توہین رسالت، اقلیتیں
اور
قانون تحفّظ مذاہب
کتاب ہذا میں اسلامی قانون اور پاکستان کے مروجہ قانون کی روشنی میں توہین رسالت، توہین انبیاء، توہین قرآن، توہین صحابہ، اسلامی مکاتب فکر کے قانونی حقوق اور اسلامی ریاست کی اقلیتوں کے قانونی اور سیاسی حقوق جیسے اہم موضوعات پر جامع تحقیقی انداز میں بحث کی گئی ہے، مغربی قوانین کے ساتھ تقابلی جائزہ کتاب ہذا کی منفرد خصوصیت ہے
تالیف
مفتی نذیر احمد خان
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، اُستاذ جامعہ بنوریہ عالمیہ
النبراس
سلسلہ اشاعت توہین رسالت
محمد مصطفیٰ
ﷺ
خاتم النبیین
توہین رسالت تہمتیں اور قانون تحفظ مذاہب
نام کتاب ............................ توہین رسالت تہمتیں اور قانون تحفظ مذاہب تحقیق و تصنیف ............................ مفتی نذیر احمد خان (ایڈووکیٹ) 2245889-0333 با اہتمام ............................ عبدالرحیم جوہر اشاعت ............................ November - 2006 قیمت ............................ -/240
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں "اس کتاب کے کسی بھی حصے کو ادارے کی تحریری اجازت کے بغیر نقل یا شائع کرنے کی قطعاً اجازت نہیں اگر کوئی فرد یا ادارہ اس میں ملوث پایا گیا تو ادارہ ہذا قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہے۔"
ملنے کے پتے:
مکتبہ جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی
U.K
- 1.Islamic Books Centre
119-121, Halli Well Road
- 2.Azhar Academy Ltd.
At Continental (London) Ltd. Cooks Road, London E152PW
U.S.A
IslamicBookstore.com 2040-F Lord Baltimore Dr. Baltimore. MD 21244-2501, USA JBbookstore.com 1012-13 Laslie Ave Baltimore, Md 21228
إدارة الأنوار
دوکان نمبر 2 پلاٹ نمبر 672/4 GRE نور مینشن بنوری ٹاؤن کراچی Ph: 092-21-4914596, 4919673 Cell: 0300-2573575 E-mail: Idaratulanwar@yahoo.com
لسانی و مذہبی تعصب اند لگانے جیسے قبیح فعل پر اکساتا ہے کیونکہ تاریخ میں یہ سبق رقم ہو چکا نہیں بچا سکتا۔
ماضی قریب میں اس تعصب جس پر ہر دردمند پاکستانی نے خو بدنام کرنے کیلئے ایسے واقعات کو عصمتوں اور عظمتوں کی قربانیوں ہلا دینے میں اس تعصب نے کو وجوہات ہیں جن کا تجزیہ کرنا اس سیدھی سادھی عوام کو اس میں ملوث میں اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش
مذہبی شدت پسندی فر سے انتہائی عالمانہ شان کے ساتھ باشمول قادیانی جماعت کو جو حقوق
قانون تحفظ مذاہب سوالاً جواباً بالحوالہ
توہین رسالت، اقلیتیں اور قانون تحفظ مذاہب مفتی نذیر احمد خان (ایڈووکیٹ) 2245889-0333 عبدالرحیم جوہر November - 2006 240/-
کتاب کے کسی بھی حصے کو ادارے کی تحریری قطعاً اجازت نہیں اگر کوئی فرد یا ادارہ اس چارہ جوئی کا حق رکھتا ہے۔"
ملنے کے پتے: ویب سائٹ کراچی
U.K
1.Islamic Books Centre 119-121, Halli Well Road
2.Azhar Academy Ltd. At Continental (London) Ltd. Cooks Road, London E152PW
الانوار پبلیکیشنز بنوری ٹاؤن کراچی Ph: 092-21-491499 E-mail: ida
عرض ناشر
لسانی و مذہبی تعصب ایسا ناسور ہے جو ایک بھائی کو دوسرے بھائی کا گلا کاٹنے جیسے قبیح فعل پر اکساتا ہے اس لئے ہر اہل دل پاکستانی اس مسئلہ پر متفکر ہے کیونکہ تاریخ میں یہ سبق رقم ہو چکا ہے کہ ایسے معاشرے اور ملت کو زوال سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
ماضی قریب میں اس تعصب نے پاکستان میں ایسے دلخراش مناظر دکھائے جس پر ہر دردمند پاکستانی نے خون کے آنسو بہائے اور ہمارے دشمنوں نے ہمیں بدنام کرنے کیلئے ایسے واقعات کو خوب اچھالا۔ ایک ایسا وطن جس کی بنیادوں میں عصمتوں اور عظمتوں کی قربانیوں کی ایک درد ناک تاریخ شامل ہو اسکی بنیادیں ہلا دینے میں اس تعصب نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس ناسور کے پنپنے کی کئی وجوہات ہیں جن کا تجزیہ کرنا اس وقت مقصود نہیں لیکن ایک اہم مسئلہ جو ایک عام سیدھی سادھی عوام کو اس میں ملوث کر دیتا ہے، وہ لاعلمی اور غلط فہمی ہے۔ اس کتاب میں اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مذہبی شدت پسندی فرقہ وارانہ فسادات اور خصوصاً اقلیتوں کے حوالے سے انتہائی عالمانہ شان کے ساتھ بحث کرتے ہوئے ثابت کیا گیا ہے کہ اقلیتوں باشمول قادیانی جماعت کو جو حقوق اسلامی قانون اور پاکستان میں حاصل ہیں مغربی
ممالک میں اس کا تصور تک نہیں اور شیعہ سنی بریلوی دیو بندی مسائل کا حل بھی پاکستانی قانون میں احسن طریقے سے موجود ہے۔ یوں ان قوانین کا تعارف کرا کر فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات جو لاعلمی کی بنیاد پر ہوتے ہیں ان کے سدباب کی کامیاب کوشش آپکے ہاتھوں میں ہے۔ جناب مفتی نذیر احمد خان صاحب نے پاکستانی معاشرہ کو اس تعصب کی وباء سے نکالنے کیلئے ایک گراں قدر خدمت انجام دی ہے۔ ہمارا ادارہ جناب مؤلف کی ایک گراں قدر تحقیق " حدود آرڈیننس اور تہذیبی تصادم" پہلے ہی عوام کی خدمت میں پیش کرچکا ہے۔ اب دوسری انتہائی اہم تالیف پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے۔
اللہ تعالی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر ملک وملت کیلئے مفید بنائے ۔ مؤلف اور ناشر کیلئے ذخیرہ آخرت بنائے ۔ آمین
عبدالرحیم جوہر مدیرالنبراس کراچی 07-11-2006
فہر
انتساب تأثرات بصد احترام ......
مسلمانوں کا اصل دشمن ..... مغر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا گہوا فروعی اختلافات کو حدود میں رکھ کلمہ گو کی تکفیر کا مسئلہ
پاکستان
دفعات و تشریحات پس منظر اور شان ورود
قانون توہین
شاتم رسول کی سزا اسلام میں مرتد کی سزا مرتد کی سزائے حد کے انکار ک
کتابیں علم مصطفیٰ ﷺ سوالاً جواباً بلا معاوضہ 0322 42
سنی بریلوی دیوبندی مسائل کا حل بھی موجود ہے۔ یوں ان قوانین کا تعارف کرا کر ا بنیاد پر ہوتے ہیں ان کے سدباب کی جناب مفتی نذیر احمد خان صاحب نے لانے کیلئے ایک گراں قدر خدمت انجام ایک گراں قدر تحقیق ” حدود آرڈینینس اور پیش کر چکا ہے۔ اب دوسری انتہائی اہم ہے۔
انہیں قبول فرما کر ملک و ملت کیلئے مفید بنائے ۔ آمین
عبدالرحیم جوہر مدیر النبراس کراچی 07-11-2006
فہرست مضامین
انتساب تاثرات بصد احترام ......
باب اول
صفحہ 13-55 عیار دشمن ......
مسلمانوں کا اصل دشمن .... مغرب یا اپنے مسلمان؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا گہوارہ اسلام نہ بننے کی وجوہ فروعی اختلافات کو حدود میں رکھنے کے زریں اصول کلمہ گو کی تکفیر کا مسئلہ
باب دوم
صفحہ 56-81 پاکستان کا قانون تحفظ مذاہب
دفعات و تشریحات پس منظر اور شان ورود
باب سوم
صفحہ 82-203 قانون توہین رسالت (Blasphemy Law)
شاتم رسول کی سزا اسلام میں مرتد کی سزا مرتد کی سزائے حد کے انکار کے اسباب
مرتد کی سزائے حد امت کا اجماعی مسئلہ ہے شاتم رسول کی سزا قرآن وحدیث کی روشنی میں ...... جرم توہین قرآن اور اس کی سزا ...... توہین انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ...... شاتم صحابہ کی سزا ......
باب چہارم
صفحہ 204-265 اسلام میں اقلیتوں کے حقوق وضوابط ...... اسلام میں اقلیتوں کے سیاسی و قانونی حقوق اقلیتوں کے حقوق کے حوالہ سے اسلامی اور مغربی قوانین کا تقابلی جائزہ پاکستان میں اسلامی قوانین کی حیثیت اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے ......
باب پنجم
صفحہ 266-290 قادیانی جماعت اقلیتی فرقہ ...... تاریخ ساز فیصلہ احمدی / قادیانی غیر مسلم کیوں ......؟ لاہوری جماعت کی وجوہ تکفیر
کتابیات
صفحہ 291-294
انتساب
بصد عقیدت و احترام فدائیان اسلام و شہداء ناموس رسالت کے نام
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
جلا کے راکھ نہ کردوں تو داغ نام نہیں
نذیر احمد خان
الجامعة البنورية العالمية علمی خطبات تأثرات تأثیـ
الجامعة البنورية العالمية BINORIA UNIVERSITY INTERNATIONAL Post Box No 10689, Near S.I.T.E., Police Station, Karachi - Pakistan Ph. 2560300, 2560400 Fax: 2564586 Emails: binoria@binoria.org fatwa@binoria.org Webpage: http://www.binoria.org
تأثرات
اعتدال پسندی امت مسلمہ کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کی فطرت میں قدرت نے اعتدال اور عدم تشدد کو سمویا ہوا ہے، اسی لئے قرآن پاک نے اس امت کو ’اُمةً وسطاً‘، یعنی اعتدال پسند امت کا لقب دیا ہے۔
کوئی بھی قوم جب اپنی فطرت سے بغاوت کر کے غیر فطری جھمیلوں کا شکار ہو جاتی ہے تو نہ اسکی اجتماعیت باقی رہ سکتی ہے۔ اور نہ وہ شاہراہ حیات پر اپنی منزل تک رسائی کی سکت رکھتی ہے بلکہ ایک بھٹکے ہوئے مسافر کی طرح اسکو کوئی مستقل پناہ گاہ بھی میسر نہیں آتی ہے۔
ہماری تاریخ کے صفحات اس قسم کے بیسیوں واقعات سے لبریز ہیں کہ مسلمانوں نے جب بھی غیر مقصدی امور میں باہم اختلافات کے معرکے گرم کیئے تو ان کے اختلافات سے ہمیشہ کسی فتنہ تاتار نے فائدہ اٹھا کر امت مسلمہ کو حسرتوں کی درد بھری داستان بنا چھوڑا۔
بحیثیت مسلمان اور وارثین پیغمبر کے ہمیں غور کرنا ہے کہ ہماری غرض و غایت کیا
ہے، ہمارا مشن کیا ہے اور ٹارگٹ متعین کر کے اپنی منزل تک رسا ضرور ملتی ہے۔
بحیثیت مسلمان ہمارا مشن ا نظامِ حیات کے طور پر کرۂ ارض ہے جب ہم اسلام اور مسلمانو بھائی چارگی اور اتفاق و اتحاد سمجھنے کی بجائے اپنا بھائی سمجھ بجائے غیر سمجھتے ہوں اور غیر سمجھ فروعات میں اختلاف را اختلاف رائے اگر حد میں رہ ک کا سبب بنتی ہے۔ لیکن مقام اف کا سبب بننا چاہیئے تھا، وہ آج ا جس اختلاف کو ہمارے پیغمب رحمت بنا ہوا ہے۔ اختلا آچکی ہے۔
اختلاف رائے کے غلط ا جاسکتا ہے بلکہ اختلاف را جاسکتا ہے۔
مفتی نذیر احمد خان استا
جامعہ بنوریہ ماہنامہ العالمیہ تاسیس
جامعة بنورية العالمية BINORIA UNIV Post Box No 10689, Near S.I.T.E. Ph. 2560300, 2560400 Fax : fatwa@binoria.org Web:
ات
گزر رہا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کی فطرت ایا ہوا ہے، اسی لئے قرآن پاک نے اس کا لقب دیا ہے۔ ت کر کے غیر فطری جھمیلوں کا شکار ہو جاتی وہ شاہراہ حیات پر اپنی منزل تک رسائی ر کی طرح اسکو کوئی مستقل پناہ گاہ بھی میسر
وں واقعات سے لبریز ہیں کہ مسلمانوں لافات کے معرکے گرم کیئے تو ان کے اٹھا کر امت مسلمہ کو حسرتوں کی درد بھری
غور کرتا ہے کہ ہماری غرض و غایت کیا
ہے، ہمارا مشن کیا ہے اور ٹارگٹ کیا ہے۔ کوئی بھی قوم یا نسل جب اپنا نہج حیات متعین کر کے اپنی منزل تک رسائی میں سرفروشی کا مظاہرہ کرتی ہے تو اسے اسکی منزل ضرور ملتی ہے۔
بحیثیت مسلمان ہمارا مشن اسلام کی بالادستی ہے اور ہمارا ٹارگٹ اسلام کو عالمگیر نظام حیات کے طور پر کرۂ ارض پر نافذ کرنا ہے۔ یہ مقصد ہمیں تب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب ہم اسلام اور مسلمانوں کے لئے مخلص ہوں۔ ہم اپنے سینوں میں اخوت، بھائی چارگی اور اتفاق و اتحاد کے جذبات لیئے ہوئے ہوں، مسلمانوں کو اپنا حریف سمجھنے کی بجائے اپنا بھائی سمجھتے ہوں جبکہ کافروں کو اپنا ہمدرد اور آئیڈیل گرداننے کی بجائے غیر سمجھتے ہوں اور غیر سمجھ کر تعلقات کی حکمت عملی مرتب کرتے ہوں۔
فروعات میں اختلاف رائے کرنا اتفاق و اتحاد کے ہرگز منافی نہیں ہے بلکہ اختلاف رائے اگر حد میں رہ کر کیا جائے تو یہ امت مسلمہ کی فکری بیداری اور علمی ترقی کا سبب بنتی ہے۔ لیکن مقام افسوس یہ ہیکہ جس اختلاف کو امت کی فکری اور علمی ترقی کا سبب بننا چاہیئے تھا، وہ آج اس امت کے افتراق اور بربادی کا سبب بن رہا ہے۔ جس اختلاف کو ہمارے پیغمبر ﷺ نے امت کیلئے رحمت قرار دیا تھا، وہ آج شدید زحمت بنا ہوا ہے۔ اختلاف رائے کے سبب امت مسلمہ خانہ جنگیوں کی لپیٹ میں آچکی ہے۔
اختلاف رائے کے غلط استعمال سے اختلاف رائے کے نظریہ کو مطعون نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ اختلاف رائے کے حدود اربعہ کو متعین کر کے اسکے غلط استعمال کو روکا جاسکتا ہے۔
مفتی نذیر احمد خان استاذ جامعہ بنوریہ عالمیہ نے اسی موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور بسط
مطبوعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت علمی مقالات
عقیدۂ ختمِ نبوت
تابیں
تفصیل کے ساتھ اپنی علمی کاوش کو پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اہم موضوعات..... شاتم رسول، شاتم انبیاء، شاتم قرآن، شاتم صحابہ اور اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے سیاسی اور قانونی حقوق .....کو بڑے خوبصورت پیرایہ میں قارئین کے نظر نواز کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ موصوف کی اس علمی کاوش کو قبولیت عام بخشے اور یہ ان کے لیئے ذخیرہ آخرت ثابت ہو۔ آمین
مفتی محمد نعیم مہتمم الجامعة البنورية العالمية
دشمنیاں عموماً غلط فہمیوں او کچھ کو کچھ سمجھ کر تشدداور عداوت ک ہے،عربی کا محاورہ ہے: ترجمہ: ”لوگ دشمن اسی لئے اسلامی قانون قوانین کا علم رکھنا ضروری قرار دی قانونی نہیں بن سکتا ہے۔ کیونکہ بدقسمتی سے ہمارے مل روایات کی ترجمانی تو کرتے ہی اسلام پسند طبقہ، جو ملک کی خلاف مروت سمجھتا ہے۔ یہ نظریہ دلیل کی زبان مذہبی حوالہ سے ملک انارکی شیعہ، بریلوی، دیوبندی، قا کے مسلک یا عقیدے کے خو سے اپنے مسلک کے خلاف کے تازیانہ قانون اپنے ہاتھ م اور اس طرح جارحیت، شہ کڑیاں آپ ہی آپ جڑتی
پاکستانی مسلمانوں کو ع
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مقالات ختم نبوت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
اس کے علاوہ دیگر اہم موضوعات ...... توجہ اور اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے پیرایہ میں قارئین کے نظر نواز کیا ہے۔ علمی کاوش کو قبولیت عام بخشے اور یہ ان
مفتی محمد نعیم الجامعة البنورية العالمية
بصد احترام......
دشمنیاں عموماً غلط فہمیوں اور جہل کا نتیجہ ہوتی ہیں، انسان اپنی کم فہمی اور ناواقفیت کے سبب کچھ کو کچھ سمجھ کر تشدد اور عداوت کا راستہ اختیار کر لیتا ہے، جس کا خمیازہ اس کو بہت ہی برا بھگتنا پڑتا ہے، عربی کا محاورہ ہے: الناس اعداء لما جهلوا . ترجمہ : ” لوگ دشمن ہوتے ہیں اسکے جس سے وہ ناواقف ہوتے ہیں“
اس لئے اسلامی قانون ہو یا معاصر مغربی قانون ،دونوں قوانین مملکت کی رعایا پر مروجہ قوانین کا علم رکھنا ضروری قرار دیتے ہیں۔ کسی شہری کا اپنی نادانی کے سبب جرم کا ارتکاب کرنا عذر قانونی نہیں بن سکتا ہے۔ کیونکہ قانون واقعاتی غلطی کو تو عذر قرار دے سکتا ہے، قانونی غلطی کو نہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جو قوانین رائج ہیں، وہ فرسودہ فرنگی قوانین ہیں جو فرنگی روایات کی ترجمانی تو کرتے ہیں، مسلمان کی ملی اور قومی روایات کی نہیں۔ اس وجہ سے پاکستان کا اسلام پسند طبقہ ، جو ملک کی اکثریتی آبادی ہے۔ ان مروجہ قوانین کے سیکھنے کو وقت کا ضیاع اور خلاف مروت سمجھتا ہے۔
یہ نظریہ دلیل کی زبان میں کتنا ہی سر چڑھ کے بولتا ہو، لیکن ......اسکا بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ مذہبی حوالہ سے ملک انارکی ،فرقہ وارانہ فسادات اور مذہبی شدت پسندی کا شکار ہوگیا ہے۔ سنی، شیعہ ، بریلوی ، دیوبندی ، قادیانی اور اقلیتی فرقے سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مروجہ قوانین میں ان کے مسلک یا عقیدے کے تحفظ کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور اسی بنیاد پر جب وہ کسی تنظیم کیطرف سے اپنے مسلک کے خلاف جارحیت دیکھتے ہیں۔ تو بجائے عدل وانصاف کا دروازہ کھٹکھٹانے کے تازیانہ قانون اپنے ہاتھ میں لیکر مخالفین کے خلاف جارحانہ کاروائیاں شروع کر دیتے ہیں۔ اور اس طرح جارحیت ، شدت پسندی اور فرقہ وارانہ فسادات کے نہ ختم ہونے والے سلسلہ کی کڑیاں آپ ہی آپ جڑتی چلی جاتی ہیں۔
-----------------
پاکستانی مسلمانوں کو حکومت سے گلہ ہے کہ جرائم ......توہین رسالت، توہین انبیاء، توہین قرآن
اور توہین مذہب کے لئے قانون میں کوئی خاطر خواہ جگہ نہیں ہے، جبکہ اقلیتوں کو شکوہ ہے کہ پاکستان کا قانون تحفظ مذاہب دراصل ان کے خلاف جارحیت کو پروان چڑھانے کیلئے بنایا گیا ہے۔
سنیوں کو شکایت ہے کہ قانون میں امہات المومنین، خلفائے راشدین، اہل بیت اور صحابہ کرام کے ناموس کے تحفظ کیلئے ان کے نظریہ کا ترجمان قانون نافذ نہیں ہے، جبکہ شیعوں کو گلہ ہے کہ ملک میں ہمارے ساتھ سلوک اقلیتوں سے بھی بدتر ہو رہا ہے مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہمیں کوچہ بہ کوچہ کافر قرار دیا جا رہا ہے۔
دیو بندیوں کو اعتراض ہیکہ بریلویوں کی بعض شدت پسند گروہوں کے سبب ہمارے مدارس اور مساجد محفوظ نہیں رہے ہیں، جبکہ بریلویوں کو اعتراض ہیکہ دیو بندیوں کے جارحانہ بیانات کے سبب ہمارے مزارات، جلسے اور نظریات محفوظ نہیں ہیں۔
اس قسم کے مزعومانہ خیالات ہماری فہم کے مطابق جہالت اور ناواقفیت کا نتیجہ ہیں، جن کا واقعاتی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بحمد اللہ پاکستان کے نافذ العمل قانون میں تحفظ مذاہب کیلئے معقول جگہ ہے۔ اور یہ بھی کہ یہ قوانین بڑی حد تک اسلامی اصولوں کے مطابق ہیں۔
نیز ...... بانگ دہل دعوی ہیکہ اقلیتوں بشمول قادیانی جماعت، کو جتنے حقوق اسلامی قانون اور پاکستان میں حاصل ہیں، شاید ہی مغربی قانون ان کے دینے کا تصور کر سکے۔
اللہ کرے اس کتاب کے مطالعہ سے شدت پسندانہ ذہنیت دم توڑ جائے، علمی اور نظریاتی سوچ پروان چڑھے، باہم اخوت ومحبت کی فضا سازگار ہو۔ اور مملکت خداداد پاکستان بیرونی طاقتوں اور سازشی عناصر کی چنگل سے آزاد ہو ...... آمین
نذیر احمد خان ایڈووکیٹ
رابطہ: 2245689-0333
جگہ نہیں ہے، جبکہ اقلیتوں کو شکوہ ہے کہ پاکستان کا کو پروان چڑھانے کیلئے بنایا گیا ہے۔ المومنین، خلفائے راشدین، اہل بیت اور صحابہ جمان قانون نافذ نہیں ہے، جبکہ شیعوں کو گلہ ہے بھی بدتر ہو رہا ہے مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہمیں
ں شدت پسند گروہوں کے سبب ہمارے مدارس تراض ہیکہ دیوبندیوں کے جارحانہ بیانات کے ہیں۔ مطابق جہالت اور ناواقفیت کا نتیجہ ہیں، جن کا
تحفظ مذاہب کیلئے معقول جگہ ہے۔ اور یہ بھی کہ
قادیانی جماعت، کو جتنے حقوق اسلامی قانون نہ حق دینے کا تصور کر سکے۔ حمانہ ذہنیت دم توڑ جائے، علمی اور نظریاتی ار ہو۔ اور مملکت خداداد پاکستان بیرونی
نذیر احمد خان ایڈووکیٹ رابطہ: 0333-2245689
باب اوّل
عیّار دشمن......
- مسلمانوں کا اصل دشمن ...... مغرب یا اپنے مسلمان؟
- اسلامی جمہوریہ پاکستان کا گہوارۂ اسلام نہ بننے کی وجوہ
- فروعی اختلافات کو حدود میں رکھنے کے زریں اصول
- کلمہ گو کی تکفیر کا مسئلہ
بیچارہ کسی تاج کا تابندہ نگیں ہے
دہقاں ہے کسی قبر کا اگلا ہوا مردہ
بوسیدہ کفن جس کا ابھی زیر زمین ہے
جان بھی گرو غیر بدن بھی گرو غیر
افسوس کہ باقی نہ مکاں ہے نہ مکیں
یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تو
مجھ کو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے
(اقبال)
دعوت و تبلیغ، جہاد و قتال کلمۃ اللہ ہے۔ اعلاء کلم بلکہ معنی ہے اللہ کے دین کو حکومت و وزارت، سیاس عدالت و قضاء اور دیگر تمام میں کرنا کہ اسلامی قوانین جائیں، دین و شریعت کا اع کے طور پر اسکے نفاذ میں ۔ بدقسمتی سے ہندوستا عیار اور زیرک دشمن ہے و خرد کو مسلمانوں کی فک ہندوستان پر سے اس کی قائم ہونے کے باوجود آن آپ کو زندہ رکھا ہوا ہے نظام رائج ہے، حکوم و تجارت، تعلیم و تعلم، یہا متابعت فخریہ انداز میں وجہ صرف وصرف یہ
عیار دشمن
دعوت وتبلیغ، جہاد وقتال اور دینی تحریکات ...... سب کی غرض وغایت اعلاء کلمۃ اللہ ہے۔ اعلاء کلمۃ اللہ کے معنی زمین پر کفر یا کفار کا خاتمہ ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ معنی ہے اللہ کے دین کو ایک نظام کے طور پر زندگی کے ہر شعبہ میں سر بلند رکھنا، حکومت ووزارت، سیاست وریاست، فوج ودفاع، معیشت وتجارت، تعلیم وتعلم، عدالت وقضاء اور دیگر تمام نجی اور اجتماعی شعبہ جات میں نظام اسلامی کا قیام اس انداز میں کرنا کہ اسلامی قوانین غالب نظر آئیں اور غیر اسلامی تہذیب وتمدن مغلوب بن جائیں، دین وشریعت کا اعلاء کفر اور کفار کے خاتمہ سے نہیں، بلکہ ملکی سطح پر حکومتی نظام کے طور پر اسکے نفاذ میں ہے۔
بدقسمتی سے ہندوستان سے مغل اقتدار کے زوال کے بعد مسلمانوں کا ایک ایسے عیار اور زیرک دشمن سے پالا پڑا ہے، جو سیف وسنان اور قوت وطاقت سے زیادہ عقل وخرد کو مسلمانوں کی شکست میں استعمال کرتا رہا ہے۔ اس کی عیاری کا کمال ہے کہ ہندوستان پر سے اس کی حکومت کے خاتمہ کے باوجود اور پاکستان کا نظریاتی اساس پر قائم ہونے کے باوجود آج بھی وہ ہمارے اندر ایک کامیاب فاتح کے طور پر اپنے آپ کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں سرکاری تحفظ کے تحت اس کا وضع کردہ نظام رائج ہے، حکومت وزارت، سیاست وریاست، فوج ودفاع، معیشت وتجارت، تعلیم وتعلم، عدالت وقضاء غرض تمام نجی وحکومتی شعبہ جات میں اس کی متابعت فخریہ انداز میں کی جاتی ہے۔
وجہ صرف وصرف ایک ہے ہم مفتوح ہیں اور وہ فاتح بس فرق اتنا ہے کہ تقسیم
مطبوعات
علمی خطبات
سوالاً جواباً
بالحوالہ
کتابیں
1857ء سے قبل مسلمان انگریز کی قوت و طاقت کے سبب اس سے مرعوب تھے، جبکہ آج فرنگی نظام تعلیم کے سبب مسلمان انگریزوں کے ذہنی غلام بنے ہوئے ہیں، انگریز غلامی میں پاکستانی عوام عموماً اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ خصوصاً اس قدر جذباتی ہے کہ سرکاری یا نجی ادارہ میں اس شخص کو عزت کی جگہ دی جاتی ہے جو انگریز غلامی اور فرنگی تہذیب و ثقافت میں پوری طرح رنگا ہوا ہو، اور جو لوگ فرنگی نظام اور انگریز غلامی سے بغاوت کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے قومی وملی اثاثہ پر مطمئن ہیں ان کے داخلے یا کھپت پر عملی طور پر پابندی ہے۔ رشوت کی گرم بازاری، فحاشی و عریانیت کا زور اور فرنگی طور طریقوں کی تقلید نے پاکستانی معاشرہ اور عوام کے ذہنوں میں اپنے پنجے اس مضبوطی سے جما دیئے ہیں کہ اب یہ معاشرہ کی ضرورت بن گئے ہیں، بالکل اس طرح جس طرح کہ حضرت لوط علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور میں فحاشی اور عریانیت معاشرہ کی ضرورت بن گئی تھی، اور برائی خواہ کتنی قبیح نوعیت کی ہو، جب جامہ ضرورت پہن کر معاشرہ انسانی کا حصہ بن جائے، تو پھر اسکی مخالفت یا معاشرہ انسانی سے اخراج کی کوشش دراصل اپنے اخراج اور قوم سے دشمنی مول لینے کا سبب بن جاتی ہے۔ جیسا کہ لوط علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اس کی قوم نے کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ولوطاً اذقال لقومه أتأتون الفاحشة وانتم تبصرون، أئنكم لتأتون الرجال شهوة من دون النساء بل انتم قوم تجهلون فما كان جواب قومه إلا أن قالوا اخرجوا ال لوط من قريتكم، إنهم اناس يتطهرون.
(سورہ النمل آیت 54/55/56)
ترجمہ : ”اور لوط جب کہا اس نے اپنی قوم سے کیا تم بے حیائی کرتے ہو، اور تم
دیکھتے ہو، کیا تم عورتوں نہیں، تم ایک ناسمجھ قوم ہو، لوط کے گھر کو اپنے شہر سے
- 1...... جیسا کہ عرض
سے پالا پڑا ہے وہ مسلمان اندیش واقع ہوا ہے۔ تعبیر کرتے ہیں جبکہ ہندوستانیوں کی شکست اپنی فتح یا شکست کے فاتح جنگی مجرموں کے بند کر دیتا ہے، لیکن مقابلہ میں بالکل مختلف ہے کہ ہزار ہا ہندوستانی کی گھاٹ اتارنے کے اس درندہ صفت فاتح چلتی رہیں، شہر شہر، روزانہ ہزار ہا ہندوستانی بحث کو آگے دشمن کی زبانی انہی کی فرنگی مصنف
دیکھتے ہو، کیا تم دوڑتے ہو مردوں پر (لواطت کیلئے) للچا کر عورتوں کو چھوڑ کر ۔ کوئی نہیں، تم ایک ناسمجھ قوم ہو۔ پھر کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ کہتے تھے نکال دو لوط کے گھر کو اپنے شہر سے، یہ لوگ صاف ستھرے رہنا چاہتے ہیں“۔
- 1....... جیسا کہ عرض کیا گیا کہ اٹھارھویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کو جس دشمن
سے پالا پڑا ہے وہ مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہوشیار، ذہین، تعلیم یافتہ اور عاقبت اندیش واقع ہوا ہے۔ 1857ء کی جنگ جسکو آزادی کے متوالے ”جنگ آزادی“ سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ انگریز اس کو ”تحریک غدر“ سے تعبیر کرتے ہیں، یہ جنگ ہندوستانیوں کی شکست اور انگریز کی فتح پر منتج ہوئی تھی، عام رواج کے مطابق جنگ کو اپنی فتح یا شکست کے اعتبار سے جنگی ایام تک محدود رکھا جاتا ہے، جنگ کے کفارہ کیلئے فاتح جنگی مجرموں کے خلاف وقتی سزاؤں کا اجراء کر کے جنگ کے باب کو ہمیشہ کیلئے بند کر دیتا ہے، لیکن یہ جنگ قواعد واصول کے اعتبار سے دوسری روایتی جنگوں کے مقابلہ میں بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے، اس جنگ کا فاتح ایسا بپھرا ہوا درندہ دکھائی دیتا ہے کہ ہزار ہا ہندوستانی دوشیزاؤں کا سہاگ لوٹنے اور لاکھوں ہندوستانی عوام کو موت کی گھاٹ اتارنے کے باوجود اس کا آتشیں انتقام سرد ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اس درندہ صفت فاتح کی شدید ترین انتقامی کارروائیاں 1857ء سے 1860ء تک برابر چلتی رہیں، شہر شہر، گاؤں گاؤں، گلی گلی، کوچہ کوچہ پھانسی گھاٹ بنی ہوئی تھیں، اور روزانہ ہزارہا ہندوستانی عوام کو بلا ثبوت جرم پھانسی دیجاتی تھی۔
بحث کو آگے بڑھانے سے قبل مناسب ہوگا کہ داستانِ ظلم کی شہادت خود فرنگی دشمن کی زبانی انہی کی کتابوں سے پیش کیجائے۔
فرنگی مصنف مسٹر کے اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
ہندوستان میں مارشل لاء کا اعلان ہو چکا تھا، وہ تمام خوفناک اور ہولناک ایکٹ جنہیں مقننہ نے مئی اور جون 1857ء کے مہینوں میں پاس کیا تھا، وہ تمام اپنی پوری قوت کے ساتھ زیر عمل تھے۔ ہمارے انگریز فوجی سپاہی، اور ان کے ساتھ ان ہی جیسی خصلتیں رکھنے والے مقامی شہری اور دیہاتی بھی عوام کے خون کے دریا بہاتے چلے جارہے تھے، انہوں نے فوجی عدالتیں قائم کی ہوئی تھیں۔ اور وہ ہندوستان کے مقامی باشندوں کو بلا امتیاز عمر یا جنس موت کی گھاٹ اتارتے چلے جارہے تھے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خون بہانے کے عادی ہو گئے تھے، اور اس کے بعد دن بدن خون کی پیاس میں شدت اور انتہاء کا اضافہ ہوتا چلا گیا اور یہ ساری کارروائی انگریزی پارلیمنٹ کے ریکارڈ پر موجود ہے، جو کہ گورنر جنرل آف انڈیا کے ان کونسل نے اپنی حکومت کو ارسال کی تھی، جن میں اس نے فاخرانہ انداز میں کہا ...... تمام بوڑھے، مرد، عورتیں اور بچے ان سب لوگوں کے ساتھ جنہوں نے انگریز کے خلاف بغاوت کی تھی قتل کر دئیے گئے۔
(مسٹر کے کی کتاب جلد 5 باب دوم)
مسٹر کے مزید لکھتا ہے: جب ہم کالے ہندوستانیوں کی نازک جگہوں پر لال مرچیں ڈالتے تھے، تو ان کی آہ و بکاء اور چیخ و پکار سے ہم خوب محظوظ ہوتے تھے۔ اور ہمارا سارا وقت بڑے ہی کیف و طرب میں گزرتا تھا۔
(مسٹر کے کتاب جلد 4 باب دوم)
مصنف آگے چل کر داستان ظلم و ستم فخریہ انداز میں یوں بیان کرتا ہے: ”میں نے بڑے ہی فنکارانہ انداز میں چند نو خیز بچوں کو تختہ دار پر لٹکانے کے لئے آموں کے درخت کا انتخاب کیا اور انہیں کچلنے کے لئے ہاتھیوں کا بندوبست کیا، خونیں انصاف کی بھینٹ چڑھنے والے یہ نوجوان یا نوخیز بچے رسیوں میں جکڑے
ہوئے تھے اور انگریزی ہندسہ 8 کی طرح انہیں درختوں سے باندھا گیا تھا‘۔
مسٹر ہومز اپنی کتاب میں اس دور کی خونچکاں صورتحال یوں بیان کرتا ہے:
شہر دہلی کے اندر چار سو پھانسیاں گاڑی گئی تھیں، جہاں پر کہ باقاعدگی سے چار پانچ سو افراد پھانسی پر لٹکے ہوتے تھے۔ اور انگریز افسران پھانسی پر لٹکنے والوں کے نزدیک سگریٹ سلگا سلگا کر بڑے خوشگوار موڈ میں مزے سے بیٹھ جاتے تھے، اور پھانسی پر لٹکنے والوں کی موت وحیات کی کشمکش بڑے ہی مستانہ انداز میں نظارہ کرتے تھے۔
(ہومز کی کتاب صفحہ 386)
گورنر جنرل 24 دسمبر 1858ء کو ان جانکاہ تباہ کاریوں سے پردہ یوں اٹھاتا ہے:
’’ہندوستانیوں کو لامحدود پھانسیاں دی جاتی رہیں، نہ صرف ان لوگوں کو جن پر الزامات کی بوچھاڑ کی گئی تھی، بلکہ ان لوگوں کو بھی جنکے گنہگار ہونے میں قطعی شک تھا، گاؤں کے گاؤں نہ صرف یہ کہ جلا کر راکھ کئے گئے ۔ بلکہ ان کی آبادیوں کو تہ تیغ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا، جو کوئی بھی انگریزوں کے ہاتھوں چڑھا بے گناہ تھا، یا قصوروار، بچہ تھا یا جوان، بوڑھا تھا یا کمزور، مرد تھا یا عورت، سب کو بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا، اور بعض مقامات پر تو آبادیوں کی آبادیاں خواہ وہ حکومت کی مخالف تھیں یا نہ تھیں، ان کو بری طرح تہس نہس کیا گیا۔ حتی کہ ہندوستانی رعایا اتنی کم ہوگئی کہ قحط الرجال کے سبب فصلوں اور زراعت کو اس قدر شدید نقصان پہنچا کہ قحط کا خطرہ منڈلانے لگا۔
دہلی پر قبضہ کے بعد شہر کی جو ناقابل بیان حالت ہو گئی تھی، اس کے بارے میں منٹگمری مارٹن مراسلہ نگار ٹائمز اخبار، اپنے مراسلہ میں لکھتا ہے:
’’ایک آفیسر اور میں نے بیس 20 آدمیوں کے ایک دستہ کے ساتھ گشت کیا، تو ہم نے دیکھا، کہ چودہ (14) عورتوں کی لاشیں پڑی تھیں، جنکے گلے ان کے کانوں تک کٹے ہوئے تھے۔ جنہیں خود ان کے شوہروں نے ہلاک کیا تھا، اور انہیں انہی کی چادروں میں لپیٹ دیا تھا، ہم نے وہاں پر ایک آدمی کو موجود پایا، جسے ہم نے پکڑ لیا، اس نے ہمیں بتایا کہ اس نے انہیں مرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس خوف سے کہ کہیں عزت دار عورتیں انگریزوں کے ہتھے نہ چڑھ جائیں، ان کے خاوندوں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے مار ڈالا، اس آدمی نے ہمیں ان کے خاوند بھی دکھائے، جنہوں نے ان کو ہلاک کرنے کے بعد خود اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا تھا۔‘‘
یہ تو چند ناکافی اقتباسات ہیں، فرنگی درندے جس روپ میں آج افغانستان، عراق اور فلسطین میں موجود ہیں، اور مجموعۂ تاریخ جس خونیں روشنی سے سفید پوش مسلمانوں کے کٹے ہوئے ڈھانچوں پر رقم کر رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ 1857ء کی داستان درد و الم اس سے کہیں زیادہ بھیانک اور تاریک ہے۔ مناسب ہوگا بلکہ ضروری ہوگا کہ آج جس دشمن کی تقلید پر ہم فخر کناں ہیں اور جس کی تہذیبی، مادی اور تعلیمی برتری کے ہم نغمہ خواں ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف وہ کیا ذہنیت اور عزائم رکھتا ہے۔ اس کا صحیح اندازہ 1857ء کی جنگ پر لکھی ہوئی درج ذیل کتابوں کا مطالعہ سے آپ خود کرلیں۔
- 1.......مسٹر کے کی کتاب۔
- 2.......منٹگمری مارٹن کے خطوط
- 3.......ایسٹ ڈوکسیئن
- 4.......مسٹر ہومز کی کتاب ۔
- 5.......اے لیڈیز اسکیپ ف
پاکستان میں نافذ العمل قو جس دور میں قانون نافذ کرنے و درجہ آتشیں انتقام کے جذبات سے مسلمانوں کو تہس نہس کر دی سے دق ذہنوں نے ان قوانین خون سے رنگے ہوئے ہوں وہاں کے لئے عدل وانصاف پر مبنی قوا قوانین سے انصاف کی امید ر
- 1.......تجربہ شاہد ہے کہ
ہے، اقتباس میں جس طری انہی جیسی خصلتیں رکھنے والے چلے جارہے تھے، انہوں نے باشندوں کو بلا امتیاز موت ک خون بہانے کے عادی ہوں شدت اور انتہاء کا اضافہ ہوت صادق نہیں آ رہا ہے۔ فرنگ ہوا ہے کہ وہ محض شبہہ یا مخب درج کروائے اور تا عمر عذاب
- 4...... مسٹر ہومز کی کتاب
- 5...... اے لیڈیز اسکیپ فرام گوالیار
پاکستان میں نافذ العمل قوانین 1860ء کے نافذ کردہ قوانین ہیں۔ یہ وہ دور ہے جس دور میں قانون نافذ کرنے والے انگریز مسلمانوں اور ہندوؤں کے خلاف انتہائی درجہ آتشیں انتقام کے جذبات لئے ہوئے تھے، وہ جس طرح اپنی معاندانہ کارروائیوں سے مسلمانوں کو تہس نہس کر رہے تھے، بجا طور انہی استحصالی عزائم اور انتقامی جذبات سے دق ذہنوں نے ان قوانین کو نافذ کیا ہوگا، اور جن لوگوں کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہوں، ان سے کس طرح توقع کی جاسکتی ہے۔ کہ وہ مسلمانوں کے لئے عدل و انصاف پر مبنی قوانین نافذ کریں گے، درندہ صفت فرنگیوں کے وضع شدہ قوانین سے انصاف کی امید رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
- 1...... تجربہ شاہد ہے کہ آج کے نافذ العمل قوانین 1857ء کے ظلم کا تسلسل
ہے، اقتباس میں جس طرح آپ نے پڑھا کہ انگریز فوجی سپاہی اور ان کے ساتھ انہی جیسی خصلتیں رکھنے والے مقامی شہری اور دیہاتی عوام کے خون کے دریا بہاتے چلے جارہے تھے، انہوں نے فوجی عدالتیں قائم کی ہوئی تھیں اور ہندوستان کے باشندوں کو بلا امتیاز موت کے گھاٹ اتارتے چلے جارہے تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خون بہانے کے عادی ہوگئے تھے، اور اس کے بعد دن بدن خون کی پیاس میں شدت اور انتہاء کا اضافہ ہوتا چلا گیا...... کیا یہ اقتباس ہماری آج کی پولیس پر من وعن صادق نہیں آرہا ہے۔ فرنگی نظام کی کارستانیاں ہیں کہ اس نے پولیس کو فری ہینڈ دیا ہوا ہے کہ وہ محض شبہہ یا محض رپورٹ کی بنیاد پر کسی شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کروائے اور تا عرصہ دراز بلاثبوت جرم اور بلا عدالتی فیصلہ جیل کی سلاخوں کے
پیچھے دھکیل دے۔
(دیکھئے دفعہ 154 Cr.P.C)
آپ بتائیں بلا ثبوت جرم کسی معزز شہری کو گرفتار کرنا اور عرصہ دراز تک اس کو پابند سلاسل رکھنا کہاں کا انصاف ہے؟ آج کل حدود آرڈینینس کے خلاف جو واویلا کیا جا رہا ہے، اور عورتوں پر مظالم کا جو رونا رویا جا رہا ہے، اور جس کے لئے اسلامی قانون حدود آرڈینینس کی تنسیخ کا بذریعہ مراعات خور میڈیا شدت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے، واقع میں ان مظالم کا سبب حدود آرڈینینس ہرگز نہیں ہے۔ حدود آرڈینینس اسلامی قوانین کے موافق ہے، اور عوامی عدل و انصاف کا ضامن ہے عورتوں پر ہونے والے مظالم کی اصل وجہ محکمہ پولیس ہے، پولیس اپنے شتر بے مہار اختیارات کے سبب محض شبہ کی بنیاد پر مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کرتی ہے، اور بلا ثبوت جرم طویل عرصہ تک پابہ جولاں کر دیتی ہے، حالانکہ اسلامی قوانین کی رو سے ضابطہ یہ ہے کہ جب تک جرم ثابت نہ ہو، اس وقت تک جیل کیا گرفتار کرنا بھی جائز نہیں ہے، اور مزید یہ کہ خواتین کے ناموس کے احترام میں شریعت عورت کو جیل میں رکھنے کی سرے سے قائل ہی نہیں، بدرجہ مجبوری اجتہاد کیا جاسکتا ہے۔
- 2...... دوسری بڑی خامی جو نظر آتی ہے وہ یہ کہ موجودہ فرنگی قوانین سے مظلوم
کی داد رسی ہونا تقریباً ناممکن ہے، فرنگی قوانین کے ارد گرد وکیلوں، ناقابل برداشت مالی اخراجات، تھکا دینے والا عرصہ دراز اور ضابطہ فوجداری کے تکلفات کی جو باڑ لگائی گئی ہے، اس سے حتمی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ قوانین مظلوم کی پاسداری کم اور ظالم کی زیادہ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عوام موجودہ قوانین سے غیر مطمئن اور خوف زدہ ہونے کے سبب پولیس اور عدالت کے احاطوں سے کوسوں دور بھاگتی ہے، ظلم تو سہہ لیتی ہے لیکن ظلم در ظلم کا شکار ہونے کے خ
- 3..... قوانین روایات و رواجا
ذہن کے آئینہ دار ہوتے ہیں جبکہ پاکست رجحانات اور معاشرتی رواجات کے خ سراسر مغربی ذھن کی ترجمانی کرتے ہ نفاذ سے قبل کے قوانین پاکستانی عوا یوں کہا جائے کہ وہ قوم کے ماتھے پر کل
چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہی
- 1...... غیر شادی شدہ بالغ لڑکی کو ح
چاہے بدکاری کر سکتی تھی۔
- 2...... شادی شدہ عورت اپنے شوہ
کر سکتی تھی۔
- 3...... شوہر اپنی بیوی کی مرضی کے ب
- 4...... عصمت فروشی titution)
شادی شدہ ہو۔ تو 18 سال اجازت سے ہو۔
- 5...... عورت کو حق حاصل تھا کہ و
صرف مرد پر قائم کیا جات کیا جاتا تھا۔
لیتی ہے لیکن ظلم در ظلم کا شکار ہونے کے لئے عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتی ہے۔
- 3...... قوانین روایات ورواجات کی بنیاد پر بنتے ہیں، نافذ العمل قوانین عوامی
ذہن کے آئینہ دار ہوتے ہیں جبکہ پاکستان کے موجودہ قوانین پاکستانی عوام کے ذہنی رجحانات اور معاشرتی رواجات کے خلاف ہیں، یہ قوانین بجائے پاکستانی ذہن کے سراسر مغربی ذہن کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مثلاً 1979ء سے قبل یعنی حدود قوانین کے نفاذ سے قبل کے قوانین پاکستانی عوام کی روایات کے اتنے صریح خلاف تھے کہ اگر یوں کہا جائے کہ وہ قوم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ تھے، تو بے جا نہ ہوگا۔
چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں:
- 1...... غیر شادی شدہ بالغ لڑکی کو حق تھا کہ وہ اپنی مرضی کیساتھ جس مرد کے ساتھ
چاہے بدکاری کر سکتی تھی۔
- 2...... شادی شدہ عورت اپنے شوہر کی اجازت سے جس مرد کے ساتھ چاہے بدکاری
کر سکتی تھی۔
- 3...... شوہر اپنی بیوی کی مرضی سے اسکو چکلہ کے طور پر استعمال کر سکتا تھا۔
- 4...... عصمت فروشی (Prostitution) پر کوئی قدغن نہیں تھا بشرطیکہ اگر عورت غیر
شادی شدہ ہو۔ تو 18 سال سے کم نہ ہو، اور اگر شادی شدہ ہو، تو شوہر کی اجازت سے ہو۔
- 5...... عورت کو حق حاصل تھا کہ وہ زنا کے جرم میں تو برابر کی شریک ہو، جبکہ مقدمہ
صرف مرد پر قائم کیا جاتا تھا، اور عورت کو شریک جرم ہونے کے باوجود بری کیا جاتا تھا۔
- 6....... شادی شدہ عورت کے خلاف زنا کا مقدمہ صرف شوہر درج کروا سکتا تھا، بھائی،
باپ، یا حقائق جاننے والا کوئی عام فرد اس کا حق نہیں رکھتا تھا۔
- 7....... زنا کا جرم قابل معافی تھا، اور قابل راضی نامہ تھا، یعنی شوہر اگر زانی کو معاف
کر دیتا، یا راضی نامہ کر لیتا تھا، تو حکومت کو رکاوٹ بننے کا حق نہ تھا۔
- 8....... زنا بالجبر کا ملزم صرف مرد ہی ہو سکتا تھا، عورت اگر کسی نابالغ لڑکے کے ساتھ زنا
بالجبر کی مرتکب ہوتی ، تو اس کے لئے کوئی سزا نہ تھی۔
(تفصیل کے لئے دیکھئے بندہ کی کتاب حدود آرڈینینس اور تہذیبی تصادم، مطبوعہ المنبر، اس بنوری ٹاؤن کراچی)
اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ضیاء الحق مرحوم کو انہوں نے حدود آرڈینینس کا نفاذ کر کے ان شرمناک قوانین کا باب بند کروا دیا، لیکن سابقہ اخلاق باختہ قوانین کی تنسیخ کا مغربی معاشرہ اور این، جی، اوز کو بڑا ملال ہے، حدود قوانین کے خلاف میڈیا وار کے ذریعہ شکوک وشبہات پیدا کر کے پاکستان میں عصمت فروشی اور اباحیت کی راہ دوبارہ سے ہموار کی جا رہی ہے۔
پاکستان ایک مقدس نظریہ کے تحت وجود میں آیا ہے، یہاں کی روایات دینی ہیں، پاکستان کو وجود میں لانے کی غرض یہ تھی کہ ہندوستان کے مسلمان ایک ایسا خطۂ ارض حاصل کریں جہاں وہ اپنی روایات ونظریات کے مطابق قانون سازی کر کے ایک فلاحی معاشرہ قائم کر سکیں، لیکن افسوس! پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد یہ مقدس عمل سازشوں کا شکار ہوا۔
اگرچہ قرارداد مقاصد اور دستور پاکستان کے تحت پہلا اصول یہ تسلیم کیا گیا ہے، کہ ”کوئی قانون قرآن وسنت کے منافی نہ ہونا چاہیے“۔ (دستور کی دفعہ 198) لیکن اس شق کی حیثیت رسم بسمل کے سوا کچھ نہیں ہے، کیونکہ آرٹیکل 6 کی ضمنی دفعہ
2 میں مذکور ہے: عدالتوں میں کسی قانون کے جواز کو اس بناء پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے، کہ وہ قانون سازی کے اصولوں (بشمول کوئی قانون اسلام کے منافی نہیں ہونا چاہیے) کو نظر انداز یا ان سے تصادم لیتا ہے، یا کسی اور سبب کی بناء پر قانون سازی کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔
مطلب بالکل واضح ہے کہ پاکستانی عوام کی ملی اور قومی روایات کے منافی قوانین جو نافذ ہیں انہیں چلنے دیں، انہیں چیلنج کرنے کا اختیار عدالتوں کو نہیں ہے۔
- 4...... سرکاری اداروں اور عدالتوں پر بجائے ملی روایات کے محافظ علماء دین
کے ان لوگوں کو براجمان کیا گیا ہے جنکی تربیت فرنگی اداروں میں ہوئی ہے۔ مخصوص غلامانہ سوچ، مغربی طرز تہذیب سے انفعالی اثر، اور دینی علوم سے عدم شناسائی کے سبب ان سے توقع نہیں رکھی جا سکتی ہے کہ وہ فرنگی طرز طریقہ سے ہٹ کر کوئی راست قدم اٹھانے کی جرات کرسکیں گے، محدود غلامانہ سوچ کی بناء پر ہمیشہ اس تاک میں رہتے ہیں کہ اسلام اور اسلامی قوانین کو توڑ مروڑ کر کے فرنگی قوانین کے مطابق کر دیا جائے، خواہ اس کے لئے اسلام کا خون ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
اس غلامانہ ذہنیت کا سبب لارڈ میکالے کا وضع کردہ نظام تعلیم ہے، جس کے نفاذ سے مقصد یہ تھا کہ فرنگی تعلیم کے ذریعہ ہندوستانیوں کو ذہن کا فرنگی بنا دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ آج کا مغربی طرز تہذیب کا تعلیم یافتہ طبقہ مسلمان ہونے کے باوجود:
- 1...... اسلام اور اسلامی قوانین کو موجودہ دور میں ناقابل عمل تصور کرتا ہے۔
- 2...... پردہ کو عورتوں پر ظلم کہتا ہے۔
- 3...... حدود کو ظالمانہ سزائیں کہتا ہے۔
- 4...... مدارس ، علماء و طلباء کو پاکستان کی معیشت پر بوجھ سمجھتا ہے۔
- 5...... جہاد کو دہشت گردی کہتا ہے۔
کافرانہ ذہنی تربیت اور مروجہ فرنگی نظام تعلیم و نظام قانون نے مسلم قانون دانوں اور تعلیم یافتہ طبقہ کو اسلام اور اس کے عالمگیر فلسفۂ حیات سے منحرف بنا کر لادین تعلیمات کا دلدادہ بنا دیا ہے۔
اے آر کارنیلس سابق چیف جسٹس پاکستان فرماتے ہیں :
”عدالتوں میں جب کبھی کسی مسئلہ کی گہرائی میں جانے اور اس مسئلہ کا مالها وماعلیها کو معلوم کرنے کی ضرورت لاحق ہوتی ہے، تو ہمارے پاکستانی وکلاء بڑے اطمینان اور بے فکری سے ”ہالبر یز آف انگلینڈ“ اور ”امریکن جیورس پروڈینس“ سے بے تکان حوالے پیش کرتے چلے جاتے ہیں ، لیکن ایسا شاذ ہی ہوتا ہے کہ متعلقہ مسئلہ پر اسلامی نقطۂ نظر سے بھی روشنی ڈالی جائے ، آخر ہمارے وکلاء اسلامی قانون ، اسکے اصول اور احکام جاننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ہیں؟
(مجموعہ قوانین اسلام جلد 2 صفحہ 342)
ڈاکٹر تنزیل الرحمن سابق جج سندھ ہائی کورٹ لکھتے ہیں:
”انگریزی نظام تعلیم نے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کونسا اسلام باقی چھوڑا ہوا ہے جو وہاں کے فارغ التحصیل قانون کے میدان میں انگریزی اور امریکی نقطہ ہائے نظر پیش کرنے کے ساتھ اسلامی نقطۂ نظر بھی پیش کرسکیں ، اور آج اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود کم وبیش وہی صورت برقرار ہے“۔
(مجموعہ قوانین اسلام جلد 2 صفحہ 342)
نظریاتی اساس پر قائم پاکستان میں فرنگی نظام تعلیم اور نظام قانون کے نفاذ کے
سبب جب آوے کا آوا ہی بگاڑ کا شکار ہو جائے، اور اسلام سے نا آشنائی کے سبب اسلامی نظام سے انحراف ہونے لگے، ذہنی سوچ ہی مغرب پرستانہ بن جائے تو ایسے میں پاکستان کے سیاہ وسفید پر قابض حکمرانوں اور سرکاری وقانونی اداروں پر براجمان مغرب زدہ طبقہ سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پاکستان کو نظریاتی اساس پر قائم ودائم رہنے دینگے، ناممکن ہے۔ دین کے نام پر دین کا حلیہ بگاڑنے کی امید تو رکھی جاسکتی ہے، لیکن دین وشریعت کا نفاذ، شعبہ ہائے حکومت میں اسلامی قوانین کا احیاء، ملی وقومی روایات کی بنیاد پر قانون سازی، حقیقی عدل وانصاف پر مبنی نظام قانون، نونہالانِ قوم کی دینی تربیت کی توقعات رکھنا ایسا ہے جیسے پتھر سے موم بننے کی امید رکھنا۔
نظریاتی اساس پر قائم پاکستان میں اسلامی نظام کی عدم ترویج، شعبہ ہائے حکومت میں اسلام کے داخلہ پر عملاً پابندی، اسلام سے زیادہ مغربی طرزِ فکر سے لگاؤ، جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا محدود اور مرعوب ذہن اس کے علاوہ اور اس قسم کی خرابیوں کو اگر آپ ان کے پس منظر میں جھانک کر دیکھیں گے، اور ان کے ماورا اصل اسباب کی کھوج میں لگیں گے تو آپ کی نظر جاتے جاتے ایک بنیادی نکتہ پر مرکوز ہو جائے گی اور وہ ہے...... پاکستان میں نافذ العمل مغربی طرزِ تعلیم ......
دراصل مغربی نظامِ تعلیم ہی ان تمام برائیوں کی جڑ ہے، یہ وہ نظامِ تعلیم ہے جس کی تدوین کی غرض وغایت ...... بقول لارڈ میکالے ...... فرنگی سرکار کے لئے وفادار نوکر تیار کرنا تھی۔
ایسے وفادار نوکر جن کے رگ وپے میں مغرب پرستی اس انداز سے رچی بسی ہو
کہ وہ مغربی طرز فکر کے علاوہ ہر چیز کو ہیچ سمجھیں۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اس پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:
انگریزی اقتدار کے عہد میں ہم پر جو نظامِ تعلیم مسلط کیا گیا تھا اس میں دوسری خرابیوں کے علاوہ ایک بنیادی خرابی یہ تھی کہ اس میں اسلام کو زندگی کے تمام شعبوں سے کاٹ کر عبادتوں اور نجی زندگی کے چند معاملات تک محدود کر دیا گیا تھا۔ یہ بات محتاجِ بیان نہیں ہے کہ اسلام زندگی کا ایک مکمل نظام ہے اور وہ حکومت وسیاست سے لیکر تجارت ومعیشت تک زندگی کے ہر شعبے کے لئے اپنی مخصوص تعلیمات اور ہدایات رکھتا ہے۔
لہٰذا جس وقت دنیا میں یہ دین عملاً نافذ تھا اس وقت نظامِ تعلیم کا حال یہ تھا کہ اسلام کی تعلیم صرف اسلامیات کے مضمون کی حد تک محدود نہ تھی بلکہ ہر علم وفن کی تعلیم میں اسلام رچا بسا نظر آتا تھا، طالب علم فلسفہ پڑھ رہا ہو، یا منطق سائنس کی تعلیم حاصل کر رہا ہو یا حساب اور ریاضی کی، طب کی تعلیم میں مشغول ہو یا صنعت وحرفت کی تعلیم میں، غرض ہر علم وفن کے رگ و ریشہ میں اسے اسلامی نظریات اور مفکرینِ اسلام کے افکار یا کم از کم اسلامی طرزِ فکر سمایا ہوا ملتا تھا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ علم وفن کے خواہ کسی گوشے کو اپنی زندگی کا محور بنالے وہ ذہنی اور عملی طور پر سچا اور پکا مسلمان ہوتا تھا۔ اور اس کے دل و دماغ میں اسلام کے مقابلے میں دوسرے افکار سے مرعوبیت پیدا ہو ہی نہیں سکتی تھی، یہ نظامِ تعلیم اس میں اتنی صلاحیت پیدا کر دیتا تھا کہ وہ ہر نئی فکر، نئی تحقیق اور نئے فلسفے سے اس کے صالح اجزاء کو اپنالے اور غیر صالح کو چھوڑ دے۔
لیکن موجودہ نظامِ تعلیم میں اسلام کی اس ہمہ گیر حیثیت کو سرے سے ختم کر دیا گیا
ہے ۔ اسلام کو صرف ”اسلامیات“ کے ایک گھنٹے تک محدود کر دیا گیا ہے اور اس ایک گھنٹے میں بھی نصاب اور طرز تعلیم کے معیار کو اس قدر پست کر دیا گیا ہے کہ اس سے اسلام کی صحیح تعلیم کا ہزارواں حصہ بھی طالب علم کے سامنے نہیں آسکتا۔
- 1...... آج کل ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جو فلسفہ پڑھایا جاتا ہے اس میں
یونانی یا نوافلاطونی فلسفے کے بعد طالب علم سیدھا یورپ کے نشاۃ ثانیہ کے بعد کے فلسفے پر پہنچ جاتا ہے اور اس کے ذہن پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ نوافلاطونی فلاسفہ سے لیکر ڈیکارٹ تک کا پورا زمانہ فکر اور فلسفے میں جمود کا زمانہ ہے۔ علم وفن کی تاریخ میں بھی اس زمانہ کو ”تاریک زمانہ“ سے تعبیر کیا جاتا ہے حالانکہ یہ دور صرف غیر مسلم یورپ کے لئے ”تاریک“ تھا۔ ورنہ یہی وہ دور ہے جس میں مسلمانوں نے آدھی سے زائد دنیا میں علم وفن کے چراغ روشن کئے ہوئے تھے اور خود یورپ کا حصہ اندلس ان کی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ اس دور کے مسلمان فلاسفہ اور متکلمین نے فکر اور فلسفے کے میدان میں جو نئی راہیں کھولی ہیں اور اپنی تحقیقات کا جو بیش بہا ذخیرہ چھوڑا ہے موجودہ نظام تعلیم میں سرے سے ان کا کوئی ذکر ہی نہیں ملتا۔
جدید اسلامی نظام تعلیم میں یہ ضروری ہے کہ اس وسیع علمی خلا کو پر کیا جائے جو مغرب کی تنگ نظری اور تعصب نے مصنوعی طور پر پیدا کیا ہے اور فلسفے کی تعلیم میں مسلمان فلاسفہ اور متکلمین کے افکار کو ان کا صحیح مقام عطا کیا جائے۔
- 2...... سائنس کے بارے میں یہ حقیقت آج پوری دنیا میں مان لی گئی ہے کہ سائنس کی
موجودہ ترقی اس استقرائی طریقے کی مرہون منت ہے جس میں صرف قیاس
تخمین کے بجائے مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ تحقیقات کی جاتی ہیں لیکن ساتھ ہی مغربی نظام تعلیم نے ہر کس و ناکس کے ذہن پر یہ تاثر قائم کر دیا ہے کہ استقرائی طریقۂ تحقیق کو فلسفے میں سب سے پہلا اختیار کرنے والا بیکن اور سائنس میں کو پرنیکس اور گلیلیو ہے حالانکہ سائنس اور فلسفے میں اس طریقۂ استدلال کی بنیاد مسلمانوں نے ڈالی تھی، انہوں نے ہی سائنس کا رُخ موڑ کر اسے اس راستہ پر ڈالا تھا جس پر آج وہ برق رفتاری سے دوڑ رہی ہے۔ اس کے باوجود ہمارا سائنس کا طالب علم خالد بن یزید، زکریا رازی، ابن سینا، خوارزمی، ابوریحان، بیرونی، فارابی، ابن مسکویہ، ابن رشد، کندی، ابومحمد خوجندی، جابر بن حیان اور موسیٰ بن شاکر جیسے عظیم سائنسدانوں سے یکسر ناواقف رہتا ہے۔
- 3.... معاشیات کی تعلیم میں طالب علم آج صرف یہی جانتا ہے کہ بنیادی طور پر
معاشیات کے دو مکتب فکر ہیں۔ سرمایہ داری اور اشتراکیت، اسلام کے معاشی اصول اور قوانین اس کی نگاہوں سے بالکل اوجھل رہتے ہیں اور اس کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اسلام نے بھی معیشت کے بارے میں ایسا نظام بنایا ہے جو مذکورہ دونوں مکاتب فکر سے الگ ہے۔ اسی طرح اس کو یہ پڑھایا جاتا ہے کہ علم معاشیات کی بنیاد آدم اسمتھ نے رکھی تھی اور اس سے بہت پہلے کے تمام فقہاء سے لیکر ابن خلدونؒ اور شاہ ولی اللہؒ جیسے مفکرین نے علم معاش کی جو خدمات انجام دی ہیں ان کو فہرست سے یکسر خارج کر دیا گیا ہے۔
- 4.... علم سیاست میں بھی نوافلاطونی فلاسفہ اور جدید مغربی فلاسفہ کے درمیان ایک
وسیع خلا ہے جو صرف مغرب کے تعصب اور تنگ نظری کی پیداوار ہے۔ سیاست
کے بارے میں اسلام پ کوئی ادنیٰ سا عکس بھی معلو
- 5...... یہی حال عمرانیات کا ب
کر سکے کہ اس علم کے ب نصاب سے یہ معلوم ہ کام کیا ہے۔
- 6...... نفسیات کی تعلیم اسلا
مسلمانوں کے علماء تص عوارض پر جو مفید م پر چھائیں بھی موجود ہ
- 7...... قانون اور اصول قانو
نظریات ہی سے بھرا ہ میں فقہائے اسلام ک موقع طالب علم کو نہیں م پاکستان سے فرنگی ن اسلامی نظام تعلیم کے نفاذ م تعلیم ، قانون ، معیشت اور ف سے ہی ہو رہی ہے، یہیں کا ف نظام تعلیم میں سر کا ن
کے بارے میں اسلام کے اصول و تعلیمات اور مسلمان مفکرین کی کاوشوں کا کوئی ادنیٰ سا عکس بھی موجودہ نصاب میں نہیں ملتا۔
- 5...... یہی حال عمرانیات کا بھی ہے شاید ہی کوئی منصف مزاج اس بات سے انکار
کر سکے کہ اس علم کے مدون اول ابن خلدونؒ ہیں لیکن عمرانیات کے موجودہ نصاب سے یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اسلام یا مسلمانوں نے بھی اس علم پر کوئی کام کیا ہے۔
- 6...... نفسیات کی تعلیم اب بڑے پیمانے پر ہونے لگی ہے لیکن اس سلسلہ میں
مسلمانوں کے علماء تصوف نے جو نئی نئی راہیں نکالی ہیں اور نفس انسانی کے عوارض پر جو مفید ترین بحثیں کی ہیں موجودہ نظام تعلیم میں اس کی کوئی پرچھائیں بھی موجود نہیں ہے۔
- 7...... قانون اور اصول قانون کے بارے میں بھی ہمارا نصاب تعلیم سراسر مغربی افکار و
نظریات ہی سے بھرا ہوا ہے۔ اصول قانون کی دقیق بحثوں کو جس بے نظیر انداز میں فقہائے اسلام نے اصول فقہ میں مدون کیا ہے اس سے استفادہ کا کوئی موقع طالب علم کو نہیں ملتا۔ (عصر حاضر میں اسلام کیسے نافذ ہو صفحہ 262)
پاکستان سے فرنگی نظام کا جنازہ نکالنے اور ملک میں موجود خرابیوں کا علاج اسلامی نظام تعلیم کے نفاذ میں مضمر ہے، سرکاری اداروں بشمول کلیدی شعبہ جات...... تعلیم، قانون، معیشت اور دفاع...... میں مغربی ذہن کے لوگوں کی کھپت ہمارے ملک سے ہی ہو رہی ہے، یہیں کا نظام تعلیم مغربی نظام کے خیر خواہ پیدا کر رہا ہے۔
نظام تعلیم میں سرکاری سطح پر انقلابی تبدیلی لانے اور اس کو اسلامی خطوط پر استوار
کرنے کی توقع حکمرانوں سے کرنا دیوار سے سر پٹخنے کے مترادف ہوگا۔ نظام تعلیم میں انقلاب لانے کے لئے نجی سطح پر ہمیں پرائیویٹ اسکول کھولنے ہوں گے۔ بالکل اس طرح جس طرح اسلامی علوم کے تحفظ اور اسلامی علوم کے ماہرین پیدا کرنے کے لئے ہر مکتب فکر کے علماء نے مدارس کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ اور حکومتی سر پرستی حاصل نہ ہونے کے باوجود یہ مدارس رو بہ ترقی ہیں۔ معیار تعلیم کی بلندی اور طرز انتظام نے آج دنیا کو انگشت بدنداں کیا ہوا ہے۔ آج اگر پاکستان کس چیز میں خود کفیل ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے تو وہ صرف دینی تعلیم و تبلیغ ہے، رشد و اصلاح اور دینی تعلیمات کے عمل میں پوری دنیا پاکستان کی محتاج ہے۔ مختلف ممالک حتیٰ کہ مغربی ممالک کے طلبہ دینی علوم کی تحصیل میں پاکستان کا رُخ کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ پاکستانی طلبہ بحمد اللہ خود کفیل ہیں، ان کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں، جبکہ اس کے مقابلہ میں مروجہ فرنگی نظام تعلیم میں حکومت کی بھر پور سر پرستی اور توجہ ہونے کے باوجود نہ تو پاکستان میں اس کا معیار بلند ہو سکا ہے اور نہ ہی یہ ادارے پاکستان کو مادی تعلیمات میں خود کفیل بنا سکے ہیں، پاکستانی طالب علم آج بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول میں امریکہ و برطانیہ کا محتاج ہے۔
مدارس کی طرح خالص مادی تعلیمات پر مبنی اسکول کالجز اگر کھولے جائیں، ایسے اسکول جہاں تعلیم انگریزی ہو، علوم مادی ہوں لیکن ذہن اسلامی اور تربیت مصطفوی ہو، تو کوئی بعید نہیں کہ آئندہ وقتوں میں پاکستان مادی تعلیمات میں نہ صرف خود کفیل ہو سکے، بلکہ سرکاری اداروں میں براجمان فرنگی ذہنیت کے لوگوں سے بھی پاکستان کو نجات مل جائے گی۔
لیکن فرنگی حریف سے مبارزت دین پسندوں کے لئے اس صورت میں ممکن ہے
جبکہ مقصد ...... اعلاء کلمۃ اللہ، منزل ...... شہادت اور حریف ...... فرنگ اور فرنگ زدوں کو بنایا جائے۔ جبکہ اس وقت سلسلہ بالکل برعکس ہے، ہر جماعت کے لوگوں نے اپنے مسلک کو کامل دین سمجھا ہوا ہے، وہ دین کا احیاء اپنے مسلک ہی کے سایہ میں چاہتے ہیں۔ مسلک مخالف لوگ ان کے حریف اور ان سے جدل و مناظرہ کو جہاد سمجھے ہوئے ہیں۔ جب مقصد ...... مسلک اور حریف ...... اپنے مسلمان بن جائیں، تو ایسی صورت میں مسلمانوں کو فرصت کہاں میسر آسکے گی، کہ وہ ایک وقت میں دو محاذوں پر نبرد آزمائی کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے داخلی اختلافات اور مسلکی نزاعات کے سبب اسلام دشمن نظریات اس وقت اسلامی دنیا کے رگ و پے میں سرایت کرچکے ہیں، دشمن ہر لحاظ سے اسلامی دنیا کو اپنے نرغہ میں لے چکا ہے، اس وقت وہ ایک بدمست ہاتھی کی طرح اسلام اور اور اس کی تہذیب و ثقافت کو کچلنا چاہتا ہے۔
درج ذیل بیان شاید ہماری آنکھیں کھول سکے:
پاکستان کو بلیک لسٹ اور سعودی عرب کیخلاف
کارروائی کی جائے۔ امریکی کمیشن
چمن: شمالی کوریا، ایران، سوڈان، ازبکستان، ترکمانستان، ویتنام، اریٹیریا، میانمار کو بدستور بلیک لسٹ میں رکھنے، بنگلہ دیش، کیوبا، مصر، انڈونیشیا اور نائیجیریا کو "واچ لسٹ" میں شامل کرنے کا مطالبہ، سعودی عرب سے نرمی نہ کرنے پر اصرار، متاثرہ ممالک پر پابندیوں کا خدشہ
افغان مسلمانوں کا عیسائیت قبول کرنے والے کو واجب القتل قرار دینا مغربی ممالک کے لئے انتہائی تشویش کا باعث تھا، عراق سے عیسائیوں کا انخلا اسی طرح جاری رہا تو 2000 ہزار سال سے آباد گھرانوں کو بھی اپنا وطن چھوڑنا پڑیگا، چیئرمین مذہبی آزادی کمیشن۔
ماہنامہ لولاک ملتان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تابعین
واشنگٹن (اے ایف پی) امریکی کمیشن برائے تحفظ مذہبی آزادی نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی آزادیوں کی پامالی پر پاکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کو ’بلیک لسٹ‘ میں شامل کر لیا جائے اور سعودی عرب کے خلاف سخت ترین اقدام کیا جائے، امریکی حکومت کو سعودی عرب سے رعایت یا اس کے خلاف سخت کارروائی میں کوئی تامل نہیں کرنا چاہیے، واضح رہے کہ یہ کمیشن امریکی کانگریس کا مقرر کردہ ہے، اس کی درخواست پر امریکی محکمہ خارجہ جن ممالک کو بلیک لسٹ کر دے ان پر پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں، کمیشن کے چیئر مین مائیکل کرو مارٹی نے سعودی عرب کی حکومت پر الزام لگایا کہ اسے 2 برس قبل اپنے ملک میں مذہبی آزادیوں کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے مہلت دی گئی تھی لیکن انہوں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، انہوں نے کہا کہ چین، شمالی کوریا، ایران، سوڈان، ویتنام، اریٹیریا اور میانمار کو بلیک لسٹ میں بدستور شامل رکھا جائے ، انہوں نے بنگلہ دیش، کیوبا، مصر، انڈونیشیا اور نائجیریا میں مذہبی آزادیوں کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو ’واچ لسٹ‘ میں شامل کر کے ان کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جائے ، عراق کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے مائیکل کرو مارٹی نے کہا کہ غیر مسلم اقلیتیں عدم تحفظ کے باعث عراق چھوڑ رہی ہیں، اگر وہاں سے عیسائیوں کا انخلا اسی طرح جاری رہا تو خدشہ ہے کہ ان لوگوں کو بھی عراق سے جانا پڑے گا جن کے آبا و اجداد گزشتہ 2000 سال سے عراق میں آباد تھے، انہوں نے افغانستان کی صورتحال کو بھی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے والے ایک شخص کو بچانے کے لئے صدر بش کو مداخلت کر کے اسے اٹلی بھجوانا پڑا، انہوں نے کہا کہ افغان مسلمانوں کی جانب سے عیسائیت قبول کرنے والے شخص کو واجب القتل قرار دینا مغربی ممالک
کے لئے انتہائی تشویش کا باعث تھا کو جس نے محض بعض اسلامی تعلیما تھی جیل میں ڈال دیا گیا تھا، کمی اصلاحات کے لئے اہم کوششیں ک کامیاب نہیں ہو رہی ہیں۔ (روزن
موجودہ حالات میں ضرور ثانوی درجہ میں لائیں، مسلکی اخت انا اور کفر و اسلام کی جنگ نہ بنا خیال طبقہ کو صف اول کا حریف صرف کریں۔ اگر دین پسندوں ”اتق فراسة ترجمہ: ”مومن کی فراست سے جمائے رکھتا ہے۔“ حدیث کے مصداق کے تح نورانی فراست سے زیر ہو جائے سے نجات پا کر ابدی نجات کی راہ لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا اختلافات کو ثانوی درجہ میں رکھ کر اس عقدہ دشوار کو حل کرنے وفاق المدارس علماء دیوبند کا مزاج
کے لئے انتہائی تشویش کا باعث تھا ، انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ایک مسلمان اسکالر کو جس نے محض بعض اسلامی تعلیمات کے بارے میں عام عقائد سے ہٹ کر بات کی تھی جیل میں ڈال دیا گیا تھا ، کمیشن کے چیئرمین نے کہا کہ عراق میں امریکا سیاسی اصلاحات کے لئے اہم کوششیں کر رہا ہے لیکن شیعہ سنی فسادات کی وجہ سے یہ کوششیں کامیاب نہیں ہورہی ہیں۔ (روزنامہ ایکسپریس کراچی 4 مئی 2006ء)
موجودہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے مسلکی اختلافات کو ثانوی درجہ میں لائیں، مسلکی اختلافات کو علمی مباحث کی حد میں رکھیں ، اور ان کو اپنی انا اور کفر واسلام کی جنگ نہ بنائیں، جبکہ شیطان کے حواری مغرب اور اس کے ہم خیال طبقہ کو صف اول کا حریف سمجھتے ہوئے ان کے خلاف اپنی علمی وعملی توانائیاں صرف کریں۔ اگر دین پسندوں نے آج صحیح معنی میں دشمن کو دشمن سمجھ لیا تو ......
