مجلۃ النور کی خصوصی پیش کش
حرمت رسول ﷺ
- قرآن مجید اور احادیث طیبہ کی ایمان افروز جھلکیاں
- ناموس رسالت پر قربان ہونے والوں کی ولولہ انگیز داستانیں
- گستاخان رسول کا عبرت ناک انجام
مولانا محمد منصور احمد
مجلۃ النور کی خصوصی پیش کش
حرمتِ رسولﷺ
قرآن مجید اور احادیث طیبہ کی ایمان افروز جھلکیاں
ناموس رسالت پر قربان ہونے والوں کی ولولہ انگیز داستانیں
گستاخان رسول کا عبرت ناک انجام
مولانا محمد منصور احمد
تھا کہ
کیا
پرا
عا
عالمی سیرت
کانفرنس کی
مدیر
مولانا محمد منصور احمد
معاون مدیر
مولانا محمد رمضان لدھیانوی
مجلس مشاورت
حضرت مولانا نور احمد صاحب حضرت مولانا عبداللہ محمود صاحب حضرت مولانا ظہور احمد صاحب حضرت مولانا محمد صدیق صاحب مولانا عبداللہ امین صاحب مولانا نصیر الدین صاحب مولانا عتیق الرحمن عتیق صاحب مولانا ظہور احمد عباسی صاحب مولانا نظام الدین صاحب مولانا عبد القدوس صاحب
کمپوزنگ و ڈیزائننگ
شکیل احمد صدیقی
خط و کتابت کیلئے
پی او بکس نمبر 13769 کراچی 75950/38
جامعۃ النور کراچی کا ترجمان
مجله
النور
کراچی
ان مقامات پر دستیاب ہے
مكتبه الشهداء، سہراب گوٹھ ، کراچی ۔ 0321-2544928
مکتبہ ابن مبارک، ۳۷۔ حق اسٹریٹ، اردو بازار، لاہور 0321-4066829
مکتبہ عثمانیہ چنگی بنزو، بندھن شادی ہال، کوثر کالونی، بہاولپور 0321-4072839
مکتبہ الایمان، دکان نمبر ۱۳۱، ندیم ٹریڈ سینٹر محلہ جنگلی، عقب قصہ خوانی بازار، پشاور
مکتبہ الفرقان، نزد رہائش مسجد، متصل مدینہ بیکری، بہادر آباد کراچی 7002951-021
رحمانی کتاب گھر، دکان نمبر ۲، نزد نور سبحانی مسجد، لسبیلہ کراچی 0321-2063739
مکتبہ ازہر، بالمقابل جامعہ خیر المدارس، اورنگزیب روڈ، ملتان 0321-4072439
میڈیا پوائنٹ راولپنڈی 0321-5620630
قیمت : ۷۰ روپے صرف
براہ راست ادارہ سے رابطہ کیلئے 2039293-0321
اہم عنوانات
- ۱ اے آقاﷺ! ہم شرمندہ ہیں
- ۲ حرمت رسول ﷺ کی پاسبان
- ۳ مقام مصطفیٰ ﷺ سے آشنا کر
- ۴ عشاق محمد عربی ﷺ کی ولولہ ان
- ۵ آہستہ قدم، نیچی نگاہ، پست آ
- ۶ دو مسلمان حکمرانوں کے انٹ
- ۷ وہ جو حرمت رسول ﷺ پر فدا
- ۸ جنہیں توہین رسالت کے ج
- ۹ ایک عمومی اعتراض اور اُس
- ۱۰ صرف ایک دعا ...........................
- ۱۱ آخر مغربی دنیا کیا چاہتی ہے
- ۱۲ ناک پانی میں.............................
جامعۃ النور کراچی کا ترجمان
النور کراچی
ان مقامات پر دستیاب ہے
... بک، ۲۷۔ حق ... ، اردو بازار، لاہور 0321-40 ...
مكتبة الشهداء، سہراب گوٹھ، کراچی۔ 0321-2544928
... ن دکان نمبر ۱۳۱، ... یمار، جنگی، عقب ... ن بازار، پشاور
مکتبہ عثمانؓ وعلیؓ ،نزد بندھن شادی ہال،کوثر کالونی، بہاولپور 0321-4072839
... ، دکان نمبر ۲،نزد ... ،سید،کراچی 0321-2 ...
مکتبہ الفرقان، نزدریاض مسجد، متصل مدینہ بیکری، بہادرآباد، کراچی 7002951-021
... پوائنٹ ... چی 0321- ...
مکتبہ ازہر،بالمقابل جامعہ خیر المدارس، اورنگزیب روڈ، ملتان 0321-4072439
قیمت : ۷۰ روپے صرف ... ادارہ سے رابطہ کیلئے 2039293-0321
اہم عنوانات کی فہرست
۱ اے آقا ﷺ ! ہم شرمندہ ہیں ۹ ۲ حرمت رسول ﷺ کی پاسبان ، آیات قرآنیہ ۱۳ ۳ مقام مصطفی ﷺ سے آشنا کراتیں ، احادیث طیبہ ۲۸ ۴ عشاق محمد عربی ﷺ کی ولولہ انگیز داستانیں ۳۵ ۵ آہستہ قدم، نیچی نگاہ، پست صدا ہو ۵۲ ۶ دو مسلمان حکمرانوں کے انتقام کی کہانی ۷۳ ۷ وہ جو حرمت رسول ﷺ پر فدا تھے ۷۹ ۸ جنہیں توہین رسالت کے جرم میں قتل کیا گیا ۱۳۰ ۹ ایک عمومی اعتراض اور اُس کا جواب ۱۴۷ ۱۰ صرف ایک دعا ۱۵۰ ۱۱ آخر مغربی دنیا کیا چاہتی ہے؟ ۱۵۴ ۱۲ ناک پانی میں ۱۵۸
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دہر میں اسمِ محمد ﷺ سے اجالا کر دے
پہلی بات
آئیں! اس پیغام کو عام کریں
پاکستانی قوم جو ایک عرصے سے خوابیدہ تھی، ایک مرتبہ پھر انگڑائی لے کر بیدار ہو رہی ہے۔ وطنِ عزیز کے چھوٹے بڑے شہر بلکہ گاؤں اور دیہات بھی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نعروں سے گونج رہے ہیں۔ وہ سیاستدان ہوں یا مذہبی راہنما، وہ تجارت پیشہ افراد ہوں یا ملازمت کرنے والے، وہ ایوانہائے حکومت کے مسند نشین ہوں یا غریب و مجبور عوام، ہر غیرت مند مسلمان تحفظِ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبے سے سرشار ہے اور ہر سمت الجہاد، الجہاد کی پکار گونج رہی ہے۔
یہ سب اچانک کیسے ہوا؟ یہ کہانی ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء سے شروع ہوتی ہے جب ڈنمارک کے اخبار جیلانڈز پوسٹن نے اپنی غلاظتِ باطنی کا ثبوت دیتے ہوئے کچھ ایسے خاکے اور کارٹون شائع کئے، جو واضح طور پر ہادیٔ عالم، محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مشتمل تھے۔ وہاں کے مقامی مسلمانوں نے وزیرِ اعظم آندرے فوگ سے ملاقات کر کے اس معاملے کی سنگینی کا احساس دلانا چاہا لیکن نہ صرف ملاقات سے انکار کر دیا گیا بلکہ واضح طور پر کہا گیا کہ ہمارے ہاں پریس کی آزادی ہے، اس لئے کچھ نہیں ہو سکتا۔ ڈنمارک کے یہ غیرت مند مسلمان اپنا دردِ دل لے کر مسلم دنیا پہنچے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے
ابدا ۞ علی حبیبک خیر الخلق کلھم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کر دے
آئیں اس پیغام کو عام کریں
سے خوابیدہ تھی، ایک مرتبہ پھر انگڑائی لے کر بیدار ہو رہی ہے شہر بلکہ گاؤں اور دیہات بھی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاستدان ہوں یا مذہبی راہنما، وہ تجارت پیشہ افراد ہوں یا ئے حکومت کے مسند نشین ہوں یا غریب و مجبور عوام، ہر غیرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبے سے سرشار ہے اور ہر سمت جہاد،
یہ کہانی ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء سے شروع ہوتی ہے جب ڈنمارک غلاظت باطنی کا ثبوت دیتے ہوئے کچھ ایسے خاکے اور کارٹون م محسن انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر انوں نے وزیر اعظم آندرے فوگ سے ملاقات کر کے اس لیکن نہ صرف ملاقات سے انکار کر دیا گیا بلکہ واضح طور پر کہا گیا ہے، اس لئے کچھ نہیں ہو سکتا۔ مسلمان اپنا درد دل لے کر مسلم دنیا پہنچے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے
انڈونیشیا سے مراکش تک کے مسلمان سراپا احتجاج بن گئے۔ لاکھوں پر مشتمل احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور جلسے جلوس ہوئے۔ یورپین مصنوعات کا بائیکاٹ کیا گیا اور نیل کے ساحل سے لے کر تابناک کاشغر اہل اسلام نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ اس پر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انسانی حقوق کا علمبردار مغرب، اربوں انسانوں کی اس دل آزاری پر معافی مانگتا اور اس گھناؤنے جرم کی تلافی کرتا لیکن ایک مرتبہ پھر صلیب پرستوں پر مسلم دشمنی کا جذبہ غالب آ گیا اور پورا یورپ مختلف طریقوں سے اس میں ملوث ہو گیا۔
مستقبل میں کیا ہوتا ہے؟ ابھی اس کی پیشن گوئی کرنا مشکل ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عشق مصطفیٰ ﷺ کے پیغام کو عام کریں، اپنی نئی نسل کو مقام مصطفیٰ ﷺ سے آشنا کریں، اپنے مرد و زن کو دشمنان مصطفیٰ ﷺ کی بدکرداری سے آگاہ کریں اور تاریخ کے صفحات میں بکھرے ہوئے بے شمار عشاق مصطفیٰ ﷺ کے کارناموں کو اجاگر کریں تا کہ غازی علم دینؒ اور غازی عبدالقیومؒ جیسے سپوت جنم دینے والی یہ قوم بانجھ نہ ہو جائے۔ کیا معلوم اگر وقت کی تیز رفتار لہریں ہمارے ہاتھوں کو گستاخان مصطفیٰ (ﷺ) کے گریبانوں تک پہنچا دیں تو ہم بھی اپنی تابندہ روایات دہرا سکیں۔
مجلہ ”النور“ کا یہ خصوصی ”حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نمبر“ انہی جذبات کا عکاس اور انہی خیالات کا آئینہ دار ہے۔ دعا ہے کہ اپنے محدود حالات و وسائل میں کی گئی یہ کاوش بارگاہِ الہی میں قبول ہو اور اہل اسلام کیلئے ایمانی اور روحانی فائدے کا ذریعہ بنے۔ آمین
محمد منصور احمد خادم جامعۃ النور کراچی ۱ / ربیع الاول ۱۴۲۷ھ
اظہار تشکر
- ٭ اُس ربّ العالمین کیلئے! جس نے ہمیں امت مسلمہ کی خدمت میں
یہ تحفہ پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔
’’اے ہمارے ربّ ! اسے ہماری طرف سے قبول فرما‘‘
- ٭ ان تمام مصنفین ومؤلفین کیلئے : جن کی کتابوں سے میں نے قدم ،
قدم پر استفادہ کیا۔
- ٭ اپنے تمام معاونین کیلئے ! جن کے شبانہ روز تعاون کی بدولت میں
اپنے ارادے کو عملی شکل دینے میں کامیاب ہوا۔
- ٭ اُن تمام گمنام اور بے نام افراد کیلئے ! جن کی بے پناہ حوصلہ افزائی اور
بے لوث خدمات نے ہمیشہ مجھے حوصلہ بخشا۔
اللہ تعالیٰ اس مجموعے کو میرے لئے ، میرے والدین مکرمین کیلئے ، میرے مشائخ عظام ، اساتذہ کرام اور تمام متعلقین کیلئے دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنائے ۔ آمین
اے آقا ﷺ ! ہم شرمندہ ہیں
وہ اللہ جو دانے کو پھاڑ کر اس میں سے گندم اور گٹھلی کو چیر کر اس میں سے کھجور نکالتا ہے، وہ رب جو دن میں سے رات اور رات میں سے دن کو برآمد کرتا ہے، وہ رب جو اندھیری رات میں سیاہ پہاڑ پر رینگنے والی کالی چیونٹی کی رفتار سے بھی باخبر ہے، وہ رب جس کی قدرت عظیم ہے، جس کی حکمت لامتناہی ہے اور جس کی رحمت وسیع ہے، جو عالم الغیب ہے، وحدہ لاشریک ہے، نہ اس کی کوئی مثال ہے نہ مثل، نہ اس کی کوئی نظیر ہے نہ برابر۔
وہ رب چاہے تو ہم گنہگاروں کی یہ عاجزانہ صدا اپنے حبیب و محبوب ﷺ کے دربار تک پہنچا دے۔
اے ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ ! آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے شمار رحمتیں اور لا محدود سلام نازل ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو وہ بہترین صلہ عطا فرمائے جو کسی نبی کو اپنی قوم کی طرف سے یا کسی رسول کو اپنی امت کی طرف سے دیا جا سکتا ہے۔ آپ ﷺ جب دنیا میں تشریف لائے تو ہر طرف تاریکی کا دور تھا اور ظلم و ستم کا راج تھا۔ آپ ﷺ نے عدل و انصاف کے چراغ جلائے، مخلوق اور خالق کے درمیان فاصلے مٹائے اور انسان کو انسانیت کا راستہ دکھلا کر اس بنی نوع انسان پر بے شمار احسانات فرمائے۔
اے رحمت دو عالم ﷺ !
آپ ﷺ نے اپنی امت کو توحید کا سبق سکھایا، سنت کا پیارا راستہ دکھایا، خلفائے راشدین کے طریقے کی اہمیت سمجھائی۔ آپ ﷺ نے ہمیں قرآن وحدیث کا دستور دیا۔ آپ ﷺ نے ہمیں شرافت، دیانت اور حکمت کے تحائف دیئے۔ آپ ﷺ نے ہمیں اسلام کی رسی عطا فرمائی جس نے ہمیں ادھر ادھر بھٹکنے سے محفوظ کر دیا۔ آپ ﷺ نے ہمیں جہاد کا راستہ دکھایا جس کی وجہ سے ہم عزت کے حقدار ٹھہرے اور دنیا میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے کلمے کو بلند کیا، مسلمانوں کے جان و مال کو محفوظ کیا۔
آپ ﷺ کے ماننے والوں نے جانثاری اور سرفروشی کی وہ مثالیں قائم کردیں کہ آج تک دنیا ان کی نظیر پیش نہیں کر سکتی۔ ابھی آپ ﷺ کو پردہ فرمائے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ آپ ﷺ کے لائے ہوئے پیغام کو افریقہ کے صحراؤں اور ایشیا کے کوہساروں تک پہنچا دیا گیا۔ آپ ﷺ کے نام لیواؤں نے قیصر و کسریٰ کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ آپ ﷺ کے متبعین نے انسان کو انسان کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبودیت میں دے دیا تھا۔
اے خاتم النبیین ﷺ!
لیکن پھر ہم غلطی کا شکار ہو گئے۔ ہمیں بے راہ روی نے مار ڈالا۔ ہم نے توحید کے بدلے شرک کو اختیار کر لیا۔ سنت کی بجائے بدعات ہمارا دستور العمل بن گئیں۔ آپ ﷺ کے مبارک طریقوں کی بجائے غیروں کے طریقے ہمیں پسندیدہ لگنے لگے۔ ہم نے اسلامی تہذیب کی بجائے رومی، مصری، ہندی، سندھی، پنجابی اور مغربی ثقافت کو گلے لگا لیا۔ ہم جو زمانے کی قیادت کر سکتے تھے، خود زمانے کے پیروکار بن گئے۔
اے سرور کائنات ﷺ!
آپ ﷺ ہمیں امت واحدہ بنا کر گئے تھے، آپ ﷺ نے اخوت اسلامی کی بنیادیں قائم فرمائی تھیں۔ آپ ﷺ کے دربار میں حبشہ کے بلالؓ، روم کے صہیبؓ، فارس کے سلمانؓ اور عرب کے صحابہ رضی اللہ عنہم یکجا تھے۔ آپ ﷺ نے رسوم جاہلیت کو مٹا دیا تھا آپ ﷺ نے قوم اور نسل پر فخر و مباہات کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔ لیکن اے آقا ﷺ! پھر ہم بٹ گئے اور کفار کے ہاتھوں بری طرح پٹ گئے۔ ہم میں عرب، عجم، ایرانی، تورانی، مصری اور شامی کے نعروں نے سر اٹھایا۔ ہم ٹولیوں اور فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔
اے شفیع عاصیاں ﷺ!
آپ ﷺ تو اپنی امت پر بہت مہ میں اسی امت کے لئے ماریں کھائیں فراموش نہیں فرمایا۔ آپ ﷺ نے دن را فرمایا۔ آپ ﷺ کے احسانات اس امت اے ہمارے رہبر و راہنما ﷺ!
آج آپ ﷺ کی امت کا عجب دوسرے کو ایسے دعوت دے رہے ہیں ج آپ ﷺ کی امت کے جسم کے ایک ایک فلسطینی بچے ضیاء الطمیری کو معاف نہیں بے در کیا جا رہا ہے۔ کشمیر میں آپ ﷺ خون مسلم کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ افغا ساری کفریہ طاقتیں جمع ہیں۔ ادھر مسلما ہیں۔ ان کی جان و مال کے سودے ک کر رہے ہیں۔
اے رحمت مجسم ﷺ!
کفار نے ہماری بے غیرتی اور رانیوں کے بعد آخر اپنے ترکش کا آخ لگے، اُن کی دریدہ دہنی اور گستاخی نے بس اور بے کس تھے لیکن اس کے باوج میں نکل آئے۔ اگر مسلم حکمران چاہ عشق مصطفی ﷺ کے حقیقی نظارے د
مگر اے میرے آقا ﷺ!
آج ہم میں کوئی محمد بن قاسم کوئی نورالدین زنگیؒ نہیں، کوئی صلا
عالمی سیرت کانفرنس مکہ م
حید کا سبق سکھایا، سنت کا پیارا راستہ دکھایا، خلفائے راشدین نے ہمیں قرآن وحدیث کا دستور دیا۔ آپ ﷺ نے ہمیں دیئے۔ آپ ﷺ نے ہمیں اسلام کی رسی عطا فرمائی جس نے پ ﷺ نے ہمیں جہاد کا راستہ دکھایا جس کی وجہ سے ہم عزت تعالیٰ کے کلمے کو بلند کیا، مسلمانوں کے جان و مال کو محفوظ کیا۔ نے جاں نثاری اور سرفروشی کی وہ مثالیں قائم کر دیں کہ آج تک پ ﷺ کو پردہ فرمائے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ آپ ﷺ اؤں اور ایشیا کے کوہساروں تک پہنچا دیا گیا۔ آپ ﷺ کے خاک میں ملا دیا۔ آپ ﷺ کے متبعین نے انسان کو انسان کی دے دیا تھا۔
ے ہمیں بے راہ روی نے مار ڈالا۔ ہم نے توحید کے بدلے بدعات ہمارا دستور العمل بن گئیں۔ آپ ﷺ کے مبارک ہمیں پسندیدہ لگنے لگے۔ ہم نے اسلامی تہذیب کی بجائے رمغربی ثقافت کو گلے لگا لیا۔ ہم جو زمانے کی قیادت کر سکتے
بنا کر گئے تھے، آپ ﷺ نے اخوت اسلامی کی بنیادیں قائم بش کے بلالؓ ، روم کے صہیبؓ، فارس کے سلمانؓ اور عرب کے نے رسوم جاہلیت کو مٹا دیا تھا آپ ﷺ نے قوم اور نسل پر فخرو ے آقا ﷺ! پھر ہم بٹ گئے اور کفار کے ہاتھوں بری طرح تورانی، مصری اور شامی کے نعروں نے سر اٹھایا۔ ہم ٹولیوں اور
آپ ﷺ تو اپنی امت پر بہت مہربان تھے آپ ﷺ نے مکہ کی گلیوں اور طائف کی وادیوں میں اسی امت کے لئے ماریں کھائیں۔ آپ ﷺ نے اپنی حج کی قربانی میں بھی اپنی امت کو فراموش نہیں فرمایا۔ آپ ﷺ نے دن کو تسبیحات میں اور رات کی مناجات میں اپنی امت کو شریک فرمایا۔ آپ ﷺ کے احسانات اس امت پر بے شمار ہیں۔
آج آپ ﷺ کی امت کا عجیب حال ہے۔ ساری دنیا کے کفار اس کو ختم کرنے کیلئے ایک دوسرے کو ایسے دعوت دے رہے ہیں جیسے کھانا کھانے والے کھانے پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ آپ ﷺ کی امت کے جسم کے ایک ایک حصے سے لہو رس رہا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کے چھ ماہ کے فلسطینی بچے ضیاء الطمیزی کو معاف نہیں کیا گیا۔ آپ ﷺ کی امت کے افراد کو فلسطین میں بے گھر اور بے در کیا جا رہا ہے۔ کشمیر میں آپ ﷺ کی امت کی خواتین کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ چیچنیا میں خون مسلم کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ افغانستان میں آپ ﷺ کے لائے ہوئے نظام کو مٹانے کیلئے ساری کفریہ طاقتیں جمع ہیں۔ ادھر مسلمانوں کے حکمران خود مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ ان کی جان و مال کے سودے کر رہے ہیں۔ ہزاروں شہداء اور لاکھوں مہاجرین کو فروخت کر رہے ہیں۔
کفار نے ہماری بے غیرتی اور بزدلی کا سہارا لیا۔ انہوں نے بے شمار مظالم اور بے تحاشا ستم رانیوں کے بعد آخر اپنے ترکش کا آخری تیر بھی چلا دیا۔ وہ سیاہ باطن گورے آپ کی حرمت سے کھیلنے لگے، اُن کی دریدہ دہنی اور گستاخی نے خاکوں اور کارٹونوں کی شکل اختیار کر لی۔ آپ کے نام لیوا بے بس اور بے کس تھے لیکن اس کے باوجود مراکش سے انڈونیشیا تک وہ انتقام کا عزم لے کر میدانوں میں نکل آئے۔ اگر مسلم حکمران چاہتے تو وہ ان ممولوں کو وقت کے شہبازوں سے ٹکرا دیتے اور پھر دنیا عشق مصطفیٰ ﷺ کے حقیقی نظارے دیکھتی۔
آج ہم میں کوئی محمد بن مسلمہ نہیں، کوئی عبداللہ بن عتیک نہیں، کوئی عبداللہ بن انیس نہیں، کوئی نور الدین زنگیؒ نہیں، کوئی صلاح الدین ایوبیؒ نہیں، ہاں آقا! آج ہماری صفوں میں کوئی علم
عالمی کانفرنس کی مقال ما
دین، کوئی مرید حسین، کوئی عبدالقیوم، کوئی عبدالرشید اور بابو معراج دین بھی نہیں، آقا! کوئی بھی نہیں جو آپ کے گستاخوں کے وجود سے اس صفحہ ہستی کو پاک کر سکے۔ آج ہمارے درمیان زبردست حکمران، بے مثال بہادر، سخی مالدار، ذہین دانشور، اعلیٰ مصنف، بہترین اہل علم اور بے شمار نیک و متقی لوگ موجود ہیں، لیکن کوئی بھی نہیں جو گنبد خضراء سے آنے والی اس صدا کا جواب دے سکے: ”کون ہے جو ان بدزبانوں کو لگام دے؟ کون ہے میرا غلام! جو مجھے ان موذیوں سے راحت پہنچائے“ بے شک اے میرے آقا ﷺ! ہم نادم ہیں، ہم شرمندہ ہیں۔
صلائے عام
شعلہ سامانی دکھاؤ، شعلہ سامانو! اٹھو
فتنہ یہ اٹھا ہے ہنگامہ اٹھانے کے لئے
مشعل نور محمد ﷺ کو بجھانے کے لئے
یہ بلا آئی ہے تم سب کو جگانے کے لئے
غیرت دینی تمہاری آزمانے کے لئے
تم ہو ناموس محمد ﷺ کے نگہباں یاد رہے
تم مسلماں ہو، مسلماں ہو، مسلماں یاد رہے
(سید امین گیلانی)
آیتوں کی تلاوت بھی ہوتی رہی، نعت بھی بن گئی بات بھی بن گئی
حرمتِ رسول ﷺ کی پاسبان
آیاتِ قرآن
ویسے تو قرآن مجید کی تمام آیات ہی صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور مرتبہ کی گواہ ہیں۔ کہیں اللہ آپ کی بعثت کو ایمان والوں پر اپنا احسان قرار دیتا ہے اور کہیں نبی کے اتباع کو اپنی محبت کا راستہ بتاتا ہے۔ کبھی آپ کی زبانِ اقدس سے نکلی ہوئی ہر بات کو وحی فرمایا جاتا ہے اور کبھی اپنے محبوب کی عمومی نبوت اور رسالت کا اعلان ہوتا ہے۔ کسی آیت میں آپ کے اخلاق و کردار کا حسین تذکرہ ملتا ہے تو دوسری آیت میں آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن، آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور آپ کے اہل بیت رضی اللہ عنہم کے اوصاف حمیدہ کا بیان ہوتا ہے۔ اگر ان تمام آیات کو جمع کیا جائے تو اس کیلئے ایک ضخیم کتاب بھی ناکافی ہوگی۔ ہم صرف بطور نمونہ ان چند آیات مبارکہ کا ذکر کرتے ہیں جن میں خاص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام اور آپ کی حرمت و ناموس کو بڑے اہتمام سے بیان کیا گیا ہے۔
- O گستاخی رسول (ﷺ) کے احتمال کا دروازہ بھی بند کر دیا گیا:
یا ایها الذین امنوا لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا وللكفرين عذاب اليم O
(البقره:۱۰۴)
”اے ایمان والو! تم ”راعنا“ مت کہا کرو بلکہ ”انظرنا“ کہا کرو اور خوب غور
سے سنا کرو۔ اور کافروں کیلئے درد ناک عذاب ہے۔“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ سے کلام فرماتے تو اگر کوئی بات انہیں سمجھ نہ آتی تو وہ دوبارہ سننے کیلئے ان الفاظ کے ساتھ درخواست کرتے ”راعنا یا رسول اللہ“ (اے اللہ کے رسول ہماری رعایت فرمائیں) یعنی ہمیں سمجھانے کیلئے یہ بات دوبارہ ارشاد فرمائیں۔ یہ الفاظ اپنے معنی کے لحاظ سے بالکل درست تھے اور ان میں بے ادبی کا کوئی پہلو نہ تھا لیکن یہودیوں نے اپنے خبیث باطن کی وجہ سے اس لفظ کو ذرا کھینچ کر استعمال کرنا شروع کر دیا یعنی ”راعینا“ (ہمارے چرواہے) ظاہر ہے کہ اس طرح یہ ایک بے ادبی اور گستاخی والا لفظ بن گیا۔ اس آیت مبارکہ کے ذریعے اللہ نے مسلمانوں پر پابندی لگا دی کہ وہ ایسا لفظ استعمال نہ کریں جس سے یہودیوں کیلئے بے ادبی کا موقع نکل سکے۔ البتہ اگر بات سمجھنی ہو تو یوں عرض کیا کریں ”انظرنا یا رسول اللہ“ (اے اللہ کے رسول ہماری طرف نظر فرمائیں)۔
علامہ آلوسیؒ تحریر فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ایمان والوں کیلئے اتاری تا کہ مؤمنین کی طرف سے اہانت رسول کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے اور زبانیں ایسے الفاظ کو بالکل چھوڑ دیں اور بے ادبوں، گستاخوں سے مشابہت بھی ختم ہو جائے۔“
(روح المعانی ۱/ ۳۴۸)
علامہ رشید رضا مصریؒ مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اہانت رسول کے الفاظ اگرچہ غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ ہوں لیکن ان کے ذریعے اس کا دروازہ کھل جائے گا، اس لئے اللہ نے ایسے الفاظ کو بھی منع کر دیا اور اس سلسلے کو بالکل بند کر دیا۔“
(المنار ۱/ ۴۱۰)
مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ نے اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اس آیت سے پہلے براہ راست خطاب چلا آ رہا تھا یہود کو لیکن جب یہ مقام آیا تو قرآن نے اپنا اندازِ تخاطب بدل لیا اور شانِ رسالت میں اہانت کرنے کی بات کر کے کہا کہ واسطے کافروں کے عذاب الیم ہے یعنی قرآن نے غائبانہ انداز میں بات کی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ گستاخ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کتنا رذیل ہے کہ اللہ نے اسے مخاطب کرنا بھی مناسب نہ سمجھا بلکہ اس سے قطع نظر (بے رخی) کر کے مومنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مومنو! تم راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہا
کرو اور واسطے کافروں کے عذاب ا بھی نہ سمجھا کہ ان کے اس لفظ راعنا اس لئے مخاطب کیا کہ گستاخی رسول لفظ راعنا پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قدغن
〇 حرمت رسول (ﷺ)
فالذین امنوا بہ وعز اولئک ہم المفلح ”پس جو لوگ رسول ﷺ ان کی مدد کرتے ہیں اور گیا، ایسے ہی لوگ پوری لتؤمنوا باللہ ورسو واصیلا O (الفتح: 9) ”تاکہ تم ایمان لاؤ اللہ اور کا خیال رکھو اور صبح شام ا قرآن کریم کی ان دو آیات عزر جن کے معنی ہیں: رسول اللہ عظیم سمجھنا اور گرداننا، اعلیٰ تکریم سے پ اعلیٰ مقام سمجھنا، انتہائی ادب کرنا کہ ان اور قلم اور زبان سے ان کے وقار اور عز چنانچہ پہلی آیت مبارکہ کا خلا ”وہ جو حقیقتاً اور صدق دل س تعظیم کرتے ہیں، ان کی عظمت پر فخر کر کو مضبوط و طاقتور بننے میں مدد کرتے
دردناک عذاب ہے۔“ صحابہ سے کلام فرماتے تو اگر کوئی بات انہیں سمجھ نہ آتی تو وہ است کرتے ”راعنا یا رسول اللہ“ (اے اللہ کے رسول نے کیلئے یہ بات دوبارہ ارشاد فرمائیں۔ یہ الفاظ اپنے معنی میں بے ادبی کا کوئی پہلو نہ تھا لیکن یہودیوں نے اپنے خبیث عمال کرنا شروع کر دیا یعنی ”راعینا“ (ہمارے چرواہے) گستاخی والا لفظ بن گیا۔ اس آیت مبارکہ کے ذریعے اللہ الفاظ استعمال نہ کریں جس سے یہودیوں کیلئے بے ادبی کا کرے تو یوں عرض کیا کریں ”انظرنا یا رسول اللہ“ (اے ۔
الوں کیلئے اتاری تاکہ مؤمنین کی طرف سے اہانت رسول کا ایسے الفاظ کو بالکل چھوڑ دیں اور بے ادبیوں، گستاخوں سے
انی ۳۴۸/۱)
احت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ ہوں لیکن ان کے ذریعے اس کا ایسے الفاظ کو بھی منع کر دیا اور اس سلسلے کو بالکل بند کر دیا۔“
(المنار ۴۱۰/۱)
نے اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمایا: مت خطاب چلا آ رہا تھا یہود کو لیکن جب یہ مقام آیا تو قرآن الت میں اہانت کرنے کی بات کر کے کہا کہ واسطے کافروں انداز میں بات کی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ گستاخ، رسول اللہ نے اسے مخاطب کرنا بھی مناسب نہ سمجھا بلکہ اس سے ب کرتے ہوئے کہا کہ مومنو! تم راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہا
کرو اور واسطے کافروں کے عذاب الیم ہے۔ منافقوں کی گستاخی کیا تھی کہ اللہ نے انہیں قابل خطاب بھی نہ سمجھا کہ ان کے اس لفظ راعنا میں احتمال اہانت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تھا اور مسلمانوں کو اس لئے مخاطب کیا کہ گستاخی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے احتمال کا دروازہ بھی نہ کھل سکے اور اس لفظ راعنا پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قدغن عائد کر دی۔“
(معالم القرآن ۴۶۳/۱)
〇 حرمت رسول (ﷺ) کا تحفظ ، مسلمانوں کا فرض ہے:
فالذين أمنوا به و عزروه ونصروه واتبعوا النور الذى انزل معه اولئک هم المفلحون〇 (الاعراف: ۱۵۷)
”پس جولوگ رسول ﷺ پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا، ایسے ہی لوگ پوری کامیابی پانے والے ہیں۔“
لتؤمنوا بالله ورسوله وتعزروه وتوقروه وتسبحوه بكرة واصيلاً〇 (الفتح: ۹)
”تاکہ تم ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور ان کی مدد کرو اور ان کی عظمت کا خیال رکھو اور صبح شام اللہ کی پاکی بیان کرتے رہو۔“
قرآن کریم کی ان دو آیات میں تین فعل استعمال کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں نصر، وقر اور عزر جن کے معنی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنا، تعظیم کرنا، سب سے اعلیٰ قرار دینا، عظیم سمجھنا اور گرداننا، اعلیٰ تکریم سے پیش آنا، ان کی عظمت کی بڑائی کرنا اور اس پر فخر کرنا، تعریف کرنا، اعلیٰ مقام سمجھنا، انتہائی ادب کرنا کہ ان کا پیغام دور ونزدیک پھیلے اور ان کی ہر بات میں مدد کرنا۔ قوت اور قلم اور زبان سے ان کے وقار اور عزت کی محافظت کرنا۔
چنانچہ پہلی آیت مبارکہ کا خلاصہ یہ ہوا: ”وہ جو حقیقتاً اور صدق دل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی بڑی تعظیم کرتے ہیں، ان کی عظمت پر فخر کرتے ہیں، ان کو سب سے اعلیٰ وارفع جانتے ہیں، ان کے پیغام کو مضبوط و طاقتور بننے میں مدد کرتے ہیں اور ان کے وقار وعزت کی قول وفعل سے حفاظت کرتے
مقالات کانفرنس کی کـ عالمی مجلـ
ہیں اور ضرورت پڑنے پر آپ کے اشاروں پر اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ حق تعالیٰ کے اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا یعنی قرآن مجید۔ تو ایسے لوگ یقیناً اس دنیا و آخرت میں مکمل کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔“
دوسری آیت مبارکہ کا خلاصہ یہ ہوا: ”اے لوگو! تم پر لازم ہے کہ اللہ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی درجے تعظیم کرو، ان کی عظمت پر فخر کرو اور دوسروں پر ان کو فوقیت اور ترجیح دو، یہ تمہارا فرض ہے۔ ان کے پیغام کو پھیلانے اور مضبوط کرنے میں ہر طرح ان کی مدد کرو اور ان کے وقار اور عزت کی حفاظت اپنی زبان اور تلوار کے ذریعے کرو۔“
علامہ ابن تیمیہؒ تحریر فرماتے ہیں: ”بے شک اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے صرف دل سے تصدیق کرنے کے علاوہ بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے حقوق ہمارے دل، زبان اور بدن کے تمام اعضاء پر عائد کئے ہیں۔ چنانچہ اللہ نے آپ کی حمایت کرنے اور آپ کی عظمت کا خیال رکھنے کا حکم دیا۔ ”تعزیر“ کا لفظ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد، تائید اور ہر ایسی چیز کو آپ سے روکنا جو آپ کو تکلیف دیتی ہو، ان سب کو شامل ہے اور ”توقیر“ کا لفظ جامع ہے ہر ایسے کام کو جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور احترام کا پہلو ہو اور آپ کے ساتھ عزت، اکرام کا معاملہ ہو۔“ (الصارم المسلول ٣٢)
◯ آپ ﷺ کو عام لوگوں کی طرح مت پکارو:
(النور: ٦٣)
”رسول (ﷺ) کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کے بلانے جیسا نہ سمجھو“ یہ آیت مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب واحترام کا حکم دے رہی ہے اور مسلمانوں کو آپ کے مقام کا خیال رکھنے کی تاکید کر رہی ہے۔ اس آیت کی تشریح مفسرین کرام نے دو طرح کی ہے اور ان دونوں ہی میں یہی سبق پوشیدہ ہے۔
- ١۔ رسول کے بلانے سے مراد یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو بلائیں تو
اس کو عام لوگوں کے بلانے کی طرح اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر لبیک کہنا فر
- ٢۔ رسول کے بلانے سے مر
بلاؤ یا مخاطب کرو تو عام لوگوں کی طر القاب کے ساتھ یا رسول اللہ، یا نبی الـ احترام مسلمانوں پر واجب ہے اور ہر ا علامہ شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیـ ”یعنی حضرت کے بلانے پـ کہ چاہے اس پر لبیک کہے یا نہ کہے چاہئے کیونکہ آپ کی دعا معمولی انسا وعظمت کا پورا خیال رکھنا چاہئے عام اور یا رسول اللہ جیسے تعظیمی القاب سے
◯ نبی ﷺ ایمان والوں سـ
”نبی (ﷺ) ایمان والو ہیں اور آپ کی بیویاں ا
اس آیت مبارکہ میں رسول ہے کہ ایمان والوں کا اپنی جان سے سے ہوتا ہے۔ اسی لئے اہل ایمان جانوں سے گزرتے ہیں۔
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ تحریر فر ”مومن کا ایمان اگر غور سـ
اشاروں پر اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ حق دین جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا یعنی قرآن مجید۔ تو ایسے کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔“
خلاصہ یہ ہوا: کہ اللہ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ۔ درجے تعظیم کرو، ان کی عظمت پر فخر کرو اور دوسروں پر ان کو فوقیت کے پیغام کو پھیلانے اور مضبوط کرنے میں ہر طرح ان کی مدد کرو اپنی زبان اور تلوار کے ذریعے کرو۔“
فرماتے ہیں: جس نے صرف دل سے تصدیق کرنے کے علاوہ بھی ہمارے نبی صلی ہمارے دل، زبان اور بدن کے تمام اعضاء پر عائد کئے ہیں۔ چنانچہ آپ کی عظمت کا خیال رکھنے کا حکم دیا۔ ”تعزیر“ کا لفظ یہ آپ صلی ناچیز کو آپ سے روکنا جو آپ کو تکلیف دیتی ہو، ان سب کو شامل ہر ایسے کام کو جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور احترام کا تمام کا معاملہ ہو۔
(الصارم المسلول ۲۴)
نبی کی طرح مت پکارو:
رسول بينكم كدعاء بعضكم بعضا ط
(النور: ۶۳)
بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کے بلانے جیسا نہ سمجھو“ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام کا حکم دے رہی ہے اور رکھنے کی تاکید کر رہی ہے۔ اس آیت کی تشریح مفسرین کرام نے میں یہی سبق پوشیدہ ہے۔
- ۱۔ یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو بلائیں تو
اس کو عام لوگوں کے بلانے کی طرح نہ سمجھو کہ چاہو تو جاؤ اور نہ چاہو تو نہ جاؤ بلکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر لبیک کہنا فرض ہو جاتا ہے اور نہ جانے کا اختیار نہیں رہتا۔
- ۲۔ رسول کے بلانے سے مراد یہ ہے کہ جب تم لوگ کسی کام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
بلاؤ یا مخاطب کرو تو عام لوگوں کی طرح آپ کا نام لے کر یا محمد نہ کہو کیونکہ یہ بے ادبی ہے بلکہ تعظیمی القاب کے ساتھ یا رسول اللہ، یا نبی اللہ کہا کرو۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام مسلمانوں پر واجب ہے اور ہر ایسی چیز سے بچنا لازمی ہے جو ادب کے خلاف ہو۔
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں: ”یعنی حضرت کے بلانے پر حاضر ہونا فرض ہو جاتا ہے۔ آپ کا بلانا اوروں کی طرح نہیں کہ چاہے اس پر لبیک کہے یا نہ کہے۔ اگر حضور کے بلانے پر حاضر نہ ہو تو آپ کی بددعا سے ڈرنا چاہئے کیونکہ آپ کی دعا معمولی انسانوں جیسی نہیں۔ نیز مخاطبات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و عظمت کا پورا خیال رکھنا چاہئے عام لوگوں کی طرح یا محمد وغیرہ کہہ کر خطاب نہ کیا جائے بلکہ یا نبی اللہ اور یا رسول اللہ جیسے تعظیمی القاب سے پکارنا چاہئے۔
(تفسیر عثمانی ۲۶۶)
O نبی ﷺ ایمان والوں کے ہاں ان کی جانوں سے بھی بڑھ کر ہیں:
النبي اولى بالمؤمنين من انفسهم وازواجه امهتهم ط
(الاحزاب: ۶)
”نبی (ﷺ) ایمان والوں کے ساتھ تو ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔“
اس آیت مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ ایمان والوں کا اپنی جان سے اتنا تعلق نہیں ہوتا جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے ہوتا ہے۔ اسی لئے اہل ایمان ہر دور میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں سے گزرتے ہیں۔
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ تحریر فرماتے ہیں: ”مومن کا ایمان اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک شعاع ہے اس نورِ اعظم کی جو آفتاب نبوت
سے پھیلتا ہے۔ آفتابِ نبوت، پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام ہوئے۔ بناء بریں مومن (مومن ہونے کی حیثیت سے) اگر اپنی حقیقت سمجھنے کیلئے حرکتِ فکری شروع کرے تو اپنی ایمانی ہستی سے پہلے اس کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت حاصل کرنی پڑے گی، اس اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ نبی کا وجود مسعود خود ہماری ہستی سے بھی زیادہ ہم سے نزدیک ہے اور اگر اس روحانی تعلق کی بنا پر کہہ دیا جائے کہ مؤمنین کے حق میں نبی بمنزلہ باپ کے بلکہ اس سے بھی کئی مرتبے بڑھ کر ہے تو بالکل بجا ہوگا۔ چنانچہ سنن ابی داؤد میں ”انما انا لکم بمنزلۃ الوالد“ (میں تمہارے لئے والد کی طرح ہوں) اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وغیرہ کی قرأت میں اس آیت کے ساتھ ’و ھو ابّ لھم‘ (اور نبی ایمان والوں کے لئے باپ کی طرح ہیں) کا جملہ اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ باپ بیٹے کے تعلق میں غور کرو تو اس کا حاصل یہی نکلے گا کہ بیٹے کا جسمانی وجود باپ کے جسم سے نکلا ہے اور باپ کی تربیت و شفقت طبعی اوروں سے بڑھ کر ہے لیکن نبی اور امتی کا تعلق کیا اس سے کم ہے؟ یقیناً امتی کا ایمانی اور روحانی وجود نبی کی روحانیت کبریٰ کا ایک پرتو اور ظل (سایہ) ہوتا ہے اور جو شفقت اور تربیت نبی کی طرف سے ظہور پذیر ہوتی ہے ماں باپ تو کیا تمام مخلوق میں اس کا نمونہ نہیں مل سکتا۔ باپ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو دنیا میں عارضی حیات عطا فرمائی تھی لیکن نبی کے طفیل ابدی اور دائمی حیات ملتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری وہ ہمدردی اور خیر خواہانہ شفقت اور تربیت فرماتے ہیں جو خود ہمارا نفس بھی اتنی نہیں کر سکتا۔ اسی لئے پیغمبر کو ہماری جان و مال میں تصرف کرنے کا وہ حق پہنچتا ہے جو دنیا میں کسی کو حاصل نہیں۔ حضرت شاہ عبد القادر صاحبؒ لکھتے ہیں کہ نبی نائب ہے اللہ کا، اپنی جان و مال میں اپنا تصرف نہیں چلتا جتنا نبی کا چلتا ہے۔ اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنا روا نہیں اور اگر نبی حکم دے دے تو فرض ہو جائے۔ انہی حقائق پر نظر کرتے ہوئے احادیث میں فرمایا کہ تم میں کوئی آدمی مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک باپ، بیٹے اور سب آدمیوں بلکہ اس کی جان سے بھی بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔“ (تفسیر عثمانی ۵۴۲)
○ وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ط وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِيْمًا (الاحزاب: ۴۰)
”محمد (ﷺ) تمہارے مردوں رسول ہیں اور سب نبیوں کے اس آیت مبارکہ میں اصولی طو عقیدہ ہے۔ نبوت اور رسالت کا جو سلسل عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر اختتام پذیر ہو گیا اصلی نہ ظلی ۔ اگر کوئی شخص آپ کے بعد اسلام سے خارج اور پکا کافر ہے۔ مزید اس آیت میں حضور صلی ا حضرت مفتی محمد شفیعؒ تحریر فرماتے ہیں: ”صفت خاتم الانبیاء ایک ایسی علیہ وسلم کی اعلیٰ فضیلت اور خصوصیت اور انتہاء پر پہنچ کر اس کی تکمیل ہوتی ہے کریم نے خود اس کو واضح کر دیا ہے الی یعنی آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا انبیائے سابقین کے دین بھی کمال مطلق اسی دین مصطفوی صلی اللہ تک چلنے والا دین ہے۔ اس جگہ خاتم النبیین کے اضا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقطوع حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم متع علیہ وسلم کے بعد قیامت تک آنے اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ک روحانی اولاد دوسرے انبیاء کی نسبت صفت خاتم النبیین نے
مقالات عالمی کانفرنس مکہ
پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام ہوئے۔ بناء بریں مومن (مومن ہونے کی حیثیت سے) یہ حرکتِ فکری شروع کرے تو اپنی ایمانی ہستی سے پہلے اس کو حاصل کرنی پڑے گی، اس اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ نبی کا وجود مسعود ہم سے نزدیک ہے اور اگر اس روحانی تعلق کی بنا پر کہہ دیا جائے کہ باپ کے بلکہ اس سے بھی کئی مرتبے بڑھ کر ہے تو بالکل بجا ہوگا۔ انا لکم بمنزلة الوالد “ (میں تمہارے لئے والد کی طرح ہوں) کی قرأت میں اس آیت کے ساتھ” وهو اب لهم “ (اور نبی طرح ہیں) کا جملہ اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ باپ بیٹے کے تعلق میں کا کہ بیٹے کا جسمانی وجود باپ کے جسم سے نکلا ہے اور باپ کی تربیت ہے لیکن نبی اور امتی کا تعلق کیا اس سے کم ہے؟ یقیناً امتی کا ایمانی اور نبی کا ایک پرتو اور ظل (سایہ) ہوتا ہے اور جو شفقت اور تربیت نبی کی ، ماں باپ تو کیا تمام مخلوق میں اس کا نمونہ نہیں مل سکتا۔ باپ کے دنیا میں عارضی حیات عطا فرمائی تھی لیکن نبی کے طفیل ابدی اور دائمی اللہ علیہ وسلم ہماری وہ ہمدردی اور خیر خواہانہ شفقت اور تربیت فرماتے کر سکتا۔ اسی لئے پیغمبر کو ہماری جان و مال میں تصرف کرنے کا وہ حق نہیں۔ حضرت شاہ عبد القادر صاحبؒ لکھتے ہیں کہ نبی نائب ہے اللہ کا، میں چلتا جتنا نبی کا چلتا ہے۔ اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنا روا نہیں اور بچائے۔ انہی حقائق پر نظر کرتے ہوئے احادیث میں فرمایا کہ تم میں جب تک میں اس کے نزدیک باپ، بیٹے اور سب آدمیوں بلکہ اس کی جاؤں۔“ (تفسیر عثمانی ۵۴۲)
اور آخری نبی ہیں: ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شىء عليماًہ (الاحزاب: ۴۰)
”محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔“
اس آیت مبارکہ میں اصولی طور پر عقیدۂ ختم نبوت کا بیان ہے جو تمام اہل ایمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ نبوت اور رسالت کا جو سلسلہ سیدنا آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا وہ بالآخر رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر اختتام پذیر ہو گیا۔ آپ کے بعد کوئی شخص نبی یا پیغمبر یا رسول نہیں ہو سکتا، نہ اصلی نہ ظلی۔ اگر کوئی شخص آپ کے بعد کسی معنی میں بھی نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافر ہے۔
مزید اس آیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال اور مقام کی طرف بھی اشارہ ہے چنانچہ حضرت مفتی محمد شفیعؒ تحریر فرماتے ہیں:
”صفت خاتم الانبیاء ایک ایسی صفت ہے جو تمام کمالات نبوت و رسالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ فضیلت اور خصوصیت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیونکہ عموماً ہر چیز میں تدریجی ترقی ہوتی ہے، اور انتہاء پر پہنچ کر اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ اور جو آخری نتیجہ ہوتا ہے وہی اصل مقصود ہوتا ہے، قرآن کریم نے خود اس کو واضح کر دیا ہے اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ، یعنی آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے۔
انبیائے سابقین کے دین بھی اپنے اپنے وقت کے لحاظ سے مکمل تھے، کوئی ناقص نہ تھا، لیکن کمال مطلق اسی دین مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا جو اوّلین و آخرین کیلئے حجت اور قیامت تک چلنے والا دین ہے۔
اس جگہ خاتم النبیین کے اضافہ سے اس مضمون کی بھی اور زیادہ وضاحت اور تکمیل ہوگئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقطوع النسل کہنا جہالت ہے، جبکہ ساری امت کے باپ ہونے کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم متصف ہیں کیونکہ لفظ خاتم النبیین نے یہ بھی بتلا دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک آنے والی سب نسلیں اور قومیں آپ ہی کی امت میں شامل ہوں گی۔ اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی تعداد بھی دوسری امتوں سے زیادہ ہوگی اور آپ کی روحانی اولاد دوسرے انبیاء کی نسبت سے بھی زیادہ ہوگی۔
صفت خاتم النبیین نے یہ بھی بتلا دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اپنی اولاد
روحانی یعنی پوری امت پر دوسرے تمام انبیاء سے زائد ہوگی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک پیش آنے والی ضرورتوں کو واضح کرنے کا پورا اہتمام فرمائیں گے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور کوئی وحی دنیا میں آنے والی نہیں، بخلاف انبیاء سابقین کے کہ ان کو اس کی فکر نہ تھی وہ جانتے تھے کہ جب قوم میں گمراہی پھیلے گی تو ہمارے بعد دوسرے انبیاء آ کر اس کی اصلاح کردیں گے، مگر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فکر لاحق تھی کہ قیامت تک امت کو جن حالات سے واسطہ پڑے گا ان سب حالات کے متعلق ہدایات امت کو دے کر جائیں، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شاہد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جتنے لوگ قابل اقتداء آنے والے تھے اکثر ان کے نام لے کر بتلا دیا ہے۔ اسی طرح جتنے گمراہی کے علمبردار ہیں ان کے حالات اور پتے ایسے کھول کر بتلا دیئے ہیں کہ ذرا غور کرنے والے کو کوئی اشتباہ باقی نہ رہ جائے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے انی ترکتکم علی شریعة بیضاء لیلها ونهارها سواء (یعنی میں نے تم کو ایسے روشن راستے پر چھوڑا ہے جس میں رات دن برابر ہیں کسی وقت بھی گمراہی کا خطرہ نہیں)۔“
(معارف القرآن ۱۶۱/۷)
◯ ان پر درود پڑھو اور خوب سلام بھیجو:
عليه وسلموا تسليما O (الاحزاب: ۵۶)
”بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان پیغمبر (ﷺ) پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپ پر رحمت بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔“
اس آیت مبارکہ میں ایمان والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھنے اور سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حکم کی فضیلت اور اہتمام ظاہر کرنے کیلئے پہلے اللہ نے اس کی نسبت اپنی ذات اقدس کی طرف کی اور پھر اپنے پاکیزہ فرشتوں کی طرف گویا یہ بتا دیا کہ اس اہم اور عظیم عمل کو بہت اہتمام سے کرنا چاہئے۔
حافظ ابن کثیرؒ تحریر فرماتے ہیں:
”اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ بتایا کہ آسمانوں میں اللہ کے خاص بندے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیان آپ کی تعریف کرتے ہیں اور والوں کو حکم دیا کہ وہ آپ پر درود و سلام کیلئے جمع ہو جائے۔“
(تفسیر ابن کثیر)
علامہ ابن جریرؒ اس آیت
”یہ آیت مدنی ہے اور اس بیان کر رہی ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے عموماً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر طرح ہر ایسے کام سے قیامت تک کی ہو، ان سب چیزوں کو دیکھتے ہوئے کیا اعزاز و اکرام کی کیا وجہ ہے؟ تو اس فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اپنے بندوں فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت مقام کو دیکھتے ہوئے ان کے تمام ادب جائیں۔ پھر اللہ نے ہم ایمان والوں والوں سب کی ثناء آپ کیلئے جمع ہو جائے
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ فرماتے
”صلوٰۃ علی النبی“ کا مطلب طرف ”صلوٰۃ“ منسوب ہوگی اسی کی جیسے کہتے ہیں کہ باپ بیٹے پر، بیٹا باپ کرتا ہے تو ظاہر ہے جس طرح کی مہربانی نہیں اور بھائی کی بھائی پر ان دونوں اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ بھیجتا ہے یعنی رحمت فرشتے بھی بھیجتے ہیں مگر ہر ایک کی
رے تمام انبیاء سے زائد ہوگی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کرنے کا پورا اہتمام فرمائیں گے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے والی نہیں، بخلاف انبیاء سابقین کے کہ ان کو اس کی فکر نہ تھی وہ ہی پھیلے گی تو ہمارے بعد دوسرے انبیاء آکر اس کی اصلاح کردیں وسلم کو یہ فکر لاحق تھی کہ قیامت تک امت کو جن حالات سے واسطہ حق ہدایات امت کو دے کر جائیں، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جتنے لوگ قابل اقتداء آنے والے تھے اکثر اسی طرح جتنے گمراہی کے علمبردار ہیں ان کے حالات اور پتے ایسے ر کرنے والے کو کوئی اشتباہ باقی نہ رہ جائے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی تركتكم على شريعة بيضآء ليلها و نهارها سواء (یعنی چھوڑا ہے جس میں رات دن برابر ہیں کسی وقت بھی گمراہی کا خطرہ
١٦١/٤)
خوب سلام بھیجو:
يصلون على النبى ط يٰايها الذين امنوا صلوا ليما O (الاحزاب: ۵۶)
اس کے فرشتے ان پیغمبر (ﷺ) پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے پ پر رحمت بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔“
یمان والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھنے اور حکم کی فضیلت اور اہتمام ظاہر کرنے کیلئے پہلے اللہ نے اس کی نسبت پھر اپنے پاکیزہ فرشتوں کی طرف گویا یہ بتادیا کہ اس اہم اور عظیم عمل اتے ہیں: ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ بتایا کہ آسمانوں میں اللہ کے
خاص بندے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مرتبہ اور مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں کے درمیان آپ کی تعریف کرتے ہیں اور فرشتے آپ کیلئے دعائے رحمت کرتے ہیں پھر اللہ نے زمین والوں کو حکم دیا کہ وہ آپ پر درود و سلام بھیجیں تاکہ آسمان والوں اور زمین والوں سب کی تعریف آپ کیلئے جمع ہو جائے۔ (تفسیر ابن کثیر)
علامہ ابن جریرؒ اس آیت کے فوائد میں لکھتے ہیں:
”یہ آیت مدنی ہے اور اس کا اپنے سے پہلی آیات سے یہ تعلق ہے کہ یہ ان کی وجہ اور علت بیان کر رہی ہے۔ کیونکہ اس سے پہلی آیات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خصوصاً اور ساری امت کو عموماً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم، ظاہری و باطنی ادب اور ہر طرح اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح ہر ایسے کام سے قیامت تک کیلئے منع کیا گیا ہے جس سے آپ کی تعظیم اور احترام میں خلل پڑتا ہو، ان سب چیزوں کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص پوچھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بے مثال اعزاز واکرام کی کیا وجہ ہے؟ تو اس کا جواب دیا گیا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اپنے بندوں کے لئے اس اعلان کے ساتھ کہ ”بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت بھیجتے ہیں ۔“ تاکہ ایمان والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بلند مقام کو دیکھتے ہوئے ان کے تمام احکام کی اطاعت کریں اور جس چیز سے وہ منع کریں اس سے رک جائیں۔ پھر اللہ نے ہم ایمان والوں کے گروہ کو آپ پر صلوٰۃ وسلام کا حکم دیا تاکہ آسمانوں اور زمین والوں سب کی ثناء آپ کیلئے جمع ہو جائے۔ (الدر المنضود)
علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ فرماتے ہیں:
”صلوٰۃ علی النبیؐ کا مطلب ہے ”نبی کی ثناء و تعظیم رحمت وعطوفت کے ساتھ “ پھر جس کی طرف ”صلوٰۃ“ منسوب ہوگی اسی کی شان ومرتبہ کے لائق ثناء و تعظیم اور رحمت وعطوفت مراد لیں گے، جیسے کہتے ہیں کہ باپ بیٹے پر، بیٹا باپ پر اور بھائی بھائی پر مہربان ہے یا ہر ایک دوسرے سے محبت کرتا ہے تو ظاہر ہے جس طرح کی محبت اور مہربانی باپ کی بیٹے پر ہے، اُس نوعیت کی بیٹے کی باپ پر نہیں اور بھائی کی بھائی پر ان دونوں سے جداگانہ ہوتی ہے ایسے ہی یہاں سمجھ لو۔ اللہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ بھیجتا ہے یعنی رحمت و شفقت کے ساتھ آپ کی ثناء اور اعزاز واکرام کرتا ہے اور فرشتے بھی بھیجتے ہیں مگر ہر ایک کی صلوٰۃ اور رحمت و تکریم اپنی شان ومرتبہ کے موافق ہوگی ۔ آگے
مؤمنین کو حکم ہے کہ تم بھی صلوٰۃ و رحمت بھیجو اس کی حیثیت ان دونوں سے علیحدہ ہونی چاہئے۔ علماء نے کہا ہے کہ اللہ کی صلوٰۃ رحمت بھیجنا اور فرشتوں کی صلوٰۃ استغفار کرنا اور مؤمنین کی صلوٰۃ دعا کرنا ہے۔ حدیث میں ہے کہ جب آیت نازل ہوئی صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو چکا (یعنی نماز کے تشہد میں جو پڑھا جاتا ہے السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ) صلوٰۃ کا طریقہ بھی ارشاد فرما دیجئے جو نماز میں پڑھا کریں۔ آپ نے یہ درود شریف (درود ابراہیمی) تلقین کیا۔ غرض یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے مؤمنین کو حکم دیا کہ تم بھی نبی پر صلوٰۃ (رحمت) بھیجو۔ نبی نے بتلا دیا کہ تمہارا بھیجنا یہی ہے کہ اللہ سے درخواست کرو کہ وہ اپنی بیش از بیش رحمتیں ابدالآباد تک نبی پر نازل فرماتا رہے کیونکہ اس کی رحمتوں کی کوئی حد و نہایت نہیں۔ یہ بھی اللہ کی رحمت ہے کہ اس درخواست پر جو مزید رحمتیں نازل فرمائے وہ ہم عاجز و ناچیز بندوں کی طرف منسوب کر دی جائیں۔ گویا ہم نے بھیجی ہیں۔ حالانکہ ہر حال میں رحمت بھیجنے والا وہی اکیلا ہے۔ کسی بندے کی کیا طاقت تھی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ان کے رتبے کے لائق تحفہ پیش کر سکتا۔“
(تفسیر عثمانی ۵۵۲)
ایذاء رسول ﷺ کی سزا، دنیا اور آخرت میں:
ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله فى الدنيا و الآخرة واعد لهم عذاباً مهيناo
(الاحزاب: ۵۷)
”بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والے کیلئے دو سزاؤں کا ذکر ہے۔ پہلی سزا لعنت ہے اور دوسری سزا ذلت آمیز عذاب ہے۔ یہاں اللہ کریم نے لفظ ایذاء کا ذکر فرمایا ہے، جس کے بارے میں علامہ ابن عابدین شامیؒ کا کہنا ہے:
والأذى هو الشر الخفيف وان زاد كان ضررًا
ۃ ورحمت بھیجو اس کی حیثیت ان دونوں سے علیحدہ ہونی چاہئے ۔ علماء مت بھیجنا اور فرشتوں کی صلوٰۃ استغفار کرنا اور مؤمنین کی صلوٰۃ دعا کرنا ب آیت نازل ہوئی صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! سلام کا یعنی نماز کے تشہد میں جو پڑھا جاتا ہے السلام علیک ایھا النبی صلوٰۃ کا طریقہ بھی ارشاد فرما دیجئے جو نماز میں پڑھا کریں ۔ آپ نے یہ ا تلقین کیا ۔ غرض یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے مؤمنین کو حکم دیا کہ تم بھی نبی پر نے بتلا دیا کہ تمہارا بھیجنا یہی ہے کہ اللہ سے درخواست کرو کہ وہ اپنی بیش نا پر نازل فرماتا رہے کیونکہ اس کی رحمتوں کی کوئی حد و نہایت نہیں ۔ یہ بھی اُمت پر جو مزید رحمتیں نازل فرمائے وہ ہم عاجز و ناچیز بندوں کی طرف ہم نے بھیجی ہیں ۔ حالانکہ ہر حال میں رحمت بھیجنے والا وہی اکیلا ہے۔ کسی ولا انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ان کے رتبے کے لائق تحفہ پیش کر
کی سزا، دنیا اور آخرت میں:
ان الله ورسوله لعنهم الله فى الدنيا و الاخرة واعد
اہ (الاحزاب: ۵۷)
ف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرتا ہے اور ان کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر
اللہ تعالیٰ اور اس کے پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے دو سزاؤں کا ذکر ہے۔ پہلی سزا لعنت ہے اور دوسری سزا ذلت آمیز لئے لفظ ایذاء کا ذکر فرمایا ہے، جس کے بارے میں علامہ ابن عابدین
الخفيف وان زاد كان ضررًا
”ایذاء معمولی شر کو کہتے ہیں، اگر یہ بڑھ جائے تو ضرر کہلاتا ہے۔“
(رسائل ابن عابدین ۲۹۵)
اس تصریح سے معلوم ہوا کہ ایذاء رسول کا معاملہ کتنا نازک ہے۔ رسول خدا کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنے والے لعنتی لوگوں کے بارے میں گزشتہ آیت کے صرف تین آیات بعد اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں:
ملعونین ٤ اینما ثقفوا اخذ واوقتلوا تقتيلاO (الاحزاب: ۶۱)
”لعنت کئے گئے ہیں ۔ جہاں ملیں گے پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کی جائے گی“
اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہورہا ہے کہ جولوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کے مرتکب ہوں ، ایسے بدکردار اور پھٹکارے ہوئے لوگوں کی دنیا میں سزا قتل ہے۔ چنانچہ قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں:
”گستاخِ رسول پر دنیاوی لعنت یہی ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ”وہ پھٹکارے ہوئے ہیں جہاں پائے جائیں پکڑے جائیں اور بری طرح قتل کئے جائیں“۔ (الشفاء ۴۷۲)
علامہ سحنون مالکیؒ فرماتے ہیں:
”تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ شاتم رسول کافر ہے اور اس کا حکم قتل ہے۔ جو شخص اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”وہ پھٹکارے ہوئے ہیں جہاں پائے جائیں پکڑے جائیں اور بری طرح قتل کئے جائیں“۔ ( تنبیہ الولاۃ والحکام ۳۰۵)
آئمہ تفسیر اس آیت مبارکہ کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ یہاں در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذاء سے روکنا اور اس پر وعید سنانا مقصود ہے ۔ آیت میں اللہ تعالیٰ کو ایذاء دینے سے مراد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینا ہے۔ کیونکہ آپ کو ایذاء پہنچانا در حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو ایذاء دینا ہے۔ جیسا کہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے:
”میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو، ان کو میرے بعد اپنے اعتراضات کا نشانہ نہ بناؤ کیونکہ ان سے جس نے محبت کی میری محبت کی وجہ سے کی اور جس نے بغض رکھا میرے بغض کی وجہ سے رکھا اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے
عقائد مقالات کانفرنس عالمی مجلس
مجھے ایذاء دی اس نے اللہ کو ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی گرفت کرے گا۔“
(ترمذی ۲۲۶/۲)
قرآن کریم کے سیاق و سباق سے بھی اسی بات کی تائید ہوتی ہے کیونکہ پہلے بھی ایذاء رسول کا بیان تھا اور اگلی آیات میں بھی اسی کا بیان ہوگا۔
قاضی ثناء اللہؒ تحریر فرماتے ہیں: ”جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی طرح کی ایذاء پہنچائے، آپ کی ذات یا صفات میں کوئی عیب نکالے خواہ صراحتاً ہو یا کنایتاً وہ کافر ہو گیا اور اس آیت کی رو سے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت دنیا میں بھی ہوگی اور آخرت میں بھی۔“
(تفسیر مظہری)
O آداب نبوی کے خیال رکھنے کا تاکیدی حکم
یایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی الله ورسوله واتقوا الله ط ان الله سمیع علیم O یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون O
(الحجرات:۱-۲)
”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پہل نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کیا کرو اور نہ بلند آواز سے رسول سے بات کیا کرو جیسا کہ تم ایک دوسرے سے بات کرتے ہو، کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔“
ان آیات مبارکہ میں رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے آداب سکھائے گئے اور ان کی اتنی تاکید کی گئی کہ معمولی سی خلاف ورزی پر بھی یہ وعید ہے کہ تمام نیک اعمال برباد ہو جائیں گے اور کوئی نیک کام فائدہ نہیں دے گا۔
ان آداب کی تشریح کرتے ہوئے علامہ شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں: ”جس معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حکم ملنے کی توقع ہو اس کا فیصلہ پہلے
