے تو بس اسے کہتا ہے ہو جا، تو (تمام) الکتاب اور الحکمہ اور (خاص کر) توریت وان (قرار دے گا اور وہ ان سے یوں کہے گا) کہ میں تمہار (اپنی نبوت کی) یہ نشانی لے کر آیا ہوں کہ میں گندھی ہوئ اور پھر اس پر (کچھ) دم کروں گا تو وہ خدا کے حکم سے اڑ اندھے اور کوڑھی کو اچھا کروں گا اور مردوں کو زندہ کروں

٣٧

صفحہ ٢٧٧

جئتكم باية من ربكم انى اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيرا باذن الله،وابرئ الاكمه والابرص واحيى الموتى باذن الله، وانبئكم بما تاكلون وما تدخرون فى بيوتكم، ان فى ذالك لاية لكم ان كنتم مؤمنين ٠ ومصدقا لما بين يدى من التوراة ولاحل لكم بعض الذى حرم عليكم ٠ وجئتكم باية من ربكم فاتقوا الله واطيعون ٠ ان الله ربى وربكم فاعبدوه،هذا صراط مستقيم ٠ فلما احس عيسى منهم الكفر قال من انصارى الى الله، قال الحواريون نحن انصار الله، امنا بالله واشهد بانا مسلمون ٠ ربنا امنا بما انزلت واتبعنا الرسول فاكتبنا مع الشهدين ٠ ومكروا ومكرالله، والله خير الماكرين ٠ اذ قال الله يعيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة، ثم الى مرجعكم فاحكم بينكم فيما كنتم فيه تختلفون ٠ ان مثل عيسى عند الله كمثل آدم ٠ خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون ٠ الحق من ربك فلا تكن من الممترين“

﴿وہ واقعہ بھی یاد کرو﴾ جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا اے مریم تم کو خدا اپنے حکم سے ایک لڑکے کے پیدا ہونے کی خوشخبری دیتا ہے۔ جس کا نام عیسیٰ مسیح ابن مریم ہوگا (اور) دنیا اور آخرت (دونوں) میں باعزت (آبرو) اور خدا کے مقرب بندوں میں ہوگا اور (بچپن میں) جب جھولے میں پڑا ہوگا اور بڑی عمر ہو کر (دونوں حالتوں میں یکساں) لوگوں سے باتیں کرے گا اور نیکو کاروں میں سے ہوگا۔ (یہ سن کر مریم تعجب سے) کہنے لگیں پروردگار! مجھے لڑکا کیونکر ہوگا حالانکہ مجھے کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ ارشاد ہوا اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا کرنا ٹھان لیتا ہے تو بس اسے کہتا ہے ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے اور (اے مریم) خدا اس کو (تمام) الکتاب اور الحکمتہ اور (خاص کر) توریت و انجیل سکھا دے گا اور بنی اسرائیل کا رسول (قرار دے گا اور وہ ان سے یوں کہے گا) کہ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (اپنی نبوت کی) یہ نشانی لے کر آیا ہوں کہ میں گندھی ہوئی مٹی سے ایک پرندے کی صورت بناؤں گا اور پھر اس پر (کچھ) دم کروں گا تو وہ خدا کے حکم سے اڑنے لگے گا اور میں خدا کے حکم سے مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کروں گا اور مردوں کو زندہ کروں گا اور جو کچھ تم کھاتے ہو اور اپنے گھروں

٣٧

صفحہ ٢٧٩

میں جمع کرتے ہو، میں (سب) تم کو بتادوں گا۔ اگر تم ایمان دار ہو تو بے شک تمہارے لئے ان باتوں میں میری نبوت کی بڑی نشانی ہے اور توریت جو میرے سامنے موجود ہے، میں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور (میرے آنے کی) ایک غرض یہ (بھی ہے) کہ جو چیزیں تم پر حرام ہیں۔ ان میں سے بعض کو (خدا کے حکم سے) حلال کر دوں اور میں تمہارے پروردگار کی طرف (اپنی نبوت کی) نشانی لے کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ پس تم خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ بے شک خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ پس عبادت کرو (کیونکہ) یہی (نجات کا) سیدھا راستہ ہے۔ پھر جب عیسیٰ نے (اتنی باتوں کے بعد بھی) ان کا کفر (پر اڑے رہنا) دیکھا تو آخر کہنے لگے، کون ایسا ہے جو خدا کی طرف ہو کر میرا مددگار بنے۔ (یہ سن کر) حواریوں نے کہا ہم خدا کے طرف دار ہیں اور ہم خدا پر ایمان لائے اور (عیسیٰ سے کہا) آپ گواہ رہئے کہ ہم فرمانبردار ہیں (اور خدا کی بارگاہ میں عرض کی کہ) اے ہمارے پالنے والے! جو کچھ تو نے نازل کیا ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول (عیسیٰ) کی پیروی اختیار کی۔ پس تو ہمیں (اپنے رسول کے) گواہوں کے دفتر میں لکھ لے۔ اور یہودیوں نے (عیسیٰ سے) مکاری کی اور خدا نے اس کے دفعیہ کی تدبیر کی اور خدا سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے اور (وہ وقت بھی یاد کر) جب عیسیٰ سے خدا نے فرمایا اے عیسیٰ! میں تیرا وقت پورا کروں گا۔ تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا۔ تیرے منکروں (کی تہمتوں) سے تجھے پاک کروں گا اور جن لوگوں نے تیری پیروی کی ہے۔ انہیں قیامت تک تیرے منکروں پر برتری دوں گا اور بالآخر سب کو (قیامت کے دن) میری ہی طرف لوٹنا ہے۔ سو اسی دن ان باتوں کا فیصلہ کروں گا۔ جن میں لوگ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے رہے ہیں....... اللہ کے نزدیک تو عیسیٰ ایسا ہی ہے جیسا آدم مٹی سے پیدا کیا پھر اس کی بناوٹ کے لئے حکم فرمایا کہ ہو جا اور (جیسی کچھ مشیت الہیٰ تھی، اس کے مطابق) ہو گیا۔ (اے پیغمبر) یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو دیکھو ایسا نہ ہو کہ شک وشبہ کرنے والوں میں سے ہو جاؤ۔ ١؎

ان آیات مبارک پر کچھ لکھنے سے پہلے تھوڑے سے تاریخی واقعات کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ سورہ مریم مکہ شریف میں نازل ہوئی۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور ان کے نبی ہونے کا اور وفات پانے کا ذکر ہے۔ اس میں مسیح کا لفظ نہیں آیا۔ سوائے اس بات

١۔ ان الفاظ کے معانی پر بحث بعد میں آئے گی اور میرے خیال میں اس کا لفظی ترجمہ یوں ہی ہو کہ میں تجھے وفات دوں گا۔

٣٨

کے کہ وہ گہوارے یا گود میں بولیں اور کسی معجزے کا ذکر بھی نہیں کہ حبشہ کی ہجرت سے پہلے یہ سورت نازل ہوئی تھی اور نجاشی نے یہ سورت پڑھی تھی جب کہ قریش نے وہاں جا کر شکایتیں کرتے ہیں اور آپس میں پھوٹ ڈالتے ہیں اور یہ کہ ان کا اعتقاد ٹھیک نہیں۔ اوپر کی آیات جو نمبر ٤ میں نقل کی گئیں ابتدائی آیات کے ساتھ اس وقت نازل ہوئیں جب نجران کا وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا اور ان کا ذکر سیرت کی کتابوں میں ہے۔

اگرچہ بعض عیسائی خدا کی وحدانیت کا اعتقاد رکھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی نہیں دی گئی۔ لیکن مسیح علیہ السلام بعینہ خدا یا خدا کے بیٹے یا تین خداؤں میں صلیب پر چڑھایا جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔ نیز زندہ ہوئے اور اپنے حواریوں سے ملے اور پھر آسمان پر اٹھا لئے گئے اور اپنے ماننے والوں کے گناہوں کا کفارہ کر دیا۔ آ گے ۔ وہ اس طرح شروع ہوتی ہے : ” الم ، الله لا الہ الا ھو حضرت عیسیٰ کے خدا یا جزو خدا ہونے کی تردید ہے۔

نوٹ : ضروری آیات کا صرف حوالہ دیا جائے گا

”ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء لا الہ الا ھو العزیز الحکیم (آل عمران : ٦) ”وہی تمہارا نقشہ بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے۔ اس کی بندگی نہیں اس کے سوا ، زبردست ہے حکمت والا ۔“

عیسائیوں کے اس استدلال کا کہ جب مسیح کا کوئی باپ نہیں، مندرجہ بالا آیت مبارکہ سے جواب ہو گیا کہ خدا کیونکہ وہ ایسا خدا ہے جس کی قدرت کو کوئی محدود نہیں کر سکتا ۔ وہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے ۔ جیسے آدم کو بدون ماں باپ دونوں کے پیدا

٣٩

صفحہ ٢٧٩

کے کہ وہ گہوارے یا گود میں بولیں اور کسی معجزے کا ذکر بھی نہیں ہے۔ یہ بھی تاریخ سے ثابت ہے کہ حبشہ کی ہجرت سے پہلے یہ سورت نازل ہوئی تھی اور نجاشی شاہ حبشہ کے سامنے حضرت جعفر طیار نے یہ سورت پڑھی تھی جب کہ قریش نے وہاں جا کر شکایت کی کہ یہ لوگ ہمیں دین سے بدراہ کرتے ہیں اور آپس میں پھوٹ ڈالتے ہیں اور یہ کہ ان کو یہاں سے واپس کر دینا چاہئے۔ کیونکہ ان کا اعتقاد ٹھیک نہیں۔ اوپر کی آیات جو نمبر ٤ میں نقل کی گئی ہیں، آل عمران کا حصہ ہیں اور یہ ابتدائی آیات کے ساتھ اس وقت نازل ہوئیں جب نجران کے ساٹھ عیسائیوں کا ایک وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا اور متنازعہ فیہ امور پر بحث ہوئی۔ جس کا تفصیلی ذکر سیرت کی کتابوں میں ہے۔

اگرچہ بعض عیسائی خدا کی وحدانیت کا اعتقاد رکھتے تھے اور بعض عیسائی فرقے یہ بھی مانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی نہیں دی گئی۔ لیکن عیسائیوں کا عام اعتقاد یہ تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام بعینہ خدا یا خدا کے بیٹے یا تین خداؤں میں سے ایک ہیں اور یہ کہ یہود نے ان کو صلیب پر چڑھایا جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔ تین دن کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام پھر زندہ ہوئے اور اپنے حواریوں سے ملے اور پھر آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ صلیب پر چڑھ کر گویا انہوں نے ان کے ماننے والوں کے گناہوں کا کفارہ کر دیا۔ آل عمران میں ان عقائد باطلہ کی تردید ہے۔ وہ اس طرح شروع ہوتی ہے: ”الم . اللہ لا الہ الا هو الحي القيوم“ جس سے حضرت عیسیٰ کے خدا یا جزو خدا ہونے کی تردید ہے۔

نوٹ: ضروری آیات کا صرف حوالہ دیا جائے گا۔ چھٹی آیت میں آتا ہے:

”هو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء لا اله الا هو العزیز الحکیم (آل عمران: ٦) ”وہی تمہارا نقشہ بناتا ہے ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہے، کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا، زبردست ہے حکمت والا۔“

عیسائیوں کے اس استدلال کا کہ جب مسیح کا ظاہری باپ نہیں تو بجز خدا کے کس کو باپ کہیں، مندرجہ بالا آیت مبارکہ سے جواب ہو گیا کہ خدا جس طرح چاہے آدمی کا نقشہ تیار کر دے کیونکہ وہ ایسا خدا ہے جس کی قدرت کو کوئی محدود نہیں کر سکتا اور حکیم ہے۔ جہاں جیسا مناسب جانتا ہے، کرتا ہے۔ جیسے آدم کو بدون ماں باپ دونوں کے پیدا کیا۔ حوا کو بدون ماں کے اور مسیح کو بدون

٣٩

صفحہ ٢٨١

باپ کے۔ پھر ساتویں آیت میں فرمایا:

"هو الذى انزل عليك الكتاب منه آيات محكمات هن ام الكتاب واخر متشابهات (آل عمران:٧)" "وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب، اس میں بعض آیات ہیں محکم (یعنی ان کے معنی واضح ہیں) وہ اصل ہیں کتاب کی اور دوسری ہیں متشابہ، یعنی جس کے معنی کئی طرح ہو سکتے ہیں۔"﴿

حضرت مسیح علیہ السلام کو کلمۃ اللہ کہا گیا ہے۔ یہ لفظ بھی ایک قسم کا متشابہات سے ہے۔ یعنی اس کے اصل معنی معلوم نہیں یا معین نہیں ہیں۔ اس آیت مبارکہ کے لانے سے ایک غرض یہ تھی کہ اگر ہم کلمۃ اللہ کے صحیح معنی نہ سمجھ سکیں تو صرف اس وجہ سے کہ حضرت مسیح کو کلمۃ اللہ کہا گیا ہے، خدا یا خدا کا جزو نہیں کہنا چاہئے۔ ان الفاظ کی تاویل اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ جب اس نے فرمایا: "لا اله الا هو الحى القيوم" تو کلمۃ اللہ کی کوئی تاویل اس کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ یہ تاویل وہی کریں گے جن کے دلوں میں کجی ہو گی۔

آگے سورۃ آل عمران آیت نمبر ١٣ میں اس طرح آیا ہے: "قد كان لكم آية فى فئتين التقتا، فئة تقاتل فى سبيل الله و اخرى كافرة يرونهم مثليهم راى العين، والله يؤيد بنصره من يشاء، ان فى ذلك لعبرة لا ولى الابصار " "ابھی گزر چکا ہے تمہارے سامنے ایک نمونہ دو فوجوں کا (جن میں) مقابلہ ہوا۔ ایک فوج ہے کہ لڑتی ہے اللہ کی راہ میں اور دوسری فوج کافروں کی ہے۔ دیکھتے ہیں یہ ان کو اپنے سے دوچند صریح آنکھوں سے اور اللہ زور دیتا ہے اپنی مدد کا جس کو چاہے، اس میں عبرت ہے دیکھنے والوں کو۔﴿

یہاں آیا ہے کہ کافروں کو مسلمان اپنے سے دگنا دیکھ رہے تھے۔ حالانکہ جنگ بدر میں جس کے متعلق یہ آیت ہے، کفار تقریباً ایک ہزار تھے جن کے پاس ٧٠٠ اونٹ اور ١٠٠ گھوڑے تھے۔ دوسری طرف مسلمان مجاہدین تین سو تیرہ (٣١٣) تھے۔ لیکن قدرت کا کرشمہ تھا کہ ہر حریف اپنے فریق مخالف کو اپنے سے دگنا دیکھتا تھا اور بعض وقت جیسا کہ انفال میں آیا ہے، کم دیکھتا تھا۔

اس آیت کا یہاں لانا ضروری اس لئے تھا کہ اوپر کہا گیا تھا کہ تم کفار عنقریب مسلمانوں کے مقابلے میں مغلوب ہوگے۔ جیسا کہ جنگ بدر میں ہوا۔ لیکن "يرونهم مثليهم راى العين" کے لانے سے میری رائے میں یہ بھی غرض ہے کہ اس شبہ کا جواب ہو جائے کہ

٤٠

یہودیوں نے کس طرح ایک دیگر شخص پر حضرت مسیح کے مسیح علیہ السلام سمجھ لیا۔

جب جنگ بدر میں دونوں فریق یعنی مسلماں غلطی میں روز روشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ ہر دو فریق مقا نے حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا تھا، کیوں ا آگے سورۂ مذکورہ آیات ١٥ تا ١٩ سے بتا دیا گ سکتا ہے۔ کفارہ کوئی چیز نہیں ہے۔ اگرچہ اور آیات بھی میں اتنے پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔ اب اصلی مضمون کی طرف

نمبر ٣ کے ارتقائی نوٹ میں کہا گیا تھا کہ الفا البينات وايدناه بروح القدس" کے الفاظ دوبا اس لئے نمبر ٤ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف ب انجیل ملنے، بنی اسرائیل کی طرف رسول ہونے اور ان کی غرض اور ان کے حواریوں کے ایمان لانے اور لوگو "رفع الى السماء" اور ان کے پیروؤں کے یہودیو

اب اس مقام پر دو قسم کا ارتقاء ہے۔ جس کا السلام کے خدا ہونے کے خلاف آیات اور دوسرا ان لئے پہلے ان آیات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جن میں لفظ ت

نوٹ: الفاظ پر بحث بعد میں کی جائے گی

جن آیات مبارکہ میں کہا گیا تھا: "انی م النساء میں یوں کر دی گئی ہے: "وقولهم انا قتلنا ا وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم و مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلو عزیز حكيما، وان من اهل الكتاب الا ليؤ عليهم شهيدا" "اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے

٤١

صفحہ ٢٨١

یہودیوں نے کس طرح ایک دیگر شخص پر حضرت مسیح کے چہرے کی شباہت کی وجہ سے اسے حضرت مسیح علیہ السلام سمجھ لیا۔

جب جنگ بدر میں دونوں فریق یعنی مسلمان اور کفار اللہ کی قدرت و حکمت سے ایسی غلطی میں روز روشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ ہر دو فریق مقابل کو دگنا دیکھے تو چند ایک یہودی جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا تھا، کیوں ایسی غلطی میں نہیں ڈالے جاسکتے؟

آگے سورۂ مائدہ آیات ٦٥ تا ٦٦ سے بتا دیا کہ انسان نیک اعمال سے ہی جنت میں جا سکتا ہے۔ کفارہ کوئی چیز نہیں ہے۔ اگرچہ اور آیات بھی دیگر عقائد باطلہ کی تردید کرتی ہیں۔ لیکن میں اتنے پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔ اب اصلی مضمون کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

نمبر ٣ کے ارتقائی نوٹ میں کہا گیا تھا کہ الفاظ ”واتینا عیسیٰ ابن مریم البینات وایدناہ بروح القدس“ کے الفاظ دوبارہ لانے سے ظاہر ہے کہ مضمون بدلے گا۔

اس لئے نمبر ٤ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف مسیح کہا گیا ہے بلکہ ان کی پیدائش، ان کے انجیل ملنے، بنی اسرائیل کی طرف رسول ہونے اور ان کے بڑے بڑے معجزات اور ان کے آنے کی غرض اور ان کے حواریوں کے ایمان لانے اور لوگوں کے فریب سے ان کو بچانے اور ان کے ”رفع الی السماء“ اور ان کے پیروؤں کے یہودیوں پر غلبہ پانے وغیرہ کا ذکر ہے۔

اب اس مقام پر دو قسم کا ارتقاء ہے۔ جس کا ذکر الگ الگ ہو چکا ہے۔ ایک تو عیسیٰ علیہ السلام کے خدا ہونے کے خلاف آیات اور دوسرا ان کے رسولوں کی طرح رسول ہونے کا ذکر، اس لئے پہلے ان آیات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جن میں لفظ مسیح آیا ہے۔

نوٹ: الفاظ پر بحث بعد میں کی جائے گی۔

جن آیات مبارکہ میں کہا گیا تھا: ”انی متوفیک ورافعك الیٰ“ ان کی توضیح سورۂ النساء میں یوں کر دی گئی ہے: ”وقولهم انا قتلنا المسيح عیسى ابن مریم رسول الله وماقتلوه وماصلبوه ولكن شبه لهم، وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وماقتلوه يقينا بل رفعه الله اليه، وكان الله عزيز حكيما ٠ وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيدا“ ﴿اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح خدا کے رسول

٤١

صفحہ ٨٣

کو قتل کر ڈالا ، حالانکہ نہ تو ان لوگوں نے اسے قتل ہی کیا اور نہ سولی دی مگر ان کے لئے (ایک دوسرا شخص عیسیٰ کے مشابہ ) کر دیا گیا اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں۔ یقیناً وہ لوگ اس (کے حالات) کی طرف سے دھوکے میں (پڑے ہوئے) ہیں۔ ان کو اس (واقعہ) کی خبر ہی نہیں ۔ مگر فقط اٹکل کے پیچھے (پڑے) ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کو ان لوگوں نے یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور خدا تو بڑا زبردست تدبیر والا ہے اور جب عیسیٰ (مہدی موعود کے ظہور کے وقت آسمان سے اتریں گے تو ) اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جو ان پر ان کے مرنے کے قبل ایمان نہ لائے اور خود عیسیٰ قیامت کے دن ان پر گواہی دیں گے۔﴾

صاف ظاہر ہے کہ نہ ان کا قتل واقع ہوا اور نہ ہی صلیب دی گئی ۔ بلکہ ان کو خدا نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جو ان پر ان کے مرنے سے قبل ایمان نہ لائے ۔ ارتقاء یہ ہے کہ ان پر موت آنی ہے اس لئے وہ خدا نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ جس پر موت واقع ہوسکتی ہے، وہ خدا نہیں ہے۔

آگے سورۃ النساء میں یوں آیا ہے : ”لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللہ ولا الملئکة المقربون ومن یستکبر فسیحشر هم الیه جمیعا “﴿نہ تو مسیح ہی خدا کا بندہ ہونے سے ہرگز عار رکھ سکتے ہیں اور نہ خدا کے مقرب فرشتے اور جو شخص اس کے بندہ ہونے سے عار رکھے گا اور شیخی کرے گا سو وہ جمع کرے گا ان سب کو اپنے پاس...... اور ہر ایک کو اس کے کام کی جزا سزا دے گا۔﴾

تشریح ارتقاء

ارتقاء یہ ہے کہ وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد مقرب فرشتوں کے ساتھ ہیں اور ان کو خدا کا بندہ کہلانے میں کوئی عار نہیں۔ اگر خدانخواستہ وہ ایسا کریں تو وہ دوسروں کی طرح جواب دہ ہوں گے۔

اس امر پر کہ یہ آیت حیات عیسیٰ علیہ السلام پر دلالت کرتی ہے، بحث آگے آئے گی۔ آگے سورۃ المائدہ میں یوں آتا ہے : ”لقد کفر الذین قالوا ان الله هو المسیح ابن مريم قل فمن يملك من الله شيئا ان ارا دان يهلك مسيح ابن مريم وامه ومن فی الارض جمیعا “﴿جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ مریم کے بیٹے مسیح بس خدا ہیں، وہ ضرور ٤٢

کافر ہو گئے۔ ان سے پوچھو تو بھلا اگر اللہ کریم کے سب کو ہلاک کرنا چاہے تو پھر کس کا بس چل سکتا ہے ہلاک کے معنی یہاں نیست و نابود کر نابود کر سکتے ہیں۔ جس میں مسیح بھی شامل ہے تو پھر نکتہ بیان کرتا ہوں۔ امید ہے کہ لوگ اس پر مہر و تح دل نے مجھ سے ذکر کیا تو میں نے بھی سر ہلا دیا تھا او جو سورۃ القارعہ میں ہے۔ جہاں آیا ہے : ”واما م جس کے (نیک اعمال کے ) پلے ہلکے ہوں گے تو اگر ”امہ“ کے یہی معنی اس آیت میں مطلب بڑا صاف ہو جاتا ہے۔ یعنی اگر خدا کا یہ اور جہاں وہ ہیں ) اور ساتھ ہی وہاں کے رہنے دے تو اس کو کون روک سکتا ہے۔ اس لئے یہاں علیہ السلام کی وفات پہلے سے واقع ہو چکی ہے تو پ

المائدہ میں یوں آیا ہے : ”ماالمسیح بن مریم الا ر صدیقه کانا یاکلان الطعام انظر کیف ن ﴿مریم کے بیٹے مسیح تو ایک رسول ہیں اور ان پ بندی تھی اور دونوں کھانا کھاتے تھے غور تو کرو کہ کرتے ہیں۔ پھر دیکھو یہ لوگ کہاں بھٹکے جا رہے

ارتقاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا عجی آدمیوں کی طرح کھانے کی حاجت تھی (کھا خیال کر سکتا ہے ) تو ایسی ہستی کو یہ لوگ کیسے خ حیات پر واضح دلیل ہے۔ اس کے متعلق میں س ”نورحق“ سے اقتباس درج کرتا ہوں :

صفحہ ٢٨٣

کافر ہو گئے۔ ان سے پوچھو تو بھلا اگر اللہ مریم کے بیٹے مسیح اور ان کی ماں اور جتنے لوگ زمین میں ہیں، کو ہلاک کرنا چاہے تو پھر کس کا بس چل سکتا ہے؟﴾

ہلاک کے معنی یہاں نیست و نابود کرنے کے ہیں۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ ہر چیز کو نیست و نابود کر سکتے ہیں۔ جس میں مسیح بھی شامل ہے تو پھر مسیح کو خدا کس طرح کہہ سکتے ہیں۔ یہاں ایک نکتہ بیان کرتا ہوں۔ امید ہے کہ لوگ اس پر صبر و تحمل سے غور کریں گے۔ کیونکہ پہلے پہل جب اہل دل نے مجھ سے ذکر کیا تو میں نے بھی سر ہلا دیا تھا اور وہ یہ ہے کہ ”امہ“ کے معنی بھی یہاں وہی ہیں جو سورۃ القارعہ میں ہے۔ جہاں آیا ہے: ”واما من خفت موازینہ فامہ ھاویہ“ ﴿اور جس کے (نیک اعمال کے) پلے ہلکے ہوں گے تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہے۔﴾

اگر ”امہ“ کے یہی معنی اس آیت میں لگائے جائیں یعنی ”ٹھکانے“ کے کئے جائیں تو مطلب بڑا صاف ہو جاتا ہے۔ یعنی اگر خدا کا یہ ارادہ ہو کہ وہ مسیح کو کہ جس کا ٹھکانہ (یعنی آسمان اور جہاں وہ ہیں) اور ساتھ ہی وہاں کے رہنے والے اور تمام زمین کے رہنے والے کو ہلاک کر دے تو اس کو کون روک سکتا ہے۔ اس لئے یہاں ہلاک کے معنی موت کے ہو سکتے ہیں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پہلے سے واقع ہو چکی ہے تو پھر ان الفاظ کے لانے کی کیا ضرورت تھی۔ آگے المائدہ میں یوں آیا ہے:

”ماالمسیح بن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقہ کانا یاکلان الطعام ط انظر کیف نبین لھم الایات ثم انظر انی یوفکون“ ﴿مریم کے بیٹے مسیح تو ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے رسول گزرے اور ان کی ماں بھی سچی بندی تھی اور دونوں کھانا کھاتے تھے غور تو کرو کہ ہم اپنے احکام ان سے کیسے صاف صاف بیان کرتے ہیں۔ پھر دیکھو یہ لوگ کہاں بھٹکے جا رہے ہیں۔﴾

انتہاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا عجیب وغریب دلیل بتائی حضرت مسیح علیہ السلام کو عام آدمیوں کی طرح کھانے کی حاجت تھی (کھانے کے بعد کے نتائج کا ذکر نہیں فرمایا۔ آدمی خود خیال کر سکتا ہے) تو ایسی ہستی کو یہ لوگ کیسے خدا کہہ سکتے ہیں؟ یہ آیت بھی عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر واضح دلیل ہے۔ اس کے متعلق میں سید اولیاء قادری وکیل ہائیکورٹ حیدر آباد کے رسالہ ”نورحق“ سے اقتباس درج کرتا ہوں:

٤٣

صفحہ ٢٨٥

”اس آیت شریف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بقیہ حیات ہونا ثابت ہے۔ کیونکہ ارشاد باری ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا سے رحلت نہیں فرما گئے۔ اگر ایسا ہوتا تو ”قد خلت من قبله الرسل“ ارشاد نہ ہوتا اور ”قد خلت“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی داخل کر دیئے جاتے۔ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام موت طبعی سے اب تک نہیں مرے۔ اس لئے وہ ”قد خلت من قبل“ (کی عبارت کے پیش نظر) سے مستثنیٰ کر دیئے گئے۔ پس یہ نتیجہ نکلا کہ اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بقیہ حیات ہونا ثابت ہے۔“

آیت مبارکہ ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ سے عیسیٰ علیہ السلام کی طبعی موت ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تقدیراً مستثنیٰ فرما دیئے گئے ہیں۔ جس طرح ”فانکحوا ماطاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع کلوا واشربوا ولا تسرفوا (نساء:٣)“ ﴿پس نکاح کرو تم ان عورتوں سے جن کو تم چاہو، دو، تین چار، کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو۔﴾ کی آیات سے اول الذکر میں بلا تخصیص ہر عورت سے نکاح کی اجازت ہے۔ لیکن اس کے کیا یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ بلا استثنیٰ محرمات شرعی ہر عورت سے نکاح کی اجازت ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کے معنی میں محرمات شرعی تقدیراً مستثنیٰ رکھے گئے ہیں۔ ان کے سوا باقی ان تمام عورتوں سے جو محرم ہیں، نکاح کی اجازت دی گئی ہے۔

اس طرح آیت نمبر ٢ میں ہر قسم کی چیزوں کے کھانے پینے کی اجازت ہے۔ لیکن کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حرام چیزیں بھی اس آیت کے استدلال سے کھائی پی جا سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ حلال چیزیں جتنی ہیں ان کو کھاؤ اور پیو اور حرام چیزیں تقدیراً مستثنیٰ رکھی گئی ہیں۔ اسی طرح آیت شریف ”وما محمد الا رسول“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تقدیراً مستثنیٰ رکھے گئے ہیں۔ اگر اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام مستثنیٰ نہ ہوں تو آیت ”ما المسیح ابن مریم الا رسول“ غلط ہو جائے گی۔

ان دونوں آیتوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا اور یہ ارشاد باری تعالیٰ: ”ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا (النساء:٨٢)“ ﴿اگر یہ قرآن پاک بجز خدا کے کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں اختلافات پیدا ہو جاتے۔﴾ کے پیش نظر بوجہ اختلاف، منزل من اللہ کس طرح کہا جا سکے گا۔ درآنحالیکہ اس کا منزل من اللہ ہونا مسلمہ ہے۔ پس

٤٤

ایسی صورت میں آیت ”وما محمد الا رسول“ بغیر اختلاف آیات رفع نہ ہو سکے گا۔ اس سے یہ نتیجہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہیں ہوتی۔

آخری دفعہ مسیح کا لفظ یوں آیا ہے سورۂ تو الله وقالت النصارى المسيح ابن الله ، ذ الذين كفروا من قبل قاتلهم الله انى يؤ اربابا من دون الله والمسيح ابن مريم وم هو سبحنه عما يشركون (٣١)“ ﴿اور یہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ تو ان کی بات ہے (اور وہ کافروں کی سی باتیں بنانے لگے ہیں جو ان سے پہ بھٹکے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں نے تو اپنے خدا کو چھو بیٹے مسیح کو اپنا پروردگار بنا ڈالا۔ حالانکہ انہیں سوا عبادت کریں اور اس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں سے پاک اور پاکیزہ ہے۔﴾

یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے پاس کوئی سند نہیں ہے۔ یہ بات ان کی خود سا کا بیٹا بنایا۔ یا جیسے دیگر لوگوں نے اپنے دیوتاؤں ک بیان میں بھی ارتقاء کو ملحوظ رکھا گیا ہے تو اور کون آ دیکھ لیا ہوگا کہ اس ارتقاء کو ملحوظ رکھا جائے تو کتنے۔

آیات مندرجہ نمبر ٣ کے الفاظ پر بحث۔

”ويعلمهم الكتاب والحكمة کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل۔﴾

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”الکت نے الکتاب کے معنی لکھنے کے کئے ہیں۔ بعض

صفحہ ٢٨٥

ایسی صورت میں آیت ”وما محمد الا رسول“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تقدیراً مستثنیٰ کئے بغیر اختلاف آیات رفع نہ ہو سکے گا۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ آیت ”وما محمد الا رسول“ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہیں ہوتی۔

آخری دفعہ مسیح کا لفظ یوں آیا ہے سورۂ توبہ میں: ”وقالت اليهود عزيرن ابن الله وقالت النصارى المسيح ابن الله، ذلك قولهم بافواههم يضاهون، قول الذين كفروا من قبل قاتلهم الله انى يوفكون ٠ اتخذوا احبارهم ورهبانهم اربابا من دون الله والمسيح ابن مريم وما امروا الا ليعبدوا الها واحد لا اله الا هو سبحنه عما يشركون (٣١)“﴿ اور یہود نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ تو ان کی بات ہے (اور وہ بھی خود) انہی کے منہ سے یہ لوگ ابھی انہی کافروں کی سی باتیں بنانے لگے ہیں جو ان سے پہلے (گزر چکے) ہیں۔ خدا ان کو قتل کرے کہاں بہکے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں نے تو اپنے خدا کو چھوڑ کر اپنے عالموں کو اپنے زاہدوں کو اور مریم کے بیٹے مسیح کو اپنا پروردگار بنا ڈالا۔ حالانکہ انہیں سوائے اس کے حکم ہی نہیں دیا گیا کہ خدائے یکتا کی عبادت کریں اور اس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں جس چیز کو لوگ اس کا شریک بتاتے ہیں وہ اس سے پاک اور پاکیزہ ہے۔ ﴾

یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کی تردید میں آخری دلیل ہے۔ الوہیت کی ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے۔ یہ بات ان کی خود ساختہ ہے جیسا کہ ان سے پہلے یہود نے عزیر کو خدا کا بیٹا بنایا۔ یا جیسے دیگر لوگوں نے اپنے دیوتاؤں کو خدا کہا۔ آپ نے ملاحظہ کر لیا ہوگا کہ لفظ مسیح کے بیان میں بھی ارتقاء کو ملحوظ رکھا گیا ہے تو اور کون سی ایسی بات ہے جس میں نہیں رکھا ہوگا اور یہ بھی دیکھ لیا ہوگا کہ اس ارتقاء کو ملحوظ رکھا جائے تو کتنے مطالب صاف ہو جاتے ہیں۔

آیات مندرجہ نمبر ٤ کے الفاظ پر بحث

”ويعلمهم الكتاب والحكمة والتورات والانجيل“ ﴿ سکھا دے گا اس کو کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل۔ ﴾

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”الكتاب والحكمة“ سے کیا مراد ہے؟ بعض مفسروں نے الکتاب کے معنی لکھنے کے کئے ہیں۔ بعض نے کہا کہ الکتاب سے مراد وہی تورات اور الحکمتہ

٤٥

PDF 288

سے مراد انجیل ہی ہیں۔ میرے فہم میں یہ آیا ہے کہ الکتاب والحکمت دونوں ایک ایسی چیز کے جزو ہیں جو تورات اور انجیل سے ضرور افضل ہے اور خود قرآن کریم سے اس کی شہادت پیش کرتا ہوں۔ الکتاب والحکمۃ پہلی جگہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی دعا میں اس طرح آئے ہیں۔ جب کہ وہ کعبہ شریف کی تعمیر کر رہے تھے:”ربنا وابعث فيهم رسولا ويعلمهم الكتاب والحكمة و يزكيهم نك انت العزيز الحكيم (البقره)“ ﴿اے پروردگار ہمارے بھیج ان پر ایک رسول انہی میں کا کہ پڑھے ان پر تیری آیتیں اور سکھادے ان کو کتب اور حکمت بیشک تو ہی بڑی زبردست حکمت والا ہے۔﴾

البقرہ کے رکوع نمبر ٦ میں ہے:”واذ آتینا موسی الكتاب والفرقان لعلكم تهتدون“ ﴿اور جب ہم نے دی موسیٰ کو کتاب اور حق کو ناحق سے جدا کرنے والے احکام تاکہ تم سیدھی راہ پاؤ۔﴾ یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کے ساتھ الحکمتہ کا لفظ نہیں آیا۔ آگے کتاب اور حکمت البقرہ میں یوں آیا ہے:

”كما ارسلنا فيكم رسولا منكم يتلوا عليكم اياتناويزكيكم و يعلمكم الكتاب والحكمته ويعلمكم مالم تكونوا تعلمون“ ﴿قبلے کی تبدیلی سے یہ اتمام نعمت اور تکمیل ہدایت تم پر ایسی ہوئی جیسے ہم نے تم میں تمہی میں کا ایک رسول بھیجا جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے اور تمہارے نفس کو پاکیزہ کرے اور تمہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور تم کو وہ باتیں بتائے جن کی تم کو خبر نہ تھی۔﴾

ان دونوں آیتوں سے آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ الکتب اور الحکمتہ سے گویا مراد قرآن اور حضور کی تعلیم (اسلام) ہے۔ جیسے آگے بھی ظاہر ہوگا انہی الفاظ کا دوبارہ آنا ظاہر کرتا ہے کہ آگے مضمون بدلے گا۔ آگے اس طرح آیا ہے:

”واذا طلقتم النساء فبلغن اجلهن فامسكوهن بمعروف اوسرّحوهن بمعروف ولاتمسكو هن ضرار لتعتدوا ومن يفعل ذالك فقد ظلم نفسه ولا تتخذوا آيات الله هزواواذكروا نعمة الله عليكم وما انزل عليكم من الكتاب والحكمته يعظكم به، واتقوا الله واعلموا ان الله بكل شي عليم (بقره: ٢٣١)“ ﴿اور جب طلاق دی تم نے عورتوں کو پھر پہنچی اپنی عدت تک، تو رکھ لو ان کو موافق دستور

٤٦

کے یا چھوڑ دو ان کو بھلی طرح سے اور نہ اور جو ایسا کرے گا، وہ بے شک اپنا ہی نقص کہ واللہ کا احسان جو تم پر ہے اور اس کو جو اس کے ساتھ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور ج

مثلاً Deuteronomy آدمی ایک عورت سے شادی کرے اور پھر کچھ ناپاکیزگی دیکھی تب وہ اس کو طلاق اپنے گھر سے باہر نکال دے تب وہ عورت

لیکن قرآن مجید میں نکاح ، احکام دیئے ہیں۔ جن سے عورت اور مرد

قرآن مجید الکتاب والحکمت ہے۔ ارتقاء اس کے بعد یہی آیت ہے جو

والحكمة والتوراة والانجيل ا نے اپنے وقت میں الکتاب اور الحکمتہ کی جیسا کہ پہلے مذکور ہے اور آگے بھی آتا۔

آگے جاکر سورۂ آل عمران والحکمت نہیں فرمایا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔

اتيتكم من كتاب وحكمة ثم ولتـنـصـرنـه قال اأقرر تم واخذت وانا معكم من الشاهدين“ (آ

کتاب اور حکمت سے پھر آوے تمہارے اس رسول پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد نے تم سے اقرار لیا۔ تم نے میرے عہد کی (اچھا) تو تم (آج کے قول و قرار) آپس

صفحہ ٢٨٧

کے یا چھوڑ دو ان کو بھلی طرح سے اور نہ روکے رکھو ان کے ستانے کے لئے تاکہ ان پر زیادہ کرو اور جو ایسا کرے گا، وہ بے شک اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اور مت ٹھہراؤ اللہ کے احکام کو ہنسی اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور اس کو جو اتاری تم پر کتاب اور علم کی باتیں کہ تم کو نصیحت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔﴾

مثلاً Deuteronomy توریت کی کتاب استثنا باب ٢٤ میں لکھا ہے کہ جب ایک آدمی ایک عورت سے شادی کرے اور پھر اس سے ناراض ہو جائے۔ اس لئے کہ اس میں اس نے کچھ ناپاکی سی دیکھی تب وہ اس کو طلاق نامہ لکھ دے اور اس کے ہاتھ میں دے دے اور اس کو اپنے گھر سے باہر نکال دے تب وہ عورت دوسرے سے شادی کر سکتی ہے۔

لیکن قرآن مجید میں نکاح ، ایلا، خلع ، رجعت، حلالہ وغیرہ کے متعلق کیسے پر از حکمت احکام دیئے ہیں۔ جن سے عورت اور مرد کے حقوق کی پوری حفاظت ہوتی ہے۔ تورات کے مقابل قرآن مجید الکتاب والحکمت ہے۔ ارتقاء یہ ہے کہ الکتاب والحکمت کی ایک مثال پیش کر دی۔

اس کے بعد یہی آیت ہے جو اس وقت موضوع بحث ہے۔ یعنی ”ويعلمه الكتاب والحكمة والتوراة والانجیل“ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے وقت میں الکتاب اور الحکمہ کی تعلیم دی۔ اس کا جواب بھی قرآن کریم نے خود ہی بتا دیا جیسا کہ پہلے مذکور ہے اور آگے بھی آتا ہے۔

آگے جا کر سورۂ آل عمران میں کتاب اور حکمت کا لفظ مشترک آیا ہے۔ لیکن الکتاب والحکمت نہیں فرمایا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ آیت یہ ہے: ”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاء كم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه قال اقررتم واخذتم على ذالكم اصرى، قالوا اقررنا قال فاشهد وانا معكم من الشاهدين“ اور جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور حکمت سے پھر آوے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتاوے جو کچھ تمہارے پاس ہو تو اس رسول پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔ فرمایا کہ کیا تم نے اقرار کیا اور ان باتوں پر جو ہم نے تم سے اقرار لیا۔ تم نے میرے عہد کا بوجھ اٹھا لیا سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا ، ارشاد ہوا (اچھا) تو تم ( آج کے قول و قرار ) آپس میں ایک دوسرے کے گواہ رہنا اور تمہارے ساتھ میں

٤٧

صفحہ ٢٨٩

بھی ایک گواہ ہوں۔﴿

اس آیت کے مختلف معنی لئے گئے ہیں۔ جن کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن آیت مبارکہ سے اتنا تو ظاہر ہے کہ دوسرے نبیوں کو الکتاب اور الحکمہ نہیں دی گئی۔ بلکہ اس سے میں سے کچھ حصہ دیا گیا اور وہ ایک دوسرے کے مصدق تھے۔ اس کے دو آیتوں کے بعد ان پیغمبروں کا نام لے دیا جن کو کتاب وحکمت کا حصہ ملا۔

اس کے بعد سورۂ آل عمران میں یوں آیا ہے: ”افمن اتبع رضوان الله كمن باء بسخط من الله و ماؤه جهنم وبئس المصير، هم درجت عند الله و الله بصير بما يعملون، لقد من الله على المؤمنين اذ بعث فيهم رسولا من انفسهم يتلوا عليهم آياته و يزكيهم ويعلمهم الكتب والحكمة وان كانوا من قبل لفى ضلال مبین “ ﴿ بھلا وہ شخص خدا کی خوشنودی کا پابند ہو گیا وہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو خدا کے غضب میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے۔ وہ لوگ خدا کے ہاں مختلف درجوں کے ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ خدا نے تو ایمان داروں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے واسطے انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا جو انہیں خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان (کی طبیعت) کو پاکیزہ کرتا ہے اور انہیں کتاب (خدا) اور عقل کی باتیں سکھاتا ہے۔ اگرچہ وہ پہلے کھلی گمراہی میں (پڑے) تھے۔﴿

یعنی اللہ تعالیٰ کا مومنوں پر کمال احسان ہے کہ وہ حضور ﷺ کی تعلیم اور تابعداری سے نہ صرف شرک سے پاک ہوتے ہیں بلکہ ان کو اعلیٰ سے اعلیٰ مراتب ملتے ہیں۔ جو رضوان کا مفہوم ہے۔ جیسا کہ سورۂ التوبہ میں فرماتا ہے:

”وعدالله المؤمنين والمؤمنات جنات تجرى من تحتها الانهار خالدين فيها ومساكن طيبة في جنات عدن ورضوان من الله اكبر ذلك هو الفوز العظیم “ ﴿ وعدہ دیا ہے اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں کا کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں، رہا کریں انہی میں اور ستھرے مکانوں کا رہنے کے باغوں میں اور رضامندی اللہ کی ان سب سے بڑی ہے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔﴿

گویا الکتاب اور حکمت سے ہی رضوان اللہ اور فوز عظیم حاصل ہو سکتی ہے۔ یہی ارتقاء

ہے۔ آگے سورۃ النساء میں یوں آتا ہے: ”ام یحسدون الناس على ما آتاهم الله من فضله فقد آتينا آل ابراهيم الكتاب والحكمة و آتيناهم ملكا عظيما “ ﴿ کیا حسد کرتے ہیں جو اپنے فضل سے (تم) لوگوں کو عطا فرمایا ہے اللہ نے۔ پس ہم نے دی ابراہیم کی آل کو میں کتاب اور حکمت اور ان کو دی ہے بڑی سلطنت۔﴿

یعنی کیا یہود حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ پر اس بات کے لئے کہ خدا نے ان کو حسد میں مرے جاتے ہیں۔ یہ تو ان کی بیہودگی ہے۔ کیونکہ ہم نے تو ابراہیم کی آل (یعنی بنی اسرائیل گھرانے میں ہی (یعنی حضور ﷺ کو) کتاب وحکمت دے کر مبعوث فرمایا ہے۔ پس یہ لوگ آل ابراہیم کے گھرانے میں رہی ہیں۔ یہودی کیوں حسد کرتے ہیں۔

اس آیت سے مراد بعض لوگوں نے یہ لی ہے کہ آل ابراہیم سے خود حضور ﷺ کی ذات علیہ السلام و دیگر کو نبوت اور ملک عظیم عطاء ہوا تھا۔ مگر یہ آیت بنی اسرائیل کے متعلق بیان کر رہی ہے۔ ”قد آتینا“ کے معنی میں شک ہو تو دیکھو کہ یہود جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے کہتے ہیں ”قد قامت الصلوۃ“ اس سے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ یہود اپنے آپ کو پاک دیناوی کامیابی کا ذکر فرما دیا۔ یہی ارتقاء ہے۔ آگے سورۃ النساء میں ہی ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”ولولا فضل الله عليك ورحمته لهمت طائفة منهم ان يضلوك وما يضلون الا انفسهم ومايضرونك من شئ وانزل الله عليك الكتاب والحكمة وعلّمك مالم تكن تعلم وكان فضل الله عليك عظيما “ ﴿ اور اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تو قصد کر ہی چکی تھی ان میں ایک جماعت کہ تم کو بہکا دے، اور وہ نہیں بہکاتے مگر اپنے آپ کو اور تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ نے اتاری تجھ پر کتاب اور حکمت اور سکھا دیا تجھے جو کچھ تو نہ جانتا تھا اور اللہ کا فضل تجھ پر بڑا ہے۔ ﴿

یہ آیت مبارکہ ایک چور اور اس کے طرفداروں کے متعلق نازل ہوئی جنہوں نے الزام ایک چور نے جھوٹا الزام لگا دیا تھا۔ حالانکہ اس نے خود چوری کی تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اصلیت کو ظاہر کر دیئے۔ اس واقعہ کے متعلق یہ آیت اور دیگر آیات اس سے پہلے اور اس کے بعد والی نازل ہوئی ہیں اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت سے حضور ﷺ پر کتاب اور حکمت نازل ہوئی۔ اگر اللہ تعالیٰ فضل و رحمت نہ کرتا اور بیان کرنا آپ کی عظمت شان اور عصمت کا اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا اظہار ہے۔

صفحہ ٢٨٩

ہے ۔ آگے سورۂ النساء میں یوں آتا ہے: ’’ام یحسدون الناس علی مااتاھم اللہ من فضلہ فقد اتینا ال ابراھیم الکتاب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیما ‘‘ ﴿ یا حسد کرتے ہیں لوگوں پر اس پر جو اللہ نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے سو ہم نے تو دی ہے ابراہیم کے خاندان کو کتاب اور حکمت اور ان کو دی ہے بڑی سلطنت ۔﴾

یعنی کیا یہود حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے اصحاب پر اللہ کے فضل و کرم کو دیکھ کر حسد میں مرے جاتے ہیں۔ یہ تو ان کی بیہودگی ہے۔ کیونکہ ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھرانے میں ہی (یعنی حضور ﷺ کو) کتاب وحکمت اور سلطنت عطا کی ہے۔ یعنی یہ چیزیں ابراہیم کے گھرانے میں رہی ہیں۔ یہودی کیوں حسد کرتے ہیں۔ وہ بھی تو آل ابراہیم ہیں۔

اس آیت سے مراد بعض لوگوں نے یہ لی ہے کہ حضرت محمد ﷺ سے پہلے حضرت داؤد علیہ السلام و دیگر کو نبوت اور ملک عظیم عطا ہوا تھا۔ مگر یہ آیت بلحاظ سیاق و سباق پہلے معنوں کو ظاہر کر رہی ہے۔ ”قد اتینا“ کے معنی میں شک ہو تو دیکھو ”قد افلح المؤمنون “ اور ہم ہر روز کہتے ہیں ”قد قامت الصلوٰۃ“ اس سے پہلی آیت میں ”رضوان اللہ “ کا ذکر تھا اور یہاں دنیاوی کامیابی کا ذکر فرما دیا۔ یہی ارتقاء ہے۔ آگے سورۂ النساء میں یوں آیا ہے:

’’ ولولا فضل اللہ علیک ورحمتہ لھمت طائفۃ منھم ان یضلوک وما یضلون الا انفسھم وما یضرونک من شی و انزل اللہ الکتاب والحکمۃ وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما ‘‘ ﴿اور اگر نہ ہوتا تجھ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تو قصد کر ہی چکی تھی ان میں ایک جماعت کہ تجھ کو بہکا دیں اور بہکا نہیں سکتے مگر اپنے آپ کو اور تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ نے اتاری تجھ پر کتاب حکمت اور تجھ کو سکھائیں وہ باتیں جو تو نہ جانتا تھا اور اللہ کا فضل تجھ پر بڑا ہے۔﴾

یہ آیت مبارکہ ایک چور اور اس کے طرف داروں کے متعلق ہے۔ ایک یہودی پر ایک چور نے جھوٹا الزام لگا دیا تھا۔ حالانکہ اس نے خود چوری کی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے واقعات حضور پر ظاہر کر دیئے۔ اس واقعہ کے متعلق یہ آیت اور دیگر آیات متعلقہ نازل ہوئیں جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت سے حضور ﷺ پر کتاب اور حکمت نازل ہوئی جس سے مراد ہے بیان کرنا آپ کی عظمت شان اور عصمت کا اور اللہ کے فضل اور کمال علمی کا اور اللہ کا فضل آپ پر

٤٩

صفحہ ٢٩١

بے نہایت ہے جو ہمارے بیان اور ہماری سمجھ میں نہیں آسکتا۔ اس لئے جو کچھ حضورﷺ نے فرمایا ہے اس کا ان کی عظمت اور تقدس کو ملحوظ رکھ کر اس پر غور کرنا چاہئے اور مخالفت سے گریز کرنا چاہئے۔ آگے سورۃ المائدہ میں یوں آیا ہے:

"واذقال الله يعيسى بن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى والدتك اذ ايدتك بروح القدس تكلم الناس فى المهد وكهلا واذ علمتك الكتب والحكمة والتوراة والانجيل (١١٠)" ﴿جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ! مریم کے بیٹے یاد کر میرا احسان جو ہوا تجھ پر اور تیری ماں پر مدد کی میں نے تیری روح پاک سے، تو کلام کرتا تھا لوگوں سے گود میں اور بڑی عمر میں اور سکھائی میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل۔﴾

یہ گفتگو قیامت کے روز کی ہے۔ اس کی نسبت پھر بیان کیا جائے گا۔ جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت کے متعلق آیات کا ارتقاء ظاہر کیا جائے گا۔ یہاں یہ فرمایا ہے کہ ہم نے تجھ کو کتاب اور حکمت سکھائی تھی۔ وہی سوال باقی رہتا ہے کہ انہوں نے اپنے وقت میں کتاب اور حکمت کی تعلیم دی تھی۔ اس کا جواب آگے آئے گا چونکہ دوبارہ وہی الفاظ یعنی "الكتاب والحكمة" تورات اور انجیل آئے ہیں۔ اس لئے امید رکھنی چاہئے کہ آئندہ مضمون بدلے گا۔

آگے الکتاب والحکمتہ کا لفظ سورۃ جمعہ یوں آیا ہے: "يسبح لله ما فى السموات والارض الملك القدوس العزيز الحكيم، هو الذى بعث فى الاميين رسولا منهم يتلوا عليهم اياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفى ضلل مبين واخرين منهم لما يلحقوا بهم وهو العزيز الحكيم . ذالك فضل الله يوتيه من يشاء والله ذوالفضل العظيم " ﴿جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ جو (حقیقی) بادشاہ پاک ذات، غالب حکمت والا ہے۔ وہی تو ہے جس نے جاہلوں میں اُن ہی میں ایک رسول (محمدؐ) بھیجا۔ جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور ان کو کتاب اور عقل کی باتیں سکھاتے ہیں۔ اگرچہ اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں (پڑے ہوئے) تھے اور ان میں سے ان لوگوں کی طرف بھی (بھیجا) جو ابھی تک ان سے ملحق نہیں ہوئے اور وہ تو غالب حکمت والا ہے۔ یہ خدا کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور خدا تو بڑے فضل و کرم کا مالک ہے۔﴾

٥٠

یہاں ارتقاء یہ ہے کہ حضور کی یہ تعلیم اور حکمت بلکہ عرب و عجم (آخرین منہم) میں پھیل جائے گی۔ ماحصل جیسے میں پہلے پڑھ چکا ہوں۔ قرآن اور آنحضرتﷺ دوسرے پیغمبروں کو دیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مانگی تھی کہ ہماری نسل سے ایک ایسا پیغمبر ہو جو اللہ کی آیات دے تو گویا ان کو معلوم تھا کہ الکتاب والحکمتہ کیا ہے۔ دوس ایک نکتہ بیان کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے یہ دعا مانگی جو تیری آیتیں ان کو پڑھ کر سنائے اور الکتاب والحکمت کی گویا ان کی دعا کا منشاء یہ تھا کہ وہ آیات اور بن جائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جب یہ دعا قبول فرمائی تو اس سناتا ہے ہماری آیات اور تمہیں پاک باز بناتا ہے اور سکھا نہیں جانتے تھے کہ تم پہلے صریح گمراہی میں تھے۔"

جیسا کہ میں نے ارتقائی نوٹ میں لکھا ہے صرف عاقبت میں ایک بڑی کامیابی نصیب ہوگی بلکہ اور یہ تعلیم عرب تک محدود نہیں ہوگی۔ بلکہ عرب و عجم میں علیہ السلام کو انجیل ملی لیکن انہوں نے اپنی پیغمبری کے زمان

"ولما جاء عيسى بالبينات قا بعض الذى تختلفون فيه فاتقوالله واطيع میں لایا ہوں تمہارے پاس حکمت اور بتلانے کو بعض ان اللہ سے اور میرا کہنا مانو۔﴾

یہ ہے لب لباب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دی۔ دیگر الکتاب والحکمتہ کی تعلیم کا ذکر صرف ایک قرآن میں آیا ہے یا حضورﷺ کی امت کے متعلق عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے زمانے میں صرف الحکمتہ

٥١

صفحہ ٢٩١

یہاں ارتقاء یہ ہے کہ حضور کی یہ تعلیم اور حکمت صرف عرب تک ہی محدود نہ رہے گی۔ بلکہ عرب و عجم (آخرین منہم) میں پھیل جائے گی۔ ماحصل ان آیات کا یہ ہے کہ الکتاب والحکمتہ جیسے میں پہلے پڑھ چکا ہوں۔ قرآن اور آنحضرت ﷺ کی تعلیم ہے۔ جس کا علم حسب مراتب دوسرے پیغمبروں کو دیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ دعا مانگی تھی کہ ہماری نسل سے ایک ایسا پیغمبر ہو جو اللہ کی آیات پڑھ کر سنائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے تو گویا ان کو معلوم تھا کہ الکتاب والحکمتہ کیا ہے۔ ورنہ وہ ایسی دعا کیوں مانگتے۔ لیکن یہاں ایک نکتہ بیان کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے یہ دعا مانگی کہ ”پروردگار! انہی میں کا ایک رسول بھیج جو تیری آیتیں ان کو پڑھ کر سنائے اور الکتاب والحکمت کی تعلیم دے اور پاک کرے ان کو۔“

گویا ان کی دعا کا منشاء یہ تھا کہ وہ آیات اور کتاب و حکمت کی تعلیم کے بعد پاک باز بن جائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جب یہ دعا قبول فرمائی تو یوں کہا ”ہم نے بھیجا تم کو رسول جو پڑھ کر سناتا ہے ہماری آیات اور تمہیں پاک باز بناتا ہے اور سکھاتا ہے تم کو کتاب اور حکمت اور وہ علم جو تم نہیں جانتے تھے کہ تم پہلے صریح گمراہی میں تھے۔“

جیسا کہ میں نے ارتقائی نوٹ میں لکھا ہے کہ اس تعلیم کے حاصل کرنے والوں کو نہ صرف عاقبت میں ایک بڑی کامیابی نصیب ہوگی بلکہ انہیں اس دنیا میں بھی بڑی سلطنت ملے گی اور یہ تعلیم عرب تک محدود نہیں ہوگی۔ بلکہ عرب و عجم میں پھیلے گی۔ جیسا کہ ہو رہا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل ملی لیکن انہوں نے اپنی پیغمبری کے زمانے میں یوں کہا ، سورۂ زخرف: ” ولما جاء عیسیٰ بالبینات قال قد جئتکم بالحکمة ولابین لکم بعض الذی تختلفون فیہ فاتقوا الله واطیعون. “ ”جب آیا عیسیٰ نشانیاں لے کر بولا میں لایا ہوں تمہارے پاس حکمت اور بتلانے کو بعض وہ چیزیں جس میں تم جھگڑ رہے تھے۔ سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو۔ ﴾

یہ ہے لب لباب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم کا جو انہوں نے اپنے وقت میں دی۔ دیگر الکتاب والحکمتہ کی تعلیم کا ذکر صرف ایک پیغمبر یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت قرآن میں آیا ہے یا حضور ﷺ کی امت کے متعلق۔ لہٰذا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے زمانے میں صرف حکمت کی تعلیم دی اور الکتاب والحکمتہ کی تعلیم نہیں

٥١

صفحہ ٢٩٢

دی تو یہ تعلیم وہ اسی وقت دیں گے جب ان کا ظہور اس امت میں ہو گا اور وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لا کر اسلام کی امداد کریں گے۔

معجزات حضرت عیسیٰ علیہ السلام

اس کے بعد جس موضوع پر لکھنا چاہتا ہوں وہ معجزات عیسیٰ ہیں۔ ان کے معجزات حسب ذیل بیان ہوئے ہیں: ”کہ میں گارے سے پرندے کی شکل بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے اڑتا جانور بن جاتا ہے۔ اچھا کرتا ہوں مادرزاد اندھے اور کوڑھی اور مردے زندہ کرتا ہوں اللہ کے حکم سے۔“

بعض مادہ پرست اور دیگر اصحاب کئی وجوہ سے اس آیت سے یہ مراد لیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حقیقتاً مردے زندہ نہیں کرتے تھے اور دیگر معجزات بھی ان سے صادر نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ یہ ایک روحانی فعل تھا۔ بعض کے خیال میں ایسا ہونا خلاف فطرت ہے یا دیگر قرآنی آیات کے خلاف ہے۔ پس اس کے معنی یہی لئے جائیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عمل روحانی طور پر صادر ہوا۔

میری رائے میں یہ اعتراضات قابل پذیرائی نہیں ہیں۔ کئی ایک وجوہات کی بناء پر۔ سوال یہ ہے کہ ”احیاء موتی “ کا لفظ صرف اصلی معنوں میں استعمال ہوا ہے یا مجازی معنوں میں؟ ”موتی “ میت کی جمع ہے جس کے معنی مردہ انسان کے ہیں۔ قرآن مجید میں موتی کا لفظ پہلے پہل سورۃ بقرہ میں یوں آیا ہے:

”واذ قتلتم نفسا فادرء تم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون، فقلنا اضربوہ ببعضھا، کذلک یحیی اللہ الموتی ویریکم ایاتہ لعلکم تعقلون “ اور جب مار ڈالا تم نے ایک شخص کو، پھر لگے ایک دوسرے پر الزام دھرنے اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا جو تم چھپاتے تھے پھر ہم نے کہا مارو اس مردے پر اس گائے کا ایک ٹکڑا، اسی طرح زندہ کرے گا اللہ مردوں کو اور دکھاتا ہے تم کو اپنی قدرت کے نمونے تا کہ تم غور کرو۔

قرآن کریم میں اس سے پہلے وہ کج بحثی بیان کی گئی ہے جو یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ ایک گائے ذبح کرو تو انہوں نے عجب لیت و لعل شروع کی اور بڑی مشکل سے ذبح کی۔ اسی وقت ایک آدمی قتل کیا گیا تھا۔ لیکن قاتل کا پتہ نہیں تھا۔ وہ ایک دوسرے پر الزام دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی معرفت حکم دیا کہ اس ذبح شدہ گائے کے گوشت کا ایک ٹکڑا لو اور اس مردے کو اس سے

٥٢

صفحہ ٢٩٣

ضرب لگاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ مردہ زندہ ہو گیا۔

آیت مبارکہ میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اسی طرح زندہ کرے گا اللہ مردوں کو قیامت کے دن اور اپنی قدرت کی نشانیاں تم کو دکھاتا ہے کہ شاید تم غور کرو اور سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے۔‘‘

اب اس واقعہ کے نہ ماننے والوں کی تفسیر ذرا ملاحظہ ہو۔ مولوی محمد علی صاحب تفسیر میں ترجمہ کرتے ہیں: ’’اور جب تم نے ایک شخص کو (اپنی طرف سے) قتل کر دیا اور پھر آپس میں اس (قتل) میں اختلاف کیا اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا جو تم چھپاتے تھے۔ پس ہم نے کہا کہ اس کو اس کے بعض سے مارو۔ اس طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تا کہ تم عقل سے کام لو۔

”فقلنا اضربوہ ببعضھا“ کی آگے تفسیر یوں کرتے ہیں اور معنی بھی ایسے ہی کرتے ہیں۔ یعنی بعض قتل سے اس کو مارو یا عمل قتل اس پر پورا نہ وارد ہونے دو۔

ان کے خیال میں اس آیت میں اشارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ہے جن کو صلیب دی گئی ہے۔ لیکن پورے طور پر صلیب پر ان کی موت واقع نہیں ہوئی۔ کیونکہ ان کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں۔ جو تفسیر قرآن کی انگریزی ١٩١٥ء میں قادیان سے مرزا بشیر الدین کے زیر ہدایت شائع ہوئی۔ اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے: ’’اور یاد کرو جب تم نے تقریباً ایک آدمی کو مار دیا اور آپس میں اس پر اختلاف کیا اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا جو تم لوگ چھپاتے تھے۔ تب ہم نے کہا مارو اس کو بوجہ اس کے گناہ کے ایک حصہ۔ (ص ٦٠ ، ٦١)

اور تفسیر میں اس کی وضاحت یہ کی کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اسرائیلیوں کو سزا دو کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ معلوم نہیں ہوتا کہ ایسی من گھڑت تفسیر کو کیا کہیں۔ آیا یہ تاویل بعید ہے یا تحریف یا ایک خیالی بات ہے۔ اس پر کچھ اور لکھنا بے سود ہے کیوں کہ اس.... تفسیر میں تفسیر کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ یعنی نہ تو الفاظ کے اصلی معنی لئے ہیں نہ مجازی۔

لفظ ”قتلتم“ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ قتل واقعی وقوع پذیر ہو چکا تھا۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں اس کے یہ معنی کرنے کی کہ ”اپنی طرف سے قتل کر دیا“ اسی طرح ”فقلنا اضربوہ

٥٣

صفحہ ٢٩٤

ببعضها“ کے معنی بھی کج ادائی سے بیان کئے ہیں۔ اس میں معنی بیان کرتے وقت سیاق و سباق کا بالکل لحاظ نہیں رکھا گیا نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس کی اگلی آیتوں میں ذکر ہے اور نہ یہ تفسیر وہاں چسپاں ہو سکتی ہے۔ اس سے تو یہ بہتر تو سرسید کی تفسیر بالرائے تھی۔ جنہوں نے قلتم کا ترجمہ تو یہی کیا کہ واقعہ قتل ہو چکا ہے لیکن ” فقلنا اضربوہ ببعضها “ کی انہوں نے یہ تفسیر کی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قاتل معلوم کرنے کی یہ تجویز بتائی کہ لوگوں کو کہو کہ اس مردے کو ہاتھ لگائیں اور اس طرح جو قاتل ہو گا اس نے ڈر کے مارے ہاتھ نہ لگایا ہو گا اور یوں قاتل کا پتہ چل گیا لیکن انہوں نے باقی ترجمہ عجیب طرح کیا ہے:

”پھر ہم نے کہا کہ اسی مقتول کو اسی کے ٹکڑے یعنی اعضاء سے مارو اور اس طرح اللہ زندہ کرتا ہے (یعنی ظاہر کر دیتا ہے) مرے ہوئے (یعنی نامعلوم قاتل) کو اور اپنی نشانیاں تم کو دکھاتا ہے تا کہ تم سمجھو۔“

یہ ہے تفسیر بالرائے کا نتیجہ۔ اللہ کی قدرت کو نہ ماننے والوں کا یہی حال ہے مجھے تو تعجب ہوتا ہے مولوی محمد علی کی تفسیر پر جس میں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہر معجزہ کے بارے میں تاویل کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حضورؐ سے شق القمر کا معجزہ واقع ہوا اور کہ حنانا (وہ لکڑی جس سے حضرت محمد ﷺ پشت مبارک لگا کر بیٹھے تھے) سے آواز آئی جب کہ حضورؐ نے اس کے ساتھ تکیہ لگانا چھوڑ دیا اور منبر پر وعظ فرمانے لگے۔

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ایک نمونہ دکھایا ہے کہ وہ کس طرح ایک مردہ کو زندہ کر سکتا ہے۔ طوالت کے خوف سے اسی توضیح پر اکتفاء کرتا ہوں۔

اس کے بعد ”موتٰی“ کا لفظ البقرہ میں یوں آیا ہے:

”اوکالذی مر علی قریۃ وھی خاویۃ علی عروشہا قال انی یحی ہذہ اللہ بعد موتہا فاماتہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہ قال کم لبثت قال لبثت یوما اوبعض یوم، قال بل لبثت مأۃ عام فانظر الی طعامک وشرابک لم یتسنہ وانظر الی حمارک ولنجعلک آیۃ للناس وانظر الی العظام کیف ننشزہا نکسوہا لحما، فلما تبین لہ قال اعلم ان اللہ علی کل شی قدیر، واذ قال ابراہیم رب ارنی کیف تحی الموتٰی قال اولم تؤمن، قال بلی ولکن لیطمئن

٥٤

قلبی قال فخذ اربعة من الطیر جزء اثم ادعهن یاتینک سعیا، واع (اے رسول) تم نے (ا ہو کر) گزرا، اور وہ ایسا اجڑا ہوا تھا کہ اپن اللہ اب اس گاؤں کو (ایسی) ویرانی کے اور) سو برس تک مردہ رکھا پھر اس کو جلا ا دن پڑا رہا۔ یا ایک دن سے بھی کم، فرما اپنے کھانے پینے ( کی چیزوں) کو دیکھ کہ (اس کی ہڈیاں ڈھیر پڑی ہیں اور کا نمونہ بنائیں اور اچھا اب اس گدھے بناتے ہیں پھر اس پر گوشت چڑھاتے (اب) میں یہ یقین کامل جانتا ہوں جب ابراہیم علیہ السلام نے (خدا دکھا دے کہ تو مردہ کو کیونکر زندہ کرتا السلام نے عرض کیا (کیوں نہیں) یقی کو پورا اطمینان ہو جائے۔ فرمایا (ا اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو۔ پھر ہر پہا تو کیونکہ وہ سب کے سب تمہارے غالب اور حکمت والا ہے۔ ﴾ ان آیات سے ظاہر ہ اور ان کے گدھے کو ان کے سامنے توں باقی رکھا اور پیغمبر کا یہ جواب ہی ہے جیسا کہ بعض اہل محشر کہیں دوسری صورت میں

صفحہ ٢٩٥

قلبی قال فخذ اربعة من الطیر فصرهن الیک ثم اجعل علی کل جبل منهن جزءا ثم ادعهن یاتینک سعیا، واعلم ان الله عزیز حکیم“ ﴿ (اے رسول) تم نے (اس بندے کے حال) پر بھی نظر کی جو ایک گاؤں پر (سے ہوکر) گزرا، اور وہ ایسا اجڑا ہوا تھا کہ اپنی چھتوں پر ڈھے کر گر پڑا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ بندہ (کہنے لگا) اللہ اب اس گاؤں کو (ایسی) ویرانی کے بعد کیونکر آباد کرے گا۔ اس پر خدا نے اس کو (مار ڈالا اور) سو برس تک مردہ رکھا پھر اس کو جلا اٹھایا (تب) پوچھا تم کتنی دیر پڑے رہے؟ عرض کی کہ ایک دن پڑا رہا۔ یا ایک دن سے بھی کم ، فرمایا نہیں ! تم (اسی حالت میں) سو برس پڑے رہے اب ذرا اپنے کھانے پینے ( کی چیزوں) کو دیکھو کہ ابھی تک نہیں اور ذرا اپنے گدھے (سواری) کو تو دیکھو کہ (اس کی ہڈیاں ڈھیر پڑی ہیں اور سب اس واسطے کیا ہے) تا کہ لوگوں کے لئے تمہیں قدرت کا نمونہ بنائیں اور اچھا اب اس گدھے کی ہڈیوں کی طرف نظر کرو کہ ہم کیونکر ان کو جوڑ جاڑ ڈھانچہ بناتے ہیں پھر اس پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ پس جب ان پر ظاہر ہوا تو بے ساختہ بول اٹھے کہ (اب) میں بہ یقین کامل جانتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے اور (اے رسول وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب ابراہیم علیہ السلام نے (خدا سے) درخواست کی کہ اے میرے پروردگار تو مجھے بھی تو دکھا دے کہ تو مردہ کو کیونکر زندہ کرتا ہے۔ خدا نے فرمایا کیا تمہیں (اس کا) یقین نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا (کیوں نہیں) یقین تو ہے مگر آنکھ سے دیکھنا اس لئے چاہتا ہوں کہ میرے دل کو پورا اطمینان ہو جائے۔ فرمایا (اچھا) اگر یہ چاہتے ہو تو چار پرند لو اور ان کو اپنے پاس منگوالو اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو۔ پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک رکھ دو اس کے بعد ان کو بلاؤ۔ پھر دیکھو تو کیونکہ وہ سب کے سب تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آتے ہیں اور سمجھ رکھو کہ خدا بے شک غالب اور حکمت والا ہے۔ ﴾

ان آیات سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ایک پیغمبر کو سو سال کے بعد زندہ کیا اور ان کے گدھے کو ان کے سامنے زندہ کر کے دکھا دیا۔ اتنی مدت مدید تک طعام و شراب کو جوں کا توں باقی رکھا اور پیغمبر کا یہ جواب کہ وہ اس حالت میں ایک دن یا دن کا بعض حصہ رہے ہیں۔ ایسا ہی ہے جیسا کہ بعض اہل محشر کہیں گے۔

دوسری صورت میں کس طرح اللہ تعالیٰ نے ٤ پرندوں کو جو قیمہ کئے ہوئے تھے۔ زندہ

٥٥

صفحہ ٢٩٧

کر دکھایا۔ ان واقعات پر بھی خدا کی قدرت پر شک کرنے والوں نے مختلف قسم کی رائے زنی کی ہے۔ مگر امر اول کی نسبت میں یہ کہوں گا کہ اگر بقول ان لوگوں کے یہ ایک خواب یا عالم رویاء کا واقعہ تھا تو ان الفاظ کے کیا معنی ہیں : ”وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ“ کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے۔ ان میں سے ہر ایک صاحب ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے ان الفاظ کی تفسیر کو چھوڑ جاتے ہیں۔ آیت میں تو یہی صورت واقعہ ہے کہ سو سال مردہ رہ کر انہیں زندہ کیا گیا۔

روح المعانی میں بروایت حاکم، حضرت علیؓ اور بروایت اسحق بن بشر حضرت ابن عباس عبداللہؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ شخص حضرت عزیر علیہ السلام تھے۔ پرندوں کی نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے مارنے کا کوئی ذکر نہیں ”صرھن“ کے دونوں معنی ہیں، بلانا اور قیمہ کرنا۔

سرسید نے خوب لکھا ہے کہ اگر ہم یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کہا کہ چار پرندے لے لو اور ان کو اپنے پاس بلاؤ ان چاروں جانوروں کو ایک ایک کر کے چار پہاڑوں پر رکھ کے اور پھر ان کو آواز دے۔ تو وہ تیرے پاس آجائیں گے۔ تو یہ امر ایک بچوں کا کھیل ہے۔ سرسید نے کیا ہی خوب کہا ہے۔ اس واسطے سرسید نے کہا کہ یہ رویا کا واقعہ ہے۔ الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ رویا کے متعلق یہاں کوئی قرینہ نہیں ہے۔

میرے خیال میں تو لفظ ”سَعْياً“ ظاہر کر رہا ہے کہ ان پرندوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے تھے۔ کیونکہ سعی کے معنی دوڑنے اور تیزی سے چلنے کے۔ قرآن کریم میں بھی کئی جگہ یہ لفظ انہی اپنے اصلی معنوں میں آیا ہے۔ اگر وہ جانور زندہ ہوتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ ان کے لئے لفظ ”طیرانا“ یا ایسا ہی کوئی اور لفظ نہ آتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ٹکڑے دوڑتے ہوئے آئے اور اللہ کی قدرت سے یہ مل کر پرندے بن گئے اور الفاظ عزیز حکیم اس کی مزید تائید کرتے ہیں۔

بعض عیسائیوں کا یہ اعتراض کہ مردے دنیا میں زندہ نہیں ہوتے، خود بائبل کے خلاف ہے اور ان کے اپنے عقیدہ کے خلاف ہے۔ دیکھو کتاب حزقیل میں سینکڑوں مردوں کا زندہ ہونا مذکور ہے اور کتاب ٢ تاریخ کے تیرہویں باب اور ٢١ درس میں ہے کہ الیسع نبی کی قبر میں لوگوں نے ایک مردہ کو ڈال دیا اور جب وہ شخص گر گیا اور الیسع کی ہڈیوں سے لگا تو جی اٹھا اور پاؤں پر کھڑا ہوا۔

اس کے بعد ”موتٰی“ کا لفظ آل عمران کی اسی آیت میں ہے جس کا ذکر میں کر رہا ٥٦

ہوں۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ جس کے الفاظ ہیں: ” میں شک کو رفع کرنے کے لئے سورۃ المائدہ میں قیامت ک بیان کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہا جائے گا: ”ا ﴿ جب نکال کھڑا کرتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے۔ ﴾ بائبل میں بھی ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلا زندہ کر دیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ”أُحْيِ الْمَوْتٰى“ ا ”تُخْرِجُ الْمَوْتٰى“ پر آتے ہیں تو چپکے سے بغیر تشریح ت اور تفسیر نہیں ہو سکتی۔

پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت س گوشت کا ٹکڑا لگانے سے زندہ کر دیا جس نے قاتل کا پ قدرت کو اس طرح دکھایا کہ ١٠٠ سال کے بعد اسی انسان ک سامنے زندہ کیا اور کھانے پینے کی چیزوں کو بھی سڑنے س السلام کے سامنے پرندوں کو زندہ کر کے دکھایا۔ اس س ہے کہ وہ اپنے کسی بندے کو یہ شرف بخشے کہ وہ مردوں ک حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔

قرآن کے الفاظ سے صاف ظاہر ہو رہا ہ اندھوں اور کوڑھیوں کو اچھا کر دیتے تھے اور مردوں کو ز بھی پیش کر دی گئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعی ع کہ وہ انسانوں اور دیگر جانداروں کے زندہ کرنے س نہیں کہ ہم نہ مانیں کہ ایسا ہوا ہے یا ان کی تاویل یہ کر ی ہوا۔

کیونکہ اگر ایسی تاویل کریں تو ایک اور جا یہ ہے کہ جب لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ حضرت عیس مرقس اور متی کی کتابوں میں کئی جگہ پر یہ ذکر ہے ک ٥٧

صفحہ ٢٩٧

ہوں۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ جس کے الفاظ ہیں: ”واحی الموتی باذن اللہ“ اور اس میں شک کو رفع کرنے کے لئے سورۃ المائدہ میں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعامات بیان کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہا جائے گا: ”واذ تخرج الموتی باذنی“ (اور جب نکال کھڑا کرتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے۔)

بائبل میں بھی ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے قبر میں سے تین دن کے مردہ کو بھی زندہ کر دیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ”احی الموتی“ کے معنی روحانی زندگی کرنے والے جب ”تخرج الموتی“ پر آتے ہیں تو چپکے سے بغیر تشریح کے گزر جاتے ہیں۔ کیونکہ ان الفاظ کی کوئی اور تعبیر نہیں ہو سکتی۔

پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ایک مقتول کو ایک ذبح شدہ گائے کے گوشت کا ٹکڑا لگانے سے زندہ کر دیا جس نے قاتل کا پتہ دیا۔ دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کو اس طرح دکھایا کہ ١٠٠ سال کے بعد ایک انسان کو زندہ کیا اور ایک چوپائے کو بھی اس کے سامنے زندہ کیا اور کھانے پینے کی چیزوں کو بھی سڑنے گلنے سے روکے رکھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے پرندوں کو زندہ کر کے دکھایا۔ اس کے بعد یہ دکھایا کہ اس کو یہ بھی قدرت حاصل ہے کہ وہ اپنے کسی بندے کو یہ شرف بخشے کہ وہ مردہ انسان کو اس کے حکم سے زندہ کر دے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔

قرآن کے الفاظ سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حکم الٰہی سے اندھوں اور کوڑھیوں کو اچھا کر دیتے تھے اور مردوں کو زندہ کر دیتے تھے اور قرآن سے دیگر آیات بھی پیش کر دی گئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعی اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کی قدرت حاصل ہے اور یہ کہ وہ انسانوں اور دیگر جانداروں کے زندہ کرنے سے اپنی قدرت کا اظہار کرتا رہا ہے۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم نہ مانیں کہ ایسا ہوا ہے یا ان کی تاویل یہ کریں کہ یہ روحانی طور پر تھا یا عالم رویا میں واقع ہوا۔

کیونکہ اگر ایسی تاویل کریں تو ایک اور ایسا اعتراض ہوگا جس کا کوئی جواب نہیں اور وہ یہ ہے کہ جب لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے معجزے دکھاتے تھے۔ لوقا، مرقس اور متی کی کتابوں میں کئی جگہ پر یہ ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایسے معجزات

٥٧

صفحہ ٢٩٩

دکھائے۔ اگر قرآن کریم کا یہ منشاء تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یہ معجزے نہیں تھے اور واقعی طور پر مردے زندہ نہیں ہوتے تھے۔ یا اندھے دیکھنے نہیں لگتے تھے تو قرآن کریم میں ان واقعات کو ایسے صریح الفاظ میں کیوں بیان کر دیا۔ معاذ اللہ خداوند کریم کا مقصد ان واضح الفاظ کے لانے سے دنیا کو ایک طرح کا دھوکہ دینا تھا۔ جس طرح قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یہ معجزے بیان نہیں کئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنات کو انسانوں سے نکالا کرتے تھے۔ جن کا اکثر اوقات ذکر متی، مرقس اور لوقا کی کتابوں میں آیا ہے۔ تو قرآن کریم نے یہ بھی کیوں نہ کہہ دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فی الواقع مردے زندہ نہیں کرتے تھے بلکہ صرف ہدایت دیتے تھے۔ جن سے ان کے مردہ دل زندہ ہو جاتے تھے یا قرآن کنایۃً بیان کر دیتا کہ ایسا ہوا ہے۔ مثلاً قرآن کریم میں یہ آیت آئی ہے:

"ان الذين كفروا سواء عليهم ءانذرتهم ام لم تنذرهم لا يؤمنون . ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة ولهم عذاب عظيم (بقرہ: ٦، ٧) " ﴿ بے شک جو لوگ کافر ہو چکے برابر ہے ان کو تو ڈرائے یا نہ ڈرائے ، وہ ایمان نہ لائیں گے۔ مہر کر دی اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ ﴾

عبارت خود بتا رہی ہے کہ دلوں پر مہر کرنے کے معنی یہاں یہ ہیں کہ وہ حق بات کو نہیں سمجھتے۔ کانوں کو مہر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ سچی بات کو متوجہ ہو کر نہیں سنتے اور آنکھوں پر پردے کے معنی یہ ہیں کہ راہ حق کو نہیں دیکھتے۔ یا یہ آیت: "يا ايها الذين آمنوا استجيبوا لله ورسول اذا دعاكم لما يحييكم (انفال: ٢٤) " ﴿ اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور رسول کا جس وقت بلاوے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمہاری زندگی ہے۔ ﴾

ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہاں موت کے بعد زندہ کرنا مراد نہیں بلکہ ایسے کام کی طرف دعوت دیتی ہے جس میں تمہارے لئے دنیا میں عزت اور اطمینان کی زندگی اور آخرت ابدی کا پیام ہے۔ پس مومنین کی شان ہے کہ خدا اور رسول کی دعوت پر لبیک کہے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو الفاظ بیان میں آئے ہیں یعنی : "تخرج الموتی" وغیرہ تو ان الفاظ کے سوائے لغوی معنوں کے اور دوسرے معنی نہیں لئے جاسکتے۔ مگر اس صورت میں کہ ضرور ہی تاویل کرنی ہے۔ حالانکہ تاویل کی گنجائش نہیں۔

٥٨

اس لئے نہ صرف الفاظ ہی ظاہر کر رہے ہ سے ایسے معجزات کا ہونا عیسائیوں کی کتابوں میں بھی م کریم جن باتوں کی تصدیق کرے تو کوئی وجہ نہیں ک جائے۔ آیات قرآنی کی رو سے ان معجزات پر ایمان ل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ رہنے یا آسمان پر جان

تشریح الفاظ متعلق آیت نمبر ٤

آگے ان الفاظ کی تشریح کی ضرورت ہے جو الماکرین (آل عمران: ٥٤) "مکر بمعنی لطیف ت تدبیر کی طرف اللہ کا اشارہ ہے۔" خیر الماکرین اس جگہ اور دوسرا سورہ انفال میں: "و اذ یمکر بک او یخرجوک ویمکرون ویمکر الله والله خ تھے کافر کہ تجھ کو قید کر دیں یا مار ڈالیں یا نکال دیں او وہی سب سے بہتر داؤ کرنے والا ہے۔ ﴾

سب کو معلوم ہے کہ یہ آیت مبارکہ ہجرت ک مشورہ کرنے کی بابت ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ ک جائے۔ کسی کی رائے تھی انہیں جلا وطن کر دیا جائے قبائل عرب میں سے ایک ایک جوان منتخب ہو اور سارے عرب سے لڑائی نہ کر سکیں اور خون بہا نہ دینا پ تھے مگر خدا کی تدبیروں کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔ حض حضرت علیؓ کو لٹا کر اس مجمع کی آنکھوں میں خاک جھ جب وہ اندر داخل ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ حضور ﷺ نے حضور ﷺ کے قتل کا مشورہ دیا تھا، جنگ بدر میں ا جیسا کہ ہر شخص تسلیم کرتا ہے، یہودیوں نے قتل کرا ایک حواری یہوداہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخب

اس کے آگے اختلاف آراء شروع ہ ہے۔ عیسائی یہ کہتے ہیں کہ ہمارے کفارے کے ل

٥٩

صفحہ ٢٩٩

اس لئے نہ صرف الفاظ ہی ظاہر کر رہے ہیں کہ واقعی ایسا ہوا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ایسے معجزات کا ہونا عیسائیوں کی کتابوں میں بھی درج ہے۔ بلکہ زبان زد خلائق بھی تھا۔ قرآن کریم جن باتوں کی تصدیق کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کو نہ مانا جائے اور خواہ مخواہ تاویل کی جائے۔ آیات قرآنی کی رو سے ان معجزات پر ایمان لانا ضروری ہے اور اگر ان پر ایمان لاوے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ رہنے یا آسمان پر جانے کے متعلق شبہات کی گنجائش نہیں رہتی۔

تشریح الفاظ متعلق آیت نمبر ٤

آگے ان الفاظ کی تشریح کی ضرورت ہے: ”ومکروا ومکر الله والله خير الماکرین (آل عمران: ٥٤) ”مکر“ بمعنی لطیف وخفیہ تدبیر بھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس تدبیر کی طرف اللہ کا اشارہ ہے۔ ”خیر الماکرین“ کا لفظ قرآن کریم میں دو جگہ آیا ہے۔ ایک اس جگہ اور دوسرا سورۂ انفال میں: ”واذ یمکر بك الذين كفروا ليثبتوك او يقتلوك او يخرجوك ويمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين“ ﴿اور جب فریب کرتے تھے کافر کہ تجھ کو قید کر دیں یا مار ڈالیں یا نکال دیں اور وہ بھی داؤ کرتے تھے اور داؤ کرتا تھا اللہ اور وہی سب سے بہتر داؤ کرنے والا ہے۔﴾

سب کو معلوم ہے کہ یہ آیت مبارکہ ہجرت سے پیشتر کفار مکہ کے دارالندوہ میں جمع ہو کر مشورہ کرنے کی بابت ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ کوئی کہتا تھا کہ قید کیا جائے۔ کسی کی رائے تھی انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔ آخر میں ابو جہل کی رائے پر فیصلہ ہوا کہ تمام قبائل عرب میں سے ایک ایک جوان منتخب ہو اور وہ سب مل کر اس کو قتل کر دیں تاکہ بنی ہاشم سارے عرب سے لڑائی نہ کر سکیں اور خون بہا نہ دینا پڑے۔ یہاں تو وہ اشقیاء یہ تدبیریں گانٹھ رہے تھے مگر خدا کی تدبیروں کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔ حضور کو فرشتے نے اطلاع دی۔ آپ اپنے بستر پر حضرت علیؓ کو لٹا کر اس مجمع کی آنکھوں میں خاک جھونکتے ہوئے باہر تشریف لے گئے۔ صبح تڑکے جب وہ اندر داخل ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ حضور تشریف نہیں رکھتے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جنہوں نے حضور ﷺ کے قتل کا مشورہ دیا تھا، جنگ بدر میں وہی قتل کئے گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی جیسا کہ ہر شخص تسلیم کرتا ہے، یہودیوں نے قتل کرنے کی سازش کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک حواری یہوداہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخبری کی کہ فلاں جگہ پر ہیں۔

اس کے آگے اختلاف آراء شروع ہو جاتا ہے۔ یہودیوں کی کوئی مستند کتاب نہیں ہے۔ عیسائی یہ کہتے ہیں کہ ہمارے کفارے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مصلوب ہوئے اور

٥٩

صفحہ ٣٠١

ایک تیار شدہ قبر میں رکھے گئے۔ تیسرے روز زندہ ہو کر وہاں سے نکل آئے اور اپنے حواریوں سے ملاقات کر کے آسمان پر چلے گئے۔ مسلمانوں کا عام طور پر قرآن کریم کے بیان کے مطابق اعتقاد یہ ہے کہ جب یہودی ان کو پکڑنے کے لئے آئے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے اور جس نے مخبری کی تھی۔ اس کا چہرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسا ہو گیا اور اسی کو پھانسی دی گئی۔

خیر الماکرین کے الفاظ صاف ظاہر کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں کی سازش سے بغیر کسی گزند کے اسی طرح بچا لیا ہو گا جیسے کہ حضور ﷺ کو مشرکین مکہ کے حملے سے بچا لیا تھا۔

سرسید احمد خان نے یہ کہا کہ جو واقعات متی، لوقا اور یوحنا کی انجیل میں مختلف طور پر بیان کئے گئے ہیں۔ ان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کچھ گھنٹے کے بعد صلیب پر سے اتار لئے گئے اور ہر طرح پر یقین ہو سکتا ہے کہ وہ زندہ تھے۔ رات کو وہ لحد سے نکال لئے گئے اور وہ مخفی طور پر اپنے مریدوں کی حفاظت میں رہے۔ حواریوں نے ان کو دیکھا اور ملے اور پھر کسی وقت اپنی موت سے مر گئے۔ بلاشبہ ان کو یہودیوں کے خوف سے نہایت مخفی طور پر کسی نامعلوم مقام میں دفن کیا گیا ہو گا۔ جو اب تک نامعلوم ہے اور یہ مشہور کیا ہو گا کہ وہ آسمان پر چلے گئے۔

سرسید کو جواب تو لوگوں نے یہ دیا کہ قرآن کریم اور حدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے اور قیامت کے قریب ان کا نزول ہو گا۔ مگر قادیانی جماعت نے سرسید سے ایک قدم آگے رکھا۔ انہوں نے بزعم خود حضرت عیسیٰ کے مدفن کا بھی پتہ چلا لیا اور یہ کہا کہ حضرت عیسیٰ سولی پر چڑھائے گئے۔ لیکن سولی پر ان کی موت واقع نہیں ہوئی۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام غالباً ہندوستان سے ہوتے ہوئے کشمیر جا پہنچے۔ جہاں سری نگر محلہ خانیار میں ان کا مدفن ہے۔

حدیثوں کی بابت انہوں نے یہ کہا کہ حضرت کے دوبارہ نزول کے متعلق جو پیشین گوئیاں یا حدیثیں ہیں۔ ان کا اصلی مفہوم (جو تیرہ سو سال کے بعد اب ظاہر ہوا ہے) یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئیں گے بلکہ مثیل عیسیٰ آئیں گے اور اس کی بنیاد بائبل کے ایک دو فقروں پر رکھی جن کا ذکر آگے آتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اور لوگوں نے بائبل کے ان فقروں کے متعلق کیا لکھا۔ مگر میری رائے میں اس دعوے کی یا بالفاظ دیگر اس تاویل کی قرآن وحدیث میں کوئی بنیاد ہی نہیں۔

٦٠

مولانا محمد علی اپنی تفسیر بیان القرآن میں یو السلام دونوں کے لئے کتب سابقہ میں کچھ پیشین گوئیاں پیشین گوئی ملا کی نبی کی کتاب میں ان الفاظ میں تھی ”دیکھو آنے سے پیشتر میں الیاس نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔“ بظاہر اس پیش گوئی میں الیاس کے آنے کا ذک خیال تھا کہ وہ زندہ آسمان پر چلا گیا اور یہ صرف خیال عر بھی تھے کہ: ”ایلیاہ بگولے میں ہوا کے آسمان پر جاتا رہا۔

اب حضرت مسیح نے دعویٰ کیا تو یہودیوں نے گوئیوں میں لکھا ہے کہ مسیح سے پیشتر ضروری ہے کہ الیاس یہ اعتراض حضرت مسیح علیہ السلام کے سامنے پیش کیا ۔ انہوں نے اس کو نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا ۔ دکھ اٹھائے گا۔“ اس کے بعد لکھا ہے ”تب شاگرد سمجھ گے کی بابت کہا۔“

(متی ١٧ : ١٢، ١٣)

اور دوسری جگہ اس کی وجہ یوں دی ہے: ”اور آگے چلے گا۔“ گویا یحییٰ کی آمد ہی الیاس کی دوبارہ آم یہودی اس تشریح سے مطمئن نہیں ہوئے۔

مثیل مسیح کی حقیقت

اس سے جماعت احمدیہ نتیجہ نکالتی ہے کہ جس آؤ ذرا اس کی حقیقت کی چھان بین کریں۔ ملا کی نبی ایڈیشن کے ص ٧٠٢، ٧٠٣ پر ہے۔ یہ ڈاکٹر ہنری مار تحریر لکھنے میں خاص مہارت ہے اور وہ ١٩٢٠ء سے ریجٹ ملا کی کتاب (٤ : ٥) میں یہ پیشگوئی درج دن کے آنے سے پیشتر ہی ایلیاہ نبی کو تمہارے پاس ب بیٹے کا باپ کی طرف مائل کرے گا۔ مبادا میں آؤں اور ملا کی کی کتاب کے یہ آخری الفاظ ہیں۔ بغ