”اتق فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله“
ترجمہ : ’’مومن کی فراست سے ڈرو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے واقعات پر نظر جمائے رکھتا ہے‘‘۔
حدیث کے مصداق کے تحت کوئی بعید نہیں کہ عصر حاضر کا عیار دشمن مؤمن کی نورانی فراست سے زیر ہو جائے اور مسلمان قوم بیرونی سازشوں اور کافرانہ ہتھکنڈوں سے نجات پا کر ابدی نجات کی راہ پر گامزن ہوکر پاکستان کو اسلام کا گہوارہ بنالے۔
لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا کہ یہ اس صورت میں ممکن ہے جبکہ ہم اپنے مسلکی اختلافات کو ثانوی درجہ میں رکھ کر مغرب کو صف اول کا عیار حریف جان جائیں۔
اس عقدہ دشوار کو حل کرنے کے سلسلہ میں شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس علماء دیوبند کا مزاج ومذاق کی بابت لکھتے ہیں:
مقالات حصہ اول مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ تابیں
”ہمارے اکابر کا ہمیشہ یہ مزاج اور مسلک رہا ہے کہ امت مسلمہ کے درمیان واقع فروعی اختلافات کو عوامی سطح پر اچھالنے کے بجائے اسے خالص علمی اور تحقیقی حلقوں تک محدود رکھا جائے، اور جب تک کسی شخص کا نظریہ کھلی گمراہی یا کفر تک نہ پہنچتا ہو اس کے ساتھ فروعی اختلاف کو محاذ جنگ بنانے سے روکا جائے، اس کے بجائے تمام وہ مسلمان جو دین کی بنیادوں میں متفق ہیں مل جل کر عصر حاضر کے ان فتنوں کا مقابلہ کریں جو براہ راست اصول دین پر حملہ آور ہیں، بات بات پر کفر و شرک کا فتویٰ لگانا اور فروعی اختلاف کی وجہ سے تضلیل و تفسیق کا حکم جاری کرنا ہمارے اکابر کا مزاج کبھی نہیں رہا، اور اس چیز کو انہوں نے کبھی پسند نہیں کیا، البتہ مثبت انداز میں دین کے صحیح عقیدے کی تشریح، اسلاف امت کے منہج و طریقے کی توضیح اور بدعات و رسومات سے بالکل پاک خالص دین کی تبلیغ اکابر دیوبند اپنی تقریروں، وعظوں اور تحریروں کے ذریعہ کرتے رہے“۔
(کچھ دیر غیر مقلدین کے ساتھ، ابتدائیہ)
مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر اگر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ کی درج ذیل تجاویز کی پابندی کا تہیہ کرلیں، تو کوئی بعید نہیں کہ آج کے اختلافات کی گرم بازاری کل کے خوشگوار تعلقات میں بدل جائے اور فروعی اختلاف کو علمی و تحقیقی حلقوں تک میں محدود رکھنے کا بندوبست ہو سکے۔ اور دشمن کو دشمن سمجھنے اور سوچنے کا موقع مل سکے۔
تجاویز درج ذیل ہیں:
- 1...... مسلمانوں کے وہ تمام فرقے اور جماعتیں جن کے درمیان دین کے بنیادی اور
جوہری امور میں اختلا کریں۔
- 2...... ہر فرقہ اپنے تدریس
کرے لیکن اس میں دلآزار اسلوب کو قطعی
- 3...... ان اختلافات کو عوام
جائے۔ کسی جگہ ضمناً مسئلہ کی وضاحت کر
- 4...... تمام مسلمان اپنی توج
کریں جس نے ہما
- 5...... ہر جماعت کے ا
فرمائیں جو اشتعا تحریف دین کی شک یقین ہے کہ اگر ہم ان کی فتنہ سامانیو اختلافات ہیچ نظر بازاری نہیں گناہ واقعہ یہ ہے کہ ہم علاوہ دیگر مکاتب فکر کی
جوہری امور میں اختلاف نہیں ہے۔ زبانی اور قلمی مناظروں سے مکمل پرہیز کریں۔
- 2...... ہر فرقہ اپنے تدریس، تصنیف اور فتویٰ کے حلقوں میں اپنے مسلک کو ضرور واضح
کرے لیکن اس میں دوسرے پر طعن و تشنیع ، فقرہ بازی اور ملامت و تعریض کے دل آزار اسلوب کو قطعی طور پر ترک کیا جائے۔
- 3...... ان اختلافات کو عوامی جلسوں، اور اخبارات و رسائل کا بنیادی موضوع نہ بنایا
جائے۔ کسی جگہ ضمناً ان کا ذکر ضروری معلوم ہو تو اس میں نرم لب ولہجہ کے ساتھ مسئلہ کی وضاحت کر دی جائے۔
- 4...... تمام مسلمان اپنی توانائیاں بے دینی کے اس سیلاب پر بند باندھنے میں صرف
کریں جس نے ہمارے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔
- 5...... ہر جماعت کے اہل علم وقت کے ان علمی فتنوں کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ
فرمائیں جو اشتراکیت، عیسائیت، دہریت، قادیانیت، انکار حدیث اور تجدد وتحریف دین کی شکل میں براہ راست دین کی بنیادوں پر حملہ آور ہیں، ہمیں یقین ہے کہ اگر ہمارے اہل علم وفکر حضرات ان نظریات کا کما حقہ مطالعہ کر کے ان کی فتنہ سامانیوں سے پوری طرح آگاہ ہوں گے تو انہیں آپس کے یہ اختلافات ہیچ نظر آئیں گے۔ اور فروعی مسائل پر بحث ومباحثہ کی یہ گرم بازاری انہیں گناہ محسوس ہوگی۔
واقعہ یہ ہے کہ ہر مکتب فکر میں ہمیشہ سے ایک حلقہ ایسا رہا ہے جو اپنے مسلک کے علاوہ دیگر مکاتب فکر کی تکفیر وتفسیق اور ان کے خلاف محاذ جنگ گرم رکھنے کو اپنا ہدف
حیات بنایا ہوا ہوتا ہے۔ اس قسم کے لوگوں سے جہاں امت مسلمہ پریشان رہتی ہے، وہاں ان کے اپنے ہم مسلک لوگ بھی ان سے کوئی خوش نہیں رہتے ہیں لیکن بحمد اللہ ہر مکتب فکر میں ہمیشہ سے اکثریت ان لوگوں کی رہی ہے جو مسلکی اختلافات کو ان کی حد میں رکھنے پر زور دیتے ہیں، اور اختلافات کے باوجود وہ اصولی مقاصد میں امت مسلمہ کی وحدت کا خیال رکھتے ہیں۔
مسلکی اختلافات کو محاذ جنگ بنانا، اپنے نظریات کا منفی انداز میں پرچار کر کے دیگر مکاتب فکر کے لوگوں کی دل آزاری کرنا، مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچانا مخالف نظریہ کے لوگوں کی عبادت گاہوں، مقدس مقامات یا مدارس کو نقصان پہنچانا، یا قبضہ جمانا قانوناً جرم ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف بحمد اللہ تعزیری قوانین موجود ہیں اور یہی قوانین کتاب ھذا کا موضوع سخن ہیں۔
فرقہ واریت کے خلاف نافذ قوانین کو حرکت میں لانے کے لئے حکومت اور عوام کا فرض بنتا ہے کہ وہ فرقہ واریت اور اشتعال انگیزی پر مبنی تقریروں کا سختی سے نوٹس لیں اور قانون کے آہنی ہاتھ کے ذریعہ ان کا ناطقہ بند کریں۔
کتاب کی وجہ تالیف دراصل یہی ہے کہ ہر مکتب فکر کے لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ نافذ العمل قانون میں ان کے مسلک کے لئے کیا حقوق فراہم کیے گئے ہیں، کن کن وجوہ کے تحت وہ عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں، کہاں برداشت سے کام لینا ہے اور کہاں مجرم کا گریبان پکڑ کر اس کو عدالت کے کٹہرے میں پیش کرنا ہے، یہ تمام تفصیلات آپ کو مکمل وضاحت کے ساتھ کتاب ھذا میں ملیں گی۔
کتاب ھذا میں اقلیتوں کے سیاسی اور قانونی حقوق کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا
گیا ہے۔ نیز اقلیتوں کے حقوق کے حوالہ سے اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اور تحدیثِ نعمت کے طور پر دعوے سے کہا جا سکتا ہے کہ کتاب ھذا میں اقلیتوں کے قانونی حقوق پر منفرد مقالہ آپ کی نظر سے گزرے گا۔
آخر میں اپنے قارئین کی خدمت میں دردمندانہ گزارش پیش کرنا چاہوں گا کہ اگر کتاب ھذا میں کوئی قابل تنقید غلطی نظر آجائے تو مؤلف کو تحریری طور پر مطلع کرنا نہ بھولیں، مؤلف آپ کا انتہائی احسان مند ہوگا۔
اس ناچیز کو اپنی کم مائیگی کا بجا طور اعتراف ہے، ویسے بھی انسان کی حقیقت خطا اور نسیان کے سوا کیا ہے، کوئی کتنی ترقی کر جائے، بشریت کے دائرہ سے نکل نہیں سکتا ہے۔
كُلُّكُمْ خَطَّاؤُنَ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ
والله اعلم بالصواب
کلمہ گو کی تکفیر کا مسئلہ
اور
اسلامی مکاتب فکر کے قانونی حقوق
موضوعہ دفعات پاکستان میں موجو احساسات کو مکمل قانونی تحفظ فراہم ہونے کی حیثیت سے انصاف اس سے بھی زیادہ حکومت کا اس دل سے سختی سے عملدرآمد کرائے میں پیش پیش رہتی ہیں ، حکومت کا وارانہ تقاریر و تحاریک میں ملوث
مطبوعات علامہ ابوالوفا سوال وجواب عطیہ مصطفیٰ ﷺ کتابیں
د کا مسئلہ
کے قانونی حقوق
موضوعہ دفعات پاکستان میں موجود تمام مکاتب فکر کے مسلک، عبادت گاہوں اور مذہبی احساسات کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کرتی ہیں، اب یہ ہمارا اور حکومت وقت کا فرض بنتا ہے کہ عوام ہونے کے حیثیت سے انصاف کے حصول کے لئے ہم قانون وانصاف کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور اس سے بھی زیادہ حکومت کا اس سلسلہ میں نہایت اہم فرض یہ بنتا ہے کہ موضوعہ قانون پر خلوص دل سے سختی سے عملدرآمد کرائے، بعضے مساجد، مدارس یا جماعتیں جو فرقہ وارانہ فسادات کرانے میں پیش پیش رہتی ہیں، حکومت کا فرض بنتا ہے کہ نافذ العمل قانون کو حرکت میں لائے، اور فرقہ وارانہ تقاریر وتحاریک میں ملوث عناصر کا سراغ لگا کر ان کو قرار واقعی سزا دلائے۔
کلمہ گو کی تکفیر کا مسئلہ
اور
اسلامی مکاتب فکر کے قانونی حقوق
اسلام کو مسلمانوں کی کسی خاص جماعت یا فرد میں محصور سمجھنا بجائے خود غلط ہے، کیونکہ اس سے لازم آئے گا اس شخص یا جماعت کا معصوم اور مبرّا عن الخطا ہونا، جبکہ یہ صرف پیغمبر اسلام اور انبیاء کرام علیہم السلام کا وصف لازم ہے۔ ان کے علاوہ کسی کو معصوم سمجھنا یا تنقید سے بالاتر سمجھنا باجماع امت غلط ہے، شیعہ مکتب فکر جس سے امت مسلمہ کو غیر معمولی نظریاتی اختلاف رہا ہے، انکی بابت ائمہ سلف نے علی الاطلاق تکفیر کا اصول اختیار نہیں کیا ہے، بلکہ تکفیر کو عقائد کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے شیعہ ہونا وجہ کفر نہیں ہے بلکہ کافرانہ عقائد دراصل تکفیر کی اساس ہے۔ اور کافرانہ عقیدہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس کے وجود کی خبر دی ہے اس کے وجود کو بجائے تسلیم کرنے کے صریح انداز میں یا اوٹ پٹانگ تاویل کے ذریعہ اس کا انکار کیا جائے، جیسے کافر اور غیر مسلم لوگ اسلام کا واضح انداز میں انکار کرتے ہیں، اور اوٹ پٹانگ تاویل کی مثال جیسے قادیانی جماعت کے لوگ کہ یہ لوگ ختم نبوت کا بجائے صریح انداز میں تکذیب کرنے کے تاویل فاسد کی مدد لیتے ہیں، اور خود ساختہ تاویل ظلی نبوت، بروزی نبی کی اصطلاحات گھڑ کر غلام احمد قادیانی کی نبوت کو دلیل کا سہارا دیتے ہیں۔ صریح انداز میں تکذیب ہو یا تاویل فاسد کے ذریعہ انکار ہو دونوں ایک چیز ہیں، اور یکساں حکم رکھتے ہیں، تکذیب جس طرح وجہ کفر ہے، بعینہ تاویل باطل بھی وجہ کفر ہے، درج ذیل شہادت سے اس کی وضاحت ہو سکتی ہے۔
بہت سی کتب حدیث میں واقعہ منقول ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں صوبہ شام کے کچھ لوگ شراب نوشی کے مرتکب ہوئے، شام کے گورنر یزید بن ابی سفیان کی خدمت میں جب یہ لوگ پیش ہوئے، تو کہنے لگے ہم نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے، کیونکہ مسلمان اگر متقی اور پارسا ہو تو اس کے لئے شراب حلال ہے، اور درج ذیل آیت سے استدلال کیا:
ليس على الذين امنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا اذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات ثم اتقوا وآمنوا ثم اتقوا واحسنوا والله يحب المحسنين .
(سورۃ المائدہ آیت 93)
شام کے گورنر نے اس واقعہ کی خبر دربار خلافت میں کی، اس پر حضرت عمرؓ نے ان لوگوں کو مدینہ طلب کیا، جب یہ لوگ آگئے، تو ان کے بارے میں آپؓ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا کہ شریعت کی روشنی میں ان کے لئے کیا سزا مناسب ہے، سارے صحابہ نے حضرت عمرؓ کو ان کے قتل کرنے کا مشورہ دیا، کیونکہ وہ لوگ آیت بالا میں تاویل فاسد کے مرتکب ہوئے تھے، اور تاویل فاسد سے قرآن کے صریح حکم حرمت خمر کو حلال قرار دے رہے تھے، حضرت عمرؓ نے اس سلسلہ میں حضرت علیؓ سے استفسار فرمایا، حضرت علیؓ نے فرمایا: مناسب یہ ہے کہ فوری قتل سے پہلے ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی جائے، اگر مسلمان ہوجاتے ہیں، تو پھر ان کے خلاف صرف شراب نوشی کی سزائے حد ... 80 اسّی کوڑے ... کا حکم جاری کیا جائے، اور اگر اپنے فاسد نظریہ پر قائم ہوں، تو پھر انہیں سزائے موت دیجائے، کیونکہ یہ لوگ تاویل فاسد کر کے اللہ تعالیٰ پر صریح بہتان باندھ چکے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نجس چیز خمر کو مسلمان کے لئے حلال قرار دیا ہے، اور قرآن جس کو حرام قرار دے چکا ہے، تاویل
فاسد کے ذریعہ اس کو حلال قرار دینا کفر ہے۔ حضرت عمرؓ اس جواب سے مطمئن ہوئے اور ان لوگوں کو بلا کر ان سے تائب ہونے کو کہا ، وہ تائب ہوئے ، حضرت عمرؓ نے تجویز کے مطابق ان پر حد خمر جاری کی۔ (شرح معانی الآثار للامام الطحاوی جلد 2 صفحہ 76) اس بنیاد پر رسول اللہ ﷺ نے جس چیز کے وجود کی خبر دی ہے، اس کی تکذیب صریح انداز میں یا برسبیل تاویل فاسد کرنا یا اس طور کہ حلال کو حرام یا حرام کو حلال بنایا جائے ، یا اجماعی اور متفقہ عقیدہ کا انکار کیا جائے ۔ ایسی تاویل کرنا کفر ہے، اس میں کسی مکتب فکر کا اختلاف نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے جن چیزوں کی خبر دی ہے ان کے وجود کو حقیقی معنوں میں تسلیم کرنا ضروری ہے، حقیقی معنی ممکن ہوتے ہوئے بھی تاویل کی راہ لینا جائز نہیں ہے، لیکن اگر وجود حقیقی و ذاتی مراد نہ لینے پر کوئی دلیل قطعی موجود ہو، تو اس صورت میں تاویل کرنا ضروری ہو جاتا ہے، جیسے:
- 1....... يد الله على الجماعة: جماعت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔
- 2....... استوى على العرش: عرش پر اللہ تعالیٰ نے استواء فرمایا۔
درج بالا دونوں مثالوں میں اگر لفظ کے حقیقی معنی مراد لئے جائیں تو اللہ تعالیٰ کے لئے انسانوں جیسا جسم ہونا لازم آئے گا، اور مآل کار اللہ تعالیٰ کا حادث ہونا لازم آئے گا۔ جو بجائے خود غلط ہے، کیونکہ اس معنی کے خلاف قطعی الثبوت
شہادت موجود ہے۔
اس بنیاد پر تاویل کی ضرورت پر تمام امت مسلمہ متفق ہے، اور جب نص قابل تاویل یا واجب التاویل ہو، تو اس کی تاویل کرنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔ لیکن اس مرحلہ پر مشکل یہ ہو جاتی ہے کہ ایک کے نزدیک تاویل کے لئے قطعی الثبوت شہادت موجود ہوتی ہے جبکہ دوسرے کے نزدیک وہ شہادت قطعیت کی پوزیشن میں نہ ہونے کے سبب اس معنی میں تاویل کرنا تاویل فاسد کے زمرہ میں آتا ہے۔ اور اس تاویل فاسد کی بنیاد پر وہ اوّل جماعت کی تکفیر کرتا ہے۔
اس گتھی کے سلجھانے کے لئے حجۃ الاسلام امام غزالیؒ نے ”التفرقة بين الاسلام والزندقة“ میں بہت ہی مناسب اصول بیان فرمایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایمان تصدیق کا نام ہے، اور تصدیق کے یہ معنی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جس چیز کے وجود کی خبر دی ہے، اس کے وجود کو تسلیم کرنا عین تصدیق اور عین ایمان ہے۔
پھر امام صاحب وجود کے مدارج کی تفصیل بیان فرماتے ہیں کہ وجود کے مدارج پانچ ہیں:
- 1...... وجود حقیقی: واقع میں ہر چیز کا وجود جیسے زید بکر عمرو۔
- 2...... وجود حسی: حاسہ میں کسی چیز کا وجود، مثلاً خواب میں ہم بہت سی چیزیں دیکھتے
ہیں ان کا وجود صرف ہمارے حاسہ میں ہوتا ہے، یا جس طرح بیماری کی شدت کے سبب بسا اوقات جاگتے میں خیالی صورتیں نظر آتی ہیں۔
- 3...... وجود خیالی: خیال اور سوچ میں گھومنے والی صورت، مثلاً: کسی کو ہم نے دیکھا،
پھر آنکھیں بند کرلیں، تو مخاطب کی صورت جو اب ہماری آنکھوں میں پھرتی ہے، یہ وجود خیالی ہے۔
- 4...... وجود عقلی : کسی شئے کی اصلی حقیقت، مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ یہ چیز ہمارے
ہاتھ میں ہے، تو مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ چیز ہماری قدرت واختیار میں ہے، تو ہاتھ کا وجود عقلی قدرت واختیار ہے۔
- 5...... وجود شبہی : اصل چیز تو موجود نہ ہو۔ لیکن اس سے ملتی جلتی مشابہ ایک چیز موجود ہو۔
اس کے بعد امام صاحب تاویل کے اصول بیان فرماتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جس چیز کے وجود کی خبر دی ہے، اول اس کا وجود ذاتی ماننا چاہیے، اگر وجود حقیقی مراد نہ لینے پر کوئی قطعی دلیل موجود ہو، تو وجود حسی، پھر خیالی، پھر عقلی، پھر شبہی ۔
پھر قطعی الثبوت شہادت کے حوالے سے آگے لکھتے ہیں کہ قرآن پاک کے علاوہ اور چیزوں کا بہ تواتر ثابت ہونا نہایت غامض ہے، جبکہ قرآن پاک اور اس کی آیتیں بہ تواتر قطعی الثبوت ہیں، لیکن احادیث کا بہ تواتر قطعی الثبوت ہونا مشکل ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ ایک گروہ کثیر ایک مسئلہ پر متفق ہو جائے اور اس کو بہ تواتر بیان کرے، جس طرح شیعہ حضرات ولایت علیؓ کی حدیث بیان کرتے ہیں، ولایت علی ان کے ہاں بہ تواتر ثابت ہونے کے سبب قطعی الثبوت ہے، اور اس بنیاد وہ سنی حضرات کی تکفیر کرتے ہیں، جبکہ اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک حدیث بالا اس حیثیت اور اس معنی میں نہیں ہے۔
اجماع کی قطعیت پر تنقید کرتے ہوئے امام صاحب لکھتے ہیں، کہ ایک تو اجماع کا ثابت ہونا بہت مشکل ہے، کیونکہ اجماع کے معنی ہیں کہ تمام اہل حل وعقد ایک امر
پر متفق ہو جائیں ، اور ایک مدت مدید یا بعضے حضرات کے نزدیک تا اختتام عصر اول اس اتفاق پر وہ لوگ قائم رہیں ، اور ایسا ہونا بظاہر مشکل نظر آتا ہے ، اور اگر ممکن بھی ہو جائے تو اجماع کے انعقاد کے وقت اختلاف رائے کرنا جائز تھا ، اور کفر نہ تھا ، تو اجماع ہو چکنے کے بعد اختلاف رائے کا عدم جواز تو سمجھ میں آتا ہے کہ اس سے اجتماعیت متاثر ہوگی اور امت مسلمہ جو یک جان و یک قالب ہے، اختلاف رائے کے سبب اس میں دراڑ پڑے گی ۔ لیکن اس بنیاد پر کسی کی تکفیر کرنا محل نظر ہے۔
امام صاحب مزید لکھتے ہیں کہ جو چیز اصول عقائد سے تعلق نہیں رکھتی اس میں تاویل کرنے پر تکفیر نہیں کرنی چاہیے ، مثلاً شیعہ حضرات امام مہدی کا غار میں مخفی ہونا مانتے ہیں ، یہ ایک وہم پرستی تو ہے، لیکن اصول عقائد میں اس سے کوئی خلل واقع نہیں ہوتا ہے۔ اسی طرح بعضے صوفیاء کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آفتاب و ماہتاب کو خدا نہیں کہا تھا، کیونکہ اجسام کو خدا کہنا انبیاء کرام کی شان سے بعید ہے بلکہ ابراہیم علیہ السلام نے جواہر فلکیہ نورانیہ دیکھے تھے اور انہیں خدا سمجھا تھا۔
صوفیاء کرام کا آیت کے واضح اور دوٹوک معنی میں خواہ مخواہ کی تاویل کرنا اس لئے نقصان دہ اور وجہ تکفیر نہیں بن سکتا ہے کیونکہ درج بالا تاویل کا اصول عقائد سے تعلق نہیں ہے۔
صاحب رد المحتار نے بھی قریب قریب اسی رائے کا اظہار کیا ہے ، انہوں نے ایک سیدھے سادے انداز میں بہت دلچسپ بات ذکر فرمائی ہے۔ وہ کہتے ہیں کسی فرد یا جماعت کی تکفیر اس وقت تک نہ کی جائے جب تک اس کی تکفیر پر تمام امت مسلمہ کا اتفاق رائے نہ ہو جائے ۔ اگر بعضے علماء تکفیر کریں اور بعضے عدم تکفیر تو جرح
وتعدیل کے قاعدہ کے مطابق ترجیح عدم تکفیر کو حاصل ہوگی، اسی اصول کی بنیاد پر وہ تمام فرق باطلہ شیعہ، خوارج، رافضی وغیرہم کے عدم تکفیر کے قائل ہیں۔ لیکن یہ اسوقت تک ہے جب تک ان کے نظریات عقائد یا اصول عقائد کے منافی نہ ہو جائیں، جہاں عقائد سے ان کے نظریات کا تعارض آجائے وہاں ان کی تکفیر باجماع امت یقینی ہے۔ مثلاً حضرت عائشہؓ پر زنا کا الزام لگانا، یہ عقیدہ رکھنا کہ حضرت جبریل علیہ السلام بجائے حضرت علیؓ کے پاس وحی لیجانے کے غلطی سے رسول اللہ ﷺ کے پاس چلے گئے۔
صاحب رد المحتار لکھتے ہیں:
”میرا کہنا یہ ہے کہ خلاصۃ الفتاوی کے حوالہ سے بزازیہ میں یہ عبارت منقول ہے کہ کوئی رافضی شیعہ اگر ابوبکرؓ وعمرؓ کو سب وشتم کرے تو وہ کافر ہے۔ اور اگر حضرت علیؓ کو ان پر فضیلت دے تو بدعتی ہے،
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کفر کا فتویٰ لگانا مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ ائمہ امت کا اس پر اتفاق ہے کہ بدعتی فرقوں کے لوگ گمراہ ضرور ہیں، لیکن سب شیخین (ابوبکر وعمر) یا کسی صحابی کو سب وشتم کرنے کے سبب کافر نہیں ہیں۔
صاحب فتح القدیر نے ذکر کیا ہے کہ خوارج جو مسلمانوں حتی کہ صحابہ کے قتل کو جائز سمجھتے تھے اور مسلمانوں کے مال کو غنیمت جانتے تھے، اور صحابہ کرامؓ کی تکفیر کرتے تھے جمہور فقہاء اور محدثین نے انہیں باغی تو کہا ہے کافر نہیں۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ بعض محدثین نے ان کو مرتد قرار دیا ہے۔ لیکن ان کی رائے کا اعتبار اس لئے نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ اجماع سے مراد فقہاء کا اجماع ہوتا ہے، محدثین کا
نہیں، امام ابن المنذر کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ خوارج کی تکفیر میں کسی امام نے محدثین کی رائے سے اتفاق کیا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اجماع سے فقہاء کرام کا اجماع مراد ہوتا ہے“۔
(ردالمحتار جلد 4 صفحہ 237)
صاحب رد المحتار کی درج بالا رائے جمہور امت کی رائے ہے، جس کا خلاصہ ہم یوں ذکر کر سکتے ہیں:
- 1..... عقائد یا اصول عقائد کے منافی نظریہ یا عقیدہ موجب تکفیر ہے۔
- 2..... جو چیز اصول عقائد سے تعلق نہیں رکھتی اس کے انکار کرنے یا اسکی تاویل کرنے
میں تکفیر نہیں ہو سکتی ہے۔
- 3..... کسی فرد یا جماعت کی تکفیر اس وقت تک نہ کی جائے جب تک اس پر امت مسلمہ
یعنی فقہائے امت کا اجماع نہ ہو جائے۔
شق نمبر 1 کی مزید توضیح شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی زبانی درج ذیل ہے: ”خدا جانے یہ اصول کہاں سے گھڑا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو وہ مسلمان ہے اور اسے کوئی شخص کافر قرار نہیں دے سکتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسیلمہ کذاب کلمہ شہادت نہیں پڑھتا تھا؟ پھر خود آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے اسے کافر قرار دے کر اس کے خلاف جہاد کیوں کیا؟ اور خود مرزا غلام احمد نے جا بجا نہ صرف مسیلمہ کذاب بلکہ آپ کے بعد اپنے سوا ہر مدعی نبوت کو کافر اور کذاب کیوں کہا؟ اگر آج کوئی نیا مدعی نبوت کلمہ پڑھتا ہوا اٹھے اور آنحضرت ﷺ کے سوا تمام انبیاء کو جھٹلائے۔ آخرت کے عقیدے کا مذاق اڑائے۔ قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے سے انکار کرے اپنے آپ کو افضل الانبیاء قرار دے، نماز روزے کو
منسوخ کردے، جھوٹ، شراب، زنا، سود اور قمار کو جائز کہے اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے سوا اسلام کے ہر حکم کی تکذیب کردے تو کیا اسے پھر بھی ”کلمہ گو“ ہونے کی بنا پر مسلمان ہی سمجھا جائے گا؟ اگر اسلام ایسا ہی ڈھیلا ڈھالا جامہ ہے جس میں کلمہ پڑھنے کے بعد دنیا کا ہر برے سے برا عقیدہ اور برے سے برا عمل سما سکتا ہے تو پھر فضول ہی اسلام کے بارے میں یہ دعوے کئے جاتے ہیں کہ وہ دنیا کے تمام مذاہب میں سب سے زیادہ بہتر، مستحکم، منظم اور باقاعدہ مذہب ہے۔
جو لوگ ”ہر کلمہ گو“ کو مسلمان کہنے پر اصرار کرتے ہیں، کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کلمہ (معاذ اللہ) کوئی منتر یا ٹونا ٹوٹکا ہے جسے ایک مرتبہ پڑھ لینے کے بعد انسان ہمیشہ کے لیے ”کفر پروف“ ہو جاتا ہے اور اس کے بعد برے سے برا عقیدہ اسے اسلام سے خارج نہیں کر سکتا......؟
اگر عقل و خرد اور انصاف و دیانت دنیا سے بالکل اُٹھ ہی نہیں گئی تو اسلام جیسے علمی اور عقلی دین کے بارے میں یہ تصور کیسے کیا جاسکتا ہے کہ محض چند الفاظ کو زبان سے ادا کرنے کے بعد انسان جہنمی سے جنتی اور کافر سے مسلمان بن جاتا ہے۔ خواہ اس کے عقائد اللہ اور رسول ﷺ کی مرضی کے بالکل خلاف ہوں......؟
واقعہ یہ ہے کہ کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (معاذ اللہ) کوئی جادو یا طلسم نہیں ہے، یہ ایک معاہدہ اور اقرار نامہ ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کو معبود واحد قرار دینے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے کا مطلب یہ معاہدہ کرنا ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہر بات کی تصدیق کروں گا۔ لہٰذا اللہ یا اس کے رسول ﷺ کی بتائی ہوئی جتنی باتیں ہم تک تواتر اور قطعیت کے ساتھ پہنچی ہیں ان سب کو درست
تسلیم کرنا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان کا لازمی جزء اور اس کا ناگزیر تقاضا ہے اگر کوئی شخص ان متواتر قطعیات میں سے کسی ایک چیز کو بھی درست ماننے سے انکار کردے تو درحقیقت وہ کلمہ توحید پر ایمان نہیں رکھتا، خواہ زبان سے لا الہ الا اللہ پڑھتا ہو اس لئے اس کو مسلمان نہیں کہا جاسکتا، عقیدۂ ختم نبوۃ چونکہ قرآن کریم کی بیسیوں آیات اور سرکارِ دوعالم ﷺ کے سینکڑوں ارشادات سے بطریق تواتر ثابت ہے، اس لئے باجماع امت وہ انہی قطعیات میں سے ہے جن پر ایمان لانا کلمہ طیبہ کا لازمی جزو ہے اور جس کے بغیر انسان مسلمان نہیں ہو سکتا‘‘۔ (قادیانی فتنہ اور ملت اسلامیہ کا
موقف صفحہ 116)
شق نمبر 2+3 کی مزید توضیح کرتے ہوئے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی رقمطراز ہیں:
”چند فتاویٰ کو پیش کر کے یہ تاثر دینا بالکل غلط، بے بنیاد اور گمراہ کن ہے کہ یہ سارے مکاتب فکر ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ ہر مکتب فکر میں ایک عنصر ایسا رہا ہے جس نے دوسرے کی مخالفت میں اتنا تشدد کیا کہ وہ تکفیر کی حد تک پہنچ جائے لیکن اسی مکتب فکر میں ایک بڑی تعداد ایسے علماء کی ہے جنہوں نے فروعی اختلافات کو ہمیشہ اپنی حدود میں رکھا اور ان حدود سے نہ صرف یہ کہ تجاوز نہیں کیا بلکہ اس کی مذمت کی ہے اور عملاً یہی محتاط اور اعتدال پسند عنصر غالب رہا ہے، جس کی واضح مثال یہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کا کوئی مشترک مسئلہ پیدا ہوا ہے ان تمام مکاتب فکر کے مل بیٹھنے میں بعض حضرات کے فتوے کبھی رکاوٹ نہیں بنے۔ یہ مسلمان فرقے جن کی فرقہ بندی کا پروپیگنڈہ دنیا بھر میں گلا پھاڑ پھاڑ کر کیا گیا
ہے اور جن کے اختلافات کا شور مچا مچا کر لوگوں نے اپنے باطل نظریات کی دکانیں چمکا لی ہیں۔ وہی تو ہیں جو 1951ء میں پاکستان کی دستوری بنیادیں طے کرنے کے لئے جمع ہوئے اور کسی ادنیٰ اختلاف کے بغیر اسلامی دستور کے اساسی اصول طے کر کے اٹھے جبکہ پروپیگنڈہ یہ تھا کہ اس قسم کا اتفاق ایک امر محال ہے 1953ء ہی میں انہوں نے قادیانیت کے مسئلہ پر اجتماعی طریقے سے ایک مشترکہ مؤقف اختیار کیا۔ 1972ء میں دستور سازی کے دوران شیر و شکر رہ کر اس بنیادی کام میں شریک رہے دنیا بھر میں شور تھا کہ یہ لوگ مل کر مسلمان کی متفقہ تعریف بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن 1972ء میں انہوں نے ہی کامل اتفاق و اتحاد سے اس پروپیگنڈے کی قلعی کھولی۔ اور اب پھر یہ مرزائیت کے کھلے کفر کے مقابلے میں شانہ بشانہ موجود ہیں غرض یہ کہ جب بھی اسلام اور مسلمانوں کا کوئی مشترکہ مذہبی مسئلہ سامنے آیا۔ تو ان کے باہمی مذہبی اختلافات اجتماعی مؤقف اختیار کرنے میں کبھی سد راہ ثابت نہیں ہوئے۔ لیکن کیا کبھی کسی نے دیکھا ہے کہ اس قسم کے اجتماعات میں کسی مرزائی کو بھی دعوت دی گئی ہو؟ اس طرز عمل پر غور کرنے سے چند باتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔
اول یہ کہ باہم ایک دوسرے کی تکفیر کے فتوے انفرادی حیثیت رکھتے ہیں کسی مکتب فکر کی نمائندہ حیثیت نہیں ، ورنہ یہ مکاتب فکر کبھی بحیثیت مسلمان جمع نہ ہوتے۔
دوسرے یہ کہ ہر مکتب فکر میں غالب عنصر وہی ہے جو فروعات کو فروعات ہی کے دائرے میں رکھتا ہے اور آپس کے اختلافات کو تکفیر کا ذریعہ نہیں بناتا۔ ورنہ اس قسم کے اجتماعات کو قبول عام حاصل نہ ہوتا۔
تیسرے یہ کہ اسلام کے بنیادی عقائد جو واقعتاً ایمان اور کفر میں حد فاصل کی
حیثیت رکھتے ہیں ان میں یہ سب لوگ لہٰذا اگر کچھ حضرات نے تکفیر عا اس سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جاسکتا ہے کہ یہ سب لوگ مل کر بھی کسی کو کافر نہیں ق کیا دنیا میں عطائی قسم کے لقا بلکہ کیا ماہر سے ماہر ڈاکٹر سے بھی غلطی بالکل ہی معذور نہ ہو یہ کہہ سکتا ہے کے طبقے کی کوئی بات قابل تسلیم نہیں سے غلطیاں نہیں ہوتیں؟ یا ججوں عمارتوں کی تعمیر میں انجینئر غلطی نہیں ہے کہ ان غلطیوں کی بناء پر تعمیر کا ک پھر یہ کہ اگر چند جزوی نوعیت کے کا مطلب یہ کیسے نکل آیا کہ اس مرزائی تحریفات کی بنیاد پر کفر ف مسلمان کی منزل شہادت اپنے مقصد سے ہٹ کر بے راہ بدیہی نتیجہ ہوتا ہے۔ مسلمان ج اللہ ہے۔ اس مقصد کے متروک ہیں۔ مسلمان مختلف فرقوں ا
حیثیت رکھتے ہیں ان میں یہ سب لوگ متفق ہیں۔
لہٰذا اگر کچھ حضرات نے تکفیر کے سلسلہ میں غلو اور تشدد کی روش اختیار کی ہے تو اس سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جا سکتا ہے کہ اب دنیا میں کوئی شخص کافر ہو ہی نہیں سکتا اور اگر یہ سب لوگ مل کر بھی کسی کو کافر کہیں تو وہ کافر نہیں ہو گا۔
کیا دنیا میں عطائی قسم کے لوگ علاج کر کے انسانوں پر مشقِ ستم نہیں کرتے؟ بلکہ کیا ماہر سے ماہر ڈاکٹر سے بھی غلطی نہیں ہوتی؟ لیکن کیا کبھی کوئی انسان جو عقل سے بالکل ہی معذور نہ ہو یہ کہہ سکتا ہے کہ ان انفرادی غلطیوں کی سزا کے طور پر ڈاکٹروں کے طبقے کی کوئی بات قابلِ تسلیم نہیں ہونی چاہیے۔ کیا عدالتوں کے فیصلوں میں ججوں سے غلطیاں نہیں ہوتیں؟ یا ججوں کا کوئی فیصلہ مانا ہی نہ جائے؟ کیا مکانات سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر میں انجینئر غلطی نہیں کرتے؟ لیکن کبھی کسی ذی ہوش نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ ان غلطیوں کی بناء پر تعمیر کا ٹھیکہ انجینئروں کی بجائے گورکنوں کو دے دیا جائے؟
پھر یہ کہ اگر چند جزوی نوعیت کے فتوؤں میں بے احتیاطیاں یا غلطیاں ہوئی ہیں تو اس کا مطلب یہ کیسے نکل آیا کہ اب اسلام اور کفر کے فیصلے قرآن و سنت کے بجائے مرزائی تحریفات کی بنیاد پر کرنے چاہئیں“۔
(قادیانی فتنہ اور ملت اسلامیہ کا موقف صفحہ 121)
مسلمان کی منزل شہادت اور مشن اعلاء كلمة الله ہے۔ کوئی بھی چیز جب اپنے مقصد سے ہٹ کر بے راہ روی کا شکار ہو جائے تو گمراہ کن خیالات کا جنم لینا ایک بدیہی نتیجہ ہوتا ہے۔ مسلمان جس کی منزل شہادت ہے اور جس کا مشن اعلاء كلمة الله ہے۔ اس مقصد کے متروک ہونے کے سبب مسلمان بے راہ روی کا شکار ہو گئے ہیں۔ مسلمان مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ چکے ہیں۔ اس دور کے مسلمان کا
مقصد حیات اعلاء کلمۃ اللہ کی بجائے اعلاء کلمۃ الحزب ہے، ہر شخص کی کوشش رہتی ہے کہ جیسے کیسے ہو۔ اسکی جماعت اور اس کے نظریات کسی نہ کسی طرح تمام امت مسلمہ پر حاوی ہو جائیں اور تمام عالم اسلام اس کے زیرنگیں آ جائے۔ اس مقصد کے حصول میں ہر جائز و ناجائز کو روا رکھا جاتا ہے، ایک دوسرے کی مساجد پر قبضے کئے جاتے ہیں۔ قتل کے فتوے دیئے جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے قتل کو زبردست کار ثواب سمجھا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف تکفیر کے فتوے دیئے جاتے ہیں۔ اور جو معتدل مزاج علماء کرام یا عامۃ المسلمین ان کا ساتھ نہیں دیتے ہیں، انہیں بھی کافر قرار دیتے ہیں کہ:
اس قسم کے شدت پسندانہ عناصر ہر مکتب فکر میں موجود ہیں۔ اور یہ عناصر غیروں کی نسبت اپنے نظریہ کے لوگوں کے لئے زیادہ خطرہ بنے رہتے ہیں۔ ان شدت پسندانہ عزائم رکھنے والے حضرات کی اصلاح وعظ و پند سے نہیں فقط قانون کے آہنی ہاتھ سے ممکن ہے، ہمارے خیال میں نافذ العمل قانون میں تحفظ مذاہب کے حوالہ سے موضوعہ دفعات فرقہ ورانہ جھگڑوں کی روک تھام کے لئے بالکل کافی ہیں۔ اگر حکومت وقت تحفظ مذاہب کے حوالہ سے نافذ العمل دفعات کے عملی نفاذ کا تہیہ کر لے، تو کوئی بعید نہیں کہ پاکستان جو فرقہ واریت کی بھٹی میں پچھلے پچاس سال سے بری طرح جل رہا ہے قانون کے عملی نفاذ کے سبب ان دگرگوں حالات سے باہر نکل آئے اور یہاں کے مسلمان سکھ کا سانس لے سکیں۔
مختصر انداز میں موضوعہ دفعات کا احاطہ کار اور سزا پیش خدمت ہے۔
- 1...... مسجد، امام بارگاہ یا کسی مق
ہے، سزا دو برس تک بمع
- 2...... کسی مکتب فکر کے مذہ
تذلیل کرنا مستوجب ایک سزا ۔ (بحوالہ دفعہ A
- 3...... مذہبی عبادت یا مذہبی
جرم ہے، سزا ایک بر
- 4...... میت، مقبرہ، مزار یا ک
تعزیر جرم ہے، سزا ایک
- 5...... دانستہ طور پر کسی کے
ایک برس تک بمع
- 6...... صحابہ کرام، امہات
آمیز رائے زنی کر کوئی ایک سزا ۔ (بحو
اللہ تعالیٰ مسلمانو چارگی کے جذبات مجرو
- 1...... مسجد، امام بارگاہ یا کسی مقدس مقام کو نقصان پہنچانا یا نجس کرنا مستوجب تعزیر جرم
ہے، سزا دو برس تک بمعہ جرمانہ یا کوئی ایک سزا۔ (بحوالہ دفعہ 295)
- 2...... کسی مکتب فکر کے مذہبی احساسات، مذہب یا مذہبی عقائد کی بے حرمتی یا
تذلیل کرنا مستوجب تعزیر جرم ہے سزا دس 10 سال تک بمعہ جرمانہ یا کوئی ایک سزا۔ (بحوالہ دفعہ A-295)
- 3...... مذہبی عبادت یا مذہبی رسومات میں مشغول مجمع کو درہم برہم کرنا مستوجب تعزیر
جرم ہے، سزا ایک برس تک بمعہ جرمانہ یا کوئی ایک سزا (بحوالہ دفعہ 296)
- 4...... میت، مقبرہ، مزار یا کسی متبرک مقام کی توہین کرنا یا مداخلت بے جا کرنا مستوجب
تعزیر جرم ہے، سزا ایک سال تک بمعہ جرمانہ یا کوئی ایک سزا۔ (بحوالہ 297)
- 5...... دانستہ طور پر کسی کے مذہبی احساسات کو مجروح کرنا مستوجب تعزیر جرم ہے، سزا
ایک برس تک بمعہ جرمانہ یا کوئی ایک سزا۔ (بحوالہ 298)
- 6...... صحابہ کرام، امہات المؤمنین، اہل بیت، خلفائے راشدین کی نسبت توہین
آمیز رائے زنی کرنا مستوجب تعزیر جرم ہے، سزا تین برس تک بمعہ جرمانہ یا کوئی ایک سزا۔ (بحوالہ A-298)
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر میں یگانگت، اتحاد اور اخوت و بھائی چارے کے جذبات موجزن فرمائے۔
واللہ اعلم بالصواب
باب دوم
پاکستان
کا قانون تحفظ مذاہب
ہ دفعات و تشریحات
ہ پس منظر اور شان ورود
یہ پیر کلیسا کی
جتا ہے مگر
ترکان جفا
ہر ملت مظلوم کا یورپ ہے خریدار!
یہ پیر کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نے
بجلی کے چراغوں سے منور کئے افکار
جلتا ہے مگر شام و فلسطین پہ میرا دل
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار
ترکان جفا پیشہ کے پنجے سے نکل کر
بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار!
قانون تحفظ مذاہب کی دفعات
اور ان کی تشریح ......
انگریز جو اٹھارھویں صدی کے صنعتی انقلاب کی چکا چوند کشش کے سبب مذہب سے نہ صرف باغی ہوئے ہیں بلکہ مذہب کے نام سے ان کو یک گونہ چڑ ہو گئی ہے ان کے آئین و قانون میں مذہب یا مذہبی اقدار کے تحفظ کے لیے کوئی جگہ تسلیم نہیں کیگئی ہے، ان کے عقیدہ میں جس طرح لوگ قبول مذہب میں آزاد ہیں۔ اسی طرح مذہب سے بغاوت اور پراپیگنڈہ کرنے میں بھی آزاد ہیں۔
ہندوستان پر فرنگی تسلط قائم ہو جانے کے بعد 1860ء میں بیک جنبش قلم اسلامی قوانین منسوخ قرار پا کر فرنگی قوانین نافذ ہوئے جن میں مذہب ، مذہبی اقدار اور بانیان مذہب کے تحفظ کے لیے کوئی جگہ نہ تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائی مشنری ہندو، آریہ سماج نے اسلام پر حملے شروع کیے خصوصاً پیغمبر پاک ﷺ کے نام ناموس کی توہین کر کے مسلمانوں کی دلآزاری کرنا ان کا دلچسپ مشغلہ بن گیا تھا۔
مسلمان اپنے اوپر عدل و انصاف کے دروازے بند پا کر دیدہ دلیر گستاخان مذہب اور شاتمان پیغمبر ﷺ کا فیصلہ اپنے قوت بازو سے کر کے روبرو عدالت اقرار جرم فاخرانہ انداز میں کرتے تھے۔ مجبور ہو کر فرنگی حکومت نے 1927ء میں دفعہ 295 کا مجموعہ تعزیرات ہند میں اضافہ کیا۔ جس کی رو سے توہین مذہب کی سزا دو سال تک قید بمعہ یا بدوں جرمانہ مقرر ہوئی۔
295. Whoever, destroys, damages or defiles any place of
خاتم النبیین
ختم نبوت
مجلہ
ب کی دفعات
شریح......
نقلاب کی چکا چوند کشش کے سبب مذہب ے نام سے ان کو یک گونہ چڑ ہو گئی ہے ان دار کے تحفظ کے لیے کوئی جگہ تسلیم نہیں قبول مذہب میں آزاد ہیں۔ اسی طرح ی آزاد ہیں۔ کے بعد 1860ء میں بیک جنبش قلم ذ ہوئے جن میں مذہب، مذہبی اقدار تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائی مشنری وصاً پیغمبر پاک ﷺ کے نام ناموس لچسپ مشغلہ بن گیا تھا۔ ازے بند پا کر دریدہ دہن گستاخان ازو سے کر کے روبرو عدالت اقرار کی حکومت نے 1927ء میں دفعہ رو سے توہین مذہب کی سزا دو سال 295. Whoever, dest
worship, or any object held sacred by any class of persons with the intention of thereby insulting the religion of any class of persons or with the knowledge that any class of persons is likely to consider such destruction, damage or defilement as an insult to their religion, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to two years, or with fine, or with both.
ترجمہ : ”جو کوئی شخص کسی عبادت گاہ یا کوئی ایسی چیز جس کو لوگوں کا کوئی فرقہ متبرک سمجھتا ہو ، تباہ کرے ، یا نقصان پہنچائے ۔ یا نجس کرے، اس نیت سے کہ وہ اس طرح لوگوں کے کسی فرقہ کے مذہب کی توہین کرے یا اس احتمال کے علم سے کہ لوگوں کا کوئی فرقہ اس تباہی ، نقصان یا نجس کرنے کو اپنے مذہب کی توہین سمجھے گا تو اسے دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائے گی۔ جس کی میعاد دو برس تک ہو سکتی ہے یا جرمانہ یا دونوں سزائیں۔“
- 1...... دفعہ 295 کے نفاذ سے مقصد ان شدت پسند مذہبی عناصر کو سزا یاب کرنا ہے جو
اپنے عقیدہ اور مذہب مخالف لوگوں کے مقدس مقامات اور مذہبی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچا کر یا انھیں نجس کر کے مخالف مذہب والوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہوں۔ کسی بھی مخالف مذہب یا اہل مذہب کے خلاف جارحانہ عزائم رکھنا، توہین آمیز اقدامات کرنا مذہبی رواداری کے خلاف ہے، جس کا کہ کوئی مذہب درس نہیں دیتا ہے، مشہور مثل ہے: اپنے مذہب کو چھوڑو نہیں، دوسروں کے مذہب کو چھیڑو نہیں۔
- 2...... نقصان پہنچانا، (Damaging) یا توہین کرنا (Defiling) اس میں
نقصان یا نجس کرنے کا تعلق صرف مادی شے یا مادی نقصان تک محدود نہیں ہے،
لا الہ الا اللہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان تاسیس
بلکہ عرف اور رواج میں جیسے کیسے افعال، اقوال اور اقدامات کو اس زمرہ میں لایا جاتا ہو، سب اس میں داخل ہیں، اس میں ایسے اقوال وافعال بھی داخل ہیں جن کے سرزد کرنے سے مذہبی شعائر کی توہین اور بداحترامی ظاہر ہوتی ہو۔ نیز ۔ نجس کرنے سے مراد محض گندگی سے مذہبی مقامات کو نجس کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کی عمومیت میں مادی غلاظت کے علاوہ مذہبی رسومات کی ادائیگی میں خرابی یا حرج پیدا کرنا بھی شامل ہے۔
- 3...... عبادت گاہ (Place of Worship) سے ہر ایسی جگہ یا مقام مراد ہے جو
مذہبی رسومات یا عبادت کے لیے وقف کیا گیا ہو، اور عام عرف یا رواج میں وہ عبادت گاہ کے نام سے جانا جاتا ہو، لہٰذا اگر غیر موقوفہ گھر یا زمین میں مذہبی رسومات یا عبادت ادا کی جاتی ہو تو عبادت اگر چہ عمومی انداز میں ادا ہوتی ہو، لیکن وہ مذہبی مقام عبادت گاہ یا مسجد اس لئے نہیں کہلا سکتا ہے کیونکہ وہ دراصل کسی خاص شخص کی مملوکہ زمین ہے نہ کہ موقوفہ زمین، ایسے میں اس کا مالک اگر اس کو توڑ دے گا، یا مذہبی رسومات کا سلسلہ بند کر کے خاص اپنے مصرف میں لائیگا تو اس کو جرم قرار نہیں دیا جائیگا۔
- 4...... دفعہ بالا کے تحت ملزم کو مستوجب تعزیر قرار دینے کے لیے درج ذیل چیزوں
کے ثبوت عدالت کو فراہم کرنے ہوں گے۔
- 1...... جگہ عبادت کے لئے مخصوص تھی یا لوگوں کے عقیدہ میں وہ مقام فی ذاتہ
متبرک تھا۔
- 2...... لوگوں کے کسی گروہ کے نزدیک وہ مقام یا جگہ متبرک خیال کی جاتی تھی۔
- 3...... ملزم نے ارتکاب جرم متعمد
- 4...... ملزم کی غرض:
- الف ۔ متعمدانہ نیت کے ساتھ
- ب ۔ اس کو علم یا ظن غالب تھا کہ
جذبات مجروح ہوں گے۔
- 5...... ضابطہ فوجداری کے لحاظ سے
- الف ۔ قابل ضمانت (able
- ب ۔ نا قابل راضی نامہ (e
- ج ۔ قابل دست اندازی
(warrant
- د ۔ جرم بالا کی سماعت کے ا
and malicious intention of class of the citizens of or written, or by visible insult the religion or the all be punished with erm which may extend to
ترجمہ: جو کوئی شخص (مسل کے شہریوں کے کسی فرقہ کے مذ تقریری ہوں یا تحریری، اشارو
- 3......ملزم نے ارتکاب جرم متعمدانہ قصد کے ساتھ کیا تھا۔
- 4......ملزم کی غرض:
- الف۔ متعمدانہ نیت کے ساتھ مخالف مذہب کی توہین تھی۔
- ب۔ اس کو علم یا ظن غالب تھا کہ اس اقدام سے لوگوں کی کسی جماعت کے مذہبی
جذبات مجروح ہوں گے۔
- 5......ضابطہ فوجداری کے لحاظ سے جرم بالا کی حیثیت درج ذیل ہے۔
- الف۔ قابل ضمانت (Bailable)
- ب۔ نا قابل راضی نامہ (Not compoundable)
- ج۔ قابل دست اندازی وارنٹ ( Shall not arrest without
(warrant
- د۔ جرم بالا کی سماعت کے اختیارات مجسٹریٹ درجہ اول یا دوم کو حاصل ہیں۔
295-A. Whoever, with deliberate and malicious intention of outraging the religious feelings, of any class of the citizens of Pakistan, by words, either spoken or written, or by visible representations insults or attempts to insult the religion or the religious beliefs of that class, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to ten years or with fine, or with both.
ترجمہ: جو کوئی شخص (مسلمان ہو یا کافر) دانستہ اور معاندانہ نیت سے پاکستان کے شہریوں کے کسی فرقہ کے مذہبی احساسات کی تذلیل کی غرض سے بذریعہ الفاظ خواہ تقریری ہوں یا تحریری ، اشاروں کنایوں میں اس جماعت یا فرقہ کے مسلک یا مذہبی
عقائد کی توہین کرے یا توہین کا اقدام کرے، اس کو دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزادی جائیگی جو دس سال تک ہو سکتی ہے، یا جرمانہ یا دونوں سزائیں۔
1...... دفعہ ہذا دراصل سابقہ دفعہ 295 پر ایزاد کی گئی ہے اس کی ضرورت اس لئے محسوس کی گئی کیونکہ سابقہ دفعہ فرنگی دور اقتدار کی وضع کردہ ہے، سابقہ دفعہ میں خامی یہ ہے کہ اس میں نہ تو زیادہ جامعیت ہے اور نہ جرم کے تدارک کی خاطر خواہ صلاحیت ہے، پاکستان جس میں فرقہ وارانہ نوعیت کے جرائم اور مذہبی جماعتوں کے باہم اختلافات اتنے شدید اور جارحانہ نوعیت کے ہیں کہ ہر وقت مذہبی جنونی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آتے ہیں اور بدقسمتی سے یہ لوگ ان فرقہ وارانہ خونیں سانحات کو دین کی اعلیٰ خدمت اور جہاد سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلامی ریاست کا نقض امن اور اسلامی ریاست کے کسی بھی شہری کے خلاف جارحانہ اقدام سخت گناہ اور حرام ہے۔
خونیں سانحات اور شدت پسندانہ ذہنیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ضروری تھا کہ فرقہ وارانہ جرائم کے تدارک کے لئے شدید تر تعزیری سزاؤں کا نفاذ کیا جائے، تاکہ پاکستانی شہری ایک دوسرے کے مذہب اور مسلک کے خلاف جارحیت کی جرات نہ کرسکیں۔ اس سبب سے چونکہ سابقہ دفعہ 295 کے مطابق دو برس کی سزا ناکافی تھی، اس لئے 1991ء میں ترمیم (Amendment) کے ذریعہ سزا بڑھا کر دفعہ ہذا کے تحت دس سال تک کر دی گئی۔
2...... دفعہ ہذا پاکستان کے تمام شہریوں کو بلا امتیاز شامل ہے۔ کسی بھی فرقہ یا مسلک سے تعلق رکھنے والا پاکستانی شہری خواہ مذہب میں وہ
یہودی ہو یا ہندو، عیسائی ہو یا دہ شیعہ، بریلوی ہو یا دیو بندی، غ اعتبار سے وہ کسی بھی مذہب سے کا احترام ہر شہری کا فرض ہے احساسات کو ٹھیس پہنچانا دفعہ ہ توہین کا عمل خواہ الفاظ سے و طریقہ سے متعمداً نہ قصداً ا تعزیر قرار پائے گا۔
3...... دفعہ ہذا کے تح معاندانہ نیت ضروری ہے۔ ا غرض سے کی جارہی ہو دفعہ ہ
کسی عمل کے مبنی بر م ہیں۔ شواہد کے تحت کسی عمل ک عدالت کے حکیمانہ اختیار ا
4...... حکومت کو حق حا پابندی عائد کرے جو کسی پا تسلی ہوئی ہو۔
5...... دفعہ ہذا (A - توہین کا براہ راست نشانہ م
یہودی ہو یا ہندو، عیسائی ہو یا دہری، قادیانی ہو یا آغا خانی ، مسلمانوں میں سے سنی ہو یا شیعہ، بریلوی ہو یا دیوبندی، غیر مقلد ہو یا مقلد۔ غرض پاکستانی شہری مذہبی تعلق کے اعتبار سے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ اس کے مذہبی عقائد اور مسلکی جذبات کا احترام ہر شہری کا فرض ہے۔ پاکستانی شہریوں کے کسی فرقہ یا جماعت کے مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچانا دفعہ ہذا کے تحت شدید نوعیت کا تعزیری جرم ہے۔ تذلیل یا توہین کا عمل خواہ الفاظ سے ہو یا اشاروں کنایوں سے، تحریری ہو یا تقریری، کسی بھی طریقہ سے متعمدانہ قصد اور معاندانہ نیت کے ساتھ زیر عمل لانے پر جرم مستوجب تعزیر قرار پائے گا۔
- 3....... دفعہ ہذا کے تحت جرم کے وجود میں آنے کے لئے متعمدانہ قصد اور
معاندانہ نیت ضروری ہے۔ لہٰذا تعمیری تنقید یا علمی مباحثہ جو کسی جماعت کی اصلاح کی غرض سے کی جا رہی ہو دفعہ ہذا کے احاطہ کار سے خارج ہوگا۔
کسی عمل کے مبنی بر عناد یا مبنی بر اصلاح ہونے کے لیے شواہد ضروری ہوتے ہیں۔ شواہد کے تحت کسی عمل کو تعزیری جرم یا آزادی تقریر و تحریر پر مبنی قرار دینے کا تعین عدالت کے حکیمانہ اختیارات پر ہوتا ہے۔
- 4....... حکومت کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی ایسے اخبار، رسالہ، کتاب یا جماعت پر
پابندی عائد کرے جو کسی پاکستانی فرقہ کے مذہبی احساسات یا عقائد مجروح کرنے پر تلی ہوئی ہو۔
- 5....... دفعہ ہذا (295 - A) اور سابقہ دفعہ 295 میں فرق یہ ہے کہ اس میں
توہین کا براہ راست نشانہ عبادت گاہ، مندر، مقدس مقام ہوتا ہے، جبکہ دفعہ ہذا میں
توہین کا براہ راست نشانہ مذہب یا مسلک ہوتا ہے دونوں میں قدر مشترک مذہب، فرد یا مقدس مقام کی براہ راست یا بالواسطہ توہین کو مستوجب تعزیر جرم ثابت کرنا ہے۔
295-B. Whoever, wilfully defiles, damages or decrates a copy of the Holy Qura'n or of an extract therefrom or uses it in derogatory manner or for any unlawful purpose shall be punished with imprisonment for life.
ترجمہ: ”جو کوئی قرآن پاک یا اس میں سے کسی اقتباس کی دانستہ بے حرمتی کرے، نقصان پہنچائے یا بے ادبی کرے، یا اسے کسی معیوب یا کسی غیر قانونی مقصد کے لیے استعمال کرے تو اسے عمر قید کی سزا دی جائیگی“
- 1...... دفعہ ہذا کے نفاذ سے مقصد قرآن پاک کے احترام کو قانونی تحفظ دینا ہے۔ دفعہ
ہذا 1982ء میں ایک ترمیمی آرڈیننس کے ذریعہ مجموعہ تعزیرات پاکستان میں شامل کی گئی ہے۔ کیونکہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ مقدس کتاب ہے۔ اس پر ایمان لانا اور اس کا احترام کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری اگرچہ قرآن پاک کی صداقت کا عقیدہ و احترام رکھنے کے پابند نہیں ہیں۔ لیکن انھیں دفعہ ہذا کے تحت یہ اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی کہ وہ قرآن پاک کی بے حرمتی یا ناجائز استعمال کے ذریعہ پاکستان کے اکثریتی باشندوں کے مذہبی احساسات اور دینی جذبات مجروح کریں۔ دفعہ ہذا کے تحت جو کوئی شخص مسلم ہو یا غیر مسلم قرآن پاک کی بے حرمتی کا مرتکب ہوگا تو اس کو سزائے عمر قید دی جائیگی۔
- 2...... بے حرمتی یا توہین کے جرم کے وجود میں آنے کے لیے متعمدانہ نیت ضروری
ہے غیر ارادی طور پر یا کوئی نسخہ کسی سے گر جا زمرہ میں نہیں آئیگا۔
- 3...... توہین یا بے حرمتی کی تعر
عرف میں جس عمل کو ارتکاب کنندہ شخص سے
- 4...... ضابطہ فوجداری کے تح
- الف...... قابل دست اندازی
(warrant
- ب...... ناقابل ضمانت۔ (
- ج...... ناقابل راضی نامہ (
- د...... سماعت کا اختیار سیشن کو
ہے غیر ارادی طور پر یا بے حرمتی کا قصد نہ ہونے کے وقت اگر قرآن پاک کا کوئی نسخہ کسی سے گر جائے، جل جائے، پھٹ جائے تو دفعہ ہذا کے تحت جرم کے زمرہ میں نہیں آئیگا۔
- 3...... توہین یا بے حرمتی کی تعریف کے حدود اربعہ عرف اور رسم و رواج کے تابع ہیں
عرف میں جس عمل کو توہین سمجھا جاتا ہو، اسکے سرزد ہونے پر سمجھا جائیگا کہ ارتکاب کنندہ شخص سے دفعہ ہذا کے تحت جرم سرزد ہوا ہے۔
- 4...... ضابطہ فوجداری کے تحت جرم بالا کی حیثیت درج ذیل ہے:
- الف...... قابل دست اندازی پولیس ( May arrest without
(warrant)
- ب...... ناقابل ضمانت ۔(Not bailable)
- ج...... ناقابل راضی نامہ (Not compoundable)
- د...... سماعت کا اختیار سیشن کورٹ (Court of Session) کو حاصل ہے۔
قانون توہین رسالت کا تاریخی پس منظر
عشق رسول مومن کے ایمان کا جزو لاینفک ہے۔ مسلمان قوم کی سرکار دو عالم ﷺ سے والہانہ عقیدت اور فطری محبت مثالی رہی ہے۔ مسلمانوں کی زندگی کا ماحصل اللہ تعالیٰ کی عظمت اور پیغمبر ﷺ سے والہانہ عقیدت ہے۔ مسلمان کے دل میں عظمت و عقیدت کا رنگ ہر چیز پر غالب رہتا ہے۔ اس کے سامنے ماں باپ، بھائی بہن، بیوی بچے اور عزیز و اقارب ہیچ ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے مسلمانوں کو جہاں جہاں اقتدار حاصل ہوا۔ ہندوستان، یورپ، افریقہ، عرب، اندلس غرض جس خطہ ارض پر مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہوا۔ وہاں کی اسلامی عدالتوں نے اسلامی قانون کی رو سے گستاخ رسول کو شدید سے شدید تر سزائیں دلوائی ہیں، چونکہ عموماً توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب اسلام اور پیغمبر اسلام کی عداوت و بد ذہنیت ہونے کے سبب علانیہ انداز میں ہوتا تھا، اس لئے اسلامی عدالتوں نے عمومی طور پر موت کی سزائیں جاری کی ہیں۔
ہندوستان پر برطانوی استعمار سے قبل شاتم رسول کی سزا سزائے موت رہی ہے۔ فتاویٰ عالمگیریہ کے فتاویٰ جات اس پر شاہد ہیں۔ بلکہ مغل بادشاہ اکبر کے سیکولر دورِ اقتدار میں بھی یہ سزا جوں کی توں موجود تھی، لیکن ہندوستان پر برطانوی استعمار کے قبضہ کے بعد جہاں اور قوانین موقوف کر دیئے گئے، وہاں بیک جنبش قلم توہین رسالت کا قانون بھی منسوخ قرار دیا گیا۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ توہین رسالت کا قانون منسوخ کرنے کا انجام بہت برا ثابت ہوا، مسلمان ناموس رسول پر حملہ کرنے والوں کا فیصلہ اپنے ہاتھ سے کر کے روبرو عدالت قتل کا برملا اعتراف کرتے تھے، اور
اس طرح بیسیوں فدائیان مصطفیٰ دار و رسن کے سریر شہادت پر رونق افروز ہوئے۔ مجبور ہو کر فرنگی سرکار نے 1927ء میں تحفظ مذہب کے لیے دفعہ 295 کا اضافہ کیا جس کی رو سے توہین مذہب کی سزا دو سال قید بمعہ جرمانہ ٹھہری، جو کہ جرم کے تدارک کے لیے انتہائی ناکافی سزا تھی۔
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد یہ توقع کی جاتی تھی اسلامی قوانین کے احیاء کے ساتھ ساتھ توہین رسالت کا اسلامی قانون بھی بحال ہوگا لیکن بدقسمتی سے ایک طویل عرصہ تک توہین رسالت کے قانون کے احیاء کی آرزو تشنہ تکمیل رہی، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسلام دشمن قوتوں اور پرستاران مغرب جو پاکستان کا قیام ہرگز نظریاتی اساس پر دیکھنا نہیں چاہتے۔ انھوں نے پاکستان کا نظریاتی تشخص ختم کرنے کے لیے سازشیں شروع کیں، عصری اداروں کے بعض زرخرید ادیبوں کے ذریعہ پاکستانی نوجوانوں کو دین سے برگشتہ کرنے کے لیے لادینیت کی دعوت پر مبنی لٹریچر ملک کے چپہ چپہ میں پھیلا دیئے گئے، ہیونلی کمیونزم (Heavenly Communism) نامی کتاب اسلام دشمن سلسلہ کی اہم کڑی ثابت ہوئی، کتاب ہذا میں نہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ تمسخر کیا گیا تھا بلکہ تمام مذاہب کا سوقیانہ انداز میں مذاق اڑایا گیا تھا۔ دینی پیشواؤں اور انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام پر بازاری نوعیت کے حملے کئے گئے تھے، کتاب کا لفظ لفظ اشتعال انگیز تھا۔
اس کتاب کی اشاعت سے پاکستان کے علمی حلقوں میں کہرام مچ گیا، علماء کا متفقہ فیصلہ جاری ہوا کہ کتاب کا مصنف واجب القتل ہے۔ اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں ضبط کر کے فوری طور پر اس پر پابندی لگائی جائے اور پیشگی حفاظت کے طور پر توہین رسالت کا قانون نافذ کر دیا جائے تاکہ آئندہ کسی دیدہ
دہن کو اس قسم کی سوقیانہ جسارت کا موقع نہ مل سکے۔ اس سلسلہ میں اسماعیل قریشی صاحب کی خدمات قابلِ تعریف ہیں۔
پاکستانی قوم کو جب اس کتاب کی اشاعت کا علم ہوا ۔ تو وہ مشتعل ہوئی خصوصاً لاہور جہاں کتاب کی اشاعت عمل میں آئی تھی۔ یہاں کی عوام نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور حکومت کے لیے امن وامان کا مسئلہ کھڑا ہوا۔ بالآخر اسلامی نظریاتی کونسل نے مسلمانان پاکستان کے دیرینہ مطالبہ کا نوٹس لیا اور شیخ غیاث محمد ، سابق اٹارنی جنرل ، کی تحریک پر حکومت سے سفارش کی گئی کہ توہین رسالت اور ارتداد کی سزا سزائے موت مقرر کی جائے۔
توہین رسالت کا کیس عدالتوں میں فائل کرنے کے ساتھ ساتھ عشق رسول سے سرشار ارکان پارلیمنٹ نے اس کو اسمبلی میں بھی پیش کیا۔ ہر دو جگہ کیس کا مدعی سزائے موت کا اجراء تھا۔ لیکن پاکستان کی وزارت قانون کی بصیرت انگیز نظر نے بل میں ترمیم کر کے شاتم رسول کی سزا سزائے موت یا عمر قید قرار دے کر توہین رسالت کا قانون 1984ء میں منظور کیا۔ شاتم رسول کی سزا سزائے موت یا عمر قید اسلام کی رو سے بالکل درست ہے، جس کی تخریج مقالہ ”شاتم رسول کی سزا“ میں تفصیل کے ساتھ کی گئی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ضیاء الحق مرحوم کے دورِ اقتدار میں توہین رسالت کے قانون کو قبولیت نصیب ہوئی اور نافذ العمل فرنگی قانون میں دفعہ 295 - C کا اضافہ عمل میں آیا۔
295-C. Whoever, by words, either spoken or written, or by visible representation, or by any imputation, innuendo, or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of the
Holy Prophet Muhammad (ﷺ) shall be punished with death, or imprisonment for life, and shall also be liable to fine.