ہی آگے بڑھ کر اپنی رائے سے نہ کہہ ارشاد فرمائیں خاموشی سے کان لگا ک ادھر سے ملے اس پر بے چون و چرا ان کے احکام پر مقدم نہ رکھو۔ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ب چمک کر یا تڑخ کر بات کرتے ہوئ خطاب کرو تو نرم آواز سے تعظیم واد اپنے باپ سے، لائق شاگرد استاد کرتا ہے۔ پیغمبر کا مرتبہ تو ان سب رکھنی چاہئے۔ مبادا بے ادبی ہو ج کے بعد مسلمان کا ٹھکانہ کہاں ہے جانے کا اندیشہ ہے۔
تنبیہ ...... حضور صلی اللہ ع بھی یہی ادب چاہئے اور قبر شریف خلفاء، علماء ربانیین اور اولوالامر د قائم رہے۔ فرق مراتب نہ کرنے
O ایک گستاخی کرنے
ولا تطع کل ح معتد اثیم O عتل
” اور آپ کسی ایس وقعت ہو، طعنہ زن ہو، گناہوں کا کرن
مؤذی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی ۲۲)
سباق سے بھی اسی بات کی تائید ہوتی ہے کیونکہ پہلے بھی ایذاء رسول ہی کا بیان ہوگا۔
تے ہیں: اللہ علیہ وسلم کو کسی طرح کی ایذاء پہنچائے، آپ کی ذات یا صفات ہو یا کنایتاً وہ کافر ہو گیا اور اس آیت کی رو سے اس پر اللہ تعالیٰ کی میں بھی۔‘‘ (تفسیر مظہری)
ل رکھنے کا تاکیدی حکم
تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ واتقوا اللہ ط ان یایہا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض ان نتم لا تشعرون o (الحجرات: ۱۔۲)
اور اس کے رسول کے سامنے پہل نہ کرو اور اللہ سے اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ اے ایمان والو! واز سے بلند نہ کیا کرو اور نہ بلند آواز سے رسول سے ایک دوسرے سے بات کرتے ہو، کہیں تمہارے اعمال یں خبر بھی نہ ہو۔‘‘
ت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے آداب سکھائے گئے اور ان ف ورزی پر بھی یہ وعید ہے کہ تمام نیک اعمال برباد ہو جائیں گے
ے ہوئے علامہ شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں: لیے اس کے رسول کی طرف سے حکم ملنے کی توقع ہو اس کا فیصلہ پہلے
ہی آگے بڑھ کر اپنی رائے سے نہ کر بیٹھو۔ بلکہ حکم الٰہی کا انتظار کرو جس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ارشاد فرمائیں خاموشی سے کان لگا کر سنو۔ ان کے بولنے سے پہلے خود بولنے کی جرأت نہ کرو۔ جو حکم ادھر سے ملے اس پر بے چون و چراں اور بلا پس و پیش عامل بن جاؤ۔ اپنی اغراض اور اہواء اور آراء ان کے احکام پر مقدم نہ رکھو۔ بلکہ اپنی خواہشات اور جذبات کو احکام سماوی کے تابع بناؤ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شور نہ کرو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بے تکلف چہک کر یا تُرخ کر بات کرتے ہو، حضور کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے۔ آپ سے خطاب کرو تو نرم آواز سے تعظیم و احترام کے لہجے میں ادب و شائستگی کے ساتھ۔ دیکھو ایک مہذب بیٹا اپنے باپ سے، لائق شاگرد استاد سے، مخلص پیرو مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر سے کس طرح بات کرتا ہے۔ پیغمبر کا مرتبہ تو ان سب سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آپ سے گفتگو کرتے وقت پوری احتیاط رکھنی چاہئے۔ مبادا بے ادبی ہو جائے اور آپ کو تکدر پیش آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناخوشی کے بعد مسلمان کا ٹھکانہ کہاں ہے۔ ایسی صورت میں تمام اعمال ضائع ہونے اور ساری محنت اکارت جانے کا اندیشہ ہے۔
تنبیہ ..... حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضور کی احادیث سننے اور پڑھنے کے وقت بھی یہی ادب چاہئے اور قبر شریف کے پاس حاضر ہو وہاں بھی ان آداب کو ملحوظ رکھے۔ نیز آپ کے خلفاء، علماء ربانیین اور اولوالامر کے ساتھ درجہ بہ درجہ اسی ادب سے پیش آنا چاہئے تاکہ جماعتی نظام قائم رہے۔ فرق مراتب نہ کرنے سے بہت سے مفاسد اور فتنوں کا دروازہ کھلتا ہے۔‘‘ (تفسیر عثمانی)
O ایک گستاخی کرنے پر دس لعنتیں:
معتد اثیم o عتل بعد ذلک زنیم o ان کان ذا مال و بنین o
(القلم: ۱۰۔۱۳)
’’اور آپ کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانیں جو بہت قسمیں کھانے والا ہو، بے وقعت ہو، طعنہ دینے والا ہو، چغلیاں لگاتا پھرتا ہو، نیک کام سے روکنے والا ہو، گناہوں کا کرنے والا ہو، سخت مزاج ہو، اس کے علاوہ حرام زادہ ہو۔ اس
وجہ سے (وہ ان گناہوں پر دلیر ہو گیا) کہ وہ مال اور اولاد والا ہے۔
ان آیات مبارکہ میں ایک گستاخ رسول ولید بن مغیرہ کی برائیاں ذکر کی گئی ہیں۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ تحریر فرماتے ہیں:
”جس طرح حدیث شریف کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بار درود پڑھنے سے دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں اسی طرح سے قرآن شریف کے اشارہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ارفع میں ایک گستاخی کرنے سے نعوذ باللہ منہا اس شخص پر منجانب اللہ دس لعنتیں نازل ہوتی ہیں۔ چنانچہ ولید بن مغیرہ کے حق میں اللہ تعالیٰ نے بسزاء استہزاء یہ دس کلمات ارشاد فرمائے۔ حلاف، مہین، ہماز، مشاء بنمیم، مناع للخیر، معتد، اثیم، عتل، زنیم، مکذب للآیات۔“
(زاد السعید)
ان دس نشانیوں کا مطلب یہ ہوا:
- ۱۔ بہت زیادہ جھوٹی قسمیں کھانے والا۔ ۲۔ بے وقعت اور بے حیثیت یعنی ذلیل۔
- ۳۔ طعنے دینے والا اور چرب زبان۔ ۴۔ لوگوں کی چغلیاں کھانے والا۔
- ۵۔ نیکی کے کاموں سے روکنے والا۔ ۶۔ ہر چیز میں حد سے بڑھ جانے والا۔
- ۷۔ ناپاک اور پلید۔ ۸۔ بات بات پر جھگڑنے والا۔
- ۹۔ بدنام اس سے مراد حرام زادہ۔ ۱۰۔ اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے والا۔
امام قرطبیؒ نے اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے:
”جب ولید بن مغیرہ نے یہ آیات سنیں تو وہ اپنی والدہ کے پاس گیا اور تلوار ننگی کر کے ماں سے کہنے لگا کہ مسلمانوں کا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) غلط بیانی نہیں کرتا اور مسلمانوں کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے میرے بارے میں نو علامات بیان کی ہیں۔ آٹھ کا فیصلہ میں خود کر سکتا ہوں، نویں کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ آٹھ کی آٹھ علامتیں میرے اندر موجود ہیں۔ اب نویں کی تصدیق تو کر کہ میں ولد الزنا ہوں یا نہیں؟ اس کی ماں نے اسے جواب دیا: تیرا باپ اس قابل نہ تھا کہ اس کے نطفہ سے اولاد ہو سکے، چنانچہ اس نے ایک چرواہے کی مدد لی اور تیرا تولد ہوا۔ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سچ فرمایا ہے کہ تو ولد الزنا ہے۔“
(الجامع لاحکام القرآن ۱۸/ ۲۳۴)
قارئین کرام نے ان چند آیات مبارکہ میں تفصیل سے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید
یوں پر دلیر ہو گیا) کہ وہ مال اور اولاد والا ہے۔“ ایک گستاخ رسول ولید بن مغیرہ کی برائیاں ذکر کی گئی ہیں۔ علی تھانویؒ تحریر فرماتے ہیں: شریف کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بار درود پڑھنے سے دس رح سے قرآن شریف کے اشارہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ گستاخی کرنے سے نعوذ باللہ منہا اس شخص پر منجانب اللہ دس لعنتیں نازل رہ کے حق میں اللہ تعالیٰ نے بَسزَاء استہزاء یہ دس کلمات ارشاد فرمائے۔ مشاء بنميم، مناع للخير، معتد، اثيم، عتل، زنیم، مكذب
مطلب یہ ہوا: قسمیں کھانے والا۔ ۲۔ بے وقعت اور بے حیثیت یعنی ذلیل۔ اور چرب زبان۔ ۴۔ لوگوں کی چغلیاں کھانے والا۔ سے روکنے والا۔ ۶۔ ہر چیز میں حد سے بڑھ جانے والا۔ ۔ ۸۔ بات بات پر جھگڑنے والا۔ رام زادہ۔ ۱۰۔ اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے والا۔
آیت کے ذیل میں لکھا ہے: رہ نے یہ آیات سنیں تو وہ اپنی والدہ کے پاس گیا اور تلوار ننگی کر کے ماں ی (صلی اللہ علیہ وسلم) غلط بیانی نہیں کرتا اور مسلمانوں کے نبی (صلی اللہ مجھ میں نو علامات بیان کی ہیں۔ آٹھ کا فیصلہ میں خود کر سکتا ہوں، نویں کا یکھا ہے کہ وہ آٹھ کی آٹھ علامتیں میرے اندر موجود ہیں۔ اب نویں کی کہوں یا نہیں؟ اس کی ماں نے اسے جواب دیا: تیرا باپ اس قابل نہ تھا وسکے، چنانچہ اس نے ایک چرواہے کی مدد لی اور تیرا تولد ہوا۔ اللہ کے نبی فرمایا ہے کہ تو ولد الزنا ہے۔“
(الجامع الاحکام القرآن ۳۳۴/۱۸)
ان چند آیات مبارکہ میں تفصیل سے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید
میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس کو کتنی وضاحت سے بیان فرمایا ہے اور حرمتِ رسول کی عظمت واہمیت کو کتنی شدومد کے ساتھ واضح کیا ہے۔ آئیں! ایمان کی تازگی اور روح کی بالیدگی کیلئے ان آیات کے نکات ایک مرتبہ پھر ذہن نشین کرلیں:۔
- ۱۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو ایسے تمام الفاظ استعمال کرنے سے بھی روک دیا جن میں ذرہ
بھر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کا احتمال ہو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واضح طور پر گستاخی کی کتنی ممانعت ہوگی۔
- ۲۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس کا تحفظ اور آپ کے لائے پیغام کی حفاظت
اور اشاعت سب مسلمانوں کا فرض ہے، جسے قیامت تک نبھانا ضروری ہے۔
- ۳۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معمولی معمولی آداب کا بہت خیال رکھنے کی تاکید
فرمائی گئی تا کہ تمام نیک اعمال ضائع اور برباد نہ ہو جائیں۔
- ۴۔ اہلِ ایمان کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اور مرتبہ اپنی جانوں سے بھی زیادہ
ہے۔ اس لئے اگر تحفظِ ناموسِ رسالت میں انسان کی یہ حقیر جان کام آ جائے تو بہت بڑی سعادت ہے۔
- ۵۔ عقیدۂ ختمِ نبوت، اسلام کی بنیاد اور اساس ہے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اعزاز ہے جو
کسی دوسرے نبی اور پیغمبر علیہ السلام کو حاصل نہیں۔
- ۶۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور تعلق حاصل کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ درود شریف
پڑھنا چاہئے کہ یہ قربِ الٰہی کا وسیلہ اور نجاتِ دارین کا ذریعہ ہے۔
- ۷۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والے کی سزا قتل ہے۔ اگر
دنیاوی حکومتوں سے بغاوت کی سزا قتل ہے اور اس پر اُنہیں کوئی شرمندگی نہیں تو ہم آخر کیوں ایک قرآنی حکم کے اعلان کرنے پر دہشت گردی کے طعنوں سے پریشان ہوں۔
- ۸۔ قرآن مجید نے ایک گستاخ رسول کی جو دس برائیاں ذکر کی ہیں، آپ غور کریں تو آج
بھی ان گستاخی کرنے والوں میں کم وبیش سب یہی خامیاں موجود ہیں۔
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا عَلٰى حَبِيْبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمْ
نفس گم کردہ می آید، جنیدؒ و بایزیدؒ ایں جا
مقام رسول ﷺ
فرامین رسول ﷺ کی روشنی میں
یوں تو سینکڑوں نہیں ہزاروں احادیث حرمت نبوی پر پیش کی جاسکتی ہیں۔ انہی صفحات میں قارئین حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بیسیوں واقعات بھی پڑھیں گے، جن کی حیثیت بذات خود احادیث کی ہے۔ اس جگہ ہم بطور تبرک کے چند فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم نقل کررہے ہیں۔
○ گستاخ رسول کی سزا صرف موت ہے
من سب نبيا فاقتلوه ومن سب اصحابي فاضربوه
”جو شخص کسی نبی کو برا بھلا کہے اس کو تم قتل کر دو اور جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہے اسے مارو۔“
یہ حدیث شریف قاضی عیاض مالکیؒ نے اپنی مکمل سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے۔
(الشفاء ۳۷۲)
البتہ علامہ ابن عابدین شامیؒ نے اس کی سند پر کلام کرتے ہوئے اسے محل نظر قرار دیا ہے۔
(رسائل ابن عابدین ۲۹۵)
لیکن اس حدیث مبارکہ کی تائید دیگر بہت سی روایات اور آثار سے ہوتی ہے اسی لئے تمام
ما ابداً
عَلَى حَبِيْبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
نفس گم کردہ می آید، جنیدؒ و بایزیدؒ ایں جا
مقام رسول ﷺ
فرامین رسول ﷺ کی روشنی میں
احادیث حرمت نبوی پر پیش کی جاسکتی ہیں۔ انہی صفحات میں تعالیٰ علیہم اجمعین کے بیسیوں واقعات بھی پڑھیں گے، جن کی اس جگہ ہم بطور تبرک کے چند فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم نقل
صرف موت ہے
اقتلوه ومن سب اصحابی فاضربوه کو برا بھلا کہے اس کو تم قتل کر دو اور جو میرے اسے مارو۔“
عیاض مالکیؒ نے اپنی مکمل سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے
(۲۷)
ا نے اس کی سند پر کلام کرتے ہوئے اسے محل نظر قرار دیا ہے۔
(رسائل ابن عابدین ۲۹۵)
تائید دیگر بہت سی روایات اور آثار سے ہوتی ہے اسی لئے تمام
علماء امت کا اس بات پر اتفاق اور اجماع ہے کہ گستاخ رسول کی سزا قتل ہے۔ بعض روایات و آثار مندرجہ ذیل ہیں:
- ۱۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: ”کون ہے جو کعب بن اشرف کو ٹھکانے لگائے کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے؟“ اس فرمان پر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس موذی یہودی کو قتل کردیا۔ (البخاری) اس واقعہ کی مزید تفصیل آپ کو آگے ان لوگوں کے حالات میں ملے گی جنہیں زمانہ رسالت میں گستاخی رسول کے جرم میں قتل کیا گیا۔
- ۲۔ علامہ شامیؒ نے عبداللہ بن ابی سرح کے واقعہ کو بھی پیش کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ
ان لوگوں میں سے تھا جنہیں فتح مکہ کے دن قتل کرنے کا حکم دیا گیا لیکن یہ چھپتے چھپاتے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ دربار نبوی میں پہنچ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ بیعت سے انکار فرمادیا۔ بالآخر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مکرر اصرار پر بیعت کیا اور یہ جملہ ارشاد فرمایا: ”کہ تم میں سے کوئی بھی سمجھدار آدمی نہیں تھا کہ جب اس نے مجھے بیعت سے انکار کرتے ہوئے دیکھا، تو وہ اٹھ کر اس شخص کو قتل کر دیتا“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ اشارہ فرما دیتے تو ہم ایسا ہی کرتے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ آنکھوں سے اشارہ کرے۔ (ابوداؤد)
- ۳۔ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن خطل اور اس کی دونوں باندیوں کو قتل
کرنے کا حکم دیا، یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گالم گلوچ کرتے تھے خاص طور پر یہ باندیاں شان رسالت میں ہجویہ اشعار گاتی تھیں۔ (الشفاء)
ان کے علاوہ اور بھی بہت سے آثار و واقعات آپ اپنی اپنی جگہ ملاحظہ کریں گے۔
O ایمان کی حلاوت، محبت رسول ﷺ سے ہی ملے گی
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ) ”ایمان کی حلاوت اسی کو نصیب ہوگی، جس میں تین باتیں پائی گئی ایک یہ کہ اللہ و رسول کی محبت اس کو تمام ماسوا سے
زیادہ ہو دوسرے یہ کہ جس آدمی سے بھی اس کو محبت ہو صرف اللہ ہی کیلئے ہو اور تیسرے یہ کہ ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹنے سے اس کو اتنی نفرت اور اذیت ہو جیسی کہ آگ میں ڈالے جانے سے ہوتی ہے۔‘‘
(بخاری ومسلم)
اس حدیث مبارکہ میں بتایا گیا ہے کہ ایمان کی حلاوت اور مٹھاس جسے انسان خود اپنے دل میں محسوس کر سکتا ہے، صرف اسی آدمی کو حاصل ہو سکتی ہے جو اللہ اور رسول کی محبت میں ایسا سرشار ہو کہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ان کی محبت ہو اور اس محبت کا اس کے دل پر ایسا قبضہ اور تسلط ہو کہ اگر وہ کسی اور انسان سے بھی محبت کرے تو اللہ ہی کے لئے کرے اور اس شخص کو اللہ اور اس کے رسول کا دین اتنا عزیز اور پیارا ہو کہ اس سے پھرنا اور اس کو چھوڑنے کا خیال اس کے لئے آگ میں گر جانے کے برابر تکلیف دہ اور پریشان کن ہو۔
◯ آپ ﷺ کی محبت سب انسانوں سے بڑھ کر ہو
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (ترجمہ) ’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کو اپنے ماں باپ اپنی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ میری محبت نہ ہو۔‘‘
(بخاری ومسلم)
اس حدیث مبارکہ میں ہر مسلمان کیلئے یہ بات واضح کر دی گئی کہ دنیا میں اسے جتنے انسانوں کے ساتھ محبت اور تعلق ہوتا ہے ان سب سے زیادہ محبت اور تعلق رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے ہونا چاہئے۔ قرآن مجید کی اس آیت میں بھی یہی بات تفصیل سے سمجھائی گئی ہے ’’آپ کہہ دیجئے! تمہارے آباء اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے خاندان اور وہ اموال جو تم کماتے ہو اور وہ تجارت جس میں نقصان سے تم ڈرتے رہتے ہو اور وہ رہائش گاہیں جو تمہیں بھلی لگتی ہیں، (یہ سب کچھ) اگر تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا عذاب لے آئے‘‘ (التوبہ:۲۴)
اس پر مزید روشنی اس واقعہ سے پڑتی ہے جو احادیث کی کتابوں میں منقول ہے کہ حضرت عمر
یہ کہ جس آدمی سے بھی اس کو محبت ہو صرف اللہ ہی کے لئے ہو۔ تیسرے یہ کہ ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹنے سے اس کو اتنی ہی نفرت اور اذیت ہو جیسی کہ آگ میں ڈالے جانے سے ہوتی ہے۔‘‘
(بخاری ومسلم)
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایمان کی حلاوت اور مٹھاس جسے انسان خود اپنے دل میں محسوس کرتا ہے، اس آدمی کو حاصل ہو سکتی ہے جو اللہ اور رسول کی محبت میں ایسا سرشار ہو جائے کہ ہر محبت پر ان کی محبت غالب ہو اور اس محبت کا اس کے دل پر ایسا قبضہ اور تسلط ہو کہ اگر وہ کسی انسان سے محبت کرے تو اللہ ہی کے لئے کرے اور اس شخص کو اللہ اور اس کے رسول کا باغی دیکھ کر اس سے پھرنا اور اس کو چھوڑنے کا خیال اس کے لئے آگ میں گر جانے کے برابر اذیت ناک ہو۔
سب انسانوں سے بڑھ کر ہو
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ) ’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے باپ اپنی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ میری محبت اس کے دل میں نہ ہو۔‘‘
(بخاری ومسلم)
ہر مسلمان کیلئے یہ بات واضح کر دی گئی کہ دنیا میں اسے جتنے انسانوں سے ان سب سے زیادہ محبت اور تعلق رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہونا چاہئے۔ قرآن مجید کی اس آیت میں بھی یہی بات تفصیل سے سمجھائی گئی ہے تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے رشتہ دار اور وہ مال جو تم کماتے ہو اور وہ تجارت جس میں نقصان سے تم ڈرتے رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو (یہ سب کچھ) اگر تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے‘‘
(التوبہ:۲۴)
سیرت کی کتابوں میں یہ واقعہ بکثرت ملتا ہے جو احادیث کی کتابوں میں منقول ہے کہ حضرت عمر
رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے اپنی جان کے علاوہ اور سب چیزوں سے آپ زیادہ محبوب ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص مومن اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اس کو میری محبت اپنی جان سے بھی زیادہ نہ ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الآن یا عمر (اس وقت اے عمر)۔
(الشفاء)
علماء نے اس ارشاد کے دو مطلب بتائے ہیں۔ ایک یہ کہ اس وقت تمہارا ایمان کامل ہوا ہے۔ دوسرا یہ کہ تنبیہ ہے کہ اس وقت یہ بات پیدا ہوئی کہ میں تمہیں اپنے نفس سے زیادہ محبوب ہوں۔ حالانکہ یہ بات اوّل ہی سے ہونا چاہئے تھی۔
O نبی کریم ﷺ کا حق ، سب انسانوں سے زیادہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ) ’’کوئی ایمان والا ایسا نہیں جس کیلئے میں دنیا اور آخرت میں سارے انسانوں سے زیادہ اولیٰ اور اقرب نہ ہوں۔ اگر تمہارا دل چاہے تو اس کی تصدیق کیلئے قرآن کی یہ آیت پڑھ لو ’النبی اولیٰ بالمومنین‘‘
(بخاری)
اس حدیث شریف میں بتا دیا گیا کہ دنیا و آخرت میں ایک مسلمان پر سب سے زیادہ حق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ اسی لئے آپ ﷺ کے ہر حکم کی اطاعت لازمی ہے۔ اس حدیث میں جس آیت کا حوالہ ہے وہ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۶ ہے جس کی تفسیر و تشریح پیچھے گزر چکی ہے۔
O آپ ﷺ کی محبت ، وسیلۂ کامیابی
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک شخص خدمت نبوی میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی؟۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم نے اس کیلئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے بہت سی نمازیں، روزے اور صدقات تو
نہیں اکٹھے کیے لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔“
(الشفاء بحوالہ بخاری)
حُب نبوی ایک مسلمان کیلئے انتہائی قیمتی اور عزیز ترین متاع ہے۔ اپنے تمام تر گناہوں اور بدکاریوں کے باوجود یہی وسیلۂ کامیابی ہے جس سے ایک ایمان والے کو اپنی نجات کی امید بندھتی ہے۔ یہی وہ محبت تھی جس کے ذریعے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ساری دنیا کو بھی مسخر کیا اور خود بھی دنیا و آخرت میں سرخرو ہوئے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت قریب آیا تو ان کی اہلیہ محترمہ کی زبان سے نکلا ”ہائے افسوس! آپ چلے۔“ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے یہ سنتے ہی کہا ”واہ رے خوشی! کل اپنے محبوبوں سے ملیں گے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔“ حضرت خالد بن معدان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی عبدہ کہتی ہیں کہ آپ جب بھی سونے کیلئے لیٹتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کا تذکرہ بہت شوق اور محبت سے کرتے اور کہتے ”وہی تو میرے سب کچھ تھے، میرا دل ان سے ملنے کو بے چین ہو رہا ہے، اے رب! مجھے جلدی ان تک پہنچا دے۔“
O آپ ﷺ کو تکلیف پہنچانا ، اللہ کو ایذاء دینا ہے
حضرت عبدالرحمٰن بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ) ”میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔ ان کو میرے بعد اپنی تنقیدوں کا نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی میری محبت کی وجہ سے کی۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا میرے بغض کی وجہ سے رکھا۔ اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء دی۔ اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ کو ایذاء دی۔ اور جس نے اللہ کو ایذاء دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی گرفت فرمائے گا۔“
(ترمذی)
اس حدیث شریف میں واضح کر دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر اور
رسول ہیں، اللہ کے حبیب ہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شان اقدس میں کسی قسم کی گستاخی در حقیقت اللہ تعالیٰ کے انتخاب پر انگلی اٹھانے اور اس کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔
O آپ ﷺ کا اپنی امت سے قلبی تعلق اور لگاؤ
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ آیت تلاوت فرمائی : (ترجمہ ) ”میرے پروردگار ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے ، یعنی ان کی وجہ سے بہت سے آدمی گمراہ ہوئے پس جو لوگ میری پیروی کریں وہی میرے ہیں ، پس ان کیلئے تو میں تجھ سے عرض کرتا ہوں تا کہ انکو تو ہی بخش دے“ اور عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول بھی تلاوت فرمایا جو قرآن پاک میں ہے ( اے اللہ! اگر میری امت کے ان لوگوں کو عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں یعنی آپ کو عذاب و سزا کا پورا حق ہے ) یہ دونوں آیتیں تلاوت فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یاد کیا اور دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے اور کہا ”اے میرے اللہ ! میری امت ، میری امت !“ اور آپ اُس دعا میں روئے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو فرمایا تم محمد کے پاس جاؤ ، اور اگرچہ تمہارا رب سب کچھ جانتا ہے مگر پھر بھی تم جا کر ہماری طرف سے پوچھو کہ ان کے پاس رونے کا کیا سبب ہے۔ پس جبرئیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا ، آپ نے جبرئیل کو وہ بتلا دیا جو اللہ سے عرض کیا تھا (یعنی یہ کہ اس وقت میرے رونے کا سبب امت کی فکر ہے جبرئیل نے جا کر اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ) تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل کو فرمایا کہ محمد کے پاس جاؤ اور ان کو ہماری طرف سے کہو کہ تمہاری امت کے بارے میں ہم تمہیں راضی اور خوش کر دیں گے اور تمہیں رنجیدہ اور غمگین نہیں کریں گے ۔ (مسلم)
حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی دو آیتوں کی تلاوت فرمائی ایک سورۂ ابراہیم کی آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم اور اپنی امت کے بارے میں عرض کیا کہ ”ان میں سے جن لوگوں نے میری بات مانی وہ تو میرے ہیں اور میں ان کے لئے آپ سے مغفرت کی درخواست کرتا ہوں اور جنہوں نے میری نافرمانی کی تو آپ غفور ورحیم ہیں چاہیں تو ان کو بھی بخش سکتے ہیں) اور دوسری آیت سورۂ مائدہ کی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ذکر ہے کہ وہ اپنے گمراہ امتیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے، کہ (اگر آپ ان کو عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور آپ کو عذاب دینے کا پورا حق ہے اور اگر آپ ان کو بخش دیں تو آپ غالب ہیں (سب کچھ کر سکتے ہیں) اور حکیم ہیں (جو کچھ کریں گے حکمت کے مطابق ہی ہوگا)۔ ان دونوں آیات میں اللہ کے دونوں جلیل القدر پیغمبروں نے پورے ادب اور بڑی احتیاط کے ساتھ اپنی اپنی امتوں کے خطا کار لوگوں کیلئے دبے لفظوں میں سفارش کی ہے۔ ان آیتوں کی تلاوت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا مسئلہ یاد دلایا اور آپ نے ہاتھ اٹھا کر اور رو کر بارگاہ الٰہی میں اپنی فکر کو عرض کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ آپ کی امت کا مسئلہ آپ کی مرضی اور خوشی کے مطابق ہی طے کر دیا جائے گا اور اس معاملہ کی وجہ سے آپ کو رنجیدہ اور غمگین ہونا نہیں پڑے گا۔
واقعہ یہ ہے کہ ہر پیغمبر کو اپنی امت کے بلکہ ہر مقتدا کو اپنے پیروکاروں کے ساتھ ایک خاص قسم کی شفقت کا تعلق ہوتا ہے جس طرح کہ ہر شخص کو اپنی اولاد کے ساتھ ایک خاص تعلق ہوتا ہے جو دوسرے انسانوں کے ساتھ نہیں ہوتا ، اور اس تعلق کی وجہ سے ان کی قدرتی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے عذاب سے چھٹکارا پائیں اور اس شفقت ورافت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب پیغمبروں سے بڑھے ہوئے ہیں اور اس لئے قدرتی طور پر آپ کی یہ بڑی خواہش ہے جو مختلف موقعوں پر بار بار آپ سے ظاہر ہوئی کہ آپ کی امت دوزخ میں نہ جائے اور جن کی بدعملی اس درجہ کی ہو کہ ان کا دوزخ میں ڈالا جانا اور کچھ عذاب پانا ناگزیر ہو ان کو کچھ سزا پانے کے بعد نکال لیا جائے چنانچہ مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہو چکا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی خواہش کو پورا فرمائیں گے اور آپ کی شفاعت سے بہت لوگ جہنم سے بچ جائیں گے اور بہت سے ڈالے جانے کے بعد نکال لئے جائیں گے۔
-----
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا اَبَدًا
عشاق
کی دلوا
اصحابِ رسول وہ مقدس جماعت ہے عمل حرمتِ رسول کا نگہبان تھا۔ یہ وہ پاکیزہ پکار اُٹھا کہ ”محمد (ﷺ) کے ساتھیوں جیسی عظیم بے کار ہے۔“ ان ہستیوں کے واقعات ایک طرف یہ شریعت کا دستور اور قانون بھی ہیں کہتے جائیں:
جسموں میں روح
دے کر شعور
جو جم چکا ہے
تم کو رو
کب سے گر
میری ہزار جان ہو، قربانِ مصطفیٰ ﷺ
عشاق محمد عربی ﷺ
کی ولولہ انگیز داستانیں
اصحابِ رسول وہ مقدس جماعت ہیں جن کا ہر سانس عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے مہکتا تھا اور ان کا ہر عمل حرمتِ رسول کا نگہبان تھا۔ یہ وہ پاکیزہ لوگ تھے جن کے حالات دیکھ کر ایک عیسائی مؤرخ بھی پکار اُٹھا کہ ”محمد (ﷺ) کے ساتھیوں جیسی عظیم مثالیں، عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں میں تلاش کرنا بے کار ہے۔“ ان ہستیوں کے واقعات ایک طرف محبت اور وفا کی لازوال داستانیں ہیں تو دوسری طرف یہ شریعت کا دستور اور قانون بھی ہیں۔ پڑھیں اور احسان دانش مرحوم کی اس دعا پر آمین بھی کہتے جائیں:
جسموں میں روحِ خالدؓ و طارقؒ رواں کرے
دے کر شعورِ زیست، ارادے جواں کرے
جو جم چکا ہے خون رگوں میں دواں کرے
تم کو روِ رسول ﷺ پہ چلنا نصیب ہو
کب سے گرے پڑے ہو، سنبھلنا نصیب ہو
☆ اُس وقت تک کوئی چیز کھاؤں گا نہ پیوں گا......
ابتدائے اسلام میں جو شخص مسلمان ہوتا تھا وہ اپنے اسلام کو حتی الوسع مخفی رکھتا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی اس وجہ سے کہ ان کو کفار سے اذیت نہ پہنچے، اسلام چھپانے کی تلقین ہوتی تھی۔ جب مسلمانوں کی تعداد انتالیس تک پہنچی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اظہار کی درخواست کی کہ کھلم کھلا تبلیغ کی جائے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اول انکار فرمایا مگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اصرار پر قبول فرمالیا اور ان سب حضرات کو ساتھ لے کر مسجد حرام یعنی کعبہ میں تشریف لے گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دعوتی خطبہ شروع کیا۔ یہ سب سے پہلا خطبہ ہے جو اسلام میں پڑھا گیا اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اسی دن اسلام لائے ہیں اور اس کے تین دن بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ مشرف بااسلام ہوئے ہیں۔ خطبہ کا شروع ہونا تھا کہ چاروں طرف سے کفار ومشرکین مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی باوجودیکہ مکہ مکرمہ میں ان کی عام طور سے عظمت و شرافت مسلم تھی، اس قدر مارا کہ تمام چہرہ مبارک خون سے بھر گیا۔ ناک کان سب لہولہان ہوگئے تھے۔ پہچانے نہ جاتے تھے۔ جوتوں سے لاتوں سے مارا۔ پاؤں میں روندا اور جو نہ کرنا تھا سب ہی کچھ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بے ہوش ہوگئے۔ بنو تیم یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قبیلے کے لوگوں کو خبر ہوئی وہ وہاں سے اٹھا کر لائے۔ کسی کو بھی اس میں تردد نہ تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس وحشیانہ حملہ سے زندہ بچ سکیں گے۔ بنو تیم مسجد میں آئے اور اعلان کیا اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اس حادثہ سے وفات ہوگئی تو ہم لوگ اُن کے بدلہ میں عتبہ بن ربیعہ کو قتل کریں گے۔ عتبہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مارنے میں بہت زیادہ بدبختی کا اظہار کیا تھا۔ شام تک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بے ہوشی طاری رہی۔ باوجود آوازیں دینے کے بولنے یا بات کرنے کی نوبت نہ آتی تھی۔ شام کو آوازیں دینے پر وہ بولے تو سب سے پہلا لفظ یہ تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے۔ لوگوں نے اس پر بہت ملامت کی کہ ان ہی کے ساتھ کی بدولت یہ مصیبت آئی اور دن بھر موت کے منہ میں رہنے پر بات کی تو وہ بھی حضور ہی کا جذبہ اور ان ہی کی فکر۔
لوگ پاس سے اٹھ کر چلے گئے بد دلی بھی تھی اور یہ بھی کہ آخر کچھ جان باقی ہے کہ بولنے کی نوبت آئی اور آپ کی والدہ ام الخیر رضی اللہ عنہا سے کہہ گئے کہ ان کے کھانے پینے کیلئے کسی چیز کا انتظام کردیں۔ وہ کچھ تیار کرکے لائیں اور کھانے پر اصرار کیا مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وہی ایک صدا تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا گذری۔ ان کی والدہ نے فرمایا مجھے تو خبر نہیں کہ کیا حال ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ام جمیل رضی اللہ عنہا (حضرت عمرؓ کی بہن) کے پاس جاکر دریافت کرلو کہ کیا حال ہے۔ وہ بے چاری بیٹے کی اس مظلومانہ حالت کی بیتابانہ درخواست کو پورا کرنے کے واسطے ام جمیل رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حال دریافت کیا وہ بھی عام دستور کے موافق اس وقت تک اپنا اسلام چھپائے ہوئے تھیں۔ فرمانے لگیں میں کیا جانوں کون محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور کون ابوبکر۔ تیرے بیٹے کی حالت سن کر رنج ہوا اگر تو کہے تو میں چل کر اس کی حالت دیکھوں۔ ام الخیر نے قبول کرلیا۔ ان کے ساتھ گئیں اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی حالت دیکھ کر تحمل نہ کر سکیں۔ بے تحاشا رونا شروع کردیا کہ بدکرداروں نے کیا حال کردیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے کئے کی سزا دے۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ ام جمیل رضی اللہ عنہا نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی والدہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ وہ سن رہی ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اُن سے خوف نہ کرو تو ام جمیل رضی اللہ عنہا نے خیریت سنائی اور عرض کیا کہ بالکل صحیح سالم ہیں۔ آپ نے پوچھا کہ اس وقت کہاں ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ ارقم رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھ کو خدا کی قسم ہے کہ اس وقت تک کوئی چیز نہ کھاؤں گا نہ پیوں گا جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کرلوں۔ ان کی والدہ کو تو بے قراری تھی کہ وہ کچھ کھالیں اور انہوں نے قسم کھالی کہ جب تک زیارت نہ کرلوں کچھ نہ کھاؤں گا۔ اس لئے والدہ نے اس کا انتظار کیا کہ لوگوں کی آمد ورفت بند ہوجائے، مبادا کوئی دیکھ لے اور کچھ اذیت پہنچائے۔ جب رات کا بہت سا حصہ گزر گیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ارقم رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بھی لپٹ کر روئے اور مسلمان بھی سب رونے لگے کہ حضرت ابو بکر کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے
درخواست کی کہ یہ میری والدہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کیلئے ہدایت کی دعا بھی فرمادیں اور ان کو اسلام کی تبلیغ بھی فرمائیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اول دعا فرمائی۔ اس کے بعد ان کو اسلام کی ترغیب دی۔ وہ بھی اسی وقت مسلمان ہوگئیں۔ عیش و عشرت نشاط و فرحت کے وقت محبت کے دعوے کرنے والے سینکڑوں ہوتے ہیں۔ محبت و عشق وہی ہے جو مصیبت اور تکلیف کے وقت بھی باقی رہے۔ (حکایات صحابہؓ)
٭ حضور ﷺ کے وصال پر کیا گزری؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ باوجود اپنی اس ضرب المثل قوت، شجاعت، دلیری اور بہادری کے جو آج ساڑھے تیرہ سو برس کے بعد بھی شہرہ آفاق ہے اور باوجود یکہ اسلام کا ظہور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے ہی سے ہوا کہ اسلام لانے کے بعد اپنے اسلام کا اخفا گوارا نہ ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا ایک ادنیٰ سا کرشمہ یہ ہے کہ اپنی اس بہادری کے باوجود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی حالت کا تحمل نہ فرماسکے۔ سخت حیرانی اور پریشانی کی حالت میں تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوگئے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے تو اس کی گردن اڑا دوں گا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام طور پر تشریف لے گئے تھے۔ عنقریب حضور صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائیں گے اور ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیں گے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی جھوٹی خبر اڑا رہے ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بالکل گم سم تھے کہ دوسرے دن تک بالکل آواز نہیں نکلی چلتے پھرتے تھے مگر بولا نہیں جاتا تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ چپ چاپ بیٹھے رہ گئے کہ حرکت بھی بدن کو نہ ہوتی تھی۔
صرف ایک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دم تھا کہ ایسے پہاڑ جیسے وقت کو برداشت کیا اور اپنی اس محبت کے باوجود جو پہلے قصہ میں گزری اسوقت نہایت سکون سے تشریف لاکر اوّل حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک کو بوسہ دیا اور باہر تشریف لاکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ اس کے بعد خطبہ پڑھا جس کا حاصل یہ تھا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا ہو وہ جان لے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا لیکن جو شخص اللہ کی پرستش کرتا ہو وہ سمجھ لے کہ اللہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کیلئے ہدایت کی دعا بھی فرما دیں اور ان کو دس صلی اللہ علیہ وسلم نے اول دعا فرمائی۔ اس کے بعد ان کو اسلام سلمان ہو گئیں۔ عیش وعشرت نشاط وفرحت کے وقت محبت کے تے ہیں۔ محبت وعشق وہی ہے جو مصیبت اور تکلیف کے وقت بھی
پر کیا گزری ؟
جود اپنی اس ضرب المثل قوت، شجاعت، دلیری اور بہادری کے بھی شہرۂ آفاق ہے اور باوجود یکہ اسلام کا ظہور حضرت عمر رضی کہ اسلام لانے کے بعد اپنے اسلام کا اخفا گوارا نہ ہوا۔ حضور صلی ئی سا کرشمہ یہ ہے کہ اپنی اس بہادری کے باوجود حضور اقدس صلی ل نہ فرما سکے۔ سخت حیرانی اور پریشانی کی حالت میں تلوار ہاتھ یہ کہے گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے تو اس کی اللہ علیہ وسلم تو اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ جیسا السلام طور پر تشریف لے گئے تھے۔ عنقریب حضور صلی اللہ علیہ لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیں گے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بالکل گم صم تھے کہ دوسرے دن تک بولا نہیں جاتا تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ چپ چاپ بیٹھے رہ
اللہ عنہ کا دم تھا کہ ایسے پہاڑ جیسے وقت کو برداشت کیا اور اپنی دری اسوقت نہایت سکون سے تشریف لا کر اوّل حضور اقدس بوسہ دیا اور باہر تشریف لا کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا س کا حاصل یہ تھا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا ہو صال ہو چکا لیکن جو شخص اللہ کی پرستش کرتا ہو وہ سمجھ لے کہ اللہ
تعالیٰ شانہ زندہ ہیں اور ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اس کے بعد کلام پاک کی آیت وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اخیر تک تلاوت فرمائی۔ (ترجمہ) ”محمد (ﷺ) نرے رسول ہی تو ہیں (خدا تو نہیں جس پر موت وغیرہ نہ آسکے) سو اگر آپ کا انتقال ہو جاوے یا آپ شہید بھی ہو جاویں تو کیا تم لوگ الٹے پھر جاؤ گے اور جو شخص الٹا پھر جائیگا تو خدا تعالیٰ کا تو کوئی نقصان نہیں کرے گا (اپنا ہی کچھ کھودے گا) اور خدا تعالیٰ شانہ جلد ہی جزا دے گا حق شناس لوگوں کو۔“ چونکہ اللہ جل شانہ کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے خلافت کا اہم کام لینا تھا اس لئے ان کی شایان شان اس وقت یہی حالت تھی اسی وجہ سے اس وقت جس قدر استقلال اور تحمل حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں تھا کسی میں بھی نہ تھا اور اس کے ساتھ ہی جس قدر مسائل دفن ومیراث وغیرہ کے اس وقت کے مناسب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو معلوم تھے مجموعی طور پر کسی کو بھی معلوم نہ تھے۔ چنانچہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن میں اختلاف ہوا کہ مکہ مکرمہ میں دفن کیا جائے یا مدینہ منورہ میں یا بیت المقدس میں تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی کی قبر اسی جگہ ہوتی ہے جہاں اس کی وفات ہو۔ لہٰذا جس جگہ وفات ہوئی ہے اسی جگہ قبر کھودی جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ہم لوگوں (یعنی انبیاء) کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص مسلمانوں کی حکومت کا متولی بنے اور وہ لاپرواہی سے کوتاہی کرتے ہوئے کسی دوسرے کو امیر بنائے اس پر لعنت ہے۔ نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ قریش اس امر یعنی سلطنت کے متولی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
٭ جب آپ اسے بُرا سمجھتے ہیں تو ......
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ریشمی قبا زیب تن فرمایا جو آپ کیلئے بطور ہدیہ پیش کیا گیا تھا آپ نے اسے پہنا پھر بہت جلدی سے اتار ڈالا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا لوگوں نے آپ سے دریافت کیا یا رسول اللہ (کیا بات تھی کہ) آپ نے اس قباء کو اتارنے میں بہت ہی جلدی کی آپ نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے اس کے پہننے سے مجھے منع فرما دیا تھا (جب یہ خبر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی) تو روتے ہوئے آپ
کی خدمت میں آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک چیز کو آپ نے خود تو برا سمجھا پھر اسے مجھے کیوں دیدیا۔ بھلا جب آپ اسے برا سمجھتے ہیں تو میں اسے برا کیوں نہ سمجھوں۔ آپ نے فرمایا میں نے تم کو اس لئے تو دیا نہیں تھا کہ تم اسے پہن لو، میں نے تو اس لئے دیا تھا کہ بیچ دینا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دو ہزار درہم میں بیچ ڈالا۔
(مسلم)
☆ سرزمین حدیبیہ میں عشق رسول ﷺ کی داستانیں
حدیبیہ کی مشہور لڑائی ذیقعدہ ۶ھ میں ہوئی جب کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ عمرہ کے ارادہ سے تشریف لا رہے تھے۔ کفار مکہ کو جب اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور یہ طے کیا کہ مسلمانوں کو مکہ آنے سے روکا جائے اس کے لئے بہت بڑے پیمانہ پر تیاری کی اور مکہ کے علاوہ باہر کے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ شرکت کی دعوت دی اور بڑے مجمع کے ساتھ مقابلہ کی تیاری کی۔ ذوالحلیفہ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو حالات کی خبر لانے کیلئے بھیجا جو مکہ سے حالات کی تحقیق کر کے عسفان پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ انہوں نے عرض کیا کہ مکہ والوں نے مقابلہ کی بہت بڑے پیمانہ پر تیاری کر رکھی ہے اور باہر سے بھی بہت سے لوگوں کو اپنی مدد کیلئے بلا رکھا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا کہ اس وقت کیا کرنا چاہئے۔ ایک صورت یہ ہے کہ جو لوگ باہر سے مدد کو گئے ہیں۔ ان کے گھروں پر حملہ کیا جائے۔ جب وہ خبر سنیں گے تو مکہ سے واپس آ جائیں گے دوسری صورت یہ ہے کہ سیدھے چلے چلیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت آپ بیت اللہ کے ارادہ سے تشریف لائے ہیں۔ لڑائی کا ارادہ تو تھا ہی نہیں اس لئے آگے بڑھے چلیں اگر وہ ہمیں روکیں گے تو مقابلہ کریں گے ورنہ نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبول فرمایا اور آگے بڑھے۔ حدیبیہ میں پہنچ کر بدیل بن ورقا خزاعی ایک جماعت کو ساتھ لے کر آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا کہ کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے وہ تو لڑائی پر تلے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم لوگ لڑنے کے واسطے نہیں آئے ہیں ہمارا مقصد صرف عمرہ کرنا ہے اور قریش کو روزمرہ کی لڑائی نے بہت نقصان پہنچا رکھا ہے بالکل ہلاک کر دیا ہے
اگر وہ راضی ہوں تو میں ان سے معاہدہ ہو جائے کہ مجھ سے تعرض اور اگر وہ کسی چیز پر بھی راضی نہ ہو
- وقت تک ان سے لڑوں گا جب ت
عرض کیا کہ اچھا میں آپ کا پیام نہ ہوئے۔
اسی طرح طرفین سے جانب سے آئے کہ وہ اس وقت علیہ وسلم نے ان سے بھی وہی ک یہ چاہتے ہو کہ عرب کا بالکل خات گزرا ہو جس نے عرب کو بالک رکھو کہ میں تمہارے ساتھ ساتھ ہیں مصیبت پڑنے پر س ہوئے تھے یہ جملہ سن کر غصہ م جائیں گے اور آپ صلی اللہ علی عروہ نے پوچھا کہ یہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نہیں دے سکا اگر یہ نہ ہوتا تو میں مشغول ہو گئے اور عرب ع ڈاڑھی مبارک کی طرف ہاتھ ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ ب سر پر خود اوڑھے ہوئے اور ن پر مارا کہ ہاتھ پرے رکھو۔ تیری غداری کو میں اب تک
عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک چیز کو آپ نے خود تو برا سمجھا بھلا جب آپ اسے برا سمجھتے ہیں تو میں اسے برا کیوں نہ سمجھوں۔ آپ نے تو دیا نہیں تھا کہ تم اسے پہن لو، میں نے تو اس لئے دیا تھا کہ بیچ دینا۔ اسے دو ہزار درہم میں بیچ ڈالا۔
(مسلم)
میں عشق رسول ﷺ کی داستانیں
ائی ذیقعدہ ۶ ھ میں ہوئی جب کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی ت کے ساتھ عمرہ کے ارادہ سے تشریف لا رہے تھے۔ کفار مکہ کو جب اس ں میں مشورہ کیا اور یہ طے کیا کہ مسلمانوں کو مکہ آنے سے روکا جائے اس پر تیاری کی اور مکہ کے علاوہ باہر کے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ شرکت کی ساتھ مقابلہ کی تیاری کی۔ ذوالحلیفہ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے لانے کیلئے بھیجا جو مکہ سے حالات کی تحقیق کر کے عسفان پر حضور صلی اللہ نے عرض کیا کہ مکہ والوں نے مقابلہ کی بہت بڑے پیمانہ پر تیاری کر رکھی ے لوگوں کو اپنی مدد کیلئے بلا رکھا ہے۔
سلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا کہ اس وقت کیا کرنا چاہئے۔ ب باہر سے مدد کو گئے ہیں۔ ان کے گھروں پر حملہ کیا جائے۔ جب وہ خبر جائیں گے دوسری صورت یہ ہے کہ سیدھے چلے چلیں۔ حضرت ابوبکر ہا کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت آپ بیت اللہ کے ارادہ ئی کا ارادہ تو تھا ہی نہیں اس لئے آگے بڑھے چلیں اگر وہ ہمیں روکیں ں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبول فرمایا اور آگے بڑھے۔ حدیبیہ بھی ایک جماعت کو ساتھ لے کر آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا لیہ وسلم کو ہرگز مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے وہ تو لڑائی پر تلے ہوئے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم لوگ لڑنے کے واسطے نہیں آئے ہیں ہمارا مقصد کہ قریش کی لڑائی نے بہت نقصان پہنچا رکھا ہے بالکل ہلاک کر دیا ہے
اگر وہ راضی ہوں تو میں ان سے مصالحت کرنے کو تیار ہوں کہ میرے اور ان کے درمیان اس پر معاہدہ ہو جائے کہ مجھ سے تعرض نہ کریں۔ میں ان سے تعرض نہ کروں۔ مجھے اوروں سے نمٹنے دیں اور اگر وہ کسی چیز پر بھی راضی نہ ہوں تو اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ میں اس ہ وقت تک ان سے لڑوں گا جب تک کہ اسلام غالب ہو جائے یا میری گردن جدا ہو جائے۔ بدیل نے عرض کیا کہ اچھا میں آپ کا پیغام ان تک پہنچائے دیتا ہوں وہ لوٹے اور جا کر پیغام پہنچایا مگر کفار راضی نہ ہوئے۔
اسی طرح طرفین سے آمد و رفت کا سلسلہ رہا جن میں ایک مرتبہ عروہ بن مسعود ثقفی کفار کی جانب سے آئے کہ وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے بعد میں مسلمان ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی وہی گفتگو فرمائی جو بدیل سے کی تھی۔ عروہ نے عرض کیا اے محمد (ﷺ) اگر تم یہ چاہتے ہو کہ عرب کا بالکل خاتمہ کر دو تو یہ ممکن نہیں۔ تم نے کبھی نہ سنا ہو گا کہ تم سے پہلے کوئی شخص ایسا گزرا ہو جس نے عرب کو بالکل فنا کر دیا ہو اور اگر دوسری صورت ہوئی کہ وہ تم پر غالب ہو گئے تو یاد رکھو کہ میں تمہارے ساتھ اشراف کی جماعت نہیں دیکھتا۔ یہ اطراف کے کم ظرف لوگ تمہارے ساتھ ہیں مصیبت پڑنے پر سب بھاگ جائیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پاس کھڑے ہوئے تھے یہ جملہ سن کر غصہ میں بھر گئے اور سخت گالی دی۔ کیا ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھاگ جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑ دیں گے۔
عروہ نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر ہیں۔ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ تمہارا ایک قدیمی احسان مجھ پر ہے جس کا میں بدلہ نہیں دے سکا اگر یہ نہ ہوتا تو اس گالی کا جواب دیتا۔ یہ کہہ کر عروہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات میں مشغول ہو گئے اور عرب کے عام دستور کے موافق بات کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک کی طرف ہاتھ لے جاتے کہ خوشامد کے موقع پر ڈاڑھی میں ہاتھ لگا کر بات کی جاتی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ بات کب گوارا ہو سکتی تھی۔ عروہ کے بھتیجے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سر پر خود اوڑھے ہوئے اور ہتھیار لگائے ہوئے پاس کھڑے تھے انہوں نے تلوار کا قبضہ عروہ کے ہاتھ پر مارا کہ ہاتھ پرے رکھو۔ عروہ نے پوچھا یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مغیرہ ۔ عروہ نے کہا او غدار تیری غداری کو میں اب تک بھگت رہا ہوں اور تیرا یہ برتاؤ (حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ بن شعبہ نے
اسلام سے قبل چند کافروں کو قتل کر دیا تھا جن کی دیت عروہ نے ادا کی تھی اس کی طرف یہ اشارہ تھا) غرض عروہ طویل گفتگو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے رہے اور نظریں بچا کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات کا اندازہ بھی کرتے جاتے تھے۔
چنانچہ واپس جا کر کفار سے کہا کہ اے قریش میں بڑے بڑے بادشاہوں کے یہاں گیا ہوں۔ قیصر وکسریٰ اور نجاشی کے درباروں کو بھی دیکھا ہے اور اُن کے آداب بھی دیکھے ہیں۔ خدا کی قسم میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کی جماعت اس کی ایسی تعظیم کرتی ہو جیسی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جماعت اُن کی تعظیم کرتی ہے اگر وہ تھوکتے ہیں تو جس کے ہاتھ پر پڑ جائے وہ اس کو بدن اور منھ پر مل لیتا ہے۔ جو بات محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے منھ سے نکلتی ہے اس کے پورا کرنے کو سب کے سب ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ان کی وضو کا پانی آپس میں لڑ لڑ کر تقسیم کرتے ہیں۔ زمین پر نہیں گرنے دیتے۔ اگر کسی کو قطرہ نہ ملے تو وہ دوسرے کے تر ہاتھ کو ہاتھ سے مل کر اپنے منھ پر مل لیتا ہے۔ ان کے سامنے بولتے ہیں تو بہت نیچی آواز سے۔ ان کے سامنے زور سے نہیں بولتے۔ ان کی طرف نگاہ اٹھا کر ادب کی وجہ سے نہیں دیکھتے۔ اگر ان کے سر پر ڈاڑھی کا کوئی بال گرتا ہے تو اس کو تبرکا اٹھا لیتے ہیں اور اس کی تعظیم اور احترام کرتے ہیں۔ غرض میں نے کسی جماعت کو اپنے آقا کے ساتھ اتنی محبت کرتے نہیں دیکھا جتنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جماعت اُن کے ساتھ کرتی ہے۔
اسی دوران میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی طرف سے قاصد بنا کر سرداران مکہ کے پاس بھیجا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی باوجود مسلمان ہو جانے کے مکہ میں بہت عزت تھی اور ان کے متعلق تکلیف پہنچنے کا زیادہ اندیشہ نہ تھا، اس لئے ان کو تجویز فرمایا۔ وہ تشریف لے گئے تو صحابہ رضی اللہ عنہم کو رشک ہوا کہ عثمان رضی اللہ عنہ تو مزے سے کعبہ کا طواف کر رہے ہوں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید نہیں کہ وہ میرے بغیر طواف کریں۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مکہ میں داخل ہوئے تو ابان بن سعید نے ان کو اپنی پناہ میں لے لیا اور ان سے کہا کہ جہاں دل چاہے چلو پھرو، تم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ابوسفیان وغیرہ مکہ کے سرداروں سے ملتے رہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچاتے رہے۔ جب واپس ہونے لگے تو کفار نے خود درخواست کی کہ تم مکہ میں آئے ہو تو طواف کرتے جاؤ۔ انہوں نے جواب دے دیا کہ یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو رو کے گئے ہوں اور میں طواف کرلوں۔
قریش کو اس جواب پر غصہ لیا۔ مسلمانوں کو یہ خبر پہنچی کہ ان کو شہید سے اخیر دم تک لڑنے پر بیعت لی کہ کو فوراً چھوڑ دیا۔ اس قصہ میں حضر مارنا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عاد عنہ کا طواف سے انکار۔ ہر واقعہ ا دیتا ہے، یہ بیعت جس کا اس قصہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے سورہ فتح کی آ فرمایا ہے۔
☆ اپنے دو دانت گر گئے
اُحد کی لڑائی میں جب ح ٹوپی) کے دو حلقے گھس گئے تھے دوسری جانب سے حضرت ابوعبید شروع کئے ایک حلقہ نکالا جس س کی۔ دوسرا حلقہ کھینچا۔ جس سے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد مالک بن سنان رضی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
☆ میں آپ ﷺ کے
حضرت زید بن حار بنو قیس نے قافلہ کو لوٹا جس میں نے اپنی پھوپھی حضرت خدی
عالمی سیرت کانفرنس مکہ مکرمہ
کو قتل کر دیا تھا جن کی دیت عروہ نے ادا کی تھی اس کی طرف یہ اشارہ تھا) صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے رہے اور نظریں بچا کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تے جاتے تھے۔ ر کفار سے کہا کہ اے قریش میں بڑے بڑے بادشاہوں کے یہاں گیا سا کے درباروں کو بھی دیکھا ہے اور اُن کے آداب بھی دیکھے ہیں۔ خدا کی ا دیکھا کہ اس کی جماعت اس کی ایسی تعظیم کرتی ہو جیسی محمد (صلی اللہ علیہ یم کرتی ہے اگر وہ تھوکتے ہیں تو جس کے ہاتھ پر پڑ جائے وہ اس کو بدن ت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے منھ سے نکلتی ہے اس کے پورا کرنے کو سب ۔ ان کی وضو کا پانی آپس میں لڑلڑ کر تقسیم کرتے ہیں۔ زمین پر نہیں گرنے تو وہ دوسرے کے تر ہاتھ کو ہاتھ سے مل کر اپنے منھ پر مل لیتا ہے۔ ان کے کی آواز سے۔ ان کے سامنے زور سے نہیں بولتے۔ ان کی طرف نگاہ اٹھا ھتے۔ اگر ان کے سر پر ڈاڑھی کا کوئی بال گرتا ہے تو اس کو تبرکاً اٹھا لیتے ہیں رتے ہیں۔ غرض میں نے کسی جماعت کو اپنے آقا کے ساتھ اتنی محبت صلی اللہ علیہ وسلم) کی جماعت اُن کے ساتھ کرتی ہے۔ ور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی طرف سے پاس بھیجا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی باوجود مسلمان ہو جانے کے مکہ کے متعلق تکلیف پہنچنے کا زیادہ اندیشہ نہ تھا ، اس لئے ان کو تجویز فرمایا۔ وہ ی اللہ عنہم کو رشک ہوا کہ عثمان رضی اللہ عنہ تو مزے سے کعبہ کا طواف س اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید نہیں کہ وہ میرے بغیر طواف کریں۔ عنہ مکہ میں داخل ہوئے تو ابان بن سعید نے ان کو اپنی پناہ میں لے لیا اور ہے چلو پھرو، تم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ابوسفیان ملتے رہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیام پہنچاتے رہے۔ جب واپس واست کی کہ تم مکہ میں آئے ہو تو طواف کرتے جاؤ۔ انہوں نے جواب لکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو رو کے گئے ہوں اور میں طواف کرلوں۔
قریش کو اس جواب پر غصہ آیا جس کی وجہ سے انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو روک لیا۔ مسلمانوں کو یہ خبر پہنچی کہ ان کو شہید کر دیا گیا۔ اس پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے اخیر دم تک لڑنے پر بیعت لی۔ جب کفار کو اس کی خبر پہنچی تو گھبرا گئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو فوراً چھوڑ دیا۔ اس قصہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ارشاد۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا مارنا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عام برتاؤ جس کو عروہ نے بہت غور سے دیکھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا طواف سے انکار۔ ہر واقعہ ایسا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے انتہا عشق و محبت کی خبر دیتا ہے، یہ بیعت جس کا اس قصہ میں ذکر ہے بیعۃ الشجرہ کہلاتی ہے، قرآن پاک میں بھی اس کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے سورۂ فتح کی آیت، لقد رضی الله عن المؤمنين الآية میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔
اپنے دو دانت گر گئے اور ......