٦١

صفحہ ٣٠١

مولانا محمد علی اپنی تفسیر بیان القرآن میں یوں لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ و یحییٰ علیہما السلام دونوں کے لئے کتب سابقہ میں کچھ پیشین گوئیاں تھی۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق پیشین گوئی ملاکی نبی کی کتاب میں ان الفاظ میں تھی ’دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں الیاس نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔‘“

(ملاکی ٤، ٥)

بظاہر اس پیش گوئی میں الیاس کے آنے کا ذکر ہے اور الیاس کے متعلق یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ وہ زندہ آسمان پر چلا گیا اور یہ صرف خیال ہی نہیں تھا۔ بلکہ ان کی کتاب میں یہ الفاظ بھی تھے کہ: ”ایلیاہ بگولے میں ہوا کے آسمان پر جاتا رہا۔“

(٢ سلاطین ٢ ، ١١)

اب حضرت مسیح نے دعویٰ کیا تو یہودیوں نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ ہماری پیشین گوئیوں میں لکھا ہے کہ مسیح سے پیشتر ضروری ہے کہ الیاس علیہ السلام آئے۔ چنانچہ شاگردوں نے یہ اعتراض حضرت مسیح علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے جواب دیا ”ایلیاہ تو آچکا اور انہوں نے اس کو نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا۔ اسی طرح ابن آدم بھی ان کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔“ اس کے بعد لکھا ہے ”تب شاگرد سمجھ گئے کہ اس نے ہم سے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بابت کہا۔“

(متی ١٧ : ١٢ ، ١٣ ، لوقا ١)

اور دوسری جگہ اس کی وجہ یوں دی ہے: ”اور ایلیاہ کی روح اور قوت میں اس کے آگے آگے چلے گا۔“ گویا یحییٰ کی آمد ہی الیاس کی دوبارہ آمد تھی۔ اس لئے وہ اس کا مثیل ہو کر آیا۔ مگر یہودی اس تشریح سے مطمئن نہیں ہوئے۔

مثیل مسیح کی حقیقت

اس سے جماعت احمدیہ نتیجہ نکالتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کی جگہ مثیل عیسیٰ آنا تھا جو آچکا۔ آؤ ذرا اس کی حقیقت کی چھان بین کریں۔ ملاکی نبی کا ذکر انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے چودھویں ایڈیشن کے ص ٧٠٢، ٧٠٣ پر ہے۔ وہ ڈاکٹر ہنری رابنسن جیسے فاضل کا لکھا ہوا ہے۔ جس کو مذہبی تحریر لکھنے میں خاص مہارت ہے اور وہ ١٩٢٠ء سے ریجنٹ پارک کالج لندن کا پرنسپل ہے۔

ملاکی کی کتاب (٤ : ٥ ، ٦) میں یہ پیشگوئی درج ہے: ”دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر ہی ایلیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا اور وہ باپ کا دل بیٹے کی طرف اور بیٹے کا باپ کی طرف مائل کرے گا۔ مبادا میں آؤں اور زمین کو ملعون کروں۔“

ملاکی کی کتاب کے یہ آخری الفاظ ہیں۔ ڈاکٹر رابنسن صاحب کہتے ہیں کہ یہ حصہ غالباً

٦١

صفحہ ٣٠٤

کسی نے بعد میں ایزاد کیا ہے۔ گویا عیسائی مؤرخوں کی تحقیق کے مطابق یہ ایک بناوٹی پیشگوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہی ہے۔ کیونکہ متی، لوقا اور یوحنا نے اس کے متعلق عجب عجب ٹھوکریں کھائی ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم نہ تھا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔

متی کی ١٧، ١٠ لغایت ١٣ میں یہ درج ہے: ”شاگردوں نے اس سے پوچھا کہ پھر فقیہ کیوں کہتے ہیں کہ ایلیاہ تو آچکا اور انہوں نے اسے نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا۔ اسی طرح ابن آدم بھی ان کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ تب شاگرد سمجھ گئے کہ اس نے ان سے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بابت کہا ہے۔

نوٹ: جو انجیل انگریزی، پرانی ہے۔ اس کے ١٧، ١١ میں لکھا ہے: (Elijah shall truly frist come) ایلیاہ سچ مچ پہلے آئے گا۔

مگر ریوائزڈ ایڈیشن میں جو آج لوگ پڑھتے ہیں۔ یوں لکھا ہے : (Elijah indeed come) ایلیاہ بے شک آتا ہے۔

خیر یہ عیسائیوں کی تحریف ہے (یا درستی ہے) وہ اپنا آپ جانیں۔ میں تو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ متی نے اس میں کہاں تک ٹھوکر کھائی ہے۔ متی کی ٢٧، ٤٧ ۔ ٥٠ میں ہے: ”اور تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر کہا، ایلی، ایلی، لما سبقتنی؟ یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ جو وہاں کھڑے تھے ان میں سے بعض نے سن کر کہا۔ یہ ایلیا کو پکارتا ہے اور فوراً ان میں سے ایک شخص دوڑا اور سپنج لے کر سرکہ میں ڈبویا اور سرکنڈے پر رکھ کر چسایا مگر باقیوں نے کہا ٹھہر جاؤ۔ دیکھیں تو ایلیاہ اسے بچانے آتا ہے یا نہیں۔

اور اسی متی کے باب ٣ آیت ١١ ”میں تو تم کو توبہ کے لئے پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن جو میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے زور آور ہے۔ میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں وہ تم کو روح القدس اور آگ سے بپتسمہ دے گا۔ اس کا چھاج اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے کھلیان کو خوب صاف کرے گا اور اپنے گیہوں کو تو کھتے میں جمع کرے گا، مگر بھوسی کو اُس آگ میں جلائے گا جو بجھنے کی نہیں۔“

علاوہ ازیں متی کے باب ١٧ آیت ٣ میں لکھا ہے: ”اور دیکھو موسیٰ اور ایلیاہ اس کے ساتھ باتیں کرتے دکھائی دیئے ۔“ گویا ایلیاہ بھی خود آگئے۔

اب متی کے ان چار بیانوں میں سے کس کو صحیح سمجھا جائے؟ لوقا کی کتاب کے باب ١٠

٦٢

صفحہ ٣٠٣

لغایت ١٧ میں درج ہے: ”کہ خداوند کے مقدس میں جا کر خوشبو جلائے اور لوگوں کی ساری جماعت خوشبو جلاتے وقت باہر دعا کر رہی تھی کہ خداوند کا فرشتہ خوشبو کے مذبح کی دہنی طرف کھڑا ہوا۔ اس کو دکھائی دیا اور زکریا دیکھ کر گھبرا گیا اور اس پر دہشت چھا گئی۔ مگر فرشتے نے اس سے کہا اے زکریا! خوف نہ کر کیونکہ تیری دعا سن لی گئی اور تیرے لئے تیری بیوی الیشبع کے بیٹا ہوگا۔ تو اس کا نام یوحنا رکھنا اور تجھے خوشی وخرمی ہوگی اور بہت سے لوگ اس کی پیدائش کے سبب سے خوش ہوں گے۔ کیونکہ وہ خداوند کے حضور میں بزرگ ہوگا اور ہرگز نہ مے اور نہ کوئی شراب پیے گا اور اپنی ماں کے بطن ہی سے روح القدس سے بھر جائے گا اور بہت سے بنی اسرائیل کو خداوند کی طرف جو ان کا خدا ہے، پھیرے گا اور وہ ایلیاہ کی روح اور قوت میں اس کے آگے آگے چلے گا۔

لوقا کا ابتدائی بیان حضرت یحییٰ کے متعلق قرآن کریم سے کسی قدر ملتا جلتا ہے۔ مگر قرآن اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ حضرت یحییٰ کا تعلق ایلیاہ (الیاس) سے ہوگا۔

دوسرا آپ نے دیکھا ہوگا کہ اس بیان میں ملاکی کا نمبر ٤/٥ کا ذکر نہیں ہے مگر ٤/٦ کے کچھ حصے کا ذکر ہے۔ اسی لوقا کے ١٨۔٧/٣٠ میں ہے:

”اور یوحنا کو اس کے شاگردوں نے ان سب باتوں کی خبر دی اس پر یوحنا نے اپنے شاگردوں میں سے دو کو بلا کر خداوند کے پاس یہ پوچھنے کو بھیجا کہ آنے والا تو ہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ دیکھیں؟ انہوں نے اس کے پاس آ کر کہا کہ یوحنا بپتسمہ دینے والے نے ہمیں تیرے پاس یہ پوچھنے کو بھیجا ہے کہ آنے والا تو ہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ دیکھیں۔ اسی گھڑی اس نے بہتوں کو بیماریوں اور آفتوں اور بری روحوں سے نجات بخشی اور بہت سے اندھوں کو بینائی عطا کی۔ اس نے جواب میں ان سے کہا کہ جو کچھ تم نے دیکھا اور سنا ہے۔ یوحنا سے بیان کر دو کہ اندھے دیکھتے ہیں۔ لنگڑے چلتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کئے جاتے ہیں۔ بہرے سنتے ہیں۔ مردے زندہ کئے جاتے ہیں۔ غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے اور مبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔

جب یوحنا کے قاصد چلے گئے تو یسوع یوحنا کے حق میں لوگوں سے کہنے لگا کہ تم بیابان میں کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ہوا سے ہلتے ہوئے سرکنڈے کو؟ تو پھر کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا مہین کپڑے پہنے ہوئے شخص کو؟ دیکھو جو چمکدار پوشاک پہنے اور عیش وعشرت میں رہتے ہیں وہ بادشاہی محلوں میں ہوتے ہیں۔ تو پھر تم کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ایک نبی؟ ہاں میں تم سے کہتا ہوں

٦٣

صفحہ ٣٠٤

بلکہ نبی سے بڑے کو۔ یہ وہی ہے جس کی بابت لکھا ہے: ”دیکھ میں اپنا پیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہوں جو تیری راہ تیرے آگے تیار کرے گا۔“

میں تم سے کہتا ہوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں۔ ان میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے کوئی بڑا نہیں۔ لیکن جو خدا کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اس سے بڑا ہے اور سب عام لوگوں نے جب سنا تو انہوں نے اور محصول لینے والوں نے بھی یوحنا کا بپتسمہ لے کر خدا کو راست باز مان لیا۔“

یوحنا نے کچھ اور ہی بتایا ہے ١٩ لغایت ٢٨ / ١ :

”اور یوحنا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے؟ کیا تو ایلیاہ ہے؟ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ کیا تو وہ نبی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ پس انہوں نے اس سے کہا پھر تو کون ہے؟ تاکہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں تو اپنے حق میں کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا میں جیسا یسعیاہ نبی نے کہا، بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔ یہ فریسیوں کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے اس سے یہ سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے نہ ایلیاہ۔ نہ وہ نبی تو پھر بپتسمہ کیوں دیتا ہے۔ یوحنا نے جواب دیا کہ میں پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں۔ تمہارے درمیان ایک شخص کھڑا ہے۔ جسے تم نہیں جانتے یعنی میرے بعد کا آنے والا جس کی جوتی کا تسمہ میں کھولنے کے لائق نہیں۔ یہ باتیں یردن کے پار بیت عبراہ میں واقع ہیں جہاں یوحنا بپتسمہ دیتا تھا۔“

یہی ذکر متی کے ٣/٣ میں ہے۔ گویا حضرت یحییٰ نے خود کسی قسم کا تعلق حضرت ایلیاہ (الیاس) سے نہیں بتایا۔ جب متی، لوقا اور یوحنا کا آپس میں یہ اختلاف ہو اور ملاکی کی پیش گوئی میں کوئی اصلیت بھی نہ ہو تو پھر یہ کہنا کہ چونکہ حضرت مسیح مثیل الیاس تھے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ نہیں آئیں گے۔ بلکہ مثیل عیسیٰ آئیں گے، حقیقت سے بہت دور ہے:

خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

متی اور لوقا کی بابت تو عیسائی مورخین نے خود لکھ دیا ہے کہ وہ واقعات کو کسی پیش گوئی کے مطابق کرنے کے لئے ان میں کسی قدر تصرف کر لیتے ہیں۔ (دیکھو انسائیکلو پیڈیا ج ١٣ ص ١٦)

جب حالات یہ ہوں اور (عیسائیوں کی کتابوں میں) قرآنی پیشگوئیوں کو اس لئے بدلا

٦٤

صفحہ ٣٠٥

گیا ہے کہ حضورﷺ کی بعثت کی نسبت ان سے دلیل نہ لی جائے تو ایک ایسی پیش گوئی پر (لوقا کی) جس کی نسبت خود عیسائی یہ کہتے ہوں کہ کسی نے بعد ازاں ایزاد کر دی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے متعلق کوئی دور کی حجت پکڑنی قابل پذیرائی نہیں۔

اب چونکہ حضرت الیاس کا بھی ذکر آ گیا ہے۔ اس واسطے یہاں اس کی توضیح مزید ضروری معلوم ہوتی ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ یہودیوں کی کتاب میں درج ہے کہ حضرت الیاس اپنے شاگرد حضرت الیسع کو چھوڑ کر ان کے سامنے ہی بادل میں بیٹھ کر آسمان کی طرف چلے گئے۔ میں نے رفع کے متعلق بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن کریم میں بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور وہ اس طرح پر ہے۔ سورۃ مریم میں آیا ہے: ”واذكر فى الكتاب ادريس انه كان صديقا نبيا ورفعناه مكانا عليا (٥٧،٥٦)“ ﴿اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو۔ بیشک وہ بڑے سچے اور نبی تھے اور ہم نے اس کو بلند جگہ پہنچا دیا۔﴾

”رفعناه مكانا عليا“ کے معنی بعض مفسرین کے نزدیک یہ ہیں کہ ان کو بلند مرتبہ کیا اور ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ خدا نے انہیں زندہ آسمان پر بلا لیا۔ ایک اختلاف اس امر میں ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام کون صاحب تھے۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ وہ نوح علیہ السلام کے پردادا تھے۔ یعنی نوح بن ملک بن متوسلع بن حنوک یعنی حنوک یا اخنوخ ان کا نام اور ادریس لقب تھا۔ تورات سفر پیدائش کے ٥ باب ٢٣ درس میں یہ ہے: ”اور حنوک کی ساری عمر ٣٦٥ برس ہوئی۔“ ص ٢٤ پر ”اور حنوک خدا کے ساتھ چلتا تھا۔ غائب ہو گیا۔ اس لئے کہ خدا نے اسے لے لیا۔“

دوسرے گروہ کا خیال یہ ہے کہ ادریس علیہ السلام آسمان پر ہیں۔ جیسا کہ ترمذی کی جامع اور ابن المنذر اور ابن مردویہ نے تفسیر میں حضرت انسؓ سے حدیث معراج میں روایت کیا ہے کہ حضورﷺ نے ادریس علیہ السلام کو آسمان پر دیکھا۔ ترمذی کے مطابق یہ حدیث حسن صحیح ہے اور سیوطیؒ نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی کہ ادریس علیہ السلام حضرت الیاس علیہ السلام ہیں۔ سیوطیؒ نے کہا کہ اسناد اس کی حسن ہے۔ گویا حضرت ادریس علیہ السلام بالفاظ دیگر حضرت الیاس علیہ السلام، آسمان پر ہیں جو جائے قرار ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی۔

میرے خیال میں اس کی تائید قرآن کریم کی سورۃ انعام کی ایک آیت سے بھی ہوتی ہے اور وہ اس طرح ہے: ”ووهبناله اسحق ويعقوب کلّا هدينا ونوحا هدينا من

٦٥

صفحہ ٣٠٧

قبل ومن ذريته داؤد و سليمان ويوسف وموسى وهارون وكذالك نجزي المحسنين وزكريا ويحيى وعيسى والياس كل من الصالحين واسمعيل واليسع ويونس ولوطا وكلاً فضلنا على العالمين ”اور اس کو بخشا ہم نے اسحق اور یعقوب، سب کو ہدایت دی اور نوح علیہ السلام کو ہدایت دی۔ ان سب سے پہلے اور اس کی اولاد میں داؤد اور سلیمان کو اور ایوب اور یوسف کو اور موسیٰ اور ہارون کو اور ہم یوں بدلہ دیتے ہیں نیک کام والوں کو اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو۔ سب ہیں نیک بختوں میں اور اسمعیل اور الیسع اور یونس اور لوط اور سب کو ہم نے بزرگی دی سارے جہان والوں پر۔“

نوٹ: یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ ٦/٨٤ والی آیت میں حضرت یعقوب اور اولاد یعقوب کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام آیا ہے۔ پہلے سبط کا ذکر کیا پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کیونکہ وہ صلبی اولاد حضرت یعقوب سے نہ تھے۔ اس آیہ مبارکہ میں ذریۃ کا لفظ آیا ہے یعنی لڑکی کی اولاد ذریۃ میں شامل ہے۔

جہاں تک میری نظر ہے کسی صاحب تفسیر نے یہ نہیں لکھا کہ ان انبیاء کو اس ترتیب میں کیوں ذکر فرمایا اردو میں تفسیر مواہب الرحمن ایک جامع تفسیر ہے۔ اس کے فاضل مصنف نے تو یہ بھی لکھ دیا کہ واضح ہو کہ یہاں انبیاء علیہم السلام کا ذکر بہ اعتبار زمانہ، ترتیب وار نہیں فرمایا بلکہ معنوی حکمت ہے جسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ اس میں بحث بے فائدہ ہے۔ لیکن کوئی وجہ نہیں کہ یہ عاجز اپنے تدبر کا نتیجہ پیش نہ کرے۔

قرآن کریم میں ترتیب الفاظ کئی قسم کی ہے۔ کبھی مفضول سے افضل کی طرف۔ کبھی افضل سے مفضول کی طرف، کبھی بلحاظ زمانہ، کبھی بلحاظ واقعات وغیرہ وغیرہ ۔ جیسا کہ میں نے اپنے رسالے گلدستہ معانی میں مثالیں دے کر عرض کیا ہے۔ آیات مبارکہ مندرجہ بالا میں ایک عجیب و غریب ترتیب رکھی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی ذریت سے جوڑا جوڑا کر کے پیغمبروں کا ذکر فرمایا۔ پہلے ذکر فرمایا داؤد اور سلیمان علیہ السلام کا۔ داؤد پیغمبر بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ اسی طرح ان کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام بھی پیغمبر اور بادشاہ تھے۔

آگے ذکر ہے حضرت ایوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی نسبت تاریخوں میں ہے کہ ان کو ہر قسم کی تکلیف پہنچی حتیٰ کہ بال بچے بھی ضائع ہو گئے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ تکلیفیں دور فرمادیں اور ان کو پھر اپنی عنایت سے مالا مال کر دیا۔ قرآن کریم میں آتا ہے:

٦٦

”وايوب اذ نادى ربه انى مسن فاستجبنا له فكشفنا مابه من ضر واتيناه اه وذكرى للعابدين (انبیاء:٨٣) ”اور ایوب کو جب پڑی ہے تکلیف اور تو ہے سب رحم والوں سے رحم والا پھر اس پر تھی تکلیف عطاء کئے اس کو اس کے گھر والے اور ان سے اور نصیحت ہے بندگی کرنے والوں کو۔“

حضرت ایوب علیہ السلام جیسے نعمت میں شاک ایوب علیہ السلام کا ملک شام اور سینا کے درمیان میں تھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ انہیں ان میں پھینک دیا۔ جہاں سے قافلے والوں نے انہیں نکا پاس فروخت ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ پھر قید کر خزانوں کا افسر کیا اور پھر عزیز مصر ہوئے اور والدین، بھ شامل ہوئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام بھی تمام حالات

ان دونوں حضرات کو اگر چہ نبوت کے سا السلام کی طرح بادشاہت نہیں ملی۔ مگر بادشاہت سے ہوئے۔

بعد اس کے ذکر حضرت موسیٰ علیہ السلام حالات مشہور ہیں۔ اس کے لئے تفصیل بیان کرنے ک کی غلامی کی حالت میں پیدا ہوئے۔ حضرت موسیٰ علی کر نوکری کی۔ وہاں سے فارغ ہو کر آ رہے تھے کہ راس السلام کے بھائیوں کا حال تو آپ سن چکے ہیں کہ ا ساتھ کیا سلوک کیا۔ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ف بھائی ہارون علیہ السلام کو ان کا وزیر کر دیا جائے۔ یہ ف معجزے اپنی قوم کو نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ بمعہ اپنی قوم کے سمندر سے پار ہو جاتے ہیں اور فرعو جہاد کرو عمالقہ سے اور ملک شام فتح کرلو۔ مگر قوم ب

٦٧

صفحہ ٣٠٧

”وايوب اذ نادى ربه انى مسنى الضر وانت ارحم الراحمين فاستجبنا له فكشفنا مابه من ضر واتيناه اهله ومثلهم معهم رحمة من عندنا وذکری للعابدين (انبیاء: ٨٣)“ اور ایوب کو جس وقت پکارا اس نے اپنے رب کو کہ مجھ پر پڑی ہے تکلیف اور تو ہے سب رحم والوں سے رحم والا پھر ہم نے سن لی اس کی فریاد سو دور کر دی جو اس پر تھی تکلیف عطاء کئے اس کو اس کے گھر والے اور اتنے ہی اور ان کے ساتھ رحمت اپنی طرف سے اور نصیحت ہے بندگی کرنے والوں کو۔

حضرت ایوب علیہ السلام جیسے نعمت میں شاکر تھے ویسے ہی بلا میں صابر رہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا ملک شام اور سینا کے درمیان میں تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا حال زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ انہیں ان کے بھائیوں نے گھر سے لے جا کر کنویں میں پھینک دیا۔ جہاں سے قافلے والوں نے انہیں نکالا۔ پھر غلام کی حیثیت سے عزیز مصر کے پاس فروخت ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ پھر قید کر دیئے گئے اور پھر بادشاہ نے انہیں بلا کر خزانوں کا افسر کیا اور پھر عزیز مصر ہوئے اور والدین، بھائی، اور خویش واقارب آ کر ان کے ساتھ شامل ہوئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام بھی تمام حالات میں صابر وشاکر رہے۔

ان دونوں حضرات کو اگر چہ نبوت کے ساتھ حضرت داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی طرح بادشاہت نہیں ملی۔ مگر بادشاہت سے کم درجے کی امارت سے ضرور بہرہ اندوز ہوئے۔

بعد اس کے ذکر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا۔ ان کے حالات مشہور ہیں۔ اس کے لئے تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ دونوں حضرات ایک قسم کی غلامی کی حالت میں پیدا ہوئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور مدین میں جا کر نوکری کی۔ وہاں سے فارغ ہو کر آ رہے تھے کہ راستے میں نبوت عطا ہوئی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا حال تو آپ سن چکے ہیں کہ انہوں نے اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے نبوت ملتے ہی اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو ان کا وزیر کر دیا جائے۔ یہ دعا قبول ہوئی۔ دونوں بھائی آخر تکلیفیں اٹھا کر مصر سے اپنی قوم کو نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ لیکن فرعون ان کا تعاقب کرتا ہے۔ وہ دونوں بمعہ اپنی قوم کے سمندر سے پار ہو جاتے ہیں اور فرعون غرق ہوتا ہے۔ اس کے بعد انہیں حکم ہوا کہ جہاد کرو عمالقہ سے اور ملک شام فتح کرلو۔ مگر قوم نے سنا تو نامردی دکھانے لگے۔ اس تقصیر کی وجہ

٦٧

صفحہ ٣٠٩

سے ٤٠ سال تک جنگلوں میں بھٹکتے پھرتے رہے۔

حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو شام جانا نصیب نہیں ہوا۔ اگرچہ ان دونوں حضرات کو نبوت اور ایک طرح کی امارت حاصل تھی۔ مگر وہ امارت نہیں تھی جو حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر میں اور حضرت ایوب علیہ السلام کو اپنے ملک میں نصیب ہوئی تھی۔ حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام کی بادشاہت ملنے کا تو ذکر ہی کیا۔ ان آیتوں میں اور بھی کئی قسم کے ارتقاء ہیں جن پر بحث مجھے اپنے موضوع سے دور لے جائے گی۔ اس وقت میں صرف ترتیب کا ذکر کر رہا ہوں۔ اس کے بعد ذکر ہے زکریا اور یحییٰ علیہما السلام کا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے لئے دعا کی تو ان کو نبوت ملی۔ ان کے مقابلے میں فرعون اور ان کے جرار لشکر کو بحیرہ قلزم میں غرق کر دیا۔ حضرت زکریا علیہ السلام بڑھاپے میں فرزند کی دعا مانگتے تھے۔ اللہ نے یہ دعا قبول کر کے ان کی بانجھ بیوی کو جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے، اچھا کر کے ایک بیٹا عطا فرمایا اور نام بھی خود یحییٰ تجویز کرتے ہیں اور نبوت عطا کرتے ہیں۔ مگر اس کی مشیت اور حکمت کو کون جانچے۔ ان کی اپنی قوم یہود نے باپ بیٹے کو چند الزام لگا کر قتل کر دیا۔

اس کے بعد ذکر ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور الیاس کا۔ یہ دونوں انبیاء علیہما السلام جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے، دشمنوں کے ہاتھوں سے بچا کر آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ اس کی حکمتوں کو وہ خود ہی جانے۔ صالحین کے لفظ سے ظاہر کر دیا کہ یہ چاروں نبی ان الزامات سے پاک تھے۔ جو لوگوں نے ان پر لگائے۔

اس کے بعد ذکر ہے حضرت اسماعیل اور الیسع علیہما السلام کا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ بیان کرنے کی بجائے یہاں الگ ذکر کیا۔ کیونکہ ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کو بچپن میں مکہ چھوڑ کر واپس چلے آئے اور بعد ازاں وقتاً فوقتاً ان کی خبر گیری اور تربیت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ کعبۃ اللہ تعمیر ہوا اور رفتہ رفتہ مکہ شریف آباد ہوا۔ حضرت الیسع علیہ السلام، حضرت الیاس علیہ السلام کے شاگرد تھے اور انہوں نے ان کے زیر سایہ تربیت پائی۔ جب حضرت الیاس علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے تو حضرت الیسع علیہ السلام ان کے جانشین ہوئے اور بڑے بڑے کارنامے کئے اور معجزے دکھائے۔

اس کے بعد ذکر ہے حضرت یونس علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کا۔ ان کی بابت اتنا کچھ لکھ دینا کافی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو لاکھ سمجھایا مگر وہ راست پر نہ آئی۔

٦٨

آخر انہوں نے بددعا کی اور خود بستی کو چھوڑ کر چلے بستی والوں نے نہایت لجاجت اور عاجزی سے ما گیا۔ مگر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم تادم آخر نہ تک کہ جب فرشتے لڑکوں کی شکل میں ان کی بستی م گھر ٹھہرے تو انہوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا پیغام پہنچایا کہ راتوں رات تم اپنے اہل وعیال کو ل عذاب نازل ہوگا اور یہ بھی کہہ دیا کہ تمہاری عورت پ بستی الٹ دی گئی اور مجرموں کو اپنی سزا ملی۔ دیکھا ہے۔

اب میں نفس مضمون کی طرف رجوع ک ہے کہ حضرت الیاس اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام دو انہی وجوہات سے میں کہتا ہوں کہ خ حضورﷺ کو دشمنوں کے ارادۂ قتل سے بچا لیا تھا۔ ب کے سولی دیئے جانے سے بچا لیا۔ قرآن کریم کے ب خوبی دیکھ کر انسان پر عجیب کیفیت طاری ہوتی ہ دے ۔ دیکھئے حضورﷺ کی ہجرت کا ذکر دوسری ج "ان لا تنصروه فقد نصره ا اذ هما فى الغار اذ يقول لصاحبه لا ت عليه وايده بجنود لم تروها وجعل كلم العليا، والله عزيز الحكيم" (اگر تم نہ م وقت اس کو نکالا تھا کافروں سے، وہ دوسرا تھا دو م تھا اپنے رفیق سے تو غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے س تسکین اور اس کی مدد کو وہ فوجیں جو تم نے نہیں د کا ہمیشہ بول بالا ہے اور زبردست حکمت والا ۔

اس موقع پر گویا حضورﷺ کی حقا تعریف "عزیز حکیم" سے فرمائی۔ یہی الفا

صفحہ ٣٠٩

آخر انہوں نے بددعا کی اور خود بستی کو چھوڑ کر چلے گئے۔ مگر جب عذاب کے آثار ظاہر ہوئے تو بستی والوں نے نہایت لجاجت اور عاجزی سے بارگاہ الہی میں دعا کی اور وہ عذاب ان سے ٹل گیا۔ مگر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم تادم آخر برے سے برے کاموں میں مشغول رہی۔ یہاں تک کہ جب فرشتے لڑکوں کی شکل میں ان کی بستی میں نمودار ہوئے اور حضرت لوط علیہ السلام کے گھر ٹھہرے تو انہوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔ مگر فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ کا پیغام پہنچایا کہ راتوں رات تم اپنے اہل وعیال کو لے کر نکل جاؤ۔ اس لئے کہ صبح ہوتے ہی ان پر عذاب نازل ہوگا اور یہ بھی کہہ دیا کہ تمہاری عورت عذاب میں گرفتار ہوگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ بستی الٹ دی گئی اور مجرموں کو اپنی سزا ملی۔ دیکھا ترتیب الفاظ قرآنی کیا کیا معنی اپنے اندر رکھتی ہے۔

اب میں نفس مضمون کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ یعنی قرآن کریم اس امر کی تائید کرتا ہے کہ حضرت الیاس اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام دونوں آسمان پر اٹھا لئے گئے۔

انہی وجوہات سے میں کہتا ہوں کہ ”خیر الماکرین“ کا لفظ ظاہر کر رہا ہے کہ جیسے حضور ﷺ کو دشمنوں کے ارادہ قتل سے بچالیا تھا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر کسی گزند کے سولی دیئے جانے سے بچالیا۔ قرآن کریم کے الفاظ اتنے پرمغز اور پرمعنی ہوتے ہیں کہ ان کی خوبی دیکھ کر انسان پر عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے بشرطیکہ انسان ان کی تاویل کرنا نہ شروع کر دے۔ دیکھئے حضور ﷺ کی ہجرت کا ذکر دوسری جگہ ان الفاظ میں آیا ہے:

”ان لا تنصروه فقد نصره الله اذ اخرجه الذين كفروا ثانى اثنين اذ هما فی الغار اذ يقول لصاحبه لا تحزن ان الله معنا فانزل الله سكينته عليه وايده بجنود لم تروها وجعل كلمة الذين كفروا السفلى وكلمة الله هى العليا، والله عزيز حكيم“ ﴿اگر تم نہ مدد کرو گے رسول کی تو اس کی مدد کی ہے اللہ نے جس وقت اس کو نکالا تھا کافروں سے، وہ دوسرا تھا دو میں کا، جب وہ دونوں تھے غار میں، جب وہ کہہ رہا تھا اپنے رفیق سے تو غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پھر اللہ نے اتاری اپنی طرف سے اس پر تسکین اور اس کی مدد کو وہ فوجیں جو تم نے نہیں دیکھیں اور نیچے کر دکھائی بات کافروں کی اور اللہ ہی کا ہمیشہ بول بالا ہے اور زبردست حکمت والا۔﴾

اس موقع پر گویا حضور ﷺ کی حفاظت فرشتوں سے کرائی جانے کا ذکر کیا اور اپنی تعریف ”عزیز حکیم“ سے فرمائی۔ یہی الفاظ یعنی ”عزیز حکیم“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

٦٩

صفحہ ٣١٠

کے رفع کے واقعہ کے متعلق استعمال فرمائے۔ جیسا کہ سورہ النساء میں فرمایا: ”و ما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزا حکیما (١٥٧ ، ١٥٨)“ ﴿ اور اس کو قتل نہیں کیا ، بیشک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا ۔ ﴾

یہ خیال کرنا ....... کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھادیا گیا تھا۔ مگر باوجود اس کے کہ ان کے ہاتھ پاؤں زخمی ہو گئے تھے۔ وہ چپکے سے کسی طرف نکل آئے۔ کسی طرح درست نہیں۔ اول تو یہ کس طرح مان لیا جائے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو آج تک پتہ نہ چلا اور قرآن کریم میں بھی ان کے اس طرح سے چلے جانے کا ذکر نہ ہوا۔

دوسرا یہ خیال آیت ”خیر الماکرین“ کے خلاف ہے۔ تیسرا یہ خیال آیت ”وجیہاً فی الدنیا والاخرۃ“ کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس سے زیادہ ذلت ورسوائی کیا ہو سکتی ہے۔

بہتر ہوگا کہ اس موقع پر ”و ان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (نساء: ١٥٩)“ کے متعلق بھی کچھ لکھا جائے۔ اس کے متعلق میں رسالہ شہادت القرآن حصہ دوم مصنف مولانا حاجی محمد ابراہیم فاضل سیالکوٹی سے اقتباس درج کرتا ہوں:

”ہم شرح وبسط کے ساتھ ثابت کرچکے ہیں کہ نون تاکید (ثقیلہ یا خفیفہ) مضارع کو استقبال کے لئے خاص کر دیتا ہے اور نیز یہ کہ ’لیؤمنن بہ‘ میں لام قسم کا ہے۔ جس کا ہونا استقبال خبری پر نون تاکید داخل ہونے کے لئے ضروری ہے۔ پس آیت ”و ان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (نساء: ١٥٩)“ کا لفظی ترجمہ یہ ہوا ﴿کہ نہیں ہوگا اہل کتاب سے کوئی مگر البتہ ایمان لاوے گا ساتھ عیسیٰ کے پہلے مرنے حضرت عیسیٰ کے۔﴾

اور حاصل ترجمہ یہ ہے کہ آئندہ زمانے میں ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں سب اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ایمان لے آویں گے۔ پس چونکہ ابھی تک اہل کتاب یہود و نصاریٰ کا اتفاق حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آنے کے بارے میں نہیں پایا گیا اس لئے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت اہل کتاب کے ایمان لانے کے بعد ہونی ہے اور جب اب تک وہ ایمان میں متفق نہیں ہوئے تو آپ کی موت بھی واقع نہیں ہوئی۔

اس آیت کے جو معنی ہم نے بیان کئے ہیں۔ محاورہ زبان عرب اور قواعد نحو اور محاورہ کتب وسنت کی رو سے یہی ایک صحیح ہے اور اس کے سوائے جس قدر احتمالات ہیں۔ وہ سب غلط

٧٠

١١

ہیں اور باطل ہیں کیونکہ کسی معنی کی بناء پر ”لیؤ رہتا۔

اس میں شک نہیں کہ اس آیت کے نصاریٰ میں کوئی نہ ہوگا۔ مگر وہ ضروری ایمان لا کو معائنہ کرے گا۔ لیکن ان معنوں پر کئی ایک عیسائیوں کا کیا حال جو اس آیت کے نزول سے کہ یہود ونصاریٰ کے لئے مرتے وقت صرف ح گیا ہے۔

تیسرا بہت سے اہل کتاب ایسے گ سوتے مر جاتے ہیں۔ واقعہ کوئٹہ کی تازہ مثال طرح ان پر صادق آسکتی ہے؟۔

چوتھا اسی آیت سے پہلی آیت میں انکار کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ ان کو خداوند کریم ن موت وارد ہوتی ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ جبکہ ان کی موت واقع ہوگی۔ اس لئے ضروری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اہل ہوگا جب وہ زمین پر دوبارہ تشریف فرما ہوں

اور الفاظ ”ویوم القیامۃ یکو شھیدا مادمت فیھم (المائدہ:) “ کے ایمان پر ہوگی اور یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب تشریف فرما ہوں گے۔ اس لئے زیادہ ثبوت

آیت ”متوفیک ورافعک کہ اب تک ہم کس نتیجہ پر پہنچے ہیں:

صفحہ ٣١١

ہیں اور باطل ہیں کیونکہ کسی معنی کی بناء پر ”لیؤمنن“ کا لفظ خاص استقبال کے لئے باقی نہیں رہتا۔

اس میں شک نہیں کہ اس آیت کے یہ بھی معنی کئے گئے ہیں کہ اہل کتاب یہود اور نصاریٰ میں کوئی نہ ہوگا۔ مگر وہ ضرور ہی ایمان لائے گا۔ عیسیٰ پر اپنی موت سے پہلے جبکہ ملائکہ موت کو معائنہ کرے گا۔ لیکن ان معنوں پر کئی ایک اعتراض ہو سکتے ہیں۔ اول یہ کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا کیا حال جو اس آیت کے نزول سے پہلے مر چکے تھے۔ دوسرا یہ کیوں تسلیم کر لیا جائے کہ یہود و نصاریٰ کے لئے مرتے وقت صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

تیسرا بہت سے اہل کتاب ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی صدمہ ناگہانی سے یا سوتے سوتے مر جاتے ہیں۔ واقعہ کوئٹہ کی تازہ مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایسی صورت میں یہ آیت کس طرح ان پر صادق آ سکتی ہے؟۔

چوتھا اسی آیت سے پہلی آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور مصلوب ہونے کا انکار کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ ان کو خداوند کریم نے اٹھا لیا لہٰذا وہ زندہ ہیں اور ان پر کسی نہ کسی وقت موت وارد ہونی ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ وہ قیامت کے قریب زمین پر اتارے جائیں گے جبکہ ان کی موت واقع ہوگی۔ اس لئے ضروری ہے کہ ”قبل موتہ“ کے معنی یہ کئے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اہل کتاب ان پر ضرور ایمان لائیں گے اور یہ اس وقت ہوگا جب وہ زمین پر دوبارہ تشریف فرما ہوں گے۔

اور الفاظ ”ویوم القيامة یکون علیهم شهیدا“ کو اگر الفاظ ”وکنت علیهم شهیدا مادمت فیهم (المائده:) “ کو ملا کر پڑھا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ یہ شہادت ان کے ایمان پر ہوگی اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب وہ ان میں موجود ہوں اور یہ ایسا ہوگا جب وہ دوبارہ تشریف فرما ہوں گے۔ اس لئے زیادہ ثبوت کی ضرورت نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب!

آیت ”متوفیک ورافعک“ پر غور کرنے سے پہلے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہم دیکھیں کہ اب تک ہم کس نتیجہ پر پہنچے ہیں:

٧١

صفحہ ٣١٢

قادر ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا ”کن“ کہنا ہی کافی ہوتا ہے۔

کے الفاظ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کو نہ قتل کیا گیا اور نہ سولی دی گئی۔ نیز یہ کہ انہیں مصلوب ماننا آیت ”وجیهاً فی الدنیا والآخرة“ کے خلاف ہے۔

ہے۔

(١٥٩)“ اس بات کی تائید کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع نہیں ہوئی۔ اس واسطے ”رفع“ کی تائید مزید ہوتی ہے۔

رسول قد خلت من قبله الرسل (مائدہ: ٧٥)“ سے ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ آیت بھی ان کی موت کے خلاف ہے۔

الملئكة المقربون“ سے ہوتی ہے۔

رہی ہے کہ دشمن کسی طرح سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قابو نہ پاسکے۔

من الله شيئا ان اراد ان يهلك المسيح ابن مريم وامه ومن في الارض جميعا (مائدہ: ١٧)“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات فی السماء پر دلالت کرتی ہیں۔

کیونکہ:

ہوئے۔

٧٢

غیر ملکوں میں چلے گئے۔ ان کے پاس اس کی نہ ہو چکی ہیں۔

السلام کا مشن پورا نہیں ہوا۔ وہ تب ہی ہوگا جب

پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ وہ سخت غلط فہمی کا شکا ر ہیں۔

ہے وہ محققین کے نزدیک ملاکی پیغمبر کی نہیں۔ بلک

پاچکے ہیں تو قرآن نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ وہ م

اگر ان امور پر پورے طور پر تسلی ہو کرنے میں کوئی دقت نہیں رہتی۔ وقت اس لئے آیات پر ایک وقت میں غور نہیں کیا گیا۔ اس ل اختلاف پیدا ہوا۔ اپنا نظریہ پیش کرنے سے پہل کچھ تفاسیر میں آیا ہے۔ اسے یہاں پر کسی قدر سب اقوال نقل کئے گئے ہیں۔ اس لئے اس کی

واضح ہو کہ حدیث بخاری و مسلم میں مضمون وہی ہے جو مفسر جلالی نے ذکر کیا اور بغو روایت کیا اور اکثر طرق سے مروی ہے اور ابع اور مسلمانوں کا ان پر نماز جنازہ پڑھنا مروی ہ

صفحہ ٣١٣

غیر ملکوں میں چلے گئے۔ ان کے پاس اس کی نہ عقلی دلیل ہے نہ نقلی۔ اس کے متعلق آیات بھی بیان ہو چکی ہیں۔

السلام کا مشن پورا نہیں ہوا۔ وہ تب ہی ہوگا جب وہ نزول فرما کر اسلام کا احیاء ثانیہ کریں گے۔

پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ وہ سخت غلط فہمی کا شکار ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم نے اس کی وضاحت کر دی ہے۔

ہے وہ محققین کے نزدیک ملاکی پیغمبر کی نہیں۔ بلکہ بعد میں کسی نے ایزاد کی ہے۔

پاچکے ہیں تو قرآن نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ وہ مر چکے ہیں اس لئے خدا نہیں۔

اگر ان امور پر پورے طور پر تسلی ہو جائے تو پھر ”متوفیک“ اور ”ورافعک“ کے معنی کرنے میں کوئی دقت نہیں رہتی۔ دقت اس لئے پیدا ہوئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق تمام آیات پر ایک وقت میں غور نہیں کیا گیا۔ اس لئے صحابہ کے بعد متوفیک کے معنی کرنے میں کسی قدر اختلاف پیدا ہوا۔ اپنا نظریہ پیش کرنے سے پہلے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ متوفیک کے متعلق جو کچھ تفاسیر میں آیا ہے۔ اسے یہاں پر کسی قدر نقل کیا جائے۔ چونکہ تفسیر مواہب الرحمٰن میں تقریباً سب اقوال نقل کئے گئے ہیں۔ اس لئے اس کی عبارت یہاں نقل کی جاتی ہے:

واضح ہو کہ حدیث بخاری ومسلم میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر صریح وارد ہوا ہے اور مضمون وہی ہے جو مفسر جلالین نے ذکر کیا اور بغوی نے بھی اپنی اسناد سے حضرت ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً روایت کیا اور اکثر طرق سے مروی ہے اور ابوداؤد طیالسی کی حدیث میں ٤٠ برس زندہ رہنا پھر مرنا اور مسلمانوں کا ان پر نماز جنازہ پڑھنا مروی ہے اور امام احمدؒ نے اس کو بسند صحیح حضرت ابو ہریرہؓ

٧٣

صفحہ ٣١٤

سے روایت کیا۔ ”کماذکرہ ابن حجر فی الاصابۃ“ اور ابن کثیر نے کہا کہ قولہ تعالیٰ ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ راجع بجانب عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ جیسا کہ تفسیر میں انشاء اللہ آئے گا اور یہ اسی وقت ہوگا جب کہ وہ آسمان سے دنیا میں قبل روز قیامت کے نازل ہوں گے۔ پس سب مسلمان ہوں گے کیونکہ وہ جزیہ اٹھا دیں گے اور سوائے اسلام کے کچھ قبول نہیں کریں گے اور حسن بصریؒ نے مرسلاً روایت کی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے اور وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹنے والے ہیں۔ پس ان وجوہ مذکورہ کی وجہ سے مفسرین رحمہ اللہ نے قولہ تعالیٰ ”انی متوفیک“ میں تاویل کی۔ کیونکہ صحیح یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بدون وفات دنیا سے اٹھا لیا جیسا کہ اکثر مفسرین نے اسے ترجیح دی ہے اور اس کو ابن جریر طبریؒ نے اختیار کیا ہے۔ بنظر دلائل مذکورہ بالا کے اور کہا کہ توفی ان کی یہی اٹھا لینا ہے۔ پس محمد بن اسحاق نے جو وہب بن منبہ سے روایت کی کہ اللہ تعالیٰ نے دن چڑھے کی تین گھڑی ان کو موت دی پھر اٹھا لیا اور ابن اسحاق نے کہا کہ نصاریٰ زعم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دی اور ادریس نے وہب سے روایت کی کہ تین روز موت دے کر پھر زندہ کر کے اٹھایا۔ یہ سب روایات نصرانیوں سے ہیں اور ان پر اعتماد نہیں۔

صحیح یہی ہے کہ بدون موت کے اٹھا لئے گئے۔ اب آیت میں تاویل بیان کرنی چاہئے۔ پس قتادہ وغیرہ نے کہا اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ یعنی ”انی رافعک الی ومتوفیک“ پہلے اٹھا لیا ہے۔ پھر قریب قیامت کے نازل ہونے کے بعد وفات ہوگی۔

اس میں کوئی ترتیب کے معنی ملحوظ نہیں ہوتے۔ تو کچھ اس کی حاجت نہیں رہتی کہ تقدیم و تاخیر کہی جاوے۔ بلکہ جیسی نظم موجود ہے۔ اس کے بھی یہی معنی ہو سکتے ہیں۔ ذکرہ فی اعراب القرآن

پس بخاری میں جو علی ابن ابی طلحہ کی روایت ابن عباس سے مذکور ہے کہ متوفیک بمعنی ممیتک ہے ”اے میں تجھے موت دینے والا ہوں“ اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ تیری موت کے وقت پر بعد نزول من السماء موت دوں گا اور اب تجھے اٹھائے لیتا ہوں۔

اور بعض کا یہ مذہب ہے کہ پہلے وہ ایک مرتبہ دنیا میں مر کر پھر اٹھا لئے گئے۔ پھر آخر زمانے میں چالیس برس زندہ رہیں گے اور دفن ہوں گے اور اگر کہا جائے کہ حدیث مسلم میں تو سات ہی برس ٹھہرنا مذکور ہے تو جواب یہ ہے کہ ٹھہرنا کسی خاص حال پر مذکور ہے نہ آن کہ ان کی

٧٤

صفحہ ٣١٥

زندگی اس قدر ہوگی۔ کیونکہ اس پر نص نہیں۔ اور مطر الوراق سے روایت ہے کہ "انی متوفيك" اے دنیا میں تجھے وفات دوں گا اور وہ وفات موت نہیں۔ اور ربیع بن انس نے حسنؒ سے روایت کی کہ "انی متوفيك" یعنی خواب کی موت دوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خواب میں اٹھا لیا۔ شیخ ابن کثیرؒ نے فرمایا کہ اکثر مفسرین کے نزدیک وفات سے یہاں بھی نوم و خواب مراد ہے۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "هو الذى يتوفاكم بالليل (انعام: ٦٠)" ﴿یعنی وہی ہے جو رات کو تمہیں وفات دیتا ہے۔﴾ نیز فرمایا اللہ تعالیٰ نے "يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها (زمر: ٤٢)" اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ رات میں جب تہجد واسطے خواب سے اٹھتے تو یوں فرماتے: "الحمد لله الذى احيانا بعدما اماتنا" ﴿یعنی سب ثنا اور صفت پاکیزہ اسی اللہ پاک کو ہے جس نے ہم کو موت دے کر پھر جلایا﴾ اور خواب کو موت کہنا بہت شائع ہے۔ یا "توفی" بمعنی قبض لیا جائے۔ ماخوذ از "توفیت مالی" میں نے اپنا مال قبض کیا۔

اور اسی کو کشاف کی مانند مفسر بیضاویؒ نے اختیار کیا ہے اور چونکہ قبض کر لینا دو طرح سے ہو سکتا ہے۔ ایک بموت اور دوم برفع۔ تو مفسر نے "قابضك من الدنيا من غير موت" سے مراد ظاہر کر دی کہ اٹھا لینے کے ساتھ قبض کر لینا مراد ہے۔

آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ متقدمین کی تفاسیر کا لب لباب یہ ہے کہ وہ زندہ آسمان پر گئے۔ مولانا محمد ابراہیم صاحب نے اپنی کتاب شہادت القرآن میں ایک نقشہ آیات توفی مع بیان قرینہ درج کیا ہے اور جس نتیجہ پر آپ پہنچے ہیں وہ حسب ذیل ہے:

"توفی" کا اصل مادہ وفا ہے اور اس کے اصلی اور وضعی معنی "اخذ شيئ وافياً" یعنی کسی چیز کو پورا پورا پکڑ لینا اور رفع یعنی اوپر کو اٹھا لینا اور نیند اور موت اور وصول قرض سب اس کے انواع ہیں اور یہ امر مسلم ہے کہ مختلف انواع سے ایک نوع معین کرنے کے لئے قرینہ کا ہونا ضروری ہے۔ پس جہاں توفی کے ساتھ موت اور اس کے لوازمات کا ذکر ہوگا۔ اس جگہ توفی سے مراد موت ہوگی اور جہاں نیند اور اس کے مقتضیات مذکور ہوں گے وہاں نیند مراد ہوگی، جیسے:

"قل يتوفكم ملك الموت الذى وكل بكم (الم سجدہ: ١١)" ﴿یعنی اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ تم کو ملک الموت جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پورا پورا پکڑ لے گا۔﴾

اور نیز آیت: "الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها

٧٥

صفحہ ٣١٧

(زمر:٤٢) ﴿اللہ ہی جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا ان کو ان کی نیند میں (قبض کرتا ہے )﴾ اور نیز آیت: ”وهو الذی یتوفکم باللیل (انعام:٦٠) “﴿اللہ تم کو رات کے وقت قبض کر لیتا ہے۔﴾ اور نیز شعر:

فلما توفاہ رسول الکریٰ
﴿اور جب اس کو نیند کے ایلچی نے پورا پورا پکڑ لیا۔﴾

ان مثالوں میں ملک الموت اور موت، توفی سے موت مراد لینے کے قرینے ہیں۔ اور ”منام، لیل ،کریٰ“ اس سے نیند مراد لینے کے۔ اسی طرح آیت مذکورہ زیر بحث میں اگر توفی کے متصل موت کا ذکر ہے تو اس سے مراد موت ہوگی اور اگر نیند کا ذکر ہے تو پھر نیند مراد ہوگی۔ اگر رفع یعنی اوپر اٹھانے کا ذکر ہے تو اس سے مراد رفع ہوگی۔ یعنی اوپر کو اٹھا لینا۔ پس چونکہ اس آیت توفی کے ساتھ سوائے رفع کے ذکر کے اور کچھ مذکور نہیں لہٰذا اس جگہ توفی سے سوائے رفع کے اور کچھ مراد نہیں ہو سکتی۔

مولانا نے اپنی طرف سے آیت مذکورہ بالا کی نہایت عمدہ توجیہ کی ہے۔ عربی دان طبقہ ضرور اس کی قدر کرے گا۔ قادیانی صاحبان اس ”متوفیک“ کے معنی صرف یہ لیتے ہیں کہ ”میں تجھ کو موت دوں گا“ لیکن ان کے خیال میں کشمیر جانے کے بعد ان کی موت واقع ہوئی۔ حضرت ابن عباسؓ نے بھی متوفیک کے معنی ممیتک کے کئے ہیں۔ یعنی میں تجھے موت دینے والا ہوں۔ لیکن ان کے قول کے مطابق یہ موت نزول من السماء کے بعد واقع ہوگی۔ میری ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ یہی اس کے معنی صحیح ہیں۔ لیکن اس کے سمجھنے میں تھوڑی سی غلطی ہوئی ہے اور وہ غلطی ترتیب الفاظ کے متعلق ہے۔ میں نے اپنے رسالے گلدستہ معانی میں بیان کیا ہے کہ قرآن میں ترتیب الفاظ کئی قسم کی ہے اور مختلف وجوہات پر مبنی ہوتی ہے (مثالیں وہاں دیکھ لی جائیں) یہاں بھی ترتیب الفاظ ہے اور وہ اس طرح ہے:

”مطہرک من الذین کفروا ورافعک الی ومتوفیک (آل عمران:٥٥) “

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ارشاد ہوا کہ میں تم کو یہودیوں کی گرفت سے بچاؤں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور اس کے بعد موت دوں گا۔ متوفیک اس لئے پہلے آیا کہ یہودیوں کا منشاء ان کے قتل یا سولی دینے کا تھا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس سے بچانا تھا کہ وہ تجھ کو مارنے پر قادر نہ ہوں گے۔ بلکہ میں خود موت دوں گا جب مناسب ہوگی۔

٧٦

دوسرے اس لئے متوفیک پہلے لایا گیا بیان کیا ہے کہ یہ الوہیت کے عقیدے کو رد کرنے ”جاعل الذین اتبعوک“ کو سب سے آخر اس کے پیروؤں کو یہودیوں پر غلبہ دینے والا تھا اور دیا۔ بخاری ومسلم نے روایت کی کہ یہ حدیث گے، ہمارے نبی محمد ﷺ کی شریعت کے موافق (ا دجال کو قتل کریں گے اور خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے اور گے اور جزیہ اٹھا دیں گے۔ یعنی بجز ایمان کے کسی شخص

جو ترتیب میں نے اوپر بیان کی ہے وہ قتادہ کے۔ میں نے صرف پوری ترتیب الفاظ بیان تعالیٰ کیوں آنحضرت ﷺ کا دنیا میں وصال کر دیا ا آسمان پر لے گئے۔ جس سے ان کی فوقیت پائی جاتی فوقیت پر تو بحث ہو چکی ہے اور آئندہ بھ ایزدی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ انسان کو کیوں گناہ کر ضرورت تھی؟ لیکن ایک جواب تو اس طرح ہو سکتا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضور ﷺ کی نسبت خ تا کہ دوبارہ دنیا میں تشریف لا کر خاتم النبیین کے بط دوسرا قیامت جیسے ہولناک واقع کے پر ظاہر کر دیا جائے کہ جو رب العالمین ایک شخص کو ضرور اس امر پر قادر ہے کہ انسان جب مردہ ہو کر فرمائے گا تا کہ وہ اپنے اعمال کی جزاء یا سزا پائے۔ ہو جائے تو دنیا کا نقشہ فوراً بدل جائے اور ایمان لا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی وجہ سے ”علم للـ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیغمبری

میں نے اوپر لکھا تھا کہ سورۃ آل عمران حالات بیان ہوئے ہیں۔ ان میں دو قسم کا ارتقاء

٧

صفحہ ٣١٧

دوسرے اس لئے متوفیک پہلے لایا گیا کہ جیسا کہ میں نے مسیح کے ارتقاء کے متعلق بیان کیا ہے کہ یہ الوہیت کے عقیدے کو رد کرنے کے لئے (موت کے ذکر کو) مقدم کہا اور لفظ ”جاعل الذین اتبعوک“ کو سب سے آخر اس لئے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس کے رفع بعد ان کے پیروؤں کو یہودیوں پر غلبہ دینے والا تھا اور دیا۔

بخاری ومسلم نے روایت کی کہ یہ حدیث کہ وہ قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے، ہمارے نبی محمدﷺ کی شریعت کے موافق (الکتاب والحکمہ) لوگوں میں حکم کریں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے اور صلیب جسے نصرانی پوجتے ہیں، اسے توڑ ڈالیں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے۔ یعنی بجز ایمان کے کسی شخص سے جزیہ وغیرہ قبول نہیں کریں گے۔

جو ترتیب میں نے اوپر بیان کی ہے وہ مطابق ہے قول حضرت ابن عباسؓ اور حضرت قتادہ کے۔ میں نے صرف پوری ترتیب الفاظ بیان کر دی ہے۔ بعض لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کا دنیا میں وصال کر دیا اور وہ مدفون ہوئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر لے گئے۔ جس سے ان کی فوقیت پائی جاتی ہے۔

فوقیت پر تو بحث ہو چکی ہے اور آئندہ بھی لکھوں گا۔ مگر سوال کا دوسرا حصہ متعلق مشیت ایزدی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ انسان کو کیوں گناہ کرنے کے قابل بنایا اور شیطان کے بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن ایک جواب تو اس طرح ہو سکتا ہے کہ اس میں حضورﷺ کی فوقیت ہے۔ اول حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضورﷺ کی نسبت خوشخبری دی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ رکھا تاکہ دوبارہ دنیا میں تشریف لا کر خاتم النبیین کے بطور ایک امتی کے مصدق بنیں۔

دوسرا قیامت جیسے ہولناک واقع کے ہونے سے پہلے ممکن ہے کہ منشاء الہی یہ ہو کہ دنیا پر ظاہر کر دیا جائے کہ جو رب العالمین ایک شخص کو اتنی مدت تک آسمانوں پر زندہ رکھ سکتا ہے۔ وہ ضرور اس امر پر قادر ہے کہ انسان جب مردہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جائے تو وہ اسے دوبارہ زندگی عطا فرمائے گا تا کہ وہ اپنے اعمال کی جزا یا سزا پائے۔ اگر آج دنیا کا اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر یقین ہو جائے تو دنیا کا نقشہ فوراً بدل جائے اور ایمان کامل کا درجہ آج سب کو مل جائے۔ میرے خیال میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی وجہ سے ”علم للساعۃ“ کہا ہے۔ جس کا ذکر آگے آئے گا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیغمبری

میں نے اوپر لکھا تھا کہ سورۃ آل عمران میں جن آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات بیان ہوئے ہیں۔ ان میں دو قسم کا ارتقاء ہے۔ ایک تو لفظ مسیح کا جو بیان ہو چکا ہے۔ دوسرا

٧٧

صفحہ ٣١٩

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ان کے پیغمبر ہونے کی حیثیت سے ۔ مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بتا دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اگرچہ ہر ایک پیغمبر کے حالات بیان کرنے میں قرآن کریم میں ارتقاء ہے۔ مگر ساتھ ہی ایسی خوبی سے حضور ﷺ کے متعلق ارتقاء اور ان کی فضیلت بیان کی جاتی ہے کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔ لہٰذا تھوڑا تھوڑا ذکر اس امر کا بھی ہوتا جائے گا۔ تا کہ قارئین کرام خود اس نتیجہ پر پہنچیں کہ :

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

مذکورہ بالا آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر یوں آیا ہے: ”رسولا الی بنی اسرائیل ......و مصدقا لما بین یدی من التوراة ولا حل لكم بعض الذى حرم عـلـیـكـم وجـئتكم باية من ربكم فاتقوا الله و اطيعون ٠ ان الله ربى وربكم فـاعـبـدوه هـذا صراط مستقيم (آل عمران: ٥٠، ٥١) ”وہ رسول تھے بنی اسرائیل کی طرف ...... اور انہوں نے کہا میں مصدق ہوں ان چیزوں کا جن کا تورات میں ذکر ہے اور اس واسطے کہ حلال کروں تمہارے لئے بعض وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں ۔ سنو! اور تمہارے پروردگار کی طرف سے (اپنی نبوت کی) نشانی لے کر تمہارے پاس آیا ہوں سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہنا مانو اللہ رب ہے میرا اور تمہارا سو اس کی بندگی کرو یہی راہ مستقیم ہے۔“

اس کے بعد سورۂ آل عمران میں یوں آیا ہے: ”قـل امـنـا بـاللـه ومـا انزل علینا ومـا انـزل عـلـى ابـراهـيـم واسـمـعيل واسحق ويعقوب والا سباط وما اوتى موسى وعيسى و النبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون ومن يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه وهو في الآخرة من الخاسرين“

”(اے رسول ان لوگوں سے) کہہ دو کہ ہم تو خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب پر نازل ہوئے اور موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو جو (کتاب) ان کے پروردگار کی طرف سے عنایت ہوئیں (سب پر ایمان لائے) ہم تو ان میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے اور اس کے علاوہ اس کا وہ دین ہرگز قبول ہی نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں سخت گھاٹے میں رہے گا۔“

اس میں بتایا ہے کہ خدا کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جو کچھ اترا وہ ایسی تعلیم تھی جو دوسرے پیغمبروں کو ملی تھی اور جبکہ خدا کا دین اپنی مکمل صورت میں آن پہنچا تو مقامی نبوتوں اور ہدایتوں کا عہد گزر چکا۔ سورۃ النساء میں اس طرح آیا ہے: ”انـا اوحـيـنـا الـيـك كـمـا ٧٨

اوحينا الى نوح والنبيين من بعده و اوحينا الـ و يعقوب والا سباط وعيسى وايوب ويونس و زبورا ٠ ورسلا قد قصصناهم عليك من قبل ور الله موسى تكليما رسلا مبشرين ومنذرين لئلـ بعد الرسل، وكان الله عزيزا حكيما“

”(اے رسول) ہم نے تمہارے پاس (بھی) نوح اور بعد والے پیغمبروں پر بھیجی تھی اور جس طرح ابراہیم یعقوب و عیسیٰ و ایوب و یونس و ہارون و سلیمان کے پاس وحی اور (تم کو بھی ویسا ہی رسول مقرر کیا جس طرح کہ ) اور داؤ نے تم سے پہلے ہی بیان کر دیا اور بہت سے (ایسے) رسول اور خدا نے موسیٰ سے (بہت سی) باتیں بھی کیں اور (ہم نـ والے اور (بدوں کو عذاب سے ڈرانے والے پیغمبر (بھیجے لوگوں کی خدا پر کوئی حجت باقی نہ رہ جائے اور خدا تو بڑا زبرد

ان آیات میں بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السـ اولو العزم پیغمبروں پر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایسے والے تھے۔ جیسے دوسرے پیغمبر۔

اس آیت سے پہلے یہ فرمایا تھا کہ جو علم میں پختـ اترا اور جو تم سے پہلوں پر اترا لیکن اس کے بعد فرمایا ہے : ” انزله بعلمه والملائكة يشهدون وكفى بالله شهـ ہے اس پر جو تجھ پر نازل کیا کہ یہ نازل کیا ہے اپنے علم کے کافی ہے حق ظاہر کرنے والا۔“

دیکھئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ارتقاء سورۂ مائدہ میں اس طرح آیا ہے: "وقفينا على آثارهـ بـيـن يـديـه مـن التوراة واتينه الانجيل فيه هـ مـن الـتـوراة وهـدى و مـوعـظـة للمتقين . واليـ فـيـه ومـن لـم يحكم مما انزل الله فاولئك هم الـ ٧٩

صفحہ ٣١٩

اوحينا الى نوح والنبيين من بعده و اوحينا الى ابراهيم واسمعيل واسحق و يعقوب والا سباط وعيسى وايوب ويونس و هارون وسليمان واتينا داؤد زبورا ٠ ورسلا قد قصصناهم عليك من قبل ورسلا لم نقصصهم عليك، وكلّم الله موسى تكليما،رسلا مبشرين ومنذرين لئلا يكون للناس على الله حجة بعد الرسل،وكان الله عزيزا حكيما“

﴿(اے رسول) ہم نے تمہارے پاس (بھی) تو اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور بعد والے پیغمبروں پر بھیجی تھی اور جس طرح ابراہیم واسماعیل اور اسحاق و یعقوب و اولاد یعقوب وعیسیٰ وایوب و یونس و ہارون وسلیمان کے پاس وحی بھیجی تھی اور ہم نے داؤد کو زبور عطاء کی اور (تم کو بھی ویسا ہی رسول مقرر کیا جس طرح کہ) اور بہت سے رسول (بھیجے) جن کا حال ہم نے تم سے پہلے ہی بیان کر دیا اور بہت سے (ایسے) رسول (بھیجے) جن کا حال تم کو بیان نہیں کیا اور خدا نے موسیٰ سے (بہت سی) باتیں بھی کیں اور (ہم نے نیکوں کو بہشت کی) خوشخبری دینے والے اور (بدوں کو عذاب سے) ڈرانے والے پیغمبر (بھیجے) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کی خدا پر کوئی حجت باقی نہ رہ جائے اور خدا تو بڑا زبردست حکیم ہے۔﴾

ان آیات میں بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اسی طرح وحی آئی جیسے دوسرے اولو العزم پیغمبروں پر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایسے ہی خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے تھے۔ جیسے دوسرے پیغمبر۔

اس آیت سے پہلے یہ فرمایا تھا کہ جو علم میں پختہ ہیں وہ یقین رکھتے ہیں کہ ان پر جو تم پر اترا اور جو تم سے پہلوں پر اترا لیکن اس کے بعد فرمایا ہے:”لكن الله يشهد بما انزل اليك انزله بعلمه والملائكة يشهدون وكفى بالله شهيدا (نساء:١٦٦)“ ﴿لیکن اللہ شاہد ہے اس پر جو تجھ پر نازل کیا کہ یہ نازل کیا ہے اپنے علم کے ساتھ، اور فرشتے بھی گواہ ہیں اور اللہ کافی ہے حق ظاہر کرنے والا۔﴾

دیکھئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ارتقاء فضیلت حضور کو کس خوبی سے ادا کر دیا۔ سورۂ مائدہ میں اس طرح آیا ہے:”وقفينا على اثارهم بعيسى ابن مريم مصدقا لما بين يديه من التوراة واتينه الانجيل فيه هدى ونور و مصدقا لما بين يديه من التوراة وهدى و موعظة للمتقين ، وليحكم اهل الانجيل بما انزل الله فيه ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الفاسقون ، و انزلنا اليك الكتاب

٧٩

صفحہ ٣٢١

بالحق مصدقا لما بين يديه من الكتاب ومهيمنا عليه فاحكم بينهم بما انزل الله ولا تتبع اهواءهم عما جاءك من الحق لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجا، ولوشاء الله لجعلكم امة واحدة ولكن ليبلوكم فى ماآتكم فاستبقوا الخيرات الى الله مرجعكم جميعا فينبئكم بما كنتم فيه تختلفون"

﴿اور ہم نے انہیں پیغمبروں کے قدم بقدم مریم کے بیٹے عیسی کو چلایا اور وہ اس کتاب توریت کی بھی تصدیق کرتے تھے۔ جو ان کے سامنے (پہلے سے ) موجود تھی اور ہم نے ان کو انجیل بھی عطاء کی جس میں (لوگوں کے لئے ہر طرح کی ہدایت تھی اور نور ایمان) اور وہ اس کتاب توریت کی جو وقت نزول انجیل (پہلے سے) موجود تھی تصدیق کرنے والی اور پرہیز گاروں کی ہدایت ونصیحت تھی اور انجیل والوں (نصاریٰ) کو جو کچھ خدا نے (اس میں) نازل کیا ہے۔ اس کے مطابق حکم کرنا چاہئے اور جو شخص خدا کی نازل کی ہوئی (کتاب) کے موافق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بدکار ہیں اور (اے رسول) ہم نے تم پر بھی برحق کتاب نازل کی کہ جو کتاب (اس سے پہلے ہے) اس کے وقت میں موجود ہے اس کی تصدیق کرتی ہے اور اس کی نگہبان (بھی) ہے تو جو کچھ خدا نے تم پر نازل کیا ہے۔ اس کے مطابق تم بھی حکم دو اور جو حق بات خدا کی طرف سے آچکی ہے۔ اس سے کترا کے ان لوگوں کی خواہش نفسانی کی پیروی نہ کرو اور ہم نے تم میں سے ہر ایک کے واسطے (حسب مصلحت وقت) ایک ایک شریعت اور خاص طریقہ مقرر کر دیا اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کے سب کو ایک ہی (شریعت کی) امت بنا دیتا مگر (مختلف شریعتوں سے) خدا کا مقصود یہ تھا کہ وہ جو کچھ تمہیں دیتا ہے اس میں تمہارا امتحان لے۔ بس تم نیکیوں میں لپک کر آگے بڑھ جاؤ اور (یقین مانو کہ) تم سب کو خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ تب (اس وقت) جن باتوں میں تم اختلاف کرتے وہ تمہیں بتادے گا۔﴾

اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ ارتقاء ہے کہ وہ نہ صرف پیغمبر ہی تھے اور تورات کے مصدق تھے۔ بلکہ ان کو انجیل ملی جس میں ہدایت و روشنی تھی اور وہ تصدیق کرتی تھی اپنے سے پہلی کتابوں کی اور راہ بتلانے والی اور نصیحت تھی ڈرنے والوں کے لئے۔ لیکن اگلی آیت میں فرمایا کہ قرآن کریم تمام پہلی کتابوں کا محافظ اور امین ہے۔ یہ بڑی فضیلت ہے۔

آگے سورہ مائدہ میں یوں آیا ہے: "لعن الذين كفروا من بنى اسرائيل على لسان داؤد وعيسى ابن مريم ذالك بما عصوا وكانو يعتدون . كانو الا يتنا هون عن منكر فعلوه لبئس ماكانوا يفعلون . ترى كثيرا منهم يتولون الذين

٨٠

كفروا لبئس ماقدمت لهم انفسهم ان سخط ال خالدون . ولوكانوا يؤمنون بالله والنبى وما انزل ولكن كثيرا منهم فاسقون . لتجدن اشد الناس عـ والذين اشركوا ولتجدن اقربهم مودة للذين آمنو ذلك بان منهم قسيسين ورهبانا وانهم لا يستكبر الى الرسول ترى اعينهم تفيض من الدمع مما عرفو امنا فاكتبنا مع الشهدين . ومالنا لا نؤمن بالله ومـ ان يدخلنا ربنا مع القوم الصالحين"

﴿جو لوگ کافر تھے ان پر داؤد اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کی پر پڑی تو صرف) اس وجہ سے کہ (ایک تو) ان لوگوں نے نافرمانی سے بڑھ جاتے تھے اور کسی برے کام سے جس کو ان لوگوں نے کـ باوجود نصیحت، اڑے رہتے تھے) جو کام یہ لوگ کرتے تھے کیـ (یہودیوں) میں سے بہتیروں کو دیکھو گے کہ کفار سے دوستی رکھـ لوگوں نے خود اپنے واسطے درست کیا ہے کس قدر برا ہے (نجـ بھی) خدا ان پر غضبناک ہوا اور (آخرت میں بھی) ہمیشہ عذاب خدا اور رسول پر اور جو کچھ ان پر نازل کیا گیا ہے ایمان رکھتے بناتے مگر ان میں سے بہتیرے تو بدچلن ہیں (اے رسول) تم ایـ بڑھ کر یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ایمان داروں کا دوست لوگوں کو پاؤ گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں۔ کیونکہ ان (نصاریٰ عابد ہیں اور اس سبب سے (بھی) کہ یہ لوگ ہرگز شیخی نہیں کرتـ اس (قرآن) کو سنتے ہیں جو ہمارے رسول پر نازل کیا گیا ۔ (چھلک کر) آنسو جاری ہو جاتا ہے کیونکہ انہوں نے (امر کرتے ہیں کہ اے میرے پالنے والے ہم تو ایمان لاچکے تو کے ساتھ ہمیں بھی لکھ رکھ اور ہم کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم خدا اور جو حـ پر تو ایمان نہ لائیں اور (پھر) خدا سے یہ امید رکھیں کہ ہمیں (بہشت) میں پہنچا ہی دے گا۔ ﴾

٨١

صفحہ ٣٢١

كفروا لبئس ما قدمت لهم انفسهم ان سخط الله عليهم وفى العذاب هم خالدون ٠ ولوكانوا يؤمنون بالله والنبي وما انزل اليه ما اتخذوهم اولياء ولكن كثيراً منهم فاسقون ٠ لتجدن اشد الناس عداوة للذين امنو اليهود والذين اشركوا ولتجدن اقربهم مودة للذين آمنو الذين قالوا انا نصریٰ، ذلك بان منهم قسيسين ورهبانا وانهم لا يستكبرون ٠ واذا سمعوا ما انزل الى الرسول ترى اعينهم تفيض من الدمع مما عرفوا من الحق يقولون ربنا امنا فاكتبنا مع الشهدين ، ومالنا لا نؤمن بالله وما جاءنا من الحق و نطمع ان يدخلنا ربنا مع القوم الصالحين “

﴿ جو لوگ کافر تھے ان پر داؤد اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کی زبانی لعنت کی گئی یہ (لعنت ان پر پڑی تو صرف) اس وجہ سے کہ (ایک تو) ان لوگوں نے نافرمانی کی اور (پھر ہر معاملے میں) حد سے بڑھ جاتے تھے اور کسی برے کام سے جس کو ان لوگوں نے کیا، باز نہ آتے تھے (بلکہ اس کے باوجود ممانعت، اڑے رہتے تھے) جو کام یہ لوگ کرتے تھے کیا ہی برا تھا (اے رسول) تم ان (یہودیوں) میں سے بہتیروں کو دیکھو گے کہ کفار سے دوستی رکھتے ہیں۔ جو سامان پہلے سے ان لوگوں نے خود اپنے واسطے درست کیا ہے کس قدر برا ہے (جس کا نتیجہ یہ ہے) کہ (دنیا میں بھی) خدا ان پر غضبناک ہوا اور (آخرت میں بھی) ہمیشہ عذاب ہی میں رہیں گے اور اگر یہ لوگ خدا اور رسول پر اور جو کچھ ان پر نازل کیا گیا ہے ایمان رکھتے تو ہرگز (ان کو) (اپنا) دوست نہ بناتے مگر ان میں سے بہتیرے تو بدچلن ہیں (اے رسول) تم ایمان لانے والوں کا دشمن سب سے بڑھ کر یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ایمان داروں کو دوستی میں سب سے بڑھ کر قریب ان لوگوں کو پاؤ گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں۔ کیونکہ ان (نصاریٰ) میں سے یقینی بہت سے عالم اور عابد ہیں اور اس سبب سے (بھی) کہ یہ لوگ ہرگز شیخی نہیں کرتے اور تو دیکھتا ہے کہ جب یہ لوگ اس (قرآن) کو سنتے ہیں جو ہمارے رسول پر نازل کیا گیا ہے، تو ان کی آنکھوں سے بے ساختہ (چھلک کر) آنسو جاری ہو جاتا ہے کیونکہ انہوں نے (امر) حق کو پہچان لیا ہے (اور) عرض کرتے ہیں کہ اے میرے پالنے والے ہم تو ایمان لا چکے تو (رسول کی) تصدیق کرنے والوں کے ساتھ ہمیں بھی لکھ رکھ اور ہم کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم خدا اور جو حق بات ہمارے پاس آ چکی ہے، اس پر تو ایمان نہ لائیں اور (پھر) خدا سے یہ امید رکھیں کہ وہ اپنے نیک بندوں کے ساتھ ہمیں (بہشت) میں پہنچا ہی دے گا۔ ﴾

٨١

صفحہ ٣٢٣

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان پر لعنت کی اس سے پہلے حضرت داؤد ان پر لعنت کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہود حضورﷺ پر بھی ایمان نہیں لائے۔ ارتقاء یہ ہے کہ ان کے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نہ ماننے والے ملعون ہوئے اور جو ایمان لائے انہوں نے ہدایت پائی اور وہ بالآخر حضورﷺ پر ایمان لائے۔ دیکھئے قرآن کریم اور رسالت حضور کو صحف اور رسل پر اللہ نے کیسی واضح فضیلت عطا فرمائی۔

آگے سورہ المائدہ میں یوں آیا ہے : ” واتقوا الله ، واسمعوا والله لا يهدى القوم الفاسقين ، يوم يجمع الله الرسل فيقول ماذا اجبتم ، قالوالا علم لنا ، انك انت علّام الغيوب ، اذ قال الله ياعيسى ابن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى والدتك اذ ايدتك بروح القدس تكلم الناس فى المهد وكهلا واذ علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل واذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذنى فتنفخ فيها فتكون طيرا باذنى وتبرئ الاكمه والابرص باذنى واذ تخرج الموتى باذنى واذ كففت بنى اسرائيل عنك اذ جئتهم بالبينات فقال الذين كفروا منهم ان هذا الا سحر مبين ، واذ اوحيت الى الحوارين ان امنوا بي وبرسولى قالوا امنا واشهد باننا مسلمون ، اذ قال الحواريون يعيسى ابن مريم هل يستطيع ربك ان ينزل علينا مائدة من السماء ، قال اتقوا الله ان كنتم مؤمنين ، قالوا نريد ان ناكل منها وتطمئن قلوبنا ان قد صدقتنا ونكون عليها من الشاهدين ، قال عيسى ابن مريم اللهم ربنا انزل علينا مائدة من السماء تكون لنا عيدا لاولنا و آخرنا واية منك وارزقنا وانت خير الرا زقين ، قال الله انى منزلها عليكم فمن يكفر بعد منكم فاني اعذبه عذابا لا اعذبه احد من العالمين ، واذ قال الله يا عيسى ابن مريم ءانت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله ، قال سبحانك ما يكون لي ان اقول ماليس لي بحق ، ان كنت قلته فقد علمته ، تعلم ما فى نفسى ولا اعلم مافي نفسك ، انك انت علّام الغيوب ، ماقلت لهم الا ما امرتنى به ان اعبدوالله ربي وربكم وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفیتنی كنت انت الرقيب عليهم انت على كل شى شهيدا ، ان تعذبهم فانهم عبادك ان تغفرلهم فانك انت العزيز الحكيم ، قال الله هذايوم ينفع الصادقين صدقهم لهم جنت تجرى من

٨٢

تحتها الانهار خلدين فيها ابدا ، رضی العظيم ، لله ملك السموات والارض وما فـ ﴿خدا سے ڈرو اور سن لو اور خدا بدچلن لو یاد کرو جس دن اللہ (اپنے) پیغمبروں کو جمع کر کے پو تبلیغ احکام کا) کیا جواب دیا گیا۔ تو عرض کریں گے جانتے تو تو بڑا غیب دان ہے۔ (وہ وقت یاد کرو) جب نے جو احسانات تم پر اور تمہاری ماں پر کئے انہیں یاد تمہاری تائید کی کہ تم جھولے میں (پڑے پڑے) جب ہم نے تمہیں لکھنا اور عقل و دانائی کی باتیں اور جب تم میرے حکم سے مٹی سے چڑیا کی مورت بنا۔ (سچ مچ) چڑیا بن جاتی تھی اور تم میرے حکم سے ماد جب تم میرے حکم سے مردوں کو زندہ کر کے قبروں اسرائیل کے پاس معجزے لے کر آئے اور اس وقـ سے روکا تو ان میں سے بعض کفار کہنے لگے یہ تو بس الہام کیا کہ مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ رہنا کہ ہم تیرے فرمانبردار بندے ہیں (وہ وقت کی کہ اے مریم کے بیٹے کیا آپ کا خدا اس پر قاد نازل فرمائے۔ عیسیٰ نے کہا اگر تم سچے ایمان دار ہـ معلوم ہو نہ کرو) وہ عرض کرنے لگے ہم تو (فقط) یہ اور ہمارے دل کو (آپ کی رسالت کا پورا پورا) یـ سے (جو کچھ کہا تھا) سچ فرمایا تھا اور ہم لوگ اس (بارگاہ خدا میں) عرض کی خداوند! اے ہمارے نازل فرما کہ وہ دن ہم لوگوں کے لئے ہمارے ا قرار پائے اور ہمارے حق میں تیری طرف سے سب روزی دینے والوں سے بہتر ہے۔ خدا نے رہے) کہ پھر تم میں سے جو شخص اس کے بعد کـ

صفحہ ٣٢٣

تحتها الانهار خلدين فيها ابدا ، رضى الله عنهم ورضوا عنه ، ذالك الفوز العظيم ، لله ملك السموات والارض وما فيهن ، وهو على كل شى قدير “

﴿ خدا سے ڈرو اور سن لو اور خدا بدچلن لوگوں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا اس وقت کو یاد کرو جس دن اللہ (اپنے) پیغمبروں کو جمع کر کے پوچھے گا کہ تمہیں (تمہاری امت کی طرف سے تبلیغ احکام کا) کیا جواب دیا گیا۔ تو عرض کریں گے کہ ہم تو (چند ظاہری باتوں کے سوا) کچھ نہیں جانتے تو تو بڑا غیب دان ہے۔ (وہ وقت یاد کرو) جب خدا فرمائے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ہم نے جو احسانات تم پر اور تمہاری ماں پر کئے انہیں یاد کرو جب ہم نے روح القدس (جبرئیل) سے تمہاری تائید کی کہ تم جھولے میں (پڑے پڑے) اور ادھیڑ ہو کر (یکساں) باتیں کرنے لگے اور جب ہم نے تمہیں لکھنا اور عقل و دانائی کی باتیں اور توریت و انجیل (یہ سب چیزیں) سکھائیں اور جب تم میرے حکم سے مٹی سے چڑیا کی مورت بناتے پھر اس پر کچھ دم کر دیتے تو وہ میرے حکم سے (سچ مچ) چڑیا بن جاتی تھی اور تم میرے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر دیتے تھے۔ اور جب تم میرے حکم سے مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے نکال کھڑا کرتے تھے اور جس وقت تم بنی اسرائیل کے پاس معجزے لے کر آئے اور اس وقت میں نے ان کو تم (پر دست درازی کرنے) سے روکا تو ان میں سے بعض کفار کہنے لگے یہ تو بس کھلا ہوا جادو ہے اور جب میں نے حواریوں کو الہام کیا کہ مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ تو عرض کرنے لگے، ہم ایمان لائے اور تو گواہ رہنا کہ ہم تیرے فرمانبردار بندے ہیں (وہ وقت یاد کرو) جب حواریوں نے (عیسیٰ سے) عرض کی کہ اے مریم کے بیٹے کیا آپ کا خدا اس پر قادر ہے کہ ہم پر آسمان سے (نعمت کا) ایک خوان نازل فرمائے۔ عیسیٰ نے کہا اگر تم سچے ایمان دار ہو تو خدا سے ڈرو۔ (ایسی فرمائش جس میں امتحان معلوم ہو نہ کرو) وہ عرض کرنے لگے ہم تو (فقط) یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے (تبرکاً) کچھ کھائیں اور ہمارے دل کو (آپ کی رسالت کا پورا پورا) اطمینان ہو جائے اور یقین کر لیں کہ آپ نے ہم سے (جو کچھ کہا تھا) سچ فرمایا تھا اور ہم لوگ اس پر گواہ رہیں۔ (تب) مریم کے بیٹے عیسیٰ نے (بارگاہ خدا میں) عرض کی خداوندا! اے ہمارے پالنے والے ہم پر آسمان سے ایک خوان نعمت نازل فرما کہ وہ دن ہم لوگوں کے لئے ہمارے اگلوں کے لئے اور ہمارے پچھلوں کے لئے عید کا قرار پائے اور ہمارے حق میں تیری طرف سے ایک بڑی نشانی ہو اور تو ہمیں روزی دے اور تو سب روزی دینے والوں سے بہتر ہے۔ خدا نے فرمایا میں خوان تو تم پر ضرور نازل کروں گا (مگر یاد رہے) کہ پھر تم میں سے جو شخص اس کے بعد کافر ہوا تو میں اس کو یقیناً ایسے سخت عذاب کی سزا

٨٣

صفحہ ٣٢٤

دوں گا کہ ساری خدائی میں کسی ایک پر بھی ویسا سخت عذاب نہ کروں گا اور (وہ وقت یاد کرو) جب (قیامت میں عیسیٰ سے) خدا فرمائے گا کہ (کیوں) اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تم نے لوگوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر مجھ کو اور میری ماں کو خدا بنالو۔ عیسیٰ عرض کریں گے سبحان اللہ! میری تو یہ مجال نہ تھی کہ میں ایسی بات منہ سے نکالوں جس کا مجھے کوئی حق نہ ہو (اچھا) اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھے تو ضرور ہی معلوم ہوگا۔ کیونکہ تو میرے دل کی (سب بات) جانتا ہے۔ ہاں البتہ میں تیرے جی کی بات نہیں جانتا۔ کیونکہ (اس میں تو شک ہی نہیں) تو ہی غیب کی باتیں خوب جانتا ہے تو نے مجھے جو کچھ حکم دیا اس کے سوا تو میں نے ان سے کچھ بھی نہیں کہا یہی کہ خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پالنے والا ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان کی دیکھ بھال کرتا رہا پھر جب تو نے مجھے (دنیا سے) اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو تو خود ہر چیز کا گواہ ہے تو اگر ان پر عذاب کرے گا تو (تو مالک ہے) یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے گا تو (کوئی تیرا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا کیونکہ) بے شک تو زبردست حکمت والا ہے۔ خدا فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے کہ سچے بندوں کو ان کی سچائی (آج) کام آئے گی ان کے لئے (ہرے بھرے) باغات ہیں جن کے (درختوں کے نیچے) نہریں بہہ رہی ہیں اور وہ اس میں ابد تک آباد رہیں گے خدا ان سے راضی اور وہ خدا سے راضی یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ سارے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے۔ سب خدا ہی کی سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ﴿﴾

اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو سیدھی راہ پر نہیں چلاتا اور اسی ضمن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اس کے سچے پیرووں کا ذکر فرمایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے واقعات کا دوبارہ ذکر کرنے سے ممکن ہے یہ مدعا ہو کہ لوگ ان کی پیدائش یا بلا باپ اور ان کے مردے زندہ کرنے والے معجزات کے ماننے میں کوئی حیل و حجت نہ کریں گے۔ مگر جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا لوگ اب بھی ان کی تاویل کرتے ہیں۔ دوسرا یہ بتا دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیرو بھی انہیں عیسیٰ ابن مریم ہی جانتے تھے۔ یعنی ان کے بلا باپ ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ تیسرا یہ کہ ان کے پیرووں کی درخواست پر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ایک خوان نعمت آسمان سے اتارا جو ان کے لئے تقویت و مزید ایمان کا باعث ہوا۔ جو لوگ یہ نہیں مانتے کہ واقعی خوان نعمت آسمان سے اترا کیونکہ قرآن کریم میں صاف مذکور نہیں کہ یہ خوان آخر میں اتارا گیا تھا۔ مگر ان کو اس آیت مبارکہ سے یہ تو مان لینا چاہئے کہ خداوند کریم ایسا کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اس نے فرمایا جو معجزات کے صادر ہونے کی دلیل ہے اور ساتھ ہی پچھلے مضمون کی تکمیل کی

٨٤

٣٢٥ ہے۔

ارتقاء یہ ہے کہ ایک پیغمبر کے سچے پیروؤں بلکہ وہ خدا کے بندے خود بھی خدا کی دی ہوئی نعمتوں سے

نوٹ: چونکہ کئی الفاظ دوبارہ آئے ہیں۔ اس میں اس طرح آیا ہے: ”ووهبناله اسحق ويعـ قبل ومن ذريته داؤد وسليمان وايوب ويـ نجزى المحسنين . وزكريا ويحيى وعيـ واسماعيل واليسع ويونس ولوط . وكلا فضـ

ان آیات مبارکہ کا ترجمہ اور مفہوم پہلے بـ آیات مبارکہ سورۃ انعام کی ہیں جو اس طرح شروع ہو السماوات والارض وجعل الظلمات والنـ (انعام: ١) ”سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے میں مختلف قسم کی تاریکی اور روشنی بنائی پھر (باوجود اس برابر کہتے ہیں۔﴾

اس آیت مبارک میں کفار کے تین گروہـ کے قائل ہیں کہ تمام اشیاء کا کوئی خالق نہیں بلکہ یہ چیـ یہ کہتے ہیں کہ ظلمت و نور تمام چیزوں کے خالق ہیں باقی سورت تقریباً اس کی تشریح ہے۔ آیات متذکرہ

اس سے پہلے کی یہ آیت ہے: ”تلك حجتنا آتينها ابراهيم ربكم حكيم عليم (انعام:٨٣) ”اور ابراہیم کو اپنی قوم پر (غالب آنے کے لئے) عطا ہیں بیشک تمہارا پروردگار حکمت والا باخبر ہے۔﴾

ان دونوں کو ملا کر پڑھنے سے ظاہر ہـ ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اور کن کے ذریعے سے ایک ہیں وہ بھی دوسرے پیغمبروں میں سے ایک

صفحہ ٣٢٥

ہے۔

ارتقاء یہ ہے کہ ایک پیغمبر کے سچے پیروؤں سے خداوند کریم نہ صرف خود راضی ہوتا ہے بلکہ وہ خدا کے بندے خود بھی خدا کی دی ہوئی نعمتوں سے راضی وخوش ہوتے ہیں۔

نوٹ: چونکہ کئی الفاظ دوبارہ آئے ہیں۔ اس لئے مضمون بدلے گا۔ آگے سورۃ انعام میں اس طرح آیا ہے: ”ووهبنا له اسحق ويعقوب كلاً هدينا ونوحا هدينا من قبل ومن ذريته داؤد وسليمان وايوب ويوسف وموسى وهارون وكذالك نجزى المحسنين ٠ وزكريا ويحيى وعيسى والياس ٠ كل من الصالحين ٠ واسمعيل واليسع ويونس ولوط ٠ وكلا فضلنا على العالمين“

ان آیات مبارکہ کا ترجمہ اور مفہوم پہلے بیان ہو چکا ہے۔ ارتقاء اس طرح پر ہے۔ یہ آیات مبارکہ سورۃ انعام کی ہیں جو اس طرح شروع ہوتی ہیں: ”الحمد لله الذى خلق السماوات والارض وجعل الظلمات والنور ثم الذين كفروا بربهم يعدلون (انعام:١) ”سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس میں مختلف قسم کی تاریکی اور روشنی بنائی پھر (باوجود اس کے) کفار (اوروں کو) اپنے پروردگار کے برابر کہتے ہیں۔﴾

اس آیت مبارک میں کفار کے تین گروہوں کا رد ہے۔ ایک تو دہریوں کا رد ہے جو اس کے قائل ہیں کہ تمام اشیاء کا کوئی خالق نہیں بلکہ یہ چیزیں خود بخود ہوگئیں۔ دوسرے ان لوگوں کا جو یہ کہتے ہیں کہ ظلمت ونور تمام چیزوں کے خالق ہیں۔ تیسرے مشرکین جو بتوں کو خدا کہتے ہیں۔ باقی سورت تقریباً اس کی تشریح ہے۔ آیات متذکرہ بالا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہیں، اس سے پہلے کی یہ آیت ہے:

”تلك حجتنا آتينها ابراهيم على قومه ، نرفع درجات من نشاء ان ربكم حكيم عليم (انعام:٨٣) ”اور یہ ہماری (سمجھائی بجھائی) دلیلیں ہیں جو ہم نے ابراہیم کو اپنی قوم پر (غالب آنے کے لئے) عطا کی تھیں ہم جس کے مرتبے کو چاہیں بلند کرتے ہیں بیشک تمہارا پروردگار حکمت والا باخبر ہے۔﴾

ان دونوں کو ملا کر پڑھنے سے ظاہر ہے کہ مشرکین کا رد ہو رہا ہے اور ساتھ ہی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اور کن کے ذریعے سے ہدایت بھیجتا رہا۔ جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہیں وہ بھی دوسرے پیغمبروں میں سے ایک تھے اور اسی ہدایت کے طریقے پر تھے جس پر کہ