ترجمہ : جو کوئی شخص (مسلمان ہو یا کافر) الفاظ سے تحریری ہوں یا تقریری، مکتوب کی شکل میں یا ظاہری نمونوں کی شکل میں، موہوم انداز میں یا کنائی انداز میں بالواسطہ یا بلاواسطہ سرکار دو عالم محمدﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرے، تو اسے سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جائیگی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔ نوٹ: دفعہ ہذا کی مکمل تشریح ”شاتم رسول کی سزا“ میں ملاحظہ فرمائیں۔
296. Whoever voluntarily causes disturbance to any assembly lawfully engaged in the performance of religious worship, or religious ceremonies, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to one year, or with fine, or with both.
ترجمہ : ”جو کوئی شخص (مسلمان ہو یا کافر) مجرمانہ قصد سے کسی مذہبی مجمع کو درہم برہم کرے۔ جبکہ وہ مجمع مذہبی عبادت یا مذہبی رسومات کی ادائیگی میں قانونی طور پر مصروف ہو، تو اسے دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائیگی جس کی میعاد ایک برس تک ہو سکتی ہے یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ۔“
- 1 ...... دفعہ ہذا کے نفاذ سے مقصد مذہبی جلسہ یا مذہبی اجتماع کو درہم برہم ہونے سے
بچانا ہے۔ مذہبی اجتماع اگر حکومت کی اجازت سے منعقد ہوا ہو۔ اور قانونی حدود کے تحت اس کی کارروائی چل رہی ہو، تو پاکستان کے کسی شہری کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس اجتماع کو اپنے عقیدہ کے خلاف پانے کے سبب مشتعل ہو کر اس کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے میں قانون اپنے ہاتھ میں لے۔ کوئی بھی
شخص اس طرح کے جرم کا مرتکب پایا گیا تو دفعہ ہذا کے تحت وہ قابل سزا قرار پائے گا۔ جس کی سزا ایک برس تک بدوں جرمانہ یا بمعہ جرمانہ ہوسکتی ہے۔
- 2...... دفعہ ہذا کے تحت جرم کے وجود میں آنے کے لیے درج ذیل شرائط ہیں:
- الف ...... مجمع کو درہم برہم کرنے کا اقدام متعمدانہ قصد کے ساتھ دانستہ انداز
میں ہوا ہو۔
- ب ....... مجمع مذہبی عبادت یا مذہبی رسومات میں مشغول تھا۔
- ج ...... مجمع جس عمل یا رسومات میں مشغول تھا وہ عمل ان کے عقیدہ میں عبادت تصور کیا
جاتا تھا۔
- د ....... مجمع یا جلسہ کا انعقاد قانونی طور پر جائز تھا۔
- 3....... مجمع کا اطلاق تین یا تین افراد سے زیادہ پر ہوتا ہے۔ اس لئے تین اشخاص کا
عبادت کے لیے جمع ہونا مجمع کی تشکیل کے لیے کافی ہے۔
- 4....... مجمع کا انعقاد یا رسومات کا قانونی ہونا ضروری ہے لہذا قانون کے تحت منعقدہ
جائز مجمع کو اس بناء پر غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اس کا انعقاد گلی یا شاہراہ پر ہونے کے سبب اس سے آمد و رفت میں رکاوٹ پیش آ رہی تھی، وجہ یہ ہے کہ اس کا انعقاد سرکاری اجازت نامہ کے تحت ہوا تھا۔ سرکاری اجازت سے جب اس کا انعقاد جائز بن گیا تو کسی بھی وجہ سے اس کو درہم برہم کرنے کا اقدام دفعہ ہذا کے تحت جرم مستوجب تعزیر ہوگا۔
- 5...... ضابطہ فوجداری کے تحت درج بالا جرم کو درج ذیل حیثیت میں رکھا گیا ہے۔
- الف ...... قابل دست اندازی سمن ۔
- ب...... قابل ضمانت - (Bailable)
- ج...... ناقابل راضی نامہ - (Not Compoundable)
- د...... سماعت کا اختیار مجسٹریٹ درجہ اوّل یا دوم کو حاصل ہے۔
297. whoever, with the intention of wounding the feelings of any person, or of insulting the religion of any person, or with the knowledge that the feelings of any person are likely to be wounded, or that the religion of any person is likely to be insulted thereby.
Commits any trespass in any place of worship or in any place of sepulture, or any place set apart for the performance of funeral rites or as depository for the remains of the dead, or offers any indignity to any human corpse or causes disturbance to any persons assembled for the performance of funeral ceremonies, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to one year, or with fine, or with both.
ترجمہ: جو کوئی شخص (مسلمان ہو یا کافر) کسی کا دل دکھانے یا کسی شخص کے مذہب کی توہین کرنے کی نیت سے یا اس امر کے احتمال کے علم سے کہ اس کے سبب سے کسی کا دل دکھے گا، قلبی احساسات مجروح ہوں گے یا اس کے مذہب کی توہین ہوگی۔
جو کوئی شخص کسی عبادت گاہ یا بت خانے یا ایسے مقام میں جو مقام دفن کرنے کی رسومات کے لئے مقرر ہو، یا جہاں لاش کو حفاظت میں رکھا جاتا ہو، کسی مداخلت بے جا کا مرتکب ہو، یا کسی انسان کی بے حرمتی کرے، یا ان اشخاص کے کام میں جو رسوم تدفین کے لئے جمع ہوں، خلل انداز ہو، تو اسے دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی
سزا دی جائیگی جس کی معیاد ایک برس تک ہو سکتی ہے یا جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں۔
- 1...... دفعہ ہذا کے نفاذ سے مقصد مزارات، بت کدوں، قبرستانوں، مردوں اور قابل تعظیم
مقامات کو تحفظ دینا ہے، دفعہ ہذا کے تحت مردوں، قبرستانوں یا قابل تعظیم مقامات کی توہین کرنے یا ایسی جگہوں پر مداخلت بے جا کرنے (Trespassing) کو جرم مستوجب تعزیر قرار دیا گیا ہے۔
- 2...... جرم کے اصل جزو دو ہیں۔
(1) کسی کا دل دکھانا۔ (2) کسی کے مذہب کی توہین کرنا۔
جو کوئی شخص متعمدانہ قصد کے ساتھ یا یہ علم رکھتے ہوئے کہ مردے کے ساتھ اس کے سلوک سے یا قابل تعظیم مزار میں مداخلت بے جا کرنے سے کسی کے احساسات مجروح ہو سکتے ہیں اور اس کے باوجود وہ اس کا اقدام کر لیتا ہے۔ تو دفعہ ہذا کے تحت وہ مجرم ٹھہرے گا۔ خواہ اپنے عقیدہ میں وہ اس کو کتنا ہی اچھا خیال کرتا ہو۔
- 3...... مداخلت بے جا (Trespassing) سے مراد ہر وہ مداخلت ہے جو کوئی
شخص کسی دوسرے کی زمین یا عوامی زمین پر کرے بشرطیکہ اس فعل سے جو کہ ارتکاب کنندہ سے متعمدانہ قصد کے ساتھ سرزد ہوا ہو۔ دوسرے شخص کے دلی احساسات یا مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔
لہٰذا... اگر کسی کی اپنی زمین پر بدوں اس کی اجازت کے کسی کی تدفین ہو رہی ہو، یا رسوم تدفین (Funeral Cermonies) کے لیے لوگ جمع ہوں۔ تو مالک زمین کو روکنے اور مداخلت کرنے کا حق حاصل ہے۔
- 4...... تجہیز و تکفین میں مصروف مجمع کو چھیڑنا، ان کے کام میں خلل ڈالنا دفعہ ہذا کے تحت
جرم قرار دیا گیا ہے، بشرطیکہ مجمع قانونی جواز کے تحت اس عمل میں مشغول ہو۔
ایک مقدمہ میں ملزم نے قبرستان کے اردگرد باڑ لگا دی، جس سے اس نے ملحقہ گاؤں کے رہنے والے شخص کے بیٹے کی تدفین میں مداخلت بے جا پیدا کی، عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ فعل اس شخص کے مردہ بیٹے کی لاش کی بے حرمتی تھی۔ اور ملزم دفعہ 297 کے تحت قابل سرزنش ہے۔
- 5...... مزاروں، قبرستانوں میں مروجہ بدعات کی عالمانہ انداز میں اور دلیل کی زبان
میں مخالفت دفعہ ہذا کے تحت جرم نہیں قرار پائیگا۔ کیونکہ ایک تو اس میں نیت اصلاح کی ہوتی ہے دوم اس میں مداخلت بے جا اور عملی اقدام بھی نہیں ہوتا ہے اس لئے علمی مباحثات و مناظرات دفعہ ہذا سے مستثنیٰ ہوں گے۔ لیکن اگر علمی مباحثہ کا ماحول گرمی لے کر میدان کارزار بن جائے، اور عملی انداز میں مزار یا قابل تعظیم مقام کو نقصان پہنچا دیا جائے، تو اس صورت میں مداخلت بے جا کے سبب جرم قرار پائے گا۔
- 6...... ضابطہ فوجداری کے تحت درج بالا جرم کو درج ذیل حیثیت دی گئی ہے:
- الف...... قابل دست اندازی سمن ۔
- ب...... قابل ضمانت ۔ (Bailable)
- ج...... ناقابل راضی نامہ ۔ (Not Compoundable)
- د...... سماعت کا اختیار مجسٹریٹ درجہ اوّل یا دوم کو حاصل ہے۔
- 298. Whoever, with the deliberate intention of wounding the
religious feelings of any person, utters any word or makes any sound in the hearing of that person or makes any gesture in the sight of that person or places any object in the sight of that person, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to one year, or with fine, or with both.
ترجمہ : جو کوئی شخص (مسلمان ہو یا کافر) متعمدانہ قصد و ارادہ سے کسی شخص (کافر ہو یا مسلمان) کے مذہبی احساسات کو مجروح کرنے کے لیے کوئی بات کہے، یا کوئی آواز نکالے جس کو وہ شخص سن سکے یا اس شخص کے روبرو کوئی حرکت کرے، یا کوئی شے اس کے روبرو رکھے، تو اس کو دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائیگی جس کی میعاد ایک برس تک ہو سکتی ہے یا جرمانہ یا دونوں سزائیں۔
- 1...... دفعہ ہذا کے نفاذ سے مقصد مذہب وعقائد کو تحفظ دینا ہے، پاکستان کے ہر شہری
(خواہ مسلمان ہو یا کافر) کو جان ، مال، آبرو اور مذہب کا تحفظ حاصل ہے۔ مذہبی عقائد کا تحفظ اسلام کے اندر بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ جس طرح کسی شخص کی جان، مال آبرو کو حملہ کا نشانہ بنانا جرم ہے، اسی طرح کسی کے مذہب کو منفی تنقید یا پراپیگنڈا کا مورد بنانا بھی جرم ہے۔ کسی کے مذہب کے خلاف پراپیگنڈا کرنا بایں طور کہ اس سے اس کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں، دفعہ ہذا کے تحت جرم قرار دیا گیا ہے۔
- 2...... دفعہ ہذا میں مذکور شق ..... ”مذہبی جذبات کا دانستہ مجروح کیا جانا“ ..... تعمیری
تنقید، جرح برائے اصلاح علمی مناظرہ اور مدلل تقریر و تحریر کو خارج کرتی ہے۔
کسی فرقہ کے عقائد کے خلاف اسمیں مقصود اصلاح ہوتی ہ جائے اور تعمیر سے زیادہ ت روشنی میں اس کو جرم قرار دی
- 3...... دفعہ ہذا کے تحت جرم کے
کے ساتھ ضروری ہے:
- الف...... ملزم نے جارحانہ الفا
- ب...... ملزم کی غرض محض دلآزا
- ج...... ملزم نے دانستہ طور پر تو
- 4...... ضابطہ فوجداری کے تحت
- الف...... قابل دست اندازی
- ب...... قابل ضمانت (ble
- ج...... قابل راضی نامہ (ble
- د...... اختیار سماعت مجسٹریٹ
ken or written, or by tion, innuendo or sacred name of any family (Ahle-bait), of ly of the righteous s (Sahaaba) of the be punished with
کسی فرقہ کے عقائد کے خلاف علمی تقریر و تحریر جرم اس لئے نہیں بن سکتی ہے کہ اسمیں مقصود اصلاح ہوتی ہے، فساد نہیں۔ لیکن اگر علمی تنقید بھی حدود پار کر جائے اور تعمیر سے زیادہ اسمیں دل آزاری کا رنگ غالب آ جائے، تو شواہد کی روشنی میں اس کو جرم قرار دیا جاسکتا ہے۔
- 3....... دفعہ ہذا کے تحت جرم کے وجود میں آنے کے لیے درج ذیل امور کا وجود ثبوت
کے ساتھ ضروری ہے:
- الف....... ملزم نے جارحانہ الفاظ استعمال کئے تھے۔
- ب....... ملزم کی غرض محض دل آزاری تھی۔
- ج....... ملزم نے دانستہ طور پر توہین آمیز الفاظ کا ارتکاب کیا تھا۔
- 4....... ضابطہ فوجداری کے تحت دفعہ ہذا کو درج ذیل حیثیت میں رکھا گیا ہے:
- الف....... قابل دست اندازی سمن
- ب....... قابل ضمانت (Bailable)
- ج....... قابل راضی نامہ (Compoundable)
- د....... اختیار سماعت مجسٹریٹ درجہ اوّل یا دوم کو حاصل ہے۔
298-A. Whoever by words, either spoken or written, or by visible representation, or by an imputation, innuendo or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of any wife [Ummul Mumineen], or members of the family (Ahle-bait), of the Holy Prophet Muhammad (ﷺ), or any of the righteous Caliphs (Khulafa-e-Rashideen) or companions (Sahaaba) of the Holy Prophet Muhammad (ﷺ) shall be punished with
imprisonment of either description for a term which may extend to three years, or with fine, or with both.
ترجمہ : ” جو کوئی شخص (مسلمان ہو یا کافر ) پیغمبر پاک ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ (ام المومنین ) یا ان کے ارکان کنبہ یا راست باز خلیفوں (خلفائے راشدین ) میں سے کسی کی یا پیغمبر پاک ﷺ کے ساتھیوں (صحابہ ) کی الفاظ سے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، واضح اشاروں میں یا معنوی انداز میں، طعنوں کے ذریعہ یا تعریض کے ذریعہ، بالواسطہ یا بلاواسطہ، بے حرمتی کرے، تو اسے دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائیگی جس کی معیاد تین برس تک ہو سکتی ہے یا جرمانہ یا دونوں سزائیں۔“
- 1...... دفعہ ہذا کے نفاذ سے مقصد صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حرمت و
ناموس کو تحفظ دینا ہے۔ دفعہ ہذا بذریعہ آرڈیننس نمبر 44 1980ء ایزاد کیگئی ہے۔ دفعہ ہذا کی رو سے جو کوئی شخص مسلمان ہو یا کافر ، شیعہ ہو یا سنی خلفائے راشدین ، صحابہ ، امہات المومنین ، اہل بیت کی کسی بھی طرح سے توہین یا بے حرمتی کا مرتکب ہوگا، تو وہ تین سال تک بمعہ یا بدوں جرمانہ تعزیری سزا کا مستوجب قرار پائیگا۔
- 2...... محض عالمانہ تنقید یا تاریخی تجزیہ بشرطیکہ تعمیری ہو، منفی نہ ہو، دفعہ ہذا کے احاطہ کار
سے خارج ہے۔ کیونکہ تبصراتی رنگ میں ڈوبی ہوئی تنقید کو کوئی بھی سمجھدار انسان سب وشتم اور منفی پراپیگنڈہ کے زمرہ میں شامل نہیں کر سکتا ہے، لیکن تعمیراتی ، تجزیاتی اور عالمانہ اثر سے عاری محض بغض وعناد پر مبنی تحریر یا تقریر دفعہ ہذا کے مشمولات میں داخل ہونے کے سبب مستوجب تعزیر جرم ہے۔
- 3...... ضابطہ فوجداری کے تحت دفعہ بالا کو درج ذیل حیثیت میں رکھا گیا ہے :
- الف...... قابل دست اندازی سمن
- ب...... قابل ضمانت (Bailable)
- ج...... نا قابل راضی نامہ۔ (Not Compundable)
- د...... اختیار سماعت مجسٹریٹ درجہ اول یا دوم کو حاصل ہے۔
- 298-B. (1) Any person of the Quadiani group or the Lahori
group (who call themselves 'Ahmadis' or by any other name) who by words, either spoken or written, or by visible representation;
- (a) refers to, or addresses, any person, other than a Caliph
or companion of the Holy Prophet Muhammad (ﷺ), as "Ameer- ul-Mumineen", Khalifa-tul-Mumineen", Khalifa-tul-Muslimeen, "Sahaabi" or "Razi Allah Anho";
- (b) refers to,or addresses, any person, other than a wife of
the Holy Prophet Muhammad (ﷺ), as "Ummul-Mumineen";
- (c) refers to, or addresses, any person, other than a member
of the family (Ahle-bait) of the Holy Prophet Muhammad (ﷺ), as "Ahle-bait"; or
- (d) refers to, or names, or calls, his place of worship as
"Masjid"; shall be punished with imprisonment of either description for term which may extend to three years, and shall also be liable to fine.
- (2) Any person of the Quadiani group or Lahori group (who
call themselves "Ahmadis" or by any other name) who by words, either spoken, or written, or by visible representation, refers to the mode or form of call to prayers followed by his faith as "Azan", or refers Azan, as used by the Muslims, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to three years, and shall also be liable to fine.
ترجمہ: ”1. قادیانی یا لاہوری جماعت کا کوئی فرد (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں ) زبانی یا تحریری الفاظ سے یا ظاہری بیان سے:
- الف......کسی شخص کو علاوہ خلیفہ یا پیغمبر پاک محمد ﷺ کے مصاحب کے، بطور امیر
المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے حوالہ دے یا خطاب کرے۔
- ب......کسی شخص کو علاوہ زوجہ پیغمبر پاک ﷺ کے، بطور ام المومنین کے حوالہ دے یا
خطاب کرے۔
- ج......کسی شخص کو، علاوہ پیغمبر پاک ﷺ کے اہل بیت کے بطور اہل بیت کے حوالہ
دے یا خطاب کرے۔
- د......یا اپنی عبادت گاہ کو بطور مسجد کے حوالہ دے، نام لے یا پکارے۔
تو اسے دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی سزا دی جائیگی جس کی میعاد تین برس تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔
- 2......قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کا کوئی شخص (جو خود کو احمدی یا کسی دیگر
نام سے موسوم کرتا ہو ) زبانی یا تحریری الفاظ سے یا ظاہری حرکات و سکنات سے، اپنے عقیدہ میں پیروی کردہ عبادت کے واسطے بلانے کے لیے کسی طریقہ یا شکل کو بطور اذان کہے یا دے جس طرح کہ مسلمان دیتے ہیں تو اسے دونوں قسموں میں کسی قسم کی سزائے قید دی جائیگی جس کی مدت تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔“
- 1......عوام کو خلط اور ذہنی تشویش سے بچانے کے لیے دفعہ ہذا کا نفاذ 1984ء میں
بذریعہ آرڈیننس کیا گیا ہے، دفعہ ہذا کے نفاذ سے مقصد ان خطابات، اسماء اور
اصطلاحات کو تحفظ دینا ہے جو کہ مسلمانوں کے لیے وصف لازم کی حیثیت رکھتی ہیں اور جن کے تذکرہ سے ذہن بدیہی طور پر اسلام یا اسلام کی مقدس شخصیات کی طرف جاتا ہو۔
- 2....... ضابطہ فوجداری کے تحت دفعہ بالا کو درج ذیل حیثیت میں رکھا گیا ہے۔
- الف....... قابل دست اندازی سمن۔
- ب....... ناقابل ضمانت (Not bailable)
- ج....... ناقابل راضی نامہ (Not Compundable)
- د....... اختیار سماعت مجسٹریٹ درجہ اول یا دوم کو حاصل ہے۔
298-C. Any person of the Quadiani group or the Lahori group (who call themselves 'Ahamadis' or by any other name), who directly or indirectly, poses himself as a Muslim, or calls, or refers to, his faith as Islam, or preaches or propagates his faith, or invites others to accept his faith, by words, either written or spoken, or by visible representation, or in any manner whatsoever, outrages the religious feelings of Muslims, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to three years and shall also be liable to fine.
ترجمہ: ”قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کا کوئی شخص (جو خود کو قادیانی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتا ہو ) بلاواسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہو یا اپنے عقیدہ کا بطور اسلام کے حوالہ دیتا ہو یا موسوم کرتا ہو یا دوسرے لوگوں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دیتا ہو۔ الفاظ خواہ زبانی ہوں یا تحریری، ظاہری حرکات وسکنات سے یا کسی بھی
وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ
طریقہ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے، تو اسے دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی سزائے قید دی جائیگی جس کی میعاد تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔
- 1...... قادیانی جماعت جس کی حیثیت پاکستان میں ایک اقلیتی فرقہ کی ہے، کو پابند کیا
گیا ہے کہ وہ اکثریتی باشندوں کے نام اور مذہب یعنی مسلمان اور اسلام کے نام سے اپنا یا اپنے مذہب کا حوالہ نہیں دے سکتی ہے۔ کیونکہ نام کے ناجائز استعمال کے سبب اس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتا ہے۔
- 2...... دفعہ ہذا کا نفاذ 1984ء میں بذریعہ آرڈیننس کیا گیا ہے۔ دفعہ ہذا کے نفاذ
سے مقصد اقلیتی فرقہ قادیانی جماعت کو اکثریتی جماعت اسلام اور مسلمانوں کے نام سے اپنی شناخت رکھنے یا ظاہر کرنے پر پابندی عائد کرنا ہے۔
- 3...... قادیانی جماعت کو بطور اقلیتی فرقہ کے پاکستان میں مکمل آزادی اور تحفظ حاصل
ہے، لیکن انسان یا جماعت کی آزادی حدود کا پابند ہوتی ہے۔ آزادی کا عمل بڑھ کر اگر کسی کی دلآزاری کا سبب بن جائے، تو عقل وخرد کی زبان میں اس کو آزادی نہیں ظلم کہتے ہیں جو کہ تعزیری جرم ہے۔ اس بناء پر قادیانی جماعت کے حقوق کی آئینی ضمانت ہر مسلمان کو مسلم ہے۔ مسلمان اگر یہودیوں کو اپنی ریاست میں برداشت کر سکتے ہیں۔ ان کے حقوق کو تحفظ دے سکتے ہیں تو پھر قادیانی جماعت کو کیوں برداشت نہیں کر سکتے ہیں؟ اسلام اور مسلمان رواداری پر یقین رکھتے ہیں۔ غیر مذاہب والوں کو برداشت کرنا مسلمانوں کا طرہ امتیاز رہا ہے۔
- 4...... ضابطہ فوجداری کے تحت جرم بالا کو درج ذیل حیثیت دی گئی ہے۔
- الف...... قابل دست اندازی سمن ۔
- ب ...... ناقابل ضمانت able)
- ج...... ناقابل راضی نامہ ble)
- د...... اختیار سماعت مجسٹریٹ در
- ب...... ناقابل ضمانت (Not bailable)
- ج...... ناقابل راضی نامہ (Not Compundable)
- د...... اختیار سماعت مجسٹریٹ درجہ اول یا دوم کو حاصل ہے۔
باب سوم
قانون توہینِ رسالت......
(Blasphemy Law)
- شاتم رسول کی سزا
- اسلام میں مرتد کی سزا
- توہین رسالت کی سزا قرآن وسنت کی روشنی میں
- شاتم انبیاء کی سزا
- شاتم قرآن کی سزا
- شاتم صحابہ کی سزا
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یسیں وہی طٰہٰ
شاتم رسول کی سزا
295 -C Whoever by words, either spoken or writhen, or by visible representation. or by imputation, innuendo, or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of the holy prophet muhammad (ﷺ) shall be punished with death or imprisonment for life and shall also be liable to fine.
ترجمہ : ”جو کوئی شخص بذریعہ الفاظ خواہ تحریری ہوں یا زبانی یا دکھنے والے نمونوں کے ذریعہ سے ، موہوم انداز میں یا عیارانہ انداز میں یا اشارہ و کنایہ سے بلاواسطہ یا بالواسطہ پیغمبر پاک محمد ﷺ کے مبارک نام کی توہین کرے تو اس کو موت یا عمر قید کی سزا دی جائیگی۔ نیز ...... مجرم جرمانہ کا مستوجب ہوگا“۔
اس دفعہ کے نفاذ سے مقصد پیغمبر پاک ﷺ کی ذات اور آپ کے نام گرامی کی عزت وتوقیر کو قانونی تحفظ دینا ہے۔ اور پاکستانی شہریوں کے مذہبی جذبات اور دینی احساسات کو مجروح ہونے سے بچانا ہے۔ چونکہ کسی بھی ملک کے باشندوں کی اکثریت کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے پیغمبر پاک کی ذات اور آپ کے نام گرامی کی عزت وتوقیر جو ہر پاکستانی شہری کے دل کی آواز ہے۔ جو کوئی شخص کسی بھی انداز میں آپ کی توہین یا آپ کے نام گرامی کی بے حرمتی یا بے جا استعمال کا مرتکب ہوگا۔ تو اس کو سخت ترین تعزیری سزا دی جائیگی۔ جو موت یا عمر قید کی صورت میں ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔
توہین (Defilement) کے لیے ضروری نہیں کہ وہ صریح انداز میں سرزد ہوئی ہو، اشاروں کنایوں میں ہو یا مضمون کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتی ہو، یا مجرم
کے فعل اور انداز سے ظاہر ہوتی ہو۔ اسی لئے عدالت نے دفعہ بالا کی عمومیت کے تحت ایک قادیانی شخص کو جرم بالا (295-C) کا مرتکب قرار دیا جس نے شادی کارڈ پر درود شریف لکھا ہوا تھا۔ کیونکہ درود شریف اگرچہ بغیر کسی نقص اور بغیر کسی تحریف کے لکھا ہوا تھا۔ لیکن اس کے فعل اور انداز سے ظاہر تھا کہ وہ مقدس نام سے ایک بے محل شخص لے رہا ہے۔ جو اس کے عقیدہ کے مطابق غلام احمد قادیانی تھا۔
شاتم رسول کا کونسا فعل یا قول توہین آمیز یا گستاخانہ ہے اور کونسا نہیں ہے؟ چونکہ اس کا تعلق نیز اس کے حدود اور دائرہ کار کا تعلق عوامی رواجات سے ہوتا ہے۔ اس لئے توہین (Defilement) کی درج بالا دفعہ میں تعریفی حد بندی کی بجائے اس کی تعریف کو عوام کے عمومی رواجات پر چھوڑ دیا ہے، کہ عرف اور رواج میں جسے گالی، گستاخانہ جملہ اور توہین آمیز انداز تصور کیا جائے تو سمجھا جائیگا کہ قائل نے درج بالا جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
علامہ ابن تیمیہؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
اذا لم یکن للسب حد معروف فی اللغۃ ولا فی الشرع فالمرجع فیہ الی عرف الناس، فما کان فی العرف سبا فہو سب للنبی......
فکل ماعدہ الناس شتما او سبا او تنقصا فانہ یجب بہ القتل۔
(الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ 549)
ترجمہ: ”سب (برا بھلا کہنا) نہ لغت کی زبان میں اور نہ شریعت کی اصطلاح
میں کوئی تعریف کی گئی ہے۔ بلکہ اس میں اصل مدار لوگوں کا عرف ہے عرف اور رواج میں جسے گالی کہا جائے ، وہ اللہ کے رسول کے لیے بھی گالی سمجھی جائیگی ۔ لہٰذا ......... لوگ جسے گالی ، نازیبا جملہ ، یا توہین تصور کریں ۔ وہ لفظ اگر کسی سے اللہ کے رسول کے شان میں سرزد ہوگا ۔ تو شاتم رسول ہونے کے سبب اس کی سزا قتل ہوگی ۔“
جرم بالا ”توہین رسالت“ کی سزا اسلامی قانون میں علی الاطلاق نہیں ہے ۔ بلکہ مجرم اور جرم کی نوعیت پر ہے:
- 1...... جرم بالا کا مرتکب اگر مسلمان ہو ۔ تو تمام امت کا اس پر اتفاق ہے کہ توہین
رسالت کا ارتکاب کرنے سے وہ کافر ہو گیا ہے۔ اس لئے وہ :
- 1...... مرتد ہے۔
- 2...... اس کی سزا حد ”قتل“ ہے۔ قتل کے علاوہ حکومت وقت یا قاضی کوئی دیگر سزا تجویز
نہیں کر سکتا ہے۔ کیونکہ مستوجب حد سزا ( Offence liable to hadd) ناقابل ترمیم (Not amendable) ہوتی ہے۔
امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں :
ان الساب ان كان مسلما فانه يكفر و يقتل من غير خلاف وهو مذهب الائمة الاربعة وغيرهم و قد تقدم ممن حكى الاجماع على ذالك اسحاق بن راهويه وغيره (الصارم المسلول على شاتم الرسول صفحه 44)
ترجمہ : ”شاتم رسول اگر مسلمان ہو، تو اس جرم سے وہ مرتد ہو جائیگا اور باجماع امت اس کی سزا قتل ہے۔ یہی ائمہ اربعہ اور دیگر علماء کا مسلک ہے۔ اسحاق بن راہویہ
(جیسا کہ پیچھے گزرا) اور دیگر علماء نے اس پر ساری امت کا اجماع نقل کیا ہے“۔
- 2...... اور اگر شاتم رسول اسلامی ملک کا کافر شہری ہو ۔ تو اس نکتہ پر تو سب کا اتفاق ہے
کہ توہین رسالت کا جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔ اس لئے
”العقوبات علی قدر الجرائم“
ترجمہ ” سزا بقدر جرم “
کے اصول کے مطابق اس کافر شہری کی سزا بھی سنگین ترین ہونی چاہیے۔ لیکن علمائے محققین کا اختلاف اس جرم کی سزا کے تعین میں رہا ہے۔
- 1.......امام مالک، امام احمد بن حنبل اور بعض شوافع علماء کا مسلک یہ ہے کہ جرم بالا کی
سزا حد بصورت قتل ہے۔ نیز ارتکاب جرم ” توہین رسالت“ سے اس کی شہریت از خود ختم ہو جائیگی۔ جبکہ حنفی علماء کی رائے میں جرم بالا اپنی انتہائی سنگینی کے باوجود قابل تعزیر ہے۔ قابل حد نہیں ہے۔ نیز ارتکاب جرم سے اس کی شہریت از خود منسوخ نہیں ہوگی۔
شیخ الاسلام مولانا تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
”ان الذمى ان سب النبى فانه يعزر على ذالك ولكنه لا ينتقض بذالك عهده ولا يقتل“
(تکملۃ فتح الملہم ۔ ج 4 صفحہ 252)
ترجمہ :۔ اسلامی ملک کا کافر شہری اگر اللہ کے رسول کو سب و شتم کرے ۔ تو اس کو تعزیری سزا دی جائیگی ۔ ارتکاب جرم سے اس کی شہریت از خود منسوخ نہ ہوگی اور نہ وہ (بطور حد ) قتل کیا جائیگا ۔“
آگے لکھتے ہیں:
اما المالكية والحنابلة وجماعة من الشافعية فذهبوا الى ان سب النبى امر ينتقض به عهد الذمى، فيقتل به .
(تكملة فتح الملہم ج 4 صفحہ 253)
ترجمہ: ”مالکی، حنبلی اور بعضے شافعی المسلک علماء کا مسلک یہ ہے کہ جرم توہین رسالت کے ارتکاب سے کافر شہری کی شہریت از خود ختم ہو جائیگی اور بصورت حد اس کو سزائے موت دی جائیگی۔“
امام ابن تیمیہ اپنی کتاب ۔الصارم المسلول علی شاتم الرسول۔ میں ائمہ ثلثہ کی تائید میں اپنی رائے اس انداز سے پیش کرتے ہیں :
نقول ”ان سب النبى كان موجبا للقتل فى حياته. وكان اذا علم بذالك تولى هذا الحق . فان احب استوفى . وان احب عفا، فاذا تعذر اعلامه لغيبته أو موته وجب على المسلمين القيام بطلب حقه. ولم يجز العفو لأحد من الخلق كما لا يجوز العفو عمّن سب غيره من الاموات والغياب.
(الصارم المسلول على شاتم الرسول صفحہ 442)
ترجمہ : ”ہم کہتے ہیں جرم توہین رسالت آپ کی حیات طیبہ میں مستوجب قتل تھا۔ اس قسم کا جرم جب آپ کے سامنے آتا۔ تو آپ کو کلی اختیار تھا۔ کہ چاہیں تو مجرم کو قتل فرمادیں، اور چاہیں تو معاف فرمادیں، اب جبکہ آپ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ تو یہ فرض مسلمانوں کے سر آتا ہے۔ کہ ناموس رسالت کے تحفظ میں توہین رسالت کی سزائے قتل کو نافذ رکھیں۔ اور اس کیس میں مجرم کو کسی صورت معافی دینا جائز نہیں ہے۔ بالکل اس طرح جس طرح کہ کسی مردہ یا غائب شخص کو کوئی شخص سب وشتم کرے تو متاثرہ شخص کے علاوہ جس طرح کوئی غیر شخص مجرم کو معافی نہیں دے سکتا۔ اسی طرح
من الشافعية فذهبوا الى ان سب الله . (تکملة فتح الملهم ج 4 صفحہ 253) مختلف علماء کا مسلک یہ ہے کہ جرم توہین وخود ختم ہو جائیگی اور بصورت حد اس کو
المسلول علی شاتم الرسول ۔ میں بیان کرتے ہیں :
المقتل في حياته . وكان اذا علم الى . وان احب عفا، فاذا تعذر للمسلمين القيام بطلب حقه. ولم يجوز العفو عمن سب غيره من
(الصارم المسلول صفحه 442)
آپؐ کی حیات طیبہ میں مستوجب قتل آپؐ کو کلی اختیار تھا ۔ کہ چاہیں تو مجرم کو اب آپؐ ہمارے درمیان نہیں ہیں ۔ رسالت کے تحفظ میں توہین رسالت کی کسی صورت معافی دینا جائز نہیں شخص کو کوئی شخص سب و شتم کرے کو معافی نہیں دے سکتا۔ اسی طرح
محمد رسول الله
خاتم النبیین
کسی مسلمان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ شاتم رسول کو معافی دے۔‘‘
بہر حال فقہائے کرام جہاں ایک طرف جرم و سزا کی سنگینی پر متفق ہیں ۔ تو دوسری طرف سزا کے تعین اور جرم کے تدارک میں ان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جرم بالا کی سزا میں ائمہ ثلاثہ (تینوں امام ) کے مسلک کا حاصل یہ ہے کہ مجرم اگر اسلامی ریاست کا غیر مسلم شہری ہو:
- 1...... تو جرم مستوجب حد ہے مستوجب تعزیر نہیں۔
- 2...... مجرم کی سزا صرف قتل ہے اس کے علاوہ نہیں۔
- 3...... حکومت وقت کو اس سزا میں ردو بدل یا ترمیم (Amendment) کا اختیار
نہیں ہے۔
- 4...... حکومت وقت سزائے موت کو سزائے عمر قید میں نہیں بدل سکتی ہے۔
- 5...... ارتکاب جرم سے غیر مسلم شہری کی شہریت از خود ضبط ہو جائیگی شہریت کی منسوخی
میں عدالتی فیصلے یا حکومت وقت کے آرڈر کی ضرورت نہیں ہے۔ شہریت کی منسوخی ارتکاب جرم کا فوری نتیجہ ہے ، جس طرح کہ طلاق نکاح کی منسوخی کا فوری نتیجہ ہے۔
جبکہ علمائے حنفیہ کی اس مسئلہ میں عالمانہ تحقیق یہ ہے کہ:
- 1...... توہین رسالت کا جرم مستوجب تعزیر ہے، مستوجب حد نہیں ہے۔
- 2...... تعزیری سزا انتہائی سنگین ہونی چاہیے ۔ کیونکہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔
- 3...... حکومت وقت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کوئی سی انتہائی تعزیری سزا تجویز کر دے
مثلاً سزائے موت یا سزائے عمر قید وغیرہ ۔
- 4...... جرم قابل تعزیر ہے۔ اس لئے قابل ترمیم (Amendable) بھی ہے۔
- 5...... شہریت کی منسوخی یا عدم منسوخی سے جرم بالا کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے
ارتکاب جرم سے مجرم کی شہریت از خود منسوخ نہ ہوگی ۔ ہاں حکومت اگر مناسب سمجھے تو منسوخ کر سکتی ہے۔
حنفی علمائے کرام کا درج بالا جرم کو قابل تعزیر ( Offence liable to Tazir) قرار دینے سے جرم بالا کے خفیف ہونے کا شائبہ اٹھ سکتا ہے۔ کیونکہ حد کی سزا اپنی ذات میں سنگین سزا ہوتی ہے، جبکہ تعزیری سزا عام حالات میں خفیف سزا ہوتی ہے۔
لیکن اس کیس میں اگر حنفی فقہاء کرام کے موقف کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جرم بالا کو مستوجب تعزیر ماننے سے توہین رسالت کے جرم کو خفیف نوعیت کا جرم ثابت کرنا نہیں ہے۔ بلکہ دراصل اس جرم کو .......... مستوجب حد جرم ..... جتنا یا اس سے بھی سنگین جرم ثابت کرنا ہے۔ کیونکہ کسی بھی جرم کو مستوجب حد جرم ماننے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ حد کی صورت میں علی التعیین وہی سزا دی جا سکتی ہے۔ کوئی غیر نہیں اگر چہ متبادل تعزیری سزا اپنی ذات میں لاگو کردہ حد سے کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو۔
جبکہ تعزیرات کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، جرم کی نوعیت کے لحاظ سے بیک وقت ایک یا متعدد سنگین نوعیت کی سزائیں لاگو کی جاسکتی ہیں۔
کیونکہ تعزیری سزاؤں کی سنگینی یا خفیف ہونے کا انحصار جرم کی نوعیت پر ہوتا ہے جرم اگر انتہائی سنگین نوعیت کا ہو، اور مستوجب حد جرائم سے بھی اس کی سنگینی بڑھ جاتی
ہو ۔ تو حکومت وقت کو اختیار حاصل ہے کہ سزا حد سے بھی زیادہ شدید تجویز کر دے مـ
مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے العرف تھانویؒ نے اعلاء السنن (ج11 صفح الآثار (ج 2 صفحہ 72) میں اس موقف کو رائج
شیخ الاسلام مولانا تقی عثمانی صاحب الأمر في تعيين قدر الضرب بقدر شدة الجناية و خفتها فيجـ بالغاً مابلغ ، فيجوز ان يزيد به علـ 2 . صفحه 510)
ترجمہ : ’’ تعزیر بالضرب کی صور حاکم وقت یا قاضی کو حاصل ہے۔ حتی کـ سکتا ہے۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی جـ ماننے اور مستوجب حد نہ ماننے سے مقصـ
- 1...... دراصل اس جرم کے لیے حد کی سـ
- 2...... مستوجب حد جرم کی سزا ایک مخصـ
سزا دی جا سکتی ہے۔ جبکہ تعزیری اطلاق اور غیر محدود دائرہ میں جـ
ہو۔ تو حکومت وقت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جرم کی سنگین نوعیت کے اعتبار سے اس کی سزا حد سے بھی زیادہ شدید تجویز کر دے۔
مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے العرف الشذی (ص426) میں، مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اعلاء السنن (ج11 صفحہ 737) میں، علامہ طحاویؒ نے شرح معانی الآثار (ج2 صفحہ 72) میں اس موقف کو راجح بتایا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں ............
الأمر فی تعيين قدر الضربات موكول الی رأی الإمام والقاضی بقدر شدة الجناية و خفتها فيجوزله اختيار ماشاء فی عدد الضربات بالغاً ما بلغ، فيجوز ان يزيد به علی قدر الحد ایضاً . (تكملة فتح الملهم ج 2 . صفحہ 510)
ترجمہ : ’’تعزیر بالضرب کی صورت میں کوڑوں کی مقدار کے تعین کا اختیار حاکم وقت یا قاضی کو حاصل ہے۔ حتی کہ حد کی سزا سے بھی زیادہ سنگین سزا تجویز کر سکتا ہے۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی انتہائی سنگین نوعیت کے جرائم کو مستوجب تعزیر ماننے اور مستوجب حد نہ ماننے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ:
- 1 ..... دراصل اس جرم کے لیے حد کی سزا سے بھی زیادہ سنگین سزا تجویز کرنا ہوتا ہے۔
- 2 ..... مستوجب حد جرم کی سزا ایک مخصوص سزا میں محدود ہوتی ہے، اور علی التعیین وہی
سزا دی جاسکتی ہے۔ جبکہ تعزیری سزاؤں کا دائرہ کار بہت وسیع ہوتا ہے، وہ اپنے اطلاق اور غیر محدود دائرہ میں ہونے کے سبب بیک وقت متعدد اور حد سے بھی
زیادہ سنگین سزائیں ایک جرم میں تجویز کی جا سکتی ہیں۔
اس سلسلہ میں زنا اور لواطت (Homo sexuality) کی سزاؤں کا مطالعہ حنفیہ کے درج بالا موقف کا صحیح انداز میں وضاحت کرتا ہے
غیر شادی شدہ شخص کا زنا اگر چہ اپنی ذات میں انتہائی سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ لیکن مستوجب حد ہونے کے سبب حکومت وقت پابند ہے کہ وہ مجرم کے خلاف اس جرم کی مخصوص سزا (100 کوڑے) لاگو کرے۔
اس کے مقابلہ میں لواطت کا جرم ہے۔ جو حنفی علماء کے نزدیک مستوجب تعزیر جرم ہے، مستوجب حد نہیں۔ مستوجب تعزیر اس لئے نہیں کہ یہ اپنی شناعت اور سنگینی میں جرم زنا سے کم ہے، بلکہ اس لئے کہ اس جرم کی سنگینی اور گھناؤنا پن جرم زنا سے بدرجہا بڑھ کر ہے۔ کیونکہ زنا ایک فطری عمل ہے۔ جبکہ لواطت غیر فطری عمل ہے۔
جب لواطت کا عمل اپنے گھناؤنا پن میں زنا سے بڑھکر ہوا۔ تو تعزیری طور پر حاکم کو اختیار حاصل ہے کہ وہ مجرم کے خلاف جرم زنا کی سزا جاری کر دے۔ یا حد سے بھی سخت سزا دے۔ مثلاً :
- 1...... جیل خانہ کے کسی اندھیر، خوفناک، بد بودار کوٹھی میں سزائے عمر قید دیدے۔
- 2...... مجرم کو آگ میں جلا کر راکھ کر دیا جائے۔
- 3...... بلند پہاڑ یا بلڈنگ سے اوندھے منہ پٹخ دیا جائے۔ اور پیچھے سے پتھروں کی
بارش کر دی جائے۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
أن اللوطة ليس بزنا ولا معناه فلا يثبت فيه حد، و ذالك لأن
الصحابة اختلفوا فى موجبه، فمن و منهم من قال، يهدم عليه مرتفع مع اتباع الاحجار، فلم يختلفوا بل كانوا يتفقون على ا فى موجبه و هم اهل اللسان الزناء لغة ولا معناه(فتح القدير. ج
ترجمہ : ’’لواطت کا عمل نہ زنا ہے میں زنا کی سزائے حد ثابت نہیں ہو سکتی سزا میں مختلف آراء رہی ہیں۔ بعض صحا دیا ہے۔ بعض نے دیو ہیکل دیوار گرا بعضے صحابہ نے بلند جگہ سے مجرم کو اوند کرنا قرار دیا ہے۔ اب صحابہ اہل زبا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ لواطت لغت یا از روئے معنی ایک ہوتے بتاتے۔“
درج بالا اقتباس میں ذکر کر لواطت کی تعزیری سزا میں اختیار ک سزا کو تعزیری ماننے سے حنفیہ کی غرض کیونکہ یہ جرم خفیف ہے اور زنا کی
الصحابة اختلفوا فى موجبه، فمنهم من اوجب فيه التحريق بالنار، و منهم من قال، يهدم عليه الجدار و منهم من يلقيه من مكان مرتفع مع اتباع الاحجار، فلو كان زنا فى اللسان او فى معناه لم يختلفوا بل كانوا يتفقون على ايجاب حد الزناء عليه، فاختلافهم فى موجبه وهم اهل اللسان دليل على انه ليس من مسمى لفظ الزناء لغة ولا معناه
(فتح القدير . ج 5 صفحه 44)
ترجمہ: ”لواطت کا عمل نہ زنا ہے اور نہ ہی اس کے معنی میں ہے۔ اس لئے اس میں زنا کی سزائے حد ثابت نہیں ہوسکتی ہے۔ اور یہ اس لئے کہ خود صحابہ میں لواطت کی سزا میں مختلف آراء رہی ہیں۔ بعض صحابہ نے اس کی سزا آگ کے الاؤ میں جلانا قرار دیا ہے۔ بعض نے دیوار گرا کر اسکے نیچے مجرم کو کچل دینا قرار دیا ہے۔ جبکہ بعض صحابہ نے بلند جگہ سے مجرم کو اوندھے منہ پٹخ دینا اور اس کے پیچھے پتھروں کی بارش کرنا قرار دیا ہے۔ اب صحابہ اہل زباں تھے۔ لواطت کی سزا میں اختلاف رائے کرنا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ لواطت اور چیز ہے اور زنا اور، اگر یہ دونوں از روئے لغت یا از روئے معنی ایک ہوتے ، تو صحابہ متفقہ طور پر اس کی سزا زنا کی سزائے حد بتاتے ۔“
درج بالا اقتباس میں ذکر کردہ صحابہ کی مختلف تجویز کردہ سزاؤں کو حنفی علماء نے لواطت کی تعزیری سزا میں اختیار کیا ہے۔ جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ لواطت کی سزا کو تعزیری ماننے سے حنفیہ کی غرض ہرگز یہ نہیں ہے کہ جرم لواطت کی سزا خفیف ہو کیونکہ یہ جرم خفیف ہے اور زنا کی سزا شدید ہو کیونکہ وہ جرم سنگین ہے بلکہ اس لئے کہ
لواطت زنا کے جرم سے زیادہ سنگین ہونے کے سبب زنا کا جامہ معنی نہیں پہن سکتی ہے۔ اور زنا کے معنی میں نہ ہونے کے سبب اس کی سزائے حد کو بھی بظاہر جاری نہیں کیا جاسکے گا۔ لیکن تعزیری طور پر حد زنا جتنی یا اس سے بھی سخت سزا حاکم وقت جاری کر سکتا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا محمد تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
قد ثبت أن عقوبة اللوطی عندالحنفیة ليست حداً و لكنهم مع ذالك عينواله بعض العقوبات مثل ان يرمى من الجبل او يحبس فى بیت مظلم منتن حتى يموت
(تكملة فتح الملهم، ج 2 صفحه 265)
ترجمہ: یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ لوطی کی سزا حنفی علماء کے نزدیک حد نہیں ہے۔ بلکہ تعزیر ہے۔ اس کے باوجود حنفی علماء نے اس جرم کے لیے سخت سزائیں تجویز کی ہیں۔ مثلاً ....... مجرم کو اونچے پہاڑ سے نیچے پھینک کر مارنا، یا انتہائی بد بودار کوٹھری میں رکھنا کہ سڑ سڑ کر خود ہی مر جائے۔
تو جس طرح درج بالا جرم لواطت کو حنفی علماء مستوجب حد کی بجائے مستوجب تعزیر جرم تسلیم کرتے ہیں۔ اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جرم زنا سے جرم لواطت زیادہ سنگین ہے، اس لئے اس جرم کے حالات و واقعات، مجرم کی نفسیات، وقوعہ کے سیاق و سباق اور محل وقوع کے ماحول کے اعتبار سے مجرم کے خلاف شدید سے شدید تر تعزیری سزا کا فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ جو زنا کی سزائے حد سے بھی زیادہ عبرتناک اور سبق آموز ہو سکتی ہے۔
اسی طرح مذکورہ الصدر جرم توہین رسالت اگرچہ حنفی علماء کے نزدیک مستوجب
حد نہیں ہے، لیکن انتہائی سنگین نوعیت کا جرم ضرور ہے، اور ظاہر ہے سنگین نوعیت کے جرم کی صورت خفیف سزا کیسے پوری کر سکتی ہے۔ اس لئے توہین رسالت کو سنگین نوعیت کا مستوجب تعزیر جرم کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت وقت شاتم رسول کے خلاف جس نوع کی سنگین تعزیری سزا وضع کرنا چاہے، وہ اس میں مکمل آزاد ہے۔ حکومت وقت جرم کے حالات و واقعات ، جرم کے محل وقوع، مجرم کے رویہ اور ارتکاب جرم سے پڑنے والے اثرات کے اعتبار سے جس نوع کی ذلت آمیز تعزیری سزا نافذ کرنا چاہے، کر سکتی ہے۔
- 1 ...... اب اگر مجرم سے سرزد شدہ توہین رسالت کا جرم انتہائی سنگین نوعیت کا
ہو۔ کہ مجرم نے علانیہ اللہ کے رسول ﷺ پر طعن و تشنیع کیا ہو یا کتابی شکل میں یا اپنی کسی تصنیف میں اس قسم کے جرم کا اظہار کیا ہو۔ تو ایسے جرم کی سزا میں حنفی علماء کی وہی رائے ہے جو تینوں ائمہ کی ہے۔ (جس کی تفصیل سابق میں کر دی گئی ہے۔) یعنی مجرم کو پھانسی دی جائے یا سزائے موت دی جائے۔ بس فرق اتنا ہے۔ کہ حنفی علماء کی نظر میں درج بالا سزا تعزیری ہے، جبکہ ائمہ ثلثہ کے نزدیک مجرم کی سزائے قتل بطور حد ہے، بطور تعزیر نہیں۔
- 2 ..... اور اگر مجرم نے درج بالا جرم کا ارتکاب مخفی انداز میں یا غیر علانیہ انداز
میں کیا ہو۔ اور اب اقبال جرم سے انکاری ہو اور ارتکاب جرم سے اپنی برائت ظاہر کرتا ہو تو ظاہر ہے اس نوع کا جرم مقدم الذکر جرم سے خفیف ہے۔ اس لئے سزائے قتل کے علاوہ حکومت وقت یا عدالت جو سزا مناسب سمجھے، تجویز کر سکتی ہے۔ عدالت مجرم کو سزائے عمر قید، جلا وطنی، جرمانہ، کوڑوں کی سزا اپنی صوابدید پر دے
سکتی ہے لیکن ائمہ ثلثہ کے مذہب کے مطابق اس جرم کی بھی وہی سزا ہے۔ جو جرم بالا کی ہے۔ اور حکومت وقت یا عدالت کو اپنی صوابدید پر کوئی دوسری سزا تجویز کرنے کا حق نہیں دیتے ہیں۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
والذی عندی ان سبه صلى الله علیه وسلم او نسبة مالا ینبغی الی الله تعالیٰ ان کان مما لا یعتقدونه كنسبة الوالد الی الله تعالیٰ اذا اظهره یقتل به وینتقض عهده وان لم یظهر ولکن عثر علیه وهو يكتمه فلا و هذا لان دفع القتل والقتال عنهم بقبول الجزية الذی هو المراد بالا عطاء مقید بكونهم صاغرین اذلاء بالنص، ولا خلاف ان المراد استمرار ذالک لا عند مجرد القبول واظهار ذالک منه ینافی قید قبول الجزية دافعاً لقتله، لانه الغاية فی التمرد و عدم الالتفات والاستخفاف بالاسلام والمسلمین. فلا یکون جاریاً على العقد الذی یدفع عنه القتل وهو ان یکون صاغرا ذلیلا. و هذا البحث منا یوجب أنه اذا استعلى على المسلمین على وجه صار متمردا علیهم حل للامام قتله اویرجع الی الذل والصغار. (فتح القدیر ج5 صفحہ 303)
ترجمہ: ”میرے نزدیک یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کو گالم گلوچ کرنا۔ یا اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی نازیبا نسبت مثلاً اللہ تعالیٰ کی طرف والد کی نسبت کرنا، اس طرح کے جرم کا ارتکاب اگر مجرم برملا انداز میں کرے، تو ایسی صورت میں مجرم کو قتل کیا جائیگا۔ نیز اس کی شہریت (تعزیری طور پر) منسوخ ہو جائیگی۔ اور اگر مجرم نے درج
بالا جرم کا ارتکاب برملا انداز میں نہ کیا ہو لیکن کسی طرح اس کے جرم کا پتہ لگا لیا گیا اور وہ ارتکاب جرم سے اپنی برائت ظاہر کرتا ہے۔ تو ایسی صورت میں اسے ایسی سزا نہ دی جائے۔ کیونکہ انھیں قتل نہ کرنا اور ان کی طرف سے دشمن سے لڑنا ان سے جزیہ لینے کے سبب سے ہے۔ لیکن ان غیر مسلم باشندوں کا جزیہ دینا اس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ ان کی شہریت بے حیثیت اور کم درجہ کی ہوگی۔ اور اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں ہے کہ بے حیثیتی کا مظاہرہ صرف شہریت لیتے یا جزیہ کا حکم قبول کرنے کے وقت تک نہ ہوگا۔ بلکہ اس عمل میں تسلسل رہے گا جبکہ اللہ کے رسول ﷺ کے خلاف گستاخانہ لہجہ کا علانیہ استعمال اس شرط کی خلاف ورزی ہے۔ جس کی بنیاد پر قتل ہونے سے ان کو امان ملا تھا۔ کیونکہ اللہ کے رسول کے خلاف گستاخانہ لہجہ انتہائی درجہ کی سرکشی، بے وقعتی اور اسلام اور مسلمانوں کی تذلیل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ذمی کے ساتھ امان اور تحفظ کا جو معاہدہ ہوا تھا، اس نے از خود خلاف ورزی کر کے اس معاہدہ کو توڑ ڈالا۔ لہٰذا حکم سابق ’’قتل‘‘ عود کر آئیگا۔ اس بحث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اسلامی ریاست کا غیر مسلم باشندہ جب مسلمانوں پر باغیانہ انداز میں اپنی برتری جتانے لگے۔ تو حاکم وقت کے لیے جائز ہے کہ اس کا کام تمام کردے۔ یا ذلت آمیز سزا دے کر اس کے اندر کے خناس کو باہر نکال دے۔‘‘
علامہ ابن عابدین لکھتے ہیں:
وسب النبى صلى الله عليه وسلم اى اذا لم يعلن، فلو اعلن، بشتمه او اعتاده قتل ولو امراة و به يفتى.
(فتاوی شامی۔ ج4 صفحہ 213)
ترجمہ: ”غیر مسلم باشندہ کا شان رسالت میں نازیبا الفاظ کا استعمال یہ جرم
مستوجب قتل اس وقت نہیں ہے جب ارتکاب جرم علانیہ انداز میں نہ ہوا ہو، لیکن اگر سب و شتم کے جرم کا ارتکاب علانیہ انداز میں کرے، یا شان رسالت میں گستاخی مجرم کی عادت بن گئی ہو، تو اس صورت میں یہ جرم مستوجب قتل ہے، اور مجرم اگر چہ خاتون ہی کیوں نہ ہو، قتل کر دیا جائے اور اسی پر فتویٰ ہے۔‘‘
شہریت کی از خود منسوخی کے حوالہ سے لکھتے ہیں :۔
هذا ان لم يشترط انتقاضه به . اما اذا شرط . انتقض به كما هو ظاهر۔
(فتاویٰ شامی ج 4 صفحہ 213)
ترجمہ : ’’ غیر مسلم باشندہ کو اسلامی ریاست کی شہریت دیتے وقت اگر شان رسالت میں گستاخانہ زبان استعمال کرنے سے شہریت کی منسوخی کی صراحت کی گئی ہو تو ارتکاب جرم پر از خود منسوخ ہوگی ورنہ نہیں۔‘‘
حنفی علماء کی انتہائی معتبر کتابوں (Most Authentic Books) کے اقتباسات سے معلوم ہوا کہ:
- 1...... توہین رسالت کا جرم تعزیری ہے مستوجب حد نہیں۔
- 2...... تعزیری سزا صرف قتل میں محصور نہیں ہے۔ بلکہ جرم کی نوعیت پر ہے۔
- 3...... تعزیری سزا کے تعین میں جرم کی نوعیت کو دیکھنا ہوگا۔ اگر جرم انتہائی سنگین نوعیت
کا ہو۔ مثلاً ...... شان رسالت میں گستاخی یا گالم گلوچ علانیہ انداز میں ہو۔ یا اشاعت کی شکل میں۔ یا شان رسالت میں گستاخی مجرم کی عادت بن گئی ہو۔ اور گاہے بگاہے شان رسالت میں گستاخانہ لہجہ استعمال کرتا رہتا ہو۔ تو ایسے حالات میں مجرم کے خلاف عدالت سزائے قتل ہی جاری کرے۔ کیونکہ:
اذ صرحوا قاطبة بأنه يعزر على ذالك و يؤدب وهو يدل على جواز قتله زجرا لغيره. اذ يجوز الترقى فى التعزير إلى القتل اذا عظم موجبه
(البحر الرائق ج 5 صفحہ 115)
ترجمہ : ”سارے علماء کی تصریح کے مطابق درج بالا مجرم کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے اور اس کو سخت تعزیری سزا دی جائے۔ جو مجرم کے قتل تک ہو سکتی ہے۔ تاکہ دوسروں کے لیے بھی درس عبرت ہو۔ کیونکہ جب جرم سنگین ہو تو اس کی تعزیری سزا میں قتل تک جایا جا سکتا ہے۔“
- 4...... اور اگر جرم اس نوعیت کا ہو، کہ اس کے علانیہ اظہار میں ان کا عقیدہ محرک بنا ہوا
ہو مثلا: پیغمبر مآبﷺ کے بارے میں کہنا کہ وہ (معاذ اللہ) نبی برحق نہ تھے۔ قرآن پاک آسمانی کتاب نہیں ہے۔ مدینہ سے یہودیوں کی جلاوطنی قرین انصاف نہ تھی۔
- 5...... جرم سنگین نوعیت کا ہو، اور اس کے اظہار میں مذہب محرک بھی نہ ہو۔ مثلاً شان
رسالت میں گستاخانہ لہجہ کا استعمال، لیکن ارتکاب جرم بجائے علانیہ انداز میں ہونے کے یا مضمون کی اشاعت کی شکل میں ہونے کے، کلیسا یا مندر کی چار دیواری میں یا گھر کے احاطہ میں ہوا ہو اور کسی ذریعہ سے ارتکاب جرم کی اطلاع حاکم وقت یا عدالت کو پہنچ گئی ہو۔ اور عدالت کی طلبی پر مجرم ارتکاب جرم سے اپنی برائت ظاہر کرتا ہو تو ان دونوں صورتوں میں یعنی چوتھی اور پانچویں صورت میں عدالت مجرم کے خلاف قتل کے علاوہ کوئی دیگر تادیبی کارروائی کرے گی۔ اب رہا سوال کہ کس نوع کی تادیبی کاروائی کرے تو اس کا دارومدار جرم کی نوعیت پر ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ جرائم بالا دونوں مستوجب قتل نہیں ہیں۔
- 6...... جرم بالا کی سزا کے تعین میں جرم کے الفاظ بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ شان
رسالت کی توہین میں الفاظ اگر گھناؤنے قسم کے ہوں۔ تو تعزیری سزا بھی جرم کے الفاظ اور مجرمانہ ذہن کی مناسبت سے انتہائی کڑی قسم کی لاگو ہوگی۔
علامہ ابن الہمام مجرم کے باغیانہ ذہن اور سرکش زبان کی بابت حکم بیان کرتے ہیں:
وهذا البحث منا يوجب انه اذا استعلى على المسلمين على وجه صار متمردا عليهم حل للامام قتله او يرجع الى الذل والصغار.
(فتح القدیر ج 5 صفحہ 303)
ترجمہ: ”اس بحث سے یہ نتیجہ بھی اخذ ہو گیا کہ اسلامی ریاست کا غیر مسلم باشندہ جب مسلمانوں پر اپنی برتری جتا کر (شان رسالت میں) باغیانہ روش اختیار کرے، تو حاکم وقت کے لیے جائز ہے کہ اس کا کام تمام کر دے یا ذلت آمیز کارروائی سے اس کو ذلیل و رسوا کر دے۔
عدالت کے سامنے غور طلب امر شاتم رسول کے الفاظ بھی ہوتے ہیں، کہ شان رسالت کی توہین میں سرزد شدہ الفاظ صریح ہیں یا کنائی، الفاظ سے کشید ہونے والا مدلول کس قسم کا اثر رکھتا ہے۔ فحش قسم کا یا سیرت طیبہ میں محض ایک علمی تنقید کا، نیز عرف عام میں اس قسم کے الفاظ کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
لفظ ، معنی، مجرمانہ ذہنیت اور عرف عام سے کشید ہونے والا جس نوع کا مفہوم اخذ ہوتا ہو، اس کی مناسبت سے تعزیری سزا میں سختی کا رنگ بھرا جائیگا۔
آمدم بر سر مطلب
سیکشن C - 295 میں مذکور جرم ... توہین رسالت ... کے مرتکب کے لیے تین سزائیں تجویز کی گئی ہیں:
- 1...... سزائے موت۔
- 2...... سزائے عمر قید
- 3...... جرمانہ
جبکہ سزا کی تعیین کو عدالت کے صوابدیدی اختیارات پر چھوڑ دیا ہے۔
لیکن....
شریعت کی رو سے دفعہ بالا میں مذکور سزاؤں میں سے کسی سزا کا اجراء علی الاطلاق عدالت کی صوابدید پر نہیں ہے بلکہ عدالت توہین رسالت سے متعلق بعض جرائم میں مخصوص قسم کی سزا کے اجراء کی پابند ہے۔ جبکہ بعض دوسرے جرائم میں عدالت اپنے صوابدیدی اختیارات پر ہے۔
جن جرائم کی سزاؤں میں عدالت پابند ہے۔ وہ دو ہیں:
- 1...... توہین رسالت کا مرتکب مسلمان ہو۔
- 2...... اسلامی ریاست کا غیر مسلم باشندہ ہو اور توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب اس
نے بار بار کیا ہو، علی الاعلان کیا ہو، مضمون یا کتاب کی اشاعت کی شکل میں کیا ہو۔ بشرطیکہ ارتکاب جرم میں اس کا عقیدہ محرک نہ بنا ہوا ہو۔
درج بالا دونوں صورتوں میں عدالت مجرم کے خلاف صرف سزائے موت (Death Sentence) ہی جاری کر سکتی ہے۔ مقدم الذکر صورت میں
اس لئے کہ مجرم مرتد ہے۔ اور مرتد کی سزا اسلامی قانون میں صرف تلوار ہے۔ جو بصورت حد ہر حال میں لگنی ہے۔
اور موخر الذکر صورت میں عدالت سزائے موت جاری کرنے کی اس لئے پابند ہے کہ اس جرم کی سزا پر امت کا اتفاق ہو چکا ہے اور قاضی یا عدالت کے لیے امت کے متفقہ فیصلہ کے خلاف فیصلہ دینے کی قطعی اجازت نہیں ہے۔
مذکورۃ الصدر صورتوں کے علاوہ دیگر صورتوں میں عدالت کو صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں۔ کہ وہ جرم کی نوعیت، مجرم کی ذہنیت، وقوعہ کے سیاق و سباق اور معاشرہ پر پڑنے والے اثرات کے اعتبار سے جس طرح کی سزا مناسب سمجھے، دے سکتی ہے۔
جرم بالا توہین رسالت چونکہ حق اللہ کے قبیل سے ہے۔ یعنی جرم برخلاف ریاست ہے نہ کہ برخلاف فرد۔ اس لئے گوشوارہ نمبر میں جرم بالا کو درج ذیل حیثیت میں رکھا گیا ہے:
- 1...... قابل دست اندازی پولیس، یعنی بغیر وارنٹ گرفتاری پولیس ملزم کو گرفتار کر سکتی
ہے۔
- 2...... ناقابل ضمانت (Not bailable)
- 3...... ناقابل راضی نامہ (Not compoundable)
کسی جرم یا عام نوعیت کے کسی کیس میں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ اس قضیہ کا تعلق کس نوع سے ہے، نیز....... اس سے عام معاشرہ متاثر ہورہا ہے۔ یا یہ کہ اس کا اثر کسی فرد یا
چند افراد تک محدود ہے؟ اگر اثر فر میں اسے ........ ”حق العبد“ مثلاً مہر بذمہ زوج ، قرض ب لیکن اگر تعلق یا جرم کا اثر بر ہو ۔ تو اسلامی فقہ کی اصطلاح میں
حق الله اور حق
ایک اپنی نوعیت کے احکام رکھتا اللہ کا غیر محدود ، اس لئے شدت رکھنے والا کیس حق العبد مابہ الامتیاز خصوصیات قارئین ۔
- 1 ...... حق العبد نو
مدعی کے بغیر عدالت ملزم کیخلا دعوائے مدعی شرط نہیں ہے ریا بن سکتا ہے اور کسی بھی دعوائے شہادت قلمبند کراسکتا ہے۔ ا اس ارتکاب جرم کو بحکم اقرار فیصلہ صادر کردے۔
- 2 ...... حق العبد نو
اس لئے ملزم ثبوت حق یا شبہ
عقیدۃ ختم النبوۃ ﷺ خاتم النبیین
چند افراد تک محدود ہے؟ اگر اثر فرد یا چند افراد تک محدود ہو، تو اسلامی فقہ کی اصطلاح میں اسے ......... ’’حق العبد‘‘ ......... سے یاد کیا جاتا ہے۔
مثلاً مہر بذمہ زوج، قرض بذمہ قرض دار، قیمت بذمہ خریدار۔
لیکن اگر تعلق یا جرم کا اثر براہ راست اسلامی معاشرہ یا اسلامی ریاست پر پڑ رہا ہو، تو اسلامی فقہ کی اصطلاح میں اسے حق اللہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
حق اللہ اور حق العبد اسلامی فقہ میں دو الگ الگ انواع ہیں۔ اور ہر ایک اپنی نوعیت کے احکام رکھتا ہے۔ چونکہ حق العبد کا دائرہ اثر محدود ہوتا ہے۔ جبکہ حق اللہ کا غیر محدود، اس لئے شدت اور سنگینی کے اعتبار سے حق اللہ کے قبیل سے تعلق رکھنے والا کیس حق العبد کی نسبت زیادہ سنگین ہوتا ہے۔ ذیل میں دونوں کے مابہ الامتیاز خصوصیات قارئین کے استفادہ کے لیے لکھے جاتے ہیں۔
- 1 ....... حق العبد نوعیت کے کیس میں دعوائے خصومت شرط ہے۔ دعوائے
مدعی کے بغیر عدالت ملزم کیخلاف فیصلہ کا اقدام نہیں کر سکتی ہے۔ جبکہ حق اللہ میں دعوائے مدعی شرط نہیں ہے ریاست کا کوئی بھی فرد مجرم کے خلاف متعلقہ کیس میں فریق بن سکتا ہے اور کسی بھی دعوائے خصومت کے بغیر قاضی کی عدالت میں ملزم کے خلاف شہادت قلمبند کرا سکتا ہے۔ اور اگر قاضی کے روبرو مجرم نے ارتکاب جرم کر دیا ہو، تو اس ارتکاب جرم کو بحکم اقرار لے کر قاضی کو حق ہوتا ہے کہ وہ مجرم کے خلاف منصفانہ فیصلہ صادر کر دے۔
- 2 ....... حق العبد نوعیت کا کیس چونکہ ایک فرد یا چند افراد تک محدود ہوتا ہے۔
اس لئے ملزم ثبوت جرم کے بعد اگر متاثرہ فرد سے راضی نامہ کر لے اور
متاثرہ فرد ملزم کو معاف کر دے۔ تو عدالت یا حکومت کو فریق یا رکاوٹ بننے کا حق نہیں ہوتا ہے جبکہ حق اللہ نوعیت کے جرم میں چونکہ جرم کا اثر لا محدود ہوتا ہے۔ اور پوری ریاست کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہوتا ہے۔ تو متاثرہ فریق کے عدم تعین کے سبب ثبوت جرم کے بعد جرم نا قابل ضمانت، نا قابل راضی نامہ اور نا قابل معافی بن جاتا ہے۔
- 3....... حق العبد نوعیت کے کیس میں عدالت سے محفوظ شدہ فیصلہ متاثرہ
فریق کی مرضی سے قابل اسقاط ہو سکتا ہے۔ مثلاً ...... مہر بذمہ شوہر ...... کے کیس میں عدالت نے بیوی کے حق میں وجوب مہر کا فیصلہ دیا۔ لیکن بیوی نے وجوب مہر کے عدالتی حکم کو شوہر کے حق میں ساقط کرا دیا۔ اور مہر کی ادائیگی سے شوہر کو بری الذمہ قرار دیا تو اس صورت میں قانونی حوالہ سے بیوی کسی جرم کا ارتکاب نہیں کر رہی ہے۔ بلکہ اپنا قانونی حق استعمال کر رہی ہے۔
اس کے مقابلہ میں حق اللہ نوعیت کا کیس جرم کے ثابت ہونے کے بعد اور عدالتی فیصلہ کے بعد نا قابل اسقاط ہوتا ہے۔ ریاست کے کسی خاص فرد کو حق نہیں ہوتا ہے کہ وہ ملزم کے خلاف محفوظ فیصلہ کو ساقط کرا دے۔ جیسے جرم زنا .......... زنا کا بذریعہ شہادت ثابت ہونے اور عدالتی فیصلہ کے بعد اس جرم کی سزا کو ساقط نہیں کیا جا سکتا۔
- 4....... حق العبد نوعیت کے کیس میں ملزم کے خلاف سزا کے عدالتی فیصلہ
ہونے کے باوجود اگر وہ متاثرہ فرد کو راضی کرلے، اور دونوں فریق عدالت کی طرف سے فیصل شدہ سزا کے علاوہ باہم رضامندی سے کسی مالی معاوضہ پر اتفاق کر لیں۔ تو عدالت اس سلسلہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی ہے۔ نہ ہی فریقین کو عدالتی فیصلہ پر عمل درآمد کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ حق اللہ نوعیت کے کیس میں چونکہ متاثرہ
فریق اسلامی ریاست ہوتا ہے۔ جس کا راضی کرنا اور کسی مالی معاوضہ (Compensation) پر باہم اتفاق کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ اس لئے اس میں ملزم کے لیے عدالتی فیصلہ کے احترام اور قبولیت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا ہے۔
- 5...... حق العبد نوعیت کے کیس میں ملزم کے خلاف ایک ہی نوعیت کے کئی
دعوے ہو سکتے ہیں اور ایک ہی ملزم کے خلاف خصومت میں کئی مدعی عدالت کے روبرو آ سکتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں فیصلے بھی متعدد ہوں گے۔ کیونکہ اگر چہ ملزم ایک ہے اور ایک ہی نوعیت کے کئی دعوے ہیں لیکن مدعی اور حق کے طلبگار کئی افراد ہیں۔ جن سب کے لیے ایک منفرد حق پر گزارہ کرنا نا انصافی ہوگا۔ مثلاً ۔ زید نے چار افراد کا مختلف اوقات میں مال غصب کیا۔ یہاں ملزم بھی ایک ہے اور ایک ہی نوعیت (غصب) کا کیس ہے۔ لیکن مدعی چونکہ متعدد ہیں۔ اس لئے دعوؤں میں تعدد سے ایک ہی ملزم کے خلاف ایک ہی نوعیت کے کیس میں چار کیس ہو جائیں گے اور ہر ایک میں عدالت کا مستقل فیصلہ مطلوب ہوگا اور مستقل انداز میں ہر ایک پر عمل درآمد کیا جائیگا۔
جبکہ حق اللہ نوعیت کے جرم میں ملزم کے خلاف جب تک عدالتی فیصلے کا نفاذ اور اجراء نہ ہو جائے۔ اس وقت تک ایک ہی نوعیت کے کیس کا مختلف اوقات میں اور مختلف افراد کے ساتھ ورود ایک ہی سزا کے ترتب کا سبب ہوگا۔ جسے اصطلاح فقہ میں ...... تداخل ...... کہتے ہیں۔ اس لئے زنا کیس جس میں مرتکب زنا نے چار مختلف واقعات میں زنا کے جرم کا ارتکاب کیا ہو، عدالت اس کے خلاف صرف ایک ہی سزائے حد کا فیصلہ صادر کریگی۔
توہین رسالت کیس چونکہ حق اللہ کے قبیل سے قرار دیا گیا ہے۔ اور وہ اس
لئے کہ شاتم رسول کے جرم سے تمام مسلمانوں کے ملی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ اسلامی ریاست کے امن کے لیے خطرات کھڑے ہوتے ہیں۔ اسلامی معاشرہ کا سکون درد والم میں بدل جاتا ہے۔ اس لئے جرم کا دائرہ اثر عامة المسلمين اور اسلامی ریاست کو محیط ہونے کے سبب علمائے امت نے جرم بالا کو حق اللہ کے قبیل سے قرار دیا ہے۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
لانه الغاية فى التمرد و عدم الالتفات والا ستخفاف بالاسلام والمسلمين.