اُحد کی لڑائی میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور یا سر مبارک میں خود ( جنگی ٹوپی) کے دو حلقے گھس گئے تھے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ دوڑے ہوئے آگے بڑھے اور دوسری جانب سے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ دوڑے اور آگے بڑھ کر خود کے حلقے دانت سے کھینچنے شروع کئے ایک حلقہ نکالا جس سے ایک دانت حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا ٹوٹ گیا اس کی پرواہ نہ کی۔ دوسرا حلقہ کھینچا۔ جس سے دوسرا دانت بھی ٹوٹا لیکن حلقہ وہ بھی کھینچ ہی لیا۔ ان حلقوں کے نکلنے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک جسم سے خون نکلنے لگا تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے والد ماجد مالک بن سنان رضی اللہ عنہ نے اپنے لبوں سے اُس خون کو چوس لیا اور نگل لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے خون میں میرا خون ملا ہے اس کو جہنم کی آگ نہیں چھو سکتی۔
میں آپ ﷺ کے مقابلہ میں بھلا کس کو پسند کر سکتا ہوں ......
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں اپنی والدہ کے ساتھ ننھیال جارہے تھے بنو قیس نے قافلہ کو لوٹا جس میں زید رضی اللہ عنہ بھی تھے ان کو مکہ کے بازار میں لا کر بیچا۔ حکیم بن حزام نے اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کیلئے ان کو خرید لیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح
کانفرنس کی
مقال
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ہوا تو انہوں نے زید رضی اللہ عنہ کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر پیش کر دیا۔
زید رضی اللہ عنہ کے والد کو ان کے فراق کا بہت صدمہ تھا اور ہونا ہی چاہئے تھا کہ اولاد کی محبت فطری چیز ہے وہ زید رضی اللہ عنہ کے فراق میں روتے اور اشعار پڑھتے پھرا کرتے تھے۔ اکثر جو اشعار پڑھتے تھے اُن کا مختصر ترجمہ یہ ہے کہ میں زید رضی اللہ عنہ کی یاد میں روتا ہوں اور یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ زندہ ہے تاکہ اس کی امید کی جائے یا موت نے اس کو مٹا دیا۔ خدا کی قسم مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ تجھے اے زید نرم زمین نے ہلاک کیا یا کسی پہاڑ نے ہلاک کیا۔ کاش مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ تو عمر بھر میں کبھی بھی واپس آئے گا یا نہیں۔ ساری دنیا میں میری انتہائی غرض تیری واپسی ہے۔ جب آفتاب طلوع ہوتا ہے جب بھی مجھے زید ہی یاد آتا ہے اور جب بارش ہونے کو ہوتی ہے جب بھی اُسی کی یاد مجھے ستاتی ہے اور جب ہوائیں چلتی ہیں تو وہ بھی اس کی یاد کو بھڑکاتی ہیں۔ ہائے میرا غم اور میرا فکر کس قدر طویل ہو گیا۔ میں اس کی تلاش اور کوشش میں ساری دنیا میں اونٹ کی تیز رفتاری کو کام میں لاؤں گا اور دنیا کا چکر لگانے سے نہیں اکتاؤں گا۔ اونٹ چلنے سے اکتا جائیں تو اکتا جائیں۔ لیکن میں کبھی بھی نہیں اکتاؤں گا۔ اپنی ساری زندگی اسی میں گزار دوں گا۔ ہاں میری موت ہی آ گئی تو خیر کہ موت ہر چیز کو فنا کر دینے والی ہے۔ آدمی خواہ کتنی ہی امیدیں لگا دیں مگر میں اپنے بعد فلاں فلاں رشتہ داروں اور آل اولاد کو وصیت کر جاؤں گا کہ وہ بھی اسی طرح زید کو ڈھونڈتے رہیں۔ غرض یہ اشعار وہ پڑھتے تھے اور روتے ہوئے ڈھونڈتے پھرا کرتے تھے۔
اتفاق سے ان کی قوم کے چند لوگوں کا حج کو جانا ہوا اور انہوں نے زید کو پہچانا۔ باپ کا حال سنایا۔ شعر سنائے ان کی یاد و فراق کی داستان سنائی۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ تین اشعار کہہ کر بھیجے جن کا مطلب یہ تھا کہ میں یہاں مکہ میں ہوں، خیریت سے ہوں، تم غم اور صدمہ نہ کرو۔ میں بڑے کریم لوگوں کی غلامی میں ہوں۔ ان لوگوں نے جا کر زید کی خیر و خبر اُن کے باپ کو سنائی اور وہ اشعار سنائے جو زید رضی اللہ عنہ نے کہہ کر بھیجے تھے اور پتہ بتایا۔ زید رضی اللہ عنہ کے باپ اور چچا فدیہ کی رقم لے کر ان کو غلامی سے چھڑانے کی نیت سے مکہ مکرمہ پہنچے، تحقیق کی پتہ چلایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ اور عرض کیا اے ہاشم کی اولاد اور اپنی قوم کے سردار تم لوگ حرم کے رہنے والے ہو اور اللہ کے گھر کے پڑوسی ۔ تم خود قیدیوں کو رہا کراتے ہو، بھوکوں کو کھانا دیتے ہو۔ ہم اپنے بیٹے کی طلب میں تمہارے پاس قبول کر لو اور اس کو رہا کر دو بلکہ جو فدیہ ہو گا ہم دے دیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس کو بلا کر پوچھتا ہوں اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو بغیر فدیہ ہی کے وہ تمہارے حوالے اور اگر وہ خود نہ جانا چاہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ نے بہت انصاف فرمایا۔ یہ بات خوشی سے منظور ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو بلایا اور فرمایا کہ تم ان کو پہچانتے ہو۔ عرض کیا جی ہاں یہ میرے باپ اور چچا ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا حال تم جانتے ہو اب تمہیں اختیار ہے چاہو تو میرے پاس رہو، ان کے ساتھ جانا چاہو تو جا سکتے ہو۔ زید نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے ساتھ کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا آپ میرے باپ کی جگہ بھی ہیں اور چچا کی جگہ بھی۔ ان کے ساتھ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور باپ چچا اور سب گھر والوں کے مقابلے میں آپ کی غلامی مجھے زیادہ پسند ہے۔ میں نے ان میں (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں) وہ خوبی دیکھی ہے کہ کسی چیز کو بھی پسند نہیں کر سکتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ محبت دیکھی تو فرمایا کہ میں نے اس کو اپنا بیٹا بنا لیا ہے۔ باپ چچا یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور خوشی سے ان کو چھوڑ کر چلے گئے۔
یہ ہے وہ سچی اور پکی محبت جس نے اپنے سارے گھر کو، عزیز واقارب کو غلامی
☆ جو آپ ﷺ لے لیں وہ
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا
دیتے ہو۔ ہم اپنے بیٹے کی طلب میں تمہارے پاس پہنچے ہیں۔ ہم پر احسان کرو اور کرم فرماؤ اور فدیہ قبول کر لو اور اس کو رہا کر دو بلکہ جو فدیہ ہو اس سے زیادہ لے لو۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے عرض کیا زید رضی اللہ عنہ کی تلاش میں ہم لوگ آئے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس اتنی سی بات ہے۔ عرض کیا کہ حضور بس یہی غرض ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کو بلا لو اور اس سے پوچھ لو اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو بغیر فدیہ ہی کے وہ تمہاری نذر ہے اور اگر نہ جانا چاہے تو میں ایسے شخص پر جبر نہیں کر سکتا جو خود نہ جانا چاہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استحقاق سے بھی زیادہ احسان فرمایا۔ یہ بات خوشی سے منظور ہے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ بلائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان کو پہچانتے ہو۔ عرض کیا جی ہاں پہچانتا ہوں یہ میرے باپ ہیں اور یہ میرے چچا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا حال بھی تمہیں معلوم ہے اب تمہیں اختیار ہے کہ میرے پاس رہنا چاہو تو میرے پاس رہو، ان کے ساتھ جانا چاہو تو اجازت ہے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے مقابلہ میں بھلا کس کو پسند کر سکتا ہوں۔ آپ میرے لئے باپ کی جگہ بھی ہیں اور چچا کی جگہ بھی۔ ان دونوں باپ چچا نے کہا کہ زید غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتے ہو اور باپ چچا اور سب گھر والوں کے مقابلہ میں غلام رہنے کو پسند کرتے ہو۔ زید نے کہا کہ ہاں میں نے ان میں (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے) ایسی بات دیکھی ہے جس کے مقابلہ میں کسی چیز کو بھی پسند نہیں کر سکتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ جواب سنا تو ان کو گود میں لے لیا اور فرمایا کہ میں نے اس کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ زید رضی اللہ عنہ کے باپ اور چچا بھی یہ منظر دیکھ کر نہایت خوش ہوئے اور خوشی سے ان کو چھوڑ کر چلے گئے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ اس وقت بچے تھے بچپن کی حالت میں سارے گھر کو، عزیز و اقارب کو غلامی پر قربان کر دینا جس محبت کا پتہ دیتا ہے وہ ظاہر ہے۔
٭ جو آپ ﷺ لے لیں وہ مجھے زیادہ پسند ہے
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مکان شروع میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذرا دور تھا ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرا دل چاہتا تھا تمہارا مکان تو قریب ہی ہو جاتا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ حارثہ رضی اللہ عنہ کا مکان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب
ہے اُن سے فرمادیں کہ میرے مکان سے بدل لیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُن سے پہلے بھی تبادلہ ہو چکا ہے۔ اب تو شرم آتی ہے۔ حارثہ رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو فوراً حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مکان اپنے قریب چاہتے ہیں یہ میرے مکانات موجود ہیں۔ ان سے زیادہ قریب کوئی مکان بھی نہیں۔ جو پسند ہو بدل لیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اور میرا مال تو اللہ اور اس کے رسول ہی کا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی قسم جو مال آپ لے لیں وہ مجھے زیادہ پسند ہے اس مال سے جو میرے پاس رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سچ کہتے ہو۔ اور برکت کی دعا دی اور مکان بدل لیا۔
☆ آپ ﷺ کے بعد زندہ رہ کر کیا کرو گے؟
احد کی لڑائی میں مسلمانوں کو جب شکست ہورہی تھی تو کسی نے یہ خبر اڑادی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہوگئے اس وحشتناک خبر سے جو اثر صحابہ رضی اللہ عنہم پر ہونا چاہئے تھا وہ ظاہر ہے اسی وجہ سے اور بھی زیادہ گھٹنے ٹوٹ گئے۔ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ چلے جارہے تھے کہ مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ پر نظر پڑی کہ سب حضرات پریشان حال تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیا ہورہا ہے کہ مسلمان پریشان سے نظر آرہے ہیں۔ ان حضرات نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تم زندہ رہ کر کیا کرو گے۔ تلوار ہاتھ میں لو اور چل کر مر جاؤ۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خود تلوار ہاتھ میں لی اور کفار کے جمگھٹے میں گھس گئے اور اُس وقت تک لڑتے رہے کہ شہید ہوئے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جس ذات کے دیدار کے لئے جینا تھا جب وہی نہیں رہی تو پھر گویا جی کر ہی کیا کرنا ہے۔ چنانچہ اسی پر اپنی جان نثار کردی۔
☆ آخری دم تک آپ ﷺ کی فکر رہی
اسی احد کی لڑائی میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کا حال معلوم نہیں ہوا کہ کیا گذری۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو تلاش کیلئے بھیجا وہ شہداء کی جماعت میں تلاش کر رہے تھے آوازیں بھی دے رہے تھے کہ شاید وہ زندہ ہوں پھر پکار کر کہا کہ مجھے حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے کہ سعد آئی یہ اُس طرف بڑھے جا کر باقی ہے جب یہ قریب پہنچے تو ق عرض کر دینا اور کہہ دینا کہ اللہ تعا جو کسی نبی کو اس کے امتی کی طرف اگر کافر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک رہا تو اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی عذر
☆ عشق است و ہزار بـ
ایک صحابی رضی اللہ عنہ اللہ علیہ وسلم کی محبت مجھے میری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال نہ کرلوں۔ مجھے یہ فکر ہے کہ مرے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکو حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریـ لے گا تو ایسے اشخاص بھی جنـ انبیاء اور صدیقین اور شہداء او اللہ کا فضل ہے اور اللہ تعالیٰ خو سے صحابہ رضی اللہ عنہم کو پیش آیـ وسلم نے جواب میں یہی آیت چنانچہ ایک صحابی رضی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی محبـ تو مجھے غالب گمان ہے کہ میر
مکان سے بدل لیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُن سے پہلے شرم آتی ہے۔ حارثہ رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو فوراً حاضر ہو کر معلوم ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مکان اپنے مکانات موجود ہیں۔ ان سے زیادہ قریب کوئی مکان بھی نہیں۔ جو پسند صلی اللہ علیہ وسلم میں اور میرا دل تو اللہ اور اس کے رسول ہی کا ہے یا رسول مال آپ لے لیں وہ مجھے زیادہ پسند ہے اس مال سے جو میرے پاس آپ نے ارشاد فرمایا سچ کہتے ہو۔ اور برکت کی دعا دی اور مکان بدل لیا۔
زندہ رہ کر کیا کرو گے؟
مسلمانوں کو جب شکست ہو رہی تھی تو کسی نے یہ خبر اڑا دی کہ حضور صلی اللہ المناک خبر سے جو اثر صحابہ رضی اللہ عنہم پر ہونا چاہئے تھا وہ ظاہر ہے اسی گئے۔ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ چلے جا رہے تھے کہ مہاجرین حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ پر نظر پڑی کہ سب حضرت انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے کہ مسلمان پریشان حضرات نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔ حضرت انس رضی اللہ علیہ وسلم کے بعد تم زندہ رہ کر کیا کرو گے۔ تلوار ہاتھ میں لو اور چل کر مر اللہ عنہ نے خود تلوار ہاتھ میں لی اور کفار کے جمگھٹے میں گھس گئے اور اُس ہوئے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جس ذات کے دیدار کے لئے جینا تھا کر ہی کیا کرنا ہے۔ چنانچہ اسی پر اپنی جان نثار کردی۔
ﷺ نبی کی فکر رہی
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ سعد بن ربیع رضی اللہ گذری۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو تلاش کیلئے بھیجا وہ شہداء کی جماعت بھی دے رہے تھے کہ شاید وہ زندہ ہوں پھر پکار کر کہا کہ مجھے حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے کہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی خبر لاؤں تو ایک جگہ سے بہت ضعیف سی آواز آئی یہ اُس طرف بڑھے جا کر دیکھا کہ سات مقتولین کے درمیان پڑے ہیں اور ایک آدھ سانس باقی ہے جب یہ قریب پہنچے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام عرض کر دینا اور کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ میری جانب سے آپ کو اس سے افضل اور بہتر بدلہ عطا فرمائیں جو کسی نبی کو اس کے امتی کی طرف سے بہتر سے بہتر عطا کیا ہو اور مسلمانوں کو میرا یہ پیام پہنچا دینا کہ اگر کافر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئے اور تم میں سے کوئی ایک آنکھ بھی چمکتی ہوئی رہے یعنی وہ زندہ رہا تو اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی عذر بھی تمہارا نہ چلے گا اور یہ کہہ کر جاں بحق ہو گئے۔
☆ عشق است و ہزار بدگمانی
ایک صحابی رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مجھے میری جان و مال اور اہل و عیال سے زیادہ ہے میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آ جاتا ہے تو صبر نہیں آتا۔ یہاں تک کہ حاضر ہوں اور آ کر زیارت نہ کرلوں۔ مجھے یہ فکر ہے کہ موت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اور مجھے بھی ضرور آنی ہی ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو انبیاء کے درجہ پر چلے جائیں گے تو مجھے یہ خوف رہتا ہے کہ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں سکوت فرمایا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور یہ آیت سنائی (ترجمہ) ”جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا مان لے گا تو ایسے اشخاص بھی جنت میں ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صلحاء اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں اور ان کے ساتھ رفاقت محض اللہ کا فضل ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں ہر ایک کے عمل کو“۔ اس قسم کے واقعات بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم کو پیش آئے اور آنا ضروری تھے۔ عشق است و ہزار بدگمانی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں یہی آیت سنائی۔
چنانچہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی محبت ہے کہ جب خیال آ جاتا ہے اگر اس وقت میں آ کر زیارت نہ کرلوں تو مجھے غالب گمان ہے کہ میری جان نکل جائے مگر مجھے یہ خیال ہے کہ اگر میں جنت میں داخل بھی
مقالات
ہو گیا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو نیچے درجہ میں ہوں گا۔ مجھے تو جنت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے بغیر بڑی مشقت ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت سنائی۔
ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور نہایت غمگین تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غمگین کیوں ہو؟ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سوچ میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا سوچ ہے؟ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم صبح وشام حاضر خدمت ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے محظوظ ہوتے ہیں۔ آپ کی خدمت میں بیٹھتے ہیں۔ کل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو انبیاء کے درجے پر پہنچ جائیں گے۔ ہماری وہاں تک رسائی نہیں ہوگی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان انصاری رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور ان کو اس کی بشارت دی۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ اشکال کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت ان کو سنائی۔ ایک حدیث میں ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو ظاہر ہے کہ نبی کو امتی پر فضیلت ہے اور جنت میں اس کے درجات اونچے ہوں گے تو پھر اکٹھا ہونے کی کیا صورت ہوگی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اوپر کے درجہ والے نیچے کے درجہ والوں کے پاس آئیں گے ان کے پاس بیٹھیں گے بات چیت کریں گے۔
٭ یہ بھی گوارا نہیں کہ ......
حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو جب سولی دی جانے لگی تو ابوسفیان نے پوچھا کیا تجھے یہ گوارا ہے کہ ہم تجھے چھوڑ دیں اور تیرے بجائے خدانخواستہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ معاملہ کریں۔ تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا خدا کی قسم مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دولت کدہ پر تشریف فرما ہوں اور وہاں اُن کے کانٹا چبھ جائے اور میں اپنے گھر آرام سے رہ سکوں۔ ابو سفیان کہنے لگے کہ میں نے کبھی کسی کو کسی کے ساتھ اتنی محبت کرتے نہیں دیکھا جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو ان سے ہے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کی ترجمانی کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے:
یہ سر کٹ جائے اور تیرا سگ در اس کو ٹھکرائے
عالمی سیرت کانفرنس کی
یہ سب کچھ کہ ان کے پاؤں تنبیہ ..... علماء نے حضور اقدس قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی محبت کے ہیں ورنہ محبت نہیں محض دعوٰی علامات میں سب سے اہم یہ ہے کہ آپ طریقہ کو اختیار کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی بجا آوری کرے اور سے پرہیز کرے خوشی میں رنج میں تنگی پر چلے۔
٭ تیروں سے بچاؤ کیلئے ف
معرکہ احد میں ایک وقت ای حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے جو اب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے فد نہیں ہٹے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی
٭ سب سے بڑی آرزو
حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ گزارتا تھا اور تہجد کے وقت وضو کا پا مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کچھ میری مدد کر سجدوں کی کثرت سے
کہ ان کے پاؤں کے تلوے میں اک کانٹا بھی چبھ جائے
تنبیہ ..... علماء نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی مختلف علامات لکھی ہیں۔ قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی چیز کو محبوب رکھتا ہے اس کو ماسویٰ پر ترجیح دیتا ہے۔ یہی معنی محبت کے ہیں ورنہ محبت نہیں محض دعویٰ محبت ہے۔ پس حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی علامات میں سب سے اہم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو اختیار کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی پیروی کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی بجا آوری کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں سے روک دیا ہے اُن سے پرہیز کرے خوشی میں رنج میں تنگی میں وسعت میں ہر حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلے۔
☆ تیروں سے بچاؤ کیلئے ڈھال بن گئے ......
معرکہ احد میں ایک وقت ایسا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی خطرے میں تھی۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے جو اسلام کے ایک بہادر سپاہی تھے، بلا تامل اپنی پشت سامنے کر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ڈھال ثابت ہو۔ تیر ان کے گوشت کے پار اتر گئے لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کی خاطر اپنی جان قربان کر دی۔
(زاد المعاد ۲/ ۱۳۱)
☆ سب سے بڑی آرزو ......
حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رات گزارتا تھا اور تہجد کے وقت وضو کا پانی اور دوسری ضروریات مثلاً مسواک مصلیٰ وغیرہ رکھتا تھا۔ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میری خدمات سے خوش ہو کر فرمایا: مانگ کیا مانگتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور ساتھ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کچھ کہ بس یہی چیز مطلوب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا میری مدد کرنا سجدوں کی کثرت سے۔
☆ یہ بتاؤ ! حضور ﷺ کیسے ہیں؟......
اُحد کی لڑائی میں مسلمانوں کو اذیت بھی بہت پہنچی اور شہید بھی بہت سے ہوئے۔ مدینہ طیبہ میں یہ وحشت اثر خبر پہنچی تو عورتیں پریشان ہو کر تحقیقِ حال کیلئے گھر سے نکل پڑیں ایک انصاری عورت نے مجمع کو دیکھا تو بیتابانہ پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں؟ اس مجمع میں سے کسی نے کہا کہ تمہارے والد کا انتقال ہو گیا انہوں نے انا للہ پڑھی اور پھر بے قراری سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت دریافت کی۔ اتنے میں کسی نے خاوند کے انتقال کی خبر سنائی اور کسی نے بیٹے کی اور کسی نے بھائی کی کہ یہ سب ہی شہید ہو گئے ہیں۔ مگر انہوں نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بخیریت ہیں تشریف لا رہے ہیں۔ اس سے اطمینان نہ ہوا کہنے لگیں کہ مجھے بتا دو کہاں ہیں۔ لوگوں نے اشارہ کر کے بتایا کہ اُس مجمع میں ہیں۔ یہ دوڑی ہوئی گئیں اور اپنی آنکھوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے ٹھنڈا کر کے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی زیارت ہو جانے کے بعد ہر مصیبت ہلکی اور معمولی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑ کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ و سلامت ہیں تو مجھے کسی کی ہلاکت کی پرواہ نہیں۔ اس قسم کے متعدد قصے اس موقع پر پیش آئے ہیں۔ اسی وجہ سے مورخین میں ناموں میں اختلاف بھی ہوا ہے۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ اس طرح کا واقعہ کئی عورتوں کو پیش آیا ہے۔
پکار اُٹھی کہ اب میری تسلی ہی تسلی ہے
تسلی ہے، پناہِ بے کساں زندہ سلامت ہے
کوئی پرواہ نہیں، سارا جہاں زندہ سلامت ہے
☆ روتے روتے جان دے دی......
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئیں اور آ کر عرض کیا کہ مجھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرا دو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے
حجرہ شریف کھولا۔ انہوں نے زیا گئیں۔ رضی اللہ عنہا وارضاہا۔ کیا اور وہیں جان دے دی۔
☆ بڑھیا کی آواز پر رو پڑ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ا چراغ کی روشنی محسوس ہوئی اور ایک تھی۔ جن کا ترجمہ یہ ہے کہ محمد صلی سے جو برگزیدہ ہوں ان کا درود والے تھے اور اخیر راتوں کو روتے اکٹھے ہو سکتے ہیں یا نہیں اس لئے میں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان اشعار کو سن کر رونے بیٹھ گ
ہم نے ہ وقت کی توڑ کر اک فقط ہم نے ہم نے مرحلے چہرہ دار
حجرہ شریف کھولا۔ انہوں نے زیارت کی اور زیارت کر کے روتی رہیں اور روتے روتے انتقال فرما گئیں۔ رضی اللہ عنہا وارضاہا۔ کیا اس عشق کی نظیر بھی کہیں ملے گی کہ قبر کی زیارت کی تاب نہ لاسکیں اور وہیں جان دیدی۔
٭ بڑھیا کی آواز پر رو پڑے......
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ رات کو حفاظتی گشت فرما رہے تھے کہ ایک گھر میں سے چراغ کی روشنی محسوس ہوئی اور ایک بڑھیا کی آواز کان میں پڑی جو اُون کاتتی ہوئی اشعار پڑھ رہی تھی۔ جن کا ترجمہ یہ ہے کہ محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پر نیکوں کا درود پہنچے اور پاک صاف لوگوں کی طرف سے جو برگزیدہ ہوں ان کا درود پہنچے۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ راتوں کو عبادت کرنے والے تھے اور اخیر راتوں کو رونے والے تھے کاش مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ میں اور میرا محبوب کبھی اکٹھے ہو سکتے ہیں یا نہیں اس لئے کہ موت مختلف حالتوں میں آتی ہے نہ معلوم میری موت کس حالت میں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مرنے کے بعد ملنا ہو سکے یا نہ ہو سکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان اشعار کو سن کر رونے بیٹھ گئے۔
(حکایات صحابہؓ ۔ ارتداد و توہین رسالت)
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلۂ رسم سیاست کا فسوں
اک فقط نام محمّد ﷺ سے محبت کی ہے
ہم نے بدلا ہے زمانے میں محبت کا مزاج
ہم نے ہر دل کو نئی راہ و نوا بخشی ہے
مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرۂ دار و رسن کو بھی ضیاء بخشی ہے
(حفیظ رضا پسروری)
اساسِ کعبۂ ایماں ہے احترام رسول ﷺ
آہستہ قدم، نیچی نگاہ، پست صدا ہو
ہم متعدد آیات مبارکہ اور احادیث طیبہ کے تحت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب اور اس کی اہمیت بیان کر چکے ہیں۔
آئیں! اب یہ دیکھتے ہیں کہ امت مسلمہ کے اسلاف کرامؒ نے اس حکم الٰہی کو کیسے پورا کیا اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تقاضوں سے کس خوبی کے ساتھ عہدہ برآ ہوئے کہ یہ روشن مثالیں ...... یہ تابندہ کردار ...... اور یہ بلند و بالا انسان ہمارے لئے نمونۂ عمل ہیں۔
حرمت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا پاس رکھنے والے خوش قسمت افراد کا تذکرۂ خیر
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ادب رسول ﷺ
’’جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آغاز خلافت میں منبر پر بیٹھ کر خطبہ دینے لگے تو منبر کے جس درجے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما کر خطبہ القا فرمایا کرتے تھے، حضرت ابوبکر صدیقؓ اس سے نیچے کے درجے پر بیٹھتے۔
(بزرگوں کی جگہ پر بیٹھنا بھی غلطی ہے)
پھر جب حضرت عمرؓ نے اپنے ایام خلافت میں اسی منبر پر بیٹھ کر خطبہ دینا چاہا تو اس درجے
سے بھی نیچے کے درجے پر بیٹھے ساتھ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم از بے
حضرت عمر فاروق ؓ
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پرنالہ تھا۔ ایک روز حضرت عمرؓ پرنالے کے قریب پہنچے، اتفاق جا رہے تھے۔ یکایک ان پر خون پ کپڑوں پر پڑگئے۔ آپ رضی اللہ اس پرنالے کو اکھاڑ ڈالا اور آ تشریف لائے۔ ادائے نماز کے لگے ’’یا امیر المومنین! خدا کی قسم اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مب مضطرب، بے قرار اور پریشان کہ ’’اے عباس! میں تم کو قسم دیت صلی اللہ علیہ وسلم نے لگایا تھا، ت فاروق رضی اللہ عنہ کی درخواست
حضرت عثمان ؓ کا اد
جب رسول اللہ صلی اللہ حدیبیہ میں صلح کے واسطے بھیجا دی۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے
سے بھی نیچے کے درجے پر بیٹھے۔ کیونکہ انکے نزدیک مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کے ساتھ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کا ادب بھی واجب تھا۔
(نقوش رسول نمبر ۶۸۶)
بے ادب محروم ماند از فضل رب
حضرت عمر فاروق ؓ کا ادب رسول ﷺ
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے مکان کی چھت پر ایک پرنالہ تھا۔ ایک روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ نئے کپڑے پہنے ہوئے مسجد جا رہے تھے۔ جب اس پرنالے کے قریب پہنچے، اتفاق سے اس دن حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے گھر دو مرغ ذبح کئے جا رہے تھے۔ یکایک ان کا خون پرنالے سے ٹپکا اور اس کے چند قطرے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے کپڑوں پر پڑ گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس پرنالے کو اکھاڑ ڈالنے کا حکم صادر فرمایا۔ لوگوں نے فوراً اس پرنالے کو اکھاڑ ڈالا اور آپ رضی اللہ عنہ گھر واپس آئے ، دوسرے کپڑے پہنے اور پھر مسجد تشریف لائے۔ ادائے نماز کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگے ”یا امیر المؤمنین! خدا کی قسم اس پرنالے کو جسے آپ رضی اللہ عنہ نے اکھاڑ دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس جگہ لگایا تھا ۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر نہایت مضطرب ، بے قرار اور پریشان ہو گئے۔ دوسرے لمحے آپ رضی اللہ عنہ نے عباس رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ ”اے عباس! میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ اپنے پیر میرے کندھے پر رکھ کر اس پرنالے کو جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لگایا تھا ، اسی جگہ پر لگا دو۔“ چنانچہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی درخواست پر اس کو پہلی جگہ پر لگا دیا۔
(نقوش رسول نمبر ۶۸۶/۴)
حضرت عثمان ؓ کا ادب رسول ﷺ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قریش کی طرف جنگ حدیبیہ میں صلح کے واسطے بھیجا تو قریش نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو طواف کرنے کی اجازت دی۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے طواف کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے پروردگار کے حکم یا ایھا الذین
امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ و رسولہ اور اپنے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و تعظیم کو مدنظر رکھ کر ارشاد فرمایا ”میں ہرگز طواف نہ کروں گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طواف نہ کرلیں ۔“
(زاد المعاد لابن قیم قصہ حدیبیہ، درمنثور للسیوطی تفسیر سورۃ الفتح)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے افضل ترین عبادت یعنی طواف کعبہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رعایت ادب کو افضل جانا اور یہی حقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
شاید اس لئے شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے لکھا ہے: ”کوئی عبادت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رعایت ادب کے برابر نہیں۔“
(مدارج النبوت)
حضرت عثمان بن عفان ؓ کا ایک اور انداز ادب رسول ﷺ
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”انہوں نے کہا میں اسلام میں چوتھا شخص ہوں اور میرے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے دی ہیں اور میں نے جب سے اپنا داہنا ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے ملایا ہے، اس دن سے میں نے اپنی شرمگاہ کو کبھی نہیں چھوا۔“
(کنز العمال، کیمیائے سعادت)
حضرت علی المرتضیٰ ؓ کا ادب رسول ﷺ
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب وہ صلح نامہ لکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کفار کے درمیان حدیبیہ کے دن ٹھہرا تھا، جس میں یہ عبارت تھی:
ہذا ما کاتب علیہ محمد رسول اللہ
تو مشرکین نے اعتراض کیا کہ لفظ ”رسول اللہ“ نہ لکھا جائے کیونکہ اگر رسالت مسلم ہوتی تو پھر لڑائی کیا ہوتی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ اس لفظ کو مٹادو۔
انہوں نے عرض کی میں وہ شخص نہیں ہوں جو اس لفظ کو مٹا سکوں۔ لہٰذا خود حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مٹا دیا۔
(صحیح مسلم)
نیز جنگ خیبر سے واپسی پر منزل صہبا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا فرمائی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ جماعت میں شامل نہ ہوسکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فراغت کے
ولہ اور اپنے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و تعظیم کو ں نہ کروں گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طواف نہ لیں
( در منثور للسیوطی تفسیر سورۃ الفتح )
افضل ترین عبادت یعنی طواف کعبہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
ث دہلویؒ نے لکھا ہے: یہ وسلم کے رعایت ادب کے برابر نہیں۔“
(مدارج النبوت)
کا ایک اور انداز ادب رسول ﷺ
للہ عنہ سے مروی ہے ”انہوں نے کہا میں اسلام میں چوتھا د صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے تھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے ملایا ہے، اس وا۔“
(کنز العمال، کیمیائے سعادت)
ب رسول ﷺ
مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب وہ صلح نامہ لکھا کے درمیان حدیبیہ کے دن ٹھہرا تھا، جس میں یہ عبارت تھی:
رسول اللہ
لفظ ”رسول اللہ“ نہ لکھا جائے کیونکہ اگر رسالت مسلم ہوتی تو ہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ اس
میں ہوں جو اس لفظ کو مٹا سکوں۔ لہٰذا خود حضور سرور کائنات سلم )
صہبا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا فرمائی اور نہ ہو سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فراغت کے
بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زانو پر سر مبارک رکھ کر آرام فرمایا اور سو گئے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ دیکھ رہے تھے کہ عصر کا وقت جا رہا ہے مگر پاس ادب سے کہ اگر میں اپنا زانو ہلاؤں گا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام میں خلل ہوگا۔ اس ادب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے خیال کی وجہ سے زانو نہ ہلایا اور نماز عصر کا وقت جاتا رہا۔
مگر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود بیدار ہوئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نماز کے فوت ہو جانے کا حال عرض کیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ یا الٰہ العالمین! اگر علی تیری اطاعت (من يطع الرسول فقد اطاع الله سورۃ النساء) میں تھا تو پھر آفتاب کو طلوع کر دے۔ پس اسی وقت ڈوبا ہوا آفتاب طلوع ہو گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہایت تسکین کے ساتھ نماز عصر ادا کی۔ پھر آفتاب حسب معمول غروب ہو گیا۔
(الشفاء)
اس حدیث کو طحاوی نے ”مشکل الآثار“ میں دو طریق سے روایت کیا ہے۔ ایک روایت اسماء بنت عمیس سے دوسری فاطمہ بنت حسین سے، قاضی عیاض نے ”الشفاء“ میں، امام سیوطی نے ”الدر المنتثرہ فی الاحادیث المشتہرہ“ میں، اور حافظ ابن سید الناس نے ”بشری اللبيب“ میں اور اس حدیث کے دونوں طریقے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ۱۱۴۴ ہجری میں مدینہ منورہ میں اپنے استاد شیخ ابو طاہر سے مسلسل فاطمہ بنت حسین تک اور اسماء بنت عمیس تک ”ازالۃ الخفاء“ میں لکھے ہیں۔ اور لکھا ہے کہ جمہور کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔
حضرت امیر معاویہ ؓ کا ادب رسول ﷺ
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک اور تراشے ہوئے ناخن محفوظ تھے۔ جب وہ مرنے لگے تو وصیت کی کہ یہ چیزیں میرے منہ اور آنکھوں میں رکھ دینا اور پھر میرا معاملہ ارحم الراحمین کے سپرد کر دینا۔
(تاریخ الخلفاء از علامہ سیوطی)
حضرت عباس ؓ کا ادب رسول ﷺ
حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ آپ بڑے تھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
عمر میں بڑے تھے؟ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم بڑے تھے اور ولادت میری پہلے ہوئی۔ (کنزالعمال)
حضرت قباث ؓ کا ادب رسول ﷺ
ابی حویریث سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان نے قباث ابن اشیم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم اکبر ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکبر تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بڑے تھے اور میں عمر میں ان سے زیادہ ہوں اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریف عام الفیل میں ہے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میری والدہ صاحبہ اس ہاتھی کی لید کے پاس مجھے لے کر کھڑی تھیں۔ (دلائل النبوۃ ،بیہقی)
نیز حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی قباث رضی اللہ عنہ سے اسی قسم کا سوال کیا تھا اور انہوں نے ان کو بھی یہی جواب دیا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکبر تھے اور میری ولادت پیشتر ہے۔
(بیہقی)
حضرت براء بن عازب ؓ کا ادب رسول ﷺ
عبید بن فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا کہ ”کن جانوروں کی قربانی درست نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: چار قسم کے جانور ہیں، جن کی قربانی درست نہیں۔ ایک وہ جس کی آنکھ پھوٹی ہو، دوسرا وہ جو سخت بیمار ہو، تیسرا وہ جس کا لنگ ظاہر ہو، چوتھا وہ جو نہایت دبلا ہو۔ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے تشریح فرمائی لیکن میری انگلیاں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے چھوٹی ہیں ۔“ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں پہلے دستِ مبارک کے اشارے سے تعین فرمایا کہ چار جانور ہیں جن کی قربانی جائز نہیں، پھر ان کی تفصیل۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے جب اس واقعہ کو بیان کیا تو ادب نے اجازت نہ دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی حکایت اپنے ہاتھ سے کی جائے۔ لہٰذا عذر ظاہر کیا کہ میری انگلیاں چھوٹی ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے کچھ نسبت نہیں۔ (ابوداؤد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ کا ادب رسول ﷺ
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی راستے میں دیکھا۔ چونکہ میں جنبی بھی تھا، اس لئے میں چھپ گیا۔ پھر غسل کر کے حاضر خدمت اقدس ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو ہریرہ تم کہاں تھے؟“ عرض کیا کہ ”مجھے نہانے کی ضرورت تھی اس لئے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھنے کو مکروہ سمجھا۔“ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ پاک ہے (اور) مومن نجس نہیں ہوتا۔“
(بخاری)
حضرت اسلع بن شریک ؓ کا ادب رسول ﷺ
اسلع بن شریک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پر میں کجاوہ باندھا کرتا تھا۔ ایک رات مجھے نہانے کی حاجت ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کا ارادہ فرمایا۔ اس وقت مجھے تردد ہوا کہ اگر ٹھنڈے پانی سے نہاؤں تو مارے سردی کے مر جانے یا بیمار ہو جانے کا خوف تھا اور یہ بھی گوارا نہیں کہ ایسی ہی حالت میں خاص سواری مبارک کا کجاوہ اونٹنی پر باندھوں۔ مجبوراً کسی شخص انصاری سے کہہ دیا کہ کجاوہ باندھے۔ پھر میں نے چند پتھر رکھ کر پانی گرم کیا اور نہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جا ملا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اے اسلع ! کیا سبب ہے کہ تمہارے کجاوے کو میں متغیر پاتا ہوں۔“ عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے نہیں باندھا۔“ فرمایا: ”کیوں؟“ عرض کیا: ”اس وقت مجھے نہانے کی حاجت تھی اور ٹھنڈے پانی سے نہانے میں جان کا خوف تھا، اس لئے کسی اور کو باندھنے کا کہہ دیا تھا۔“ اسلع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی ۔ یٰایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوٰۃ ...... الایہ (سورۃ المائدہ، رکوع ۲) جس سے سفر میں تیمم کرنے کی اجازت ملی۔
(درمنثور، طبرانی)
حضرت ابو محذورہ ؓ کا ادب رسول ﷺ
”حدیث صحیح میں مروی ہے کہ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی پیشانی میں بال اس قدر دراز تھے کہ
جب وہ بیٹھتے اور ان بالوں کو چھوڑ دیتے تو زمین پر پہنچتے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ ”تم نے ان بالوں کو اتنا کیوں بڑھایا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ”میں اس وجہ سے ان کو نہیں کٹواتا کہ ایک وقت ان پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک لگا تھا ، اس لئے میں نے تبرکاً ان بالوں کو رکھا ہوا ہے۔“
(الشفاء)
حضرت خالد بن ولید ؓ کا ادب رسول ﷺ
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چند موئے مبارک تبرکاً تھے۔ ایک جنگ میں وہ ٹوپی گر پڑی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے حصول کے واسطے سخت ترین جنگ کی۔ حتیٰ کہ چند مسلمان بھی اس جنگ میں شہید ہو گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو الزام دیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”میں نے یہ فعل ٹوپی کے واسطے نہیں کیا بلکہ ان موئے مبارک کے واسطے کیا جو اس میں ہیں تاکہ وہ ضائع نہ ہوں۔ اور کفار کے غلیظ ہاتھوں میں نہ جانے پائیں اور مجھ سے اس کی برکت نہ جاتی رہے۔“
(الشفاء)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا ادب رسول ﷺ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا گیا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کی جگہ پر رکھا۔ پھر اس کو اپنے منہ پر ملا۔
(طبقات ابن سعد، الشفاء)
حضرت انس ؓ کا ادب رسول ﷺ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کیلئے بلایا جو اس نے تیار کیا تھا۔ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا۔ جو کی روٹی اور شوربا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، جس میں کدو اور خشک کیا ہوا نمکین گوشت تھا۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ پیالے کے اطراف سے کدو کی قاشیں تلاش کرتے تھے، اس لئے میں اس دن کے بعد کدو ہمیشہ پسند کرتا تھا۔
(مشکوٰۃ بحوالہ صحیحین)
نیز حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (پیاس
ادب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازوں کو ناخنوں سے کھٹکھٹایا کرتے تھے۔
(الادب المفرد للبخاری)
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا ادب رسول ﷺ
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت قریب آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے سے اپنی تین حالتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ پہلی حالت یہ تھی کہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا، اگر میں اس حالت میں مرجاتا تو دوزخی ہوتا۔ دوسری حالت اسلام کی تھی کہ کوئی شخص میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب اور میری آنکھوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جلالت اور ہیبت والا نہ تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر بھر کر دیکھ نہ سکتا تھا، اگر میں اس حالت میں مرجاؤں تو امید ہے کہ جنت میں ہوں گا۔ تیسری حالت حکمرانی کی تھی کہ جس میں میں اپنا حال نہیں جانتا۔ (صحیح مسلم)
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کا ادب رسول ﷺ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حذیفہ بن الیمان سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حذیفہ سے مصافحہ کرنے لگے۔ حضرت حذیفہ پیچھے ہٹ گئے اور یہ عذر کیا کہ مجھے غسل کی حاجت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”جب مسلمان اپنے بھائی سے مصافحہ کرتا ہے تو اس کے گناہ یوں دور ہو جاتے ہیں جیسا کہ درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔ جب وہ ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے، جن میں ننانوے اس کے لئے ہیں جو ان دونوں میں سے زیادہ ہشاش اور کشادہ رو اور نیکوکار اور اپنے بھائی کی حاجت روائی میں احسن ہو۔“ (کشف غمہ للشعرانی ۱۸۴/۲)
حضرت سعید رضی اللہ عنہ بن یربوع قرشی مخزومی کا ادب رسول ﷺ
حضرت سعید بن یربوع قرشی مخزومی رضی اللہ عنہ کا نام صرم تھا۔ ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”ہم میں سے بڑا کون ہے؟ میں یا تو !“ انہوں نے جواب دیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بڑے ہیں اور نیک ہیں۔ میں عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہوں۔“ یہ
سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل دیا اور فرمایا کہ ”تم سعید ہو ۔“
(اصابہ ترجمہ سعید بن یربوع)
حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص رضی اللہ عنہ کا ادب رسول ﷺ
حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے گلابی رنگ کا کرتہ پہنا ہوا تھا۔ جب میں سید دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ فرمایا : ما هذا ”یہ کیا ہے؟“ جس سے میں نے سمجھ لیا کہ یہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہے تو میں نے جا کر اسے جلا دیا۔ جب سید دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اس کرتے کے بارے میں پوچھا تو میں نے عرض کیا: ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم ، میں نے اسے جلا دیا ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ”اپنے گھر میں کسی عورت کو پہنا دیتے ، کیونکہ عورتوں کیلئے پہننا جائز ہے۔“ (بحوالہ ”مآخذِ باوقار“ ۱۵۶ از قاضی زاہد الحسینی)
حضرت قیلہ بنت مخرمہ عنبریہ رضی اللہ عنہا کا ادب رسول ﷺ
حضرت قیلہ بنت مخرمہ عنبریہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں دیکھا، آپ اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا بیان ہے کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت خشوع سے اس حالت میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو (ہیبت اور جلال کے سبب) میں کانپنے لگی۔“
(شمائل ترمذی، باب ما جاء فی جلسۃ رسول ﷺ)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا ادب رسول ﷺ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ میں رونق افروز ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر قیام فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکان کے نیچے کے حصے میں ٹھہرے اور ابوایوب رضی اللہ عنہ بمعہ عیال کے اوپر کے حصے میں رہے۔ ایک رات ابوایوب رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے اوپر چلتے پھرتے ہیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے اس جگہ سے ہٹ کر ایک جانب میں رات بسر کی۔ پھر صبح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”نیچے کے
حصے میں میرے لئے آسانی ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”میں اس چھت پر نہیں چڑھتا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔“ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کے حصے میں تشریف لے گئے اور ابوایوب رضی اللہ عنہ نیچے کے حصے میں تشریف لے آئے۔
ابوایوب رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا بھیجا کرتے تو جو اوپر سے بچ کر آتا، خادم سے دریافت کرتے کہ طعام میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کس جگہ پر تھیں پھر اس جگہ سے کھاتے ۔
(صحیح بخاری)
حضور ﷺ کے اسم مبارک کا ادب
امّ المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک کرتیں تو بابی انت و امی یا رسول اللہ کہتیں۔ معنی اس کے یہ ہیں کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں ۔“
(صحیح بخاری)
صحابہ کرامؓ اکثر بابی انت و امی یا رسول اللہ کہا کرتے تھے۔ چنانچہ کتب احادیث میں موجود ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشفاق اور مراحم کے روبرو مہر مادری اور شفقت پدری کی کچھ حقیقت نہیں۔ ان دونوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا کرنا چاہئے۔
سبحان اللہ ! کیا ادب تھا کہ روبرو تو روبرو غائبانہ بھی ادب کی ایسی رعایت تھی کہ جب تک ماں باپ کو فدا نہیں کرتے ، نام مبارک کا ذکر نہیں کرتے تھے!