٨٥

صفحہ ٣٢٧

دوسرے پیغمبر تھے اور اگر کسی کو پیغمبری کے ساتھ بادشاہت یا امارت ملی یا کسی نبی کو قتل کر دیا گیا۔ یا کسی نبی کو آسمان پر اٹھا لیا گیا تو اس سے نبوت کے معاملے میں نہ کوئی کمی ہوتی ہے نہ فضیلت ہوتی ہے۔ انہی وجوہات پر آگے فرمایا: "وهذا كتاب أنزلناه مبارك فاتبعوه واتقوا لعلكم ترحمون (انعام:١٥٥) " ﴿اور یہ کتاب (قرآن) جس کو ہم نے نازل کیا ہے۔ برکت والی ہے تو تم لوگ اس کی پیروی کرو اور (خدا) سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ﴾ "قل اننی هدنی ربی الی صراط مستقیم دينا قيما ملة ابراهيم حنيفا وما كان من المشركين قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی لله رب العالمين . لاشريك له بذالك امرت وانا اول مسلمين(انعام:١٦١ تا١٦٣) " ﴿(اے رسول) تم ان سے کہہ دو کہ مجھ کو سمجھائی میرے رب نے راہ سیدھی دین صحیح ملت ابراہیم کی جو ایک ہی طرف کا تھا اور نہ تھا شرک کرنے والوں میں کہ میری نماز میری عبادت (قربانی) اور میرا جینا اور مرنا سب خدا ہی کے لئے ہے جو سارے جہان کا پروردگار ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے اسلام والا ہوں۔﴾ یعنی فضیلت اس نبی میں ہے جس میں یہ صفات بدرجہ اتم پائی جائیں اور اسی کی پیروی لازم ہے۔

آگے سورۂ مریم میں یوں آیا ہے:"واذکر فی الکتاب مريم اذانتبذت من اهلها مكانا شرقيا . فاتخذت من دونهم حجابا فارسلنا اليها روحنا فتمثل لها بشرا سويا . قالت انی اعوذ بالرحمن منك ان كنت تقيا . قال انما انا رسول ربك لاهب لك غلاما زكيا . قالت انى يكون لى غلم ولم يمسسنی بشر ولم اك بغيا . قال كذالك قال ربك هو على هين ولنجعله آية للناس ورحمة منا وكان امر مقضيا . فحملته فانتبذت به مكانا قصيا . فاجاءها المخاض الى جذع النخلة قالت يليتنی مت قبل هذا وكنت نسيا منسيا . فناداها من تحتها الا تحزنی قد جعل ربك تحتك سريا . وهزى اليك بجذع النخلة تسقط عليك رطبا جنيا . فکلی واشربی وقری عینا فاما ترين من البشر احدا فقولی انی نذرت للرحمن صوما . فلن اكلم اليوم انسيا . فاتت به قومها تحمله . قالوا يمريم لقد جئت شيئا فريا . ياخت هرون ماكان ابوك امرء سوء وماكانت ٨٦

امك بغيا . فاشارت اليه . كيف نكلم من كان فى المهد صبيا . قال انی عبد الله اتاني الكتاب وجعلنی نبیا . وجعلنی مباركا اين ما كنت واوصانی بالصلوٰۃ والزكوة مادمت حيا . وبرا بوالدتی ولم يجعلنی جبارا شقيا . والسلام علی يوم ولدت ويوم اموت ويوم ابعث حيا . ذالك عیسی ابن مريم قول الحق الذي فيه يمترون . ماكان لله ان يتخذ من ولد سبحانه اذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون . وان الله ربی وربكم فاعبدوه هذا صراط مستقيم . فاختلف الاحزاب من بينهم فويل للذين كفروا من مشهد يوم عظيم . اسمع به وابصر يوم ياتوننا لكن الظالمون اليوم في ضلال مبين" ﴿اور (اے رسول) قرآن کریم میں مریم کا (حال) یاد کرو جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر پورب طرف والے مکان (غسل کے واسطے) گئیں پھر ان لوگوں کی طرف سے سامنے پردہ کر لیا تو ہم نے اپنی روح (جبرئیل) کو اس (مریم) کے پاس بھیجا تو وہ ان کے صورت بن کر ان کے سامنے آکھڑا ہوا (وہ اس کو دیکھ کر گھبرائیں اور) کہنے لگیں اگر تو پرہیزگار ہے تو میں تجھ سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں (میرے پاس سے ہٹ جا) اس نے کہا میں تو بس تمہارے پروردگار کا پیغامبر (فرشتہ) ہوں تاکہ تم کو پاکیزہ لڑکا دوں۔ مریم نے کہا بھلا مجھے لڑکا کیونکر ہو سکتا ہے۔ حالانکہ کسی (مرد) آدمی نے مجھے چھوا تک نہیں اور نہ میں بدکار ہوں جبرئیل علیہ السلام نے کہا تم نے کہا ٹھیک (مگر) تمہارے پروردگار نے یوں ہی بات (بلا باپ کے لڑکا پیدا کرنا) مجھ پر آسان ہے تاکہ ہم اس (لڑکے کی پیدائش) کو لوگوں کے واسطے (اپنی قدرت کی) نشانی قرار دیں اور اپنی خاص رحمت (بنائیں) اور یہ تو ایک ٹھہری ہوئی بات ہے۔ غرض لڑکے کے ساتھ وہ آپ ہی آپ حاملہ ہو گئیں اور اس کو لئے ہوئے ایک دور دراز مکان میں چلی گئیں۔ پھر (جب جننے کا وقت قریب آیا تو) درد زہ انہیں ایک کھجور (سوکھے) درخت کی جڑ میں لے آیا اور (بے کسی میں گھبرا کر) کہنے لگیں اے کاش میں اس سے پہلے مر جاتی اور ناپید ہو کر بالکل بھولی بسری ہو جاتی تب جبرئیل نے ان کو درخت کے نیچے سے آواز دی کہ تم کڑھو نہیں دیکھو تو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے سے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے اور خرمے کی جڑ ( پکڑ کر) اپنی طرف سے ہلاؤ تم پر تازی تازی پکی ہوئی کھجوریں جھڑ پڑیں گی (شوق سے خرمے) کھاؤ اور (چشمہ کا پانی) پیو اور (لڑکے کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو پھر اگر کسی آدمی کو دیکھو (اور وہ تم سے کچھ پوچھے) تو تم (اشارہ سے) کہہ دو کہ میں نے تو خدا کے واسطے ٨٧

صفحہ ٣٢٧

امك بغيا ، فاشارت اليه . كيف نكلم من كان فى المهدصبيا . قال انى عبدالله اتانى الكتاب وجعلنى نبيا . وجعلنى مبارك اين ماكنت واوصانى بالصلوة والزكوة مادمت حيا . وبرابوالدتى ولم يجعلنى جبار اشقيا . والسلام علىّ يوم ولدت ويوم اموت ويوماابعث حيا . ذلك عيسى ابن مريم قول الحق الذى فيه يمترون . ماكان لله ان يتخذا من ولد سبحنه . اذا قضى امرا فانمايقول له كن فيكون . وان الله ربى وربكم فاعبدوه هذاصراط مستقيم . فاختلف الاحزاب من بينهم فويل للذين كفروا من مشهد يوم عظيم . اسمع به وابصر يوم ياتوننا لكن الظالمون اليوم فى ضلال مبين“

﴾اور (اے رسول) قرآن کریم میں مریم کا (بھی) تذکرہ کرو کہ جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر پورب طرف والے مکان (غسل کے واسطے ) جا بیٹھی پھر اس نے ان لوگوں کے سامنے پردہ کر لیا تو ہم نے اپنی روح (جبرئیل) کو اس کے پاس بھیجا تو وہ اچھے خاصے آدمی کی صورت بن کر ان کے سامنے آکھڑا ہوا (وہ اس کو دیکھ کر گھبرائیں اور) کہنے لگیں کہ اگر تو پرہیز گار ہے تو میں تجھ سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں (میرے پاس سے ہٹ جا) جبرئیل نے کہا میں تو صاف تمہارے پروردگار کا پیغامبر (فرشتہ) ہوں تا کہ تم کو پاک و پاکیزہ لڑکا عطاء کروں۔ مریم نے کہا مجھے لڑکا کیونکر ہو سکتا ہے۔ حالانکہ کسی (مرد) آدمی نے مجھے چھوا تک نہیں اور نہ میں بدکار ہوں۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا تم نے کہا ٹھیک (مگر) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ بات (بلا باپ کے لڑکا پیدا کرنا) مجھ پر آسان ہے تاکہ اس کو (پیدا کر کے ) لوگوں کے واسطے (اپنی قدرت کی) نشانی قرار دیں اور اپنی خاص رحمت ( کا ذریعہ) بنائیں اور یہ بات فیصل شدہ ہے۔ غرض لڑکے کے ساتھ وہ آپ ہی آپ حاملہ ہو گئیں۔ پھر اس کی وجہ سے الگ ایک دور کے مکان میں چلی گئیں۔ پھر (جب جننے کا وقت قریب آیا) تو دروزہ انہیں ایک کھجور کے (سوکھے) درخت کی جڑ میں لے آیا اور (بے کسی میں شرم سے کہنے لگیں کاش میں اس سے پہلے مر جاتی) اور ناپید ہو کر بالکل بھولی بسری ہو جاتی تب جبرئیل نے مریم کے بائیں طرف سے آواز دی کہ تم کڑھو نہیں دیکھو تو تمہارے پروردگار نے تمہارے (قریب ہی) نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے اور خرمے کی جڑ ( پکڑ کر) اپنی طرف سے ہلاؤ تم پر پکے پکے تازہ خرمے جھڑ پڑیں گے۔ پھر (شوق سے خرمے) کھاؤ اور (چشمہ کا پانی) پیو اور (لڑکے سے) اپنی آنکھ ٹھنڈی کرو پھر اگر تم کسی آدمی کو دیکھو (اور وہ تم سے کچھ پوچھے) تو تم (اشارہ سے کہہ دینا) کہ میں نے خدا کے واسطے روزہ

٨٧

صفحہ ٣٢٨

کی نذر کی تھی تو آج ہرگز کسی سے بات نہیں کر سکتی پھر مریم اس لڑکے کو اپنی گود میں لئے ہوئے (اپنی قوم کے پاس آئیں) وہ لوگ (دیکھ کر) کہنے لگے اے مریم! تم نے یقیناً بہت برا کام کیا۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ ہی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی یہ تو نے کیا کیا۔ تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا (کہ جو کچھ پوچھنا ہے اس سے پوچھ لو) وہ لوگ کہنے لگے (بھلا) ہم گود کے بچے سے کیونکر بات کریں اس پر وہ بچہ (قدرت خدا) سے بول اٹھا کہ بے شک میں خدا کا بندہ ہوں مجھ کو اس نے کتاب (انجیل) عطا فرمائی ہے اور مجھ کو نبی بنایا اور میں (چاہے) کہیں رہوں مجھ کو مبارک بنایا اور مجھ کو جب تک زندہ رہوں نماز پڑھنے، زکوٰۃ دینے کی تاکید کی اور مجھ کو اپنی والدہ کا فرمانبردار بنایا اور (الحمد للہ) کہ مجھ کو سرکش نافرمان نہیں بنایا اور (خدا کی طرف سے) جس دن میں پیدا ہوا ہوں اور جس دن مروں گا مجھ پر سلام ہے اور جس دن (دوبارہ) اٹھا کھڑا کیا جاؤں گا۔ یہ ہے مریم کے بیٹے عیسیٰ کا سچا قصہ جس میں یہ لوگ (خواہ مخواہ) شک کیا کرتے ہیں۔ خدا کے لئے یہ کس طرح سزاوار ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاکیزہ ہے جب وہ کسی کام کا کرنا ٹھان لیتا ہے تو بس اس کو کہہ دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے اور اس میں تو شک ہی نہیں کہ خدا (ہی میرا پروردگار) ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے تو سب کے سب اسی کی عبادت کرو یہی (توحید) سیدھا راستہ ہے (اور یہی دین عیسیٰ لے کر آئے تھے) پھر (کافروں کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا تو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے لئے بڑے (سخت) دن (خدا کے حضور) حاضر ہونے سے خرابی ہے۔ جس دن یہ لوگ ہمارے حضور حاضر ہوں گے کیا کچھ سنتے دیکھتے ہوں گے مگر آج تو نافرمان لوگ کھلم کھلا گمراہی میں ہیں۔﴿

اس میں حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا اور یہ خصوصاً قابل غور ہیں: ”میں اللہ کا بندہ ہوں۔ مجھ کو اس نے کتاب دی اور مجھ کو اس نے نبی بنایا اور کیا مجھے برکت والا جس جگہ میں ہوں اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکوٰۃ کی جب تک میں رہوں زندہ اور سلوک کرنے والا اپنی ماں سے۔ سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن میں اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر۔“

خدا کا بندہ کہہ کر جو لوگ ان کے حق میں جھوٹ کہتے ہیں۔ ان کو ساقط و مردود کر دیا اور یہ بھی ظاہر کر دیا کہ ”عبد اللہ“ خدا نہیں ہو سکتا اور یہ الفاظ بھی قابل غور ہیں: ”اور دی مجھ کو کتاب اور کر دیا مجھے برکت والا جہاں میں رہوں۔“

”فتح البیان“ میں نقل کیا کہ ابو ہریرہؓ نے حضرت محمدﷺ سے روایت کی کہ قولہ

٨٨

صفحہ ٣٢٩

”جعلنی مبارکاً این ما کنت“ کے معنے یہ ہیں کہ کر دیا مجھے لوگوں کو نفع پہنچانے والا جدھر میں متوجہ ہوں اور دوسری روایت میں ہے کہ شرعی ادب سکھانے والا کر دیا مبارک اس وجہ سے بھی تھے کہ ان کی دعا سے لوگوں کو فائدہ ہوتا تھا۔ مردے زندہ ہوتے تھے اور مادر زاد اندھوں اور برص والوں کو اچھا کر دیتے تھے اور ”اینما کنت“ کے الفاظ (جہاں میں رہوں) ظاہر کر رہے ہیں خواہ زمین میں ہوں یا آسمان میں ہوں۔ اس لئے آگے کہا:

”اوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ“ ﴿مجھے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم ملا۔﴾ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی دوسرے نیک انسانوں کی طرح اپنی شریعت کے پابند تھے۔ اس لئے ان کے پیروؤں کو بھی ضرور پابند شریعت رہنا چاہئے۔ زکوٰۃ تو نصاب سے مشروط ہے لیکن نماز تو آسمان پر بھی ادا ہو سکتی ہے اور غالباً یہی معنی ہیں اس آیت کے جس کا حوالہ پہلے دیا جاچکا ہے یعنی:”لن یستنکف المسیح ان یکون عبد لله ولا الملئکۃ المقربون (نساء:١٧٢) “﴿نہ تو مسیح ہی خدا کا بندہ ہونے سے ہرگز عار رکھ سکتے ہیں اور نہ خدا کے مقرب فرشتے۔﴾

جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت آسمان پر زندہ نہ ہوں تو ان کی نسبت یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ان کو عبداللہ ہونے میں عار نہیں ہے اور اس سے ”ما دمت حیا“ کے معنے واضح ہو جاتے ہیں (یعنی جب تک میں زندہ رہوں) ایک امر قابل غور ہے۔ جو اس میں مدد دیتا ہے۔ یعنی یہاں کہا کہ میں نماز ادا کرنے والا ہوں جب تک زندہ رہوں لیکن قیامت کے روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ میں لوگوں کے حالات سے واقف تھا جب تک ”ما دمت فیھم“ میں ان میں رہا یہ اس لئے کہ وہ تا قیام قیامت زمین پر دوبارہ تشریف فرما ہو کر وفات پا چکے ہوں گے اور ان کا بھی اور تمام مخلوقات کے ساتھ ہی حشر ہوگا۔

اس کے بعد کہہ دیا کہ مجھ پر سلام ہے جس دن میں پیدا ہوا جس دن میں مروں اور جس دن زندہ ہو کر اٹھوں گا۔ اسی سورۃ میں اس سے پہلے اللہ کی طرف سے ایسے ہی الفاظ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی نسبت آئے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ان پر موت واقع ہو گی اور ان کی پیدائش سے موت تک کوئی ایسا فعل ان سے سرزد نہ ہوگا جس کے باعث وہ اللہ کے سلام یعنی رحمت سے محروم ہو جائیں۔ اس کے بعد اور پیغمبروں مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت اسحاق علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت اسماعیل علیہ السلام ، حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر فرما کر یوں کہا :

٨٩

صفحہ ٣٣٠ ٣٣١

”اولئك الذين انعم الله عليهم من النبيين من ذرية ادم وممن حملنا مع نوح ومن ذرية ابراهيم واسرائيل وممن هدينا واجتبينا ٭ اذا تتلى عليهم آيات الرحمن خروا سجدا وبكيا ٭ فخلف من بعدهم خلف اضاعوا الصلوة واتبعوا الشهوات فسوف يلقون غيا ٭ الا من تاب وآمن وعمل صالحا فاولئك يدخلون الجنة ولا يظلمون شيئا (مریم: ٦٠)“ ﴿یہ انبیاء لوگ جنہیں خدا نے نعمت دی آدم کی اولاد سے ہیں اور ان کی نسل سے جنہیں ہم نے (طوفان کے وقت) نوح کے ساتھ (کشتی پر) سوار کر لیا تھا اور ابراہیم و یعقوب کی اولاد سے ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے ہدایت دی اور منتخب کیا۔ جب ان کے سامنے خدا کی (نازل کی ہوئی) آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدہ میں زار و قطار روتے ہوئے گر پڑتے تھے۔ پھر ان کے بعد کچھ ناخلف (ان کے جانشین) ہوئے جنہوں نے نمازیں کھوئیں اور نفسانی خواہشوں کے چیلے بن بیٹھے۔ عنقریب ہی یہ لوگ اپنی گمراہی (کے خمیازے) سے ملیں گے مگر (ہاں) جس نے توبہ کر لیا اور اچھے اچھے کام کئے تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے ان پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔﴾

مدعا یہ ہے کہ جب یہ لوگ اولوالعزم پیغمبر اور دوسرے نیک بندے خدا کی آیتوں کو سن کر سجدے میں زار و قطار روتے ہوئے گر پڑتے تھے تو ان کے پیرو کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات کو چھوڑ دیں اور توبہ کریں اور اللہ کی ان آیات پر ایمان لائیں جو ان پر پڑھی جاتی ہیں تاکہ وہ فلاح پاویں۔ دیکھئے دو قسم کے ارتقاء کو کس خوبی سے بتایا ہے۔

اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر اگرچہ ان کے نام سے ساتھ نہیں آیا۔ قرآن میں حضرت زکریا علیہ السلام کے ذکر کے بعد یوں آیا ہے: ”والتی احصنت فرجها فنفخنا فيها من روحنا وجعلناها وابنها آية للعلمين “ ﴿اور وہ عورت جس نے قابو میں رکھی یعنی حلال وحرام دونوں طریقوں سے محفوظ پھر پھونک دی ہم نے اس عورت میں روح اور کیا اس کو اس کے بیٹے کو نشانی جہانوں والوں کے واسطے۔﴾

سورہ مریم میں جیسا کہ اوپر آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ فرشتہ نے کہا تھا کہ یوں ہی ہو جائے گا اور تیرے رب پہ یہ امر آسان ہے اور ہم اس کو نشانی بنائیں گے۔ لوگوں کے لئے اور مہربانی اپنی طرف سے اور حکم یہ ہو چکا ہے۔ اس کے بعد ہے ”فحملته“ پھر پیٹ میں لیا اس کو۔

اب مذکورہ بالا آیت نے اس آیت کی وضاحت کردی ہے کہ حمل کس طرح ٹھہرا جو

٩٠

ارتقاء ہے اور ساتھ ہی ارتقاء کے یہ بھی کہا کہ ہم نے مریم والوں کے لئے نشانی بنایا۔ حضور ﷺ کی نسبت اس کے رحمة للعلمين“ ﴿اور تجھ کو ہم نے بھیجا تمام جہانوں اس کے بعد سورۃ المومنون میں یوں آیا ہے واوينہما الی ربوة ذات قرار و معین ٭ یا ایہ صالحا ٭ انی بما تعملون علیم “﴿اور بنایا ہم اور ان کو ٹھکانا دیا ایک ٹیلے پر جہاں ٹھہرنے کا موقع چیزیں اور کام کرو بھلا جو تم کرتے ہو میں جانتا ہوں ۔﴾

آج کل یہ ایک بڑی متنازعہ فیہ آیت ہے ہیں کہ یہاں ”ربوہ“ سے مراد کشمیر ہے جہاں حضر کے بعد زخموں کے اچھا ہونے کے بعد چپکے سے اپ ہوئے جو کہ ایک افسانہ ہے اور میرے خیال میں سراسر اول! تو سورۃ انبیاء کی آیت میں ذکر تھا کہ لحاظ سے یہ آیت ظاہر کر رہی ہے کہ انہوں نے کہا آیت کی تاویل یہ کرنا کہ وہ اپنی پیغمبری کا زمانہ ختم کر نہیں۔

ربوہ کے معنی مولوی محمد علی صاحب نے ار بڑھا اور بلند ہوا اور ربوة اعلیٰ درجے کی زمین کو کہتے سے کچھ نقل کرتا ہوں:

”ضحاک نے ابن عباس سے روایت کی نباتات عمدہ ہوتی ہیں۔ یہی قول مجاہد و عکرمہ و سعید بن قرار یعنی اس میں پیداوار برخلاف قحط کے خوب ہے ہے۔ پس ذات معین وذات قرار یہی علماء تابعین مذکو حاصل یہ ہے کہ جس ربوہ میں ان کو ٹھکا تھی اور اس میں چشمے جاری تھے۔ علماء نے کلام کیا ک ابن ابی حاتم نے سعید بن المسیب سے

٩١

صفحہ ٣٣١

ارتقاء ہے اور ساتھ ہی ارتقاء کے یہ بھی کہا کہ ہم نے مریم اور اس کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو جہاں والوں کے لئے نشانی بنایا۔ حضور ﷺ کی نسبت اس کے چند آیات بعد کہا: ”وما ارسلنک الا رحمة للعلمين“ ﴿اور تجھ کو ہم نے بھیجا تمام جہانوں کے لئے رحمت﴾

اس کے بعد سورۃ المومنون میں یوں آیا ہے: ”وجعلنا ابن مريم و امه اية واوينھما الى ربوة ذات قرار ومعين ، يا ايھا الرسل كلوا من طيبات واعملو صالحا، انى بما تعملون عليم“ ﴿اور بنایا ہم نے مریم کے بیٹے کو اس کی ماں کو ایک نشانی اور ان کو ٹھکانا دیا ایک ٹیلے پر جہاں ٹھہرنے کا موقع تھا اور پانی ستھرا۔ اے رسولو! کھاؤ ستھری چیزیں اور کام کرو بھلا جو تم کرتے ہو میں جانتا ہوں۔﴾

آج کل یہ ایک بڑی متنازعہ فیہ آیت ہے۔ قادیانی اور لاہوری احمدی یہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں ”ربوہ“ سے مراد کشمیر ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھائے جانے کے بعد زخموں کے اچھا ہونے کے بعد چپکے سے اپنے وطن سے نکل آئے اور کشمیر میں آکر دفن ہوئے جو کہ ایک افسانہ ہے اور میرے خیال میں سراسر غلط ہے۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔

اول ! تو سورۃ انبیاء کی آیت میں ذکر تھا کہ ان کی پیدائش کس طرح ہوئی۔ ارتقاء کے لحاظ سے یہ آیت ظاہر کر رہی ہے کہ انہوں نے کہاں پرورش پائی اور کہاں بڑے ہوئے۔ اس آیت کی تاویل یہ کرنا کہ وہ اپنی پیغمبری کا زمانہ ختم کر کے کشمیر پہنچ گئے کسی طرح فہم سلیم کو قابل قبول نہیں۔

ربوہ کے معنی مولوی محمد علی صاحب نے اردو تفسیر میں یوں کئے ہیں: ”ربا کے معنی ہیں بڑھا اور بلند ہوا اور ربوۃ اعلیٰ درجے کی زمین کو کہتے ہیں۔“ اس موقع پر میں تفسیر مواہب الرحمٰن سے کچھ نقل کرتا ہوں:

”ضحاکؒ نے ابن عباسؓ سے روایت کی کہ ربوۃ زمین سے اونچا مقام ہے کہ اس میں نباتات عمدہ ہوتی ہیں۔ یہی قول مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر و قتادہ کا ہے۔ ابن عباسؓ نے کہا کہ ذات قرار یعنی اس میں پیداوار برخلاف قحط کے خوب ہے اور معین سے مراد یہ ہے کہ اس میں پانی ظاہر ہے۔ پس ذات معین و ذات قرار یہی علماء تابعین مذکورہ بالا سے مروی ہے۔“

حاصل یہ ہے کہ جس ربوہ میں ان کو ٹھکانا دیا تھا وہ زمین سیر حاصل تھی۔ پیداوار اچھی تھی اور اس میں چشمے جاری تھے۔ علماء نے کلام کیا کہ وہ کون مقام تھا؟

ابن ابی حاتم نے سعید بن المسیبؒ سے روایت کی کہ وہ دمشق ہے اور اس کی مانند

91

صفحہ ٣٣٣

عبداللہ بن سلام و حسن بصری وغیرہ سے مروی ہے نیز مانند اس کے ابن عباس سے روایت کی اور مجاہد نے کہا غوطہ دمشق ہے اور عبدالرزاق نے ابو ہریرہ سے روایت کی کہ ربوہ فلسطین میں ہے اور وہ مقام رملہ ہے اور قتادہ سے مروی ہے کہ وہ بیت المقدس ہے۔

١٩٢٨ء میں جب میں بیت المقدس سے ہوتا ہوا دمشق پہنچا تو وہاں مجھے میرے گائیڈ نے اس مقام کو دکھایا جو دمشق میں ربوہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس موجود ربوۃ کے پاس ایک نہر بہتی ہے۔ وہاں ایک مقام پر کوٹھری بنی ہوئی ہے جس کے اندر پتھر پر حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی تصاویر ہیں۔ وہ کوٹھری ایک ترک کے قبضے میں تھی۔ اس نے مجھ سے بیان کیا کہ یہاں سے عیسائی مٹی تبرکا لے جاتے ہیں۔ دمشق اپنی سرسبزی اور شادابی کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ فلسطین کا علاقہ گلیلی جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پرورش پائی، اپنے چشموں اور شادابی کے لحاظ سے دنیا میں اپنی نظیر نہیں رکھتا۔ (دیکھو انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ج ٩ ص ٧٧ و ٧٨ ، ٩٨)

گلیلی دو حصوں میں منقسم ہے ایک شمالی حصہ اور ایک جنوبی۔ دونوں میں چشمہ جات اور میوہ جات، ہر قسم کی سرسبزی و شادابی پائی جاتی ہے۔ آخر میں لکھا ہے کہ رومنز نے گلیلی کو صوبہ بنایا۔ اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ گلیلی وہ جگہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پرورش پائی اور جہاں وہ اپنا وعظ ونصیحت کرتے رہے۔ موجودہ لوقا اور مرقس کی کتابوں سے بھی ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ فلسطین میں پھرتے رہے۔ جب تک وہ حاکم جس نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قید کرکے قتل کر دیا تھا، فوت نہ ہوا۔ یہ دوسری دلیل اس امر کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کی والدہ کو گلیلی اور دمشق کے اطراف میں امان دی اور ایک ظالم بادشاہ کی گرفت سے بچایا اسی واسطے فرمایا: ”وآوینھما“ یوں ہم نے انہیں بچایا۔

تیسرا اس آیت مبارکہ میں ذکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کا ہے۔ کسی ملک کی تاریخ اس پر شاہد نہیں ہے کہ حضرت مریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یا ان کے بعد کبھی کشمیر گئی ہوں۔

١٩٣٥ء میں جب کشمیر گیا تو خاص طور پر یوز آصف کی قبر کو دیکھا۔ جس کی نسبت اس زمانے میں کہا گیا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ جہاں اور لوگوں کے علاوہ مولوی محمد شاہ صاحب معاون مفتی شہر سری نگر سے ملا۔ انہوں نے اپنا رسالہ (حالات یوز آصف) مدفون سری نگر بمقام خان یار دیا۔ مفتی صاحب نے اس رسالے میں تاریخی حوالوں سے ثابت کر دیا ہے

٩٢

کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سری نگر کشمیر میں نہیں آئے۔

دوسرا رسالہ اس بارے میں مولوی حبیب جو دیکھا وہ یہ تھا کہ یہ قبر دوسری قبروں کے درمیان نـ خاص اس قبر کی تمیز نہیں ہے۔ دوسرے مسلمانوں کی قـ عیسیٰ علیہ السلام اپنے وقت میں کبھی اس طرح آتے ہوتی جیسی دوسرے مسلمانوں کی ہے۔ خاص کر کشمیر اس سے پہلے وہاں ہندو اور بدھ مذہب کا دور دورہ تھا کے بعد کوئی ایک پیرو بھی نہ ملا جو ان کی یادگار چھوڑتا یا جاتا۔ یہ امر قابل غور ہے کہ تسلسل واقعات میں ارتقاء

آگے سورۂ احزاب میں یوں آیا ہے: ”و ومن نوح وابراهيم وموسى وعيسى ا ليسئل الصادقين عن صدقهم واعد للكـ نبیوں سے ان کا اقرار اور تجھ سے اور نوح سے اور ا مریم کا اور لیا ہم نے ان سے گاڑھا اقرار تا کہ پوچـ منکروں کے لئے دردناک عذاب۔﴾

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ارتقاء کیا۔ یعنی پرورش کے بعد وہ ایک الوالعزم پیغمبر ہویـ نبی ﷺ کا لیا۔ حالانکہ عالم شہود میں آپ کا ظہور سـ پہلے ہیں۔ اس لئے سب سے پہلے آپ کا نام مبا النبیین کے لقب سے یاد کیا گیا۔ جو اس ترکیب و تر

آگے سورۃ الشوریٰ میں یوں آیا ہے: ” والذي اوحينا اليك وما وصينا به ابر ولا تتفرقوا فيه ، كبر على المشركين يشاء ويهدى اليه من ينيب (١٣)“ ( ا حکم تھا نوح کو اور جس کا حکم بھیجا ہم نے تیری طرف

صفحہ ٣٣٣

کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سرینگر کشمیر میں نہیں آئے۔

دوسرا رسالہ اس بارے میں مولوی حبیب اللہ امرتسری کا بھی قابل دید ہے۔ میں نے جو دیکھا وہ یہ تھا کہ یہ قبر دوسری قبروں کے درمیان میں ہے جس پر ایک مکان بنا ہوا ہے اور کوئی خاص اس قبر کی تمیز نہیں ہے۔ دوسرے مسلمانوں کی قبروں کی طرح یہ بھی ایک قبر ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے وقت میں کبھی اس طرح آتے تو یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ ان کی قبر بھی ایسی ہوتی جیسی دوسرے مسلمانوں کی ہے۔ خاص کر کشمیر میں اسلام کا دور دورہ چند صدیوں سے ہوا اور اس سے پہلے وہاں ہندو اور بدھ مذہب کا دور دورہ تھا۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اتنے سفر دراز کے بعد کوئی ایک پیرو بھی نہ ملا جو ان کی یادگار چھوڑتا یا کشمیر میں انجیل و تورات کا ماننے والا کوئی تو پایا جاتا۔ یہ امر قابل غور ہے کہ تسلسل واقعات میں ارتقاء کو مدنظر رکھنا کس قدر نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔

آگے سورۂ احزاب میں یوں آیا ہے: ”واذ اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک ومن نوح وابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ ابن مریم واخذنا منہم میثاقا غلیظا لیسئل الصادقین عن صدقہم واعد للکفرین عذابا الیما“ ﴿اور جب لیا ہم نے نبیوں سے ان کا اقرار اور تجھ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور عیسیٰ سے جو بیٹا تھا مریم کا اور لیا ہم نے ان سے گاڑھا اقرار تاکہ پوچھے اللہ سچوں سے ان کا سچ اور تیار رکھا ہے منکروں کے لئے دردناک عذاب۔﴾

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ارتقاء یہ ہے کہ ان کو پانچ اولوالعزم پیغمبروں میں شمار کیا۔ یعنی پرورش کے بعد وہ ایک اولوالعزم پیغمبر ہوئے۔ مگر ناموں کے دینے میں پہلے نام ہمارے نبی ﷺ کا لیا۔ حالانکہ عالم شہود میں آپ کا ظہور سب سے بعد ہوا۔ مگر درجے میں آپ سب سے پہلے ہیں۔ اس لئے سب سے پہلے آپ کا نام مبارک لیا گیا۔ اسی سورت کے آخر میں آپ کو خاتم النبیین کے لقب سے یاد کیا گیا۔ جو اس ترکیب و ترتیب میں ایک عجیب کیفیت پیدا کرتا ہے۔

آگے سورۂ الشوریٰ میں یوں آیا ہے: ”شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ ط کبر علی المشرکین ما تدعوہم الیہ ط اللہ یجتبی الیہ من یشاء ویہدی الیہ من ینیب (١٣)“ ﴿اور راہ ڈال دی تمہارے لئے دین میں وہی جس کا حکم تھا نوح کو اور جس کا حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور جس کا حکم کیا ہم نے ابراہیم اور موسیٰ کو اور

٩٣

صفحہ ٣٣٤

عیسیٰ کو یہ کہ قائم رکھو دین کو اور اختلاف نہ ڈالو اور جس دین کی طرف تم مشرکین کو بلاتے ہو وہ ان پر بہت شاق گزرتا ہے۔ خدا جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگزیدہ کر لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اپنی طرف پہنچنے کا راستہ دکھا دیتا ہے۔ ﴾

اگرچہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام و دیگر انبیاء کے پیروؤں کو حکم ہے کہ حضور ﷺ کی پیروی کریں اور اختلاف نہ کریں۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ارتقاء یہ ہے کہ انہیں پانچ پیغمبروں کا ذکر فرما کر یہ کہا کہ ان سب کا دین واحد ہے۔ اگرچہ مختلف کتب یا صحیفے دیئے گئے مگر حضور ﷺ کی نسبت ایک لطیف نکتہ بیان کیا جو حضور ﷺ کے متعلق ارتقاء ظاہر کر رہا ہے کہ دیگر انبیاء علیہم السلام کو وحی بذریعہ کتاب یا صحیفہ ہوئی اور آنحضرت ﷺ کو جو وحی کی گئی وہ تجلائے صفتی سے خالص وحی کی گئی۔ آگے سورۃ الزخرف میں یوں آیا ہے:

”ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومك منه يصدون ، وقالواء الهتنا خيرا ام هو ماضربوه لك الا جدلا ، بل هم قوم خصمون ، ان هو عبد انعمنا عليه فجعلناه مثلاً لبنى اسرائيل . ولونشأ لجعلنا منكم ملا ئكة فى الارض يخلفون ، وانه لعلم للساعة فلا تمترون بها واتبعون ، هذا صراط مستقيم ، ولا يصد نكم الشيطن انه لكم عدو مبين ، ولما جاء عيسىٰ بالبينات قال قد جئتكم بالحكمة ولأبين لكم بعض الذى تختلفون فيه فاتقوا الله واطيعون ، ان الله هو ربى و ربكم فاعبدوه ، هذا صراط مستقيم ، فاختلف الاحزاب من بينهم فويل للذين ظلموا من عذاب يوم اليم“

﴿اور (اے رسول) جب مریم کے بیٹے عیسیٰ کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تمہاری قوم کے لوگ کھلکھلا کر ہنسنے لگے اور بول اٹھے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے یا وہ عیسیٰ۔ ان لوگوں نے جو عیسیٰ کی مثال تم سے بیان کی ہے صرف جھگڑنے کو بلکہ (حق تو یہ ہے کہ) یہ لوگ ہیں جھگڑالو۔ عیسیٰ تو بس ہمارے ایک بندے تھے۔ جن پر ہم نے احسان کیا (نبی بنایا اور معجزے دیئے) اور ان کو ہم نے بنی اسرائیل کے لئے (اپنی قدرت کا) نمونہ بنایا اور اگر ہم چاہتے تو تم ہی لوگوں میں سے (کسی کو) فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے اور وہ تو یقیناً قیامت کی ایک روشن دلیل ہے۔ تم لوگ اس میں ہرگز شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے اور (کہیں) شیطان تم لوگوں کو (اس سے روک نہ دے) وہ یقیناً تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے اور جب عیسیٰ واضح و روشن معجزے لے کر آئے تو (لوگوں سے) کہا میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر

٩٤

صفحہ ٣٣٥

آیا ہوں اور تا کہ بعض باتیں جن میں تم لوگ اختلاف کرتے تھے تم کو صاف صاف بتا دوں تو تم لوگ خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ بیشک خدا ہی میرا تمہارا پروردگار ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے تو ان میں سے کئی فرقے (ان سے) اختلاف کرنے لگے تو جن لوگوں نے ظلم کیا ان پر دردناک دن کے عذاب سے افسوس ہے۔

شان نزول میں آیا ہے کہ کفار نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ نصاریٰ مسیح ابن مریم کو پوجتے ہیں اور دریافت کیا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ؟ جس پر یہ جواب ملتا ہے کہ یہ تو ناحق جھگڑتے ہیں۔ وہ تو ایک بندہ تھا جس پر ہم نے فضل کیا ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ گو وہ بلا باپ ہی پیدا ہوئے تھے۔ مگر ہم چاہیں تو تمہاری جگہ فرشتے ہی دنیا میں آباد کر دیں اور یہ کہ (عیسیٰ) قیامت کی نشانی ہیں۔ پس تم لوگوں کو میری (حضور ﷺ) کی تابعداری اب کرنی چاہئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ اولو العزم پیغمبر تھے۔ مگر ان کی تعلیم کا ذکر بھی یہاں فرما دیا: ”قال قد جئتکم بالحكمة“ جس کا ذکر ”الكتاب والحكمة“ کے ضمن میں آچکا ہے۔

متنازعہ فیہ امر یہ ہے ”وانہ لعلم للساعة“ میں ضمیر کا مرجع کون ہے؟ صحیح قول یہ ہے کہ اس کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ بعض نے کہا کہ یہ معجزات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے یعنی ان کا مردوں کو زندہ کرنا کو قیامت کی دلیل ہے۔ لیکن پہلا قول راجح ہے۔ اس لئے کہ ابن عباسؓ نے اس کی تفسیر میں کہا کہ قیامت کے پہلے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتارے جائیں گے (رواہ احمد) اور یہی قول حضرت ابو ہریرہؓ ومجاہدؒ وابوالعالیہؒ وابو مالکؒ وعکرمہؒ وحسنؒ وقتادہؒ وضحاکؒ وغیرہم سے مروی ہے اور رسول ﷺ سے متواتر احادیث میں وارد ہوا ہے کہ آپ نے اپنی امت کو آگاہ فرمایا ہے کہ قیامت جب بہت قریب ہوگی تو میری امت میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ایک امام عادل حاکم بنا کر اتارا جائے گا۔ یہی اس کا ارتقاء ہے۔

قادیانی صاحبوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ انہ میں ہ کی ضمیر قرآن کریم کی راجع ہے۔ آپ غور سے دیکھ لیں گے کہ سیاق و سباق عبارت کے خلاف ہے۔ دوسرا ان کی طرف یہ کہا گیا کہ الساعۃ سے مراد قیامت ہی نہیں بلکہ کسی عظیم الشان امر کے وقوع پر بھی الساعۃ کا لفظ بولتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ الساعۃ کے یہاں کیا معنی ہیں؟

”الساعة“ کا لفظ قرآن کریم میں جہاں کہیں استعمال ہوا ہے وہ قیامت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مگر قادیانی صاحبان کو ایک جگہ قرآن کریم میں (خلاف سارے قرینے کے) ایسی ملی ہے جس کی نسبت وہ وہاں کہتے ہیں کہ وہاں الساعۃ سے مراد مخالفین کی تباہی کی گھڑی ہے نہ

٩٥

صفحہ ٣٣٧

کہ قیامت اور وہ بزعم سورۃ القمر کی مندرجہ ذیل آیت ہے: ”ام یقولون نحن جمیع منتصر . سيهزم الجمع و يولون الدبر . بل الساعة موعدهم والساعة ادهی وامر“ (یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بہت قوی جماعت ہیں۔ عنقریب ہی یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ بات یہ ہے کہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت تلخ (چیز) ہے۔)

اس آیت مبارکہ کا منشاء تو یہ ہے کہ شکست اور قتل و ہزیمت سے جو مصیبت کفار پر آئے گی یہ ان کے کفر کی سزا کامل نہیں ہے۔ بلکہ اس واسطے ہے کہ دنیا میں ان کی ذات سے فتنہ و فساد منقطع ہو اور ان کی بداعمالیاں یہاں بہت بڑھ گئی ہیں کہ جو لوگ ان میں سے مقتول ہوں وہ جلد اپنے عذاب آخرت سے ملحق ہو جائیں۔ پھر اصل عذاب جہنم کا وعدہ ان کے لئے قیامت ہے۔ ”ادهی“ کے معنی ہر وہ چیز ہے جس کا ضرر بے انتہا ہو اور اس کی خرابی و مصیبت سب سے بڑھ کر ہو۔ جیسی کبھی کسی کے فہم میں نہ آئی ہو۔ جس سے ظاہر ہے کہ الساعۃ کے معنی یہاں بھی قیامت ہی کے ہیں۔ اس لئے الساعۃ کا لفظ قرآن میں صرف قیامت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ فتدبروا

آگے سورۃ الحدید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ ذکر ہے: ”ثم قفينا علے اثارهم برسلنا وقفينا بعيسى ابن مريم واتيناه الانجيل وجعلنا في قلوب الذين اتبعوه رأفة ورحمة ، ورهبانية ن ابتدعوها ماكتبنا عليهم الا ابتغاء رضوان الله فما رعوها حق رعايتها فاتينا الذين امنوا منهم اجرهم . وكثير منهم فسقون . يايها الذين آمنوا اتقوالله و آمنو برسوله يوتكم كفلين من رحمة ويجعل لكم نور تمشون به ويغفر لكم . والله غفور رحيم لئلا يعلم اهل الكتاب الا يقدرون على شى من فضل الله وان الفضل بيدالله يوتيه من يشاء والله ذوالفضل العظيم“

(پھر ان کے پیچھے ہی ان کے قدم بقدم اپنے اور پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عطا کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی اور رہبانیت (لذات سے کنارہ کشی) ان لوگوں نے خود ایک نئی بات نکالی تھی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (ان لوگوں نے) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے (خود ایجاد کیا) تو اس کو بھی جیسا نبھانا چاہا تھا نہ نبھا سکے تو جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم

٩٦

نے ان کا اجر دیا اور ان میں سے بہتیرے تو بدکار ہی ہیں رسول (محمد) پر ایمان لاؤ تو خدا تم کو اپنی رحمت کے دو حص جس کی روشنی میں تم چلو گے اور تم کو بخش بھی دے گا اور کہا جاتا ہے) تاکہ اہل کتاب نہ سمجھیں کہ یہ مومنین خد اور یہ تو یقینی بات ہے کہ فضل خدا ہی کے قبضے میں ہے و فضل و کرم کا مالک ہے۔)

اس میں ارتقاء یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ ال میں نرمی اور مہربانی پائی جاتی ہے۔ لیکن رہبانیت انہو لیکن وہ اس کو نباہ نہ سکے۔ حضور کی نسبت ارتقاء یہ ہے ک وہ اللہ سے ڈرتے رہیں گے اور اس رسول کے تابع رہ کو نور حاصل ہو گا جس کی روشنی میں وہ چلتے پھریں گ ہیں۔

اس کے بعد آخری دفعہ حضرت عیسیٰ علیہ الس ”واذ قال عيسى ابن مريم يـبـ مصدقالما بين يدى من التوراة ومبشرا بر فلما جاء هم بالبينت قالوا هذا سحر مبين کہا اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خدا کا بھیج میرے سامنے موجود ہے اس کی تصدیق کرتا ہوں او بعد آئیں گے ان کی خوشخبری سناتا ہوں اور جب و معجزے لے کر آیا تو کہنے لگے یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

آیت مبارکہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلا ایک طرف تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی کتا محمدﷺ خاتم النبیین کی بشارت دیں۔ اس سے ظاہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو اس خوش نے کہا کہ رسول اللہﷺ فرماتے تھے کہ میرے نام ب

٩٧

صفحہ ٣٣٧

نے ان کا اجر دیا اور ان میں سے بہتیرے تو بدکار ہی ہیں۔ اے ایمان دارو خدا سے ڈرو اور اس کے رسول (محمد) پر ایمان لاؤ تو خدا تم کو اپنی رحمت کے دو حصے اجر فرمائے گا اور تم کو ایسا نور عطا کرے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے اور تم کو بخش بھی دے گا اور خدا تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے (یہ اس لئے کہا جاتا ہے) تاکہ اہل کتاب نہ سمجھیں کہ یہ مومنین خدا کے فضل و کرم پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور یہ تو یقینی بات ہے کہ فضل خدا ہی کے قبضے میں ہے وہ جس کو چاہے عطا فرمائے اور خدا تو بڑے فضل و کرم کا مالک ہے۔﴾

اس میں ارتقاء یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم کا اثر یہ تھا کہ ان کے پیروؤں میں نرمی اور مہربانی پائی جاتی ہے۔ لیکن رہبانیت انہوں نے خود نکالی تاکہ وہ اللہ کو راضی کریں۔ لیکن وہ اس کو نباہ نہ سکے۔ حضور کی نسبت ارتقاء یہ ہے کہ ان کے پیروؤں کی نسبت یہ کہا گیا کہ اگر وہ اللہ سے ڈرتے رہیں گے اور اس رسول کے تابع رہیں گے تو ان کو رحمت کا دوگنا حصہ ملے گا۔ ان کو نور حاصل ہوگا جس کی روشنی میں وہ چلتے پھریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔

اس کے بعد آخری دفعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر سورۃ الصف میں یوں آیا ہے: ”واذقال عیسی ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراۃ ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد ، فلما جاء ھم بالبینت قالوا ھذا سحر مبین“ ﴿(یاد کرو) جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا (آیا) ہوں (اور) جو کتاب توریت میرے سامنے موجود ہے اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جن کا نام احمد ہوگا (اور) میرے بعد آئیں گے ان کی خوشخبری سناتا ہوں اور جب وہ (پیغمبر احمد) ان کے پاس واضح اور روشن معجزے لے کر آیا تو کہنے لگے یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔﴾

آیت مبارکہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بھیجے جانے کا منشاء خاص ظاہر فرمایا کہ ایک طرف تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی کتاب کی تصدیق کریں۔ دوسری طرف حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین کی بشارت دیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت ایسی نعمت عظمیٰ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو اس خوشخبری کا پہنچانے والا بیان فرمایا۔ جبیر بن مطعم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ میرے نام پانچ ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں اور میں

٩٧

صفحہ ٣٤٨

. الماحی ہوں، میرے ذریعے سے اللہ کفر مٹائے گا اور میں الحاشر ہوں کہ میرے قدم پر لوگوں کا حشر ہوگا اور میں العاقب ہوں۔ (صحیح بخاری ومسلم)

جو صاحب اس سے یہ معنی نکالنا چاہیں کہ احمد سے مراد یہاں مرزا غلام احمد قادیانی ہیں ۔ وہ اپنے رہنماء کی نسبت نہ صرف غلو کرتے ہیں بلکہ ایسی تاویل کرتے ہیں جو بے بنیاد ہے۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خاتم النبیین ومرسلین احمدﷺ کو چھوڑ کر ان کے ایک غلام (غلام احمد ) کے آنے کی بشارت دیں اور اس بشارت کا علم نہ حضورﷺ کو ہوا ہو جن پر کہ قرآن نازل ہوا اور نہ ان کے صحابہ کو جو نزول قرآن کے گواہ تھے۔ قرآن کریم میں خود ذکر ہے کہ حضور کا ذکر تورات اور انجیل میں تھا اور ہے دیکھو جیسا کہ آیت ١٥٧ سورۃ الاعراف میں آیا ہے۔ وهو ہذا "الذين يتبعون الرسول النبى الامى الذى يجدونه مكتوبا عندهم فى التورات والانجيل" ﴿یعنی جو لوگ ہمارے نبی امی پیغمبر کے قدم بقدم چلتے ہیں جس (کی بشارت) کو اپنے ہاں توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔﴾

اسی طرح سورۃ الصف کے دوسرے رکوع میں آیا ہے: "ياايها الذين امنوا كونوا انصار الله كما قال عيسى ابن مريم للحوارين من انصارى الى الله ، قال الحواريون نحن انصار الله فامنت طائفة من بنى اسرائيل وكفرت طائفة ، فايدنا الذين امنوا على عدوهم فاصبحوا ظهرين (١٤) " ﴿اے ایمان دارو! خدا کے مددگار بن جاؤ جس طرح مریم کے بیٹے عیسیٰ نے حواریوں سے کہا تھا کہ (بھلا ) خدا کی طرف بلانے میں میرے مددگار کون لوگ ہیں تو حواری بول اٹھے تھے کہ ہم خدا کے انصار ہیں۔ تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ (ان پر) ایمان لایا اور ایک گروہ کافر رہا تو جو لوگ ایمان لائے ہم نے ان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد دی تو آخر وہی غالب رہے۔﴾

قرآن کریم میں یہ آخری مقام ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے اس میں ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کو ان کے نہ ماننے والوں پر (یہودیوں ) غلبہ دیا گیا اور ساتھ ہی مومنوں کو ترغیب ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں مال اور جان سے کوشش کریں تا کہ وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب وسرفراز ہوں۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے یا حضرت مسیح علیہ السلام کے انتظار میں رہنے سے دنیا میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح انصار بننے اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

٩٨

PDF 341

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک

پیش گوئی

کا تجزیہ (عمر مرزا)

جناب بابو تاج محمد نکودری

صفحہ ٣٤٠

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمده ونصلي على رسوله الكريم اما بعد! مدرسہ عربیہ قاسم العلوم فقیر والی کی مجلس شوریٰ منعقدہ ٩ شوال المکرم ١٣٨٤ھ مطابق ١٣؍ فروری ١٩٦٥ء میں مدرسہ کی طرف سے ایک شعبہ تالیف وتصنیف کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کے صدر حضرت مولانا عبد القدیر صاحب کیمبل پوری زیدمجدہ، شیخ الحدیث مدرسہ ہذا اور ناظم مولوی تاج محمد صاحب نکودری مقرر ہوئے۔ اس شعبہ کی طرف سے پہلی تالیف بحمد اللہ شائع کی جارہی ہے۔

اس حقیر فقیر نے حضرت بمعیت مولانا عبداللطیف صاحب، مدرس ومفتی مدرسہ ہذا وجناب خان محمد عبداللہ خان صاحب ترین ممبر مجلس عاملہ مدرسہ ہذا مختلف مجالس میں کتاب کا مسودہ حرفاً حرفاً پورے غور وخوض سے سنا۔ مناسب مواقع پر مشورہ بھی دیا گیا۔ میری رائے میں یہ کتاب طالب حق کے لئے بحمد اللہ نہایت چمکتی ہوئی مشعل ہدایت ہے۔ اس کتاب میں مرزا قادیانی کی عمر سے متعلق پیش گوئی کا کما حقہ تجزیہ کیا گیا ہے اور مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کو سچا ثابت کرنے کے لئے مرزا قادیانی کے پسماندگان نے جو بے شمار قلابازیاں کھائی ہیں اور ”پنجاب چیفس“ جیسی کتاب میں بھی جو روایتی تحریفات کی ہیں۔ فاضل مصنف نے اس سب کو طشت از بام کر دیا ہے۔ اس پیش گوئی کا کذب محقق ہونے سے تو مرزا قادیانی بقول خود دعویٰ نبوت میں غیر صادق ثابت ہوتے ہیں اور ان کے صدق وکذب جاننے کے لئے اس ایک پیش گوئی کی تحقیق ہی کافی ہے۔

بندہ فضل محمد عفا اللہ عنہ مہتمم مدرسہ عربیہ قاسم العلوم ...... فقیر والی ضلع بہاولنگر

حامداً ومصلياً ومسلماً! اہل علم پر یہ بات مخفی نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ابطال میں علماء ربانی نے عقلی ونقلی دلائل وبراہین سے اپنی خدمات نہایت قابل قدر طریقوں سے پیش کی ہیں۔ قادیانی لٹریچر کی ہر شق پر مبسوط بحث کر کے اس کا غلط ہونا ثابت کیا ہے۔ تحریر ہذا کتاب وسنت کے کسی علمی مواد پر مشتمل نہیں۔ بلکہ نہایت عام فہم انداز میں مرزا قادیانی کی ایک پیشگوئی اور اس سلسلہ میں قادیانی علماء کی تحریفات کی وہ دردناک داستان ہے جس کے تجزیہ سے علم ودیانت کی آنکھیں یکسر نیچی ہو جاتی ہیں اور ارتداد کی گود میں جنم لینے والے نظریات پوری طرح بے نقاب ہو جاتے ہیں۔

٢

صفحہ ٣٤١

پچھلے دنوں ہفت روزہ ”دعوت لاہور“ ١٢؍اکتوبر ١٩٦٢ء اور ”الفضل“ ربوہ (چناب نگر) یکم نومبر ١٩٦٢ء میں جناب علامہ خالد محمود صاحب ایم اے پروفیسر ایم اے او کالج لاہور اور قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری مہتمم شعبہ نشر و اشاعت اصلاح و ارشاد ربوہ کے مابین مرزا غلام احمد قادیانی کی عمر کے متعلق ایک دلچسپ بحث نظر سے گزری۔ مرزا قادیانی کی تحریرات کی روشنی میں علامہ خالد محمود صاحب کا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر ٦٧ ، ٦٨ برس سے زیادہ نہیں۔ قاضی محمد نذیر کا بیان ہے کہ مرزا قادیانی اپنے الہام کے مطابق ٧٦ برس زندہ رہے۔ قاضی صاحب کے بیان کے مطابق اگر مرزا قادیانی کی کل عمر ٧٦ سال ثابت ہو جائے تو وہ پیش گوئی کے مطابق صادق ٹھہرتے ہیں۔ علامہ خالد محمود صاحب کا بیان ہے کہ مرزا قادیانی نے ٦٨ برس کے قریب عمر پائی ہے اور وہ اپنے ہی مقرر کردہ معیار کی رو سے کاذب ہیں۔ ”خدا کے فرستادہ“ اور ”مامور و مرسل“ ہونے کے مدعی کی پیش گوئی کا اس طرح غلط نکلنا اس کے صدق و کذب جانچنے کا ایک بے غبار آئینہ ہے۔

اس تحریری بحث کے دوران ہی قاضی محمد نذیر کی بعض ایسی محرف عبارتیں نظر سے گزریں جن کو پڑھ کر ہم صرف افسوس ہی نہیں کرتے بلکہ ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ قاضی صاحب جیسے شخص کے قلم سے جو کسی وقت جامعہ احمدیہ ربوہ (چناب نگر) کے پرنسپل رہ چکے ہیں اور موجودہ وقت میں شعبہ نشر و اشاعت اصلاح و ارشاد کا اہتمام ان کے سپرد اور جماعت احمدیہ میں ایک ممتاز علمی حیثیت کے بھی مالک ہیں۔ جب وہ بھی دوسرے مصنفین کی کتب سے حوالجات تحریر کرتے ہوئے دیانت داری کا یہ مظاہرہ کرتے ہیں تو جماعت کے دیگر افراد کی نسبت ہم کیا گمان کر سکتے ہیں۔ ہاں! اس میں شک نہیں کہ قاضی صاحب موصوف کو جب ہم اس انداز میں دیکھتے ہیں وہ مرزا غلام احمد قادیانی سے انتساب رکھتے ہیں تو پھر ہماری یہ حیرانگی یکسر دور ہو جاتی ہے۔ البتہ اس لحاظ سے ہم جناب قاضی صاحب کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس مضمون کی تکمیل کے لئے ہمیں بھی کچھ نہ کچھ عرض کرنے کا موقع عنایت فرمایا ہے۔ ہماری صرف یہ گزارش ہے کہ:

ہوئی۔

بھی اپنی سابقہ تحریروں سے منحرف ہوئے ہیں؟۔

٣

صفحہ ٣٤٢

پریشانیاں لاحق ہوئیں۔

کھلائے ہیں اور انہیں طرح طرح کے تغیر و تبدل سے کس طرح عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

جماعت احمدیہ میں سے نہ صرف قاضی صاحب بلکہ تمام قادیانی علماء سے ہم گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے بیان پر اپنے اخبارات ورسائل میں جرح کرنے سے قبل ہمارے مضمون کو بھی من وعن دیانت داری کے ساتھ شائع کریں اور پھر اس کی ہر شق پر ڈٹ کر منصفانہ بحث کریں۔ اس صورت میں جواب آنے پر ہم جواب الجواب کے لئے انشاء اللہ العزیز پھر قلم اٹھائیں گے اور متلاشیان حق کے لئے حق وباطل کا فیصلہ نہایت واضح صورت میں سامنے آجائے گا۔ سب سے پہلے ہم مرزا قادیانی کی وہ اصل عبارت تحریر کرتے ہیں جن میں مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کو پرکھنے کے لئے پیش گوئیوں کو پوری اہمیت دی ہے۔ بعد ازاں ہماری اصل بحث شروع ہوگی۔

مرزا قادیانی فرماتے

کذب آزمانے کے لئے یہی کافی ہے۔“

(ازالہ اوہام ج١ ص ٢٤٥، خزائن ج٣ ص ٤٤٤)

امتحان نہیں ہو سکتا۔“

(آئینہ کمالات ص ٢٨٨، خزائن ج٥ ص ایضاً)

کو نہیں ملے گی جس کی نسبت وہ کہہ سکتا ہو کہ خالی گئی۔“

(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج١٩ ص ٦)

(تریاق القلوب ص ٤، خزائن ج١٥ ص ٥١٤)

کی۔“

(آئینہ کمالات ص ٣٢٦، خزائن ج٥ ص ایضاً)

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج١٩ ص ایضاً)

میں کاذب ہوں۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٢٢، خزائن ج١٧ ص ٤٦١)

٤

اپنی عمر کے متعلق مرزا قادیانی کا الہام

کہ ہم تجھ کو اسی سال کی عمر دیں گے یا اس کے

سال یا کچھ تھوڑا کم یا چند سال ٨٠ برس سے ز

قریب یعنی دو چار برس کم یا زیادہ۔“

چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔“

یا دو تین برس کم یا زیادہ عمر کروں گا۔“

تیری عمر ٨٠ برس کی ہوگی یا دو چار کم یا بـ

تعین کرتے ہیں۔“

صفحہ ٣٤٤

اپنی عمر کے متعلق مرزا قادیانی کا الہامی دعویٰ

کہ ہم تجھ کو اسی سال کی عمر دیں گے یا اس کے قریب۔"

(ازالہ اوہام ص ٦٣٥، خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)

سال یا کچھ تھوڑا کم یا چند سال ٨٠ برس سے زیادہ عمر دوں گا۔"

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٥٣)

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٦٦)

قریب یعنی دو چار برس کم یا زیادہ۔"

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٦٦)

(سراج منیر ص ٧١، خزائن ج ١٢ ص ٨١)

(نشان آسمانی ص ١٣، خزائن ج ٤ ص ٣٧٣)

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)

(تحفہ ندوہ ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ٩٣)

چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔"

(ضمیمہ براہین پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)

یا دو تین برس کم یا زیادہ عمر کروں گا۔"

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٤١٩)

تیری عمر ٨٠ برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ۔"

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٦٦)

تعین کرتے ہیں۔"

(ضمیمہ براہین پنجم ص ٩٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٩)

٥

صفحہ ٣٤٤

مرزا قادیانی کا ایک کشف

(البشریٰ ج دوم حصہ دوم ص ٣٤، بدر ج ٢ نمبر ٤٧، ١٩٠٣ء) پر درج ہے: ”مجھے رویا ہوئی کہ میں ایک قبر پر بیٹھا ہوں۔ صاحب قبر میرے سامنے بیٹھا ہے۔ میرے دل میں آیا کہ آج بہت سی دعائیں مانگ لوں اور یہ شخص آمین کہتا جائے۔ آخر میں نے مانگنی شروع کیں۔ ہر ایک دعا پر وہ شخص بڑی شرح صدر سے آمین کہتا تھا۔ خیال آیا کہ یہ دعا بھی مانگ لوں کہ: ”میری عمر پچانوے سال ہو جائے“ میں نے دعا کی۔ اس نے آمین نہ کہی۔ میں نے وجہ پوچھی۔ وہ خاموش ہو رہا۔ پھر میں نے اس سے سخت تکرار اور اصرار شروع کیا۔ یہاں تک کہ اس سے ہاتھاپائی کرتا تھا۔ بہت عرصہ کے بعد اس نے کہا اچھا دعا کرو۔ میں آمین کہوں گا۔ چنانچہ میں نے دعا کی کہ: ”الٰہی میری عمر پچانوے برس کی ہو جاوے“ اس نے آمین کہی۔ میں نے اس سے کہا کہ ہر ایک دعا پر تو شرح صدر سے آمین کہتا تھا۔ اس دعا پر کیا ہو گیا۔ اس نے ایک دفتر عذروں کا بیان کیا۔ مفہوم بعض کا یہ تھا کہ جب ہم کسی امر کی نسبت آمین کہتے ہیں تو ہماری ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔“

(ازالہ اوہام طبع دوم ص ٦٤٥، خزائن ج ٣ ص ٦٢٤) پر ہے: ”اس جگہ اخویم مولوی مردان علی صاحب بھی ذکر کے لائق ہیں۔ مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے سچے دل سے پانچ برس اپنی عمر کے آپ کے نام لگا دیئے۔ خدا اس ایثار کے جزاء ان کو یہ بخشے کہ ان کی عمر دراز کرے۔“

مرزا قادیانی کا الہام بمقابلہ ڈاکٹر عبدالحکیم

”اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا اور پھر آخر میں اردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر بھی بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشگوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو میں جھوٹا کر دوں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا تا کہ معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)

ان مختلف بیانات سے مرزا قادیانی کے اصل الہام کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔ مندرجہ بالا حوالہ جات پر غور کرنے سے کہنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی پیشگوئی کو ایسا گڈ مڈ کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی شخص صحیح نتیجہ پر پہنچ ہی نہ سکے اور اپنے مریدین کے لئے یہ سہولت پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ ربڑ کے تسمہ کی طرح ان کی عمر کو جب چاہیں اور جتنا چاہیں بڑھا سکیں۔

صفحہ ٣٤٥

مرزا قادیانی کے ان مختلف الہامات کا مختصر نقشہ

میری عمر ٨٠ برس کی ہوگی میری عمر ٨٠ برس کی ہوگی نہ کم نہ زیادہ میری عمر ٨٠ برس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ ہوگی میری عمر ٨٠ برس کے قریب قریب ہوگی میری عمر ٨٠ برس سے دو تین برس کم یا زیادہ میری عمر ٧٧ یا ٧٨ سال یا ٨٢ یا ٨٣ برس میری عمر ٨٠ برس سے دو چار برس کم یا زیادہ میری عمر ٧٦ برس یا ٧٨ برس ہوگی یا ٨٢ یا ٨٤ برس میری عمر ٨٠ برس سے چار پانچ برس کم یا زیادہ میری عمر ٧٥ یا ٧٦ برس ہوگی یا ٨٤ یا ٨٥ برس میری عمر ٨٠ برس سے پانچ برس کم یا پانچ چھ برس زیادہ میری عمر ٧٤ یا ٧٥ برس ہوگی یا ٨٥ یا ٨٦ برس میری عمر ٧٤ برس سے کم نہیں ہوگی میری عمر ٨٦ برس سے زیادہ نہیں ہوگی

مرزا قادیانی کی پیدائش

اس بات میں نہ ہمیں کوئی اختلاف ہے اور نہ ہی کسی قادیانی کو کہ مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں فوت ہوئے۔ اب صرف معلوم یہ کرنا ہے کہ مرزا قادیانی پیدا کس سن میں ہوئے تھے؟ اس سے مرزا قادیانی کی کل عمر کا پتہ چل جائے گا۔ مرزا قادیانی نے اپنی عمر کے متعلق جو پیشگوئی کی تھی وہ سراسر جھوٹی ثابت ہوئی۔ کیونکہ مرزا قادیانی ٧٤ برس سے پہلے پہلے ہی اس دنیا سے چل بسے۔

بیان اوّل

”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی۔“

(کتاب البریہ ص ١٣٦، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)

دلیل اوّل

لیکن مرزا قادیانی کی وفات ١٩٠٨ء میں ہوئی۔ اگر مرزا قادیانی کے بیان کے مطابق ان کی پیدائش ١٨٣٩ء میں ہو تو ١٩٠٨ء تک کل عمر ٦٩ برس بنتی ہے۔ اگر پیدائش ١٨٤٠ء میں ہو تو مرزا قادیانی کی کل عمر ٦٨ برس بنتی ہے۔

بیان دوم

”١٨٥٧ء میں میں سولہ یا سترہ برس کا تھا۔“

(کتاب البریہ ص ١٣٦، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)

دلیل دوم

اگر ١٨٥٧ء میں مرزا قادیانی کی عمر سترہ برس تھی تو پیدائش کا سن ١٨٤٠ء ثابت ہوا۔

٧

صفحہ ٣٤٦

پس اگر پیدائش ١٨٤٠ء میں ہو اور وفات ١٩٠٨ء میں ہو تو مرزا قادیانی کی کل عمر ٦٨ برس ثابت ہوتی ہے۔

بیان سوم

”میری عمر ٣٤، ٣٥ برس کی ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔“

(کتاب البریہ ص ١٦٠، خزائن ج ١٣ ص ١٩٢)

دلیل سوم

مرزا قادیانی کے والد کا انتقال ١٨٧٦ء میں ہوا۔ (نزول المسیح ص ١١٦، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٤) اگر مرزا قادیانی کی عمر ١٨٧٦ء میں ٣٥ برس تھی تو پیدائش ١٨٣٩ء کی بنتی ہے۔ پس جب وفات ١٩٠٨ء میں ہوئی تو مرزا قادیانی کی کل عمر ٦٩ برس ثابت ہوئی۔

بیان چہارم

”حضرت مسیح موعود فرماتے تھے جب سلطان احمد پیدا ہوا۔ اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال تھی۔“ (روایت مولوی شیر علی صحابی مرزا قادیانی مندرجہ سیرت المہدی ج ١ ص ٢٧٣ روایت نمبر ٢٨٣)

دلیل چہارم

مرزا سلطان احمد کی پیدائش ١٨٥٦ء میں ہوئی (مجدد اعظم ج ١ ص ١٤٥) اگر ١٨٥٦ء میں مرزا قادیانی کی عمر ١٦ برس ہو تو ١٩٠٨ء میں کل عمر ٦٨ سال ہوگی۔

بیان پنجم

”براہین احمدیہ کے ص ٥١٢ میں میری نسبت یہ الہام ہے جس کے شائع کرنے پر بیس برس گزر گئے اور وہ یہ ہے ”ولقد لبثت فيكم عمرا من قبله افلا تعقلون “ یعنی ان مخالفین سے کہہ دے کہ میں چالیس برس تک تم میں ہی رہتا ہوں اور اس مدت دراز تک تم مجھے دیکھتے رہتے ہو کہ میرا کام افتراء اور شرارت اور کبر اور خیانت سے محفوظ رہا ......الخ ۔“

(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)

دلیل پنجم

براہین احمدیہ ١٨٨٠ء میں لکھنی شروع کی۔ اس وقت مرزا قادیانی کی عمر ٤٠ برس تھی۔ تریاق القلوب ١٨٩٩ء میں لکھی گئی۔ پس ١٨٩٩ء تک عمر ٦٠ برس اور مرزا قادیانی کی وفات ١٩٠٨ء میں ہوئی۔ پس مرزا قادیانی کی کل عمر ٦٩ برس ثابت ہوئی۔

٨

صفحہ ٣٤٧

بیان ششم

”اور انہوں نے (کریم بخش نے) نہایت رقت سے چشم پر آب ہو کر کئی جلسوں میں میرے رو برو اس زمانہ میں جب کہ چودھویں صدی میں سے ابھی آٹھ برس گزرے تھے۔ یہ گواہی دی کہ مجذوب گلاب شاہ نے آج سے تیس برس پہلے یعنی اس زمانہ میں جب کہ یہ عاجز بیس سال کی عمر کا تھا، خبر دی کہ عیسیٰ جو آنے والا تھا، پیدا ہو گیا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٣٧، خزائن ج ١٧ ص ١٣٩)

دلیل ششم

چودھویں صدی سے آٹھ برس گزرے۔ یعنی ١٣٠٨ھ میں عمر تقریباً ٥٠ برس (٣٠ برس پیشگوئی کے ٢٠ برس ان سے پہلے کے) اور مرزا قادیانی کی وفات ١٣٢٦ھ میں ہوئی۔ ٢٦ میں سے ٨ نکال دیں تو ١٨ باقی رہے۔ یہ ١٨ پہلے ٥٠ میں جمع کریں تو وہی ٦٨ بنتے ہیں۔ جس شخص کی عمر ١٣٠٨ ھ میں ٥٠ برس ہو اور اس کا انتقال ١٣٢٦ھ میں ہوا ہو تو اس کی کل عمر ٦٨ سال ہی ہوتی ہے۔

بیان ہفتم

”یورپ اور امریکہ اور آبادی دنیا کے انتہائی گوشوں تک آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی تبلیغ قرآن ہو جاتی اور یہ اس وقت غیر ممکن تھا۔ بلکہ اس وقت تک تو دنیا کی کئی آبادیوں کا ابھی پتہ بھی نہیں لگا تھا اور دور دراز سفروں کے ذرائع ایسے مشکل تھے کہ گویا معدوم تھے۔ بلکہ اگر وہ ساٹھ برس الگ کر دیئے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو ١٢٥٧ھ تک بھی اشاعت کے وسائل کاملہ گویا کالعدم تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠٠، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٠)

دلیل ہفتم

”تحفہ گولڑویہ ١٣١٨ھ میں لکھی گئی۔ (دیکھئے ص ٩٤، خزائن ج ١٧ ص ٢٣٨) اب دیکھنا یہ ہے کہ ١٣١٨ھ میں عیسوی سن کون سا تھا۔ (تریاق القلوب ص ١٠، خزائن ج ١٥ ص ١٣٦) ملاحظہ فرمائیے اس وقت سن عیسوی ١٩٠٠ء تھا۔ ١٣١٨ھ مطابق ١٩٠٠ء سن ہجری کے مطابق ١٣١٨ھ میں عمر ٦٠ سال تو ١٣٢٦ھ میں عمر ٦٨ سال، سن عیسوی کے مطابق ١٩٠٠ء میں عمر ٦٠ سال تو ١٩٠٨ء میں عمر ٦٨ سال۔

بیان ہشتم

”بلکہ اس ساٹھ سال سے پہلے جو اس عاجز کی گزشتہ عمر کے دن ہیں۔ ان تمام

٩

صفحہ ٣٤٨

اشاعت کے وسیلوں سے ملک خالی پڑا ہوا تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠١، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٤)

دلیل ہشتم

تحفہ گولڑویہ ١٩٠٠ء میں لکھی گئی۔ اس وقت مرزا قادیانی اپنی عمر ٦٠ برس بیان فرماتے ہیں۔ ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی کا انتقال ہوا۔ پس مرزا کی کل عمر ٦٨ سال ثابت ہوئی۔

بیان نہم

”آتھم کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی۔ یعنی قریب ٦٤ سال کے۔“

(اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ١٠٩)

دلیل نہم

اعجاز احمدی ١٩٠٢ء کی تصنیف ہے۔ اس وقت مرزا قادیانی کی عمر قریباً ٦٤ سال تھی۔ حساب کیجئے جس شخص کی ١٩٠٢ء میں عمر تقریباً ٦٤ سال ہو تو ١٩٠٨ء میں زیادہ سے زیادہ ستر ہو سکتی ہے۔

بیان دہم

”میری عمر اس وقت قریباً ٦٨ سال ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩ حاشیہ )

دلیل دہم

مرزا قادیانی نے حقیقت الوحی جولائی ١٩٠٧ء میں لکھی۔ اگر ١٩٠٧ء میں عمر ٦٨ سال ہے تو اگلے سال ١٩٠٨ء میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ پس مرزا قادیانی کی کل عمر ٦٩ سال ثابت ہوئی۔

بیان یازدہم

”میں ابتدائی عمر سے اس وقت جو قریباً ٦٠ برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس کام میں مشغول رہا ہوں تا کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

دلیل یازدہم

مرزا قادیانی کی یہ تحریر ١٨٩٨ء کی ہے۔ (ایضاً ص ٣١) پس اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر ١٨٩٨ء میں قریباً ٦٠ سال کی تھی۔ لہٰذا کل عمر قریباً ٦٩ یا ٧٠ سال ہوئی۔

١٠

٩

بیان دوازدہم

”١٦ مئی ١٩٠١ء حضرت مسیح موعود ؑ بمقدمہ مدعا علیہ نظام الدین راستہ شارع عام کہوں گا میری عمر ٦٠ سال کے قریب ہے۔“

دلیل دوازدہم

١٦ مئی ١٩٠١ء کو اگر مرزا قادیانی کی تو ١٩٠٨ء تک ان کی کل عمر قریباً ٦٧ سال ثابت

بیان سیزدہم

”١٨٥٩ء یا ١٨٦٠ء کا ذکر ہے کہ نے خاص ہمارے لئے استاد رکھے ہوئے تھے ہوگی۔“

دلیل سیزدہم

اگر ١٨٥٩ء یا ١٨٦٠ء میں مرزا قادیا

بیان چہار دہم

”مشیر اعلیٰ : اب جناب کی عمر کیا

دلیل چہار دہم

١٩٠٤ء میں اگر مرزا قادیانی کی

بیان پانزدہم

”اب حضرت کی عمر ٦٥ سال کی

دلیل پانزدہم

١٩٠٤ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٦

بیان شانزدہم

”خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف

صفحہ ٣٤٩

بیان دوازدہم

”١٦ مئی ١٩٠١ء حضرت مسیح موعود کے بیان جو آپ نے عدالت گورداسپور میں بطور گواہ بمقدمہ مدعاعلیہ نظام الدین راستہ شارع عام بند کرنے کے لئے دیا۔ اللہ تعالیٰ حاضر ہے میں سچ کہوں گا میری عمر ٦٠ سال کے قریب ہے۔“

(منظور الٰہی ص ٢٤١)

دلیل دوازدہم

١٦ مئی ١٩٠١ء کو اگر مرزا قادیانی کی کل عمر بقول ان کے سچے بیان کے قریباً ٦٠ برس تھی تو ١٩٠٨ء تک ان کی کل عمر قریباً ٦٧ سال ثابت ہوتی ہے۔

بیان سیزدہم

”١٨٥٩ء یا ١٨٦٠ء کا ذکر ہے کہ مولوی گل علی شاہ صاحب کے پاس جو ہمارے والد نے خاص ہمارے لئے استاد رکھے ہوئے تھے۔ پڑھا کرتا تھا۔ اس وقت میری عمر ١٦، ١٧ برس کی ہوگی۔“

(منظور الٰہی ص ٢٣٨ والحکم ١٢؍اکتوبر ١٩٠١ء)

دلیل سیزدہم

اگر ١٨٥٩ء یا ١٨٦٠ء میں مرزا قادیانی کی عمر ١٧ سال ہو تو ١٩٠٨ء میں ٦٥، ٦٦ سال بنتی ہے۔

بیان چہار دہم

”مشیر اعلیٰ: اب جناب کی عمر کیا ہوگی۔“ حضرت اقدس: ٦٥ یا ٦٦ سال۔“

(الحکم ج ٨ نمبر ١١، ٣١؍مارچ ١٩٠٤ء ص ٢)

دلیل چہار دہم

١٩٠٤ء میں اگر مرزا قادیانی کی عمر ٦٥ برس کی تھی تو ١٩٠٨ء میں ٦٩ سال بنتی ہے۔

بیان پانزدہم

”اب حضرت کی عمر ٦٥ سال کی ہے۔“

(الحکم ١٠ تا ١٧؍نومبر ١٩٠٤ء)

دلیل پانزدہم

١٩٠٤ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٦٥ سال ہو تو ١٩٠٨ء تک کل عمر ٦٩ سال ثابت ہوتی ہے۔

بیان شانزدہم

”خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد

١١

صفحہ ٣٥١

سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت ﷺ کے مبارک عصر تک جو عہد نبوت ہے۔ یعنی تئیس برس کا تمام و کمال زمانہ کہ کل مدت گزشتہ زمانہ کے ساتھ ملا کر ٤٧٣٩ برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت ﷺ کے روز وفات تک قمری حساب سے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٤، خزائن ج ١٧ ص ٢٥١، ٢٥٢)

اس حساب کی رو سے میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں گیارہ برس رہتے تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٢ حاشیہ)

دلیل شانزدہم

آدم علیہ السلام سے آنحضرت ﷺ کی وفات تک دنیا کی کل عمر = ٤٧٣٩ آدم علیہ السلام سے آنحضرت ﷺ کی ہجرت تک دنیا کی کل عمر = ٤٧٢٨ مرزا کی وفات ہوئی ١٣٢٦ھ میں۔ آدم علیہ السلام سے مرزا کی وفات تک دنیا کی کل عمر = ٤٧٢٨ + ١٣٢٦ = ٦٠٥٤ سال۔ مرزا قادیانی کی پیدائش اس وقت ہوئی جب ہزار ششم میں گیارہ برس رہتے تھے۔ آدم علیہ السلام سے مرزا قادیانی کی پیدائش تک دنیا کی کل عمر = ٦٠٠٠ - ١١ = ٥٩٨٩ ۔ اگر مرزا قادیانی کی وفات تک دنیا کی کل عمر میں سے مرزا قادیانی کی پیدائش تک دنیا کی کل عمر منہا کر دی جائے تو مرزا قادیانی کی عمر معلوم ہو جائے گی۔ ٦٠٥٤ - ٥٩٨٩ = ٦٥ سال۔ پس مرزا قادیانی کی عمر ٦٥ سال ثابت ہوئی۔

بیان ہفت دہم

”مدت ہوئی ہزار ششم گزر گیا۔ اب قریباً پچاسواں سال اس پر زیادہ جارہا ہے اور اب دنیا ہزار ہفتم کو بسر کر رہی ہے اور صدی کے سر پر سے بھی سترہ برس گزر گئے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٩٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٢ حاشیہ) میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں گیارہ برس رہتے تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٢ حاشیہ)

دلیل ہفت دہم

تحفہ گولڑویہ ١٣١٨ء میں لکھی گئی۔ ١٣١٨ء سے ٥٠ برس پیشتر سن ہجری ١٢٦٨ تھا۔ پس معلوم ہوا کہ ہزار ششم اس وقت ختم ہوا جب ١٢٦٨ھ تھا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی پیدائش ١٢٦٨ھ سے گیارہ سال پیشتر ہوئی۔ پس جب مرزا قادیانی کی پیدائش ١٢٥٧ھ میں ہوئی اور وفات ١٣٢٦ھ میں تو مرزا کی کل عمر ١٣٢٦ - ١٢٥٧ = ٦٩ برس۔ مرزا کی کل عمر ٦٩ برس ثابت ہوئی۔

١٢

مرزا کی زندگی میں قادیانی جماعت کے خلفا

ہزار ضرور ١٢٧٠ھ میں پورا ہوا تھا۔ حضرت مرزا قاد ہوئے تھے۔“

کی ولادت ١٢٥٥ھ کو ہوئی۔“

ہوئے۔“

١٨٤٠ء میں ہوئی۔“

نے مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر قادیان میں موعود مہ آسمان پر ہو رہی تھیں۔“

بعثت کے نشانات کا مظہر ثابت ہوتا ہے۔ مہارا

صفحہ ٣٥١

مرزا کی زندگی میں قادیانی جماعت کے خلفاء علماء اور اخبارات ورسائل کے بیانات

(نورالدین ص ٧٠ امصنف حکیم نورالدین)

ہزار ضرور ١٢٧٠ھ میں پورا ہوا تھا۔ حضرت مرزا قادیانی ١٢٥٥ھ (مطابق ١٨٣٩ء ناقل ) میں پیدا ہوئے تھے۔‘‘

(تشحیذ الاذہان فروری مارچ ١٩٠٨ء)

(حیات احمد مولفہ یعقوب علی صاحب عرفانی)

کی ولادت ١٢٥٥ھ کو ہوئی۔‘‘

(الحکم ٦؍جنوری ١٩٠٨ء)

(الحکم ٢٤؍دسمبر ١٩٠٤ء)

(الحکم ١٠؍دسمبر ١٩٠٦ء)

ہوئے۔‘‘

(بدر ج ١ نمبر ١، ٣١؍اکتوبر ١٩٠٢ء)

(بدر ج ٣ نمبر ٣٠، ٨؍اگست ١٩٠٤ء)

(بدر ١٢؍دسمبر ١٩٠٦ء)

١٨٤٠ء میں ہوئی۔‘‘

(عسل مصفیٰ حصہ اول ص ٥٧٥)

نے مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر قادیان میں موعود مہدی پیدا فرمایا۔ جس کے لئے اتنی تیاریاں زمین و آسمان پر ہو رہی تھیں۔‘‘

(مسیح موعود کے مختصر حالات مندرجہ براہین مطبوعہ ١٩٠٦ء)

بعثت کے نشانات کا مظہر ثابت ہوتا ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ سکھ سلطنت کا تاج تھا جب مسیح موعود

١٣

صفحہ ٣٥٢

کے پیدا ہوتے ہی ٢٧؍ جون ١٨٣٩ء کو گر کر خاک میں مل گیا۔‘‘

(مسیح موعود کے مختصر حالات، مندرجہ براہین مطبوعہ ١٩٠٦ء)

مسٹر گرفن و کرنل میسی

”یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا۔ مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ١٨٣٩ء میں پیدا ہوا۔“

(تذکرہ رؤسائے پنجاب ج دوم ص ٦٩ ، ترجمہ سید نوازش علی مطبوعہ نولکشور ١٩١١ء)

ہم نے بفضلہ تعالیٰ از روئے تحریرات مرزا قادیانی و بیانات علمائے سلسلہ قادیانیہ اور ان کے اخبارات و رسائل سے قوی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی کہ میری عمر ٨٠ برس کی ہوگی، غلط ثابت ہوئی۔

پیدائش ہوئی ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ............ وفات ہوئی ١٩٠٨ء میں ١٩٠٨-١٨٤٠=٦٨ یا ١٩٠٨-١٨٣٩=٦٩ سال مرزا قادیانی کی کل عمر ہوئی۔

مرزا قادیانی کی اس پیشگوئی کے غلط ثابت ہونے پر قارئین کرام مرزا قادیانی کے ان الفاظ میں جو انہوں نے ٨٠ سال عمر کی پیشگوئی کے متصل بعد تحریر فرمائے ہیں۔ پھر غور فرمائیں: ” جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیشگوئیاں بیان کی ہیں۔ میرے صدق یا کذب آزمانے کے لئے یہی کافی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٣٥ ، خزائن ج ٣ ص ٤٤٣)

اقوال مرزا غلام احمد قادیانی

(تحفہ ندوہ ص ٢ ، خزائن ج ١٩ ص ٩٤)

(اربعین نمبر ٣ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)

کروں گا کہ میں کاذب ہوں۔“

(اربعین نمبر ٤، ص ٢٢ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٦١)

کی۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٦ ، خزائن ج ٥ ص ٣٢٦)

اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢ ، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

١٤

٣٥٣

کہ میں جھوٹا ہوں۔“

مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش تبدیل کر دی

مرزا قادیانی تو اس دنیائے فانی سے چل طرح کیا جائے کہ آنجناب اپنے دعویٰ میں صادق تھے استفسار کرنے کے بعد ہم اس حیران کن جواب سے با

سلسلہ احمدیہ کے جوابات سننے کے ساتھ ہی

(ان تمام عبارات کے حوالے مع قید صفح

کچھ مدت تک قادیانی اسی قسم کے ہیر پھ تدبیر سوجھی۔ طے یہ ہوا کہ سرے سے مرزا قادیانی جائے: ”نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری“

مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش تبدیل کر کہ مرزا قادیانی کی عمر ٧٤ اور ٨٦ سال کے اندرا سرگرم رکن عبدالرحیم صاحب درد لکھتے ہیں:

”اگر آپ کی پیدائش ١٨٤٢ء اور ١٨٣٦ اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔“

١٥

صفحہ ٣٥٣

(تحفہ گولڑویہ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٨)

کہ میں جھوٹا ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٥٣)

مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش تبدیل کر دی گئی

مرزا قادیانی تو اس دنیائے فانی سے چل بسے۔ اب مرزا قادیانی سے یہ سوال کس طرح کیا جائے کہ آنجناب اپنے دعویٰ میں صادق تھے یا کاذب؟۔ لیکن ان کے مریدین سے یہ استفسار کرنے کے بعد ہم اس حیران کن جواب سے بالکل دنگ رہ جاتے ہیں کہ:

سلسلہ احمدیہ کے جوابات سننے کے ساتھ ہی مرزا قادیانی کے اقوال بھی ذہن میں رکھئے۔

(کتاب البریہ ص ١٤٦، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)

(کتاب البریہ ص ١٦٠، خزائن ج ١٣ ص ١٩٢)

(ان تمام عبارات کے حوالے مع قید صفحہ و کتاب پہلے گزر چکے ہیں۔)

کچھ مدت تک قادیانی اسی قسم کے ہیر پھیر کر کے وقت گزارتے چلے گئے۔ آخر ایک تدبیر سوجھی۔ طے یہ ہوا کہ سرے سے مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش ہی کیوں نہ تبدیل کر دی جائے: ”نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری“

مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش تبدیل کرنے میں خصوصی طور پر یہ خیال مدنظر رکھا گیا کہ مرزا قادیانی کی عمر ٧٤ اور ٨٦ سال کے اندر اندر ظاہر کی جاسکے۔ چنانچہ قادیانیوں کے ایک سرگرم رکن عبدالرحیم صاحب درد لکھتے ہیں:

”اگر آپ کی پیدائش ١٨٣٢ء اور ١٨٣٦ء کے اندر اندر ثابت ہو جائے تو کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔“

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ١٨٨ روایت نمبر ١٦٣)

١٥

صفحہ ٣٥٥

دوسرے قادیانیوں کے نظریات بھی اسی قسم کے تھے۔ قادیانی لٹریچر کے مطالعہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چیدہ چیدہ قادیانیوں نے اپنے اپنے ذہن میں مرزا قادیانی کی علیحدہ علیحدہ تاریخ پیدائش تجویز کی تھی اور ہر شخص اپنا اپنا نظریہ دوسروں سے منوانے کا خواہاں تھا۔ اس امر پر مختصر سی روشنی ڈالنے کے لئے اقوال ذیل کافی ہیں:

میں ہوئی۔“

میں ہوئی۔“

تاریخ پیدائش تبدیل ہورہی ہے ..... حکیم نورالدین (خلیفہ اول)

مرزا قادیانی کی زندگی میں

”سن پیدائش حضرت صاحب مسیح موعود و مہدی مسعود ١٨٣٩ء“

(نورالدین ص ٧٠، طبع اول)

مرزا قادیانی کی وفات کے بعد

”اس بات کے لئے میں کوشش میں ہوں کہ پتہ چلے کہ جب آپ کا انتقال ہوا تو مرزا قادیانی مغفور کی کیا عمر تھی۔ مرزا سلطان احمد نے تولد کا سنہ ١٨٣٦ء ، ١٨٣٧ء بتایا ہے۔ پس اس شمسی حساب سے آپ کی عمر قمری حساب میں ٧٤، ٧٥ ہوتی ہے اور کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا اور حضرت نے نصرۃ الحق میں قریباً یہی لکھا ہے۔“

(ریویو ج ٢ ص ٢٧٠ و ریویو ج ٢٣ نمبر ٣ ص ٢٤)

مرزا محمود احمد (خلیفہ ثانی)

مرزا کی زندگی میں

”حضرت مرزا قادیانی ١٢٥٥ھ (مطابق ١٨٣٩ء: ناقل ) میں پیدا ہوئے۔

١٦

مرزا قادیانی کی وفات کے بعد

”حضرت مرزا غلام احمد قریباً ١٨٣٦ء می“

میاں معراج الدین عمر

مرزا کی زندگی میں

”١٨٣٩ء اور ١٢٥٥ھ دنیا کی تاریخ میں بڑ“ نے مرزا غلام مرتضی کے گھر قادیان میں موعود مہدی پید“

مرزا کی وفات کے بعد

”حضرت مرزا قادیانی کی پیدائش ١٤ فرو“

بدر قادیان

مرزا کی زندگی میں

”آپ ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے“

وفات کے بعد

”آپ ١٨٣٦ء یا ١٨٣٧ء میں پیدا ہو“ ”مرزا قادیانی میرے خیال میں ١٨٣٣ء“

مرزا بشیر احمد

مرزا قادیانی کی تاریخ وفات ١٩٠٨ء ہے قادیانی کی پیدائش کا کون سا سن تجویز کیا جائے۔ ان ”آپ کی پیدائش ١٨٣٤ء بنتی ہے۔“ ”آپ کی پیدائش ١٨٣٦،٣٧ء بنتی ہے“ ”آپ کی تاریخ پیدائش ١٨٣٥ء بنتی ہے“

عبدالرحیم درد

حضرت مسیح موعود کو اپنی صحیح تاریخ پیدا کے نظریات ذہن میں رکھتے تھے اور مختلف حسابات

١٧

صفحہ ٣٥٥

مرزا قادیانی کی وفات کے بعد

”حضرت مرزا غلام احمد قریباً ١٨٣٦ء ١٨٣٧ء میں پیدا ہوئے تھے۔“

(سیرت مسیح موعود ص١٢)

میاں معراج الدین عمر

مرزا کی زندگی میں

”١٨٣٩ء اور ١٢٥٥ھ دنیا کی تاریخ میں بڑا مبارک سال ہے۔ جس میں خدائے تعالیٰ نے مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر قادیان میں موعود مہدی پیدا کیا۔“

(براہین احمدیہ مطبوعہ ١٩٠٦ء)

مرزا کی وفات کے بعد

”حضرت مرزا قادیانی کی پیدائش ١٧ فروری ١٨٣٦ء میں ہوئی۔“

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٨٢١ روایت نمبر ٩٦٥)

بدر قادیان

مرزا کی زندگی میں

”آپ ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے تھے۔“

(بدر ج نمبر ٢١، ١٩٠٢ء زیر ادارت محمد افضل)

وفات کے بعد

”آپ ١٨٣٦ء یا ١٨٣٧ء میں پیدا ہوئے۔“

(بدر ١١؍ جون ١٩٠٨)

”مرزا قادیانی میرے خیال میں ١٨٣٤ء میں پیدا ہوئے۔“

(بدر ٢٧؍ اگست ١٩٠٨ء)

مرزا بشیر احمد

مرزا قادیانی کی تاریخ وفات ١٩٠٨ء سے لے کر ١٩٣٢ء تک قطعی فیصلہ نہ کر سکے کہ مرزا قادیانی کی پیدائش کا کون سا سن تجویز کیا جائے۔ ان کی تصانیف کا حاصل مطالعہ یہ ہے:

”آپ کی پیدائش ١٨٣٤ء بنتی ہے۔“

”آپ کی پیدائش ١٨٣٦،٣٧ء بنتی ہے۔“

”آپ کی تاریخ پیدائش ١٨٣٥ء بنتی ہے۔“

عبدالرحیم درد

حضرت مسیح موعود کو اپنی صحیح تاریخ پیدائش معلوم نہ تھی۔ مختلف قسم کا حساب لگا کر کئی قسم کے نظریات ذہن میں رکھتے تھے اور مختلف حسابات کی رو سے نتائج یوں نکالتے ہیں:

١٧

صفحہ ٥٧

”آپ کی پیدائش ١٨٣٠ء کے قریب بنتی ہے۔“ ”آپ کی پیدائش ١٨٣١ء کے قریب بنتی ہے۔“ ”آپ کی پیدائش ١٨٣٢ء کے قریب بنتی ہے۔“ ”آپ کی پیدائش ١٨٣٤ء کے قریب بنتی ہے۔“ ”آپ کی پیدائش ١٨٣٦ء کے قریب بنتی ہے۔“

(سیرت المہدی سوم ص ١٨٨ تا ١٩٤)

الحق دہلی زیر ادارت میر قاسم علی ”صحیح امر یہی ہے کہ آپ کی پیدائش ١٨٢٨ء،٢٩ میں ہوئی۔“

(٢٧ فروری ١٩١٣ء)

مرزا قادیانی کی وفات کے ٦٨ برس بعد تاریخی فیصلہ

”بعض حوالے اور روایات ایسی ملی ہیں جن سے معین تاریخ کا پتہ لگ گیا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیدائش ١٨٣٥ء میں ہوئی تھی۔ میں (مرزا بشیر احمد ) امید کرتا ہوں کہ ہمارے احباب تحریر و تقریر میں اسی معین تاریخ کو بیان کریں گے۔“

(الفضل ١١؍اگست ١٩٣٦ء)

تذکرہ رؤسائے پنجاب میں تحریف کی گئی

”تذکرہ رؤسائے پنجاب“ پنجاب کے امراء رؤسا اور ریاستوں کے والیان کی تاریخ ہے۔ سرلیپل گریفن صاحب نے اسے حسب فرمائش سر رابرٹ منٹگمری گورنر پنجاب تالیف کرنا شروع کیا۔ ان کے بعد کرنل میسی اور ایچ ڈی کریک صاحب نے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اصل کتاب انگلش میں ہے۔ جس کا نام ”پنجاب چیفس“ ہے۔ سید نوازش علی صاحب نے پنجاب گورنمنٹ سے ایچ ڈی کریک صاحب کی وساطت سے ”پنجاب چیفس“ کا اردو ترجمہ کرنے کی اجازت حاصل کی۔ جس کا نام ”تذکرہ رؤسائے پنجاب“ ہے۔ یہ کتاب دو جلدوں میں شائع کی گئی۔ جو ترجمہ اس وقت ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس کا ٹائیٹل پیج ان الفاظ سے مزین ہے:

تذکرہ رؤسائے پنجاب (گریفن) مرتبہ سید نوازش علی ...... مطبوعہ نولکشور لاہور ١٩١١ء

یہی ایڈیشن (مطبوعہ نولکشور لاہور ١٩١١ء) پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں بھی موجود ہے۔ وہاں سے دیکھا جاسکتا ہے۔

”تذکرہ رؤسائے پنجاب“ مرتبہ سید نوازش علی (مطبوعہ نولکشور لاہور ١٩١١ء) حصہ دوم ص ٢٦٧ تا ٢٦٩ ۔ مرزا قادیانی کے خاندان کا تذکرہ ص ٦٩ سطر ٨ سے ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے:

١٨

”یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ غلام احمد مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ١٨٣٩ء مرزا محمود احمد نے جو مرزا غلام احمد کے سلسلہ کے خلیفہ ثانی ہیں۔ انہوں نے اپنے باپ لکھی ہے۔ جو پہلی دفعہ ١٩١٦ء میں طبع ہوئی۔ ہما ہے۔ جسے محمد فخر الدین ملتانی نے الہ بخش سٹیم پریس میں سر لیپل گریفن کی کتاب ”پنجاب چیفس“ کا پیدائش ١٨٣٩ء کی بجائے تحریف کر کے ١٨٣٧ء ”سیرت مسیح موعود“ کے ص ٦ پر بخو ”یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ غلام احمد جو غلام مر فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ١٨٣٧ء میں پیدا

علامہ خالد محمود کا اعتراض

جناب علامہ خالد محمود اسی کھلم کھلا تحر کرتے ہوئے لکھتے ہیں (ملاحظہ ہو ہفت روزہ دعو نے سر لیپل گریفن کی کتاب پنجاب چیفس سے تحریف اور خیانت کی ہے۔ قارئین ”دعوت ١٨٣٩ء ہے۔ یہ تحریف صرف مرزا قادیانی ک اسے کچھ تو پیشگوئی کے قریب لایا جاسکے۔ پیشگوئی واقعات کا ساتھ نہیں دے سکی۔“

مضمون کے اخیر پر قادیانیوں ن کے حوالے سے مرزا قادیانی کا سن پیدائش کے مطابق ثابت کر کے خلیفہ سے بددیانتی ک

قاضی محمد نذیر لائل پوری کا جواب

قاضی محمد نذیر لائل پوری مہتمم ش داغ کو ”الفضل“ یکم نومبر ١٩٦٤ء میں ان الفا

صفحہ ٣٥٧

”یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا۔ مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ١٨٣٩ء میں پیدا ہوا۔“

مرزا محمود احمد نے جو مرزا غلام احمد کے بڑے بیٹے ہیں اور جو موجودہ وقت میں قادیانی سلسلہ کے خلیفہ ثانی ہیں۔ انہوں نے اپنے باپ کی ایک سوانح عمری سیرت مسیح موعود کے نام سے لکھی ہے۔ جو پہلی دفعہ ١٩١٦ء میں طبع ہوئی۔ ہمارے پیش نظر ”سیرت مسیح موعود“ کا ایڈیشن چہارم ہے۔ جسے محمد فخر الدین ملتانی نے الہ بخش سٹیم پریس قادیان سے ٢٠؍ستمبر ١٩٣٣ء کو طبع کرایا تھا۔ اس میں سر لیپل گرفن کی کتاب ”پنجاب چیفس“ کا حوالہ دیتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کا سن پیدائش ١٨٣٩ء کی بجائے تحریف کر کے ١٨٣٧ء بنایا گیا ہے۔

”سیرت مسیح موعود“ کے ص ٦ پر پنجاب چیفس کے حوالہ سے یہ الفاظ داخل کئے گئے: ”یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا۔ مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ١٨٣٧ء میں پیدا ہوا۔

علامہ خالد محمود کا اعتراض

جناب علامہ خالد محمود اسی کھلم کھلا تحریف اور خیانت پر قادیانیوں کو ان الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں (ملاحظہ ہو ہفت روزہ دعوت لاہور ٢؍اکتوبر ١٩٦٤ء) ”اس جماعت کے خلیفہ ثانی نے سر لیپل گرفن کی کتاب پنجاب چیفس سے مرزا قادیانی کا سن پیدائش نقل کرنے میں کھلم کھلا تحریف اور خیانت کی ہے۔ قارئین ”دعوت“ مطلع رہیں کہ اصل کتاب میں ١٨٣٧ء نہیں بلکہ ١٨٣٩ء ہے۔ یہ تحریف صرف مرزا قادیانی کی عمر کو لمبا کرنے کے لئے عمل میں لائی گئی ہے تاکہ اسے کچھ تو پیشگوئی کے قریب لایا جا سکے۔ لیکن افسوس کہ اس پر بھی مرزا قادیانی آنجہانی کی پیشگوئی واقعات کا ساتھ نہیں دے سکی۔“

مضمون کے آخر پر قادیانیوں سے یہ سوال کیا کہ: ”کیا مرزا محمود نے ”پنجاب چیفس“ کے حوالے سے مرزا قادیانی کا سن پیدائش نقل کرنے میں تحریف اور خیانت نہیں کی؟ نقل کو اصل کے مطابق ثابت کر کے خلیفہ سے بددیانتی کے اس داغ کو دور کریں۔

قاضی محمد نذیر لائل پوری کا جواب

قاضی محمد نذیر لائل پوری مہتمم شعبہ نشر و اشاعت ربوہ نے مرزا محمود احمد کی بددیانتی کے داغ کو ”الفضل“ یکم نومبر ١٩٦٤ء میں ان الفاظ میں دور کرنے کی ناکام کوشش کی ہے:

١٩

صفحہ ٣٥٩

”واضح ہو کہ سر لیپل گرفن کی اصل کتاب جو انگلش میں ہے، مجھے نہیں ملی۔ جس میں خالد محمود نے سر موصوف کی طرف سے حضرت اقدس کی پیدائش ١٨٣٩ء لکھنے کا ذکر کیا ہے۔ البتہ اس کا وہ ترجمہ ملا ہے جو ”تذکرہ رؤسائے پنجاب“ کے نام سے سید نوازش علی پنشنر نے شائع کیا ہے۔ اس میں آپ کی پیدائش کا سن ١٨٣٩ء کی بجائے ١٨٣٥ء درج ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ نے جو ”سیرت مسیح موعودؑ“ تحریر فرمائی ہے۔ اس میں لیپل گرفن کے اقتباس میں ١٨٣٧ء کا درج ہونا محض سہو کاتب ہے۔“

قاضی صاحب نے اتنا بیان دے کر قصہ ہی پاک کر دیا۔ تمام گناہ کی ذمہ داری کاتب پر ڈال کر خلیفہ صاحب کو بری الذمہ قرار دے دیا۔

اولاً! قاضی نذیر احمد صاحب کا یہ بیان پڑھ کر بجز اس کے کیا کہا جائے کہ ایسی باتیں تو ان لوگوں کے لئے مغالطے کا سامان بن سکتی ہیں۔ جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تصنیفات یا اس سلسلہ کے دوسرے لٹریچر کا کبھی توجہ سے مطالعہ نہ کیا ہو۔ لیکن ہر وہ شخص جس نے اس سلسلہ کے لٹریچر کا گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ ”الفضل“ ٣ ستمبر ١٩٣٣ء کے ذریعہ پہلی دفعہ یہ بات عبدالرحیم صاحب درد کے مضمون سے منظر عام پر آئی کہ مرزا قادیانی کا سن پیدائش ١٨٣٥ء بھی ہو سکتا ہے اور تین برس بعد ١١ اگست ١٩٣٦ء کو مرزا بشیر احمد نے اس پر عملدرآمد کرایا۔

قارئین کرام! اب خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ جس چیز کی بنیاد ہی ١٩٣٦ء میں رکھی جاتی ہے تو وہ ٢٥ برس پیشتر ١٩١١ء میں لکھی جانے والی ایک کتاب میں کس طرح منظر عام پر آسکتی ہے؟

ثانیاً! اب رہی یہ بات کہ قاضی صاحب نے ”پنجاب چیفس“ کے کس ایڈیشن کا حوالہ دیا ہے۔ وہ کس سن میں طبع ہوا۔ اس بات کی ٹوہ کے لئے راقم الحروف نے سنٹرل لائبریری بہاولپور کی طرف رجوع کیا۔ معلوم ہوا کہ ”پنجاب چیفس“ کا یہ ایڈیشن جس سے قاضی صاحب نے حوالہ دیا ہے ١٩٤٠ء میں شائع ہوا۔ ماشاء اللہ! چشم بد دور۔ اس ایڈیشن میں حسب خواہش بے بہا اتنی تبدیلیاں کرائی گئی ہیں کہ انسان پڑھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔

١٩١١ء کے ایڈیشن میں ”مرزا سلطان احمد رئیس قادیاں“ کا عنوان دیا گیا تھا۔

١٩٤٠ء کے ایڈیشن میں اس عنوان کو تبدیل کروا کر مرزا عزیز احمد آف قادیاں لکھوا دیا گیا۔

١٩١١ء کے ایڈیشن اور اس سے ماقبل تمام ایڈیشنوں میں مرزا غلام احمد کی تاریخ پیدائش

٢٠

١٨٣٩ء درج ہے۔ لیکن ١٩٤٠ء کے ایڈیشن میں مرزا قادیانی کی ١٨٣٩ء کی بجائے ١٨٣٥ء درج کرائی گئی ہے۔

١٩٤٠ء کے ایڈیشن میں ذیل کی عبارت بھی زائد درج قبل کے ایڈیشنوں میں نام و نشان تک نہیں:

”مرزا سلطان احمد کو خان بہادر کا خطاب اور ٥ مر ١٩٣٠ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کا سب سے بڑا لڑکا مرزا سرکردہ اور پنجاب میں ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر ہے۔ خان بہادر مر ایک اولوالعزم زمیندار ہے اور اس نے سندھ میں اراضی کا ایک ب

١٩٤٠ء کے ایڈیشن میں Appendix علیحدہ کے خاندان کا شجرہ نسب درج کیا گیا ہے۔ اس میں مرزا محمود ا چار کے سن وفات اور باقی تیرہ کے سن پیدائش بھی درج کرائے اور شریف احمد کے بچوں کے سن پیدائش اور وفات درج کرائے

ان تحریرات اور اضافات سے یہ امر واضح ہے کہ پ تبدیلیاں اور تحریفات محض سہو کاتب اور ارباب مطبع کی کرم فر مرزا بشیر الدین محمود احمد اور اس کے خاندان کا پورا غرض مندانہ

ثالثاً! ایک معترض کے لئے یہ اعتراض کرنے میں محمود احمد نے ”سیرت مسیح موعودؑ“ میں پنجاب چیفس کا حوالہ دی پیدائش تحریف کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ اصل کتاب کے بھی نہایت صفائی سے تحریف مزید کی جسارت فرمائی ہے۔ میں یوں درج ہے: ”مگر اس نمبرداری کا کام بجائے اس ک نظام الدین جو غلام محی الدین کا سب سے بڑا بیٹا ہے کرتا ہے

ص ٢٧٠ سطر ٤ میں یوں درج ہے: ”مرزا غلام احم ہے۔“

ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ مرزا محمود احمد نے س

٢١

صفحہ ٣٥٩

١٨٣٩ء درج ہے۔ لیکن ١٩٤٠ء کے ایڈیشن میں مرزا قادیانی کی اصل تاریخ پیدائش تبدیل کروا کر ١٨٣٩ء کی بجائے ١٨٣٥ء درج کروائی گئی ہے۔

١٩٤٠ء کے ایڈیشن میں ذیل کی عبارت بھی زائد درج کرائی گئی ہے۔ جس کا اس سے ما قبل کے ایڈیشنوں میں نام و نشان تک نہیں:

”مرزا سلطان احمد کو خان بہادر کا خطاب اور ٥ مربعہ جات اراضی عطاء ہوئے اور ١٩٣٠ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کا سب سے بڑا لڑکا مرزا عزیز احمد ایم اے اب خاندان کا سرکردہ اور پنجاب میں اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر ہے۔ خان بہادر مرزا سلطان احمد کا چھوٹا بیٹا رشید احمد ایک اولوالعزم زمیندار ہے اور اس نے سندھ میں اراضی کا ایک بہت بڑا رقبہ لے لیا ہے۔“

١٩٤٠ء کے ایڈیشن میں Appendix علیحدہ طبع ہوا ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کے خاندان کا شجرہ نسب درج کیا گیا ہے۔ اس میں مرزا محمود احمد کے سترہ بیٹوں میں سے نام وار چار کے سن وفات اور باقی تیرہ کے سن پیدائش بھی درج کرائے گئے ہیں۔ اسی طرح مرزا بشیر احمد اور شریف احمد کے بچوں کے سن پیدائش اور وفات درج کرائے گئے۔

ان تحریرات اور اضافات سے یہ امر واضح ہے کہ پنجاب چیفس کے اس ایڈیشن میں یہ تبدیلیاں اور تحریفات محض سہو کاتب اور ارباب مطبع کی کرم فرمائیاں نہیں بلکہ اس تمام ہیر پھیر میں مرزا بشیر الدین محمود احمد اور اس کے خاندان کا پورا غرض مندانہ ہاتھ ہے۔

ثالثاً! ایک معترض کے لئے یہ اعتراض کرنے میں کون سا امر مانع ہو سکتا ہے کہ مرزا محمود احمد نے ”سیرت مسیح موعود“ میں پنجاب چیفس کا حوالہ دیتے ہوئے مرزا غلام احمد کا صرف سن پیدائش تحریف کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ اصل کتاب کے اردو ایڈیشن کے ص ٦٩ اور ٧٠ میں بھی نہایت صفائی سے تحریف مزید کی جسارت فرمائی ہے۔ اس اردو ایڈیشن کے ص ٦٩ سطر ٢، ٣ میں یوں درج ہے: ”مگر اس نمبرداری کا کام بجائے اس کے سلطان احمد کے اس کا چچازاد بھائی نظام الدین جو غلام محی الدین کا سب سے بڑا بیٹا ہے کرتا ہے۔“

ص ٧٠ سطر ٤ میں یوں درج ہے: ”مرزا غلام احمد کا اپنا رشتہ دار ایک بھی اس کا پیرو نہیں ہے۔“

ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ مرزا محمود احمد نے سیرت مسیح موعود میں ان حوالجات کو نقل

٢١

صفحہ ٣٦١

کرتے ہوئے تحریف کی ہے۔ ص ٦٩ سے دو سطریں اور ص ٧٠ سے ایک سطر بالکل گول کر گئے ہیں۔

ہمیں نہ تو مرزا سلطان احمد کی نمبرداری سے غرض ہے اور نہ ہی یہ بحث مطلوب ہے کہ مرزا قادیانی کا اپنا رشتہ دار ایک بھی ان کا پیرو تھا یا نہیں۔ لیکن قادیانی سلسلہ کے علماء کی خدمت میں بصد نیاز ہم یہ گزارش کریں گے کہ آپ کی جماعت کے خلیفہ ثانی نے ص ٦٩ اور ٧٠ میں دن دہاڑے تحریف کی ہے اور یقیناً کی ہے اور یہ سلسلہ متواتر دو چار سال تک ہی نہیں بلکہ نصف صدی تک چلتا رہا ہے۔ یہ ڈرامہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے، آپ لوگوں کے لبوں کو جنبش تک نہ ہوئی۔ کیوں؟

کسی دوسرے شخص کی کتاب سے حوالہ نقل کرتے ہوئے تحریف کرنے کو ہی علامہ خالد محمود صاحب مدظلہ نے ”بددیانتی“ قرار دیا ہے۔ ہم پھر گزارش کریں گے کہ مہربانی فرما کر اس بدنما داغ کو خلیفہ صاحب سے دور کیجئے۔

رابعاً ! مرزا محمود احمد نے اس حوالہ کو کہ ”غلام احمد کا اپنا رشتہ دار ایک بھی اس کا پیرو نہیں ہے“ اپنی کتاب میں تو سرے سے درج ہی نہیں کیا۔ لیکن خلیفہ کے چھوٹے بھائی میاں بشیر احمد نے اس فقرہ کو سیرت المہدی حصہ اول میں درج تو کر دیا۔ لیکن فقرہ کی شکل بری طرح بگاڑ کر مفہوم کو بالکل بدل دیا ہے۔ یعنی ”مرزا قادیانی کے اپنے رشتہ داروں میں اس کے مذہب کے پیرو بہت ہی کم ہیں۔“ قارئین کرام اصل فقرہ اور اس کی نقل کا مفہوم بتائیں؟ خلیفہ صاحب تو خلیفہ صاحب! آپ کے میاں صاحب بھی کچھ کم نہیں۔

ایں خانہ ہمہ آفتاب است

اعلان عام

گرفن صاحب کی اصل انگلش کتاب ”پنجاب چیفس“ طبع اول اور اس کے اردو ایڈیشن طبع اول میں مرزا غلام احمد قادیانی کا سن پیدائش ١٨٣٩ء ہی درج ہے۔ روئے زمین کے تمام قادیانی مخاطب ہیں کہ اگر کوئی صاحب ان ایڈیشنوں میں ١٨٣٩ء کی بجائے ١٨٣٧ء یا ١٨٣٥ء ثابت کر سکیں تو وہ ہم سے انعام کے مستحق ہوں گے۔ فاتوا ببرهانکم ان کنتم صادقین!

قادیانی علماء کی پریشانیاں

جیسا کہ آپ ابتدائی اوراق میں ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ قادیانیوں کے لئے مرزا قادیانی

٢٢

کی تاریخ پیدائش تبدیل کرنے کی مہم کو سر کرنا کوئی آسا پیدائش تجویز کئے گئے۔ لیکن اندرونی اختلافات کی نذر ہو تھا تو دوسرا ١٨٣٣ء۔ اگر تیسرا ١٨٣٣ء کی تائید کر رہا تھا تھا۔

جن لوگوں نے قادیانی لٹریچر کا گہری نظر سے کی طرح عیاں ہے کہ اس نزاع کی اصل اور حقیقی وجہ ک روڑے خود مرزا قادیانی کی تصنیفات اور اس سلسلہ کے جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ مثلاً:

برس تھی۔“

اب سب تحریروں کا سرے سے ہی انکار کر کرنا عملاً ناممکن تھا۔ لیکن کیا کریں دوسروں کی بات نہیں کا انکار کر رہی ہے۔

آمدم بر سر مطلب: مرزا قادیانی کی پیدا

نہ تھا۔“

دو سال کا فرق تھا۔ اس توازن کو قائم رکھنے کے لئے ضرو لازمی امر تھا۔“

٢٣

صفحہ ٣٦١

کی تاریخ پیدائش تبدیل کرنے کی مہم کو سر کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ مرزا قادیانی کے بیسیوں سن پیدائش تجویز کئے گئے۔ لیکن اندرونی اختلافات کی نذر ہو گئے۔ اگر ایک ١٨٣٩ء تجویز کرنے پر مصر تھا تو دوسرا ١٨٣٣ء۔ اگر تیسرا ١٨٣١ء کی تائید کر رہا تھا تو چوتھا ١٨٣٦ء کا نظریہ قائم کئے ہوئے تھا۔

جن لوگوں نے قادیانی لٹریچر کا گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے۔ ان پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس نزاع کی اصل اور حقیقی وجہ صرف یہ تھی کہ اس رستہ میں اٹکنے والے روڑے خود مرزا قادیانی کی تصنیفات اور اس سلسلہ کے علماء کی تحریریں تھیں۔ جن کو رستہ سے ہٹانا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ مثلاً:

برس تھی۔“

اب سب تحریروں کا سرے سے ہی انکار کرنا اور بہانہ سازی کر کے دوسرا راستہ اختیار کرنا عملاً ناممکن تھا۔ لیکن کیا کریں دوسروں کی بات نہیں۔ خود مرزا قادیانی کی اولاد ہی ان حوالہ جات کا انکار کر رہی ہے۔

آمد بر سر مطلب: مرزا قادیانی کی پیدائش تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ:

نہ تھا۔“

دو سال کا فرق تھا۔ اس توازن کو قائم رکھنے کے لئے فضل احمد کی تاریخ پیدائش میں بھی تبدیلی ایک لازمی امر تھا۔“

٢٣

صفحہ ٣٦٣

مرزا قادیانی کی شادی کس عمر میں ہوئی تھی۔ پس مرزا قادیانی کی شادی کے وقت عمر کے تعین کو بھی بدل دیا گیا ۔“

دنیا کو یہ ڈرامہ دکھانے کا پروگرام طریق ذیل پر مرتب کیا گیا کہ: ”مرزا غلام احمد کا سن پیدائش ١٨٣٩ء کی بجائے ١٨٣٥ء کر دیا جائے ۔“

(الفضل ١١ اگست ١٩٣٩ء)

”مرزا غلام مرتضیٰ کا سن وفات ١٨٧٤ء کی بجائے ١٨٧٦ء کر دیا جائے ۔“

(سیرت مسیح موعود ص ٢٠)

”مرزا سلطان احمد کا سن پیدائش ١٨٥٦ء کی بجائے ١٨٥٣ء کر دیا جائے ۔“

(تاریخ احمدیت ج ١ ص ٨٣)

”مرزا فضل احمد کا سن پیدائش ١٨٥٨ء کی بجائے ١٨٥٥ء کر دیا جائے ۔“

(تاریخ احمدیت ج ١ ص ٨٣)

مرزا سلطان احمد کی پیدائش کے وقت مرزا قادیانی کی عمر ١٦ سال کی بجائے مرزا قادیانی کی صرف شادی کرنا ہی ١٩ برس کی عمر میں ظاہر کیا جائے ۔

الباب الثانی

مرزا غلام احمد قادیانی کے والد مرزا غلام مرتضیٰ کی تاریخ وفات

میں بھی تحریف کی گئی (١٨٧٤ء) کی بجائے (١٨٧٦ء) بنادی گئی

مرزا غلام احمد قادیانی نے ”نزول المسیح“ کے (ص ١١٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٤) پر اپنے والد مرزا غلام مرتضیٰ کی تاریخ وفات ١٨٧٦ء درج کی ہے۔ اس تاریخ وفات کی تصدیق نہ صرف نزول المسیح بلکہ دیگر کئی کتابوں میں بھی کی گئی۔ نزول المسیح کے ص ١١٦، ١١٧ پر مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ:

”ہفتہ کا روز تھا، دو پہر کا وقت تھا۔ جون کا مہینہ تھا۔ سن عیسوی ١٨٧٦ء تھا۔ مجھے کچھ غنودگی سی طاری ہوئی اور یہ الہام ہوا: ”والسماء والطارق“ جس کے معنی مجھے یہ سمجھائے گئے کہ قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی کہ غروب آفتاب کے بعد پڑے گا اور دل میں ڈالا گیا

٢٤

کہ یہ پیشگوئی میرے والد کے متعلق ہے اور وہ آج اس پیشگوئی میں مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ ہـ ”أليس الله بكاف عبده“ یعنی کیا خدا اپنے بند

(نزول المسیح ص ١١٦، ١١٧ خزائن ج ١٨ ص ٤٩

بات کو ہی لیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو کہیں کوئی غلطی تـ کی تاریخ وفات ١٨٧٤ء تحریر کر دی ہو اور وفات ١٨ اس بات کی تحقیق کے لئے اگر براہ راست جناب مرزا غلام مرتضیٰ کی تاریخ وفات معلوم کرنے کے قادیانی کی ہی تحریرات کے پیش نظر مرتب ہے:

مسلمان: جناب مرزا قادیانی! یہ فرمائیے کہ آپ ہوا؟

مرزا قادیانی: ...... میرے والد صاحب کا مرزا غلام مر

مسلمان: ...... کیا آپ نے اپنی کسی کتاب میں یہ تاریـ

مرزا قادیانی: ...... میں نے اپنی کتاب نزول المسیـ پہلے پیش گوئی اپنے والد صاحب کی وفات کے متعـ دائیں جانب ”تاریخ بیان پیش گوئی“ کے نیچے موٹـ

مسلمان: ...... جناب والا! آپ کو اپنے والد صاحب

مرزا قادیانی: ...... مجھے قطعاً کوئی شبہ نہیں ہے۔ ا تھا۔ سن عیسوی ١٨٧٦ء تھا۔ جس وقت مجھے یہ الہام صاحب کی وفات کے متعلق تھا۔

مسلمان: ...... آپ نے کسی اور تاریخ وفات کی تصـ تصدیق کرنا چاہتے ہیں۔

مرزا قادیانی: ...... آپ کی مزید تسلی بھی کئے دیتا خزائن ج ١٨ ص ٤٩٥) پر درج کی ہے کہ ”آج مکو

صفحہ ٣٦٣

کہ یہ پیشگوئی میرے والد کے متعلق ہے اور وہ آج ہی غروب آفتاب کے بعد وفات پائیں گے۔ اس پیشگوئی میں مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ مجھے ایک دفعہ پھر غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا "الیس اللہ بکاف عبدہ" یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں؟" (نزول المسیح ص ١١٦، ١١٧ خزائن ج ١٨ ص ٣٩٤، ٣٩٥) کا خلاصہ بیان کر کے ہم پہلے اس بات کو ہی لیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو کہیں کوئی غلطی تو نہیں ہوئی کہ آپ نے سہواً اپنے والد صاحب کی تاریخ وفات ١٨٧٤ء تحریر کر دی ہو اور وفات ہوئی دراصل کسی اور ہی سن عیسوی میں ہو۔ محض اس بات کی تحقیق کے لئے اگر براہ راست جناب مرزا قادیانی سے ہی مکالمہ کیا جائے تو یہ بات مرزا غلام مرتضیٰ کی تاریخ وفات معلوم کرنے کے لئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ مکالمہ مرزا قادیانی کی ہی تحریرات کے پیش نظر مرتب ہے:

مسلمان: جناب مرزا قادیانی! یہ فرمائیے کہ آپ کے والد صاحب کا انتقال کس سن عیسوی میں ہوا؟

مرزا قادیانی:...... میرے والد صاحب کا مرزا غلام مرتضیٰ کا انتقال سن عیسوی ١٨٧٦ء میں ہوا۔

مسلمان:...... کیا آپ نے اپنی کسی کتاب میں یہ تاریخ وفات درج بھی فرمائی ہے؟

مرزا قادیانی:...... میں نے اپنی کتاب نزول المسیح کے (ص ١١٦ خزائن ج ١٨ ص ٣٩٤) پر سب سے پہلے پیش گوئی اپنے والد صاحب کی وفات کے متعلق ہی کی ہے جو ١٨٧٤ء میں ہوئی۔ اسی ص کی دائیں جانب "تاریخ بیان پیش گوئی" کے نیچے موٹے الفاظ میں ١٨٧٤ء درج ہے۔

مسلمان:...... جناب والا! آپ کو اپنے والد صاحب کی تاریخ وفات کے متعلق کوئی شبہ تو نہیں ہے؟

مرزا قادیانی:...... مجھے قطعاً کوئی شبہ نہیں ہے۔ ہفتہ کا روز تھا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ جون کا مہینہ تھا۔ سن عیسوی ١٨٧٦ء تھا۔ جس وقت مجھے یہ الہام "والسماء والطارق" ہوا۔ یہ میرے والد صاحب کی وفات کے متعلق تھا۔

مسلمان:...... آپ نے کسی اور تاریخ وفات کی تصدیق کی ہے۔ ہم مزید تحقیق کے لئے آپ سے تصدیق کرنا چاہتے ہیں۔

مرزا قادیانی:...... آپ کی مزید تسلی بھی کئے دیتا ہوں۔ میں نے اپنی کتاب (نزول المسیح ص ١١٧، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٥) پر درج کی ہے کہ "آج تک جو ١٠ اگست ١٩٠٢ء ہے۔ مرزا صاحب مرحوم

٢٥

صفحہ ٣٦٥

(مرزا غلام مرتضیٰ) کے انتقال کو اٹھائیس برس ہو چکے ہیں۔“ کیا آپ اتنا حساب بھی نہیں جانتے کہ اگر ١٩٠٢ء میں سے ٢٨ منہا کئے جائیں تو باقی ١٨٧٤ء ہی بنتے ہیں۔

مسلمان ...... ہماری مزید تسلی کے لئے کچھ تھوڑا بہت اور بیان فرمادیجئے۔

مرزا قادیانی ...... ویسے تو میں نے جو کچھ بیان کیا ہے۔ آپ کی تسلی اسی سے ہو جانی چاہئے تھی۔ لیکن مزید تسلی جتنی چاہو کرو۔ میں نے ”نزول المسیح“ کے اسی ص پر ٣ دفعہ بار بار یہ تحریر کیا ہے کہ میرے والد صاحب کے انتقال کو ١٩٠٢ء تک پورے ٢٨ سال گزر چکے ہیں۔ میری کتاب نزول المسیح نایاب تو نہیں، عام ملتی ہے۔ منگوا کر دیکھ لیجئے۔ بار بار ٣ دفعہ یہی بات دہرائی گئی ہے کہ والد صاحب کا انتقال ١٨٧٤ء میں ہوا تھا۔

مسلمان ...... کیا آپ نے اپنے والد صاحب کی تاریخ وفات اور الہام ”الیس الله بکاف عبده“ کا تذکرہ نزول المسیح کے علاوہ کسی اور کتاب میں بھی کیا ہے۔ وہ حوالہ درکار ہے۔ جس سے سن عیسوی کا تعین ہو سکے۔

مرزا قادیانی ...... ہاں! بڑی خوشی سے تحقیق کیجئے۔ میں نے اپنی کتاب (اربعین نمبر ٣ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٣) جو ١٩٠٠ء میں لکھی گئی، والد صاحب مرحوم کی وفات کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے، الہام ”الیس الله بکاف عبده“ جو میرے والد صاحب کی وفات پر ایک انگشتری پر کھودا گیا تھا اور امرتسر سے ایک مہر کن سے کھدوایا گیا تھا۔ وہ انگشتری اب تک موجود ہے اور وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے تیار کرائی اور براہین احمدیہ موجود ہے جس میں یہ الہام لکھا گیا ہے اور جیسا کہ انگشتری سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بھی ٢٦ برس کا زمانہ ہے۔

اربعین ١٩٠٠ء میں لکھی گئی۔ اس سے ٢٦ برس پیشتر والد صاحب کی وفات کے روز مجھے الہام ”الیس الله بکاف عبده“ ہوا۔ ١٩٠٠ء میں سے ٢٦ منہا کر دو۔ وہی میرے والد کی وفات کا سن ١٨٧٤ء نکلتا ہے۔

مسلمان ...... اچھا اتنا فرمائیے کہ آپ کے والد صاحب کی وفات اور وحی جو اس وقت ہوئی، اس کا کوئی گواہ بھی ہے؟

مرزا قادیانی ...... میری کتاب (نزول المسیح ص ١٧٧ حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) پر یہ الفاظ درج ہیں:

٢٦

”اس وحی الہی کی گواہ روئت ایک بڑی جماعت ہے۔ ا بھی زیادہ ہوگا۔“

مسلمان ...... مزید تسلی کے لئے آپ اپنی کسی اور کتاب ک کا حوالہ دیجئے جس میں آپ نے صراحت سے تحریر کیا ہو کہ والد صاحب کا انتقال ١٨٧٤ء میں ہوا۔

مرزا قادیانی ...... آخر وجہ کیا ہے کہ آپ مجھ سے بار بار ی ایک ہی بات پوچھتے ہیں؟ کیا میرے ان دلائل سے آپ کی ابھی تسلی نہیں ہوئی؟

مسلمان ...... اگر آپ کوئی ایک آدھ حوالہ اپنی کسی اور ک سے دے دیں تو میری پوری تسلی ہو جائے گی۔

مرزا قادیانی ...... بہت بہتر، مزید تسلی فرمائیے۔ میری ک (نزول المسیح ص ١٧٧ حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) پر یہ الفاظ درج ہیں کہ ”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی۔ میری عمر ٣٤، ٣٥ برس ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔“ ١٨٣٩+٣٥=١٨٧٤ اور ١٨٤٠+٣٤=١٨٧٤۔ حا کہ دونوں صورتوں میں والد صاحب کی تاریخ وفات ١٨٧٤ء ہی بنتی ہے۔ اب تو آپ کی تسلی ہو گئی ہو

مسلمان ...... ہم نے آپ کا بہت وقت صرف کیا۔ آ کا شکریہ! کہ آپ نے بڑی وضاحت سے اپنے والد صاحب کا سال وفات بیان کیا، لیکن ......

مرزا قادیانی ...... میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آخر اتنی بحث سے آپ کا مقصد کیا ہے؟

مسلمان ...... وجہ کیا بتاؤں؟ کچھ کہنے کی بات ہی نہیں ہ

مرزا قادیانی ...... آخر پھر بھی کچھ وجہ تو ہوگی۔

مسلمان ...... سن لیجئے! آپ کے ہی بیٹے میاں بشیر احم صاحب نے آپ کے والد مرزا غلام مرتضیٰ کی تاریخ وفات ١٨٧٦ء محض یاد کی بناء پر لکھی اس لئے غلط ہے۔

مرزا قادیانی ...... میرے بیٹے بشیر احمد کے قصہ کو چھوڑ وہ تو میرے والد صاحب کی وفات کے بعد ١٨٩٣ء میں پیدا ہوا۔ اس کو کیا معلوم ہو سکتا ہے۔ میں تو والد صاحب کی وفات پر لاہور سے قادیان پہنچا تھا۔

مرزا غلام مرتضیٰ کی تاریخ وفات ١٨٧٤ء

٢٧

صفحہ ٣٦٥

”اس وحی الٰہی کی گواہ روئت ایک بڑی جماعت ہے۔ اگر میں تفصیل سے لکھوں تو ایک ہزار سے بھی زیادہ ہوگا۔“

مسلمان...... مزید تسلی کے لئے آپ اپنی کسی اور کتاب سے حوالہ بیان فرمائیے کہ واقعی آپ کے والد صاحب کا انتقال ١٨٧٤ء میں ہوا۔

مرزا قادیانی...... آخر وجہ کیا ہے کہ آپ مجھ سے بار بار ١٨٧٤ء کے متعلق اپنی تحقیق کر رہے ہیں۔ کیا میرے ان دلائل سے آپ کی ابھی تسلی ہی نہیں ہوئی؟

مسلمان...... اگر آپ کوئی ایک آدھ حوالہ اپنی کسی اور کتاب سے بیان فرما دیجئے تو مزید تسلی ہو جائے گی۔

مرزا قادیانی...... بہت بہتر، مزید تسلی فرمائیے۔ میری تصنیف (کتاب البریہ ص١٤٦، خزائن ج١٣ ص١٧٧) پر یہ الفاظ درج ہیں کہ ”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی۔ میری عمر ٣٤، ٣٥ برس ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔“ اب حساب کرلو ١٨٣٩+٣٥=١٨٧٤ اور ١٨٤٠+٣٤=١٨٧٤۔ حاصل یہ کہ میرے والد صاحب کی تاریخ وفات ١٨٧٤ء ہی بنتی ہے۔ اب تو آپ کی تسلی ہو گئی ہوگی یا ابھی کچھ اور اطمینان کرنا چاہتے ہیں؟

مسلمان...... ہم نے آپ کا بہت وقت صرف کیا۔ آپ کی بڑی مہربانی ہے کہ آپ نے نہایت وضاحت سے اپنے والد صاحب کا سال وفات بیان کر دیا ہے۔

مرزا قادیانی...... میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آخر اتنی زبردست تحقیق اور جستجو کی وجہ کیا ہے؟

مسلمان...... وجہ کیا بتاؤں؟ کچھ کہنے کی بات ہی نہیں۔

مرزا قادیانی...... آخر پھر بھی کچھ وجہ تو ہوگی۔

مسلمان...... سن لیجئے! آپ کے ہی بیٹے میاں بشیر احمد کہتے ہیں کہ ”آپ نے اپنے والد مرزا غلام مرتضیٰ کی تاریخ وفات ١٨٧٤ء محض یاد کی بناء پر لکھی اس لئے ذہول ہو گیا ہے۔“

مرزا قادیانی...... میرے بیٹے بشیر احمد کے قصہ کو چھوڑیئے۔ وہ تو اپنے دادا کی وفات کے ١٩ برس بعد ١٨٩٣ء میں پیدا ہوا۔ اس کو کیا معلوم ہو سکتا ہے۔ یقین میری بات پر کیجئے۔ جو اپنے باپ کی وفات پر لاہور سے قادیان پہنچا تھا۔

مرزا غلام مرتضیٰ کی تاریخ وفات ١٨٧٤ء میں ثابت کرنے کے بعد اب ہم اس موضوع

٢٧

صفحہ ٣٦٦

کی طرف لوٹتے ہیں کہ نہ صرف مرزا قادیانی کی اولاد نے بلکہ تمام جماعت ہی نے مرزا قادیانی کی اس بات سے انکار کیا ہے اور ان کی تحریرات کو پس پشت ڈال کر غلام مرتضیٰ کی وفات کا ایک نیا سن گھڑ لیا ہے۔ یعنی اس کی تاریخ ١٨٧٤ء کی بجائے ١٨٧٦ء بنادی گئی۔ تحریف ١٨٧٤ء کا ١٨٧٦ء بن گیا۔

بیان مرزا محمود احمد (مرزا قادیانی کا بڑا بیٹا)

”آپ کی عمر قریباً چالیس برس تھی جبکہ ١٨٧٦ء میں آپ کے والد صاحب کا انتقال ہوا۔“

(سیرت مسیح موعود ص ٢٠)

بیان مرزا بشیر احمد (مرزا قادیانی کا منجھلا بیٹا)

نہیں ہے۔ بلکہ صحیح تاریخ ١٨٧٦ء ہے۔“

لئے اس کے متعلق بھی ١٨٧٦ء تاریخ ہی درست سمجھی جائے گی۔“

(سیرت المہدی ص ٢٠٨، روایت نمبر ٧٦٨)

بیان ڈاکٹر بشارت احمد (مؤلف مجدد اعظم)

میں ہوئی۔“

(مجدد اعظم ج ١ ص ٧٣)

بیان دوست محمد شاہد (مؤلف تاریخ احمدیت)

”حضرت بانی سلسلہ علیہ السلام اوائل جون ١٨٧٦ء میں چیف کورٹ میں دائر ایک مقدمہ کے سلسلہ میں لاہور تشریف فرما تھے کہ آپ کو عالم رویا میں خبر دی گئی کہ آپ کے والد ماجد سفر آخرت پر روانہ ہونے والے ہیں۔ یہ اطلاع پاتے ہی آپ لاہور سے قادیان پہنچے اور دیکھا

٢٨

صفحہ ٣٦٧

کہ آپ زحیر کے عارضہ میں مبتلا ہیں۔ لیکن مرض کی شدت کم ہو چکی ہے۔ دوسرے دن ٢/ جون ١٨٧٦ء جبکہ آپ چوبارہ پر استراحت فرما رہے تھے۔ ایک خادم جمال کشمیری آپ کے پاؤں دبا رہا تھا کہ آپ پر الہام نازل ہوا ”والسماء والطارق “ ”کہ آسمان کی قسم ہے اور رات کے حادثہ کی قسم ہے اور اس کی تفہیم یہ ہوئی کہ حضور کے والد ماجد آج غروب آفتاب کے وقت اس جہاں سے رحلت فرما جائیں گے ۔“

(تاریخ احمدیت ج ١ ص ١٩٣)

ایک مغالطہ اور اس کا جواب

میاں بشیر احمد لکھتے ہیں کہ ”ہمارے دادا صاحب کی تاریخ وفات ١٨٧٤ء نہیں ہے۔ بلکہ میری تحقیق میں صحیح تاریخ ١٨٧٦ء ہے۔ جیسا کہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے ”کشف الغطاء“ کے حوالہ سے سرکاری ریکارڈ میں لکھی ہے۔ ”حضرت مسیح موعود کی بعض دوسری تحریروں سے دادا صاحب کی وفات ١٨٧٦ء ثابت ہوئی ہے۔ (دیکھو کشف الغطاء) چونکہ سرکاری ریکارڈ بھی اسی کا موید ہے معلوم ہوتا ہے کہ ١٨٧٤ء محض یاد کی بناء پر لکھا ہے۔ اس لئے ذہول ہو گیا ہے۔“

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ١٩٤)

جواب : یہ تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ میاں بشیر احمد مرزا غلام مرتضیٰ کے پوتے ہیں۔ لیکن ایک سیکنڈ کے لئے بھی یہ بات ہم تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ انہوں نے ”کشف الغطاء“ کا حوالہ درست دیا ہے۔ کشف الغطاء جو منیجر بک ڈپو تالیف واشاعت قادیاں نے دسمبر ١٩٣٦ء میں بار دوم شائع کرائی۔ ہمارے پاس اس وقت موجود ہے۔ اس کتابچہ کے کل ٣٦ صفحات ہیں۔ اول سے آخر تک مطالعہ کیا ہے۔ اس کتابچہ کے کسی ایک صفحہ یا سطر میں بھی مرزا قادیانی نے اپنے والد کے سن وفات ١٨٧٤ء کی کہیں تردید کی ہے اور نہ ہی کسی جگہ یہ فقرہ درج پایا ہے کہ میرے والد کی وفات ١٨٧٦ء میں ہوئی۔ معلوم نہیں کہ قادیانیوں کے نزدیک وہ کون سا سرکاری ریکارڈ ہے جو اس مفروضہ حوالے کی تائید کر رہا ہے۔ میاں بشیر احمد کے یہ الفاظ : ”حضرت مسیح موعود کی بعض دوسری تحریروں سے دادا صاحب کی وفات ١٨٧٦ء میں ثابت ہوتی ہے۔“

مطالبہ : ہم کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی بعض دوسری تحریریں ہوں یا بعض تیسری، بیسویں اور سینکڑوں ہی نہیں ۔ بلکہ بعض ہزار ہا بھی کیوں نہ ہوں۔ لیکن آج تک برس ہا برس سے کسی شخص میں اتنی جرأت تو نہ ہو سکی کہ مرزا قادیانی کی صرف کسی ایک تصنیف سے ہی ثابت کر سکتا

٢٩

صفحہ ٣٦٩

کہ مرزا قادیانی نے فلاں جگہ یہ لکھا ہے کہ میرے والد کی وفات ١٨٧٦ء میں ہوئی۔ جو صاحب جرات اور استقلال کا ثبوت دیتے ہوئے صرف اتنا مطالبہ پورا کرنے کی سعی فرمائیں گے کہ ”مرزا قادیانی نے اپنی ٦٨ یا ٦٩ سالہ زندگی میں کسی جگہ کسی وقت اور کسی تحریر میں یا کسی تقریر میں کسی کتاب میں یا کسی رسالہ میں کسی اشتہار میں کسی سرکاری یا غیر سرکاری ریکارڈ میں صرف اتنے الفاظ ہی تحریر کئے ہوں کہ میرے والد صاحب کی وفات ١٨٧٦ء میں ہوئی ۔“ تو وہ ہم سے انعام لینے کا مستحق ہوگا۔ حق اور باطل کے فیصلہ کے لئے یہی کافی ہے۔ فاتوا ببرهانکم ان کنتم صادقین!

مزید تحریف کی گئی

مرزا قادیانی کے منجھلے بیٹے میاں بشیر احمد نے صرف سنین کے ردو بدل کو اپنے دادا جان کی تاریخ وفات اور والد صاحب کی تاریخ پیدائش پر ہی آزما کر بس نہیں کیا۔ بلکہ کئی اور جگہ پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔

مرزا بشیر احمد نے اپنے بھائی غلام قادر کی وفات ١٨٨١ء میں لکھی ہے۔ بشیر احمد لکھتے ہیں کہ: ”ان کی وفات ١٨٨٣ء میں ہوئی (مرزا محمود احمد لکھتے ہیں ١٨٨٤ء میں ہوئی) (سیرت مسیح موعود ص ١٤، ١٦) ”وجہ اس کی یہ لکھتے ہیں کہ حضرت صاحب کو یاد نہیں رہا۔“

مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص ٢٥٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٣) پر مولوی کرم الدین کے مقدمہ میں سفر ١٩٠٤ء میں لکھا ہے۔

مرزا بشیر احمد اتفاق کرتے ہیں کہ یہ سفر ١٩٠٣ء میں ہوا۔ وجہ اس کی یہ لکھتے ہیں کہ ”حضرت صاحب کو اس بارے میں ذہول ہوا ہے۔“

مرزا قادیانی نے سرخی کے چھینٹوں والا نشان ١٨٨٤ء میں لکھا ہے۔

مرزا بشیر احمد نے اس کو ١٨٨٣ء میں لکھا ہے ”ڈاکٹر بشارت احمد نے اس کو ١٨٨٥ء میں لکھا ہے۔“

(مجدد اعظم ص ٧٥)

”وجہ اس کی یہ بتائی کہ حضرت صاحب نے اسے یونہی تخمینی رنگ میں لکھا ہے۔“

مرزا قادیانی نے اپنا دہلی کا نکاح ١٨٨٥ء میں بیان کیا ہے۔

مرزا بشیر احمد اس کو ١٨٨٤ء میں لکھتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ بتائی کہ: ”حضرت صاحب

٣٠

نے محض تخمیناً لکھا ہے۔“

مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کی تاریخ پیدائش

عبدالرحیم صاحب درد نے مرزا غلام احمد کی انگلش میں لکھی ہے۔ درد صاحب اس کے ص ٣١ پر لکھتے سال بعد تولد ہوئے۔“ ہمیں درد صاحب کا یہ حوالہ بس دونوں بھائیوں کی تاریخ پیدائش یوں لکھی ہے: پیدائش فضل احمد ١٨٦٠ء

مولف ”تاریخ احمدیت“ نے دونوں کی تاریخ مرزا سلطان احمد ١٨٥٣ء اور پیدائش مرزا فضل احمد ١٨٥٥ء

مولف ”حیات طیبہ“ میں لکھا ہے کہ: ”پیدا مرزا فضل احمد ١٨٦٠ء‘

اگر دوست محمد صاحب شاہد مؤلف ”تاریخ پیدائش ١٨٥٥ء میں تسلیم کی جائے اور عبدالقادر صاحب ١٨٦٠ء میں، تو دونوں بھائیوں کی عمر میں دو سال کی بـ عبدالرحیم درد کے بیان کی تکذیب کر رہا ہے۔ اگر عبدالـ دوسرے دونوں صاحبان کا بطلان ظاہر ہے۔

یقیناً یہی درست ہے

”میری عمر صرف سولہ برس تھی۔ جب میر حصہ اول ص ٢٧٣) ”مرزا سلطان احمد کی پیدائش ١٨٥٦ء المہدی) ١٨٥٦-١٦=١٨٤٠۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا صرف ٦٨ یا ٦٩ برس دنیا میں زندگی گزار کر ٢٦ مئی ١٨ کیا۔

مرزا سلطان احمد کی عمر

عبدالقادر صاحب مولف حیات طیبہ ص ہوئی۔“

٣١

صفحہ ٣٦٩

نے محض تخمیناً لکھا ہے۔“

مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کی تاریخ پیدائش میں تغیر وتبدل کرنے کی جسارت

عبدالرحیم صاحب درد نے مرزا غلام احمد کی ایک سوانح حیات ”لائف آف احمد“ انگلش میں لکھی ہے۔ درد صاحب اس کے ص ٣٦ پر لکھتے ہیں کہ ”مرزا فضل احمد، سلطان احمد کے دو سال بعد تولد ہوئے۔“ ہمیں درد صاحب کا یہ حوالہ بسر و چشم منظور لیکن مؤلف ”مجدد اعظم“ نے دونوں بھائیوں کی تاریخ پیدائش یوں لکھی ہے: پیدائش مرزا سلطان احمد ١٨٥٦ء اور پیدائش مرزا فضل احمد ١٨٦٠ء

(مجدد اعظم ج ١ ص ١٤٥)

مولف ”تاریخ احمدیت“ نے دونوں کی تاریخ پیدائش حسب ذیل لکھی ہے: ”پیدائش مرزا سلطان احمد ١٨٥٣ء اور پیدائش مرزا فضل احمد ١٨٥٥ء“

(تاریخ احمدیت ج ١ ص ٨٣)

مولف ”حیات طیبہ“ میں لکھا ہے کہ: ”پیدائش مرزا سلطان احمد ١٨٥٦ء اور پیدائش مرزا فضل احمد ١٨٦٠ء“

(حیات طیبہ ص ١٢)

اگر دوست محمد صاحب شاہد مؤلف ”تاریخ احمدیت“ کے بیان کے مطابق فضل احمد کی پیدائش ١٨٥٥ء میں تسلیم کی جائے اور عبدالقادر صاحب (مؤلف حیات طیبہ) کی تحریر کے مطابق ١٨٦٠ء میں، تو دونوں بھائیوں کی عمر میں دو سال کی بجائے پورے ٥ سال کا فرق ہے۔ یہ فرق عبدالرحیم درد کے بیان کی تکذیب کر رہا ہے۔ اگر عبدالرحیم صاحب درد کا بیان صدق پر مبنی ہے تو دوسرے دونوں صاحبان کا بطلان ظاہر ہے۔

یقیناً یہی درست ہے

”میری عمر صرف سولہ برس تھی۔ جب میرا لڑکا سلطان احمد پیدا ہوا۔“ (سیرت المہدی حصہ اول ص ٧١) ”مرزا سلطان احمد کی پیدائش ١٨٥٦ء میں ہوئی۔“ (مجدد اعظم، حیات طیبہ، سیرت المہدی) ١٨٥٦ء-١٦=١٨٤٠ء۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدا ہو کر صرف ٦٨ یا ٦٩ برس دنیا میں زندگی گزار کر ٢٦ مئی ١٩٠٨ء مطابق ٢٤ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ انتقال کیا۔

مرزا سلطان احمد کی عمر

عبدالقادر صاحب مولف حیات طیبہ ص ١٢ ”مرزا سلطان احمد کی پیدائش ١٨٥٦ء میں ہوئی۔“

٣١

صفحہ ٣٧١

مرزا بشیر احمد (سیرت المہدی) ”مرزا سلطان احمد کی پیدائش ١٨٥٦ء میں ہوئی۔“

ڈاکٹر بشارت احمد مولف (مجدد اعظم ج ١ ص ١٤٥) ”مرزا سلطان احمد کی پیدائش ١٨٥٦ء میں ہوئی۔

مرزا قادیانی کے ایک جلیل القدر صحابی شیر علی خان کا بیان

مولوی شیر علی صاحب جو مرزا قادیانی کے جلیل القدر صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ (معاذ اللہ ) جن کے متعلق روایت بیان کرنے میں جناب مرزا قادیانی کے صاحبزادہ میاں بشیر احمد تحریر فرماتے ہیں کہ: ”مولوی شیر علی کو میں نے طریق روایت میں بہت محتاط پایا“ انہی مولوی شیر علی صاحب کی ایک روایت ملاحظہ فرمائیے:

”حضرت مسیح موعود فرماتے تھے، جب سلطان احمد پیدا ہوا، اس وقت ہماری عمر صرف ١٦ سال تھی۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٧٤)

اب ڈاکٹر بشارت احمد کی بات بھی سنئے: ”حضرت مرزا کی شادی ١٦ برس کی عمر میں آپ کے والد صاحب نے کی۔“

(مجدد اعظم ج ١ ص ٢٥)

جناب مرزا قادیانی کے اپنے قول کے مطابق

جب مرزا سلطان احمد پیدا ہوا تو مرزا قادیانی کی عمر ١٦ برس کی تھی۔ لیکن افسوس کہ مرزا قادیانی کی شادی ہی ١٦ برس کی عمر میں ہوئی تھی۔ اب یہ فیصلہ قارئین کریں کہ مرزا قادیانی کی شادی سے ٣ برس پہلے سلطان احمد کیسے پیدا ہو گیا؟

قاضی محمد نذیر لائل پوری کے ایک درجن مغالطے معہ جوابات

مغالطہ نمبر ١

”صرف اندازے سے ٥٣، ٥٤ سال کی عمر بتانا بھی معمولی طریق کلام ہے۔“

جواب: صاحب من! نہ چار سال کم بتائی نہ پانچ۔ یہ سب ہیر پھیر ہیں۔ مرزا قادیانی کا فرمان تو یہ ہے: ”١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدائش ہوئی۔ ١٨٥٧ء میں عمر سولہ یا سترہ برس تھی۔ ١٨٧٤ء میں عمر ٣٤ یا ٣٥ برس تھی۔ ١٨٥٦ء میں عمر صرف ١٦ برس تھی۔“ قاضی صاحب! کسی حساب دان کی طرف رجوع فرمائیے۔

مغالطہ نمبر ٢

”میری طرف سے ٢٣ اگست ١٩٠٣ء کو ڈوئی کے مقابل پر انگریزی میں یہ اشتہار

٣٢

شائع ہوا تھا۔ جس میں یہ فقرہ ہے کہ میں عمر میں ٧٠ برس کے قریب ہوں۔ ٥٠ برس کا جوان ہے۔“ گویا ١٩٠٣ء میں مرزا ہوئے۔ کل عمر ٧٥ برس ثابت ہوئی۔

جواب: مرزا قادیانی نے ٧٠ برس کے قر عمر پائی۔ آپ کے قول کے مطابق اگر ١٩٠٣ء میں مرزا قاد سے ١٩٠٥ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٹھیک ٧٢ سال کی ہو قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ عمر ٧٠ برس کے قریب ہے۔

اگر آپ کے قول کے مطابق ١٩٠٣ء میں حساب کی رو سے ١٩٠٧ء میں عمر ٧٤ سال ہونی چاہئے کہ میری عمر ٧٠ سال کے قریب ہے۔ یہ کیوں؟

(حقیقت الوحی ص ٢٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩ حا

الفاظ کیوں بدل رہے کہ ”میری عمر اس وقت ٦٨ بر مرزا قادیانی کا انتقال ہو گیا۔ پس ٦٩ برس عمر پائی۔“ سے زیادہ صحیح اور یقینی ہوا کرتی ہے۔“

مغالطہ نمبر ٣

”مجھے دکھاؤ کہ آتھم کہاں ہے۔ اس کی کے آتھم ١٨٩٦ء میں مرا۔ اس کے مرنے کے ١٢ پائی۔“ اگر کوئی جاہل اس قسم کے لایعنی استدلال پیـ اس نے محض اپنی لاعلمی کے باعث ایک بہانہ تلاش کـ چند سطریں تحریر کرنا بھی محض تضیع اوقات سمجھتے۔ چونکہ سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس لئے اس کا تحقیقی اور الزا

تحقیقی جواب

مرزا قادیانی نے ١٨٩٣ء میں کتاب ”نـ

٣٣

صفحہ ٣٧١

شائع ہوا تھا۔ جس میں یہ فقرہ ہے کہ میں عمر میں ٧٠ برس کے قریب ہوں اور ڈوئی جیسا کہ وہ بیان کرتا ہے۔ ٥٠ برس کا جوان ہے۔“ گویا ١٩٠٣ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٧٠ برس ١٩٠٨ء میں فوت ہوئے۔ کل عمر ٧٥ برس ثابت ہوئی۔

جواب: مرزا قادیانی نے ٧٠ برس کے قریب الفاظ تحریر کئے ہیں نہ کہ پورے ٧٠ برس۔ آپ کے قول کے مطابق اگر ١٩٠٣ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٹھیک ٧٠ برس تھی تو حساب کی رو سے ١٩٠٥ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٹھیک ٧٢ سال کی ہونی چاہئے تھی۔ لیکن ١٩٠٥ء میں بھی مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ عمر ٧٠ برس کے قریب ہے۔

(ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)

اگر آپ کے قول کے مطابق ١٩٠٣ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٹھیک ٧٠ برس تھی۔ تو حساب کی رو سے ١٩٠٧ء میں عمر ٧٤ سال ہونی چاہئے لیکن مرزا قادیانی ١٩٠٧ء میں بھی لکھتے ہیں کہ میری عمر ٧٠ سال کے قریب ہے۔ یہ کیوں؟

(حقیقت الوحی ص ٢٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩ حاشیہ) پر آپ کی نظر سے مرزا قادیانی کے یہ الفاظ کیوں اوجھل رہے کہ ”میری عمر اس وقت ٦٨ برس کے قریب ہے۔“ اگلے سال ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی کا انتقال ہوگیا۔ پس ٦٩ برس عمر پائی۔ ”جو چیز حساب کی رو سے ٹھیک بیٹھے وہی سب سے زیادہ صحیح اور یقینی ہوا کرتی ہے۔“

مغالطہ نمبر ٣

”مجھے دکھاؤ کہ آتھم کہاں ہے۔ اس کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی یعنی قریباً ٦٤ سال کے آتھم ١٨٩٦ء میں مرا۔ اس کے مرنے کے ١٢ برس بعد آپ زندہ رہے۔ پس ٧٦ برس عمر پائی۔“ اگر کوئی جاہل اس قسم کے لایعنی استدلال پیش کرتا تو ہم اسے یقیناً معذور خیال کرتے کہ اس نے محض اپنی لاعلمی کے باعث ایک بہانہ تلاش کیا ہے۔ ممکن تھا کہ ہم اس کے جواب دینے پر چند سطریں تحریر کرنا بھی محض تضیع اوقات سمجھتے۔ چونکہ یہ استدلال ایک ذمہ دار قادیانی عالم کی طرف سے پیش کیا جارہا ہے۔ اس لئے اس کا تحقیقی اور الزامی رنگ میں جواب دینا ہی مناسب ہے۔

تحقیقی جواب

مرزا قادیانی نے ١٨٩٣ء میں کتاب ”انوار الاسلام“ لکھی اور شائع کروائی۔ جو ایڈیشن

٣٣ .

صفحہ ٣٧٣

اس وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ وہ غلام قادر فصیح نے پنجاب پریس سیالکوٹ میں طبع کرایا ہے۔ اس کتاب کا (حاشیہ ص ٣٦، خزائن ج ٩ ص ٤٧) پڑھئے۔ مرزا قادیانی ١٨٩٤ء میں فرماتے ہیں کہ: ”عبداللہ آتھم کی جیسا کہ نور افشاں میں لکھا گیا ہے، صرف اب تک ٦٤ برس کی عمر ہے۔ جو میری عمر سے صرف چھ سات برس ہی زیادہ ہے۔“

گویا بقول مرزا قادیانی ١٨٩٤ء میں آتھم کی عمر ٦٤ برس کی تھی اور مرزا قادیانی کی عمر اس سے ٦، ٧ برس کم تھی۔ دو برس بعد ١٨٩٦ء میں آتھم مر گیا۔ آتھم کے مرنے کی دیر تھی کہ ١٨٩٦ء میں مرزا قادیانی فوراً عمر میں اس سے برابر ہو گئے۔ یہ استدلال ہے یا بچوں کا کھیل؟ زندگی بھر تو مرزا قادیانی اور آتھم کی عمر میں ٦، ٧ برس کا فرق رہا۔ لیکن ان میں سے ایک کے مر جانے سے دونوں کی عمریں برابر ہو گئیں۔ ایسی ڈھکوسلے بازی ایک عالم کی زبان سے زیب نہیں دیتی۔ ممکن ہے قاضی صاحب خود بھی غور فرمائیں تو انہیں اس استدلال پر ہنسی آ جائے کہ یہ کیا حرکت ان سے سرزد ہوئی؟۔

الزامی جواب نمبر ١

”میرے نزدیک حضرت مسیح موعود کی مندرجہ ذیل تحریر سے ”مجھے دکھلاؤ کہ آتھم کہاں ہے۔ اس کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی۔ یعنی قریب ٦٤ سال کے۔“ (اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ١٠٩) یہ نتیجہ نکالنا کہ چونکہ آتھم ٢٧؍ جولائی ١٨٩٦ء کو مرا۔ (انجام آتھم ص ١، خزائن ج ١١ ص ١) اس لئے آپ کی عمر ٧٦ برس ہوئی، درست نہیں معلوم ہوتا۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود نے جس رنگ میں اپنی عمر آتھم کے برابر ظاہر کی ہے۔ وہ ایسا نہیں کہ ایک حوالہ کو لے کر نتیجہ نکالا جائے۔ آتھم کے مقابلے میں جس امر پر آپ زور دینا چاہتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ ہم دونوں پر قانون قدرت یکساں موثر ہے۔“

(بیان عبدالرحیم صاحب درد، مندرجہ اخبار الفضل)

الزامی جواب نمبر ٢

بدر ٨؍ اگست ١٩٠٤ء ص ٥ کالم ٤ ملاحظہ فرمائیں: ”حضرت مرزا قادیانی نے کتاب اعجاز احمدی کی تصنیف کے وقت جو آپ کی عمر تھی۔ اس کا مقابلہ عبداللہ آتھم کی عمر سے کیا ہے۔ اعجاز احمدی ١٩٠٢ء کی تصنیف ہے۔ (کتاب البریہ ص ١٤٦، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧ سطر ٧) میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اب میری ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے

٣٤

آخری وقت میں ہوئی اور ١٨٥٧ء میں سولہ یا سترہ برس کا تھا کی عمر ٦٤ سال کی ہونی چاہئے تھی یا نہیں؟“

مغالطہ نمبر ٤

”الہام و کشف کے مطابق ساڑھے ٧٥ سال کی

جواب: (تاریخ احمدیت حصہ سوم ص ٥٤٩) پر یوں عمر سوا تہتر سال کے قریب تھی۔ دن منگل تھا اور شمسی تاریخ ٢٦

مغالطہ نمبر ٥

”ہاں بعض صورتوں سے جو درمیانی زمانہ کی ہیں ہیں۔ آپ کی عمر میں کچھ دشواری پیدا ہوتی ہے۔ مولوی خالہ کر کے حضرت اقدس کی عمر ٦٦ سال بتا کر آپ کی عمر کے مت بنایا ہے۔ جو تحریرات آپ کی عمر اندازاً ٧٥ سال بتاتی ہیں۔

جواب: مرزا قادیانی کی کوئی ایسی تحریر دکھا دی کہ میری عمر قریباً ٧٥ سال ہے۔ حالانکہ آپ لوگ مرزا قاد تک کھینچ کر لے جاچکے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے:

٣٥

صفحہ ٣٧٣

آخری وقت میں ہوئی اور ١٨٥٧ء میں سولہ یا سترہ برس کا تھا۔ اب حساب کر لو کہ ١٩٠٢ء میں آپ کی عمر ٦٤ سال کی ہونی چاہئے تھی یا نہیں؟“

مغالطہ نمبر ٤

”الہام و کشف کے مطابق ساڑھے ٧٥ سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔“

جواب: (تاریخ احمدیت حصہ سوم ص ٥٤٩) پر یوں لکھا ہے کہ: ”وفات کے وقت حضور کی عمر سوانہتر سال کے قریب تھی۔ دن منگل تھا اور شمسی تاریخ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء۔“

مغالطہ نمبر ٥

”ہاں بعض صورتوں سے جو درمیانی زمانہ کی ہیں اور عمر کے متعلق بعض اندازے بتاتی ہیں۔ آپ کی عمر میں کچھ دشواری پیدا ہوتی ہے۔ مولوی خالد محمود نے بعض ایسی ہی عبارتوں کو پیش کر کے حضرت اقدس کی عمر ٦٦ سال بتا کر آپ کی عمر کے متعلق الہامی پیشگوئی کو اعتراض کا نشانہ بنایا ہے۔ جو تحریرات آپ کی عمر اندازاً ٧٥ سال بتاتی ہیں۔ انہیں دانستہ نظر انداز کر دیا ہے۔“

جواب: مرزا قادیانی کی کوئی ایسی تحریر دکھا دیجئے جہاں مرزا قادیانی نے تحریر فرمایا ہو کہ میری عمر قریباً ٧٥ سال ہے۔ حالانکہ آپ لوگ مرزا قادیانی کی عمر کو ربڑ کی طرح ٧٤ سے ٨٦ تک کھینچ کر لے جاچکے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے:

(ریویو اپریل ١٩٣٢ء)

(تاریخ احمدیت حصہ سوم)

(تشحیذ الاذہان جون، جولائی ١٩٠٨ء)

(الفضل یکم نومبر ١٩٦٤ء)

(ریویو اپریل ١٩٢٣ء ص ٢٣)

(ریویو ستمبر ١٩١٨ء ص ٣٣١)

(ریویو ستمبر ١٩١٨ء ص ٣٣٢)

٣٥

صفحہ ٣٧٤

مغالطہ نمبر ٦

”حضرت اقدس پر ١٩٠٥ء تک یہ واضح ہو چکا تھا کہ آپ کی پیدائش کا سن ١٢٥٠ھ مطابق ١٨٣٥ء ہے۔“

جواب : گستاخی معاف! صرف اتنا بتا دیجئے کہ آپ کے بیان کے مطابق جب مرزا قادیانی پر ١٩٠٥ء تک یہ واضح ہو چکا تھا کہ آپ کی پیدائش ١٨٣٥ء میں ہوئی تو حقیقت الوحی دو برس بعد ١٩٠٧ء میں شائع ہوئی (ص ٢٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩) پر یہ کیوں تحریر فرمایا کہ ”میری عمر اس وقت قریباً ٦٨ سال ہے۔ (یہ اشارہ تھا تاریخ پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء کی طرف)

مغالطہ نمبر ٧

”اگر ١٨٣٥ء آپ کی پیدائش کا سال قرار دیا جائے تو ١٩٠٠ء میں آپ کی عمر ٦٦ سال تھی۔“

جواب : پہلے یہ فرمائیے کہ آپ کا قول معتبر ہے یا مرزا قادیانی کا۔ مہربانی فرما کر (تحفہ گولڑویہ ص ١٥٢) نکالئے۔ یہ کتاب ١٣١٨ء میں لکھی گئی۔ اس وقت سن عیسوی ١٩٠٠ تھا۔

(دیکھو تریاق القلوب ص١٠، خزائن ج ١٥ ص ١٣٦)

تحفہ گولڑویہ ١٣١٨ھ مطابق ١٩٠٠ء میں لکھی گئی۔ اب مرزا کا فرمان پڑھئے اور اس پر ایمان لائیے: ”اس ٦٠ سال سے پہلے جو اس عاجز کی گزشتہ عمر کے دن ہیں۔ اگر وہ ٦٠ سال الگ کر دیئے جائیں تو جو اس عاجز کی گزشتہ عمر کے دن ہیں۔“

١٣٢٦ھ مطابق ١٩٠٨ء میں وفات پائی۔ سن ہجری کے مطابق ١٣١٨ھ میں عمر ٦٠ سال تو ١٣٢٦ھ میں ٦٨ سال۔ سن عیسوی کے مطابق ١٩٠٠ء میں عمر ٦٠ سال تو ١٩٠٨ء میں ٦٨ سال۔ فھوالمراد! لیکن آپ ١٩٠٠ء میں مرزا قادیانی کی فرضی عمر ٦٦ سال قرار دے رہے ہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف کیجئے۔

مغالطہ نمبر ٨

”اگر آپ کی بعثت کا سن ١٢٩٣ھ قرار دیا جائے تو ١٢٩٣ھ میں عمر ٤٣ سال تھی۔“

جواب : آپ ١٢٩٣ھ کو بعثت کا سن تجویز کرنے کی جسارت فرما رہے ہیں اور مرزا قادیانی نے یوں بھی لکھا ہے: ”وہ آدم اور ابن مریم یہی عاجز ہے اور اس عاجز کا یہ دعویٰ دس برس

٣٦

صفحہ ٣٧٥

سے شائع ہورہا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٩٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٥)

ازالہ اوہام ١٨٩١ء کی تصنیف ہے۔ دس برس کم کر دو باقی ١٨٨١ء۔

”یہ عاجز اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوت حق کے لئے بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ ٨٠ برس تک یا اس کے قریب تیری عمر ہے۔ سو اس الہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے۔ جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے ہیں۔“

(نشان آسمانی ص ١٣، خزائن ج ٤ ص ٣٧٤)

نشان آسمانی ١٨٩٢ء کی تصنیف ہے۔ دس برس کم کر دیئے باقی ١٨٨٢ء

”مسیح موعود نے بھی چودھویں صدی کے سر پر ظہور کیا۔“

(شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)

شہادت القرآن ١٨٩٣ء کی تصنیف ہے۔ مرزا قادیانی نے یہ الفاظ ادا نہیں کئے کہ

”تیرہویں صدی کے آخر میں“ بلکہ چودھویں صدی کا شروع سال بیان کیا ہے جو ١٣٠١ء ہے۔

”ٹھیک بارہ سو نوے ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨)

”میں قریباً تیس برس سے خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں۔“

(پیغام صلح ص ١٣، خزائن ج ٢٣ ص ٤٣٧)

پیغام صلح مرزا قادیانی کی وہ تصنیف ہے جو وفات سے تین روز قبل ١٩٠٨ء میں لکھی۔ ١٩٠٨ء سے ٣٠ برس کم کر دو باقی ١٨٧٨ء بنتے ہیں۔

اب خلاصہ یہ نکلا کہ

حقیقت الوحی کے مطابق تاریخ بعثت ١٨٧٤ء، ١٨٧٣ء بنتی ہے۔

پیغام صلح کے مطابق تاریخ بعثت ١٨٧٨ء بنتی ہے۔

ازالہ اوہام کے مطابق تاریخ بعثت ١٨٨١ء بنتی ہے۔

نشان آسمانی کے مطابق تاریخ بعثت ١٨٨٢ء بنتی ہے۔

شہادت القرآن کے مطابق تاریخ بعثت ١٨٨٣ء بنتی ہے۔

صرف یہی نہیں، بلکہ مرزا قادیانی کا مکمل لٹریچر بغور مطالعہ کرنے کے بعد ایسے بیسیوں

٣٧

صفحہ ٣٧٦

حوالے ملیں گے کہ کسی ایک سن کو متعین کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔ نصف سے زائد صدی ہو چکی ہے کہ مرزا قادیانی کی تاریخ بعثت کا آپ سے فیصلہ نہ ہو سکا۔

مغالطہ نمبر ٩

مولوی خالد محمود صاحب نے اپنے مضمون میں حضرت اقدس کی ایک عبارت سے آپ کی عمر ٦٦ برس ثابت کرنے کے لئے مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے۔ حضرت اقدس کی کتاب تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٣ صفحہ ٦٨ طبع اول سے ذیل کی عبارت پیش کرتے ہیں: ”جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے مجھے الہام و کلام سے مشرف کیا اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ میری عمر کے ٤٠ برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا۔ تب خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے۔“

خالد محمود صاحب نے اس عبارت کے الفاظ صدی کے سر سے ١٣٠٠ھ معین طور پر مراد لے کر آپ کی عمر ٤٠+٢٦=٦٦ سال بتائی ہے۔ حالانکہ حضور کے نزدیک صدی کے سر سے مراد ٹھیک ١٣٠٠ھ نہیں بلکہ تیرہویں صدی کا آخری عشرہ ہے۔ جبکہ آپ ٤٠ سال کے ہو چکے تھے۔ انہوں نے صدی کے سر سے مراد دانستہ ١٣٠٠ھ لے کر اس وقت آپ کی عمر چالیس سال فرض کر کے ١٣٢٦ھ سال وفات تک آپ کی عمر ٦٦ سال بتائی ہے۔ حساب میں سے دس برس گول کر گئے۔“

جواب: صدی کا سر متعین کرنے کے لئے یا تو مرزا قادیانی کی وہ تحریریں آپ کی نظر سے نہیں گزریں اور یا آپ دیدہ دانستہ چشم پوشی کر رہے ہیں: ”تیرہویں صدی کے ختم ہونے پر“ ...... ١٣٠١ھ شروع ہوگی یا ١٢٩٠ھ؟ چودھویں صدی کا شروع سال ...... ١٣٠١ھ ہوتا ہے یا ١٢٩٠ھ؟ ”غلام احمد قادیانی ١٣٠٠ھ فکر کن“...... فکر کن

١٣٠٠ متعین کرنے کیلئے مرزا قادیانی کے فرمودات ملاحظہ فرمائیے

صدی کا سر

”مسیح موعود نے بھی چودھویں صدی کے سر پر ظہور کیا۔“

(نشان آسمانی ص ١٦، خزائن ج ٤ ص ٣٧٨)

٣٨

١٣٠٠ھ داد نشانہائے خدائے عدد زمانہ مرا پیش ”غلام احمد قادیانی ١٣٠٠ھ فکر کن

چودھویں کا آغاز

”غلام احمد قادیانی کے عدد بہ چودھویں صدی کے آغاز پر ہوگا۔“

تیرہویں صدی کے ختم ہونے پر

”اہل کشف نے بھی اس زم ہے اور جس نے دعویٰ کیا اس کا نام غلام یعنی تیرہ سو کا عدد بتا رہا ہے کہ تیرہویں صد

چودھویں کا شروع سال

”سلف صالحین میں سے ب صدی کا شروع سال بتلاتے ہیں۔“

صدی کے سر سے مراد ١٣٠٠ھ

”مدت ہوئی ہزار ششم گز اب دنیا ہزار ہفتم کو بسر کر رہی ہے اور ص

نوٹ: اگر صدی کے سر ب ١٧۔ تحفہ گولڑویہ کے یہ صفحات اس وقت تھے اور ١٣١٨ھ سے چھ ماہ گزرے ت

تیرہویں کا آخیر چودھویں کا آ

”جب تیرہویں صدی کا کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صد

صفحہ ٣٧٧

١٣٠٠ھ

داد نشانہائے خدا یکے ایں است کہ او در عدد نام من
عدد زمانہ مرا پوشیدہ داشتہ اگر خواہی در عدد

”غلام احمد قادیانی ١٣٠٠ھ فکر کن“

چودھویں کا آغاز

”غلام احمد قادیانی کے عدد بہ حساب جمل پورے ١٣٠٠ نکلتے ہیں۔ یعنی اس نام کا امام چودھویں صدی کے آغاز پر ہوگا۔“

(رپورٹ جلسہ سالانہ ١٨٩٧ء ملفوظات ج ١ ص ٥٠)

تیرہویں صدی کے ختم ہونے پر

”اہل کشف نے بھی اس زمانہ کی خبر دی اور نجومی بھی بول اٹھے کہ مسیح موعود کا یہی وقت ہے اور جس نے دعویٰ کیا اس کا نام غلام احمد قادیانی اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے کہ یعنی تیرہ سو کا عدد بتا رہا ہے کہ تیرہویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا۔“

(تریاق القلوب ص ١٦، خزائن ج ١٥ ص ١٥٧)

چودھویں کا شروع سال

”سلف صالحین میں سے بہت سے صاحب مکاشفات مسیح کے آنے کا وقت چودھویں صدی کا شروع سال بتلاتے ہیں۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٨٤، خزائن ج ٣ ص ١٨٨، ١٨٩)

صدی کے سر سے مراد ١٣٠٠ھ ہے

”مدت ہوئی ہزار ششم گزر گیا اور اب قریباً پچاسواں سال اس پر زیادہ جارہا ہے اور اب دنیا ہزار ہفتم کو بسر کر رہی ہے اور صدی کے سر پر سے سترہ برس گزر گئے ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٢ حاشیہ)

نوٹ: اگر صدی کے سرے سے مراد ١٢٩٠ھ ہے تو ٢٧ سال گزرنے چاہئیں تھے نہ کہ ١٧۔ تحفہ گولڑویہ کے یہ صفحات اس وقت لکھے جارہے تھے۔ جب ١٣١٧ھ کے سال پورے ہو گئے تھے اور ١٣١٨ھ سے چھ ماہ گزرے تھے۔

تیرہویں کا آخیر چودھویں کا ظہور

”جب تیرہویں صدی کا آخیر ہوا اور چودھویں کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔“

٣٩

صفحہ ٣٧٨

مغالطہ نمبر ١٠

”یہ عجیب امر ہے اور میں اس کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک ١٢٩٠ھ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨)

”جب میری عمر ٤٠ برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا۔“

(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)

معلوم ہوا کہ ١٢٩٠ھ میں آپ کی عمر ٤٠ سال تھی اور ١٣٢٦ھ میں انتقال ہوا۔ کل عمر ٧٦ برس۔

جواب: مرزا غلام احمد قادیانی (حقیقت الوحی ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٨) پر فرماتے ہیں کہ الہام ”والسماء والطارق“ یہ ان سب الہاموں سے پہلا الہام اور پہلی پیشگوئی تھی جو خدا نے مجھ پر ظاہر کی۔ ”مرزا محمود احمد“ سیرت مسیح موعود ص ٢٠“ پر فرماتے ہیں کہ: ”حضرت صاحب کو الہام ’والسماء والطارق‘ اپنے والد کی وفات سے پیشتر ہوا اور گو حضرت صاحب کو اس سے پہلے ایک مدت سے رویائے صالحہ ہو رہے تھے۔ لیکن پہلا الہام جو حضرت مسیح موعود کو ہوا وہ یہی تھا جس میں آپ کو اپنے والد کی وفات کی خبر دی گئی تھی۔“

جناب قاضی صاحب! آپ مرزا قادیانی کی کوئی ایسی تحریر ان کی کسی کتاب کسی اخبار کسی اشتہار سے پیش کیجئے۔ جہاں مرزا قادیانی نے یہ تحریر فرمایا ہو کہ (١): ”میرے والد کے انتقال کے وقت میری عمر ٹھیک چالیس برس کی تھی۔“ یا یہ تحریر فرمایا ہو کہ (٢): ”الہام ’والسماء و الطارق‘ مجھے والد کی وفات پر ٹھیک چالیس کی عمر میں ہوا۔ یا یہ ہی کہیں درج کیا ہوا کہ (٣): ”میرے والد صاحب کی وفات ٹھیک ١٢٨٦ھ میں ہوئی۔“

ورنہ عمر کے متعلق قریباً قریباً یا ”تک“ کی گردان تو مرزا قادیانی نے اپنی متعدد تصانیف میں دہرائی ہے۔

”چالیس برس تک“ ”چالیس برس کی عمر تک“ ”چالیس برس کے قریب“ ”قریباً چالیس برس“ ”اندازاً چالیس برس“

٣٠

٩

”قریب قریب“ یا ”اندازاً“ یا ”تک چالیس برس نہ ایک کم نہ ایک زیادہ آپ ہی کا لفظ میں عام دستور کے مطابق ٤، ٥ سال کم عمر بتانا بھ ”١٨٩٣ء میں اپنی عمر قریباً ٦٠ سال لیکن ١٨٩٦ء میں پھر اپنی عمر قریباً ٦٠ ١٩٠٥ء میں پھر اپنی عمر قریباً ٧٠ سال لیکن ١٩٠٧ء میں پھر اپنی عمر قریباً ٧٠ اب آپ ہی حساب کر کے فرمائیے سال بعد ١٨٩٩ء میں کتنی چاہئے؟ یہی کہ ٦٥ ١٨٩٩ء میں بھی قریباً ٦٠ سال تھی۔ اسی طرح ١٩ کے بعد ہوئی تو چاہئے عمر قریباً ٧٢ سال لیکن تحری ١٢٩٠ھ مطابق ١٨٧٤ء، ١٨٧٣ء م کے والد کی وفات پر ہوا۔ لیکن اس وقت مرزا چالیس برس کی نہیں تھی۔ مثلاً (کتاب البریہ ص ١٤ فرماتے ہیں کہ: ”میری زندگی قریب قریب چا اور اسی کتاب کے (ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧ ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔ قارئین کرام انصاف فرمائیں کہ برس میں ہو گیا ہو تو اس نے اپنے والد کے ان چالیس“ کا مطلب ہی ٣٤ یا ٣٥ برس ہے۔ ج مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش ٹھیک ١٨٣٩ء ا قادیانی کی عمر ٹھیک ٣٥ برس تھی۔

صفحہ ٣٧٩

”قریب قریب“ یا ”اندازاً“ یا ”تک“ یا ”تقریباً“ کا عموماً یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ٹھیک چالیس برس نہ ایک کم نہ ایک زیادہ آپ ہی کا تو یہ قول ہے کہ: ”صرف اندازے سے بیان کرنے میں عام دستور کے مطابق ٤، ٥ سال کم عمر بتانا بھی معمولی طریق کلام ہے۔“ مثلاً:

”١٨٩٣ء میں اپنی عمر قریباً ٦٠ سال لکھتے ہیں۔“ لیکن ١٨٩٦ء میں پھر اپنی عمر قریباً ٦٠ سال لکھتے ہیں۔“ ١٩٠٥ء میں پھر اپنی عمر قریباً ٧٠ سال لکھتے ہیں۔“ لیکن ١٩٠٧ء میں پھر اپنی عمر قریباً ٧٠ سال لکھتے ہیں۔“

اب آپ ہی حساب کر کے فرمائیے کہ جس شخص کی عمر ١٨٩٤ء میں قریباً ٦٠ سال تھی۔ ٥ سال بعد ١٨٩٩ء میں کتنی چاہئے؟ یہی کہ ٦٥ سال۔ لیکن مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میری عمر ١٨٩٩ء میں بھی قریباً ٦٠ سال تھی۔ اسی طرح ١٩٠٥ء میں عمر قریباً ٧٠ سال لکھتے ہیں۔ لیکن دو سال کے بعد ہونی تو چاہئے عمر قریباً ٧٢ سال لیکن تحریر فرماتے ہیں قریباً ٦٨ سال۔

١٢٩٠ھ مطابق ١٨٧٣ء/١٨٧٤ء مرزا قادیانی کو الہام ”والسماء والطارق“ ان کے والد کی وفات پر ہوا۔ لیکن اس وقت مرزا کی عمر چالیس برس کے قریب تو تھی۔ لیکن ٹھیک چالیس برس کی نہیں تھی۔ مثلاً (کتاب البریہ ص ١٦٣، خزائن ج ١٣ ص ١٩٥ حاشیہ) پر ہی مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ ”میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گزری۔“ اور اسی کتاب کے (ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٩٢ حاشیہ) پر درج ہے کہ ”میری عمر ٣٤، ٣٥ برس کی ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔“

قارئین کرام انصاف فرمائیں کہ جس شخص کے والد کا انتقال اس کی عمر کے ٣٥ ویں برس میں ہو گیا ہو تو اس نے اپنے والد کے زیر سایہ چالیس برس کیسے گزارے؟ ۔ ”قریب قریب چالیس“ کا مطلب ہی ٣٤ یا ٣٥ برس ہے۔ اگر ١٨٧٤ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٹھیک ٣٥ برس ہو تو مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش ٹھیک ١٨٣٩ء نکلتی ہے، جو بالکل درست ہے۔ پس ١٨٧٤ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٹھیک ٣٥ برس تھی۔

٤١

صفحہ ٣٨٠

ہمارا استدلال تو صرف یہ ہے کہ ٹھیک ١٢٩٠ھ میں الہام پایا ”والسماء والطارق۔“ یہ الہام ہوا تھا۔ مرزا غلام مرتضیٰ کی وفات کے متعلق غلام مرتضیٰ کی وفات ہوئی ١٨٧٦ء میں پس ١٢٩٠ھ کے وقت سن عیسوی ١٨٧٣ء تھا اور مرزا کی عمر تھی ٣٥ برس۔

١٢٩٠ھ سے ٣٥ برس تفریق کر دو۔ مرزا کی تاریخ پیدائش ١٢٥٥ھ نکلتی ہے۔ ١٨٧٤ء سے ٣٥ برس تفریق کر دو۔ مرزا کی تاریخ پیدائش ١٨٣٩ء نکلتی ہے۔

پس ثابت ہوا مرزا قادیانی کی پیدائش ١٢٥٥ھ مطابق ١٨٣٩ء ہوئی۔

مغالطہ نمبر ١١

”آپ کا یہ بیان کہ آپ کی پیدائش اس وقت ہوئی۔ جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے۔ محض ایک سرسری انداز پر مبنی ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ١٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٧) اور براہین پنجم کے بیانات جو ١٢٩٠ھ میں آپ کی عمر ٤٠ سال بیان کرتے ہیں۔ چونکہ حضرت اقدس کی آخری تحقیقات ہے۔ اس لئے گیارہ سال کا اندازہ ان آخری تحریروں کے لحاظ سے ملحوظ نہیں رکھا جائے گا۔ بلکہ ان آخری بیانات کی روشنی میں چھ ہزار کے شروع ہونے میں دراصل ٢١ برس باقی تھے۔“

جواب: قاضی صاحب نے یہ آخری فیصلہ دے کر علامہ خالد محمود کے ساتھ حساب بے باق کر دیا۔ ”جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے۔ ایک سرسری اندازہ ہے۔“ سرسری اندازہ؟

قاضی صاحب! مرزا قادیانی تحفہ گولڑویہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”مجھے خدا تعالیٰ نے کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے۔“ دنیا کی عمر کی اطلاع خدا تعالیٰ سے کشفی حالت کے بعد پا کر مرزا قادیانی نے درست حساب لگایا اور اپنی تاریخ پیدائش متعین کر کے دنیا سے رخصت ہو گئے۔“

خدا نے کشف کے ذریعہ سے مرزا قادیانی کو یہ اطلاع تو دے دی کہ آدم علیہ السلام

٤٢

سے لے کر آنحضورﷺ کے روز وفات تک ب مرزا قادیانی کو ان کے سرسری اندازہ (یا کہو کہ آپ کا یہ اندازہ سرسری ہے۔ حساب غلط ہے۔ قادیانی اس تحریر کے آٹھ برس بعد تک زندہ رہ

مغالطہ نمبر ١٢

”حقیقت الوحی اور براہین حصہ پنجم ہیں۔ یہ حضرت اقدس کی آخری تحقیقات ہے

جواب: براہین احمدیہ حصہ پنجم ت کتاب چشمہ معرفت سے پہلے ١٩٠٧ء میں

مرزا قادیانی کی آخری تحقیق

(حقیقت الوحی ص ٢٠١ حاشیہ، خزائن ج پر ظاہر فرمایا ہے کہ سورۂ عصر کے حروف ج آنحضرتﷺ تک جس قدر برس گزرے ہ سے جب اس زمانہ تک حساب لگایا جائے حساب کی رو سے میری پیدائش چھٹے ہزار میں ہے۔“

براہین احمدیہ حصہ پنجم کے حوال مغالطہ دیتا ہے۔ ہمارے دوست قادیانی خ مرزا قادیانی کی عمر ٧٠ برس تھی تو پھر بمقام کیوں فرمایا تھا کہ: ”خدا تعالیٰ ایک مفتری ک سے بڑھ جائے۔ میری عمر ٦٧ سال کی ہے

صفحہ ٣٨١

سے لے کر آنحضورﷺ کے روز وفات تک ٤٧٣٩ برس قمری لحاظ سے ہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو ان کے سرسری اندازہ (یا کہو کہ غلط حساب) پر اطلاع ہی نہ پہنچائی کہ مرزا قادیانی! آپ کا یہ اندازہ سرسری ہے۔ حساب غلط ہے۔ گیارہ برس غلط ہیں اور صحیح برس ٢١ ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی اس تحریر کے آٹھ برس بعد تک زندہ رہے اور تمام مرید گیارہ برس کی تصدیق کرتے رہے۔

مغالطہ نمبر ١٢

”حقیقت الوحی اور براہین حصہ پنجم ١٢٩٠ھ میں آپ کی عمر چالیس برس بیان کرتے ہیں۔ یہ حضرت اقدس کی آخری تحقیقات ہے۔“

جواب: براہین احمدیہ حصہ پنجم تو خیر ١٩٠٥ء میں لکھی گئی۔ لیکن سب سے آخری ضخیم کتاب چشمہ معرفت سے پہلے ١٩٠٧ء میں جو لکھی گئی وہ حقیقت الوحی ہے۔

مرزا قادیانی کی آخری تحقیق

(حقیقت الوحی ص ٢٠١ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩) پر فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمایا ہے کہ سورۂ عصر کے حروف بحساب جمل کی رو سے ابتدائے آدم سے لے کر آنحضرتﷺ تک جس قدر برس گزرے ہیں۔ ان کی تعداد ظاہر کرتے ہیں۔ سورۂ محمدؐ کی رو سے جب اس زمانہ تک حساب لگایا جائے تو معلوم ہوگا کہ اب ساتواں ہزار لگ گیا ہے اور اسی حساب کی رو سے میری پیدائش چھٹے ہزار میں ہوئی ہے۔ کیونکہ میری عمر اس وقت قریباً ٦٨ سال کی ہے۔“

براہین احمدیہ حصہ پنجم کے حوالہ سے صرف قاضی صاحب ہی نہیں بلکہ ہر ایک قادیانی مغالطہ دیتا ہے۔ ہمارے دوست قادیانی حضرات سے یہ سوال ضرور کیا کریں کہ اگر ١٩٠٥ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٧٠ برس تھی تو پھر بمقام جالندھر ١٩٠٥ء میں مرزا قادیانی نے دوران تقریر یہ کیوں فرمایا تھا کہ: ”خدا تعالیٰ ایک مفتری کذاب انسان کو اتنی لمبی مہلت نہیں دیتا کہ وہ حضورﷺ سے بڑھ جائے۔ میری عمر ٦٧ سال کی ہے اور میری بعثت کا زمانہ ٢٣ سال سے بڑھ گیا ہے۔“

(رسالہ پیغام صلح بحوالہ عمر مرزا)

٤٣

صفحہ ٣٨٣

١٩٠٤ء میں مشیر اعلیٰ کو جواب دیا کہ ”میری عمر ٦٦ سال ہے۔“ یہ ہے مرزا کی آخری تحقیق۔

١٩٠٥ء میں فرمایا: ”میری عمر ٦٧ سال ہے۔ یہ بھی ہے، مرزا کی آخری تحقیق۔“

١٩٠٦ء میں فرمایا: ”میری عمر ٦٨ سال ہے اور یہ بھی ہے مرزا کی آخری تحقیق۔“

قارئین کرام منصفانہ فیصلہ فرمائیں کہ جس شخص کو ١٩٠٤ء میں عمر ٦٦ سال، ١٩٠٥ء میں عمر ٦٧ سال اور ١٩٠٦ء میں عمر ٦٨ سال ہو اور اس شخص کا انتقال ١٩٠٨ء میں ہو تو خدارا از روئے انصاف بتائیے کہ اس نے کتنی عمر پائی؟۔

باب الاستفسارات

دعوت لاہور ٢٧ اکتوبر ١٩٦٤ء ...... علامہ خالد محمود صاحب ایم اے

سوال: مکرمی و محترمی جناب علامہ صاحب قبلہ!