(فتح القدیر ج 5 صفحہ 303)
ترجمہ: ”جرم توہین رسالت مجرم کی انتہائی نوعیت کی سرکشی، لا ابالی پن اور اسلام اور مسلمانوں کی کھلی توہین ہے“۔
علامہ ابن تیمیہ اپنی کتاب ...... الصارم المسلول علی شاتم الرسول ۔ میں لکھتے ہیں:
و بهذا يظهر الفرق بينه و بين غيره فى ان حد قذف انما ثبت لورثة او لبعضهم و ذالك لأن العار انما يلحق الميت او ورثته . وهنا العار يلحق جميع الأمة لا فرق فى ذالك بين الهاشميين و غيرهم بل اى الامة كان اقوى حبا لله و رسوله واشد اتباعاً له و تعزيراً وتوقيراً كان حظه من هذا الأذى والضرر اعظم و هذا ظاهر لاخفاء به . واذا كان هذا ثابتاً لجميع الأمة فانه مما يجب عليهم القيام به ولا يجوز لهم العذر عنه بوجه من الوجوه، لانه وجب لحق دينهم لا لحق دنياهم بخلاف حد قذف فـ فلهم ان يتركوه ۔
(الصارم المسلول
ترجمہ: ”اسی سے توہین رسا حد قذف ثابت ہوا ہے متاثرہ فرد قذف سے صرف میت اور اس کـ جبکہ توہین رسالت جرم میں پوری خاندان بنو ہاشم و غیر بنو ہاشم کا کوئی رسول کو جتنا زیادہ عزیز رکھے گی او اثر ان پر اتنا ہی زیادہ پڑے گا۔ ا امت کی توہین ہے۔ تو پھر اس مجر اور شاتم رسول کو کسی صورت معاف نہیں ۔ بخلاف حد قذف کے کیونکـ میں مجرم کو متاثرہ فرد یا اس کے ورثا
آگے لکھتے ہیں:
ان النبي لا يورث، فـ اهل بيته دون غيرهم . كما بل اولى لان تعلق حق ا حينئذ فيجب المطالبة با تعزيره و نصره و ذالك فر
دنياهم بخلاف حد قذف قريبهم فانه وجب لحظ نفوسهم و دنياهم فلهم ان يتركوه ۔
(الصارم المسلول صفحہ 445)
ترجمہ: ’’اسی سے توہین رسالت جرم اور جرم قذف میں فرق ظاہر ہوتا ہے۔ کہ حد قذف ثابت ہوا ہے متاثرہ فرد کے ورثاء یا بعضے ورثاء کے لیے اور یہ اس لئے کہ قذف سے صرف میت اور اس کے خاندان والوں کی عزت پر بدنما داغ پڑتا ہے۔ جبکہ توہین رسالت جرم میں پوری امت کی توہین ہوتی ہے۔ اس میں آپﷺ کے خاندان بنو ہاشم وغیر بنو ہاشم کا کوئی فرق نہیں ہے۔ بلکہ کوئی بھی قوم جو اللہ اور اس کے رسول کو جتنا زیادہ عزیز رکھے گی اور جتنا زیادہ اتباع اور احترام رکھے گی۔ اس توہین کا اثر ان پر اتنا ہی زیادہ پڑے گا۔ اور یہ بالکل واضح سی بات ہے۔ اور جب یہ پوری امت کی توہین ہے۔ تو پھر اس مجرم پر سزا نافذ کرانا بھی ہر امتی کی ذمہ داری ہے۔ اور شاتم رسول کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہ دینی فرض ہے دنیاوی نہیں ۔ بخلاف حد قذف کے کیونکہ یہ انسان کا ذاتی اور دنیاوی حق ہے۔ اس لئے اس میں مجرم کو متاثرہ فرد یا اس کے ورثاء معافی دے سکتے ہیں“۔
آگے لکھتے ہیں:
ان النبى لا يورث، فلا يصح ان يقال : إن حق عرضه يختص به اهل بيته دون غيرهم . كما ان ماله لا يختص به اهل بيته دون غيرهم بل اولى لان تعلق حق الأمة بعرضه اعظم من تعلق حقهم بماله و حينئذ فيجب المطالبة باستيفاء حقه على كل مسلم لان ذالك من تعزيره و نصره و ذالك فرض على كل مسلم
(الصارم المسلول صفحہ 445)
ترجمہ : ”جب ضابطہ یہ ہے کہ نبی کا کوئی خاص وارث قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ تو پھر کیسے آپ کے ناموس پر حملے کو صرف آپ کے خاندان کا مسئلہ قرار دے سکتے ہیں۔ جب آپؐ کے مال پر آپ کے خاندان کا خصوصی حق تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ ساری امت کو آپ کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ تو جب مال میں امت وارث ہے اور حق دار ہے۔ تو ناموس اور عزت کے مسئلہ میں بھی پوری امت آواز اٹھانے کی حقدار ہے۔ بلکہ اس صورت میں تو حق بطریقہ اولیٰ ملنا چاہیئے، کیونکہ امت کا مال کی نسبت آپ کے ناموس سے جذباتی اور اعتقادی تعلق کہیں زیادہ ہے۔ لہٰذا ....... ہر مسلمان کو توہین رسالت کیس میں دعویٰ دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔ نہ کہ صرف آپ کے خاندان کو۔ کیونکہ اللہ کے رسول کی تائید اور مدد ہر مسلمان کا اولین فرض ہے ۔“
علامہ ابن تیمیہ اور صاحب فتح القدیر کا جرم بالا کا دائرہ اثر عام مسلمانوں اور جمیع امت تک کو قرار دینا دراصل اس جرم کو ...... ”حق اللہ“ ............ کے قبیل سے ثابت کرنا ہے۔ کیونکہ ...... ”حق العبد“ ...... کا دائرہ اثر متاثرہ فرد یا افراد تک محدود ہوتا ہے، اس لئے جرم بالا کی وہی خصوصیات ہوں گی، جو کہ حق اللہ نوعیت کے جرائم کے لیے تسلیم کی گئی ہیں۔
لہٰذا:
جرم بالا کا حق اللہ کے قبیل سے ہونے کے سبب گوشوارہ ہذا میں اس جرم کی درج ذیل خصوصیات بالکل قرین انصاف ہیں:
- 1....... ناقابل ضمانت ۔ (Not bailable)
- 2....... ناقابل راضی نامہ ۔ (Not Compoundable)
- 3...... قابل دست اندازی پولیس (Cognisable)
نیز .......... جرم بالا کا مقام سماعت سیشن کورٹ (Session Court) کو قرار دیا گیا ہے۔ یعنی اس کی سماعت کے اختیارات سیشن کورٹ کو تفویض کئے گئے ہیں، مزید شرط یہ عائد کی گئی ہے کہ جرم بالا کا فیصلہ کنندہ جج کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ غیر مسلم جج جرم بالا کے فیصلے کا اختیار نہیں رکھتا ہے۔
مرتد کی سزا......
- اسلام میں مرتد کی سزا
- مرتد کی سزائے حد کے انکار کے اسباب
- مرتد کی سزائے حد امت کا اجتماعی مسئلہ ہے
گو شعر میں ہے رشک کلیم ہمدانی
سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا
ہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانی
(اقبال)
مرتد کی سزا......
مرتد کی سزائے قتل پر تمام امت کا اجماع چلا آ رہا ہے، اور اس کا حد ہونا صریح نصوص سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ اسی لئے اس مسئلہ میں آج تک کسی امام یا عامۃ الناس میں سے کسی کو اختلاف نہیں ہوا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے چودھویں صدی میں اسلامی دنیا پر عموماً اور ہندو پاک پر خصوصاً انگریز کے طویل دور اقتدار کے باعث مسلمان انگریزوں کی روایات کے دلدادے اور انگریزی سوچ اور مغربی خیالات کے اسیر بن گئے ۔ ذہنی غلامی کے سبب مغرب زدہ طبقہ کی سوچ یہ رہی کہ انگریز آقاؤں سے معارضانہ تصادم کی بجائے مصالحانہ عمل کو اختیار کیا جائے ۔ نہ صرف مادی شعبہ جات میں بلکہ دین و مذہب میں ہر ایسی دینی سوچ کی حوصلہ شکنی کی جائے جو انگریزی سوچ سے تصادم لیتی ہو۔ اور اسلام کے انگریز مخالف احکام کی ایسی تشریحات کی جائیں جو انگریزوں کے لیے قابل قبول ہو سکتی ہوں۔
اس مکتب فکر کے لوگوں نے مغربی سوچ اور انگریز غلامی کے سبب جہاں اسلام کے بہت سے احکامات سے انکار کیا۔ وہاں بہت سے احکام کے واضح معنے بدل کر مغربی سوچ سے ہم آہنگ تشریحات کئے۔ انہی میں سے ۔ مسئلہ ارتداد ، توہین رسالت، دعوائے نبوت ، دعوائے خدائی ہے۔
انگریزی روایات میں لامذہبیت (Seculerism) سے پیار اور مذہبیت (Religion) سے عناد ہوتا ہے۔ اور مادہ پرست ہونے کے سبب حب الوطنی (Petreotic) انتہائی حوصلہ افزا اور ملک دشمنی اور بغاوت انتہائی درجہ کا گھناؤنا جرم
قرار پایا ہے، اس لئے اس ذہنی سوچ کہ مذہب سے بغاوت تو انسان کی ملک سے بغاوت جرم مستوجب قتل امریکی کانگریس نے قرار دیا کہ۔ especting an establishing of se therefore or abridging the
ترجمہ: ”کانگریس ایسا کوئی قانو بنیاد رکھنے سے ہو یا جس سے کسی ۔ آزادی اظہار پر کوئی قدغن لگ سکتا ہو اس لئے ارتداد سے لے کر با اور عملی بغاوت تک آزادی تحریر و تقریر یورپ و امریکہ گستاخان رسول اور با گاہیں اس لئے بنی ہوئی ہیں کہ اسلا ہاں حوصلہ افزا عمل ہے۔
حالات حاضرہ کی تازہ خبر اس او آئی سی کا پیغمبر اسلام کی تو احتجاج ۔ ڈنمارک اور ناروے شان ر ہیں، جنرل سیکریٹری ۔ اقدام نسل پر سے شدید احتجاج۔
قرار پایا ہے، اس لئے اس ذہنی سوچ کا قانونی شکل میں ظہور اس طرح ہونا فطری تھا، کہ مذہب سے بغاوت تو انسان کی فطری آزادی کا مظہر قرار پائے۔ جب کہ ملک سے بغاوت جرم مستوجب قتل بن جائے۔ اس لئے مذہب کے بارے میں امریکی کانگریس نے قرار دیا کہ۔
Congress shall make no low respecting an establishing of religion, or prohibiting the free exercise therefore or abridging the freedom of speech.
(Constitution of U S A Page No. 139)
ترجمہ: ”کانگریس ایسا کوئی قانون نہیں بنائیگی جس کا تعلق ملک میں کسی مذہب کی بنیاد رکھنے سے ہو یا جس سے کسی کے آزادانہ عمل پر پابندی لگ سکتی ہو یا جس سے آزادی اظہار پر کوئی قدغن لگ سکتا ہو“۔
اس لئے ارتداد سے لے کر بانیان مذہب اور ان کے وفادار ساتھیوں سے ذہنی اور عملی بغاوت تک آزادی تحریر و تقریر اور آزادی مذہب کی آڑ میں سب جائز ٹھہرا، یورپ و امریکہ گستاخان رسول اور باغیان اسلام کے لیے اس دور میں زبردست پناہ گاہیں اس لئے بنی ہوئی ہیں کہ اسلام سے بغاوت اور پیغمبر اسلام کی اہانت ان کے ہاں حوصلہ افزا عمل ہے۔
حالات حاضرہ کی تازہ خبر اس بارے میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
او آئی سی کا پیغمبر اسلام کی توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت پر ڈنمارک سے احتجاج۔ ڈنمارک اور ناروے شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں کا دفاع کر رہے ہیں، جنرل سیکریٹری۔ اقدام نسل پرستی اور مذہبی تفریق پر مبنی ہے، کویت کا ڈینش سفیر سے شدید احتجاج۔
جدہ (آن لائن/اے ایف پی) او آئی سی کے سیکریٹری جنرل اکمل الدین احسان نے ناروے اور ڈنمارک کے اخبارات میں حضور اکرم ﷺ کے کارٹون شائع کرنے پر ڈنمارک حکومت سے شدید احتجاج کیا ہے، ڈنمارک کے وزیراعظم کے نام اپنے ایک خط میں انھوں نے کہا کہ اخبارات میں حضور اکرم ﷺ کے کارٹونوں سمیت اسلام مخالف کئی اقدامات سے تناؤ اور انتشار پھیل سکتا ہے، سیکریٹری جنرل نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ ڈنمارک اور ناروے کے حکام گستاخانہ اقدامات کرنے والوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ سیکریٹری جنرل نے دونوں ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلم دنیا کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر معافی مانگیں، دریں اثناء کویت نے ڈنمارک کے اخبار میں توہین آمیز کارٹون کی اشاعت پر ڈینش سفیر کو طلب کر کے سخت احتجاج کیا ہے، کویتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق کویت نے گستاخانہ کارٹونوں کی اشاعت کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے نسل پرستی اور مذہبی تفریق پر مبنی قرار دیا ہے واضح رہے کہ جمعرات کو سعودی عربیہ توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کے بعد ڈنمارک سے احتجاجاً اپنے سفیر کو واپس بلا چکا ہے۔ (بحوالہ۔ روزنامہ ایکسپریس 29 جنوری 2006ء)
سعودی حکومت کے سخت ترین احتجاج کی بابت اخبار لکھتا ہے۔
جدہ (آن لائن) سعودی عرب نے یورپی اخباروں کے پیغمبر اسلام ﷺ کے حوالے سے کارٹونز کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان نفرت اور اشتعال پھیلانے کا باعث بنیں گے، سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس ضمن میں منگل کو ریاض میں شہزادہ سلطان کی
زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں ڈنمارک اور ناروے کے اخباروں میں شائع ہونے والے کارٹونز اور مضمون کی مذمت کی گئی۔ 150 ارکان پر مشتمل سعودی شوریٰ کونسل نے مغربی دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کی سیرت کو پڑھتے ہوئے ان کی نمایاں خصوصیات، اخلاق اور اچھی چیزوں کو سیکھیں۔ (بحوالہ ایکسپریس 25 جنوری 2006ء)
اسلامی دنیا کا نمائندہ ادارہ او آئی سی، اسلامی ممالک کا گستاخانہ، توہین آمیز کارٹونز کی اشاعت پر شدید غم وغصہ، کویت کا ڈینش کے سفیر کو بلا کر سخت احتجاج کرنا، سعودی عربیہ کا ڈنمارک سے احتجاجاً اپنے سفیر کو واپس بلانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی توہین کو اسلامی دنیا انتہائی گھناؤنا جرم سمجھتی ہے۔ جس کے لئے زیادہ نہ ہو سکے تو کم از کم متعلقہ افراد کو اسلامی دنیا سے معافی مانگنے پر مجبور کیا جائے، یا متعلقہ حکومتیں رسمی معافی مانگ لیں۔ لیکن عشرہ سے زیادہ پر محیط احتجاج اس لئے رنگ نہ دکھا سکا کہ توہین رسالت جب ان کے ہاں جرم ہونے کی بجائے انتہائی ممدوح اور حوصلہ افزا عمل ہے۔ تو معافی کس بات پر بلکہ وہ تو اس احتجاج پر الٹا ہمیں ملامت کرتے ہیں کہ ارتداد، مذہب سے بغاوت اور توہین رسالت تمہارے ہاں اب تک جرم کیوں سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے امریکی کمیشن نے امریکی صدر بش کو درخواست کی ہے کہ وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کے دوران پاکستان میں مذہبی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا مسئلہ اٹھائیں۔ پاکستان میں نافذ العمل قانون توہین رسالت غلط ہے۔ احمدیوں کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔
اخبار لکھتا ہے۔
واشنگٹن (اے ایف پی) پاکستان کو امریکی بلیک لسٹ ممالک میں شامل کرنے
کی وکالت کرنے والے امریکی کانگریس کے ایک مشن نے صدر بش سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کے دوران پاکستان میں مذہبی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا مسئلہ اٹھائیں، بین الاقوامی مذہبی آزادی امریکی کمیشن کے چیئرمین مائیکل کرو مارٹی نے ایک خط میں کہا ہے کہ صدر بش شوکت عزیز پر زور دیں کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو مذہبی آزادی فراہم کرنے کے لئے مربوط اور سنجیدہ کوششیں کی جائیں، واضح رہے صدر بش اور امریکی کانگریس کی طرف سے مشترکہ طور پر نامزد کردہ اس کمیشن کے ارکان محکمہ خارجہ کو کئی بار پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے پر زور دیتے رہے۔ تاہم انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنے خط میں کمیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں سنی انتہا پسندوں کی طرف سے شیعہ مسلمانوں، احمدیوں، ہندوؤں اور عیسائیوں کے خلاف فرقہ وارانہ اور مذہبی دہشت گردی کی جارہی ہے۔ امتیازی قانون سازی سے مذہبی برداشت ختم اور اقلیتی مذاہب کے لوگوں خاص طور پر احمدیوں کی سماجی اور قانونی حیثیت کو ختم کیا جارہا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ خدائی دعویداری، کفر، توہین رسالت کا الزام بھی ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یہ الزامات اکثر غلط ہوتے ہیں اور نتیجہ طویل حراست کی صورت میں نکلتا ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کی بہتری امریکہ کے مفاد میں ہے۔ لہٰذا باہمی مذاکرات کے ایجنڈے میں اسے نمایاں رکھا جائے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کا موقف ہے کہ ان کی جدید روشن خیال پالیسی مذہبی برداشت کی حامی ہے۔
(بحوالہ۔ روزنامہ ایکسپریس 22 جنوری 2006ء)
توہین رسالت کا قانون، قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا قانون مغرب کے
ہاں امتیازی قانون سازی اور مذہبی آزادی سے متصادم قوانین ہیں، اس لئے پاکستان ان امتیازی اور ظالمانہ قوانین کو ختم کر کے خدائی دعویداری، رسالت دعویداری، کفر و ارتداد، گستاخی پیغمبر اور توہین رسالت کو جائز قرار دے کر عوام کو مذہبی پابندیوں سے آزاد کرائے۔ ورنہ امریکی بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے لیے پاکستان تیار ہو جائے۔
مذہبی پابندیوں کے حوالہ سے امریکہ اور مغرب کا ملحدانہ نظریہ اس لئے بنا ہے کہ مغرب خود اٹھارھویں صدی عیسوی میں برپا صنعتی انقلاب کے سبب مادیت (Materialism) کا دلدادہ اور مذہب سے باغی ہو چکا ہے۔ اس لئے اب مغرب ہر اس عمل کا حامی اور محافظ ہے، جس کا کہ مذہب خلاف ہے اور ہر اس عمل کا مخالف ہے جس کا کہ مذہب حامی ہے۔ اس لئے ان کی اس ذہنی سوچ کے مطابق :
- 1....... ارتداد اور مذہب سے بغاوت حوصلہ افزا اقدام ہے، جبکہ مذہب پرستی
ڈھکوسلہ ہے۔
- 2....... بے لباسی اور عریانیت کا دوسرا نام آزادی ہے، جب کہ برقعہ اور پورا جامہ ستر
عورت پر بے جا پابندی ہے۔
- 3....... اسلام کے مرتد اور سرتاپا ننگے لوگ عصر حاضر کے ہیرو، جب کہ کٹر مذہبی اور
حیادار لوگ انتہا پسند ہیں۔
- 4....... بے حیائی جدت پسندی ہے اور حیا و عفت قدامت پسندی ہے۔
- 5....... فلم اسٹوڈیو، سینمائیں اور بے حیائی کے ادارے جدت کے سبز و شاداب
جزیرے ہیں جب کہ مدارس اور مساجد دہشت گردی کے اڈے ہیں۔
- 6...... شراب روح کی غذا اور تقریبات کی زینت ہے۔ جبکہ چرس اور ہیروئن انسانیت
کے لیے مہلک اور ناقابل معافی جرم ہے حالانکہ نشہ دونوں میں ہے۔
- 7....... اسلام کا کوئی حکم اس وقت تک قابل حوصلہ افزا ہے جب تک وہ مغرب و امریکہ
کے مفاد میں ہو ورنہ وہ سراسر انتہا پسندی ہے۔ جیسا کہ جہاد افغانستان، جب تک یہ روس کے خلاف اور امریکہ کے مفاد میں تھا، جہاد تھا اور لڑنے والے مجاہد تھے۔ اب جب کہ امریکہ کے خلاف ہے تو جہاد نہیں دہشت گردی ہے اور لڑنے والے دہشت گرد ہیں۔
- 8....... زنا بالرضا میں فطرت کی تسکین ہے، لواطت انسان کا جائز فعل ہے، سور انسانی
غذا ہے، کتے کو انسانوں سے زیادہ عزت دینا ترقی پسندی ہے۔
- 9....... حدود ظالمانہ سزائیں ہیں۔ جب کہ عراق، فلسطین، افغانستان میں مسلمانوں کا
قتل عام منصفانہ اقدامات ہیں۔
مذہبی حوالہ سے مغرب انسان کی بے لگام آزادی کا قائل ہے۔ مغرب کی نظر میں آزاد انسان وہ ہے جو مذہب اور بانیان مذہب کو گالیاں دے، ان پر باغیانہ تنقیدیں کرے، علی الاعلان مذہب کا جنازہ نکالے۔ خود مذہب سے بغاوت کر کے دوسروں کو بغاوت پر آمادہ کرے۔ اور جیسا کہ شروع میں عرض کیا جا چکا ہے کہ مادی ترقیوں کے متوالے اور مادہ پرست ہونے کے سبب حب الوطنی (Petriotic) کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں بلکہ عوام کا بنیادی فرض سمجھتے ہیں۔ جبکہ مملکت کے خلاف بغاوت اور جنگ اور ارباب اقتدار سے غدر کو انتہائی قابل تعزیر جرم سمجھتے ہیں، جس کی سزا سزائے موت، عمر قید بمعہ جرمانہ مقرر کی گئی ہے۔
مذہب سے بغاوت اور اس کے خلاف جنگ اور بانیان مذہب سے غدر کو جائز اور فطری آزادی پر مبنی عمل کہتے ہیں جبکہ مملکت کے خلاف بغاوت اور ارباب اقتدار سے غدر کو جرم مستوجب قتل بتاتے ہیں ۔
مملکت کے خلاف بغاوت اور جنگ کے بارے میں قانون اس طرح وضاحت کرتا ہے۔
Whoever wages war against Pakistan or attempts to wage such war, abets the waging of such war, shall be punished with death or imprisonment for life, shall also be liable to fine.
(P.P.C, page No - 1860.)
ترجمہ : ’’جو کوئی پاکستانی حکومت (تقسیم ہند کے بعد پاکستان لکھ دیا گیا) کے خلاف جنگ کرے، یا ایسی جنگ کرنے کا اقدام کرے۔ یا ایسی جنگ کرنے میں اعانت کرے، تو اسے موت یا عمر قید کی سزا دی جائیگی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔‘‘
مذہب اور مملکت کے بارے میں مغرب کے دو متضاد نظریئے کہ مذہب کے بارے میں بے لگام آزادی اور مذہب دشمنی کی حوصلہ افزائی ۔ جب کہ مملکت کے بارے میں غیر معمولی پابندی اور مملکت کے خلاف بغاوت کی حوصلہ شکنی نے مغربی آقاؤں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ ان لوگوں کو اپنا ہمنوا رکھیں جو ان نظریات کی پاسداری رکھتے ہوں ۔ اور ان لوگوں کو وحشی، قدامت پسند، بنیاد پرست، جنونی اور انتہا پسند قرار دیں جو ان نظریات کی پاسداری نہ رکھتے ہوں ۔ مثلاً ۔ مملکت کے ساتھ ساتھ مذہب سے بھی عقیدت رکھتے ہوں اور جیسے مملکت کے خلاف بغاوت کو مستوجب قتل جرم سمجھتے ہوں ۔ ایسے ہی مذہب سے بغاوت کو بھی مستوجب قتل جرم سمجھتے ہوں ۔
مغرب کا یہ نظریاتی فلسفہ اٹھارہ صدی عیسوی میں اٹھنے والے صنعتی انقلاب کے
بعد سے آج تک جوں کا توں قائم ہے۔ اسی لئے امریکی کمیشن نے پر زور انداز میں صدر بش سے درخواست کی کہ وہ پاکستان پر زور دے کہ وہ مذہب سے بغاوت اور پیغمبر اسلام کی اہانت کو جرم کہنے کا فلسفہ ترک کر دے اور اس کو جرم کہنے اور اس کے ارتکاب پر سزا لاگو کرنے کا قانون منسوخ (Repealed) کر دے، ورنہ بصورت دیگر پاکستان امریکہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے لیے تیار ہو جائے ۔
انگریز کا ہندوستان پر طویل اقتدار اور مسلمانوں کی انگریزی نظام تعلیم کے ذریعہ غلامانہ تربیت کے سبب پاکستان میں ایک ایسا طبقہ فکر پیدا ہوا جس کے دل میں انگریز کی دہشت اور جس کی رگوں میں انگریز غلامی کا خون ہے۔ انگریز کے رعب و دبدبہ سے دق اس طبقہ نے انگریز سے نظریاتی نبرد آزمائی میں معارضانہ اقدام یا دفاعی جنگ کی بجائے مصالحانہ عمل کو اختیار کیا اور اسلام کے ہر اس حکم کا انکار کیا۔ جسکے انگریزی نظریات اور مغربی روایات سے ہم آہنگ معنے نہیں نکل سکتے تھے اور جس حکم کی کوئی نہ کوئی تاویل ہو سکتی تھی۔ اس کی غلط تشریح کر کے مغربی آقاؤں کو باور کرایا کہ اسلام تمہارے نظریات سے متصادم نہیں بلکہ ترجمان ہے۔
مسئلہ ارتداد میں بھی ان لوگوں نے ایسی ہی روش اختیار کی ہوئی ہے۔ ان لوگوں نے مغربی آقاؤں کے عتاب سے اسلام کو بچانے کے لیے مرتد کی سزائے قتل کا انکار کیا، جرم ارتداد کی سزائے قتل کو مملکت کے خلاف بغاوت پر منطبق کیا کہ اسلام میں ارتداد کی کوئی سزا نہیں ہے۔ اور کتابوں میں جس سزائے قتل کا ذکر آیا ہے، وہ دراصل باغی کے بارے میں ہے۔
آئیے لیتے ہیں اس طبقہ خیال کے دلائل۔
یہ لوگ اپنے موقف کی تائید میں قرآن پاک کی اس آیت کو پیش کرتے ہیں:
- 1...... لا اکراہ فی الدین :۔
(البقرہ آیت 256)
”دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے“
یعنی اسلام کے حوالہ سے لوگ آزاد ہیں ، جس کی مرضی ہو ۔ دین پر رہے، اور جس کی مرضی ہو دین سے مرتد ہو جائے ۔ اگر ارتداد جرم مستوجب قتل قرار پائے گا۔ تو دین میں جبر لازم آئے گا۔ جو درج بالا آیت کی روح کے خلاف ہے۔
لہٰذا............. جس طرح لوگ اسلام قبول کرنے میں آزاد ہیں۔ اسی طرح اسلام سے بغاوت کرنے اور مرتد ہونے میں بھی آزاد ہیں۔ اور جس طرح دین کی حمایت میں آزاد ہیں، اسی طرح دین سے عداوت رکھنے اور اسلام کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے میں بھی آزاد ہیں۔
- 2....... اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ومن یرتدد منکم عن دینہ، فیمت وہو کافر فاولئک حبطت اعمالہم فی الدنیا والاخرۃ واولئک اصحاب النار ہم فیہا خالدون ۔
(سورۃ البقرۃ ۔ 218)
ترجمہ: ”تم میں سے جو شخص دین اسلام سے مرتد ہو جائے۔ اور اس کفر کی حالت میں اس کو موت آجائے ۔ تو اسکے دنیا و آخرت کے اعمال برباد ہو گئے۔ وہ جہنمی ہے، اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا“۔
آیت بالا کے مطابق ارتداد اور دین سے بغاوت کے جرم ہونے کا تعلق آخرت
سے ہے، دنیا سے نہیں، کیونکہ درج بالا آیت میں اسکے جرم ہونے کا تعلق آخرت سے جوڑا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے۔ کہ اس جرم کی زبردست سزا آخرت میں ملے گی۔
لہٰذا ...... یہ جرم اخروی ہے۔ جس کا تعلق اللہ سے ہے، انسانوں کے قانون سے نہیں ہے، اب ہم دنیا میں اس کو جرم قرار دے کر اس کی سنگین سزا مقرر کریں گے۔ تو یہ قانون مسلمانوں کا خود ساختہ اور درج بالا آیت کے خلاف ہوگا، یعنی ارتداد کی سزائے قتل قرآن سے متصادم سزا ہے۔ اسی بنیاد پر اس طبقہ خیال کے لوگ مملکت کے قانون کو اسلامی قانون کے اثر سے آزاد رکھنے کا نظریہ رکھتے ہیں، کیونکہ قانون جرم کے تدارک اور سزا کے تعین کے لیے ہوتا ہے۔ جبکہ اسلام کا تعلق آخرت سے ہے دنیا سے نہیں ہے۔ اس لئے اسلام کے تحفظ کے لیے اس کو قانون کی سرپرستی میں دینے کے معنی یہ ہوں گے کہ اسلام اور احکام اسلام پر ہم لوگوں کو مجبور کر رہے ہیں جبکہ یہ آیات بالا کی روح کے خلاف ہے۔
اسی طبقہ خیال کی ایک حامی توہین رسالت کے قانون پر تبصرہ کرتی ہے۔ ”محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ملک کی بارہ کروڑ عوام ناموس رسالت کی حفاظت خود کر سکتے ہیں حکومت ناموس رسالت کے سلسلہ میں سزائے موت کا قانون پارلیمنٹ میں پیش کر کے ملک کو بنیاد پرستوں کی ریاست بنانے کی سازش کر رہی ہے۔ جو کہ بنیادی طور پر قائد اعظم کے نظریات کے خلاف ہے اور عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے، اور اسلام کے بدنام کرنے کی کوشش ہے انھوں نے کہا کہ گواہوں اور شہادتوں کی بنیاد پر شان رسالت میں گستاخی کرنے والے کو سزا
دینا اس لئے معنی نہیں رکھتا کہ ہمارے اس صورت میں کرایہ کے گواہوں کی ہے“
(روزنامہ جنگ 10 اگست 1992ء)
اخبار آگے لکھتا ہے۔ ”پارلیمنٹ میں بحث کے دوران تکریم میں کسی سے پیچھے نہیں، لیکن الطاف حسین نے کہا کہ رسول ﷺ گئے تھے، اس لئے شاتم رسول کو چاہیئے“
(روزنامہ جنگ کراچی 7 اگست
لیکن .........
- 1 ...... اس مکتب فکر کی خدمت
لیے صرف الفاظ کے ظاہر کا سہارا ل وقت کے حالات اور شان ورود کو لے کر آیت کے مفہوم کی وضاحت مثلاً قرآن پاک کی آیت ہے:
لیس علی الذین امنوا ما اتقوا و امنوا و عملوا الصـ والله یحب المحسنین ۔
(سوره
ترجمہ: ”جو لوگ ایمان لائے
دینا اس لئے معنی نہیں رکھتا کہ ہمارے ملک میں ارکان پارلیمنٹ کو خرید لیا جاتا ہے۔ اس صورت میں کرایہ کے گواہوں کی موجودگی میں انصاف کی توقع نہیں رکھی جاسکتی
ہے“۔ (روزنامہ جنگ 10 اگست 1992)
اخبار آگے لکھتا ہے۔
”پارلیمنٹ میں بحث کے دوران سید نوید قمر نے کہا کہ ہم رسول ﷺ کی عزت و تکریم میں کسی سے پیچھے نہیں، لیکن ہم مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہیں، چودھری الطاف حسین نے کہا کہ رسول ﷺ کی زندگی میں صرف چار یا پانچ شاتم رسول قتل کیے گئے تھے، اس لئے شاتم رسول کو سزائے موت دینے کا اختیار ریاست کو نہیں ملنا
چاہئے“۔ (روزنامہ جنگ کراچی 7 اگست 1992ء)
لیکن..........
- 1..... اس مکتب فکر کی خدمت میں درخواست یہ ہے کہ کلام کا مفہوم جاننے کے
لیے صرف الفاظ کے ظاہر کا سہارا کافی نہیں ہوتا ہے، بلکہ کلام کے سیاق و سباق، اس وقت کے حالات اور شان ورود کو بھی ملحوظ رکھنا پڑتا ہے، اگر صرف الفاظ کے ظاہر کو لے کر آیت کے مفہوم کی وضاحت کریں گے۔ تو کلام کی بالکل غلط تشریح ہو سکتی ہے۔
مثلاً قرآن پاک کی آیت ہے:
لیس علی الذین امنوا وعملوا الصالحات جناح فیما طعموا اذا ما اتقوا وامنوا وعملوا الصالحات ثم اتقوا وامنوا ثم اتقوا واحسنوا
واللہ یحب المحسنین۔ (سورۃ المائدہ آیت 93)
ترجمہ: ”جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے، ان پر گناہ نہیں ہے اس میں جو
کچھ پہلے کھا چکے ہیں، جب کہ آئندہ کو ڈر گئے اور ایمان لائے اور نیک اعمال کئے پھر ڈرتے رہے اور یقین کیا، پھر ڈرتے رہے، اور نیکی کی اور اللہ دوست رکھتا ہے نیکی کرنے والوں کو‘‘۔
آیت بالا کا ظاہری مفہوم تو یہ ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ کے ہوتے ہوئے کسی بھی چیز کے کھانے میں حتیٰ کہ شراب پینے اور سور کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہی ہوا کہ مومن کے لیے حرام کھانے استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، حالانکہ کوئی بھی مفسر آیت بالا کی اس تشریح کا قائل نہیں ہے، بلکہ آیت بالا کی تشریح اس کے شان نزول کے اعتبار سے کرتے ہیں۔
اور آیت کا شان نزول یہ ہے کہ مسند احمد میں بروایت ابو ہریرہؓ منقول ہے کہ جب شراب اور جوئے کی حرمت نازل ہوئی۔ تو بعض صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ بہت سے آدمی جو کہ شراب پیتے تھے اور جوئے کا مال کھاتے تھے، اور تھے مومن، اور اب ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ تو کیا شراب نوشی اور جوئے کی حرام کمائی کا گناہ لے کر وہ دنیا سے چلے گئے ہیں؟
اس پر آیت بالا نازل ہوئی کہ شراب اور جوئے کی تحریم سے پہلے اگر کسی نیکو کار مومن کا انتقال ہو گیا ہو۔ تو شراب نوشی اور جوئے کی کمائی کا گناہ انہیں اس لئے لاحق نہ ہوگا، کہ ان کا سرزد شدہ عمل تحریم سے قبل تھا، جو کہ ظاہر ہے حلال تھا۔
اب شان نزول کی روشنی میں آیت بالا کی تشریح یہ ہوئی کہ ایمان اور نیک عمل کے ساتھ جن مومنوں کا انتقال ہو گیا ہو۔ اور وہ اپنی زندگی میں ایسے عمل کے مرتکب رہے ہوں جس کی حرمت ان کے انتقال کے بعد نازل ہوئی ہو۔
تو ایسی صورت میں اس ارتکاب عمل سے انھیں کوئی گناہ نہ ہوگا۔ کیونکہ اس وقت وہ جائز تھا، حرام نہ تھا۔ جب کہ حرمت کا حکم اب نازل ہوا ہے۔ لہٰذا نفاذ (Enforcement) نزول کی تاریخ سے ہوگا اور کسی صورت ماضی کو شامل نہ ہوگا۔
- 2...... صحابہ کے زمانہ میں بعضے لوگوں نے آیت بالا کو اپنے ظاہر پر رکھ کر شراب
نوشی کی حلت پر استدلال کرتے ہوئے شراب نوشی کے مرتکب ہوئے۔ تو ان کی اس تشریح کو۔ ”تاویل فاسد۔“ قرار دے کر ان کے حد جاری کی گئی۔
(دیکھئے مصنف عبدالرزاق ج 9 صفحہ 242، صفحہ 244 ، مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ ۔)
بہر حال درج بالا حوالہ سے ثابت ہوا کہ قرآن یا حدیث کے محض الفاظ کے ظاہری معنی کو لے کر مفہوم اخذ کرنا تاویل فاسد اور ناقابل اعتبار مفہوم قرار پایا ہے۔ بلکہ آیت کی تشریح میں ظاہری الفاظ کے ساتھ ساتھ سیاق و سباق، اس وقت کے حالات اور شان نزول بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
اس لئے......
- 1...... اس طبقہ خیال کے پہلے استدلال۔ لا اکراہ فی الدین ۔ کو سیاق و
سباق (Context) کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
اس آیت کے سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ ”دین میں جبر نہیں ہے۔“ سے مراد یہ ہے کہ کافر کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائیگا۔ کیونکہ اس کے بعد آیا ہے۔“
فمن يكفر بالطاغوت ويومن بالله فقد استمسك بالعروة
الوثقی (البقرہ آیت 256)
ترجمہ : ”اب جو کوئی نہ مانے گمراہ کرنے والوں کو اور ایمان لائے اللہ پر پس حقیقت میں اس نے مضبوط رسی تھام لی ہے۔ جس کے لئے کسی صورت ٹوٹنا نہیں ہے۔“
اس میں یہ ذکر ہے کہ اپنے اختیار سے ایک کافر جب سرکشوں کے دام سے نکل کر ایمان کی راہ کو لے لیتا ہے، تو درحقیقت قبول اسلام سے اس نے ایک ایسی مضبوط رسی کو تھام لیا ہے۔ جس کا ٹوٹنا نا قابل تصور ہے۔
تو آیت یہ واضح کرتی ہے کہ ایک کافر جو بغیر کسی جبر واکراہ کے خالص اپنی مرضی سے دین کے راستہ کو لے لیتا ہے، تو وہ ایک مضبوط رسی کو تھام لیتا ہے۔
لیکن اگر اس آیت کو مرتد پر منطبق کریں، جیسا کہ الفاظ کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے۔ تو مفہوم ہوگا کہ ”ایک مسلمان جب اپنے اختیار سے سرکشی کی دعوت دینے والے مذہب سے نکل کر اللہ پر ایمان لے آتا ہے۔ تو درحقیقت اس ارتداد سے اس نے ایک مضبوط رسی کو تھام لیا ہے“۔
آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ درج بالا دور از کار مفہوم قرآن کی روح کے کتنا خلاف ہے۔ اس لئے ”تاویل فاسد“ کرنے کی بجائے اس آیت کو سیاق و سباق کے تناظر میں ”کافر اصلی کے قبول اسلام“ کے محمل میں ہی رکھنا ہوگا۔
- 2...... جیسا کہ عرض کیا گیا کہ آیت کا مفہوم سمجھنے کے لئے آیت کے الفاظ کے
ساتھ ساتھ اس کے شان نزول کو ملحوظ نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے اب آتے ہیں اس آیت کے شان نزول کی طرف۔
اس آیت کے شان نزول کے بارے میں حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ
یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی، زمانہ جاہلیت میں ہوتا یہ تھا کہ جب کسی عورت کے بچے زندہ نہیں رہتے تھے، بلکہ ولادت کے بعد انتقال کر جاتے تھے تو وہ منت مانتی تھی کہ اگر اس کا بچہ زندہ رہا، تو وہ اس کو یہودی بنائے گی اور اس طرح وہ لوگ اپنی اولاد کو مدینے کے یہود قبائل کے حوالے کر دیتے تھے، اس طرح یہود کے پاس انصار کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی۔
اسلام کے ظہور کے بعد جب مسلمانوں اور یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر میں جنگ چھڑی اور انجام کار قبیلہ بنو نضیر کو خیبر جلا وطن ہونا پڑا۔ تو ان جلا وطن ہونے والوں میں انصاری مسلمانوں کی اولاد بھی تھی جو اپنے یہودی آقاؤں کے ساتھ ملک بدر ہو رہی تھی، جس کا انصاری مسلمانوں کو بڑا ملال تھا، ان لوگوں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہماری اولاد دائمی کفر کے نرغے میں جائے، ہم انہیں زبردستی مسلمان کرینگے۔
اس پر درج بالا آیت نازل ہوئی کہ اپنی یہودی اولاد کو اسلام پر مجبور نہ کرو، کیونکہ اسلام کے قبول کرنے میں کسی پر کوئی جبر نہیں ہے بلکہ اپنے اختیار سے چاہے اسلام قبول کرے چاہے کفر پر رہے۔
(دیکھئے تفسیر قرطبی جلد 3 صفحہ 280)
- 3......مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ درج بالا آیت اپنے عموم پر نہیں
ہے۔ بلکہ یہ آیت ”عام خُصَّ عنہ البعض“ کے قبیل سے ہے۔ کیونکہ جزیرہ عرب کے بت پرست اور آتش پرست درج بالا آیت کے عموم سے مستثنیٰ ہیں۔ کیونکہ ان کے لئے دو راستے رکھے گئے تھے اسلام یا تلوار کی دھار، اب اگر آیت اپنے عموم پر ہے، تو جزیرہ عرب کے کافروں کو اسلام پر مجبور کرنا صحیح نہ ہونا چاہیے۔ اس لئے باجماع مفسرین آیت بالا عام نہیں بلکہ ”عام خص عنہ البعض“ کے قبیل سے
ہے ۔ اور عام خص عنہ البعض کے اعتبار سے اس کا حکم یہ ہو گا کہ جب جزیرہ عرب کے کافروں سے اس کی عمومیت میں تخصیص کی گئی تو اسی طرح مرتدین کے حکم کی بھی احادیث صحیحہ کے ذریعہ تخصیص کی جائے گی ۔
خلاصہ یہ ہوا کہ باجماع مفسرین درج بالا آیت جس طرح جزیرہ عرب کے بت پرستوں کو شامل نہیں ہے۔ اسی طرح مرتدین کو بھی شامل نہیں ہے۔ بلکہ باجماع امت ان دونوں کے لئے اسلام کا فیصلہ بجز اسلام یا تختہ دار ہے۔
اب آتے ہیں ان احادیث کی طرف جن میں ارتداد کے جرم کی سزا صرف قتل بتائی گئی ہے، تمام امت کا اتفاق ہے، کہ یہ سزا تعزیری نہیں بلکہ حد ہے۔ اس لئے مرتد کی سزا نا قابل ترمیم اور نا قابل تنسیخ ہے۔
ذیل میں احادیث ملاحظہ فرمائیں:
- 1...... من بدل دینہ فاقتلوہ.
(البخاری، باب حکم المرتد صفحہ 6922)
ترجمہ : جو مسلمان اپنے دین سے مرتد ہو جائے، اس کو قتل کرو۔
- 2...... عن زيد بن اسلم: أن رسول الله ﷺ قال ”من غيّر دینہ
فاضربوا عنقہ.
(مؤطا امام مالک)
ترجمہ : رسول علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان اپنا دین بدلے، اسکی گردن اڑا دو۔
- 3...... امام بخاریؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”بخاری“ میں واقعہ نقل کیا ہے کہ
حضرت معاذؓ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے پاس تشریف لائے تو حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ
نے کہا تشریف لائیں اور ان کے لئے تکیہ لگایا، گھوڑے سے اترنے سے پہلے حضرت معاذؓ نے پوچھا تمہارے پاس یہ شخص کیوں بندھا ہوا ہے، بتایا گیا یہ شخص پہلے یہودی تھا۔ پھر مسلمان ہوا، اور اب دوبارہ مرتد ہو کر یہودی بن گیا ہے۔ اس پر حضرت معاذؓ نے کہا، میں اس وقت تک اپنے گھوڑے سے نہیں اتروں گا جب تک اس مجرم پر اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ نافذ نہ کیا جائے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے کہا آپ بیٹھ تو جائیں۔ حضرت معاذؓ نے اپنا وہی جواب دہرایا اور تین دفعہ تک یہی تکرار رہا۔
اس پر حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے حکم دیا تو اس مرتد کا سر قلم کر دیا گیا۔ (بخاری،
کتاب استتابة المرتدین)
- 4...... عن جریرؓ قال سمعت النبی ﷺ یقول : اذا أبق العبد إلی
الشرک فقد حل دمه . (ابوداؤد، کتاب الحدود صفحہ 436)
ترجمہ: ”حضرت جریرؓ کہتے ہیں کہ میں نے خود اللہ کے رسول کو یہ کہتا ہوا سنا ہے کہ جب مسلمان بندہ شرک کی طرف فرار اختیار کر لے تو اس کا خون کرنا حلال ہو گیا۔“
- 5...... حضرت عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے انہوں نے خارجیوں کو قسم دیکر
کہا، تمہیں پتہ ہے؟ اللہ کے رسول نے فرمایا ہے، کسی مسلمان کا خون تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں کرنا جائز ہوتا ہے (1) محصن ہو اور زنا کرے تو رجم ہے (2) اسلام سے مرتد ہو جائے، تو قتل ہے (3) کسی کا ناحق خون کرے، تو قصاص ہے۔
پھر کہنے لگے، خدا کی قسم! نہ میں نے جاہلیت کے زمانہ میں اور نہ زمانہ
اسلام میں زنا کا ارتکاب کیا ہے اور جب سے اللہ کے رسول کے ہاتھ اسلام پر بیعت کیا ہے اس کے بعد کبھی مرتد نہیں ہوا ہوں اور نہ ہی میں نے کسی کا ناحق خون کیا ہے۔ (ابوداؤد صفحہ 4502، ترمذی صفحہ 2159)
- 6...... عن معاويه بن حيدةؓ قال : قال رسول الله ﷺ : من بدّل
دينه فاقتلوه . (مجمع الزوائد جلد 2 صفحہ 261)
ترجمہ: معاویہ بن حیدہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے فرمایا: جو مسلمان اپنا دین بدل دے، اس کو قتل کر ڈالو۔
- 7...... عن عبدالرحمن بن ثوبان انّ رسول الله ﷺ قال فی
خطبته : إن هذه القرية (المدينة) لايصلح فيها قبلتان، فأيما نصرانی اسلم، ثمّ تنصّر فاضربوا عنقه . (طبرانی و مجمع الزوائد جلد 2 صفحہ 261)
ترجمہ : ”عبدالرحمٰن بن ثوبان سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول نے اپنے خطبہ میں فرمایا: مدینہ میں دو مذہب نہیں چل سکتے۔ لہٰذا جو نصرانی مسلمان ہونے کے بعد پھر سے نصرانی ہو جائے تو اس کی گردن اڑا دو ۔“
- 8...... عبداللہ بن سعد بن ابی سرح جو مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے مسلمان ہو گیا
تھا اور رسول ﷺ نے اسے اپنا کاتب وحی مقرر کیا تھا۔ شیطان کے بہکاوے میں آکر مرتد ہو گیا اور دوبارہ مشرکین مکہ سے مل گیا۔ فتح مکہ کے روز جن خطرناک کافروں کے قتل کا اعلان رسول ﷺ نے فرمایا تھا ان میں یہ بھی تھا۔
فتح مکہ کے روز حضرت عثمانؓ بن عفان کے ہاں روپوش ہو گیا۔ حضرت عثمانؓ نے اس کے دینی مفاد کی خاطر اس کو پناہ دی۔ معاملہ ٹھنڈا پڑنے کے بعد حضرت عثمانؓ
اس کو اللہ کے رسول کے پاس لیکر آئے۔ اور درخواست کی۔ اللہ کے رسول! عبداللہ بیعت کے لئے حاضر ہے۔ چونکہ یہ مرتد ہوگیا تھا اس لئے اللہ کے رسول نے دیکھ کر اپنی نگاہ نیچے کی پھر حضرت عثمان نے درخواست کی، پھر آپﷺ نے ایسا ہی کیا، اور اس طرح تین بار ہوا پھر آپﷺ نے اپنا دست مبارک اس کی طرف بڑھایا اور بیعت لے لی۔
ان کے جانے کے بعد اللہ کے رسول اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمانے لگے تم میں کوئی سمجھدار نہیں تھا جو میرے تین بار ہاتھ روکنے کو انکار سمجھ کر سابقہ اعلان کے بموجب اس کا سرقلم کر دیتا، صحابہ نے کہا۔ اللہ کے رسول! اگر ایسی بات تھی تو آپ آنکھ سے ہلکا سا اشارہ فرما دیتے۔ آپﷺ نے جواب ارشاد فرمایا! کسی نبیﷺ کو ایسا کرنا زیب نہیں دیتا ہے۔ (ابوداؤد صفحہ 4358)
- 9....... فتح مکہ کے روز اللہ کے رسولﷺ نے جن خطرناک کافروں کے قتل کا
اعلان فرمایا تھا، ان میں قبیلہ بنو تمیم سے تعلق رکھنے والا عبداللہ بن خطل بھی تھا۔ یہ شخص دربار رسالت کو کئی جرائم میں مطلوب تھا۔ (1) جرم ارتداد (2) شان رسالت میں سب وشتم و ہجو گوئی۔ جس کے لئے اس نے دو خوش الحان رقاصائیں رکھی ہوئی تھیں، جو رقص و سرور کی محفلوں میں شان رسالت میں سب وشتم اور ہجوگوئی کرکے دشمنان اسلام کے دلوں کو محظوظ کرتی تھیں (3) مدینہ میں رہائش کے دوران اس نے قبیلہ خزاعہ سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان کا خون کیا تھا۔
اس شخص کے قتل کے اعلان کی وجہ فقہائے امت نے جرم ارتداد کو قرار دیا ہے۔ کیونکہ دوسرا جرم شان رسالت میں گستاخانہ لہجہ۔ تو بقول حافظ ابن حجر (فتح الباری
جلد 4 صفحہ 62) کہ اس جرم کی پاداش میں اعلان قتل اس لئے نہیں تھا کہ شاتم رسول کے قتل کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسلامی ریاست کا مسلمان یا کافر شہری ہو، جبکہ ابن خطل حربی تھا۔
اور جبکہ تیسری وجہ ...... جرم قتل ...... اس لئے نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ بقول علامہ ابن تیمیہ (الصارم المسلول صفحہ 136) کہ قصاص حاکم وقت کے اختیار میں نہیں ہوتا ہے بلکہ مقتول کے اولیاء کا حق ہوتا ہے۔ اس لئے اگر قصاص وجہ ہوتی تو پھر چاہیے تو یہ تھا کہ ابن خطل کو مقتول کے اولیاء کے حوالے کر دیتے۔ جن کی مرضی تھی قصاص لے لیں یا قاتل کو معاف کر دیں، یا قاتل سے صلح کر کے مال پر راضی ہو جائیں۔
اس لئے بقول فقہاء و محققین کہ ابن خطل کے اعلان قتل کی وجہ جرم ارتداد تھی۔ جس میں دیگر جرائم نے بھی سنگینی کا زہر گھول دیا تھا اس لئے غلاف کعبہ کا سہارا لینے کے باوجود بغیر توبہ کا موقع دیئے دربار رسالت سے اس کے فوری قتل کے احکامات جاری ہوئے۔ (بخاری صفحہ 1846، فتح الباری جلد 4 صفحہ 62)
- 10...... حضرت علیؓ کی خدمت میں چند زندیقوں کو پیش کیا گیا، آپؓ نے ان
کے جلانے کا حکم فرمایا۔ حضرت ابن عباسؓ کو جب اس واقعہ کی خبر ہوئی تو فرمانے لگے، اگر میں ہوتا تو میں جلانے کی بجائے صرف قتل کا حکم دیتا، کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص دین اسلام سے مرتد ہو جائے اس کو قتل کر ڈالو۔ (مسند احمد صفحہ 282، ابو داؤد صفحہ 4351، ترمذی صفحہ 1458)
- 11...... حضرت محمد بن ابی بکرؓ نے حضرت علیؓ کو لکھا کہ چند مسائل کا حکم مطلوب
ہے (1) دو مسلمان زندیق ہو گئے (2) ایک مسلمان شخص نے ایک نصرانی عورت
سے زنا کیا ہے۔
حضرت علیؓ نے جواب میں لکھا : جو دو مسلمان زندیق ہو گئے ہیں انہیں دوبارہ مسلمان ہونے کی دعوت دو ، اگر مسلمان ہو جاتے ہیں تو بہتر ہے ورنہ ان کی گردنیں اڑا دو ۔
(اعلاء السنن جلد 11 صفحہ 554)
- 12...... حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں صوبہ شام کے کچھ لوگ شراب نوشی کے
مرتکب ہوئے۔ شام کے گورنر یزید بن ابی سفیان کی خدمت میں جب یہ لوگ پیش ہوئے تو کہنے لگے ہم نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے کیونکہ نیکو کار مسلمانوں کے لئے شراب حلال ہے۔ اور درج ذیل آیت سے استدلال کیا:
ليس على الذين امنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا اذا ما اتقوا و امنوا وعملوا الصالحات ثم اتقوا وامنوا ثم اتقوا واحسنوا والله يحب المحسنين.
(سورۃ المائدہ آیت 93)
ترجمہ: ”جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ، ان پر گناہ نہیں ہے اس میں جو وہ پہلے کھا چکے ، جبکہ آئندہ کو تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے اور نیک اعمال کیئے ، پھر تقویٰ اختیار کیا۔ اور ایمان لائے ، پھر تقویٰ اختیار کیا اور نیکی کی ، اور اللہ نیک لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔“
شام کے گورنر نے اس واقعہ کی خبر دربار خلافت میں کی ، اس پر حضرت عمرؓ نے ان لوگوں کو مدینہ منورہ طلب کیا جب یہ لوگ آ گئے تو ان کے بارے میں آپؓ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ طلب کیا کہ شریعت کی روشنی میں ان کے لئے کیا سزا مناسب ہے۔
سارے صحابہؓ نے حضرت عمرؓ کو ان کے قتل کرنے کا مشورہ دیا۔ کیونکہ انہوں نے آیت میں تاویل فاسد (اوٹ پٹانگ تاویل) کر کے اللہ پر بہتان باندھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نجس اور حرام چیز کو ان کے زعم میں مسلمان کے لئے حلال قرار دیا ہے۔ دوم یہ کہ شراب جو حرام ہے، اس کو حلال سمجھنے سے چونکہ یہ لوگ مرتد ہو چکے ہیں اس لئے ان کے خلاف جرم ارتداد کی سزائے قتل جاری کی جائے۔
حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ سے استفسار فرمایا، حضرت علیؓ نے فرمایا: مناسب یہ ہے کہ فوری قتل سے پہلے آپؓ انہیں دوبارہ اسلام میں آنے کی دعوت دیں۔ اگر مسلمان ہو جاتے ہیں تو پھر ان کے خلاف صرف شراب نوشی کی سزائے حد...... اسّی 80 کوڑے...... کا فیصلہ جاری فرما دیں۔ اور اگر اپنے فاسد نظریئے سے تائب نہیں ہوتے تو پھر ان کی گردنیں اڑا دیں کیونکہ یہ لوگ قرآن میں تاویل فاسد کے ذریعے اللہ پر بہتان باندھنے اور حرام کو حلال سمجھنے کے سبب مرتد ہو چکے ہیں۔
حضرت عمرؓ اس جواب سے مطمئن ہوئے اور ان لوگوں کو بلا کر ان سے تائب ہونے کو کہا، انہوں نے توبہ کی۔ حضرت عمرؓ نے فیصلہ کے مطابق انکے حد خمر اسّی کوڑے جاری فرمائی۔
(شرح معانی الآثار جلد 2 صفحہ 76)
مسلمانوں کا مغرب زدہ طبقہ جو اپنی انگریز غلامی کے سبب بالکل یہ نہیں چاہتے ہیں کہ اسلام یا اس کا کوئی حکم انگریز آقاؤں کے لئے ناقابل برداشت ہو۔ اس لئے وہ اس بات کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں کہ مغرب کے لئے اسلام کے قابل اعتراض احکام میں ایسی تاویلات یا ایسی تشریحات کی جائیں جن کی رو سے مغرب کے لئے
اسلام پر تنقید کا راستہ بند ہو جائے، چاہے وہ تاویلات اسلام کے وضع کردہ اصولوں کے انتہائی درجہ خلاف کیوں نہ ہوں ۔
مرتد کی سزائے قتل کے بارے میں ذکر کردہ احادیث کے ساتھ ان لوگوں نے کچھ ایسا ہی معاملہ کیا ہے، چونکہ انگریز سرکار کے ہاں باغی کی سزائے موت منصفانہ اور مذہب کے باغی کی سزائے موت ظالمانہ ہے۔ اس لئے اسلام کا درج بالا حکم ان کے زعم میں ظالمانہ ٹھہرا۔ جس کو منصفانہ بنانے کے لئے انگریز کے خوشہ چینوں نے مرتد کی سزائے موت کے بارے میں ذکر شدہ احادیث صحیحہ کو ایسا توڑ مروڑ کر کے پیش کیا کہ انگریز کی نظر میں ان کا ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہونے کا اعتراض ختم ہو جائے۔
اس بابت میں اس طبقہ خیال کا کہنا یہ ہے کہ اسلام میں آزادی ہے، زبردستی نہیں ہے اس لئے اسلام میں محض ارتداد یا مذہب سے بغاوت مستوجب قتل نہیں ہے لیکن اگر مسلمان اس ارتداد اور مذہبی بغاوت کے ساتھ ساتھ ملک وقوم سے بھی بغاوت کر بیٹھے اور مسلمانوں اور اسلامی ریاست کے خلاف جنگ مسلط کرنے کی ریشہ دوانیاں شروع کردے، تو اس صورت میں اسلام اس کے خلاف سزائے موت کے اجراء کا حکم کرتا ہے ان لوگوں کے مطابق ذکر شدہ احادیث میں جس مرتد کی سزا ذکر کی گئی ہے اس سے مراد یہی شخص ہے یعنی مذہب سے بغاوت کے ساتھ ساتھ ملک وقوم سے بھی برسر پیکار ہو جائے۔
لیکن احادیث پر عالمانہ نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ پیش کردہ تشریح انتہائی درجہ کی بے ڈھنگی اور الفاظ و معنی کے بالکل خلاف ہے۔
- 1....... کیونکہ جتنی احادیث مثلاً: من بدل دینہ فاقتلوہ ۔ جو مسلمان اپنا دین
اسلام بدل دے، اسکو قتل کر ڈالو۔
اس میں آپ ہی ذرا انصاف فرمائیں! کیا اس حدیث میں دھشت گردی یا ملک وقوم کے خلاف جنگی بغاوت کا کوئی ادنیٰ سا اشارہ ملتا ہے؟ کیا اس میں قتل کا سبب صرف وصرف تبدیلی دینِ اسلام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی سوچیں کہ اتنی کڑی سزا کا حکم بیان کرنے کے لئے ارتداد کے ساتھ ساتھ ملک وقوم کے خلاف جنگ مسلط کرنا بھی اگر ضروری سبب ہوتا تو اللہ کے رسول ﷺ ضرور ذکر فرماتے۔
- 2....... دوم یہ دیکھیں قانون مجرم کے لئے وہ نام تجویز کرتا ہے جو اس کے جرم کو
خود واضح کرے اور لفظ خود بتائے کہ وہی اس سزا کا اصل سبب ہے۔ مثلاً: قاتل، دھشت گرد، شرابی، زنا کار، رشوت خور۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
السارق والسارقة فاقطعوا ايديهما.
(القرآن)
ترجمہ: چور مرد اور چور عورت (سزا کے طور پر) ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔
آیت بالا میں سزا ...... ہاتھ کاٹنے ...... کا ذکر ہے۔ جبکہ اس سزا کا سبب خود چور یعنی ”السارق والسارقة“ میں موجود ہے۔ چور کے نام کا لفظ واضح کرتا ہے کہ اس سزا کا سبب خود اس میں موجود ہے اور وہ ہے سرقہ یعنی چوری، تو جیسے اس آیت میں قطع ید کا سبب ...... سرقہ ...... متعین ہے۔ اسی طرح ”مرتد“ کا لفظ ، ”مَن بَدَّلَ دینہ“ میں تبدیلی دین کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ سزائے قتل کا اصل سبب وہ اکیلا ہے، اگر دھشت گردی یا ملک کے خلاف جنگ کرنا سبب ہوتا تو پھر بیان سبب میں باغی، محارب، بغاوت اور حرب جیسے الفاظ ذکر ہونے چاہیے تھے۔
- 3....... گذشتہ صفحات میں ذکر کردہ احادیث اور صحابہ کے تعامل کے واقعات میں
مرتد کے قتل کا ایک ہی سبب ذکر کیا گیا ہے اور وہ ”ارتداد“ ہے۔ مثلاً: حضرت ابو موسیٰ اور حضرت معاذ کے واقعے میں دیکھیں، تو وہاں اسلام سے یہودیت کی طرف ...... ارتداد ...... کے علاوہ کوئی بھی سبب مذکور نہیں ہے۔ اسی طرح دلیل نمبر 8 میں حضرت عبدالرحمن بن ثوبان کی روایت دیکھیں، اس میں بھی سبب واحد ...... اسلام سے نصرانیت کی طرف ارتداد ...... ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح باقی روایات میں بھی سبب واحد ...... تغییر دین، تبدیلی دین، دین سے فرار، اسلام کے بعد کفر اختیار کرنا۔ زندیق بننا ...... ذکر کیا گیا ہے ان میں کہیں بھی ارتداد کے ساتھ ساتھ ملک وقوم سے بغاوت کو سبب کے طور پر ذکر نہیں کیا گیا ہے اس لئے مرتد کی سزائے موت کے لئے محض ارتداد سبب کامل ہے۔
اس پر ان حضرات کا کہنا ہے کہ بغاوت کا ذکر ان مذکورہ احادیث میں نہ سہی یا یہ کہ مرتد کی سزائے موت کے لئے نصف سبب کا بیان یعنی دینِ اسلام سے بغاوت مذکورہ احادیث میں کیا گیا ہے جبکہ کامل سبب کا بیان یعنی ارتداد کے ساتھ ساتھ ملک وقوم سے بغاوت بھی حدیث ذیل میں کیا گیا ہے۔
عن ابن مسعودؓ أن رسول الله ﷺ قال: لا يحل دم امرء مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله وأنى رسول الله إلا أحدى ثلث : الثيب الزانى، النفس بالنفس، والتارك لدينه المفارق للجماعة.
ترجمہ : ”ابن مسعودؓ سے روایت ہے، اللہ کے رسول نے فرمایا: کوئی ایسا مسلمان جو کلمہ شہادت پڑھتا ہو، اس کا خون کسی صورت حلال نہیں۔ مگر تین صورتوں میں سے کسی صورت میں (1) محصن مسلمان کا زنا (2) مسلمان کا ناحق خون کرنے کی
صورت میں قصاص ہے۔ (3) دین اسلام چھوڑنے والا اور مسلمانوں سے الگ ہونے والا۔“
حدیث بالا میں مرتد کی سزائے موت کے لئے دو جرموں کے اجتماع کو سبب کے طور پر بتایا گیا ہے ایک ارتداد جسکا ذکر ...... التارک لدینہ ...... سے کیا ہے، اور دوم ملک وقوم سے بغاوت کا ذکر ...... المفارق للجماعة ...... سے کیا ہے۔ لہٰذا مرتد کی سزائے موت کے لئے ارتداد کے ساتھ ساتھ بغاوت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اکیلے ارتداد سے کسی کو اسلامی قانون کے تحت سزائے موت نہیں دی جاسکتی ہے۔
لیکن اس استدلال کے اندر بھی کوئی وزن دکھائی نہیں دیتا ہے۔ کیونکہ ...... تارک اور مفارق ...... دو ہم معنی الفاظ ہیں کہا جاتا ہے: فارقنی حبیبی: میرے محبوب نے مجھے داغ فراق دیا، تو فراق اور ترک دو ہم معنی الفاظ ہونے کی وجہ سے ”المفارق للجماعة“ پہلے لفظ ”التارک لدینہ“ کی تاکید تو بن سکتا ہے۔ مخالف معنی پر دلیل نہیں بن سکتا ہے۔
2۔ اگر بالفرض اس سے بغاوت کا معنی مقصود ہوتا تو پھر یوں کہا جاتا:
” والتارک لدینہ، المحارب للجماعة “
”دین اسلام چھوڑنے والا اور مسلمانوں سے جنگ کرنے والا“
کیونکہ بغاوت اور فراق میں بڑا فرق ہے۔ جس کو ایک عام اردو دان بھی سمجھ سکتا ہے کہ فراق کے معنی محض جدائی کے آتے ہیں جبکہ بغاوت اور جنگ قوم وملک کے خلاف ایسی سرکشی کا نام ہے جس میں قوم سے قطع تعلق کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف قوت وطاقت کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے، عربی میں اس معنی کی ادائیگی کے لئے
”مفارقة“ کا لفظ بالکل استعمال نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ ...... بغی، حرابة، قتال، محاربة ..........جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
اس لئے ......المفارق للجماعة...... سے المحارب للجماعة مراد لینا ایسا ہے جیسے کوئی شخص اردو میں شراب سے شربت معنی مراد لے۔
سوال یہ ہے کہ اس طبقہ خیال کے لوگ علم و دانش رکھنے کے باوجود حقائق سے کوسوں دور تشریحات پر کیوں مجبور ہوتے ہیں انکے اس ذہنی جبر کے بارے میں مفتی اعظم پاکستان محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں:
”دوسرے کچھ وہ لوگ جو کچھ عربی جاننے کی بناء پر علماء کہلاتے ہیں، اور ان کی کوشش خواہ اپنے ذاتی خیال سے یا کسی طمع اور لالچ سے یہ رہتی ہے کہ اسلام کا ایک ایسا نیا ایڈیشن تیار کیا جائے جس سے مغربی تہذیب خفا نہ ہو۔ یا جس سے ان کے افسروں کی خوشنودی حاصل ہو خواہ اس کے لئے قرآن وسنت کی نصوص میں کتنی ہی کھینچ تان بلکہ چیر پھاڑ کرنا پڑے۔“
(جواہر الفقہ جلد 2 صفحہ 20)
آپ ہی سوچیں! اگر اسلامی احکام کی تشریحات اور اس کے قانونی حدود کے تعین میں قرآن وحدیث اور علماء امت کے اجماع سے رہنمائی لینے کی بجائے مغربی آشیر باد کو معیار بنا دیا جائے جبکہ واقعہ یہ ہے کہ مغرب کی سراپا ننگی تہذیب بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے اور اسلام کی پاکیزہ اقدار کے لئے ایک زبردست مزاحم کے طور پر دنیا میں عروج پا رہی ہے جبکہ اسلام دلیل کے میدان میں فتحیاب سہی لیکن مغربی طرز پر قائم معاشرہ میں وہ غیر مانوس اور ناقابل عمل دکھائی دیتا ہے تو بجائے اسلام کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے اگر مغربی طرز کے عریاں معاشرہ میں اسلام اور مغربی
اقدار کا تقابل کیا جائے گا تو یقینا اسلامی علوم سے نا آشنا طبقہ اسلامی احکام کو قابل اعتراض دیکھے گا۔ جیسے مذہب دشمن معاشرہ میں مسئلہ ارتداد کو تقابلی نظر سے دیکھا گیا، تو اسلام کا حکم ظالمانہ نظر آیا تو ارتداد کی سزا ظالمانہ لگنے کے سبب مرتد کی سزا میں توڑ مروڑ کر کے اس کو مغربی افکار سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اب جبکہ موجودہ دور میں زنا کی اباحت پر مغربی معاشرہ قائم ہے اور جنسی عمل کو انسان کی فطری ضرورت بتاتے ہیں اور اس عمل پر سزا کو ایسا ہی ظالمانہ سمجھتے ہیں، جیسے کسی کو اپنا کھانا کھانے پر سزا دینے کو ظالمانہ سمجھا جاتا ہے۔ تو بتائیں آج کے معاشرہ میں اسلام کو مغرب سے ہم آہنگ کیسے کیا جائے۔ زنا کی سزائے حد کا انکار کیا جائے؟ یا جرم زنا میں توڑ مروڑ کر کے اس کو زنا بالجبر (Rape) پر محمول کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی قید لگا دی جائے کہ اسلام کا حکم رجم اس وقت نافذ ہوتا ہے جبکہ مزنیہ کے ساتھ زنا بالجبر کے فعل کے ساتھ ساتھ اس کا بہیمانہ قتل بھی شامل ہو جائے تو بتائیں! یہ اسلام سے صریح غداری نہ ہوگی؟
یا فرض کریں! اگلے دور میں مغربی معاشرہ بہن بھائی کے درمیان رشتہ کرنے کی قانونی اجازت دیدے، اور مغربی روایات بھی اس قانون کو معاشرتی روایت کے طور پر قبول کرلیں اور اپنی بہن سے شادی نہ کرنا اس کی حق تلفی تصور کی جائے تو بتائیں اس وقت ہمارا کیا کردار ہوگا؟ بلکہ آج کے دور میں دیکھیں آج کی مغربی دنیا لواطت (Homo Sexuality) کو جرم نہیں سمجھتی ہے جبکہ اسلام اس کو زنا سے بھی بدتر جرم سمجھتا ہے اور اس کے لئے زنا سے زیادہ سنگین سزا مقرر کرنے کا اختیار حاکم وقت کو تفویض کرتا ہے۔ آپ ہی فرمادیں! اس صورت حال کے اندر اسلام پر کیا لیبل
چسپاں کردیں؟ اس کو نا قابل عمل قرار دیں؟ سرے سے اس کے جرم و سزا ہونے کا انکار کر دیا جائے؟ یا کوئی دیگر مغربی افکار سے ہم آہنگ کوئی تشریح نکالی جائے؟
اللہ تعالیٰ ہمارا حافظ و نگہبان ہو۔ واللہ اعلم بالصواب
شاتم رسول کی سزا
قرآن وحدیث کی روشنی میں......
کعب بن اشرف یہودی سردار تھا اور اسلام اور حضور ﷺ کا بدترین دشمن تھا۔ غزوہ بدر میں جب کفار مکہ کو شکست ہوئی تو اس نے کہا: ’’آج زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہے۔‘‘ اس کا قتل ہجرت کے پچیسویں 25 مہینے 14 ربیع الاول کو ہوا جبکہ اسلامی ریاست مدینہ میں قائم ہو چکی تھی۔ بدبخت کعب حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کی ہجو علانیہ کرتا تھا اور آپ ﷺ کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا میں دوستی اور بھائی کا رشتہ بھی مانع نہیں آتا۔
شاتم رسول کی سزا قرآن وحدیث کی روشنی میں
- 1...... اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے.......