آپ ﷺ کا اسم شریف کا ادب
ایک جماعت قبیلہ کندہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ الفاظ تعظیم کے ادا کیے جو اس زمانے میں سلاطین کیلئے کہے جاتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بادشاہ نہیں ہوں بلکہ محمد بن عبداللہ ہوں ۔“ انہوں نے کہا: ”ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر نہیں پکاریں گے۔“ (کہ یہ بے ادبی ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ابوالقاسم کہو ۔“
اس پر انہوں نے کہا: ”اے ابوالقاسم ! فرمائیے کہ ہم نے اپنے دلوں میں کیا چھپا رکھا ہے۔“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ کاہنوں کا کام ہے اور کاہن اور ان کا پیشہ دوزخی ہے ۔“
انہوں نے کہا : ”پھر کیونکر معلوم ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔“ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکریاں اٹھائیں اور فرمایا کہ ”دیکھو یہ گواہی دیتی ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔“ چنانچہ اسی وقت کنکریاں دستِ مبارک میں تسبیح کرنے لگیں ۔ یہ سن کر حاضرین نے صدقِ دل سے کلمہ پڑھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہ سب مشرف بہ اسلام ہوگئے ۔
(مواہب اللدنیہ، شرح مواہب اللدنیہ)
”ان حضرات نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی اور ادب کو اس وقت بھی ملحوظِ خاطر رکھا کہ جب کافر تھے ۔ کیا تعجب کہ ربّ تعالیٰ کو ان کی یہی ادا پسند آ گئی ہو اور ان کو ہمیشہ کیلئے ایمان کی دولت سے سرفراز کر دیا اور ان کی جہنم کو جنت میں بدل دیا ۔
مسجدِ نبویؐ میں آواز بلند کرنے پر تنبیہ
حضرت نافع روایت کرتے ہیں کہ عشاء کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجدِ نبویؐ میں تھے ۔ ناگاہ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز کان میں پڑی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے بلا کر پوچھا : ”تم کون ہو؟“ اس نے کہا : ”میں قبیلہ ثقیف سے ہوں ۔“ پھر دریافت کیا : ”کیا تم اس شہر کے رہنے والے ہو؟“ اس نے جواب دیا : ”نہیں بلکہ میں طائف کا رہنے والا ہوں ۔“ یہ سن کر آپ نے اسے دھمکایا اور فرمایا : ”اگر تم مدینہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا ۔ اس مسجد میں آوازیں بلند نہیں کی جاتیں ۔“ (وفاء الوفا ۲/۳۵۴) ایسا ہی ایک واقعہ بخاری شریف میں بھی ہے۔
روضہ اقدس ﷺ کے سامنے اونچا بولنے سے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے سامنے اونچا بولنے سے اعمال ضائع ہوتے تھے اور بعد وصال کے بھی اعمال ضائع ہوتے ہیں ۔
(شفاء السقام ۱۷۵)
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا ادبِ رسول ﷺ
ایوب بن نجار بروایت ابو عبداللہ نقل کرتے ہیں کہ ان کے دادا کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لحاف تھا۔ جب عمر بن عبدالعزیزؒ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے ان کے دادا کو کہلا بھیجا۔
چنانچہ وہ اس لحاف کو چمڑے میں لپیٹ کر لائے۔ حضر ملنے لگے۔
(تاریخ صغیر للبخاری ۱۱۱)
نیز حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آخری و علیہ وسلم کے کچھ بال اور ناخن منگوائے اور وصیت کی ک ایسے ہی کیا گیا۔
(طبقات ابن سعد ۵/۳۰۰)
امام مالکؒ کا ادبِ رسول ﷺ
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ رقم طراز ہیں:
”امام مالکؒ مدینہ طیبہ میں اپنے گھوڑے پر سو شرم آتی ہے کہ میں اس زمین کو گھوڑے کے سم سے رو قدم مبارک لگے ہوں ۔“
(جذب القلوب، وفاء الوفا ب
امام شافعیؒ کا ادبِ رسول ﷺ
امام شافعیؒ نے فرمایا :
”ہم امام مالکؒ سے درسِ حدیث میں کتاب کی آہٹ سے قلبِ انور ﷺ پر بوجھ نہ آئے۔“
(با محمد ب
امام بخاریؒ کا ادبِ رسول ﷺ
امام بخاری کے حال میں مرقوم ہے کہ آپ ص کے لکھنے کے واسطے تازہ غسل کیا کرتے اور دوگانہ نما
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر کی ہے، اس کیا کہ تمام مسلمان ان کو اپنا امام جانتے ہیں اور ان کی ہوئی کہ دنیا میں سوائے قرآن مجید کے کسی اور کتاب ک مقبولیت محض ادبِ حدیث کا سبب تھا ورنہ احادیث صحیح
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔“ تب آپ صلی مائیں اور فرمایا کہ ”دیکھو یہ گواہی دیتی ہیں کہ میں اللہ کا رسول ت مبارک میں تسبیح کرنے لگیں۔ یہ سن کر حاضرین نے صدق ہے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سلام ہو گئے۔ (مواہب اللدنیہ، شرح مواہب اللدنیہ) اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی اور ادب کو اس وقت بھی ملحوظ خاطر رکھا تعالیٰ کو ان کو یہی ادا پسند آگئی ہو اور ان کو ہمیشہ کیلئے ایمان کی و جنت میں بدل دیا۔
نے پر تنبیہ
ہیں کہ عشاء کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں کان میں پڑی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے بلا کر پوچھا: ”تم ثقیف سے ہوں۔“ پھر دریافت کیا: ”کیا تم اس شہر کے رہنے س بلکہ میں طائف کا رہنے والا ہوں۔“ یہ سن کر آپ نے اسے نے والے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا۔ اس مسجد میں آوازیں بلند ؟) ایسا ہی ایک واقعہ بخاری شریف میں بھی ہے۔
اونچا بولنے سے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں
اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے سامنے اونچا بولنے سے کے بھی اعمال ضائع ہوتے ہیں۔ (شفاء السقام ۱۷۵)
کا ادب رسول ﷺ
عبداللہ نقل کرتے ہیں کہ ان کے دادا کے پاس رسول اللہ صلی اللہ العزیزؒ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے ان کے دادا کو کہلا بھیجا۔
چنانچہ وہ اس لحاف کو چمڑے میں لپیٹ کر لائے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ اس کو اپنے چہرے سے ملنے لگے۔ (تاریخ صغیر للبخاری ۱۱۱) نیز حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آخری وقت قریب آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال اور ناخن منگوائے اور وصیت کی کہ یہ میرے کفن میں رکھ دیئے جائیں۔ چنانچہ ایسے ہی کیا گیا۔ (طبقات ابن سعد ۳۰۰/۵)
امام مالکؒ کا ادب رسول ﷺ
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ رقم طراز ہیں: ”امام مالکؒ مدینہ طیبہ میں اپنے گھوڑے پر سوار نہ ہوتے تھے۔ کیونکہ وہ فرماتے تھے کہ مجھ کو شرم آتی ہے کہ میں اس زمین کو گھوڑے کے سم سے روندوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک لگے ہوں۔“ (جذب القلوب، وفاء الوفاء ۴۵/۲)
امام شافعیؒ کا ادب رسول ﷺ
امام شافعیؒ نے فرمایا: ”ہم امام مالکؒ سے درس حدیث میں کتاب کا ورق بھی بڑی احتیاط سے پلٹتے تھے تاکہ اس کی آہٹ سے قلب انور ﷺ پر بوجھ نہ آئے۔“ (بامحمد باوقار از مولانا قاضی محمد زاہد الحسینیؒ ۴۴)
امام بخاریؒ کا ادب رسول ﷺ
امام بخاری کے حال میں مرقوم ہے کہ آپؒ صحیح بخاری کے جمع کرنے کے وقت ہر حدیث کے لکھنے کے واسطے تازہ غسل کیا کرتے اور دوگانہ نماز پڑھتے تھے۔ چونکہ اس طرح انہوں نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر کی ہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا فضل عظیم عطا کیا کہ تمام مسلمان ان کو اپنا امام جانتے ہیں اور ان کی تعظیم کی جاتی ہے اور ان کی کتاب کی وہ قدر ہوئی کہ دنیا میں سوائے قرآن مجید کے کسی اور کتاب کی ایسی قدر و قیمت اور منزلت نہیں ہوئی۔ یہ مقبولیت محض ادب حدیث کا سبب تھا ورنہ احادیث صحیحہ کی اور بھی بے شمار کتابیں تھیں۔
(نقوش رسول ﷺ نمبر ۷۰۱/۴)
مقالات
امام مالکؒ اور ادب احادیث نبویﷺ
جب لوگ امام مالکؒ کے پاس طلب علم کے لئے آتے تو خادمہ دولت خانے سے نکل کر ان سے دریافت کیا کرتی کہ حدیث شریف کیلئے آئے ہو یا مسائل فقہیہ کیلئے۔ اگر وہ کہتے کہ مسائل کیلئے آئے ہیں تو امام صاحبؒ فوراً نکل کر آتے ۔ اگر وہ کہتے کہ حدیث شریف کیلئے حاضر ہوئے ہیں تو حضرت امام صاحبؒ پہلے غسل فرماتے ، خوشبو لگاتے پھر کپڑے بدل کر نکلتے ۔ آپؒ کیلئے تخت بچھایا جاتا جس پر بیٹھ کر آپؒ روایت حدیث کرتے ۔ اثناء روایت میں مجلس میں عود جلایا جاتا۔ یہ تخت صرف روایت حدیث شریف کیلئے رکھا گیا تھا۔ جب امام صاحبؒ سے اس کا سبب پوچھا گیا، تو فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی تعظیم کروں ۔“
نیز...... ہشام بن عمار نے امام مالکؒ سے جو اس وقت کھڑے تھے، ایک حدیث پوچھ لی۔ آپؒ نے اس کو بیس کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ کوڑے لگائے گئے۔ پھر آپؒ نے ہشام بن عمار کو ترس کھا کر بیس احادیث روایت کیں۔ یہ دیکھ کر ہشام نے کہا: ”کاش وہ اور کوڑے مارتے اور زیادہ حدیثیں روایت کرتے ۔“
امام مالکؒ کا قول ہے کہ ایک شخص حضرت ابن مسیب کے پاس آیا۔ آپ اس وقت لیٹے ہوئے تھے۔ اس نے آپ سے ایک حدیث دریافت کی۔ آپ اٹھ بیٹھے اور حدیث بیان کی۔ اس نے کہا کہ میں چاہتا تھا کہ آپ اٹھنے کی تکلیف نہ فرماتے ۔ آپ نے فرمایا کہ ”میں پسند نہیں کرتا کہ لیٹے لیٹے حدیث شریف بیان کروں۔“
حضرت عبداللہ بن مبارک بیان کرتے ہیں کہ میں امام مالکؒ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپؒ ہم سے احادیث بیان کر رہے تھے۔ اثنائے قرات میں آپؒ کو ایک بچھو نے سولہ مرتبہ ڈنگ مارا۔ آپ کا رنگ زرد ہوتا رہا مگر آپؒ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو قطع نہ کیا۔ جب آپؒ روایت حدیث سے فارغ ہوئے اور سامعین چلے گئے، تو میں نے عرض کیا کہ ”میں نے آج آپ کی ایک عجیب بات دیکھی ہے ۔“ فرمایا: ”ہاں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی عظمت اور احترام کیلئے صبر کیا ۔“
(ماخوذ از شفا شریف و مواہب اللدنیہ )
یث نبوی ﷺ
پاس طلب علم کے لئے آتے تو خادمہ دولت خانے سے نکل دیث شریف کیلئے آئے ہو یا مسائل فقہیہ کیلئے۔ اگر وہ کہتے کہ پ فوراً نکل کر آتے۔ اگر وہ کہتے کہ حدیث شریف کیلئے حاضر پہلے غسل فرماتے، خوشبو لگاتے پھر کپڑے بدل کر نکلتے۔ آپ آپ روایت حدیث کرتے۔ اثناء روایت میں مجلس میں عود دیث شریف کیلئے رکھا گیا تھا۔ جب امام صاحب سے اس کا بتاتا ہوں کہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی
امام مالک سے جو اس وقت کھڑے تھے، ایک حدیث پوچھ لی۔ حکم دیا۔ کوڑے لگائے گئے۔ پھر آپ نے ہشام بن عمار کو ترس یہ دیکھ کر ہشام نے کہا: ”کاش وہ اور کوڑے مارتے اور زیادہ
شخص حضرت ابن مسیّب کے پاس آیا۔ آپ اس وقت لیٹے حدیث دریافت کی۔ آپ اٹھ بیٹھے اور حدیث بیان کی۔ اس کی تکلیف نہ فرماتے۔ آپ نے فرمایا کہ ”میں پسند نہیں کرتا کہ
بیان کرتے ہیں کہ میں امام مالک کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ اثنائے قرات میں آپ کو ایک بچھو نے سولہ مرتبہ ڈنگ مارا۔ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو قطع نہ کیا۔ جب آپ سامعین چلے گئے، تو میں نے عرض کیا کہ ”میں نے آج آپ کی ”ہاں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی عظمت
ا شریف ومواہب اللدنیہ)
بعد از وفات، رسول کریم ﷺ کی تعظیم
ابو جعفر منصور نے حضرت امام مالک سے کسی مسئلہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں گفتگو کی۔ دوران گفتگو آواز بلند ہوگئی۔ امام مالک نے فرمایا:
”اے امیر المومنین، اس مسجد میں بلند آواز نہ فرماویں چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک قوم کو ادب سکھایا اور ارشاد فرمایا: یاایھا الذین آمنوا لا ترفعوا اصواتکم....... الایہ
”اے ایمان والو! تم اپنی آوازیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند مت کرو اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے آپس میں کھل کر بولا کرتے ہو۔ یہ نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔“
اور ایک قوم کی، جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے تھے، یوں تعریف فرمائی: ان الذین یغضون اصواتکم....... الایہ
”بے شک جو لوگ اپنی آوازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست رکھتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے خاص کر لیا ہے اور ان لوگوں کیلئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔“
اور ایک قوم جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ملحوظ نہ رکھا اور بلند آواز سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا، اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی یوں مذمت فرمائی: ان الذین ینادونک....... الایہ
”جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو پکارتے ہیں، ان میں سے اکثروں کو عقل نہیں۔“
حضرت امام مالک فرمانے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم جس طرح حیات طیبہ میں ضروری تھی، اسی طرح وفات فرمانے کے بعد بھی ضروری ہے۔
امام مالک کی یہ نصیحت سن کر خلیفہ ابو جعفر منصور نے بہت عاجزی اور تواضع اختیار کی اور
ماہنامہ لولاک ملتان
فرمایا: ”اے ابوعبداللہ (امام مالکؒ کی کنیت تھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے بعد قبلہ کی طرف چہرہ کر کے دعا کروں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف چہرہ کئے ہوئے دعا کروں۔ امام مالکؒ نے جواب دیا: ”اپنا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مت پھیرو چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرا اور تیرے باپ آدم علیہ السلام اور قیامت تک پیدا ہونے والی تمام مخلوق کے وسیلہ ہیں، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب چہرہ کئے ہوئے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شفاعت اور وسیلہ کی درخواست کرو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ولو انهم اذظلموا انفسهم جاءوک....... الایہ
”اور اگر جس وقت اپنا نقصان کر بیٹھے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوجاتے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے تو ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا، رحمت والا پاتے ۔“
(حقوقِ مصطفیٰؐ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ، ۱۶۵)
حضور ﷺ کے ذکر مبارک ہی سے امام مالکؒ کا رنگ بدل جاتا
”مصعب بن عبداللہؒ بیان فرماتے ہیں کہ جب امام مالکؒ کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوتا تو ان کا رنگ تبدیل ہوجاتا، کمر جھک جاتی، یہاں تک کہ ان کے پاس بیٹھنے والوں پر یہ حالت سخت گزرتی۔ ایک روز ان سے اس کے بارے میں کہا گیا کہ اپنے اوپر اتنی مشقت نہ ڈالیں۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقامِ عظمت اور جلال اور مرتبہ جمال کو جتنا میں پہچانتا ہوں اگر تم بھی پہچانتے تو میری حالت جو تم دیکھتے ہو، بے محل نہ سمجھتے اور تعجب نہ کرتے۔“
(حقوقِ مصطفیٰؐ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۱۶۸)
محمد بن منکدرؒ کا ادب رسول ﷺ
”میں نے محمد بن منکدرؒ کو دیکھا جو سید القراء تھے ہم جب بھی ان سے کوئی حدیث پوچھتے تو وہ اتنا روتے کہ ہم کو ان پر رحم آنے لگتا۔
(حقوقِ مصطفیٰؐ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۱۶۹)
جعفر بن محمدؒ کا ادب رسول ﷺ
اور میں جعفر بن محمدؒ کو دیکھتا تھا باوجویکہ وہ کثیر المزاح اور کثیر التبسم تھے مگر جب بھی ان کے
کانفرنس نمبر عالمی مجلس
سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور میں نے ان کو کبھی بغیر طہارت نے) ان کے پاس آتا جاتا نماز پڑھتے ہوئے۔ (۲) خا کے سوا کبھی دوسری اور حالت سے تھے۔
(حقوقِ مصطفیٰؐ از
عبدالرحمنؒ بن قاسم کا
ان کی یہ حالت تھی کہ علیہ وسلم کی عظمت کی وجہ سے سب خون نکل گیا، کچھ بھی با احترام کی وجہ سے اپنے کلام کو
عامر بن عبداللہ بن ز
ان کا یہ حال تھا کہ جب ان کی آنکھوں میں آنسو باقی ن
محمد بن شہاب زہریؒ
محمد بن شہاب زہریؒ والے تھے، جب ان کے سامنے تجھے پہچانتے ہیں نہ تو ان کو،
محمود حسن گنگوہیؒ ۱۷۰)
صفوان بن سلیمؒ کا اد
صفوان بن سلیمؒ بڑ
کی نیت تھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے بعد قبلہ ں اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف چہرہ کئے ہوئے دعا کروں۔ سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مت پھیرو چونکہ رسول پ آدم علیہ السلام اور قیامت تک پیدا ہونے والی تمام مخلوق کے علیہ وسلم کی جانب چہرہ کئے ہوئے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ہم جاءوک ....... الایہ ان کر بیٹھے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت الیٰ سے معافی چاہتے تو ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا،
ز مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۱۶۵)
ہی سے امام مالکؒ کا رنگ بدل جاتا
رماتے ہیں کہ جب امام مالکؒ کے سامنے رسول کریم صلی اللہ ہو جاتا، کمر جھک جاتی، یہاں تک کہ ان کے پاس بیٹھنے والوں ا سے اس کے بارے میں کہا گیا کہ اپنے اوپر اتنی مشقت نہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام عظمت اور جلال اور مرتبہ جمال کو جتنا ری حالت جو تم دیکھتے ہو، بے محل نہ سمجھتے اور تعجب نہ کرتے۔“
(حقوق مصطفیٰ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۱۶۸)
ول ﷺ
تھا جو سید القراء تھے ہم جب بھی ان سے کوئی حدیث پوچھتے تو
(حقوق مصطفیٰ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۱۶۹)
سا جو
باوجود یکہ وہ کثیر المزاج اور کثیرالتبسم تھے مگر جب بھی ان کے
سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر ہوتا تو ان کا رنگ زرد ہو جاتا اور ان کی حالت بدل جاتی اور میں نے ان کو کبھی بغیر طہارت کے حدیث بیان کرتے نہیں دیکھا اور میں ایک زمانہ تک (کثرت سے) ان کے پاس آتا جاتا تھا، ہمیشہ ان کو تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں پاتا تھا: (۱) نماز پڑھتے ہوئے۔ (۲) خاموش۔ (۳) قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے۔ ان تین حالتوں کے سوا کبھی دوسری اور حالت پر نہیں دیکھا۔ وہ اللہ سے ڈرنے والے علماء اور عبادت گزاروں میں سے تھے۔
(حقوق مصطفیٰ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۱۶۹)
عبدالرحمنؒ بن قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیقؓ کا ادب رسول ﷺ
ان کی یہ حالت تھی کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی وجہ سے ان کا چہرہ زرد ہو جاتا اور ان کے چہرے کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا کہ سب خون نکل گیا، کچھ بھی باقی نہیں رہا اور ان کی زبان منہ میں خشک ہو جاتی کہ کمال اکرام اور کمال احترام کی وجہ سے اپنے کلام کو پورا نہ کر سکتے۔
(حقوق مصطفیٰ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۱۷۰)
عامر بن عبداللہ بن زبیرؒ کا ادب رسول ﷺ
ان کا یہ حال تھا کہ جب ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوتا تو اتنا روتے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو باقی نہ رہتے۔
(حقوق مصطفیٰ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۱۷۰)
محمد بن شہاب زہریؒ کا ادب رسول ﷺ
محمد بن شہاب زہریؒ جو لوگوں میں بہت نرم مزاج اور لوگوں سے بہت تعلق و محبت کرنے والے تھے، جب ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوتا تو ان کا یہ حال ہو جاتا گویا وہ نہ تجھے پہچانتے ہیں نہ تو ان کو، یعنی بالکل بے خودی کی حالت ہو جاتی۔
(حقوق مصطفیٰ از مولانا مفتی
محمود حسن گنگوہیؒ ۱۷۰)
صفوان بن سلیمؒ کا ادب رسول ﷺ
صفوان بن سلیمؒ بڑے عبادت گزار اور مجاہدہ کرنے والوں میں سے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ
مقالات
عالمی مجلس
کانفرنس کی
چالیس برس برابر انہوں نے اپنا پہلو زمین پر نہیں رکھا۔ یہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرماتے تو اتنا روتے کہ لوگ ان کو اسی حالت میں چھوڑ کر اٹھ کر چلے جاتے۔ (حقوق مصطفیٰؐ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۱۷۰)
امام بن سیرینؒ کا ادب رسول ﷺ
ان کا یہ حال تھا کہ بعض دفعہ مسکراتے ہوتے کہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث شریف بیان کی جاتی تو دفعتاً حالت بدل جاتی اور خوف زدہ اور متواضع ہو جاتے۔
(حقوق مصطفیٰؐ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۱۷۱)
عبد الرحمن بن مہدیؒ کا ادب رسول ﷺ
عبد الرحمن بن مہدیؒ بڑے محدثین میں سے ہیں۔ جب حدیث شریف پڑھتے تو اولا لوگوں کو خاموش ہونے کا حکم فرماتے اور یہ آیت پڑھتے: یا ایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی....... الایہ اور اس سے یہ مراد لیتے کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام فرمانے کے وقت خاموش ہو کر اس کا سننا فرض ولازم تھا، اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی جائے تو خاموش ہو کر اس کا سننا فرض ولازم ہے۔ (حقوق مصطفیٰؐ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۱۷۲)
مالک بن انسؒ کا ادب رسول ﷺ
ابراہیم بن عبداللہ بن مریم انصاری قاضی مدینہ بیان کرتے ہیں: ’’مالک بن انسؒ، ابو حازمؒ کے پاس حدیث سننے کیلئے گئے اور پھر حدیث سنے بغیر واپس ہو گئے۔ ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو جواب دیا: ’’میں نے مجلس میں ایسی جگہ، جہاں ادب سے بیٹھ کر حدیث شریف سننا، نہیں پائی (یعنی لوگوں کی کثرت کی وجہ سے گنجائش نہ تھی) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کھڑے ہو کر سننا مجھے گوارا نہ ہوا۔ (حقوق مصطفیٰؐ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۱۷۱)
سلطان محمود غزنویؒ کا ادب ر
غازی سلطان محمود غزنوی کے غلام تھا۔ ایک دن بادشاہ نے ایاز کی موجودگی میں لئے پانی لاؤ۔‘‘ ایاز نے ان الفاظ کو سن کر دل کی ہے جس کے باعث بادشاہ سلامت فارغ ہوئے تو ایاز کی طرف دیکھا کہ وہ مغمو دستہ بستہ کھڑے ہو کر عرض کی: ’’عالی جاہ! میرے لخت جگر کو نام لے کر نہیں بلایا، اس کوئی بے ادبی اور گستاخی سرزد ہوئی ہے کہ بادشاہ سلامت نے مسکرا کر کہا: ’’ بات میری طبع کے خلاف سرزد نہیں ہوئی اور لینے میں یہ حکمت تھی کہ میں اس وقت بے ہے، اس لئے مجھے شرم آئی کہ حضور صلی ال گزرے جبکہ میں بے وضو اور بے طہارت کسی نے خوب کہا:
ہنوز نام تو
آپ ﷺ کی چارپائی کی تعظیم
حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ بطور ہدیہ پیش کی تھی، جس کے پائے سا کرتے تھے۔ جب وفات شریف ہوئی وسلم کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ
سلطان محمود غزنویؒ کا ادب رسول ﷺ
غازی سلطان محمود غزنوی کے غلام، ایاز کا ایک بیٹا تھا جو بادشاہ کا ملازم تھا اور اس کا نام ”محمد“ تھا۔ ایک دن بادشاہ نے ایاز کی موجودگی میں اسے یوں خطاب کیا کہ ”اے ایاز کے بیٹے، وضو کے لئے پانی لاؤ۔“ ایاز نے ان الفاظ کو سن کر دل ہی دل میں خیال کیا کہ نہ معلوم میرے بیٹے نے کیا خطا کی ہے جس کے باعث بادشاہ سلامت نے اسے نام لے کر نہیں بلایا۔ جب سلطان محمودؒ وضو سے فارغ ہوئے تو ایاز کی طرف دیکھا کہ وہ مغموم و ملول ہے۔ اس سے غم و رنج کا سبب پوچھا۔ اس نے دست بستہ کھڑے ہو کر عرض کی: ”عالی جاہ! میرے مغموم ہونے کا باعث یہ ہے کہ چونکہ حضور نے میرے لخت جگر کو نام لے کر نہیں بلایا، اس لئے معاً میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید اس سے کوئی بے ادبی اور گستاخی سرزد ہوئی ہے کہ جس کے باعث آپ اس سے خفا اور ناراض ہیں۔“
بادشاہ سلامت نے مسکرا کر کہا: ”اے ایاز! خاطر جمع رکھو۔ تمہارے صاحبزادے سے کوئی بات میری طبع کے خلاف سرزد نہیں ہوئی اور نہ ہی میں اس سے ناراض اور خفا ہوں۔ اس وقت نام نہ لینے میں یہ حکمت تھی کہ میں اس وقت بے وضو تھا۔ چونکہ یہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم نام ہے، اس لئے مجھے شرم آئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک ایسی حالت میں میری زبان سے گزرے جبکہ میں بے وضو اور بے طہارت ہوں۔“
(نقوشِ رسولؐ نمبر ۲/۷۰۴)
کسی نے خوب کہا:
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است
آپ ﷺ کی چارپائی کی تعظیم اور برکت
حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک چارپائی بطور ہدیہ پیش کی تھی، جس کے پائے ساگوان کی لکڑی کے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سویا کرتے تھے۔ جب وفات شریف ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی پر رکھا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو بھی وفات پانے پر اسی پر رکھا گیا۔ بعد ازاں حضرت عمر
فاروق رضی اللہ عنہ کو بھی اسی پر رکھا گیا۔ پھر لوگ بطور تبرک اپنے مردوں کو اسی پر رکھا کرتے تھے۔
(زرقانی علی المواہب)
آنحضرت ﷺ کے پسینہ مبارک کی تعظیم و برکت
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، ام سلیم (والدہ انس) کے ہاں چمڑے کے فرش پر قیلولہ فرما کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ مبارک کو ایک شیشی میں جمع کر لیتیں اور شانہ کرتے وقت جو بال گرتے، ان کو اور پسینہ مبارک کو سک (خوشبو) میں ملا دیتیں۔ حضرت ثمامہ کا قول ہے کہ جب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو مجھے وصیت کی کہ اس سک میں سے کچھ میرے حنوط (کافور وصندل وغیرہ جو مردے کے کفن اور جسم پر مل دیا جاتا ہے) میں ڈال دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ (صحیح بخاری کتاب الاستیذان)
آپ ﷺ کے پسینے کی برکت کے امیدوار
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم کے گھر میں آ کر بستر پر قیلولہ فرمایا کرتے تھے اور وہ گھر میں نہ ہوا کرتیں۔ ایک روز حسب معمول حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بستر پر سوئے ہوئے تھے۔ جب ان کو خبر ہوئی تو آ کر دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ مبارک بستر پر چمڑے کے ایک ٹکڑے پر پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے ڈبے میں سے ایک شیشی نکالی اور پسینہ مبارک کو اس میں نچوڑنے لگیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلی تو پوچھا کہ ”ام سلیم! تم کیا کر رہی ہو؟“ ام سلیم نے عرض کیا کہ ”ہم اپنے بچوں کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کی برکت کے امیدوار ہیں۔“ (صحیح مسلم)
آپ ﷺ کے ایک بال کا ہونا دنیا وما فیہا سے محبوب تر
حضرت ابن سیرین تابعی نے حضرت عبیدہ سے کہا: ”ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال مبارک ہیں جو حضرت انس رضی اللہ عنہ یا اہل انس سے ملے ہیں۔“ یہ سن کر حضرت عبیدہ نے کہا، ان بالوں میں سے میرے پاس ایک بال کا ہونا میرے نزدیک دنیا وما فیہا سے محبوب تر ہے۔ (صحیح بخاری)
قاضی عیاض فرماتے ہیں: ”وہ تمام چیزیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت ہے، ان کی تعظیم وتکریم کرنا،
حرمین شریفین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہد و مساکن کی تعظیم کرنا، آپ ﷺ کے منازل اور وہ چیزیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک یا کسی اور عضو نے چھوا یا آپ ﷺ کے نام سے پکاری جاتی ہوں ، ان سب کا اکرام کرنا حضور ﷺ ہی کی تعظیم و تکریم میں داخل ہے۔‘‘ (الشفاء)
(ماخوذ از ”تحفظ ناموسِ رسالت اور گستاخِ رسول کی سزا“۔ ایچ ساجد اعوان)
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کا ادب رسول ﷺ
اعلیٰ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ ایسا وظیفہ بتلا دیجئے کہ خواب میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہو جائے۔ حضرت نے فرمایا: آپ کا بڑا حوصلہ ہے۔ ہم تو اس قابل بھی نہیں کہ روضہ شریف کے گنبد شریف ہی کی زیارت ہو جائے۔ (اکابر کا تقویٰ)
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا ادب رسول ﷺ
رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبہ مبارک کا رنگ سبز ہے۔ اس لئے حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ساری عمر میں سبز رنگ کا جوتا نہیں پہنا۔ حالانکہ کھیت کا جوتا بہت پسند کیا جاتا تھا اور عقیدت مند لوگ شوق و محبت سے ایسے جوتے بنوا کر آپ کی خدمت میں پیش بھی کر دیا کرتے تھے لیکن آپ پھر بھی نہ پہنتے تھے۔ (الشہاب الثاقب)
مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا ادب رسول ﷺ
قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے یہاں تبرکات میں حجرہ مطہرہ نبوی کے غلاف کا ایک سبز ٹکڑا بھی تھا بروزِ جمعہ کبھی حاضرین و خدام کو جب ان تبرکات کی زیارت خود کرایا کرتے تھے تو صندوقچہ خود اپنے دست مبارک سے کھولتے اور غلاف کو نکال کر اوّل اپنی آنکھوں سے لگاتے اور منہ سے چومتے تھے پھر اوروں کی آنکھوں سے لگاتے اور ان کے سروں پر رکھتے۔ مدینہ منورہ کی کھجوریں آتیں تو نہایت عظمت و حفاظت سے رکھی جاتیں اور اوقاتِ مبارکہ متعددہ میں خود بھی استعمال فرماتے اور حاضرین بارگاہِ مخلصین کو بھی نہایت تعظیم اور ادب سے اس طرح تقسیم فرماتے کہ گویا نعمتِ غیر مترقبہ اور اثمارِ جنت ہاتھ آگئے ہیں۔ (الشہاب الثاقب)
علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا ادب رسول ﷺ
آپ کو سرور کائنات ﷺ کی حدیث کا اتنا ادب ملحوظ تھا کہ باوجود بڑی عمر اور باوجود مرض بواسیر کے آپ روزانہ پانچ سو صفحات کا مطالعہ فرماتے اور یہ سارا مطالعہ اکڑوں بیٹھ کر فرمایا کرتے تھے۔ مجال کیا کہ آپ ٹیک لگا کر یا کسی اور طرح بیٹھ یا لیٹ کر مطالعہ کرتے۔ اگرچہ یہ ناجائز نہ تھا مگر ہر ایک کا اپنا اپنا مقام ہے۔ حضرت علامہ پر حدیث کا ادب غالب تھا۔
(تحریر حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ)
مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا ادب رسول ﷺ
آپ حج کیلئے تشریف لے جا رہے تھے تو بحری جہاز میں ایک تقریر کے دوران فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا عشق لے کر جا رہے ہو تو جس قدر ممکن ہو عجز و انکساری اختیار کرو۔ جملہ عاشقوں کے سردار آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم پر جس قدر ممکن ہو درود شریف پڑھتے ہوئے، تلاوت کر کے ہدیہ کیجئے۔ اس راہ عشق کے سردار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس لئے میرے نزدیک اور علماء کے ایک گروہ کے نزدیک پہلے مدینہ منورہ جانا افضل ہے۔“
(ارشادات ۲۰)
مولانا عبدالقادر رائے پوری کا ادب رسول ﷺ
آپ جب حج کیلئے تشریف لے گئے تو مکہ شریف سے مدینہ طیبہ کو جاتے ہوئے آخری منزل پر بدّو سے کہہ دیا کہ جب وہ جگہ آئے جہاں سے سبز گنبد نظر آتا ہے تو فوراً بتا دے، اس نے بتا دیا، وہاں سے اتر کر پیدل چلتے رہے، رفقاء کو پہلے ہی تاکید فرمادی تھی کہ درود شریف کی کثرت رکھیں، خاموش رہیں اور بہت ادب و احترام کے ساتھ حاضری دیں۔
(سوانح رائے پوری ۲۲۰)
مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ کا ادب رسول ﷺ
آپ کو مسجد نبوی شریف میں روزانہ کئی کئی گھنٹے بیٹھنا ہوتا تھا، حضرت چونکہ معذوری کی وجہ سے صرف چار زانو ہی بیٹھ سکتے تھے پاؤں پر کمبل ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود حضرت کو اس بات کی کوشش اور اہتمام ہوتا تھا کہ ان کے پاؤں کا رخ روضہ شریف کی طرف نہ ہو حالانکہ چار زانو نشست میں سامنے کے پاؤں سیدھے نہیں ہوتے۔ جس کو عرف میں پاؤں سامنے کرنا کہا جائے صرف انگلیوں کا رخ ہوتا ہے مگر حضرت اس کو بھی نہیں ہونے دیتے تھے۔
(اکابر کا تقویٰ)
یا ربّ صلّ وسلّم
ا....... یہ ذکر ہے ۶۲ھ العہ الدین زنگی اپنے دارالحکومت دمش پر دراز ہوا تو اسکی آنکھ لگ گئی ا اس سے مخاطب ہیں اور نیلی آنکھ الدین! ہمیں ان دونوں کے شر الدین زنگی کی آنکھ کھل جاتی ہے پھر کچھ دیر کو ان کی آنکھ لگ جاتی آنکھ لگتی ہے اور تیسری بات وہی وہ بے تابی کے ساتھ اٹھے، اسی صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزیر بھی جانا چاہئے۔ تا کہ اصل صورتحال بیس سپاہیوں کی ہمراہی میں سلطا جاتے ہیں۔ مسلسل بارہ دن کے تھک
کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
دو مسلمان حکمرانوں کا انتقام
۱....... یہ ذکر ہے ۱۱۶۲ء کا...... اللہ کا برگزیدہ بندہ اور اسلام کا عظیم الشان جرنیل سلطان نور الدین زنگی اپنے دارالحکومت دمشق شہر میں تھا۔ ایک رات نماز تہجد ادا کر کے وہ کچھ دیر کیلئے اپنے بستر پر دراز ہوا تو اسکی آنکھ لگ گئی۔ اسی دوران میں اس نے خواب دیکھا کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مخاطب ہیں اور نیلی آنکھوں والے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمارہے ہیں ...... ”نور الدین! ہمیں ان دونوں کے شر سے بچاؤ، یہ ہمارے درپے آزار ہیں“...... یہ ارشاد عالی سنتے ہی نور الدین زنگی کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ اٹھ بیٹھتے ہیں اور دوبارہ وضو کر کے نماز دوگانہ ادا کرتے ہیں اور پھر کچھ دیر کو ان کی آنکھ لگ جاتی ہے۔ وہ پھر وہی منظر دیکھتے ہیں، پھر اٹھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، پھر آنکھ لگتی ہے اور تیسری بار وہی منظر خواب میں نظر آتا ہے۔ اب تو نور الدین کی نیند غارت ہوگئی۔ وہ بے تابی کے ساتھ اٹھے، اسی وقت اپنے وزیر با تدبیر جمال الدین کو طلب کیا اور اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزیر بھی ہوشمند تھا، فوراً عرض کی کہ ہمیں بلاتاخیر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو جانا چاہئے۔ تاکہ اصل صورتحال سے آگاہی حاصل ہوسکے۔ چنانچہ آنے والے چند لمحات میں ہی بیس سپاہیوں کی ہمراہی میں سلطان نور الدین زنگی اور ان کے وزیر حجاز مقدس کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔
مسلسل بارہ دن کے تھکا دینے والے سفر کے بعد سلطان زنگی مدینہ منورہ پہنچے، تو سیدھے
مسجد نبوی میں تشریف لے گئے۔ وہاں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دی۔ دو رکعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے بیٹھے اعلان کروا دیا کہ سلطان معظم کی دربار رسالت میں حاضری کے موقع پر تمام اہل مدینہ کیلئے مسجد نبوی میں ایک پُر تکلف دعوت کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ شہر کے ہر مرد و زن اور پیرو جوان کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ وقت مقررہ پر پہنچ جائے اور سلطان کی طرف سے میزبانی سے فیض یاب ہو۔ اس اعلان کے مطابق جب لوگوں کی آمد شروع ہوئی تو سلطان زنگی ایک ایسی جگہ پر کھڑے ہو گئے، جہاں سے ہر آنے والے کا چہرہ ان کی نظروں کے سامنے سے ہو کر گزرتا تھا۔ صبح سے شام تک، لوگ آتے رہے اور شاہی ضیافت کے ساتھ ساتھ سلطانی اعزاز و اکرام کے مزے بھی لوٹتے رہے۔ جبکہ سلطان خود مستقل اسی جگہ بیٹھے رہے اور بے تابی سے ان دو چہروں کا انتظار کرتے رہے، جو خواب میں انہیں دکھائے گئے تھے۔ اسی عالم میں دن پورا گزر گیا اور شام کے سائے پھیلنے لگے، مگر سلطان کو وہ دو نیلی آنکھوں والے دکھائی نہیں دیئے۔
پھر جب رات ہونے کو آئی تو سلطان نے پریشانی کی حالت میں مقامی حکام کو طلب کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا ہماری دعوت پر مدینہ کے سب لوگ حاضر ہوئے ہیں؟ تو پتہ چلا کہ واقعی سب آئے ہیں، سوائے ان دو فقیروں کے جو دنیا و مافیہا سے بے غم و بے فکر ہو کر ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے ہیں اور کاروبار و سرکار سے کوئی لین دین نہیں رکھتے۔ ان کی جھونپڑی کا دروازہ اکثر و بیشتر بند ہی رہتا ہے اور کہا یہی جاتا ہے کہ وہ اپنے بیشتر اوقات نماز اور عبادات میں گزار دیتے ہیں۔ ان دونوں سے توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ سلطانی ضیافت کے بکھیڑوں میں پڑیں۔ ان حکام نے سلطان کے سامنے، ان دونوں درویشوں کی صفات و اخلاق کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کچھ عرصہ قبل جب مدینہ منورہ میں قحط سالی ہوئی تھی اور لوگ فقر و فاقے کے عالم میں بھوکوں مرنے لگے تھے، تو ان دونوں فقیروں نے لوگوں کی دل کھول کر مالی مدد کی تھی اور ہر شخص کو اتنا دیا تھا کہ لوگ ان کو عطاء کئے جانے والے غیبی خزانوں پر انگشت بدنداں رہ گئے تھے۔
یہ سب باتیں سن کر ان دونوں کو مشکوک قرار دینا آسان نہ تھا، لیکن سلطان زنگی پھر بھی اپنی کوشش پوری کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ حکم دیا کہ ان دونوں کو بھی ضیافت میں حاضر کیا جائے اور اگر وہ آنے سے انکار کر دیں تو زبردستی لایا جائے۔ یہ بات جب ان گوشہ نشین فقیروں تک پہنچی تو وہ دونوں حاضری پر آمادہ ہو گئے۔ اور پھر جب وہ سلطان زنگی کی نظروں کے سامنے سے گزرے تو انہوں نے
ان دو فقیروں اور ان دو چہروں کے درمیان کچھ فرق نہ پایا۔ پہلی ہی نگاہ میں انہیں یقین ہو گیا کہ یہ وہی دونوں بدبخت و بد باطن ہیں، جن کی جانب آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا تھا۔ چنانچہ ان دونوں کو فوراً گرفتار کر لینے کا حکم صادر ہوا۔ لیکن عوام میں اتنی مقبولیت رکھنے والے افراد کو بلا دلیل و حجت سزا بھی نہیں دی جاسکتی تھی۔ لہٰذا سلطان نے فرمائش کی کہ وہ ان گدڑی پوشوں کی جھونپڑی میں جانا چاہتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر اندر باہر چہار اطراف کی تلاشی لی گئی، لیکن ایسا کچھ برآمد نہ ہوا، جس کی وجہ سے انہیں ملزم ٹھہرایا جاتا، یا کم از کم مشکوک ہی سمجھا جاتا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر سلطان زنگی شدید اضطراب کا شکار ہو گئے کہ ایک طرف سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے واضح اشارہ تھا اور دوسری طرف مدینہ بھر کے لوگوں کی جانب سے ان دونوں کے تقدس کی گواہی۔ بالآخر سلطان نے اپنے رب کے حضور دست بستہ دعا کی اور از سر نو جھونپڑی کی تلاشی ہوئی۔ اب کی بار کسی نے ان دونوں کا مصلیٰ اٹھایا تو نیچے زمین سے برابر ایک بڑا سا پتھر پایا گیا۔ سلطان نے اس پتھر کو اٹھوایا تو سب لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں غار نما ایک سرنگ کا دہانہ ہے۔ سلطان زنگی از خود آگے بڑھے اور اس سرنگ میں داخل ہو گئے۔ پھر وہ اس میں چلتے رہے، حتیٰ کہ ایک قبر کے اندرونی حصے کے پاس جا پہنچے۔ یہ عین وہی جگہ تھی، جہاں زمین کے اوپر حضور نبی آخر الزماں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ اقدس تھا اور لوگ اس کی زیارت سے اپنی آنکھوں کا قرار حاصل کرتے تھے۔ بعض روایات میں تو یہاں تک آتا ہے کہ سلطان زنگی روضہ اقدس کے اس قدر قریب پہنچ گئے کہ نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام عالیہ آپ کو صاف دکھائی دینے لگے۔
یہ سب کچھ دیکھ کر سلطان کانپ اٹھے، فوراً واپس لوٹے۔ ان دونوں بدبختوں کو طلب فرمایا اور پوچھا کہ یہ سب کچھ کیا ہے اور کیوں ہے؟
ان دونوں نے پہلے تو حیل و حجت کی، لیکن رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی وجہ سے کچھ نہ بن پڑی تو خود ہی بتایا کہ وہ دونوں عیسائی ہیں، اور انہیں یورپی بادشاہوں نے بے شمار مال و دولت دے کر بھیجا ہے اور ان کے ذمہ یہ کام سپرد کیا گیا ہے کہ وہ (نعوذ باللہ ) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کو ان کے روضہ مبارک سے نکال لائیں۔ تاکہ مسلمان اس مرکز سے محروم ہو جائیں، جو انہیں ایک دوسرے سے وابستگی اور وحدت عطا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ایسا ہو جاتا تو فتنہ پرور بدفطرت عیسائیوں کیلئے مسلمانوں کو یہ چیلنج کرنا بھی ممکن ہو جاتا کہ مسلمان جس نبی (ﷺ) کی
زیارت کرنے جوق در جوق چلے آتے ہیں، وہ تو اپنی قبر میں ہے ہی نہیں۔ یہ سب کچھ سن کر سلطان نور الدین زنگی کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ ان کا دل بے چین ہو گیا۔ رگِ حمیت پھڑک اٹھی اور اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی بھیانک گستاخی کا انتقام لینے کیلئے ان کا لہو جوش مارنے لگا۔ تب ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر ان دونوں بدبختوں کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا اور پھر تمام اہل مدینہ کے سامنے انہیں قتل کر دینے کے بعد، سلطان کو اس وقت تک سکون نہ ملا، جب تک ان دونوں کی ناپاک لاشوں کو جلا کر راکھ نہ کر دیا گیا۔
اللہ کے محبوب ترین پیغمبر، کائنات کی عظیم ترین ہستی، حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ اور یدِ بیضا رکھنے والی مقدس و مطہر ذات، حضور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمنانِ اسلام کی عداوت کا یہ پہلا واقعہ تھا، نہ ہی آخری۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ آسمان کی نگاہیں، زمین کی وسعتیں، وقت کی رفتار اور تاریخ کے ادوار ہمیشہ ہی اپنے دامن میں ایسے بد نصیب اور تیرہ بخت سیاہ دل لوگوں کا وجود تسلیم کرتے رہے ہیں، جنہوں نے حضور خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کر کے اپنے آپ کو کائنات کے بدترین لوگوں کی فہرست میں شامل کیا....... اور آج پھر کچھ ایسے بدبخت لوگوں نے سر اٹھایا ہے.......
مگر کیا وہ نہیں جانتے کہ خدا خود اپنے محبوب کی حرمت و ناموس کا رکھوالا اور پاسبان ہے.......؟؟
- ۲.......سلطان صلاح الدین ایوبیؒ اور صلیبی جنگجوؤں کے درمیان سال ہا سال تک معرکہ
آرائیاں جاری رہیں۔ آخر مختلف جنگی کارروائیوں اور مقابلوں کے بعد وہ معرکہ پیش آیا، جو تاریخ میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، اور جس نے فلسطین کی مسیحی سلطنت کا خاتمہ اور صلیبیوں کی قسمت کا فیصلہ کر دیا، یہ حطین کی جنگ تھی، جو ہفتہ کے دن ۲۴ ربیع الآخر ۵۸۳ھ / ۱۱۸۷ء کو پیش آئی، اور جس میں مسلمانوں کو فتح مبین حاصل ہوئی۔
لین پول اس میدانِ جنگ کی تصویر کھینچتے ہوئے لکھتا ہے:.......
”مسیحی لشکر کے چیدہ اور منتخب جوانمرد قید کر لئے گئے، گائی بادشاہِ یروشلم اور اس کا بھائی، چاٹیلون (حطین) کا رینجی نالڈ، تبنین کا ہمفری، طبقاتِ داویہ اور ہسپطار کے دونوں مقدم اور بڑے بڑے عیسائی شرفاء گرفتار کر لئے گئے....... باقی فلسطین کے تمام عیسائی بہادر اور شہسوار مسلمانوں کے پہرے
میں تھے، مسیحی لشکر کے معمولی تھے، ایک ایک مسلمان سپاہی میں باندھے لے جاتا دیکھا گیا اس طرح لگے تھے، جیسے پتھر پر تھے، جیسے خربوزوں کے کھیت میں میں یہ خونی لڑائی ہوئی تھی اور جو سال کے بعد سپید سپید ہڈیوں ک کھانے کے بعد جو ٹکڑے لاشوں اس فتح کے ساتھ یہ واقع اس کی قوتِ ایمانی کا اندازہ ہوت سنیں۔
”سلطان صلاح الدین ا تو حکم دیا کہ قیدی سامنے حاضر ک لائے گئے، سلطان نے بادشاہ یر ہوئے پانی کا کٹورا دیا، گائی نے پ ناخوش ہوا اور ترجمان سے کہا کہ نے دیا ہے، روٹی اور نمک جسے د میرے انتقام سے نہیں بچ سکتا، ص نالڈ جب سے خیمہ میں داخل ہوا تھ کرنے کی قسم دومرتبہ کھائی تھی، ایک حملہ کرنا چاہا تھا، دوسری مرتبہ اس و حملہ کیا تھا، (قاضی ابن شداد کی رو انسانیت وشرافت کی درخواست کی یہ فقرہ صلاح الدین کو پہنچا اور اس
میں تھے، مسیحی لشکر کے معمولی سپاہی پیدل اور سوار جو زندہ بچے تھے، سب مسلمانوں کے اسیر ہوگئے تھے، ایک ایک مسلمان سپاہی تیس تیس عیسائیوں کو جنہیں خود اس نے گرفتار کیا تھا، خیمے کی رسی میں باندھے لے جاتا دیکھا گیا، ٹوٹی ہوئی صلیبوں اور کٹے ہوئے ہاتھ پاؤں میں مُردوں کے ڈھیر اس طرح لگے تھے، جیسے پتھر پر پتھر پڑے ہوں، اور کٹے ہوئے سر زمین پر اس طرح بکھرے پڑے تھے، جیسے خربوزوں کے کھیت میں خربوزے پڑے نظر آئیں...... مدتوں تک جنگ کا یہ میدان جس میں یہ خونی لڑائی ہوئی تھی اور جہاں بیان کیا جاتا تھا کہ تیس ہزار آدمی مارے گئے تھے، مشہور رہا ایک سال کے بعد سپید سپید ہڈیوں کے تودے اور ڈھیر دور سے لوگوں کو نظر آتے تھے، اور جانوروں کے کھانے کے بعد جو ٹکڑے لاشوں کے بچے تھے، وہ بھی میدان میں جا بجا پڑے دکھائی دیتے تھے۔"
اس فتح کے ساتھ یہ واقعہ بھی تاریخ میں یادگار رہے گا، جس سے سلطان کی دینی حمیت اور اس کی قوتِ ایمانی کا اندازہ ہوتا ہے، مناسب ہے کہ یہ واقعہ بھی ہم انگریز مؤرخ کی زبان سے سنیں۔
"سلطان صلاح الدین نے اپنا خیمہ لڑائی کے میدان میں نصب کرایا جب خیمہ نصب ہو گیا، تو حکم دیا کہ قیدی سامنے حاضر کئے جائیں، بادشاہ گائی اور رینالڈ چاٹیلون (ارناط) دونوں اندر لائے گئے، سلطان نے بادشاہ یروشلم کو اپنے پہلو میں بٹھایا، اور اُسے پیاسا دیکھ کر برف میں سرد کئے ہوئے پانی کا کٹورا دیا، گائی نے پانی پیا، اور پانی کا کٹورا والیِ کرک رینالڈ کو دیا، سلطان یہ دیکھ کر ناخوش ہوا اور ترجمان سے کہا کہ بادشاہ سے کہو کہ میں نے اس شخص کو پانی نہیں دیا ہے بلکہ بادشاہ گائی نے دیا ہے، روٹی اور نمک جسے دیتے ہیں، وہ محفوظ سمجھا جاتا ہے، مگر یہ آدمی اس قسم کی حفاظت میں بھی میرے انتقام سے نہیں بچ سکتا، صلاح الدین اتنا کہہ کر کھڑا ہوا اور رینالڈ کے سامنے آیا، رینالڈ جب سے خیمہ میں داخل ہوا تھا برابر کھڑا رہا تھا، سلطان نے اس سے کہا سن! میں نے تجھے قتل کرنے کی قسم دو مرتبہ کھائی تھی، ایک مرتبہ تو اس وقت جب کہ تو نے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں پر حملہ کرنا چاہا تھا، دوسری مرتبہ اس وقت جب کہ تو نے دھوکے اور دغا بازی سے حاجیوں کے قافلہ پر حملہ کیا تھا، (قاضی ابن شداد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ جب ان بے کس حاجیوں نے اس سے انسانیت و شرافت کی درخواست کی تو اس نے گستاخانہ کہا کہ "اپنے محمد سے کہو کہ تمہیں رہائی دیں۔" یہ فقرہ صلاح الدین کو پہنچا اور اس نے منت مانی کہ اگر یہ بے ادب اس کے ہاتھ آئے گا تو اپنے ہاتھ
سے اس کو قتل کروں گا۔ (دیکھ میں اب تیری بے ادبی اور توہین کا انتقام لیتا ہوں، اتنا کہہ کر صلاح الدین نے تلوار نکالی اور جیسا کہ عہد کیا تھا، ریجی نالڈ کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا، جو کچھ رمق باقی تھی، اسے پہرے والوں نے آ کر ختم کیا۔
بادشاہ گائی اس قتل کو دیکھ کر لرز گیا، اور سمجھا کہ اب اس کی باری آئے گی، صلاح الدین نے اس کا اطمینان کیا، اور کہا کہ بادشاہوں کا دستور نہیں کہ وہ بادشاہ کو قتل کریں، اس شخص نے بار بار عہد شکنیاں کی تھیں، اب جو کچھ گزر گیا گزر گیا۔“
ابن شداد نے لکھا ہے کہ سلطان نے ریجی نالڈ کو طلب کیا اور کہا کہ ”ھا انا انتصر لمحمد علیہ الصلوۃ والسلام“ (لو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقام لیتا ہوں)۔
گستاخ رسول کا قتل
فقہ حنفی میں فتویٰ اس پر ہے کہ جو شخص اعلانیہ گستاخی کرے وہ واجب القتل ہے۔
درمختار اور شامی میں اس کا واجب القتل ہونا نہایت تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے اور خود شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ کی کتاب الصارم المسلول میں بھی حنفیہ سے اس کا واجب القتل ہونا نقل کیا ہے، علامہ ابن عابدین شامی نے اس موضوع پر مستقل رسالہ لکھا ہے، جس کا نام ”تنبیہ الولاۃ و الحکام علی احکام شاتم خیر الانام او احد اصحابہ الکرام علیہ و علیہم الصلوۃ و السلام“ یہ رسالہ مجموعہ رسائل ابن عابدین میں شائع ہو چکا ہے، الغرض ایسے گستاخ کا واجب القتل ہونا تمام ائمہ کے نزدیک متفق علیہ ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ۴۸/۱)
یا ربّ صلّ وسلم د
وہ جو حرمت
برصغیر کے مسلمانوں کیلئے حکمرانی کے نشے میں مست ان چوہڑ کی غلامی کا بدلہ چکانے کیلئے اپنے آقاؤں کی یلغار تھی، جب فرنگی او بے کس مخلوق سے کسی قسم کا کوئی کر دیا۔ ہر سمت سے ہر روز نت نئی کو کیا خبر تھی کہ بجھی ہوئی راکھ تلے ش گستاخوں کو اپنے ساتھ بھسم کر دیں گی میں ان خدا مست غیور اہل ایمان سکی اور نہ یہ وقت کی عدالتوں، انہوں نے یہ حسین داستانیں رقم کیں کہتے ہیں ”۔ آئیں ! ایسے ہی چند خو ہو کر امر اور لازوال ہو گئے ۔
کروں تیرے نام پہ جاں فدا، نہ بس ایک جاں ، دو جہاں فدا ۔
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا، کروڑوں جہاں نہیں
وہ جو حرمت رسول ﷺ پر فدا تھے
برصغیر کے مسلمانوں کیلئے وہ وقت بہت کڑا اور صبر آزما تھا جب ایک طرف انگریز اپنی حکمرانی کے نشے میں مست اُن پر ہر طرح کے مظالم ڈھا رہا تھا تو دوسری طرف ہندو بنیا سینکڑوں برس کی غلامی کا بدلہ چکانے کیلئے اپنے دانت تیز کر رہا تھا۔ چاروں طرف سے مسلمانوں پر مصائب اور آفتوں کی یلغار تھی، جب فرنگی اور ہندو نے یہ سمجھ لیا کہ اب مسلمان تھک چکا ہے اور اس بے بس اور بے کس مخلوق سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں تو انہوں نے اپنی خباثت باطنی کا آخری مظاہرہ شروع کردیا۔ ہر سمت سے ہر روز نت نئی شکل میں گستاخیٔ رسول کی خبروں نے مسلمانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ کسی کو کیا خبر تھی کہ بجھی ہوئی راکھ تلے عشق و وفا کی وہ چنگاریاں ابھی سلگ رہی ہیں جو بھڑکیں گی تو سب گستاخوں کو اپنے ساتھ بھسم کردیں گی۔ پھر دنیا نے دیکھا عشقِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں ان خدا مست غیور اہل ایمان نے نہ تو گھر بار کو آڑے آنے دیا، نہ ان کی بے بسی ان کا راستہ روک سکی اور نہ یہ وقت کی عدالتوں، جیلوں اور ہتھکڑیوں سے گھبرائے۔ یہ کون کون تھے اور کہاں کہاں انہوں نے یہ حسین داستانیں رقم کیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ’دو چار سے دنیا واقف ہے، گمنام نجانے کتنے ہیں‘، آئیں! ایسے ہی چند خوش قسمت افراد کا تذکرہ پڑھیں جو نامِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوکر اَمر اور لازوال ہوگئے۔
”ترکھاناں دا منڈا“
علامہ اقبال کو جب معلوم ہوا کہ ایک اکیس سالہ ان پڑھ اور مزدور پیشہ نوجوان نے گستاخ رسول راجپال کو بڑی جرات اور پھرتی سے قتل کر دیا ہے تو انہوں نے کہا: ”اسی گلاں ای کردے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا“ (ہم باتیں ہی بناتے رہے اور بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا)
غازی علم دین ۴؍ دسمبر ۱۹۰۸ء (۸؍ ذیقعدہ ۱۳۲۶ھ ) کو متوسط طبقے کے ایک شخص طالع مند کے گھر (لاہور) میں پیدا ہوئے۔ یہ ان کے دوسرے بیٹے تھے۔ نجاری (بڑھئی) پیشہ تھا،عزت سے دن گزر رہے تھے، ایسے نامور نہ تھے، اپنے محلے تک ان کی شہرت محدود تھی یا پھر لاہور سے باہر جاکر کہیں کام کرتے تو محنت، شرافت اور دیانتداری کی بدولت مختصر سے حلقے میں اچھی نظر سے دیکھے جاتے۔ زندگی اس ڈھب کی تھی۔
عمر یونہی تمام ہوتی ہے
کوچہ چابک سواراں میں طالع مند اپنے اہل خانہ کے ساتھ امن و آشتی سے رہتے تھے۔ بڑے بننے کی دل میں آرزو نہ تھی۔ اس دور میں لوگ اپنی قسمت آپ بنانے، تقدیر کا منہ چڑانے یا حالات کا پھندا گردن سے اتارنے..... راتوں رات لکھ پتی بننے کے آرزو مند نہ ہوئے۔ نام طالع مند تھا، آبرو مند تھے..... وہ اپنی سمٹی سکڑی بری بھلی زندگی پر قانع تھے۔ اس میں ہلچل مچانے کا ارادہ نہ رکھتے تھے۔
اس دور میں دولت سے زیادہ عزت کی قدر کی جاتی۔ ان کی تو ایک ہی آرزو تھی کہ علم دین بڑا ہو کر انہی جیسا سعادت مند، محنتی، دیانتدار اور نیک کاریگر ہو، گھر بسائے اور اچھا نام پائے۔ خدا اسے برائی سے بچائے۔ کسے خبر تھی کہ علم دین بڑا ہو کر گھر کی اوقات بدل دے گا۔ اسے زمین سے اٹھا کر اوج ثریا پر لے جائے گا۔ محلہ چابک سواراں کو تاریخ کا درخشاں ستارہ بنا دے گا۔ لاہور کو اس پر ناز رہے گا، لاہور کے ماتھے کا جھومر بن جائے گا۔
طالع مند نے اپنے بیٹے کو مسجد میں بھیجا تا کہ قرآن مجید پڑھیں۔ علم دین نے کچھ دن وہاں گزارے۔ تعلیم حاصل کی لیکن وہ زیادہ تعلیم تھا جو عمل کی دنیا میں تعلیم سے بڑھ کر تھا بلکہ جس کی بچے کو خبر نہ تھی لیکن اس جوہر نے جاودانہ عظمت میسر آئی۔ اس کام کا کوئی بدل نہ
طالع مند اعلیٰ پایہ کے ہنر مند تھے بھی لے جاتے۔ بڑا بیٹا محمد دین تو پڑھنے
محمد دین اور علم دین میں بڑا پیا ہوتا۔ ایک مرتبہ تو ایسا ہوا کہ محمد دین سے کے ساتھ سیالکوٹ گیا ہوا تھا۔ محمد دین سیالکوٹ پہنچا۔ دونوں بھائیوں کی باہمی پہنچا تو علم دین چارپائی پر بیٹھا تھا۔ اسے
شدت جذبات سے دونوں ایک تھے۔ نجانے کتنی دیر تک وہ ایک دوسرے
محمد دین نے خواب میں علم دین کو ہوئے تھے، ہاتھ پر پٹی بندھی تھی۔ شیشے
اگلے روز محمد دین لاہور آگئے،
علم دین والد کے ساتھ رہتے ہو نجار بنیں گے اور نجاری ہی کو ذریعہ بیٹھے۔ ویسے تیز دھار اوزاروں سے کام کر
طالع مند کبھی بیکار نہ رہتے۔ لاہو کرتے، نیک نامی سے کرتے۔ اپنے مالکا نہ کرتے بلکہ انسانی ہمدردی کا رشتہ قائم کر کرتے۔
علم دین کا گھر پرانی وضع کا تھا
گزارے۔ تعلیم حاصل کی لیکن وہ زیادہ تعلیم نہ پاسکے۔ قدرت کا کوئی راز تھا۔ ان سے ایسا کام لیا جانا تھا جو عمل کی دنیا میں تعلیم سے بڑھ کر تھا بلکہ تعلیم کا مقصود تھا۔ ان میں من جانب اللہ ایسا جوہر خفی تھا جس کی بچے کو خبر نہ تھی لیکن اس جوہر نے آگے چل کر وہ کام کر دکھایا جس سے انہیں ”تب و تاب جاودانہ“ میسر آئی۔ اس کام کا کوئی بدل نہ تھا۔
طالع مند اعلیٰ پایہ کے ہنر مند تھے۔ وہ علم دین کو گاہے بگاہے اپنے ساتھ کام پر لاہور سے باہر بھی لے جاتے۔ بڑا بیٹا محمد دین تو پڑھ لکھ کر سرکاری نوکر ہو گیا لیکن علم دین نے موروثی ہنر ہی سیکھا۔
محمد دین اور علم دین میں بڑا پیار تھا۔ علم دین والد کے ساتھ کبھی باہر جاتا تو محمد دین کو قلق ہوتا۔ ایک مرتبہ تو ایسا ہوا کہ محمد دین نے علم دین کے بارے میں خواب پریشان دیکھا۔ علم دین والد کے ساتھ سیالکوٹ گیا ہوا تھا۔ محمد دین بے چین ہوا اور چھوٹے بھائی کی خیریت معلوم کرنے سیالکوٹ پہنچا۔ دونوں بھائیوں کی باہمی محبت کا یہ عالم تھا کہ جب محمد دین اپنے والد کے ٹھکانے پر پہنچا تو علم دین چارپائی پر بیٹھا تھا۔ اسے دیکھتے ہی علم دین اچھل پڑا۔
شدت جذبات سے دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ ایک عرصہ بعد دونوں بھائی ملے تھے۔ نجانے کتنی دیر تک وہ ایک دوسرے سے بغلگیر رہے کہ طالع مند نے محمد دین سے بیٹھ جانے کو کہا۔
محمد دین نے خواب میں علم دین کو زخمی ہوتے دیکھا تھا۔ خواب کتنا سچا نکلا۔ علم دین واقعی زخمی ہوئے تھے، ہاتھ پر پٹی بندھی تھی۔ تیشہ لگا تھا۔ ہاتھ زخمی تو ہوا لیکن زخم گہرا نہ تھا۔
اگلے روز محمد دین لاہور آ گئے۔
علم دین والد کے ساتھ رہتے، والد کا ہاتھ بٹاتے اور کام سیکھتے۔ اہل خانہ سمجھ گئے کہ علم دین نجار بنیں گے اور نجاری ہی کو ذریعہ معاش بنائیں گے۔ ابھی اناڑی تھے، جبھی تو ہاتھ زخمی کر بیٹھے۔ ویسے تیز دھار اوزاروں سے کام کرنے اور سیکھنے میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔
طالع مند کبھی بیکار نہ رہتے۔ لاہور میں کام کرتے، لاہور سے باہر بھی جاتے۔ جہاں کام کرتے، نیک نامی سے کرتے۔ اپنے مالکوں سے صرف بسولے اور رندے کے حوالے سے تعلق قائم نہ کرتے بلکہ انسانی ہمدردی کا رشتہ قائم کرتے جس کی وجہ سے لوگ ان سے محبت کرتے، ان کی عزت کرتے۔
علم دین کا گھر پرانی وضع کا تھا جہاں وہ والدین کے زیر سایہ تربیت پا رہے تھے۔ گھر سے
عزت اور شرافت کا سبق لیا۔ وہیں دیانتداری کی خو پائی۔ گھر ہی درسگاہ ٹھہری جہاں سے کتابی علم تو نہ ملا لیکن اس کی روح جذب کی، اس کی غایت جانی پہچانی۔
گھر کے شریفانہ ماحول میں ڈھل گئے۔ والد کی صحبت میں رہ کر معلوم ہوا کہ بندہ وہ ہے جو دوسروں کے کام آئے۔ ایثار اور احسان کو زندگی کا بنیادی عنصر قرار دے، خلوص سے پیش آئے، اس کا صلہ کسی نہ کسی شکل میں بندے کو مل جاتا ہے۔
علم دین نے بچپن ہی میں بعض ایسے واقعات دیکھے جن کے نقوش ان کے دماغ پر ثبت ہوئے اور ان کی کردار سازی میں کام آئے۔
ایک سال والد کے ساتھ کوہاٹ میں رہے۔ یہ علاقہ غیور اور بہادر پٹھانوں کا ہے۔ تب یہاں باڑہ قسم کی کوئی چیز نہ تھی۔ یہ اچھے، بہت ہی اچھے لوگوں کا ڈیرہ ہے۔ پٹھانوں کا یہ وصف ہے کہ جو ان سے نیکی کرے وہ اسے بھلاتے نہیں، یاد رکھتے ہیں، بڑے مخیر طبع اور متواضع لوگ ہیں، محسن کو قرار واقعی صلہ دیتے ہیں۔ جان تک نثار کر دیتے ہیں۔ یہی ان کی زندگی ہے، یہی چلن ہے، یہی دستور حیات ہے۔
علم دین نے پٹھانوں کی اعلیٰ صفات کا بہ نفس نفیس مطالعہ کیا۔ والد نے کوہاٹ جا کر رہنے کیلئے مکان کرائے پر لیا جس کا مالک اکبر خان پٹھان تھا۔ کام کے لئے گھر سے باہر جاتے۔ ایک دن روشن خاں نامی ایک شخص کے گھر پر کام کرنے گئے۔ کام میں مصروف تھے کہ کسی نے آ کر بتایا کہ ان کے مالک مکان اکبر خان کا بھائی سے جھگڑا ہو گیا ہے۔ ’’اس کا بھائی شدید زخمی ہو گیا ہے اور اس کی رپورٹ پر پولیس نے اکبر خان کو گرفتار کر لیا ہے۔‘‘
اکبر خان کی خبر سنتے ہی طالع مند نے کام چھوڑا اور اکبر خان کی مدد پر جانے کو تیار ہو گئے۔
روشن خان حیران ہوا کہ یہ پردیسی پنجابی روزی چھوڑ کر پٹھان کی مدد کو جا رہا ہے۔ اس نے پوچھا.......
”تمہاری اس کے ساتھ کوئی رشتہ داری ہے جو یوں کام چھوڑ کر جا رہے ہو؟“
طالع مند نے کہا......
”میں اس کا کرایہ دار ہوں۔ وہ میرا محسن ہے۔ اگر خوشی کے وقت وہ مجھے نہیں بھول سکتا تو پھر میں مصیبت کی گھڑی میں اس کی خبر کیوں نہیں لے سکتا؟“
روشن خان پر دیسی کے جواب سے بہت متاثر ہوا۔ وہ بھی ساتھ چل دیا اور دونوں کی کوشش سے اکبر خان پولیس کی گرفت سے چھوٹ گیا۔ اس واقعہ کا اکبر خان پر یہ اثر ہوا کہ طالع مند کی ضد اور اس کے اصرار کے باوجود اکبر خان نے ایک سال تک کے قیام میں طالع مند سے کرایہ وصول نہیں کیا۔ یہی نہیں بلکہ واپس لاہور آنے کا ارادہ کیا تو اکبر خان نے پیار کی نشانی کے طور پر باپ بیٹے کو ایک ایک چادر دی۔
زندگی امن اور چین سے گزر رہی تھی۔ بڑے بھائی کی شادی ہو چکی تھی۔ اب علم دین کی باری تھی چنانچہ ماموں کی بیٹی سے منگنی ہو گئی۔ شادی کی طرف یہ پہلا قدم تھا۔
علم دین کو گھر اور کام سے سروکار تھا۔ باہر جو طوفان برپا تھا اس کی خبر نہ تھی۔ ”اس وقت انہیں یہ بھی علم نہ تھا کہ گندی ذہنیت کے شیطان صفت راجپال نامی بد بخت نے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ایک دل آزار کتاب (رنگیلا رسول) شائع کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے ۔“
وہ سیدھے سادھے مسلمان یعنی انسان تھے۔ باہر تو اور بھی کئی طوفان اٹھ رہے تھے۔ ہندو مسلم اتحاد زندہ باد! انقلاب زندہ باد! فرنگی راج مردہ باد اور اسی نوع کے فلک شگاف نعرے رات دن گونج رہے تھے۔ ادھر اس سب کو تہس نہس کرنے کیلئے راجپال نے نفرتوں اور کراہتوں سے لدا پھندا طوفان برپا کر دیا تھا۔ اس طوفان بد تمیزی سے ہندو آپس میں بٹ گئے ۔
حکومت کو راجپال کے خلاف مقدمہ چلانے کو کہا گیا۔ مقدمہ چلا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ عبدالعزیز اور اللہ بخش کو الجھا کر سزا دی گئی۔ الٹا چور سر خرو ہوا اور کوتوال ان کے ساتھ مل گیا۔ اخبارات چیختے ، چلاتے، راجپال کے خلاف کارروائی کے مطالبہ کرتے۔ جلسے ہوتے، جلوس نکلتے لیکن حکومت اور عدل و انصاف کے کان بہرے ہو گئے ۔
مسلمان دل برداشتہ تو ہوئے لیکن سرگرم عمل رہے۔ دتی دروازہ سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھا۔ یہاں سے جو آواز اٹھتی پورے ہند میں گونج جاتی ۔ وہ دور ہی ایسا تھا۔ دتی دروازہ اور موچی دروازہ میں ہر دم جوالا مکھی سلگتی رہی ۔ آتش نفس مقرر انہیں ہوا دیتے رہے۔ یہ باکمال مقرر زندگی کو موت سے لڑا دیتے۔ قوم کسی دیوانہ وار موت کے گلے پڑ جاتی ۔ لوگ سود و زیاں سے بالا تر ہو جاتے اور بے دریغ جانوں پر کھیل جاتے۔ راجپال کا معاملہ اتنی اہمیت اختیار کر گیا تھا کہ دتی دروازے کے باغ
یہاں اس کا ذکر لازم ہو گیا۔
”علم دین حالات سے بے خبر تھے۔ ایک روز حسب معمول کام پر گئے ہوئے تھے۔ غروب آفتاب کے بعد گھر واپس جارہے تھے تو دلی دروازے میں لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا۔ ایک جوان کو تقریر کرتے دیکھا تو رکے۔ کچھ دیر کھڑے سنتے رہے لیکن ان کے پلے کوئی بات نہ پڑی۔ قریب کھڑے ایک صاحب سے انہوں نے دریافت کیا تو انہوں نے علم دین کو بتایا کہ راجپال نے نبی کریم ﷺ کے خلاف کتاب چھاپی ہے، اس کے خلاف تقریریں ہو رہی ہیں۔“
وہ دیر تک تقریریں سنتے رہے۔ پھر ایک اور مقرر آئے جو پنجابی زبان میں تقریر کرنے لگے۔ یہ علم دین کی اپنی زبان تھی جس کی تربیت گھر سے ملی تھی۔ اردو کی تعلیم مدرسے سے ملتی تھی۔ مدرسے وہ گئے ہی نہیں۔ پنجابی تقریر اچھی طرح ان کی سمجھ میں آئی جس کا ماحصل یہ تھا کہ راجپال نے کتاب چھاپی ہے جس میں ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے اور نازیبا الفاظ استعمال کئے ہیں۔ راجپال واجب القتل ہے۔ اسے اس شرانگیز حرکت کی سزا ضرور ملنی چاہئے۔
علم دین کی زندگی کے تیور ہی بدل گئے۔ پڑھے لکھے نہ تھے۔ سیدھے سادھے مسلمان تھے اور کچھ نہ سہی کلمہ تو انہیں آتا تھا۔ یہی بہت بڑا سرمایہ حیات تھا ان کیلئے۔ کلمے میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ایک سانس میں لیتے تھے۔ یہی دو سہارے، دو محور تھے ان کی سوچ کے۔
انہوں نے راجپال کو اس کی شرارت بلکہ شرانگیزی کی سزا دینا ضروری سمجھا۔
دلی دروازہ کے باغ سے آتش نوا مقرروں کی تقریریں سن کر دیر سے گھر آئے طالع مند (والد) نے پوچھا، دیر سے کیوں آئے؟ تو انہوں نے جلسے کی ساری کارروائی بیان کی۔ راجپال کی حرکت کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ جلسے میں اسے واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔
طالع مند بھی سیدھے سادھے کلمہ گو تھے۔ ہر مسلمان کی طرح انہیں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی گوارا نہ تھی۔ انہوں نے بھی اس بات کی تائید کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ کرنے والے بداندیش کو واصل جہنم کرنا چاہئے۔
یوں علم دین کو گویا گھر سے بھی اجازت مل گئی اور دشمن کا کام تمام کرنے کے خیال کو تقویت پہنچی۔ علم دین کے دل میں جو بھانبڑ مچا تھا، اس کی خبر کسی کو نہ تھی۔
وہ اپنے دوست شیدے سے ملتے۔ راجپال اور اس کی کتاب کا ذکر کرتے۔ ان دنوں کوچہ و بازار میں ہر جگہ یہی موضوع زیر بحث آتا۔ جہاں دو بندے اکٹھے ہوئے، راجپال کی حرکت پر تبادلہ خیال شروع ہو جاتا۔ فرنگی کی جانبداری، مجرم کو کھلی چھٹی دینے اور مسلمانوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنانے کا تذکرہ ہوتا۔ مسلمانوں کی تاریخی رواداری اور غیر مسلم ہمسائیوں سے حسن سلوک کی باتیں ہوتیں۔ رات دن یہی ہوتا۔ باقی تمام موضوع اس موضوع میں دب کر رہ گئے۔ ذکر خدا اور ذکر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اولیت حاصل نہ ہو تو اور کس موضوع کو ہو؟
شیدا اچھا لڑکا تھا لیکن ایک بھلے آدمی نے طالع مند کے دل میں شک بٹھا دیا کہ وہ آوارہ ہے، علم دین کی اس سے دوستی ٹھیک نہیں۔ طالع مند نے بیٹے کو سمجھایا لیکن بات نہ بنی۔ علم دین کا یہی ایک نوجوان مزاج آشنا تھا۔ اسی کے ساتھ علم دین گھومتے پھرتے۔
پتہ نہ چل رہا تھا کہ راجپال کون ہے؟ کہاں ہے دکان اس کی؟ کیا حلیہ ہے اس کا؟
انجام کار علم دین کو شیدے کے ایک دوست سے معلوم ہوا کہ شاتم رسول ہسپتال روڈ پر کتابوں کی دکان کرتا ہے۔ طالع مند کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ علم دین کو کیا ہو گیا ہے۔ کام پر باقاعدہ نہیں جاتا، کھانے کا بھی ناغہ کر لیتا ہے۔ کیا عجب کہ علم دین کے روز و شب کے معمولات میں جو بے قاعدگی آئی ہے اس کا سبب شیدا ہو جس کے باپ کی نسبت خبر ملی کہ وہ جواری ہے اور اپنی دکان جوئے میں ہار چکا ہے۔
طالع مند کی طبیعت غصیلی تھی۔ علم دین جب دیر سے گھر آئے اور طالع مند کو پتہ چلا کہ شیدے لوفر کے ساتھ پھرتے رہے ہیں تو وہ غصے سے لال پیلے ہو گئے۔ باپ کے سامنے جوان بیٹا خاموش سر جھکائے کھڑا رہا۔ باپ کا ادب بھی تھا، ڈر بھی تھا۔ باپ نے انہیں پکڑ کر دھکیلا ..... اور کہا؟ چلا جا اُس لوفر کے پاس!