السلام علیکم رحمۃ اللہ! آپ نے رحیم یار خان میں مجلس کے دوران یہ فرمایا تھا کہ مرزا غلام احمد نے اپنی عمر کے متعلق جو الہام شائع کیا تھا، وہ امرِ واقع کی روشنی میں بالکل غلط نکلا۔

میرے بھائی صاحب اس کا انکار کرتے ہیں اور حوالہ مانگتے ہیں۔ براہ کرم مجھے اس کے مفصل حوالجات سے مطلع کریں۔ ممکن ہے اس سے بھائی صاحب کے عقائد درست ہو جائیں۔

(سائل: عبد الخالق رحیم یار خان)

جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ!

مرزا قادیانی نے جولائی ١٨٨٧ء میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ”یاتى عليك زمان مختلف بارواح مختلفة وترى نسلا بعيدا ولنحيينك حيوة طيبة ثمانين حولا او قريبا من ذالك “ عبارت کا ترجمہ یہ ہے:

”اور ہم تجھے ضرور ایک پاکیزہ زندگی عطا فرمائیں گے۔ اسی سال یا اس کے قریب قریب۔“

مرزا قادیانی نے اپنی اس پیشگوئی کا اشتہار شائع کیا تھا اور پھر اس الہام کو اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٦٣٥، خزائن ج ٣ ص ٤٤٣) میں بھی نقل فرمایا۔ مرزا قادیانی اسے نقل کرنے کے بعد

٤٤

لکھتے ہیں: ”اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے حوا کذب آزمانے کے لئے یہی کافی ہے۔“

اس تصریح سے یہ امر واضح ہے کہ اسی سال صدق یا کذب کو جانچنے کے لئے کافی ہے۔ ہاں مرزا ذالك “ یعنی ”یا اس کے قریب قریب“ کے الفاظ سے تحدید کئے دیتے ہیں کہ اس سے مراد کیا تھا۔

مرزا قادیانی حقیقت الوحی میں اپنا یہ الہام اس پر پانچ چار سال زیادہ یا کم“

پھر مرزا قادیانی نے احتیاطاً اس کی اور توجـ میں مجھے اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہو گی کم۔“

ان تصریحات کی روشنی میں مرزا قادیانی سال ہونی چاہئے تھی۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی اپـ میں قریباً ٦٦ سال کی عمر میں فوت ہو گئے اور وہ پیشـ معیار ٹھہرایا تھا۔ انہیں یکسر کاذب ٹھہر گئی۔

مرزا قادیانی کی عمر پر پہلا استدلال

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”جب میری عمـ اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا اور یہ مجسـ ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا۔ تب خدا تعالیٰ نے صدی کا مجدد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے۔“

غلام احمد قادیانی اپنے حروف کے اعتبـ نام سے نکلتا ہے، وہ بتلا رہا ہے کہ تیرہویں صدی

صفحہ ٣٨٣

لکھتے ہیں: ”اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیشگوئیاں کی ہیں۔ درحقیقت میرے صدق یا کذب آزمانے کے لئے یہی کافی ہے۔“

اس تصریح سے یہ امر واضح ہے کہ اسی سال عمر ہونے کی یہ پیش گوئی مرزا قادیانی کے صدق یا کذب کو جانچنے کے لئے کافی ہے۔ ہاں مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو ”او قریباً من ذالك“ یعنی ”یا اس کے قریب قریب“ کے الفاظ سے جس طرح گول کیا ہے۔ اب ہم اس کی بھی تحدید کئے دیتے ہیں کہ اس سے مراد کیا تھا۔

مرزا قادیانی حقیقت الوحی میں اپنا یہ الہام کرتے ہیں: ”اطال الله بقائك اسی یا اس پر پانچ چار سال زیادہ یا کم“

(حقیقت الوحی ص ٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

پھر مرزا قادیانی نے احتیاطاً اس کی اور توسیع کی۔ خود لکھتے ہیں: ”خدا نے صریح لفظوں میں مجھے اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٩)

ان تصریحات کی روشنی میں مرزا قادیانی کی عمر کم از کم ٧٤ سال اور زیادہ سے زیادہ ٨٦ سال ہونی چاہئے تھی۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی ان تمام پیشگوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے ١٣٢٦ھ میں قریباً ٦٦ سال کی عمر میں فوت ہو گئے اور وہ پیش گوئی جسے انہوں نے خود اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا تھا۔ انہیں یکسر کاذب ٹھہرا گئی۔

مرزا قادیانی کی عمر پر پہلا استدلال

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”جب میری عمر چالیس برس کے قریب پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا۔ جب خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے میرے پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے۔“

(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٣)

غلام احمد قادیانی اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی ١٣٠٠ کا عدد جو اس نام سے نکلتا ہے، وہ بتلا رہا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا۔ جس کا نام تیرہ سو کا

٤٥

صفحہ ٥

عدد پورا کرتا ہے۔

(تریاق القلوب ص ١٦ ، خزائن ج ١٥ ص ٨٥٨)

مندرجہ بالا حوالوں سے یہ دو باتیں ثابت ہیں:

مرزا قادیانی کی وفات بالاتفاق ١٣٢٦ھ میں ہوئی ہے۔ چودھویں صدی کے یہ چھبیس سال چالیس سال میں جمع کئے جائیں تو آپ کی کل عمر ٦٦ برس کے قریب بنتی ہے۔

مرزا قادیانی کی عمر پر دوسرا استدلال

”خدا تعالیٰ نے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت ﷺ کے مبارک عصر تک جو عہد نبوت ہے۔ یعنی تیس برس کا تمام و کمال زمانہ یہ کل مدت گزشتہ زمانہ کے ساتھ ملا کر ٤٧٣٩ برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت ﷺ کے روز وفات تک قمری حساب سے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٤ ، ٩٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٥١، ٢٥٢)

اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے وقت دنیا کی عمر ٤٧٣٩ سے گیارہ برس کم یعنی ٤٧٢٨ برس تھی۔ مرزا قادیانی کی وفات ١٣٢٦ھ میں ہوئی۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی وفات کے وقت دنیا کی عمر ٤٧٢٨+١٣٢٦=٦٠٥٤ برس کے قریب تھی۔ اب مرزا قادیانی کی پیدائش کا وقت ان کے اپنے بیان کی رو سے ملاحظہ فرمائیے ۔

”اس حساب سے میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے۔“ چھ ہزار سے گیارہ نکال دیں تو باقی ٥٩٨٩ رہ جاتے ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی پیدائش ٥٩٨٩ کے آغاز یا ٥٩٨٨ کے آخر میں کسی وقت ہوئی۔

خلاصہ اینکہ مرزا قادیانی کی پیدائش اس وقت ہوئی جب دنیا کی پیدائش پر تقریباً ٥٩٨٨ برس گزر چکے تھے اور وفات اس وقت ہوئی جب دنیا کی عمر ٦٠٥٤ برس کے قریب تھی۔ اس مدت سے ٥٩٨٨ نکال دینے سے باقی ٦٦ سال ہی رہ جاتے ہیں۔ یہ مرزا قادیانی کی عمر کا

٤٦

تعین ان کے دعوؤں اور الہامات پر مبنی ہے چودھویں صدی کے آغاز سے کچھ ایک دو سال ٦٧ یا حد ٦٨ برس ہو سکے گا۔ اس سے زیادہ ک نے پنجاب چیفس کے نام سے پنجاب کے زم دوسری جلد کے ص ٦٦ پر مرزا قادیانی کے خاندا ہیں : ”غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا۔ م یہ شخص ١٨٣٩ء میں پیدا ہوا ۔“

مرزا قادیانی کی وفات انگریزی ت میں پیدائش ہو تو ١٩٠٧ء کے اختتام تک مرزا خلیفہ اول حکیم نور الدین نے اپنی کتاب نور الد تھی اور ١٩٠٤ء میں شائع ہوئی ) مرزا قادیانی ک ”سن پیدائش حضرت صاحب ت مطبع ضیاء الاسلام قادیاں الہامات پر مبنی عمر ٦ اعداد عمر مرزاغلام احمد کے اس الہام کو غلط ثاب اور زیادہ سے زیادہ ٨٦ سال کی ہوگی ، کافی و وا

اب ہم مرزا قادیانی کی اس عبار عمر کی پیشگوئی تحریر فرمانے کے متصل بعد لکھی گوئیاں بیان کی ہیں۔ درحقیقت میرے صدق

نہایت افسوس کا مقام ہے کہ مرز الہام وفات سے سبق لینے کی بجائے آپ وفات کی تاریخ تو وہ بدل نہ سکتے تھے۔ ناچا تو کہ کسی نہ کسی بہانے واقعات کو پیشگوئی پر منط

صفحہ ٣٨٥

تعین ان کے دعوؤں اور الہامات پر مبنی ہے۔ ان کی بعثت اگر تیرھویں صدی کے ختم پر چودھویں صدی کے آغاز سے کچھ ایک دو سال پہلے تجویز کی جائے تو زیادہ سے زیادہ اس عمر کا تعین ٦٧ یا حد ٦٨ برس ہو سکے گا۔ اس سے زیادہ کسی صورت میں ممکن نہیں۔ مشہور انگریز سر لیپل گرفن نے پنجاب چیفس کے نام سے پنجاب کے زمینداروں کی ایک اہم تاریخ مرتب کی تھی۔ اس کی دوسری جلد کے ص ٦٦ پر مرزا قادیانی کے خاندان کا بھی تذکرہ ہے۔ مؤرخ موصوف اس میں لکھتے ہیں: ”غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا۔ مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ١٨٣٩ء میں پیدا ہوا۔“

مرزا قادیانی کی وفات انگریزی حساب سے ١٩٠٨ء کے اوائل میں ہوئی۔ ١٨٣٩ء میں پیدائش ہو تو ١٩٠٧ء کے اختتام تک مرزا قادیانی کی عمر ٦٨ برس بنتی ہے۔ قادیانی سلسلے کے خلیفہ اول حکیم نور الدین نے اپنی کتاب نور الدین میں (جو مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی لکھی گئی تھی اور ١٩٠٤ء میں شائع ہوئی) مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش ان الفاظ میں لکھی ہے:

”سن پیدائش حضرت صاحب مسیح موعود و مہدی مسعود ١٨٣٩ء۔ نور الدین ص ١٧٠ مطبع ضیاء الاسلام قادیاں الہامات پر مبنی عمر ٦٦ سال ہو یا تاریخی واقعات پر ٦٨ سال ہو۔ ہر دو اعداد عمر مرزا غلام احمد کے اس الہام کو غلط ثابت کرنے کے لئے کہ ان کی عمر کم از کم ٧٤ سال ہوگی اور زیادہ سے زیادہ ٨٦ سال کی ہوگی، کافی و وافی ہیں۔

اب ہم مرزا قادیانی کی اس عبارت کو پھر پیش کرتے ہیں۔ جو انہوں نے اسی سال کی عمر کی پیشگوئی تحریر فرمانے کے متصل بعد لکھی ہے: ”اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیش گوئیاں بیان کی ہیں۔ درحقیقت میرے صدق یا کذب کے آزمانے کے لئے یہی کافی ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٦٣٣، خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)

نہایت افسوس کا مقام ہے کہ مرزائی حضرات نے مرزا قادیانی کی مرقومہ بالا خلاف الہام وفات سے سبق لینے کی بجائے آپ کے واقعات عمر میں ہی ردو بدل کرنا شروع کر دیا۔ وفات کی تاریخ تو وہ بدل نہ سکتے تھے۔ ناچار انہوں نے تاریخ پیدائش میں اختلاف شروع کر دیا تا کہ کسی نہ کسی بہانے واقعات کو پیشگوئی پر منطبق کیا جاسکے۔

٤٧

صفحہ ٣٨٦

یادرہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں ان کی پیدائش کبھی زیر اختلاف نہیں آئی۔ ہم نے مرزائی حضرات کو بارہا چیلنج دیا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیدائش کا کوئی اختلاف وہ مرزا قادیانی کی زندگی کے واقعات سے پیش کریں۔ اگر یہ سب اختلافات مرزا قادیانی کی وفات کے بعد ہی اٹھے ہیں تو کیا یہ خود اس امر کا ثبوت نہیں کہ اس کا واحد سبب مرزا قادیانی کی وہ الہامی پیش گوئی ہے جس پر مرزا قادیانی کی مدت حیات کسی طرح منطبق نہ اتر سکی۔ مرزا بشیر الدین محمود نے سیرت مسیح موعود کے نام سے ایک مختصر رسالہ لکھا تھا۔ جو اب پانچویں بار ربوہ کے مرکز جدید سے شائع ہوا ہے۔ اس میں جماعت کے خلیفہ ثانی نے سر لیپل گرفن کی کتاب پنجاب چیفس سے مرزا قادیانی کا سن پیدائش نقل کرنے میں کھلم کھلا تحریف اور خیانت کی ہے۔ مرزا محمود اس رسالہ کے ص ٥ پر اسے یوں نقل کرتے ہیں:

”غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا۔ مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ١٨٣٧ء میں پیدا ہوا۔“ -

(سیرت مسیح موعود ص ٦ مصنف مرزا بشیر الدین محمود)

قارئین ”دعوت“ مطلع رہیں کہ اصل کتاب میں ١٨٣٧ء نہیں بلکہ ١٨٣٩ء ہے۔ یہ تحریف مرزا قادیانی کی عمر کو محض لمبا کرنے کے لئے عمل میں لائی گئی ہے تا کہ اسے کچھ تو پیشگوئی کے قریب لایا جا سکے۔ لیکن افسوس کہ اس پر بھی مرزا قادیانی آنجہانی کی پیش گوئی واقعات کا ساتھ نہیں دے سکی۔

مرزائی حضرات سے دوسرا سوال

اختلافات کبھی ان کی زندگی میں بھی اٹھے ہوں۔

تحریف اور خیانت نہیں کی؟ یہ نقل کو اصل کے مطابق ثابت کر کے خلیفہ سے بددیانتی کے اس داغ کو دور کریں۔

الحاصل مرزا قادیانی کی عمر ٦٦ سال اور ٦٥ سال کے ہی قریب ہے اور کسی صورت بھی ٧٤ سال ثابت نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی اپنی خلاف الہام وفات سے اپنے دعوؤں کی پوری طرح تکذیب کر چکے ہیں۔

٤٨

خاتم النبیین

داستان

مولانا عبدالم

PDF 389

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

داستان مرزا

مولانا عبدالمجید سوہدرویؒ

صفحہ ٣٨٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دیباچہ

یہ کوئی فرضی داستان یا افسانہ نہیں ہے جو محض تفنن طبع کے طور پر لکھا گیا ہو۔ بلکہ امر واقعہ ہے جن دنوں میں لاہور قیام پذیر تھا۔ بعینہ یہ واقعہ پیش آیا اور اسی سلسلہ میں کئی دن تک قادیانی دوستوں سے گفتگو ہوتی رہی۔ مضمون میں صرف نام بدل دیئے گئے ہیں یا چند خیالات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ فی الحال اس داستان کا صرف ایک جزو جو تین پر مشتمل ہے۔ نذر قارئین ہے۔ اگر احباب کرام نے اسے پسند فرمایا اور یہ رسالہ مفید ثابت ہوا تو ہم بقیہ حصے بھی جن میں مرزا قادیانی کی اخلاقی حالت، ان کے دماغی توازن، کلام میں تضاد، کذب و افتراء اور غلط سلط الہامات پر بحث ہوگی، سلسلہ وار شائع کریں گے تاکہ نئی روشنی کے دوست اسے مستفید ہو سکیں۔ خاکسار!

عبدالمجید خادم ایڈیٹر مسلمان

یکم جون ١٩٣٣ء...... سوہدرہ

باب اوّل ...... داستان مرزا

تصنیفات مرزا سے توہین انبیاء

کرسیاں بھی نہایت قرینے سے بچھی ہوئی ہیں۔ گیس کے ہنڈے جگمگا رہے ہیں اور لوگ جوق در جوق آ رہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ آج یہاں کوئی بہت بڑا جلسہ ہے۔ جس کے لئے اتنے لوگ جمع ہو رہے ہیں۔ آنے والوں میں تماش بین بھی ہیں اور سمجھ دار بھی، جاہل بھی ہیں اور تعلیم یافتہ بھی، پرانی وضع کے بزرگ بھی ہیں اور نئی روشنی کے جنٹلمین بھی۔ غرضیکہ ایک بہت بڑا اجتماع ہے۔ جس میں ہر قسم کے لوگ شامل ہیں۔ ابھی نہ صاحب صدر تشریف لائے ہیں نہ مقرر صاحبان، اس لئے عوام گروہ در گروہ ہو کر آپس میں باتوں میں مصروف ہیں۔ کوئی کسی سے دل لگی کر رہا ہے۔ کوئی کسی سے، کہ اتنے میں ایک ڈاکٹر صاحب بھی تشریف لے آئے ہیں۔ آپ نے دور ہی سے مسٹر حمید کو دیکھا اور اس کی طرف لپکے۔ مسٹر حمید نے بھی ڈاکٹر صاحب کے لئے کرسی

٢

خالی کر دی اور اپنے ہم جولیوں سے ان کا انٹروڈیوس کرا

”ڈیئر خالد، یہ ہمارے پرانے کلاس فیلو ہی بی۔اے کا امتحان دیا۔ یہ ڈاکٹری میں چلے گئے اور ہ سے بہت محبت ہے۔ یہ ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھت تک مشہور چلا آتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب اور آپ کی تعریف؟

مسٹر حمید : یہ بھی میرے پرانے مہربان رہے ہیں۔ محض اس جلسہ کی خاطر تشریف لائے ہی بیٹھے ہیں مولانا اختر حسین صاحب ہیں۔ یہ ایم اے نیر کے کالج کے پروفیسر ہیں۔

ڈاکٹر صاحب....... شکریہ، تشریف رکھئے۔ کیا طے ہوا۔

خالد ....... کچھ نہیں ! یونہی آج کل کے جلسہ پر بح

حمید ....... میں یہ کہہ رہا تھا کہ یہ سیرت کا جلسہ ہ کے لیکچرار ہوں گے (جنہیں دعوت دی گئی ہے)

اختر صاحب فرماتے تھے کہ یہ صرف قادیانیوں کا رسول کریم ﷺ کا تو محض بہانہ بنا لیا گیا ہے۔ در ا

ڈاکٹر جمیل....... اور آپ کی کیا رائے ہے؟

حمید ....... یہاں رائے زنی کی کیا ضرورت ہ محض مولویانہ باتیں ہیں کہ فلاں قادیانی ہے ا محفلوں میں نہ جاؤ۔ ورنہ کافر ہو جاؤ گے۔

خالد ....... خوب بہت خوب ! ایک مسلمان کو ا رائے کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتا ہوں۔

اختر ....... قدر تو ہم بھی کرتے ہیں مگر اس قد ایک نظر ہی دیکھنے لگیں۔

صفحہ ٣٨٩

خالی کر دی اور اپنے ہم جولیوں سے ان کا انٹروڈیوس (تعارف) کرانے کے لئے یوں گویا ہوئے:

”ڈیئر خالد، یہ ہمارے پرانے کلاس فیلو ہیں۔ ١٩١٧ء میں ہم دونوں نے اکٹھے بی۔اے کا امتحان دیا۔ یہ ڈاکٹری میں چلے گئے اور میں ایل ایل بی میں۔ مجھے قدرتی طور پر ان سے بہت محبت ہے۔ یہ ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو اپنے علم وفضل کی وجہ سے اب تک مشہور چلا آتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب اور آپ کی تعریف؟

مسٹر حمید: یہ بھی میرے پرانے مہربان ہیں۔ پلیڈر ہیں اور آج کل مونٹگمری پریکٹس کر رہے ہیں۔ محض اس جلسہ کی خاطر تشریف لائے ہیں۔ مشہور لیکچرار ہیں اور یہ جو آپ کے پاس بیٹھے ہیں مولانا اختر حسین صاحب ہیں۔ یہ ایم اے ہیں۔ منشی فاضل بھی ہیں اور مولوی فاضل بھی مرے کالج کے پروفیسر ہیں۔

ڈاکٹر صاحب...... شکریہ تشریف رکھئے۔ کیا باتیں ہورہی تھیں۔ میں آپ کی گفتگو میں ناحق مخل ہوا۔

خالد...... کچھ نہیں! یونہی آج کل کے جلسہ پر گفتگو ہو رہی تھی کہ اس کا مقصد کیا ہے۔

حمید...... میں یہ کہہ رہا تھا کہ یہ سیرت کا جلسہ ہے۔ جیسا کہ اشتہار سے ظاہر ہے مختلف مذاہب کے لیکچرار ہوں گے (جنہیں دعوت دی گئی ہے) اور سیرت رسول کریم ﷺ پر تقریر کریں گے۔ اختر صاحب فرماتے تھے کہ یہ صرف قادیانیوں کا جلسہ ہے اور وہی اس کے بانی مبانی ہیں۔ سیرت رسول کریم ﷺ کا تو محض بہانہ بنالیا گیا ہے۔ درحقیقت تبلیغ قادیانیت اس کا اصل مقصد ہے۔

ڈاکٹر جمیل...... اور آپ کی کیا رائے ہے؟

حمید...... یہاں رائے زنی کی کیا ضرورت ہے۔ جلسہ خواہ کسی کا بھی ہو ہمیں اس سے کیا؟ یہ تو محض مولویانہ باتیں ہیں کہ فلاں قادیانی ہے۔ فلاں وہابی ہے۔ فلاں شیعہ ہے۔ دیکھو ان کی محفلوں میں نہ جاؤ۔ ورنہ کافر ہو جاؤ گے۔

خالد...... خوب بہت خوب! ایک مسلمان کو ایسا ہی آزاد خیال ہونا چاہئے۔ میں آپ کی اس رائے کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتا ہوں۔

اختر...... قدر تو ہم بھی کرتے ہیں مگر اس قدر مادر پدر آزاد ہونا بھی پسند نہیں کرتے کہ سب کو ایک نظر ہی دیکھنے لگیں۔

٣

صفحہ ٩١

جمیل ....... تو کیا آپ بھی تکفیر بین المسلمین کے قائل ہیں اور ان فرقوں میں سے کسی کو کافر سمجھتے ہیں؟ حمید ....... جی نہیں چاہتا تھا کہ اس موضوع پر گفتگو ہو۔ مگر چونکہ اب سلسلہ کلام شروع ہو گیا ہے۔ اس لئے میں اختر صاحب سے درخواست کروں گا کہ وہ نہایت آزادی سے اپنی رائے کا اظہار فرمائیں تاکہ خالد صاحب بھی اس پر کچھ روشنی ڈال سکیں۔ جمیل ....... ہاں! ہاں آج ضرور اس مسئلہ کو حل کرنا چاہئے۔ خصوصاً قادیانیوں کے متعلق تو فیصلہ ہو جانا چاہئے۔ وہ تو آئے دن ہمارے کان کھاتے رہتے ہیں اور مرزا قادیانی کے فضائل بیان کر کے ہمیں ان کی طرف کھینچ لینا چاہتے ہیں۔ خالد ....... تو وہ کون سا برا کام کرتے ہیں۔ آپ کو بھلائی کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اسلام کی اشاعت کرتے ہیں۔ باہمی تکفیر بازی سے روکتے ہیں اور سب مسلمانوں کو ایک نظام میں لاکر قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ کرنا چاہتے ہیں۔ اختر ....... جی ہاں ! یہ سب کچھ وہی کرنا جانتے ہیں۔ دوسرے مسلمان بھلا ان باتوں کو کیا سمجھیں۔ جمیل ....... اشاعت اسلام کا کام تو واقعی وہ خوب کر رہے ہیں۔ یورپ اور دیگر ممالک میں بھی ان کے مبلغ پہنچ چکے ہیں اور بڑے بڑے عیسائی مسلمان ہو رہے ہیں۔ جن کی رپورٹیں آئے دن اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں۔ حمید ....... یہی وجہ ہے کہ ہم بھی ان کی تعریف کرتے ہیں اور اکثر چندہ بھی دیتے ہیں۔ خالد ....... آپ تو ماشاء اللہ سمجھ دار ہیں۔ مگر میں حیران ہوں کہ پروفیسر صاحب کیوں اس قدر تنگ دل واقع ہوئے ہیں کہ پرانے ملاؤں کی طرح قادیانیوں کو ابھی تک کوسے چلے جا رہے ہیں۔ جمیل ....... پروفیسر صاحب! آخر آپ کب تک خاموش رہیں گے۔ خدارا اس مہر سکوت کو توڑیئے اور فرمائیے کہ مرزا قادیانی کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ حمید ....... ہاں ! ہاں اختر صاحب کی رائے ضرور وزن دار ہو گی۔ یہ بہت تجربہ کار ذی علم بزرگ ہیں اور تمام مذاہب کے متعلق وسیع معلومات رکھتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ گزشتہ دنوں مسٹر سعید کی شادی پر جب بہت سے قادیانی جمع ہوئے تھے تو باتوں ہی باتوں میں پروفیسر صاحب کی ان

٤

سے جھڑپ ہو گئی اور آپ نے انہیں ایسے آڑے جمیل ....... آخر وہ کیا باتیں تھیں؟ کم از کم ایک آ حمید ....... چونکہ مجھے ان دنوں اس قسم کا مذاق غور سے باتیں سنیں۔ میں تو اب بھی مذہبی جھگڑ گفتگو چل پڑی ہے اور بہت سے قادیانی دوست اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آج اس کے متعلق ضر اٹھاؤں۔ جمیل ....... بھائی ! وہ تو مجھے بھی بہت کہہ رہے ہ میں عام طور پر اشاعت اسلام ہی کا ذکر ہوتا ہے اختر ....... معلوم ہوتا ہے کہ اب مجھے بولنا ہی پ احمدیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ تو پھر خامو خالد ....... ہاں! ہاں کہئے جو کچھ آپ کہنا چاہت جمیل ....... بہت خوب ! اب تو حق و باطل میں ا

کچھ ہو رہے گا عشق
آیا ہے اب مر

حمید ....... میں امید کرتا ہوں کہ یہ گفتگو ملاؤں اسی قسم کا ایک مناظرہ دیکھا۔ جس میں تو تو ، میں آکر وہ وہ باتیں کہہ دیں جو انہیں کہنی نہ چاہئیے برادرانہ ہے۔ جس میں محض تحقیق حق مطلوب ہ خالد ....... یہاں فتح و شکست کا خیال ہی کیا پروفیسر صاحب محض علماء کے فتوے سنا سنا کر ڈر اور کیا کریں گے۔ اختر ....... نہ صاحب! نہ میں مولویوں کے فتو میں تو مرزا قادیانی ہی کے ملفوظات و ارشادات بخود دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر لیں ۔

صفحہ ٣٩١

سے جھڑپ ہو گئی اور آپ نے انہیں ایسے آڑے ہاتھوں لیا کہ وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔

جمیل...... آخر وہ کیا باتیں تھیں؟ کم از کم ایک آدھ کا تو ذکر کر دیجئے۔

حمید...... چونکہ مجھے ان دنوں اس قسم کا مذاق نہ تھا۔ اس لئے میں نے کوئی دلچسپی نہ لی اور نہ ہی غور سے باتیں سنیں۔ میں تو اب بھی مذہبی جھگڑوں سے بہت دور رہنا چاہتا ہوں۔ مگر چونکہ اب گفتگو چل پڑی ہے اور بہت سے قادیانی دوست مجھے قادیانیت قبول کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آج اس کے متعلق ضرور کچھ معلومات حاصل کروں تا کہ سوچ سمجھ کر قدم اٹھاؤں۔

جمیل...... بھائی! وہ تو مجھے بھی بہت کہہ رہے ہیں اور اپنا تمام لٹریچر بھی مفت بھجوا رہے ہیں۔ جس میں عام طور پر اشاعت اسلام ہی کا ذکر ہوتا ہے۔

اختر...... معلوم ہوتا ہے کہ اب مجھے بولنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ جب آپ جیسے ذی ہوش تعلیم یافتہ احمدیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ تو پھر خاموش رہنا بھی ٹھیک نہیں۔

خالد...... ہاں ! ہاں کہئے جو کچھ آپ کہنا چاہتے ہیں۔ بندہ بھی جواب کے لئے حاضر ہے۔

جمیل...... بہت خوب! اب تو حق و باطل میں امتیاز ہو کر رہے گا:

کچھ ہو رہے گا عشق و ہوس میں بھی امتیاز
آیا ہے اب مزاج تیرا امتحان پر

حمید...... میں امید کرتا ہوں کہ یہ گفتگو ملاؤں کی سی گفتگو نہیں ہو گی۔ کیونکہ پچھلے دنوں میں نے اسی قسم کا ایک مناظرہ دیکھا۔ جس میں تو تو ، میں میں تک نوبت پہنچ گئی اور فریقین نے جوش میں آ کر وہ وہ باتیں کہہ دیں جو انہیں کہنی نہ چاہئے تھیں۔ مگر یہاں تو سب تعلیم یافتہ ہیں اور گفتگو بھی برادرانہ ہے۔ جس میں محض تحقیق حق مطلوب ہے۔ نہ کہ کسی کو فتح و شکست۔

خالد...... یہاں فتح و شکست کا خیال ہی کیا ہے۔ حقیقت تو آپ کو پہلے ہی معلوم ہے۔ اب پروفیسر صاحب محض علماء کے فتوے سنا سنا کر ڈرائیں گے اور ہمیں کافر بنائیں گے۔ اس سے زیادہ اور کیا کریں گے۔

اختر...... نہ صاحب! نہ میں مولویوں کے فتوے پیش کروں گا۔ نہ آپ کو کافر ٹھہراؤں گا۔ بلکہ میں تو مرزا قادیانی ہی کے ملفوظات و ارشادات سناؤں گا اور اس پر پھر اپیل کروں گا کہ آپ خود بخود دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کرلیں۔

٥

صفحہ ٣٩٣

خالد...... اس سے آپ کا کیا مطلب؟ آپ ہمارے موجودہ کام اور مرزا قادیانی کے قائم کردہ نظام پر اعتراض کریں اور ان میں جو نقص و برائیاں ہوں ، وہ بیان کریں۔

اختر...... مجھے کسی کے عیب ڈھونڈنے اور برائیاں تلاش کرنے کی کیا مصیبت پڑی ہے۔ میں تو پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ نہ آپ کو کافر کہوں۔ نہ علمائے اسلام کے فتوے پیش کروں۔ جن سے آپ کو رنج ہو اور ناحق کسی کی دل شکنی ہو۔

خالد...... پھر آپ کہیں گے کیا؟ مرزا قادیانی کے ملفوظات میں تو بجز فضائل اسلام اور کچھ ہے ہی نہیں۔ ان کی تو ساری زندگی تبلیغ اسلام ہی میں صرف ہو گئی اور ساری عمر مخالفین اسلام کو جواب دینے اور اسلام کی صداقت اور فضیلت بیان کرنے میں بسر ہوئی۔

اختر...... جی ہاں! یہی چیزیں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ آیا مرزا قادیانی یہی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ (یعنی جن کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے) یا کچھ اور باقیات الصالحات بھی چھوڑ گئے۔

حمید...... ڈاکٹر صاحب! اب خوب لطف آئے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ پروفیسر صاحب نے وہی رنگ اختیار کر لیا ہے جو مسٹر سعید کی شادی پر اختیار کیا تھا۔

خالد...... تو کیا آپ مرزا قادیانی کے دعاوی پر بحث کرنا چاہتے ہیں اور ان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ جسے ایک جماعت تسلیم کرتی ہے اور دوسری اس سے منکر ہے۔

اختر...... مثل مشہور ہے ”چور کی داڑھی میں تنکا“ آپ کو خود بخود یہ سوجھ رہی ہے کہ میں مرزا قادیانی کے دعاوی بیان کروں گا کہ کبھی انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ کبھی مہدی موعود اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ کبھی کرشن بنے۔ کبھی جے سنگھ بہادر۔ کبھی کچھ، کبھی کچھ۔ مگر آپ مطمئن رہیں کہ میں ان میں سے کوئی چیز بیان نہیں کروں گا۔

جمیل...... اوہو! کیا مرزا قادیانی نے اس قسم کے دعوے بھی کر رکھے ہیں؟

خالد...... نہیں! یہ محض بہکانے کی باتیں ہیں تا کہ عوام ان سے بدظن ہو جائیں۔

حمید...... تو کیا پروفیسر صاحب غلط فرما رہے ہیں۔

اختر...... گو میں یہ ذکر تو نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مگر جب یہ انکار کریں اور اجازت دیں تو مرزا قادیانی کی کتب سے یہ سب کچھ دکھلانے کے لئے تیار ہوں۔

خالد...... نہیں نہیں! آپ اس بات کو جانے دیں۔ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں، وہ کہیں۔

جمیل...... تو معلوم ہوا دال میں کچھ کالا ہے۔ خیر اصل مدعا کا اظہار فرمائیں۔

اختر...... مختصر کلام یہ ہے کہ قادیانی لوگ جو آپ چاہتے ہیں۔ یہ محض ان کی ایک چال ہے۔ تبلیغ اسلا صوفیائے کرام اور علماء اسلام اس خدمت کو سرانجام رہے ہیں۔ پھر اس میں مرزا قادیانی کی خصوصیت ک اندازہ لگائیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں اِ کتنے کافروں کو مسلم بنایا اور ادھر فرید الدین گنج شکر کچھ کیا؟۔ تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ مجدد وقت برابری بھی نہیں کر سکا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ مرزا ق تبلیغ اسلام کا بہانہ لے رہے ہیں اور ان کی اپنی ت پیش کرتے ہیں۔

حمید...... تو کیا مرزا قادیانی کی تصانیف اس قاب

اختر...... کیوں نہیں! ہوں گی اور ضرور ہوں گی بنانا چاہتے ہیں تو کیا محض اپنے نظام اور اشاعت دعوت دیتے ہیں یا مرزا قادیانی کے ملفوظات او قادیانی کی محبت کا جذبہ پیدا کر دیتے ہیں۔

جمیل...... یہ ہم ان سے کیوں پوچھیں؟ یہ تو خود سنا کر قادیانیت کی دعوت نہیں دیتے۔ بلکہ اپنے کا کر لیتے ہیں۔

اختر...... بس یہ ایک راز تھا جسے میں بطور تمہید پر آتا ہوں۔

حمید...... ہاں! ہاں فرمائیے۔ وہ کیا ہے؟

اختر...... جس طرح ایک عیسائی کے لئے یہ

صفحہ ٣٩٣

جمیل...... تو معلوم ہوا دال میں کچھ کالا ہے۔ خیر کوئی بات نہیں۔ پروفیسر صاحب آپ اپنے اصل مدعا کا اظہار فرمائیں۔

اختر...... مختصر کلام یہ ہے کہ قادیانی لوگ جو آپ بھائیوں کو تبلیغ اسلام کا ڈنکا بجا کر اپنا ہمنوا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ محض ان کی ایک چال ہے۔ تبلیغ اسلام تو ہر مسلمان کا اولین فرض ہے۔ چنانچہ جملہ صوفیائے کرام اور علماء اسلام اس خدمت کو سر انجام دیتے چلے آئے ہیں اور اب بھی سر انجام دے رہے ہیں۔ پھر اس میں مرزا قادیانی کی خصوصیت کیا ہے؟ اگر آپ تاریخ کی روشنی میں اس امر کا اندازہ لگائیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں اپنی تبلیغی کوششوں سے کس قدر اسلام پھیلایا اور کتنے کافروں کو مسلم بنایا اور ادھر فرید الدین گنج شکرؒ اور معین الدین چشتیؒ نے اشاعت اسلام میں کیا کچھ کیا؟۔ تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ مجدد وقت اور مدعی نبوت ان کے مقابلے میں صرف کی برابری بھی نہیں کر سکا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ مرزا قادیانی کے کارنامے پیش کرنے کی بجائے محض تبلیغ اسلام کا بہانہ لے رہے ہیں اور ان کی اپنی تصانیف کو نہ ظاہر کرتے ہیں، نہ کسی کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

حمید...... تو کیا مرزا قادیانی کی تصانیف اس قابل نہیں ہیں کہ کسی کے سامنے پیش کی جا سکیں؟

اختر...... کیوں نہیں! ہوں گی اور ضرور ہوں گی۔ مگر ان سے پوچھئے کہ جب آپ کسی کو قادیانی بنانا چاہتے ہیں تو کیا محض اپنے نظام اور اشاعت اسلام کے کام پیش کر کے اسے قادیانیت کی دعوت دیتے ہیں یا مرزا قادیانی کے ملفوظات اور کلمات طیبات سنا سنا کر اس کے دل میں مرزا قادیانی کی محبت کا جذبہ پیدا کر دیتے ہیں۔

جمیل...... یہ ہم ان سے کیوں پوچھیں؟ یہ تو خود ہمیں بھی معلوم ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی باتیں سنا سنا کر قادیانیت کی دعوت نہیں دیتے۔ بلکہ اپنے کام دکھا دکھا کر دوسروں کو قادیانیت کی طرف مائل کر لیتے ہیں۔

اختر...... بس یہ ایک راز تھا جسے میں بطور تمہید عرض کر دینا ضروری سمجھتا تھا۔ اب میں اصل مدعا پر آتا ہوں۔

حمید...... ہاں! ہاں فرمائیے۔ وہ کیا ہے؟

اختر...... جس طرح ایک عیسائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش

٧

صفحہ ٣٩٥

کر وہ تعلیمات پر عامل ہو یا ایک مسلمان کے لئے لازمی ہے کہ وہ حضرت رسول ﷺ کے ارشادات کو تسلیم کرے تو مسلمان کہلا سکتا ہے۔ یا ایک حنفی جبھی حنفی کہلانے کا مستحق ہے کہ وہ فروعی مسائل میں حضرت امام ابوحنیفہ کا معتقد ہو اور شافعی امام شافعی کا قائل ہو۔ بعینہ اسی طرح ایک قادیانی کے لئے بھی لازمی ہے کہ وہ حضرت مرزا قادیانی کے ملفوظات کا معتقد اور اس کی نشر واشاعت کا حامل ہو۔ مگر برعکس اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ ان کے الہامات اور فرمودہ کلمات کو فروغ دینے کی بجائے محض اشاعت اسلام اور سیرت رسول مقبول ﷺ کی آڑ میں قادیانیت کو مشہور کر لینا چاہتے ہیں اور مرزا قادیانی کے خیالات کو عوام کے سامنے پیش کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

خالد...... جناب! یہ محض آپ کا خیال ہے۔ ہم ڈنکے کی چوٹ پر مرزا قادیانی کی تصانیف شائع کر رہے ہیں اور ان پر اسی طرح ایمان رکھتے ہیں جیسے قرآن وحدیث پر۔

اختر...... بہت خوب! میں ابھی آپ کے سامنے مرزا قادیانی کی تصانیف پیش کروں گا اور پوچھوں گا کہ آیا آپ ان پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں؟

حمید...... اختر صاحب جب وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم قرآن وحدیث کی طرح انہیں سمجھتے ہیں تو پھر آپ کو اس میں کلام کیوں ہے؟

جمیل...... مجھے پروفیسر صاحب کی اس گفتگو سے معلوم ہو رہا ہے کہ وہ کوئی نہایت اہم چیز پیش کرنے والے ہیں۔ آپ گھبرائیں نہیں۔

خالد...... اجی کیا پیش کریں گے۔ زیادہ سے زیادہ وہی کہیں گے جو دوسرے مولوی کہا کرتے ہیں۔

حمید...... وہ کیا؟

خالد...... جھوٹا۔ کذاب۔ دجال۔ کافر وغیرہ اور کیا؟

اختر...... خالد صاحب! آپ بہت جلد گھبرا جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکا والی مثل بالکل صحیح ہے۔ میں تو بار بار کہہ رہا ہوں کہ میں انہیں کافر نہیں کہوں گا۔ کیونکہ میں کفر باز نہیں ہوں۔ مگر جب خود مرزا قادیانی کی تحریروں ہی سے یہ ثابت ہو جائے تو اس کا کیا علاج؟

جمیل...... تو کیا آپ مرزا قادیانی کی تحریروں سے اس کا کفر ثابت کریں گے؟

٨

حمید...... بخدا میں اپنی طرف سے تو ان پر کفر کا ان کے عیب گنواؤں گا۔ بلکہ میں تو ایک بات آپ س وہی مرزا قادیانی کی تصانیف سے آپ کو دکھاؤں گ

خالد...... ہاں فرمائیے! آپ کیا پوچھنا چاہتے ہی

اختر...... میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو شخص مح علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، یعقوب علیہ السلا السلام، یوسف علیہ السلام، داؤد علیہ السلام، آدم ع تسلیم نہ کرے۔ آیا وہ مسلمان کہلا سکتا ہے یا نہیں؟

خالد...... نہیں۔

اختر...... کیوں؟

خالد...... اس لئے کہ جملہ انبیاء کرام اور کتب س ہے: ”كُلٌّ آمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِ (بقره)“

اختر...... بجا۔ مگر یہ فرمائیے کہ کوئی شخص انبیاء گالیاں بھی دیتا ہے۔ ان کی توہین بھی کرتا ہے ت آپ کیا فتویٰ دیں گے؟

خالد...... ایسا کون احمق ہے جو ان پر ایمان بھی

اختر...... فرض کر لیجئے کہ اگر کوئی بیوقوف اس سمجھیں گے یا کچھ اور؟

جمیل...... خالد صاحب فرمائیے آپ خاموش ک مسلمان نہیں ہوگا جو انبیاء کرام کی توہین کرے۔

حمید...... اس میں کیا شک ہے۔ مجھ سا آزاد خ

خالد...... ہاں! وہ ضرور گناہ گار ہوگا۔

اختر...... گنہگار ہی ہو گا یا کافر؟

صفحہ ٣٩٥

حمید...... بخدا میں اپنی طرف سے تو ان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگاؤں گا اور نہ ہی مولویوں کی طرح ان کے عیب گنواؤں گا۔ بلکہ میں تو ایک بات آپ سے پوچھوں گا اور پھر جو کچھ اس کا جواب ہوگا وہی مرزا قادیانی کی تصانیف سے آپ کو دکھاؤں گا۔

خالد...... ہاں فرمائیے ! آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟

اختر...... میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کو تو نبی تسلیم کرے۔ مگر ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، یوسف علیہ السلام، داؤد علیہ السلام، آدم علیہ السلام کی نبوت میں شک کرے اور انہیں نبی تسلیم نہ کرے۔ آیا وہ مسلمان کہلا سکتا ہے یا نہیں؟

خالد...... نہیں۔

اختر...... کیوں؟

خالد...... اس لئے کہ جملہ انبیاء کرام اور کتب سماوی پر ایمان لانا ضروری ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”کل امن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین احد من رسلہ (بقرہ)“

اختر...... بجا ۔ مگر یہ فرمائیے کہ کوئی شخص انبیاء پر ایمان تو لاتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی انہیں گالیاں بھی دیتا ہے۔ ان کی توہین بھی کرتا ہے۔ ان پر الزامات بھی لگاتا ہے۔ تو اس کے متعلق آپ کیا فتویٰ دیں گے؟

خالد...... ایسا کون احمق ہے جو ان پر ایمان بھی لائے اور پھر ان کی توہین بھی کرے؟

اختر...... فرض کر لیجئے کہ اگر کوئی بیوقوف اس حرکت کا ارتکاب کرے تو پھر آپ اسے مسلمان سمجھیں گے یا کچھ اور؟

جمیل...... خالد صاحب فرمائیے آپ خاموش کیوں ہیں؟ یہ تو ایک بدیہی چیز ہے کہ وہ شخص مسلمان نہیں ہوگا جو انبیاء کرام کی توہین کرے۔

حمید...... اس میں کیا شک ہے۔ مجھ سا آزاد خیال آدمی بھی آپ سے اس بات پر متفق ہے۔

خالد...... ہاں ! وہ ضرور گناہ گار ہوگا۔

اختر...... گنہگار ہی ہوگا یا کافر؟

٩

صفحہ ٣٩٦

خالد ...... میں کفر کا فتویٰ نہیں دے سکتا۔

اختر ...... اور اگر مرزا قادیانی کفر کا فتویٰ دیں تو پھر؟

خالد ...... ہاں! پھر وہ بیشک کافر ہوگا۔ کیونکہ حضرت مرزا قادیانی بجز قطعی کافر کے کبھی کسی کو کافر نہیں کہتے تھے۔

اختر ...... لیجئے، سنئے ہم کوئی بات ایسی نہیں کہیں گے جس کا ثبوت نہ دیں۔ حضرت مرزا قادیانی (چشمہ معرفت حصہ دوم ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٩٠) پر لکھتے ہیں: ”اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے۔“

جمیل ...... بالکل ٹھیک، جہاں تک مجھے علم ہے، قریباً قریباً سب مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے۔

اختر ...... یقیناً سب مسلمان اور آئمہ عظام اس پر متفق ہیں کہ انبیاء کی توہین کفر ہے۔ امام ابن تیمیہؒ نے تو اس موضوع پر ایک مستقل کتاب ”الصارم المسلول علی ابن شاتم الرسول“ لکھی ہے۔ جس میں حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قول بھی موجود ہے کہ ”من سب الله او سب احدا من الانبياء فاقتلوه“ یعنی ”جو انبیاء کرام کی توہین کرے، اور انہیں گالیاں دے، وہ واجب القتل ہے۔“

چنانچہ امام موصوف نے اپنی کتاب میں نہایت شرح وبسط سے یہ بیان کیا ہے کہ قرون اولیٰ میں ایسے آدمی قتل کر دیئے جاتے تھے۔

خالد ...... ہاں ٹھیک ہے۔ اب فرمائیے آپ کیا کہتے ہیں؟

اختر ...... بس اب کیا کہنا ہے۔ صرف یہ دکھانا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں انبیاء کرام کی بہت سی توہین کی ہے۔

جمیل ...... اختر صاحب! کیا سچ مچ آپ مرزا قادیانی کی تصانیف سے دکھا سکتے ہیں؟

اختر ...... بخدا ایک نہیں، دو نہیں، بیسیوں حوالے ایسے دکھا سکتا ہوں اور پھر فیصلہ بھی ان پر ہی چھوڑتا ہوں۔

جمیل ...... خوب، بہت خوب مگر کب؟

حمید ...... لیجئے وہ صدر صاحب آگئے۔ اب تو جلسہ کی کارروائی شروع ہوگی۔ آپ اپنی اس بحث کو اب صبح کے لئے رہنے دیجئے۔

١٠

صفحہ ٣٩٧

جمیل....... مزے کی بات تو اب شروع ہوئی تھی۔ مگر خیر کوئی بات نہیں۔ صبح ٧ بجے آپ سب صاحبان غریب خانہ پر تشریف لے آئیں اور چائے بھی وہیں نوش فرمائیں۔

حمید....... کیوں خالد صاحب! منظور ہے؟

خالد....... منظور ہے۔ میں صبح انشاء اللہ حاضر ہو جاؤں گا۔

جمیل....... پروفیسر صاحب آپ بھی ضرور تشریف لائیں اور حوالہ کے لئے کتابیں بھی ساتھ لیتے آئیں۔

اختر....... بہت اچھا۔ میں ٧ بجے پہنچ جاؤں گا۔ ویسے کل چھٹی بھی ہے۔

باب دوم

سات بج گئے اور ڈاکٹر صاحب کے مکان پر بہت سے احباب جمع ہو چکے ہیں۔ مگر خالد صاحب ابھی تشریف نہیں لائے۔ کیونکہ وہ اس مقابلہ کے لئے اپنے رفیق مولوی منظور الحسن کی تلاش میں ہیں۔ خدا خدا کر کے ساڑھے ٧ بجے وہ ملے اور دونوں مجموعی قوت سے پروفیسر صاحب کو شکست دینے کے لئے آدھمکے۔ یہاں پہلے ہی سے انتظار ہورہا تھا۔ لکھے پڑھے لوگوں کا اچھا خاصہ مجمع ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے آؤ بھگت کے بعد سلسلہ کلام یوں شروع کیا:

ڈاکٹر جمیل....... غالباً سب بھائیوں کو معلوم ہوگا کہ آج ایک نہایت اہم مسئلہ پر گفتگو ہونے والی ہے۔ مسلمانوں کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ انبیاء عظام کی توہین کرنا خارج از اسلام ہو جانے کے مترادف ہے۔ جس پر بانی فرقہ احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی صاد ہے۔ پروفیسر اختر حسین کا یہ دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی خود اپنی تصانیف میں اس کا ارتکاب کر چکے ہیں۔ لہٰذا چہ جائیکہ وہ مسیح مہدی، نبی یا مجدد وغیرہ بن سکیں، سرے سے مسلمان ہی ثابت نہیں ہو سکتے۔ چونکہ اختر صاحب کا یہ دعویٰ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے۔ اس لئے میں مسٹر عبدالحمید صاحب بی اے ایل ایل بی اور مسٹر ظہور الدین صاحب ایم اے کو منصف قرار دیتا ہوں کہ وہ فریقین کی گفتگو سننے کے بعد اپنا فیصلہ دیں کہ دلائل کی رو سے کون سچا ہے اور کون جھوٹا؟

حمید....... آپ صرف ظہور صاحب کو منصف رہنے دیں۔ میری اس میں کیا ضرورت تھی؟

خالد....... نہیں صاحب! آپ کا ہونا بھی ضروری ہے۔ دونوں مل کر ہماری باتوں کا وزن کیجئے۔

اختر....... بہت اچھا! لیجئے اب میں اپنے دعویٰ کی دلیل میں مرزا قادیانی کے وہ چند ارشاد پیش

١١

صفحہ ٣٩٨

کرتا ہوں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں ارشاد فرمائے۔ آپ اپنی کتاب (دافع البلاء ص ٣٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ) میں لکھتے ہیں:

”مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا ہو یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

یہاں مرزا قادیانی نے کھلے الفاظ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر دو الزام لگائے ہیں۔ اول یہ کہ وہ شرابی تھے۔ دوم یہ کہ وہ فاحشہ عورتوں سے ملا کرتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں وہ زنا کار بھی تھے۔ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ!

اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس عبارت میں اللہ کے ایک پاک نبی (عیسیٰ علیہ السلام) کی توہین پائی جاتی ہے یا نہیں؟ اردو سمجھنے والے خود اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

خالد...... یہ مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا ہے۔ عیسائیوں کے ان اعتراضات کے جواب میں لکھا ہے جو وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر کیا کرتے تھے۔ ورنہ وہ مرزا قادیانی کا اپنا عقیدہ نہیں ہے۔

اختر...... خالد صاحب! ذرا سوچ سمجھ کر جواب دیجئے۔ آپ تو ماشاء اللہ گریجویٹ ہیں۔ پلیڈر ہیں اور یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ جس طرح مسلمان تمام انبیاء کی تعظیم و تکریم کے مکلف ہیں ویسے عیسائی مکلف نہیں ہیں۔ پھر اگر کوئی عیسائی کسی نبی کی توہین کرے تو کیا اس کے مقابلے میں مسلمان کو بھی دوسرے نبی کی تذلیل کرنی چاہئے؟ نیز حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قرآن میں حصور کہنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حصور نہ کہنا مرزا قادیانی کا اپنا استدلال ہے۔ کسی اور نے کہیں نہیں لکھا۔ جس سے صاف عیاں ہے کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسا سمجھتے تھے۔

جمیل...... خوب! پروفیسر صاحب، آپ نے دلیل خوب دی ہے۔

حمید...... اچھا، صرف یہی ایک حوالہ ہے یا کچھ اور بھی؟

اختر...... جناب، ایک کیا، ابھی تو میں پچاس حوالے صرف ایک نبی (عیسیٰ علیہ السلام) کی توہین

١٢

صفحہ ٣٩٩

کے پیش کروں گا۔ اس کے بعد پھر دیگر انبیاء کا نمبر آئے گا۔

جمیل ...... تو خیر اب آپ چلئے۔

اختر ...... سنئے اور سینے پر پتھر رکھ کر سنئے۔ کیونکہ یہ عبارت اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١) پر ارشاد ہوتا ہے:

”آپ (یسوع مسیح) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شائد اسی وجہ سے ہو۔ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

جمیل ...... توبہ، توبہ کس قدر بے باکی ہے اور حضرت مسیح پر وہ الزام لگایا جا رہا ہے جو آج تک کسی نے نہیں لگایا۔ کیا مولانا یہ مرزا قادیانی کی اپنی تحریر ہے؟

اختر ...... جی ہاں! یہ ان کی اپنی کتاب ہے جو میرے ہاتھ میں ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ابھی حال ہی میں اس کا نیا ایڈیشن نکلا ہے۔ جس سے وکیل صاحب انکار نہیں کر سکتے۔

خالد ...... مرزا قادیانی کی اس تصنیف سے تو ہمیں انکار نہیں۔ مگر بات دراصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا ہے وہ الزاماً لکھا ہے اور یہودیوں کے حوالہ سے لکھا ہے۔ کہ وہ ایسا ایسا کہتے ہیں۔

اختر ...... اول تو ساری کتاب ہی میں یہود کے کسی حوالہ کا ذکر نہیں اور بفرض محال اگر یہ مان بھی لیا جائے تو ایک مناظر اور بالخصوص مسلم مناظر اور مبلغ کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ اپنے مد مقابل اور مخاصم کو مسلمات چھوڑ کر ان کے مخالفوں کے اقوال بطور سند پیش کرے جسے کوئی عقلمند بھی تسلیم نہیں کر سکتا۔

خالد ...... خیر آپ کچھ بھی کہیں۔ مرزا قادیانی یہ اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے۔ بلکہ یہودیوں ہی کے حوالے سے لکھ رہے ہیں۔ چنانچہ خود انہوں نے اس کی تصریح بھی کر دی ہے۔ ملاحظہ ہو (مقدمہ چشمہ مسیحی ص ب حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦) جس کے الفاظ یہ ہیں:

١٣

صفحہ ٤٠١

”ہماری قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان کے نکلا ہے۔ وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے ہیں۔ افسوس اگر پادری صاحبان تہذیب اور خدا ترسی سے کام لیں اور ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں نہ دیں تو دوسری طرف مسلمانوں کی طرف سے ان سے بیس حصے زیادہ ادب کا خیال رہے۔“

اختر...... خالد صاحب میں پھر آپ کو آپ کے علم کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ مان لیا مرزا قادیانی نے یہ الزاماً لکھا ہے۔ مگر خدارا! مجھے ذرا یہ بتا دیجئے کہ یہ کہاں کا ایمان اور اسلام ہے کہ اگر پادری حضور ﷺ کو گالیاں دے کر دو جہاں کی رسوائی خریدیں تو مسلمان بھی یہود نامسعود کے اقوال کی آڑ لے کر حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین کریں۔ یہ بات بھی میں آپ کو اپنی طرف سے نہیں کہتا۔ بلکہ مرزا قادیانی کا ارشاد بھی یہی ہے۔ سنئے وہ آپ کی تردید اور میری تائید میں خود فرماتے ہیں:

”مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی ﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٢)

جمیل...... کمال ہے۔ یہاں تو یہ فرما رہے ہیں کہ ایک مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا اور وہاں با قاعدہ گالیاں دے رہے ہیں۔

اختر...... اجی حضرات آپ سب لکھے پڑھے ہیں۔ اس سے نتیجہ خود اخذ کیجئے کہ یا تو مرزا قادیانی اپنے قول کے مطابق خود مسلمان نہیں یا پھر پرلے درجے کے احمق، پاگل اور منافق ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی کتاب (ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢) پر خود یوں ارقام فرماتے ہیں:

”کسی سچے اور عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر پاگل اور مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو تو اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔“

اب فیصلہ آپ پر ہے کہ آیا مرزا قادیانی کے ان دونوں کلاموں میں کچھ تناقض ہے یا نہیں؟ خالد صاحب یا ان کے رفیق محترم مولانا منظور الحسن صاحب ہی ارشاد فرمائیں کہ میں کچھ اپنی طرف سے تو نہیں کہہ رہا؟

منظور...... بات اصل میں یہ ہے کہ آپ مرزا قادیانی کے کلام کو سمجھ نہیں سکے۔ جہاں انہوں نے یہودیوں کے حوالے سے یسوع یا مسیح کا نام لے کر کچھ لکھا ہے۔ وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد

١٤

نہیں ہیں بلکہ وہ یسوع مراد ہے جسے عیسائیوں نے کے متعلق انہیں کہہ رہے ہیں کہ وہ تو ایسا اور ایسا تھا بـ سمجھتے تھے۔ ان کے متعلق تو آپ (کتاب البریہ ص ٩٣،

”ہم لوگ جس حالت میں حضرت عیسیٰ راست باز مانتے ہیں۔ تو پھر کیونکر ہماری قلم سے ان

اختر...... کیوں جناب سنا آپ نے مولانا منظور الحسن لکھے پڑھے قادیانی یہی کہا کرتے ہیں کہ وہ یسوع او کہا کرتے تھے۔ چنانچہ اسی کی شان میں حضرت مـ عیسیٰ علیہ السلام کو ایسا نہیں کہا گیا۔

اب ان کا فرض یہ ہے کہ مرزا قادیانی کـ تھا۔ اگر یہ ثابت نہ کر سکیں اور یقیناً نہ کر سکیں گے تو پـ ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں کہ خود حضرت مـ ایک ہی وجود قرار دیا ہے اور انہیں دو الگ الگ قادیانی کی مشہور کتاب (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ عیسیٰ ابن مریم یسوع اور مسیح ایک ہی شخص ہے۔ چو

”جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے کہتے ہیں۔“

کیوں جناب! اب اس سے بڑھ کر قادیانی (اخبار الحکم مورخہ ٣؍جولائی ١٩٠٣ء ص ١٦ کالم خیالات سے وہ لوگ (شریر یہودی) حضرت عیـ ہیں۔ یعنی بغیر ع کے اور یہ ایک ایسا گندہ لفظ ہـ دل میں گزرتا ہے کہ قرآن کریم نے جو حضر مصلحت سے ہے کہ یسوع کے نام کو یہودیوں نـ

صفحہ ٤٠١

نہیں ہیں بلکہ وہ یسوع مراد ہے جسے عیسائیوں نے خدا بنا رکھا تھا اور حضرت صاحب اسی یسوع کے متعلق انہیں کہہ رہے ہیں کہ وہ تو ایسا اور ایسا تھا۔ ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ ایسا نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے متعلق تو آپ (کتاب البریہ ص ٩٤، خزائن ج ١٣ ص ١٩٩) پر خود لکھتے ہیں کہ: ”ہم لوگ جس حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا نبی اور نیک اور راست باز مانتے ہیں۔ تو پھر کیونکر ہماری قلم سے ان کی شان میں سخت الفاظ نکل سکتے ہیں۔“

اختر ..... کیوں جناب سنا آپ نے مولانا منظور الحسن فرماتے ہیں کہ صرف یہ نہیں فرماتے بلکہ اکثر لکھے پڑھے قادیانی یہی کہا کرتے ہیں کہ وہ یسوع اور تھا جو عیسائیوں کا معبود تھا اور جسے وہ ابن اللہ کہا کرتے تھے۔ چنانچہ اسی کی شان میں حضرت مرزا قادیانی نے یہ قصائد لکھے ہیں ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسا نہیں کہا گیا۔

اب ان کا فرض یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تصانیف سے یہ ثابت کریں کہ وہ یسوع اور تھا۔ اگر یہ ثابت نہ کر سکیں اور یقیناً نہ کر سکیں گے تو پھر سنئے میں مرزا قادیانی ہی کی تصانیف سے یہ ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں کہ خود حضرت نے عیسائیوں کے یسوع مسیح اور عیسیٰ علیہ السلام کو ایک ہی وجود قرار دیا ہے اور انہیں دو الگ الگ وجود قرار نہیں دیا۔ یہ دیکھئے میرے پاس مرزا قادیانی کی مشہور کتاب (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) پر مرزا قادیانی خود تسلیم کرتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم یسوع اور مسیح ایک ہی شخص ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ”جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

کیوں جناب! اب اس سے بڑھ کر کوئی اور ثبوت مطلوب ہے۔ لیجئے اور سن لیجئے مرزا قادیانی (اخبار الحکم مورخہ ٣ جولائی ١٩٠٣ء ص ١٦ کالم ٣) میں یوں ارقام فرماتے ہیں: ”آج تک انہی خیالات سے وہ لوگ (شریر یہودی) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام کو جو یسوع ہے، یسو بولتے ہیں۔ یعنی بغیر ع کے اور یہ ایک ایسا گندہ لفظ ہے جس کا ترجمہ کرنا ادب سے دور ہے اور میرے دل میں گزرتا ہے کہ قرآن کریم نے جو حضرت مسیح علیہ السلام کا نام عیسیٰ علیہ السلام رکھا وہ اسی مصلحت سے ہے کہ یسوع کے نام کو یہودیوں نے بگاڑ دیا تھا۔“

١٥

صفحہ ٤٠٣

جميل...... کہئے مولانا منظور الحسن، اب اس کا جواب کیا ہے؟

اختر...... جی وہ کیا جواب دیں گے؟ اگر دیں گے بھی تو مرزا قادیانی ہی اس سے بدنام ہوں گے۔ کیونکہ پھر ان کے کلام میں تناقض واقع ہوگا۔

منظور...... تناقض کیوں واقع ہوگا یہ محض آپ کی سمجھ کا قصور ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی جو کچھ فرما گئے ہیں وہ یقیناً صحیح ہے۔

خالد...... آپ نے فرمایا تھا کہ یہ مرزا قادیانی کی تصانیف سے ثابت کریں کہ وہ یسوع اور تھا۔ لیجئے ہم ثابت کئے دیتے ہیں کہ حضرت مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢ حاشیہ) پر لکھتے ہیں: ”اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔“

اس عبارت سے صاف عیاں ہے کہ حضرت مرزا قادیانی نے جس یسوع کے متعلق توہین آمیز کلمات (اور وہ بھی بقول یہود) استعمال کئے ہیں، وہ اس عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق نہیں جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ بلکہ وہی یسوع ہے جس کو آپ نے عبارت بالا میں عیسائیوں کا خدا لکھا ہے۔

اختر...... میرا خیال تھا کہ آپ میرے ان پیش کردہ حوالوں سے یہ تسلیم کرلیں گے کہ مرزا قادیانی نے قرآنی عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم اور انجیلی یسوع مسیح کو دو جداگانہ شخصیتیں قرار نہیں دیا (اور نہ ہی آپ کی اس پیش کردہ عبارت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ دونوں شخصیتیں الگ الگ ہیں) بلکہ وہ تو ان دونوں کو ایک ہی ذات قرار دے رہے ہیں۔ اگر آپ پہلے حوالوں سے نہیں سمجھ سکے تو لیجئے (چشمہ مسیحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨١) ملاحظہ فرمائیے۔ مرزا قادیانی اس کے حاشیہ پر صاف لکھتے ہیں:

”یہ اعتقاد رکھنا پڑتا ہے کہ جیسا ایک بندہ خدا عیسیٰ نام جس کو عبرانی میں یسوع کہتے ہیں بتیس برس تک موسیٰ کی شریعت کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا۔“

کہئے، اب بھی سمجھے یا نہیں؟ مرزا قادیانی کہہ رہے ہیں کہ وہی ہمارا عیسیٰ ہے جسے عبرانی میں یسوع کہتے ہیں۔ گویا نام دو ہیں، مگر ذات ایک ہی ہے۔

حمید...... مولانا ہم تو سمجھ گئے کہ بات ایک ہی ہے۔ مگر خیر چونکہ یہ نہیں مانتے اس لئے اب

١٦

آپ کو کوئی ایسا حوالہ پیش کرنا چاہئے جس میں حضر استعمال کر کے صاف عیسیٰ علیہ السلام لکھا ہو اور

اختر...... بہت اچھا! میں ایسے کئی حوالے پیش کر موجود ہو اور پڑھنے والے کو شبہ تک نہ پڑتا ہو۔ مگر اور بالخصوص وکالت پیشہ حضرات کا جو اشارہ ہی ک

میرے سب سے پہلے پیش کردہ حوالہ (دافع البلاء پڑیں گے کہ:

”اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ بخود سمجھ لیں گے کہ مرزا قادیانی کے لفظ مسیح کا مفہ سورۂ آل عمران میں یحییٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی میں وہ حوالہ جات پیش کرتا ہوں جس میں مرزا قا السلام لکھا ہے اور پھر اس سے ان کی ذم کا پہلو بھ ص ٧١) جس کے حاشیہ میں مرزا آنجہانی عیسیٰ ہیں:

”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شرا عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی اب اس میں تو کسی تاویل کی گنجائش السلام لکھا ہے۔ (حالانکہ دیگر مقامات پر جہاں علیہ السلام لکھتے ہیں) جس سے صاف ظاہر ہ عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ) شرابی تھے۔

اس عبارت سے یہ بھی معلوم ہور ہو۔ بلکہ یہ خود مرزا قادیانی کی اپنی رائے ہے کے پیشوا حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا ک درجے کی توہین ہے۔ بلکہ اس میں اس کے ک

صفحہ ٤٠٣

آپ کو کوئی ایسا حوالہ پیش کرنا چاہئے جس میں حضرت مرزا قادیانی نے بجائے یسوع یا مسیح کا لفظ استعمال کرنے کے صاف عیسیٰ علیہ السلام لکھا ہو اور پھر اس میں کوئی ذم کا پہلو بھی نکلتا ہو۔

اختر...... بہت اچھا! میں ایسے کئی حوالے پیش کر سکتا ہوں جس میں صاف عیسیٰ علیہ السلام کا لفظ موجود ہو اور پڑھنے والے کو شبہ تک نہ پڑتا ہو۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ لکھے پڑھے لوگوں کا مجمع ہے اور بالخصوص وکالت پیشہ حضرات کا جو اشارہ ہی سے بات کی تہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ جب ان کو میرے سب سے پہلے پیش کردہ حوالہ (دافع البلاء ٹائٹل پیج نمبر ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠) میں یہ الفاظ نظر پڑیں گے کہ:

”اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا اور مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔“ تو وہ خود بخود سمجھ لیں گے کہ مرزا قادیانی کے لفظ مسیح کا مفہوم وہی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہے جس کا ذکر سورۃ آل عمران میں یحییٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی آتا ہے۔ مگر خیر چونکہ یہ نہیں سمجھتے۔ اس لئے اب میں وہ حوالہ جات پیش کرتا ہوں جس میں مرزا قادیانی نے بجائے یسوع یا مسیح کے خود لفظ عیسیٰ علیہ السلام لکھا ہے اور پھر اس سے ان کی ذم کا پہلو بھی نکلتا ہے۔ ملاحظہ ہو (کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١) جس کے حاشیہ میں مرزا آنجہانی عیسیٰ علیہ السلام کو شرابی قرار دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:

”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

اب اس میں تو کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ یہاں آپ نے صاف لفظوں میں عیسیٰ علیہ السلام لکھا ہے۔ (حالانکہ دیگر مقامات پر جہاں کبھی حضرت عیسیٰ کا لفظ آیا ہے۔ آپ بہت کم وہاں علیہ السلام لکھتے ہیں) جس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی یہ دعویٰ سے کہہ رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ) شرابی تھے۔

اس عبارت سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ یہ یہودیوں کا قول نہیں ہے، جو نقل کرایا گیا ہو۔ بلکہ یہ خود مرزا قادیانی کی اپنی رائے ہے کہ یورپین قومیں اس لئے شراب پی رہی ہیں کہ ان کے پیشوا حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ کسی پیغمبر کو شرابی کہنا نہ صرف اس کی پرلے درجے کی توہین ہے۔ بلکہ اس میں اس کے کفر کا بھی شائبہ ہے۔ کیونکہ شراب جیسے ہم پر حرام ہے۔

١٧

صفحہ ٤٠٥

ایسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی حرام تھی۔ انجیل سے بھی اس کی حرمت ثابت ہے اور قادیانی اخبار بدر نے بھی اپنی اشاعت مورخہ ٧؍ نومبر ١٩٠٢ء کے ص ١ پر مرزا قادیانی کے حوالہ سے لکھا ہے:

”حضرت نے (یعنی مرزا قادیانی) فرمایا کہ یحییٰ جو نشہ نہیں پیتے تھے تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منع تھی پھر مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی۔“

(ملفوظات ج ٣ ص ٨٩)

اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی زمانہ عیسیٰ علیہ السلام میں حرمت شراب کو تسلیم کرتے ہوئے پھر ان پر یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ شراب پیا کرتے تھے۔ حالانکہ اناجیل اربعہ (متی، مرقس، لوقا، یوحنا) میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور مرزا قادیانی کے سوا آج تک کسی مسلمان نے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام نہیں لگایا۔ ہاں یہودی یہ ضرور کہتے تھے جیسا کہ

میر محمد اسحاق قادیانی نے اپنے رسالہ کسر صلیب نمبر ١ ص ٢٢ پر لکھا ہے:

”یہود نامسعود یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ شرابی تھا (معاذ اللہ) پس جو شخص یہ کہے کہ حضرت عیسیٰ شراب پیا کرتے تھے، وہ یہود کے راستے پر چل رہا ہے۔“

گویا بقول میر محمد اسحاق قادیانی ان کے پیشوا جناب مرزا غلام احمد قادیانی بھی یہود کے راستہ پر چل رہے ہیں۔ جو کھلے بندوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شرابی کہتے ہیں اور صرف ایک جگہ نہیں، بلکہ متعدد جگہ لکھ کر اس کی اور بھی تصدیق کر رہے ہیں۔

حمید....... کیا کوئی اور حوالہ بھی آپ دے سکتے ہیں؟

اختر....... کیوں نہیں! یہ لیجئے مرزا قادیانی کی کتاب نسیم دعوت ہے۔ اس کے (ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤) پر آپ صاف لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ شراب پیا کرتے تھے۔“

اگر اس سے بھی تسکین نہ ہو تو لیجئے ایک اور حوالہ سن لیجئے جو اس سے بھی زیادہ واضح ہے اور دلچسپ بھی ہے۔ ایک دفعہ مرزا قادیانی مرض ذیابیطس میں مبتلا ہو گئے۔ کسی نے افیون کھانے کا مشورہ دیا۔ اس پر آپ نے یوں گوہر افشانی کی جو رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان بابت ماہ اپریل ١٩١٣ء کے ص ١٤٩ پر چھپ چکی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“

(نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤، ٤٣٥)

کیوں جی اب آپ کو اس میں کچھ شک ہے کہ مرزا قادیانی انبیاء کرام کی توہین کے

١٨

مرتکب نہیں ہوئے۔ یہاں تو صاف طور پر کہہ رہے ہیں

نہ کہلاؤں جیسا کہ مسیح علیہ السلام شراب پی کر شرابی کہلا

جمیل....... مولانا! آپ نے بڑی کوشش سے یہ حوا قابل داد ہے۔

اختر....... اجی حضرت! ہم نے تو محض ثواب کی نی ہمیں بار بار یہ کہتے تھے کہ مرزا قادیانی مجدد وقت ہیں اور عہدہ نبوت پر فائز ہو چکے ہیں۔ ہم نے کہا چلو ان ک واقعی وہ نبی یا مجدد ہوئے تو یقیناً ان کے الہامات اور قرآن مجید اور حدیث شریف کی تلاوت سے ثواب ہ پھر یقیناً ہمیں ان کی کتابوں سے ان کے جھوٹ اور کفر

چنانچہ ہم تھوڑی سی محنت کے بعد اس نتیج تناقض ہے۔ آنجناب کسی جگہ کچھ لکھتے ہیں اور کسی جگہ ک ہے۔

حمید....... کیا واقعی مرزا قادیانی کے کلام میں تناقض بہ

اختر....... کیا آپ دیکھ نہیں رہے؟ حضرت خالد اور م قادیانی کی صفائی میں کچھ ارشاد فرمائیں۔ وہ اسی لئے قادیانی کے کلام میں تناقض بتا دے گا۔

منظور....... اجی آپ کچھ کہیں ہم تو محض اس لئے خا چاہتے ہیں، پہلے کر لیں۔ پھر ہم ایک ہی دفعہ سب کا ج

حمید....... نہ مولانا صاحب یہ بات ٹھیک نہیں۔ آپ دیتے جائیں۔ جو غلط ہو اسے واضح کریں اور جو صحیح ہ کہ جیت اور ہار کا سوال پیدا ہوگا۔ یہاں تو ہم سب ط ہیں۔

منظور....... تو عرض یہ ہے کہ اختر صاحب نے جو کچھ

١٩

صفحہ ٤٠٥

مرتکب نہیں ہوئے۔ یہاں تو صاف طور پر کہہ رہے ہیں کہ میں اس لئے افیون نہیں کھاتا کہ افیونی نہ کہلاؤں جیسا کہ مسیح علیہ السلام شراب پی کر شرابی کہلائے۔ (نعوذ باللہ)

جمیل ...... مولانا! آپ نے بڑی کوشش سے یہ حوالے مہیا کئے ہوں گے۔ واقعی آپ کی یہ محنت قابل داد ہے۔

اختر...... اجی حضرت! ہم نے تو محض ثواب کی نیت سے یہ کام کیا ہے۔ کیونکہ قادیانی دوست ہمیں بار بار یہ کہتے تھے کہ مرزا قادیانی مجدد وقت ہیں۔ مسیح موعود ہیں۔ مہدی آخر الزمان ہیں اور عہدہ نبوت پر فائز ہوچکے ہیں۔ ہم نے کہا چلو ان کی تصانیف پڑھو۔ ان کے رسائل دیکھو۔ اگر واقعی وہ نبی یا مجدد ہوئے تو یقیناً ان کے الہامات اور ملفوظات پڑھنے سے ثواب ہوگا۔ جیسا کہ قرآن مجید اور حدیث شریف کی تلاوت سے ثواب ہوتا ہے اور اگر خدانخواستہ وہ جھوٹے ہوئے تو پھر یقیناً ہمیں ان کی کتابوں سے ان کے جھوٹ اور کذب کا پتہ چل جائے گا۔

چنانچہ ہم تھوڑی سی محنت کے بعد اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ مرزا قادیانی کے کلام میں بہت تناقض ہے۔ آنجناب کسی جگہ کچھ لکھتے ہیں اور کسی جگہ کچھ فرماتے ہیں اور یہی جھوٹے آدمی کی نشانی ہے۔

حمید ...... کیا واقعی مرزا قادیانی کے کلام میں تناقض بہت واقع ہوا ہے۔

اختر...... کیا آپ دیکھ نہیں رہے؟ حضرت خالد اور مولانا منظور الحسن سے گزارش ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی صفائی میں کچھ ارشاد فرمائیں۔ وہ اسی لئے تو اب خاموش ہیں کہیں گے تو جھٹ یہ مرزا قادیانی کے کلام میں تناقض بتا دے گا۔

منظور...... اجی آپ کچھ کہیں ہم تو محض اس لئے خاموش ہیں کہ آپ جس قدر حوالے پیش کرنا چاہتے ہیں، پہلے کرلیں۔ پھر ہم ایک ہی دفعہ سب کا جواب دیں گے۔

حمید ...... نہ مولانا صاحب یہ بات ٹھیک نہیں۔ آپ کا فرض ہے کہ آپ ساتھ ہی ساتھ جواب دیتے جائیں۔ جو غلط ہو اسے واضح کریں اور جو صحیح ہو اسے تسلیم کریں۔ یہ میدان مناظرہ نہیں ہے کہ جیت اور ہار کا سوال پیدا ہوگا۔ یہاں تو ہم سب دوست ہیں جو حق و باطل میں امتیاز کرنا چاہتے ہیں۔

منظور...... تو عرض یہ ہے کہ اختر صاحب نے جو کچھ بیان کیا ہے۔ اس کا ایک ہی جواب اور وہ یہ کہ

١٩

صفحہ ٤٠٦

مرزا قادیانی نے محض اشاعت اسلام کی خاطر عیسائیوں کو ان کے خدا یسوع مسیح سے منحرف کرنے کے لئے ایسا لکھ دیا ہے ورنہ دراصل یہ ان کا اپنا عقیدہ نہیں ہے۔

حمید ...... یہ بات تو آپ پہلے بھی فرما چکے ہیں۔ جس کے جواب میں مولانا اختر حسین صاحب نے یہ فرمایا تھا کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ تم محض دشمن کو ذلیل کرنے کے لئے ایک قابل عزت نبی کی توہین کا ارتکاب کرو۔

اختر ...... جناب میں نے یہ بات اپنی رائے سے نہیں کہی۔ بلکہ خدا اور رسول کا حکم یہی ہے کہ تم خواہ کچھ بھی ہو انبیاء کرام کی توہین نہ کرو۔ چنانچہ میں نے بجائے قرآن وحدیث کے حوالہ دینے کے مرزا قادیانی ہی کا قول پیش کیا تھا اور اب پھر اس کی مزید تسلی کے لئے ان کے نبی اور مجدد ہی کا قول نقل کئے دیتا ہوں تاکہ ان کی تسلی ہو جائے اور بار بار یہ عذر پیش نہ کریں۔

مرزا قادیانی اسی قسم کے واقعات میں پیش آجانے پر اپنے مریدوں کو یہ تلقین کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (چشمہ معرفت حصہ دوم ص ١٨ خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠) ”پس مسلمانوں کو بڑی مشکلات پیش آتی ہیں کہ دونوں طرف ان کے پیارے ہوتے ہیں بہر حال جاہلوں کے مقابلہ پر صبر کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔“

جمیل ...... بہت خوب! خود مریدوں کو تلقین کرتے ہیں کہ مخالفین کے سامنے جب وہ تمہارے پیشواؤں کو برا بھلا کہیں تو صبر کرنا اور اشارہ سے بھی ان کے نبی کی تحقیر نہ کرنا۔ مگر خود اشارہ تو درکنار نہایت وضاحت سے ان کی توہین ہی نہیں بلکہ تحقیر کر رہے ہیں۔

شاید یہ ارشادات بعد کے ہوں
من نہ کردم شما حذر بکنیم

اختر ...... جی ہاں! اگر اس کی گنجائش ہوتی تو یقیناً قادیانی دوست یہ بھی ضرور کہہ دیتے۔ ہاں تو ناسخ منسوخ کا اصول ہی قبول نہیں۔ اگر یہ بات ہوتی تو یہ لوگ اس پر مصر نہ ہوتے۔ نہایت آسانی سے مرزا قادیانی کی ان عبارتوں کو قلمزن کر دیتے۔ مگر وہاں تو مرزا قادیانی کا ایک ایک لفظ وحی سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ تم اس کا مطلب نہیں سمجھتے۔ غور کرو گے تو تم کو بھی اس میں کچھ نہ کچھ حکمت نظر آجائے گی۔

خالد ...... ہاں ہاں ٹھیک ہے۔ اگر آپ تعصب کی پٹی اتار کر نیک نیتی سے مرزا قادیانی کی تصانیف

٢٠

صفحہ ٤٠٧

کا مطالعہ کریں تو آپ کو ان کی یہ عبارتیں بھی ضرور نظر آئیں: ”هذا ماكتبنا من الاناجيل علی سبیل الالزام وانا نکرم المسیح ونعلم انه کان تقیا ومن الانبیاء الکرام“

یعنی ”ہم نے یہ باتیں از روئے اناجیل بطور الزام لکھی ہیں۔ ورنہ ہم تو مسیح کی عزت کرتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ وہ پارسا اور برگزیدہ نبیوں سے تھے۔“

پھر دوسری جگہ رسالہ (تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥) پر بھی مرزا قادیانی ارقام فرماتے ہیں: ”جس قدر عیسائیوں کو حضرت یسوع مسیح سے محبت کا دعویٰ ہے۔ وہی مسلمان کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترکہ جائیداد کی طرح ہے۔“

اگر آپ مرزا قادیانی کے ان خیالات کو بھی اسی آنکھ سے دیکھیں جس آنکھ سے ان اقوال کو دیکھ رہے ہیں تو معلوم ہو جائے کہ مرزا کے دل میں کس قدر ان کی عزت و محبت جاگزیں ہے۔

اختر...... جی ہاں! یہ عبارات بھی میری نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں اور میں چاہتا تھا کہ آپ خود ہی ان کو پیش کریں تاکہ پڑھے لکھے لوگ اندازہ لگا سکیں کہ مرزا قادیانی بھی عجیب پیندے کے بدھنے ہیں کہ کبھی کچھ لکھتے ہیں اور کبھی کچھ کہہ دیتے ہیں۔ کیا حمید صاحب اب بھی آپ سمجھے یا نہیں کہ مرزا قادیانی کے کلام میں بہت بڑا تناقض ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ایک لائق مصنف بھی نہیں کہلا سکتے۔

حمید...... ہاں تناقض ضرور ہے۔ مگر اس کی وجہ کیا ہے؟

اختر...... صحیح وجہ تو خالد یا منظور صاحب ہی بتائیں گے۔ جو ان کے مرید اور وکیل ہیں۔ اگر میں عرض کروں گا تو شکایت ہوگی۔

حمید...... نہیں نہیں وہ کیا بتائیں گے۔ آپ ہی فرمائیں۔ اگر انہیں اس پر کوئی اعتراض ہوا تو کہہ دیں گے۔

اختر...... اس کی ایک وجہ تو وہی ہے جو خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ص ١٤٢ پر لکھی ہے کہ: ”جس کے کلام میں تناقض ہوتا ہے وہ پاگل یا مجنوں ہوتا ہے۔“ ہم تو مرزا قادیانی کو ایسا نہیں سمجھتے تھے۔ مگر جب ان کی کتابوں کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ سچ فرماتے ہیں۔ یقیناً مجنون ہیں۔ مراقی ہیں۔ اپنی دماغی کمزوری کے آپ قائل ہیں۔ مالنخولیا کے مریض رہ

٢١

صفحہ ٤٠٩

چکے ہیں۔ ملاحظہ ہو (ریویو آف ریلیجنز ج ٢٥ نمبر ٨، ١٠،٩، سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٥، حقیقت الوحی ص ٣٠٦، ٣٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٦) وغیرہ۔

جمیل...... واہ مولانا یہ تو آپ نے ایک اور بھی نئی بات نکال دی۔ بخدا اب تو ہمیں مرزا قادیانی سے بہت دلچسپی پیدا ہو گئی ہے اور ہم ان نئے نئے انکشافات سے بہت محظوظ ہو رہے ہیں۔

حمید...... واقعی یہ وہ چیزیں ہیں جن پر باقاعدہ گفتگو ہونی چاہئے ۔ ہمارے علماء ناحق حیات ممات کے مسئلہ پر بحثیں کرتے پھرتے ہیں اور ختم نبوت پر زور دے رہے ہیں۔ اگر یہ چیزیں جو مولانا نے بیان کی ہیں۔ مرزا قادیانی میں پائی جائیں اور ٹھیک ثابت ہو جائیں تو سب جھگڑے اور مناظرے یہیں ختم ہو جاتے ہیں۔

جمیل...... بھئی اس موضوع پر بھی کہ ”آیا مرزا قادیانی صحیح الدماغ انسان بھی تھے یا نہیں“ ایک مفصل بحث کروں گا۔ جس میں طبی اور ڈاکٹری اسناد سے یہ ثابت کروں گا کہ مرزا قادیانی یقیناً مخبوط الحواس تھے اور لطف یہ کہ سب کچھ انہی کی تحریروں سے بیان کروں گا۔

مگر اس وقت مجھے مرزا قادیانی کے اس تناقض کلام پر دوسری وجہ بیان کرنی ہے جو یہ ہے کہ مرزا قادیانی انگریزوں کے بہت خوشامدی بھی واقع ہوئے تھے۔ جسے اصطلاح جدید میں ”ٹوڈی“ کہنا چاہئے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے حکومت انگریزی کی تعریف میں کئی کتابیں لکھ ڈالی ہیں۔ چنانچہ جس کتاب تحفہ قیصریہ کا خالد صاحب نے حوالہ دیا ہے۔ وہ بھی شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر لکھا گیا تھا۔ چونکہ آپ کو قیصرہ ہند ملکہ انگلستان کی خوشامد مقصود تھی۔ اس لئے ان میں جابجا حضرت یسوع علیہ السلام کی تعریف کی گئی ہے اور (ص٢٠ تا ٢٢ خزائن ج ١٢ ص٢٧٢ تا ٢٧٤) پر تو یہ بھی لکھ دیا ہے کہ : ” اس (خدا) نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ در حقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہیں ...... اور میں یسوع مسیح کی طرف سے ایک سچے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہو۔“

اللہ ، اللہ ایک تو اسی یسوع کو اپنے خوشامد نامہ (یعنی تحفہ قیصریہ) میں خدا کا پیارا، نیک بندہ اور عیسائیوں اور مسلمانوں کی مشترکہ جائیداد لکھ رہے ہیں اور اپنے آپ کو ان کا سفیر قرار دیتے ہیں تاکہ کسی طرح ملکہ وکٹوریہ خوش ہو جائیں۔ مگر دوسری جگہ مناظرانہ رنگ میں خود ہی اسی یسوع کے متعلق یوں ارقام فرماتے ہیں:

٢٢

”یہ لوگ (عیسائی ) اس شخص (یسوع مسیح نے خود اقرار کیا کہ میں نیک نہیں۔“ اور جس نے شراب خوری اور قمار بازی کو برا نہ سمجھا بلکہ خود آپ ایک بدکار کنجری سے اپنے سر پر عطر ملوا کر کہ وہ اس کے بدن سے بدن لگائے۔ اپنی تمام ا کوئی چیز حرام نہیں۔“

اب غور فرمائیے کہ اس جگہ حضرت عیسیٰ کو شرابی کہا، زانی کہا، قمار باز کہا اور پھر انہی امور کی ت فرمائیے کہ کیا یہ سب کچھ کہنے لکھنے اور ڈنکے کی چوٹ کہنے والے مسلمان ہی رہیں گے یا کافر ہوں گے؟

منظور ...... میں یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آپ (خزائن ج ٩ ص ٣٢) کا مطالعہ بھی فرمالیں ۔ جس میں کسی نبی کی توہین کی ہے اور وہ کلمہ کفر ہے، تو اس کا جواب الکاذبین “ اور ہم سب نبیوں پر ایمان لا الفاظ اپنے محل پر چسپاں ہیں وہ بہ نیت توہین نہیں بلکہ

اختر ...... بہت خوب ! اس سارے کلام کا خلاصہ یہ کہ گالیاں توہین نہیں دیں۔ بلکہ بتائید توحید دی ہیں۔ کیا آپ بھی اگر کسی کو گالیاں دیں تو بعد میں یہ کہہ دیں کہ گالیاں نہیں دیں ۔ بلکہ اپنا جوش ٹھنڈا کرنے کے لئے دی ہیں۔

جمیل ...... اور مولانا لطف یہ ہے کہ جب مرزا صاحب نے کہہ دیا کہ ’لعنة الله على الكاذبين ‘ تو اس عبارت سے یہ پتہ بھی نہیں چل سکا کہ اس ظہور ...... بھائی آپ نے مجھے منصف قرار د

صفحہ ٤٠٩

”یہ لوگ (عیسائی) اس شخص (یسوع مسیح) کو تمام عیبوں سے مبرّا سمجھتے ہیں۔ جس نے خود اقرار کیا کہ میں نیک نہیں۔“

(انجام آتھم ص ٣٨، خزائن ج ١١ ص ٣٨)

اور جس نے شراب خوری اور قمار بازی اور کھلے طور پر دوسروں کی عورتوں کو دیکھنا جائز رکھ کر بلکہ خود آپ ایک بدکار کنجری سے اپنے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ڈلوا کر اور اس کو یہ موقعہ دے کر کہ وہ اس کے بدن سے بدن لگائے۔ اپنی تمام امت کو اجازت دے دی کہ ان باتوں میں سے کوئی بھی حرام نہیں۔“

(انجام آتھم ص ٣٨، خزائن ج ١١ ص ٣٨)

اب غور فرمائیے کہ اس جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کس قدر الزام لگائے گئے۔ انہیں شرابی کہا، زانی کہا، قمار باز کہا اور پھر انہی امور کی تلقین کرنے والا قرار دیا۔ آپ خود ہی انصاف فرمائیے کہ کیا یہ سب کچھ کہنے لکھنے اور ڈنکے کی چوٹ پر شائع کرنے کے باوجود مرزا قادیانی مسلمان ہی رہیں گے یا کافر ہوں گے؟

منظور...... میں یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آپ حضرت قادیانی کی کتاب (انوار الاسلام ص ٣٤، خزائن ج ٩ ص ٣٤) کا مطالعہ بھی فرمالیں۔ جس میں آپ لکھتے ہیں: ”اور اگر یہ اعتراض ہے کہ کسی نبی کی توہین کی ہے اور وہ کلمہ کفر ہے، تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ ’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘ اور ہم سب نبیوں پر ایمان لاتے ہیں اور تعظیم سے دیکھتے ہیں۔ بعض عبارات جو اپنے محل پر چسپاں ہیں وہ بہ نیت توہین نہیں بلکہ بتائید توحید ہیں۔“

اختر...... بہت خوب! اس سارے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ گالیاں تو ہم نے ضرور دی ہیں۔ مگر بہ نیت توہین نہیں دیں۔ بلکہ بتائید توحید دی ہیں۔ کیوں حمید صاحب! سمجھے آپ؟ کیا عجیب منطق ہے آپ بھی اگر کسی کو گالیاں دیں تو بعد میں یہ کہہ دیا کریں کہ حضور میں نے بہ نیت توہین آپ کو گالیاں نہیں دیں۔ بلکہ اپنا جوش ٹھنڈا کرنے کے لئے دی ہیں۔ آپ ناراض نہ ہوں۔ جدید نبی کا فلسفہ یہی ہے۔

جمیل...... اور مولانا لطف یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی سے اصل اعتراض کا جواب بن نہیں پڑا تو یہ کہہ دیا کہ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ کوئی پوچھے کہ جھوٹا کون ہے آپ یا معترض؟ ہمیں تو اس عبارت سے یہ پتہ بھی نہیں چل سکا کہ اس لعنت کا مستوجب کون ہے۔

ظہور...... بھائی آپ نے مجھے منصف قرار دیا تھا۔ اس لئے میں اب تک خاموش رہا اور فریقین کی

٢٣

صفحہ ٤١٠

باتیں بغور سنتا رہا۔ سچ یہ ہے کہ اب تک خالد صاحب اور مولانا منظور نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس لئے میں مولانا اختر سے درخواست کروں گا کہ وہ کچھ اور حوالے پیش کریں تا کہ اگر وہ ان پر کچھ کہنا چاہیں تو معقولیت سے کہیں تا کہ حاضرین تو اس جواب کو کچھ جواب سمجھیں۔

خالد...... واہ حضرت! آپ نے بھی فوراً ہی ڈگری دے دی۔ حمید صاحب اب ڈاکٹر کے رنگ میں رنگے گئے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے تو محض وہ نقائص جمع کر رکھے ہیں جو بتقاضائے بشریت ہر ایک میں پائے جاتے ہیں۔ کیا اس قسم کی غلطیاں پہلے نبیوں سے نہیں ہوئیں؟

جمیل...... بس بس خالد صاحب۔ اب زیادہ نہ بڑھئے۔ معلوم ہو گیا کہ آپ بھی مرزا قادیانی کی روش اختیار کر رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ چالیس کروڑ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ جملہ انبیاء کرام معصوم ہیں۔ مگر آپ ان کو مرزا قادیانی کی طرح غلطیوں کا مرتکب قرار دے رہے ہیں۔ جسے ہم سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

خالد...... خیر اس بات کو جانے دیجئے۔ میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ آپ ذرا انصاف فرمائیں جب مرزا قادیانی نے خود اپنے آپ کو حضرت مسیح کا مثیل قرار دیا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ حضرت مسیح کو ایسے ناپاک افعال کا مرتکب قرار دیں کیا کوئی عقلمند اپنے آپ کو اس چیز سے مماثلت دے سکتا ہے جو خود اس کے نکتہ نگاہ سے ناپاک اور گندی ہو؟

ظہور...... گو اس کا جواب بھی پہلے ہو چکا ہے۔ مگر تاہم چونکہ آپ کے نزدیک یہ ایک نیا اعتراض ہے جو قدرے معقول ہے۔ اس لئے میں مولانا اختر سے درخواست کروں گا کہ وہ اس کا جواب ضرور دیں۔

اختر...... جناب! یہ بھی کوئی معقول اعتراض نہیں ہے۔ اگر معقول ہوتا تو میں اس کا جواب بھی دیتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ معترض مرزا قادیانی کی تصانیف سے واقف نہیں ہیں۔ اگر تصانیف سے کچھ واقف ہیں تو پھر مرزا قادیانی کی دورنگی سے واقف نہیں ہوں گے۔ بھلا وہ بھی کوئی اعتراض ہے جس کا جواب خود مرزا قادیانی کی تصانیف سے نہ مل سکے۔ آپ یہ فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی مثیل مسیح ہو کر انہیں کیسے برا بھلا کہہ سکتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے تو محض اس لئے مسیح علیہ السلام کو برا بھلا کہا ہے کہ خود ان سے بہتر بننا چاہتے تھے۔ چنانچہ ان کا دعویٰ بھی ہے کہ میں عیسیٰ بن مریم سے افضل ہوں اور وہ میرے مقابلہ میں کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ (نعوذ باللہ)

٢٤

صفحہ ٤١١

جمیل......سچ مچ ان کا یہی دعوی تھا۔

اختر......یقیناً۔ میں ان کی تصانیف سے یہ ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں۔

حمید......تو پھر خالد صاحب کیوں فرماتے ہیں کہ وہ مثیل مسیح ہونے کے مدعی......