فلا و ربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت و یسلموا تسلیما . (سورۃ نساء : 64)
"پس (اے محمدﷺ ) تمہارے رب کی قسم یہ کبھی بھی مومن نہیں ہو سکتے ۔ جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں تم کو یہ اپنا حکم نہ بنالیں اور پھر جو کچھ بھی فیصلہ تم کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ اسے بسر تسلیم کر لیں ۔"
سورہ نساء کی اس آیت کے شان نزول کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان جو اصل میں منافق تھا اور ایک یہودی کے درمیان کسی معاملہ پر تنازعہ ہو گیا ۔ دونوں آپﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔ آپﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں صادر فرمایا، جس سے دوسرا فریق راضی نہ ہوا اور اس کے اصرار پر یہ دونوں معاملہ کو لے کر از سر نو فیصلہ کے لیے حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے آپؓ نے ان دونوں سے مقدمہ کی روئیداد سنی اور جب آپؓ کو معلوم ہوا کہ آنحضورﷺ اس بارے میں یہودی کے حق میں فیصلہ صادر فرما چکے ہیں تو آپؓ نے خود اس منافق سے اس کی تصدیق کر لی اور اس کے بعد اسی وقت تلوار سے اس منافق کا سر قلم کر دیا ۔
اس کے بعد آپؓ نے فرمایا :
ہکذا اقضی لمن لم یرض بقضاء اللہ و رسولہ .
"اور جو اللہ اور اس کے رسو ہے جو میں نے کیا ہے ۔" (روح المعا مقتول کے ورثاء کو جب ی میں پہنچے اور حضرت عمرؓ کے خلاف مبارکہ نازل ہوئی اور آنحضورﷺ سرفراز فرمایا ۔ (الصارم المسلول صفحہ 7
اس سے صاف ظاہر ہو گیا گستاخی کا موجب ہے ، جس کی ت
ان آیات قرآنی سے قاط منافق جو اپنے آپ کو مسلمان ظا سزا صرف سزائے موت ہے ۔
- 2....... سنن ابو داؤد م
ایک ام ولد تھی جو حضور رسالت آتی تھی ۔ ایک رات اس نے آ لگی ۔ جس پر اس نابینا صحابی جب صبح ہوئی تو اس کے قتل کا م ساری روئیداد سننے کے بعد تما جمع ہو گئے تو آپﷺ نے قسم جائے ( یعنی اقبال جرم کرے
”اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلہ سے راضی نہ ہو اس کا یہی فیصلہ ہے جو میں نے کیا ہے۔“ (روح المعانی ج 5 صفحہ 73 - 72)
مقتول کے ورثاء کو جب یہ خبر پہنچی تو وہ حضور رسالت مآب ﷺ کی عدالت میں پہنچے اور حضرت عمرؓ کے خلاف قتل کا دعویٰ کر دیا جس پر سورہ نساء کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی اور آنحضور ﷺ نے حضرت عمرؓ کو ”فاروق“ کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ (الصارم المسلول صفحہ 37)
اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ آپ ﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا بھی توہین اور گستاخی کا موجب ہے، جس کی تصدیق سورہ نساء کی اس آیت مبارکہ نے بھی کر دی۔
ان آیات قرآنی سے قانون الٰہی کھل کر ہمارے سامنے آ گیا ہے کہ اگر کوئی منافق جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہو، توہین رسالت کا ارتکاب کرے گا تو اس کی سزا صرف سزائے موت ہے۔
- 2...... سنن ابو داؤد میں ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا مسلمان کی
ایک ام ولد تھی جو حضور رسالت مآب ﷺ کی ہجو کیا کرتی تھی اور منع کرنے پر بھی باز نہ آتی تھی۔ ایک رات اس نے آپ ﷺ کی ہجو شروع کی اور آپ ﷺ کی برائی کرنے لگی۔ جس پر اس نابینا صحابی نے چھرا اس کے پیٹ میں گھونپ دیا جس سے وہ مر گئی۔ جب صبح ہوئی تو اس کے قتل کا مقدمہ نبی ﷺ کی عدالت میں پیش ہوا۔ آپ ﷺ نے ساری روئیداد سننے کے بعد تمام لوگوں کو حاضر عدالت ہونے کا حکم دیا اور جب سب جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے قسم دے کر فرمایا، جس شخص نے بھی یہ جرم کیا ہے وہ کھڑا ہو جائے (یعنی اقبال جرم کرے) جس پر وہ نابینا شخص مجمع کو پھاندتا ہوا آپ ﷺ کے
سامنے آ گیا اور عرض کیا : ”یا رسول اللہ ! میں اس کا قاتل ہوں۔ وہ آپ ﷺ کو برا بھلا کہتی تھی۔ میرے زجر و توبیخ اور منع کرنے پر بھی باز نہ آتی تھی۔ اس کے بطن سے میرے موتیوں کی مانند دو بیٹے ہیں اور وہ میری رفیقہ حیات تھی، لیکن کل رات جب اس نے آپ ﷺ کو برا بھلا کہا اور آپ ﷺ کی ہجو کی، تو میں نے اس کے پیٹ میں چھرا گھونپ کر اس کو مار دیا ۔“
جب حضور ﷺ کے سامنے اس کی کوئی تردید پیش نہیں ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
”دیکھو ! گواہ رہو ! ” ان دمها هدر “ ”اس کا خون رائیگاں گیا ۔“
(یعنی اس کے خون کے بدلے قصاص یا دیت کا مطالبہ باقی نہیں رہا کیونکہ وہ واجب القتل ہو گئی تھی ۔“ (سنن ابی داؤد بذل المجہود ج 6 صفحہ 125)
درج بالا حدیث میں مذکور جرم توہین رسالت اگر چہ غیر علانیہ تھا لیکن مرتکب جرم کا عادی مجرم ہونے کے سبب اس کے قتل کو روا قرار دیا گیا۔ اور یہی حنفی علماء کا مذہب ہے۔
- 3...... جناب جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے
صحابہ سے فرمایا: ”تم میں سے کون کعب بن اشرف کی خبر لے گا ، اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے ۔“ یہ سن کر محمد بن مسلمہ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا : ”یا رسول اللہ ! کیا آپ ﷺ کو منظور ہے کہ میں اسے ختم کر دوں ۔“ فرمایا: ”ہاں“ ۔ جس پر انھوں نے کہا: ”تو پھر مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس سے نمٹنے کے لیے جس طرح مناسب سمجھوں معاملہ کروں ۔“ فرمایا: ” اجازت ہے ۔“ اس کے بعد محمد بن
مسلمہ کعب کے پاس پہنچے اور کہا: ”دیکھو یہ شخص (یعنی پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام) ہم سے زکوٰۃ مانگتا ہے جبکہ ہمارے پاس خود کھانے کو نہیں۔ عجیب مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ ہمارے لیے کچھ قرض کا انتظام کر دو۔“ کعب نے کہا: ”ابھی کیا ہے۔ خدا کی قسم آگے چل کر تمھیں اور بھی بہت تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔“ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: ”بات یہ ہے کہ ہم ایک بار اس کی پیروی کر چکے ہیں، اب یہ اچھا نہیں لگتا کہ ایک دم اس کو چھوڑ دیں مگر دیکھ رہے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ خیر ہم اس غرض سے آئے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق (غلہ یا کھجور) ہم کو قرض دیدو۔“ کعب نے کہا: ”اچھا اس کا انتظام ہو جائے گا مگر اس کے بدلہ تمھیں رہن رکھنا ہوگا۔“ انھوں نے کہا: ”کیا چیز ہم بطور رہن رکھیں۔“ کعب نے کہا: ”اپنی عورتوں کو بطور رہن ہمارے پاس رکھو۔“ جس پر ان لوگوں نے کہا: ”یہ بھی خوب! سارے عرب میں تم خوبصورت مرد ہو، بھلا ہم کس طرح اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گروی رکھیں اس نے کہا: ”اچھا اپنے بیٹوں کو ہمارے پاس گروی کرو۔“ انھوں نے کہا: ”بیٹوں کو گروی کریں گے تو لوگ ساری عمر طعنہ دیں گے کہ ایک وسق یا دو وسق پر یہ گروی رکھے گئے تھے، جو بڑے ہی شرم کی بات ہے۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس بطور رہن رکھ سکتے ہیں۔“ اس گفتگو کے بعد محمد بن مسلمہؓ رات کو پھر آنے کا وعدہ کر کے چلے گئے۔ جب رات کو آئے تو ابو نائلہ، جو کعب کا رضاعی بھائی تھا، کو ساتھ لائے۔ کعب نے ان کو قلعہ کے پاس بلایا اور خود قلعہ سے اتر کر نیچے ان سے آ کر ملا۔ جب وہ قلعہ سے اترنے لگا تو اس کی بیوی کہنے لگی: ”اتنی رات گئے کہاں جا رہے ہو!“ کعب نے کہا: ”محمد بن مسلمہؓ اور میرا بھائی ابو نائلہؓ مجھے بلا رہے ہیں۔“ سفیان کہتے ہیں، عمرو بن
دینار کے سوا اور لوگوں نے یہ بات بھی کہی ہے کہ اس کی بیوی نے یہ بھی کہا: ”میں نے جو آواز سنی ہے اس سے خون ٹپک رہا ہے۔“
جب کعب سر سے چادر اوڑھے ہوئے اترا تو اس کے بدن سے خوشبو مہک رہی تھی۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: ”میں نے تو آج تک ایسی عطر کی خوشبو نہیں سونگھی ہے۔“ عمرو کے سوا اور دوسرے راویوں نے یوں بیان کیا ہے کہ کعب نے اس کے جواب میں کہا: ”میرے پاس عرب کی ایسی عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے اور حسن و جمال میں اس کی نظیر نہیں ہے۔“ عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ محمد بن مسلمہ نے کعب سے کہا: ”کیا میں تمہارا سر سونگھ لوں۔“ کعب نے کہا: ”ہاں سونگھ لو،“ محمد بن مسلمہ نے اس کا سر خود بھی سونگھا اور اپنے ساتھیوں کو بھی سونگھایا۔ پھر کہا: ”ایک مرتبہ اور۔“ اس نے کہا: ”اچھا“۔ اس مرتبہ محمد بن مسلمہ نے کعب کا سر زور سے تھام لیا اور ساتھیوں سے کہا، ہاں اس کا سر لے لو اور انھوں نے اس کا کام تمام کر دیا۔ پھر حضورﷺ کی خدمت میں آئے اور آپﷺ کو اس کی خبر دی۔“
(صحیح البخاری، کتاب المغازی، ج 4 صفحہ 1482)
کعب بن اشرف یہودی سردار تھا اور اسلام اور حضورﷺ کا بدترین دشمن تھا۔ غزوہ بدر میں جب کفار مکہ کو شکست ہوئی تو اس نے کہا: ”آج زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہے۔“ اس کا قتل ہجرت کے پچیسویں 25 مہینے 14 ربیع الاول کو ہوا جبکہ اسلامی ریاست مدینہ میں قائم ہو چکی تھی۔ کعب حضورﷺ اور آپﷺ کے صحابہؓ کی ہجو علانیہ کرتا تھا اور آپﷺ کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ شاتم رسولﷺ کی سزا میں دوستی اور بھائی کا رشتہ بھی مانع نہیں آتا۔
صحیح بخاری میں ”کتاب المغازی“ کے علاوہ ”طبقات ابن سعد“ میں بھی اس
واقعہ کی تفصیلات موجود ہیں
- 4....... حضرت ابن
میں (علانیہ) دشنام طرازی کی خبر لے گا“، اس پر ج کر اس گستاخ رسولﷺ
- 5....... ایک بدبخت
سے حضرت خالد بن ولید
- 6....... ایک نصران
(علانیہ) گالیاں دیتا
- 7....... سعید بن
حضورﷺ نے حضرت کر دو۔“ (ایضاً)
- 8....... قاضی عی
کیا ہے کہ قبیلہ خطمہ ”کون ہے جو میرے عرض کیا، یا رسول اللہ عورت کو قتل کر دیا
- 9....... مہاجر
سربراہ تھے، کی عداوت
واقعہ کی تفصیلات موجود ہیں۔
- 4...... حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضورﷺ کے بارے
میں (علانیہ) دشنام طرازی کرتا تھا، حضورﷺ نے فرمایا: کون ہے جو ہمارے اس دشمن کی خبر لے گا ۔‘‘ اس پر جناب زبیرؓ نے کہا ، میں حاضر ہوں ۔‘‘ پھر حضرت زبیرؓ نے جا کر اس گستاخ رسولﷺ کو واصل جہنم کیا ۔ (مصنف عبدالرزاق حدیث 9704 صفحہ 307)
- 5...... ایک بد بخت عورت حضورﷺ کو گالیاں دیتی رہتی تھی۔ حضورﷺ کے حکم
سے حضرت خالد بن ولیدؓ نے اس کا ناطقہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ۔ (ایضاً)
- 6...... ایک نصرانی شخص کے قتل کے بارے میں آیا ہے کہ اس نے حضورﷺ کو
(علانیہ) گالیاں دیں تھیں جس پر اس کو قتل کر دیا گیا تھا۔ (ایضاً)
- 7...... سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورﷺ کی تکذیب کی ۔
حضورﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ سے فرمایا : جاؤ اور اگر وہ مل جائے تو اسے قتل کر دو۔‘‘ (ایضاً)
- 8...... قاضی عیاضؒ نے کتاب ’’الشفاء‘‘ میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت
کیا ہے کہ قبیلہ خطمہ کی ایک عورت نے حضورﷺ کی ہجو کی ۔ آپﷺ نے فرمایا ، ’’کون ہے جو میرے لیے اس کو ٹھکانے لگائے گا ۔‘‘ اسی قبیلہ کا ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا ، یا رسول اللہ یہ کام میں سرانجام دوں گا ۔‘‘ چنانچہ وہ گیا اور اس نے جا کر اس عورت کو قتل کر دیا ۔ تو حضورﷺ نے فرمایا : ’’اس کا خون مباح ہے ۔‘‘
- 9...... مہاجر بن امیہ، جو حضرت ابو بکرؓ کے دور خلافت میں صوبائی عدلیہ کے
سربراہ تھے ، کی عدالت میں دو گانے والی عورتوں کا مقدمہ پیش ہوا۔ ایک کے خلاف
الزام تھا کہ اس نے سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔ دوسری عورت پر الزام تھا کہ اس نے اپنے گیتوں میں مسلمانوں کی ہجو اور توہین کی ہے۔ دونوں کے خلاف شہادت سے جرم ثابت ہونے پر انھیں یہ سزا دی گئی کہ دونوں کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے اور ان کے دانت توڑ دیئے گئے کہ آئندہ ایسی بدآموزی سے باز رہیں۔ ان دونوں مقدمات کی روئیداد جناب صدیق اکبرؓ کے سامنے پیش ہوئی تو آپؓ نے ان دونوں سزاؤں سے اختلاف کرتے ہوئے مہاجر بن امیہ کو تحریر فرمایا:
’’اس مغنیہ کے خلاف جس نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے، تم نے جو کارروائی کی، اس کا مجھے علم ہوا ہے۔ اگر تم یہ کارروائی نہ کر چکے ہوتے تو میں تمھیں حکم دیتا کہ اسے سزائے موت دی جائے۔ کیونکہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے خلاف ارتکاب جرم کی سزا عام جرائم کی سزا کے برابر نہیں ہوتی اور تم نے دوسری مغنیہ کو، جس نے مسلمانوں کی ہجو اور دشنام طرازی کی ہے، جو سزا دی ہے وہ بھی درست نہیں، اس لیے آپؓ نے حاکم عدالت کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ محتاط رہے اور ایسی سنگین سزا کے اجرا سے اجتناب کرے۔‘‘
10...... توہین رسالت کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ایک اور واقعہ سے ان کی عمیق نظری، حلم و تدبر اور قوت فیصلہ کا اندازہ ہوتا ہے، جس میں ان کی ذاتی دشمنی، اشتعال انگیزی اور غم وغصہ آڑے نہیں آتا ہے۔ اس واقعہ کے راوی حضرت ابو برزہؓ فرماتے ہیں:
’’ایک دن میں حضرت ابوبکرؓ کی مجلس میں موجود تھا۔ ایک شخص نے آپؓ سے گستاخی کی جس پر آنجناب ام گستاخی پر مجھے غصہ آ گیا اور پھر ابو برزہؓ: ’’اے خلیفہ رس کی گردن اڑا دوں۔‘‘ حضرت ابوبکرؓ نے اس سے اندر کمرے میں چلے گئے حضرت ابوبکرؓ: (ابو ب ابو برزہؓ: ’’یہی کہ آ حضرت ابوبکرؓ: ’’ ابو برزہؓ: ’’یقیناً میں حضرت ابوبکرؓ: یہ نہیں (کہ اس سے گس نہ ہو) (سنن ابی داؤد، و بذل ا
11....... ابن وہب حضور ﷺ کی شان میں لوگوں سے جنھوں نے وہاں ہوتا تو اسے زندہ
12....... شرح ابن مسعود جو فقہ حنفی ک
گستاخی کی جس پر آنجناب اس شخص سے ناراض ہوئے۔ خلیفہ وقت کی شان میں گستاخی پر مجھے غصہ آ گیا اور میں بھی اس وقت مشتعل ہو گیا۔
ابو برزہؓ: ”اے خلیفہ رسول! اگر آپ اجازت دیں تو میں اس نامعقول گستاخ کی گردن اڑا دوں۔“
حضرت ابوبکرؓ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور اٹھ کھڑے ہوئے اور خاموشی سے اندر کمرے میں چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد مجھے اندر بلا بھیجا۔
حضرت ابوبکرؓ: (ابو برزہؓ سے) تم نے ابھی مجھ سے کیا کہا تھا۔“
ابو برزہؓ: ”یہی کہ آپ اگر اجازت دیں تو میں اس کا سر اڑا دوں۔“
حضرت ابوبکرؓ: ”اچھا اگر میں تمہیں اجازت دیتا تو کیا تم واقعی اسے مار دیتے؟“
ابو برزہؓ: ”یقیناً میں اس کو زندہ نہ چھوڑتا۔“
حضرت ابوبکرؓ: رب ذوالجلال کی قسم یہ مرتبہ محمدﷺ کے بعد کسی اور شخص کو حاصل نہیں (کہ اس سے گستاخی کرنے والے کو قتل کر دیا جائے خواہ وہ خلیفہ وقت ہی کیوں نہ ہو)
(سنن ابی داؤد، وبذل المجہود ج 6 صفحہ 125)
- 11...... ابن وہب نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک راہب نے
حضورﷺ کی شان میں دشنام طرازی کی۔ جب حضرت ابن عمرؓ نے یہ بات سنی تو ان لوگوں سے جنھوں نے یہ واقعہ سنا تھا فرمایا: ”تم نے اسے قتل کیوں نہیں کر دیا۔ اگر میں وہاں ہوتا تو اسے زندہ نہ چھوڑتا۔“
(الصارم المسلول صفحہ 61)
- 12...... شرح معانی الآثار کے باب ”استتابۃ المرتد“ میں حضرت عبداللہ
ابن مسعود جو فقہ حنفی کے امام سمجھے جاتے ہیں اور حضرت عمر فاروقؓ کے زمانہ میں کوفہ
کے قاضی القضاۃ تھے، ان کا ایک اہم فیصلہ درج ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ کی عدالت میں پیروان مسیلمہ کذاب کو ارتداد کے جرم میں گرفتار کر کے پیش کیا گیا۔ جنھوں نے توبہ کرتے ہوئے معافی کی درخواست کی۔ ان میں سے ایک شخص عبداللہ بن النواحہ کو آپ نے باوجود توبہ کے سزائے موت دی۔ لوگوں نے اعتراض کیا کہ ایک ہی جرم کی دو مختلف سزاؤں کا کیا جواز ہے؟ جس پر حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: ابن النواحہ وہ آدمی ہے جو حضورﷺ کی خدمت میں حجر بن اثال کے ساتھ مسیلمہ کا سفیر بن کر آیا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا کیا تم شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ان دونوں نے کہا، کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔ (جو صریحاً آپﷺ کی شان میں گستاخی تھی) جس پر حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر سفارت کاروں کا قتل جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ اب چونکہ ابن النواحہ گرفتار ہو کر آیا ہے اس لیے اس کو یہ سزا دی گئی ہے۔‘‘ (شرح معانی الآثار باب استتابۃ المرتد)
اللہم ارزقنا حبّک وحبّ رسولک
قرآن
جرم توہین
قرآن اور اس کی سزا......
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امت کی شیرازہ بندی کے لئے اسلامی ریاست کی جغرافیائی سرحدات کے تحفظ سے زیادہ اہمیت ریاست کے مذہبی تشخص اور امت کی نظریاتی وحدت کی ہے۔ نظریاتی وحدت اور مذہبی تشخص کی بقاء کے لئے مذہب کا احترام از حد ضروری ہے۔ اقوام عالم میں امت مسلمہ کو صحیح مقام دلانے کے لئے مذہب اسلام کو ہر چیز سے بالا تسلیم کرنا اور کرانا ہوگا۔ مذہب اسلام اور شعائر اسلام کی تذلیل سے امت مسلمہ کی تذلیل ایک بدیہی امر ہے۔ اسلام بنیاد ہے بنیاد کے کمزور یا کھوکھلا ہونے سے ڈھانچہ کی تباہی یقینی ہوتی ہے۔ عصر حاضر میں امت مسلمہ کی کمزوری اور ذلت کا اصل راز یہی ہے۔
جرم توہین
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وانه لكتاب عزيز لا يـ من حكيم حميد. ترجمہ: اور بلاشبہ یہ قرآن کـ سے اور نہ پیچھے سے اتاری ہوئی حکیم اس آیت کی تفسیر میں مفتی مـ خلاصہ یہ ہے کہ یہ کتاب ا کے الفاظ میں کوئی کمی بیشی نـ میں تحریف وتبدیل پر کسی کو قدرت بدل دینے کی مجال ہے، جب کـ قرآن اس کی ناپاک تدبیر سـ ہونا تو ہر شخص دیکھتا اور سمجھتا ہـ ہے، لاکھوں انسانوں کے سینـ جائے، تو بوڑھوں سے لے کـ مسلمان اس کی غلطی پکڑنے لـ کے الفاظ سے اس طرف اشار لی ہے(انا له لحافظون)
جرم توہین قرآن اور اس کی سزا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وانه لكتاب عزيز لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل
من حكيم حميد.
ترجمہ: اور بلاشبہ یہ قرآن ایک نادر کتاب ہے، اس پر جھوٹ کا دخل نہیں ہے آگے سے اور نہ پیچھے سے اتاری ہوئی حکمت والی اور تعریفوں والی ذات کی طرف سے۔
اس آیت کی تفسیر میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں:
خلاصہ یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ کے نزدیک ایسی عزیز و کریم کتاب ہے کہ نہ اس کے الفاظ میں کوئی کمی بیشی ہے اور نہ تحریف و تبدیل پر کسی کو قدرت ہے اور نہ معانی میں تحریف و تبدیل پر کسی کو قدرت ہے اور نہ معانی میں تحریف کر کے قرآن کے احکام بدل دینے کی مجال ہے، جب کبھی کسی بدبخت نے اس کا ارادہ کیا، وہ ہمیشہ رسوا ہوا، قرآن اس کی ناپاک تدبیر سے پاک صاف رہا، الفاظ میں تحریف و تبدیل کی راہ نہ ہونا تو ہر شخص دیکھتا اور سمجھتا ہے، کہ تقریباً چودہ سو سال سے ساری دنیا میں پڑھا جاتا ہے، لاکھوں انسانوں کے سینوں میں محفوظ ہے، ایک زیر زبر کی غلطی کسی سے ہو جائے، تو بوڑھوں سے لے کر بچوں تک عالموں سے لے کر جاہلوں تک لاکھوں مسلمان اس کی غلطی پکڑنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، اس کے ساتھ من خلفه کے الفاظ سے اس طرف اشارہ کر دیا کہ قرآن کی حفاظت جو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے (انا له لحافظون) وہ صرف الفاظ کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ اس کے معانی
کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ ہی کفیل ہے، اس نے اپنے رسول ﷺ اور ان کے بلاواسطہ شاگردوں یعنی صحابہ کرام کے ذریعہ معانی قرآن اور احکام قرآن کو ایسا محفوظ کر دیا ہے کہ کوئی ملحد بے دین اس میں تاویلات باطلہ کے ذریعہ تحریف کا ارادہ کرے تو ہر جگہ، ہر زمانہ میں ہزاروں علماء اس کی تردید کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، اور وہ خائب و خاسر ہوتا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ آیت انا لہ لحافظون میں ضمیر لہ قرآن کی طرف راجع ہے اور قرآن صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ نظم و معنی دونوں کے مجموعہ کا نام ہے۔
خلاصہ آیات مذکورہ کے مضمون کا یہ ہو گیا کہ جولوگ بظاہر مسلمان ہیں اس لئے کھل کر قرآن کا انکار تو نہیں کرتے مگر آیات قرآنی میں تاویلات باطلہ سے کام لے کر ان کو ایسے مطلب پر محمول کرتے ہیں جو قرآن اور رسول ﷺ کی قطعی تصریحات کے خلاف ہے، ان کی تحریف سے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو ایسا محفوظ کر دیا ہے کہ یہ گھڑے ہوئے معانی کسی کے نہیں چل سکتے، قرآن وحدیث کی دوسری نصوص اور علماء امت اس کی قلعی کھول دیتے ہیں اور احادیث صحیحہ کی تصریح کے مطابق قیامت تک مسلمانوں میں ایسی جماعت قائم رہے گی جو تحریف کرنے والوں کی تحریف کا پردہ چاک کر کے قران کے صحیح مفہوم کو واضح کر دیں اور وہ دنیا سے اپنے کفر کو کیسا ہی چھپائیں اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتے اور جب اللہ تعالیٰ ان کی اس سازش سے باخبر ہے تو ان کو اس کی سزا ملنا بھی ضروری ہے
(معارف القرآن ج 7 صفحہ 663)
قرآن پاک کی صحت وصداقت پر ایمان رکھنا مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے۔ قرآن پاک پر ایمان ایسا ہی ضروری ہے جیسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان، اسی لئے ایمان مجمل اور ایمان مفصل جو مسلمان بچہ کی رسم بسم اللہ کے بعد کا عموماً پہلا سبق ہوتا
ہے ۔ اس میں قرآن پاک پر ایمان کو تیسرے نمبر پر جگہ دی گئی ہے۔ یعنی (امنت بالله وملئکته و کتبه و رسله) قرآن پاک کی صحت و صداقت کا عقیدہ جب جزو ایمان ٹھہرا، تو اس بنیاد پر ایک مسلمان کا بحیثیت مسلمان فرض بقول ..... صاحب شفاء ...... یہ ہے کہ:
"قد اجمع المسلمون ان القرآن المتلو في جميع اقطار الارض المكتوب في المصحف بايدى المسلمين مما جمعه الدفتان من اول الحمد لله رب العالمين الى آخر قل اعوذ برب الناس انه كلام الله ووحيه المنزل على نبيه صلى الله عليه وسلم وان جميع مافيه حق“
(الشفاء للقاضی عیاض ج 2 صفحہ 263)
ترجمہ : ”مسلمانوں کا اجماع قائم ہوا ہے کہ قرآن پاک جو چار سو عالم میں پڑھا جاتا ہے، اور جو مسلمانوں کے پاس ایک مصحف کی شکل میں مکتوب ہے اور جو الحمد سے لے کر والناس تک ایک مجموعہ میں منضبط ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور بذریعہ وحی اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوا ہے اور جو کچھ اس منضبط مصحف میں ہے سب کا سب بکلہ حق اور سچ ہے کسی شبہ اور شک کا گزر اس میں نہیں ہو سکتا ہے“۔
قرآن پاک کی صحت و صداقت اور معجزانہ حقانیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ کے بعد قرآن پاک کے آغاز میں فرما دیا ہے۔
"ذالك الكتاب لا ريب فيه"
ترجمہ : ”یہ کتاب ہے اس میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں ہے“۔
اور رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
” المراء في القرآن كفر “ ترجمہ : ”قرآن پاک کی صداقت میں شک کرنا کفر ہے“ ۔
قرآن پاک کی عظمت واحترام کے لئے بس اتنا کافی ہے کہ قرآن پاک کی صداقت اور حقانیت کا اعتقاد جزو ایمان ہے۔ قرآن پاک کی تعظیم وتکریم اسلامی ریاست کے ہر فرد کا فرض ہے۔ قرآن پاک کی یا اس کے کسی جزو کی توہین، تکذیب، تنقیص اور تحقیر جرم ہے۔ اس جرم کا جو بھی شخص خواہ مسلمان ہو یا اسلامی ریاست کا کافر شہری ہو، ارتکاب کرے گا، وہ مستوجب سزا قرار پائیگا۔ بس فرق اتنا ہے کہ کافر شہری کا جرم توہین قرآن (Contempt of Quraan) مستوجب تعزیر (Liable to Tazir) ہے جبکہ مسلمان شہری کا جرم توہین قرآن بوجہ ارتداد مستوجب حد (Offence Liable to Hadd) ہے، کیونکہ توہین قرآن کا جرم بالارادہ اور عمداً جب کسی مسلمان سے سرزد ہو جائے ، تو باتفاق امت اور باجماع علماء وفقہاء وہ مرتد ہو جاتا ہے۔
قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں:
اعلم أن من استخف بالقرآن او المصحف او بشيئى منه اوسبه او جحده اوحرفاً منه أو آية او كذب به اوبشيى منه او كذب بشيى مما صرح به فيه من حكم او خبر او اثبت مانفاه او نفى ما أثبته على علم منه بذالك اوشک فى شيى من ذالك فهو كافر عند اهل العلم با جماع
(الشفاء ج 2 صفحہ 263)
ترجمہ:”یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ جو شخص قرآن یا قرآنی مصحف یا اس کے کسی حصہ کی توہین کرے۔ یا قرآن کا یا اس کے ایک حرف یا آیت کا انکار کرے، یا پورے قرآن یا اس کے کسی حصہ کی تکذیب کرے، یا قرآن میں بیان شدہ صریح حکم قرآنی یا خبر قرآنی کی تکذیب کر دے یا قرآن نے جس کی نفی کی ہے وہ اس کا اثبات کرے یا قرآن نے جس کا اثبات کیا ہے وہ اس کی نفی کرے اور یہ سب کچھ کرنے میں اس کا متعمدانہ قصد شامل ہو، نیز قرآن یا قرآن کے کسی حصہ میں شک کرے تو ایسا شخص با اجماع امت کافر ہے۔“
صاحب فتاویٰ تاتارخانیہ لکھتے ہیں:
اذا انكر آية من القرآن او سخر بآية من القرآن وفى الخزانة او عاب فقد کفر.
(الفتاوی التاتارخانیہ 5 ص 333)
ترجمہ:”جب کوئی مسلمان قرآن پاک کی کسی آیت کا انکار کرے، یا مذاق اڑائے اور کتاب خزانہ میں اضافہ ہے۔ یا کسی آیت میں عیب جوئی کرے تو وہ کافر ہو گیا۔“
لیکن ...... توہین قرآن جو اپنی عمومیت میں قرآن پاک یا قرآن پاک کی کسی آیت کا انکار، استہزاء، عیب جوئی، تنقیص، تحریف یا تکذیب سب کو شامل ہے۔ یہ مسلمان کے حق میں جرم مستوجب حد تب ثابت ہوگا، جب شواہد یا ملزم کے اقرار سے یہ ثابت ہو جائے کہ جرم کا ارتکاب عمداً اور بالارادہ ہوا ہے۔ اس لئے دفعہ 295-B میں شرط ”بالا رادہ توہین“ (Willfully defiles) بالکل بجا اور موافق شریعت شرط ہے۔ غیر ارادی یا غیر شعوری طور پر توہین قرآن جرم کے زمرہ میں نہیں آتا ہے۔
الا یہ کہ جرم اس نوعیت کا ہو جو اپنے وقوع میں مجرم کا متعمدانہ قصد خود ظاہر کر رہا ہو۔
جرم توہین قرآن کو متعمدانہ قصد سے مشروط کرتے ہوئے صاحب فتاویٰ عالمگیریہ لکھتے ہیں:
رجل وضع رجله على المصحف إن كان على وجه الاستخفاف يكفر والافلا.
(الفتاویٰ العالمگیریہ ج 5 ص 322)
ترجمہ : کسی شخص نے اپنا پیر قرآن پاک پر رکھا۔ اگر یہ عمل توہین کی غرض سے کیا گیا ہو تو وہ کافر ہو جائے گا ورنہ نہیں۔
صاحب فتاویٰ تاتارخانیہ بھی جرم کو متعمدانہ قصد سے مشروط کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
سئل الحسن بن على عمن وضع رجله على المصحف حالفاً، هل يكفر، فقال نعم ان كان على وجه الاستخفاف.
(الفتاویٰ التاتارخانیہ ج 5 ص 333)
ترجمہ : ”حسن بن علی سے اس شخص کے بارے میں فتویٰ پوچھا گیا جس نے حلف اٹھانے کے لئے قرآن پاک پر اپنا پیر رکھا ہو کہ اس سے وہ کافر ہو گیا؟ فرمایا: ہاں ! اگر نیت توہین کی تھی“۔
اس بنیاد پر غلطی سے اور غیر ارادی طور پر اگر کسی مسلمان سے ایسا عمل سرزد ہو جو جرم توہین قرآن کے زمرہ میں آتا ہو تو وہ خارج از اسلام اور مستوجب حد نہ ہوگا۔ اگر کسی مسلمان کا قرآن پاک پر غلطی سے پیر لگ جائے، یا اس پر ٹیک لگا لے، یا اس کے ہاتھ سے گر جائے، یا قرآن پاک کا کوئی صفحہ پھٹ جائے تو ان صورتوں میں یہ جرم کے زمرہ میں نہیں آئے گا۔ لیکن بسا اوقات انسانی فعل وقوع جرم کے متعمدانہ قصد کی شہادت دیتا ہے۔ جب فعل خود اپنے فاعل کے خلاف شہادت بن جائے تو اس صورت میں قانون ملزم سے متعمدانہ قصد کے استفسار کی زحمت نہیں کرتا
ہے، بلکہ فعل کو اس کے متعمدانہ قصد پر شہادت (Evidence) بنا کر فیصلہ برخلاف ملزم محفوظ کر دیا جاتا ہے۔
اسی کی طرف فتاویٰ کی مشہور اور معتمد کتاب (Authentic Book) ردالمحتار اشارہ کرتی ہے:
لو وضع مصحفاً في قاذورة فإنه يكفر ، فإن فعل ذالك استخفافاً واستهانة بالدين، فهو أمارة عدم التصديق . (ردالمحتار علی الدُّرُ الْمُختار ج 4 ص 222)
ترجمہ: اگر کسی مسلمان نے قرآن پاک کو گندگی یا کوڑے میں ڈال دیا تو اس عمل سے وہ کافر ہو جائے گا کیونکہ یہاں نفس فعل دین اسلام کی اہانت اور استخفاف پر دلالت کرتا ہے جو کہ دین کی تکذیب اور اسلام کی عدم تصدیق کی علامت ہے۔
بہر حال درج بالا مستند حوالہ جات ثابت کرتے ہیں کہ متعمدانہ قصد یا متعمدانہ فعل سے سرزد ہونے والا جرم توہین قرآن کا انجام ایک مسلمان کے حق میں کفر اور ارتداد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جس کی سزا حد بصورت قتل ہے اور حد ہونے کے سبب یہ سزا نا قابل تبدیل (Not Amendable) اور نا قابل معافی ہے (اسلام میں مرتد کی سزا کی پوری تفصیل پچھلے صفحات میں ملاحظہ فرمائیں)۔
دفعہ مذکورہ (295-B) میں لاگو کردہ سزا اپنے اطلاق پر ہونے کے سبب محل نظر ہے کیونکہ دفعہ میں مذکور ”جو کوئی شخص“ (Whoever) اپنے عموم پر ہونے کے سبب مطلق ہے اس میں مسلمان اور ریاست کا کافر شہری دونوں داخل ہوتے ہیں جبکہ جرم بالا کی سزا عمر قید (Imprisonment for life) مقرر کی گئی ہے جو کہ ظاہر
ہے مرتد کے حق میں قرآن وحدیث اور نصوص شرعیہ کی روشنی میں ناکافی اور غیر متعلقہ سزا ہے، جرم کچھ ہے اور سزا کچھ ہے۔
دراصل اس تقلیدی عمل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نافذ العمل قانون میں مرتد کی سزا سرے سے ہے ہی نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارا بعض جدید تعلیم یافتہ طبقہ مرتد کی سزائے موت کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا ہے۔ اس مکتب فکر کے سرخیل مشہور ادیب سرسید احمد خان صاحب ہیں۔ اپنے موقف کے حق میں اس مکتب فکر کے لوگوں نے بڑی ضخیم مگر بے جان دلائل پر مبنی کتابیں لکھی ہیں جسٹس ایس اے رحمن جج سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسی مکتب فکر کی وکالت میں ایک مفصل کتاب (The punishment of apostacy in Islam) تحریر فرمائی ہے۔ راقم الحروف کا مقالہ ’’اسلام میں مرتد کی سزا‘‘ دراصل اس کتاب کا جواب ہے۔ قانون دان طبقہ سے بحیثیت مسلمان درخواست ہے کہ جسٹس ایس اے رحمن صاحب کی کتاب سے ذہن میں پیدا شدہ بے وجہ شکوک وشبہات کے ازالہ کے لئے اس ناکارہ کا مقالہ ضرور مطالعہ فرمائیں۔
بہر حال قانون کے میدان میں ان حضرات کی کج بحثی کے سبب علماء امت کی پیہم کوششوں کے باوجود مرتد کی سزائے حد وضع ہونے کی بجائے سرے سے اس کا انکار کیا جارہا ہے۔ یہ حضرات اپنے زعم میں اسلام کے لئے بے حد مخلص ہی سہی لیکن مخصوص مغربی تعلیم کے آغوش میں پرورش پانے کے سبب بہر حال کسی حد تک مغربی نظریات سے متاثر نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرتد کی سزا کی گتھی سلجھنے کی بجائے
الجھتی جارہی ہے اور اسی کے سبب پر رکھا گیا اور مسلمان اور کافر دونو
اگر توہین قرآن کا مرتکب تو اس صورت میں بنیادی طور اور عزت کا تحفظ دینا اسلامی ر دینا بھی حکومت کا فرض ہے اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں ہونے کا برملا اظہار کر سکتے ہیں اسلامی ریاست کا عیسائی باش نبی تھے جبکہ مسلمانوں کے عق طرف سے نازل کردہ ہے ج برحق کتاب نہیں ہے۔
غیر مسلم باشندے کو ا اس لئے ہے کہ اس تنقید کا مخ ساتھ ساتھ مذہب اسلام کو کہلا سکتا۔ اسی لئے فقہائے کسی فعل یا قول کو قابل موا کرتے ہیں مثلاً صاحب
الجھتی جا رہی ہے اور اسی کے سبب سے درج بالا جرم توہین قرآن میں سزا کو اپنے عموم پر رکھا گیا اور مسلمان اور کافر دونوں کے لئے یکساں تعزیری سزا وضع کی گئی ہے۔
اگر توہین قرآن کا مرتکب اسلامی ریاست کا غیر مسلم شہری یا اقامت پذیر شخص ہو تو اس صورت میں بنیادی طور پر یہ سمجھیں کہ غیر مسلم شہریوں کو جس طرح جان، مال اور عزت کا تحفظ دینا اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح انہیں مذہبی آزادی دینا بھی حکومت کا فرض ہے۔ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ اپنے مذہب کی حقانیت اور غیر مذاہب کا مبنی برحق نہ ہونے کا برملا اظہار کر سکتے ہیں، کتابیں تحریر کر سکتے ہیں، تعمیری تنقیدیں کر سکتے ہیں مثلاً اسلامی ریاست کا عیسائی باشندہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام برحق نبی تھے جبکہ مسلمانوں کے پیغمبر (معاذ اللہ) برحق نہ تھے کتاب انجیل برحق ہے، اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جبکہ مسلمانوں کا قرآن (معاذ اللہ) منزل من اللہ اور برحق کتاب نہیں ہے۔
غیر مسلم باشندے کو اس قسم کی مذہب اسلام یا قرآن پاک پر تنقید کی اجازت اس لئے ہے کہ اس تنقید کا محرک اس کا مذہب ہے وہ اگر اپنے مذہب کو برحق کہنے کے ساتھ ساتھ مذہب اسلام کو بھی برحق کہہ دے یا لکھ دے تو وہ اپنے مذہب کا متبع نہیں کہلا سکتا۔ اسی لئے فقہائے کرام اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری کے خلاف اسلام کسی فعل یا قول کو قابل مواخذہ جرم قرار دینے کے لئے مما لا یتدینہ شرط کا اضافہ کرتے ہیں مثلاً صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
إن سب الرسول صلى الله عليه وسلم او نسبة ما لا ينبغى الى الله تعالى إن كان ممَّا لا يعتقدونه كنسبة الوالد الى الله تعالى اذا اظهره يقتل به.
(فتح القدیر ج 5 ص 303)
ترجمہ : پیغمبر اسلام (ﷺ) کو برا بھلا کہنا یا اللہ تعالیٰ کی طرف نامناسب نسبت کرنا بشرطیکہ ایسا کرنے کے لئے اس کا عقیدہ متقاضی نہ ہو تو اس صورت میں ایسا عمل برملا اظہار کی صورت میں مستوجب قتل جرم ہوگا۔
کسی عیسائی کا اللہ تعالیٰ کو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا (معاذ اللہ) والد کہنا مسلمانوں کے عقیدہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی سنگین نوعیت کی توہین ہے۔ اگر اس قسم کا ارتکاب کسی مسلمان سے ہو جائے تو بوجہ ارتداد مستوجب قتل ہوگا اور قتل کی سزا بھی تعزیری نہیں حد ہوگی لیکن اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری کے حق میں اس لئے جرم نہیں ہے کہ اس کے ماورا اس کا عقیدہ کارفرما ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری کو اپنے عقائد پر کار بند رہنے کی پوری پوری آزادی حاصل ہے۔
اسکی وضاحت صاحب رد المحتار غیر مسلم شہری کی شہریت کی بحث کے تحت اس طرح سے کرتے ہیں :
اذا ذكره بسوءٍ يعتقده ويتدين به بأن قال ليس برسولٍ او قتل اليهود بغير حق او نسبه الى الكذب فعند بعض الأئمة لا ينتقض عهده أما اذا ذكره بما لا يعتقده ولا يتدين به كما لو نسبه الى الزنا او طعن فى نسبه ينتقض.
(رد المحتار ج 4 ص 214)
ترجمہ: ’’جب غیر مسلم شہری دین اسلام یا اس کے کسی شعائر کی برائی کرے اور ایسا کرنے کے لئے اس کا عقیدہ اس سے متقاضی ہو اور اس عمل کو وہ اپنے دین کا حصہ سمجھتا ہو بایں طور کہ وہ کہے پیغمبر اسلام اللہ کا پیغمبر نہیں ہے پیغمبر اسلام کا یہودیوں کو قتل کرنا صحیح نہ تھا یا پیغمبر اسلام کو جھوٹا نبی کہتا ہو تو بعضے ائمہ کے نزدیک اس سے اس کی شہریت متاثر نہیں ہو گی لیکن اگر وہ ایسی حرکات کا ارتکاب کرے جس سے اس کے عقیدہ اور مذہب کا تعلق نہ ہو، جیسا کہ پیغمبر اسلام کی نسبت زنا کی طرف کر دے۔ یا آپﷺ کے نسب میں طعنہ زنی کرے تو اس صورت میں اس کی شہریت ختم ہو جائے گی‘‘۔
درج بالا اقتباس سے اتنی وضاحت مقصود ہے کہ غیر مسلم شہری کے خلاف اسلام قول یا فعل کو جرم یا عدم جرم قرار دینے میں اسکے عقائد اور مذہب کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ غیر مسلم شہری کے مخالف اسلام قول یا فعل کو اس کے مذہبی عقائد کی کسوٹی پر پرکھنا ہو گا۔ اگر اس قول یا فعل کے وقوع میں اس کا مذہب محرک ہے۔ مثلاً درج بالا اقتباس میں مذکور مثالیں... پیغمبر اسلام کو (معاذ اللہ) نبی برحق نہ کہنا یا یہ کہنا کہ آپ نے (معاذ اللہ) یہود مدینہ کا ناحق طریقہ سے قتل عام کیا تھا یا آپﷺ (معاذ اللہ) سچے نبی نہ تھے تو اس نوع کے اعمال غیر مسلم شہری کے حق میں جرم قرار نہیں پا سکتے ہیں۔ اس لئے کہ اسلامی ریاست نے اس کی مذہبی آزادی کی ذمہ داری اٹھائی ہوئی ہے۔ اس کے برخلاف اگر اس قول یا فعل کے ارتکاب میں اس کا مذہب یا عقیدہ آڑے نہیں آ رہا ہے۔ بلکہ وہ اپنی معاندانہ ذہنیت یا مسلمانوں کو ذہنی کوفت میں مبتلا کرنے کی یا امن عامہ کو داؤ پر لگانے کی غرض سے ایسے اقوال یا افعال کا ارتکاب کرتا
ہے جن کے سبب مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہو سکتے ہیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام کو (معاذ اللہ) بدکار کہہ دے یا آپ کے حسب نسب میں لعن طعن کرے یا قرآن پاک کو کوڑے میں پھینکے تو چونکہ اس قسم کے اعمال سراسر عناد اور عداوت پر مبنی ہیں اور اس سے خود مرتکب شخص کو بھی کوئی مذہبی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے اس لئے ایسے اعمال امن عامہ کے خلاف ہونے کے سبب سنگین نوعیت کے جرم قرار پائیں گے۔
قرآن پاک کی درج ذیل آیت اسی نوع کے جرائم کی طرف اشارہ کرتی ہے:
لئن لم ينته المنافقون والذين في قلوبهم مرض والمرجفون في المدينة لنغرينك بهم ثم لا يجاورونك فيها إلا قليلاً ملعونين اينما ثقفوا أخذوا وقتلوا تقتيلاً سنة الله في الذين خلوا من قبل ولن تجد لسنة الله تبديلاً.
(سورۃ الأحزاب آیت 62-60)
ترجمہ: ”منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں فساد ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں جھوٹی افواہیں اڑایا کرتے ہیں اگر باز نہ آئے تو ضرور ہم آپ کو ان پر قابو دے دیں گے۔ پھر یہ لوگ مدینہ میں آپ کے پاس بہت ہی کم رہنے پائیں گے۔ یہ پھٹکارے ہوئے ہیں۔ جہاں ملیں گے پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کی جاوے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں بھی وہی دستور رکھا ہے جو پہلے ہو گزرے ہیں“۔
درج بالا آیت کے ذیل میں صاحب احکام القرآن لکھتے ہیں:
اشاعة ما يوجب ايذاء المسلمين يوجب التعزير والاجلاء والقتل باختلاف درجاته، قال الامام ابوبكر الجصاص: في هذه الآية دلالة على أن الارجاف بالمؤمنين والاشاعة لما يغمهم ويؤذيهم يستحق به
التعزير والنفى اذا اصرّ عليه ولم ينته عنه...... واخبر تعالى باستحقاقهم النفى والقتل اذا لم ينتهوا عن ذالک.
(احکام القرآن للشیخ محمد شفیع ج 3 ص 502)
ترجمہ: ”غیر مسلم شہری یا باشندہ کا ایسے اعمال یا اقوال کو ہوا دینا جو مسلمانوں کی اذیت کا سبب بنتے ہوں جرم قرار پا کر مجرم کے خلاف تادیبی کاروائی ، جلا وطنی اور قتل جیسی سزاؤں کا موجب قرار پاسکتے ہیں ۔ کونسی سزا دی جائے یہ جرم کے حالات پر ہے۔ امام ابوبکر جصاصؒ کہتے ہیں : یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ مسلمانوں کے خلاف غلط خبریں پھیلانا ، پراپیگنڈہ کرنا اور ایسی باتوں کو ہوا دینا جو مسلمانوں کو کرب والم اور ذہنی کوفت میں مبتلا کر دے۔ اس کا مرتکب شخص اگر باز نہ آئے۔ اور بار بار کرے ، سخت تعزیر اور جلا وطنی کی سزا کا مستحق قرار پاسکتا ہے ۔ درج بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ ایسا شخص اگر باز نہ آئے ، جلا وطنی اور قتل جیسی سزاؤں کا مستحق ہے“ ۔
صاحب فتح القدیر غیر مسلم شہری کی باغیانہ روش پر بحث اس طرح سے کرتے ہیں:
أن سبه صلى الله عليه وسلم او نسبة مالا ينبغى الى الله تعالى إن كان مما لا يعتقدونه كنسبة الوالد الى الله تعالى اذا اظهره يقتل به. وان لم يظهره ولكن عثر عليه وهو يكتمه فلا وهذا لأنه الغاية فى التمرد والاستخفاف بالاسلام والمسلمين .......... وهذا البحث منا يوجب أنه اذا استعلى على المسلمين على وجه صار متمرّدًا عليهم يحلّ للامام قتله أو يرجع الى الذل والصغار.
(فتح القدیر ج 5 ص 303)
ترجمہ: ”پیغمبر اسلام کی برائی یا اللہ تعالیٰ کی طرف نازیبا نسبت بشرطیکہ وہ عمل ان کے عقیدہ کا حصہ نہ ہو، جیسے اللہ تعالیٰ کی طرف والد ہونے کی نسبت تو اس نوع کے جرم کا ارتکاب اگر غیر مسلم شہری علانیہ کرتا ہو تو اس کو قتل کیا جا سکتا ہے لیکن اگر ارتکاب جرم علانیہ طریقہ سے وقوع پذیر نہ ہوا ہو بلکہ کسی ذریعہ سے اسلامی ریاست کو اس کی اطلاع ملی ہو جبکہ وہ فرد اس جرم سے اپنی لاعلمی ظاہر کر رہا ہو تو اس صورت میں اس کو قتل کی سزا نہ دی جائے، علانیہ ارتکاب جرم کی سزا قتل کی صورت میں اس لئے دی جائے کیونکہ اس میں مجرم کی جانب سے انتہائی درجہ دیدہ دلیری پائی جا رہی ہے اور یہ اسلام اور مسلمانوں کی غیر معمولی توہین کی غمازی بھی کر رہا ہے۔ اس بحث سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ غیر مسلم شہری مسلمانوں پر ایسی دیدہ دلیری اور باغیانہ روش کا مظاہرہ کرے جس سے مسلمانوں کے خلاف اس کی بغاوت اور سرکشی ظاہر ہوتی ہو تو حاکم وقت کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کو قتل کر دے یا ذلت آمیز سزا دے کر عبرت کا نشانہ بنا دے“۔
آیت بالا اور مندرجہ اقتباسات سے معلوم ہوا کہ غیر مسلم شہری کی اسلامی ریاست میں معاندانہ کاروائیاں اور باغیانہ افعال، جن کے سبب مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں یا ریاست کا امن عامہ داؤ پر لگ سکتا ہو، جرم کے زمرہ میں آئیں گے پھر جس نوع کا جرم ہوگا اسی نوعیت کی سزا ہو گی خفیف، شدید اور شدید ترین کے اعتبار سے سزا لاگو ہوگی۔
- 2 ...... دوسری بات یہ بھی پتہ چلی کہ اسلام یا اسلامی شعائر کی توہین کی سزا
تعزیری ہوگی۔ تعزیری سزا کے تعین یا تحدید کا اختیار چونکہ حکومت وقت کے پاس ہوتا
ہے لہٰذا حکومت وقت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جرم کی روح، مجرم کی نفسیات اور عوامی ردعمل کے اعتبار سے جس نوع کی مصلحانہ اور تہدید آمیز سزا وضع کرنا چاہے، کر سکتی ہے۔ اور جب مناسب سمجھے ترمیم کے ذریعہ اس سزا میں شدت یا تخفیف بھی پیدا کر سکتی ہے۔ نیز سرے سے نافذ العمل سزا کو منسوخ (Repealed) کر کے کوئی نئی سزا بھی وضع کر سکتی ہے۔
لیکن ...... ان صوابدیدی اختیارات میں ضروری امر یہ ہے کہ تبدیلی یا تنسیخ کا دارومدار وقوعہ پر ہو، خارجی دباؤ، یا غیر مسلم شہریوں کو کھلی چھوٹ دینے کے عزائم پر نہ ہو۔ اسی لئے فقہائے کرام نے درج بالا مسئلہ کے اندر جرم کو اس کی نوع کے اندر تقسیم کر کے بتا دیا کہ سزا کا دارومدار جرم کے داخلی عوامل پر ہوتا ہے۔ خارجی عوامل پر ہرگز نہیں ہوتا۔
قرآن پاک بھی اسلامی شعائر کا حصہ ہے۔ اس پر ایمان رکھنا، اس کو سچا سمجھنا، اللہ کی طرف سے نازل کردہ سمجھنا، اس کی تعظیم کرنا اگرچہ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری کا فرض نہیں ہے لیکن مذہبی آزادی کے نام پر اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری کو قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ ایسے افعال کا ارتکاب کرے جس سے قرآن پاک کی بے حرمتی ظاہر ہوتی ہو۔ مثلاً قرآن پاک کے کسی نسخہ کو گندی نالی میں ڈال دے۔ قرآن پاک پر گندگی ڈال دے۔ اس پر پیر رکھ کر کھڑا ہو جائے تو چونکہ اس قسم کے معاندانہ افعال سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ردعمل میں بھڑکنے والے اشتعال سے ریاست کا امن عامہ بھی متاثر ہو سکتا ہے اس لئے اس قسم
کے نازیبا افعال کے ارتکاب پر اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری کے خلاف تعزیری کاروائی کرنا اسلامی ریاست کا فرض ہوگا۔
صاحب رد المحتار لکھتے ہیں:
ويؤدب الذمى ويعاقب على سبه دين الاسلام او القرآن او النبى .
(رد المحتار ج 4 ص 214)
ترجمہ : ” دینِ اسلام ، قرآن پاک اور پیغمبرِ اسلام کی برائی کرنے یا بکواسات کرنے پر غیر مسلم شہری کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے گی اور اس کو قرار واقعی سزا دی جائے گی“۔
جرم کی ضخامت کے اعتبار سے سزا میں سختی بھی ناگزیر ہوتی ہے کیونکہ جس نوع کے جرم کا ارتکاب ہو گا سزا بھی اسی مناسبت سے دی جائے گی۔ سنگین نوعیت کے جرم کے لئے خفیف سی سزا لاگو کرنا جرائم کے سدباب کے لئے ہرگز کافی نہیں ہوتا ہے۔ اس سے جرائم گھٹنے کی بجائے بڑھتے رہیں گے۔ تعزیری سزا جو اپنی ذات میں خود مقصود نہیں ہوتی ہے زاجر اور تہدید آمیز بننے کی بجائے جرائم پسند عناصر میں جرائم کی جرأت پیدا کرے گی۔
صاحب رد المحتار لکھتے ہیں:
يجوز الترقى فى التعزير الى القتل اذا عظم موجبه وقال : للامام ان يعزر بالقتل فى الجرائم التى تعظمت بالتكرار .
(رد المحتار ج 4 ص 215)
ترجمہ : ”جرم کی ضخامت کے اعتبار سے تعزیری سزا کو قتل تک لے جایا جا سکتا ہے اور کہا : جرم کے بار بار ارتکاب کی دیدہ دلیری کرنے کے سبب چونکہ جرم کی ضخامت
بڑھ جاتی ہے اس لئے حاکم وقت اس قسم کے جرائم کے اندر قتل کی تعزیری سزا جاری کر سکتا ہے۔
- 1...... اس اعتبار سے توہین قرآن کیس میں اگر غیر مسلم شہری کا جرم علانیہ بر ملا
انداز میں سرزد ہو یا طباعت کی شکل میں ہو یا علانیہ تو نہ ہو لیکن مجرم جرم کا بار بار ارتکاب کر چکا ہو اور تنبیہ کرنے کے باوجود جرم سے باز نہ آ رہا ہو یا قرآن پاک کی توہین کو اس نے اپنا مشغلہ بنا لیا ہو اور عادی مجرم ہو تو ان صورتوں میں چونکہ وہ اسلامی ریاست کے امن کے لئے خطرہ بن چکا ہے اکثریتی آبادی کے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے سبب نقض امن اور اشتعال انگیزی کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اس لئے مفسد فی الارض ، مرجف فی المدینۃ اور معاشرتی ڈھانچہ میں ناسور بننے کے سبب حکومت وقت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس قسم کے شرپسند عناصر کا قصہ پاک کر دے۔
صاحب رد المحتار لکھتے ہیں:
ونؤدب الذمى تعزيراً شديداً بحيث لو مات كان دمه هدراً لكن هذا اذا اعلن بالسبّ و كان مما لا يعتقده.
(ردالمحتار ج 4 ص 215)
ترجمہ: ”اور غیر مسلم شہری کے خلاف ( توہین اسلام یا قرآن کرنے کے جرم میں ) سخت تادیبی کاروائی کی جائے گی۔ حتیٰ کہ اگر وہ سزا کے سبب مر جائے تو اسکا خون رائیگاں جائے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں جبکہ وہ علی الاعلان دین اسلام یا قرآن پاک کی برائی کرے اور ایسا کرنے میں اس کا عقیدہ اور مذہب بھی باعث نہ بن رہا ہو“۔
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
ويؤدب الذمی ويعاقب على سبه دين الإسلام او القرآن أطلقه فشمل تادیبه وعقابه بالقتل اذا اعتاده و أعلن به
(ردالمحتار ج4 ص214)
ترجمہ : ” غیر مسلم شہری کے خلاف توہین اسلام یا قرآن کے جرم میں تادیبی کاروائی کی جائے گی تادیبی کاروائی عام ہے اگر وہ عادی مجرم ہے اور علی الاعلان ارتکاب جرم کرتا ہے تو اس کے خلاف تادیبی کاروائی سزائے موت کے فیصلہ کے ذریعہ بھی کی جاسکتی ہے“۔
- 2...... جرم کی دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ جرم مما لا يتدين کے قبیل سے
ہو (یعنی جرم کے ارتکاب میں اس کا عقیدہ اور مذہب باعث نہ بن رہا ہو لہذا اس کا یہ عذر ختم ہو جائے گا کہ مذہبی عبادت کی ادائیگی کے ضمن میں توہین مترشح ہوئی ہے۔ ارتکاب جرم میں اس کا متعمدانہ قصد شامل حال نہیں ہے ) اور ارتکاب جرم علی الاعلان یا طباعتی شکل میں صادر نہ ہوا ہو ۔ تو چونکہ اس جرم کی سنگینی مقدم الذکر صورت کی نسبت کم اور خفیف ہے ۔ لہذا سزا بھی مقدم الذکر سزا کی نسبت خفیف ہوگی ۔ جو کہ سزائے عمر قید یا کسی دیگر سخت سزا ( علاوہ قتل ) کی صورت میں ہو سکتی ہے۔
اس صورت کو صاحب فتح القدیر ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
إن كان مما لا يعتقدونه ............ اذا اظهره يقتل به وان لم يظهره ولكن عثر عليه وهو يكتمه فلا.
(فتح القدیر ج 5 ص 303)
ترجمہ : ” اگر توہین کا عمل مجرم کے عقیدہ کا حصہ نہ بن رہا ہو ، اگر اس کا ارتکاب وہ علانیہ انداز میں کرے گا تو وہ مستوجب قتل ہو گا اور اگر غیر اعلانیہ انداز میں کرے اور کسی ذریعہ سے اس کے جرم کی عدالت کو اطلاع ہو جائے جبکہ وہ اقرار جرم سے
انکاری ہو تو اس صورت میں اس کو قتل کی سزا نہ دی جائے‘‘۔
- 3 ...... جرم مما یتدین کے قبیل سے ہو یعنی اس کے ارتکاب میں اس کے عقیدہ
کا عمل دخل ہو اور اس کا ارتکاب وہ علی الاعلان یا طباعتی شکل میں کرتا ہو تو اس صورت میں دو چیزیں ایک ساتھ جمع ہو رہی ہیں۔
- الف ..... مذہبی آزادی جس کی فراہمی اسلامی ریاست کا فرض ہے اور اسی مذہبی
آزادی کے ضمن میں توہین کا جرم مترشح یا صادر ہو رہا ہے، مقصودی طور پر نہیں۔
- ب ...... حد سے تجاوز : چونکہ مذہبی آزادی حدود کا پابند ہوتی ہے اقلیتوں کو مذہبی
آزادی دینے میں اسلامی ریاست اس حد کا بھی تعین کرتی ہے کہ مذہب پر آزادانہ عمل کے دوران اکثریتی آبادی کے جذبات مجروح نہ ہونے پائیں، جبکہ یہاں مذہب پر آزادانہ عمل کے سبب مقرر کردہ حدود سے تجاوز لازم آ رہا ہے۔ لہٰذا من حیث الذات جرم نہ سہی لیکن حدود کی پامالی کے سبب جرم قرار پائے گا۔ مثلاً کوئی عیسائی غیر مسلم شہری اگر اپنی کسی طباعت میں قرآن پاک کو معاذ اللہ جھوٹی کتاب یا غیر منزل من الله لکھ دے تو چونکہ اس سے اکثریتی آبادی میں غیر معمولی اشتعال پیدا ہونے کے سبب ریاست کا امن تہ و بالا ہو سکتا ہے۔ اس لئے خارجی عوامل کے سبب یہ بھی جرم مستوجب تعزیر قرار پائے گا۔ اس صورت میں جرم کی مناسبت سے عدالت یا حکومت وقت قتل کے علاوہ کوئی دیگر سزا تجویز کر سکتی ہے۔
- 4 ...... جرم مما یتدین کے قبیل سے ہو اور غیر اعلانیہ انداز میں اس کا ارتکاب
ہو گیا ہو لیکن مجرم بار بار کی تنبیہ کے باوجود باز نہیں آ رہا ہو تو چونکہ اس میں مجرم کی بے باکانہ جرات اور جرم میں تکرار اور تعدد کی شدت آنے کے سبب چونکہ اس کا حجم حد
درجہ ضخیم ہو جاتا ہے اس لئے اس کو مستوجب قتل قرار دے کر عدالت یا حکومت وقت کو حق حاصل ہے کہ شواہد قائم کر کے سزائے موت کے ذریعہ اس کے اندر کے خناس کو ہمیشہ کے لئے باہر کر دے۔
صاحب رد المحتار لکھتے ہیں :
له أن يعزر بالقتل فى الجرائم التى تعظمت بالتكرار و شرع القتل فى جنسها .
(رد المحتار ج 4 ص 215)
ترجمہ : ”وہ جرائم جو خفیف نوعیت کے ہوں لیکن علی التکرار ارتکاب سے ان کا حجم بڑھ جاتا ہو تو اس صورت میں تکرار کے سبب حاکم وقت تعزیری طور پر مجرم کو مستوجب قتل قرار دے سکتا ہے“۔
دفعہ 295-B کے تحت قرآن پاک کی بے حرمتی یا توہین کرنے والے کی سزا فقط سزائے عمر قید وضع کی گئی ہے ۔ چونکہ غیر مسلم شہری کے حق میں توہین قرآن کا جرم تعزیری ہے مستوجب حد نہیں ہے اس لئے عصری تقاضوں اور وقتی ضرورتوں کے اعتبار سے جہاں حکومت وقت کو سزا میں تغلیظ یا تخفیف کا اختیار ہے اور جہاں حکومت وقت جرم کے داخلی و خارجی عوامل کے اعتبار سے اس کو سنگین یا خفیف قرار دے سکتی ہے اسی طرح اپنے صوابدیدی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کو حق حاصل ہے کہ تعزیری سزاؤں میں اسلامی ریاست وہ سزائیں لاگو نہ کرے جو بین الاقوامی روایات کے منافی ہوں ۔ چونکہ بین الاقوامی سطح پر موت کی سزا کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور جرم جس نوعیت کا بھی ہو اس کے خلاف سزائے موت کے اجراء کو انسانیت کا
قتل خیال کیا جاتا ہے اور جو مذہب یا اہل مذہب اس قسم کی سزا کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، نشانہ ملامت قرار پاتے ہیں اسلئے اس عالمی روایت کے احترام میں اسلامی ریاست اگر تعزیراتی سزاؤں کی حد تک قتل کی سزاؤں سے دست کش ہونا چاہے تو ہوسکتی ہے وجہ یہ ہے کہ حدود کی سزائیں تو وجوبی نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ تعزیراتی سزاؤں میں توسیع بھی ہے اور وہ جوازی نوعیت کی بھی ہوتی ہیں ایک ہی متعین سزا تجویز کرنے میں حکومت وقت پابند نہیں ہے۔ اس لئے جرم کی مناسبت سے ایسی سزا کا تعین جو بین الاقوامی رواجات (Customs) سے تصادم کی راہ نہ لیتی ہو یا جس سے اسلامی ریاست کی ساکھ بین الاقوامی تناظر میں متاثر نہ ہوتی ہو۔ حکومت وقت کو اس کا بجا طور اختیار حاصل ہے۔
لیکن بین الاقوامی روایات اور عالمی قوانین کی پابندی جوازی اور مجتہد فیہ نوعیت کے مسائل میں ہوسکتی ہے۔ جبکہ وجوبی ، اجماعی یا متفقہ مسائل میں اسلامی ریاست کو اسلامی قوانین اور شرعی اصول ہی کی پاسداری رکھنی ہوگی ۔ جوازی نوعیت کے احکام کی مثال جیسے غلام اور باندی .... اسلام کے اندر مخصوص شرائط کے تحت انسانوں کی غلامی کا تصور جواز کی حد تک موجود ہے ۔ لیکن بین الاقوامی قوانین غلام بنانے کو ممنوع قرار دیتے ہیں، انسان کی خرید وفروخت بین الاقوامی قوانین کے تحت سنگین نوعیت کا جرم قرار پایا ہے اس لئے اس قانون کے احترام میں اسلامی دنیا کو اس جوازی نوعیت کے قانون کو جرم اور ممنوع قرار دینا بالکل قرین انصاف ہے اس پابندی سے شرعی قوانین کی مخالفت بھی لازم نہیں آتی ہے اور بین الاقوامی رائے عامہ سے تعارض بھی لازم نہیں آتا ہے۔ لیکن وجوبی ، اجماعی اور متفقہ احکام میں ایسا کوئی اختیار
حاصل نہیں ہو سکے گا۔ جس طرح بین الاقوامی قوانین کے احترام میں اسلامی ریاست کے جغرافیائی تشخص کو داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اسلامی ریاست کے مذہبی تشخص پر بھی سودے بازی نہیں کی جاسکتی ہے۔
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امت کی شیرازہ بندی کے لئے اسلامی ریاست کی جغرافیائی سرحدات کے تحفظ سے زیادہ اہمیت ریاست کے مذہبی تشخص اور امت کی نظریاتی وحدت کی ہے۔ نظریاتی وحدت اور مذہبی تشخص کی بقاء کے لئے مذہب کا احترام از حد ضروری ہے۔ اقوام عالم میں امت مسلمہ کو صحیح مقام دلانے کے لئے مذہب اسلام کو ہر چیز سے بالا تسلیم کرنا اور کرانا ہوگا۔ مذہب اسلام اور شعائر اسلام کی تذلیل سے امت مسلمہ کی تذلیل ایک بدیہی امر ہے۔ اسلام بنیاد ہے بنیاد کے کمزور یا کھوکھلا ہونے سے ڈھانچہ کی تباہی یقینی ہوتی ہے۔ عصر حاضر میں امت مسلمہ کی کمزوری اور ذلت کا اصل راز یہی ہے۔
ذیل کے دل خراش اقتباس سے مقالہ کا اختتام کیا جاتا ہے: ’’گوانتانا موبے میں امریکی تفتیش کار زیر حراست افراد کو ذہنی اذیت پہنچانے کے لئے قرآن پاک کی بے حرمتی کرتے ہیں مقدس کتاب کو ٹوائلٹ میں رکھتے ہیں، جبکہ ایک واقعہ میں امریکی اہلکاروں نے قرآن پاک کا نسخہ ٹوائلٹ کے فلش میں بہانے کی شرمناک اور مذموم حرکت بھی کی ہے۔‘‘
(روزنامہ امت و معاصر اخبارات 8 مئی 2005)
ھذا منى، والله اعلم بالصواب
توہین انبیاء
کرام علیہم الصلوۃ والسلام......
