بسمہ تعالٰی
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ صلی اللہ علیہ وسلم لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
تحفہ قادیانیت
جلد پنجم
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ
عَالَمِی مَجْلِس تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت
حضوری باغ روڈ ملتان ☎ 514122
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ
وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ
تحفہ قادیانیت
جلد پنجم
شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
☎ 514122
پیش لفظ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
مرورِ زمانہ کے ساتھ جہاں اور بہت سی تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں، وہاں لوگوں کا ذوق ومزاج، ان کا طرزِ زندگی، بود و باش کے طریقے، وعظ ونصیحت کا انداز اور سمجھنے سمجھانے کے اسلوب میں بھی تغیر آجاتا ہے۔ جس طرح معاشرے میں بہت سے دنیاوی انقلابات برپا ہوجاتے ہیں، اسی طرح دینی، مذہبی اور مسلکی اعتبار سے بھی ترقی وتنزلی کے معیار بھی بدل جاتے ہیں۔ مثلاً: آج سے سو سال پہلے جو دینی تصلب اور پختگی تھی، یقیناً وہ آج نظر نہیں آتی، جن امور کو اب سے پچاس سال پیشتر شرافت و دیانت کے خلاف سمجھا جاتا تھا، افسوس کہ اب وہی چیزیں ترقی کا معیار سمجھی جانے لگی ہیں، اور جن کو کسی زمانہ میں معائب جانا جاتا تھا، چشم بددور! اب وہی محاسن شمار ہونے لگے ہیں۔
ایک دور تھا کہ ننگے سر پھرنے، سگریٹ پینے، کھڑے ہوکر کھانے، مردوں اور عورتوں کی مخلوط محافل اور غیر محارم سے اختلاط کو شرافت و دیانت کے خلاف تصور کیا جاتا تھا، مگر صد افسوس! کہ اب ان تمام امور کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے۔ چنانچہ جوں جوں خیر مٹتی گئی اس کی جگہ شر آتا گیا، تو لوگوں کی دینی اور ملی غیرت بھی کمزور ہوتی گئی، اور جیسے جیسے لوگوں کی دین وملت سے وابستگی کمزور ہوتی گئی، اسی تیزی سے باطل اپنے پرپرزے نکالنے لگا، اور اس نے نت نئے انداز سے مسلمانوں کو اپنے دام میں پھانسنے کے ہتھکنڈے اور سیدھے سادے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے حربے ایجاد کئے۔ مگر چونکہ اسلام ایک آفاقی دین ہے، اور وہ قیامت تک باقی رہے گا، اس لئے اس کے خلاف کی جانے والی ہر سازش نے ناکامی کا منہ دیکھا۔ ”فتنہ قادیانیت“ نے اپنی پیدائش سے لے کر آج تک کتنے انداز بدلے؟
کیا کیا حربے اختیار کئے؟ اور مسلمانوں کو کس کس طرح دین و ایمان سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی؟ اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس کو ”فتنہ قادیانیت“ کے ساتھ کسی قدر واسطہ اور سابقہ رہا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہر دور اور ہر زمانہ میں باطل کی سرکوبی کے لئے اپنے کچھ خاص بندوں کو منتخب فرماتے ہیں، جن کی رات دن اور صبح و شام اسی فکر میں گزرتی ہے کہ کس طرح باطل کا راستہ روکا جائے؟ چنانچہ انہیں رجالِ کار میں سے ایک ہمارے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ بھی تھے، جنہوں نے ”قادیانیت“ کا تار و پود بکھیرنے کے لئے نہایت خوبصورت اور اچھوتا انداز اختیار کیا، اور دورِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق قادیانی شبہات کا جواب دیا۔ بلامبالغہ حضرت شہیدؒ کے سہل، عام فہم، سلیس و شستہ انداز اور مدلل تحریر و تقریر کی وجہ سے ”قادیانیت“ کے ایوان میں بھونچال آگیا۔
حضرت شہیدؒ نے اس موضوع پر متعدد رسائل و مقالات سپرد قلم کئے، جو پاکستان و بیرونِ پاکستان اخبارات و مجلات میں شائع ہوئے، عدالتی کاروائیوں کا حصہ بنے، اور مستقل کتابچوں کی شکل میں بھی اشاعت پذیر ہوئے۔ چنانچہ آپؒ کے رسائل و مقالات کو یکجا کتابی شکل میں شائع کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو بحمد اللہ ”تحفہ قادیانیت“ کے نام سے اس کی چار ضخیم جلدیں شائع ہو کر خاص و عام کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل کرچکی ہیں، پیش نظر پانچویں جلد بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے، جس میں ۴۹ مقالات و مضامین اور شذرات کو شامل کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرتؒ کے خدام کی اس محنت کو شرفِ قبول عطا فرما کر ذریعہ نجات، حضرت شہیدؒ کی بلندی درجات، تمام کارکنان کے لئے باعثِ شفاعت اور قادیانی عوام کے لئے ہدایت کا وسیلہ بنائے، آمین!
خاکپائے حضرت لدھیانوی شہیدؒ سعید احمد جلال پوری ۱۴۲۲/۱/۳۰ھ
فہرست
حریم نبوت کی پاسبانی کا اعزاز.................................................................. ۸ مرزائی کذب و افترا.......................................................................... ۱۳ کذب وافترا کا نیا ریکارڈ......................................................................... ۱۸ مرزا کی موت اور انجام........................................................................ ۲۵ قادیانی نظریات... حضرت مجدد الف ثانیؒ کی نظر میں.......................................... ۲۸ حفاظت قرآن................................................................................. ۴۲ ۷؍ستمبر... آئینی تقاضے..................................................................... ۵۰ جنرل صاحب! کیا یہ صحیح ہے؟............................................................... ۶۱ ۷؍ستمبر کے فیصلے پر بے جا اعتراض............................................................. ۶۴ تحریک تحفظ ختم نبوت اور حضرت بنوریؒ........................................................ ۷۱ قادیانیت کا احتساب......................................................................... ۱۰۶ مفتی اعظمؒ اور تردید قادیانیت................................................................ ۱۱۹ قادیانیوں کی اشتعال انگیزی.................................................................. ۱۵۹ حقیقت چھپ نہیں سکتی..................................................................... ۱۶۲ رفع ونزول عیسیٰ کا منکر کافر ہے.............................................................. ۱۷۴
مغربی جرمنی میں پاکستانی پناہ گزین ........................................ ۱۸۰ قادیانی شرم ........................................ ۱۸۳ دستوری کمیشن اور قادیانی ........................................ ۱۹۱ محمد اسد صاحب کی مذہبی حیثیت ........................................ ۱۹۶ قادیانی فریب ........................................ ۲۰۶ برأت حضرت تھانویؒ ........................................ ۲۰۹ بروز مرزا ..... مرزا ..... جے سنگھ بہادر ........................................ ۲۸۰ قادیانی فرضی مظالم کا پروپیگنڈہ کرنے کے ماہر ہیں ........................................ ۲۸۶ ختم نبوت اور برطانوی مسلمانوں کی ذمہ داری ........................................ ۲۹۵ قادیانی اور اسرائیل ........................................ ۳۰۵ منکرین ختم نبوت کے لئے اصلی شرعی فیصلہ ........................................ ۳۰۸ ناشائستہ حرکت ........................................ ۳۱۳ ختم نبوت اور اجرائے نبوت ... شبہات کا جواب ........................................ ۳۱۶ توہین انبیاء کفر ہے ........................................ ۳۴۴ قادیانی تیس جھوٹ ........................................ ۳۴۶ قادیانی غنڈوں کو گرفتار کیا جائے ........................................ ۳۶۱ ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی ........................................ ۳۶۳ معیار نبوت اور مرزا قادیانی ........................................ ۳۶۴ مرزائی امت سے چند سوالات ........................................ ۳۸۷ قادیانی فتنے کا سدّباب ........................................ ۳۹۶ قادیانیت ... ایک دہشت پسند سیاسی تنظیم ........................................ ۴۰۳ نصابی کتابوں کی اصلاح کی جائے ........................................ ۴۲۷ قادیانی عقائد اور قادیانیوں سے خیرخواہانہ گزارش ........................................ ۴۴۲
حضرت جالندھریؒ کے بیانات کا تعارف .............................................................. ۴۴۸
مرزا غلام احمد قادیانی کے سات دن .............................................................. ۴۵۱
قادیانیت کی نئی دکان ............................................................................ ۴۶۷
ختم نبوت کا کام کرنے والوں کے لئے خصوصی انعام .................................................. ۴۷۳
اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور مرزائی تحریک ............................................................ ۴۷۵
کیا قادیانی جماعت دنیا پر غالب آئے گی؟ ........................................................ ۴۸۰
عقیدۂ ختم نبوت .................................................................................. ۴۸۸
جدید تحقیقات اور علامات قیامت ................................................................. ۴۹۵
قادیانی نظریات..... ملاّ علی قاریؒ کی عدالت میں .................................................... ۵۰۰
امام مہدی اور نزول عیسیٰ علیہ السلام .............................................................. ۵۱۸
مرزا صاحب کی سبز قدمی .......................................................................... ۵۲۵
حریم نبوت کی پاسبانی کا اعزاز
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی! قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے:
"یا ایہا الذین آمنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یأتی اللہ بقوم یحبہم ویحبونہ اذلۃ علٰی المؤمنین اعزۃ علی الکافرین یجاہدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم، ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ واسع علیم.“
(المائدہ:۵۴)
ترجمہ: ...... ”اے ایمان والو! جو شخص تم میں اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو پیدا کر دے گا، جن سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوگی اور ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی، مہربان ہوں گے وہ مسلمانوں پر، تیز ہوں گے کافروں پر، جہاد کرتے ہوں گے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور وہ لوگ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے، یہ اللہ تعالیٰ کا
فضل ہے جس کو چاہے عطا فرمائے، اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں، بڑے علم والے ہیں۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
حریم نبوت کی پاسبانی اور عقیدۂ ختم نبوت کی نگہبانی ہر مسلمان کا دینی و ملی فریضہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے ختم نبوت کے قزاق اسود عنسی کو خنجر سے موت کے گھاٹ اتارا، اور بارگاہِ نبوت سے: ’’فاز فیروز!‘‘ کا تمغہ حاصل کیا، اور وصالِ نبویؐ کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے فتنۂ ارتداد ہی کا قلع قمع کیا اور یمامہ کے جھوٹے مدعیٔ نبوت مسیلمہ کذاب کو اُس کی ذریت سمیت ’’حدیقۃ الموت‘‘ میں واصل جہنم کیا۔
’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ (اپنی بے مائیگی اور بے سروسامانی کے باوصف) صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اسی مقدس مشن کی علمبردار ہے:
اے مسلمان پیرو صدیق باش
خدام مجلس کی دعوت و داعیہ یہ ہے کہ ہر وہ مسلمان جس کے دل میں ایمان کا نور ہے اور جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق و عقیدت ہے اسے لازم ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق ختم نبوت کی پاسبانی کا فریضہ انجام دے۔ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ جب بہاولپور کے مشہور مقدمہ کے سلسلہ میں بہاول پور تشریف لائے تو جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد حاضرین سے فرمایا:
’’میں بواسیر خونی کے مرض کے غلبہ سے نیم جان تھا، نیز ڈابھیل جانے کے لئے پا بہ رکاب تھا کہ اچانک شیخ الجامعہؒ کا مکتوب مجھے ملا، جس میں بہاول پور آ کر مقدمہ میں شہادت دینے کے لئے کہا گیا تھا، میں نے سوچا کہ میرے پاس زادِ آخرت تو ہے نہیں، شاید یہی چیز ذریعۂ نجات بن جائے کہ محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا جانبدار بن کر یہاں آیا ہوں۔“
یہ سن کر مجمع بے قرار ہو گیا، حضرتؒ کے ایک شاگرد حضرت مولانا عبدالحنان ہزارویؒ بے اختیار کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اگر حضرتؒ کو بھی اپنی نجات کا یقین نہیں، تو پھر اس دنیا میں کس کی مغفرت کی توقع ہوگی؟ اور حضرتؒ کی تعریف و توصیف میں انہوں نے کچھ بلند کلمات اور بھی فرمائے، جب وہ بیٹھ گئے تو حضرت شاہ صاحبؒ نے پھر مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا:
”ان صاحب نے ہماری تعریف میں مبالغہ کیا، حالانکہ ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ گلی کا کتا بھی ہم سے بہتر ہے، اگر ہم ختم نبوت کا تحفظ نہ کر سکیں۔“
(نقش دوام ص: ۱۹۰)
نیز اپنے آخری لمحات حیات میں حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا: ”میری چار پائی دارالعلوم دیوبند لے چلو۔“ وہاں اساتذہ و طلبہ اور باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کا ایک بڑا مجمع تھا، حضرتؒ نے اپنے تمام تلامذہ اور دیگر علماء و طلبہ کو ختم نبوت کے تحفظ کی تاکیدیں فرمائیں، اور فرمایا:
”جو شخص چاہتا ہے کہ کل فردائے قیامت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی شفاعت کریں، اسے چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی پاسبانی کا حق ادا کرے۔“
بگذارند و خم طرۂ یارے گیرند!
امام العصر حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کے اسی سوز دروں کا نتیجہ تھا کہ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے رفقاء نے اپنی زندگی کا موضوع ہی اس مقدس مشن کو بنا لیا، اور اس کے لئے ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا ادارہ
قائم فرمایا، حضرت امیر شریعت کے بعد مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد حیات اور محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوری (رحمہم اللہ) علی الترتیب اس قافلے کے میر کارواں ہوئے اور آج بھی بحمداللہ شیخ طریقت حضرت اقدس مولانا خان محمد مدظلہ العالی (سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف) کی قیادت میں یہ کارواں ایمان و عزیمت، اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔
ایک عرصہ سے تمنا تھی کہ ختم نبوت کے پیغام کو عام کرنے کے لئے ”ختم نبوت“ ہی کے نام سے ایک ہفت روزہ جاری کیا جائے، لیکن یہاں کی کسی ”اسلامی حکومت“ نے اس نام سے پرچہ جاری کرنے کی اجازت نہیں دی، بلکہ حکومتی وسائل عقیدہ ”ختم نبوت“ کے تحفظ کے بجائے سارقین ختم نبوت کی حفاظت و مدافعت میں صرف ہوتے رہے، جب باڑھ ہی کھیت کو کھانے لگے تو اس سے فصل کی کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ تاہم یہاں کے ناخداؤں کی حضرت ختمی مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سردمہری ہمارے ولولوں کو سرد نہیں کرسکی، بقول غالب:
یہ جنون عشق کے انداز چھوٹ جائیں گے کیا؟
ہماری کوششیں جاری رہیں، بالآخر موجودہ حکومت نے اپنے دینی وملی فریضہ کا احساس کرتے ہوئے ”ہفت روزہ ختم نبوت“ کی اشاعت کی منظوری دے دی ہے، ہم بارگاہ رب العزت میں سجدۂ شکر بجالاتے ہیں کہ اس نے ہمارے موجودہ حکمرانوں کو اس کی توفیق وسعادت نصیب فرمائی ہے۔
”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا موضوع یہ ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت وسیرت کی طرف اپنے مسلمان بھائیوں کو دعوت دینا، اسلامی اتحاد کی صفوں کو درست کرنا، وہ تمام لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت
سے وابستہ ہیں، انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، مسلمانوں میں دینی و ملی احساس بیدار کرنا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا ہر موقع اور ہر محاذ پر تعاقب کرنا۔ یہی اغراض و مقاصد انشاء اللہ ”ہفت روزہ ختم نبوت“ کے ہوں گے، اور ہم حق تعالیٰ شانہ کی توفیق و عنایت سے یہ کوشش کریں گے کہ دین و ہدایت کے اس خوان یغما پر قارئین کے ذہن و قلب کی بہتر سے بہتر غذا مہیا کریں، اس کے لئے ہم اپنے باتوفیق قارئین سے بھرپور تعاون اور مخلصانہ و عاقلانہ مشوروں کی درخواست کرتے ہیں۔
۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو ریلوے اسٹیشن ربوہ پر جو حادثہ پیش آیا، وہ تحریک ختم نبوت کا پیش خیمہ ثابت ہوا، جس سے حق و باطل کے درمیان امتیاز ہوا، مناسب سمجھا کہ ہم اسی تاریخ سے اپنے اشاعتی سفر کا آغاز کریں، ہم بارگاہ الہی میں دست بدعا ہیں کہ ان حقیر مساعی میں خلوص کامل نصیب فرمائے، اور اس بضاعت مزجاۃ کو شرف قبول عطا فرما کر دارین میں اپنی رضا و رحمت کا ذریعہ بنائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱ ش:۱)
مرزائی کذب و افترا
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ!
قارئین کو معلوم ہے کہ کرسمس کی تعطیلات میں (۲۶، ۲۷، ۲۸/ دسمبر کو) مرزا غلام احمد مسیح قادیان کی ”مسیحی امت“ کا سالانہ جلسہ ہوتا ہے، جو ان کے ”دین مسیحی“ میں مسلمانوں کے حج کا درجہ رکھتا ہے۔
مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کا ارشاد ہے:
- الف:...... ”اللہ تعالیٰ نے ایک اور ”ظلی حج“ مقرر
کیا، تاکہ وہ قوم جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے، (یعنی مرزائی) اور تاکہ وہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہوسکیں۔“
(الفضل یکم دسمبر ۱۹۳۲ء)
- ب:...... ”آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی
حج کی طرح ہے۔ حج، خدا تعالیٰ نے مؤمنوں کی ترقی کے لئے مقرر کیا تھا، آج احمدیوں کے لئے دینی لحاظ سے تو حج مفید ہے، مگر اس سے جو اصل غرض تھی، یعنی قوم کی ترقی تھی، وہ انہیں
حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں (کیوں؟....ناقل) اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے (تاکہ احمدیوں کا قبلہ بھی مسلمانوں سے جدا ہو جائے۔ ناقل)۔“
(انوار خلافت ص: ۵)
قادیانی امت کے ایک اور بزرگ کا ارشاد ہے: ”جیسے احمدیت (یعنی مرزائیوں کے مسیحی مذہب۔ ناقل) کو چھوڑ کر پہلا، یعنی مرزا صاحب کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا ہے، وہ خشک اسلام ہے۔ اسی طرح اس ظلی حج کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک رہ جاتا ہے، کیونکہ وہاں پر آج کل کے مقاصد پورے نہیں ہوتے (غالباً چندہ نہیں ہوتا۔ ناقل)۔“
(پیغام صلح جلد: ۲۱ مؤرخہ ۱۹؍ اپریل ۱۹۳۳ء، قادیانی مذہب فصل: ۷)
مرزائیوں کا یہ ”مسیحی حج“ تقسیم سے پہلے ”ارض حرم“ (قادیان شریف) میں ہوتا تھا، اور قیام پاکستان سے جب یہ ”ارض حرم“ ”دار الہنود“ بن گئی تو وہاں کے تمام ”انوار خلافت“ بشمول بہشتی مقبرہ و مسجد اقصیٰ، دارالخلافت ”ربوہ شریف“ (حال چناب نگر) میں ہجرت کر آئے، اور تب سے یہ ظلی حج مبارک وہاں ہونے لگا۔ حضرت مسیح قادیان اور ان کے مسیحی خلفا نے بھی اگرچہ اس ظلی حج مبارک کے بہت سے فضائل اپنی امت کو بتائے، مگر ”الفضل“ نے اس سلسلہ میں ایک ایسا بدیع نکتہ ارشاد فرمایا ہے جو شاید ان کے ”حضرت مسیح موعود“ صاحب کو بھی نہیں سوجھا ہوگا۔ اس دلچسپ نکتہ کا پس منظر یہ ہے کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام تعمیر کعبہ سے فارغ ہوئے تو انہیں حکم ہوا کہ صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر حج کا اعلان کرو، لوگ اطراف عالم سے تمہاری آواز پر لبیک کہتے ہوئے حج بیت اللہ کے لئے دوڑتے ہوئے آئیں گے،
”يَأْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ.“ (الحج:۲۷) حدیث میں آتا ہے کہ قیامت تک جن خوش بخت افراد کے حق میں حج بیت اللہ کی سعادت لکھی تھی وہ اصلابِ آباء، ارحامِ امہات اور عالم ارواح ہی میں ابراہیمی آواز پر ”لبیک اللہم لبیک“ پکار اٹھے، اس تمہید کے بعد اب ”الفضل“ کا نیا ”مسیحی نکتہ“ پڑھئے:
”اس بابرکت اور مقدس الہی جلسہ سالانہ (ظلی حج) کے مقدس ایام پھر قریب آ پہنچے ہیں، اس میں شمولیت اختیار کرنا دراصل اس آسمانی آواز پر لبیک کہنے کی سعادت حاصل کرنا ہے جو ابراہیمی سنت کی اتباع میں خدا تعالیٰ کی مشیت اور اس کے اذن کے ماتحت اس دور کے ابراہیم ثانی (مرزا غلام احمد مسیح قادیان) نے آج سے ۸۳ سال پہلے بلند کی تھی اور جس کے متعلق خدا نے ”یاتین من کل فج عمیق“ کی بشارت دے کر اس میں شمولیت کو ہر صاحب استطاعت احمدی (مرزائی) کے لئے لازمی قرار دیا تھا۔ ابراہیم ثانی کے سدھائے ہوئے وفا شعار پرندے (مرزائی حضرات) اپنے عمل سے دنیا کو ایک دفعہ پھر بتا دیں گے کہ اس زمانہ میں خدا کے مسیح (مرزا غلام احمد مسیح قادیان) نے باذن اللہ جن مردوں کو زندہ کیا تھا (یعنی مسلمانوں سے مسیحی مرزائی بنایا تھا) ان پر کبھی موت وارد نہیں ہو سکتی۔“
(روزنامہ الفضل ربوہ ۹؍دسمبر ۱۹۷۴ء)
(بین القوسین کے تشریحی الفاظ کا اضافہ ہم نے کیا ہے جو ”الفضل“ کے منشا کے مطابق ہے۔)
”الفضل“ کی نکتہ طرازی کا خلاصہ یہ ہے کہ:
- ۱:....... حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ میں کعبہ شریف تعمیر کیا تھا، اور
مرزائیوں کے ابراہیم ثانی مرزا غلام احمد نے ”قادیان شریف“ میں ”خدا کا گھر“ بنالیا۔
- ٢:...... ابراہیم علیہ السلام نے مکہ والے بیت اللہ کے حج کی آواز لگائی تھی،
اور ”مسیح قادیان“ نے ۸۳ سال پہلے ”حج قادیان“ کے لئے آسمانی آواز لگائی۔
- ٣:...... حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حج بیت اللہ کے بارے
میں بشارت دی کہ تمہاری آواز پر لبیک کہتے ہوئے فرزندان توحید اطراف واکناف سے پروانہ وار جمع ہوں گے: ”يَأْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ.“ اور قادیانی ابراہیم کو یہی بشارت ”حج قادیان“ کے متعلق ہوئی۔
- ۴:...... حج کعبہ ہر مسلمان پر بشرط استطاعت عمر میں صرف ایک مرتبہ فرض
ہے، مگر مسیح قادیان کی مسیحی امت پر قادیان کا (اور اب ربوہ کا) حج ہر سال فرض لازم ہے۔
- ۵:...... مسلمان ندائے ابراہیمی پر لبیک کہتے ہوئے حج بیت اللہ کی سعادت
حاصل کرتے ہیں، اور مرزا صاحب کی ”مسیحی امت“ قادیان اور ربوہ کے حج و زیارت سے لطف اندوز ہوتی ہے، گویا:
وہ دیکھیں گھر خدا کا، یہ مسیح کی شان دیکھیں گے
ہمیں ربوہ کے ظلی حج سے مطلب نہیں، ان کا دین و مذہب ان کو مبارک رہے، وہ ابرہہ کی طرح قادیان میں ”بیت اللہ“ بنالیں، (مرزائیوں کا ”بیت اللہ“ قادیان میں مرزا غلام احمد صاحب کی ذات شریف تھی، وہ فرماتے ہیں: ”خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام: ”بیت اللہ“ بھی رکھا ہے۔“ (اربعین نمبر: ۴ ص: ۱۶)۔ جس طرح قادیان سے بہشتی مقبرہ، ربوہ میں منتقل ہوگیا، غالباً ”بیت اللہ“ بھی یہاں ”بروزی طور پر“ منتقل ہوگیا ہوگا)، یا ربوہ میں مسجد اقصیٰ تعمیر کرلیں، اس کے لئے حج
کی آسمانی آوازیں لگائیں، یا ”لبیک اللّٰہم لبیک“ کے ترانے گائیں، وہ انسانوں کی صف میں شامل رہیں یا ”سدھائے ہوئے پرندے“ بن کر بیسویں صدی کا نیا کرشمہ (تبدیلی جنس) دکھائیں، بہر حال انہیں اپنے ”مسیحی دین“ کے اندر رہتے ہوئے ہر طرح کی آزادی ہے، جو چاہیں کریں، مگر مسلمانوں کی جانب سے ”مسیح کے وفادار پرندوں“ سے یہ مؤدبانہ التماس بے جا نہ ہوگی کہ وہ اپنی بلند پروازی کی دُھن میں اسلامی شعائر کی مٹی پلید نہ کیا کریں، ان کی اس اونچی اُڑان سے ان کے نیازمندوں کو اذیت ہوتی ہے، مسلمانوں کے لئے اس قسم کے فقرے بے حد تکلیف دہ ہیں کہ:
”ہمارا جلسہ (ربوہ کا حج) شعائر اللہ ہے، بلکہ ہر آنے والا شعائر اللہ ہے، اور ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی عظمت کرتا ہے وہ اپنے تقویٰ کا ثبوت دیتا ہے۔“
(الفضل ۱۹/دسمبر ۱۹۷۴ء)
ہمارے نزدیک ربوہ آنے والے ہر مرتد کو شعائر میں شمار کرنا، ”شعائر اللہ“ کی توہین ہے، یہ اسرارِ معرفت قادیان کے ”دارالفکر“ اور ربوہ کے ”منارۃ المسیح“ ہی میں بند رہنے چاہئیں۔ اسلام سے مذاق مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔
(ماہنامہ بینات کراچی صفر ۱۳۹۵ھ)
کذب و افترا کا نیا ریکارڈ
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلامٌ علیٰ عبادہٖ الذین اصطفٰی!
اللہ تعالیٰ پر افترا کرنے والوں کو قرآن حکیم میں سب سے بڑا ظالم قرار دیا گیا ہے: ”وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ....“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کوئی جھوٹی بات منسوب کرنا بدترین جرم اور مسخ عقل و فطرت کی علامت ہے، ارشادِ نبوی ہے: ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے۔“ مرزا غلام احمد ”مسیح قادیان“ تو اس دائمی ضلالت کی سرگردانی میں مدۃ العمر مصروف رہے، مگر اس کذب و افترا کی ایک تازہ مثال مرزائی مولوی فاضل ابوالعطا اللہ دتہ جالندھری صاحب نے پیش کی ہے، سنئے:
افترا علی اللہ:
”اسلام نے سورج اور چاند کے گرہن کا ذکر فرمایا ہے، قرآن پاک نے اسے مختلف پیرایوں میں انقلاب عظیم اور قیامت کی نشانی بھی ٹھہرایا ہے۔“
(الفضل ربوہ ۹؍دسمبر ۱۹۷۴ء)
سورج یا چاند گہن کا قیامت کی نشانی ہونا، مرزائیوں کی ”مسیحی انجیل“
(”انجیل“ (البشریٰ) مسیح قادیان صاحب کی وحی و الہام کا مجموعہ ہے) میں کہیں لکھا ہو تو ہو، مگر قرآن پاک میں کہیں اس کا نام ونشان نہیں، اسے قرآن کی جانب منسوب کرنا محض کذب اور افترا علی اللہ ہے۔
افترا علی الرسول:
اللہ دتہ صاحب مزید لکھتے ہیں:
”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ میری امت کی رہبری و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ مسیح موعود اور مہدی معہود کو مبعوث فرمائے گا، اس کی شناخت کے سلسلہ میں آپؐ نے ارشاد فرمایا: ”ان لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السموات والارض ...الخ.“ (دارقطنی ص:۱۸۸) کہ ہمارے مہدی کے لئے یہ دو نشان مقرر ہیں اور یہ نشان ہمارے ہی امام مہدی کے ظہور کے ساتھ مختص ہیں، اسی کے لئے بطور دلیل صداقت ظاہر ہوں گے، اور یہ صورت ابتدائے دنیا سے امام مہدی کے وقت میں ہی پیدا ہوگی، یعنی یہ کہ:
- ۱:.......امام مہدی ہونے کا دعویدار موجود ہو۔
- ۲:.......رمضان کا مہینہ ہو۔
- ۳:.......چاند کی تاریخہائے خسوف میں سے اسے پہلی
تاریخ کو گرہن لگے۔
- ۴:.......سورج کی تاریخہائے کسوف میں سے اسے
درمیانی تاریخ کو گرہن لگے۔“
(حوالہ بالا)
اس عبارت میں ”مسیحی مولوی فاضل“ نے دو وجہ سے افترا علی الرسول کیا
ہے۔
اول:...... یہ کہ موصوف نے دارقطنی کا حوالہ دیا ہے، اور اس میں یہ قول امام باقر کی جانب منسوب کیا گیا ہے، اور محدثین کی تصریح کے مطابق یہ نسبت بھی محض غلط اور بازاری گپ ہے، جو عمرو بن شمر اور جابر جعفی ایسے کذابوں نے حضرت امام باقر کے سر دھری تھی، مگر ان ”بزرگوں“ کو بھی یہ جرأت نہ ہوئی کہ اس وضعی اور من گھڑت افسانے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدس سے منسوب کر ڈالیں، مگر شاباش! اور صد آفرین! کہ مسیح قادیان کے مسیحی مولوی فاضل اللہ دتہ جالندھری نے اس افترائی روایت کو ارشاد نبوی قرار دے کر کذب وافترا کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا:
دوم:...... یہ کہ موصوف نے اس موضوع روایت کے اصل الفاظ ذکر نہیں کئے، نہ ان کا ترجمہ کیا، بلکہ اس جھوٹی روایت کی خود ساختہ تشریح اور من مانا مفہوم گھڑ کر اس کو فرمودۂ رسول بتا دیا، یہ کذب در کذب (ڈبل جھوٹ) بھی مسیح قادیان کی ”مسیحی امت“ کا ہی کارنامہ ہو سکتا ہے۔ ابوالعطا جالندھری صاحب مولوی فاضل ہیں، پیر کہن سالہ ہیں، انہیں خوب علم ہے کہ یہ روایت سراپا کذب ہے، مگر ان کی مشکل یہ ہے کہ مہدی علیہ السلام کے حق میں جس قدر صحیح حدیثیں کتب صحاح میں موجود ہیں، ان میں سے ایک بھی تو ان کے ”خانہ ساز مہدی“ پر چسپاں نہیں ہوتی، اس لئے انہوں نے اپنے مہدی (مرزا غلام احمد قادیانی) کی تقلید میں من گھڑت روایتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنے کا راستہ اختیار کر لیا، حالانکہ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اس گرداب سے نکلنے کی ہمت کرتے، لیکن: وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهُ نُوْرًا فَمَا لَهُ مِنْ نُّوْرٍ!
تاریخی جھوٹ:
ابوالعطاء صاحب مزید لکھتے ہیں:
”یہ (مذکورہ بالا) چاروں امور دنیا کی تاریخ میں صرف ایک ہی دفعہ سیدنا حضرت میرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے دعویٰ مہدویت کے وقت ۱۳۱۱ھ میں جمع ہوئے، نہ اس سے پہلے ایسا واقعہ ہوا، نہ آئندہ کبھی یہ چاروں امور اکٹھے ہوں گے۔“
(حوالہ بالا)
مسیحی مولوی فاضل کا یہ دعویٰ کہ کسوف وخسوف کا رمضان میں اجتماع صرف ۱۳۱۱ھ میں ہوا، خالص تاریخی جھوٹ ہے، کیونکہ گزشتہ تیرہ صدیوں میں (۱۸ھ سے ۱۳۱۲ھ تک) ساٹھ مرتبہ رمضان المبارک میں اجتماع کسوفین ہوا۔ ایران میں مرزا علی محمد باب نے ۱۲۶۰ھ میں مہدویت کا دعویٰ کیا تھا، اس کے ساتویں سال رمضان ۱۲۶۷ھ مطابق جولائی ۱۸۵۱ء میں ۱۳؍ اور ۲۸؍ رمضان کو خسوف و کسوف کا اجتماع ہوا (دیکھئے ”رئیس قادیان“ جلد دوم ص:۱۹۹، مؤلفہ مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری)۔
اسی طرح ”مسیحی مولوی فاضل“ صاحب کا یہ دعویٰ بھی تاریخی طور پر لغو ہے کہ: ”۱۳۱۱ھ کا اجتماع خسوف و کسوف صرف ان کے ”مسیح قادیان“ کے لئے نشانِ صدق تھا۔“ کیونکہ ٹھیک اسی زمانہ میں محمد احمد مہدی سوڈانی مسند مہدویت پر جلوہ افروز تھا، اگر اس بے سر و پا گپ سے مسیح قادیان کی مہدویت کا ثبوت نکلتا ہے تو مرزائی امت کو مہدی سوڈانی کی ”بعثت“ پر بھی ایمان لانا چاہئے۔
ہمیں قادیانی امت کی اس دیدہ دلیری اور جرأت بے جا پر افسوس ضرور ہے، مگر اس پر ذرا بھی تعجب نہیں کہ وہ خدا اور رسول پر دروغ بانی اور افترا پردازی کیوں کرتے ہیں؟ اور تاریخ کے انمٹ حقائق سے آنکھیں بند کر کے واقعات کو کیوں مسخ کرتے ہیں؟ ہمیں معلوم ہے کہ اہل باطل زنادقہ کا دامن دلیل و برہان کے جوہر سے
ہمیشہ خالی رہا ہے، ان کے صغریٰ، کبریٰ کی کل کائنات ادھر ادھر کے زلیات، بے سروپا افسانے اور من گھڑت روایات کا پلندہ رہا ہے، ان کے دعاویٰ باطلہ کا کھوٹا سکہ مسخ حقائق کی اندھیر نگری میں ہی چل سکتا ہے، زنادقہ کی یہی تکنیک مرزا غلام احمد ”مسیح قادیان“ نے اختیار کی اور کانٹوں کے اسی جنگل میں ایک صدی سے ان کی ”مسیحی امت“ بھٹک رہی ہے: ويضل الله الظالمين ويفعل الله ما يشاء!
گدی، سازش اور ڈھونگ:
قارئین کو علم ہے کہ مسیح قادیان کی ”مسیحی امت“ کے دو بڑے فرقے ہیں: لاہوری اور قادیانی ثم ربوی۔ ہمیں فرقہ ربویہ سے زیادہ لاہوری پر رحم آتا ہے، مرزا صاحب کی مسیحی نبوت کے تمام فوائد (از قسم گدی نشینی وغیرہ) تو فرقہ ربویہ نے سمیٹ لئے، مگر مسیح صاحب کے دامن مسیحیت سے وابستہ ہونے کے سبب لاہوری فرقہ بھی ۷؍ستمبر کے آئینی فیصلہ کی رُو سے خارج از اسلام قرار دیا گیا۔ لاہوری فرقہ کا آرگن ہفت روزہ ”پیغام صلح“ متواتر صدائے احتجاج بلند کر رہا ہے کہ ہم تو حضرت مسیح قادیان کو چودھویں صدی کا مجدد ہی مانتے ہیں، ہمیں آئینی فیصلے کی زد میں کیوں لایا گیا؟ اس سلسلہ میں ”پیغام صلح“ کے ایک مضمون کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
”مولانا نور الدین صاحب خلیفہ جماعت احمدیہ کے بعد حضرت مرزا صاحب (مسیح قادیان) کے لڑکے مرزا بشیر الدین محمود نے، جو کہ اپنی ”انصار اللہ“ پارٹی کی سازش اور کوششوں سے خلیفہ ثانی بنا اور جس نے اپنی گدی اور خلافت کو مضبوط کرنے کے لئے یہ عقیدہ تراشا کہ جو کوئی مسلمان خدا کے مامور (مرزا غلام احمد) کو نہ مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(مرزا غلام احمد صاحب کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ ان کو نہ ماننے والے کافر، جہنمی اور مردہ ہیں، ان کے ساتھ نماز پڑھنا مرزائیوں کے لئے حرام اور قطعی حرام ہے، ورنہ ان کے عمل حبط ہو جائیں گے۔ حوالے کے لئے دیکھئے: حقیقۃ الوحی ص:۱۷۹، انجام آتھم ص:۶۲، تذکرہ ص:۳۲۳ طبع دوم، اربعین نمبر:۳ ص:۳۴۔ ناقل)
”مرزا محمود احمد صاحب جماعت قادیان کے خلیفہ اور مطاع الکل بنے رہے اور ۱۹۴۷ء میں پاکستان بننے پر قادیان سے ہجرت کر کے پاکستان آگئے، اور ربوہ شہر کی بنیاد رکھی، احمدیہ لاہوری جماعت کا ربوہ والوں سے کوئی اشتراک عمل و عقائد نہ تھا، اور نہ اب ہے۔“
”یہ بات کہ مرزا محمود احمد صاحب نے صرف اپنی خلافت اور خاندانی گدی قائم کرنے کے لئے یہ ڈھونگ رچایا تھا، اس امر سے ثابت ہے کہ ۱۹۵۳ء کے منیر انکوائری کمیشن کے سامنے مرزا محمود احمد صاحب نے حضرت مرزا غلام احمد کو صرف اسی قسم کا نبی قرار دیا جس کے انکار سے کوئی مسلمان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو جاتا۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح، لاہور ۴/ دسمبر ۱۹۷۴ء ص:۸، ۹ ملخصاً)
خط کشیدہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے نبی ہونے پر تو دونوں پارٹیوں کا اتفاق ہے، صرف ”نبوت کی کوالٹی“ میں اختلاف ہے کہ وہ اعلیٰ کوالٹی کے نبی تھے یا گھٹیا کوالٹی کے۔
ہم ”پیغام صلح“ کی ان تصریحات پر تبصرہ کا حق محفوظ رکھتے ہوئے اس بات
کا انتظار کریں گے کہ ”قصر خلافت“ ربوہ کا عملہ اس گدی، سازش اور ڈھونگ پر کوئی تبصرہ کرتا ہے، یا بقول مرزا غلام احمد صاحب ”صم، بکم، عمی“ رہنے کو تقاضائے مصلحت سمجھتا ہے۔ البتہ لاہوری فرقہ کی خدمت میں یہ گزارش بے جا نہ ہوگی کہ سوال ربوہ والوں سے اشتراک عمل و عقائد کا نہیں بلکہ مرزا غلام احمد صاحب سے اشتراک عمل و عقائد کا سوال ہے۔ اگر آپ مرزا غلام احمد صاحب کے ملحدانہ دعاوی اور عقائد و نظریات پر دو حرف بھیج کر اظہار نفرین کرنے کے لئے آمادہ ہوں تو بسم اللہ! تشریف لائیے! اسلام کے دروازے آپ کے لئے بند نہیں، دیکھنا صرف یہ ہے کہ آپ کا تعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے یا نام نہاد ”بروز محمد“ (غلام احمد) سے؟
(ماہنامہ بینات کراچی صفر ۱۳۹۵ھ)
مرزا کی موت اور انجام
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
”پیغام صلح“ نے ۱۱؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کی اشاعت میں صفحہ اول پر استفہامیہ عنوان قائم کیا ہے: ”ہمارا انجام کیا ہوگا؟“ اور اس کے ذیل میں ”مسیح قادیان“ کا ایک طویل املائی ارشاد نقل کیا ہے، اس کا حسب ذیل اقتباس قادیانی امت کے لئے دعوت فکر ہے:
”اور جو شخص کہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہوں، حالانکہ نہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے، نہ اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہے، وہ بہت ہی بری موت مرتا ہے اور اس کا انجام نہایت ہی بد اور قابل عبرت ہوتا ہے۔“
بہت خوب! آئیے اسی معیار پر ”قادیانی مسیح“ کو جانچیں، جہاں تک مرزا صاحب اور ان کی امت کے ”نہایت ہی بد اور قابل عبرت انجام“ کا تعلق ہے، اس کی شہادت کے لئے تو ایک صدی کی تاریخ کافی ہے، اور ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کے
بعد تو اس پر مزید بحث کرنا بھی عبث معلوم ہوتا ہے، ہاں! ”نہایت ہی بد اور قابل عبرت انجام“ کی کوئی اس سے بھی بڑی ڈگری مرزا صاحب کی ”مسیحی امت“ کو مطلوب ہے، تو اس کی تعیین فرمائیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے بڑے ہی وسیع ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں وہ بڑی ڈگری بھی عطا فرمادے گا، وما ذٰلك علی اللّٰہ بعزیز!
جہاں تک ”بہت ہی بری موت“ کا سوال ہے تو وہ بھی مرزا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے منہ مانگی عطا فرمائی، ”مولوی ثناء اللہ سے آخری فیصلہ“ میں اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب سے لکھوایا تھا:
”پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے، جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ (مولوی ثناء اللہ صاحب) پر میری (مرزا کی) زندگی ہی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۵۷۸)
پھر اللہ تعالیٰ نے مولانا ثناء اللہ صاحبؒ کو مرزا صاحب سے چالیس سال بعد تک زندہ سلامت رکھا، اور جناب مرزا صاحب ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو بمرض وبائی ہیضہ چند گھنٹوں میں کوچ کرگئے۔ گویا مرزا صاحب کی موت نے ”آخری فیصلہ“ کردیا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں تھے، کیونکہ ان کی موت مولوی ثناء اللہ صاحبؒ کی زندگی میں بقول ان کے ”خدائی ہاتھوں کی سزا“ سے ہوئی۔
مرزا صاحب کی موت کس عارضہ سے ہوئی؟ اس کے لئے کسی ڈاکٹری رپورٹ کی احتیاج نہیں، بلکہ مرزا صاحب کے ”مقدس صحابی“ اور قابل احترام خسر جناب میر ناصر نواب صاحب کی ثقہ روایت سے خود مرزا صاحب کا اپنا ”اقرار صالح“ موجود ہے، میر صاحب فرماتے ہیں:
”حضرت (مرزا) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سو چکا تھا، جب آپ کو سخت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا، جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو مجھے مخاطب کرکے فرمایا: ”میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔“ اس کے بعد کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں آپ نے نہیں فرمائی، یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔“
(حیات ناصر ص:۱۴)
لیجئے! بہت ”بری موت“ کے تینوں مرحلے اللہ تعالیٰ نے خود مرزا جی کی زبان وقلم سے طے کرادیئے، یعنی پہلے ان سے لکھوایا کہ مفتری بہت ہی بری موت مرتا ہے، پھر اس کی تعین و تشخیص بھی انہی کے قلم سے کرادی کہ طاعون اور ہیضہ کی موت ہی وہ ”بری موت“ ہے، جو بطور سزا ”خدا تعالیٰ کے ہاتھوں“ سے کسی سرکش مفتری کو دی جاتی ہے، اور پھر خود انہی کی زبان سے یہ اقرار بھی کرادیا کہ وہ ”وبائی ہیضہ“ سے ”بہت بری موت“ مررہے ہیں، اور ان کا یہ اقرار ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس کے بعد بھی ”پیغام صلح“ کو ”بہت ہی بری موت“ اور ”نہایت ہی بد اور قابل عبرت انجام“ میں شک و شبہ ہو تو اس کا کیا علاج؟ فانھا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور!
اللہ تعالیٰ امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوات والتسلیمات) پر رحم فرمائے اور انہیں تمام شرور وفتن سے محفوظ رکھے۔
(ماہنامہ بینات کراچی صفر ۱۳۹۵ھ)
قادیانی نظریات
حضرت مجدد الف ثانیؒ کی نظر میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ!
اپنے نظریات کی ترویج کے لئے قادیانی حضرات، امام ربانی مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کا نام پیش کیا کرتے ہیں۔ آج کی صحبت میں ہم امام ربانیؒ کے چند جواہر پارے، قادیانی صاحبان کی نذر کرتے ہیں، دعا ہے کہ یہ ان کے لئے سرمۂ چشم بصیرت ثابت ہوں اور وہ ان کی روشنی میں اپنے عقائد ونظریات کی اصلاح کرلیں، واللہ الموفق لکل خیر وسعادۃ!
علاماتِ قیامت:
چونکہ قادیانی عقائد ”علاماتِ قیامت“ سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اس لئے تمہید کے طور پر پہلے علاماتِ قیامت کے بارے میں اسلامی عقیدہ حضرت امام ربانی رحمہ اللہ سے سنئے! فرماتے ہیں:
”علاماتِ قیامت کہ مخبر صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات ازاں خبر دادہ است حق است احتمال تخلف ندارد۔ مثل طلوع آفتاب از جانب مغرب برخلاف عادت و ظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان ونزول حضرت روح اللہ علیٰ نبینا
وعلیہ الصلوٰۃ والسلام وخروج دجال وظہور یاجوج و ماجوج وخروج دابۃ الارض ودخانے کہ از آسمان پیدا شود تمام مردم را فرو گیرد وعذاب درد ناک کند مردم از اضطراب گویند اے پروردگار ما ایں عذاب را از ما دور کن کہ ما ایمان مے آریم، و آخر علامات آتش ست کہ از عدن برخیزد۔“
(مکتوبات امام ربانی دفتر دوم مکتوب:۶۷)
ترجمہ:......”علاماتِ قیامت، جن کی مخبر صادق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی ہے، حق ہیں، تخلف کا احتمال نہیں رکھتیں۔
مثلاً: آفتاب کا خلافِ عادت مغرب کی جانب سے طلوع ہونا، حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاہر ہونا، حضرت عیسیٰ روح اللہ (علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کا آسمان سے نازل ہونا، دجال کا نکلنا، یاجوج و ماجوج کا ظاہر ہونا، دابۃ الارض کا نکلنا۔ اور وہ دھواں جو آسمان سے پیدا ہوگا تمام لوگوں کو گھیر لے گا، اور سخت مصیبت برپا کردے گا، لوگ بے چین ہوکر دعا کریں گے کہ: اے اللہ! یہ عذاب ہم سے ہٹالے، ہم ایمان لاتے ہیں، اور آخری علامت وہ آگ ہے جو عدن سے نکلے گی۔“
علاماتِ مہدیؑ:
امام مہدیؑ کون ہیں؟ ان کی علامات و صفات کیا ہیں؟ ان کے زمانہ کے سیاسی و معاشی حالات کیا ہوں گے؟ وہ کیا کارنامے انجام دیں گے؟ کتنی مدت تک رہیں گے؟ ان کا مولد و مدفن کہاں ہوگا؟ یہ تمام امور احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے بیان فرمادیئے ہیں، حضرت مجددؒ، فرقہ مہدویہ (جو سید محمد جونپوری کو امام مہدی مانتا تھا) کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”جماعہ از نادانی گمان کنند شخصے را کہ دعویٰ مہدویت نمودہ بود از اہل ہند مہدی موعود بودہ است، پس بزعم ایشان مہدی گزشتہ است و فوت شدہ، نشان مید ہند کہ قبرش در فرہ است، در احادیث صحاح کہ بحد شہرت بلکہ بحد تواتر معنی رسیدہ اند تکذیب ایں طائفہ است، چہ آں سرور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام مہدی را علامات فرمودہ است در احادیث کہ درحق آں شخص کہ معتقد ایشانست آں علامات مفقود اند۔“
(دفتر دوم مکتوب:۶۷)
ترجمہ:....... ”ایک گروہ نادانی سے ایک ایسے شخص کے بارے میں، جس نے ہندوستان میں مہدویت کا دعویٰ کیا تھا، یہ گمان کرتا ہے کہ وہ مہدی موعود تھا، پس ان لوگوں کے خیال میں مہدی گزر چکا اور فوت ہوچکا ہے، اور بتاتے ہیں کہ اس کی قبر ”فرہ“ (آپ اس جگہ کو ”قادیان“ سمجھ لیجئے۔ ناقل) میں ہے۔ صحیح احادیث سے جو شہرت بلکہ تواتر معنوی کی حد کو پہنچی ہوئی ہیں، اس گروہ کی تکذیب ہوتی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث میں مہدی کی مخصوص علامات بیان فرمائی ہیں، اور یہ لوگ جس شخص کو مہدی سمجھتے ہیں اس میں یہ علامات مفقود ہیں۔“
اس سلسلہ میں امام مہدیؑ کی علامات کے بارے میں چند احادیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
”بنظر انصاف باید دید کہ ایں علامات در آں شخص میت بودہ است یا نہ؟ وعلامات دیگر بسیار است کہ مخبر صادق فرمودہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام۔ شیخ ابن حجرؒ رسالہ نوشتہ است در علامات مہدی منتظر کہ بہ دویست علامت میکشد۔ نہایت جہل است کہ باوجود وضوح امر مہدی موعود جمعے در ضلالت مانند۔ ھداھم اللہ سبحانہ سواء الصراط۔“
(دفتر دوم مکتوب: ۶۷)
ترجمہ: ...... ”بنظر انصاف دیکھنا چاہئے کہ یہ علامات اس مرے ہوئے شخص میں موجود تھیں یا نہیں؟ ان کے علاوہ اور بہت سی علامات مخبر صادق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں۔ شیخ ابن حجرؒ نے مہدی منتظر کی علامات میں ایک رسالہ تحریر کیا ہے، جس میں تقریباً دو سو علامات جمع کردی ہیں۔ انتہائی جہالت ہے کہ مہدی موعود کا معاملہ اس قدر واضح ہونے کے باوجود ایک جماعت وادیٔ ضلالت میں بھٹک رہی ہے، اللہ تعالیٰ انہیں صراطِ مستقیم کی ہدایت نصیب فرمائے۔“
حضرت مجدد رحمہ اللہ کی اپیل پر توجہ کرتے ہوئے مرزائی صاحبان بنظر انصاف تین باتوں پر غور فرمائیں:
اول: ...... امام مہدیؑ کی تقریباً دو صد علامات میں سے کیا ایک علامت بھی ”قادیانی مہدی“ میں پائی گئی؟
دوم: ...... امام مہدیؑ سے متعلقہ احادیث کو حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ ”متواتر“ فرماتے ہیں، اور مرزا صاحب سب کو ضعیف، موضوع اور غلط بتاتے ہیں۔ مرزا صاحب کے انکار کا سبب کہیں یہ تو نہیں تھا کہ چونکہ ان پر کوئی حدیث بھی صادق
نہیں آتی تھی، اس لئے انہوں نے متواتر احادیث کا انکار کر دینے میں ہی خیریت سمجھی؟
سوم:...... جب مرزا صاحب کے نظریہ کے مطابق اسلام میں مہدی کا افسانہ ہی معاذ اللہ! غلط ہے، اور اس سلسلہ کی تمام احادیث متواترہ خدانخواستہ من گھڑت ہیں، تو خود مرزا صاحب کے ’’امام مہدی‘‘ ہونے کا افسانہ بھی پا در ہوا تو ثابت نہیں ہوتا؟
مقصد عرض کرنے کا یہ ہے کہ اگر امام مہدی سے متعلقہ احادیث صحیح ہیں تو بسم اللہ! آئیے اور ایک ایک علامت مرزا صاحب کے سراپا سے ملا کر فیصلہ کر لیجئے کہ وہ واقعتاً ’’امام مہدی‘‘ تھے یا نہیں؟ اور اگر مہدی کا افسانہ ہی غلط ہے تو مرزا صاحب آخر کس منطق سے ’’مہدی‘‘ بن گئے؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر:
امتِ اسلامیہ بالاجماع حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے رفع جسمانی کی قائل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسمائے گرامی ’’محمد‘‘ اور ’’احمد‘‘ کے نکات بیان کرتے ہوئے حضرت امام ربانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’واحمد اسم دویم آں سرور ست علیہ الصلوٰۃ والسلام کہ در اہل سماوات بآں اسم معروف است، چنانچہ گفتہ اند ازینجا تواند بود کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ از اہل سماوات گشتہ است بشارت قدوم آں سرور باسم احمد دادہ است۔‘‘
(دفتر سوم مکتوب:۹۴)
ترجمہ:...... ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوسرا اسم گرامی ’’احمد‘‘ ہے، آسمان والوں میں آپؐ اسی نام سے معروف ہیں، جیسا کہ علماء نے کہا ہے۔ اسی بنا پر یہ ہوسکا کہ
حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام چونکہ (رفع جسمانی کے بعد) آسمان کے رہنے والوں میں شمار ہونے لگے، اس لئے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کی بشارت اسم ”احمد“ کے ساتھ دی۔ (قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ ”اسمہ احمد“ کی بشارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نہیں بلکہ مرزا غلام احمد کے آنے کی بشارت ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون!)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا:
امتِ اسلامیہ کا عقیدہ ہے کہ سلسلۂ نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا، آپ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہیں ہوگا، البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے، امام ربانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اول انبیاء حضرت آدم است علیٰ نبینا وعلیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات وآخر ایشاں و خاتم نبوت شان حضرت محمد رسول اللہ است علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات ...... وحضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعتِ خاتم الرسل خواہد نمود علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات۔“
(دفتر سوم مکتوب: ۱۷)
ترجمہ: ...... ”انبیاء کرام علیہم السلام میں سب سے اول حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ہیں، اور سب سے آخری اور سب کے خاتم حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وعلیہم وسلم)
ہیں...... اور حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام جب آسمان سے نزول اجلال فرمائیں گے تو حضرت خاتم الرسل (علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات) کی پیروی کریں گے۔“
ہتک یا عزت؟:
امتِ اسلامیہ کا عقیدہ ہے کہ خاتم الانبیاء بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق وتائید کے لئے نازل ہوکر آپؐ کی امت میں شمار ہونا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ترین منقبت ہے، حضرت امام ربانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”و حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ بعد از نزول متابعت ایں شریعت خواہد نمود اتباعِ سنتِ آں سرور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام نیز خواہد کرد کہ نسخ ایں شریعت مجوز نیست۔“
(دفتر دوم مکتوب: ۵۵)
ترجمہ:...... ”اور حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ نازل ہونے کے بعد اس شریعت کی پیروی کریں گے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کی سنت کی اتباع بھی کریں گے، کیونکہ اس شریعت کا منسوخ ہونا جائز نہیں ہے۔“
مرزا صاحب نے اپنی امت کو یہ تصور دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متبع شریعت محمدیہ ہونے سے اس امت کی ذلت ورسوائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک اور کسرِ شان لازم آتی ہے اور اسلام کا تختہ الٹ جاتا ہے۔ (ازالہ ص: ۵۸۶)
لیکن امام ربانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”وخاتم انبیاء محمد رسول اللہ است (صلی اللہ تعالیٰ وسلم علیہ وعلیٰ آلہ وعلیہم اجمعین) و دین او ناسخ ادیانِ سابق است و
کتاب او بہترین کتب ما تقدم است، و شریعت او را ناسخے نخواهد بود بلکہ تا قیام قیامت خواهد ماند، وعیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ نزول خواهد فرمود عمل بشریعت او خواهد کرد و بعنوان امت او خواهد بود۔“
(دفتر دوم مکتوب: ۶۷)
ترجمہ: ...... ”اور تمام انبیاء کے خاتم محمد رسول اللہ ہیں (صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وعلیہم اجمعین) آپؐ کا دین ادیانِ سابقہ کے لئے ناسخ ہے، اور آپؐ کی کتاب (قرآن مجید) سابقہ کتابوں سے برتر ہے، اور آپؐ کی شریعت کے لئے کوئی ناسخ نہیں ہوگا، بلکہ قیامت تک باقی رہے گی، اور عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام جو نازل ہوں گے آپؐ کی شریعت پر ہی عمل کریں گے اور آپؐ کی امت میں شامل ہوں گے۔“
قادیانی صاحبان انصاف فرمائیں کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ماننا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے یا ہتک؟ اور مرزا صاحب کا ظلیت کی سیڑھی سے خود ”محمد“ ، ”احمد“ اور ”خاتم النبیین“ بن جانا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری ہے یا غداری؟
تنقیصِ سلف:
چونکہ چودہ صدی کی تمام امتِ اسلامیہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے رفع و نزولِ جسمانی کی قائل ہے، صحابہؓ، تابعینؒ، ائمہ مجتہدینؒ، محدثینؒ، مفسرینؒ، فقہاءؒ، صوفیاءؒ، متکلمینؒ سب کا یہی عقیدہ رہا اور حدیث، تفسیر اور عقائد کی کتابوں میں یہی عقیدہ درج ہے، اس لئے قادیانی صاحبان ان اکابر سے بے حد ناراض ہیں، اور انہیں نہایت نامناسب الفاظ سے یاد کرتے ہیں، کہیں ان حضرات کو
”بے تکی ہانکنے والے“ بتاتے ہیں، کہیں انہیں ”معمولی انسان“ اور کہیں ”احمق اور نادان“ قرار دیتے ہیں، کبھی اس عقیدہ کو ”شرک“ کہتے ہیں، کبھی یہودیانہ الحاد و تحریف کا خطاب دیتے ہیں، ان تمام القاب کا مقصد یہ ہے کہ مرزا صاحب سے پہلے تیرہ صدیوں کی امت معاذ اللہ! گمراہ، ملحد اور مشرک تھی، اور یہ سب العیاذ باللہ! بے تکی ہانکنے والے تھے۔ حضرت امام ربانی رحمہ اللہ نے اس کا فیصلہ بھی خوب فرمایا ہے، لکھتے ہیں:
”جماعہ کہ ایں اکابر دین را اصحاب رائے میدانند اگر ایں اعتقاد دارند کہ ایشاں بہ رائے خود حکم میکردند و متابعتِ کتاب و سنت نمی نمودند پس سوادِ اعظم از اہل اسلام بزعم فاسد ایشان ضال و مبتدع باشند بلکہ از جرگہ اہل اسلام بیرون بودند۔ ایں اعتقاد نہ کند مگر جاہلے کہ از جہل خود بے خبر است یا زندیقے کہ مقصودش ابطالِ شطر دین است۔“
(دفتر دوم مکتوب: ۵۵)
ترجمہ: ....... ”جو گروہ ان اکابر کو اصحابِ رائے جانتا ہے، اگر ان کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ حضرات محض اپنی رائے سے حکم کرتے تھے اور کتاب وسنت کی پیروی نہیں کرتے تھے تو ان کے زعمِ فاسد میں اہل اسلام کا سوادِ اعظم گمراہ اور بدعت پرست رہا، بلکہ دائرۂ اسلام سے ہی خارج رہا، یہ اعتقاد نہیں کرے گا مگر وہ جاہل جو اپنے جہل سے بے خبر ہے، یا وہ زندیق جس کا مقصود ہی شطر دین کو باطل قرار دینا ہے۔“
ظلی اتحاد:
قادیانی صاحبان کو معلوم ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب نے ”ظلی نبوت“ کا
دعویٰ کیا تھا، جس کی تشریح خود ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے:
”تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں، تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔“
”میرا نفس درمیان نہیں، بلکہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اسی لحاظ سے میرا نام ”محمد“ اور ”احمد“ ہوا، پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی، محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔“
”اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ باعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو، اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہوگیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا، کیونکہ وہ محمد ہے، گو ظلی طور پر، پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے، جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا ہے، پھر بھی سیدنا خاتم النبیین ہی رہا، کیونکہ یہ ”محمد ثانی“ اسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص:۵، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۰۹)
اور خطبہ الہامیہ میں مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”صار وجودی وجوده.“ یعنی میرا وجود بعینہ آپ کا وجود بن گیا ہے۔ اور ”من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی وما رای.“ یعنی جس نے میرے درمیان اور مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان فرق کیا، اس نے مجھے دیکھا اور پہچانا ہی نہیں۔
الغرض مرزا صاحب کی ظلی نبوت کے معنی ان کے نزدیک یہ ہیں کہ کمال اتباع کی وجہ سے ان کی ذات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے متحد ہوگئی ہے،
اور اس کمال اتحاد کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور کمالات نبوت (بلکہ نام، کام اور مقام تک) ظلی طور پر ان کی طرف منتقل ہوگئے، لہٰذا وہ نہ صرف نبی ہیں، بلکہ ظلی طور پر بعینہ محمد رسول اللہ ہیں، لیکن امام ربانی رحمہ اللہ اس قسم کے ”ظلی اتحاد“ کو تسلیم نہیں کرتے، بلکہ اسے حماقت اور جنون قرار دیتے ہیں اور جو شخص اس ظلی اتحاد کا عقیدہ رکھتا ہو، اسے کافر و زندیق اور زمرۂ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں، سنئے:
”وصولِ خادماں بامکنہ خاصۂ مخدومان تا، حقوق خدمت گاری بجا آرند، محسوس وضیع و شریف است، ابلہے بود کہ ازیں وصول توہم مساوات و شرکت نماید، ہر فراشے و مگس رانے و شمشیر بردارے قرین سلاطین عظام ست و در اخص امکنہ ایشاں حاضر، خیلے خبط مے طلبد کہ ازینجا توہم شرکت و مساوات نماید۔“
(دفتر دوم مکتوب: ۹۹)
ترجمہ:...... ”خادموں کا مخدوموں کے خاص مقامات میں اس مقصد کے لئے پہنچنا کہ خدمتگاری کے حقوق بجا لائیں، ہر خاص و عام کو معلوم ہے۔ احمق ہے وہ شخص جو اس وصول سے مساوات و شرکت کا وہم دل میں لائے۔ دیکھئے! ہر فراش، مگس ران اور شمشیر بردار، سلاطین عظام کے ساتھ ہوتا ہے اور ان کے خاص ترین مقامات تک ان کی رسائی ہوتی ہے، نہایت خبط و جنون میں مبتلا ہے وہ شخص جو اس رسائی سے شرکت و مساوات کا وہم رکھتا ہے۔“
اسی سلسلہ میں آگے چل کر فرماتے ہیں: ”اگر اعتقاد دارند کہ صاحب ایں حال معتقد شرکت و
مساوات ست بارباب آں مقامات عالی پس او را کافر و زندیق تصور میکنند و از زمرۂ اہل اسلام مے بر آرند۔ چہ شرکت در نبوت و مساوات بانبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کفر است۔‘‘
(دفتر دوم مکتوب: ۹۹)
ترجمہ:...... ’’اگر یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ صاحب حال، اربابِ مقاماتِ عالی کے ساتھ شرکت و مساوات کا عقیدہ رکھتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اسے کافر و زندیق تصور کرتے ہیں اور اسے زمرۂ اہل اسلام سے خارج سمجھتے ہیں، کیونکہ نبوت میں شرکت اور انبیاء علیہم السلام سے مساوات کا عقیدہ کفر ہے۔‘‘
(واضح رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نہ صرف وصف نبوت میں شرکت کا دعویٰ رکھتے ہیں، بلکہ اپنے آپ کو اولوالعزم انبیاء سے ’’تمام شان میں‘‘ بڑھ کر سمجھتے ہیں) اسی سلسلہ میں صحابہ کرام کے فضائل و مناقب اور ان کی افضلیت کا ذکر کرنے کے بعد حضرت امام ربانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ابلہے بود کہ خود را عدیل اصحاب خیر البشر علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات سازد۔ وجاہلے باشد از اخبار و آثار کہ خود را از سابقان تصور نماید۔‘‘ (دفتر دوم مکتوب: ۹۹)
ترجمہ:...... ’’احمق ہوگا جو اپنے تئیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے برابر سمجھتا ہو، اور احادیث و آثار سے جاہل ہوگا وہ شخص جو اپنے کو سابقین (صحابہ و تابعین) میں سے تصور کرتا ہو۔‘‘
واضح رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی جماعت کو صحابہ کی جماعت کے برابر قرار دیتے ہیں، حضرت مجدد رحمہ اللہ کا مندرجہ ذیل فقرہ اگرچہ کسی دوسرے موقع سے
متعلق ہے، لیکن یہاں کس قدر برمحل ہے؟:
”کناس خسیس کہ بنقص و خبث ذاتی متسم است چہ مجال کہ خود را عین سلطان عظیم الشان کہ منشأ خیرات و کمالات ست تصور نماید، و صفات و افعال ذمیمہ خود را عین صفات و افعال جمیلہ او توہم کند۔“
(دفتر دوم مکتوب: ۱)
ترجمہ:....... ”ایک خسیس بھنگی جس کی ذات ناقص و خبث کے عیب سے داغدار ہے، اس کی کیا مجال کہ اپنے آپ کو عظیم الشان سلطان کا جو منبع خیرات و کمالات ہے، عین تصور کرے؟ اور اپنے صفات و افعال ذمیمہ کو اس کے صفات و افعال جمیلہ کا عین خیال کرے؟“
بروز و تناسخ:
مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک ان کے ”نظریۂ بروز“ پر قائم ہے، ”بروزِ محمد“، ”بروزِ عیسیٰ“ اور ”بروزِ کرشن“ وغیرہ کی جو تشریحات انہوں نے سپرد قلم کی ہیں، وہ صاف صاف ”تناسخ“، ”حلول“ اور ”اواگون“ سے جاملتی ہیں۔ یہ لفظ انہوں نے غالباً صوفیا سے مستعار لیا اور اس پر اپنی تعبیرات کا خول چڑھایا، ”بروز“ کے بارے میں بھی حضرت امام ربانی رحمہ اللہ نے متعدد جگہ اظہارِ خیال فرمایا ہے، یہاں صرف ایک اقتباس کا نقل کرنا اہلِ بصیرت کے لئے کافی ہوگا، صوفیا کے اصطلاحی ”بروز“ کی تشریح کرنے کے بعد امام ربانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”و مشائخ مستقیم الاحوال بعبارت کمون و بروز ہم لب نمی کشایند و ناقصان را در بلا و فتنہ نمی اندازند۔“
(دفتر دوم مکتوب: ۵۸)
ترجمہ:....... ”اور جو مشائخ کہ مستقیم الاحوال ہیں، وہ
کمون و بروز کی عبارت کے ساتھ بھی لب کشائی نہیں کرتے، اور ناقصوں کو فتنہ میں نہیں ڈالتے۔‘‘
امام ربانی رحمہ اللہ کی اس تصریح کی روشنی میں فیصلہ کیجئے کہ مرزا قادیانی کے بروزی نعرے ان کی استقامت کی علامت تھے یا کجی اور فتنہ اندازی کا مظہر تھے؟ اور یہ ادعا کہ روح محمدی نے مرزا قادیانی کا روپ دھار لیا ہے (آئینہ کمالات) صریح طور پر ملحدانہ تعبیر ہے، جس کے حق میں حضرت مجدد رحمہ اللہ کے الفاظ میں بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ: ۔
”افسوس! ہزار افسوس! آں قسم بطالان خود را بمسند شیخی گرفتہ اند و مقتدائے اہل اسلام گشتہ اند، ضلوا فاضلوا۔‘‘
(دفتر دوم مکتوب:۵۸)
ترجمہ: ....... ”افسوس! ہزار افسوس! کہ اس قسم کے مکاروں نے پیری مریدی کی مسند اپنے لئے آراستہ کر رکھی ہے اور بزعم خود مقتدائے اہل اسلام بن بیٹھے ہیں، خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔‘‘
ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب بحرمۃ سید المرسلین علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات
(ماہنامہ بینات کراچی ربیع الاول ۱۳۹۵ھ)
حفاظتِ قرآن
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
قرآن کریم حق تعالیٰ شانہ کی آخری کتاب ہے، جس کی حفاظت کا اس نے خود ذمہ لیا ہے: ”إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ.“ تاریخ شاہد ہے کہ بہت سے لوگوں نے قرآن کریم کے الفاظ ومعانی کو بدلنے کی مذموم کوشش کی، مگر وہ ناکام و نامراد رہے۔ قرآن کریم کے الفاظ میں ترمیم اور تبدیلی کو تحریف لفظی کہا جاتا ہے، اور اس کے معنی ومفہوم بدلنے کو تحریف معنوی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ کے ذریعہ قرآن کو دونوں قسم کی تحریف سے محفوظ رکھا ہے۔
چودھویں صدی کے آغاز میں جس شخص نے قرآن کریم کی تحریف کا بیڑا اٹھایا، وہ مرزا غلام احمد قادیانی تھا، ”رئیس قادیان“ کے مؤلف جناب مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری نے لکھا ہے کہ حکیم نور الدین، سرسید احمد خاں کے بڑے راسخ الاعتقاد مرید تھے، انہوں نے سرسید کو لکھا کہ:
”رائج الوقت قرآن، عرب کے بدوؤں کی اصلاح کے لئے نازل ہوا تھا، اب زمانہ تیرہ سو سال کی مدت میں ترقی و
عروج کی منزلیں طے کر گیا ہے، اس لئے میری خواہش ہے کہ قرآن میں عہدِ حاضر کی ضروریات کے مطابق اصلاح و ترمیم کر لی جائے۔‘‘
سرسید نے اس کے جواب میں لکھا کہ: ’’میرا اصل عقیدہ تو یہ ہے کہ بائے بسم اللہ سے لے کر والناس کے سین تک، جو کچھ مابین الدفتین ہے، وہ سب کلام الٰہی ہے، اس میں سرمو اسقاط یا اضافہ کی گنجائش نہیں، اور ناسوتی و ظلمانی بشر کی کیا بساط ہے کہ کلام الٰہی میں اصلاح و ترمیم کا حوصلہ کرے.......‘‘
سرسید سے حکیم نور الدین کی خط و کتابت کی خبر جب مرزا غلام احمد نے سنی تو ان کا ساغرِ دل خوشی سے چھلک گیا، اور انہیں یقین ہوگیا کہ حکیم صاحب سے رابطۂ مودّت و اتحاد کا استوار کرنا، تکمیلِ مقاصد میں بڑا معاون ہوگا، جھٹ رختِ سفر باندھ جموں کا راستہ لیا، وہاں حکیم صاحب کے پاس، مرزا صاحب دس بارہ روز رہے، مختلف مسائل پر گفتگو رہی، آخر آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا گیا۔‘‘
(رئیس قادیان ج:۱ ص:۱۴۶)
حکیم صاحب کی خواہش کی تکمیل مرزا صاحب نے یوں کی کہ مامور من اللہ ہونے کے دعوے کے ساتھ قرآن کریم کی آیات میں قطع و برید کر کے انہیں الہامات کی شکل میں ڈھالنا شروع کیا اور انہی الہامات پر اپنے دعوؤں کی بنیاد رکھی، چنانچہ قادیانی الہامات میں سیکڑوں آیاتِ قرآن میں تحریف و ترمیم کی گئی اور ان میں مہمل اور لغو الفاظ کا پیوند لگایا گیا۔
یہ تو لفظی تحریف تھی، اس کے علاوہ قادیانی نبوت نے بے شمار آیاتِ قرآن
کے معنی و مفہوم میں بھی اُلٹ پھیر کیا، حد یہ کہ بہت سی وہ آیات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی سے خاص تھیں، مرزا غلام احمد قادیانی نے برملا ان کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا، اور متحدہ ہندوستان میں یہ سب کچھ انگریزی اقتدار کے زیر سایہ ہوتا رہا۔ مملکت خداداد پاکستان کے منصۂ وجود پر آنے کے بعد توقع تھی کہ اس ”اسلامی ملک“ میں قرآن کریم کے ساتھ یہ بدترین مذاق روا نہیں رکھا جائے گا، اور ایسے تمام لٹریچر کی اشاعت ممنوع قرار دی جائے گی جس میں قرآن کریم کو تحریف و ترمیم کا تختۂ مشق بنایا گیا ہے۔ لیکن: ”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ“ پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے تیسواں سال گزر رہا ہے، مگر آج تک کسی مسلم حکمران کو توفیق نہیں ہوئی کہ قادیانی نبوت کے اس گھناؤنے فعل کی طرف توجہ کرتا، موجودہ حکومت نے قرآن کریم کی صحیح اشاعت اور ترمیم و تحریف سے اس کی حفاظت کے لئے ایک قانون بھی وضع کر رکھا ہے، اس کے باوجود قادیانی تحریف پسندوں کو قرآن کریم سے تلعب کی کھلی چھٹی ہے اور وہ لٹریچر باقاعدہ چھپ رہا ہے، جس میں قرآن کریم کو لفظاً و معناً مسخ کیا گیا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ ان علمائے امت کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے قادیانی تحریفات کا پردہ چاک کیا، اور قرآن کریم کی عزت و ناموس کی حفاظت و پاسبانی کا فریضہ انجام دیا ہے۔
حال ہی میں قرآن کریم کی لفظی اور معنوی تحریف کی دو مثالیں سامنے آئی ہیں۔
- ۱:......کراچی میں ”تنظیم فکر چمن (پاکستان)“ کے نام سے کوئی تنظیم قائم ہے
جس کا ترجمان ”عکس چمن“ ۲/۷ جی، المدینہ کوارٹرز ناظم آباد، نزد مدینہ مسجد کراچی، سے شائع ہوتا ہے، ایڈیٹر کا نام سید ریاض حیدر نقوی درج ہے، اس کی محرم کی اشاعت میں سورۂ قصص کے حوالہ سے یہ آیت مع ترجمہ یوں درج کی گئی ہے:
”منهم ائمة يهدون الى الجنة ومنهم ائمة
يدعون الى النار.“
(سورة القصص: ۲۸/۴۱)
”دنیا میں امام دو طرح کے ہوتے ہیں، کچھ وہ خود جنت میں جاتے ہیں اور اپنے پیروی کرنے والوں کو بھی جنت میں لے جاتے ہیں، اور کچھ وہ امام جو خود دوزخ میں جاتے ہیں اور اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی دوزخ کا راستہ دکھاتے ہیں۔“
ہمیں علم نہیں کہ ”فکر چمن“ سے وابستہ افراد کے افکار و نظریات کیا ہیں؟ اور ان کی ذہنی و علمی سطح کیا ہے؟ لیکن اس میں شک نہیں کہ ایک مصنوعی فقرہ قرآن کریم کی طرف منسوب کرنے کی جسارت کی گئی ہے، اور ستم یہ کہ سورت اور آیت نمبر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، یہ جسارت اگر نادانستہ ہے تو لائق صد افسوس ہے، اور اگر دانستہ ہے تو لائق صد نفریں! اسی سلسلہ میں مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیوٹاؤن سے استفتاء لیا گیا ہے، جس کا جواب درج ذیل ہے:
”الجواب باسمه تعالیٰ
- ۱:..... قرآن کریم میں تحریف قطعاً نہیں ہوسکتی، ایک
کلمہ یا ایک حرف کی تبدیلی بھی قرآن کریم میں ناممکن ہے۔ اللہ رب العالمین نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے: ”إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ.“ آیت کریمہ میں تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کا نازل کرنے والا ہے، اور وہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم بلا کم و کاست صحابہؓ تک پہنچایا، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے امت مسلمہ تک۔ امت مسلمہ نے اس کی حفاظت کی، اس کی آیات، کلمات، حروف تک سب کے سب شمار کئے ہوئے ہیں، ہزاروں لاکھوں انسان اپنے سینوں میں اس کی حفاظت کر
رہے ہیں، تحریف لفظی کجا؟ تحریف معنوی بھی نہیں ہو سکتی! زنادقہ نے جب بھی تحریف معنوی کی کوشش کی، علمائے امت اور امتِ مسلمہ نے اس کو ردّ کر دیا اور ان تحریفات کو امتِ مرحومہ کے اجتماعی ذہن نے کبھی قبول نہیں کیا، حفاظتِ قرآن کا وعدۂ الٰہی ہر دور اور ہر زمانہ میں اسی طرح پورا ہوتا رہا، اور تحریف کرنے والے ہمیشہ خائب و خاسر رہے۔
- ۲:...... قرآن کریم میں ایک حرف کی بھی تحریف یا
تبدیلی کرنے والا باجماعِ امت کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے:
”اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ وَقَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلَامَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَهُمْ یَعْلَمُوْنَ.“
(البقرۃ:۷۵)
اس آیت سے واضح ہے کہ جو لوگ کلامِ الٰہی میں تحریف کرتے ہیں ان کے ایمان کی قطعاً کوئی امید نہیں کی جاسکتی، اور نہ ان کو مؤمن کہا جاسکتا ہے، صاحب ”روح المعانی“ لکھتے ہیں:
”وحاصل الآیۃ استبعاد الطمع فی ان یقع من ھؤلاء السفلۃ ایمان، فقد کان احبارھم ومقدموھم علیٰ ھذہ الحالۃ الشنعاء، ولا شک ان ھؤلاء اسوأ خلفًا واقل تمیزًا من اسلافھم او استبعاد الطمع فی ایمان ھؤلاء الکفرۃ المحرفین.“
(ج:۱ ص:۲۹۹)
پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآن کریم میں کسی قسم کی
تبدیلی کا حق نہیں تھا، ارشادِ خداوندی ہے:
”وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هٰذَا أَوْ بَدِّلْهُ، قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي، إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ، إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ.“
(یونس:۱۵)
کفار اور منافقین، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض آیات کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے تھے، اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ تبدیلی یا تحریف کا مطالبہ کرنے والے کافر یا منافق ہوتے ہیں، نیز کسی کو بھی قرآن کریم میں تبدیلی کا حق نہیں، فقہاء نے بھی قرآن کریم میں تحریف کرنے والوں کو بالاجماع کافر کہا ہے:
”ومن استخف بالقرآن او شىء منه، او جحده او حرفاً منه، او كذب بشىء منه، او اثبت ما نفاه، او نفى ما اثبته على علم منه بذالك، او شك فى شىء من ذالك، فهو كافر عند اهل العلم بالاجماع، وكذا من غير شيئاً منه او زاد فيه.“
(معین الحکام ص:۲۲۹)
یعنی جس شخص نے قرآن کریم کی یا اس کے کسی حصہ کی بے ادبی کی، یا اس کا یا اس کے کسی حرف کا انکار کیا، یا اس کی کسی بات کو جھٹلایا، یا دانستہ اس چیز کو ثابت کیا جس کی قرآن نے نفی کی ہے، یا اس چیز کی نفی کی جس کو قرآن نے ثابت کیا ہے، یا ان امور میں سے کسی چیز میں شک کیا، ایسا شخص اہل علم
کے نزدیک بالاجماع کافر ہے، اسی طرح وہ شخص بھی کافر ہے جس نے قرآن کریم میں تغیر و تبدل کیا، یا اس میں کچھ اضافہ کیا۔
- ۳:....... رسالہ ”عکس چمن“ میں سورۃ القصص کی
آیت: ۴۱ جن الفاظ میں لکھی ہے، وہ بلاشبہ تحریف لفظی ہے، اسلامی آئین کی رُو سے تحریف کرنے والا کافر و مرتد ہے، جس کی سزا قتل ہے (جبکہ توبہ نہ کرے۔ مدیر)۔ فقط واللہ اعلم!“
- ۴:....... تحریف کی دوسری افسوسناک مثال تحریف معنوی کی ہے، حال ہی میں
امۃ الکریم بیگم الحق صاحبہ کی جانب سے، جو اپنا تعارف ”مبلغہ ومفسرہ قرآن حکیم“ کی حیثیت سے کراتی ہیں، چند کتابچے شائع ہوئے ہیں، جو بڑی کثرت سے کراچی میں تقسیم ہورہے ہیں۔
ان کتابچوں کے سرسری مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیگم الحق صاحبہ نے بڑے اخلاص واشتیاق سے قرآن کریم پر لکھنے کی مشق شروع کی ہے، ان کا یہ جذبہ اپنی جگہ لائق تعریف سہی، لیکن افسوس ہے کہ ان کے قلم سے جو کتابچے شائع ہورہے ہیں، ان میں بچکانہ طرز تحریر کے علاوہ قرآن کریم کی آیات مقدسہ کا ایسا اُوٹ پٹانگ مفہوم گھڑا گیا ہے، جس کو ”تفسیر“ لکھنا، کتاب اللہ سے مذاق ہے۔ محترمہ کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے قرآن پڑھتے وقت لغت کی کتاب پاس رکھنے کو ”قرآن فہمی“ کے لئے کافی سمجھ لیا ہے، اس کے سوا کسی ذہنی صلاحیت اور علمی قابلیت کو ضروری نہیں سمجھا، اگر خالی لغت کی مدد سے طبّی کتابوں کا مطالعہ کرنے والا ”حکیم حاذق“ یا ”ڈاکٹر“ نہیں بن سکتا، اور اگر محض لغت کی مدد سے قانون کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والا ”بیرسٹر“ نہیں بن سکتا، تو محترمہ کے لئے کوئی عار کی بات نہیں ہے کہ وہ ”کریم اللغات“ یا ”المنجد“ کی مدد سے ”مفسرۂ قرآن“ کا خطاب حاصل نہ کرسکیں۔ انہوں نے قرآن
کریم سے جو ”سائنسی انکشافات“ ثابت کئے ہیں، وہ نہ صرف لغو اور مہمل ہیں، بلکہ مرادِ خداوندی کو صریح طور پر مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ قرآنِ کریم، سائنس کی کتاب نہیں کہ اس کی آیاتِ بینات کو توڑ مروڑ کر سائنسی انکشافات پر فٹ کیا جائے، اس پر مزید لکھنے کی ضرورت نہیں، محترمہ سے ہماری گزارش یہ ہے کہ وہ اپنی اس قسم کی تحریروں کو تلف کردیں، اگر حق تعالیٰ شانہ نے انہیں قرآن کریم کی خدمت کا جذبہ عطا فرمایا ہے اور اس کے وسائل بھی عطا فرمائے ہیں تو انہیں الٹ ٹپ ضائع نہ کریں، اس کی اور بھی بہت سی صورتیں ہو سکتی ہیں، مثلاً: وہ قرآن کریم کا ایک بہت ہی عمدہ نسخہ چھپوا کر مساجد اور مکاتب میں تقسیم کرا سکتی ہیں، یہ ان کے لئے صدقہ جاریہ ہوگا، قرآنِ کریم کے موضوع پر کسی محقق عالم کی کتاب چھپوا سکتی ہیں، کوئی عمدہ سی تفسیر اپنے خرچ پر چھپوا سکتی ہیں، غرضیکہ خدمتِ قرآن کی عمدہ سے عمدہ صورتیں ہو سکتی ہیں، کیا ضروری ہے کہ جس شخص کے ذہن میں جو خیال آجائے، اسے جھٹ سے قرآن کی طرف منسوب کرکے شائع کرنا شروع کردیا جائے؟ اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب کو اپنے ذاتی خیالات سے آلودہ کرنا بڑا ظلم ہے...!!
(ماہنامہ بینات کراچی ذیقعدہ ۱۳۹۶ھ)
7؍ ستمبر... آئینی تقاضے
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!
چودھویں صدی کا سب سے تاریک اور سب سے بدتر فتنہ قادیانیت ہے، جس کے دو پہلو ہیں، ایک پہلو اعتقادی اور دینیاتی اور دوسرا سیاسی ہے، اعتقادی لحاظ سے:
- ...... قادیانیت اسلام کے متوازی ایک نیا دین ہے۔
- ...... نبوت محمدیہ کے متوازی ایک نئی نبوت۔
- ...... قرآن کریم کے متوازی نئی وحی۔
- ...... اسلامی شعائر کے متوازی قادیانی شعائر۔
- ...... امت محمدیہ کے متوازی ایک نئی امت۔
- ...... مسلمانوں کے مکہ مکرمہ کے مقابلے میں نیا مکۃ المسیح۔
- ...... مدینہ منورہ کے مقابلے میں مدینۃ المسیح۔
- ...... اسلامی حج کے مقابلے میں ظلی حج۔
- ...... اسلامی خلافت کے مقابلے میں قادیانی خلافت۔
- ...... امہات المؤمنین کے مقابلے میں قادیانی ام المؤمنین ۔ وغیرہ
وغیرہ۔
مرزا محمود احمد صاحب (قادیانیوں کے خلیفہ دوم) نے اسلام اور قادیانیت کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا تھا:
”حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں، آپ نے فرمایا کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول اللہ ﷺ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے (مسلمانوں سے) اختلاف ہے۔“
(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ۳۰ جولائی ۱۹۳۸ء)
اس طرح مرزا قادیانی کی اس نئی نبوت اور نئے دین کو نہ ماننے والے مسلمان کافر اور جہنمی قرار پائے، چنانچہ مرزا قادیانی کا الہام ہے:
”جو شخص تیری پرواہ نہیں کرے گا، اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(اشتہار معیار الاخیار مندرجہ تبلیغ رسالت جلد نہم ص:۲۷)
مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے لڑکے مرزا محمود احمد صاحب لکھتے ہیں:
”کُل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص: ۳۵)
مرزا قادیانی کے منجھلے لڑکے مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ:
”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص: ۱۱۰)
بنیادی طور پر قادیانیت ہمیشہ انگریز کی حلیف اور اسلام اور مسلمانوں کی حریف ہے۔ قرآن کریم، یہود اور مشرکین کو مسلمانوں کا سب سے بدتر دشمن قرار دیتا ہے، مگر ان کے بعد قادیانی مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں۔ قادیانیوں کے خلیفہٴ دوئم مرزا محمود صاحب نے اپنے مریدوں کو اسلام کی مخالفت کی بار بار تاکید کی ہے، مثلاً:
- الف: ...... ”ساری دنیا ہماری دشمن ہے، اور جب تک
ہم ساری دنیا کو احمدیت میں شامل نہ کرلیں ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ۲۵/ اپریل ۱۹۳۰ء)
- ب: ...... ”ہماری بھلائی کی صرف ایک صورت ہے،
اور وہ یہ کہ ہم تمام لوگوں کو اپنا دشمن سمجھیں۔“
(الفضل ۲۵/ اپریل ۱۹۳۰ء)
- ج: ...... ”وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود (غلام احمد
قادیانی) پر ایمان رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ سب کچلے جائیں گے صرف ہم باقی رہیں گے۔“
(الفضل ۳/ اپریل ۱۹۲۸ء)
- د: ...... ”جب تک تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے
تمہارے راستے کے کانٹے دور نہیں ہو سکتے۔“
(الفضل ۲۵/ اپریل ۱۹۳۰ء)
قادیانیوں کی اسلام دشمنی کا ایک مظہر یہ ہے کہ مسلمانوں پر جب بھی افتاد
پڑی تو قادیانیوں نے اس پر خوشی کے شادیانے بجائے، مثلاً جب جنگ عظیم میں اسلام دشمن طاقتیں ترکی کو تاراج کر رہی تھیں، قادیانی خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے، اور قادیانیوں کا سرکاری اخبار ”الفضل“ بڑی بے دردی سے اعلان کر رہا تھا:
- الف:...... ”ترکی حکومت اسلام کے لئے مفید ثابت
ہونے کے بجائے مضر ثابت ہوئی ہے، اگر وہ اپنی بداعمالی اور بدکرداری کے باعث مٹتی ہے تو مٹنے دو۔ اور یاد رکھو کہ ترک اسلام نہیں ۔“
(الفضل ۲۳/مارچ ۱۹۱۵ء)
- ب:...... ”قادیان سے تعلق رکھنے والے کسی احمدی کا
عقیدہ نہیں سلطان ترکی خلیفۃ المسلمین ہے۔“
(الفضل ۱۶/فروری ۱۹۲۰ء)
- ج:...... ”ہمارے خلیفہ حضرت مسیح موعود (مرزا
صاحب) کے خلیفہ ثانی ہیں اور بادشاہ حضور ملک اعظم (جارج پنجم فرمانروائے برطانیہ)۔“
(الفضل ۲۲/دسمبر ۱۹۱۹ء)
اور جب انگریزی فوجیں عروس البلاد بغداد شریف کو پامال کر رہی تھیں، تب پورا عالم اسلام خون کے آنسو رو رہا تھا مگر قادیانی، قادیان میں خوشی کا جشن منا رہے تھے، چراغاں کیا جا رہا تھا اور قادیانیوں کا سرکاری اخبار بڑے فخر سے اعلان کر رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ:
”میں مہدی ہوں، اور گورنمنٹ برطانیہ میری تلوار ہے۔ (جیسا مہدی ویسی تلوار۔ ناقل) اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح (یعنی انگریزوں کی بغداد پر فتح) پر کیوں خوشی نہ ہو، عراق، عرب ہو یا شام، ہر جگہ ہم اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“
(الفضل ۷/دسمبر ۱۹۱۸ء)
یہ اسلام دشمنی کا وہ گھٹیا مظاہرہ ہے جس کی توقع صلیب پرستوں یا ان کے آلہ کار قادیانیوں ہی سے کی جاسکتی ہے۔ قادیانی اسلام کی مخالفت میں اس پست سطح پر اتر آئے ہیں کہ وہ تمام اسلامی ممالک پر برطانیہ کا تسلط دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ انگریزی حکومت ان کے خود ساختہ مہدی کی تلوار ہے۔
قادیانیت کی اسلام سے بغاوت اور پھر اسلام دشمنی کے گھٹیا کردار کو دیکھتے ہوئے علامہ اقبال مرحوم نے اس وقت کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ قانونی طور پر قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ اقلیت تسلیم کرے، لیکن انگریز اپنے خود کاشتہ پودے (قادیانیت) کے حق میں مسلمانوں کا یہ مطالبہ کیسے تسلیم کرسکتا تھا۔ چنانچہ انگریزی دور میں قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کی جاسوسی کرتے رہے، قیام پاکستان کے بعد ملکی حالات بہت کمزور تھے، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں نے اپنے جامہ سے باہر پاؤں پھیلانا شروع کئے، اور پورے پاکستان کو یا کم از کم بلوچستان کو مرتد کرنے کا اعلان کردیا، اس سے مسلمان مشتعل ہوگئے، ۱۹۵۳ء کی تحریک چلی اور وہی مطالبہ کیا گیا جو علامہ اقبال نے انگریزی حکومت سے کیا تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے، لیکن اس وقت کی حکومت پر قادیانیوں کا گہرا تسلط تھا، اس لئے مسلمانوں کے مطالبہ کو ٹھکرا دیا گیا، اور فوج کی طاقت سے تحریک کو کچل دیا گیا، شہیدان ختم نبوت کے خون سے نہ صرف بازار اور سڑکیں لالہ زار ہوئیں، بلکہ دریائے راوی کی موجیں ان لاشوں کا مدفن بنیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت اگرچہ کچل دی گئی، لیکن اس سے قادیانیت کو اپنی قدر و قیمت معلوم ہوگئی، اور اس کا غلغلہ تھم گیا، نیز قدرت کی بے آواز لاٹھی نے ان تمام لوگوں سے انتقام لیا جنہوں نے تحریک ختم نبوت سے غداری کی تھی، خواجہ ناظم الدین صاحب، ظفر اللہ خان قادیانی کو وزارت خارجہ سے الگ کرنے پر آمادہ نہ تھے، قدرت نے قادیانی وزارت خارجہ کے ساتھ خواجہ ناظم الدین کی وزارت عظمیٰ پر بھی خط تنسیخ کھینچ دیا، خواجہ صاحب بڑے بے
آبرو ہو کر کوچہ وزارت سے نکلے ۔ اور آخر تک ان کا سیاسی وقار بحال نہ ہوسکا، پنجاب سے دولتانہ حکومت رخصت ہوئی، اور پھر کبھی ان کو حکومت کا خواب دیکھنا نصیب نہ ہوا۔
۱۹۷۱ء کے انتخابات میں قادیانی، مسٹر بھٹو کے حلیف تھے اور انہوں نے بھٹو صاحب کو جتوانے میں ہر ممکن تعاون کیا تھا۔ چنانچہ جب پاکستان کو دو ٹکڑے کر کے مسٹر بھٹو تخت اقتدار پر براجمان ہوئے تو قادیانیوں کے لئے ایک بار پھر مسٹر ظفر اللہ خاں کا دور لوٹ آیا۔ اور انہوں نے نہ صرف تعلیم گاہوں میں قادیانی ارتداد کی تبلیغ شروع کردی۔ بلکہ مسلمانوں کے گھروں اور مسجدوں میں بھی اشتہارات اور پمفلٹ پھینکنے شروع کردیئے۔ قادیانی نجی مجلسوں میں مسلمانوں کو دھمکیاں دینے لگے کہ ان کی حکومت عنقریب قائم ہونے والی ہے، اور قادیانیوں کے خلیفہ ربوہ نے اشاروں، کنایوں میں قادیانیوں کو خاص قسم کی تیاریوں کا حکم دے دیا، لیکن قدرت ایک بار پھر ان کے غرور کو خاک میں ملانا چاہتی تھی۔ قادیانیوں نے ربوہ اسٹیشن پر نشتر کالج ملتان کے طلباء پر اپنی قوت کا مظاہرہ کیا۔ اور نوجوان طلباء کو لہولہان کردیا، اس سے پورے ملک میں قادیانیوں کی اسلام دشمنی کے خلاف نفرت و بے زاری کی تحریک پیدا ہوئی اور ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ:
- ٭...... قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- ٭...... ان کو کلیدی مناصب سے برطرف کیا جائے۔
- ٭...... ان کی اسلام کش سرگرمیوں کا تدارک کیا جائے۔
تحریک کو نظم و ضبط کا پابند رکھنے کے لئے ایک ”مجلس عمل تحفظ ختم نبوت“ وجود میں آئی، جس میں ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے شرکت کی۔
بھٹو حکومت کے لئے یہ تحریک ”دوگونہ عذاب است جان مجنوں را“ کے مصداق تھی، ایک طرف بھٹو شاہی کے محبوب حلیف قادیانی تھے، اور دوسری طرف
مسلمانوں کا مجموعی ردعمل تھا۔ بھٹو صاحب نے اس تحریک کو کچلنے کے لئے تمام حربے استعمال کئے، لاکھوں افراد کو جیلوں میں بند کیا گیا، مسلمانوں کے جلسوں، جلوسوں پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی۔ اور جیلوں میں علما، طلبا اور وکلا کو نہایت غیر شریفانہ اذیتیں دی گئیں۔ قرطاس ابیض سے یہ بات بالکل کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ بھٹو شاہی، قادیانیوں کی ناز برداریوں میں تمام سابقہ حکومتوں سے سبقت لے گئی تھی، وہ قادیانی مسئلہ کے حل کرنے میں قطعی مخلص نہ تھی، بلکہ اس مسئلے کو کھٹائی میں ڈالنے، تحریک کو کچلنے اور معاملہ کو الجھانے کے لئے ہر حربہ استعمال کر رہی تھی، مثلاً:
حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت، جو اس تحریک کے قائد اور روح رواں تھے، ان کو بدنام کرنے کے لئے تمام اخبارات میں لاکھوں روپے کے بڑے بڑے اشتہارات شائع کئے گئے، جن میں بالکل لچر اور بے ہودہ الزامات عائد کئے گئے، مقصد یہ تھا کہ قیادت بدنام اور تحریک غیر مؤثر ہو جائے، یہ ’’مقدس فریضہ‘‘ مولانا کوثر نیازی، پیر علی محمد راشدی اور یوسف بچ پر مشتمل ایک کمیٹی انجام دے رہی تھی۔
جسٹس صمدانی نے سانحہ ربوہ کی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کی تھی، جس میں بھر پور دلائل و شواہد کی روشنی میں لکھا گیا تھا کہ حکومت قادیانیوں کی بے جا حمایت کر رہی ہے، اور اس اشتہاری مہم سے عوام محسوس کر رہے ہیں کہ اس میں حکومت کے محکمہ اطلاعات کا ہاتھ ہے۔
جب یہ رپورٹ آخری منظوری کے لئے مسٹر بھٹو کے دربار معلیٰ میں پیش ہوئی تو انہوں نے اس پر یہ نوٹ لکھا کہ: ”اس رپورٹ کو اس طرح شائع کیا جائے کہ لوگ
سمجھیں کہ حکومت نے صحیح فیصلہ کیا ہے، یہ نہ ہو کہ لوگ ان حقائق کو پڑھ کر قادیانیوں سے برہم ہو جائیں، اس بات کا خاص خیال رکھا جائے۔‘‘
گویا بھٹو صاحب یہ حکم صادر فرما رہے تھے کہ اس رپورٹ کو شائع کرنا ہو تو رد و بدل اور تنسیخ کے بعد شائع کیا جائے، چنانچہ آج تک یہ رپورٹ شائع نہیں ہوئی۔ اور نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنی اصل حالت میں باقی بھی ہے یا مسخ کردی گئی ہے۔ الغرض مسٹر بھٹو ہر ممکن طریقے سے تحریک کو کچلنا اور قادیانیوں کی پاسبانی کرنا چاہتے تھے، لیکن جب کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو بھٹو صاحب نے قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی کی حیثیت دے کر اس مقدمہ کا فیصلہ اس کے سپرد کر دیا۔ بھٹو صاحب شاید یہ خیال کرتے تھے کہ اسمبلی کے ارکان کی اکثریت ان کی پارٹی کی ہے، اس کے ذریعہ مسلمانوں کے مطالبہ کو آئینی طور پر ٹالا جاسکے گا، لیکن معاملہ ان کی خواہشات کے برعکس ہوا۔ قادیانیوں کے سربراہ مرزا ناصر نے اپنی جماعت کا موقف پیش کیا، اور گیارہ دن اس پر جرح ہوئی، لاہوری جماعت کے سربراہ مسٹر صدر الدین صاحب نے اپنی جماعت کا موقف پیش کیا، اور دو دن اس پر جرح ہوئی۔ ان بیانات اور ان پر کی گئی جرح سے قادیانیوں کا کفر و ارتداد سب ارکان اسمبلی پر کھل گیا، اور ہر رکن اسمبلی کو معلوم ہو گیا کہ واقعتاً قادیانیت، اسلام کی ضد ہے۔
اسمبلی کے سامنے ایک قرارداد سرکاری پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی تھی، اور ایک حزب اختلاف کی جانب سے، ان دونوں پر اسمبلی کو بحیثیت خصوصی کمیٹی کے غور کرنا تھا، چنانچہ خصوصی کمیٹی نے اسمبلی کے سامنے پیش کی گئی قراردادوں پر غور کرنے، دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں۔ بشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور۔ کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد حسب ذیل سفارشات پیش کیں:
- ۱:...... پاکستان کی دفعہ ۱۰۶ (۳) میں ترمیم کر کے غیر مسلم اقلیتوں میں
قادیانیوں کا نام درج کیا جائے، نیز دفعہ ۲۶۰ (۲) کے بعد حسب ذیل شق کا اضافہ کیا جائے:
(۳) ”جو شخص محمد ﷺ، جو آخری نبی ہیں، کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔“
- ۲:...... مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ الف میں حسب ذیل تشریح
درج کی جائے:
”(تشریح) کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ۲۶۰ کی شق (۳) کی تصریحات کے مطابق محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہوگا۔“
- ۳:...... متعلقہ قوانین مثلاً قومی رجسٹریشن ایکٹ ۱۹۷۳ء اور انتخابی فہرستوں
کے قواعد ۱۹۷۴ء میں منتجہ قانونی اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں گی۔
- ۴:...... پاکستان کے تمام شہریوں کے، خواہ وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتے
ہوں، جان و مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔
یہ سفارشات جب مسٹر بھٹو کے سامنے پیش ہوئیں تو انہوں نے قادیانیوں کو بچانے کی ایک بار پھر کوشش کی، اور اصرار کیا کہ آئین کی دو دفعات میں جو ترمیمات تجویز کی گئی ہیں، یہ غیر ضروری ہیں، صرف ایک دفعہ میں ترمیم کافی ہے، یعنی آئین کی
دفعہ ۲۶۰ میں شق (۳) کا اضافہ کر دیا جائے، مگر غیر مسلم اقلیتوں کی فہرست میں قادیانیوں کا نام درج نہ کیا جائے، بلکہ یہ بات عدالت پر چھوڑ دی جائے کہ دفعہ ۲۶۰ (۳) کا اطلاق قادیانیوں پر ہوتا ہے یا نہیں؟
حزب اختلاف کے قائد مفتی محمود صاحب اور مجلس عمل کے دوسرے رہنماؤں کا اصرار تھا کہ دفعہ ۱۰۶ (۳) میں قادیانیوں کا غیر مسلم اقلیتوں میں درج ہونا بہت ضروری ہے۔
مسٹر بھٹو نے اس رد و کد پر خاصا وقت ضائع کیا، لیکن جب دیکھا کہ اب اس کے بغیر ان کے لئے کوئی چارہ کار نہیں تو بادل نخواستہ اس کو منظور کرنا پڑا۔
اس طرح قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو مطالبہ علامہ محمد اقبال مرحوم نے انگریزی دور میں کیا تھا، وہ مسلمانوں کی مسلسل تحریک کی بدولت قیام پاکستان کے ۲۷ برس بعد (۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء) کو منوالیا گیا۔ (والحمد للّٰہ علی ذٰلک)!