اختر......یہ اس لئے کہ مرزا صاحب نے کیا کیا دعوے کئے اور وہ کتابوں میں کیا کچھ لکھ گئے۔ یہ تو محض تبلیغ اسلام کا ڈھول پیٹ رہے ہیں تاکہ مرکز میں کسی بہانے سے پیسے آتے رہیں اور لوگ اسلام کے نام پر صدقے رہیں۔

جمیل......اچھا مولانا آپ مرزا قادیانی کے وہ دعاوی پیش کریں جس میں انہوں نے اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل قرار دیا ہے۔

اختر......لیجئے۔ سن لیجئے ان حوالوں سے ایک تو خالد صاحب کے اس اعتراض کا جواب بھی ہو جائے گا۔ دوسرے اصل بحث پر روشنی بھی پڑ جائے گی کہ مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی کس کس رنگ میں توہین کی ہے۔

حضرت مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠) پر لکھتے ہیں:

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تابنہد پایہ ممبرم

یعنی میں (مرزا) حسب بشارت آگیا ہوں۔ عیسیٰ کہاں ہے کہ میرے ممبر پر قدم رکھے۔ سبحان اللہ! کیا شان استغنا ہے اور لطف یہ کہ پھر اس کے مثیل ہونے کا دعویٰ بھی ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی حماقت ہو سکتی ہے؟ لیجئے اور سنئے! اس پر ارشاد ہوتا ہے:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

کیوں یہاں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے یا اس سے بہتر اور افضل ہونے کا؟ آپ سب تعلیم یافتہ بیٹھے ہیں۔ خود فیصلہ کرلیں۔

جمیل......فیصلہ کیا کریں۔ لفظ خود بتارہے ہیں کہ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔

اختر......ہاں! اگر ان الفاظ میں اگر کچھ شک رہ گیا ہو تو یہ لیجئے (کشتی نوح ص ٥٦، خزائن ج ١٩ ص ٦٠) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔

٢٥

صفحہ ٤١٢

اگر مسیح بن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہوئے وہ ہرگز نہ دکھا سکتا۔“

فرمائیے؟ کیا یہاں بھی یہ کہنے کی کچھ گنجائش ہے کہ مرزا قادیانی نے عیسائیوں کو جواب دینے اور اسلام کے فضائل بیان کرنے کے لئے ان کے مزعومہ مسیح کی توہین کی ہے۔

حمید...... بھلا کوئی پوچھے کہ آپ نے وہ کون کون سے نشان دکھائے جو مسیح نہیں دکھا سکے؟

اختر...... یہ الگ سوال ہے اور اس کا جواب بھی ہو سکتا ہے کہ محمدی بیگم والے آسمانی نکاح کا نشان جو مرزا قادیانی نے دکھایا وہ مسیح نہ دکھا سکا اور عبداللہ پٹواری کے کپڑوں پر خدا تعالیٰ کی سرخ سیاہی کا نشان جو مرزا قادیانی نے دکھایا وہ مسیح نہ دکھا سکا اور نہ دکھا سکے گا۔ علیٰ ہذا القیاس ہپنوٹزم بیسیوں نشانات اور خرافات ہیں جو حضرت مرزا قادیانی ہی سے مخصوص ہیں اور یقیناً وہ کسی میں بھی موجود نہیں۔ مگر یہاں ان سے بحث نہیں۔ یہاں تو صرف مجھے یہ دکھانا ہے کہ مرزا قادیانی بقول خالد مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ نہیں کر رہے ۔ بلکہ افضل از مسیح ہونے کے مدعی ہیں اور اس میں ان کے ذم کا پہلو بھی ہے۔

خالد...... مولانا آپ عمداً اس کو دوسرا رنگ دے رہے ہیں ورنہ مرزا قادیانی کا مقصد تو اس سے صرف عیسائیوں کو اسلام کی فضیلت جتلانا تھا۔

اختر...... جناب من! اگر اسلام کی فضیلت جتلانا مقصود ہوتا تو عیسائیت پر اسلام کی فضیلت جتلانی چاہئے تھی نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی ذاتی فضیلت۔

اگر آپ مذہب عیسائیت پر مذہب اسلام کی فضیلت بیان فرماتے ان کے عقائد کا اپنے عقائد سے مقابلہ کرتے تو یقیناً آپ یہ کہنے میں حق بجانب ہوتے۔ مگر یہاں تو خرابی یہ ہے کہ ”مدعی سست اور گواہ چست“ مرزا قادیانی تو اپنے ذاتی کمالات اور نشانات کا مقابلہ مسیح ابن مریم سے کرنا چاہتے ہیں اور آپ ہیں کہ ناحق اسے موڑ توڑ کر تبلیغ اسلام کی طرف کھینچ لے جانا چاہتے ہیں۔

حمید...... خالد صاحب! آج آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ خدارا یہ جنبہ داری اور عصبیت چھوڑ دیجئے اور کم از کم کوئی بات تو معقول کیجئے تا کہ سوسائٹی میں آپ کی وکالت کی توہین تو نہ ہو۔

خالد...... بھائی آخر ہم انہیں اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ ان کی حمایت بھی تو ہمارا فرض ہے۔

٢٦

صفحہ ٤١٣

جمیل ...... حمید صاحب جانے دیجئے اس تذکرہ کو۔ آج انشاء اللہ ہم یہاں سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر کے اٹھیں گے۔

اختر ...... اچھا اب آگے چلئے اور مرزا قادیانی کی کتاب (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) پڑھئے۔ آپ ارقام فرماتے ہیں: ”اے عیسائی مشنریو! اب اپنا مسیح مت کہو اور دیکھو آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“

حمید ...... بیشک ان عبارات سے تو یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اپنی فضیلت کا اعلان کر رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آیا وہ ایسا کریں بھی تو کیا شرعاً یہ ناجائز ہے؟

اختر ...... جی ہاں! شریعت اسلامیہ میں یقیناً ناجائز ہے۔ ہاں اگر مرزا قادیانی کوئی نئی شریعت لائے ہوں تو ممکن ہے وہاں جواز کی کوئی گنجائش نکل آئے۔ مگر حدیث شریف میں تو اس قسم کے ایک واقعہ کا ذکر ہے کہ ایک یہودی اور ایک مسلمان میں کچھ تکرار ہو گئی۔ یہودی نے کہا ہمارے نبی موسیٰ علیہ السلام آپ کے رسول ﷺ سے افضل ہیں۔ مسلمان کو طیش آ گیا اس نے اسے ایک گھونسہ رسید کیا اور کہا کہ حضور سرور کونین ﷺ کے مقابلہ میں موسیٰ علیہ السلام کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ بڑھتے بڑھتے بات محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی۔ یہودی نے دعویٰ کیا کہ مسلمان نے ناحق مجھے پیٹا ہے۔ مسلمان کو یہ خیال تھا کہ حضور ﷺ میری پاسداری کریں گے۔ کیونکہ میں نے آپ ہی کی حمایت میں مارا ہے۔ مگر جب رسول کریم ﷺ اصل حقیقت سے آگاہ ہوئے تو آپ نے الٹا مسلمان کو ڈانٹا اور اسے معافی مانگنے پر مجبور کیا اور پھر فرمایا: ”لا تفضلونی علی موسٰی“ (مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو) (اس لئے کہ اس میں ان کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔) اللہ اللہ وہ رسول پاک (جس کی غلامی اور امت میں ہونے پر مرزا غلام احمد کو بھی ناز ہے) تو یہ فرمائے کہ مجھے کسی پر فضیلت نہ دو کہ مبادا اس سے کسی کی توہین نہ ہو۔ مگر بخلاف اس کے مرزا قادیانی ہیں کہ ”مان نہ مان میں تیرا مہمان“ فضیلت ملے یا نہ ملے ۔ مگر آپ ہی اپنے منہ ”میاں مٹھو“ بن رہے ہیں۔ حضور پرنور ﷺ کو خود خدا رب العزت دو جہاں کی سرداری عطا فرما رہا ہے اور انبیاء عظام کا بھی امام بنا رہا ہے۔ مگر آپ ہیں کہ انکسار سے جھکے جاتے ہیں اور جب بحکم خدا اصل حقیقت صحابہ کو بتاتے ہیں تو ساتھ ساتھ ”ولا فخر“ فرماتے جاتے ہیں کہ میں اس پر فخر نہیں کرتا خدا تعالیٰ نے ہی مجھے عزت بخشی ہے۔

٢٧

صفحہ ٤١٤

صحیحین کی ایک حدیث ہے جس کے یہ الفاظ ہیں: ”لا تفضلوا بين انبياء اللہ“ یعنی (انبیاء میں سے کسی کو کسی پر فضیلت نہ دو) (مطلب یہ کہ کہیں دوسروں کو تم میلی نظر سے نہ دیکھنے لگو۔)

منظور ...... یہ سب کچھ صحیح ہے مگر مرزا قادیانی نے بھی تو فخر کے طور پر نہیں لکھا بحکم خدا حقیقت نفس الامری سے عیسائیوں کو مطلع کیا ہے۔

اختر ...... اگر صرف یہ کہہ کر مطلع کر دیا جاتا کہ میں ان سے افضل ہوں تب تو کوئی بات بھی نہ ہوتی۔ مگر غضب تو یہ ہے کہ بار بار ان کی تنقیص کی جارہی ہے اور ایسی ایسی باتیں ان کی طرف منسوب کی جارہی ہیں جو کسی مسلمان کے منہ سے نہیں نکل سکتیں۔

جمیل ...... تو کیا ابھی اس سے بڑھ کر بھی اور کچھ لکھا ہے؟

اختر ...... جی ہاں ! یہ تو ابھی ”مشتے نمونہ از خروارے“ پیش کیا ہے۔ اگر میں مرزا قادیانی کی سب عبارات آپ کے سامنے پیش کروں تو شاید آپ توبہ توبہ پکار اٹھیں۔

حمید ...... ہاں ہاں کیجئے۔ حرج کیا ہے۔ کم از کم ہم کو مرزا قادیانی کی کارستانیوں کا تو پورا پورا علم ہو جائے گا۔

اختر ...... اچھا سنئے، ایک دفعہ کسی نے مرزا قادیانی کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ حضور آپ فرماتے ہیں کہ ”میں مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہوں جو نشانات میں دکھا سکتا ہوں وہ کیسے دکھا سکتے تھے۔“ ان کے متعلق تو قرآن کریم میں یہ مذکور ہے کہ وہ نابیناؤں کو بینا (اندھوں کو سوجاکھا) اور کوڑھیوں کو اچھا بھلا کر دیتے تھے۔ کیا آپ بھی یہ سب کچھ کر سکتے ہیں؟ مرزا قادیانی نے سوچا کہ اب پھنسے۔ سائل تو اس سے بڑھ کر نشان طلب کرے گا اور میں وہ بھی دکھانے سے عاجز ہوں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ مسیح ابن مریم کے ان معجزات سے انکار کر دیا جائے اور کہا جائے کہ وہ بے چارہ یہ کیسے دکھا سکتا تھا۔ چنانچہ اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٣١٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) پر صاف لکھتے ہیں:

”حضرت مسیح کے معجزات (عمل الترب) یعنی مسمریزم کے طریق سے تھے۔ ایسے عملوں سے کاملین پرہیز کیا کرتے ہیں۔ میں اگر اس کو مکر اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ سے قوی امید رکھتا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ تھا۔“

اُس عبارت میں مرزا قادیانی نے چار چیزیں وضاحت سے بیان کر دی ہیں۔ اول! یہ

٢٨

١٥

کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے خدا کی طرف سے مسمریزم کہا جاسکتا ہے۔ دوم! یہ کہ وہ کاملین میں سـ مکر کی باتیں ہیں جو قابل نفرت ہیں۔ چہارم! یہ کہ کچھ نہیں سمجھتے۔

فرمائیے کہ اس سے منظور صاحب کا عبارت سے مسیح ابن مریم کی توہین بھی سمجھی جائے گی

خالد ...... مولانا مرزا قادیانی نے تمام معجزات کو ہے جو خلاف عقل ہیں۔

اختر ...... واہ، آپ گریجویٹ ہو کر یہ کیا فرما رہے بے خبر ہیں؟ یاد رکھئے معجزہ کہلاتا ہی وہ ہے جس کے معجزہ کی حقیقت کیا جانیں جن کا نبی ساری عمر میں کو

جمیل ...... اگر وہ نبی ہوتا وہ کوئی معجزہ دکھاتا۔ جب کے مسلمان بھی نہیں تھا) تو پھر معجزہ کیسے دکھا سکتا تھا

اختر ...... کیوں جناب آپ نے بقول میرے کیو باصطلاح علماء کافر کہا ہے۔ میں نے تو پہلے سے یہ

جمیل ...... آپ کہیں یا نہ کہیں۔ مذکورہ بالا حوالوں ارتکاب کر کے مسلمان بھی نہیں رہے۔

اختر ...... مسلمان رہیں یا نہ رہیں۔ ہمیں اس سے کیـ خواہ اس سے مسلمان رہیں یا کافر ہو جائیں۔ ہاں دے سکتے ہیں۔ مجھے یا آپ کو یہ حق حاصل نہیں ہـ

ظہور ...... خیر اب آگے چلئے۔ کوئی اور حوالہ بھی پیش

اختر ...... خالد صاحب نے فرمایا تھا کہ مرزا قادیـ عیسائیوں کی پیش کردہ خلاف عقل باتوں سے اٹھـ دیتا ہوں جس میں صاف طور پر مرزا قادیانی نے

٢٩

صفحہ ٤١٥

کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے خدا کی طرف سے نہ تھے۔ بلکہ اکتسابی تھے۔ جسے باصطلاح جدید مسمریزم کہا جاسکتا ہے۔ دوم ! یہ کہ وہ کاملین میں نہ تھے۔ ایک دکاندار شخص تھے۔ سوم ! یہ کہ یہ سب مکر کی باتیں ہیں جو قابل نفرت ہیں۔ چہارم ! یہ کہ ہم تو کاملین میں سے ہیں اور ان عجوبہ نمائیوں کو کچھ نہیں سمجھتے۔

فرمایئے کہ اس سے منظور صاحب کا اعتراض حل ہوا یا نہیں اور مرزا قادیانی کی اس عبارت سے مسیح ابن مریم کی توہین بھی سمجھی جائے گی یا نہیں؟

خالد.....مولانا مرزا قادیانی نے تمام معجزات سے انکار نہیں کیا بلکہ صرف انہی باتوں سے انکار کیا ہے جو خلاف عقل ہیں۔

اختر .....واہ، آپ گریجویٹ ہوکر یہ کیا فرمارہے ہیں؟ کیا ابھی تک آپ معجزہ کے مفہوم سے بھی بے خبر ہیں؟ یادرکھئے معجزہ کہلاتا ہی وہ ہے جس کے سامنے انسانی عقل دنگ رہ جائے۔ بھلا آپ معجزہ کی حقیقت کیا جانیں جن کا نبی ساری عمر میں ایک معجزہ بھی نہیں دکھاسکا۔

جمیل .....اگر وہ نبی ہوتا وہ کوئی معجزہ دکھاتا۔ جب وہ حقیقت میں نبی ہی نہیں تھا۔ (اور بقول آپ کے مسلمان بھی نہیں تھا) تو پھر معجزہ کیسے دکھاسکتا تھا۔

اختر .....کیوں جناب آپ نے بقول میرے کیوں کہا؟ میں نے کب مرزا قادیانی کو غیر مسلم یا باصطلاح علماء کافر کہا ہے۔ میں نے تو پہلے سے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ ان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگاؤں گا۔

جمیل .....آپ کہیں یا نہ کہیں۔ مذکورہ بالا حوالوں سے تو یہی آشکار ہورہا ہے کہ وہ توہین انبیاء کا ارتکاب کرکے مسلمان بھی نہیں رہے۔

اختر .....مسلمان رہیں یا نہ رہیں۔ ہمیں اس سے کیا۔ ہم تو ان کی چیز ان کے منہ پر مار رہے ہیں۔ خواہ اس سے مسلمان رہیں یا کافر ہو جائیں۔ ہاں خاتمہ پر جن کو آپ نے منصف مانا ہے وہ فیصلہ دے سکتے ہیں۔ مجھے یا آپ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ فیصلہ دیں۔

ظہور .....خیر اب آگے چلئے۔ کوئی اور حوالہ بھی پیش کرنا ہو تو کیجئے۔

اختر .....خالد صاحب نے فرمایا تھا کہ مرزا قادیانی نے تمام معجزات سے انکار نہیں کیا۔ صرف عیسائیوں کی پیش کردہ خلاف عقل باتوں سے انکار کیا ہے۔ مگر لیجئے اب تو آپ کو ایک ایسا حوالہ دیتا ہوں جس میں صاف طور پر مرزا قادیانی نے کل معجزات سے انکار کردیا ہے۔ حضرت اپنی

٢٩

صفحہ ٤١٧

کتاب (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) کے حاشیہ پر لکھتے ہیں:

”عیسائیوں نے بہت سے یسوع کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“

کہئے خالد صاحب! اب کیا ارشاد ہے؟ ذرا مولانا منظور الحسن سے مشورہ کر کے جواب دیجئے گا۔

حمید ...... اس کا کچھ جواب ہوگا تو دیں گے۔ آپ فرمائیں مرزا قادیانی نے اور کیا لکھا ہے۔

اختر ...... ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو مرزا قادیانی کے کلمات طیبات سننے کا بہت شوق ہے۔ مگر خیال رہے کہ اگر میں سب کے سب بیان کرتا گیا تو آپ اکتا جائیں گے۔

جمیل ...... خیر آپ اس کی پرواہ نہ کریں۔ آج چھٹی کا دن ہے۔ سب بیکار ہیں۔ شام تک یہیں رہیں گے اور مرزا قادیانی کی اندرونی تصویر سے پورے واقف ہو کر اٹھیں گے۔ ہمیں تو صرف بیرونی تصویر دکھائی جاتی تھی کہ انہوں نے خدمت اسلام میں یہ کیا۔ وہ کیا۔ مگر آج معلوم ہو رہا ہے کہ جس قدر اسلام کے بنیادی اصولوں پر انہوں نے کلہاڑیاں چلائی ہیں، کوئی دشمن بھی اس قدر نہیں کر سکتا۔

اختر ...... الحمد للہ کہ اب آپ کو اس کا احساس ہو رہا ہے۔ خدا کرے کہ تمام تعلیم یافتہ لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو جائے اور وہ بیرونی تصویر دیکھنے کی بجائے اندرونی تصویر دیکھنے کی زیادہ کوشش کرنے لگیں۔

حمید ...... بات دراصل یہ ہے کہ آج تک علمائے اہلسنت والجماعت نے اس طرف رخ نہیں کیا۔ وہ صرف مسائل میں الجھتے رہے اور اب تک برابر حیات ممات اور ختم نبوت وغیرہ مسائل ہی میں بحث کر رہے ہیں۔ جسے آج کل کے نیو فیشن اور جنٹلمین لوگ پسند نہیں کرتے۔ اگر وہ اس طرف متوجہ ہو جائیں اور مرزا قادیانی کی اندرونی تصویر یعنی ان کی ہجو قسم تحریرات تعلیم یافتہ طبقہ میں پھیلائیں تو یقیناً قادیانیت کی یہ رو نہ صرف آئندہ کے لئے تھم جائے بلکہ ہمیشہ کے لئے دب جائے۔

خالد ...... واہ حمید صاحب! آپ کو تو ہم نے منصف مانا تھا۔ مگر آپ اب یکطرفہ فیصلہ کرنے لگے۔ یہ آئین انصاف کے خلاف ہے۔

٣٠

حمید ...... بھائی جان! اسی لئے میں نے کہا تھا کہ صرف سے باتیں سنتے رہیں گے (چنانچہ اب تک وہ نہایت طبیعت کا مالک ہوں۔ جو بات سنتا ہوں اس پر فوراً اپنی اگر آپ نے مجھے منصف مانا ہے تو میرا فیصلہ اب بھی یہی مولانا اختر کے ایک اعتراض کا بھی معقول جواب نہیں د صفائی پیش کی ہے۔ مرزا قادیانی کی تحریرات اردو میں ہو کا پہلو آشکار ہے۔

منظور ...... بس بھائی خالد اسی لئے مجھے بلا کر لائے تھ قادیانی ہو جائیں گے۔ میں نے انہیں بالکل تیار کر رکھا پڑھے لکھے قادیانی ہو جائیں۔

حمید ...... مولانا آپ خالد صاحب کو کچھ نہ کہیں۔ وہ س جانے میں کوئی حرج نہیں۔ مگر آج کی گفتگو نے مجھے مر نہیں چاہتا کہ اب کوئی لکھا پڑھا آدمی اپنے آپ کو قادیا

جمیل ...... اچھا بھائی! یہ باتیں پھر ہو جائیں گی۔ ذرا م مولانا اختر تو بہت سی کتابیں ساتھ لائے ہوئے ہیں۔

اختر ...... اچھا سنئے۔ مرزا قادیانی اپنی مشہور کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں:

”غرض حضرت عیسیٰ کا یہ اجتہاد غلط نکلا اس افسوس ہے کہ جس قدر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہ میں نہیں پائی جاتی۔“

لیجئے یہاں مرزا قادیانی عیسائیوں کے یسو السلام کہہ کر فرما رہے ہیں کہ ان کے اجتہادات میں اس انبیاء میں سے کوئی بھی اتنی غلطیاں نہیں کر سکتا۔ یا بالفا حضرت عیسیٰ علیہ السلام وحی الٰہی سمجھنے سے قاصر تھے او پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کو بھی عالم الغیب ہونے کے باو

٣١

صفحہ ٤١٧

حمید ...... بھائی جان ! اسی لئے میں نے کہا تھا کہ صرف ظہور الحسن کو منصف رہنے دو۔ وہ خاموشی سے باتیں سنتے رہیں گے (چنانچہ اب تک وہ نہایت سکون سے سن رہے ہیں) مگر میں جوشیلی طبیعت کا مالک ہوں۔ جو بات سنتا ہوں اس پر فوراً اپنی رائے کا اظہار کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ اگر آپ نے مجھے منصف مانا ہے تو میرا فیصلہ اب بھی یہی ہے اور بعد میں بھی یہی ہو گا کہ آپ نے مولانا اختر کے ایک اعتراض کا بھی معقول جواب نہیں دیا اور نہ ہی مرزا قادیانی کی طرف سے کوئی صفائی پیش کی ہے۔ مرزا قادیانی کی تحریرات اردو میں صاف اور عام فہم ہیں۔ جن میں توہین انبیاء کا پہلو آشکار ہے۔

منظور ...... بس بھائی خالد اسی لئے مجھے بلا کر لائے تھے آپ تو کہتے تھے کہ حمید صاحب ضرور قادیانی ہو جائیں گے۔ میں نے انہیں بالکل تیار کر رکھا ہے اور کیا عجب کہ ان کے ساتھ اور بھی کئی پڑھے لکھے قادیانی ہو جائیں۔

حمید ...... مولانا آپ خالد صاحب کو کچھ نہ کہیں۔ وہ سچے ہیں۔ میرا خیال یہی تھا کہ قادیانی ہو جانے میں کوئی حرج نہیں۔ مگر آج کی گفتگو نے مجھے مرزا قادیانی سے از حد متنفر کر دیا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اب کوئی لکھا پڑھا آدمی اپنے آپ کو قادیانی کہلائے۔

جمیل ...... اچھا بھائی! یہ باتیں پھر ہو جائیں گی۔ ذرا مرزا قادیانی کے کچھ حوالجات اور سن لیجئے۔ مولانا اختر تو بہت سے کتابیں ساتھ لائے ہوئے ہیں۔

اختر ...... اچھا سنئے۔ مرزا قادیانی اپنی مشہور کتاب (اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥) پر ارشاد فرماتے ہیں:

"غرض حضرت عیسیٰ کا یہ اجتہاد غلط نکلا اصلی وحی صحیح ہوگی۔ مگر سمجھنے میں غلطی کھائی۔ افسوس ہے کہ جس قدر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہادات میں غلطیاں ہیں، اس کی نظیر کسی نبی میں نہیں پائی جاتی۔"

لیجئے یہاں مرزا قادیانی عیسائیوں کے یسوع کا ذکر نہیں کر رہے۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہہ کر فرما رہے ہیں کہ ان کے اجتہادات میں اس قدر غلطیاں ہیں کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے کوئی بھی اتنی غلطیاں نہیں کر سکتا۔ یا بالفاظ دیگر یوں کہہ لیجئے کہ بقول مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام وحی الٰہی سمجھنے سے قاصر تھے اور اگر اس سے کچھ اور بھی اوپر بڑھیں تو یہ کہنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کو بھی عالم الغیب ہونے کے باوجود انتخاب نبوت میں غلطی ہو گئی جو حضرت

٣١

صفحہ ٤١٩

عیسیٰ علیہ السلام جیسے کند ذہن آدمی کو نبی بنا دیا (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ) اور لطف یہ ہے کہ اس عبارت میں صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی توہین نہیں کی گئی بلکہ دیگر انبیاء کو بھی ساتھ لپیٹ لیا گیا ہے کہ وہ بھی اکثر غلطیاں کیا کرتے تھے۔

جمیل...... معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی خدا واسطے کی دشمنی ہے جو اس قدر ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

حمید...... ہاں! مولانا ذرا یہ بھی تو بتا دیجئے کہ وہ کیوں اور کس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس قدر دریدہ دہنی سے کام لے رہے ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

اختر ...... وجہ کیا؟ رقابت سمجھ لیجئے مرزا قادیانی کا خیال تھا کہ میں انہیں برا بھلا کہہ کر لوگوں کی نظروں سے گرا دوں گا اور خود ان کی جگہ لے لوں گا۔ چنانچہ اسی لئے یہ سب پاپڑ بیلے گئے اور صاف طور پر کہہ دیا گیا کہ:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑ دو اُس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

چنانچہ ایک دوسرے مقام پر آپ ارشاد فرماتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (چشمہ مسیحی ص ٢٣، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٤) ”اور میں عیسیٰ مسیح کو ہرگز ان امور پر اپنے پر کوئی زیادت نہیں دیکھتا۔ یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا۔ ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں۔ میں یقینی طور پر ان معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں بلکہ ان سے زیادہ۔“

لیجئے صاحب! یہاں تو یہ بھی فرما دیا کہ مجھ پر خدا کا کلام نازل ہوا۔ اب حضرت خالد سے وہ کلام جو نازل ہوا تھا کہاں گیا اور کیا ہوا؟

خالد ...... وہ برابر چھپتا رہا اور اب بھی ان کی کتابوں میں موجود ہے۔

اختر ..... کیا مرزا قادیانی کا یہ کلام اور بقول آپ کے ان کی تصنیفات و مطبوعہ کتب کتاب مسیح یعنی انجیل کے مساوی درجہ رکھتی ہیں۔ انجیل کے متعلق تو مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ الہامی کتاب ہے کیا اسی طرح مرزا قادیانی کی جملہ کتب کے متعلق آپ کا یہ خیال ہے کہ وہ سب کی سب الہامی ہیں۔

خالد ...... نہیں جناب ہم سب کی سب کتب کو تو الہامی نہیں کہتے ۔ بلکہ جو جو الہامات ہوئے ہیں۔ انہیں الہامی کہتے ہیں۔

٣٢

اختر ...... آخر کسی ایک کتاب کا نام بھی تو لیجئے جس کتاب کہا جاسکے۔

جمیل ...... جی مولانا ! آپ خواہ مخواہ انہیں مجبور کر رہ لیں۔ مرزا قادیانی سے خود تو یہ غلطی ہو گئی کہ الہامات انجیل پیش کی جاسکتی۔

حمید ..... بھئی خالد ! حقیقت الوحی کا نام کیوں نہیں لکھی گئی ہے۔

خالد ...... نہیں صاحب ! اسے بھی الہامی کتاب نہیں کوئی کتاب لکھی ہی نہیں جو صرف الہامات کا مجموعہ

اختر ..... آپ جانتے ہیں کہ خالد صاحب کیوں اِس کسی ایک کتاب کا نام لے دیا تو اس پر جھٹ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ ان میں بھ چلو تم سب مل کر خالد صاحب کو مجبور کرو کہ مرزا اعتراض نہ کر سکے۔

حمید ...... ہاں بھئی خالد ! کیا بات ہے۔ چلو جرأت سے کسی ایک کتاب کا نام لو جس پر یہ اعتراض نہ کر

جمیل...... ہاں ہاں یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہم ابھی سے اختر صاحب کو پکڑ لیں گے۔

منظور ...... چلو بھئی ہم حقیقت الوحی کو ہی پیش کر ثابت کریں۔

خالد ...... گو ہم اسے وہ مرتبہ تو نہیں دیتے جو اخ ہے کہ معترض صاحب نے باوجود اس قدر حو حقیقت الوحی سے پیش نہیں کیا اور نہ ہی انشاء الل

جمیل ...... واقعی حمید صاحب ! مولانا اختر نے حالانکہ مرزا قادیانی کی دیگر بیسیوں کتب کے حو

صفحہ ٤١٩

اختر ...... آخر کسی ایک کتاب کا نام بھی تو لیجئے جس میں سب الہامات جمع ہوں اور اس کا الہامی کتاب کہا جاسکے۔

جمیل ...... جی مولانا! آپ خواہ مخواہ انہیں مجبور کر رہے ہیں۔ وہ بے چارے اب کس کتاب کا نام لیں۔ مرزا قادیانی سے خود تو یہ غلطی ہوگئی کہ الہامات کسی ایک کتاب میں جمع نہ کر سکے کہ وہ بمقابلہ انجیل پیش کی جاسکتی۔

حمید ...... بھئی خالد ! حقیقت الوحی کا نام کیوں نہیں لیتے آخر وہ تو صرف وحی اور الہام ہی کی بناء پر لکھی گئی ہے۔

خالد ...... نہیں صاحب ! اسے بھی الہامی کتاب نہیں کہا جاسکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ایسی کوئی کتاب لکھی ہی نہیں جو صرف الہامات کا مجموعہ ہو۔

اختر ...... آپ جانتے ہیں کہ خالد صاحب کیوں اس سے گریز فرمارہے ہیں۔ محض اس لئے کہ اگر کسی ایک کتاب کا نام لے دیا تو اختر جھٹ سے اس پر اعتراض کر دے گا اور اسی کے حوالہ جات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ ان میں بھی توہین کا پہلو موجود ہے۔ اگر یہ بات نہیں ہے تو چلو تم سب مل کر خالد صاحب کو مجبور کرو کہ مرزا قادیانی کی کسی ایسی کتاب کا نام لیں جس پر کوئی اعتراض نہ کر سکے۔

حمید ...... ہاں بھئی خالد ! کیا بات ہے۔ چلو جرأت کرو اور مرزا قادیانی کی سینکڑوں تصنیفات میں سے کسی ایک کتاب کا نام لو جس پر یہ اعتراض نہ کرسکیں۔

جمیل ...... ہاں ہاں یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اگر اس کتاب سے توہین انبیاء کا کوئی پہلو نہ نکلا تو ہم ابھی سے اختر صاحب کو پکڑ لیں گے۔

منظور ...... چلو بھئی ہم حقیقت الوحی کو ہی پیش کر دیتے ہیں۔ پروفیسر صاحب اس سے توہین انبیاء ثابت کریں۔

خالد ...... گو ہم اسے وہ مرتبہ تو نہیں دیتے جو اختر صاحب ہم سے منوانا چاہتے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معترض صاحب نے باوجود اس قدر حوالہ جات پیش کرنے کے ابھی تک ایک حوالہ بھی حقیقت الوحی سے پیش نہیں کیا اور نہ ہی انشاء اللہ کر سکیں گے۔

جمیل ...... واقعی حمید صاحب! مولانا اختر نے ابھی تک حقیقت الوحی کا کوئی حوالہ پیش نہیں کیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی کی دیگر بیسیوں کتب کے حوالہ جات پیش کر چکے ہیں۔

٣٣

صفحہ ٤٢١

حمید....... بھائی اختر! تو تم نے بھی کڑی لگائی۔ اب دیکھیں کہ پروفیسر صاحب حقیقت الوحی سے بھی کوئی حوالہ پیش کرسکتے ہیں یا نہیں؟

ظہور....... کہئے کہئے اختر صاحب اگر کوئی حوالہ ہے تو پیش کیجئے ورنہ ہم آپ کے خلاف فیصلہ دے دیں گے۔

اختر....... جی ہاں! ابھی آپ کو فیصلہ دینا یاد آیا۔ دو گھنٹے خاموش بیٹھے رہے، مگر ابھی پانچ منٹ نہیں گزرے کہ اکتا گئے اور جھٹ سے فیصلہ دینے پر آ گئے۔

جمیل....... نہیں نہیں، یہ تو مزاح تھا۔ فیصلہ اتنی جلد کیوں دیں گے؟ آپ فرمائیں کہ حقیقت الوحی سے کوئی توہین انبیاء کا پہلو نکلتا ہے بھی یا نہیں؟

اختر....... کیوں نہیں۔ لیجئے سنئے اور نمبر وار سنئے : ”مسیح ابن مریم کے نام سے خاص طور پر مجھے مخصوص کر کے وہ میرے پر رحمت اور عنایت کی گئی جو اس پر نہیں کی گئی تا کہ لوگ سمجھیں کہ فضل خدا کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)

خالد....... تو اس میں کون سا توہین کا پہلو ہے۔ یہ تو ایک بدیہی چیز ہے۔

اختر....... جی ہاں! آپ کے نزدیک تو بہت بدیہی چیزیں ہیں اور کسی ایک جگہ بھی توہین کا رنگ نہیں ہے۔ مگر یہ فیصلہ منصفوں اور لکھے پڑھے لوگوں نے دینا ہے کہ کیا اس میں توہین ہے یا نہیں؟

منظور....... نہ پروفیسر صاحب! آخر کچھ تو بتائیے کہ اس میں کیا توہین ہے؟

اختر....... واہ مولانا آپ بھی خالد صاحب کے ساتھ ہو گئے۔ کیا آپ بھی یہ نہیں سمجھ سکے؟ فرض کیجئے کہ میں اور خالد صاحب ایک ہی دفتر میں کلرکی کا کام کر رہے ہیں۔ مگر افسر بالا خالد صاحب پر نظر عنایت رکھتا ہے اور ان کو وسیع اختیارات دے دیتا ہے یا بالفاظ دیگر وہ ہیڈ کلرک کہلاتے ہیں اور ہم انہیں کے برابر تعلیم رکھنے والے، انہیں کے برابر تنخواہ لینے والے ان کے ماتحت سمجھے جاتے ہیں اور خالد صاحب جگہ جگہ فخریہ اسے بیان کرتے پھرتے ہیں۔ کیا اس میں ہماری توہین کا کوئی پہلو ہے یا نہیں؟

منظور....... بھلا اس میں توہین کیا ہے؟ جب افسر نے اسے ہیڈ کلرک بنا دیا تو اس میں خالد غریب کا کیا قصور؟

اختر....... جی ہاں! یہ تو جب ہے کہ ہم افسر بالا کا حکم دیکھ لیں کہ اس نے خالد کو یہ عہدہ دے دیا اور

٣٤

اگر خالد خود بخود ہی یہ کہتا پھرے اور درحقیقت افسر بالا سے ا

جمیل....... ہاں ایسی صورت میں تو یقیناً خالد مجرم ہوگا۔

اختر....... بس یہی ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو نے تجھے نوازا اور مسیح ابن مریم پر فوقیت دے دی ہے۔ اب بلکہ خدا تعالیٰ کا تو ارشاد ہے کہ: ”لا نفرق بین احد من اس قسم کی تفریق کو روا نہیں رکھتے۔“

جمیل....... کہئے مولانا منظور الحسن صاحب اس کا جواب کیا ہ

منظور....... اس کا جواب کوئی مشکل نہیں ہے۔ ہم ثابت کر افضل تھے۔

اختر....... مگر یہ تو جب آپ ثابت کریں جب مرزا قادیانی ک ان کی نبوت ہی کے قائل نہیں چہ جائیکہ عیسیٰ علیہ السلام سے

اس وقت تو بحث صرف یہ ہے کہ آیا مرزا قادیا نہیں کہ انہوں نے مختلف انداز سے انبیاء کی توہین کی ہے ج

جمیل....... ہاں اگر اس وقت مولانا منظور الحسن یا خالد ص قرآن مجید میں یہ فرمایا ہے کہ ہم نے مرزا قادیانی کو یسوع ہو سکتے ہیں۔

حمید....... قرآن مجید میں تو اس کا ذکر کیونکر ہو سکتا ہے۔ ہا دیا گیا ہو تو الگ بات ہے۔

اختر....... وہ تو اس عبارت کو بھی الہامی عبارت کہہ دیں ابھی قائل ہی نہیں ہوئے جس طرح ان کی نبوت کا موض کے الہامات پر بھی الگ گفتگو ہو سکتی ہے۔ اس وقت تو جنہیں ہم سب آسمانی کتابیں سمجھتے ہیں۔ کوئی خدا تعالیٰ

حمید....... کیا خالد صاحب آپ خدا کا کوئی ایسا حکم جس پیش کر سکتے ہیں؟

خالد....... چلئے چھوڑیئے اس بحث کو۔ اختر صاحب حقیق

٣٥

صفحہ ٤٢١

اگر خالد خود بخود ہی یہ کہتا پھرے اور در حقیقت افسر بالا سے اسے کوئی ایسا حکم نہ ملا ہو تو پھر ؟

جمیل ...... ہاں ایسی صورت میں تو یقیناً خالد مجرم ہوگا۔

اختر ...... بس یہی ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ میں نے تجھے نوازا اور مسیح ابن مریم پر فوقیت دے دی ہے۔ اب تو جہاں چاہے فخریہ اسے بیان کیا کر۔ بلکہ خدا تعالیٰ کا تو ارشاد ہے کہ: ”لا نفرق بين احد من رسله“ (یعنی ہم انبیاء کے درمیان اس قسم کی تفریق کو روا نہیں رکھتے۔)

جمیل ...... کہئے مولانا منظور الحسن صاحب اس کا جواب کیا ہے؟

منظور ...... اس کا جواب کوئی مشکل نہیں ہے۔ ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی یسوع مسیح سے افضل تھے۔

اختر ...... مگر یہ تو جب آپ ثابت کریں جب مرزا قادیانی کو ہم نبی مان لیں۔ ہم تو ابھی سرے سے ان کی نبوت ہی کے قائل نہیں چہ جائیکہ عیسیٰ علیہ السلام سے افضل سمجھیں۔

اس وقت تو بحث صرف یہ ہے کہ آیا مرزا قادیانی کی تحریرات سے یہ ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں کہ انہوں نے مختلف انداز سے انبیاء کی توہین کی ہے؟

جمیل ...... ہاں اگر اس وقت مولانا منظور الحسن یا خالد صاحب یہ ثابت کر دیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ فرمایا ہے کہ ہم نے مرزا قادیانی کو یسوع مسیح پر ترجیح دی ہے تو پھر وہ حق بجانب ہو سکتے ہیں۔

حمید ...... قرآن مجید میں تو اس کا ذکر کیونکر ہو سکتا ہے۔ ہاں اگر کسی الہام میں مرزا قادیانی کو یہ کہہ دیا گیا ہو تو الگ بات ہے۔

اختر ...... وہ تو اس عبارت کو بھی الہامی عبارت کہہ دیں گے۔ ہم مرزا قادیانی کے الہامات کے تو ابھی قائل ہی نہیں ہوئے جس طرح ان کی نبوت کا موضوع الگ بحث طلب ہے۔ اسی طرح ان کے الہامات پر بھی الگ گفتگو ہو سکتی ہے۔ اس وقت تو منظور صاحب صرف قرآن یا انجیل سے جنہیں ہم سب آسمانی کتابیں سمجھتے ہیں۔ کوئی خدا تعالیٰ کا حکم یا آرڈر دکھائیں تو ہم مان سکتے ہیں۔

حمید ...... کیا خالد صاحب آپ خدا کا کوئی ایسا حکم جس سے فضیلت مرزا پر مسیح کی ثابت ہو سکے، پیش کر سکتے ہیں؟

خالد ...... چلئے چھوڑیئے اس بحث کو ۔ اختر صاحب حقیقت الوحی سے کوئی اور حوالہ پیش کریں۔

٣٥

صفحہ ٤٢٣

اختر ...... لیجئے سنئے ، مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١) کے حاشیہ پر لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا مسئلہ عیسائیوں نے محض اپنے فائدہ کے لئے گھڑا تھا کیونکہ ان کی پہلی آمد میں ان کی خدائی کا کوئی نشان ظاہر نہ ہوا، ہر دفعہ مار کھاتے رہے۔“

کیوں جناب! اس عبارت میں بھی کوئی توہین کا پہلو ہے یا نہیں؟

خالد ...... بالکل نہیں! یہ امر واقعہ ہے کہ انہیں مار پڑتی رہی۔

اختر ...... کیا دیگر انبیاء کرام کو مخالفین کی طرف سے ایذائیں نہیں پہنچیں؟ اگر پہنچیں اور یقیناً پہنچیں تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تخصیص کیسی؟ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو ان سے کوئی خاص عداوت ہے جو بار بار ان کی توہین کرتے ہیں۔

جمیل ...... اچھا مولانا اور فرمائیے۔

اختر ...... لیجئے (حقیقت الوحی ص ١٥٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧) پر یوں لکھا ہے: ”حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں۔“

جمیل ...... واہ، واہ سبحان اللہ! وہ فطرتی طاقتیں کیا تھیں؟ ذرا ان کی تشریح تو فرمائیے۔

اختر ...... اس کی تشریح خالد صاحب سے پوچھئے۔ میرا کام تو صرف اتنا ہے کہ مرزا قادیانی کی تصنیفات سے وہ عبارتیں پیش کر دوں جن سے بمقابلہ دیگر انبیاء کے ان کی اپنی بڑائی یا برتری ثابت ہو۔

جمیل ...... ہاں خالد صاحب اس عبارت سے تو واقعی یہ ثابت ہورہا ہے کہ مرزا قادیانی کو وہ چیزیں دی گئیں جو عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں دی گئیں اور تحریر کا لہجہ بھی کچھ اسی کا پتہ دے رہا ہے۔ مگر آپ یہ تو بتائیں کہ وہ فطرتی قوتیں کون کون سی تھیں؟

خالد ...... اجی یہ تو ظاہر ہے کہ انہوں نے نہ بیوی کی نہ بچے ہوئے اور مرزا قادیانی کے ہاں خدا کا فضل سے ایک چھوڑ دو دو تین تین بیویاں کیں۔ بچے بھی ہوئے اور یہی سب سے بڑی فطرتی طاقت ہے جو یسوع مسیح میں نہیں تھی۔

جمیل ...... مگر پروفیسر صاحب نے جو پہلے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) کا حوالہ دیا تھا۔ جس میں مرزا قادیانی نے یہ لکھا ہے کہ: ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے۔“

٣٦

اگر خدانخواستہ (بقول مرزا قادیانی) اس ہے کہ ان میں فطرتی قوتیں موجود تھیں۔ مگر یہاں ت مرزا قادیانی ارشاد فرما رہے ہیں کہ ”انہیں وہ فطرتی دیجئے اس بات کو اب زیادہ طول نہ دیجئے۔ مرزا قادی

جمیل ...... اچھا مولانا کوئی اور حقیقت الوحی کا حوالہ بھ

اختر ...... کیوں نہیں؟ آپ جتنے چاہیں حوالے لیتے حضرت مرزا قادیانی میں کوئی مادہ تانیث ہے جو حض

حمید ...... اچھا فرمائیے مگر عبارت اس سے بھی زیادہ کو بھی شک نہ رہے۔

اختر ...... لیجئے جناب! مرزا قادیانی اسی حقیقت الو ہیں: ”اور ہزار کوشش کی جائے اور تاویل کی جائے کے بعد کوئی ایسا نبی بھی آنے والا ہے کہ جب لوگ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف کو چھوڑ کر عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں وہ شراب پیئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام

حمید ...... واقعی یہاں تو مرزا قادیانی نے غضب کر میں مسلمانوں کے عقیدہ نزول مسیح کا خاکہ کھینچا ہے

منظور ...... ایچ پیچ کی ضرورت کیا تھی۔ چونکہ یہ عق قادیانی نے بھی اس پر تمسخر اڑایا ہے۔

اختر ...... مولوی منظور صاحب آپ خلط مبحث نہ کر کی بحث نہیں۔ اگر آپ کو شوق ہوگا تو اس پر بھی ب ہوں۔ مگر اس وقت تو صرف مجھے یہ دکھانا ہے ک لکھتے ہیں کہ ذم کا پہلو پیدا ہو جاتا ہے۔ آپ تو ہیں۔ مگر بخدا ہمارے نزدیک تو وہ اتنی عقل بھی نہی رکھتے کہ کام بھی ہو جائے اور کسی کا دل بھی نہ د

صفحہ ٤٢٤

اگر خدانخواستہ (بقول مرزا قادیانی) اسے صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں فطرتی قوتیں موجود تھیں۔ مگر یہاں (حقیقت الوحی ص ١٥٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧) میں مرزا قادیانی ارشاد فرما رہے ہیں کہ ”انہیں وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں۔“ خالد صاحب جانے دیجئے اس بات کو اب زیادہ طول نہ دیجئے۔ مرزا قادیانی نے نہ معلوم یہ کس رنگ میں لکھ دیا ہے۔

جمیل ....... اچھا مولانا کوئی اور حقیقت الوحی کا حوالہ بھی ہے؟

اختر ....... کیوں نہیں؟ آپ جتنے چاہیں حوالے لیتے چلے جائیں۔ آخر پیچھے لکھنے والے رئیس القلم حضرت مرزا قادیانی ہیں کوئی ماشا تھوڑے ہیں جو حوالے ختم ہو جائیں۔

حمید ....... اچھا فرمائیے مگر عبارت اس سے بھی زیادہ صاف اور واضح ہونی چاہئے تا کہ خالد صاحب کو بھی شک نہ رہے۔

اختر ....... لیجئے جناب! مرزا قادیانی اسی حقیقت الوحی (ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١) پر ارقام فرماتے ہیں: ”اور ہزار کوشش کی جائے اور تاویل کی جائے یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی بھی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پیئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے خلاف حرام کی کچھ پرواہ نہیں کرے گا۔“

حمید ....... واقعی یہاں تو مرزا قادیانی نے غضب کر دیا اور نہایت شرمناک طریق سے بدترین الفاظ میں مسلمانوں کے عقیدہ نزول مسیح کا خاکہ کھینچا ہے اور اس میں کوئی ایچ پیچ نہیں رکھا۔

منظور ....... ایچ پیچ کی ضرورت کیا تھی۔ چونکہ یہ عقیدہ ہی باطل اور خلاف عقل ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے بھی اس پر تمسخر اڑایا ہے۔

اختر ....... مولوی منظور صاحب آپ خلط مبحث نہ کریں۔ نزول مسیح کا عقیدہ صحیح ہو یا غلط، یہاں اس کی بحث نہیں۔ اگر آپ کو شوق ہو گا تو اس پر بھی میں نہایت آزادی سے بحث کرنے کے لئے تیار ہوں۔ مگر اس وقت تو صرف مجھے یہ دکھانا ہے کہ مرزا قادیانی جو کچھ بھی لکھتے ہیں اس انداز سے لکھتے ہیں کہ ذم کا پہلو پیدا ہو جاتا ہے۔ آپ تو مرزا قادیانی کو بڑا انشا پرداز اور رئیس القلم سمجھتے ہیں۔ مگر بخدا ہمارے نزدیک تو وہ اتنی عقل بھی نہیں رکھتے کہ اپنے مافی الضمیر کو اس انداز سے بیان کر دیں کہ کام بھی ہو جائے اور کسی کا دل بھی نہ دکھے۔

٣٧

صفحہ ٤٢٥

جمیل...... بلکہ ان حوالجات سے میں تو یہ سمجھا ہوں کہ عمداً دوسروں کا دل دکھانا چاہتے ہیں اور دیدہ دانستہ ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے تحقیر کا پہلو نکلے۔

اختر...... تحقیر کا پہلو کیا معنی؟ صاف طور پر تحقیر پائی جاتی ہے۔ دیکھو یہ ہے میرے پاس اخبار الحکم جو مرزا قادیانی کا خاص اخبار ہے۔ اس کی ٢١ فروری ١٩٠٢ء کی اشاعت میں لکھا ہے : ”اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسیٰ نوجوان لڑکیوں سے ملا کرتا تھا اور ایک بازاری فاحشہ عورت اس کے سر پر عطر ملا کرتی تھی۔ عیسیٰ ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا اور اس کے حسن و جمال کی تعریف اپنے استاد کے سامنے کی تو اس نے اس کو اپنے پاس سے ہٹا دیا۔“

(ملفوظات ج ٣ ص ١٤٧)

جمیل...... توبہ توبہ کس قدر بے حیائی ہے اور کس دیدہ دلیری سے لکھا گیا ہے۔ یہاں تو یہود کا عقیدہ نہیں بلکہ اپنا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے اور یوں کہا جا رہا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں۔

اختر...... اور لطف یہ ہے کہ ان حرکات کا نتیجہ بھی مرزا قادیانی نے خود ہی قلمبند فرما دیا ہے تا کہ ان کے کیریکٹر پر کسی کو شک و شبہ نہ رہے۔ آپ اپنی کتاب (انجام آتھم ص ١٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) پر لکھتے ہیں: ”بلکہ حضرت یسوع صاحب نے نہایت درجہ کی ذلت دیکھی۔ منہ پر تھوکا گیا اور آپ کے اس حصہ جسم پر کوڑے لگائے گئے جہاں مجرموں کو لگائے جاتے ہیں اور حوالات میں کیا گیا۔“

منظور...... مجھے تو یہی کہنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی نے یہ جو کچھ لکھا ہے محض عیسائیوں کے جواب میں لکھا ہے۔ کیونکہ وہ جب آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمے کہتے اور تحریروں میں لکھتے تھے تو مرزا قادیانی کو بھی جواباً ایسا لکھنا پڑا۔

اختر...... آپ کے اس ارشاد کے جواب میں مجھے بھی پھر وہی کہنا پڑے گا جو پہلے کہہ آیا ہوں بلکہ مرزا قادیانی ہی کے الفاظ میں کہ : ”کسی مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی ﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے (عاجزانہ درخواست)“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٣٢)

مرزا قادیانی تو بقول آپ کے نبی تھے۔ جب ایک مسلمان سے یہ نہیں ہو سکتا تو کسی نبی سے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ دوسرے نبی کی توہین کرے۔

جمیل...... خالد صاحب آخر انصاف بھی کوئی چیز ہے۔ خدارا تعصب چھوڑ کر اور مرزا قادیانی کی عقیدت کو دو منٹ کے لئے الگ رکھ کر انصاف کرو اور پھر کہو کہ آیا اتنے حوالوں میں سے کسی ایک آدھ حوالہ میں بھی توہین کا پہلو نکلتا ہے یا نہیں؟ ٣٨

خالد...... بھائی میں سوچ رہا ہوں کہ اگر کوئی ایسا حوالہ ہو ہوئی تو میں خود بخود آپ کو کہہ دوں گا۔

اختر...... اچھا لیجئے اب اور حوالے سنئے۔ مرزا قادیانی ا لکھتے ہیں : ”عیسیٰ جو آوارہ بد اخلاق متکبر جھوٹا تھا۔ ایک ہے۔ چہ جائیکہ اس کو انبیاء میں شمار کیا جائے۔“

فرمائیے ! اس میں تو یسوع کا نام نہیں آیا ب ہے اور پھر بطور ریمارک کے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ بعید ا نہیں چہ جائیکہ اس کو انبیاء میں شمار کیا جائے۔ اب سو مانتے ہیں یا نہیں؟

خالد...... ہاں ہم تو نبی مانتے ہیں۔

اختر...... تو پھر مرزا قادیانی نے انہیں کیوں صف انبیاء

حمید...... خالد صاحب اب مجھے بھی آپ سے کہنا پڑ اور مرزا قادیانی کی محبت اور عقیدت میں اس قدر عبارت کی بھی تاویل کر رہے ہیں۔

جمیل...... حمید صاحب ! آپ کیوں کہتے ہیں وہ خو انشاء اللہ وہ آج ضرور کوئی نہ کوئی فیصلہ کر کے یہاں

اختر...... تو اچھا اور سنئے۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آ ہیں : ”کذب وافتراء عیسیٰ کی فطرت میں داخل تھا لیکن اس کو عقل نہیں دی گئی۔ اس کی بے عقلی کی دلیل بہر حال عیسیٰ علمی اور عملی دونوں پہلوؤں سے کمزور

اب کون کہہ سکتا ہے کہ یہ عبارت بھی مستعار لی گئی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مرزا قادیانی کو قادیانی نے ایسا نہیں کیا۔

جمیل...... وہ ایسا تو تب کرتے جب ان کی نیت علیہ السلام کی طرف سے میلا تھا۔ اس لئے بلا خو

صفحہ ٤٢٥

خالد...... بھائی میں سوچ رہا ہوں کہ اگر کوئی ایسا حوالہ ہوا جس میں صراحتاً کسی نبی کی توہین ثابت ہوئی تو میں خود بخود آپ کو کہہ دوں گا۔

اختر ...... اچھا لیجئے اب اور حوالے سنئے۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) پر لکھتے ہیں: ”عیسیٰ جو آوارہ بد اخلاق متکبر جھوٹا تھا۔ ایک شریف انسان کہلوانے کا بھی مستحق نہیں ہے۔ چہ جائیکہ اس کو انبیاء میں شمار کیا جائے۔“

فرمائیے ! اس میں تو یسوع کا نام نہیں آیا۔ بلکہ صاف طور پر مرزا قادیانی نے عیسیٰ لکھا ہے اور پھر بطور ریمارک کے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ بوجہ اپنی بد اخلاقی کے انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں چہ جائیکہ اس کو انبیاء میں شمار کیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا آپ عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں یا نہیں؟

خالد ...... ہاں ہم تو نبی مانتے ہیں۔

اختر ...... تو پھر مرزا قادیانی نے انہیں کیوں صف انبیاء سے خارج کر دیا ہے؟

حمید ...... خالد صاحب اب مجھے بھی آپ سے کہنا پڑے گا کہ آپ انصاف سے کام نہیں لے رہے اور مرزا قادیانی کی محبت اور عقیدت میں اس قدر اندھے ہو گئے ہیں کہ ایک صاف اور واضح عبارت کی بھی تاویل کر رہے ہیں۔

جمیل ...... حمید صاحب! آپ کیوں کہتے ہیں وہ خود اسے محسوس کر رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ انشاء اللہ وہ آج ضرور کوئی نہ کوئی فیصلہ کر کے یہاں سے اٹھیں گے۔

اختر ...... تو اچھا اور سنئے۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) پر یوں گوہر افشاں ہیں: ”کذب وافتراء عیسیٰ کی فطرت میں داخل تھا۔ اس نے اپنے یہودی استاد سے تورات پڑھی لیکن اس کو عقل نہیں دی گئی۔ اس کی بے عقلی کی دلیل یہ ہے کہ استاد نے اس کو اچھی تعلیم نہیں دی۔ بہر حال عیسیٰ علمی اور عملی دونوں پہلوؤں سے کمزور اور دماغی خلل میں مبتلا تھا۔“

اب کون کہہ سکتا ہے کہ یہ عبارت بھی بائبل سے نقل کی گئی ہے۔ یا یہود نامسعود سے مستعار لی گئی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مرزا قادیانی کو ان کا حوالہ دے دینا چاہئے تھا۔ مگر کہیں بھی مرزا قادیانی نے ایسا نہیں کیا۔

جمیل ...... وہ ایسا تو تب کرتے جب ان کی نیت نیک ہوتی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دل خود عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے میلا تھا۔ اس لئے بلاخوف و خطر ایسا لکھتے چلے گئے۔

٣٩

صفحہ ٤٢٦

اثر..... اچھا اور سنئے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩، ٢٩٠) پر حضرت مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”بلکہ میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ جن جن پیشگوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت تورات میں پایا جانا آپ نے فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں آپ کا نام ونشان نہیں پایا جاتا۔ وہ اوروں کے حق میں تھیں جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہوگئیں اور نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے لیکن جب یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں ۔“

اب خود فرمائیے کہ اس عبارت میں کس تحدی سے مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام پر دو الزام لگائے ہیں۔ اول یہ کہ وہ گالیاں دیا کرتے تھے اور اسی وجہ سے مار کھایا کرتے تھے۔ دوم یہ کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آسمانی کتاب میں بھی جھوٹ کی ملاوٹ کردی۔ نعوذ باللہ

حمید..... سبحانک ہذا بہتان عظیم!

جمیل..... کیوں بھئی خالد! اسے بھی جھوٹ سمجھو گے یا نہیں؟

خالد..... بھئی مجھے کچھ نہ پوچھو اب مولانا منظور الحسن صاحب کو مخاطب کرو یہ ہم میں سے عالم ہیں۔ یہی اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں۔

حمید..... تو گویا آپ کا مبلغ علم اب ختم ہوچکا اور تاویلات رکیکہ کا دروازہ بند ہو گیا۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو اب سوچنے کی توفیق دی ہے۔ کیونکہ انسان جبھی کسی چیز کو بغور سوچ سکتا ہے جب بالکل خالی الذہن ہو جائے۔ یعنی دونوں طرف کی محبت یا خوف دل سے نکال دے۔ امید ہے اب آپ جلد راہ راست پر آ جائیں گے۔

جمیل..... ہاں تو مولانا منظور صاحب ! اب آپ ہی فرمائیں کہ اس عبارت کی کیا تاویل کریں گے یا پھر چپکے سے وہی کہہ دیں گے کہ دراصل یہ بھی یہودی کا قول نقل کیا گیا ہے۔

منظور..... ہاں! بات تو یہی ہے کہ یہ قول بھی یہودی کا ہے۔ میں تو خالد صاحب کی طرح متذبذب نہیں ہوسکتا۔

جمیل..... نہ نہ آپ مترلزل نہ ہوں۔ آپ تو انجمن احمدیہ کے تنخواہ دار مبلغ ہیں۔ خالد صاحب تو آنریری تھے۔ اس لئے وہ تو سوچ بچار سے کام لے کر غلامی کا طوق گلے سے اتار سکتے ہیں۔ مگر

٤٠

صفحہ ٤٢٧

آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ کیونکہ پیسے ملتے ہیں نہ پیسے!

حمید...... خیر یہ بات تو الگ رہی۔ مولانا منظور مجھے ذرا یہ بتائیے کہ آیا یہود نا مسعود کے واحد اجارہ دار یعنی ایجنٹ صرف مرزا قادیانی ہی ہیں یا کوئی اور بھی؟

منظور...... یہ آپ نے کیا فرمایا؟ میں نہیں سمجھا۔

حمید...... نہیں یہ عرض کر رہا ہوں کہ جب پروفیسر اختر صاحب کوئی حوالہ پیش کرتے ہیں تو آپ بجز اس کے اور کچھ نہیں فرماتے کہ مرزا قادیانی نے یہ یہودیوں کے خیالات یا اقوال نقل کر دیئے ہیں۔ اب اس پر میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان میں اور دیگر بلاد اسلامیہ میں اور بھی سینکڑوں عالم ہوئے ہیں۔ جو وقتاً فوقتاً عیسائیوں کی تردید کرتے رہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ کیا وہ بھی اسی طرح الزامی جواب میں عیسیٰ علیہ السلام کو معاذ اللہ زانی شرابی، چور، دغا باز، حرام کار وغیرہ وغیرہ ثابت کرنے کے لئے یہودیوں کے اقوال کی پناہ لیا کرتے ہیں۔ یا یہ ڈیوٹی صرف مرزا قادیانی ہی سے متعلق ہے کہ وہ ہندوستان بھر کے لئے یہودیوں کے سول ایجنٹ ہیں۔

خالد...... مولانا آپ حمید صاحب کی بات کو نہیں سمجھے۔ یہ بہت دور کی کوڑی لا رہے ہیں۔

جمیل...... جی ہاں مولانا کاہے کو سمجھیں گے۔ وہ دودھ پیتے بچے تھوڑے ہیں۔ سب کچھ سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں۔ مگر اور کوئی نام معلوم ہو تو بتائیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ہندوستان میں تو کوئی ایسا عالم نہیں گزرا جس نے عیسائیوں کو جواب دیتے ہوئے بجائے دلیل و برہان کی تلوار استعمال کرنے کے یہودیوں کے اقوال کی پناہ لی ہو۔

منظور...... کیوں نہیں جناب میں آپ کو ایسے نام بتا سکتا ہوں کہ انہوں نے بھی ایسے ہی الزامی جواب دیئے۔

جمیل...... ہاں ہاں فرمائیے دیر کیا ہے؟ حمید صاحب یہی تو آپ سے دریافت کر رہے ہیں۔

منظور...... سنئے مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی لکھتے ہیں: ”ہمراہ جناب مسیح بسیار زنان ہمراہ مے گشتند و مال خود مے خورانیدند و زنان فاحشہ پاپائے آنجناب را مے بوسیدند۔“

حمید...... ذرا مجھے دکھائیے یہ کون سی کتاب ہے جس میں مولانا رحمت اللہ صاحب مرحوم مہاجر مکی نے یہ ارقام فرمایا ہو۔

منظور...... یہ کتاب جو میں پڑھ رہا ہوں۔ حضرت مرزا قادیانی کی تصنیف ہے۔ مولانا رحمت مہاجر کی اصل کتاب نہیں ہے۔

٤١

صفحہ ٤٢٨

حمید...... تو آپ گویا ہمیں دھوکا دے رہے ہیں۔ جب تک آپ مولانا رحمت اللہ مہاجر کی اصل کتاب پیش نہ کریں ہم اسے تسلیم نہیں کر سکتے۔

اختر...... ممکن ہے مرزا قادیانی نے مولانا رحمت اللہ مرحوم پر بھی افتراء جڑ لیا ہو۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو آخر اس فن کے ماہر ہیں کہ بات کسی نے کہی ہو، یا نہ کہی ہو۔ خود بخود ہی اس کے سر چپک جاتے ہیں۔

جمیل...... کیا سچ مچ مرزا قادیانی ایسا بھی کر دیا کرتے ہیں؟

اختر...... بخدا میں غلط نہیں کہہ رہا۔ اگر منظور صاحب اس موضوع پر بھی کچھ سننا چاہیں تو میں دو چار دس بیس نہیں بلکہ سینکڑوں ایسے حوالے پیش کر سکتا ہوں کہ اصل کتاب میں وہ ندارد ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے ان کتب کا حوالہ دے کر اپنا الو سیدھا کر لیا ہے۔

جمیل...... کم از کم ایک آدھ بطور مشتے نمونہ از خروارے تو سنا دیجئے۔

ظہور...... نہیں جناب! میں بحیثیت صدر مجلس و منصف ہونے کے اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ کیونکہ یہ گفتگو خارج از بحث ہے۔ ہاں اگر آپ کو شوق ہو تو اس گفتگو کے بعد یہ چیز بھی سن لیں۔

حمید...... آمدم بر سر مطلب۔ مولانا صاحب! کم از کم آپ اس کتاب کا نام ہی بتا دیجئے جس میں مولانا رحمت مرحوم نے یہ عبارت لکھی ہو اور مرزا قادیانی نے اس سے یہ عبارت نقل کی ہو۔

منظور...... اس وقت مجھے اس کتاب کا نام یاد نہیں اور نہ ہی وہ اصل کتاب میری نظر سے گزری ہے۔

حمید...... تو اچھا کسی اور مصنف کا پتہ دیجئے۔ جس نے مرزا قادیانی کی طرح عیسائیوں کو الزامی جواب دیئے ہوں اور اس قسم کی لغو و بے ہودہ عبارتیں مرزا قادیانی نے لکھی ہیں انہوں نے بھی نقل کی ہوں۔

منظور...... عیسائیوں کو اس قسم کے الزامی جواب تو بہت سے لوگوں نے دیئے ہیں۔ مگر اس وقت وہ مجھے یاد نہیں ہیں۔

جمیل...... اگر کوئی ہوں تو آپ کو یاد بھی ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے گندہ لٹریچر پھیلانے کے سول ایجنٹ صرف مرزا قادیانی ہیں۔

خالد...... بھئی واقعی اگر مولانا منظور نے یہ ثابت نہ کیا تو میں مرزائیت سے تائب ہو جاؤں گا۔ کیونکہ آج تک اس چیز کی طرف میرا خیال ہی نہ گیا تھا۔

٤٢

صفحہ ٤٢٩

اختر ...... بھئی خالد تم تائب کیا ہوگے۔ میرا خیال ہے کہ اگر مرزا قادیانی بھی اس وقت زندہ ہوتے اور ان کے سامنے یہ چیز بیان کی جاتی تو وہ خود بھی تائب ہو جاتے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام نے صرف مسئلہ حیات و ممات اور ختم نبوت ہی کو موضوع بحث بنائے رکھا اور اس چیز کی طرف ان کا خیال تک نہ گیا۔ مجھے آج تک جس قدر دوستوں سے گفتگو کا موقع ملتا رہا ہے میں صرف اسی چیز کو ان کے سامنے پیش کرتا رہا ہوں اور اس قسم کی چند چیزیں اور بھی ہیں جنہیں میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

خالد ...... اچھا فی الحال آپ دوسری چیزوں کو تو رہنے دیں۔ اسی موضوع پر اگر کچھ اور کہنا چاہیں تو ارشاد فرمائیں۔

حمید ...... کیا ابھی اور کچھ سننا باقی ہے؟

جمیل ...... کیا حرج ہے۔ مولانا اختر جس قدر حوالہ جات پیش کر سکتے ہوں کرتے جائیں۔ ان کا ایمان مضبوط ہوتا جائے گا۔

اختر ...... اچھا لیجئے سنتے چلئے۔ ایک دفعہ حضرت مسیح کے ”کلام فی المہد“ کے متعلق گفتگو ہو رہی تھی۔ کسی نے کہا جناب یہ تو قرآن مجید میں بھی مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو سورۂ مریم: ”قالوا کیف نکلم من کان فی المہد صبیا“ تو مرزا قادیانی از راہ تحقیر فرماتے ہیں کہ میاں یہ کون سی بات ہے۔ اگر مسیح نے گود میں باتیں کی ہیں تو کیا ہوا۔ میرا یہ بیٹا پیٹ میں بھی باتیں کرتا رہا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے اصل الفاظ یہ ہیں: ”حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں۔ مگر (میرے) اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔“

(تریاق القلوب ص١٥٧، خزائن ج١٥ ص٢١٧)

حمید ...... واہ واہ! کیا کرامت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اس کی باتوں کو سن کیسے لیا؟ وہ کون سی ضروری باتیں تھیں جو بچہ پیٹ میں ہی کرنے لگا اور پیدا ہونے کا انتظار تک نہ کیا۔

اختر ...... خیر مجھے اس سے کیا؟ میں تو صرف یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی اگر کسی نبی کی کوئی ایسی بات سن پاتے جس سے اس کی فضیلت ظاہر ہوتی تو یہ گوارہ نہ کر سکتے اور جھٹ سے اپنی طرف بھی منسوب کرنے کی کوشش کرتے۔ خواہ اس سے نام ہو یا بدنامی۔

جمیل ...... جیسا کہ یہ بات لکھی ہے جو بالکل خلاف واقعہ اور خلاف عقل ہے۔

اختر ...... معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کچھ خدا واسطے کی دشمنی تھی کہ بات بنے یا نہ بنے ہر بات کے موقعہ پر آپ ان کا ذکر کر دیتے ہیں۔ چنانچہ (انجام آتھم ص٥١، خزائن

٤٣

صفحہ ٤٣١

ج ١ ص ٤١) پر ارشاد فرماتے ہیں: ”مریم کا بیٹا کھٹیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔“

جمیل ...... توبہ توبہ العیاذ باللہ! خالد صاحب کہئے یہ کون سا دھرم ہے۔

خالد ...... بھئی مجھے اب مخاطب نہ کرو۔ اب منظور صاحب ہی اس کا جواب دیں گے۔ میں تو ان حوالجات سے کبیدہ خاطر ہورہا ہوں۔

منظور ...... میں اس کا کیا جواب دوں۔ اختر صاحب محض تصویر کا ایک ہی رخ دیکھ رہے ہیں اور جن مقامات پر مرزا قادیانی نے انبیاء کرام اور بالخصوص حضرت مسیح کی تعریف وتوصیف کی ہے۔ ان کا ذکر تک نہیں کرتے۔

اختر ...... اجی حضرات میں کیوں ذکر کروں یہ تو آپ کا کام ہے۔ مثلاً اگر آپ کا یہ دعویٰ ہو کہ فلاں شخص بڑا خوبصورت ہے تو آپ ہی اس کی خوبصورتی کے دلائل دیں گے نہ کہ دوسرا جو اس کا قائل نہ ہو۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اگر آپ اس کی خوبصورتی کے ١٠٠ دلائل دیں مگر دوسرا یہ ثابت کردے کہ وہ کانا (ایک آنکھ ندارد) ہے تو آپ کے سب دعوے باطل ہو جائیں گے۔

جمیل ...... خوب بہت خوب! کیا واضح مثال ہے۔ اگر منظور صاحب اب بھی نہ سمجھیں تو پھر ان سے خدا سمجھے۔

منظور ...... آپ متعصبانہ رنگ میں یہ فرما رہے ہیں۔ اگر منصفانہ طور پر دیکھیں تو یقیناً حقانیت کو پا لیں۔

اختر ...... بخدا ہمیں آپ سے یا مرزا قادیانی سے کوئی تعصب نہیں ہے۔ ہمارا انہوں نے کیا بگاڑا ہے جو ہم ان سے تعصب رکھیں۔

حمید ...... ہاں مولانا آپ آگے فرمائیے۔ منظور صاحب تو اب یونہی منہ چڑا رہے ہیں۔

اختر ...... لیجئے اور سنئے۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) پر ارشاد فرماتے ہیں: ”ممکن ہے کہ آپ نے کسی معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو آپ کی بدقسمتی سے اس زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں۔ بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر وفریب کے کچھ نہ تھا۔“

٤٤

سن لیا آپ نے؟ یہ ہے مرزا قادیانی کا عقیدہ کھلے طور پر آپ نے فرما دیا اور ساتھ ہی ان آیات قرآ تصدیق موجود ہے۔

خالد ...... کیا مرزا قادیانی نے کسی اور جگہ بھی معجزات کا انکا

اختر ...... جی ہاں! کئی ایک جگہ۔ مگر یہ خارج از موضوع ہے

جمیل ...... آخر انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے؟

اختر ...... محض انہیں لوگوں کی نظر سے گرانے کے لئے۔ تا لوگ انہیں مجھ سے افضل نہ ماننے لگیں۔

جمیل ...... اچھا اس کے متعلق کچھ اور بھی ارشاد ہے؟

اختر ...... جی ہاں سنئے۔ حضرت قادیانی (ازالہ اوہام ص ٤١٣، خز سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں مرے گا۔“

جمیل ...... کیوں خالد صاحب! کیا اب اس سے بڑھ کر بھ

حمید ...... اس عبارت سے تو صاف پتہ چل رہا ہے کہ مر السلام سے افضل سمجھتے ہیں اور ان کو اپنے سے کمتر اور لغوت

اختر ...... اچھا اور لیجئے۔ مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ١٤ ”حضرت مسیح کے اجتہاد میں غلطی تھی اور ممکن ہے کہ شیا کر لیا۔“

منظور ...... ہاں ہاں ذرا آگے بھی پڑھئے۔

اختر ...... سنئے: ”اور میں نے شیطانی وسوسہ محض انجیل ک ہے کہ کبھی کبھی آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے۔“

منظور ...... دیکھا مرزا قادیانی نے صاف لکھ دیا ہے کہ ا بناء پر لکھا ہے۔

اختر ...... جی ہاں! یہاں تو بیشک لکھ دیا۔ مگر دوسرے اس لئے لکھا کہ الزام بہت بڑا تھا۔ کیونکہ نبوت مسیح کا

٤٥

صفحہ ٤٤١

سن لیا آپ نے؟ یہ ہے مرزا قادیانی کا عقیدہ معجزات مسیح کے متعلق۔ جس کا اظہار کھلے طور پر آپ نے فرمادیا اور ساتھ ہی ان آیات قرآنیہ کا انکار کردیا جن میں ان معجزات کی تصدیق موجود ہے۔

خالد ...... کیا مرزا قادیانی نے کسی اور جگہ بھی معجزات کا انکار کیا ہے؟

اختر ...... جی ہاں! کئی ایک جگہ۔ مگر یہ خارج از موضوع ہے۔ پھر کسی وقت یہ بھی سن لینا۔

جمیل ...... آخر انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے؟

اختر ...... محض انہیں لوگوں کی نظر سے گرانے کے لئے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا تو مقصد ہی یہ تھا کہ لوگ انہیں مجھ سے افضل نہ ماننے لگیں۔

جمیل ...... اچھا اس کے متعلق کچھ اور بھی ارشاد ہے؟

اختر ...... جی ہاں سنئے۔ حضرت قادیانی (ازالہ اوہام ص ٤٢ خزائن ج ٣ ص ١٠٤) پر فرماتے ہیں: ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مرگئے۔ مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں مرے گا۔“

جمیل ...... کیوں خالد صاحب! کیا اب اس سے بڑھ کر بھی اپنی کوئی بڑائی ہوسکتی ہے۔

حمید ...... اس عبارت سے تو صاف پتہ چل رہا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل سمجھتے ہیں اور ان کو اپنے سے کمتر اور لطف یہ کہ پھر ان کے مثیل بھی ہیں۔

اختر ...... اچھا اور لیجئے۔ مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ٢٤ خزائن ج ١٩ ص ١٣٢) پر ارقام فرماتے ہیں: ”حضرت مسیح کے اجتہاد میں غلطی تھی اور ممکن ہے کہ شیطانی وسوسہ ہو جس کے بعد آپ نے رجوع کرلیا۔“

منظور ...... ہاں ہاں ذرا آگے بھی بڑھئے۔

اختر ...... سنئے: ”اور میں نے شیطانی وسوسہ محض انجیل کی تحریر سے کہا ہے۔ کیونکہ انجیل سے ثابت ہے کہ کبھی کبھی آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے۔“

منظور ...... دیکھا مرزا قادیانی نے صاف لکھ دیا ہے کہ میں نے یہ جو کچھ لکھا ہے۔ انجیل کی تحریر کی بناء پر لکھا ہے۔

اختر ...... جی ہاں! یہاں تو بیشک لکھ دیا۔ مگر دوسرے مقامات پر اور کہیں نہیں لکھا۔ یہاں بھی محض اس لئے لکھا کہ الزام بہت بڑا تھا۔ کیونکہ نبوت مسیح کو شیطانی نبوت قرار دینا کوئی معمولی کام نہ تھا۔

٤٥

صفحہ ٤٣٣

اس لئے لکھا کہ مرزا قادیانی نے اپنی حسب عادت مگر پردہ انجیل کا اوڑھ لیا تاکہ مسلمان کہیں کھلے بندوں کفر کا فتویٰ نہ لگاویں۔

منظور ..... خیر یہ تو آپ کی تاویل ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی نے اکثر مقامات پر اس کا اظہار کر دیا ہے کہ میں عیسائیوں اور یہودیوں کے حوالجات سے ایسا لکھ رہا ہوں۔ میری اپنی یہ رائے نہیں ہے۔

اختر ...... اچھا اگر آپ مرزا قادیانی کی کسی کتاب سے یہ عبارت نکال دیں کہ ”میری یہ اپنی رائے نہیں ہے۔“ تو میں آپ کو سو روپیہ انعام دوں گا۔

جمیل ..... چلئے مولانا ١٠٠ روپے بیٹھے بٹھائے ملتا ہے۔ اب آپ کو اور کیا چاہئے؟

منظور ..... اس وقت تو کسی کتاب کا نام مجھے یاد نہیں ہے۔ البتہ تلاش کر کے آپ کو دکھا دوں گا۔

اختر ...... غلط بالکل غلط ۔ ناممکن ہے کہ آپ کی نوٹ بک میں اس کا حوالہ موجود ہو۔ حوالہ آپ نکالیں کتابیں حاضر ہیں۔

حمید ..... ہاں ہاں ٹھیک ہے۔ آپ مناظر ہیں۔ یقیناً آپ نے اس قسم کے حوالجات نوٹ کر رکھے ہوں گے۔ نکالئے اب دیر نہ کیجئے۔

خالد ..... معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کے پاس اس کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔ اس لئے تو کھسیانے سے ہو رہے ہیں۔

جمیل ..... کیوں خالد صاحب اب بھی کچھ سمجھے یا نہیں؟

خالد ..... بخدا میں تو حیران ہو رہا ہوں کہ آج مولانا منظور الحسن کو کیا ہو گیا یہ تو کسی کو دم تک نہ لینے دیتے تھے اور احمدیہ جماعت کے بہت بڑے مبلغ ومناظر تھے۔

حمید ..... جی ہاں مناظر تھے مگر یہاں تو کچھ سوال ہی ٹیڑھے ہو رہے ہیں۔ اگر ختم نبوت اور حیات ممات پر گفتگو ہوتی تو بیشک منظور صاحب بہت کچھ بولتے۔

خالد ..... میں نے سمجھ لیا کہ ان کے پاس پروفیسر اختر کے اعتراضات کا کوئی جواب نہیں ہے۔

منظور ...... واہ خالد صاحب آپ بھی بزدل ہی نکلے۔ اتنی جلد ہمت ہار گئے۔ میں جواب تو دے رہا ہوں کہ مرزا قادیانی نے یہ عیسائیوں کا عقیدہ ظاہر کیا ہے۔ اپنا عقیدہ بیان نہیں کیا۔

اختر ...... جی ہاں اس کا جواب تو میں بھی دو تین بار دے چکا۔ مگر اب مرزا قادیانی ہی کے الفاظ میں سنئے : ”اگر ایک مسلمان عیسائی عقیدہ پر اعتراض کرے تو اس کو چاہئے کہ اعتراض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان اور عظمت کا پاس رکھے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧١)

٤٦

کہئے کیا مرزا قادیانی اس قسم کے حوالجات دیتے ہو عظمت کا پاس رکھتے ہیں؟

جمیل ...... بھئی ابھی تک تو ہم نے ان کی عظمت کا پاس نہیں دیکھا۔ میں گستاخی ہی گستاخی دیکھی ہے۔

اختر ..... اور سنئے ، مرزا قادیانی کیا صاف لفظوں میں فرماتے ہیں: سبب سے عجیب تر حال ہے۔ بار بار انہوں نے کسی پیشگوئی کے معنی میں آیا۔“ (ازالہ اوہام ص ٦٩٠، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢) کیوں جی اب فر کب لکھا ہے کہ یہ بھی عیسائیوں کا عقیدہ ہے؟

منظور ..... گو لکھا تو نہیں مگر مضمون سے تو مترشح ہو رہا ہے کہ عیسائیوں

اختر ..... اللہ اللہ آپ کے ترشح کے بھی کیا کہنے! ذرا آگے پڑھئے مکاشفہ کچھ زیادہ صاف نہیں تھا اور کئی پیشگوئیاں ان کی بسبب غلط فہم

(ازالہ

حمید ..... یہ تو صاف مرزا قادیانی کی اپنی رائے معلوم ہو رہی ۔ دھرمی بھی کیا؟

اختر ...... اگر ابھی نہیں مانتے تو نہ سہی اور لیجئے امید ہے کہ چھ جائیں گے۔ مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١) پر لکھ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشگوئیاں صاف پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“

سنا حضور! یہاں تو عیسائیوں کے عقیدہ کا اظہار نہیں مسیح کے متعلق یہ لکھا ہے۔ بلکہ یہاں تو صاف طور پر عیسیٰ علیہ ال لیں کہ ان کے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ کہا جارہا ہے کہ اس کی خدا بھی ان کا پیچھا چھوڑ گیا اور وحی بھیج کر منکر ہو گیا اور عیسیٰ علیہ ا باللہ ثم نعوذ باللہ ۔ اور پھر لطف یہ کہ بجز مرزا قادیانی کے کوئی اس عقدہ کو حل کرے یا بالفاظ دیگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کر

جمیل ..... ہاں یہ عبارت تو اپنی شرح آپ ہی کر رہی ہے۔

٤٧

صفحہ ٤٤٣

کہئے کیا مرزا قادیانی اس قسم کے حوالجات دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت کا پاس رکھتے ہیں؟

جمیل...... بھئی ابھی تک تو ہم نے ان کی عظمت کا پاس نہیں دیکھا۔ بلکہ کھلے لفظوں میں ان کی شان میں گستاخی ہی گستاخی دیکھی ہے۔

اختر...... اور سنئے، مرزا قادیانی کیا صاف لفظوں میں فرماتے ہیں: ”حضرت مسیح کی پیش گوئیوں کا سب سے عجیب تر حال ہے۔ بار بار انہوں نے کسی پیشگوئی کے معنی کچھ سمجھے اور آخر کچھ اور ہی ظہور میں آیا۔“ (ازالہ اوہام ص ٦٩٠، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢) کیوں جی اب فرمائیے یہاں مرزا قادیانی نے کب لکھا ہے کہ یہ بھی عیسائیوں کا عقیدہ ہے؟

منظور...... گو لکھا تو نہیں مگر مضمون سے تو مترشح ہو رہا ہے کہ عیسائیوں کا ہی یہ عقیدہ تھا۔

اختر...... اللہ اللہ آپ کے ترشح کے بھی کیا کہنے! ذرا آگے پڑھئے صاف لکھا ہے: ”حضرت مسیح کا مکاشفہ کچھ زیادہ صاف نہیں تھا اور کئی پیشگوئیاں ان کی بہ سبب غلط فہمی کے پوری نہیں ہو سکیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٩٠، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)

حمید...... یہ تو صاف مرزا قادیانی کی اپنی رائے معلوم ہو رہی ہے منظور صاحب! آخر اتنی ہٹ دھرمی بھی کیا؟

اختر...... اگر ابھی نہیں مانتے تو نہ سہی اور لیجئے امید ہے کہ چند حوالجات اور پیش ہونے پر مان جائیں گے۔ مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١) پر لکھتے ہیں: ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشگوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“

سنا حضور! یہاں تو عیسائیوں کے عقیدہ کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی عیسائیوں کے یسوع مسیح کے متعلق یہ لکھا ہے۔ بلکہ یہاں تو صاف طور پر عیسیٰ علیہ السلام لکھ دیا ہے۔ تاکہ مسلمان سمجھ لیں کہ ان کے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کی تین پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں۔ یعنی خدا بھی ان کا پیچھا چھوڑ گیا اور وحی بھیج کر منکر ہو گیا اور عیسیٰ علیہ السلام جھوٹے ثابت ہوئے۔ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ۔ اور پھر لطف یہ کہ بجز مرزا قادیانی کے کوئی اس زمین پر یہ جرأت نہ کر سکا کہ اس عقدہ کو حل کرے یا بالفاظ دیگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کر سکے۔

جمیل...... ہاں یہ عبارت تو اپنی شرح آپ ہی کر رہی ہے۔

٤٧

صفحہ ٤٣٥

اختر....... اور سنئے مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣ حاشیہ ) پر یوں لکھتے ہیں :”یہ اعتقاد کہ مسیح عیسیٰ بن مریم مٹی سے چڑیا کی شکل کی چیز بنا کر اس میں اپنے دم سے روح ڈال دیتا تھا فاسد اور باطل ہے۔ بلکہ یہ مشرکوں کا اعتقاد ہے۔ کیونکہ عیسیٰ کے پاس عمل تراب کے سوا اور کچھ نہ تھا اور وہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو دھوکہ دیتا تھا۔ وہ اس حوض کی مٹی لایا تھا جس میں روح القدس کا اثر تھا اور اس مٹی کے کرشمے دکھا کر لوگوں کو سامری کی طرح فریب دیتا تھا۔“

اب غور فرمائیے کہ آیا اس عبارت میں بھی عیسیٰ علیہ السلام پر کوئی حملہ پایا گیا ہے یا نہیں؟

منظور....... اس میں حملہ کون سا ہے؟ یہ امر واقعہ ہے جس کا اظہار کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں کوئی چیز پیدا کرنے کی طاقت نہ تھی اور بجز خدا تعالیٰ کے کسی میں یہ قدرت ہے بھی نہیں۔

اختر....... بات تو ٹھیک ہے مگر یہ فرمائیے کہ جب خدا تعالیٰ خود ہی کسی سے یہ کام کرانا چاہے تو کرا سکتا ہے یا نہیں؟

منظور....... یہ قانون قدرت کے خلاف ہے۔ خدا تعالیٰ ایسا نہیں کیا کرتا۔

اختر....... کیا آپ معجزات کے منکر ہیں؟ انبیاء کرام کے جس قدر معجزے ہیں۔ وہ ظاہر بینوں کو تو قانون قدرت کے خلاف نظر آتے ہیں۔ حالانکہ قدرت کے قانون جو قدرت ہی کو معلوم ہیں، آپ اور ہم قانون مقرر کرنے والے کون؟

حمید....... مولانا قرآن مجید میں جو عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ آیا ہے: ”انی قد جئتکم بآیة من ربکم ، انی اخلق لکم من الطین کہیئة الطیر فانفخ فیه یکون طیرا باذن الله “ یعنی میں تمہارے پاس اپنے رب کی طرف سے ایک نشان لے کر آیا ہوں وہ یہ ہے کہ مٹی سے ایک جانور کی صورت بناتا ہوں۔ پھر اس کے اندر پھونکتا ہوں پس وہ اللہ کے حکم سے اڑنے والا ہو جاتا ہے۔ اب اس کا کیا مطلب ہے۔ ذرا اس کی تشریح تو کر دیجئے۔

منظور....... پروفیسر صاحب سے پوچھنے میں اس کی تشریح کیوں کروں؟

حمید....... پروفیسر صاحب تو وہی تشریح کریں گے جو قرآن کریم کے الفاظ سے ظاہر ہو رہی ہے۔ میں تو آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں جو اس کے منکر ہیں۔

جمیل....... قرآن کے صاف اور سلیس ترجمہ سے یہی پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا فرمایا تھا۔ مگر منظور صاحب بلکہ حضرت مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے

٤٨

سے تو انکاری تھے کیونکہ یہ قانون قدرت کے خلاف ہے ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام میں تو یہ قدرت نہ تھی (اگرچہ وہ خ میں یہ تاثیر ضرور تھی کہ اس سے جو جانور بنایا جاتا وہ اڑن

خالد....... خوب بہت خوب! جمیل صاحب نے عجیب ن صاحب! اس کا کیا جواب ہے کہ جب اس فعل کو حضر تو یہ مشرکانہ عقیدہ کہلائے اور قانون قدرت کے بھی خلا یا روح القدس کے اثر کا نتیجہ قرار دیا جائے تو یہ عین اسل جائے۔

منظور....... اگر اسے عیسیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا تو ش کہتے کہ عیسیٰ خود ایسا کرنے پر قادر ہے۔ مگر تالاب کی م تھا۔

خالد....... نہ مولانا یہ صحیح نہیں۔ اس بات میں مجھے بھ کسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام اس پر قاد مانتا ہو کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہوا اور عیسیٰ علی ہے یا کسی سے کرا دیتا ہے۔ ایسے شخص کے متعلق آ مٹی میں اس تاثیر کا پایا جانا کہ اس سے بولتا چالتا جانو ماتحت ہے۔ اگر کوئی یہ کہہ دے کہ مرزا قادیانی ن قدرت کے خلاف ہے تو اس میں کیا حرج ہے؟

حمید....... حرج ہو یا نہ ہو چونکہ وہ مرزا قادیانی کے پ ہی اصول ہے کہ جس بات میں مرزا قادیانی کی ب قرآن ہی کیوں نہ ہو اور جو چیز مرزا قادیانی کے خ کیوں نہ ہو۔

جمیل....... بس اب مولانا کا ناطقہ بند ہو گیا۔ چلئ

اختر....... (اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢) پ منظور صاحب نے یہ کہہ دیا کہ مرزا قادیانی ن

EASY

صفحہ ٤٣٥

سے تو انکاری تھے کیونکہ یہ قانون قدرت کے خلاف ہے۔ مگر ان کی اپنی عبارت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام میں تو یہ قدرت نہ تھی (اگرچہ وہ خدا داد ہی کیوں نہ ہو) مگر ایک تالاب کی مٹی میں یہ تاثیر ضرور تھی کہ اس سے جو جانور بنایا جاتا وہ اڑنے لگتا۔

خالد ...... خوب بہت خوب! جمیل صاحب نے عجیب سوال اٹھایا۔ کیوں جی مولانا منظور الحسن صاحب! اس کا کیا جواب ہے کہ جب اس فعل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جائے تو یہ مشرکانہ عقیدہ کہلائے اور قانون قدرت کے بھی خلاف ہو جائے۔ مگر جب اسے تالاب کی مٹی یا روح القدس کے اثر کا نتیجہ قرار دیا جائے تو یہ عین اسلامی عقیدہ اور قانون قدرت کے مطابق ہو جائے۔