بڑے بھائی محمد دین کو اپنے چھوٹے بھائی سے بڑا پیار تھا۔ فوراً بیچ بچاؤ کیلئے آئے اور باپ کو منا لیا۔ بھائی اندر لے گئے اور ناصحانہ درس دیا۔ اونچ نیچ سمجھائی، بری صحبت سے بچنے کو کہا۔
علم دین کو اپنی ذات پر یقین تھا اور جانتے تھے کہ وہ بری صحبت کا شکار نہیں۔ شیدے کے حوالے سے بری صحبت کا سن کر آبدیدہ بھی ہوئے اور برہم بھی۔
وہ پوری طرح بات واضح نہیں کر سکتے تھے۔ ان کے دل میں جو بھانبڑ مچا تھا اس کا وہ کیسے
ذکر کرتے؟ موت اور زندگی کا سوال تھا۔ انہوں نے سر پر کفن باندھ لیا تھا لیکن کسی کو نظر نہ آ رہا تھا۔ اپنے ارادے کا خفیف سا اشارہ بھی کسی کو نہ دے سکتے تھے، مبادا کوئی مسئلہ کھڑا ہو جائے اور وہ شک کی بھول بھلیوں میں جا پہنچیں۔ البتہ اب اتنا ضرور ہو گیا کہ گھر میں راجپال کے قتل کی بات عام انداز میں ہونے لگی۔ اس گفتگو میں طالع مند اور علم دین شریک ہوتے۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی۔ گھر گھر اس کا چرچا تھا۔
لوگوں کے دلوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ادھر باہر بھی آگ بھڑک رہی تھی۔ مسلمانوں کے لیڈر، رہنما، سیاسی اور مذہبی خطیب پوری قوت سے کہہ رہے تھے کہ زبان دراز راج پال کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ ایسا فتنہ پھر کبھی سر نہ اٹھائے۔ عاشق رسول امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے بڑی رقت انگیز تقریر کی۔ دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ تھا جس کی رو سے کسی نوع کا جلسہ یا اجتماع نہیں ہو سکتا تھا لیکن مسلمانوں کا ایک فقید المثال اجتماع بیرون دہلی دروازہ درگاہ شاہ محمد غوث کے احاطہ میں منعقد ہوا۔ وہاں اس عاشق رسولؐ نے ناموس رسالت پر جو تقریر کی، وہ اتنی دل گداز تھی کہ سامعین پر رقت طاری ہوگئی۔ کچھ لوگ تو دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ شاہ جی نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
”آج آپ لوگ جناب فخر رسل محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ آج جنس انسان کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرہ میں ہے۔ آج اس جلیل المرتبت کا ناموس معرض خطر میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔“ اس جلسہ میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید دہلوی بھی موجود تھے۔ شاہ جی نے ان سے مخاطب ہو کر کہا:
”آج مفتی کفایت اللہ اور احمد سعید کے دروازے پر امّ المومنین عائشہ صدیقہ اور امّ المومنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہن کھڑی آواز دے رہی ہیں۔ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں۔ ارے دیکھو! کہیں امّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا دروازہ پر تو کھڑی نہیں؟“
یہ الفاظ دل کی گہرائیوں سے اس جوش اور ولولہ کے ساتھ ابل پڑے کہ سامعین کی نظریں معاً دروازے کی طرف اٹھ گئیں اور ہر طرف سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ پھر اپنی تقریر
عالمی سیرت کانفرنس کیمبل پور
جاری رکھتے ہوئے فرمایا:
”تمہاری محبتوں کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو لیکن کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج گنبد خضریٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تڑپ رہے ہیں۔ آج خدیجہ اور عائشہ (رضی اللہ عنہن) پریشان ہیں۔ بتاؤ! تمہارے دلوں میں امہات المومنین کیلئے کوئی جگہ ہے؟ آج ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا تم سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ وہی عائشہ رضی اللہ عنہا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”حمیرا“ کہہ کر پکارا کرتے تھے، جنہوں نے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ یاد رکھو کہ اگر تم نے خدیجہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن کیلئے جانیں دے دیں تو یہ کچھ کم فخر کی بات نہیں ۔“
شاہ جی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا:
”جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے، ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے چین سے نہیں رہ سکتے۔ پولیس جھوٹی، حکومت کوڑھی اور ڈپٹی کمشنر نااہل ہے۔ وہ ہندو اخبارات کی ہرزہ سرائی تو روک نہیں سکتا، لیکن علمائے کرام کی تقریریں روکنا چاہتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دفعہ ۱۴۴ کے یہیں پر بخیے اڑا دیئے جائیں۔ میں دفعہ ۱۴۴ کو اپنے جوتے کی نوک تلے مسل کر بتا دوں گا۔
جلا کے راکھ نہ کر دوں تو داغ نام نہیں
داغ کا یہ شعر شاہ جی نے کچھ اس انداز سے پڑھا کہ لوگ بے قابو ہو گئے۔ اس تقریر نے سارے شہر میں آگ لگا دی۔ لاہور میں بدنام زمانہ کتاب، اس کے مصنف اور ناشر کے خلاف جابجا جلسے ہونے لگے۔“
”انہی دنوں انجمن خدام الدین نے شیرانوالہ دروازہ میں راجپال کے قتل کا فتویٰ دے دیا۔“
سارا ماحول شعلوں سے بھر پور ہو گیا۔ ملک کے طول و عرض سے احتجاجی جلسے ہونے اور جلوس نکلنے لگے تھے۔ آخر ایک مرد غازی اٹھا اور اس نے ایک صبح راجپال کی دکان پر جا کر چاقو سے حملہ کیا۔ تیس برس کا یہ مجاہد اندرون یکی دروازے کا دودھ فروش خدا بخش اکو جہاں تھا۔ راجپال زخمی تو ہوا لیکن اس کی جان بچ گئی۔ مقدمہ چلا اور جلد ہی نمٹا دیا گیا۔ مجاہد خدا بخش کی طرف سے کوئی وکیل
مقام
پیش نہ ہوا۔ ایک دو دن کی کارروائی کے بعد عدالت نے سات سال قید سخت کی سزا دی جس میں تین ماہ قید تنہائی کے تھے۔ رہائی کے بعد پانچ ہزار روپے کی ضمانت کا بھی پابند کیا گیا۔ مسلمان اس عدالتی فیصلے کو کیونکر قبول کرتے۔ سراسر بے انصافی ہورہی اور مجرم کو پناہ دی جارہی تھی۔ عدالت سے ملزم کو قرار واقعی سزا ملنے کی امید نہ رہی تو وہ خود ہی برائی کا قلع قمع کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔ بات ہند کی حدود سے باہر جاچکی تھی چنانچہ افغانستان کے عبدالعزیز نامی غیور تاجر نے راجپال پر حملہ کیا لیکن انہیں پہچاننے میں غلطی ہوئی۔ عبدالعزیز مہاشے کی دکان پر پہنچ گئے، جہاں دو آدمی بیٹھے اسلام کے خلاف اشتعال انگیز گفتگو کر رہے تھے۔ غازی نے اپنی دانست میں مہاشہ راجپال پر حملہ کیا لیکن وہ سوامی ستیانند تھا۔ اب پھر بسرعت فیصلہ کیا گیا۔ عبدالعزیز وکیل کے بغیر پیش ہوئے۔ عدالت اتنی جلدی میں تھی کہ وکیل بنانے کیلئے وقت ہی نہ ملتا۔ ۹؍اکتوبر ۱۹۲۷ء کو حملہ ہوا۔ ۱۱؍اکتوبر کو عدالت میں مقدمہ پیش ہوا۔ ۱۲؍اکتوبر کو عدالت نے سات سال قید سخت کی سزا دی۔ تین ماہ قید تنہائی۔ رہائی کے بعد پانچ پانچ ہزار روپے کی تین ضمانتیں دینا قرار دیا۔
شاید ہی کبھی عدالت میں قتل کے مقدمات اس عجلت سے پیش ہوئے اور وکیل کے بغیر نمٹا دیئے گئے ہوں۔ یہ صورتحال بیسویں صدی کی فرنگی عدالتوں کی تھیں۔ کلیسائی عدالتوں کے صدیوں بعد بھی فرنگی کے تیور نہ بدلے۔ امن قائم نہ ہوا۔ اب غازی علم دین حرکت میں آئے۔ ان کا رویہ والدین کیلئے تشویشناک تھا۔ علم دین کے کام میں بے قاعدگی اور طبیعت میں بیکلی آگئی تھی۔ اکھڑپن آگیا تھا رویئے میں۔
طالع مند نے علم دین کے بارے میں سوچا، اس اکھڑپن کا ایک ہی علاج ہے کہ اس کا بیاہ کر دیا جائے۔ ماں باپ کو اولاد کی پریشانی کے سلسلے میں یہی نسخہ یاد ہے۔ سب اسی کو آزماتے تھے۔ طالع مند نے فیصلہ کرلیا کہ علم دین کو جلد ہی سلسلۂ ازدواج میں منسلک کر دیا جائے گا۔
ادھر علم دین کی حالت ہی اور تھی۔ ایک رات اس نے خواب دیکھا۔ ایک بزرگ ملے اور انہوں نے کہا، علم دین ابھی تک سو رہے ہو۔ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف دشمن کارروائیوں میں لگے ہیں۔ اٹھو جلدی کرو!
”علم دین ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ ان کا تمام جسم پسینے سے شرابور تھا۔“ پھر آنکھ نہ لگی۔ منہ اندھیرے اٹھے۔ اوزار سنبھالے اور سیدھے شیدے کے گھر پہنچے۔
غازی علم د...
شیدے کو لیا اور باہر درواز...
عجیب بات ہے کہ علم دین نے خواب... کو بزرگ نے راجپال کا صفایا کرنے... کرے۔ دیر تک بحث چلتی رہی۔ دونوں... تھا۔ دونوں ہی اپنے موقف پر ڈٹے تھ... مند ہو گئے۔ دو مرتبہ قرعہ اندازی کی گئ... اصرار کیا کہ تیسری بار پھر قرعہ اندازی کی... جوان کیا کر رہے ہیں۔ آخر تیسری بار پر...
اب شک وشبہ کی کوئی گنجائش ن... انہی کے نام نکلا۔ وہی باہمی فیصلے سے شید...
پھر دونوں وہاں سے اٹھ کر...
گھر والوں کو خبر ہی نہ ہوئی ک... انہیں بے چین کر رہا ہے اور اس کا منطقی ا... کیا سبب ہے؟
ایک مرتبہ پھر خواب میں آکر... کوئی اور بازی لے جائے گا۔“
ارادہ تو کر ہی چکے تھے۔ مکرر خو...
آخری بار اپنے دوست شیدے... دی۔ گھر آئے۔ رات گئے تک جاگتے رہ... تکمیل کی بابت سوچ رہے تھے۔ اس کے...
اگلی صبح گھر سے نکلے۔ گنجی بازا... جہاں چھریوں چاقوؤں کا ڈھیر لگا تھا۔ د... دیئے۔ اب ”نغمۂ بیش از تار“ ہو گیا۔ روپ...
”انارکلی میں ہسپتال روڈ پر عشرت...
شیدے کو لیا اور بھاٹی دروازے کی طرف چلے گئے۔ ایک جگہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔
عجیب بات ہے کہ علم دین نے خواب دیکھا تو ویسا ہی خواب شیدے نے رات کو دیکھا تھا۔ دونوں ہی کو بزرگ نے راجپال کا صفایا کرنے کو کہا ...... دونوں پریشان ہوئے۔ کون یہ کام کرے، کون نہ کرے۔ دیر تک بحث چلتی رہی۔ دونوں ہی یہ کام کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ان میں کوئی فیصلہ نہ ہو رہا تھا۔ دونوں ہی اپنے موقف پر ڈٹے تھے۔ آخر قرار پایا کہ قرعہ اندازی کی جائے۔ دونوں اس پر رضا مند ہو گئے۔ دو مرتبہ قرعہ اندازی کی گئی۔ دونوں مرتبہ علم دین کے نام کی پرچی نکلی۔ شیدے نے اصرار کیا کہ تیسری بار پھر قرعہ اندازی کی جائے۔ پرچی نکالنے والا اجنبی لڑکا حیران تھا کہ یہ دونوں جوان کیا کر رہے ہیں۔ آخر تیسری بار پر علم دین رضامند ہو گئے۔ اب پھر انہی کا نام نکلا۔ اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ علم دین مارے خوشی کے پھولے نہ سمائے۔ قرعہ فال انہی کے نام نکلا۔ وہی باہمی فیصلے سے شاتم رسول کا فیصلہ کرنے پر مامور ہوئے۔
پھر دونوں وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔
گھر والوں کو خبر ہی نہ ہوئی کہ علم دین نے کیا فیصلہ کیا ہے، ان کے اندر کب سے طوفان انہیں بے چین کر رہا ہے اور اس کا منطقی انجام کیا ہوگا۔ ان کی زندگی میں جو بے ترتیبی آئی ہے، اس کا کیا سبب ہے؟
ایک مرتبہ پھر خواب میں آکر بزرگ نے اشارہ کیا ..... ”علم دین اٹھو! جلدی کرو! دیر کی تو کوئی اور بازی لے جائے گا ۔“
ارادہ تو کر ہی چکے تھے۔ مکرر خواب میں بزرگ کو دیکھا تو ارادہ اور بھی مضبوط ہو گیا۔
آخری بار اپنے دوست شیدے سے ملنے گئے۔ اسے اپنی چھتری اور گھڑی یادگار کے طور پر دی۔ گھر آئے۔ رات گئے تک جاگتے رہے۔ نیند کیسے آتی؟ وہ تو زندگی کے سب سے بڑے مشن کی تکمیل کی بابت سوچ رہے تھے۔ اس کے علاوہ اب کوئی دوسرا خیال پاس بھی پھٹک نہ سکتا تھا۔
اگلی صبح گھر سے نکلے۔ گمٹی بازار کی طرف گئے اور آتما رام نامی کباڑیے کی دکان پر پہنچے جہاں چھریوں چاقوؤں کا ڈھیر لگا تھا۔ وہاں سے انہوں نے اپنے مطلب کی چھری لے لی اور چل دیئے۔ اب ”نغمہ پیش از تار“ ہو گیا۔ روح بے قابو ہو گئی۔
”انارکلی میں ہسپتال روڈ پر عشرت پبلشنگ ہاؤس کے سامنے ہی راجپال کا دفتر تھا۔.....“
معلوم ہوا کہ راجپال ابھی نہیں آیا۔ آتا ہے تو پولیس اس کی حفاظت کیلئے آجاتی ہے۔ اتنے میں راجپال کار پر آیا۔ کھوکھے والے نے بتایا ، کار سے نکلنے والا راجپال ہے۔ اسی نے کتاب چھاپی ہے۔
”راجپال ہردوار سے واپس آیا تھا، دفتر میں جا کر اپنی کرسی پر بیٹھا اور پولیس کو اپنی آمد کی خبر دینے کیلئے ٹیلیفون کرنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ علم دین دفتر کے اندر داخل ہوئے۔ اس وقت راجپال کے دو ملازم وہاں موجود تھے۔ کیدارناتھ پچھلے کمرے میں کتابیں رکھ رہا تھا۔ جبکہ بھگت رام، راجپال کے پاس ہی کھڑا تھا۔ راجپال نے درمیانے قد کے گندمی رنگ والے جوان کو اندر داخل ہوتے دیکھ لیا لیکن وہ سوچ بھی نہ سکا کہ موت اس کے اتنے قریب آ چکی ہے..... پلک جھپکتے میں چھری نکالی..... ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور پھر راجپال کے جگر پر جا لگا..... چھری کا پھل سینے میں اتر چکا تھا۔ ایک ہی وار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ راجپال کے منہ سے صرف ہائے کی آواز نکلی اور وہ اوندھے منہ زمین پر جا پڑا۔
”علم دین الٹے قدموں باہر دوڑے۔ کیدارناتھ اور بھگت رام نے باہر نکل کر شور مچایا..... پکڑو پکڑو..... مار گیا، مار گیا، مار گیا ۔“
راجپال کے قتل کی خبر آنا فاناً شہر میں پھیل گئی۔ پوسٹ مارٹم ہوا تو کئی ہزار ہندو ہسپتال پہنچ گئے اور آریہ سماجی ”ہندو دھرم کی جے، ویدک دھرم کی جے“ کے نعرے سنائی دینے لگے۔
امرت دھارا کے موجد پنڈت ٹھاکردت شرما ، رائے بہادر بدری داس اور پرمانند کا وفد ڈپٹی کمشنر سے ملا اور راجپال کی ارتھی کو ہندو محلوں میں سے لے جانے کی درخواست کی لیکن ڈپٹی کمشنر نہ مانا۔ کیسے مانتا؟ اس کی منشاء کے عین مطابق، حسب ضرورت ہندو مسلم اتحاد درہم برہم ہونے کی صورت پیدا ہو گئی تھی۔ وہ کسی کو اس حد کے آگے کیونکر جانے دیتا۔ اگلا مرحلہ تصادم کا تھا جس سے امن قائم نہ رہتا۔ فرنگی کو اس سے نقصان پہنچتا چنانچہ جب لوگ زبردستی کرنے اور ارتھی کا جلوس نکالنے پر تل گئے تو پولیس کو لاٹھی چارج کا حکم ملا۔ پنجاب پولیس امن قائم کرنے کا بڑا تجربہ رکھتی ہے ۔ ”پولیس نے لٹھ برسائے اور وہ گتھم گتھا ہوئی کہ توبہ ہی بھلی ۔“
علم دین کے گھر والوں کو علم ہوا تو وہ حیران ضرور ہوئے لیکن انہیں یہ پتہ چل گیا کہ ان کے چشم و چراغ نے کیسا زبردست کارنامہ سرانجام دیا اور ان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ پولیس نے
بغرض حفاظت ان کے گھر پر پڑاؤ ڈال لیا اور ہجوم کو ہٹا دیا۔ اب کوئی ان کے گھر میں جا نہ سکتا تھا، وہ بھی گھر سے باہر نہ آسکتے تھے۔ شیدا باہر رہ کر انہیں ضرورت کی چیزیں پہنچانے لگا۔
طالع مند کو قرعہ اندازی کا علم ہوا تو شیدے کے بارے میں سارے شکوک و شبہات رفع ہو گئے۔ پھر اس نے جس لگن سے خدمت کی اس سے اس نے ان کا دل موہ لیا۔
مسلمان اب چاہتے تھے کہ حکومت غازی علم دین کے اقدام کو درست سمجھے کیونکہ انہوں نے بجا طور پر اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی گوارا نہیں کی۔ ان کا دل مجروح ہوا جس کے نتیجے میں بد باطن راجپال کا خاتمہ کیا۔ علم دین اپنے فعل میں حق بجانب تھے۔
غازی علم دین کی بے گناہی میں نہ صرف ہند بلکہ افغانستان تک میں بھی آوازیں اٹھنے لگیں اور علم دین کی بریت پر زور دیا جانے لگا۔
ادھر آریہ سماج والے چلاّ رہے تھے کہ مسلمان ان کے فرائض منصبی میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ انہیں اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کیلئے کھلی چھٹی دی جائے۔ وہ دل آزار تقریریں کرتے اور اشتعال انگیز کتابیں کھلم کھلا چھاپتے رہیں۔ مسلمان چپ چاپ یہ سب کچھ دیکھتے رہیں اور ان سے باز پرس نہ کریں۔ جیسے آج کل یورپ والے آزادی اظہار رائے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔
فرنگی تماشا دیکھ رہا تھا، اور طوفان بدتمیزی کو روک نہ رہا تھا۔
دونوں طرف آگ کے شعلے پھیل رہے تھے۔ نتیجہ واضح تھا۔ بالآخر دونوں قوموں کے رہنماؤں اور اخبار والوں نے سدباب کی تدبیر کی۔ باہمی افہام و تفہیم سے طے پایا کہ لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے تا کہ فساد نہ ہو جائے۔ ایسا ہوا تو گلی گلی، کوچہ کوچہ خون کی ندیاں بہہ نکلیں گی اور بڑے پیمانے پر معصوم انسان جانیں گنوا بیٹھیں گے۔ مولانا ظفر علی خاں سے استدعا کی کہ اپنے اخبار ”زمیندار“ میں اشتعال انگیز خبریں اور مضامین نہ چھاپیں۔ مولانا نے صاف صاف کہا، اگر راجپال کے خلاف پہلے ہی کارروائی کی جاتی تو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ اب جو بویا ہے سو کاٹو۔ تاہم وہ اس شرط پر مان گئے کہ ہندو اخبارات کی زبان بندی بھی کی جائے۔ ورنہ یہ سلسلہ تو یونہی چلتا رہے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے یقین دلایا کہ ہندو پریس کو بھی کنٹرول کیا جائے گا۔ تاہم معاملہ معمولی نہ تھا جسے لوگ دل سے اتار دیتے۔ لاہور میں علامہ اقبالؒ، مولانا محمد علی، سر شفیع، مراتب علی شاہ اور میاں
عبدالعزیز نے غازی علم دین کے حق میں قرارداد پاس کروائی۔ کتنے ہی دوسرے شہروں میں بھی ایسی ہی قراردادیں منظور ہوئیں۔
اس طرح ہندو مسلم کشیدگی میں کمی آئی اور اب توجہ اس امر پر دی جانے لگی کہ عدالت انصاف سے کام لے۔ آخر عدالت کا دروازہ کھلا اور غازی علم دین کی قسمت کے فیصلے کی نوبت آئی۔ سب کی نظریں ایک نقطے پر جمع ہو گئیں۔ ۱۰؍اپریل کو پہلی پیشی ہوئی۔ غازی علم دین کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا۔ کتنی تعجب کی بات ہے کہ اس سے پہلے بھی یہی صورت تھی۔ مرد غازی خدا بخش کو جس پر راج پال پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں مقدمہ چلا تو انہیں کوئی وکیل میسر نہ آیا۔ اسی طرح افغانستان کے تاجر غازی عبدالعزیز بھی راجپال پر قاتلانہ حملے کے الزام میں وکیل کے بغیر ہی عدالت میں پیش ہوئے۔
بہر حال تین مرتبہ ایسا ہوا۔ ہائیکورٹ میں غازی علم دین کی طرف سے چوٹی کے وکیل پیش ہوئے۔ بعد ازاں خواجہ فیروز الدین بیرسٹر نے یہ مقدمہ لے لیا۔ ان کے معاون مسٹر اے آر خالد تھے۔ فرخ حسین بیرسٹر تو پہلے سے شامل تھے۔ ان میں مسٹر سلیم اور دیگر وکلاء بھی شامل ہو گئے۔
وکلاء نے جرح کی اور صفائی میں دلائل دیئے لیکن یہاں دلائل سننے والا اور انہیں درخور اعتناء کرنے والا کون تھا؟ عدالت طوفانِ میل کی طرح مقدمے کی سماعت کرنے اور فیصلہ سنانے کیلئے بے چین تھی۔ صفائی کے وکلاء کی کوئی بات سنی نہ گئی، کوئی دلیل قبول نہ کی گئی اور ۲۲؍مئی کو سزائے موت سنا دی۔ ایک ہی راگ الاپا جا رہا تھا۔ راجپال نے جو فتنہ برپا کیا، دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی ، وہ درست ہے۔ غازی علم دین نے شاتم رسول کو قتل کیا، وہ لائق گردن زنی ہے۔
۷؍جولائی ۱۹۲۹ء کو سزائے موت بحال رکھی گئی۔ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۲۹ء (۲۶؍ جمادی الاول ۱۳۴۸ھ) کو میانوالی جیل میں اس حکم پر عملدرآمد ہوا۔ کئی دنوں کے مسلسل احتجاج کے بعد نعش مسلمانوں کو ملی جو مثالی اور غیر معمولی اعزاز و اکرام کے ساتھ میانی صاحب قبرستان (لاہور) میں دفن کر دی گئی۔
کب سے امت مسلمہ بالعموم اور اسلامیان ہند بالخصوص سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے۔ ان کے دل رو رہے تھے۔ قانون اور اخلاق کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ انصاف کی آنکھ ہمیشہ اس فیصلے پر خون کے آنسو ٹپکائے گی۔ فرنگی عہد کی عدالتوں کے انتہائی جانبدارانہ اور غیر منصفانہ فیصلے پر اظہار افسوس کرے گی۔ فرنگی منصفوں نے بالعموم شاتم رسول کے معاون کا کردار ادا کیا ہے۔ چند دیانتدار
دانشوروں کو چھوڑ کر سب اسی مہم میں شامل تھے اور غیر مسلموں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے آفاقی پروگرام لانے والے رسول عربی ﷺ کو نیچا دکھایا جائے۔ قرآنی تعلیمات اور حیات طیبہ کا مطالعہ کوئی غیر مسلم اسلام قبول کئے بغیر نہ رہ سکے۔ (
”مجھے جو کچھ کرنا تھا، میں نے کر لیا“
(ایک شہید کی کہانی، ص ۷۸)
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ایک گستاخ ہندو، ذات رسالت مآب ﷺ کی شان میں آریہ سماج حیدرآباد (سندھ) کے ایک ہندو نے ایک پمفلٹ شائع کیا۔ یہ پمفلٹ ”رنگیلا رسول“ اور اس طرح کے دیگر پمفلٹوں کے ذریعے ناموس رسالت پر اسی انداز میں حملے کئے جا رہے تھے۔ اس وقت سندھ صوبہ بمبئی میں شامل تھا۔ تمام اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت تھی مگر تجارت، تعلیم اور اقتصادی شعبوں میں ہندو غالب تھے برداشت کرنے کے روادار نہ تھے۔
چنانچہ جونہی نتھورام کا ناپاک کتابچہ منظر عام پر آیا مسلمان لیڈر اٹھ کھڑے ہوئے۔ نتھورام کو گرفتار کر لیا گیا، کتابچہ ضبط کر لیا اور ملزم کو ایک سال قید محض کی سزا دی گئی۔ راجپال کے مقدمے میں مسلمانوں نے دیکھا تھا کہ وہ بری ہو گیا تھا۔ چنانچہ نتھورام نے عدالت (ان دنوں سیشن کورٹ) سے ضمانت پر پہلے ہی رہا ہو چکا تھا۔ مارچ ۱۹۳۲ء میں ہائیکورٹ میں اس اپیل کی میں کارروائی سننے آئے جن میں ، میں بھی شامل تھا۔
دانشوروں کو چھوڑ کر باقی اسی مہم میں لگے رہے کہ جہاں تک بن پڑے مسلمانوں کی دل آزاری کی جائے اور غیر مسلموں کی آنکھوں میں دنیا کی عظیم ترین ہستی، انسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے انقلاب آفرین پروگرام لانے والے رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو گرایا جائے...... اسلام کی تبلیغ کو روکا جائے۔ قرآنی تعلیمات اور حیات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرنے کے بعد ممکن نہیں کہ غیر مسلم اسلام قبول کئے بغیر رہ سکے۔
(تلخیص از تحریر عبدالرحمٰن مذنب)
”مجھے جو کچھ کرنا تھا، الحمد للہ کر چکا ہوں“
(ایک شہید کی کہانی، اُن کے وکیل کی زبانی)
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب شردھانند کی شدھی تحریک زوروں پر تھی، اور بد زبان اور گستاخ ہندو، ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر رکیک حملے کر رہے تھے۔ ۱۹۲۳ء کے اوائل میں آریہ سماج حیدرآباد (سندھ) کے سیکرٹری نتھو رام نے ایک کتابچہ بعنوان ”ہسٹری آف اسلام“ شائع کیا۔ یہ پمفلٹ ”رنگیلا رسول“ اور اس جیسی دیگر کتابوں سے ماخوذ مواد پر مشتمل تھا، اور اس میں ناموس رسالت پر اسی انداز میں حملے کئے گئے تھے جیسا کہ گزشتہ گیارہ سال سے آریہ سماجی کر رہے تھے۔ اس وقت سندھ صوبہ بمبئی میں شامل تھا۔ گو صوبہ بمبئی ہندو اکثریت کا صوبہ تھا، لیکن سندھ کے تمام اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ مسلمان اکثریت میں ہونے کے باوجود ملازمت، تجارت، تعلیم اور اقتصادی شعبوں میں ہندوؤں سے پیچھے تھے۔ تاہم وہ اپنے مذہب پر کسی حملے کو برداشت کرنے کے روادار نہ تھے۔
چنانچہ جونہی نتھو رام کا ناپاک کتابچہ بازار میں آیا، عبدالمجید سندھی، حاتم علوی اور دوسرے مسلمان لیڈر اُٹھ کھڑے ہوئے۔ نتھو رام کے خلاف استغاثہ دائر کیا گیا۔ حیدرآباد کی عدالت نے کتابچہ ضبط کر لیا اور ملزم کو ایک سال قید سخت اور جرمانے کی سزا دی یعنی وہی کھیل کھیلا گیا جو راج پال کے مقدمے میں مسلمانوں نے دیکھا تھا۔
نتھو رام نے عدالت (ان دنوں جوڈیشل کمشنری کہلاتی تھی) میں اپیل کر دی۔ ضمانت پر وہ پہلے ہی رہا ہو چکا تھا۔ مارچ ۱۹۲۴ء میں اپیل کی سماعت شروع ہوئی۔ ہندو اور مسلمان بھاری تعداد میں کارروائی سننے آئے جن میں، میں بھی شامل تھا۔ نتھو رام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ خوش گپیاں کرتا
ہوا آیا اور عدالت میں ڈائس کے قریب پڑے ہوئے ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک مسلم نوجوان عدالت کے کمرے میں داخل ہوا، معذرت کرتے ہوئے نتھو رام کو تھوڑا سا سرکایا اور پھر اس کے بالکل قریب بیٹھ گیا۔ پونے بارہ بجے کا عمل تھا اور پندرہ منٹ بعد نتھو رام کی اپیل کی سماعت شروع ہونے والی تھی۔ میں پہنچا تو بارہ بجنے میں چھ سات منٹ باقی تھے۔ عدالت کے برآمدے میں، میں ایک دوست سے باتیں کرنے لگا۔ اچانک عدالت کے کمرے سے تیز تیز آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی نعرے لگا رہا ہو۔ ساتھ ہی بہت سے آدمی باہر کو بھاگے۔ میں لپک کر کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ نتھو رام کی آنتیں نکلی پڑی ہیں اور وہ زمین پر پڑا موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس کی گدی سے خون کا فوارہ ابل رہا ہے۔ قریب ہی ایک مسلمان نوجوان ہاتھ میں ایک بڑا سا خون آلود خنجر لئے کھڑا نظر آیا۔ ”انگریز ججوں میں سے ایک جس کا نام اوسالون (O. Solvin) تھا، ڈائس سے اترا۔ مسلم نوجوان پر قہر آلود نگاہ ڈالی اور تحکمانہ انداز میں بولا ”تو نے اس کو مار ڈالا؟“
”ہاں...... اور کیا کرتا؟“ نوجوان نے بڑی بے باکی سے جواب دیا اور پھر کمرے میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”اگر یہ تمہارے اس بادشاہ کو گالی دیتا تو تم کیا کرتے؟ تم میں غیرت ہوتی تو کیا قتل نہ کر ڈالتے؟“ پھر انتہائی حقارت سے نتھو رام کی لاش کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے بولا ۔”اس خنزیر کے بچے نے میرے آقا اور شہنشاہوں کے شہنشاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی اور اس کی سزا یہی تھی۔ پھر بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔
اسی اثناء میں ایک سب انسپکٹر ریوالور تانے کمرہٴ عدالت میں داخل ہوا۔ آنکھیں چار ہوتے ہی غازی نے چھری پھینک دی، کھڑا ہو گیا اور بڑی جوشیلی آواز میں کہا۔ ”ڈریئے نہیں۔ ریوالور ہولسٹر میں رکھ لیں۔ مجھے جو کچھ کرنا تھا، الحمد للہ کر چکا ہوں۔“
سب انسپکٹر نے ریوالور والا ہاتھ نیچے کر لیا۔ آگے بڑھ کر غازی کی کلائی پکڑ لی۔ ساتھ والے کانسٹیبل نے فوراً ہتھکڑی پہنا دی۔ میرا دل جو نتھو رام کی گندی کتاب سے مجروح ہو چکا تھا، اس منظر کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیا۔ غازی نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا۔ میں نے اپنا فرض ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
میں نے غازی کے چچا کو تلاش کیا اور انہیں پیشکش کی کہ میں اس مقدمے کی پیروی مفت کروں گا۔ انہوں نے تشکر آمیز ا کے قانونی مشیر کی حیثیت سے ان
”اس سے پہلے بھی میں ان کی صورتیں مجھے یاد ہیں۔ مگر اور چہرے پر نظر نہ آیا۔ جب میں
”آپ جو چاہیں کریں پہنچے گی۔“
میں نے نوجوان غازی ذریعہ ان شاء اللہ آپ کو پھانسی نے دو چار باتیں اور کیں اور ایک ہندو پیروکار کی بے حواسی کی بجائے اتنی تیزی سے حرکت بعد تفتیش چالان وغیرہ سب کچھ گیا۔
جب میں نے گواہان صفا میں نے دوسرے گواہوں کے علاو آزاد، مولانا شوکت علی، مفتی کفایت تھا۔
عدالت نے اعتراض کیا سکتے۔ میں نے جواب دیا کہ جس کی نفسیاتی ترجمانی یہی حضرات کر اس نے میری درخواست خارج کر میں نے فوراً جوڈیشل کمش وقوعہ کے چشم دید گواہ تھے۔ اپیل
کروں گا۔ انہوں نے تشکر آمیز الفاظ کے ساتھ میری پیشکش قبول کر لی۔ دوسرے روز میں غازی کے قانونی مشیر کی حیثیت سے ان سے ملاقات کرنے جیل گیا۔
’’اس سے پہلے بھی میں نے جیل میں قتل کے ملزموں سے ضابطے کی ملاقاتیں کی تھیں، اور ان کی صورتیں مجھے یاد ہیں۔ مگر جو اطمینان اور سکون غازی عبدالقیوم کے چہرے سے ہویدا تھا، وہ کسی اور چہرے پر نظر نہ آیا۔ جب میں نے بتایا کہ میں آپ کا مقدمہ لڑوں گا، تو مرد مجاہد پکار اٹھا!
’’آپ جو چاہیں کریں مگر مجھ سے انکار قتل نہ کرائیں۔ اس سے میرے جذبۂ جہاد کو ٹھیس پہنچے گی۔‘‘
میں نے نوجوان غازی کو تشفی دی اور کہا: بے شک آپ اقرار کریں اور میں اس اقبال کے ذریعہ ان شاء اللہ آپ کو پھانسی سے اتار لوں گا‘‘، مگر میری تشفی پر انہوں نے خوشی کا اظہار نہ کیا۔ میں نے دو چار باتیں اور کیں اور ایک کاغذ پر دستخط کرا کے لوٹ آیا۔
ہندو پیروکاری کی بوالعجبی ملاحظہ ہو کہ اینگلو انڈین قانون کا ضابطہ اپنی مخصوص اور روایتی چال کی بجائے اتنی تیزی سے حرکت میں آیا کہ مہینوں کا کام گھنٹے میں طے ہونے لگا۔ پہلی رپورٹ کے بعد تفتیش چالان وغیرہ سب کچھ دو دن میں ہو گیا اور مقدمہ قبل سماعت کیلئے ابتدائی عدالت میں پہنچ گیا۔
جب میں نے گواہان صفائی کی فہرست پیش کی تو اسے پڑھ کر مجسٹریٹ بہادر چونک اٹھے۔ میں نے دوسرے گواہوں کے علاوہ مولانا ظفر علی خان، خواجہ حسن نظامی، علامہ اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا شوکت علی، مفتی کفایت اللہ کے علاوہ دیوبند اور فرنگی محل کے متعدد مقتدر علماء کو طلب کیا تھا۔
عدالت نے اعتراض کیا کہ یہ گواہ مقدمے سے غیر متعلق ہیں، اس لئے نہیں بلائے جا سکتے۔ میں نے جواب دیا کہ جس جذبے کے تحت استغاثہ عبدالقیوم کو قاتل قرار دیتا ہے، اس جذبے کی نفسیاتی ترجمانی یہی حضرات کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے میری یہ دلیل جج کے فہم سے بالا تر تھی چنانچہ اس نے میری درخواست خارج کر دی۔
میں نے فوراً جوڈیشل کمشنر کی کراچی میں اپیل دائر کر دی جس کے دو جج اوسالون اور فیرس وقوعہ کے چشم دید گواہ تھے۔ اپیل دائر کرنے کے ساتھ ساتھ میں نے ان ججوں کے اختیار سماعت پر
قانونی اعتراض کر دیا۔ کراچی جوڈیشل میں اس وقت چار جج تھے۔ دو چھوٹے اور دو بڑے۔ ان میں سے تین اس درخواست کی سماعت کے اہل نہ تھے، چوتھے سیشن جج تھے۔
چنانچہ عدالت عالیہ کے ججوں نے ایک جج مسٹر لوبو کو طلب کر کے بینچ ترتیب دے لیا۔ اپیل کی سماعت شروع ہوئی اور بینچ نے بھی یہی فیصلہ دیا کہ ان غیر متعلق گواہوں کو بلانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ گویا اپیل خارج ہو گئی۔ دو تین روز بعد مقدمہ سیشن جج کراچی کی عدالت میں آ گیا۔ مقدمے کی اہمیت کے پیش نظر عدالت نے اسے ”جیوری ٹرائل“ قرار دیا۔ جیوری ۹ افراد پر مشتمل تھی جن میں چھ انگریز، ایک پارسی اور دو عیسائی تھے۔ یہ سب کے سب اچھی شہرت، معقول سوجھ بوجھ کے مالک اور باعزت شہری تھے۔
قتل کے عام مقدموں کے برعکس اس مقدمے کا کام بہت سیدھا سادا اور مختصر تھا۔ صفائی کا تو کوئی گواہ تھا ہی نہیں، سارا دارومدار قانونی بحث پر تھا۔ ثبوت میں اوّل تو خود عدالت عالیہ کے دو انگریز جج تھے۔ دوسرے غازی عبدالقیوم نے اپنے اقبالی بیان میں تسلیم کر لیا تھا کہ میں نے جونا مارکیٹ کی مسجد میں پیش امام کی زبانی نتھو رام کے فحش پمفلٹ کے مندرجات سنے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کل اس کی اپیل کی سماعت کیلئے عدالت میں پیشی ہو رہی ہے۔ چنانچہ اگلے روز میں نے اپنا کاروبار چھوڑا، بازار سے ایک خنجر خریدا، اسے تیز کرایا اور سماعت سے پہلے ہی عدالت میں پہنچ گیا۔ ایک نامعلوم شخص کے ذریعے نتھو رام کو شناخت کیا اور پھر اس کے قریب ہی جا کر بیٹھا۔ میں نے اسے کنکھیوں سے دیکھا۔ یکا یک میرے سینے میں غیظ و غضب کا طوفان امنڈ آیا۔ میں آپے سے باہر ہو کر اپنی نشست سے اٹھا۔ شلوار کے نیفے میں چھپایا ہوا خنجر نکالا اور چشم زدن میں نتھو رام کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ اس کی آنتیں نکل آئیں اور وہ منہ کے بل گر پڑا۔ دوسرا وار اس کی گدی میں کیا اور یہ ضرب پہلی سے زیادہ کاری ثابت ہوئی، خون کا فوارہ پھوٹ نکلا اور چند ہی منٹ میں اس کا قصہ تمام ہو گیا۔
اس اقبالی بیان کی تائید میں ضابطے کے بیانات ہوئے اور استغاثے کے چشم دید گواہ (عدالت عالیہ کے دو جج) پیش ہوئے۔ جہاں تک واقعاتی پہلو کا تعلق تھا، بچاؤ کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ بس جذبے اور ارادے والی بات رہ جاتی تھی۔ مگر غازی موصوف کے اقبال بیان سے صاف ظاہر تھا کہ اس نے یہ اقدام ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ کر کیا تھا۔ اس میں فوری اشتعال اور فوری عمل کا
اس وقت چارج تھے۔ دو چھوٹے اور دو بڑے ۔ ان میں تھے، چوتھے سیشن جج تھے۔ ایک جج مسٹر لوبو کو طلب کر کے بینچ ترتیب دے لیا ۔ اپیل فیصلہ دیا کہ ان غیر متعلق گواہوں کو بلانے کی کوئی گنجائش عد مقدمہ سیشن جج کراچی کی عدالت میں آ گیا۔ مقدمے جیوری ٹرائل“ قرار دیا۔ جیوری ٩ افراد پر مشتمل تھی جن ۔ یہ سب کے سب اچھی شہرت ، معقول سوجھ بوجھ کے
اس مقدمے کا کام بہت سیدھا سادا اور مختصر تھا۔ صفائی کا کی بحث پر تھا۔ ثبوت میں اوّل تو خود عدالت عالیہ کے دو نے اپنے اقبالی بیان میں تسلیم کر لیا تھا کہ میں نے جونا رام کے فحش پمفلٹ کے مندرجات سنے اور یہ بھی معلوم الت میں پیشی ہو رہی ہے۔ چنانچہ اگلے روز میں نے اپنا سے تیز کرایا اور سماعت سے پہلے ہی عدالت میں پہنچ گیا۔ ت کیا اور پھر اس کے قریب ہی جا کر بیٹھا۔ یکایک میرے سینے میں غیظ و غضب کا طوفان امنڈ آیا۔ ا۔ شلوار کے نیفے میں چھپایا ہوا خنجر نکالا اور چشم زدن میں نتیں نکل آئیں اور وہ منہ کے بل گر پڑا۔ دوسرا وار اس کی ری ثابت ہوئی ، خون کا فوارہ پھوٹ نکلا اور چند ہی منٹ
طے کے بیانات ہوئے اور استغاثے کے چشم دید گواہ ہاں تک واقعاتی پہلو کا تعلق تھا، بچاؤ کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ ی۔ مگر غازی موصوف کے اقبالی بیان سے صاف ظاہر تھا سے سوچ کر کیا تھا۔ اس میں فوری اشتعال اور فوری عمل کا
عالمی سیرت کانفرنس کے مقالات
کوئی ہاتھ نہ تھا۔ تاہم میں نے کیس کو تقریباً انہی خطوط پر تیار کیا اور قانون سے زیادہ نفسیات انسانی اور تاریخ سے بحث کی ۔ جیوری اور جج کے سامنے میں نے جو بحث کی ، وہ شاید برطانوی ہند میں اپنی نوعیت کی واحد اور منفرد بحث تھی۔
جس روز بحث ہونا تھی ، میں قانونی پلندوں کی بجائے قرآن کریم کا ایک نسخہ لے کر عدالت میں پیش ہوا۔ جج اور جیوری میرے ہاتھ میں قرآن پاک کا نسخہ دیکھ کر متحیر رہ گئے ۔ عام وکلاء سے ذرا پیچھے ہٹ کر میں نے بلند آواز میں بحث کا آغاز کیا اور کہا۔ (اس طویل لیکن مفید ترین بحث کو اختصار کیلئے حذف کر دیا گیا ہے )
عدالت نے بحث سننے کے بعد اسی دن فیصلے کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔ مقررہ تاریخ پر دفتری اوقات شروع ہونے سے پہلے ہی ہندو اور مسلمانوں کے ہجوم عدالت کے باہر جمع ہو گئے۔ کراچی کے علاوہ حیدر آباد، ٹھٹھہ، نواب شاہ، بہاولپور اور پنجاب تک سے لوگ کشاں کشاں آئے تھے۔ نظم و نسق کیلئے پولیس کی بھاری تعداد موجود تھی ۔ مشہور ہندو لیڈر ، وکیل اور صحافی آئے ہوئے تھے۔ مسلم اکابرین میں سے متعدد اصحاب تشریف لائے تھے۔
ہندو مسلمان سب امید و بیم میں تھے۔ البتہ جن مسلم اصحاب کو خفیہ ذرائع سے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ جیوری کی اکثریت سزائے موت کے بجائے حبس دوام کے حق میں ہے، وہ اسی کو غنیمت جان کر قدرے مطمئن تھے ۔ میں وکیلوں کی صف میں ایک کرسی پر بیٹھا یہ سب نقشہ دیکھ رہا تھا۔ اضطراب اور بے چینی کی کیفیت طاری تھی ۔ اچانک ڈائس پر جج نمودار ہوا۔ میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔
میں نے قبل ازیں قتل کے کئی مقدمات کی پیروی کی تھی جن میں سے بعض کو پھانسی ہوئی ، بعض رہا ہوئے مگر دل کی یہ کیفیت پہلے کبھی نہ تھی۔ تقریباً دو منٹ موت کی سی خاموشی طاری رہی ۔ پھر جج کے اشارے پر پیش کار نے چپراسی سے کہا کہ ملزم حاضر کیا جائے ۔ غازی بیڑیاں پہنے سر اٹھائے سنگین بردار محافظوں کے حلقے میں عدالت کے کٹہرے میں آ کھڑا ہوا۔ پھر ایک مہیب سناٹا چھا گیا۔
جج نے ایک فائل الٹ پلٹ کر دیکھی اور ریڈر سے کچھ سرگوشی کی ۔ اس نے ایک کاغذ کی طرف اشارہ کیا۔ جج نے وہی کاغذ اٹھایا اور دھیمی آواز میں پڑھ کر سنایا: ”عبدالقیوم خان تمہیں موت کی سزا دی جاتی ہے۔“ غازی عبد القیوم کے منہ سے ذرا تھرتھراتی ہوئی آواز میں بے ساختہ نکلا ، الحمد للہ۔ پھر کچھ
سنبھلا اور تن کر کھڑا ہو گیا۔ دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کا قد ایک فٹ اونچا ہو گیا ہو۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھر آئی جس میں بے پایاں مسرت ملی ہوئی تھی۔ اس کے لب ہلے، حاضرین نے سنا وہ کہہ رہا تھا:
’’جج صاحب میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس سزا کا مستحق سمجھا۔ یہ ایک جان کیا چیز ہے میرے پاس لاکھ جانیں ہوتیں تو وہ بھی ایک ایک کر کے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر قربان کر دیتا‘‘۔ ’’اللہ اکبر‘‘۔
یہ نعرہ مستانہ اس زور سے گونجا کہ اس کی گونج کمرہ عدالت، گیلری، برآمدے اور باہر والوں نے بھی سنی۔ وہ سمجھے کہ عبدالقیوم بری ہو گیا۔ بیرسٹر صاحب رک گئے۔ ہاں بیرسٹر صاحب پھر کیا ہوا؟ میں نے پوچھا۔
آگے کا المیہ بڑا ہی دردناک اور سنگین ہے۔ عبدالقیوم تو حکم سن کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے جیل چلا گیا اور مجھے حکومت نے پروفیشنل مس کنڈکٹ کا نوٹس دے دیا جس میں حدود قانون سے متجاوز ہو کر بحث کرنے کا الزام تھا۔ میں نے دوسری عدالت میں اس الزام کو غلط اور بے بنیاد ثابت کر کے پہلی عدالت کی جہالت پر مہر ثبت کی۔
چند روز بعد میں نے اپنے تین رفیقوں حاجی عبدالخالق صاحب، مولوی ثناء اللہ صاحب اور مولانا عبدالعزیز پر مشتمل وفد اپنے استاذ علامہ اقبال کی خدمت میں بھیجا کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرانے کیلئے وائسرائے تک سفارش پہنچائیں۔
میں نے ایک طرف یہ وفد علامہ کے پاس روانہ کیا۔ دوسری طرف گورنر بمبئی کے نام رحم کی عرضداشت بھیج دی۔ اس کا جواب ملا درخواست زیر غور ہے۔ دو ہفتے تک آپ کو نتیجے سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
گورنر بمبئی کا جواب ملے تیسرا روز تھا کہ صبح کے وقت میں نے اپنے دفتر میں سنا کہ رات غازی عبدالقیوم کو پھانسی دے دی گئی۔ میں مولانا عبدالعزیز کو لے کر جیل پہنچا تو پرائیویٹ ذریعہ سے پتہ چلا کہ صبح اذان کے وقت غازی کے لواحقین کو ان کی جائے قیام پر جگا کر بتایا گیا کہ عبدالقیوم کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ لاش کو پولیس سرکاری گاڑی میں رکھ کر میوہ شاہ قبرستان میں لے گئی ہے۔ جنازہ تیار ہے۔ منہ دیکھنا ہے تو جلد چلو۔‘‘
ہم لوگ جیل سے قبرستان پہنچے تو معلوم ہوا کہ میت قبر میں اتاری جا چکی تھی کہ مسلمانوں کا جم غفیر وہاں پہنچ گیا اور اس نے مٹی ڈالنے نہ دی ایک جوشیلا قومی کارکن قلندر خان قبر میں کود گیا اور میت کو لحد میں سے نکالا ، چارپائی کفن وغیرہ کا بندوبست پہلے سے ہو چکا تھا فوراً لاش کو کفنایا اور جنازہ لے کر روانہ ہو گئے۔
یہ خبر آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی ۔ کراچی مسلم اکثریت کا شہر تھا اور صبح کا وقت۔ دیکھتے ہی دیکھتے دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے باوجود دس بارہ ہزار مسلمان جمع ہو گئے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے فوراً فوج طلب کر لی۔ ہم اس عرصہ میں راستہ کاٹ کر چاکیواڑہ کے قریب ایک تنگ گلی سے گزر کر جنازہ کے قریب پہنچ گئے۔ بے پناہ ہجوم تھا۔ کندھا دینے والوں میں قلندر خان خاصا نمایاں نظر آتا تھا۔ اچانک ہجوم کا ریلا آیا اور پھر برابر والی پتلی گلی سے ”تڑ تڑ“ کی آواز گونجی۔ نظر اٹھا کر آگے کا جائزہ لیا تو قلندر خان کے بدن سے خون کا فوارہ اچھلتے دیکھا۔ اس کے باوجود وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ جنازہ کو کندھا دیئے جا رہا تھا۔ چند منٹ بعد وہ زخموں سے نڈھال ہو کر گر پڑا۔ نہتے اور پُر امن جلوس پر گوروں نے بے تحاشا فائرنگ کی۔ سینکڑوں مسلمان شہید اور ہزاروں مجروح ہو گئے۔ اندھا دھند فائرنگ کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ مکانوں اور جھونپڑیوں میں بیٹھے بچے بوڑھے اور عورتیں بھی اس کا نشانہ بن گئیں۔ حالات قدرے پُر سکون ہوئے تو میں مولانا عبدالخالق، مولانا عبدالعزیز اور حاتم علوی زخمیوں کی عیادت کیلئے سول ہسپتال گئے ۔ ہسپتال کے ارد گرد پولیس کی بھاری تعداد اور کچھ فوج بھی موجود تھی۔
ہم کسی نہ کسی طرح شہیدوں اور زخمیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور جہاں تک میری یادداشت کا تعلق ہے، میں نے ۱۰۶ لاشیں گنیں اور بعد میں ان کی تعداد ایک سو بیس ہوگئی ۔ ہسپتال میں کہرام مچا ہوا تھا۔ لاشیں علیحدہ کی جا رہی تھیں۔ تڑپتے، سسکتے، کراہتے اور چیختے ہوئے زخمی الگ ...... بڑی تعداد ایسے زخمیوں کی تھی جن کے ہاتھ پاؤں کی ہڈیوں کے ٹکڑے اُڑ گئے تھے۔ حادثہ اتنا مہیب تھا کہ بیان کرنے کیلئے الفاظ نہیں ملتے ۔ پھر صبح کے وقت جب جوانوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے ہاتھ پاؤں سے بھری ہوئی ایک وین ہسپتال سے نکلی تو بے اختیار میری چیخ نکل گئی۔ بلکہ کئی دن تک حواس بجا نہ ہوئے۔ خواب و خور حرام ہو گیا۔ بے شمار لاشیں ان کے وارثوں نے پولیس میں رپٹ دیئے بغیر چپکے سے دفن کر دیں۔
اتفاق سے ان دنوں دہلی میں مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا، ہم نے وائسرائے کے نام ایک تار دیا۔ ساتھ ہی ایک قاصد بذریعہ ریل محمد علی جناح کے پاس روانہ کیا۔ کراچی میں ہم نے مسلم ریلیف کمیٹی قائم کی جس کی امداد کیلئے دہلی اور لاہور دونوں نے چندے دیئے۔ ادھر محمد علی جناح نے اسمبلی میں آواز بلند کی پھر تو ہماری آواز برٹش پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی گونجی۔ سر ونسٹن چرچل تک نے اظہار تاسف کیا۔
شمع رسالت کے پروانے کی ایمان پرور داستان ختم ہو چکی تھی۔ میں جب بیرسٹر صاحب کے ہاں سے رخصت ہوا تو میرے ہاتھ میں ایک تاریخی دستاویز تھی جس کا نام ”عبدالقیوم“ تھا۔ یہ ایک پمفلٹ تھا جو بیرسٹر صاحب نے مجھے دیا تھا۔
(وکیل: سید محمد اسلم بار ایٹ لاء، راوی: ابوالفضل صدیقی)
”آج محمد ﷺ کا پروانہ آ گیا ہے“
آپ کا اسم گرامی مرید حسین، ایم ایچ اور اسیر تخلص کرتے تھے۔ ۱۹۱۵ء میں بھلہ شریف تحصیل چکوال کے معزز کہوٹ قریش گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام نامی عبداللہ خان اور والدہ ماجدہ کا اسم مبارک غلام عائشہ تھا۔ چوہدری عبداللہ، بھلہ کے نمبردار اور باوقار بزرگ تھے۔ بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے اکلوتے فرزند سے نوازا تھا۔ اس لئے اپنی آنکھوں کے نور اور دل کے سرور کی بڑی محبت اور شفقت سے پرورش کی۔ مرید حسین ابھی پانچ برس کے تھے کہ والد بزرگوار کے سایہ سے محروم ہو گئے۔ والدہ بڑی جہاندیدہ اور نیک سیرت خاتون تھیں۔ اس لئے اپنے مرحوم سرتاج کی یادگار اکلوتے اور لاڈلے بیٹے کی تعلیم وتربیت پر پوری توجہ دی۔
قرآن حکیم اور دوسری دینی کتب کی تدریس کیلئے سید محمود شاہ صاحب خطیب وامام مسجد جامع بھلہ شریف کی خدمات حاصل کی گئیں۔ عام تعلیم کیلئے آپ کو قریبی قصبہ کریالہ کے اینگلو سنسکرت مڈل اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔ آپ شروع سے ہی ذہین اور محنتی تھے۔ مڈل اچھے نمبروں پر پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول چکوال میں زیر تعلیم رہے۔ ۱۹۳۰-۳۱ء میں میٹرک میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ گو اعلیٰ تعلیم کا شوق اور وسائل رکھتے تھے لیکن گھر کی ذمہ داری اور گاؤں کی
نمبرداری کے بوجھ سے مجبور ہو کر سلسلہ تعلیم منقطع کرنا پڑا۔
خاندانی شرافت، دینی تعلیم اور نیک سیرت والدہ کی تربیت نے آپ کو اسلام کا سچا شیدائی بنا دیا۔ مذہب سے گہرے لگاؤ کا ہی اثر تھا کہ کسی انسان کو دکھی دیکھتے تو بے قرار ہو جاتے۔ ہندوؤں کی ستم ظریفی اور مسلمانوں کی زبوں حالی نے آپ کو خدمت خلق کے کاموں کی طرف مائل کر دیا۔ زندگی کی بے ثباتی اور خدمت خلق کی اہمیت کا اظہار ایک شعر میں یوں کرتے ہیں:
خدمت خلق خدا نہ کی اگر کچھ بھی نہیں!
تعلیم سے فارغ ہونے اور نمبرداری کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد خاموشی سے عوامی فلاح و بہبود اور خدمت خلق خدا میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔ غلامی کا دور تھا۔ نمبرداروں سے حکومتِ برطانیہ کے کارندے جو سلوک روا رکھتے اور توقعات وابستہ کرتے تھے، مرید حسین جیسا غیور مردِ مومن اسے کب برداشت کر سکتا تھا۔ ویسے بھی آپ کی نیک طبیعت دنیاوی نمود و نمائش سے نفور تھی۔ جلد ہی نمبرداری سسٹم کی خرابیوں سے باخبر ہو گئے اور اس جنجال اور غلامی کے جوئے سے گلو خلاصی کرالی۔
یک سُو ہو کر اصلاحِ قوم اور فلاحِ ملتِ اسلامیہ میں مصروف ہو گئے۔ آپ کے ماموں ماسٹر غلام سرور صاحب اور چچا زاد بھائی چودھری خیر مہدی صاحب کا بیان ہے کہ غازی صاحب صوم و صلوٰۃ کے سختی سے پابند اور ہمیشہ باوضو رہنے کے عادی تھے۔ نماز باجماعت کی پابندی کی یہ حالت تھی کہ اللہ اکبر کی آواز کان میں پڑتے ہی اٹھ کھڑے ہوتے اور خانہ خدا میں پہنچ جاتے۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ کھانا کھا رہے ہیں اور اذان کی آواز سن کر کھانا وہیں چھوڑ دیا اور مسجد پہنچ گئے۔
بھلہ سے چکوال صرف پانچ میل دور ہے، آپ اکثر چکوال جاتے رہتے۔ وہیں علامہ عنایت اللہ خان المشرقی کی مشہورِ خاکسار تحریک کی عسکریت سے متاثر ہوئے اور خاکسار بن گئے لیکن آپ کی عشقِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوبی ہوئی روح کو کما حقہ سکون میسر نہ آیا۔ روحانیت کی پیاس آپ کو حضرت پیر خواجہ عبدالعزیز صاحب چشتی چاچڑ شریف ضلع سرگودھا کے پاس لے گئی۔ خواجہ چاچڑوئیؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت کر کے ان کے حلقہ مریدان میں شامل ہو گئے۔
غازی صاحب کے ہاں مولانا ظفر علی خاں مرحوم کے اخبار ”زمیندار“ کا مطالعہ معمول تھا۔ آپ آریہ سماج اور دوسری ہندو تحریکوں، پارٹیوں اور انجمنوں کی اسلام دشمنی کی خبریں اکثر پڑھتے اور
دل ہی دل میں کڑھتے رہتے۔ ادھر بھلہ اور کریالہ کے متمول ہندوؤں کی چیرہ دستیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی غیرت مند طبیعت، متعصب اور دریدہ دہن ہندو بنیوں سے سخت متنفر ہوگئی۔ یہ نفرت یہاں تک بڑھی کہ آپ نے راج پال لاہوری اور نتھو رام سندھی کی شانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخیوں کے بعد ہندوؤں سے ہر قسم کا تعلق منقطع کر لیا۔ حتیٰ کہ ان کی بسوں میں سفر کرنا بھی چھوڑ دیا، اور جہاں بھی جانا ہوتا، پیدل جاتے۔ اسی طرح اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر مسلمانوں کی اپنی دکانیں کھلوادیں اور مقامی مسلمانوں کی ایک انجمن بنا کر ہندوؤں کا معاشرتی بائیکاٹ کر دیا۔ اس پر ہندوؤں نے جن میں بھائی پرمانند (کریالہ) جیسے بڑے بڑے سیاسی لیڈر بھی شامل تھے، سرکاری دباؤ ڈلوا کر غازی صاحب کو رام کرنے کی کوششیں کیں۔ لیکن غازی صاحب نے نہ ڈرنا تھا نہ ڈرے۔ تحریک کو جاری رکھا اور اس طرح قیام پاکستان سے بہت پہلے بھلہ کریالہ میں پاکستان بنا دیا!
۱۹۳۵ء میں ۲۰ سالہ مرید حسین کی شادی محترمہ امیر بانو (متوفی ۱۹۴۳ء) ہمشیرہ چودھری خیر مہدی نمبردار بھلہ سے انجام پائی۔ شادی کے چند روز بعد آپ کو خواب میں جناب سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، جس کا ذکر آپ نے بعد میں اپنے پنجابی کلام میں بھی کیا۔ اس دیدار نے پاک دل و پاکباز مرید حسین کی زندگی میں عظیم انقلاب برپا کر دیا۔ آپ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق میں ہر گھڑی بے چین و بے قرار رہنے لگے۔
ادھر قدرت خداوندی نے آپ کے عشق کی آزمائش کا سامان پیدا کر دیا۔ ۱۹۳۶ء کی بات ہے کہ ایک روز چکوال میں آپ نے روز نامہ ”زمیندار“ میں ”پلول کا گدھا“ کے عنوان سے ایک المناک خبر پڑھی۔ سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تن بدن میں آگ لگ گئی اور کیوں نہ لگتی۔ کوئی بھی مسلمان ایسی گستاخی کو کیسے برداشت کر سکتا تھا۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ شفاخانہ حیوانات پلول ضلع گڑگانواں کے انچارج ڈاکٹر رام گوپال بھسین نے انسانیت کے محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں شرمناک دریدہ دہنی و گستاخی کرتے ہوئے اپنے شفاخانے کے ایک گدھے کا نام سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی اسم گرامی پر رکھنے کی جسارت کر رکھی ہے۔
ہندوستان بھر میں جس جس کلمہ گو نے یہ خبر پڑھی یا سنی، اس کا خون کھول اٹھا۔ مسلمانوں کے وہ زخم جو سوامی شردھانند، راج پال لاہوری اور نتھو رام سندھی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان
اقدس میں گستاخیاں کر کے ١٩٢٦ء، ١٩٢٩ء، ١٩٣٣ء میں لگائے تھے، ہرے ہو گئے۔ اخبارات میں احتجاجی بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا لیکن سرکار برطانیہ پر صرف اتنا اثر ہوا کہ اس گستاخ زمانہ ڈاکٹر کو پلول سے ہندوؤں کے قصبہ نارنوند ضلع حصار تبدیل کر دیا۔ مسلمانوں کے دل فگار اور آنکھیں اشکبار تھیں۔ وہ اپنا رنج و الم کس سے بیان کرتے۔ ہندو اور فرنگی سامراج نے مسلم آزاری اپنا وطیرہ بنا رکھا تھا۔ رہ رہ کر ان کو غازی عبدالرشید، غازی علم دین لاہوری اور کراچی کے غازی عبدالقیوم کی یاد آنے لگی۔ مسلمانوں کی دل آزاری کی مذکورہ خبر پڑھ کر عاشق رسول مرید حسین کی حالت کیا تھی، اس کے کماحقہ بیان سے زبان قلم قاصر ہے۔ اتنا جانتے ہیں کہ آپ پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہاں کیا کیا راز و نیاز کی باتیں ہوئیں، پیر چاچڑ، مرید اللہ اور کاتب تقدیر کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ صاحبزادہ محمد یعقوب صاحب نے راقم الحروف کو بتایا کہ مرید حسین حضرت خواجہ صاحبؒ کو مل کر باہر نکلے تو آنسو پونچھ رہے تھے۔ ہم نے ان سے بہتیرا پوچھا لیکن انہوں نے کچھ نہ بتایا اور چاچڑ شریف سے تشریف لے گئے۔
جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے، رام گوپال مسلمانوں کے شدید احتجاج کی وجہ سے پلول سے نانونڈ تبدیل کیا جا چکا تھا۔ آپ اپنے مرشد سے ملنے اور پھرتے پھراتے غریب الوطنی اور بے سروسامانی کے عالم میں سفر کی مشکلات کا مقابلہ کرتے منزل پر پہنچ گئے۔ ڈاکٹر رام گوپال ہٹا کٹا اور قد آور تھا۔ آپ دبلے پتلے اور نحیف و نزار لیکن عشق رسالت اور جذبہ ایمانی سے انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے رام گوپال کو للکارا۔ اس نے سنبھلنے کی کوشش کی، ہسپتال کا عملہ اور اس کے بیوی بچے بھی اسے بچانے کیلئے لپکے لیکن آپ نے جان ہتھیلی پر رکھ کر نعرۂ تکبیر بلند کیا اور کہا او موذی اٹھ! ”اج محمد دا پروانہ آگیا ای“ یہ کہتے ہوئے چھوٹے سے خنجر سے ایک ہی وار سے محبوب خدا کے دشمن ناپاک کو واصل جہنم کر دیا۔ یہ ٨/ اگست ١٩٣٦ء کا واقعہ ہے، اس دن آپ مسلمانوں کی نظر میں مرید حسین سے غازی مرید حسین بن گئے۔
رام گوپال کو جہنم رسید کرنے کے بعد آپ نے اپنے آپ کو خود ہی گرفتاری کیلئے پیش کر دیا البتہ اس کیلئے ایک شرط رکھی اور وہ یہ تھی کہ کوئی کافر ان کے قریب نہ آئے چنانچہ نارنوند میں متعین ایس ایچ او چودھری احمد شاہ کہوٹ (والد بزرگوار چودھری محمد افضل کہوٹ) سابق پروفیسر گورنمنٹ کالج چکوال و حال سی ایس پی آفیسر و چیف کمشنر رائے شماری حکومت پاکستان نے آپ کو ہتھکڑی
پہنائی اور ڈسٹرکٹ جیل حصار بھیج دیئے گئے۔ اخبارات میں پورے ہندوستان کے ہندو پریس نے اس واقعہ کو خوب اچھالا جبکہ پلول کے واقعہ پر اسے سانپ سونگھ گیا تھا!