چونکہ بھٹو صاحب اس آئینی فیصلے میں مخلص نہیں تھے، صرف دفع الوقتی کے لئے انہوں نے طوعاً و کرہاً یہ فیصلہ تسلیم کیا تھا، اس لئے انہوں نے اپنے پورے دور حکومت میں اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کی نہ صرف یہ کہ کوشش نہیں کی بلکہ اس کے راستے میں رکاوٹ بنے، چنانچہ اس آئینی فیصلے کی تعمیل کے لئے انہوں نے قانون سازی اپنے معزول ہونے کے آخری لمحہ تک نہیں ہونے دی، حزب اختلاف نے ایک مسودۂ قانون اسمبلی میں پیش کیا، مگر اس کو مسترد کر دیا گیا۔
مسٹر بھٹو تو صاحب غرض تھے، انہیں قادیانیوں سے ووٹ لینے تھے اس لئے وہ انہیں ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے، مگر موجودہ حکومت کو قادیانیوں سے کوئی لالچ نہیں اس لئے مسلمان موجودہ حکومت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قادیانیوں کے سلسلہ میں جو مسائل فوری توجہ کے مستحق ہیں وہ انہیں حل کرے، مثلاً:
- ۱:......قادیانی غیر مسلم ہونے کے باوجود اسلامی شعائر کو استعمال کرتے ہیں،
ان کو اس سے قانوناً روکا جائے، مثلاً اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنا، یا مسجد سے مشابہ عبادت گاہ بنانا، اذان کہنا، وغیرہ۔
- ۲:......قادیانی جن کلیدی عہدوں پر فائز ہیں انہیں برطرف کیا جائے اور
حکومت کے خاص راز ان پر افشاء نہ کئے جائیں، کیونکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں، بلکہ بدترین دشمن ہیں۔
- ۳:......جن دفاتر میں قادیانی افسر ہیں وہ اپنے ماتحت مسلمانوں کو قادیانی
کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جو ان کے ڈھب پر نہیں آتا اسے ہر ممکن طریقہ سے تنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔
- ۴:......قادیانی مسلمانوں کے نام پر حج پر جاتے ہیں اور بشمول سعودی عرب
کے اسلامی حکومتوں میں (جہاں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے) ملازمت کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومت نے مسلمانوں اور قادیانیوں کے شناختی کارڈوں اور پاسپورٹوں میں کوئی امتیازی علامت نہیں رکھی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ان کے شناختی کارڈوں اور پاسپورٹوں پر لفظ ”غیر مسلم قادیانی“ درج کیا جائے۔
- ۵:......قادیانیوں نے بیرون ملک پاکستان کے خلاف جو زہریلا پروپیگنڈہ
کیا ہے اس کا توڑ کیا جائے۔
- ۶:......حال ہی میں اسلامی ایشیائی کانفرنس منعقدہ کراچی میں اس کے
بارے میں جو قرارداد منظور کی گئی تھی، اس پر ٹھوس طریقے پر عمل کیا جائے۔
آخر میں ہم حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ یہ دن چونکہ مسلمانوں کے لئے ایک عظیم اور مبارک دن ہے اور اس دن ان کو ایک خفیہ دشمن سے نجات ملی لہٰذا مطالبہ ہے کہ قومی سطح پر اس دن کا خاص طور پر اہتمام کیا جائے۔
جنرل صاحب! کیا یہ صحیح ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
لندن سے ایک اردو اخبار ”آزاد“ نکلتا ہے، جس کا مینیجنگ ایڈیٹر حبیب الرحمٰن نامی ایک شخص ہے، ہماری معلومات یہ ہیں کہ یہ صاحب بیس سال سے لندن میں ہیں، پہلے ”جنگ لندن“ میں تھا، وہاں غبن کیا، عدالت میں مقدمہ گیا اور اس کے خلاف فیصلہ ہوا، اس قماش کے لوگوں کو قادیانیت کے دامن میں پناہ ملا کرتی ہے، چنانچہ قادیانیوں کے تعاون سے اس نے ”آزاد“ اخبار جاری کیا جو مسلسل کئی سال سے قادیانیوں کا پروپیگنڈا کر رہا ہے اور نمایاں طور پر انہی کی خبریں شائع کرتا ہے۔ بیرون ملک میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنا قادیانیوں کا محبوب ترین مشغلہ ہے، خصوصاً لندن کی فضا ان کی پاکستان دشمنی کے لئے خاص طور پر سازگار ہے، چنانچہ یہ اخبار بھی روز اول سے پاکستان اور حکومت پاکستان کے خلاف نہایت زہریلا مواد شائع کر رہا ہے، اس اخبار کی ۲۶؍اپریل تا ۲؍مئی ۱۹۷۸ء کی اشاعت ہمارے سامنے ہے، جس میں مندرجہ ذیل خبر صفحہ اول پر ”شہ سرخی“ کے ساتھ شائع کی گئی ہے:
”احمدی اور قادیانی مسلمان ہوگئے“ ”غیر مسلم قرار دینے سے متعلقہ فیصلہ پیپلز پارٹی کے
غدار، شیطانی ٹولے کی سازش تھی۔“
”جنرل ضیاء سے نظر ثانی کرنے اور احمدیوں کو مسلمان تسلیم کرنے کا مطالبہ۔“
”لندن: معلوم ہوا ہے کہ احمدیہ کمیونٹی کے بعض اکابرین نے اپنی ایک تحریری درخواست میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق سے استدعا کی ہے کہ احمدیوں اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بارے میں قومی اسمبلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، اور انہیں مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کی طرح مسلمان سمجھا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ، قرآن پاک اور رسول کریم ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں اور انہیں غیر مسلم قرار دینا سراسر زیادتی ہے، اس لئے قومی اسمبلی کے متعصبانہ فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے۔
درخواست میں قیام پاکستان میں چوہدری سر ظفر اللہ خاں سے لے کر پاکستان کی سائنسی ترقی میں ڈاکٹر عبدالسلام ایسے احمدی اکابرین کی خدمات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے، اور احمدیوں کو مسلمان، پاکستانی قوم کا ایک مؤثر حصہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ”احمدیوں اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ قوم کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ پی پی پی کے غدار شیطانی ٹولے کا فیصلہ تھا۔“
یہ خبر جس قدر حیرت انگیز اور سنسنی خیز ہے اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارا خیال ہے کہ قادیانی اخبار ”آزاد“ لندن کی یہ خبر محض بازاری گپ ہے جو کہ ایک خاص سازش کے تحت پاکستان میں انتشار پھیلانے اور عوام کو مارشل لا
حکومت سے بدظن کرنے کے لئے گھڑی گئی ہے، قادیانیوں کو معلوم ہے کہ اس مسئلہ میں مسلمانوں کے احساسات کتنے نازک ہیں اور جب یہ بات مسلمانوں کے علم میں آئے گی کہ عالم اسلام کے مسلمہ فیصلہ کو منسوخ کرنے کا مسئلہ مارشل لاء حکومت کے زیر غور ہے تو اس سے مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھیں گے اور موجودہ حکومت کے خلاف نفرت و بے زاری اور بے اعتمادی کی عام فضا پیدا ہو جائے گی۔
ہم مارشل لاء حکومت سے صرف یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ قادیانی اخبار ”آزاد“ کی یہ خبر کہاں تک صداقت پر مبنی ہے؟ اور اگر یہ خبر غلط، من گھڑت اور گمراہ کن ہے تو حکومت پاکستان کا پہلا فرض یہ ہے کہ نہ صرف قادیانیوں کی اس شرانگیز خبر کی واضح طور پر تردید کرے، بلکہ اس مکروہ سازش پر قادیانیوں کے سرغنہ سے جواب طلبی بھی کرے، نیز لندن میں ہمارے سفارت خانے کو اس متعفن خبر کی تردید کا حکم دیا جائے۔
”آزاد“ نے مسٹر بھٹو اور اس کی پارٹی کو غدار شیطانی ٹولے کا خطاب دیا ہے، اور اسے سانحہ ربوہ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، ہم اس کی تائید کرتے ہوئے اس پر اتنا اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ قادیانی خود بھی اسی ”غدار شیطانی ٹولے“ کے آلہ کار تھے، مارچ ۱۹۷۷ء کے انتخابات سے چند دن پہلے مرزا ناصر نے اسی ”غدار شیطانی ٹولے“ سے چار گھنٹے تک ملاقات کر کے اپنی پارٹی کو اس ٹولے کی حمایت کرنے کی ہدایت کی تھی، اسی بنا پر نقاش پاکستان علامہ اقبال مرحوم نے فرمایا تھا کہ:
”قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں۔“
(پنڈت نہرو کے نام خط)
اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ان غدارانِ اسلام کے شر سے محفوظ فرمائے۔ وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ صفوۃ البریۃ محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ و اتباعہ اجمعین۔
(افتتاحیہ صفحہ اقرأ روزنامہ جنگ کراچی ۸؍ ستمبر ۱۹۷۸ء)
۷؍ ستمبر کے فیصلے پر بے جا اعتراض
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
”لاہوری فرقہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب نبی نہیں تھے، اور ربوائی فرقہ کہتا ہے کہ نبی تھے۔ اور دنیا جانتی ہے کہ نبی کو نبی نہ ماننا کفر ہے، اور غیر نبی کو نبی ماننا بھی کفر ہے۔ اب لاہوری مرزائیوں کے نزدیک ”ربوائی فرقہ“ کافر ہے، اور ربوہ والوں کے نزدیک ”لاہوری فرقہ“ مرزا کو نبی نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہے۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئینی فیصلہ پر ایک معترض کے جواب میں حکیم العصر حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ کی چشم کشا تحریر ملاحظہ فرمائیں۔“ ........................................(مدیر)
پاکستان کی اسمبلی کا قادیانیوں کو کافر قرار دینا ۱۹۷۴ء کے اہم ترین واقعات میں سے تو ضرور ہے مگر یہ معاملہ یا فیصلہ ایک اعلیٰ سیاسی و آئینی ادارہ کی جانب سے صادر ہوا ہے جو خالصتاً ایک سیاسی فیصلہ ہے چوہدری غلام احمد پرویز صاحب کا اس سیاسی فیصلہ کو اپنی مری اور مٹی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے یا برقرار رکھنے کے لئے استعمال
کرنا ہمارے نزدیک انتہائی عیاری اور عوام دشمنی ہے۔
معروضی تجزیہ:
واقعات و حالات کا تجزیہ معروضی انداز میں کیا جانا چاہئے، اپنی اپنی رنگین و طرحدار خواہشات کی عینکیں لگا کر مشاہدہ کرنے والے ہی ہمیشہ ناکام و نامراد ہوئے ہیں۔ ہمارے خیال میں ربوائی گروپ نے اپنی حکمت عملی سے حکومت وقت کے ساتھ ٹکراؤ و تصادم کی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ واقعہ ربوہ سے بہت قبل کرلیا تھا، اس سلسلہ میں کئی ایک شہادات اخبارات میں بھی ظاہر ہوچکی ہیں۔ ہم جیسے عام انسانوں کی آنکھوں نے بھی ان کا مشاہدہ کیا ہے، قادیانیوں نے ایک لمبے عرصہ سے اپنے آپ کو عام مسلمانوں سے الگ کرلیا تھا، وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا، ان کے ساتھ رشتہ و نکاح کرنا، ان کی نماز جنازہ پڑھنا، غرضیکہ کسی بھی مشترک امر پر عام مسلمانوں سے تعاون کرنے پر تیار نہ تھے۔
انہوں نے مرزا صاحب کو عملاً ایک مستقل نبی اور اپنے آپ کو ایک مستقل امت مان کر اپنی حکمت عملی کے قیام کا پاکستان سے بہت پہلے ہی آغاز کردیا تھا، ان کی آمرانہ قیادت نے برطانوی حکومت، کانگرس اور مسلم لیگ کی ایک تثلیث کے بارگراں کو وقتاً فوقتاً اپنی نازک کمر پر اٹھانے کی کوشش کی اور آخر میں کچھ مخصوص مفادات اور حالات کے پیش نظر اس آمرانہ قیادت نے پی پی پی کے ساتھ انتخابات کے دوران ہر طرح کے تعاون کا فیصلہ کرلیا اور جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے اس نے رات دن کام کیا، اس کے ہمہ وقتی مذہبی مبلغین نے اپنے اپنے جماعتی حلقوں اور دیگر زیر اثر علاقوں میں پی پی پی کے لئے کام کیا، اس قادیانی حکمت عملی کے پس منظر میں کچھ مخصوص ذہنی تحفظات اور مقدمات فکر کام کررہے تھے۔ انہیں خطرہ یہ تھا کہ کہیں کوئی مذہب پسند سیاسی جماعت پاکستان کی ہیئت مقتدرہ پر قبضہ نہ کرے، اس
خطرہ کے پیش نظر انہوں نے پی پی پی کے ساتھ ہر طرح کے تعاون یا اشتراک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پی پی پی کو توقع سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی، اس کی اس کامیابی کو بھی ربوہ کی آمرانہ قیادت نے اپنے مخصوص عقائد و نظریات اور مستقبل کی خوش آئند توقعات کے زاویہ نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا اور ان کے مہم جو عناصر نے آہستہ آہستہ حکومت کی مسند اور اقتدار کی کرسی پر پہنچنے کے سہانے خواب دیکھنے شروع کر دیئے، اگر قارئین نے اس تقریر کو پڑھا ہے جو ناصر احمد خلیفہ ربوہ نے کشمیر اسمبلی کے فیصلہ کے متعلق ایک جمعہ میں خطاب کرتے ہوئے کی تھی، تو وہ ہماری اس رائے کی تائید کریں گے، اس تقریر میں جو تعلی و انانیت اور جس خود فریبی کی نمود و نمائش کی گئی اس سے صاف نظر آ رہا تھا کہ یہ قیادت کسی وقت بھی تصادم و ٹکراؤ کو لبیک کہنے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔ لیکن انہیں اس امر کا احساس نہیں ہوا کہ اس وقت پاکستان کی سیاسی زمام اقتدار ایک ایسے انسان کے قبضہ میں ہے جو سیاست و حکمت عملی کے تہہ در تہہ اسرار و رموز کا کامل ماہر ہے۔ پھر وہ عوامی مزاج کا لیڈر ہے، وہ تحفظ و استحکام پاکستان کا ہر قیمت پر متمنی ہے، لہٰذا جب بھی اس کی کسی قوت کو چیلنج کیا گیا وہ اپنی حکمت عملی، اپنے عوام پسند مزاج، تحفظ و استحکام پاکستان کے مخصوص مفادات کے پیش نظر اپنے عزیز سے عزیز تر رفیقوں اور غدار ساتھیوں کو چھوڑنے اور انہیں اپنی موت مرنے کے لئے تنہا چھوڑ دے گا۔
خالص سیاسی فیصلہ:
ہمارے نزدیک قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی اصل وجوہ سیاسی ہیں، اور چونکہ انہوں نے عملاً اپنے آپ کو عام ملت سے الگ ایک امت بنا لیا ہے، ایک نئی نبوت کے وہ مدعی بن چکے ہیں، لہٰذا اسمبلی نے خود انہیں کے آلہ و ہتھیار سے انہیں مفلوج کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسے پرویز صاحب اپنے کھاتے میں ڈالنا چاہتے ہیں
تو یہ ان کی بھول ہے۔ خود پرویز صاحب نے بھی جناب وزیراعظم کی اس تقریر پر جو انہوں نے اسمبلی میں فیصلہ کئے جانے کے دوران کی تھی اظہار حیرت و تعجب کیا ہے، پرویز صاحب نے بحوالہ ”ہفت روزہ ایشیا“ وزیراعظم کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں:
”یہ فیصلہ مذہبی بھی ہے اور سیکولر بھی، سیکولر اس معنی میں کہ ہم عصر جدید میں سے گزر رہے ہیں اور ہمارا دستور سیکولر ہے کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ ملک کے تمام شہری یکساں سلوک کے حقدار ہیں۔“
(ماہنامہ طلوع اسلام نومبر ص:۲۹)
ان الفاظ پر جو شخص بھی ذرا گہرائی میں اتر کر مستقبل قریب اور بعید پر ایک گہری نگاہ ڈال کر بات کرے گا، وہ یہ کہے بغیر نہیں رہے گا کہ جن جن مذہبی جماعتوں یا مفکروں نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیئے جانے کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے انہوں نے نہ صرف انتہائی سادہ لوحی سے کام لیا ہے بلکہ عوام اور پاکستان سے بھی کوئی اچھا برتاؤ نہیں کیا۔
جماعت احمدیہ لاہور کا قصور:
بظاہر اس فیصلہ میں شدت و غلظت نظر آئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کم از کم جماعت احمدیہ لاہور کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا اور انہیں بلاوجہ کافر قرار دے دیا گیا ہے، لیکن اگر خود جماعت لاہور کی خارجہ و داخلہ حکمت عملی کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں بھی کافی تضادات ہیں۔
مثلاً: اگر وہ یہ مانتے ہیں کہ ان کے محمودی ٹولے سے اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ یہ ٹولہ مرزا صاحب کو حقیقی نبوت کا مدعی مانتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو ایک الگ امت منوانا چاہتا ہے اور اپنے طرز عمل سے بھی ربوائی گروہ اسی طرح کے شواہد مہیا کر چکا ہے، تو آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ جماعت لاہور جماعتی سطح پر نام لے کر
ربوائی گروہ کو کافر نہیں کہتی؟ ان سے بیزاری و علیحدگی اختیار نہیں کرتی؟ ہمیں ان کے اخلاص نیت سے انکار نہیں لیکن ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ان کی اس نیمے دروں اور نیمے بروں قسم کی پالیسی نے ہی انہیں موجودہ بدحالی اور شومیٔ قسمت سے دوچار کیا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ حکومتوں کے فیصلوں سے کفر و ایمان کے فیصلے نہیں ہوتے مگر یہ بھی غلط نہیں کہ حکومتوں کے فیصلے بھی آدمیوں کے کفر و ایمان پر بڑے ہی گہرے مثبت و منفی اثرات ڈالتے ہیں، اور جب تک کسی تنظیم و تحریک کے پاس جاندار، فعال اور حالات و واقعات سے پوری طرح باخبر قیادت موجود نہ ہو اس وقت تک وہ تحریک و تنظیم بیسویں صدی کے اس خالص مادی و اقتصادی دور میں زندہ نہیں رہ سکتی۔
۷؍ ستمبر کے آئینی فیصلہ کے بارے میں مضمون نگار کے معروضی تجزیہ کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ جماعت ربوہ نے مرزا صاحب کو مستقل نبی قرار دے کر اور لاہوری جماعت نے قادیانیوں کو مسلمان سمجھ کر اپنے غیرمسلم اقلیت ہونے کا ثبوت دیا، اس لئے اس فیصلہ کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔
دوم:...... قادیانی امت نے مرزا صاحب کی تلقین کے مطابق مسلمانوں سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کر لئے، مرزا صاحب نے اپنی امت کو خدائی حکم سنایا کہ:
”وہ (مسلمان) اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے، کیا زندہ مردے کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یاد رکھو کہ جبکہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو ...... تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا۔“
(حاشیہ اربعین نمبر:۳ ص:۲۸، ضمیمہ تحفہ
گولڑویہ، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۱۷)
سوم:....... قادیانی امت نے مرزا صاحب کے فتویٰ کے مطابق مرزا کے نہ ماننے والوں کو پکا کافر قرار دیا، مرزا صاحب کا فتویٰ یہ تھا کہ:
”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص: ۱۶۳، روحانی خزائن ج:۲۲ ص: ۱۶۷)
”جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے، اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔“
(ایضاً حاشیہ روحانی خزائن ج:۲۲ ص: ۱۶۷)
چہارم:....... اس ترنگ میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لاہوری فرقے کو بھی معاف نہیں کیا، بلکہ ان کے طرزِ عمل کے بارے میں تخم دیانت سے عاری، ایمان سے محروم اور منافق ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا، سنئے :
”اگر دوسرے لوگوں (لاہوری مرزائیوں) میں تخم دیانت اور ایمان ہے اور منافق نہیں ہیں تو ان کو چاہئے کہ ان مولویوں کے بارے میں (جو مرزا صاحب کو مسلمان نہیں سمجھتے) ایک لمبا اشتہار ہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شائع کر دیں کہ یہ سب کافر ہیں کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا تب میں ان کو مسلمان سمجھ لوں گا، بشرطیکہ ان میں نفاق کا شبہ نہ پایا جائے۔“
(حقیقۃ الوحی ص: ۱۶۵، روحانی خزائن ج:۲۲ ص: ۱۶۹)
۷ ستمبر کے آئینی فیصلے سے پہلے اور بعد قریباً تمام عالم اسلام کے مسلمانوں نے مرزا صاحب کو دعویٰ نبوت کی وجہ سے خارج از اسلام قرار دیا۔ اب مرزا صاحب کے فتویٰ کے مطابق لاہوری فرقہ اسی وقت مسلمان سمجھا جائے گا جب کہ وہ ایک بہت ہی لمبا اشتہار شائع کرے اور تمام عالم اسلام کے ایک ایک فرد کا نام لے کر اس کے
کافر ہونے کا اعلان کرے، جب تک وہ اتنا لمبا چوڑا اشتہار شائع نہیں کرتے اس وقت تک یہی سمجھا جائے گا کہ مرزا صاحب کے فتویٰ کے مطابق وہ منافق اور تخم دیانت و ایمان سے محروم ہیں۔
پنجم :...... لاہوری فرقہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب نبی نہیں تھے اور ربوائی فرقہ کہتا ہے کہ نبی تھے، اور دنیا جانتی ہے کہ نبی کو نبی نہ ماننا کفر ہے اور غیر نبی کو نبی ماننا بھی کفر ہے، اب لاہوریوں کے نزدیک ربوائی فرقہ غیر نبی کو نبی ماننے کی وجہ سے کافر ہے، اور ربوہ والوں کے نزدیک لاہوری فرقہ نبی کو نبی نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہے۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کو مسلمان کہتے ہیں، اس وجہ سے آئینی فیصلہ میں دونوں کا حکم ایک رکھا جانا ضروری تھا، گویا اس کی ذمہ داری بھی خود لاہوری فرقہ پر عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے جھوٹے نبی کے ماننے والوں کو کیوں مسلمان سمجھا اور کیوں ان سے برادرانہ تعلقات رکھے؟
ششم :...... باقی رہی قادیانی امت کی تعلی، انانیت، خود فریبی اور نمود و نمائش جس کا صاحب مضمون نے شکوہ کیا ہے تو ہمارے نزدیک یہ ساری چیزیں مرزائیت کے زمرے میں داخل ہیں اور مرزا غلام احمد کی مسیحیت سے مرزا ناصر کی خلافت تک ان کی تین نسلیں اسی تعلی، انانیت، خود فریبی اور نمود و نمائش میں گزری ہیں، اس لئے یہ لا علاج مرض ہے:
گدائی کرتے کرتے مسیح موعود ہو جائے
(ظفر علی خان)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۷ ش:۳۶)
تحریک تحفظ ختم نبوت اور
حضرت بنوریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
متحدہ ہندوستان میں امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ اور مجلس احرار اسلام کے سرفروشوں نے اپنی شعلہ بار خطابت کے ذریعہ انگریز کی ساختہ پرداختہ قادیانی نبوت کے خرمن امن کو پھونک ڈالا تھا، چنانچہ ۱۹۴۷ء میں انگریزی اقتدار رخت سفر باندھ کر رخصت ہوا۔ برصغیر کی تقسیم ہوئی اور پاکستان منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوا، اس تقسیم کے نتیجے میں قادیانی نبوت کا منبع خشک ہوکر رہ گیا، اور قادیان کی منحوس سرزمین نہ صرف خود دارالکفر ہندوستان کے حصہ میں آئی بلکہ اپنے ساتھ مشرقی پنجاب کے مسلم اکثریت کے صوبے کو بھی لے ڈوبی۔
مرزا محمود قادیانی اپنے ”مکۃ المسیح“ ”ارض حرم اور ”مسجد اقصیٰ“ سے برقعہ پہن کر فرار ہوا اور سیدھا لاہور آکر دم لیا، پاکستان میں دجل و تلبیس کا دار الکفر ”ربوہ“ کے نام سے آباد کیا۔ قبر فروشی کی آبائی اسکیم کے لئے ”بہشتی مقبرہ“ کا یہاں ڈھونگ رچایا، اور قادیانی خلافت کے شہسوار کی ترکتازیاں دکھانے اور پورے ملک کو مرتد بنانے کے منصوبے تیار کرنے لگا۔
قادیانیوں کو غلط فہمی تھی کہ چونکہ پاکستان کے ارباب اقتدار پر ان کا تسلط ہے، فوج میں ان کا گہرا اثر و رسوخ ہے، ملک کے کلیدی مناصب پر ان کا قبضہ ہے، پاکستان کا وزیر خارجہ ظفر اللہ خان قادیانی ہے، اس لئے پاکستان میں مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت کا جعلی سکہ رائج کرنے میں انہیں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئے گی۔ ان کی امید افزائی کا ایک خاص پہلو یہ بھی تھا کہ ”احرار اسلام“ کا قافلہ تقسیم ہند کی بدولت لٹ چکا تھا۔ ان کے پاس تنظیم اور تنظیمی وسائل کا فقدان تھا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ”احرار اسلام“ ناخدایان پاکستان کے دربار میں معتوب تھے۔ قادیانیوں کو یہ غرہ تھا کہ اب حریم نبوت کی پاسبانی اور قادیان کی جعلی قبائے نبوت کے بخیے ادھیڑنے کی ہمت کسی کو نہیں ہوگی، جو شخص بھی اس کی جرأت کرے گا اسے ”شرپسند“ اور ”باغی“ کہہ کر آسانی سے تختۂ دار پر لٹکوا دیا جائے گا، یا کم از کم پس دیوار زنداں بھجوا دیا جائے گا۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ حفاظت دین اور ”تحفظ ختم نبوت“ کا کام انسان نہیں کرتے خدا خود کرتا ہے، اور جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کو نہ حکومتیں روک سکتی ہیں نہ کوئی بڑی سے بڑی طاقت بدل سکتی ہے۔
امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ، قادیانیوں کے عزائم سے بے خبر نہیں تھے، مگر حالات کا تیز و تند دھارا ان کے خلاف بہہ رہا تھا۔ تاہم وہ شدید ترین ناموافق حالت میں بھی قادیانیت سے نمٹنے کا فیصلہ کر چکے تھے، گویا:
آستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا؟
چنانچہ جدید حالات میں قادیانیت کے خلاف کام کرنے کے لئے امیر شریعتؒ نے ملکی سیاسیات سے دست کش ہونے کا اعلان کردیا اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے ملتان کی ایک چھوٹی سی مسجد ”مسجد سراجاں“ میں ۱۴ ربیع الثانی ۱۳۷۴ھ (مطابق ۱۳؍ دسمبر ۱۹۵۴ء) کو اپنے مخلص رفقا کی ایک مجلس مشاورت طلب
فرمائی، جس میں حضرت امیر شریعتؒ کے علاوہ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا محمد شریف بہاول پوریؒ، مولانا شیخ احمدؒ (بورے والا)، مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا تاج محمود لائل پوریؒ (فیصل آبادی)، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا غلام محمد بہاول پوریؒ وغیرہ شریک ہوئے۔ غور وفکر کے بعد ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے نام سے ایک غیر سیاسی تبلیغی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی، یہ تھا مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاسیس کا مختصر تعارف اور پس منظر۔ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کو اس قافلہ کا پہلا امیر وقائد منتخب کیا گیا۔
۹؍ ربیع الاول ۱۳۸۱ھ مطابق ۲۱؍ اگست ۱۹۶۱ء کو حضرت امیر شریعتؒ کا وصال ہوا اور جماعت کو طفولیت کے عالم میں یتیم کر گئے۔ شاہ جیؒ کے بعد حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ (المتوفی: ۹؍ شعبان ۱۳۸۶ھ مطابق ۲۳؍ نومبر ۱۹۶۶ء) امیر دوم، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ (المتوفی: ۲۴؍ صفر ۱۳۹۱ھ مطابق ۲۱؍ اپریل ۱۹۷۱ء) امیر سوم، اور مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ (المتوفی: ۱۱؍ جولائی ۱۹۷۳ء) امیر چہارم منتخب ہوئے۔ مولانا لال حسین اخترؒ کے بعد فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات مدظلہ العالی کو نئے انتخاب تک مسند امارت عارضی طور پر تفویض ہوئی، خیال تھا کہ آئندہ جماعت کی زمام قیادت مستقل طور پر انہیں کے سپرد کر دی جائے مگر اپنے ضعف و عوارض کی بنا پر انہوں نے اس گراں باری سے معذرت کا اظہار فرما دیا اور جماعت خلا میں گھومنے لگی۔ یہ ایک ایسا بحران تھا کہ جس سے اس عظیم الشان پیش قدمی رک جانے کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا، لیکن حق تعالیٰ شانہ کا وعدہ حفاظت دین یکا یک ایک لطیفہ غیبی کی شکل میں رونما ہوا، اور وہ اس منصب عالی کے لئے اسلاف کے علوم و روایات کی حامل ایک ہستی کو کھینچ لایا جو اس منصب کی پوری طرح اہل تھی، جس سے ملت اسلامیہ کا سر بلند ہوا، جس کے ذریعہ قدرت نے ختم نبوت کی پاسبانی کا وہ کام لیا
جو اس دور کی تاریخ کا جلی عنوان بن گیا، اور وہ تھے شیخ الاسلام حضرت علامہ مولانا السید محمد یوسف البنوری الحسینی نور اللہ مرقدہ، ۱۵؍ ربیع الاول ۱۳۹۴ھ، مطابق ۹؍ اپریل ۱۹۷۴ء کو یہ عبقری شخصیت ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی مسند امارت پر رونق افروز ہوئی۔
کسی جماعت کی صدارت قبول کرنا حضرتؒ کے مزاج و مشاغل کے قطعاً منافی تھا، لیکن مخلصین کے اصرار پر آپؒ کو یہ منصب قبول کرنا پڑا، یہ تو ظاہری سبب تھا، لیکن اس کے باطنی اسباب و دواعی متعدد تھے جن میں سے تین اسباب اہمیت رکھتے ہیں۔
اول:......حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ اپنے دور میں ردّ قادیانیت کے امام تھے۔ انہوں نے ہی مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کو ”امیر شریعت“ مقرر کرکے ایک جماعت کو مستقل اسی مہم پر لگا دیا تھا اور علمائے امت سے ان سے تعاون کرنے کی بیعت لی تھی۔ ادھر حضرت بنوریؒ اپنے شیخ کے علوم و انفاس کے وارث تھے، تحفظ ختم نبوت اور ردّ قادیانیت ان کے شیخ انورؒ کی وراثت و امانت تھی، ظاہر ہے کہ اس کا اہل علوم انوری کے وارث اور ان کے روحانی جانشین سے بہتر کون ہوسکتا تھا؟ اس لئے جب ایک فعال جماعت کی قیادت ان کے سپرد ہوئی تو آپ نے اسے عطیہ خداوندی سمجھ کر قبول کرلیا۔
دوم:......حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے انجمن حیات اسلام کے جس اجلاس میں مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کو ”امیر شریعت“ مقرر کر کے خود ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور دیگر علماء سے بھی بیعت کرائی، اس میں حضرت سید بنوریؒ بھی شریک تھے، جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے شیخ انورؒ اور ان کے ”امیر شریعت“ کی جماعت بے کسی و بے بسی کے جنگل میں بھٹک رہی ہے اور اس بے سہارا جماعت کے سارے اکابرؒ اسے یتیم چھوڑ کر جاچکے ہیں تو آپؒ نے اپنی تمامتر معذوریوں کے باوجود اس یتیم جماعت کو اپنی آغوش شفقت میں اٹھا لیا۔ گویا وہ بیعت جو آپؒ نے
انجمن حیات اسلام کے اجلاس میں امیر شریعتؒ کے ہاتھ پر کی تھی وہی آپؒ کو امیر شریعتؒ کی خلافت و جانشینی تک کھینچ لائی۔ ۱۵ ربیع الاول ۱۳۹۲ھ سے پہلے آپؒ امیر شریعتؒ کی ”پاسبان ختم نبوت فوج“ کے سپاہی تھے، اور اس تاریخ سے آپؒ کو اس فوج کا سپہ سالار بنادیا گیا۔
سوم:...... حضرت قدس سرہ پر حق تعالیٰ شانہ کے بے شمار انعامات تھے، آپؒ کے صحیفۂ زندگی میں قدرت ایک نئے باب اور بالکل آخری باب کا اضافہ کرنا چاہتی تھی، اور وہ تھا آپؒ کے مقام صدیقیت کا اظہار، مسیلمہ کذاب کی خبیث امت کا صفایا سب سے پہلے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فوج نے کیا تھا اور مسیلمہ پنجاب کی امت کی سرکوبی ”یوسف صدیقؒ“ کی فوج نے ”اول با آخر نسبتے دارد“ راقم الحروف کا خیال ہے کہ اسی صدیقی نسبت کی تکمیل کے لئے قدرت آپؒ کو آخری عمر میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی قیادت کے لئے کشاں کشاں کھینچ لائی۔
یہاں یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ حضرت مولانا قاضی احسان احمدؒ کے وصال کے بعد حضرت مولانا محمد علی جالندھری قدس سرہ نے حضرتؒ کی خدمت میں جماعت کی قیادت کے لئے درخواست کی تھی مگر حضرتؒ نے فرمایا کہ آپ کی موجودگی میں صرف آپ ہی اس کے لئے موزوں ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس وقت جماعت کی امارت قبول نہیں فرمائی، البتہ جماعت کی سرپرستی اور مجلس شوریٰ کی رکنیت قبول فرمالی۔ ربیع الثانی ۱۳۸۷ھ سے مجلس شوریٰ کے اجلاس میں بڑے اہتمام سے شرکت فرماتے تھے اور مجلس کی کوئی کاروائی حضرتؒ کی قیادت و ارشاد کے بغیر نہیں ہوتی تھی، بظاہر حضرت جالندھریؒ مجلس کے امیر خود تھے مگر اس کی حقیقی قیادت اس وقت بھی حضرت بنوری قدس سرہ کے ہاتھ میں تھی۔
حضرت بنوری قدس سرہ کا دورِ امارت اگرچہ بہت ہی مختصر رہا اور اس میں بھی حضرتؒ اپنے بے شمار مشاغل اور ضعف و پیرانہ سالی کی بنا پر جماعت کے امور پر
خاطر خواہ توجہ نہیں فرماسکتے تھے اس کے باوجود حق تعالیٰ شانہ نے آپؒ کی پُرخلوص قیادت کی برکت سے جماعت کے کام کو ثریٰ سے ثریا تک پہنچا دیا، اور ”بنوری دور“ میں جماعت نے وہ خدمات انجام دیں جن کی اس سے پہلے صرف تمنا کی جاسکتی تھی، ان کا بہت ہی مختصر خاکہ درج ذیل ہے:
تاریخ ساز فیصلہ:
آپ کو جماعت کی زمام قیادت سنبھالے ابھی دو مہینے ہی گزرے تھے کہ ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ اسٹیشن کا شہرۂ آفاق سانحہ رونما ہوا۔ حضرتؒ ان دنوں سوات کے دور دراز علاقے میں سفر پر تھے، وہیں آپؒ کو اس واقعہ کی کسی نے اطلاع دی، خبر سن کر چند لمحے توقف کے بعد فرمایا:
آپؒ سوات سے بعجلت واپس ہوئے اور تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے لئے حضرتؒ نے ایک طرف بارگاہِ خداوندی میں تضرع اور ابتہال کا سلسلہ تیز کردیا اور دوسری طرف امت مسلمہ کو متحد کرنے اور قوم کے منتشر ٹکڑوں کو جمع کرنے کے لئے رات دن ایک کردیا۔ ۲۹؍مئی سے ۷؍ستمبر تک کے سو دن برصغیر کی مذہبی تاریخ میں سو سال کے برابر ہیں، ان سو دنوں کی مفصل تاریخ ایک مستقل تالیف کا موضوع ہے، مگر یہاں حضرت اقدسؒ کی ذات سے متعلق چند اشارات پر اکتفا کروں گا۔
۲۹؍مئی کو ربوہ کا حادثہ پیش آیا، حالات نے نازک صورت اختیار کرلی اور مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوگئے، مگر حکومت نے بروقت صحیح قدم نہیں اٹھایا بلکہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کی طرح اس تحریک کو بھی کچلنا چاہا۔
۳؍جون ۱۹۷۴ء کو راولپنڈی میں علمائے کرام اور مختلف فرقوں کا ایک نمائندہ اجتماع ہوا، حکومت نے اسے ناکام بنانے کے لئے تین مندوبین، مولانا مفتی زین
العابدین، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف اور مولانا تاج محمود کو لالہ موسیٰ اسٹیشن پر ریل سے اتار لیا۔
۹؍ جون کو حضرتؒ کی جانب سے ایک نمائندہ اجتماع لاہور میں رکھا گیا، جس میں مسلمانوں کے تمام فرقوں اور جماعتوں کے مندوب شریک ہوئے، یہ ان جماعتوں کا نمائندہ اجتماع تھا۔ سب سے پہلے حضرتؒ نے مختصر سی افتتاحی تقریر میں اجتماع کے اغراض و مقاصد اور تحریک کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی، جس کا خلاصہ حضرتؒ ہی کے الفاظ میں یہ تھا:
”ہمارا یہ اجتماع اس وقت صرف ایک دینی عقیدہ کی حفاظت کے لئے ہے۔ یہ اجتماع ”ختم نبوت“ کے مسئلہ پر ہے۔ اس کا دائرہ آخر تک محض دین رہے گا۔ سیاسی آمیزشوں سے اس کا دامن پاک رہنا چاہئے جو سیاسی حضرات اس میں شامل ہیں ان کا مطمح نظر دین ہی ہوگا۔ اور حزب اقتدار و حزب اختلاف کی کشمکش سے بالاتر ہوگا۔ ختم نبوت کی تحریک کا طریق کار نہایت پُر امن ہوگا، اور اسے تشدد سے کوئی سروکار نہ ہوگا۔ اگر کوئی مزاحمت ہوئی یا تکلیف پیش آئی تو دین کے لئے اس کو برداشت کرنا ہوگا اور صبر کرنا ہوگا۔ مظلوم بن کر رہنا ہوگا۔ اور ہمارے مد مقابل صرف مرزائی امت ہوگی۔ ہم حکومت کو ہدف بنانا نہیں چاہتے۔ اگر حکومت نے ان کی حفاظت یا ان کی حمایت میں کوئی غلط قدم اٹھایا تو اس وقت مجلس عمل کوئی مناسب فیصلہ کرے گی۔ ابھی قبل از وقت کچھ کہنا درست نہیں۔“
(ماہنامہ بینات کراچی رمضان وشوال ۱۳۹۴ھ)
اس کے بعد مفتی محمود، نواب زادہ نصر اللہ خان اور دیگر نمائندوں کی تقریریں
ہوئیں، تحریک کو نظم و ضبط کے تحت رکھنے کے لئے ایک ”مجلس عمل“ کی تشکیل ہوئی اور حضرت مولانا عبدالحق شیخ الحدیث اکوڑہ خٹک نے اس کی صدارت کے لئے حضرتؒ کا نام پیش کیا، حضرتؒ اس کے لئے آمادہ نہ تھے، اس لئے حضرت کو مجبور کیا گیا کہ فی الحال آپ عارضی حیثیت سے ”مجلس عمل“ کی قیادت قبول فرمالیں، مستقل صدر کے انتخاب پر آئندہ اجلاس میں غور کرلیا جائے گا۔
اسی اجلاس میں ”مجلس عمل“ کی جانب سے ۱۴؍جون ۱۹۷۴ء کو ملک میں مکمل ہڑتال کے اعلان نیز مرزائی امت کے مکمل مقاطعہ (بائیکاٹ) کا فیصلہ کیا گیا۔
اس دوران وزیر اعظم نے ”مجلس عمل“ کے ارکان سے فرداً فرداً ملاقات کی، حضرتؒ نے نہایت صفائی اور سادگی سے صاف اور غیر مبہم الفاظ میں وزیر اعظم کے سامنے مسلمانوں کے موقف کی وضاحت کی، آپ نے جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ آپ ہی کے الفاظ میں یہ تھا:
”قادیانی مسئلہ بلاشبہ پاکستان کے روزِ اول سے موجود ہے، پہلی غلطی اس وقت ہوئی جب ظفر اللہ قادیانی کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ شہیدِ ملت (خان لیاقت علی خان مرحوم) کو اس خطرناک غلطی کا احساس ہوا، اور انہوں نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا عزم کرلیا تھا، لیکن افسوس کہ وہ شہید کردئیے گئے۔ اور ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ عزم ہی ان کی شہادت کا سبب ہوا ہو۔ اس وقت جو جرأت مرزائیوں کو ہوئی ہے اگر اس وقت اس کا تدارک نہ کیا گیا اور وہ غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیئے گئے تو مسلمانوں کے جذبات بھڑکیں گے اور ان کی (قادیانیوں کی) جان و مال کی حفاظت حکومت کے لئے مشکل ہوگی۔ اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد اس ملک میں ان کی حیثیت ”ذمی“ کی
ہوگی اور ان کی جان و مال کی حفاظت شرعی قانون کی رو سے مسلمانوں پر ضروری ہوگی، اس طرح ملک میں امن قائم ہو جائے گا۔
میں مانتا ہوں کہ آپ پر خارجی غیر اسلامی حکومتوں کا دباؤ ہوگا، لیکن اس کے بالمقابل ان اسلامی ممالک کا تقاضا بھی ہے کہ ان کو جلد غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ جن ممالک سے ہمارے اسلامی تعلقات بھی ہیں اور ہر قسم کے مفادات بھی وابستہ ہیں، خارجی دنیا میں غیر اسلامی حکومتوں کے بجائے اسلامی مملکتوں کو مطمئن اور خوش کرنا زیادہ ضروری ہے۔ نیز ایک معمولی سی اقلیت کو خوش کرنے کے لئے اتنی بڑی اکثریت کو غیر مطمئن کرنا دانش مندی نہیں۔ اگر آپ حق تعالیٰ پر توکل و اعتماد کر کے اللہ کی خوشنودی کے لئے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ فرمائیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کا بال بیکا نہیں کر سکتی، اور اس راستہ میں موت بھی سعادت ہے۔“
(حوالہ مذکور)
۱۳/ جون کو وزیر اعظم نے ایک طویل تقریر ریڈیو پر نشر کی، جس میں حادثہ ربوہ پر ایک حرف بھی نہیں کہا، البتہ ختم نبوت پر اپنا ایمان جتاتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ نوے سال کا پرانا ہے، اتنی جلدی کیسے حل ہوسکتا ہے؟
۱۴/ جون کو ملک میں درہ خیبر سے کراچی اور لاہور سے کوئٹہ تک ایسی مکمل ہڑتال ہوئی جو پاکستان میں اپنی نظیر آپ تھی۔
۲۱/ جون کو ”مجلس عمل“ کا لائل پور میں اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم کی ۱۳/ جون کی تقریر پر غور کیا گیا، ”مجلس عمل“ کی مستقل صدارت کے لئے حضرت کو مجبور کیا گیا، جسے آپ کو منظور کرنا پڑا۔ اسی اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ تحریک کو
پر امن رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، قادیانیوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے اور تحریک کو سول نافرمانی سے بہر قیمت بچایا جائے۔
تحریک کو زندہ مگر پُرامن رکھنے کے لئے حضرتؒ نے کراچی سے پشاور تک کے دورے کئے، چھوٹے چھوٹے قصبوں تک میں تشریف لے گئے، ہر جگہ مسلمانوں کو صبر وسکون سے تحریک چلانے کا حکم فرماتے لیکن اس کے برعکس حکومت نے جارحانہ رویہ اختیار کیا، حضرتؒ فرماتے ہیں:
”ادھر مجلس عمل کی پالیسی تو یہ تھی کہ حکومت سے تصادم سے بہر صورت گریز کیا جائے، ادھر حکومت نے ملک کے چپے چپے میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کردی، پریس پر پابندی عائد کردی، انتظامیہ نے اشتعال انگیز کاروائیوں سے کام لیا اور مسلمانوں کو گرفتار کرنا شروع کیا۔ چنانچہ سینکڑوں اہل علم اور طلبا کو گرفتار کیا گیا، انہیں ناروا ایذائیں دی گئیں، کبیر والا، اوکاڑہ، سرگودھا، لائل پور، کھاریاں وغیرہ میں دردناک واقعات رونما ہوئے، جن کو مظلومانہ صبر کے ساتھ برداشت کیا گیا، صرف ایک شہر اوکاڑہ میں مظالم کے خلاف احتجاج کے طور پر بارہ دن مکمل اور مسلسل ہڑتال ہوئی۔ اسی سے اندازہ کیجئے کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر کتنا ظلم اور اس کے خلاف کتنا احتجاج ہوا؟ جگہ جگہ لاٹھی چارج کیا گیا، اشک ریز گیس کا استعمال بڑی فراخدلی سے کیا گیا، مجلس عمل کی تلقین تمام مسلمانوں کو یہی تھی کہ صبر کریں اور مظلوم بن کر حق تعالیٰ کی رحمت اور غیبی تائید الٰہی کے منتظر رہیں۔ قریباً پورے سو دن تک ان حالات کا مقابلہ کیا گیا اور تمام سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے، جون کے اواخر میں بنگلہ
دیش کے دورے پر جاتے ہوئے وزیراعظم (بھٹو صاحب) نے اعلان کیا کہ قادیانی مسئلہ کا فیصلہ کرنے کے لئے قومی اسمبلی کو ایک تحقیقاتی کمیٹی کی حیثیت دے دی جائے گی۔ بنگلہ دیش کے دورے سے واپس آئے تو یکم جولائی کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا، اور اس میں قومی اسمبلی کو ”خصوصی کمیٹی“ قرار دینے کا فیصلہ ہوا، اور یہ بھی طے ہوا کہ کمیٹی کے لئے چالیس ارکان کا کورم ہوگا، جن میں تیس ارکان حزب اقتدار کے اور دس حزب اختلاف کے ہوں گے۔ اس خصوصی کمیٹی کے سامنے دو قراردادیں بحث و تمحیص کے لئے پیش کی گئیں، ایک حزب اقتدار کی جانب سے وزیر قانون (مسٹر حفیظ پیرزادہ) نے پیش کی اور دوسری حزب اختلاف کی جانب سے پیش کی گئی۔“
۲۰/ جولائی کو حضرت قدس سرہ کے خلاف ملک بھر کے اخبارات (نوائے وقت لاہور کے سوا) میں ایک فرضی انجمن کے نام سے ایک لچر پوچ اشتہار چھپنا شروع ہوا۔ ہمیں معلوم تھا کہ اس شرانگیزی کا منبع کہاں ہے؟ اور اس کے لاکھوں کا سرمایہ کہاں سے آتا ہے؟ لیکن حضرت قدس سرہ نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا نہ اس کے خلاف کوئی احتجاج کیا۔ تاہم ”چاند کا تھوکا منہ پر آتا ہے“ کے مصداق یہ اشتہار حضرتؒ کے بجائے حکومت اور مرزائیوں کے لئے مضر ثابت ہوا، ہر طرف سے ان کے خلاف صدائے نفرین بلند ہونا شروع ہوئی اور مسلمانوں کے مشتعل جذبات آتش فشاں بن گئے، نتیجتاً چند دن بعد یہ اشتہار بند ہوگیا۔
۳۱/ جولائی کو وزیراعظم نے مستونگ (بلوچستان) میں اعلان کیا کہ قادیانی مسئلہ کے فیصلے کی تاریخ کا اعلان کل کردیا جائے گا، چنانچہ فیصلہ کے لئے ۷/ ستمبر کی تاریخ کا اعلان ہوا۔
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ پر غور و فکر کرنے کے لئے دو مہینے میں اٹھائیس اجلاس کئے اور چھیانوے گھنٹے نشستیں کیں، مسلمانوں کی طرف سے ”ملت اسلامیہ کا موقف“ نامی کتاب اسمبلی میں پیش کی گئی، قادیانیوں کی ربوائی اور لاہوری پارٹیوں کے سربراہوں نے اپنے اپنے موقف کی وضاحت کے لئے کتابچے پیش کئے، ربوہ جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر گیارہ دن تک بیالیس گھنٹے اور لاہوری پارٹی کے امیر مسٹر صدرالدین پر سات گھنٹے جرح ہوئی۔
وزیر اعظم (بھٹو) قادیانیوں کے حلیف رہ چکے تھے، وہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر رضا مند نہیں تھے، وہ قادیانیوں کو کسی نہ کسی طرح آئینی تلوار کی زد سے بچانا چاہتے تھے اور اس کے لئے اپنی طاقت اور ذہانت کا سارا سرمایہ صرف کر دینا چاہتے تھے۔ چنانچہ حزب اختلاف کے ارکان سے جو ”مجلس عمل“ کے نمائندے تھے وزیر اعظم کی بار بار ملاقاتیں ہوئیں، کئی بار صورت حال نازک ہوگئی، آخری دن تو گویا ہنگامہ محشر تھا، امید و بیم کی کیفیت آخری حدوں کو چھو رہی تھی، وزیر اعظم کی ”انا“ نے تصادم کا خطرہ پیدا کر دیا تھا، حکومت کی جانب سے پولیس اور انٹیلی جنس کو چوکنا کر دیا گیا تھا، بڑے شہروں میں فوج لگادی گئی تھی، جو لوگ گرفتار تھے وہ تو تھے ہی ان کے علاوہ ہزاروں علماء اور سر بر آوردہ افراد کی گرفتاری کی فہرستیں تیار ہوچکی تھیں، ادھر ”مجلس عمل“ کے نمائندے بھی سر بکف کفن بدوش تھے، گویا:
بامید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد
کا منظر تھا، مگر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اس مہیب خطرہ سے ملک کو بچالیا، جب وزیر اعظم کی ”انا“ میں لچک پیدا ہوتی نظر نہ آئی تو حضرت مفتی محمود صاحبؒ نے (جو اپنے دیگر رفقا کے ساتھ ”مجلس عمل“ کے نمائندہ کی حیثیت سے وزیر اعظم سے مذاکرات کر رہے تھے) ان سے فرمایا:
”ہمیں بتائیے کہ آخر ہم کیا کریں؟ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ نہیں مانتے، اور مجلس عمل والوں کے پاس جاتے ہیں تو وہ نہیں مانتے۔“
وزیراعظم نے نشہ اقتدار کے جوش میں جواب دیا: ”میں نہیں جانتا مجلس عمل کون ہوتی ہے؟ میں تو آپ لوگوں کو جانتا ہوں، آپ اسمبلی کے معزز رکن ہیں۔“
حضرت مفتی صاحبؒ نے فرمایا: ”بھٹو صاحب! آپ کو قوم کے ایک حلقہ نے منتخب کر کے بھیجا ہے، اس لئے آپ اسمبلی کے ”معزز رکن“ ہیں۔ میں بھی ایک حلقہ انتخاب کا نمائندہ ہوں، اس لئے میں بھی اسمبلی کا رکن کہلاتا ہوں، مگر آنجناب کو بتانا چاہتا ہوں کہ ”مجلس عمل“ کسی ایک حلقہ انتخاب کی نمائندہ نہیں بلکہ وہ اس وقت پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔ کیسی عجیب منطق ہے کہ آپ ایک حلقہ کے نمائندے کو عزت و احترام کا مقام دینے کے لئے تیار ہیں مگر قوم کے سات کروڑ افراد کی نمائندہ ”مجلس عمل“ کو آپ پائے حقارت سے ٹھکرا رہے ہیں، بہتر ہے، میں ان سے جا کر کہہ دیتا ہوں کہ وزیراعظم، پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی بات سننے کو تیار نہیں۔“
یہ سن وزیراعظم کی ”انا“ سرنگوں ہوگئی، اور انہوں نے ”مجلس عمل“ کے نمائندوں کے مسودہ پر دستخط کردیئے اور اس طرح ۷؍ ستمبر کو چار بج کر پینتیس منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر دائرۂ اسلام سے خارج کر دیا گیا۔ پھر اس مسودہ کو آئینی شکل دینے کے لئے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا گیا، اور
آئینی طور پر قادیانی ناسور کو ملت اسلامیہ کے جسد سے الگ کر دیا گیا۔ اس خبر کا نشر ہونا تھا کہ نہ صرف پورے ملک میں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں میں فرحت و مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ ایسی اجتماعی خوشی کسی نے نہ کبھی پہلے دیکھی، نہ شاید آئندہ دیکھنی نصیب ہوگی، یہ محض حق تعالیٰ شانہ کی رحمت و عنایت اور امت مسلمہ کے اتحاد اور صبر و عزیمت کا کرشمہ تھا، جسے چودھویں صدی میں اسلام کا معجزہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے، چونکہ حضرت اقدسؒ ہی اس تحریک کے روحِ رواں، ”مجلسِ عمل“ کے صدر اور ”مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت“ کے قائد و امیر تھے، اس لئے آپ کو جتنی خوشی ہوگی اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے؟ آپ نے ”بصائر و عبر“ میں پوری قوم کو مبارکباد دی اور حق تعالیٰ شانہ کے شکر و سپاس کے ساتھ ساتھ اس تحریک میں حصہ لینے والے تمام افراد اور جماعتوں کا شکریہ ادا کیا، (دیکھئے ماہنامہ بینات کراچی رمضان و شوال ۱۳۹۴ھ)۔
اس تحریک کی کامیابی پر بہت سے اکابر امت نے آپ کو تہنیت اور مبارکباد کے گرامی نامہ لکھے، یہاں تبرک کے طور پر صرف دو خطوط کا اقتباس پیش کرتا ہوں، برکۃ العصر حضرت الشیخ مولانا محمد زکریا کاندھلوی ثم مدنیؒ تحریر فرماتے ہیں:
”سب سے اول تو جناب کی انتہائی کامیابی پر انتہائی مبارکباد پیش کرتا ہوں، مژدہ سننے کے بعد سے آپ کے لئے دل سے دعائیں نکلیں کہ اس کا اصل سہرا تو آپ ہی کے سر ہے اگرچہ:
لوگ جو چاہیں لکھیں، یا جو چاہیں کہیں، میرے نزدیک تو آپ ہی کی روحانی قوت اور بدنی جانفشانی کا ثمرہ ہے، اللہ تعالیٰ مبارک کرے، آپ نے جو دعائیہ کلمات اس ناکارہ کے حق میں لکھے ہیں اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور آپ کی دعا
کی برکت سے اس نابکار کو بھی کارآمد بنائے ۔“ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی تحریر فرماتے ہیں:
” سب سے پہلے تو آپ کو اس عظیم کامیابی پر آپ کے اسلاف کے ایک ادنیٰ نیازمند کی حیثیت سے مخلصانہ مبارک باد پیش کرتا ہوں جس کے متعلق بدیع الزمان الہمدانی کے یہ الفاظ بالکل صادق ہیں: ”فتح فاق الفتوح وامنت علیہ الملائکۃ والروح۔“ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے اس کارنامہ سے آپ کے جد امجد حضرت سید آدم بنوری اور ان کے شیخ حضرت امام ربانی اور آپ کے استاذ و مربی حضرت علامہ سید انور شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی روح ضرور مسرور مبتهج ہوئی اور اس کی بھی امید ہے کہ روح مبارک نبوی علیہا الف الف سلام کو بھی مسرت حاصل ہوئی ہوگی، ”فهنیئاً لکم وطوبیٰ.“ اگر میری ملاقات ہوئی تو میں آپ کے دست مبارک کو بوسہ دے کر اپنے جذبات کا اظہار ضرور کروں گا۔“
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس فتنہ ضالہ کی بیخ کنی پر صرف زمین کے باشندوں ہی کو خوشی نہیں ہوئی بلکہ ملأ اعلیٰ میں جشن مسرت منایا گیا، اور عالم ارواح میں بھی۔ حضرت اقدسؒ کو اس فیصلہ کے بعد عجیب وغریب مبشرات سے نوازا گیا، ان میں دو مبشرات حضرتؒ ہی کے قلم سے ملاحظہ فرمائیے:
”قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جانا بہت ہی عظیم برکات کا کارنامہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے منکروں کا مسلمانوں سے خلا ملا نہ صرف مسلمانوں کے حق میں ایک ناسور تھا بلکہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی
روح مبارک بھی بے تاب تھی، قادیانی مسئلہ کے حل پر جہاں تمام ممالک کی جانب سے تہنیت و مبارکباد کے پیغامات آئے، وہاں منامات ومبشرات کے ذریعہ عالم ارواح میں اکابر امتؒ اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسرت بھی محسوس ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبشرات ذکر کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تاہم اہل ایمان کی خوشخبری کے لئے اپنے دو بزرگوں سے متعلق بشارت منامیہ بعض مخلصین کے اصرار پر ذکر کرتا ہوں۔
جمعہ ٣؍ رمضان المبارک ١٣٩۴ھ صبح کی نماز کے بعد خواب دیکھتا ہوں کہ حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ گویا سفر سے تشریف لائے ہیں اور خیر مقدم کے طور پر لوگوں کا بہت ہجوم ہے، لوگ مصافحہ کر رہے ہیں۔ جب ہجوم ختم ہوگیا اور تنہا حضرت شیخ رہ گئے تو دیکھتا ہوں کہ بہت وسیع چبوترہ ہے جیسے اسٹیج بنا ہوا ہو، اس پر فرش ہے اور اوپر جیسے شامیانہ ہو، بالکل درمیان میں حضرت شیخ تنہا تشریف فرما ہیں، دو تین سیڑھیوں پر چڑھ کر ملاقات کے لئے پہنچا، حضرت شیخ اٹھے اور گلے لگالیا، میں ان کی ریش مبارک اور چہرہ مبارک کو بوسے دے رہا ہوں، حضرت میری داڑھی اور چہرے کو بوسے دے رہے ہیں۔ دیر تک یہ ہوتا رہا چہرہ و بدن کی تندرستی زندگی کے آخری ایام سے بہت زیادہ ہے، بے حد خوش اور مسرور ہیں، بعد ازاں میں دو زانوں ہوکر فاصلہ سے باادب بیٹھ گیا اور آپ سے باتیں کر رہا ہوں۔ اسی سلسلہ میں یہ بھی عرض کیا کہ بھول گیا کہ ”معارف السنن“ حاضر کرتا، فرمایا میں نے نہایت خوشی اور
مسرت کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا ہے، اب چھٹی جلد کا مطالعہ کر رہا ہوں، میں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو علم نہیں جو کچھ آپ نے فرمایا تھا بس اس کی تشریح و توضیح و خدمت کی ہے، بہت مسرت کے لہجے میں فرمایا: ”بہت عمدہ ہے۔“
شوال ۱۳۹۴ھ میں لندن کے قیام کے دوران خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑا وسیع مکان ہے، گویا ختم نبوت کا دفتر ہے، بہت سے لوگوں کا مجمع ہے، میں ایک طرف جا کر سفید چادر جس طرح کہ احرام کی چادر ہو، باندھ رہا ہوں، بدن کا اوپر کا حصہ برہنہ ہے کوئی چادر یا کپڑا نہیں۔ اتنے میں حضرت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ اسی ہیئت میں کہ احرام والی سفید چادر کی لنگی باندھی ہوئی ہے اور اوپر کا بدن مبارک بغیر کپڑے کے ہے میرے داہنے کندھے کی جانب تشریف لائے اور آتے ہی مجھ سے چمٹ گئے۔ پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا: ”واہ میرے پھول!“ پھر دیر تک معانقہ فرمایا میں خواب ہی کی حالت میں خیال کرتا ہوں کہ مبارکباد کے لئے تشریف لائے ہیں۔ انتہی۔ منامات کی حیثیت مبشرات کی ہے اس سے زیادہ ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔
بہر حال قادیانی ناسور کے علاج سے نہ صرف زندہ بزرگوں کو مسرت ہوئی بلکہ جو حضرات دنیا سے تشریف لے گئے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بھی اس سے بے حد و پایاں خوشی ہوئی، فالحمد للہ!“
(بینات ذیقعدہ ۱۳۹۴ھ مطابق دسمبر ۱۹۷۴ء)
انہی مبشرات کے ضمن میں جی چاہتا ہے کہ اس خط کا اقتباس بھی درج کر دیا جائے جو حضرتؒ کے ایک گہرے دوست الشیخ محمود الحافظ مکی نے آپ کو ملک شام سے
لکھا تھا، اصل خط عربی میں ہے، یہاں اس کا متعلقہ حصہ اردو میں نقل کرتا ہوں:
”میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ میں نے ۳؍شعبان ۱۳۹۴ھ رات کو آپ کے بارے میں بہت عمدہ اور مبارک خواب دیکھا ہے جس کی آپ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں اور اس کو یہاں اختصار کے ساتھ نقل کرتا ہوں۔
میں نے آپ کو ایسے شیوخ کی جماعت کے ساتھ دیکھا ہے جو سن رسیدہ تھے، اور جن پر صلاح و تقویٰ کی علامات نمایاں تھیں، یہ سب حضرات اس قرآن کریم کے صفحات جمع کرنے میں مصروف تھے جو آنجناب نے اپنے قلم سے زعفرانی رنگ کی روشنائی سے بدست خود تحریر فرمایا ہے اور آنجناب کا قصد ہے کہ اسے لوگوں کے فائدہ عام کے لئے شائع کیا جائے، آپ نے اپنے اس ارادے کا اظہار نہایت مسرت و شادمانی کے ساتھ میری جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔
صبح جب فجر کے لئے اٹھا تو قلب فرحت سے لبریز تھا، اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی و کامرانی کا تاج پہنایا ہے، والحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات!“
یہ مبارک خواب تحریک ختم نبوت کے زمانے کا ہے، سنہرے حروف سے قرآن کریم لکھنے کی تعبیر اہل فن ہی کر سکتے ہیں، راقم الحروف کا قیاس ہے کہ اس فیصلہ کے ذریعہ آیت خاتم النبیین کو صفحات عالم پر سنہرے حروف سے رقم کرنے کی طرف اشارہ ہوا۔ نیز قادیانی امت نے چونکہ قرآن کریم پر تحریف کی سیاہی ڈال دی ہے اور ان کے نزدیک مرزا قادیانی سے قبل قرآن کریم آسمان پر اٹھ گیا تھا، بقول ان کے
مرزا قادیانی کی وحی قرآن کو دوبارہ لائی ہے اور یہ عقیدہ قرآن کریم کی عظمت کو مٹانے کے مترادف ہے، نیز قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ اب صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت اور قرآن کریم کی تعلیمات مدار نجات نہیں بلکہ نعوذ باللہ! مرزا قادیانی کی تعلیمات اور اس کی مہمل اور شیطانی وحی ہے۔ یہ عقیدہ گویا ان کا قرآن کے انکار کے مترادف ہے اس لئے سنہرے حروف سے قرآن کریم لکھنے اور اسے چار دانگ عالم میں پھیلانے کی تعبیر یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جو لوگ قرآن کریم کی ابدیت، اس کی عظمت اور اس کے مدار نجات ہونے کے منکر ہیں ان کا کافر و مرتد ہونا ساری دنیا پر واضح کر دیا جائے تا کہ جو غبار انہوں نے قرآن کریم کی تعلیمات پر ڈالا ہے وہ صاف ہو جائے اور قرآن کریم کی روشن و تابندہ ہدایت واضح ہو جائے۔ الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے یہ کام حضرتؒ کے ہاتھوں سے لیا اور بہت سے ذی صلاح و تقویٰ شعار بزرگوں نے اس مقدس کام میں آپ کا ہاتھ بٹایا، اس تحریک کی کامیابی کے لئے دعائیں کیں، ختمات کا اہتمام کیا۔
تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر آپ کو ایک اور انعام ملا، حضرتؒ فرماتے تھے کہ تحریک کے بعد غالباً رمضان المبارک میں میں نے خواب دیکھا کہ ایک چاندی کی تختی مجھے عطا کی گئی ہے اور اس پر سنہرے حروف سے یہ آیت لکھی ہے: ”انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔“ میں نے محسوس کیا کہ یہ تحریک ختم نبوت پر مجھے انعام دیا جا رہا ہے، اور اس کی یہ تعبیر ہے کہ مجھے حق تعالیٰ بیٹا عطا فرمائیں گے اور میں اس کا نام سلیمان رکھوں گا۔ چنانچہ اس خواب کے دو سال بعد حق تعالیٰ نے ستر برس کی عمر میں آپ کو صاحبزادہ عطا فرمایا اور آپ نے اس کا نام سلیمان تجویز فرمایا۔
عالمی تحریک:
۷/ ستمبر کے فیصلہ کے بعد بھی حضرتؒ چین سے نہیں بیٹھے، بلکہ اس فیصلہ کے
تقاضوں کو پورا کرنے کی کوششیں شروع کر دیں، اس سلسلہ میں آپ کے پیش نظر تین چیزیں تھیں:
- ۱:......اندرون ملک صرف قادیانیوں کے ”غیرمسلم“ ہونے پر اکتفا نہ کیا
جائے بلکہ حکومتی سطح پر ان کے ساتھ معاملہ بھی وہی کیا جائے جس کے غیرمسلم مستحق ہیں۔ مثلاً شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں ایک خانہ مذہب کا تجویز کیا جائے اور اس میں قادیانیوں کے ”غیرمسلم“ ہونے کی تصریح کی جائے۔ قادیانیوں کو اسلام کے شعائر اپنانے کی اجازت نہ دی جائے اور ان امور کے لئے مناسب قانون سازی کی جائے وغیرہ وغیرہ۔
- ۲:......بیرون ملک جہاں جہاں قادیانی اثرات ہیں وہاں تحریک ختم نبوت کو
ایک عالمی تحریک کی شکل دی جائے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلہ کی دنیا بھر کی زبانوں میں اشاعت کی جائے اور قادیانیوں نے اسلام اور مسلمانوں سے جو غداریاں کی ہیں ان سے ساری دنیا کے مسلمانوں کو باخبر کیا جائے، آئندہ قادیانیوں کے جو منصوبے ہیں ان پر کڑی نظر رکھی جائے۔
- ۳:......سب سے اہم یہ کہ جو لوگ غفلت یا جہالت کی بنا پر قادیانی چنگل
میں گرفتار ہوئے ہیں اور انہوں نے قادیانیت کو واقعی اسلام سمجھ کر قبول کیا ہے، جہاں تک ممکن ہو موعظت وحکمت کے ساتھ انہیں اسلام کی دعوت دی جائے اور اسلام اور قادیانیت کے درمیان جو مشرق ومغرب کا بعد ہے وہ ان پر واضح کیا جائے۔
حضرت اقدسؒ نے مولانا سمیع الحق مدیر ماہنامہ ”الحق“ اکوڑہ خٹک کے نام اپنے ایک گرامی نامہ میں ان نکات کی وضاحت فرمائی ہے جو درج ذیل ہے:
”برادر محترم مولانا سمیع الحق صاحب زادکم اللہ توفیقاً الی الخیر، السلام علیکم ورحمۃ اللہ! نہ معلوم نامہ کرم کب آیا اور کہاں ہے؟ لیکن عزیز محمد
بنوری سلمہ سے یہ معلوم ہوا کہ جواب کا انتظار کر رہے ہیں اور اشاعت رکی ہوئی ہے۔ اس لئے چند حروف لکھ رہا ہوں، تفصیل کی نہ حاجت، نہ فرصت، نہ ہمت، اختصار بلکہ ایجاز سے عرض ہے کہ آئینی فیصلہ نہایت صحیح اور باصواب ہے۔ اگرچہ بعد از وقت ہے اور بعد از خرابی بسیار۔ وزیراعظم صاحب نے جو اخبارات میں یہ اعتراف فرمایا ہے کہ ”قادیانی مسئلہ کے حل ہونے سے پاکستان کو سیاسی استحکام حاصل ہو گیا۔“ اور تہامی صاحب نے یہ اعلان فرمایا کہ: ”پاکستان آج صحیح معنوں میں پاکستان بنا۔“ دونوں سیاست دانوں کے اعلان سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے، اور یہ بھی کہ یہ کام کتنے عرصے پہلے ہونا چاہئے تھا۔
ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوئی بلکہ آئینی نقوش کو جب تک عملی جامہ نہ پہنایا جائے اس وقت تک مقصد ناتمام ہے۔ ”اسلام در کتاب و مسلمانان درگور۔“ والا معاملہ ہوگا، اندرون ملک قادیانیوں کا جو کچھ ردعمل ہے وہ تذبذب ہے، مایوسی ہے اور زیادہ سے زیادہ گیدڑ بھبکی ہے اور کچھ نہیں۔ باہر ممالک میں حتیٰ کہ انگلستان میں بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، لیکن افریقہ کے ممالک میں اس آئینی فیصلہ کی اشاعت اور عام کرنے کی بڑی ضرورت باقی ہے، حکومت کو اپنا بین الاقوامی دامن بچانے کے لئے عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبان میں اس مقصد کی اشاعت اپنے سفیروں کے ذریعہ تمام ممالک میں کرانی چاہئے، اس وقت جو کچھ حکومت کی پالیسی ہے اس میں تغافل،
تذبذب بلکہ ایک گونہ نفاق ہے، اس لئے (حکومت نے) عملی صورت میں کوئی اقدام نہیں کیا، نہ ان قیدیوں کو رہا کیا (جو تحریک ختم نبوت کے دوران گرفتار کئے گئے) نہ ربوہ کو باقاعدہ تحصیل کی شکل دی ہے، نہ فارغ علاقہ ان سے واپس لیا ہے، ہو سکتا ہے کہ مرکز سے زیادہ پنجاب گورنمنٹ کی دوغلی پالیسی یا طرف دارانہ پالیسی کا نتیجہ ہو۔ بہر حال حالات اگر مایوس کن نہیں تو زیادہ امید افزا بھی نہیں، بس اس وقت زیادہ لکھنے کی فرصت نہیں، تفصیلات بہت کچھ ہیں۔ والسلام!"
یہ گرامی نامہ ۱۹۷۵ء کے آغاز میں (۴؍ جنوری کو) تحریر فرمایا، ان دنوں حضرتؒ پر پوری دنیا میں اس تحریک کو عام کرنے کا جذبہ بڑی شدت سے غالب تھا۔ فرماتے تھے: "کاش! میں جوان ہوتا، قوٰی میں طاقت ہوتی تو دنیا بھر میں آگ لگادیتا۔" چنانچہ ضعف و ناتوانی اور پیرانہ سالی کے باوجود آپ نے فتنہ قادیان کے استیصال کے لئے بیرونی ممالک میں بھی کوششیں شروع کردیں، اور یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کو قادیانیت کے مقابلہ میں منظم اور بیدار کرنے کے لئے خود دو مرتبہ سفر فرمایا۔ پہلا سفر ۱۹۷۴ء کے اواخر میں انگلستان کا کیا، جس کی ابتداً حرمین کی حاضری اور اعتکاف سے ہوئی، اس کا مختصر سا تذکرہ حضرتؒ نے ذیقعدہ ۱۳۹۴ھ (دسمبر ۱۹۷۴ء) کے ”بصائر وعبر“ میں کیا ہے، جس کا ابتدائی حصہ درج ذیل ہے:
"الحمدللہ! ماہ رمضان المبارک میں کچھ لمحات حرمین شریفین میں نصیب ہوئے۔ انگلستان کی دینی دعوت آئی تھی، اگرچہ صحت اچھی نہیں تھی اور ڈاکٹروں کی حتمی رائے سفر نہ کرنے کی تھی، اور خود مجھے بھی تردد ضرور تھا، لیکن استخارہ کرکے اللہ کا
نام لے کر جدہ سے ۲۲ نومبر ۱۹۷۴ء کو روانہ ہوگیا، ہڈرسفیلڈ میں جاتے ہی ایک شدید حادثے سے دوچار ہوا، ڈاکٹروں نے تین روز سکوت اور ایک ہفتہ آرام کا مشورہ دیا، لیکن بیانات کا نظم بن چکا تھا اور اس کا اعلان ہوگیا تھا اس لئے بادل نخواستہ ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف کرنا پڑا، الحمدللہ! کہ تقریباً تمام پروگرام حق تعالیٰ شانہ نے پورا کرا دیا۔ متعدد مقامات پر جانا ہوا، اور جن اہم دینی مسائل کی ضرورت سمجھی ان پر بیانات ہوئے۔
ہڈرسفیلڈ، بولٹن، ڈیوز بری، بلیک برن، پرسٹن، بریڈفورڈ، گلسٹر، والسال، برمنگھم، ولور ہمپٹن، کونٹری، لسٹر، نینی ٹن اور خود لندن کے مختلف مقامات پر پروگرام بن چکے تھے، اللہ تعالیٰ نے باوجود صحت کی خرابی و طبیعت کی ناسازی کے توفیق محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائی۔
متعدد دینی موضوعات پر بیان ہوا، مثلاً:
- ۱:....... دین اسلام بڑی نعمت ہے۔
- ۲:....... اسلام اور بقیہ مذاہب کا موازنہ۔
- ۳:....... دنیا و آخرت کی نعمتوں کا موازنہ۔
- ۴:....... دنیا کی زندگی کی حقیقت۔
- ۵:....... طمانیت قلب دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے
اور اس کا ذریعہ حقیقی اسلام ہے۔
- ۶:....... ذکر اللہ جس طرح حیات قلوب کا ذریعہ ہے
ٹھیک اسی طرح بقائے عالم کا ذریعہ بھی ہے۔
- ۷:....... لندن انگلستان میں مسلمانوں کی زندگی کا
نقشہ۔
- ۸:...... دنیا کی زندگی میں انہماک اور آخرت سے
دردناک غفلت۔
- ۹:...... انگلستان میں مسلمانوں نے اگر دینی انقلاب
اختیار نہ کیا تو ان کا مستقبل نہایت تاریک ہے۔
- ۱۰:...... انگلستان کے پُر از شہوت ماحول میں اصلاح
نفوس کی تدبیر۔
- ۱۱:...... مخلوط تعلیم کے دردناک نتائج اور اس سے بچنے
کا لائحہ عمل۔
- ۱۲:...... محبت رسول کی روشنی میں سنت و بدعت کا
مقام۔
- ۱۳:...... حضرات انبیاء کرام کی عصمت اور صحابہ کرام کا
مقام۔
- ۱۴:...... انگلستان میں عالم دین کی زندگی کیسی ہو؟
- ۱۵:...... رؤیت ہلال وغیرہ بعض مسائل میں علما کا
اختلاف اور اتحاد کے لئے لائحہ عمل۔
- ۱۶:...... قادیانی مسئلہ اور اس کا متفقہ حل۔‘‘
لوگ انگلستان جاتے ہیں تو بڑی ”سوغاتیں“ ساتھ لاتے ہیں، مگر حضرتؒ کے اس سفر کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ حضرتؒ نے اس میں کوئی ہدیہ قبول نہیں کیا، فرماتے تھے کہ:
”مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے ایک شخص نے باصرار پانچ پونڈ کا عطیہ دیا تھا، صرف وہی لایا ہوں، اس کے سوا کچھ
نہیں لایا۔“
حضرتؒ نے اس سلسلہ میں دوسرا سفر قریباً ایک درجن افریقی ممالک کا کیا، جو حسب معمول حرمین شریفین سے شروع ہوا اور حرمین پہنچ کر ختم ہوا۔ اس سفر کی مفصل روداد حضرتؒ کے رفیق سفر جناب مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کے مقالہ میں ملاحظہ فرمائی جاسکتی ہے۔ البتہ حضرتؒ نے اس سفر کے بارے میں ایک گرامی نامہ نیروبی سے تحریر فرمایا تھا، اس کا اقتباس یہاں دیا جاتا ہے جس سے کام کے طریق کار پر روشنی پڑتی ہے:
”جدہ سے روانگی کے وقت کچھ معلوم نہ تھا کہ کہاں کہاں جانا ہوگا؟ اور کس طرح کام کرنا ہوگا؟ اس لئے روانگی ایسے وقت ہوئی کہ نہ پورے ویزے لے سکے، نہ باقاعدہ کسی کو مطلع کیا جاسکا۔ نیروبی پہنچ کر کچھ نقشہ کام کا سمجھ میں آگیا کہ مؤثر اور صحیح صورت یہ ہے کہ ہر مرکزی مقام پر مقامی باشندوں کی جماعت ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے تشکیل دی جائے جو بسلسلہ قادیانیت مؤثر کام کرسکے، اور تقریروں میں اسلام اور ختم نبوت کی اہمیت و حقیقت واضح کی جائے، چنانچہ اس انداز سے کام شروع کیا اور نشان منزل نظر آنے لگا....
زمبیا سے واپسی پر یوگنڈا کا ویزا نہ ہونے کی وجہ سے تین چار دن یہاں تاخیر ہوگئی، شاید کل روانگی ہوسکے گی... سفر کے اختصار کا سوچ رہا تھا لیکن معلوم ہوا کہ نائیجیریا میں قادیانیوں کے اسکول، ہسپتال اور ادارے ہیں اور حکومت میں بھی ان کے عہدے ہیں، وہاں جانے کی شدید ضرورت ہے، اس لئے مغربی افریقہ کا ارادہ کرنا پڑا اور پھر ساتھ ہی مغربی
افریقہ کے بقیہ ممالک کا جوڑ بھی لگانا ہوگا، اس لئے سفر طویل ہو گیا، اللہ تعالیٰ آسان فرمائیں، آمین!“
حضرتؒ کا یہ سفر جدہ سے ۷؍ شوال ۱۳۹۵ھ مطابق ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۷۵ء کو شروع ہوا، اور ۱۹؍ ذیقعدہ ۱۳۹۵ھ مطابق ۲۲؍ نومبر ۱۹۷۵ء کو جدہ واپسی ہوئی۔
۱۹۷۵ء میں انڈونیشیا کے ایک بہت بڑے عالم الشیخ الحسین الشافعی مشرق وسطیٰ کے دورہ سے واپسی پر حضرتؒ کی خدمت میں کراچی تشریف لائے، کئی دن ان کا قیام رہا اور انہوں نے حضرتؒ کے سامنے انڈونیشیا میں قادیانی سرگرمیوں اور نصرانی سازشوں کی تفصیلات پیش کیں، اور یہ بھی بتایا کہ:
”قادیانیوں سے ہمارا معرکہ رہتا ہے جب ہم مرزا غلام احمد کا کوئی حوالہ پیش کرتے ہیں تو قادیانیوں کی طرف سے اصل کتاب پیش کرنے کا مطالبہ ہوتا ہے، میں نے مولانا ابوالحسن علی ندوی مدظلہ کو لکھا تھا کہ اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی کریں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس فن کے امام مولانا شیخ محمد یوسف بنوری ہیں، کراچی میں ان سے رجوع کرو، اس لئے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔“
حضرتؒ نے ان کی بہت ہی قدر اور ہمت افزائی کی اور ان سے فرمایا کہ ہم نہ صرف قادیانیوں کا سارا لٹریچر آپ کے لئے مہیا کریں گے بلکہ ایک ایسا عالم بھی بھیجیں گے جو قادیانیت کا پورا ماہر ہو۔ کیونکہ قادیانیوں کی بیشتر کتابیں اردو میں ہیں، ہمارے آدمی آپ کے یہاں کے علماء کو قادیانی کتابوں کے حوالوں کا ترجمہ عربی میں نوٹ کرا دیں گے اور قادیانیت پر ایسی تیاری کرا دیں گے کہ اس کے بعد آپ حضرات کو کسی اور سے مراجعت کی حاجت نہیں ہوگی۔ وہ نقشہ آج بھی راقم الحروف کی آنکھوں کے سامنے ہے جب شیخ حسین رخصت ہوتے ہوئے حضرتؒ کی پیشانی اور ریش
مبارک کو بوسہ دے رہے تھے، ان کی آنکھوں سے سیل اشک رواں تھا، اور وہ بڑے رقت انگیز لہجے میں حضرتؒ سے درخواست کر رہے تھے: ”یا سیدی زودنی بما زود سیدنا رسول الله صلی الله علیہ وسلم معاذ بن جبل حین بعثہ الی الیمن.“ اور جواب میں حضرتؒ نے اسی رقت آمیز مگر بزرگانہ لہجہ میں فرمایا: ”زودک الله التقویٰ، واستودع الله دینکم وامانتکم وخواتیم اعمالکم.“
بہر حال ان کی درخواست پر حضرتؒ نے جناب مولانا عبدالرحیم اشعر اور رفیق محترم مولانا اللہ وسایا کو قادیانیوں کا ضروری لٹریچر دے کر انڈونیشیا بھیجا، ان حضرات نے وہاں قادیانیوں کو مناظرہ و مباحثہ کی دعوت دی، مگر کوئی مقابلے پر نہیں آیا، وہاں مختلف مقامات پر ان کے بیانات ہوئے جن کا ترجمہ ساتھ کے ساتھ انڈونیشی زبان میں ہوتا رہا۔ وہاں کے ریڈیو پر بھی ان کی تقریریں نشر ہوئیں اور سب سے اہم کام یہ کیا کہ قریباً دو صد حضرات علماء، وکلا اور طلبہ کی ایک بڑی جماعت کو عربی میں قادیانیت سے متعلق مختلف موضوعات پر تیاری کرائی۔ قادیانیوں کی کتابوں کے اصل ماخذ کی نشاندہی کر کے ان کا عربی میں ترجمہ کرایا۔ اس طرح ایک بڑی جماعت کی ردّ قادیانیت پر تیاری مکمل کرائی، فالحمد لله علی ذالک!
ان دونوں احباب کی میزبانی کے فرائض شیخ حسین الحبشی نے ادا کئے، مگر سفر کے جملہ مصارف حضرتؒ نے جماعت کی طرف سے برداشت کئے اور قادیانی لٹریچر کا یہ ذخیرہ بھی انڈونیشیا چھوڑ دیا گیا، یہ دو رکنی وفد ۲۶ / ذوالحجہ ۱۳۹۵ھ مطابق ۲۲/ دسمبر ۱۹۷۵ء کو کراچی سے روانہ ہوا اور ۱۸/ محرم ۱۳۹۶ھ مطابق ۲۴/ جنوری ۱۹۷۶ء کو واپس ہوا، ان کی واپسی پر شیخ حسین نے حضرتؒ کی خدمت میں شکریہ کا خط لکھا جس میں ان حضرات کی مساعی کی تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ”ان حضرات
کا قیام اگرچہ ایک مہینہ رہا، لیکن ہم نے ان سے ایک سال کا استفادہ کیا۔‘‘
رمضان المبارک ۱۳۹۵ھ میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے فاضل مبلغ جناب مولانا سید منظور احمد شاہ صاحب کو متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کے لئے بھیجا، وہاں روابط قائم کرنے کے لئے حضرتؒ نے ابوظہبی میں شئون دینیہ کے سربراہ جناب ڈاکٹر عبدالمنعم النمر اور ابوظہبی کے قاضی القضاۃ شیخ احمد بن عبدالعزیز المبارک کے نام عربی میں الگ الگ گرامی نامے تحریر فرمائے، نیز ابوظہبی کے پاکستانی حضرات کے نام اردو میں حسب ذیل گرامی نامہ تحریر فرمایا:
”اس وقت اسلام جن فتنوں سے گھرا ہوا ہے، محتاج بیان نہیں، مسلمان دنیا کے جس خطے میں ہو اسلام کا داعی اور مبلغ ہے، اور ہر شخص اپنی بساط کے مطابق اس کا مکلف ہے کہ دینی خدمات انجام دے اور آخرت کی سرخروئی اور قیامت کی جوابدہی حاصل کرے۔
مجلس مرکزی ”تحفظ ختم نبوت“ نے اپنی شاخ کے افتتاح کا ارادہ کیا ہے، تاکہ اس کے ذریعہ ابوظہبی اور امارات خلیج میں دینی خدمت ہوسکے، اس خدمت کے لئے اپنے ایک داعی و مبلغ مولانا منظور احمد شاہ کا تقرر کیا ہے۔
آپ حضرات کے دینی مزاج اور مکارم اخلاق سے مجھے پوری توقع ہے کہ موصوف کی مقدور بھر امداد میں جس طرح بھی ہو سکے دریغ نہیں فرمائیں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ان دینی خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔“
چنانچہ موصوف نے وہاں کے احباب کے توسط سے اکابر علما اور شیوخ سے رابطہ قائم کیا، انہیں قادیانیت کے مالہ وماعلیہ سے آگاہ کیا، قادیانی لٹریچر سے جو ساتھ
لے کر گئے تھے، قادیانیوں کے مرتدانہ نظریات و عقائد نکال کر دکھائے اور ان کی اسلام کش سرگرمیوں کی تفصیلات بتائیں جس کے نتیجہ میں وہاں کے رئیس القضاۃ شیخ احمد بن عبدالعزیز المبارک نے قادیانیت کے خلاف وہ فیصلہ لکھا جو جماعت کی طرف سے ”قادیانیوں کا ایک اور عبرت ناک انجام“ کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے۔ مولانا منظور احمد شاہ صاحب نے ۱۹۷۶ء میں متحدہ عرب امارات کے علاوہ کویت اور بحرین کا دورہ بھی کیا اور وہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخیں قائم کیں۔
۱۹۷۵ء میں مولانا مقبول احمد کو ختم نبوت کے داعی کی حیثیت سے انگلینڈ بھیجا، موصوف نے وہاں کے نہ صرف پاکستانی حضرات سے رابطہ قائم کیا بلکہ ممالک عربیہ کے طلبہ میں بھی کام کیا۔
۱۹۷۶ء کو ”مدرسہ عربیہ اسلامیہ“ کے متخصص جناب مولانا اسد اللہ طارق کو فیجی آئرلینڈ کے لئے داعی و مبلغ بنا کر بھیجا، موصوف نے وہاں ایک سال سے زیادہ عرصہ کام کیا، اس کے بعد جرمنی تشریف لے گئے اور وہاں قادیانیت کا ناطقہ بند کیا۔
۱۹۷۶ء میں مولانا منظور احمد چنیوٹی اور علامہ ڈاکٹر خالد محمود (مقیم برمنگھم) نے افریقی ممالک کا دورہ کیا، اس کی روئیداد اخبارات و رسائل کے علاوہ الگ بھی شائع ہوچکی ہے۔
مساجد و مراکز کی تعمیر:
سید بنوری قدس سرہ کے سہ سالہ دور امارت میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے تعمیراتی منصوبوں میں بھی حیرت افزا ترقی ہوئی، متعدد مسجدیں تعمیر ہوئیں، جماعتی مراکز کا افتتاح ہوا اور کئی مدارس کھلے، ان کی مختصر سی فہرست حسب ذیل ہے:
- ۱:...... محلہ غریب آباد بیرون چوک شہیداں ملتان میں ”مسجد الفاروق“ تعمیر
ہوئی۔
- ۲:...... کٹھڑی ضلع تھر پارکر (سندھ) میں ایک مسجد تعمیر ہوئی۔
- ۳:...... جماعت کے زیر اہتمام ربوہ اسٹیشن پر مسجد تعمیر کی گئی، وہاں خطابت
کے فرائض جماعت کے مبلغ جناب مولانا خدا بخش صاحب اور تدریس کی خدمات جناب حافظ شبیر احمد صاحب انجام دے رہے ہیں۔
- ۴:...... جماعت کے موجودہ مرکزی دفتر (واقع تغلق روڈ ملتان) کو حضرتؒ
نے جماعت کے وسیع کام اور مستقبل کے منصوبوں کے لئے ناکافی سمجھ کر دفتر کے لئے ایک نیا قطعہ اراضی خریدنے کا حکم فرمایا، جس میں مسجد، لائبریری، اشاعتی مکتبہ، پریس اور دیگر ضروریات کے علاوہ بیرونی ممالک کے مندوبین کے قیام کے انتظامات ہوں۔ چنانچہ ملتان میں حضوری باغ روڈ پر ایک قطعہ اراضی خرید لیا گیا، حضرتؒ کے بعض مخلصین احباب کی وساطت سے حق تعالیٰ نے اس کی تعمیرات کا انتظام بھی فرمادیا، اب یہ جدید مرکز تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، جو انشا اللہ حضرتؒ کے لئے صدقہ جاریہ رہے گا۔
- ۵:...... ہڈرسفیلڈ (انگلینڈ) میں جماعت کے لئے ایک عمارت حضرت
مولانا لال حسین نے اپنے قیام یورپ کے زمانہ میں خرید لی تھی، جماعت کا دفتر اسی عمارت میں تھا، مگر اس کی مکانیت دفتر کی ضروریات کے لئے موزوں نہیں تھی، جناب مولانا مقبول احمد صاحب وہاں تشریف لے گئے تو ان کی توجہ سے وہاں کے ایک صاحب خیر دوست نے مسجد و مدرسہ اور دفتر کی تعمیر کے لئے ایک قطعہ اراضی وقف کر دیا، بحمداللہ اس کی تعمیرات بھی شروع ہیں۔
- ۶:...... ”جابہ“ کے احباب کی درخواست پر حضرتؒ نے وہاں ختم نبوت کی
طرف سے مسجد تعمیر کرنے کا حکم فرمایا، مگر افسوس کہ اس کی تعمیر ابھی باقاعدہ شروع نہیں ہوئی تھی کہ حضرتؒ کا وصال ہوگیا۔
- ۷:...... ”مسلم کالونی“ ربوہ میں جماعت کے لئے ایک وسیع قطعہ اراضی
حاصل کیا گیا، وہاں بھی ایک عظیم الشان مسجد، مدرسہ، لائبریری، دفتر، مہمان خانہ وغیرہ کی تعمیر کا منصوبہ ہے، کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ رئیس المبلغین حضرت مولانا محمد حیات فاتح قادیان وہاں فروکش ہیں۔
- ۸:...... اسلام آباد میں جماعت کا دفتر کرائے کی عمارت میں تھا، حضرتؒ کی
خواہش تھی کہ وہاں کسی موزوں جگہ پر قطعہ اراضی لے کر مسجد اور دفتر تعمیر کیا جائے، تاہم سردست دفتر کے لئے ایک مناسب عمارت خرید لی گئی۔
- ۹:...... حضرتؒ کے دور امارت میں ربوہ، ملتان اور جتوئی میں نئے مدارس کا
افتتاح ہوا۔
- ۱۰:...... پاکستان کے بڑے شہروں میں جماعت کے دفاتر کرائے کی عمارت
میں ہیں، کراچی، لاہور اور حیدرآباد وغیرہ مرکزی شہروں میں دفاتر کی تعمیر کے لئے بھی حضرتؒ فکرمند تھے، مگر حضرتؒ کی یہ خواہش تشنہ تکمیل رہی۔
شعبہ نشر و اشاعت:
حضرتؒ کے دور میں جماعت کے شعبہ نشر و اشاعت کو بھی خاصی ترقی ہوئی، اگرچہ یہ دور ۱۹۷۴ء اور ۱۹۷۶ء کی تحریکات کے ہنگامہ رستاخیز کی بنا پر اشاعتی کاموں کے لئے بڑا حوصلہ شکن تھا، تاہم جماعت نے قریباً دو لاکھ روپیہ اشتہارات اور کتابچوں کے علاوہ نہایت وقیع اور علمی کتابوں کی اشاعت پر خرچ کیا، اس کا مختصر سا جائزہ پیش خدمت ہے۔
- ۱:...... ملت اسلامیہ کا موقف:
دو سو صفحے کی یہ کتاب ”مجلس عمل“ کے نمائندگان اسمبلی کی جانب سے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے مسلمانوں کا موقف پیش کرنے کی غرض سے جدید انداز میں مرتب کی گئی، جس میں قادیانیت کی مذہبی، سماجی اور سیاسی حیثیت کی
وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ قادیانی کیوں دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ پہلی کتاب تھی جو حضرتؒ کے دور میں شائع ہوئی، اس کی تالیف و طباعت بھی حضرتؒ کی کرامت تھی، دو صد صفحے کی کتاب مگر سننے والوں کو یقین نہیں آئے گا کہ مواد کی فراہمی سے لے کر اس کی تجلید تک تالیف، کتابت اور طباعت وغیرہ کے تمام مراحل چھ دن میں طے ہوئے، راولپنڈی میں حضرت نے علما کا ایک بورڈ مقرر کر دیا تھا، مولانا محمد حیات اور مولانا عبدالرحیم اشعر مواد فراہم کر رہے تھے، مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحق اس کی تالیف میں مصروف تھے، اور حضرت المخدوم سید انور حسین نفیس رقم الحسینی اپنے رفقا سمیت اس کی کتابت میں مصروف تھے، روزانہ جتنا حصہ لکھا جاتا وہ علما کی مجلس میں سنایا جاتا اور کتابت ہو جاتا۔
کتاب کی تالیف و کتابت مکمل ہوئی تو طباعت کا مرحلہ درپیش تھا، مشکل یہ تھی کہ پریس پر پابندی عائد تھی اور قادیانیوں کے خلاف کسی چیز کا چھپنا ممنوع تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مشکل کو بھی آسان فرما دیا، اس طرح یہ کتاب مواد کی فراہمی سے لے کر طباعت و تجلید تک چھ دن میں تیار ہو گئی۔
تمام اراکین اسمبلی میں تقسیم کی گئی، اور حضرت مولانا مفتی محمود مدظلہ نے اسمبلی میں حرفا حرفا پڑھ کر سنائی، حضرتؒ نے اب اس کی دوبارہ طباعت کا حکم فرمایا تھا۔
۲:...... ملت اسلامیہ کا موقف (عربی ایڈیشن):
بیرون ممالک کی ضروریات کا تقاضا تھا کہ اس کتاب کے عربی اور انگریزی ایڈیشن بھی شائع کئے جائیں، چنانچہ حضرتؒ نے اپنے رفیق و خادم جناب مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کو اس کے عربی ترجمہ کا حکم فرمایا، موصوف نے ”موقف الامة الاسلامية من القاديانية.“ کے نام سے اس کا عربی ترجمہ کیا، حضرتؒ نے خود اس پر
ایک نفیس مقدمہ لکھا اور افریقی ممالک کے دورہ پر جانے سے پہلے اسے اعلیٰ کاغذ اور عمدہ ٹائپ سے طبع کرایا اور عالم اسلام خصوصاً افریقی ممالک میں اسے تقسیم فرمایا۔
۳:...... ملت اسلامیہ کا موقف (انگریزی ایڈیشن):
اس کتاب کے انگریزی ترجمہ کے لئے حضرتؒ نے کتاب کے مصنف جناب مولانا محمد تقی عثمانی کو فرمایا، بحمد اللہ موصوف نے اس کا انگریزی ترجمہ بھی کیا جو دارالعلوم لانڈھی سے شائع ہوا۔
۴:...... خاتم النبیین:
یہ حضرتؒ کے شیخ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی آخری تالیف ہے جو مسئلہ ختم نبوت پر انوری علوم و معارف کا گنجینہ ہے۔ اس کی زبان فارسی تھی اور ایک مدت سے اس کے اردو ترجمہ کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی، اس لئے حضرتؒ نے راقم الحروف کو اس کے ترجمہ و تشریح کا حکم فرمایا۔ بحمد اللہ حضرتؒ کی عنایت و توجہ سے بہت مختصر عرصہ میں اس کے ترجمہ و تشریح اور تبویب و تخریج کا کام ہوا۔ پہلے ماہنامہ بینات میں بالاقساط شائع ہوچکی تو اسے مستقل شائع کرنے کا حکم فرمایا اور اس پر ایک گرانقدر مقدمہ بھی تحریر فرمایا، افسوس ہے کہ یہ کتاب حضرتؒ کے وصال کے تین دن بعد پریس سے آئی۔
حضرتؒ کے حکم سے رد قادیانیت پر ایسی کئی قدیم اور نایاب کتابیں بھی شائع کی گئیں جن کے لوگ بہت ہی متلاشی تھے، مثلاً:
- ۱:...... رئیس قادیاں ۔ مؤلفہ مولانا ابوالقاسم دلاوری، مرزا غلام احمد قادیانی
کے پوست کندہ حالات اور اس دور کی تاریخ پر اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں۔
- ۲:...... مغلظات مرزا ۔ مؤلفہ مولانا نور محمد خان سابق مبلغ مظاہر علوم
سہارنپور، جس میں مرزا قادیانی کی دشنام طرازی اور فحش گوئی کو باحوالہ ردیف وار جمع
کیا گیا ہے۔ حضرتؒ فرماتے تھے کہ ایک سنجیدہ آدمی کے لئے بس یہی ایک رسالہ کافی ہے۔
- ۳:...... ہدیۃ المہدیین۔ مؤلفہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ مفتی اعظم
پاکستان، یہ رسالہ جو حضرت مفتی صاحبؒ نے اپنے شیخ انورؒ کے ایما و اعانت سے مرتب فرمایا تھا، حضرت مفتی صاحبؒ کے ایصال ثواب کے لئے شائع کیا گیا اور حضرتؒ نے ایک تحریک کی شکل میں اس کی اشاعت کا حکم فرمایا۔ (تفصیلات مجلس تحفظ ختم نبوت تغلق روڈ ملتان سے معلوم کی جاسکتی ہیں)۔
- ۴:...... قادیانیوں سے ستر سوالات۔ مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری۔
- ۵:...... اشد العذاب علی مسیلمۃ البنجاب، مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری۔
- ۶:...... مجموعہ رسائل۔ مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری۔
حضرت چاند پوریؒ دورِ ثانی کے اکابر دیوبند میں سے تھے، میدانِ مناظرہ میں قادیانیوں نے ان کے ہاتھوں بار ہا عبرت ناک شکست کھائی، تحریر کے میدان میں قدم رکھا تو ایسے کلہ شکن رسائل لکھے کہ قادیانی آج تک ان کے جواب نہیں دے سکے۔ جماعت نے ان کے تمام رسائل کو دوبارہ شائع کیا۔
ان کے علاوہ چند نئے رسالے بھی مرتب کرکے شائع کئے گئے۔ مثلاً قادیانیوں کو دعوت اسلام، ربوہ سے تل ابیب تک، مراقی نبی، مرزائی اور تعمیر مسجد؟ مرزا کا اقرار، قادیانیت علامہ اقبال کی نظر میں، وغیرہ وغیرہ۔
یہ حضرت بنوریؒ کے دورِ امارت کا مختصر سا خاکہ ہے، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرتؒ کی برکت سے ردّ قادیانیت پر کتنا کام ہوا، واقعہ یہ ہے کہ حضرتؒ کی قیادت میں جماعت کا ہر شعبہ قلت وسائل کے باوجود بہت ہی فعال ہوگیا تھا اور کام کی نئی نئی صورتیں سامنے آنے لگیں تھیں، لیکن صد حیف!:
حضرتؒ کے بعد آپ کے نائب عارف باللہ حضرت مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ مجددیہ (کندیاں) کو ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا قائد و امیر منتخب کیا گیا۔ حق تعالیٰ موصوف کے انفاس طیبات میں برکت فرمائے، والحمد للّٰہ اوّلاً وآخراً!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۵ ش:۱۵، ۱۶)
قادیانیت کا احتساب
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ
”س:...... سورۃ الجمعہ میں: ”هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِیْ الْأُمِّیِّیْنَ رَسُوْلاً.“ آیت سے اگلی آیت: ”وَآخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ.“ سے کیا مراد ہے؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ مراد ہے؟ یا کسی اور ہستی کی بعثت مراد ہے؟ مجھے اس کے متعلق دل میں بڑی الجھن سی ہے، اس کو حل فرما کر عنداللہ ماجور ہوں، کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرامؓ نے بھی پوچھا تھا کہ آخرین کون ہیں؟ سائل محمد شفیع نجیب آبادی۔“
ج:...... آیت کریمہ میں نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ مراد ہے، نہ کسی اور ہستی کی، بلکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی تعمیم مراد ہے، آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ آپؐ صرف عرب کے امیّوں کے لئے مبعوث نہیں ہوئے بلکہ آپؐ کی بعثت کا دائرہ عجم کے ان تمام لوگوں کے لئے بھی محیط ہے جو ابھی
تک نہیں آئے، بلکہ قیامت تک ان کی آمد کا سلسلہ جاری رہے گا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تھا کہ ”آخرین“ کون ہیں؟ آپ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ ان لوگوں میں سے کچھ لوگ ہوں گے کہ اگر دین بالفرض ثریا پر بھی پہنچ گیا ہو تو وہ اسے وہاں سے بھی لے آئیں گے۔
(صحیح بخاری)
اس حدیث پاک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فارس کو خصوصیت سے ”آخرین“ کا جو مصداق قرار دیا ہے، اس سے یہ مقصد نہیں کہ اہل فارس کے سوا دوسرا کوئی ”آخرین“ کا مصداق نہیں، ورنہ اس سے لازم آئے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا تو صرف امیوں کے رسول ہیں یا اہل فارس کے، بلکہ اس تخصیص میں وہی نکتہ ملحوظ ہے جو امیوں کو قرآن مجید میں الگ ذکر کرنے میں ملحوظ ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اُمیان عرب، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بلاواسطہ مخاطب تھے، اور آپ کے اور آنے والی امت کے درمیان واسطے کی حیثیت ان کو حاصل ہوئی، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرامؓ اور بعد میں آنے والی امت کے درمیان اہل فارس کو واسطہ بنایا گیا، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے دور میں اہل فارس نے دینی علوم کی تحصیل اور نشر و اشاعت میں جو جانفشانیاں کیں، انہوں نے اہل فارس کو آنے والی پوری امت کا امام بنادیا، حدیث کے سب سے بڑے امام، امام بخاریؒ، فقہ کے سب سے بڑے امام، امام ابوحنیفہؒ، تفسیر کے سب سے بڑے امام، ابن جریرؒ، حد یہ ہے کہ عربیت کے سب سے بڑے امام سیبویہؒ، ان سب کا تعلق فارس سے ہے، اور آج تک امت جس طرح عرب کے امیوں (حضرات صحابہ کرامؓ) کی زیر بار احسان ہے کہ جو کچھ ملا انہی اکابرؒ کے واسطے سے ملا، اسی طرح بعد کی امت اہل فارس کی ممنون منت ہے کہ آج تک انہی ائمہ دین کی محنتوں کا پھل سمیٹ رہی ہے۔
یہ تھا وہ نکتہ جس کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فارس کو
”آخرین“ کا سرخیل ٹھہرایا، جن لوگوں نے اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوبارہ بعثت کا نکتہ ایجاد کیا ہے، انہیں غلط فہمی ہوئی ہے، اگر اس نکتہ کو صحیح فرض کر لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار عربوں میں مبعوث ہوئے اور ان کا تزکیہ فرمایا، اور دوسری بار اہل فارس میں مبعوث ہوئے اور ان کے مزکی بنے، باقی ساری دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آپؐ کی تعلیم و تزکیہ سے محروم رہی، مزید تفصیل کی گنجائش نہیں، اہل فہم کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔
پہلے خط کا قادیانی جواب:
”عرض خدمت ہے کہ آپ کا خط آیت: ”آخرین منهم“ کی تفسیر کے متعلق مجھے موصول ہوا، میں اس کے لئے آپ کا بہت ممنون ہوں۔
آپ نے آیت: ”آخرین منهم لما یلحقوا بهم.“ کی تفسیر میں ”آخرین“ سے مراد قیامت تک کے غیر امی یعنی غیر عرب لئے ہیں تاکہ اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عامہ ثابت ہو۔
اہل فارس سے متعلقہ حدیث نبوی جو انہیں: ”آخرین منهم لما یلحقوا بهم.“ کا مصداق قرار دیتی ہے، میں نکتہ مستورہ آپ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس حدیث میں خصوصیت سے ان اہل فارس کا ذکر ہے جنہوں نے صحابہؓ کے واسطہ سے تعلیم و تزکیہ حاصل کیا، جیسے امام بخاری علیہ الرحمۃ اور امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ وغیرہ۔
مکرمی! آپ کی آیت: ”آخرین منہم لما یلحقوا بہم.“ کے متعلق یہ تفسیر و تشریح پڑھ کر اب بعض امور دریافت طلب ہیں، امید ہے کہ آپ ان کا جواب دے کر مجھے پہلے سے زیادہ ممنون فرمائیں گے۔
اول:...... اس آیت کریمہ میں ”منہم“ کی ضمیر کا مرجع کیا ہے؟ بظاہر تو اس کا مرجع ”امیین“ ہیں، جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ تعلیم و تزکیہ حاصل کیا، یہ ”امیین“ تو صحابہؓ تھے۔
لہٰذا اگر ”آخرین“ بقول آپ کے صحابہؓ سے تعلیم حاصل کرنے والے تھے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، تو پھر یہ ”امیین“ میں کیسے داخل قرار پاسکتے ہیں؟ مشکل یہ درپیش ہے کہ ان ”آخرین“ کی خدا نے: ”لما یلحقوا بہم.“ کہہ کر صحابہؓ سے اس وقت الحاق کی نفی بھی کی ہے اور پھر انہیں ”منہم“ کہہ کر صحابہؓ میں شامل بھی کیا ہے، اس الجھن کا حل کیا ہے؟ نیز امام بخاریؒ اور امام ابوحنیفہؒ ”منہم“ کا مصداق کیسے ہوسکتے ہیں؟
دوم:...... حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب مجدد صدی دواز دہم علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ“ میں ”النبوۃ و خواصہا.“ کے باب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث قرار دیئے ہیں، اس آیت کے علاوہ اس امر کا ماخذ کیا ہوسکتا ہے؟
سوم:...... حدیث نبوی: ”لو کان الایمان معلقا بالثریا لنالہ رجل او رجال من ہؤلاء.“ سے مراد صحابہؓ سے
بالواسطہ تعلیم و تزکیہ پانے والے اہل فارس کیسے مراد ہو سکتے ہیں؟ جبکہ اس وقت ایمان صحابہؓ کے ذریعہ زمین پر موجود تھا، ثریا سے ایمان واپس لانے والا تو کوئی نبی ہی ہو سکتا ہے، اور نبی آپ کے نزدیک جو بعد میں آنے والا ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں، پس عیسیٰ موعود علیہ السلام کا اہل فارس میں سے ہونا لازم آیا، اگر اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلی بعثت قرار نہ دیا جائے تو اس کا آنا ختم نبوت کے منافی ہوگا، کیا اس بنا پر موعود عیسیٰ علیہ السلام کو سید ولی اللہ شاہ علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب ”الخیر الکثیر“ میں: ”هو شرح .... الجامع المحمدی ونسخۃ منتخبۃ منہ.“ قرار نہیں دیا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ظل ہوگا؟ سائل: محمد شفیع نجیب آبادی۔“
دوسرے قادیانی خط کا جواب:
مکرم و محترم، زیدت الطافہم آداب و دعوات!
گرامی نامہ محررہ ۲۶/۹/۷۶ء موصول ہوا، میں معذرت خواہ ہوں کہ جناب کا ۴؍ اپریل کا رجسٹرڈ خط مجھے موصول ہوا تھا، میں نے اسے کھول کر پڑھا تھا، اور اس خیال سے کہ ہاتھ کے کام سے نمٹ کر اس کا جواب لکھوں گا، کہیں رکھ دیا، اور وہ کاغذات میں ایسا گم ہوا کہ تلاش بسیار کے باوجود آج تک نہیں مل پایا، میں اس کے بارے میں بے حد مشوش تھا، خدا آپ کا بھلا کرے اور صراطِ مستقیم کی توفیق نصیب فرمائے کہ آپ کے آج کے گرامی نامہ نے میری تشویش ختم کردی، آپ کے جوابی لفافہ کا قرض میرے ذمہ تھا، بمرسلہ ہذا سادہ لفافہ بھیج کر وہ بھی ادا کر رہا ہوں۔
یہ ناکارہ اپنی ناقص عقل و فہم کے مطابق خطوط کا جواب دینا فرض سمجھتا ہے،
خصوصاً مرزا صاحب کی جماعت کے خطوط کا جواب دینا تو اور بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر کسی کو واقعی غلط فہمی ہو تو اس کا اپنے امکان کی حد تک ازالہ کیا جاسکے، تاکہ وہ قیامت کے دن حق تعالیٰ کے حضور یہ عذر نہ کرسکیں کہ ہماری غلط فہمی کسی نے زائل ہی نہیں کی۔ ان تمہیدی کلمات کے بعد اب جناب کے گرامی نامہ کے بارے میں چند امور عرض کرتا ہوں:
اول:...... میں نے عرض کیا تھا کہ حدیث پاک میں اہلِ فارس کو ”آخرین“ کا مصداق اس لئے قرار دیا گیا کہ عربوں کے بعد دینی علوم کی نشر و اشاعت جن حضرات نے کی ان میں اہل فارس سب سے نمایاں ہیں، اور میں نے بطور مثال چند اکابر کے نام تحریر کئے تھے، آنجناب نے میری تقریر کا جو خلاصہ نقل کیا ہے:
”اس حدیث میں خصوصیت سے ان اہل فارس کا ذکر ہے، جنہوں نے صحابہؓ کے واسطہ سے تعلیم وتزکیہ حاصل کیا، جیسے امام بخاریؒ، امام ابو حنیفہؒ وغیرہ۔“
یہ خلاصہ صحیح نہیں ہے، عبارت پر ایک بار پھر غور فرمائیے!
دوم:...... ”منہم“ کی ضمیر کا مرجع ”امیین“ ہیں، گویا آیت کریمہ میں امیوں کی دو قسمیں کی گئی ہیں، ایک عرب، جو امی تھے اور جن کی تعلیم و تربیت براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی، دوسرے دیگر اقوام عالم، جن کے سرکردہ اہل فارس ہیں، چونکہ اہل فارس بھی اہل کتاب نہیں تھے، اس لئے ان کو ”امیین“ میں شامل فرمایا گیا، گویا ”امیین“ کی اصطلاح اہل کتاب کے بالمقابل استعمال ہوئی ہے، اور ”امیین“ کا لفظ ان تمام اقوام عالم کو محیط ہے جو اہل کتاب نہیں، امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: ”الامیون ھم العرب.“ اور اہل فارس والی حدیث نقل کر کے فرماتے ہیں:
”ففى ھٰذا الحدیث دلیل علی ان ھٰذہ السورة
مدنية وعلى عموم بعثته صلى الله عليه وسلم الى جميع الناس لانه فسّر قوله تعالى: ”وآخرين منهم.“ بفارس، ولهذا كتب كتبه الى فارس والروم وغيرهم من الامم يدعوهم الى الله عز وجل والى اتباع ما جاء به، ولهذا قال مجاهد وغير واحد في قوله تعالى: ”وآخرين منهم لما يلحقوا بهم.“ قال هم الاعاجم وكل من صدق النبى صلى الله عليه وسلم من غير العرب.“
(تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۳۶۳ طبع قاہرہ مصر)
ترجمہ: ...... ”پس اس حدیث میں اس امر کی دلیل ہے کہ یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی اور اس میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تمام انسانوں کی طرف عام ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ”وَّ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ.“ کی تفسیر اہل فارس فرمائی ہے، اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس، روم اور دیگر شاہانِ عالم کو گرامی نامے تحریر فرمائے، جن کے ذریعہ انہیں اللہ تعالیٰ کی اور آپ کے لائے ہوئے دین کی پیروی کی دعوت دی، اس لئے امام مجاہدؒ اور دیگر بہت سے حضرات نے حق تعالیٰ کے ارشاد: ”وَّ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ.“ میں فرمایا کہ اس سے عجمی لوگ مراد ہیں، اور غیر عرب کے وہ تمام حضرات جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور آپؐ پر ایمان لائے۔“
سوم: ...... آیت میں ”آخرین“ کے جس ”لحوق بالایمان“ کا ذکر ہے اس سے لحوق فی المرتبہ مراد نہیں، کیونکہ یہ امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ غیر صحابی کسی ادنیٰ
صحابی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا، بلکہ لحوق فی الدین مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ فی الحال یہ لوگ مسلمانوں کی صف میں شامل نہیں ہوئے، آئندہ ہوں گے۔
چہارم:...... ”حجۃ اللہ البالغہ“ کا جو حوالہ جناب نے دیا ہے، آپ اس کا مطلب نہیں سمجھے، حضرت شاہ صاحبؒ نے پہلے تو انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کو بایں الفاظ ذکر فرمایا ہے:
”واذا اقتضت الحكمة الالهية ان يبعث الى الخلق واحدًا من المفهمين فيجعله سببًا لخروج الناس من الظلمات الى النور وفرض الله على عباده ان يسلموا وجوههم وقلوبهم له وتاكد فى الملاء الاعلى الرضا عمن انقاد له وانضم اليه واللعن على من خالفه وناواه فاخبر الناس بذالك والزمهم طاعته فهو النبى.“
(حجۃ اللہ البالغہ ج:۱ ص:۸۳ طبع منیریہ)
ترجمہ:...... ”اور جب حکمت الہیہ تقاضا کرتی ہے کہ مفہمین میں سے کسی کو مخلوق کی طرف مبعوث کرے تاکہ اسے لوگوں کے ظلمات سے نور کی طرف نکلنے کا سبب بنائے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فرض کردیتے ہیں کہ دل و جان سے اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں، اور ملاء اعلیٰ میں اس شخص کے لئے رضامندی مؤکد ہوجاتی ہے جو اس کا مطیع ہوجائے اور اس کے ساتھ مل جائے، اور اس شخص پر لعنت مؤکد ہوجاتی ہے جو اس کی مخالفت کرے اور اس سے دشمنی کرے، پس وہ لوگوں کو اس کی خبر کرے اور اپنی اطاعت کو لوگوں پر لازم کرے وہ نبی کہلاتا ہے۔“
گویا نبی کی بعثت کی علت غائیہ انسانوں کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لانا ہے، چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے اور آپؐ کے بعد انبیاء کرام کی بعثت کا سلسلہ ختم ہوچکا تھا، اس لئے آپؐ کے بعد کارِ نبوت امتِ مرحومہ کے سپرد کیا گیا، اور دعوت و ارشاد کی ذمہ داری اس پر ڈالی گئی، حضرت شاہ صاحبؒ اس کو ”نوع آخر من البعث“ سے تعبیر فرمارہے ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں:
”واعظم الانبیاء شأنًا من له نوع آخر من البعثة ایضًا، وذالک ان یکون مراد اللّٰه فیه ان یکون سببًا لخروج الناس من الظلمات الی النور. وان یکون قومه خیر امة اخرجت للناس فیکون بعثه یتناول بعثًا آخر، والى الاول وقعت الاشارة فی قوله تعالى: ”هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ.“ الآیة، والى الثانى فی قوله تعالى: ”كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ.“ وقوله صلى اللّٰه عليه وسلم: ”فانما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین.“
(حجۃ اللہ البالغہ ج:۱ ص:۸۴ طبع منیریہ)
ترجمہ: ...... ”اور انبیاء میں سب سے عظیم الشان نبی وہ ہے جس کے لئے بعثت کی ایک نوع اور بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد اس میں یہ ہو کہ وہ لوگوں کے تاریکیوں سے نور کی طرف نکلنے کا سبب بنے اور اس کی امت خیر امت ہے، جو لوگوں کو خیر کی دعوت دینے کے لئے کھڑی کی گئی ہو، اس طرح پس نبی کی بعثت ایک اور بعثت کو (یعنی امت کے مبعوث للدعوۃ ہونے کو) متضمن ہو، اول کی طرف حق تعالیٰ کے ارشاد: ”هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ.“ میں اشارہ ہے، اور
ثانی کی طرف ارشاد خداوندی: ”كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ.“ میں اور ارشادِ نبوی: ”تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، تنگی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔“ میں اشارہ ہے۔“
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خود ہدایت خلق کے لئے مبعوث ہونا متضمن ہے آپ کی امت کے داعی الی اللہ ہونے کو، جس کو قرآن کریم نے: ”كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ.“ سے بیان فرمایا ہے، اور یہی شاہ صاحبؒ کے الفاظ میں: ”نوع آخر من البعثة.“ ہے، یہیں سے یہ بھی معلوم ہوا ہوگا کہ اس ”نوع آخر من البعثة“ کا ماخذ آیت کریمہ: ”هُوَ الَّذِى بَعَثَ فِى الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا.“ نہیں بلکہ آیت: ”كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ.“ ہے، نیز حدیث نبوی: ”فانما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین.“
پنجم:....... حدیث نبوی: ”لو كان الايمان بالثريا لناله رجال من هؤلاء.“ کا منشا یہ نہیں کہ خدانخواستہ ایمان کسی وقت میں زمین پر سے اٹھ جائے گا، کیونکہ اول تو یہ بات شرعاً ممتنع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت قیامت سے پہلے دنیا سے اٹھ جائے، (البتہ قیامت کے بالکل قریب جبکہ اہل ایمان اٹھا لئے جائیں گے، تب قرآن کریم کے نقوش بھی اٹھ جائیں گے اور پھر زمین پر صرف اشرار الناس باقی رہ جائیں گے، جن پر قیامت قائم ہوگی) علاوہ ازیں حدیث میں لفظ ”لو“ ہے، جو فرض محال کے لئے آتا ہے، جیسا کہ آیت کریمہ: ”لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا.“ میں فرض محال کے طور پر ہے، اس لئے حدیث نبوی سے اہل فارس کی دین کے لئے محنت و جانکاہی اور ان کی فقاہت و دانش کی مدح مقصود ہے کہ اگر بفرض محال دین ثریا پر بھی چلا گیا ہوتا تو یہ حضرات اسے وہاں سے بھی حاصل کر لاتے، اور ان اکابر دین نے علوم نبوت کی تحصیل اور نشر و اشاعت میں
جو جانفشانیاں کی ہیں اور تفقہ فی الدین کے ذریعہ علوم دین کے لالہ زار میں جو گل کاریاں کی ہیں، اگر ان کی پوری تاریخ سامنے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی حرف بحرف تصدیق ہو جاتی ہے۔
ششم:...... اسلام میں ظلی نبوت کا تصور نہیں اور نہ نبوت کوئی ظلی چیز ہے، امام ربانی مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں:
”نبوت عبارت از قرب الٰہی است جل سلطانہ کہ شائبہ ظلیت ندارد، عروجش رو بحق دارد جل وعلا، ونزولش رو بخلق ایں قرب بالاصالۃ نصیب انبیاء است علیہم الصلوات والتسلیمات، وایں منصب مخصوص بایں بزرگواراں است علیہم الصلوات والبرکات و خاتم ایں منصب سید البشر است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام، حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والتحیۃ بعد از نزول متابع شریعت خاتم الرسلؐ خواہد بود۔“
(مکتوبات امام ربانی دفتر اول مکتوب:۳۰۱)
ترجمہ:...... ”نبوت قرب الٰہی سے عبارت ہے، جو ظلیت کا شائبہ بھی نہیں رکھتی، اس کا عروج رو بحق رکھتا ہے، اور اس کا نزول رو بخلق ، یہ قرب بالاصالت انبیاء کرام علیہم السلام کا حصہ ہے اور یہ منصب انہی اکابر سے مخصوص ہے اور اس منصب کے خاتم سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اترنے کے بعد خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی کریں گے۔“
علاوہ ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر منصب نبوت ختم ہو چکا ہے، اور وحی نبوت منقطع ہوچکی ہے، اس لئے آپؐ کے بعد یہ منصب کسی شخص کو نہ اصالۃً مل سکتا
ہے، اور نہ ظنی طور پر، جناب مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو، اسی طرح ممکن نہیں کہ ایک رسول اصلاح خلق اللہ کے لئے آوے اور اس کے ساتھ وحی الٰہی اور جبریل نہ ہو۔‘‘
(ازالہ اوہام ص: ۵۷۸، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۴۱۲)
’’ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جاوے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر چپ ہو جاویں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے، کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہوگئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے، ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے، یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص: ۵۷۷، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۴۱۱)
’’خدائے تعالیٰ ایسی ذلت اور رسوائی اس امت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے ہرگز روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری امر ہے، اسلام کا تختہ ہی اُلٹا دیوے، حالانکہ وہ وعدہ کرچکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔“
(ازالہ اوہام ص:۵۸۶، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۶)
ہفتم :...... آپ نے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی کتاب ”الخیر الکثیر“ کے حوالے سے جو لکھا ہے کہ انہوں نے موعود عیسیٰ علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ظلّ اور آپ ہی کی بعثت ثانیہ لکھا ہے، یہ بالکل غلط ہے، حضرت شاہ صاحبؒ نے کسی ”موعود عیسیٰ“ (جس سے آپ کی مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے) ذکر نہیں فرمایا، بلکہ حضرت شاہ صاحبؒ انہی حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا ذکر فرما رہے ہیں جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے، اور جن کو ساری دنیا، کیا یہودی، کیا نصرانی اور کیا مسلمان، عیسیٰ ابن مریم کے نام مبارک سے جانتی پہچانتی ہے۔
امید ہے یہ مختصر اشارات کافی ہوں گے، فقط والدعا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۶ ش:۳۵)
مفتی اعظمؒ اور تردیدِ قادیانیت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی !
حق تعالیٰ کی حکمت بالغہ نے اس کائنات میں خیر و شر اور حق و باطل کا سلسلہ ابتدائے تخلیق سے جاری فرمایا، اور رہتی دنیا تک جاری رہے گا، اس کی ابتدا اگر ابلیس و آدم کی آویزش سے ہوتی ہے تو اس کی انتہا دجال و مسیح پر ہوگی۔
اس سنت الہیہ کے مطابق جب کسی شر کی قوت نے سر اٹھایا اس کا سر کچلنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے رجال خیر کو کھڑا کر دیا، اس صدی (چودھویں صدی ہجری) کا سب سے بڑا شر، سب سے بڑا فتنہ، سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑا دجل و فریب، لعین بن لعین، لعین قادیان کا دعوائے نبوت و مسیحیت تھا، جس نے گزشتہ صدیوں کے سارے کفر و الحاد کا تعفن اپنے اندر سمیٹ لیا تھا۔
یہ فتنہ چونکہ دجل و فریب کی بیساکھیوں کے سہارے چل رہا تھا، اس لئے شروع شروع میں تو بہت سے لوگ اس کی حقیقت ہی نہ سمجھے، اور جن حضرات کو اصل حقیقت تک رسائی ہوئی انہوں نے اس کو ”دیوانے کی بڑ“ اور ”گوز شتر“ تصور کرتے ہوئے اسے لائق التفات ہی نہ سمجھا، ادھر انگریز کی عیاری و مکاری، اس کی اعانت و
نصرت اور تائید و حمایت نے اس فتنہ کو کم فہم انگریزی خواندہ نوجوانوں اور سرکاری ملازموں میں پنپنے کا موقع دیا، تا آنکہ رفتہ رفتہ قادیانیت کی رگوں میں دجل و فریب کے علاوہ کبر و نخوت اور شیخی و تعلی کا خون بھی دوڑنے لگا، وہ ہر راہ چلتے کا بازو پکڑ کر اسے حیات مسیح پر بحث کرنے کی دعوت دینے لگے، اور انہوں نے گلی کوچوں میں مناظروں اور مباحثوں کی فضا پیدا کر دی، وہ ہر داڑھی والے کو دیکھ کر اس پر پھبتیاں کستے اور اسلامی عقائد کو چیلنج کرنے لگے۔
یہ وہ صورت حال تھی جس نے امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کو پریشان کر دیا تھا۔ اور آپ کی راتوں کی نیند حرام کر دی تھی، خطرہ ہو چلا تھا کہ اگر اس ملعون فتنہ کو لگام نہ دی گئی تو یہ نہ صرف مسلمانوں کی گمراہی کا ذریعہ بن جائے گا بلکہ دین محمدی (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے کم از کم ہندوستان سے خاتمہ کا سبب ہوگا۔ علمائے امت بحمد اللہ اس فتنہ کی سرکوبی پہلے سے کرتے آرہے تھے مگر حضرت امام العصرؒ کے پیش نظر اس فتنہ کے قلع قمع کے لئے چند اہم اقدامات تھے:
- اول:...... اس فتنہ کی ملعونیت و خباثت اس طرح اجاگر کی جائے کہ
قادیانیت و مرزائیت کا لفظ بجائے خود گالی بن جائے، حتیٰ کہ خود قادیانی بھی اپنے آپ کو مرزائی، یا قادیانی کہلانا عار اور شرم کا موجب سمجھیں۔
- دوم:...... اہل علم کی ایک با توفیق جماعت تیار کی جائے جو قادیانیوں کی
تلبیسات کا پردہ چاک کرے اور ان تمام علمی مباحث کو نہایت صاف اور منقح کر دے جو اسلام اور قادیانیت کے درمیان زیر بحث آئے ہیں۔
- سوم:...... دعوت و تبلیغ اور مباحثہ و مناظرہ کے میدان میں ایسی پیش قدمی کی
جائے کہ حریف پسپا ہونے پر مجبور ہو جائے اور اسے ہر گلی کوچے میں مسلمانوں کو للکارنے کی جرأت نہ ہو۔
- چہارم:...... ردّ قادیانیت اور تحفظ ختم نبوت مسلمانوں کا ایک مستقل مشن بن
جائے تا کہ جہاں کہیں قادیانیت کے طاغوتی جراثیم پائے جائیں وہاں ختم نبوت کا تریاق مہیا کیا جاسکے۔
حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کے علمی تفوق اور روحانی توجہ نے پورے دارالعلوم دیوبند کو اس محاذ پر لگادیا، آپ کے زیر اشراف جو جماعت قادیانیت کے استیصال کے لئے تیار ہوئی ان میں حضرت اقدس مفتی اعظم مولانا محمد شفیع دیوبندی قدس سرہ کی شخصیت بالآخر اپنے دور کی نمایاں ترین شخصیت بن گئی۔
حضرت مفتی اعظمؒ نے ردّ قادیانیت پر جو کام کیا اسے آسانی کے لئے تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
اول:...... دعوت و تبلیغ کے ذریعہ نیز مباحثہ و مناظرہ کے میدان میں اور عدالت کے کٹہرے میں قادیانیت کا مقابلہ۔
دوم:...... تصنیف وتالیف کے ذریعہ ردّ قادیانیت کی خدمت۔
سوم:...... دارالعلوم دیوبند کی مسند دارالافتاء سے قادیانیوں کی دینی حیثیت کی تشخیص اور ان کے شبہات کا ازالہ۔
اول الذکر دونوں چیزوں کا مختصر سا خاکہ خود مفتی صاحبؒ کے اس مقالہ میں آجاتا ہے جو ”حیات انور“ میں شامل ہے اور جو ہمارے پاس سب سے مستند ذریعہ معلومات ہے، اس لئے اس مقالہ کا ضروری حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے، جس سے اس دور کے بعض اہم واقعات بھی معلوم ہوں گے، حضرت شاہ صاحبؒ کے ردّ قادیانیت کے لئے اہتمام اور اپنے تلامذہ کی تربیت پر روشنی پڑے گی اور حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی خدمات کا اجمالی تعارف بھی ہوگا، حضرت مفتی صاحب لکھتے ہیں:
”فتنہ مرزائیت کی شدت اور اس کے بعض اسباب:
تقریباً ۱۳۴۰ھ کا واقعہ ہے کہ فتنہ قادیانیت پورے
ہندوستان کے اطراف و جوانب میں اور خصوصاً پنجاب میں ایک طوفانی صورت سے اٹھا، اس کا سبب خواہ یہ ہو کہ ۱۹۱۴ء کی جنگ عظیم میں قادیانی مسیح کی امت نے مسلمانوں کے مقابلہ میں عیسائیوں (انگریزوں) کو کافی مدد بہم پہنچائی، جس کا اعتراف خود قادیانیوں نے اپنے اخبارات میں کیا ہے، اور یہی وجہ تھی کہ جب بغداد سات سو سال کے بعد مسلمانوں کے قبضہ سے نکل کر انگریزوں کے تسلط میں داخل ہوا تو جہاں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری امت ان کے رنج و غم میں مبتلا تھی وہیں قادیانی مرزا کی امت قادیان میں چراغاں کر رہی تھی۔
(الفضل قادیان)
اس جنگ میں امداد دینے اور مسلمانوں کے مقابلہ میں انگریزوں کو کامیاب بنانے کے صلہ میں انگریزوں کی حمایت (بقول مرزا صاحب) اپنے اس خود کاشتہ پودے کو زیادہ حاصل ہوگئی، اور اس کا یہ حوصلہ ہو گیا کہ وہ کھل کر مسلمانوں کے مقابلے میں آجائے اور ممکن ہے کہ کچھ اور بھی اسباب ہوں۔
یہ زمانہ دارالعلوم دیوبند میں میرے درس و تدریس کا ابتدائی دور تھا، اور میں اس بسم اللہ کے گنبد میں اپنی کتاب اور سبق پڑھانے کے سوا کچھ نہ جانتا تھا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟
لیکن ہمارے بزرگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے فروغ اور اسلام کی خدمت ہی کے لئے پیدا فرمایا تھا، قادیانیت کے اس بڑھتے ہوئے طوفان سے سخت تشویش و اضطراب محسوس فرما رہے تھے اور تبلیغ و اشاعت کے ذریعہ اس کے مقابلے کی فکر کر رہے تھے، بالخصوص حضرت شاہ صاحب
قدس سرہ پر اس فتنہ کا بہت اثر تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کے مقابلہ کے لئے ان کو چن لیا ہے، جیسا ہر زمانہ میں عادۃ اللہ یہ رہی ہے کہ ہر فتنہ کے مقابلہ کے لئے اس وقت کے علماء دین سے کسی کو منتخب کر لیا گیا اور اس کے قلب میں اس کی اہمیت ڈال دی گئی، فتنہ قادیانیت کے استیصال میں حضرت ممدوح کی شبانہ روز جد و جہد اور فکر و عمل سے دیکھنے والے کو یقین ہو جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لئے آپ کو چن لیا ہے۔
مصر و عراق وغیرہ ممالک اسلامیہ میں فتنۂ
قادیانیت کا انسداد:
میں حسب عادت ایک روز استاذ محترم حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کی دائمی عادت کے خلاف یہ دیکھا کہ ان کے سامنے کوئی کتاب زیر مطالعہ نہیں، خالی بیٹھے ہوئے ہیں اور چہرے پر فکر کے آثار نمایاں ہیں، میں نے عرض کیا کہ کیسا مزاج ہے؟ فرمایا کہ بھائی! مزاج کو کیا پوچھتے ہو؟ قادیانیت کا ارتداد اور کفر کا سیلاب امنڈتا نظر آتا ہے، صرف ہندوستان میں نہیں عراق و بغداد میں ان کا فتنہ سخت ہوتا جاتا ہے اور ہمارے علماء عوام کو اس طرف توجہ نہیں، ہم نے اس کے مقابلہ کے لئے جمعیۃ علماء ہند میں یہ تجویز پاس کرائی تھی کہ دس رسالے مختلف موضوعات متعلقہ قادیانیت پر عربی زبان میں لکھے جائیں اور ان کو طبع کرا کر ان بلادِ اسلامیہ میں بھیجا
جائے، مگر اب کوئی کام کرنے والا نہیں ملتا، اس کام کی اہمیت لوگوں کے خیال میں نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اپنی استعداد پر تو بھروسہ نہیں لیکن حکم ہو تو کچھ لکھ کر پیش کروں، ملاحظہ کے بعد کچھ مفید معلوم ہو تو شائع کیا جائے، ورنہ بیکار ہونا بظاہر ہی ہے۔
ارشاد ہوا کہ مسئلہ ختم نبوت پر لکھو، احقر نے استاذِ محترم کی تعمیل ارشاد کو سرمایہ سعادت سمجھ کر چند روز میں تقریباً ایک سو صفحات کا ایک رسالہ عربی زبان میں لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کیا، حضرت ممدوح رسالہ دیکھتے جاتے تھے اور بار بار دعائیہ کلمات زبان پر تھے، مجھے کوئی تصور نہ تھا کہ اس ناچیز خدمت کی اتنی قدر افزائی کی جائے گی، پھر خود ہی حضرت ممدوح نے اس رسالہ کا نام ”ہدیۃ المہدیین فی آیۃ خاتم النبیین“ تجویز فرما کر اس کے آخر میں ایک صفحہ بطور تقریظ تحریر فرمایا اور اپنے اہتمام سے اس کو طبع کرایا، مصر، شام، عراق، مختلف مقامات پر اس کے نسخے روانہ کئے۔
خاص قادیان میں پہنچ کر اعلانِ حق اور ردّ
مرزائیت:
اسی زمانہ میں حضرت ممدوح کے ایما پر امرتسر و پٹیالہ و لدھیانہ کے چند علماء نے یہ تجویز کیا کہ اس فتنہ کے استیصال کے لئے خاص قادیان میں ایک تبلیغی جلسہ سالانہ منعقد کیا جائے تاکہ قضیہ زمین برسر زمین طے ہوسکے۔
یہ عوام کو فریب میں ڈالنے والے مناظرے اور مباہلے کے چیلنج جو اکثر اس فرقہ کی طرف سے چھپتے رہتے ہیں ان کی حقیقت لوگوں پر واضح ہو جائے، چنانچہ چند سال مسلسل یہ جلسے قادیان میں ہوتے تھے اور حضرت ممدوح اکثر بذاتِ خود ایک جماعتِ علماء دیوبند کے ساتھ اس میں شرکت فرماتے تھے، احقر ناکارہ بھی اکثر ان میں حاضر رہا ہے۔
قادیانی گروہ نے اپنے آقاؤں (انگریزوں) کے ذریعہ ہر طرح کی کوشش کی کہ یہ جلسے قادیان میں نہ ہو سکیں لیکن کوئی قانونی وجہ نہ تھی جس سے جلسے روک دیئے جاویں، کیونکہ ان جلسوں میں عالمانہ بیانات تہذیب و متانت کے ساتھ ہوتے اور کسی نقص امن کے خطرہ کو موقع نہ دیتے تھے، جب قادیانی گروہ اس میں کامیاب نہ ہوا تو خود تشدد پر اتر آیا، حضرت شاہ صاحب قدس سرہ اور ان کے رفقا کو قادیان جانے سے پہلے اکثر ایسے خطوط گمنام ملا کرتے تھے کہ اگر قادیان میں قدم رکھا تو زندہ واپس نہ جا سکو گے، اور یہ صرف دھمکی ہی نہ تھی بلکہ عملاً بھی اکثر اس قسم کی حرکتیں ہوتی تھیں کہ باہر سے جانے والے علماء و مسلمانوں پر حملے کئے جاتے تھے، ایک مرتبہ آگ بھی لگائی گئی۔
لیکن حق کا چراغ کبھی پھونکوں سے بجھایا نہیں گیا اس وقت بھی ان کے اخلاق باختہ حملے مسلمانوں کو ان جلسوں سے نہ روک سکے۔
مرزائیت میں تصانیف کا سلسلہ:
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ہم چند خدام جلسہ قادیان میں حضرت ممدوح کے ساتھ حاضر تھے، صبح کی نماز کے بعد حضرت شاہ صاحب قدس سرہ نے اپنے مخصوص تلامذہ حاضرین کو خطاب کر کے فرمایا کہ زمانہ کو الحاد کے فتنوں نے گھیر لیا اور قادیانی دجال کا فتنہ ان سب میں زیادہ شدت اختیار کرتا جاتا ہے، اب ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی عمر و توانائی کا بڑا حصہ اور درس حدیث کا اہم موضوع حنفیت و شافعیت کو بنائے رکھا، ملحدین زمانہ کے وساوس کی طرف توجہ نہ دی، حالانکہ ان کا فتنہ مسئلہ حنفیت و شافعیت سے کہیں زیادہ اہم تھا، اب قادیانی فتنہ کی شدت نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا تو میں نے اس کے متعلقہ مسائل کا کچھ مواد جمع کیا ہے، اگر اس کو میں خود تصنیف کی صورت سے مدون کروں تو میرا طرز ایک خالص علمی اصطلاحی رنگ ہے اور زمانہ قحط الرجال کا ہے، اس قسم کی تحریر کو نہ صرف یہ کہ پسند نہیں کیا جاتا بلکہ اس کا فائدہ بھی بہت محدود رہ جاتا ہے، میں نے مسئلہ قرأت فاتحہ خلف الامام پر ایک رسالہ ”فصل الخطاب“ بزبان عربی تحریر کیا، اہل علم اور طلباء میں عموماً مفت تقسیم کیا لیکن اکثر لوگوں کو یہی شکایت کرتے سنا کہ پوری طرح سمجھ میں نہیں آتا، اس لئے اگر آپ لوگ کچھ ہمت کریں تو یہ مواد میں آپ کو دے دوں، اس وقت حاضرین میں چار آدمی تھے، احقر ناکارہ اور حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب رحمۃ اللہ
علیہ سابق ناظم شعبہ تعلیم و تبلیغ دار العلوم دیوبند اور حضرت مولانا بدر عالم صاحب سابق مدرس دارالعلوم دیوبند و جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سورت و دارالعلوم ٹنڈو الہ یار سندھ و حال مہاجر مدینہ طیبہ اور حضرت مولانا محمد ادریس صاحب سابق مدرس دارالعلوم دیوبند و شیخ الجامعہ بہاول پور و حال شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور ادام اللہ تعالیٰ فیوضہم ، ہم چاروں نے عرض کیا کہ جو حکم ہو ہم امتثال امر کو سعادت کبریٰ سمجھتے ہیں۔
اسی وقت فرمایا کہ اس فتنہ کے استیصال کے لئے علمی طور پر تین کام کرنے ہیں: اول مسئلہ ختم نبوت پر ایک محققانہ مکمل تصنیف جس میں مرزائیوں کے شبہات و اوہام کا ازالہ بھی ہو۔
دوسرے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ کی مکمل تحقیق قرآن و حدیث اور آثار سلف سے مع ازالہ شبہات ملحدین۔
تیسرے خود مرزا کی زندگی، اس کے گرے ہوئے اخلاق اور متعارض و متہافت اقوال اور انبیاء و اولیاء و علماء کی شان میں اس کی گستاخیاں اور گندی گالیاں، اس کا دعویٰ نبوت و وحی اور متضاد قسم کے دعوے، ان سب چیزوں کو نہایت احتیاط کے ساتھ اس کی کتابوں سے مع حوالہ جمع کرنا جس سے مسلمانوں کو اس فرقہ کی حقیقت معلوم ہو اور اصل یہ ہے کہ اس فتنہ کی مدافعت کے لئے یہی چیز اہم اور کافی ہے، مگر چونکہ مرزائیوں نے مسلمانوں کو فریب میں ڈالنے کے لئے خواہ مخواہ کچھ علمی مسائل میں عوام کو الجھا دیا ہے اس لئے ان سے بھی اغماض نہیں کیا جاسکتا، پھر فرمایا کہ مسئلہ ختم نبوت کے متعلق تو یہ صاحب
(احقر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا) ایک جامع رسالہ عربی زبان میں لکھ چکے ہیں اور اردو میں لکھ رہے ہیں اور آخر الذکر معاملہ کے متعلق مواد فراہم کر کے مدون کرنے کا سب سے بہتر کام حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) کرسکیں گے کہ اس معاملہ میں ان کی معلومات بھی کافی ہیں اور مرزائی کتابوں کا پورا ذخیرہ بھی ان کے پاس ہے، وہ اس کام کو اپنے ذمے لے کر جلد سے جلد پورا کریں۔
اب مسئلہ رفع و حیات عیسیٰ علیہ السلام رہ جاتا ہے اس کے متعلق میرے پاس کافی مواد جمع ہے، آپ تینوں صاحب دیوبند پہنچ کر مجھ سے لے لیں اور اپنی اپنی طرز پر لکھیں۔
یہ مجلس ختم ہوگئی مگر حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کے قلبی تاثرات اپنا ایک گہرا نقش ہمارے دلوں پر چھوڑ گئے، دیوبند واپس آتے ہی ہم تینوں حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام سے متعلقہ مواد حاصل کیا۔
حضرت مولانا بدر عالم صاحب دامت برکاتہم نے: ”اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ.“ کی تفسیر سے متعلق مواد لے کر اس پر ایک مستقل رسالہ اردو میں بنام: ”الجواب الفصیح فی حیات المسیح“ تحریر فرمایا جو علمی رنگ میں لاجواب سمجھا گیا اور حضرت شاہ صاحب قدس سرہ نے پسند فرما کر اس پر تقریظ تحریر فرمائی، یہ رسالہ ۱۳۴۲ھ میں شعبہ تبلیغ دارالعلوم دیوبند سے شائع ہوا۔
حضرت مولانا محمد ادریس صاحب دامت فیوضہم نے اپنے مخصوص انداز میں اسی مسئلہ پر اردو زبان میں ایک جامع اور محققانہ رسالہ بنام: ”کلمۃ اللہ فی حیوۃ روح اللہ“ تصنیف فرما کر حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی خدمت میں پیش کیا، حضرت ممدوح نے بے حد پسند فرما کر تقریظ تحریر فرمائی اور ۱۳۳۲ھ میں دارالعلوم دیوبند سے شائع ہوکر مقبول و مفید خلائق ہوا۔
احقر ناکارہ کے متعلق یہ خدمت کی گئی کہ جتنی مستند و معتبر روایات حدیث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات یا نزول فی آخر الزمان کے متعلق وارد ہوئی ہیں ان سب کو ایک رسالہ میں جمع کردے، احقر نے تعمیل حکم کے لئے رسالہ: ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ بزبان عربی لکھا اور حضرت ممدوح کی بے حد پسندیدگی کے بعد اسی سال شائع ہوا۔
اس کے بعد حسب ارشاد ممدوح مسئلہ ختم نبوت پر ایک مستقل کتاب اردو زبان میں تین حصوں میں لکھی:
پہلا حصہ ختم النبوۃ فی القرآن:....... جس میں ایک سو آیات قرآنی سے اس مسئلہ کا مکمل ثبوت اور ملحدوں کے شبہات کا جواب لکھا گیا ہے۔
دوسرا ختم النبوۃ فی الحدیث:....... جس میں دو سو دس احادیث معتبرہ سے اس مضمون کا ثبوت اور منکرین کا جواب پیش کیا گیا ہے۔
تیسرا ختم النبوۃ فی الآثار:....... جس میں سینکڑوں اقوال
صحابہؓ و تابعینؒ اور ائمہ دینؒ اس کے ثبوت اور منکرین اور ان کی تاویلات باطلہ پر ردّ کے متعلق نہایت صاف و صریح نقل کئے گئے ہیں، یہ تینوں رسالے پہلی مرتبہ ۱۳۳۳ھ سے ۱۳۴۵ھ تک شائع ہوئے، اسی کے ساتھ مختصر رسالہ: ”دعاوی مرزا“ اور ”مسیح موعود کی پہچان“ اردو زبان میں احقر نے لکھ کر پیش کئے، ان رسائل کا جو کچھ نفع مسلمانوں کی اصلاح و ہدایت اور ملحدین و منکرین پر اتمام حجت کے سلسلہ میں ہوا یا ہوگا اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے مجھے تو اپنی محنت کا نقد صلہ حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی مسرت و خوشنودی اور بے شمار دعاؤں سے اسی وقت مل گیا اور جوں جوں ان رسائل کی اشاعت سے مسلمانوں کی ہدایت بلکہ بہت سے قادیانی خاندانوں کی توبہ و رجوع الی الاسلام کے متعلق حضرت کو معلوم ہوتے اسی طرح اظہار مسرت اور دعا کے انعامات ملتے رہے۔
مخدومنا حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو عمر اور طبقہ کے اعتبار سے حضرت شاہ صاحب قدس سرہ سے مقدم تھے، لیکن حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے محیر العقول علم کے بے حد معتقد اور آپ کے ساتھ معاملہ بزرگوں کا سا کرتے تھے، جو خدمت اس سلسلہ کی ان کے سپرد فرمائی تھی اس کو آپ نے بڑی سعی بلیغ کے ساتھ انجام دینا شروع کیا اور مرزا قادیانی کی پوری زندگی، اس کے اخلاق و اعمال اور عقائد و خیالات، دعویٰ نبوت و رسالت اور تکفیر عام اہلِ اسلام، گستاخی در شان انبیاء و اولیاء کو مرزا کی اپنی کتابوں سے بحوالہ صفحہ سطر
نہایت انصاف اور احتیاط کے ساتھ نقل کر کے بہت سے رسائل تصنیف فرمائے اور حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کے سامنے پیش فرما کر ان کی مراد پوری فرمائی، ان رسائل میں سے چند کے نام حسب ذیل ہیں:
قادیان میں قیامت خیز بھونچال، اشد العذاب علی مسیلمۃ البنجاب، فتح قادیان، مرزائیوں کی تمام جماعتوں کو چیلنج، مرزائیت کا خاتمہ، مرزائیت کا جنازہ بے گور و کفن، ہندوستان کے تمام مرزائیوں کو چیلنج، مرزا اور مرزائیوں کو دربار نبوت سے چیلنج۔ یہ سب رسائل ۱۳۴۲ھ سے ۱۳۴۴ھ تک شائع ہوئے۔
فیروز پور پنجاب میں تاریخی مناظرہ:
اسی زمانہ میں چھاؤنی فیروز پور پنجاب میں قادیانیوں کا ایک خاصا جتھا جمع ہوگیا تھا، یہ لوگ وہاں کے مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے تھے اور اپنے دستور کے موافق عوام مسلمانوں کو مناظرہ، مباحثہ کا چیلنج کیا کرتے تھے اور جب کسی عالم سے مقابلہ کی نوبت آتی تو راہ گریز اختیار کرتے، اسی زمانہ میں ضلع سہارنپور کے رہنے والے کچھ مسلمان جو فیروز پور میں بسلسلۂ ملازمت مقیم تھے ان لوگوں نے روز روز کی جھک جھک کو ختم کرنے کے لئے خود قادیانیوں کو دعوت مناظرہ دے دی۔
قادیانیوں نے سادہ لوح عوام سے معاملہ دیکھ کر بڑی دلیری اور چالاکی کے ساتھ دعوت مناظرہ قبول کر کے بجائے اس کے کہ مناظرہ کرنے والے علماء سے شرائط مناظرہ طے کرتے
انہیں عوام سے ایسی شرائط مناظرہ پر دستخط لے لئے جن کی رو سے فتح بہرحال قادیانی گروہ کی ہو اور اہل اسلام کو مقررہ شرائط کی پابندی کی وجہ سے ہر قدم پر مشکلات درپیش ہوں۔
ان عوام مسلمین نے مناظرہ اور شرائط مناظرہ طے کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند سے چند علما کو دعوت دی جو قادیانیوں سے مناظرہ کریں۔
مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مشورہ سے اس کام کے لئے حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحبؒ، حضرت مولانا بدر عالم صاحب، حضرت مولانا محمد ادریس صاحب اور احقر تجویز ہوئے، ادھر قادیانیوں نے یہ دیکھ کر کہ ہم نے اپنی من مانی شرائط میں مسلم مناظرین کو جکڑ لیا ہے، اپنی قوت محسوس کی اور قادیان کی پوری طاقت فیروز پور میں لا ڈالی، ان کے سب سے بڑے عالم اس وقت سرور شاہ کشمیری اور سب سے بڑے مناظر حافظ روشن علی اور عبدالرحمٰن مصری وغیرہ تھے، یہ سب اس مناظرہ کے لئے فیروز پور پہنچ گئے۔
ہم چار افراد حسب الحکم دیوبند سے فیروز پور پہنچے تو یہاں پہنچ کر چھپا ہوا پروگرام مناظرہ اور شرائط مناظرہ کا نظر سے گزرا، شرائط مناظرہ پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ ان میں ہر حیثیت سے قادیانی گروہ کے لئے آسانیاں اور اہل اسلام کے لئے ہر طرح کی بے جا پابندیاں عوام نے اپنی ناواقفیت کی بنا پر تسلیم کی ہوئی ہیں، اب ہمارے لئے دو ہی راستے تھے کہ یا ان مسلمہ
فریقین شرائط مناظرہ کے ماتحت مناظرہ کریں جو ہر حیثیت سے ہمارے لئے مضر تھیں، یا پھر مناظرہ سے انکار کر دیں کہ ہم ان شرائط کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے جو بغیر ہماری شرکت کے طے کر لی گئی ہیں، لیکن دوسری شق پر مقامی مسلمانوں کی بڑی خفت اور سبکی تھی اور قادیانیوں کو اس پروپیگنڈے کا موقع ملتا کہ علماء نے مناظرہ سے فرار اختیار کیا، اس لئے ہم سب نے مشورہ کر کے مناظرہ کرنے کا تو فیصلہ کر لیا اور بذریعہ تار صورت حال کی اطلاع حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کو دے دی۔
اگلے روز مقررہ وقت پر مناظرہ شروع ہو گیا، ابھی شروع ہی تھا عین مجلس مناظرہ میں نظر پڑی کہ حضرت شاہ صاحب اور حضرت مولانا شبیر احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہما مع چند دیگر علماء کے تشریف لا رہے ہیں، ان کی آمد پر ہم نے کچھ دیر کے لئے مجلس مناظرہ ملتوی کی اور ان حضرات کو صورت حال بتلائی، حضرت شاہ صاحب قدس سرہ نے فرمایا کہ جایئے ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ تم نے جتنی شرطیں اپنی پسند کے موافق عوام سے طے کرالی ہیں اتنی ہی اور لگالو، ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں، تم چوروں کی طرح عام ناواقف مسلمانوں کے دین و ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کے عادی ہو، کسی شرط اور کسی طریق پر ایک مرتبہ سامنے آکر اپنے دلائل بیان کرو اور ہمارا جواب سنو، پھر خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھو۔
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد کے موافق اسی کا اعلان کر دیا گیا اور مناظرہ جاری ہوا، ان اکابر کو مناظرہ کے
لئے پیش کرنا ہماری غیرت کے خلاف تھا، اس لئے پہلے دن مناظرہ مسئلہ ختم نبوت پر احقر نے کیا، دوسرے، تیسرے دن حضرت مولانا بدر عالم اور مولانا محمد ادریس صاحب نے دوسرے مسائل پر مناظرہ کیا۔
یوں تو مناظرہ کے بعد ہر فریق اپنی اپنی کہا ہی کرتا ہے لیکن اس مناظرہ میں چونکہ عموماً تعلیم یافتہ طبقہ شریک تھا اس لئے کسی فریق کو دھاندلی کا موقع نہ تھا، پھر اس مناظرہ کا کیا اثر ہوا، اس کا جواب فیروز پور کے ہر گلی کوچے سے دریافت کیا جاسکتا ہے کہ قادیانی گروہ کو کس قدر رسوا ہو کر وہاں سے بھاگنا پڑا، خود اس گروہ کے تعلیم یافتہ و سنجیدہ طبقہ نے اس کا اقرار کیا کہ قادیانی گروہ اپنے کسی دعوے کو ثابت نہیں کر سکا اور اس کے خلاف دوسرے فریق نے جو بات کہی قوی دلیل کے ساتھ کہی۔
مناظرہ کے بعد شہر میں ایک جلسہ عام ہوا، جس میں حضرت شاہ صاحب اور حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی رحمۃ اللہ علیہما کی تقریریں قادیانی مسئلہ کے متعلق ہوئیں، یہ تقریریں فیروز پور کی تاریخ میں ایک یادگار خاص کی نوعیت رکھتی ہیں، بہت سے وہ لوگ جو قادیانی دجل کے شکار ہو چکے تھے اس مناظرہ اور تقریروں کے بعد اسلام پر لوٹ آئے۔
حضرت شاہ صاحبؒ کا دورۂ پنجاب:
١٣٤٣ھ میں جبکہ حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی کوشش سے بذریعہ تصنیف و تحریر قادیانی دجل و فریب کا پردہ
پوری طرح چاک کر دیا گیا اور قادیانیت سے متعلق ہر مسئلہ پر مختلف طرز و انداز کے بیسیوں رسائل شائع ہو چکے تو آپ نے اس کی بھی ضرورت محسوس فرمائی کہ ناخواندہ عوام کا طبقہ جو زیادہ کتابیں نہیں پڑھتا اور قادیانی مبلغین چل پھر کر ان میں اپنا دجل پھیلاتے ہیں، ان لوگوں کی حفاظت کے لئے پنجاب کے مختلف شہروں کا ایک تبلیغی دورہ کیا جائے۔
پنجاب و سرحد کے دورہ کا پروگرام بنا، علماء دیوبند کی ایک جماعت ہمرکاب ہوئی، اس جماعت میں حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اکابرین سے حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ شریک تھے، اور حضرت مولانا محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا بدر عالم صاحب، حضرت مولانا محمد ادریس صاحب اور مولانا محمد نعیم صاحب لدھیانوی اور احقر ناکارہ شامل تھے، یہ علم کے پہاڑ اور تقویٰ کے پیکر پنجاب کے ہر بڑے شہر میں پہنچے اور مرزائیت کے متعلق اعلانِ حق کیا، منکرین کو رفع شبہات کی دعوت دی، لدھیانہ، امرتسر، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، راولپنڈی، ایبٹ آباد، مانسہرہ ہزارہ، کھوٹہ وغیرہ میں ان حضرات کی بصیرت افروز عالمانہ تقریریں ہوئیں، مرزائی دجال جو آئے دن مناظرہ و مباہلہ کے چیلنج، عوام کو دکھانے کے لئے لیتے پھرتے تھے ان میں سے ایک سامنے نہ آیا، معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس جہان میں نہیں ہیں۔
اس پورے سفر میں عام مسلمانوں نے ”جاء الحق و
زہق الباطل“ کا منظر گویا آنکھوں سے دیکھ لیا۔
مرزائیوں کے مقابلہ میں بہاول پور کا تاریخی
مقدمہ:
حضرت شاہ صاحب قدس سرہ اور دیگر علما کے بیانات، مرزائیوں کے مرتد ہونے کا فیصلہ:
۱۹۲۶ء میں احمد پور شرقیہ ریاست بہاول پور کی ایک مسلمان عورت کا دعویٰ اپنے شوہر کے مرزائی ہو جانے کی وجہ سے نکاح فسخ ہونے کے متعلق بہاول پور کی عدالت میں دائر ہوا اور سات سال تک یہ مقدمہ بہاول پور کی ادنیٰ، اعلیٰ عدالتوں میں دائر رہتے ہوئے آخر میں دربار معلیٰ بہاول پور میں پہنچا، ۱۹۳۳ء میں دربار معلیٰ نے پھر عدالت میں یہ لکھ کر واپس کیا کہ ہمارے خیال میں اس مسئلہ کی پوری تحقیق و تنقیح کرنا ضروری ہے، دونوں فریقوں کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے علما کی شہادتیں پیش کریں اور دونوں طرف کے مکمل بیانات سننے کے بعد اس مسئلہ کا کوئی آخری فیصلہ کیا جائے۔
اب مدعا علیہ مرزائی نے اپنی حمایت کے لئے قادیان کی طرف رجوع کیا، قادیان کا بیت المال اور اس کے رجال کار مقدمہ کی پیروی کے لئے وقف ہو گئے، ادھر مدعیہ بے چاری ایک غریب گھرانے کی لڑکی نہایت کسمپرسی میں وقت گزار رہی تھی، اس کی قدرت سے قطعاً خارج تھا کہ ملک کے مشاہیر علما کو جمع کرکے اپنی شہادت میں پیش کر سکے یا اس مقدمہ کی پیروی
کر سکے، مگر الحمد للہ بہاول پور کے غیور مسلمانوں کی انجمن مؤید الاسلام نے زیر سرپرستی حضرت مولانا محمد حسین صاحب شیخ الجامعہ بہاول پور اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیا اور مقدمہ کی پیروی کا انتظام کیا، اور ملک کے مشاہیر علما کو خطوط لکھ کر اس مقدمہ کی پیروی اور شہادت کے لئے طلب کیا، حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس وقت جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں صدر مدرسی کے فرائض انجام دے رہے تھے اور کچھ عرصہ سے علالت کے سبب رخصت پر دیوبند تشریف لائے ہوئے تھے، طول علالت سے نقاہت بے حد ہوچکی تھی۔
لیکن جس وقت یہ معاملہ آپ کے سامنے آیا تو مسئلہ کی نزاکت اور اہمیت کے قوی احساس نے آپ کو اس کے لئے مجبور کر دیا کہ اپنی صحت اور دوسری ضرورتوں کا خیال کئے بغیر وہ بہاول پور کا سفر کریں۔
آپ نے نہ صرف اپنے آپ کو شہادت کے لئے پیش فرمایا بلکہ ملک کے دوسرے علما کو بھی ترغیب دے کر شہادت کے لئے جمع فرمایا۔
یہ واقعہ تقریباً ۱۳۵۰ھ کا ہے جبکہ احقر ناکارہ بحیثیت مفتی دارالعلوم دیوبند فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دے رہا تھا۔ انجمن مؤید الاسلام بہاول پور کی دعوت کے علاوہ استاذ محترم حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کا ایما بھی میری حاضری کے متعلق معلوم ہوا، احقر نے حاضری کا قصد کرلیا۔ لیکن حضرت الاستاذ شاہ صاحب قدس سرہ کو جو
خداداد شغف دینی ضرورتوں کے ساتھ تھا اور آپ کو بے چین کئے رکھتا تھا اس کی وجہ سے آپ نے تاریخ مقدمہ سے کافی روز پہلے بہاول پور پہنچ کر اس کام کو پوری توجہ کے ساتھ انجام دینے کا فیصلہ فرما کر سب بیانات کے اختتام تک تقریباً بیس پچیس روز بہاول پور میں قیام فرمایا۔
حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کا پُر شوکت عالمانہ بیان جو کمرۂ عدالت میں ہوا اس کی اصل کیفیت تو صرف انہی لوگوں سے پوچھئے جنہوں نے یہ منظر دیکھا ہے، اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا، مختصر یہ کہ اس وقت کمرۂ عدالت دارالعلوم دیوبند کا دارالحدیث نظر آتا تھا، عدالت اور حاضرین پر ایک سکتہ کا عالم تھا، علوم ربانی کے حقائق و معارف کا دریا تھا جو اُمڈ چلا جاتا تھا۔ تین روز مسلسل بیان ہوا، تقریباً ساٹھ صفحات پر قلم بند ہوا، یہ بیان اور دوسرے حضرات کے بیانات ایک مستقل جلد میں طبع ہوئے۔
اس مقدمہ میں کیا ہوا؟ اس کی پوری تفصیل تو اسی مفصل فیصلہ سے معلوم ہوسکتی ہے جو عدالت کی طرف سے ۷ فروری ۱۹۳۵ء مطابق ۳ / ذیقعدہ ۱۳۵۳ھ کو دیا گیا، اور جو اسی وقت بزبان اردو ایک سو باون صفحات پر شائع ہوچکا تھا، اس کی اشاعت کا اہتمام حضرت مولانا محمد صادق صاحب استاذ جامعہ عباسیہ بہاول پور و حال ناظم امور مذہبیہ بہاول پور کے دست مبارک سے ہوا، اس مقدمہ کی پیروی علماء کے اجتماع اور ان کی ضروریات کا انتظام بھی مولانا موصوف ہی کے ہاتھوں انجام پایا
تھا، اور مولانا سے میرا پہلا تعلق ہی اسی سلسلہ میں پیدا ہوا، آپ نے اس فیصلہ کے شروع میں ایک مختصر تمہید لکھی ہے، اس کے چند جملے نقل کر دینے سے کسی قدر حقیقت پر روشنی پڑ سکتی ہے، وہ یہ ہیں: ۔
”مدعیہ کی طرف سے شہادت کے لئے حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوری، حضرت مولانا محمد نجم الدین صاحب پروفیسر اورینٹل کالج لاہور و مولانا محمد شفیع صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند پیش ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تشریف آوری نے تمام ہندوستان کی توجہ کے لئے جذب مقناطیسی کا کام کیا، اسلامی ہند میں اس مقدمہ کو غیر فانی شہرت حاصل ہوگئی، حضرات علمائے کرام نے اپنی اپنی شہادتوں میں علم و عرفان کے دریا بہا دیئے اور فرقۂ ضالہ مرزائیہ کا کفر و ارتداد روز روشن کی طرح ظاہر کردیا اور فریق مخالف کی جرح کے نہایت مسکت جواب دیئے، خصوصاً حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایمان، کفر، نفاق، زندقہ، ارتداد، ختم نبوت، اجماع تواتر، متواترات کے اقسام، وحی، کشف اور الہام کی تعریفات اور ایسے اصول وقواعد بیان فرمائے جن کے مطالعہ سے ہر ایک انسان علیٰ وجہ البصیرت بطلان مرزائیت کا یقین کامل حاصل کر سکتا ہے، پھر فریق ثانی کی شہادت شروع ہوئی، مقدمہ کی پیروکاری اور شہادت پر جرح کرنے اور قادیانی دجل و تزویر کو آشکارا کرنے کے لئے شہرۂ آفاق مناظر حضرت مولانا ابوالوفا
صاحب نعمانی شاہجہاں پوری تشریف لائے، مولانا موصوف مختار مدعیہ ہو کر تقریباً ڈیڑھ سال مقدمہ کی پیروی فرماتے رہے، فریق ثانی کی شہادت پر ایسی باطل شکن جرح فرمائی جس نے مرزائیت کی بنیادوں کو کھوکھلا اور مرزائی دجل و فریب کے تمام پردوں کو پارہ پارہ کر کے فرقہ مرزائیہ ضالہ کا ارتداد آشکارا عالم کر دیا، فریقین کی شہادت ختم ہونے کے بعد مولانا موصوف نے مقدمہ پر بحث پیش کی اور فریق ثانی کی تحریری بحث کا تحریری جواب الجواب نہایت مفصل اور جامع پیش کیا، کامل دو سال کی تحقیق و تنقیح کے بعد عالی جناب ڈسٹرکٹ جج صاحب بہادر نے اس تاریخی مقدمہ کا بصیرت افروز فیصلہ ۷/ فروری ۱۹۳۵ء بحق مدعیہ سنایا، یہ فیصلہ اپنی جامعیت اور قوتِ استدلال کے لحاظ سے یقیناً بے نظیر و بے عدیل ہے، مسلمانانِ ہند کی بہرہ اندوزی کی خاطر اس فیصلہ کو ایک کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے در حقیقت یہ مواد مقدمہ کی تیسری جلد ہے اس سے پہلے دو جلدیں اور ہوں گی۔
جلد اول میں حضرات علمائے کرام کی مکمل شہادتیں اور جلد ثانی میں حضرت مولانا ابوالوفا صاحب شاہجہاں پوری کی بحث اور جواب الجواب شائع کیا جائے گا، باقی رہا یہ سوال کہ یہ دونوں جلدیں کب شائع ہوں گی؟ اس کا جواب مسلمانانِ ہند کی ہمت افزائی پر موقوف ہے، یہ تیسری جلد جتنی جلدی فروخت ہوگی اسی انداز سے پہلی دو جلدوں کی اشاعت میں آسانی ہوگی، حضرات علمائے کرام کے بیانات اور بحث اور جواب الجواب
تردید مرزائیت کا بے نظیر ذخیرہ ہے، اگر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ تینوں جلدیں شائع ہوگئیں تو تردید مرزائیت میں کسی دوسری تصنیف کی قطعاً حاجت نہ رہے گی۔“
اس مقدمہ میں حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کے حکم کی بنا پر پہلا بیان اس احقر کا ہوا، تین روز بیان اور ایک دو روز جرح ہو کر تقریباً ساٹھ صفحات پر بیان مرتب ہوا۔
پہلا پہلا بیان تھا، ابھی لوگوں نے اکابر کے بیان سنے نہ تھے، سب نے بے حد پسند کیا، مجھے یاد ہے کہ دوران بیان میں بھی اور مکان پر آنے کے بعد بھی حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کے دل سے نکلی ہوئی دعاؤں کے ساتھ اپنی مسرت کا اظہار فرماتے تھے اور اس ناکارہ و آوارہ کے پاس دین و دنیا کا صرف یہی سرمایہ ہے کہ اللہ والوں کی رضا، رضائے حق کی علامت ہے، واللہ تعالیٰ، اسأل ان یلحقنی بالصالحین۔“
فتنہ قادیانیت پر حضرت مفتی صاحبؒ کی تصنیفات:
ردّ قادیانیت کے سلسلہ میں حضرت مفتی اعظمؒ کی اہم ترین خدمت ان کی وہ گرانقدر تصنیفات ہیں جو آپ نے اسلام اور قادیانیت کے درمیان زیر بحث مسائل پر مرتب فرمائیں، ان میں اکثر کا ذکر اوپر کی تحریر میں آچکا ہے، مگر مناسب ہوگا کہ ان کا مختصر سا تعارف یہاں پیش کردیا جائے۔
حضرت مفتی صاحبؒ کی تمام تالیفات میں چند خصوصیات ایسی ہیں جو صرف ان کی تحریر کا مخصوص رنگ کہلا سکتی ہیں اور جن کی وجہ سے ان کی تالیفات مفید خاص و عام ہیں۔
پہلی خصوصیت ان کی زبان کی بے ساختگی اور سلاست ہے، حضرت مفتی صاحبؒ کسی مسئلہ پر قلم اٹھاتے ہیں تو ایسے عام فہم انداز میں صاف صاف بیان کرتے ہیں کہ متوسط استعداد کا آدمی بھی اس سے بھرپور استفادہ کرسکتا ہے، عبارت میں بے جا طول اور مطالب میں پیچیدگی سے ان کی تحریر مبرا ہوتی ہے۔
دوسری خصوصیت ان کے لب ولہجہ میں متانت اور سنجیدگی ہے، وہ کٹر سے کٹر مخالف کے مقابلہ میں تحمل اور متانت سے بات کرتے ہیں اور تلخی واکتاہٹ سے ہمیشہ دامن کشاں رہتے ہیں، ان کی تحریر میں آپ کو فقرے بازی کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔
تیسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ جس موضوع کو لیتے ہیں اس کے ساتھ پوری وفاداری کرتے ہیں، اور موضوع کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں رہنے دیتے۔
چوتھی خصوصیت ان کا تفقہ، نکتہ سنجی اور استدلال کی قوت ہے، جو ان کی ہر تصنیف میں نمایاں ہے، وہ فقیہ النفس ہیں اور ان کی ہر عبارت تفقہ کی آئینہ دار ہے۔
پانچویں خصوصیت مطالب کی تہذیب اور مضامین کی ترتیب کا خداداد سلیقہ ہے۔
ان تمام خصوصیات کے بعد اب ان کی رَدِّ قادیانیت کے موضوع پر تصانیف کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے:
١:...... ہدیۃ المہدیین فی آیۃ خاتم النبیین:
آپ نے یہ رسالہ حضرت شاہ صاحبؒ کے حکم پر عربی میں تالیف فرمایا، اس کے مقدمہ میں فتنہ قادیانیت کی شدت اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی باطلہ کا خلاصہ ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
”واننا سمعنا انها (ای الفتنۃ القادیانیۃ)“
تجاوزت حدود الهند وكادت تشيع في ارض العراق وقاها الله وبلاد المسلمين كلها عن فتنتهم وفتنة المسيح الدجال، ولهذا اشار الى من اشارته حكم، واطاعته غنم اعنى قدوة المحدثين والمفسرين فى اوانه وزبدة العلماء والفقهاء المتقين فى زمانه شيخنا الاكبر محمد انور الكشميرى صدر المدرسين بدار العلوم الديوبندية، متعنا الله تعالى بطول بقائه، ان اكتب فى هذا الباب رساله وجيزة اجمع فيها ما ورد في مسئلة ختم النبوة من نصوص قاطعة واضحة، واحاديث متواترة بينة، ومن اجماع الامة واقوال السلف الصالحين على ان دعوى النبوة كيف كان بعد نبينا صلى الله عليه وسلم كفر بواح.“
(ص:۶)
اس رسالہ میں نہایت اختصار کے ساتھ مسئلہ ختم نبوت پر قرآن کریم کی ۳۳ آیات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ۲۱۰ احادیث طیبہ جمع کی گئی ہیں، ۶۹ صحابہ کرامؓ اور بے شمار اکابر سلفؒ کی تصریحات ذکر کی گئی ہیں، اور آخر میں کتب سابقہ سے مسئلہ ختم نبوت پر نقول پیش کی گئی ہیں۔
یہ رسالہ ۱۳۴۲ھ میں دیوبند سے شائع ہوا اور اس پر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ، مفتی عزیز الرحمٰن دیوبندی، مولانا حبیب الرحمٰن عثمانی، مولانا اعزاز علی اور مولانا محمد رسول خاں ہزاروی رحمہم اللہ تعالیٰ کی تقریظات مثبت ہیں۔
حضرت مفتی صاحبؒ کے وصال کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی جانب سے یہ رسالہ دو مرتبہ شائع ہوا۔
ختم نبوت کامل:
متوسط تقطیع پر چار سو صفحے کی یہ ضخیم کتاب گویا ”ہدیۃ المہدیین“ کا اردو ایڈیشن ہے، اس میں حضرت مفتی صاحبؒ نے مسئلہ ختم نبوت پر قرآن کریم، حدیث نبوی، اجماع امت اور کتب سابقہ کی نقول کا ذخیرہ پوری شرح و تفصیل سے ذکر کیا ہے، اور اسے تین حصوں پر تقسیم فرمایا ہے۔
- ۱:...... ختم النبوۃ فی القرآن۔
- ۲:...... ختم النبوۃ فی الحدیث۔
- ۳:...... ختم النبوۃ فی الآثار۔
ختم النبوۃ فی القرآن میں قرآن کریم کی ۹۹ آیات معہ تشریح و تفسیر کے درج کی گئی ہیں۔ ختم النبوۃ فی الحدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ۲۱۰ ارشادات نقل کئے گئے ہیں۔ اور ختم النبوۃ فی الآثار میں صحابہؓ، تابعین، ائمہ مجتہدین، فقہاء، محدثین، مفسرین، صوفیاء، متکلمین، الغرض امت کے تمام طبقات کے اکابر کی تصریحات جمع کی گئی ہیں، اسی کے ساتھ انبیاء سابقین کے ارشادات اور کتب سابقہ کی نقول کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کردیا گیا ہے۔
قادیانیت کی طرف سے آیات و احادیث کی جو تحریفات کی جاتی ہیں ان کا بھی نہایت شافی اور مدلل جواب دیا گیا ہے، یہ کتاب حضرت مصنفؒ کے ان محاسن میں سے ہے کہ اگر فتنہ قادیانیت کے ردّ میں اس کے سوا ان کی اور کوئی تحریر نہ ہوتی تب بھی ان کی دنیوی و اُخروی سعادت کے لئے کافی تھی، یہ کتاب تقسیم سے قبل دیوبند سے شائع ہوتی رہی اور پاکستان میں بھی حضرت مفتی صاحبؒ کے ادارے سے بار ہا شائع ہوئی۔
التصریح بما تواتر فی نزول المسیح:
قادیانیت کا سب سے بڑا مسئلہ حیات مسیح ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک پوری امت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ابھی تک انتقال نہیں ہوا وہ زندہ ہیں، قیامت سے پہلے ان کا نزول ہوگا اور تمام اہل کتاب جو اس وقت موجود ہوں گے ان پر ایمان لائیں گے، آپؐ دین اسلام کی دعوت دیں گے اور پوری دنیا میں صرف ایک ہی دین ہوگا۔
حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق تمام احادیث کو ذخیرۂ حدیث سے تلاش کر کے جمع فرمایا اور حضرت مفتی صاحبؒ کو ان کے مرتب کرنے کا حکم فرمایا، آپؒ نے ان احادیث کو ’’التصریح‘‘ کے نام سے مرتب کیا اور اس کے لئے ایک طویل اور پُر مغز مقدمہ تحریر فرمایا، یہ عظیم الشان کتاب نہ صرف اپنے موضوع پر اپنی نوعیت کی بے مثل کتاب ہے بلکہ ذخیرۂ حدیث میں اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے، جس میں علامات قیامت، خصوصاً ظہور مہدی، خروج دجال، نزول عیسیٰ بن مریم، خروج یاجوج ماجوج، خروج دابۃ الارض کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لسان وحی ترجمان کے لعل جواہر جمع کردیئے گئے ہیں۔
یہ کتاب پہلے دیوبند سے شائع ہوئی، پاکستان میں ’’مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ‘‘ نے اسے شائع کیا اور چند سال پہلے الشیخ عبدالفتاح ابوغدہ مدظلہ العالی کی تحقیق وتعلیق کے ساتھ حلب سے اس کا جامع ترین ایڈیشن نکلا جو ۳۵۰ صفحات پر مشتمل ہے، حال ہی میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے اہتمام سے اس کا عکس شائع کیا گیا ہے۔
مسیح موعود کی پہچان:
یہ مختصر سا رسالہ ’’التصریح‘‘ کا گویا اشاریہ یا خلاصہ ہے، قرآن کریم اور
احادیث شریفہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی جتنی صفات، حالات اور علامات آئی ہیں حضرت مفتی صاحبؒ نے ان کو مرتب کر کے مرزا قادیانی کا ان سے مقابلہ کر کے دکھایا ہے کہ ان صفات میں سے کوئی صفت بھی مرزا قادیانی کو نصیب نہیں، لہٰذا جس مسیح کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں نہ کہ مرزا قادیانی، ”التصریح“ کے حلبی ایڈیشن میں اس رسالہ کا عربی ترجمہ برادرم مولانا محمد تقی عثمانی کے قلم سے شائع کر دیا گیا ہے۔
نزول مسیح اور علامات قیامت:
یہ ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ کا اردو ترجمہ ہے جو مولانا محمد رفیع عثمانی کے قلم سے ہے، اس کے ساتھ موصوف نے علامات قیامت کا ایک جدول مرتب کر دیا ہے، جس سے واقعات کی ترتیب ذہن نشین ہو جاتی ہے۔
وصول الافکار الی اصول الاکفار:
کسی مسلمان کو کافر کہنا بھی بڑا سخت گناہ ہے، اور کسی کافر کو مسلمان ثابت کرنا بھی فساد عظیم کا موجب ہے کیونکہ اس سے اسلام اور کفر کی حدود مٹ جاتی ہیں، اس لئے ضرورت تھی کہ اسلام اور کفر کے مسئلہ کو منقح کیا جائے، حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے اپنے مخصوص انداز میں اس موضوع پر ”اکفار الملحدین“ تالیف فرمائی، جسے حرف آخر کہا جا سکتا ہے مگر وہ عام فہم نہیں تھی، اس لئے حضرت مفتی صاحبؒ نے خالص فقہی انداز میں اس پر قلم اٹھایا اور اسلام اور کفر کے معیار کو بالکل منقح کر کے رکھ دیا۔ حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ نے اپنے ایک گرامی نامہ میں جو عبدالماجد دریا آبادی کے نام ۷؍ شعبان ۱۳۵۱ھ کو تحریر فرمایا اور ماہنامہ ”النور“ تھانہ بھون ربیع الثانی ۱۳۵۲ھ میں شائع ہوا، اس رسالے کے بارے میں تحریر فرمایا:
”مولوی محمد شفیع صاحب نے اصول تکفیر میں ایک مختصر اور جامع مانع اور نافع رسالہ لکھا ہے، بعض اجزاء میں میں بھی الجھا تھا، مگر ان کی تحریر و تقریر سے قریب قریب مسئلہ صاف ہوگیا، وہ عنقریب چھپ جاوے گا، میں نے اس کا نام رکھا ہے: ”اصول الافکار الی اصول الاکفار‘ ۷؍شعبان ۱۳۵۱ھ۔“
یہ رسالہ الگ بھی کئی بار طبع ہوا، اور اب اسے ”جواہر الفقہ“ میں جو حضرت مفتی صاحب کے فقہی مسائل کا مجموعہ ہے، شامل کر دیا گیا ہے۔
مرتد کی سزا:
کابل میں نعمت اللہ قادیانی کو بہ سزائے ارتداد سنگسار کیا گیا تو قادیانی اس سے آتش زیر پا ہوئے اور اسلام کے اس قطعی مسئلہ کا کہ ”مرتد کی سزا قتل ہے۔“ انکار کر دیا، اس رسالہ میں حضرت مفتی صاحبؒ نے قرآن کریم، حدیث نبوی، تعامل صحابہ اور اجماع امت سے زیر بحث مسئلہ کو ثابت کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ عقل صریح کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے، یہ رسالہ بھی ”جواہر الفقہ“ میں شامل ہے۔
البیان الرفیع:
اس کا تذکرہ حضرت مفتی صاحبؒ کے مضمون میں بھی جو ”حیات انور“ سے نقل کیا جاچکا ہے، آیا ہے، بہاول پور کے مشہور تاریخی مقدمہ میں وکیل مدعیہ کی طرف سے جو بیان حضرت مفتی صاحبؒ نے دیا تھا اسے ”البیان الرفیع“ کے نام سے ”بیانات علمائے ربانی“ میں شائع کیا گیا ہے، اس میں آپؒ نے قادیانیوں کے دعاوی، ان کی حیثیت اور ان کے بارے میں شرعی حکم کی وضاحت فرمائی۔
یہ آٹھ رسائل راقم الحروف کے مطالعہ سے گزرے ہیں، ان کے علاوہ حضرت مفتی صاحبؒ نے اپنی مفید ترین تفسیر ”معارف القرآن“ میں اور عربی تفسیر
”احکام القرآن“ میں قادیانیت سے متعلقہ مباحث پر جو گرانقدر علمی ذخیرہ سپرد قلم فرمایا ہے اگر اسے یکجا کر دیا جائے تو ایک ضخیم اور جامع کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔
قادیانیت کے بارے میں فتاویٰ:
حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی یہ سعادت تھی کہ انہوں نے اکابر مشائخ کی نگرانی میں فتویٰ نویسی میں کمال حاصل کیا، اور پھر ایک وقت آیا کہ ایشیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی دارالعلوم دیوبند میں انہیں صدارت افتا کی مسند تفویض ہوئی، جس کی بدولت انہیں ”مفتی اعظم“ کا خطاب بجا طور پر حاصل ہوا، اس دوران آپ نے قادیانیت کے بارے میں بھی بہت سے فتاویٰ جاری فرمائے، جن میں سے بعض میں قادیانیوں کی شرعی حیثیت کو واضح فرمایا گیا اور بعض میں ان کے شبہات کا قلع قمع کیا گیا، یہاں چند فتووں کو نقل کر دینا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔
پہلا فتویٰ:
سوال:....... ”لا تکفر اھل قبلتک.“ حدیث ہے یا نہیں؟ اور اس کا کیا مطلب ہے؟
الجواب:....... حدیث: ”لا تکفر اھل قبلتک.“ کے متعلق جواباً عرض ہے کہ ان لفظوں کے ساتھ یہ جملہ کسی حدیث کی کتاب میں نظر سے نہیں گزرا لیکن اس مضمون کے جملے بعض احادیث میں وارد ہیں مگر قادیانی مبلغ جو ان الفاظ کو ناتمام نقل کر کے اپنے کفر کو چھپانا چاہتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اس کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں جیسے قرآن سے کوئی شخص: ”لا تقربوا الصلوۃ.“ نقل کرے، کیونکہ جن احادیث میں اس قسم کے الفاظ واقع ہیں ان کے ساتھ ایک قید بھی مذکور ہے یعنی: ”بذنب او بعمل“ وغیرہ جس کی غرض یہ ہے کہ کسی گناہ و معصیت کی وجہ سے کسی اہل قبلہ کو یعنی مسلم مسلمان کو کافر مت کہو، چنانچہ بعض روایات میں اس کے بعد ہی یہ
لفظ بھی مذکور ہے: "الا ان تروا کفرا بواحا۔" یعنی جب تک کفر صریح نہ دیکھو کافر مت کہو، خواہ گناہ کتنا بھی سخت کرے۔
یہ روایت ابوداؤد کتاب الجہاد میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے:
"الكف عمن قال لا اله الا الله ولا تكفره بذنب ولا نخرجه من الاسلام بعمل."
نیز بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے مرفوعاً:
"من شهد ان لا اله الا الله واستقبل قبلتنا وصلی صلاتنا واکل ذبیحتنا فھو المسلم."
اہل قبلہ سے مراد باجماع امت وہ لوگ ہیں جو تمام ضروریات دین کو مانتے ہیں نہ یہ کہ قبلہ کی طرف نماز پڑھ لیں، چاہے ضروریات اسلامیہ کا انکار کرتے رہیں۔
"کما فی شرح المقاصد الجلد الثانی من صفحة: ۲۶۸ الیٰ صفحة: ۲۷۰. قال: المبحث السابع فی حکم مخالف الحق من اھل القبلة لیس بکافر ما لم یخالف ما ھو من ضروریات الدین، الی قولہ والا فلا نزاع فی کفر اھل القبلة المواظب طول العمر علی الطاعات باعتقاد قدم العالم ونفی الحشر ونفی العلم بالجزئیات وکذا بصدور شی من موجبات الکفر... الخ. وفی شرح الفقہ الاکبر: وان غلا فیہ حتی وجب اکفارہ لا یعتبر خلافہ ووفاتہ ایضاً، الی قولہ وان صلی الی القبلة واعتقد نفسہ مسلماً لان الامة لیست عبارة عن المصلین الی القبلة بل عن المؤمنین. ونحوہ فی الکشف البزدوی صفحة: ۲۲۸ المجلد الثالث وفی الشامی صفحة: ۳۷۷ المجلد الاول باب الامامة الاختلاف فی کفرہ المخالف فی ضروریات الاسلام وان کان من اھل القبلة المواظب طول عمرہ علی
الطاعات. وقال الشامی ایضاً: اہل القبلہ فی اصطلاح المتکلمین من یصدق بضروریات الدین ای الامور التی علم ثبوتہا فی الشرع واشتہر ومن انکر شیئاً من الضروریات کحدوث العالم وحشر الاجساد وعلم اللہ سبحانہ بالجزئیات وفرضیۃ الصلوٰۃ والصوم لم یکن من اہل القبلہ ولو کان مجاہراً بالطاعات، الیٰ قولہ ومعنی عدم تکفیر اہل القبلہ ان لا یکفر بارتکاب المعاصی ولا بانکار الامور الخفیۃ غیر المشہورۃ. ہٰذا ما حققہ المحققون فاحفظہ، ومثلہ قال المحقق ابن امیر الحاج فی شرح التحریر لابن ہمام: والنہی عن تکفیر اہل القبلہ ہو الموافق علیٰ ما ہو من ضروریات الاسلام. ہٰذا جملۃ قلیلۃ من اقوال العلماء نقلتہا واکتفیت بہا لقلۃ الفراغۃ، وتفصیل ہٰذہ المسئلۃ فی رسالۃ ”اکفار الملحدین فی شئ من ضروریات الدین“ لشیخنا ومولانا الکشمیری مدظلہ، واللہ اعلم!“
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۲ ص:۱۱۱ تا ۱۱۳)
دوسرا فتویٰ:
سوال:۶:.....کلمہ گو اور اہل قبلہ کی شرعاً کیا تعریف ہے؟ قادیانی مرزائی، لاہوری مرزائی، احمدی اہل قبلہ وکلمہ گو مسلمان ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو کس وجہ سے؟
الجواب:.....کلمہ گو اور اہل قبلہ ایک خاص اصطلاح ہے اسلام اور مسلمانوں کی، جس کا یہ مطلب کسی کے نزدیک نہیں کہ جو کلمہ پڑھ لے خواہ کسی طرح پڑھے وہ مسلمان ہے، یا جو قبلہ کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہے بلکہ یہ لفظ اصطلاحی نام ہے اس شخص کا جو تمام احکام اسلامیہ کا پابند ہو، جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص ایم اے پاس ہے، تو ایم اے ایک اصطلاحی نام ہے ان تمام علوم کا جو اس درجہ میں سکھائے جاتے ہیں، نہ یہ کہ جو ایم اے کے الفاظ میں پاس ہوتا ہے اور یاد رکھتا ہو، اس طرح اہل قبلہ کے معنی بھی باتفاق امت یہی ہیں کہ جو تمام احکام اسلامیہ کا پابند ہو، کما صرح بہ فی
عامۃ کتب الکلام اور اس کی مفصل بحث رسالہ ”اکفار الملحدین“ مصنفہ حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحبؒ میں موجود ہے، ضرورت ہو تو ملاحظہ فرمایا جاوے مگر رسالہ عربی زبان میں ہے (اردو زبان میں بھی اس مضمون کا ایک رسالہ احقر کا ہے جس کا نام ”وصول الافکار“ ہے) واللہ اعلم!
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۲ ص:۱۱۳)
تیسرا فتویٰ:
- ۱:...... ”لو كان موسىٰ وعيسىٰ حيّين لما وسعهما الا اتباعي.“
(ابن کثیر برحاشیہ فتح البیان ج:۲ ص:۲۴۶، الیواقیت الجواہر ج:۲ ص:۲۲، شرح فقہ اکبر ص:۱۰ میں بھی یہ مضمون ہے)۔
- ۲:...... ”ان عيسىٰ ابن مريم عاش عشرين ومائة سنة.“ (کنز العمال
ج:۶ ص:۱۲۵، جلالین مجتبائی ص:۵۰) اس حدیث سے وفات ثابت ہوتی ہے۔
- ۳:...... خلاصہ سوال یہ ہے کہ ہمارے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات
کیوں ہوئی؟ حضرت عیسیٰ کی طرح آسمان پر کیوں نہ اٹھائے گئے؟
- ۴:...... ”ما المسيح بن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل.“
(آل عمران) اس آیت سے وفات مسیح علیہ السلام پر استدلال کرنا کیسا ہے؟
- ۵:...... ”اموات غیر احیاء.“ الآیۃ، سے وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت
ہوتی ہے۔
- ۶:...... شیخ محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں: ”لا نبی بعدی کے یہ معنی ہیں
کہ تشریعی نبوت ختم ہوچکی ہے، لیکن غیر تشریعی نبوت ختم نہیں۔“ کیا یہ صحیح ہے؟
الجواب: ۱:...... حدیث: ”لو كان موسىٰ وعيسىٰ حيّين.“ دو تین کتابوں میں مذکور ہے مگر سب میں بلا سند لکھی ہے اور جب تک سند معلوم نہ ہو، کیسے یقین کرلیا جائے کہ یہ حدیث، صحیح، قابل عمل ہے؟ اگر اسی طرح بلا سند روایات پر عمل کریں تو
سارا دین برباد ہوجائے، اسی لئے بعض اکابر محدثین نے (غالباً عبداللہ بن مبارک نے) فرمایا ہے: ”لو لا الاسناد لقال من شاء ما شاء.“ دوسرے اگر بالفرض سند موجود بھی ہو اور مان لو کہ صحیح بھی ہے تو غایت یہ ہے کہ یہ حدیث دوسری احادیث سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی پر صریح ہیں اور درجہ تواتر کو پہنچ گئی ہیں، ان کی معارض ہوگی اور تعارض کے وقت شرعی اور عقلی قاعدہ یہی ہے کہ اقویٰ کو ترجیح ہوتی ہے، اور ظاہر ہے کہ ایک غیر معروف حدیث ان تمام صحیح اور قوی متواتر روایات حدیث پر راجح نہیں ہوسکتی، یہ قادیانی مذہب ہی کی خصوصیت ہے کہ مطلب کے موافق نہ ہو تو صحیح بخاری ومسلم کی حدیث کو معاذ اللہ! ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے لئے تیار ہوجائیں اور مطلب کی بزعم خود موافق ہو تو ضعیف روایات کو ایسا اہم بنائیں کہ صحیح اور متواتر روایات پر ترجیح دیں، کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا، اس حدیث کی تحقیق پر مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب مدظلہم ناظم تبلیغ دارالعلوم نے ایک مستقل رسالہ بھی لکھا ہے جو عنقریب طبع ہوکر شائع ہونے والا ہے۔
۲:...... اس حدیث سے وفات کا ثبوت پیش کرنا قادیانی فراست ہی کی خصوصیات سے ہے، اولاً اس لئے کہ حدیث خود متکلم فیہ ہے، بعض محدثین نے اس کو قابل اعتماد نہیں مانا، ثانیاً اگر حدیث ثابت بھی ہوجائے تو صحاح ستہ میں جو قوی اور صریح روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی اور نزول فی آخر الزمان کے متعلق وارد ہیں، یہ حدیث ان کا معارضہ عقلاً واصولاً نہیں کرسکتی۔
ثالثاً حدیث کی مراد صاف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک سو بیس سال زندہ رہے، آسمان پر زندہ رہنا چونکہ معجزہ ہے اس لئے اس حیات کو حیات دنیوی میں شمار نہ کرنا چاہئے تھا اور نہ کیا گیا، اور اس حدیث میں زمین اور اس عالم عناصر کی حیات کا ذکر ہے، بطور اعجاز جو حیات کسی کے لئے ثابت ہو اس کا اس میں شمار کرنا اور داخل سمجھنا عقل ونقل کے خلاف ہے۔
- ۳:...... حق تعالیٰ کے معاملات ہر شخص کے ساتھ جداگانہ ہیں، کسی کو یہ حق
نہیں پہنچتا کہ اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرے کہ جو معاملہ نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا وہی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیوں نہ کیا؟ اور جو ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا وہی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیوں نہ کیا؟ اور نہ صرف ان معاملات و واقعات سے ایک نبی کو دوسرے نبی پر کوئی ترجیح و تفضیل دی جاسکتی ہے جب تک دوسری صحیح و صریح روایات تفضیل پر دلالت نہ کریں، انبیاء علیہم السلام کی تاریخ پڑھنے والوں پر مخفی نہیں کہ بعض انبیاء کو آروں کے ذریعہ دو ٹکڑے کردیا گیا اور بعض کو آگ میں ڈال دیا گیا اور بعض کو خندق وغیرہ میں، پھر کسی پر یہ آفات و مصائب اول جاری کردیئے پھر آخر الامر بچالیا، اور کسی کو اول ہی سے محفوظ رکھا، اب یہ سوال کرنا کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا کر زندہ رکھا گیا ہے ایسے ہی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاملہ کیوں نہ کیا گیا؟ یہ تو ایسا ہی سوال ہے جیسے کوئی یوں کہے کہ جو معاملہ موسیٰ علیہ السلام اور لشکر فرعون کے ساتھ بنص قرآن کیا گیا وہی معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار مکہ کے ساتھ کیوں نہ ہوا کہ جنگ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دندان مبارک شہید ہوئے، چہرۂ انور زخمی ہونے کی نوبت آئی، آپ کو ہجرت کر کے وطن اور مکہ چھوڑنا پڑا، غار میں چھپنا پڑا، سب کفار قریش پر ایک دفعہ ہی آسمانی بجلی کیوں نہ آگئی؟ یا دریا میں غرق کیوں نہ ہوگئے؟ جیسے یہ سوال حق تعالیٰ کے معاملات میں بے جا ہیں ایسے ہی یہ بھی بالکل بے جا اور نامعقول سوال ہے کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ رکھا آپ کو بھی زندہ آسمان پر رکھنا چاہئے تھا کیونکہ زیادہ دنوں تک زندہ رہنا یا آسمان پر رہنا ان سے کوئی فضیلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ زیادتی عمر فضیلت ہوتی تو بہت سے صحابہ کرام اور عوام امت کی عمریں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے دوگنی چوگنی ہوئی ہیں، ان کو بھی افضل کہہ سکیں گے اور اسی طرح اگر آسمان پر رہنا یا چڑھنا ہی مدار فضیلت ہو تو فرشتوں کو حضور صلی
اللہ علیہ وسلم سے افضل ماننا لازم آئے گا، جو نصوص شرعیہ اور اجماع امت کے خلاف ہے۔
۴: ...... ”قد خلت من قبله الرسل.“ سے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر استدلال کرنا انہیں لوگوں کا کام ہے جنہیں عربی عبارت سمجھنے سے کوئی علاقہ نہیں اور جو محاورات زبان سے بالکل واقف نہیں کیونکہ اول تو اس جیسے عمومات سے کسی خاص واقعہ مشہورہ پر کوئی اثر محاورات کے اعتبار سے نہیں پڑتا، بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی بیمار، طبیب سے پوچھے کہ پرہیز کس چیز کا ہے؟ وہ کہہ دے کہ ترشی اور تیل مت کھاؤ، ترشی اور تیل کے سوا ساری چیزیں کھاؤ مضر نہیں۔ اب اگر یہ بے وقوف جا کر پتھر یا لوہا کھائے، یا سنکھیا کھائے اور استدلال میں قادیانی مجتہدین کا سا استدلال پیش کرے کہ حکیم صاحب نے کہا تھا کہ ترشی اور تیل مت کھاؤ، ترشی اور تیل کے سوا ساری چیزیں کھاؤ کوئی مضر نہیں، اور ساری چیزوں میں پتھر، لوہا اور سنکھیا (زہر) بھی داخل ہے، لہٰذا میں جو کچھ کھاتا ہوں حکیم صاحب کے فرمانے سے کھاتا ہوں۔ انصاف کیجئے کہ کوئی عقلمند اس کو صحیح العقل سمجھے گا؟ اور پھر یہ بھی انصاف کیجئے کہ اس قادیانی استدلال میں اور اس میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ ذرا غور سے معلوم ہو جائے گا کہ اگر بالفرض ”خلت“ کے معنی موت ہی ہوں تو بھی اس سے ان انبیاء کی موت ثابت نہیں ہو سکتی جن سے قرآن و حدیث کی دوسری نصوص حیات ثابت کرتی ہیں، جیسے: ”سب چیز کھاؤ“ کے قول سے پتھر اور زہر کا کھانا مراد نہیں، اس کے علاوہ ”خلت“ کے معنی لغت میں موت کے نہیں بلکہ گزر جانے کے ہیں خواہ مرکر، خواہ کسی دوسرے طریقہ سے جیسے عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہوا۔
امام راغب اصفہانیؒ مفردات القرآن میں اس لفظ کے یہی معنی لکھتے ہیں:
تصور فى الزمان المضى فسر اهل اللغة خلا الزمان
- بقولهم مضى الزمان وذهب. قال تعالیٰ: وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل.“
یہ لفظ صریح ہیں کہ ”خلت“ کے معنی قرآن شریف میں چلے جانے اور گزر جانے کے ہیں جس میں عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیا بلاشبہ برابر ہوگئے، تعجب ہے کہ قادیانی خانہ ساز پیغمبر کے ”صحابی“ اتنی سی بات کو کیوں نہیں سمجھتے؟ اور اگر حق تعالیٰ ان کو چشم بصیرت عطا فرمائے اور وہ اب بھی غور کریں تو سمجھیں گے کہ یہ آیت بجائے وفات عیسیٰ پر دلیل ہونے کے حیاتِ عیسیٰ کی طرف مشعر ہے، کیونکہ صریح لفظ ”مات“ کو چھوڑ کر ”خلت“ شاید خدا تعالیٰ نے اسی لئے اختیار فرمایا ہے کہ کسی بے وقوف کو موت عیسیٰ کا شبہ نہ ہوجائے، اگرچہ محاورہ شناس کو تو پھر بھی شبہ کی گنجائش نہ تھی۔
- ۵:......”اموات غیر احياء.“ کی تفسیر باعتبار لغت بھی اور جو کچھ مفسرین
نے تحریر فرمایا ہے اس کے اعتبار سے بھی یہی ہے کہ یہ سب حضرات ایک معین مدت کے بعد مرنے والے ہیں نہ یہ کہ بالفعل مرچکے ہیں۔ اور یہ بالکل ایسا ہی جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے فرمایا گیا: ”انک میت وانهم میتون.“ تو کیا اس کا یہ مطلب تھا کہ معاذ اللہ! آپ اس وقت وفات پاچکے ہیں؟ بلکہ بالاتفاق وہی معنی مذکور مراد ہیں کہ ایک وقت معین میں وفات پانے والے ہیں، یہ بھی جھوٹی نبوت کی نحوست ہے کہ اتنی سی بات سمجھ میں نہ آئی۔
- ۶:......شیخ محی الدین ابن عربیؒ کا قول استدلال میں پیش کرنا اول تو اصولاً
غلط ہے کیونکہ مسئلہ ختم نبوت عقیدہ کا مسئلہ ہے جو باجماع امت بغیر دلیل قطعی کے کسی چیز سے ثابت نہیں ہوسکتا، اور دلیل قطعی قرآن کریم اور حدیث متواتر اور اجماع امت کے سوا کوئی نہیں، ابن عربیؒ کا قول ان میں سے فرمائیے کس میں داخل ہے؟ اس لئے اس کا استدلال میں پیش کرنا ہی اصولی غلطی ہے۔
ثانیاً خود ابن عربیؒ اپنی کتاب ”فتوحات“ میں نیز ”فصوص“ میں اس کی
تصریح کرتے ہیں کہ نبوت شرعی ہر قسم کی ختم ہوچکی ہے، ابن عربیؒ اور دوسرے حضرات کی عبارتیں صریح اور صاف رسائل ذیل میں مذکور ہیں: ”عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام، التنبیہ الطربی فی الذب عن ابن عربی“ وغیرہ۔
اسی طرح صاحب مجمع البحار اور ملا علی قاریؒ بھی اپنی دوسری تصانیف میں اس کی تصریح کرتے ہیں جو جمہور کا مذہب ہے، یعنی ہر قسم کی نبوت ختم ہوچکی ہے آئندہ یہ عہدہ کسی کو نہ ملے گا۔
چوتھا فتویٰ:
سوال:....... ”لو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین.“ کیا یہ حدیث کسی حدیث کی کتاب میں موجود ہے یا کہ نہ؟ بیہقی کا حوالہ دیا جاتا ہے اس میں ہے یا نہیں؟
الجواب:....... حدیث: ”لو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین.“ کسی بھی معتبر کتاب میں موجود نہیں، البتہ تفسیر ابن کثیر میں ضمناً یہ الفاظ لکھے ہیں اور اسی طرح اور بعض کتب تصوف میں نقل کردیا ہے، مگر سب جگہ بلاسند نقل کیا ہے، اس لئے یہ حدیث بہ چند وجوہ احادیث مشہورہ کے معارض نہیں ہوسکتی، اولاً: معارض کے لئے مساوات فی القوۃ شرط ہے اور اس حدیث کا کہیں پتہ نہیں، جہاں کہیں ہے تو وہ بلاسند ہے، اور یہ قول ائمہ حدیث کا مقبول ومشہور ہے: ”لو لا الاسناد لقال من شاء ما شاء.“
ثانیاً: اگر بالفرض یہ حدیث معتبر ہی ہو تو احادیث متواترہ در بارہ حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے معارض ہوگی، اور ترجیح کی نوبت آئے گی تو ظاہر ہے کہ احادیث کثیرہ متواترۃ المعنی کو اس کے مقابلہ میں ترجیح ہوگی نہ کہ اس حدیث کو جس کا حدیث ہونا بھی ہنوز متعین نہیں۔
ثالثاً: اگر ان الفاظ کو صحیح و ثابت بھی مان لیا جائے تب بھی اس سے وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے معنی صاف یہ ہوتے ہیں کہ عالم زمین پر
حیات ہوتے کیونکہ حدیث میں اتباع نبوت کا ذکر ہے اور یہ اتباع اس عالم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، سو یہ صحیح ہے کہ اگر اس عالم میں زندہ ہوتے تو آپ کا اتباع کرتے، اب چونکہ دوسرے عالم میں زندہ ہیں اس لئے اتباع ان پر ضروری نہ رہا، سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے اور اگر اس مضمون کو مبسوط دیکھنا چاہیں تو مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب نے اس مضمون پر مستقل رسالہ لکھا ہے وہ ملاحظہ فرمائیے۔
پانچواں فتویٰ:
سوال:.......شیخ محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں کہ: ”لا نبی بعدی.“ کے یہ معنی ہیں کہ تشریعی نبوت ختم ہوچکی ہے، لہٰذا غیر تشریعی نبوت ختم نہیں ہوئی، یہ صحیح ہے یا نہیں؟
الجواب:.......شیخ محی الدین ابن عربیؒ کا قول استدلال میں پیش کرنا اول تو اصولاً غلطی ہے کیونکہ مسئلہ ختم نبوت عقیدہ کا مسئلہ ہے جو باجماع امت بغیر دلیل قطعی کے کسی چیز سے ثابت نہیں ہوسکتا اور دلیل قطعی قرآن کریم، حدیث متواتر اور اجماع امت کے سوا کوئی نہیں۔
ابن عربیؒ کا قول ان میں سے فرمائیے کس میں داخل ہے؟ اس لئے اس کا استدلال میں پیش کرنا ہی اصولی غلطی ہے، ثانیاً: خود ابن عربیؒ اپنی اسی کتاب فتوحات میں نیز فصوص میں اس کی تصریح کرتے ہیں کہ نبوت شرعی ہر قسم کی ختم ہوچکی ہے، اور جس عبارت کو سوال میں پیش کیا ہے اس کا صحیح مطلب خود فتوحات کی تصریح سے یہ ہے کہ نبوت غیر تشریعی ایک خاص اصطلاح شیخ اکبر کی ہے جو مرادف ولایت ہے، نہ وہ نبوت جو مصطلح شرع ہے کیونکہ جمیع اقسام نبوت کے انقطاع پر خود فتوحات کی بے شمار عبارتیں شاہد ہیں، ابن عربی اور دوسرے حضرات کی عبارتیں صریح اور صاف رسائل مذکورۃ الصدر میں کچھ مذکور ہیں اور قلمی احقر کے پاس منقول، لیکن سب کے نقل کرنے
کی فرصت اور ضرورت نہیں۔
اسی طرح صاحب مجمع البحار اور ملا علی قاری بھی اپنی دوسری تصانیف میں اس کی تصریح کرتے ہیں جو جمہور کا مذہب ہے، یعنی ہر قسم کی نبوت ختم ہوچکی ہے آئندہ یہ عہدہ کسی کو نہ ملے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۲ ص:۱۲۹ تا ۱۳۴)
یہ چند فتاویٰ، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں قادیانیوں کے بڑے بڑے شبہات کے جواب پر مشتمل ہیں، اس لئے ان فتاویٰ کو حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ کے مآثر میں شمار کیا جائے گا۔ حق تعالیٰ انہیں اپنے دین مبین کی حفاظت کا بہترین اجر عطا فرمائے اور امت محمدیہ کو ان کے علوم وانفاس سے مستفید فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
قادیانیوں کی اشتعال انگیزی
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
موضع ٹالہی ضلع تھر پارکر سے ہمارے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ: ”یکم اگست بروز اتوار شام چھ بجے ٹالہی شہر میں قادیانیوں نے ایک بڑا جلوس نکالا، جس کی قیادت چودھری منور احمد اور قادیانی جماعت کے مبلغ نے کی جس میں کچھ بیرون ملک کے کالے حبشی قسم کے لوگ بھی شامل تھے، جو اشتعال انگیز نعرے لگا رہے تھے کہ ہم احمدی مسلمان ہیں، کون کہتا ہے احمدی مسلمان نہیں، قادیانیوں کے اس جلوس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے، مسلمانان پاکستان حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو روکا جائے کہ جلوس اور نعرے نہ لگائے جائیں، تاکہ امن وامان کا مسئلہ پیدا نہ ہو، اور مارشل لا کی خلاف ورزی کرنے پر مناسب کاروائی کرے تاکہ شرارت پسند لوگ شرارت سے باز آجائیں۔“
موضع ٹالہی کے باشندگان نے ضلع تھرپارکر کے ڈپٹی کمشنر اور انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ افسران کو قادیانیوں کی اس اشتعال انگیزی سے مطلع کرتے ہوئے لکھا:
”ہم مسلمانان ٹالہی اسٹیشن گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے شہر کے ساتھ قادیانیوں کا ایک فارم ہے، جہاں وہ پچھلے دو مہینوں سے اس قدر سرگرم عمل ہیں کہ وہ کھل کر اپنی تبلیغ کے ذریعہ ہم مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کر رہے ہیں، حالانکہ وقت کے تقاضے کے ساتھ ہم انتہائی صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے، بالکل خاموش رہتے ہیں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو۔
جناب والا! ہماری خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یا ہمارے صبر و تحمل کو کمزوری سمجھتے ہوئے کل شام چھ بجے بتاریخ یکم اگست ١٩٨٢ء کو قادیانیوں نے اپنے مبلغ اور منیجر چوہدری منور احمد کی قیادت میں ایک بڑا جلوس نکالا، نعرے لگائے اور ہم لوگوں کے جذبات کو اشتعال دلایا، انہوں نے کئی دوسرے اجنبی آدمیوں کو بھی ساتھ ملایا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ حضرات یوگنڈا، تنزانیہ، انڈونیشیا اور ملایا سے تشریف لائے ہیں، در حقیقت ان کے عزائم یہ تھے کہ جھگڑا اور فساد ہو، لیکن اس سب کے باوجود ہم نے بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، حالانکہ ہمارے جذبات ایک فطری بات تھی، اس لئے آپ صاحبان سے گزارش ہے کہ براہ کرم ان قادیانیوں کے مبلغ چوہدری منور احمد اور دوسرے ذمہ دار افراد کو سختی کے ساتھ منع کرنے کے احکامات صادر فرما دیں ورنہ امن کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں ساری
ذمہ داری ان قادیانیوں پر پڑے گی جو جھگڑا، فساد اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔“
اس حقیقت سے ملت اسلامیہ کا ایک ایک فرد واقف ہے کہ قادیانی، شریعت اسلامی کی رو سے زندیق ہیں اور ان کا حکم مرتدین کا ہے اور پاکستان کے آئین کی رو سے بھی ملت اسلامیہ سے خارج ہیں، اپنے مرتدانہ عقائد کے باوجود ان کا اپنے تئیں مسلمان کہلانے پر اصرار کرنا اسلام اور اہل اسلام اور آئین پاکستان کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
سوال یہ ہے کہ قادیانیوں کو اس اشتعال انگیز مظاہرے اور جلوس کی جرأت کیوں ہوئی؟ کیا اس کا سبب یہ ہے کہ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران قادیانی یا قادیانیوں کے زیر اثر ہیں، یا یہ کہ قادیانی ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی طرح اپنی قوت کو آزما کر دیکھنا چاہتے ہیں، یا یہ کہ پاکستان کی موجودہ مشکلات سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو شر و فساد کی بھٹی میں جھونکنے کے خواہشمند ہیں، بہر کیف ہم حکومت پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ قادیانیوں کی اس اشتعال انگیزی کے وجوہ و اسباب اور اغراض و مقاصد سے مسلمانوں کو آگاہ کرے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱ ش:۱۲)
حقیقت چھپ نہیں سکتی .....
قادیانی خواب!
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ وسلٰم علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی
صحیحین کی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد متعدد اور مختلف الفاظ میں مروی ہے کہ: "من رآنی فی المنام فقد رانی، فان الشیطان لا یتمثل بی۔" ترجمہ:...... "جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا۔"
ایک اور روایت میں ہے: "من رانی فقد رأی الحق۔"
(مشکوٰۃ ص:۳۹۳)
ترجمہ:...... "جس نے مجھے دیکھا اس نے سچا خواب دیکھا۔"
خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت شریفہ کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل شکل و ہیئت اور حلیہ مبارکہ میں دیکھے، دوم یہ کہ
کسی دوسری ہیئت وشکل میں دیکھے۔ بہرحال اس پر تو اتفاق ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت آپ کے اصلی حلیہ مبارکہ میں ہو تو ارشاد نبوی کے مطابق واقعی آپ کی زیارت نصیب ہوئی، لیکن اگر کسی دوسری ہیئت وشکل میں دیکھے تو اس کو بھی زیارت نبوی کہا جائے گا یا نہیں؟ اس میں علما کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ یہ زیارت نبوی نہیں، کیونکہ ارشاد نبوی کے مطابق خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا صرف یہ مطلب ہے کہ آپ کو اصلی شکل وصورت اور حلیہ مبارکہ میں دیکھے، پس اگر کسی نے مختلف حلیہ میں آپ کو دیکھا تو یہ حدیث بالا کا مصداق نہیں۔ اور بعض اہل علم کا قول یہ ہے کہ آپ کو خواہ کسی شکل وصورت اور حلیہ میں دیکھے، وہ آپ ہی کی زیارت ہے، اور آپ کے اصل حلیہ مبارکہ سے مختلف شکل میں دیکھنا خواب دیکھنے والے کے نقص کی علامت ہے، شیخ عبدالغنی نابلسی ”تعطیر الانام فی تعبیر المنام“ میں دونوں قسم کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
”فعلم ان الصحیح بل الصواب کما قالہ بعضہم ان رؤیاہ حق علی ای حالۃ فرضت، ثم ان کانت بصورتہ الحقیقیۃ فی وقت ما سواء کان فی شبابہ او رجولیتہ او کہولتہ او آخر عمرہ لم تحتج الی تاویل۔ والا احتیجت لتعبیر یتعلق بالرأی، ومن ثم قال بعض علماء التعبیر من راہ شیخاً فہو غایۃ سلم، ومن راہ شاباً فہو غایۃ حرب، ومن راہ متبسماً فہو متمسک بسنتہ۔
وقال بعضہم من راہ علی ہیئتہ وحالہ کان دلیلاً علی صلاح الرأی وکمال جاہہ وظفرہ بمن عاداہ ومن راہ متغیر الحال عابساً کان دلیلاً علی سوء
حال الرائی. وقال ابن ابی جمرة: رؤیاہ فی صورة حسنة حسن فی دین الرائی، ومع شین او نقص فی بعض بدنہ خلل فی دین الرائی، لانہ صلی اللہ علیہ وسلم کالمرآة الصیقلة ینطبع فیہا ما یقابلہا، وان کانت ذات المرآة علی احسن حال واکملہ وہذہ الفائدة الکبریٰ فی رؤیاہ علیہ السلام اذ بہا یعرف حال الرائی.“
(ج:۲ ص:۲۷۶، ۲۷۷ طبع حلبی مصر)
ترجمہ: ...... ”پس معلوم ہوا کہ صحیح بلکہ صواب وہ بات ہے جو بعض حضرات نے فرمائی کہ خواب میں آپؐ کی زیارت بہر حال حق ہے، پھر اگر آپؐ کے اصل حلیہ مبارکہ میں دیکھا، خواہ وہ حلیہ آپؐ کی جوانی کا ہو، یا پختہ عمری کا، یا زمانہ پیری کا، یا آخری عمر شریف کا، تو اس کی تعبیر کی حاجت نہیں، اور اگر آپؐ کی اصل شکل مبارک میں نہیں دیکھا تو خواب دیکھنے والے کے مناسب حال تعبیر ہوگی، اسی بنا پر بعض علمائے تعبیر نے کہا کہ جس نے آپؐ کو بڑھاپے میں دیکھا تو یہ نہایت صلح اور جس نے آپؐ کو جوان دیکھا تو یہ نہایت جنگ ہے، اور جس نے آپؐ کو مسکراتے دیکھا تو یہ شخص آپؐ کی سنت کو تھامنے والا ہے۔
اور بعض علمائے تعبیر نے فرمایا کہ جس نے آپؐ کو اصلی شکل و حالت میں دیکھا تو یہ دیکھنے والے کی درست حالت، اس کی کمال وجاہت اور دشمنوں پر اس کے غلبہ کی علامت ہے، اور جس نے آپؐ کو غیر حالت میں (مثلاً) تیور چڑھائے ہوئے دیکھا تو یہ دیکھنے والے کی حالت کے برا ہونے کی علامت ہے،
حافظ ابن ابی جمرہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی صورت میں دیکھنا دیکھنے والے کے دین کے اچھا ہونے کی علامت ہے اور عیب یا نقص کی حالت میں دیکھنا دیکھنے والے کے دین میں خلل کی علامت ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال شفاف آئینہ کی سی ہے کہ آئینہ کے سامنے جو چیز آئے اس کا عکس اس میں آ جاتا ہے، آئینہ بذات خود خواہ کیسا ہی حسین و باکمال ہو (مگر بھدی چیز اس میں بھدی ہی نظر آئے گی) اور خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت شریفہ کا بڑا فائدہ یہی ہے کہ اس سے خواب دیکھنے والے کی حالت پہچانی جاتی ہے۔“
اس سلسلہ میں مسند الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی ایک تحقیق فتاویٰ عزیزی میں درج ہے، جو حسب ذیل ہے:
”سوال:...... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت خواب میں اہل سنت اور شیعہ دونوں فرقہ کو میسر ہوتی ہے، اور ہر فرقہ کے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لطف و کرم اپنے حال پر ہونا بیان کرتے ہیں، اور اپنے موافق احکام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سننا بیان کرتے ہیں، غالباً دونوں فرقوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں افراط کرنا اچھا نہیں معلوم ہوتا اور خطرات شیطانی کو اس مقام میں دخل نہیں، تو ایسے خواب کے بارے میں کیا خیال کرنا چاہئے؟
جواب:....... یہ جو حدیث شریف ہے کہ: ”من رآنی فی المنام فقد رآنی.“ یعنی جناب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا ہے کہ جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا ہے تو اس نے فی الواقع مجھ کو دیکھا ہے، اکثر علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث خاص اس شخص کے بارے میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت مبارک میں دیکھے جو بوقت وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مبارک تھی، اور بعض علماء کرام نے کہا ہے کہ یہ حدیث عام ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی وقت کی صورت میں دیکھے تو وہ خواب صحیح ہوگا، یعنی ابتدائے نبوت سے تا وقت وفات، جوانی اور کلاں سالی اور سفر و حضر، اور صحت اور مرض میں جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صورت مبارک تھی ان صورتوں میں سے جس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھے تو وہ خواب صحیح ہوگا، یعنی فی الواقع اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوگا، اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں سنی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے اسی طرح شیعہ نے کبھی نہ دیکھا ہے، اور فرضیات کا اعتبار نہیں، تحقیق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا چار قسموں پر ہے:
- ١:......ایک قسم رؤیا الہی ہے کہ اتصال تعین کا
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔
- ٢:......اور دوسری قسم ملکی ہے، اور وہ متعلقات
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا ہے، مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کا نسب مطہرہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور محبت میں سالک کا درجہ اور اس کے مانند اور جو امور ہیں تو ان امور کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مقدس میں دیکھنا پردہ مناسبات میں ہو جو فن تعبیر میں معتبر ہے۔
۳:...... تیسری قسم رؤیائے نفسانی ہے کہ اپنے خیال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صورت ہے اس صورت میں دیکھنا اور یہ تینوں اقسام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کے بارے میں صحیح ہیں۔
۴:...... اور چوتھی قسم شیطانی ہے، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مقدس میں شیطان اپنے کو خواب میں دکھلاوے، اور یہ صحیح نہیں ہو سکتا، یعنی ممکن نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مقدس کے مطابق شیطان اپنی صورت خبیث بناسکے اور خواب میں دکھلا دے، البتہ مغالطہ دے سکتا ہے۔
تیسرے قسم کے خواب میں بھی کبھی شیطان ایسا کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز اور بات کے مشابہ شیطان بات کرتا ہے اور وسوسہ میں ڈالتا ہے، چنانچہ بعض روایات سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سورۂ نجم پڑھتے تھے اور بعض آیت کے بعد جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا تو شیطان نے کچھ عبارت خود بنا کر پڑھ دی کہ اس سے بعض سامعین مشرکین کا شبہ قوی ہو گیا۔ یہ روایت اوپر ایک مقام پر مفصل مذکور ہوئی ہے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمانہ حیات میں شیطان نے ایسا کیا تو خواب میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ اور اسی وجہ سے شریعت میں ان احکام کا اعتبار نہیں جو خواب میں معلوم ہوویں، اور خواب کی بات حدیث نہیں شمار کی جاتی، اور اگر کاش کوئی بدعتی کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں حکم فرمایا ہے، اور وہ حکم خلاف شرع ہو تو اس بدعتی کے قول پر اعتبار نہ کیا جاوے گا، واللہ اعلم!“
(فتاویٰ عزیزی اردو ج:۱ ص:۲۸۵ تا ۲۸۷)
گزشتہ دنوں قادیانیوں کے نئے سربراہ مرزا طاہر احمد صاحب کی ”خلافت“ کی تائید میں قادیانی اخبار ”الفضل ربوہ“ میں ”آسمانی بشارت“ کے عنوان سے بعض چیزیں شائع کی گئیں، ان میں سے ایک کا تعلق خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے ہے، اس لئے اس کا اقتباس بلفظہ درج ذیل ہے:
”دیکھا کہ میں مسجد مبارک میں داخل ہورہا ہوں، ہر طرف چاندنی ہی چاندنی ہے، جتنی تیزی سے ورد کرتا ہوں سرور بڑھتا جاتا ہے، اور چاندنی واضح ہوتی جاتی ہے، محراب میں حضرت بابا گرونانک رحمۃ اللہ علیہ جیسی بزرگ شبیہ کی صورت میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد نور کا ہالہ اس قدر تیز ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، باوجود کوشش کے شبیہ مبارک پر نظر نہیں ٹکتی۔“
(الفضل ربوہ ۶؍نومبر ۱۹۸۲ء)
علم تعبیر کی رو سے اس خواب کی تعبیر بالکل واضح ہے، صاحب خواب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سکھوں کے پیشوا کی شکل میں نظر آنا اس امر کی علامت
ہے کہ ان کا دین و مذہب، جسے وہ غلط فہمی سے اسلام سمجھتے ہیں، دراصل سکھ مذہب کی شبیہ ہے، اور ان کے روحانی پیشوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز نہیں بلکہ سکھوں کے پیشوا بابا گرونانک کے بروز ہیں۔
اور صاحب خواب کو انوارات کا نظر آنا جس کی وجہ سے وہ خواب کی اصل مراد کو نہ پہنچ سکے، شیطان کی وہی تلبیس ہے جس کا تذکرہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے فرمایا ہے، اور ان انوارات میں یہ اشارہ تھا کہ ان کے پیشوا نے بابا گرونانک کا بروز ہونے کے باوجود تلبیس و تدلیس کے ذریعہ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیرو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جس سے ان کی طرح بہت سے حقیقت شناس لوگوں نے دھوکہ کھایا۔
چونکہ خواب کی یہ تعبیر بالکل واضح تھی، شاید اسی لئے صاحب خواب کو مرزا بشیر احمد صاحب اور مرزا ناصر احمد صاحب نے خواب کے اظہار سے منع کیا۔
چنانچہ صاحب خواب لکھتے ہیں:
”پھر (مرزا بشیر احمد صاحب نے) فرمایا کسی سے خواب بیان نہیں کرنی، خلافت ثلاثہ کا انتخاب ہوا تو پھر یہ نظارہ لکھ کر (مرزا طاہر احمد صاحب کی خدمت میں) بھجوادیا، حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کے ذریعہ پیغام ملا کہ حضور (یعنی مرزا ناصر احمد صاحب) فرماتے ہیں کہ خواب آگے نہیں بیان کرنی۔“
(مرزا عبدالرشید وکالت تبشیر، ربوہ)
مناسب ہے کہ اس خواب کی تائید میں بعض دیگر اکابر کے خواب و کشوف بھی ذکر کر دیئے جائیں:
- ١:......مولانا محمد لدھیانوی مرحوم فتاویٰ قادریہ میں لکھتے ہیں:
”مولانا صاحب (مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتویؒ
صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند) نے حسب وعدہ کے ایک فتویٰ ہاتھ سے لکھ کر ہمارے پاس ڈاک میں ارسال فرمایا جس کا مضمون یہ تھا، کہ یہ شخص میری دانست میں غیر مقلد معلوم ہوتا ہے اور اس کے الہامات اولیاء اللہ کے الہامات سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے اور نیز اس شخص نے کسی اہل اللہ کی صحبت میں رہ کر فیض باطنی حاصل نہیں کیا، معلوم نہیں کہ اس کو کس روح کی ابلیسیت ہے۔“
(فتاویٰ قادریہ ص: ۱۷ مطبعہ قیصر ہند، لدھیانہ)
حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ نے تو اس سے لاعلمی کا اظہار فرمایا کہ مرزا صاحب کو کس کی روح سے ”فیض“ پہنچا ہے، مگر ”الفضل“ میں ذکر کردہ خواب سے یہ عقدہ حل ہو جاتا ہے کہ مرزا صاحب کو سکھوں کے مذہبی پیشوا سے روحانی ارتباط تھا، مرزا نے جو کچھ لیا ہے انہی سے لیا ہے۔
۲: ....... ”مرزا غلام احمد قادیانی نے شہر لودھیانہ میں آکر ۱۳۰۱ھ میں دعویٰ کیا کہ میں مجدد ہوں، عباس علی صوفی اور منشی احمد جان مع مریدان اور مولوی محمد حسن مع اپنے گروہ اور مولوی شاہدین اور عبدالقادر اور مولوی نور محمد مہتمم مدرسہ حقانی وغیرہ نے اس کے دعوے کو تسلیم کرکے امداد پر کمر باندھی، منشی احمد جان نے معہ مولوی شاہدین و عبدالقادر ایک مجمع میں جو واسطے اہتمام مدرسہ اسلامیہ کے اوپر مکان شاہزادہ صفدر جنگ صاحب کے تھا بیان کیا کہ علی الصباح مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اس شہر لودھیانہ میں تشریف لائیں گے، اور اس کی تعریف میں نہایت مبالغہ کرکے کہا کہ جو شخص اس پر ایمان لائے گا گویا وہ اول مسلمان ہوگا۔
مولوی عبداللہ صاحب مرحوم برادرم نے بعد کمال - بردباری اور تحمل کے فرمایا: ”اگرچہ اہل مجلس کو میرا بیان کرنا ناگوار معلوم ہوگا لیکن جو بات خدا جل شانہ نے اس وقت میرے دل میں ڈالی ہے، بیان کئے بغیر میری طبیعت کا اضطراب دور نہیں ہوتا، وہ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی جس کی تم تعریف کر رہے ہو، بے دین ہے۔“ منشی احمد جان بولا کہ میں اول کہتا تھا کہ اس پر کوئی عالم یا صوفی حسد کرے گا۔
راقم الحروف (مولانا محمد بن عبدالقادر لودیانویؒ) نے مولوی عبداللہ صاحب کو بعد برخاست ہونے جلسہ کے کہا کہ جب تک کوئی دلیل معلوم نہ ہو بلا تأمل کسی کے حق میں زبان طعن کی کھولنی مناسب نہیں، مولوی عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ اس وقت میں نے اپنی طبیعت کو بہت روکا لیکن آخر الامر یہ کلام خدا جل شانہ نے جو میرے سے اس موقع پر سرزد کروایا ہے خالی از الہام نہیں۔
اس روز مولوی عبداللہ صاحب بہت پریشان خاطر رہے، بلکہ شام کو کھانا بھی تناول نہ کیا، بوقت شب دو شخصوں نے استخارہ کروایا، اور آپ بھی اسی فکر میں سو گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ میں ایک مکان بلند پر مع مولوی محمد صاحب و خواجہ احسن شاہ صاحب بیٹھا ہوں، تین آدمی دور سے دھوتی باندھے ہوئے چلے آتے معلوم ہوئے، جب نزدیک پہنچے تو ایک شخص جو آگے آگے آتا تھا اس نے دھوتی کھول کر تہبند کی طرح باندھ لیا، خواب ہی میں غیب سے یہ آواز آئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی یہی ہے، اسی
وقت خواب سے بیدار ہو گئے اور دل کی پراگندگی یک لخت دور ہوگئی، اور یقین کلی حاصل ہوا کہ یہ شخص پیرایۂ اسلام میں لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے، موافق تعبیر خواب کے دوسرے دن قادیانی مع دو ہندوؤں کے لودھیانہ میں آیا۔“
(فتاویٰ قادریہ ص:۲ مطبعہ قیصر ہند، لدھیانہ)
۳، ۴:......مولانا عبداللہ لدھیانویؒ کے ساتھ جن دو شخصوں نے استخارہ تھا، ان کے بارے میں مولانا محمد صاحبؒ لکھتے ہیں:
”استخارہ کنندگان میں سے ایک کو معلوم ہوا کہ یہ شخص بے علم ہے، اور دوسرے شخص نے خواب میں مرزا کو اس طرح دیکھا کہ ایک عورت برہنہ تن کو اپنی گود میں لے کر اس کے بدن پر ہاتھ پھیر رہا ہے، جس کی تعبیر یہ ہے کہ مرزا دنیا کے جمع کرنے کے درپے ہے، دین کی کچھ پرواہ نہیں۔“
(حوالہ بالا)
۵:......اسی فتاویٰ قادریہ میں ہے کہ:
”شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوری مرحوم نے (جو صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے) بوقت ملاقات فرمایا کہ مجھ کو بعد استخارہ کرنے کے یہ معلوم ہوا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طور سے سوار ہے کہ منہ اس کا دم کی طرف ہے، جب غور سے دیکھا تو زنار اس کے گلے میں پڑا ہوا نظر آیا، جس سے اس شخص کا بے دین ہونا ظاہر ہے، اور یہ بھی میں یقیناً کہتا ہوں کہ جو اہلِ علم اس کے تکفیر میں اب متردد ہیں کچھ عرصہ بعد سب کافر کہیں گے۔“
(ص:۱۷)
۶:......مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ”شہادۃ القرآن“ میں لکھتے ہیں:
”جب ان لوگوں (فرقہ مبتدعہ مرزائیہ) کو کوئی پچھلی تفسیر بتائیں تو (کفار کی طرح) اساطیر الاولین کہہ کر جھٹ انکار کر دیتے ہیں، اور اگر ان کے رو برو حدیث نبویؐ پڑھیں تو اسے بوجہ بے علمی کے مخالف و معارض قرآن بتا کر دور پھینک دیتے ہیں، اور اپنی تفسیر بالرائے کو، جو حقیقت میں تحریف و تاویل منہی عنہ ہوتی ہے، مؤید بالقرآن کہتے ہیں (ظاہر ہے یہ طرزِ عمل کسی مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔ ناقل) بے چارے کم علم لوگ اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور ورطۂ ترددات و گرداب شبہات میں گھر جاتے ہیں...... سو ایسے شبہات کے وقت میں اللہ عزیز حکیم نے مجھ عاجز کو محض اپنے فضل و کرم سے راہ حق کی ہدایت کی اور ہر طرح سے ظاہراً و باطناً، معقولاً و منقولاً مسئلہ حقہ سمجھا دیا۔ چنانچہ شروع جوانی ۱۸۹۱ء میں (جب میں انگریزی اسکول میں پڑھتا تھا) حضرت مسیح علیہ السلام کی زیارت بابرکت سے مشرف ہوا، اس طرح کہ آپ ایک گاڑی پر سوار ہیں اور بندہ اس کو آگے سے کھینچ رہا ہے، اس حالت باسعادت میں آپ سے قادیانی کے دعویٰ کی نسبت عرض کی، آپ نے زبان وحی ترجمان سے بالفاظِ طیبہ یوں جواب فرمایا کہ کوئی خطرے کی بات نہیں، اللہ تعالیٰ اس کو جلد ہلاک کر دے گا۔“
(شہادۃ القرآن ص: ۱۰،۹)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱ ش:۳۳)
رفع و نزول عیسیٰ کا منکر کافر ہے
ایک سوال اور اس کا جواب
بسم الله الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلامٌ علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ! ”محترمی و مکرمی!
ایک مضمون جو ملک کے مشہور پندرہ روزہ رسالے: ”تقاضے“ میں چھپا ہے، جس کے ایڈیٹر ہیں پیام شاہ جہاں پوری، اس میں ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نہیں اٹھائے گئے، مضمون ایڈیٹر صاحب نے خود تحریر فرمایا ہے، اور یہ مضمون روزنامہ مشرق کراچی کے اسسٹنٹ ایڈیٹر اختر رضوی کے ۸؍ جولائی ۱۹۸۲ء کے اخبار ”امن“ میں مضمون ”بات صاف ہونی چاہئے“ کے جواب میں لکھا گیا ہے، ہم سوال و جواب نقل کئے دیتے ہیں، علمائے کرام سے جواب کا منتظر رہوں گا۔
جواب ضرور عنایت فرمائیں، نہایت مشکور ہوں گا، جوابی لفافہ ارسال کیا جارہا ہے۔
”سوال:....... کیا یہ عقیدہ اسلام کے مطابق ہے کہ کعبۃ اللہ، اللہ کا گھر (جائے رہائش ہے) اور وہ عرشِ اعظم پر رکھی ہوئی جلیل القدر کرسی پر رونق افروز ہوا کرتا ہے، عرشِ اعظم ساتویں آسمان کے اوپر ہے۔
جواب:....... کعبہ، اللہ کا گھر ضرور ہے مگر اس کی جائے رہائش ہرگز نہیں، اللہ کے گھر سے مراد یہ ہے کہ اس گھر میں صرف اور صرف اللہ کی عبادت ہوگی، غیر اللہ کی عبادت یہاں حرام ہے، جہاں تک جائے رہائش کا تعلق ہے، یہ خیال قدوری خواں مولویوں کو ہوسکتا ہے، کوئی روشن خیال عالم دین اس قسم کے لغو عقیدے کا تصور بھی نہیں کرسکتا، نہ اللہ تعالیٰ عرشِ اعظم پر رکھی ہوئی کسی کرسی پر رونق افروز ہوا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ زمان و مکان کی قیود سے بالا ہے، اگر وہ عرشِ اعظم یا اس پر رکھی ہوئی کرسی پر رونق افروز ہوگیا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ محدود و مقید ہوگیا، ایسا سوچنا بھی اللہ تعالیٰ کی ارفع و اعلیٰ شان کے بارے میں انتہا درجے کی بے ادبی ہے، یہ مغالطہ عرش کے لفظ سے پیدا ہوا ہے، عربی زبان میں عرش کے معنی حکومت کے ہیں، مقصد یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق کا عمل مکمل کردیا تو اس کے ساتھ ہی اس کی حکومت شروع ہوگئی، اور اس کائنات کی ہر چیز اس کی تابع فرماں ہوگئی، ”اپنے عرش پر مضبوطی سے قائم ہوگیا“ کی تفسیر اتنی ہے اور باقی قصے کہانیاں ہیں جو بائبل سے اسلام میں داخل ہوگئے، اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زمین سے اٹھا کر عرش تک پہنچادیا، پھر
انہیں خداوند تعالیٰ کے دائیں جانب بٹھا دیا، اس سے عیسائی حضرات کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ نعوذ باللہ! حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے آقا و مولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے کہ وہ تو دو ہزار سال سے اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب رونق افروز ہیں، اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی زمین میں مدفون ہیں، افسوس کہ ہمارے مفسرین اور علمائے کرام نے قرآن پر تدبر نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے اور ان کی والدہ کے بارے میں فرما دیا:
ترجمہ:...... ''یعنی وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔''
غور کرنا چاہئے کہ کون سا نبی ایسا گزرا ہے جو کھانا نہیں کھاتا تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ کو یہ وضاحت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بنا کر انہیں آسمان پر بٹھا دیا، مندرجہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں باطل نظریات کی تردید کی اور فرمایا کہ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ خدا کا بیٹا نہیں ہو سکتا، کیونکہ خدا کھانے پینے کا محتاج نہیں، اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس غلط نظریہ کی تردید فرمادی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر تشریف فرما ہیں۔
ارشاد ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کھانا کھایا کرتے تھے، جس شخص کا مادی جسم دنیاوی اور مادی غذا کا محتاج ہو وہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال تک کھانے کھائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، کیونکہ آسمان پر گندم یا مکئی کے کھیت یا آٹا پیسنے کی چکی اور
باورچی خانہ کی موجودگی کا کوئی ثبوت قرآن سے نہیں ملتا، نہ وہاں کپاس کے کھیت اور کپڑا بننے کی مشینیں ہیں، اور ظاہر ہے کہ ان چیزوں کے بغیر انسان کی مادی زندگی کا قائم رہنا ناممکن ہے، ہاں اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا مادی جسم دنیا میں چھوڑ گئے جو کھانے پینے اور کپڑے کا محتاج تھا، اور صرف ان کی روح اللہ تعالیٰ کے پاس چلی گئی تو کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ سارے انبیاء و شہداء کی ارواح اللہ تعالیٰ کے پاس چلی گئیں جن کے بارے میں وہ فرماتا ہے کہ ہم انہیں غذا دیتے ہیں (جس کے ذریعہ وہ زندہ ہیں)، ظاہر ہے وہ مادی غذا نہیں روحانی غذا ہوگی، کیونکہ ان انبیاء اور شہداء کے جسم تو اس دنیا میں رہ گئے۔
ہمارے بعض علمائے سلف بھی غلط فہمی کا شکار ہوگئے اور یہ عقیدہ اختیار کرلیا کہ اللہ واقعی کسی تخت پر جلوہ افروز ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے پاس تشریف فرما ہیں، جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین سے آسمان پر گئے ہی نہیں تو اس کے دائیں طرف کیسے بیٹھ گئے، جب اللہ تعالیٰ لامحدود اور زمان و مکان کی قیود سے آزاد ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے پاس کیسے جاسکتے ہیں، یا بیٹھ سکتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلالیا تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدا کسی محدود جگہ جلوہ افروز ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے پاس ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو سات حصوں میں ضرور تقسیم کیا ہے، مگر یہ کہنا کہ ساتویں آسمان پر اس کا عرش ہے جس پر وہ
کرسی بچھائے رونق افروز ہے، خداوند کریم کی شان سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔“
ہم نے مضمون نقل کردیا ہے، علمائے کرام سے وضاحت کے طلبگار ہیں، دعا ہے کہ ہادی برحق ہم تمام مسلمانوں کو راہ مستقیم پر قائم رکھے۔ آمین
جواب کا منتظر ظفر اقبال اعوان۔“
جواب:....... یہ مضمون سارے کا سارا غلط اور لغو ہے، اللہ تعالیٰ تو عرش پر بیٹھا ہے کوئی نہیں مانتا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا واقعہ خود قرآن کریم میں موجود ہے، مگر اہل اسلام میں سے کوئی شخص اس کا قائل نہیں کہ وہ عرش پر خدا کے پاس تشریف فرما ہیں، بلکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث معراج کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام دوسرے آسمان پر ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اور قرب قیامت میں دوبارہ زمین پر نازل ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تمام صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ، مجددین امتؒ اور پوری امت اسلامیہ کا متفق علیہ اور قطعی متواتر عقیدہ ہے، اس کا منکر کافر ہے۔
رہا یہ شبہ کہ آسمان پر ان کی غذا کیا ہے؟ یہ شبہ نہایت احمقانہ ہے، کیا خدا تعالیٰ کے لئے ان کے مناسب حال غذا مہیا کردینا مشکل ہے؟ یہ کھیت، چکیاں، کارخانے بھی اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں، وہ خود ان چیزوں کا محتاج نہیں، بغیر ان اسباب کے بھی غذا مہیا کرسکتا ہے، قرآن کریم میں حضرت مریم والدۂ عیسیٰ علیہ السلام کا واقعہ مذکور ہے کہ ان کے پاس غیب سے رزق آتا تھا اور بے موسم کے پھل انہیں ملتے تھے، وہ کس کھیت اور کارخانے سے تیار ہوکر آتے تھے؟ شبہ اس سے پیدا
ہوتا ہے کہ جب احمق لوگ خدا تعالیٰ کی قدرت کو بھی اپنے پیمانے سے ناپتے ہیں۔
الغرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اور آخری زمانے میں ان کا نازل ہونا، اسلام کا قطعی عقیدہ ہے، اور جو شخص اپنی جہالت کی وجہ سے اس کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں۔ واللہ اعلم!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱ ش:۴۴)
مغربی جرمنی میں پاکستانی پناہ گزین
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہٖ الذین اصطفیٰ!
”۴ مئی (پ پ) مغربی جرمنی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے اخبارات کو جاری کئے گئے ایک مراسلے میں کہا ہے کہ مغربی جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے پاکستانیوں میں بیشتر اس وجہ سے پناہ حاصل کر رہے ہیں کہ وہ ایسی سیاسی پارٹی کے رکن ہیں جس پر پابندی عائد ہے اور خطرہ ہے کہ ملک میں ان کے خلاف تعزیری کاروائی کی جائے گی۔ سوشل ڈیموکریٹک کے ڈپٹی ہورسٹ ہاسے نے کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ جرہاٹ ہاؤدم اور سیاسی پناہ گزینوں کے امور کی دیکھ بھال کرنے والے دفتر کی توجہ اپنی ان معلومات کی جانب مبذول کرائی ہے جو گزشتہ ماہ دورۂ پاکستان میں انہوں نے حاصل کی تھیں، مسٹر ہاسے نے اپنے مراسلہ میں کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی پارٹیوں پر پابندی ہونے کے باوجود وہ پارٹیاں موجود ہیں، مسٹر ہاسے نے لکھا ہے کہ وہ اخبارات میں ان پارٹیوں کی سرگرمیوں کی خبریں پڑھ چکے ہیں، اور صدر ضیاء الحق کی مجلس
شوریٰ کے دو ارکان سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں، جن میں ایک رکن نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کالعدم پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنی وابستگی کا اعتراف بھی کیا ہے، مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں کسی کو کسی جماعت کا رکن ہونے پر سزا نہیں دی جاتی بلکہ غیر معمولی حالات میں ہی ایسا ہوتا ہے۔
اور ایسے لوگوں کو مغربی جرمنی میں سیاسی پناہ دینے کا جواز نہیں بنتا، یاد رہے کہ ان دنوں مغربی جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہاں پاکستانیوں اور افغانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، تاہم امیگریشن کے حکام پی پی پی کے ارکان کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواستیں منظور کر رہے ہیں، مسٹر ہاسے زرنڈورف کے علاقہ سے پارلیمنٹ کے رکن ہیں اور اسی علاقہ میں پناہ گزینوں کا سب سے بڑا مرکز قائم ہے۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت کراچی ۵ مئی ۱۹۸۲ء)
”سیاسی پناہ“ موجودہ دور کی ایک معروف اصطلاح ہے، اور اس کا جواز اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی فرد یا جماعت اپنے وطن میں غیر معمولی حالات سے دو چار ہو، اور خطرہ ہو کہ حکومت کی طرف سے اسے کسی وقت بھی آتش انتقام کا ایندھن بنایا جاسکتا ہے، ظاہر ہے کہ یہ صورت حال حکومت کے جبر و استبداد اور جور و ستم کے نتیجہ ہی میں رونما ہوسکتی ہے، جو نہ صرف حکومت کی بدنامی کی موجب ہے بلکہ ملک و قوم کے لئے بھی باعث ننگ و عار ہے۔
جن پاکستانیوں نے مغربی جرمنی میں (یا کسی اور ملک میں) سیاسی پناہ لے رکھی ہے، سوال یہ ہے کہ ان کی اس پناہ گزینی کے لئے کیا وجہ جواز ہے؟ کیا پاکستان
میں کسی ایک فرد کو کبھی بھی محض سیاسی رقابت کا نشانہ بنایا گیا ہے؟ ہر شخص کھلی آنکھوں اس کا مشاہدہ کرسکتا ہے کہ پاکستان میں کسی فرد کے لئے ایسی فضا نہیں ہے، جبکہ مغربی جرمنی کے رکن پارلیمنٹ نے چشم سر مشاہدہ کے بعد اس کی تصدیق کی ہے، البتہ جو لوگ سنگین جرائم کے مرتکب ہوں انہیں باز پرس اور دار و گیر کا کھٹکا ضرور ہوسکتا ہے، اور یہی لوگ ہیں جو اپنے کیفر کردار سے بچنے کے لئے ”سیاسی پناہ“ کا لبادہ اوڑھتے ہیں۔
بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک اقلیتی فرقہ کے لوگ بھی مغربی جرمنی میں سیاسی پناہ لے رہے ہیں، جس سے دنیا کو یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ پاکستان میں ان کی جماعت پر خدا کی زمین تنگ کردی گئی ہے، اور ان کے لئے وہاں رہنا ممکن نہیں رہا، اگر اس خبر میں کسی درجہ بھی صداقت ہے تو یہ ”مذہبی پناہ“ ، ”سیاسی پناہ“ سے بھی زیادہ شرمناک ہے، کیونکہ اس اقلیتی فرقہ کے لوگ ملک میں نہ صرف عزت و آبرو کے ساتھ رہ رہے ہیں بلکہ بعض حلقوں کو یہ شکایت ہے کہ پاکستان میں ان کی وہی حیثیت ہے جو امریکہ میں یہودیوں کی ہے، ایک طرف ملک میں رہتے ہوئے مسلمانوں سے بڑھ کر حقوق و مفادات حاصل کرنا اور دوسری طرف ”مذہبی پناہ“ کا ڈھونگ رچا کر ملک وقوم کو رسوا کرنا، یہ وہ دوغلی پالیسی ہے جو خالصتاً منافقین ہی کا رویہ ہوسکتا ہے۔
ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مغربی جرمنی سے ان سیاسی و مذہبی پناہ گزینوں کی فہرست اور ان کی پناہ گزینی کے وجوہ و اسباب کی تفصیلات طلب کرے، اور پھر اس کی روشنی میں صورت حال کی مکمل وضاحت کرے، تاکہ بیرونی دنیا میں ملک وقوم کی ذلت و رسوائی کا مداوا ہوسکے۔ ہمیں تعجب ہے کہ مغربی جرمنی میں متعین پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے مغربی جرمنی کی حکومت کو مطمئن کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ اور ان لوگوں کے ناشائستہ رویہ کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کیا گیا...؟؟؟
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱ ش:۲)
قادیانی شرم
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ!
قادیانیوں کے سرکاری آرگن روزنامہ ”الفضل“ ربوہ نے ۲۹؍نومبر ۱۹۸۲ء کو مرزا قادیانی کی منقبت میں ایک مضمون شائع کیا، جس کا عنوان تھا: ”ذکر حبیب صلی اللہ علیہ وسلم“۔ ایک ہفتہ کے بعد خدا جانے کیا خیال آیا ”الفضل“ نے سجدۂ سہو کرتے ہوئے لکھا:
”مورخہ ۲۹؍نومبر ۱۹۸۲ء کے الفضل میں صفحہ ۳ پر ”ذکر حبیب“ کے عنوان سے ایک مضمون میں ”صلی اللہ علیہ وسلم“ کے الفاظ غلطی سے شائع ہوگئے ہیں، یہ مضمون حضرت اقدس ...... کی سیرت طیبہ کے بیان میں ہے، اس پر یہ لفظ سہو سے شائع ہوگئے ہیں، ہم کبھی بھی حضرت اقدس کے لئے یہ لفظ استعمال نہیں کرتے، ادارہ اس خطا پر شرمندہ ہے اور معذرت کا اظہار کرتا ہے۔“
(الفضل ۶؍دسمبر ۱۹۸۲ء)
ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب ان ”الفضل“ اور ان کے کار پردازوں کو مرزا قادیانی کو نبی و رسول کہتے ہوئے شرم نہیں آتی، جب مرزا صاحب کو ”محمد رسول اللہ“ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی، اور جب مرزا صاحب کے لئے ”ذکر حبیب“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے شرم نہیں آتی، جب انہیں یہ کہتے ہوئے شرم نہ آئی کہ:
”ہر شخص ترقی کرسکتا ہے، اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے، حتی کہ ”محمد رسول اللہ“ سے بڑھ سکتا ہے۔“
(مرزا محمود صاحب کا بیان، مندرجہ ”الفضل“
قادیانی، ج:۱ نمبر:۵ مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)
جب انہیں یہ کہتے ہوئے شرم نہ آئی کہ:
”پس ظلی نبوت نے مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا، بلکہ آگے بڑھایا، اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریمؐ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کردیا۔“
(کلمۃ الفضل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز
ج:۱۴ نمبر:۳ ص:۱۱۳، مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)
جب انہیں یہ کہتے ہوئے شرم نہ آئی کہ:
”مسیح موعود محمد است و عین محمد است“
جب انہیں یہ کہتے ہوئے شرم نہ آئی کہ:
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل!
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں!“
اس قسم کی دو چار نہیں سینکڑوں عبارتیں ہیں جن میں ”ظلیت“ کی اوٹ میں
مرزا صاحب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے، جب ان کو تمام قسم کی لغویات سے شرم نہیں آئی تو اگر مرزا صاحب کے کسی مخلص نے ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے الفاظ (سہواً نہیں بلکہ جان بوجھ کر فرطِ عقیدت میں) لکھ دیئے تو ’’الفضل‘‘ اور ان کے کار پردازوں کو اس سے کیوں شرم آنے لگی؟ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ ’’شرم‘‘ کا لفظ قادیانی لغت ہی سے خارج ہے، اس لئے کہ قادیانیوں نے:
- الف:...... مرزا صاحب کو بے سرو پا دعوے کرتے ہوئے دیکھا، مگر انہیں
کبھی شرم نہیں آئی۔
- ب:....... مرزا صاحب کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دیکھا،
مگر انہیں مرزا صاحب پر ’’ایمان‘‘ لانے سے شرم نہ آئی۔
- ج:....... مرزا صاحب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اپنے
زمانے کو روحانیت میں اشد واکمل اور قوی تر کہتے ہوئے سنا، مگر انہیں شرم نہ آئی۔
- د:...... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام کو ’’ہلال‘‘ (پہلی رات
کا چاند) اور اپنے زمانہ کو ’’بدر کامل‘‘ (چودھویں رات کا چاند) کہتے ہوئے سنا، انہیں کبھی شرم نہ آئی۔
- ھ:........ مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں سینکڑوں سفید جھوٹ لکھے، مگر
قادیانیوں کو انہیں پڑھ کر کبھی شرم نہیں آئی۔
- و:....... مرزا صاحب نے انبیاء کرام کو جھوٹے کہا، مگر قادیانیوں کو سن کر کبھی
شرم نہ آئی۔
- ز:....... مرزا صاحب نے انبیاء کرام پر شراب نوشی کی تہمت لگائی، مگر
قادیانیوں کو اس سے بھی کبھی شرم نہ آئی۔
- ح:....... مرزا صاحب نے انبیاء کرام پر قرآن کریم کے حوالے سے بدچلنی کی
تہمت لگائی، مگر شرم قادیانیوں کے کبھی نزدیک نہیں آئی۔
ط:...... مرزا صاحب نے قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں سینکڑوں تحریفیں کیں، مگر قادیانیوں نے کبھی شرم کا نام نہ لیا۔
ی:...... مرزا صاحب نے بزرگان امت کے غلط حوالے دے کر ان پر تہمتیں لگائیں، مگر قادیانیوں کی شرم کو کبھی جنبش نہ ہوئی۔ (یہ جتنی باتیں ہم نے لکھی ہیں محض الزام نہیں، اس کا ثبوت پیش کرنے کے لئے تیار ہیں)
آج پہلی بار معلوم ہوا کہ قادیانی حضرات میں بھی شرم نام کی کوئی چیز ہے، اور وہ مرزا صاحب کے لئے صلوٰۃ وسلام کے ”معصومانہ“ الفاظ لکھنے سے بھی شرما جاتے ہیں، حالانکہ جب وہ مرزا صاحب کو ڈنکے کی چوٹ ”نبی“ اور ”محمد رسول اللہ“ کہتے ہیں تو ان کے لئے ”صلوٰۃ وسلام“ سے شرمندہ ہو جانا عقل و فہم سے بالاتر چیز ہے۔
”الفضل“ کو مطمئن رہنا چاہئے کہ ان کے دین و مذہب کے مطابق مرزا صاحب کو ”صلی اللہ علیہ وسلم“ کہنا لائق شرم نہیں، بلکہ مرزا صاحب کے بار بار کے الہامات اور قادیانیوں کے طرز عمل کے عین مطابق ہے، ”الفضل“ کے بزرجمہروں نے اگر قادیانی قرآن ”تذکرہ شریف“ کا کبھی مطالعہ کیا ہے تو انہیں اس میں یہ الہامات مل جائیں گے:
الف:...... ”۷؍جنوری ۱۹۰۰ء کو صبح کی نماز کے وقت حضرت اقدس نے فرمایا کہ پرسوں کی نماز میں جب میں التحیات کے لئے بیٹھا تو بجائے التحیات کے یہ دعا پڑھنے لگ گیا: ”صلی اللہ علی محمد وعلیک ویرد دعاء اعدائک علیہم.“ اللہ تعالیٰ محمد پر صلوٰۃ بھیجے اور تجھ پر بھی اور تیرے دشمنوں کی بددعا ان پر لوٹا دی جائے گی۔ (ترجمہ از مرتب تذکرہ صفحہ: ۷۷۷ حاشیہ) حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں نے خیال کیا کہ یہ
کیا پڑھ رہا ہوں تو معلوم ہوا کہ الہام ہے۔“
(تذکرہ ص:۷۷۷ طبع ربوہ سوم)
ب:...... ”صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب جمالی نعمانی نے بیان کیا کہ ایک روز مغرب کی نماز پڑھی گئی اور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس کھڑا تھا جب نماز کا سلام پھیرا گیا تو آپ نے بایاں ہاتھ میری دائیں ران پر رکھ کر فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب! اس وقت میں التحیات پڑھتا تھا الہاماً میری زبان پر جاری ہوا کہ: صلی اللہ علیک وعلی محمد۔“
(تذکرہ ص:۷۷۷)
ج:...... ”نحمدک ونصلی صلوٰۃ العرش الی الفرش. ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں، عرش سے فرش تک تیرے پر درود ہے۔“ (تذکرہ ص:۶۴۹)
د:...... ”یصلون علیک صلحاء العرب وابدال الشام ونصلی علیک الارض والسماء ویحمدک اللہ عن عرشہ.“ (تذکرہ ص:۱۶۲) (تجھ پر عرب کے صلحاء اور شام کے ابدال درود بھیجیں گے، زمین و آسمان تجھ پر درود بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔ ترجمہ از مرتب تذکرہ حاشیہ ص:۱۶۲)
ھ:...... ”اصحاب الصفۃ وما ادراک ما اصحاب الصفۃ تری اعینہم تفیض من الدمع یصلون علیک. (ترجمہ) اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے تیرے حجروں میں آ کر آباد ہوں گے، وہی ہیں
جو خدا کے نزدیک اصحاب صفہ کہلاتے ہیں اور تو کیا جانتا ہے کہ وہ کس شان اور کس ایمان کے لوگ ہوں گے، جو اصحاب الصفہ کے نام سے موسوم ہیں، وہ بہت قوی الایمان ہوں گے، تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے وہ تیرے پر درود بھیجیں گے۔"
(تذکرہ ص: ۵۲، ۵۳، ۶۲۲، ۲۳۲)
- و:...... ”یحمدک الله من عرشه نحمدک
ونصلی۔ (ترجمہ) خدا عرش پر سے تیری تعریف کر رہا ہے، ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔“
(تذکرہ ص: ۴۸، ۲۴۱، ۲۴۲، ۳۵۵، ۳۸۶، ۶۳۹)
- ز:...... مرزا صاحب کے امام حافظ محمد صاحب نماز پڑھاتے تو وہ صبح کی نماز
میں التزام کے ساتھ دوسری رکعت کے رکوع کے بعد قنوت بالجہر پڑھا کرتے تھے، اور اس میں روزانہ درود شریف ان الفاظ میں پڑھا کرتے تھے:
”اللّٰہم صل علی محمد واحمد وعلی آل محمد واحمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید. اللّٰہم بارک علی محمد واحمد وعلی آل محمد واحمد کما بارکت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید.“
یہ واقعہ قریباً ۱۳۱۶ھ کا یعنی ۱۸۹۸ء کا یا اس کے قریب کا ہے، انہوں نے کوئی تین چار ماہ تک متواتر نماز پڑھائی تھی، اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی جماعت میں شامل ہوتے تھے، اور کبھی حضور نے حافظ محمد صاحب کے اس طرح پر درود شریف پڑھنے کے متعلق کچھ نہیں فرمایا تھا، ایک دفعہ قاضی سید
امیر حسین صاحب، حافظ احمد اللہ خان صاحب اور (چودھری المعروف) بھائی عبدالرحیم صاحب (سابق جگت سنگھ) صاحب نے ان سے کہا کہ: درود اس طرح نہ پڑھو بلکہ جس طرح حدیث میں آتا ہے اور نماز میں تشہد کے بعد پڑھا جاتا ہے، اسی طرح پڑھنا چاہئے، حافظ محمد صاحب (کچھ تیز طبیعت کے تھے، انہوں) نے اس بات کا یہ جواب دیا کہ: آپ لوگوں کا مجھے اس سے روکنے کا کوئی حق نہیں ہے، اگر منع کرنا ہوگا تو حضرت صاحب اس سے مجھے خود منع فرماویں گے، مگر حضور نے انہیں کبھی نہیں منع فرمایا تھا، اور نہ ہی ان بزرگوں نے اس معاملہ کو حضور کی خدمت میں پیش کیا، اور حافظ صاحب بدستور اسی طرح نماز صبح میں دعا قنوت میں درود شریف بالفاظ مذکورہ بالا پڑھتے رہے، اس زمانہ میں ابھی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت کر کے قادیان نہیں آئے تھے۔‘‘
(ضمیمہ ص: ۱۴۴ رسالہ درود شریف ص: ب)
ان الہامی حوالہ جات سے واضح ہے کہ:
- ۱:...... قادیانیوں کے بقول خدا مرزا صاحب پر درود شریف بھیجتا ہے۔
- ۲:...... خود مرزا صاحب بھی اپنے اوپر درود پڑھا کرتے تھے (اور لطف یہ کہ
التحیات کی جگہ قادیانی درود رکھا گیا تھا، یہ گویا قادیانی شریعت کا نیا مسئلہ ہے)۔
- ۳:...... مرزا صاحب کے امام الصلوٰۃ بھی مرزا صاحب پر درود پڑھتے تھے۔
- ۴:...... قادیانی اصحاب صفہ کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ مرزا صاحب پر درود
پڑھتے ہیں۔
- ۵:...... عرش سے فرش تک کی ساری مخلوق مرزا صاحب پر درود پڑھتی ہے۔
اگر ان تمام نام نہاد الہامات سے قادیانیوں کو شرم نہیں آتی تو سوال یہ ہے کہ مرزا صاحب کے ایک عقیدت مند کے مرزا صاحب کے لئے صلوٰۃ وسلام لکھنے پر ”الفضل“ شرم سے پانی پانی کیوں ہو رہا ہے؟
اصل بات یہ ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں، دکھانے کے اور، چونکہ ”ذکر حبیب صلی اللہ علیہ وسلم“ کے لفظ پر قانونی گرفت ہوسکتی تھی اس لئے ”الفضل“ نے قانون کی گرفت سے بچنے کے لئے سجدہ سہو کرنا ضروری سمجھا۔
ورنہ اگر ان کا یہی عقیدہ ہو، وہ مرزا صاحب کے لئے صلوٰۃ وسلام روا نہیں سمجھتے تو انہیں مندرجہ بالا بے تکے الہامات سے بھی کبھی شرم آئی ہوتی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱ ش:۲۹)
دستوری کمیشن اور قادیانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ!
ان کالموں میں متعدد بار اس امر کی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ موجودہ حکومت مختلف طریقوں سے قادیانیوں کو نہ صرف مسلمانوں کی صف میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ انہیں اسلامی برادری کی قیادت و رہنمائی کے فرائض بھی سپرد کر رہی ہے، ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو جس طرح اسلامی کانفرنس میں مدعو کر کے ایک مسلمان کی حیثیت سے اس کی پذیرائی کی گئی اور اس قادیانی کو جس طرح اسلامی سائنس کمیشن کا چیئرمین تجویز کیا گیا ہے، اس پر بھر پور احتجاج کے باوجود حکومت نے کسی وضاحت یا معذرت کی ضرورت محسوس نہیں کی، اب جو دستوری کمیشن مقرر کیا گیا ہے، مولانا شاہ احمد نورانی کے انکشاف کے مطابق اس کے تین مشیروں میں ایک قادیانی ہے، مولانا نورانی کے بیان کا اخباری متن حسب ذیل ہے:
”ملک قادیانی اسٹیٹ کے قیام کی طرف گامزن ہے۔“
”کراچی ۱۴ جولائی (پ ر) حکومت نے جس ڈھانچے کا چودہ اگست کو اعلان کرنے کا وعدہ کیا تھا، آج اس
کے بارے میں کمیشن کے قیام کے اعلان کے بعد ہمارے شکوک یقین کو پہنچ گئے کہ یہ ملک جو اسلام کے نام پر لاکھوں جانوں کی قربانی اور عزت و آبرو کو داؤ پر لگا کر حاصل کیا گیا تھا، قادیانی اسٹیٹ کی طرف گامزن ہے، یہ بات علامہ شاہ احمد نورانی نے تحریک مصطفیٰ نارتھ کراچی کی جانب سے دی گئی ایک افطار پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہی، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے کمیشن کے مشیروں کی جس تین رکنی ٹیم کا اعلان کیا ہے، اس میں ایک شخص محمد اسد نامی کی مذہبی حیثیت مشکوک ہے، اس شخص کی قابلیت کا پس منظر قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ بتایا گیا ہے، اس ترجمہ کی ایک کاپی میرے پاس بھی موجود ہے، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھائے جانے کی نفی کی ہے اور ختم نبوت کی تشریح اسی انداز میں کی گئی ہے کہ جیسے قادیانی، لاہوری یا مرزائی کرتے ہیں، اگر کوئی نام نہاد مسلمان اس شخص کے ترجمہ سے اتنا ہی متاثر ہے تو وہ اس کو خود پڑھ کر کسی بھی تفسیر سے اس کا موازنہ کرے، بصورت دیگر میں اس شخص کے ترجمہ پر دنیا کے کسی بھی مقام پر مناظرہ کرنے کو تیار ہوں۔ علامہ شاہ احمد نورانی نے کمیشن کے قیام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نام نہاد کمیشن کے شرکاء اگر مسلمان ہیں اور ان میں ایمان کی معمولی سی رمق بھی موجود ہے تو انہیں اس کمیشن سے فوری طور پر کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہئے، کیونکہ اول تو ایک متفقہ دستور کی موجودگی میں کسی سیاسی ڈھانچہ کو تیار کرنا ۱۹۷۳ء کے آئین کی دفعہ چھ کے تحت غداری کے مترادف ہے، اور کسی ڈھانچہ کی
تشکیل یا اس کی مشاورت غدار کی طرفداری کے مترادف ہے جبکہ اس کمیشن میں ایسا فرد مشیر کی حیثیت سے شامل ہو کہ جس کی مذہبی حیثیت بھی مشکوک ہے اور اس نے قرآن پاک کے ترجمہ میں قادیانی اعتقادات کو تحفظ دیا، جبکہ ۷۳ء کے آئین کی سب سے خاص بات قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جانا ہے، ہم کسی قادیانی سے اسلامی نظام حکومت کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں۔"
(روزنامہ جنگ کراچی ۱۵؍ جولائی ۱۹۸۳ء)
مولانا نورانی کے جواب میں دستوری کمیشن کے چیئرمین جناب ظفر احمد انصاری نے فرمایا کہ کمیشن پر قادیانی اثرات کا الزام سیاسی چال ہے، چنانچہ روزنامہ جنگ میں ہے:
"مولانا انصاری نے کمیشن پر قادیانی اثرات کے الزام کو مضحکہ خیز اور ایک سیاسی چال قرار دیا اور کہا کہ ہم تو پہلے ۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور پھر جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کے خلاف مقدمہ لڑنے میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔"
(جنگ کراچی ۱۶؍ جولائی ۱۹۸۳ء)
افسوس ہے کہ انصاری صاحب کا یہ جوابی بیان یکسر غیر متعلق ہے، کیونکہ مولانا نورانی نے جس شخص پر قادیانی ہونے کا الزام لگایا، انصاری صاحب کے بیان میں اس کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی، بلکہ صرف "در مدح خویش میگویم" کے طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ (یعنی مولانا انصاری) قادیانیوں کے خلاف کوئی کام کر چکے ہیں، تو اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ "محمد اسد" قادیانی نہیں، مولانا انصاری کو چاہئے تھا کہ پہلے اس امر کی تحقیق کرتے کہ عقائد میں نام نہاد علامہ محمد اسد مسلمانوں کے عقائد رکھتے ہیں، یا قادیانیوں کے ہم نوا ہیں؟
اگر مولانا انصاری دلائل سے ثابت کر دیتے کہ اس شخص کے عقائد واقعی مسلمانوں کے عقائد ہیں تو مولانا نورانی کا الزام از خود باطل ہوجاتا، لیکن اگر تحقیق کے بعد یہ ثابت ہوجاتا کہ اس شخص کے عقائد قادیانیوں کے موافق ہیں تو مولانا انصاری اور کمیشن کے دوسرے ارکان کی ایمانی غیرت کا تقاضا یہ تھا کہ اس شخص کے دستوری کمیشن کے مشیر مقرر کئے جانے پر احتجاج کرتے، اور اگر ان کا یہ احتجاج مؤثر نہ ہوتا تو ایسے کمیشن پر دو حرف بھیج کر باہر نکل آتے جس میں ایک ایسے مشکوک کو مسلمانوں پر مسلط کر دیا گیا ہے، چونکہ مولانا انصاری نے اس متنازعہ فیہ شخصیت کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی، اس لئے مولانا نورانی کا الزام اب تک قائم ہے، بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حکومت اور مولانا انصاری صاحب نے ”محمد اسد“ کے بارے میں خاموشی اختیار کر کے مولانا نورانی کے الزام کو تسلیم کر لیا ہے، چنانچہ مولانا نورانی کی جماعت کے ایک رہنما جناب شاہ فرید الحق صاحب نے بڑے وثوق اور تحدی سے اعلان کیا ہے کہ یہ شخص قادیانی عقائد رکھتا ہے، انہوں نے کہا:
”مولانا انصاری نے لیوپولڈ اسد کو ”علامہ“ کے محترم خطاب سے یاد کیا ہے، جبکہ لیوپولڈ اسد پولش نژاد یہودی ہے، جو اسلام قبول کرنے کے بعد پاکستان کی سول سروس میں ایک قادیانی وزیر (غالباً چودھری ظفر اللہ خان مراد ہے، ناقل) کے ذریعہ متعارف ہوا، اس نے اپنے حالیہ ترجمہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلام کے بنیادی عقیدے کی نفی کی ہے، اس کا ترجمہ قرآن یہودی اور قادیانی پروپیگنڈے سے قریب ترین ہے، جس کی مثال ختم نبوت کی تشریح ہے۔“
(روزنامہ جنگ کراچی ۱۷/جولائی ۱۹۸۳ء)
ہم نے مولانا نورانی اور شاہ فرید الحق کے الزامات کی تحقیق کے لئے ضروری
سمجھا کہ لیوپولڈ اسد کے عقائد و نظریات کا خود اس کی اپنی تحریروں کے آئینہ میں مطالعہ کیا جائے، چنانچہ اس کے ترجمہ قرآن اور تشریحی حواشی کے مطالعہ کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ شخص اپنے عقائد کے لحاظ سے واقعی مشکوک ہے اور مولانا نورانی کا الزام، محض الزام نہیں، بلکہ ایک حقیقت واقعہ ہے، (ہم اسی شمارے میں اس کے ترجمہ قرآن کے اقتباسات ایک مضمون کی شکل میں پیش کر رہے ہیں) ہم مولانا انصاری اور دوسرے غیرت مند مسلمانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ لیوپولڈ اسد کو دستوری کمیشن سے نکلوائیں، ورنہ خود کمیشن سے نکل جائیں، "ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار."
قوم نہ ایسے مشکوک فرد کو جو قادیانیوں جیسے عقائد رکھتا ہو برداشت کرنے کے لئے تیار ہے، اور نہ قادیانیوں کے ہم نوالہ و ہم پیالہ لوگوں کو جو "اسلامی دستور" کی آڑ میں لیوپولڈ کو اسلام کا ہیرو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۲ ش:۹)
ضمیمہ
دستوری کمیشن کے رکن
محمد اسد صاحب کی مذہبی حیثیت
”دی میسج آف دی قرآن“ کے آئینے میں
الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ!
روزنامہ جنگ کے خصوصی نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے دستوری کمیشن کے سربراہ مولانا ظفر احمد انصاری صاحب نے کہا کہ: ”کمیشن پر قادیانی اثرات کا الزام سیاسی چال اور مضحکہ خیز ہے۔ ہم تو پہلے ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور پھر جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کے خلاف مقدمہ لڑنے میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔“
اس بیان کا پس منظر یہ تھا کہ دراصل مولانا شاہ احمد نورانی صاحب نے دستوری کمیشن کے ایک رکن محمد اسد صاحب کو مذہبی لحاظ سے مشکوک قرار دیا ہے، اور انگلش میں اس کے کئے گئے ترجمہ قرآن کے حوالے سے یہ بھی بتایا ہے کہ اس نے اپنے ترجمہ میں قادیانی عقائد کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
مولانا نورانی صاحب کے بیان کو مدنظر رکھ کر جب مولانا ظفر احمد انصاری صاحب کے اس بیان کا بغور مطالعہ کیا گیا تو یہ بات واضح ہوگئی کہ انصاری صاحب
نے جو کچھ کہا ہے وہ دراصل خود مضحکہ خیز ہے اور من چہ سرایم و طنبورہ من چہ سراید کے مصداق ہے، اس لئے کہ نورانی صاحب محمد اسد کو مشکوک قرار دیتے ہیں جبکہ انصاری صاحب اپنی ختم نبوت کے سلسلہ کی خدمات کا ذکر فرمارہے ہیں۔
انصاری صاحب کو اگر وکالت کرنی ہی تھی تو اسد صاحب کی طرف سے ٹھوس وکالت کرتے تا کہ کسی کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہ ملتا، لیکن ایسا کرنا ان کے لئے تب ممکن ہوتا جب ان کے پاس ٹھوس دلائل ہوتے۔
بہر حال ہم نے محمد اسد کے ترجمہ قرآن (دی میسج آف دی قرآن) کے ان مقامات کا مطالعہ کیا، جن کی نشاندہی مولانا نورانی صاحب نے اپنے بیان میں کی تھی، خاص کر آیت: ”وَإِذْ قَالَ اللّٰهُ يَا عِيْسَى إِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ..... الخ.“ اور اس سلسلے کی دیگر آیات پر غور کیا، پھر مرزا بشیر الدین محمود، مولوی شیر علی قادیانی، ملک غلام فرید قادیانی، چودھری ظفر اللہ خان قادیانی اور محمد علی لاہوری کے تراجم سے اس کا موازنہ کیا تو سب کو یکساں پایا۔
محمد اسد صاحب: ”إِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ.“ کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"I shall cause thee to die and shall exalt thee unto Me."
ہو بہو انہی الفاظ کے ساتھ محمد علی لاہوری نے آیت بالا کا ترجمہ کیا ہے۔
(ملاحظہ ہو دی قرآن، چھٹا ایڈیشن ص: ۱۴۷)۔
- ۲:...... شیر علی قادیانی نے چونکہ مرزا بشیر الدین محمود کے اردو ترجمہ کا ترجمہ کیا
ہے، اس لئے "To Die" کے بعد ”نیچرل ڈیتھ“ کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے، حالانکہ مرزا بشیر الدین محمود کے ترجمہ میں یہ الفاظ بریکٹ کے اندر ہیں۔ (ملاحظہ ہو ترجمہ شیر علی قادیانی ص: ۵۴ طبع ربوہ، چھوٹا سائز)۔
- ۳:...... ملک غلام فرید قادیانی نے بھی شیر علی قادیانی اور مرزا بشیر الدین محمود
کی طرح ”آئی شیل کاز دی ٹو ڈائی“ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ (دیکھئے دی ہولی قرآن ص:۴۲۱ طبع ربوہ بار اول)۔
- ۴:.......چودھری ظفر اللہ خان قادیانی کے الفاظ بھی یہی ہیں۔
مرزا بشیر الدین محمود، آیت: ”يٰعِيْسٰى اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ.“ کے تحت لکھتے ہیں:
”(اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ! میں تجھے (طبعی طور پر) وفات دوں گا اور تجھے اپنے حضور میں عزت بخشوں گا اور کافروں کے (الزامات) سے تجھے پاک کروں گا۔“
(ترجمہ مرزا بشیر الدین محمود ص:۵۱)
اسد صاحب نے یہاں ہو بہو محمد علی لاہوری کے ترجمہ کی متابعت کی ہے، اور اس آیت کی تشریح کے لئے: ”بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ.“ کے تحت تشریح کا حوالہ دیا ہے۔ یہاں یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ”نیچرل ڈیتھ“ کے الفاظ چھوڑ کر محمد اسد صاحب نے قادیانی تراجم کا ساتھ چھوڑ دیا ہے، یہ الفاظ ان تراجم میں بھی درحقیقت اضافی ہیں، اصلی نہیں، مرزا بشیر الدین محمود نے چونکہ ”طبعی طور پر“ کے الفاظ بریکٹ کے اندر استعمال کئے ہیں، اس لئے دیگر قادیانی مفسرین نے بھی ان کے تتبع میں ایسا کیا ہے۔ محمد علی لاہوری نے یہ الفاظ استعمال نہیں کئے جبکہ عقیدہ اس کا اور ان کا ایک ہے:
”آئی شیل کاز دی ٹو ڈائی“ سے ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔
محمد اسد صاحب: ”بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ.“ کے تحت تشریحاً لکھتے ہیں کہ کسی انسان کے رفع کا فعل جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس سے مراد رفع جسمانی نہیں ہوتا بلکہ عزت مراد ہوتی ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ قرآن میں کسی جگہ مشہور عقیدے: ”خدا نے عیسیٰ علیہ السلام کو جسمانی طور پر ان کی زندگی میں آسمان پر اٹھا لیا“ کی کوئی سند نہیں ہے۔
ذیل میں محمد اسد کے ترجمہ کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:
الف:....... ”اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ.“
(آل عمران:۵۵)
"(55) Lo! God said: "O Jesus! Verily, I shall cause thee to die, and shall exalt thee unto Me, and cleanse thee of [the presence of] those who are bent on denying the truth; and I shall place those who follow thee [far] above those who are bent on denying the truth, unto the Day of Resurrection. In the end, unto Me you all must return, and I shall judge between you with regard to all on which you were wont to differ.45
45 This refers to all who revere jesus (i.e., the Christians, who believe him to be "the son of God", and the Muslims, who regard him as a prophet) as well as to those who deny him altogether. Regarding God's promise to Jesus, "I shall exalt thee unto Me", see surah 4, note 172.