چونکہ پاکستان کی پچانویں فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ اس لئے بین الاقوامی روایت کے مطابق پاکستانی عوام کے مذہبی جذبات کے تحفظ کے لیے قانون بالا کا وضع ہونا ضروری تھا۔ جیسا کہ انگلینڈ کے باشندوں کی اکثریت عیسائی ہونے کے سبب وہاں کے قانون میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی جرم مستوجب قتل تھا۔ لیکن اب چونکہ وہاں کے قانون کامن لاء (Common Law) میں ترمیم (Amendment) کر کے سرے سے سزائے موت ہی موقوف قرار دے دی گئی ہے۔ اور سزائے عمر قید کو متبادل سزا کے طور پر جگہ دی گئی ہے۔ اس لئے کہنے میں وہاں توہین عیسیٰ علیہ السلام (Blasphemy) کی سزا سزائے عمر قید ہے۔ لیکن عملی طور پر یہ قانون انگلینڈ کے اکثریتی باشندوں کے دہریانہ خیالات کے باعث اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ آزادی اظہار (The freedom of Press) کے قانون نے بلاس فیمی لاء کو نگل لیا ہے۔ اب وہاں کے کامن لاء میں اس قانون کا نام تو ہے کام نہیں ہے۔ وہاں کی میڈیا اپنی آزادی کے گھمنڈ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسے اہانت آمیز پروگرام نشر کرتی ہے جس کا مسلمانوں سے تصور بھی ناممکن ہے۔
توہین انبیـ
انبیاء کرام علیہم السلام پر احترام ایک مسلمان کا ایسا ہی ہمارے سروں کے تاج ہیں اسلام ہمیں اسی کی تعلیم دیتا ”لا نفرق بين أحد ترجمہ: ”ہم جدا نہیں اس کے ذیل میں مفتی اس آیت کے بعد م مومنوں میں شریک تھا کہ تمام صفات کاملہ کے ساتھ کی کتابوں اور سب رسولـ اس کے بعد وضاحت نہ کرینگے کہ اللہ کے رسو مانیں۔ جیسے یہود نے الانبیاء کو نبی نہ مانا، اس کرتے۔“ (معارف القرآ مسلمان بچہ کو وہ جاتا ہے۔ جس میں قـ
توہین انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام
انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان رکھنا مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ انبیاء کرام کا احترام ایک مسلمان کا ایسا ہی فرض ہے جیسے پیغمبر پاک ﷺ کا احترام، تمام انبیاء کرام ہمارے سروں کے تاج ہیں اور ان سب کے سرتاج ہمارے پیغمبر پاک ﷺ ہیں، اسلام ہمیں اسی کی تعلیم دیتا ہے اور ہمیں اس کا پابند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ:”ہم جدا نہیں کرتے کسی کو اس کے پیغمبروں میں سے“۔
اس کے ذیل میں مفتی اعظم پاکستان محمد شفیعؒ لکھتے ہیں:
اس آیت کے بعد ایمان مجمل کی تفصیل بیان فرمائی جو آنحضرت ﷺ اور عام مومنوں میں شریک تھا کہ وہ ایمان تھا اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے اور ایک ہونے پر اور تمام صفات کاملہ کے ساتھ متصف ہونے پر اور فرشتوں کے موجود ہونے اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور سب رسولوں کے سچے ہونے پر۔
اس کے بعد وضاحت فرمائی کہ اس امت کے مومنین پچھلی امتوں کی طرح ایسا نہ کرینگے کہ اللہ کے رسولوں میں تفرقہ ڈالیں گے کہ بعض کو نبی مانیں اور بعض کو نہ مانیں۔ جیسے یہود نے حضرت موسیٰؑ کو نصاریٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو نبی مانا مگر خاتم الانبیاء کو نبی نہ مانا، اس امت کی یہ مدح فرمائی کہ یہ اللہ کے کسی رسول کا انکار نہیں کرتے۔“ (معارف القرآن ج 1 صفحہ 696)
مسلمان بچہ کو دینی مکتب میں سب سے پہلے ایمان مجمل اور ایمان مفصل سکھایا جاتا ہے۔ جس میں تمام سابقہ انبیاء کرام پر ایمان کا بھی ذکر ہوتا ہے اور اس بات پر
اس کی تربیت کی جاتی ہے کہ تمام انبیاء کرام ہمارے لئے اللہ اور اس کے رسول کے بعد سب سے زیادہ حتی کہ صحابہ کرام، والدین اور عزیز واقارب سے بھی زیادہ قابلِ احترام ہیں اور ان کی ہدایات اور تبلیغی تعلیمات ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔
انبیاء پر ایمان لانا اور ان کا حد درجہ احترام رکھنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ کوئی بھی مسلمان انبیاء کرام یا کسی نبی کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے سے مرتد ہو جاتا ہے۔ اس میں علماء امت میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
صاحب فتاوی تاتارخانیہ لکھتے ہیں:
”ومن لم يقر ببعض الانبياء اوعاب نبيا بشيئ اولم يرض بسنة من سنن المرسلين عليهم السلام فقد كفر“
(فتاوی التاتارخانیہ ج 4 صفحہ 477)
ترجمہ: ”اور جو مسلمان بعضے انبیاء پر ایمان نہ لائے، یا کسی نبی میں کسی بھی طرح عیب جوئی کرے، یا ان کی کسی سنت پر اظہارِ ناراضی کرے، تو وہ کافر اور مرتد ہے“۔
صاحب جامع الفصولین لکھتے ہیں:
ومن لم يقر ببعض الانبياء اوعاب نبيا بشيئ اولم يرض بسنة من سنن المرسلين كفر
(جامع الفصولین صفحہ 302)
ترجمہ: ”جو مسلمان بعضے انبیاء کی نبوت کا اقرار نہ کرے، یا ان کی کسی بھی طرح عیب جوئی کرے، یا ان کی کسی سنت پر اظہارِ ناراضی کرے تو وہ مرتد اور کافر ہو گیا“۔
صاحب منح الجلیل لکھتے ہیں ۔
اجمعوا على تكفير من استخف نبيا او باحد من الملائكة او ازدریٰ عليهم او آذاهم فهو كافر بالاجماع
(منح الجلیل ج 9 صفحہ 210)
ترجمہ: ”امت کا اجماع ہے اس شخص کے کفر پر جس نے کسی پیغمبر کی توہین کی یا کسی فرشتے کی توہین کی یا عیب جوئی کی یا انھیں اذیت دی“۔
صاحب نہایۃ المحتاج لکھتے ہیں:
کذب رسولاً او نبياً او نقصه باى منقص كان صغر اسمه قاصداً تحقیره
(نہایۃ المحتاج ج 7 صفحہ 415)
ترجمہ: ”(وہ مسلمان شخص مرتد ہو جاتا ہے) جو کسی پیغمبر کی تکذیب کرے، یا کسی پیغمبر کی تنقیص کرے، نقص کسی بھی طرح سے ہو، جیسا کہ حقارت کی نیت سے ان کے مقدس نام کی تصغیر کرے۔“
جب انبیاء کرام پر ایمان لانا ہمارے ایمان کا جزو لازم قرار پایا، تو پھر بھلا کیسے ممکن ہے کہ ایک مسلمان یہودیوں کے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور عیسائیوں کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تحقیر کرنے کی جسارت کریگا۔ ایک مسلمان کے لیے یہ مقدس ہستیاں ایسے ہی قابلِ احترام ہیں جیسے ہمارے اپنے پیغمبر (اس اعتراف کے ساتھ کہ ہمارے پیغمبر افضل الرسل ہیں، اور اس کائنات کی ساری رونق اور وجود دراصل انہی کے دم سے قائم ہے) اس کے باوجود بھی ناپاک ذہنیت کا کوئی مسلمان کسی نبی کی اہانت کی جسارت کرے گا تو وہ مرتد ہونے کے سبب واجب القتل قرار پائے گا۔
شیخ وہبہ الزحیلی لکھتے ہیں:
واما من سب الله تعالى او النبى او احدا من الملئكة او الانبياء فان كان مسلماً قتل اتفاقاً
(الفقہ الاسلامی وادلته ج 26 صفحہ 184)
ترجمہ: ”جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ یا پیغمبر اسلام یا فرشتوں میں سے کسی کو یا انبیاء کرام کو گالی دے، تو اگر وہ مسلمان ہے تو اسے قتل کر دیا جائیگا، اس پر پوری امت کا اتفاق ہے۔“
علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :
والحكم في سب سائر الانبياء كالحكم في سب نبينا ................... وما اعلم احدا فرق بينهما ، وان كان اكثر كلام الفقهاء انما فيه ذكر من سب نبينا ، فانما ذالك لمسيس الحاجة اليه وانما وجب التصديق والطاعة له جملة وتفصيلا ، ولاريب ان جرم سابه اعظم من جرم ساب غيره كما ان حرمته اعظم من حرمة غيره وان شاركه سائر اخوانه من النبيين والمرسلين فى ان سابهم كافر حلال الدم .
(الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ 565)
ترجمہ : ’’انبیاء کرام کی شان میں گستاخی کا حکم وہی ہے جو ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ علماء امت میں سے کسی نے ان دونوں میں فرق رکھا ہو۔ اگرچہ عموماً فقہاء کی بحث کا موضوع سخن ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم ہوتا ہے، تخصیص کی ضرورت اس لئے پڑتی ہے کیونکہ آپ کی تصدیق اور اطاعت امت کو تفصیلی انداز میں کرنا ضروری ہوتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں جرم مستوجب قتل ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ شان رسالت میں گستاخی کرنے کا جرم دیگر انبیاء کرام کی شان میں گستاخی کرنے کے جرم سے بدرجہا بڑھ کر ہے۔ جیسے آپ سے عقیدت و احترام دوسرے انبیاء کرام کی نسبت زیادہ رکھنا ضروری ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں جرموں کے احکام میں مماثلت یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں مجرم مرتد اور مستوجب قتل ہے۔‘‘
لیکن ....... یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ انبیاء کرام سے مراد یہ ہے کہ ان کا ذکر یا تو قرآن وحدیث میں آیا ہو ، یا ان کے نبی ہونے پر امت کا اتفاق ہوا ہو۔
لہٰذا..... اگر کوئی شخص ایسی بزرگ ہستی کی شان میں گستاخی کرے۔ جس کا نبی ہونا ازروئے نص معروف نہ ہو۔ یا اس کے نبی ہونے میں علماء امت کا اختلاف ہو، تو اس صورت میں گستاخی اگرچہ جرم ہے لیکن مستوجب ارتداد اور مستوجب قتل نہیں ہے۔
صاحب فتاویٰ عالمگیریہ لکھتے ہیں:
”سئل ابن مقاتل عمن انكر نبوة الخضر و ذى الكفل فقال كل من لم تجتمع الأمة على نبوته لا يضره ان جحد نبوته“
(الفتاویٰ العالمگیریۃ ج 2 صفحہ 263)
ترجمہ : ” ابن مقاتل سے کسی نے اس شخص کا حکم پوچھا جو حضرت خضر اور ذوالکفل کی نبوت کا انکار کرتا ہو ، جواب دیا : جس کے نبی ہونے پر امت کا اجماع قائم نہیں ہوا ہو۔ اس کی نبوت کے انکار کرنے سے کفر ثابت نہیں ہو گا“۔
انبیاء کرام کی جنس کو لے کر اگر کوئی شخص گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے۔ یا محض نبی یا رسول کے لفظ کو لے کر اس کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔ تو اس صورت میں جرم مستوجب ارتداد اور مستوجب قتل قرار پائیگا۔
علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
فمن سب نبيا مسمى باسمه من الانبياء المعروفين فى القرآن او موصوفاً بالنبوة مثل ان يذكر فى حديث ان نبيا فعل كذا او قال كذا، فيسب ذالك القائل او الفاعل مع العلم بانه نبى وان لم يعلم من هو او يسب نوع الانبياء على الاطلاق
فالحكم في هذا كما تقدم .
(الصارم المسلول صفحہ 565)
ترجمہ: ”جو کوئی مسلمان ایسے پیغمبر جس کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے۔ یا حدیث پاک میں لفظ نبوت کے ساتھ باوصف ذکر آیا ہو کہ نبی نے ایسا کیا یا کہا۔ اور کوئی شخص اس وصف کے ساتھ متصف قائل یا فاعل کی شان میں گستاخی کرے حالانکہ وہ جانتا ہوتا ہے کہ وہ پیغمبر ہے اگر چہ علی التعیین نہیں پتہ ہوتا ہے۔ یا گستاخی کرنے والا کسی خاص پیغمبر کو نشانہ بنانے کی بجائے انبیاء کرام کی جنس کی شان میں عمومیت کے ساتھ گستاخی کرے، تو اس کا حکم (جرم مستوجب ارتداد اور مستوجب قتل ہے ) وہی ہے جو پیچھے گزر چکا ہے“۔
کوئی مسلمان ایسے پیغمبر کی علی التعیین گستاخی کرے۔ جس کی نبوت پر امت کا اجماع قائم ہوا ہو تو جرم مستوجب ارتداد اور مستوجب قتل ہوگا۔ جیسے کوئی مسلمان یہودیوں کے پیغمبر حضرت موسیٰ یا عیسائیوں کے پیغمبر حضرت عیسیٰ کی شان میں گستاخی کرے۔
یہ ساری تفصیل تو اس صورت میں تھی جبکہ انبیاء کرام کی توہین کرنے والے کا تعلق اسلام سے ہو۔ تو اس صورت میں بالاتفاق اس کی سزا قتل ہے۔ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
شیخ الزحیلی لکھتے ہیں:
واما من سب ....... الانبياء فان كان مسلما قتل اتفاقا.
(الفقہ الاسلامی وادلتہ ج 6 صفحہ 184)
ترجمہ: ”جو شخص انبیاء کرام کی شان میں گالم گلوچ کرے۔ تو اگر وہ مسلمان ہو، تو
باجماع امت اس کی سزا قتل ہے۔
لیکن...... مسلمان کی بجائے وہ اسلامی ریاست کا غیر مسلم باشندہ ہو، تو سابقہ مضمون میں تحریر کردہ تفصیل کے مطابق ائمہ ثلاثہ کے نزدیک گستاخی کا جرم مستوجب حد بصورت قتل ہے، جبکہ حنفی فقہاء کے نزدیک جرم مستوجب حد ہونے کی بجائے مستوجب تعزیر ہے، تعزیری سزا کیا دینی ہے، یہ جرم کی نوعیت پر ہے، اس کی پوری تفصیل پچھلے صفحات میں ذکر کر دی گئی ہے۔ وہاں (شاتم رسول کی سزا میں ) ملاحظہ فرمالیں۔
- 1...... گزشتہ صفحات میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر اسلامی ریاست کا یہودی
باشندہ علی الاعلان یا طباعتی شکل میں حضرت عیسیٰ کی توہین کا یا کوئی عیسائی باشندہ حضرت موسیٰ کی توہین کا مرتکب ہو، تو عدالت مجرم کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ جاری کریگی۔
- 2...... اسلامی ریاست کا کوئی غیر مسلم باشندہ حضرت عیسیٰ یا حضرت موسیٰ کی توہین غیر
اعلانیہ انداز میں کرے، لیکن بار بار مرتکب جرم ہو، تو اس کو بھی سزائے موت دی جائے گی۔
- 3...... ٹی وی پر کسی پیغمبر کو توہین آمیز صورت میں پیش کرنا مستوجب قتل جرم ہے۔
مذکورہ تینوں جرائم کے مستوجب قتل ہونے پر پوری امت کا اتفاق ہے۔
صاحب رد المحتار لکھتے ہیں:
أفتى فى بكر اليهودى قال لبشر النصرانى نبيكم عيسى ولد زنا بانه يقتل لسبه للانبياء عليهم الصلوة والسلام
(رد المحتار ج4 صفحہ 215)
ترجمہ : ایک یہودی شخص جس کا نام بکر تھا اس نے بشر نامی عیسائی سے کہا تمہارے پیغمبر (معاذ اللہ ) زنا کی اولاد ہے۔ علماء نے اس گستاخ کے خلاف قتل کا فتویٰ دیا کیونکہ پیغمبروں کو گالی دینا جرم مستوجب قتل ہے۔‘‘
جب اسلام میں تمام انبیاء کرام کی توہین جرم قرار پائی ہے۔ تو پھر موضوعہ دفعہ (295-C) کو صرف پیغمبر پاک ﷺ کی مقدس ذات میں محدود کرنے کی بجائے اگر تمام معروف انبیاء کرام کے مقدس ناموں تک وسعت دی جاتی۔ تو شرعی حوالہ سے یہ زیادہ قرین انصاف ہوتا۔ اور یہ مسلمانوں کے ایمان کا عین مقتضی بھی ہے۔
پیغمبر پاک ﷺ کے مقدس نام تک دفعہ مذکورہ کی محدودیت کا باعث بین الاقوامی روایت ہے:
’’ایسا عمل جو شہریوں کی اکثریت کے مذہبی عقائد کو مجروح کرنے والا ہو، جرم کے زمرہ میں آتا ہے۔‘‘ (ہاؤس کیس A.L.R صفحہ 871)
چونکہ پاکستان کی پچانویں فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ اس لئے بین الاقوامی روایت کے مطابق پاکستانی عوام کے مذہبی جذبات کے تحفظ کے لیے قانون بالا کا وضع ہونا ضروری تھا۔ جیسا کہ انگلینڈ کے باشندوں کی اکثریت عیسائی ہونے کے سبب وہاں کے قانون کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی جرم مستوجب قتل تھا۔ لیکن اب چونکہ وہاں کے قانون کامن لاء (Common Law) میں ترمیم (Amendment) کر کے سرے سے سزائے موت ہی موقوف قرار دے دی گئی ہے۔ اور سزائے عمر قید کو متبادل سزا کے طور پر جگہ دی گئی ہے۔
اس لئے کہتے ہیں وہاں توہین عیسیٰ علیہ السلام (Blasphemy) کی سزا سزائے عمر قید ہے۔ لیکن عملی طور پر یہ قانون انگلینڈ کے اکثریتی باشندوں کے دہریانہ خیالات کے باعث اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ آزادی اظہار (The freedom of Press) کے قانون نے بلاس فیمی لا کو نگل لیا ہے۔ اب وہاں کے کامن لاء میں اس قانون کا نام تو ہے، کام نہیں ہے۔ وہاں کی میڈیا اپنی آزادی کے گھمنڈ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسے اہانت آمیز پروگرام نشر کرتی ہے جس کا مسلمانوں سے تصور بھی ناممکن ہے۔
اللہم انا نجعلک فی نحورہم و نعوذ بک من شرورہم ہذا منی واللہ اعلم بالصواب
شاتم صحابہ کی سزا......
پاکستانی قانون کے اندر تحفظ ناموس صحابہ کی دفعہ مجریہ آرڈیننس 44 - 1980ء کا نفاذ خوش آئند پیش رفت ہے، اس دفعہ کے اضافہ سے جمیع صحابہ بشمول امہات المؤمنین، اہل بیت، خلفائے راشدین کے ناموس کو قانونی تحفظ حاصل ہوا ہے اور امت مسلمہ جو صحابہ کرام کو پیغمبر اسلام اور انبیاء کرام کے بعد سب سے زیادہ عزیز رکھتی ہے، اس دفعہ کے وضع ہونے سے باشندگان پاکستان کے اندر خوشی کی لہر کا دوڑنا بالکل ایک فطری عمل ہے۔ لیکن قدرے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دفعہ ہذا کو نوشت و خواندن تک محدود کرنے کی بجائے عمل ضابطہ کار اور تنفیذی اقدامات سے بھی مالا مال کر دیا جاتا۔ تو آج مملکت خداداد پاکستان کے اندر شدت پسند اور فرقہ واریت پر مبنی تحریکیں پروان نہ چڑھتی ہوتیں، عملی کارروائی نہ ہونے کے نتیجے ہی دراصل ان تحریکات کی داغ بیل ڈالی ہے۔
شاتم صحابہ کی سزا......
298-A whoever by words, either spoken or written, or by visible representation, or by an imputation, innoendo or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of any wife (Umm-ul-Momineen) or members of the family (Ahl-e-Bet) of the Holy Prophet (ﷺ) or any of the righteous caliphs (Khulafa e Rashideen) or companions (Sahaba) of the Holy Prophet (ﷺ) shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to three years, or with fine or with both.
ترجمہ : جو کوئی پیغمبر پاک ﷺ کی کسی بیوی، یا انکے اہل بیت اور کنبہ یا خلفائے راشدین میں سے کسی کی یا پیغمبر پاک ﷺ کے صحابہ کی الفاظ سے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، ظاہری اشاروں سے، یا معنوی طور پر، طعن زنی کر کے یا تعریض کر کے، بلاواسطہ یا بالواسطہ توہین کا مرتکب ہو، اسے دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی مدت تین برس تک ہو سکتی ہے، یا جرمانہ یا دونوں سزائیں۔
تشریح: دفعہ بالا آرڈینینس نمبر 44- 1980ء کے ذریعہ وجود میں آئی ہے۔
دفعہ بالا کے نفاذ (Enforcement) سے مقصد امہات المؤمنین، خلفائے راشدین اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی، بے حرمتی اور توہین کو مستوجب سزا قرار دینا ہے۔
مسلمان قوم کی صحابہ کرام کے ساتھ والہانہ عقیدت ومحبت کا مقتضی یہ ہے کہ مسلمانوں کے بنائے ہوئے ممالک اور مسلم اکثریتی ملک میں صحابہ کرام کو محبت وعقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
معاشرہ میں ان کی محبت واحترام کو پروان چڑھانے کے لئے دیگر امور کے ساتھ ساتھ ایک ضروری امر یہ بھی ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کے قانون میں ناموس صحابہ اور ان کے تحفظ کے تانے بانے بھی ترتیب پائیں ، اور ایسا موقع ہی نہ آنے دیا جائے کہ سر زمین پاکستان پر بسنے والے کروڑوں عاشقان صحابہ کے دل کسی دریدہ دھن گستاخ صحابہ کے سب وشتم سے مجروح ہوں۔
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ رسول پاک ﷺ اور انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد اللہ تعالیٰ کے سب سے مقرب ، برگزیدہ اور محبوب بندے آپ ﷺ کے صحابہ ہیں ۔ قرآن پاک نے جابجا ان کی قدرومنزلت اور ان کی عزت و احترام کا سرٹیفیکٹ جاری فرمایا ہے ، دنیا کے اندر ان کے جیتے جی اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی خوشنودی کا پروانہ جاری فرمایا تھا۔
- 1....... اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: والسابقون الأولون من المهاجرين
والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان رضی الله عنهم ورضوا عنه......
(سورۃ التوبۃ آیت 100)
ترجمہ: مہاجر اور انصار درجہ میں مقدم اور سابق ہیں ، اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں ۔ اللہ ان سب سے راضی ہوا ، اور وہ سب اس سے راضی ہوئے۔
- 2...... لقد رضى الله عن المؤمنين إذ يبايعونک تحت الشجرة.
(سورۃ الفتح آیت 18)
ترجمہ : تحقیق اللہ تعالیٰ راضی ہوا ان مسلمانوں سے جبکہ یہ لوگ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے۔
- 3...... لقد تاب الله على النبى والمهاجرين والأنصار والذين
اتبعوه في ساعة العسرة من بعد ما كاد يزيغ قلوب فريق منهم ثم تاب عليهم انه بهم رؤف رحيم.
(سورة التوبة آیت 117)
ترجمہ : ” تحقیق اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین وانصار کے حال پر بھی ، جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تذبذب ہو چلا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سب کے حال پر شفیق اور مہربان ہے“۔
- 1...... نبی پاکﷺ کا ارشاد ہے:
لا يدخل النار احد بايع تحت الشجرة.
ترجمہ : ” جہنم میں داخل نہیں ہوسکتا وہ شخص جس نے درخت کے نیچے اللہ کے رسول کے ہاتھ پر بیعت کی ہو“۔
- 2...... لا تسبوا اصحابي فإن احدكم لو أنفق مثل أحد ذهبًا
ما ادرک مد أحدهم ولا نصيفه.
(بخاری ومسلم)
ترجمہ : ” میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، وہ نہیں پاسکے گا ان صحابہ میں سے کسی ادنیٰ صحابی کے خرچ کئے ہوئے مال کی ادنیٰ مقدار یا اس کے کسی حصہ کو“۔
- 3...... عن محمد بن طلحة المديني عن عبدالرحمن بن سالم بن
عتبه بن عويم بن ساعده عن ابيه عن جده قال قال رسول الله ﷺ ”إن الله اختارني واختار لي أصحابًا، جعل لي منهم وزراء وانصارًا واصهارًا
فمن سبهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس اجمعين، لايقبل الله منه يوم القيامة صرفاً ولاعدلاً.
ترجمہ: ”اللہ کے رسول نے فرمایا ہے: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پسند کیا۔ اور میرے واسطے صحابہ کا انتخاب کیا، ان میں سے میرے لئے بنائے وزراء، مددگار اور تعلق دار، پس جو شخص انہیں برا بھلا کہے، تو اس پر اللہ کی لعنت، فرشتوں اور سارے لوگوں کی لعنت ہو، اللہ ایسے شخص سے قیامت کے روز قبول نہیں کریگا اس کا خرچ کردہ مال اور نہ اس کی مقدار“۔
4....... عن عبدالله بن مغفل قال قال رسول الله ﷺ الله الله فى اصحابى لاتتخذوهم غرضًا من بعدى من احبهم فقد احبنى ومن ابغضهم فقد ابغضنى ومن اذاهم فقد اذانى ومن اذانى فقد اذى الله ومن اذى الله فيوشك ان ياخذه.
(جامع الترمذى)
ترجمہ: ”عبداللہ بن مغفل کہتے ہیں، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کے بارے میں تمہیں اللہ کا واسطہ میرے صحابہ کو میرے بعد نشانہ تنقید نہ بنانا۔ جو شخص صحابہ سے محبت رکھے گا۔ درحقیقت اس نے مجھ سے محبت کی، اور جو ان سے بغض رکھے گا۔ درحقیقت اس نے مجھ سے عداوت رکھی۔ اور جس نے انہیں تکلیف دی، درحقیقت اس نے مجھے تکلیف دی۔ اور جس نے مجھے تکلیف دی۔ درحقیقت اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔ اور جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔ تو اللہ تعالیٰ بہت جلد اس کی گرفت کرلے گا“۔
5....... عن عطاء بن ابى رباح عن النبى ﷺ قال لعن الله من سبّ
أصحابي. ترجمہ: ”عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جو شخص میرے صحابہ کو سب وشتم کرے، اللہ کی اس پر لعنت ہو“۔
درج بالا دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام سے بے لوث محبت رکھنا مسلمان پر واجب ہے اور کوئی ایسا لفظ زبان پر یا تحریر میں لانا جس سے صحابہ کرام کی عظمت شان گھٹ سکتی ہو، وہ لفظ خواہ کسی بھی ذریعہ سے استعمال ہوا ہو، بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ، تعریضی انداز میں ہو یا صریح انداز میں۔ اشاروں کنایوں میں ہو یا کھل کر واضح انداز میں ہو، ایسے لفظ یا جملہ کا استعمال باجماع امت حرام ہے۔
علامہ ابن تیمیہ اپنی شہرہ آفاق کتاب میں لکھتے ہیں:
وهذا مما لا نعلم فيه خلافاً بين اهل الفقه والعلم من اصحاب رسول الله ﷺ والتابعين لهم باحسان وسائر اهل السنة والجماعة، فإنهم مجمعون على أن الواجب الثناء عليهم والاستغفار لهم والترحم عليهم والترضى عنهم واعتقاد محبتهم وموالاتهم وعقوبة من أساء فيهم القول.
(الصارم المسلول علی شاتم الرسول 578)
ترجمہ: اور یہ ایسی بات ہے جس میں اہل علم اور فقہاء کرام میں سے کسی کا اختلاف سامنے نہیں آیا ہے۔ بلکہ صحابہ کرام، تابعین اور اہل سنت والجماعت سب کا اس بات پر اجماع ہے۔ کہ صحابہ کرام امت کے لئے واجب الاحترام ہیں، مسلمانوں کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ انکی مغفرت و رحمت کے لئے دعا گو ہوں۔ صحابہ کرام کے لئے دل صاف رکھنا اور کسی قسم کی کدورت نہ رکھنا، اور ان سے محبت و احترام کا عقیدہ رکھنا
مسلمان کا فرض ہے۔ اور صحابہ کر دینا واجب ہے“۔
درج بالا اقتباس سے دو ن
- 1...... صحابہ کرام سے عقیدت و
کسی صحابی سے بغض رکھنا
- 2...... علانیہ یا تحریری انداز میـ
صحابی کی عظمت شان گھٹ to Tazir) ہے۔
علامہ ابن تیمیہؒ نے اپنـ شتم أبى بكر وعمر حضرت ابو بکر و عمرؓ کی شا امام احمد بن حنبلؒ صحابہ ک وخير الأمة بعد الـ بعد عمر و على بعد عثـ رسول الله بعد هؤلاء من مساويهم ولا يطـ ذالك فقد وجب تعـ ويستتيبه فان تاب قبـ الحبس حتى يموت او
مسلمان کا فرض ہے۔ اور صحابہ کرام کی شان میں جو شخص بدگوئی کرے اس کو تعزیری سزا دینا واجب ہے‘‘۔
درج بالا اقتباس سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
- 1......صحابہ کرام سے عقیدت و محبت کا رشتہ رکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور صحابہ کرام یا
کسی صحابی سے بغض رکھنا حرام ہے۔
- 2......علانیہ یا تحریری انداز میں کسی صحابی کے خلاف ایسا جملہ زبان پر لانا جس سے اس
صحابی کی عظمت شان گھٹ سکتی ہو جرم مستوجب تعزیر offence liable) (to Tazir ہے۔
علامہ ابن تیمیہ ابراہیم نخعیؒ کے حوالہ سے لکھتے ہیں:
شتم أبى بكر وعمر من الكبائر
(الصارم المسلول صفحہ 578)
حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کی شان میں نازیبا الفاظ کہنا گناہِ کبیرہ ہے۔
امام احمد بن حنبلؒ صحابہ کرامؓ کی عظمت شان کے بارے میں لکھتے ہیں:
وخير الأمة بعد النبى ﷺ ابوبكر وعمر بعد ابى بكر وعثمان بعد عمر وعلى بعد عثمان وهم خلفاء راشدون مهديون. ثم اصحاب رسول الله بعد هؤلاء الأربعة خير الناس لايجوز لأحد ان يذكر شيئا من مساويهم ولايطعن على احد منهم بعيب ولانقص فمن فعل ذالك فقدوجب تاديبه وعقوبته ليس له ان يعفو عنه بل يعاقبه ويستتيبه فان تاب قبل منه وان ثبت اعاد عليه العقوبة وخلده فى الحبس حتى يموت اويراجع۔
(الصارم المسلول صفحہ 568)
ترجمہ : ”پیغمبر اسلام کے بعد اس امت کے سب سے افضل شخص حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں۔ آپ کے بعد حضرت عمرؓ، آپؓ کے بعد حضرت عثمانؓ اور آپؓ کے بعد حضرت علیؓ ہیں اور یہ چاروں ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کہلاتے ہیں۔ ان کے بعد عام صحابہ امت کے سب افضل لوگ ہیں، ان کی کسی کمزوری کا ذکر زبان پر لانا کسی کے لئے روا نہیں ہے اور نہ ان کی عیب جوئی کر کے ان کو طعن و تشنیع کرنا جائز ہے۔ جو شخص اس کا مرتکب ہوگا۔ اس کو تعزیری سزا دینا اسلامی ریاست کا فرض ہے۔ اس کو معافی دینا حاکم وقت کے لئے جائز نہیں ہے، بلکہ سزا دی جائے گی اور آئندہ نہ کرنے کی یقین دہانی کے لئے مجرم سے توبہ کروائی جائے گی، اگر توبہ کر لیتا ہے تو بہتر، اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں اس کو دوبارہ سزا دی جائے، اور اس وقت تک جیل میں رکھا جائے کہ یا تو جیل میں گل سڑ کر مر جائے یا اپنے کئے سے باز آجائے“۔
عن علی بن ابي طالب قال قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم : من سب نبياً فاقتلوہ ومن سب اصحابي فاجلدوہ . رواہ ابو محمد الخلال وابو القاسم الأرجي ورواہ ابوذر الهروی . (الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ 93)
ترجمہ: حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی پیغمبر کو سب وشتم کرے۔ اس کو قتل کر ڈالو اور جو شخص میرے صحابہ کو سب وشتم کرے، اس کے کوڑے مارو۔
گستاخ صحابہ کے بارے میں امام مالکؒ فرماتے ہیں:
من شتم النبی ﷺ قتل ومن سب اصحابہ أدب. (الشفاء
جلد 2 صفحہ 205)
ترجمہ: پیغمبر اسلام کی شان میں نازیبا الفاظ بولنا مستوجب قتل جرم ہے، جبکہ صحابہ کو سب وشتم کرنا مستوجب تعزیر جرم ہے۔
مشہور فقیہ ومحدث اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں:
من شتم أصحاب النبی ﷺ یعاقب ویحبس۔
(الصارم المسلول صفحہ 568)
ترجمہ: جو شخص صحابہ کرام کو سب وشتم کرے، اس کو سزا دیجائے ، اور جیل میں رکھا جائے۔
درج بالا اقتباسات سے واضح ہوا کہ صحابہ کرام سے محبت واحترام کا عقیدہ رکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اور انہیں ہدف تنقید یا طعن وتشنیع بنانا حرام اور مستوجب تعزیر جرم ہے، جرم مستوجب تعزیر کا مطلب بھی آپ سمجھ گئے ہیں، کہ حاکم وقت یا عدالت کو جرم کی نوعیت، جرم کے حالات وپس منظر، مجرم کی مجرمانہ ذہنیت کے اعتبار سے جو معقول سزا مناسب لگتی ہو، تجویز کردے جیسا کہ دفعہ بالا میں تجویز کی گئی ہے۔
پاکستانی قانون کے اندر تحفظ ناموس صحابہ کی دفعہ مجریہ آرڈینینس 44-1980ء کا نفاذ خوش آئند پیش رفت ہے، اس دفعہ کے اضافہ سے جمیع صحابہ بشمول امہات المؤمنین، اہل بیت، خلفائے راشدین کے ناموں کو قانونی تحفظ حاصل ہوا ہے اور امت مسلمہ جو صحابہ کرام کو پیغمبر اسلام اور انبیاء کرام کے بعد سب سے زیادہ عزیز رکھتی ہے، اس دفعہ کے وضع ہونے سے باشندگان پاکستان کے اندر خوشی کی لہر کا دوڑنا بالکل ایک فطری عمل ہے۔ لیکن قدرے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دفعہ بالا کو نوشت وخواندن تک محدود کرنے کی بجائے سہل ضابطہ کار اور تنفیذی اقدامات سے بھی مالا مال کردیا جاتا۔ تو آج مملکت خداداد پاکستان کے اندر شدت پسندی اور فرقہ واریت
پر مبنی تحریکیں پروان نہ چڑھتی ہوتیں ،عملی کارروائی نہ ہونے کے تاثر و رویہ نے ہی دراصل ان تحریکات کی داغ بیل ڈالی ہے۔
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ کسی ملک کے استحکام اور بقاء کے لئے جہاں اس کی جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ ضروری ہے، اسی طرح باشندگان وطن کی شیرازہ بندی کیلئے ملک کی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ جب صحابہ کرامؓ سے محبت واحترام کا عقیدہ رکھنا امت مسلمہ کے ایمان کا حصہ ہے، تو ایسی برگزیدہ ہستیوں کے بارے میں کسی قسم کی بے ادبی، ہرزہ سرائی اور گستاخی کو ایک غیرت مند مسلمان کیسے برداشت کر سکتا ہے، ناموس صحابہ کو قانونی تحفظ حاصل نہ ہونے کے نتیجہ میں ملک کے اندر انارکی پھیلنا، فتنہ و فساد کا زور پکڑنا، فرقہ واریت اور قتل و غارتگری کا بازار گرم ہونا ایک بدیہی امر ہے۔ جیسے ماں باپ اور رفیقہ حیات کی عزت پر حملہ ایک باعزت شہری کو جذباتی بناتا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ صحابہ کرام کی شان میں اشتعال انگیزی ایک مسلمان کو مشتعل کر کے دریدہ دہن گستاخ صحابہ کے خلاف کچھ بھی کرنے پر آمادہ کرسکتی ہے۔ اس لئے ایسے شرپسند عناصر جو سر بازار ناموس صحابہ پر حملہ کے مرتکب ہوں وہ سنگین سزا کے مستحق قرار دیئے جائیں، تاکہ ملک میں فرقہ واریت، فتنہ اور فساد پرورش نہ پاسکے، اگر ناموس صحابہ کے تحفظ میں قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہوگا ، تو پھر گستاخ صحابہ اور اس کے خلاف مشتعل ہونے والے فدایان صحابہ پر عدالت کے دروازے بند ہونے کے برابر ہوں گے، جس کی وجہ سے ہر کوئی قانون کی لاٹھی اپنے ہاتھ میں لیکر مجرموں سے انتقام لیگا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک کا امن وامان تہہ وبالا ہو جائے گا، قانون پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا، ضیاء دور اقتدار سے لیکر آج
تک فرقہ واریت کے خونیں سانحات دراصل اسی ردّعمل کا نتیجہ ہیں اور ہم سمجھ سکتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فسادات نہ صرف مسلم معاشرہ میں دراڑیں پیدا کر سکتے ہیں۔ بلکہ ملک اور باشندگان وطن کے امن و سلامتی کو بھی داؤ پر لگا سکتے ہیں۔ جن برگزیدہ اور پاکباز ہستیوں کے طفیل یہ دنیا حق پرستی، عدل و انصاف، سچائی، ایمانداری، اخلاص، عہد و وفا جیسی اعلیٰ اقدار سے روشناس ہوئی ہے۔ اور جن کے تبلیغی اور جہادی سلسلوں کی بدولت مملکت پاکستان وجود میں آیا ہے۔ اب اس ملک کے اندر ان برگزیدہ ہستیوں کی شان میں دشنام طرازی ہو، تو تازیانہ قانون اس لئے حرکت میں نہ آئے کہ عصری قانون کو پرانے دور کے پرانے لوگوں سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔
تعزیری سزاؤں کی تحدید اور ضابطہ کار حکومت وقت کی صوابدید پر ہے۔ حکومت وقت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی جرم مستوجب تعزیر کو جرم کی نوعیت، اس کی سنگینی، عوامی ردّعمل، جرم کے سیاق و سباق، مجرم کی مجرمانہ ذہنیت کے اعتبار سے جیسے مناسب ہو، سزا تجویز کر دے، شریعت تعزیری سزا کی تحدید یا سزا کے حوالہ سے کسی خاص ضابطہ کار کا حکومت وقت کو پابند نہیں کرتی ہے، لیکن یہ تاکید ضرور کرتی ہے کہ جرم کا قلع قمع کرنے کے لئے حکومتی تدابیر ایسی ہونی چاہئیں کہ مجوزہ تعزیری سزا سے جرم ختم ہوتا ہوا نظر آئے، اسی فلسفہ کی بنیاد پر تعزیری سزاؤں کو قابل ترمیم (Amendable) اور قابل تنسیخ رکھا گیا ہے کیونکہ وقت، مجرمانہ ذہنیت اور عوامی ذہن کے بدلنے سے تعزیراتی سزاؤں میں تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ورنہ ”جرم کچھ
اور سزا ’کچھ‘ ہونے کے سبب وہی سزا اس جرم کی تقویت کا پیش خیمہ بنے گی۔
درج بالا دفعہ A-298 ۔ چونکہ جرم مستوجب تعزیر کے حکم پر مشتمل ہے اس لئے مستوجب تعزیر سے بدیہی طور پر یہ امر مترشح ہو جاتا ہے، کہ اس کی سزا اور ضابطہ کار کی تحدید میں حکومت وقت از روئے شرع با اختیار ہے۔ اس لئے حکومت وقت نے آرڈینینس نمبر 44 مجریہ 1980ء کے ذریعہ اپنے صوابدیدی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے جرم کی سزا کی تحدید کے ساتھ ساتھ ضابطہ کار کے لحاظ سے جرم کو درج ذیل حیثیت میں رکھا ہے۔
- 1..... قابل دست اندازی پولیس (cognisable) یعنی مجرم کی گرفتاری اور
عدالتی فیصلہ دعوائے مدعی کا محتاج نہیں ہے، بلکہ عدالت یا پولیس کو جب مذکورہ بالا جرم کے وقوع کا علم ہو جائے ، تو وہ ازخود مجرم کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے، اور مجرم کو دفعہ A-298 کے تحت گرفتار کر سکتی ہے۔
علامہ ابن تیمیہؒ نے جرم بالا کی مذکورہ خصوصیت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے:
ولهذا قلنا: إن من سب اصحاب رسول الله ﷺ فإنه يجب أن يعزر ويؤدب أو يقتل وإن لم يطالب بحقهم معين لأن نصر المسلمين واجب على كل مسلم بيده ولسانه فكيف على ولى الأمر؟
(الصارم المسلول صفحہ 443)
ترجمہ: ”اسی بنیاد پر ہم کہتے ہیں، کہ جو شخص پیغمبر اسلام کے صحابہ کو گالم گلوچ کرے، تو اس کے خلاف تعزیری سزا کا اجراء حکومت وقت کا فرض ہے، حتی کہ تعزیری
طور پر جرم کی سنگینی کے اعتبار سے اس کو قتل تک کی سزا دی جاسکتی ہے، سزا کے اجرا کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی معین شخص اس جرم کے وقوع کا دعویٰ فائل کرے، بلکہ ایک فرض کے طور پر ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ دعویٰ اور ثبوت کی فراہمی کے ذریعہ عدالتی فیصلہ کے اجرا میں حکومت سے تعاون کرے۔‘‘
- 2...... قابل ضمانت (Bailable)
مستوجب تعزیر جرائم میں اصل یہ ہے کہ جرم کا فیصلہ ہونے تک ملزم (convict) کو قید نہ کیا جائے، کیونکہ ملزم کو گرفتار کرنے سے لازم آئے گا کہ قبل از فیصلہ محض شک کی بنیاد پر قید (جو کہ ایک مستقل تعزیری سزا ہے) کا اجراء کر دیا، حالانکہ قبل از فیصلہ تعزیری سزا کا اجراء کسی طور پر بھی قرین انصاف نہیں ہے۔ (خاص حالات...... مثلاً مجرم کے فرار کا خطرہ...... اس حکم سے مستثنیٰ ہیں)۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
لأن الحبس بمفرده يقع تعزيراً تاماً، ولهذا لا يحبس فى تهمة وجوب التعزير قبل ثبوته بأن شهد شاهدان مستوران على أنه قذف محصنا فقال يا فاسق فلا يحبس المتهم قبل تعديل الشهود كما شرع فى الحد لان الحبس تعزير فلا يحبس قبل ثبوته بخلاف ما اذا اتهم بما يوجب الحد لأن التعزير أدنى من الحد فناسب ان يعاقب به عند التهمة بما يوجب الحد لأنه ادنى منه.
(فتح القدیر جلد 5 صفحہ 117)
ترجمہ: ”قید از خود ایک مستقل تعزیری سزا ہے، اس لئے محض شک کی بنیاد پر منصۂ عدالت پر ثبوت کی فراہمی تک ملزم کو قید میں نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً دو
مستور الحال گواہوں نے عدالت میں اس بات پر گواہی دی کہ ملزم نے ایک محصن اور پاکدامن شخص کو فاسق کہہ کر گالی دی ہے تو یہاں ملزم کو ثبوت جرم ہونے تک جیل میں بند نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ سزائے قید عدالتی فیصلہ پر مرتب ہوتی ہے جو کہ اب تک زیرالتواء ہے۔ اس کے برخلاف مستوجب حد جرائم میں فراہمی ثبوت سے پہلے الزام کی بنیاد پر ملزم کو قید کیا جا سکتا ہے، کیونکہ قید مستوجب حد جرم کی سزا نہیں ہے۔ اور سزا نہ ہونے کے سبب قبل از فیصلہ اگر ملزم کو قید کر لیا جائے ، تو اصولی طور پر اس میں کوئی حرج نہیں ہے“۔
3....... نا قابل راضی نامہ (Uncompoundable) اصولی طور پر حقوق اللہ کے قبیل سے تعلق رکھنے والے قضایا (Cases) نا قابل راضی نامہ اور حقوق العباد کے قبیل سے تعلق رکھنے والے قضایا قابل راضی نامہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ مقدم الذکر میں مدعی عام مسلمان یا خود اسٹیٹ ہوتا ہے۔جس کی نمائندگی حاکم وقت یا عدالت کر رہی ہوتی ہے۔ جبکہ مؤخرالذکر میں مدعی شخص متضرر ہوتا ہے، اس کی مرضی پر ہے کہ وہ اپنے خصم جس کے خلاف عدالت کا فیصلہ عمل میں آیا ہے، سے بذریعہ معاوضہ (compensation) راضی نامہ کرلے بشرطیکہ معاملہ قابل اعتیاض ہو، یا اسے معاف کر دے، معافی یا مصالحت کی راہ میں حکومت یا عدالت کو رکاوٹ بننے کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔ جبکہ مقدم الذکر میں فریق متضرر عامۃ المسلمین ہوتے ہیں۔ اس لئے راضی نامہ جو کہ فریقین کی آزادانہ رضامندی (Free consent) کا محتاج ہوتا ہے۔ فریق متضرر کی عمومیت کے سبب اس کا حاصل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس لئے فریق متضرر کے عدم تعین اور حصول رضامندی غیر امکانی درجہ میں ہونے کے سبب حقوق اللہ کے قبیل سے تعلق رکھنے والے قضایا
نا قابل راضی نامہ (Uncompoundable) قرار پاتے ہیں۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
ومنها العفو، فإنه بعد ما ثبت عند الحاكم القذف والإحصان لو عفا المقذوف عن القاذف لا يصح منه ومنها لا يجوز الاعتياض عنه
(فتح القدیر جلد 5 صفحہ 97/98)
ترجمہ : حق اللہ کے قبیل سے تعلق رکھنے والے قضایا کے اندر حاکم وقت کے سامنے فریق متضرر کی پاکدامنی اور فریق مخالف کا جرم قذف ثابت ہونے کے بعد اگر فریق متضرر فریق مخالف کو معاف کرنا چاہے گا بھی ، تو وہ نہیں کر سکے گا۔ اسی طرح اگر فریق متضرر معاوضہ لیکر فریق مخالف سے مصالحت اور راضی نامہ کرنا چاہے گا ۔ تو بھی نہیں کر سکے گا ( کیونکہ دراصل فریق وہ خود نہیں عامہ خلائق ہیں ۔‘‘ )
چونکہ دفعہ بالا 298-A میں مذکور جرم حقوق اللہ کے قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔ جس میں کہ شخص متضرر عامہ مسلمان یا خود اسٹیٹ ہوتا ہے۔ جس کی نمائندگی حکومت وقت کر رہی ہوتی ہے۔ اس لئے جرم ثابت ہونے کے بعد اصولی طور پر حاکم وقت کا مجرم کو معافی دینا یا اس سے راضی نامہ کرنے کا اختیار حاکم وقت کو نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ فریق متضرر کا نمائندہ ضرور ہے، خود فریق متضرر نہیں ۔ اسی اصول کے پیش نظر دفعہ بالا کو نا قابل راضی نامہ قرار دیا گیا ہے۔
مقام سماعت :
جرم کا اختیار سماعت مجسٹریٹ درجہ اوّل یا دوم (Magistrate of the First Class or Second) کو حاصل ہے۔
باب چہارم
اسلام میں اقلیتوں
کے حقوق وضوابط......
- اسلام میں اقلیتوں کے سیاسی و قانونی حقوق
- اقلیتوں کے حقوق کے حوالہ سے اسلامی
اور مغربی قوانین کا تقابلی جائزہ
- پاکستان میں اسلامی قوانین کی حیثیت
کہ تو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر
مگر یہ پیکر خاکی خودی سے خالی
فقط نیام تو زر نگار و بے شمشیر
اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے قانونی حقوق
عمومی طور پر کسی ملک کے شہریوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ 1... اقلیت ۔ (Minority) 2... اکثریت (Mejority) مؤخر الذکر اول درجہ کے شہری کہلاتے ہیں، ملک کے اصل حکمران یہی لوگ ہوتے ہیں۔ قانون اپنی وضع ، تنسیخ یا ترمیم و تبدیل میں انہی اکثریتی باشندگان کے رواجات کا تابع ہوتا ہے، جبکہ مقدم الذکر باشندگان کی شہریت اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتی ہے کہ وہ اکثریتی باشندگان کے رواجات کے ترجمان قانون کی عملداری قبول کریں گے۔
عصر حاضر کی مغربی تہذیب جو اپنے آپ کو انسانیت دوستی اور بلا امتیاز رواداری سے عبارت تصور کرتی ہے۔ کہنے میں یہ تہذیب انسانیت دوست بھی ہے اور بلا امتیاز اقوام عالم میں رواداری اور عدل و انصاف کا سرخیل بھی۔ لیکن ان تمام دعوؤں کے باوجود ان مغربی ممالک میں آباد اقلیتیں خصوصاً امریکہ اور برطانیہ کے مسلمان شہری اپنے ان بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ جن کا کہ ان کے رواجات، روایات اور مذہب تقاضہ کرتے ہیں۔ اکثریتی ذہن کالا گو کردہ قانون اور ضابطوں کے تحت زندگی کی سرگرمیاں چلانے اور شاہراہ حیات کے پیدا کردہ مسائل انہی قوانین کے مطابق حل کرنے پر مجبور ہیں، خواہ وہ حل ان کی روایات سے انتہائی درجہ متصادم کیوں نہ ہو۔
اس کے مقابلہ میں اسلام نے اپنے دور عروج میں غیر مذاہب سے معارضانہ رول رکھنے کے باوجود انہیں کھلے بندوں برداشت کیا، غیر مذاہب والوں کے بنیادی
اور قانونی حقوق کی نہ صرف ضمانت مسلم شہریوں کے مذہبی اور قانونی اقلیتوں کے قانونی حقوق کا کہ عمومی طور پر قانون کے درج ذیل
- 1....... دیانات و عبادات ۔
- 2....... معاملات و عقود (vil Act
المدنية کہا جاتا ہے۔
- 3....... شخصی قوانین یا پرسنل لاء (s
القوانين الشخصية کانا
- 4....... جرمیات و تعزیرات (Act
القوانين الجنائية کہا جاتا اوّل الذکر ....... دیانات وعبا مکمل آزاد ہیں ، غیر مسلم شہریوں مداخلت کرنے یا کسی قسم کا جبر کرنے (لا
ترجمہ: یہ آیت دراصل اس نوع کی اشاعت اسلام میں انتہائی سرگر چونکہ وہ غیر مسلم تھا اس لئے اس کو
اور قانونی حقوق کی نہ صرف ضمانت دی بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے اپنے غیر مسلم شہریوں کے مذہبی اور قانونی حقوق کا مکمل تحفظ کیا۔
اقلیتوں کے قانونی حقوق کا دائرہ کار جاننے کے لئے تمہیدی طور پر اتنا سمجھ لیں کہ عمومی طور پر قانون کے درج ذیل شعبہ جات ہیں۔
- 1...... دیانات و عبادات ۔
- 2...... معاملات و عقود (Civil Act) جسے اسلامی قانون کی اصطلاح میں القوانین
المدنیۃ کہا جاتا ہے۔
- 3...... شخصی قوانین یا پرسنل لاء (Personal Laws) فقہ کی اصطلاح میں اسے
القوانین الشخصیۃ کا نام دیا جاتا ہے۔
- 4...... جرمیّات و تعزیرات (Criminal Act) اسلامی فقہ کی اصطلاح میں اسے
القوانین الجنائیۃ کہا جاتا ہے۔
اوّل الذکر ...... دیانات و عبادات ...... میں اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری مکمل آزاد ہیں ، غیر مسلم شہریوں کے خالص مذہبی امور میں اسلامی ریاست کو مداخلت کرنے یا کسی قسم کا جبر کرنے کا ہرگز اختیار نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (لا اکراہ فی الدین) (القرآن) ترجمہ: ”دین میں کوئی جبر نہیں ہے“۔
یہ آیت دراصل اس نوع کی ضمانت کے سلسلہ میں نازل ہوئی تھی۔ حضرت عمرؓ جو اشاعت اسلام میں انتہائی سرگرم رہتے تھے ان کے ایک غلام جس کا نام اسحٰق تھا، چونکہ وہ غیر مسلم تھا اس لئے اس کو اسلام کی طرف وعظ ونصیحت سے ترغیب دلائی، لیکن
جب اس نے تبدیلی مذہب سے انکار کیا، تو حضرت عمرؓ درج بالا آیت ...... لا اکراہ فی الدین ...... پڑھ کر خاموش ہو گئے اور اس کو کسی طرح اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا۔ اسلامی ریاستوں کے غیر مسلم شہری اپنے مذہبی امور میں مکمل آزاد ہیں، وہ ہر قسم کے مذہبی رسوم ادا کر سکتے ہیں، ناقوس بجا سکتے ہیں، علانیہ صلیب نکال سکتے ہیں، اسلامی ریاست کی اجازت سے چرچ بنا سکتے ہیں، عبادت گاہوں کی تعمیر یا مرمت کر سکتے ہیں۔
تاریخ کی کتابوں میں مسلم فاتحین کے معاہدات میں دیانات، عبادات اور مذہبی امور کی مکمل آزادی کا اکثر ذکر ملتا ہے۔
حذیفہ بن یمانؓ نے مفتوح قوم ماہ دینار والوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت کا جو پروانہ روانہ کیا، اس میں یہ الفاظ تھے:
لا یغیرون عن ملۃ ولا یحال بینہم وبین شرائعہم۔
(الطبری ص 2623)
نہ ان کا مذہب بدلا جائے گا اور نہ ان کے مذہبی امور میں کوئی رکاوٹ پیدا کی جائے گی۔
جرجان کی فتح کے وقت مسلم فاتحین نے مفتوحہ علاقہ کی عوام سے معاہدہ میں تحریر کیا:
لہم الامان علی انفسہم واموالہم ومللہم وشرائعہم ولا یغیر بشیئ من ذالک
(الطبری صفحہ 216)
ان کے جان و مال اور مذہب کو مکمل امان ہے۔ اور اس میں کسی قسم کا ردو بدل نہیں کیا جائے گا۔
حضرت عمرؓ کا عہد جو اسلامی اقتدار کے انتہائی عروج کا دور تھا۔ اس وقت کے
رواج کے مطابق مفتوحہ علاقوں جس طرح وہاں کے اموال وجائید جب غیر مسلم ریاستیں اسلامی قلمر دیئے گئے وہاں کی رعایا کو ایسا مقریزی اپنی کتاب المقریزی می اسکندریہ کا پیٹریارک بنیا پھرتا تھا، عمرو بن العاصؓ نے بم کے ساتھ اسکندریہ آیا اور اس کو اسلامی ریاست کے غی کے اس تحریری معاہدہ سے بہ ساتھ کیا تھا۔ معاہدہ کے الفاظ
هذا ما أعطى عم اعطاهم أماناً لانفس وبريها وسائر ملتها أنه من غيرها ولا من صلب دينهم ولا يضار احد وعمرو بن العاص وكتب وحضر 15ه (تار
ترجمہ : ” یہ وہ امان ہے
رواج کے مطابق مفتوحہ علاقوں کی رعایا مال غنیمت سمجھی جاتی تھی، بالکل اس طرح جس طرح وہاں کے اموال و متاع سمجھے جاتے تھے، لیکن حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب غیر مسلم ریاستیں اسلامی قلمرو میں شامل ہوئیں، تو ان ریاستوں کی رعایا کو جو حقوق دیئے گئے وہاں کی رعایا کو ایسا لگا جیسے وہ مفتوحہ رعایا نہیں بلکہ خود فاتح قوم ہے، علامہ مقریزی اپنی کتاب المقریزی جلد 1 صفحہ 492 میں لکھتے ہیں ۔
اسکندریہ کا پیٹریارک بنیا مین رومیوں کے ڈر سے تیرہ برس تک ادھر ادھر مارا مارا پھرتا تھا، عمرو بن العاصؓ نے جب مصر فتح کیا، تو اس کو امان لکھ بھیجی، وہ نہایت عزت کے ساتھ اسکندریہ آیا اور اس کو دوبارہ پیٹریارک کی مسند نصیب ہوئی۔
اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کی مذہبی آزادی کا صحیح اندازہ حضرت عمرؓ کے اس تحریری معاہدہ سے ہو سکتا ہے، جو انہوں نے بیت المقدس کے عیسائیوں کے ساتھ کیا تھا۔ معاہدہ کے الفاظ درج ذیل ہیں:
هذا ما أعطى عبد الله عمر امير المؤمنين أهل ايليا من الأمان اعطاهم أماناً لانفسهم واموالهم ولكنائسهم وصلبانهم وسقيمها وبريئها وسائر ملتها أنه لايسكن كنائسهم ولا تهدم ولا ينتفق منها ولا من غيرها ولا من صلبهم ولا من شيئي من أموالهم ولا يكرهون على دينهم ولا يضار احد منهم ...... شهد على ذالك خالد بن الوليد وعمرو بن العاص وعبد الرحمن بن عوف ومعاوية بن ابي سفيان وكتب وحضر 15هـ
(تاریخ الطبری فتح بیت المقدس)
ترجمہ: ”یہ وہ امان ہے جو اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمرؓ نے ایلیا کی عوام کو دیا،
یہ امان ان کی جان، مال، گرجا، صلیب، تندرست، بیمار اور تمام مذہب والوں کے لئے ہے، اس طرح پر کہ ان کے گرجاؤں میں نہ سکونت اختیار کی جائے گی نہ وہ ڈھائے جائیں گے، نہ ہی ان کے احاطہ کو کوئی نقصان پہنچایا جائے گا، نہ ہی ان کی صلیبوں میں اور نہ ہی ان کے اموال میں کوئی نقصان روا رکھا جائے گا۔ مذہب کے بارے میں ان پر کسی قسم کا جبر نہیں کیا جائے گا اور نہ ان میں سے کسی کو تکلیف دی جائے گی...... اس پر گواہ ہیں خالد بن الولید، عمرو بن العاص، عبدالرحمن بن عوف اور معاویہ بن ابی سفیان اور درج بالا معاہدہ ۱۵ ھ میں تحریر کیا گیا‘‘۔
درج بالا معاہدہ صاف واضح کرتا ہے کہ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کے بنیادی حقوق (Fundamental Rights) ہر طرح سے محفوظ رہیں گے اور اسلامی ریاست کا فرض یہ ہے کہ ریاست میں موجود غیر مسلم شہریوں کے بنیادی حقوق کو مکمل تحفظ دے۔ بالکل اسی طرح جس طرح کہ ریاست کے مسلم شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے۔
آج کے لبرل ذہن اور مذہب دشمن عناصر کی براجمانی کے سبب مذہب کے تحفظ کو بنیادی حقوق (Fundamental Rights) میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔ بلکہ آزادی اظہار (The Freedom of Press) کے نام پر مذہب کا خون کرنے اور اس کا جنازہ نکالنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ لیکن مسلمانوں کو جس طرح ہر چیز سے زیادہ اپنے مذہب کا تحفظ عزیز ہے، اسی طرح وہ اپنی ریاست میں آباد غیر مسلم شہریوں سے ہمدردی کے طور پر ان کے مذہب کا تحفظ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اس لئے حضرت عمرؓ نے درج بالا معاہدہ میں مقبوضہ علاقوں کے غیر مسلم شہریوں کو
بنیادی حقوق کی مکمل آزادی دی، معاہدہ میں مذہب، صلیب، چرچ اور گرجوں کی بابت زیادہ تصریح موجود ہے۔ تا کہ اسلامی قلمرو میں شامل ہونے والے مقبوضہ علاقوں کے غیر مسلموں کے ذہنوں پر تبدیلی مذہب کے خوف کے چھائے ہوئے بادل چھٹ سکیں اور وہ اسلامی ریاست کی رعایا ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پہلے کی نسبت زیادہ آزاد محسوس کریں۔ اور آئندہ کے واقعات اور مسلمانوں کے رحمدلانہ اور متحملانہ رویہ نے ان پر واضح کر دیا کہ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر مرقوم ضمانت ایک حقیقت تھی جس کی واقعاتی دنیا میں مکمل پاسداری کی گئی، یہی وجہ ہے کہ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کے دل اسلام کی طرف کھنچتے چلے گئے۔ مذہبی اختلاف کے باوجود وہ اپنے ہم مذہب قیصر و کسری کی ریاستوں سے زیادہ مسلمانوں کے وفادار بنے رہے، جنگ یرموک غیر مسلم شہریوں کی وفاداری کا بین ثبوت ہے۔
لیکن....... یہ واضح رہے کہ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کو مذہب کی مکمل آزادی ہے۔ لیکن یہ شرط ضرور ہے کہ مذہبی رسوم کی ادائیگی کچھ اس انداز سے ہو کہ ریاست کی اکثریت کے دل مجروح نہ ہونے پائیں۔ اس لئے غیر مسلم شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی کی ضمانت کے باوجود انہیں مناسب حدود اور ضابطہ کار کا پابند ضرور کیا جاتا ہے۔ اور ان حدود و قیود کا حاصل بس یہی ہے کہ مذہبی اعمال کا مظاہرہ ضرور ہو، لیکن اس پابندی کے ساتھ کہ اس سے اکثریت کا ذہن یا مذہب مجروح نہ ہونے پائے۔ اس لئے اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کی صلیب کو مکمل تحفظ ہے، وہ آزادی کے ساتھ صلیب نکال سکتے ہیں، لیکن درج ذیل پابندی کے ساتھ:
ولا يرفعون فی نادی اہل الاسلام صلیباً
ترجمہ: مسلمانوں کے مراکز میں صلیب نہیں اٹھاسکتے ہیں۔ اسی طرح وہ آزادی کے ساتھ ناقوس بجا سکتے ہیں بجز نماز کے اوقات کے، کیونکہ اس سے ملک کے اکثریتی باشندوں کی عبادت میں خلل واقع ہوگا، اس لئے اسلامی ریاست غیر مسلم شہریوں کو درج ذیل پابندی کے ساتھ ناقوس بجانے کی اجازت دیتی ہے:
يضربون نواقيسهم فى أى ساعة شاؤا من ليل او نهار الا فى اوقات الصلوة.
ترجمہ: غیر مسلم شہری جب مرضی ہو، ناقوس بجائیں بجز نماز کے اوقات کے۔
اسی طرح اسلامی ریاست غیر مسلموں کے عبادت خانوں، چرچ اور گرجا گھروں کی تعمیر اور مرمت کے حوالہ سے بھی غیر مسلم شہریوں کو ایک ضابطہ اخلاق کا پابند کرتی ہے۔ اور اس سے مقصد ہرگز یہ نہیں کہ اسلامی ریاست غیر مسلم شہریوں کو دیوار سے لگائے رکھنا چاہتی ہے، یا کمتری کے احساس میں مبتلا رکھنا چاہتی ہے۔ بلکہ درحقیقت یہ پابندی غیر مسلموں کے مفاد میں جاتی ہے، کیونکہ بے نکیل آزادی کے سبب اکثریت سے تعلق رکھنے والا کوئی جذباتی مسلمان اشتعال میں آ کر غیر مسلموں پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے یا ان کی عبادت میں خلل ڈال سکتا ہے۔ مثلاً خنزیر سے مسلمانوں کو فطری طور پر نفرت ہے۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق خنزیر نجس العین ہے۔ ہر حرام جانور کا کوئی عضو کسی طرح سے حلال ہو سکتا ہے لیکن خنزیر نہیں بلکہ اس کے تو بال تک نجس ہیں جبکہ غیر مسلموں کے ہاں یہ حلال ہے۔ اور وہ بڑے شوق سے اس کی رکھوالی کرتے ہیں۔ اب ایک ریاست کے دو مختلف شہریوں کے آزادانہ عمل میں
تصادم واقع ہوا۔ اور رفع اقلیت کو درج ذیل شرط کا پا لا يخرجون خنزي ترجمہ: غیر مسلم شہر
- 2......ثانی الذکر
ذیل امور آتے ہیں: نکاح، مہر، طلاق و حق پرورش، نفقہ اولاد اس باب کے اند اسلامی ریاست اپنے غیر مشروط آزادی د اپنے عقیدے کے اسلامی ریاست پر ایک قانونی سہولت کے ل جس کی سماعت اور ف کرے۔ تاریخ گوا اقتدار کے زوال تک پر کار بند رہے۔ خلفا
تصادم واقع ہوا۔ اور رفع تصادم کا معقول حل سوائے اس کے اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ اقلیت کو درج ذیل شرط کا پابند کیا جائے:
لايخرجون خنزيراً من منازلهم إلى أفنية المسلمين.
ترجمہ: غیر مسلم شہری خنزیر کو مسلمانوں کے علاقوں میں نہ لائیں۔
- 2...... ثانی الذکر شخصی نوعیت کے قوانین یا پرسنل لاء کے زمرہ میں درج
ذیل امور آتے ہیں:
نکاح، مہر، طلاق، عدت، حیض و نفاس، میراث، ھبہ، وقف، نسب، حضانت و حق پرورش، نفقہ اولاد و آباء و اقارب، وصیت و جانشینی وغیرہ وغیرہ
اس باب کے اندر اسلام اور مسلمانوں نے بڑی وسعت ظرفی سے کام لیا ہے۔ اسلامی ریاست اپنے غیر مسلم شہریوں کو درج بالا شخصی نوعیت کے قوانین میں نہ صرف غیر مشروط آزادی دیتی ہے۔ بلکہ انہیں اختیار دیتی ہے کہ وہ اپنے درج بالا مسائل خود اپنے عقیدے کے ماہرین اور دانشوروں سے حل کرا سکتے ہیں اور اس سلسلہ میں اسلامی ریاست پر ایک ذمہ داری یہ بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے غیر مسلم باشندگان کی قانونی سہولت کے لئے ان کے مذہب کے مطابق الگ دیوانی عدالتیں قائم کرے جس کی سماعت اور فیصلہ کے اختیارات خود انہی کے ماہر قانون دانوں کو تفویض کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دورِ خلفاء راشدین سے لیکر خلافت عثمانیہ اور مغل دور اقتدار کے زوال تک مسلمانان عالم اپنے غیر مسلم شہریوں کے لئے اپنے انہی اصولوں پر کار بند رہے۔ خلافت عثمانیہ کی زیر ولایت غیر مسلم شہریوں کے قانونی حقوق کے تحفظ
کی بابت صاحب تاریخ ترکیہ لکھتا ہے: مسلمانوں کے اپنے ادارہ اسلامیہ کے علاوہ سلطنت میں مختلف ملتوں کا بھی جداگانہ نظام تھا، یہ ملتیں کلیسائی فرائض کے علاوہ پیدائش، اموات، نکاح، طلاق، اور وصیت ناموں کا اندراج کرتیں، اپنے مذہب والوں کے شخصی قانون کے معاملات خود اپنی عدالتوں میں فیصل کرتیں اور اگر فریقین مقدمہ ایک ملت کے ہوتے تو ان کے دیوانی مقدمات کا فیصلہ بھی ان ہی عدالتوں میں ہوتا ...... سلطنت عثمانیہ نے صراحت کے ساتھ ملتوں کو تقسیم کر دیا تھا، اور ان کی انجام دہی میں خود اپنی فوجوں سے ملتوں کی مدد کرتی تھی، ان میں سب سے اہم ملت روم تھی، جس کے حلقہ میں وہ تمام عیسائی رعایا شامل تھی، جو مشرقی یا یونانی کلیسا کی پیرو تھی، خواہ وہ سلطنت کے کسی حصہ میں آباد ہو، اور اس کی مادری زبان کچھ بھی ہو۔ اس ملت کا قائد اعظم بطریق قسطنطنیہ تھا۔ جس کو سلطنت عثمانیہ کے عروج کے زمانہ میں زیادہ اقتدار حاصل تھا، جتنا وہ سلطنت باز نطینی کے ایک عہدہ دار کی حیثیت سے رکھتا تھا، ملت روم کے علاوہ چند ملتیں اور بھی تھیں۔ مثلاً ملت ارمنی جو قسطنطنیہ کے گریگوری بطریق کے ماتحت تھی ملت یہود جس کا افسر ربی اعظم تھا، اور رومن کیتھولک کا فرقہ جو پوپ کے ایک نمائندہ کے ماتحت تھا، سلطنت میں ایسے بہت سے رومن جو سلطان کی رعایا نہ تھے بلکہ مغربی طاقتوں مثلاً وینس، فرانس، ہالینڈ اور انگلستان کی رعایا تھے۔ یہ تجارت کی غرض سے آئے تھے اور یہیں مقیم ہو گئے تھے، انہیں بھی حکومت عثمانیہ کی طرف سے ان کے سفیروں اور قنصلوں کے ماتحت اسی قسم کے اختیارات دیدئے گئے تھے، جس قسم کے دیگر ملتوں کو حاصل تھے اور یہ غیر ملکی باشندے بھی عیسائی رعایا کی طرح اپنے معاملات کا انتظام خود
ہی کرتے تھے۔ (تاریخ ترکیہ صفحہ 349 مطبوعہ نیو بک پیلس)
اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان نظریات کی ایک زبردست خلیج حائل ہے۔ اسلام جب سے وجود میں آیا ہے، غیر مذاہب خصوصاً عیسائی اور یہودی مذاہب کے لوگ اسلام سے ہمیشہ برسر پیکار رہے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کو گہری چوٹ لگانے میں باطل مذاہب کے لوگوں نے کبھی کوئی موقع فروگزاشت نہیں کیا ہے، لیکن اس کے مقابلہ میں اسلام نے اپنے پیروکاروں کو صبر و تحمل، برداشت اور وسعت ظرفی کا درس دیا ہے، اسلام تمام مخالف مذاہب والوں کو ساتھ لیکر چلنے کا فلسفہ دیتا ہے، غیر مذاہب والے جب تک اسلام کی راہ میں کانٹا نہ بنیں ان کا یا ان کے مذہب کا خون کرنے کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے، اسلام اور مسلمانوں کی برداشت اور وسعت ظرفی کی اس سے بڑھ کر اور کیا نشانی ہوسکتی ہے، کہ غیر مذہب والے اپنے مذہبی اور شخصی قوانین میں مکمل آزاد ہیں، ان کے مذہب کا کیا ہوا فیصلہ اسلام کے کتنا ہی خلاف کیوں نہ ہو، لیکن مذہبی آزادی کے اصول کے تحت اسلام قطعی طور پر اپنے مسلم حکمرانوں کو مداخلت کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ صاحب لکھتے ہیں:
ازدواجی و عائلی قوانین ہر قوم و ملت کے خالص مذہبی قوانین ہوتے ہیں، جن کی تقدیس کو وہ اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز سمجھتی ہیں، اسی لئے جو حکومتیں کسی قوم کے مذہب میں مداخلت کو پسند نہیں کرتیں وہ ہر جگہ ہر قوم کے پرسنل لاء کی حفاظت کی ضمانت دیتی ہیں ...... شریعت نے اوّل دن سے اس معاملہ میں ہر قوم و ملت کو پوری آزادی دی ہے، کہ ازدواجی و عائلی مسائل میں اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل
کریں اور ان کے اس عمل کا یہاں تک تحفظ کیا ہے کہ اگر نکاح کے بعد زوجین مسلمان ہو جائیں تو ان کا بحالت کفر کیا ہوا نکاح برقرار اور اسلام میں بھی جائز سمجھا جائے گا۔
(جواہر الفقہ جلد 2 صفحہ 23)
اقتباس میں مذکور مسئلہ ”بحالت کفر منعقدہ نکاح بعد از اسلام جائز سمجھا جاتا ہے“، فقہ حنفی کی معتمد کتاب فتح القدیر میں مذکور ہے:
اذا تزوج الکافر بغیر شہود او فی عدۃ کافر وذالک فی دینہم جائز ثم اسلما اقرا علی ذالک .
(فتح القدیر جلد 3 صفحہ 283)
ترجمہ : جب کافر بغیر گواہ کے یا عورت سے اس کی عدت میں نکاح کرے، اور ان کے دین میں جائز ہو پھر دونوں مسلمان ہو جائیں ، تو بعد از اسلام نکاح سابق برقرار رکھا جائے گا۔
اسی طرح غیر مسلموں کے قانون کے احترام کے پیش نظر اسلام تمام ان احکام کو بعد از اسلام جائز قرار دیتا ہے جو اپنی بقاء کے اعتبار سے اسلام سے متصادم نہ ہوں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اسلام غیر مسلموں کے موضوعہ قوانین کا یہاں تک احترام رکھتا ہے کہ اگر ان کے عقیدہ کے مطابق ماں بہن سے شادی کرنا جائز ہو، اور وہ شادی کر لیں، تو اسلامی ریاست کو ان سے تعرض یا مداخلت کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہے۔ کیونکہ ہمیں از روئے شرع حکم یہ ہے :
أمرنا بان نترکہم وما یدینون .
(ہدایہ جلد 2 صفحہ 338)
ترجمہ : ہم اس بات پر مامور ہیں کہ ہم غیر مسلم شہریوں اور ان کی دیانات سے تعلق نہ رکھیں۔
ہاں ! اگر زوجین مسلمان ہو جائیں ، تو پھر دونوں میں تفریق کر دی جائے گی ، کیونکہ محارم کے حوالہ سے بطلان نکاح کا تعلق بقاء سے ہے ابتداء سے نہیں۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
اذا تزوج المجوسی امه او ابنته ثم اسلما فرق بينهما...... ووجب التعرض بالإسلام فيفرق وعنده له حكم الصحة فى الصحیح.
(فتح القدیر جلد 3 صفحہ 285)
ترجمہ : جب غیر مسلم مجوسی اپنی ماں سے یا اپنی بیٹی سے شادی کرلے۔ پھر دونوں مسلمان ہو جائیں تو دونوں میں بعد از اسلام تفریق کر دی جائے گی ( قبل از اسلام نہیں ) کیونکہ اس سے تعرض کرنے کا حق اسلام لانے سے ثابت ہوا ہے لہٰذا تفریق کرا دی جائے گی ، جبکہ قبل از اسلام صحیح قول کے مطابق امام صاحب کے نزدیک وہ نکاح صحیح تھا۔
اسلام اور اسلامی قانون کی بنیاد انسانی فطرت پر ہے، اسلام کا ہر حکم دراصل انسانی فطرت کی آواز ہے، اور اسلامی قانون درحقیقت اسی فطرت کا ترجمان ہے:
فطرت الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذالك الدين القيم.
(سورہ الروم آیت 30)
ترجمہ : ”اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیت کا اتباع کرو جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی اس پیدا کی ہوئی چیز کو جس پر اس نے تمام آدمیوں کو پیدا کیا ہے بدلنا نہیں چاہئے ، پس سیدھا دین یہی ہے“۔
اسلامی نظام نہ صرف مسلمان کی فطری امنگوں کے عین مطابق ہے، بلکہ ایک کافر بھی اگر ذہن کو تعصب سے پاک کر کے اسلامی نظام کی رواداری، آزادی اور مساوات پر غور کرے، تو دیگر نظاموں کے مقابلہ میں اسلام کو اپنی فطرت کے بہت قریب دیکھے گا، اس کی ایک واضح سی مثال عائلی قوانین ہیں۔ عائلی قوانین ہر قوم اور ہر ملت کے اندر ایک مذہبی شعار کی حیثیت سے دیکھے جاتے ہیں، اور جو اقوام باقاعدہ کسی مذہب کی پیروکار نہیں ہوتی ہیں وہ بھی عائلی قوانین کی تانت مروجہ حکومتی قوانین سے باندھنے کی بجائے اپنے آباواجداد کی روایات سے جوڑنے پر زور دیتی ہیں، اور حکومت کو قطعی طور پر اجازت نہیں دیتی ہیں کہ وہ ان کی قدیم کلاسیکی روایات میں کسی طور مداخلت کرے۔ اگر اصلاحات (Reformations) کے نام پر کہیں حکومت نے مداخلت کی بھی ہو، تو عوام نے ان اصلاحات کی بنیاد پر شادی بیاہ کو حرام کاری اور قوم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ قرار دیا ہے، اسی وجہ سے عائلی نظام کے اندر حکومتوں کی طرف سے اب تک جتنی اصلاحات عمل میں آئی ہیں، عوام نجی طور پر ان سے باغی رہی ہے اور بہت کم حکومتی اصلاحات کو پذیرائی ملی ہے۔
عوامی ردعمل کا لازمی سا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ ریاست عوام کو ان کے شخصی اور عائلی قوانین کی وضع ان کی مروجہ عمومی روایات کے مطابق کرے، نہ کہ اپنی فرضی اصلاحات اور ذہنی اختراعات کی بنیاد پر، لیکن موجودہ عصری نظاموں کی انتہا پسندی اور ہٹ دھرمی کے سبب اصلاحات اور جدت کے نام پر شخصی و عائلی قوانین کی ملی آزادی سلب ہو کر رہ گئی ہے۔
ہندوستان پر ایک دور مسلمانوں کا گزرا ہے اور تسلط کا ایک دور انگریز کا بھی گزرا
ہے، دونوں کے تقابلی مطالعہ سے آپ کو اسلامی دور حکومت میں مسلمانوں کی وسعت ظرفی، وسیع نظری، مخالف قوانین کا احترام اور غیر اقوام کو کھلے دل سے برداشت کرنے کا امتیازی وصف نظر آئے گا، جبکہ دوسری جانب فرنگی اقتدار میں انگریزوں کی تنگ دلی، تنگ نظری، مخالف قوانین پر بے معنی اور مہمل تنقید اور غیر اقوام کو جنگلی اور کمتر سمجھنے کی امتیازی خصوصیت ملے گی۔
مسلمانوں نے اپنے دور اقتدار میں ہمیشہ سے اقلیتوں کو ان کے شخصی قوانین میں کلی طور پر آزاد رکھا۔ نہ صرف آزاد رکھا بلکہ شخصی نوعیت کے مسائل کے لئے ان کیلئے بالکل الگ عدالتیں قائم کیں، جو کہ انہی کے ماہر قانون دانوں کی تحویل میں ہوتی تھیں۔ اور اسلامی ریاست ان کے موضوعہ قوانین یا ان کے جاری کردہ فیصلہ جات میں کسی قسم کی مداخلت اپنے لئے محفوظ نہ رکھتی تھی، لیکن ہندوستان پر فرنگی اقتدار کے وقت انگریزوں نے ہندوستان کے قانون کو اپنی روایات کے تابع کیا اور ہندوستانی رعایا پر فرنگی قانون ”کامن لاء“ (Common Law) کو نافذ کیا، قانونی جبر واستبداد کا تسلسل 1860ء سے لیکر 1937ء تک رہا، علماء کی شب و روز محنتوں اور قربانیوں کے تسلسل سے انگریز سرکار صرف شخصی اور عائلی قوانین میں مسلمانوں کو مشروط آزادی دینے پر آمادہ ہوگئی اور ایک ترمیمی بل بواسطہ ممبر قومی اسمبلی جناب کاظمی صاحب اسمبلی میں پیش ہوا، جس کو انگریز سرکار نے اینگلو محمڈن لاء کا نام دیکر منظوری دی، اس ایکٹ کے تحت قرار دیا گیا کہ عائلی قانون سے متعلقہ نزاعی معاملات میں اگر فریقین مسلمان ہوں تو ان کے مذہب کا شخصی قانون نافذ العمل قرار پائے گا۔
اس ایکٹ کا نفاذ مسلمانان ہند کے لئے بظاہر بڑی خوش آئند بات تھی، لیکن
انگریز کی تنگ نگاہی نے اس ایکٹ کا دائرہ بہت تنگ کر دیا تھا، وہ اس طرح پر کہ مسلمانوں کے نافذ العمل شخصی اور عائلی قوانین کا تانا بانا اسلامی اصولوں اور ملی روایات سے جوڑنے کی بجائے ہندوستان کے عمومی مسلمہ روایات سے جوڑا گیا، جس کا زبردست نقصان یہ ہوا کہ ایکٹ میں اسلامی قانون کے علاوہ ہندوانہ اور کافرانہ اثر بھی کار فرما رہا۔
دوسرے یہ کہ نافذ العمل ایکٹ میں شرط عائد کی گئی تھی کہ عائلی مسئلہ میں اگر فریقین مسلمان ہوں، تو مسلمانوں کا شخصی قانون اس وقت نافذ العمل رہے گا، جب تک وہ مروجہ فرنگی قانون کے کسی ایکٹ سے متصادم نہ ہو، اسلامی اور فرنگی قانون کے تعارض کی صورت میں فرنگی قانون کی ترجیح کا حق قانون میں محفوظ رکھا گیا تھا، جیسے نابالغی میں نکاح، شادی شدہ مرد کی خواہ مخواہ میں دوسری شادی کرنا، طلاق کا حق صرف مرد کے پاس ہونا..... فرنگی قانون نے درج بالا جائز اعمال کو ممنوع العمل قرار دیا۔
بایں ہمہ فرنگی دور اقتدار میں انگریز کی متعصبانہ شرائط اور روایتی عمل دخل سے عائلی قوانین اپنی روح کے اعتبار سے غیروں کی جکڑ بندیوں سے آزاد اسلامی قوانین نہ رہے، بلکہ دین اکبری کی مانند ہندوستان اور انگلستان کے مشترکہ عمومی روایات کا ایک ملغوبہ تھا، جسے مسلمانوں کے شخصی اور عائلی قوانین کا نام دیا گیا تھا، یہ دراصل مسلمانوں کے ساتھ مذاق تھا، اور دین میں تحریفی عمل کی گھناؤنی سازش۔
تقسیم ہند کے جہاں اور اسباب تھے، ان میں سے ایک بڑا سبب مسلمانوں کے عائلی قوانین تھے، مسلمان سمجھتے تھے کہ قانون کی آزادی اور اسلامی رواجات سے ہم آہنگی کے لئے ریاست کی آزادی ناگزیر ہے۔ اس لئے ”اپنی دھرتی اپنا قانون“ کی
حکمت عملی کے تحت تحریک پاکستان پوری قوت سے اٹھی ، لاکھوں مسلمانوں کا خون، ہزارہا خواتین کا سہاگ، دیس بدری کی قربانی دراصل اس غرض کے لئے تھی کہ ایک آزاد ریاست میں مسلمان قوم اپنی ملی روایات اور قومی رواجات کے مطابق زندگی گزار سکے۔ وہاں اپنے دینی ذہن اور شرعی اصولوں کی روشنی میں قوانین وضع کر سکے۔ لیکن پاکستان جو کہ درحقیقت مسلمانان ہند کیلئے قدرت کا عظیم عطیہ تھا ، اپنی منزل نہ پا سکا، بد قسمتی سے تقسیم ہند کے بعد قانون کے میدان میں مسلمانوں کو ایسے رہنما ملے، جو اپنے ظاہر میں تو مسلمان تھے، لیکن اپنے باطن کے اعتبار سے انگریز کے غلام تھے وضع قانون میں مسلمانوں کا مفاد کم اور انگریز کی متابعت زیادہ اہم لگتی تھی۔
مفتی محمد شفیع (مفتی اعظم پاکستان ) لکھتے ہیں :
جب سے اس قانون (عائلی قوانین ) کے ملک میں نافذ کرنے کی تجویز سامنے رکھی گئی ہے دو طرح کے لوگوں سے اس کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایک تو وہ آزاد لوگ جو اپنے معاملات میں قرآن وسنت اور احکام شرع کو کوئی جگہ ہی نہیں دیتے ، ان سب سے آزاد ہو کر اپنی پسند پر اپنے قانون کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں ، انہوں نے اسلامی قانون میں مضرتیں اور تکلیفیں اور اس نئے قانون میں ان کا ازالہ اپنے اپنے طرز سے پیش کر کے ناواقف مسلمانوں کے ذہنوں کو الجھایا ہے، دوسرے کچھ وہ لوگ جو کچھ عربی جاننے کی بناء پر علماء کہلاتے ہیں ، اور ان کی کوشش خواہ اپنے ذاتی خیال سے یا کسی طمع اور لالچ سے یہ رہتی ہے کہ اسلام کا ایک ایسا نیا ایڈیشن تیار کیا جائے ، جس سے مغربی تہذیب خفا نہ ہو ، یا جس سے ان کے افسروں کی خوشنودی حاصل ہو، خواہ اس کے لئے قرآن وسنت کی نصوص میں کتنی ہی کھینچ تان بلکہ چیر پھاڑ
کرنا پڑے۔
(جواہر الفقہ جلد 2 صفحہ 20)
آئین سازی اور قانون سازی کے عمل میں پرزور کوشش کی گئی کہ مذہبیت سے خالی آئین وقانون تشکیل دیا جائے ، تاکہ بنیاد پرستی کا بدنما داغ مملکت پاکستان کے ماتھے پر نہ لگنے پائے۔ عائلی قوانین جو کہ کوئی قوم اپنی ملی روایات سے ہٹ کر برداشت نہیں کرسکتی ہے، ان کی وضع کا عمل ایسے طبقہ خیال کو سونپا گیا، جو نہ صرف اسلامی علوم میں مہارت سے عاری تھا بلکہ نظام اسلامی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ انہوں نے اپنے غلامانہ ذہن اور فرنگی سوچ کی بنیاد پر ایسے عائلی قوانین وضع کرنے کی سفارش کی جو کہ قرآن وسنت کے یکسر خلاف تھے۔ اور مسلمانان پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے شدید احتجاج کے باوجود مجوزہ عائلی قوانین ان پر مسلط کئے گئے۔
مفتی محمد شفیع صاحب (مفتی اعظم پاکستان) تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
اخبارات میں یہ خبریں گرم ہوئیں کہ یہ قانون نافذ ہونے والا ہے، اس وقت لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے چودہ مشاہیر علماء نے جمع ہوکر اس نافذ ہونے والے قانون پر تنقید کی ، اور گورنمنٹ سے احتجاج کیا کہ اس کو نافذ نہ کیا جائے، جس پر کوئی اثر لینے کی بجائے اس کو ممنوع الا شاعۃ قرار دیا گیا، اسی طرح چالیس سے زائد علماء سرحد کی طرف سے پھر مشرق پاکستان کے چوراسی 84 مشاہیر علماء کی طرف سے اس کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔
( جواہر الفقہ جلد 2 صفحہ 19)
پاکستانی عوام وہ بدنصیب قوم ہے، جو اکثریت رکھتے ہوئے بھی اقلیت سے بدتر ہے، قانون سازی جو ملک کی اکثریت کے رواجات کی بنیاد پر ہوتی ہے، پاکستانی مسلمان اکثریت رکھتے ہوئے بھی قانون خصوصاً عائلی قوانین کے اندر اپنا روایتی اثر
ڈالنے سے محروم ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ موجودہ دستور کے اندر یہ صراحت تو کی گئی ہے کہ جو قوانین دستور کے تحت عطا کردہ بنیادی حقوق سے متصادم ہوں یا خود دستور پاکستان سے متصادم ہوں، تو عدالتوں کو حق ہوگا کہ وہ اس قانون کو بوجہ تصادم باطل اور ناقابل نفاذ قرار دیں۔ لیکن مسلمانوں کا ملک کہنے کے باوجود اس ملک کے دستور کے اندر یہ صراحت کہیں نہیں ملتی کہ جو قوانین قرآن و سنت کیخلاف ہوں، ان کو بھی عدالتیں باطل اور ناقابل عمل قرار دے سکتی ہیں۔
اگرچہ دستور پاکستان 1962ء کے تحت قانون سازی کا پہلا اصول یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ کوئی قانون اسلام کے منافی نہ ہونا چاہیے، لیکن اگر اس اصول کو آرٹیکل 6 کی ضمنی دفعہ (2) کے ساتھ ملا کر پڑھیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ واقع میں اس اصول کی حیثیت رسم عمل سے زیادہ کی نہیں ہے۔ بالفاظ دیگر ملک کی اعلیٰ عدالتیں اگر اس نتیجہ پر پہنچ جائیں کہ کوئی قانون خلاف شرع اسلام ہے۔ تو عدالتیں اس بنیاد پر اس قانون کے باطل یا قابل اعتراض ہونے کی رائے زنی کی مجاز نہیں کی گئی ہیں، چنانچہ پاکستان سپریم کورٹ نے بمقدمہ علی نواز گردیزی بنام محمد یوسف، عائلی قوانین کی دفعہ 7 پر اس کے مطابق اسلام یا غیر مطابق اسلام ہونے پر رائے دینے سے احتراز برتا ہے۔
ان حقائق و واقعات کی بنیاد پر بجا طور کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اسلامی ریاست نہیں بلکہ مسلمانوں کی ریاست ہے، نیز ان اکثریتی مسلمانوں کی ریاست ہے جس کے قانون میں مسلمان اپنے قومی رواجات اور ملی روایات کو تحفظ دینے کے حق سے محروم ہیں۔
- 3....... حدود و تعزیرات ........ جو کہ ریاست کے حدود میں سرزد ہونے والے جرائم
کے خلاف لاگو ہونے والی سزائیں ہیں، فقہ کی اصطلاح میں ان سزاؤں کو ’القوانین الجنائیہ “ کا نام دیا جاتا ہے۔ جبکہ انگریزی قانون کریمینل لاء Criminal) (Act کے عنوان سے ان سے بحث کرتا ہے۔
شخصی قوانین کی طرح حدود و تعزیرات کا نفاذ ریاست کے شہریوں کے مذہب اور عقیدہ کی بنیاد پر نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ ان کی تنفیذ کی بنیاد شخصی قوانین سے بالکل مختلف ہے، حدود و تعزیرات کے نفاذ کا دارومدار ریاست کی ولایت (Jurisdiction) پر ہوتا ہے۔ ریاست کے زیر ولایت جتنے افراد اور جتنے علاقے آتے ہوں ، ان سب پر یکساں حدود و تعزیرات کے قانون کا نفاذ ہوگا، اس سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کیا عقیدہ اور کیا مذہب رکھتے ہیں، اس بنیاد پر اسلامی ریاست کے تمام شہری مسلمان ہوں یا غیر مسلم سب اس قانون کے احاطہ کار میں شامل ہوتے ہیں۔
”ولایت“ (Jurisdiction) اسلامی قانون کی اصطلاح ہے، فقہاء کرام ولایت کی تعریف کرتے ہیں:
"حق تنفيذ القول على الغير شاء الغير او أبى“
(معجم لغة الفقهاء
صفحه 510)
ترجمہ : دوسرے پر اپنی بات نافذ کرنے کا حق ، دوسرا اسے قبول کرے یا نہ کرے“۔
اس اعتبار سے ہم اس جگہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ علاقہ یا وہ افراد جو ریاست کے جاری کردہ قانون کے دائرہ کار میں آتے ہوں ، وہ ریاست کے زیر ولایت متصور ہوں گے۔ اور ان پر قانون حدود و تعزیرات بسبب ولایت بلا امتیاز یکساں طور پر جاری ہوگا۔
غیر مسلم فرد یا افراد ریاست کے زیر ولایت کب اور کس وقت آتے ہیں، اس بارے میں امام ابویوسفؒ کی تحقیق یہ ہے کہ کسی غیر مسلم کی اسلامی ریاست میں رہائش (Residence) خواہ مستقل (Permanent) ہو، یا عارضی (Temporary) اسلامی ریاست کو اس پر ولایت (Guardianship) کا حق دیدیتی ہے، ولایت کے لئے ان کی تحقیق کے مطابق شہریت (Citizenship) ضروری نہیں ہے۔
لہٰذا...... غیر مسلم فرد جو اسلامی ریاست میں اقامت اختیار کرتا ہے، محض اقامت سے اسلامی ریاست کو اس پر ولایت کا استحقاق حاصل ہو جاتا ہے جسکی درج ذیل صورتیں بن سکتی ہیں:
- 1...... اسلامی ریاست کا غیر مسلم شہری ہو۔
- 2...... اسلامی ریاست میں عارضی مگر قانونی رہائش رکھنے والا ہو۔
- 3...... غیر مسلم کی اسلامی ریاست میں قانونی اقامت مختصر ہو یا طویل ہو۔
بہر حال امام ابو یوسفؒ کے نزدیک غیر مسلم افراد پر اسلامی ریاست کی ولایت کی بنیاد اقامت اور رہائش ہے، شہریت نہیں۔ اس لئے امام ابو یوسفؒ کے نزدیک قوانین حدود وتعزیرات کے اجراء میں مستامن اور ذمی میں کوئی فرق نہ ہوگا، بلکہ دونوں یکساں طور پر ان قوانین کے دائرہ کار میں شامل ہوں گے۔
صاحب فتح القدیر امام ابو یوسفؒ کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وجه قول أبی یوسف ان المستامن التزم أحکامنا مدة مقامه فی دارنا فی المعاملات والسیاسات کما ان الذمی التزمها مدة عمره
ولهذا يحد للقذف ويقتل قصاصا. (فتح القدیر جلد 4 صفحه 48)
ترجمہ: امام ابو یوسف کے قول کی توجیہ یہ ہے کہ عارضی مگر قانونی رہائش رکھنے والے غیر مسلم فرد نے اسلامی ریاست میں عارضی اقامت اختیار کر کے اسلامی قوانین کی پابندی کی حامی بھر لی ہے، اور یہ التزام معاملات سے لیکر سیاسیات تک کے قوانین میں کرنا ہوگا۔ جس طرح کہ اسلامی ریاست کے ذمی یعنی غیر مسلم شہری نے مستقل رہائش اختیار کر کے تاحیات پابندی کی ضمانت دی ہوئی ہوتی ہے، اور اسی لئے ذمی کی طرح مستأمن پر حد قذف اور قصاص کا اجراء کیا جاتا ہے۔
جبکہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد دونوں ائمہ امام ابو یوسفؒ کے ساتھ تو اس حد تک متفق ہیں کہ قوانین حدود وتعزیرات کے لئے ولایت بنیاد ہے۔ ولایت کے بغیر قوانین حدود وتعزیرات جاری نہیں ہو سکتے ہیں۔ نیز ...... ولایت کے حصول کیلئے اسلامی ریاست کا وجود شرط ہے۔
یہاں تک تو یہ سب متفق ہیں۔ لیکن ان حضرات کو امام ابو یوسفؒ سے اختلاف ’’اقامت‘‘ میں ہے ان حضرات کی تحقیق کے مطابق اسلامی ریاست کے کسی غیر مسلم باشندہ کا اسلامی ریاست کے زیر ولایت آنے کے لئے اقامت اور عارضی رہائش (Temporary Residence) کافی نہیں ہے۔ بلکہ شہریت (Citizenship) ضروری ہے۔ ’’محض اقامت‘‘ یہ حضرات ان قوانین کے لئے کافی سمجھتے ہیں جن کا تعلق حقوق العباد سے بنتا ہو، حقوق اللہ کے قبیل سے تعلق رکھنے والے قوانین کے اجراء کیلئے غیر مسلم باشندہ کی شہریت (Citizenship) ضروری قرار دیتے ہیں۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں لابی حنیفة ومحمد الدار لأن الانصاف بمکـ ما التزم ذلک لأنه دخل دارنا ولهذا يمكن من ولا الذمى به واذا لم یـ من الاحکام مایر جع الـ لیدفع الاطماع فی الـ العدل لغیره لأن الغریم
ترجمہ: امام ابو حنیفہؒ اور اندر مستقل رہائش سے ممکن ہے، جبکہ حربی نے ایسی کـ ضرورت مثلاً تجارت کے لـ جائے گا، لہٰذا وہ ہماری ریاسـ جب جانا چاہے، اس پر کوئـ میں مسلمان یا غیر مسلم شہـ اس کا داخلہ ایک ضرورت سے تعلق رکھنے والے امـ دیگر لوگوں سے انصاف کـ
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
لابى حنيفة ومحمد ان التزام الاحكام انما هو بالتزام القرار فى الدار لأن الاتصاف بكونه من دارنا انما يكون بذالك و الحربي ما التزم ذالك لأنه دخل لحاجة كالتجارة ونحوها فلم يصر من اهل دارنا ولهذا يمكن من الرجوع الى دارالحرب ولايقتل المسلم ولاالذمى به واذا لم يصر من دارنا وكان دخوله لحاجة كان ملتزماً من الاحكام مايرجع الى تحصيل مقصوده وهو حقوق العباد لانه لم يدخل الاطامعاً فى الانصاف لأجله على غيره فيلتزم الانتصاف اى العدل لغيره لأن الغرم بازاء الغنم.
(فتح القدیر جلد 4 صفحہ 48)
ترجمہ: امام ابو حنیفہ اور امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ قوانین کی پابندی ریاست کے اندر مستقل رہائش سے ممکن ہے، کیونکہ مستقل رہائش سے ہی وہ ریاست کا فرد کہلا سکتا ہے، جبکہ حربی نے ایسی کوئی قانونی پابندی کا معاہدہ نہیں کیا ہے، وہ تو ایک خاص ضرورت مثلاً تجارت کے لئے آیا ہے۔ اور اس غرض کے پورے ہوتے ہی واپس چلا جائے گا، لہٰذا وہ ہماری ریاست کا فرد نہیں کہلا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ملک میں جب جانا چاہے، اس پر کوئی روک ٹوک نہیں کی جاسکتی ہے۔ اور نہ اس کے قتل کے بدلہ میں مسلمان یا غیر مسلم شہری کو قتل کیا جاتا ہے۔ جب وہ ہماری ریاست کا فرد نہ رہا، اور اس کا داخلہ ایک ضرورت کے حصول کی غرض سے ہوا تھا، لہٰذا حقوق العباد کے قبیل سے تعلق رکھنے والے امور کا تو وہ پابند ہوگا۔ کیونکہ اپنی غرض کی تکمیل میں وہ جس طرح دیگر لوگوں سے انصاف کا خواہاں ہوگا اور ریاست اس کو انصاف دلانے کی پابند بھی
ہے، لہٰذا دوسروں کے لئے اس سے انصاف لینا بھی ریاست کا فرض ہوگا، کیونکہ گھاٹا بمقابلہ فائدہ چلتا ہے‘‘۔
درج بالا اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ امام صاحب کے نزدیک اسلامی ریاست میں رہائش رکھنے والا غیر مسلم :
- 1....... یا تو مستقل اسلامی ریاست کا شہری ہوگا۔
- 2...... یا قانونی ویزا یا اجازت نامہ (Legal permission) کے ساتھ عارضی
رہائش رکھتا ہوگا۔
مقدم الذکر اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری پر بلا کسی استثناء قوانین حدود و تعزیرات ایسے ہی لاگو ہوں گے جیسے اسلامی ریاست کے مسلمان شہری پر ہوتے ہیں۔ لہٰذا ..... چوری کے لئے جو سزا اسلامی قانون لاگو کرتا ہے۔ وہ مسلمان کی طرح غیر مسلم شہری پر بھی لاگو ہوگی، اسی طرح زنا، لواطت (Homosexuality) قصاص، اور ان کے علاوہ تمام وہ جرائم یا حقوق خواہ حقوق اللہ کے قبیل سے تعلق رکھنے والے ہوں یا حقوق العباد سے، مسلمان کی طرح غیر مسلم شہری بھی ان کا مخاطب ہوگا۔
تعزیراتی قوانین کے زیر ولایت آنے کے لئے غیر مسلم کا اسلامی ریاست کا شہری ہونا (Citizenship) ضروری ہے، جسے بیان کیا ہے:
(التزام الاحکام بالتزام القرار فی الدار)۔
لہٰذا ..... اس شرط کی بنیاد پر غیر مسلم شہری مسلمان کی طرح بصورت ارتکاب جرم اسلامی سزاؤں کا ایسا ہی سامنا کرے گا جیسے اسلامی ریاست کا
مسلمان شہری کرتا ہے۔
لیکن ...... وہ سزائیں جن میں اسلام شرط ہے، وہ غیر مسلم شہری پر لاگو نہیں ہوں گی، جیسے سزائے رجم ..... سزائے رجم کے اجراء کے لئے اسلام ”محصن“ ہونے کی شرط عائد کرتا ہے، جبکہ محصن ہونے کے لئے دیگر اوصاف کے علاوہ مجرم کا اسلام سے متصف ہونا بھی ضروری ہے۔ لہٰذا ..... غیر مسلم شہری اگر جرم زنا کا ارتکاب کرے، تو اس کے لئے صرف ایک سزا ہے یعنی سو 100 کوڑے ہیں۔ جبکہ مسلمان کے لئے بصورت احصان سزائے رجم اور بصورت ”عدم احصان“ سو (100) کوڑے ہیں۔
اسی طرح مرتد کی سزائے موت (Death Sentence) مسلمان کے لئے تو ہے، لیکن اگر غیر مسلم شہری اپنے مذہب سے کسی دوسرے مذہب میں ارتداد (Apostacy) اختیار کرے گا، تو وہ اس سزا کی گرفت میں نہیں آئے گا۔
اسلامی ریاست کی ولایت (Guardianship) میں آنے کے لئے شہریت بنیاد ہے۔ لہٰذا اسلامی ریاست کا کوئی بھی شہری خواہ مسلمان ہو یا کافر، عیسائی ہو یا یہودی، ہندو ہو یا دھری۔ سب پر بلا امتیاز یکساں طور پر اسلامی ریاست کے نافذ کردہ قوانین حدود و تعزیرات بصورت ارتکاب جرم جاری ہوں گے۔ اس سلسلہ میں اسلام مذہبی بنیادوں پر کسی قسم کی تفریق یا امتیازی سلوک روا نہیں رکھتا ہے۔
لہٰذا ...... اگر ایک مسلمان شہری غیر مسلم شہری کے قتل کا مرتکب ہوگا۔ تو مسلمان کو قصاصاً قتل کیا جائے گا۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
ويقتل المسلم بالذمى لان المساواة فى العصمة ثابتة نظرًا إلى
التكليف والدار. (فتح القدیر جلد 10 صفحہ 235:مطبوعہ مکتبہ عثمانیہ)
ترجمہ: اور مسلمان کو غیر مسلم شہری کے بدلہ قتل کیا جائے گا، کیونکہ قانون کی پابندی اور ریاست کے شہری ہونے کے اعتبار سے دونوں تحفظ میں برابر ہیں۔“
چونکہ امام صاحب کے نزدیک اسلامی ریاست کے کسی باشندہ پر ”ولایت اور قوتِ تنفیذ“ کے لئے شہریت (Citizenship) بنیاد ہے۔ لہٰذا مؤخر الذکر...... اسلامی ریاست میں اقامت رکھنے والا غیر مسلم قوانین حدود و تعزیرات کی ولایت میں عمومی طور پر تو داخل نہیں ہو سکے گا کیونکہ وہ اسلامی ریاست کا شہری نہیں ہے۔ لیکن...... محض اقامت اور عارضی قانونی رہائش (Legal Temporary Residence) سے ان قوانین کے دائرہ کار میں داخل ہوگا، جن کا تعلق حقوق العباد سے بنتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حقوق العباد کے قبیل سے تعلق رکھنے والے قوانین و احکام میں محض اقامت اور رہائش کافی ہے، جبکہ حقوق اللہ کے قبیل سے تعلق رکھنے والے قوانین و احکام میں اسلامی ریاست کے زیر ولایت آنے کے لئے اقامت کے ساتھ ساتھ شہریت اور مواطنت بھی ضروری ہے۔
لہٰذا...... حربی اور کافر ملک کا وہ شہری جو اسلامی ریاست میں فقط رہائش پذیر ہو، اس پر حقوق العباد سے تعلق رکھنے والے قوانین تو لاگو ہوں گے، حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والے قوانین نہیں۔
جبکہ امام ابو یوسفؒ ایسی کوئی تفصیل نہیں کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک چونکہ بنیاد ”اقامت و سکونت“ ہے اس اعتبار سے اسلامی ریاست کے قانون کے سامنے غیر مسلم شہری اور غیر شہری دونوں برابر ہوں گے۔
محققین احناف کی تحقیقات کا ثمرہ اختلاف درج ذیل صورتوں میں سمجھ سکتے ہیں:
- 1...... اسلامی ریاست میں اقامت رکھنے والا غیر مسلم جرم زنا کا ارتکاب کرتا ہے۔
- 2...... اسلامی ریاست کا غیر مسلم شہری جرم زنا کا ارتکاب کرتا ہے۔
- 3...... اسلامی ریاست میں اقامت رکھنے والا غیر مسلم جرم قذف کا ارتکاب کرتا ہے۔
- 4...... اسلامی ریاست کا غیر مسلم شہری جرم قذف کا ارتکاب کرتا ہے۔
بقول امام ابو حنیفہؒ اول الذکر کے سزائے زنا جاری نہیں ہوگی، کیونکہ وہ اسلامی ریاست کے زیر ولایت نہیں ہے۔ لیکن بقول امام ابو یوسفؒ سزا جاری ہوگی، کیونکہ ان کے نزدیک وہ زیر ولایت ہے۔
ثانی الذکر کے سزائے زنا جاری ہوگی، کیونکہ وہ اسلامی ریاست کے زیر ولایت ہے۔
صاحب ہدایہ لکھتے ہیں:
يحد الذمى و الذمية عند أبى حنيفة ولا يحد الحربى الحربية.......
وقال ابو یوسفؒ يحدون كلهم. (ہدایہ جلد 2 صفحہ 517)
ترجمہ: غیر مسلم (مرد اور عورت) شہری کے حد زنا لگے گی امام ابو حنیفہ کے نزدیک، جبکہ محض اقامت رکھنے والے غیر ملک کے کافر شہری کے حد نہیں لگے گی اور امام ابو یوسفؒ کا کہنا ہے کہ سب کے حد لگے گی“۔
ثالث الذکر کے سزائے قذف جاری ہوگی، امام ابو یوسفؒ کے نزدیک اجرائے حد کے لئے اسلامی ریاست میں غیر مسلم کی اقامت کافی ہے۔ اور وہ موجود ہے۔ جبکہ
امام صاحبؒ کے نزدیک چونکہ جرم قذف میں حق العبد کا اثر موجود ہے، لہٰذا اس کی سزا کے اجراء کے لئے محض اقامت کافی ہے۔
صاحب ہدایہ لکھتے ہیں:
اذا دخل الحربي دارنا بأمان فقذف مسلماً حد لأن فيه حق العبد وقد التزم ايفاء حقوق العباد ولأنه طمع فى ان لايؤذى فيكون ملتزماً ان لايوذى۔ (ہدایہ جلد 2 صفحہ 534)
ترجمہ: جب کافر ملک کا شہری ہماری ریاست کے اندر اجازت کے ساتھ آجائے، اور یہاں اس نے جرم قذف کا ارتکاب کیا، تو اس کے حد لگے گی، کیونکہ اس جرم میں حق العبد موجود ہے، جبکہ اس نے حقوق العباد کے ایفاء کا التزام قبول کیا ہوا ہے۔ اور یہ بھی کہ جیسے اس کی چاہت ہے کہ اس کو اذیت نہ دی جائے، لہٰذا دوسروں کو اذیت نہ دینے کے قوانین کی بھی پاسداری کرے۔‘‘
جرم قذف میں حق اللہ اور حق العبد دونوں موجود ہیں، جبکہ حق اللہ غالب اور حق العبد مغلوب ہے، قصاص میں بھی حق اللہ اور حق العبد دونوں موجود ہیں۔ لیکن اس میں حق العبد غالب ہے، بہرکیف حق العبد غالب ہو یا مغلوب اگر متعلقہ قانون میں وہ کسی بھی پہلو میں موجود ہو، تو مستامن (اسلامی ریاست میں قانونی اجازت کے ساتھ رہائش رکھنے والا) اس کا پابند ہوگا۔ اور بصورت ارتکاب جرم متعلقہ سزا مستامن پر جاری ہوگی۔
سابقہ تفصیلات سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوا کہ ریاست کے جغرافیائی حدود سے باہر اگر جرم کا ارتکاب ہو جائے تو ریاست کے عدم ولایت کے سبب اس کیس کی
سماعت کا اختیار ریاست کی عدالتوں کو حاصل نہ ہوگا۔ جیسے توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب اگر برطانیہ میں ہو جاتا ہے تو اس کی سزا کا اجراء اسلامی ریاست کی عدالتوں کو حاصل نہیں ہے، اگرچہ مجرم ارتکاب جرم کے بعد اسلامی ریاست میں داخل ہو جائے۔ اسی طرح ملک سے باہر مثلاً برطانیہ میں اگر اسلامی ریاست کا کوئی شہری قتل کا ارتکاب کر جائے اور پھر واپس اپنے ملک میں آ جائے تو اسلامی ریاست اس کے سزا جاری نہیں کر سکتی ہے، کیونکہ وقوعہ ملک سے باہر پیش آیا ہے۔
صاحب ہدایہ لکھتے ہیں: اذا اسلم الحربی فی دار الحرب، فقتله مسلم عمداً او خطأ و له ورثة مسلمون هنالک، فلاشئ عليه الا الکفارة فی الخطاء.
(الہدایۃ جلد 2 صفحہ 588)
ترجمہ: جب کافر ملک کا کافر شہری اپنے ملک میں مسلمان ہو جائے، پھر کوئی مسلمان اس کو عمداً یا غلطی سے قتل کر دے، اور وہاں اس کے مسلمان ورثاء بھی ہوں، تو قاتل پر سوائے قتل خطاء کی صورت میں کفارہ کے اور کچھ نہیں ہے‘‘۔
جیسا کہ عرض کیا جا چکا کہ قوانین حدود و تعزیرات میں مذہب بنیاد نہیں ہے، اور نہ ان کے اجراء سے غرض اشاعتِ اسلام ہے، بلکہ غرض معاشرہ کو امن کا گہوارہ بنانا۔ ملک کے اجتماعی ڈھانچہ میں موجود شر پسندی کے ناسوروں کا خاتمہ کرنا، صحتمند معاشرہ پر اثر انداز ہونے والے فسادی عناصر کا قلع قمع کرنا ہے۔ اور ظاہر ہے یہ اغراض و مقاصد مسلمان کی طرح ایک شریف الطبع غیر مسلم شہری یا باشندے کے بھی ہیں۔
صاحب ہدایہ قوانین حدود و تعزیرات کی غرض کی بابت لکھتے ہیں:
المقصد الاصلى من شرعه الانزجار عما يتضرر به
العباد والطهارة ليست اصلية فيه بدليل شرعه فى حق
الكافر. (الہدایہ جلد 2 صفحہ 506)
ترجمہ: قوانین حدود و تعزیرات کے اجراء سے بنیادی غرض عوام کو ان اعمال
وافعال کے ارتکاب سے دھتکارنا ہے جن کے ارتکاب سے معاشرہ کے افراد کو نقصان
پہنچ سکتا ہے، اور طہارت یعنی اسلام اس میں بنیاد نہیں ہے، کیونکہ مسلمان کی طرح
کافر شہری پر بھی یہ قوانین جاری ہوتے ہیں۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
الغرض منه اخلاء العالم عن الفساد. (فتح القدیر جلد 5 صفحہ 22)
ترجمہ: قوانین حدود تعزیرات سے مقصد دنیا کو بدامنی سے پاک کرنا ہے۔
جرائم سے پاک صحتمند معاشرہ کا قیام ہر انسان کی ضرورت ہے۔ خواہ وہ کسی
مذہب یا کسی عقیدہ سے تعلق رکھتا ہو، اسی لئے بین الاقوامی طور پر کوئی بھی ریاست
جرائم کی سزاؤں کا تعلق کسی خاص طبقہ یا مذہب سے نہیں جوڑتی ہے، بلکہ ان جرائم کے
علاج میں جو سزائیں مؤثر ثابت ہو سکتی ہوں، ان کا تعین ہوتا ہے، معاصر فرنگی قانون
جرائم کے تدارک اور سزاؤں کی وضع میں شہوت پرستانہ روایات کو ملحوظ رکھتے ہوئے
قانون کی وضع اور تنسیخ کرتا ہے، کیا جرم ہے اور کیا نہیں، کوئی جرم کتنا شدید اور کتنا
خفیف ہے اس کا تعلق رائج ماحول سے ہوتا ہے، ماحولیاتی حوالہ سے آج کا جرم اگر
جا کر کہیں کل کی ضرورت بن جائے ، تو اس کی سزا خود بخود ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ وہ
جرم نہیں رہا ہے بلکہ معاشرتی حق بن گیا ہے، جیسے برطانیہ میں اغلام بازی کا فعل ماضی میں جرم تھا، ابھی نہیں ہے۔
جبکہ .... اس کے برخلاف اسلام نے تعزیراتی قوانین کی بنیاد رائج ماحول اور شہوت پرستانہ روایات کی بجائے انسانی فطرت پر رکھی ہوئی ہے، کیا جرم ہے اور کیا نہیں؟، کیا ظلم ہے اور کیا انصاف؟، کوئی جرم کتنا شدید ہے اور کتنا خفیف ہے؟ اس کا تعلق انسانی فطرت سے جوڑا گیا ہے۔
فرنگی اور اسلامی قوانین دو متوازی نظام ہیں ایک نے اپنی بنیاد رائج شہوت پرستانہ ماحول پر رکھی ہوئی ہے جبکہ دوسرے نے انسانی فطرت پر، دونوں نظام اس بات پر مصر ہیں کہ ملک میں تعزیراتی قانون واحد، یکساں اور بلا امتیاز نافذ ہونا چاہیے، کیونکہ رائج ماحول ریاست کے سارے افراد کی تخلیق ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے نتیجہ میں بننے والا قانون بھی سب کو قبول ہونا چاہیے۔ اسلام بھی کچھ ایسا ہی کہتا ہے کہ فطرت انسانی ایک ہوتی ہے تو ملک میں رائج تعزیراتی قانون بھی ایک ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں محل نظر یہ ہے کہ تعزیراتی قانون کے لئے بہتر بنیاد کونسی ہو سکتی ہے۔ رائج ماحول یا کہ انسانی فطرت، اس کو معلوم کرنے کے لئے ہمیں دونوں نظاموں کے قوانین کا تقابلی مطالعہ کرنا ہوگا۔
- 1...... ہر انسان اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ انسان کی راحت، تسکین اور ذہنی
اطمینان فطرت کی متابعت میں مضمر ہے، فطرت کی پیروی میں انسان کو راحت ملتی ہے جبکہ رائج ماحول کی پیروی بسا اوقات انسان کے لئے تباہ کن ثابت ہو جاتی ہے۔
- 2...... فطرت اور رائج ماحول پر مبنی تعزیراتی قوانین کے تقابلی جائزے کے لئے
”سزائے قتل (sentence of death) کا مطالعہ کرتے ہیں۔
- 1...... معاصر مغربی دانشور بعض ممالک میں رائج ماحول کے سبب سزائے موت کا
قانون وضع کرتے ہیں۔ جبکہ بعض دیگر ممالک میں سزائے موت کی بجائے سزائے عمر قید انتہائی سزا کے طور پر نافذ کیئے ہوئے ہیں۔
- 2...... مغربی قانون جرم قتل کو ریاست کے خلاف جرم تسلیم کرتا ہے اور اس میں
مقتول کے ورثاء کو کسی قسم کا قانونی حق نہیں دیا جاتا ہے۔ یعنی فقہی اصطلاح میں مغربی قانون کے اندر جرم قتل حق اللہ کے قبیل سے تعلق رکھنے والا تعزیراتی نوعیت کا جرم ہے۔
- 3...... اسلامی قانون کی رو سے جرم بالا میں حق اللہ اور حق العبد دونوں پہلو موجود
ہیں، یعنی جرم بالا کی سزا میں اجتماعی اور شخصی مفاد دونوں ملحوظ ہوں گے۔
- 4...... انگریزی قانون مقتول کے متاثرہ خاندان کے جذبات کا مداوا نہیں کرتا ہے،
مقتول کے خاندان کی مرضی کے برخلاف اگر ارباب حکومت، وزیراعظم ، صدر یا وزیراعلیٰ سزائے قتل کو سزائے عمر قید میں بدلنا چاہے یا سزا میں کسی قسم کی تخفیف دینا چاہے، تو دے سکتا ہے۔ مقتول کے متاثرہ خاندان کو اعتراض کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔
دفعہ 54 اس کی وضاحت اس طرح کرتی ہے: ترجمہ: ہر ایسے کیس جس میں سزائے موت کا حکم نامہ جاری ہوا ہو، وفاقی حکومت یا اس صوبہ کی صوبائی حکومت جس کے اندر مجرم کو سزا ہوئی ہو، کو اختیار ہوگا کہ مجرم کی
مرضی کے برخلاف اس (دفعہ 54 P.C.P.
- 5...... اسلامی قانون کے مطا
اسلام نے مقتول کے کے حق کو غالب رکھا ہ نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ معاف کرنا چاہیں، مع حکومت کو اعتراض کا یا تبدیلی کرنا چاہے، ورنہ حکم نامہ باطل تھ
اضافہ بمطابق اسلا
ترجمہ : مگر شرط یہ ہے کی نسبت سزائے موت ت نہیں کی جائے گی۔ (دفع
اب آپ ہی ٹھنڈے کونسا قانون ہے؟ عوا میں دیتا ہے؟ یقیناً مغرب دیتا ہے۔ پاکستان میں سیاسی عذر داریوں کا ش
مرضی کے برخلاف اس سزا کو مجموعہ ہذا میں مقرر کسی دیگر سزا سے بدل دے۔
(دفعہ P.P.C.54)
- 5...... اسلامی قانون کے مطابق جرم قتل میں دونوں نوعیت کے حقوق موجود ہیں، لیکن
اسلام نے مقتول کے ضرر رسیدہ خاندان کے زخمی دلوں کے مداوہ کے لئے اس کے حق کو غالب رکھا ہے۔ ان کی مرضی کے خلاف حکومت کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ ریاست کی مرضی کے خلاف اگر اولیائے مقتول قاتل کو معاف کرنا چاہیں، مصالحت بر مال کرنا چاہیں تو وہ اس میں مکمل آزاد ہیں۔ اور حکومت کو اعتراض کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔ اگر ملک کا وزیر اعظم سزا میں تخفیف یا تبدیلی کرنا چاہے، تو اس سلسلہ میں اسے اولیاء مقتول کی رضامندی لینی ہوگی، ورنہ حکم نامہ باطل متصور ہوگا۔ پاکستان میں نافذ مغربی قانون میں درج ذیل اضافہ بمطابق اسلامی قانون کیا گیا ہے:
ترجمہ: مگر شرط یہ ہے کہ کسی ایسے مقدمہ میں جس میں کسی مجرم کو کسی قتل کے جرم کی نسبت سزائے موت دی جانی ہو، تو ایسی سزا بلا رضامندی وارثان مقتول تبدیل نہیں کی جائے گی۔ (دفعہ P.P.C-54)
اب آپ ہی ٹھنڈے دماغ سے سوچئے ! فطرت کے قریب اور مبنی بر انصاف کونسا قانون ہے؟ عوامی مفادات کی ضمانت اور نمائندگی کونسا قانون زیادہ مؤثر انداز میں دیتا ہے؟ یقیناً مغربی قانون انسانی فطرت اور عوامی جذبات سے کوسوں دور دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں سزائے قتل کے مغربی قانون کے نفاذ کے سبب سزائے موت سیاسی عذر داریوں کا شکار تھی، لیکن بحمد اللہ پاکستان میں اس سزا کو اسلامی قانون کے
مطابق بنایا گیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے زعفران بی بی کیس میں اسلام کے تعزیراتی قوانین کی بابت بالکل بجا کہا ہے: حدود قوانین ایک اسلامی ریاست کے شہریوں کو بلا تفریق جنس، دولت، مذہب، ذات، رنگ و زبان وغیرہ پر امن زندگی گزارنے کی ضمانت مہیا کرتے ہیں، اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دیگر تجاوزات کے مقابلہ میں تحفظ فراہم کرتے ہیں‘۔
اسلامی اور انگریزی قانون میں اساسی تصادم کے باوجود دونوں میں مابہ الاشتراک امور بھی ہیں۔ اسلامی قانون کی طرح مغربی قانون بھی اپنے نفاذ کا دارومدار ولایت (Jurisdiction) پر رکھتا ہے۔ ریاست کی جغرافیائی حدود تک نافذ العمل قانون اپنا دائرہ اثر رکھتا ہے، ریاست کے زیر ولایت افراد بلا امتیاز یکساں طور پر قانون کی عملداری میں ہوتے ہیں۔ اور ریاست کے سارے افراد کے لئے ایک تعزیراتی قانون ہوتا ہے۔ جسکے سارے شہری بلا امتیاز پابند ہوتے ہیں خواہ وہ کسی مذہب یا عقیدہ سے تعلق رکھتے ہوں، ریاست کے زیر ولایت آنے کے لئے جمہوری روایات اور بین الاقوامی رواجات کے تحت فقط اقامت (Residence) کو کافی سمجھا جاتا ہے۔ شہریت کو ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ اسلام بھی بین الاقوامی رواجات کے احترام میں مجتہد فیہ مسائل میں اسلامی ریاست کو مجاز کرتا ہے کہ عصری ضرورتوں اور وقتی مصالح کے پیش نظر جو رائے مفید اور راجح نظر آئے اختیار کرے۔
پاکستانی عوام خواہ وہ کسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں، اسکی نفسیات فطرت کے اصولوں کی متقاضی ہیں، مغربی طرز قانون پاکستانی عوام کے لئے اس لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا ہے، کہ وہ قانون فطرت سے بغاوت کیا ہوا ہے۔ اس میں انسانی جذبات اور فطری ضروریات کی دیکھ بھال کم اور شہوت پرستانہ اور باغیانہ ذہن کا احترام زیادہ ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کی ذہنی تسکین فطرت کے اصولوں اور ان کے بموجب بننے والے قانون کے اندر ہے، شہوت پرستانہ ماحول کے نتیجہ میں بننے والے قانون کے اندر انسانی فطرت کے لئے تسکین کی قطعی امید نہیں باندھی جاسکتی ہے، درج ذیل مثالوں کے ذریعہ آپ کسی مناسب نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔
- 1....... اسلامی قانون ریاست کے تمام مذاہب کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور مروجہ مذاہب
کے احترام میں اقلیتوں کے شخصی قوانین (Personal Laws) کو ان کے مذہبی قوانین کے مطابق کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ جبکہ مغربی قانون ایسی کوئی سہولت نہیں دیتا ہے، امریکہ برطانیہ و دیگر مغربی ممالک میں رہائش پذیر اقلیتیں اپنے شخصی قوانین میں آزادی سے محروم ہیں۔
- 2....... مذہب سے بغاوت اسلامی قانون میں سنگین نوعیت کا جرم ہے، لیکن اقلیتیں
اسلام کو قبول کرنے یا نہ کرنے میں مکمل آزاد ہیں، انبیاء کرام اور دیگر مذاہب کے بانیوں کی توہین اسلامی قانون کے تحت جرم ہے۔ جبکہ مغربی قانون میں مذہب سے بغاوت حوصلہ افزا عمل ہے۔ انبیاء کرام، بانیان مذہب بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توہین بھی عملی طور پر ناقابل تعزیر جرم ہے۔
- 3...... مغربی قانون میں عریانیت کو تحفظ ہے، جبکہ حجاب عورت کے لئے قابل ملامت
فعل ہے، جبکہ اسلامی قانون میں اس کے برعکس ہے۔
- 4...... سنگین جرائم کی سزاؤں میں متضرر فرد کے حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے، جبکہ اسلامی
قانون افراد کے حقوق کی بھی ضمانت دیتا ہے۔ (مسئلہ قصاص سے تقابل واضح ہوچکا ہے)۔
- 5...... مغربی قانون میں جس طرح مرد عورت کو طلاق دے سکتا ہے، اسی طرح عورت
شوہر کو طلاق دے سکتی ہے، ایک بیوی کے ہوتے ہوئے مرد دوسری شادی تو نہیں کر سکتا ہے، لیکن داشتائیں جتنی مرضی ہو رکھ سکتا ہے، اسی طرح عورت بھی یہ حق رکھتی ہے۔
جبکہ اسلامی قانون میں حق طلاق شوہر کو حاصل ہے، عورت معقول وجوہ پیش کر کے بذریعہ عدالت طلاق لے سکتی ہے۔ نیز ...... شوہر کی رضامندی سے خلع کے ذریعے بھی طلاق لے سکتی ہے۔
نیز ...... اسلام عورت کو ایک ساتھ دو شادیوں یا کسی سے ناجائز تعلق کی قطعی اجازت نہیں دیتا ہے۔ جبکہ مرد کو چار تک مع الشرائط اجازت دیتا ہے، عام حالات میں وہ ایک ہی شادی پر اکتفاء کرے۔
- 7...... مغربی قانون عورت کو فری ہینڈ دیتا ہے، وہ اپنی مرضی سے جس مرد کے ساتھ
چاہے زنا کر سکتی ہے، زنا یا زنا بالجبر (Rape) مرد کے حق میں تو قابل تعزیر جرم ہے، عورت کے حق میں نہیں۔
جبکہ اسلامی قانون کے اندر زنا مساوی طور پر دونوں کے حق میں قابل حد یا
قابل تعزیر جرم ہے۔
- 8...... مغربی قانون مرد کو اجازت
(Brothel) کے طور پر تجوری بھر سکتا ہے۔ جبکہ اسلام ایسی کوئی اجا بتاتا ہے۔
- 9...... مغربی قانون کے اندر
زانی اور مزنیہ اگر چاہیں حمل ختم کروا سکتے ہیں۔ جبکہ اسلامی قانون میں یہ جرم ہے۔
- 10...... زنا علی الاکراہ pe)
عورت پر نہیں، بلکہ (بالتفصیل بندہ کی کتاب
کیس کی سماعت ( کے مرتکب شخص پر ریاست نہیں ۔ نیز ...... وقوعہ اور ا ریاست کے ولایتی حدو
قابل تعزیر جرم ہے۔
- 8...... مغربی قانون مرد کو اجازت دیتا ہے کہ وہ بیوی کی رضامندی سے اس کو چکلے
(Brothel) کے طور پر استعمال کر سکتا ہے اور عورت کی جسم فروشی سے اپنی تجوری بھر سکتا ہے۔ جبکہ اسلام ایسی کوئی اجازت نہیں دیتا ہے، بلکہ اس کو انتہائی نوعیت کا گھناؤنا جرم بتاتا ہے۔
- 9...... مغربی قانون کے اندر زنا علی الرضا یا علی الاکراہ دونوں قابل معافی جرم ہیں،
زانی اور مزنیہ اگر چاہیں تو ایک دوسرے کو معاف کر کے یا مصالحت کر کے جرم ختم کروا سکتے ہیں۔ جبکہ اسلامی قانون میں زنا اجتماعی نوعیت کا ناقابل معافی اور ناقابل راضی نامہ جرم ہے۔
- 10...... زنا علی الاکراہ (Rape) جرم ہے، لیکن اس کا مقدمہ مرد پر تو بن سکتا ہے،
عورت پر نہیں، عورت کے حق میں زنا یا زنا بالجبر سرے سے جرم ہی نہیں ہے۔
(بحوالہ تفصیلات بندہ کی کتاب ”حدود آرڈیننس“ میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں)
کیس کی سماعت (Hearing) کے وقت عدالت کو دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ جرم کے مرتکب شخص پر ریاست یا عدالت کو اختیار تنفیذ یا اختیار سماعت حاصل بھی ہے کہ نہیں۔ نیز ...... وقوعہ اور ارتکاب جرم (commission of offence) ریاست کے ولایتی حدود (Jurisdiction) کے اندر ہوا ہے یا کہ باہر۔ گویا
قضائے قاضی اور عدالتی فیصلہ کے لئے اختیار تنفیذ اور ولایتی حدود پر غور بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس سلسلہ میں مغربی قانون کا نقطہ نظر یہ ہے کہ:
- 1....... اگر مجرم کی نوعیت ایسی ہو کہ وہ خود قانونی طور پر عدالت یا ریاست کے
ولایتی اختیار سے بالا و برتر ہو، یا خود صاحب ولایت ہو، تو اس صورت میں عصر حاضر کا مغربی قانون ملزم کو ولایت نہ ہونے کے سبب قانون کی گرفت سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے، لیکن استحقاق (privilege) اس وقت تک ہے جب تک وہ بر سر ولایت ہو، لیکن اگر آئندہ وقتوں میں کہیں وہ زیر ولایت ہو جائے، تو قانون کی دی ہوئی چھوٹ تازیانہ قانون کی چوٹ میں بدل سکتی ہے۔
بہر حال مغربی قانون کے تحت قانون تعزیرات کی گرفت میں وہ شخص نہیں آسکے گا جو زیر ولایت ہونے کی بجائے بر سر ولایت ہو۔ مثلاً ....... درج ذیل افراد کو زیر ولایت نہ ہونے کے سبب قانونی مواخذہ سے استثناء حاصل ہے:
- 1....... پریزیڈنٹ اور گورنر
- 2....... سفراء اور غیر ملکی فرمانروا
- 3....... غیر ملکی فوجیں جو کہ بہ اجازت ریاست قیام پذیر ہوں۔ (دفعہ 2-P.P.C)
- 2....... مغربی قانون اسلامی قانون کی طرح ”ولایت“ کو تعزیراتی قوانین کی
اساس قرار دیتا ہے، لیکن ولایت کی تفصیلات میں اختلاف ہے، مغربی قانون کے مطابق:
- 1....... مغربی قانون کے تحت ریاست کا ہر شہری قابل مواخذہ ہوتا ہے۔ خواہ
ارتکاب جرم ملک کے اندر ہوا ہو یا باہر۔
- 2....... غیر ملکی باشندہ ریاست کا مجرم تب متصور ہوتا ہے جبکہ اقامت کے دوران
اس سے جرم سرزد ہو جائے ، خواہ اس کے اپنے ملک میں وہ جرم متصور ہوتا ہو، یا نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ریاست کو مجرم پر ولایت حاصل ہونے کے لئے دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ مجرم اس ریاست کا شہری ہے یا کہ نہیں؟ شہری ہونے کی صورت میں شہریت اس کو زیر ولایت بنانے کے لئے کافی ہے خواہ سرزد شدہ جرم ملک سے باہر کیوں نہ ہوا ہو اور وہ خود بھی باہر ہو۔ لیکن وہ جب کبھی اپنی ریاست میں قدم رکھے گا ، تو ایک مجرم کی حیثیت سے قانون کے سامنے جوابدہ ہوگا۔
جبکہ غیر ملکی باشندہ فقط رہائش کے ذریعہ قابل مواخذہ ہوتا ہے، شہریت کو ضروری قرار نہیں دیا جاتا ہے۔
(دفعہ P.P.C-3-4)
--------------------------------------------------
جیسا کہ گزشتہ صفحات میں تفصیل کے ساتھ عرض کیا جا چکا کہ اسلامی قانون کے تحت تنفیذ قانون کا دارو مدار ولایت پر ہوتا ہے، اور دراصل ولایت ہی تنفیذ قوانین کی اساس قرار پایا ہے۔ اس اصول کے ذریعہ فقہاء کرام تعزیراتی قوانین سے دو مستثنیات قائم کرتے ہیں:
- 1....... برسر ولایت (فوق الولاية)
- 2....... خارج ولایت (خارج الولاية)
اسلامی قانون کے تحت ”برسر ولایت“ کے استثنائی ضابطہ میں صرف خلیفہ، با اختیار صدر یا وہ شخص جو ریاست کے کلی اختیارات کا حامل ہو، داخل ہے، ریاست پر صرف برسر اقتدار ہونا ، کسی صوبہ کا وزیر اعلیٰ یا گورنر ہونا کافی نہیں ہے۔
صاحب فتح القدیر وضاحت کرتے ہیں: كل شىء فعله الامام الذى ليس فوقه امام مما يجب به الحد كالزناء و الشرب و القذف و السرقة لا يواخذ به الامام.
(فتح القدیر جلد 5 صفحہ 55)
ترجمہ: ”ہر ایسا جرم جسے ایسا امام وقت کرے جو ریاست میں سب سے بالا ہو اور وہ کسی کے ماتحت نہ آتا ہو، تو اگر چہ سرزد شدہ جرم مستوجب حد ہو، جیسے زنا، قذف، چوری، لیکن امام وقت کا قانونی مواخذہ نہیں کیا جائے گا“۔
- 2 ...... قانونی مؤاخذہ سے مختار کل خلیفہ کو اسلامی قانون اس شرط کے ساتھ مستثنیٰ
قرار دیتا ہے، جبکہ سرزد شدہ جرم کا تعلق حقوق العباد سے نہ بنتا ہے، جیسے زنا، شراب نوشی وغیرہ۔
نیز ...... یہ استحقاق اس لئے حاصل ہے کیونکہ خلیفہ خود صاحب ولایت ہے، جسکی بناء پر اجراء حد اور قانون پر عملدرآمد متعذر ہے۔ عدم اجراء حد خلیفۃ المسلمین کے قانونی استحقاق کے پیش نظر ہرگز نہیں ہے۔
لیکن اگر والی ریاست سے سرزد ہونے والا جرم حقوق العباد سے تعلق رکھتا ہو، تو اس صورت میں وہ قابل مؤاخذہ ہوگا۔ جیسے قصاص، مالی حقوق وغیرہ۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں: فانه اذا قتل إنساناً أو أتلف مال إنسان يؤاخذ به.
(فتح القدیر جلد 5 صفحہ 55)
ترجمہ: ”اگر مملکت کے بادشاہ نے کسی انسان کو قتل کیا، یا کسی کا مال تلف کیا، تو اس کا مواخذہ کیا جائے گا“۔
- 2 ...... خارج از ولایت (خارج الولاية)
ریاست سے باہر کسی دوسرے ملک میں مثلاً دارالحرب میں اگر کسی شہری سے کوئی مستوجب تعزیر یا مستوجب حد جرم سرزد ہو جائے، اور پھر واپس اپنے ملک میں آجائے، تو اسلامی قانون کے تحت ریاست اپنے شہری کے خلاف سرزد ہونے والے جرم کی سماعت کا حق اس لئے نہیں رکھتی ہے، کیونکہ تعزیراتی یا مستوجب حد سزا کے لاگو کرنے کیلئے ”ولایت“ شرط ہے۔ جو کہ ریاست کے جغرافیائی حدود تک محدود ہوتی ہے، جبکہ یہاں سرزد شدہ جرم ریاست سے باہر ہوا ہے۔ اس لئے اگر کسی پاکستانی نے امریکہ میں قیام کے دوران جرم زنا کا ارتکاب کیا، اور پاکستان آنے کے بعد اپنے اس جرم کا اعتراف کرتا ہے، تو عدالت زانی کو سزا اس لئے جاری نہیں کرسکتی ہے کیونکہ متعلقہ جرم ریاست سے باہر ہوا ہے۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
من زنى فى دارالحرب او فى دارالبغى ثم خرج الينا واقر عند الامام لا يقام عليه الحد. (فتح القدیر جلد 5 صفحہ 46)
ترجمہ: جس نے زنا کیا دارالحرب یا باغیوں کے ملک میں، پھر ہمارے پاس اسلامی ملک میں آ جاتا ہے، اور امیر المؤمنین کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کرتا ہے، تو اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی“۔
فقہائے کرام درج بالا مسئلہ میں یہ مثال بھی ذکر کرتے ہیں کہ اسلامی فوج جو کہ دشمن کے ملک میں برسر پیکار ہو، یا وہاں قیام پذیر ہو، اور اس دوران معسکر کے اندر کسی مسلمان فوجی سے کوئی مستوجب حد جرم مثلاً زنا کا ارتکاب ہو جاتا ہے، تو فوجی سالار
اس کے خلاف حد کا فیصلہ اس لئے نہیں کر سکتا ہے، کیونکہ سرزد شدہ جرم خارج از ولایت امام ہوا ہے، جبکہ فوجی سالار کو امیر المؤمنین نے عدالتی نوعیت کے اختیارات بھی تفویض نہیں کئے ہیں۔ لیکن اگر فوج کے ساتھ امام المسلمین بھی موجود ہو، یا فوجی سالار کو اختیارات تفویض ہوئے ہوں، تو اس صورت میں فوجی سالار بوجہ ولایت کے مجرم کے خلاف بجا طور فیصلہ کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
ولو غزا من له ولاية الإقامة بنفسه كالخليفة وامير المصر يقيم الحد على من زنى فى معسكره لانه تحت يده فالقدرة ثابتة عليه. بخلاف ما لو خرج من المعسكر فدخل دار الحرب فزنى ثم عاد إلى المعسكر لا يقيمه ويفيد أنه لو زنى فى العسكر والعسكر فى دار الحرب فى ايام المحاربة قبل الفتح له ان يقيمه للولاية حينئذ أما أمير العسكر والسرية فلا يقيمه لانه لم تفوض اليهما الاقامة.
(فتح القدير جلد 5 صفحہ 47)
ترجمہ: جس کے پاس قانون نافذ کرنے کی اتھارٹی موجود ہو اگر وہ بذات خود جہاد میں شریک ہو، جیسے خلیفہ، شہر کا گورنر تو وہ معسکر میں زانی پر حد قائم کر سکتا ہے، کیونکہ قدرت و طاقت اسے حاصل ہے، لیکن اگر زانی نے معسکر سے باہر دارالحرب میں جرم زنا کا ارتکاب کیا ہو، اور پھر معسکر میں داخل ہوا ہو، تو اس صورت میں حد قائم نہیں کی جاسکتی ہے۔ اس اصول سے یہ بات پتہ چلی کہ اگر معسکر میں کسی نے جرم زنا کا ارتکاب کیا۔ اور وہ معسکر دارالحرب میں قائم ہو، اور
جرم زنا کا عمل دوران جنگ فتح سے پہلے ہوتا ہے، تو اس صورت میں بھی مجرم کے حد بوجہ ولایت کے لگے گی، لیکن عام آفیسر حد نہیں لگا سکتا ہے، کیونکہ اسے تنفیذ حد کے اختیارات تفویض نہیں ہوئے ہیں۔
معاملات وعقود : (Civil Act) جسے اسلامی قانون کی اصطلاح میں ”القوانين المدنية“ کہا جاتا ہے، اس کے تحت کاروباری نوعیت کے یا دو پارٹیوں کے درمیان طے پانے والے تمام معاملات آتے ہیں۔ جیسے قانون شرکت (partnership Act) قانون بیع و شراء (sale of goods act) قانون انتقال جائیداد (transfer of property act) قانون معاہدہ (contract act) قانون دستاویزات قابل بیع و شراء Negotiable of) Instrument Act)
اسلامی قانون کے اندر عقود و معاملات کی بنیاد ”عرف“ اور ریاست کے عمومی رواجات (Common Custems) پر ہے، بشرطیکہ وہ قرآن وحدیث سے متصادم نہ ہوں، اسلامی قانون میں عرف کی اس قدر اہمیت ہے کہ قرآن وحدیث اور اجماع امت کے بعد اسے جگہ دی گئی ہے، قیاس عقلی اور قیاس لغوی پر عرف (Custem) کو فضیلت ہے، قیاس اور عرف میں اگر کہیں ٹکراؤ آ جائے تو ترجیحی بنیادوں پر عرف کے مطابق فیصلہ دیا جاتا ہے، اسلامی قانون کے مطالعہ کے دوران اکثر اختلافی مسائل میں قیاس اور استحسان کا ذکر ملتا ہے، اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دونوں میں تصادم کے وقت استحسان کو ترجیح دی جاتی ہے، استحسان کو ترجیح حاصل ہونے کی
عموماً وجہ بھی اس کا بمطابق عرف ہونا ہے۔
بہر حال اسلامی قانون کے اندر معاشرتی اقدار (Social Values) اور عمومی رواجات (Commen Custems) کی بڑی اہمیت ہے، اسلامی قانون کا ایک بڑا حصہ عرف پر قائم ہے، اور شعبہ معاملات کا تو اکثر حصہ ہی عرف اور رواجات سے ماخوذ ہے، لہذا جب اسلامی قانون کے شعبہ عقود و معاملات کی بنیاد عرف اور ریاست کے مستند رواجات پر ہے، تو پھر کوئی مضائقہ نہیں کہ عرف کی بنیاد پر اسلامی قانون کے شعبہ معاملات وعقود (Civil Act) کی قانون سازی ریاست کے اکثریتی باشندوں کے رواجات کے مطابق ہو، اور ریاست کی اقلیتوں سے اس اکثریتی ذہن کے موضوعہ قانون کی پابندی کرائی جائے، اور یہ پابندی کرانا بین الاقوامی رواجات اور عصری روایات کے بالکل مطابق ہے، کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں نافذ قوانین کی دو اقسام ہوتی ہیں:
- 1....... شخصی قوانین (Personal Laws)
یہ وہ قوانین ہوتے ہیں جو مختلف طبقات کے دینی اور مذہبی عقائد کی روشنی میں ان پر لاگو ہوتے ہیں، ان قوانین کے تحت نکاح، طلاق، وراثت، وقف، ہبہ، ولایت، وصیت وغیرہ امور آتے ہیں۔
- 2....... عمومی قوانین (Common Laws)
یہ قوانین ریاست کے تمام طبقات پر عمومیت کا درجہ رکھتے ہیں بلا امتیاز ملک کے ہر طبقہ اور ہر مکتب فکر پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ یہ قوانین باشندگان ریاست کے مذہبی رواجات کی پرواہ کیے بغیر فوجداری اور دیوانی نوعیت کے احکام ومسائل
نپٹاتے ہیں۔
پوری دنیا میں یہ ایک مسلمہ قانونی اصول ہے کہ ہر ملک میں آباد مختلف مذاہب کے لوگوں کے شخصی نوعیت کے مسائل و معاملات تو ان کے شخصی قوانین کے مطابق فیصل کیے جائیں، لیکن دوسرے تمام ملکی قوانین جو امن عامہ برقرار رکھنے، معیشت کو مستحکم کرنے اور جرائم کی روک تھام کے سلسلہ میں ریاست وضع کرتی ہے، ان قوانین کی وضع میں ہر ملک اکثریتی آبادی کے رواجات کی پابندی کرتا ہے، نہ کہ اقلیتوں (Minority) کے رواجات کی، جبکہ رہائش پذیر اقلیتوں کو وضع شدہ فوجداری اور دیوانی نوعیت کے قوانین کا ایسا ہی احترام رکھنا پڑتا ہے، جیسا کہ ان ممالک کی اکثریتی آبادی کرتی ہے۔ مثال کے طور پر قتل کے مقدمہ (Murder Case) میں امریکہ یا انگلینڈ میں رہائش پذیر یا وہاں کے مسلمان شہری یہ اصرار نہیں کر سکتے ہیں کہ وہاں قتل کے مقدمات (Murder Cases) ان کے مذہب کے مطابق قصاص اور دیت کے اسلامی قوانین کے مطابق فیصل کیے جائیں۔ اس قسم کا مطالبہ آج تک مغربی ممالک سے مسلمانوں نے اس لئے نہیں کیا ہے، کیونکہ اس قسم کے مطالبات بین الاقوامی مسلمہ اصولوں کے خلاف ہیں۔
عقود و معاملات اور دیوانی نوعیت کے احکام کی قانون سازی تو شریعت کے اصولوں اور قرآن وسنت کے مطابق ہوگی، کیونکہ بین الاقوامی رواجات کے مطابق قانون سازی اکثریتی آبادی کے رواجات کے مطابق ہوتی ہے۔
لیکن اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری نجی طور پر باہم معاملات اپنے مذہبی اصولوں کے مطابق کرنا چاہیں، بشرطیکہ وہ کاروبار مفاد عامہ (Public
(Interest کے خلاف نہ ہو جیسے سود اور ربا، تو اسلامی قانون ان کو اس کی اجازت دیتا ہے۔
- 1...... غیر مسلم شہری آپس میں شراب کی خرید و فروخت اور اس کا کاروبار کرنا
چاہیں تو وہ بلا روک ٹوک کر سکتے ہیں۔
- 2...... اسی طرح خنزیر جو کہ اسلامی قانون کے تحت نجس العین ہے، اگر
اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کا مذہب انہیں اس کی خرید و فروخت کی اجازت دیتا ہو، تو وہ آزادی سے اس کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں، اور اس کو ذبح کر کے حلال گوشت کی طرح اس کا گوشت ایک دوسرے کو بیچ بھی سکتے ہیں۔
- 3...... حرام جانور جیسے کتا، گیدڑ وغیرہ، غیر مسلم شہریوں کا عقیدہ اگر اس قسم کے
جانوروں کی خرید و فروخت اور ان کا گوشت کھانے کی اجازت دیتا ہو، تو اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری ان کی خرید و فروخت بھی کر سکتے ہیں، اور نکاح میں انہیں بطور مہر بھی دے سکتے ہیں، حتی کہ اگر مردار ان کے مذاہب میں حلال ہو تو اس کو بھی بطور مہر مقرر کر سکتے ہیں، نیز اسے کھا سکتے ہیں۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
أن الكفار ليسوا ملتزمين بعقد الذمة ما يعتقدون خلافه منها إلا ما شرط عليهم ولذا لا نمنعهم من بيع الخمر والخنزير ونكاح المحارم.
(فتح القدیر جلد 3 صفحہ 364)
ترجمہ: اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری ذمی ہونے کے معاہدہ کے سبب ان کے مذہب سے متصادم احکام کا التزام نہیں کرایا جا سکتا ہے، الا یہ کہ معاہدہ کے وقت
ان پر یہ شرط لاگو کر دیجائے ، اسی لئے شراب اور خنزیر کی خرید وفروخت اور محرم رشتہ داروں سے شادی کرنے سے انہیں منع نہیں کر سکتے ہیں۔
اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری نجی طور پر آپس میں وہ معاملات کر سکتے ہیں جو کہ ان کا مذہب ان کے کرنے کی اجازت دیتا ہو، لیکن وہ امور جو کہ ان کے مذہب میں ممنوع ہوں، یا وہ مفاد عامہ کے خلاف ہوں جیسے سودی کاروبار، شراب کی علانیہ خرید وفروخت تو ایسے معاملات وہ نجی طور پر بھی نہیں کرسکیں گے۔
صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
نتركهم ومايدينون فصاروا كأهل الحرب بخلاف الزناء لأنه حرام فى الأديان كلها . والرباء مستثنى عن عقودهم لقوله عليه الصلوة و السلام إلا من اربى فليس بيننا وبينه عهد
(فتح القدیر جلد 3 صفحہ 365)
ترجمہ : غیر مسلموں کو نجی طور پر اپنے مذہب پر عمل کرنے میں ایسا ہی آزاد رکھیں گے جیسے دارالحرب کے کافر آزاد ہیں، سوائے زنا کے کیونکہ یہ ہر مذہب میں حرام ہے، اور جہاں تک ربا کا تعلق ہے، تو وہ مستثنیٰ ہے، بوجہ پیغمبر اسلام کے اس قول کے،’مگر جو شخص ربا کا کاروبار کرے تو ہمارے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے‘۔
درج بالا تفصیلات سے واضح ہوتا ہیکہ غیر مسلم شہریوں کے بارے میں اسلام جس فراخ دلی اور وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتا ہے، عصر حاضر کا شاید ہی کوئی مغربی ملک اپنی مسلم اقلیتوں کے بارے میں ایسا فراخدلانہ مظاہرہ کر سکے۔ بلکہ عصر حاضر میں مادر وطن پاکستان اپنی غیر مسلم اقلیتوں کے جتنے مذہبی حقوق تسلیم کرتا ہے، اس
کی روشنی میں بجا طور کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں ...... یہودی، عیسائی، ہندو، پارسی اور قادیانی فرقوں ...... کو تقریباً وہی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کو حاصل ہیں، اس کی پوری وضاحت دفعات کی تشریح کے تحت آئے گی۔
مختصر جائزہ پیش خدمت ہے:
- 1....... غیر مسلم اقلیتوں کے مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچانا قابل تعزیر جرم ہے۔ سزا دس
سال یا جرمانہ یا دونوں سزائیں (بحوالہ دفعہ 295۔الف)
- 2....... غیر مسلم اقلیتوں کے مذہبی اجتماع کو درہم برہم کرنا قابل تعزیر جرم ہے۔ سزا ایک
برس یا جرمانہ یا دونوں سزائیں (بحوالہ دفعہ 296)
- 3....... غیر مسلم شہری کے مذہبی احساسات یا عقائد کو مجروح کرنا قابل تعزیر جرم ہے۔
سزا ایک برس یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ۔ (بحوالہ دفعہ 298)
- 4....... غیر مسلم شہریوں کے قبرستان یا قابل تعظیم مقامات یا رسومات کی جگہوں کی توہین کرنا
قابل تعزیر جرم ہے۔ سزا ایک برس یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ۔ (بحوالہ دفعہ 297)
- 5....... غیر مسلم شہریوں کے مقدس مقامات کو نجس کرنا، نقصان پہنچانا قابل تعزیر جرم
ہے، سزا دو برس یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ۔ (بحوالہ دفعہ 295)
غیر مسلم شہریوں کو دیئے گئے غیر معمولی حقوق کا حق تو یہ تھا کہ غیر مسلم ممالک خصوصاً مغربی ممالک خیر سگالی کے طور پر اپنے مسلمان شہریوں کے حقوق بھی تسلیم کرتے اور مسلمانوں کے کم از کم اتنے حقوق تسلیم کرتے۔ جتنے کہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان تسلیم کرتا ہے۔
لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے مسلمان اقلیتوں کے ساتھ مغربی ممالک نے وہ افسوسناک روش اختیار کی ہوئی ہے جو کہ قوم لوط نے قرون ماضیہ میں مسلمانوں کے ساتھ اختیار کیا ہوا تھا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ولوطاً اذقال لقومه أتأتون الفاحشة وانتم تبصرون أإنكم لتأتون الرجال شهوة من دون النساء بل انتم قومٌ تجهلون، فما كان جواب قومه إلا أن قالوا أخرجوا آل لوط من قريتكم، إنهم أناسٌ يتطهرون .
(سورۃ النمل آیت 54 تا 56)
ترجمہ : ”اور لوط جب کہا اس نے اپنی قوم کو کیا تم کرتے ہو بے حیائی اور تم دیکھتے ہو، کیا تم دوڑتے ہو مردوں پر للچا کر عورتوں کو چھوڑ کر ، کوئی نہیں ، تم لوگ ہو نا سمجھ ، پھر اور کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ کہتے تھے نکال دو لوط کے گھر کو اپنے شہر سے، یہ لوگ صاف ستھرے رہنا چاہتے ہیں“۔
مغرب اپنے بہیمانہ رویہ اور ظالمانہ کردار کے باوجود آج دنیا نے اس کو امن پسندی کا ایوارڈ دیا ہوا ہے، دراصل یہ وہی سند امن ہے جو کہ فرعون کے دور کے دانشوروں نے فرعون کو دیا ہوا تھا ، جبکہ اس کے مخالف موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مفسد اور دہشت گرد قرار دیا تھا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وقال الملأ من قوم فرعون أتذر موسى وقومه ليفسدوا فى الأرض ويذرك والهتك، قال سنقتل ابنائهم ونستحيي نسائهم وإنا
فوقهم قاهرون۔ (سورة اعراف آیت 127)
ترجمہ: ”اور قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی آزاد چھوڑے رکھیں گے کہ وہ خطہ کا امن تباہ کرتے رہیں اور آپ اور آپ کے خداؤں کو ترک کرتے رہیں۔ اس نے کہا ہم ان کے بیٹوں کو عبرت آمیز انداز میں قتل کریں گے، اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے، اور حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ان پر قابو حاصل ہے“۔
یورپ اپنے کو امن پسند اور مسلمان قوم کو شدت پسند کہتا ہے۔ لیکن حال ہی کا واقعہ ... توہین آمیز خاکے (Blasphemous Sketches) جس نے مسلم دنیا کو انتہائی ذہنی اذیت میں ڈال دیا ہے اور جس کے تعفن اور گھناؤنے پن کے سبب پوری دنیا سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ بلا امتیاز دنیا کے ہر فرد نے اس واقعہ کی پُر زور مذمت کی ہے، لیکن یورپ جو اپنے آپ کو تعلیم یافتہ اور مہذب خیال کرتا ہے اور مسلمانوں کے مذہب کو دنیا کے لئے عظیم خطرہ بتاتا ہے۔ یہ بات ماورائے فہم ہے کہ اپنی مسلم اقلیت کے مذہب اور پیغمبر اسلام کے ناموس کا اتنا بھی پاس نہیں رکھا کہ کم از کم واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کر کے واقعہ میں ملوث عناصر کو برائے نام سزا تو دے دیتا۔ یوروپین یونین (EU) کے صدر کے درج ذیل بیان میں فرعون کی فرعونیت اور فرنگ کی فرنگیت میں بڑی حد تک مطابقت دیکھنے میں آتی ہے:
Copenhagen: European commission President Jose Manuel Barroso defended Denmark on Tuesday in the cartoons row, telling the Denish media that freedom of expression was "not negotiable".
"Freedom of expression is not something that we can negotiate, because it is an essential value in our open and
was quoted as saing in ngske Tidende. t these drawings made le and angry. But I want ple of non-violence and ocracy". d in the Danish daily nce been reprinted in ld. Muslims' reactions three Danish embassy matic missions closed, ut on Danes' heads in
Danish embassies in lly unacceptable". olidarity with Denmark. Denmark has a long lso of helping others, of
ly Politiken that it was out a free press. Too g all." le what should be and either. Control (of the e itself," he said.
ترجمہ: یوروپین کمیشن
democratic European society," Barroso was quoted as saing in Tuesday's edition of the Danish daily Berlingske Tidende.
Barroso said he understood that "that these drawings made a lot of Muslims in the world uncomfortable and angry. But I want to say at the same time that the principle of non-violence and freedom of expression is
ڈنمارک کا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ ڈینش میڈیا جو اظہار آزادی کا نام ہے۔ اس پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ اظہار آزادی ایسی چیز ہی نہیں جو مذاکرات کے عمل کو قبول کر سکے، وجہ یہ ہے اظہار آزادی ہمارے آزاد اور جمہوری معاشرہ کی لازمی اقدار ہے۔
بروسو نے کہا، ”وہ دنیا کے مسلمانوں کے کرب والم جو ان خاکوں کے سبب سے انہیں پہنچے ہیں وہ انہیں بخوبی سمجھتا ہے لیکن اس موقع پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اصول برداشت اور اظہار آزادی جمہوریت کے فیصل شدہ چیزیں ہیں۔“
بارہ توہین آمیز کارٹون سب سے پہلے ڈنمارک کے اخبار ”ڈیلی جیلنڈز پوسٹن“ نے تیس ستمبر کو شائع کئے تھے، اس کے بعد پوری دنیا کے اخبارات میں انہی کی دوبارہ اشاعت کی جاتی رہی ہے۔ مسلمانوں کا بعض جگہوں میں ردعمل شدت پسندانہ رہا ہے۔ ڈنمارک کے تین سفارت خانوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ پانچ آفیشل ڈپلومیٹک مشن بند کئے گئے۔ ڈنمارک کے مصنوعات کا بائیکاٹ کیا گیا ہے اور افغانستان اور عراق میں ڈنمارک کے ان ملوث عناصر کے سروں کی قیمتیں مقرر کی گئی ہیں۔
بروسو نے کہا: ڈنمارک کے سفارتخانوں پر بیروت، دمشق اور تہران میں حملے مکمل طور پر ناقابل برداشت ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہم ڈنمارک کے ساتھ اپنی کامل موافقت کا اعلان کرتے ہیں اور ڈنمارک کے ساتھ جو ہوا ناروا اور نامناسب ہوا ہے۔ ڈنمارک آزادی اور تحمل کی ایک طویل روایت رکھتی ہے۔ وہ دوسروں کے کام آنے والا ملک ہے۔ وہ گفت وشنید اور ثقافت کا محافظ ملک ہے۔
اسی دوران اس نے ڈینش ڈیلی پولیٹیکن کو بتایا کہ پریس کی آزادی کے بغیر
ریاست کی آزادی امر محال ہے، آز پریس کی حدود کا تعین کہ کیا میں یہ ایک بے معنی اصول ہے بلکہ رکھے ۔ دوسروں کی گرفت سے مکمل
ریاست کی آزادی امر محال ہے، آزادی غلامی سے بہر حال بہت ہی بہتر ہے۔ پریس کی حدود کا تعین کہ کیا نشر ہونا چاہئے اور کیا نہیں ہونا چاہئے؟ میری نظر میں یہ ایک بے معنی اصول ہے بلکہ میڈیا خود اپنے زیر اختیار رہے اور خود اپنا کنٹرول رکھے۔ دوسروں کی گرفت سے مکمل آزاد ہونا چاہئے“۔
اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے......
بے شبہ مسلمانوں میں ایسے پہنچاتے تھے لیکن یہ شخص جو کہ علی بن سلمان گورنر مصر بھی واقف ہیں کہ عیسیٰ جو خاص سرکاری خزانہ سے کل
مذہب ہے......
بے شبہ مسلمانوں میں ایسے بھی تنگ دل لوگ گزرے ہیں جو دوسرے مذہبوں کی آزادی کو صدمہ پہنچاتے تھے لیکن یہ شخصی حالتیں ہیں اور ان سے عام رائے کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ ہم کو معلوم ہے کہ علی بن سلیمان گورنر مصر نے مصر کے تمام گرجے ڈھا دیئے تھے لیکن اس کے ساتھ ہم اس سے بھی واقف ہیں کہ عیسیٰ بن موسیٰ نے جو خاندان عباسی سے تھا اور 171ء میں مصر کا گورنر مقرر ہوا خاص سرکاری خزانہ سے کل گرجے نئے سرے سے تعمیر کرائے۔
اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے سیاسی حقوق
اسلام امن آشتی کا مذہب ہے۔ اسلام اپنے پیرووں کو تحمل اور برداشت کا درس دیتا ہے۔ لا اکراہ فی الدین ...... الخ ”دین اسلام میں کوئی جبر نہیں“ میں دراصل مومنوں کے لئے درس ہے کہ اپنے مذہب کو چھوڑو نہیں اور دوسروں کے مذہب کو چھیڑو نہیں۔
اس آیت کے اندر مسلمانوں کو غیر مذاہب کے خلاف جارحانہ عزائم رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے غیر مذہب والوں کو نہ صرف اپنی ریاستوں کے اندر برداشت کیا بلکہ ان کے عقائد اور مذاہب کو مکمل تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ تاج وتخت سے قریبی روابط رکھنے اور اعلیٰ مناصب پر فائز ہونے کے مواقع دیئے۔
علامہ شبلی نعمانی جو ہندوستان کے نامور اور محقق عالم جانے جاتے ہیں۔ ان کا مختصر مگر جامع مقالہ پیش خدمت ہے۔ اس سے دراصل قاری کو یہ بتانا ہے کہ اسلام نے اپنے دورِ عروج میں اقلیتوں کو کیا دیا تھا؟ اور آج کی ترقی یافتہ مغربی حکومتیں بلاامتیاز رواداری کے نام پر کیا دے رہی ہیں؟ کون کتنا مہذب، امن پسند اور رواداری کے اصولوں پر کار بند ہے؟ اس کا فیصلہ قاری نے کرنا ہے۔ ہماری غرض فقط یہ ہے کہ جدید و قدیم دونوں ادوار کے تقابلی مطالعہ سے شاید مغرب پرستوں کا اسلام کے بارے میں غبار آلود ذہن صاف ہوجائے۔ اور مغرب پرستی کا خمار مقالہ ھٰذا کی برکت سے اتر جائے ۔ (اللہ تعالیٰ ہمیں غیروں کی ذہنی غلامی سے حفاظت میں رکھے۔ آمین)
علامہ شبلیؒ رقمطراز ہیں:
”مامون کے عہد میں دوسری قوموں کو جو حقوق حاصل تھے مہذب سے مہذب حکومت میں بھی اس سے زیادہ نہیں ہو سکتے تھے یہود، مجوس، عیسائی۔ لامذہب اس کی وسیع حکومت میں نہایت آزادی سے زندگی بسر کرتے تھے خاص دارالخلافت بغداد میں بہت سے گرجے اور چرچ نئے تعمیر ہوئے موجود تھے جن میں رات دن ناقوس کی صدائیں گونجتی رہتی تھیں۔ دربار میں ہر مذہب و ملت کے علماء فضلاء حاضر ہوتے تھے اور مامون ان کے ساتھ نہایت عزت و توقیر سے پیش آتا تھا۔ جبرائیل بن بختیشوع جو ایک عیسائی فاضل تھا اس کی اس قدر توقیر کرتا تھا کہ عام حکم دے دیا تھا کہ جو شخص کسی ملکی عہدہ پر مقرر کیا جائے پہلے جبرائیل کی خدمت میں حاضر ہو۔
خراسان میں جو کالج بنوایا تھا اس کا پرنسپل یعنی مہتمم اعظم ایک عیسائی کو مقرر کیا جس کا نام میسوع تھا مامون کی بے تعصبی کے ثبوت کے لئے ہم ذیل کی حکایت کافی سمجھتے ہیں جس کی مثال آج کسی بھی مہذب ملک میں نہیں مل سکتی۔
عبدالمسیح بن اسحق کندی جو ایک عیسائی عالم اور معزز ملکی عہدے پر فائز تھا مامون کے ایک عزیز کا دلی دوست تھا۔
اس ہاشمی نے عبدالمسیح کو نہایت نرم لفظوں میں ایک دوستانہ خط لکھا کہ ”اگر آپ مذہب اسلام قبول کرلیں تو خوب ہو، مجھ کو افسوس ہے کہ ایسے سچے مذہب کی طرف جیسا اسلام ہے اب تک آپ مائل نہیں ہوئے ہیں“
اس خط کے جواب میں عبدالمسیح نے جو کچھ لکھا کوئی شخص جب تک خود نہ دیکھ لے اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ اس برگزیدہ راہنمائے خلق یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن مجید و صحابہ کی نسبت وہ الفاظ لکھے کہ سن کر دل کانپ جاتا ہے یہ پورا خط جو
ایک رسالہ کی شکل میں ہے بمقام لندن مطبع گلبرٹ اور روونگٹن، تھوڑے دن ہوئے چھاپا گیا ہے میں نے خود اس کو دیکھا اور ناظرین کو یقین دلاتا ہوں کہ دیکھنے کے وقت ایک ایک حرف پر میرا دل لرز جاتا تھا۔ اگر آج عبد المسیح زندہ ہوتا تو تعزیرات ہند کے اثر سے کبھی نہ بچ سکتا تھا۔ مامون کے سامنے یہ خط پیش ہوا تو اس نے پڑھ کر صرف اتنا کہا کہ:
”جو مذہب دنیا کے کام کا ہے وہ زرتشت کا مذہب ہے اور جو محض آخرت کے لئے مفید ہے وہ عیسائی مذہب ہے لیکن دین و دنیا دونوں کے لئے جو مذہب موزوں ہے وہ اسلام ہے۔
افسوس ہے کہ ان باتوں پر بھی یورپین مصنفین کو تسکین نہیں ہے اور وہ تاریخی تصنیفات میں بھی ہمیشہ بادشاہان اسلام پر ایسے طریقے سے حملہ کر جاتے ہیں جس کی اصل زد اسلام پر پڑتی ہے ناواقف مورخین ایک طرف پامر صاحب جن کی عربیت کا ہم کو بھی اعتراف ہے اور جن کی نظم و نثر عربی و فارسی کا مجموعہ حال میں چھاپا گیا تاریخ ہارون الرشید کے صفحہ 224 میں لکھتے ہیں کہ:
”اس کے بیہودہ درباریوں نے یہ بات اس کے ذہن نشین کر دی تھی بلکہ کل پیرو اسلام اس بات کو اس وقت میں اور کچھ مسلمان اب بھی سمجھتے ہیں کہ کافر کو خدا کی مخلوق ہی نہیں کہا جا سکتا“۔
ہم نہیں جانتے کہ پامر صاحب کو ایسے محیط اور عام اتہام کی جرأت اپنی عامیانہ تاریخ دانی پر کیونکر ہوئی جس تاریخ پر ان کو ناز ہے وہ ہمارے سامنے موجود ہے پامر صاحب اگر یہ بات یاد رکھتے تو اچھا ہوتا کہ جب خدا کی دنیا مسلمان فتح مند کے ہاتھ
میں دے دی گئی تھی جن لوگوں نے ہزاروں لاکھوں چرچ بنوائے اور گرجوں کی حفاظت کا قطعی معاہدہ لکھ دیا وہ خلفائے راشدین تھے جو ہر زمانہ میں مسلمانوں کے راہنمائے کل مانے گئے ہیں کیا عمر بن عبدالعزیز جنہوں نے دمشق کے عامل کو فرمان بھیجا کہ ولید نے گرجے کو توڑ کر مسجد میں جو اضافہ کر لیا تھا وہ ڈھا دیا جائے اور عیسائیوں کو اجازت دی جائے کہ وہ وہاں پھر اپنا گرجا بنالیں، عمر ثانی نہیں تسلیم کئے گئے ہیں اور کیا وہ لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے جائز قائم مقام نہ تھے کیا خاص دولت عباسیہ کے عہد میں دارالخلافت بغداد میں سینکڑوں ہزاروں عظیم الشان گرجے تعمیر نہیں ہوئے جہاں نہایت آزادی سے ہر ایک قسم کی مذہبی رسوم ادا کی جاتی تھی۔
ہم پامر صاحب کے ہم خیال مصنفین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر ان کو شبہ ہو تو دير الروم، دير اشمونی، دير الثعاب، دير ورثا، دير درمالس، دير سمالو ، دير عذازی، دير العارصيه، دير الزرلقيه، دير الزندرود کے حالات معجم البلدان میں پڑھیں۔عضدالدولہ دیلمی کہ دیلمی خاندان کا سرتاج اور خلافت بغداد کی قسمت کا مالک تھا اس کا وزیر اعظم نصر بن ہارون ایک عیسائی رئیس زادہ تھا اس نے عضدالدولہ کی خاص اجازت سے تمام ممالک اسلامی میں چرچ اور گرجے تعمیر کرائے۔ (روضۃ الصفاء ۔ حبیب السیر ذکر سلطنت عضدالدولہ )
...... بغداد میں عیسائیوں کے اور بہت سے گرجے تھے لیکن ہم نے مشہور اور ممتاز گرجوں کے نام لکھے ہیں بعض گرجے خاص خاص تہواروں کے لئے مخصوص تھے جہاں اوقات معینہ پر بڑا مجمع ہوتا تھا اور بڑی شان و شوکت سے عیسائی اپنے مراسم مذہبی ادا کرتے تھے۔
بے شبہ مسلمانوں میں ایسے بھی تنگ دل لوگ گزرے ہیں جو دوسرے مذہبوں کی آزادی کو صدمہ پہنچاتے تھے لیکن یہ شخصی حالتیں ہیں اور ان سے عام رائے کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ ہم کو معلوم ہے کہ علی بن سلمان گورنر مصر نے مصر کے تمام گرجے ڈھا دیئے تھے لیکن اس کے ساتھ ہم اس سے بھی واقف ہیں کہ عیسیٰ بن موسیٰ نے جو خاندان عباسی سے تھا اور 171ء میں مصر کا گورنر مقرر ہوا خاص سرکاری خزانہ سے کل گرجے نئے سرے سے تعمیر کرائے۔
مسلمانوں کی حکومت میں دوسرے مذہب والوں کو جو ملکی عہدے ملتے رہے ہیں کون گورنمنٹ اس سے بڑھ کر دے سکتی ہے تاریخ ابن خلکان، وفات الوفیات میں ہم بہت سے یہودی اور عیسائیوں کے نام پاتے ہیں جو مختلف وقتوں میں بڑے بڑے معزز عہدوں پر فائز رہے آغاز اسلام سے عبدالملک بن مروان کی سلطنت تک شام، عراق کا دفتر رومی و فارسی زبان میں رہا اور اتنی وسیع مدت تک خراج کے محکمہ میں عموماً دوسری ہی قومیں سیاہ و سفید کی مالک تھیں اکبر و جہانگیر کی فیاضیوں کو تو ہندوستان کا ایک ایک بچہ جانتا ہے عام میل جول کے لحاظ سے دیکھو تو تاریخ کے ہر صفحہ میں مسلمانوں کی بے تعصبی کی شہادت ملے گی۔
سینکڑوں عیسائی اور یہودی علماء جو عباسیوں کے دربار میں اٹھتے بیٹھتے تھے ان سے خلفاء کس بے تکلفی اور یگانگت سے ملتے تھے جبرئیل جو ایک عیسائی فاضل تھا اس کو ہارون الرشید نے علاوہ بے شمار جاگیروں اور صلوں کے یہ عزت دی تھی کہ دربار میں جو شخص کوئی حاجت پیش کرنا چاہتا تھا اس کو پہلے جبرئیل کی خدمت میں باضابطہ حاضر ہونا پڑتا تھا اس کا بیٹا بختیشوع جاہ و منزلت کے اس پایہ تک پہنچا کہ لباس
و آرائش میں خلیفہ متوکل ب سلمویہ کی بیماری میں خود کھانا نہیں کھایا اور حکم دیا کہ بغ
خواب کا تذکرہ صاحب کشف صبیعہ نے حنین ب روایت لکھی ہے وہ نامہ دانش
عزیز بخور و شمع کے خلیفہ معتضد باللہ کے دربار تھے صرف وزیر اعظم اور ثابت اجازت تھی۔ ایک دن معتضد تھے کہ دفعتاً معتضد نے ہا ہاتھ اوپر تھا۔ میں نے یہ گستاخی
ابتدا میں مسلمانوں نے کے رتبہ پر پہنچے تو کس سیر چشمی کر دیا ان کا باہمی اخلاص اور ہے علامہ شریف الرضی مذہبی ہیں ابو اسحق صاب نہایت دلی دوست بھی لکھتا زیادہ کیا ہو سکتا ہے کہ علامہ مو
وآرائش میں خلیفہ متوکل باللہ کا ہمسر گنا جاتا تھا۔ خلیفہ المعتصم باللہ حکیم سلمویہ کی بیماری میں خود عیادت کو جاتا تھا اور جب اس نے انتقال کیا تو ایک دن کھانا نہیں کھایا اور حکم دیا کہ اس کا جنازہ دارالخلافہ میں لا کر رکھا جائے اور اس کے اس خواب کا تذکرہ صاحب کشف الظنون نے ذکر حکمت میں اور علامہ بن ابی صبیعہ نے حنین کے ترجمے میں مختلف روایتوں کے ساتھ کیا ہے میں نے جو روایت لکھی ہے وہ نامہ دانشوران ناصری سے لکھی ہے۔
عود بخور و شمع کے ساتھ عیسائیوں کے طریقے کے موافق اس پر نماز پڑھی
خلیفہ معتضد باللہ کے دربار میں جہاں تمام وزراء اور امراء دست بستہ کھڑے رہتے تھے صرف وزیر اعظم اور ثابت بن قرة کو جو ایک صابی المذہب عالم تھا، بیٹھنے کی اجازت تھی۔ ایک دن معتضد اور ثابت بن قرة ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ٹہل رہے تھے کہ دفعتاً معتضد نے ہاتھ کھینچ لیا۔ ثابت ڈر گیا۔ معتضد نے کہا کہ ڈرو نہیں میرا ہاتھ اوپر تھا۔ میں نے یہ گستاخی پسند نہ کی اہل علم کا ہاتھ اوپر ہونا چاہیے۔
ابتدا میں مسلمانوں نے انہی قوموں سے علوم وفنون سیکھے اور جب خود استادی کے رتبہ پر پہنچے تو کس سیر چشمی اور فیاضی سے انکو علم وفنون کی تعلیم دیکر شاگردی کا حق ادا کر دیا ان کا باہمی اخلاص اور آپس میں دوستانہ گرمجوشی آج بھی تعجب سے دیکھی جاتی ہے علامہ شریف الرضی نے جو مسلمانوں کے ایک بڑے فرقے کے پیشوائے مذہبی ہیں ابو اسحق صابی کا ایسا حسرت انگیز مرثیہ لکھا کہ اگر اس کا ہم مذہب اور نہایت دلی دوست بھی لکھتا تو اس سے بہتر، زیادہ درد انگیز اور پر اثر نہ لکھتا اس سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے کہ علامہ موصوف جب کبھی ابو اسحق صابی کے مزار سے
گزرتے تو ہمیشہ اس کی تعظیم کے لئے سواری سے اتر پڑتے تھے اور اس کی قبر کے سامنے سے پیادہ پا گزرتے تھے۔
ہم کو افسوس ہے کہ اس ضمنی بحث کو ہم نے بہت کچھ سمیٹ کر لکھا تاہم موقع اور مقام کی حیثیت سے زیادہ لکھ گئے ناظرین معاف فرمائیں لیکن یہ خیال رکھیں کہ میری بحث کے مخاطب صرف پامر صاحب نہیں ہیں۔ یورپ میں ان کے اور بھی بہت ہم زبان ہیں اس لئے اس بحث کو طول دیا۔ (ماخوذ از المامون والغزالی صفحہ 117)
باب پنجم
قادیانی جماعت
اقلیتی فرقہ......
- تاریخ ساز فیصلہ
- احمدی/ قادیانی غیر مسلم کیوں......؟
- لاہوری جماعت کی وجوہ تکفیر
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف
ضمیر پاک وخیال بلند وذوق لطیف
قادیانی اور
عصر حاضر میں مغرب کی آزاد خیالی اور وسعت نظری یقی بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ اس فک مسلمان پیدا ہو یا اپنے مسلما جائے خواہ وہ اپنے قول وفعل س کھلم کھلا بغاوت کا اعلان ہی کیو دراصل اس باغیانہ روش کی کڑی م اس طرز فکر کا نتیجہ یہ ہ خاتم ﷺ کی رسالت پر ایمان ن جو رسول اکرم ﷺ کی کسی با (معاذ اللہ) ایک ڈاکیہ سے ز کہ قادیانی جماعت اور اس ک حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قادیا ان کے عقائد، ان کا دین، ان ک مسلمہ سے بالکل مختلف ہے ج ایک نئے مذہب اور ایک ن نصوص اور اللہ اور اس کے ر
قادیانی اور لاہوری اقلیتی فرقے ......
عصر حاضر میں مغرب کی ذہنی غلامی اور مرعوبانہ طرز فکر کے سبب جس نام نہاد آزاد خیالی اور وسعت فکری نے فروغ پایا ہے آزاد خیالی جو کہ حقیقت میں اسلام سے بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ اس فکر کے بدترین نتائج میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جو شخص مسلمان پیدا ہو یا اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے اسے بہرصورت مسلمان ہی کہا جائے خواہ وہ اپنے قول وفعل سے اسلام کے بنیادی عقائد سے انحراف اور اسلام سے کھلم کھلا بغاوت کا اعلان ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ مرتد کی سزائے موت سے انکار دراصل اس باغیانہ روش کی کڑی ہے۔
اس طرز فکر کا نتیجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو بھی مسلمان کہا جا رہا ہے جو سرکار دو عالم ﷺ کی رسالت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی مسلمان کہا جا رہا ہے جو رسول اکرم ﷺ کی کسی بات کو واجب الاتباع نہیں سمجھتے ہیں اور آپ ﷺ کو (معاذ اللہ) ایک ڈاکیے سے زیادہ حیثیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ قادیانی جماعت اور اس کے بانی کو کافر کہنے پر مسلمانوں کو مطعون کیا جاتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قادیانیوں کا خارج از اسلام ہونا دو دو چار کی طرح واضح ہے۔ ان کے عقائد، ان کا دین، ان کی جماعت اور ان کا طریق کار غرض ان کی ہر چیز امت مسلمہ سے بالکل مختلف ہے۔ اس فرقہ کا بانی غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے ایک نئے مذہب اور ایک نئے عقیدہ کی داغ بیل ڈال کر قرآن وحدیث کی واضح نصوص اور اللہ اور اس کے رسول کے لائے ہوئے مذہب اسلام سے مکمل طور پر
انحراف کیا ہوا ہے۔ اس شخص نے نبوت کی نت نئی قسمیں ایجاد کر کے ختم نبوت کے اجماعی اور تواتر سے ثابت عقیدہ سے بغاوت کی ہے جبکہ ختم نبوت امت مسلمہ کا بنیادی عقیدہ ہے، اس سے انکار کفر اور ارتداد ہے۔
اسلام کی تاریخ میں مسیلمہ کذاب سے لے کر قادیانی تک سینکڑوں مدعیان نبوت پیدا ہوئے ہیں لیکن پوری تاریخ میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی جسمیں ایسے کذابوں اور ان کے پیروکاروں کو کسی نے مسلمان قرار دینے کا تصور بھی کیا ہو۔ ماضی کی طرح دور جدید میں بھی پوری امت مسلمہ متفقہ طور پر قادیانی عقائد سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتی ہے اور مسلمانوں کا کوئی مکتب فکر ایسا نہیں ہے جو قادیانیوں کو مسلمان سمجھتا ہو پوری امت مسلمہ غلام احمد قادیانی اور اسکے پیروکاروں کے کفر پر متفق ہے۔
مسلمانوں کی عالمی تنظیم ”رابطۃ العالم الاسلامی‘ نے پوری دنیا کی اسلامی تنظیموں کی ایک عظیم کانفرنس مکہ مکرمہ میں منعقد کی تھی جس میں ڈیڑھ سو ممالک سے مسلمانوں کے نمائندے شریک ہوئے تھے۔ اس کانفرنس میں قادیانی جماعت کے عقائد کی علمی تحقیق اور ناقدانہ جائزہ کے بعد کانفرنس کے شرکاء نے متفقہ طور پر قادیانی جماعت کے کفر پر فتویٰ صادر کیا، اور واضح الفاظ میں اس جماعت کے شرپسندانہ عزائم کی قلعی کھول کر مسلمانوں کو متنبہ کیا۔
ذیل میں قرارداد کا ترجمہ پیش خدمت ہے:
قادیانیت ایک سازشی مذہب ہے جو اپنے ناپاک مقاصد کو چھپانے کے لئے اسلام کا نام استعمال کرتا ہے۔ اسلام سے اس مذہب کی مخالفت کے واضح ترین مظاہر درج ذیل ہیں:
- الف...... اس مذہب کا
- ب...... یہ مذہب قرآن
- ج...... اس مذہب نے ج
قادیانیت برطانوی سام میں اس نے پر پرزے نکالے سے غداری کر کے سامراج خلاف اٹھتی ہیں یہ ان کے سا و ریخت اور تحریف کے لئے اس
- الف...... اسلام دشمن قوا
جن میں قادیانیت کے گمراہ کن
- ب...... ایسے مدارس، اد
قادیانیت دشمن اسلام طاقتو سرگرمیاں پھیلاتی ہے اور قاد شدہ نسخے بھی پھیلا رہی ہے۔
قادیانیت کے خطرے س کرتی ہے کہ:
- 1...... ہر اسلامی تنظیم اپنی ا
گاہوں، مدارس، یتیم
درج ذیل ہیں:
- الف……اس مذہب کا بانی نبوت کا دعویدار تھا۔
- ب……یہ مذہب قرآن کی واضح نصوص میں تحریف کرتا ہے۔
- ج……اس مذہب نے جہاد کو منسوخ قرار دیا ہے۔
قادیانیت برطانوی سامراج کا پروردہ مذہب ہے اور اسی کی حمایت کے سائے میں اس نے پر پرزے نکالے ہیں یہی وجہ ہے کہ قادیانیت امتِ مسلمہ کے مسائل سے غداری کر کے سامراج صہونیت کی آلہ کار بنتی رہی ہے اور جو قوتیں اسلام کے خلاف اٹھتی ہیں یہ ان کے ساتھ تعاون کرتی ہے اور انہیں اسلامی عقائد کی شکست و ریخت اور تحریف کے لئے استعمال کرتی ہے جس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ:
- الف……اسلام دشمن قوتوں کی مالی مدد سے ایسی عبادت گاہیں قائم کی جاتی ہیں
جن میں قادیانیت کے گمراہ کن افکار کو پھیلایا جاتا ہے۔
- ب……ایسے مدارس، ادارے اور یتیم خانے کھولے جاتے ہیں جن کے ذریعہ
قادیانیت دشمن اسلام طاقتوں کے مقاصد پورے کرنے کے لئے اپنی تخریبی سرگرمیاں پھیلاتی ہے اور قادیانیت دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن پاک کے تحریف شدہ نسخے بھی پھیلا رہی ہے۔
قادیانیت کے خطرے کے سدباب کے لئے یہ کانفرنس درج ذیل قرارداد منظور کرتی ہے کہ:
- 1……ہر اسلامی تنظیم اپنی اپنی جگہ اس بات کی کوشش کرے گی کہ مسلمانوں کی عبادت
گاہوں، مدارس، یتیم خانوں اور تمام ان جگہوں سے قادیانی سرگرمیوں کو بالکل
روک دیا جائے جہاں یہ لوگ اپنی سیاسی کاروائیاں کرتے ہیں اور عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کے سامنے قادیانیوں کی حقیقت کھول کر بیان کر دی جائے تاکہ مسلمان ان کے جال میں گرفتار نہ ہوسکیں۔
- 2...... اس بات کا واشگاف اعلان کیا جائے کہ یہ گروہ کافر اور اسلام سے باغی ہے۔
- 3...... قادیانیوں یا احمدیوں کے ساتھ کسی قسم کا عملی تعاون روا نہ رکھا جائے۔ معاشی،
اجتماعی اور ثقافتی سطح پر ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ ان کے ساتھ شادی بیاہ کا تعلق قائم نہ کیا جائے، انہیں مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ کیا جائے اور تمام معاملات میں ان کے ساتھ کافروں کا سلوک کیا جائے۔
- 4...... تمام اسلامی حکومتوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد کے تمام
متبعین کی تمام سرگرمیوں کو روک دیں۔ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیں اور انہیں ملک کے کلیدی عہدوں تک نہ پہنچنے دیں۔
- 5...... قادیانیت نے قرآن پاک میں جو تحریفیں کی ہیں، ان کی تصویریں اور کاپیاں
شائع کی جائیں۔ تاکہ لوگ ان سے باخبر ہو سکیں اور قادیانیوں نے قرآن پاک کے جو ترجمے شائع کیئے ہیں۔ انہیں صرف لفظی ترجمے کی حد تک محدود کرایا جائے اور ان ترجموں کی اشاعت پر پابندی لگائی جائے۔
- 6...... جتنی جماعتیں اسلام سے منحرف ہیں ان سب کے ساتھ قادیانیوں جیسا معاملہ
کیا جائے۔ (عصر حاضر میں اسلام کیسے نافذ ہو۔ ص 676)
رابطہ عالم اسلامی کی درج بالا قرارداد کرہ ارض کے تمام مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ درحقیقت علماء اور محققین امت کا اجماعی فتویٰ ہے۔ اس اعتبار سے قادیانی گروہ کے کفر کو ثابت کرنے کے لئے مزید ناقدانہ جائزے اور دلائل و براہین کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن قارئین کی دلچسپی کے لئے اور درج بالا اجماعی فیصلے کو مؤکد کرنے کی غرض سے قادیانیوں کے چیدہ چیدہ کفریہ عقائد کو اختصار کے ساتھ عرض کرتے ہیں:
- 1...... دعوائے نبوت کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ (دافع البلاء طبع سوم قادیان
1946ء ص 11)
میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ (تتمۃ حقیقۃ الوحی ص 68 مطبوعہ قادیان 1934)
میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔ (نزول مسیح ص 3 طبع اول مطبع قادیان 1909)
میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بہ چشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کرسکتا ہوں، اور جبکہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کروں یا اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص 8 مطبوعہ قادیان 1901)
خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف
منسوب کئے ہیں میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں عیسیٰ ہوں میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر اتم ہوں، یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔ (حاشیہ حقیقۃ الوحی ص 72 مطبوعہ قادیان 1934ء)
ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ (اخبار بدر 5 مارچ 1908ء مندرجہ حقیقۃ النبوۃ)
انبیاء اگرچہ بہت سے ہوئے ہیں مگر میں معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں۔
(نزول المسیح ص 97 طبع اول قادیان 1909ء)
میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں؟ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔ (اخبار عام 26 مئی 1908ء منقول از حقیقۃ النبوۃ مرزا محمود ص 271)
- 2...... مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن کریم میں بہت سی جگہوں پر تحریفات کی
ہیں اور اس شخص نے یہاں تک جسارت کی ہے کہ وہ آیات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازل ہوئیں تھیں ان کو اپنے حق میں قرار دیا اور جو القاب اور امتیازات آنحضرت ﷺ کے لئے قرآن پاک نے بیان فرمائے تھے وہ سب کے سب اپنے لئے مخصوص کرتا ہوا یہ دعویٰ کیا کہ اس کو یہ استحقاق بذریعہ وحی ملا ہے اور جسارت یہاں تک ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ یہاں تک دعویٰ کرتا ہے کہ اس پر نازل ہونے والی وحی قرآن کے برابر ہے۔ اپنے فارسی قصیدہ میں اپنی مدح سرائی کرتا ہوا
دعویٰ کرتا ہے، ترجمہ پیش خدمت ہے: خدا کی وحی جو میں سنتا ہوں خدا کی قسم ! میں اسے ہر غلطی سے پاک سمجھتا ہوں، قرآن پاک کی طرح اسے تمام غلطیوں سے پاک یقین کرتا ہوں یہی میرا ایمان ہے۔
(نزول المسیح ص 99 مطبوعہ قادیان 1909ء)
- 3...... مسلمان انبیاء کرام پر ایمان لانے اور ان کی تعظیم وتکریم کو اپنا جزو ایمان
سمجھتے ہیں پیغمبر پاک ﷺ اگر چہ تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں لیکن آپ نے کبھی بھی انبیاء کرام کی شان میں ناشائستہ جملہ ارشاد نہیں فرمایا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی انسانی پستیوں کے قعر مذلت میں کھڑا ہو کر انبیاء کرام کی شان میں گستاخیاں کرتا ہے۔
ایک مثال ملاحظہ فرمائیں:
مجھے کئی سال سے ذیا بیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ روز پیشاب آتا ہے اور بعض اوقات سو سو دفعہ ایک دن میں پیشاب آتا ہے ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں ہے۔ میں نے جواب دیا کہ اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی ۔
(نسیم دعوت ص 69 مطبوعہ قادیان 1936ء)
- 4...... جہاد منسوخ ہونے اور تاقیامت جہاد کا حکم اٹھ جانے پر مرزا قادیانی کس
شدومد سے زور دیتا ہے درج ذیل عبارات سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے:
آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے
پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں ہماری طرف سے امان اور صلح کا جھنڈا بلند کیا گیا۔ (ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص 28)
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ و قتال
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو رکھتا ہے یہ اعتقاد
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص 39، تبلیغ رسالت ج 9 ص 49)
اب سے زمینی جہاد بند کیئے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔
(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص 17 مطبوعہ ربوہ)
- 5...... مرزائی لوگ اپنے اس عقیدہ کا برملا اعلان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ
کے بعد نبیوں کی آمد کا سلسلہ بند نہیں ہوا ہے بلکہ آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں۔
مرزا بشیر الدین محمود لکھتا ہے:
اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ ﷺ کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔
(انوار خلافت ص 65 مصنفہ محمود احمد)
نافذ العمل قانون میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ساتھ ساتھ قادیانی جماعت کی ایک شاخ لاہوری جماعت کو بھی کافر قرار دیا گیا ہے۔ لاہوری جماعت جس کا بانی محمد علی لاہوری ہے، یہ جماعت بہ کثرت یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور پیغمبر نہیں مانتی ہے بلکہ مسیح موعود اور مجدد مانتی ہے اسلئے عقیدہ ختم نبوت سے انکار نہ کرنے کے سبب اس پر کفر کا فتویٰ نہ لگنا چاہئے۔
اس دلیل کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ جس شخص کا دعوائے نبوت دو دو چار کی طرح جھوٹ ثابت ہو چکا ہو اور جس کے کفر پر تمام امت مسلمہ کا اجماع ہو، اس کو صرف نبی ہی نہیں سچا اور واجب الاتباع سمجھنا بھی صریح کفر ہے۔ چہ جائیکہ اس کو مسیح موعود، مہدی معہود، مجدد اور محدث و صاحب الہام تسلیم کیا جائے جیسا کہ لاہوری جماعت تسلیم کرتی ہے۔
- 1...... واقعہ یہ ہے کہ عقیدہ کے اعتبار سے ان دونوں جماعتوں میں کوئی فرق
نہیں ہے۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی حیات میں اور اس کے بعد اس کے خلیفہ اول حکیم نور الدین کے انتقال تک جماعت قادیان اور جماعت لاہور کوئی الگ جماعتیں نہ تھیں۔ اس پورے عرصہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام متبعین خواہ مرزا بشیر الدین ہو یا محمد علی لاہوری سب کے سب پوری آزادی کے ساتھ اور ڈنکے کی چوٹ غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول کہتے تھے اور اس کا عقیدہ رکھتے تھے۔ محمد علی لاہوری عرصہ دراز تک قادیانی رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ کا ایڈیٹر رہا ہے۔ اس دوران وہ باقاعدگی کے ساتھ غلام احمد قادیانی کے لئے نبی اور رسول کا لفظ استعمال کرتا رہا، اور اس کی نبوت کو بے ڈھنگے دلائل کے ذریعہ ثابت کرنے کی کوشش میں ایڑی چوٹی کا زور بھی لگاتا رہا۔
اس کے ایسے مضامین کو اگر جمع کیا جائے تو ایک موٹی کتاب بن سکتی ہے۔ نمونہ کے لئے دو اقتباسات پیش خدمت ہیں:
آنحضرت ﷺ کے بعد خدا نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کردیئے مگر آپ کے متبعین کامل کے لئے جو آپ کے رنگ میں رنگیں ہو کر آپ کے اخلاق کاملہ سے نور حاصل کرتے ہیں ان کے لئے یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔
(ریویو آف ریلیجنز ج 5 ص 186 مطبوعہ احمدیہ کتاب گھر قادیان)
جس شخص (قادیانی) کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے مامور اور نبی بنا کر بھیجا ہے وہ شہرت پسند نہیں ہے بلکہ ایک عرصہ دراز تک جب تک اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نہیں دیا کہ وہ لوگوں سے بیعت توبہ لیں آپ کو کسی سے کچھ سروکار نہیں تھا اور سالہا سال تک گوشہ خلوت سے باہر نہیں نکلے۔ یہی سنت قدیم سے انبیاء کی چلی آئی ہے۔ (ریویو آف ریلیجنز ج 5 ص 131، 132)
- 2........ پیغام صلح جو لاہوری جماعت کا نمائندہ اخبار ہے، اس کی 16 اکتوبر
1913ء کی اشاعت میں پوری جماعت کی طرف سے اجتماعی حلفیہ بیان شائع ہوا:
معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی سیدنا و ہادینا حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود، مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت میں اخبار کے ساتھ تعلق ہے خدا تعالیٰ کو جو دلوں کا بھید جاننے والا ہے حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔
ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی اور نجات دہندہ مانتے ہیں ۔ (پیغام صلح 16 اکتوبر 1913ء بحوالہ ماہنامہ فرقان )
درج بالا شواہد اور حلفیہ بیان لاہوری جماعت کے اصل عقائد کی قلعی کھولتے ہیں لفظی ہیر پھیر کے باوجود معنی کی وحدت پر دونوں متفق ہیں، جبکہ لفظی ہیر پھیر کا متوازی راستہ محمد علی لاہوری نے اس وقت اختیار کیا جب مرزا غلام احمد قادیانی کا خلیفۂ اول حکیم نور الدین کے انتقال کے بعد سریر خلافت مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کے حصہ میں آئی تو فرط عتاب میں محمد علی لاہوری قادیان سے نقل مکانی کر کے لاہور آیا اور یہاں اپنی الگ جماعت کی داغ بیل ڈالی ۔ جماعت کی وجہ تاسیس عقائد نہیں سیاسی اور قائدانہ نوعیت کے مفادات تھے ۔ جس کے لئے محمد علی لاہوری کو لفظی ہیر پھیر کی حد تک پینترا بدلنا پڑا ورنہ واقع میں دونوں کے عقائد میں کوئی تفاوت نہیں ہے۔
چند مابہ الاتفاق عقائد درج ذیل ہیں :
- الف ...... جس طرح قادیانی جماعت مرزا غلام احمد کے الہام کو حجت اور واجب
الاتباع سمجھتی ہے اسی طرح لاہوری جماعت بھی سمجھتی ہے ۔
- ب ...... قادیانی جماعت جس طرح مرزا غلام احمد کے تمام کفریات کی تصدیق کرتی
ہے اور ان پر ایمان لانے کو واجب سمجھتی ہے اسی طرح لاہوری جماعت بھی انہیں واجب التصدیق سمجھتی ہے ۔
- ج ...... جس طرح قادیانی جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کو اپنے لئے سند اور
ماخذ سمجھتی ہے اسی طرح لاہوری جماعت بھی سمجھتی ہے ۔ بالکل اسی طرح جس
طرح مسلمان قرآن پاک کو اپنے لئے حجت اور سند سمجھتے ہیں۔
- ۵...... جس طرح قادیانی جماعت مرزا غلام احمد کو نبی نہ ماننے والوں کو کافر کہتی ہے اسی
طرح لاہوری جماعت بھی انہیں کافر کہتی ہے۔ ان دونوں جماعتوں میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ صرف الفاظ کے ہیر پھیر کی حد تک ہے ورنہ حقیقت میں دونوں ایک ہیں۔ لفظی ہیر پھیر مثلاً یہ ہے کہ قادیانی جماعت مرزا غلام احمد کے لئے لفظ ”نبی“ اور ”رسول“ استعمال کرتی ہے جبکہ لاہوری جماعت اس کے لئے لفظ ”مجدد“، ”صاحب الہام“، ”محدث“ استعمال کرتی ہے جبکہ واقع میں ان الفاظ سے لاہوری جماعت وہی مفہوم لیتی ہے جو مفہوم قادیانی جماعت ”نبی“ اور ”رسول“ سے لیتی ہے۔ محمد علی لاہوری کی کتاب ”النبوۃ فی الاسلام“ جو علیحدگی کے بہت بعد لکھی گئی ہے اس سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں: در حقیقت جو کچھ فرمایا ہے (یعنی مرزا غلام احمد نے جو کچھ کہا ہے) گو اس کے الفاظ میں تھوڑا تھوڑا تغیر ہو مگر ماحصل سب کا ایک ہی ہے یعنی یہ کہ اول فرمایا کہ صاحب خاتم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ پھر فرمایا کہ صاحب خاتم ہونے سے مراد ہے کہ اسکی مہر سے ایک ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔ اب امتی ہونے کے معنی یہی ہیں کہ کامل اطاعت آنحضرت کی بجالائے اور اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کی محبت میں فنا کر دیا جائے تب آپ ﷺ کے فیض سے ایک قسم کی نبوت بھی مل سکتی ہے وہ نبوت کیا ہے؟ اس کو آخر میں جا کر صاف حل کر دیا ہے کہ وہ ایک ظلی نبوت ہے
جس کے معنی ہیں فیض محمدی گی۔ (النبوۃ فی الاسلام ص 153 مطبوعہ اس کتاب کی دوسری جگہ تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں کیو ذریعہ سے ہے اور اسی کا مظہر ہے حضرت (مرزا غلام احمد (سایہ) ہے پس ان کی بیوی ........... حضرت مسیح موعود ( میں منعکس ہے۔ (مباحثہ راولپنڈ
لاہوری جماعت اور قادی کافر کہتی ہیں۔ مسلمانوں کو کا ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنے غیر احمدی کے پیچھے نماز تکفیر کرنے والے اور لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے
جس کے معنی ہیں فیض محمدی سے وحی پانا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ قیامت تک باقی رہے گی ۔
(النبوۃ فی الاسلام ص 153 مطبوعہ لاہور)
اس کتاب کی دوسری جگہ پر لکھتا ہے:
تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اسکی شریعت خاتم الشرائع ہے مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے یعنی اس کا ظل ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہے اور اسی کا مظہر ہے۔
(النبوۃ فی الاسلام ص 150 مطبوعہ لاہور)
حضرت (مرزا غلام احمد) آنحضرت ﷺ کے ظلال میں سے ایک کامل ظل (سایہ) ہے پس ان کی بیوی اس لئے ام المؤمنین ہے اور یہ بھی ظلی طور پر مرتبہ ہے .............. حضرت مسیح موعود (غلام احمد) نبی نہیں ہے مگر آنحضرت ﷺ کی نبوت ان میں منعکس ہے۔
(مباحثہ راولپنڈی ص 196)
لاہوری جماعت اور قادیانی جماعت دونوں مرزا غلام احمد کو نبی نہ ماننے والوں کو کافر کہتی ہیں۔ مسلمانوں کو کافر سمجھنے کے سبب یہ لوگ مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے، ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنے اور انکی نماز جنازہ پڑھنے کو حرام سمجھتے ہیں۔
غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں مرزا غلام احمد لکھتا ہے:
تکفیر کرنے والے اور تکذیب کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہیں اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یاد رکھو کہ جیسے خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے
اوپر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی منکر اور مکذب یا کسی متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔
(تحفہ گولڑویہ ص 28 مطبوعہ ربوہ)
غیر احمدیوں کے ساتھ شادی بیاہ کا تعلق قائم رکھنے کے حوالہ سے مرزا بشیر الدین محمود لکھتا ہے:
حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے، آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں کو نہ دو۔
(انوار خلافت ص 94 مطبوعہ امرتسر)
غیر احمدیوں کی نماز جنازہ پڑھنے کے حوالہ سے مرزا بشیر الدین محمود لکھتا ہے:
اب ایک سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے اس لئے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھنی چاہیئے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ بھی نہ پڑھا جائے؟ وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں ہے۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھی جاتی؟ اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔
(انوار خلافت ص 93 مطبوعہ امرتسر)
اسی لئے مرزا غلام احمد کا پیروکار چودھری ظفر اللہ خان ، سابق وزیر خارجہ پاکستان، نے قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی کیونکہ قادیانیوں کے بقول:
”وہ کافر اور مکذب تھے“
قادیانی اخبار ”الفضل“ لکھتا ہے:
کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابو طالب بھی قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے مگر نہ مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا اور نہ رسول خدا نے ۔ (الفضل 28 اکتوبر 1952ء)
واقعہ یہ ہے کہ قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت دونوں کے عقائد، مذہب، امت اور افکار .... غرض ہر چیز مسلمانوں سے نہ صرف مختلف بلکہ بالکل متضاد ہے، ان کا امت مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اپنی یہ حیثیت خود مرزائیوں کو مسلم ہے کہ ان کا اور مسلمانوں کا مذہب ایک نہیں ہے اور وہ مسلمانوں سے بالکل الگ ایک مستقل امت ہیں مرزا بشیر الدین محمود نے فرنگی سرکار سے مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک مستقل اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
مرزا بشیر الدین محمود کہتا ہے: میں نے اپنے نمائندے کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کیئے جائیں۔ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی مذہبی فرقہ ہیں جس طرح ان کے حقوق الگ تسلیم کئے گئے ہیں اسی طرح ہمارے بھی تسلیم کئے جائیں۔ (الفضل اخبار 13 نومبر 1946)
آئین اور نافذ العمل قانون میں قادیانی اور لاہوری جماعتوں کو مستقل غیر مسلم اقلیت قرار دینا دراصل مرزائیوں کی دیرینہ خواہش کے مطابق ہے۔ ایک اقلیتی گروہ کی حیثیت سے ملک میں ان کے حقوق بھی محفوظ ہو گئے اور انہیں مسلمانوں کا ایک گروہ سمجھنے کا اشتباہ بھی رفع ہوا۔
دفعہ 298 - ب اور 298 - ج دونوں دراصل رفع اشتباہ اور مرزائی مذہب اور مذہب اسلام میں امتیاز قائم کرنے کے لئے وضع کی گئی ہیں مندرجہ دفعات کے
مطابق تمام وہ القاب، خطابات اور شعائر جو اسلام کی خصوصیات ٹھہری ہیں از روئے قانون مرزائیوں کے لئے ان کا استعمال ممنوع اور مستوجب تعزیر قرار دیا گیا ہے۔
دفعہ 298-ب کے مطابق:
- الف......کوئی مرزائی اپنے کسی فرد کو علاوہ خلیفہ یا پیغمبر حضرت محمدﷺ کے مصاحب
کے بطور امیر المؤمنین خلیفة المؤمنین، خلیفة المسلمين، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے حوالہ دے یا خطاب کرے۔
- ب......کوئی مرزائی علاوہ زوجہ پیغمبر حضرت محمد کے بطور ام المؤمنین کے حوالہ دے یا
خطاب کرے۔
- ج......اپنی عبادت گاہ کو بطور مسجد کے حوالہ دے، نام لے یا پکارے۔
- د......اپنے عقیدہ میں پیروی کردہ عبادت کے لئے بلانے کے لئے کسی طریقہ یا شکل کو
بطور اذان کے حوالہ دے، یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں۔
تو اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی سزائے قید دی جائے گی جس کی مدت تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
دفعہ 298-ج کے مطابق:
مرزائیوں کا اپنے عقیدہ اور مذہب کا کسی بھی شکل میں بطور اسلام کے حوالہ دینا یا اس کو اسلام سے تعبیر کرنا ممنوع ہے اور مستوجب تعزیر ہے جس کی سزا تین سال تک بمعہ جرمانہ ہو سکتی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
جو اسلام کی خصوصیات ٹھہری ہیں از روئے وع اور مستوجب تعزیر قرار دیا گیا ہے۔
خلیفہ یا پیغمبر حضرت محمد ﷺ کے مصاحب المؤمنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا ب کرے۔
کے بطور ام المؤمنین کے حوالہ دے یا ے، نام لے یا پکارے۔
لئے بلانے کے لئے کسی طریقہ یا شکل کو اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں۔ کی سزائے قید دی جائے گی جس کی مدت مستوجب ہوگا۔
سی بھی شکل میں بطور اسلام کے حوالہ دینا یا موجب تعزیر ہے جس کی سزا تین سال تک
والصواب
تاریخ ساز فیصلہ ......
19 شعبان 94 تاریخ میں ایک یادگار دن اسمبلی سے وہ سنگین اور ناخ اسلام کو تشویش اور اضطرا ایک رستے ہوئے ناسور کی سیاسی سطح پر بھی عالم اسلام کی شرانگیزیوں کا مؤثر سدب اور قانونی طور پر تسلیم کر کے دنیا میں اگر کوئی نیا مذھ لہٰذا اگر قادیانیت واقعے کے کی حیثیت میں پیش کرتی تو اور سچائی کا یہ سیدھا راستہ اخ اپنی صحیح حیثیت واضح کرنے متعارف کرایا واقعات کی اس پہنچائے وہ اب انتہائی سنگین کی تباہ کاریاں اس نقطے تک قرامطہ کے فتنے میں ملتی ہے
دنیا میں اگر کوئی نیا مذہب پیدا ہوتا ہے تو اسے روکنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ لہٰذا اگر قادیانیت واقعے کے مطابق اپنے آپ کو اسلام سے الگ ایک مستقل مذہب کی حیثیت میں پیش کرتی تو معاملہ اتنا سنگین نہ ہوتا۔ لیکن اس نئے مذہب نے انصاف اور سچائی کا یہ سیدھا راستہ اختیار کرنے کے بجائے دجل وفریب کا راستہ اختیار کیا اور اپنی صحیح حیثیت واضح کرنے کے بجائے اپنے آپ کو اسلام ہی کے نام سے دنیا میں متعارف کرایا واقعات کی اس غلط تعبیر نے عالم اسلام کو جو پے در پے شدید نقصانات پہنچائے وہ اب انتہائی سنگین نوعیت اختیار کر گئے تھے اور دنیائے اسلام میں قادیانیت کی تباہ کاریاں اس نقطے تک پہنچ گئی تھیں جس کی نظیر تاریخ اسلام میں شاید صرف قرامطہ کے فتنے میں ملتی ہے۔
تاریخ ساز فیصلہ
19/ شعبان 1394ھ مطابق 7/ ستمبر 1974ء کا دن پاکستان بلکہ اسلام کی تاریخ میں ایک یادگار دن شمار ہوگا اس مبارک دن میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی قومی اسمبلی سے وہ سنگین اور نازک مسئلہ طے کرا دیا جس نے تقریباً نوے سال سے عالم اسلام کو تشویش اور اضطراب میں مبتلا کیا ہوا تھا۔ قادیانیت نے عالم اسلام کے جسم پر ایک رستے ہوئے ناسور کی شکل اختیار کر لی تھی اور وہ نہ صرف مذہبی بلکہ معاشی اور سیاسی سطح پر بھی عالم اسلام کے مفادات کو مسلسل تباہ کن نقصانات پہنچا رہی تھی۔ اور اس کی شرانگیزیوں کا موثر سدباب اس کے بغیر ممکن نہیں تھا کہ ان کی صحیح حیثیت کو آئینی اور قانونی طور پر تسلیم کر کے اس کا واضح اعلان کیا جائے۔
دنیا میں اگر کوئی نیا مذہب پیدا ہوتا ہے تو اسے روکنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ لہٰذا اگر قادیانیت واقعے کے مطابق اپنے آپ کو اسلام سے الگ ایک مستقل مذہب کی حیثیت میں پیش کرتی تو معاملہ اتنا سنگین نہ ہوتا۔ لیکن اس نئے مذہب نے انصاف اور سچائی کا یہ سیدھا راستہ اختیار کرنے کے بجائے دجل و فریب کا راستہ اختیار کیا اور اپنی صحیح حیثیت واضح کرنے کے بجائے اپنے آپ کو اسلام ہی کے نام سے دنیا میں متعارف کرایا واقعات کی اس غلط تعبیر نے عالم اسلام کو جو پے در پے شدید نقصانات پہنچائے وہ اب انتہائی سنگین نوعیت اختیار کر گئے تھے اور دنیائے اسلام میں قادیانیت کی تباہ کاریاں اس نقطے تک پہنچ گئی تھیں جس کی نظیر تاریخ اسلام میں شاید صرف قرامطہ کے فتنے میں ملتی ہے۔
اسی بناء پر مسلمانوں کی طرف سے سالہا سال سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام متبعین کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر دنیا پر ان کی صحیح حیثیت واضح کر دی جائے۔ یہ مطالبہ غیر منقسم ہندوستان ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ امام العصر حضرت علامہ انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے بطور خاص چن لیا تھا۔ انھوں نے اپنی عمر کے آخری دور میں ملک کے طول و عرض میں تبلیغی دورے کر کے مسلمانوں کو اس شدید خطرے سے آگاہ کیا اور علمی سطح پر اس فتنے کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیئے۔ ان تبلیغی دوروں میں حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوریؒ، حضرت مولانا بدر عالم صاحب میرٹھیؒ، حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلویؒ، حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ اور احقر کے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مدظلہم العالی ان کے رفیق تھے، اور ان ہی حضرات کی پیہم کوششوں سے 1935ء کے مقدمہ بہاولپور میں پہلی بار قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا عدالتی سطح پر اعلان کیا گیا۔
علامہ اقبال مرحوم جنھوں نے ختم نبوت کے مسئلہ پر حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ ہی سے علمی استفادہ کیا تھا اور دوسرے بہت سے مسلمان رہنما قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے مسلسل کوشاں رہے لیکن یہ سب حضرات یہ مطالبہ ایک ایسی حکومت سے کر رہے تھے جس نے مرزائیت کا یہ پودا اپنے ہاتھوں سے کاشت کیا تھا اور جو مسلسل اس نئے مذہب کی پیٹھ تھپکنے کی پالیسی پر کاربند تھی۔ اس لئے ان حضرات کے مطالبے صدا بصحرا ثابت ہوئے اور ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔
پاکستان بننے کے بعد یہ مطالبہ از سر نو شروع ہوا اور 1953ء میں اسی کی خاطر
ہزار ہا مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں، لیکن ستائیس سال کے اس عرصے میں حکمرانوں کی غفلت اور لاپروائی کے نتیجے میں یہ مطالبہ پورا نہ ہوسکا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت موجودہ حکومت کی قسمت میں لکھی تھی چنانچہ 7 ستمبر کی شام کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے یہ تاریخ ساز آئینی ترمیم منظور کر لی۔
اسی آئینی ترمیم کے ذریعہ مندرجہ ذیل امور کی اطمینان بخش وضاحت ہوگئی ہے:
- 1....... آئین کی دفعہ 106 کی شق نمبر 3 جہاں صوبائی انتخابات کی نشستوں کے لئے
اقلیتوں کے نام درج ہیں، وہاں مندرجہ ذیل الفاظ بڑھا دیئے گئے ہیں۔ ”اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں“ اس طرح مرزائیوں کے دونوں گروپوں کو اقلیت قرار دے دیا گیا ہے۔
- 2....... دفعہ 260 نمبر 2 کے مندرجہ ذیل نئی شق کا اضافہ کیا گیا ہے:
- 3....... جو شخص خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ کے آخری نبی ہونے پر قطعی اور غیر مشروط
طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمدﷺ کے بعد کسی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے۔ وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔“
- 4....... ایک متفقہ قرارداد کے ذریعہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 الف میں
حسب ذیل تشریح درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
”کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ 260 کی شق نمبر 3 کی تصریحات کے مطابق حضرت محمدﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہوگا، اس طرح مسلمانوں
کے لئے قادیانی مذہب اختیار کرنے کو قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔
- 5...... قومی رجسٹریشن ایکٹ 1973ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد 1947ء مجوزہ
قانونی اور ضابطے کی ترمیمات کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ شناختی کارڈوں پر مرزائیوں کو یہ تصریح کرنی ہوگی کہ وہ قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان تاریخ ساز ترمیمات کے ذریعہ مسلمانوں کا یہ متفقہ مطالبہ جس واضح اور غیر مبہم انداز میں پورا ہو گیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ عرصہ دراز کے بعد اس اعلان نے مسلمانوں کو وہ سچی مسرت عطا کی ہے جو قلب و روح کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے۔ اس کارنامے پر پارلیمنٹ کے تمام اراکین پوری قوم کی طرف سے دلی مبارکباد اور گرم جوش خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام کی ایک ایسی عظیم خدمت کی توفیق عطا فرمائی ہے جو اسلام کی تاریخ میں انشاء اللہ ہمیشہ یادگار رہے گی اس موقعہ پر ملک بھر کے عوام، علماء اور ہر شعبہ زندگی کے افراد نے جس مکمل اتحاد کا مظاہرہ کیا اور اپنے جذبات کے اظہار میں جس نظم و ضبط، صبر و تحمل اور امن پسندی کا ثبوت دیا وہ اس ملک کی تاریخ کا ایک مثالی واقعہ ہے اور یہ درحقیقت اسی ہوش مندانہ طرز عمل کا ثمرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے مسئلے کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ طے کرا دیا جو برسوں سے الجھا پڑا تھا۔
نا انصافی ہوگی اگر یہاں وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی کے تدبر کو بطور خاص خراج تحسین پیش نہ کیا جائے جنھوں نے اس مسئلہ کی نزاکت و اہمیت کو سمجھا اور اس کے حل کے لئے ایسا خوبصورت طریقہ اختیار کیا جو ہر لحاظ سے پائیدار
اور پوری دنیا کے لئے واجب التسلیم ہو ہمیں خوشی ہے کہ قوم نے وزیراعظم کے اس کارنامے کے اعتراف میں کسی بخل سے کام نہیں لیا۔ اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ حکومت کو اس کی غلط کاریوں پر ٹوکنے کے ساتھ ساتھ اس کے قابل تعریف کارناموں کو کھلے دل سے سراہنے کی بھی پوری صلاحیت رکھتی ہے اور اگر حکومت ملک و ملت کی صلاح وفلاح کے لئے سیدھا راستہ اختیار کرے تو یہ قوم اسے آنکھوں پر بٹھا سکتی ہے۔
اس تاریخی اقدام کا ایک لازمی فائدہ یہ ہوا ہے کہ اس کی وجہ سے حکومت عوام کے اور قریب آگئی ہے اور دونوں کے دلوں میں جو فاصلے تھے وہ اور کم ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حکومت، اپوزیشن اور عوام سب کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ اس باہمی اعتماد، مفاہمت، اور یگانگت کی فضا کو برقرار رکھیں۔ اسی طرح ملک کو درپیش تمام مسائل آسانی سے حل ہو سکتے ہیں اور پاکستان کو صحیح معنی میں اسلامی نظام زندگی کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب (ماخوذ از عصر حاضر میں اسلام کیسے نافذ ہو)
کتابیات
- 1 قرآن پاک ................................................................ ..
- 2 تفسیر ابن کثیر ۔ علامہ ابن کثیر .................................................... ..
- 3 الجامع لاحکام القرآن ۔ امام ابو عبد اللہ قرطبی .................................... ..
- 4 احکام القرآن للجصاص ۔ امام ابو بکر جصاص ...................................... ..
- 5 تفسیر کبیر ۔ امام فخر الدین رازیؒ ............................................ ..
- 6 معارف القرآن ۔ مفتی محمد شفیع (مفتی اعظم پاکستان) .............................. ..
- 7 صحیح البخاری ................................................................ ..
- 8 صحیح مسلم ................................................................ ..
- 9 سنن ابی داؤد ................................................................ ..
- 10 سنن النسائی ................................................................ ..
- 11 مشکوۃ المصابیح ................................................................ ..
- 12 جامع الترمذی ................................................................ ..
- 13 سنن ابن ماجہ ................................................................ ..
- 14 شرح معانی الآثار ۔ امام طحاویؒ ................................................ ..
- 15 معارف السنن ۔ مولانا محمد یوسف بنوریؒ .......................................... ..
- 16 بذل المجہود ۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری ........................................ ..
- 17 فتح الباری ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ............................................ ..
- 18 مصنف
- 19 زاد ال
- 20 تکم
- 21 التف
- 22 رد الم
- 23 فتح الق
- 24 فتاویٰ
- 25 المہند
- 26 السن
- 27 الصل
- 28 الف
- 32 نفائس
- 33 مجموعہ ف
- 34 پاکستان
- 35 قادیانی ف
- 36 بدائع الص
- 18 مصنف عبدالرزاق۔ حافظ ابوبکر عبدالرزاق
- 19 زاد المعاد۔ امام ابن قیمؒ
- 20 تکملۃ فتح الملہم۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی
- 21 الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ قاضی عیاضؒ
- 22 رد المحتار۔ امام ابن عابدینؒ
- 23 فتح القدیر، امام ابن ہمام حنفیؒ
- 24 فتاویٰ عالمگیریہ۔ مولانا نظامؒ مع رفقاء
- 25 الشہاب الثاقب۔ علامہ شبیر احمد عثمانی
- 26 السراج المنیر
- 27 الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول۔ امام ابن تیمیہؒ
- 28 الفقہ الاسلامی و ادلتہ۔ ڈاکٹر وہبہ زحیلی
- 29 کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعۃ۔ امام عبدالرحمٰن جزائری
- 30 اکفار الملحدین۔ علامہ انور شاہ کشمیری
- 31 عصر حاضر میں اسلام کیسے نافذ ہو۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی
- 32 نفاذ شریعت اور اس کے مسائل۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی
- 33 مجموعہ قوانین اسلام۔ ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن
- 34 پاکستان پینل کوڈ
- 35 قادیانی فتنہ اور ملت اسلامیہ کا موقف۔ مفتی محمد تقی عثمانی ، مولانا سمیع الحق اکوڑہ خٹک
- 36 بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع۔ امام ابوبکر بن مسعود کاسانی
- 37 ہدایہ، امام برہان الدین علی بن محمد مرغینانی
- 38 اسلامی عدالت۔ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی
- 39 فتاویٰ محمودیہ۔ مفتی محمود الحسن گنگوہی
- 40 الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی
- 41 الفتاویٰ التاتارخانیۃ۔ امام عالم بن علاء دہلوی
- 42 البحر الرائق۔ امام ابن نجیم
- 43 فتاویٰ دارالعلوم دیوبند۔ مفتی محمد شفیع
- 44 احکام القرآن۔ مفتی محمد شفیع
- 45 الفاروق۔ مولانا شبلی نعمانی
- 46 المامون والغزالی۔ مولانا شبلی نعمانی
- 47 معجم لغۃ الفقہاء۔ ڈاکٹر رواس قلعہ جی اور ڈاکٹر حامد صادق قنیبی
- 48 التفرقۃ بین الزندقۃ والاسلام۔ امام غزالی
- 49 کلیات اقبال۔ ڈاکٹر اقبال
- 50 سیر الصحابۃ
- 51 ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی
- 52 امداد الاحکام۔ مولانا ظفر احمد عثمانی
- 53 جواہر الفقہ۔ مفتی محمد شفیع
- 54 امانی الاحبار شرح معانی الآثار۔ مولانا محمد یوسف بن مولانا محمد الیاس
- 55 قانونی ڈکشنری۔ ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن
- 56 ک
- 57 اس
- 58
- 59
- 60 الت
- 61 کتا
- 62 تاریخ ا
- 63 مجلۃ ا
- 64 المہن
- 65 امدا
- 66
- 67
- 68
- 56 کریمینل میجر ایکٹ
- 57 اسلامک جیورس پروڈنس، سر عبدالرحیم
- 58 قانون التشریع الجنائی ۔ ڈاکٹر عبدالقادر عودۃ
- 59 مرقاۃ شرح مشکاۃ ۔ ملا علی قاریؒ
- 60 التاریخ الاسلامی ۔ ڈاکٹر حسن ابراہیم حسن
- 61 کتاب الخطط والآثار ۔ علامہ مقریزیؒ
- 62 تاریخ الطبری ۔ امام طبریؒ
- 63 مجلۃ الاحکام العدلیۃ ۔ جماعۃ العلماء
- 64 المبسوط ۔ شمس الائمۃ سرخسیؒ
- 65 امداد الفتاویٰ ۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ
- 66 سیرۃ النبیؐ ۔ مولانا شبلی نعمانیؒ
- 67 احکام اسلام عقل کی نظر میں ۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ
- 68 الاشباہ والنظائر ۔ امام ابن نجیم حنفیؒ
توہین رسالت، اقلیتیں اور قانون تحفظ مذاہب
کتاب ہذا میں اسلامی قانون اور پاکستان کے مروجہ قانون کی روشنی میں توہین رسالت توہین انبیاء، توہین قرآن، توہین صحابہ، اسلامی مکاتب فکر کے قانونی حقوق اور اسلامی ریاست کی اقلیتوں کے قانونی اور سیاسی حقوق جیسے اہم موضوعات پر جامع تحقیقی انداز میں بحث کی گئی ہے، مغربی قوانین کے ساتھ تقابلی جائزہ کتاب ہذا کی منفرد خصوصیت ہے
تحقیق و تصنیف مفتی نذیر احمد خان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ . استاذ جامعہ نوریہ عالمیہ L.L.B., M.A. (HISTORY)
النبراس
اسلام کا ایک مکمل ضابطہ عدل و انصاف ہے جس میں کسی کی ذرہ برابر حق تلفی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ نظام خلیفہ وقت تک کو مدعی کے ساتھ ایک کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے اور گورنروں کو بھی کوڑے کی سزا دلوا دیتا ہے۔ یہاں امیر، غریب، اپنے، پرائے، اعلیٰ، اسفل اور حاکم و محکوم سب کے لئے انصاف کا ترازو یکساں ہوتا ہے۔ اگر ہم آج اپنے ممالک میں اس نظام کو نافذ کرنے کا تہیہ کرلیں تو کوئی بعید نہیں کہ یہ میزان عدل سیدھا ہو جائے ...... جس میں کوئی کجی اور یک طرفہ جھکاؤ نہ ہو۔
Stockist
ادارۃ الانوار
دوکان نمبر 2 پلاٹ نمبر GRE 672/4 نور مینشن بنوری ٹاؤن کراچی
Ph: 092-21-4914596, 4919673 Cell: 0333-2349656 E-mail: idaratulanwar@yahoo.com