منظور ...... اگر اسے عیسیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا تو خطرہ تھا کہ لوگ شرک میں مبتلا ہو جاتے اور کہتے کہ عیسیٰ خود ایسا کرنے پر قادر ہے۔ مگر تالاب کی مٹی اور روح القدس کے متعلق یہ احتمال نہیں تھا۔

خالد ...... نہ مولانا یہ صحیح نہیں۔ اس بات میں مجھے بھی آپ سے اختلاف ہے۔ اگر بقول آپ کے کسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام اس پر قادر ہیں تو وہ تو بیشک مشرک ہو سکتا ہے۔ مگر جو یہ مانتا ہو کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہوا اور عیسیٰ علیہ السلام کسی چیز پر قادر نہیں خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے یا کسی سے کرا دیتا ہے۔ ایسے شخص کے متعلق آپ کا یا مرزا قادیانی کا کیا حکم ہے؟ نیز تالاب کی مٹی میں اس تاثیر کا پایا جانا کہ اس سے بولتا چالتا جانور تیار ہو جائے۔ کون سے قانون قدرت کے ماتحت ہے۔ اگر کوئی یہ کہہ دے کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا ہے یہ بھی غلط ہے کیونکہ قانون قدرت کے خلاف ہے تو اس میں کیا حرج ہے؟

حمید ...... حرج ہو یا نہ ہو چونکہ وہ مرزا قادیانی کے خلاف ہے اس لئے غلط ہے۔ یہاں تو بس ایک ہی اصول ہے کہ جس بات میں مرزا قادیانی کی بن آتی ہو وہ صحیح ہے۔ اگرچہ خلاف عقل اور خلاف قرآن ہی کیوں نہ ہو اور جو چیز مرزا قادیانی کے ارشاد کے خلاف ہو وہ غلط ہے اگرچہ کتنی ہی مدلل کیوں نہ ہو۔

جمیل ...... بس اب مولانا کا ناطقہ بند ہو گیا۔ چلئے پروفیسر صاحب کچھ اور ارشاد فرمائیے۔

اختر ...... (اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٤) کا جو حوالہ میں نے پیش کیا تھا۔ اس پر تو حضرت منظور صاحب نے یہ کہہ دیا کہ مرزا قادیانی نے شیطانی وسوسہ محض انجیل کی بناء پر لکھا تھا۔ مگر اب

٤٩

صفحہ ٤٣٦

یہاں فرمائیں کہ مرزا قادیانی کی اس عبارت کی کیا تاویل کریں گے۔

دیکھئے جناب مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) پر ارقام فرماتے ہیں: ”عیسیٰ پر تین بار شیطانی الہام ہوا۔ اسی وجہ سے وہ وجود باری کا قطعی منکر تھا ۔“ کہو جی اب کیا کہو گے؟

حمید ..... خاک کہیں گے جو پہلے کہا وہی کہیں گے اور کیا کہیں گے؟

خالد ..... مولانا آپ کوئی ایسا حوالہ دیں جس میں صاف اور صریح طور پر یہ معلوم ہو سکے کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمداً توہین کی ہے۔ ان حوالجات پر تو شک ہو سکتا ہے کہ مخالفین کی عبارات کو نقل کر دیا ہو۔

جمیل ..... واہ خالد صاحب ! آپ ابھی تک نہیں سمجھے۔ ذرا یہ تو فرمائیے کہ حوالہ بالا میں مرزا قادیانی نے جو یہ لکھا ہے کہ ”اسی وجہ سے وہ وجود باری کا قطعی منکر تھا “ کس یہودی یا عیسائی کا یہ عقیدہ ہے جو مرزا قادیانی نے نقل کیا ہے؟

خالد ..... بھئی اگر یہ کسی یہودی یا عیسائی کا بھی عقیدہ نہیں تو مرزا قادیانی کا بھی تو یہ عقیدہ نہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام وجود باری کے قطعی منکر تھے۔

جمیل ..... چلو معاملہ صاف ہو گیا جب کسی یہودی اور عیسائی کا بھی یہ عقیدہ نہیں اور خود مرزا قادیانی کا بھی یہ عقیدہ نہیں کہ وہ وجود باری کے قطعی منکر تھے۔ اسی لئے ان پر تین بار شیطانی الہام ہوا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کیوں ایسا لکھ دیا؟

حمید ..... میں بتاؤں کیوں ایسا لکھا؟ عیسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کی نظروں سے گرانے اور ذلیل کرنے کے لئے۔

اختر ..... اچھا جانے دیجئے اس بات کو۔ سنئے خالد صاحب ایک اور مفصل حوالہ بلکہ مقالہ۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب (نور القرآن نمبر ٢ ص ٤٦، ٤٧ ، خزائن ج ٩ ص ٤٤٨، ٤٤٩) پر پادری فتح مسیح کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”آپ کے یسوع صاحب کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کے حالات پر روئیں۔ کیا یہ مناسب تھا کہ وہ ایک زانیہ عورت کو موقعہ دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سر اس سے مل کر بیٹھتی اور ناز و غمزہ سے اس کے پاؤں پر اپنے بال ملتی اور حرام کاری کے عطر سے اس کے سر پر مالش کرتی۔ اگر یسوع کا دل بد خیالی سے پاک ہوتا تو وہ ایک کسبی عورت کو نزدیک آنے سے ضرور منع کرتا۔ مگر ایسے لوگ جن کو حرام کار عورتوں کے چھونے سے

٥٠

مزا آتا ہے۔ وہ ایسے موقع پر کسی ناصح کی غیرت مند بزرگ نے نصیحت کے ارادے س یسوع نے سمجھ لیا کہ میری اس حرکت سے یہ میں ڈال دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ کنجری اخلاص صاحب ایک زنا کار عورت کی تعریف کر رہ یہ بھلا جو شخص ہر وقت شراب سے سرمست میں بھی اول نمبر کا۔ جو لوگوں میں اس کا نام اور نیک بختی کی امید ہو سکتی ہے۔ کون عقلمند عورتوں کے چھونے سے پرہیز نہیں کرتا۔ ایک ہے۔ کبھی ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گود میں ت میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو پینے کی عادت اور پھر مجرد اور ایک خوبصور ہے۔ کمبخت زانیہ کے چھونے سے اور ن ہوں گے اور شہوت کے جوش نے پورے طو

اب اس عبارت کو غور سے پڑھ ہی سے اخذ کی گئی ہے یا ایجاد بندہ ہے۔ ک ہو گے یا نہیں؟

منظور ..... بات دراصل یہ ہے کہ مرزا قا ہیں۔

اختر ..... جی ہاں میں بھی یہی کہہ رہا ہوں چاہئے تھا اور بس۔ نہ کہ ایک ہی بات کو مز

حمید ..... ٹھیک ہے خالد صاحب ! ذرا غور طول دیا اور مضمون میں اس قدر تکرار ہے اپنی طرف سے لکھ رہے ہیں۔

صفحہ ٤٤٧

مزا آتا ہے۔ وہ ایسے موقع پر کسی ناصح کی نصیحت بھی نہیں سنا کرتے۔ دیکھو یسوع مسیح کو ایک غیرت مند بزرگ نے نصیحت کے ارادے سے روکنا چاہا مگر یسوع صاحب نے اس کے چہرہ کی تر شروئی سے سمجھ لیا کہ میری اس حرکت سے یہ شخص بیزار ہے۔ تو رندوں کی طرح اعتراض کو باتوں میں ڈال دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ کنجری اخلاص مند ہے۔ سبحان اللہ ! یہ کیا عمدہ جواب ہے یسوع مسیح صاحب ایک زنا کار عورت کی تعریف کر دیتے ہیں کہ بڑی نیک بخت ہے۔ دعویٰ خدائی کا اور کام یہ۔ بھلا جو شخص ہر وقت شراب سے سرمست رہتا ہے اور کنجریوں سے میل جول رکھتا ہے اور کھانے میں بھی اول نمبر کا۔ جو لوگوں میں اس کا نام ہی پڑ گیا ہے کہ یہ کھاؤ پیٹو ہے۔ اس سے کسی تقوے اور نیک بختی کی امید ہو سکتی ہے۔ کون عقلمند اور پرہیز گار ایسے شخص کو پاک باطن سمجھے گا جو جوان عورتوں کے چھونے سے پرہیز نہیں کرتا۔ ایک کنجری خوبصورت ایسی قریب بیٹھی ہے گویا بغل میں ہے۔ کبھی ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی ہے اور کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشنما سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گدگدی کر رہی ہے اور یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اسے جھڑک دیتے ہیں اور طرفہ یہ کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد اور ایک خوبصورت کسبی عورت سامنے پڑی جس کے ساتھ جسم لگارہی ہے۔ کمبخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہوں گے اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہوگا ۔‘‘

اب اس عبارت کو غور سے پڑھو اور انصاف سے کہو کہ کیا یہ عبارت بھی انجیل اور بائبل ہی سے اخذ کی گئی ہے یا ایجاد بندہ ہے۔ مکرر پڑھو اور بتاؤ کہ کیا اب بھی ’’ توہین انبیاء ‘‘ کے قائل ہو گے یا نہیں؟

منظور...... بات دراصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے الزام مخالفین ہی کا نقل کیا ہے گو الفاظ اپنے ہیں۔

اختر....... جی ہاں میں بھی یہی کہہ رہا ہوں۔ ان کا الزام ان کے الفاظ میں نقل کر کے حوالہ دے دینا چاہئے تھا اور بس۔ نہ کہ ایک ہی بات کو مزے لے لے کر لکھنا چاہئے تھا۔

حمید...... ٹھیک ہے خالد صاحب ! ذرا غور کیجئے بات صرف ایک ہی ہے مگر مرزا قادیانی نے اسے اتنا طول دیا اور مضمون میں اس قدر تکرار سے کام لیا ہے کہ خواہ مخواہ دوسروں کو یہ شبہ پڑ سکتا ہے کہ وہ اپنی طرف سے لکھ رہے ہیں ۔

٥١

صفحہ ٤٣٨

جمیل ..... بھائی! یہاں شبہ کی بات ہی کیا ہے۔ عبارت خود اپنا پتہ دے رہی ہے کہ یہ رئیس القلم منشی غلام احمد قادیانی کے قلم سے نکلی ہے اور وہی بزرگوار ہیں جو مزے لے لے کر ایسی باتیں لکھ رہے ہیں۔

خالد ..... سچ مچ اب تو میں مرزا قادیانی سے بہت ہی بدظن ہو گیا ہوں۔ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ ایک مخالف (پادری فتح مسیح ) کو اگر الزامی جواب ہی دینا تھا تو صرف یہ لکھ دینا کافی تھا کہ کیوں جی تم ایسے مسیح مانتے ہو جن کے بارے میں آپ ہی کی کتابوں میں یہ مرقوم ہے۔ آگے دو سطروں میں ان کی عبارت نقل کر کے حوالہ دے دیتے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ”اردو ادب“ تک سے نا آشنا تھے اور وہ صحیح طور پر لکھنا نہ جانتے تھے۔

جمیل ..... الحمدللہ کہ اب بھی آپ کی آنکھیں کھل گئیں ورنہ آپ تو ہمیں بھی غرق کرنے والے تھے۔

منظور ..... آپ ناحق مرزا قادیانی پر بدگمانی کر رہے ہیں۔ وہ نہایت شریف اور پاکباز آدمی تھے۔

حمید ..... اجی حضرات ان کی شرافت اور پاکبازی پر تو کسی کو بھی شک نہیں۔ وہی ہیں جو دوسروں کی شرافت اور پاکبازی پر شک کرتے ہیں اور ایسی ایسی فحش تحریریں اپنی کتابوں میں لکھ دیتے ہیں۔

جمیل ..... سچ ہے ہر کسی کو آئینہ میں اپنا ہی منہ نظر آتا ہے۔

منظور ..... میں پھر یہی عرض کروں گا کہ آپ بدگمانی سے کام نہ لیں۔ مرزا قادیانی حضرت مسیح کو خود ایسا نہ سمجھتے تھے۔ بلکہ مخالفین کو الزامی جواب دینے کے لئے وہ مجبور تھے کہ ایسا لکھتے۔

حمید ..... منظور صاحب آخر کوئی معقول جواب بھی ہے یا بار بار وہی رٹ لگائے جاؤ گے؟

جمیل ..... کوئی معقول جواب ہو تو دیں۔ یہ تو اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اگر میں یہ کہوں گا تو وہ بھی وہی جواب دیں گے کہ کیا مرزا قادیانی ہی کے پیٹ میں الزامی جواب دینے کا درد اٹھتا رہا یا امت محمدیہ میں سے کسی اور بزرگوار نے بھی ایسا جواب دیا۔

اختر ..... جی یہ تو الگ بات ہے۔ میں تو بار بار ان کی خدمت میں مرزا قادیانی ہی کے حوالجات سے یہ عرض کر چکا ہوں کہ وہ خود کہتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان کو الزامی جواب دینا پڑے تو اسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان و عظمت کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی تحریر سے ان کی شان میں فرق آ جائے۔ مگر جب خود لکھنے بیٹھتے ہیں تو نہ آگا دیکھتے ہیں نہ پیچھا اور جو کچھ منہ میں آتا ہے لکھتے چلے جاتے ہیں اور لطف یہ کہ ساتھ ہی پھر یہ بھی ارقام فرما دیتے ہیں: ”حضرت مسیح کے حق میں

٥٢

٤٣٩

بے ادبی کا کلمہ میرے منہ سے کوئی نہیں نکلا۔ یہ سب مخالفوں کا (تر)

جمیل ..... چلئے مولانا خالد صاحب کی تو تسکین ہو گئی اور یہاں مولوی منظور الحسن کو درست کرنے کے لئے کچھ اور حوالجات پیش

اختر ..... حقیقت کو سمجھنے اور اصلیت کو پالینے کے لئے تو اتنے یہاں کیا کمی ہے۔ ابھی تو بمشکل نصف حوالجات ہی پیش ہوئے

خالد ..... خوب! گویا ابھی آپ کے پاس مرزا قادیانی کی ا ہیں۔ جن میں توہین انبیاء کا پہلو نمایاں ہو رہا ہے؟

اختر ..... جی ہاں لیجئے اور سنئے۔ ایک دفعہ بعض لوگوں نے کے مرید داڑھی منڈواتے ہیں تو بجائے اس کے آپ انہیں اور اس کی سنت و اہمیت پر تقریر فرماتے۔ آپ مخاصمین اعتراضوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ ظاہر کو دیکھتے ہیں ب اعتراض کیا کہ آپ نے فاحشہ عورت سے عطر کیوں ملوا پاؤں دھوتا ہے۔ مگر عورت آنسوؤں سے..... خدا کے حضرت مسیح نے ٹھیک فرمایا۔“

اب غور فرمائیے کہ ایک طرف تو اس فعل کو محت دوسری طرف ذاتی اغراض کے لئے اسے بالکل ”عمل ہے۔ مگر جب عیسائیوں سے مقابلہ پڑتا ہے تو اسی فعل آ دلیل بنا لیا جاتا ہے۔

حمید ..... کیوں مولوی منظور الحسن صاحب! اب کیا ارشاد

جمیل ..... بھئی اب آپ ان سے طنزاً نہ پوچھیں وہ خود ا

اختر ..... اچھا آگے چلئے کچھ اور سنئے۔ ارشاد ہوتا ہے

شرابی، نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی

مرزا قادیانی یہ سب کچھ لکھتے ہیں اور پھر

بے ادبی کا کوئی کلمہ میرے منہ سے نہیں نکلا۔“

٥٣

صفحہ ٤٣٩

بے ادبی کا کلمہ میرے منہ سے کوئی نہیں نکلا۔ یہ سب مخالفوں کا افتراء ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٠٥)

جمیل...... چلئے مولانا خالد صاحب کی تو تسکین ہوگئی اور یہ تو مرزائیت سے تائب ہو گئے۔ اب مولوی منظور الحسن کو درست کرنے کے لئے کچھ اور حوالہ جات پیش کریں۔

اختر...... حقیقت کو سمجھنے اور اصلیت کو پالینے کے لئے تو اتنے ہی حوالے کافی تھے۔ مگر خیر اور لیجئے۔ یہاں کیا کمی ہے۔ ابھی تو بمشکل نصف حوالہ جات ہی پیش ہوئے ہیں۔

خالد...... خوب! گویا ابھی آپ کے پاس مرزا قادیانی کی تصنیفات سے اتنی ہی اور تحریرات باقی ہیں۔ جن میں توہین انبیاء کا پہلو نمایاں ہو رہا ہے؟

اختر...... جی ہاں لیجئے اور سنئے۔ ایک دفعہ بعض لوگوں نے مرزا قادیانی پر یہ اعتراض کیا کہ آپ کے مرید داڑھی منڈواتے ہیں تو بجائے اس کے آپ انہیں سمجھاتے یا داڑھی رکھنے کی تاکید کرتے اور اس کی سنت واہمیت پر تقریر فرماتے۔ آپ مخاطبین سے یوں گویا ہوئے: ”لوگ کن بیہودہ اعتراضوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ ظاہر کو دیکھتے ہیں ہم باطن کو ۔ حضرت عیسیٰ پر ایک شخص نے اعتراض کیا کہ آپ نے فاحشہ عورت سے عطر کیوں ملوایا تو انہوں نے کہا دیکھ تو پانی سے میرے پاؤں دھوتا ہے۔ مگر عورت آنسوؤں سے ...... خدا کے نزدیک خلوص شرط ہے اور حقیقت میں حضرت مسیح نے ٹھیک فرمایا۔“

(ملاحظہ ہو اخبار بدر، ٤ مئی ١٩٠٨ء)

اب غور فرمائیے کہ ایک طرف تو اس فعل کو محض ”الزام علی المسیح“ قرار دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ذاتی اغراض کے لئے اسے بالکل ”عمل مسیح“ ظاہر کر کے اسے باطن شناسی بتلایا ہے۔ مگر جب عیسائیوں سے مقابلہ پڑتا ہے تو اسی فعل مستحسن کو یسوع کے شہوت پرست ہونے کی دلیل بنالیا جاتا ہے۔

حمید...... کیوں مولوی منظور الحسن صاحب! اب کیا ارشاد ہے؟

جمیل...... بھئی اب آپ ان سے طنزاً نہ پوچھیں وہ خود اس معاملہ پر غور فرمارہے ہیں۔

اختر...... اچھا آگے چلئے کچھ اور سنئے۔ ارشاد ہوتا ہے: ”مسیح کا چال چلن ہی کیا تھا ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا تھا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ١٨٩)

مرزا قادیانی یہ سب کچھ لکھتے ہیں اور پھر فرماتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح کے حق میں بے ادبی کا کوئی کلمہ میرے منہ سے نہیں نکلا۔“

٥٣

صفحہ ٤٤٠

اختر ...... اچھا سنئے اب والدہ مسیح حضرت مریم صدیقہ پر بہتان تراشا جاتا ہے اور وہ بہتان جس کی نظیر آپ کو اور کہیں نہ مل سکے گی۔ (ایام الصلح ص ٦٦ ، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠ حاشیہ ) پر ارشاد ہوتا ہے:

” افغان لوگ یہودیوں کی طرح منگنی اور نکاح میں فرق نہیں کرتے اور کنواری لڑکیوں کو منسوب لڑکوں کے ساتھ ملنے جلنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ مثلاً حضرت مریم صدیقہ (والدہ عیسیٰ) کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ ملنا جلنا اور اس کے ساتھ ہی گھر سے باہر پھرتے رہنا اس امر کی سچی شہادت ہے۔“

حمید...... ہاں ہاں ٹھیک ہے کہ کوئی غیور مسلمان ایسے کلمے نہیں سن سکتا۔ مگر لکھنے والے کی بے غیرتی ملاحظہ ہو کہ کس دلیری سے مریم کو صدیقہ بھی کہتا ہے اور زنا کار بھی ثابت کر رہا ہے۔

منظور...... اجی حضرت! آپ اصل عبارت تو دیکھیں یہ پروفیسر صاحب نے ترجمہ کر دیا ہے۔

اختر ...... میں نے ترجمہ نہیں کیا۔ لیجئے کتاب حاضر ہے۔ اصل عبارت خود پڑھ دیجئے۔ سب لکھے پڑھے آدمی ہیں۔ ترجمہ خود سمجھ لیں گے۔

منظور...... نہیں نہیں آپ پڑھئے۔ مگر فارسی عبارت پڑھئے۔

اختر ...... لیجئے فارسی عبارت یہ ہے: ” یہود فرقی میان نسبت و نکاح نہ کردہ دختران از ملاقات و مخالطت با منسوب مضائقہ نہ گیرند۔ مثالاً اختلاط مریم صدیقہ با منسوب خودش یوسف و بمعیت وے خارج بیت گردش نمودن شہادۃ حقہ بر ایں رسم است ۔“

(ایام الصلح ص ٦٦ ، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠ حاشیہ)

کیوں جناب! فرمائیے کہ میں نے ترجمہ میں کیا کمی بیشی کی تھی۔

خالد...... مولوی منظور الحسن بات تو وہی ہے جو پروفیسر صاحب نے پہلے کہی۔ اصل عبارت میں مریم صدیقہ اور شہادۃ حقہ موجود ہیں اور یہی وہ وزن دار لفظ ہیں جو مرزا قادیانی کی بہتان طرازی پر دال ہے۔

اختر ...... یہ بات صرف ایام الصلح ہی میں نہیں لکھی بلکہ دوسری جگہ اور بھی واضح کر دی ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی کی اپنی تحقیق یہی تھی کہ مریم صدیقہ اپنے منسوب یوسف کے ساتھ گھر سے باہر پھرا کرتی تھی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قبل نکاح ہی اس کو ناجائز حمل ہو گیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ یہ ہیں: ”مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گولوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول (مس ) ہونے کے عہد کو کیوں ناحق

٥٤

٤٤١

توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ مگر آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل

جمیل...... العیاذ باللہ۔ خالد صاحب! فرمائیے اب توہین پر محمول گردانا جائے۔

خالد...... بخدا میں تو اب سچے دل سے تائب ہو چکا یقین رکھتا ہوں کہ اگر کسی احمدی (مرزائی) میں رتی ہو جائے گا اور مرزا قادیانی پر ہزار ہزار نفرین بھیجے گا

منظور...... واہ خالد صاحب اتنی جلد تیور بدل گئے۔ میں اب چھ منٹ بھی نہ لگائے۔ کم از کم اس کے متعلق

خالد...... چھوڑیئے صاحب! آپ کا جواب کیا ہو گا بلکہ انہوں نے دوسروں کے اقوال نقل کئے ہیں۔

منظور...... ہاں ہاں بات بھی تو یہی ہے کہ مرزا قاد نقل کر رہے ہیں۔

خالد...... بس کیجئے مولانا! آپ کی علمیت کا بھی مجھ مرزائیوں میں رئیس المناظرین بن گئے ہیں۔ آ جواب میں بجز ایک بات کے اور کچھ کہہ ہی نہیں سک

حمید...... اچھا مولانا یہ فرمائیے کہ مرزا قادیانی کا ق

منظور...... تھا اور ضرور تھا۔

حمید...... مگر ان کی ان بہکی بہکی باتوں سے تو مجھے نہیں تھا۔

منظور...... وہ کس طرح؟

حمید...... یوں کہ مرزا قادیانی ہر جگہ قرآن کو چھو چنانچہ مثال کے طور پر آپ اسی حوالہ کو لے لیں الصلح ص ٦٥ ، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠) سے پیش کیا گیا بغیر بطور اپنی تحقیق کے یہ دو چیزیں پیش کی ہیں ج

صفحہ ٤٤١

توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں، جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔‘‘

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

جمیل...... العیاذ باللہ۔ خالد صاحب! فرمائیے اب اس سے زیادہ اور کیا لکھا جاسکتا ہے۔ جسے توہین پر محمول گردانا جائے۔

خالد...... بخدا میں تو اب سچے دل سے تائب ہو چکا ہوں اور کشتی نوح کی یہ عبارت سننے کے بعد یقین رکھتا ہوں کہ اگر کسی احمدی (مرزائی) میں رتی بھر بھی ایمان ہوا تو وہ یقیناً مرزائیت سے الگ ہو جائے گا اور مرزا قادیانی پر ہزار ہزار نفرین بھیجے گا۔

منظور...... واہ خالد صاحب اتنی جلد تیور بدل گئے۔ چھ سال آپ حلقہ احمدیت میں رہے اور بدلنے میں اب چھ منٹ بھی نہ لگائے۔ کم از کم اس کے متعلق میرا جواب تو سن لیتے۔

خالد...... چھوڑیئے صاحب! آپ کا جواب کیا ہوگا۔ یہی نا؟ کہ مرزا قادیانی کا یہ اپنا عقیدہ نہ تھا۔ بلکہ انہوں نے دوسروں کے اقوال نقل کئے ہیں۔

منظور...... ہاں ہاں بات بھی تو یہی ہے کہ مرزا قادیانی خود عیسائیوں ہی کی کتابوں سے یہ باتیں نقل کر رہے ہیں۔

خالد...... بس کیجئے مولانا! آپ کی علمیت کا بھی مجھے آج ہی پتہ چلا۔ میں حیران ہوں کہ آپ کیونکر مرزائیوں میں رئیس المناظرین بن گئے ہیں۔ آپ کی علمیت کا تو یہ عالم ہے کہ ہر اعتراض کے جواب میں بجز ایک بات کے اور کچھ کہہ ہی نہیں سکتے۔

حمید...... اچھا مولانا یہ فرمائیے کہ مرزا قادیانی کا قرآن کریم پر بھی ایمان تھا یا نہیں؟

منظور...... تھا اور ضرور تھا۔

حمید...... مگر ان کی ان بہکی بہکی باتوں سے تو مجھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قرآن مجید پر بھی ایمان نہیں تھا۔

منظور...... وہ کس طرح؟

حمید...... یوں کہ مرزا قادیانی ہر جگہ قرآن کو چھوڑ کر ادھر ادھر کی روایات میں سرگرداں رہتے تھے۔ چنانچہ مثال کے طور پر آپ اسی حوالہ کو لے لیں۔ جو (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨) اور (ایام الصلح ص ٧٥، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠) سے پیش کیا گیا۔ اس میں مرزا قادیانی نے کسی کتاب کا حوالہ دیئے بغیر بطور اپنی تحقیق کے یہ دو چیزیں پیش کی ہیں:

٥٥

صفحہ ٤٤٢

میں رواج تھا۔

تردید کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو پارہ ١٦ جہاں اللہ تعالیٰ نے بزبان مریم یہ ارشاد فرمایا : ”قالت انی یکون لی غلام ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیا“ ﴿یعنی جب مریم صدیقہ کے پاس فرشتہ لڑکے کی بشارت لے کر آیا تو اس نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا۔ مجھے تو ابھی تک کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔﴾

اس آیت میں پہلی بات کی نہ صرف نفی کی گئی ہے بلکہ تردید بھی ہے اور زور دار الفاظ میں تردید ہے۔ جسے ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد جب لڑکا پیدا ہوتا ہے اور مریم صدیقہ اسے لے کر اپنی قوم کے پاس آتی ہے۔ تو قوم نہایت حیرت و استعجاب سے اسے یہ کہتی ہے: ”قالوا یمریم لقد جئت شیئا فریا ۔ یأخت ھارون ماکان ابوک امرا سوء وما کانت امک بغیا “ ﴿یعنی اے مریم یہ بچہ تو کہاں سے لے آئی۔ تیرے تو ماں باپ بھی بدکار نہ تھے۔ نہ تو بدکار تھی۔ پھر یہ کیونکر پیدا ہوا؟﴾

یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ قوم خود حیران تھی کہ بچہ کیونکر پیدا ہوا؟ مریم خود صالح اور پارسا اس کے ماں باپ نیک اور متقی، پھر یہ بچہ کیونکر ہوا؟۔ اگر قوم بحالت حمل خود یوسف نجار سے نکاح کرتی تو یہ سوال نہ کرتی اور اسے اس پر کوئی استعجاب نہ ہوتا۔

پس معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی یا قرآنی تعلیم سے بے خبر تھے یا دیدہ دانستہ قرآن تعلیم سے اغماض فرمایا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے استدلالات کا دارومدار زیادہ تر اسرائیلیات پر ہے۔

خالد...... واہ ماسٹر حمید صاحب! آپ نے بھی کمال کر دیا۔ بخدا آپ بھی تو چھپے رستم نکلے۔ میرا خیال تھا کہ آپ صرف بی اے ہیں۔ مگر اب معلوم ہوا کہ آپ قرآن مجید میں بھی خوب درک رکھتے ہیں۔

حمید...... یہ محض پروفیسر صاحب کے فیض صحبت کا اثر ہے:

جمال ہمنشین در من اثر کرد
وگرنہ من ہما خاکم کہ ہستم

جمیل...... چھوڑو بھائی یہ گفتگو پھر ہو جائے گی۔ مولوی منظور الحسن سے پوچھو کہ ان کی بھی کچھ تسکین

٥٦

ہوئی یا نہیں؟

خالد...... بھائی میری طرح وہ اپنی رائے کا مح میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ان کو چھوڑ ویسے کچھ مکدر تو ہو چکے ہیں۔ چہرہ سے دل کی

منظور...... آپ میری فکر نہ کریں۔ میں تنہائی رہ گیا ہے تو بیشک سنا دیجئے۔

ص ٢٥٥، ٢٥٦) پر لکھتے ہیں اور کسی صفائی سے جب چھ سات مہینہ کا حمل نمایاں ہو گیا تب یوسف سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے یسوع کے نام سے موسوم ہوا ۔“

جمیل...... کیوں جی مولانا منظور صاحب! ا یہاں بھی یہ کہنے کی گنجائش ہے کہ مرزا قادیا

منظور...... بھائی بات اصل میں یہ ہے کہ آ نے اپنی کتاب ( مواہب الرحمن ص ٧٢ ، خزائن السلام کی بن باپ پیدائش ہمارے عقائد اس سے قبل از نکاح بغیر کسی مرد کے حاملہ انکار نہیں ہے۔

جمیل...... یہ عجیب گورکھ دھندا ہے۔ ادھر کلام میں ہی تناقض ہے۔ غالباً یہی وجہ کرتے ہیں اور لاہوری ان کی تصانیف خ بلکہ دعویٰ کرنے والے کو کافر قرار دیا ہے۔

حمید...... حقیقت بھی یہی ہے کہ مرزا قاد اور دوسری جگہ اس کے خلاف کچھ اور لکھ ہے۔

اختر...... خیر اس چیز کو بھی رہنے دیجئے۔ ا

صفحہ ٤٤٣

ہوئی یا نہیں؟

خالد..... بھائی میری طرح وہ اپنی رائے کا جلد تو اظہار نہیں کریں گے۔ آخر تنخواہ دار مبلغ ہیں۔ مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ان کو چھوڑوں گا نہیں۔ انشاء اللہ جلد ہی کھینچنے کی کوشش کروں گا۔ ویسے کچھ مکدر تو ہو چکے ہیں۔ چہرہ سے دل کی کیفیت نمایاں ہو رہی ہے۔

منظور..... آپ میری فکر نہ کریں۔ میں تنہائی میں ان چیزوں پر غور کروں گا۔ ہاں اگر کوئی اور حوالہ رہ گیا ہے تو بیشک سنا دیجئے۔

اختر..... سنئے یہاں دیر کیا ہے۔ مرزا قادیانی اپنی مشہور کتاب چشمہ مسیحی کے (ص ٢٦، خزائن ج ٢٠، ص ٣٥٥، ٣٥٦) پر لکھتے ہیں اور کسی صفائی سے کشتی نوح والی عبارت کی تصدیق کرتے ہیں: ”لیکن جب چھ سات مہینہ کا حمل نمایاں ہو گیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کا بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔“

جمیل..... کیوں جی مولانا منظور صاحب! کیا اس عبارت کی بھی اب کچھ تاویل ہو سکتی ہے اور یہاں بھی یہ کہنے کی گنجائش ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ دوسروں کی عبارت نقل کی ہے۔

منظور..... بھائی بات اصل میں یہ ہے کہ آپ مرزا قادیانی کا مفہوم نہیں سمجھ سکے۔ حضرت قادیانی نے اپنی کتاب (مواہب الرحمٰن ص ٧٢، خزائن ج ١٩ ص ٢٩١) میں صاف طور پر یہ لکھ دیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی بن باپ پیدائش ہمارے عقائد میں سے ہے۔ حضرت مریم قبل از نکاح حاملہ ہوئی اور اس سے قبل از نکاح بغیر کسی مرد کے حاملہ ہونا قرآن اور انجیل کی رو سے ثابت ہے جس کا کسی کو انکار نہیں ہے۔

جمیل..... یہ عجیب گورکھ دھندا ہے۔ ادھر حضور کچھ لکھتے ہیں، ادھر کچھ۔ تو معلوم ہوا کہ آپ کے کلام میں ہی تناقض ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ قادیانی مرزا کی کتب ہی سے ان کی نبوت ثابت کرتے ہیں اور لاہوری ان کی تصانیف ہی سے یہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ دعویٰ کرنے والے کو کافر قرار دیا ہے۔

حمید..... حقیقت بھی یہی ہے کہ مرزا قادیانی کے کلام میں تناقض بہت ہے۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں اور دوسری جگہ اس کے خلاف کچھ اور لکھ دیتے ہیں۔ جس سے ان کے حافظہ کی کمزوری ثابت ہوتی ہے۔

اختر..... خیر اس چیز کو بھی رہنے دیجئے۔ اس پر پھر گفتگو ہوگی کہ آیا مرزا قادیانی ”صحیح الدماغ“ بھی

٥٧

صفحہ ٤٤٥

تھے یا نہیں؟ اس وقت تو نکاح مریم پر گفتگو ہورہی ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ حالت حمل میں نکاح ہوا۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ نکاح قرآن وحدیث سے بھی ثابت ہے یا مرزا قادیانی ہی کو الہام ہوا ہے۔

منظور ...... اگر قرآن وحدیث سے ثابت نہیں تو نہ سہی۔ انجیل سے تو ثابت ہے۔ مرزا قادیانی نے انجیل ہی کے بھروسہ پر لکھا ہے۔

اختر ...... تو گویا مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے عقائد کا انحصار قرآن وحدیث پر نہیں۔ بلکہ انجیل اور اقوال یہود پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر جگہ جمہور مسلمین کے عقائد کے خلاف حضرت مریم صدیقہ کو یوسف نجار کی بیوی لکھتے ہیں۔ العیاذ باللہ

حمید ...... پروفیسر صاحب! آپ حیران کیوں ہیں؟ ممکن ہے مرزا قادیانی کو بذریعہ وحی اس نکاح کی اطلاع دے دی گئی ہو۔ جیسا کہ محمدی بیگم کے نکاح کی اطلاع آپ کو دی گئی کہ آسمان پر ہو چکا ہے۔

جمیل ...... خوب، بہت خوب!

خالد ...... اچھا اختر صاحب! اب کچھ اور فرمائیے۔

اختر ...... کیا ابھی تک آپ کی تسکین نہیں ہوئی؟ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو مرزا قادیانی کے کلام بلاغت نظام سننے کا بہت شوق ہے۔

خالد ...... جی ہاں ! جب شوق تھا تب کلام مرزا کوئی نہ سناتا تھا اور اب جو سنا اور اسے حق سمجھا تو احمدیت سے خارج ہو گیا۔

جمیل ...... یہ بھی آپ نے خوب کہی۔ یعنی اگر کوئی کلام مرزا کی تاویل کرے تو وہ سچا مرزائی اور احمدی اور جو اسے بلفظہ ٹھیک سمجھے اور اس کی کوئی تاویل نہ کرے وہ کافر اور دائرہ احمدیت سے خارج ہو جائے۔

حمید ...... خیر اب اختر صاحب ایک حوالہ اور پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ذرا وہ بھی سن لیجئے۔

اختر ...... ہاں سنئے۔ مرزا قادیانی (اخبار الحکم مجریہ ٢٤ جولائی ١٩٠٢ء ص ١٦ کالم ٣،٢) میں اسی مضمون کو ذرا وضاحت سے یوں ارقام فرماتے ہیں: ”بزرگوں نے بہت اصرار کر کے بسرعت تمام مریم کا اس (یوسف نجار) سے نکاح کرا دیا اور مریم کو ہیکل سے رخصت کر دیا۔ تا خدا کے مقدس گھر پر نکتہ چینیاں نہ ہوں۔ کچھ تھوڑے دنوں کے بعد ہی وہ لڑکا پیدا ہو گیا جس کا نام یسوع رکھا گیا ۔“

جمیل ...... لیجئے جناب مولانا منظور صاحب! اس عبارت سے پہلے حوالہ کو اور بھی تقویت مل گئی۔

٥٨

اب فرمائیے اس کی تاویل کیا ہوگی؟

حمید ...... بھئی! کیا قادیانیوں کے ہاں تاویل بھی کچھ

منظور ...... ہاں جناب اس کی تاویل میں تو کوئی دقت اناجیل کی بنا پر لکھا ہے۔ کیونکہ وہاں ایسے ہی لکھا ہ گیا ۔“

جمیل ...... مولانا خدا کے لئے کچھ انصاف سے بھی ک حاضر ہوتا ہے۔ وہاں مرزا قادیانی کی یہ حجت کچھ کا م عیسائی تو پہلے ہی سے اس کے قائل ہیں۔ مرزا قاد جواب بھی نہیں ہے۔ بلکہ ان کا ایک تسلیم شدہ واقع ہے۔ بلکہ عیسائیوں کو یقین دلا دیا ہے کہ ہمارا عقیدہ

حمید ...... کیا مرزا قادیانی سے پہلے تیرہ سو سال کے ہے؟

اختر ...... جہاں تک مجھے تاریخ اسلام پر عبور ہے اس عقیدہ کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ سب یہی لکھتے چ ولادت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے ہوا نہ بعد میں۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے نزدیک بیشک نکاح ہوگ

حمید ...... تو معلوم ہوا کہ اس عقیدہ کے اظہار میں کے ساتھ ملے ہیں اور کوئی مسلمان ان سے متفق نہی

اختر ...... بیشک بیشک!

خالد ...... کیا مولانا منظور الحسن صاحب سچ مچ آج

منظور ...... مجھے معلوم نہیں۔ کوئی لکھے یا نہ لکھے ، بیا

جمیل ...... تو کیا مرزا قادیانی سے پہلے ساڑھے چ دنیا میں صرف ایک مرزا قادیانی ہی محقق ہوئے ہ مریم صدیقہ کا نکاح یوسف نجار سے ہو گیا تھا۔ العی

حمید ...... خالد صاحب ! ذرا غور فرمائیے آپ ک ہیں اور مخالفین اسلام سے یہ کہا کرتے ہیں کہ دنی

صفحہ ٤٤٥

اب فرمائیے اس کی تاویل کیا ہوگی؟

حمید...... بھئی! کیا قادیانیوں کے ہاں تاویل بھی کچھ مشکل ہے۔ دیکھو وہ کچھ نہ کچھ کر ہی لیں گے۔

منظور...... ہاں جناب اس کی تاویل میں تو کوئی دقت نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا ہے۔ اناجیل کی بنا پر لکھا ہے۔ کیونکہ وہاں ایسے ہی لکھا ہے کہ ”بعد میں مریم کا یوسف نجار سے نکاح ہو گیا۔“

جمیل...... مولانا خدا کے لئے کچھ انصاف سے بھی کام لیجئے۔ ایک دن مرنا ہے اور خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ وہاں مرزا قادیانی کی یہ حجت کچھ کام نہیں آئے گی۔ اگر اناجیل میں یہ لکھا ہے تو پھر عیسائی تو پہلے ہی سے اس کے قائل ہیں۔ مرزا قادیانی کے لکھنے سے کیا حاصل؟ یہ تو کوئی الزامی جواب بھی نہیں ہے۔ بلکہ ان کا ایک تسلیم شدہ واقعہ ہے جسے نہ صرف لکھ کر ایک فضول حرکت کی گئی ہے۔ بلکہ عیسائیوں کو یقین دلا دیا ہے کہ ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے۔

حمید...... کیا مرزا قادیانی سے پہلے تیرہ سو سال کے عرصہ میں کسی مسلمان نے اس عقیدہ کا اظہار کیا ہے؟

اختر...... جہاں تک مجھے تاریخ اسلام پر عبور ہے۔ مرزا قادیانی کے سوا کسی ایک مسلمان نے بھی اس عقیدہ کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ سب یہی لکھتے چلے آئے کہ مریم صدیقہ کا نکاح کسی سے بھی نہ ولادت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے ہوا نہ بعد میں ہوا۔ مسلمانوں کا عقیدہ تو اب تک یہ ہے۔ ہاں یہودیوں اور عیسائیوں کے نزدیک بیشک نکاح ہو گیا۔

حمید...... تو معلوم ہوا کہ اس عقیدہ کے اظہار میں صرف مرزا قادیانی ہی عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ ملے ہیں اور کوئی مسلمان ان سے متفق نہیں ہوا۔

اختر...... بیشک بیشک!

خالد...... کیا مولانا منظور الحسن صاحب سچ مچ آج تک کسی مسلمان نے ایسا نہیں لکھا؟

منظور...... مجھے معلوم نہیں۔ کوئی لکھے یا نہ لکھے، یہ اپنی اپنی تحقیق ہے۔

جمیل...... تو کیا مرزا قادیانی سے پہلے ساڑھے تیرہ سو سال کے عرصہ میں کوئی محقق پیدا نہیں ہوا؟ دنیا میں صرف ایک مرزا قادیانی ہی محقق ہوئے ہیں جو بڑی تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مریم صدیقہ کا نکاح یوسف نجار سے ہو گیا تھا۔ العیاذ باللہ!

حمید...... خالد صاحب! ذرا غور فرمائیے آپ بھی تاریخ اسلام اور مؤرخین اسلام پر ناز کیا کرتے ہیں اور مخالفین اسلام سے یہ کہا کرتے ہیں کہ دنیائے تاریخ میں مؤرخین اسلام کا کوئی مقابلہ نہیں کر

٥٩

صفحہ ٤٤٦

سکا۔ مگر آج منظور صاحب کے ارشاد کے مطابق تمام مورخین اسلام کی روایات تو ناقابل اعتماد ہیں اور عیسائیوں کی چند بے سروپا روایتیں حجت ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے ان کی آڑ لے لی ہے۔

خالد ...... بس بھائی! اب مجھے نہ چھیڑو۔ بخدا میں تو پچھتا رہا ہوں کہ میں اتنا عرصہ گمراہی میں پھنسا رہا۔

اختر ...... نہیں جناب گھبرائیے نہیں۔ ابھی کچھ حوالے اور ہیں۔ وہ بھی سن لیجئے۔

جمیل ...... ہاں ہاں سنائیے اور ضرور سنائیے تاکہ خالد صاحب کا ایمان پختہ ہو جائے۔

حمید ...... خالد صاحب کا ایمان تو ماشاء اللہ پختہ ہوچکا۔ اب مولانا منظور الحسن کی فکر کرنا چاہئے کہ خدا ان کو بھی صراط مستقیم پر لے آئے۔

جمیل ...... ہاں پروفیسر صاحب اب کون سا حوالہ باقی رہ گیا ہے؟

اختر ...... وہ بھی اسی کے متعلق تھا کہ قرآن کریم نے اور اسلامی مورخین نے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اور کسی بھائی کا ذکر نہیں کیا۔ مگر مرزا قادیانی اپنی کتاب (کشتی نوح ص ١٦ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ١٨) پر لکھتے ہیں: ”اور یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“

کیوں جی! اس عبارت سے بھی کچھ حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین مترشح ہو رہی ہے یا نہیں؟

منظور ...... اس میں توہین کیا ہے؟ ایک تاریخی واقعہ ہے جو مرزا قادیانی نے تحریر فرما دیا ہے۔

اختر ...... جی ہاں! واقعہ تو تاریخی ہے۔ مگر واقعات کے خلاف ہے اور خود مرزا قادیانی ہی کے مسلمات کے خلاف ہے۔

منظور ...... وہ کیونکر؟

اختر ...... سنئے! مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ یسوع مسیح کے چار حقیقی بھائی اور دو حقیقی بہنیں تھیں اور یہ آپ کو معلوم ہے کہ عیسائی حضرت یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ چنانچہ انجیل میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ اگر عیسائیوں کے نزدیک مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں بھی مسلم ہوتیں تو یقیناً ان کو بھی خدا کے بیٹے اور بیٹیاں لکھا جاتا۔ مگر نہ کہیں انجیل میں یہ لکھا ہے اور نہ ہی کوئی عیسائی اسے تسلیم کرتا ہے۔

منظور ...... وہ ان چاروں کو کیونکر خدا کا بیٹا کہیں۔ وہ تو یوسف نجار کی صلب سے تھے اور مسیح روح اللہ تھے۔ اس لئے وہ خدا کا بیٹا کہلاتے رہے۔

٦٠

صفحہ ٤٤٧

اختر....... جی ہاں یہی تو میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی ایک طرف تو یہ فرماتے ہیں کہ وہ روح اللہ تھے۔ جب حمل ٹھہر گیا بعد میں نکاح ہوا۔ مگر یہاں (کشتی نوح ص ١٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨ حاشیہ) پر صاف اور واضح الفاظ میں یہ فرماتے ہیں کہ یہ سب حقیقی بھائی اور بہنیں تھی جو یوسف کی اولاد تھے۔ اس جگہ صاف طور پر عیسیٰ علیہ السلام کو بھی یوسف نجار کی اولاد قرار دیا ہے اور اسی میں ان کی توہین ہے۔

حمید....... واہ مولانا! آپ نے بھی تو کمال کر دیا۔ استدلال ہو تو ایسا ہی ہو۔

جمیل....... لیجئے منظور صاحب بھی اب خاموش ہو گئے۔ بھلا اس کی تاویل اب کیا کریں گے؟

حمید....... کیوں جی مرزا قادیانی ابھی عیسیٰ علیہ السلام کا پیچھا چھوڑیں گے یا نہیں؟

اختر....... آپ اتنے جلد ہی گھبرا گئے۔ ابھی تو کئی حوالہ جات باقی ہیں۔ مگر خیر میں آپ کی خاطر اب اختصار سے کام لیتا ہوں۔ سنئے آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اخلاق پر حملہ کرتے ہوئے اپنی کتاب (چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦) پر ارقام فرماتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ یہاں یسوع مسیح نہیں بلکہ ”عیسیٰ علیہ السلام“ لکھتے ہیں:

”تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا اور دوسروں کو یہ حکم بھی دیا کہ تم کسی کو ناحق مت کہو۔ مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور برے برے نام رکھے۔ اخلاقی معلم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھاوے۔ پس کیا ایسی تعلیم ناقص جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے“

کیوں مولانا منظور صاحب اس عبارت سے بھی کوئی توہین کا پہلو مترشح ہو رہا ہے یا نہیں؟

جمیل....... وہ کہہ دیں گے کہ اس میں کوئی توہین نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی ہر بات مستحسن ہی نظر آتی ہے انہیں۔

اختر....... اچھا اگر اس سے بھی تسکین نہیں ہوتی تو اور سن لیں۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) پر حضرت عیسیٰ کے متعلق یوں گوہر افشانی کرتے ہیں: ”ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“

حمید....... توبہ توبہ کس قدر دریدہ دہنی ہے۔

٦١

صفحہ ٤٤٩

منظور ...... جناب یہ خاص خاص عبارتیں آپ کو سنا رہے ہیں۔ جن کو سیاق و سباق سے کوئی تعلق نہیں ۔ اگر آپ آگے پیچھے سے پوری عبارت پڑھیں تو اس کا مطلب ہی کچھ اور ہو جائے ۔

اختر ...... لیجئے یہ کتاب ۔ آپ خود ہی اس کی اگلی پچھلی عبارت پڑھ کر ان کو سنا دیں اور جو مطلب نکلتا ہو وہ بھی سمجھا دیں۔

جمیل ...... اجی جانے دیجئے یہ خاک سمجھائیں گے۔ اردو عبارت ہے جسے بچہ بچہ سمجھ سکتا ہے۔ عربی یا عبرانی تھوڑی ہے کہ ہم سمجھ نہ سکیں۔

حمید ...... تاہم اس کے سیاق و سباق کا مطلب تو ان سے پوچھ لیجئے۔ شائد اب کوئی نئی تاویل کریں۔

جمیل ...... نئی تاویل کیا خیر کے ہاتھ سے لائیں گے۔ وہی کہیں گے جو پہلے کہتے آئے ہیں۔

حمید ...... کہئے مولانا منظور الحسن صاحب! اس کا سیاق و سباق سے کیا مطلب نکلتا ہے۔

منظور ...... اجی اس میں عیسائیوں کو الزامی جواب دیا گیا ہے اور اس کی انجیلی تعلیم کا تذکرہ کرنے کے بعد بتایا گیا ہے کہ جس مسیح کی تعلیم یہ ہو اخلاق یہ ہوں اسے آپ کیونکر خدا کا بیٹا کہہ سکتے ہیں۔ یا نبی قرار دے سکتے ہیں۔

جمیل ...... کیوں جی وہی بات ہوئی نا۔ جو میں پہلے کہتا تھا کہ یہ ایک ہی رٹ لگائے چلے جائیں گے اور کوئی نئی تاویل پیش نہ کر سکیں گے۔

اختر ...... اچھا لیجئے اب ایک حوالہ اور سن لیجئے۔ مرزا قادیانی اپنی اور فضیلت جتاتے ہیں اور کس انداز سے اس کا اظہار فرماتے ہیں: ”عیسیٰ بن مریم کو آدم سے صرف ایک مناسبت تھی کہ بغیر باپ کے پیدا ہوا اور وہ مناسبت بھی ناقص کیونکہ ماں موجود تھی۔ مگر میں روحانی طور پر بغیر باپ اور ماں کے ہوں۔ کیونکہ نہ کوئی مرشد رکھتا ہوں جو بجائے باپ کے ہو اور نہ خاندان نبوت جو بجائے ماں کے ہو اور میں آدم کی طرح توام ہوں اور حضرت عیسیٰ توام نہیں تھا اور آدم کی طرح خونریزی کی مجھ پر تہمت لگائی گئی اور آدم کی طرح میں جمالی اور جلالی دونوں رنگ رکھتا ہوں۔ مگر حضرت عیسیٰ محض جمالی رنگ تھا۔ اس لئے میں آدم کے لئے مظہر اتم ہوں۔ مگر حضرت عیسیٰ مظہر اتم نہیں تھا۔“

(نزول المسیح ص ١٢٦، ١٢٧، خزائن ج ١٨ ص ٥٠٤، ٥٠٥)

حمید ...... واہ سبحان اللہ! مقابلہ ہو تو ایسا ہی ہو۔ ان کے ماں باپ تو جسمانی دیکھے جائیں اور اپنی باری آئے تو روحانی پیش کر دیئے جائیں۔ حالانکہ حقیقت میں یہ بھی غلط ہے۔ مرزا قادیانی تو سکول میں کئی استادوں کے سامنے گھٹنے رگڑ رگڑ کر تعلیم پاتے رہے (جو سب کے سب ان کے

روحانی باپ ہوئے) مگر عیسیٰ علیہ السلام تو کسی ایک مدرسہ

جمیل ...... خیر اس سے ضرور ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی ہر جـ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اسلام میں یہی ایک

اختر ...... جی ہاں! مرزا قادیانی تو اپنی فضیلت کا ڈھنڈورا اگر کوئی قادیانی نہ مانے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔

حمید ...... کیا کسی اور جگہ بھی مرزا قادیانی نے اپنی فضیلت بـ

اختر ...... کیوں نہیں۔ ملاحظہ ہو (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا ہے جو اس پہلے مسیح سے

جمیل ...... کیوں منظور صاحب اس سے بھی حضرت عیسیٰ علـ

اختر ...... اگر نہیں مانتے تو سنئے۔ مرزا قادیانی اپنی اس ص ١٥٢) پر یوں گویا ہوئے ہیں: ”مجھے قسم ہے اس ذات اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سے ظاہر ہوئے ہیں، وہ ہرگز نہ دکھا سکتا۔“

حمید ...... اب تو معاملہ بالکل صاف ہے۔ مرزا قادیانی ا

اختر ...... ہاں اور سنئے (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧ افضل ہے۔“ پھر اسی کتاب کے ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص موسیٰ سے بڑھ کر اور مثیل ابن مریم ابن مریم سے بڑھ کر

منظور ...... تو اس میں بات کون سی ہے۔ جب خدا نے ا کیا حرج ہے؟

حمید ...... جی یہی پہلے خالد صاحب کا خیال تھا۔ مگر وہ تـ حق حاصل نہیں کہ خدا سے حکم پائے بغیر اپنے آپ کو عـ تو پھر ثبوت میں کوئی قرآنی آیت پیش کریں یا کم از کم عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی فضیلت ظاہر کر رہے ہیں۔

جمیل ...... بھائی! الہام کی ضرورت کیا ہے۔ ان کا کہنا

اختر ...... جیسا کہ انہوں نے آپ جیسے معترضوں کے خود ہی لکھ دیا ہے: ”جب کہ خدا نے اور اس کے رسول

صفحہ ٤٤٩

روحانی باپ ہوئے ) مگر عیسیٰ علیہ السلام تو کسی ایک مدرسہ میں بھی داخل نہ ہوئے تھے۔

جمیل ...... خیر اس سے ضرور ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی ہر حیثیت میں عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے سے کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اسلام میں یہی ایک بڑا جرم ہے جو بقول مرزا کفر ہے۔

اختر ...... جی ہاں ! مرزا قادیانی تو اپنی فضیلت کا ڈھنڈورا نہایت واضح الفاظ میں پیٹ رہے ہیں۔ اگر کوئی قادیانی نہ مانے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔

حمید ...... کیا کسی اور جگہ بھی مرزا قادیانی نے اپنی فضیلت اور بڑائی کا اظہار کیا ہے؟

اختر ...... کیوں نہیں ۔ ملاحظہ ہو (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) ارشاد ہوتا ہے : ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا ہے جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے ۔“

جمیل ...... کیوں منظور صاحب اس سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کسر شان ہوتی ہے۔ یا نہیں؟

اختر ...... اگر نہیں مانتے تو سنئے ۔ مرزا قادیانی اپنی اسی کتاب (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) پر یوں گویا ہوئے ہیں: ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہوئے ہیں، وہ ہرگز نہ دکھا سکتا۔“

حمید ...... اب تو معاملہ بالکل صاف ہے۔ مرزا قادیانی اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتا ہے۔

اختر ...... ہاں اور سنئے (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧) پر لکھتے ہیں: ”مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے ۔“ پھر اسی کتاب کے ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤ پر یوں گوہر افشاں ہیں: ”مثیل موسیٰ موسیٰ سے بڑھ کر اور مثیل ابن مریم ابن مریم سے بڑھ کر ۔“

منظور ...... تو اس میں بات کون سی ہے۔ جب خدا نے ان کو ان سے افضل بنایا تو اس کے اظہار میں کیا حرج ہے؟

حمید ...... جی یہی پہلے خالد صاحب کا خیال تھا۔ مگر وہ تو مان گئے کہ مرزا قادیانی کو کسی طرح بھی یہ حق حاصل نہیں کہ خدا سے حکم پائے بغیر اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت دیں۔ ہاں اگر دیں تو پھر ثبوت میں کوئی قرآنی آیت پیش کریں یا کم از کم اپنا الہام ہی پیش کریں۔ جس کی رو سے وہ عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی فضیلت ظاہر کر رہے ہیں ۔

جمیل ...... بھائی ! الہام کی ضرورت کیا ہے۔ ان کا کہہ دینا ہی الہام ہے۔

اختر ...... جیسا کہ انہوں نے آپ جیسے معترضوں کے اعتراضات سے تنگ آکر غصہ کی حالت میں خود ہی لکھ دیا ہے : ” جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو

٦٣

صفحہ ٤٥٠

اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو ۔"

(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)

حمید ...... گویا اس سے تین باتیں ثابت ہوئیں۔ اول یہ کہ فی الحقیقت مسیح ابن مریم سے افضل تھے۔ دوم یہ کہ جو نہ مانے وہ شیطانی وساوس کا شکار ہو رہا ہے۔ سوم یہ کہ اس فضیلت کا ذکر نہ صرف خدا تعالیٰ اور رسول ﷺ ہی نے پہلے کر دیا ہے۔ بلکہ تمام نبیوں نے بھی اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اب ہم پہلی اور دوسری بات کو چھوڑتے ہوئے مولانا منظور الحسن سے صرف تیسری بات کا ثبوت طلب کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی کس آیت میں اور رسول اللہ ﷺ کی کون سی حدیث میں یہ آیا ہے کہ آخری زمانہ کا مسیح (غلام احمد قادیانی) عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہوگا۔ بس آپ زیادہ باتیں نہ کریں۔ صرف اس کا حوالہ دے دیں۔

خالد ...... کہیئے کہیئے مولانا منظور الحسن صاحب ! اس کا ثبوت آپ کے پاس کیا ہے؟

منظور ...... بھائی اس وقت تو مجھے کوئی ایسی آیت یا حدیث یاد نہیں ہے۔

جمیل ...... جناب کوئی ایسی آیت یا حدیث ہو تو آپ کو یاد بھی ہو۔ مگر جب کسی آیت حدیث میں اس کا ذکر تک نہ ہو تو آپ کو کہاں سے یاد ہو۔

اختر ...... آپ ناحق ان کو تکلیف دیتے ہیں۔ وہ بے چارے کس کس چیز کا آپ کو حوالہ دیں۔ مرزا قادیانی تو ایک جگہ یہ بھی لکھتے ہیں: ”یسوع در حقیقت مرگی کی وجہ سے دیوانہ ہو گیا تھا۔“

(ست بچن ص ١٧١ خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥)

حمید ...... یہ لو، اب ان کو مرگی کا الزام بھی دے دیا۔ شاید اس لئے کہ جب میں مراقی ہوں تو ان کو کیوں نہ مرگی کی وجہ سے دیوانہ قرار دے دوں۔

جمیل ...... کیوں منظور صاحب! سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم دیوانے تھے۔ آپ کا بھی یہی ایمان ہے۔

منظور ...... نہ بھئی میرا ایمان تو یہ نہیں ۔ مگر شاید پہلے کسی نے لکھا ہو اور اسی کی بناء پر مرزا قادیانی نے لکھ دیا ہو۔

حمید ...... جی ہاں یہود نے لکھا ہو گا اور ان کا ہی یہ عقیدہ بھی ہو گا۔ نہ کوئی مسلمان اسے مانتا ہے۔ نہ عیسائی ۔ ہاں جو یہود کا ایجنٹ ہو وہ ضرور اسے تسلیم کرتا اور اس کی اشاعت کا دم بھرتا ہو گا۔

خالد ...... بھائی میں تو یہ عبارات اور مرزا قادیانی کی تحریرات سن سن کر بہت حیران ہو رہا ہوں۔ بخدا عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں ایسی ایسی گستاخیاں میں نے کبھی ان کے مخالفین کے منہ سے بھی

٦٤

صفحہ ٤٥١

نہ سنی تھیں اور اس قسم کی تحریرات آج تک میری نظر سے کبھی نہ گزری تھیں۔ واللہ! اگر مجھے ان کا پہلے علم ہو جاتا تو میں کبھی ان کے جال میں نہ پھنستا۔

حمید ..... اب بھی شکر کیجئے کہ آپ کو جلد علم ہو گیا اور آپ بچ گئے ورنہ تو معلوم کب تک اس ضلالت کے گڑھے میں گرے رہتے۔

خالد ..... الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ خدا تعالیٰ نے اختر صاحب کو میرے لئے فرشتہ رحمت بنا کر بھیجا اور میں بچ گیا۔ اب میں آپ سب دوستوں کے سامنے مرزائیت سے تائب ہوتا ہوں اور از سر نو محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں داخل ہوتا ہوں۔ آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے استقامت عطا فرمائے۔

جمیل ..... آمین ثم آمین یا الہ العالمین!

اختر ..... ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد!

حمید ..... مولانا ان حوالجات میں جو اب تک آپ نے پیش کئے ہیں۔ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ سمجھنے والوں کے لئے تو اتنا ہی کافی ہے مگر ممکن ہے کہ قادیانی بھائی یہ کہہ دیں کہ عیسائیوں کو جواب دیتے ہوئے عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر تو آنا چاہئے تھا۔ جسے آپ نے توہین پر محمول گردان لیا۔ اگر فی الواقعہ مرزا قادیانی کی نیت یہی ہوتی یا انہیں توہین انبیاء کی عادت ہوتی تو دیگر انبیاء کے متعلق ایسے ویسے الفاظ کیوں نہ کہتے۔

اختر ..... تو کیا اب آپ مرزا قادیانی کی تصانیف سے ایسے حوالے بھی دیکھنا چاہتے ہیں جن سے دیگر انبیاء کرام کی توہین بھی ثابت ہو جائے۔

جمیل ..... ہاں ہاں وہ بھی ضرور دکھائیے تاکہ حاضرین مجلس کی اچھی طرح تسکین ہو جائے۔

اختر ..... مولانا منظور الحسن صاحب سے پوچھ لیجئے۔ اگر ان کا بھی یہی خیال ہو تو مجھے ایسے حوالجات دکھانے سے بھی کوئی عذر نہیں۔

منظور ..... ہاں صاحب! دکھائیے کم از کم میری معلومات میں تو اضافہ ہو جائے گا۔ مجھے تو آج تک اس قسم کی عبارات دیکھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔

اختر ..... جی ہاں آپ کو اتفاق کاہے کو ہونا تھا۔ جو شخص تصویر کا صرف ایک رخ دیکھتا ہو اسے دوسرا رخ کبھی دکھائی نہیں دیتا۔

خالد ..... یہ بات تو بالکل سچ ہے۔ ہمیں اس کا خیال تک بھی نہ آیا تھا۔ اگر کسی نے کچھ کہہ دیا تو ہم نے محض اس کی عداوت پر محمول کر ڈالا اور اصل عبارت دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔

اختر ..... تو اچھا لیجئے اب سنتے جائیے۔ مرزا قادیانی اپنی مشہور کتاب (ازالہ اوہام ص ٦٢٠ ، خزائن ج ٣

٦٥

صفحہ ٤٥٣

ص ٢٣٩) پر ارقام فرماتے ہیں: ”ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی۔“

جمیل ...... توبہ توبہ، کس قدر دلیری اور جرات ہے کہ چار سو انبیاء کو جھوٹا قرار دے دیا۔ اب اس سے بڑھ کر انبیاء کی توہین اور کیا ہو سکتی ہے۔

خالد ...... کیا مرزا قادیانی کے اصل الفاظ یہی ہیں۔ ذرا مجھے کتاب تو دکھائیے۔

اختر ...... لیجئے اور بغور دیکھئے اور سیاق و سباق پر بھی غور کیجئے۔

حمید ...... مجھے معلوم ہوتا ہے کہ جب مرزا قادیانی پر کوئی اعتراض کرتا ہوگا کہ آپ کی فلاں پیشگوئی جھوٹی نکلی تو بجائے اس کے آپ اسے سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔ آپ دیگر انبیاء پر بھی یہی الزام لگا دیتے ہوں گے۔ چنانچہ یہ بھی ایسے ہی موقع پر لکھا گیا ہوگا۔

جمیل ...... اگر کوئی معمولی آدمی ایسی بکواس کرے تو شاید کوئی پرواہ بھی نہ کرے۔ مگر جب اتنا بڑا ذمہ دار آدمی اس قسم کی حرکت کرے تو اسے سوچ لینا چاہئے کہ ثبوت کہاں سے دے گا۔

حمید ...... کیا پروفیسر صاحب آپ نے کسی تاریخ میں دیکھا ہے وہ کون سا بادشاہ تھا؟ کس زمانے میں ہوا؟ وہ کون سے چار سو نبی تھے جو اکٹھے ہو کر اس کے پاس تبلیغ کے لئے نہیں بلکہ صرف فتح کی بشارت دینے کے لئے گئے اور نبی کی بشارت چونکہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس لئے خدا نے بھی ایک دو سے نہیں، دس بیس سے نہیں بلکہ پورے چار سو نبیوں سے دعا کروائی اور اسے یہ بھی خیال نہ آیا کہ لوگ میرے انبیاء کے متعلق کیا رائے قائم کریں گے۔

اختر ...... میں نے تو تاریخ کی بہت سی کتابیں دیکھیں مگر یہ واقعہ کسی ایک تاریخ سے بھی نہیں ملا۔ شاید مولانا منظور الحسن صاحب آپ کی رہنمائی کر سکیں۔

منظور ...... میں کسی تاریخ کا حوالہ تو نہیں دے سکتا۔ ہاں یہ ضرور کہوں گا کہ مرزا قادیانی نے غلط نہیں لکھا۔ کسی نہ کسی کتاب سے دیکھ کر لکھا ہوگا۔

حمید ...... اگر کسی کتاب سے دیکھ کر لکھا ہوتا تو اس کا حوالہ دینا چاہئے تھا۔ مگر چونکہ ایسا نہیں ہوا۔ اس لئے ہم یہ باور نہیں کر سکتے کہ انہوں نے کسی کی تقلید کی ہے۔ بلکہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اپنی رائے سے لکھا ہے اور بقول آپ کے خدا سے اطلاع پا کر لکھا ہے۔ کیونکہ ایک نبی خدا سے اطلاع پائے بغیر کچھ نہیں کہہ سکتا۔

اختر ...... اگر ایک ہی جگہ لکھتے تو یہ بھی امکان ہو سکتا تھا کہ سہو ہو گیا یا حوالہ دینا رہ گیا۔ غضب تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی یہی الفاظ اپنی دوسری کتاب (ضرورۃ الامام ص ١٧، ١٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٨) پر اسی

طرح نقل کرتے ہیں: ”ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی۔“

جمیل ...... خالد صاحب یہ کتاب بھی دیکھ لیجئے۔ دونوں کی عبارتیں

اختر ...... لیجئے اب اور سنئے۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ہیں اور کیا صاف الفاظ میں فرماتے ہیں: ”کیا کسی ایک نبی کا اجتہادی طور پر اپنی کسی پیشگوئی کے معنے کرنے میں غلطی نہیں کھائی

حمید ...... گویا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے کوئی ایک نبی بھی قادیانی کے غلطی نہ کھائی ہو۔ حتیٰ کہ محمد ﷺ بھی انہیں میں شامل ہیں

جمیل ...... تو اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی عصمت انبیاء کرام کو اجتہادی غلطی کے مرتکب قرار دے رہے ہیں اور ہیں کہ وہ انسان کو گمراہ کر دیتی ہیں۔ تو ایسی صورت میں گویا مرزا چھوڑ اور نبی کریم ﷺ کو بھی ساتھ ہی شامل کر لیا ہے۔

منظور ...... نہیں نہیں یہ آپ کا خیال غلط ہے۔ جب مرزا قادیانی بھرتے ہیں اور ان کی طفیل اس بلندی (مقام نبوت) پر پہنچے تو کل کہہ سکتے ہیں۔

اختر ...... منظور صاحب! یہ نہ کہئے۔ یہ محض آپ کا ذاتی خیال ہے اللہ ﷺ کو بھی نہیں چھوڑا اور نہایت صراحت سے یہ لکھ دیا کہ میں غلطیاں ہو جاتی تھیں۔

منظور ...... اگر آپ مجھے مرزا قادیانی کی تصانیف سے یہ دکھا دیں تائب ہو جاؤں گا۔

حمید ...... خوب خوب! لیجئے مولانا یہ شکر بھی آج ہی کیجئے۔ اگر جائے تو یقیناً پھر مرزائیت کا جنازہ اٹھ جائے گا۔

اختر ...... بہت اچھا۔ میں حوالہ جات پیش کرتا ہوں۔ مگر آپ ایک تحریر لے لیں تاکہ بعد میں انہیں انکار کی کوئی گنجائش نہ رہے

منظور ...... تحریر کی کیا ضرورت ہے؟ کیا آپ کو میری زبان پر اع

حمید ...... میں بھی اس کی تائید کرتا ہوں۔ کیونکہ مولانا منظور

صفحہ ٤٥٣

طرح نقل کرتے ہیں: ”ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے ان کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کا شکست آئی۔“

جمیل ...... خالد صاحب یہ کتاب بھی دیکھ لیجئے۔ دونوں کی عبارتیں بالکل یکساں ہیں۔

اختر ...... لیجئے اب اور سنئے۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٤، خزائن ج ٢١ ص ١٦٨) پر لکھتے ہیں اور کیا صاف الفاظ میں فرماتے ہیں: ”کیا کسی ایک نبی کا نام بھی لے سکتے ہو جس نے کبھی اجتہادی طور پر اپنی کسی پیشگوئی کے معنے کرنے میں غلطی نہیں کھائی۔“

حمید...... گویا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے کوئی ایک نبی بھی ایسا نہیں رہا جس نے بقول مرزا قادیانی کے غلطی نہ کھائی ہو۔ حتیٰ کہ محمدﷺ بھی انہیں میں شامل ہیں۔

جمیل...... تو اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ مرزا قادیانی عصمت انبیاء کے قائل نہیں۔ وہ جملہ انبیائے کرام کو اجتہادی غلطی کے مرتکب قرار دے رہے ہیں اور بعض اجتہادی غلطیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ انسان کو گمراہ کردیتی ہیں۔ تو ایسی صورت میں گویا مرزا قادیانی نے کسی ایک نبی کو بھی نہیں چھوڑا اور نبی کریم ﷺ کو بھی ساتھ ہی شامل کرلیا ہے۔

منظور...... نہیں نہیں یہ آپ کا خیال غلط ہے۔ جب مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کی غلامی کا دم بھرتے ہیں اور ان کی طفیل اس بلندی (مقام نبوت) پر پہنچے ہیں تو پھر ان کی شان میں کیونکر ایسا کلمہ کہہ سکتے ہیں۔

اختر...... منظور صاحب! یہ نہ کہئے۔ یہ محض آپ کا ذاتی خیال ہوگا۔ ورنہ مرزا قادیانی نے تو رسول اللہ ﷺ کو بھی نہیں چھوڑا اور نہایت صراحت سے یہ لکھ دیا کہ آنحضرت ﷺ سے بھی الہام سمجھنے میں غلطیاں ہو جاتی تھیں۔

منظور...... اگر آپ مجھے مرزا قادیانی کی تصانیف سے یہ دکھا دیں تو میں بھی آج ہی مرزائیت سے تائب ہو جاؤں گا۔

حمید ...... خوب خوب! لیجئے مولانا یہ شکر بھی آج ہی کیجئے۔ اگر مرزائیوں کا اتنا بڑا مبلغ مسلمان ہو جائے تو یقیناً پھر مرزائیت کا جنازہ اٹھ جائے گا۔

اختر...... بہت اچھا۔ میں حوالجات پیش کرتا ہوں۔ مگر آپ اس کے متعلق منظور صاحب سے کوئی تحریر لے لیں تاکہ بعد میں انہیں انکار کی کوئی گنجائش نہ رہے۔

منظور ...... تحریر کی کیا ضرورت ہے؟ کیا آپ کو میری زبان پر اعتبار نہیں؟

حمید...... میں بھی اس کی تائید کرتا ہوں۔ کیونکہ مولانا منظور الحسن کو ایک دم ١٠٠ روپے کی ملازمت

٦٧

صفحہ ٤٥٥

چھوڑ کر غریب مسلمانوں کے ساتھ بھوکوں مرنا بہت مشکل ہوگا اور پھر خواہ مخواہ ان کو تاویلیں کرنی پڑیں گی۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ابھی سے کسی کو منصف مان لیا جائے اور وہ مولانا اختر حسین صاحب کے پیش کردہ حوالجات کو دیکھ کر تحریری فیصلہ دے کہ آیا ان عبارات سے آنحضرت ﷺ کی توہین مترشح ہوتی ہے یا نہیں؟

خالد ...... ٹھیک ہے مولانا منظور الحسن صاحب مان لیجئے۔ اس میں آپ کا کیا حرج ہے۔ اگر تلاش حق مقصود ہے۔ تو پھر ڈر کس کا ہے۔ ماشاء اللہ آپ ذی علم آدمی ہیں۔ جس جماعت میں بھی ہوں گے ۔ قدر ہی ہوگی۔ ملازمت کی فکر نہ کیجئے۔ خدا روزی رساں ہے۔

منظور ...... اچھا لاؤ۔ میں لکھے دیتا ہوں۔

حمید ...... لیجئے کاغذ اور قلم دوات حاضر ہے۔

منظور ...... مگر منصف کس کو ماننا ہے؟

اختر ...... جس کو آپ کہیں۔

منظور ...... میرے خیال میں جسٹس عبدالحق موزوں رہیں گے۔

اختر ...... چلو ہمیں وہی منظور ہیں۔

خالد ...... مولانا تو ایکدفعہ بہت آزاد خیال واقع ہوئے ہیں۔

اختر ...... چلو کچھ بھی ہو۔ ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہم تو مرزا قادیانی کی عبارات پیش کریں گے۔ وہ اس سے جو کچھ سمجھیں ہمیں منظور ہے۔

حمید ...... ذرا جائیے مسٹر جمیل، آپ ایک تانگہ لے آئیں اور ان کو ساتھ ہی لے آئیں۔ امید ہے کہ وہ آج فارغ بھی ہوں گے اور آ جائیں گے۔

جمیل ...... اچھا میں جاتا ہوں۔ مگر آپ میرے آنے تک ان سے تحریر تو لکھوائیں۔

حمید ...... لیجئے مولوی صاحب! آپ لکھنا شروع کیجئے۔

منظور ...... بسم الله الرحمن الرحیم، نحمده ونصلی علی رسوله الكريم، اما بعد

”میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر مولوی اختر حسین صاحب نے مرزا قادیانی کی تصانیف سے کوئی ایسی عبارت پیش کردی۔ جس میں آنحضرت ﷺ کی توہین یا ذم کا کوئی پہلو نکلتا ہو یا ان کی کسی غلطی کا ذکر ہو تو میں مرزائیت سے تائب ہو جاؤں گا۔ ہاں اگر اس کا مفہوم سمجھنے میں ہم دونوں میں اختلاف ہو جائے تو جسٹس عبدالحق صاحب کا فیصلہ فریقین کے لئے مسلم ہوگا۔ بقلم خود منظور الحسن مولوی فاضل مبلغ جماعت احمدیہ ۔“

٦٨

اختر ...... لیجئے صاحب ۔ اب منصف کے آنے سے پہلے پہلے جلد از جلد فیصلہ ہو جائے ۔

حمید ...... ہاں ہاں ۔ سنائیے۔ ہم تو چشم براہ ہیں۔

اختر ...... مرزا قادیانی کی کتاب (ازالہ اوہام ص ٤٠٠، خزائن ج ٣ بھائی جلدی سے جوش میں نہ آ جائیں تو میرا تو یہی مذہب ہ ہوں کہ تمام انبیاء کی فراست اور فہم آپ کے برابر نہیں ۔ مگ حضرت محمد ﷺ نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے اس کی اصل ح

حمید ...... استغفر اللہ ! کس قدر دیدہ دلیری ہے کہ اس چیز کو بطو پھر صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھا

منظور ...... مگر یہ بھی تو فرمائیے کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے ک ہے ۔’جب حضور نے خود اقرار کیا ہے تو پھر مرزا قادیانی کے ک

اختر ...... بہت اچھا! چلئے اس کا فیصلہ آپ ہی پر رہا۔ آپ ن دکھا دیں اور انعام حاصل کریں۔

منظور ...... اس وقت کتابیں میرے پاس موجود نہیں ہیں۔

اختر ...... کتابیں میں مہیا کئے دیتا ہوں۔ فرمائیے کون کون ہیں ۔ مبلغ ہیں ۔ اکثر کتابیں دیکھی ہوئی ہیں ۔ حلفیہ ارشاد فر م پڑھی ہے جس میں حضور ﷺ نے اپنی غلطی کا اقرار کیا ہو۔

منظور ...... نہیں! میری نظر سے آج تک ایسی حدیث نہیں گز والے نہ تھے۔

اختر ...... بھائی یہاں سے ایک دوسری بات چل پڑے گی ک تو دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی بڑے کذاب اور مفتری تھے۔ قرآن مجید میں نہیں اور کئی حدیثیں حضور کی طرف ایسی منسو بھی درج نہیں ۔ اگر ارشاد ہو تو میں بیسیوں ایسی چیزیں بط ہوں ۔

خالد ...... واقعی اگر ایسا ہے اور مرزا قادیانی ایسا کہنے کے عا اور مرزا قادیانی نے محض اس خیال سے لوگ مجھے مورد الزام

٦٩

صفحہ ٤٥٥

اختر ...... لیجئے صاحب۔ اب منصف کے آنے سے پہلے پہلے آپ حوالجات بھی سن لیں۔ تاکہ پھر جلد از جلد فیصلہ ہو جائے۔

حمید ...... ہاں ہاں۔ سنائیے۔ ہم تو چشم براہ ہیں۔

اختر ...... مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٤٠٠، خزائن ج ٣ ص ٣٠٧) میں لکھتے ہیں: ”اگر ہمارے بھائی جلدی سے جوش میں نہ آ جائیں تو میرا تو یہی مذہب ہے جس کو دلیل کے ساتھ پیش کر سکتا ہوں کہ تمام انبیاء کی فراست اور فہم آپ کے برابر نہیں۔ مگر پھر بھی بعض پیشگوئیوں کی نسبت حضرت محمد ﷺ نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے اس کی اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی۔“

حمید ...... استغفراللہ! کس قدر دیدہ دلیری ہے کہ اس چیز کو بطور اپنے مذہب کے پیش کیا جا رہا ہے۔ پھر صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی۔

منظور ...... مگر یہ بھی تو فرمائیے کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ نے خود اقرار کیا ہے ۔“ جب حضور نے خود اقرار کیا ہے تو پھر مرزا قادیانی کے لکھنے سے کیونکر توہین ہو سکتی ہے؟

اختر ...... بہت اچھا! چلئے اس کا فیصلہ آپ ہی پر رہا۔ آپ نبی کریم ﷺ کا اقرار کسی حدیث سے دکھا دیں اور انعام حاصل کریں۔

منظور ...... اس وقت کتابیں میرے پاس موجود نہیں ہیں۔

اختر ...... کتابیں میں مہیا کئے دیتا ہوں۔ فرمائیے کون کون سی کتاب لاؤں؟ آخر آپ بھی عالم ہیں۔ مبلغ ہیں۔ اکثر کتابیں دیکھی ہوں گی۔ حلفیہ ارشاد فرمائیں کہ کیا آپ نے کوئی ایسی حدیث پڑھی ہے جس میں حضور ﷺ نے اپنی غلطی کا اقرار کیا ہو۔

منظور ...... نہیں ! میری نظر سے آج تک ایسی حدیث نہیں گزری۔ مگر مرزا قادیانی بھی بلا دیکھے لکھنے والے نہ تھے۔

اختر ...... بھائی یہاں سے ایک دوسری بات چل پڑے گی کہ آیا مرزا قادیانی ایسے تھے یا نہیں۔ میرا تو دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی بڑے کذاب اور مفتری تھے۔ انہوں نے کئی آیتیں ایسی لکھ دیں جو قرآن مجید میں نہیں اور کئی حدیثیں حضور کی طرف ایسی منسوب کر دیں جو حدیث کی کسی کتاب میں بھی درج نہیں ۔ اگر ارشاد ہو تو میں بیسیوں ایسی چیزیں بطور دلیل کے پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔

خالد ...... واقعی اگر ایسا ہے اور مرزا قادیانی ایسا کہنے کے عادی ہیں تو یقیناً پھر یہ بھی جھوٹ ہی ہوگا اور مرزا قادیانی نے محض اس خیال سے کہ لوگ مجھے مورد الزام نہ گردانیں۔ یہ کہہ دیا ہوگا کہ حضور نے

٦٩

صفحہ ٤٥٦

خود اقرار کیا ہے۔

حمید..... خیر فی الحال اس بحث کو جانے دیجئے اور حوالہ جات پیش کیجئے۔ منصف خود فیصلہ دے دے گا۔

اختر..... لیجئے اس سے بھی زیادہ واضح عبارت سنئے۔ جس میں صاف طور پر مرزا قادیانی نے اپنے علم کو آنحضور ﷺ کے علم سے افضل قرار دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ”حضور ﷺ پر ابن مریم اور دجال اور یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض کی حقیقت کاملہ منکشف نہ ہوئی اور مجھ پر کھلے طور پر منکشف کر دی گئی ۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٢٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

حمید..... کہو جی! اب اس کی کیا تاویل ہو سکتی ہے؟ کیا ابھی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی کوئی کسر باقی ہے؟

اختر..... سنئے یہی غلام احمد قادیانی جو محض نادان مسلمانوں کو پھانسنے کے لئے آنحضور ﷺ کی غلامی کا دم بھی بھرتے ہیں۔ اسی (ازالہ اوہام ص ٢٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣) پر اسی مضمون کو کسی قدر واضح طور پر ارقام فرماتے ہیں:

”اور اسی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ موجود نہ ہونے کسی نمونہ کے موہوم منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ہیئت کذائی ظاہر فرمائی گئی ہو اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور امور مشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے، اجمالی طور پر سمجھا دیا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“

حمید..... کیوں جی میاں منظور ! ابھی کوئی شک باقی ہے؟

منظور..... بھائی میں کیا کہوں؟ میں نے آج تک کبھی یہ مقامات دیکھے ہی نہیں۔

اختر..... جی ہاں، کاہے کو دیکھنے تھے اور دیکھنے کی ضرورت بھی کیا تھی۔ آپ کو تو ضرورت صرف ان کی نبوت، مجددیت، مہدویت، کرشنیت وغیرہ منوانے اور لوگوں سے چندہ وصول کرنے کی ہے۔ ورنہ ان کے کفریات سے آپ کو کیا کام؟

خالد..... اچھا مولانا صرف تین ہی حوالے تھے یا کچھ اور بھی ہیں؟

اختر..... تین کیوں؟ ابھی تو کئی تین باقی ہیں۔ ممکن ہے آپ کی یا جج صاحب کی ان سے تسلی نہ ہو۔ اس لئے میں سارے کے سارے حوالے پیش کر کے چھوڑوں گا۔

٧٠

٤٥٧

حمید..... اچھا لیجئے وہ جج صاحب آگئے۔ پہلے آپ ان چلیں۔

جمیل..... ضرور، ضرور جو کارروائی اب تک ہو چکی ہو، ہمیں

جج..... گو میں مذہبی معاملات میں بہت کم دخل دیتا ہوں تعمیل کو بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ اس لئے حاضر ہو گیا ہوں ہیں۔ اگر کوئی اور دلیل بھی آپ دینا چاہیں تو پیش کیجئے۔

اختر..... مرزا قادیانی حضور سرور عالم ﷺ کی ایک پیشگو اوہام ص ٤٠١، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧) پر لکھتے ہیں۔ ملاحظہ فرما پیشگوئی کی اصل حقیقت سے خبر نہ تھی۔ اس لئے منع کیا گ پیش گوئی کے ظہور کے وقت نے نکالا۔“

پھر اسی پیشگوئی کا تذکرہ ایک دوسرے مقام ”لیکن آخر کار ظاہری معنی صحیح نہ نکلے جس سے ثاب آنحضرت ﷺ کو بھی معلوم نہ تھی۔“

اب میرا دعویٰ ہے کہ ان عبارات سے بھی کریم ﷺ کی تنقیص کرنے والا امامت تو درکنار امت م

منظور..... خیر آپ فیصلہ نہ دیں۔ اگر کوئی اور حوالہ پیش ک

حمید..... مگر آپ یہ فرمائیں کہ کیا آپ کو ان پر کوئی اعتر

منظور..... اعتراض کیوں نہیں؟ اعتراض تو کیا جاسکتا ہے کسی روایت کی بناء پر لکھا ہوگا۔

خالد..... آپ بھی عجیب آدمی ہیں۔ وہ تو کہہ رہے ہی آپ کا یہ ارشاد کہ مرزا قادیانی نے از خود نہیں لکھا، کس ج ٣ ص ٤٠٧) پر فرمارہے ہیں کہ ”میرا تو یہی مذہب دعوے کر رہے ہیں کہ جو چیز خدا نے حضور ﷺ پر منکش

جمیل..... منظور صاحب ! کیا اب اس سے بڑھ کر بھی کو

حمید..... بھائی آپ اتنے بخیل طبع نہ بنیں۔ ان کی دل

جمیل..... آپ کو اس کی دل شکنی کا تو خیال ہے، مگر

٧١

صفحہ ٤٥٧

حمید...... اچھا لیجئے وہ جج صاحب آگئے ۔ پہلے آپ ان کو پچھلے حوالجات دکھا لیں اور پھر آگے چلیں۔

جمیل...... ضرور ضرور جو کارروائی اب تک ہو چکی ہو، ہمیں وہ سنا دیجئے۔

جج...... گو میں مذہبی معاملات میں بہت کم دخل دیتا ہوں مگر تاہم آپ جیسے احباب کے ارشاد کی تعمیل کو بھی ضروری سمجھتا ہوں ۔ اس لئے حاضر ہو گیا ہوں۔ اب چلئے یہ عبارات تو میں نے دیکھ لی ہیں۔ اگر کوئی اور دلیل بھی آپ دینا چاہیں تو پیش کیجئے۔

اختر....... مرزا قادیانی حضور سرور عالم ﷺ کی ایک پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے اسی کتاب (ازالہ اوہام ص ٤٠١، خزائن ج ٣ ص ٣٠٧) پر لکھتے ہیں۔ ملاحظہ فرمایئے: ”چونکہ آنحضرت ﷺ کو بھی اس پیشگوئی کی اصل حقیقت سے خبر نہ تھی۔ اس لئے منع کیا کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے۔ آخر اس غلطی کو پیش گوئی کے ظہور کے وقت نے نکالا۔“

پھر اسی پیشگوئی کا تذکرہ ایک دوسرے مقام پر کرتے ہوئے یوں ارقام فرماتے ہیں: ”لیکن آخر کار ظاہری معنی صحیح نہ نکلے جس سے ثابت ہوا کہ اس پیشگوئی کی اصل حقیقت آنحضرت ﷺ کو بھی معلوم نہ تھی۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٣٢، خزائن ج ٣ ص ٤٩٦)

اب میرا دعویٰ ہے کہ ان عبارات سے بھی آنحضور ﷺ کی تنقیص عیاں ہے اور نبی کریم ﷺ کی تنقیص کرنے والا امامت تو درکنار امت محمدیہ سے بھی خارج ہے۔

منظور...... خیر آپ فیصلہ نہ دیں۔ اگر کوئی اور حوالہ پیش کرنا چاہیں تو کریں۔

حمید...... مگر آپ یہ فرمائیں کہ کیا آپ کو ان پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے۔

منظور...... اعتراض کیوں نہیں؟ اعتراض تو کیا جاسکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے از خود یہ نہیں لکھا بلکہ کسی روایت کی بناء پر لکھا ہوگا۔

خالد...... آپ بھی عجیب آدمی ہیں۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی روایت ہو تو پیش کریں۔ نیز آپ کا یہ ارشاد کہ مرزا قادیانی نے از خود نہیں لکھا، کس قدر غلط ہے۔ وہ تو پہلی جگہ (ص ٤٠٠، خزائن ج ٣ ص ٣٠٧) پر فرما رہے ہیں کہ ”میرا تو یہی مذہب ہے“ اور پھر دوسری جگہ (ص ٤٨٣) پر یہ بھی دعوے کر رہے ہیں کہ جو چیز خدا نے حضور ﷺ پر منکشف نہیں کی وہ مجھ پر منکشف کردی۔“

جمیل...... منظور صاحب! کیا اب اس سے بڑھ کر بھی اور کوئی ڈھٹائی یا بے حیائی ہوسکتی ہے؟

حمید...... بھائی آپ اتنے ثقیل لفظ نہ کہیں۔ ان کی دل شکنی ہوگی۔

جمیل...... آپ کو اس کی دل شکنی کا تو خیال ہے۔ مگر ہماری دل شکنی کا کوئی احساس نہیں ہوا۔ بخدا

٧١

صفحہ ٤٥٩

میرا کلیجہ پھٹ رہا ہے اور میرے بدن میں ایک آگ سی لگ رہی ہے اور میں حیران ہو رہا ہوں کہ وہ کون بدبخت مسلمان ہے جو حضور ﷺ کی اس تنقیص کو قلمبند کرنا تو درکنار سننا بھی گوارہ کر سکتا ہے۔

اختر.......بیشک بیشک! ایک مسلمان کی غیرت ایسی ہی ہونی چاہئے۔ مگر کیا کریں یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ یعنی صرف مرزا قادیانی ہی کا یہ عقیدہ نہیں، بلکہ تمام مرزائیوں کا عقیدہ یہی ہے کہ مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ سے افضل ہیں۔

منظور.......نہیں نہیں! یہ صرف آپ کا خیال ہے۔ کوئی قادیانی ایسا نہیں جو نبی ﷺ پر مرزا قادیانی کو ترجیح دیتا ہو۔

اختر.......معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی معلومات بہت تنگ ہیں یا آپ دیدہ و دانستہ تجاہل عارفانہ کر رہے ہیں۔ دیکھئے یہ ہے ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ جون ١٩٢٩ء جس میں آپ کے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود لکھتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کو آنحضرت پر حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی۔‘‘

جمیل....... استغفر اللہ! کس قدر بے باکی اور بے حیائی سے لکھا گیا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اگر یہی عبارت کسی آریہ یا عیسائی کے قلم سے نکلتی تو مرزائی پریس نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہوتا اور مسلمانوں میں ایک کہرام مچ جاتا۔ مگر اس انگریزوں کے پٹھو (ظل مسیح) کے لکھنے پر کسی نے چوں تک نہیں کی۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

خالد.......منظور صاحب! کچھ کہئے۔ اس کا جواب کیا ہے؟

جمیل.......اس کا جواب خاک دیں گے۔ اب تو بجز توبہ کے اس کے لئے کوئی چارہ ہی نہیں۔

منظور.......خیر میں توبہ کر لوں گا۔ مگر اس کے جواب میں اتنا تو کہہ سکتا ہوں کہ یہ خلیفہ کی تحریر نہیں بلکہ مدیر رسالہ کا خیال ہے۔

اختر.......یہ بھی غلط اور محض غلط ہے۔ دیکھئے اس پر صاف خلیفہ کا نام لکھا ہے۔ مگر خیر اگر ابھی تک آپ کو شک ہو تو لیجئے اور سنئے آپ کے خلیفہ میاں محمود اپنی ڈائری مطبوعہ مورخہ ١٧ مئی ١٩٢٢ء میں اسی مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘

٧٢

کہو جی! اب اس کے متعلق آپ کیا کہتے ’’بڑے میاں بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ‘‘ مذہب درج ہے۔ فرمائیے۔ اب آپ کا دھرم کیا ہے؟

جج.......آپ اگر اصل موضوع پر کچھ اور پیش کرنا چاہ دے دوں۔

جمیل.......آپ بیشک فیصلہ دے دیں۔ اب کچھ کہنے کی

خالد.......نہیں نہیں۔ اگر مولانا کے پاس اور دلائل بھی ہماری معلومات میں بھی کچھ اضافہ ہو جائے اور ریکارڈ

اختر.......لیجئے، سنئے مرزائی یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی اتباع ہی سے یہ مرتبہ حاصل کیا ہے اور آپ درجہ ب قادیانی خود اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔

حمید.......کیا سچ مچ؟ پھر تو مدعی سست اور گواہ چست والی

اختر.......ہاں یہی تو ہے۔ اسی لئے تو میں کہا کرتا ہوں پر عبور حاصل نہیں۔ بلکہ وہ تو ان کو پورے پورے طور نے اقرار بھی کر لیا ہے۔ ورنہ اگر وہ مرزا قادیانی کے کتابوں میں بیان کئے ہیں، آگاہ ہو جائیں تو یقیناً بھریں۔

خالد.......بیشک آپ کا یہ خیال صحیح ہے۔ میں محض اس صاحب بھی آج تک ان معتقدات سے آگاہ نہ تھے

منظور.......اچھا آپ جو کچھ فرمانا چاہتے ہیں۔ فرمائ اظہار کر سکوں۔

اختر.......میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ مرزا قادیانی نے نہ کی تذلیل کر کے اپنی فضیلت ثابت کرنے کی ک فضیلت کا ڈھنڈورا پیٹ دیا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو (کتاب البریہ ص ١٤٧

صفحہ ٤٥٩

کہو جی! اب اس کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟ یہ آپ کے خلیفہ کا اعتقاد ہے۔ ”بڑے میاں بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ“ اوپر باپ کا مذہب بیان ہوا۔ نیچے بیٹے کا مذہب درج ہے۔ فرمائیے۔ اب آپ کا دھرم کیا ہے؟

جج ...... آپ اگر اصل موضوع پر کچھ اور پیش کرنا چاہتے ہیں تو پیش کریں تاکہ پھر میں اپنا فیصلہ دے دوں۔

جمیل ...... آپ بیشک فیصلہ دے دیں۔ اب کچھ کہنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔

خالد ...... نہیں نہیں۔ اگر مولانا کے پاس اور دلائل بھی ہوں تو بیشک انہیں پیش کر لینے دیجئے تاکہ ہماری معلومات میں بھی کچھ اضافہ ہو جائے اور ریکارڈ میں بھی یہ چیزیں آجائیں۔

اختر ...... لیجئے، سنئے مرزائی یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے محض آنحضور ﷺ کی اطاعت اور کامل اتباع ہی سے یہ مرتبہ حاصل کیا ہے اور آپ درجہ میں آنحضور ﷺ سے بہت کم تھے۔ مگر مرزا قادیانی خود اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔

حمید ...... کیا سچ مچ؟ پھر تو مدعی سست اور گواہ چست والا معاملہ ہوا۔

اختر ...... ہاں یہی تو ہے۔ اسی لئے تو میں کہا کرتا ہوں کہ مرزائی مبلغین کو مرزا قادیانی کی تصانیف پر عبور حاصل نہیں۔ بلکہ وہ تو ان کو پورے پورے طور پر پڑھتے ہی نہیں۔ جیسا کہ خود منظور صاحب نے اقرار بھی کر لیا ہے۔ ورنہ اگر وہ مرزا قادیانی کے اعتقادات سے جو کچھ انہوں نے جا بجا اپنی کتابوں میں بیان کئے ہیں، آگاہ ہو جائیں تو یقیناً کبھی اس کا کلمہ نہ پڑھیں اور نہ ہی ان کا دم بھریں۔

خالد ...... بیشک آپ کا یہ خیال صحیح ہے۔ میں محض اسی وجہ سے دام تزویر میں پھنسا رہا اور غالباً منظور صاحب بھی آج تک ان معتقدات سے آگاہ نہ تھے۔ جو آج دیکھ اور سن رہے ہیں۔

منظور ...... اچھا آپ جو کچھ فرمانا چاہتے ہیں۔ فرمائیں۔ تاکہ پھر میں بھی آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کر سکوں۔

اختر ...... میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ مرزا قادیانی نے نہ صرف یسوع مسیح کی توہین کی ہے بلکہ تمام انبیاء کی تذلیل کر کے اپنی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ حتیٰ کہ سرکار مدینہ سے بھی اپنی فضیلت کا ڈھنڈورا پیٹ دیا ہے۔

چنانچہ ملاحظہ ہو (کتاب البریہ ص١١٧، خزائن ج١٣ ص١٥٤) آپ فرماتے ہیں: ”ہمارے

٧٣

صفحہ ٤٦١

نبی ﷺ کے نشان اور معجزات قریب تین ہزار کے ہیں۔ مگر اپنے متعلق (حقیقت الوحی ص ١٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) پر ارقام فرماتے ہیں: ”خدا نے میری سچائی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے۔“ اور (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٨، خزائن ج ٢١ ص ١٤٨) پر اپنے ہی متعلق کہتے ہیں کہ: ”اگر تفصیلاً جدا جدا شمار کیا جائے تو قریباً سارے نشان دس لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“

کیوں جی! اس عبارت میں بھی آپ کی فضیلت ثابت ہو رہی ہے یا نہیں؟ اور آیا مرزا قادیانی نے یہ بھی عمداً لکھا ہے یا غلطی سے لکھ دیا ہے اور کیا آپ مرزا قادیانی کے دس لاکھ یا کم از کم تین لاکھ معجزات گنوانے کے لئے تیار ہیں؟

منظور ...... بس بھائی! اب بس کیجئے۔ میں اس مناظرہ سے باز آیا۔ میں آج صدق دل سے توبہ کرتا ہوں اور مرزائیت پر لعنت بھیجتا ہوں۔ آپ بھی دعا کریں کہ خدا تعالیٰ میرے پچھلے قصوروں کو معاف کرے اور مسیح الدجال کے فتنہ سے تمام مسلمانوں کو بچائے۔

جمیل ...... آمین ! الہی آمین !