اس کی مزید تفصیل اگلے نمبر کے حوالے میں ملاحظہ فرمائیے۔
ب:....... ”وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ.“ کے تحت لکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں کئی فرضی داستانیں پائی جاتی ہیں، جو یہ بتاتی ہیں کہ صلیب دیئے جانے سے قبل، آخر وقت میں عیسیٰ علیہ السلام کو ایک شخص سے تبدیل کر دیا گیا جو ان سے قریبی مشابہت رکھتا تھا، جسے ان کی جگہ مصلوب کر دیا گیا، ان میں سے کسی داستان کی قرآن یا مستند احادیث سے ذرہ بھر تائید نہیں ہوتی اور اس حوالے سے قدیم
مفسرین کی تراشیدہ کہانیوں کو یکسر مسترد کر دینا چاہئے، یہ قرآنی بیان کہ: ”عیسیٰ کو صلیب نہیں دی گئی“ کو بائبل کے ”گوسپل“ یا بشارت عیسوی میں انہیں مصلوب کئے جانے کی تحریری وضاحت سے ہم آہنگ کرنے کی چند بے ربط کوششوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ پھر لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک: ”وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ.“ کی اس سے بہتر کوئی تشریح نہیں ہوسکتی کہ اسے: ”ولکن خُیِّلَ لھم“ سے تعبیر کیا جائے، چنانچہ ملاحظہ ہو:
”وَقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی بْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِیْنًا. بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا.“
(النسآء:۱۵۷، ۱۵۸)
"(157) and their Boast, "Behold, we have slain the Christ Jesus, son of Mary, [who claimed to be] an apostle of God!"
However, they did not slay him, and neither did they crucify him, but it only seemed to them [as if it had been] so;171 and, verily, those who hold conflicting views thereon are indeed confused, having no [real] knowledge thereof, and following mere conjecture. For, of a certainty, they did not slay him: (158) nay, God exalted him unto Himself 172. and God ....."
"171 Thus, the Quran categorically denies the story of the crucifixion of Jesus. There exist, among Muslims, many fanciful legends telling us that at the last moment God substituted for Jesus a person closely
resembling him (according to some accounts, that person was Judas), who was susbequently crucified in his place. However, none of these legends finds the slightest support in the Quran or in authentic Traditions, and the stories produced in this connection by the classial commentators must be summarily rejected. They represent no more than confused attempts at "harmonizing" the Quranic statement that Jesus was not crucified with the graphic description, in the Gospels, of his crucifixion. The story of the crucifixion as such has been succinctly explained in the Quranic phrase wa-lakin shubbiha lahum, which I render as "but it only appeared to them as if it had been so" -implying that in the course of time, long after the time of Jesus, a legend had somehow grown up (possibly under the then-powerful influence of Mirthraistic beliefs) to the effect that he had died on the cross in order to atone for the "original sin" with which mankind is allegedly burdened; and this legend became so firmly established among the latter-day followers of Jesus that even his enemies, the Jews, began to believe it - ableit in a derogatory sense (for crucifixion was, in those times, a heinous form of death-penalty reserved for the lowest of criminals). This, to my mind, is the only satisfactory explanation of the phrase wa-lakin shubbiha lahum, the more so as the expression shubbiha li is idiomatically synonymous with khuyyila li "[a thing]
became a fancied image to me", i.e., "in my mind" - in other words, "[it] seemed to me" (see Qamus, art. khayala, as well as Lane II, 833, and IV, 1500).
172 Cf. 3:55, where God says to Jesus, "Verily, I shall cause thee to die, and shall exalt thee unto Me." The verb rafa'ahu (lit., "he raised him" or "elevated him") has always, whenever the act of raf' ("elevating") of a human being is attributed to God, the meaning of "honouring" or "exalting". Nowhere in the Quran is there any warrant for the popular belief that God has "taken up" Jesus bodily, in his lifetime, into heaven. The expression "God exalted him unto Himself" in the above verse denotes the elevation of Jesus to the realm of God's special grace - a blessing in which all prophets partake, as is evident from 19:57, where the verb rafa'nahu ("We exalted him") is used with regard to the Prophet Idris. (See also Muhammad Abduh in Manar III, 316 f. and VI, 20 f.) The "nay" (bal) at the beginning of the sentence is meant to stress the contrast between the belief of the Jews that they had put Jesus to a shameful death on the cross and the fact of God's having "exalted him unto Himself."
ج:...... معجزاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ تمام الفاظ استعارۃً استعمال کئے گئے ہیں، مردوں کو زندہ کرنا، جذامی اور اندھے کو اچھا کرنا، یہ سب کچھ روحانی طور پر تھا، نہ کہ واقعی ایسا ہوتا تھا، ملاحظہ فرمائیں:
" وَرَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ
مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّيْ أَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ وَأُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَأُحْيِ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللَّهِ وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ، إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ. وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ.“
(آل عمران: ۴۸ تا ۵۰)
(49) ".....I HAVE COME unto you with a message from your Sustainer. I shall create for you out of clay, as it were, the shape of [your] destiny, and then breathe into it, so that it might become [your] destiny by God's leave;37 and I shall heal the blind and the leper, and bring the dead back to life by God's leave;38 and I shall let you know what you may eat and what you should store up in your houses.39 Behold, in all this there is indeed a message for you, if you are [truly] believers.
(50) "And [I have come] to confirm the truth of whatever there still remains40 of the Torah, and to make lawful unto you some of the things which [aforetime] were forbidden to you. And I have come unto you with a message from your Sustainer; remain, then, conscious of God, and pay heed unto me."
"37 Lit., "[something] like the shape of a bird (tayr); and then I shall breathe into it, so that it might [or "whereupon it will"] become a bird...". The noun tayr is a plural
of tair ("flying creature" or "bird"), or an infinitive noun ("flying") derived from the verb tara ("he flew"). In pre-Islamic usage, as well as in the Quran, the words tair and tayr often denote "fortune" or "destiny", whether good or evil (as, for instance, in 7:131, 27:47 or 36:19, and still more clearly in 17:13). Many instances of this idiomatic use of tayr and tair are given in all the authoritative Arabic dictionaries; see also Lane V, 1904 f. Thus, in the parabolic manner so beloved by him, Jesus intimated to the children of Israel that out of humble clay of their lives he would fashion for them the vision of a soaring destiny, and that this vision, brought to life by his God-given inspiration, would become their real destiny by God's leave and by the strength of their faith (as pointed out at the end of this verse).
38 It is probable that the "raising of the dead" by Jesus is a metaphorical description of his giving new life to people who were spiritually dead; cf. 6:122- "Is then he who was dead [in spirit], and whom We thereupon gave life, and for whom We set up a light whereby he can see his way among men- [is then he] like unto one [who is lost] in darkness deep, out of which he cannot emerge?" If this interpretation is - as I believe - correct, then the "healing of the blind and the leper" has a similar significance: namely, an inner regeneration of people who were spiritually diseased and blind to the truth.
قارئین کرام کی سہولت کے لئے ہم نے محمد اسد صاحب کے ترجمہ قرآن سے متعلقہ اقتباسات پیش کئے، انہیں پڑھ کر یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ محمد اسد صاحب نے قرآن مجید کا جو ترجمہ اور تفسیر کی ہے اس میں قادیانی عقائد کا تحفظ کیا گیا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی سے انکار اس بات کے لئے ایک ٹھوس ثبوت ہے کہ جناب مذکور عقیدۂ نزول عیسیٰ علیہ السلام اور عقیدۂ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے بھی منکر ہیں۔
عقیدۂ حیات عیسیٰ علیہ السلام چونکہ پوری امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے، اور قرآن و حدیث سے صراحتاً ثابت ہے، اس لئے ہم یہ کہتے ہوئے کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے کہ محمد اسد صاحب اپنے عقائد کی وجہ سے ”مشکوک“ ہیں، اور ایسے ”مشکوک“ شخص کو اتنی اہم ذمہ داری سونپنا خالی از خطر نہیں۔
”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ.“ کا ترجمہ کرتے ہوئے بھی محمد اسد صاحب نے وفات مسیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابھی ہم نے پورے ترجمہ کا مطالعہ نہیں کیا، تاہم ہمیں یقین ہے کہ اس نے اور بھی کئی مقامات پر ترجمہ قرآن مجید میں قادیانی مفسرین کی طرح اپنی طبع زاد تاویلیں گھڑ لی ہوں گی۔
ہم بالآخر یہی عرض کریں گے کہ محمد اسد جیسے مشکوک شخص کو ایسی اہم ذمہ داری سونپنا کسی طرح بھی صحیح نہیں، نیز اپنے قارئین کرام اور مسلم برادری کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک وملت اور عقائد کے تحفظ کے سلسلے میں بیدار رہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
کجا دانند حالِ ما سبکبارانِ ساحلہا!
(مولانا اصغر علی چشتی صاحب)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۲ ش:۹)
قادیانی فریب
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
قادیانیت کا کُل سرمایہ غلط بیانی اور فریب دہی ہے، مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کے قول وفعل کا جس پہلو سے بھی جائزہ لیا جائے اس میں دجل و تلبیس، دھوکہ اور فریب کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ راست گوئی وحق گوئی ان کی مذہبی لغت سے خارج ہے، وہ کذب بیانی وافترا پردازی میں گوئبلز کے استاذ مانے جاتے ہیں، ان کے تازہ ترین غلط بہتان کی ایک عجیب وغریب مثال ملاحظہ فرمائیے:
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ’’المصالح العقلیہ‘‘ ۱۳۳۵ھ میں لکھی گئی، اور اس وقت سے آج تک اس کے نامعلوم کتنے ایڈیشن نکل چکے ہیں، لیکن ستر سال بعد قادیانیوں نے انکشاف کیا کہ اس میں پانچ جگہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پانچ کتابوں سے عبارتیں لفظ بہ لفظ نقل کی گئی ہیں، یہ انکشاف پہلے محمد شاہد قادیانی کے نام سے ۵/ اور ۷/مئی ۱۹۸۴ء کے ’’الفضل ربوہ‘‘ میں کیا گیا، اس کے بعد قادیانی ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ نے اسے شائع کیا، اور پھر کسی عبداللہ ایمن زکی نامی
شخص کے نام سے ایک کتابچہ ”کمالات اشرفیہ“ کے نام سے شائع کیا گیا، جس میں بڑی تحدی سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے ”کسب فیض“ کیا ہے۔
حالانکہ قادیانیوں میں اگر عقل و انصاف کی ذرا بھی رمق ہوتی تو حضرت تھانویؒ کی کتاب کا مقدمہ اصل حقیقت کے اظہار کے لئے کافی تھا، چنانچہ حضرت تھانویؒ لکھتے ہیں:
”...... اس وقت بھی ایک ایسی کتاب جس کو کسی صاحب قلم نے لکھا ہے، مگر علم وعمل کی کمی کے سبب تمام تر رطب و یابس و غث و سمین سے پُر ہے، ایک دوست کی بھیجی ہوئی میرے پاس دیکھنے کی غرض رکھی ہوئی ہے ...... احقر نے نہایت بے تعصبی سے اس کتاب (المصالح العقلیہ) میں بہت سے مضامین کتاب مذکورہ بالا سے بھی جو کہ موصوف بصحت تھے، لے لئے ہیں۔“
اس عبارت کے پیش نظر قادیانیوں کو بھی معلوم تھا کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا غلام احمد کی کتابوں سے نہیں بلکہ اس کتاب سے بعض مضامین لئے ہیں، جس کا ذکر انہوں نے اپنے مقدمہ میں کیا ہے، مگر قادیانیوں کو اطمینان تھا کہ جو کتاب حضرت تھانویؒ کا اصل ماخذ ہے، اور جس کا حوالہ انہوں نے اپنے مقدمہ میں دیا ہے، اب دنیا سے نایاب ہوچکی ہے، نہ کوئی اس کتاب کو تلاش کرسکتا ہے، نہ حضرت تھانویؒ کے اصل ماخذ کی نشاندہی کی جاسکتی ہے، اور نہ کوئی اس شخص کا نام بتا سکتا ہے، جس کا حضرت تھانویؒ نے حوالہ دیا ہے، اس لئے اس تاریکی سے فائدہ اٹھاؤ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کو سہارا دینے کے لئے ایک جھوٹ اور گھڑ ڈالو کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا غلام احمد کی کتابوں پر اعتماد کیا ہے۔
حق تعالیٰ شانہ علامہ خالد محمود کو جزائے خیر عطا فرمائیں، انہوں نے حضرت تھانویؒ کے حوالہ کی کتاب ڈھونڈ نکالی اور قادیانی مکر و فریب کا سارا طلسم چاک کر دیا۔ یہ کتاب جو حضرت تھانویؒ کا اصل ماخذ تھی، مرزا قادیانی کے ایک ہم عصر مولوی فضل محمد خان کی کتاب ”اسرار شریعت“ ہے، جو تین جلدوں میں ۱۳۲۷ھ میں شائع ہوئی۔
علامہ صاحب نے اپنے مضمون میں (جو پہلے ”الخیر“ ملتان میں اور پھر ماہنامہ ”بینات“ بنوری ٹاؤن کراچی بابت ماہ صفر المظفر ۱۴۰۵ھ میں شائع ہوا) یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت تھانویؒ کی عبارتیں من و عن ”اسرار شریعت“ میں موجود ہیں، اور یہ کہ مرزا قادیانی نے نقل کرتے ہوئے عبارتوں میں قدرے تصرف کیا ہے۔
علامہ خالد محمود صاحب کا یہ مضمون مطالعہ کے لائق ہے، اس کے ملاحظہ سے اس یقین میں مزید پختگی پیدا ہوگی کہ قادیانی لیڈروں کے پاس دجل و فریب اور مغالطہ آفرینی کے سوا کچھ نہیں: وفی کل شیء لہ آیۃ تدل انہ کاذب!
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل و فہم نصیب فرمائیں تاکہ یہ لوگ سوچیں کہ جس مذہب کی گاڑی ہی مکر و فریب سے چلتی ہے، دنیا و آخرت میں رسوائی کے سوا کیا دے سکتا ہے۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کی درستگی اور قادیانی دجل و تلبیس کا پردہ چاک کرنے کے لئے حضرت علامہ خالد محمود صاحب کا وہ مضمون بھی بطور ضمیمہ یہاں درج کیا جائے، لہٰذا ماہنامہ ”بینات“ سے وہ مضمون بلفظہ اس کتاب میں بھی نقل کیا جا رہا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج: ۳ ش: ۲۴)
ضمیمہ
برأت حضرت تھانویؒ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للّٰہ وسلٰم علٰی عبادہ الذین اصطفٰی! ”آللّٰہُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِکُوْنَ“
قادیانیوں نے حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ”المصالح العقلیہ“ میں بعض عبارات کو مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارات سے لفظ بہ لفظ ملتے پایا، تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ عبارات مرزا صاحب کی پانچ کتابوں سے لی ہیں، اور یقیناً لی ہیں۔
ان کے دوست محمد شاہد نے ۵؍مئی اور ۷؍مئی ۱۹۸۳ء کے ”الفضل“ ربوہ میں پہلی بار انکشاف کیا، اور پھر ان کے ہفت روزہ ”لاہور“ نے اس مضمون کو بڑے اہتمام سے شائع کیا، اور دعویٰ کیا کہ مولانا تھانویؒ نے یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے لئے ہیں، اور یہ بھی الزام لگایا کہ مولانا تھانویؒ نے کہیں نہیں لکھا کہ یہ مضامین انہوں نے کسی اور مصنف سے لئے ہیں۔
دوست محمد صاحب کے اس الزام نے عوام میں ایک عجیب پریشانی پیدا
کردی کہ مولانا تھانویؒ جیسے جلیل القدر عالم نے مرزا غلام احمد کی عبارات کو اپنا کیوں ظاہر کیا ہے؟ مگر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہم نے دیکھا کہ مولانا تھانویؒ نے اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں صاف لکھ دیا ہے کہ انہوں نے اپنی اس کتاب میں بعض مضامین کسی اور کتاب سے لئے ہیں، اس میں بہت سی غلط باتیں بھی تھیں، اگرچہ اس میں کچھ صحیح مضامین بھی تھے، اس لئے مولانا تھانویؒ نے اس کتاب کا نام ذکر نہ کیا، تا کہ اس میں لوگوں کی غلط رہنمائی کا گناہ ان پر نہ آئے۔ ’’المصالح العقلیہ‘‘ کے اس مقدمہ میں حضرت تھانویؒ کے اصل الفاظ ملاحظہ فرمائیے:
’’احقر نے غایت بے تعصبی سے اس میں بہت سے مضامین کتاب مذکورہ بالا سے بھی جو کہ موصوف بصحت تھے، لے لئے ہیں اور اس میں احکام مشہورہ کی کچھ کچھ ہی مصلحتیں مذکور ہوں گی جو اصول شرعیہ سے بعید نہ ہوں اور افہام عامہ کے قریب ہوں، مگر یہ مصلحتیں نہ سب منصوص ہیں، نہ سب مدار احکام ہیں اور نہ ان میں انحصار ہے۔‘‘
(ص:۱۵ مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)
ہم نے حضرت تھانویؒ کی یہ تصریح دیکھی، تو قادیانی خیانت کا پردہ چاک ہوگیا، وہ حیرت جاتی رہی جو دوست محمد شاہد قادیانی کے مذکورہ سابقہ مضمون سے پیدا ہوئی تھی، مگر اس پر حیرت ضرور ہوئی کہ دوست محمد قادیانی کو اتنا صریح جھوٹ بولنے اور مغالطہ دینے کی جرأت کیسے ہوئی کہ مولانا تھانویؒ نے اس کتاب کے مصنف کا نام نہیں لیا، جہاں سے بعض عبارات انہوں نے لی ہیں، تو بے شک انہیں اس سوال کا حق پہنچتا تھا، لیکن اس حوالے کا سرے سے ذکر نہ کرنا اور لوگوں کو یہ تاثر دینا کہ مولانا تھانویؒ نے یہ عبارات بغیر کسی قسم کے حوالے دیئے، اپنے نام سے پیش کردی ہیں،
قادیانیوں کی کھلی خیانت اور ان کے صریح جھوٹ کی ایک اور مثال ہے۔
ہم نے ماہنامہ ”الرشید“ ساہیوال کی اگست ۱۹۸۳ء کی ایک اشاعت میں دوست محمد صاحب شاہد سے مطالبہ کیا کہ وہ اس غلط بیانی کی برسرعام معافی مانگیں، مگر افسوس کہ انہیں اس کی توفیق نہ ہوئی، البتہ ان کے ایک ایڈوکیٹ محمد بشیر ہرل نے ہفت روزہ ”لاہور“ کی ۲۷/اگست کی اشاعت میں دوست محمد صاحب کی اس خیانت کو حق بجانب ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی، ہم نے ہفت روزہ ”خدام الدین“ لاہور کی ۱۶/ستمبر کی اشاعت میں ”عذرِ گناہ بدتر از گناہ“ کے عنوان سے اس کا پورا تعاقب کیا، قادیانیوں کے دو پہلوان دوست محمد اور محمد بشیر ہرل چت گرے تو ان کی طرف سے بورے والا کے عبدالرحیم بھٹہ، ہفت روزہ ”لاہور“ کی ۲۹/اکتوبر کی اشاعت میں سامنے آئے، اور ایک ایسا مضمون لکھا جو تضاد بیانی، حیرت سامانی اور بوکھلاہٹ میں اپنی مثال آپ ہے، اور اس لائق نہیں کہ اس کی تردید کرنے کی کوئی ضرورت محسوس ہو۔
یہ قادیانی مضمون نگار اگر یہ کہتے کہ مولانا تھانویؒ نے اپنے اس مقدمہ کتاب میں صرف ایک کتاب کا حوالہ دیا ہے، حالانکہ ان کی کتاب ”المصالح العقلیہ“ میں مرزا صاحب کی ایک کتاب سے نہیں، ان کی پانچ کتابوں کے اقتباسات ہیں، تو پھر بھی کوئی بات تھی، اور ہمارے ذمہ ہوتا کہ ہم حضرت تھانویؒ کی طرف سے جواب گزارش کریں۔
مگر افسوس کہ دوست محمد قادیانی نے اپنے اس انکشاف کی خشتِ اول ہی کچھ ایسی ٹیڑھی رکھی کہ اس پر جو دیوار بنتی گئی ٹیڑھی بنتی گئی، یہاں تک کہ عبداللہ ایمن زئی نے اس پر ایک رسالہ ”کمالاتِ اشرفیہ“ لکھ مارا، اس طنز آمیز نام سے کتاب کی خوب اشاعت کی، ایمن زئی صاحب نے بھی کہیں ذکر نہ کیا کہ مولانا تھانویؒ نے اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں لکھ دیا ہے کہ انہوں نے ایک کتاب کے بعض مضامین اپنی
اس کتاب میں لئے ہیں، اگر وہ یہ بات لکھ دیتے تو ان کی یہ نشاندہی ”مذہبی دنیا میں زلزلہ“ کیسے بنتی اور وہ اپنے اس رسالہ کو ”عقل گم کر دینے والے انکشاف“ کیسے کہتے؟
افسوس کہ یہ لوگ ایک ہی لکیر پیٹتے رہے کہ مولانا تھانویؒ نے یہ مضامین مرزا صاحب کی پانچ کتابوں سے بغیر کسی قسم کا حوالہ دیئے اپنی کتاب میں نقل کئے ہیں، ہم نے ان قادیانی مضمون نگاروں کے ہر مضمون پر ان کا نوٹس لیا اور انہیں اس غلط بیانی اور خیانت سے رجوع کرنے کی دعوت بھی دی، مگر افسوس کہ ان حضرات نے کہیں بھی اپنی اس خیانت پر پشیمانی کا اظہار نہ کیا اور نہ انہیں اس علمی خیانت سے توبہ کی توفیق ہوئی۔
عقلی حکمتیں مولانا تھانویؒ کی نظر میں:
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک نہایت بلند پایہ اور راسخ فی العلم عالم دین تھے، ان کے ہاں احکام دین کی یہ حکمتیں نہ منصوص ہیں، نہ مدارِ احکام، بلکہ وہ تو یہ چاہتے تھے کہ لوگ اس قسم کے مباحث میں نہ پڑیں، لیکن وہ انہیں اس سے روکنے پر قادر نہ تھے، مجبوراً اُنہوں نے انہیں ایک صحیح سمت موڑا۔
آپؒ نے ان میں سے وہ مضامین جو ان کے نزدیک اصولِ شریعت سے بعید نہ تھے، لے لئے، اور اس کتاب کے مؤلف کا نام نہ بتایا کہ ان کی نشاندہی پر لوگ اس کتاب کی طرف نہ دیکھیں، جو تمام تر رطب و یابس سے پُر تھی، اور عامۃ الناس کو اس کا دیکھنا سخت مضر تھا، مولانا تھانویؒ فرماتے ہیں:
”غرض اس میں کوئی شک نہ رہا کہ اصل مدارِ ثبوت احکام شرعیہ فرعیہ کا نصوصِ شرعیہ ہیں، لیکن اسی طرح اس میں بھی شبہ نہیں کہ باوجود اس کے پھر بھی ان احکام میں بہت سے
مصالح اور اسرار بھی ہیں، اور گو مدار ثبوت احکام کا ان پر نہ ہو، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، لیکن ان میں یہ خاصیت ضرور ہے کہ بعض طبائع کے لئے ان کا معلوم ہو جانا احکام شرعیہ میں مزید اطمینان پیدا ہونے کے لئے ایک درجہ میں معین ضرور ہے، گو اہل یقین راسخ کو اس کی ضرورت نہیں۔“
(المصالح العقلیہ ص: ۱۳ طبع دارالاشاعت کراچی)
حضرت مولانا تھانویؒ کی اس عبارت سے یہ واضح ہے کہ انہوں نے اس کتاب سے مضامین اس لئے نہیں لئے کہ مولانا کو خود ان کی ضرورت تھی، یا وہ انہیں کسی درجہ میں علم و معرفت کا سرمایہ سمجھتے تھے، بلکہ محض اس لئے کہ ان کے بیان سے وہ علم و یقین کے ضعفاء کو کسی درجہ میں کچھ تسلی دے سکیں، حضرت مولانا تھانویؒ کی اس تصریح کے باوجود جناب عبداللہ ایمن زئی، حضرت مولانا تھانویؒ کو اس آب حیات کا متلاشی بتلا رہے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ حضرت مولانا جیسے راسخین فی العلم کے ہاں ان مضامین عقلیہ کا کچھ وزن نہیں، وہ حضرت مولاناؒ کو اس ”چشمۂ فیض“ سے سیراب ہوتا یوں پیش کرتے ہیں، ان کے مندرجہ ذیل پانچ پیرے ملاحظہ فرمائیے:
- ۱:...... ”حضرت تھانویؒ اس نکتے پر غور فرما رہے تھے
کہ خنزیر کو حرام قرار دینے کا عقلاً کیا جواز ہے، اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں جو لٹریچر تخلیق ہوا، اور بڑے بڑے علماء و مفسرین نے اس مسئلے پر جو کچھ لکھا وہ سب حضرت تھانویؒ کی نظر میں تھا، مگر انہوں نے یہ سارا سرمایہ معرفت ایک طرف رکھ دیا اور مرزا صاحب نے اپنی کتاب میں حرمت خنزیر کے جو اسباب بیان کئے تھے، وہ اپنی کتاب میں نقل کر دیئے۔“
(کمالات اشرفیہ ص: ۷)
- ۲:...... ”حضرت تھانویؒ اپنی کتاب کی تصنیف کے
وقت غور فرما رہے تھے کہ نماز پنجگانہ میں کیا حکمتیں ہیں، اسی دوران میں ان کی نظر سے مرزا صاحب کی مذکورہ بالا کتاب گزری، اس میں بیان کردہ حکمتیں حضرت تھانویؒ کو اس قدر پسند آئیں کہ لفظ بہ لفظ اپنی کتاب میں نقل فرمادیں۔“
(ایضاً ص:۱۶)
- ۳:...... ”حضرت مولانا تھانویؒ کتاب کے لئے اس
موضوع پر غور و فکر اور مطالعہ فرما رہے تھے، تلاش و تحقیق کے دوران مرزا صاحب کی کتاب ’نسیم دعوت‘ انہیں ملی، انہوں نے یہ کتاب پڑھی اور محسوس کیا انسانی قوٰی کے استعمال کے جو طریقے مرزا صاحب نے قرآن شریف میں تدبر کرنے کے بعد بیان کئے ہیں، ان سے بہتر نکات بیان نہیں کئے جاسکتے۔“
(ایضاً ص:۲۰)
- ۴:...... ”روح اور قبر کے تعلق کے بارے میں صدیوں
تک علماء اور حکماء اسلام نے بحث کی اور آخر یہی نتیجہ نکالا کہ قبر کے ساتھ روح کا تعلق کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے، حضرت تھانویؒ کے پیش نظر بھی یہی مسئلہ تھا، اسی دوران میں حضرت تھانویؒ کی نظر سے مرزا صاحب کی ایک تقریر گزری ...... مرزا صاحب کی تقریر کی ساری عبارت حضرت تھانویؒ نے اپنی کتاب میں شامل کرلی۔“
(ایضاً ص:۲۷)
- ۵:...... ”حضرت مولانا تھانویؒ نکاح اور طلاق کی
حکمتوں پر غور فرما رہے تھے، مرزا صاحب اپنی کتاب ’’آریہ
دھرم‘‘ میں نکاح و طلاق کی حکمتوں پر بحث کر چکے تھے، حضرت تھانویؒ نے اس کتاب کا مطالعہ کیا اور اس سے استفادہ کیا، مولانا مغفور، مرزا صاحب کی بحث کو پڑھ کر اسے اپنے رنگ میں اور اپنے الفاظ میں بیان کر سکتے تھے ...... مگر حضرت تھانویؒ کو خراج تحسین ادا کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے دھوکہ، فریب سے کام لینے کے بجائے مرزا صاحب کی یہ ساری بحث مرزا صاحب ہی کے الفاظ میں اپنی کتاب کی زینت بنادی۔‘‘
(ایضاً ص:۳۳)
ان پانچوں اقتباسات کا حاصل یہ ہے کہ حضرت مولانا تھانویؒ ان مسائل میں واقعی ضرورتمند تھے، اور مرزا صاحب کی کتابوں میں ان کی مشکل کا حل موجود تھا، اور انہوں نے اپنی یہ مشکل مرزا صاحب کی کتابوں ہی سے حل کی، جناب عبداللہ ایمن زئی نے یہ عبارات لکھتے ہوئے حضرت مولانا تھانویؒ کے اس جملہ کو چھوا تک نہیں جو حضرت تھانویؒ اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں لکھ چکے تھے اور اس سے پوری حقیقت حال سے پردہ اٹھتا تھا، وہ جملہ یہ ہے:
’’اہلِ یقین اور راسخ العلم کو اس کی ضرورت نہیں، لیکن بعض ضعفاء کے لئے تسلی بخش اور قوت بخش بھی ہے۔‘‘
اب آپ ہی غور فرمائیں کہ حضرت تھانویؒ تو ان مضامین عقلیہ کو کوئی علم و عرفان کا موضوع قرار نہیں دے رہے، ضعفاء ایمان کے لئے محض ایک تسلی کا سامان کہہ رہے ہیں، اور عبداللہ ایمن زئی صاحب ہیں کہ خلافِ مراد محکم حضرت تھانویؒ کو ان مضامین میں تحقیق حق کا جویا بتلا رہے ہیں، حضرت تھانویؒ کو غور و فکر میں ڈوبا ہوا ظاہر کر رہے ہیں، اور لکھ رہے ہیں کہ حضرت تھانویؒ کو مرزا صاحب کے ہی سرچشمۂ فیض سے سیرابی نصیب ہوئی۔
جو شخص بھی حضرت تھانویؒ کے اس مقدمہ کو پڑھے گا اور پھر ایمن زئی
صاحب کی ان عبارات کو دیکھے گا وہ بلا تامل کہے گا کہ ایمن زئی صاحب نے ان عبارات میں حق و انصاف کا خون کیا ہے، کچھ بھی خدا کا خوف نہیں کیا، جو بات حضرت تھانویؒ نے صرف ضعفاء ایمان کے لئے تسلی کا سامان کہی تھی، اسے ایمن زئی نے خود حضرت تھانویؒ جیسے راسخ فی العلم کے لئے سرمایہ یقین ٹھہرا دیا ہے، یہ کھلی خیانت نہیں تو اور کیا ہے؟
عقلی حکمتیں اور روحانی معارف:
عبداللہ ایمن زئی نے یہ جانتے ہوئے کہ مولانا تھانویؒ کے نزدیک احکام اسلام کی مصلحتوں اور حکمتوں کا علم سرے سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اور نہ وہ اسے کسی پہلو میں روحانی معارف میں جگہ دیتے ہیں، مولانا تھانویؒ کی کتاب ”المصالح العقلیہ“ کو روحانی معارف کی کتاب سمجھ لیا ہے، ایمن زئی صاحب یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ مولانا تھانویؒ تو سرے سے ہی ان کے خلاف تھے، انہیں محض ضعیف الاعتقاد لوگوں کے لئے سامان تسلی سمجھتے تھے، کاش کہ ایمن زئی صاحب حضرت تھانویؒ کی یہ عبارت ہی مقدمہ میں دیکھ لیتے:
”چونکہ ہمارے زمانہ میں تعلیم جدید کے اثر سے جو آزادی طبائع میں آگئی ہے، اس سے بہت سے لوگوں میں ان مصالح کی تحقیق کا شوق اور مذاق پیدا ہوگیا ہے، اور گو اس کا اصل علاج تو یہی تھا کہ ان کو اس سے روکا جائے۔“
(المصالح العقلیہ ص:۴ طبع دارالاشاعت کراچی)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت تھانویؒ کے ہاں ان کی یہ کتاب کوئی روحانی معارف کی کتاب نہ تھی، انہوں نے ادنیٰ سمجھ والوں کے لئے احکام اسلام کی یہ چند مصلحتیں ذکر کی تھیں تاکہ عوام کو ان میں رغبت ہو، افسوس کہ ایمن زئی صاحب نے انہیں روحانی معارف کا خزانہ، یا قرآن مجید کی کوئی بہت بڑی تفسیر سمجھ لیا، اور ثابت
کرنے کی کوشش کی کہ دیکھو مولانا تھانوی جیسا جلیل القدر عالم، مرزا صاحب سے روحانی معارف کا سبق لے رہا ہے، ایمن زئی صاحب لکھتے ہیں: ”لاکھوں انسانوں کے پیشوا حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کی مشہور و معروف کتاب ”احکام اسلام عقل کی نظر میں“ ایک ایسی پُر معارف تصنیف ہے جس کے اسرار و معارف مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی مختلف اور متعدد کتابوں سے نقل کئے گئے ہیں۔“
(کمالات اشرفیہ ص:۵)
پھر ایمن زئی صاحب یہ بھی لکھ گئے: ”اپنے زمانے کا اتنا بڑا عالم جس نے لاکھوں انسانوں کو علم دین پڑھایا، وہ اپنی کتاب ”احکام اسلام عقل کی نظر میں“ لکھتے ہوئے اتنا بے بس ہوگیا کہ روحانی معارف بیان کرنے کے لئے اسے مرزا صاحب کی کتابوں کا سہارا لینا پڑا۔“
(ایضاً ص:۵)
مولانا تھانوی تو اپنی اس کتاب کو روحانی معارف کا خزانہ بالکل نہیں کہہ رہے، بلکہ صراحت کر رہے ہیں کہ راسخ العلم اہل یقین کو اس کی کوئی ضرورت نہیں، صرف ضعفاء اسلام کے لئے اس میں کچھ تسلی کا سامان ہے، مگر ایمن زئی صاحب ان کی کتاب پر عقیدت کا وہ حاشیہ چڑھا رہے ہیں جو حضرت تھانویؒ کے مریدین میں سے بھی کسی کو آج تک نہیں سوجھا ہوگا، یہ اس لئے نہیں کہ انہیں حضرت تھانویؒ سے عقیدت ہے، بلکہ اس لئے کہ وہ اپنے اس اظہار سے مرزا غلام احمد کے بارے میں اپنے ذہن کو کچھ تسکین دینا چاہتے ہیں۔
مولانا تھانویؒ کی کتاب میں غیر مسلموں کی نقول:
مولانا تھانویؒ نے اپنی اس کتاب میں احکام اسلام کی بعض حکمتیں غیر مسلموں سے بھی نقل کی ہیں، آپؒ ایک مقام پر ایک جرمن مقالہ نویس سے اسلام کے حفظ صحت کے اصولوں میں ایک حکمت ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں: ’’اسلام نے صفائی اور پاکیزگی اور پاکبازی کی صاف و صریح ہدایات کو نافذ کر کے جرائم ہلاکت کو مہلک صدمہ پہنچا دیا ہے، غسل اور وضو کے واجبات نہایت دور اندیشی اور مصلحت پر مبنی ہیں، غسل میں تمام جسم اور وضو میں ان اعضاء کا پاک صاف کرنا ضروری ہے جو عام کاروبار، یا چلنے پھرنے میں کھلے رہتے ہیں، منہ کو صاف کرنا اور دانتوں کو مسواک کرنا، ناک میں اندرونی گرد و غبار وغیرہ کو دور کرنا، یہ تمام حفظ صحت کے لوازم ہیں، اور ان واجبات کی بڑی شرط آب رواں کا استعمال ہے، جو فی الواقع جراثیم کے وجود سے پاک ہوتا ہے، حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے لحم خنزیر میں اور بعضے ممنوع جانوروں کے اندر امراض ہیضہ و ٹان فالین بخار وغیرہ کا خطرہ دریافت کر لیا تھا۔‘‘
(المصالح العقلیہ ص: ۲۹۹ منقول از اخبار وکیل ۱۸ / جون ۱۹۱۳ء)
عبیداللہ بتائیں کیا اس جرمن مقالہ نویس کو قرآنی معارف کا سرچشمہ کہیں گے کہ مولانا تھانویؒ جیسا بڑا عالم، اسلامی احکام کی ایک حکمت اس غیر مسلم سے نقل کر رہا ہے، مولانا تھانویؒ نے جرمن کے ڈاکٹر کوخ کی بھی ایک تحریر احکام اسلام کے مصالح عقلیہ میں پیش کی ہے، ہم اس کا بھی ایک اقتباس یہاں پیش کرتے ہیں: ’’جس وقت سے مجھ کو نوشادر کا داء الکلب کے لئے تیر
بہ ہدف علاج ہونا دریافت ہوگیا ہے، اس وقت سے میں عظیم الشان نبی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی خاص طور پر قدر و منزلت کرتا ہوں، اس انکشاف کی راہ میں مجھ کو انہیں کے مبارک قول کی شمع نور نے روشنی دکھائی، میں نے ان کی وہ حدیث پڑھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس برتن میں کتا منہ ڈالے، اس کو سات مرتبہ دھو ڈالو، چھ مرتبہ پانی سے، اور ایک مرتبہ مٹی سے، یہ حدیث دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جیسے عظیم الشان پیغمبر کی شان میں فضول گوئی نہیں ہوسکتی، ضرور اس میں کوئی مفید راز ہے، اور میں نے مٹی کے عنصروں کی کیمیائی تحلیل کر کے ہر ایک عنصر کا داءالکلب میں الگ استعمال شروع کیا، آخر میں نوشادر کے تجربہ کی نوبت آتے ہی مجھ پر منکشف ہوگیا کہ اس مرض کا یہی علاج ہے۔“
(المصالح العقلیہ ص: ۳۰۲ منقول از اخبار مدینہ بجنور ۹/ مارچ ۱۹۱۷ء)
ان مثالوں سے واضح ہے کہ حضرت مولانا تھانویؒ نے احکام اسلام کے مصالح عقلیہ بیان کرنے میں کچھ مضامین غیر مسلموں سے بھی لئے ہیں، ڈاکٹر موریس فرانسیسی، مسٹر آرنلڈ وہائٹ، مسٹر ایڈورڈ براؤن کی تحریرات کے ساتھ ساتھ آپ نے گورو بابا نانک سے بھی کچھ باتیں نقل کیں، یہ کوئی دینی سند یا قرآن وحدیث کی تفسیر نہیں جو غیر مسلموں سے نقل کی جارہی ہیں، مباحث عقلیہ میں غیر مسلموں سے کوئی بات لے لینا ہرگز کسی پہلو سے ممنوع نہیں، کوئی پڑھا لکھا شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت مولانا تھانویؒ نے اس جرمن مقالہ نویس یا ڈاکٹر کوخ سے یا ان دوسرے غیر مسلم مضمون نگاروں سے روحانی معارف حاصل کئے ہیں، اب آپؒ نے اگر ان غیر مسلموں سے بھی کچھ باتیں مباحث عقلیہ میں لے لیں تو اس سے یہ نتیجہ کیسے نکل
آیا جو ایمن زئی صاحب ان الفاظ میں نکال رہے ہیں:
”راقم تو اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ اگر علامہ تھانوی جیسے عالم بے بدل اور لاکھوں مسلمانوں کے روحانی پیشوا نے روحانی علوم مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے سرچشمۂ علم ومعرفت سے حاصل کیا تو پھر اس زمانے میں علم دین اور روحانیت کا سرچشمہ تو مرزا صاحب ہوئے ۔“
(کمالات اشرفیہ ص: ۴۸)
محترم! اگر آپ اپنی اس عبارت کا یہ آخری جزو یوں لکھتے تو آپ کی دیانت داری کسی درجہ میں لائق تسلیم ہوتی اور پھر ہم اس کا کچھ جواب بھی عرض کرتے:
”مسلمانوں کے روحانی پیشوا نے روحانی علم جرمنی کے غیر مسلم مستشرق، جرمنی کے ڈاکٹر کوخ، بابا نانک اور مرزا غلام احمد قادیانی کے چشمۂ علم ومعرفت سے حاصل کیا ہے۔“
ایمن زئی صاحب کا اس مقام پر صرف مرزا غلام احمد کا ذکر کرنا ان کے راز دروں کا پتہ دے رہا ہے، اوپر کی عبارت میں خط کشیدہ لفظ اگر ہم نے اس لئے لکھا ہے کہ واقعتاً حضرت تھانویؒ نے مرزا غلام احمد کی کتابوں سے کوئی بات بھی نہیں لی اور محض الفاظ اور عبارات کے ملنے سے یہ نتیجہ نکالنا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین واقعی غلام احمد کی کتابوں ہی سے لئے ہیں، علمی اور منطقی پہلو سے کسی طرح صحیح نہیں، آئندہ ہم اس پر تفصیل سے بات کریں گے۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت مولانا تھانویؒ کی اس کتاب کا موضوع سرے سے روحانی معارف نہیں، یہ سب مباحث عقلیہ ہیں جو اس کتاب میں پائے جاتے ہیں، اور ان میں غیر مسلم کی بات لے لینی کسی پہلو سے بھی محل کلام نہیں، مولانا تھانویؒ کی اس کتاب میں احکام اسلام کی ہزاروں عقلی مصلحتیں مذکور ہیں، ان میں سے جو باتیں مرزا غلام احمد کے ساتھ مشترک ہیں، وہ مولانا تھانویؒ کی بیان کردہ کل مصالح عقلیہ کا سوواں حصہ بھی نہیں، جس کا
دل چاہے گن کر دیکھ لے اور موازنہ کر لے، اور پھر اس پر قادیانیوں کے اس دعوے کو بھی منطبق کرے کہ یہ سب روحانی معارف مرزا غلام احمد ہی سے ماخوذ ہیں، ہم بطورِ اصول تسلیم کرتے ہیں کہ مصالح عقلیہ کے اخذ کرنے میں ماخوذ منہ کا مسلمان ہونا شرط نہیں ہے، حکمت کی بات مؤمن کی اپنی متاع گمشدہ ہے، جہاں اسے ملے وہ اسی کی ہے۔
ایمن زئی صاحب کی عقیدت حضرت تھانویؒ سے صرف لفظی ہے:
جناب عبداللہ ایمن زئی گو اپنے آپ کو قادیانی نہیں کہہ رہے ہیں، لیکن ان کی سطر سطر رازِ دروں پر پردہ کا پتہ دے رہی ہے، حضرت تھانویؒ کی عقیدت میں بھی وہ رطب اللسان ہیں، لیکن ان کی ایک بات پر بھی وہ پورا یقین کرنے کے لئے تیار نہیں، مولانا تھانویؒ کی وہ کون سی بات ہے جسے ایمن زئی صاحب تسلیم نہیں کر رہے، وہ حضرت تھانویؒ کا یہ بیان ہے کہ انہوں نے یہ مضامین ایک کتاب سے لئے ہیں:
”احقر نے غایتِ بے تعصبی سے اس میں بہت سے مضامین کتاب مذکور بالا سے بھی جو کہ موصوف بصحت تھے لے لئے ہیں۔“
(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص: ۱۵ طبع دارالاشاعت کراچی)
ایمن زئی صاحب نے ”کمالاتِ اشرفیہ“ کے صفحہ: ۷، ۱۶، ۲۰، ۲۷، ۳۳ پر جو لکھا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا صاحب کی پانچ کتابوں سے اقتباسات لئے ہیں، مولانا تھانویؒ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک کتاب سے (اور وہ بھی مرزا غلام احمد کی نہیں) یہ مضامین لئے ہیں، اب آپ ہی بتائیں کہ جو شخص حضرت تھانویؒ کی بات کا اعتبار نہیں کرتا، وہ کہاں تک ان کا معتقد ہو سکتا ہے؟ سو ایمن زئی صاحب کی حضرت تھانویؒ سے عقیدت محض ایک لفظی کھیل ہے، جس کی کوئی
حقیقت نہیں۔
حضرت تھانویؒ کے حوالے میں مصنف کا نام کیوں نہیں؟
حضرت تھانویؒ نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں یہ حوالہ تو دیا کہ انہوں نے اس کے بعض مضامین ایک کتاب سے نقل کئے ہیں، جس میں رطب و یابس ہر طرح کے مضامین تھے، جو مضامین ان کے ہاں رو بہ صحت تھے، انہوں نے ان میں سے مضامین لے لئے، لیکن یہ سوال باقی رہا کہ اس کتاب کا مصنف کون ہے؟ اور یہ کہ حضرت تھانویؒ نے اس کا نام کیوں نہیں لیا؟
اس کا جواب معلوم کرنے سے پہلے آپ اس مصنف کے بارے میں حضرت تھانویؒ کی رائے معلوم کر لیں اور پھر خود سوچیں کہ آپؒ کے لئے اس کا نام لینا مناسب تھا یا نہیں؟ اور آپؒ نے اس کا نام نہ لے کر مسلمانوں کے ساتھ اور خود اس مصنف کے ساتھ خیر خواہی کی ہے یا بدخواہی؟
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ حکیم الامت تھے، ان کے ہر عمل میں دینی حکمت جھلکتی ہے، وہ ایک کم علم اور کمزور فکر آدمی کا تعارف کرا کر اس کے غلط افکار کی اشاعت میں حصہ دار بھی بننا نہیں چاہتے اور جو باتیں اس کے قلم سے صحیح نکلیں، انہیں بفحوائے حدیث ضائع جانے دینا بھی نہیں چاہتے کہ حکمت کی بات مؤمن کی گمشدہ چیز ہے، جہاں سے بھی ملے وہ اسے لے لے۔ اس نازک مرحلہ پر حضرت حکیم الامتؒ ایک بیچ کی راہ پر چلے، کتاب کا ذکر کر دیا کہ انہوں نے کچھ باتیں ایک کتاب سے لی ہیں، جس کا مصنف علم و عمل کی کمی کے باعث اس کتاب میں رطب و یابس لے آیا ہے، اور اس کتاب کا نام نہ لیا کہ لوگ اس کے غلط مندرجات سے گمراہ نہ ہوں اور نہ مصنف کا نام لیا تاکہ اس کی مزید رسوائی نہ ہو، حکیم الامتؒ اس نازک موڑ پر ایک ایسی راہ چلے ہیں، جو ان کے پیروؤں کے لئے واقعی ایک نمونہ ہے۔ کوئی غیر محتاط
عالم ہوتا وہ کبھی نہ اس سلامتی سے اس منجدھار سے باہر نکلتا، حضرت تھانویؒ نے اس کتاب اور اس کے مصنف کے بارے میں جو رائے تحریر فرمائی ہے، اسے ہم یہاں نقل کر دیتے ہیں، اس کی روشنی میں اس کتاب اور اس کے مصنف کا ذکر نہ کرنے میں جو دینی حکمت تھی وہ خود آپ کے سامنے آجائے گی، آپؒ لکھتے ہیں:
”چنانچہ اس وقت بھی ایک ایسی ہی کتاب جس کو کسی صاحب قلم نے لکھا ہے، مگر علم و عمل کی کمی کے سبب تمام تر رطب و یابس و غث و سمین سے پُر ہے، ایک دوست کی بھیجی ہوئی میرے پاس دیکھنے کی غرض سے آئی ہوئی رکھی ہے، اس کو دیکھ کر یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسی کتابوں کا دیکھنا تو عامہ کو مضر ہے، مگر عام مذاق کے بدل جانے کے سبب بدوں اس کے کہ اس کا دوسرا بدل لوگوں کو بتلایا جاوے، اس کے مطالعہ سے روکنا بھی خارج عن القدرۃ ہے، اس لئے اس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ایک ایسا مستقل ذخیرہ ان مضامین کا ہو جو ان مفاسد سے مبرا ہو، ایسے لوگوں کے لئے مہیا کیا جاوے تاکہ اگر کسی کو ایسا شوق ہو تو وہ اس کو دیکھ لیا کریں کہ اگر مورث منافع نہ ہوگا تو دافع مضار تو ہوگا (البتہ جس طبیعت میں مصالح کے علم سے احکام الہیہ کی عظمت و رفعت کم ہوجاوے یا وہ ان کو مدارِ احکام سمجھنے لگے کہ ان کے انتفاع سے احکام کو منتفی اعتقاد کرے، یا ان کو مقصود بالذات سمجھ کر دوسرے طریق سے ان کی تحصیل کو بجائے اقامت احکام کے قرار دے لے، جیسا کہ اوپر بھی ان مضار کی طرف اجمالاً اس قول میں اشارہ بھی کیا گیا ہے: ”چنانچہ بعض اوقات یہ مذاق مضر بھی ہوتا ہے“۔ تو ایسے طبائع والوں کو ہرگز
اس کی اجازت نہیں ہے)، بہرحال وہ ذخیرہ یہی ہے جو آپ کے ہاتھوں میں موجود ہے۔ احقر نے غایت بے تعصبی سے اس میں بہت سے مضامین کتاب مذکور بالا سے بھی جو کہ موصوف بہ صحت تھے، لے لئے ہیں، اور اس میں احکام مشہورہ کی کچھ کچھ وہی مصلحتیں مذکور ہوں گی جو اصول شرعیہ سے بعید نہ ہوں، اور افہام عامہ کے قریب ہوں، مگر یہ مصلحتیں نہ سب منصوص ہیں، نہ سب مدار احکام ہیں اور نہ ان میں انحصار ہے۔“
(المصالح العقلیہ ص: ۱۴، ۱۵ طبع دارالاشاعت کراچی)
یہ عبارت خود بول رہی ہے کہ حضرت تھانویؒ نے اس کتاب یا اس کے مصنف کا نام کیوں نہیں لیا، افسوس کہ قادیانی مضمون نگار اس بات کو نہ پاسکے، انہوں نے مصنف کا نام نہ لکھنے کی یہ وجہ تصنیف کی:
”اگر حضرت مولانا تھانویؒ اپنی کتاب میں مرزا صاحب کا نام یا ان کی کسی کتاب کا نام درج کر دیتے تو متعصب اور تنگ نظر لوگ ان کی جان کے دشمن ہو جاتے، اور ان کی کتاب کو نذر آتش کر دیتے، یقین ہے کہ انہیں اپنے وطن (تھانہ بھون) کو بھی خیر باد کہنا پڑتا، اس لئے حضرت مولاناؒ نے فتنہ و فساد سے بچنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا کہ مرزا صاحب کا حوالہ دیئے بغیر ان کے بیان کردہ معارف اپنی کتاب میں درج کر دیئے۔“
(کمالات اشرفیہ ص: ۴۶)
جواباً گزارش ہے کہ مصنف کا نام نہ لکھنے کی اگر یہی وجہ ہوتی اور حقیقت میں فیض حاصل کرنا پیش نظر ہوتا تو حضرت تھانویؒ چلتے چلتے مصنف پر یہ تبصرہ ہرگز نہ کرتے جاتے کہ موصوف علم و عمل کی کمی کے باعث رطب و یابس میں فرق کرنے کے
لائق نہیں، مولانا کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ حضرتؒ کے دل میں اس کی کوئی عظمت نہ تھی، نہ حضرتؒ نے اس سے کوئی اکتساب فیض کیا تھا، انہوں نے اس کا نام محض اس لئے نہ لیا کہ اسے مزید بے آبرو نہ کیا جائے، نہ اس کتاب کی غلط اشاعت سے اپنے اوپر کوئی گناہ کا بار لیا جائے۔
کم علم اور بے عمل آدمی کے کلام میں اسرار حکمت کہاں؟
رہا یہ سوال کہ ایک کم علم اور بے عمل آدمی کے کلام میں یہ اسرار حکمت کہاں سے آگئے؟ جواباً گزارش ہے کہ یہاں علم سے مراد علم قرآن و سنت ہے، مصنف مذکور کو کم علم اسی پہلو سے کہا گیا ہے، رہے عقلی مباحث اور خیالی باتیں تو ان میں بعض دفعہ ان پڑھ لوگ بھی بڑی دور کی بات کہہ جاتے ہیں، حضرت تھانویؒ کی اس کتاب کا موضوع کوئی علمی معارف نہ تھے، محض عقلی باتیں تھیں جو ضعفائے ایمان کو کسی درجہ میں تسلی دے سکیں، ایسی بعض باتیں اگر کسی کم علم اور کم عمل شخص پر بھی کھل جائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی کم علم آدمی علمائے سلف کی تحریروں میں غور وفکر کرتے کرتے اور ان سے اس قسم کا سرمایہ دانش اکٹھا کرتے کرتے بات سے بات نکالنے میں اس درجہ کامیاب ہوجائے کہ اس کے بعض مضامین جو رو بہ صحت ہوں اور اصول شرعیہ سے نہ ٹکراتے ہوں، وہ بعض راسخ فی العلم اہل یقین کو پسند آجائیں اور وہ انہیں اپنے الفاظ میں بدلنے کی محنت کئے بغیر اس کے اپنے لفظوں میں ہی انہیں نقل کردیں اور سرقہ کے الزام سے بچنے کے لئے محض اتنا کہہ دیں کہ انہوں نے بعض مضامین کسی اور کتاب سے لئے ہیں۔
حضرت تھانویؒ نے جس کتاب سے مضامین مذکورہ لئے اس کا مصنف اسی قبیل کا شخص معلوم ہوتا ہے اور یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین ہرگز ہرگز مرزا غلام احمد کی کتابوں سے نہیں لئے، ان کا ماخذ صرف ایک کتاب
ہے، نہ کہ مرزا صاحب کی پانچ کتابیں، کشتی نوح، آریہ دھرم، اسلامی اصول کی فلاسفی، نسیم دعوت اور برکات الدعا۔
عبارات ملنے سے کیا ضروری ہے کہ وہ انہی کتابوں سے لی گئی ہوں؟
حضرت تھانویؒ جیسے جلیل القدر عالم کی کتاب میں مرزا غلام احمد کی کتابوں کی بعض طویل عبارات کا من وعن پایا جانا، ہمیں اس باب میں زیادہ غور وفکر اور تحقیق وتفحص پر مجبور کرتا ہے، عبارات ملنے سے کیا یہ ضروری ہے کہ وہ مرزا صاحب کی ہی کتابوں سے لی گئی ہوں؟ کیا اس میں اور کسی احتمال کی گنجائش نہیں؟
کیا انسانی عقل وتجربہ یہاں کسی اور احتمال کو جگہ نہیں دیتا؟ کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی اور مصنف نے مرزا صاحب کی پانچ کتابوں سے یہ اقتباسات بلاحوالہ اپنی کتاب میں لئے ہوں یا مرزا صاحب نے انہیں اس سے لے کر اپنی پانچ کتابوں میں جگہ دی ہو، اور حضرت تھانویؒ نے انہیں اس مصنف کی اصل کتاب سے لیا ہو؟ ان سب احتمالات کے ہوتے ہوئے ایک ہی رٹ لگائے جانا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے ہی لئے ہیں اور انہیں عقل گم کردینے والے انکشاف کے نام سے عوام کے سامنے لانا، قادیانی علم کلام کی ہی انتہا ہے۔
قادیانی حضرات کہتے ہیں کہ یہ سب احتمالات عقلی ہیں اور ایسے موضوعات میں محض امکان کوئی وزن نہیں رکھتا، صرف اسی احتمال کو اہمیت دی جاسکتی ہے جو ناشئ عن الدلیل ہو، ہم جواباً کہیں گے کہ حضرت تھانویؒ نے جب واشگاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ انہوں نے یہ اقتباسات ایک کتاب سے لئے ہیں (نہ کہ پانچ کتابوں سے) تو کیا یہ دلیل اس احتمال کو جگہ نہیں دیتی کہ حضرت تھانویؒ کے سامنے واقعی کوئی اور کتاب ہو، اس ناشئ عن الدلیل احتمال کو کلیتاً نظر انداز کرنا اور اس پر اعتراض کرنا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین لازماً مرزا صاحب کی کتابوں سے ہی لئے، محض ضد نہیں
تو اور کیا ہے؟
دوست محمد شاہد، محمد بشیر ہرل اور عبداللہ ایمن زئی میں کچھ بھی تحقیق کا پاس ہوتا تو وہ اس کتاب کی ضرور تلاش کرتے جس میں مرزا صاحب کی پانچ کتابوں کے اقتباسات ایک ہی جگہ مل جائیں، مگر افسوس کہ انہیں اس کی توفیق نہ ہوئی، حضرت تھانویؒ کی اس بات کو صحیح مانا جائے کہ انہوں نے یہ مضامین واقعی ایک کتاب سے لئے ہیں، تو پھر ان دو احتمالات میں سے ایک کو جگہ دینی ہوگی اور تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ عبارات یقیناً مرزا صاحب کی کتابوں سے نہیں لیں، ہم نے دوست محمد شاہد کے اس انکشاف کا مطالعہ کیا اور پھر ایمن زئی صاحب کی بھی زلزلہ فگن کتاب دیکھی تو اس یقین سے چارہ نہ رہا کہ حضرت تھانویؒ نے قطعا یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے نہیں لئے، اس پر ہم نے ہفت روزہ ”خدام الدین“ لاہور کی ۱۶؍ ستمبر ۱۹۸۳ کی اشاعت میں اس عنوان کے تحت لکھا:
”صورت حال کا صحیح جائزہ“
”قادیانیوں نے اس بحث میں اب تک جتنے مضامین لکھے ہیں، ان میں سے کسی میں حضرت مولانا تھانویؒ کی دیانت اور نیت پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا، معلوم ہوتا ہے کہ ان کی صدقِ مقالی پر انہیں بھی عمومی اتفاق ہے۔
مولانا تھانویؒ ”المصالح العقلیہ“ کے مقدمہ میں تصریح کرتے ہیں کہ انہوں نے کئی مضامین ایک ایسی کتاب سے نقل کئے ہیں، جس میں بیشتر باتیں غلط تھیں، مولانا تھانویؒ نے اس ایک کتاب کے سوا اور کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا، معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس ایسی کتاب ایک ہی تھی۔
مگر دوسری طرف یہ بات بھی ہے کہ حضرت تھانویؒ
کی اس کتاب ”المصالح العقلیہ“ میں مرزا صاحب کی پانچ کتابوں کی عبارات ملتی ہیں، سوال یہ ہے کہ حضرت تھانویؒ اپنے مقدمہ میں اگر ایک کتاب کا ذکر کر سکتے تھے تو پانچ کتابوں کا ذکر کرنے میں انہیں انکار کی کیا وجہ ہو سکتی تھی؟ کوئی نہیں! سو ہم یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ آپؒ کے سامنے واقعی ایسی کتاب ایک تھی، جیسا کہ آپؒ نے بیان کیا نہ کہ پانچ، تاہم یہ حقیقت ہے کہ المصالح العقلیہ“ میں مرزا صاحب کی پانچ کتابوں کی عبارات موجود ہیں۔“
قادیانی مضمون نگار اپنے کسی مضمون میں اس تعارض کو حل نہیں کر پائے، نہ انہوں نے کوئی اور خارجی حوالہ پیش کیا کہ حضرت مولانا تھانویؒ نے یہ مضامین واقعی مرزا صاحب کی پانچ کتابوں سے ہی اخذ کئے ہیں۔
رفع تعارض:
رفع تعارض کے لئے تمام عقلی احتمالات سامنے لائے جاتے ہیں، یہاں رفع تعارض اس صورت میں ہوتا ہے کہ کسی اور کتاب کو مرزا صاحب اور حضرت مولانا تھانویؒ میں واسطہ بنایا جائے اور سمجھایا جائے کہ اس کتاب میں مرزا صاحب کی پانچ کتابوں کے مضامین بلاحوالہ منقول ہوں گے، اور مولانا تھانویؒ نے اس کتاب سے وہ مضامین اپنی کتاب میں لئے ہوں گے، رفع تعارض کے لئے سب احتمالات کو دیکھنا ہوتا ہے، راقم الحروف نے اس رفع تعارض کے لئے ”عین ممکن ہے“ اور ”یہ بھی ممکن ہے“ کے پہلوؤں پر اگر توجہ دلائی ہے تو کوئی گناہ نہیں کیا، معلوم ہوتا ہے کہ جناب محمد بشیر ہرل علمی مضامین اور تاریخی تحقیقات کے کوچہ میں کبھی بھول کر بھی نہیں گزرے، ورنہ وہ کبھی اسے عذر گناہ بدتر از گناہ کا عنوان نہ دیتے۔
قادیانی حضرات اس پر بہت سیخ پا ہوئے لیکن علمی طور پر وہ ان دو احتمالات کی راہ بند نہ کرسکے، ہمارے پیش کردہ احتمال ناشئ عن الدلیل تھے اور قادیانیوں کو انہیں قرار واقعی جگہ دینی چاہئے تھی، مگر وہ تو اسی نشہ میں ڈوبے ہوئے تھے کہ انہوں نے واقعی عقل کو گم کردینے والے انکشافات کئے ہیں، ہم عرض کریں گے کہ ان سے عقل تمہاری گم ہوئی ہے، جنہوں نے اور طرف سوچنا ہی چھوڑ دیا، ہماری نہیں جنہوں نے صورتِ حال کا صحیح جائزہ لیا۔
قادیانیوں کو نصف صدی بعد یہ انکشاف کیوں ہوا؟
حضرت مولانا تھانویؒ کو دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً نصف صدی ہو رہی ہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ قادیانیوں نے اب اس مسئلہ کو کیوں اٹھایا؟ اور نصف صدی کے قریب اس پر کیوں خاموش رہے؟ اگر یہ بات اس وقت اٹھائی جاتی جب حضرت تھانویؒ کے وہ احباب اور خلفا موجود تھے جو اپنے وقت کے اساطین علم بھی تھے اور حضرت تھانویؒ سے بھی بہت قریبی تعلق رکھتے تھے، تو فوراً بتا دیتے کہ حضرت تھانویؒ نے کس ایک کتاب سے یہ اقتباسات لئے، لیکن قادیانیوں نے یہ بات اس وقت اٹھائی جب حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھیؒ، محدث العصر حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب سہارنپوریؒ اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ ایک ایک کر کے جاچکے تھے، جونہی حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کی وفات ہوئی، قادیانی یہ انکشاف لے کر سامنے آگئے کہ شاید اب اس دور کا کوئی شخص نہ ملے جو حضرت تھانویؒ کی اس تالیف کا پس منظر سامنے لاسکے۔
قادیانیوں کی اتنی طویل خاموشی خود اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ عبارات مرزا صاحب کی کتابوں سے نہیں
لیں، لیکن محض اس امید پر کہ اب شاید اس دور کا کوئی آدمی نہ رہا ہو جو صورتِ واقعہ کی عینی شہادت دے سکے، وہ اچانک یہ انکشاف سامنے لے آئے۔
اہل اسلام کی طرف سے جوابی کاروائی:
ہم نے دوست محمد شاہد کے اس انکشاف کو پڑھتے ہی مذکورہ بالا احتمالات جو ناشی عن الدلیل تھے، پیش کر دیئے تھے، تاکہ فریقین اس ایک کتاب کی تلاش کریں جہاں سے مرزا صاحب اور مولانا تھانویؒ دونوں نے یہ اقتباسات لیے ہیں، لیکن بجائے اس کے کہ ہماری اس درخواست پر کچھ عمل کیا جاتا، عبداللہ ایمن زئی نے ’’کمالاتِ اشرفیہ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ اس پر لکھ مارا، اور وہی لکیر پیٹتے رہے کہ کچھ بھی ہو، حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے ہی لئے ہیں۔
دوست محمد شاہد تو اس مذکورہ انکشاف کے بعد سامنے نہیں آئے، ممکن ہے انہیں وہ کتاب مل گئی ہو، جہاں سے حضرت تھانویؒ نے یہ اقتباسات لئے تھے، لیکن ان کی جماعت کے محمد بشیر ہرل اور عبدالرحیم بھتہ بورے والا، اس پر برابر مصر رہے کہ حضرت تھانویؒ نے یہ ’’کسبِ فیض‘‘ مرزا صاحب کی کتابوں سے ہی کیا ہے، دوست محمد شاہد کو بھی چاہئے تھا کہ اگر انہیں وہ کتاب مل گئی تھی تو اپنے ان ساتھیوں کو بھی اس کا پتہ دے دیتے۔
یہ صحیح ہے کہ ہم نے ان قادیانی مضمون نگاروں کا پورا تعاقب کیا اور ان کے مبلغ و مؤرخ سب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے، اور ہم نے انہیں یہ اصولی بات سمجھائی کہ حضرت تھانویؒ نے اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں جس کتاب کا حوالہ دیا ہے، وہ ایک کتاب ہے، اور حضرتؒ نے یہ باتیں سب اسی کتاب سے لی ہیں، نہ کہ مرزا صاحب کی پانچ کتابوں سے، اور انہیں (قادیانیوں کو) حضرت تھانویؒ کی اس بات کو سچ ماننا چاہئے اور حضرتؒ کا دیا ہوا حوالہ ذکر کرنے کے بغیر اپنے اس انکشاف کو آگے نہ پھیلانا
چاہئے، کیونکہ یہ ایک انکشاف نہ ہوگا، ایک خیانت ہوگی۔
حضرت تھانویؒ کے اصل ماخذ کی نشاندہی:
یہ کتاب مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک ہم عصر مولوی محمد فضل خان کی کتاب ہے، جو موضع جنگا بکریاں، تحصیل گوجر خان، ضلع راولپنڈی کے رہنے والے تھے، انگریز حکومت کے خاصے مداح تھے، ایک مجلس کی طلاق ثلاثہ کے بارے میں انہوں نے جو لکھا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ غیر مقلد تھے، مرزا غلام احمد کی پانچوں کتابوں کے اقتباسات اس کتاب میں مختلف مواقع پر من وعن موجود ہیں، اس مؤلف نے مرزا صاحب کی کتابوں سے یہ مضامین لئے ہیں، یا مرزا صاحب نے اس کے مسودات سے یہ مضامین نقل کئے ہیں، یا دونوں نے اپنے سے پہلے کی کسی کتاب سے لئے ہیں؟ سردست ہم اس پر بحث نہیں کرتے، اس وقت صرف حضرت تھانویؒ کی برأت پیش نظر ہے کہ حضرتؒ نے یہ مضامین مرزا غلام احمد کی کتابوں سے ہرگز نہیں لئے، اس ایک کتاب سے لئے ہیں، اور اس کتاب کا نام ”اسرارِ شریعت“ ہے۔
”اسرارِ شریعت“ کا تعارف:
اسرارِ شریعت تین ضخیم جلدوں میں ایک اردو تالیف ہے، مؤلف نے شریعت کے جملہ مسائل و احکام کو عقلی اور فطری استناد مہیا کرنے کی ایک بھر پور کوشش کی ہے، ناپختہ علم کے باعث جا بجا ٹھوکریں بھی کھائی ہیں اور بے بنیاد باتیں بھی بہت کی ہیں، تاہم یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مؤلف مذکور کو اس عظیم مہم کو سرانجام دینے میں تیرہ سو سال کے علمائے اسلام اور فلاسفۂ حکمت کی کتابوں کا مطالعہ کرنا پڑا ہوگا، یہ کاوش ان کی پوری زندگی کا نچوڑ معلوم ہوتی ہے، اس کتاب میں ضمنی طور پر بعض مسائل شریعت کو عقل کے ڈھانچے میں نہیں ڈھالا گیا، بلکہ جملہ مسائل شریعت کو باب وار عقلی اور فطری استناد مہیا کیا گیا ہے، سو اس باب میں یہ کتاب اصل الاصول کی حیثیت رکھتی ہے، بڑی
جامع اور ضخیم کتاب ہے، مرزا صاحب نے اپنی پانچ کتابوں میں جہاں یہ بحثیں کی ہیں، ان کتابوں کا موضوع مسائل شریعت کا فطری جائزہ نہیں، سوائے ایک کتاب کے (اسلامی اصول کی فلاسفی)، باقی سب کتابوں کے موضوع دوسرے ہیں، مرزا صاحب نے ان میں ضمناً یہ عقلی مباحث ذکر کئے ہیں، کتابوں کے نام خود ان مختلف موضوعات کا پتہ دے رہے ہیں، کشتی نوح، آریہ دھرم، برکات الدعاء، نسیم دعوت وغیرہ، سو اس میں شک نہیں کہ کتاب ”اسرارِ شریعت“ اس موضوع کی ایک اصولی کتاب ہے، اور مرزا صاحب کی کتابیں ضمناً کہیں کہیں ان عقلی مباحث کو لے آئی ہیں۔ ”اسرارِ شریعت“ تین جلدوں کی ایک ضخیم کتاب ہے، جسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مؤلف کے کم از کم پندرہ بیس سال اس کتاب کی تالیف پر لگے ہوں گے، مؤلف نے اس کے سر ورق پر لکھا ہے:
”یہ کتاب صرف میری طبع زاد یا خیالات کا نتیجہ نہیں، بلکہ اسلام میں تیرہ سو سال سے اس زمانہ تک جو بڑے بڑے مشہور و معروف روحانی فلاسفر اور ربانی علمائے کرام اسلام گزرے ہیں، اکثر مسائل کے اسرار و فلاسفیاں ان کی تقاریر مقدسہ سے بھی اخذ کی گئی ہیں، الغرض اسلامی تائید کے لئے اردو زبان میں جامع و بے نظیر اس فن میں یہی ایک کتاب شائع ہوئی ہے، اور اسلامی علوم کے اسرار بیان کرنے میں بحر محیط ہے۔“
اہلِ علم اور اہلِ قلم پر مخفی نہیں کہ تیرہ سو سال کے بڑے بڑے علما کی کتابوں کو کھنگالنا، ان کے خلاصے نکالنے اور ان پر غور و فکر کرنا اور پھر انہیں اپنے الفاظ میں باب وار لانا اور تین ضخیم جلدوں پر ایک بحر محیط پیش کرنا، کوئی ایسا کام نہیں جو چار پانچ سال کی پیداوار ہو، یہ عظیم کام پندرہ بیس سال سے کم کسی طرح اس نہج پر ترتیب نہیں پاسکتا، بلکہ مؤلف کی پوری زندگی کا حاصل ہے، اس کتاب کے اس مختصر تعارف کے
بعد اب ہم بھی چند انکشافات ہدیۂ قارئین پیش کرتے ہیں:
انکشاف :۱:
مرزا غلام احمد کی وفات ۱۳۲۶ھ میں ۶۸ سال کی عمر میں ہوئی، اسرار شریعت ۱۳۲۷ھ میں شائع ہوئی، ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد کی زندگی میں ہی کتاب نے ترتیب پائی اور جونہی یہ کتاب شائع ہوئی، قادیانی سربراہ حکیم نور الدین نے بیس کتابوں کا آرڈر دے دیا اور اسے عام تقسیم کردیا، قادیانیوں کی اس قسم کی کاروائی پتہ دیتی ہے کہ قادیانی علمی حلقے اس کتاب کی اشاعت سے پہلے اس کتاب سے واقف تھے، اور انہیں اس کی اشاعت کا شدید انتظار تھا، ورنہ کسی کتاب کا اشتہار دیکھ کر انسان پہلے وہ کتاب منگاتا ہے، اسے صحیح پائے تو مزید نسخوں کا آرڈر دیتا ہے، اسرار شریعت جلد دوم کے آخری صفحہ پر مؤلف مولوی محمد فضل خاں صاحب لکھتے ہیں:
”علامہ حکیم نور الدین صاحب امام فرقہ احمدیہ نے کتاب اسرار شریعت کا اشتہار دیکھتے ہی محض از راہ امداد اسلامی بیس نسخے خریدنے کا خط خاکسار کو لکھا اور بعد طبع سالم قیمت پر بیس نسخے خرید لئے......“
یہ خط کب لکھا گیا؟ کتاب کی طباعت سے پہلے، کتاب چھپنے پر، سالم قیمت پر بیس کتابیں خرید لی گئیں، کتاب کب شائع ہوئی؟ ۱۳۲۷ھ میں! ظاہر ہے کہ یہ خط کتاب کے اشتہار پر ایک دو سال پہلے لکھا گیا ہوگا، ان دنوں کتابوں کے اشتہار ان کی اشاعت سے کافی پہلے نکلتے تھے، خود مرزا غلام احمد کی کتاب ”براہین احمدیہ“ کا اشتہار اس کے چھپنے سے کتنا پہلے نکلا تھا؟ سو اس میں شک نہیں کیا جاسکتا کہ حکیم نور الدین صاحب کا یہ خط خود مرزا صاحب کی زندگی میں لکھا گیا تھا، اور متبادر یہی ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے ایما سے ہی لکھا گیا ہوگا، ہاں جس وقت مؤلف نے مذکورہ بالا
نوٹ لکھا، اس وقت حکیم نور الدین صاحب بے شک جماعت کے امام بن چکے تھے، اگر یہ خط واقعی مرزا صاحب کے ایما سے لکھا گیا تھا تو ظاہر ہے کہ مرزا صاحب اس کتاب کی اشاعت سے پہلے اس سے اچھی طرح باخبر تھے، اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ مسودہ یا مؤلف کی بعض تحریرات خطوط کی شکل میں ان کی نظر سے گزری ہوں اور مؤلف نے ان کی علمی امداد کے لئے انہیں بھیجی ہوں۔
انکشاف: ۲:
حکیم نور الدین صاحب سے زیادہ کون مرزا صاحب کے قریب ہوگا، اور ان سے زیادہ کس کی مرزا صاحب کی کتابوں پر نظر ہوگی؟ انہوں نے کتاب اسرارِ شریعت اتنے شوق سے منگائی بھی اور پڑھی بھی، اور اس میں بعض لمبے لمبے مضامین کو مرزا صاحب کی کتابوں سے لفظ بہ لفظ ملتے بھی پایا، اور یہ بھی ملاحظہ کیا کہ مصنف نے ان عبارات کے آگے مرزا صاحب کی کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا، اس پر حکیم نور الدین صاحب اور ان کے حلقے کے لوگ برابر خاموش رہے اور کسی نے یہ بات نہ اٹھائی کہ اس کے بعض مندرجات مرزا صاحب کی پانچ کتابوں کے مندرجات سے ہو بہو ملتے ہیں۔ حکیم نور الدین صاحب یا ان کے کسی ساتھی نے یہ آواز کیوں نہ اٹھائی؟ اور عقل کو گم کردینے والا انکشاف آج نصف صدی بعد مولانا تھانویؒ کے خلاف ہورہا ہے، اور اسی وقت مولوی محمد فضل خاں آف گوجر خاں کے خلاف کیوں نہ ہوسکا؟
اس کا ایک ہی جواب ہے جو قرین قیاس ہے وہ یہ کہ اس وقت مولوی محمد فضل خاں زندہ تھے، جو اس بات پر واضح طور پر کہہ سکتے تھے کہ مرزا غلام احمد نے ان مضامین کا کسب فیض خود ان سے کیا ہے، اور یہ کہ مرزا صاحب کی عادت تھی کہ اپنی کتابوں کے دوران تصنیف وہ وقت کے دیگر اہل قلم سے علمی امداد لیتے رہتے تھے، اگر اس بات کے کھلنے کا ڈر نہ تھا تو بتلائیے کہ حکیم نور الدین صاحب اور ان کے احباب
اس پر بالکل خاموش کیوں رہے؟ اور پوری جماعت پون صدی تک اس پر خاموش کیوں رہی؟ آئندہ ہم ان اقتباسات کو جو دوست محمد شاہد یا عبداللہ ایمن زئی نے مرزا غلام احمد اور حضرت تھانویؒ کی عبارات کے تقابلی مطالعہ میں پیش کئے ہیں، مولوی محمد فضل خاں اور مرزا غلام احمد کی تقابلی عبارات میں پیش کریں گے۔
انکشاف: ۳:
یہ گمان نہ کیا جائے کہ مولوی محمد فضل خاں نے ان مضامین پر مرزا غلام احمد کا حوالہ اس لئے نہ دیا ہوگا کہ عام لوگ ان کے مخالف نہ ہوجائیں، یہ وہ توجیہ ہے جو عبداللہ ایمن زئی نے حضرت تھانویؒ کے بارے میں اختیار کی ہے۔ ایمن زئی صاحب حضرت تھانویؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:
”انہوں نے مرزا صاحب کی کتابوں کے صفحات نقل کرتے ہوئے ان کی کتب کے حوالے کیوں درج نہیں کئے..... اگر حضرت تھانویؒ اپنی کتاب میں مرزا صاحب کا نام، یا ان کی کسی کتاب کا نام درج کر دیتے تو متعصب اور تنگ نظر لوگ ان کی جان کے دشمن ہوجاتے اور ان کی کتاب کو نذرِ آتش کردیتے۔“
(کمالاتِ اشرفیہ ص: ۴۵، ۴۶)
ممکن ہے قادیانی مضمون نگار مولوی محمد فضل خاں کے بارے میں بھی یہی توجیہ اختیار کریں، ہم جواباً عرض کریں گے: یہاں ایسا کوئی احتمال سرے سے نہیں ہے، مولوی محمد فضل خاں نے اس کتاب ”اسرارِ شریعت“ میں بعض مضامین مرزا غلام احمد کے دوسرے ساتھیوں سے لئے ہیں، اور انہیں ان کا حوالہ دے کر اپنی کتاب میں جگہ دی ہے، غلامی کی فلاسفی پر مولوی محمد علی لاہوری کا ایک پورا مضمون مصنف نے اپنی اس کتاب کی دوسری جلد کے صفحہ: ۲۶۵ پر دیا ہے، جو صفحہ: ۳۲۹ تک پھیلتا چلا گیا
ہے، مضمون کے آخر میں لکھا ہے:
”حقیقت غلامی کا مضمون رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ مؤلفہ علامہ مولوی محمد علی سے لیا گیا ہے۔“
(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۲۹)
مؤلف نے ایک مقام پر مرزا غلام احمد کا بھی نام لیا ہے، اور انہیں ایسے الفاظ سے ذکر کیا ہے جسے دیندار مسلمان کسی طرح بھی پسند نہیں کرتے، لیکن مؤلف نے کسی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مرزا صاحب کا نام واضح طور پر لیا ہے، حکیم نور الدین صاحب کا حوالہ بھی ایک جگہ دیا ہے (اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۸۰) ، مرزا غلام احمد کے بارے میں موصوف لکھتے ہیں:
”مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مرحوم اور ان کے حلقہ کے لوگ حضرت عیسیٰؑ کو فوت شدہ مانتے اور ان کے نزول بروزی و ظہور مہدی و خروج دجال کے قائل ہیں۔“
(اسرار شریعت ج:۳ ص:۳۷۶)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے متعلق مؤلف مذکور جمہور مسلمانوں کے متفقہ عقیدے کے خلاف واشگاف لفظوں میں لکھتا ہے، اور اسے یہ فکر لاحق نہیں ہوتی کہ لوگ کیا کہیں گے؟ موصوف لکھتے ہیں:
”در حقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ ہے ..... یہ سرّ اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔“
(ایضاً ص:۲۶۱)
ان تصریحات کے ہوتے ہوئے اس احتمال کو قطعاً کوئی راہ نہیں کہ مؤلف نے عامۃ الناس کے دباؤ کے تحت ان اقتباسات کو مرزا صاحب کے نام سے نہ لکھا ہوگا۔ حق یہ ہے کہ اس نے یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے ہرگز نہیں لئے، نہ
اسے دوسروں کی محنت کو اپنے نام سے پیش کرنے کا شوق تھا، اگر وہ مولوی محمد علی لاہوری کا مضمون اس کے نام سے پیش کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا تو مرزا صاحب کی باتیں ان کے نام سے پیش کرنے میں اسے کیا خوف محسوس ہوسکتا تھا؟ سو یہ واضح ہے کہ اس نے یہ عبارات مرزا صاحب سے نہیں لیں۔
انکشاف :۴:
ممکن ہے قادیانی کہیں کہ مرزا صاحب ملہم ربانی تھے اور مولوی محمد فضل خاں ایک عام مؤلف، اور دونوں ایک زمانے کے تھے، سو قرین قیاس یہ ہے کہ مولوی محمد فضل خاں نے مرزا صاحب سے مضامین لئے ہوں، نہ کہ مرزا صاحب نے مولوی محمد فضل خاں سے۔
جواباً گزارش ہے کہ مولوی محمد فضل خاں بھی اپنی جگہ مدعی الہام تھے اور اپنے آپ کو مرزا صاحب سے کم نہ سمجھتے تھے، ایک مقام پر لکھتے ہیں:
”کئی ایام سے میں اسی مضمون بعث اُخروی کو مرتب کر رہا ہوں، پرسوں دوپہر کے وقت لکھتے ہوئے مجھ پر نیند غالب آگئی، اور بین النوم والیقظہ مجھ پر ایک حالت طاری ہوئی، جس کو میری روح اور جسم دونوں نے یکساں محسوس کیا، اور مجھے معلوم ہوا کہ حشر اجسام ضرور ہوگا، اور قبر و حشر میں عذاب و ثواب روح و جسم دونوں پر ہوگا ..... لیکن اس اجمال کی تفصیل منکشف نہیں ہوئی۔“
(اسرار شریعت ج:۳ ص:۴۹۰)
مؤلف جب خود اس روحانی مقام کے مدعی ہیں کہ ایسی کیفیات ان پر اجمالاً منکشف ہوں تو ظاہر ہے کہ انہیں مرزا صاحب کی کتابوں سے ان اقتباسات کو بلا حوالہ لینے کی قطعاً کوئی ضرورت نہ تھی، سو قرین قیاس یہی ہے کہ خود مرزا صاحب نے ہی ان
سے قلمی استفادہ کیا ہوگا، ورنہ ان کی جماعت کے لوگ ”اسرار شریعت“ کے ان مندرجات پر ضرور سوال اٹھاتے۔
ایک سوال:
یہ بات کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مولوی محمد فضل خاں کے قلمی مسودات سے یا ان کے خطوط سے یہ مضامین لئے ہوں، تبھی لائق تسلیم ہو سکتی ہے کہ مرزا نے کبھی اپنی کتابوں کے دوران تالیف وقت کے دوسرے اہل علم سے مدد مانگی ہو، اور انہیں کہا ہو کہ وہ اپنی کتابوں میں ان کے مضامین کو بھی حسب موقع جگہ دیں گے، اور اس طرح اسلام کی ایک مشترکہ خدمت ہوگی۔
جواباً عرض ہے کہ ہاں مرزا غلام احمد کی واقعی عادت تھی کہ وہ وقت کے دیگر اہل علم سے علمی مدد مانگتے اور انہیں برملا کہتے کہ وہ اسے اپنی کتابوں میں حسب موقع جگہ دیں گے، سو کیا یہ ممکن نہیں کہ مرزا صاحب نے مولوی محمد فضل خاں صاحب سے بھی اسی قسم کی مدد مانگی ہو، اور یہ اقتباسات مولوی محمد فضل خاں کے ہوں، جنہیں مرزا صاحب نے اپنی پانچ کتابوں میں حسب موقع پھیلا دیا ہے۔
انکشاف: ۵:
مرزا غلام احمد قادیانی کی عام عادت تھی کہ وہ اپنی کتابوں کے دوران تالیف، وقت کے دوسرے اہل علم سے مدد مانگتے تھے، اس سلسلے میں ہم مرزا صاحب کے ہی چند خطوط پیش کرتے ہیں، جو انہوں نے مولوی چراغ علی صاحب (متوفی ۱۸۹۵ء) کو لکھے تھے، ڈاکٹر مولوی عبدالحق صاحب آنریری سیکرٹری انجمن ترقی اردو سلسلہ مطبوعات انجمن ترقی اردو پاکستان نمبر: ۱۹۲ میں چند ہم عصر کے نام سے مولوی چراغ علی صاحب کے ذکر میں لکھتے ہیں:
”جس وقت ہم مولوی صاحب مرحوم کے حالات کی
جستجو میں تھے تو ہمیں مولوی صاحب کے کاغذات میں سے چند خطوط مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مرحوم کے بھی ملے، جو انہوں نے مولوی صاحب کو لکھے تھے، اور اپنی مشہور اور پُر زور کتاب ”براہین احمدیہ“ کی تالیف میں مدد طلب کی تھی۔“
(چند ہم عصر ص: ۴۸، ناظم پریس کراچی طبع ۱۹۵۰ء)
مرزا غلام احمد قادیانی کے دوسروں سے کسبِ فیض کرنے کے بارے میں یہ ایک غیر جانبدار شہادت ہے، مولوی عبدالحق صاحب کا مرزا غلام احمد کے نام کے ساتھ ”مرحوم“ لکھنا، اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ مولوی عبدالحق صاحب قادیانی اختلافات میں جمہور علمائے اسلام کے ساتھ نہ تھے، اور مرزا صاحب کی تکفیر نہ کرتے تھے، سو ان کی یہ شہادت ایک غیر جانبدار شہادت ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہئے، ممکن ہے اسی طرح کے خطوط مرزا صاحب نے مولوی محمد فضل خاں کو بھی لکھے ہوں۔
اب ہم یہاں مرزا صاحب کے چار خط نقل کرتے ہیں، جو اس نے مولوی چراغ علی صاحب کو لکھے، معلوم نہیں اس قسم کے اور کتنے لاتعداد خطوط ہوں گے، جو مرزا صاحب نے وقت کے دیگر اہل علم کو لکھے ہوں گے؟
مرزا قادیانی کا خط بنام مولوی چراغ علی صاحب:
”آپ کا افتخار نامہ محبت آمود ...... عِزّ ورود لایا۔ اگرچہ پہلے سے مجھ کو بہ نیت الزام خصم اجتماع براہین قطعیہ اثبات نبوت و حقیقت قرآن شریف میں ایک عرصے سے سرگرمی تھی کہ جناب کا ارشاد موجب گرم جوشی و باعث اشتعال شعلہ حمیت اسلام علی صاحبہ السلام ہوا، اور موجب ازدیاد و تقویت و توسیع حوصلہ خیال کیا گیا کہ جب آپ سا اولوالعزم صاحب فضیلت
دینی و دنیوی تہہ دل سے حامی ہو اور تائید دین حق میں دل گرمی کا اظہار فرمادے تو بلاشائبہ ریب اس کو تائید غیبی خیال کرنا چاہئے، جزاکم اللہ نعم الجزاء۔
ما سوائے اس کے اگر اب تک کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج طبع عالی سے طبع فرمائے ہوں وہ بھی مرحمت ہوں۔“
(چند ہم عصر مولوی عبدالحق ص: ۴۴ طبع اردو اکیڈمی کراچی)
(مرزا صاحب یہاں وہ مضامین مانگ رہے ہیں جو کہیں چھپے ہوئے نہیں، مولوی صاحب کے اپنے طبع زاد اور ان کی اپنی فکر کا نتیجہ ہوں، مرزا صاحب یہاں انہیں اپنے مضامین میں جگہ دینا چاہتے ہیں، اسی طرح اگر مرزا صاحب نے مولوی محمد فضل خاں سے علمی مدد مانگی ہو، یا ان کے قلمی مسودوں سے استفادہ کیا ہو، یہ بالکل قرین قیاس ہے، کوئی تعجب کی بات نہیں۔)
مرزا قادیانی کا دوسرا خط بنام مولوی چراغ علی صاحب:
”آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی، پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ، نہ مضمون پہنچا، اس لئے آج مکرر تکلیف دیتا ہوں کہ براہِ عنایت بزرگانہ بہت جلد مضمون اثبات حقانیت قرآن مجید تیار کر کے میرے پاس بھیج دیں، اور میں نے بھی ایک کتاب جو دس حصہ پر مشتمل ہے، تصنیف کی ہے اور نام اس کا ”براہین احمدیہ علیٰ حقانیت کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ“ رکھا ہے۔ اور صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد جرائد بھی اس میں درج کروں اور اپنے محقر کلام سے ان کو زیب و زینت بخشوں۔ سو اس امر میں آپ توقف نہ فرمائیں اور جہاں
تک جلد ہو سکے مجھ کو مضمون مبارک اپنے سے ممنون فرماویں“
(چند ہم عصر ص: ۲۵)
(معلوم ہوا مرزا صاحب کی عادت تھی کہ وقت کے دوسرے اہل علم سے بذریعہ خط و کتابت علمی استفادہ کرتے تھے، اور ان کے طبع زاد مضامین کو اپنی کتابوں میں جگہ دیتے تھے، مرزا صاحب کی کتابوں میں ”اسرار شریعت“ کے مضامین اسی قبیل سے معلوم ہوتے ہیں، دوسروں کے مضامین کو اپنی کتابوں میں جگہ دینا اور انہیں اپنے ”محقر کلام“ میں ملا دینا، مرزا غلام احمد کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔)
مرزا قادیانی کا ایک اور خط مولوی چراغ علی صاحب کے نام:
(یہ خط ۱۹؍ فروری ۱۸۷۹ء کا ہے)
”قرآن مجید کے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے ثبوت میں آپ کا مدد کرنا باعث ممنونی ہے، نہ موجب ناگواری، میں نے بھی اسی بارے میں ایک چھوٹا سا رسالہ تالیف کرنا شروع کیا ہے اور خدا کے فضل سے یقین کرتا ہوں کہ عنقریب چھپ کر شائع ہوجائے گا، پس آپ اگر مرضی ہو تو جو جو بات صداقتِ قرآن جو آپ کے دل پر القا ہوں (قرآن مجید کی صداقت پر مولوی چراغ علی کے دلائل اپنے رسالہ میں مختلف مواقع پر درج کرنا، مرزا صاحب کے ذوقِ تصنیف کا پتہ دے رہا ہے، مضامین القا تو ہوں مولوی چراغ علی کے دل میں، چھپیں مرزا غلام احمد کے نام سے، سلطان القلم کا یہ عجیب ذوقِ تصنیف ہے) میرے پاس بھیج دیں، تاکہ اسی رسالہ میں حسب مواقع اندراج پاجائے، یا سفیر ہند میں۔ لیکن جو براہین (جیسے معجزات وغیرہ) زمانہ گزشتہ سے تعلق رکھتے ہوں، ان کا تحریر کرنا ضروری نہیں کہ منقولات مخالف
پر حجت قویہ نہیں ہوسکتیں۔ جو نفس الامر میں خوبی اور عمدگی کتاب اللہ میں پائی جائے یا عندالعقل اس کی ضرورت ہو وہ دکھلانی چاہئے، بہر صورت میں اس دن بہت خوش ہوں گا کہ جب میری نظر آپ کے مضمون پر پڑے گی۔ (دوسروں کے مضمونوں کا انتظار اور ان کی طلب میں یہ لجاجت اور عاجزی آج تک کسی ایسے شخص کے کلام میں نہیں دیکھی گئی جو آسمانی امامت کا مدعی ہو اور الہامی علوم کا دعویدار ہو، مرزا صاحب کی یہ عاجزی یا وقت کے ان اہل علم کے سامنے ہوتی ہے جن سے انہیں علمی مدد ملتی ہو، یا انگریزوں کے سامنے جن کے مراہم خسروانہ مرزا صاحب کے شامل حال ہوتے تھے)، آپ بمقتضا اس کے کہ ”الکریم اذا وعد وفٰی“ مضمون تحریر فرمادیں، لیکن یہ کوشش کریں کہ ”کیف ما اتفق“ مجھ کو اس سے اطلاع ہوجائے۔“
(چند ہم عصر ص:۴۶، ۴۷)
مرزا غلام احمد کا ایک خط بنام مولوی چراغ علی:
(یہ خط ۱۰ مئی ۱۸۷۹ء کا ہے)
”کتاب (براہین احمدیہ) ڈیڑھ سو جزو ہے، جس کی لاگت تخمیناً نو سو چالیس روپے ہے، اور آپ کی تحریر ملحق ہوکر اور بھی زیادہ ضخامت ہوجائے گی۔“
(چند ہم عصر ص:۴۷)
مولوی عبدالحق صاحب ان خطوط کو نقل کرنے کے بعد اپنی رائے ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں، اور یہ رائے ہماری رائے کے بہت قریب ہے: ”ان تحریروں سے ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ مولوی صاحب مرحوم نے مرزا صاحب مرحوم کو ”براہین احمدیہ“
کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی ہے۔“
(چند ہم عصر ص: ۵۰)
اس انکشاف کے بعد اس بات کے جاننے میں کوئی دقت نہیں رہی کہ مولوی محمد فضل خاں کے بعض مضامین شائع ہونے سے پہلے مرزا صاحب کی کتابوں میں کیسے آگئے؟
حرمت خنزیر:
مرزا صاحب حرمت خنزیر پر بحث کرتے ہوئے ’’اسلامی اصولوں کی فلاسفی‘‘ میں یہ بھی لکھ گئے ہیں کہ حرمت خنزیر، اسلام کی خصوصیات میں سے ہے جو پہلی شریعتوں میں نہ تھی، (ملاحظہ ہو اسلامی اصولوں کی فلاسفی بحث حرمت خنزیر)، حالانکہ قرآن شریف نے ہی خنزیر کو حرام قرار نہیں دیا، اس سے پہلے تورات میں بھی اس کی حرمت بیان کی گئی تھی، جس طرح مسلمان یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی اصول کی فلاسفی دیکھو کہ خنزیر جیسے نجاست خور اور بے غیرت جانور کو حرام کیا گیا، یہودی بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ اصول تمہارے ہاں ہی کارفرما نہیں، ہمارے ہاں بھی اسی طرح کارفرما ہے، تورات میں ہے:
”اور سور تمہارے لئے اس سبب سے ناپاک ہے کہ اس کے پاؤں تو چرے ہوئے ہیں پر وہ جگالی نہیں کرتا، تم نہ تو ان کا گوشت کھانا اور نہ ان کی لاش کو ہاتھ لگانا۔“
(کتاب مقدس استثنا باب:۱۴، آیت: ۸،۷)
ظاہر ہے کہ اس صورت میں اسے وجوہ حرمت خنزیر میں تو ذکر کیا جاسکتا ہے، تقابلی جلسہ مذاہب میں نہیں، جلسہ مذاہب میں وہی بات ہوتی ہے جو اور کسی مذہب میں نہ ہو، تاکہ اپنے مذہب کا امتیاز ظاہر کیا جاسکے، معلوم نہیں مرزا غلام احمد
قادیانی نے حرمت خنزیر کا یہ مسئلہ جلسہ مذاہب میں کیسے پیش کر دیا، ہو سکتا ہے کہ بعد میں مضمون میں لکھا گیا ہو، اور اس میں ”اسرار شریعت“ سے استفادہ کیا گیا ہو۔ مرزا صاحب نے اسے جن الفاظ میں پیش کیا ہے، ان میں عبارت کی غلطیاں ہیں، مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں: ”یہ جانور اول درجہ کا نجاست خور اور نیز بے غیرت اور دیوث ہے۔“
اس میں ”اور“ کے بعد ”نیز“ کا لفظ لائق غور ہے، ”اور“ کا بھی وہی معنی ہے جو ”نیز“ کا ہے، مرزا صاحب سے اس قسم کی غلطی عجیب فاش غلطی ہے، مرزا صاحب کے یہ الفاظ بھی ہم نے دیکھے ہیں: ”غذاؤں کا بھی انسان کی روح پر ضرور اثر ہے۔“
(اسلامی اصول کی فلاسفی ص ۴۲ طبع ۱۹۶۷ء)
ذہن اسی طرف گیا کہ عبارت یوں ہونی چاہئے: ”روح پر ضرور اثر ہوتا ہے“ مرزا غلام احمد کی اور تحریرات بھی ہم نے دیکھی ہیں، وہ صاحب قلم آدمی تھے، اس قسم کی غلطیاں ان سے متصور نہیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت انہوں نے کسی اور صاحب قلم کے مسودہ سے لی ہے اور اسے اپنا بنانے کے لئے کہیں کہیں بدلا ہے، اور اسی کوشش میں ان سے یہ غلطیاں ہوئی ہیں۔
مولوی محمد فضل خان کی کتاب ”اسرار شریعت“ (جن کے مسودہ سے مرزا صاحب نے یہ مضامین لئے) میں ہے: ”اس بات کا کس کو علم نہیں کہ یہ جانور اول درجہ کا نجاست خور، بے غیرت و دیوث ہے، اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانون قدرت یہی چاہتا ہے کہ ایسے پلید اور
بد جانور کے گوشت کا اثر بدن اور روح پر بھی پلید ہی ہو، کیونکہ یہ بات ثابت شدہ اور مسلم ہے کہ غذاؤں کا اثر بھی انسان کی روح پر ضرور ہوتا ہے، پس اس میں کیا شک ہے کہ ایسے بد کا اثر بھی بد ہی ہوگا، جیسا کہ یونانی طبیبوں نے اسلام سے پہلے ہی یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس جانور کا گوشت بالخاصیت حیا کی قوت کو کم کر دیتا ہے، اور دیوثی کو بڑھاتا ہے۔
(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۳۶، ۳۳۷)
مرزا غلام احمد کی ”اسلامی اصولوں کی فلاسفی“ میں عبارت اس طرح ہے:
”اس بات کا کس کو علم نہیں کہ یہ جانور اولیٰ درجہ کا نجاست خور، بدخو، نیز بے غیرت اور دیوث ہے، اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانونِ قدرت یہی چاہتا ہے کہ ایسے پلید بد جانور کے گوشت کا اثر بھی بدن اور روح پر پلید ہی ہو، کیونکہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ غذاؤں کا بھی انسان کی روح پر ضرور اثر ہے، پس اس میں کیا شک ہے کہ ایسے بد کا اثر بھی بد ہی پڑے گا، جیسا کہ یونانی طبیبوں نے اسلام سے پہلے ہی یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس جانور کا گوشت بالخاصیت حیا کی قوت کو کم کرتا ہے اور دیوثی کو بڑھاتا ہے۔“
(اسلامی اصولوں کی فلاسفی ص:۶۵، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۳۳۸)
یہ دونوں مصنف ایک دور کے ہیں، جو مولانا تھانویؒ سے قریباً ربع صدی پہلے ہوئے ہیں، مولانا تھانویؒ نے جیسا کہ وہ اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھ آئے ہیں کہ انہوں نے بعض مضامین ”ایک کتاب سے لئے ہیں“ یہ مضمون ”اسرارِ شریعت“ سے لیا ہے، خوامخواہ کہے جانا کہ انہوں نے یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے ہی
لئے ہیں، منہ زوری اور سینہ زوری سے زیادہ کچھ وزن نہیں رکھتا، ”اسرارِ شریعت“ میں ”اور نیز“ کے الفاظ نہیں، مولانا تھانویؒ کی عبارت میں بھی یہ الفاظ نہیں ہیں، ان کی عبارت ”اسرارِ شریعت“ کے مطابق ہے، اس میں ہے:
”کیونکہ یہ بات ثابت شدہ اور مسلّم ہے کہ غذاؤں کا اثر بھی انسان کی روح پر ضرور ہوتا ہے۔“
(ص:۳۳۶)
مولانا تھانویؒ کی عبارت بھی یہی ہے، لیکن مرزا صاحب نے اسے اس طرح لکھا ہے:
”کیونکہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ غذاؤں کا بھی انسان کی روح پر ضرور اثر ہے۔“
اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ حضرت تھانویؒ نے یہ اقتباس ”اسرارِ شریعت“ سے لیا ہوگا، یا مرزا غلام احمد کی کتابوں سے، اور عبداللہ ایمن زئی کی اس غلط بیانی کی بھی دل کھول کر داد دیں:
”دیکھئے مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ: ہم ثابت کر چکے ہیں، حضرت تھانویؒ نے ان الفاظ کو اس طرح تبدیل کردیا کہ: یہ بات ثابت شدہ اور مسلّم ہے۔“
دیکھئے کیا یہ الفاظ ”اسرارِ شریعت“ کے نہیں؟ اب ایمن زئی صاحب کا یہ کہنا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ الفاظ بدلے ہیں، کس قدر کھلا جھوٹ ہے، جو قادیانیوں ہی کو زیب دیتا ہے۔
”اسرارِ شریعت“ کی عبارت اصل معلوم ہوتی ہے، مباحثہ عقلیہ میں اپنے خیالات اور نتائج فکر سے استدلال نہیں کیا جاتا، یہاں امورِ مسلّمہ پیش کئے جاتے ہیں، مولوی محمد فضل خاں کا یہ کہنا کہ: ”یہ بات ثابت شدہ اور مسلّم ہے“ ایک وزن رکھتا ہے، اور مرزا صاحب کا یہ کہنا: ”کیونکہ ہم ثابت کر چکے ہیں“ یہ محض ان کا ایک اپنا
نتیجہ فکر ہے، جس کی عام مباحث عقلیہ میں جگہ نہیں ہو سکتی۔
دونوں عبارتوں کو غور سے دیکھو، دونوں میں زیادہ صحیح اور موقع کے مطابق ”اسرار شریعت“ کی عبارت ملے گی، معلوم ہوتا ہے یہی اصل عبارت ہے، مرزا غلام احمد کی عبارت اس میں چند غلطیاں ملا کر مرتب ہوئی ہے، ”اسرار شریعت“ کا مرزا صاحب کی وفات کے ایک سال بعد چھپنا اس سے اس احتمال کی نفی نہیں ہوتی کہ مرزا صاحب کی نظر سے ”اسرار شریعت“ کے کچھ حصے بصورت مسودہ، بطریق خط و کتابت نہ گزرے ہوں گے، خصوصاً جبکہ مؤلف ”اسرارِ شریعت“ قادیان سے بہت قریب کا تعلق رکھتے تھے، دونوں عبارتیں خود بول رہی ہیں کہ اصل کون سی عبارت ہوگی؟ پھر کس نے کس سے لیا ہوگا؟
مرزا صاحب نے اس عبارت میں ایک اور بے ڈھب اضافہ کیا ہے اور وہ قانون قدرت کے الفاظ ہیں، ان پر غور کیجئے۔
اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانونِ قدرت یہی چاہتا ہے کہ ایسے پلید اور بد جانور کے گوشت کا اثر بھی بدن پر پلید ہو۔ یہ عبارت ”اسرار شریعت“ میں ان خط کشیدہ الفاظ کے بغیر ہے، اور حضرت تھانویؒ کی کتاب میں بھی اسی طرح ہے، مگر مرزا غلام احمد کی عبارت میں یہ الفاظ زائد ہیں، آپ ان الفاظ پر غور کریں اور ان کے بغیر عبارت کو آگے پیچھے سے پڑھ کر دیکھیں کہ یہ الفاظ جلی طور پر زائد اور بعد میں ملے ہوئے معلوم ہوں گے۔
ایک پڑھا لکھا آدمی یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ ”اسرارِ شریعت“ کی عبارت یقیناً پہلے کی ہے، گو چھپی بعد میں ہو، اور مرزا صاحب کی عبارت میں چند غلطیوں کا اضافہ ہے، گو وہ چھپی پہلے ہو، اور مرزا صاحب نے اس کے مسودات سے اکتساب فیض کیا ہو، جیسا کہ ان کی عادت تھی کہ وہ معاصر اہل قلم سے علمی امداد لیا کرتے تھے۔
کچھ بھی ہو یہ کوئی علمی معارف یا قرآن کریم کی کوئی عمیق تفسیریں نہیں جو
ان مصنفین پر ہی کھلی ہوں، بلکہ یہ وہ کتابیں ہیں جو ان دونوں نے قبل از اسلام کے یونانی طبیبوں سے لی ہیں، اور دونوں عبارات میں اس کا واضح اعتراف موجود ہے، اب اگر حضرت تھانویؒ نے بھی یہ عبارات ”اسرارِ شریعت“ سے لے لیں تو اس میں کیا اعتراض ہے؟ یہ وہ باتیں ہیں جو کافروں سے بھی لی جاسکتی ہیں، اور اس پر کسی کو تعجب نہ ہونا چاہئے، ہاں یہ حضرت تھانویؒ کا کمالِ دیانت ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں صاف لکھ دیا کہ انہوں نے بعض مضامین ایک کتاب سے لئے ہیں۔
عبداللہ ایمن زکی کا ایک اور جھوٹ:
ایمن زکی صاحب، حضرت مولانا تھانویؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:
”اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ میں جو لٹریچر تخلیق ہوا اور بڑے بڑے علما و مفسرین نے اس مسئلے پر جو کچھ لکھا وہ سب حضرت تھانویؒ کی نظر میں تھا، مگر انہوں نے یہ سارا سرمایہ معرفت ایک طرف رکھ دیا، اور مرزا صاحب نے اپنی کتاب میں حرمت خنزیر کے جو اسباب بیان کئے تھے، وہ اپنی کتاب میں نقل کردیئے۔“
(کمالاتِ اشرفیہ ص:۷)
ایمن زکی صاحب نے خط کشیدہ الفاظ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ مولانا نے اس موضوع پر پہلے لکھے ہوئے لٹریچر کو بالکل درخور اعتنا نہیں سمجھا، اور مرزا صاحب کی عبارت کو اپنی کتاب میں جگہ دی ہے، ہم نے حضرت تھانویؒ کی کتاب پھر اس مقام سے دیکھی، آپؒ نے ”اسرارِ شریعت“ کی عبارت نقل کرنے کے بعد اس موضوع پر پھر اور مواد بھی فراہم کیا ہے، اور ”اسرارِ شریعت“ کی عبارت میں جو کمی رہ گئی تھی اسے دیگر مصنفین کی عبارات سے پُر کیا ہے، بقول ایمن زکی صاحب اسے یوں سمجھئے کہ مرزا صاحب کی عبارت میں جو کمی رہ گئی تھی وہ حضرت تھانویؒ نے ”مخزن الادویہ“
نے پوری کی ہے، حضرت تھانوی لکھتے ہیں:
”صاحب مخزن الادویہ فساد گوشت خوک (خنزیر) اور اس کی حرمت کے کثیرہ وجوہ ذیل تحریر کرتے ہوئے ظاہر فرماتے ہیں کہ اس جانور کا گوشت فطرت انسانی کے برخلاف ہے، وہ لکھتے ہیں کہ:
”گوشت خوک مولد خلط غلیظ است و مورث مرض شدید و صداع مزمن و داء الفیل و اوجاع مفاصل و فساد عقل و زوال مروّت و غیرت و حمیت و باعث برص است و اکثرے از فرق غیر اسلامی آنرا مے خورند و قبل ظہور نور اسلام گوشت آنرا در بازارہا مے فروختند و بعد ازاں در مذہب اسلام حرام و بیع آں ممنوع و موقوف گردید بسیار کثیف و بد ہیئت است۔“
نیز اس کا گوشت کھانے سے انسان پر فوراً سوداوی امراض حملہ آور ہوتے ہیں۔“
(المصالح العقلیہ ص ۲۰۳ طبع دارالاشاعت کراچی)
ناظرین غور فرمائیں کہ حضرت تھانویؒ نے دوسروں کی تحقیقات کیا یکسر نظر انداز کی ہیں، یا انہیں بھی اپنی اس کتاب میں نقل کیا ہے؟
تاثیر دعا:
مولوی محمد فضل خاں نے ”اسرار شریعت“ میں حقیقت دعا و قضا پر ایک مستقل عنوان قائم کیا ہے، اور بات اس طرح واضح کی ہے گویا وہ اصولی طور پر دعا و قضا کی حقیقت سمجھا رہے ہیں، مرزا غلام احمد کا اس موضوع پر سرسید احمد خان سے واسطہ پڑا تھا، آپ نے اس میں عمومی پیرایہ ترک کر کے سرسید کو مخاطب بنایا ہے، ”اسرار شریعت“
مباحث عقلیہ کے موضوع کی ایک اصولی کتاب ہے، اور ایسی کتابوں کا پیرایہ بیان عام ہوتا ہے، ایسی کتابوں میں خاص افراد سے خطاب نہیں ہوتا، اب آپ دونوں کتابوں کو دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ اصل عبارت کون سی ہوگی؟ اور اسے کس نے بدل کر اپنے خاص موضوع میں پیش کیا ہوگا، کچھ بھی ہو حضرت تھانویؒ نے یہ عبارات ”اسرار شریعت“ سے لی ہیں، اور یہ بات ان کے دیئے ہوئے حوالے کے عین مطابق ہے، مرزا صاحب کی کتابوں سے انہوں نے انہیں نقل نہیں کیا، چنانچہ ملاحظہ ہو ”اسرار شریعت“ کا اقتباس:
”اگر چہ دنیا کی کوئی خیر و شر مقدر سے خالی نہیں، تاہم قدرت نے اس کے حصول کے لئے اسباب مقرر کر رکھے ہیں، جن کے صحیح اور سچے اثر میں کسی عقل مند کو کلام نہیں، مثلاً اگرچہ مقدر پر لحاظ کر کے دوا کا کرنا، نہ کرنا در حقیقت ایسا ہی ہے جیسا کہ دعا یا ترکِ دعا، مگر کیا کوئی یہ رائے ظاہر کر سکتا ہے کہ مثلاً علمِ طب سراسر باطل ہے، اور حکیم حقیقی نے دواؤں میں کچھ بھی اثر نہیں رکھا، جبکہ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ تربد او سقمونیا اور سنا اور حب الملوک میں تو ایسا قوی اثر رکھے کہ ان کی پوری خوراک کھانے کے ساتھ ہی دست چھوٹ جاتے ہیں، یا مثلاً سم الفار اور بیش اور دوسری ہلاہل زہروں میں وہ غضب کی تاثیر ڈال دی کہ ان کا کامل قدر شربت منٹوں میں ہی اس جہاں سے رخصت کر دے، تو پھر کیونکر یہ امید کی جائے کہ خدا تعالیٰ اپنے برگزیدوں کی توجہ اور عقد ہمت اور تضرع کی بھری ہوئی دعاؤں کو فقط مُردہ کی طرح رہنے دے، جن میں ایک ذرہ بھی اثر نہ ہو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ نظام الٰہی میں اختلاف ہو، اور وہ
ارادہ جو خدا تعالیٰ نے دواؤں میں اپنے بندوں کی بھلائی کے لئے کیا تھا وہ دواؤں میں مرعی نہ ہو، جو شخص دواؤں کی اعلیٰ تاثیروں پر ذاتی تجربہ نہ رکھتا ہو اور استجابت دعا کا قائل نہ ہو، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ایک مدت تک ایک پرانی اور سال خوردہ اور مسلوب القویٰ دوا کو استعمال کرے، اور پھر اس کو بے اثر پا کر اس دوا پر عام حکم لگادے کہ اس میں کچھ بھی تاثیر نہیں ۔“
(ج ۱: ص: ۴۲۵)
اس مضمون کو مرزا غلام احمد ”برکات الدعا“ میں یوں بیان کرتے ہیں:
”اگرچہ دنیا کا کوئی خیر و شر مقدر سے خالی نہیں، تاہم قدرت نے اس کے حصول کے لئے ایسے اسباب مقرر کر رکھے ہیں جن کے صحیح اور سچے اثر میں کسی عقلمند کو کلام نہیں، مثلاً اگرچہ مقدر کا لحاظ کر کے دوا کا کرنا، نہ کرنا درحقیقت ایسا ہی ہے جیسا کہ دعا یا ترک دعا، مگر کیا سید صاحب یہ رائے ظاہر کر سکتے ہیں کہ مثلاً علم طب سراسر باطل ہے، اور حکیم حقیقی نے دواؤں میں کچھ بھی اثر نہیں رکھا ..... خدا تعالیٰ اس بات پر تو قادر تھا کہ تربد اور سقمونیا اور سنا اور حب الملوک میں تو ایسا قوی اثر رکھیں کہ ان کی پوری خوراک کھانے کے ساتھ ہی دست چھوٹ جائیں، یا مثلاً سم الفار اور بیش اور دوسری ہلاہل زہروں میں وہ غضب کی تاثیر ڈال دے کہ ان کا کامل قدر شربت چند منٹوں میں ہی اس جہاں سے رخصت کردے، لیکن اپنے برگزیدوں کی توجہ اور عقد ہمت اور تضرع کی بھری ہوئی دعاؤں کو فقط مُردہ کی طرح رہنے دے، جن میں ایک ذرہ بھی اثر نہ ہو۔
کیا یہ ممکن ہے کہ نظام الٰہی میں اختلاف ہو اور وہ ارادہ جو خدا تعالیٰ نے دعاؤں میں اپنے بندوں کی بھلائی کے لئے کیا تھا وہ دعاؤں میں مرعی نہ ہو، نہیں نہیں ہرگز نہیں، جو خود سید صاحب دعاؤں کی حقیقی فلاسفی سے بے خبر ہیں اور ان کی اعلیٰ تاثیروں پر ذاتی تجربہ نہیں رکھتے اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ایک مدت تک ایک پرانی اور سال خوردہ، مسلوب القویٰ دوا کو استعمال کرے اور پھر اس کو بے اثر پا کر اس دوا پر عام حکم لگا دے کہ اس میں کچھ بھی تاثیر نہیں۔“ (برکات الدعا)
دونوں عبارتوں کے آخری خط کشیدہ الفاظ پر غور کیجئے! ”اسرار شریعت“ کی عبارت میں کاتب کی غلطی سے دوا کی بجائے دعا کا لفظ لکھا گیا، جبکہ مرزا صاحب کی عبارت میں لفظ دوا لکھا ہوا ہے، ”اسرار شریعت“ کی عبارت اگر مرزا صاحب کی کتاب سے ماخوذ ہوتی تو اس میں یہ غلطی نہ ہوتی، اس قسم کی غلطیاں عام طور پر پہلی تحریر میں ہی ہوتی ہیں، اور زیادہ تر وہیں ہوتی ہیں جہاں کاتب قلمی مسودوں سے لکھ رہے ہوں، غلطیوں کی اصلاح بعد میں ہوتی ہے، مرزا غلام احمد کی عبارت اصلاح شدہ ہے۔ اور اس میں ”اسرار شریعت“ کے کتابت شدہ مسودہ کو ہی درست کیا گیا ہے۔
حقیقت حال کچھ بھی ہو، اس میں شبہ نہیں کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا غلام احمد کی پانچ کتابوں سے عبارات نہیں لیں، جیسا کہ امین زکی صاحب کا دعویٰ ہے، بلکہ ایک کتاب سے لی ہیں، اور وہ ”اسرار شریعت“ ہے، جس میں مرزا صاحب کی پانچوں کتابوں کی زیر بحث عبارات موجود ہیں، اس میں کوئی شخص اختلاف کرے کہ ان دو میں سے پہلا لکھنے والا کون ہے؟ بے شک اسے اس اختلاف کا حق ہے، ہم اس میں دخل نہیں دیتے، اپنی رائے ہم نے عرض کر دی ہے، لیکن یہ بات ہر شبہ سے بالاتر ہے کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا غلام احمد کی کتابوں سے کوئی عبارت نہیں لی، اسی ایک
کتاب سے آپؒ نے یہ عبارات لی ہیں، اور آپؒ نے اسی کا حوالہ دیا ہے۔
نماز پنجگانہ کی عقلی حکمتیں:
مولوی فضل خان اپنی کتاب ”اسرارِ شریعت“ میں لکھتے ہیں:
”الغرض پنجگانہ نمازیں کیا ہیں، وہ تمہارے مختلف حالات کا فوٹو ہے، تمہاری زندگی کے لازم حال پانچ تغیر ہیں جو تم پر وارد ہوتے اور تمہاری فطرت کے لئے ان کا وارد ہونا ضروری ہے جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
پہلے جبکہ تم مطلع کئے جاتے ہو کہ تم پر ایک بلا آنے والی ہے، مثلاً جیسے تمہارے نام عدالت سے ایک وارنٹ جاری ہو، یہ پہلی حالت ہے جس نے تمہاری تسلی اور خوشحالی میں خلل ڈالا، کیونکہ اُس سے تمہاری خوشحالی میں زوال آنا شروع ہوا، اُس کے مقابل پر نماز ظہر متعین ہوئی، جس کا وقت زوالِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔“
(ج ۱ ص ۶۰، ۶۱)
اس مضمون کو مرزا غلام احمد نے اپنی کتاب میں اس طرح نقل کیا ہے:
”پنجگانہ نمازیں کیا چیز ہیں، وہ تمہارے مختلف حالات کا فوٹو ہے، تمہاری زندگی کے لازم حال پانچ تغیر ہیں، جو بلا کے وقت تم پر وارد ہوتے ہیں، اور تمہاری فطرت کے لئے ان کا وارد ہونا ضروری ہے: (۲) پہلے جبکہ تم مطلع کئے جاتے ہو کہ تم پر ایک بلا آنے والی ہے، مثلاً جیسے تمہارے نام عدالت سے ایک وارنٹ جاری ہوا، یہ پہلی حالت ہے جس نے تمہاری تسلی اور خوشحالی میں خلل ڈالا، سو یہ حالت زوال کے وقت سے مشابہ ہے، کیونکہ اُس
سے تمہاری خوشحالی میں زوال آنا شروع ہوا، اس کے مقابل نماز ظہر متعین ہوئی، جس کا وقت زوالِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔“
(کشتی نوح ص:۶۳، ۶۴)
مرزا صاحب کی عبارت میں ان الفاظ پر غور کیجئے:
”تمہاری زندگی کے لازم حال پانچ تغیر ہیں، جو بلا کے وقت تم پر وارد ہوتے ہیں۔“
”بلا کے وقت“ کے یہ الفاظ ”اسرارِ شریعت“ کے نہیں ہیں، ”اسرارِ شریعت“ میں پنجگانہ نمازوں کا جو نقشہ دیا گیا ہے، اس میں پانچویں نماز (نماز فجر) کو بلا کا وقت نہیں، نجات کا وقت بتلایا گیا ہے، چار وقت بلا کے تھے اور یہ پانچواں نجات کا، مرزا صاحب نے بھی پانچویں نماز کو نجات کا وقت بیان کیا ہے، سو یہ عبارت کہ پانچ تغیر بلا کے وقت تم پر وارد ہوتے ہیں، بعد میں بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے، سیاق و سباق سے ملتی عبارت وہی ہے جو ”اسرارِ شریعت“ میں دی گئی ہے، مرزا صاحب نے اس نقل کرنے میں جو اضافے کئے سب زائد عبارتیں معلوم ہوتی ہیں۔
مولوی محمد فضل خاں صاحب نے اس کے بعد اپنی تائید میں کچھ ارشادات نبویؐ اور بعض اطبا کے اقوال بھی درج کئے ہیں، انہیں دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ احادیث اور اقوال، مولوی صاحب کے مضمون کا جزو ہیں، مرزا صاحب کی کتاب میں یہ موجود نہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب ”کشتی نوح“ میں ”اسرارِ شریعت“ کے مسودے سے حسب خواہش تلخیص کی ہے، مرزا صاحب نے ”اسرارِ شریعت“ کی جو عبارت چھوڑ دی ہے، اسے ہم یہاں نقل کرتے ہیں:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال کی ساعت کی نسبت فرمایا کہ اس میں آسمان کے دروازے کھلتے ہیں، اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی عمل آسمان کی طرف
صعود کرنے، فرمایا رات کے فرشتوں سے پہلے دن کے فرشتے آسمان کی طرف صعود کرتے ہیں اور دن کے فرشتوں سے پہلے رات کے فرشتے صعود کرتے ہیں۔
اس وقت تغیرات کے آثار جو جسم انسانی پر ظاہر ہوتے ہیں طبیبوں نے اپنی کتابوں میں بیان فرمائے ہیں، چنانچہ مفرح القلوب شرح قانونچہ میں لکھا ہے...... الخ۔“
(اسرار شریعت ج:۱ ص:۱۰۴)
جناب عبداللہ ایمن زئی کی ان سطور پر بھی غور کرو جب خدا کا خوف نہ رہے تو انسان اس قسم کے جھوٹ سے بھی پرہیز نہیں کرتا، ایمن زئی صاحب لکھتے ہیں:
”بیان کردہ حکمتیں حضرت تھانویؒ کو اس قدر پسند آئیں کہ لفظ بہ لفظ اپنی کتاب میں نقل فرمادیں، البتہ اتنا کیا کہ مرزا صاحب کی بیان کردہ حکمتوں کی مزید تشریح کے لئے ارشادات نبویؐ، شرح وقایہ اور اطباء کے اقوال درج کردیئے۔“
(کمالات اشرفیہ ص:۱۶)
”اسرار شریعت“ کی وہ عبارات جو مرزا صاحب نے چھوڑ دیں، ان میں واقعی کچھ ارشادات نبویؐ اور کچھ اقوالِ اطباء بھی موجود ہیں، حضرت تھانویؒ کی عبارت میں بھی یہ ارشادات نبویؐ اور اقوالِ اطباء موجود ہیں، اس سے یہ حقیقت نصف النہار کی طرح عیاں ہے کہ حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین ”اسرار شریعت“ سے لئے ہیں، نہ کہ مرزا صاحب کی کتابوں سے۔ ”اسرار شریعت“ اور ”المصالح العقلیہ“ کی عبارات ایک دوسرے کے مطابق ہیں، اور مرزا غلام احمد کی تلخیص کچھ مختلف ہے، دونوں (مولوی محمد فضل خاں اور حضرت مولانا تھانویؒ) کی عبارات میں وہ پورے مضامین موجود ہیں، اب کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین مرزا غلام احمد
کی کتابوں سے لئے ہیں۔ ایمن زئی صاحب نے غلط کہا ہے کہ مولانا تھانویؒ نے شرح وقایہ اور اطبا کے اقوال درج کئے ہیں، اقوالِ اطبا ”اسرارِ شریعت“ سے ماخوذ ہیں، اور شرح وقایہ کا تو اس عبارت میں سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں، معلوم نہیں کہ ایمن زئی صاحب کو اس میں شرح وقایہ کا نام لانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ شرح قانونچہ کو شرح وقایہ پڑھتے رہے ہوں۔
نماز عصر کی بحث میں ایمن زئی صاحب نے حضرت مولانا تھانویؒ کی عبارت کو مرزا صاحب کی عبارت کے بالمقابل نقل کرتے ہوئے معلوم نہیں یہ فقرہ کیوں حذف کر دیا ہے:
”صریح نظر آتا ہے کہ اب غروب نزدیک ہے، جس سے اپنے کمالات کے زوال کے احتمالِ قریب پر استدلال کرنا چاہئے۔ اس روحانی حالت کے مقابل نماز عصر مقرر ہوئی۔“
(کمالات اشرفیہ ص: ۱۸)
ایمن زئی صاحب نے خط کشیدہ فقرہ شاید اس لئے حذف کر دیا ہے کہ یہ عبارت مرزا صاحب کی عبارت کے مقابل بالکل ملتی دکھائی دے اور وہ کہہ سکیں کہ حضرت تھانویؒ نے لفظ بہ لفظ مرزا صاحب سے نقل کی ہے، اس لئے اس فقرے کا حذف کرنا ضروری تھا۔ مولوی محمد فضل خان اور مرزا کی عبارتوں کا تغیر ملاحظہ ہو، چنانچہ مولوی محمد فضل خان لکھتے ہیں:
”خدا تعالیٰ نے تمہارے فطری تغیرات میں پانچ نمازیں تمہارے لئے مقرر کی ہیں اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ نمازیں خاص تمہارے نفس کے فائدے کے لئے ہیں، پس اگر تم چاہتے ہو کہ ان بلاؤں سے بچتے رہو اور پنجگانہ نمازوں کو ترک نہ کرو کہ وہ تمہارے اندرونی اور روحانی تغیرات کا ظل ہیں،
نمازیں آنے والی بلاؤں کا علاج ہیں، تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قسم کی قضا و قدر تمہارے لئے لائے گا، پس تم قبل اس کے جو دن چڑھے اپنے مولا کی جناب میں تضرع کرو کہ تمہارے لئے خیر وبرکت کا دن چڑھے۔“
(خاتم اولیا اسرار شریعت ج:۱ ص:۱۰۷)
اور مرزا صاحب لکھتے ہیں: ”اور خدا نے تمہارے فطرتی تغیرات میں پانچ حالتیں دیکھ کر پانچ نمازیں تمہارے لئے مقرر کیں، اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ نمازیں خاص تمہارے نفس کے فائدے کے لئے ہیں، پس اگر تم چاہتے ہو کہ ان بلاؤں سے بچے رہو تو پنجگانہ نمازوں کو ترک نہ کرو کہ وہ تمہارے اندرونی اور روحانی تغیرات کا ظل ہیں، نماز میں آنے والی بلاؤں کا علاج ہے، تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قسم کی قضا و قدر تمہارے لئے لائے گا، پس قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولا کی جناب میں تضرع کرو کہ تمہارے لئے خیر وبرکت کا دن چڑھے۔“
(کشتی نوح ص:۶۵، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۷۰)
ان دونوں عبارتوں میں اختلاف الفاظ کا جائزہ لیجئے! انسانی زندگی کے یہ پانچ تغیرات ہی اس کی پانچ حالتیں جن میں پانچ نمازیں مقرر کی گئی ہیں، تغیر حالت بدلنے کو ہی کہتے ہیں اور یہ پانچ تغیرات، پانچ حالتیں ہی ہیں، پانچ تغیرات میں پانچ حالتیں بالکل بے معنی بات ہے۔
”اسرار شریعت“ میں ہے: ”خدا تعالیٰ نے تمہارے فطری تغیرات میں پانچ
نمازیں تمہارے لئے مقرر کی ہیں۔“
(ص:۱۰۶)
اور مرزا غلام احمد کی عبارت یہ ہے: ”خدا نے تمہارے فطری تغیرات میں پانچ حالتیں دیکھ کر، پانچ نمازیں تمہارے لئے مقرر کیں۔“ (کشتی نوح ص: ۶۵، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۷۰)
یہاں بآسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ اصل عبارت کون سی ہے؟ اور نقل کون سی؟ فطری تغیرات میں پانچ حالتیں وہی کہہ سکتا ہے جو تغیر کے معنی: ”حالت بدلنا“ نہ جانے، اصل عبارت اپنی جگہ پوری طرح واضح اور صحیح ہے، اور مرزا صاحب کی عبارت واقعی ایک بدلی ہوئی عبارت معلوم ہوتی ہے۔
اسی طرح اس عبارت کے آخری حصہ میں مرزا غلام احمد کے الفاظ: ”پس قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولیٰ کی جناب میں تضرع کرو۔“ کا مولوی محمد فضل خاں کے الفاظ: ”پس تم قبل اس کے جو دن چڑھے اپنے مولیٰ کی جناب میں تضرع کرو۔“ سے مقابلہ کرو، لفظ ”تم“ کو مقدم لانے میں جو زور ہے، وہ پچھلی عبارت سے پوری طرح ہم آہنگ ہے، مرزا صاحب کی عبارت میں ایک تبدیلی معلوم ہوتی ہے۔
پھر اس فقرہ کو اس کے سیاق میں دیکھئے: ”نمازیں آنے والی بلاؤں کا علاج ہیں۔“
(اسرارِ شریعت)
اور مرزا غلام احمد کے اس فقرہ پر بھی غور کیجئے: ”نمازوں میں آنے والی بلاؤں کا علاج ہے۔“ جس سیاق و سباق میں اس مضمون پر بحث کی گئی ہے، وہ مختلف حالتوں کا بیان ہے، اس کے پیش نظر ”اسرارِ شریعت“ کا فقرہ صاف طور پر نظر آ رہا ہے، اور مرزا صاحب کا پیرایہ یہاں وہ وزن نہیں رکھتا، معلوم ہوتا ہے وہ نماز کی تعریف کر رہے ہیں، پنجگانہ نمازوں کی تعریف نہیں کر رہے، حالانکہ موضوع وہی تھا،
سو بات وہی صحیح ہے جو ”اسرار شریعت“ کے مصنف نے کہی کہ نمازیں آنے والی بلاؤں کا علاج ہیں۔
مولوی محمد فضل خاں نے جہاں اس بات کو ختم کیا ہے، وہاں ”خاتم الاولیاء“ کا حوالہ دیا ہے، مرزا غلام احمد نے جہاں یہ بات ختم کی ہے، وہاں کوئی حوالہ نہیں دیا، اس سے یہ بات عیاں ہے کہ مولوی محمد فضل خاں نے یہ مضمون ”خاتم الاولیاء“ سے لیا ہے، مرزا صاحب نے نہیں، افسوس کہ مرزا صاحب نے اسے ”خاتم الاولیاء“ یا ”اسرار شریعت“ کا حوالہ دیئے بغیر نقل کیا ہے۔
صورت حال کچھ بھی ہو، یہ ہمارا اصل موضوع نہیں، ہاں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضرت مولانا تھانویؒ نے عبارت زیر بحث ”اسرار شریعت“ سے لی ہے، مرزا غلام احمد کی کتاب ”کشتی نوح“ سے نہیں، اختلافی الفاظ میں مولانا تھانویؒ کی عبارت ”اسرار شریعت“ کے موافق ہے، ”کشتی نوح“ کے موافق نہیں، اس تقابلی مطالعہ سے دوست محمد شاہد یا ایمن زکی صاحب کا یہ دعویٰ کہ مولانا تھانویؒ نے یہ عبارات مرزا غلام احمد کی کتابوں سے ہی لی ہیں، اعلانیہ طور پر غلط ٹھہرتا ہے۔
قویٰ انسانی کا استعمال:
عبداللہ ایمن زکی نے ”کمالات اشرفیہ“ میں (ص:۲۰ پر) یہ عنوان قائم کیا ہے، اور لکھا ہے:
”حضرت مولانا تھانویؒ اپنی کتاب کے لئے اس موضوع پر غور و فکر اور مطالعہ فرما رہے تھے، تلاش و تحقیق کے دوران مرزا صاحب کی کتاب ”نسیم دعوت“ انہیں ملی، انہوں نے یہ کتاب پڑھی اور محسوس کیا کہ انسانی قویٰ کے استعمال کے جو طریقے مرزا صاحب نے قرآن شریف پر تدبر کرنے کے بعد
بیان کئے ہیں، ان سے بہترین نکات بیان نہیں کئے جاسکتے، چنانچہ انہوں نے مرزا صاحب کی کتاب کا اقتباس پسند فرمایا اور اپنی کتاب کو اس سے آراستہ فرمالیا۔‘‘
سابقہ الزامات کی طرح یہ الزام بھی بالکل بے وزن ہے، حضرت مولانا تھانویؒ نے نہ مرزا صاحب کی کتاب سے یہ اقتباس لیا، نہ اس سے اپنی کتاب کو آراستہ کیا، یہ مضمون بھی آپ نے اس کتاب ’’اسرار شریعت‘‘ سے لیا ہے، جس کا آپ نے اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں ذکر کیا تھا، یہی عبارت نہیں، حضرت تھانویؒ پچھلے کئی عنوانات سے اس کتاب کے مضامین آگے لا رہے ہیں، ہم دونوں کے عنوانات درج ذیل کرتے ہیں:
- ۱:...... ’’برتن میں مکھی پڑنے سے اس کو اس میں ڈوبا
دے کر نکالنے کی وجہ۔‘‘
(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۶۷)
- ۲:...... ’’پانی اور برتن میں سانس لینا و پھونکنا منع
ہونے کی وجہ۔‘‘
(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۶)
- ۳:...... ’’انسان کے لئے گوشت کھانا کیوں جائز
ہے؟‘‘
(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۶۹)
- ۴:...... ’’گوشت و ترکاری کھانے سے انسان کے
روحانی اخلاق کیسے پیدا ہوتے ہیں؟‘‘
(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۶۹)
- ۵:...... ’’انسان میں قوت غضبیہ و علم وغیرہ کی
حکمت۔‘‘
(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۷۰)
حضرت مولانا تھانویؒ کی کتاب کے عنوانات بھی یہی ہیں:
- ۱:...... ’’برتن میں مکھی پڑنے سے اس کو اس میں غوطہ
دے کر نکالنے کی وجہ۔“
(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص:۲۲۰ طبع دارالاشاعت کراچی)
- ۲:...... ”پانی اور برتن میں سانس لینا و پھونکنا منع
ہونے کی وجہ۔“
(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص:۲۲۰ طبع ایضاً)
- ۳:...... ”انسان کے لئے گوشت کھانا کیوں جائز
ہوا؟“
(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص:۲۲۱ طبع ایضاً)
- ۴:...... ”گوشت، ترکاریاں کھانے سے انسان کے
روحانی اخلاق کیسے پیدا ہوتے ہیں؟“
(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص:۲۲۲ طبع دارالاشاعت کراچی)
- ۵:...... ”انسان میں قوت غضبیہ و حلم وغیرہ کی
حکمت۔“
(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص:۲۲۳ طبع ایضاً)
آپ نے دیکھا یہ عنوانات کس طرح ہو بہو ایک دوسرے کے مطابق آ رہے ہیں، پانچویں نمبر کا عنوان ہے جس کے تحت وہ عبارت درج ہے جسے ایمن زئی صاحب مرزا صاحب کی کتاب سے لیا گیا اقتباس کہہ رہے ہیں، جب حضرت تھانویؒ کے پچھلے چار عنوانات ”اسرارِ شریعت“ سے منطبق چلے آ رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مرزا صاحب کا موضوع نہیں، تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ حضرتؒ نے یہ مضامین ”اسرارِ شریعت“ سے لئے ہیں، نہ کہ غلام احمد سے، اور ایمن زئی صاحب کا یہ کہنا کہ مرزا غلام احمد صاحب کی کتاب سے لئے ہیں، اس میں کسی طرح کا کوئی وزن نہیں رہتا، پھر ان دونوں کتابوں (مولوی محمد فضل خاں اور حضرت تھانویؒ کی کتابوں) کے مذکورہ پانچویں عنوان کو جو مناسبت ان کے چوتھے عنوان سے ہے، وہ بتا رہی ہے کہ مولوی محمد فضل خاں کا یہ مضمون اپنے ماقبل سے مسلسل اور مربوط ہے، اور یہ صورت
اس بات کی شاہد ہے کہ یہ مضمون ”اسرار شریعت“ میں اصل ہے، ”نسیم دعوت“ میں نہیں، اب اسے مرزا صاحب کی کتاب ”نسیم دعوت“ میں دیکھئے، انہوں نے یہاں کوئی ایسے عنوانات نہیں دیئے، البتہ پیرا بندی ضرور کی ہے، جو ایک مضمون کو دوسرے سے جدا کرتی ہے، ہم ان پیراجات کے ابتدائی الفاظ درج کرتے ہیں:
”کوئی یہ خیال نہ کرے کہ ہم نے اس جگہ انجیل کی تعلیم کا ذکر نہیں کیا۔“
(نسیم دعوت ص:۷۰، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۴۳۶)
”علاوہ اس کے یہ بھی سخت غلطی ہے کہ انجیل کی تعلیم کو کامل کہا جائے۔“
(نسیم دعوت ص:۷۱، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۴۳۶)
”اب دیکھو اس آیت میں دونوں پہلو کی رعایت رکھی گئی ہے۔“
(نسیم دعوت ص:۷۲، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۴۳۸)
”اب ہم آریہ مذہب میں کلام کرتے ہیں۔“
(نسیم دعوت ص:۷۲، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۴۳۸)
وہ عبارت جو ”اسرار شریعت“ اور حضرت تھانویؒ کی کتاب میں مشترک ہے، وہ مرزا صاحب کے مندرجہ بالا پیراجات میں سے دوسرے کے تحت دی گئی ہے کہ: ”یہ بھی سخت غلطی ہے کہ انجیل کی تعلیم کو کامل کہا جائے۔“
اب جو شخص ان تینوں کتابوں کو دیکھے، اسے یقین سے چارہ نہ رہے گا کہ حضرت تھانویؒ کی کتاب، ان کے عنوانات اور سیاق و سباق ”اسرار شریعت“ سے ملتے جلتے ہیں، نہ کہ مرزا صاحب کی کتاب ”نسیم دعوت“ سے۔
اب عبداللہ ایمن زئی کے کہنے پر کیسے باور کرلیا جائے کہ حضرت تھانویؒ نے مضمون زیر بحث مرزا صاحب کی کتاب ”نسیم دعوت“ سے لیا ہے؟
پھر مرزا صاحب کی عبارت میں یہ جملہ بھی لائق غور ہے:
”اگر انسان میں خدا نے ایک قوت حلم اور نرمی اور درگزر اور صبر کی رکھی ہے، تو اسی خدا نے اس میں ایک قوت غضب اور خواہش انتقام کی بھی رکھی ہے۔“
(کمالات اشرفیہ ص:۲۱)
اب اسے حضرت تھانویؒ کی کتاب میں بھی دیکھئے:
”اگر خدا نے انسان میں ایک قوت حلم اور نرمی اور درگزر اور صبر.....الخ۔“
(از کمالات اشرفیہ ص:۲۱)
اب آئیے دیکھیں کہ یہ جملہ ”اسرار شریعت“ میں کس طرح ہے؟ پھر آپ ہی فیصلہ کریں کہ حضرت تھانویؒ نے اسے ”اسرار شریعت“ سے لیا ہے، یا ”نسیم دعوت“ سے، ”اسرار شریعت“ میں یہ جملہ اس طرح ہے:
”اگر خدا نے انسان میں ایک قوت حلم اور نرمی اور درگزر اور صبر کی رکھی ہے۔“
(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۷۰)
اب بھی کیا کسی پڑھے لکھے آدمی کو یہ کہنے کی ہمت ہے کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا صاحب کی کتاب ”نسیم دعوت“ سے یہ اقتباس لیا ہوگا؟
جہاں تک ”اسرار شریعت“ اور ”نسیم دعوت“ کے تقابلی مطالعہ کا تعلق ہے، ”اسرار شریعت“ کی عبارت اپنے محل اور سیاق و سباق میں خوب چسپاں دکھائی دیتی ہے، اور ذہن گواہی دیتا ہے کہ اصل عبارت یہیں کی ہے، اور مرزا صاحب نے اسے جس محل میں سمویا ہے، وہاں اسے تکلف سے چسپاں کیا گیا ہے، پس اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ مرزا صاحب نے ”اسرار شریعت“ کے مسودے سے کسی نہ کسی طرح استفادہ ضرور کیا ہے۔
پھر ایمن زکی صاحب نے ”کمالاتِ اشرفیہ“ میں مرزا صاحب کا ایک نو
سطری اقتباس درج کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ:
”مرزا صاحب کی جو عبارت حضرت تھانویؒ نے حذف کر دی ہے وہ یہ ہے۔“
(کمالات اشرفیہ ص:۲۲)
جواباً عرض ہے کہ یہ نو سطریں ”اسرار شریعت“ میں جہاں سے حضرت تھانویؒ یہ عبارت لے رہے ہیں، نہیں ہیں، ہاں عبارت اسی طرح ہے جس طرح حضرت تھانویؒ نے پیش کی ہے، اب بجائے اس کے کہ ایمن زئی صاحب اقرار کریں کہ حضرت تھانویؒ نے واقعی مرزا صاحب کی ”نسیم دعوت“ سے یہ اقتباس نہیں لیا، الٹا یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ حضرت تھانویؒ نے ان نو سطروں کو حذف کر دیا ہے، انہیں اگر یہ الزام کسی پر لگانا ہی تھا تو مولوی محمد فضل خاں صاحب پر لگاتے نہ کہ حضرت تھانویؒ پر، ایمن زئی صاحب کی اس جسارت پر ہمیں حیرت ہوتی ہے:
پردہ کی حکمتیں:
”اسرار شریعت“ جلد دوم، ص:۲۴۴ پر مولوی محمد فضل خاں صاحب نے یہ عنوان قائم کیا ہے، اور اس کے تحت لکھا ہے:
”مستورات و مردوں کے لئے اسلامی پردہ کے وجوہات“
”پردہ کے متعلق اسلام نے مرد و عورت کے لئے ایسے ایسے اصول بتائے جن کی پابندی سے ان کی عفت و عزت پر حرف نہ آئے، وہ بدی کے ارتکاب سے محفوظ اور مصون رہیں، چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے .... الخ ۔“
یہاں مولوی محمد فضل خاں صاحب نے سورۃ النور، بنی اسرائیل اور الحدید کی آیتیں دی ہیں، اور ان کا ترجمہ کیا ہے، حضرت تھانویؒ نے ان آیات کا ترجمہ اسی
مؤلف سے لے کر اپنی کتاب کے صفحہ: ۱۶۶ اور ۱۶۷ میں دیا ہے، جس کا دل چاہے دونوں کتابوں ”اسرار شریعت“ اور ”احکام اسلام“ کا تقابلی مطالعہ کر کے دیکھ لے۔ افسوس کہ ایمن زئی صاحب نے یہاں بھی وہی بات ہانکی ہے، اور اسی لکیر پر چلے ہیں کہ حضرت تھانویؒ نے ان آیات کا ترجمہ مرزا صاحب کی کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی“ کے صفحہ: ۲۸ سے لیا ہے، اور اسی پر لکھا ہے:
”اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت تھانویؒ، مرزا صاحب کے ترجمے کو مستند سمجھتے تھے۔“
(کمالات اشرفیہ ص:۲۹)
ایمن زئی صاحب کو سوچنا چاہئے تھا کہ حضرت تھانویؒ تو خود مترجم قرآن اور مفسر قرآن ہیں، کیا وہ یہاں اپنا ترجمہ بآسانی نہ دے سکتے تھے؟ لیکن مضمون چونکہ ”اسرار شریعت“ سے لے رہے تھے، اور اس کا وہ اجمالی حوالہ بھی دے چکے تھے، اس لئے انہوں نے ان آیات کا ترجمہ بھی اسی مؤلف سے لے لیا، اب اس میں خوامخواہ مرزا صاحب کو داخل کرنا کہ ہو نہ ہو مولانا تھانویؒ نے یہ ترجمہ مرزا صاحب سے ہی لیا ہے، سینہ زوری نہیں تو اور کیا ہے؟ مولوی محمد فضل خاں نے ان آیات کے ترجمہ اور تشریح کے بعد لکھا ہے:
”ان آیات میں خدا تعالیٰ نے خلق احصان یعنی عفت حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ انسان کو پاکدامن رہنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلادیئے، یعنی یہ کہ اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچانا، دوسرا کانوں کو نامحرم کی آواز سننے سے بچانا، نامحرموں کے قصے سننا اور ایسی تمام تقریبوں سے جن میں اس فعل بد کا اندیشہ ہو اپنے تئیں بچانا، اگر نکاح نہ ہو تو روزہ رکھنا وغیرہ، یہ اعلیٰ تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہیں، صرف اسلام ہی
سے خاص ہے، اور اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے، اور وہ یہ کہ چونکہ انسان کی وہ طبعی حالت جو شہوت کا منبع ہے، جس سے انسان بغیر کسی کامل تغیر کے الگ نہیں ہو سکتا ...... الخ ۔“
(اسرار شریعت ج:۲ ص:۲۴۵، ۲۴۶)
اس عبارت کو مرزا صاحب نے یوں نقل کیا ہے:
”ان آیات میں خدا تعالیٰ نے خلق احصان یعنی عفت حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ اپنے تئیں پاک دامن رہنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلا دیئے، یعنی یہ کہ اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچانا، کانوں کو نامحرموں کی آواز سننے سے بچانا، نامحرموں کے قصے سننا اور ایسی تمام تقریبوں سے جن میں اس فعل بد کا اندیشہ ہو، اپنے تئیں بچانا، اگر نکاح نہ ہو تو روزہ رکھنا وغیرہ، اس جگہ ہم بڑے دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ اعلیٰ تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہیں، صرف اسلام ہی سے خاص ہے، اور اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے، اور وہ یہ کہ چونکہ انسان کی وہ طبعی حالت جو شہوت کا منبع ہے، جس سے انسان بغیر کسی کامل تغیر کے الگ نہیں ہو سکتا ...... الخ ۔“
(اسلامی اصولوں کی فلاسفی ص:۲۹، ۳۰)
ان دونوں عبارتوں میں خط کشیدہ فقرات کے سوا کوئی فرق نہیں، اب آئیے حضرت تھانویؒ کی کتاب سے اس عبارت کو لیں، یہ ”احکام اسلام عقل کی نظر میں“ کے صفحہ: ۱۶۸ میں درج ہے، اور اس میں یہ خط کشیدہ فقرے درج نہیں ہیں، اس کی عبارت ”اسرارِ شریعت“ کے مطابق ہے، اب اس یقین سے چارہ نہیں کہ حضرت
تھانویؒ نے یہ اقتباسات مرزا غلام احمد کی کتاب سے ہرگز نہیں لئے۔ رہی یہ بات کہ ”اسرار شریعت“ کے مؤلف نے مرزا غلام احمد سے مضامین لئے ہیں، یا مرزا صاحب نے ”اسرار شریعت“ کے مسودہ سے استفادہ کیا ہے اس سلسلہ میں ان دو عبارتوں پر مزید غور فرماویں:
”سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قویٰ کو پوشیدہ کاروائیوں کا موقع بھی نہ ملے، اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آوے جس سے بدخطرات جنبش کر سکیں۔ اسلامی پردہ کا یہی راز ہے اور یہی ہدایت شرعی ہے خدا کی کتاب میں پردہ سے یہ مراد نہیں کہ فقط عورتوں کو قیدیوں کی طرح حراست میں رکھا جائے ...... اور ہر ایک پرہیزگار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہ چاہئے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے بے محابا نظر اٹھا کر دیکھ لیا کرے۔“
(اسرار شریعت ج:۲ ص:۲۹۶)
”سو خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قویٰ کو پوشیدہ کاروائیوں کا موقع بھی نہ ملے، اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آئے جس سے بدخطرات جنبش کر سکیں۔ اسلامی پردہ کی یہی فلاسفی اور یہی ہدایت شرعی ہے خدا کی کتاب میں پردہ سے یہ مراد نہیں کہ فقط عورتوں کو قیدیوں کی طرح حراست میں رکھا جائے ...... اور ہر ایک پرہیزگار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہ چاہئے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے بے محابا نظر اٹھا کر دیکھ لیا کرے۔“
(اسلامی اصولوں کی فلاسفی ص:۳۰، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۳۴۴)
حضرت مولانا تھانویؒ نے ”احکام اسلام عقل کی نظر میں“ کے صفحہ: ۱۶۹ پر ”اسرار شریعت“ سے اقتباس لیتے ہوئے خط کشیدہ سطور نہیں لیں، اور آگے یہاں سے مضمون لے لیا ہے:
”اور ہر ایک پرہیزگار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔ الخ۔“
اب ایمن زکی صاحب کی ہوشیاری دیکھئے، آپ نے ”کمالات اشرفیہ“ کے صفحہ: ۳۱ پر یہ بات ثابت کرنے کے لئے کہ مولانا تھانویؒ اور مرزا صاحب کی عبارت ہو بہو ایک ہیں، مرزا صاحب کی عبارت نقل کرتے ہوئے، یہ چھ سطریں حذف کردی ہیں، اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے اس قسم کی کتر بیونت کیا کسی خدا پرست کو زیب دیتی ہے؟ اس بحث میں مرزا غلام احمد کی اس عبارت پر غور کریں:
”ان آیات میں خدا تعالیٰ نے خلق احسان یعنی عفت کے حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی، بلکہ اپنے تئیں پاکدامن رکھنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلا دیئے۔“
(اسلامی اصولوں کی فلاسفی ص: ۳۰)
یہاں ”اپنے تئیں“ سے ”خدا کی ذات“ مراد نہیں تو اور کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے تئیں پاکدامن رکھنے کے لئے کیا کسی علاج کی ضرورت ہے؟ سو اصل عبارت وہی ہوگی جو ”اسرارِ شریعت“ کی ہے:
”ان آیات میں خدا تعالیٰ نے احسان یعنی عفت حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی، بلکہ انسان کو پاکدامن رہنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلا دیئے۔“
(اسرارِ شریعت ج: ۲ ص: ۲۴۶)
ان دونوں عبارتوں کو پھر سے دیکھو اور یہ معلوم کرو کہ اصل عبارت اور صحیح
بات کون سی ہوگی؟ اور کس نے بات کو بگاڑا ہوگا؟
اس بات سے ایمن زکی صاحب بے خبر نہ تھے، آپ نے ”کمالاتِ اشرفیہ“ کے صفحہ: ۲۹ پر مرزا غلام احمد کی عبارت نقل کرتے ہوئے یہ ”اپنے تئیں“ کے الفاظ ”اسرارِ شریعت“ کے الفاظ سے بدل دیئے ہیں، اصلاح بُری بات نہیں، لیکن اس عبارت کو مرزا غلام احمد کے نام سے پیش کرنا، اگر خیانت نہیں تو اور کیا ہے؟ فاعتبروا یا اولی الابصار!
نکاح و طلاق کا فلسفہ:
ایمن زکی صاحب ”کمالاتِ اشرفیہ“ کے صفحہ: ۳۳ پر لکھتے ہیں:
”مرزا صاحب اپنی کتاب آریہ دھرم میں نکاح اور طلاق کی حکمتوں پر بحث کر چکے تھے، حضرت تھانویؒ نے اس کتاب کا مطالعہ کیا اور اس سے استفادہ کیا۔“
اب آئیے اس باب میں بھی ”اسرارِ شریعت“ اور ”آریہ دھرم“ کا تقابلی مطالعہ کریں، ”اسرارِ شریعت“ میں ہے:
”واضح ہو مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے، جس میں مرد کی طرف سے مہر اور تعہد نان و نفقہ اور اسلام اور حسن معاشرت شرط ہے، اور عورت کی طرف سے عفت اور پاکدامنی اور نیک چلنی اور فرمانبرداری شرائط ضروریہ میں سے ہے، اور جیسا کہ دوسرے معاہدے شرائط کے ٹوٹ جانے سے قابل فسخ ہو جاتے ہیں، ایسا ہی یہ معاہدہ بھی شرطوں کے ٹوٹنے کے بعد قابل فسخ ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ جسم تو اسی وقت سے تیرا جسم نہیں رہا جبکہ تو نے اسے کاٹ کر پھینک دیا۔“
(اسرارِ شریعت ج:۲ ص:۱۸۷، ۱۸۸)
جبکہ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے جس میں مرد کی طرف سے مہر اور تعہد نان و نفقہ اور اسلام اور حسن معاشرت شرط ہے، اور عورت کی طرف سے عفت اور پاکدامنی اور نیک چلنی اور فرمانبرداری شرائط ضروریہ میں سے ہے، اور جیسا کہ دوسرے تمام معاہدے شرائط کے ٹوٹ جانے سے قابل فسخ ہو جاتے ہیں، ایسا ہی یہ معاہدہ بھی شرطوں کے ٹوٹنے کے بعد قابل فسخ ہو جاتا ہے....... کیونکہ وہ جسم تو اسی وقت سے تیرا جسم نہیں رہا جبکہ تو نے اس کو کاٹ کر پھینک دیا۔“
(آریہ دھرم ص:۳۴، ۳۵ مطبوعہ ۱۹۰۳ء،
روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۳۷، ۳۹)
”اسرار شریعت“ کی اس عبارت اور ”آریہ دھرم“ کی اس عبارت میں لفظ ”ہم“ کا فرق ہے، دونوں کتابوں میں اس جملہ کو لیجئے:
”مطلقہ کی حرکات سے شخص طلاق دہندہ پر کوئی بد اثر نہیں پہونچتا یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک عورت کسی کی منکوحہ ہو کر .....الخ۔“
(اسرار شریعت ج:۲ ص:۱۸۸)
”مطلقہ کی حرکات سے شخص طلاق دہندہ پر کوئی بد اثر نہیں پہنچتا یا دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں.....الخ۔“
(آریہ دھرم ص:۳۳، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۳۸)
دونوں عبارتوں میں ”ہم“ کا لفظ فارق ہے، اسی طرح ”اسرار شریعت“ کی عبارت ”واضح ہو“ کے لفظ سے شروع ہوتی ہے، جبکہ ”آریہ دھرم“ کی یہ عبارت اس
سے شروع نہیں ہوتی۔
اب آئیے دیکھیں کہ حضرت تھانویؒ کی عبارت میں ”واضح ہو“ اور ”ہم“ کے الفاظ ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو انہوں نے یہ عبارت ”اسرار شریعت“ سے لی ہے، ورنہ ”آریہ دھرم“ سے۔
”احکام اسلام عقل کی نظر میں“ میں یہ عبارت صفحہ:۱۵۷ سے شروع ہوکر صفحہ:۱۵۸ تک چلی گئی ہے، یہاں شروع میں ”واضح ہو“ کے الفاظ بھی موجود ہیں، اور درمیان عبارت میں ”ہم“ کا لفظ بھی نہیں، جو مرزا صاحب کی عبارت میں تھا۔
سو ایمن زئی صاحب کا یہ دعویٰ کہ حضرت تھانویؒ نے ”آریہ دھرم“ سے ہی یہ اقتباس لیا ہے، کسی طرح بھی لائق پذیرائی نہیں، اور حضرت تھانویؒ پر یہ ایک بہتان ہے۔
نوٹ: ....... مرزا غلام احمد قادیانی نے حسب دعویٰ خویش یہ مضمون ایک ہندو عورت رام دئی سے لیا ہے، ”آریہ دھرم“ صفحہ:۳۳ پر لکھتے ہیں:
”پھر رام دئی نے پنڈت کو مخاطب کرکے یہ بھی کہا کہ یہ جو تو نے کہا کہ آریوں میں نیوگ ایسا ہے جیسا کہ مسلمانوں میں طلاق، اِس سے معلوم ہوا کہ تم اس گند کو کسی طرح چھوڑنا نہیں چاہتے ...... بھلا پنڈت جی طلاق کو نیوگ سے کیا مناسبت اور نیوگ کو طلاق سے کیا نسبت، مسلمان ہمارے پڑوسی ہیں اور اس بات کو ہم خوب جانتے ہیں کہ مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے جس میں مرد کی طرف سے مہر اور تعہد نان و نفقہ اور اسلام اور حسن معاشرت شرط ہے۔“
(آریہ دھرم ص:۳۲، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۳۷)
مرزا غلام احمد نے یہ قرآنی معارف رام دئی سے لئے ہیں، یہ اس وقت زیر
بحث نہیں، لیکن ایک عام مطالعہ کنندہ یہاں یہ سوال اٹھائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ادھر بات تو طلاق یا نیوگ کی ہو رہی تھی اور وہی زیر بحث تھے، مرزا صاحب یہ نکاح کی بحث یہاں کہاں سے لے آئے؟ دونوں مضمونوں میں کوئی قریب کا ربط نہیں، سیاق مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ عبارت کسی اور جگہ کی تھی جو مرزا صاحب نے خوامخواہ رام دئی کے الفاظ سے یہاں جڑ دی ہے، ”اسرارِ شریعت“ میں جہاں یہ مضمون شروع ہوتا ہے کہ: ”مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے ..... الخ۔“ وہاں اس سے پہلے ”واضح ہو“ کے الفاظ موجود ہیں، اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت اصلاً یہیں کی تھی جو مسودے سے لے کر ”آریہ دھرم“ میں نقل کر دی گئی ہے۔
روح کا قبر سے تعلق:
عبداللہ ایمن زئی نے ”کمالاتِ اشرفیہ“ میں اس عنوان پر بھی مرزا صاحب اور حضرت تھانویؒ کی عبارات نقل کی ہیں، ہم اس سلسلہ میں بھی ”اسرارِ شریعت“ سے عبارت نقل کرتے ہیں، مؤلف نے جلد:۳ صفحہ:۴۲۶ پر یہ سرخی قائم کی ہے: ”قبور سے تعلق ارواح کی حقیقت“ ہم اس مضمون کی آخری بحث یہاں نقل کرتے ہیں اور اس کے مقابل مرزا صاحب کی عبارت پیش کرتے ہیں:
”ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے، انسان میت سے کلام کر سکتا ہے، روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے، جہاں اس کے لئے ایک مقام ملتا ہے۔“
(اسرارِ شریعت ج:۳ ص:۴۲۹)
”ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے، انسان میت سے کلام کر سکتا ہے، روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے، جہاں اس کے لئے ایک مقام
ملتا ہے۔“
(آریہ دھرم ص: ۳)
ایمن زکی صاحب نے صفحہ: ۳۸ سے لے کر صفحہ: ۴۴ تک مرزا صاحب اور حضرت تھانویؒ کی عبارات ایک دوسرے کے سامنے درج کی ہیں، ہم بھی مرزا صاحب کی ان عبارات کو ”اسرار شریعت“ کے بالمقابل درج کر سکتے ہیں، لیکن بات طویل ہونے کا اندیشہ ہے، ”اسرار شریعت“ میں یہ عبارات صفحہ: ۴۲۶ سے صفحہ: ۴۲۹ تک پھیلی ہوئی ہیں، اور یہ وہی عبارتیں ہیں جو ایمن زکی صاحب نے مرزا غلام احمد کے نام سے نقل کر کے حضرت تھانویؒ کو ان سے استفادہ کرنے والا بتایا ہے۔
ہم دونوں کتابوں سے ایک دو جملے نقل کر دیتے ہیں:
”دو جداگانہ مزوں سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ نمک ہے اور وہ مصری، پس اگر حس لسان ہی نہیں تو نمکین اور شیریں کا فیصلہ کوئی کیا کرے گا۔“
(اسرار شریعت ج: ۳ ص: ۴۲۸)
اب مرزا غلام احمد کی عبارت بھی دیکھئے:
”دو جداگانہ مزوں سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ نمک ہے اور وہ مصری، لیکن اگر حس لسان ہی نہیں تو نمکین اور شیریں کا فیصلہ کوئی کرے گا۔“
(الحکم ۲۴/ جنوری)
پھر یہ فرق بھی ملحوظ رہے:
”غرض روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔“
(اسرار شریعت ج: ۳ ص: ۴۲۹)
”روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔“
(از مرزا غلام احمد، کمالات اشرفیہ ص: ۴۴)
اب آیئے دیکھیں کہ حضرت تھانویؒ کی عبارت میں لفظ ”پس“ ہے، یا ”لیکن“ اور آخری عبارت کے شروع میں ”غرض“ کا لفظ ہے یا نہیں؟
”احکام اسلام عقل کی روشنی میں“ کے صفحہ: ۲۶۴ پر پہلا جملہ یوں ہے:
”پس اگر کسی میں حس لسانی ہی نہیں تو نمکین اور شیریں کا وہ کیا فیصلہ کرے گا۔“
اسی طرح آخری عبارت میں بھی لفظ ”غرض“ موجود ہے، جو بتا رہا ہے کہ حضرت تھانویؒ کے سامنے ”اسرارِ شریعت“ تھی نہ کہ مرزا غلام احمد کی کوئی کتاب۔ رہی یہ بات کہ پھر اس آخری عبارت کے شروع میں جو جملہ ہے کہ: ”ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں۔“ اس کا مطلب کیا ہوگا؟ یہ تو مرزا صاحب کی بات معلوم ہوئی جو الہامات کے مدعی تھے، کیا مولوی محمد فضل خاں بھی اس قسم کے تجربات کے مدعی تھے؟
جواباً عرض ہے: ہاں! مولوی فضل محمد خاں بھی بے شک اس قسم کے تجربات کے مدعی تھے، ایک مقام پر لکھتے ہیں:
”بین النوم والیقظہ مجھ پر ایک حالت طاری ہوئی جس کو میری روح اور جسم دونوں نے یکساں محسوس کیا اور مجھے معلوم ہوا کہ حشر اجسام ضرور ہوگا۔“
(اسرار شریعت ج:۳ ص: ۴۹۰)
”۱۳۲۸ھ کی شب کو میں نے رؤیا دیکھا ..... آدمیوں کی شکل میں ملائکہ بھی کھڑے ہوئے دیکھے اور میرے خیال میں آیا کہ وہ قضا و قدر کے ملائکہ ہیں ..... الخ۔“
(اسرار شریعت ج:۲ ص: ۱۵۳)
کیا اب بھی کوئی عاقل شخص اس فقرے کو کہ: ”ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں۔“ مرزا صاحب کے ساتھ خاص کرسکے گا؟ حقیقت حال آپ کے سامنے آچکی، اب اس میں امین زکی صاحب کا تبصرہ بھی سنئے:
”یہاں تک حضرت تھانویؒ نے مرزا صاحب کی عبارتیں بلا تکلف نقل فرمادیں، مگر اس کے بعد مرزا صاحب نے
ایک جملہ لکھا تھا وہ حذف کر دیا، یہ جملہ اس طرح تھا:
’’ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔‘‘
اس مقام پر پہنچ کر حضرت تھانویؒ کی دیانت داری اور راست بازی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے یہ الفاظ چھوڑ دیئے، کیونکہ انہیں اس قسم کا دعویٰ نہ تھا، اور نہ وہ کشف قبور کے معاملے میں صاحب تجربہ تھے، انہوں نے ایک غلط دعویٰ کرکے اپنے دامن صداقت کو داغدار کرنے سے محفوظ رکھا۔‘‘
(کمالاتِ اشرفیہ ص: ۴۴)
ہم نے جب یہ ’’ذاتی تجربہ‘‘ رکھنے والی عبارت ’’اسرار شریعت‘‘ جلد:۳ صفحہ:۴۲۹ سطر:۸ میں دیکھی تو مرزا غلام احمد کے اس قسم کے تجربات کا دعویٰ اور زیادہ کمزور نظر آیا، ہم نے بار بار سوچا کہ مرزا صاحب اسے اپنا ذاتی تجربہ کیسے کہہ رہے ہیں؟ کیا وہ پہلے کبھی مرے تھے، اور ان کی روح کا تعلق ان کی قبر سے قائم ہوا ہوگا؟ ان کا کوئی اندھا معتقد اس بات کو مان لے تو مان لے، لیکن ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس تحریر سے پہلے کبھی مرے تھے اور نہ ان کی روح کا ان کی قبر سے کوئی ایسا تعلق قائم ہوا تھا، جس کی گواہی وہ اپنے ذاتی تجربہ سے دے رہے ہیں۔
اس پر ہمیں مرزا صاحب کا ایک ایسا تجربہ یاد آیا، اسے بھی ملاحظہ کیجئے، مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’راقم کو تجربہ ہے کہ اکثر پلید طبع اور سخت گندے اور ناپاک اور بے شرم اور خدا سے نہ ڈرنے والے اور حرام کھانے والے فاسق و فاجر بھی سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص: ۴۸)
مرزا صاحب اسے اپنا تجربہ کیسے کہہ رہے ہیں؟ کیا وہ واقعی ان صفات کے حامل تھے جو انہوں نے ذکر کی ہیں؟ مرزا صاحب کو اگر یہ دعویٰ تھا کہ وہ سچی خوابیں دیکھتے ہیں، تو کیا وہ اس تمہید کے بغیر یہ دعویٰ نہ کر سکتے تھے؟ ان کی سیرت لوگوں کے سامنے کیا ایسی ہی تھی کہ اس کے بغیر کوئی ان کے اس دعوے کو سننے کے لئے تیار نہ تھا؟
یہ تجربہ کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے، مولوی محمد فضل خاں کا تھا، انہوں نے ”اسرارِ شریعت“ میں اسے اس طرح بیان کیا ہے:
”بین النوم والیقظہ مجھ پر ایک حالت طاری ہوئی، جس کو میری روح اور جسم دونوں نے یکساں قبول کیا اور مجھے معلوم ہوا کہ حشر اجسام ضرور ہوگا، اور قبر و حشر میں عذاب و ثواب روح و جسم دونوں پر وارد ہوگا۔“
(اسرارِ شریعت ج:۳ ص:۲۹۰)
مرزا غلام احمد کے پورے لٹریچر میں ان کا کوئی اس قسم کا تجربہ یا مشاہدہ مذکور نہیں، سو یہ بات اصل میں مولوی محمد فضل خاں صاحب کی تھی، حضرت تھانویؒ نے اگر اس جملہ کو حذف کیا ہے تو ”اسرارِ شریعت“ کی عبارت سے حذف کیا ہے، نہ کہ مرزا غلام احمد کی عبارت سے، اور یہ بات آفتابِ نیمروز کی طرح روشن ہے کہ حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین زیرِ بحث ”اسرارِ شریعت“ سے لئے ہیں، نہ کہ مرزا غلام احمد کی کتابوں سے۔ اور یہ بات حضرت تھانویؒ اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھ چکے ہیں کہ انہوں نے:
”یہ مضامین ایک کتاب سے لئے ہیں، جو تمام تر رطب و یابس اور غث و سمین سے پر ہے...... احقر نے غایت بے تعصبی سے اس میں سے بہت سے مضامین کتاب مذکورہ بالا
سے بھی جو کہ موصوف بصحت تھے لے لئے ہیں۔‘‘
(احکام اسلام عقل کی روشنی میں ص:۱۴)
قادیانی حضرات اگر شروع سے ہی اس کتاب کی طرف رجوع کرتے اور حضرت تھانوی کی اس بات پر یقین کرتے کہ یہ مضامین انہوں نے واقعی ایک ایسی کتاب سے لئے ہیں تو یہ بات اتنا طول نہ پکڑتی، نہ عبداللہ ایمن زئی صاحب کو ”کمالات اشرفیہ“ لکھنی پڑتی، مگر افسوس کہ دوست محمد قادیانی اور ان کے دوسرے مضمون نگاروں نے حضرت تھانوی کی عبارات ان کے مقدمہ میں دیئے گئے اس حوالے کے بغیر نقل کر کے مسلمانوں کو نہیں خود اپنے آدمیوں کو بھی ایک بڑا مغالطہ دیا ہے، ایمن زئی صاحب نے اسے ”مذہبی دنیا میں ایک زلزلہ“ کہا اور اسے ”عقل گم کر دینے والے انکشافات“ قرار دیا، اور یہ نہ سوچا کہ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی جیسا جلیل القدر اور ثقہ عالم جو کروڑوں مسلمانوں کا مرشد اور روحانی پیشوا ہو، وہ مرزا غلام احمد کی کتابوں سے کس طرح ان اقتباسات کو لے سکتا تھا۔۔۔؟؟
ہم نے ہفت روزہ ”خدام الدین“ لاہور کی ۲۹؍ جولائی ۱۹۸۳ء کی اشاعت میں قادیانیوں کی اس خیانت پر نوٹس لیا اور دوست محمد شاہد اور ان کے دوسرے رفقا سے مطالبہ کرتے رہے کہ وہ اپنی اس جلی خیانت کی برسرعام معافی مانگیں، مگر افسوس کہ انہوں نے حقیقت حال کا نہ اعتراف کیا اور نہ اپنے اس الزام سے رجوع کیا کہ حضرت تھانوی نے یہ اقتباسات مرزا غلام احمد کی کتابوں سے ہی لئے ہیں۔ (معاذ اللہ)
حوالہ دینے کی اصولی ذمہ داری:
حضرت مولانا تھانوی نے یہ صراحت کی کہ انہوں نے بعض مضامین ایک کتاب سے لئے ہیں، محض اس لئے کہ وہ دوسروں کے الفاظ کو اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہ کرتے تھے، اور یہ بات بھی ان کے پیش نظر ہوگی کہ کوئی شخص ان پر سرقہ کا
الزام نہ لگائے، لیکن آپ نے جو اس مصنف (مولوی محمد فضل خاں) کا نام نہیں لیا، اس کا مقصد محض اسے مزید رسوائی سے بچانا تھا، اس پر بعض دوسرے حلقوں نے سوال اٹھایا کہ اصولی طور پر کس قدر حوالہ دینا ضروری ہوتا ہے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ حوالہ پوری تفصیل سے دیا جائے؟
جواباً گزارش ہے کہ مصنف کا نام بتانا صرف افضل ہے، کسی درجہ میں ضروری نہیں، جامع ازہر کے کلیہ اصول الدین کے استاذ عبدالوہاب عبداللطیف جنہوں نے ”تدریب الراوی“ پر تحقیق کا کام کیا ہے، ایک مقام پر لکھتے ہیں:
”قال الشوکانی ودأب المصنفین الاخذ من کتب من سبقہم، نعم الافضل ان یعزو القول لصاحبہ۔“
ترجمہ:...... ”مصنفین کا عام دستور سلف کی کتابوں سے استفادہ کا ہے، البتہ بہتر یہی ہے کہ ہر قول کی نسبت اصل قائل کی طرف جائے۔“
امام سیوطیؒ نے اس موضوع پر ایک رسالہ بھی لکھا ہے، جس کا نام ”الفارق بین المؤلف والسارق“ ہے، اپنی عبارت میں پہلی عبارت سے تھوڑا سا فرق بھی آجائے تو علما اسے پہلوں کی طرف منسوب نہیں کرتے، امام سیوطیؒ جو اجتہاد مطلق کے درجہ پر پہنچے ہوئے تھے، علامہ زین الدین العراقی، علامہ زرکشی، شیخ بلقینی کی عبارات ”تدریب الراوی“ میں لاتے ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ حوالہ نہیں دیتے اور پہلے اجمالی حوالوں پر ہی اکتفا کر لی جاتی ہے۔
الاستاذ عبدالوہاب ایک مقام پر لکھتے ہیں:
”وتری ایضاً فی تدریب الراوی فانہ یلخص فیہ بعض عبارات الزین العراقی والزرکشی والبلقینی وتارۃ لا یعزو وذالک الی احد منہم لعدم اخذہ
بالنص۔“
(مقدمہ تدریب الراوی ص:۲۲)
ترجمہ: ...... ”تدریب الراوی میں علامہ عراقی، زرکشی اور بلقینی کی عبارات کی تلخیص نظر آئے گی، اور بعض اوقات علامہ سیوطیؒ اس کی تصریح بھی نہیں فرماتے۔“
ان تفصیلات کی روشنی میں اہل علم پر مخفی نہیں کہ حوالہ جس درجہ میں دیا جائے، اس کا احترام ضروری ہے، حضرت تھانویؒ نے جو اجمالی حوالہ دیا ہے، وہ کافی ہے، اور اسے کلیتاً چھپا کر اخذ و اقتباس اور سرقہ و اختلاس کی بحثیں کرنا اہل علم کا طریق نہیں۔ وفيه كفاية لمن كان له دراية!
(بشکریہ ماہنامہ ”الخیر“ ملتان)
بروز مرزا..... مرزا..... جے سنگھ بہادر
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلٰم علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
مکرمی جناب ثاقب زیروی صاحب مزاج گرامی! آپ کے ہفت روزہ ”لاہور“ (۲/مارچ ۱۹۸۵ء) کی اشاعت میں شادمان لاہور کے ایک ڈاکٹر صاحب کا مراسلہ ادارتی کالم میں شائع ہوا ہے، جس میں راقم الحروف اور مولانا اللہ وسایا صاحب کے ان مضامین پر اظہار خیال کیا گیا ہے جو روزنامہ جنگ لاہور کی ۲۱/فروری کی اشاعت میں جناب حنیف رامے کے مضمون کے سلسلہ میں شائع ہوئے۔ میں آپ کا اور مکرم ڈاکٹر صاحب کا ممنون ہوں کہ ان مضامین پر نظر التفات فرمائی، اظہار خیال کا ہر شخص کو اس کے اپنے علم و فہم کے مطابق حق ہے، اور تنقید اگر جائز و صحیح ہو تو اسے بھی لائق قدر قرار دیا جانا چاہئے کہ اس سے غلطیوں کی اصلاح ہو سکتی ہے، لیکن مجھے افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک بات بھی حقائق و واقعات کی روشنی میں صحیح نہیں کہی، مثلاً ان کا یہ کہنا کہ: ”مولوی صاحبان نے حوالہ جات کو سخت بددیانتی سے کانٹ چھانٹ کر پیش کیا ہے۔“ قطعاً صحیح
نہیں، اگر کوئی حوالہ غلط تھا یا بقول ان کے کانٹ چھانٹ کر پیش کیا گیا تھا تو وہ اس کی نشاندہی فرماسکتے تھے کہ فلاں حوالہ غلط دیا گیا ہے۔
راقم الحروف نے اپنے مضمون میں جتنے حوالوں کا خلاصہ دیا ہے، ان کی باکمال و تمام عبارتیں اپنے رسالہ ”قادیانی کلمہ“ میں پیش کردی ہیں، اسے ملاحظہ فرماسکتے ہیں، اور اگر وہ چاہیں تو ان حوالوں کے فوٹو اسٹیٹ بھیج سکتا ہوں، یا اگر چاہیں تو کسی عدالت میں پیش کرسکتا ہوں، ان کو اطمینان دلانے کا اس سے بہتر کوئی اور ذریعہ ہو تو وہ بتائیں۔
پھر جو حوالے میں نے پیش کئے ہیں وہ کوئی جدید انکشاف نہیں، بلکہ یہ وہ نظریات ہیں جن پر مرزا صاحب کے علم الکلام کی بنیاد ہے، اور جن پر خود آپ کی جماعت کے اکابرین سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں صفحات سیاہ کرچکے ہیں، ان حوالوں میں سے ایک ایک نکتہ پر کئی کئی حوالے موجود ہیں۔
ڈاکٹر صاحب ہی بتائیں کہ:
- الف:...... کیا وہ مرزا صاحب کی اس وحی پر ایمان نہیں رکھتے جس میں مرزا
صاحب کو ”محمد رسول اللہ“ کہا گیا ہے؟
- ب:...... کیا مرزا صاحب نے آیت: ”وآخرین منھم لما یلحقوا۔“ سے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتوں کا عقیدہ پیش نہیں کیا؟
- ج:...... کیا خود کو محمد رسول اللہ کی بعثت ثانیہ کا ظہور قرار نہیں دیا؟
- د:...... کیا بعثت ثانیہ کے دَور کی روحانیت کو پہلی بعثت سے اقوٰی اور اکمل اور
اشد قرار نہیں دیا؟
- ہ:...... کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام کو پہلی رات کے
چاند سے اور بعثت ثانیہ کے زمانہ میں چودھویں رات کے چاند سے تشبیہ نہیں دی؟
- و:...... کیا مرزا صاحب کے مرید ظہور الدین اکمل نے مرزا صاحب کو وہ
قصیدہ سنا کر داد تحسین حاصل نہیں کی، جس میں کہا گیا تھا کہ:
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں“
ز:.......کیا مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے نہیں لکھا:
”مسیح موعود خود ”محمد رسول اللہ“ ہے، جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے .......اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں! اگر ”محمد رسول اللہ“ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“
ان تمام حقائق کے باوجود اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم کلمہ ”محمد رسول اللہ“ میں مرزا غلام احمد قادیانی مراد نہیں لیتے تو خود ہی بتائیے کہ آپ کے اس انکار کو کیا نام دیا جائے؟
آپ نے لکھا ہے کہ:
”ہر شخص کا نام اور عقیدہ وہی ہوتا ہے جو وہ بتائے اور جس کا وہ اظہار کرے، نہ کہ وہ جو اس کے جھوٹے مخالف اور دشمن بیان کریں۔“
آپ بتائیے کہ مرزا صاحب کا نام ”محمد رسول اللہ“ انہوں نے خود بتایا، یا ان کے کسی جھوٹے دشمن نے؟ اوپر جو عقائد لکھے گئے ہیں وہ خود مرزا صاحب اور ان کی جماعت کے لوگوں نے خود لکھے ہیں، یا ان کے کسی دشمن نے ان کی طرف منسوب کردیئے ہیں؟
ڈاکٹر صاحب نے (جاہل دشمن کے حوالے سے) مولانا اللہ وسایا صاحب کا
فرضی نام ”وساوا سنگھ“ تجویز فرمایا تھا، میرے احباب کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے خیال میں تو اس مثال کے ذریعہ مولانا اللہ وسایا صاحب کی توہین کرنا چاہی، لیکن مولانا کی کرامت دیکھئے کہ ڈاکٹر صاحب اس فرضی نام کے تجویز کرنے میں خدا تعالیٰ کے پاک نام کی گستاخی کر گئے، کیونکہ ڈاکٹر صاحب نے ”اللہ وسایا“ کی جگہ ”وساوا سنگھ“ تجویز کر کے گویا ”اللہ“ کا متبادل لفظ ”سنگھ“ تلاش کیا ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے پاک نام کی کھلی بے حرمتی ہے۔
مگر اس ناکارہ کا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا ”اللہ“ سے ”سنگھ“ کی طرف انتقال ذہنی بے وجہ نہیں، بلکہ یہ قادیانی علم الالہام کے عین مطابق اور مرزا صاحب کے فیضانِ تربیت کا معمولی نتیجہ ہے، کیونکہ مرزا صاحب کا ایک الہامی نام ”جے سنگھ بہادر“ بھی ہے، نیز مرزا صاحب کو ایک الہام یہ بھی ہوا تھا کہ: ”انت منی بمنزلۃ بروزی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ”اے مرزا! تو مجھ سے بمنزلہ میرے بروز کے ہے۔“ اور بروز کے بارے میں مرزا صاحب کا عقیدہ یہ ہے کہ:
”تمام انبیاء کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دوئی نہیں ہوتی، کیونکہ بروز کا مقام اس مضمون کا مصداق ہوتا ہے کہ:
تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری“
پس قادیانی علم الہام کے مطابق صغریٰ، کبریٰ کی شکل اول یوں بنتی ہے کہ: صغریٰ:...... ”اللہ برنگ بروز مرزا ہے۔“ اور کبریٰ:...... ”مرزا جے سنگھ ہے۔“ نتیجہ:...... ”اللہ جے سنگھ ہے۔“ عکس نتیجہ:...... ”جے سنگھ اللہ ہے۔“ گویا اللہ اور جے سنگھ کے درمیان مرزا صاحب حد اوسط ہے، اس کو ہٹا دیا
جائے تو اللہ جے سنگھ، اور جے سنگھ اللہ بن جاتا ہے۔ (نعوذ باللہ!) اس لئے ڈاکٹر صاحب کا ”اللہ“ سے سیدھا ”سنگھ“ تک پہنچنا قادیانی علم الالہام کے عین مطابق ہے، رہا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو ”جے سنگھ بہادر“ کا خطاب دے کر سکھوں کی صف میں شامل کرنا کیوں ضروری سمجھا؟ اس کی اصل وجہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہوگی، مگر اس ناکارہ کے ذہن میں اس کے دو نکتے آتے ہیں۔
ایک یہ کہ سکھوں نے ہندو مذہب سے کٹ کر اپنا ایک الگ مذہب بنالیا تھا، مرزا صاحب کے خطاب ”جے سنگھ بہادر“ میں یہ لطیف پیشگوئی تھی کہ مرزا صاحب بھی دین اسلام سے کٹ کر ایک نیا دین تصنیف فرمائیں گے، اور ان کے نئے مذہب کی اسلام سے وہی نسبت ہوگی جو سکھ مذہب کی ہندو مذہب سے ہے۔
دوسرے اس میں بطور پیشگوئی یہ اشارہ بھی تھا کہ کسی زمانے میں مرزا صاحب کے ہم عقیدہ و ہم مذہب لوگوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ہندؤوں اور سکھوں کی صف میں شمار کیا جائے گا۔
بہر حال مرزا صاحب کا ”الہامی خطاب“ ”جے سنگھ بہادر“ بڑا معنی خیز ہے، اور اس سے صریح طور پر یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرزا صاحب کو سکھوں سے قوی مشابہت ہے، اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آپ کسی ”جے سنگھ بہادر“ کا بروز کامل ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو ”جے سنگھ بہادر“ کا خطاب دیا جانا ضروری ہوا۔
آپ کے ڈاکٹر صاحب نے اس ناکارہ کو جو گالیاں دی ہیں، مجھے ان کا کوئی شکوہ نہیں، نہ ان کا جواب دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کا جواب آپ خود ایک مصرعہ میں دے چکے ہیں، یعنی:
جن لوگوں نے ختمی مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی عبائے نبوت ”جے سنگھ بہادر“ کے حوالے کر دی ہو، ان کو اگر للکارا جائے تو گالی اور گولی کے سوا ان سے اور کیا توقع ہو سکتی ہے؟
پیارے ثاقب! کیا آپ سے توقع کر سکتا ہوں کہ صحافتی آداب کے مدنظر آپ میرا مراسلہ بھی اپنے پرچہ میں چھاپ دیں گے، تاکہ ڈاکٹر صاحب تک میری نگارشات پہنچ جائیں۔ فقط والدعاء
آپ کا مخلص
محمد یوسف لدھیانوی عفی اللہ عنہ
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۳ ش:۳۹)
قادیانی اور فرضی مظالم کا پروپیگنڈہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ!
”ختم نبوت کانفرنس برطانیہ کے موقع پر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ سے جنگ لندن کی طرف سے لیا گیا ایک پینل انٹرویو، قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔“
(سعید احمد جلال پوری)
جنگ پینل:...... مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب، ابھی حال ہی میں مرزا طاہر احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ مختلف افراد کی جانب سے مباہلے کے چیلنج میں اسے فتح ہوئی ہے، اس کے علاوہ مباہلے کی تاریخی حقیقت کیا ہے؟ اس بارے میں ہمیں کچھ بتائیے۔
جواب:...... سب سے پہلے یہ بات سمجھنے کی ہے کہ مباہلہ ایک اسلامی اصطلاح ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اس کا ذکر قرآن شریف میں آیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا تھا اور وہ ساٹھ آدمیوں پر مشتمل تھا، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث و مباحثہ کیا اور وہ چند منٹوں میں
لاجواب ہو گئے، اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت نازل ہوئی جس کا ترجمہ یہ ہے کہ:
’’اب بھی جو شخص آپؐ سے کٹ حجتی کرتا ہے اس کے بعد کہ آپؐ کے پاس علم آ چکا ہے تو آپ کہہ دیجئے آؤ! ہم بلاتے ہیں اپنے بیٹوں کو تم بلاؤ اپنے بیٹوں کو، تم لاؤ اپنی عورتوں کو ہم لاتے ہیں اپنی عورتوں کو، تم خود آؤ ہم خود آئیں گے، پھر مل کر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں اور ہم جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں، مل کر دعا کریں یا اللہ! ان دو فریقوں میں سے جو فریق جھوٹا ہے اس پر لعنت بھیجئے۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں تم لوگوں کو مباہلے کی دعوت دیتا ہوں، تو عیسائیوں نے کہا کہ ہمیں ایک رات کی مہلت چاہئے، ہم اس پر غور کریں گے۔ ان کے مولوی عبدالمسیح نے ان سے کہا کہ جب کسی قوم نے سچے نبی سے مباہلہ کیا تو وہ بچ نہیں سکتی، اس نے اپنے لوگوں سے کہا کہ جا کر اس شخص سے کہو کہ ہم تمہیں جزیہ دیا کریں گے اور تمہاری ماتحتی قبول کرلیں گے لیکن مباہلہ نہیں کریں گے۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ ہم مباہلے کے لئے تیار نہیں ہیں، ہم لوگ آپ کو ٹیکس دیا کریں گے۔ چنانچہ ان لوگوں کے ساتھ مصالحت خلفائے راشدینؓ کے زمانے تک قائم رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’اگر وہ لوگ مباہلے کے لئے آ جاتے تو ان کے درختوں پر کوئی پرندہ بھی زندہ نہ بچتا۔‘‘ یہ ہے اصل حقیقت مباہلے کی۔
ایک بات ہمیں سمجھ لینی چاہئے کہ ہمارا مقابلہ مرزا طاہر احمد سے نہیں بلکہ ہمارا مقابلہ تو اس کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی سے ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ بھی کیا کسی نے مباہلہ کیا؟ یا کوئی چیلنج بازی ہوئی؟ جس طرح
مرزا طاہر چیلنج کر رہا ہے اس کا دادا بھی کیا کرتا تھا، جواباً علما بھی اس کو چیلنج کیا کرتے تھے، چنانچہ مرزا غلام احمد کے دو مباہلے ہمارے علم میں موجود ہیں جن سے مرزا طاہر اور ان کی جماعت والے انکار نہیں کرسکتے۔
مثلاً: مرزا غلام احمد کا ایک مباہلہ مولانا عبدالحق غزنوی کے ساتھ امرتسر میں عید گاہ کے میدان میں ظہر کے بعد ہوا تھا، دونوں نے آمنے سامنے بددعا کی، مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ اصول بیان کیا کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو فریق جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں مرتا ہے، چنانچہ غلام احمد قادیانی ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مولانا عبدالحق غزنوی کی زندگی میں فوت ہوا اور وبائی ہیضے سے مرا تھا، جس کو وہ خود عذاب الٰہی قرار دیتا تھا، جبکہ حضرت مولانا عبدالحق غزنوی ۱۶ مئی ۱۹۱۷ء کو دنیا سے رخصت ہوئے، اب اس مباہلے کے نتیجے میں جھوٹے کی ہلاکت کو نہ ماننا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا انکار اور مباہلے کا انکار ہے۔
جنگ پینل:....... اس وقت مباہلے کا چیلنج جاری کرنے کے پیچھے کیا محرکات کارفرما ہوسکتے ہیں؟
جواب:....... جون ۱۹۸۸ء میں مرزا طاہر احمد نے یکا یک مباہلے کا چیلنج جاری کر دیا تھا کیونکہ ان کی جماعت میں شدید ترین اختلافات پیدا ہوچکے تھے جو اندر دبے ہوئے تھے، ہماری اطلاعات کے مطابق مرزا طاہر احمد کا بھائی مرزا رفیع اپنی الگ جماعت بنانے کی کوشش میں تھا، اس لئے یہ شدید ترین ذہنی پریشانی میں مبتلا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ جب حکومتوں کے خلاف عوامی تحریک چلتی ہے تو وہ توجہ ہٹانے کے لئے نیا شوشہ چھوڑ دیتی ہیں جیسا کہ سرحدی جھڑپیں وغیرہ وغیرہ، تو مرزا طاہر احمد نے اپنی جماعت اور ذہن کو پرسکون کرنے کے لئے چیلنج کر دیا تھا اور پاکستان کا کوئی شہر ایسا نہیں تھا جہاں سے علمائے کرام نے مرزا طاہر احمد کے مباہلے کے چیلنج کو قبول نہ کیا ہو، خود مجھے تقریباً دو ماہ بعد مرزا طاہر احمد کے مباہلے کی کاپی ملی جس کے جواب
میں میں نے لکھا کہ میں مباہلے کے لئے حاضر ہوں اور اپنی طرف سے ۲۳/ مارچ ۱۹۸۹ء کی تاریخ مقرر کرتا ہوں اور ظہر کے بعد مینار پاکستان کے میدان میں پہنچ جاؤں گا، لیکن اس کے ساتھ ہی میں نے یہ بھی لکھا کہ مجھے اس جگہ پر اصرار نہیں آپ جس تاریخ، وقت اور جگہ کا انتخاب کریں گے میں وہاں پہنچ جاؤں گا۔ ان کا ایک رویہ یہ بھی ہے وہ کہتے ہیں کہ ”تو ہے کون اور تیری قیمت کیا ہے کہ مرزا طاہر احمد کا مقابلہ کر رہا ہے؟“ تو میں نے جواب لکھا کہ تم اپنے ساتھیوں کو لے آؤ اور میں بھی اپنے ساتھیوں کو لے آؤں گا اور یہ بھی لکھو کہ سو لاؤں، ایک لاکھ لاؤں یا دس لاکھ آدمیوں کو لاؤں، اس کے جواب میں ان کے سیکریٹری کا جواب تھا کہ تم مباہلے سے گریز کر رہے ہو، میں نے کہا کہ گریز کیسا؟ تو کہنے لگے کہ تم اس کاغذ پر لعنت اللہ علی الکاذبین لکھ کر بھیج دو تو مباہلہ مکمل ہوگیا۔ میں نے کہا کہ یہ مباہلہ تو نہ ہوا مذاق ہوگیا، پھر میں نے قرآن کریم، حدیث شریف اور مرزا غلام احمد کی کتابوں سے خصوصی حوالہ جات دیئے کہ مباہلہ کے لئے دونوں فریقوں کا ایک میدان میں آنا ضروری ہے، میں نے یہ بھی لکھا کہ اب بھی اگر تم وقت اور تاریخ مقرر کر کے مباہلے کے میدان میں نہیں آئے اور تکفیر سے باز نہ آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مرو گے۔ اس دن کے بعد اس نے مجھے کبھی دوبارہ مباہلے کا چیلنج نہیں کیا۔ میرے خط کا جواب تک نہیں دیا، اب سات سال کے بعد اس نے دوبارہ مباہلے کا چیلنج کر دیا ہے۔
جنگ پینل:...... قادیانیوں کی طرف سے پوری دنیا میں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ان پر مظالم ہو رہے ہیں، کیا ان کی فرضی مظلومیت سے متعلق کچھ کہنا چاہیں گے؟۔۔
جواب:...... قادیانیوں کی خاص تکنیک ہے، اپنے اوپر ہونے والے فرضی مظالم کا ذکر کرتے رہتے ہیں، اس موضوع پر گو کہ مولانا اللہ وسایا اظہار خیال کر چکے
ہیں لیکن یہاں پر ایک اور واقعہ پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ سرگودھا میں مرزائی ایک تھانے میں گئے اور تھانیدار سے کہا کہ ہمارے خلاف یعنی قادیانیوں کے خلاف ایک پرچہ درج کریں، تو تھانیدار نے کہا کہ پرچہ کیسے درج کروں کیونکہ دعویٰ کرنے والا کوئی موجود نہیں؟ تو وہ لوگ کہنے لگے اللہ کے واسطے یہ پرچہ درج کر دیں اس طرح ہمیں سیاسی پناہ مل جائے گی۔ میں پورے دعوے سے کہتا ہوں کہ پورے پاکستان کے ملازمین کا اگر سروے کرایا جائے تو ان میں بڑے بڑے عہدوں پر ایک تہائی قادیانی ملیں گے اور ہمارے نوجوان جوتے چٹخاتے پھرتے ہیں اور یہ لوگ مزے کر رہے ہیں۔ ایک تکنیک ان کی یہ بھی ہے کہ جب کوئی قادیانی کسی محکمے میں پہنچتا ہے تو وہ اپنے ماتحتوں کو متاثر کر کے قادیانیت کی طرف مائل کرتا ہے، اگر یہ کسی چھوٹے عہدے پر ہو تو اپنے افسران بالا کے خلاف غلط رپورٹیں اوپر بھیجتا رہتا ہے۔ ایک اور طریقہ ان کا یہ ہے کہ اپنی جماعت میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے یہ مولویوں کو گالیاں دیتے رہتے ہیں، غلام احمد قادیانی بھی یہی کیا کرتا تھا، وہ تو پوری دنیا کے علما کے خلاف تھا اور کہتا تھا کہ تمام اسلامی ممالک میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا جا رہا ہے، فتوے دیئے جا رہے ہیں، صرف حکومت برطانیہ قادیانیوں کو پناہ دیئے ہوئے ہے، اس لئے ہم کو ان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔
ہم لوگ برطانیہ میں آباد پاکستانیوں کو خطبات کے ذریعے یہ بتا رہے ہیں کہ یہاں پر آپ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت تو قرار نہیں دلوا سکتے لیکن ایک کام تو کر سکتے ہو کہ اسلام کے نام پر تمہارے حقوق جو قادیانیوں کو دیئے جا رہے ہیں اس کے خلاف کھل کر احتجاج کرو، چنانچہ گلاسگو میں ایسا ہی ہوا، وہاں پر مسلمانوں کے حقوق کے لئے کمیٹی بنائی گئی تھی لیکن اس میں دو قادیانی تھے، تو وہاں پر مسلمانوں نے کہا کہ یہ تو ہمارے نمائندے نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ غیر مسلم ہیں، جیسا کہ سکھ، ہندو اور عیسائی ہیں، اس بنیاد پر اس کمیٹی سے قادیانیوں کو نکال باہر کیا گیا۔ میرے خیال میں،
مسلمان دنیا میں جہاں کہیں بھی آباد ہیں، ایسے اقدامات کر کے وہ لوگوں کو بتا سکتے ہیں کہ یہ غیر مسلم ہیں۔
اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں منافقین کا ایک بہت بڑا گروہ پیدا ہوا تھا، قرآن کریم میں ان کی علامتیں کئی جگہ بتائی گئی ہیں، ان میں ایک علامت ہے جو قادیانیوں پر برابر فٹ بیٹھتی ہے، چنانچہ قرآن کریم میں ہے کہ: ”اگر آپ کو کوئی بھلائی یا خوشی پہنچے تو ان کو بہت بری لگتی ہے اور اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچے تو خوش ہوتے ہیں۔“ آپ مسلمانوں کی پوری تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جہاں بھی مسلمانوں پر کوئی آفت آئی قادیانیوں نے خوشی کے شادیانے بجائے، چراغاں کئے، جب بغداد کا سقوط ہوا تو قادیانیوں نے گھی کے چراغ جلائے، اسی طرح جب ترکی پر زوال آیا تو مرزا محمود نے کہا کہ سلطنت کا خلیفہ ہمارا نہیں تھا، یعنی پورا عالم اسلام تلملا رہا تھا اور قادیانی خوشیاں منا رہے تھے، قادیانیوں کے سرکاری اخبار الفضل میں اس زمانے میں ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں کہا گیا کہ: ”انگریز کو مسیح موعود نے اپنی تلوار کہا ہے اور ہم مسیح موعود کی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“
شرعی عدالت کے سابق جج مولانا عبدالقدوس صاحب پشاور میں جب پروفیسر تھے تو انہوں نے ایک پروفیسر سے پوچھ لیا کہ کیا آپ قادیانی ہوتے ہیں؟ اس کا چہرہ کھل گیا اور ان سے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ تو مولانا ان سے کہنے لگے کہ تمہارے چہرے پر ایک خاص قسم کی لعنت برس رہی ہے جسے میں محسوس کرتا ہوں۔ تو آدمی کے چہرے سے ہی اس کی اصلیت معلوم ہو جاتی ہے۔ مرزا طاہر کے چہرے سے اس کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ آدمی جھوٹے نبی کا پرچار کرنے والا ہے اور ہر قادیانی کے چہرے پر تحریر درج ہو جاتی ہے جسے ہمارا عبدالرحمن یعقوب باوا بھی پڑھ لیتا ہے، اس کی آواز سے بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ قادیانی ہے۔
ہم نے مولانا عبدالحق غزنوی صاحب کے مباہلہ کے بارے میں ایک چھوٹا
سا رسالہ بعنوان ”خدائی عدالت کا فیصلہ! مرزا جھوٹا تھا“ چھاپا تو ہمیں قادیانیوں نے ماں بہن کی گالیوں کے ٹیلی فون کئے کیونکہ یہ لوگ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے قائل نہیں ہیں۔
ایک اور بات آپ کو معلوم ہوگی کہ امریکی شہر سان فرانسسکو میں زلزلہ آیا تو انہوں نے کہہ دیا یہ قادیانیوں کی وجہ سے ہوا ہے، کیونکہ ان کا مزاج ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کو اپنے کھاتے میں ڈالتے ہیں، جبکہ ان کے پیشوا مرزا طاہر کی بے بسی کا حال یہ ہے کہ اس نے اپنے کلام میں لکھا ہے کہ دوستو تم سے بچھڑ گیا ہوں، دوسری طرف اس کے مرید کہتے ہیں کہ اے آقا! ہم میں کب واپس آئیں گے کیا یہ عذاب نہیں ہے؟
جنگ پینل:....... مرزا طاہر نے کہا ہے کہ کراچی اور پاکستان میں چونکہ ہمارے خلاف امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، اس لئے وہاں عذاب آئے گا، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب:....... مرزا طاہر احمد جو عذاب کی پیش گوئیاں کر رہا ہے اس نے یہ پوچھنا چاہئے کہ کراچی میں کون سا ظلم ہو رہا ہے قادیانیوں پر؟ یہ تو ایسی بات ہوئی کہ: ”ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ“ یہ تو ہم بھی جانتے ہیں اور آپ بھی جانتے ہیں کہ کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک بین الاقوامی سازش ہے، اخبارات میں مختلف خبریں آ رہی ہیں کہ را کے ایجنٹ گڑبڑ کر رہے ہیں، یا امریکہ مداخلت کر رہا ہے، ان تمام چیزوں اور پس منظر کو سامنے رکھنے کے بعد جب مرزا طاہر یہ پیش گوئی کر رہا ہے کہ وہاں عذاب آئے گا اور اگر میں یہ سمجھوں تو یہ سمجھنے میں کیا حق بجانب نہیں ہوں گا؟ کہ مرزا طاہر احمد بھی اس سازش میں ایک مہرہ ہے، مجھے جہاں تک اطلاع ملی ہے اس کے مطابق بین الاقوامی سطح پر ایک نقشہ تیار کیا جا چکا ہے اس نقشے میں رنگ بھرنے کے
لئے کراچی میں فسادات کروائے جارہے ہیں اور سندھ کا ایک علاقہ ان کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے، آپ یہ بات نوٹ کریں کہ کراچی میں درجنوں افراد ہر دو تین روز بعد ہلاک ہو رہے ہیں لیکن ان لوگوں نے کبھی کلمہ افسوس نہیں کہا اور مرزا طاہر نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یا خدا! کراچی کے حالات پر رحم فرما!
جنگ پینل:...... کراچی کے حالات کی خرابی میں کیا قادیانیوں کا ہاتھ ہے؟ اس بارے میں آپ کچھ تبصرہ کریں گے؟
جواب:...... ہماری جماعت ظاہر بات ہے کہ ایک تبلیغی جماعت ہے، ہمارا سیاست میں کچھ عمل دخل نہیں ہے، ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو متوجہ کر سکتے ہیں، علمائے کرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور معروضات پیش کرنے کا کام بھی ہم کرتے رہے ہیں اور انشاء اللہ کرتے رہیں گے لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ ہماری حکومت یا ہماری حکومت میں موجود لوگوں نے رسمی طور پر تو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کر لیا ہے لیکن ابھی تک وہ لوگ اس کے قائل اور معتقد نہیں ہیں، بلکہ وہ قادیانیوں کو ملک کا مخلص سمجھتے ہیں جبکہ اس بھولے پن کی وجہ سے یہ لوگ سازشوں کا شکار بھی ہو رہے ہیں، میں نہیں جانتا کہ موجودہ بے نظیر حکومت میں کتنے قادیانی موجود ہیں؟ حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کی ناکامی میں بھی قادیانیوں کا ہاتھ ہے اور یہ کسی قیمت پر بھی خوش نہیں ہوں گے کہ کراچی میں رہنے والے لوگ آپس میں امن و امان سے مل جل کر رہیں اور پورا ملک امن کا گہوارہ بن جائے، کیونکہ پاکستان قادیانیوں کی خواہش کے خلاف بنا ہے، مرزا محمود اور دوسرے قادیانیوں کی قبروں پر یہ لکھا ہوا تھا کہ ہماری لاشیں یہاں پر امانتاً دفن ہیں، جوں ہی حالات بہتر ہوں ہماری لاشوں کو قادیان میں دفنایا جائے، اب یہ الفاظ ان کی قبروں سے مٹا دیئے گئے ہیں لیکن نظریہ اب بھی وہی ہے کہ ان کے اصل مرکز قادیان کے علاقے کو کھلا علاقہ قرار دے دیا جائے۔ قادیانیوں کی بدنیتی کے کچھ شواہد اور بھی ہیں، کراچی کی شاہ فیصل کالونی میں
ایک مکان سے فائرنگ ہوئی، تحقیقات پر معلوم ہوا کہ مکان قادیانیوں کا تھا اور فائرنگ کرنے والے بھی قادیانی تھے، اسی طرح ماڈل کالونی میں بھی بہت سے قادیانی جمع ہو گئے ہیں کیونکہ یہ بہت اچھا علاقہ تصور کیا جاتا ہے، وہاں بھی وقفے وقفے سے فائرنگ کے واقعات ہوتے تھے، وہاں پر آباد تمام برادریوں کے بڑوں نے جمع ہو کر سوچا کہ بات کیا ہے کہ ہم لوگ تو آپس میں لڑتے نہیں، لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ معلوم ہوا کہ ایک شخص جس کے پاس ملک سے باہر جاتے ہوئے مرزا طاہر احمد ٹھہرا تھا وہ اس گروہ کا سرغنہ قادیانی ہے، اس نے اپنے رضا کاروں کو اسلحہ دے رکھا تھا جو یہ کاروائیاں کرتے تھے۔ اب بھی جب کسی علاقے میں امن و امان ہوتا ہے، وہاں یہ لوگ فائرنگ کر کے غائب ہو جاتے تھے، اسی طرح سنیوں کی مسجد پر اسکوٹر پر دو افراد فائرنگ کر کے بھاگ گئے اور اسی طرح شیعوں کی امام بارگاہ پر فائرنگ کی اور غائب ہو گئے، جن لوگوں کو پکڑا گیا ہے وہ قادیانی ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ حکومت نے فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کے دوران اس نہج پر کیوں نہیں سوچا کہ اس گڑبڑ کے پیچھے قادیانیوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے؟ کیونکہ قادیانی کوئی بھی کام غیر منظم طریقہ سے نہیں کرتے، یہ لوگ اپنے امیر اور خلیفہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، ہمارے پاس اس قسم کے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب مرزا طاہر احمد یہ کہتا ہے کہ حالات مزید خراب ہوں گے تو یہ اس کی پلاننگ ہے، ہمارے پاس نہ تو اسلحہ ہے اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی مؤثر سیاسی طاقت ہی ہے، ہم تو صرف اور صرف قوم کو خطرات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج: ۱۵ ش: ۱۳)
ختم نبوت
اور برطانوی مسلمانوں کی ذمہ داری
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
”ہر سال ماہ اگست میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے انگلینڈ میں ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ جب اس سلسلہ میں یورپ تشریف لے جاتے تو روزنامہ ”جنگ“ ان سے پینل انٹرویو کیا کرتا تھا، اس سلسلہ کا آپؒ کا ایک انٹرویو پیش خدمت ہے۔“ ...........................................(سعید احمد جلال پوری)
جنگ:.......مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب آپ برطانیہ میں ختم نبوت کانفرنس کے سلسلے میں آئے، کیا ایسی کانفرنسوں کے انعقاد کے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں؟
جواب:.......ہم یہاں ہر سال صرف اس لئے آتے ہیں کہ یہاں آباد مسلمانوں کو فتنہ قادیانیت کے بارے میں بتایا جائے اور ایسی کانفرنسوں کا مقصد یہ ہے کہ خود قادیانیوں کو اسلام کی طرف راغب کیا جائے جو گمراہی کے راستے پر چل
رہے ہیں۔ پوری امت مسلمہ یہ تسلیم کرتی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخرالزماں ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اور اس بارے میں کبھی بھی دو رائیں نہیں ہوئیں کہ جو شخص خود کو نبی کہے گا وہ مرتد اور واجب القتل ہے، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا، اس نے نہ صرف خود کو حضرت مسیح قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ نعوذ باللہ! امام مہدی بھی ہیں۔ اس طرح انہوں نے دو شخصیتوں کو ایک کر دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شروع سے ہی حضرت مسیح کی پیشگوئی میں شامل کر رکھا تھا اور اسے الہام ہوا کہ حضرت مسیح کی وفات ہوگئی ہے۔
مرزا غلام احمد نے یہ بات ۱۸۸۴ء میں اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ میں لکھی کہ جب حضرت مسیح دنیا میں تشریف لائیں گے تو اسلام ہر سو پھیل جائے گا، لیکن ۱۸۹۲ء میں یہ دعویٰ کر دیا کہ ان کی وفات ہوگئی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اتنے تھوڑے عرصے میں ان کی وفات کیسے واقع ہوگئی؟ اور نبوت کے حوالے سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا یقین کامل تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، لیکن ۱۹۰۱ء میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں ہی نعوذ باللہ! حضرت محمد ہوں۔ اس کی دلیل اس نے یہ دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا لیکن حضور خود تو واپس آسکتے ہیں اور نعوذ باللہ! حضور، مرزا قادیانی کے روپ میں آئے ہیں۔ گویا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دو دفعہ دنیا میں آنا مقدر تھا۔ ایک بار چھٹی صدی عیسوی میں اور دوسری مرتبہ چودھویں ہجری کے آغاز پر یعنی ۱۹۰۱ء میں ان کی دوسری بعثت شروع ہوگئی۔ اس لحاظ سے بقول مرزا غلام احمد، حضور کی پہلی بعثت ختم ہوگئی ہے۔
مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے ”کلمۃ الفصل“ میں لکھا ہے کہ مسلمان تو اپنے کلمے میں دوسرے نبیوں کو شامل کرتے ہیں لیکن قادیانی اس میں ایک اور نبی یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی شامل کرتے ہیں۔ مرزا بشیر احمد کہتے ہیں کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد کی صورت میں حضور ہی واپس آئے ہیں کوئی دوسرا
نہیں آیا، اس طرح رسول اللہ کے بھی دو مفہوم ہوجاتے ہیں، ایک رسول اللہ مکہ اور مدینہ والے اور نعوذ باللہ! دوسرا رسول اللہ قادیان والا ہے۔
اب آپ غور کریں کہ مسلمان جب کلمہ پڑھتے ہیں تو ان کے ذہن میں مکہ اور مدینہ والے رسول اللہ ہوتے ہیں جبکہ قادیانی جب کلمہ پڑھتے ہیں تو ان کے ذہن میں رسول اللہ سے مراد بعثت ثانیہ اور نعوذ باللہ! مرزا غلام احمد قادیانی ہوتا ہے۔
ایک بنیادی بات یہ ہے کہ دین کی جڑ توحید اور رسالت ہے، باقی چیزیں نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی حیثیت ثانوی ہے، لیکن قادیانیوں نے آری لے کر اس پودے کو جڑ سے ہی کاٹ دیا ہے اور محمد رسول اللہ کے مقابلہ میں ایک نیا محمد لاکھڑا کیا ہے۔
ہم برطانیہ میں اور دنیا بھر کے مختلف ممالک میں یہی پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ چونکہ دین اور ایمان کا مسئلہ نجات کا مسئلہ ہے اور آخرت کی بربادی یا اس کا بن جانا اس عقیدے پر موقوف ہے، اس لئے مسلمان بھائیوں کو قادیانیوں کے گمراہ کن پروپیگنڈے سے ہر لمحہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
ہم تو قادیانیوں کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ قیامت کے روز ہر شخص جب اللہ کی بارگاہ میں کھڑا ہوگا تو اسے اپنے عقائد و اعمال کا خود حساب دینا ہوگا۔
آپ مجھے قرآن سے کوئی آیت دکھا دیں جس میں یہ ذکر ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی میں ہی یہ فرما دیا تھا کہ میں قیامت کے روز انہیں وفات دوں گا۔ آپ تمام احادیث کا مطالعہ کرلیں، ڈیڑھ لاکھ سے زائد صحابہ کے اقوال دیکھ لیں، چودہ صدیوں کے اکابرین امت اور تمام ائمہ دین نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں، خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں ان سے ملاقات کر کے آئے ہیں، اب میں کس طرح کہہ دوں کہ مرزا غلام احمد سچا ہے اور تمام اکابرین امت جھوٹے ہیں؟ اور میری نظر میں
یہی مسئلہ ختم نبوت ہے۔
ربوہ والی جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم کرتی ہے جبکہ قادیانیوں کی لاہوری جماعت مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتی بلکہ وہ اسے مجدد تسلیم کرتی ہے، اور وہ جماعت بھی ختم نبوت کے عقیدہ پر یقین رکھتی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی جو نشانیاں بیان کی ہیں ان میں چھوٹی علامتیں یہ ہیں کہ ہر طرف جہل پھیل جائے گا، امانت اور دیانت اٹھ جائے گی اور لہو و لعب ہوگا۔ دوسری بڑی نشانی دجال کی آمد ہے، وہ جب نبوت اور خدائی کا دعویٰ کرے گا تو یہودی اسے امام مانیں گے اور اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جائیں گے، وہ ایسے ایسے شعبدے دکھائے گا کہ عقل حیران رہ جائے گی، وہ چالیس دنوں کے اندر پوری دنیا کا دورہ کرے گا، اس کا فتنہ اتنا شدید ہوگا کہ علماء اور صلحاء مل کر اس کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ دجال کے فتنہ کے بارے میں تمام انبیاء نے، حضرت نوح علیہ السلام نے بھی ذکر کیا ہے اور اس کی بددینی سے ڈرایا ہے، اس وقت حضرت مسیح علیہ السلام بیت المقدس میں اتریں گے جہاں مسلمانوں کے امام جو حضرت امام مہدی ہوں گے، حضرت مسیح علیہ السلام ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ وہاں حضرت مسیح علیہ السلام دجال کے قتل کا حکم دیں گے، دجال حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھ کر پگھلنے لگے گا اور وہ بھاگے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا تعاقب کریں گے، یہاں تک کہ مقام ”لُدّ“ میں اسے جالیں گے اور قتل کردیں گے، یوں اس کی موت واقع ہو جائے گی۔
اب آپ دیکھیں کہ ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا تھا، ان کو اس فیصلے سے اختلاف بھی ہے کیونکہ کوئی شخص اپنے خلاف عدالتی فیصلے کو کبھی تسلیم نہیں کرتا۔ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو اپنا کیس پیش کرنے کے لئے پورے گیارہ دن دیئے گئے، اس میں
لاہوری پارٹی کو دو روز ملے تھے، اور اب تو قومی اسمبلی کا فیصلہ بھی چھپ کر آ گیا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب مرزا طاہر احمد نے اپنا موقف قومی اسمبلی کے سامنے پیش کر دیا تھا پھر انہیں کیا شکایت ہے؟ جب قومی اسمبلی نے فیصلہ دیا تھا تو اس وقت تمام اراکین اسمبلی جمہوری تھے اور اسمبلی ایک عدالت تھی، اس وقت کے وزیر قانون حفیظ پیرزادہ نے حکومت کی وکالت کی تھی، اس ساری کاروائی کے بعد قومی اسمبلی نے متفقہ فیصلہ دیا تھا کہ قادیانی کافر ہیں، ان کے عقائد کے پیش نظر انہیں مسلمان نہیں کہا جاسکتا۔
حال ہی میں جرمنی میں کیتھولک فرقے نے عدالت سے رجوع کیا تھا کہ پروٹسٹنٹ فرقے کو ان کے شعائر استعمال کرنے سے روکا جائے، جس پر عدالت نے کیتھولک فرقے کے حق میں فیصلہ دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کیتھولک فرقہ صدیوں سے اپنی روایات اور شعائر پر عمل کرتا چلا آ رہا ہے، اس لئے عدالت نے انہیں حق بجانب قرار دیا، اسی طرح مسلمانوں کے شعائر کو قادیانی استعمال نہیں کر سکتے۔
قادیانی اپنے اوپر ہونے والے جھوٹے اور بے بنیاد مظالم کی داستانیں گھڑ کر پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں، حالانکہ یہ لوگ دوسری اقلیتوں کے مقابلے میں اونچی اونچی پوسٹوں پر بیٹھے ہیں، حکومت اور انتظامیہ نے ان کو ان کی حیثیت سے زیادہ عہدے اور ملازمتیں دے رکھی ہیں، جہاں پر انہوں نے اپنے آدمی بھرتی کر دیئے ہیں۔
۱۹۷۴ء کے فیصلے کے بعد سے یہ لوگ اپنے آپ کو پوشیدہ رکھتے ہیں، ان کی جماعت پاکستان کے خلاف کام کر رہی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھی ان کا ہاتھ ہے اور یہ لوگ ملک کے اندر فرقہ پرستی کو بھی ہوا دے رہے ہیں، اگر انصاف کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ مظلوم پاکستانی مسلمان ہیں، قادیانی نہیں۔
میں تو کہتا ہوں کہ غیرممالک کو پاکستان میں سروے کروانا چاہئے، انہیں حقیقت کا علم ہوجائے گا۔
اب بہائی فرقے کے لوگوں کو دیکھیں، وہ کھل کر کہتے ہیں کہ ان کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، لیکن وہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق مانتے ہیں، ان لوگوں نے سچائی اور صفائی سے کام لیا ہے، اس لئے ان کے خلاف کہیں بھی کوئی اختلاف دیکھنے میں نہیں آیا۔
میں کہتا ہوں کہ کوئی بھی شخص اپنا علیحدہ عقیدہ رکھنے کا حق رکھتا ہے لیکن مسلمانوں کو دھوکہ تو نہ دے۔ آپ دیکھیں کہ برطانیہ میں گرجا گھر فروخت کئے جا رہے ہیں، وہاں اتوار کو بھی کوئی نہیں آتا، وہاں فلمیں بھی دکھائی جا رہی ہیں، لیکن عیسائیت بنگلہ دیش، بھارت اور افریقہ کے کئی ممالک میں صرف اس لئے پھیل رہی ہے کہ یہ لوگ غریب عوام کو روٹی فراہم کرتے ہیں۔ یہی طرز عمل قادیانیوں کا بھی ہے، یہ لوگ بیروزگار نوجوانوں کو ورغلا کر ربوہ لے جاتے ہیں، اور انہیں بیعت کرنے کے لئے کہتے ہیں اور انہیں امریکہ کا ویزا دلوانے کی بات کرتے ہیں، جہاں وہ جا کر سیاسی پناہ حاصل کرتے ہیں۔
جنگ:....... وہ لوگ جو درحقیقت قادیانی نہیں لیکن مغربی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لئے کاغذی طور پر قادیانی بن جاتے ہیں، کیا وہ دائرہ اسلام میں رہتے ہیں؟
جواب:...... جو لوگ سیاسی پناہ کے حصول کے لئے قادیانی بنتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ کرنی چاہئے اور کہنا چاہئے کہ ہم نے کفر کا کام کیا ہے، خدا ہمیں معاف کردے، کیونکہ خدا انسانیت پر مہربان ہے، وہ ان کی حالت پر رحم کرے گا۔ درحقیقت سیاسی پناہ کے لئے قادیانی بننے والے نہ تو قادیانی ہیں اور نہ ہی مسلمان رہتے ہیں، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ایک وقت ایسا بھی
آئے گا کہ جب مسلمان صبح کو مؤمن ہوگا تو شام کو کافر ہو جائے گا اور شام کو مسلمان ہوگا تو صبح کو کافر ہوگا۔ آج کل لوگ چند ٹکوں کی خاطر اپنا ایمان بیچ رہے ہیں اور جو شخص یہ کہے کہ میں کل مسلمان نہیں رہوں گا وہ فوراً اسی وقت اسلام کے دائرہ سے خارج ہو جاتا ہے۔
- جنگ:....... گزشتہ دنوں پاکستان میں کسی قادیانی خاتون کی نماز جنازہ پڑھنے والوں کے بارے میں خبر شائع ہوئی تھی کہ ان کے نکاح ٹوٹ گئے، کیا قادیانی کی نماز جنازہ پڑھنے والا دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے؟
جواب:....... ہمیں کسی کو بھی کافر کہنے کا شوق نہیں ہے، دراصل قادیانیوں کے عقائد کفریہ ہیں، اگر کوئی شخص کافر کا جنازہ مسلمان سمجھ کر پڑھتا ہے تو وہ کافر ہو جاتا ہے، جن لوگوں کو علم نہیں تھا کہ وہ خاتون قادیانی ہے، وہ بے گناہ ہیں۔ کچھ لوگ سکھوں کے جنازے میں دوستی کا حق ادا کرنے کے لئے بھی جاتے ہیں، وہ گناہگار ہیں، لیکن کافر نہیں ہیں۔ گزشتہ دنوں یہاں پر قادیانی نوجوان میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم لوگ بھی آپ کی طرح کلمہ پڑھتے ہیں اور نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے پابند ہیں، آپ لوگ ہمیں کافر کیوں کہتے ہیں؟ تو میں نے انہیں بتایا کہ قادیانی، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظاً مانتے ہیں معنی کے اعتبار سے نہیں مانتے، اور ان کی نظر میں قرآن سے مراد وہ نہیں جو مسلمان مانتے ہیں، بلکہ وہ مرزا غلام احمد کی کتاب کو مانتے ہیں، کیونکہ وہ تو کہتا ہے کہ وحی الٰہی میں اس کا نام نعوذ باللہ! ”محمد“ رکھا گیا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے بیٹے بشیر احمد نے ہمیں کافر قرار دیا ہے، کیا ہم نے اسلام میں کسی قسم کی تبدیلی کی ہے؟ تبدیلی تو قادیانیوں نے کی ہے۔
جنگ:....... آپ نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت برطانیہ قادیانیوں کو مسلمانوں کے شعائر استعمال کرنے سے روکے، کیا
اس ملک میں یہ ممکن ہے؟
جواب:...... ہم نے حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی اقلیت جو خود کو مسلمان کہلا کر مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے، اس کو مسلمانوں کا استحصال کرنے سے روکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ برطانیہ میں آباد پاکستانیوں کو بھی کونسلوں کی سطح پر قادیانیوں کی حرکات پر نظر رکھنی چاہئے کیونکہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ قادیانی مسلمانوں کا نام استعمال کر کے سوشل ویلفیئر سوسائٹیاں بناتے ہیں اور کونسلوں سے وہ گرانٹ حاصل کرتے ہیں جو مسلمانوں کے کوٹے میں آتی ہے۔ میرے نزدیک برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن بھی اس سلسلے میں مدد کر سکتا ہے اور قادیانیوں کی عبادت گاہوں کو مسجدیں قرار دینے سے روکنے کے لئے کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ قادیانی، مسلمانوں سے الگ قوم ہیں، انہیں زبردستی مسلمانوں کی صفوں میں شامل کرنے کی سازشوں کو بے نقاب کرنا چاہئے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب قادیانی یہاں پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ان پر مظالم ہو رہے ہیں، پاکستانی سفارت خانے کو اس کا توڑ کرنا چاہئے اور اعداد وشمار پیش کر کے برطانوی پریس کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہئے۔ اب آپ دیکھیں کہ ”سرے“ کے علاقے میں ٹیل فورڈ میں قادیانیوں نے ایک چھوٹی سی جگہ کو اسلام آباد کا نام دے رکھا ہے، یہ آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، پاکستان ایک مسلم ملک ہے، ہمارا مقصد اسلامی اقدار کا تحفظ ہونا چاہئے اور بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو بے نقاب کر دینا چاہئے۔
جنگ:....... کیا ختم نبوت کے رہنما ٹیلی ویژن اور سیٹلائٹ کے ذریعے اشاعت اسلام پر یقین رکھتے ہیں؟ کیا آپ تصویر چھپوانے کے حق میں ہیں؟
جواب:...... مرزا طاہر احمد نے حال ہی میں اپنی تصویر اخبار میں چھپوائی ہے،
جس چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اور حرام قرار دیا ہے، ہم اس قانون شرعی کی کیسے خلاف ورزی کر سکتے ہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ تصویر وقت کی ضرورت ہے، اس کے لئے اجتہاد بھی تو ہو سکتا ہے، لیکن اجتہاد تو اس چیز کے بارے میں ہوتا ہے جس کے بارے میں شریعت نے کوئی حکم نہ دیا ہو، کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ قادیانیوں نے تو سیٹ لائٹ کے ذریعے پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے، آپ اس کا کیا توڑ کریں گے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اشاعت اسلام کے لئے ٹی وی اور سیٹ لائٹ سے پروگرام پیش کرنے کے بارے میں غور کرنا چاہئے۔ قادیانیوں کے پروپیگنڈے سے اتنا بھی خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ پاکستانی مسلمانوں میں ایمان کی دولت کی فراوانی ہے، وہ لوگوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
جنگ:....... مرزا طاہر احمد کے مباہلہ کے چیلنج اور قادیانیوں کی سیاسی پناہ پر روشنی ڈالنا پسند کریں گے؟
جواب:...... برطانیہ میں چونکہ قادیانیوں کا سربراہ مرزا طاہر احمد موجود ہے اس لئے یہاں پر آباد مسلمانوں پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہ خیال رکھیں کہ کہیں وہ مسلمانوں کی نوجوان نسل کو نہ ورغلائیں، یہ لوگ پاکستان میں پولیس والوں سے اپنے خلاف جعلی ایف آئی آر تیار کروا لیتے ہیں اور یہاں آکر سیاسی پناہ کا ڈرامہ رچاتے ہیں، میں آپ کو بتا دوں کہ میں نے مرزا طاہر احمد کو مباہلے کا چیلنج کیا لیکن وہ میدان میں نہیں آیا، میں نے ان کو پیغام بھیجا کہ اگر وہ نہیں آسکتے تو اپنے کسی نمائندے کو بھیج سکتے ہیں، اور وہ جس جگہ اور مقام کو منتخب کریں گے میں وہاں پہنچ جاؤں گا، لیکن جھوٹے شخص میں یہ ہمت ہی نہیں کہ وہ مسلمانوں کے ایمان کی قوت کا مقابلہ کر سکے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جو ۱۹۸۸ء میں مرزا طاہر احمد نے اچانک مباہلے کا چیلنج جاری کیا تھا، کیونکہ اس وقت ان کی جماعت میں شدید اختلافات پیدا ہوچکے تھے، ہمیں پتہ چلا تھا کہ مرزا طاہر احمد کا بھائی مرزا رفیع اپنی الگ جماعت قائم کرنے
کے چکر میں تھا، اس لئے اس نے توجہ ہٹانے کے لئے یکا یک چیلنج جاری کیا، جس پر پورے پاکستان کے علماء نے اس کا چیلنج قبول کیا۔ خود میں نے انہیں ۲۳/ مارچ ۱۹۸۹ء میں مباہلے کا پیغام بھیجا تو اس نے مجھے لکھا کہ: ”تم کون ہو اور تمہاری حیثیت کیا ہے جو تم مرزا طاہر احمد کو چیلنج کر رہے ہو؟“ میں نے جواباً لکھا کہ: ”تم اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے آؤ اور میں بھی لے آؤں گا، اور یہ بھی بتادو کہ میں کتنے آدمی اپنے ساتھ لاؤں، ایک سو لاؤں، ایک لاکھ لاؤں، یا دس لاکھ لاؤں؟“ لیکن اس کے سیکریٹری نے پیغام بھیجا کہ: ”ایک کاغذ پر ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ لکھ کر بھجوادو، تو مباہلہ مکمل ہو جائے گا۔“ میں نے کہا کہ یہ مباہلہ نہ ہوا مذاق ہوگیا۔ پھر میں نے اسے قرآن، حدیث اور خود مرزا غلام احمد کی کتابوں سے حوالہ جات دیئے کہ مباہلے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں فریق ایک میدان میں آئیں، پھر میں نے اسے لکھا کہ اب اگر تم وقت اور تاریخ مقرر کر کے مباہلے کے میدان میں نہ آئے اور تکفیر سے باز نہ آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مرو گے۔ اس دن کے بعد اس نے مجھے کبھی مباہلے کا چیلنج نہیں بھیجا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۵ ش:۴۷)
قادیانی اور اسرائیل
سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی نے مصر سے شائع ہونے والے اخبار ”عقیدتی“ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے قادیانیوں کے ہیڈ کوارٹر اور ایک ٹی وی چینل کے لئے انہیں عمارات فراہم کردی ہیں، نیز انٹر نیٹ پر ”یاہو ویب“ کے نام سے صفحہ کھولا گیا ہے ، جس میں اسلام کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کی کردار کشی کرنے کے لئے اسلام کے حوالے سے متعدد غلط رپورٹیں ، قابل اعتراض تصاویر اور لائق شرم نغمات وعلامات شامل کئے گئے ہیں۔ اسلام کے متعلق فائل کو ”مسلم یا احمدیہ“ کا نام دیا گیا ہے۔
(روزنامہ جنگ کراچی اتوار ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۷ء)
”الکفر ملۃ واحدۃ“ کے مطابق قادیانی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ قطعاً تعجب خیز نہیں ہے ، لیکن اس سے قادیانی عزائم اور یہودی عزائم کے درمیان ہم آہنگی واضح ہو جاتی ہے ، اور قرآن کریم کے اس اعلان کی صداقت واضح ہو جاتی ہے :
لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین آمنوا الیہود والذین اشرکوا ولتجدن اقربہم مودۃ للذین آمنوا الذین قالوا انا نصاری ذلک بان منہم قسیسین ورہباناً وانہم لا یستکبرون۔“
(مائدۃ:۸۲)
ترجمہ :”تمام آدمیوں سے زیادہ مسلمانوں سے عداوت رکھنے والے ، آپ ان یہود اور مشرکین کو پاویں گے ، اور ان میں مسلمانوں کے ساتھ دوستی رکھنے کے قریب تر ان لوگوں کو پائیے گا، جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں ، یہ اس سبب سے ہے کہ ان میں بہت سے علم دوست عالم ہیں، اور بہت سے تارک دنیا درویش ہیں، اور اس سبب سے کہ یہ لوگ متکبر نہیں“
(حضرت حکیم الامت تھانویؒ)
جب دجال اعور کا خروج ہوگا تو اصفہان کے ستر ہزار یہودی اسکی فوج میں شامل ہوں گے مرزا طاہر احمد نے گویا دجال اعور کی لائن صاف کر دی ہے۔
ہمارے بزرگ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ جو امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کے دور سے لے کر شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ تعالیٰ تک مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکریٹری رہے ، وہ فرمایا کرتے تھے کہ اسلام کا مرکز تو مکہ اور مدینہ ہے، اور وہاں قادیانیوں کو جانے کی اجازت نہیں تو ان کے ذریعے غلبہ اسلام کیسے حاصل ہو گا؟ اور یہ غالب آنے کے خواب کیونکر دیکھ رہے ہیں؟
----------------------------
”الجزائر (ریڈیو رپورٹ) الجزائر کی سیکورٹی فورسز نے گزشتہ تین روز کے دوران ۱۳ انتہا پسندوں کو ہلاک کردیا۔ اطلاعات کے مطابق ۱۱ افراد کو ”اوران“ میں اور ۲ کو
دارالحکومت ”الجزیرہ“ میں مارا گیا“۔
(روزنامہ جنگ کراچی اتوار ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۷ء)
الجزائر کے لوگ غالباً اسلام اور اسلامی احکام کو کما حقہ جانتے بھی نہیں ہوں گے، عمل کرنا تو دور کی بات ہے، مگر اسلام دشمن قوتوں کو اسلام کے لفظ سے خوف آتا ہے، وہ اسلام دشمنی میں انسانی حقوق کی تمام سرحدیں عبور کر جاتی ہیں، بنیادی حقوق کی پاسداری تو کجا وہ مسلمانوں کے حق میں کسی انسانی برتاؤ کی بھی روادار نہیں۔ الجزائر کے مسلمانوں کا قتل عام محض اس لئے کیا جارہا ہے، کہ وہ یوگو سلاویہ کی شکست وریخت کے بعد وجود میں آنے والی اس نئی مملکت میں اپنے سینے میں دبی ہوئی اسلام کی چنگاری کو ہمیشہ کیلئے بجھا کیوں نہیں دیتے، وہ اسلام کا نام کیوں لیتے ہیں؟ اہل کفر کو اسلام سے عداوت ہے۔ الجزائری مسلمان آئے دن تختہ مشق بنتے ہیں مگر بنیادی حقوق کے علم برداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، کسی کی زبان سے حرف غلط کی طرح ان کے حق میں کلمہ خیر نہیں نکلتا۔ الجزائر کے مسلمانوں کو مختلف حیلے بہانوں سے چن چن کر قتل کیا جارہا ہے، کبھی انہیں انتہا پسند اور بنیاد پرست کہا جاتا ہے تو کبھی کٹر جنونی مسلمان کے القابات سے نوازا جاتا ہے۔
(ماہنامہ بینات کراچی رجب ۱۴۱۸ھ)
منکرین ختم نبوت کے لئے
اصلی شرعی فیصلہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ!
س:....... خلیفہ اول بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو حضرت صدیق اکبر نے منکرین ختم نبوت کے خلاف اعلان جنگ کیا اور تمام منکرین ختم نبوت کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ منکرین ختم نبوت واجب القتل ہیں، لیکن ہم نے پاکستان میں قادیانیوں کو ”غیر مسلم“ قرار دینے پر ہی اکتفا کیا، اس کے علاوہ اخبارات میں آئے دن اس قسم کے بیانات بھی شائع ہوتے رہتے ہیں کہ: ”اسلام نے اقلیتوں کو جو حقوق دیئے ہیں وہ انہیں پورے پورے دیئے جائیں گے۔“ ہم نے قادیانیوں کو نہ صرف تحفظ اور حقوق فراہم کئے ہوئے ہیں، بلکہ کئی اہم سرکاری عہدوں پر بھی قادیانی فائز ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منکرین ختم نبوت اسلام کی رو سے واجب القتل ہیں یا اسلام کی طرف سے اقلیتوں کو دیئے گئے حقوق اور تحفظ کے حقدار ہیں؟
ج:....... منکرین ختم نبوت کے لئے اسلام کا اصل قانون تو وہی ہے جس پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا، پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت
قرار دے کر ان کی جان و مال کی حفاظت کرتا، ان کے ساتھ رعایتی سلوک کرے، لیکن اگر قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں بلکہ مسلمان کہلانے پر مصر ہوں تو مسلمان، حکومت سے یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسیلمہ کذاب کی جماعت کا سا سلوک کیا جائے۔ کسی اسلامی حکومت میں مرتدین اور زنادقہ کو سرکاری عہدوں پر فائز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر اسلامی ممالک کے ارباب حل وعقد کی توجہ کا متقاضی ہے۔
ایک قادیانی نوجوان کے جواب میں :
ج : ....... آپ کا جوابی لفافہ موصول ہوا، آپ کی فرمائش پر براہ راست جواب لکھ رہا ہوں اور اس کی نقل ”جنگ“ کو بھی بھیج رہا ہوں۔
اہل اسلام قرآن کریم، حدیث نبویؐ اور اجماع امت کی بنا پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ خود جناب مرزا صاحب کو اعتراف ہے کہ :
”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیشین گوئی ہے جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے اور صحاح میں جس قدر پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیشین گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی ۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔“
(ازالہ اوہام ص: ۵۵۷، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۴)
لیکن میرا خیال ہے کہ جناب مرزا صاحب کے ماننے والوں کو اہل اسلام سے بڑھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھنا چاہئے کیونکہ جناب مرزا صاحب نے سورۃ الصف کی آیت: ۹ کے حوالے سے ان کی دوبارہ تشریف آوری کا اعلان کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشین گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا (اس آیت میں) وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص: ۴۹۸، ۴۹۹)
جناب مرزا صاحب قرآن کریم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا ثبوت محض اپنی قرآن فہمی کی بنا پر نہیں دیتے بلکہ وہ اپنے ”الہام“ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس آیت کا مصداق ثابت کرتے ہیں، جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:
”اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کی رو سے مسیح کی ”پہلی زندگی“ کا نمونہ ہے، اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے...... اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیشین گوئی میں ابتداً سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے یعنی حضرت مسیح پیشین گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر۔“
(ایضاً ص: ۴۹۹)
صرف اسی پر اکتفا نہیں، بلکہ مرزا صاحب اپنے الہام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کی الہامی پیشین گوئی بھی کرتے ہیں، چنانچہ اسی کتاب کے ص: ۵۰۵ پر اپنا ایک الہام: ”عسی ربکم ان یرحمکم علیکم.“ درج کر کے اس کا مطلب یہ بیان فرماتے ہیں:
”یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے ”جلالی طور پر“
ظاہر ہونے کا اشارہ ہے، یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف اور احسان قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور غضب اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور یہ زمانہ اس زمانے کے لئے بطور ارہاص کے واقع ہوا ہے۔ یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ اتمام حجت کرے گا۔ اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق اور احسان سے اتمام حجت کر رہا ہے۔“
ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ آنے پر ایمان نہ رکھا جائے تو نہ صرف یہ قرآن کریم کی قطعی پیشین گوئی کی تکذیب ہے، بلکہ جناب مرزا صاحب کی قرآن فہمی، ان کی الہامی تفسیر اور ان کی الہامی پیشین گوئی کی بھی تکذیب ہوگی۔ پس ضروری ہے کہ اہل اسلام کی طرح مرزا صاحب کے ماننے والے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے پر ایمان رکھیں، ورنہ اس عقیدے کے ترک کرنے سے قرآن وحدیث کے علاوہ مرزا صاحب کی قرآن دانی بھی حرف غلط ثابت ہوگی اور ان کی الہامی تفسیریں اور الہامی انکشافات سب غلط ہو جائیں گے، کیونکہ:
”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص: ۲۲۲)
اب آپ کو اختیار ہے کہ ان دو باتوں میں کس کو اختیار کرتے ہیں، حیات عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کو؟ یا مرزا صاحب کی تکذیب؟
جناب مرزا صاحب کے ازالہ اوہام (ص:۹۲۱) والے چیلنج کا ذکر کر کے آپ نے شکایت کی ہے کہ نوے سال سے کسی نے اس کا جواب نہیں دیا۔ آں عزیز کو شاید یہ علم نہیں کہ حضرات علماء کرام ایک بار نہیں، متعدد بار اس کا جواب دے چکے ہیں، تاہم اگر آپ کا یہی خیال ہے کہ اب تک اس کا جواب نہیں ملا تو یہ فقیر (باوجودیکہ حضرات علماء احسن اللہ جزاہم کی خاک پا بھی نہیں) اس چیلنج کا جواب دینے کے لئے حاضر ہے۔ اسی کے ساتھ مرزا صاحب کی کتاب البریۃ (ص:۲۰۷) والے اعلان کو بھی ملا لیجئے، جس میں موصوف نے بیس ہزار روپیہ تاوان دینے کے علاوہ اپنے عقائد سے توبہ کرنے اور اپنی کتابیں جلا دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
تصفیہ کی صورت یہ ہے کہ جناب مرزا صاحب کے موجودہ جانشین سے لکھوا دیا جائے کہ یہ چیلنج اب بھی قائم ہے اور یہ کہ وہ مرزا صاحب کی شرط پوری کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ اور اسی کے ساتھ کوئی ثالثی عدالت، جس کے فیصلہ پر فریقین اعتماد کر سکیں، خود ہی تجویز فرمادیں۔ میں اس مسلمہ عدالت کے سامنے اپنی معروضات پیش کروں گا۔ عدالت اس پر جو جرح کرے گی اس کا جواب دوں گا، میرے دلائل سننے کے بعد اگر عدالت میرے حق میں فیصلہ کر دے کہ میں نے مرزا صاحب کے کہنے کو توڑ دیا اور ان کے چیلنج کا ٹھیک ٹھیک جواب دے دیا تو ۲۰ ہزار روپے آں عزیز کی اعلیٰ تعلیم کے لئے آپ کو چھوڑتا ہوں، دوسری دونوں باتوں کو پورا کرنے کا معاہدہ پورا کرا دیجئے گا۔ اور اگر عدالت میرے خلاف فیصلہ صادر کرے تو آپ شوق سے اخبارات میں اعلان کرا دیجئے گا کہ مرزا صاحب کا چیلنج بدستور قائم ہے اور آج تک کسی سے اس کا جواب نہ بن پڑا۔ اگر آپ اس تصفیہ کے لئے آگے بڑھیں تو اپنی جماعت پر بہت احسان کریں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۵ ش:۴۷)
ناشائستہ حرکت
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ!
ہمیں ایک مراسلہ موصول ہوا ہے، جس میں کہا گیا ہے: ”قادیانی فرقہ کو غیر مسلم قرار دئے جانے کے باوجود افسر شاہی اپنے اداروں میں قادیانیوں کو بلاتکلف ”مسلم“ کے نام سے پکار کر نہ صرف کتاب وسنت کے ساتھ شرمناک مذاق کرتی ہے، بلکہ آئین پاکستان کی دھجیاں بھی اڑاتی ہے، چنانچہ ۳ اگست بروز منگل رات آٹھ بجے ٹی وی کے پروگرام ”ذوقِ آگہی“ میں ایک سوال کیا گیا:
سوال:...... اس مسلمان سائنسدان کا نام بتائیں جس نے ۱۹۷۹ء میں نوبیل پرائز حاصل کیا؟
جواب:...... (پروگرام کے شرکاء میں سے ایک لال بجھکڑ نے جواب دیا:) ”ڈاکٹر عبدالسلام۔“
اُس پر سوال کنندہ نے کہا: ”جواب درست ہے۔“
حالانکہ ڈاکٹر عبدالسلام کٹر قسم کا قادیانی ہے اور وطن سے اس کی وفاداری کا یہ عالم ہے کہ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت سے ناراض ہو کر اس نے پاکستان سے اظہار نفرت کرتے ہوئے یہاں کی شہریت تک چھوڑ دی۔
قادیانی شرعاً کافر و زندیق ہیں اور آئین پاکستان کی رو سے بھی وہ غیر مسلم ہیں، پاکستان کے قومی نشریاتی ادارے نے ایک قادیانی کافر کو مسلمان کہہ کر نہ صرف کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے، بلکہ آئین پاکستان کی توہین اور اس سے غداری کے جرم کا بھی ارتکاب کیا ہے، لہٰذا ارباب حل و عقد سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس پروگرام کے انچارج کو فوری طور پر برطرف کر کے آئین پاکستان سے غداری و بغاوت کے جرم میں مقدمہ چلایا جائے۔‘‘
اس بوالعجبی کی داد کون دے سکتا ہے کہ ایک طرف ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا چرچا ہے اور دوسری طرف پاکستان کا طاقتور قومی نشریاتی ادارہ غیر مسلموں کو ’’مسلمان‘‘ کا خطاب دے کر اسلام کی مٹی پلید کر رہا ہے۔ اور تعجب بالائے تعجب یہ ہے کہ ان قومی اداروں کی زمام اختیار ایسے بزرجمہروں کے ہاتھ میں ہے، جنہیں مسلم اور غیر مسلم کی بھی شناخت نہیں:
ہمارے ارباب بست و کشاد کو غالباً یہ احساس نہیں کہ یہ مسئلہ کتنا نازک اور حساس ہے، اور اگر اس پر کوئی تحریک اٹھی تو ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی طرح اسے سنگینوں کی نوک سے روکنا بھی ممکن نہیں ہوگا، ہم ملک کے ذمہ دار حضرات سے درخواست کرتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کے صبر و سکون کا زیادہ امتحان نہ لیں، کبھی حکومت کے
شعبہ خواتین کی سربراہ، اسلامی احکام کا مذاق اڑاتی ہیں، اور کبھی قومی نشریاتی ادارے کے سربراہ زندیقوں اور مرتدوں کو اسلام کی سند عطا فرماتے ہیں، ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آیا افسر شاہی علم و دانش سے اس قدر بے بہرہ ہے کہ اسے مسلم و غیر مسلم اور اسلام و کفر کے درمیان تمیز بھی نہیں؟ یا جان بوجھ کر اسلام اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑانا بھی ان کے فرائض منصبی میں داخل ہے؟
بہر حال ہم اسلام کے خلاف ٹی وی کے ارباب حل و عقد کی اس ناشائستہ اور غیر ذمہ دارانہ حرکت کے خلاف پوری ملت اسلامیہ کی طرف سے پرزور احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ ادارہ اس حرکت پر قوم سے معافی مانگے، ورنہ اس کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱ ش:۱۳)
ختم نبوت اور اجراء نبوت
سے متعلق
شبہات کا جواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
”بخدمت جناب مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب، مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کراچی۔ نہایت مؤدبانہ اور عاجزانہ التماس ہے کہ خاکسار کی دیرینہ الجھن قرآن پاک کی روشنی میں حل کرکے ممنون فرمائیں، قبل ازیں ۳۵ حضرات سے رجوع کر چکا ہوں، تسلی بخش جواب نہیں ملا، آپ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں ایسا نہ کرنا۔
سوال:۱:....... آیت مبارکہ ۳۳/۴۰ سورہ احزاب کی روشنی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کب سے یعنی کس وقت سے خاتم النبیین تسلیم کیا جائے؟
آیا: قبل پیدائش حضرت آدم علیہ السلام؟ یا حضورؐ کی پیدائش مبارک سے؟ یا آیت ۳۳/۴۰ خاتم النبیین کے نزول کے وقت سے؟ یا حضورؐ کی وفات کے بعد سے؟
جس وقت یا مقام مبارک سے حضور کا خاتم النبیین ہونا قرآن کریم سے ثابت کریں گے، اسی وقت مبارک یا مقام مبارک سے حضور کا خاتم النبیین ہونا تسلیم ہوگا، اور اسی وقت یا مقام سے وحی الہی کا انقطاع تا قیامت تسلیم ہوگا۔
سوال:۲:...... آیت مبارکہ ۶/۱۱۲ اور ۶/۱۲۱ سورہ الانعام میں شیطان مردود کے لئے دو دفعہ وحی کا لفظ ”یوحی“ اور ”لیوحون“ آیا ہے، تمام امت کا اس پر ایمان و اتفاق ہے کہ شیطانی وحی بغیر انقطاع تا قیامت جاری و ساری رہے گی، لیکن رحمانی وحی کا انقطاع تا قیامت رہے گا، یعنی رحمانی بند اور شیطانی وحی تا قیامت جاری ہے، کیا ایسی تفسیر سے قرآن کی عالمگیر تعلیم میں کوئی تضاد اور تعارض تو نہیں پیدا ہوگا؟ کیا انقطاع شیطانی وحی کا موجب رحمت ہدایت و راحت ہوگا، یا رحمانی وحی کا؟
سوال:۳:...... اب دنیا کے کل مذاہب میں وحی الہی مبارک کا انقطاع تا قیامت تسلیم کیا جاتا ہے، یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں اور مسلمانوں میں وحی الہی مبارک بند ہے، اگر کوئی بدبخت یہ کہہ دے کہ وحی مبارک الہی جاری ہے تو فوراً کافر ہوجاتا ہے، موجودہ تفسیرات میں ہم کو ایسا ہی ملتا ہے، اب جبکہ انقطاع وحی کا عقیدہ تا قیامت تسلیم ہے تو سچے دین کی شناخت کیا ہے؟
سوال:۴:...... ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ”ولا
تفرقوا“ یعنی فرقہ بندی کفر و ضلالت ہے، اس کے باوجود فرقہ بندی کو کیوں قبول کیا ہوا ہے؟ یعنی کفر کیوں کمایا جا رہا ہے جبکہ کوئی تکلیف بھی نہیں ہے؟ خدا و رسول اور کتاب موجود ہیں، یہ تینوں فرقہ بندی سے بیزار ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”هو الذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مؤمن.“ ۶۴/۲، اور: ”ولا تکونوا من المشرکین من الذین فرقوا دینہم.“ (الروم:۳۱) آج ہم علمائے دین کی بدولت ایک مسجد میں، ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرنے کو ترس رہے ہیں، اور اسلامی آئین کو بھی۔
سوال :۵:...... قرآن پاک سے ثابت ہے کہ مؤمن کے پاس کفر بالکل نہیں ہوتا، اس کے باوجود مسلمانوں یعنی خدا اور رسول کے حامیوں نے ایک دوسرے کلمہ گو کو پکا کافر قرار دے رکھا ہے، جبکہ مؤمن کے پاس کفر نہیں ہوتا، تو ان علمائے دین نے کفر کے فتوے لگا کر باہم کفر کیوں تقسیم کیا اور وہ کفر کہاں سے حاصل کیا ہے؟ اسلام اور کفر تو متضاد ہیں، اور کل فرقے برخلاف تعلیم عالمگیر کتاب اپنی اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، یہ کفر کہاں سے درآمد کیا گیا ہے؟ اور کیوں کیا گیا ہے؟ اس کا لائسنس کس فرقے کے پاس ہے؟ قرآن پاک سے نشاندہی کریں، نہایت مہربانی ہوگی، اس گنہگار کے کل پانچ سوال ہیں، از راہ شفقت صدقہ رحمت للعالمین کا صرف قرآن پاک سے حوالہ و دلیل دے کر جواب سے مستفیض فرمائیں، کیونکہ خدا کا کلام خطا سے پاک ہے، کسی بڑے سے بڑے عالم کا کلام خطا
سے کبھی بھی پاک قرار نہیں دیا جاسکتا، والسلام۔ رانا عبدالستار، لاہور‘‘
الجواب
حامداً ومصلیاً!
جناب سائل نے اپنے تمہیدی خط میں لکھا ہے کہ قبل ازیں پینتیس حضرات سے رجوع کرچکے ہیں، مگر تسلی بخش جواب نہیں ملا، سوالوں کے جواب سے پہلے اس ضمن میں ان کی خدمت میں دو گزارشیں کرنا چاہتا ہوں:
- ۱:...... ایک یہ کہ سوالات و شبہات کا صحیح ومعقول جواب دینا تو علماء امت کی
ذمہ داری ہے، لیکن کسی کے دل میں بات ڈال دینا اور اسے اطمینان وتسلی دلا دینا ان کی قدرت سے خارج ہے اور وہ اس کے مکلف بھی نہیں، کسی کے دل کو پلٹ دینا صرف اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے، اس ناکارہ نے اپنی بساط کے مطابق خلوص وہمدردی سے جناب سائل کے شبہات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے، ان کا کوئی شبہ حل نہ ہوا ہو تو دوبارہ رجوع فرماسکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود خدانخواستہ اطمینان وتسلی نہ ہو تو معذوری ہے۔
- ۲:...... دوسری گزارش یہ ہے کہ کسی جواب سے تسلی نہ ہونا اس کی دو وجہیں
ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ جواب میں کوئی ایسا نقص ہو کہ وہ موجب اطمینان وتسلی نہ ہو، دوم یہ کہ جواب تو تسلی بخش تھا، مگر سائل کا مقصد تسلی حاصل کرنا نہیں تھا، شرح اس کی یہ ہے کہ کبھی تو سوالات و شبہات اس لئے پیش کئے جاتے ہیں کہ سائل ان شبہات کی وجہ سے بے چین ہو اور وہ خلوص دل سے چاہتا ہے کہ اس کے شبہات دور ہوجائیں تاکہ اسے اطمینان وتسلی کی کیفیت نصیب ہوجائے، مگر وہ خود اتنا علم نہیں رکھتا کہ ان شبہات کے حل کرنے پر قادر ہو، اس لئے وہ کسی ایسے شخص سے رجوع کرتا ہے جو اس
کے خیال میں ان شبہات کے دور کرنے میں اس کی مدد کرسکتا ہے، ایسے شخص کا سوال چونکہ احتیاج و خلوص پر مبنی ہوتا ہے اور وہ دل و جان سے اس کا خواہشمند ہوتا ہے کہ اس کے شبہات دور ہوجائیں، اس لئے صحیح جواب ملنے پر اس کی غلط فہمی دور ہوجاتی ہے، اور اسے ایسی تسلی ہوجاتی ہے گویا کسی نے زخم پر مرہم رکھ دیا۔ اس کے برعکس معاملہ یہ ہوتا ہے کہ سائل اپنے سوال میں جن شبہات کو پیش کرتا ہے وہ ان سے مضطرب اور بے چین نہیں ہوتا، بلکہ وہ ان شبہات کو قطعی و یقینی سمجھ کر ان پر دل و جان سے راضی ہوتا ہے، ایسا شخص سوال کی شکل میں جب اپنے شبہات کسی کے سامنے پیش کرتا ہے تو اس کا مقصد ان شبہات کو دور کرنا نہیں ہوتا، اور نہ وہ اس کی ضرورت سمجھتا ہے، اسے اپنے شبہات سے پریشانی یا قلق و اضطراب نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے سوالات کو لایحل اور حرف آخر سمجھتے ہوئے پیش کرتا ہے، جس سے مقصد اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ اس کے سوالات ایسے مضبوط ہیں کہ اہل علم میں سے کوئی اس کا جواب نہیں دے سکتا، بلکہ تمام علمائے امت اس کے جواب سے عاجز و قاصر ہیں، گویا وہ رفع شبہات کے لئے سوال نہیں کرتا، بلکہ علمائے امت کو چیلنج دینے کے لئے کرتا ہے، ایسے شخص کے سوالوں کا خواہ کیسا ہی معقول اور صحیح جواب دے دیا جائے، مگر اس کو کبھی تسلی نہیں ہوتی، یہ حالت بہت ہی خطرناک ہے، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس سے محفوظ رکھیں۔
بہر حال! اگر جناب سائل کا مقصد واقعی اپنے شبہات کو دور کرنا ہے تو مجھے توقع ہے کہ انشاء اللہ العزیز ان کو ان جوابات سے شفا ہوجائے گی، اور آئندہ انہیں کسی اور کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں رہے گی، اور اگر ان کا یہ مقصد ہی نہیں تو یہ توقع رکھنا بھی بے کار ہے، بہر حال اپنا فرض ادا کرنے کی غرض سے ان کے پانچ سوالوں کا جواب بالترتیب پیش خدمت ہے۔
جواب : 1....... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے معنی
یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، اور کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبي خلفه نبي وانه لا نبي بعدى.“
(صحیح بخاری و مسلم کتاب الامارۃ ج:۲ ص:۱۲۶)
ترجمہ:..... ”بنو اسرائیل کی سیاست انبیاء کرام علیہم السلام فرماتے تھے، جب ایک نبی کا انتقال ہو جاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لیتا، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
اس مضمون کی دو سو سے زائد متواتر احادیث موجود ہیں، اور یہ اسلام کا قطعی عقیدہ ہے، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی ازالہ اوہام (خورد ص: ۵۷۷) میں لکھتے ہیں: ”ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل کو بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے، یہ تمام باتیں صحیح اور سچ ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“
(ازالہ اوہام ص: ۵۷۷، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۲)
الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا اسلام کا ایسا قطعی و یقینی عقیدہ ہے جو قرآن کریم، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے، اور جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کسی کو نبوت مل سکتی ہے، ایسا شخص باجماع امت کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، چنانچہ ملا علی قاریؒ (م ۱۰۱۴ھ) شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں:
"التحدی فرع دعوی النبوۃ ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالاجماع۔"
(شرح فقہ اکبر ص: ۲۰۲)
ترجمہ:...... "معجزہ دکھانے کا دعویٰ، دعویٰ نبوت کی فرع ہے، اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔"
رہا یہ کہ آیت خاتم النبیین کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس وقت سے خاتم النبیین تسلیم کیا جاوے، اس کا جواب یہ ہے کہ علم الٰہی میں تو ازل سے مقدر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد تشریف لائیں گے، اور یہ کہ آپؐ کی ذات گرامی پر انبیاء علیہم السلام کی فہرست مکمل ہو جائے گی، آپ کے بعد کسی شخص کو نبوت نہیں دی جائے گی، چنانچہ ایک حدیث میں ہے:
"انی عند اللہ مکتوب خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی طینۃ۔"
(مشکوٰۃ ص: ۵۱۳)
ترجمہ:...... "بے شک میں اللہ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھا، جبکہ آدم علیہ السلام ہنوز آب و گل میں تھے۔"
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین کی حیثیت سے مبعوث ہونا اس وقت تجویز کیا جاچکا تھا جبکہ ابھی آدم علیہ السلام کی تخلیق نہیں ہوئی تھی، پھر جب تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی باری پر تشریف لاچکے اور انبیاء کرام علیہم السلام کی فہرست میں صرف ایک آپؐ کا نام باقی رہ گیا تھا، تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم النبیین کی حیثیت سے دنیا میں مبعوث فرمایا، چنانچہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی
بنیانا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية من زواياه فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة. قال: فانا اللبنة وانا خاتم النبيين. وفى رواية: فكنت انا سددت موضع اللبنة، ختم بى البنيان وختم بى الرسل. وفى رواية: فانا موضع اللبنة، جئت فختمت الانبياء عليهم السلام.“
(صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۰۱، صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۴۸، مشکوٰۃ ص:۵۱۱)
ترجمہ:...... ”میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین وجمیل محل تیار کیا، مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، پس لوگ اس محل کے گرد گھومنے لگے اور اس کی خوبصورتی پر عش عش کرنے لگے، اور کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی، فرمایا: پس میں وہ آخری اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ ایک روایت میں ہے کہ پس میں نے اس ایک اینٹ کی جگہ پر کردی، مجھ پر عمارت مکمل ہوگئی اور مجھ پر رسولوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پس اس اینٹ کی جگہ میں ہوں، میں نے آکر انبیاء کرام علیہم السلام کے سلسلہ کو ختم کردیا۔“
اور امت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا علم اس وقت ہوا جب کہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں یہ اعلان فرمایا گیا کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ اس تفصیل سے واضح ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین کی حیثیت سے دنیا میں تشریف لانے کا فیصلہ تو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل تسلیم کیا جائے گا، کیونکہ یہ فیصلہ ازل ہی سے ہوچکا تھا کہ آپ کا اسم گرامی انبیاء کرام
علیہم السلام کی فہرست میں سب سے آخر میں ہے، اور آپؐ کی بعثت سب سے آخر میں ہوگی، اور اس دنیا میں آپ کا خاتم النبیین ہونا آپؐ کی بعثت سے تسلیم کیا جائے گا، اور امت کو آپؐ کے خاتم النبیین اور آخری نبی ہونے کا علم اس وقت ہوا جب قرآن کریم میں اور احادیث نبویہ میں اس کا اعلان و اظہار فرمایا گیا۔
۲:...... سوال نمبر:۲ میں وحی شیطانی سے متعلق جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں ”وحی“ سے مراد وہ شیطانی شبہات و وساوس ہیں جو دین حق سے برگشتہ کرنے کے لئے شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں القا کرتا ہے، گویا شیطانی القا کو ”یوحون“ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور القائے شیطانی کے مقابلہ میں القائے رحمانی ہے، جس کی کئی شکلیں ہیں، مثلاً الہام، کشف، تحدیث اور وحی نبوت۔ وحی نبوت کے علاوہ الہام و کشف وغیرہ حضرات اولیاء اللہ کو بھی ہوتے ہیں اور ان کا سلسلہ قیامت تک جاری ہے، لیکن ”وحی نبوت“ چونکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے اور نبوت کا سلسلہ حضورؐ پر ختم ہوچکا ہے، اس لئے وحی نبوت کا دروازہ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بند ہوچکا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے:
”ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی.“
(الجامع الصغیر ج:۱ ص:۸۰)
ترجمہ:....... ”رسالت و نبوت بند ہوچکی پس نہ کوئی رسول ہوگا میرے بعد اور نہ نبی۔“
مرزا غلام احمد قادیانی ازالہ اوہام خورد (ص:۶۱۷) میں لکھتے ہیں:
”رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایۂ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“
(ازالہ اوہام ص:۶۱۷، روحانی خزائن ج:۳ ص:۵۱۱)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
”رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“
(ازالہ اوہام ص: ۶۱۴، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۴۳۲)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
”حسب تصریح قرآن کریم، رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام وعقائد دین، جبرائیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں، لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص: ۵۳۴، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۳۸۷)
چونکہ وحی نبوت صرف انبیاء کرام علیہم السلام کو ہوسکتی ہے اور حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے، اس لئے ملت اسلامیہ کا اس پر اتفاق اور اجماع ہے کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور خارج از اسلام ہے، چنانچہ قاضی عیاض القرطبی المالکیؒ (م: ۵۴۴ھ) اپنی مشہور کتاب ”الشفا بہ تعریف حقوق المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم“ میں لکھتے ہیں:
”وکذالک من ادعی نبوة احد مع نبینا صلی اللہ علیہ وسلم او بعدہ ....... او من ادعی النبوة لنفسہ او جوز اکتسابہا والبلوغ بصفاء القلب الیٰ مرتبتہا ....... وکذالک من ادعی منہم انہ یوحیٰ الیہ وان لم یدع النبوة ...... فہؤلاء کلہم کفار مکذبون للنبی صلی اللہ علیہ وسلم لانہ اخبر صلی اللہ علیہ وسلم انہ
خاتم النبيين لا نبي بعده، واخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين وانه ارسل الى كافة للناس. واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصیص فلا شک فی کفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا اجماعًا وسمعًا.“
(ج:۲ ص:۲۴۶)
ترجمہ: ...... ”اسی طرح وہ شخص بھی کافر ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یا آپ کے بعد کسی کی نبوت کا قائل ہو ...... یا خود اپنے حق میں نبوت کا دعویٰ کرے، یا اس کا قائل ہو کہ نبوت کا حاصل کرنا اور صفائے قلب کے ذریعہ نبوت کے مرتبہ تک پہنچنا ممکن ہے ...... اور اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اسے وحی ہوتی ہے اگرچہ نبوت کا دعویٰ نہ کرے ....... پس یہ سب لوگ کافر ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپؐ تمام انسانوں کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پر محمول ہے اور یہ کہ اس کا ظاہری مفہوم ہی مراد ہے، پس اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قرآن و سنت اور اجماع امت کی رو سے مذکورہ بالا گروہ قطعاً کافر اور مرتد ہیں۔“
الغرض نصوص قطعیہ کی بنا پر ”وحی نبوت“ کا دروازہ تو بند ہے اور اس کا مدعی کافر اور زندیق ہے، البتہ کشف و الہام اور مبشرات کا دروازہ کھلا ہے، پس سائل کا یہ
کہنا کہ: ”جب شیطانی وحی جاری ہے تو ضروری ہے کہ رحمانی وحی بھی جاری ہو۔“ اگر رحمانی وحی سے اس کی مراد کشف و الہام اور مبشرات ہیں تو اہل اسلام اس کے قائل ہیں کہ ان کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے، لہٰذا اس کو بند کہنا ہی غلط ہے، البتہ ان چیزوں کو ”وحی“ کے لفظ سے تعبیر کرنا درست نہیں، کیونکہ وحی کا لفظ جب مطلق بولا جائے تو اس سے وحی نبوت مراد ہو سکتی ہے، اور اگر مندرجہ بالا فقرے سے سائل کا مدعا یہ ہے کہ ”وحی نبوت“ جاری ہے تو اس کا یہ قیاس چند وجوہ سے باطل ہے۔
- اول:...... اس لئے کہ اسلامی عقائد کا ثبوت نصوص قطعیہ سے ہوا کرتا ہے،
قیاس آرائی سے اسلامی عقائد ثابت نہیں ہوا کرتے، اور سائل محض اپنے قیاس سے ”وحی نبوت“ کے جاری ہونے کا عقیدہ ثابت کرنا چاہتا ہے۔
- دوم:...... یہ کہ اس کا یہ قیاس کتاب و سنت کے نصوص قطعیہ اور اجماع امت
کے خلاف ہے اور قیاس بمقابلہ نص کے باطل ہے، محض اپنے قیاس کے ذریعہ نصوص قطعیہ کو توڑنا کسی مدعی اسلام کا کام نہیں ہو سکتا۔
شفائے قاضی عیاض میں ہے:
”وکذالک وقع الاجماع علیٰ تکفیر کل من دافع نص الکتاب او خص حدیثا مجمعًا علیٰ نقلہ مقطوعًا بہ، مجمعًا علیٰ حملہ علی ظاہرہ۔“
(ج:۲ ص:۲۴۷)
ترجمہ:...... ”اور اسی طرح ہر اس شخص کے کافر ہونے پر بھی اجماع ہے جو کتاب اللہ کی کسی نص کو توڑے یا ایسی حدیث میں تخصیص کرے جو قطعی اجماع کے ذریعہ منقول ہو، اور اس کے ظاہر مفہوم کے مراد ہونے پر اجماع ہو۔“
حکم خداوندی کے مقابلہ میں قیاس سب سے پہلے ابلیس نے کیا تھا، جب
حق تعالیٰ شانہ نے اس کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کرے، تو اس نے یہ کہہ کر اس حکم کو رد کر دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں اور افضل کا مفضول کے آگے جھکنا خلاف حکمت ہے، محض شبہات و وساوس اور برخود غلط قیاس کے ذریعہ کتاب وسنت کے نصوص کو رد کرنا ابلیس لعین کا کام ہے، اور یہی خیالات و وساوس وہ شیطانی وحی ہے جس کا حوالہ سوال میں دیا گیا ہے۔
ایک مؤمن کی شان یہ ہے کہ جب اس کے سامنے خدا اور رسول کا کوئی حکم آئے تو فوراً گردن اس کے آگے جھک جائے اور وہ عقل و قیاس کی ساری منطق بھول جائے، پس جب خدا و رسول اعلان فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد نبوت و رسالت اور وحی نبوت کا دروازہ بند ہے اور اس عقیدے پر پوری امت کا اجماع ہے تو اس کے مقابلہ میں کوئی قیاس اور منطق قابل قبول نہیں۔
سوم:....... اس سے بھی قطع نظر کیجئے تو یہ قیاس بذات خود بھی غلط ہے کہ ”جب شیطانی وحی جاری ہے تو رحمانی وحی بھی جاری ہونی چاہئے۔“ کیونکہ یہ بات تو قریباً ہر شخص جانتا ہے کہ شیطانی وحی ہر وقت جاری رہتی ہے، اور کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا کہ شیطان لوگوں کو غلط شبہات و وساوس نہ ڈالتا ہو۔ پس اگر شیطانی وحی کے جاری ہونے سے وحی نبوت کا جاری رہنا بھی لازم آتا ہے تو ضروری ہے کہ جس طرح شیطانی وحی تسلسل کے ساتھ جاری ہے، اسی طرح وحی نبوت بھی ہر لمحہ جاری رہا کرے، اور ایک لمحہ بھی ایسا نہ گزرے جس میں وحی نبوت کا انقطاع ہوگیا ہو، اور چونکہ وحی نبوت صرف انبیاء کرام علیہم السلام کو ہوتی ہے تو وحی نبوت کے بلا انقطاع جاری رہنے کے لئے یہ بھی لازم ہوگا کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی نبی دنیا میں موجود رہا کرے، گویا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اب تک جتنا زمانہ گزرا ہے اس کے ایک ایک
لمحہ میں کسی نبی کا وجود تسلیم کرنا ہوگا، میرا خیال ہے کہ دنیا کا کوئی عاقل بھی اس کا قائل نہیں ہوگا اور خود جناب سائل بھی اس کو تسلیم نہیں کریں گے، پس جب خود سائل بھی اپنے قیاس کے نتائج کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کا یہ قیاس قطعاً غلط ہے۔
چہارم:...... یہ قیاس ایک اور اعتبار سے بھی باطل ہے کیونکہ سائل نے یہ فرض کرلیا ہے کہ وحی شیطانی کا توڑ کرنے کے لئے وحی نبوت کا جاری ہونا ضروری ہے، اور ظاہر ہے کہ شیطان کے وساوس ہر فرد بشر کو آتے ہیں، پس لازم ہوگا کہ ان کا توڑ کرنے کے لئے ہر فرد و بشر کو وحی نبوت ہوا کرے، خصوصاً کفار اور مشرکین اور فساق و فجار جن کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ شیطان ان کو وحی کرتا ہے، ان پر تو وحی نبوت ضرور نازل ہونی چاہئے تاکہ وہ وحی شیطان کا مقابلہ کرسکیں، پس سائل کے قیاس سے لازم آئے گا کہ ہر فرد بشر نبی ہوا کرے اور ہر شخص پر وحی نبوت نازل ہوا کرے، خصوصاً کفار و فجار پر تو ضرور نازل ہوا کرے اور اگر یہ کہا جائے کہ شیطانی وحی کے توڑ کے لئے ہر شخص پر وحی نبوت کا نازل ہونا ضروری نہیں کیونکہ تمام افراد انسانی، شیطانی وساوس کا توڑ کرنے کے لئے نبی کی وحی کی طرف رجوع کرسکتے ہیں تو ہم کہیں گے کہ وحی نبوت کا جاری ہونا بھی ضروری نہیں، بلکہ تمام انسانیت، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی طرف رجوع کرکے شیطانی وحی کا توڑ کرسکتی ہے، اور شیطانی وساوس سے شفایاب ہوسکتی ہے، اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ وحی من وعن تر و تازہ موجود ہے، اس میں نہ کوئی تغیر آیا ہے اور نہ اس میں کوئی کہنگی پیدا ہوئی ہے، تو شیطانی وحی کے مقابلہ میں ”وحی محمدی“ کیوں کافی نہیں؟ اور کسی نئی وحی کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟
اسی تقریر سے سائل کا یہ شبہ بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ ”وحی رحمانی تو رحمت ہے وہ کیوں بند ہوگئی؟“ کیونکہ جب ”وحی محمدی“ کی شکل میں اس امت کو ایک کامل و
مکمل رحمت، اللہ تعالیٰ نے مرحمت فرمادی ہے اور یہ کامل ومکمل رحمت امت کے پاس موجود ہے اور قیامت تک قائم و دائم رہے گی، یہ رحمت امت سے نہ کبھی منقطع ہوئی، نہ آئندہ منقطع ہوگی، تو سائل کو مزید کون سی رحمت درکار ہے جس کے بند ہونے کو وہ انقطاع رحمت سے تعبیر کرتا ہے، یہ کس قدر کفران نعمت ہے کہ ”وحی محمدی“ کو رحمت نہ سمجھا جائے، یا اس کامل ومکمل رحمت پر قناعت نہ کی جائے، اور اس کو کافی نہ سمجھا جائے، بلکہ ہر کس و ناکس اس کی ہوس کرے کہ ”وحی نبوت“ کی نعمت براہ راست اس کو ملنی چاہئے، اگر خدانخواستہ ”وحی محمدی“ دنیا سے ناپید ہوگئی ہوتی، یا اس میں کوئی ردو بدل ہوگیا ہوتا کہ وہ لائق استفادہ نہ رہتی، تب تو یہ کہنا صحیح ہوتا کہ اس امت کو ”نئی وحی“ کی ضرورت ہے، یا یہ کہ یہ امت ”وحی نبوت“ کی رحمت سے محروم ہے، لیکن اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے اکمال دین اور اتمام نعمت کا اعلان فرمادیا ہے اور قیامت کے لئے وحی محمدی کی حفاظت کا ذمہ خود لے لیا، اس امت کو ”وحی نبوت“ سے محروم کہنا صریح بے انصافی نہیں تو اور کیا ہے؟ میں جناب سائل کی توجہ اس نکتہ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ ”وحی محمدی“ کے بعد ”وحی نبوت“ کا جاری رہنا عقلاً محال ہے اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر ”وحی نبوت“ کو جاری فرض کیا جائے تو سوال ہوگا کہ یہ بعد کی وحی، وحی محمدی سے اکمل ہوگی یا اس کے مقابلہ میں ناقص ہوگی؟ پہلی صورت میں ”وحی محمدی“ کا ناقص ہونا لازم آتا ہے اور یہ اعلان خدائے بزرگ و برتر ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی.“ کے خلاف ہے۔
اور اگر بعد کی وحی، وحی محمدی کے مقابلہ میں ناقص ہو تو کامل کے ہوتے ہوئے ناقص کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ کامل کی موجودگی میں ناقص کو بھیجنا خلاف حکمت اور کار عبث ہے جو حق تعالیٰ شانہ کے حق میں عقلاً محال ہے، اس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو منصب نبوت عطا کیا جائے اور اس پر وحی نبوت نازل کی جائے، الغرض امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام) کے
پاس ”وحی محمدیؐ“ کی شکل میں کامل اور مکمل اور کافی وشافی رحمت موجود ہے، جو اس امت کے ساتھ اب تک قائم و دائم ہے، جو شخص اس رحمت کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ کسی اور ”وحی“ کی تلاش میں سرگرداں ہے اس کا منشا اس کے سوا کچھ نہیں کہ دین اسلام کے کامل ومکمل اور ”وحی محمدیؐ“ کے کافی وشافی ہونے پر ایمان نہیں رکھتا، انصاف کیا جائے کہ کیا ایسے شخص کے لئے امت محمدیہ کی صفوں میں کوئی جگہ ہوسکتی ہے؟ اور کیا وہ: ”رضیت باللہ ربّاً وبالاسلام دیناً وبمحمد صلی اللہ علیہ وسلم رسولاً ونبیاً“ کا قائل ہے؟
- ۳:...... جناب سائل نے ہندوؤں، عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کو ایک
ہی صف میں کھڑا کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح دیگر مذاہب باطلہ کی طرف سے انقطاع وحی کا دعویٰ غلط ہے، اسی طرح مسلمانوں کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد نبوت اور وحی نبوت کا دروازہ بند کردیا گیا ہے، گویا سائل کی نظر میں اسلامی عقیدہ بھی اسی طرح باطل ہے جس طرح ہنود و یہود اور نصاریٰ کا عقیدہ باطل ہے، نعوذ باللہ!
اوپر سوال نمبر دو کے جواب میں جو کچھ لکھا گیا ہے جو شخص اس پر غور کرے گا، بشرطیکہ حق تعالیٰ نے اسے فہم و بصیرت کا کچھ بھی حصہ عطا فرمایا ہو، اسے صاف نظر آئے گا کہ اسلام کا یہ دعویٰ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ”وحی نبوت“ کا دروازہ بند ہے، بالکل صحیح اور بجا ہے، لیکن دیگر مذاہب ایسا دعویٰ کرنے کے مجاز نہیں اور اس کی متعدد وجوہ ہیں:
- ایک:...... یہ کہ گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا
کہ وہ ”آخری نبی“ ہیں، اور یہ کہ ان کے بعد نبوت اور وحی نبوت کا سلسلہ بند کردیا گیا ہے، بلکہ انبیاء گزشتہ میں سے ہر نبی اپنے بعد آنے والے نبی کی خوشخبری دیتا رہا ہے، چنانچہ انبیائے بنی اسرائیل کے سلسلہ کے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنے بعد
ایک عظیم الشان رسول کے مبعوث ہونے کی خوشخبری سنا رہے ہیں: "وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ۔" (الصف: ۶)
ترجمہ:....... "اور جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، تصدیق کرتا ہوں جو میرے سامنے تورات ہے اور خوشخبری دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہے۔"
یہ تو قرآن کریم کا صادق و مصدوق بیان ہے، جبکہ موجودہ بائبل میں بھی اس کے محرف ومبدل ہونے کے باوجود اس بشارت کی تصدیق موجود ہے، ملاحظہ فرمائیے:
- الف:....... "اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ
تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا جو ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔"
(یوحنا: ۱۴، ۱۶)
- ب:....... "میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے
لئے فائدہ مند ہے، کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا، لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا، اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔"
(یوحنا: ۱۶، ۷، ۸)
- ج:....... "مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے، مگر
اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے، لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا، اس لئے کہ وہ
اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا، وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔“
(یوحنا: ۱۶: ۱۳، ۱۴)
د: …… ”میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں، لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا، وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔“
(یوحنا: ۱۴: ۲۵، ۲۶)
ہ: …… ”لیکن جب وہ مددگار آئے گا جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے، تو وہ میری گواہی دے گا۔“
(یوحنا: ۱۵: ۲۶)
بائبل کے ان فقرات میں جس ”مددگار“ اور ”سچائی کی روح“ کے آنے کی خوشخبری دی گئی ہے اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی مراد ہے، گویا عیسیٰ علیہ السلام اپنے بعد ایک عظیم الشان رسول کے مبعوث کئے جانے کا اعلان کر رہے ہیں جو خاتم النبیین ہوگا، اور ”ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔“
لیکن حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے گزشتہ انبیاء کی طرح اپنے بعد کسی نبی کے آنے کی خوشخبری نہیں دی، بلکہ صاف صاف اعلان فرمایا کہ آپ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا:
”انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم.“
(ابن ماجہ ص: ۲۹۷)
ترجمہ: …… ”اور میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔“
اور خطبہ حجۃ الوداع کے عظیم الشان مجمع میں اعلان فرمایا: ”ایھا الناس انه لا نبی بعدی ولا امۃ بعدکم.“
(مجمع الزوائد ج:۸ ص:۲۷۳ مطبع دارالکتاب بیروت)
ترجمہ:...... ”اے لوگو! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔“
نیز آپؐ نے امت کو اس سے بھی آگاہ فرمایا کہ آپؐ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے: ”وانه سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انه نبی اللہ، وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی.“
(رواہ ابوداؤد والترمذی مشکوۃ ص:۴۶۵)
ترجمہ:...... ”میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے، حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
پس دیگر مذاہب اگر انقطاع وحی کا دعویٰ کرتے ہیں تو ان کا دعویٰ اپنے پیشواؤں کی تعلیم کے خلاف ہے، اور اہل اسلام اگر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپؐ کے بعد نبوت اور وحی نبوت کا دروازہ بند ہے تو ان کا دعویٰ قرآن اور ارشادات نبویہ کی روشنی میں بالکل صحیح اور بجا ہے۔
دوم:...... یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جس قدر انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث ہوئے ان میں سے کسی نبی کی اصل کتاب اور ان کی صحیح تعلیم دنیا میں موجود نہیں رہی، بلکہ دستبرد زمانہ کی نذر ہوگئی۔
لیکن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ کتاب کا ایک ایک شوشہ اور آپؐ کی تعلیمات کا ایک ایک حرف محفوظ ہے، اس کتاب اور اس تعلیم پر ایک
لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا کہ وہ دنیا سے مفقود ہوگئی ہو، قرآن کریم میں ارشاد ہے: ”إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ.“ (الحجر:۹)
ترجمہ:...... ”بے شک ہم نے ہی اس نصیحت نامے کو نازل کیا اور ہم خود ہی اس کی حفاظت کریں گے۔“
اور زمانہ قرآن کریم کے اس اعلان کی صداقت پر گواہ ہے کہ آج تک قرآن کریم ہر تغیر سے پاک ہے اور اسلام کے کٹر سے کٹر دشمن بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں اور انشاء اللہ رہتی دنیا تک اس کی تعلیم دائم وقائم رہے گی۔
پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی نبی کی اصل آسمانی تعلیم باقی نہیں رہی تو ان مذاہب کے پرستاروں کا بقاءِ وحی کا دعویٰ بھی حرف غلط ٹھہرتا ہے، اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب اور آپؐ کی تعلیمات جوں کی توں محفوظ ہیں تو اہل اسلام کا یہ دعویٰ بالکل بجا اور درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انسانیت کسی نئی نبوت اور وحی نبوت کی محتاج نہیں۔
- سوم:...... یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام
مخصوص قوم و خاص وقت اور خاص علاقے اور خطے کے لئے مبعوث کئے جاتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کی حیثیت سے مبعوث فرمایا تو قیامت تک ساری دنیا آپ کے زیر نگیں آگئی، زمان ومکان کی وسعتیں سمٹ گئیں، عرب و عجم اور اسود و احمر کی تفریق مٹ گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دامنِ رحمت تمام ملکوں، تمام خطوں اور تمام قوموں اور تمام زمانوں پر قیامت تک کے لئے محیط ہوگیا، پس آپؐ کی بعثتِ عامّہ کے بعد کسی علاقے اور کسی زمانے کے لئے نبی اور نئی ”وحی نبوت“ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ گئی، اور یہ آپؐ کا ایسا خصوصی شرف و امتیاز ہے جو آپؐ کے بعد کسی کو نصیب نہیں ہوا، چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”فضلت علی الانبیاء بست، اعطیت جوامع الکلم، ونصرت بالرعب، واحلت لی الغنائم، وجعلت لی الارض مسجدا و طہورا، وارسلت الی الخلق کافۃ، وختم بی النبیون.“
(مشکوٰۃ ص:۵۱۲)
ترجمہ:....... ”مجھے چھ باتوں میں دیگر انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے، مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے، رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا، روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی بنادیا گیا، مجھے ساری مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور میرے ذریعہ نبیوں کو ختم کردیا گیا۔“
اور صحیحین میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
”وکان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ.“
(مشکوٰۃ ص:۵۱۲)
ترجمہ:....... ”مجھ سے پہلے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا، اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔“
اور مسند احمد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے آپؐ کا ارشاد نقل کیا ہے:
”اعطیت خمسًا لم یعطہن احد قبلی، ولا اقولہ فخرًا، بعثت الی کل احمر واسود ...... الخ.“
(مسند احمد ج: ۱ ص: ۲۵۰)
ترجمہ:....... ”مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو
مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں، اور میں یہ بات بطور فخر کے نہیں کہتا، مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے خواہ گورے ہوں یا کالے ......الخ۔“
الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساری انسانیت کی طرف مبعوث ہونا اس حکمت کی بنا پر تھا کہ ساری دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن رحمت کے نیچے آجائے، اور آپؐ کے بعد کسی دوسری نبوت اور وحی نبوت کی احتیاج باقی نہ رہے گی، قرآن کریم میں آپؐ کی زبان وحی ترجمان سے اعلان کرایا گیا ہے:
”قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔“
(الاعراف:۱۵۸)
ترجمہ:...... ”آپ کہہ دیجئے میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔“
اس کی تفسیر میں حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:
”یقول اللہ تعالیٰ لنبیہ ورسولہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم (قل) یا محمد (یا ایھا الناس) وھذا خطاب للاحمر والاسود والعربی والعجمی (انی رسول اللہ الیکم جمیعا) ای جمیعکم وھذا من شرفہ وعظمتہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ خاتم النبیین وانہ مبعوث الی الناس کافۃ.“
(ج:۲ ص:۲۷۳ طبع قاہرہ)
ترجمہ:...... ”اللہ تعالیٰ اپنے نبی و رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں کہ اے محمد! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! یہ خطاب گورے، کالے اور عربی و عجمی سب کو ہے، میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور یہ بات آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کے شرف وعظمت میں سے ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔“
پس جب آپؐ سے قبل کسی نبی کی بعثت عام نہیں ہوئی تو کوئی قوم اس دعوٰی کی مجاز نہیں کہ ان کے نبی کے بعد وحی کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور رسالت چونکہ زمان و مکان کی تمام وسعتوں پر محیط ہے اس لئے اہل اسلام کا یہ عقیدہ قطعاً برحق ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپؐ کے بعد نبوت و وحی کا دروازہ بند ہے۔
- چہارم:....... یہ کہ ہر نبی کی وحی اور اس کی شریعت بلاشبہ اس کی قوم کی
ضروریات کو مکفی تھی، مگر دین کی تکمیل کا اعلان کسی نبی کے زمانے میں نہیں کیا گیا، لیکن جب نبی آخری الزماں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کی حیثیت سے تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے اور آپؐ کی وحی و شریعت سے قیامت تک انسانیت کی کامل و مکمل رہنمائی اور رشد و ہدایت کا سامان کر دیا گیا تو حجۃ الوداع کے موقع پر دین کی تکمیل کا اعلان کر دیا گیا، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:
اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا.“
(المائدۃ:۳)
ترجمہ:....... ”آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام کو (ہمیشہ کے لئے) پسند کر لیا۔“
حافظ ابن کثیرؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
”ہذہ اکبر نعم اللہ تعالیٰ علی ہذہ الامۃ حیث اکمل تعالیٰ لہم دینہم فلا یحتاجون الی دین غیرہ ولا
الیٰ نبی غیر نبیھم صلوات اللہ وسلامہ علیہ، ولھذا جعلہ اللہ تعالیٰ خاتم الانبیاء وبعثہ الی الانس والجن۔“
(تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۱۲)
ترجمہ:...... ”یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ان کا دین کامل کردیا، پس وہ اس دین کے سوا کسی اور دین کے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کے محتاج نہیں، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بنایا، اور آپ کو جن وانس کی طرف مبعوث فرمایا۔“
پس جب پہلے کسی نبی کے زمانے میں تکمیل دین کا اعلان نہیں ہوا تو دیگر مذاہب کے پیرو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان کے نبی کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دین کی تکمیل ہوچکی اور حق تعالیٰ شانہ کی نعمت اس امت پر تمام ہوچکی تو اہل اسلام آپ کے بعد کسی نئی نبوت اور وحی نبوت کے دست نگر کیوں ہوں۔
اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا اور آپ کے بعد وحی نبوت کا دروازہ بند ہوجانا اس امت کے حق میں کمال نعمت ہے جس کو حق تعالیٰ شانہ بطور امتنان کے ذکر فرمارہے ہیں، جو لوگ اس کو انقطاع رحمت سے تعبیر کرتے ہیں یہ ان کی ناحق شناسی ہے، اس نعمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث کیا جاتا تو اس پر ایمان نہ لانے والے لوگ کافر ٹھہرتے، اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص ہوتی کہ ایک شخص آپ پر ایمان لاتا ہے اور آپ کے لائے ہوئے دین کی ایک ایک بات کو مانتا ہے، اس کے باوجود کافر قرار پاتا ہے، گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننا
بھی کفر سے بچانے کے لئے کافی نہیں ہوا، پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قیامت تک کے لئے ہے اور ساری انسانیت کی راہنمائی اور رشد و ہدایت کی تنہا کفیل ہے تو لازم تھا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ کیا جائے تاکہ اس کے انکار سے امتیان محمد کافر نہ ٹھہریں، اس لئے واضح ہوجاتا ہے کہ اس امت کے حق میں نبوت کا جاری ہونا رحمت نہیں، بلکہ نبوت کا بند ہونا رحمت ہے، کیونکہ آپؐ کے بعد نبوت کا جاری ہونا آپؐ کی تنقیص اور امت کی تکفیر کو مستلزم ہے، مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:
”خدائے تعالیٰ ایسی ذلت اور رسوائی اس امت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے ہرگز روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری امر ہے، اسلام کا تختہ ہی الٹ دیوے، حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔“
(ازالہ اوہام ص: ۵۸۶، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۴۱۶)
مذکورہ بالا چار وجوہ سے واضح ہوا ہوگا کہ سائل کا مسلمانوں کے عقیدہ ختم نبوت اور انقطاع وحی کو ہندوؤں، یہودیوں اور عیسائیوں کے غلط دعوؤں کی صف میں شمار کرنا ایک ایسا ظلم ہے جس کی توقع کسی صاحب بصیرت عاقل و منصف سے نہیں کی جانی چاہئے۔
رہا جناب سائل کا یہ کہنا کہ جب مسلمانوں کے علاوہ باقی قومیں بھی انقطاع وحی کا دعویٰ کرتی ہیں تو ”سچے دین کی شناخت کیسے ہوگی؟“ یہ سوال درحقیقت اس دعوے پر مبنی ہے کہ سچے اور جھوٹے مذہب کی شناخت کا بس ایک ہی معیار ہے اور وہ یہ کہ جو مذہب ”وحی نبوت“ کے جاری ہونے کا دعویٰ کرے وہ سچا ہے، اور جو اس کا
انکار کرے وہ جھوٹا ہے، کیا میں جناب سائل سے بادب دریافت کر سکتا ہوں کہ ان کا یہ خود تراشیدہ معیار قرآن کریم کی کس آیت میں، یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کس ارشاد میں ذکر کیا گیا ہے کہ جو مذہب ”وحی نبوت“ کے جاری ہونے کا قائل ہو وہ سچا ہے اور جو قائل نہ ہو وہ جھوٹا ہے؟ کیا مذہب کی حقانیت خود تراشیدہ اور من گھڑت معیاروں سے جانچی جا سکتی ہے؟
اب اگر اس معیار کو ایک لمحہ کے لئے صحیح فرض کر لیا جائے تو اس کی رو سے بابی، بہائی اور دیگر جھوٹے مدعیان نبوت کا مذہب سچا قرار پاتا ہے، کیونکہ یہ سب لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ”وحی نبوت“ کے جاری ہونے کے قائل تھے، کیا جناب سائل اپنے مقرر کردہ معیار کی رو سے مسیلمہ کذاب سے لے کر بہاء اللہ ایرانی تک کے تمام مذاہب کو سچا تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوں گے؟ مجھے توقع ہے کہ جناب سائل خود بھی اس بوجھ کے اٹھانے پر آمادہ نہیں ہوں گے، اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا پیش کردہ معیار خود ان کی نظر میں بھی غلط ہے کہ جو مذہب وحی نبوت کے جاری ہونے کا قائل ہو وہ سچا ہے اور جو قائل نہ ہو وہ جھوٹا ہے۔ کسی مذہب کی حقانیت کا معیار اس کی پیش کردہ تعلیمات ہیں اور یہ بات میں اوپر عرض کر چکا ہوں کہ اسلام کے سوا کوئی مذہب ایسا نہیں جو اپنے بانی مذہب کی صحیح تعلیم پیش کرنے کی جرأت کر سکے، کوئی مذہب ایسا نہیں جو اپنی مذہبی تعلیمات کو مخصوص قوم اور مخصوص خطہ کے دائرے سے نکال کر انسانیت کی عالمگیر برادری کی ہر شعبہ زندگی میں رہنمائی کے فرائض انجام دے سکے، کوئی مذہب ایسا نہیں جس کے اصول و فروع عقل سلیم کے ترازو پر پورے اترتے ہوں، اور کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے خارجی پیوندکاری کے بغیر انسانی مشکلات کا حل پیش کیا ہو، اسلام اپنے امتیازی اوصاف و خصائص کی بنا پر فطری دین ہے، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے: ”فِطْرَةَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا.“ کیا یہ کھلے حقائق بھی جناب سائل کو سچے مذہب کی شناخت کے لئے کارآمد نہیں ہو سکتے؟
- ۴:....... جناب سائل مسلمانوں کی فرقہ بندی سے پریشان ہیں، لیکن انہوں
نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرنا چاہتے ہیں؟ اور ہم سے کیا دریافت کرنا چاہتے ہیں؟ ”اختلاف امت“ کی بقدر ضرورت بحث میں اپنی کتاب ”اختلاف امت اور صراطِ مستقیم“ میں عرض کر چکا ہوں، خلاصہ یہ کہ اختلاف کی دو قسمیں ہیں، ایک فروعی مسائل میں اختلاف، یہ ایک ناگزیر فطری امر ہے اور اس کو کوئی معیوب قرار نہیں دے سکتا۔ دوسری قسم نظریاتی اختلاف کی ہے، یہ بلاشبہ مذموم ہے لیکن اس کی ذمہ داری اسلام پر یا اہل حق پر عائد نہیں ہوتی بلکہ وہی لوگ مورد الزام ہیں جو نت نئے نظریات تراش کر امت میں افتراق و انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں، مثلاً امت میں مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیرو کھڑے ہوئے اور امت کو افتراق و انتشار کی بھٹی میں جھونک کر چلتے بنے، منکرینِ حدیث کھڑے ہوئے اور ایک نئے فتنے کا دروازہ کھول کر امت میں تفرقہ پیدا کر گئے، اہل بدعت کھڑے ہوئے اور انہوں نے طرح طرح کی بدعات پھیلا کر فرقہ بندی کو ہوا دی۔
ظاہر ہے کہ جس طرح نئی فرقہ بندیاں وجود میں آئیں، ان کے لئے نہ اسلام مورد الزام ہے اور نہ وہ حضرات جو سلف صالحین، صحابہؓ و تابعینؒ کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔ فرقہ بندیوں کا اہل حق کو الزام دینا عقل و دانش کے خلاف بدترین ظلم ہے اور اس کی مثال ایسی ہوگی کہ کسی شریف کے گھر چور نقب زنی کرے، مقدمہ عدالت میں جائے، تو جج صاحب بجائے چور کو ملزم ٹھہرانے کے، دونوں فریقوں کو ”مجرم“ ٹھہرا کر جیل بھیج دے، ظاہر ہے کہ اس کو انصاف نہیں کہا جائے گا، ٹھیک اسی طرح جب مختلف قسم کے نقب زنوں نے اسلامی نظریات میں نقب لگا کر فرقہ بندیوں کو جنم دیا، تو عقل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان چوروں کی نشاندہی کی جائے اور ان کی خیانتوں کی نشاندہی کی جائے، یہ نہیں کہ ان کی چوری و سینہ زوری کا الزام الٹا اہل حق کو بھی دیا جائے۔ اور اگر سائل کا خیال یہ ہے کہ امت کے ان فرقوں میں سے کوئی
فرقہ بھی حق پر قائم نہیں، تو یہ خیال غلط اور نصوص شرعیہ کے خلاف ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
"لا يزال من امتى امة قائمة بامر الله لا يضرهم من خذلهم ولا من خالفهم حتى يأتى امر الله وهم علىٰ ذالک۔"
(صحیح بخاری و مسلم، مشکوٰۃ ص:۵۸۳)
ترجمہ:..... ”میری امت میں ایک جماعت اللہ تعالیٰ کے حکم پر ہمیشہ قائم رہے گی، ان کو نقصان نہیں دے گا وہ شخص جو ان کی مدد چھوڑ دے اور نہ وہ جو ان کی مخالفت کرے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا درانحالیکہ وہ اسی پر ہوں گے۔“
ایک اور حدیث میں ہے:
"لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الىٰ يوم القيامة، قال: فينزل عيسىٰ ابن مريم عليه السلام، فيقول اميرهم: تعال صل لنا، فيقول: لا! ان بعضكم علىٰ بعض امراء تكرمة الله هذه الامة۔"
(صحیح مسلم ج:۱ ص:۸۷، مسند احمد ج:۳ ص:۳۱۵)
ترجمہ:..... ”میری امت کا ایک گروہ حق پر لڑتا رہے گا اور وہ غالب رہیں گے قیامت تک، پس عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور ان کا امیر آپؐ سے کہے گا کہ: آئیے نماز پڑھائیے، وہ فرمائیں گے: نہیں! بلکہ تمہی پڑھاؤ، بے شک تم میں سے بعض، بعض پر امیر ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کا اعزاز ہے۔“
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱ ش:۲۰)
توہین انبیاء کفر ہے!
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
حضرات انبیا کرام علیہم السلام کی جماعت اس کائنات میں سب سے افضل و اکمل اور مقدس ترین جماعت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے منصب رسالت ونبوت کے لئے منتخب کیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کی تحقیر وتنقیص چونکہ اس منصب رفیع کی توہین ہے اس لئے باجماع امت یہ بدترین کفر و ارتداد ہے۔ جیسا کہ قاضی عیاض مالکیؒ نے اپنی بے نظیر کتاب "الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم" میں، حافظ ابن تیمیہ حنبلیؒ نے "الصارم المسلول علیٰ من سب الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" میں، شیخ ابن عابدین حنفیؒ نے "تنبیہ الولاۃ والحکام" میں اور ان سب سے پہلے الامام المجتہد قاضی ابو یوسفؒ نے "کتاب الخراج" میں اس کی تصریح کی ہے کہ ایسا شخص مرتد اور واجب القتل ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و ارتداد کے وجوہ بے شمار ہیں، ان میں سے ایک خبیث ترین سبب یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے قریب قریب تمام انبیا کرام علیہم السلام کی مختلف عنوانات سے تنقیص کی ہے، خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں تو مرزا نے ایسی گستاخیاں کی ہیں جن سے پہاڑوں کے جگر شق ہو جائیں، قادیانی امت، مرزا صاحب کی ان مغلظات پر تاویلات کا پردہ ڈالنا چاہتی ہے لیکن تاویلات کے ذریعہ سیاہ کو سفید کر دکھانا، رات کو دن ثابت کرنا اور کفر و ارتداد کو عین اسلام جتانا ناممکن ہے۔
مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو حق تعالیٰ شانہ
جزائے خیر عطا فرمائیں کہ انہوں نے ایک رسالہ بنام ”حضرت مسیح علیہ السلام، مرزا قادیانی کی نظر میں“ (جسے حال ہی میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا ہے) میں ایک طرف عیسیٰ علیہ السلام کے اس مقام و مرتبہ کی نشاندہی فرمائی ہے جو قرآن کریم کی آیات بینات سے ثابت ہے اور دوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی کی ان دل خراش اور ایمان سوز عبارتوں کو جمع کر کے ان تمام تاویلات اور معذرتوں کا جائزہ لیا ہے جو اس سلسلہ میں خود مرزا صاحب یا ان کے مریدوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں۔ جن لوگوں کی قسمت میں ایمان نہیں یا جنہوں نے ”خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ وَعَلٰى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ.“ کے مصداق مرزا صاحب کی محبت میں عقل و شعور کے سارے دریچے بند کر لئے ہیں، ان کے حق میں کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی، لیکن جن کے دل میں اس حق و انصاف کی کوئی رمق یا عقل و شعور کی ادنیٰ حس بھی موجود ہے، اگر وہ اس رسالہ کا ٹھنڈے دل سے مطالعہ کریں گے تو ان پر انشا اللہ یہ بات عیاں ہوجائے گی کہ مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تحقیر و تنقیص کر کے اپنے لئے کون سا مقام منتخب کیا ہے؟
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ رسالہ اس سے پہلے دو بار شائع ہو چکا ہے، لیکن قادیانی صاحبان اس کا آج تک کوئی جواب نہیں دے سکے، بہر حال یہ رسالہ جہاں قادیانیوں کے لئے دعوت غور و فکر ہے وہاں ہمارے مسلمان بھائیوں کے لئے بھی تازیانہ عبرت ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے باپ دادا یا ماں بہن کے حق میں وہ الفاظ استعمال کرے جو مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں استعمال کئے ہیں تو ہمارا ردِ عمل کیا ہوگا؟
اسی سے وہ فیصلہ کرسکیں گے کہ مرزا صاحب کے بارے میں ہماری ایمانی غیرت کا تقاضا کیا ہے؟
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱ ش:۲۲)
قادیانی تیس جھوٹ
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ!
مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوؤں کی علمائے امت نے ہر پہلو سے قلعی کھول دی ہے، اور کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا، انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے سچے وارثوں کا بنیادی وصف صدق و راست گفتاری ہے، نبی کی زبان پر کبھی خلاف واقعہ بات آ ہی نہیں سکتی، اور جو شخص جھوٹ کا عادی ہو وہ نبی تو کجا شریف آدمی کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔
جو لوگ نبوت و رسالت یا مجددیت و مہدویت کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں، حق تعالیٰ شانہ ان کی ذلت و رسوائی کے لئے ان کا جھوٹ ان ہی کی زبان سے کھول دیتے ہیں، شیخ ملّا علی قاریؒ ”شرح فقہ اکبر“ میں لکھتے ہیں:
”ما من احد ادعی النبوۃ من الکذابین الا وقد ظہر علیہ من الجہل والکذب لمن لہ ادنیٰ تمییز بل وقد قیل: ما اسر احد سریرۃ الا اظہر اللہ علیٰ صفحات وجہہ وفلتات لسانہ۔“
(شرح فقہ اکبر ص:۲۷۳ طبع مجتبائی)
ترجمہ:...... ”جھوٹے لوگوں میں سے جس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ نے معمولی عقل و تمیز کے شخص پر بھی اس کا جہل و کذب واضح کر دیا، بلکہ کہا گیا ہے کہ جس نے بھی اپنے دل میں کوئی بات چھپائی، اللہ تعالیٰ نے اس کے چہرے پر اور زبان کی گفتگو میں اس کو ظاہر کر کے چھوڑا۔“
راقم الحروف نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ مرزا کی تحریر میں سچائی اور راستی کا تلاش کرنا کار عبث ہے، بڑے بڑے جھوٹے بھی کبھی سچی بات کہہ دیتے ہیں، لیکن مرزا نے گویا قسم کھا رکھی ہے کہ وہ کلمہ طیبہ بھی پڑھے گا تو اس میں اپنے جھوٹ کی آمیزش ضرور کرے گا۔ پیش نظر مقالہ میں بطور نمونہ مرزا کے تیس جھوٹ ذکر کئے گئے ہیں، دس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر، دس حق تعالیٰ شانہ پر، اور دس حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر۔
آنحضرتؐ کی ذات گرامی پر مرزا کے دس جھوٹ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی غلط بات کو منسوب کرنا خبیث ترین گناہ کبیرہ ہے، احادیث متواترہ میں اس پر دوزخ کی وعید آئی ہے، اور جس شخص کے بارے میں معلوم ہو جائے کہ اس نے ایک بات بھی جھوٹی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی ہے، وہ مفتری اور کذاب ہے، اور اس کی کوئی بات اور کوئی روایت لائق اعتماد نہیں رہتی۔
مرزا غلام احمد قادیانی اس معاملہ میں نہایت بے باک اور جری تھا، وہ بات بات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا پردازی کرنے کا عادی تھا، یہاں اس کی دس مثالیں پیش کرتا ہوں:
- ١:...... ”انبیاء گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر مہر
لگادی کہ وہ (مسیح موعود) چودھویں صدی کے سر پر ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔“
(اربعین نمبر: ۲ ص: ۲۳)
انبیا گزشتہ کی تعداد کم وبیش ہے، ان کی طرف مرزا نے دو باتیں منسوب کی ہیں، مسیح کا چودھویں صدی کے سر پر آنا، اور پنجاب میں آنا، اور یہ نسبت خالص جھوٹ ہے، اس طرح مرزا نے صرف ایک فقرہ میں ڈھائی لاکھ جھوٹ جمع کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
نوٹ:……پہلے ایڈیشن میں انبیا گزشتہ کا لفظ تھا، بعد میں اس کی جگہ ’اولیاء گزشتہ‘ کا لفظ کردیا گیا، اس تحریف کے بعد بھی جھوٹ کی سنگینی میں کچھ کمی نہیں ہوئی۔
۲:……”مسیح موعود کی نسبت تو آثار میں یہ لکھا ہے کہ علما اس کو قبول نہیں کریں گے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص: ۱۸۶، روحانی خزائن ج:۲۱ ص: ۳۵۷)
آثار کا لفظ کم از کم تین احادیث پر بولا جاتا ہے، حالانکہ یہ مضمون کسی حدیث میں نہیں۔
۳:……”ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ (مسیح موعود) صدی کے سر پر آئے گا اور چودھویں صدی کا مجدد ہوگا …… اور لکھا تھا کہ وہ اپنی پیدائش کی رو سے دو صدیوں پر اشتراک رکھے گا اور دو نام پائے گا، اور اس کی پیدائش دو خاندان سے اشتراک رکھے گی، اور چوتھی دوگونہ صفت یہ کہ اس کی پیدائش میں جوڑے کے طور پر پیدا ہوگا، سو یہ سب نشانیاں ظاہر ہوگئیں۔“
(ضمیمہ براہین پنجم ص: ۱۸۸، روحانی خزائن ج:۲۱ ص: ۳۵۹)
اس فقرہ میں مرزا نے چھ باتیں احادیث صحیحہ کی طرف منسوب کی ہیں،
حالانکہ ان میں سے ایک بات بھی کسی ”حدیث صحیح“ میں نہیں آئی، اس لئے اس فقرے میں اٹھارہ جھوٹ ہوئے۔
- ۴:....... ”ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے
دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ایک ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ: ”كان فى الهند نبيا اسود اللون اسمه كاهنا.“ یعنی ہند میں ایک نبی گزرا جو سیاہ رنگ کا تھا اور نام اس کا کاہن تھا، یعنی کنہیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔“
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص:۱۰، روحانی خزائن ج:۲۳ ص:۳۸۲)
مرزا کی ذکر کردہ حدیث کسی کتاب میں موجود نہیں، اس لئے یہ خالص افترا ہے، ظالم کو عربی کی صحیح عبارت بھی نہ بنانی آئی، ”سیاہ رنگ“ شاید اپنی تصویر دیکھ کر یاد آگیا۔
- ۵:....... ”اور آپ سے پوچھا گیا کہ زبان پارسی میں
بھی کبھی خدا نے کلام کیا ہے تو فرمایا کہ ہاں خدا کا کلام زبان پارسی میں بھی اترا ہے، جیسا کہ وہ اس زبان میں فرماتا ہے: ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم۔“
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص:۱۰، روحانی خزائن ج:۲۳ ص:۳۸۲)
یہ مضمون بھی کسی حدیث میں نہیں، خالص جھوٹ اور افترا ہے۔
- ۶:....... ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔“
(اشتہار مریدوں کے لئے ہدایت مورخہ ۱۲؍اگست ۱۹۰۷ء)
وبا کی جگہ کو بلا توقف چھوڑ دینے کا حکم کسی حدیث میں نہیں، یہ خالص مرزائی جھوٹ ہے، بلکہ اس کے برعکس حکم ہے کہ اس جگہ کو نہ چھوڑا جائے:
”واذا وقع بارض وانتم بہا فلا تخرجوا فراراً منہ.“
(متفق علیہ مشکوۃ ص: ۱۳۵)
- ۷:...... ”افسوس ہے کہ وہ حدیث بھی اسی زمانہ میں
پوری ہوئی جس میں لکھا تھا کہ مسیح کے زمانہ کے علماء ان سب لوگوں سے بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص: ۱۳، روحانی خزائن ج:۱۹ ص: ۱۲۰)
مسیح کے زمانہ کے علماء کے بارے میں یہ بات ہرگز نہیں فرمائی گئی، یہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا ہے اور دوسری طرف علمائے امت پر صریح بہتان ہے۔
- ۸:...... ”چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود
کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی، جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا، اس لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیش گوئی آج پوری ہوگئی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص: ۴۰، روحانی خزائن ج: ۱۱ ص: ۳۲۴)
”چھپی ہوئی کتاب“ کا مضمون کسی ”صحیح حدیث“ میں نہیں، لطف یہ ہے کہ مرزا نے اپنے تین سو تیرہ اصحاب کے جو نام ازالہ اوہام میں لکھے تھے، ان میں سے کئی مرزا کی صحابیت سے نکل گئے، اس لئے یہ جھوٹی روایت بھی اس کی جھوٹی مہدویت پر راست نہ آئی۔
- ۹:...... ”مگر ضرور تھا کہ وہ مجھے کافر کہتے اور میرا نام
دجال رکھتے کیونکہ احادیث صحیحہ میں پہلے سے یہ فرمایا تھا کہ اس
مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا، اور اس وقت کے شریر مولوی اسے کافر کہیں گے، اور ایسا جوش دکھلائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۳۸، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۲۲)
اس عبارت میں تین باتیں ”احادیث صحیحہ“ کے حوالے سے کہی گئی ہیں، اور تینوں جھوٹ ہیں، اس لئے اس عبارت میں نو جھوٹ ہوئے۔
- ۱۰:......”بہت سی حدیثوں سے ثابت ہو گیا کہ بنی آدم
کی عمر سات ہزار برس ہے، اور آخری آدم پہلے کی طرز ظہور پر الف ششم کے آخر میں جو روز ششم کے حکم میں ہے پیدا ہونے والا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص:۶۹۶، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۷۵)
آخری آدم کا فسانہ کسی حدیث میں نہیں آتا، اس لئے یہ بھی خالص جھوٹ ہے، دنیا کی عمر کے بارے میں بعض روایات آتی ہیں، مگر وہ روایات ضعیف ہیں، اور محدثین نے ان کو ”ابین الکذب“ سے تعبیر کیا ہے۔ (موضوعات کبیر ص:۱۶۲)
افتراء علی اللہ کی دس مثالیں:
- ۱:......”سورہ تحریم میں صریح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ
بعض افراد اس امت کا نام مریم رکھا گیا ہے، اور پھر پوری اتباع شریعت کی وجہ سے اس مریم میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روح پھونکی گئی اور روح پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پیدا ہو گیا اور اسی بنا پر خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ بن مریم رکھا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص:۱۸۹، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۶۱)
سورۂ تحریم سب کے سامنے موجود ہے، مرزا نے صریح طور پر جن امور کا
سورہ تحریم میں بیان کیا جانا ذکر کیا ہے، کیا یہ صریح افترا علی اللہ نہیں؟
۲:...... ”لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر (یعنی عیسیٰ علیہ السلام پر) ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا، اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا، یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے قرآن میں یحییٰ کا نام ”حصور“ رکھا، مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص:۴، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۰)
حضرات انبیاء کرام کی طرف فواحش کا منسوب کرنا کفر ہے۔ مرزا قادیانی ایسے قصے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کرتا ہے، اور ایسے کفر صریح کے لئے قرآن کریم کے لفظ ”حصور“ کا حوالہ دیتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان قصوں میں ملوث تھے، یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بہتان بھی ہے اور افترا علی اللہ بھی۔
۳:...... ”اور اس عاجز کو جو خدا تعالیٰ نے آدم مقرر کر کے بھیجا ...... اور ضرور تھا کہ وہ ابن مریم جس کا انجیل اور فرقان میں آدم بھی نام رکھا گیا ہے ......“
(ازالہ اوہام ص:۶۹۶، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۷۵)
یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام قرآن کریم میں آدم رکھا گیا ہے، خالص جھوٹ ہے، اور اس مضمون کو انجیل سے منسوب کرنا دوسرا جھوٹ ہے، اور یہ کہنا
کہ مرزا کو اللہ تعالیٰ نے آدم مقرر کر کے بھیجا ہے، یہ تیسرا جھوٹ ہے۔
۴:.......’’اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے، اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ: ھو الذی ارسل رسولہ ..... کلہ۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۷، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۳)
کون نہیں جانتا کہ اس آیت کریمہ کا مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے، پس یہ کہنا کہ تیری خبر قرآن میں ہے، ایک جھوٹ، حدیث میں ہے، دوسرا جھوٹ اور مرزا اس آیت کا مصداق ہے، تیسرا جھوٹ۔ اور ان تمام باتوں کو ’’مجھے بتلایا گیا ہے‘‘ کہہ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا بدترین افترا علی اللہ ہے۔
۵:.......’’قادیان میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیش گوئی کے پہلے سے لکھا گیا تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۷۲ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۳۹)
یہ بھی سفید جھوٹ اور افترا علی اللہ ہے۔
۶:.......’’لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علما کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا، وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے، اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرۂ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔‘‘
(اربعین نمبر:۳ ص:۱۷، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۰۴)
ان چھ باتوں کو قرآن کریم کی پیش گوئیاں قرار دینا سفید جھوٹ اور افترا علی اللہ ہے۔
- ۷:...... ”پھر خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشارت
دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی۔“
(اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء، مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۱۰۲)
اس اشتہار کے بعد مرزا کے عقد میں کوئی خاتون نہیں آئی، نسل کیسے چلتی؟ اس لئے اس فقرے میں اللہ تعالیٰ کی طرف جو بشارت منسوب کی گئی ہے یہ دروغ بے فروغ اور افترائے خالص ہے۔
- ۸:...... ”الہام بکر و ثیب ، یعنی خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے
کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ ، چنانچہ یہ الہام جو بکر سے متعلق تھا پورا ہوگیا...... اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔“
(ضمیمہ تریاق القلوب ص:۳۴، روحانی خزائن ج:۱۵ ص:۲۰۱)
مرزا کے نکاح میں کوئی ثیب نہیں، محمدی بیگم کے بیوہ ہونے کے انتظار میں ساری عمر کٹ گئی مگر وہ بیوہ نہ ہوئی ، اس لئے ”بکر و ثیب“ کا الہام محض افترا علی اللہ ثابت ہوا۔
- ۹:...... ”شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر
ہوگیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین کامل الظاہر والباطن تم کو عطا کیا جائے گا سو اس کا نام بشیر ہوگا..... اب زیادہ تر الہام اس
بات پر مصر ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک نکاح تمہیں کرنا پڑے گا، اور جناب الٰہی میں یہ قرار پاچکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطا ہوگی وہ صاحب اولاد ہوگی۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج:۵ ص:۲)
یہ سارا مضمون سفید جھوٹ ثابت ہوا۔
- ۱۰:...... ’’اس خدائے قادر و حکیم و مطلق نے مجھے فرمایا
کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں (محترمہ محمدی بیگم مرحومہ) کے لئے سلسلہ جنبانی کر...... پھر ان دنوں جو زیادہ تصریح کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔‘‘
(اشتہار ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء)
یہ بھی دروغ خالص ثابت ہوا، مرزا، محمدی بیگم کی حسرت لے کر دنیا سے رخصت ہوا، اس عفت مآب کا سایہ بھی مدۃ العمر نصیب نہ ہوا، اور اس سلسلہ میں جتنے ’’الہامات‘‘ گھڑے تھے، سب جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے، مرزا نے اس نکاح کے سلسلہ میں کہا تھا:
’’یاد رکھو! کہ اس پیش گوئی کی دوسری جزو (یعنی سلطان محمد کا مرنا اور اس کی بیوہ کا مرزا کے نکاح میں آنا) پوری نہ ہوئی تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۵۴، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۳۸)
اللہ تعالیٰ نے ثابت کر دیا کہ مرزا واقعتاً اپنے اس فقرہ کا مصداق تھا۔
یہ بیس مثالیں خدا و رسولؐ پر افترا کی تھیں، اب دس مثالیں حضرت عیسیٰ علیہ
السلام پر افترا بھی ملاحظہ فرمائیے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر دس جھوٹ :
- ۱:......’’یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے مسجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا، اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا، اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا، اور شراب پئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا، اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہ کرے گا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۲۹)
مرزا کا اشارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے، جن کی تشریف آوری کے مسلمان قائل ہیں، مگر مرزا نے ان کی طرف جو چھ باتیں منسوب کی ہیں، یہ نہ صرف صریح جھوٹ بلکہ شرمناک بہتان ہے۔
- ۲:......’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے
نقصان پہنچایا اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔‘‘
(حاشیہ کشتی نوح ص:۷۳، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۷۱)
- ۳:......’’مسیح ایک لڑکی پر عاشق ہوگیا تھا جب استاد
کے سامنے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاد نے اس کو عاق کردیا...... یہ بات پوشیدہ نہیں کہ کس طرح مسیح ابن مریم جوان عورتوں سے ملتا اور کس طرح ایک بازاری عورت سے عطر
ملوانا تھا۔“
۔ (الحکم ۲۱ فروری ۱۹۰۲ء)
- ۴:....... ”اور یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ
سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے، اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ تھا۔“
(حاشیہ ست بچن ص: ۱۷۲، روحانی خزائن ج: ۱۰ ص: ۲۹۶)
ان تینوں حوالوں میں شراب نوشی اور دیگر گندگیوں کی جو نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے، یہ نہایت گندا بہتان ہے، اور ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے اس گندے بہتان کی مذمت کر سکیں، اور ہم یہ تصور نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص فحاشی و بدگوئی اور کمینہ پن کی اس سطح پر بھی اتر سکتا ہے!!
- ۵:....... ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔“
(اعجاز احمدی ص: ۱۴، روحانی خزائن ج: ۱۹ ص: ۱۳۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں کو جھوٹا کہنا سفید جھوٹ اور صریح کفر ہے۔
- ۶:....... ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات
لکھے ہیں، مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا....... آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص: ۶، روحانی خزائن ج: ۱۱ ص: ۲۹۰)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی نفی نہ صرف کذب صریح ہے بلکہ قرآن کریم کی کھلی تکذیب ہے، اور عجیب تر یہ کہ ”تالاب کا معجزہ“ ماننے کے لئے تیار
ہے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ماننے پر تیار نہیں۔
- ۷:...... ”اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی
ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔“
(حاشیہ ازالہ اوہام ص:۳۰۸، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵۷)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف مسمریزم کی نسبت کرنا ایک جھوٹ، ان کے معجزات کو مسمریزم کا نتیجہ قرار دینا دوسرا جھوٹ، اس پر ”باذن وحکم الٰہی“ کا اضافہ تیسرا جھوٹ، اور حضرت مسیح علیہ السلام کو اس میں لپیٹنا چوتھا جھوٹ۔
- ۸:...... ”حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے
ساتھ بائیس برس تک نجاری کا کام کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہوجاتی ہے۔“
(حاشیہ ازالہ اوہام ص:۳۰۳، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵۵)
یوسف نجار کو حضرت مسیح علیہ السلام کا باپ کہنا ایک جھوٹ، حضرت مسیح علیہ السلام کو بڑھئی کہنا دوسرا جھوٹ، اور ان کے معجزات کو نجاری کا کرشمہ کہنا تیسرا جھوٹ۔
- ۹:...... ”بہر حال مسیح کی یہ تربی کاروائیاں زمانہ کے
مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں، مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل اس قدر کے لائق نہیں، جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں، اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں
میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
(حاشیہ ازالہ اوہام ص:۳۰۹، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵۷)
حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات کو مسمریزی کاروائیاں کہنا، انہیں مکروہ اور قابل نفرت کہنا صریح بہتان اور تکذیب قرآن ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے برتری کی امید رکھنا اور اس کو فضل و توفیق خداوندی کی طرف منسوب کرنا صریح کفر اور افترا علی اللہ ہے۔
- ۱۰:...... ”آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی
بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے، اور ان کو یقین ہوگیا تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو، شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۶، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۰)
”یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہوگیا تھا۔“
(حاشیہ ست بچن ص:۱۷۱، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۲۹۵)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نعوذ باللہ! خلل دماغ، مرگی اور دیوانگی کی نسبت کرنا سفید جھوٹ ہے، یہ اور اس قسم کی دیگر تحریریں غالباً مرزا نے ”مراق“ کی حالت میں لکھی ہیں، جس کا اس نے خود کئی جگہ اعتراف کیا ہے، یہ مرزا کے جھوٹ کے تیس نمونے پیش کئے گئے ہیں، جن سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مرزا کو سچائی اور راستی سے کتنی نفرت تھی، اس تحریر کو مرزا کی ایک عبارت پر ختم کرتا ہوں:
”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص:۲۲۲، روحانی خزائن ج:۲۳ ص:۲۳۱)
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایسے جھوٹے سے بچائے اور مرزائیوں کو بھی اس
جھوٹ سے نکلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون
وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱ ش:۲۵)
قادیانی غنڈوں کو گرفتار کیا جائے
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
”ربوہ ۲۸؍ اپریل (خصوصی رپورٹ احمد کمال نظامی) قادیانیوں کے بارے میں آرڈی نینس کے نفاذ کے بعد نمائندہ خصوصی ”نوائے وقت“ نے ربوہ میں قادیانیوں اور مسلمانوں کی رائے معلوم کرنے کے لئے آج خصوصی دورہ کیا تو وہاں قادیانیوں کو خوف و ہراس میں مبتلا پایا۔ ربوہ میں قادیانیوں کی ۴۶ عبادت گاہیں ہیں، جن پر کل رات مسجد کا لفظ مٹا دیا گیا تھا۔ البتہ سب سے بڑی عبادت گاہ پر بدستور ”مسجد اقصیٰ“ کا لفظ اور آیات درج ہیں، اور اس عبادت گاہ پر نیم فوجی خدام الاحمدیہ اور الفرقان بٹالین کے مسلح رضا کاروں کا پہرہ تھا، اور کچھ رضا کار اردگرد کی جھاڑیوں میں چھپے بیٹھے تھے، ہماری گاڑی وہاں گئی تو سیاہ کپڑوں میں ملبوس اسٹین گن سے مسلح ایک نوجوان دور سے بھاگ کر آتا دکھائی دیا، اور اس نے للکارا کہ پکڑلو جانے نہ
پائے، جس پر قریبی جھاڑیوں سے پچاس کے قریب قادیانی رضا کار برآمد ہوئے جو لاٹھیوں اور آتشیں اسلحہ سے لیس تھے۔“
(نوائے وقت راولپنڈی ۲۹؍ اپریل ۱۹۸۴ء)
حضرت امیر شریعتؒ سے لے کر آج تک ہمارے اکابرؒ یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ ربوہ میں اسلحہ موجود ہے، اس خبر سے ہمارے اکابرؒ کی بات سچی ہوگئی ہے، مندرجہ بالا خبر ۲۹؍ اپریل کو اخبارات میں چھپی ہے، اب جبکہ کافی دن ہوچکے ہیں اس خبر پر کسی قسم کا پولیس ردعمل منظر عام پر نہیں آیا، حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جیسے ہی پولیس کو یہ مسلح نوجوان نظر آئے تھے موقع پر ہی گرفتار کیا جاتا، مگر ایسا نہیں کیا گیا، اس میں پولیس کی کیا مجبوری تھی؟ جبکہ عام حالات میں پولیس مشتبہ لوگوں کو حراست میں لے کر ان سے اسلحہ جات برآمد کرتی ہے، اسلحہ جات کی برآمدگی کے لئے ان کے گھروں پر چھاپے مارتی ہے، ان کے خلاف مقدمات قائم کرتی ہے، اور اگر حکومت چاہتی ہے تو لائسنس یافتہ اسلحہ بھی لوگوں کو تھانے میں جمع کرانے کا حکم نافذ کردیتی ہے، مگر مقام حیرت ہے کہ قادیانی غنڈے ربوہ میں دندناتے پھر رہے ہیں، یہاں تک کہ پولیس افسران کو بھی آنکھیں دکھاتے ہیں، مگر اس کے باوجود تاحال کوئی کاروائی نہیں ہوئی، ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ان قادیانی مسلح غنڈوں کو فوراً گرفتار کیا جائے، ربوہ اور پاکستان بھر کے دیگر قادیانی گھروں اور اڈوں کی تلاشی لی جائے۔
علاوہ ازیں جن قادیانیوں کو بذریعہ لائسنس اسلحہ دیا گیا ہے ان کے لائسنس منسوخ کر کے ان کا اسلحہ ضبط کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۲ ش:۴۸)
”خاتم النبیین“ کے معنی
محترم ایڈیٹر صاحب رسالہ ”ختم نبوت“ کراچی آپ کے رسالہ میں ”ختم نبوت“ پر کافی بحث ہوئی ہے اور حیات مسیح علیہ السلام پر بھی۔ ایک احمدی دوست پڑھتے ہیں اور باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں، انہوں نے حسب ذیل اعتراضات کئے ہیں، مہربانی فرما کر رسالہ ”ختم نبوت“ میں وضاحت فرمائی جاوے۔
- ۱:......خاتم النبیین کے معنی کئے گئے ہیں: ”آخری نبی“ وہ کہتے ہیں ہم بھی
آپ کو آخری نبی ان معنوں میں مانتے ہیں کہ آپؐ آخری شارع نبی ہیں، جن کی شریعت کامل اکمل ہونے کی وجہ سے تاقیامت کے لئے کافی ہے۔ پھر وہ منکر ختم نبوت کیسے ہوئے؟ ان معنوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر ہے، مگر جو معنی ہم کرتے ہیں کہ آپؐ بلحاظ زمانہ آخری نبی ہیں اور محض آخری ہونے میں کوئی فضیلت نظر آئی، کیا آپ کوئی مثال پیش کر سکتے ہیں کہ جس سے محض آخری ہونے سے فضیلت ظاہر ہو؟
- ۲:......نیز عقیدۃً تو ہمارے علما بھی آپؐ کو آخری نبی نہیں مانتے، کیونکہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو خدا کے رسول اور نبی ہیں، کی انتظار ہے، جن کے متعلق آتا ہے: ”آتنی الکتاب و جعلنی نبیا۔“ (مریم:) ”ورسولا الی بنی اسرائیل۔“
اس لئے ہمارے بزرگوں نے بھی لکھا ہے مثلاً امام جلال الدین سیوطیؒ: ”من قال بسلب نبوته کفر حقاً۔“ (حجج الکرام ص:۱۳۱) بلکہ: ”فهو رسول و نبی کریم علی حاله۔“ (ص:۴۲۶) ایسا ہی حضرت محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے (فتوحات مکیہ ج:۱ ص:۵۷۰)۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر فرمایا ہے، چار دفعہ انہیں ”نبی اللہ عیسیٰ واصحابہ“ فرمایا ہے (صحیح مسلم ج:۲ کتاب الفتن باب ذکر صفت الدجال ص:۴۷۷ مصری)۔
جب ایک نبی اللہ کے ہم بھی منتظر ہیں تو آخر پر وہ نبی اللہ عیسیٰ آنے والے ہیں، پس قادیانی ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مان لینے کی وجہ سے کافر کیسے ہوئے؟ اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ نبی اللہ جو مستقل نبی ہیں، بعد میں آسکتے ہیں، تو امت محمدیہ میں سے کوئی کیوں نہیں ہوسکتا، جبکہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کے علماء کی یہ شان بیان فرمائی ہے: ”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل۔“ امید ہے کہ احسن طریق پر اس کا جواب مرحمت فرمائیں گے۔
خاکسار بشیر احمد نبی سر روڈ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
ج:...... قرآن کریم اور احادیث متواترہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی خبر دی گئی ہے، اور یہ امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے، یہاں صرف دو آیتوں کا حوالہ دیتا ہوں:
- ۱:.......سورۃ الزخرف میں ہے: ”وانہ لعلم للساعۃ۔“ (اور وہ (یعنی عیسیٰ
علیہ السلام) نشان ہے قیامت کا) اس آیت کریمہ کی تفسیر صحیح ابن حبان میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح منقول ہے:
"عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی قولہ تعالیٰ: وانہ لعلم للساعة. قال: نزول عیسیٰ بن مریم من قبل یوم القیامة."
(صحیح ابن حبان ج:۹ ص:۲۸۸ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ،
موارد الظمآن ص:۴۴۶)
ترجمہ:........ "حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرمایا کہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے نازل ہونا قیامت کا نشان ہے۔"
- ۲:....... آیت کریمہ: "ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق
لیظہرہ علی الدین کلہ." کی تفسیر کرتے ہوئے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی لکھتے ہیں:
"یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا (اس آیت کریمہ میں) وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔
لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے
مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے .....سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے، اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتداً اسے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیشگوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص:۴۱۳،۴۱۴ ح طبع پنجم، لاہور)
اسی آیت کی تفسیر مرزا صاحب اپنی آخری کتاب ”چشمۂ معرفت“ میں جو ان کے انتقال سے پہلے شائع ہوئی، اس طرح فرماتے ہیں:
”یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے، یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے، اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تخلف ہو، اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“
(چشمۂ معرفت ص:۸۳، روحانی خزائن ج:۲۳ ص:۹۱)
ان دو آیتوں میں پہلی آیت کی تفسیر مسلمانوں کے نبی مقدس حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشاد فرمودہ ہے، اور دوسری آیت کی تفسیر قادیانیوں کے نبی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی ذکر کردہ ہے، جس پر ان کے الہام کی بھی مہر ہے
اور اس کے لئے انہوں نے گزشتہ صدیوں کے تمام اکابر امت کے اتفاق و اجماع کا بھی حوالہ دیا ہے، پس یہ آپ کے قادیانی دوست کی بد دینی و شقاوت ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر، مرزا صاحب کی ”الہامی تفسیر“ اور تمام مجددین امت کی اجماعی و اتفاقی تفسیر کو ”قرآن پر تہمت“ کا نام دیتے ہیں۔ دراصل ایسے محروم القسمت لوگ خدا و رسول پر ایمان نہیں رکھتے، جب کہ مرزا صاحب ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں:
”حال کے نیچری، جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت قال اللہ اور قال الرسول کی باقی نہیں رہی، یہ بے اصل خیال پیش کرتے ہیں کہ جو مسیح ابن مریم کے آنے کی خبریں صحاح میں موجود ہیں یہ تمام خبریں ہی غلط ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص: ۵۵۶، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۳۹۹)
”یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیشگوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے، اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے، انجیل بھی اس کی مصدق ہے، اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں، درحقیقت ان لوگوں کا کام جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا اور باعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی، اس لئے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے
بالاتر ہو اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص: ۵۵۷، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۴۰۰)
”مسلمانوں کی بدقسمتی سے یہ فرقہ بھی اسلام میں پیدا ہو گیا ہے جس کا قدم دن بدن الحاد کے میدانوں میں آگے ہی آگے چل رہا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص: ۵۵۹، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۴۰۱)
مرزا صاحب کے ان اقتباسات سے معلوم ہوا کہ:
- ۱:....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی پیشگوئی متواتر احادیث میں
موجود ہے، اور اس کو تواتر کا اول درجہ حاصل ہے۔
- ۲:....... تمام امت اسلامیہ نے اس پیشگوئی کی قطعی حیثیت کو بالاتفاق قبول
کیا ہے اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے۔
- ۳:....... یہ عقیدہ نہ صرف قرآن کریم اور احادیث متواترہ میں موجود ہے بلکہ
انجیل بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔
- ۴:....... جو لوگ اس عقیدے کا انکار کرتے ہیں وہ بے دین نیچری ہیں، اور
ان کے انکار کا منشا اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان کے دلوں میں کفر و الحاد بھرا ہوا ہے، اور خدا اور رسول پر ایمان اور ان کے ارشادات کی عظمت سے ان لوگوں کے سینے خالی ہیں، اللہ تعالیٰ عقل و ایمان نصیب فرمائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج: ۲ ش: ۱۷)
معیارِ نبوت اور مرزا قادیانی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
”محترم مولانا صاحب! السلام علیکم
آپ کو تھوڑی سی زحمت دینا چاہتا ہوں، امید ہے آپ اس سلسلے میں میری مدد فرما کر ضرور میری حوصلہ افزائی کریں گے۔ دراصل میرا واسطہ ایک احمدی (یہ لکھنا اور کہنا صحیح نہیں، انہیں قادیانی یا مرزائی لکھا جائے۔ ناقل) سے پڑا اور جب میں نے اس کو احمدیت چھوڑ دینے کے لئے کہا تو اس نے درج ذیل وضاحت طلب نقاط رکھے، میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، تاکہ آپ اس سلسلہ میں مدلل جواب دیں، جس پر وہ لاجواب ہو جائے اور دینِ حق کو قبول کر لے۔
- الف:...... بقول مرزا غلام احمد کے: قرآن شریف
میں اللہ تعالیٰ حضورؐ کو کہتا ہے کہ: ”اگر وہ مجھ پر افترا کرتا تو میں اسے فی الفور پکڑ لیتا، اور اس کی رگِ جان کاٹ دیتا۔“
(انجامِ آتھم ص: ۴۹)
اب میں اس سلسلہ میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا:
- ۱:.......کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کس مقام پر کہی ہے؟
- ۲:.......اس قرآنی آیت سے درحقیقت کیا مراد ہے؟
- ۳:.......کیا دنیا میں جتنے بھی جھوٹے نبی آئے، یعنی
جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر افترا کیا، ان سب کی اللہ تعالیٰ نے رگِ جان کاٹ دی، اور وہ قتل ہوئے؟ یا کچھ ایسے بھی تھے جو قتل نہیں ہوئے بلکہ وہ طبعی موت مرے، باوجود اس کے کہ وہ اللہ پر افترا کرتے رہے، ان کی مثالیں ضرور دیجئے۔
- ب:.......مرزا غلام احمد نے ضمیمہ انجامِ آتھم کے
صفحہ:۴۶، ۴۷، ۴۸، ۴۹ پر ایک دارقطنی کی حدیث جو امام باقر سے مروی ہے نقل کی ہے، اور بقول ان کے حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
”ان لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السموات والارض ينكسف القمر لاول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس فى النصف منه ولم تكونا منذ خلق السموات والارض.“
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۴۶، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۳۰)
ترجمہ:.......”ہمارے مہدی کے دو نشان ہیں، یہ نشان آسمان و زمین کی پیدائش سے لے کر کبھی ظاہر نہیں ہوئے، ایک تو یہ کہ چاند کو پہلی رات میں گرہن لگے گا، اور دوسرا یہ کہ سورج کو اسی رمضان کی درمیانی تاریخ میں گرہن لگے گا، اور یہ دونوں باتیں آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت سے کبھی نہیں ہوئیں۔“
اس کی تشریح کرتے ہوئے مرزا کہتا ہے کہ ۱۸۹۴ء رمضان کی ۱۳ تاریخ کو چاند اور ۲۸ تاریخ کو ہونے والا سورج گرہن ایسا تھا، جو اس کے لئے بطور نشان تھا، اور یہ کبھی نہیں ہوا کہ ان تاریخوں میں یعنی ۱۳؍ کو چاند گرہن اور ۲۸؍ کو سورج گرہن ہوا ہو، اور اس دوران کوئی مدعی نبوت یا مہدویت بھی ہو، اور یہ کہ رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن کا مطلب ۱۳؍ تاریخ اس لئے ہے کہ ہمیشہ رمضان میں چاند گرہن ۱۳، ۱۴، ۱۵ تاریخ کو لگتا ہے، اور سورج گرہن جو رمضان کی رات ہوا اس سے مراد ۲۸ کی رات ہے، کیونکہ ہمیشہ رمضان میں سورج گرہن ۲۷، ۲۸، ۲۹ کو ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ:
- ۱:....... آپ اس حدیث کے معانی کی تشریح کریں۔
- ۲:....... مرزا نے جو تشریح کی ہے، اس پر تبصرہ کریں۔
- ۳:....... اور ۱۸۹۴ء میں ہونے والے خسوف و کسوف
کی کیا حقیقت تھی؟
ج:....... مرزا نے براہین احمدیہ حصہ پنجم کے صفحہ: ۵۱ پر لکھا ہے کہ قرآنی آیت: ”فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھیں گے کہ کیا عیسیٰ تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ وہ تجھے اور تیری ماں کو معبود ٹھہرائیں؟ تو عیسیٰ جواب دیں گے کہ جب تک میں اپنی قوم میں تھا، تو میں ان کے حالات سے مطلع تھا اور گواہ تھا، پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان کے حالات سے
واقف تھا، یعنی بعد وفات کے مجھے ان کے حالات کی کچھ خبر نہیں۔
مرزا اس آیت سے دو باتیں ثابت کرتا ہے:
- ۱:....... یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آیت میں
اقرار کرتے ہیں کہ جب تک میں ان میں تھا، میں ان کا محافظ تھا، اور وہ میرے روبرو نہیں بگڑے، پس اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک آسمان پر زندہ ہیں تو ساتھ ہی اقرار کرنا پڑے گا کہ عیسائی بھی بگڑے نہیں، کیونکہ اس آیت میں عیسائیوں کا بگڑنا، ”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ“ کا نتیجہ ٹھہرایا گیا ہے، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر موقوف رکھا گیا ہے، جبکہ ظاہر ہے کہ عیسائی بگڑ چکے ہیں تو ساتھ ہی ماننا پڑتا ہے کہ عیسیٰ بھی فوت ہوچکے ہیں، ورنہ تکذیب آیت قرآنی لازم آتی ہے۔
- ۲:...... آیت میں صریح طور پر بتایا گیا ہے کہ حضرت
عیسیٰ عیسائیوں کے بگڑنے کی نسبت سے لاعلمی ظاہر کریں گے اور کہیں گے مجھے تو ان کے حالات کی اس وقت تک کی خبر ہے جب تک میں ان میں تھا، اور بعد وفات کے کچھ خبر نہیں، اگر حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں آئے ہوتے اور عیسائیوں کی ضلالت پر بھی اطلاع پاتے تو پھر ان کا یہ عذر محض دروغ گوئی، ٹھہرتا، اور اس کا جواب تو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ہونا چاہئے تھا کہ اے گستاخ شخص! میرے روبرو کیوں جھوٹ بولتا ہے، اور کیوں محض دروغ گوئی کے طور پر کہتا ہے کہ مجھے بگڑنے کی کچھ
خبر نہیں۔ حالانکہ تجھے معلوم ہے کہ میں نے قیامت سے پہلے دوبارہ تجھے دنیا میں بھیجا تھا، تو تو نے عیسائیوں سے لڑائیاں کی تھیں، صلیب توڑی تھی اور خنزیر قتل کئے تھے، تو پھر ایسا عقیدہ رکھنا کہ وہ دوبارہ آئیں گے، سے ظاہراً وہ دروغ گو نعوذ باللہ! ٹھہرتے ہیں۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں:
- ۱:...... اس آیت کی اصل تشریح کیا ہے؟
- ۲:...... مرزا کی تشریح پر تبصرہ کریں۔
مجھے امید ہے کہ آپ جلد از جلد اس سلسلہ میں آسان اور واضح جواب بھیج کر حوصلہ افزائی فرمائیں گے، نوازش ہوگی۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن بہاول پور۔‘‘
جواب:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ وسلامٌ علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ!
مکرم و محترم زیدت معالیکم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ان سوالوں کے جوابات مختصراً لکھتا ہوں۔
- ۱:...... مرزا صاحب کا ان آیات کو اپنی صداقت میں پیش کرنا کئی وجہ سے غلط
ہے۔
- اول:...... سورۃ الحاقہ کی یہ آیات (۴۴ تا ۴۷) قضیہ شخصیہ ہیں، قاعدہ کلیہ
نہیں، ورنہ لازم آئے گا کہ جن مدعیان نبوت کاذبہ نے مہلت پائی ان کو سچا نبی سمجھا جائے، اور جو انبیاء کرام علیہم السلام کفار کے ہاتھوں شہید ہوئے ان کو نعوذ باللہ! جھوٹا سمجھا جائے۔
دوم:...... کسی چیز کو کسی معیار پر پرکھنے کی ضرورت تب ہوتی ہے جبکہ اس کے صحیح یا غلط ہونے کے دونوں احتمال موجود ہوں، جو چیز بالبداہت غلط اور کھوٹی ہو اس کو کوئی عاقل کسی معیار پر پرکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے، اور اس کا امکان ہی باقی نہیں رہا کہ کسی شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کے منصب سے سرفراز کیا جائے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ بالبداہت باطل ہے، اس کو کسی معیار پر جانچنے کی کوشش ہی عبث ہے، ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:
”التحدی فرع دعوی النبوۃ ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالاجماع۔“ (ص:۲۰۲)
ترجمہ:...... ”معجزہ نمائی کا چیلنج فرع ہے دعویٰ نبوت کا، اور نبوت کا دعویٰ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بالاجماع کفر ہے۔“
سوم:...... ان دونوں باتوں سے قطع نظر اگر بفرض محال یہ مان لیا جائے کہ یہ آیت ہر مدعی نبوت کے صدق و کذب کا معیار مقرر کرتی ہے تو اس آیت کی رُو سے خود مرزا صاحب کا جھوٹا ہونا لازم آتا ہے، اس کی تقریر تین مقدموں پر موقوف ہے۔
ایک یہ کہ مرزا صاحب کے نزدیک یہ آیت ہر ایک مفتری کے لئے نہیں، بلکہ صرف مدعی نبوت کے لئے ہے (دیکھئے ضمیمہ اربعین نمبر:۳ و۴، ص:۱۱)۔
دوسرے یہ کہ مرزا صاحب کے نزدیک اس آیت کریمہ کی رُو سے سچے نبی کو ۲۳ برس کی مہلت ضرور ملتی ہے، اگر کوئی مدعی نبوت اتنی مہلت نہ پائے تو جھوٹا ہے، چنانچہ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”اگر کوئی شخص بطور افترا کے نبوت اور مامور من اللہ
ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت کے مانند ہرگز زندگی نہیں پائے گا۔“
(اربعین نمبر: ۴ ص:۱)
تیسرا مقدمہ یہ کہ مرزا صاحب نے، ان کے صاحبزادے مرزا محمود صاحب کے بقول ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا، اس سے پہلے وہ دعویٰ نبوت سے انکار کرتے تھے، چنانچہ مرزا محمود صاحب لکھتے ہیں:
”اور چونکہ ایک ”غلطی کا ازالہ“ ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا ہے جس میں آپ نے (یعنی مرزا صاحب نے) اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے (یعنی اپنے آپ کو نبی سمجھنے لگے) اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے پس ....... یہ ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص: ۱۲۱)
مرزا محمود صاحب کی اس تحریر سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب ۱۹۰۱ء سے پہلے اپنے نبی ہونے کا انکار کرتے تھے، ۱۹۰۱ء میں آپ نے کھل کر نبوت کا دعویٰ کیا، اور ۱۹۰۰ء میں دعویٰ نبوت کا کچھ کچھ خیال پیدا ہورہا تھا۔
ان تین باتوں کو ملحوظ رکھ کر دیکھئے کہ مرزا صاحب ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو وبائی ہیضہ سے (جس کی انہوں نے مولانا ثناء اللہ مرحوم کے مقابلہ میں اپنے لئے بددعا کی تھی) مرجاتے ہیں، ان کو دعویٰ نبوت کے بعد صرف ساڑھے سات سال مہلت ملی، جبکہ یہ خود ان کے بقول قرآنی معیار کے مطابق ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔
۲:...... دارقطنی کی روایت سے مرزا قادیانی کا استدلال چند وجوہ سے غلط ہے۔
اول:...... یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہیں، بلکہ امام محمد باقرؒ کا قول ہے جو شہید کربلا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے پوتے ہیں۔
دوم:...... اس روایت کے دو راوی عمرو بن شمر اور جابر جعفی جھوٹے رافضی ہیں، عمرو بن شمر کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل کی آرا یہ ہیں: امام دارقطنی اور نسائی کہتے ہیں کہ یہ متروک الحدیث ہے۔ جوزجانی کہتے ہیں کہ وہ گمراہ جھوٹا ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ غالی رافضی تھا جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دیتا اور موضوع روایتیں بیان کیا کرتا تھا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں: ’’لیس بشیء‘‘ (یعنی وہ کچھ نہیں محض لغو ہے)۔ امام بخاریؒ فرماتے ہیں منکر الحدیث ہے۔ سلیمانی کہتے ہیں کہ وہ روافض کے لئے حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔ (میزان الاعتدال ج:۲ ص:۲۹۱) امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ شخص جابر جعفی کے حوالے سے بکثرت من گھڑت روایتیں نقل کیا کرتا تھا۔ امام ابونعیم فرماتے ہیں کہ یہ جابر جعفی کی منکر اور موضوع روایتیں نقل کرتا ہے۔
(لسان المیزان ج:۴ ص:۳۶۷)
اس روایت کو عمرو بن شمر، جابر جعفی سے نقل کرتا ہے، جابر جعفی کٹر رافضی تھا جو رجعت کا عقیدہ رکھتا تھا، امام شعبیؒ نے اس سے کہا تھا کہ تو نہیں مرے گا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہ باندھے۔ اسماعیل کہتے ہیں کہ امام شعبیؒ کے اس ارشاد پر چند ہی دن گزرے تھے کہ جابر کو متہم بالکذب پایا گیا۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ میں جن لوگوں سے ملا ہوں ان میں جابر جعفی سے بڑھ کر کسی کو جھوٹا نہیں پایا۔
(تہذیب التہذیب ج:۲ ص:۴۹)
غالباً پہلے اس شخص کا رفض نہیں کھلا ہوگا، اس لئے بعض اکابرؒ نے اس کی توثیق بھی کی ہے، بعد میں جب اس کی حقیقت کھلی تو اسے ترک کردیا تھا۔ حافظ
تقریب میں لکھتے ہیں: ”ضعیف رافضی“ انصاف کیجئے! جس روایت کی سند میں ایک چھوڑ دو کذاب راوی موجود ہوں، کیا اس سے کوئی دینی وشرعی مسئلہ ثابت ہوسکتا ہے؟ خصوصاً جبکہ اس کا تعلق فروعی مسائل سے نہیں بلکہ اعتقاد ونظریاتی مسائل سے ہو؟
سوم: ...... اس روایت کے صحیح یا غلط ہونے سے قطع نظر اس کے الفاظ پر غور کیجئے! اس روایت میں کہا گیا کہ امام مہدی کی خاص علامت یہ ہے کہ رمضان مبارک کی پہلی رات کو چاند گہن اور پندرہویں تاریخ کو سورج گہن ہوگا، اور یہ علامت جب سے آسمان وزمین کی تخلیق ہوئی ہے کبھی ظہور میں نہیں آئی۔ اب ذرا ماہرین فلکیات سے دریافت کیجئے کہ کیا رمضان مبارک میں کبھی اس شان کا کسوف وخسوف ہوا ہے، خود مرزا قادیانی نے صراحت کی ہے کہ ۱۸۹۴ء کا چاند گہن رمضان مبارک کی ۱۳؍ تاریخ کو اور سورج گہن رمضان کی ۲۸؍ تاریخ کو ہوا تھا، کیا ۱۳؍ تاریخ رمضان کی پہلی اور ۲۸؍ تاریخ رمضان کی درمیانی تاریخ کہلاتی ہے؟ پس جب روایت کے مطابق یہ علامت پائی ہی نہیں گئی تو اس کو اپنی صداقت کا نشان قرار دینا کیا معنی رکھتا ہے؟
رہا مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ ان تاریخوں میں کبھی کسی مدعی کے زمانے میں خسوف وکسوف کا اجتماع نہیں ہوا، محض ابلہ فریبی ہے، ماہرین فلکیات کے مطابق گزشتہ بارہ تیرہ صدیوں میں ساٹھ مرتبہ رمضان مبارک میں کسوف اور خسوف کا اجتماع ہوچکا ہے، اور ان موقعوں پر متعدد مدعیان مہدویت ومسیحیت بھی موجود تھے، مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری ”رئیس قادیان“ میں لکھتے ہیں:
”مرزا صاحب کا یہ بیان بھی ناقابل التفات ہے کہ دونوں نشان میرے سوا کسی مدعیٔ نبوت کے واسطے جمع نہیں ہوئے، کیونکہ کتاب حدائق النجوم (ص:۷۰۲، ۷۰۷) اور اسٹرونومی مؤلفہ مسٹر نارمن لوکئیر (ص:۱۰۲) اور مسٹر کیتھ کی کتاب ”یوز اوف دی گلوبس“ (ص:۲۷۳، ۲۷۶) جدول کسوف
وخسوف) کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ تیرہ صدیوں میں (۱ھ سے ۱۳۱۲ھ تک) ساٹھ مرتبہ رمضان المبارک میں اجتماع کسوفین ہوا، اور قارئین، خاکسار راقم الحروف کی کتاب ”ائمہ تلبیس“ کے مطالعہ سے معلوم کر سکتے ہیں کہ ان تیرہ صدیوں میں بیسیوں مدعیان مہدویت و نبوت ہر قرن میں مسند تزویر پر بیٹھ کر خلق خدا کو گمراہ کرتے رہے ہیں۔
ایران میں مرزا علی محمد باب نے ۱۲۶۰ھ میں مہدویت کا دعویٰ کیا تھا، اس کے ساتویں سال یعنی رمضان ۱۲۶۷ھ مطابق ۱۸۵۱ء میں ۱۳ اور ۲۸ رمضان کو خسوف اور کسوف کا اجتماع ہوا، اس کے مارے جانے کے بعد اس کے دونوں جانشین صبح ازل اور بہاء اللہ بھی مہدویت اور مقام ”من یظہرہ اللہ“ کے مدعی تھے، پس مرزا صاحب کا یہ زعم کہ ۱۸۹۴ء کا اجتماع کسوفین میری مہدویت کا نشان تھا، انتہا درجہ کی جسارت اور دیدہ دلیری ہے۔“
(رئیس قادیان ج:۲ ص:۲۰۰)
”اسی طرح مرزا صاحب کا یہ دعویٰ بھی سخت لغو ہے کہ: ”اس گرہن کے وقت میں مہدی موعود ہونے کا کوئی مدعی زمین پر بجز میرے نہیں تھا۔“ کیونکہ قادیانی صاحب ہی کے زمانے میں محمد احمد مہدی سوڈان میں ناقوس مہدویت بجا رہا تھا۔“
(رئیس قادیان ج:۲ ص:۱۹۹)
الغرض مرزا قادیانی کا دارقطنی کی اس روایت کو اپنے نشان کے طور پر پیش کرنا، کسی صاحب عقل و ہوش کے نزدیک صحیح نہیں ہو سکتا، بلکہ خود یہ روایت اس کے دعویٰ کی تکذیب کرتی ہے، کیونکہ روایت میں جس غیر معمولی اور خارق عادت کسوف و
خسوف کے اجتماع کا ذکر کیا گیا ہے وہ مرزا کے زمانہ میں نہیں پایا گیا، اور جو اس کے زمانہ میں کسوف و خسوف ہوا وہ خرق عادت نہیں تھا، جیسا کہ اس روایت میں ذکر کیا گیا ہے، بلکہ عام معمول کے مطابق تھا، جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے، اور جس میں کوئی ندرت نہیں، پس جب معلوم ہوا کہ مہدی کے زمانے میں جو خرق عادت کے طور پر کسوف و خسوف ہوگا وہ مرزا کے زمانے میں نہیں پایا گیا، تو اس سے معمولی عقل و فہم کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ مرزا مہدی نہیں بلکہ دعویٰ مہدویت میں جھوٹا ہے، کیونکہ مہدی کی خاص علامت اس میں نہیں پائی گئی۔
- ۳:...... مرزا صاحب نے آیت کریمہ : ”فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ“ کے بارے میں جو
کچھ لکھا ہے، اس میں چند امور قابل غور ہیں:
- اول :...... مرزا کی پہلی کتاب براہین احمدیہ کا حصہ چہارم ۱۸۸۴ء میں شائع
ہوا تھا، جیسا کہ اس کے سرورق پر درج ہے، اور اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ تھے، چنانچہ قرآن کریم کی آیت اور اپنے الہام کے حوالے سے مرزا صاحب نے ان کی دوبارہ تشریف آوری کی اطلاع ان الفاظ میں دی تھی:
”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ.“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ (اس آیت میں) دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اقطار میں پھیل جائے گا، لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار ...... مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے، اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت مشابہ واقع
ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔ سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم طبع اول ص: ۴۹۸، ۴۹۹)
مرزا صاحب کی اس عبارت سے واضح ہے کہ ۱۸۸۴ء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بقید حیات تھے، قرآن کریم ان کی دوبارہ تشریف آوری کا اعلان کر رہا تھا، اور مرزا صاحب پر بطور الہام یہ بات ظاہر کی گئی تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس قرآنی پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ۱۸۸۴ء کے بعد کون سی تاریخ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوئی؟ اور اس کے بعد کون سی آیت کریمہ نازل ہوئی، جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کی اطلاع دی گئی ہو؟ اور یہ امر بھی قابل دریافت ہے کہ آیت کریمہ: ”فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ“ سے اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے تو یہ آیت تو قرآن کریم میں اس وقت بھی موجود تھی، پھر مرزا نے ایک جھوٹی پیش گوئی کو قرآن کریم کے حوالے سے کیوں اپنی کتاب میں درج کیا اور اس کے ملہم نے مرزا کو کیوں یہ جھوٹی اطلاع دی کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس قرآنی پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں؟
اور یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر مرزا صاحب براہین احمدیہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ ہونے اور دوبارہ دنیا میں تشریف لانے پر قرآن کریم کی آیت سے غلط استدلال کر سکتے ہیں اور اس کے لئے اپنا جھوٹا الہام پیش کر سکتے ہیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وفاتِ مسیح پر جو آیات سے استدلال کرتے ہیں وہ غلط نہیں ہے اور جو الہامات پیش کرتے ہیں وہ جھوٹے نہیں ہیں؟
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ خود مرزا صاحب ہی بقلم خود حیات مسیح پر قرآن کریم کی آیت اور اپنا الہام پیش کر چکے ہیں، بعد میں انہوں نے اسلامی عقیدے سے انحراف کر کے نیچریوں کی تقلید کر لی اور وفات مسیح کا عقیدہ تراش لیا، جو شخص قرآنی اور الہامی عقیدے سے انحراف کر کے ایک نیا عقیدہ تراش لے وہ دیندار نہیں بلکہ بے دین کہلاتا ہے، اور اگر اس نئے عقیدے پر قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی حدیث شریف سے استدلال کرے تو وہ ملحد اور زندیق کہلاتا ہے، حیات مسیح کا عقیدہ خود مرزا کی تصریح کے مطابق قرآنی و الہامی عقیدہ تھا، مرزا نے نیچریوں کی تقلید میں اس قرآنی عقیدہ کو چھوڑا اور اس کے برخلاف قرآن کریم کی آیتوں سے استدلال کرنے لگے تو ان کے بے دین، ملحد اور زندیق ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے؟
دوم....... یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ آیت کریمہ: "فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ" یا دوسری وہ آیات جن کو مرزا قادیانی وفات مسیح کے ثبوت میں پیش کرتا ہے، چودھویں صدی میں نازل نہیں ہوئیں، پہلے بھی وہ قرآن مجید میں موجود تھیں، اور گزشتہ تیرہ چودہ صدیوں کے اکابر امت اور مجددین ملت کی نظر سے وہ اوجھل نہیں تھیں، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام، تابعین عظام اور تمام صدیوں کے اکابرین امت ان آیات کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور دوبارہ تشریف لانے کا عقیدہ رکھتے تھے، خود مرزا صاحب لکھتے ہیں:
"مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے، اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے، انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔"
(ازالہ اوہام ص:۵۵۷ طبع اول، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)
اور یہ بات عقلاً و شرعاً ناممکن اور محال ہے کہ قرآن کریم کی آیات کا مطلب نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا ہو، نہ صحابہ کرام نے، نہ تابعین عظام نے، نہ تیرہ چودہ صدیوں کے اکابر امت اور مجددین ملت نے۔ پس اگر ان آیات کا وہی مطلب ہوتا جو مرزا صاحب بیان کر رہے ہیں تو مرزا صاحب کو وفات مسیح کے عقیدے کا اعلان کرنے کی ضرورت نہ تھی، بلکہ یہ عقیدہ روز اول سے امت میں متواتر چلا آنا چاہئے تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں، وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔ لیکن اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مرزا صاحب کی براہین احمدیہ تک تمام اکابرین امت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور دوبارہ آنے کا عقیدہ رکھتے چلے آئے ہیں اور اس عقیدہ کو قرآن کریم کی آیات بینات اور احادیث متواترہ سے ثابت کرتے آئے ہیں۔ تفسیر، حدیث اور عقائد کی تمام کتابوں میں اس عقیدے کو جلی عنوان سے ذکر کیا گیا ہے، اب انصاف کیجئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تمام اکابر امت کا عقیدہ تو غلط ہو اور قرآن کریم کی آیات بینات کا مطلب نہ سمجھیں اور مرزا قادیانی کا عقیدہ (جو نیچریوں کی تقلید میں اپنایا گیا) وہ صحیح ہو اور مرزا صاحب قرآن کریم کی ان آیات کا مطلب سمجھ جائیں، کیا کسی کی عقل میں یہ بات آسکتی ہے؟ اس نکتہ کو سامنے رکھ کر ہر شخص بالبداہت سمجھ لے گا کہ براہین احمدیہ میں مرزا صاحب نے صحیح عقیدہ لکھا تھا، بعد میں وہ پٹری سے اتر گئے اور یہ کہ قرآن مجید میں وفات مسیح کے عقیدے کا کوئی نام و نشان نہیں ہے، مرزا صاحب محض اپنی ذہنی اختراع کو لفاظی کے زور سے قرآن کریم کے سر منڈھنا چاہتے ہیں۔
سوم:...... آیت کریمہ: ”فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ“ وفات مسیح کو ثابت نہیں کرتی بلکہ خود قادیانی عقیدے کی جڑ کو کاٹتی ہے، کیونکہ اس آیت شریفہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی دو حالتیں ذکر کی گئی ہیں، پہلی قوم کے درمیان موجود رہنے کی، جس کو
”وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ“ میں ذکر فرمایا گیا ہے، اور دوسری اس کے بالمقابل قوم کے درمیان غیر موجودگی کی، جس کو ”تَوَفَّيْتَنِیْ“ میں ذکر کیا گیا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام بارگاہ خداوندی میں عرض کر رہے ہیں کہ میں جب تک ان کے درمیان موجود رہا تب تک ان کے احوال پر مطلع رہا، اور ان کی نگرانی کرتا رہا کہ کوئی غلط عقیدہ نہ اپنالیں، پھر جب میرے ان کے درمیان قیام کی مدت پوری ہوگئی اور آپ نے ان کے درمیان سے مجھے اٹھالیا تو اس کے بعد آپ ہی ان کے نگہبان تھے، اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، نہ اس کی کوئی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔
مسلمان مفسرین یہاں توفی کی تفسیر رفع آسمانی سے کرتے ہیں، اور اس تفسیر کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قوم کے درمیان رہنے اور ان کے اٹھائے جانے کی دو حالتوں کے درمیان تقابل بالکل واضح ہے، یعنی جب تک نہیں اٹھائے گئے اس وقت تک قوم کے درمیان تھے، اور جب ان کو اٹھالیا گیا تو قوم کے درمیان نہیں رہے، لیکن مرزا قادیانی یہاں توفی کے معنی موت کے کرتے ہیں، اور اسی کے ساتھ اس کے بھی قائل ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دی گئی، وہ صلیب پر ”کالمیت“ ہوگئے، تو تین دن تک ایک قبر نما حجرے یا حجرہ نما قبر میں ان کے زخموں کا علاج کیا گیا، اور پھر وہ بھاگ کر کشمیر چلے آئے، یہاں ستاسی سال زندہ رہنے کے بعد ان کا انتقال ہوگیا، گویا مرزا کے بقول عیسیٰ علیہ السلام کی تین حالتیں تھیں، ایک قوم کے درمیان قیام پذیر رہنے کی، دوسری کشمیر کی طرف ہجرت کر کے ایک عرصہ تک زندہ رہنے کی اور تیسری موت کی۔ مرزا کی اس تقریر کے مطابق ان دونوں حالتوں میں جو قرآن کریم میں ذکر کی گئی ہیں کوئی تقابل نہیں رہتا، مرزا کے عقیدے کے مطابق تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ فرمانا چاہئے تھا کہ جب تک ان کے درمیان موجود رہا ان پر گواہ رہا، پھر میں نے کشمیر کی طرف ہجرت کی تو آپ ان کے نگہبان تھے، الغرض ”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ“ کے معنی یہ ہیں کہ جب تو نے مجھے اپنی تحویل میں لے
کر آسمان پر اٹھا لیا تو آپ ہی نگہبان تھے، کوئی سی تفسیر اٹھا کر دیکھ لیجئے، آپ کو یہی تفسیر ملے گی، اس لئے مرزا نے آیت کا جو مفہوم بیان کیا ہے، وہ خود اس آیت کی رُو سے غلط ٹھہرتا ہے۔
یہاں ایک نکتہ اور بھی ذہن نشین رکھنا چاہئے (یہ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کا افادہ ہے) وہ یہ کہ جب کسی نبی کو اپنی قوم کے درمیان میں سے ہجرت کرجانے کا حکم ہوتا ہے تو سنۃ اللہ یوں ہے کہ یا تو اس قوم کو تہس نہس کردیا جاتا ہے، جیسا کہ حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم السلام کی قوموں کے واقعات قرآن کریم میں ذکر کئے گئے ہیں، یا پھر اس نبی کو فاتحانہ شان سے قوم میں واپس لایا جاتا ہے اور قوم اس کی مطیع ہوجاتی ہے جیسا کہ ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا کہ آپؐ جس شہر سے ہجرت فرما کر گئے تھے، سات سال بعد اس میں فاتحانہ واپس تشریف لائے اور پوری قوم آپؐ کی مطیع ہوگئی۔
اہل اسلام کے نزدیک سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آسمان پر تشریف بری ان کی ہجرت تھی، مگر ان کے تشریف لے جانے کے بعد ان کی قوم (یہود) کو عاد و ثمود کی طرح ہلاک نہیں کیا گیا بلکہ ان کا معاملہ قرب قیامت تک ملتوی رکھا گیا، قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کرنے کے لئے، جو اس وقت یہود کا رئیس ہوگا، واپس تشریف لائیں گے، جو لوگ آپ پر ایمان لائیں گے وہ باقی رہ جائیں گے، باقی سب کا صفایا کردیا جائے گا، جیسا کہ احادیث شریفہ میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
لیکن مرزا قادیانی کے قول کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر کی طرف ہجرت کرگئے، وہیں مر مرا گئے، ان کے جانے کے بعد نہ قوم کو ہلاک کیا گیا اور نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو واپس لایا گیا، مرزا قادیانی کا یہ قول سنت اللہ کے قطعاً خلاف ہے، اگر عیسیٰ علیہ السلام کی ہجرت آسمان کی طرف نہیں بلکہ کشمیر کی طرف ہوئی تھی تو وہاں ان کی گمنامی کی موت واقع نہ ہوتی، بلکہ ان کو فاتحانہ شان سے دوبارہ ان
کی قوم میں واپس لایا جاتا۔
نمبر ۲: میں آپ نے مرزا کی جو تقریر نقل کی ہے کہ:
”اس آیت میں صریح طور پر بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ عیسائیوں کے بگڑنے سے لاعلمی ظاہر کریں گے اور کہیں گے کہ مجھے تو ان کے حالات کی اس وقت تک خبر ہے جب تک میں ان میں تھا، اور وفات کے بعد کی خبر نہیں۔“
مرزا کی یہ تقریر خود اس کی اپنی تصریح کے خلاف ہے، چنانچہ وہ ”آئینہ کمالات اسلام“ میں لکھتا ہے:
”اور میرے پر کشفاً یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی حضرت عیسیٰ کو اس کی خبر دی گئی۔“
(آئینہ کمالات ص: ۲۵۳، روحانی خزائن ص: ۲۵۳)
اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھا ہے:
”خدائے تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح کو دکھایا یعنی ان کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دے دی کہ تیری قوم اور تیری امت نے اس طوفان کو برپا کیا ہے۔“
(آئینہ کمالات ص: ۲۶۸ حاشیہ، روحانی خزائن حاشیہ ص: ۲۶۸)
جب اللہ تعالیٰ نے بقول مرزا آسمان پر عیسیٰ علیہ السلام کو عیسائیوں کے بگاڑ اور فتنہ کی خبر دے دی تھی تو خود ہی سوچئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے اپنی لاعلمی کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں؟ کیا اس صورت میں بھی وہ پوری بے ہودہ تقریر جاری نہیں ہوتی جو مرزا نے عیسیٰ علیہ السلام اور خدا تعالیٰ کی گفتگو کی نقل کی ہے؟ اور جس کے نقل کرنے سے بھی بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں!!
دراصل مرزا کو قرآن سے اپنی مطلب براری کے سوا کوئی تعلق نہیں تھا، اس
لئے اس نے جیسا موقع دیکھا قرآن کریم کی آیات کا مطلب گھڑ لیا، زیر بحث آیات کا یہ مطلب نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اپنی قوم کے بگاڑ سے لاعلمی کا اظہار فرمائیں گے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ: اس بگڑی ہوئی قوم سے اپنی برأت فرمائیں گے کہ: میں جب تک ان کے درمیان قیام پذیر رہا ان کی پوری پوری نگرانی کرتا رہا کہ کسی غلط عقیدہ میں مبتلا نہ ہوجائیں، پھر جب آپ نے مجھے اٹھایا تو میری ذمہ داری ختم ہوگئی، اس کے بعد اگر انہوں نے گمراہی اختیار کی ہے تو میں ان سے بری الذمہ ہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قوم کے بگاڑ کا علم ہونے یا نہ ہونے کی بات ہی زیر بحث نہیں کہ وہ یہ جواب دیتے کہ مجھے علم نہیں، جو بات زیر بحث ہے کہ کیا تم نے ان لوگوں سے کہا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنالینا؟ اس کے جواب میں وہ عرض کریں گے کہ توبہ! توبہ! میری کیا مجال کہ میں ان سے ایسی بات کہتا، میں نے تو ان کو توحید کی تعلیم دی تھی، اور جب تک ان میں رہا، ان کے عقیدۂ توحید کی پوری پوری نگرانی کرتا رہا، یہ میرے اٹھائے جانے کے بعد بگڑے ہیں، جس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں بلکہ خود انہی پر عائد ہوتی ہے۔
غور فرمائیے کہ یہ تقریر صحیح ہے یا جو مرزا نے کی وہ صحیح ہے...!!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۲ ش:۲۵)
مرزائی امت سے چند سوالات
بسم الله الرحمن الرحیم الحمد لله وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
سوال :۱...... مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں کہ:
”وہ دین، دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی، نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیہ سے (جنہیں مرزا صاحب خدائی اصطلاح کے مطابق نبوت کہتے ہیں) مشرف ہو سکے، وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ ...... وحی الہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ...... سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔“
(ضمیمہ براہین پنجم ص: ۱۳۸، ۱۳۹۔ روحانی خزائن ج:۲۱ ص: ۳۰۶)
الف:...... یہ تو مرزا صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کسی نبی کی اتباع سے آدمی نبی نہیں بنتا تھا (دیکھئے حاشیہ حقیقۃ الوحی
ص: ۷۷)، کیا مرزا صاحب کے بقول تمام انبیاء سابقین کا دین رحمانی نہیں بلکہ معاذ اللہ! شیطانی اور لعنتی تھا؟
ب:....... اگر مرزا صاحب کے بقول نبی کے نبی ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ اس کی متابعت سے آدمی نبی بن جائے اور یہ شرط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی میں نہیں پائی گئی تو تمام انبیاء سابقین کی نبوت مرزا صاحب کے نزدیک حرف باطل نہ ٹھہری؟ اور مرزا صاحب تمام انبیاء کرام کی نبوت کے منکر نہ ٹھہرے؟
ج:....... مرزا صاحب کو اقرار ہے کہ اسلام کی تیرہ صدیوں میں کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر کے اس مرتبہ کو نہیں پہنچا، اس صورت میں کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین بھی معاذ اللہ! شیطانی اور لعنتی ہی رہا؟
د:....... مرزا صاحب کی پیروی کر کے آج تک مرزائیوں میں کوئی نبی ہوا ہے یا نہیں؟ اگر ہوا ہے تو اس کا نام بتایا جائے، اور اگر کوئی نہیں ہوا تو کیا مرزا صاحب کا مندرجہ بالا اصول خود انہی کے بارے میں کیوں نہ دہرایا جائے کہ: ”مرزا کا دین، دین نہیں اور نہ وہ نبی جس کی پیروی سے آج تک کوئی نبی نہیں ہوا، مرزا کا دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ بتاتا ہے کہ وحی الٰہی مرزا تک محدود رہ گئی، آگے نہیں چلی، اور مرزا کے دین کو رحمانی کے بجائے شیطانی کہنا زیادہ موزوں ہے۔“ فرمائیے! کیا مرزا صاحب کا اصول خود انہی کی ذات پر صادق نہیں آتا؟
ھ:....... مرزا محمود احمد صاحب کے نزدیک نبوت کا مسئلہ مرزا صاحب پر ۱۹۰۱ء میں کھلا تھا، تو کیا ۱۹۰۱ء سے پہلے مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ! شیطانی اور لعنتی ہی سمجھتے تھے؟
و:....... جو دین ۱۹۰۱ء تک مرزا صاحب کے قول کے مطابق رحمانی نہیں بلکہ شیطانی اور لعنتی تھا، اس کی پیروی کر کے مرزا صاحب رحمانی نبی بنے؟ یا شیطانی اور لعنتی؟ خوب سوچ سمجھ کر جواب دیجئے۔
سوال:٢......مرزا غلام احمد لکھتے ہیں: ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں، لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جو ملہم اور محدث ہیں، گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں، اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں، ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(حاشیہ تریاق القلوب ص:١٣٠)
مرزا صاحب نے اس عبارت میں مقبولان الٰہی کی دو قسمیں بیان کی ہیں، ایک وہ نبی جو شریعت جدیدہ رکھتے ہوں، ان کا منکر کافر ہے، اور دوم غیر صاحب شریعت، ان کا منکر کافر نہیں، اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل امور دریافت طلب ہیں:
الف:......حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ہزاروں نبی آئے، مگر ان میں سے کوئی بھی صاحب شریعت جدیدہ نبی نہیں گزرا، بلکہ سب شریعت تورات کے پابند تھے، مرزا صاحب کے نکتہ کے مطابق ان میں سے کسی نبی کا انکار کفر نہ ہوا، کیا مرزائی امت کا بھی یہی عقیدہ ہے؟
ب:......اہل اسلام کے نزدیک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت نبی تھے، لیکن مرزا صاحب کے نزدیک وہ بھی:
”جو موسیٰ سے کم تر اور اس کی شریعت کے پیرو تھے، اور خود کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے۔“ (حاشیہ دافع البلا ص:٢١)
لہٰذا مرزا صاحب کے مندرجہ بالا عقیدے کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا منکر بھی کافر نہ ہوا، کیا مرزائیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے؟
ج:......قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کے منکر کافر ہیں (دیکھئے حقیقۃ
الوحی ص:۱۲۳)، تو کیا مرزا صاحب کے مندرجہ بالا اصول کے مطابق خود مرزا صاحب بھی صاحب شریعت جدیدہ نہ ہوئے؟ اگر وہ صاحب شریعت جدیدہ نہیں تو ان کا منکر کیوں کافر ہے؟
سوال:۳.......مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ’’لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا، اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا، یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام ”حصور“ رکھا، مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے، اور پھر یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یحییٰ کے ہاتھ پر، جس کو عیسائی یوحنا کہتے ہیں، اور جو پیچھے ایلیا بنایا گیا، اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اور ان کے خاص مریدوں میں داخل ہوئے تھے، اور یہ بات حضرت یحییٰ کی فضیلت کو بداہت ثابت کرتی ہے، کیونکہ بمقابل اس کے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ یحییٰ نے بھی کسی ہاتھ پر توبہ کی تھی، پس اس کا معصوم ہونا بدیہی امر ہے۔‘‘ (حاشیہ دافع البلاء آخری صفحات، دافع البلا کا جو نیا ایڈیشن ربوہ سے شائع ہوا ہے اس میں یہ عبارت ’’تنبیہ‘‘ کے عنوان سے رسالہ کے شروع میں ص:۴ پر ہے)
منقولہ بالا عبارت میں مرزا صاحب نے ایک تو یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ خدا
تعالیٰ نے قرآن میں یحییٰ علیہ السلام کو تو ”حصور“ فرمایا، مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ نام نہیں رکھا، کیونکہ یحییٰ علیہ السلام شراب نہیں پیتے تھے، حضرت یحییٰ علیہ السلام فاحشہ اور نامحرم عورتوں سے اختلاط نہیں کرتے تھے، اور عیسیٰ علیہ السلام کرتے تھے، اور دوسرا نکتہ یہ بیان فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے یحییٰ علیہ السلام کا مرید بن کر ان کے ہاتھ پر گناہوں سے توبہ کی تھی، مگر یحییٰ علیہ السلام کے بارے میں اس کا کوئی ثبوت نہیں، لہٰذا یحییٰ علیہ السلام تو بداہۃً معصوم ہیں، مگر عیسیٰ علیہ السلام معصوم نہ ہوئے، مرزا صاحب کے ان دونوں نکتوں کی روشنی میں چند امور دریافت طلب ہیں:
- الف:...... جو شرابی ہو، کنجریوں سے اختلاط رکھتا ہو، حرام کی کمائی استعمال
کرتا ہو، اور نامحرم عورتوں سے خدمت لیتا ہو، کیا وہ نبی ہو سکتا ہے؟
- ب:...... کیا کسی نبی میں مندرجہ بالا صفات (یعنی شراب پینا اور رنڈی بازی
کرنا، جو مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کی ہیں) پائی جاسکتی ہیں؟ کیا مرزائی عقیدے میں انبیاء کرام کا ان فواحش سے پاک ہونا ضروری نہیں؟
- ج:...... نبوت اور حصور ہونا ان دونوں میں سے کون سا زیادہ بلند ہے؟
- د:...... مرزا صاحب کے نزدیک ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام قرآن نے
”حصور“ نہیں رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے“ گویا اللہ تعالیٰ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایسے ”قصوں“ کو صحیح جانتے تھے، پھر اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت کیوں عطا فرمادی؟
- ہ:...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وہ کون سے گناہ تھے جن سے انہوں نے
مرزا صاحب کے بقول حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر توبہ کی تھی؟
- و:...... کیا توبہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام، بقول مرزا صاحب کے
”گناہوں“ سے باز آگئے تھے، یا توبہ کے بعد بھی ان پر قائم رہے؟
- ز:...... اگر بالفرض مرزا صاحب کے بارے میں دلائل سے یہ بات ثابت
ہو جائے کہ وہ شراب پیتے تھے، ٹانک وائن کا شغل فرماتے تھے، کنجریوں کی حرام کمائی کو استعمال کرنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے تھے، اور نامحرم عورتوں سے خدمت بھی لیا کرتے تھے، تب بھی آپ لوگ انہیں مجدد، مسیح، مہدی، نبی اور رسول کہیں گے؟ یہ نہ سہی کم از کم انہیں ایک متقی اور شریف انسان ہی تسلیم کریں گے؟ اگر جواب نفی میں ہو تو کیا ان الزامات کی موجودگی میں عیسیٰ علیہ السلام کو ایک شریف آدمی تسلیم کرنا ممکن ہے؟ اور کیا یہی مسیح ہے جس کی مماثلت پر مرزا صاحب کو ناز ہے؟
- ح:..... مرزا صاحب نے کئی جگہ لکھا ہے کہ انہیں مسیح علیہ السلام سے شدید
مشابہت اور مماثلت ہے، گویا دونوں ایک ہی درخت کے پھل ہیں، یا ایک معدن کے دو جوہر ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ اخلاق عالیہ جو حضرت مسیح کی جانب مرزا صاحب نے منسوب کئے ہیں، خود مرزا صاحب میں بھی پائے جاتے تھے یا نہیں؟ اگر مرزا صاحب ان ”اوصاف حمیدہ“ سے محروم تھے، تو مسیح سے ان کی مکمل مشابہت کیسے ہوئی؟
- ط:..... قرآن کریم نے تو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یحییٰ علیہ السلام کے سوا کسی کا نام بھی ”حصور“ نہیں رکھا، کیا مرزا صاحب کے بقول ان تمام انبیاء کرام کے حق میں بھی معاذ اللہ! ”ایسے قصے“ ہی اس نام کے رکھنے سے مانع تھے؟ کیا اس نکتہ سے مرزا صاحب نے تمام انبیاء کرام کو شرابی اور رنڈی باز کی گالی نہیں دے ڈالی؟
- سوال :۴:..... دافع البلاء کی عبارت (مندرجہ سوال نمبر :۳) سے ملتا جلتا
مضمون مرزا صاحب نے اپنی ایک دوسری کتاب ”انجام آتھم“ میں باندھا ہے، وہاں لکھا ہے کہ:
”آپ کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا) خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، تین دادیاں اور تین نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور
پذیر ہوا، مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی، آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے، ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے، اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص: ۷، روحانی خزائن ج: ۱۱ ص: ۲۹۱)
دونوں کتابوں کی عبارتوں کو ملا کر میں نے یہ سمجھا ہے (اور میرا خیال ہے کہ ہر اردو خواں یہی سمجھنے پر مجبور ہوگا) کہ دونوں کتابوں میں مرزا صاحب نے ”وہی قصے“ ذکر کئے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ”حصور“ کا لفظ کہنے سے خدا کو مانع ہوئے، البتہ دونوں کتابوں کے مضمون میں تین وجہ سے فرق ہے:
- اول: ...... یہ کہ دافع البلاء میں شراب نوشی اور کنجریوں سے اختلاط دو باتوں کا
ذکر ہے، اور انجام آتھم میں شراب نوشی کا ذکر نہیں، گویا ”ایسے قصے“ میں سے ایک قصہ یہاں حذف کر دیا۔
- دوم: ...... دافع البلاء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کنجریوں سے میلان کی
وجہ ذکر نہیں کی، انجام آتھم میں اس کی وجہ بھی لفظ ”شاید“ کے ساتھ ذکر کردی، اور وہ ہے ”جدی مناسبت“، یعنی آپؐ کی تین دادیوں، نانیوں کا (نعوذ باللہ!) زنا کاری، اور آپؐ کا ان کے ناپاک خون سے وجود پذیر ہونا، توبہ! استغفر اللہ!
- سوم: ...... انجام آتھم میں تصریح کردی کہ یہ ”اخلاق حمیدہ“ (جو مرزا صاحب
نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کئے ہیں، اور جن کی بنا پر بقول ان کے خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ”حصور“ نہیں کہہ سکا) کسی ادنیٰ پرہیز گار انسان کے بھی نہیں ہو سکتے۔
کیا میں نے ان دونوں عبارتوں کے مفہوم اور ان کے باہمی فرق کو غلط سمجھا ہے؟
- الف:...... کیا مرزائی عقیدے میں انبیاء کرام کے نسب پاک نہیں ہوتے؟
اور ان کے اجداد میں تین تین دادیاں اور نانیاں نعوذ باللہ! زنا کار ہوا کرتی ہیں؟
- ب:...... جس شخص کا وجود زنا کاروں کے گندے خون سے ظہور پذیر ہوا ہو،
کیا وہ مرزائی عقیدے میں نبی ہوسکتا ہے؟
- ج:...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کنجریوں سے میلان مرزا صاحب کے
بقول اس لئے تھا کہ ”جدی مناسبت درمیان تھی“، ادھر مرزا صاحب کو بھی مسیح کا دعویٰ ہے، تو کیا انہیں مسیح علیہ السلام کی ”جدی مناسبت“ میں سے بھی کچھ نہ کچھ حصہ ملا یا نہیں؟ اگر بقول ان کے ”مسیح“ کی تین دادیاں، نانیاں زنا کار تھیں تو ”مثیل مسیح“ کی تین کو نہ سہی کسی ایک دادی، نانی کو تو مسیح کی دادیوں، نانیوں سے مماثلت کا شرف ضرور حاصل ہوا ہوگا!!
- د:...... مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ یحییٰ کا معصوم ہونا بمقابل مسیح علیہ السلام
کے بدیہی امر ہے، اس مقابلے کا مطلب کیا ہے؟ کیا مسیح علیہ السلام معصوم نہ تھے؟ کیا ان کی عصمت بدیہی نہیں؟
- ھ:...... جو شخص خدا کے نزدیک شراب پیتا ہو، کنجریوں سے میلان رکھتا ہو،
ان کی ناپاک کمائی استعمال میں لاتا ہو اور نامحرم عورتوں سے خدمت لیتا ہو، کیا وہ معصوم ہوتا ہے؟ اگر وہ بھی معصوم ہے تو غیر معصوم کس کو کہتے ہیں؟
- و:...... یہ تو مسیح کی عظمت تھی جس کا نقشہ مرزا صاحب نے دافع البلا اور
انجام آتھم کے مشترک مضمون میں کھینچا ہے، اب ”مثیل مسیح“ کی عصمت کا کیا معیار ہوگا؟
ز:....... مرزا صاحب نے سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں جو پھلجڑیاں چھوڑی ہیں، اگر کوئی شخص یہی الفاظ مرزا صاحب کے بارے میں استعمال کرے تو مرزائی امت کا ردعمل کیا ہوگا؟
ح:....... ہمارے نزدیک مرزا صاحب نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اور ان کے پردہ میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو (دیکھئے سوال: ۳ فقرہ:ط) جو مغلظات اور فحش گالیاں سنائی ہیں، اس کی ہمت کسی چوہڑے چمار کو بھی کسی شریف آدمی کے بارے میں نہیں ہو سکتی، ان عریاں گالیوں کے بعد کیا کسی مرزائی میں ہمت ہے کہ وہ مرزا صاحب کو ایک معمولی درجہ کا شریف آدمی ہی ثابت کر دکھائے؟ مسلمان ہونا تو دور کی بات ہے!!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۳ ش:۲۶)
قادیانی فتنے کا سدّباب
چند تجاویز !
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم (الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی)!
۱۲؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ بمطابق ۱۸؍ دسمبر ۱۹۸۳ء کو آٹھویں قومی سیرت کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق نے ختمِ نبوت کے عقیدہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:
’’حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت اور وحی کا سلسلہ ختم ہوگیا، اس لئے آپؐ کے بعد نبوت کا ہر مدعی کاذب ہے، اور ایسا دعویٰ کرنے والے کو نبی، صاحبِ شریعت یا مجدد ماننے والے گمراہ اور غیر مسلم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کی حفاظت اور کفالت حکومت کا فرض ہے، لیکن اگر وہ اسلام کے بنیادی نظریے یعنی ختمِ نبوت پر ضرب لگانے کی کوشش میں ہوں تو ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو بہت سی آزادیاں حاصل ہیں، مگر
مشرکین یا منافقین یا غیر مسلموں کو نظریہ اسلام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔“
(روزنامہ جنگ کراچی ۲۰ دسمبر ۱۹۸۳ء)
ایک عرصہ سے صدر جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے بارے میں کچھ لوگ یہ پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ وہ قادیانی ہیں، یہ لوگ اس کے دلائل اور شواہد بھی پیش کرتے تھے، ان میں سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ موصوف نے متعدد موقعوں پر قادیانیوں سے مسلمانوں کا سا سلوک روا رکھا، اور یہ کہ ان کے دور میں قادیانیوں کو مراعات دی گئیں۔ جناب صدر اس الزام کی تردید اگرچہ کراچی کے ایک جلسہ میں بھی کرچکے تھے، تاہم موصوف کی زیر بحث تقریر کے بعد ان کے بارے میں غلط فہمیوں کے سارے بادل چھٹ جاتے ہیں، اس کے بعد اس مکروہ پروپیگنڈے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔
بلاشبہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کا یہ دعویٰ کرنا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی و رسول بنا کر مبعوث کیا گیا ہے، نبوت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے خلاف ایک بغاوت ہے، یہ بات کسی تشریح و توضیح کی محتاج نہیں کہ انگریز کے منحوس دور میں ”سرکار کے خود کاشتہ پودا“ کی حیثیت سے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت و رسالت سے لے کر الوہیت تک کے بلند بانگ دعوے کئے، اگر ایسے دعوے کسی اسلامی حکومت میں کئے جاتے تو مدعی کو یا تو دماغی شفاخانے میں پہنچایا جاتا، یا اگر اس کی دماغی صحت معمول پر ہوتی تو اسے واصل جہنم کیا جاتا، جیسا کہ مسیلمہ کذاب اور اس کے متبعین کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ”حدیقۃ الموت“ میں فی النار والسقر کیا تھا، اور جیسا کہ بعد کے تمام خلفائے اسلام کے دور میں مدعیان نبوت سے یہی سلوک ہوتا رہا، قاضی عیاضؒ ”الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم“ میں لکھتے ہیں:
”وقد قتل عبدالملک بن مروان الحارث
المتنبی وصلبه وفعل ذلک غیر واحد من الخلفاء والملوک باشباههم واجمع علماء وقتهم علی صواب فعلهم والمخالف فی ذلک من کفرهم کافر.“
(ج:۲ ص:۲۷۵ مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان)
ترجمہ:....... ”عبدالملک بن مروان نے مدعی نبوت حارث کو قتل کر کے سولی پر لٹکایا تھا، اور یہی سلوک بے شمار خلفاء اور سلاطین نے اس قسم کے لوگوں سے کیا، اور ان کے دور کے علمائے بالا جماع ان کے فعل کی تصویب کی، اور جس شخص کو ایسے لوگوں کے کفر میں اختلاف ہو وہ خود کافر ہے۔“
چونکہ قادیانی نبوت خود ساختہ و پرداختہ اور اس کے گھر کی لونڈی تھی، اس لئے انگریز گورنمنٹ کے زیر سایہ قادیانی نبوت کا شجرۂ خبیثہ پھلتا پھولتا رہا، قیام پاکستان کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس وطن پاک میں، جسے خدا اور رسول کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، مرزا کی جھوٹی نبوت کا سکہ نہ چلتا، لیکن بہت سے اسباب وعوامل کی بنا پر (جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں) قادیانی دسیسہ کاریاں پاکستان میں بدستور جاری رہیں، ہمارے حکمران طبقہ کی رواداری اور فراخدلی کا یہ عالم رہا کہ قیام پاکستان سے ستائیس سال بعد (ستمبر ۱۹۷۴ء میں) صرف اتنی بات تسلیم کی گئی کہ جو لوگ کسی مدعی نبوت کو کسی معنی میں بھی اپنا مذہبی راہنما و پیشوا تسلیم کرتے ہیں وہ مسلمان نہیں، اور اب نو برس بعد جناب صدر صاحب نے پہلی بار یہ وعدہ فرمایا ہے کہ:
”پاکستان میں غیر مسلموں کی حفاظت و کفالت حکومت کا فرض ہے، لیکن اگر وہ اسلام کے بنیادی نظریے یعنی ختم نبوت پر ضرب لگانے کی کوشش میں ہوں تو ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔“
جناب صدر کے ذہن میں اس ”سختی سے نمٹنے“ کا کیا خاکہ ہے؟ اس کی وضاحت تو وہ خود ہی فرما سکتے ہیں، تاہم سختی سے نہیں بلکہ ”نرمی سے نمٹنے“ کا جو خاکہ ہمارے ذہن میں ہے، وہ پیش خدمت ہے:
اول:...... اگر یہ صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعوئیٰ نبوت، اسلام کی بنیاد پر کاری ضرب ہے تو ایسے لٹریچر کی اشاعت پر پابندی عائد کی جانی چاہئے، جس میں ایک مدعی نبوت کے مشن کی تبلیغ ہو رہی ہے، یہ ایک ایسی کھلی ہوئی بات ہے جس کے سمجھنے کے لئے کسی باریک مطالعہ کی ضرورت نہیں کہ کوئی حکومت باغیانہ لٹریچر کی اشاعت کی اجازت نہیں دیتی، پس جب ایسے لٹریچر کی اشاعت نہیں ہو سکتی جس میں حکومت کے خلاف کھلی بغاوت اور ملک و وطن سے کھلی غداری کی دعوت دی گئی ہو تو ایسا لٹریچر جس میں نبوت محمدیہؐ سے بغاوت کی دعوت دی جاتی ہو، اس کی اجازت ایک اسلامی مملکت میں کس طرح جائز ہو سکتی ہے؟
دوم:....... گزشتہ سالوں میں حکومت نے مردم شماری کرائی تھی اور قادیانیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے مذہب کا حلفیہ اندراج کرائیں، اس سے قادیانیوں کے اعداد و شمار بھی ضرور سامنے آئے ہوں گے، قادیانی (اپنے جھوٹے نبی کی سنت کے مطابق) بڑے مبالغہ آمیز انداز میں اپنے اعداد و شمار پیش کر کے دنیا کو مرعوب کرتے ہیں، اور مسلمانوں کے حقوق کا استحصال کرتے ہیں، ادھر مسلمانوں کو کچھ معلوم نہیں کہ وطن عزیز میں کتنے لوگ اس فرقۂ باطلہ سے منسلک ہیں، اس لئے قادیانیوں کے اعداد و شمار بلا تاخیر قوم کے سامنے آنے چاہئیں۔
سوم:....... بہت سے قادیانی اپنے کو مسلمان ظاہر کر کے ایسے اسلامی ممالک میں (بشمول سعودی عرب) ملازمتیں کر رہے ہیں، جہاں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے، اور بہت سے قادیانی مسلمانوں کے بھیس میں حرمین شریفین کو اپنے نجس قدموں سے ملوث کرتے ہیں، لیکن اب تک حکومت کی طرف سے اس کے انسداد کی کوئی تدبیر نہیں
کی گئی، عالم اسلام خصوصاً حرمین شریفین کو قادیانی سازشوں سے محفوظ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ قادیانیوں کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر ان کے مذہب کا اندراج کیا جائے۔
چہارم:...... بہت سے قادیانی آفیسر اپنے منصب کو اپنی مذہبی تبلیغ کے لئے استعمال کرتے ہیں، اس لئے تحقیق کی جائے کہ ملک میں کتنے قادیانی افسر و ملازم ہیں، اس تحقیق کے نتائج سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔
پنجم:...... قادیانی اس بات پر مصر ہیں کہ نہ صرف یہ کہ وہ مسلمان ہیں، بلکہ دراصل وہی مسلمان ہیں، باقی سب غیرمسلم ہیں، ایک غیرمسلم کا اپنے تمام تر عقائد باطلہ کے باوجود، اپنے آپ کو مسلمان کہلانا، اسلام اور مسلمانوں کی توہین ہے، حکومت کو غیرمسلموں پر یہ پابندی عائد کرنی چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے اسلام اور مسلمانوں کا مذاق نہ اڑائیں۔
یہ پانچ نکات تو وہ ہیں جو سختی سے نہیں بلکہ ”نرمی سے نمٹنے“ کے ذیل میں آتے ہیں، اگر حکومت واقعتاً ”سختی سے نمٹنے“ کا ارادہ رکھتی ہے تو اس کے لئے حسب ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
اول:...... نبوت کے جھوٹے مدعی کی امت کو خلاف قانون قرار دیا جائے، کیونکہ جب یہ واقعہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت اسلامی قانون کے خلاف ہے، جیسا کہ تمام اسلامی کتب میں لکھا ہے، مثلاً شرح فقہ اکبر میں ہے:
”التحدی فرع دعوی النبوة، ودعوی النبوة بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالاجماع.“ (ص:۲۲)
ترجمہ:...... ”معجزہ نمائی کا چیلنج کرنا دعویٰ نبوت کی فرع ہے، اور نبوت کا دعویٰ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بالاجماع کفر ہے۔“
تو لازم ہے کہ جو جماعت اس جھوٹے مدعی نبوت کو اپنا روحانی پیشوا مانتی ہے، اسلامی قانون کی رو سے اسے بھی خلاف قانون قرار دیا جائے۔
دوم:......حکومت نے اسلامی تعزیرات کا قانون ملک میں نافذ کیا ہے، لیکن سزائے ارتداد جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر ارشادات میں بیان فرمایا ہے کہ:
(بخاری ص:۱۰۲۳)
ترجمہ:...... ”جو شخص اپنا دین اسلام تبدیل کر کے کفر اختیار کرے اسے قتل کردو۔“
اور جس پر تمام فقہاء امت کا اتفاق ہے، اسے حکومت نے نافذ نہیں کیا، اگر اسلامی تعزیرات کا نفاذ مطلوب ہے تو سزائے ارتداد سے شرمانے کی کوئی وجہ نہیں، ارتداد، اسلام کی نظر میں زنا اور چوری سے زیادہ سنگین جرم ہے، اب اگر زنا اور چوری کا انسداد بذریعہ قانون ضروری ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ارتداد کے انسداد کی کوئی تدبیر نہ کی جائے، الغرض یہ قانون فی الفور نافذ ہونا چاہئے کہ جو شخص اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرے گا اس پر سزائے ارتداد جاری ہوگی، نیز یہ کہ زندیق بھی سزائے ارتداد کا مستوجب ہوگا۔
سوم:......اگر سرکاری ملازمین کا سروے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر محکمے کی شہ رگ پر قادیانی بیٹھے ہیں، اس نوعیت کی کلیدی اسامیوں سے ان کو برطرف کیا جائے۔
ہم نے نہایت اختصار سے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت سے کھیلنے والوں اور اسلام کی بنیادوں پر ضرب لگانے والوں کے بارے میں چند تجاویز پیش کردی ہیں، نرم بھی اور سخت بھی، اب یہ دیکھنا ہے کہ حکومت کتنی تدابیر بروئے کار لاتی ہے، یا اگر یہ تجاویز قابل عمل نہیں تو ان کو چھوڑ کر اس سلسلہ میں دیگر کیا اقدامات کرتی
ہے؟
آخر میں یہ گزارش ضروری ہے کہ قادیانی امت کی مثال اس وقت زخم خوردہ سانپ کی ہے، جناب صدر ان کے خلاف کوئی اقدام کرتے ہیں یا نہیں، یہ تو بعد کی بات ہے، لیکن یہ لازم ہے کہ یہ زخمی سانپ جناب صدر ہی کو نہ کاٹ کھائے، اخبارات و رسائل آج کل جس طرح جناب صدر کے خلاف زہر اگل رہے ہیں وہ ان کے درون باطن کی نشاندہی کر رہی ہے، ”وما تخفی صدورھم اکبر!“ حق تعالیٰ شانہ انہیں تمام دشمنان اسلام کے شر سے محفوظ رکھے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۲ ش:۳۲)
قادیانیت.....
ایک دہشت پسند سیاسی تنظیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
عام طور سے قادیانیت کو صرف ایک مذہبی تحریک سمجھا جاتا ہے، جس کے عقائد و نظریات قرونِ وسطیٰ کے ”قرامطہ“ اور ”باطنیہ“ کے مماثل ہیں، لیکن قادیانیت کے آغاز اور اس کے نشوونما اور اس کی سرگرمیوں کے سیاسی آثار و نتائج کا جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ قادیانیت ایک دہشت پسند خفیہ سیاسی تنظیم ہے، جس نے مخصوص اغراض و مصالح کی خاطر اپنے سیاسی چہرے پر مذہبیت کی نقاب پہن رکھی ہے۔ قادیانی سرگرمیوں کا محور ہمیشہ مندرجہ ذیل نکات رہے ہیں:
- ۱:...... مسلمانوں کی صف میں گھس کر ان میں انتشار و افتراق پیدا کرنا۔
- ۲:...... مسلمانوں کو ان کی مذہبی و سیاسی قیادت سے بدظن کرنا۔
- ۳:...... مسلمانوں کو ان کے مستقبل سے مایوسی دلانا۔
- ۴:...... مسلمانوں کے جذباتِ حریت و جہاد کو کچل کر انہیں مغربی استعمار کی
ذہنی و جسمانی غلامی کے لئے تیار کرنا۔
- ۵:...... مسلمانوں کے عقائد میں شکوک وشبہات پیدا کر کے اسلام سے
مایوس، متنفر اور برگشتہ کرنا۔
- ۶:...... انگریزی تسلط کو رحمتِ خداوندی بتا کر مسلمانوں کو ترکِ جہاد پر آمادہ
کرنا۔
- ۷:...... مسلمانوں کے حریت پسند افراد کے کوائف انگریز کو مہیا کرنا۔
- ۸:...... ملتِ اسلامیہ کی سطوت و شوکت کو سبوتاژ کر کے اس کے ملبہ پر
قادیانیت کا محل تعمیر کرنا۔
قادیانیوں نے مذکورہ بالا مقاصد کو ایسے مخفی طریقہ سے انجام دینے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کو کانوں کان اس کی خبر نہ ہو سکے اور کسی کو قادیانیت کے اصل عزائم تک رسائی حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہ مل سکے، یہی وجہ ہے کہ اگرچہ مذہبی محاذ پر قادیانیت کا شدید تعاقب کیا گیا، لیکن ان کی سیاسی سرگرمیاں عام نظروں سے اوجھل رہی ہیں، اور آج بھی ”فری میسن تنظیم“ کی طرح کسی کو کچھ خبر نہیں کہ قادیانیت اندرون خانہ کیا کچھ کر رہی ہے؟ ذیل میں حقائق و واقعات کا ایک مختصر خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔
مغربی یورش اور اس کا ردّعمل:
اٹھارویں صدی عیسوی میں مغرب کے جارحانہ سیاسی و استعماری عزائم نے کروٹ لی اور چند سالوں میں پوری دنیا اس کے استعماری سیلاب کی زد میں آگئی، اور دنیا کی بہت سی آزاد ریاستیں مغرب کی نوآبادیات میں شامل ہوگئیں، انگریز، فرانسیسی اور پرتگالی درندے اسلامی ممالک کو تہ و بالا کرتے ہوئے آندھی کی طرح دنیا پر چھا گئے، اسلامی ممالک میں انگریز اور دیگر استعمار پسندوں کو مسلمانوں کی جانب سے ”جہاد“ کے تلخ تجربوں سے دوچار ہونا پڑا، مغربی استعمار نے مسلمانوں کے جذبہ جہاد
کو کچلنے، انہیں فرنگی سیاست کے خارزار میں الجھانے اور صدیوں تک یورپ کی ذہنی غلامی میں محبوس رکھنے کے لئے متعدد اقدامات کئے، جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے، البتہ صرف ایک نکتہ ہماری بحث سے متعلق ہے اور وہ ہے ”قادیانیت اور انگریز“۔
غدار کی تلاش:
تاریخ شاہد ہے کہ مغربی اور انگریزی استعمار کا استحکام ان بے ضمیر افراد کا رہین منت ہے جنہوں نے مغرب کے کافرانہ نظام سے وفاداری اور اسلام اور وطن سے غداری میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی، اور جو ہر قوم وملت کو اپنی ذاتی غرض کی خاطر غلام رکھنا چاہتے تھے، شاطران افرنگ کو ہر ملک میں ایسے ضمیر فروشوں کی ہمیشہ ضرورت رہی اور وہ ان کی تلاش میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔
خود ہندوستان میں انگریزی راج کے قیام کے موقع پر اگر ایک طرف سلطان ٹیپو شہیدؒ اور سید احمد شہیدؒ ایسے مجاہدین، اسلام کی سربلندی کے لئے جاں بازی اور سرفروشی کی تاریخ اپنے خون سے رقم کر رہے تھے، تو دوسری طرف میر جعفر اور میر صادق ایسے غداران اسلام، ضمیر فروشی میں نام پیدا کر رہے تھے۔ انگریز کے قدم سرزمین ہند میں راسخ ہوئے تو انہیں ہر سطح اور ہر طبقہ کے لوگ ”سرکاری خدمات“ کے لئے میسر آئے، لیکن بدقسمتی سے اب تک ایک ”سرکاری نبی“ کی نشست خالی تھی، انگریز ایسے ”غدار اعظم“ کی تلاش میں کس قدر سرگرداں تھا؟ اس کا انکشاف ایک برطانوی دستاویز ”دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا“ سے ہوتا ہے، آغا شورش کاشمیری مرحوم ”عجمی اسرائیل“ میں اس دستاویز کے حوالے سے لکھتے ہیں:
”اس راز کی گرہ ایک برطانوی دستاویز ”دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا“ (برطانوی سلطنت کا ہندوستان میں
ورود) سے کھلتی ہے، ۱۸۶۹ء میں انگلینڈ سے برطانوی مدبروں اور مسیحی راہنماؤں کا ایک وفد اس بات کا جائزہ لینے کے لئے ہندوستان پہنچا کہ ہندوستانی باشندوں میں برطانوی سلطنت سے وفاداری کا بیج کیونکر بویا جاسکتا ہے اور مسلمانوں کو رام کرنے کی صحیح ترکیب کیا ہو سکتی ہے؟ اس زمانہ میں جہاد کی روح مسلمانوں میں خون کی طرح دوڑ رہی تھی، اور یہی انگریزوں کے لئے پریشانی کا سبب تھا، اس وفد نے ۱۸۷۰ء میں دو رپورٹیں پیش کیں، ایک سیاست دانوں نے، ایک پادریوں نے، جو محولہ نام کے ساتھ یکجا شائع کی گئیں، اس مشترکہ رپورٹ میں درج ہے کہ:
”ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی رہنماؤں کی اندھا دھند پیروکار ہے، اگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو ”اپاسٹالک پرافٹ“ (حواری نبی) ہونے کا دعویٰ کرے تو بہت سے لوگ اس کے گرد اکٹھے ہو جائیں گے، لیکن مسلمانوں میں سے ایسے کسی شخص کو ترغیب دینا مشکل نظر آتا ہے، یہ مسئلہ حل ہو جائے تو پھر ایسے شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں بہ طریق احسن پروان چڑھایا جاسکتا اور کام لیا جاسکتا ہے، اب کہ ہم پورے ہندوستان پر قابض ہیں تو ہمیں ہندوستانی عوام اور مسلمان جمہور کی داخلی بے چینی اور باہمی انتشار کو ہوا دینے کے لئے اس قسم کے عمل کی ضرورت ہے۔“
(عجمی اسرائیل ص: ۱۹)
قادیان کا غدارِ اسلام خاندان:
ہندوستان میں اگر چہ بہت سے لوگ انگریزی نظامِ کفر کے آلہ کار تھے، لیکن قادیان میں ایک ایسا غدارِ اسلام مغل خاندان بھی موجود تھا جو اسلام اور کفر کی جنگ میں ہمیشہ کفر کی حمایت و رفاقت کا خوگر تھا، یہ قادیان کے ”ظلی نبی“ (یا برطانوی دستاویز کی اصطلاح میں ”حواری نبی“) مرزا غلام احمد قادیانی کا خاندان تھا، چنانچہ:
- ۱:...... اس حواری نبی کا والد مرزا غلام مرتضیٰ اپنے بھائیوں سمیت سکھ شاہی
دور میں سکھ فوج میں داخل ہوا، اور ایک پیادہ فوج کے کمیدان کی حیثیت سے پشاور روانہ کیا گیا، اور وہاں اس نے ان مجاہدین اسلام کے سر قلم کئے جو سکھوں کے جور و ستم کو مٹانے اور اسلام کی سربلندی کے لئے برسر پیکار تھے۔
شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ سکھ فوج میں شامل ہوکر مرزا غلام مرتضیٰ نے جن مجاہدین اسلام کے سر قلم کئے وہ کون تھے؟ یہ تیرہویں صدی کے مجاہد امیر المؤمنین سید احمد شہید بریلویؒ کی فوج تھی، جو شمال مغربی سرحد پر اسلام کی سربلندی کے لئے سکھوں کے مظالم کا صفایا کرنے کے لئے سر بکف تھی، اور انگریزوں کے حواری نبی کا باپ اسلام اور کفر کی اس جنگ میں کفر کا جرنیل تھا۔
- ۲:...... ۱۸۵۷ء میں ہندوستان نے انگریزوں کو مار بھگانے کے لئے آخری
جنگ لڑی، پورا ملک انگریزوں کے خلاف شعلہ جوالہ بنا ہوا تھا، لیکن قادیان کے مرزا غلام مرتضیٰ نے پچاس گھوڑوں اور جوانوں سے انگریز کو مدد دی تھی، جبکہ بقول مرزا غلام احمد قادیانی کے ان دنوں اس کے باپ کو بے حد معاشی تنگی تھی۔
- ۳:...... مرزا غلام مرتضیٰ کے بڑے لڑکے اور حواری نبی کے بڑے بھائی مرزا
غلام قادر نے مشہور سفاک جنرل نکلسن کی فوج میں ۴۶ نیو انفنٹری کے باغیوں کو بھون ڈالا اور ان باغیوں کو صرف گولی ہی سے نہیں اڑایا بلکہ ان کا مثلہ کیا، انہیں درختوں
سے باندھ کر اعضا قطع کئے، ان کو نذر آتش کیا، ان پر ہاتھی پھرائے، ان کی ٹانگیں چیر کر رقص بسمل کا تماشہ دیکھا۔
یہ وہی انگریز خونخوار جنرل تھا جو اپنی حکومت سے باغیوں کی زندہ کھال کھینچ لینے کی اجازت کے لئے قانون بنانے کا مطالبہ کر رہا تھا۔
مرزا غلام احمد نے نہ صرف ان جلادوں کی سفاکیوں پر صاد کیا ہے، بلکہ ان کے باپ اور بھائی نے ان معرکوں میں شامل ہو کر کفر کی جو حمایت کی تھی مرزا غلام احمد نے اس کو بڑے فخر و مباہات سے بار بار ذکر کیا ہے۔
مرزا غلام احمد نے اپنی کتابوں میں انگریز کے اعلیٰ افسروں کی ان ”چٹھیات“ کا ذکر بھی بڑے فخر سے کیا جن میں انہوں نے قادیان کے اس غدار اسلام خاندان کی جلیل القدر خدمات انگریزی کا اعتراف بڑی فراخ دلی سے کیا، مسٹر ولسن نے لکھا:
”ہم خوب جانتے ہیں کہ بلاشک تمہارا خاندان سرکار انگریز کے ابتدائی عمل و دخل ہی سے گورنمنٹ انگریزی کی جاں ثاری، وفاکیشی پر ثابت قدم رہا ہے، تمہارے حقوق فی الواقعہ قابل قدر ہیں، جن کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، موقع مناسب دیکھ کر تمہارے حقوق و خدمات پر توجہ کی جائے گی، تم لوگ ہمیشہ سرکار انگریزی کے ہوا خواہ اور جاں نثار رہو، کیونکہ اس میں سرکار کی خوشنودی اور تمہاری بہبودی ہے۔“
اور مسٹر رابرٹ کسٹ کمشنر لاہور نے لکھا:
”چونکہ آپ ہمیشہ انگریز گورنمنٹ کے ہواخواہ، خیرخواہ، رفیق کار اور مددگار رہے، اس لئے اس خیرخواہی و خیرسگالی کے انعام میں تمہیں مبلغ دو صد روپیہ خلعت عطا کیا جاتا
ہے۔‘‘
- ۵:...... مرزا غلام احمد قادیانی اپنے خاندان کی اسلام کے خلاف غداریوں پر
شرمندہ نہیں، بلکہ اس پر فخر کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ ہے، میرا والد غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیرخواہ آدمی تھا، جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی، اور جن کا ذکر مسٹر گرفن کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے، اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی، یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے، ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں، مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں، (ورنہ وصیت کرتا کہ ان کی فوٹو اسٹیٹ کاپیاں میرے ساتھ میری قبر میں دفن کی جائیں، تاکہ قیامت کے دن میرے خاندان کی اسلام سے غداری کی سند میرے ہاتھ میں ہو۔ ناقل) مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں، پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ اور جب ترموں کے گزر پر مفسدوں کا (یعنی مسلمان حریت پسندوں کا۔ ناقل) سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔‘‘ (اشتہار واجب الاظہار ملحقہ کتاب البریۃ ص:۳ تا ۶، روحانی خزائن ج:۱۳ ص:۴)
- ۶:....... جنرل نکلسن بہادر نے مرزا غلام قادر کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا
ہے کہ ۱۸۵۷ء میں خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے دوسرے تمام خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔
(سیرت مسیح موعود از مرزا محمود ص:۴)
- ۷:....... ”دی ارائیول آف برٹش امپائر ان انڈیا“ میں جس ”ظلی نبی“ کی
تلاش کو ایک اہم ترین ضرورت قرار دیا گیا تھا، وہ ”حواری نبی“ قادیان کے اسی غدار اسلام خاندان سے مہیا ہوسکتا تھا، اور یہ مرزا غلام احمد قادیانی تھا جس نے دعویٰ کیا کہ:
”میں بموجب آیت: ”و آخرین منہم لما یلحقوا بہم.“ بروزی طور پر वही خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے، اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا۔
میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص:۱۰، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۲)
- ۸:....... مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی انگریزوں کی وہی خدمات انجام دیں
جو اسے ورثہ میں ملی تھیں، مگر یہ فرق تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو وحی مغرب نے ”حواری نبی“ کے منصب پر فائز کیا تھا، اس لئے وہ انگریزوں کی چاپلوسی الہام کی سند کے ساتھ کرتا تھا، یہ الہامی سند اس کے باپ دادا کو نصیب نہیں تھی، اس ”حواری نبی“ کی تصریح ملاحظہ فرمائیے:
”اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں مسلمانوں سے اول درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں، کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اول درجہ پر بنا دیا ہے، اول والد
صاحب کے اثر نے، دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانات نے، تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔‘‘
(تریاق القلوب ص:۳۰۹، ۳۱۰ از مرزا غلام احمد)
انگریزوں کے ’’حواری نبی‘‘ مرزا غلام احمد قادیانی کو شاید خیال تھا کہ انگریزی سلطنت ابدالآباد تک قائم رہے گی، اس لئے اس نے انگریز کی خوشامد اور تملق میں پستی اور گراوٹ کا ایسا ریکارڈ قائم کیا جس کی توقع ایک زرخرید غلام ہی سے کی جاسکتی ہے، ورنہ کوئی بھی باضمیر انسان سرکار پرستی کے اس جنگل میں بھٹکنے کے لئے آمادہ نہیں ہوسکتا۔
قادیان کا ’’حواری نبی‘‘ اپنے آپ کو گورنمنٹ برطانیہ کا ’’خود کاشتہ پودا‘‘ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا، انگریز کو سایۂ رحمت خداوندی اولوالامر قرار دیتا ہے، اس کی تائید و حمایت میں اپنی عمر کا بیشتر حصہ صرف کرتا ہے، ملکہ برطانیہ کو پرورش کنندہ کا خطاب دیتا ہے، اور اپنی جماعت کو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ جماعت قرار دیتا ہے۔
انگریز کی نصرت و حمایت میں قادیان کے ’’حواری نبی‘‘ نے بقول اس کے پچاس الماریاں تصنیف کی ہیں، جن کو پڑھ کر ایک ایسے شخص کا سر ندامت سے جھک جاتا ہے جس میں غیرت و حمیت کی ادنیٰ رمق بھی موجود ہو۔
قادیانی نبی کے بڑے صاحبزادے مرزا محمود کے خطبہ جمعہ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
’’حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے فخریہ لکھا ہے کہ میری کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں میں نے گورنمنٹ کی تائید نہ کی ہو، مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں سے نہیں بلکہ احمدیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہمیں مرزا غلام
احمد کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آ جاتی ہے۔“
(الفضل ۱۷؍ جولائی ۱۹۳۲ء)
مرزا غلام احمد کی تحریریں پڑھ کر خود اس کے مریدوں کو شرم آ جاتی ہے، لیکن افسوس کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی کو کبھی یہ خیال دامن گیر نہیں ہوا کہ انگریز کی اطاعت و فرمانبرداری، مدح و ستائش میں ان کا زود نویس قلم کس قدر طومار تیار کر رہا ہے، نامعلوم آئندہ نسلیں اس کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گی؟
مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے ہاتھ پر اپنے دین و ایمان ہی کا نہیں بلکہ اخلاق و شرافت کا بھی سودا کیا، سوال یہ ہے کہ وہ کون سی ”خدمات جلیلہ“ تھیں، جن کے لئے انگریز نے مرزا کو ”حواری نبی“ کے منصب پر فائز کیا؟ اس سوال کا جواب بھی انگریزی دستاویز ”دی ارائیول آف برٹش امپائر ان انڈیا“ میں دیا جاتا ہے، مندرجہ ذیل اقتباس کو دوبارہ پڑھئے:
”ایسے شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں بطریق احسن پروان چڑھایا جا سکتا اور کام لیا جا سکتا ہے، اب کہ ہم پورے ہندوستان پر قابض ہیں تو ہمیں ہندوستانی عوام اور مسلمان جمہور کی داخلی بے چینی اور باہمی انتشار کو ہوا دینے کے لئے اس قسم کے عمل کی ضرورت ہے۔“
انگریز نے بلاشبہ مرزا غلام احمد کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں بطریق احسن پروان چڑھایا، یہی وجہ ہے کہ مرزائی نبوت پر ایمان لانے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو سرکاری دربار سے منسلک تھے، خود مرزا غلام احمد کو اعتراف ہے کہ:
سرکاری نبی کی سرکاری خدمات
۱:......مسلمانوں میں انتشار و افتراق:
قادیانی نبوت نے انگریزی سرکار کی سب سے پہلی جو اہم ترین خدمت انجام دی وہ یہ تھی کہ اس نے مسلمانوں میں انتشار و افتراق کا نیا اکھاڑہ جما دیا، تیرہ سو سال سے مسلمانوں کا جن مسائل پر اتفاق تھا اور جن میں کبھی دو رائیں نہیں ہوئی تھیں، مرزا غلام احمد قادیانی نے ان مسائل کو جنگ و جدل کا موضوع بنا دیا۔
خاتم النبیینؐ کے بعد رسول آسکتے ہیں یا نہیں؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا مر گئے ہیں؟ معجزات اپنے اندر کوئی خرق عادت کیفیت رکھتے ہیں یا وہ لہو و لعب اور مسمریزم میں داخل ہیں؟ قیامت کے دن مردے اٹھیں گے یا نہیں؟ کوئی شخص آسمان پر جاسکتا ہے یا نہیں؟ فرشتے واقعی وجود رکھتے ہیں یا نہیں؟ غیر نبی کا الہام حجت ہے یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ بیسیوں مباحث ایسے ہیں جن کے بارے میں امت اسلامیہ کا عقیدہ بالکل صاف اور واضح رہا ہے، لیکن مرزا غلام احمد نے دین کے مسلمات اور بدیہیات کو اپنی لایعنی بحثوں کا نشانہ بنایا، جن کی وجہ سے امت میں تشکیک و تذبذب کا نیا دروازہ کھل گیا، اور خود قادیانی جماعت میں کئی فرقوں نے جنم لیا، بہت سے لوگوں کو مرزائی نبوت نے الحاد و زندقہ اور دہریت کی وادیوں میں بھٹکنے پر مجبور کر دیا، مرزا غلام احمد بظاہر عیسائیت کا مقابلہ کرتا نظر آتا ہے، لیکن کم از کم ہندوستان میں عیسائیت کو جس قدر فروغ مرزائی تحریک کے ذریعہ ہوا اس کی نظیر نہیں ملے گی، انگریز مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق سے خائف تھا، اور مسلمانوں میں ذہنی بے چینی پھیلانا اور مذہبی انارکی پیدا کرنا گورنمنٹ برطانیہ کا ایک اہم ترین مشن تھا جو مرزا غلام احمد کی ظلّی نبوت نے انجام دیا۔
۲:.......حرمت جہاد کا فتویٰ:
انگریز کو مسلمانوں کی طرف سے جس چیز کا سب سے بڑا اندیشہ تھا اور جس کی وجہ سے اسے صلیبی جنگوں میں نہایت تلخ تجربات سے گزرنا پڑا تھا وہ مسلمانوں کا جذبہ جہاد تھا، ’’اسلامی جہاد‘‘ کی تلوار انگریز کی گردن پر ہر لمحہ لٹک رہی تھی، اور ’’جہاد‘‘ کا لفظ سنتے ہی اس کے اوسان خطا ہوجاتے تھے، (آج بھی یہی کیفیت باقی ہے۔ ناقل) انگریز نے گویا فیصلہ کرلیا تھا کہ مرزا غلام احمد کی ظلی نبوت کے ذریعہ اسلامی جہاد کی تلوار ہمیشہ کے لئے توڑ دی جائے۔
قادیان کا حواری نبی تازہ الہام اور وحی کی سند لے کر سامنے آیا، اور اعلان کر دیا کہ انگریز کے خلاف جہاد نہ صرف حرام ہے بلکہ اسے ہمیشہ کے لئے منسوخ قرار دیا جاتا ہے، مرزا غلام احمد کے مندرجہ ذیل شعر ہر قادیانی کے نوک زبان ہیں:
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص:۲۷، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۷۸)
اسی طرح مرزا کے اردگرد وہی لوگ تھے جو انگریز کے وفادار تھے اور انگریزی خواندہ تھے، چنانچہ مرزا ان کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتا ہے:
”میری جماعت میں بڑے بڑے معزز اہل اسلام
داخل ہیں، جن میں بعض تحصیلدار اور بعض اکسٹرا اسسٹنٹ اور ڈپٹی کلکٹر اور بعض وکلاء اور بعض تاجر اور بعض رئیس اور جاگیردار اور نواب اور بعض بڑے بڑے فاضل اور ڈاکٹر اور بی اے اور ایم اے اور بعض سجادہ نشین ہیں۔‘‘
(اشتہار واجب الاظہار ص:۱۲ ملحقہ کتاب البریہ)
سو سال قبل کی تاریخ ہند اٹھا کر دیکھو، جن لوگوں کا ذکر مرزا غلام احمد نے اپنی جماعت کے نمایاں افراد میں کیا ہے، یہ سب وہ لوگ تھے جن کو گورنمنٹ برطانیہ کا خوشامدی اور ٹوڈی تصور کیا جاتا تھا۔
علاوہ ازیں انگریز صراحتاً حکم دیتا تھا کہ جو لوگ انگریزی حکومت میں ملازمت کے خواہاں ہوں وہ قادیانی جماعت کے ممبر بن جائیں، حکومت برطانیہ نے قادیان کی سرکاری نبوت کی اس حد تک سرپرستی کی اور اسے اس حد تک پروان چڑھایا کہ مرزا غلام احمد اور اس کی جماعت اس کا شکریہ ادا کرنے سے اپنے آپ کو قاصر پاتی ہے، اور سرکار انگریزی کی عنایات کے صلے میں قادیانی نبوت نے سرکار کی جو گراں قدر خدمات انجام دیں وہ تاریخ آزادی ہند کا سیاہ باب ہیں۔
۳:...... دجال کے مقابل میں مسیح کی شکست اور پسپائی کا اعلان:
مرزا غلام احمد قادیانی نے ”اسلامی جہاد“ کے بارے میں ایسے مکروہ اور ناملائم الفاظ لکھے ہیں، جنہیں نقل کرنا بھی قلم کی توہین ہے۔ قادیانی متنبیٰ کی کوئی کتاب بقول ان کے حرمت جہاد کے فتویٰ سے پاک نہیں، میں یہاں ان مکرر تصریحات و اعلانات کو نقل کر کے اس تحریر کو ثقیل نہیں کرنا چاہتا، لیکن اہل دانش کی خدمت میں قادیان کے ”حواری نبی“ اور ”مسیح موعود“ کی عقل و فہم کا ایک عبرتناک نمونہ پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ انگریز ہی دجال ہے جس کے قتل کرنے کے لئے اسے مسیح موعود بنا کر بھیجا گیا ہے، میدان جنگ کا ایک بین الاقوامی اصول ہے کہ متحارب فریقوں میں جو فریق مغلوب ہو کر غالب فریق سے صلح کا خواہش مند ہو وہ سفید جھنڈا لہرا کر اپنی شکست اور پسپائی کا اعتراف کیا کرتا ہے اور غالب فریق کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے، گویا میدان جنگ میں سفید جھنڈا بلند کرنا اپنی شکست اور پسپائی کا اعلان سمجھا جاتا ہے، اسلامی جہاد کو منسوخ کرنے کے جذبہ نے مرزا غلام احمد کو عقل وخرد کے کس مقام تک پہنچا دیا تھا؟ اس کا اندازہ کرنے کے لئے اس کی حسب ذیل تحریر پڑھئے، جس میں وہ مسیح موعود کی فوجوں کو دجال کے مقابلہ میں پسپائی کا حکم دیتے ہوئے صلح کا سفید جھنڈا بلند کرتا ہے:
”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا جاتا ہے، اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو سال پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے، سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں، ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے ...... لہٰذا مسیح موعود اپنی فوج کو اس ممنوع مقام سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے۔“ (اشتہار چندہ منارۃ المسیح ملحقہ خطبہ الہامیہ
ص: ۲۸، روحانی خزائن ج: ۱۶ ص: ۲۸)
آفرین اس مسیح پر جو دجال کے مقابلہ میں امان طلبی کا سفید جھنڈا بلند کرے، اور شاباش مسیح کی باغیرت فوج کو جو دجال کے مقابلہ میں پسپائی کے اعتراف کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے نہ شرمائے، دشمن کے مقابلہ میں ہتھیار ڈالنے کا ایسا حسین
منظر کبھی چشم فلک نے دیکھا ہے....؟؟
۴:...... یاجوج ماجوج کی فتح:
مرزا غلام احمد قادیانی کے دل میں بقول ان کے انگریز کی نمک حلالی کا جو بے پناہ جذبہ تھا اس نے واقعتاً عربی مثل ”حبک الشئ یعمی ویصم،“ (کسی چیز کی محبت تجھے اندھا اور بہرا کردیتی ہے) کی کیفیت ان کے اندر پیدا کردی تھی، حدیث کے طالب علم جانتے ہیں کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا، اور بالآخر وہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بددعا سے ہلاک ہوں گے، مرزا غلام احمد قادیانی نے حرمت جہاد کی الہامی سند مہیا کرنے کے لئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ مسیح موعود ہے جس کے زمانہ میں ”یضع الحرب“ کے مطابق جہاد منسوخ ہوجائے گا (حدیث پاک میں جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دیگر علامات بیان ہوئی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ لڑائی کو موقوف کردیں گے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کے زمانہ میں تمام نظریاتی اختلاف ختم ہوجائیں گے، تمام دنیا اسلام کی حلقہ بگوش ہوجائے گی، اور مسلمانوں میں کوئی نزاعی امر باقی نہیں رہے گا، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں لڑائی جھگڑے سب ختم ہوجائیں گے، مرزا غلام احمد نے جو مطلب نکالا وہ واقعات کی روشنی میں بھی غلط ہے۔ ناقل)، یہاں سوال ہوا کہ اگر آپ مسیح موعود ہیں تو وہ یاجوج ماجوج کون ہے جس کو مسیح کے زمانہ میں خروج کرنا تھا؟ اس کے جواب میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”ایسا ہی یاجوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے..... چونکہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور روس ہیں، اس لئے ہر ایک سعادتمند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو، کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں۔ اور سلطنت برطانیہ کے
ہمارے سر پر بہت احسان ہیں، سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے، اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں، کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پا رہے ہیں وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پا سکتے، ہرگز نہیں پا سکتے۔“
(ازالہ اوہام ص: ۵۰۹، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۳۷۲)
مرزا قادیانی کے سر پر گورنمنٹ برطانیہ کے احسانات کا جو پہاڑ ہے اس کے بوجھ سے دب کر وہ انگریز سے بغض رکھنے والوں کو جاہل، نادان اور نالائق کے خطاب سے اگر نوازیں تو بلاشبہ وہ معذور ہیں، لیکن سرکار پرستی کا یہ تماشا کس قدر عبرتناک ہے کہ مسیح اپنے یاجوج ماجوج کے لئے فتح و نصرت کی دعائیں کرتا ہے، ایک ”سرکاری نبی“ کے علم و فہم اور لیاقت و دانائی کا بلند ترین معیار یقیناً یہی ہو سکتا ہے اور ”برعکس نام نہند زنگی را کافور“ اسی کو کہتے ہیں۔
۵:...... انگریز بمقابلہ اسلامی سلطنت:
مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کی نمک حلالی کا ایک مظاہرہ اس شکل میں کیا کہ انگریزی سلطنت کو تمام اسلامی سلطنتوں کے مقابلہ میں ترجیح دی جائے، اور عوام کے ذہن میں یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ اگر خلافت راشدہ کے عدل و انصاف کا نمونہ کسی کو دیکھنا ہو تو انگریزی سلطنت کے سوا دنیا کے کسی خطے میں نظر نہیں آئے گا، اسی مذکورہ بالا عبارت کو جو اوپر (نمبر: ۴ میں) ازالہ اوہام سے نقل کی گئی ہے دوبارہ پڑھئے اور دیکھئے کہ قادیانی مسیح، اسلامی سلطنتوں کے مقابلہ میں انگریز کی جابر و جائر حکومت کو کس طرح امن و عدل کا گہوارہ قرار دیتا ہے۔
یہ قادیان کے ”حواری نبی“ کی وہی عادل گورنمنٹ ہے جس کے عدل و
انصاف نے ہندوستان کے آخری تاجدار کی آنکھیں نکالیں، جس نے شہزادوں کے سر ان کے باپ کے سامنے بطور تحفہ پیش کئے، جس نے لاکھوں انسانوں کو خاک و خون میں تڑپایا، جس نے برسر بازار علماء صلحا کو سولی پر لٹکایا، جس نے اسلامی خلافت کو تاخت و تاراج کیا، جس نے مکہ و مدینہ کا سینہ گولیوں سے چھلنی کیا، جس نے بیت المقدس اور حرم کعبہ کو بھی اپنی ”انصاف پرور“ درندگی سے محروم نہیں رکھا، جس نے زمین کے چپے چپے پر جور و ستم کے نقش ثبت کئے، جس نے کروڑوں انسانوں کو غلامی کے شکنجے میں کس کر انہیں زندگی کی ہر آسائش سے محروم کیا۔
قادیان کے ”ظلی نبی“ کی یہی گورنمنٹ ہے جس کے زیر سایہ رہنے کو وہ مکہ اور مدینہ کے قیام پر ترجیح دیتا ہے، کیوں؟ اس لئے کہ اس کے اور گورنمنٹ برطانیہ کے مفادات متحد تھے، وہ گورنمنٹ کی عنایات خسروانہ سے لطف اندوز تھا، اور گورنمنٹ اس کی خدمات سے نفع اندوز تھی، خلیفہ قادیان کا سرکاری آرگن ”الفضل“ بڑے طمطراق سے اعلان کرتا ہے:
”اور ہمارا مذہب ہے کہ ہم گورنمنٹ کے سچے دل سے وفادار اور خیر خواہ ہیں، کیونکہ یہ گورنمنٹ ہماری خاص محسن ہے اور اس کے ہم پر اس قدر احسانات ہیں کہ جن کا شمار کرنا آسان نہیں، نیز ہمارے خیال میں یہ حکومت تمام دنیا کی حکومتوں سے اعلیٰ و افضل ہے۔ (لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ ناقل) یہ سلطنت واقعی طور پر عمدہ اور ساری دنیا کی سلطنتوں سے افضل و برتر نہ ہوتی تو یقیناً خدا تعالیٰ اپنے اس نبی (غلام احمد قادیانی۔ ناقل) کو اس سلطنت کے حدود میں پیدا نہ کرتا (بالکل صحیح استدلال ہے، اگر انگریز سے بدتر کوئی حکومت ہوتی تو مرزا غلام احمد کی منحوس نبوت کاذبہ اس کے زیر سایہ جنم
لیتی۔ ناقل)۔“
(الفضل ۱۹؍نومبر ۱۹۱۸ء)
”یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہوتی جاتی ہے کہ فی الواقع گورنمنٹ برطانیہ ایک ڈھال ہے جس کے نیچے احمدی جماعت آگے ہی آگے بڑھتی جاتی ہے، اس ڈھال کو ذرا ایک طرف کر دو، اور دیکھو کہ زہریلے تیروں کی کیسی خطرناک بارش تمہارے سروں پر ہوتی ہے۔
پس کیوں ہم اس گورنمنٹ کے شکر گزار نہ ہوں، ہمارے فوائد اس گورنمنٹ سے متحد ہوگئے ہیں (جی ہاں! آقا اور غلام کے مفادات متحد ہی ہوتے ہیں۔ ناقل) اور اس گورنمنٹ کی تباہی ہماری تباہی ہے، اور اس گورنمنٹ کی ترقی ہماری ترقی ہے، جہاں جہاں اس گورنمنٹ کی حکومت پھیلتی جاتی ہے ہمارے لئے ترقی کا ایک اور میدان نکل آتا ہے (کیونکہ ساری ”تبلیغ“ ہی گورنمنٹ کے لئے ہے۔ ناقل)۔“
(الفضل ۱۱؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)
۶:...... مسلمانوں کی جاسوسی:
قادیانی ”حواری نبی“ کے ذمہ اس کے سفید آقاؤں نے جو فرائض عائد کئے تھے، ان میں ایک بہت ہی خطرناک فریضہ مسلمانوں کی جاسوسی تھا، مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی جماعت کی پوری مشینری کو خفیہ سی آئی ڈی کا محکمہ بنادیا تھا، وہ ”تبلیغ اسلام“ کے پُر فریب نام سے مسلمانوں سے میل جول کرتے تھے، اور ان کی خفیہ رپورٹیں قادیان کی وساطت سے گورنمنٹ برطانیہ کو پہنچائی جاتی تھیں، اس کا اندازہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اس اشتہار سے کیا جاسکتا ہے، جو ”قابل توجہ گورنمنٹ“ کے
عنوان سے ۱۸۹۶ء میں شائع کیا گیا، اس میں لکھتے ہیں کہ:
”چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں ......لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لئے تجویز کیا گیا تا کہ اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں کہ جو ایسے باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں......لیکن ہم گورنمنٹ میں بادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک ”پولیٹیکل راز“ کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے، اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی (کیوں نہیں؟ ضرور!! ناقل)....... اور ایسے لوگوں کے نام مع پتہ ونشان یہ ہیں: نمبر شمار۔ نام مع لقب وعہدہ۔ سکونت۔ ضلع۔ کیفیت۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم ص: ۲۲۷، ۲۲۸ طبع ربوہ)
خدا ہی جانتا ہے کہ قادیانی نبوت کے اس محکمہ جاسوسی نے کتنے محب وطن لوگوں کو ”باغیان انگریز“ کی فہرست میں درج کرایا ہوگا؟ کتنے مسلمانوں کے خلاف انگریز کو انگیخت کی ہوگی اور ان کو سولی پر لٹکوایا ہوگا؟ کتنوں کو جلاوطنی کی سزا دلائی ہوگی؟ کتنوں کو پس دیوار زنداں بھجوایا ہوگا؟ اسلامیان ہند کی مظلومیت اور قادیانی جاسوسوں کی جارحیت دیکھ کر بے اختیار یہ شعر زبان پر آجاتا ہے:
ورنہ از خنجر بے رحم تو تقصیر نہ بود
صرف یہی نہیں بلکہ انگریزوں کو یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ مولویوں کے گھروں میں حدیث کی فلاں فلاں کتابیں رکھی ہیں، جن میں ”خونیں مہدی“ کا ذکر ہے، مقصد یہ تھا کہ انگریز کا جبر و ستم جو اسلام کے ایک ایک نشان کو مٹانے پر تلا ہوا تھا، اس میں مزید شدت پیدا ہو جائے اور نہ صرف ایسی تمام کتب حدیث کو ضبط کر کے نذر آتش کر دیا جائے بلکہ ان تمام علما کو بھی ”انگریز کے باغی“ قرار دے کر کچل دیا جائے۔ اسلام اور مسلمانوں سے عداوت کی اس سے بدترین مثال مل سکتی ہے؟ اور پھر یہ محکمہ جاسوسی صرف ہندوستان میں قائم نہیں تھا، بلکہ عالم اسلام میں جہاں کہیں انگریزوں کو قادیان کا جاسوسی جال بچھانے کی ضرورت ہوتی وہاں قادیانی ٹولے کا تبلیغی مرکز قائم کر دیا جاتا، اور قادیانی گماشتے ”تبلیغ اسلام“ کے بھیس میں انگریزوں کی خفی و جلی خدمات میں مصروف ہو جاتے۔
قادیان کا خلیفہ دوم اور قادیانی مسیح کا فرزند اکبر بڑے فخر سے اعلان کرتا ہے کہ:
”ہم حکومت کی ایسی خدمت کرتے ہیں کہ اس کے پانچ پانچ ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والے ملازم بھی کیا کریں گے۔“
(اخبار الفضل یکم اپریل ۱۹۲۰ء)
۷:....... ہر اسلامی مطالبہ کی مخالفت:
قادیان کی ”سرکاری نبوت“ جہاں گورنمنٹ کے گھر کی لونڈی تھی وہاں مسلمانوں کے ہر ملی احساس کی دشمن تھی، قادیانیوں کی انگریز پرستی اور اسلام دشمنی کو سمجھنے کے لئے یہاں صرف دو واقعے ذکر کئے جاتے ہیں۔
- ۱:....... انہی دنوں میں پادریوں نے ایک گندی کتاب ”امہات المؤمنین“
شائع کی، جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نہایت گھناؤنے الزامات عائد کئے
گئے، انجمن حمایت اسلام نے اعلیٰ حکام سے درخواست کی کہ اس ناپاک کتاب کی اشاعت پر پابندی عائد کی جائے، لیکن مرزا غلام احمد نے اس مطالبہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جماعت اس کتاب پر پابندی لگانے کے حق میں نہیں ہے۔
(دیکھئے تبلیغ رسالت ج:۷ ص:۳۶)
اور مرزا غلام احمد کی اس مخالفت کے غالباً دو سبب تھے، اول یہ کہ وہ انگریزوں کو اطمینان دلانا چاہتے تھے کہ وہ کسی اسلامی مسئلہ کے حامی نہیں، دوم یہ کہ اگر پادریوں کی اشتعال انگیز کتاب پر پابندی عائد کی گئی تو مرزا کی کتابیں بھی اس تعزیر کی مستحق ہوں گی، جن میں ہر مذہب کے مقتداؤں کو بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو برہنہ گالیاں دی گئی ہیں۔
- ۲:...... اسی طرح مرزائیوں کی دشنام طرازی کے جواب میں ایک کتاب
’’رنگیلا رسول‘‘ راجپال نامی آریہ نے شائع کی، اس کتاب کی اشاعت نے مسلمانوں کو بے حد مشتعل کر دیا، اور لاہور کے ایک نوجوان غازی علم الدین شہیدؒ نے راجپال کو جہنم رسید کر دیا، تمام ملت اسلامیہ کی ہمدردیاں اس نوجوان کے ساتھ تھیں، لیکن قادیانی خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین، اسلامی غیرت کو چیلنج کرتے ہوئے اعلان کر رہا تھا کہ:
’’وہ نبی (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت بچانے کے لئے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں، جس کے بچانے کے لئے اپنا دین تباہ کرنا پڑے، یہ سمجھنا کہ محمد رسول کی عزت کے لئے قتل کرنا جائز ہے، سخت نادانی ہے۔‘‘
(الفضل ۱۹؍ اپریل ۱۹۲۹ء)
اور اس سیاہ باطنی اور کور چشمی کو دیکھو کہ محمد رسول اللہ کی عزت بچانے کے لئے تو قادیانی خلیفہ کے نزدیک ’’خون سے ہاتھ رنگنا‘‘ نادانی ہے، اور اس سے دین تباہ و برباد ہو جاتا ہے، لیکن انگریز کی عزت بچانے کے لئے مسلمانوں کے خون سے ہولی
کہلانا عین دانشمندی اور کار ثواب ہے، سنیئے خلیفہ قادیان اعلان کرتے ہیں کہ: ”ہم نے ابتدائے سلسلہ سے گورنمنٹ کی وفاداری کی، ہم ہمیشہ فخر کرتے رہے کہ ہم ملکہ معظمہ کی وفادار رعایا ہیں، کئی ٹوکرے خطوط کے ہمارے پاس ایسے ہیں جو میرے نام یا میری جماعت کے سیکریٹریوں یا افراد جماعت کے نام ہیں، جن میں گورنمنٹ نے ہماری جماعت کی وفاداری کی تعریف کی ہے، اسی طرح ہماری جماعت کے پاس کئی ٹوکرے تمغوں کے ہوں گے، ان لوگوں کے تمغوں کے جنہوں نے اپنی جانیں گورنمنٹ کے لئے فدا کی ہیں۔“
(الفضل ۱۱؍نومبر ۱۹۳۲ء)
غور فرمائیے! جہاد فی سبیل اللہ حرام ہے، لیکن جہاد فی سبیل الانگلیز فرض ہے، محمد رسول اللہ (فداہ ابی وامی) کی عزت و ناموس کے لئے کسی شاتم رسول کافر کو قتل کر دینا ایسا گناہ ہے کہ جس سے دین برباد ہوجاتا ہے، لیکن انگریزی فوج میں شامل ہو کر اسلامی ممالک پر یورش کرنا اور اپنی جانیں لڑا کر فوجی تمغوں کے کئی ٹوکرے حاصل کرلینا، لائقِ فخر ہے۔
مزید سنیئے! خلیفہ قادیان فرماتے ہیں کہ: ”جو گورنمنٹ ایسی مہربان ہو اس کی جس قدر فرمانبرداری کی جائے تھوڑی ہے، ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کا بوجھ نہ ہوتا تو میں مؤذن ہوتا، اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو والنٹیئر ہوکر جنگ (یورپ بمقابلہ ترکی) میں چلا جاتا۔“
(انوار خلافت ص: ۹۶)
کافر افرنگ کی نمک خواری اور ملت اسلامیہ سے غداری قادیان کے مغل خاندان کی سرشت میں داخل تھی، جس کے شواہد پہلے گزر چکے ہیں، قادیان کے
”سرکاری نبی“ نے نہ صرف اپنی خاندانی روایات کو برقرار رکھا، بلکہ الہامی سند عطا کر کے اسے عالم اسلام میں پھیلانے کی کوشش کی، مرزا غلام احمد قادیانی نے ملت اسلامیہ کی عداوت اور انگریز کی وفاداری اپنی جماعت کے ذہنوں میں کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔
چنانچہ اپنی جماعت کے نام فرمان جاری کیا کہ:
”یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا جو اس گورنمنٹ کا شکرگزار نہ ہو، یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا ٹھکانہ کہاں ہے؟ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی، ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کے لئے دانت پیس رہی ہے، کیونکہ تم ان کی نگاہ میں کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو، سو تم اس خداداد نعمت کی قدر کرو، اور تم یقیناً سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ نے سلطنت انگریزی تمہاری بھلائی کے لئے ہی اس ملک میں قائم کی ہے، اور اگر اس سلطنت پر کوئی آفت آئے تو وہ آفت تمہیں بھی نابود کر دے گی۔ یہ مسلمان لوگ، جو اس فرقہ احمدیہ کے مخالف ہیں تم ان کے علماء کے فتوے سن چکے ہو، یعنی یہ کہ تم ان کے نزدیک واجب القتل ہو، اور ان کی آنکھ میں کتا بھی رحم کے لائق ہے، اور تم نہیں ہو، تمام پنجاب اور ہندوستان کے فتوے بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو......
سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں، جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں، اور ان کی تلوار کے خوف
سے تم قتل کئے جانے سے بچے ہوئے ہو، ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ سو انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے، تمہارے لئے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے وہ سپر (ڈھال) ہے، پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو، اور ہمارے مخالف جو مسلمان ہیں، ہزار ہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں، کیونکہ وہ تمہیں واجب القتل نہیں سمجھتے، وہ تمہیں بے عزت کرنا نہیں چاہتے۔“
(اپنی جماعت کے لئے ضروری نصیحت منجانب مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ
تبلیغ رسالت ج:۱۰ ص:۱۲۳، مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص:۵۸۴)
اور قادیانی گروہ، مسلمانوں کے نزدیک مرتد اور واجب القتل کیوں ہے؟ اس کا جواب بھی مرزا غلام احمد قادیانی سے سنئے :
”گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ نہیں، کہ ہزاروں مسلمانوں نے جو مجھے کافر قرار دیا اور مجھے اور میری جماعت کو جو ایک گروہ کثیر پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہے ہر ایک طور کی بدگوئی اور بداندیشی سے ایذا دینا اپنا فرض سمجھا، اس تکفیر اور ایذا کا ایک مخفی سبب یہ ہے کہ ان نادان مسلمانوں کے پوشیدہ خیالات کے برخلاف دل و جان سے گورنمنٹ انگلشیہ کی شکرگزاری کے لئے ہزارہا اشتہار شائع کئے گئے، اور ایسی کتابیں بلاد عرب و شام وغیرہ تک پہنچائی گئیں، یہ باتیں بے ثبوت نہیں، اگر گورنمنٹ توجہ فرمائے تو نہایت بدیہی ثبوت میرے پاس ہیں۔“ (درخواست بحضور لیفٹیننٹ گورنر بہادر، تبلیغ رسالت ج:۷ ص:۱۳)
گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ قادیان سے جو مبلغ، اسلامی ممالک میں بھیجے جاتے تھے، انہیں قادیانی نبوت کی جانب سے ہدایت ہوتی تھی کہ وہ اسلامی ممالک کی رعایا کے سامنے گورنمنٹ برطانیہ کے فضائل و مناقب بیان کریں، ان میں باہمی انتشار و تفریق پیدا کریں، مسلمان حاکم سے رعایا کو برگشتہ کریں، انگریز پرست افراد سے روابط قائم کر کے انہیں اسلامی حکومت سے بغاوت و غداری پر آمادہ کریں، اور بھولے بھالے مسلمانوں کو چکمہ دے کر انہیں قادیانی ارتداد کی راہ پر لگائیں، قادیان کا جاسوسی نظام اسلامی ممالک میں کس طرح کام کرتا تھا؟ اس کی چند مثالیں پیش کر دینا کافی ہوگا۔
افغانستان:
- ۱:......۱۹۰۳ء میں ایک عبداللطیف نامی افغانی مُلا کو قادیان میں چار ماہ کی
جاسوسی ٹریننگ دینے کے بعد کابل بھیجا گیا، جس کو وہاں کی حکومت نے بہ سزائے ارتداد و جاسوسی سنگسار کروا دیا، خلیفہ قادیان مرزا محمود صاحب، عبداللطیف مرزائی کے قتل کا سبب ایک جرمنی انجینئر کے حوالے سے بایں الفاظ بیان کرتے ہیں:
”صاحبزادہ عبداللطیف کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے، اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور ہوجائے گا، اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔
اگر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب خاموشی سے بیٹھے رہتے اور جہاد کے خلاف کوئی لفظ بھی نہ کہتے تو حکومت افغانستان کو انہیں شہید کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔“
(الفضل ۶؍ اگست ۱۹۳۵ء)
- ۲:......اور اس واقعہ سے ڈھائی تین سال قبل، اسی نوعیت کا واقعہ ایک
عبدالرحمن نامی مرزائی کے ساتھ پیش آیا، اسے بھی حکومت افغانستان نے قتل کروادیا۔
- ۳:......۱۹۲۵ء میں افغانستان میں دو اور مرزائی پکڑے گئے جن کے بارے
میں حکومت افغانستان نے مندرجہ ذیل پریس نوٹ جاری کیا:
”کابل کے دو اشخاص ملا عبدالحلیم چہار آسیانی و ملا نور علی دکاندار، قادیانی عقائد کے گرویدہ ہوچکے تھے، اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کرکے انہیں صلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے، جمہوریہ نے ان کی اس حرکت سے مشتعل ہوکر ان کے خلاف دعویٰ دائر کردیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جرم ثابت ہوکر عوام کے ہاتھوں پنجشنبہ ۱۱/رجب کو عدم آباد پہنچائے گئے، ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہوچکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیرملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے، جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں (انگریزوں) کے ہاتھ بک چکے تھے، اس واقعہ کی تفصیل مزید تفتیش کے بعد شائع کی جائے گی۔“
- ۴:......قادیانیوں کی اس ناروا جسارت کے خلاف افغانستان کی اسلامی
حکومت نے جس ردعمل کا اظہار کیا اس کا خوشگوار نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان کی سرزمین قادیان کی ظلی نبوت سے پاک ہوگئی، اور اس کے بعد قادیانیوں کو آئندہ یہ جرات نہ ہوسکی کہ وہاں کفر و ارتداد کی کھلی تبلیغ کرسکیں۔
- ۵:......حکومت افغانستان کے اس جرات مندانہ اقدام سے قادیانی اور ان
کے سفید آقا (انگریز) دونوں افغانستان کے دشمن بن گئے، ۱۹۳۵ء میں قادیان کے خلیفہ نے ”لیگ آف نیشنز“ سے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے ایکشن لیا جائے۔
- ۶:.......۱۹۱۹ء میں انگریز نے افغانستان کو جنگ میں الجھایا تو قادیان میں
مسرت اور شادمانی کے شادیانے بجنے لگے، اور خلیفہ قادیان نے فرط مسرت میں اعلان بھی کر دیا کہ:
”عنقریب ہم کابل جائیں گے۔“
(الفضل ۲۷ مئی ۱۹۱۹ء)
لیکن مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کی طرح خلیفہ قادیان کا یہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوا۔
- ۷:.......اس جنگ کابل میں قادیان نے ہر ممکن طریق سے انگریزوں کو مدد
پہنچائی، الفضل کے بیان کے مطابق:
”جب کابل کے ساتھ جنگ ہوئی ہے تب جماعت ہماری نے اپنی طاقت سے بڑھ کر (انگریزوں کو) مدد دی، اور علاوہ اور کئی قسم کی خدمات کے ایک ڈبل کمپنی پیش کی، جس کی بھرتی بوجہ جنگ کے بند ہوجانے سے رک گئی، ورنہ ایک ہزار سے زائد آدمی اس کے لئے نام لکھا چکے تھے، اور خود ہمارے سلسلہ کے بانی کے چھوٹے صاحبزادہ اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی نے اپنی خدمات پیش کیں، اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں رضا کارانہ طور پر کام کرتے رہے۔“
(الفضل ۱۴ جولائی ۱۹۲۰ء)
- ۸:.......قادیانی جماعت کی افغانستان سے عداوت ہی کا کرشمہ ہے کہ
پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ مسٹر ظفر اللہ خان قادیانی نے پاک افغان تعلقات کو اس انداز سے بگاڑا کہ آج تک دونوں برادر مسلم ملکوں کے تعلقات صاف نہیں ہو سکے، دو مسلم ہمسایہ ملکوں کے درمیان عداوت اور تلخی کے بیج بو دینا، قادیانی حکمت عملی کا ادنیٰ
کرشمہ ہے۔
عراق و بغداد:
- ١:.......١٩١٠ء میں جب برطانوی عفریت نے عراق پر دندانِ حرص تیز کئے
اور لارڈ ہارڈنگ اسلامی مملکت کو برطانوی نوآبادی بنانے کا منصوبہ لے کر عراق میں وارد ہوا، تو قادیان میں گھی کے چراغ جلنے لگے، اور قادیانی جریدہ ’’الفضل‘‘ نے انگریز پرستی اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ ان الفاظ میں کیا:
’’یقیناً اس نیک دل افسر (لارڈ ہارڈنگ) کا عراق جانا عمدہ نتائج پیدا کرے گا، ہم ان نتائج پر خوش ہیں.......کیونکہ خدا ملک گیری اور جہانبانی اسی کے سپرد کرتا ہے جو اس کی مخلوق کی بہتری چاہتا ہے، اور اسی کو زمین پر حکمران بناتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے، ہم پھر کہتے ہیں کہ ہم خوش ہیں، کیونکہ ہمارے خدا کی بات پوری ہوئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع کے ساتھ ہمارے لئے اشاعت اسلام کا میدان بھی وسیع ہوجائے گا اور غیر مسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمان کو پھر مسلمان کریں گے۔‘‘
(الفضل ١١ فروری ١٩١٠ء)
- ٢:.......اور ١٩١٨ء میں جب بغداد پر انگریز کا تسلط ہوا اور وہاں کے
مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپایا گیا، تو قادیانی امت پھولے نہیں سماتی تھی، اسلام کی اس مصیبتِ عظمیٰ پر قادیانی امت فرحت و مسرت میں آپے سے باہر ہوگئی اور اخبار ’’الفضل قادیان‘‘ نے لکھا:
’’حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی موعود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار
ہے جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی، اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو؟“
”عراق عرب یا شام، ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“
”فتح کے وقت ہماری فوجیں مشرق سے داخل ہوئیں، دیکھئے کس زمانہ میں اس فتح کی خبر دی گئی، ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے جو بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام سے لوگوں کو جمع کر کر کے اس طرف بھیجا، دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے تھے جن کو اس گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے اپنے وقت پر اتارا تاکہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس طرف مائل کر کے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار کریں۔“
(۷؍ دسمبر ۱۹۱۸ء)
اس اقتباس کو بار بار پڑھئے! گورنمنٹ برطانیہ کو قادیانی مہدی کی تلوار بتایا جا رہا ہے، اور قادیانی جاسوس اس تلوار کی چمک تمام اسلامی ممالک میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ سقوط بغداد کے المناک حادثہ کو ”فتح بغداد“ کہہ کر اس پر فخر کیا جاتا ہے، انگریزوں کی فوج کی مدد کے لئے فرشتے نازل کئے جاتے ہیں، کیا اسلام دشمنی کا اس سے بدتر مظاہرہ ممکن ہے؟
- ۳:....... اور قادیانیوں نے اس ”فتح بغداد“ کے موقع پر انگریز کی کس قدر مدد
کی؟ اس سوال کا جواب خلیفہ قادیان دوم مرزا محمود کی زبان سے سنئے:
”عراق کو فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی (انگریزی فوج میں) بھرتی ہو کر چلے گئے، لیکن جب وہاں حکومت قائم ہوگئی تو گورنمنٹ نے یہ
شرط کروائی کہ پادریوں کو عیسائیت کی اشاعت کرنے میں کوئی روک نہ ہوگی، مگر احمدیوں کے لئے نہ صرف اس قسم کی کوئی شرط نہ رکھی، بلکہ احمدی اگر اپنی تکالیف پیش کرتے ہیں تو بھی عراق کے ہائی کمشنر اس میں دخل دینے کو اپنی شان سے بالا سمجھتے ہیں ۔“
(خطبہ جمعہ مندرجہ الفضل ۳۱ اگست ۱۹۲۱ء)
ملاحظہ فرمایا آپ نے؟ جس جماعت کا دعویٰ تھا کہ اسلامی جہاد حرام ہے، اور انگریزوں کے مقابلہ میں ہاتھ اٹھانا کفر ہے، وہی جماعت اسلامی ممالک پر انگریزوں کی یورش کو مدد دینے کے لئے خون بہاتی اور سینکڑوں آدمی بھرتی کرتی ہے۔
- ۴:....... اور قادیانیوں کی اس انگریز پرستی ہی کا نتیجہ تھا کہ جب بغداد ”فتح“
ہوا اور عراق عرب پر انگریزوں کا تسلط ہوا تو انگریزوں کی طرف سے عراق کا سب سے پہلا گورنر میجر حبیب اللہ قادیانی کو مقرر کیا گیا، جو خلیفہ قادیان کا برادر نسبتی اور انگریزی فوج میں معتمد افسر تھا، ایک قادیانی کو ایک مغصوبہ اسلامی علاقے پر گورنر مقرر کرنا درحقیقت ملت اسلامیہ سے انگریز کا بدترین مذاق تھا۔
- ۵:....... اسی ”فتح بغداد“ کے موقع پر انگریزی نبی کے پایۂ تخت ”قادیان“
میں جشن مسرت منایا گیا، اور عمارتوں پر چراغاں کیا گیا، قادیان کے سرکاری آرگن روزنامہ الفضل نے اس جشن مسرت کی خبر شائع کرتے ہوئے لکھا:
”۲۷؍ ماہ نومبر کو ”انجمن احمدیہ برائے امداد جنگ“ کے زیر انتظام حسب ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح ثانی گورنمنٹ برطانیہ کی شاندار اور عظیم الشان فتح کی خوشی میں ایک قابل یادگار جشن منایا گیا ...... غرض کہ احمدیوں کا کوئی مکان اور کوئی عمارت ایسی نہ تھی جس پر روشنی نہ کی گئی ہو، یہ پُرلطف اور مسرت انگیز نظارہ بہت مؤثر اور خوشنما تھا، اور اس سے احمدیہ پبلک کی اس
عقیدت پر خوب روشنی پڑتی تھی جو اسے گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ ہے۔"
(الفضل ۳/دسمبر ۱۹۱۸ء)
آہ! کس قدر دل خراش تھا یہ منظر! کہ اسلامی خلافت کے سقوط اور اسلامی ممالک پر انگریز کے منحوس تسلط سے امت اسلامیہ میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی، مسلمانوں کے دل بریاں اور آنکھیں گریاں تھیں، لیکن امت اسلامیہ کے یہ غدار، محمد رسول اللہ کے یہ باغی، کافر افرنگ کے یہ عقیدت کیش، جشن مسرت منا کر مسلمانوں کے زخم پر نمک پاشی کر رہے تھے۔
شام اور فلسطین:
- ا:...... ملک شام اور فلسطین پر انگریزی تسلط کے لئے زمین ہموار کرنے کی
خاطر مرزا غلام احمد قادیانی نے حرمت جہاد پر عربی میں کتابیں لکھیں، اور انہیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ بلاد عرب میں پہنچا دیا، مرزا غلام احمد قادیانی بڑے فخر سے لکھتا ہے:
"اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں، جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزار ہا روپیہ خرچ ہوئے، اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں، میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا......
یہ سلسلہ ایک دو دن کا نہیں، بلکہ برابر سترہ سال کا ہے، اور اپنی کتابوں اور رسالوں کے جن مقامات میں میں نے یہ تحریریں لکھی ہیں ان کتابوں کے نام مع ان کے نمبر صفحوں کے یہ ہیں، جن میں سرکار انگریزی کی خیر خواہی اور اطاعت کا ذکر
ہے، (اس کے ذیل میں مرزا نے اپنی چوبیس کتابوں اور رسالوں کی فہرست درج کی ہے۔ ناقل)۔“
(کتاب البریہ ص:۵ تا ۸ اشتہار مورخہ ۲۰؍ستمبر ۱۸۹۸ء مندرجہ روحانی خزائن ج:۱۳ ص:۵، ۶)
قادیانی عقائد کا خلاصہ:
- ۱:...... قادیانیت نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی کو بعینہ محمد رسول اللہ سمجھتی
ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات و مناصب متنبی قادیان کو عطا کرتی ہے بلکہ روحانی ترقی، معجزات اور ذہنی ارتقا میں رئیس قادیان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ و افضل سمجھتی ہے۔
- ۲:...... قادیانیت کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین و شریعت
اور آپ کی نبوت، مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت سے پہلے تک محدود تھی اور مرزا غلام احمد کے بعد نبوت محمدیہ مدار نجات نہیں، بلکہ مرزا کی تعلیم اور وحی مدار نجات ہے، اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و شریعت منسوخ قرار پاتی ہے۔
- ۳:...... قادیانیت کے عقیدے میں تمام دنیا کے مسلمان جو نبی قادیان پر
ایمان نہیں لائے، نہ صرف کافر بلکہ پکے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔
- ۴:...... قادیانیت صدرِ اول سے لے کر آج تک کی تمام امت مسلمہ کو
”عقیدہ حیاتِ مسیح“ کی بنا پر کافر اور مشرک سمجھتی ہے۔
- ۵:...... قادیانیت عقیدہ حیاتِ مسیح کی بنا پر امت مسلمہ کو منکرِ قرآن، کاذب
اور خائن تصور کرتی ہے۔
- ۶:...... قادیانیت تمام عالم اسلام کو ولد الحرام، ذریۃ البغایا اور خنزیر جیسی
گھناؤنی گالیوں سے نوازتی ہے۔
- ۷:....... قادیانیت کے نزدیک موجودہ دور کے مسلمان بیت المقدس اور دیگر
مقامات مقدسہ کی تولیت کے اہل نہیں۔
- ۸:....... قادیانیت اپنے مذہبی مرکز ”قادیان“ کو، جو آج کل دارالکفر والبوار
بھارت میں ہے، نہ صرف مکہ و مدینہ کے ہم سنگ و ہم مرتبہ سمجھتی ہے، بلکہ اعلیٰ و افضل قرار دیتی ہے، اس لئے کہ بقول مرزا محمود صاحب: ”مکہ و مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ خشک ہوچکا ہے۔“
- ۹:....... قادیانیت انبیاء کرام علیہم السلام کا مذاق اڑاتی ہے، ان کے معجزات کو
قابل نفرت کھلونے بتاتی ہے، اور ہر بات میں مرزا غلام احمد کی انبیاء کرام پر فوقیت کی نمائش کرتی ہے۔
- ۱۰:....... قادیانیت اسلام کی اصطلاحات کو پامال کرتی ہے۔ مرزا کی بیوی کو
”ام المؤمنین“، مرزا کے مریدوں کو ”صحابہ کرام“، مرزا کے جانشینوں کو ”خلفائے راشدین“، قادیان کو ”ارضِ حرم مکہ المسیح“، لاہور کو ”مدینۃ المسیح“، ربوہ کو ”بیت المقدس“ اور قادیانی نبوت کے کفر و الحاد کی اشاعت کو ”جہاد“ کے نام سے یاد کرتی ہے۔
- ۱۱:....... اسلام میں ”سیدۃ النساء“ کا بلند ترین لقب حضرت فاطمہ بتول رضی
اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے مخصوص ہے، لیکن قادیانیت یہ لقب مرزا کی بیوی کو عطا کرتی ہے۔
- ۱۲:....... بعض فرقوں کے مطابق ”پنج تن پاک“ کی اصطلاح آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم، حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ اور حضرات حسنینؓ کے لئے مخصوص ہے، مگر قادیانیت ”پنج تن پاک“ کا اطلاق مرزا کے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں پر کرتی ہے۔
- ۱۳:....... رضی اللہ عنہ کا صیغہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کے لئے
تھا، مگر قادیانی دین میں یہ خطاب ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو اسلام سے مرتد ہو کر مرزا آنجہانی کی جھوٹی نبوت سے وابستہ ہو گئے، اور جنہوں نے مرزا کے ہاتھ پر اسلام سے غداری اور انگریز کی وفاداری کا عہد کیا۔
۱۴:...... قادیانیت عالمِ اسلام کے ایک ایک فردِ مسلم سے عداوت اور دشمنی کے وہی جذبات رکھتی ہے جسے قرآن کریم نے یہود اور مشرکین کا شیوہ بتایا ہے: ”لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الْيَهُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا.“
(المائده: ۸۲)
چنانچہ قادیانیت کا سرکاری آرگن روزنامہ ”الفضل ربوہ“ ۳/ جنوری ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں ملتِ اسلامیہ کو خطاب کرتے ہوئے جو کچھ لکھتا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
”ہم فتحیاب ہوں گے، ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہو گے، اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔“
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۳ ش:۲۳)
نصابی کتابوں کی اصلاح کی جائے
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ!
بی اے کلاسز کے طلبہ و طالبات کے لئے ”تسہیل اسلامیات“ کے نام سے ایک کتاب نذر سنز لاہور سے شائع ہوئی ہے، جسے جناب پروفیسر سمیع ہاشمی نے مرتب کیا ہے، ایک دوست نے اس کے چند مقامات کی طرف توجہ دلائی ہے، جو محتاج اصلاح ہیں۔
- ۱:....... خلع کے بیان میں لکھا ہے:
”عورت خلع خود نہیں کر سکتی، اس کے لئے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔“
(ص:۳۴)
خلع کے لئے شرعاً عدالت کی کوئی شرط نہیں، میاں بیوی دونوں رضامندی سے یا کسی ثالث کے ذریعہ بھی خلع کر سکتے ہیں، البتہ اگر شوہر کسی طرح بھی عورت کی گلو خلاصی کے لئے تیار نہ ہو تب عدالت سے رجوع کی ضرورت پیش آتی ہے۔
- ۲:....... خلع ہی کے بیان میں لکھا ہے:
”خلع کی عدت صرف ایک حیض ہے، تاکہ علم ہو کہ دوسرے نکاح سے پہلے عورت حاملہ تو نہیں۔“
(ص: ۴۴)
خلع، طلاق کے قائم مقام ہے، اور اس کی عدت وہی ہے جو طلاق کی ہوتی ہے، اس لئے یہ مسئلہ واضح طور پر غلط ہے۔
۳:...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے عنوان کے تحت لکھا ہے: ”موسوی شریعت کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پرورش اور تربیت کی گئی، کچھ عرصہ بعد مریم نے اپنی قوم کے ایک فرد یوسف نجار سے شادی کرلی، اور اناجیل سے پتہ چلتا ہے کہ پھر مریم اور یوسف کے ہاں اور بھی بچے پیدا ہوئے۔“
(ص: ۶۰)
حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یوسف نجار سے شادی کرنا اسلامی نظریہ نہیں ہے، اور اناجیل کے حوالہ سے اسے ”اسلامیات“ میں شامل کرنا غلط ہے۔
۴:...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات جو قرآن کریم میں ذکر کئے گئے ہیں، ان کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھا ہے: ”مسلمان علما میں اشاعرہ ان معجزات کو بعینہٖ تسلیم کرتے ہیں، مگر معتزلہ انہیں برنگ مجاز خیال کرتے ہیں۔“
(ص: ۶۲)
یہ فقرہ مبتدی طلبہ و طالبات کے لئے گمراہ کن ہے، مؤلف نے اس بات کو ایسے انداز سے بیان کیا ہے گویا معجزات کو حقیقت پر محمول کرنا، اور ان میں ایسی تاویل کرنا کہ معجزہ معجزہ رہے، دونوں باتیں یکساں ہیں، حالانکہ اہل حق کے نزدیک ان معجزات میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
۵:...... حضرت مسیح علیہ السلام اور واقعہ صلیب کے تحت لکھا ہے:
”حضرت مسیح کی ذات کے گرد واقعات کچھ اس طرح الجھ گئے ہیں کہ یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں نے جداگانہ نتائج مرتب کئے ہیں۔“
مصنف کا یہ انداز بیان بھی غلط ہے، کیونکہ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے واقعات مشتبہ ہیں، اس لئے یہود و نصاریٰ اور مسلمان تینوں فریق اپنے اپنے نقطہ نظر سے ان کی تعبیر کرتے ہیں، اس کے بجائے مصنف کو یہ لکھنا چاہئے تھا کہ قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہود و نصاریٰ کے اشتباہات کو رفع کیا ہے، اور واقعات کی صحیح نوعیت کو واشگاف کیا ہے، قرآنی بیان کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کے گرد واقعات کو الجھے ہوئے کہنا بڑی غلط بات ہے۔
۶:...... آگے ”اسلامی نقطہ نظر“ کے عنوان کے تحت لکھا ہے:
”وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سرے سے صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے بلکہ خدا نے انہیں یہودیوں سے پراسرار طریق پر بچا کر زندہ اوپر اٹھالیا۔ ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم.“ اب وہ قیامت سے قبل تشریف لاکر اسلام کا غلبہ دنیا میں قائم کریں گے، اور اپنی طبعی عمر سے وفات پائیں گے، جب حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش عام انسانی قاعدے سے الگ یعنی بن باپ کے ہوئی تو یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ کا انجام بھی معمول سے ہٹ کر ہوا ہو۔“
(ص:۶۳،۶۴)
یہاں تک تو اسلامی نقطہ نظر کی صحیح ترجمانی کی گئی ہے، لیکن آگے لکھا ہے:
”مولانا مودودی کے الفاظ میں: قرآن نہ اس کی تصریح کرتا ہے کہ اللہ ان کو جسم و روح کے ساتھ کرہ زمین سے
اٹھا کر آسمانوں میں کہیں لے گیا، اور نہ ہی صاف کہتا ہے کہ انہوں نے زمین پر طبعی موت پائی، اور صرف ان کی روح اٹھالی گئی، اس لئے قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی جاسکتی ہے، اور نہ اثبات، لیکن قرآن کے انداز بیان پر غور کرنے سے یہ بات بالکل نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے کہ اٹھائے جانے کی نوعیت و کیفیت خواہ کچھ بھی ہو، بہرحال مسیح علیہ السلام کے ساتھ خدا نے کوئی ایسا معاملہ ضرور کیا ہے جو غیر معمولی نوعیت کا ہے۔“
حالانکہ قرآن کریم نے جس رفع کا ذکر کیا ہے، پوری امت اس پر متفق ہے کہ اس سے رفع جسمانی مراد ہے، اس اجماع قطعی کے بعد یہ کہنا کہ رفع مسیح کی کوئی نوعیت متعین نہیں کی، اس کی مثال ایسی ہوگی کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ: قرآن کریم نے ”اقامت صلوٰۃ“ کا حکم تو دیا ہے، مگر اس کی کوئی کیفیت متعین نہیں کی۔ ”ایتاء زکوٰۃ“ کا حکم تو دیا ہے مگر اس کی متعین نوعیت نہیں بتائی۔ ظاہر ہے کہ یہ فلسفہ خالصتاً گمراہ کن ہے، تواتر کے ساتھ امت میں الصلوٰۃ اور الزکوٰۃ کی جو شکل چلی آتی ہے، وہ قرآن کریم ہی کی متعین کردہ ہے، اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع کی جو صورت قرآن کریم نے بیان کی ہے، وہی امت کا متواتر عقیدہ ہے، لیکن جناب مصنف لکھتے ہیں:
”تاہم عقیدہ حیات و رفع مسیح اسلام کے اجزائے ایمان میں سے ہرگز نہیں، اور تاویل کے احتمال سے یکسر خالی نہیں ۔“
حالانکہ جو امور قطعی تواتر سے ثابت ہوں وہ ”ضروریات دین“ کہلاتے ہیں، اور ان میں سے کسی ایک کے انکار کو کفر قرار دیا گیا ہے، پس جب حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کے رفع و حیات اور آخری زمانے میں ان کے نازل ہونے کا عقیدہ کتاب اللہ، سنت متواتر اور امت کے قطعی اور متواتر اجماع سے ثابت ہے تو اس پر ایمان لانا کیوں واجب نہ ہوگا؟ اور اس کے منکر کی کیوں تکفیر نہ کی جائے گی؟
یہاں اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کی گنجائش نہیں، نہ ضرورت، یہاں ہمارے ”اسلامیات“ کے معیار کو ذکر کرنا مقصود ہے کہ کیسی کیسی غلط باتیں ”اسلامیات“ کے نام سے ناپختہ ذہنوں میں انڈیلی جا رہی ہیں، ہم جناب مصنف اور کتاب کے ناشرین سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ خدارا! ان غلطیوں کی اصلاح کی جائے، اور نئی نسل کو جہل مرکب کے مرض سے بچایا جائے، اور حکومت کے محکمہ تعلیم سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ اگر ”اسلامیات“ کو نصاب میں رکھنا ہے تو اس کے مندرجات مستند ہونے چاہئیں، کچی پکی باتیں طلبہ کے ہاتھ میں تھما دینا بڑا ہی ظلم ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج: ۱۰ ش: ۱۷)
قادیانی عقائد.....
قادیانیوں سے خیرخواہانہ گزارش
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ !
عقیدہ:۱.......قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ کلمہ طیبہ: ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ میں ”محمد رسول اللہ“ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے، چنانچہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے فرماتے ہیں:
”مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم (مرزائیوں) کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“
(کلمۃ الفصل ص: ۱۵۸، مندرجہ ریویو
آف ریلیجنز بابت مارچ، اپریل ۱۹۱۵ء)
عقیدہ:۲....... قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ: ”چودھویں صدی سے تمام انسانیت کا رسول مرزا غلام احمد ہے۔“
(تذکرہ ص: ۳۶۰)
عقیدہ:۳....... قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ: ”رحمۃ للعالمین مرزا غلام احمد
ہے۔“
(تذکرہ ص: ۸۳)
عقیدہ:۴....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”خاتم الانبیا مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔“ چنانچہ مرزائی اخبار ”الفضل“ مورخہ ۲۶؍ ستمبر ۱۹۱۵ء کی اشاعت میں لکھتا ہے:
”یہ مسلمان کیا منہ لے کر دوسرے مذاہب کے بالمقابل اپنا دین پیش کر سکتے ہیں تا وقتیکہ وہ مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کی صداقت پر ایمان نہ لائیں جو فی الحقیقت وہی خاتم المرسلین تھا کہ خدائی وعدہ کے مطابق دوبارہ آخرین میں مبعوث ہوا، وہ (مرزا) وہی فخر الاولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔“
(قادیانی مذہب ص: ۲۲۷)
عقیدہ:۵....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”آسمان و زمین اور تمام کائنات کو صرف غلام احمد کی خاطر پیدا کیا گیا: ”لولاک لما خلقت الافلاک۔“
(حقیقۃ الوحی ص: ۹۹)
عقیدہ:۶....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”مرزا غلام احمد کا آسمانی تخت تمام نبیوں سے اونچا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص: ۸۹)
عقیدہ:۷....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ روحانی ترقیات کی طرف پہلا قدم تھا، اور مرزا غلام احمد کے زمانہ میں روحانیت کی پوری تجلی ہوئی۔“
(خطبہ الہامیہ ص: ۱۷۷)
عقیدہ:۸....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوٹی فتح مبین نصیب ہوئی تھی اور بڑی فتح مبین مرزا غلام احمد کو ہوئی۔“
(خطبہ الہامیہ ص: ۱۹۳)
عقیدہ:۹....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا اسلام پہلی رات کے چاند کی طرح (یعنی بے نور تھا) اور مرزا غلام احمد کے زمانہ کا
اسلام چودھویں رات کے چاند کی طرح تاباں و درخشاں ہے۔"
(خطبہ الہامیہ ص:۱۸۳)
عقیدہ:۱۰:....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تین ہزار تھے (تحفہ گولڑویہ ص:۶۳) اور مرزا غلام احمد کے معجزے تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔"
(حقیقۃ الوحی ص:۶۷)
عقیدہ:۱۱:....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: "مرزا غلام احمد کا ذہنی ارتقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا۔"
(ریویو، مئی ۱۹۲۹ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۷۱)
عقیدہ:۱۲:....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: "مرزا غلام احمد کی روحانیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔"
(خطبہ الہامیہ ص:۱۸۱)
عقیدہ:۱۳:....... قادیانی عقیدہ ہے کہ:
اور آگے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں"
(اخبار بدر قادیاں ج:۲، ش:۴۳، مورخہ ۲۵/اکتوبر ۱۹۰۶ء)
عقیدہ:۱۴:....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: "اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر ایک نبی سے مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان لانے اور اس کی بیعت و نصرت کرنے کا عہد لیا تھا۔"
(اخبار الفضل ۱۹/، ۲۱/ستمبر ۱۹۱۵ء، الفضل ۲۶/فروری ۱۹۲۴ء قادیانی مذہب ص:۲۷۱)
عقیدہ:۱۵:....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: "اگر حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام مرزا غلام احمد کے زمانے میں ہوتے تو ان کو مرزا کی پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔"
(اخبار الفضل ۱۸/مارچ ۱۹۱۶ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۳۲۵)
عقیدہ:۱۶:....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: "جس طرح قرآن کریم آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا، جس کی مثل لانے سے دنیا عاجز ہے، اسی طرح مرزا غلام احمد کی تصنیف اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح بھی معجزہ ہے۔“
عقیدہ: ۱۷....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”آخری آسمانی کتاب قرآن مجید نہیں بلکہ مرزا غلام احمد کی وحی کا مجموعہ تذکرہ آخری وحی ہے۔“
عقیدہ: ۱۸....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”مرزا غلام احمد قادیانی بمنزلہ خدا کی اولاد کے ہے۔“
(تذکرہ ص: ۴۱۲)
عقیدہ: ۱۹....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”مرزا غلام احمد خدا کا بروز ہے۔“
(تذکرہ ص: ۵۹۶)
عقیدہ: ۲۰....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”مرزا غلام احمد خدا کی توحید و تفرید ہے۔“
(تذکرہ ص: ۷۴۱)
عقیدہ: ۲۱....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”مرزا غلام احمد خدا کی روح ہے۔“
(تذکرہ ص: ۷۴۱)
عقیدہ: ۲۲....... قادیانی عقیدہ ہے کہ:
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں“
(اخبار بدر ۲۵/اکتوبر ۱۹۰۶ء)
عقیدہ: ۲۳....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”مرزا غلام احمد ”کن فیکون“ کا مالک ہے۔“
(تذکرہ ص: ۵۲۵)
عقیدہ: ۲۴....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”مرزا غلام احمد خدا کا اعلیٰ نام ہے۔“
(تذکرہ ص: ۴۲۸)
عقیدہ: ۲۵....... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”مرزا خدا سے ہے اور خدا مرزا سے۔“
(تذکرہ ص: ۴۳۶)
ترا رتبہ نہیں آتا بیاں میں“
(اخبار بدر ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء)
عقیدہ: ۲۶:...... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر دجال، عیسیٰ بن مریم، یاجوج و ماجوج، دابۃ الارض وغیرہ کی پوری حقیقت نہیں کھلی تھی، مرزا غلام احمد پر ان تمام چیزوں کی حقیقت کھل گئی۔“
(ازالہ اوہام ص: ۶۹۱)
عقیدہ: ۲۷:...... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”اس زمانہ میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی مدار نجات نہیں بلکہ صرف مرزا غلام احمد کی پیروی سے نجات ہوگی۔“
(اربعین ص: ۷)
عقیدہ: ۲۸:...... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”جو لوگ مرزا غلام احمد کو (مندرجہ بالا صفات کے ساتھ) نہیں مانتے وہ شقی ازلی ہیں جو دوزخ بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص: ۸۲، ۸۳)
عقیدہ: ۲۹:...... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”جو شخص مرزا کی پیروی نہ کرے وہ خدا اور رسول کا نافرمان اور جہنمی ہے۔“
(اشتہار معیار الاخیار مؤرخہ ۲۵ مئی ۱۹۰۰ء)
عقیدہ: ۳۰:...... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے، مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص: ۱۱۰، مصنفہ مرزا بشیر احمد)
عقیدہ: ۳۱:...... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جو معجزات قرآن کریم میں بیان فرمائے گئے ہیں سب مسمریزم کا کرشمہ تھے۔“
(ازالہ اوہام حاشیہ ص: ۳۰۵)
عقیدہ: ۳۲:...... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قرآنی معجزات مکروہ اور قابل نفرت ہیں۔“ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
(ازالہ اوہام حاشیہ ص: ۲۵۸)
عقیدہ: ۳۳:...... قادیانی عقیدہ ہے کہ: ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور معجزہ صرف چاند گہن ہوا اور مرزا غلام احمد کے معجزہ کے طور پر چاند اور سورج دونوں کو گہن ہوا۔“
(اعجاز احمدی ص: ۷۱)
یہ عقائد صریح طور پر اسلام کی ضد اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت ہے، اس لئے مرزا غلام احمد کے ماننے والوں سے خیر خواہانہ گزارش ہے کہ ان کفریہ عقائد سے توبہ کر کے دوبارہ اسلام میں داخل ہوں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج: ۱۱ ش: ۳۱)
حضرت جالندھریؒ کے
بیانات کا تعارف
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
حضرت اقدس مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری (نور اللہ مرقدہ) امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کے تلمیذ رشید، قطب العالم شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے مسترشد، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے دست راست اور کاروانِ تحریک ختم نبوت کے سالار تھے، حق تعالیٰ نے ان کو بعض ایسے کمالات و صفات سے آراستہ فرمایا تھا جن میں اپنے اقران و امثال میں عدیم النظیر تھے، عقل و دانش اور فہم و فراست میں اس درجہ ممتاز تھے کہ تمام ہم عصر اکابر ان کی رائے کا احترام کرتے تھے، زبان و بیان کا ایسا سلیقہ تھا کہ مشکل سے مشکل مسائل ایک عامی سے عامی آدمی کے ذہن نشین کرانے کی مہارت رکھتے تھے، جس موضوع پر بھی گفتگو فرماتے اس کو ایسا مدلل کرتے کہ بڑے سے بڑا مخالف بھی استدلال کے آگے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور ہوجاتا، ہمارے حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ان کو وکیل العلماء کے خطاب سے یاد فرماتے تھے۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے بعد حکومت نے رسوائے زمانہ جسٹس منیر کی
سربراہی میں ایک تحقیقی عدالت قائم کی جس کا دائرہ کار اس تحریک کے اسباب وعلل کا دریافت کرنا تھا، اس عدالت کی رپورٹ ”تحقیقاتی رپورٹ“ فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کے نام سے شائع ہوچکی ہے، اس عدالت کے سامنے متعلقہ فریقوں میں سے ہر ایک نے اپنا موقف تحریری طور پر پیش کیا تھا، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے دو بیان عدالت کے ریکارڈ میں داخل کرائے، ایک بیان میں مجلس احرار اسلام (جس کو حکومت تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کا بلاشراکت غیرے ذمہ دار سمجھتی تھی) کے موقف کی وضاحت اور قادیانیت کے بارے میں اسلامی احکامات کی تشریح نہایت دل کش اور مدلل انداز میں کی گئی۔
دوسرے بیان میں قادیانیوں کے جواب کا جواب الجواب تھا، اس کا پس منظر یہ ہے کہ منیر تحقیقاتی عدالت نے قادیانیوں کے لیڈر مرزا محمود سے چند اہم نوعیت کے سوال کئے تھے، اگر ان سوالوں کے ٹھیک ٹھیک جوابات دیئے جاتے تو قادیانیت کا سارا طلسم ہوش ربا ٹوٹ جاتا اور قادیانی عقائد وعزائم کا سارا بھرم کھل جاتا، مگر چونکہ قادیانی نبوت اور قادیانی تحریک تمام تر دجل وفریب اور مکاری وعیاری پر قائم ہے اس لئے مرزا محمود نے ان سات سوالوں کے جواب میں ایسی ابلہ فریبی سے کام لیا کہ اصل حقائق عدالت کے سامنے نہ آسکے، چنانچہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے اپنے جواب الجواب میں قادیانی دجل وفریب سے پردہ اٹھایا، اور عدالت کے سامنے واضح کیا کہ عدالت نے مرزا محمود سے جو کچھ پوچھا تھا، مرزا نے اس کا جواب نہیں دیا، بلکہ تقیہ وتوریہ سے کام لے کر اصل حقائق کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔
حضرت مجاہد ملت کے یہ دونوں تاریخی بیان برادر محترم مولانا اللہ وسایا زید مجدہ کی کتاب ”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ میں شائع ہوئے تو ان کی اہمیت کے پیش نظر مناسب معلوم ہوا کہ ان دونوں کو الگ بھی شائع کیا جائے۔
چنانچہ ارباب فکر ونظر کی خدمت میں یہ تحفہ پیش کرتے ہوئے ہم امید کرتے
ہیں کہ اہل دانش مولانا مرحوم کے ان بیانات کی مقبولیت ومتانت کا وزن محسوس کریں گے اور اسلام اور قادیانیت کے تصادم کو سمجھنے کے لئے اس عجالہ کا بغور مطالعہ فرمائیں گے۔
حضرت مجاہد ملت ایک طرف تقریر و بیان کے بادشاہ تھے اور دوسری طرف ان کی ہیجان انگیز زندگی نے ان کو قلم تک پکڑنے کی مہلت نہ دی، ان کی خداداد صلاحیتوں کے پیش نظر مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اس میدان کا رخ کرتے اور خامہ و قرطاس سے رشتہ جوڑتے تو ان کے دور میں ان کی فکر کا کوئی ادیب اور انشا پرداز مشکل ہی سے ملتا، قلم وقرطاس سے ایک قسم کی لاتعلقی کے باوجود حضرت مرحوم نے دقیق علمی مضامین کو جس طرح نوک قلم سے دلوں میں اتارنے کی کامیاب کوشش کی ہے وہ بجائے خود ان کی کرامت ہے، دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ حضرت مرحوم کے درجات بلند فرمائیں اور ان کی فاتح جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنی مرضیات کے مطابق چلنے کی توفیق عطا فرمائیں اور مجلس نے جو صدیقی مشن اپنایا ہے حق تعالیٰ شانہ اس کا صحیح حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں:
اے مسلماں پیرو صدیق باش
سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۲ ش:۴۱)
مرزا غلام احمد قادیانی کے سات دن
الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
مرزا غلام احمد قادیانی مراق اور ذیابیطس کے مریض تھے، اور یہ دونوں مرض ان کو دعویٰ نبوت ومسیحیت کے انعام میں عطا کئے گئے تھے، مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”دو مرض میرے لاحق حال ہیں، ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسرے بدن کے نیچے کے حصہ میں، اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے، اور دونوں مرضیں اسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ۳۰۷، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۳۲۰)
مرزا کی کوئی کتاب پڑھنے بیٹھئے تو ممکن نہیں کہ مرزا کے مراقی بخارات سے (جس کو وہ حقائق و معارف کہا کرتے ہیں) خود آپ کا سر نہ چکرانے لگے، ان ”بخارات“ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ الفاظ ہیں، معانی نہیں، دعویٰ ہے، دلیل نہیں، خیالاتی محلات ہیں، حقیقت نہیں، اور خود لکھنے کا یہ حال ہے کہ:
آیئے مرزا کا لیکچر لاہور سنئے، جو ۳؍دسمبر ۱۹۰۴ء کو ایک جلسہ میں پڑھا گیا، ارشاد ہوتا ہے:
”معلوم ہوتا ہے کہ سات ہزار برس میں دنیا کا ایک دور ختم ہوتا ہے، اسی وجہ سے اور اسی امر پر نشان قرار دینے کے لئے دنیا میں سات دن مقرر کئے گئے، تا ہر ایک دن ایک ہزار برس پر دلالت کرے، ہمیں معلوم نہیں کہ دنیا پر اس طرح سے کتنے (سات ہزار) دور گزر چکے ہیں، اور کتنے آدم اپنے اپنے وقت میں آچکے ہیں، چونکہ خدا قدیم سے خالق ہے، اس لئے ہم مانتے اور ایمان لاتے ہیں کہ دنیا اپنی نوع کے اعتبار سے قدیم ہے، لیکن اپنے شخص کے اعتبار سے قدیم نہیں ہے۔“
(لیکچر لاہور ص:۳۸ تا ۳۹، روحانی خزائن ج:۲۰ ص:۱۸۳)
ملاحظہ فرمایا آپ نے؟ سات دن سے سات ہزار اور سات ہزار سے کئی سات ہزار، اور کئی سات ہزار سے دنیا کے قدیم ہونے کا عقیدہ کیسے نکل آیا؟ اور اس کی دلیل صرف یہ کہ ”معلوم ہوتا ہے“ مرزا صاحب نے غالباً اسلامی عقائد کی کتابوں کا مطالعہ نہیں فرمایا، ورنہ ان کی نظر سے مسلمانوں کا یہ عقیدہ ضرور گزرا ہوتا کہ:
”ان العالم حادث ..... فمن قال بقدم العالم فھو کافر.“
(شرح فقہ اکبر ص:۱۲)
ترجمہ:..... ”دنیا حادث ہے ...... پس جو شخص دنیا کو قدیم کہے وہ کافر ہے۔“
خالق اور خلق:
آگے ارشاد ہوتا ہے:
”افسوس کہ حضرات عیسائیاں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صرف چھ ہزار برس ہوئے کہ جب خدا نے دنیا کو پیدا کیا، اور زمین و آسمان بنائے، اور اس سے پہلے خدا ہمیشہ کے لئے معطل اور بیکار تھا، اور ازلی طور پر معطل چلا آتا ہے، یہ ایسا عقیدہ کہ کوئی صاحب عقل اس کو قبول نہیں کرے گا، مگر ہمارا عقیدہ جو قرآن شریف نے ہمیں سکھلایا ہے کہ خدا ہمیشہ سے خالق ہے، اگر چاہے تو کروڑوں مرتبہ زمین و آسمان کو فنا کر کے، پھر ایسے ہی بنادے۔“
(ص:۳۹)
مرزا صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر خدا قدیم ہے تو لازم ہے کہ مخلوق کو بھی قدیم مانا جائے، ورنہ لازم آئے گا کہ خدا ہمیشہ سے خالق نہیں بلکہ (معاذ اللہ) ازل سے معطل اور بیکار چلا آتا ہے، مگر یہ وہی مراقی مغالطہ ہے جو فلاسفہ اور دہریے ہمیشہ پیش کرتے آئے ہیں اور اہل اسلام کا اس کے مقابلہ میں ہمیشہ یہ عقیدہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ازل ہی سے صفت خالقیت کے ساتھ موصوف ہے، مگر مخلوق ازلی نہیں، بلکہ حادث ہے۔
امام اعظمؒ فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:
”وقد كان الله تعالى خالقا في الازل ولم يخلق الخلق.“
(شرح فقہ اکبر ص:۳۵)
ترجمہ:.......”اور اللہ تعالیٰ ازل ہی سے خالق رہا ہے، جبکہ اس نے مخلوق کو پیدا نہیں کیا تھا۔“
علامہ ملا علی قاریؒ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
”والحاصل انه سبحانه كما قال الطحاوى ليس منذ خلق الخلق استفاد اسم الخالق ولا باحداثه البرية استفاد اسم البارى فله معنى الربوبية ولا مربوب وله معنى الخالقية ولا مخلوق، وكما انه محى الموتىٰ بعد ما احيىٰ استحق هذا الاسم قبل احيائهم كذالك استحق اسم الخالق قبل انشائهم ذالك بانه على كل شىء قدير.“
(شرح فقہ اکبر ص: ۳۵)
ترجمہ:...... ”حاصل یہ کہ جس طرح امام طحاویؒ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے صرف مخلوق کو پیدا کر کے خالق کا نام نہیں پایا، اور مخلوق کی ایجاد کے بعد اس کو باری کا نام نہیں ملا، بلکہ اسے ربوبیت کی صفت اس وقت بھی حاصل تھی جبکہ کوئی مربوب نہیں تھا، اور خالقیت کی صفت اس وقت بھی حاصل تھی جبکہ کوئی مخلوق موجود نہیں تھی، جس طرح مردوں کو زندہ کرنے کے بعد وہ ”زندہ کرنے والا“ کہلاتا ہے، اسی طرح وہ ان کو پیدا کرنے سے قبل بھی اسم خالق کا مستحق تھا، اس لئے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
اس تقریر سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی خالقیت ازلیہ سے مخلوق کے ازلی ہونے پر استدلال کرنا عقلاً و نقلاً غلط ہے، اور یہ دہریوں کا عقیدہ ہے، مسلمانوں کا نہیں۔
سات ہزار کا دورہ:
مرزا صاحب فرماتے ہیں:
”اس (اللہ تعالیٰ) نے ہمیں خبر دی ہے کہ وہ آدم جو پہلی امتوں کے بعد آیا، جو ہم سب کا باپ تھا، اس کے دنیا میں آنے کے وقت سے یہ سلسلہ انسانی شروع ہوا ہے، اور اس سلسلہ کی عمر کا پورا دور سات ہزار برس تک ہے، یہ سات ہزار خدا کے نزدیک ایسے ہیں جیسے انسانوں کے سات دن۔“
(ص:۳۹)
یہاں مرزا کے دو دعوے ہیں، اول یہ کہ خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ آدم علیہ السلام جو جد امجد ہیں، وہ پہلی امتوں کے بعد آئے تھے، سوال یہ ہے کہ یہ خبر قرآن کریم کی کس آیت میں دی گئی ہے؟
دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ اس دنیا کی عمر جو آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی، سات ہزار سال ہے۔ یہ بات بھی کہیں قادیانی انجیل میں لکھی ہو تو ہو مگر قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جانب کوئی اشارہ نہیں فرمایا، اگر سات ہزار کے دورے کا نکتہ قادیان کے ”بیت الفکر“ سے ہر کسی کو معلوم ہوتا تو ہر شخص آسانی سے بتا سکتا تھا کہ قیامت فلاں سن کی فلاں تاریخ کو آئے گی، لیکن قرآن کریم نے صاف اعلان کیا کہ قیامت کب آئے گی؟ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے جب قیامت کے بارے میں دریافت کیا تو ارشاد فرمایا:
”ما المسؤل عنها باعلم من السائل.“
(مشکوٰۃ ص:۱۱)
ترجمہ:....... ”جس شخص سے دریافت کیا جا رہا ہے وہ دریافت کنندہ سے زیادہ نہیں جانتا ہے۔“
بعض روایات جو اس سلسلے میں مروی ہیں، اول تو وہ اس لائق نہیں کہ کوئی عاقل ان پر اپنے توہمات کی عمارت استوار کرے، چنانچہ محدثین نے انہیں موضوعات میں شمار کیا ہے، اور اگر ان کی صحت کو تسلیم کر لیا جائے تو مرزا صاحب کے دعویٰ کا سارا طلسم ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پانچویں ہزار کے آخر میں مبعوث ہوئے تھے اور ان روایات میں یہ آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل چھ ہزار برس گزر چکے تھے، شیخ علی قاریؒ موضوعات کبیر میں نقل کرتے ہیں:
”ومنها (اى من الامور الكلية يعرف بها من كون الحديث موضوعًا) مخالفة الحديث لصريح القرآن كحديث مقدار الدنيا وانها سبعة آلاف سنة ونحن فى الالف السابعة، وهذا من ابين الكذب لانه لو كان صحيحًا لكان كل احد علم انه قد بقى للقيامة من وقتها هذا مائتان واحد و خمسون سنة، والله تعالىٰ يقول: يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰهَا.“ الآیة.“
(موضوعات کبیر لملا علی قاریؒ ص:۱۶۲ نور محمد اصح المطابع کراچی)
ترجمہ:...... ”کسی حدیث کے من گھڑت ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ قرآن کی نص صریح کے خلاف ہو، مثلاً یہ حدیث کہ: ”دنیا کی مقدار سات ہزار سال ہے۔“ اور ہم ساتویں ہزار میں ہیں، کھلا جھوٹ ہے، اس لئے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو ہر شخص جان سکتا کہ ہمارے اس وقت سے قیامت آنے میں دوسو اکیاون برس باقی ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اور آپؐ سے دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کا وقوع کب آئے
گا؟ (آپ کو اس کے بیان سے کیا تعلق؟ اس کی تعیین کا مدار صرف آپ کے رب کی طرف ہے)۔ ”الخ ۔“ اس کو نقل کر کے شیخ علی قاریؒ فرماتے ہیں:
”قلت تحقیق ھذا الحدیث قد تصدی الجلال السیوطی فی رسالتہ سماھا: ”الکشف عن مجاوزة ھذہ الامة الالف“ وحاصلہ انہ یستفاد من الحدیث اثبات قرب القیامة ومن الآیات نفی تعیین تلک الساعة فلا منافاة، وزبدتہ انہ لا یتجاوز عن الخمسمائة بعد الالف.
قال وقد جاھر بالکذب بعض من یدّعیٰ فی زماننا العلم وھو متشبع بما لم یعط ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کان یعلم متیٰ تقوم الساعة قیل لہ فقد قال فی حدیث جبرئیل: ”ما المسئول عنھا باعلم من السائل.“ وھذا من اعظم الجھل واقبح التحریف.“
(موضوعات کبیر ص:۱۶۲ طبع نور محمد اصح المطابع کراچی)
ترجمہ: ...... ”جلال الدین سیوطیؒ اپنے رسالہ ”الکشف عن مجاوزہ ھذہ الامۃ عن الالف“ میں اس حدیث کی تحقیق کے درپے ہوئے ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ حدیث سے قرب قیامت کا ثبوت معلوم ہوتا ہے، اور آیت سے تعین وقت کی نفی معلوم ہوتی ہے، لہٰذا دونوں میں کوئی منافاۃ نہیں، اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ امت پندرہ صدیوں سے تجاوز نہیں کرے گی۔ اور ہمارے زمانے کے بعض برخود غلط مدعیانِ علم نے
کھلا جھوٹ بولنا شروع کردیا ہے (غالباً مرزا صاحب انہی کے بروز ہیں) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے آنے کا ٹھیک ٹھیک وقت معلوم تھا، اس سے کہا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو حدیث جبرئیل میں یہ فرمایا ہے کہ جس سے دریافت کیا گیا ہے وہ دریافت کنندہ سے زیادہ نہیں جانتا۔ تو اس نے حدیث میں تحریف کر کے کہا کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ: ”اے جبرئیل! میں اور تم دونوں جانتے ہیں۔“ اور یہ سب سے بڑا دجل اور بدترین تحریف ہے۔“
اس پر تفصیل سے رد کرنے کے بعد آخر میں فرماتے ہیں:
”والمقصود ان هؤلاء يصدقون بالاحاديث الكذوبة الصريحة ويحرفون الاحاديث الصحيحة، والله ولى دينه فيقيم من يقوم له بحق النصيحة.“
(موضوعات کبیر ص: ۱۶۳ طبع نور محمد اصح المطابع کراچی)
ترجمہ:....... ”مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ صریح جھوٹی اور من گھڑت روایات کی تصدیق کرتے ہیں اور احادیث صحیحہ میں تحریف کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے دین کا حامی و ناصر ہے، وہ ایسے لوگوں کو قائم رکھے گا جو دین کی خیر خواہی کا حق ادا کرتے رہیں گے۔“
حروف ابجد:
مرزا صاحب آگے لکھتے ہیں:
”غرض بنی آدم کی عمر کا دور سات ہزار برس مقرر ہے،
اور اس میں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پانچ ہزار برس کے قریب گزر چکا تھا، یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ خدا کے دنوں میں سے پانچ دن کے قریب گزر چکے تھے، جیسا کہ سورۃ والعصر میں یعنی اس کے حروف میں ابجد کے لحاظ سے قرآن شریف میں اشارہ فرما دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جب وہ سورہ نازل ہوئی تب آدم کے زمانہ پر اسی قدر مدت گزر چکی تھی جو سورہ موصوفہ کے عددوں سے ظاہر ہے اس حساب سے انسانی نوع کی عمر میں سے اب اس زمانہ میں چھ ہزار برس گزر چکے ہیں اور ایک ہزار برس باقی ہیں۔‘‘
(لیکچر لاہور ص:۳۹)
لیجئے! مرزا صاحب نے سورۃ العصر سے حروف ابجد کا حساب لگا کر دنیا کی پوری تاریخ معلوم کرلی، آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ۵ ہزار کے قریب اور چودھویں صدی کے آخر تک چھ ہزار اور قیامت تک سات ہزار، مرزا صاحب کا یہ مسیحی یا مراقی دقیقہ نہیں، بلکہ اس کا ان کو اسی وقت سے ’’الہام‘‘ ہوگیا تھا جب سے وہ مسیح موعود بنے، ازالہ اوہام سے لے کر براہین احمدیہ حصہ پنجم تک قریباً تمام کتابوں میں وہ یہی رٹ لگاتے رہے، ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں:
’’میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں، اور ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا، مثلاً یہ جو اس عاجز پر کھلا ہے کہ ابتدائے خلقت آدم سے جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت تک مدت گزری تھی وہ تمام مدت سورۃ والعصر کے اعداد حروف میں بحساب قمری
مندرِج ہے، یعنی چار ہزار سات سو چالیس، اب بتلاؤ کہ یہ دقائق قرآنیہ جس میں قرآن کریم کا اعجاز نمایاں ہے، کس تفسیر میں لکھے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص:۴۱۲، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵۸)
اب ظاہر ہے کہ یہ خبط کسی اور کو کب سوجھ سکتا ہے، جو مرزا صاحب کو دعوٰی مسیحیت کے طفیل سوجھا، مرزا صاحب اعلان کرتے ہیں کہ یہ دقائق و حقائق بتاؤ کس تفسیر میں لکھے ہیں؟ اگر انہیں معلوم نہیں کہ ایسے ’’دقائق وحقائق‘‘ کہانت میں داخل ہیں، جو اسلامی عقائد میں کفر کا شعبہ قرار دیا گیا ہے۔
شیخ علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:
”ومنها (اى من المسائل الاعتقادية التى يجب به الاعتقاد عند العلم ولا يضر فيه الجهل ..... ن) ان تصديق الكاهن بما يخبره من الغيب كفر، لقوله تعالى: ’’قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِى السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللّٰهُ.‘‘ ولقوله عليه السلام: ”من اتى كاهنا وصدّقه بما يقول فقد كفر بما انزل على محمد.“
ثم الكاهن هو الذى يُخبر عن الكوائن فى مستقبل الزمان، ويدّعى معرفة الاسرار فى المكان.
وقيل الكاهن الساحر والمنجّم اذا ادّعى العلم بالحوادث الآتية فهو مثل الكاهن، وفى معناه الرّمّال.
قال القونوىّ: والحديث يشمل الكاهن والعرّاف والمنجّم فلا يجوز اتباع المنجّم والرّمّال وغيرها كالضارب بالحصى، وما يعطى هؤلاء حرامٌ بالاجماع كما نقله البغوى والقاضى العياض وغيرهما.
ولا اتباع من ادعی الہام فیما یخبر بہ عن الہاماتہ بعد الانبیاء.
ولا اتباع قول من ادعی علم الحروف المتہجیات لانہ فی معنی الکاہن انتہی.“
(شرح فقہ اکبر ص: ۱۸۲ مطبع مجتبائی دہلی)
ترجمہ:......”ایک مسئلہ یہ ہے کہ کاہن جو غیب کی خبریں دیتا ہے، اس کی تصدیق کرنا کفر ہے، کیونکہ ارشاد خداوندی ہے: ”کہہ دیجئے کہ نہیں جانتے غیب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سوائے اللہ کے۔“ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ”جو شخص کاہن کے پاس گیا پس اس کی بات کی تصدیق کی تو اس نے کفر کیا اس کے ساتھ جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل کیا گیا۔“
اور کاہن وہ شخص ہے جو آئندہ زمانے کے واقعات کی خبر دیتا ہے، اور مکان کے اسرار کی معرفت کا مدعی ہو، اور نجومی جب آئندہ واقعات کے علم کا دعویٰ کرے تو وہ بھی اسی کے مثل ہے، اور اسی حکم میں رمال داخل ہے۔
قونویؒ کہتے ہیں کہ حدیث کاہن، قیافہ شناس اور نجومی سب کو شامل ہے، اس لئے نجومی، رمال اور اس نوعیت کے دوسرے لوگ مثلاً کنکریاں پھینک کر حساب لگانے والے کی اتباع جائز نہیں، ان لوگوں کو جو اجرت دی جاتی ہے وہ باجماع حرام ہے، جیسا کہ بغویؒ اور قاضی عیاضؒ وغیرہ نے نقل کیا ہے، اور انبیا علیہم السلام کے بعد اس شخص کی بھی اتباع جائز نہیں جو
مدعی الہام بن کر الہامات کے ذریعہ خبریں دیتا ہو، اور نہ اس شخص کی پیروی جائز ہے جو حروف کے علم کا مدعی ہو، کیونکہ یہ بھی کاہن کے حکم میں ہے۔“
ان لوگوں کے بارے میں طویل بحث کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
”وقد يكون في هؤلاء من يستحق القتل، كمن يدعى النبوة بمثل هذه الخُزَعْبِيلات، او يطلب تغير شيء من الشريعة ونحو ذالك.“
(شرح فقہ اکبر ص:۱۸۳ مطبع مجتبائی دہلی)
ترجمہ: .....”اور ان لوگوں میں سے بعض لوگ قتل کے مستحق ہیں، اور وہ شخص جو اس قسم کے جھوٹے حربوں سے نبوت کا مدعی ہو یا شریعت کی کسی چیز میں تبدیلی کا خواہاں ہو وغیرہ۔“
اس آخری تحریر کے وقت تو شاید شیخ علی قاریؒ پر مرزا صاحب کی شخصیت منکشف ہوگئی تھی، مرزا صاحب انہی خزعبلات کے ذریعہ مسیحیت و نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور انہی باطل خبروں سے لوگوں سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ اب تک پوری امت نے جو سمجھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنفس نفیس تشریف لائیں گے، یہ غلط ہے، بلکہ اس سے مراد ”مثیل مسیح“ کی آمد ہے، اور وہ یہ خاکسار ہے۔
ہفت روزہ دورہ کی تقسیم:
مرزا صاحب آگے فرماتے ہیں:
”ان سات ہزار برس کی قرآن شریف، اور دوسری خدا کی کتابوں کی رو سے تقسیم یہ ہے کہ پہلا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا زمانہ ہے، اور دوسرا ہزار شیطان کے تسلط کا زمانہ
ہے، اور پھر تیسرا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا، اور چوتھا ہزار شیطان کے تسلط کا اور پھر پانچواں ہزار نیکی اور ہدایت پھیلنے کا (یہی وہ ہزار ہے جس میں ہمارے سید و مولیٰ ختمی پناہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے اور شیطان قید کر دیا گیا)، اور پھر چھٹا ہزار شیطان کے کھلنے اور مسلط ہونے کا زمانہ ہے جو قرونِ ثلاثہ کے بعد شروع ہوتا اور چودھویں صدی کے سر پر ختم ہو جاتا ہے، اور پھر ساتواں ہزار خدا اور اس کے مسیح کا اور ہر ایک خیر و برکت اور ایمان اور صلاح اور تقویٰ اور توحید اور خدا پرستی اور ہر ایک قسم کی نیکی اور ہدایت کا زمانہ ہے۔"
(ص:۴۰)
مرزا صاحب کی یہ سات ہزار روزہ تقسیم عقل و نقل کے خلاف محض خبط اور خام خیالی پر مبنی ہے۔
- اولاً:...... قرآن کریم کی کسی آیت سے یہ مضمون مستنبط نہیں ہوتا، اس لئے
قرآن کی طرف اس کو منسوب کرنا محض افتراء علی اللہ ہے۔
- ثانیاً:...... دوسری خدا کی کتابوں میں اول تو یہ مضمون نہیں بلکہ یہ خدا تعالیٰ پر
ڈبل جھوٹ ہے، علاوہ ازیں وہ سب کتابیں ایسی حالت میں ہیں کہ ان سے ایسے بڑے دعوے پر استدلال کرنا عقل و دانش کے خلاف ہے۔
- ثالثاً:...... دوسرے ہزار سال کو مرزا صاحب ”شیطان کا زمانہ“ بتاتے ہیں،
حالانکہ اس زمانہ میں بھی انبیا علیہم السلام آتے رہے، مرزا صاحب کی تقسیم کے معنی یہ ہیں کہ معاذ اللہ! ایک ہزار سال تک خدا کی بات چلتی رہی، دوسرے ہزار سال میں خدا نے شیطان کو عنانِ حکومت سنبھال دی، اس طرح ہر ہزار سال کے بعد شیطان و رحمٰن کا تبادلہ ہوتا رہا، کیا کوئی عاقل اس کو تسلیم کر لے گا؟
رابعاً:...... پانچواں ہزار سال جس میں مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بتاتے ہیں، اس کے سات سو چالیس میں تو بقول ان کے تاریکی چھائی رہی کیونکہ آپ کی بعثت ۴۰ھ میں ہوئی تھی، اور پونے تین سو سال کے بعد پھر تاریکی چھا گئی، اب غور فرمائیے! جس ہزار سالہ دور کا پون ہزار سال کفر و ضلالت کا گزرا ہو اس کو ہدایت کا زمانہ کہا جائے گا؟؟
خامساً:...... قرونِ ثلاثہ (تین صدیوں) کے بعد مرزا صاحب کے نزدیک پھر تاریک دور شروع ہوگیا تھا، کیا اس کے معنی وہی نہیں جو مغرب کے ملاحدہ بیان کرتے ہیں کہ اسلام چند سالوں کے بعد ختم ہوگیا تھا۔
سادساً:...... مرزا صاحب اپنے دور کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں ذکر کرتے ہیں، کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دور ختم ہوا، چودھویں صدی سے اب مرزا صاحب کا دور شروع ہوتا ہے؟
سابعاً:...... مرزا صاحب اپنے دور کو (جو چودھویں صدی سے شروع ہوتا ہے) خیر و برکت، ایمان و یقین، صلاح و تقویٰ، توحید و خدا پرستی اور نیکی و ہدایت کا دور بتلاتے ہیں، کیا دنیا کا کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ مرزا صاحب کی آمد کے بعد ان چیزوں میں ترقی ہوئی؟ مرزا صاحب سے پہلے ایمان و تقویٰ اور صلاح و ہدایت کا جو حال تھا، ان کے آنے کے بعد اس میں مزید انحطاط اور تنزل ہوا یا ترقی ہوئی؟ یہ زمانہ بہ نسبت گزشتہ زمانہ کے ”خدا کا زمانہ“ کیسے ہوگیا؟ کیا ستم ہے کہ جس دور میں ہزاروں اکابر اولیاء اللہ اور مجددین امت پیدا ہوئے، اس کو شیطانی زمانہ کہا جائے اور جس زمانہ میں مرزا صاحب کے بقول اسی (۸۰) لاکھ مسلمان عیسائی ہوئے، اس کو خدا پرستی کا زمانہ قرار دیا جائے!!
یہ مرزا صاحب کی صرف ایک کتاب کی چند سطروں کا مرقع پیش کیا گیا ہے، اسی نمونہ سے اندازہ کیجئے کہ مرزا صاحب کی مسیحیت نے اسلام اور مسلمانوں پر کیا کیا
ستم ڈھائے؟ تاریخ کو کیسے مسخ کیا؟ قرآن کریم کو کیسے بگاڑا؟
تکمیل سخن کے لئے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کے دور کی تاریخ کا کوئی قطعی ذریعہ دنیا کے پاس نہیں ہے، تاہم مؤرخین نے ظن وتخمین کے ذرائع سے (جن میں بائبل کے مندرجات بھی شامل ہیں) یہ مدت قریباً چھ ہزار بتائی ہے، اس لئے مرزا غلام احمد کا یہ دعویٰ صحیح نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آدم علیہ السلام سے ۴۷۴۰ برس بعد مبعوث ہوئے تھے، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت قیامت کے مقارن واقع ہوئی ہے، اسی بنا پر آپ کا ایک اسم گرامی ”نبی الساعۃ“ بھی ہے، خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر فرمایا:
”عن انس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”بعثت انا والساعة کھاتین.“ متفق عليه.“
(مشکوٰۃ ص: ۴۸۰)
ترجمہ: ...... ”میری بعثت اور قیامت کے درمیان بس اتنا فاصلہ ہے۔“
لیکن اس کی ٹھیک مدت علام الغیوب کے سوا کسی کو معلوم نہیں، اس لئے مرزا غلام احمد کا یہ دعویٰ کہ ان کی ”بعثت“ کے بعد ابھی دنیا کی زندگی ٹھیک ایک ہزار سال باقی ہے، قرآن وحدیث کی تکذیب کے مترادف ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول بالکل قرب قیامت میں ہوگا، وہ چالیس سال زمین پر رہ کر انتقال کریں گے، مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے، اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس میں دفن کیا جائے گا، ان کے وصال کے بعد سات سال تک دنیا میں خیر وصلاح کا دور دورہ رہے گا، سات سال بعد ایک ہوا چلے گی جس سے تمام اہل ایمان کی وفات ہوجائے گی، اور صرف اشرار الناس باقی
رہ جائیں گے، ان پر قیامت قائم ہوگی۔
یہ علامات قیامت کا مختصر نقشہ ہے، جو صحیح احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، اس سے جہاں مرزا صاحب کا دعویٰ دنیا کی عمر کے بارے میں باطل ہوجاتا ہے، وہاں ان کا یہ دعویٰ بھی غلط ہوجاتا ہے کہ آسمان سے نازل ہونے والا ”مسیح“ وہی ہے۔
جن لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر ایمان ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ”نبی صادق“ مانتے ہیں، انہیں ایک طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی علامات کو رکھنا چاہئے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیل و تصریح کے ساتھ بیان فرمائی ہیں، اور دوسری طرف مرزا صاحب کا سراپا ان علامات سے ملانا چاہئے، اگر علم و بصیرت اللہ تعالیٰ نے دی ہو تو معلوم ہوجائے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک ایک علامت مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کی تکذیب کرتی ہے، ہاں جن لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے تعلق نہ ہو، نہ آپؐ کی کسی بات پر ایمان ہو، ان کو اختیار ہے کہ اپنے لئے جو راستہ چاہیں منتخب کریں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۳ ش:۲۷)
قادیانیت کی نئی دکان
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے جواب میں
الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
س:....... جناب مولانا صاحب خط لکھنے کی جسارت اس وجہ سے کر رہا ہوں کہ میں آپ کا کالم باقاعدگی سے پڑھتا ہوں، آپ نے گزشتہ دنوں کراچی کے حالات پر ایک کالم لکھا، جس کو پڑھ کر پتہ لگا کہ کس طرح کراچی کے حالات صحیح ہوں گے، آپ نے جس طرح دہشت گردوں اور حکومت کو بے نقاب کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔
مگر ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگوں کو آپ کا یہ کالم پسند نہیں آیا ہے، انہوں نے آپ کے کالم کے جواب میں ایک مزاحیہ کالم لکھ مارا ہے، جو ایک روزنامہ کی ۲؍اگست کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ اس کالم کے مصنف ”ڈاکٹر عامر لیاقت حسین“ ہیں اور کالم کا نام ہے: ”دکان نئی کھولو، جاؤ پرانا ہو چکا فتویٰ“ اس کالم میں جس طرح دین اسلام اور احادیث کا مذاق اڑایا گیا ہے وہ قابل مذمت ہے اور اس کے بعد جس طرح آپ کی شخصیت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور آپ کو قوم کی امامت کے دعویدار صرف
”دو رکعت کا امام“ کا طعنہ دیا ہے، اس سے مجھے اور آپ کے چاہنے والے لاکھوں لوگوں کو ٹھیس پہنچی ہے۔
میری آپ سے گزارش ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے شبہات کا جواب ضرور لکھیں، میں اخبار کا تراشہ ساتھ بھیج رہا ہوں۔
ج:....... میں نے یہ کالم جو آپ نے بھیجا ہے پڑھ لیا ہے، اس ناکارہ کے بارے میں تو ڈاکٹر صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ ان کو معاف! واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس ناکارہ کے بارے میں جو کچھ سمجھا ہے میں اس سے بھی بدتر ہوں، لیکن غور و فکر کے بعد بھی میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ ڈاکٹر صاحب نے جو بات میری طرف منسوب فرما کر اس کا مذاق اڑایا ہے، وہ میرے مضمون کے کس فقرے سے اخذ فرمائی؟
میں نے حدیث شریف کے حوالے سے یہ لکھا تھا کہ:
”جب دو مسلمان ایک دوسرے کو قتل کرنے کے ارادے سے تلواریں سونت کر مقابلے کے لئے نکل آئیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ قاتل تو مسلمان کو قتل کرنے کے جرم میں، اور مقتول ارادۂ قتل کی وجہ سے۔“
دنیا بھر کے قوانین میں قتل کرنا بھی جرم ہے اور ارادۂ قتل بھی جرم ہے۔ اب اگر قانون الٰہی کی رو سے یہ دونوں چیزیں ”قابل سزا جرم“ قرار دی گئی ہوں تو عقل و منطق اور قانون عدل کے عین مطابق ہے۔ کیا یہ ایسی بات ہے جس کا مذاق اڑایا جائے؟ لیکن میرے بھائی ڈاکٹر لیاقت حسین نے اپنی طرف سے تصنیف کر کے میری طرف یہ فقرہ منسوب کر دیا کہ:
”بغیر کسی وجہ کے کسی کو قتل کرنے والا اور بغیر کسی وجہ سے کسی کے ہاتھوں قتل ہونے والا دونوں جہنمی ہیں۔“
میرے بھائی! کچھ تو انصاف کرتے کہ میری پوری تحریر میں یہ فقرہ کہاں ہے جو انہوں نے میری طرف منسوب کر کے جو جی میں آیا لکھ دیا؟
جو شخص بغیر کسی وجہ کے گھر بیٹھے یا راہ چلتے ظلماً مارا جائے ایسا مسلمان تو ”شہید“ کہلاتا ہے۔ اس کے بارے میں شرعی حکم سب کو معلوم ہے کہ اس کو غسل بھی نہیں دیا جاتا، کیونکہ وہ خون شہادت سے غسل کر چکا ہے، مولانا رومیؒ کے بقول:
ویں خطا از صد صواب اولیٰ تر است
اور اس کو نیا کفن بھی نہیں پہنایا جاتا، بلکہ حکم ہے کہ زائد کپڑے (پوستین وغیرہ) اتار لئے جائیں۔ زائد چادر کی ضرورت ہو تو ڈال دی جائے ورنہ اس کے انہی خون آلود کپڑوں میں اسے دفن کیا جائے، تاکہ اس کا یہ ”لباس شہیداں“ قیامت کے دن اس کی مظلومیت کی گواہی دے۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ شہید کی نماز جنازہ پڑھی جائے، جبکہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز جنازہ کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا خون ناحق خود اس کی شفاعت کے لئے کافی ہے، کیونکہ ظالم کے خنجر نے اس کو تمام گناہوں سے پاک صاف کردیا۔ ”ان السیف محاء الخطایا۔“ ارشاد نبویؐ ہے۔
(مسند احمد ج:۴ ص:۱۸۵)
البتہ اگر کسی کا دل کفر و نفاق کی سیاہی سے تاریک تھا تو اس کا مظلومانہ قتل بھی اس کے دل کی سیاہی کو دھونے سے قاصر ہے، چنانچہ ارشاد نبویؐ ہے: ”السیف لا یمحو النفاق۔“ یعنی تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی۔
(مسند احمد ج:۴ ص:۱۸۶)
الغرض جو مسلمان بغیر کسی قصور کے ظلماً مارا جائے وہ تو ”شہید“ کہلاتا ہے، اس کو ”جہنمی“ کون کہتا ہے؟ ڈاکٹر صاحب کو شاید غلط فہمی ہوئی، ورنہ ایک غلط بات کو میری طرف منسوب کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس ارشادات کو طنز و استہزاء کا نشانہ نہ بناتے، اور اس ناکارہ کو بھی ”جرم بے گناہی“ میں نشتر قلم سے شہید نہ
کرتے، خیر! اللہ تعالیٰ ان کو خوش رکھے۔
میرے بھائی ڈاکٹر صاحب مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ ناحق قتل ہونے والوں کے پسماندگان کے زخم خوردہ دلوں پر مجھے مرہم رکھنا چاہئے تھا اور ان کو صبر کی طاقت دلانے کے لئے یہ قرآنی حکم سنانا چاہئے تھا کہ: ”جو کسی کا ناحق خون بہائے گا وہ معاف نہیں کیا جائے گا۔“ (النساء:۹۳) حالانکہ میں نے حدیث صحیح کے حوالے سے یہ بتایا تھا کہ کسی کا ناحق خون بہانے والا بھی اور ناحق خون بہانے کا ارادہ کرنے والا بھی، دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ناقابل معافی جرم کے مرتکب ہیں، ان دونوں کو معاف نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان کو جہنم کی سزا سنائی جائے گی۔ میرے بھائی ڈاکٹر صاحب غور فرمائیں کہ میں نے قرآنی حکم سنانے میں کیا کوتاہی کی؟
میرے بھائی نے مجھ پر ”دو رکعت کے امام“ کی پھبتی اڑائی ہے، دو رکعت کی امامت تو نیابت رسول ہے (صلی اللہ علیہ وسلم)، اللہ تعالیٰ مجھے یہ شرف نصیب فرمائیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے؟
میرے بھائی نے مجھ پر ”فتویٰ فروشی“ کا بھی الزام لگایا ہے، حالانکہ میں نے اپنے مضمون میں اشارہ دیا تھا کہ:
”قانون نافذ کرنے والے ادارے نہتے شہریوں کی جان و مال اور عزت و آبرو سے کھیل رہے ہیں، اگر حکومت شہریوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت سے قاصر ہے تو اسے فوراً مستعفی ہوجانا چاہئے تاکہ خون ناحق کا وبال اس کے نامہ عمل میں درج نہ ہو اور قیامت کے دن اسے ظالموں کے کٹہرے میں نہ کھڑا کیا جائے۔“
میرے بھائی! انصاف فرمائیں کہ سلطان جائر کے سامنے کلمۂ حق کہنے کا نام ”فتویٰ فروشی“ ہے؟
ڈاکٹر صاحب نے آخر میں مجھے شعری زبان میں مشورہ دیا ہے کہ:
اور اسی مصرع کو انہوں نے اپنے مضمون کا زیب عنوان بنایا ہے، ان کی خدمت میں اتنی گزارش ہے کہ اس ناکارہ نے تو کوئی فتویٰ نہیں دیا، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فتویٰ ضرور نقل کیا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فتویٰ پرانا نہیں بلکہ قیامت تک کے لئے واجب العمل ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آخری نبی ہیں، اب قیامت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا فتویٰ چلے گا، وہ کل بھی تازہ تھا، آج بھی تازہ ہے، اور قیامت تک تازہ رہے گا۔
قادیانیت کی نئی دکان
نقلی اور جعلی سامان
رہا میرے بھائی کا یہ مشورہ کہ ”میں نئی دکان کھولوں۔“ اس کے لئے یہ گزارش ہے کہ اس فقیر نے نہ پہلے اپنی کوئی دکان کھولی، نہ آئندہ کسی نئی دکان کھولنے کا ارادہ ہے، الحمد للہ! کہ اس فقیر کے پاس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سجی سجائی دکان موجود ہے، اور یہ جنت کی دکان ہے۔ یہ فقیر اس دکان کا حقیر سا نوکر اور ملازم ہے، نہ یہ دکان اس کی اپنی ہے، اور نہ وہ اپنا مال فروخت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دکان میں جو مال بھرا ہے وہ جنت کا خزانہ عامرہ ہے، یہ فقیر یہی مال لٹاتا رہتا ہے۔ الحمد للہ! ثم الحمد للہ! آج بھی اس گئے گزرے دور میں کروڑوں مسلمان اس دکان ایمان سے پرانا مال بڑی ہی عقیدت و محبت اور جذبہ ایمانی کے ساتھ دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں۔
بعض لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کے مال کو پرانا سمجھ کر نبوت کی نئی دکان چمکائی، اور اس پر ظلی و بروزی کی خوب ملمع
کاری کی، مگر اس میں جو مال بھرا وہ سارا نقلی و جعلی تھا، بہت سے لوگ، جو اصلی و نقلی کے درمیان تمیز نہیں کر سکتے، وہ اس نئی دکان کی نقلی سج دھج اور ملمع کاری سے دھوکے میں آگئے اور انہوں نے نقد ایمان دے کر اس نئی دکان کا کھوٹا اور جعلی مال خریدنا شروع کر دیا۔
یہ فقیر ایسے حضرات کو بھی مشورہ دے گا کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دکان سے دوبارہ رجوع کریں، یہاں ان کو دنیا و آخرت کی سعادتوں اور برکتوں کا سودا ملے گا۔ سونے کے پرانے سکے خواہ کتنے ہی پرانے ہو جائیں ان کی قدر و قیمت مزید بڑھتی ہے، اور دور جدید کے کاغذی جعلی سکے خواہ کیسے ہی چمکیلے اور خوشنما نظر آئیں وہ پڑیا باندھنے کے کام بھی نہیں آتے۔
میں اپنے بھائی جناب عامر لیاقت حسین سے بھی درخواست کروں گا کہ کبھی فقیر کی دکان پر (جس کا یہ ملازم ہے) تشریف لائیں، ان شاء اللہ! حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دکان کا پرانا مال دیکھ کر ان کی آنکھیں روشن اور دل باغ باغ ہو جائے گا، اور وہ اس فقیر کو زندگی بھر، بلکہ مرنے کے بعد بھی دعائیں دیتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آخری لمحہ تک وابستہ رکھیں اور قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں ہمارا حشر فرمائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۴ ش:۲۳)
عقیدۂ ختم نبوت کے لئے
کام کرنے والوں کے لئے خصوصی انعام
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی اور آپ سے محبت و تعلق ہر مسلمان کے لئے ایک بنیادی اعزاز و اکرام کا باعث ہے اور جتنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق اور شرف میں اضافہ ہوگا اتنا ہی انسان کا رتبہ اور شرف اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی اور دنیا میں بھی زیادہ ہوگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اتنے بڑے انعامات عطا ہوئے، اس کی کئی ایک وجوہات تھیں، ایک نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور صحبت و رفاقت اور دوسری حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص انس و تعلق، اسی بنا پر ان کو ”حزب اللہ“ (اللہ تعالیٰ کی جماعت) کا کہیں خطاب ملا، کہیں اولیا اللہ کا خطاب عطا ہوا اور کہیں ”رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ“ (اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے)۔ اس تعلق اور انس کی برکت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معمولی درجے کے عمل کو بھی اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ آج کے ولی کامل اس سے ہزار گنا زیادہ بھی عمل کرلیں تو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہوگی، اس لئے فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ ہزاروں اولیاء اللہ، مجدد اور قطب مل جائیں تو ایک ادنیٰ صحابی کے برابر نہیں ہوسکتے، ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ اگر کوئی شخص مماثلت کرنا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کے بدلے وہ انعامات اور اعزازات عطا کریں جو
صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو حاصل تھے تو اس کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین والا تعلق اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔ محدث العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ سچے عاشق رسول، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف وغیرہ کی تصریحات اور تجربات کے نچوڑ سے میں یہ کہتا ہوں کہ اس دور میں اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین والا تعلق کوئی قائم کرنا چاہتا ہے تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے کیونکہ موجودہ دور میں اسلام کو عیسائیت، یہودیت، ہندومت، بدھ مت، کمیونزم وغیرہ سے اتنا خطرہ نہیں کیونکہ یہ کھلے دشمن ہیں، اس وقت عیسائی پوری دنیا میں ہزاروں مشنریوں کے ذریعے مسلمانوں کو مرتد بنانے کے درپے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ وہ مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل نہیں کر سکے، لیکن قادیانیت اسلام کے لئے خطرہ ہے جو اسلام کی آڑ میں، اسلام کے لبادے میں، اسلامی طور و طریقہ اختیار کر کے مسلمانوں کے دلوں، دماغوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ مسیلمہ کذاب اور دیگر جھوٹے مدعیان نبوت کے نقش قدم پر چل کر مسلمانوں کو اسلام کے نام پر دھوکہ دے رہے ہیں، وہ مسلمانوں جیسی عبادت گاہیں قائم کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کا کلمہ پڑھ کر اس سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیتے ہیں، وہ اسلام کی آڑ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں، وہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، وہ ختم نبوت کا عقیدہ رکھنے والوں کے دشمن ہیں، اس لئے ان کا بائیکاٹ کر کے ان کی تبلیغی سرگرمیوں کو روک کر مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی قائم رکھ سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۵ ش:۱۴)
اسلام کی نشاۃِ ثانیہ اور مرزائی تحریک
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی !
قادیانی امت کو یہ خوش فہمی ہے کہ موجودہ صدی قادیانیت کے غلبہ کی صدی ہے۔ قادیانی اخبارات و رسائل مرزا طاہر احمد کے اشاروں پر قادیانی امت کے دامن تار تار کو اسی سوزن تدبیر سے رفو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ مرزا غلام احمد صاحب خود ہی ان تمام خوش فہمیوں کا ازالہ کر چکے ہیں، مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”مرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت و عظمت اور شان کو دنیا پر ظاہر کردوں، پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں، پس مجھ سے دشمنی کیوں، وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتے، اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی معہود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر
کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“
(اخبار بدر مورخہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۰۲ء)
اس عبارت میں مرزا صاحب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر ان کے ہاتھوں خود ان کی زندگی میں مسیح اور مہدی کا کارنامہ انجام پذیر نہ ہوا تو ساری دنیا کو مرزا صاحب کے کذاب اور جھوٹے ہونے کی گواہی دینی چاہئے۔
اب صرف یہ دیکھنا باقی رہ جاتا ہے کہ وہ عظیم الشان کارنامہ کیا ہے جو مسیح علیہ السلام سے ظہور پذیر ہوگا؟ اس کی نشاندہی بھی خود مرزا صاحب نے فرمائی ہے لکھتے ہیں:
”ہو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ۔“
یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا (اس آیت میں) وعدہ دیا گیا وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ ص: ۴۹۸)
دوسری جگہ مرزا صاحب اپنا الہام:
”عسیٰ ربکم ان یرحم علیکم وان عدتم عدنا وجعلنا جھنم للکافرین حصیرا۔“
درج کر کے اس کی تشریح یوں فرماتے ہیں:
”یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے، یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف
احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضح اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عسف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کردیں گے اور کج و ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کردے گا۔“
(براہین احمدیہ ص: ۵۰۵)
ان دونوں عبارتوں میں مرزا صاحب، قرآن کریم اور اپنے الہام سے ثابت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں نزول اجلال فرمائیں گے ان کی تشریف آوری سے دین اسلام کو غلبہ کاملہ ہوگا، دین اسلام تمام دنیا میں پھیل جائے گا اور کجی و ناراستی اور گمراہی کا نام و نشان صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا، حضرت مسیح علیہ السلام کا یہی کارنامہ ہے جس کا وعدہ قرآن کریم کی آیت میں دیا گیا ہے، اور جس کی اطلاع مرزا صاحب کو بذریعہ الہام دی گئی ہے، حضرت مسیح علیہ السلام کے اس کارنامہ کی مزید تفصیل ایک حدیث میں بیان فرمائی گئی ہے، جس کو مسٹر محمد علی لاہوری نے ”النبوۃ فی الاسلام“ (ص: ۱۲۰) میں اور مرزا محمود احمد صاحب نے ”حقیقۃ النبوۃ“ (ص: ۴۴) میں درج کیا ہے، ذیل میں اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:
”یعنی انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے اور میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ نازل ہونے والا ہے، پس
جب اس کو دیکھو تو اس کو پہچان لو کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی اور سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد کپڑے پہنے ہوئے اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو اور وہ صلیب کو توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا، اور جزیہ ترک کردے گا، اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے گا، اس کے زمانہ میں سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے اور صرف اسلام رہ جائے گا۔ اور شیر اونٹوں کے ساتھ اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے۔ عیسیٰ بن مریم چالیس سال زندہ رہیں گے اور پھر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے ۔“ (حجۃ الکرامہ ص: ۴۲۸)
اب مرزائیوں سے دریافت کرنا چاہئے کہ:
- ١:......کیا مرزا غلام احمد کی زندگی میں اسلام ساری دنیا پر غالب آگیا؟
- ۲:......کیا اسلام کے سوا تمام مذاہب صفحۂ ہستی سے مٹ گئے؟
- ٣:......کیا مرزا غلام احمد کے زمانہ میں کسی نے شیروں کو اونٹوں کے ساتھ،
چیتوں کو گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیوں کو بکریوں کے ساتھ چرتے، بچوں کو سانپ کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا؟
- ۴:......کیا مرزا غلام احمد صاحب دعویٰ مسیحیت کے بعد چالیس سال برس
زندہ رہے؟
- ۵:......کیا مسلمانوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھی؟
- ٦:......کیا مرزا غلام احمد کے ہاتھوں ان کی زندگی میں وہ کارنامہ ظہور پذیر
ہوسکا جو حضرت مسیح کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوگا؟
اگر نہیں اور یقیناً نہیں، تو مرزائی ساری دنیا کے ساتھ مل کر مرزا غلام احمد
کے جھوٹا ہونے کی گواہی کیوں نہیں دیتے؟ کیونکہ خود مرزا نے لکھا ہے کہ: ”اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“
کیا جھوٹے مسیح کی امت، دنیا پر غالب آئے گی؟ کیا خدا تعالیٰ کی قدرت جھوٹے مسیح کو اور جھوٹے دین کو دنیا میں غالب کرنے کے لئے بروئے کار لائے گی؟
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۵ ش:۴۹)
کیا قادیانی جماعت
دنیا پر غالب آئے گی؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ!
۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئینی فیصلے سے قادیانیت کی کمر ٹوٹ گئی ہے، تمام عالم اسلام ان کے کفر و نفاق سے آگاہ ہو چکا ہے، ان پر ہر جگہ ذلت و ادبار کی فضا طاری ہے، قادیانی اخبارات و رسائل اپنی جماعت کی گرتی ہوئی دیوار کو سنبھالا دینے کے لئے یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اب چند سالوں میں قادیانیت کے غلبہ کی صدی شروع ہونے والی ہے۔
قادیانی اس نام نہاد ”غلبۂ اسلام کی مہم“ کے لئے دھڑا دھڑ چندے جمع کر رہے ہیں، تربیتی کورس جاری کر رہے ہیں، اور مخفی و جلی منصوبے بنا رہے ہیں، سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا جا رہا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے پیش گوئی کی تھی کہ میری جماعت مسلمانوں پر غالب آئے گی۔ اس لئے ممکن نہیں کہ مرزا صاحب کی پیش گوئی ٹل جائے، مرزائی عوام چونکہ مرزا صاحب کو سچ مچ ”مسیح موعود“ سمجھتے ہیں، اس لئے وہ واقعی یقین کر بیٹھے ہیں کہ مرزا صاحب کی پیش گوئی پوری ہو کر رہے گی۔ لیکن جب پوری نہیں ہوتی تو قادیانی لیڈر انہیں پھر تاویل کے چکر میں ڈال دیتے ہیں۔
قریباً نوے سال سے قادیانی جماعت کے دنیا پر غالب آنے کا غلغلہ بلند کیا جارہا ہے، لیکن آج تک یہ قادیانی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا اور نہ انشا اللہ! آئندہ کبھی ہوسکے گا۔
زمانے کے واقعات نے مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک ایک پیش گوئی کو غلط ثابت کر دکھایا ہے۔
ذیل کی سطور میں ہم قادیان کے بارے میں مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کا جائزہ لیں گے جس سے یہ امر واضح ہوجائے گا کہ مرزا صاحب کے تمام دعوے محض زبانی جمع خرچ تھے، حقیقت و واقعیت سے انہیں کچھ بھی تعلق نہیں تھا۔ انبیا کرام علیہم السلام کی مقدس وحی یا اولیا اللہ کے کشف و الہام تو بہت ہی اعلیٰ و ارفع چیز ہے جس کا تصور بھی عام انسانوں کے لئے مشکل ہے، ایک مؤمن کی فراست سے کوئی بات پوری ہوسکتی ہے، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے وحی قطعی اور کشف و الہام کے بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ جو بات بھی کہی قدرت نے اس کا الٹ کر دکھایا۔ چنانچہ قادیان کے بارے میں مرزا قادیانی کے درج ذیل ”کشف و الہام“ ملاحظہ فرما کر ان کو واقعات پر منطبق کیجئے:
- ۱:...... مرزا قادیانی پر جو مقدس وحی نازل ہوتی تھی، مرزائیوں نے اسے ایک
مجموعہ کی شکل میں مرتب کر کے پہلے اس کا نام ”البشریٰ“ رکھا تھا۔ یعنی قادیانی مسیح کی انجیل، مگر اب شاید اس خیال سے کہ قادیانی مسیح صرف مسیح نہیں بلکہ ”محمد رسول اللہ“ بھی ہے اس کی مقدس وحی کے مجموعہ کا نام ”تذکرہ“ رکھا گیا ہے۔ یعنی ظلی محمد رسول اللہ کا ظلی قرآن ........ (”تذکرہ“ قرآن مجید کا نام ہے)، بہر حال قادیانی انجیل یا قادیانی قرآن (تذکرہ طبع دوم ص:۴۳۴) میں مرزا قادیانی کا کشف درج ہے:
”حضرت اقدس مرزا صاحب ایک روز فرماتے تھے: ہم نے کشف میں دیکھا کہ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن
گیا، اور انتہائے نظر سے بھی باہر تک بازار نکل گئے۔ اونچی اونچی دومنزلی یا چومنزلی یا اس سے بھی زیادہ اونچے اونچے چبوتروں والی دکانیں عمدہ عمارات کی بنی ہوئی ہیں، اور موٹے موٹے سیٹھ، بڑے بڑے پیٹ والے جن سے بازار کو رونق ہوتی ہے، بیٹھے ہیں۔ اور ان کے آگے جواہرات اور لعل اور ہیروں اور موتیوں، روپوں، اشرفیوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں (گویا قارون کے خزانے اور دنیا بھر کی دولت وہیں سمٹ آئی ہے۔ ناقل) اور قسم ہا قسم کی دکانیں خوبصورت اسباب سے جگمگا رہی ہیں، یکے، بگھیاں ٹم ٹم، فٹن پالکیاں، گھوڑے شکرامیں، پیدل اس قدر بازار میں آتے جاتے ہیں کہ مونڈھے سے مونڈھا بھڑ کر چلتا ہے اور راستہ بمشکل ملتا ہے۔“
(تذکرہ طبع دوم ص:۴۴۳)
مرزا قادیانی کے کشف نے ”قادیان“ کی مادی عظمت کا جو نقشہ کھینچا ہے اس پر کسی عظیم ترین ترقی یافتہ ملک کے دارالحکومت کا شبہ ہوتا ہے، اور اس کی کشفی عظمت کے سامنے پیرس، لندن اور نیویارک بھی شرمندہ ہوکر رہ جاتے ہیں، لیکن کشف کا نتیجہ کیا ہوا؟ اس پر ہم خود قادیانیوں کو تبصرہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
۲:...... مرزائیوں کی اسی مسیحی انجیل موسوم بہ تذکرہ (طبع دوم) کے صفحہ:۷۷۸، ۷۷۹ پر مرزا قادیانی کے دو کشف مرزا محمود احمد صاحب پسر مرزا قادیانی کی روایت سے ذکر کئے ہیں:
الف:...... ”جب قادیان کی زندگی احمدیوں (مرزائیوں) کے لئے اس قدر تکلیف دہ تھی کہ مسجد میں خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے آنے سے روکا جاتا، راستہ میں کیلے (کھونٹے) گاڑ دیئے جاتے تاکہ گزرنے والے گریں، (یہ
کارنامہ مرزا صاحب کا مرزائی خاندان ہی انجام دیتا تھا۔ ناقل) اس وقت مسیح موعود (مرزا غلام احمد صاحب) نے بتایا: مجھے دکھایا گیا ہے کہ یہ علاقہ اس قدر آباد ہوگا کہ یہ دریائے بیاس تک آبادی پہنچ جائے گی۔“
- ب:....... ”مجھے (مرزا محمود صاحب کو) اس میدان سے
جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد صاحب) نے اپنا رؤیا سنایا کہ قادیان بیاس تک پھیلا ہوا ہے، اور مشرق کی طرف بھی بہت دور تک اس کی آبادی چلی گئی ہے۔“
(تذکرہ طبع دوم ص: ۷۷۸، ۷۷۹)
”قادیان“ کی آبادی قادیانی کشف میں ایک طرف بیاس تک (قریباً آٹھ دس میل تک) جا پہنچی، دوسری طرف مشرقی سمت دور دور تک چلی گئی، لیکن مرزا قادیانی کو کشف میں یہ نظر نہ آیا کہ قادیان اجڑ جائے گا اور ہم قادیانی خاندان بیک بینی و دو گوش وہاں سے نکال دیئے جائیں گے، اور وہ دریائے چناب کے کنارے آکر دم لیں گے، یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ قادیان سے نکال دیئے جائیں گے، مرزا صاحب کو قادیانی آبادی کی وسعت کی شکل میں دکھایا گیا، کیونکہ مرزا قادیانی کے ہر الہام اور وحی کی تعبیر ہمیشہ الٹ ہو جاتی ہے۔
- ۳:....... مرزا غلام احمد ازالہ اوہام (طبع پنجم ص: ۱۶) میں ہندوستان، خصوصاً
قادیان کے ہندوؤں کے بارے میں رقم طراز ہیں:
”اب وہ مقابلہ پر آکر اور میدان میں کھڑے ہوکر ہمارے تیز ہتھیاروں کے نیچے آ پڑے ہیں، اور اس صید قریب کی طرح ہو گئے ہیں جس کا ایک ہی ضرب میں کام تمام ہوسکتا ہے، ان کی آہوانہ سرکشی سے ڈرنا نہیں چاہئے، دشمن نہیں ہیں وہ
تو تمہارے شکار ہیں، عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو دکھائی دے، مگر ان پڑھے لکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمہیں دکھائی نہیں دے گا، سو تم ان کے جوشوں سے گھبرا کر نومید مت ہو، کیونکہ وہ اندر ہی اندر اسلام کے قبول کرنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں، اور اسلام کی ڈیوڑھی کے قریب آچکے ہیں۔“
(ازالہ اوہام طبع پنجم ص: ۱۶)
مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی پر پچاس سال گزر چکے ہیں لیکن آج تک قادیان میں ہندوؤں کی موجودگی مرزا صاحب کی اس پیش گوئی کا منہ چڑا رہی ہے، ہاں اگر اس پیش گوئی میں ہندوؤں سے مراد قادیانی ہوں تو پھر کوئی شک نہیں کہ مرزا صاحب کی پیش گوئی کے مطابق ”قادیان“ مرزائیوں کے تسلط سے پاک ہو گیا اور مرزا محمود صاحب خلیفہ قادیان اپنی جماعت سمیت وہاں سے جلا وطن کر دیئے گئے۔
- ۴:....... قادیان کے بارے میں ایک الہام مرزا صاحب نے ازالہ اوہام
(حاشیہ ص: ۳۰ طبع پنجم) میں یوں درج فرمایا ہے:
”دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ اس قصبہ کا (یعنی قادیان کا نام دمشق رکھا گیا ہے) جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع ہیں اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں، جن کے دلوں میں اللہ و رسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام کی کچھ عزت نہیں، جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے، اور اپنے نفس امارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون بھی ان کی نظر میں سہل اور آسان امر ہے، اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدائے تعالیٰ کا وجود ہونا ان کی
نگاہ میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے (یہ تمام الہامی صفات قادیانیوں کی ہیں۔ ناقل)۔“
آگے چل کر اسی کے حاشیہ پر لکھتے ہیں:
”قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ: ”اخرج منہ الیزیدیون.“ یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔“
(ازالہ اوہام طبع پنجم ص: ۳۲، تذکرہ طبع دوم ص: ۱۱۸)
مرزا صاحب نے (عربی) عبارت کا ترجمہ صحیح نہیں کیا، اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ نکال دیئے گئے اس سے یزیدی لوگ اور یہ الہامی صفت بھی قادیانیوں پر صادق آتی ہے، چنانچہ جناب ممتاز احمد صاحب فاروقی اپنی کتاب ”فتح حق“ کے صفحہ: ۴۵، ۴۷ پر لکھتے ہیں:
ج:...... ”پھر حضرت مرزا صاحب کو قادیان کے متعلق الہام ہوا: ”اخرج منہ الیزیدیون.“ تذکرہ (ص: ۱۸۳) یعنی یزیدی صفت لوگ اس بستی میں پیدا ہوں گے، اب ”یزیدی“ کسی خاص قوم یا قبیلہ کا نام نہیں، بلکہ یزید پلید کی رعایت سے اس کے پیروکاروں کو ”یزیدی“ کہا جاتا ہے۔ کوئی ایسا خلیفہ ہوگا جو یزید کی طرح خلافت حقہ اسلامیہ کا دعویدار ہوگا، پھر خدا تعالیٰ ایسے سامان کرے گا کہ یہ خلیفہ مع اپنے پیروکاروں کے قادیان سے نکال دیا جائے گا، جبکہ ”اخرج“ کے لفظ سے ظاہر ہے، اور اس کی تخصیص کرنے کے لئے حضرت مرزا صاحب کو ”بلائے دمشق“ (تذکرہ ص: ۷۱۰) کا بھی الہام ہوا تھا، واضح ہو کہ یزید کا پایہ تخت دمشق تھا، اسی قسم کی بلا قادیان میں بھی پیدا ہو جائے گی۔“
د:....... ”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) فرماتے ہیں کہ : میں جماعت کے لئے دعا کر رہا تھا کہ الہام ہوا:
- ۱:....... زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں۔
- ۲:....... ”فَسَحَقْهُم تسحیقاً.“ پس پیس ڈال ان کو
خوب پیس ڈالنا۔“
(تذکرہ ص: ۵۱۲)
سو جس طرح قادیان سے اس محمودی جماعت کو اکھاڑ پھینکا گیا ہے وہ اب تاریخ کا حصہ ہے، خود میاں محمود احمد نے وہاں سے برقعہ پہن کر عورت کا بھیس بدل کر بھاگ کر جان بچائی تھی۔“ (فتح حق ص: ۴۷، ۴۸ از ممتاز احمد فاروقی شائع کردہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور ۱۹۶۰ء)
اس تفصیل سے معلوم ہوگا کہ مرزا صاحب کا یہ الہام کہ: ”قادیان میں یزیدی لوگ رہتے ہیں۔“ اور یہ کہ : ”وہاں سے یزیدی لوگ نکال دیئے جائیں گے۔“ اگر یزیدی لوگوں سے مراد قادیانی ہیں تو بلاشبہ یہ الہام حرف بہ حرف صحیح نکلا جیسا کہ ممتاز فاروقی صاحب نے لکھا، چنانچہ ۱۹۴۷ء میں وہاں سے لاہور نکال دیئے گئے اور ۱۹۷۴ء میں مرزا محمود کی جماعت کو جلا وطن کیا گیا۔ اور اگر اس سے مرزا کے مخالفین مراد ہیں تو اس الہام کی تکذیب واقعات سے ہو جاتی ہے۔
قادیان کے بارے میں مرزا صاحب کے اور الہامات بھی ہیں، مگر ہم آج کی صحبت میں انہی چار نمبروں پر اکتفا کرتے ہوئے قادیانیوں کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ جب مرزا صاحب کے ”الہامات“ قادیان کے بارے میں غلط ثابت ہوئے جو مرزا صاحب کے بقول: ”ارضِ حرم“ اور ”رسول کا پایہ تخت“ تھا، اور وہ دارالحرب اور دارالکفر ہی رہی، تو ان کے الہام ان کی جماعت کے بارے میں کیسے سچے ثابت ہو سکتے ہیں؟
تقدیر الٰہی کا فیصلہ ہر مرزائی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے پیش گوئی کے طور پر جو دعویٰ بھی کیا ہے واقعات ہمیشہ اس کے برعکس ظہور پذیر ہوں گے، اس لئے اگر مرزا صاحب کی کوئی پیش گوئی ایسی ہے کہ ان کی جماعت دنیا بھر کے مسلمانوں پر غالب آئے گی تو اس کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہیں کہ قادیانی ہمیشہ خائب و خاسر اور ناکام و نامراد رہیں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۵ ش:۵۰)
عقیدۂ ختم نبوت
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
یو کے ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر جنگ لندن نے حضرت شہیدؒ کے پینل انٹرویو کا پروگرام بنایا۔ اس موقع پر آپؒ سے قادیانیوں سے متعلق اور کئی ایک دوسرے سوالات کئے گئے، وہ سوال و جواب درج ذیل ہیں: .................... سعید احمد۔
افتخار قیصر:...... مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب ہمارا سوال آپ سے یہ ہے کہ قادیانی جب اپنے آپ کو مسلمان کہلانے یا کہنے پر مصر ہیں تو آپ ان کو کافر قرار دینے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟
مولانا محمد یوسف لدھیانوی:...... ایمان اور اسلام دراصل کچھ عقائد اور کچھ احکام کا نام ہے۔ یہ کوئی انسان کا بنایا ہوا مذہب نہیں کہ جیسا عقل میں آیا، کرلیا، یا جس چیز کی ضرورت محسوس کی اس کے مطابق مذہب کو موڑ لیا۔ اسلام نام ہے اس دین کا جو اللہ تعالیٰ نے حضور آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ مسلمانوں کی ہدایت کے لئے قیامت تک کے لئے بھیجا ہے۔ اس کے کچھ احکام اصولی ہیں اور کچھ
فروعی۔ اصولی احکام اور عقائد میں کسی طور پر بھی تبدیلی نہیں کی جاسکتی، مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ ایسے احکام ہیں جن میں سے کسی ایک حکم میں تبدیلی کرنے سے ایمان اور اسلام سلامت نہیں رہتا۔ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی توحید میں ایک شخص کو شریک کرے یا ہزاروں کو، وہ مشرک کہلائے گا۔ کوئی شخص نماز کا انکار کرے یا نمازوں کی تعداد اور نمازوں کی رکعات کا، وہ شخص مسلمان نہیں رہ سکتا اگرچہ مذہب کی تمام باتوں کو تسلیم کرتا ہو، یہی صورتحال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارے میں ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کی حیثیت سے نہ ماننا یہ سب کفریہ عقائد ہیں۔ اس تناظر میں ہم مرزا غلام احمد قادیانی کے دعووں کو پرکھتے ہیں تو خود بخود ان کے بارے میں فیصلہ ہو جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی مبلغ اسلام، مناظر اسلام کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش ہوئے، علماء کرام نے کچھ تعارض نہیں کیا بلکہ بعض علماء کرام ان کے طریقہ کار سے اختلاف کے باوجود ان کے ساتھ شریک رہے، مناظر اسلام سے مجدد کی طرف انہوں نے پرواز کی، علماء کرام نے ان کے اس دعویٰ کی تردید کی لیکن کفر کا فتویٰ جاری نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک چھلانگ اور لگائی اور مجدد سے مہدی بنے۔ علماء کرام کے پاس اب اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ ان کے اس باطل عقیدے کے سامنے بند باندھتے۔ علماء لدھیانہ سے لے کر علماء دیوبند تک نے ان کے اس عقیدہ کو کفریہ قرار دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی مہدی سے مسیح موعود بنے اور آخر کار بلندی کی طرف پرواز کرتے ہوئے نبوت کے منصب پر فائز ہوگئے، قرآن مجید کی وہ تمام آیات جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہے ان آیات کو اپنے بارے میں قرار دیا، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک ایک نبی کی توہین کی، ازواج مطہرات، اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لئے توہین آمیز جملے تحریر کئے اور واضح
طور پر کہا کہ مجھ پر وحی آتی ہے، اپنی اطاعت کو لوگوں پر لازمی قرار دیا، اپنے اوپر ایمان نہ لانے والوں کو کافر، خنزیر کی اولاد اور بدکاروں کی اولاد کہا، انگریز کی وفاداری کو حکم الٰہی قرار دیا، انگریز حکومت کو اللہ کا سایہ قرار دیا، جہاد کو حرام قرار دیتے ہوئے کہا: ”چھوڑ دو اے دوستو اب جہاد کا خیال۔“ قادیان کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے افضل قرار دیا، قادیان میں ایک مینارہ تعمیر کرا کر کہا کہ اس مینارہ کے ذریعہ میرا (مسیح موعود کا) نزول ہوا۔ ان تمام عقائد کی بنیاد پر پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا، آج سے ساٹھ سال قبل ۱۹۲۸ء میں ماریشس کی ایک عدالت نے سب سے پہلے فیصلہ دیا کہ قادیانیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں یہ کوئی الگ مذہب ہے۔ قیام پاکستان سے قبل بہاول پور کی عدالت نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر قادیانی لڑکے اور مسلمان لڑکی کے نکاح کو منسوخ کیا۔ آئینی ترمیم کے بعد ہائی کورٹ، سپریم کورٹ نے قادیانیوں کے عقائد کی بنیاد پر فیصلہ دیا کہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے عقائد مختلف ہیں اس لئے قادیانی مذہب الگ مذہب ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے تحت پینتالیس اسلامی ممالک کے علماء کرام نے متفقہ طور پر فتویٰ دیا کہ قادیانیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ تمام ائمہ حرمین شریفین قادیانی جماعت کے کفر کا اعلان کرتے ہیں، عالم دنیا کے ایک ارب بیس کروڑ سے زائد مسلمان، قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہیں۔ خود قادیانی جماعت کا سربراہ جھوٹا مدعی نبوت اعلان کرتا ہے کہ مجھے تسلیم نہ کرنے والا ہم میں سے نہیں۔ اس کے باوجود کیسے یہ تسلیم کرلیا جائے کہ قادیانی جماعت مسلمان ہے اور علماء کرام زبردستی ان کو کافر بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
دراصل قادیانیوں کے موجودہ سربراہ نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے اور وہ سادہ لوح مسلمانوں کو اسلام کے نام پر دھوکا دے کر قادیانی بنانے کی مہم چلائے ہوئے ہیں، اگر ان کو اپنے دین پر یقین ہے، وہ اس کو سچا سمجھتے ہیں تو پھر اپنے اوپر
اسلام کا لبادہ کیوں اوڑھتے ہیں؟ دنیا کو دھوکا کیوں دیتے ہیں؟ واضح اعلان کریں کہ ہم قادیانی ہیں، ہمارا اپنے پیغمبر پر ایمان ہے، اس کی عبارتوں کو کیوں چھپاتے ہیں؟ الحمد للہ! ہم مسلمان ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک ایک لفظ کو دنیا کے سامنے واضح پیش کرتے ہیں، اپنے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں، کوئی لبادہ اوڑھ کر دنیا کو دھوکا نہیں دیتے، مرزا طاہر اس طرح میدان میں آئیں خود بخود ان کو اپنی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔
افتخار قیصر:....... گزشتہ دنوں مرزا طاہر کا ایک بیان اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ ضیاء الحق مرحوم اس کے مباہلے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے، اس سلسلے میں آپ کیا کہیں گے؟
مولانا محمد یوسف لدھیانوی:....... دراصل یہ قادیانی جماعت کا بہت پرانا حربہ ہے، ان کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی یہی طریقہ تھا، کبھی کسی ملک میں سورج گرہن ہوا، چاند کو گہن لگا، مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کو اپنی نشانی ظاہر کر دیا۔ کسی ملک کو شکست ہوئی یا فتح ہوئی اس کو اپنا معجزہ قرار دے دیا۔ مرزا طاہر نے علما پاکستان کو مباہلہ کا چیلنج دیا، میرے سمیت پاکستان کے بہت سے علماء کرام نے اس چیلنج کو قبول کیا، برطانیہ کے علماء کرام نے بھی قبول کیا، مباہلے کے معروف طریقے کے مطابق وقت دیا کہ فلاں جگہ آجاؤ یا ہمیں بلالو، دونوں فریق اللہ تعالیٰ سے حق طلب کریں گے، کسی ایک کے لئے حق ظاہر ہو جائے گا۔ مرزا طاہر نے راہ فرار اختیار کر کے اپنے خود ساختہ مباہلے کا اعلان کر دیا کہ دونوں اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں، ایک دوسرے کے لئے بددعا کریں، لعنت کرتے رہیں، خود بخود حق ظاہر ہو جائے گا۔ مجھ سمیت سینکڑوں علماء کرام نے چیلنج قبول کیا، ان کو تو کچھ نہیں ہوا، وہ علما کرام بہت اطمینان سے اپنے ملک میں رہ کر دین کی خدمت میں مصروف ہیں، کسی ایک عالم دین کو خراش تک نہیں آئی، لیکن جنرل ضیاء الحق مرحوم جن کا مباہلے سے کوئی
تعلق نہیں تھا، کبھی انہوں نے اعلان نہیں کیا کہ میں نے مباہلہ قبول کیا ہے، وہ ایک حادثہ کا شکار ہو گئے اور اکیلے نہیں کئی جرنلوں کے ساتھ، ساتھ امریکی سفیر بھی تھا، کیا تمام لوگوں نے مباہلے کا چیلنج قبول کیا تھا؟ یہ تمام باتیں لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں یحییٰ بختیار نے مرزا ناصر پر جرح کی، مفتی محمودؒ، شاہ احمد نورانی اور دیگر علماء کرام نے محنت کی، راجہ ظفر الحق نے امتناع قادیانیت آرڈی نینس تیار کیا، ان تمام لوگوں کو تو کچھ نہیں ہوا، ضیاء الحق شہید ہو گئے تو مرزا طاہر مباہلے میں جیت گئے...! عجیب منطق ہے۔ قادیانیت کا مقابلہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے ہے، گزشتہ سو سال میں کسی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رکن کو کچھ نہیں ہوا، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ کے مطابق مولانا عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں اس دنیا سے رخصت ہوا، اپنی پیشگوئی کے مطابق وہ خود جھوٹا ہو گیا، اسی طرح مرزا طاہر بھی اپنے دعویٰ کے مطابق جھوٹا ہوا کیونکہ مباہلے کے چیلنج کو پندرہ سال ہونے کو آئے ہیں، کسی عالم دین پر تباہی نہیں آئی بلکہ مرزا طاہر اپنے ملک سے فرار ہے، اپنے مرکز ربوہ نہیں جاسکتا، باطل پر تو وہ ہوا نہ کہ علماء کرام، اس لئے مرزا طاہر اپنے دعوؤں کے مطابق خود جھوٹا ہو گیا۔
افتخار قیصر: ...... یہ گفتگو تو آپ کے خاص موضوع کے حوالے سے تھی، آپ گزشتہ کئی سال سے انگلینڈ تشریف لا رہے ہیں یہاں عید کا مسئلہ سب سے اہم ہے، مسلمان اس سلسلے میں ہمیشہ اختلافات کا شکار رہتے ہیں، ہر شہر میں کئی کئی عیدیں ہوتی ہیں، اس سلسلے میں آپ کچھ فرمائیں گے کہ مسلمان کس طرح ایک دن عید منائیں؟
مولانا محمد یوسف لدھیانوی: ...... دراصل رمضان المبارک اور عید کا تعلق رویت ہلال سے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو۔“ عیسوی سن متعین سن ہے، اس کی تاریخیں مقرر ہیں، لیکن قمری تاریخوں کا تعین ہر ماہ ہوتا ہے، کبھی ۲۹ تاریخ کو، کبھی ۳۰ تاریخ کو، چاند کی
اطلاع پر روزے یا عید کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یورپ کے موسمی حالات کی وجہ سے عام طور پر یہاں چاند کا دیکھا جانا ایک ناممکن سی بات ہے، اس لئے عام طور پر اس سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے جبکہ فقہی مسائل کی رو سے ان جیسے ممالک کے لئے مسائل موجود ہیں، اگر ان مسائل کے مطابق احکام بتائے جائیں تو اختلاف کی کوئی وجہ نہیں، فقہ کی رو سے جن ممالک میں چاند نہیں دیکھا جاتا تو وہاں سے جو قریب ترین اسلامی ملک ہوتا ہے اس کی ”رؤیت“ (چاند دیکھنے) کا اعتبار ہوتا ہے، اور اس کی چاند کی اطلاع پر عید یا رمضان المبارک کا اعلان کیا جاتا ہے، اس اعتبار سے انگلینڈ سے قریب ترین ملک مراکش ہے، اس لئے مراکش کے چاند پر انگلینڈ کے لوگ روزے رکھیں گے اور عید کریں گے۔ ہماری رائے میں انگلینڈ میں مختلف ملکوں کے فقہی احکامات کو مدنظر رکھنے ہی کی وجہ سے اختلاف ہوتا ہے۔ علماء کرام کو ایک متفقہ ضابطہ طے کر کے پورے انگلینڈ میں ایک ہی دن عید کرنی چاہئے تاکہ مسلمانوں کی اجتماعیت نظر آئے اور لوگ دین کے خلاف پروپیگنڈہ نہ کریں۔
افتخار قیصر :....... یہاں رہنے والے بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں آپ کیا کہیں گے؟
مولانا محمد یوسف لدھیانوی :....... یورپی ممالک میں تعلیم لازمی اور مفت ہونے کی وجہ سے بہت مسائل جنم لے رہے ہیں، مسلمان بچوں کو ان اسکولوں میں لازمی تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے اسی وجہ سے نئی نسل ایک طرف اسلام سے دور ہو رہی ہے، دوسری طرف ان میں ایسی اخلاقی برائیاں پیدا ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے معاشرہ میں رہنے کے قابل نہیں رہتے، اس لئے مسلمانوں کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، سب سے بہتر تو یہ ہے کہ مسلمان ان ممالک میں اپنے اسکول قائم کریں اور ان اسکولوں میں بہترین عصری علوم کا انتظام کریں، اور اس کے ساتھ ساتھ ان اسکولوں میں دینی تعلیم بھی ضرورت کے مطابق دی جائے، امریکہ اور
ساؤتھ افریقہ میں اس قسم کے بہترین اسکول قائم کئے گئے ہیں۔ لیکن انگلینڈ میں اس کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ دراصل انگلینڈ میں تعلیم فری ہے اور لوگ اس فری تعلیم سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، مسلمانوں کے اپنے اسکولوں میں لازمی طور پر فیس ادا کرنی ہوگی۔
بہر حال اگر اپنے اسکول قائم نہ کئے جاسکیں تو دوسری صورت یہ ہے کہ مسلمان لازمی طور پر اپنے بچوں کو اسکول کے بعد مساجد میں بھیجیں اور ان مساجد میں قرآن کی تعلیم کے ساتھ ضروریات دین کی تعلیم دی جائے، اس طرح مسلمان بچے اسکول کی تعلیم سے لادینی اثرات قبول نہیں کریں گے۔ اسی طرح والدین کو چاہئے کہ وہ خود جب نماز کے لئے آئیں تو بچوں کو بھی ساتھ لے کر آئیں، اسی طرح گھر میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں وقتاً فوقتاً بچوں کو آگاہ کیا جائے، انگریزی میں اسلام سے متعلق کافی لٹریچر شائع ہوگیا ہے، وہ ان کو مطالعہ کے لئے دیں، بچوں کے ذہنوں میں اسلام سے محبت اور وابستگی پیدا کریں اس طرح نئی نسل میں اسلامی شعور پیدا ہوگا اور قوم اور نئی نسل گمراہ نہیں ہوگی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۶ ش:۱۳)
جدید تحقیقات اور علاماتِ قیامت
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ! مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں جناب ڈاکٹر عرفان محمود صاحب کے نظریات ہمارے ایک کرم فرما نے حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ العالی کی خدمت میں بغرض تحقیق بھیجے، جن کا جواب افادۂ عام کے لئے نذر قارئین کیا جاتا ہے۔....................(ادارہ)
- ا:...... اہرامِ مصر:
اہرام مصر پر ثبت تحریروں کا ترجمہ مصر کے ایک ڈاکٹر نے کیا ہے، جس کے مطابق یہ تصویر نما تحریریں دراصل گزشتہ پانچ ہزار سال کی پیش گوئیاں ہیں، جو درست ثابت ہو رہی ہیں، انہی تحریروں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بیسویں صدی عیسوی کے آخر تک یہ کائنات تباہ ہوجائے گی، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا، اور نئے سرے سے انسانیت وجود میں آئے گی۔
۲: ..... زمین کی گردش:
ناسا (NASA) کے حوالے سے گزشتہ دنوں روزنامہ جنگ میں یہ خبر چھپی کہ زمین کی گردش کی رفتار کم ہو رہی ہے، تو یہ پیشینگوئی کی گئی ہے کہ اگر اسی حساب سے رفتار کم ہوتی رہی تو ٹھیک تین سال کے بعد گردش تھم جائے گی۔
۳: ...... ستارہ:
اسی امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کے حوالے سے ایک اور خبر روزنامہ جنگ میں شائع ہوئی کہ کوئی (Commet) زمین کی سمت سفر کر رہا ہے، اور جس رفتار سے یہ سفر کر رہا ہے ٹھیک تین سال کے بعد یہ زمین سے ٹکرا جائے گا۔
نمبر ۲ اور ۳ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ گردش کے رکنے اور ستارے کے ٹکرانے کا وقت ایک ہے، گویا زمین کی گردش رکنے کا مطلب یہ ہے کہ کشش ثقل ختم ہوجائے گی، اور اگر کشش ثقل ختم ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر چیز فضا میں بکھر جائے گی، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح بکھر جائیں گے، جو کہ قیامت کی گھڑی ہوگی، لیکن ایسا ہے کہ قیامت نہیں بلکہ ”ایک بڑا عذاب“ آنے والا ہے، زمین کی یہ گردش جب رکنے کو ہوگی تو وہ سیارچہ (Commet) زمین سے ٹکرا جائے گا اور یہ گردش دوبارہ بحال ہوجائے گی، یعنی جاری ہوجائے گی، لیکن اس وقت تک زلزلوں کی وجہ سے بہت تباہی آچکی ہوگی، اور نئے سرے سے انسانیت کا آغاز ہوگا۔
۱:...... اس نئی انسانیت (New Civilization) یعنی پتھر اور تلوار کے زمانے کا تصور بھی اسلام سے ہمیں ملتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کی جامع مسجد پر آسمان سے اتریں گے تو ان کے ہاتھ میں ”تلوار“ ہوگی، جس سے وہ مسیح دجال کا سر قلم کریں گے، آج تو کلاشنکوف کا دور ہے، کلاشنکوف سے اس معیار کے دشمن کا خاتمہ ناممکن ہے۔
- ۲:....... جہاں تک سیارے کے زمین سے ٹکرانے کی بات ہے، تو مجھے قرآن
نے یہ رہنمائی دی، جب میں نے قرآن سے اپنے خاص انداز سے رہنمائی چاہی، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاءِ سَاقِطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ. فَذَرْهُمْ حَتّٰی يُلٰقُوْا يَوْمَهُمُ الَّذِيْ فِيْهِ يُصْعَقُوْنَ.“
(الطور: ۴۴)
ترجمہ:...... ”اور جب وہ اپنے اوپر آسمان کے ایک بڑے ٹکڑے کو گرتا ہوا (ساقط) دیکھیں گے تو وہ یہ کہیں گے کہ یہ تو کوئی بادل ہے، تہہ بہ تہہ، پس انہیں اس دن تک چھوڑ دے جس میں ان پر (ایسا عذاب ہوگا کہ) غنودگی طاری ہوگی۔“
میرے اس آیت کے پڑھنے کے دوسرے ہی روز کرم ایجنسی میں زلزلہ آ گیا، روزنامہ پاکستان کی شہ سرخی تھی: ”زمین پھٹی، چھ گاؤں زمین بوس ہو گئے۔“ اور اس جگہ پر کوئی بدبو وغیرہ نہیں ہے، لیکن جب اس جگہ کے قریب کوئی جائے تو اس پر غنودگی طاری ہوتی ہے، جو میرے لئے یقیناً یہ اس آیت مبارکہ کا مصداق تھا، جس میں کہا گیا کہ ان پر ایسا عذاب ہوگا، کہ ان پر غنودگی طاری ہوگی۔
نتیجہ:...... نتیجہ یہ نکلا کہ قریب ہی اس امت پر ایک بڑا عذاب آنے والا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو تصور (Concept) عام ہے کہ امت مسلمہ پر اس قسم کا بڑا عذاب، جیسا کہ دوسری قوموں یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم وغیرہ پر آیا، نہیں آئے گا، چونکہ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں، تو عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ:...... ”اور اللہ کا عذاب ظالموں سے دور نہیں ہے۔“
اور سب سے بڑا ظالم کون ہے؟ اور عذاب کے لئے جو شرط رکھی گئی ہے وہ شرک ہے، تو ہمارے آج کے معاشرے کو دیکھا جائے تو شرک عام ہے، اور تینوں اقسام کا شرک یعنی اللہ کی ذات میں شرک، اس کی صفات میں شرک اور اللہ کے احکامات میں شرک۔ اللہ نے کہا کہ جھوٹ نہیں بولنا، رشوت نہیں لینا، زنا نہیں کرنا، ہم جھوٹ بھی بول جاتے ہیں، زنا بھی کرتے ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ گناہ یعنی شرک فی احکام اللہ تو ہر دور میں رہا ہے، لیکن آج سے کچھ عرصہ پہلے بندہ زنا کر بیٹھتا تھا، یا جھوٹ بولتا تھا، یا سود کھاتا تھا تو اسے یہ احساس ضرور ہوتا تھا کہ میں نے گناہ کیا ہے، آج اسے گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔
علاوہ ازیں ہم روزانہ عذاب کے لئے، جو کافروں پر ہوگا، بددعا بھی کرتے ہیں، یعنی وتر میں: ”ان عذابک بالكفار ملحق.“ یقیناً تیرا عذاب کافروں سے ملنے والا ہے، یعنی آنے والا ہے، یعنی قریب ہے۔
جواب:....... جناب ڈاکٹر عرفان محمود صاحب کے نظریات پر مشتمل گرامی نامہ موصول ہوا، انہوں نے اہرام مصر، گردش زمین اور سیارہ کے بارے میں اپنی تحقیقات ذکر فرمائی ہیں، اور یہ بتایا ہے کہ ٹھیک تین سال کے بعد یہ حوادث رونما ہوں گے اور اس کے بعد نئے سرے سے انسانیت کا آغاز ہوگا۔
جیسا کہ آنجناب کو معلوم ہے، سائنسی تحقیقات سے مجھے زیادہ دلچسپی بھی نہیں، اور ان کو چنداں لائق اعتماد بھی نہیں سمجھتا، لیکن مجھے پروفیسر صاحب کے بیانات سے دو باتوں میں اتفاق ہے:
اول:....... یہ کہ اس دنیا کے خاتمے کا وقت قریب آن لگا ہے، یہ تو کہنا مشکل ہے کہ یہ دنیا کب تک اور کتنے سال قائم رہے گی؟ لیکن آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ وقت زیادہ دور نہیں، اس لئے کہ دنیا میں شر و فساد (جس کی طرف آپ نے بھی اشارہ کیا ہے) کی اصلاح کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، لوگ اکیسویں صدی کی زبردست
تیاریاں کر رہے ہیں، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ ان کی اکیسویں صدی ان کے لئے موت کا پیغام لائے گی۔
دوم:...... مجھے پروفیسر صاحب کی اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ موجودہ ترقیات کا زمانہ نہیں ہوگا، بلکہ دنیا تیغ و تفنگ کی طرف لوٹ جائے گی۔
لیکن پروفیسر صاحب کے اس نظریہ سے مجھے اتفاق نہیں کہ جس طرح طوفان نوح کے بعد دنیا نئے سرے سے آباد ہوئی، اسی طرح نزول عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد بھی دنیا کی یہی حالت رہے گی۔
عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے، بالکل آخری زمانہ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں خیر و برکت اپنے عروج پر ہوگی، گویا زمین اپنے تمام خزانے اگل دے گی، اور عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد ان کا جانشین سات سال رہے گا، اس کا زمانہ بھی قریب قریب عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ کے مشابہ ہوگا، اس کی وفات کے بعد دنیا میں شر کا طوفان آجائے گا اور اہل ایمان یکبارگی اٹھا لئے جائیں گے، اور تمام کے تمام فسادی لوگ باقی رہ جائیں گے، ان پر قیامت واقع ہوگی، اور یہ زمانہ قریباً ایک صدی کا ہوگا، واللہ اعلم بالصواب!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۶ ش:۱۱)
قادیانی نظریات
ملاّ علی قاریؒ کی عدالت میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی! حق تعالیٰ حافظ سیوطیؒ کو جزائے خیر عطا فرمائے انہوں نے کیسی عمدہ بات لکھی ہے:
”اور ارباب بدعت کا مقصد صرف اور صرف آیات میں تحریف کرنا اور انہیں کاٹ چھانٹ کر اپنے مذہب فاسد پر چسپاں کرنا ہے، انہیں کہیں دور سے گری پڑی چیز نظر آجائے اسے فوراً اچک لیں گے، یا کسی جگہ انہیں ادنیٰ گنجائش نظر آئے دوڑ کر اس کی طرف لپکیں گے، رہا ملحد! تو اس کے کفر والحاد کا کیا پوچھنا؟ وہ اللہ کی آیات میں کجروی اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ پر ایسی بات کا افترا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے کبھی نہیں فرمائی۔ (چند مثالیں ذکر کر کے آگے لکھتے ہیں) اس قسم کی تحریفات ہی مہمل ہیں، اس حدیث کی جو ابو یعلیٰ وغیرہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ : میری امت میں کچھ لوگ اس طرح قرآن پڑھیں گے کہ اسے ردی کھجوروں کی طرح جھاڑیں گے (یعنی بلا تدبر ردی سمجھ کر پڑھیں گے ) اس کی بے محل تاویلیں کریں گے ۔“
(الاتقان ج:۲ ص:۱۹)
ہمیشہ سے ملاحدہ کی یہی تکنیک رہی ہے اور یہی طریقہ قادیانی فرقہ نے اختیار کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی ”بروزی نبوت“ کے لئے جہاں قرآن و حدیث میں کھلی تحریف کی گئی وہاں چند اکابر کی عبارتوں کو بھی مسخ کیا گیا۔ اور پھر ان تحریفات کا اس شدت سے پروپیگنڈا کیا گیا کہ کم فہم لوگوں کو یہ غلط فہمی ہونے لگی کہ شاید یہی اسلامی عقیدہ ہے۔ قادیانی صاحبان، سلطان العلما شیخ علی القاری رحمہ اللہ (المتوفی: ۱۰۱۴ھ) کا نام بھی اپنے نظریات کی ترویج کے لئے استعمال کیا کرتے ہیں، اس لئے ذیل میں شیخ رحمہ اللہ کی چند تصریحات نقل کی جاتی ہیں، امید ہے قادیانی صاحبان بنظر انصاف ملاحظہ فرما کر اپنے عقائد کی اصلاح فرمائیں گے۔
عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں:
امت اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں، شیخ علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں ”شرح مقاصد“ سے نقل کرتے ہیں:
”بڑے بڑے علما اس طرف گئے ہیں کہ چار نبی زندہ ہیں: خضر اور الیاس زمین میں، اور عیسیٰ اور ادریس آسمان میں (علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والتسلیمات)۔“
(شرح فقہ اکبر ص:۳ مطبوعہ سعیدی کراچی)
واضح رہے کہ ان چار حضرات میں سے تین کے بارے میں علما کی آراء مختلف ہیں، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے میں اہل حق میں سے کسی کا
اختلاف نہیں، مرزا غلام احمد قادیانی (بزعم خود ملہم اور مامور من اللہ ہونے کے باوجود) یہی عقیدہ رکھتا تھا۔ ”مسیح موعود“ کا ”الہام“ پانے کے بعد بھی بارہ برس تک ان کا یہی عقیدہ رہا، (اعجاز احمدی)۔ انہیں یہ بھی اعتراف ہے کہ ابا عن جد ہمیشہ سے اسی عقیدے کے معتقد چلے آتے تھے، (ایام الصلح فارسی ص:۳۹)۔ اور یہ کہ ظاہر قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار مرویہ سے یہی عقیدہ ثابت ہے، (ازالہ اوہام)۔ ان کے فرزند اکبر مرزا محمود احمد بھی اعتراف کرتے ہیں کہ:
”پچھلی صدیوں میں سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا، اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے، اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ مشرک فوت ہوئے، گو اس میں شک نہیں کہ یہ عقیدہ مشرکانہ ہے، حتیٰ کہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) باوجود مسیح کا خطاب پانے کے بعد دس سال تک یہی خیال کرتے رہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے۔“
”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کے دعوے سے پہلے جس قدر اولیاء صلحا گزرے ہیں، ان میں ایک بڑا گروہ عام عقیدے کے ماتحت حضرت مسیح (علیہ السلام) کو زندہ خیال کرتا تھا لیکن وہ مشرک اور قابل مواخذہ نہ تھا، مگر جب حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) نے قرآن کریم سے وفات مسیح ثابت کردی اور حیات مسیح کے عقیدہ کو مشرکانہ ثابت کردیا تو اب جو شخص حیات مسیح کا قائل ہو وہ مشرک اور قابل مواخذہ ہے۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۴۲)
انصاف فرمائیے کہ جو عقیدہ ظاہر قرآن اور احادیث متواترہ سے ثابت ہو،
گزشتہ صدیوں کے تمام مسلمان اور اکابر علماء، صلحا اور مجددین امت میں متواتر چلا آیا ہو، اسے مشرکانہ عقیدہ کہنا، اسلام کی تکذیب نہیں؟ قرآن کریم کی وہ تیس آیات، جن سے بزعم خود مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کی ہے، کیا وہ تیرہ چودہ صدیوں کے ائمہ دین اور مجددین امت کے سامنے نہیں تھیں؟ مرزا صاحب کو اپنی مسیحیت کے لئے راہ ہموار کرنا تھی، چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ موجود ہونا ان کے دعویٰ کے لئے سنگ راہ تھا، اس لئے انہوں نے اپنی ساری زندگی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مارنے کے لئے صرف کر ڈالی اور تاویلات و تحریفات کا طوفان برپا کر دیا۔ حالانکہ اگر بالفرض عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہ ہوتے تب بھی کیا مرزا غلام احمد بن غلام مرتضیٰ، عیسیٰ بن مریم بن جاتے؟ ہرگز نہیں! بقول شیخ شیرازیؒ:
ور شود ہما از جہاں معدوم
کاش انہیں کوئی مشورہ دیتا:
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند
عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے:
قادیانی صاحبان، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور وہاں سے نازل ہونے کے منکر ہیں، لیکن امام اعظمؒ ”فقہ اکبر“ میں فرماتے ہیں:
”دجال اور یاجوج و ماجوج کا نکلنا، آفتاب کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دیگر علامات قیامت جو احادیث صحیحہ میں وارد ہیں سب حق ہیں، ضرور ہو کر رہیں گی اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے
صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے (اللہ تعالیٰ قادیانیوں کو بھی اپنے فضل سے ہدایت نصیب کرے)۔“
شیخ علی قاریؒ اس کی شرح میں قرآن کریم سے اس کا ثبوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
”اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”اور بے شک وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام البتہ قیامت کا نشان ہے یعنی علامت قیامت ہیں۔“
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ:...... ”اور نہیں اہل کتاب میں سے کوئی شخص مگر البتہ ایمان لائے گا اس پر اس کی موت سے پہلے۔“
یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے، قرب قیامت میں ان کے نازل ہونے کے بعد، پس اس وقت تمام مذاہب مٹ جائیں گے اور وہ دین حنیفی اسلام ہے۔“
(شرح فقہ اکبر ص:۱۳۳)
شیخ علی قاریؒ نے جن دو آیتوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے ثبوت میں پیش کیا ہے، ان کی یہ تفسیر صحابہؓ و تابعینؒ اور ائمہ مجددینؒ سے منقول ہے، مگر مرزا صاحب اس کو تحریف اور الحاد بتاتے ہیں، اور ان تمام اکابرؒ کو یہودی، ملحد اور مشرک قرار دیتے ہیں۔
علامات قیامت کی ترتیب:
اسی ذیل میں قرب قیامت کے اہم واقعات کی ترتیب بیان کرتے ہوئے
شیخ علی قاریؒ فرماتے ہیں:
”(فقہ اکبر کے) ایک نسخہ میں طلوع آفتاب کا ذکر پہلے ہے، بہر حال واؤ مطلق جمع کے لئے ہے، ورنہ واقعات کی ترتیب یوں ہے کہ: حضرت مہدی (رضی اللہ عنہ) اولاً حرمین شریفین میں ظاہر ہوں گے، پھر بیت المقدس جائیں گے، پھر دجال وہاں پہنچ کر حضرت مہدی (کے لشکر) کا اسی حالت میں محاصرہ کرے گا، پس عیسیٰ علیہ السلام دمشق شام کے شرقی مینارہ سے نزول فرمائیں گے، اور دجال سے مقابلہ کے لئے نکلیں گے، پس ایک ہی ضرب سے اس کو قتل کردیں گے، ورنہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہوتے ہی دجال اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے، عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی علیہ الرضوان کے ساتھ جمع ہوں گے، اس وقت نماز کی اقامت ہوچکی ہوگی، حضرت مہدی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے امامت کی درخواست کریں گے، مگر وہ یہ کہہ کر عذر کردیں گے کہ اس نماز کی اقامت آپ ہی کے لئے ہوئی ہے، اس لئے اس موقع پر امامت کے آپ زیادہ مستحق ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدیؒ کی اقتداء کریں گے تاکہ ظاہر ہوجائے کہ وہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع ہیں، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مضمون کی جانب اپنے ارشاد میں اشارہ فرمایا ہے کہ: ”اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری پیروی کئے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا۔“ اور میں اس کی وجہ ”شرح شفا“ میں حق تعالیٰ کے
ارشاد: ”وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَا اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ.“ الآیۃ، کے تحت بیان کرچکا ہوں۔
اور حدیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام چالیس برس زمین میں رہیں گے، پھر ان کا وصال ہوگا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور انہیں دفن کریں گے، جیسا کہ ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور دوسری روایات میں آتا ہے کہ: ”وہ روضۂ اطہر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے درمیان دفن ہوں گے۔“ اور یہ بھی مروی ہے کہ شیخینؓ کے بعد دفن ہوں گے، پس شیخینؓ کو مبارک ہو کہ دو نبی ان کے گرد و پیش ہیں۔“
(شرح فقہ اکبر ص: ۱۳۳)
دمشق اور قادیان:
مرزا غلام احمد قادیانی بزعم خود عیسیٰ علیہ السلام کو مارنے سے فارغ ہوئے تو خود عیسیٰ بن مریم بننے کے لئے ”تاویلات“ کرنے لگے۔ اور تاویلات ایسی کہ سننے والوں کو قرآن و حدیث پر رحم اور مرزا صاحب پر ہنسی آنے لگے۔ عیسیٰ، مریم، دجال، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج، آفتاب کا مغرب سے نکلنا، عیسیٰ بن مریم کی علامات، مہدی کی علامات، دجال کی علامات، یاجوج ماجوج کی علامات، دابۃ الارض کی علامات، وغیرہ وغیرہ، سینکڑوں امور میں مرزا صاحب نے تاویلیں کی ہیں۔ لیکن شیخ علی قاریؒ کی مندرجہ ذیل تصریح مرزا صاحب کی تمام تاویلات باطلہ کے رد کرنے کے لئے کافی ہے، بیت المقدس کے بارے میں لکھتے ہیں:
”اور اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ مہدی اہلِ ایمان
کے ساتھ دجال کے مقابلہ میں دمشق میں قلعہ بند ہوں گے اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام مسجد شام کے مینارہ سے نازل ہوں گے، پس وہ آکر دجال کو قتل کریں گے، اور مسجد میں ایسے وقت داخل ہوں گے جبکہ نماز کی اقامت ہوچکی ہوگی، مہدی کہیں گے کہ یا روح اللہ! آگے تشریف لائیے! وہ فرمائیں گے کہ اس نماز کی اقامت تو تمہارے لئے ہوئی ہے۔ مہدی آگے بڑھیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ان کی اقتدا کریں گے، یہ بتانا مقصود ہوگا کہ وہ اس امت محمدیہ میں شامل ہیں، بعد ازاں عیسیٰ علیہ السلام ہی نماز پڑھایا کریں گے۔“
(موضوعات کبیر ص: ۱۲۱ مطبوعہ مطبع محمدی لاہور)
شیخ رحمہ اللہ کی اس تصریح کے بعد مرزائی تاویلات کا کوئی ادنیٰ جواز بھی باقی رہ جاتا ہے؟
آسمان سے عیسیٰؑ کا نازل ہونا ختم نبوت کے منافی نہیں:
مرزا صاحب نے ناواقف لوگوں کے ذہن میں یہ وسوسہ بھی ڈالا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا ختم نبوت کے منافی ہے، لیکن اس کی تردید کے لئے شیخ علی قاریؒ کا ایک فقرہ کافی ہے، ”فقہ اکبر“ میں امام اعظمؒ کا ارشاد ہے:
”اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام انسانوں سے افضل ابوبکر صدیق ہیں رضی اللہ عنہ۔“
اور شیخ علی قاریؒ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
”اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم وجود میں تشریف لانے کے بعد پیدا ہوئے کیونکہ آپؐ اپنی تشریف آوری کے وقت خاتم النبیین تھے (لہٰذا آپؐ
کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا)، رہے عیسیٰ علیہ السلام! سو وہ آپؐ سے قبل عالم وجود میں تشریف لاچکے تھے، اگرچہ ان کا نزول آپؐ کے بعد ہوگا۔“
(شرح فقہ اکبر ص:۷۳)
اس تصریح سے مندرجہ ذیل امور منقح ہوگئے:
- اول:...... آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی عالم وجود میں نہیں آئے گا،
نہ تشریعی، نہ غیر تشریعی، نہ ظلی، نہ اصلی۔
- دوم:...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا اور دوبارہ آنا ختم نبوت کے
منافی نہیں کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل عالم وجود میں آچکے تھے۔
- سوم:...... احادیث متواترہ میں ”عیسیٰ“ کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔
(ازالۃ الاوہام ص:۲۳۱ طبع پنجم، شہادۃ القرآن ص:۷۱ تا ۷)
اس سے مراد اصلی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل تشریف لائے، یہ پیش گوئی کسی ”فرضی عیسیٰ“ سے متعلق نہیں جو ”الہامی حمل“ سے پیدا ہو، کیا قادیانی حضرات اس تصریح سے کوئی عبرت حاصل کریں گے؟
ختم نبوت:
مرزا صاحب نے ناواقفوں کے دل میں یہ وسوسہ بھی ڈالا ہے کہ آیت خاتم النبیین نے صرف مستقل اور تشریعی نبوت کا دروازہ بند کیا ہے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے نبوت حاصل کی جاسکتی ہے، قادیانی صاحبان امت محمدیہ میں سلسلۂ نبوت جاری ہونے پر موضوعات کبیر سے حدیث: ”لو عاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیاً.“ کے ذیل میں شیخ علی قاریؒ کی عبارت کا حوالہ دیا کرتے ہیں۔ آئیے ٹھیک اسی جگہ میں موصوف کا فیصلہ پڑھئے! مُلّا علی قاری صاحب ابن ماجہ سے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
”البتہ اس کی سند میں ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان الواسطی
ایک ضعیف راوی ہے، لیکن یہ تین طرق سے مروی ہے جو ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں، اور حق تعالیٰ کا ارشاد: ”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ .... الىٰ قولہ .... وَخَاتَمَ النَّبِيِّين.“ بھی اسی کی طرف مشیر ہے، کیونکہ یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ آپ کا کوئی صاحبزادہ زندہ نہیں رہا جو بالغ مردوں کی عمر کو پہنچتا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلب سے ہے، اس کا تقاضا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کا حامل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلاصۂ قلب ہوتا، جیسے کہا جاتا ہے کہ: ”بیٹا باپ پر ہوتا ہے۔“ اب اگر وہ زندہ رہتا اور چالیس برس کی عمر کو پہنچتا اور نبی بن جاتا تو اس سے لازم آتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین نہیں۔“
(موضوعات کبیر ص: ۶۹)
شیخ رحمہ اللہ کی اس تصریح سے مندرجہ ذیل امور واضح ہوئے:
اول:...... آیت خاتم النبیین میں ختم نبوت کا اعلان ہے اور اس کی بنیاد نفی ابوت پر رکھی گئی ہے، گویا اشارتاً بتایا گیا ہے کہ اگر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی بھیجنا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلبی اولاد کو زندہ رکھتے۔
دوم:...... ٹھیک یہی مضمون حدیث: ”لو عاش ابراهیم ...الخ.“ کا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو صاحبزادہ گرامی زندہ رہتا، کیونکہ جوہر طبعی کے لحاظ سے نبوت کی استعداد رکھتا تھا، مگر چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت مقدر نہ تھی اس لئے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی حیات بھی مقدر نہ ہوئی۔
سوم:...... شیخ علی قاریؒ تصریح فرماتے ہیں کہ صاحبزادہ کے نبی ہونے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین نہ ہونا لازم آتا تھا، کیا اس کے بعد بھی کوئی عاقل
یہ کہہ سکتا ہے کہ غیر تشریعی نبوت کا دروازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کھلا ہے؟ کتنی عجیب بات ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ”اُمّتی لقب“ کے نبی بننے سے تو ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جاتی ہے، لیکن ایک مغل بچہ کے معاذ اللہ! محمد رسول اللہ بن بیٹھنے سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی...! قادیانیوں کے ظلم وستم کی کوئی حد ہے؟
معراج جسمانی:
چونکہ مرزا صاحب کے نزدیک جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا فلسفہ کی رو سے ممتنع ہے اس لئے وہ معراج جسمانی کے منکر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ معراج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کثیف (نعوذ باللہ) کے ساتھ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک لطیف کشف تھا (ازالہ اوہام)، اس کے بارے میں شیخ علی قاریؒ کا فیصلہ حسب ذیل ہے:
”اور معراج کا واقعہ، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیداری کی حالت میں جسد اطہر کے ساتھ جانا آسمان تک اور آگے کے بلند مقامات تک جہاں اللہ تعالیٰ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لے جانا منظور تھا، حق ہے۔ یعنی متعدد طرق سے ثابت ہے، پس جس شخص نے اس خبر کو ردّ کیا اور اس کے مقتضیٰ پر ایمان نہ لایا، وہ گمراہ اور بدعتی ہے، یعنی ضلالت و بدعت کا جامع ہے، اور کتاب الخلاصہ میں ہے کہ جس نے معراج کا انکار کیا تو دیکھا جائے گا، اگر مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک جانے کا منکر ہے تو کافر ہے، اور اگر بیت المقدس سے (آسمانوں تک کے) معراج کا منکر ہو تو کافر نہیں قرار دیا جائے گا (البتہ گمراہ اور بدعتی تصور کیا جائے گا) اور وجہ اس کی یہ ہے کہ مسجد حرام سے بیت المقدس تک جانے کا واقعہ آیت سے ثابت ہے اور وہ قطعی
الدلالت ہے، اور بیت المقدس سے آسمان تک کا عروج سنت سے ثابت ہے، اور روایت و درایت کے لحاظ سے ظنی ہے۔“
قادیانی احباب انصاف فرمائیں کہ امام ابو حنیفہؒ سے لے کر شیخ علی قاریؒ تک کا عقیدہ قابل تسلیم ہے؟ یا مرزا غلام احمد قادیانی کا فلسفہ قدیمہ و جدیدہ لائق اتباع ہے؟
عالم حادث ہے، قدیم بالنوع نہیں:
ملت اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ یہ تمام کائنات حادث ہے، اس کے برعکس مرزا غلام احمد قادیانی کا نظریہ یہ ہے کہ دنیا قدیم بالنوع ہے، وہ لکھتے ہیں:
”چونکہ خدا قدیم سے خالق ہے اس لئے ہم مانتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں کہ دنیا اپنی نوع کے اعتبار سے قدیم ہے، لیکن اپنے شخص کے اعتبار سے قدیم نہیں۔“
(لیکچر لاہور ص:۳۴۹ دسمبر ۱۹۰۴ء)
اور شیخ علی قاریؒ کا فیصلہ اس سلسلہ میں یہ ہے:
”بلاشبہ عالم حادث ہے، یعنی عدم سے وجود میں آیا، پس جو شخص عالم کے قدیم ہونے کا قائل ہو وہ کافر ہے۔“
قادیانی احباب توجہ فرمائیں کہ عالم کو قدیم بالنوع ماننے والا مسلمان ہوسکتا ہے؟
مرزا غلام احمد ”اہل قبلہ“ میں شامل نہیں:
گزشتہ سطور سے واضح ہوچکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اسلام کے بہت سے مسلمہ عقائد سے انکار ہے، مثلاً ختم نبوت کی تشریح، عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا، ان کا آسمان سے نازل ہونا، معراج، ملائکہ، شیاطین، حشر جسمانی (حوادث عالم وغیرہ
وغیرہ) اور شیخ علی قاریؒ کا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص اسلام کے مسلمہ عقائد اور ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا منکر ہو وہ مسلمان نہیں، شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”پھر یہ بھی یاد رہے کہ ”اہلِ قبلہ“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ضروریاتِ دین پر متفق ہوں، مثلاً: دنیا کا حادث ہونا، حشر جسمانی، اللہ تعالیٰ کا کلیات و جزئیات کا عالم ہونا اور ان جیسے دیگر مسائل، پس جو شخص عمر بھر طاعات و عبادات کی پابندی کرے، مگر ساتھ ہی عالم کے قدیم ہونے کا عقیدہ رکھتا ہو، یا حشر جسمانی کا قائل نہ ہو، یا یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کو جزئیات کا علم نہیں، ایسا شخص ”اہلِ قبلہ“ میں سے نہیں۔ اور یہ مسئلہ کہ: ”اہلِ سنت کے نزدیک اہلِ قبلہ میں سے کسی شخص کو کافر کہنا صحیح نہیں۔“ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کو اس وقت تک کافر نہ قرار دیا جائے جب تک کہ اس میں کفر کی کوئی علامت نہ پائی جائے، اور اس سے کوئی ایسی چیز سرزد نہ ہو جس سے کفر ثابت ہو جاتا ہے (جیسا کہ مرزا قادیانی سے کفریات سرزد ہوئی ہیں)۔“
قادیانی احباب کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار تو نہیں کیا؟ اسلام کے مسلمہ عقائد میں تاویل کر کے ان کے مفہوم کو تبدیل تو نہیں کیا؟ اور موجباتِ کفر میں سے تو کوئی چیز ان میں نہیں پائی گئی؟ اسلامی عقائد کی کتابوں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار و نظریات کے غیر جانبدارانہ تقابلی مطالعہ سے صحیح راستہ واضح ہو سکتا ہے۔ واللہ الموفق !
مرزا غلام احمد زندیقوں کی صف میں:
مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن کریم اور سنت صحیحہ کے ایسے باطنی معنی بیان کئے جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ اور چودہ صدیوں کے اکابر امت نا آشنا تھے، مرزا صاحب کو اس بات پر ناز اور فخر ہے کہ ان پر وہ علوم کھلے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی معاذ اللہ! نہیں کھلے تھے، وہ لکھتے ہیں:
’’پس یہ خیال کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے بارے میں بیان فرمایا اس سے بڑھ کر ممکن نہیں، بدیہی البطلان ہے۔‘‘
(کرامات الصادقین ص:۱۹)
اسی بناء پر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشاد فرمودہ تفسیر قرآن کو کئی جگہ غلط کہا ہے، مرزا صاحب نے ’’تاویلات‘‘ کے ذریعہ قرآن کریم اور حدیث نبویؐ کے اس مفہوم کو بدل ڈالا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے آج تک مسلّم چلا آتا تھا، اسلام کی اصطلاح میں اسی کو زندقہ اور الحاد کہا جاتا ہے۔
شیخ علی قاریؒ فرماتے ہیں:
’’کتاب وسنت کے نصوص کو ان کے ظاہری مفہوم پر محمول کیا جائے گا.... اور ظاہری معنوں سے ہٹا کر کتاب وسنت کو ایسے معنی پہنانا جن کا دعویٰ ملاحدہ اور باطنیہ کرتے ہیں، یہ زندقہ ہے۔‘‘
قادیانی احباب صحت فکر کے ساتھ ان احادیث و آیات کا مطالعہ فرمائیں جن کی من مانی تشریحات مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں سپرد قلم کی ہیں، اور پھر مرزا صاحب کی ان تشریحات کا مقابلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ اور ائمہ دینؒ کی ارشاد فرمودہ تشریحات سے کریں، اور پھر خود انصاف فرمائیں کہ
مرزا صاحب کے بیان کردہ ”معنی“ خالص زندقہ اور الحاد نہیں تو اور کیا ہیں...؟
مرزا غلام احمد کاہنوں کی صف میں:
شیخ علی قاریؒ نے مستقبل کے بارے میں پیشگوئیاں کرنے والے کاہنوں کے متعلق لکھا ہے:
”کاہن جو غیب کی خبریں دیتا ہے اس کی تصدیق کرنا کفر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا آسمان و زمین میں رہنے والا کوئی شخص غیب نہیں جانتا۔“
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”جو شخص کاہن کے پاس گیا، پس اس نے جو کچھ بتایا اس کو سچا سمجھا تو اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل شدہ دین کا انکار کیا۔“
اور ”کاہن“ وہ شخص ہے جو آئندہ واقعات کی خبر دے اور معرفت اسرار کا دعویٰ کرے اور کہا گیا ہے کہ کاہن، جادوگر ہے، اور نجومی جب آئندہ زمانے کے واقعات کے علم کا دعویٰ کرے تو وہ بھی ”کاہن“ کی مثل ہے، اور اسی کے حکم میں رمال بھی داخل ہے۔
قونویؒ کہتے ہیں کہ مندرجہ بالا حدیث کاہن، عراف، نجومی سب کو شامل ہے، لہٰذا نجومی اور رمال وغیرہ مثلاً کنکریاں پھینکنے والے کی اتباع جائز نہیں۔ اور ان لوگوں کو جو اجرت دی جائے وہ بالاجماع حرام ہے، جیسا کہ بغویؒ اور قاضی عیاضؒ
وغیرہ نے نقل کیا ہے، اسی طرح جو شخص حروف تہجی کے علم (حساب جمل) کا مدعی ہو اس کے قول کی پیروی جائز نہیں کیونکہ وہ بھی کاہن کے معنی میں ہے۔“
(شرح فقہ اکبر ص: ۱۷۸)
اس تصریح سے معلوم ہوا کہ جو شخص حساب جمل کے اسرار کا مدعی ہو وہ کاہن ہے اور اس کی تصدیق کفر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے بہت سی جگہ ”حساب جمل“ سے اپنی نبوت و مسیحیت کا ثبوت پیش کیا ہے اور سورۃ والعصر کے حروف سے تو دنیا کی اول سے آخر تک پوری تاریخ ہی بتادی، (دیکھئے لیکچر لاہور ص: ۳۹، ۳؍ دسمبر ۱۹۰۴ء)۔ اسی طرح بیسیوں جگہ حروف ابجد کا حساب لگا لگا کر مسیحیت کے دلائل مہیا کئے ہیں۔ اس لئے شیخ علی قاریؒ کے بقول مرزا غلام احمد کے ”کاہن“ ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد آپ سن ہی چکے ہیں کہ: ”کاہن کی تصدیق کرنا کفر ہے۔“
مدعی نبوت مستحق قتل ہے:
شیخ رحمہ اللہ نے کاہنوں اور نجومیوں وغیرہ کے افعال و اطوار پر تفصیل سے لکھنے کے بعد کہا ہے:
”ان (پیش گوئی کرنے والوں) میں بعض لوگ قتل کے مستحق ہیں، مثلاً وہ شخص جو ان بے ہودہ خوش گپیوں کے ذریعہ نبوت کا دعویٰ کر ڈالے یا شریعت کی کسی چیز کو بدلنا چاہے، اور اس قسم کے اور لوگ.......“
مرزا غلام احمد قادیانی کا پیشگوئیوں کی بنیاد پر دعویٰ نبوت کرنا تو ہر خاص و عام کو معلوم ہے، اور دینی حقائق کے بدل ڈالنے میں بھی موصوف نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
دعویٰ نبوت بالاجماع کفر ہے:
مرزا غلام احمد صاحب کا دعویٰ نبوت محتاج ثبوت نہیں، انہوں نے اپنی نبوت کے ثبوت میں، معجزات دکھانے کا اعلان بھی کیا ہے، شیخ علی قاریؒ لکھتے ہیں:
”اور میں کہتا ہوں کہ معجزہ نمائی کا چیلنج دعویٰ نبوت کی فرع ہے، اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔“
مرزا غلام احمد کی خاص علامت:
شیخ علی قاریؒ نے جھوٹے مدعیٔ نبوت کی ایک عجیب علامت لکھی ہے کہ:
”جب بھی کسی جھوٹے نے نبوت کا دعویٰ کیا اس کی جہالت اور جھوٹ کا پول ہر ادنیٰ عقل و فہم کے آدمی کے سامنے کھل گیا۔“
قادیانی صاحبان اگر مرزا صاحب کے الہامات کی تاریخ، ان کے دعاوی کی تدریج اور ان کی تحدی آمیز پیش گوئیوں کے انجام پر بنظرِ صحیح غور فرمائیں تو یہ علامت مرزا صاحب پر ٹھیک چسپاں نظر آئے گی۔
کافر حکومت کی تعریف وتوصیف:
شیخ علی قاریؒ فرماتے ہیں:
”فتاویٰ بزازیہ میں ہے کہ جس نے ہمارے زمانے کی حکومت کو ”عادل“ کہا وہ کافر قرار دیا جائے گا، کیونکہ وہ بالیقین ”ظالم“ ہے (اور یہ ظلم کو عدل بتاتا ہے)۔“
اللہ اکبر! ایک مسلمان مگر ظالم حکومت کو عادل کہنا شیخ رحمہ اللہ کے نزدیک کفر ہے، اور ایک کافر گورنمنٹ کو خدا کا نور، ظلِ الٰہی اور رحمتِ خداوندی قرار دینے کا
کیا حکم ہوگا...؟
مرزا غلام احمد قادیانی نے صلیب پرست حکومت کی تعریف وتوصیف میں بقول خود پچاس الماریاں تصنیف کی ہیں، جس ظالم نے مسلمانوں کو ظلم واستبداد کے شکنجے میں کسا، جس نے ہزاروں اولیاء، صلحا کو تختۂ دار پر کھینچا، دار و رسن اور قید و بند کا تختۂ مشق بنایا، جس نے قرآن کریم کو جلایا، بیت اللہ پر گولیاں برسائیں، حرم مقدس کو خون شہیداں سے لالہ زار کیا، جس نے اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے ابلیسانہ حربے استعمال کئے، جس نے عالم اسلام پر جبر وتشدد کے پہاڑ توڑے، جس نے خود مرزا غلام احمد کی رپورٹ کے مطابق اسی لاکھ مسلمانوں کو عیسائی بنایا، اور جس کی ”تہذیب جدید“ نے دنیا سے ردائے انسانیت چھین لی، مرزا صاحب اس جابر وظالم اور کافر حکومت کو ”خدا کا نور“ کہتے ہیں، صرف اس لئے کہ یہ کافر حکومت قادیانی نبوت کی پاسبان وحلیف تھی، کیا اس کے کفر ہونے میں کوئی شک وشبہ باقی رہ جاتا ہے...؟؟
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۶ ش:۲۴، ۲۵)
امام مہدی اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
میرے بھائیو اور دوستو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی کے بعد فتنوں کا دور شروع ہوگیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ: ”میں تمہارے گھروں میں فتنوں کو اس طرح نازل ہوتے دیکھتا ہوں کہ جیسے بارش برستی ہے۔“ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودہ صدیاں گزر چکی ہیں، پندرہویں صدی شروع ہو چکی ہے، اب تو یہ عالم ہے کہ ایک فتنہ نہیں بلکہ ایک فتنہ سے کئی فتنے پیدا ہو رہے ہیں، نعوذ باللہ! اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے، آئیے ہم دعا کریں کہ حق تعالیٰ شانہ ان تمام فتنوں سے حفاظت فرما کر ہمیں ایمان کی سلامتی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت فرمائے۔ آمین!
حضرت مہدی علیہ الرضوان، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تشریف آوری کی خبر دی تھی، ابوداؤد میں حدیث ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف نظر فرمائی اور فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سید ہے۔“ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اور حق تعالیٰ شانہ ان کی نسل سے ایک آدمی کو
کھڑا کرے گا جو دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح سے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔“ یہ حضرت مہدی ہیں۔ رضی اللہ عنہ۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوگئیں:
ایک یہ کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان اس وقت کے حاکم بن کر آئیں گے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہے، میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے اپنے زمانہ میں کوئی ایسا آدمی سنا ہے جو کسی خطہ کا حاکم ہوا ہو اور اس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہو؟ معلوم ہوا کہ جو حاکم ہونے کے بغیر مہدی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔
- ۲:....... یہ کہ حضرت مہدیؓ، حضرت حسنؓ کی اولاد سے ہوں گے۔ باپ کی
جانب سے حسنی ہوں گے اور ماں کی جانب سے حسینی، وہ حسنی اور حسینی نجیب الطرفین ہوں گے۔ آج تک کوئی آدمی تم نے دیکھا کہ جو حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی اولاد میں سے ہو اور حکمران ہونے کا دعویٰ کرے اور یہ کہے کہ میں حضرت حسنؓ کی اولاد سے ہوں؟
- ۳:....... ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: ”مہدی میری عترت میں سے ہوگا اور فاطمہ کی اولاد میں سے ہوگا۔ میرے باپ کے مشابہ اس کے باپ کا نام ہوگا اور میرے مشابہ اس کا نام ہوگا۔ یعنی میرے نام پر اس کا نام ہوگا اور میرے باپ کے نام پر اس کے باپ کا نام ہوگا۔“ یعنی محمد بن عبداللہ ہوگا۔
مہدی کا نام محمد ہوگا، اور ان کو کہیں گے مہدی، ان کے والد ماجد کا نام ہوگا عبداللہ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد کا نام عبداللہ تھا۔
اس کے بعد ایک بات اور ارشاد فرمائی، چنانچہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ: ”ایک خلیفہ کا انتقال ہوجائے گا تو حضرت مہدی رضی اللہ عنہ
لوگوں سے روپوش ہونے کے لئے مدینہ طیبہ چھوڑ کر مکہ مکرمہ میں آجائیں گے، کیونکہ مکہ مکرمہ حرم ہے، اور یہاں کوئی کسی پر دباؤ نہیں ڈال سکتا، مگر جیسے ہی وہ مکہ مکرمہ پہنچیں گے تو طواف کے دوران لوگ انہیں پہچان لیں گے اور زبردستی ان کو پکڑ کر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعت خلافت کریں گے، جب لوگوں کو اس کی اطلاع ملے گی تو شام سے ایک جماعت ان کے مقابلہ کے لئے بھیجی جائے گی اور مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام ”بیداء“ پر اس جماعت کو غرق کر دیا جائے گا، جب ان کے غرق ہونے کا چرچا ہوگا تو شام کے ابدال اور عراق کی جماعتیں آکر حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ اور بنوکلب کے لوگ حضرت مہدیؑ کا مقابلہ کرنے کے لئے آئیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو شکست سے دوچار کریں گے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو بنوکلب کے غنیم میں شریک ہوں۔“ پورا عرب حضرت مہدیؑ کے زیرنگیں ہوجائے گا، اس کے بعد حضرت مہدیؑ عیسائیوں سے جنگ کرنے کے لئے ملک شام چلے جائیں گے اور ان سے جنگ کرتے کرتے قسطنطنیہ پہنچ جائیں گے، وہاں پر جہاد جاری ہوگا کہ اتنے میں اطلاع ملے گی کہ دجال کا ظہور ہوگیا، حضرت مہدیؑ چند آدمیوں کو اس کی تحقیق کے لئے روانہ کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کو جانتا ہوں، ان کے نام و دادا کو جانتا ہوں اور ان کی سواریوں کے رنگوں کو بھی جانتا ہوں۔“ جب یہ وہاں پہنچیں گے تو معلوم ہوگا کہ دجال کے نکلنے کی خبر صحیح نہیں تھی۔ اتنے میں دوسری خبر آئے گی کہ دجال نکل آیا اور یہ خبر سچی ہوگی۔ حضرت مہدیؑ بمع اپنے لشکر کے قسطنطنیہ سے واپس آکر دمشق میں ٹھہریں گے، دجال کی فوج حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی فوج کا محاصرہ کرے گی۔ رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”مسلمانوں کے لئے وہ اتنا مشکل وقت ہوگا کہ اس سے
پہلے مسلمانوں پر اتنا مشکل وقت نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ پناہ عطا فرمائے۔ عین اس وقت جبکہ فجر کی اقامت ہو چکی ہوگی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا منارہ شرقی پر آسمانوں سے نزول ہوگا اور وہ آواز دے کر کہیں گے کہ سیڑھی لاؤ، آسمان سے منارہ تک نیچے فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بغیر کسی سیڑھی کے پہنچے اور جب زمین پر قدم رکھا تو قرآن کے احکام جاری ہو گئے، فرمائیں گے کہ سیڑھی لاؤ، چنانچہ سیڑھی لائی جائے گی، اس سے قبل ابھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل نہیں ہوں گے کہ لوگ پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوں گے کہ اے اللہ! مدد بھیج، جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا تو آواز آئے گی: ”تمہاری فریاد پر پہنچنے والا تم تک پہنچ گیا۔“ لوگ کہیں گے کہ یہ کسی پیٹ بھرے کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ بہر کیف حضرت مہدی اقامت کے بعد مصلیٰ پر جا چکے ہوں گے اور قریب ہوگا کہ اللہ اکبر کہہ کر، تکبیر تحریمہ شروع کر کے نماز کا آغاز کریں کہ اتنے میں حضرت روح اللہ علیہ السلام زمین پر پہنچ جائیں گے، پیچھے سے لوگ کہیں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئے، حضرت مہدیؓ اپنے مصلیٰ کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ جائیں گے اور کہیں گے: ”روح اللہ! آگے بڑھئے اور نماز پڑھایئے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تھپکی دیتے ہوئے ارشاد فرمائیں گے: ”یہ نماز تم ہی پڑھاؤ کیونکہ اقامت تمہاری امامت کے لئے ہوئی ہے۔“ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس امت کے لئے ایک اعزاز ہے کہ ایک جلیل القدر پیغمبر اور روح اللہ اتر کر ایک امتی کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔ سبحان اللہ! جب رکوع سے اٹھیں گے تو جس طرح دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے اسی طرح حضرت روح اللہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کہیں گے: ”اللہ تعالیٰ دجال کو قتل کردے۔“ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: ”راستہ کھول دو۔“ لوگ جب جگہ چھوڑ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے راستہ بنائیں گے تو دجال کو پتہ چل جائے گا کہ مجھے کیفر کردار تک پہنچانے والے آگئے، وہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس طرح پگھلنا شروع ہو جائے گا جس طرح نمک پانی میں پگھلتا ہے اور بھاگ نکلے گا اور ’’باب لد‘‘ جہاں آج کل اسرائیل کا ائیر پورٹ ہے، رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’باب لد سے چند قدم کے فاصلے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو جا لیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں نیزہ ہوگا اس نیزہ سے دجال کو قتل کریں گے اور لوگوں کو دجال کا خون اپنے نیزہ پر لگا ہوا دکھائیں گے۔‘‘
یہ میں نے بہت مختصر امام مہدی علیہ الرضوان اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا واقعہ ذکر کیا ہے جو ہمارے عقیدہ کے مطابق پیش آنے والا ہے۔ اب لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ یہ تو بہت سستی کھیر ہے۔
ہمارے شیخ حضرت اقدس مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ ایک دن مہدی کا تذکرہ کر رہے تھے اور زار و قطار رو رہے تھے، فرما رہے تھے کہ اگر ہمارے زمانے میں تشریف لائے تو پتہ نہیں ہمیں اپنی فوج میں قبول کریں گے یا نہیں؟
دجال کون ہوگا؟ وہ کیا کارنامے انجام دے گا؟ اس سے پہلے کیا حالات پیش آئیں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ فرمایا تو اس قدر طویل و عریض ذکر کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین فرماتے ہیں کہ اس انداز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ فرمایا کہ ہم دروازے کی طرف دیکھنے لگے کہ کہیں دجال تو نہیں آگیا؟ دجال سے پہلے تین سال ہوں گے، پہلے سال تو دو تہائی بارش ہوگی ایک تہائی رک جائے گی، دو تہائی غلہ پیدا ہوگا اور ایک تہائی غلہ رک جائے گا۔ دوسرے سال دو تہائی بارش نہیں ہوگی ایک تہائی بارش ہوگی اور دو تہائی غلہ پیدا نہیں ہوگا صرف ایک تہائی غلہ پیدا ہوگا۔ اور تیسرے سال نہ ایک قطرہ آسمان سے بارش کا برسے گا اور نہ ایک دانہ غلہ زمین سے اگے گا، یہ ارشاد فرما کر حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کسی ضرورت کے لئے گھر تشریف لے گئے، تھوڑی دیر بعد تشریف لائے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام کے تمام مسجد میں بیٹھے رو رہے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پریشان ہونے کی زیادہ ضرورت نہیں، اگر میری زندگی میں آگیا تو میں خود نمٹ لوں گا، تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر میرے بعد آیا تو ہر مسلمان اپنی ذات کا ذمہ دار ہے اور میں سب کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔“
فرمایا:......”چالیس دن دجال زمین پر رہے گا، پہلا دن ایک سال کا، دوسرا دن ایک ماہ کا، تیسرا دن ایک ہفتہ کا اور باقی تمام دن (سینتیس دن) تمہارے دنوں جیسے ہوں گے۔“ ان تمام دنوں میں وہ زمین کے چپے چپے پر پھر جائے گا۔ سوائے تین شہروں کے ایک مکہ مکرمہ، دوسرا مدینہ طیبہ، تیسرا بیت المقدس۔ ارشاد فرمایا کہ: ”مکہ اور مدینہ کے ہر گلی کوچے پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے پہرہ دے رہے ہوں گے اور اس کو روک رہے ہوں گے، اور وہ احد پہاڑ کے پیچھے اپنا ڈیرہ لگائے گا ۔“ مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے، وہ زلزلے اتنے شدید ہوں گے کہ لوگوں کا اطمینان ختم ہو جائے گا اور کچے اور کمزور ایمان کے لوگ مدینہ منورہ سے نکل کر دجال کے ساتھ ہو جائیں گے۔
اب میں دو چار باتیں عرض کر کے اپنی بات ختم کرتا ہوں، دسویں صدی میں جونپوری کا انتقال ہوا، اس نے مہدویت کا دعویٰ کیا، جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ تو مہدی ہیں، عیسیٰ کب آئیں گے؟ تو اس نے کہا کہ عیسیٰ پیچھے آئیں گے۔ کتاب ہدیہ مہدویہ ہمارے دفتر میں موجود ہے، اس کتاب کے لکھنے پر مؤلف ہدیہ مہدویہ کے پیروکار کو قتل کیا گیا۔ یہ مہدی آج سے نہیں نکلنے شروع ہوئے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کے بعد مہدویوں کا زور شروع ہو گیا تھا۔ یہ مہدی ہے، وہ مہدی ہے، سب کھوٹے سکے تھے۔ اور ایک ہمارے زمانہ میں ہوا غلام احمد قادیانی، لا
حول ولا قوۃ الا باللہ! نعوذ باللہ! کبھی عیسیٰ، کبھی موسیٰ بنا ہے، کبھی کچھ بنا ہے، کبھی کچھ بنا اور حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ روٹی کمانے اور کھانے کا ایک ڈھنگ ہے، میں نے پہلے بھی اس کانفرنس میں کہا تھا آپ کو یاد ہوگا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا طاہر کو (جو غلام احمد کا پوتا ہے) اپنے جھوٹے ہونے کا پکا یقین ہے، لیکن وہ لقمہ حرام جو منہ میں لگا ہوا ہے وہ نہیں اترتا، ورنہ یہ توبہ کر لیتا اور میں آج بھی اس کو کہتا ہوں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اندھیرے میں نہیں ہیں، ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک بات بتادی ہے، ایک ایک نقطہ واضح کر کے بتا دیا ہے اس لئے ہمیں تو کانے دجال کی ابھی فکر پڑی ہوئی ہے، وہ بھی آنے والا ہے، تم تو بھول جاؤ گے، تیرا دادا بھی کانا دجال تھا۔
آج کے زمانہ میں ایک اور فتنہ کھڑا ہوا گوہر شاہی کا، اللہ تعالیٰ کی شان ہے! گوہر شاہی کا عقیدہ کیا ہے؟ اگر تفصیل سے بیان کروں تو وقت نہیں، ایک بات بتا دیتا ہوں، وہ کہتا ہے کہ میں مہدی ہوں، بس مجھ کو مان لو چاہے سکھ رہو، یہودی رہو، کچھ رہو مگر مجھے مان لو۔ معلوم ہوتا ہے کہ صرف روٹی کا چکر ہے، کہتا ہے کہ چاند پر میری تصویر نظر آتی ہے، حالانکہ کسی حدیث شریف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ چاند پر تصویر نظر آئے گی۔ اس کا نام ہے ریاض احمد گوہر شاہی اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کا نام ہوگا محمد بن عبداللہ۔ اور یہ جو نویں صدی میں محمد جونپوری ہوا، اس کو لوگوں نے اس لئے جھوٹا قرار دیا کہ بقول ان کے اس کا سلسلہ نسب حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت مہدی حسنی ہوں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج:۱۷ ش:۱۰)
مرزا صاحب کی سبز قدمی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جناب محترم سید ناصر محمود صاحب! السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین جناب کا نامۂ کرم موجب منت ہوا‘ میں ممنون ہوں کہ میرے ایک مضمون ”کراچی کے حالات اور ہماری سنگدلی“ کا کم سے کم ایک فقرہ جناب کے لئے جاذب توجہ ہوا کہ ”اب امت کے غم میں کوئی رونے والا بھی نہیں رہا“ اور پھر جناب نے میرے درد کے مداوا اور میرے زخم دل پر مرہم رکھنے کے لئے از راہ ہمدردی یہ انکشاف فرمایا کہ ایک ایسا وجود مسعود موجود ہے اور وہ ہے مرزا طاہر احمد۔ آنجناب کی اس عنایت و نوازش کا شکریہ‘ تاہم مزید عنایت ہوگی اگر آپ مرزا صاحب سے درخواست کریں کہ خدارا وہ اس امت کے حال پر رحم فرمائیں اور اس کے لئے دعا کرنا ترک فرمادیں‘ کیونکہ موصوف کی دعاؤں کا اثر اس شعر کا مصداق ہے:
آخر تو دشمنی ہے دعا کو اثر کے ساتھ
آپ کے ممدوح مرزا صاحب جتنی دعائے خیر فرماتے ہیں‘ اس کا اتنا ہی الٹا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ ان کا بڑا کرم ہوگا‘ اگر وہ امت کو ان دعاؤں سے محروم رکھیں جن کا اثر مسعود کے بجائے مشئوم ظاہر ہو رہا ہے۔ دراصل یہ ان کے جد بزرگوار مرزا غلام احمد قادیانی کی سبز قدمی کا نتیجہ ہے‘ جب سے مسیحا اور ظلی نبی کا روپ دھار کر انہوں نے امت کی مسیحائی کا کاغذی پھریرا اڑانا شروع کیا امت‘ اغیار کی سازشوں کے پنجے میں جکڑتی چلی گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کے زمانے میں:
”سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے اور صرف اسلام رہ جائے گا‘ اور شیر اونٹوں کے ساتھ اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے‘ اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہیں دیں گے‘ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) چالیس سال رہیں گے اور پھر فوت ہو جائیں گے‘ اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔“
(حقیقة النبوة ص: ۱۹۲)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی میں نے آپ کے مرزا طاہر احمد کے والد بزرگوار مرزا محمود صاحب کی کتاب ”حقیقتہ النبوۃ“ سے نقل کی ہے یہ حال تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے زمانے کا بیان فرمایا اب اس فرمودۂ نبویؐ کے آئینہ میں قادیان کے کاغذی مسیح مرزا غلام احمد کی شکل دیکھئے ساڑھے سترہ سال تو وہ دعوائے مسیحیت کے بعد زندہ رہے اور امت کی مسیحائی کی کاغذی پتنگ اڑاتے رہے آج ان کو قادیان کی ڈھاب کے کنارے دفن ہوئے بھی پورے ۸۳ برس ہو چکے ہیں مگر ان کی مسیحیت کا الٹا کرشمہ ظاہر ہورہا ہے کہ اس پوری صدی میں اہل باطل کو ترقی ہے اور دین اسلام کمزور، یہی حال آپ کے مرزا طاہر کی دعاؤں کا ہے، دراصل آپ کی مشکل یہ ہے کہ آپ نے قادیان کے خانوادۂ مسیحیت سے باہر نکل کر کسی بندۂ خدا کو دیکھا ہی نہیں، اس لئے آپ کو ایک ہی وجود مسعود نظر آرہا ہے:
اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے
جناب محترم! آپ نے اپنے نام کے ساتھ ”سید“ لکھا ہے اور میرے لئے میرے محبوب ﷺ (میری جان اور میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں) کی آل اولاد لائق صد احترام ہے۔ کیا آنجناب نے کبھی اپنے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک ارشادات کو مسیح قادیان مرزا غلام احمد قادیانی پر منطبق کرنے کی زحمت فرمائی ہے؟ مثلاً آنحضرت ﷺ کا یہی ارشاد جس کا اقتباس میں نے اوپر نقل کیا ہے، اس کا ایک حرف بھی قادیانی مسیح پر صادق آتا ہے؟ کیا قادیانی مسیح کے زمانہ میں اسلام کے سوا باقی سب مذاہب دنیا سے مٹ گئے؟ نہیں! کیا انسانوں اور جانوروں کے دلوں سے عداوت نکل گئی؟ نہیں! کیا قادیانی مسیح عیسیٰ بن مریم تھا؟ نہیں! یقین نہ آئے تو ازالۃ الاوہام ص: ۱۹۰ میں مرزا قادیانی کے یہ الفاظ پڑھ لیجئے:
”اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں ...... میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص: ۱۹۰، روحانی خزائن ج ۳ ص: ۱۹۲)
کیا قادیانی مسیح، مسیحیت کا دعویٰ کرنے کے بعد چالیس سال زندہ رہا تھا؟ نہیں! (کیونکہ اس نے ۱۸۹۱ء میں مسیحیت کا دعویٰ کیا اور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو چل بسا، مدت قیام: ۱۷ سال، چار ماہ ۲۵ دن) کیا مسلمانوں نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی تھی؟ نہیں!
سید صاحب! اگر آپ واقعی سید ہیں، آلِ رسولؐ ہیں تو انصاف فرمائیے کہ آپ کے نانا ﷺ حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں کیا پیش گوئی فرماتے ہیں؟ اور قادیان کے کاغذی مسیح کا ناک نقشہ آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی سے کتنا مختلف ہے؟ اور یہ ایک ارشاد نبویؐ کے آئینہ میں قادیانی مسیح کی شکل ہے۔ ورنہ آنحضرت ﷺ کے بہت سے متواتر ارشادات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ
السلام کی ایک علامت بھی قادیانی مسیح پر صادق نہیں آتی‘ اس کا ایک نمونہ میں نے اپنے رسالہ ”شناخت“ میں ذکر کر دیا ہے۔
سید صاحب! آپ نے اپنے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا ہوگا: ”من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعده من النار“ (جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے) ادھر قادیان کا کاغذی مسیح بار بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتا تھا‘ اس ناکارہ نے اپنے ایک مضمون میں‘ جو بعد میں ”چوہدری سرظفر اللہ خان کو دعوت اسلام“ کے نام سے شائع ہوا‘ مرزا قادیانی کے افترا علی اللہ‘ افترا علی الرسولؐ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر افترا کی دس دس مثالیں ذکر کر دی ہیں‘ انصاف فرمائیے کہ ایسا مفتری مسیح موعود ہو سکتا ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں!!
سید صاحب! جب افہام و تفہیم اور مباحثہ و مناظرہ کے ذریعہ بھی دو فریقوں کے درمیان فیصلہ نہ ہو سکے کہ ان میں کون حق پر ہے اور کون باطل پر؟ کون سچا ہے اور کون جھوٹا؟ تو آخری فیصلے کے لئے حق تعالیٰ شانہٗ کی عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے‘ جس کا نام مباہلہ ہے‘ مرزا قادیانی کے متعدد مباہلے ہوئے اور ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ کی عدالت نے مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کیا‘ اس ناکارہ نے ان کی تفصیل اپنے رسائل ”مرزا طاہر احمد کے جواب میں“ اور ”مرزا طاہر پر آخری اتمام حجت“ میں ذکر کر دی ہے‘ اور اپنے ایک چھوٹے سے رسالے میں جس کا نام ”قادیانی فیصلہ“ ہے‘ ان امور کا خلاصہ درج کر دیا ہے‘ کاش! آپ کی جماعت کے احباب حق طلبی و انصاف پسندی کے ساتھ ان رسائل کا مطالعہ کر لیتے تو بعید نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر حق کھول دیتے۔
سید صاحب! کیا آپ کو معلوم ہے کہ مرزا قادیانی کا مولانا عبدالحق غزنوی کے ساتھ مباہلہ ہوا تھا؟ اور یہ مباہلہ اس نکتہ پر تھا کہ مرزا قادیانی مسلمان ہے یا کافر و مرتد اور ملحد و زندیق؟ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ مرزا قادیانی نے خود یہ اصول بیان کیا تھا کہ ”مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے“ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم کے ساتھ مباہلہ کرنے کے بعد ۲۶/مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا قادیانی‘ مولانا مرحوم کی زندگی میں ہلاک ہو گیا‘ اور مولانا مرحومؒ مرزا قادیانی کی ہلاکت کے ۹ سال بعد تک بخیرو عافیت زندہ رہے۔ اس خدائی فیصلہ کے بعد انصاف فرمائیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹا‘ کافر و مرتد اور ملحد و زندیق ہونے میں کیا شبہ رہا؟
اسی طرح مرزا قادیانی کے ایک چیلے حافظ محمد یوسف کا مولانا عبدالحق مرحوم کے ساتھ مباہلہ ہوا‘ اس مباہلہ میں بھی یہی نکتہ زیر بحث تھا کہ مرزا قادیانی اور اس کے دو بڑے چیلے‘ حکیم نور دین اور محمد احسن امروہی مسلمان ہیں یا دجال و کذاب اور مرتد؟ مرزا نے اپنے مرید حافظ محمد یوسف کی تحسین کی اور مباہلہ کی ذمہ داری کو بڑی شد و مد سے قبول کر لیا‘ اس مباہلہ کے نتیجہ میں حافظ محمد یوسف صاحب مرزائیت سے توبہ کر کے مسلمان ہو گئے‘ اور ساحران فرعون کی طرح ”آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ“ پکار اٹھے‘ دادِ انصاف دیجئے کہ حافظ صاحب موصوف کا مولانا غزنویؒ کے قدموں میں آگرنا مرزا قادیانی اور انہی کے
چیلوں کے دجال وکذاب اور مرتد ہونے کا خدائی اعلان تھا یا نہیں؟
سید صاحب! مرزا قادیانی کا دجال و کذاب اور مرتد ہونا آفتاب نصف النہار سے زیادہ روشن ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب مقدس قرآن کریم کی رُو سے بھی‘ آپ کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ ابی وامی وروحی وجسدی) کی فیصلوں کی رو سے بھی‘ مرزا کی تعلیمات کفریہ کی رو سے بھی‘ اور آخر میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کی رو سے بھی‘ اور خود مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے قول واقرار کی رو سے بھی‘ اس لئے یہ ناکارہ نہایت اخلاص کے ساتھ آپ ہی کے الفاظ مستعار لے کر عرض پرداز ہے کہ: ”ہم آپ کے حقیقی ہمدرد اور خیر خواہ ہیں‘ کاش! آپ کی آنکھیں کھلیں اور آپ (قرآن کریم‘ ارشادات نبویہؐ اور خدائی فیصلوں کے) اس نور کو پہچان لیں‘ جو آپ کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانے کے لئے آسمان سے اترا ہے۔“
آپ نے مرزا طاہر احمد صاحب کے حوالے سے چند باتیں ایسی لکھی ہیں جو اس ناکارہ کی نظر میں حقائق کے خلاف ہیں‘ مگر میں ان پر گفتگو کر کے بے ضرورت اس عریضہ کو طویل نہیں کرنا چاہتا‘ اس لئے اس باب میں جناب کو معذور سمجھتا ہوں‘ اور ”حبک الشیٔ یعمی ویصم“ پر محمول کرتا ہوں۔ میں آپ کی توجہ صرف اس نکتہ پر مرکوز کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا طاہر احمد کا دادا مرزا غلام احمد قادیانی واقعتاً مسیح موعود تھا یا اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہ مفتری و دجال اور مفسد و کذاب تھا؟ اوپر کی تحریر سے آپ یہ فیصلہ آسانی سے کرسکیں گے اور آپ کی مزید رہنمائی کے لئے مرزا قادیانی کے مجموعہ اشتہارات جلد ۳ ص: ۵۷۸‘ ۵۷۹ سے درج ذیل اقتباس نقل کرتا ہوں:
محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کردے۔ (آمین)۔“
مرزا قادیانی نے نہایت تضرع اور ابتہال کے ساتھ جو دعا بارگاہ رب العزت میں کی اُس بصیر وعلیم اور قدیر خبیر نے اس کو شرف قبول بخشا اور مولانا ثناء اللہ مرحوم کی زندگی میں ہلاک کر کے فیصلہ فرمادیا کہ مرزا اللہ تعالیٰ کی نظر میں کون تھا؟ مسیح موعود تھا یا مفسد و کذاب؟ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مرنے سے پہلے حقیقت آشنا کردے اور قیامت کے دن کی ذلت و رسوائی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سبحان ربک رب العزت عما یصفون‘ و سلام علی المرسلین‘ و الحمد للہ رب العالمین
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گناہگار امتی : محمد یوسف عفا اللہ عنہ
۲۷/۱۲/۱۴۱۵ھ