سرکاری مشینری جو مسلمانانِ ہند کے معاملے میں انتہائی بے حس و حرکت ثابت ہوئی تھی تیزی سے حرکت میں آگئی۔ حصار میں آپ پر مقدمہ چلایا گیا۔ جلال الدین قریشی بیرسٹر ایٹ لاء اور دوسرے متعدد مسلمان وکلاء نے غازی صاحب کی طرف سے مقدمے کی بلا فیس وکالت کی۔ قانونی موشگافیوں سے فائدہ اٹھا کر آپ باآسانی بچ سکتے تھے لیکن آپ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق تھے۔ جھوٹ بول کر جان بچانا شیوۂ مردانگی کے خلاف اور عشقِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین سمجھتے تھے۔ اس لئے ہر موقع پر رام گوپال کے قتل کا واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا۔ نتیجتاً آپ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔
چودھری خیر مہدی صاحب اور دوسرے عزیزوں نے ہائی کورٹ لاہور میں اپیل دائر کی لیکن آپ کے اعترافِ قتل کی وجہ سے سیشن کورٹ کا فیصلہ بحال رہا۔
شہادت کا دن مقرر ہونے پر آپ کو اپنے آبائی ضلع جہلم کی جیل میں لایا گیا۔ یہاں ایک غیر مسلم قیدی آپ سے اس قدر متاثر ہوا کہ مسلمان ہو گیا۔ غازی صاحب نے اس نو مسلم کا نام غلام رسول رکھا۔ غلام رسول کو بھی سزائے موت کا حکم ہو چکا تھا۔ اس لئے اس نے وصیت کی کہ اس کی میت جہلم کے مشہور احراری جناب عبد اللطیف کے سپرد کی جائے اور وہ اسلامی طریقہ سے اسے جنازہ پڑھ کر جہلم کے قبرستان میں دفنادیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
شمعِ محمدی کے پروانے غازی مرید حسین کا یومِ شہادت بھی قریب آ گیا۔ آپ جامِ شہادت نوش کر کے سردارِ دو جہاں اور فخرِ کون و مکان صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور حاضری دینے کیلئے بے تاب تھے۔ آخر خدا خدا کر کے ۱۸؍رجب المرجب مطابق ۲۴؍ستمبر ۱۹۳۷ء جمعۃ المبارک کا دن تھا۔ صبح کے نو بج رہے تھے کہ عبداللہ کا نورِ نظر اور غلامِ عائشہ کا لختِ جگر مسکراتا ہوا تختہ دار پر نمودار ہو کر ناموسِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہو گیا۔ شہادت کے قریب آپ کی آخری آرزو کیا تھی؟ آپ ہی کے ایک شعر میں ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں:
خواہش دیدارِ احمد ﷺ کے دگر کچھ بھی نہیں
شہادت کے بعد تختہ دار پر چڑھانے والوں نے آپ کے لواحقین کو بتایا کہ غازی صاحب شہادت کے وقت بڑے مطمئن اور مسرور نظر آتے تھے۔ کلمہ شہادت کا ورد کر رہے تھے کہ آپ کو چپ ہونے کیلئے کہا گیا لیکن آپ نے فرمایا: ”میں اپنا کام کر رہا ہوں، آپ اپنا کام کریں۔“ چنانچہ غازی درود و سلام پڑھتے ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے جام شہادت نوش کر کے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
الحاج چودھری حاجی خان صاحب نمبر دار ساکن کھوتھیاں (سلطان آباد) تحصیل چکوال جو اس زمانے میں جہلم کچہری کے عرائض نویس تھے، کا بیان ہے کہ جہلم شہر میں مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ شہر کے علاوہ دور دراز کے دیہات و قصبات سے بھی مسلمان جوق در جوق آئے اور آپ کے جنازے میں شرکت کی۔
جہلم سے بھلہ کریالہ تقریباً پچھتر میل ہے۔ اس طویل راستے پر سڑک کے کنارے متعدد مقامات پر فرزندان توحید اور جان نثاران رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشق خیر الوریٰ پر عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔ جہلم کے علاوہ دینہ، سوہاوہ، کھوتھیاں اور بھلہ شریف میں نماز جنازہ پڑھی گئی۔ بھلہ میں جنازہ پڑھنے والوں کی تعداد شمار سے باہر تھی۔ آخر کار بعد نماز جمعہ تقریباً چار بجے آپ کو بھلہ شریف کے نزدیک ”غازی محل“ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شیدائی نے آپ پر قربان ہو کر عشق کا حق ادا کر دیا۔ اور زندہ جاوید ہو گئے۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
(تلخیص از تحریر منیر نوابی)
یہی میرا فرض تھا
میاں محمد ۱۹۱۵ء میں قصبہ تلہ گنگ میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد کا نام نامی صوبیدار غلام محمد تھا، جو اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ پہلی جنگ عظیم چھڑی تو صوبیدار غلام محمد کو اپنی پلٹن کے ساتھ ملک سے باہر جانا پڑا۔ اسی دوران میاں محمد پیدا ہوئے۔ اس وقت ان کے والد عراق میں تھے۔ بیٹے
کی ولادت کی خبر سنی تو جی چاہا کہ فوراً اڑ کر تلہ گنگ پہنچیں اور نومولود کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں، کیونکہ یہ بچہ شادی کے سات سال بعد بڑی دعاؤں کے بعد پیدا ہوا تھا۔ لیکن اللہ کا کرنا صوبیدار غلام محمد ۱۹۱۹ء تک جنگ کے اختتام تک وطن واپس نہ آسکے۔ اس عرصہ میں وہ اپنی پلٹن کے ساتھ عراق، شام، فلسطین اور استنبول وغیرہ میں فوجی خدمات سرانجام دیتے رہے۔
میاں محمد پانچ سال کے تھے کہ ان کے والد ماجد گھر لوٹے اور پہلی بار اپنے جگر گوشہ کو دیکھا۔ بار بار گود میں اٹھاتے اور پیار کرتے۔ پھر چند روز بعد انہیں پرائمری اسکول میں داخل کرا دیا۔ پرائمری کے بعد وہ ہائی اسکول میں داخل ہو گئے، لیکن ساتویں جماعت تک پڑھنے کے بعد ان کا جی تعلیم سے اچاٹ ہو گیا۔ ۱۵/سال کے ہوئے تو ڈرائیوری سیکھنے کا شوق ہوا۔ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں ملازم ہو گئے اور تلہ گنگ سے میانوالی جانے والی ایک بس چلانے لگے، لیکن بہت جلد اس سے بھی جی بھر گیا۔ ۱۹۳۱ء میں کوئٹہ چلے گئے اور ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بطور منشی کام کرنے لگے۔ یہ کام بھی پسند نہ آیا تو ۱۹۳۲ء میں گاؤں واپس آگئے۔ ۱۹۳۳ء میں انڈین نیوی میں بھرتی ہو گئے۔ اسی ملازمت کے دوران پھوپھی زاد بہن ”نیک اختر“ کے ساتھ ان کی شادی ہو گئی۔ انڈین نیوی میں نوکری کرتے ابھی بمشکل ڈیڑھ برس ہی گزرا تھا کہ کھیل کے دوران ایک ساتھی کی بدکلامی کی وجہ سے بگڑ گئے اور ہاکی سے اسے پیٹ ڈالا۔ آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلا اور وہ ملازمت سے برطرف کر دیئے گئے۔
۲/ جنوری ۱۹۳۵ء کو وہ بلوچ رجمنٹ میں بطور سپاہی بھرتی ہوئے اور ابتدائی ٹریننگ کراچی میں مکمل کرنے کے بعد اسی سال اکتوبر میں مدراس چھاؤنی بھیج دیئے گئے۔ اصل میں یہی وہ جگہ تھی جہاں قدرت نے ان سے ایک غیر معمولی کام لینا تھا اور جس کیلئے وہ مختلف مقامات پر پھرتے پھراتے بالآخر یہاں پہنچے تھے۔
میاں محمد کو بچپن ہی سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے والہانہ لگاؤ تھا، انہیں بہت سی نعتیں یاد تھیں، جنہیں وہ اکثر تنہائی میں یا دوستوں میں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ وہ بڑے خوبصورت جوان تھے اور ہمیشہ نفیس اور عمدہ لباس زیب تن کئے رہتے۔ ان کو دیکھنے والوں نے ان کا حلیہ کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔ لمبا قد، دلکش خدوخال، سرخ و سپید رنگ، باریک ہونٹ، گھنی بھویں، ناک معیار حسن کے عین مطابق، پیشانی چوڑی، آنکھیں چمکدار، خوبصورت سی چھوٹی ڈاڑھی اور خاص ادا کی مونچھیں جن سے مردانہ وجاہت
۱۶/ مئی ۱۹۳۷ء کی شا سپاہی مختلف گروپوں میں بیٹھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھا، یہ بڑی خوش الحانی اور عقی نے جب ایک ہندو کو اس طر کر کباب ہو گیا۔ اس نے ہوئے نعت پڑھنے والے ”محمد کو ..... کر معاف نہیں کیا جا سکتا۔“ مسلمان سپاہیوں محمد اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہم مذہب کو یہ سعادت نصیب حاصل کرے، اس لئے وہ سر یہ بات پسند نہیں، تو تو یہاں یہ سن کر ڈوگرہ سپاہی جواب سن کر میاں محمد کا خون انہوں نے بڑی مشکل سے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ بہت جلد ذلت ناک موت بدقسمت ڈوگرے روکنے کا تمہیں کوئی حق نہیں آپ نے اس سے تمام واقعہ تو اپنی زندگی سے کھیلنا مجھ پر فر
عالمی سیرت کانفرنس کی م
اُڑ کر تلہ گنگ پہنچیں اور نومولود کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی سال بعد بڑی دعاؤں کے بعد پیدا ہوا تھا۔ لیکن اللہ کا کرنا ختام تک وطن واپس نہ آسکے۔ اس عرصہ میں وہ اپنی پلٹن کے بصرہ میں فوجی خدمات سرانجام دیتے رہے۔
ان کے والد ماجد گھر لوٹے اور پہلی بار اپنے جگر گوشہ کو دیکھا۔ ۔ پھر چند روز بعد انہیں پرائمری اسکول میں داخل کرا دیا۔ ہو گئے، لیکن ساتویں جماعت تک پڑھنے کے بعد ان کا جی ہوئے تو ڈرائیوری سیکھنے کا شوق ہوا۔ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی ئی جانے والی ایک بس چلانے لگے، لیکن بہت جلد اس سے ئے اور ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بطور منشی کام کرنے لگے۔ یہ کام س آ گئے۔ ۱۹۳۳ء میں انڈین نیوی میں بھرتی ہو گئے۔ اسی نیک اختر‘‘ کے ساتھ ان کی شادی ہو گئی۔ انڈین نیوی میں گزرا تھا کہ کھیل کے دوران ایک ساتھی کی بدکلامی کی وجہ سے رزی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلا اور وہ ملازمت سے برطرف منٹ میں بطور سپاہی بھرتی ہوئے اور ابتدائی ٹریننگ کراچی یں مدراس چھاؤنی بھیج دیئے گئے۔ اصل میں یہی وہ جگہ تھی مولی کام لینا تھا اور جس کیلئے وہ مختلف مقامات پر پھرتے ر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے والہانہ لگاؤ تھا، انہیں میں یار دوستوں میں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ وہ بڑے خوبصورت ب تن کئے رہتے۔ ان کو دیکھنے والوں نے ان کا حلیہ کچھ اس ، سرخ و سپید رنگ، باریک ہونٹ، گھنی بھنویں، ناک معیار نکھیں چمکدار، خوبصورت سی چھوٹی ڈاڑھی اور خاص ادا کی
مونچھیں جن سے مردانہ وجاہت ٹپکتی تھی۔ سر پر کلاہ اور خوبصورت پگڑی۔ غرض پیکر حسن تھے۔
۱۶ مئی ۱۹۳۷ء کی شب کا ابھی آغاز ہوا تھا۔ مدراس چھاؤنی میں ڈیوٹی سے فارغ فوجی سپاہی مختلف گروپوں میں بیٹھے، خوش گپیوں میں مشغول تھے۔ انہی میں ایک طرف چند مسلمان نعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سننے میں محو تھے۔ اتفاق سے جو شخص نعت شریف سنا رہا تھا، وہ ایک ہندو تھا، یہ بڑی خوش الحانی اور عقیدت مندی کے ساتھ نعت سنا رہا تھا۔ قریب ہی ایک ہندو ڈوگرے سپاہی نے جب ایک ہندو کو اس طرح عقیدت مندی کے ساتھ نعت پڑھتے سنا تو وہ مارے تعصب کے جل کر کباب ہو گیا۔ اس نے با آواز بلند آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرتے ہوئے نعت پڑھنے والے ہندو سے مخاطب ہو کر کہا:
”محمدؐ کو...... کرو، کسی اور کا ذکر کرو۔ تو کیسا ہندو ہے؟ تو تو ہندو دھرم کا مجرم ہے۔ تیرا پاپ معاف نہیں کیا جا سکتا۔“
مسلمان سپاہیوں نے ڈوگرہ سپاہی کی یہ بدزبانی سنی، تو صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئے، لیکن میاں محمد اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں یہ گستاخی سن کر تڑپ اٹھے اور ڈوگرہ سپاہی سے کہا: تیرے ہم مذہب کو یہ سعادت نصیب ہوئی ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک سے اطمینانِ قلب حاصل کرے، اس لئے وہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت پڑھ رہا ہے، تجھے اپنے خبثِ باطن کی وجہ سے یہ بات پسند نہیں، تو تو یہاں سے چلا جا۔ خبردار آئندہ ایسی بکواس نہ کرنا۔“
یہ سن کر ڈوگرہ سپاہی بولا: ”میں تو بار بار ایسا ہی کہوں گا۔ تم سے جو ہو سکتا ہے، کر لو“۔ یہ بیہودہ جواب سن کر میاں محمد کا خون کھول اٹھا۔ ایک ہندو ڈوگرے نے ان کی حمیتِ ایمانی کو للکارا تھا۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے کہا: ”آئندہ اپنی ناپاک زبان سے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا جملہ کہنے کی جرأت نہ کرنا، ورنہ یہ بدتمیزی تجھے بہت جلد ذلت ناک موت سے دوچار کر دے گی۔“
بدقسمت ڈوگرے سپاہی نے پھر ویسا ہی تکلیف دہ جواب دیا اور کہا ”مجھے ایسی گستاخی سے روکنے کا تمہیں کوئی حق نہیں“۔ یہ سن کر میاں محمد سیدھے اپنے حوالدار کے پاس گئے، یہ بھی ہندو تھا۔ آپ نے اس سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا اگر چرن داس (ہندو ڈوگرہ) نے برسرِ عام معافی نہ مانگی، تو اپنی زندگی سے کھیلنا مجھ پر فرض ہو جاتا ہے۔
ہندو حوالدار نے اس نازک مسئلے پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔ صرف یہی کہا کہ میں چرن داس کو سمجھا دوں گا۔
میاں محمد حوالدار کی یہ سردمہری دیکھ کر سیدھے اپنی بیرک میں پہنچے۔ اب وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کر چکے تھے۔ انہوں نے نماز عشاء ادا کی اور پھر سجدے میں جا کر گڑ گڑاتے ہوئے دعا کی: ”میرے اللہ! میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ تیرے محبوب کی شان میں گستاخی کرنے والے کا کام تمام کر دوں۔ یا اللہ! مجھے حوصلہ عطا فرما۔ ثابت قدم رکھ۔ مجھے بھی اپنے محبوب کے عاشقوں میں شامل کر لے۔ میری قربانی منظور فرمالے۔“
نماز سے فارغ ہو کر میاں محمد گارڈ روم گئے۔ اپنی رائفل نکالی۔ میگزین لوڈ کیا اور باہر نکلتے ہی چرن داس کو للکار کر کہا: کم بخت اب بتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے پر میں باز پرس کا حق رکھتا ہوں یا نہیں۔“
یہ سن کر شاتم رسول چرن داس نے بھی جو بندوق اٹھائے ڈیوٹی دے رہا تھا، پوزیشن سنبھالی اور رائفل کا رخ میاں محمد کی طرف موڑا، لیکن اگلے ہی لمحے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے شیدائی کی گولی چرن داس کو ڈھیر کر چکی تھی۔ رائفل کی دس گولیاں اس کے جسم سے پار کرنے کے بعد غازی میاں محمد نے سنگین کی نوک سے اس کے منہ پر پے در پے وار کئے۔ سنگین سے وار کرتے ہوئے وہ کہتے جاتے تھے: اس ناپاک منہ سے تو نے میرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی۔
جب غازی کو مردود چرن داس کے جہنم واصل ہونے کا یقین ہو گیا، تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے خطرے کی گھنٹی بجائی اور بگلر سے کہا کہ وہ مسلسل بگل بجائے۔ جب سب پلٹن جمع ہو گئی تو غازی نے کمانڈنگ افسر سے کہا کہ کسی مسلمان افسر کو بھیجو تاکہ میں رائفل پھینک کر خود کو گرفتاری کیلئے پیش کر دوں۔ آپ کی گرفتاری کیلئے آپ ہی کے علاقے کے ایک مسلمان جمعدار عباس خان کو بھیجا گیا۔ گرفتاری کے بعد انگریز کمانڈنگ افسر نے غازی موصوف سے پوچھا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا: چرن داس نے ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور بدکلامی کی تھی۔ میں نے اس کو روکا، لیکن وہ باز نہ آیا۔ میں نے اس کو ہلاک کر دیا۔ اب آپ قانونی تقاضے پورے کریں۔“
اگلے روز ۱۷ مئی ۱۹۳۷ء کو غازی میاں محمد کو مقدمے کی تفتیش کیلئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ابھی آپ دس دن پولیس کی حراست میں رہے تھے کہ کمانڈر انچیف (جی ایچ کیو دہلی) کا حکم آیا کہ میاں محمد پر فوجی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ غالباً حکام کو خدشہ تھا کہ شاید سول عدالت میں مقدمہ کا فیصلہ حکومت کی منشا کے خلاف ہو۔
فوجی حکام کی خواہش تھی کہ مقدمے کے فیصلے تک غازی صاحب کے والدین کو کوئی اطلاع نہ دی جائے، لیکن صوبیدار ملک غلام محمد کو کسی طرح فوجی حکام کی اس سازش کی اطلاع ہو گئی اور وہ فوراً مدراس پہنچ گئے۔ عدالتی چارہ جوئی اور مقدمے کی پیچیدگیوں سے نمٹنے کیلئے مدراس کے معروف مسلمان ایڈووکیٹ سید نور حسین شاہ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ نور حسین شاہ نے قانون کا امتحان لندن سے پاس کیا تھا اور ایک عرصہ تک وہیں پریکٹس بھی کی تھی، انہوں نے بڑی دیانتداری اور فرض شناسی سے اس عظیم کام کا آغاز کیا، لیکن کیس ابھی ابتدائی مراحل میں تھا کہ کسی سنگ دل نے محافظ کی موجودگی میں ایڈووکیٹ موصوف کو چھرا گھونپ دیا۔ زخم کاری اور مہلک تھا، جس سے وہ رحلت کر گئے۔
ان کے بعد یہ مقدمہ اصغر علی ایڈووکیٹ نے اپنے ہاتھ میں لیا، یہ بھی لندن کے تعلیم یافتہ تھے، انہوں نے بھی بڑی جانفشانی اور لگن کے ساتھ کیس کی تیاری میں حصہ لیا اور پیشیوں کے معاوضہ میں کبھی کسی رقم کا مطالبہ نہ کیا۔ فوجی حکام چاہتے تھے کہ غازی صاحب کو ذہنی مریض قرار دے کر سزا دی جائے تاکہ کیس کو مذہبی رنگ بھی نہ ملے اور ہندو بھی خوش ہو جائیں۔ اس مقصد کے تحت غازی صاحب کو گورنمنٹ مینٹل ہسپتال مدراس میں داخل کر دیا گیا۔ ایک ماہ بعد ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ میں نے پورا مہینہ میاں محمد کو اپنی خصوصی نگرانی میں رکھا ہے، نفسیاتی جائزہ بھی لیا ہے، کئی بار چھپ کر بھی معائنہ کیا ہے۔ لیکن اس عرصہ میں ایک بار بھی میں نے انہیں فکر مند یا کسی سوچ میں گم نہیں پایا (جیسا کہ پاگل اکثر گم صم رہتے ہیں) ایک ماہ میں ان کا وزن بھی بڑھ گیا ہے، اگر ان کو یہ فکر ہوتی کہ قتل کے مقدمہ میں میرا کیا حشر ہو گا، تو ان کا وزن کم ہو جاتا۔ یہ کسی غم و فکر میں مبتلا نہیں۔
جب چرن داس ایک ہی گولی لگنے سے مر گیا تھا تو پھر ساری گولیاں چلانے اور سنگین سے پے بہ پے زخم لگانے کی ضرورت نہ تھی، اور ایسی حالت میں جبکہ کوئی دیکھنے والا بھی نہ تھا۔ یہ آسانی سے فرار بھی ہو سکتے تھے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، میرا میڈیکل تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ میاں محمد نے قتل کا ارتکاب مذہبی جذبات برانگیختہ ہونے کی وجہ سے کیا ہے۔
۱۶ اگست کو غازی صاحب کا جنرل کورٹ مارشل شروع ہوا۔ پانچ دن کارروائی ہوتی رہی۔ کل اٹھارہ گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے۔ تین ڈاکٹروں کی شہادت بھی ریکارڈ پر آئی۔ جرح کے دوران انہوں نے یہ متفقہ موقف اختیار کیا کہ غازی محمد نے جو کچھ کیا ہے، ہماری رائے میں وقوعہ کے وقت وہ اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکا۔ لیکن غازی صاحب اپنے ابتدائی بیان پر ڈٹے رہے اور کہا: میں نے جو کچھ کیا ہے، خوب سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ یہی میرا فرض تھا۔ چرن داس نے میرے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کی تھی۔“
کورٹ مارشل کے دوران ان کے وکیل نے رائے دی کہ وہ یہ بیان دیں کہ میں نے گولی اپنی جان بچانے کی غرض سے چلائی تھی، کیونکہ چرن داس بھی مجھ پر حملہ کرنا چاہتا تھا، لیکن غازی نے سختی کے ساتھ اس تجویز کو مسترد کر دیا اور کہا کہ میری ایک جان تو کیا، ایسی ہزاروں جانیں بھی ہوں، تو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر نچھاور کر دوں ۔
میری ہزار جان ہو، قربان مصطفیٰ ﷺ
۲۳ ستمبر ۱۹۳۷ء کو پلٹن میں غازی میاں محمد کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا، جس کا جواب غازی نے مسکرا کر دیا۔
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
۱۵ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو وائسرائے ہند کے پاس اپیل کی گئی، جو مسترد ہوگئی۔ پھر پریوی کونسل لندن میں اپیل دائر کی گئی جو مختصر سماعت کے بعد رد کر دی گئی۔ اپیلیں مسترد ہو جانے کے بعد فوجی حکام نے ۱۲ اپریل ۱۹۳۸ء کو سزا پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا۔ ادھر حراست میں غازی کا معمول تھا کہ نماز کے علاوہ ہر وقت قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہتے۔ اس دوران رمضان شریف کا مہینہ آیا، جو انہوں نے جاگ کر گزارا۔ وہ رات دن نوافل اور درود شریف پڑھتے۔ عید کے روز غازی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ عید کی نماز عید گاہ میں مسلمانوں کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔ بڑی رد و قدح کے بعد جیل کے چند غیرت مند مسلمان فوجی افسروں کی ضمانت پر حکام نے اس کی اجازت دی۔ غازی کی سزائے موت کی خبر اب تک پورے ہندوستان میں مشہور ہو چکی تھی، حکام نے بہت کوشش
جنرل کورٹ مارشل شروع ہوا۔ پانچ دن کارروائی ہوتی رہی۔ ہے۔ تین ڈاکٹروں کی شہادت بھی ریکارڈ پر آئی۔ جرح کے یا کہ غازی محمد نے جو کچھ کیا ہے، ہماری رائے میں وقوعہ کے سکا۔ لیکن غازی صاحب اپنے ابتدائی بیان پر ڈٹے رہے ج سمجھ کر کیا ہے۔ یہی میرا فرض تھا۔ چرن داس نے میرے میں گستاخی کی تھی۔“
کے وکیل نے رائے دی کہ وہ یہ بیان دیں کہ میں نے گولی کیونکہ چرن داس بھی مجھ پر حملہ کرنا چاہتا تھا، لیکن غازی نے کہا کہ میری ایک جان تو کیا ، ایسی ہزاروں جانیں بھی ہوں ، تو نچھاور کردوں ؎
جان ہو، قربان مصطفیٰ ﷺ
غازی میاں محمد کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا، جس کا جواب
اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
ہند کے پاس اپیل کی گئی، جو مسترد ہوگئی۔ پھر پریوی کونسل ت کے بعد رد کردی گئی۔ اپیلیں مسترد ہوجانے کے بعد فوجی درآمد کا فیصلہ کیا۔ ادھر حراست میں غازی کا معمول تھا کہ نماز ت میں مشغول رہتے۔ اس دوران رمضان شریف کا مہینہ آیا، ن نوافل اور درود شریف پڑھتے۔ عید کے روز غازی نے اس ہ میں مسلمانوں کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔ بڑی ردوکدح فوجی افسروں کی ضمانت پر حکام نے اس کی اجازت دی۔ ورے ہندوستان میں مشہور ہوچکی تھی، حکام نے بہت کوشش
کی کہ نماز عید کے موقع پر مسلمانوں کو غازی کی آمد کا علم نہ ہو، لیکن عید گاہ میں موجود نمازیوں کو اس کا علم ہو گیا۔ نقص امن کا خطرہ پیدا ہونے لگا تو غازی موصوف کھڑے ہوگئے اور مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
”پیارے بھائیو! اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرو۔ آپس میں بھائیوں کی طرح اور پرامن رہو۔ میں پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ادنیٰ غلام ہوں۔ مجھ میں اسکے سوا کوئی خوبی نہیں کہ میرے ہاتھوں سے شانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ناروا حملہ کرنے والے ایک مردود کو قرار واقعی سزا ملی ہے۔ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ذرا سی توہین بھی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ آئندہ بھی کسی گستاخ نے یہ حرکت کی تو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہونے کیلئے ہزاروں جان نثار مقتل کی طرف بڑھیں گے۔ تمام بھائی دعا کریں کہ اللہ کریم راضی ہو، اور بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں مجھ ناچیز کی جان جیسی یہ حقیر قربانی قبول ہوجائے۔“
آخری تحریر..... شہادت سے چار روز قبل (۱۷؍اپریل ۱۹۳۸ء) کو غازی میاں محمد نے اپنے حقیقی بھائی ملک نور محمد کو ایک خط لکھا، اس میں بعض وصیتیں بھی لکھیں۔ آپ نے لکھا: خداوندکریم کی رضا پر راضی رہنا۔ ہر حال میں صبر کرنا۔ کسی پر تمہارا غم ظاہر نہ ہو۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا دل اس قدر خوش ہے کہ جس کا اندازہ کوئی دوسرا آدمی نہیں کر سکتا، میری دلی آرزو یہی تھی، جو اللہ کریم نے پوری کردی۔ میں گناہ کے سمندر میں غرق تھا کہ میرے مالک نے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیئے۔ اس مالک کی مہربانی کا ہزار ہزار شکریہ۔ (پھر اپنی اہلیہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا) بندہ کی عیال (بیوی) کو واضح ہو کہ میں آپ سے نہایت خوش اور راضی ہوں۔ تم نے کبھی کوئی ایسی غلطی نہیں کی، جس کیلئے تمہیں معافی کا خواستگار ہونا پڑے۔ میری شہادت پر بجائے رونے دھونے کے اپنے ربّ کو یاد کرنا۔ نماز پڑھنا۔ اپنے ربّ کی بندگی کرنا اور میرے لئے بخشش کی دعا کرنا۔
تختہ دار پر..... پھانسی کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے ۱۰؍بلوچ رجمنٹ کا ایک افسر کراچی سے مدراس پہنچا۔ اس نے غازی صاحب سے پوچھا، کوئی آخری خواہش ہو، تو بتاؤ۔ فرمایا: ساقی کوثر کے ہاتھوں سے جام پی کر سیراب ہونا چاہتا ہوں۔
غازی صاحب کا باڈی گارڈ دستہ چھ سپاہیوں، ایک انگریز افسر اور بیرے پر مشتمل تھا جن لوگوں نے آخری وقت آپ کی زیارت کی، ان کا کہنا ہے کہ چہرے پر سرور کی تازگی اور آنکھوں میں
خمار کی چمک پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی تھی۔ والدین سے آخری ملاقات میں ہنس ہنس کر باتیں کرتے رہے۔ والدہ اپنے بتیس سالہ جوان بیٹے کا دیوانہ وار کبھی سر چومتیں، کبھی منہ، والد نے بہ ہزار مشکل اپنے آپ کو سنبھالے رکھا، اسی رات گیارہ اپریل کو، انہیں مدراس سول جیل لے جایا گیا۔ رات بھر آپ عبادت میں مشغول رہے۔ تہجد کے بعد غسل فرمایا۔ سفید لباس زیب تن کیا۔ نماز فجر ادا کی۔ پھر آپ کو تختہ دار کی طرف لے جایا گیا۔ تختہ دار پر کھڑے ہوتے ہی آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ پھر مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے فرطِ عقیدت سے عرض کیا: سرکار صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں۔ پھانسی کا پھندہ آپ کے گلے میں ڈال دیا گیا۔ تختہ دار کھینچ دیا گیا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ کے چہرے پر برستا ہوا نور کچھ اور فزوں ہو گیا۔ فضا کی عطر بیزی کچھ اور بڑھ گئی۔ ڈاکٹر نے معائنہ کر کے کہا: بے قرار روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ یہ ۱۲؍ اپریل ۱۹۳۸ء کی صبح تھی۔ وقت پانچ بج کر پینتالیس منٹ۔ (تلخیص از تحریر ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی)
ایک خوشنویس کا اعزاز
قاضی عبدالرشید مرحوم پیشہ کے لحاظ سے خوشنویس تھے۔ لمبا قد، چھریرا جسم، گندمی رنگ، لمبا چہرہ، کرتہ پاجامہ، ترکی ٹوپی، یہ ان کی عام پوشاک تھی۔ شردھانند کے زمانہ قتل کے قریب اخبار ”ریاست“ میں فرائض کتابت انجام دیتے تھے۔ دفتر کوچہ بلاقی بیگم دہلی میں تھا، گلی میں دروازہ اور سپلینڈ روڈ کے سامنے برآمدہ۔ قیدِ علائق سے آزاد ہونے کے باعث میں ”ریاست“ کے دفتر ہی میں دن رات رہتا تھا۔ قاضی صاحب کی نشست میری میز کے قریب تھی۔ آریہ سماجیوں کے جو اخبارات و رسائل اور دیگر پمفلٹ اور ڈرامے وغیرہ تبادلہ و ریویو کی غرض سے دفتر میں آتے رہتے تھے، وہ بہت غور اور سنجیدگی سے پڑھے رہتے تھے۔ نماز کے بہت پابند تھے۔ دفتر کے اوقات میں ظہر و عصر کی نمازیں ہمیشہ دریبہ کی مسجد میں جماعت سے ادا کرتے تھے اور آریہ سماجیوں کی نجس و ناپاک حرکتوں سے ان کے جذبات بے انتہا مجروح ہو چکے تھے۔
واقعۂ قتل سے تین چار دن پیشتر قاضی عبدالرشید مرحوم بہت گم صم رہتے تھے۔ کام میں دل نہ لگتا تھا۔ جب تک جی چاہتا کتابت کرتے اور جب چاہتے تو برآمدے میں بچھے ہوئے کھرے پلنگ پر پڑے رہتے تھے۔ ریاست کے پروپرائٹر سردار دیوان سنگھ ان دنوں نابھہ کے معزول آنجہانی مہاراجہ
پردھن سنگھ کے کسی سیاسی و ذاتی کام سے دو ہفتوں کیلئے شملہ گئے ہوئے تھے، دفتر کے انتظامات درست رکھنے اور اخبار کو بروقت نکالنے کی ساری ذمہ داری میرے اور سردار سجن سنگھ منیجر کے ذمے تھی۔ قاضی عبدالرشید مرحوم کو میں نے ان کی بے توجہی پر ایک دو مرتبہ ٹوکا لیکن کوئی اثر نہ ہوا۔
جمعرات (۲۳؍ دسمبر) کو اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے کیلئے جوڑی جا رہی تھی۔ دفتر کا وقت نو بجے مقرر تھا۔ دن کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے اور منشی قاضی عبدالرشید کا پتہ نہ تھا۔ چند اشتہاروں کے چربے اور مسودے انہی کے پاس تھے۔ قاضی صاحب کے اس قدر دیر سے آنے پر ہیڈ کاتب منشی نذیر حسین میرٹھی نے اعتراض کیا تو جھلا کر جواب دیا: ”چولہے میں گئی تمہاری کاپی، یہ کہہ کر کام کرنے کے بجائے برآمدے میں پلنگ پر لیٹ رہے۔ میں نے اعتراض کیا، کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے سردار سجن سنگھ منیجر سے شکایت کی۔ ان کے اصرار پر برہم ہو گئے۔ بولے: ”مجھے نوکری کی پروا نہیں، لکھ دو اپنے سردار کو، میں کام نہیں کرتا۔“ یہ کہہ کر پلنگ سے اٹھے، قلمدان بغل میں دبایا اور چل دیئے۔ چار پانچ بجے سہ پہر کے درمیان دریبہ کے ہندو علاقے میں سنسنی اور بے چینی سی محسوس ہوئی۔ سامنے سڑک پر ایک دو زخمی بھی گزرے۔ اس زمانے میں خبر رسانی کے ذرائع بہت محدود تھے۔ شہر میں ٹیلی فون تک کم تعداد میں تھے۔ ساڑھے پانچ بجے شام کے درمیان روزنامہ ”تیج“ کا ضمیمہ شائع ہوا جس میں شردھانند کے قتل کی تفصیلات کے ساتھ قاضی عبدالرشید کی تصویر بھی تھی، کہ ہتھکڑیاں پہنے پولیس کی حراست میں کھڑے تھے اور جسم پر چادر ہے۔ تفصیلات سے معلوم ہوا کہ قاضی صاحب مرحوم اسی چادر میں پستول چھپا کر شردھانند کے دفتر گئے تھے اور اسے گولی کا نشانہ بنا دیا تھا۔
قاضی صاحب نے عدالت میں اقبال جرم کیا۔ ۱۵؍ مارچ ۱۹۲۶ء کو سیشن کورٹ سے پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ سیف الدین کچلو نے سیشن کورٹ میں کسی معاوضہ کے بغیر پیروی کرنے کے علاوہ لاہور ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کی مگر مسترد ہو گئی اور جولائی ۱۹۲۷ء کے آخری ہفتے یا اگست کے اوائل میں غازی عبدالرشید نے دلی سنٹرل جیل میں پھانسی کے تختے پر جام شہادت نوش کیا۔
پھانسی کے دن سنٹرل جیل کے سامنے مسلمانوں کا بے پناہ ہجوم تھا۔ ہزاروں، برقع پوش عورتوں کے علاوہ بہت سے بچے بھی غیرت اسلامی کے جذبہ سے مخمور ہو کر گھروں سے باہر نکل پڑے تھے۔ لاش کو جیل کے اندر ہی غسل و کفن دیا گیا اور حکام نے جیل کے احاطے ہی میں دفن کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن عمائد شہر کے شدید اصرار پر شہید عبدالرشید کے وارثوں کو اس شرط پر لاش دینے کا
فیصلہ کیا گیا کہ جنازہ کا جلوس نہیں نکالا جائے گا اور اسے جیل کے سامنے والے قبرستان میں نذر لحد کر دیا جائے گا، لیکن جیل کا پھاٹک کھلتے ہی جب عاشق رسول کا جنازہ باہر نکلا تو مسلمانوں کا زبردست ہجوم اللہ اکبر اور رسول اللہ کے نعرے لگاتا ہوا دیوانہ وار ٹوٹ پڑا۔ جنازے کو حکام سے چھین لیا اور سامنے قبرستان لے جانے کے بجائے جامع مسجد روانہ ہو گیا۔
نعرۂ تکبیر کی معجزہ نما اثر انگیزی کا یہ کرشمہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خونی دروازے کے سامنے مسلح پولیس کے کئی سو آدمیوں نے صف بندی کر کے راستہ روک دیا تھا۔ جا بجا گورا فوج کے جوان متعین تھے لیکن مسلمانوں کا ہجوم عاشق رسول عبدالرشید کے جنازے کو لے کر خونی دروازے کے سامنے پہنچا اور اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تو اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے کہ پولیس کے مسلح جوانوں کی صف کائی کی طرح پھٹ گئی۔ گورا فوج کے جوان سنگینیں تانے کھڑے رہے اور جنازے کا جلوس اس صفائی سے آگے بڑھا کہ جیسے صابن سے تار نکلتا ہے۔ مسلح پولیس نے کئی بار راستہ روکنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ ناموس رسول پر جان دینے والے عبدالرشید کی نماز جنازہ جامع مسجد میں پچاس ساٹھ ہزار مسلمانوں نے پڑھی (اس وقت دلی کی پوری آبادی تین لاکھ کے قریب تھی) نماز کے بعد شہر کے ممتاز مسلمانوں کی رائے تھی کہ لاش کو جیل کے سامنے والے قبرستان میں پہنچا دیا جائے جہاں قبر پہلے سے تیار تھی اور شہید کے ورثاء متعلقہ حکام سے لاش کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن غازی انوار الحسن مرحوم (جو پہلے کانگریسی تھے، بعد میں انہوں نے دلی میں مسلم لیگ کے ایک بااثر رہنما کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ افسوس ہے کہ چند سال پیشتر ان کا انتقال لاہور میں ہو گیا) کی قیادت میں پُرجوش طبقے نے جنازے کو حضرت خواجہ باقی باللہ نقشبندی کی درگاہ مبارک میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا جو جامع مسجد سے کم و بیش تین میل دور ہے۔ دلی کے مستقل کوتوال شہر دیوی دیال نے ان دنوں رخصت لے رکھی تھی۔ شیخ نذیر الحق قائم مقامی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد مسلح پولیس نے گورا فوج کی مدد سے جنازے پر نماز مغرب سے پیشتر قطب روڈ کے پل پر اس وقت قبضہ کر لیا جبکہ مسلمان حضور خواجہ باقی باللہ کی درگاہ مبارک کے قریب پہنچ چکے تھے۔ جنازہ، قبرستان میں مرحوم کے ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ عاشق رسول عبدالرشید کو ان کی ابدی خوابگاہ کی نذر کر دیا گیا۔
(تلخیص از تحریر سردار علی صابری)
ایک جولاہے نے میدان مار لیا
۱۹۳۸ء میں رونما ہونے والا یہ واقعہ و سانحہ ضلع شیخوپورہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتا ہے جو چک نمبر ۲۴ چھوٹی کے نام سے موسوم ہے۔ وہاں کے ساکن مذکورہ مردود مسمی نور محمد جٹ کاہلوں کے ایک شادی شدہ مسلمان عورت سے ناجائز تعلقات استوار ہو گئے جو قریب کے ایک موضع ہرنالہ کی رہنے والی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے اور کوشاں رہنے لگے کہ کسی طرح ان کی آپس میں شادی ہو جائے۔ لیکن عورت چونکہ پہلے ہی شادی شدہ تھی، اس لئے انہوں نے مشورہ کیا کہ اگر اسلام سے منہ موڑ لیں اور عیسائیت اختیار کر لیں تو یہ مرحلہ طے ہو سکتا ہے چنانچہ انہوں نے سانگلہ ہل جاکر ایک عیسائی پادری کے ہاتھوں عیسائیت و مسیحیت اختیار کر لی۔ مگر پھر بھی ان کی خواہش کے مطابق مسئلہ حل نہ ہوا تو بالآخر دونوں بھاگ کر امرتسر چلے گئے اور سکھ مذہب میں داخل ہو گئے۔ بدقماش نور محمد نے اپنا نام بچن سنگھ اور بدکار عورت نے دلجیت کور رکھ لیا اور کچھ عرصہ امرتسر میں قیام کر کے مذہب کے قواعد و ضوابط کی تھوڑی بہت واقفیت حاصل کر لی۔ بعد ازاں چک نمبر ۲۴ چھوٹی میں آکر آباد ہو گئے۔ جہاں بیشتر آبادی سکھوں کی تھی۔ سکھ ان کو ہمیشہ مشکوک نظروں سے دیکھتے اور باوجود ان کی یقین دہانی کے کہ وہ واقعی دل سے سکھ مذہب اختیار کر چکے ہیں، سکھوں نے انہیں تسلیم نہ کیا اور چند شرائط پیش کیں، جن میں سے ایک یہ تھی کہ وہ سر عام جھٹکے کا گوشت کھائیں۔ اس بدبخت و بدقسمت جوڑے نے جھٹکے کا گوشت کھا کر یہ شرط پوری کر دی۔ اس کے بعد سکھوں نے دوسری شرط یہ پیش کی کہ اب سور کا گوشت کھاؤ۔ ان دونوں نے اعلانیہ سور کا گوشت بھی کھا لیا۔ لیکن سکھوں کو اتنی سخت شرائط منوا لینے کے باوجود بھی ان کی طرف سے دلجمعی نہ ہوئی۔ لہٰذا یہ طے پایا کہ ایک بڑا اجتماع جسے سکھ لوگ اکھنڈ پاٹھ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، منعقد کیا جائے اور یہ دونوں اس اجتماع میں سر عام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حرمتی کریں (نعوذ باللہ من ذلک) چنانچہ وہ دونوں یہ بھی کر گزرے۔ مگر اس حرکت سے آس پاس کے دیہات کے مسلمانوں کی سخت دلآزاری ہوئی۔ ان کی غیرت اسلامی جاگ اٹھی اور سارے علاقے میں ہیجان پھیل گیا، جس پر سکھوں نے مسلمانوں کے مجمع عام سے اس بیہودہ و ناپسندیدہ حرکت کی معافی مانگی، مگر مسلمانوں کی تسلی و تشفی نہ ہوئی۔ مسلمان بضد تھے کہ جس نابکار و ناہنجار جوڑے نے اس گستاخی و بے حرمتی کا ارتکاب کیا ہے، وہ تو سامنے نہیں
آیا، نہ ہی ان لوگوں نے معافی مانگی ہے اور نہ ہی ان کو کوئی احساس ندامت ہوا ہے۔ اس پر ایک دوسرے اجتماع کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں اس بدکردار جوڑے نے بھی مسلمانوں سے معافی مانگ لی، البتہ سکھ مذہب کو ترک نہ کیا اور اس پر حسب سابق کار بند رہے۔
اس موقع پر غازی صوفی عبداللہ انصاری کی رگِ حمیت پھڑکی ۔ عبداللہ پٹی تحصیل قصور کا رہائشی تھا۔ ان دنوں چک نمبر ۴۲ شریف میں اپنے پیر خانے پر موجود تھا۔ وہ پکا مسلمان اور سچا عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھا۔ اس نے مسلمانوں سے کہا کہ ان مرتدین نے جو گناہ عظیم کیا ہے، اس کی معافی تو اللہ پاک یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی دوسرا شخص دینے کا مجاز و حقدار نہیں۔ لیکن انہوں نے جو گستاخی حضور شہنشاہ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کی ہے، اس کی سزا انہیں اسی دنیا میں ملنی چاہئے۔ اور یہ سزا انہیں میں دوں گا۔ میں بحیثیت ایک ادنیٰ غلام سرکار مدینہ کے ان کو واصل جہنم کروں گا۔
اس کے بعد صوفی عبداللہ کو یہی فکر دامن گیر رہتی کہ کب اور کس وقت اور کس طرح اس کی دلی آرزو و تمنا پوری ہوتی ہے۔ نماز پڑھتا اور خاموش بیٹھا یہی سکیمیں سوچتارہتا۔ غریب محنتی آدمی تھا۔ بالآخر اس نے کہیں سے ایک معمولی چھری حاصل کر لی اور اسے تیز کیا اور اس راز کو سینے میں چھپائے چک نمبر ۴۴ چھوٹی کی طرف چل دیا۔ اتفاقاً اسے راستے میں چنچل سنگھ کا حقیقی بھائی نتھو مل گیا۔ عبداللہ نہ چنچل سنگھ کو جانتا تھا اور نہ نتھو کو۔ بہر حال عبداللہ کے دریافت کرنے پر نتھو نے اشارے سے بتایا کہ وہ دیکھو سامنے چنچل سنگھ اپنے کھیت میں کام کر رہا ہے۔ غریب الوطن مرد مجاہد اس کی جانب سیدھا ہو گیا اور اسے دور ہی سے للکار کر کہا کہ تیار ہو جاؤ، عاشق رسول آ پہنچا ہے۔ قوی ہیکل اور ہٹا کٹا چنچل سنگھ جو ہر وقت کرپان سے مسلح رہتا تھا، کرپان سونت کر عبداللہ کی طرف بہ ارادہ پیکار بڑھا اور کرپان کا وار بھی کیا مگر وار خالی گیا۔ ادھر اللہ کے شیر نے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے قوت ایمانی کے جوش اور عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زور سے چھری کے ساتھ حملہ کیا اور پہلے ہی وار میں گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم چنچل سنگھ کا پیٹ چاک کر ڈالا۔ وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ قریب ہی کھیتوں میں اس کی چہیتی بیوی دلجیت کور کام کر رہی تھی۔ عبداللہ نے اسے للکارا تو وہ بھاگ نکلی مگر عبداللہ نے اسے بھی کچھ ہی فاصلے پر جا لیا اور سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے چنچل سنگھ کے قریب لا کر ذبح کر دیا۔ کثیر تعداد میں سکھ یہ جانگداز منظر اپنے کھیتوں میں کھڑے دیکھتے رہے مگر ان کے قریب آنے اور ان
کو بچانے کی جرأت نہ کر سکے، بلکہ اتنی ہمت بھی نہ پڑی کہ غازی عبداللہ کو پکڑ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے دلوں پر اس قدر دہشت اور خوف طاری کر دیا تھا۔
پھر یہ جری مجاہد اور مرد غازی اس کام سے فارغ ہو کر بڑے اطمینان کے ساتھ قریبی سیم نالہ کی طرف گیا۔ وہاں اس نے غسل کیا۔ کپڑے دھوئے اور نوافل شکرانہ ادا کئے کہ خدا تعالیٰ نے اسے اس عظیم کارنامہ سے عہدہ برآ کیا اور کامیابی سے ہمکنار فرمایا۔ ازاں بعد غازی عبداللہ نے ہرنالہ جا کر خود ہی پولیس کے روبرو اقبال جرم کر لیا۔ لیکن چونکہ وہ تحصیل قصور کا رہنے والا تھا، ضلع شیخوپورہ میں کوئی گواہ اس کی شناخت نہیں کر سکتا تھا۔ اس بات کی آڑ میں مقدمہ کے دوران بعض مسلمانوں نے اس کو مالی و قانونی امداد کی پیشکش کرنے کے علاوہ یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اقبال جرم نہ کرے تو بآسانی عدالت سے بری ہو سکتا ہے۔ مگر اس عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متوالے اور ناموس رسالت کے دیوانے نے کسی پیشکش کو قبول نہ کیا اور کہا کہ میں اس ثواب عظمیٰ اور ثواب دارین سے محروم نہیں رہنا چاہتا۔ چنانچہ مقدمہ سیشن کورٹ سپرد ہوا تو وہاں بھی مرد مجاہد نے بصد خوشی اقبال جرم ہی کیا۔ پھر اس جرم کی پاداش میں لاہور جیل میں اسے پھانسی دے دی گئی۔ اور اس شہید ملت کی میت کو گمنامی کی حالت میں موضع پٹی حال تحصیل امرتسر (بھارت) میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
تم جیسے ۲۰ بیٹے قربان کر دوں
غازی محمد صدیق شہیدؒ کا تعلق شیخ برادری سے تھا۔ شمع نبوت کے اس شیدائی کی ولادت با سعادت ۱۹۱۴ء کے درمیانی مہینوں میں ہوئی۔ پانچ سال کا ہو جانے پر انہیں مسجد میں بٹھایا گیا۔ ۱۹۲۵ء تک دینی تعلیم کے علاوہ آپ پانچویں جماعت بھی پاس کر چکے تھے۔ چونکہ آپ کے والد ماجد شیخ کرم الٰہی فیروز پور چھاؤنی میں، جو قصور سے قریباً پندرہ میل کے فاصلے پر ہے، کچے چمڑے کا آبائی پیشہ اختیار کئے ہوئے تھے۔ وہ اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے گئے۔ غازی صاحب کو چھاؤنی کے قریب ہی ایک تعلیمی ادارے میں داخل کرایا گیا، جہاں آپ تین سال تک زیر تعلیم رہے اور آٹھویں کا امتحان پاس کیا۔ اسی دوران آپ کے والد گرامی چند روز کی ناسازی طبیعت کے بعد جہان فانی سے کوچ فرما گئے۔ غازی محمد صدیق شہیدؒ کی والدہ محترمہ کا نام عائشہ بی بی تھا۔ آپ بڑی نیک سیرت اور حوصلہ مند خاتون تھیں۔ ان کی تربیت کا اثر موصوف کے تاریخی عمل سے ۱۹۳۵ء میں سامنے آیا
جب شمع رسالت کے یہ پروانے تختہ دار کو رونق بخش گئے۔
مسمی پالال سنار ایک صاحب ثروت ہندو سنار تھا۔ اس کی دکان درگاہ حضرت بلھے شاہؒ سے ذرا دور تھی۔ اس کی پشت پر ہندو ساہو کاروں کا ہاتھ تھا۔ بنیوں کے ٹولے کی حمایت میں ابتداءً وہ مسلمانوں کی معاشی ناساز گاریوں پر بکواس کرتا تھا۔ پالال نے بے ادبیوں کا یہ کھلم کھلا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ ۱۶؍ مارچ کو جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو مردود مذکور نے نہ صرف نماز کا مضحکہ اڑایا بلکہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات بکے۔ شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں صریحاً گستاخی کی اس قبیح حرکت پر پورے شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
انہی دنوں کا ذکر ہے ایک رات حافظ غازی محمد صدیق صاحب نیند میں تھے کہ مقدر جاگ اٹھا۔ نصف شب بیت چکی تھی، جب آپ کو سرور بنی آدم، روح رواں عالم، دلیل کعبہ مقصود، کاشف سر مکنون، خازن علم مخزون جناب احمد مجتبیٰ، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قصور میں ایک بدنصیب ہندو پے در پے ہماری شان میں گستاخیاں کرتا چلا جا رہا ہے۔ جاؤ اور اس ناپاک زبان کو لگام دو۔“ قبلۂ صدق و صفا، کعبۂ ارباب حلم و حیاء وارث علوم اولین، مورث کمالات آخرین، شہنشاہ فضائل و کمالات، رحمۃ للعالمین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و عزت کا یہ جانباز محافظ کئی روز تک شدت غم و غصہ سے پیچ و تاب کھاتا رہا۔ ان کے سینے میں جوش غضب کی چنگاریاں چیخ رہی تھیں۔ ان کے دل میں ایک ہی جذبہ موجزن تھا کہ وہ جلد از جلد قصور پہنچ کر اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کو جہنم رسید کریں۔“
۱۰؍ ستمبر ۱۹۳۴ء کی بات ہے انہوں نے اپنی والدہ ماجدہ سے عرض کی کہ ”مجھے خواب میں ایک دریدہ دہن کافر دکھلا کر بتایا گیا ہے کہ یہ ناہنجار توہین نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اسے گستاخی کا مزہ چکھاؤ تاکہ آئندہ کوئی شاتم اس امر کی جرأت نہ کر سکے۔ میں قصور اپنے ماموں کے پاس جا رہا ہوں۔ گستاخ موذی وہیں کا رہنے والا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس ذلیل کتے کی ذلت ناک موت میرے ہی ہاتھوں واقع ہوگی۔ نیز مجھے تختۂ دار پر جام شہادت پلایا جائے گا۔ آپ دعا فرمائیں، بارگاہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم میں میری قربانی منظور ہو اور میں اپنے اس عظیم فرض کو بطریق احسن نبھا سکوں۔“ ماں نے بخوشی اجازت دے دی۔ ایک مومنہ کے لئے اس سے بڑھ کر کیا مسرت ہو سکتی ہے کہ اس کا بیٹا دین اسلام کے کام آئے۔
۱۷؍ ستمبر ۱۹۳۴ء کی شام کا واقعہ ہے حضرت قبلہ غازی صاحب دربار بابا بلھے شاہ کے نزدیک نیم کے درخت سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ عقابی نگاہیں آنے جانے والوں کا بغور جائزہ لے رہی تھیں۔ اتنے میں ایک ایسا شخص دکھائی دیا، جس نے چہرے پر کسی حد تک نقاب اوڑھ رکھا تھا۔ آپ نے جھٹ اس کی راہ روکی اور پوچھا ”تو کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ یہاں کیا کرتا ہے؟“ اسے اپنا نام بتانے میں تامل تھا۔ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی۔ آپ کو تنہا دیکھ کر اسے بھی حوصلہ ہوا۔ وہ کہنے لگا ”مسلمانوں نے پہلے میرا کیا بگاڑ لیا ہے اور اب کون سی قیامت آ جائے گی۔“ الغرض غازی موصوف نے اسے پہچان لیا کہ یہی وہ گستاخ رسولؐ ہے، جسے ٹھکانے لگانے پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ غازی نے فرمایا کہ ”میں تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں۔ کئی دنوں سے تیری تلاش میں تھا۔ اے دہن دریدہ لہجہ! آج تو کسی طرح بھی ذلت ناک موت سے نہیں بچ سکتا۔“ یہ کہہ کر آپ نے تہہ بند سے رمبی (چمڑا کاٹنے کا اوزار) نکالی اور للکارتے ہوئے اس پر حملہ آور ہو گئے۔ حافظ محمد صدیق متواتر وار کئے جارہے تھے اور زور زور سے نعرۂ تکبیر لگا کر بے غیرت پر برس پڑے۔ واقعات کے مطابق پورے ساڑھے سات بجے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی کرنے والا یہ خناس شخص، جسے لوگ لالہ پالامل شاہ کے نام سے جانتے تھے، اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔
موقع پر موجود افراد کا بیان ہے کہ اگر غازی صاحب فرار ہونا چاہتے تو باآسانی ایسا کر سکتے تھے مگر انہوں نے اپنے فرض سے فارغ ہو چکنے کے بعد دوگانہ نمازِ شکرانہ ادا کی اور قریبی مسجد کی سیڑھیوں پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ گئے اور وقفے وقفے سے زیر لب مسکراتے اور گنگناتے رہے۔ اس وقت تمام ہندوؤں کے چہرے اترے اترے تھے مگر غازی صاحب نہایت مطمئن اور سرشار نظر آتے۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ کی یہ ادا مسلمانوں کی سربلندی اور غیرت مند فطرت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
سیشن کورٹ میں حافظ غازی محمد صدیق کے مقدمہ کی سماعت ۱۴؍ دسمبر ۱۹۳۴ء کو سنٹرل جیل لاہور میں مسٹر نیل کے روبرو شروع ہوئی۔ استغاثہ کی طرف سے خان قلندر علی خان پبلک پراسیکیوٹر اور صفائی کیلئے میاں عبدالعزیز صاحب بیرسٹر اور شیخ خالد لطیف گابا ایڈووکیٹ پیروکار تھے۔
سیشن کورٹ میں فیصلے کے دن حضرت قبلہ حافظ صاحب کی والدہ نے اپنے جواں سال بیٹے کی پیشانی چومتے ہوئے نہایت حوصلے کے ساتھ فرمایا ”میں خوش ہوں۔ جس رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی شان کے تحفظ کیلئے تم قربان گاہ پر جارہے ہو، اس محبوب پروردگار صلی اللہ علیہ وسلم کی شان قائم رکھنے کیلئے مجھے تم جیسے بیس بیٹوں کی قربانی دینا پڑے تو رب کعبہ کی قسم ! کبھی دریغ نہ کروں ۔“ سیشن کورٹ میں غازی محمد صدیق ؒ کے لئے سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ زندہ دلان قصور نے اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ لاہور میں اپیل گزار دی۔ عدالت عالیہ میں ۳۱؍جنوری ۱۹۳۵ء کو سماعت ہوئی۔ فیصلہ صادر کرنے کے لئے ایک ڈویژنل بینچ تشکیل دیا گیا۔ اس میں چیف جسٹس اور جسٹس عبدالرشید شامل تھے۔ فیصلہ کے طور پر سیشن کورٹ کا حکم بحال ہوا۔ ٹھیک ایک بجے جنازہ اٹھایا گیا اور جلوس کی صورت میں نصف میل کا فاصلہ پورے تین گھنٹے میں طے ہوا۔ نماز جنازہ پریڈ گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جس میں محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ جنازے کو کندھے دینے کیلئے چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تھے۔ آپ کے جسد مبارک کو قبرستان میں پہنچایا گیا اور فدائی حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم غازی محمد صدیق شہید کو پورے چھ بجے سپرد خدا کر دیا گیا۔
گستاخ کو کیفر کردار تک پہنچا دیا
آپ کا نام بابو معراج دین تھا۔ آپ ۱۹۲۱ء میں اندرون لوہاری گیٹ لاہور کے محلہ چڑی ماراں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا نام چوہدری اللہ دتہ تھا اور آپ قوم کمبوہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ ایک معزز گھرانے کے چشم و چراغ تھے اور بہت محنت کش لوگ تھے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ اسلامیہ لوہاری گیٹ سے حاصل کی۔ آپ کو ابتداء ہی سے اسلام سے گہرا لگاؤ تھا اور بہت حساس طبیعت کے مالک تھے۔ مذہبی لگاؤ آپ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ۱۹۴۰ء میں آپ نے فوج میں ملازمت اختیار کر لی۔ آپ کو لکھنؤ چھاؤنی میں تعینات کیا گیا۔ آپ نے فوج میں رہ کر بھی مذہبی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ آپ نے چند مسلمان فوجیوں کو ساتھ ملا کر چھاؤنی میں ایک مسجد قائم کی اور اس مسجد میں نماز پنجگانہ ادا ہونے لگی۔ اس کے علاوہ شام کو مسجد میں درس دیا جاتا تھا۔ یہ سارا سلسلہ ایک تنظیم کی شکل اختیار کر گیا۔ آپ تحریک پاکستان کے بھی بڑے حامی تھے۔ آپ نے چھاؤنی میں مسلمان فوجیوں کو پاکستان کی اہمیت کا احساس دلایا۔ اس چھاؤنی کا کمانڈر ایک سکھ میجر ہردیال سنگھ تھا۔ یہ مسلمانوں کو بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ بابو معراج
پر جارہے ہو، اس محبوب پروردگار صلی اللہ علیہ وسلم کی شان قائم رکھنے پر جان بھی دینا پڑے تو رب کعبہ کی قسم! کبھی دریغ نہ کروں۔‘‘ عاشق کے لئے سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ زندہ دلان قصور نے اپیل گزار دی۔ عدالت عالیہ میں ۳۱؍جنوری ۱۹۳۵ء کو ایک ڈویژنل بینچ تشکیل دیا گیا۔ اس میں چیف جسٹس اور مسٹر جسٹس منرو شامل تھے۔ سیشن کورٹ کا حکم بحال ہوا۔ اور جلوس کی صورت میں نصف میل کا فاصلہ پورے تین گھنٹے میں طے کیا گیا۔ جس میں محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ کندھے دینے کیلئے چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تھے۔ جنازہ قبرستان میں پہنچایا گیا اور فدائی حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کو سپرد خاک کر دیا گیا۔
پیدائش
آپ ۱۹۲۱ء میں اندرون لوہاری گیٹ لاہور کے محلہ چڑی ماراں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام چوہدری اللہ دتہ تھا اور آپ قوم کمبوہ سے تعلق رکھتے تھے اور بہت محنت کش لوگ تھے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی۔ آپ کو ابتدا ہی سے اسلام سے گہرا لگاؤ تھا اور یہ جذبہ آپ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ آپ نے ملازمت اختیار کر لی۔ آپ کو لکھنؤ چھاؤنی میں تعینات کیا گیا۔ آپ نے دینی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ آپ نے چند مسلمان فوجیوں کو ساتھ ملا کر مسجد میں نماز پنجگانہ ادا ہونے لگی۔ اس کے علاوہ شام کو مسجد میں ہی ایک تنظیم کی شکل اختیار کر گیا۔ آپ تحریک پاکستان کے بھی بڑے حامی تھے۔ فوجیوں کو پاکستان کی اہمیت کا احساس دلایا۔ اس چھاؤنی کا انگریز افسر مسلمانوں کو بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ بابو معراج
الدین اور ان کے ساتھیوں نے عیدالضحیٰ کے موقع پر قربانی کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ لوگ جب قربانی میں مصروف تھے کہ وہاں پر میجر ہردیال سنگھ آ گیا اور اس نے مسلمانوں کے اس مقدس تہوار کا مذاق اڑایا اور قربانی کے گوشت کی بے حرمتی کی۔ بابو معراج الدین کو اس کی یہ بدتمیزی برداشت نہ ہوئی۔ آپ نے اسی چھری کے ساتھ اس گستاخ سکھ کو اس کے کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ حکومت برطانیہ نے آپ کے خلاف کورٹ مارشل کیا اور آپ کو موت کی سزا سنائی۔ یہ ۱۹۲۴ء لکھنؤ چھاؤنی کا ایک مشہور واقعہ تھا۔ یہ خبر پورے شہر لکھنؤ اور چھاؤنی میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ چونکہ اس واقعہ سے لکھنؤ شہر اور چھاؤنی میں فرقہ وارانہ فساد کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا، چنانچہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے انگریز فوجی حکومت نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ چونکہ اس واقعہ سے لکھنؤ میں حالات ٹھیک نہیں تھے اس لئے معراج الدین کو منٹگمری (ساہیوال) جیل میں بھیج دیا گیا۔ یہاں پر بھی آپ کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ ۱۹۲۴ء میں آپ کو لاہور سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔ آپ صوم وصلوٰۃ کے بڑے پابند تھے اور دوسروں کو بھی اس پر عمل کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ آپ نے جیل ہی میں قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی اور زیادہ تر مذہبی رہنماؤں کا لٹریچر پڑھا کرتے تھے۔