حمید ...... الحمد للہ کہ آج منظور صاحب بھی مسلمان ہو گئے۔ خدا تعالیٰ استقامت بخشے۔

خالد ...... بھائی اگر مولانا اختر کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو انشاء اللہ تمام مرزائی یکے بعد دیگرے واپس آجائیں گے۔

جمیل ...... سلسلہ جاری رکھنا تو اب آپ کا یا ہمارا کام ہے۔ مولانا نے جو حوالے آج پیش کئے۔ ہر مرزائی کے سامنے پیش کیجئے اور عصمت انبیاء کا واسطہ دے کر ان سے جواب طلب کیجئے اور انبیاء کرام کی توہین کرنے والے پر کفر کا فتویٰ لے لیجئے۔ اللہ، اللہ خیر صلا۔

حمید ...... مگر میری رائے یہ ہے کہ منصف صاحب کا فیصلہ بھی تحریری حاصل کر لینا چاہئے تاکہ عند الضرورت منظور صاحب کی تحریر اور مولانا کے بیانات معہ فیصلہ منصف شائع ہوسکیں۔

جمیل ...... ٹھیک ہے۔ میں آپ کی تائید کرتا ہوں۔

اختر ...... ہاں! لکھوا لیجئے ۔ اچھی بات ہے۔

جج ...... لائیے ، میں لکھ دیتا ہوں: ” میں نے مرزا قادیانی کی تصنیفات کے وہ مقام جو مابہ النزاع تھے۔ بچشم خود دیکھے اور سیاق و سباق کو ملانے اور اچھی طرح غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ان عبارات سے نہ صرف توہین انبیاء کا پہلو نکلتا ہے۔ بلکہ ان کے الفاظ میں ان کی توہین پائی جاتی ہے۔“

دستخط بحروف انگریزی ...... جسٹس عبدالحق

جمیل ...... جزاک اللہ ! آپ کا یہ فیصلہ مرزائی دنیا کے لئے ایک ناطق فیصلہ ہوگا۔

٧٤

حمید ...... ہاں! بھائی مولانا اختر فرما رہے تھے کہ ابھی کئی

منظور ...... ہاں، آپ سنیں یا نہ سنیں۔ مگر میں تو وہ بھی ا ساتھ گفتگو کرنے میں میرے کام آسکیں۔

اختر ...... لیجئے میں وہ بھی اختصار سے پیش کئے دیتا ہو رنگ میں پھر پیش کرنا چاہیں، کرلیں۔ مرزا قادیانی ا ص ٧٠) پر لکھتے ہیں: ”وان قدمی ھذہ علی منا ایک ایسے منارہ پر ہے جس پر تمام بلندیاں ختم ہو چکی ہ ص ٢٠٩) پر ارقام فرماتے ہیں: ” نزلت سريراً ومق کل سریر آسمان سے کچھ تخت اترے، لیکن تیرا تخت س

ان عبارات سے تمام انبیاء کی خفت ہوتا سے افضل ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ (نزول ہیں کہ: ” اس زمانہ میں خدا نے چاہا جس قدر نیک اور ر ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں ب

پھر (حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦ تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں ب آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابر ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں مو آنحضرت ﷺ کا مظہر اتم ہوں، یعنی ظلی طور پر محمد اور ا

میں کبھی عیسیٰ کبھی موسیٰ آ
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں

ذرا حضور کی لن ترانی ملاحظہ ہو ارشاد ہوتا ہ العالمین مجھے وہ چیز دی گئی جو اس عالم میں اور کسی ص ٧٧) یعنی نہ آنحضرت ﷺ کو اور نہ کسی اور نبی کو ص ١٩ تا ٢١، خزائن ج ٥٦ ص ٥٢، ٥٤) ” مجھے کسی دوسرے

٧٥

صفحہ ٤٦١

حمید ...... ہاں! بھائی مولانا اختر فرمارہے تھے کہ ابھی کئی حوالے اور بھی میرے پاس ہیں۔

منظور ...... ہاں ، آپ سنیں یا نہ سنیں۔ مگر میں تو وہ بھی اب سن لینا چاہتا ہوں تاکہ مرزائیوں کے ساتھ گفتگو کرنے میں میرے کام آسکیں۔

اختر ...... لیجئے میں وہ بھی اختصار سے پیش کئے دیتا ہوں۔ آپ خود ہی ان پر غور فرمالیں اور جس رنگ میں پھر پیش کرنا چاہیں، کرلیں۔ مرزا قادیانی اپنے خطبہ الہامیہ کے (ص ٣٥، خزائن ج١٦ ص ٧٠) پر لکھتے ہیں: ”وان قدمی ھذہ علی منارة ختم علیھا کل رفعة یعنی میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جس پر تمام بلندیاں ختم ہوچکی ہیں۔“ پھر (حقیقت الوحی ص٨٣، خزائن ج٢٢ ص ٨٩) پر ارقام فرماتے ہیں: ”نزلت سرر من السماء ولکن سریرک وضع فوق کل سریر آسمان سے کچھ تخت اترے، لیکن تیرا تخت سب سے اونچا رہا۔“

ان عبارات سے تمام انبیاء کی خفت ہورہی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی سب سے افضل ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ (نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ص٤٧٧) پر فرماتے ہیں کہ: ”اس زمانہ میں خدا نے چاہا جس قدر نیک اور راست باز اور مقدس نبی گزرے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔“

پھر (حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج٢٢ ص٧٦ حاشیہ) پر فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کا مظہر اتم ہوں، یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“

میں کبھی عیسیٰ کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ ٥ ص١٠٣، خزائن ج٢١ ص١٣٣)

ذرا حضور کی لن ترانی ملاحظہ ہو ارشاد ہوتا ہے کہ: ”واعطانی مالم یعطہ احداً من العالمین مجھے وہ چیز دی گئی جو اس عالم میں اور کسی کو نہیں دی گئی۔“ (انجام آتھم ص ٧٧، خزائن ج١١ ص٧٧) یعنی نہ آنحضرت ﷺ کو اور نہ کسی اور نبی کو۔ پھر ارشاد ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو (خطبہ الہامیہ ص١٩ تا ٢١، خزائن ج١٦ص٥٣،٥٢) ”مجھے کسی دوسرے کے ساتھ قیاس مت کرو اور نہ کسی دوسرے کو

٧٥

صفحہ ٤٦٣

میرے ساتھ...... میں مغز ہوں جس کے ساتھ چھلکا نہیں اور روح ہوں جس کے ساتھ جسم نہیں اور وہ سورج ہوں جس کو دشمنی اور کینہ کا دھواں چھپا نہیں سکتا اور کوئی ایسا شخص تلاش کرو جو میری مانند ہو اور ہرگز نہیں پاؤ گے۔ اگرچہ چراغ لے کر بھی ڈھونڈتے رہو۔“

حمید...... واقعی اس عبارت سے بھی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ ہم حیران ہیں کہ مرزا قادیانی اس قدر تعلی کس بل بوتے پر کر رہے ہیں۔ بھلا کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔

پھر (تذکرۃ الشہادتین ص ٢٢، خزائن ج ٢٠ ص ٢٥) پر ارشاد ہوتا ہے کہ: ”اب ان تمام نشانوں کے بعد جو شخص مجھے رد کرتا ہے، وہ مجھے نہیں بلکہ تمام نبیوں کو رد کرتا ہے۔“

جمیل...... استغفر اللہ! کس قدر بے باکی ہے کہ تمام انبیاء کو اپنے جیسا سمجھ لیا ہے۔

اختر...... اور سنئے مرزا قادیانی اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا مماثل بھی قرار دے رہے ہیں اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ حضور ﷺ کے غلام تھے۔ (خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩) پر فرماتے ہیں کہ: ”جو کوئی میری جماعت میں داخل ہوا۔ درحقیقت وہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں داخل ہو گیا۔“

حمید...... توبہ توبہ! کیا اس سے بڑھ کر بھی صحابہ کرام اور حضور ﷺ کی کوئی توہین ہو سکتی ہے۔ سچ ہے:

بت کریں آرزو خدائی کی شان ہے تیری کبریائی کی

اختر...... اور سنئے (اشتہار معیار الاخیار ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨) پر ارقام فرماتے ہیں: ”میں وہی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ وہ حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر تو کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“

جمیل...... ٹھیک ہے۔ اپنے منہ میاں مٹھو اسی کو کہتے ہیں۔

حمید...... مولانا! میں حیران ہوں کہ مرزا قادیانی اپنے فضائل آپ ہی کیوں گنواتے رہے۔ کیا انہوں نے یہ شعر نہیں سنا تھا:

ثنائے خود بخود گفتن نہ زیبد مرد دانا را
چو زن پستان خود مالد حظوظ نفس کے یابد

اختر...... اچھا اب دسواں حوالہ بھی لے لیجئے۔ اپنی کتاب (نزول المسیح ص ٨٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٦١، ٤٦٢) پر ارقام فرماتے ہیں: ”کون ایمان دار ہے جو واقعات پر اطلاع پانے کے بعد اس بات کی

٧٦

گواہی نہ دے کہ درحقیقت اکثر گزشتہ نبیوں کے معجز پہلو سے بہت قوی اور بہت زیادہ نہیں اور اگر کوئی ا گواہ موجود ہیں: ”ولیس الخبر کالمعا ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سبقت لے گئی ہیں احلام اور حدیث النفس کہنا درحقیقت تمام انبیاء علیہم ہو تو خدا تعالیٰ کا خوف کر کے ایک جلسہ کرو اور ہ گواہوں کی شہادت روایت جو قطعی شہادت ہوگی، قل ممکن ہو تو باستثنیٰ ہمارے نبی ﷺ کے دنیا میں کسی لیکن نہ قصوں کے رنگ میں بلکہ روایت کے گواہ پیش نہیں۔ قصوں کو پیش کرنا تو ایسا ہے جیسے ایک گوبر کا

خالد...... استغفر اللہ! کس قدر شوخ چشمی اور بے پڑے تھے۔

منظور...... سچ پوچھیے تو میں نے بھی آج ہی ان باتوں ایسی ہوتیں تو ان کی کچھ نہ کچھ تاویل بھی ہو سکتی تھی دیئے۔ یہاں کوئی تاویل بھی کرے تو کیا۔ ایک دوسری جگہ سے نکلے گا تو تیسری جگہ گرے گا۔ بھلا

جمیل...... اور بھائی منظور! اگر غور کیجئے تو یہاں آنحضرت ﷺ کو مستثنیٰ کر کے باقی تمام انبیاء کو مقا الانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں۔ ح یہ کہ ان کے قصص کو جو قرآن مجید میں مرقوم ہیں گواہ اس وقت موجود نہیں اور اپنے قصص کو مشک

اختر...... اور اسی عبارت کو ذرا آگے پڑھئے تو صا ریخت جس قدر ہو چکی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ اس سب کی مرمت......“

جمیل...... اب یہاں کیا تاویل ہوگی۔ کیا صاف

صفحہ ٤٦٣

گواہی نہ دے کہ درحقیقت اکثر گزشتہ نبیوں کے معجزات کی نسبت یہ معجزات اور پیشگوئیاں ہر ایک پہلو سے بہت قوی اور بہت زیادہ نہیں اور اگر کوئی اندھا انکار کر دے تو ہم موجود ہیں اور ہمارے گواہ موجود ہیں: ”وليس الخبر كالمعائنة“ پھر جس حالت میں صدہا نبیوں کی نسبت ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سبقت لے گئی ہیں۔ تو اب خود سوچ لو کہ اس وحی الہی کو اضغاث احلام اور حدیث النفس کہنا درحقیقت تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوت سے انکار کرنا ہے اور اگر شک ہو تو خدا تعالیٰ کا خوف کر کے ایک جلسہ کرو اور ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سنو اور ہمارے گواہوں کی شہادت رویت جو حلفی شہادت ہوگی قلم بند کرتے جاؤ اور پھر اگر آپ لوگوں کے لئے ممکن ہو تو باستثنیٰ ہمارے نبی ﷺ کے دنیا میں کسی نبی یا ولی کے معجزات کو ان کے مقابل پیش کرو۔ لیکن نہ قصوں کے رنگ میں بلکہ رویت کے گواہ پیش کرو کیونکہ قصے تو ہندوؤں کے پاس بھی کچھ کم نہیں۔ قصوں کو پیش کرنا تو ایسا ہے جیسے ایک گوبر کا انبار مشک اور عنبر کے مقابل پر۔“ خالد ...... استغفر اللہ! کس قدر شوخ چشمی اور بے باکی ہے۔ بخدا ہم تو ان چیزوں سے بے خبر ہی پڑے تھے۔

منظور ...... سچ مچ میں نے بھی آج ہی ان باتوں پر غور کیا ہے۔ اگر دو چار یا دس بیس عبارتیں بھی ایسی ہوتیں تو ان کی کچھ نہ کچھ تاویل بھی ہو سکتی تھی۔ مگر یہاں تو مولانا اختر نے پشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ یہاں کوئی تاویل بھی کرے تو کیا۔ ایک جگہ سے بچے گا تو دوسری جگہ پھنس جائے گا۔ دوسری جگہ سے نکلے گا تو تیسری جگہ گرے گا۔ بھلا بیسیوں اور سینکڑوں جگہ کیا کیا تاویلیں دے گا۔ جمیل ...... اور بھائی منظور! اگر غور کیجئے تو یہاں تاویل ہو بھی کیا سکتی ہے۔ مرزا قادیانی نے آنحضور ﷺ کو مستثنیٰ کر کے باقی تمام انبیاء کو مقابلہ میں لانے کا چیلنج دے دیا ہے۔ جن میں جد الانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں اور پھر لطف یہ کہ ان کے قصص کو جو قرآن مجید میں مرقوم ہیں گوبر کے انبار سے تشبیہ دی ہے۔ کیونکہ ان کے گواہ اس وقت موجود نہیں اور اپنے قصص کو مشک و عنبر قرار دیا ہے۔ العیاذ باللہ!

اختر ...... اور اسی عبارت کو ذرا آگے پڑھئے تو صاف لکھا ہے کہ ”کیونکہ نبوت کی عمارت کی شکست و ریخت جس قدر ہو چکی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان تمام (یعنی میرے) معجزات اور پیشگوئیوں سے سب کی مرمت ......“

جمیل ...... اب یہاں کیا تاویل ہو گی۔ کیا صاف لفظوں میں یہ تحقیر نبوت کی توہین نہیں ہے۔

٧٧

صفحہ ٤٦٤

اختر...... اور سنئے۔ آپ (آئینہ کمالات ص ٤٧، ٤٨، ٤٩، خزائن ج ٥ ص......) پر لکھتے ہیں: یاد رہے کہ اکثر ایسے اسرار دقیقہ بصورت اقوال یا افعال انبیاء سے ظہور میں آتے ہیں جو نادانوں کی نظر میں سخت بیہودہ اور شرمناک کام ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصریوں سے برتن اور پارچات مانگ کر لے جانا اور پھر اپنے صرف میں لانا اور حضرت مسیح کا کسی فاحشہ کے گھر میں چلے جانا اور اس کا عطر پیش کردہ جو حلال کی وجہ سے نہیں تھا، استعمال کرنا اور اس کے لگانے سے روک نہ دینا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تین مرتبہ ایسے طور پر کلام کرنا جو بظاہر دروغ گوئی میں داخل تھا۔“

جمیل...... گویا اس مقام پر مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فاحشہ عورت کے پاس جانے والے واقعہ کو ابراہیم و موسیٰ علیہم السلام والے قرآنی واقعات کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس واقعہ کو صرف بائیبل ہی سے ماخوذ نہیں سمجھتے۔ بلکہ یقین رکھتے ہیں کہ واقعہ سچا تھا۔ جس طرح یہ دوسرے انبیاء کے ہیں اور بظاہر بیہودہ و شرمناک معلوم ہوتے ہیں۔

منظور...... ہاں بھائی! اب جو کہو ٹھیک ہے۔ ہم نے تو شکست تسلیم کر لی ہے۔

اختر...... ایک موقع پر مرزا قادیانی نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی نہیں چھوڑا۔ چنانچہ فرماتے ہیں، ملاحظہ ہو (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٩٩) ”پس اس وقت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔“

جمیل...... جناب حضرت یوسف، موسیٰ، عیسیٰ، ابراہیم علیہم السلام ان کے سامنے کیا ہیں۔ جب آنحضورﷺ کو نہیں چھوڑا تو اور کس کو چھوڑ سکتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ اب وقت بہت ہو چکا ہے۔ اس لئے مجلس کو برخاست کرنا چاہئے اور مولوی منظور الحسن صاحب کی وساطت سے کسی اور مرزائی مبلغ کو دعوت دے کر پھر کسی وقت کسی اور مسئلہ پر گفتگو کرنی چاہئے۔ کیونکہ ہمیں اب اس سے بہت دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔

اختر...... بہت اچھا۔ اب پھر کسی وقت میں آپ کو مرزا قادیانی کے کذب وافتراء پر کچھ سناؤں گا بشرطیکہ آپ چند مرزائیوں کو بھی ساتھ لائیں۔

حمید...... اچھا فی امان اللہ!

٧٨

اشاریہ جلد نمبر

احت

قادیا

ترتیب :

PDF 467

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں

اشاریہ جلد نمبر 1 ...... تا ...... 50

احتساب

قادیانیت

ترتیب : مولانا اللہ وسایا

صفحہ ٤٦٧

احتساب قادیانیت، ایک تحریک ...... تعارف و تجزیہ!

مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ط نحمده ونصلى على رسوله الكريم ، اما بعد!

اپنے استاذ مکرم مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے رسائل اولاً ١٩٨٩ء میں احتساب قادیانیت کے نام سے شائع کئے تھے۔ اس وقت خیال وتصور میں بھی یہ بات نہ تھی کہ احتساب قادیانیت کے نام پر اکابرین امت کے رشحات قلم کو سلسلہ وار یکجا کیا جائے گا۔ حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے رسائل اولاً جون ١٩٩٨ء میں جمع کئے تو ان کو احتساب قادیانیت جلد دوم کا نام دیا۔ پھر سلسلہ چل نکلا۔ آج ان سطور کی تحریر (١٢ فروری ٢٠١٣ء) تک پچاس (٥٠) جلدوں پر کام مکمل ہو گیا۔ گویا ١٩٩٨ء سے ٢٠١٣ء تک پندرہ سالوں میں پچاس جلدیں، کتنی تیزی سے یہ کام ہوا؟ یہ محض اللہ رب العزت کا فضل واحسان ہے اور بس!

اب جب کہ پچاسویں جلد اشاعت کے لئے پریس جانے کے مراحل میں تھی تو خیال ہوا کہ ان تمام جلدوں کی اجمالی فہارس اس جلد کے ساتھ شامل اشاعت ہو جائے تاکہ قارئین کے لئے پچاس جلدوں سے استفادہ آسان ہو جائے۔ اس کے لئے دو قسم کی فہرستیں تیار کی ہیں۔

فہرست نمبر ١: اس فہرست میں جلد اول سے جلد پچاس تک ان حضرات کے اسمائے گرامی درج کر دیئے ہیں۔ جن کے کتب ورسائل ان پچاس جلدوں میں شائع ہوئے۔ یہ کل حضرات دو سو باسٹھ (٢٦٢) ہیں۔ جن کا سن ولادت وسن وفات معلوم ہو سکے۔ دونوں درج کر دیئے۔ سن ولادت کے لئے (و) اور سن وفات کے لئے (م) کی علامت لکھی ہے۔ جن کا صرف سن وفات معلوم ہوا (م) کے آگے صرف وہی لکھ دیا۔ جن کے دونوں سن معلوم نہ کر پائے انہیں خالی چھوڑ دیا جو ہماری بے بسی کی یاد دلاتے رہیں گے۔

فہرست نمبر ٢: (١)...... رسائل وکتب کے اولاً نمبرات مسلسل دیئے ہیں۔ ١ تا ٦٥٥ ۔ (٢)...... ہر مصنف کے رسائل کی تعداد کے لئے علیحدہ علیحدہ ساتھ ہی نمبر دیئے ہیں۔

(٣)...... ہر مصنف کے رسالہ وکتاب کا مکمل نام دیا وکتب شائع ہو کر ان جلدوں میں محفوظ ہیں۔ (٤)۔ کا نام دیا ہے، تاکہ مزید آسانی ہو۔ (٥)...... جلد ک رسالہ کون سی جلد میں مل سکتا ہے۔ (٦)...... اس کے دے دیا ہے تاکہ معلوم ہو کہ کس مصنف کا کون سا ر ہے۔ اس طرح یہ دو فہارس تیار کر پائے ہیں۔

میرے مخدوم حضرت مولانا سعید احمد ج موضوعاتی تقسیم وترتیب جدید سے شائع ہونا چاہئے اگر وہ اپنے کسی معاون کو موضوعاتی فہرست کے ک بلا لیا۔ فقیر کی کمر دکھتی ہے۔ بھاری پتھر کو چوم کر چھ موضوعاتی فہرست تیار کرا دیتے۔ ایسے ہو جاتا ؟ اس مخدوم ثانی حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب خواہش کا اظہار فرمایا کہ میں ان تمام جلدوں کے رکھتا ہوں۔ موصوف اچھے قلمکار اور دل کی بات سم چل نکلا تو سینکڑوں صفحات تیار ہو جائیں گے۔ ان وتبصرہ پر مستقل کتاب شائع ہو جائے تو بہت اچھا ر یہ تو شیخ چلی کے خیالی پلاؤ تھے۔ جو لیجئے ! پڑھئے اور دعاؤں سے نوازئیے کہ اللہ تعال فرمائیں۔ آج تک رسائل وکتب کی شکل میں قادیانیت کی آئندہ جلدوں میں جمع ہو جائے۔ و

صفحہ ٤٦٧

(٣)...... ہر مصنف کے رسالہ و کتاب کا مکمل نام دیا ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ کون کون سے رسائل وکتب شائع ہو کر ان جلدوں میں محفوظ ہیں۔ (٤)...... ہر رسالہ و کتاب کے نام کے ساتھ مصنف کا نام دیا ہے، تاکہ مزید آسانی ہو۔ (٥)...... جلد کی صراحت کر دی ہے کہ کس مصنف کا کون سا رسالہ کون سی جلد میں مل سکتا ہے۔ (٦)...... اس کے ساتھ ہی اس فہرست میں آگے اس جلد کا صفحہ دے دیا ہے تاکہ معلوم ہو کہ کس مصنف کا کون سا رسالہ، کون سی جلد کے کون سے صفحے پر مل سکتا ہے۔ اس طرح یہ دو فہارس تیار کر پائے ہیں۔

میرے مخدوم حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری شہیدؒ کا فرمانا تھا کہ ان تمام جلدوں کو موضوعاتی تقسیم و ترتیب جدید سے شائع ہونا چاہئے۔ بہت مناسب اور ضروری۔ لیکن اس سے قبل اگر وہ اپنے کسی معاون کو موضوعاتی فہرست کے کام پر لگاتے۔ حق تعالیٰ نے انہیں اپنے حضور بلا لیا۔ فقیر کی کمر دکھتی ہے۔ بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑنے کی بجائے اٹھانے کا نتیجہ ہے۔ موصوف موضوعاتی فہرست تیار کرا دیتے۔ ایسے ہو جاتا؟ اسی طرح اسی قبیلہ عشق و وفا کے ایک اور مخدوم یعنی مخدوم ثانی حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب ناظم اقراء روضۃ الاطفال پاکستان نے از خود خواہش کا اظہار فرمایا کہ میں ان تمام جلدوں کے تعارف و تبصرہ پر خامہ فرسائی کرنے کا دلی داعیہ رکھتا ہوں۔ موصوف اچھے قلمکار اور دل کی بات سمجھانے کے دھنی ہیں۔ ان کا تعارف و تبصرہ پر قلم چل نکلا تو سینکڑوں صفحات تیار ہو جائیں گے۔ ان فہرستوں سمیت موضوعاتی فہرست اور تعارف و تبصرہ پر مستقل کتاب شائع ہو جائے تو بہت اچھا رہے گا۔

یہ تو شیخ چلی کے خیالی پلاؤ تھے۔ جو کام ان جلدوں پر ہو گیا ہے وہ حاضر خدمت ہے۔ لیجئے! پڑھئے اور دعاؤں سے نوازیے کہ اللہ تعالیٰ اس کارِ خیر کو مزید جاری رکھنے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آج تک رسائل و کتب کی شکل میں رد قادیانیت پر جو کچھ شائع ہوا وہ سب احتساب قادیانیت کی آئندہ جلدوں میں جمع ہو جائے ۔ وما ذٰلک علی اللہ بعزیز!

والسلام! محتاجِ دعا...... فقیر: اللہ وسایا ١٢؍ فروری ٢٠١٣ء

٣

صفحہ ٤٦٩

فہرست نمبر: ١ ...... اسماء گرامی مصنفین، بمع سن ولادت و سن وفات

اس فہرست میں احتساب قادیانیت کی جلد اوّل (١) سے جلد پچاس (٥٠) تک جن حضرات کے رد قادیانیت کے رسائل شامل کئے گئے۔ ان کے اسماء کی فہرست دے دی گئی ہے۔ جن حضرات کا سن ولادت وسن وفات میسر آگیا وہ بھی شامل کر دیا ہے۔ کل دوسو باسٹھ (٢٦٢) حضرات اکابر، مرحومین، محسنین کے رشحات قلم، پچاس جلدوں میں ہم مسکین ان کے نام لیواؤں نے جمع کئے ہیں۔ حق تعالیٰ اپنے فضل واحسان سے شرف قبولیت سے نوازیں اور آئندہ کے لئے توفیق بخشیں کہ ہم تمام حضرات کے کتب ورسائل کو مکمل جمع کر پائیں۔ وما ذالك على الله بعزيز!

٤

صفحہ ٤٦٩

٥

صفحہ ٤٧١

المعروف قاضی غلام گیلانی و ١٨٦٨ء م ١٩٣٠ء

٦

٧

صفحہ ٤٧١

٧

صفحہ ٤٧٢

(٩١) جناب مولانا امیر الزمان کشمیری و...... م ١٦ جون ١٩٨٩ء باغ کشمیر (٩٢) ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئی و...... م...... (٩٣) جناب فرزند توحید و...... م...... (٩٤) مولانا محمد اسحق صدیقی و...... م...... (٩٥) مولانا عبدالقادر آزاد و ٢٥ فروری ١٩٣٨ء م ١٣ جنوری ٢٠٠٣ء لاہور (٩٦) مولانا حافظ محمد ایوب دہلوی و ١٨٨٩ء دہلی م ١٤ دسمبر ١٩٦٩ء کراچی (٩٧) مولانا سعید الرحمن انوری و ١٩٣٨ء م ٧ مئی ٢٠٠٢ء فیصل آباد (٩٨) مولانا محمد اسحق و...... م...... (٩٩) مولانا عتیق الرحمن چنیوٹی و...... م...... (١٠٠) مولانا غلام جہانیاں و ١٩٠٨ء جھنگی والا مظفرگڑھ م ١٤ جنوری ١٩٧٧ء ڈیرہ غازیخان (١٠١) علامہ احسان الہی ظہیر و ٣١ مئی ١٩٤٠ء سیالکوٹ م ٣٠ مارچ ١٩٨٧ء مدفون ریاض الجنہ (١٠٢) مولانا محمد ابراہیم میرپوری و ١٩٢٠ء میرپور امرتسر م ١٩ جون ١٩٨٩ء پتوکی (١٠٣) مولانا عبدالرشید و...... م...... (١٠٤) مولانا محمد عبداللہ محدث روپڑی و ١٨٨٧ء کیرپور امرتسر م ٢٠ اگست ١٩٦٤ء لاہور (١٠٥) مولانا منظور احمد الحسینی و...... م ١٤ جنوری ٢٠٠٥ء مدینہ منورہ (١٠٦) جناب محمد اسماعیل سہام و...... م...... (١٠٧) مولانا مہر الدین و ١٨٨٠ء م ١٨ اگست ١٩٦٧ء لاہور (١٠٨) جناب محمد سلطان نظامی و...... م...... (١٠٩) جناب سید احسن شاہ و...... م...... (١١٠) جناب سلطان احمد خان و...... م...... (١١١) جناب مولانا محمد اسحق قاضی و...... م...... (١١٢) سید عبدالمجید شاہ امجد بخاری بٹالوی و...... م...... (١١٣) جناب نعیم صدیقی (اصل نام مولانا فضل الرحمن) و ٤ جون ١٩١٦ء چکوال م ٢٥ ستمبر ٢٠٠٢ء لاہور (١١٤) جناب سعید احمد ملک و...... م...... (١١٥) جناب چوہدری افضل حق و...... م ١٩٤٢ء

(١١٦) جناب واجد علی خان و...... (١١٧) خواجہ عبدالحمید بٹ و ٢٢ جولائی (١١٨) مولانا عبدالحلیم الیاسی و...... (١١٩) اختر احسن و...... (١٢٠) چوہدری محمد حسین ایم اے و...... (١٢١) جناب عبدالقیوم پراچہ و...... (١٢٢) مولانا محمد اسحق امرتسری و...... (١٢٣) ڈاکٹر نذیر احمد و...... (١٢٤) جناب ملک محمد صادق سابق قادیانی و...... (١٢٥) محمد صادق قریشی و...... (١٢٦) مولانا نور محمد گرجاکھی و...... (١٢٧) مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی و ٢٦ ستمبر ١٩ (١٢٨) سعید احمد قریشی و...... (١٢٩) مولانا مشتاق احمد چرتھاولی و...... (١٣٠) مولانا عبدالرزاق انقلابی و...... (١٣١) مولانا قاضی عبدالصمد سربازی و...... (١٣٢) عبدالوہاب حجازی و...... (١٣٣) غلام نبی جانباز و ٤ ستمبر (١٣٤) بشیر احمد مصری و...... (١٣٥) مولانا عبدالرحیم اشرف و ١٩١١ء (١٣٦) سید برکت علی شاہ گوشہ نشین و یکم بھادوں (١٣٧) مولانا محمد اسماعیل گوجروی و ١٨٩٠ء (١٣٨) ڈاکٹر سید فدا حسین شاہ و...... (١٣٩) سید عبدالجبار قادری و...... (١٤٠) جناب غلام رسول چیمہ و......

٨

صفحہ ٤٧٣

٩

صفحہ ٤٧٤

١٠

٧٥.

صفحہ ٤٧٥

١١

صفحہ ٤٧٧

١٢

صفحہ ٤٧٧

١٣

صفحہ ٤٧٩

فہرست نمبر ٢: ...... اسماء رسائل، اسمائے مصنفین

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد اوّل

کل رسائل :١٤

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد دوم

١٥

صفحہ ٤٧٩

فہرست نمبر ٢: ....... اسماء رسائل، اسمائے مصنفین، جلد اور اس کے صفحات

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد اول (١) (ص ٣١٠)

........................................................................

کل رسائل : ١٤

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد دوم (٢) (ص ٥٣٣)

١٥

صفحہ ٤٨١

کل رسائل: ١٠

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد تین (٣) (ص ٥٣٩)

١٦

کل رسائل: ٢٠

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد

کل رسائل: ١٧

صفحہ ٤٨١

٤١........١٧........اختلافات مرزا // // ص ٤٨٩ ٤٢........١٨........سلسلہ بہائیہ و فرقہ مرزائیہ // // ص ٥٠٧ ٤٣........١٩........انجیل برنباس اور حیات مسیح علیہ السلام! // // ص ٥٢١ ٤٤........٢٠........مرزائیت میں یہودیت ونصرانیت // // ص ٥٢٩ کل رسائل: ٢٠

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد چار (٤) (ص ٤٧٩)

٤٥........١........دعوت حفظ ایمان نمبر ١ مولانا انور شاہ کشمیریؒ ص ١١ ٤٦........٢........دعوت حفظ ایمان نمبر ٢ // // ص ١٧ ٤٧........٣........بیان مقدمہ بہاولپور // // ص ٣٣ ٤٨........١........الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی مولانا اشرف علی تھانویؒ ص ٩٥ ٤٩........٢........عقائد قادیانہ // // ص ١٣١ ٥٠........١........الشہاب لرجم الخاطف المرتاب مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ص ١٩١ ٥١........٢........صدائے ایمان // // ص ٢٣٣ ٥٢........١........نزول عیسیٰ علیہ السلام! مولانا بدر عالم میرٹھیؒ ص ٢٥٣ ٥٣........٢........ختم نبوت // // ص ٣٦٥ ٥٤........٣........سیدنا مہدی علیہ الرضوان // // ص ٤٤٥ ٥٥........٤........دجال اکبر // // ص ٤٧٩ ٥٦........٥........نورایمان // // ص ٥٣١ ٥٧........٦........الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح علیہ السلام! // // ص ٥٤٣ ٥٨........٧........مصباح الظّلمه لمحو الدّيرة الظّلمه! // // ص ٥٤٨ ٥٩........٨........الجواب الحفى فى آيت التوفى! // // ص ٥٧٦ ٦٠........٩........انجاز الوفى فى آيت التوفى! // // ص ٥٩٢ ٦١........١٠........آواز حق! // // ص ٦٣٩ کل رسائل: ١٧

١٧

صفحہ ٤٨٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد پانچ (٥) (ص ٥٢٨)

کل رسائل : ٢٣

١٨

کل رسائل : ٢٤

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد چھ (٦)

کل رسائل : ٥

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد سات (٧)

کل رسائل : ١٠

١٩

صفحہ ٤٨٣

کل رسائل : ٢٤

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد چھ (٦) (ص ٤٩١)

....................................................................

کل رسائل : ٥

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد سات (٧) (ص ٦٤٠)

....................................................................

کل رسائل : ١٠

١٩

صفحہ ٤٨٥

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد آٹھ (٨) (٥٧٦)

............................................

کل رسائل :١٦

٢٠

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد نو

................................

کل رسائل :١٨

٢١

صفحہ ٤٨٥

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد نو (٩) (ص ٦١٦)

کل رسائل: ١٨

٢١

صفحہ ٤٨٧

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد دس (١٠) (٥٧٤)

حصہ دوم (دفع المكائد عن حديث اتخذو قبور انبياء هم) // // ص ٣٥٧

کل رسائل: ١٩

٢٢

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد گیارہویں

کل رسائل: ٩

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد بارہویں

کل رسائل: ٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد تیرہویں

ممالک اسلامیہ سے قادیانیوں کی غدا

٠٨

صفحہ ٤٨٧

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد گیارہ (١١) (ص ٥٠٣)

کل رسائل: ٩

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد بارہ (١٢) (ص ٥٢٤)

کل رسائل: ٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد تیرہ (١٣) (ص ٣٣٧)

ممالک اسلامیہ سے قادیانیوں کی غداری (اردو) " " ص ١٠١

صفحہ ٤٨٨

کل رسائل: ١٢

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد چودہ (١٤) (ص ٣٨٩)

کل رسائل: ٤

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد پندرہ (١٥) (ص ٤٩٦)

کل رسائل: ٦

٢٤

٤٨٩

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلـ

مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا تاریخی جواب الجواب

٢٥

صفحہ ٤٨٩

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد سولہ (١٦) (٥٧٦)

مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا تاریخی جواب الجواب // // ص ١٣١

٢٥

صفحہ ٤٩٠

٢١٢....... ٢٣... تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کا طریق کار // ص ٣٢٥ ٢١٣....... ٢٤... کامیابی پر سپاس و تشکر // ص ٣٣٠ ٢١٤....... ٢٥... دورہ انگلستان // ص ٣٣٥ ٢١٥....... ٢٦... قادیانیوں کا غیر مسلم لکھوانے سے انکار // ص ٣٤٠ ٢١٦....... ٢٧... قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف سازشیں // ص ٣٤٣ ٢١٧....... ٢٨... قادیانیت اور عالم اسلام // ص ٣٤٦ ٢١٨....... ٢٩... انٹرویو // ص ٣٥٢ ٢١٩....... ٣٠... شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کا سفر مشرقی افریقہ کی روئیداد ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ص ٣٦١ ٢٢٠....... ١... قادیانی مذہب و سیاست مولانا تاج محمودؒ ص ٣٨١ ٢٢١....... ٢... آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر مرزائیوں کے گمراہ کن پروپیگنڈا کا مسکت جواب // ص ٤٢٩ ٢٢٢....... ٣... ملتان پریس کانفرنس ٢٧؍ مئی ١٩٧٣ء // ص ٤٤٣ ٢٢٣....... ٤... قادیانی سازشوں کا نوٹس لیجئے // ص ٤٤٩ ٢٢٤....... ١... مرزائی اسرائیل فوج میں (مسلمانان پاکستان اور حکومت توجہ کرے) مولانا محمد شریف جالندھریؒ ص ٤٧٥ ٢٢٥....... ٢... جداگانہ انتخابات اور قادیانی // ص ٤٦٢ ٢٢٦....... ٣... تعارف مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان // ص ٤٦٥ ٢٢٧....... ٤... مرزائی تعلیمات میں، محمد و احمد بمعنی غلام احمد قادیانی // ص ٤٧٨ ٢٢٨....... ٥... قادیانیوں کے متعلق امت مسلمہ کے تقاضے // ص ٥٠٣ ٢٢٩....... ٦... اکھنڈ بھارت اور مرزائی // ص ٥٠٧ ٢٣٠....... ٧... اسلامی نظام کی علمبردار حکومت پاکستان (مسئلہ ختم نبوت سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے) // ص ٥١١ ٢٣١....... ٨... قادیانیوں کے اصل عقائد بجواب جماعت احمدیہ کے عقائد // ص ٥١٧ ٢٣٢....... ١... جلسہ سیرت النبیؐ اور قادیانی گروہ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ ص ٥٣١ ٢٣٣....... ٢... مرزا غلام احمد قادیانی کی آسان پہچان // ص ٥٣٥ ٢٣٤....... ٣... مرزائیت علامہ اقبال کی نظر میں // ص ٥٤٥ ٢٣٥....... ٤... بیرونی ممالک میں قادیانی تبلیغ اسلام کی حقیقت // ص ٥٥٥ ٢٣٦....... ٥... مرزائیوں کا بہت بڑا فریب // ص ٥٧٣ کل رسائل: ٤٩

٤٦

٤٩١

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد ١٥

٢٣٧....... ھداية الممترى عن غواية المفترى یعنی اسلام اور قادیانیت ٢٣٨....... ١... اختلافات مرزا ٢٣٩....... ٢... کفریات مرزا ٢٤٠....... ٣... کذبات مرزا ٢٤١....... ٤... مغلظات مرزا ٢٤٢....... ٥... کرشن قادیانی آریہ تھے یا عیسائی؟ کل رسائل: ٦

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد ١٦

٢٤٣....... ١... قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا راستہ ٢٤٤....... ٢... قادیانی کیوں مسلمان نہیں؟ ٢٤٥....... ٣... مسئلہ نزول مسیح و حیات مسیح علیہ السلام ٢٤٦....... ٤... کفر و اسلام کے حدود اور قادیانیت ٢٤٧....... ١... تحقیق لاثانی ٢٤٨....... ٢... عشرہ کاملہ ٢٤٩....... ١... پارہ سفنطیہ کل رسائل: ٧

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد ١٧

٢٥٠....... ١... فبهت الذی کفر حضرت ٢٥١....... ٢... الخبر الصحيح عن قبر المسيح عليه السلام ٢٥٢....... ٣... قادیانی مذہب بمع ضمیمہ جات خلاصہ مسائل ٢٥٣....... ٤... صدائے حق

٤٧

صفحہ ٤٩١

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد سترہ (١٧) (ص ٦٣٢)

کل رسائل : ٦

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد اٹھارہ (١٨) (ص ٥٣٢)

کل رسائل : ٧

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد انیس (١٩) (ص ٥٩٢)

٢٧

صفحہ ٤٩٢

کل رسائل : ١٦

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد بیس (٢٠) (ص ٦٤٠)

کل رسائل : ٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد اکیس (٢١) (ص ٦٠٠)

کل رسائل : ٣ ٢٨

٤٩٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد

کل رسائل : ١

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد

کل رسائل : ٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد

صفحہ ٤٩٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد بائیس (٢٢) (ص٤٦٤)

٢٧٢...... ١...... صحیفہ تقدیر ایم۔ایس خالد وزیر آبادی ص ٥ کل رسائل: ١

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد تئیس (٢٣) (ص٥٩٢)

٢٧٣...... ١...... نوبت مرزا ایم۔ایس خالد وزیر آبادی ص ٥ ٢٧٤...... ٢...... تصویر مرزا " " ص ٢٣٥ ٢٧٥...... ٣...... نوحہ شعیب " " ص ٤٣١ کل رسائل: ٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد چوبیس (٢٤) (ص٦٧٢)

٢٧٦...... ١...... حقیقت مرزائیت مولانا عبداللطیف مسعودؒ ص ٧ ٢٧٧...... ٢...... مرزا قادیانی کی کچی باتیں " " ص ٣٣ ٢٧٨...... ٣...... بدترین دجل و فریب " " ص ٦٥ ٢٧٩...... ٤...... ایک مسجد کی حالت زار " " ص ٧٧ ٢٨٠...... ٥...... قادیانی کے الہامی چکر " " ص ٨٥ ٢٨١...... ٦...... قادیانیت کی حقیقت " " ص ١٢٣ ٢٨٢...... ٧...... معرکہ حق و باطل " " ص ١٦٣ ٢٨٣...... ٨...... مرزا قادیانی کی کہانی اس کی اپنی زبانی " " ص ٢٢١ ٢٨٤...... ٩...... پنجابی نبوت کے کرشمے " " ص ٣١٩ ٢٨٥...... ١٠...... مرزائیوں کو احمدی کہنا زبردست کفر ہے " " ص ٣٤١ ٢٨٦...... ١١...... عدالتی فیصلہ " " ص ٣٨٥ ٢٨٧...... ١٢...... وہ عہد کا رسول " " ص ٤٧٥ ٢٨٨...... ١٣...... آئینہ قادیانی " " ص ٥٢٣ ٢٨٩...... ١٤...... مسلم ذرا ہوشیار باش " " ص ٦١٥

٢٩

صفحہ ٤٩٤

کل رسائل: ١٨

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد پچیس (٢٥) (ص ٤٤٨)

کل رسائل: ١

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد چھبیس (٢٦) (ص ٦٨٨)

کل رسائل: ١

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد ستائیس (٢٧) (ص ٥٠٤)

کل رسائل: ١٠

فہرست رسائل احتساب قادیا

کل رسائل: ١٣

فہرست رسائل احتساب قا

٣٠

صفحہ ٤٩٥

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد اٹھائیس (٢٨) (ص ٦٨٨)

کل رسائل: ١٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد انتیس (٢٩) (ص ٥٦٠)

٣١

صفحہ ٤٩٧

٣٢٧ ...... ١ ...... قادیانی پیمبر، ملک و عنبر جناب شیخ سلطان احمد خانؒ ص ٣٤٧ ٣٢٨ ...... ٢ ...... الکتاب والحکمہ // // ص ٣٨٥ ٣٢٩ ...... ١ ...... قادیانی ہم مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ مولانا گلزار احمد مظاہریؒ ص ٣٩٩ ٣٣٠ ...... ٢ ...... قادیانیت عدالت کے کٹہرے میں // // ص ٤١٣ ٣٣١ ...... ٣ ...... قادیانیوں کی سیاسی منزل // // ص ٤٢١ ٣٣٢ ...... ٤ ...... سراپا غلام احمد قادیانی // // ص ٤٣٨ ٣٣٣ ...... ٥ ...... قادیانی آزادی کشمیر کے دشمن // // ص ٤٥١ ٣٣٤ ...... ٦ ...... ربوہ سے اسرائیل تک // // ص ٤٥٩ ٣٣٥ ...... ٧ ...... قادیانی اور کلمہ طیبہ // // ص ٤٧٤ ٣٣٦ ...... ١ ...... اکاذیب قادیان مولانا منشی محمد عبداللہ امرتسریؒ ص ٤٧٩ ٣٣٧ ...... ٢ ...... مغالطات مرزا، عرف الہامی بوتل // // ص ٤٨٩ ٣٣٨ ...... ٣ ...... روئیداد مناظرہ روپڑ // // ص ٥١٧ ............................................ کل رسائل : ٢٠

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد تیس (٣٠) (ص ٦٨٠)

٣٣٩ ...... ١ ...... روئیداد مباحثہ رنگون مولانا احمد بزرگ سلہٹیؒ ص ١١ ٣٤٠ ...... ١ ...... صولت محمدیہ بر فرقہ غلمدیہ مولانا حافظ عبدالسلام لکھنویؒ ص ١٥٧ ٣٤١ ...... ١ ...... تحفہ محمدیہ برائے فرقہ غلمدیہ مولانا حافظ عبدالشکور چشتیؒ ص ٢١١ ٣٤٢ ...... ١ ...... حقیقت مرزائیت مع ختم نبوت بجواب اجرائے نبوت مولانا علم الدینؒ ص ٢٩٧ ٣٤٣ ...... ١ ...... چودھویں صدی کا دجال کون؟ مولانا علم الدین حافظ آبادیؒ ص ٤٠١ ٣٤٤ ...... ١ ...... آئینہ قادیانی حاجی سید عبدالرحمن مونگیریؒ ص ٤١٣ ٣٤٥ ...... ٢ ...... تنبیہ قادیانی // // ص ٤٢٥ ٣٤٦ ...... ٣ ...... حق طلب کی سچی فریاد // // ص ٤٣٥ ٣٤٧ ...... ١ ...... قادیانی نبوت کا خاتمہ مولانا مفتی نعیم الدین لدھیانویؒ ص ٤٥٧ ٣٤٨ ...... ١ ...... صاعقہ آسمانی برفتنہ قادیانی مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ ص ٤٧٥ ٣٢

٣٤٩ ...... ٢ ...... عبد الماجد قادیانی کی کھلی چٹھی کا مفصل ٣٥٠ ...... ٣ ...... مرزائیت کے متعلق جزیرہ ٹرینی ڈاڈ مسلمانوں کے سات سوالات کے جوابات ٣٥١ ...... ١ ...... اسلامیہ تبلیغی انسائیکلوپیڈیا ٣٥٢ ...... ١ ...... جواب حقانی کل رسائل : ١٤

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جـ

٣٥٣ ...... ١ ...... اسلامی درّہ المعروف کذبات مرزا ٣٥٤ ...... ١ ...... خاتم النبوۃ ٣٥٥ ...... ١ ...... قادیان دارالامان میں انقلاب ٣٥٦ ...... ١ ...... کھینچواں نبی ، بشیر پتر جکوم مسلم ، بخاری داؤد ٣٥٧ ...... ١ ...... مرزائی احمدیوں کی شرمناک رسوائی ٣٥٨ ...... ١ ...... رشد و ہدایت ، بجواب کفر و ضلالت ٣٥٩ ...... ١ ...... کشف التلبیس ٣٦٠ ...... ٢ ...... اظہار الحق ٣٦١ ...... ١ ...... سودائے مرزا ٣٦٢ ...... ٢ ...... مضمون چور ٣٦٣ ...... ١ ...... قادیانیت اور اس کے مقتداء ٣٦٤ ...... ٢ ...... التعرف بیوز آسف ٣٦٥ ...... ٣ ...... الشہاب علی المرجف الکاذب، یعنی اسلام اور مرزائیت ٣٦٦ ...... ٤ ...... مجلس مستشار العلماء کا قیام ٣٦٧ ...... ١ ...... تعبیر رویائے حقانی ، رد ہفوات قاد ٣٦٨ ...... ١ ...... اکاذیب مرزا ٣٦٩ ...... ١ ...... پنجابی مسیح موعود پر ایک سرسری نظـ ٣٧٠ ...... ١ ...... خدمات مرزا

صفحہ ٤٩٧

٣٤٩......٢......عبدالماجد قادیانی کی کھلی چٹھی کا مفصل جواب 〃 〃 ص ٥٠٩ ٣٥٠......٣......مرزائیت کے متعلق جزیرہ ٹرینی ڈاڈ کے مسلمانوں کے سات سوالات کے جوابات 〃 〃 ص ٥١٩ ٣٥١......١......اسلامیہ تبلیغی انسائیکلوپیڈیا منشی محمد شفیع امرتسریؒ ص ٥٧٩ ٣٥٢......١......جواب حقانی قاضی اشرف حسین رحمانیؒ ص ٦٤٥ کل رسائل : ١٤

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد اکتیس (٣١) (ص ٥٥٢)

٣٥٣......١......اسلامی درّہ المعروف کذبات مرزا جناب احمد صدیق سونڈوی ص ٩ ٣٥٤......١......خاتم النبوۃ ڈاکٹر نور حسین صابر کربلائی ص ٢٩ ٣٥٥......١......قادیان دارالامان میں انقلاب خان حبیب الرحمن خان کابلی ص ٩٧ ٣٥٦......١......بھگوان نبی، بشیر پتر بھگوم مسلم، بخاری داؤنڈا جناب عبداللطیف گجراتی ص ١٤٧ ٣٥٧......١......مرزائی احمدیوں کی شرمناک رسوائی جناب عبدالقدیر امروہی ص ١٥٥ ٣٥٨......١......رشد و ہدایت، بجواب کفر وضلالت جناب ابوالحسن محمد ارشد ص ١٦٣ ٣٥٩......١......کشف التلبیس جناب حافظ محمد اسحق قریشی ص ١٨٣ ٣٦٠......٢......اظہار الحق 〃 〃 ص ٢٠٥ ٣٦١......١......سودائے مرزا حکیم ڈاکٹر محمد علی امرتسریؒ ص ٢٥٥ ٣٦٢......١......مضمون چور علامہ عبدالرشید طالوتؒ ص ٢٨٩ ٣٦٣......١......قادیانیت اور اس کے مقتداء حضرت مولانا نور الحق علویؒ ص ٢٩٩ ٣٦٤......٢......التحرف بیودّ آسف 〃 〃 ص ٣٢٩ ٣٦٥......٣......الشہاب علی الرجم الکلاب یعنی اسلام اور مرزائیت کا تضاد 〃 〃 ص ٣٦١ ٣٦٦......٤......مجلس مستشار العلماء کا قیام 〃 〃 ص ٤٠١ ٣٦٧......١......تعبیر رویائے حقانی، رد ہفوات قادیانی حضرت مولانا عبدالمجیدؒ ص ٤٠٩ ٣٦٨......١......اکاذیب مرزا مولانا ابوالحریز عبدالعزیزؒ ص ٤٢٩ ٣٦٩......١......پنجابی مسیح موعود پر ایک سرسری نظر جناب فصیح احمد بہاریؒ ص ٤٤٧ ٣٧٠......١......خدمات مرزا سیکرٹری انجمن تائید الاسلام لاہور ص ٤٨٥

٣٣

صفحہ ٤٩٩

٣٧١...... ١...... آئینہ کمالات مرزا سیکرٹری دارالاشاعت رحمانی مونگیر ص ٤٩٧ ٣٧٢...... ١...... حقیقت مرزا مولانا سید محمد ادریس دہلویؒ ص ٥٤٣ کل رسائل: ٢٠

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد بتیس (٣٢) (ص ٥٩٦)

٣٧٣...... ١...... حرف محرمانہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق ص ٥ ٣٧٤...... ١...... احمدیہ تحریک ملک محمد جعفر خان ص ٢١١ ٣٧٥...... ١...... ختم نبوت اور تحریک احمدیت غلام احمد پرویز ص ٤٢١ کل رسائل: ٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد تینتیس (٣٣) (ص ٤٦٤)

٣٧٦...... ١...... مودودی صاحب کا ایک غلط فتویٰ مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ص ٩ ٣٧٧...... ٢...... ضوء السراج فی تحقیق المعراج (چراغ کی روشنی) 〃 〃 ص ٣٥ ٣٧٨...... ٣...... توضیح المرام فی نزول المسیح علیہ السلام 〃 〃 ص ٨٧ ٣٧٩...... ٤...... ختم نبوت قرآن وسنت کی روشنی میں 〃 〃 ص ١٥١ ٣٨٠...... ١...... خانہ ساز نبوت کے پجاریوں اور مرزا طاہر کی دعوت مباہلہ کا کھلا کھلا جواب جناب صاحبزادہ طارق محمود ص ١٩٥ ٣٨١...... ٢...... آنکھیں کھولیں 〃 〃 ص ٢١٣ ٣٨٢...... ٣...... نوجوانان فیصل آباد کے نام کھلا خط 〃 〃 ص ٢٢٧ ٣٨٣...... ٤...... ژوب میں تحریک ختم نبوت ایک نظر میں 〃 〃 ص ٢٣١ ٣٨٤...... ٥...... فیصلہ آپ کیجئے 〃 〃 ص ٢٤٣ ٣٨٥...... ٦...... شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ (شرعی وقانونی حیثیت) 〃 〃 ص ٢٥٣ ٣٨٦...... ١...... راہ حق متعلقہ رد قادیان مولانا احمد عبدالحلیم کانپوریؒ ص ٢٩٣ ٣٨٧...... ١...... تحفۃ الایمان لاہل القادیان مولانا عبدالرزاق سلیمؒ خانی ص ٣٢٥ ٣٨٨...... ١...... دو نبی (نبی صادق اور نبی کاذب) مولانا محمد بشیر اللہ مظاہریؒ ص ٣٦١ کل رسائل: ١٣ ٤٤

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد

٣٨٩...... ١...... کفریات مرزا ٣٩٠...... ١...... فتنہ مرزائیت ٣٩١...... ١...... مرزا غلام احمد قادیانی کے شیطانی الہامات اور شیطانی تحریریں ٣٩٢...... ٢...... حیات عیسیٰؑ اور مرزا قادیانی کا اقرار و انکار ٣٩٣...... ٣...... مرزا قادیانی اور غیر محرم عورتیں ٣٩٤...... ٤...... حیات و نزول مسیح اور مرزا قادیانی ٣٩٥...... ٥...... مرزا غلام احمد قادیانی کی خطرناک بیماریاں اور عبرتناک موت ٣٩٦...... ٦...... مرزائیت سے توبہ ٣٩٧...... ١...... بناسپتی نبی اور اس کے صحابہ کا چال چلن ٣٩٨...... ٢...... عبرتناک موت ٣٩٩...... ٣...... ربوے کا راسپوٹین یا مذہبی آمر ٤٠٠...... ٤...... مسخروں کی محفل یا قادیانی انبیاء ٤٠١...... ٥...... حکومت مغربی پاکستان کے پانچ سوال اور ان کا جواب ٤٠٢...... ٦...... علامہ اقبال کا پیغام، ملت اسلامیہ کے نام ٤٠٣...... ٧...... مرزا قادیانی زندیق اور حکومت برطانیہ ٤٠٤...... ١...... مسئلہ ختم نبوت علم وعقل کی روشنی میں ٤٠٥...... ٢...... آخری نبی کل رسائل: ١٧

فہرست رسائل احتساب قادیانیت

٤٠٦...... ١...... مرزائیت غیر مسلم اقلیت ٢٥

صفحہ ٤٩٩

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد چونتیس (٣٤) (ص ٥١٩)

٣٨٩ .......١....... کفریات مرزا جناب اسرار احمد آزاد ص ٧ ٣٩٠ .......١....... فتنہ مرزائیت مولانا محمد امیر الزمان کشمیریؒ ص ١١٣ ٣٩١ .......١....... مرزا غلام احمد قادیانی کے شیطانی الہامات اور شیطانی تحریریں ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئیؒ ص ٢٤٥ ٣٩٢ .......٢....... حیات عیسیٰؑ اور مرزا قادیانی کا اقرار و انکار // // ص ٢٤٦ ٣٩٣ .......٣....... مرزا قادیانی اور غیر محرم عورتیں // // ص ٢٧٢ ٣٩٤ .......٤....... حیات و نزول مسیح اور مرزا قادیانی // // ص ٢٧٩ ٣٩٥ .......٥....... مرزا غلام احمد قادیانی کی خطرناک بیماریاں اور عبرتناک موت // // ص ٢٨٣ ٣٩٦ .......٦....... مرزائیت سے توبہ // // ص ٢٨٩ ٣٩٧ .......١....... بناسپتی نبی اور اس کے صحابہ کا چال چلن جناب فرزند توحید صاحبؒ ص ٣٢١ ٣٩٨ .......٢....... عبرتناک موت // // ص ٣٢٩ ٣٩٩ .......٣....... ربوہ کے کاراسپوٹین یا مذہبی آمر // // ص ٣٣٧ ٤٠٠ .......٤....... مسخروں کی محفل یا قادیانی انبیاء // // ص ٣٤٣ ٤٠١ .......٥....... حکومت مغربی پاکستان کے پانچ سوال اور ان کا جواب // // ص ٣٦١ ٤٠٢ .......٦....... علامہ اقبال کا پیغام ملت اسلامیہ کے نام // // ص ٣٨٣ ٤٠٣ .......٧....... مرزا قادیانی زندیق اور حکومت برطانیہ // // ص ٤٠٧ ٤٠٤ .......١....... مسئلہ ختم نبوت علم و عقل کی روشنی میں مولانا محمد اسحق صدیقیؒ ص ٤١٥ ٤٠٥ .......٢....... آخری نبی // // ص ٥١٩ کل رسائل: ١٧

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد پینتیس (٣٥) (ص ٦٤٠)

٤٠٦ .......١....... مرزائیت غیر مسلم اقلیت

٣٥

صفحہ ٥٠٠

اپنی تحریروں کے آئینہ میں مولانا عبدالقادر آزادؒ ص ٧

ختم نبوت کی اہمیت اور حکمتیں " " ص ٢٥

(پیغام محمدیت بجواب پیغام احمدیت) " " ص ١٩٥

مع جواب الجواب " " ص ٥٧١

............................................................

کل رسائل: ١٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد چھتیس (٣٦) (ص ٦١٦)

حضرت مہدی علیہ الرضوان کی چند علامات حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ ص ١٠٣

٣٦

________________________

کل رسائل: ١٧

فہرست رسائل احتساب قادیانیت

صفحہ ٥٠١

٤٢٥ ....... ١...... حیات عیسیٰ علیہ السلام حضرت مولانا مہر الدینؒ ص ١٤١ ٤٢٦ ....... ١...... کذاب نبی جناب محمد سلطان نظامیؒ ص ٢٦٣ ٤٢٧ ....... ١...... مسیح قادیان کے حالات کا بیان جناب سید احسن شاہؒ ص ٣١٥ ٤٢٨ ....... ١...... مرزائیوں کے دجالی استدلال کی حقیقت جناب سلطان احمد خانؒ ص ٣٢٩ ٤٢٩ ....... ١...... تذکرہ حقائق حضرت مولانا اسحق قاضیؒ ص ٣٥١ ٤٣٠ ....... ١...... میں اور قادیان سید عبدالمجید شاہ امجد بخاریؒ ص ٤١٧ ٤٣١ ....... ١...... تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر تبصرہ نعیم صدیقی و سعید احمد ملک ص ٤٤١ ٤٣٢ ....... ١...... فتنہ قادیان جناب چوہدری افضل حقؒ ص ٥٥٥ ٤٣٣ ....... ٢...... تکمیل دین اور ختم رسالت // // ص ٥٩٥ ٤٣٤ ....... ٣...... بمبئی جیوری مرزا کی بدعملی اور حماقت کی انتہاء // // ص ٦٠١ ٤٣٥ ....... ٤...... عقیدہ ختم نبوت اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں مولانا منظور احمد الحسینیؒ ص ٦٠٩

کل رسائل : ١٧

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد سینتیس (٣٧) (ص ٦٢٧)

٤٣٦ ....... ١...... فتنہ مرزائیت جناب واجد علی خان ص ٩ ٤٣٧ ....... ١...... فرقہ احمدیہ کا ماضی و مستقبل جناب خواجہ عبدالحمید بٹ ص ٣٥ ٤٣٨ ....... ٢...... قادیانیت ایک دہشت گرد تنظیم // // ص ٨٥ ٤٣٩ ....... ١...... آئینہ قادیانیت مولانا عبدالحلیم الیاسی ص ١٠٧ ٤٤٠ ....... ١...... حقیقت قادیانیت جناب اختر احسن ص ١٤٩ ٤٤١ ....... ١...... کاشف مغالطہ قادیانی فی روضان آسمانی چوہدری محمد حسین ایم۔اے ص ٢٢٥ ٤٤٢ ....... ١...... قادیانیوں کا اصل حقیقت سے فرار جناب عبدالقیوم پراچہ ص ٢٦٩ ٤٤٣ ....... ١...... اباطیل مرزا مولانا محمد اسحاق امرتسری ص ٢٧٧ ٤٤٤ ....... ٢...... حالات مرزا یعنی مرزائی مذہب کی اصلیت // // ص ٢٨٩ ٤٤٥ ....... ٣...... بطلان مرزا // // ص ٣٣١ ٤٤٦ ....... ١...... قادیانی مذہب اور علامہ اقبال کا قول فیصل جناب ڈاکٹر صوفی نذیر احمد ص ٣٣٩ ٤٤٧ ....... ١...... آئینہ مرزائیت ملک محمد صادق، سابق قادیانی ص ٣٥٣

٣٧

صفحہ ٥٠٣

واحادیث رسول حقانی واقوال مرزا قادیانی مولانا نور محمد جاکی ص ٣٨٣

کل رسائل : ٢٢

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد اڑتیس (٣٨) (ص ٥٧٦)

کے سربراہ مرزا طاہر کے نام کھلا خط) " " ص ٢١

"ایک غلطی کا ازالہ" کی ضبطی " " ص ١٤٧

٣٨

کل رسائل : ١٦

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد انتالیس (٣٩)

کے خلاف ایک بغاوت

پر چند سوال (حصہ اوّل)

٣٩

صفحہ ٥٠٣

کل رسائل: ١٦

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد انتالیس (٣٩) (ص ٥٩٢)

کے خلاف ایک بغاوت // // ص ١٦٥

پر چند سوال (حصہ اوّل) جناب غلام محمد شوخ بٹالویؒ ص ٤٧٣

٣٩

صفحہ ٥٠٤

٤٨٩ ...... ٢......مرزا ناصر احمد خلیفہ مرزائے قادیانی پر چند سوال (حصہ دوم) // // ص ٤٩٩ ٤٩٠ ...... ٣......ختم نبوت // // ص ٥٢٣ ٤٩١ ...... ٤......مفصل کلام بجواب احمدیت کا پیغام // // ص ٥٧٢ کل رسائل: ١٦

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد چالیس (٤٠) (ص ٥٧٦)

٤٩٢ ...... ١......اہل اسلام میسور کے ساتھ ٣؍ جون ١٩٣٥ء کو فرقہ ضالہ ومضلہ قادیانیہ کا مباہلہ مولانا محمد عبدالسلام سلیم ہزارویؒ ص ١١ ٤٩٣ ...... ١......قادیانی اسلام مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ ص ٢٣ ٤٩٤ ...... ٢......یادگار یادگیر // // ص ٤٣ ٤٩٥ ...... ٣......ذرا غور کریں // // ص ١٩٥ ٤٩٦ ...... ١......حجۃ قطعیہ طے رموز زائیہ (مرزا کی کہانی ،مرزا کی زبانی) مولانا غلام سبحانی مانسہرویؒ ص ٢٠١ ٤٩٧ ...... ١......نئی نبوت اپنے لٹریچر کے آئینہ میں مکرم جناب حکیم محمد اسحاقؒ ص ٢٩٧ ٤٩٨ ...... ١......تحریک مرزائیت ، ربوہ سے ایک تحریری علمی مناظرہ مولانا جلال احمد دہلویؒ ص ٣٧١ ٤٩٩ ...... ١......قادیانی عزائم اور پاکستانی مسلمان جناب محمد نواز، ایم اے ص ٤٠٩ ٥٠٠ ...... ١......مرزائیت کی حقیقت مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدیؒ ص ٤٣٣ ٥٠١ ...... ١......ختم نبوت اور قادیانی وسوسے مولانا محمد ولی الدین فاضلؒ ص ٤٥١ ٥٠٢ ...... ٢......قادیانیوں کا کلمہ اور حکومت پاکستان کا آرڈیننس // // ص ٥٠٥ ٥٠٣ ...... ١......الجواب الصحيح في حیات المسيح عليه السلام مولانا غلام رسول فیروزویؒ ص ٥١١ ٥٠٤ ...... ١......اکرام الہی بجواب انعام الہی مولانا مفتی عزیز احمد لاہوریؒ ص ٥٢٧ ٥٠٥ ...... ١......خاتم جناب مشرف بریلویؒ ص ٥٣٩ ٥٠٦ ...... ١......مرزا غلام احمد قادیانی اور مسئلہ جہاد مولانا خلیل الرحمٰن پانی پتیؒ ص ٥٥٩ ٥٠٧ ...... ٢......اسلامی تعلیمات اور مرزا قادیانی // // ص ٥٦٩ کل رسائل: ١٦ ٤٠

٥

فہرست رسائل احتساب قادیانیت

٥٠٨ ...... ١......پاکستان کا غدار ٥٠٩ ...... ١......آئینہ قادیانیت ٥١٠ ...... ١......قادیانی غیر مسلم اقلیت بن کر ر یا اسلام قبول کریں ٥١١ ...... ١......فتنۂ انکار ختم نبوت (حقائق و واقعات کی روشنی میں) ٥١٢ ...... ١......فتنۂ مرزائیت اور پاکستان ٥١٣ ...... ١......چودھویں صدی کا مسیح کل رسائل: ٦

فہرست رسائل احتساب قادیانیت

٥١٤ ...... ١......الحق الصريح في اثبات حیات ٥١٥ ...... ١......بیان للناس ٥١٦ ...... ١......شفاء للناس ٥١٧ ...... ١......النصر المبين في رد اقوال ال ٥١٨ ...... ٢......رقيمة الاخلاص ٥١٩ ...... ١......نصرۃ الحق فی رد القول الرائق ٥٢٠ ...... ١......اعلاء الحق الصريح بتكذيب ٥٢١ ...... ١......الفتح الربانی فی الرد علی القادیا ٥٢٢ ...... ١......قادیانی دجال کا استیصال ٥٢٣ ...... ٢......دوسر حرفیاں (چودھویں صدی کا ٥٢٤ ...... ٣......نظم حقانی سمی بہ سر ائر قادیانی ٥٢٥ ...... ٤......حملہ آسمانی در بارہ شکست آ ٥٢٦ ...... ٥......حقوق

صفحہ ٥٠٥

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد اکتالیس (٤١) (ص ٥٩٢)

٥٠٨ ....... ١....... پاکستان کا غدار مولانا عبداللطیف جہلمیؒ ص ٩ ٥٠٩ ....... ١....... آئینہ قادیانیت مولانا محمد فیروز خان ڈسکویؒ ص ١٥ ٥١٠ ....... ١....... قادیانی غیر مسلم اقلیت بن کر رہیں، یا اسلام قبول کریں مولانا محمد مالک کاندھلویؒ ص ٩٩ ٥١١ ....... ١....... فتنہ انکار ختم نبوت (حقائق و واقعات کی روشنی میں) مولانا سید پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ ص ١٦١ ٥١٢ ....... ١....... فتنہ مرزائیت اور پاکستان // // ص ٢٠١ ٥١٣ ....... ١....... چودھویں صدی کا مسیح حکیم مظہر حسین قریشی صدیقی میرٹھیؒ ص ٢١٥ کل رسائل : ٦

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد بیالیس (٤٢) (ص ٣٧٦)

٥١٤ ....... ١....... الحق الصریح فی اثبات حیات المسیح مولانا محمد بشیر شہسوانیؒ ص ١١ ٥١٥ ....... ١....... بیان للناس مولانا عبدالمجید دہلویؒ ص ١٢٧ ٥١٦ ....... ١....... شفاء للناس مولانا محمد عبداللہ شاہجہانپوریؒ ص ٢٣٩ ٥١٧ ....... ١....... النصر المبین فی رد اقوال الجاہلین مولانا دوست محمد خان بھوپالیؒ ص ٣٤٧ ٥١٨ ....... ٢....... رقیمۃ الاخلاص // // ص ٣٦١ ٥١٩ ....... ١....... نصرۃ الحق فی ردالقول الزاہق مولانا خلیل الرحمٰن بھوپالیؒ ص ٣٧٧ ٥٢٠ ....... ١....... اعلاء الحق الصریح بتکذیب المسیح مولانا محمد اسماعیل علی گڑھیؒ ص ٤٣١ ٥٢١ ....... ١....... الفتح الربانی فی الرد علی القادیانی شیخ حسین بن محسن انصاریؒ ص ٤٧٤ ٥٢٢ ....... ١....... قادیانی دجال کا استیصال مولانا سعد اللہ لدھیانویؒ ص ٤٩٧ ٥٢٣ ....... ٢....... دوسر حرفیاں (چودھویں صدی کا جھوٹا مسیح) // // ص ٥٣٥ ٥٢٤ ....... ٣....... نظم حقانی مسمّی بہ سرائر قادیانی // // ص ٥٦٥ ٥٢٥ ....... ٤....... حملہ آسمانی دربارہ شکست قادیانی // // ص ٥٨٧ ٥٢٦ ....... ٥....... حق وحق // // ص ٦٠٥

٤١

صفحہ ٥٠٧

٥٢٧.......١.......الالہام الصحیح فی اثبات حیات مسیح مولانا غلام رسول نقشبندیؒ ص ٦٢٧ ٥٢٨.......١.......آفتاب صداقت مولانا غلام مصطفےٰ قاسمیؒ ص ٦٧٣ کل رسائل: ١٥

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد تینتالیس (٤٣) (ص ٥٢٨)

٥٢٩.......١.......قادیانی گستاخیاں مولانا سعید احمد جلالپوریؒ ص ٧ ٥٣٠.......٢.......قادیانی فریب " " ص ٦١ ٥٣١.......٣.......قادیانیت کا تعاقب (دورہ سری لنکا) " " ص ٧٩ ٥٣٢.......٤.......قادیانیت کا تعاقب (وقت کی ایک اہم ضرورت) " " ص ٩١ ٥٣٣.......٥.......جشن خلافت (قادیانی عقائد ونظریات کے آئینہ میں) " " ص ٩٧ ٥٣٤.......٦.......آئین پاکستان اور اعلیٰ عدالتوں کے خلاف ایک خطرناک سازش " " ص ١٠٣ ٥٣٥.......١.......مضامین پروفیسر منور احمد ملک جناب پروفیسر منور احمد ملک ص ١١١ ٥٣٦.......١.......مضامین شیخ راحیل احمد جناب شیخ راحیل احمد جرمنی ص ٢٥٥ ٥٣٧.......٢.......شیخ راحیل احمد حال مقیم جرمنی کے تین کھلے خط " " ص ٤٧٧ ٥٣٨.......١.......رد الدجالۃ (حصہ سوم) جناب فیض اللہ گجراتی ص ٥٠٣ کل رسائل: ١٠

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد چوالیس (٤٤) (ص ٦٤٠)

٥٣٩.......١.......عالمگیر نبوت مولانا سید محمد ہاشم ستمیؒ ص ١٣ ٥٤٠.......١.......قادیانی مسئلہ اور اس کا نیا اور پیچیدہ تر مرحلہ جناب ڈاکٹر اسرار احمدؒ ص ٨١ ٥٤١.......١.......مرزا کی کہانی اس کی اپنی زبانی جناب امان اللہ صاحبؒ ص ٩٩ ٥٤٢.......١.......قادیانی دجل عبدالرحیم عاجز امرتسریؒ ص ١٣١ ٥٤٣.......١.......مرزائیوں کے خطرناک ارادے مولانا عبدالرحیم ڈیرویؒ ص ١٣٥ ٥٤٤.......٢.......مرزائیوں کا اصلی چہرہ " " ص ١٥٧ ٥٤٥.......٣.......مرزائیوں کی خوفناک سیاسی چالیں " " ص ١٧١ ٤٢

٥٤٦.......١.......مطالبہ حق ٥٤٧.......٢.......گستاخ مرزا ٥٤٨.......٣.......مرزائی لٹریچر میں توہین انبیاء و صلحاء ٥٤٩.......٤.......غذائے مرزا ٥٥٠.......١.......ابن مریم زندہ ہیں حق کی قسم ٥٥١.......١.......لودھراں شہر میں مرزائیوں کی یلغار اور مسلمانان لودھراں کی فریاد ٥٥٢.......٢.......فرقہ غلام احمدی (مرزائیت) کی حقیقت ٥٥٣.......٣.......مقام محمدیت اور دجل مرزائیت ٥٥٤.......٤.......خاتم الانبیاء کی عدالت میں مرزا غلام احمد کی سزا اور حقیقت ٥٥٥.......٥.......آنجہانی مرزا قادیانی، کرشن یا دجال ٥٥٦.......٦.......آنجہانی مرزا قادیانی، مرد تھا عورت ٥٥٧.......١.......مرزائیوں کی شکست فاش کا دلچسپ نظارہ ربوہ کے نزدیک ایک مناظرہ ٥٥٨.......١.......اقبال اور قادیانی ٥٥٩.......٢.......قادیانی مسئلہ آئینی ترمیم کے بعد قانون سازی کا تقاضہ کرتا ہے ٥٦٠.......١.......اسلامیہ پاکٹ بک ٥٦١.......٢.......حقیقت مرزا کل رسائل: ٢٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت

٥٦٢.......١.......وسیلۃ المبتلاء لدفع البلاء ٥٦٣.......٢.......تبصرۃ العقلاء ٥٦٤.......٣.......مہدی موعود

صفحہ ٥٠٧

٥٤٦......١......مطالبہ حق مولانا بہاء الحق قاسمی ص ١٨٣ ٥٤٧......٢......گستاخ مرزا 〃 〃 ص ٢٠٧ ٥٤٨......٣......مرزائی لٹریچر میں توہین انبیاء و صلحاء 〃 〃 ص ٢١٥ ٥٤٩......٤......خدائے مرزا 〃 〃 ص ٢٢٥ ٥٥٠......١......ابن مریم زندہ ہیں حق کی قسم جناب ماسٹر محمد ابراہیمؒ ص ٢٣٣ ٥٥١......١......لودھراں شہر میں مرزائیوں کی یلغار اور مسلمانان لودھراں کی فریاد مولانا محمد موسیٰ صاحبؒ ص ٢٥١ ٥٥٢......٢......فرقہ غلام احمدی (مرزائیت) کی حقیقت 〃 〃 ص ٢٥٥ ٥٥٣......٣......مقام محمدیت اور دجل مرزائیت 〃 〃 ص ٢٦٤ ٥٥٤......٤......خاتم الانبیاء کی عدالت میں مرزا غلام احمد کی سزا اور حقیقت 〃 〃 ص ٢٦٧ ٥٥٥......٥......آنجہانی مرزا قادیانی، کرشن یا دجال؟ 〃 〃 ص ٣١٩ ٥٥٦......٦......آنجہانی مرزا قادیانی، مرد تھا عورت؟ 〃 〃 ص ٣٢٣ ٥٥٧......١......مرزائیوں کی شکست فاش کا دلچسپ نظارہ، ربوہ کے نزدیک ایک مناظرہ مسلمانان ڈاور ص ٣٢٧ ٥٥٨......١......اقبال اور قادیانی مولانا نعیم آسی صاحبؒ ص ٣٣٥ ٥٥٩......٢......قادیانی مسئلہ آئینی ترمیم کے مطابق قانون سازی کا تقاضہ کرتا ہے 〃 〃 ص ٤٤١ ٥٦٠......١......اسلامیہ پاکٹ بک حاجی محمد مسلمؒ دیوبندی ص ٤٤٩ ٥٦١......٢......حقیقت مرزا 〃 〃 ص ٥٨٩ کل رسائل: ٢٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد پینتالیس (٤٥) (ص ٥٦٨)

٥٦٢......١......وسیلۃ المبتلاء لدفع البلاء مولانا سید علی الحائری لاہوری ص ١٣ ٥٦٣......٢......تبصرۃ العقلاء 〃 〃 ص ٢١ ٥٦٤......٣......مہدی موعود 〃 〃 ص ٤٧

٤٣

صفحہ ٥٠٨

(مرزائی جماعت کی اسلام سے بغاوت)

اہل اسلام و مرزائیان کا لب لباب حضرت مولانا اللہ دتہ ص ٣٣١

فتوحات محمدیه برفرقه غلمدیه مولانا محمد یحییٰ رازی رامپوری ص ٥٣٩

کل رسائل : ١٦

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد چھیالیس (٤٦) (ص ٦٨٨)

قرآن وسنت کی روشنی میں // // ص ٦١

٤٤

بالاحادیث والآیات القرآ

بر گردن خاطی، مرزائی فرزند علی

مرزا کے ڈھول کا پول

باطل شکن مجاہدانہ تقریریں

کل رسائل : ١٦

فہرست رسائل احتساب قادیا

صفحہ ٥٠٩

// // ص ٥٧ سائیں آزاد قلندر حیدری ص ٧٩ مولانا قاری محمد طیب قاسمی ص ٨٥ // // ص ١٣٧

مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی ص ١٥٩ جناب بابو پیر بخش لاہوری ص ١٨٣ // // ص ٢١٣ مولانا ملک نظیر احسن بہاری ص ٢٢٣ // // ص ٢٧٣ جناب عبد الستار انصاری ص ٣٠٥

حضرت مولانا اللہ دتہ ص ٣٤١ خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی ص ٣٨٥ شیخ احمد حسین میرٹھی اورسیئر ص ٤٣٣

مولانا محمد مجتبیٰ رازی رامپوری ص ٥٣٩

یالیس (٤٦) (ص ٦٨٨)

مولانا محمد عبداللہ احمد پوری ص ٩

// // ص ٦١ // // ص ١٤٥ مولانا عبدالحفیظ حقانی حنفی ص ٢٤٧ مولانا ابرار حسین چشتی ص ٣٥١

٥٨٣......١...... رد الشبهات القادیانیه، بالاحادیث والآیات القرآنیه مولانا عبدالقادر سات گڑھی ص ٣٨٥ ٥٨٥......١...... تحفۃ العلماء فی تردید مرزا بتحریف مرزا مولانا قاضی عبدالغفور شاہپوری ص ٤١٥ ٥٨٦......٢...... اکاذیب مرزا // // ص ٤٣٥ ٥٨٧......١...... نیام ذوالفقار علی (١٣٢٩ھ) بر گردن خاطی، مرزائی فرزند علی (١٣٢٩ھ) مولانا شیر نواب خان قصوری ص ٤٧٥ ٥٨٨......١...... طریقہ مناظرہ مرزائیت المعروف مرزا کے ڈھول کا پول مولانا محمد صادق قادری ص ٤٨٩ ٥٨٩......١...... کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد تھے؟ مولانا پیر محب اللہ شاہ راشدی ص ٥٥١ ٥٩٠......١...... کیا قادیان میں مناظرہ قبول کیا جائے گا؟ مولانا عبدالکریم مباہلہ ص ٥٨٥ ٥٩١......١...... سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی باطل شکن مجاہدانہ تقریریں جناب ملک فتح محمد اعوان ص ٥٩٥ ٥٩٢......١...... قہر یزدانی بر قلعہ قادیانی مولانا ابو منظور محمد نظام الدین ص ٦٤١ ٥٩٣......١...... رد قادیانی مولانا قاضی غلام ربانی ص ٦٧١ ٥٩٤......٢...... مرزا کی غلطیاں // // ص ٦٧٩ کل رسائل : ١٦

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد سینتالیس (٤٧) (ص ٥٣٦)

٥٩٥......١...... بیان مقبول در رد قادیانی مجہول مولانا قاضی غلام گیلانی ص ١١ ٥٩٦......١...... حالات و الہامات مرزا مولانا عبد الوہاب خان ص ٨٣ ٥٩٧......١...... احمدیوں کی ملک و مذہب سے غداری ڈاکٹر منصور ایم رفعت مصری ص ١٠٧ ٥٩٨......٢...... انکشاف حقیقت احمدی اسلام // // ص ١٢٥ ٥٩٩......١...... مرزائیوں کے کافرانہ عقائد مولانا غلام ربانی جوہر آبادی ص ١٦٣ ٦٠٠......١...... قادیانی گروہ شیخ خضر حسین پروفیسر جامعہ ازہر ص ١٨١ ٦٠١......١...... موت قادیانی مولانا ابو المنظور عبدالحق کوٹلوی ص ٢٠٥ ٦٠٢......٢...... انکشاف شر حقیقت الوحی // // ص ٢١٥

٤٥

صفحہ ٥١٠

٦٠٣ ...... ١ ...... حقیقت مرزائیت مولانا پیر سید کرم حسین شاہ ص ٢٣٩ ٦٠٤ ...... ١ ...... حقیقت مرزائیت (ٹریکٹ نمبر ٢) سیکرٹری انجمن اشاعت الاسلام بنارس ص ٢٥٣ ٦٠٥ ...... ٢ ...... نزول مسیح اور مسئلہ ختم نبوت پر دلکش بحث (ٹریکٹ نمبر ٣) // // ص ٢٧٦ ٦٠٦ ...... ٣ ...... ٹریکٹ نمبر ٤ // // ص ٢٨٧ ٦٠٧ ...... ٤ ...... ٹریکٹ نمبر ٥ // // ص ٣٠٣ ٦٠٨ ...... ٥ ...... جواب دعوت (ٹریکٹ نمبر ٦) // // ص ٣٢٣ ٦٠٩ ...... ٦ ...... معیار نبوت (ٹریکٹ نمبر ٧) // // ص ٣٣٩ ٦١٠ ...... ٧ ...... نور اسلام (ٹریکٹ نمبر ٨، ٩، ١٠، ١١) // // ص ٣٦١ ٦١١ ...... ٨ ...... دفع اوہام از ظہور امام (ٹریکٹ نمبر ١٢) // // ص ٤٣٩ ٦١٢ ...... ١ ...... سیف ربانی بر گردن قادیانی مولانا محمد شریف قادری ص ٤٥٧ ٦١٣ ...... ١ ...... مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں اور ان کے متعلق خدائی فیصلے نامعلوم ص ٤٦٩ ٦١٤ ...... ١ ...... خاتم الانبیاء (تیر و دود بر سینہ مردود) مولانا عبدالودود قریشی ص ٤٨١ ٦١٥ ...... ١ ...... قادیانی بینک کا دیوالیہ، مرزائی رنگ میں بھنگ مولانا عبدالقیوم میرٹھی ص ٥٠٣ ٦١٦ ...... ١ ...... ایک جھوٹی پیش گوئی پر مرزائیوں کا شور و غل تاج الدین احمد تاج ص ٥١١ ٦١٧ ...... ٢ ...... قادیان میں قہری نشان // // ص ٥٢١ کل رسائل : ٢٣

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد اڑتالیس (٤٨) (ص ٥٠٤)

٦١٨ ...... ١ ...... تبلیغی تحفہ مولانا ابوعمر عبدالعزیزؒ ص ٧ ٦١٩ ...... ١ ...... الحق المبین مولانا حکیم عبدالحقؒ ص ٢١ ٦٢٠ ...... ١ ...... مرزائی حقیقت کا اظہار مولانا عبدالعلیم صدیقیؒ ص ٩٩ ٦٢١ ...... ١ ...... ختم نبوت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ میانوالیؒ ص ١٦٥ ٦٢٢ ...... ١ ...... تذکرة العباد (لکیلا یغتروا باقوال اهل العناد) مولانا عبدالحی امرتسریؒ ص ١٧٩ ٦٢٣ ...... ١ ...... محکمات ربانی، لنسخ القائی قادیانی مولانا حکیم ولی الدین بھاگلپوریؒ ص ٣٠١ ٦٢٤ ...... ١ ...... فیصلہ قرآنی معروف بہ تکذیب قادیانی مولانا محمد الدین کاہنہ کاچھہ ص ٣٨١

٤٦

٦٢٥ ...... ١ ...... حقیقت مرزا ٦٢٦ ...... ١ ...... الکلام الفصیح فی تحقیق المـ (الملقب بہ اسم تاریخی) ابواب تردید غلام احمد کل رسائل : ٩

فہرست رسائل احتساب قادیانیت

٦٢٧ ...... ١ ...... الامر قد استحکم، بجواب المفتـ ٦٢٨ ...... ١ ...... آزاد کشمیر میں مرزائیوں کے بـ ٦٢٩ ...... ١ ...... قادیانی مسئلہ ٦٣٠ ...... ١ ...... ختم نبوت ٦٣١ ...... ١ ...... فتنہ عظیم ٦٣٢ ...... ١ ...... مرزائیت اور اسلام ٦٣٣ ...... ١ ...... مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے بارے میں ٦٣٤ ...... ١ ...... قهر الدیان علی مرتد بـ ٦٣٥ ...... ١ ...... قادیانی کذاب ٦٣٦ ...... ١ ...... فتنہ قادیانی ٦٣٧ ...... ١ ...... واقعہ ربوہ کی تحقیقاتی عدالتی سامنے جماعت اسلامی پاکستان ٦٣٨ ...... ١ ...... خاتم النبیین ٦٣٩ ...... ١ ...... قادیانیت پر آخری ضرب ٦٤٠ ...... ١ ...... عقیدہ ظہور مہدی احادیث ٦٤١ ...... ١ ...... مرزائی مذہب کا خاتمہ ٦٤٢ ...... ١ ...... بناسپتی نبوت کل رسائل : ١٦

صفحہ ٥١١

(الملقب بہ اسم تاریخی) الجواب تردیہ لغلام احمد قادیانی ١٩٣٠ء مولانا سید محمد عرب مکیؒ ص ٤٧٧

کل رسائل : ٩

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد انچاس (٤٩) (ص ٤٨٠)

سامنے جماعت اسلامی پاکستان کا بیان چوہدری رحمت الٰہی لاہور ص ٢٧٦

کل رسائل : ١٦

٤٧

صفحہ ٥١٢

فہرست رسائل احتساب قادیانیت جلد پچاس (٥٠) (ص٤٦٤)

(مرزا قادیانی کے غلط اقوال والہامات کی تشریح) جناب میاں محمد نوشہروی ص ٩٩

مرزا قادیانی حجر اسود کے ادنیٰ ترین خادم فضل الدین مرزائی کے تینوں پمفلٹوں کا جواب، بمع چیلنج مناظرہ // // ص ١٧٧

(قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیاں) // // ص ٢٠٣

(قادیانیوں کے خلاف اسلام سرگرمیاں روکنے کیلئے حکومت کے اقدامات) // // ص ٢٠٩

(حکومت پاکستان کی توثیق) // // ص ٢٣٥

ایک پیش گوئی کا تجزیہ (عمر مرزا) جناب باؤ تاج محمد کلوری ص ٣٣٩

کل رسائل: ١٣ خلاصہ مصنفین=٢٦٢.....کل کتب و رسائل=٦٥٥.....کل صفحات ج١ تا ٥٠ =٢٨٢٤٦

٤٨