پاکستان کی آزادی کے فوراً بعد آپ کو رہا کر دیا گیا کیونکہ آپ کو جس جرم کی سزا ملی تھی، وہ جرم نہیں تھا بلکہ عبادت تھی۔ یہ ان کا مذہبی لگاؤ تھا۔ اس وقت آپ کا خاندان پیر غازی روڈ اچھرہ منتقل ہو چکا تھا۔ آپ رہائی پانے کے بعد ایک مکمل اور صالح مسلمان بن چکے تھے۔ ۱۹۴۹ء میں آپ کی شادی ہو گئی۔ خدا نے آپ کو دو بیٹیوں سے نوازا۔
۱۹۵۱-۵۲ء میں ختم نبوت کی تحریک زوروں پر تھی۔ آپ ایک سچے عاشق رسول تھے۔ آپ نے اس تحریک میں بھر پور طریقے سے حصہ لینا شروع کر دیا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا شمار اس تحریک کے بانیوں میں سے ہوتا تھا۔ آپ ایک شعلہ بیان مقرر تھے۔ بابو معراج الدین کو شروع ہی سے شاہ جیؒ سے بڑی عقیدت تھی اور آپ جیل میں بھی ان کا لٹریچر پڑھا کرتے تھے۔ آپ ان کے جلسے اور جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب بابو معراج الدین سے دلی پیار کرتے تھے۔
۶ مارچ ۱۹۵۲ء بروز جمعۃ المبارک کو معراج الدین نے جمعہ کی نماز کے بعد مسجد تکیہ لہڑی شاہ کے باہر لوگوں کو اکٹھا کیا۔ بابا فتح محمدؒ نے اس اجتماع سے ایک ولولہ انگیز تقریر کی۔ باباجی کی قیادت
میں یہ اجتماع جلوس کی شکل اختیار کرتے ہوئے مسجد وزیر خان کی طرف روانہ ہوا۔ باباجی نے چند قدم اس جلوس کی قیادت کی، چونکہ آپ بہت کمزور تھے آپ نے جلوس کی قیادت معراج الدین کے سپرد کردی۔ آپ برگزیدہ ہستی تھے اور آپ جان چکے تھے کہ معراج دین کو بلند رتبہ ملنے والا ہے۔ آپ نے معراج الدین کو دعا دیتے ہوئے الوداع کیا۔ باباجی مسجد تکیہ لہڑی شاہ کے کونے میں آرام فرما رہے ہیں۔
چونکہ موجودہ حکومت اس تحریک ختم نبوت کو سختی سے کچل دینا چاہتی تھی، چنانچہ مال روڈ پر جہاں آج اسٹیٹ بینک کی نئی عمارت قائم ہے، فوج نے اس جلوس کا راستہ روک لیا۔ ان کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔ اسی دوران فوج نے گولی چلادی۔ بابو معراج الدین کو دائیں بازو پر پہلی گولی لگی۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو لیٹ جانے کا حکم دیا۔ اسی دوران دوسری گولی آپ کی چھاتی میں لگی۔ اس وقت آپ کے چھوٹے بھائی چوہدری محمد زکریا بھی آپ کے ساتھ ہی تھے۔ آپ نے چھوٹے بھائی کی گود میں اپنا سر رکھ کر جام شہادت نوش فرمایا۔ شہادت کے وقت آپ کی زبان پر کلمہ طیبہ کا ورد تھا۔ آپ کے جنازے میں لوگوں نے جوق در جوق شرکت کی اچھرہ کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا جنازہ تھا۔ آپ کو فیروز پور روڈ اچھرہ اڈا کے قبرستان میں پٹرول پمپ کے عقب میں سپرد خاک کیا گیا۔
بیوی کی التجاء پر گستاخ کو ٹھکانے لگا دیا
ایک ایسے ہی غازی کا واقعہ جو مقام شہادت تو نہ حاصل کر سکا مگر شاتم کو قتل کر دیا۔
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
سندھ کے علاقہ ضلع نواب شاہ تحصیل پڈعیدن سے پندرہ میل دور ایک قصبہ آباد تھا جس کا نام کونڈی ہے۔ اس قصبہ میں کچھ مرزائی رہائش پذیر تھے تو انہوں نے مسلمانوں کو مناظرہ کا چیلنج کیا تو تحریک ختم نبوت والوں نے اپنے اکابر علماء کو دعوت دے کر بلایا اور مناظرہ کی تیاری کر لی۔
ہوئے مسجد وزیر خان کی طرف روانہ ہوا۔ بابا جی نے چند قدم کمزور تھے آپ نے جلوس کی قیادت معراج الدین کے سپرد جان چکے تھے کہ معراج دین کو بلند رتبہ ملنے والا ہے۔ آپ وداع کیا۔ بابا جی مسجد تکیہ لہری شاہ کے کونے میں آرام فرما
ختم نبوت کو سختی سے کچل دینا چاہتی تھی، چنانچہ مال روڈ پر قائم ہے، فوج نے اس جلوس کا راستہ روک لیا۔ ان کو منتشر استعمال کی گئی۔ اسی دوران فوج نے گولی چلا دی۔ بابو معراج پ نے اپنے ساتھیوں کو لیٹ جانے کا حکم دیا۔ اسی دوران وقت آپ کے چھوٹے بھائی چوہدری محمد زکریا بھی آپ کے کی گود میں اپنا سر رکھ کر جام شہادت نوش فرمایا۔ شہادت کے آپ کے جنازے میں لوگوں نے جوق در جوق شرکت کی ہ تھا۔ آپ کو فیروز پور روڈ اچھرہ اڈا کے قبرستان میں پٹرول
وٹھکانے لگا دیا
ام شہادت تو نہ حاصل کر سکا مگر شاتم کو قتل کر دیا۔
نے بخشا ہے ذوق خدائی
کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
صیل پنڈ دادن خان سے پندرہ میل دور ایک قصبہ آباد تھا جس کا رہائش پذیر تھے تو انہوں نے مسلمانوں کو مناظرہ کا چیلنج کیا کابر علماء کو دعوت دے کر بلایا اور مناظرہ کی تیاری کر لی۔
حضرت مولانا لال حسین اختر اور دیگر علماء کرام تشریف لائے۔ اور مسلمانوں کی کثیر تعداد بھی اس مناظرہ کو دیکھنے کیلئے پہنچی ہوئی تھی۔ مناظرہ کا آغاز ہوا اور مولانا لال حسین اختر صاحب نے بڑے ہی جرأت مندانہ انداز میں فرمایا آج میں انشاء اللہ ثابت کروں گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب تھا اور اس کا دعویٰ نبوت بھی جھوٹا تھا اور ہے۔ اور اس کے اوپر احکامات کا نزول ماننے والے اس کے پیروکار سب جھوٹے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں قادیانی مناظر جو آیا تھا وہ ایک مقامی جاگیردار عبدالحق نامی شخص تھا۔ اس نے لال حسین صاحب کے جواب میں وہی الفاظ دہرائے کہ میں آج یہ ثابت کروں گا کہ تمہارے نبی ﷺ جھوٹے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ نعوذ باللہ (خاکم بدہن)
پھر کیا تھا مسلمان تو بپھر گئے کہ مسلمانوں کی موجودگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین مسلمانوں میں شور پڑ گیا۔ مسلمان اس کی طرف دوڑے قریب تھا کہ اس کا قصہ تمام کر دیا جاتا مگر مقامی پولیس نے پہنچ کر معاملہ رفع دفع کروایا۔ مسلمانوں نے کہا کہ یہ ملعون اپنے الفاظ واپس لے اور معافی مانگے اس نے مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے۔ ہماری غیرت ایمانی کو للکارا ہے۔
مسلمان فرط غم میں ڈوبے بوجھل قدموں کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ ان کے دل گھائل تھے۔ حاجی مانک بھی دوسرے لوگوں کی طرح غمزدہ بوجھل قدموں سے چلتا آ رہا تھا اس کے کان میں عبدالحق ملعون کے الفاظ گونج رہے تھے اور حاجی مانک کو غیرت دلا رہے تھے کاش یہ دن دیکھنے سے پہلے مجھے موت آجاتی میری زندگی میں حضور کی مطہرہ و منزہ ذات کی اتنی توہین۔
ابھی گھر کی دہلیز پر قدم رکھا ہی تھا کہ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کی تاریخ کو دہرانے والی اہلیہ نے چیخ چیخ کر رونا شروع کر دیا۔ وہ زار و قطار رو رہی تھی اور شوہر کو مخاطب کر کے کہہ رہی تھی تو بے غیرت ہے آج کے بعد میں تمہاری بیوی کہلانے کو تیار نہیں تو اس گھر سے چلا جا اس گھر میں آج میں رہوں گی یا تم رہو گے۔ آج وہ اپنے سرتاج سے اس طرح مخاطب تھی۔ اے حاجی مانک تجھے شرم نہیں آئی ابھی کچھ دن پہلے تو روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دے کر آئے ہو ابھی تو کچھ زیادہ دن بھی نہیں گزرے ہیں۔ کہاں گئی تمہاری غیرت ایمانی؟ کل حوض کوثر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھاؤ گے۔ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اتنے گستاخانہ جملے سن کر گھر زندہ کیسے چلے آئے۔ کیا تم رسول اللہ کے امتی نہیں ہو۔ بس پھر کیا تھا بیوی کے یہ جملے جلتی پر تیل کا کام کر گئے۔ حاجی صاحب تو پہلے ہی بڑے رنجیدہ تھے بیوی کے یہ جملے سنے اور کلہاڑی اٹھائی اور اس شاتم رسول
عبدالحق ملعون کی طرف چل دیئے۔ مانک کے دل میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے جوش مارا کلہاڑی لئے چلتا جا رہا تھا کہ مانک پچاس سالہ بوڑھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں آج بہت طاقتور اور جوان لگ رہا تھا حاجی مانک کھیتوں کی طرف جا رہے تھے کہ اسے اپنا شکار سامنے نظر آیا ضمیر نے یہ فیصلہ کیا آج میں رہوں گا یا یہ گستاخ رسول۔ عبدالحق نے کلہاڑی اٹھائے حاجی صاحب کو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا مگر اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ موت اس قدر قریب پہنچ چکی ہے۔ قریب پہنچتے ہی حاجی مانک نے اسے للکارا کہ او گستاخ رسول تو آج بچ کر نہیں جا سکتا۔ رسول اللہ کا عاشق تیرے لئے پیغام اجل لایا ہے۔ آج تیری زندگی کا آخری دن ہے۔ میں آج سے پہلے جس کلہاڑی سے اپنے گھر میں جلانے کیلئے ایندھن لے جایا کرتا تھا آج اسی کلہاڑی سے تجھے جہنم کا ایندھن بنانے والا ہوں۔ یہ سن کر اس ملعون نے دوڑ لگا دی۔ حاجی مانک اس کے پیچھے دوڑے عبدالحق کو ٹھوکر لگی اور نیچے گر گیا۔ حاجی مانک نے کلہاڑی سے وار کیا اور ٹھوکر مارتے ہوئے نعرہ تکبیر لگایا اور زور دار ضربیں لگانا شروع کر دیں۔ سینے پر یہ کہتے ہوئے ضرب لگائی اس سینے میں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا کینہ تھا۔ اور دماغ پر وار کر کے اسے جہنم رسید کر دیا۔ ابھی اس عاشق کی آگ ٹھنڈی نہیں پڑی تھی اس زبان کو کھینچا انگلی کو کاٹا جس انگلی سے اشارہ کیا تھا جس زبان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی تھی۔ اور کلہاڑی لئے خون آلود کپڑوں کے ساتھ تھانے جا پہنچا تھانیدار نے پہچانتے ہوئے کہا حاجی صاحب یہ کیا معاملہ ہے فرمایا عبدالحق نے کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کا ارتکاب کیا تھا میں آج اس کی زبان کو بند کر آیا ہوں وہ جہنم واصل ہو چکا ہے اس کے خون کو کتے چاٹ رہے ہیں اور اس کے مغز کو چیل اور کوے کھا رہے ہیں۔ قتل کرنے کے بعد خود ہی تھانے میں حاضر ہو گئے۔ تھانیدار کانپنے لگا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اپنی کرسی سے اٹھ کر اپنی ٹوپی اتار کر حاجی مانک کے قدموں میں رکھتے ہوئے کہا معاف کیجئے گا میں آپ کو گرفتار کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم ہونا نہیں چاہتا ہوں۔ اتنے میں تھانہ کا سارا عملہ اکٹھا ہو گیا۔ سپاہیوں کی نگاہیں مانک جیسے بہادر بوڑھے پر پڑیں تو سب سراپا ادب بن کر کھڑے ہو گئے۔ اور شرمندہ تھے کہ جو کام ہم جوانوں سے نہ ہو سکا ایک بوڑھے نے کتنی جلدی سے کر دکھایا۔ مانک نے کہا مجھے گرفتار کرو، افسر نے کہا میں اپنی وردی اتار کر حکومت کے حوالے کر سکتا ہوں لیکن آپ کو گرفتار نہیں کر سکتا ہوں۔ کل قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ
۔ مانک کے دل میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے جوش مارا ۔ پچاس سالہ بوڑھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں آج بہت مانک کھیتوں کی طرف جارہے تھے کہ اسے اپنا شکار سامنے نظر آیا گایا یہ گستاخ رسول ۔ عبدالحق نے کلہاڑی اٹھائے حاجی صاحب کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ موت اس قدر قریب پہنچ چکی نے اسے للکارا کہ او گستاخ رسول تو آج بچ کر نہیں جاسکتا۔ رسول لایا ہے۔ آج تیری زندگی کا آخری دن ہے۔ میں آج سے پہلے نے کیلئے ایندھن لے جایا کرتا تھا آج اسی کلہاڑی سے تجھے جہنم کا اس ملعون نے دوڑ لگا دی۔ حاجی مانک اس کے پیچھے دوڑے حاجی مانک نے کلہاڑی سے وار کیا اور ٹھوکر مارتے ہوئے نعرہ تکبیر کردیں۔ سینے پر یہ کہتے ہوئے ضرب لگائی اس سینے میں میرے دماغ پر وار کر کے اسے جہنم رسید کردیا۔ ابھی اس عاشق کی آگ پہنچا انگلی کو کاٹا جس انگلی سے اشارہ کیا تھا جس زبان سے رسول اللہ ا۔ اور کلہاڑی لئے خون آلود کپڑوں کے ساتھ تھانے جا پہنچا جی صاحب یہ کیا معاملہ ہے فرمایا عبدالحق نے کل رسول اللہ صلی لیا تھا میں آج اس کی زبان کو بند کر آیا ہوں وہ جہنم واصل ہو چکا ے ہیں اور اس کے مغز کو چیل اور کوے کھا رہے ہیں۔ قتل کرنے گئے۔ تھانیدار کانپنے لگا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اپنی حاجی مانک کے قدموں میں رکھتے ہوئے کہا معاف کیجئے گا میں وسلم کی شفاعت سے محروم ہونا نہیں چاہتا ہوں۔ اتنے میں تھانہ نگاہیں مانک جیسے بہادر بوڑھے پر پڑیں تو سب سراپا ادب بن کہ جو کام ہم جوانوں سے نہ ہوسکا ایک بوڑھے نے کتنی جلدی تار کرو، افسر نے کہا میں اپنی وردی اتار کر حکومت کے حوالے کر سکتا ہوں۔ کل قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ ۱۲۴
مقالہ عالمی سیرت کانفرنس مکہ مکرمہ
دکھاؤں گا، مانک آپ میرے مہمان ہیں مانک کو عزت سے بٹھایا اور سکھر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ سکھر پولیس نے ان کو گاڑی میں بٹھایا اور سکھر جیل میں بند کردیا۔ جیل میں لوگ ہزاروں کی تعداد میں اس عاشق کی زیارت کیلئے آتے تھے اور جیل کے لوگ حاجی مانک کی خدمت کرنا اپنے لئے باعث فخر تصور کرتے تھے۔ جب علماء کو علم ہوا تو علماء اکابر دور دور کا سفر کر کے حاجی مانک کی زیارت کیلئے تشریف لائے۔ جن میں مولانا محمد علی جالندھری ، مولانا قاضی احسان صاحب شجاع آبادی، حضرت امروٹی ، مولانا عبداللہ درخواستی اور مولانا عبدالشکور دین پوری قابل ذکر ہیں واہ مانک تیرے مقدر کہ حضور کے گستاخ کو واصل جہنم کر کے تو اتنا قیمتی ہو گیا کہ بڑے بڑے بزرگ تیری زیارت کو سعادت سمجھنے لگے۔ دن بھر ہزاروں علماء صلحاء زیارت کرنے آتے۔ اور رات کو غازی مانک کو حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہو جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اے مانک مجھے تیری غیرت اتنی پسند آئی کہ میں محمد (ﷺ) بھی تجھے مبارکباد پیش کرتا ہوں “ کہ سبحان اللہ ۔
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مانک وکیل نہ کرنا، تیری وکالت میں محمد (ﷺ) خود کرونگا، ۔ مرزائیوں نے خوب ایڑی چوٹی کا زور لگایا، لندن سے وکیل کر کے لائے اور مانک کے وکیل نے کہا مانک بیان بدل لو۔ جان بچ جائے گی ۔ مگر اس دیوبند کے فرزند نے وہی الفاظ کہے جو سید حسین احمد مدنی ؒ نے کراچی کی عدالت میں انگریز جج سے کہے تھے۔ بیان بدل دیا تو ایمان چلا جائے گا۔ جان جائے تو جائے مگر ایمان نہ جائے، کیوں؟ اس لئے کہ
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
لیکن مانک چیخ چیخ کر یہ کہہ رہا تھا ہاں یہ کام میں نے کیا ہے اور جو بھی گستاخ آئندہ یہ جرم کرے گا میں اس کا یہی حشر کروں گا۔ میری جان جاتی ہے تو چلی جائے۔
جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آتا
چنانچہ تین سال مقدمہ چلنے کے بعد جج نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ محمد (ﷺ) کے عشق میں دیوانہ ۱۲۵
ہو گیا ہے اور دیوانے پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ لہٰذا اسے بری کیا جاتا ہے اور حضور (ﷺ) کے گستاخ کی سزا شرعی طور پر قتل بھی بنتی ہے۔
حاجی مانک رحمۃ اللہ علیہ نے غازی کا لقب تو پالیا مگر اس بات پر تاحیات افسوس رہا کہ شہادت کی موت نصیب نہ ہوسکی۔ عرصہ دراز یہ غازی مانک حیات رہے مگر کوئی دشمن رسول اتنی جرأت نہ کر سکا کہ حاجی مانک کی طرف میلی نگاہ سے بھی دیکھ سکے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے حاجی مانک کو اس واقعہ سے قبل کوئی نہیں جانتا تھا لیکن بیوی کے غیرت دلانے سے مانک نے وہ کارنامہ سرانجام دیا کہ نوجوان بھی جو کارنامہ سرانجام نہ دے سکے۔ اور قیامت تک کیلئے حاجی مانک کا نام روشن ہوگیا۔ لیکن آج کے مسلمانوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ آج کتنے عبدالحق جیسے بدفطرت لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مگر لوگ ہیں کہ سوئے ہوئے ہیں اور جو لوگ رسول ﷺ و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عزت کیلئے کام کرتے ہیں انہیں دہشت گرد اور فسادی کہا جاتا ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎
بیچتے پھرتے ہو توحید صنم خانوں میں
دل سے غیرت بھی گئی سینے سے ایمان بھی گیا
گر گئی ہاتھ سے تلوار تو قرآن بھی گیا
حکمراں ہو کے بھی تم غیر کے محکوم رہے
غیرت تاج ملی مگر تاج سے محروم رہے
(تلخیص از تحریر محترمہ اُمِ ابوبکر صاحبہ)
یہ پٹی تم کسی اور کو پڑھانا
ہوا یہ کہ حضرو تھانہ سے تین میل مشرق کی جانب ایک گاؤں برہ زئی میں آلو پیاز کی پھیری لگانے والے ادھیڑ عمر ہندو بھیشو نے کسی خاتون گاہک کو سودا بیچنے میں حد ادب کو پھلانگتے ہوئے، بلاوجہ شانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخانہ حملہ کیا۔
وقتی طور پر بات رفت گزشت ہوگئی کیونکہ آس پاس کوئی مرد اس وقت موجود نہ تھا۔ بھیشو
ہانک لگاتا گاؤں سے باہر نکل گیا۔ وہ ایک نواحی قصبہ نوتوپہ کا رہنے والا تھا۔ اس کا اصل نام بھوشن اور عرفی نام بھیشو تھا۔ وہ برسوں سے آس پاس کے دیہات میں سبزی کی پھیری لگانے آتا۔ ہر چند اسے معلوم تھا کہ مسلمان دیہاتی ہی اس کے گاہک اور رزق کا وسیلہ ہیں، اس کی بے لگام زبان مسلمانوں کے بارے میں زہر اگلنے سے باز نہ رہتی۔ مسلمان صبر سے کام لیتے کہ کتے کی عف عف کا کیا جواب! آخر کار اس کے دل کی خباثت ابل کر ایک روز ہونٹوں تک آ گئی۔ یہ جولائی ۱۹۳۷ء کے پہلے ہفتے کا واقعہ ہے۔ گاؤں بھر میں چرچا ہوا۔
تیسرے چوتھے روز گاؤں کا ایک اٹھارہ سالہ نوجوان عبدالمنان دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں غورغشتی کے مدرسہ سے صرف ونحو کا درس لے کر گھر واپس پہنچا تو اس کے بڑے بھائی حافظ غلام محمود نے کہا کہ بعد دوپہر جب دھوپ ذرا ڈھل جائے تو مجھے سائیکل پر حضرو چھوڑ آنا میں وہاں سے پنڈی کے لئے بس پکڑ لوں گا۔ عبدالمنان نے کہا۔ ”ٹھیک ہے آپ ذرا دیر آرام کر لیں، میں بھی مسجد میں جا کر ستا لوں۔“
وہ گھر سے باہر نکلا تو کسی نے اسے بتایا کہ بھیشو آج پھر گاؤں کی گلیوں میں ہانک لگاتا پھرتا ہے۔ عبدالمنان مسجد کے اندر جاتے جاتے رک گیا۔ اسے کچھ خیال آیا۔ ایک خیال جس نے اس کی تقدیر بدل دی۔ وہ تقدیر جس پر فرشتوں کو بھی رشک آئے۔ وہ تیزی کے ساتھ اپنے ایک دوست کے یہاں پہنچا اور اس سے کمانی دار چاقو مانگا جو حال ہی میں اس نے خریدا تھا اور عبدالمنان کو بہت پسند آیا تھا۔
چاقو لے کر وہ اپنے شکار کی تلاش میں نکلا۔ بھیشو اس دوران گاؤں سے باہر کھلے کھیتوں سے ہوتا ہوا ڈیڑھ فرلانگ دور جا چکا تھا۔ عبدالمنان نے تعاقب کیا اور کھیتوں سے پرے گھنے درختوں سے متصل ایک کنویں پر جا لیا جہاں بھیشو کچھ دیر ستانے کو رک گیا تھا۔ عبدالمنان اس کے پاس جا بیٹھا اور ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔ بھیشو نے اس کے ہاتھ میں چاقو دیکھ کر پوچھا۔ ”یہ کیوں کھول رکھا ہے؟“
عبدالمنان نے جواب دیا۔ ”ابھی معلوم ہو جاتا ہے۔“ دشمن رسول کو اپنے انجام کا احساس ہو گیا اور وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔
عبدالمنان نے پوچھا کہ تو نے اگلے روز شان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی کی
جرأت کیوں کر کی۔ بھیٹو کوئی معقول جواب نہ دے سکا تو عبدالمنان نے چاقو اس کے سینے میں پیوست کر دیا۔ وہ اٹھ کر بھاگنے لگا مگر اجل کہاں جانے دیتی ہے۔ عبدالمنان نے اسے گھٹنوں تلے دبوچ کر دو تین وار اور کئے۔ کافر کا ناپاک خون کنویں کے حوالی کی مٹی میں جذب ہونے لگا۔ بھیٹو نے صرف اتنا کہا کہ مار تو چکا ہے اب تو بس کر۔
دشمن کو ابھی تک زندہ جان کر عبدالمنان نے اس کی شہ رگ کو چاقو کی دھار پر لیا اور اس کا کام تمام کر ڈالا۔ چند زمیندار جو کنویں سے چند گز اُدھر اپنے کام میں مصروف تھے، شور سن کر آ گئے۔
کچھ دیر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ دیکھتے دیکھتے مرد و زن اور آس پاس کے دیہات سے مسلمان جمع ہو گئے۔ کسی نے حضرو تھانہ جا کر اطلاع کر دی اور پولیس آ گئی۔
ظہر کا وقت ہو چلا تھا جب پولیس کے جھرمٹ میں عبدالمنان کو حضرو لے جایا گیا۔ سینکڑوں آدمی تکبیر کے نعرے بلند کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں ساتھ ساتھ گئے۔ حضرو پہنچتے پہنچتے ہزاروں کا مجمع ہو گیا۔
تھانہ کے مسلمان انچارج نے عبدالمنان سے کہا کہ تم اپنا بیان میری ہدایت کے مطابق لکھواؤ۔ عبدالمنان نے کہا یہ پٹی تم کسی اور کو پڑھانا۔ میں نے اللہ کے حبیب کی محبت میں اپنا فرض ادا کیا ہے اور اب جھوٹ بول کر اپنے عمل کو ضائع نہیں کر سکتا۔
بہر کیف حضرو تھانہ میں عبدالمنان کا اقبالی بیان درج ہو گیا۔ تھانہ والوں نے کیمبل پور اطلاع دی کہ یہاں ہزاروں مسلمان مشتعل کھڑے ہیں۔ اندیشہ ہے کہیں ہندو مسلم تصادم نہ ہو جائے۔ کیمبل پور سے سپرنٹنڈنٹ پولیس اور دو تین چھوٹے افسر حضرو پہنچ گئے اور عبدالمنان کو کار میں کیمبل پور لے آئے۔ یہاں بھی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے عبدالمنان کو ہمدردانہ مشورہ دیا مگر اس نے جھوٹ بولنے سے انکار کر دیا۔
دو تین روز میں استغاثہ مکمل ہو گیا۔ اقبالی بیان تو موجود تھا ہی۔ عبدالمنان سیشن سپرد ہو گیا۔ ان دنوں مسٹر جی ، ڈی ، کھوسلہ کیمبل پور کے ڈسٹرکٹ سیشن جج تھے۔ فریقین نے اپنے اپنے گواہ پیش کئے۔ مقتول کی طرف سے دو تین ہندو وکلاء نے پیروی کی۔ پیشی کے روز عدالت کے باہر ہزاروں کا مجمع تھا۔ دراز قامت اٹھارہ سالہ نوجوان عبدالمنان مجرموں کے کٹہرے میں بڑے وقار کے ساتھ کھڑا مقدمے کی کارروائی سنتا۔ مقتول کی بیوی بھی گواہی کیلئے پیش ہوئی اور اس نے جرح کے دوران اس
حقیقت کا اعتراف کر لیا کہ بھیشو اکثر مسلمانوں کے خلاف زہر چکانی کرتا اور منع کرنے کے باوجود باز نہیں آتا تھا اور آخر کار وہی ہوا جو غیر متوقع نہیں تھا۔ بیوی کے بیان نے مقتول شوہر کے استغاثہ کا حصار توڑ کر رکھ دیا۔
جی، ڈی کھوسلہ نے قتل کو فوری اشتعال کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے عبدالمنان کو سات سال قید سخت کی سزا سنائی اور فیصلہ میں لکھا کہ مجرم اگر جواں سال نہ ہوتا تو اسے عمر قید کی سزا دی جاتی۔
جس وقت فیصلہ سنایا جا رہا تھا عدالت کے باہر ان گنت مسلمان والہانہ نعرے لگا رہے تھے اور حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارش اہل ایمان کے دلوں پر رم جھم برس رہی تھی۔
عبدالمنان کو عدالت کے عقبی دروازہ سے نکال کر عجلت کے ساتھ جیل پہنچا دیا گیا اور مجمع بہت دیر انتظار کرنے کے بعد منتشر ہو گیا۔ انہیں افسوس ہی رہا کہ اس روز وہ اس جیالے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جھلک نہ دیکھ سکے۔
مسلمانوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کیلئے تگ و دو کی۔ ڈاکٹر محمد عالم بیرسٹر کا خیال تھا کہ اپیل ضرور کرنی چاہئے مگر کچھ دوسرے مقتدر مسلمان وکلاء نے مشورہ دیا کہ سزا میں اضافہ کا امکان ہے، اس لئے اپیل نہ کرنا ہی قرین مصلحت ہے چنانچہ اپیل نہ کی گئی۔
سات برس کی مدت قید چھوٹ کے ایام کی رعایت سے صرف پانچ برس رہ گئی جن میں سے عبدالمنان نے ایک برس ملتان اور چار برس پنڈی جیل میں گزارے۔
ایک محفل میں گزشتہ دنوں مجھے غازی عبدالمنان سے ملاقات کا موقع ملا۔ میں اس کی باوقار اور متین شخصیت سے متاثر ہوا۔ اس نے یہ سارا واقعہ دھیمے لہجے میں مجھے خود سنایا۔
غازی عبدالمنان نے ان دنوں برہ زئی میں آٹا پیسنے کی مشین لگا رکھی ہے۔ اس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے جو پنڈی میں بیاہی ہوئی ہے۔
(تلخیص از تحریر محترم عزیز ملک صاحب)
-----
عَلَى حَبِیبِكَ خَیْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِم
محدود میں آرہے یہ وسعت کیونکر
فکر و فہم و خرد سے جو عاری ہوں
ان پر ہو عیاں نبی ﷺ کی عظمت کیونکر
جنہیں توہین رسالت کے جرم میں قتل کیا گیا
اُن بدبختوں کے حالات جنہیں زمانہ نبوت میں گستاخی رسول کی وجہ سے قتل کیا گیا اور بعد میں ساری اُمت اسی طرزِ عمل پر کار بند رہی۔
کعب بن اشرف یہودی
جنگ بدر میں جب مسلمانوں کو فتح ہوئی تو کعب بن اشرف کو بڑا رنج ہوا کہ مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو رہا ہے، کہنے لگا، اب دنیا میں جینے کا کوئی مزہ اور لطف نہیں رہا۔ قریشِ مکہ کی تعزیت کیلئے یہ مکہ پہنچا اور قریش کے جو لوگ قتل ہوئے تھے اس نے ان کے مرثیے لکھے، ان مرثیوں کو مجمع میں سناتا خود بھی روتا اور لوگوں کو بھی رلاتا۔ خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر لوگوں سے کہتا کہ تم بھی غلاف پکڑ کر عہد کرو کہ سب مل کر مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑیں گے۔ مدینہ آ کر اس نے مسلمان عورتوں کے متعلق ”تشبیب“ میں عشقیہ اشعار کہنا شروع کئے اور ان کے ساتھ اپنے عشق و محبت کا تذکرہ کرنا شروع کیا، ظاہر ہے کہ ان خواتین کیلئے یہ بات بڑی درد انگیز اور تشویشناک تھی اور ان کے مردوں کیلئے بھی یہ بات بڑی تکلیف دہ اور افسوسناک تھی۔ پھر اس پر بس نہیں کیا بلکہ حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کی شان میں ہجو کے قصیدے لکھنے شروع کئے۔ یہ حرکتیں جب حد سے بڑھ گئیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز فرمایا من لکعب بن الاشرف؟ فانہ قد آذی اللہ و رسولہ ”کون ہے جو (اس یہودی) کعب بن اشرف کو ٹھکانے لگائے، اس نے اللہ اور اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔“ حضرت محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آپ یہ پسند فرمائیں گے کہ میں اس کو قتل کردوں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”نعم“ (ہاں) تو حضرت محمد بن مسلمہ نے عرض کیا، آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں (مجمل اور مبہم انداز میں) کچھ باتیں کروں (جن سے وہ خوش ہو اور پھر مجھے اس کو قابو میں کرنا آسان ہو جائے) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیدی۔
یہ تو بخاری کی روایت ہے، ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ محمد بن مسلمہ کو جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف کے قتل کی اجازت دیدی تو یہ متفکر تھے اور سوچتے تھے کہ کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟ دو تین دن سوچنے کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضرت! اس کی اجازت ہے کہ میں اس سے ملوں اور ملنے کے بعد اس کو مطمئن کرنے کیلئے ابہام واجمال کی صورت میں چند باتیں اس سے کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیدی۔
چنانچہ محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے ارادہ سے روانہ ہوئے، آپ کے ساتھ حضرت ابو نائلہ اور حضرت سعد بن معاذ کے بھتیجے حارث بن اوس بھی تھے کعب بن اشرف کے پاس آ کر انہوں نے کہا۔
”یہ آدمی (مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) ہم سے صدقہ کا مطالبہ کرتا ہے اور اس نے ہمیں مشقت میں ڈال دیا ہے، میں تمہارے پاس قرضہ مانگنے کیلئے آیا ہوں۔“
کعب بن اشرف نے یہ سن کر کہا ”وایضاً واللہ لتملنہ“ (خدا کی قسم! تم اس سے ابھی مزید اکتا جاؤ گے) یعنی ابھی تو ابتدا ہے آگے آگے دیکھو کیا صورتحال پیدا ہوتی ہے، ابھی تو اور اکتانا پڑے گا۔
محمد بن مسلمہ نے کہا ہم نے ان کی پیروی کی ہے پس اب ہم نہیں چاہتے کہ انہیں چھوڑ دیں یہاں تک کہ ہم دیکھیں کہ انجام کیا ہوتا ہے؟ محمد بن مسلمہ کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں اسلام کے غلبہ کا
کافروں کی ہلاکتیں
انتظار ہے ابھی تو آزمائش چل رہی ہے اور انشاء اللہ اسلام کو غلبہ حاصل ہوگا اور ’یدخلون فی دین اللہ افواجا‘ کی شان نمودار ہوگی، لیکن کعب بن اشرف اس کلام سے اپنی ذہنیت کی وجہ سے یہ سمجھا کہ ہم نے چونکہ ان کی اتباع کی ہے اور ہم عرب لوگ ہیں، اپنے قول و قرار سے انحراف تو کر نہیں سکتے اس لئے ہم اب اس انتظار میں ہیں کہ ان کا خاتمہ کب ہوتا ہے، خاتمہ ہو جائے گا تو ہماری جان چھوٹ جائے گی، کعب بن اشرف نے محمد بن مسلمہ کے کلام سے اپنی ذہنیت کے مطابق یہ تاثر لیا۔
”ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں قرضہ دیں ایک وسق یا (راوی نے کہا) دو وسق“ کعب بن اشرف نے ”ہاں“ کہا، اب اس کا خبیث باطن ملاحظہ فرمائیں، کہنے لگا میرے پاس کوئی چیز رہن رکھو، محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھیوں نے کہا، آپ کیا چاہتے ہیں، کونسی چیز ہم آپ کے پاس رہن رکھیں؟ کہنے لگا، اپنی عورتوں کو میرے پاس رہن رکھ دو، انہوں نے کہا ہم اپنی عورتوں کو آپ کے پاس کس طرح رہن رکھ سکتے ہیں آپ تو عرب کے حسین ترین آدمی ہیں، (عورتیں حسن پر جلد فریفتہ ہو جاتی ہیں اگر کہیں وہ آپ پر فریفتہ ہوگئیں تو ہمارا کیا بنے گا)۔ تو کہنے لگا کہ پھر اپنے بیٹوں کو میرے پاس رہن رکھ دو، انہوں نے کہا کہ اپنے بیٹوں کو آپ کے پاس کیونکر رہن رکھ سکتے ہیں؟ بعد میں ان کو زندگی بھر طعنے دیئے جائیں گے کہ یہ وہ ہیں جو وسق دو وسق کے عوض رہن رکھے گئے تھے، یہ ہمارے لئے عار ہے۔ ہاں البتہ ہم آپ کے پاس ہتھیار گروی رکھ دینگے۔
چنانچہ محمد بن مسلمہ نے اس کے پاس آنے کا وعدہ کرلیا، اور رات کو اس کے پاس آئے، آپ کے ساتھ ”ابو نائلہ“ بھی تھے جو کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی تھے (ابو نائلہ کا نام سلکان بن سلامہ ہے) کعب نے ان کو قلعہ کے پاس بلایا اور خود قلعہ سے ان کی جانب نیچے اترا، بیوی نے کعب سے کہا کہ رات کے اس اندھیرے میں کہاں جارہے ہو، تو کعب نے کہا صرف محمد بن مسلمہ اور میرا بھائی ابو نائلہ ہیں۔ عمرو بن دینار کے سوا دوسرے راوی نے بیان کیا کہ کعب بن اشرف کی بیوی نے اس موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ میں نے تو ایسی آواز سنی ہے جس سے خون کے قطرے ٹپکتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں لہٰذا تم گھر سے نہ نکلو۔
کعب نے کہا، اپنے بھائی محمد بن مسلمہ اور دودھ شریک ابو نائلہ کے پاس جا رہا ہوں وہ بلا رہے ہیں کیونکہ شریف آدمی کو اگر رات میں بھی نیزہ بازی کی طرف بلایا جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔
چنانچہ محمد بن مسلمہ اپنے ساتھ ابو عبس بن جبر، حارث بن اوس اور عباد بن بشر کو لائے یعنی
عمرو کہتے ہیں وہ اپنے ساتھ ساتھ لائے۔ محمد بن مسلمہ نے بال پکڑ کر سونگھنے لگوں گا جب اس کو مار ڈالو۔ چنانچہ کعب چادر محمد بن مسلمہ نے کہا کہ عرب کی وہ حسین وجمیل کہ آپ اجازت دیں گے مسلمہ نے اس کا سر سونگھا مانگی، کعب بن اشرف نے کو اچھی طرح قابو کر لیا تو ا اس کا کام تمام کر دیا۔ اور آ اس شاتم و موذی رسول کے وسلم کے پاس اپنے سردار کے تفصیل بتائی چنانچہ وہ خاموش بعض حضرات کے نام محمد بن اسحاق کی روایت محمد بن مسلمہ کا تعلق ہوئے ہیں، ان کا انتقال ۴۳ھ بن الحکم جو اس وقت مدینہ منورہ
ابو رافع یہودی
ابو رافع عبداللہ بن
عمرو کہتے ہیں وہ اپنے ساتھ دو آدمی لائے اور عمرو کے علاوہ دوسرا راوی کہتا ہے کہ ان تین کو وہ اپنے ساتھ لائے۔
محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں سے یہ کہہ رکھا تھا کہ جب کعب آنے لگے تو میں اس کے بال پکڑ کر سونگھنے لگوں گا جب تمہیں یقین ہو جائے کہ میں اس کے سر پر مکمل قابو پا چکا ہوں تو تم پکڑ کر اس کو مار ڈالو۔
چنانچہ کعب چادر اوڑھے ہوئے ان کی طرف اتر آیا، خوشبو اس کے جسم سے پھیل رہی تھی تو محمد بن مسلمہ نے کہا کہ میں نے آج کی طرح خوشبو کبھی محسوس نہیں کی، کعب نے کہا میرے پاس عرب کی وہ حسین و جمیل عورت ہے جو ہر وقت عطر و خوشبو میں بسی رہتی ہے اس پر محمد بن مسلمہ نے کہا کہ آپ اجازت دیں گے کہ میں آپ کا سر سونگھوں، کعب کہنے لگا، ہاں، سونگھ لیجئے، چنانچہ محمد بن مسلمہ نے اس کا سر سونگھا اور اپنے ساتھیوں کو سنگھایا، محمد بن مسلمہ نے دوبارہ سر سونگھنے کی اجازت مانگی، کعب بن اشرف نے دوبارہ اجازت دی چنانچہ جب سونگھتے ہوئے محمد بن مسلمہ نے اس کے سر کو اچھی طرح قابو کر لیا تو اپنے ساتھیوں سے کہا ”دونکم“ حملہ کر دو چنانچہ انہوں نے حملہ کر کے اس کا کام تمام کر دیا۔ اور آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شاتم و موذی رسول کے قتل کی خبر سن کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ بعد میں یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے سردار کے قتل کے متعلق پوچھنے آئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرکتوں کی تفصیل بتائی چنانچہ وہ خاموش ہو کر واپس چلے گئے۔
بعض حضرات کے نزدیک کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ ۱۴ ربیع الاول ۳ھ کو پیش آیا ہے۔
محمد بن اسحاق کی رائے یہ ہے کہ رمضان ۳ھ کو یہ واقعہ پیش آیا ہے۔
محمد بن مسلمہ کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس سے ہے، بدر میں اور دیگر تمام جنگوں میں شریک ہوئے ہیں، ان کا انتقال ۴۳ھ یا ۴۶ھ یا ۴۷ھ میں مدینہ منورہ میں ۷۷ سال کی عمر میں ہوا، مروان بن الحکم جو اس وقت مدینہ منورہ کا حاکم تھا اس نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
(کشف الباری)
ابو رافع یہودی
ابو رافع عبداللہ بن ابی الحقیق کے قتل کا بیان ہے، اس کو سلام بن ابی الحقیق بھی کہتے ہیں، یہ
عالمی سیرت کانفرنس مکہ
خیبر میں رہتا تھا، ایک قول یہ بھی ہے کہ سرزمین حجاز میں اپنے ایک قلعہ میں رہتا تھا، ہوسکتا ہے کہ اس کا قلعہ خیبر اور حجاز کے درمیان سرحد پر ہو اس طرح دونوں اقوال میں تطبیق ہو جائے گی۔
ابورافع مالدار یہودیوں میں سے کعب بن اشرف کے ہم خیال لوگوں میں سے تھا اور گستاخیٔ رسول میں پیش پیش رہتا تھا، غطفان کے قبائل کو مسلمانوں کے خلاف اس نے بہت بڑی امداد فراہم کی تھی، انصار میں قبیلۂ اوس کے حضرات نے جب کعب بن اشرف کا کام تمام کیا تو قبیلہ خزرج نے ابورافع کو ٹھکانے لگانے کا ارادہ کیا، کیونکہ انصار کے یہ دونوں قبیلے نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ چنانچہ عبداللہ بن عتیکؓ اور آپ کے ساتھ چند خزرجی صحابہؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ ابورافع کو قتل کیا جائے، آپ نے اجازت دیدی۔ اس کے قتل کا واقعہ کب پیش آیا اس میں مختلف اقوال ہیں۔
- ☆ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ رجب سن ۳ھ میں وہ قتل کیا گیا۔
- ☆ بعض کے نزدیک سن ۴ھ میں یہ واقعہ پیش آیا۔
- ☆ بعض حضرات کہتے ہیں کہ سن ۵ھ میں ابورافع قتل کیا گیا۔
- ☆ واقدی کا خیال ہے کہ یہ واقعہ سن ۶ھ کا ہے، واقدی کے خیال کو علامہ عینی نے وہم قرار
دیا ہے۔ لیکن حافظ ابن کثیرؒ نے غزوۂ خندق کے بعد ۶ھ میں ابورافع کے قتل کو راجح قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجرؒ نے بھی ابن سعد کے حوالے سے ۶ھ نقل کیا ہے۔
ابورافع کے قتل کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع یہودی کو قتل کرنے کیلئے انصار میں سے چند آدمیوں کو بھیجا، چنانچہ جب یہ حضرات ابورافع کے قلعہ کے قریب پہنچے۔
’’اس وقت سورج غروب ہوچکا تھا اور لوگ اپنے جانور چرا کر واپس ہوچکے تھے۔‘‘
عبداللہ بن عتیک نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم یہیں بیٹھے رہو۔ میں ذرا جا کر دربان کے پاس کوئی تدبیر اختیار کرتا ہوں، ممکن ہے اندر جانے کا موقع مل جائے۔
چنانچہ دروازہ کے قریب آ کر یہ اپنے آپ کو کپڑے میں اس طرح چھپا کر بیٹھ گئے کہ گویا قضائے حاجت کیلئے بیٹھے ہیں، قلعہ کے اندر جب تمام لوگ داخل ہوگئے تو دربان نے آواز دی۔
’’اے اللہ کے بندے! اگر اندر آنے کا ارادہ ہے تو آجاؤ میں دروازہ بند کرتا ہوں۔‘‘ حضرت عبداللہ
بن عتیک فرماتے ہیں کہ یہ آواز سن کر فوراً میں اندر داخل ہو گیا اور قلعہ کے دروازے کے پاس اندر گدھوں کے اصطبل میں چھپ کر بیٹھ گیا ، جب سب لوگ اندر آگئے تو دربان نے دروازہ بند کر دیا۔
”پھر چابیاں کھونٹی ( میخ ) پر لٹکا دیں“
عبداللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ میں نے جا کر کنجیاں اٹھائیں اور قلعہ کا دروازہ کھولا۔ ابو رافع کے یہاں رات کو قصہ گوئی کی جاتی تھی ، اور ابو رافع اپنے بالا خانوں میں رہتا تھا۔
چنانچہ جب قصہ گو لوگ ابو رافع سے اٹھ کر چلے گئے تو میں اس کے کمرے کی طرف جانے لگا جب کوئی دروازہ کھولتا تو اندر سے بند کر دیتا تھا تا کہ اگر شور شرابہ ہو کر پتہ لگ جائے تو کوئی اندر نہ آسکے تا آنکہ میں اس کو قتل کر دوں ۔ چنانچہ میں ابو رافع کے پاس پہنچ گیا، وہ ایک تاریک کمرے میں اپنے اہل و عیال سمیت لیٹا تھا لیکن مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ابو رافع گھر میں کس جگہ ہے؟ اس لئے میں نے آواز لگائی ”ابو رافع“ وہ بولا ”کون ہے؟“ جس جانب سے یہ آواز آئی اسی جانب بڑھ کر میں نے تلوار سے ایک وار کیا، لیکن میں گھبرایا ہوا تھا اس لئے کامیاب نہ ہو سکا، جب وہ چیخا تو میں کمرے سے باہر آ گیا اور تھوڑی دیر باہر رک کر کمرے میں گیا اور آواز تبدیل کر کے میں نے کہا، ”ابو رافع ! یہ کمرے میں کیا آواز تھی؟“ وہ کہنے لگا ، تیری ماں کی ہلاکت ہو، ایک آدمی نے ابھی کچھ دیر قبل تلوار سے مجھ پر حملہ کیا تھا۔ جب میں نے اچھی طرح جانچ لیا کہ کہاں سے بول رہا ہے تو ایک گہری کاری ضرب لگائی لیکن قتل نہ کر سکا۔
”تو پھر میں نے تلوار کی دھار اس کے پیٹ پر رکھی یہاں تک کہ اس نے اس کی کمر کو پکڑ لیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے اس کو قتل کر دیا۔“
اب میں واپس ہوا اور ایک ایک دروازہ جو اندر سے میں نے بند کیا تھا کھولنے لگا یہاں تک کہ میں سیڑھی کے پاس پہنچ گیا، یہ سمجھ کر میں نے اپنا پاؤں نیچے رکھا کہ میں زمین تک پہنچ گیا ہوں حالانکہ زمین ابھی دور تھی اس طرح میں سیڑھی سے گر پڑا ، چاندنی رات تھی ، گرنے کی وجہ سے میری پنڈلی ٹوٹ گئی تو میں نے اپنی پگڑی سے اس کو باندھ لیا۔
ایک روایت میں ہے کہ پنڈلی ٹوٹ گئی تھی اور دوسری روایت میں ہے کہ پاؤں کا جوڑ کھل گیا تھا دونوں روایتوں میں ٹکراؤ ہے اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں باتیں ہوئی ہونگی ، جوڑ بھی اتر گیا ہوگا اور ساق کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی ہوگی یا پھر یہ کہئے کہ جوڑ کے کھلنے کو ہڈی کے ٹوٹنے سے تعبیر کیا گیا
ہے۔
فرماتے ہیں کہ میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک یہ معلوم نہ ہو جائے کہ ابو رافع قتل ہو گیا ہے، چنانچہ میں قلعہ کے دروازہ کے پاس بیٹھا رہا، جب مرغ نے صبح کے وقت اذان دی تو موت کی خبر کا اعلان کرنے والے نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر کہا۔ ”اہل حجاز کے تاجر ابورافع کی موت کا میں اعلان کرتا ہوں۔“
عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی بڑا آدمی مر جاتا تو کسی اونچی جگہ چڑھ کر اس کی موت کا اعلان کیا جاتا تھا کہ فلاں آدمی کا انتقال ہو گیا ہے۔
یہ خبر سن کر میں اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا۔ ان سے میں نے کہا، ”النجاء“ (جلدی کرو ) اللہ نے ابورافع کو قتل کر دیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر تفصیل سنائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنا پاؤں پھیلاؤ میں نے پاؤں پھیلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہاتھ پھیرا، پاؤں ایسا ٹھیک ہوا جیسے کہ کبھی میں نے اس میں شکایت محسوس ہی نہ کی ہو۔
اس مہم پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ صحابہ روانہ فرمائے تھے۔ عبداللہ بن عتیک، مسعود بن سنان، عبداللہ بن انیس، ابوقتادہ، خزاعی بن اسود اور عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عتیک کو ان کا امیر بنایا تھا اور انہوں نے ہی ابو رافع کو قتل کیا۔
حضرت عبداللہ بن عتیک جنگ احد میں شریک تھے اور جنگ یمامہ میں آپ شہید ہوئے ہیں۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عتیک جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھے اور جنگ صفین کے بعد آپ کا انتقال ہوا ہے۔ واللہ اعلم
عقبہ بن ابی معیط :
مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ عقبہ بن ابی معیط جب کبھی سفر سے واپس آتا تو دعوت عام کرتا جس میں اہل مکہ شریک ہوتے۔ یہ اکثر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا حضور کی باتیں سنتا اور انہیں پسند کرتا۔ ایک دفعہ وہ سفر سے واپس آیا تو اس نے حسب دستور دعوت عام کا اہتمام کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دعوت دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تو مشرف باسلام
نہ ہو میں تیری دعوت قبول نہیں کروں گا۔ چنانچہ اس نے کلمہ شہادت پڑھا اور اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ ابی بن خلف سے عقبہ کا بڑا یارانہ تھا۔ اس نے سنا تو آ کر کہا: اے عقبہ! سنا ہے تو مرتد ہو گیا ہے۔ اس نے کہا ہرگز نہیں، میں نے محض ایک غرض کیلئے اسلام کا اظہار کیا ہے۔ ابی کہنے لگا، میں تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا، جب تک تو اس کے پاس جا کر ایسی ایسی گستاخیاں نہ کرے۔ عقبہ اپنے یار کو خوش کرنے کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور وہ ساری گستاخیاں کیں جن کی فرمائش اس کے یار نے کی تھی۔ یہاں تک کہ اس نے رخ انور پر تھوک دیا (معاذ اللہ)۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی تھوک کو آگ کا انگارہ بنا کر لوٹایا اور اس کے منہ پر دے مارا جس سے اس کا منہ جل گیا اور مرتے دم تک گالوں پر داغ رہا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: جب سرزمین مکہ سے باہر تیری ملاقات ہو گی تو علوت راسک بالسیف (تیرا سر تلوار سے اڑا دوں گا)۔ یہ بات اس کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئی۔ کئی سال بعد جب اہل مکہ بدر کی طرف جانے لگے تو اس نے پہلو تہی کرنا چاہی۔ اور کہا تم کو معلوم ہے اس شخص نے مجھے جو دھمکی دی تھی اور جو بات ان کے منہ سے نکلی ہے، پوری ہو کر رہتی ہے۔ مجھے یہیں رہنے دو۔ انہوں نے کہا تم بھی عجیب آدمی ہو۔ پہلے تو اس کے غالب آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور اگر بالفرض محال کوئی ایسی صورت پیش آ بھی گئی تو تمہارے پاس بڑا تیز رفتار سرخ اونٹ ہے اور اس پر سوار ہو کر جانا۔ چنانچہ اسے اپنی بدبختی لے گئی۔ کفر کی شکست ہوئی، یہ اپنے اونٹ کو لے کر بھاگا لیکن وادیوں کے پیچ و خم میں الجھ کر رہ گیا اور گرفتار کر لیا گیا۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے اس کا سر قلم کر دیا۔ قیامت کے روز یہ جب قبر سے اٹھے گا تو اس کی حسرت و ندامت کی یہ حالت ہو گی جو اس آیت مذکور میں ہے: یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلاO
(الفرقان:۲۸)
’’اے افسوس ! کاش نہ بنایا ہوتا میں نے فلاں کو دوست اپنا۔‘‘
خالد بن سفیان الہذلی:
خالد بن سفیان الہذلی اسلام کا بدترین دشمن تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیا کرتا اور لوگوں کو ان کے خلاف اکساتا۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مہم چلانے کیلئے نخلہ یا بقول دوسروں کے عرینہ جانے کیلئے روانہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن انیس رضی
اللہ عنہ کو خالد الہذلی کا قصہ تمام کرنے کیلئے مامور فرمایا۔ عبداللہ بن انیس بیان کرتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور کہا کہ انہوں نے خالد بن سفیان الہذلی کے نخلہ میں ایک لشکر جمع کر کے حملہ کرنے کی خبر سنی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں جاکر اس کو ختم کردوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حلیہ بتانے کی درخواست کی۔ انہوں نے فرمایا: اگر تم اس کو دیکھ پاؤ گے تو وہ تمہیں شیطان کی یاد دلائے گا۔ مزید یہ کہ وہ ہر وقت کانپتا رہتا ہے۔“
ایک تلوار سے لیس ہوکر میں اس کی تلاش میں نکلا۔ جب میں نے اس کو دیکھا تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا اس لئے میں نے پہلے عصر کی نماز ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ نماز ختم کرنے کے بعد جب میں نے اسے دیکھا تو ہو بہو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ویسے کانپ رہا تھا۔ اس کے اردگرد خواتین کا ایک جھرمٹ تھا۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو مجھ سے پوچھا کہ میں کون ہوں جس کے جواب میں، اپنی اصلی شناخت چھپاتے ہوئے میں نے کہا کہ میں ایک عرب ہوں جس نے سنا ہے کہ خالد الہذلی ایک فوج جمع کر رہا ہے ایک ایسے شخص کے خلاف جو اپنے آپ کو اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہونے کا اعلان کر چکا ہے۔ میں ایسی فوج میں شامل ہونے کیلئے آیا ہوں۔ اس نے جواب دیا کہ فی الواقع وہ ایک ایسی فوج جمع کر رہا ہے میں کچھ دیر اس کے ساتھ چلتا پھرتا رہا اور جیسے ہی موقع ملا، میں نے تلوار سے وار کر کے اس کو موت سے ہمکنار کر دیا۔ اپنے مامور مقصد کی تکمیل کے بعد میں نے تیزی سے راہ فرار اختیار کی جب کہ اس کی عورتیں اس کی لاش پر بین کررہی تھیں۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں واپس ہوا، انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا:
”عبداللہ جس نے اپنے مقصد مامور کی تکمیل کی ، زندہ باد!“
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے اسے موت کی نیند سلا دیا ہے۔
جس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تم فی الواقع سچ کہہ رہے ہو۔“
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے گھر لے گئے اور مجھے ایک چھڑی عطا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں ہمیشہ اپنے پاس رکھوں اور ارشاد فرمایا:
”میرے اور تمہا پس عبداللہ رضی ا کے پاس رہی۔ یہ ان کے
ابوعفک :
جب رسول اللہ صل اس نے رسول اللہ صلی الل وسلم اور اسلام کے خلاف و تیزی پیدا کی اور نظمیں کے پکے دشمن الحارث بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و مسلمانوں کا مذاق اڑ ”تم میں سے کو سالم بن عمیر نے جگر میں تلوار اتنے زور سے بھی لیکن اس کو بچانے کیلئے
مقیاس بن صبابہ :
مقیاس پہلے مسلما بدلہ لیتے ہوئے اپنے بھا اسلام سے مل گیا۔ اس نے شروع کی جس کے نتیجے میں کیلئے کہا۔ حضرت نمیلہ بن آوری کی اور مرتد کو قتل کر دی
عالمگیر کافروں کے
کانفرنس مکہ عالمگیر
”میرے اور تمہارے درمیان، روز جزا یہ ایک نشانی ہوگی۔“ پس عبداللہ رضی اللہ عنہ نے چھڑی کو تلوار کے ساتھ باندھ لیا اور یہ ان کے آخری دم تک ان کے پاس رہی۔ یہ ان کے ساتھ قبر میں دفن کی گئی۔
(سیرت ابن ہشام ۱۰۳۶/۲)
ابوعفک :
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی تو ابوعفک ۱۲۰ سال کا بوڑھا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے شدید دشمنی کا اظہار کیا تھا اور لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا تھا۔ بدر کی فتح عظیم کے بعد اس نے عداوت میں اور تند و تیزی پیدا کی اور نظمیں لکھنی شروع کر دیں جن میں غیظ اور گستاخانہ زبان استعمال کی۔ جب اسلام کے پکے دشمن الحارث بن سوید بن صامت کو موت کی سزا دی گئی تو ابوعفک نے ایک نظم لکھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گالیوں بھری اور ہتک آمیز زبان استعمال کی ، نیز اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اور ٹھٹھا اڑایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظم سنی تو کہا: ”تم میں سے کون اس غلیظ بدکردار آدمی کو ختم کرے گا؟“ سالم بن عمیر نے اپنی خدمات پیش کیں۔ وہ ابوعفک کے پاس گیا وہ سو رہا تھا اور اس کے جگر میں تلوار اتنے زور سے بھونکی کہ بستر کے پار نکل گئی۔ ابوعفک چیخا، اس کے آدمی لپک کر آئے بھی لیکن اس کو بچانے کیلئے بہت دیر ہو چکی تھی۔
(سیرت ابن ہشام ۱۰۵۱/۲)
مقیاس بن صبابہ :
مقیاس پہلے مسلمان تھا۔ اس کا بھائی اتفاقیہ ایک مسلمان کے ہاتھوں مارا گیا لیکن اس نے بدلہ لیتے ہوئے اپنے بھائی کے قاتل کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد وہ مرتد ہو کر مکہ فرار ہو گیا اور دشمنانِ اسلام سے مل گیا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تند و تیز طعن و تشنیع کے حملوں کی مہم شروع کی جس کے نتیجے میں آپ نے اس کو موت کا سزا وار ٹھہرا کر اس حکم کے جلد از جلد تعمیل ہونے کیلئے کہا۔ حضرت نمیلہ بن عبداللہ نے جو مقیاس کے اپنے ہی قبیلے کے تھے، آپ کے حکم کی بجا آوری کی اور مرتد کو قتل کر دیا۔
(سیرت ابن ہشام ۸۶۸/۲)
معاویہ بن مغیرہ کو موت کی سزا:
معاویہ بن مغیرہ، ایک دشمن اسلام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ اس نے معرکہ بدر میں حصہ لیا جہاں وہ قیدی ہوا اور مدینہ لایا گیا۔ ایک دفعہ جب وہاں پہنچ گیا تو اس نے حلف اٹھایا کہ وہ اس کے بعد کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی نہیں دے گا یا اسلام کے خلاف دشمنانہ کارروائیوں میں حصہ لے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا اور وہ واپس مکہ چلا گیا۔ لیکن جیسے ہی یہ کافر جنگلی حیوان مکہ پہنچا، اس نے اپنا حلف توڑ دیا اور پھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بدزبانی کرنے لگا اور دشمنان اسلام کے ساتھ مل گیا۔ اتفاق سے ایسا ہوا کہ وہ پھر قید ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے ایک بار اور معافی طلب کی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے، اس کی بات ردّ کر دی: ”ایک سچا مسلمان ایک ہی سانپ سے دو بار کبھی بھی نہیں ڈسا جاتا ، اے معاویہ بن مغیرہ! تم کبھی بھی مکہ نہیں جا سکو گے کہ کہو: میں نے محمد کو دوبارہ دھوکہ دیا ہے۔ خوب غور سے سنو! ایک سچا مسلمان دو بار نہیں ڈسا جا سکتا، اے زبیر! اے عاصم! اس کا سر قلم کر دو۔“ اور اس حکم کی فوری تعمیل ہوئی۔ (بخاری شریف)
بشر نامی منافق:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”بشر نامی منافق کا ایک یہودی سے کوئی جھگڑا تھا۔ وہ اس کو فیصلے کیلئے یہودی سردار کعب بن اشرف کے پاس لے جانا چاہتا تھا جو کہ دشمن اسلام تھا اور جسے قرآن نے ”طاغوت“ کا نام دیا تھا لیکن یہودی معاملے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا جنہوں نے معاملہ سن کر یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ مگر منافق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو مسترد کر دیا اور آپ کے پاس سے جانے کے بعد آپ کی شان میں بدکلامی کی۔ منافق نے یہودی سے پھر رجوع کیا اور تجویز کیا کہ معاملے کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کرتے ہیں۔ ان کا فیصلہ دونوں پر لازم ہوگا۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور معاملہ ان کے سامنے پیش کیا۔ یہودی نے یہ بھی بیان کر دیا کہ وہ پہلے رس فیصلہ کیا تھا لیکن بشر نے اس ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم یہیں ٹھہرو، م کر فیصلہ کرتا ہوں۔ یہ ک کہ وہ گھر کے اندر سے تلوار لائے اور اس منافق کا سر ق کر دیا کہ اللہ اور اس کے ر کے فیصلے کو نہ ماننے والے ک صرف ایک یہی طریقہ ہے
اس واقعے پر سورۃ النسا وحی نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ (ترجمہ) ”(ا اس پر ایمان رکھتے ہیں جو منصف ٹھہرانا چاہتے ہیں طا صحیح راستے سے گمراہ کر دے اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان
حضرت جبرئیل علی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و ”عمر رضی اللہ عنہ ن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا لقب
الحویرث بن نقیض:
یہ رسول اللہ صلی اللہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب کلثوم رضی اللہ عنہا، دختران کر اپنے والد مکرم سے ملیں ج
بھی بیان کر دیا کہ وہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا چکے ہیں جنہوں نے اس کے حق میں فیصلہ کیا تھا لیکن بشر نے اس کو مسترد کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ دونوں ثالثی کیلئے ان کے پاس آئے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بشر سے پوچھا کہ آیا جو کچھ یہودی نے کہا وہ صحیح ہے۔ جب منافق بشر نے اپنے ہی بے حرمتی کے فعل کی تصدیق کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں انتظار کرنے کو کہا کہ وہ گھر کے اندر سے کوئی چیز لے آئیں۔ وہ تلوار لے کر واپس آئے اور بشر کا سر یہ کہتے ہوئے قلم کر دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو رد کرنیوالوں کے ساتھ معاملہ طے کرنے کا صرف ایک یہی طریقہ ہے۔ اس کے بعد اس واقعہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ وحی نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
(ترجمہ) ’’ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جو اعلان کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں جو تم پر نازل ہوا اور ان پر جو تم سے پہلے تھے۔ وہ جھگڑے میں طاغوت کو اپنا منصف ٹھیرانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کو حکم ہے کہ اسے رد کر دیں لیکن شیطان کی خواہش ہے کہ ان کو صحیح راستے سے گمراہ کر دے۔ جب ان سے کہا جاتا ہے، اللہ کے نازل کردہ کلام اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب آؤ، تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے زچ ہو کر اپنے منہ پھیر لیں گے۔‘‘
(سورۃ النساء :۶۰)
حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلہ اور اس پر قتل کی تصدیق کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
’’عمر رضی اللہ عنہ نے حق مطلق اور کذب کے درمیان واضح فرق کیا ہے۔‘‘ اس دن سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا لقب ’’الفاروق‘‘ ہو گیا۔ (الکشاف، القرطبی)
الحویرث بن نقیض:
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتا اور ان کو دق کیا کرتا۔ ایک بار، عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب مکہ سے مدینہ جا رہے تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت امّ کلثوم رضی اللہ عنہا، دخترانِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر سوار ہو کر ان کے ساتھ ہو گئیں تاکہ مدینہ جا کر اپنے والد مکرم سے ملیں۔ الحویرث نے اونٹ کو اس طرح ایڑ لگائی کہ اس نے دونوں کو نیچے گرا
مقالہ عالمی سیرت کانفرنس مکہ
دیا اور وہ زخمی ہوگئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موت کی سزا سنائی۔ فتح مکہ کے روز الحویرث نے اپنے آپ کو مکان میں بند کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بجا آوری کیلئے حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس کی تلاش میں تھے۔ ان کو بتایا گیا کہ وہ گھر پر نہیں ہے۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد اس نے مکان سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔
(سیرت ابن ہشام ۸۶۸/۲)
عبداللہ بن خطل اور اس کی دو مغنیہ لڑکیاں :
عبداللہ بن خطل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کرنے پر مامور کیا۔ ایک دفعہ فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران میں اس نے اپنے ملازم سے کھانا پکانے کو کہا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے ملازم سے دوبارہ کھانا مانگا لیکن ملازم جو مسلمان تھا کھانا نہ لا سکا۔ اس پر عبداللہ بن خطل نے وار کر کے اس کو قتل کر دیا۔ پھر وہ مرتد ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حرمتی کرنی شروع کر دی۔ اس کے پاس دو لڑکیاں بھی تھیں جن کے نام فرتنی اور قریبہ یا ارنب تھے۔ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہجویہ گانے گانے کی تربیت دی گئی تھی۔ عبداللہ بن خطل نے ان کی مزید تحقیر آمیز اور گستاخانہ گانے گانے کی حوصلہ افزائی کی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن خطل اور اس کی گائیکہ لڑکیوں کو موت کی سزا سنائی۔ حضرت سعید بن الحارث رضی اللہ عنہ اور حضرت برزہ رضی اللہ عنہ السلمی یا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے اس حکم کی تعمیل کی اور عبداللہ بن خطل کو صحن کعبہ میں ختم کر دیا۔
حضرت زہری نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”ایک روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سال فتح مکہ کے دوران میں سر پر خود پہنے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر سے خود اتارا تو ایک آدمی نے آ کر ان سے کہا کہ عبداللہ بن خطل غلاف کعبہ تھامے کھڑا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فی الفور اس کی گردن مار دینے کا حکم دیا جس کی تعمیل ہوئی۔ عبداللہ بن خطل کعبہ کے پاس مارا گیا۔ جہاں تک اس کی دو گائیکہ لڑکیوں کا تعلق ہے تو قریبہ یا ارنب نامی تو ماری گئی اور دوسری جس کا نام فرتنی تھا مفرور رہی حتیٰ
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ایک نامعلوم گستاخ
حضرت حسن بن عطیہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ مسلمانوں سے دشمنوں کا آمنا سا وسلم کو گالی بکنی شروع کر دی ایک کرنے کی کوشش کی: میں فلاں ابن فلاں ہو اگر تم چاہتے ہو تو مجھے میرے پا بند کر دو۔ جب دشمن باز نہ آیا تو مس مار دینے کی دھمکی دی۔ جب اس ہوئے اس کافر گو پر تلوار کا وار کر کے کے بارے میں سن کر رسول اللہ صلی اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مد
رسول اللہ ﷺ کو غیر عاد
حضرت سعید بن یحییٰ نے ا ”جب مکہ فتح ہوا تو رسول ا لوگوں کو اپنا حصہ وصول کرنے کیلئے بلا اللہ علیہ وسلم پر تقسیم میں انصاف و عدل ”اگر میں عادل نہیں ہوں تو اور کون ہو گا جب وہ مجمع سے چلا گیا تو رسول
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی معذرت خواہی اور توبہ قبول کر کے اس کو امان دی۔
(بخاری: باب قتل اسیر ۱/۴۲۷)
ایک نامعلوم گستاخ کا انجام:
حضرت حسن بن عطیہ کہتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہم پر ایک مسلم فوج روانہ کی۔ جب میدان کارزار میں مسلمانوں سے دشمنوں کا آمنا سامنا ہوا تو ایک آدمی آگے بڑھا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی بکنی شروع کر دی ایک مسلمان لپک کر صف میں سے باہر آیا اور اس کو یہ کہتے ہوئے منع کرنے کی کوشش کی:
میں فلاں ابن فلاں ہوں، میرا باپ فلاں ابن فلاں ہے اور میری ماں فلاں بنت فلاں۔ اگر تم چاہتے ہو تو مجھے میرے باپ اور میری ماں کو گالی دے دو لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا بند کر دو۔
جب دشمن باز نہ آیا تو مسلمان فوجی نے تنبیہ پر توجہ نہ دینے کی صورت میں اسے جان سے مار دینے کی دھمکی دی۔ جب اس نے زبان درازی جاری رکھی تو مسلمان نے دشمن کی صف چیرتے ہوئے اس کفر گو پر تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا۔ مسلمان عسکری کی اس شجاعت مندانہ کارگزاری کے بارے میں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنا حیرت ناک ہے یہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی۔“ (السیف الصارم ۱۴۶)
رسول اللہ ﷺ کو ”غیر عادل“ کا الزام دینے والے کی سزا:
حضرت سعید بن یحییٰ نے اپنے مغازی میں حضرت شعبی سے روایت کی ہے:
”جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بت العزیٰ کی دولت ایک جگہ جمع کی اور لوگوں کو اپنا حصہ وصول کرنے کیلئے بلایا۔ تقسیم کے اختتام پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم میں انصاف و عدل نہ کرنے کا الزام لگایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اگر میں عادل نہیں ہوں تو اور کون ہوگا؟“
جب وہ مجمع سے چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بلا کر حکم
عالمی سیر کانفرنس کی
دیا کہ وہ جا کر اس آدمی کی گردن مار دیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناانصافی کا قصور وار اور ملزم ٹھہرایا تھا۔‘‘
(سعید، المغازی، کتاب الردۃ والمرتدین)
توہین رسالت کے مجرم باپ کا قتل مومن بیٹے کے ہاتھوں:
حضرت سفیان الثوری نے مالک بن عمیر سے روایت کی جس نے بیان کیا:
’’ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اپنے باپ کو مشرکوں کی مجلس میں آپ کو گالی دیتے اور آپ کیلئے بدزبانی کرتے ہوئے سنا۔ میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور اس کو نیزہ مار کر ہلاک کر دیا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بے حرمتی کرنے والے باپ کی ہلاکت کی منظوری دی۔
(السیف الصارم ۱۴۶)
عصمہ بنت مروان:
جب عفک اپنے موت کے انجام کو پہنچا تو عصمہ بنت مروان نے مسلم معاشرے میں تفرقہ پیدا کرنے کی خاطر منافقانہ کردار ادا کیا۔ اپنی ایک نظم میں اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تضحیک اور بے حرمتی کی۔ اسے اسلام اور اس کے پیروکاروں سے سخت نفرت تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کلام سنا تو فی الفور اپنے صحابہ سے اس مروان کی ناخلف بیٹی سے چھٹکارا حاصل کرنے کو کہا۔ عمیر بن عدی الخطمی عصمہ کے اپنے ہی قبیلے کا ایک نو مسلم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سن کر، عصمہ کے گھر گیا اور اسی رات اس کا کام تمام کر دیا۔ دوسری صبح اس نے آپ کو تعمیل حکم کی اطلاع دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور اس کو خوشخبری سنائی کہ اس نے اللہ اور رسول اللہ کی مدد کی ہے۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں عمیر رضی اللہ عنہ کی ان الفاظ میں تعریف کی:
’’اگر ایسا شخص دیکھنا چاہتے ہو جس نے اللہ اور رسول اللہ کی مدد و معاونت کی ہو تو عمیر کو دیکھ لو۔‘‘
جب عصمہ انجام کو پہنچی تو اس کے قبیلے والوں میں بڑا ہیجان واضطراب ہوا۔ اس لئے عمیر اپنے قبیلے میں گئے اور ان سے خطاب کیا:
’’اے بنی خطمہ! میں میرے ساتھ لڑائی کیلئے تیار ہو جا اس سے بنو خطمہ کو بڑا دھ طاقت حاصل کر لی ہے۔ پھر تما کر لیا۔
(سیرت ابن ہشام ۴
توہین رسالت کی مرزا
عرب میں توہین رسا بھی۔ چند عورتیں طاقت ور س جہاں انہوں نے محسوس کیا کہ لڑکیاں تھیں جو رسول اللہ صلی تھیں جن کو اسلام اور رسول اللہ
حضرت ابن عباس رضی
’’ایک نابینا مرد کی ام ولد متعلق بات کرتی تو بدزبانی کر سرزنش بھی اس کے گستاخانہ اند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کر دیا۔ اس کے پاس پڑے ہ واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے فر
’’خدا کی قسم! جس شخ ہے کہ میں اس سے کھڑا ہو جا دوسرے لوگوں کے ا کے سامنے جہاں رسول اللہ صلی
’’یا رسول اللہ صلی ا
”اے بنی ختمہ ! میں نے عصمہ بنت مروان کو قتل کیا ہے۔ اگر بدلے کا سوچ رہے ہو تو میرے ساتھ لڑائی کیلئے تیار ہو جاؤ۔“
اس سے بنو ختمہ کو بڑا دھچکا لگا۔ ان کو احساس ہو گیا کہ ان کے قبیلے میں بھی اسلام نے قوت و طاقت حاصل کر لی ہے۔ پھر تمام کے تمام قبیلے نے جب اسلام کے وقار و عظمت کو دیکھا تو اسے قبول کر لیا۔
(سیرت ابن ہشام ۱۰۵۶/۲)
توہین رسالت کی مرتکب عورتوں کا قتل
عرب میں توہین رسالت کے مرتکب کفر گو بے حرمتی کرنے والے مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ چند عورتیں طاقت ور سرداران قریش کی منکوحہ تھیں اور اس لئے ایسے ماحول کی پروردہ تھیں جہاں انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی مراعات یافتہ حیثیت کو اسلام سے خطرہ ہے۔ کچھ اور گانے والی لڑکیاں تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھیں۔ ایک اور زمرے میں وہ عورتیں تھیں جن کو اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت نے اندھا کر رکھا تھا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی جاتی ہے:
”ایک نابینا مرد کی شادی ایک کنیز سے ہوئی تھی۔ وہ جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بات کرتی تو بدزبانی کرتی۔ اس کے خاوند نے منع کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا۔ سرزنش بھی اس کے گستاخانہ اور بے حرمتی کے رویے سے اسے باز نہ کر سکی۔ ایک رات جب اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بدکلامی شروع کی تو اس کے نابینا خاوند نے اسے چاقو مار مار کر ہلاک کر دیا۔ اس کے پاس پڑے ہوئے بچے پر بھی خون لتھڑ گیا۔ صبح کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے لوگوں کو اپنے پاس جمع ہونے کیلئے کہا۔ پھر آپ نے بآواز بلند کہا:
”خدا کی قسم! جس شخص نے یہ کام کیا ہے میں اس سے درخواست کرتا ہوں۔ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔“
دوسرے لوگوں کے کندھوں سے ٹکراتا ہوا اور خوف سے لرزاں نابینا اٹھا اور سب کے سامنے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے، چلا گیا۔ اس نے کہا:
”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس عورت کو قتل کیا ہے۔ وہ آپ کو گالیاں دیا کرتی
مقال عالمی سیر کانفرنس مکہ تھی۔ میں نے اپنی بہترین کوشش کر دیکھی لیکن وہ سنتی ہی نہیں تھی۔ میں نے اس کی سرزنش بھی کی لیکن وہ اپنی بدعادت ترک نہیں کرتی تھی۔ اس کے بطن سے میرے موتیوں جیسے دو بیٹے ہیں۔ وہ میری محبوبہ ساتھی تھی لیکن گئی رات حسب معمول اس نے آپ کو گالیاں بکنی شروع کر دیں۔ اس باعث میں نے اس کو قتل کر دیا۔‘‘
نابینا کی سرگزشت سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ’’اے (حاضرین مجمع!) گواہ رہو کہ اس کا خون بہانا لازم تھا اور اس کیلئے کوئی بدلہ یا انتقام نہیں۔‘‘
حضرت شعبی سے روایت ہے: ’’ایک نابینا مرد ایک یہودیہ کے گھر بسیرا کیا کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ اسے کھانا مہیا کرتی۔ وہ مہمان نواز تھی اور نابینا پر ترس کھاتی تھی لیکن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے بدزبانی بھی کیا کرتی تھی۔ ایک رات جب وہ اپنے معمول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکنے میں مصروف تھی تو نابینا اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکا۔ اس نے یہودیہ کا گلا گھونٹ دیا۔ صبح جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ یہ کام کس نے کیا ہے نابینا سامنے پیش ہوا اور پورا ماجرا سنایا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیہ کے نازیبا رویے کا علم ہوا تو آپ نے اس قتل کو جائز قرار دیا۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’مدینہ منورہ میں ایک یہودیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتی تھی، اور آپ کی عظیم شخصیت کے خلاف بدزبانی بھی کرتی تھی، ایک غیرتمند مسلم نے اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعہ کی تحقیق کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون بہا کو جائز قرار دیا۔ اس واقعہ کو ابو داؤد، نسائی اور ابن بطہ نے بھی روایت کیا ہے۔‘‘
-----
یا رب صل وسلم د
ایک عمومی
آج کل یہ سوال عام طور مہربان تھے اور اپنے اوپر ہونے وا وادی میں آپ کو کیا کیا نہیں ستایا بجائے عفو و درگزر سے کام لیا۔ ایک کہا لیکن آپ نے اسے قتل کرنے ’’موسیٰ علیہ السلام کو اس ایسے بے شمار واقعات کا مطالبہ کچھ عجیب سا لگتا ہے اور جوش اور جذبات کا عمل دخل ہے ن پر جدید حلقوں کی طرف سے اٹھایا نے بھی اپنے ۲۲ فروری ۲۰۰۶ء دراصل اس غلط فہمی کی ب
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا اَبَدًا عَلىٰ حَبِيبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا ﷺ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
ایک عمومی اعتراض اور اس کا جواب
آج کل یہ سوال عام طور پر کیا جاتا ہے کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تو بہت مشفق و مہربان تھے اور اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت فرمالیا کرتے تھے۔ مکہ کی وادی میں آپ کو کیا کیا نہیں ستایا گیا لیکن اس کے باوجود آپ نے فتح مکہ کے دن سزا دینے کے بجائے عفو و درگزر سے کام لیا۔ ایک یہودی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”السام علیکم“ ( تم پر موت ہو ) کہا لیکن آپ نے اسے قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا:
”موسیٰ علیہ السلام کو اس سے زیادہ تکالیف دی گئیں لیکن انہوں نے صبر کیا۔“
ایسے بے شمار واقعات کی موجودگی میں توہین رسالت کے مجرم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کچھ عجیب سا لگتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مطالبے میں شرعی حکم کے بجائے صرف جوش اور جذبات کا عمل دخل ہے۔ یہ وہ شبہ ہے جسے بار بار مختلف تعبیروں اور طریقوں سے خاص طور پر جدید حلقوں کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے۔ او آئی سی کے جنرل سیکرٹری اکمل الدین اوگلو صاحب نے بھی اپنے ۲۲ فروری ۲۰۰۶ء کے انٹرویو میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔
دراصل اس غلط فہمی کی بنیاد اس مفروضے پر مبنی ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
توہین اور آپ پر تنقید ایک انسان پر تنقید کے برابر ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک عظیم مصلح، رہنما اور مثالی ہستی کی تنقیص ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ بنیاد اور اساس ہی غلط ہے کیونکہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت صرف محمد بن عبداللہ کی نہیں بلکہ رسول اللہ کی بھی ہے یعنی آپ صرف ایک انسان نہ تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ تھے اور آخری دین، دین اسلام کے ہر حکم اور ہر عمل کیلئے اتھارٹی تھے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جب ایک بدبخت شانِ رسالت میں گستاخی کرتا ہے تو وہ صرف ایک انسان کی ہتک نہیں کرتا بلکہ درحقیقت:
وہ اللہ تعالیٰ کو گالی دیتا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اور نبی تو ذات باری تعالیٰ نے ہی بنایا ہے۔
وہ دین اسلام کو گالی دیتا ہے کیونکہ اسلام تو سوائے اتباع رسول کے اور کچھ نہیں۔
وہ قرآن کریم کو گالی دیتا ہے کیونکہ اس کتاب الٰہی کو لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔
وہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کو گالی دیتا ہے کیونکہ اُن سب نے نبوت محمدی کا اقرار کیا تھا۔
وہ ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان کو گالی دیتا ہے کیونکہ عشقِ رسول، ایمان کا ہی دوسرا عنوان ہے۔
اس تفصیل کے بعد اصل بات واضح ہو جاتی ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو یہ اختیار تھا کہ وہ اپنی ذات کو تکالیف اور ایذاء پہنچانے والے کو معاف کر دیں لیکن یہ بھی تب تک جب تک اُس کا اثر اللہ کے دین تک نہ پہنچے ورنہ یہ معافی اور درگزر کا معاملہ نہیں ہوتا تھا۔ اسی لئے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سے اپنی ذات کیلئے انتقام نہیں لیا لیکن جب اللہ کی قائم کردہ حرمتوں میں سے کسی کو پامال کیا گیا تو آپ نے اللہ ہی کیلئے اُس کا انتقام لیا۔“
(بخاری، مسلم)
چنانچہ قارئین انہی صفحات میں ایک درجن سے زائد ایسے واقعات ملاحظہ فرمائیں گے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توہین رسالت کے مجرموں پر سزائے موت کا اطلاق فرمایا۔
یہ فرق اور تفصیل تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات کے اعتبار سے تھی ورنہ ایک
مسلمان کیلئے تو توہین رسالت کو معاف کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ یہ اُس کی اپنی ذات کا معاملہ نہیں کہ وہ مجرم کو معاف کر کے سیرتِ نبوی کی پیروی کرے۔ یہ تو اُس کے ذمے اللہ، اُس کے رسول اور دینِ اسلام کا حق ہے کہ وہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ علامہ ابن تیمیہؒ نے اسی بات کو ان مختصر الفاظ میں سمو دیا ہے، فرماتے ہیں:
”ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان له ان یعفو عمن شتمه و سبه فی حیاته ولیس لامته ان یعفو من ذلک“
(الصارم المسلول ۱۹۵)
یعنی ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنے سامنے سب و شتم کرنے والوں سے درگزر کر لیں لیکن آپ کی امت کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس جرم کو معاف کر دے۔“
افسوسناک بات یہ ہے کہ توہین رسالت کے موقع پر چشم پوشی اور بزدلی دکھانے کیلئے سیرت کا حوالہ وہ لوگ دیتے ہیں جو خود اپنی ذات پر ایک لفظ برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے اور اپنی توہین و تنقیص کا انتقام لینے کیلئے بسا اوقات ہزاروں انسانوں کی زندگیاں جھونک دیتے ہیں حالانکہ حقیقت بین نگاہوں سے دیکھا جائے تو اپنی ذات پر تکالیف اور توہین برداشت کرنا سیرت نبوی کا تقاضہ ہے تا کہ اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر۔
بندہ نے اس سوال کو آسان انداز میں حل کر دیا ہے جب کہ اہل علم نے اپنی کتب میں اس پر مفصل علمی کلام فرمایا ہے۔ قاضی عیاضؒ نے ”الشفاء“ میں باقاعدہ ایک فصل قائم کر کے کئی صفحات پر اس اعتراض کا جواب دیا ہے۔ تفصیل جاننے کے خواہشمند اُس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
ہے عمل مفقود، تقریریں بہت
بغضِ دل میں، منہ پہ تعریفیں بہت
کفر دل میں، لب پہ تکبیریں بہت
ایک اہل درد ہی ملتا نہیں
ورنہ درد و دل کی تدبیریں بہت
صرف ایک دعا
ہنسنے اور مسکرانے کا موسم نہیں ...... ورنہ ہم آپ کو دو چار لطیفے سنا ہی دیتے۔ ویسے کیا یہی صورتحال کم مضحکہ خیز ہے کہ وہ لوگ جو اپنے حسب نسب سے بھی ناواقف ہیں، جو انسانی اقدار سے عاری ہیں، جو تہذیب کا دامن چھوڑ بیٹھے ہیں، جو شرافت سے نابلد ہیں، جنہیں وقار دوستی کا پتا ہے اور نہ ہی ان میں مجال دشمنی ہے، وہ کمترین، پست ترین اور بدترین لوگ آج اس ذات اقدس پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو حسن و جمال کے پیکر ہیں، جو آدمیت کی پیشانی کا جھومر ہیں، جو وجہ وجود کائنات ہیں اور جو باعث فخر موجودات ہیں۔ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم
دو آدمیوں کا سر راہ چلتے آمنا سامنا ہو گیا۔ ایک مسلمان تھا، دوسرا کافر۔ کافر جو برسہا برس سے اپنے دل میں مسلمان کے لئے خلش اور نفرت لئے بیٹھا تھا، کہنے لگا کہ آج تمہیں اتنی گالیاں دوں گا ...... اتنی گالیاں دوں گا کہ تم نے کبھی سنی نہ ہوں گی۔ مسلمان بولا کہ ٹھیک ہے، کتے سے بھونکنے کے سوا اور توقع ہی کیا کی جاسکتی ہے۔ لیکن اتنی بات یاد رکھنا کہ جتنی گالیاں مجھے دو گے، اتنا ہی خود جلنا اور کڑھنا پڑے گا۔
کافر نے پوچھا: ”وہ کیسے؟“
مسلمان بولا: ”آزما کر دیکھ لو“
اب کافر نے اپنی لمبی سی زبان نکالی اور گالیوں کا ایک طویل پہاڑا سنا ڈالا۔ پھر جب وہ گالیاں دے دے کر تھک گیا تو مسلمان نے بڑے اطمینان سے کہا:
”ہمیں ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گالیاں دینے سے منع کیا ہے، لہٰذا فی الحال اتنا سن لو کہ جتنی گالیاں تم نے مجھے دی ہیں، ان گالیوں کو اتنی ہی گالیوں سے ضرب دو۔ اور پھر جو جواب آئے وہ میری طرف سے اپنے حق میں قبول کر لو۔“
یہ جواب سن کر کافر بڑا سیخ پا ہوا اور کچھ سوچے سمجھے بغیر پھر گالیاں دینی شروع کر دیں۔ پھر جب وہ بھونکتے بھونکتے تھک گیا تو مسلمان نے بڑے سکون کے ساتھ وہی جواب دہرا دیا۔ اب اس کم بخت کا پارہ اور بھی چڑھ گیا اور بالکل بے لگام ہو کر بھونکنے لگا۔ مسلمان خاموشی سے سنتا رہا اور جب وہ چپ ہوا تو پھر اس نے وہی جواب دے ڈالا۔ آخر کب تک ایسا ہوتا۔ کافر جب اپنے پاس موجودہ دشنام طرازی کا سارا ذخیرہ ختم کر چکا تو راہ بدل لینے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ باقی نہ رہا۔
وہ ۴۵ ممالک جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی، وہ درجنوں اخبارات جو اس بھیانک جرم کے مرتکب ہوئے اور وہ سینکڑوں بدبخت لوگ جو اس گستاخی میں شریک رہے، ہم ان سب سے یہی کہتے ہیں کہ وہ سب گالیاں جو تم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے رہے ہو اور وہ سب برائیاں، جو تم برائیوں اور نقص و عیب سے پاک ذات صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے گنوا رہے ہو، بار بار ضرب دینے کے بعد امت مسلمہ کے ہر مرد و زن اور پیر و جوان کی طرف سے علیحدہ علیحدہ اور بار بار اپنے لئے قبول کرو، کہ تم اس سے بھی بدرجہا بدترین گالیوں کے مستحق ہو۔ ایسی گالیاں ...... جنہیں زبان پر لاتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے۔
خدا غارت کرے ان لوگوں کو، ان کے جسم مفلوج ہو جائیں، ان کے دماغوں میں کیڑے پڑ جائیں، یہ سب کوڑھی ہو جائیں اور ناس ہو ان کے حواریوں کا ...... کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جس جرم کا وہ ارتکاب کر رہے ہیں، وہ ناقابل معافی ہے اور اس کی سزا قدرت ایسے بھیانک انداز میں دیتی ہے کہ رہتی دنیا تک کے لئے ایسے بدبخت لوگ نشان عبرت بن جایا کرتے ہیں۔
ہلاکو خان کے نام سے کون واقف نہیں۔ تاریخ کے اس جابر تاتاری جنگجو حکمران کی ایک بیوی کا نام ظفر خاتون تھا۔ ظفر خاتون عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی تھی اور اسکی وجہ سے ہلاکو خان کے زیر تسلط علاقوں اور رعایا میں عیسائیت کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع مل رہا تھا۔ عورتوں کی آڑ میں اپنے مذہبی عقائد کا پرچار کلیسا کا پرانا مشغلہ رہا ہے اور ایسے کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے سے اہل صلیب کم ہی چوکتے ہیں۔ بہر کیف ہلاکو خان کی حکومت عیسائیت کے فروغ کیلئے ایک مضبوط سہارے کا کام دے رہی تھی۔ ایک دفعہ عیسائیوں کی کوششوں سے ہلاکو خان کے ایک اہم جنگی سردار نے
عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ شخص حکومت وقت میں اتنے اہم کردار کا حامل تھا کہ پوری عیسائی دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اور کلیسا نے اس سردار کو عیسائیت میں خوش آمدید کہنے کیلئے باقاعدہ ایک تقریب جشن کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں شرکت کیلئے مرکزی کلیسا کے کئی پادری خصوصی نمائندے بن کر آئے۔ تقریب کا آغاز ہوا تو مختلف پادریوں نے باری باری اٹھ کر تقریریں کیں اور عیسائیت کے فضائل و مناقب بیان کئے۔ اسی دوران ایک پادری کی باری آئی تو اس بدبخت نے اپنی تقریر شروع کرتے ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی شروع کر دی۔ اتفاق سے وہاں قریب ہی ایک تاتاری سپاہی کا شکاری کتا بندھا ہوا تھا۔ اس کتے کے کان میں جب پادری کے الفاظ پہنچے تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ سخت طیش میں آگیا اور پھر اس نے اپنی رسی چھڑا کر پادری پر حملہ کر دیا۔ لیکن عین اسی لمحے لوگ آگے بڑھے، پادری کو اس عذاب سے خلاصی دلائی اور کتے کو دوبارہ رسی سے باندھ دیا گیا۔
یہ صورتحال دیکھ کر بعض لوگوں نے پادری سے کہا کہ تم نے ایک قابل احترام ہستی کے بارے میں نازیبا باتیں کیں، اس لئے کتے نے تم پر حملہ کر دیا۔ لیکن اس بدبخت کا اصرار تھا کہ میں چونکہ تقریر کے دوران اشارے کر رہا تھا، اس لئے کتا یہ سمجھا کہ میں اس پر حملہ آور ہونے لگا ہوں۔ بس اسی لئے اس نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ یہ کہہ کر پادری نے دوبارہ اپنی تقریر شروع کی اور کچھ دیر بعد پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں دریدہ دہنی شروع کر دی۔ اُدھر کتے نے دوبارہ یہ الفاظ سنے تو وہ پھر طیش میں آگیا۔ اور پھر اس نے اپنی رسی چھڑائی اور اس بدبخت پادری پر حملہ آور ہو گیا۔ اب کی بار کتے نے اس کی گردن کو دبوچ لیا اور اس وقت تک نہیں چھوڑا، جب تک کہ وہ بدطینت انسان تڑپ تڑپ کر مر نہیں گیا۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والے سے قدرت کا یہ انتقام دیکھ کر وہاں موجود چالیس ہزار افراد نے فوراً ہی اسلام قبول کر لیا۔
شاید آپ نے پڑھ رکھا ہو کہ جس طرح ابولہب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا تھا، ویسے ہی اس کا بیٹا بھی گستاخ تھا۔ اس تیرہ بخت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی تکلیف پہنچائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے بددعا فرمائی .......’’اے اللہ ! اس پر اپنے کتوں
عالمی سیر کانفرنس مکہ
میں سے ایک کتا مسلط فرما‘‘ اسے جب ہر وقت اسی خطرے سے دوچار رہتا کہ ک قدرت اس سے انتقام لے گی۔ ایک دفعہ اس نے لوگوں سے کہا کہ سارے قافلے حلقہ بنا کر پڑاؤ ڈالو تاکہ کوئی جانور حملہ نجانے کہاں سے کوئی درندہ آیا اور اس ملعو
ایک ایسے وقت میں....... جب میں گھر کر لیا ہے، مصلحتوں کے جال ہمارے قدم جکڑ لئے ہیں، ہم اپنے آقا نہیں کر سکتے تو آیئے ! سب مل کر یہ دع اپنے کتوں میں سے ایک ایک کتا مسلط
صحابی الرسول ح
بِأَنَّ سُيُوفَنَا تَرَكَتْكَ
هَجَوْتَ مُحَمَّداً فَأَجَبْ
أَتَهْجُوهُ وَلَسْتَ لَهُ
هَجَوْتَ مُبَارَكاً بَرّاً
فَمَنْ يَهْجُو رَسُولَ ا
فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَ
میں سے ایک کتا مسلط فرما‘‘ اُسے جب اس بددعا کا پتہ چلا تو باوجود کافر ہونے کے نیند حرام ہوگئی۔ ہر وقت اسی خطرے سے دوچار رہتا کہ کب محمد ..... صلی اللہ علیہ وسلم....... کی بددعا رنگ لائے گی اور قدرت اس سے انتقام لے گی۔ ایک دفعہ تجارتی قافلے کے ہمراہ محو سفر تھا کہ رات کا اندھیرا چھا گیا۔ اس نے لوگوں سے کہا کہ سارے قافلے کا سامان میرے ارد گرد رکھ دو اور خود بھی میرے آس پاس حلقہ بنا کر پڑاؤ ڈالو تا کہ کوئی جانور حملہ آور نہ ہو سکے۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، مگر رات کے کسی پہر نجانے کہاں سے کوئی درندہ آیا اور اس ملعون شخص کو چیر پھاڑ کر چلا گیا۔
ایک ایسے وقت میں....... جب بے بسی نے ہماری کمر توڑ دی ہے، بزدلی نے ہمارے دلوں میں گھر کر لیا ہے، مصلحتوں کے جال میں پھنس کر ہم بے دست و پا ہوچکے ہیں اور سرحدوں نے ہمارے قدم جکڑ لئے ہیں، ہم اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و ناموس کا انتقام لینے کیلئے اور کچھ نہیں کر سکتے تو آئیے! سب مل کر یہ دعا ہی کرلیں کہ ...... ”اے اللہ! ان گستاخوں میں سے ہر ایک پر اپنے کتوں میں سے ایک ایک کتا مسلط فرما۔“ (آمین ثم آمین)
صحابی الرسول حسان ابن ثابت رضی اللہ عنہ یقول:
بِأَنَّ سُيُوفَنَا تَرَكَتْكَ عَبْداً وَعَبْدُ الدَّارِ سَادَتُهَا الإِمَاءُ
هَجَوْتَ مُحَمَّداً فَأَجَبْتُ عَنْهُ وَعِنْدَ اللَّهِ فِي ذَاكَ الجَزَاءُ
أَتَهْجُوهُ وَلَسْتَ لَهُ بِكُفْءٍ فَشَرُّكُمَا لِخَيْرِكُمَا الفِدَاءُ
هَجَوْتَ مُبَارَكاً بَرّاً حَنِيفاً أَمِينَ اللَّهِ شِيمَتُهُ الوَفَاءُ
فَمَنْ يَهْجُو رَسُولَ اللَّهِ مِنْكُم وَيَمْدَحُهُ وَيَنْصُرُهُ سَوَاءُ؟
فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ
لیکن محمد ﷺ کی جہاں توہین ہو کٹ جائیں گے
وہ قدم دوزخ میں جائیں گے، اگر ہٹ جائیں گے
تم بھی اس جانِ دو عالم ﷺ سے وفاداری کرو
اس کے دشمن سے کھلا اظہارِ بیزاری کرو
آخر مغربی دنیا کیا چاہتی ہے؟
اسلام مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی تفریق کا قائل نہیں۔ اُس کی نظر میں گورے اور کالے، عرب اور عجم سب کا یکساں مقام ہے۔ عزت اور سرفرازی صرف تقویٰ اختیار کرنے والوں کیلئے ہے۔ لیکن اس کا کیا کیجئے کہ جیسے مغرب کی سمت سورج بھی جا کر بے نور ہو جاتا ہے ویسے ہی دورِ حاضر میں وہاں کے باشندگان بھی اپنی اسلام دشمنی اور کور باطنی کی وجہ سے ظلمتِ شب کو بھی شرما رہے ہیں۔
عجیب بات ہے کہ مغرب نے بارہا اپنے چہرے سے انسانی حقوق اور لبرل ازم کا ماسک اُتارا تاکہ دنیا بھر کے مسلمان اُس کی حقیقت سے واقف ہو جائیں لیکن افسوس کہ ”شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں“ نے پھر بھی اُسے پہچاننے میں غلطی کی۔ متحدہ ہندوستان میں انگریزی اقتدار کی خیرہ دستیاں ہوں یا عصرِ حاضر میں انسانیت کشی کا سب سے منظم منصوبہ گوانتاناموبے، ہر ایک کے پیچھے انہی کے ہاتھ کارفرما ہیں جن کی خوبیاں گنواتے ہم نہیں تھکتے۔
گزشتہ دنوں جب فلسطینی مجاہدین کی مثالی تنظیم ”حماس“ نے پارلیمنٹ کے انتخابات میں ۱۳۲ میں سے ۷۶ سیٹیں لے کر بھر پور کامیابی حاصل کی تو جمہوریت کے دعویداروں کی باسی کڑھی میں ایک مرتبہ پھر اُبال آ گیا۔ اُن کا خیال تھا کہ جمہوریت اور ووٹ کے ذریعہ مسلم ممالک میں صرف لادینیت اور فحاشی و عریانی ہی پھیلائی جاسکتی ہے لیکن جب نتائج اس کے بالکل برعکس آئے تو اُن کا
عَلَى حَبِيْبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
وہ قدم دوزخ میں جائیں گے، اگر ہٹ جائیں گے
تم بھی اس جانِ دو عالم ﷺ سے وفاداری کرو
اس کے دشمن سے کھلا اظہار بیزاری کرو
کیا چاہتی ہے؟
ب کی تفریق کا قائل نہیں۔ اُس کی نظر میں گورے اور ہے۔ عزت اور سرفرازی صرف تقویٰ اختیار کرنے والوں ب کی سمت سورج بھی جا کر بے نور ہو جاتا ہے ویسے ہی سلام دشمنی اور کور باطنی کی وجہ سے ظلمت شب کو بھی شرما
پنے چہرے سے انسانی حقوق اور لبرل ازم کا ماسک اُتارا واقف ہو جائیں لیکن افسوس کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے غلطی کی۔ متحدہ ہندوستان میں انگریزی اقتدار کی چیرہ کا سب سے منظم منصوبہ کو الٹانا صوبے، ہر ایک کے پیچھے تے ہم نہیں تھکتے ۔
مثالی تنظیم ”حماس“ نے پارلیمنٹ کے انتخابات میں ۱۳۲ صل کی تو جمہوریت کے دعویداروں کی باسی کڑی میں جمہوریت اور ووٹ کے ذریعہ مسلم ممالک میں صرف ہے لیکن جب نتائج اس کے بالکل برعکس آئے تو اُن کا
۱۵۴
لب ولہجہ اتنا وحشت ناک تھا کہ جمہوریت اور مغربی اقدار کی ہنڈیا بیچ چوراہے کے پھوٹ گئی۔ گزشتہ ایک صدی سے زائد کے طویل عرصے میں مغرب نے انسانیت کے خلاف جو جرائم کئے ہیں اُن کی فہرست بہت طویل ہے اور شاید ایک ضخیم کتاب بھی اس کیلئے ناکافی ہو۔ لیکن ان تمام شیطانی حربوں میں سب سے گھناؤنا ، ناقابل برداشت اور ناقابل معافی جرم حالیہ دنوں میں سید البشر، امام الانبیاء فخر دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں توہین آمیز اسکیچز کی اشاعت ہے۔ اس فعلِ بد کا آغاز یورپی ملک ڈنمارک سے ہوا، بعد ازاں ناروے، سویڈن اور اسپین بھی اس میں ملوث ہو گئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا یورپ پہلو بہ پہلو ان دلخراش واقعات میں شریک ہو گیا۔
یہ قابل گردن زنی جرم اتنا شدید اور المناک ہے کہ اس کیلئے مذمت کے تمام الفاظ کم معلوم ہوتے ہیں، اگر اسلام نے ایسے مواقع پر سزا کے بجائے گالی کے بدلے گالی کا قانون بنایا ہوتا تو ہم بھی ”جواب آں غزل“ کے طور پر بہت کچھ لکھ سکتے تھے لیکن اتنا کہے بغیر تو پھر بھی چارہ کار نہیں کہ یہ بدترین انسانوں کا بدترین فعل ہے اور اس کے ذریعے انہوں نے محض اپنے خبیث باطن کا مظاہرہ کیا ہے۔ بھلا وہ معاشرہ جس نے انسانیت کو فراموش کر دیا ہو، جن کے یہاں ماں، بہن اور بیوی میں فرق مٹ چکا ہو، جن کے ہاں ساٹھ فیصد سے زائد آبادی اپنے اپنے باپ کی تلاش میں سرگرداں ہو، جن کے شہروں میں دنیا کی بدترین جرائم گاہیں قائم ہوں، جو خنزیر کھا کھا کر اُسی کی طرح بے غیرت ہو چکے ہوں، جو ام الخبائث (شراب) پی پی کر خباثت اور غلاظت کی گٹھڑی بن چکے ہوں اور جن کے ہاں شرافت ناموس اور غیرت جیسے الفاظ ڈکشنریوں سے نکال دیئے گئے ہوں اُن کی طرف سے چاند پر تھوکنا ، چاند کو کیا نقصان دے سکتا ہے۔
مغربی دنیا اور اُس کے کاسہ لیس ہر موقع پر عالم اسلام کو یہ باور کرواتے آئے ہیں کہ وہ عالمی امن کے دعویدار بلکہ ٹھیکیدار ہیں اور ان کے تمام مخالفین بالخصوص مسلمانوں کی جہادی تحریکیں عالمی امن کے دشمن ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں یہ جھوٹ بھی اپنی موت آپ مر چکا ہے کیونکہ یورپ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ ایک مسلمان کتنا ہی گنہگار اور تباہ حال کیوں نہ ہو وہ اپنے آقا و مولیٰ حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ اقدس کی طرف بڑھا ہوا ہاتھ اور اُٹھی ہوئی آنکھ برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک مسلمان جتنا بھی بے بس اور بے کس ہو وہ عالم تصور میں ہی سہی اس
مقا عالمی سیر کانفرنس کی
اُدھار کو چکانے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ مغربی دنیا کے لیڈرز آج بتائیں کہ جب ان کی عوام لاکھوں مسلمانوں کے دل کی دھڑکنوں سے باخبر ہوتے ہوئے بھی یہ گھناؤنا جرم کرتے ہوئے نہیں ہچکچاتی اور وہ خود ان مجرموں کی مکمل پشت پناہی کرتے ہیں تو عالمی امن کی ضمانت آخر کیوں اور کیسے دی جاسکتی ہے؟
مغربی دنیا کی طرف سے اس موقع پر آزادی اظہار رائے کا حوالہ دینا درحقیقت اپنی حماقت کا بھرپور ثبوت فراہم کرنے کے مترادف ہے، اگر آپ اس آزادی اظہار رائے کے تحت کسی کے باپ یا بزرگ کو گالی نہیں دے سکتے ، کسی شریف آدمی پر کیچڑ نہیں اچھال سکتے اور کسی شخص کے جذبات کو مجروح نہیں کرسکتے تو پھر مسلمانوں کے عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرکے لاکھوں انسانوں کے جذبات مجروح کرنے کی ناپاک جسارت کو کیسے درست کہا جاسکتا ہے۔ مغرب کے ذہنی دیوالیہ پن کی انتہاء یہ ہے کہ یہودیوں کی خود ساختہ نسل کشی کی داستان ”ہولوکاسٹ“ کو وہاں باقاعدہ قانونی تحفظ حاصل ہے اور اس من گھڑت کہانی کا انکار آپ کو جیل تک پہنچا سکتا ہے اور اس وقت آپ کو آزادی اظہار رائے جیسے نظریات سزا سے نہیں بچا سکتے لیکن مسلمانوں کے خلاف یورپ کا نسلی اور مذہبی تعصب انہیں یہ سب حقائق بھلا دیتا ہے۔
تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا باب کسی قلم کی سیاہی سے نہیں لکھا جاسکتا، اس داستان کو رقم کرنے کا اعزاز تو ڈیڑھ ہزار برس سے غازیوں اور شہیدوں کے مقدس لہو کی سرخی ہی کو حاصل ہے اور یقیناً جب تک اس دھرتی پر ایک بھی کلمہ گو باقی ہے وہ پوری ہمت، شجاعت اور دلیری کے ساتھ اپنے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا تحفظ کرتا رہے گا، ہم تو صرف مسلمانوں کو قرآن مجید کی وہ آیت یاد دلانا چاہ رہے ہیں جو مغربی دنیا کے اصل مقصد اور دلی خواہش کو بے نقاب کررہی ہے:
”اکثر اہل کتاب تو اپنے حسد کی وجہ سے حق ظاہر ہونے کے بعد بھی یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح سے تمہیں ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹا کر لے جائیں۔“
(البقرۃ:۱۰۹)
اقبال مرحوم کے الفاظ میں:
روح محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو!
جی ہاں! مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنا یہی مغربی دنیا کا وہ اساسی اور بنیادی
عالمی سیرت کانفرنس کی مقال
مقصد ہے جس کے لئے وہ ہر ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کا سے وابستہ ہو جائیں اور دشمنانِ مصنوعات ہوں، اُن کی شکل وصورت
اس کتاب میں
گلستان
- ☆ آئیں! سیرتِ طیبہ کی روشنی
- ☆ نبی کریم ﷺ کے اسماءِ گرامی
- ☆ میرے آقا ﷺ میدانِ جنگ
- ☆ اکابر دیوبند، بارگاہِ رسالت
- ☆ گلستانِ رسالت کی مہک
- ☆ رحمتِ عالم ﷺ کے
صفحات مكتبة مكتبة ايم
مغربی دنیا کے لیڈرز آج بتائیں کہ جب ان کی عوام باخبر ہوتے ہوئے بھی یہ گھناؤنا جرم کرتے ہوئے نہیں ہچکچاتے ہیں تو عالمی امن کی ضمانت آخر کیوں اور کیسے
آزادی اظہار رائے کا حوالہ دینا درحقیقت اپنی حماقت کا اگر آپ اس آزادی اظہار رائے کے تحت کسی کے باپ دی پر کیچڑ نہیں اچھال سکتے اور کسی شخص کے جذبات کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کر کے لاکھوں انسانوں ت کو کیسے درست کہا جا سکتا ہے۔ مغرب کے ذہنی دیوالیہ سل کشی کی داستان ’ہولوکاسٹ‘ کو وہاں باقاعدہ قانونی انکار آپ کو جیل تک پہنچا سکتا ہے اور اس وقت آپ کو میں بچا سکتے لیکن مسلمانوں کے خلاف یورپ کا نسلی اور
سلم کا باب کسی قلم کی سیاہی سے نہیں لکھا جاسکتا، اس س سے غازیوں اور شہیدوں کے مقدس لہو کی سرخی ہی کو یک بھی کلمہ گو باقی ہے وہ پوری ہمت، شجاعت اور دلیری عزت کا تحفظ کرتا رہے گا، ہم تو صرف مسلمانوں کو قرآن بی دنیا کے اصل مقصد اور دلی خواہش کو بے نقاب کر رہی ہ سے حق ظاہر ہونے کے بعد بھی یہ چاہتے ہیں کہ کسی
کی طرف لوٹا کر لے جائیں۔‘‘ (البقرۃ: ۱۰۹)
تا سے برگشتہ کرنا یہی مغربی دنیا کا وہ اساسی اور بنیادی
مقصد ہے جس کے لئے وہ ہر قسم کی سیاسی، اقتصادی، سماجی اور عسکری کوششیں کر رہے ہیں اس لئے ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کا عمومی راستہ یہی ہے کہ مسلمان عملی طور پر دامن مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہو جائیں اور دشمنان رسول کی ہر عادت اور ہر نشانی کا بائیکاٹ کر دیں خواہ وہ اُن کی مصنوعات ہوں، اُن کی شکل وصورت ہو یا اُن کی تہذیب وتمدن کا کوئی حصہ۔
عشق مصطفی ﷺ کو جلا بخشنے کیلیے ...... آج ہی پڑھیں
سیرت النبی ﷺ کے گلہائے رنگارنگ پر مشتمل
گلستان حبیب ﷺ
از قلم: محمد منصور احمد
اس کتاب میں
- ٭ آئیں! سیرت طیبہ کی پناہ میں آجائیں
- ٭ رسول اللہ ﷺ کا مقام، کلام اللہ کی روشنی میں
- ٭ نبی کریم ﷺ کے اسماء گرامی
- ٭ درود شریف اور اتباع سنت
- ٭ رحمت عالم ﷺ اور جہاد
- ٭ میرے آقا ﷺ میدان جنگ میں
- ٭ حیات طیبہ ایک نظر میں
- ٭ راستہ صرف ایک ہے
- ٭ اکابر دیوبند، بارگاہ رسالت میں
- ٭ انسانی حقوق کا نبوی منشور
- ٭ یہ سودا اتنا سستا نہیں
- ٭ گلستان رسالت کی مہکتی کلیاں
- ٭ اک بار پھر بطحاء سے فلسطین میں آؤ آقا ﷺ
- ٭ رحمت عالم ﷺ اور صنف نازک
- ٭ محبت رسول ﷺ اور اُس کے تقاضے
صفحات: ۱۵۰ ................ قیمت: ۸۰ روپے
مکتبۃ الشہداء کراچی، 0321-2544928
مکتبہ ابن مبارک، لاہور 0321-4066829
محمد ﷺ کی محبت دین حق کی شرط اوّل ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو ایماں نامکمل ہے
محمد ﷺ کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی
خدا کے دامن توحید میں آباد ہونے کی
ناک پانی میں.............
جدید تعلیم کا ناس ہو کہ اس نے ہم سے ہماری تاریخ، ہماری تہذیب، ہماری ثقافت یہاں تک کہ ہماری شناخت بھی چھین لی ہے۔ آپ کو یقین نہ آئے تو کبھی دنیا بھر کے حکمرانوں پر مشتمل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کوئی تصویر دیکھ لیں، وہاں آپ کو ہر شخص اپنی ایک جداگانہ پہچان میں ملے گا۔ سوائے مسلم حکمرانوں کے جو بے چارے اپنے گال چھیل چھیل کر اتنے زخمی کر دیتے ہیں کہ پھر انہیں وہ خلاء پر کرنے کیلئے کئی قسم کی کریمیں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔ گردن میں پٹا اتنی مضبوطی سے کس کر باندھتے ہیں کہ لگتا ہے کہ ابھی ان کا سانس گھٹ جائے گا اور یہ ”مرحوم“ ہو جائیں گے۔ انگریزی بولنے کیلئے اتنا منہ بگاڑتے ہیں کہ کسی جذباتی خرابی کا شبہ ہونے لگتا ہے۔
جس طرح لسی میں جتنا پانی ڈالتے جائیں وہ لسی ہی رہتی ہے اگرچہ پتلی ہو جاتی ہے کچھ یہی حال ہماری چٹکلوں کا ہے کہ اس مقصد کی بات تک پہنچنے کیلئے کوئی دشوار گزار راستے بلکہ پگڈنڈیوں سے گزرنا پڑتا ہے اور ہمارا مضمون طویل ہوتا جاتا ہے ہم کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ اس نئی روشنی نے ہماری نسل کی آنکھوں سے اسلامی تاریخ کے بلند و بالا عظمت کے میناروں کو بھی اوجھل کر دیا ہے لہٰذا اب انہیں یا تو کھلاڑیوں کے نام یاد آتے ہیں یا فنکاروں کے اس کے باوجود ہم فخر کرلیتے ہیں کہ ہمارے قارئین خلیفہ ہارون الرشید کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے آپ کے کوئی پڑوسی، رشتہ دار، کھلاڑی یا فنکار مراد نہیں بلکہ عظیم عباسی خلیفہ کا ذکر خیر مقصود ہے جنہوں نے اپنے
زمانے میں بڑے جاہ و جلال سے حکومت کی۔
بات مختصر یہ کہ جب یہ اس دارفانی سے کوچ فرما گئے تو پیچھے ان کے دو صاحبزادوں امین، الرشید اور مامون الرشید میں حسب توقع تعلقات کشیدہ ہوگئے اور نوبت جنگ تک پہنچی۔ پہلے پہل تو امین الرشید کا پلہ بھاری رہا لیکن بالآخر مامون الرشید کامیاب ہوا اور اس نے اپنے ”برادر عزیز“ کو پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ وہاں پہنچا دیا جہاں ہر انسان نے بہرحال جانا ہی جاتا ہے۔
اس قتل کے کافی عرصہ بعد ایک مرتبہ مامون الرشید سواری پر کہیں جارہا تھا کہ راستے میں ایک بھنگی نے جو صفائی کر رہا تھا، بادشاہ وقت کو دیکھا تو غصے سے آنکھیں پھیر لیں اور کہا: ”یہ شخص اس وقت سے میری نظروں سے گر چکا ہے جب سے اس نے اپنے بھائی امین کو قتل کیا تھا۔“
مامون الرشید نے جب یہ سنا تو جواباً صرف اتنا کہا:
”انف فی الماء واست فی السما“
”ناک تو پانی میں لگ رہا ہے اور سرین آسمان پر ہے“
یہ عرب کے ہاں ایک ضرب المثل ہے اور یہ اس وقت بولتے ہیں جب کہ بہت ہی حقیر ترین شخص کسی بڑی شخصیت پر غصے اور ناراضگی کا اظہار کرے۔ یقین جانیں اگر توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتکب اور ان کی پیٹھ ٹھونکنے والے سیاہ باطن گوروں کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو وہ دماغی سوچ کے اعتبار سے بالکل اسی مقام پر ہوں گے جہاں وہ بھنگی تھا۔ بل ھم اضل
یورپ کے یہ ”بھنگی“ جنہوں نے اپنے کردار سے انسان تو انسان حیوانوں کو شرما دیا ہے، سرور کائنات فخر موجودات، سید البشر، امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے خفا ہیں اس لئے کہ آپ نے ان کوڑھ دماغوں کی گندی ذہنیت کے مطابق زندگی کا نقشہ کیوں نہیں دکھایا۔ یہ اس لئے آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراض بیٹھے ہیں کہ انہوں نے یہودیت اور عیسائیت کو منسوخ کیوں قرار دے دیا، انہوں نے اپنی امت کو عریانی اور فحاشی کے بجائے حیاء اور عفت کا درس کیوں دیا۔ انہوں نے اپنے نام لیواؤں کو بے غیرتی کی زندگی گزارنے کی اجازت دینے کے بجائے بدر و اُحد اور حنین و تبوک جیسی معرکہ آرائیوں کا حکم کیوں دیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو قرآن مجید جیسا اکسیر نسخہ کیوں دیا جس کی وجہ سے یہ تمام نظریوں اور ازموں سے محفوظ ہوگئے...... غرضیکہ اس طرح کی باتوں کا نہ ختم
ہونے والا ایک سلسلہ ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ سخت خفا ہیں۔
حالانکہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ ہیں:
جنہوں نے سب سے پہلے انسانیت کو انسانی حقوق سے روشناس کروایا۔ جنہوں نے بھولے بھٹکے انسانوں کو ایک کامل اور مکمل منشور عطا فرمایا۔ جنہوں نے رنگ و نسل کے بتوں کو توڑ کر انسان کو مٹی پتھر کے سامنے رسوا ہونے سے بچایا۔ جنہوں نے عرب اور عجم ، گورے اور کالے، محمود اور ایاز سب کو ایک صف میں کھڑا کر دیا۔ جنہوں نے عرب کے وڈیروں، چوہدریوں اور سرداروں کے طلسم کو توڑا۔ جنہوں نے ظالم کے ظلم کو شمشیر بے نیام کے ذریعہ روکنے کا حکم دیا۔ جنہوں نے یتیموں کو گلے سے لگایا سر پر دست شفقت رکھا اور سرپرستی فرمائی۔ جنہوں نے غلاموں کی ہتھکڑیاں توڑیں اور بیڑیاں کھولیں۔ جنہوں نے بے نواؤں کو قوت اظہار بخشی۔ جنہوں نے کمزور کو حق کی طاقت عطا فرما کر طاقتور کے مقابل لا کھڑا کیا۔ جنہوں نے صنف نازک، بنت حوا کو اس کی زندہ قبر سے نکال کر ماں کا احترام، بیٹی کی محبت، بہن کا اکرام اور بیوی کا اعزاز بخشا۔ جنہوں نے محنت کش کو اللہ کا حبیب قرار دے کر معاشرے میں اسے اعلیٰ مقام دیا۔ جنہوں نے جہالت کی ظلمت شب میں علم کی دائمی قندیلیں روشن کیں۔ جنہوں نے رسوم و رواج کے صحراؤں میں بھٹکتے ہوئے لوگوں کی تشنگی آب حیات سے بجھائی۔ جنہوں نے بکھرے ہوئے موتیوں کو ایک خوبصورت لڑی میں پرو کر ایک بے مثال اور مثالی جماعت تیار کی۔ غرض الفاظ کم ہیں اوصاف زیادہ، لکھتے لکھتے قلم شکستہ اور ذہن درماندہ ہو سکتا ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انسانیت پر احسانات کا احاطہ نہیں ہو سکتا۔
غرضیکہ ایک اُمی نے انسان کا بول بالا کر دیا۔ چمگادڑ کو اگر دن میں اندھیرا نظر آئے اور سورج کی شعاعیں بھی اس کے لئے ناکافی ہوں تو اس میں آفتاب عالمتاب کا تو کوئی قصور نہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں اور کمالات اگر ان کو سمجھ میں نہ آئیں تو ان کو اپنے فہم ناقص اور نظر کوتاہ کا علاج کرنا چاہئے۔ پچھلے چند برسوں سے یورپ نے اپنی غلیظ ذہنیت کو بے نقاب کر کے توہین رسالت کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے اور اس کے پیچھے کئی دماغ اور کافی سارے ڈالر کار فرما ہیں جن کے اثرات آپ کئی نام نہاد مسلمانوں پر بھی دیکھ سکتے ہیں جو ”بھنگیوں“ کو ان کی اصلیت اور قدر و قیمت یاد دلانے کے بجائے ان کی نظروں میں باوقار دکھائی دینے کی کوششیں کرتے ہیں۔ بھلا جس دل میں رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو وہ ہماری اور آپ کی عزت کیوں کرنے لگا۔ کیا خیال
ہے اگر کوئی آپ کے منہ پر آپ کے والد صاحب کو گالیاں دے لیکن آپ کی بڑی عزت افزائی فرمائے تو آپ اس کا یہ رویہ برداشت کرلیں گے؟
لگتا ہے شورش کاشمیری مرحوم کی آواز اب بھی کانوں میں گونج رہی ہے:
کہ اس کرب و بلا میں سخت جانوں کی ضرورت ہے
کہاں ہیں سید الکونین ﷺ کی امت کے دیوانے؟
کہ ناموسِ نبی ﷺ کے پاسبانوں کی ضرورت ہے
(بندہ کا یہ مضمون ہفت روزہ ”القلم“ میں چٹکیاں کے عنوان سے شائع ہوا تھا)
کتابیات
عربی کتب کے علاوہ بندہ نے دورانِ تالیف مندرجہ ذیل اردو کتب سے بھی غیر معمولی استفادہ کیا ہے۔
- ١۔ تفسیر معارف القرآن حضرت مولانا محمد شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان ادارۃ المعارف کراچی
- ٢۔ تفسیر عثمانی شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ تاج کمپنی لمیٹڈ کراچی
- ٣۔ القرآن العزیز (مترجم) امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ انجمن خدام القرآن لاہور
- ٤۔ حکایات صحابہؓ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ مکتبہ الشیخ، کراچی
- ٥۔ کشف الباری شرح صحیح البخاری حضرت مولانا سلیم اللہ خان زید مجدہم مکتبہ جامعہ فاروقیہ، کراچی
- ٦۔ ارتداد اور توہین رسالت ڈاکٹر محمد اسرار مدنی صاحب، جناب مقبول الٰہی صاحب ادارہ اسلامیات، لاہور
- ٧۔ شہیدان ناموس رسالت محترم جناب محمد متین خالد صاحب علم و عرفان پبلشرز، لاہور
- ٨۔ تحفظ ناموس رسالت اور
گستاخ رسول کی سزا محترم ایچ ساجد اعوان صاحب مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان