بياد
امام المجاہدین: حضرت علامہ محمد فضل حق خیر آبادی
مجاہد تحریک آزادی: حضرت مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی
مجاہد اعظم: حضرت مولانا سید کفایت علی کافی
عارفِ کامل: حضرت مولانا مخدوم دستگیر قصوری
سیفِ بے نیام: حضرت مولانا فضل احمد لدھیانوی
مجددِ دین وملت: حضرت سیدنا امام احمد رضا خان بریلوی
قاطعِ مرزائیت: حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی
زبدۃ الاصفیاء: حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی
امیرِ ملت: حضرت پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری
شیخ الاسلام: حضرت علامہ انوار اللہ خان چشتی
مجاہدِ اسلام: حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی
سبحانِ زمان: حضرت علامہ محمد حسن فیضی
مناظرِ اسلام: حضرت مولانا نواب الدین رمداسی
محدث اعظم پاکستان: حضرت مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری
مجاہدِ ختم نبوت: حضرت مولانا سید محمد الیاس برنی
فاتحِ مرزائیت: حضرت مولانا محمد کرم الدین دبیر
قائد تحریکِ ختمِ نبوت: حضرت مولانا ابو الحسنات قادری
حافظ الحدیث: حضرت پیر سید جلال الدین شاہ
شاعرِ مشرق: حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال
عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: حضرت غازی عِلم الدین شہید
قائد تحریکِ پاکستان: حضرت علامہ سید عبد الحامد قادری بدایونی
قائدِ اہلِ سُنّت: حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی
غزالیِ زمان: حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی
مجاہدِ ملت: حضرت علامہ عبد الستار خان نیازی
شارحِ بخاری: حضرت علامہ سید محمود احمد رضوی
مفتی اعظم پاکستان: حضرت مولانا مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی
غازیِ اسلام: حضرت مولانا سید خلیل احمد قادری
مجاہد تحریکِ ختمِ نبوت: حضرت مولانا صوفی ایاز خان نیازی
سرمایہِ سُنت: حضرت غازی عامر چیمہ شہید
مجاہدِ اہلِ سُنّت: حضرت علامہ مفتی محمد امین قادری رَحْمَۃُ اللّٰهِ تَعَالٰی عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ
فدایانِ ختمِ نبوت
پاکستان کا ترجمان
العاقب
نگران
شیخ الحدیث مُحِیّ السّنّۃ علامہ حافظ
خَادِم حُسَين رِضْوِي
خطیبِ پاکستان
خلیفۂ مجازِ آستانہ عالیہ
جَان مُحَمَّد قَادِری
مدير
محمد وحید نور
مجلسِ نظم
ظہیر عباس
حافظ محمد فرحان
جلد
شمارہ
10
12
2
شوال تا ذی الحجۃ ١٤٣٠ھ
اکتوبر تا دسمبر 2009ء
قیمت 60 روپے
سالانہ 240 روپے
خط و کتابت: جامع مسجد رحمۃ للعالمین مدینہ کالونی، ملتان روڈ، لاہور۔
0321
4370406
فہرست
4 اداریہ مدیر
8 حضرت بایزید بسطامیؒ اور پانچ سو راہب ڈاکٹر عبدالقدیر خان
15 اسلام کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی مولانا خوشتر نورانی علیگ
35 جہاد عبدالمجید فیضی
37 مسئلہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں سید طفیل حسین کاظمی
48 برصغیر میں فتنہ انکارِ ختمِ نبوت پیر محمد تبسم اویسی
52 عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس جنرل (ر) حمید گل
54 شوکت ختم رسالت ﷺ پروفیسر محمد اکرم رضا
55 ناموس رسالت ﷺ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
59 گستاخ رسول کی شرعی حیثیت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی
69 گستاخی رسول پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے
78 آئین پاکستان میں قانون توہین رسالت کیا؟
79 تحفظ ناموس رسالت ایک منزل بہ منزل
84 پاکستان میں قانون توہین رسالت کے اجراء کا اجمالی جائزہ
92 قانون تحفظ ناموس رسالت کی ضرورت واہمیت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی
106 یورپ اور قانون توہین انبیاء علیہم السلام
117 قادیانیت مرزائیت مشاہیر کی نظر میں
134 محافظ قادیانی موومنٹ (MQM) کے قائد الطاف حسین محمد وحید نور
155 قانون توہین رسالت پر اعتراضات کیوں؟
170 سکندر مرزا کی قبر پر شاپنگ سنٹر احمد شکیل میاں
173 سید الشہداء امام حسین ؓ داتا گنج بخشؒ امام احمد رضا خاں بریلوی مولانا
نوائے وقت
106 یورپ اور قانون توہین انبیاء علیہم السلام
112 زندہ نہ رہے دہر میں گستاخ کوئی سید عارف محمود بھچروی
113 قادیانیت کا اصل چہرہ مجید نظامی
117 قادیانیت مرزائیت مشاہیر کی نظر میں
124 منقبت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مولانا حسن رضا خاں بریلوی
125 اقبال اور قادیانیت میر شکیل الرحمن
134 محافظ قادیانی موومنٹ (MQM) کے قائد الطاف حسین؟ محمد وحید نور
141 الطاف بھائی مرد بچے بنیے! توبہ کیجیے علی خان
146 الطاف حسین اور سلمان تاثیر کی لغویات ماہرین قانون کی نظر میں
155 قانون توہین رسالت پر اعتراضات کیوں؟
160 اہم خبروں پر نظر
169 وہ لیڈر کون ہوتے ہیں؟ محمد یعقوب طاہر
170 سکندر مرزا کی قبر پر شاپنگ سنٹر احمد شکیل میاں
176 قادیانی رہنما کو حج کوٹے کا اجراء
177 اسرائیلی حکومت قادیانیوں کی پشت پناہ
179 سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ امام احمد رضا خاں بریلوی
180 دارالافتاء مولانا محمد الیاس عطار قادری
182 پیر سید مظہر قیوم مشہدی کا وصال پُر ملال
183 اسلامی کیلنڈر کی ضرورت و اہمیت حافظ سید عزیز الرحمن
192 بزم اطفال مدیر
نوٹ: مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا اتفاق ضروری نہیں۔
العاقب اداریہ بسم اللہ الرحمن الرحیم
اداریہ
قانون تحفظ ناموس رسالت کے خلاف سازشیں
قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے گوجرہ‘ سمبڑیال اور ڈسکہ کے واقعات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ان واقعات کے پس پردہ محرکات جاننے کی بجائے ایک طے شدہ منصوبہ کے تحت تحفظ ناموس رسالت ایکٹ کے خلاف یلغار کر دی گئی ہے۔ حیرت ہے کہ پہلے تو اس ایکٹ کو ختم کرنے کے لیے قادیانیوں کی طرف سے مطالبہ کیا جاتا تھا لیکن اس مرتبہ یہ مطالبہ عیسائیوں کی طرف سے ہورہا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ”آج تک پاکستان میں توہین رسالت کے ایک بھی ملزم کو اس قانون کے تحت پھانسی نہیں دی گئی“۔ اس حقیقت کے باوجود تحفظ ناموس رسالت ﷺ ایکٹ کے خلاف واویلا کسی سازش کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔ ایسی ہی ایک سازش کا ذکر روزنامہ جنگ کے کالم نگار جناب انور غازی نے کیا ہے۔ یہاں اس کا خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے۔
اس سازش کا مرکزی کردار سابق امریکی سفیر ”نینسی جے پال“ (16اگست 2002ء تا 5 نومبر 2004ء) ہیں۔ پاکستان میں ان کی تعیناتی کے وقت انہیں تین خصوصی اہداف دیے گئے تھے۔ ❶ نصاب تعلیم میں تبدیلی ❷ حدود آرڈیننس کا خاتمہ یا غیر موثر کرنا ❸ تحفظ ناموس رسالت ﷺ ایکٹ کو ختم کرنا یا غیر موثر کرنا۔
- ❶ 2003ء سے 2004ء کے درمیانی عرصے میں نصاب تعلیم میں تبدیلی کر دی گئی اور تقریباً 4 ارب روپے
وصول کر لیے گئے۔ 5 فروری 2005ء کو جارج ڈبلیو بش نے فاتحانہ انداز میں کہا کہ ”پاکستان کا نصاب تعلیم میرے کہنے پر تبدیل کیا گیا“۔
- ❷ 2005ء تا 2006ء کی ٹرم میں حدود آرڈیننس کے خلاف بھر پور میڈیا مہم چلوائی گئی۔ مختلف پرنٹ
ندائے ممبر سے
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
اداریہ العافیہ
الیکٹرانک میڈیا پر پیسہ بہایا گیا اور اپنی زبان ان کے منہ میں دے دی گئی۔ زنا بالجبر و زنا بالرضا ایسے نازک اور شرم وحیا والے مسائل پر فری سٹائل گفتگو کروائی گئی۔ میڈیا کی کرشمہ سازی کی بدولت یوں محسوس ہونا شروع ہو گیا تھا کہ پاکستان میں حدود آرڈیننس سے زیادہ اہم اور فوری حل طلب کوئی اور مسئلہ نہیں۔ قرآن کریم کی مقرر کردہ سزاؤں کو ”ظالمانہ سزائیں“ قرار دیا گیا۔ چنانچہ اب فحاشی وعریانی عام، نکاح مشکل اور زنا آسان ہو گیا ہے۔ یہ تھا پاکستان میں مادر پدر آزاد معاشرے کی جانب بڑھتا ہوا دوسرا قدم۔ اس دوران حکمران جماعت کے جنرل سیکرٹری سید مشاہد حسین نے برسلز میں یہ شاہی فرمان سنا دیا کہ ”اب اگلا ہدف قانون توہین رسالت ﷺ کا خاتمہ ہے“۔
- ❸ 2007ء تا 2008ء کی ٹرم میں مشرف حکومت نے قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کو ختم کرنے کا
ٹھیکہ لیا تھا کہ مارچ 2007ء میں اس کا اپنا تخت ہلنا شروع ہو گیا۔ اب یہی ذمہ داری موجودہ حکومت کو 2009ء تا 2012ء تک کے عرصے میں سونپی گئی ہے۔ موجودہ حکومت نے رواں برس اس معاملے پر کچھ سرگرمی دکھائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی حیثیت سے آگاہ کر دیا۔
اب بظاہر اس منصوبے پر عمل درآمد سرد خانے میں چلا گیا ہے لیکن حکمرانوں کی اداؤں سے لگ رہا ہے کہ یہ قانون ریویو (نظر ثانی) کے نام سے آناً فاناً پیش ہوگا اور غیر معینہ مدت کے لیے غیر موثر ہو جائے گا“۔
قانون تحفظ ناموس رسالت کے اندرونی و بیرونی دشمن کیا بتا سکتے ہیں کہ تحریر و تقریر کے عالمی چیمپیئن عیسائی ممالک بشمول امریکہ و یورپ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی اہانت قانوناً جرم کیوں ہے؟ اسرائیل میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی اہانت جرم کیوں ہے؟ ایران میں آئمہ اور دیگر بزرگ ہستیوں کی توہین جرم کیوں ہے؟ برطانیہ میں تو 1860ء سے توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بچاؤ کے لیے قانون رائج ہے لیکن آج تک حکومت برطانیہ نے اس میں ترمیم کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی انگلینڈ کی آزاد این جی اوز نے اس کے خلاف آواز بلند کی ہے۔
پاکستان میں اگر بانی پاکستان کی گستاخی کی سزا 3 سال ہے تو توہین رسالت کی سزا ”موت“ مقرر ہونے پر کیا اعتراض ہے؟ اگر پاکستان کا قومی پرچم جلانے پر قید اور سزائے موت مقرر ہے تو قرآن کریم کو شہید کرنے والے کے لیے سزائے موت کیوں درست نہیں ہے؟ اگر کسی دنیاوی عدالت یا جج کی توہین کرنے والے شخص کے خلاف مقدمہ دائر ہو سکتا ہے تو باعث تخلیق کائنات آقا کریم ﷺ اور ان پر نازل شدہ کتاب عظیم قرآن کریم کے تقدس کے پیش نظر توہین کرنے والے شخص کے خلاف مقدمہ درج ہونے میں کیا امر مانع ہے؟
ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے مخالف دین بیزار طبقے کو سزائے موت پر
ختم نبوت بقاء کائنات ہی غیرت مسلم سے ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اداریہ
اعتراض ہے یا نبی کریم ﷺ کی ناموس کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قانون سے چڑ ہے۔ انسانی حقوق کے ان نام نہاد علمبرداروں نے تعزیرات پاکستان کے تحت سزائے موت کے قانون پر واویلا نہیں کیا تو پھر توہین رسالت ایکٹ پر انہیں کیا عارضہ لاحق ہے؟ کیا یہ علمبردار گستاخان رسول کو نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی یا توہین کرنے کے لیے بلینک چیک یا کھلی چھٹی دینا چاہتے ہیں؟
جب آئین اور قانون و انصاف کے تقاضے پورے نہ کیے جائیں تو غازیان اسلام ہی گستاخان رسالت کو واصل جہنم کرتے ہیں۔ جہاں راجپال، سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین، ریاض احمد گوہر شاہی اور یوسف کذاب ایسے جنگلی سانڈ نکلیں گے وہیں غازی علم الدین شہید، غازی مرید حسین، غازی مالک اور غازی عامر چیمہ شہید ایسے غیور مسلم سپوت ہی میدان میں آئیں گے۔ آج بھی مسلمان مائیں ایسے غیور سپوت پیدا کرنے سے بانجھ نہیں ہوئیں لہٰذا گستاخان رسالت کو کنٹرول کرنے کے لیے حدود و قیود لازمی ہیں اور آئین یہی حدود و قیود فراہم کرتا ہے۔ اس لیے بہتر بلکہ بہترین یہی ہے کہ ملک عزیز پاکستان میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ ایکٹ نہ صرف قائم رہے بلکہ پہلے سے زیادہ موثر انداز میں اس پر عمل بھی ہو۔
”بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے“
صاحبزادہ عطاء رسول مہاروی زندہ باد
16 نومبر 2009ء بروز پیر ”دی یونیورسٹی آف فیصل آباد“ (سابقہ مدینہ یونیورسٹی) میں 08-2004 سیشن میں ٹیکسٹائل انجینئرنگ سے فارغ ہونے والے عطاء رسول مہاروی کو تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر میڈل لینے کے لیے کانووکیشن سنٹر میں اسٹیج پر بلایا گیا تو حیران کن واقعہ رونما ہوا۔ مہمان خصوصی گورنر پنجاب سلمان تاثیر میڈل ہاتھ میں لیے انتظار کرتے رہے اور عطاء رسول مہاروی، غازی عامر چیمہ شہید کے روحانی ترجمان کا کردار ادا کرتے ہوئے قانون توہین رسالت کے باغی گورنر سے میڈل وصول کیے بغیر باوقار انداز میں اس کے سامنے سے گزر گئے۔ گورنر پنجاب ہکے بکے عاشق رسول ﷺ کی اس جرأت رندانہ پر سکتے میں آگئے۔
4 جولائی 1984ء کو چشتیاں ضلع بہاولنگر کے قریب مہار شریف کے باسی صاحبزادہ غلام رسول مہاروی کے گھر پیدا ہونے والے صاحبزادہ عطاء رسول مہاروی اس واقعہ کے متعلق کہتے ہیں کہ ”جیسا کہ نام سے ظاہر ہے مجھ پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا خصوصی فضل و کرم ہے۔ تونسہ شریف کے مذہبی پیشوا حضرت خواجہ سلیمان تونسوی کے پیرو مرشد حضرت پیر خواجہ نور محمد مہاروی میرے آباؤ اجداد میں سے ہیں۔ خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ کی ساتویں پشت میں سے
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے ختم نبوت
العاقب اداریہ
میں (عطاء رسول) ایک انجینئر بھی ہوں اور اپنے دین وایمان کا سچا محافظ بھی۔ میں نے اس وجہ سے گورنر کے ہاتھوں میڈل وصول کرنے سے انکار کیا کہ گورنر پنجاب نے اپنے بیانات میں توہین رسالت ایکٹ کو ظالمانہ قرار دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کا ایک سچا عاشق کس طرح ایسے شخص سے میڈل وصول کر سکتا ہے جو نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کو سزا دینا ظلم کہتا ہو۔
مجھے یونیورسٹی کی طرف سے میڈل وصول کرنے کا دعوت نامہ پہنچا تھا اور ایک روز قبل یونیورسٹی پہنچنے کا کہا گیا تھا۔ جس پر میں اتوار کی شب یونیورسٹی کیمپس میں پہنچ گیا۔ جب سونے کے لیے بستر پر لیٹا تو یہ خیال آیا کہ میں اس شخص سے میڈل وصول کروں گا جو توہین رسالت ایکٹ کو ظالمانہ قانون اور قادیانیوں کو مظلوم سمجھتے ہوئے مذہب کے مقابلے میں سیکولرازم کا حامی ہے۔ ساری رات سوتے جاگتے یہی سوچتے گزری اور صبح میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں نے اپنے دین، نبی ﷺ اور بزرگوں کی لاج رکھنی ہے اور ایسے شخص سے کبھی انعام وصول نہیں کرنا۔
اگلے روز جب میرا نام پکارا گیا تو گورنر میڈل ہاتھ میں لیے کھڑے تھے اور میرے خیال میں اس سے زیادہ مہذب احتجاج اور کسی شخص کو اس کی اہمیت کا احساس دلانے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں تھا کہ ان کو نظر انداز کرتے ہوئے میڈل وصول نہ کر کے انہیں احساس دلایا جائے۔ لہذا میں نے اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈل وصول نہ کیا جس پر وہاں موجود لوگوں کو میں نے بتایا کہ میں توہین رسالت ایکٹ کے مخالف کسی بھی شخص سے اپنا انعام وصول کرنا مناسب نہیں سمجھتا اور اس قانون کے مخالف کو بھی توہین رسالت کا مرتکب سمجھتا ہوں"۔
حضرت امیر مرکزیہ رو بصحت
تمام احباب کو یہ جان کر دلی مسرت ہوگی کہ اللہ رب العزت اور اس کے حبیب ﷺ کے طفیل فدایان ختم نبوت پاکستان کے مرکزی امیر، شیخ الحدیث حضرت علامہ حافظ خادم حسین رضوی دامت برکاتہم بلحاظ صحت بہت بہتر ہیں۔ مولیٰ کریم کا کرم اور نبی کریم ﷺ کی نظر عنایت یوں ہی شامل حال رہی تو دو ایک ماہ تک حضرت شیخ الحدیث اپنے معمولات کچھ حد تک جاری فرمالیں گے۔ احباب اور کرم فرماؤں سے دعائیں جاری رکھنے کی درخواست ہے۔
ختم نبوت بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔
العقاب حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ
حضرت بایزید بسطامی اور پانچ سو راہب
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
عالم اسلام کے قابل فخر سپوت ڈاکٹر عبدالقدیر خاں 1936ء کو بھوپال (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ آپ عظیم مسلم فاتح سلطان شہاب الدین غوری کی اولاد میں سے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے 1977ء سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں اپنی صلاحیتوں کو یوں استعمال کیا کہ 1998ء میں بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 6 ایٹمی دھماکے کر کے ہندو بنیے کو لگام دے دی اور دنیا بھر کے یہود و ہنود کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ ڈاکٹر خان کی اس جرأت و بیباکی پر نام نہاد عالمی امن کے ٹھیکیداروں نے ان کے گرد جال پھینکنا شروع کیا اور اپنے مہرے پرویز مشرف کے ذریعے ڈاکٹر خاں کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے الگ کر دیا گیا۔ محسن فراموشی کی اس سے بدترین مثال پاکستانی تاریخ میں شاید ہی ملتی ہو۔ ہمارے پڑوسی ملک میں ایٹمی پروگرام کے معمار کو منصب صدارت پر فائز کیا گیا اور یہاں پاکستان میں ایٹمی پروگرام کے معمار کو ناکردہ گناہوں کی سزا دیتے ہوئے ”مجرم“ بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر خاں کا جرم ایٹمی رازوں کی منتقلی نہیں بلکہ پاکستان ایسے ترقی پذیر اور مفلوک الحال ملک کو ایٹمی طاقت بنانا ہے۔ عالمی صہیونی طاقتوں کو ڈاکٹر خاں جیسا محب وطن نہیں بلکہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی اور منیر احمد خاں قادیانی جیسا وطن فروش چاہیے تھا جو پاکستان میں بیٹھ کر یہود و ہنود کی ایجنٹی کرتا۔ ڈاکٹر خاں پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور پاکستان کا دشمن مرزائی / قادیانی طبقہ ہی ہے جس نے آج تک ملک عزیز پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور پاکستان کے خلاف سازشوں کا ماسٹر مائنڈ رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں نہ صرف مختلف شکل و صورت میں پیدا کیا ہے بلکہ ہمارا کردار بھی ایک دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔ اسی طرح ہمارا ذوق ادب بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ میں اپنے بارے میں یہ عرض کروں گا کہ مجھے طالب علمی کے زمانہ سے ہی اسلامی تاریخ، اردو ادب اور مشہور لوگوں کی سوانح حیات پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ بہت سی کتابیں میری پسندیدہ ہیں اور آج بھی ان کی ورق گردانی کر کے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ تمام پرانے شعراء
ختم نبوت بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاشق حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ
کے کلام کا مطالعہ محبوب مشغلہ ہے۔ قرآن کریم‘ سیرت النبی ﷺ کے علاوہ ابن بطوطہ کا سفر نامہ اور تذکرۃ الاولیاء مجھے بہت پسند ہیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارے لیے تذکرۃ الاولیاء بہت مفید اور معلوماتی کتاب ہے۔ اس میں چھیا نوے اولیاء کرام کی زندگی کے حالات اور ان کے مکاشفات کے بارے میں نہایت دلچسپ واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
تذکرۃ الاولیاء حضرت فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف کردہ ہے جو خود بھی ولی اللہ کا مرتبہ رکھتے تھے۔ اس کو شائع ہوئے تقریباً سو سال ہو گئے ہیں۔ حضرت عطار 513ھ کو نیشا پور کے مضافات میں پیدا ہوئے اور وہیں 627ھ کو ایک تاتاری سپاہی کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا۔
اس کتاب میں حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ کا تذکرہ بھی ہے۔ یہ اپنے وقت کے بہت بڑے ولی اللہ مانے جاتے تھے۔ آپ کے بارے میں حضرت جنید بغدادی نے فرمایا تھا کہ حضرت بایزید کو اولیاء میں وہی مرتبہ حاصل ہے جو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ملائکہ میں۔ تذکرۃ الاولیاء میں حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بہت سی معلومات ہیں مگر ایک بہت اہم واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ میں نے مناسب سمجھا کہ وہ آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ یہ واقعہ مولانا الحاج کپتان واحد بخش سیال چشتی صابری نے اپنی تصنیف ”روحانیت اسلام“ میں تفصیلی طور پر بیان کیا ہے۔ یہ وہی کپتان سیال ہیں جنہوں نے اسلام آباد ائیر پورٹ پر بوئنگ 747 جس کے پہیے نہیں کھلے تھے بحفاظت اتار دیا تھا اور کسی مسافر کو خراش تک نہیں آئی تھی۔ میں ان کی اس کتاب سے حضرت بایزید اور پانچ سو عیسائی پادریوں کے مسلمان ہونے کا واقعہ حرف بحرف پیش کر رہا ہوں۔
حضرت شیخ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں ایک سفر میں خلوت سے لذت حاصل کر رہا تھا اور فکر میں مستغرق تھا اور ذکر سے اُنس حاصل کر رہا تھا کہ میرے دل میں ندا سنائی دی’ اے بایزید دیر سمعان کی طرف چل اور عیسائیوں کے ساتھ ان کی عید اور قربانی میں حاضر ہو۔ اس میں ایک شاندار واقعہ ہوگا۔‘ میں نے اعوذ باللہ پڑھا اور کہا کہ پھر اس وسوسہ کو دوبارہ نہیں آنے دوں گا۔ جب رات ہوئی تو خواب میں ہاتف کی وہی آواز سنی۔ جب بیدار ہوا تو بدن میں لرزہ تھا۔ پھر سوچنے لگا کہ اس بارے میں فرمانبرداری کروں یا نہ تو پھر میرے باطن سے ندا آئی کہ ڈرو مت‘ تم ہمارے نزدیک اولیاء اخیار میں سے ہو اور ابرار کے دفتر میں لکھے ہوئے ہو۔ راہبوں کا لباس پہن لو اور ہماری رضا کے لیے زنار باندھ لو۔ آپ پر کوئی گناہ یا انکار نہ ہوگا۔
حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ صبح سویرے میں نے عیسائیوں کا لباس پہنا‘ زنار کو باندھا اور ڈیر سمعان پہنچ گیا۔ وہ
ختم نبوت بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ العاشق
ان کی عید کا دن تھا۔ مختلف علاقوں کے راہب دیر سمعان کے بڑے راہب سے فیض حاصل کرنے اور ارشادات سننے کے لیے حاضر ہورہے تھے۔ میں بھی راہب کے لباس میں ان کی مجلس میں جا بیٹھا۔ جب بڑا راہب آکر منبر پر بیٹھا تو سب خاموش ہوگئے۔ بڑے راہب نے جب بولنے کا ارادہ کیا تو اس کا منبر لرزنے لگا اور کچھ بول نہ سکا گویا اس کا منہ کسی نے لگام سے بند کر رکھا ہے تو سب راہب اور علماء کہنے لگے اے مرشد ربانی! کون سی چیز آپ کو گفتگو سے مانع ہے؟ ہم آپ کے ارشادات سے ہدایت پاتے ہیں اور آپ کے علم کی اقتداء کرتے ہیں۔
بڑے راہب نے کہا کہ میرے بولنے میں یہ امر مانع ہے کہ تم میں ایک محمدی شخص آبیٹھا ہے۔ وہ تمہارے دین کی آزمائش کے لیے آیا ہے لیکن یہ اس کی زیادتی ہے۔ سب نے کہا ہمیں وہ شخص دکھا دو ہم فوراً اس کو قتل کر ڈالیں گے۔ اس نے کہا بغیر دلیل اور حجت کے اس کو قتل نہ کرو میں امتحاناً اس سے علم الادیان کے چند مسائل پوچھتا ہوں۔ اگر اس نے سب کے صحیح جواب دیئے تو ہم اس کو چھوڑ دیں گے ورنہ قتل کردیں گے کیونکہ امتحان میں مرد کی عزت ہوتی ہے یا رسوائی و ذلت۔ سب نے کہا آپ جس طرح چاہیں کریں ہم آپ کے خوشہ چیں ہیں۔ وہ بڑا راہب منبر پر کھڑا ہو کر پکارنے لگا۔ اے محمدی! تجھے محمد (ﷺ) کی قسم کھڑا ہو جا تا کہ سب لوگ تجھے دیکھ سکیں تو بایزید رحمۃ اللہ علیہ کھڑے ہوگئے۔ اس وقت آپ کی زبان پر رب تعالیٰ کی تقدیس اور تمجید کے کلمات جاری تھے۔ اس بڑے پادری نے کہا اے محمدی میں تجھ سے چند مسائل پوچھتا ہوں ۔ اگر تو نے پوری وضاحت سے ان سب سوالوں کا جواب باصواب دیا تو ہم تیری اتباع کریں گے ورنہ تجھے قتل کردیں گے۔ بایزید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تو معقول یا منقول جو چیز پوچھنا چاہتا ہے پوچھ؟ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ہمارے درمیان گواہ ہے۔
اس پادری نے کہا: ”وہ ایک بتاؤ جس کا دوسرا نہ ہو ٭ وہ دو بتاؤ جس کا تیسرا نہ ہو ٭ وہ تین جس کا چوتھا نہ ہو ٭ وہ چار جن کا پانچواں نہ ہو ٭ وہ پانچ جن کا چھٹا نہ ہو ٭ وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو ٭ وہ سات جن کا آٹھواں نہ ہو ٭ وہ آٹھ جن کا نواں نہ ہو ٭ وہ نو جن کا دسواں نہ ہو ٭ وہ دس جن کا گیارھواں نہ ہو ٭ وہ گیارہ جن کا بارھواں نہ ہو ٭ وہ بارہ جن کا تیرھواں نہ ہو ٭ وہ تیرہ جن کا چودھواں نہ ہو۔
٭ وہ قوم بتاؤ جو جھوٹی ہو اور بہشت میں جائے ٭ وہ قوم بتاؤ جو سچی ہو اور دوزخ میں جائے ٭ بتاؤ کہ تمہارے جسم سے کون سی جگہ تمہارے نام کی قرار گاہ ہے ٭ ﴿الذاریات ذروا﴾ کیا ہے ٭ ﴿الحاملات وقرا﴾ کیا ہے ٭ ﴿الجاریات یسرا﴾ کیا ہے ٭ ﴿المقسمات امرا﴾ کیا ہے ٭ وہ کیا ہے جو بے جان ہو اور سانس لے ٭ ہم تجھ سے وہ چودہ پوچھتے ہیں جنہوں نے رب العالمین کے ساتھ گفتگو کی ٭ وہ قبر پوچھتے ہیں جو مقبور کو لے
مہر نبوت بتلاؤ گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی زندہ ہے
العارفین حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ
کر چلی ہو • وہ پانی جو نہ آسمان سے نازل ہوا ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو • وہ چار جو نہ باپ کی پشت اور نہ شکم مادر سے پیدا ہوئے • پہلا خون جو زمین پر بہایا گیا • وہ چیز جس کو اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہو اور پھر اس کو خرید لیا ہو • وہ چیز جس کو اللہ تعالی نے پیدا فرمایا پھر ناپسند فرمایا ہو • وہ چیز جس کو اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہو پھر اس کی عظمت بیان کی ہو • وہ چیز جس کو اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہو پھر خود پوچھا ہو کہ یہ کیا ہے • وہ کون سی عورتیں ہیں جو دنیا بھر کی عورتوں سے افضل ہیں۔
• کون سے دریا دنیا بھر کے دریاؤں سے افضل ہیں • کون سے پہاڑ دنیا بھر کے پہاڑوں سے افضل ہیں • کون سے جانور سب جانوروں سے افضل ہیں • کون سے مہینے افضل ہیں • کون سی راتیں افضل ہیں • طائفہ کیا ہے • وہ درخت بتاؤ جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی پر تیس پتے ہیں اور ہر پتے پر پانچ پھول ہیں‘ دو پھول دھوپ میں تین پھول سایہ میں • وہ چیز بتاؤ جس نے بیت اللہ کا حج اور طواف کیا ہو نہ اس میں جان ہو اور نہ اس پر حج فرض ہو • کتنے نبی اللہ تعالی نے پیدا فرمائے اور ان میں سے رسول کتنے ہیں اور غیر رسول کتنے • وہ چار چیزیں بتاؤ جن کا مزہ اور رنگ اپنا اپنا ہو اور سب کی جڑ ایک ہو • نقیر کیا ہے • قطمیر کیا ہے • فتیل کیا ہے • سبد ولبد کیا ہے • طعم ورم کیا ہے • ہمیں یہ بتاؤ کہ کتا بھونکتے وقت کیا کہتا ہے • گدھا ہینگتے وقت کیا کہتا ہے • بیل کیا کہتا ہے • گھوڑا کیا کہتا ہے • اونٹ کیا کہتا ہے • مور کیا کہتا ہے • بلبل کیا کہتا ہے • مینڈک کیا کہتا ہے • جب ناقوس بجتا ہے تو کیا کہتا ہے • وہ قوم بتاؤ جن پر اللہ تعالی نے وحی بھیجی ہو اور نہ انسان ہو‘ نہ جن اور نہ فرشتے • بتاؤ کہ جب دن ہوتا ہے تو رات کہاں چلی جاتی ہے • جب رات ہوتی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے۔
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کوئی اور سوال ہو تو بتاؤ۔ وہ پادری بولا کہ اور کوئی سوال نہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں ان سب سوالوں کا شافی جواب دے دوں تو تم اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ایمان لاؤ گے۔ سب نے کہا ہاں‘ پھر آپ نے کہا اے اللہ تو ان کی اس بات کا گواہ ہے۔
بہتر از صد سالہ طاعتِ بے ریا
پھر فرمایا کہ • تمہارا سوال کہ ایسا ایک بتاؤ جس کا دوسرا نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ واحد قہار ہے • وہ دو جن کا تیسرا نہ ہو وہ رات اور دن ہیں لقولہ تعالیٰ (سورۃ بنی اسرائیل‘ آیت: ۱۲) • وہ تین جن کا چوتھا نہ ہو وہ عرش‘ کرسی اور قلم ہیں
ختم نبوت تلاوت سنتے ہی غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے ۶۰
العافین
حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ
- • وہ چار جن کا پانچواں نہ ہو وہ چار بڑی آسمانی کتابیں تورات، انجیل، زبور اور قرآن مقدس ہیں • وہ پانچ جن کا
چھٹا نہ ہو وہ پانچ فرض نمازیں ہیں • وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو وہ چھ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا لقولہ تعالیٰ (سورۃ قاف، آیت: ۳۸) • وہ سات جن کا آٹھواں نہ ہو وہ سات آسمان ہیں لقولہ تعالیٰ (سورۃ ملک، آیت: ۳) • وہ آٹھ جن کا نواں نہ ہو وہ عرش بریں کو اٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں لقولہ تعالیٰ (سورہ حاقہ، آیت: ۱۷) • وہ نو جن کا دسواں نہ ہو وہ بنی اسرائیل کے نو فسادی شخص تھے لقولہ تعالیٰ (سورہ نمل، آیت: ۴۸) • وہ دس جن کا گیارہواں نہ ہو وہ متمتع پر دس روزے فرض ہیں جب اس کو قربانی کی طاقت نہ ہو لقولہ تعالیٰ (سورۃ بقرہ، آیت: ۱۹۶) • وہ گیارہ جن کا بارہواں نہ ہو وہ یوسف علیہ السلام کے بھائی ہیں۔ گیارہ ہیں، ان کا بارہواں بھائی نہیں لقولہ تعالیٰ (سورۂ یوسف، آیت: ۴) • وہ بارہ جن کا تیرہواں نہ ہو وہ مہینوں کی گنتی ہے لقولہ تعالیٰ (سورہ توبہ، آیت: ۳۶) • وہ تیرہ جن کا چودہواں نہ ہو وہ یوسف علیہ السلام کا خواب ہے لقولہ تعالیٰ (سورۂ یوسف، آیت: ۴)
- • وہ جھوٹی قوم جو بہشت میں جائے گی وہ یوسف علیہ السلام کے بھائی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خطا معاف
فرمادی۔ لقولہ تعالیٰ (سورۂ یوسف، آیت: ۹۱) • وہ سچی قوم جو دوزخ میں جائے گی وہ یہود و نصاریٰ کی قوم ہے لقولہ تعالیٰ (سورۂ بقرہ، آیت: ۱۱۳) تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کے دین کو لاشی بتانے میں سچا ہے لیکن دونوں دوزخ میں جائیں گے • تم نے جو سوال کیا ہے تیرا نام تیرے جسم میں کہاں رہتا ہے تو جواب یہ ہے کہ میرے کان میرے نام کے رہنے کی جگہ ہیں۔ • ﴿الذاريات ذروا﴾ چار ہوائیں ہیں۔ مشرقی، مغربی، جنوبی، شمالی • ﴿الحاملات وقرا﴾ بادل ہیں لقولہ تعالیٰ (سورۂ بقرہ، آیت: ۱۶۴) • ﴿الجاريات يسرا﴾ سمندر میں چلنے والی کشتیاں ہیں • ﴿المقسمات امراً﴾ وہ فرشتے ہیں جو پندرہ شعبان سے دوسرے پندرہ شعبان تک لوگوں کا رزق تقسیم کرتے ہیں • وہ چودہ جنہوں نے رب تعالیٰ کے ساتھ گفتگو کی وہ سات آسمان اور سات زمینیں ہیں لقولہ تعالیٰ (سورۂ حم السجدہ، آیت: ۱۱) • وہ قبر جو مقبور کو لے کر چلی ہو وہ یونس علیہ السلام کو نگلنے والی مچھلی ہے
- • بغیر روح کے سانس لینے والی چیز صبح ہے • وہ پانی جو نہ آسمان سے اترا ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو وہ پانی ہے جو
گھوڑوں کا پسینہ بلقیس نے آزمائش کے لیے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا • وہ چار جو کسی باپ کی پشت سے ہیں اور نہ شکم مادر سے وہ اسماعیل علیہ السلام کی بجائے ذبح ہونے والا دنبہ، صالح علیہ السلام کی اونٹنی، آدم علیہ السلام اور حضرت حوا ہیں • پہلا خون ناحق جو زمین پر بہایا گیا وہ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہابیل کا خون تھا جسے
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
ختم نبوت
بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
العارف حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ بھائی قابیل نے قتل کیا تھا ● وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی پھر اسے خرید لیا وہ مومن کی جان ہے لقولہ تعالیٰ (سورۃ توبہ آیت:۱۱۱) ● وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی پھر اسے ناپسند فرمایا ہو وہ گدھے کی آواز ہے لقولہ تعالیٰ (سورۃ لقمان آیت:۱۹) ● وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو پھر اسے بڑا کہا ہو وہ عورتوں کا مکر ہے لقولہ تعالیٰ (سورۃ یوسف آیت:۲۸) ● وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو پھر پوچھا ہو کہ یہ کیا ہے وہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہے لقولہ تعالیٰ (سورۃ طہٰ آیت:۱۷) ● یہ سوال کہ کون سی عورتیں دنیا بھر کی عورتوں سے افضل ہیں وہ اُم البشر حضرت حوا، حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ، حضرت آسیہ، حضرت مریم ہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہن اجمعین۔
● باقی رہا افضل دریا وہ جیحون، سیحون، دجلہ، فرات اور نیل مصر ہیں ● سب پہاڑوں سے افضل کوہ طور ہے ● سب جانوروں سے افضل گھوڑا ہے ● سب مہینوں سے افضل مہینہ رمضان ہے لقولہ تعالیٰ (سورۃ بقرہ آیت: ۱۸۵) ● سب راتوں سے افضل رات لیلۃ القدر ہے لقولہ تعالیٰ (سورۃ قدر آیت:۳) ● تم نے پوچھا کہ طآمہ کیا ہے وہ قیامت کا دن ہے ● ایسا درخت جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی کے تیس پتے ہیں اور ہر پتہ پر پانچ پھول ہیں جن میں سے دو پھول دھوپ میں ہیں اور تین سایہ میں۔ تو وہ درخت سال ہے۔ بارہ ٹہنیاں اس کے بارہ ماہ ہیں اور تیس پتے ہر ماہ کے دن ہیں اور ہر پتے پر پانچ پھول ہر روز کی پانچ نمازیں ہیں۔ دو نمازیں ظہر اور عصر آفتاب کی روشنی میں پڑھی جاتی ہیں اور باقی تین نمازیں اندھیرے میں ● وہ چیز جو بے جان ہو اور حج اس پر فرض نہ ہو لیکن اس نے حج اور بیت اللہ کا طواف کیا ہو وہ نوح علیہ السلام کی کشتی ہے ● تم نے نبیوں کی تعداد پوچھی ہے پھر رسولوں اور غیر رسولوں کی تو کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں۔ ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں اور باقی غیر رسول ● تم نے وہ چار چیزیں پوچھی ہیں جن کا رنگ اور ذائقہ مختلف حالانکہ جڑ ایک ہے۔ وہ آنکھیں، ناک، منہ، کان ہیں کہ مغز سر ان سب کی جڑ ہے۔ آنکھوں کا پانی نمکین ہے اور منہ کا پانی میٹھا ہے اور ناک کا پانی ترش ہے اور کانوں کا پانی کڑوا ہے۔
● تم نے نقیر (سورۃ نساء آیت:۱۲۴) قطمیر (سورۃ فاطر آیت:۱۳) فتیل (بنی اسرائیل آیت:۷۱) سبد ولبد، طعم ورم کے معانی دریافت کیے ہیں ● کھجور کی گٹھلی کی پشت پر جو نقطہ ہوتا ہے اس کو نقیر کہتے ہیں گٹھلی پر جو باریک چھلکا ہوتا ہے اس کو قطمیر کہتے ہیں ● گٹھلی کے اندر جو سفیدی ہوتی ہے اسے فتیل کہتے ہیں ● سبد ولبد بھیڑ بکری کے بالوں کو کہا جاتا ہے ● حضرت آدم علیہ السلام کی آفرینش سے پہلے کی مخلوقات کو طعم ورم کہا جاتا ہے ● گدھا ہینگتے وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے ﴿لعن اللہ العشار﴾ ● کتا بھونکتے وقت کہتا
بتلاؤ گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ ہے ﴿ويل لاهل النار من غضب الجبار﴾ ● بیل کہتا ہے ﴿سبحان الله وبحمده﴾ ● گھوڑا کہتا ہے ﴿سبحان حافظي اذ التقت الابطال واشتعلت الرجال بالرجال﴾ ● اونٹ کہتا ہے ﴿حسبی الله وکفی بالله وکیلا﴾ ● مور کہتا ہے ﴿الرحمن علی العرش استوی﴾ (سورۂ طہٰ آیت: ۵) ● بلبل کہتا ہے کہ ﴿سبحان الله حین تمسون وحین تصبحون﴾ (سورۂ روم آیت: ۱۷) ● مینڈک اپنی تسبیح میں کہتا ہے ﴿سبحان المعبود فی البراری والقفار سبحان الملک الجبار﴾ (سورۂ نحل آیت: ۸۶) ● ناقوس جب بجتا ہے تو کہتا ہے ﴿سبحان الله حقا حقا انظر یا ابن آدم فی هذه الدنيا غربا و شرقا ما ترى فيها احد یبقی﴾ ● تم نے وہ قوم پوچھی ہے جن پر وحی آئی حالانکہ وہ نہ انسان ہیں نہ فرشتے اور نہ جن۔ وہ شہد کی مکھیاں ہیں لقولہ تعالیٰ (سورہ نحل آیت: ۶۸) ● تم نے پوچھا کہ جب رات ہوتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے اور جب دن ہوتا ہے تو رات کہاں جاتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب دن ہوتا ہے تو رات اللہ تعالیٰ کے غامض علم میں چلی جاتی ہے اور جب رات ہوتی ہے تو دن اللہ تعالیٰ کے غامض علم میں چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وہ غامض علم کہ جہاں کسی مقرب نبی یا فرشتہ کی رسائی نہیں۔
پھر آپ (حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ) نے فرمایا کہ تمہارا کوئی ایسا سوال رہ گیا ہے جس کا جواب نہ دیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا نہیں سب سوالوں کے صحیح جواب دیے ہیں۔ آپ نے اس بڑے پادری سے فرمایا کہ میں تم سے صرف ایک بات پوچھتا ہوں اس کا جواب دو۔ وہ یہ کہ آسمانوں کی کنجی اور بہشت کی کنجی کون سی چیز ہے؟ وہ پادری سر بگریباں ہو کر خاموش ہو گیا۔ سب پادری اس سے کہنے لگے اس شیخ نے تمہارے اس قدر سوالوں کے جواب دیے لیکن آپ اس کے ایک سوال کا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ وہ بولا جواب مجھے آتا ہے اگر میں وہ جواب بتاؤں تو تم لوگ میری موافقت نہیں کرو گے۔ سب نے بیک زبان کہا کہ آپ ہمارے پیشوا ہیں۔ ہم ہر حالت میں آپ کی موافقت کریں گے۔ تو بڑے پادری نے کہا آسمانوں کی کنجی اور بہشت کی کنجی ﴿لا اله الا الله محمد رسول الله﴾ ہے۔ تو سب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے اور اپنے اپنے زنار وہیں توڑ ڈالے۔ غیب سے ندا آئی ”اے بایزید! ہم نے تجھے ایک زنار پہننے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ ان کے پانچ سو زنار تڑواؤں۔ وللہ الحمد
او نشیند در حضور اولیاء
بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے زمین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اسلام کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
اسلام کو دہشت گردی سے موسوم
کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
مولانا خوشتر نورانی علیگ
مولانا خوشتر نورانی علیگ، رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمۃ کے پوتے اور علمی وارث ہیں۔ غالباً ساٹھ کی دہائی میں حضرت رئیس القلم نے کلکتہ سے سنی جریدہ ”جامِ نور“ شروع فرمایا تھا جو واقعتاً معیار کے لحاظ سے نور کا جام ثابت ہوا اور بہت جلد اس رسالے نے ترقی کی منازل طے کی تھیں۔ حضرت رئیس القلم ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے چنانچہ جب آپ کی تصنیفی، دعوتی، اصلاحی اور سیاسی مصروفیات بڑھیں تو ”جامِ نور“ کا اجراء رک گیا۔ 2000ء میں حضرت علامہ کے پوتے مولانا خوشتر نورانی علوم اسلامیہ کی تکمیل کے بعد 2 سالہ صحافتی کورس میں مشغول ہو گئے اور جلد ہی ”جامِ نور“ کی دہلی سے نشاۃ ثانیہ فرماتے ہوئے ضخیم ”رئیس القلم نمبر“ منظر عام پر لائے۔ اکتوبر 2002ء سے جامِ نور کا باقاعدہ آغاز کیا جو اس وقت تک شان و شوکت سے جاری ہے۔ رئیس القلم نمبر کے علاوہ مئی 2003ء میں امام اہلسنت نمبر اور مئی 2004ء میں جہاد نمبر آپ کے نمایاں کارنامے ہیں۔ مولانا خوشتر نورانی دینی وملکی معاملات پر بے لاگ تبصرے و تجزیے کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات ایسی موزوں باتیں لکھ اور کہہ ڈالتے ہیں جنہیں بعض لوگ سوچ تک ہی محدود رکھتے ہیں اور قلم و زباں کی نوک پر لانے سے گھبراتے ہیں۔
میڈیا کے ہمہ گیر اثرات اور یہودی لابی:
آج ذرائع ابلاغ نے تمام جغرافیائی سرحدوں کو عبور کر کے پوری دنیا کو گلوبل ولیج ”عالمی گاؤں“ میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج عالمی سیاست کے منظر نامے میں میڈیا کی ہی فرمانروائی ہے جو اقتدار و نظریات کی جہتیں متعین کرتا ہے۔ معاشرے میں امن وامان کا قیام، انسانی روایات واقدار کا تحفظ، عوامی رجحانات کی رہنمائی، بنی نوع انساں کے حقوق کی بازیابی، حالات وواقعات کی بنیادوں پر رائے زنی، خبروں کے بین السطور سے مستقبل کی نشاندہی، حادثات کے تجزیاتی مطالعے سے معاشرے میں رائے عامہ کی ہمواری اور عوام کی دبی ہوئی صداؤں کو بازگشت بنا کر حکمرانوں کے عشرت کدے تک پہنچانے میں غیر جانبدارانہ کردار، انسانی حیات اور اس کے معاشرے کے یہ
دین مقالہ گستاخ کی نوعیت مسلم و ذمی ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اسلام کو دھشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
تمام طبقاتی مراحل صحافت کی ایک جنبش نگاہ کے پابند ہیں۔ صحافت کے انہی عناصر کے پس منظر میں بانی پاکستان محمد علی جناح نے ۱۶؍ اپریل ۱۹۴۸ء کو سول حکام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ: صحافت قوم کی ترقی و بہبود کے لیے اشد ضروری ہے کیوں کہ اسی کے ذریعے زندگی کے تمام شعبوں میں سرگرمیاں بڑھانے کے لیے قوم کی رہنمائی اور رائے عامہ کی تشکیل کی جاسکتی ہے۔ ۱؎
صحافت کی بنیاد چونکہ دیانت داری اور صداقت پر رکھی گئی تھی اس لیے دنیا کی اکثر تعمیری کوششوں میں اس نے مثبت اثرات مرتب کیے اور سماج کی منفی سوچ کو تعمیری دھارے کی طرف موڑنے میں نمایاں کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ معروف مغربی صحافی ایرک ہو جنز نے اس کی تعریف یوں کی کہ: صحافت معلومات کو ایک جگہ سے دوسرے جگہ دیانت، بصیرت اور رسائی سے ایسے انداز میں پہنچانے کا نام ہے جس میں سچ کی بالا دستی ہو۔ ۲؎
مگر کمیونزم کے سقوط کے بعد جب اسلام کے آفاقی نظریات کی طرف مغرب کے عریاں شعار معاشرے کی تو جہات مبذول ہونے لگیں اور آزادیٔ فکر اور مادہ پرستی کے فلسفے میں مغرب کی نیرنگیوں میں بھٹکنے والے لا تعداد عیسائیوں کو اسلام کے مقدس دامن سے وابستہ ہونے کے بعد انہیں زیست کا مطمح نظر ملنے لگا تو یہودیوں کو اپنا انیس پروٹوکولز (منصوبہ) ”دنیا پر بلا اشتراک حکومت اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی حکومت کا استحکام“ خطرے کی کگار پر کھڑا نظر آنے لگا۔ مغربی ممالک بالخصوص امریکہ میں اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی بربریت کے خلاف فلسطینی کشمکش نے ان کے خوابوں کو حقیقت کی جامہ زیبی سے محروم کر دیا۔ پھر انہوں نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے ”میڈیا“ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کے بعد ہی صحافت کی تصویر بدل گئی اور اس کی جگہ ”زرد صحافت“ (Yellow Journalism) نے معاشرے میں شب خون مارا۔
آج دشمنوں کے خلاف نفرت و عداوت کی فضا گرم کرنا، غیر جانب ممالک کی تو جہات اور ہمدردیاں حاصل کرنا، دشمن کی معنوی روح کو ختم کرنا، سیاسی اور قومی مقاصد حاصل کرنا، عوام کی نظر میں مدارس کو دہشت گردی کے اڈے قرار دینا، جہاد کو دنیا کی سلامتی کے لیے خطرہ بتانا، مشرق وسطیٰ میں عربوں کا وجود مغربی ممالک کے لیے باعث کرب قرار دینا، میڈیا کی ہی کرشمہ سازی ہے۔ آج اہل یہود نے اسلام مخالف پروپیگنڈے اور اپنے وسائل کے بل پر ۹۵ فیصد بین الاقوامی میڈیا پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے۔ چنانچہ آج پوری دنیا میں وہی اقوام عالم کی ذہن سازی کر رہے ہیں، وہ جدھر چاہتے ہیں رائے عامہ اسی طرف جھکتی ہے۔ ان کی پسند پوری دنیا کی پسند اور ان کی نفرت و تعصب کا جو شکار ہوتا ہے پوری دنیا اس سے نفرت کرتی ہے۔ یہودی دماغوں سے نکلے ہوئے افکار و خیالات، خواہ
فرزندان ختم نبوت بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اسلام کو دھشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی وہ زندگی کے کسی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں پوری مہذب دنیا اس کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتی ہے۔ گویا اب یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صحافتی امانت داری یہودی پنجوں میں دم توڑ رہی ہے۔
صحافت کے ہمہ گیر اثرات کو دیکھ کر اب ماہرین سیاست وقانون نے مملکت کے تین بنیادی ستونوں کے ساتھ ساتھ اب صحافت کو مملکت کی زندگی کے لیے ”چوتھے ستون“ کے امتیازی لقب سے پیش کیا ہے جس کے بغیر اقتدار کا تحفظ ممکن نہیں۔ اب کسی بھی جمہوری نظام حکومت میں تین بنیادی اور ضروری شعبوں ❶ پارلیمنٹ ❷ انتظامیہ ❸ عدلیہ کے ساتھ ”صحافت“ کا وجود بھی ناگزیر سمجھا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کسی بھی ملک میں چار چیزوں کو اعلیٰ مقام اور بنیادی اہمیت دی جاتی ہے ان میں ❶ حکمران ❷ دینی پیشوا ❸ عوام ❹ صحافت۔ اگر کسی بھی جمہوری نظام میں صحافت پر بھی ظالم و جابر حکمرانوں کا تسلط ہو جائے تو پھر نہ عوام کو پارلیمنٹ کی کارروائیوں کا علم ہو سکے گا کہ وہاں ملک کے حق میں کون سے قانون اور بل پاس ہورہے ہیں اور عوام پر اس کے مثبت ومنفی اثرات کیا مرتب ہوں گے؟ نہ افسران اپنے فرائض منصبی کے پابند ہوں گے اور نہ ہی عدلیہ کی جانبدارانہ وغیر جانبدارانہ سرگرمیوں کا اندازہ ہو سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کی آزادی جمہوریت کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ۱۸۳۱ء سے ۱۸۷۷ء تک لندن سے شائع ہونے والے مشہور اخبار THE TIMES کے عالمگیر شہرت رکھنے والے ایڈیٹر جان تھینڈس ڈیلین نے لکھا تھا کہ: پوری آزادی کے ساتھ کوئی اخبار اسی وقت کام کر سکتا ہے جب وہ کسی سیاسی پارٹی یا حکمرانوں سے کسی مجبوری کی وجہ سے منسلک نہ ہو۔۳؎
آج جب ہم عالمی ذرائع ابلاغ کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہیں تو آنکھیں حیرت کی تصویر بن جاتی ہیں، جب ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نہایت منصوبہ بند طریقوں سے یہودی لابی نے بین الاقوامی میڈیا پر قبضہ کر رکھا ہے جو ہر لمحہ ان کے مفادات میں خبریں، مضامین، تبصرے اور تجزیے شائع کرکے اقوام عالم کی ذہن سازی کر رہا ہے۔ ان کے مراکز برطانیہ اور امریکہ ہیں جہاں سے پوری دنیا کو کذب پر مبنی اطلاعات فراہم کی جارہی ہیں اور وہاں اسرائیل (یہودی) کی حمایت کو وفاداری کا معیار سمجھا جا رہا ہے۔ اس کا اعتراف امریکی حکومت کے معروف سابق عہدیدار ”پال فنڈلے“ نے کیا وہ کہتے ہیں کہ: مشرق وسطی کے بارے میں عوامی بحث کا گلا گھونٹنے کی کوششوں کا مرکز ہمارے ملک میں آزادی اظہار کا مرکزی نکتہ یعنی پریس بنتا ہے۔ پچھلے سالوں سے صحافت میں معتبری کا معیار اسرائیل کی حمایت ہے، جیسے یہ سیاست اور دوسرے پیشوں میں بھی ہے۔ ۴؎
ایسے میں امریکی و دیگر مغربی ممالک کا حقوق انسانی کے بارے میں دوہرا معیار، جمہوریت کے نفاذ کی نام نہاد
درندہ صفت یہود بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے زہرہ بانو
العاقب اسلام کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
علمبرداری، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا نعرہ اور معیاری تمدن کے افسانوں کی حقیقتیں عریاں ہو کر مظلوم انسانوں کی لاشوں پر رقص کر رہی ہیں۔ اس کا کھلا مشاہدہ انسانیت نے پہلی اور دوسری خلیجی جنگوں میں کر لیا ہے، جہاں تمام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر جنگی میدان کا منظر تبدیل کرنے میں میڈیا کو اول دستے کے طور پر استعمال کیا گیا۔
عالمی صحافت پر اہل یہود کا قبضہ:
عالمی صحافت پر یہودیوں کے تسلط کا منصوبہ کوئی نیا نہیں ہے۔ ان کے اعلیٰ دماغ منصوبہ سازوں نے ایک صدی قبل ہی جب کہ اقوام عالم یہودی سازشوں سے بے خبر اپنے سرحدوں کے داخلی مسائل کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف تھے، دنیا پر بلا اشتراک حکومت کا منصوبہ تیار کیا اور اپنے اس خواب کی تعبیر کے لیے غیر یہودیوں سے جنگ کے لیے میڈیا کو ”مقدمۃ الجیش“ کے طور پر استعمال کرنے کا پلان بنایا۔ انسانیت جس وقت جدید سائنسی اختراعات پر حیرتوں کے سمندر میں غرقاب تھی، اس وقت یہودیوں نے میڈیا کے ہمہ گیر اثرات اور اس کے مثبت ومنفی استعمالات کی اہمیت کو واضح طور پر محسوس کیا اور پھر عالم انسانیت پر سیادت کے لیے ۱۸۹۷ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ”بال“ میں ان کے 300 دانشوروں اور مفکروں پر مشتمل ایک اجتماع ہوا۔ اس میں انہوں نے منصوبے بنائے اور ترجیحات متعین کیں۔ یہ منصوبہ انیس (19) پروٹوکولز کی صورت میں پوری دنیا کے سامنے منظر عام پر آچکا ہے۔ اس اجتماع میں پوری دنیا میں پھیلی ۳۰ یہودی تنظیموں کے اعلیٰ دماغ کارکنوں نے شرکت کی جہاں انہوں نے تمام اقوام عالم پر حکومت کے لیے دو چیزوں کو بنیادی حیثیت قرار دیا۔
- ❶ دنیا کے تمام سونے کے ذخائر پر قبضہ
- ❷ ذرائع ابلاغ اور خبر رساں ایجنسیوں پر مکمل گرفت۔
میڈیا کی ہمہ گیر افادیت اور اس کے عالمگیر اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے یہودیوں نے اپنے بارہویں دستاویز میں کہا تھا کہ: اگر ہم یہودی پوری دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے سونے کے ذخائر پر قبضہ کو مرکزی اور بنیادی اہمیت دیتے ہیں تو ذرائع ابلاغ بھی ہمارے مقاصد کے حصول کے لیے دوسرا اہم درجہ رکھتا ہے۔ ہم میڈیا کے سرکش گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی باگ کو اپنے قبضے میں رکھیں گے۔ ہم اپنے دشمنوں کے قبضے میں کوئی ایسا مؤثر اور طاقتور اخبار نہیں رہنے دیں گے کہ وہ اپنی رائے کو موثر ڈھنگ سے ظاہر کر سکیں اور نہ ہی ہم ان کو اس قابل رکھیں گے کہ ہماری نگاہوں سے گزرے بغیر کوئی خبر سماج تک پہنچ سکے۔ ہم ایسا قانون بنائیں گے کہ کسی ناشر اور پریس والے
فدائیان ختم نبوت ہلاکو خان کی خونخواریت شرمندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اسلام کو دھشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
کے لیے یہ ناممکن ہو گا کہ وہ پیشگی اجازت لیے بغیر کوئی چیز چھاپ سکے۔ اس طرح ہم اپنے خلاف کسی بھی سازش یا معاندانہ پروپیگنڈے سے باخبر ہو جائیں گے۔ ہمارے قبضہ وتصرف میں ایسے اخبارات ورسائل ہوں گے جو مختلف گروہوں اور جماعتوں کی تائید وحمایت کریں گے، خواہ یہ جماعتیں جمہوریت کی داعی ہوں یا انقلاب کی حامی۔ حتیٰ کہ ہم ایسے اخبارات کی بھی سرپرستی کریں گے جو انتشار و بے راہ روی، جنسی و اخلاقی انارکی، استبدادی حکومتوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مدافعت اور حمایت کریں گے۔ ہم جب چاہیں گے قوموں کے جذبات کو مشتعل کریں گے اور جب مصلحت دیکھیں گے انہیں پرسکون کر دیں گے اس کے لیے صحیح اور جھوٹی خبروں کا سہارا لیں گے۔ ہم ایسے اسلوب سے خبروں کو پیش کریں گے کہ قومیں اور حکومتیں ان کو قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ ہم اس کی پوری احتیاط برتیں گے کہ پہلے سے ٹھونک بجا کر اور اچھی طرح نبض ٹٹول کر اقدام کریں۔
ہمارے اخبارات ورسائل ہندوؤں کے معبود ”وشنو“ کی طرح ہوں گے جس کے سینکڑوں ہاتھ ہوتے ہیں۔ ہمارے پریس کا یہ بنیادی کام ہو گا کہ وہ اپنے مختلف موضوعات اور کالموں کے ذریعہ رائے عامہ کی نبض پر ہاتھ رکھے رہے۔ ہم یہودی ایسے مدیروں اور ایڈیٹروں اور نامہ نگاروں کی ہمت افزائی کریں گے جو بدکردار ہوں اور اُن کا مجرمانہ ریکارڈ ہو۔ ہمارا یہی معاملہ بدعنوان سیاستدانوں اور لیڈروں اور مطلق العنان حکمرانوں کے ساتھ ہو گا۔ ان کی ہم خوب تشہیر کریں گے اُن کو دنیا کے سامنے ہیرو بنا کر پیش کریں گے۔ لیکن ہم جیسے ہی محسوس کریں گے کہ وہ ہمارے ہاتھ سے نکلے جا رہے ہیں بس فوراً ہم ان کا کام تمام کر دیں گے تا کہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔ ہم یہودی ذرائع ابلاغ کو خبر رساں ایجنسیوں کے ذریعہ کنٹرول کریں گے۔ ہم تفصیل کو غیر معمولی اہمیت دیں گے تا کہ پڑھنے والوں کا ذہن تیار ہو اس انداز سے کہ قاری کو مجرم کے ساتھ ہمدردی ہو جائے۔ ۵
چنانچہ اپنے انسانیت سوز منصوبے کی تکمیل کے لیے انہوں نے یکے بعد دیگرے عالمگیر شہرت رکھنے والی خبر رساں ایجنسیوں اور اخبارات و رسائل کو سرمایہ کے بل پر خریدنا شروع کیا اور نہایت سرعت کے ساتھ اپنے مفادات کے لئے نئے اخبارات و رسائل نیز خبر رساں ایجنسیوں کا بھی افتتاح کیا جنہوں نے دنیا کے تمام اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو اپنا تابع و محکوم بنالیا۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
- ❶ رائوٹر:
جرمنی کے ایک یہودی جولیئس ریئٹر نے ۱۸۱۶ء میں اس خبر رساں ایجنسی کو قائم کیا جس پر دنیا کے بیشتر اخبارات اور ٹی وی چینل بھروسہ کرتے ہیں اور ۹۰ فیصد خبریں اسی سے حاصل کرتے ہیں۔ اس نے ۱۸۵۱ء
فرزندۂ حریم نبوت | بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے | دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے | نمبر : 9
العاقبة اسلام کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی 20
میں لندن تک اپنی ایجنسی کا دائرہ بڑھا لیا۔ آج اس کی خبروں کو امریکہ، فرانس، جرمنی، انگلینڈ، یورپ کے دیگر ممالک، ایشیا اور دیگر براعظم سے نکلنے والے اخبارات بھاری قیمتوں پر خریدتے ہیں اور اس پر تبصروں کو وحی آسمانی سے کم نہیں سمجھتے۔
- ❷ ایسوسی ایٹڈ پریس:
امریکہ کے پانچ بڑے اخبارات نے ایک ساتھ مل کر ”ایسوسی ایٹڈ پریس“ نام سے ایک خبر رساں ایجنسی کی بنیاد رکھی جو ۱۹۰۰ء تک ایک عالمی ایجنسی کے طور پر نمایاں ہوئی۔ اس نے امریکی براعظم سے نکلنے والے تمام اخبارات کو نہ صرف خبریں فراہم کرنے کی ذمہ داری سنبھالی بلکہ انہیں پوری دنیا میں پھیلانے کا بیڑا بھی اٹھایا۔ اس ایجنسی میں ۹۰ فیصد حصہ یہودی سرمایہ داروں کا ہے۔
- ❸ یونائیٹڈ پریس:
امریکہ کے دو یہودیوں اسکرائپس اور ہوارڈ نے مل کر ۱۹۰۷ء میں یونائیٹڈ پریس کے نام سے ایک خبر رساں ایجنسی قائم کی اور ۱۹۰۹ء میں ایک یہودی ولیم ہیرسٹ نے انٹرنیشنل نیوز سروس کی تشکیل دی۔ کچھ سالوں بعد دونوں ایجنسیاں آپس میں مل کر ”نیو یارک ٹائمز“ کی ملکیت میں آگئے جو ایک یہودی کے ماتحت ہے۔ ۱۹۸۲ء میں ان سب کو میڈیا نیوز کارپوریشن میں ضم کر دیا گیا۔
- ❹ فرانسیسی نیوز ایجنسی:
فرانس کے ایک یہودی خاندان ہاواس نے ”ہاواس نیوز ایجنسی“ کے نام سے ایک خبر رساں ایجنسی تشکیل دی جو بعد میں فرانس پریس کے نام سے جانا گیا۔ اخباری اعداد کے مطابق فرانس میں تقریباً ۷ لاکھ یہودی آباد ہیں مگر وہاں سے شائع ہونے والے ۸۵ فیصد اخبارات، ٹی وی اور رسائل پر انہی کا قبضہ ہے جو فرانسیسی حکومت کے لیے پالیسی طے کرتے ہیں۔
- ❺ برطانوی صحافت یہودیوں کے شکنجے میں:
آج سے چند دہائی پیشتر برطانیہ کا وزیر اعظم بنجامن ڈزرائیلی اور برطانوی افواج کے چیف آف اسٹاف یہودی تھے جس سے برطانوی سیاست، سماج اور معیشت پر یہودیوں کے غلبے کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ جب آپ برطانوی تاریخ کے اوراق پلٹیں گے تو آپ کو اس استعماری ملک کے ہر مؤثر شعبے میں یہودیوں کے
قرآن و سنت مہم
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
قرآن و سنت مہم
العاقب اسلام کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
اثر و رسوخ اور ان کے تسلط کے نشانات ملیں گے جنہوں نے آج اپنی جڑیں اور بھی مضبوط کر لی ہیں۔ مگر میڈیا ایک ایسا موثر شعبہ ہے جو ہمیشہ یہودیوں کے مضبوط شکنجے میں رہا۔ بی بی سی لندن (B.B.C) کے سربراہ تقریباً تین دہائیوں سے یہودی بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے ان اہم اخبارات و رسائل کی ایک لمبی فہرست ہے جو یہودیوں کے زیر تصرف ان کے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے پوری دنیا میں فحاشی اور مذہبی منافرت پھیلانے میں شب و روز جدوجہد کر رہے ہیں۔ کمیونزم کے بعد اسلام ان کے نشانے پر آچکا ہے جسے وہ دہشت گرد قرار دینے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ ان کی مختصر فہرست ملاحظہ ہو:
(1) Daliy Exprees (2) News Cronical (3) Daily Mail (4) Daily Herold (5) Manchester Guardian (6) York Shire Post (7) Evening Standard (8) Evening News (9) Observaer (10) Sunday Reviw (11) Sunday Exprees (12) Sunday Cronical (13) Jhon Pall (14) The Sunday People (15) Sunday Dispatch (16) The Scotch (17) The Ambassador (18) The Geographic.
ان میں ”لندن ٹائمز“ سب سے پرانا اخبار ہے جو ۱۷۸۰ء سے شائع ہورہا ہے۔ اس کو عالمی پیمانے پر ایک اہم مقام حاصل ہے اس کے تبصرے اور اداریے برطانوی حکومت کو متزلزل کرنے کے لیے کافی سمجھے جاتے ہیں۔ اس اخبار کو بھی آج سے تقریباً تین دہائی پیشتر آسٹریلیا کے ایک مشہور سرمایہ دار یہودی رابرٹ مرڈوخ نے بحران کا ڈرامہ رچا کر خرید لیا تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنے انسانیت سوز منصوبے کی تکمیل کے لیے برطانیہ کے مشہور ہفت روزوں اور رسائل پر قبضہ کرنا شروع کیا اور اب حال یہ ہے کہ:
(1) Sun (2) News of the world (3) City Magazine (4) Weekend
جیسے رسائل اس کے زیر تسلط اسلام کے خلاف اور فحاشی و عریانیت پر مبنی مضامین شائع کرنے کی وجہ سے چالیس اور پچاس لاکھ کی تعداد میں شائع ہورہے ہیں۔
6 امریکی صحافت پر یہودیوں کی گرفت:
امریکی تجزیہ نگاروں کے تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۸۸۵ء تک امریکہ کے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر اہل یہود کی گرفت مضبوط ہو چکی تھی۔ انفرادی طور پر جن چند رسائل و جرائد اور ٹی وی چینلوں پر وہ قابض
تاجدار ختم نبوت بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے زندہ باد
العاقب اسلام کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
نہیں تھے وہاں ان کے اشتہارات کا اثر اپنے جلوے دکھا رہا تھا۔ غالباً ان کے اشتہارات کی بنیادوں پر ہی یہ چند غیر یہودی اخبارات کے مفادات کے لیے اپنے اداریئے اور تبصروں میں اپنے قلم کو جانبداری سے نہیں روک سکے اور ان کے بدنام نظریات اور بنام حقوق انسانیت مذاہب کے درمیان نفرت اور فحاشی کا کاروبار پھیلانے میں اپنی صحافت کو داغدار کیا‘ کیوں کہ اخبارات و رسائل کی سانسوں کا زیر و بم اشتہارات کا رہین منت ہے۔
امریکی سیاست‘ معیشت‘ صنعت و حرفت‘ معاشرے پر اثر و رسوخ اور امریکہ و یورپ کے اخلاقی و انسانی قدروں کی پامالی پر ان کے جارحانہ عزائم کے خلاف جس نے بھی اپنی زبان کو اذن گویائی دی‘ ان یہودیوں نے سرمائے کے بل پر اس کی زندگی کی رفتار پر بندش لگا دی۔ جس نے اپنے قلم کو جرأت حق کی ترغیب دی وہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ امریکہ میں جن لوگوں نے یہودی سازشوں کے خلاف قدم اٹھائے ان میں معروف امریکی صنعت کار ہنری فورڈ کا نام آج بھی ان بدنام زمانہ یہودیوں کی آنکھوں میں شہتیر بن کر چبھتا ہے جنہوں نے امریکی نسل کی تباہ کاریوں اور معاشرے کی بربادیوں کو دیکھ کر ان کے مکر و فریب‘ انسانیت دشمنی‘ حیاسوز سرگرمیوں اور اقتصادی پالیسیوں میں ان کے طرز عمل پر امریکی ریسرچ اسکالروں کے ذریعے رپورٹ تیار کروائی۔ اس مشن پر انہوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں تقریباً ۲۰ لاکھ ڈالر خرچ کیے۔ جب یہ رپورٹ تیار ہو کر آئی تو انہی کی کمپنی کے ترجمان نے اس کی پہلی قسط شائع کی‘ پھر ایسا لگا جیسے یہودیوں کو انسانیت کے سامنے عریاں کر دیا گیا ہو۔ یہودی گلیاروں میں طوفان برپا ہو گیا یہاں تک کہ فورڈ پر یہودی شکنجہ کسنے لگا‘ انہیں قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں‘ آخر کار اس کی دوسری قسطیں شائع نہ ہو سکیں۔ جلد ہی فورڈ نے اس حقیقی رپورٹ کو کتاب کی شکل میں شائع کر دیا۔ اہل یہود نے اس کتاب کو بڑی تعداد میں مارکیٹ سے خرید کر ضائع کرنا شروع کیا اور وہ کامیاب بھی ہو گئے مگر اس کے چند نسخے جو لائبریریوں کو بھیجے گئے تھے وہ محفوظ رہ گئے۔ جب اس ہنگامے پر وقت کی گردیں جمتی چلی گئیں تو کچھ اسکالروں نے اسے دوسری زبانوں میں ترجمہ کر کے پوری دنیا میں پھیلانے کی کوشش کی جو انسانیت کے لیے دیدہ عبرت نگاہ ہے۔
اس کتاب کا ایک اقتباس یہاں قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جو حیرتوں کے سمندر میں غرقابی کے لیے کافی ہے۔ ”امریکی سماج پر یہودیوں کی غیر معمولی گرفت اور ان کے وسیع اثر و نفوذ کا اگر تجزیہ کیا جائے تو آسانی سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ امریکی سماج میں جہاں بھی اخلاقی انحطاط و فساد پایا جاتا ہے اس کے پس پردہ آپ کو یہودی ہی دکھائی دیں گے۔ شراب‘ شباب‘ قمار بازی‘ بدکاری‘ رشوت‘ جنسی اور مالی جرائم‘ قتل و غارت گری‘ ڈاکہ
فرزندان حرم نمبر ۱۱ بتاؤ گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اسلام کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی 23
زنی، قوموں کے درمیان خونریزی، معرکہ آرائی، مہلک اسلحہ سازی، غرض کہ تمام غیر فطری اور غیر اخلاقی جرائم میں یہودیوں کا حصہ تناسب کے اعتبار سے ۸۰ سے ۹۰ فیصد تک ہے۔
امریکی صحافت، ڈرامے اور فلموں کا جائزہ لیتے ہوئے آگے لکھتے ہیں کہ: ”۱۸۸۵ء سے پہلے ان تمام میدانوں میں یہودیوں کا کہیں دور تک پتہ نہیں تھا، لیکن یہودیوں کی آمد کے بعد ہی ڈرامے، سینما، صحافت اور تجارت پر یہودی ساہوکار قابض ہو گئے۔ انہوں نے ان تمام میدانوں میں سرمایہ کے بل پر قبضہ کر لیا۔ ۱۸۸۵ء سے پہلے امریکی سماج میں بے حیائی و بدکاری کا وجود خال خال تھا لیکن یہودی قوم نے ڈراموں، گراموفون، ریکارڈوں اور بعد میں سینما و صحافت کے ذریعہ امریکی سماج کو تباہی و بربادی کے دھانے پر کھڑا کر دیا ہے۔“
امریکی سیاست کے ایک اور معروف رازداں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے افسر پال فنڈلے نے امریکی سیاست و معیشت اور ذرائع ابلاغ پر یہودی شکنجوں اور ان کے جارحانہ منصوبوں پر مشتمل اپنے مشاہدات کو "They dare to speak out" کے نام سے ایک کتابی شکل میں ترتیب دیا مگر کتاب شائع ہوتے ہی راتوں رات بازار و لائبریریوں سے منظم طریقوں سے غائب کرا دی گئی اور ان پر ملامتوں اور دھمکیوں کا ایک سلسلہ چل پڑا۔
اپنی کتاب میں ایک مقام پر اسلام کے خلاف یہودی عزائم کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ: ”سبھی امریکی یہودی اس سازش میں شامل ہیں کہ ہمارے اسکولوں اور دوسرے معاشرتی اداروں کو اس طرح تبدیل کر دیا جائے کہ اسرائیل پر نکتہ چینی ناممکن ہو جائے اور اس کے عرب ہمسایوں کو برا بنا کر پیش کیا جائے۔“
ان کے علاوہ یہودیوں کے انسانیت سوز خفیہ منصوبے کی نقاب کشائی اور صہیونی فتنے پر جو کتابیں امریکہ و یورپ میں لکھی گئیں ان میں:
(1) Zionist Protocol (2) The Inter National Jew (3) Waters Flowing Eastward (4) World Conqurors.
خاص طور پر قابل ذکر ہیں جنہیں منصوبہ بند طریقے سے غائب کروا دیا گیا ہے، مگر جادو وہ ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اپنی فتنہ انگیزیوں پر لاکھ پردہ ڈالنے کے باوجود آج وہ انسانیت کے سامنے ننگے نظر آ رہے ہیں۔
آج سے دس سال قبل ایک سروے کے مطابق پوری ریاست امریکہ سے تقریباً ایک 1,759 روزنامے اور 668 ہفت روزے شائع ہوتے ہیں۔ یہ سروے ٹی وی چینلوں، ریڈیو، فلم، ڈرامے، ماہنامے، پندرہ روزے، سہ ماہی،
فرزانہ عنبر، بنوں مٹادے گستاخ نبیؐ کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے نمبر 6
(العاقب) اسلام کو دھشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
ششماہی اور سالنامے کے علاوہ ہے۔ ان میں ۹۰ فیصد یہودیوں کے زیر تسلط ہیں، جو پوری دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں شائع ہو کر فحاشی اور نفرت کا بازار گرم کرنے میں نمایاں رول ادا کر رہے ہیں۔ جو کمیونزم کے سقوط اور ۱۱ ستمبر کے حملے کے بعد اسلام کو دہشت گرد ثابت کرنے میں اپنی پوری توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔
پروپیگنڈہ اور نفسیاتی جنگ کے ذریعے اسلام پر دہشت گردی کا الزام:
نفسیاتی جنگ کی اصطلاح دوسری جنگ عظیم میں سب سے پہلے امریکہ میں استعمال ہوئی اور پھر رفتہ رفتہ اس اصطلاح اور اس کے استعمال نے پوری دنیا میں اپنی جڑیں مضبوط کر لیں۔ امریکہ کی نفسیاتی جنگ اور اس کی اصطلاح اپنے ابتدائی ادوار میں فوجی اور جنگی مقاصد اور ان کی کاروائیوں کے لیے مختص سمجھی جاتی تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے ہمہ گیر اثرات اور اس کے کامیاب تجربات نے اس کے استعمالات میں وسعت پیدا کی، یہاں تک کہ ماہرین نے یہ سمجھ لیا کہ اسی نفسیاتی جنگ کے ذریعے نہ صرف فوجی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں بلکہ اس کے ذریعے اپنے عوام کے خیالات اور رویوں میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ انہیں دشمن کے خلاف مختلف کاروائیوں پر بھی تیار کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کے ذریعے دنیا کی دوسری اقوام اور حکومتوں کی رائے بھی تبدیل کی جاسکتی ہے۔
ماہرین ذرائع ابلاغ نے اس کی متفقہ طور پر یوں تعریف کی ہے: ”نفسیاتی جنگ سے مراد رائے عامہ کی ترغیب اور تبدیلی کی ایسی کوششیں ہیں جن کی بنیاد پہلے سے طے شدہ پروگرام اور منظم منصوبہ بندی پر رکھی گئی ہو اور اس مقصد کے حصول کے لیے ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنے کا پروگرام ہو“۔ ۸
اس لیے اہل یہود کی سربراہی میں میڈیا نے اسلام کے خلاف اس طرح کی افواہ سازی شروع کی۔ جیسے:
- ❶ امریکہ اور مغربی ملکوں میں مقیم مسلمانوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کی خبر پھیلانا۔
- ❷ اسلام کا بطور مذہب بے پناہ مقبولیت کا ہوا کھڑا کرنا۔
- ❸ اسلامی تہذیب سے مغرب کے سیاسی و معاشی اور سماجی خطرات کا زبردست پروپیگنڈہ کرنا۔
- ❹ اسلامی نظریات پر دہشت گردی کے فروغ کی افواہ گرم کرنا وغیرہ۔
ان کے نتیجے میں اقوام عالم نے اسلام کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ شاید اسی لیے نفسیاتی جنگ میں پروپیگنڈہ یا افواہ سازی کو سب سے زیادہ مؤثر اور طاقتور قرار دیا جاتا ہے جو چند گھنٹوں میں کسی کی شخصیت مجروح، کسی کی قیادت متزلزل اور کسی کی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے کافی ہے۔ نفسیاتی جنگ میں افواہوں کے نتائج نے
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے الروضۃ : عمر نون
العاقب اسلام کو دھشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
مغربی ملکوں کے اعلیٰ مناصب پر بیٹھے یہودیوں کو اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے امریکہ میں نفسیاتی جنگ کے لیے باقاعدہ تربیت گاہیں قائم کر دیں تاکہ غیر یہودی بالخصوص اسلام کے خلاف محاذ آرائی میں انہیں 100 فیصد کامیابیوں کے امکانات رہیں۔
مغربی ممالک بالخصوص امریکہ میں اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، اس کا پرکشش نظامہائے زندگی، دلوں کو تسخیر کرنے والی تہذیب اور زندگی کو ایک منظم اور مربوط طریقے سے گزارنے کی تعلیمات نے وہاں کے گمراہ کن نظریات، آزادی فکر کے نام پر عریانیت اور طرز رہائش کے نام پر رشتوں کی پامالی نے عیسائیوں کو اسلام کی طرف متوجہ کیا جو بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایسے میں امریکہ کے اعلیٰ مناصب پر متمکن اہل یہود کے دیرینہ خواب ”اقوام عالم پر حکومت“ اور ”مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی استحکام“ کی تکمیل کے لیے سوائے اس کے اور کوئی دوسری راہ نہیں تھی کہ وہ اسلامی ممالک کے خلاف صف آراء ہوں۔ اس کے لیے کسی ایک اسلامی ملک کے خلاف محاذ آرائی سے انہیں اپنے خواب کی تعبیر نہیں مل سکتی تھی اس لیے انہوں نے برسوں کے تجربات اور منصوبوں کے نتیجے میں نفسیاتی جنگ کو اسلام کے خلاف خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
اپنے سازشی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان کے پالیسی سازوں نے منصوبے تیار کرنا شروع کیے، مسلمانوں، مسلم تنظیموں، دینی اداروں اور ان کے رہنماؤں کی فروگزاشتوں پر نظریں رکھی جانے لگیں، ان کی غفلتوں کا باریکی سے مطالعہ کیا جانے لگا۔ بالآخر ہندوستان میں کشمیری، مشرق وسطیٰ میں فلسطینی اور روس میں چیچنیائی مسلمانوں کا اپنے حقوق کے لیے حکومت وقت سے جہادی تحریکات کے نام پر جارحانہ کشمکش نے جہاد کے پاکیزہ مفہوم کو ”دہشت گردی“ سے موسوم کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔ ان کے پالیسی سازوں نے بنام جہاد پھیلائی گئی ان سرگرمیوں کو اسلام کا بنیادی نظریہ قرار دے کر اپنے تیار کردہ منصوبوں کو خبر رساں ایجنسیوں کے حوالے کیا اور انہوں نے مختلف پہلوؤں سے ان منصوبوں کو خبروں، تجزیوں اور تبصروں کی شکل میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے گھر گھر پہنچا دیا۔ ظاہر ہے جب عالمی شہرت رکھنے والی خبر رساں ایجنسیاں، سرکردہ اخبارات اور ٹی وی چینلز جن پر یہودیوں کا تسلط ہے، جس ڈھنگ سے اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گرد کہہ کر افواہ سازی کی ہے اس کا لازمی نتیجہ تو یہ نکلنا ہی تھا۔ کیونکہ دنیا کے دیگر تمام اخبارات و رسائل، نیوز ایجنسیاں اور ٹی وی چینلز مغربی ذرائع ابلاغ کے اشارۂ ابرو کے محتاج ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی پھیلائی گئی افواہوں کے چند نمونے ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں جنہوں نے آج انسانوں کے دلوں میں مسلمانوں کے تئیں نفرت و کراہیت کا احساس جگا دیا ہے۔ اس نفسیاتی جنگ میں
فداک ابی و امی بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اسلام کو دھشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
پروپیگنڈے کے ذریعے اسلام کے خلاف یہودیوں کے خطرناک عزائم، وسائل پر ان کی مضبوط گرفت اور ذرائع ابلاغ پر ان کے بلا اشتراک تسلط کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
- ❶ ۱۹۶۳ء میں یہودی مزاج اور ان کے مفادات کے خلاف کمر بستہ ہونے والے امریکی صدر جان ایف
کینیڈی کو یہودیوں نے قتل کروا دیا مگر امریکہ کے کچھ غیر جانبدار حکام نے جب اپنی تحقیقات کے نتیجے میں اس خطرناک سازش کی تہہ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی تو یہودی میڈیا نے اصل قاتل کی طرف سے پوری دنیا کی توجہ ہٹا کر اس کا الزام ایک عرب نوجوان بشارہ سرحان کے سر تھوپ دیا اور ساری دنیا کی توجہات اس عرب نوجوان کی طرف مبذول کر دی۔ اس الزام کی وجہ سے اسلام کو نشانہ بنایا گیا اور اس کی خوب تشہیر کی گئی۔ نتیجے کے طور پر بشارہ سرحان اور اس کے مذہب اسلام کے خلاف مغربی ممالک بلکہ پوری دنیا میں نفرت کی لہر دوڑ گئی۔ بشارہ آج بھی اس قتل کے الزام میں کئی سالوں سے سلاخوں کے پیچھے اپنے ناکردہ گناہوں کے لیے موت کا انتظار کر رہا ہے۔
- ❷ ۱۹۸۷ء کو جنوبی کوریا کے طیارہ کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ ابھی اس کی تحقیقات ہو ہی رہی تھی کہ مغربی
ذرائع ابلاغ نے یہ شوشہ چھوڑا کہ طیارہ دھماکے سے قبل بغداد اور بحرین ائیر پورٹ پر اترا تھا۔ اس لیے یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ اس کے پیچھے کسی عرب مسلمان کا ہاتھ ہے۔ اس افواہ کو ہر زاویے سے نہایت منصوبہ بند طریقوں سے خبروں، تبصروں اور انٹرویو کے ذریعے پھیلایا گیا۔ اسلامی نظریات، اس کی تہذیب و تمدن اور تعلیمات کے خلاف ایک طوفان بد تمیزی برپا ہو گیا، مگر ایک سال کے بعد ہی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آگئی کہ اس سازش میں جنوبی کوریا کی ہی ایک خاتون ملوث تھی۔ اس کے باوجود مسلمانوں سے ان کے اور اسلام کے خلاف ہنگامہ آرائیوں کی وجہ سے کسی معذرت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کیونکہ انہیں ان افواہوں کے ذریعے اپنے منصوبوں کی تکمیل مقصود تھی اور وہ پوری ہو چکی تھی۔
- ❸ جون ۱۹۸۳ء میں امریکہ کے Ditriot علاقے میں امریکی کسٹم اور ہوائی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں
کے درمیان مغربی ساز و سامان کے تعلق سے ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ۸۰ سے ۸۵ فیصد عرب جو ان علاقوں میں رہتے ہیں وہ دہشت گرد ہیں اور جو نہیں ہیں وہ ان کے حامی ہیں۔ یہ سنگین الزام ایک ۲۹ سالہ کینیڈا کے رہنے والے عرب نوجوان کو ہیروئن اسمگل کرنے کی کوشش میں لگایا گیا جبکہ ہیروئن کی اسمگلنگ سے دہشت گردی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے بعد کیا ہوا خود امریکی سیاست کے معروف رازداں پال فنڈلے اپنی کتاب They dare to speak out میں کہتے ہیں کہ: اس کے بعد ایک مقامی جریدہ نے
فرمانِ بانی مکتبہ ذوقِ نوری تلاوت کلام مجید کی نورانیت مسلمہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اسلام کو دھشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
نسلی راگ الاپنا شروع کر دیا کہ یمن عرب ریپبلک (نارتھ یمن) کے ایک فوجی افسر کو امریکہ سے گنیں (توپیں) باہر اسمگل کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ اس کے ایک ماہ بعد ماہنامہ Monthly Detriot نے ایک اسٹوری لگائی۔
How the Arab came to Detriot.The Mid-East Connection.
مگر اس میں ایک بھی مثال کا ذکر نہ تھا کہ کسی امریکن عرب کو کبھی گن اور ڈرگ اسمگلنگ میں پکڑا گیا ہو لیکن اس اسٹوری سے تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار امریکن عربوں کو قانون شکن اور دہشت گرد گروہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ 2
١١ ستمبر کا حملہ اور اقوام عالم کے درمیان اسلام کے خلاف ذہن سازی:
ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ١١ ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملے نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ دنیا ابھی اس حادثے کے غم سے جانبر بھی نہ ہو سکی تھی اور ملبوں کے نیچے سے انسانوں کی بکھری ہوئی لاشیں نکلی بھی نہ تھی کہ امریکی یہودیوں نے اپنے خفیہ منصوبے کے مطابق اس سانحے کا پورا الزام عرب مسلمانوں پر رکھ دیا۔ ایشیائی و فرانسیسی ماہرین کو حیرت بھی ہوئی کہ جس ملک کی خفیہ انٹیلی جنس سروس کو دوسرے ممالک کی تخریب کاریوں کا علم ہو جاتا ہے، وہ اپنے ملک میں بیٹھے بیٹھے ہی خراب باتوں کی نشاندہی کر دیا کرتے ہیں، مگر انہیں امریکی تاریخ میں ہونے والے اس عظیم حادثے کے لیے رچی جانے والی خطرناک سازش کا علم کیوں کر نہ ہو سکا؟ امریکہ اپنے ملک میں چھوٹے سے چھوٹے مسائل پر تحقیقات کا حکم نافذ کرتا ہے مگر اس گہری سازش کی نقاب کشائی کے لیے اسے کسی تفتیش و تحقیق کی ضرورت کیوں نہیں محسوس ہوئی؟ ہوش مند انسانوں کی طرف سے اس طرح کی درجنوں آوازیں ابھریں مگر یہودی ذرائع ابلاغ کا یکطرفہ شور ’حملے کے پیچھے اسلامی عرب دہشت گردوں کے ہاتھ ہیں‘ نے ان کی کمزور صداؤں کو دبا کر رکھ دیا۔ مگر جب ذاتی طور پر ماہرین اور دانشوروں کی خفیہ تحقیقات اپنے نتائج پر پہنچیں تو سننے اور پڑھنے والوں کے دماغ ماؤف ہو کر رہ گئے۔
١١ ستمبر کا حملہ دراصل امریکی وسائل اور یہودی دماغوں کا نتیجہ ہے جس کی کوششیں ۲۲ سال قبل روس کے زوال کے بعد شروع کر دی گئی تھیں۔ اہل یہود کی جانب سے یہ افواہ سازی بڑی زور وشور سے کی گئی کہ آئندہ صدی اسلام کی ہوگی۔ اس کا نظریہ اور اس کی تہذیب پوری دنیا پر چھا جائے گی اور اگر اس کا مقابلہ ہوگا بھی تو صرف مغربی تہذیب سے ہوگا۔ اسلام کے تئیں امریکہ کے اعلیٰ عہدیدار یہودیوں کا خوف اور اس کو دہشت گرد ثابت کر کے صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے مختلف مواقع پر جس طرح کے بیانات انہوں نے دیے ہیں ان سے ان کے عزائم کا اندازہ
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے درد و غم دوراں
العاقب اسلام کو دھشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
کیا جاتا ہے۔
- ❶ ۱۹۹۰ء کے موسم بہار میں امریکی خارجہ پالیسی کے یہودی گرو ہنری کسنجر نے بین الاقوامی تجارت کی
سالانہ کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ : ”اب صورت حال یہ ہے کہ مغرب کے سامنے عالم عربی و اسلامی میں جو نیا دشمن ہے اور جس کا اس کو سامنا ہے وہ اسلام ہے“۔
- ❷ کسنجر نے دوسرا بیان ۱۵ ستمبر ۲۰۰۱ء کو کچھ اس طرح دیا کہ : ”اسلامی تشدد اور دہشت گردی کے خلاف کل
کے بجائے آج ہی جنگ کا آغاز کر دینا چاہیے“۔
- ❸ دسمبر ۱۹۹۳ء میں ایک فرنچ رسالے ”لیمونڈ ڈپلومیٹ“ نے ایک مضمون شائع کیا جس میں لکھا کہ : ”اسلام
کے خلاف جنگ صرف فوجی میدان میں نہیں ہوگی بلکہ ثقافتی اور تہذیبی میدان میں بھی معرکہ آرائی ہوگی“۔
اسلام کو دہشت گرد ثابت کر کے اقوام عالم کو اس کے تئیں نفرت و عداوت پیدا کرنے میں اہل یہود نے چار طریقوں کا استعمال کیا۔
- ❶ فلموں:
آج ہالی وڈ صرف مغربی فلموں کا ایک سینٹر نہیں بلکہ اسلام کے خلاف یہودیوں کا ایک بہت بڑا قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ایک صدی سے فلموں کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف عالمی پیمانے پر نفرت و کدورت پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان فلموں کا بنیادی محور یہی رہا ہے کہ عالم عرب تباہ کن ہتھیار کے مالک ہیں جو انسانیت کے لیے ایک زبردست خطرہ ہے۔ لیکن مغربی ممالک جو امن کے داعی ہیں وہ اقوام عالم کی طرف سے مداخلت کرتے اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے جان کی بازی لگاتے ہیں نیز ان کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔
- ❷ میڈیا:
اہل یہود نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے لیے بھی جو تیاریاں کی تھیں ان میں میڈیا کو بھی ہتھیار کے طور پر بھر پور استعمال کیا، چنانچہ میڈیا پر قابض ہو کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اقوام عالم کی ذہن سازی کرنا، اقتدار اور شہرت کے بھوکے چند مسلم حکمرانوں کی صورت میں اپنے ایجنٹوں کو ان کی مغرب دشمنی کا غیر معمولی پروپیگنڈہ کر کے انہیں مسلمانوں کی نظر میں ہیرو بنانا اور پھر ان سے عالم اسلام میں اپنے منصوبوں کے تحت کام لینا۔ چنانچہ
- • ترک حکمراں مصطفی کمال پاشا کو غازی بنا کر قبائے خلافت کو چاک کرانا۔
درود و سلام تلاوتِ قرآن مجید کثرت سے مسنون ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
اسلام کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی العاقبۃ
- جمال عبدالناصر کو امریکی دشمن بتا کر اس کے ہاتھوں ہزاروں مظلوم مصری باشندوں کا قتل عام کرانا۔
- صدام حسین کو امریکی دشمن بتا کر پہلی خلیجی جنگ میں عراق کے مظلومین کا خون ناحق بہانا، مغربی رنگ میں رنگے
کویت کو خلیجی جنگ کے بہانے طاقت فراہم کرنا۔
- دوسری خلیجی جنگ میں صدام کی گرفتاری کے بہانے عراق کو تباہ و برباد کر کے اسرائیلی ریاست کو استحکام بخشنا۔
- کرنل معمر قذافی کو مغربی بالخصوص امریکہ مخالف کے طور پر نمایاں کر کے عالم اسلام میں انہیں بطل جلیل کا خطاب
دلوانا اور پھر اپنے اشاروں پر وہاں کے عوام کو مغربی تہذیب کا خوگر بنانا۔
- خطرناک دہشت گرد کے طور پر اسامہ بن لادن کا ہوا کھڑا کرنا۔
- 3) اسلام کے خلاف موافق و مخالف خبریں پھیلانا:
اہل یہود نے غیر یہود بالخصوص مسلمانوں کے بارے میں مخالف اور موافق دونوں طرح کی خبروں کو تسلسل سے پھیلانے کا منصوبہ تیار کیا تا کہ کوئی تیسری آواز سنائی نہ دے سکے۔
- 4) اپنی علامات کی قربانی دینا:
اہل یہود نے اسلام پر دہشت پسندی کا الزام عاید کرنے کے لیے اپنے ہی ہاتھوں اپنی علامتوں اور نشانات امتیاز کو مٹانے کا منصوبہ بنایا تا کہ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا بہانہ ہاتھ لگے۔ جو ان کے لیے سب سے زیادہ سودمند ثابت ہوا۔
امریکہ، جرمنی اور جاپان اقتصادی منظر نامے میں عالمی سطح پر بنیادی حیثیت رکھتے ہیں مگر پچھلی دو دہائیوں سے امریکہ زبردست معاشی خسارہ اور اقتصادی گراوٹ سے دو چار ہے، اس نے اپنے سپر پاور رہنے کی ہوس میں جرمنی اور جاپان کو اعلیٰ فوجی صلاحیتوں سے محروم رکھا اور خود 200 ارب ڈالر سالانہ جدید ہتھیار کی تیاری اور فوجی بجٹ پر صرف کر رہا ہے۔ اپنے بجٹ میں وہ 65 فیصد اس مد میں خرچ کرتا ہے جب کہ اقتصادی ترقی اور صنعتی تحقیقات میں صرف 2 فیصد ۔ نتیجے میں صنعتی پیداوار میں بھیانک گراوٹ، اس کے ساتھ بیرونی قرضے اور تجارتی خسارہ وغیرہ سے وہ شدید طور پر دو چار ہے۔ ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ امریکہ کی اقتصادی حالت روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ پر بیرونی قرض 3.4 کھرب ڈالر ہے۔ ماہرین قانون و اقتصادات یہ بھی کہتے ہیں کہ: امریکہ کی اقتصادی بدحالی کو قانون سازی سے دور نہیں کیا جاسکتا سوائے اس کے کہ کوئی قومی سانحہ پیش آجائے۔
آخر کار یہودیوں کی ناپاک سازشوں کے نتیجے میں وہ قومی سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کی صورت میں آیا تا کہ
سلسلہ : ختم نبوت مقالہ گستاخئ نبوت کے مسموم محرکات .................... ۲۹
العاقبة اسلام کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
اس کو بنیاد بنا کر وہ جنوب وسطی ایشیا بحر قزوین کے علاقوں پر افغانستان کو قربانی کی بھینٹ چڑھا کر قابض ہو سکے کیونکہ یہ سارے علاقے خلیجی ملکوں سے کہیں زیادہ قدرتی گیس، پٹرول، سونے، چاندی، فولاد، قیمتی دھاتوں اور معدنیات سے مالا مال ہیں۔
افغانستان پر حملے کے جواز کے لیے ہی اس نے اسامہ بن لادن پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کا زبردستی الزام تھوپا جب کہ وہ اس سے اپنی دستبرداری کا اعلان کرتا رہا مگر اسے عالمی دہشت گرد اور اس کے مذہب کو دہشت گردی کا مذہب قرار دے کر اسے ایک تیر سے دو شکار کرنا تھا جو نہایت خوبی کے ساتھ اس نے انجام دیا۔ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی وجہ سے اسلام کی آفاقیت اور حقانیت عیسائیوں پر منکشف ہو رہی تھی اور عیسائیوں کی ایک اچھی تعداد اسلام قبول کر کے ایمان ویقین کے اجالے میں آرہی تھی جب کہ یہودیوں کی تعداد میں اچھی خاصی کمی واقع ہوئی تھی۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر امریکہ کے سرکردہ یہودیوں نے حملہ کروا کر نہ صرف اپنے اقتصاد کو مستحکم کرنے کی طرف پیش قدمی کی بلکہ اسلام کو دہشت گردانہ نظریات کا مذہب قرار دے کر مسلمانوں کے خلاف عالمی پیمانے پر نفرت و عداوت کو ہوا دیا اور پوری دنیا میں اس کے آفاقی نظریات کو داغدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دہشت گرد تنظیموں پر نظر رکھنے والے امریکی مبصرین نے اپنی تحقیقات کے نتیجے میں یہ اس وقت واضح کر دیا تھا کہ حملے میں جن وسائل اور دماغوں کی ضرورت تھی اسامہ اور القاعدہ ان کی متحمل نہیں مگر میڈیا نے جن پر یہودیوں نے قبضہ کر رکھا ہے ان تحقیقات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دبا دیا۔ عالم اسلام ہمیشہ ان فرانسیسی اور امریکی اسکالروں کا احسان مند رہے گا جنہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر بنام انسانیت تمام داخلی مشکلات سے صرف نظر کرتے ہوئے ۱۱ ستمبر کے حملوں کی نقاب کشائی کی اور یہ ثابت کر دیا کہ ان حملوں کے پیچھے کسی اور کا نہیں بلکہ خود ان امریکی یہودیوں کا خطرناک ہاتھ تھا جو بش حکومت میں اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں۔
اس سلسلے میں عبدالحفیظ عدوی لکھتے ہیں کہ: ذیل میں فرانس اور امریکہ کے محققین کی تحقیقات اور دلائل کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے جو کثیرالاشاعت انٹر نیشنل عربی ہفت روزہ ”المجتمع“ اور مشہور عربی اخبار ”القدس“ نے اپنے تازہ شماروں میں شائع کیا ہے۔
ابھی حال میں ممتاز فرانسیسی مصنف اور مشہور محقق ٹری میسن کی ایک کتاب ”ایک خطرناک جھوٹ۔ ایک بھیانک فراڈ“ کے نام سے مارکیٹ میں آئی اور دیکھتے دیکھتے صرف دو گھنٹے میں پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا۔ مصنف کے دلائل اور ثبوتوں کو جو بھی دیکھے گا وہ اس نتیجہ تک پہنچے گا کہ ۱۱ ستمبر کے حملوں کے سلسلہ میں امریکہ اور عالمی میڈیا نے
فدایان ختم نبوت مقاطعہ گستاخ نبی ! غیرت مسلم کا تقاضا ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اسلام کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
جو پروپیگنڈہ کیا وہ سو فیصد جھوٹ ہے۔ یہ دراصل ایک اندرونی بغاوت تھی اعلیٰ فوجی اہل کاروں کی طرف سے۔ مقصد صدر بش کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے لیے مجبور کرنا تھا۔ دنیا کو حیرت تھی کہ قیامت گزر گئی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کو پیشگی اس کی بھنک بھی نہیں ملی حالانکہ امریکہ دوسرے ملکوں کو اطلاع دیتا ہے کہ تمہارے خلاف بغاوت ہونے والی ہے‘ تمہاری کرسی چھننے والی ہے۔ مصنف نے انکشاف کیا ہے کہ جو کچھ ہوا خفیہ ایجنسیوں کی آنکھوں کے سامنے ہوا‘ اس لیے کہ انہوں نے اس کی منصوبہ بندی کی تھی۔ کارروائی کرنے والوں نے ٹاوروں میں کام کرنے والوں میں سے بیشتر کو پیشگی اطلاع دیدی تھی کہ نقصان کم سے کم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حادثہ کے وقت ٹاوروں میں بہت کم لوگ تھے‘ حالانکہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں چالیس‘ پچاس ہزار آدمی رہتے تھے۔ مصنف نے کئی ایسے سوالات اٹھائے ہیں جن سے مصنف کے دعوؤں کو تقویت ملتی ہے مثلاً صدر بش پورے دن فوجی ہیڈ کوارٹر میں چھپے رہے‘ جب کہ اپنے نائب کو وزارت دفاع میں بھیج دیا۔ مصنف اس کی وجہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں دراصل تمام خفیہ کنجیاں دہشت گردوں کے ہاتھ آگئی تھیں۔ وہ ان کے ذریعہ نیوکلیائی دھماکہ کر سکتے تھے‘ فوج کو کچھ بھی ہدایات دے سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر بش فوجی اڈوں میں ناپتے پھر رہے تھے تا کہ صورت حال کو مزید دھماکہ خیز ہونے سے روک سکیں۔ مصنف بتاتے ہیں کہ اس دن وائٹ ہاؤس میں بھی آگ لگ گئی تھی جس سے اس کا ایک حصہ جل کر خاکستر ہو گیا لیکن اس کو چھپایا گیا۔ مصنف پوچھتے ہیں کہ کیا انتہائی حساس اور ایسے راز کو جن پر ملک کی سلامتی اور اس کی بقاء کا انحصار ہے باہر کے چند دہشت گرد جان سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں ! ۱۰
انسانیت یہودیت کی زد پر:
آج اہل یہود فکری مفلسی کے اس دہانے پر کھڑے ہیں جہاں وہ اپنے آپ کو ”خیر امت“ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اقوام عالم پر حکمرانی کے لیے کائنات میں اپنے ناجائز تصرفات کی توجیہہ میں وہ ”خدائی اختیار“ کا دعویٰ پیش کرتے ہیں۔ اپنی آہ فغاں اور دعاؤں میں کثرت سے سلطنت داؤد و سلیمان علیہما السلام کے تذکرے نے انہیں ایسی سرابی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے کہ اب وہ اپنے مقدس ماضی کی بازیافت کے لیے انسانی لہو کی ارزانی اور ان پر وحشیانہ مظالم سے دریغ نہیں کرتے۔ ماضی میں وحی ربانی ”تورات“ کی وجہ سے مالک کون و مکان نے انہیں اقوام عالم پر سیادت بخشی تھی‘ مگر انہوں نے بددیانتی اور بدقماشی کی وجہ سے ذلت و رسوائی کا بد نما داغ اپنی لوح پیشانی پر مرتسم کر لیا اور اس خدائی نعمت سے بھی محروم کر دیے گئے جس کے نشے میں مخمور ہو کر وہ شیطانیت کے کگار پر کھڑے ہو چکے تھے۔ وحی ربانی کی شکل میں جو کتاب انہیں عطا کی گئی تھی، خدا کی بنائی ہوئی سرزمین پر جینے کے لیے ایک
المرتب : نعیم جنون بتلادے گستاخِ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے زندہ باد!
العاقب اسلام کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
رہنما تھی مگر اس عطیہ کی وہ نگہبانی نہ کر سکے اور اب آسمانی کتاب کی صورت میں جس تورات کو وہ اپنے سینوں سے لگائے ہوئے ہیں وہ تلمودی شارحین کے تصرفات اور تحریفات کا وہ صہیونی منصوبہ ہے جس کے ذریعے وہ اقوام عالم پر حکمرانی کو اپنا پیدائشی حق متصور کرتے ہیں اور جس کا مطالعہ انہیں اپنے روایتی مذہب سے انحراف اور حق و انصاف کے راستوں سے اپنی آرزوؤں کی تکمیل کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کی معتبر کتاب تلمود اور موجودہ تورات غیر یہود خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کے بارے میں انہیں کن زہریلے عقائد و خیالات کی تعلیم دیتی ہیں۔ ان کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں، جن تعلیمات پر گامزن ہو کر وہ زندہ لاشوں کے ڈھیر میں اقوام عالم پر اپنی سیادت کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
- ❶ یہودی اللہ کی منتخب قوم ہے غیر یہودی جانوروں سے بدتر ہیں۔
- ❷ ہم یہودیوں کو اللہ تعالیٰ نے خدمت کے لیے دو طرح کے جانور عطا کیے ہیں۔ ایک تو گدھے، کتے، خنزیر، مختلف
قسم کے پرندے۔ دوسرے مسیحی، مسلمان اور بدھسٹ وغیرہ
- ❸ ہر یہودی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ دن میں تین بار مسیحیوں پر لعنت بھیجے اور یہ دعا مانگے کہ اللہ تعالیٰ مسیحیوں کو
نیست و نابود کر دے۔
- ❹ کوئی ریاست خواہ اپنے اندرونی خلفشار کی وجہ سے خود ختم ہو جائے یا داخلی انتشار سے بیرونی دشمن کے لیے نوالہ
تر بنا دے، دونوں صورتوں میں یہ ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گی۔ اس صورت حال تک اسے ہم ہی پہنچا سکتے ہیں۔
- ❺ طاقت اور فریب کاری سیاسی میدان میں خصوصی طور پر کارآمد چیزیں ہیں، ان کے ذریعے دوسروں کو ہم نوا بنانے
میں بڑی آسانی ہوتی ہے...... بشرطیکہ اسے ہوشیاری سے اور دبیز پردوں میں ملفوف کر کے استعمال کیا جائے۔ ان حکمرانوں کے لیے جو اپنے تاج شاہی کو کسی نئی طاقت کے ایجنٹوں کے قدموں میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ دہشت و بربریت، مکر و ریا کے ذریعے انہیں اپنی راہ پر لگایا جا سکتا ہے۔
- ❻ اگر رشوت، دغا و فریب نیز غداری و بے وفائی کے حربوں سے کامیابی ہو سکے تو ان کے استعمال سے قطعاً گریز
نہیں کرنا چاہیے۔
- ❼ غیر یہودی پر اچھی طرح واضح کر دینا چاہیے کہ ہم ہر گستاخی اور بے ادبی کا سر کچلنے کو روا سمجھتے ہیں۔ اس معاملے
میں ہم سخت بے رحم ثابت ہوں گے۔
- ❽ یہودیوں کے لیے جھوٹی قسمیں کھانا اور جھوٹی گواہی دینا جائز ہے تاکہ وہ غیر یہودیوں کو نقصان پہنچا سکیں۔
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بقائے کائنات ہی غیرت مسلم سے ہے
اسلام کو دھشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی الفائض
- 9 مسیحیوں کا قتل ہر یہودی کے بنیادی فرائض میں سے ہے۔ اگر یہودی، مسیحی کو قتل نہ کرے تو ان کے قتل کے
اسباب مہیا کرے یا پھر ان کی بربادی کے اسباب فراہم کرے۔
- 10 یہودیوں کے لیے غیر یہودی کا مال ہڑپ کر جانا عین جائز ہے، وہ غیر یہود اقوام کی جان و مال کو جس طرح
چاہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
- 11 ترقی پسند اور روشن خیال کہلانے والے ممالک میں ہم نے لغو، فحش اور قابلِ نفرت قسم کے ادب کو پہلے ہی سے
فروغ دے رکھا ہے۔ عنانِ اقتدار سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد ہم عوام کی تقریروں اور تفریحی پروگراموں کے ذریعے مخربِ اخلاق ادب کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔ ہمارے دانشور جنہیں غیر یہود کی قیادت سنبھالنے کی تربیت دی جائے گی، ایسی تقاریر اور مضامین تیار کیا کریں گے جن سے ذہن فوراً اثر قبول کریں گے تاکہ نئی نسل ہماری متعین کردہ راہوں پر گامزن ہو سکیں۔
- 12 یہ امر نوٹ کیا جانا چاہیے کہ دنیا میں اچھے لوگوں کی بہ نسبت برے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے ان پر
کامیاب حکمرانی جبر و تشدد اور دھشت گردی کے ذریعے ہو سکتی ہے، علمی بحث و مباحثوں سے نہیں۔ !!
انسانیت کے خلاف ان کے افکار و خیالات اور خطرناک عزائم کے یہ چند نمونے ہیں جو آنکھ والوں کو عبرت آموزی کی دعوت دیتے ہیں۔ اب اگر اہل یہود سلطنت آل داؤد کی واپسی کے لیے بین الاقوامی سطح پر انسانیت کو دار پر چڑھانے کے درپے ہیں تو ہمیں متحیر نہیں ہونا چاہیے، کیوں کہ جب کسی مذہب کے پیروکار اپنے دین سے منحرف ہو جاتے ہیں تو ان کے اندر نسلی وقومی گروہ بندی، تہذیبی و تاریخی عصبیتیں، انسانیت سوز سرگرمیاں اور عریانیت وفحاشی کے جراثیم وجود پاتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ آج اسرائیلی ریاست اپنے شرپسند قائدین کی سربراہی میں انسانیت کے ساتھ نہایت سفاکی اور ظلم و جفا کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اب چوں کہ ان کی سیادت کی راہ کا سب سے بڑا کانٹا اور حریفِ اسلام ہے اس لیے وہ اسلامی نظریات کو دہشت گردی سے موسوم کر کے اسے کچلنے کے لیے اقوامِ عالم کی طرح طرح سے ذہن سازی کر رہے ہیں۔ مگر یہ تو مذاہب عالم اور قوموں کی تاریخ کا غیر جانبدارانہ مطالعہ ہی بتائے گا کہ کون دہشت گردی کے فروغ کی تعلیم دیتا ہے؟
اقوام عالم بالخصوص اسلامی مملکتوں کو آج اپنی غفلتوں اور فروگزاشتوں کا جائزہ لینا ہوگا، آپسی اختلافات، لا حاصل سیاسی پیکار اور تہذیبی تصادم کے نتیجے میں انسانیت کے دشمنوں کے ہاتھوں کو ہم نے استحکام بخشا ہے اور آج حال یہ ہے کہ ہمارا ہر اٹھنے والا قدم اس کی رضا کا محتاج ہے۔ اگر آج بھی ہم نے آپسی پرخاش کو بھلا کر ان کی
العاقب اسلام کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں میڈیا کی کرشمہ سازی
سازشوں کی نقاب کشائی میں اپنی جسمانی، ذہنی، مادی اور قلمی طاقتوں کا مظاہرہ نہ کیا تو انسانیت کا لہو یوں ہی ارزاں ہوتا رہے گا۔ اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے نائن الیون جیسے حملے کیے جاتے رہیں گے اور مشرق وسطیٰ میں فلسطینیوں اور عربوں کی عزتیں یوں ہی لٹتی رہیں گی۔
﴿ حوالہ جات ﴾
- ۱ فن صحافت : ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، ص: ۲۴۵، مطبوعہ مکتبہ کارواں لاہور
- ۲ آج کل: شمارہ اکتوبر ۲۰۰۳ء، ص: ۲۵
- ۳ ایضاً، ص: ۲۷
- ۴ شکنجہ یہود: پال فنڈلے، مترجم سعید رومی، ص: ۴۹۲، مطبوعہ ملی پبلی کیشنز، دہلی
- ۵ مغربی میڈیا اور اس کے اثرات، ص: ۱۱۰، مطبوعہ ندوۃ العلماء لکھنؤ
- ۶ یہودیت سے عالم انسانیت کو خطرہ: بحوالہ نفس مصدر، ص: ۱۲۶
- ۷ شکنجہ یہود: پال فنڈلے، مترجم سعید رومی ص: ۴۳۵، مطبوعہ ملی پبلی کیشنز، دہلی
- ۸ جدید صحافت اور ابلاغ عامہ: ثاقب ریاض، ص: ۲۱۵، مطبوعہ اردو سائنس بورڈ لاہور
- ۹ شکنجہ یہود: پال فنڈلے، ص: ۴۰۵، مطبوعہ ملی پبلی کیشنز، دہلی
- ۱۰ مغربی میڈیا اور اس کے اثرات، ص: ۴۴
- ۱۱ یہودی پروٹوکولز: مترجم محمد یحییٰ خان، مطبوعہ ملی پبلی کیشنز، دہلی
تجدید سالانہ ممبر شپ برائے ماہنامہ العاقب
ماہنامہ ”العاقب“ کے تمام مستقل سالانہ ارکان کو اطلاع دی جاتی ہے کہ ان کی سالانہ ممبر شپ برائے 2009۔2010 مکمل ہو چکی ہے۔ جنوری 2010ء سے رسالہ کی حسب معمول فراہمی کے لیے جلد از جلد مبلغ 300 روپے (برائے جنوری 2010ء تا دسمبر 2010ء) کے لیے ارسال فرمائیں اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور اشاعت دین متین کے مقدس مشن میں حصہ دار بن جائیں۔
غلامِ مصطفیٰ کی غیرت مسلمہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی
العاقب جہاد
عبد المجید فیضی
جہاد
آبروئے قوم و ملت ہے جہاد ساغر ذوق شہادت ہے جہاد
غرض و غایت ہے فقط اعلاء حق دین حق کی شان رفعت ہے جہاد
یہ جہاں ہے عرصۂ جہد البقاء شیوۂ ارباب ہمت ہے جہاد
قتل و خوں دہشت گردی ہے اور کچھ اور ہی شے درحقیقت ہے جہاد
طمع مال و ملک گیری سے بعید نوع انسانی کی خدمت ہے جہاد
نظم و ضبط و خلق عالی شرط ہے حلم و صبر و استقامت ہے جہاد
فتح مکہ سے یہی ثابت ہوا دافع بغض و عداوت ہے جہاد
فدیۂ خون شہیداں العجب طرفہ ایثار و فتوت ہے جہاد
اذن عفو قاتلاں سے ہے عیاں علم و حکمت کی اشاعت ہے جہاد
ہوں سپر انداز اعدا تو معا عفو عامہ کی وثاقت ہے جہاد
خون ناحق بے گناہوں کا نہیں امن عالم کی ضمانت ہے جہاد
ممتنع ہے قتل اطفال و اناث ضامن رحم و اعانت ہے جہاد
صنف نسواں اور ضعیفوں کے لیے مرہم خُلق و مروت ہے جہاد
یہ سبق دیتی ہے ارض کربلا بے نیاز خوف و وحشت ہے جہاد
ملعون گستاخ نبی کی عقوبت مسلمہ شدہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی
العاقب جہاد
بند ہوں سب راستے جب صلح کے تب پس اتمام حجت ہے جہاد
دعوت قربانی اہل وفا منبع یمن و سعادت ہے جہاد
عجب نخوت کا ثمر جنگ صلیب مژدہ مہر و مروت ہے جہاد
ہے مواخات و مودت کا پیام عدل و انصاف امن و راحت ہے جہاد
ہے یہ سرکوبی جفا و جور کی کیفر کردار نخوت ہے جہاد
پیش قدمی حملہ آور کے خلاف دفع ظلم بربریت ہے جہاد
عزت نفس و وطن کی آبرو غیرت حق و صداقت ہے جہاد
جب سلب خلق خدا کے ہوں حقوق ردّ عدوان و بغاوت ہے جہاد
فی سبیل اللہ اقدام قتال حفظ جان و مال خلقت ہے جہاد
غازیانہ سرفروشی کا شعار عادلانہ فتح و نصرت ہے جہاد
روح تنفیذ فرامین الہ طاعت فخر رسالت ہے جہاد
اقتضائے وحدت نوع بشر ہے جہاد اصلی عیار خیر و شر
انعامی مقابلہ
- محدث اعظم حضرت مولانا سردار احمد قادری علیہ الرحمۃ نے مرزائیت / قادیانیت کے رد میں کون سے رسائل تحریر فرمائے؟
- مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کا مرزائیت / قادیانیت کے متعلق کیا نظریہ تھا؟ ٭ آئین کی دفعہ 295 سی میں کیا بیان کیا
گیا ہے اور دستور میں اس کی سزا کیا مقرر ہے؟
- درست جوابات دینے والے خوش نصیبوں کو اگلا شمارہ بالکل فری جواب نوٹ کروائیں عصر تا مغرب 4370406*0321
نعرہ بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب مسئلہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں
مسئلہ ختم نبوت
اور
ہماری ذمہ داریاں
پیشکش: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بسم الله الرحمن الرحيم ﴿ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شي عليما﴾ ﴿ان الله وملئكته يصلون على النبى يا ايها الذين امنوا صلوا عليه وسلموا تسليما﴾
والخاتم حقکم کہ خاتم ہوئے تم
یعنی جو ہوا دفتر تنزیل تمام
آخر میں ہوئی مہر کہ اکملت لکم
(امام احمد رضا خان بریلوی)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے ”نہیں ہیں محمد ﷺ کسی کے باپ تمہارے مردوں میں سے۔ بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے“۔
سورۃ احزاب کی یہ چالیسویں آیت مبارکہ ہے۔ چار باتیں اس میں بیان کی گئی ہیں۔ ❶ حضرت محمد ﷺ امتی مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ ❷ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ ❸ وہ خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہیں۔ ❹ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
اس آیت مبارکہ کا شان نزول یہ ہے کہ سیدہ زینب جو حضرت زید بن حارثہ کے نکاح میں تھیں۔ حضرت زید نے 5ھ میں ایک سال کی ازدواجی زندگی کے بعد انہیں طلاق دے دی۔ طلاق کے بعد سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے خود رسول اکرم ﷺ نے شادی فرمائی۔ حضرت زید کو حضور ﷺ نے منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ عرب معاشرہ میں منہ بولے بیٹے کو حقیقی اولاد کی طرح سمجھا جاتا تھا اور حقیقی اولاد کے حقوق اسے حاصل ہوتے تھے۔ یہ ایک غلط رسم تھی جس کے ذریعے کئی خرابیاں جنم لیتی تھیں۔ اس فرسودہ رسم کو ختم کرنے کے لیے حضرت سیدہ زینب بنت جحش سے نبی کریم ﷺ نے خود نکاح فرمایا۔
حضرت سیدہ زینب جب حریم نبوت میں رونق افروز ہوئیں تو بہتان تراشی کے جس طوفان کا اندیشہ تھا وہ امڈ
بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب مسئلہ ختم نبوت اور ھماری ذمہ داریاں
کر آگیا اور بد باطن یہود اور منافقین نے اعتراضات شروع کر دیئے۔ ان کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ آپ نے اپنی بہو سے نکاح کیا ہے حالانکہ آپ کی شریعت میں بھی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہے۔ اس کے جواب میں یہ فرمایا گیا کہ ”محمد ﷺ “ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ یعنی جس شخص کی مطلقہ سے نکاح کیا گیا ہے وہ آپ کا حقیقی بیٹا ہی کب تھا کہ اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہوتا؟
ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اچھا اگر منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہے تب بھی اس کی چھوڑی ہوئی عورت سے نکاح کر لینا زیادہ سے زیادہ جائز ہی ہوسکتا تھا۔ آخر اس کا کرنا کیا ضروری ہے؟ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ”مگر وہ اللہ کے رسول ہیں“ یعنی بحیثیت رسول ان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ جس حلال چیز کو تم نے رسماً حرام کر رکھا ہے اس کے بارے میں تعصبات کا خاتمہ کر دیں اور اس کی حلت کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں۔ پھر مزید تاکید کے لیے فرمایا ”اور وہ خاتم النبیین ہیں“ یعنی ان کے بعد کوئی رسول تو درکنار کوئی نبی تک آنے والا نہیں ہے۔ اگر قانون اور معاشرے کی کوئی اصلاح ایک نبی کے زمانے میں نافذ ہونے سے رہ جائے تو بعد میں آنے والا نبی یہ کسر پوری کر دیتا تھا لیکن نبی کریم ﷺ کے بعد کسی نبی ورسول نے نہیں آنا لہٰذا یہ اور بھی ضروری ہو گیا تھا کہ اس رسم جاہلیت کا خاتمہ نبی کریم ﷺ خود ہی کر کے جائیں۔ اب نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے اور حضور ﷺ ہی اس سلسلۃ الذھب کی آخری کڑی ہیں۔ اب کوئی نیا نبی اور کوئی نئی شریعت نہیں آئے گی۔
قارئین! توحید خداوندی کا عرفان حاصل کرنے اور اس کا پرچار کرنے اور خود ساختہ خداؤں اور ابلیسی چالوں سے بچنا ہر ایک کے بس میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی راہبری کے لیے انبیاء کرام کی بعثت کا سلسلہ جاری فرمایا۔ انسانیت کو فریبِ نفس سے نکالنے اور پست خیالی سے بچنے کے لیے الہامی راہنمائی عطا فرمائی۔ انسانی زندگی کے طویل سفر میں متعدد دور نظر آتے ہیں جو اس انحطاطِ فکر کا ازالہ کرتے رہے۔ یہ وہ عبقری صفات وجود تھے جنہوں نے انسانیت کے خدوخال سنوارنے کا فریضہ انجام دیا۔ یہی منتخب افراد انسانیت کے قافلہ سالار اور شعور و آگہی کے راستہ کے نقیب تھے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی مقدس جماعت انہی فرستادگانِ حق سے عبارت ہے اور حضور اکرم ﷺ اس قافلۂ رشد و ہدایت کے آخری پیغمبر ہیں۔ نبی محترم ﷺ سلسلۂ نبوت کے خاتم ہیں۔ آپ کی بعثت ان تعلیمات کا آخری حوالہ ہے جو موقع اور محل کی مناسبت سے نازل کی جاتی رہی ہیں۔ رسول کریم ﷺ
مبتلائے گستاخی کو غیرت مسلم دعوت دے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب مسئلہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں
کا پیغام ان الہامی تعلیمات کا نقطہ عروج بھی ہے اور آخری حوالہ بھی کہ نعمت تمام ہوئی، دین مکمل ہوا اور آپ کا لایا ہوا دین رضاء خالق کا حامل ٹھہرا۔ ارشاد ہوتا ہے ﴿الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ﴾ اب کسی اور راہبر اور نوشتہ ہدایت اور ضابطہ حیات اور نظام عمل کی ضرورت نہ رہی۔ اس لیے یہ ہدایت ہمہ جہت بھی ہے اور بے لاگ بھی۔ انسانیت کو اپنی زندگی میں ایسا کامل راہنما میسر آگیا جس کا اسوہ کامل بھی ہے اور حسن و جمال کا پیکر بھی، جس کی سیرت و تعلیم جامع بھی ہے اور دائمی و ابدی بھی، وہ ہستی جو بیک وقت شہر مکہ کی پرخار راہوں سے بھی آگاہ ہے اور لامکاں کے نوری راستوں سے آشنا بھی۔ اس نبی مکرم ﷺ نے انسانی شعور کو آگاہی، سیرت کو استواری، معاشرت کو خوش ادائی، روابط کو سلیقہ مندی، عقائد کو راستی اور دنیا کو امن و سلامتی کی خیرات عطا کی۔ اس لیے اب کسی اور راہنما اور کسی اور نوشتہ کی ضرورت باقی نہ رہی۔
قارئین! نبی کریم ﷺ سے پہلے لوگ انکارِ نبوت کے مرتکب ہوئے تو عذاب نازل ہوا۔ آپ ﷺ کے بعد بعض بدفطرت ادعائے نبوت کے مجرم ہوئے تو ملتِ اسلامیہ کو سرکوبی کا حکم دیا گیا کہ یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ خالق کی قدرت سے بغاوت اور عظمتِ نبوت کے خلاف سازش بھی ہے۔ کوئی معاشرہ نظریات سے انحراف اور اتحاد و یکجہتی کے خلاف سازش کو برداشت نہیں کرتا۔ یہ آئینِ اسلام کی خلاف ورزی بھی ہے اور سماجی اضطراب کا شاخسانہ بھی۔ رسولِ کریم ﷺ نے ہر وہ دروازہ ہی بند کردیا جس سے یہ فتنہ برپا ہوسکتا تھا۔
معزز قارئین! ختمِ نبوت کا عقیدہ اسلام کے ان چند بنیادی عقائد میں سے ایک ہے جس پر امت کا اجماع رہا ہے۔ امت کے اندر شدید اختلافات بھی پیدا ہوئے مگر اس کے باوجود سارے فرقے اس پر متفق رہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں اور حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ گذشتہ چودہ صدیوں میں جس نے بھی نبی بننے کا دعویٰ کیا تو اس کو مرتد قرار دیا گیا۔ اس کے خلاف علمِ جہاد بلند کر کے اس کی جھوٹی عظمت کو خاک میں ملا دیا گیا۔
یہ سعادت خلیفہ اول امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے لے کر نائبِ غوث الوریٰ، فاتح قادیانیت، حضرت علامہ پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ تک نائبینِ رسالت کو حاصل ہوتی رہی۔ یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ مدعیانِ نبوت حضور علیہ السلام کی نبوت کے منکر نہیں تھے بلکہ اپنے دعویٰ نبوت کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کی رسالت کو بھی تسلیم کرتے تھے جیسا کہ مسیلمہ کذاب اور مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہ۔ چنانچہ مسیلمہ کذاب نے حضور ﷺ کی ظاہری زندگی کے آخری ایام میں جو عریضہ ارسال خدمت کیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے ﴿من
خلاف گستاخ نبی کی غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب مسئلہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں
مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله ﴾ کہ یہ خط مسیلمہ کی طرف سے جو اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔ محمد رسول اللہ کی طرف لکھا جا رہا ہے۔ جبکہ اس کے جواب میں نبی کریم ﷺ نے لکھا ﴿من محمد رسول الله الى مسيلمة الكذاب . السلام على من اتبع الهدى . اما بعد! فان الارض لله يورثها من يشاء والعاقبة للمتقين ﴾ یعنی ”سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔ اما بعد بے شک زمین اللہ تعالیٰ کی ہے‘ وہ جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور بہتر انجام متقین کے لیے ہے“۔ اس جواب سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ” کذاب“ تحریر فرما کر اس کے دعویٰ نبوت کی تردید فرمائی اور دعویٰ نبوت بطور اضطرار یا بزور بھی تسلیم نہیں کیا اور برملا اپنا ردِ عمل ایک رسول کی حیثیت سے ظاہر کر دیا اور پوری قوت سے فتنہ کو دبایا۔
نیز مسیلمہ کذاب کے ہاں جو اذان مروج تھی اس میں بھی ﴿اشهد ان محمد رسول الله ﴾ کہا جاتا تھا اس سب کے باوجود امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کو مرتد اور واجب القتل یقین کر کے اس پر لشکر کشی کی اور اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس طرح اسلام کی ساری تاریخ میں جب بھی کسی فتنہ پرداز شخص نے اپنے آپ کو نبی کہنے کی جرأت کی اس کو قتل کر دیا گیا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرم ﷺ کا اسم گرامی لے کر فرمایا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور سلسلۂ انبیاء کو ختم کرنے والے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ جو ﴿بكل شئ عليم ﴾ ہے نے یہ فرمایا کہ محمد مصطفیٰ ﷺ نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والے آخری نبی ہیں تو پھر حضور ﷺ کے بعد جس نے کسی کو کسی بھی انداز میں نبی مانا اس نے ارشادِ خداوندی کو جھٹلایا اور وہ اپنے اس عقیدۂ فاسدہ کے باعث دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا۔
عربی لغت اور محاورے کی رُو سے ”ختم“ کے معنی مہر لگانے‘ بند کرنے‘ آخر تک پہنچ جانے اور کسی کام کو پورا کر کے فارغ ہو جانے کے ہیں۔ اہل لغت کی تصریح کے مطابق خاتم کی تا پر زبر ہو یا زیر اس کا معنی ”آخری“ ہی ہے۔ قرآن مجید میں ہے ﴿و ختامه مسک ای آخره مسک ﴾ یعنی اہل جنت کو جو مشروب پلایا جائے گا اس کے آخر میں انہیں کستوری کی خوشبو آئے گی۔ اہل لغت خاتم کی تشریح اس طرح کرتے ہیں۔
- ❶ ﴿ختم العمل ﴾ کے معنی ہیں ﴿فرغ من العمل ﴾ کام سے فارغ ہو گیا‘ یعنی عمل ختم ہو گیا۔
- ❷ ﴿ختم الله له بخير ﴾ خدا اس کا خاتمہ بالخیر کرے۔
- ❸ ﴿وختمت القرآن ای بلغت آخره ﴾ یعنی میں نے قرآن آخر تک پڑھ لیا۔
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
العاقب مسئلہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں
- ❹ ﴿خاتمة الشیئ﴾ کسی چیز کا آخر۔
- ❺ ﴿ختم الاناء﴾ یعنی برتن کا منہ بند کردیا اور اس پر مہر لگادی تاکہ نہ کوئی چیز اس میں سے نکلے اور نہ کچھ اس کے
اندر داخل ہو۔
- ❻ ﴿ختم الکتاب﴾ یعنی خط بند کر کے اس پر مہر لگادی تاکہ خط محفوظ ہوجائے۔
- ❼ ﴿ختم القلب﴾ دل پر مہر لگادی کہ نہ کوئی بات اس کی سمجھ میں آئے نہ پہلے سے جمی ہوئی کوئی بات اس میں
سے نکل سکے۔
- ❽ ﴿ختام کل مشروب﴾ وہ مزا جو کسی چیز کو پینے کے بعد آخر میں محسوس ہوتا ہے۔
- ❾ ﴿خاتمة کل شی ای عاقبته وآخرته﴾ ہر چیز کے خاتمہ سے مراد اس کی عاقبت اور آخرت۔
- ❿ ﴿خاتم القوم ای آخرھم﴾ اس سے مراد قبیلہ کا آخری شخص۔
یہ مذکورہ تشریح معروف کتب لغت لسان العرب، قاموس، الصراح وغیرہ میں مذکور ہے۔ اس بناء پر تمام اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالاتفاق خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے لیے ہیں۔ اس مفہوم سے ہٹ کر کوئی دوسرا معنی اور مفہوم لینا عقل ونقل کے خلاف ہے۔ منکرین ختم نبوت لغت کو چھوڑ کر اس بات کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی شخص کو خاتم الشعراء یا خاتم الفقہاء یا خاتم المفسرین کہنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جس شخص کو یہ لقب دیا گیا ہے اس کے بعد کوئی شاعر یا فقیہ یا مفسر پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اس فن کے کمالات اس شخص پر ختم ہوگئے۔ حالانکہ مبالغے کے طور پر ان القاب کا استعمال یہ مفہوم نہیں رکھتا کہ لغت کے اعتبار سے خاتم کے اصل معنی ہی کامل یا افضل کے ہو جائیں اور آخری کے معنی میں یہ لفظ استعمال کرنا سرے سے غلط قرار پائے۔ یہ بات صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جو انتہائی درجے کا جاہل ہو اور زبان کے قواعد سے ناواقف ہو۔ مجازی معنی کبھی حقیقی معنی نہیں بنا کرتے۔ جب کوئی آدمی یہ کہے کہ ﴿جاء خاتم القوم﴾ تو اس کا یہ مفہوم نہیں ہوگا کہ قبیلہ کا فاضل و کامل آدمی آگیا ہے۔ یہ بات بھی نظر میں رہنی چاہیے کہ القاب عطاء کرنے میں خالق اور مخلوق میں فرق ظاہر ہے۔ انسانی کلام میں ان القاب کی حیثیت مبالغے اور اعتراف کمال سے زیادہ کچھ ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کے متعلق یہ کہہ دے کہ فلاں صفت اس پر ختم ہوگئی ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے بھی انسانی کلام کی طرح مجازی سمجھ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کو خاتم الشعراء کہہ دیا ہوتا تو یقیناً اس کے بعد کوئی شاعر نہیں ہو سکتا تھا اور اس نے جسے خاتم النبیین کہہ دیا تو غیر ممکن ہے اس کے بعد کوئی نبی ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اور انسان عالم الغیب نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا کسی کو خاتم النبیین کہنا اور انسان کا
مشن تازہ گستاخیوں پر غیرت مسلمہ زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب مسئلہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں
کسی کو خاتم الشعراء کہہ دینا آخر ایک درجے میں کیسے ہو سکتا ہے؟
قارئین! قرآن کے الفاظ کا مفہوم سمجھنے میں عربی زبان کی لغات سے بھی بڑی مدد ملتی ہے لیکن اس سلسلہ میں قولِ فیصل اور حرف آخر حضور ﷺ کی بیان کردہ تشریح ہوتی ہے کیونکہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے ارشاد فرماتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کے درج ذیل ارشادات میں خاتم النبیین کے متعلق معنی سماعت فرمائیں۔
- ❶ امام بخاریؒ کتاب المناقب‘ باب خاتم النبیین میں یہ حدیث نقل کرتے ہیں۔ ﴿قال النبی ﷺ ان
مثلی ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بيتا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة فانا اللبنة وانا خاتم النبیین﴾ فرمایا نبی کریم ﷺ نے میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے عمارت بنائی اور خوب حسین وجمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے اور اس کی خوبی پر اظہارِ تعجب کرتے تھے۔ (ایک اینٹ کی خالی جگہ دیکھ کر) کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں آخری نبی ہوں (یعنی میرے آنے پر نبوت کی عمارت مکمل ہو چکی ہے۔ اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے جسے پُر کرنے کے لیے کوئی اور آئے)
اس جامع‘ معنی خیز اور بصیرت افروز حدیث کو امام مسلم نے کتاب الفضائل‘ باب خاتم النبیین میں اور امام ترمذی نے کتاب المناقب اور ابوداؤد طیالسی نے بھی اپنی مسند میں مختلف اسناد سے نقل کیا۔
- ❷ امام ترمذی نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی ﴿قال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة
قد انقطعت ولا رسول بعدى ولا نبى﴾ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔
سرکارِ دو عالم خاتم الانبیاء ﷺ کی اس تصریح کے بعد جس کی کوئی تاویل ممکن نہیں‘ کسی کا نبوت کا دعویٰ کرنا اور کسی کا اس باطل دعوے کو تسلیم کرنا سراسر کفر اور الحاد ہے۔
- ❸ امام ترمذی نے کتاب المناقب میں یہ حدیث روایت کی ﴿قال النبی ﷺ لو كان بعدى نبى
لكان عمر بن الخطاب﴾ اگر میرے بعد کسی کا نبی ہونا ممکن ہوتا تو عمر بن الخطاب نبی ہوتے۔
- ❹ امام بخاری اور امام مسلم نے کتاب فضائل صحابہ کے عنوان سے یہ حدیث روایت کی ﴿قال رسول الله ﷺ
العافیۃ مسئلہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں
﴿ علی انت منی بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبي بعدى ﴾ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک پر روانہ ہوتے وقت حضرت علی کرم وجہہ کو مدینہ طیبہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا۔ آپ کچھ پریشان ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا ”میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہے جو موسیٰ کے ساتھ ہارون کی تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے“۔
- ❺ امام ابو داؤد نے کتاب الفتن میں حضرت ثوبان سے روایت کی ﴿ قال رسول الله ﷺ وانه
سيكون في امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبي بعدى ﴾ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
- ❻ امام بیہقی نے کتاب الرؤیا میں یہ حدیث روایت کی ﴿قال رسول اللہ ﷺ لا نبی بعدی وامت
بعد امتی ﴾ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں (یعنی کسی نئے آنے والے نبی کی امت نہیں)۔
مندرجہ بالا احادیث بکثرت صحابہ نے نبی ﷺ سے روایت کی ہیں اور بکثرت محدثین نے ان کو بہت ہی قوی سندوں سے نقل کیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور ﷺ نے مختلف طریقوں سے مختلف الفاظ میں اس امر کی تصریح فرمائی ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ نبوت کا سلسلہ آپ پر ختم ہو چکا ہے اور آپ کے بعد جو بھی رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہ دجال و کذاب ہے۔ علامہ سید محمود آلوسی صاحب تفسیر روح المعانی فرماتے ہیں ﴿ وكونه ﷺ خاتم النبيين مما به انطق الكتاب وصرحت به السنة واجتمعت عليه الامة فيكفر مدعی خلافه ويقتل ان اصر ﴾ حضور ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایسا عقیدہ ہے جس کی تصریح قرآن وسنت نے کی ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ پس جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہو جائے گا اور اگر اس نے توبہ نہ کی اور اس دعویٰ پر مصر رہا تو اس کو قتل کیا جائے گا۔
قارئین ! قرآن وسنت کے بعد تیسرے درجے میں اہم ترین حیثیت صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اجماع کی ہے اور یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ظاہری پردے کے فوراً بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جن لوگوں نے ان باطل دعوے کو تسلیم کیا ان سب کے خلاف صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بالاتفاق جنگ کی اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا۔ یہ کاروائی صحابہ کرام کی پوری جماعت کے اتفاق سے ہوئی۔ اجماع
العاقب مسئلہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں
صحابہ کی اس سے زیادہ واضح مثال شاید ہی کوئی اور ہو۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دور کے بعد پہلی صدی سے لے کر آج تک ہر زمانے کے اور پوری دنیائے اسلام میں ہر ملک کے علماء اسلام اس عقیدے پر متفق ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا اور یہ کہ جو بھی اس منصب کا دعویٰ کرے یا اس کو نبی مانے وہ کافر ہے اور خارج از ملت اسلام ہے۔
حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے دور میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا مجھے موقع دو کہ اپنی نبوت کی علامات پیش کروں۔ اس پر امام اعظم نے فرمایا کہ جو شخص اس سے اس کے دعوے کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا کیونکہ رسول کریم ﷺ فرما چکے ہیں لا نبی بعدی ۔
بعض لوگوں کے اذہان میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں نازل ہوں گے تو پھر حضور ﷺ آخری نبی کیسے ہوئے؟ علامہ زمخشری صاحب تفسیر کشاف اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کا آخری نبی ہونا اس معنیٰ میں ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں میں سے ہیں جو آپ سے پہلے نبی بنائے جا چکے تھے اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ کے پیرو اور آپ کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ ہی کی امت کے ایک فرد ہوں گے۔
قارئین! تعجب اس بات پر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو دنیا بھر کے مسلمانوں میں صد سالہ کوششوں اور کاوشوں کے بعد چند لاکھ کی زاغ صفت مفاد پرست نفری نے ہی نبی مانا اور باقی سوا ارب مسلمانوں نے اس کو دجال اور کذاب قرار دیا۔ اس پر کوئی فخر کرے کہ انہوں نے اتنے عقیدت مند پیدا کر لیے اور اسلام کی اتنی خدمت کی تو ہم گزارش کریں گے کہ تم مرزا صاحب کو اس لیے نبی مانتے ہو کہ انہوں نے چند کافروں کو کلمہ پڑھایا۔ ہم اولیائے کرام کے زمرے میں آپ کو ایسے مبلغ دکھاتے ہیں جنہوں نے ہزاروں لاکھوں کفار کو کفر کی ظلمتوں سے نکال کر ہدایت کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ خواجہ خواجگان والی ہندوستان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے لاکھوں مشرکوں کو مشرف باسلام کیا۔ حضرت داتا گنج بخش سید علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا دریائے فیض آج تک تشنگان معرفت کی پیاس بجھا رہا ہے۔ حضرات مشائخ چشت اہل بہشت اور دیگر اولیاء کرام نے اسلام کی جو خدمات سرانجام دیں ان کے مقابلے میں ساری ذریت مرزائیہ کی تبلیغی کوششوں کی نسبت سمندر اور قطرے کی بھی نہیں۔
ان کارہائے نمایاں کے باوجود ان حضرات نے نہ نبوت کا دعویٰ کیا نہ مہدویت کا نہ مسیحیت کا نہ ظلی نبوت کا
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب مسئلہ ختم نبوت اور ھماری ذمہ داریاں نہ بروزی نبوت کا بلکہ انہوں نے ساری زندگی اپنے آپ کو غلامانِ مصطفیٰ ہی کہا اور اسی غلامی کو اپنے لیے باعث صد افتخار اور موجب سعادت دارین سمجھا۔ حیف ہے اس شخص پر جو اتنے بڑے بلند و بانگ دعوے کرے اور حالت یہ ہو کہ جب فخر السادات علامہ دوراں نائب غوث الوریٰ سیدنا پیر مہر علی شاہ گیلانی گولڑوی نے اس سے کلمہ طیبہ کے معنی پوچھے تو اس کے ہوش اڑ گئے اور پھر جب اس نے اعجاز المسیح نامی کتاب بطور معجزہ پیش کی تو حضرت پیر صاحب نے اپنی مشہور زمانہ کتاب سیف چشتیائی میں ایک سو کے لگ بھگ غلطیاں نکالیں اور خاص طور پر ”فی سبعین یوما من شہر الصیام“ پر تو طلباء نے بھی آوازے کسے کہ قادیانی کا رمضان شریف 70 دنوں کا ہوتا ہے۔ پھر مرزا صاحب نے خود عیسیٰ ابن مریم بننے کے لیے عجیب وغریب تاویلات باطلہ سے کام لیا۔ خود ہی مریم بن کر عیسیٰ کو جنم دے کر ابن مریم بنتے ہیں اور قادیان کو دمشق کا نام دیتے ہیں اور اپنے لیے ایک منارہ بھی بنواتے ہیں حالانکہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ احادیث کی رو سے وہ منارہ جہاں عیسیٰ علیہ السلام نے اترنا ہے وہ ان کے نزول سے پہلے موجود ہونا چاہیے تھا اور یہاں تو یہ جھوٹا مسیح موعود (مرزا قادیانی) آنے کے بعد منارہ خود تعمیر کرواتا ہے۔ وہ مقام جہاں عیسیٰ ابن مریم دجال کو قتل کریں گے وہ ”لُد“ ہے جو موجودہ اسرائیل میں ہے۔ قادیانیوں نے اس کی بھی بے جا اور بعید از عقل تاویلات کیں اور بالآخر تھک ہار کر یہ کہہ دیا کہ ”لُد“ سے مراد لدھیانہ ہے جہاں سب سے پہلے مرزا صاحب کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔ ان تاویلات باطلہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک جھوٹے کاذب بہروپ کا صریح ارتکاب ہے جو علی الاعلان کیا گیا ہے۔
مرزا صاحب کو خواہ مخواہ زعم ہو گیا کہ علمائے اسلام سے کوئی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ مرزا نے ایامِ الصلح میں چیلنج کیا کہ اس وقت آسمان کے نیچے کسی کی مجال نہیں جو میری برابری کی اف کر سکے۔ میں اعلانیہ اور بلا کسی خوف تردید کے کہتا ہوں کہ اے مسلمانو! تم میں بعض لوگ محدثیت اور مفسریت کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں اور بعض از راہ ناز زمین پر پاؤں بھی نہیں رکھتے اور کئی خدا شناسی کا دم مارتے ہیں اور چشتی، قادری، نقشبندی اور سہروردی اور کیا کیا کہلاتے ہیں ذرا ان سب کو میرے سامنے تو لاؤ۔ پھر مرزا صاحب نے 22 جولائی 1900ء کو حضرت قبلہ عالم پیر سید مہر علی شاہ صاحب کو عربی میں تفسیر نویسی کا چیلنج دیا اور ایک اشتہار کے ذریعے ہندوستان کے ہر مکتبہ فکر کے چھیاسی علماء کی ایک فہرست شائع کر کے تمام ہندوستان کے علماء کو چیلنج دیا۔ حضرت پیر صاحب نے جواب میں 25 جولائی 1900ء کو بمقام لاہور مناظرہ کی تاریخ مقرر فرما کر مرزا صاحب کو مطلع کر دیا کہ آپ از راہِ مہربانی تاریخ مقرر پر تشریف لے آئیں میں بھی حاضر ہو جاؤں گا۔ ساتھ ہی حضرت پیر صاحب کی طرف سے
بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب مسئلہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں
تقریری بحث کی دعوت دی گئی تاکہ عوام الناس بھی سمجھ سکیں کہ اس مسئلہ میں فریقین کیا کہتے ہیں اور کون صحیح ہے؟ مرزا صاحب تقریری بحث کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئے۔ جب مناظرہ کا دن قریب آگیا تو ملک کے طول وعرض سے ہزار ہا مسلمان لاہور پہنچ گئے۔ علماء مشائخ، درویش اور ہر طبقہ و فرقہ کے لوگ حتیٰ کہ قادیانی جماعت کے مرید و معتقد اور ہمدرد و مائل بھی دور و نزدیک سے جمع ہو گئے۔ لاہور کے بازاروں میں لوگوں کے ٹھٹھ لگ گئے۔ اس خاص موقع پر تو ہجوم خلائق کی آمد کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ حضرت قبلہ عالم پیر سید مہر علی شاہ قدس سرہ جیسی مشہور زمانہ روحانی اور علمی احترام وشہرت کی حامل شخصیت پہلی بار اسلام پر قادیانیت کے خطرناک حملوں کے دفاع میں علمائے دین کی اس قدر بڑی اور فقید المثال تعداد میں سب کی طرف سے متفقہ نمائندہ اور قائد کی حیثیت سے میدان مناظرہ و مباحثہ میں تشریف فرما ہورہی تھی اور تمام موافق ومتردد یا مخالف حضرات اپنی آنکھوں سے بیسویں صدی کی سب سے بڑی اشتہاری تحریک کا حشر دیکھنا چاہتے تھے۔
سبحان اللہ ! اسلامیان ہند کی اس علمی، دینی اور روحانی قیادت کے وقت حضرت پیر سید مہر علی شاہ کی عمر شریف صرف 42 برس کے قریب تھی۔ انہیں فارغ التحصیل ہوئے 22 سال ہو چکے تھے۔ خلافت ارشاد کا 18 سال تھا اور ادائیگی حج کے بعد مسند ارشاد پر صرف 10 برس کا عرصہ گزرا تھا۔ ہاں ایک وہ وقت تھا جب منبر پر حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ بول رہے تھے کہ ﴿سلونی سلونی قبل تفقدونی﴾ یعنی میرے اس دنیا سے اٹھ جانے سے پہلے پوچھ لو مجھ سے جو پوچھنا چاہتے ہو یا پھر پیر مہر علی شاہ علماء و مشائخ کے ہزاروں کے مجمع میں بول رہے تھے کہ اب علی کا بیٹا اور غوث الاعظم کا نور نظر مرزا صاحب کی اس تحدی اور مبارز طلبی اور تعلی و شیخی کے جواب میں میدان مناظرہ میں حاضر ہے۔ اب اگر کسی میں ہمت و جرأت ہے تو سامنے آئے۔
مگر نبوت و امامت کے جھوٹے دعویدار کو اب قدم باہر نکالنے کی جرأت نہیں ہو رہی تھی۔ 24 اگست 1900ء کو حضرت قبلہ پیر صاحب علماء و مشائخ کی معیت میں لاہور تشریف فرما ہوئے تو علماء و مشائخ اور عوام نے آپ کا فقید المثال استقبال کیا۔ آپ نے لاہور پہنچتے ہی سب سے پہلے یہ دریافت کیا کہ مرزا صاحب آئے ہیں یا نہیں؟
مباحثہ کا انعقاد شاہی مسجد لاہور میں قرار پایا تھا۔ لہٰذا 26-25 اگست کو دونوں اطراف سے نمائندے اور عام مسجد میں جمع ہو ہو کر منتشر ہوتے رہے۔ لیکن مرزا صاحب کو نہ آنا تھا اور نہ آئے بلکہ قتل ہو جانے اور بے عزتی کا خطرہ ظاہر کر کے قادیان میں ہی دبک رہے۔ اس دوران قادیانی جماعت کے ایک وفد نے ایک اندھے اور اپاہج کے حق میں مباہلہ کرنے کی گزارش کی کہ اس طرح مستجاب الدعاء کا پتہ چل جائے گا اور اس کے نتیجہ میں حق
نوٹ: بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب مسئلہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں
و باطل کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ جواب میں حضرت قبلہ عالم نے فرمایا کہ مرزا صاحب سے یہ کہہ دیں کہ اگر مردے بھی زندہ کروانے ہیں تو آجائیں۔ اس موقع پر غیر مقلد عالم ثناء اللہ امرتسری نے کہا کہ میری طرف سے عرض کیجیے گا کہ مولوی عبد الکریم نابینا کو ضرور ہمراہ لائیں، وہ بوجہ حق الخدمت اس معجزہ کے حق دار بھی ہیں۔ اسی موقع پر مرزا صاحب کی طرف سے جب تحریری مناظرہ کے طور پر زود نویسی (تیز لکھنے) کے خدشہ کا اظہار کیا گیا تو حضرت قبلہ عالم پیر سید مہر علی شاہ صاحب نے فرمایا کہ علمائے اسلام کا اصل مقصود تحقیق حق اور اعلائے کلمۃ اللہ ہوا کرتا ہے، فخر و تعلی مقصد نہیں ہوتا وگرنہ جناب نبی کریم ﷺ کی امت میں اس وقت بھی ایسے خادم موجود ہیں کہ اگر قلم پر توجہ ڈالیں تو وہ خود بخود کاغذ پر تفسیر قرآن لکھ جائے۔ ظاہر ہے کہ اس سے اشارہ خود اپنی جانب تھا۔ سبحان اللہ علم ہو تو ایسا، ولایت ہو تو ایسی کیا شان ہے۔
جب مرزا صاحب کی آمد سے قطعاً مایوسی ہو گئی تو 27 اگست کو شاہی مسجد میں مسلمانوں کا عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں علمائے کرام نے اس دعوت مناظرہ کی مکمل داستان بیان کر کے قادیانیت کی واضح تصویر لوگوں کے سامنے رکھی اور تمام مسالک کے سرکردہ علماء نے ختم نبوت کی یہ تفسیر بیان کی کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے اس دنیا میں آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا اور جو شخص بھی اس عقیدہ کا منکر ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانان برصغیر کا ایمان حضرت قبلہ عالم پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی کی برکت سے محفوظ رکھا اور ہزار ہا سبکیاں اور ہزیمتیں لے کر قادیانیت کا یہ فتنہ دب گیا۔ علماء اسلام کی کاوشوں سے 1973ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا۔
اب بھی مختلف جگہوں پر مادی اسباب کی بدولت یہ فتنہ سر اٹھاتا رہتا ہے اور کم فہم مفاد پرست افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ مسلمانان عالم کو اپنے اسلاف سے وابستہ رہتے ہوئے ان کے افکار وعقائد کو اپنا کر قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لیے متفقہ طور پر منظم طریقہ سے اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور درج ذیل فکر کو عام کرنا چاہیے۔
تکوین جہاں ہے ان کے لیے ختم ان پہ نبوت ہوتی ہے
******
مقابلہ گستاخ نبی کا غیرت مسلم سے ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب برصغیر میں فتنہ انکار ختم نبوت
برصغیر میں فتنہ انکار ختم نبوت
پیر محمد تبسم اویسی
1879ء میں برطانوی پارلیمنٹ کے ممبروں، ایڈیٹروں اور چرچ کے نمائندوں پر مشتمل وفد نے ہندوستان کا دورہ کیا اور حکومت برطانیہ کے استحکام کے لیے سب سے اہم یہ تجویز پیش کی کہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی رہنماؤں کے دل و جان سے پیروکار ہیں۔ اگر اس وقت ہمیں ایسا آدمی مل جائے جو نبی ہونے کا دعویٰ کرے تو اس شخص کے دعویٰ نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھا کر برطانوی مفادات کے لیے مفید کام لیا جاسکتا ہے۔ ١؎
اس رپورٹ کی روشنی میں برطانوی حکومت کے نمائندوں نے تین اشخاص کا انتخاب کیا تھا۔ جن میں مرزا غلام مرتضیٰ کے بیٹے مرزا غلام قادیانی کو جو کہ سیالکوٹ کی ایک عدالت میں ملازم تھا منتخب کیا گیا اور اس کو تیار کرنے کے لیے پہلے ”مناظر“ کے طور پر پیش کیا۔ اس بدبخت نے انگریزوں کی غلامی کو اپنی منزل بنایا اور دینِ مصطفیٰ اور نبی رحمت ﷺ کے ساتھ بے وفائی کر کے اپنا ایمان چند ٹکوں میں بیچ دیا۔ اس نے عیسائیوں، ہندوؤں کے خلاف تقریریں شروع کیں پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق توہین آمیز جملے کہنے شروع کیے اور ہندوؤں کے دیوتاؤں کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔
1880ء میں ملہم من اللہ اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ 1882ء میں مامور من اللہ میں مجدد اور نذیر کا اضافہ کیا۔ 1883ء آدم مریم اور احمد ہونے کا دعویٰ کیا۔ جب اس حد تک اس کی سوچ میں فتنہ آگیا تو علماء کرام وصوفیاء نے اس کے خلاف آواز بلند کی کہ یہ دین محمدی میں اب انگریزوں کے کہنے پر ایک فتنہ پیدا کر رہا ہے۔
1884ء میں جب مرزا قادیانی ایک پروگرام کے سلسلہ میں لدھیانہ گیا تو وہاں علمائے لدھیانہ نے اس سے ملاقات کرنا چاہی تاکہ اس کے عقائد واضح ہوں مگر اس نے راہ فرار اختیار کی کیونکہ وہ بد باطن تھا۔ علماء نے اس کے باطل عقائد کی وجہ سے اسے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ پھر اس قادیانی نے علمائے کرام کے خلاف اپنی زبان چلانی شروع کر دی۔ اس کے ان عقائد کی بناء پر علمائے حق اور مشائخ اسلام نے مرزا کے خلاف آواز حق بلند کی کہ یہ
تحفظ ختم نبوت مٹ گئے گستاخان نبی و غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب برصغیر میں فتنہ انکار ختم نبوت
انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے جو اسلام و بانی اسلام کی عزت و حرمت کا ڈاکو ہے۔
1891ء میں مرزا قادیانی نے مثیل مسیح پھر مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا مجھے بحیثیت عیسیٰ دنیا میں دوبارہ بھیج دیا گیا۔ 1892ء میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا بعد ازاں ظلی نبی اور بروزی نبی کی حیثیت سے اپنے آپ کو متعارف کرایا۔ 1901ء میں باقاعدہ نبوت کا اعلان اس دعوے کے ساتھ کیا کہ ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیانی میں اپنا رسول بھیجا“۔ ۲
مرزا قادیانی کے زہر آلود عقائد نے امت مسلمہ میں بے چینی پیدا کر دی۔ لیکن جھوٹے مدعی نبوت کو قہر الٰہی کا سامنا ضرور کرنا پڑا۔
حضور ﷺ نے نہ صرف جھوٹے مدعیان نبوت کے بارے میں پیشگی اطلاع دی بلکہ آپ ﷺ نے تو ان کی تعداد بھی بیان فرما دی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس (30) دجال اور کذاب پیدا نہ ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے“۔ ۳
احادیث مبارکہ کی روشنی میں قیامت تک مختلف ادوار میں نبوت کا دعویٰ کرنے والے کذاب (جھوٹے) ظاہر ہوں گے۔ لہٰذا ہر دور میں ایسے کذاب پیدا ہوئے اور فدایان ختم نبوت نے ان کذابوں کی گردنیں اڑا کر ان کو واصل جہنم کیا۔ دین اسلام کو خالق کائنات نے پسند کیا اور میرے آقا تاجدار مدینہ ﷺ پر مکمل کیا۔ اب اسلام کی اشاعت میں اویس و بلال آتے رہیں گے اور نعرہ مستانہ لگاتے رہیں گے۔ کبھی شیخ عبد القادر جیلانی کی طرح، کبھی غریب نواز معین الدین چشتی کی طرح، کبھی حضرت بہاء الدین نقشبندی کی طرح، کبھی حضرت شہاب الدین سہروردی کی طرح، کبھی حضرت مجدد الف ثانی کی طرح، کبھی امام احمد رضا خان بریلوی کی طرح، کبھی پیر جماعت علی شاہ کی طرح، کبھی حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی طرح اور کبھی مولانا شاہ احمد نورانی (رحمۃ اللہ علیہم) کی طرح یہ جانثار فیضان ختم نبوت کے چراغ جلاتے رہیں گے۔
قادیانیوں سن لو! تمہاری ہر جھوٹی سوچ پر ہم حق کا تالا لگا کر ہی دم لیں گے اور میرے رسول خاتم النبیین ﷺ کا نور پوری کائنات کو منور کرتا رہے گا کیونکہ اس نور اور پیغام کی حفاظت خود خالق کائنات کرتا ہے۔ معزز قارئین! عقیدہ ختم نبوت ہی کا دوسرا نام عشق رسول ﷺ ہے جو کہ ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد اور اساس ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت ہی ہماری پہچان ہے۔ اے اللہ ہمیں نبی رحمت ﷺ سے سچی محبت اور لازوال طاقت عطا فرما۔
جنون مقابلہ گستاخ نبی غیرت مسلم دعوت ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
برصغیر میں فتنہ انکار ختم نبوت
قادیانیت اسلام کے نام پر سادہ مسلمانوں کے ذہنوں پر حملے کر رہی ہے۔ اس کے زہر آلود خیالات پوری امت مسلمہ کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ اب ہمیں ہر محاذ پر اس شیطانی سوچ کے جھوٹے ارادوں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال نے کیا خوب لکھا ”قادیانیت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ ایک غیر مسلم اس کو اسلام سمجھ کر قبول کر رہا ہوگا۔ المیہ یہ ہوگا کہ وہ بیچارا ایک کفر سے نکل کر دوسرے کفر میں جا رہا ہوگا“۔ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی نے مرزا قادیانی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ”حسب وعدہ شاہی مسجد میں آؤ ہم دونوں اس کے مینار پر چڑھ کر چھلانگ لگاتے ہیں، جو سچا ہوگا بچ جائے گا، جو کاذب ہوگا مر جائے گا“۔ مرزا قادیانی جھوٹا تھا بھاگ گیا۔ عاشق رسول ﷺ خواجہ قمر الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ نے عشق رسول ﷺ میں ڈوب کر کیا خوب کہا ”قادیانیوں کا مسئلہ باتوں سے حل نہیں ہوگا۔ آپ مجھے حکم دیں میں قادیانیوں سے نپٹ لوں گا اور چند روز میں ربوہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا“۔
یہ وہ پس منظر تھا جس میں شاطر انگریزوں نے ایک ایسے شخص کی جستجو کی جو اُن کی بھر پور حمایت کرے، چنانچہ انہیں مرزا غلام احمد قادیانی مل گیا جسے انہوں نے جھوٹی نبوت کی مسند پر بٹھا دیا اور اس سے اپنی حمایت میں اور دین اسلام کے خلاف ایسے ایسے بیانات دلوائے جنہیں پڑھ کر ایک مسلمان کا سر ندامت سے جھک جاتا ہے۔ امت مسلمہ جس نے چودہ صدیوں میں کسی جھوٹے دعویدار نبوت کو قبول نہیں کیا تھا تو وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو کیسے نبی یا مجدد تسلیم کر لیتی؟
علماء اہلسنت و جماعت نے اپنی تمام تحریری اور علمی توانائیاں اس کے خلاف صرف کر دیں۔ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی نے ”شمس الہدایۃ“ لکھ کر حیات مسیح علیہ السلام پر زبردست دلائل قائم کیے۔ مرزا قادیانی ان کا جواب تو نہ دے سکا البتہ پیر صاحب کو مناظرے کا چیلنج دے دیا۔ 25 جولائی 1900ء مناظرہ کی تاریخ مقرر ہوئی۔ پیر صاحب علماء کی ایک بڑی جماعت کے ہمراہ اس تاریخ کو شاہی مسجد لاہور پہنچ گئے لیکن مرزا کو سامنے آنے کی جرأت نہ ہو سکی۔ اس خفت کو مٹانے کے لیے مرزا نے 15 دسمبر 1900ء کو سورۂ فاتحہ کی تفسیر ”اعجاز المسیح“ کے نام سے عربی زبان میں شائع کی اور تاثر یہ دیا کہ یہ الہامی تفسیر ہے۔ پیر صاحب نے 1902ء میں ”سیف چشتیائی“ لکھ کر شائع فرمادی جس میں مرزا کی عربی دانی کے دعووں کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اس کتاب کا جواب آج تک مرزائیوں پر قرض ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی نے پانچ رسائل اور کئی فتاویٰ فتنہ قادیانیت کے رد میں لکھے۔ ایک
عزمِ جنوں
العاقب برصغیر میں فتنہ انکار ختم نبوت
رسالہ ان کے صاحبزادہ حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان نے لکھا۔ مولانا علامہ غلام دستگیر قصوری نے متعدد کتابیں لکھیں۔ علمائے پنجاب میں سے حضرت مولانا غلام قادر بھیروی نے مرزا کے خلاف پہلا فتویٰ دیا۔ مولانا پیر غلام رسول قاسمی امرتسری نے عربی میں ایک کتاب لکھی جو اردو ترجمہ کے ساتھ شائع ہوئی۔ قاضی فضل احمد لدھیانوی نے متعدد کتابیں لکھیں۔ حضرت مولانا ضیاء الدین سیالوی نے ”معیار المسیح“ کے نام سے ایک لاجواب کتاب لکھی۔ مولانا حیدر اللہ نقشبندی مجددی نے ”درۃ الدیانی علی المرتد القادیانی“ کے نام سے مفید کتاب لکھی۔ مرزائیوں کے خلاف پہلی دفعہ 1953ء میں بھر پور تحریک چلائی گئی جس کا مطالبہ یہ تھا کہ ظفر اللہ مرزائی کو وزارت خارجہ کے منصب سے برطرف کیا جائے اور مرزائیوں کو قانونی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے‘ اس تحریک میں تمام مکاتب فکر کے علماء شامل تھے ۔ دوسری دفعہ 1974ء میں تحریک ختم نبوت چلی جس کے تحت پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔
﴿حوالہ جات﴾
- ١ The arrival of British empire in India
- ٢ دافع البلاء‘ مندرجہ روحانی خزائن‘ ج:۱۸ ص:۲۳۱
- ٣ کتاب المناقب
نبوت
علامہ محمد اقبال
ہاں مگر عالمِ اسلام پہ رکھتا ہوں نظر فاش ہے مجھ پہ ضمیرِ فلکِ نیلی فام
عصرِ حاضر کی شبِ تار میں دیکھی میں نے یہ حقیقت کہ ہے روشن صفتِ ماہِ تمام
وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگِ حشیش جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام
فدایان ختم نبوت عقیدہ ختم نبوت بقائے امت مسلمہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس
عقیدہ ختم نبوت
دین اسلام کی اساس
جنرل (ر)
حمید گل
جنرل (ر) حمید گل صاحب سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ آپ نے 1958ء تا 1992ء فوج کے اعلیٰ عہدوں پر خدمات سر انجام دیں۔ آپ نے 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں مجاہدانہ کردار ادا کیا اور افغانستان روس جنگ میں مرکزی کردار رہے، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس (DGMI) اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (DGISI) ایسے اعلیٰ ترین اور حساس عہدوں پر بھی تعینات رہے۔ حکومت پاکستان نے آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے آپ کو ستارہ جرات اور ہلال امتیاز (ملٹری) سے نوازا۔ فتنہ قادیانیت اور مرزائیت اور مسئلہ ختم نبوت کی حساسیت و نزاکت کو حساس ترین عہدوں پر فائز جہاندیدہ شخص نے کچھ یوں بیان کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
الحمد للہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔ جس کے آئین کے سیکشن 7 الف میں قرآن وسنت کی بالا دستی کا اقرار کیا گیا ہے۔ قرآن وسنت کی رو سے عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس ہے۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس کی بدولت امت مسلمہ انتشار سے محفوظ ہے۔ یہی عقیدہ پوری امت مسلمہ کے اتحاد، یکجہتی، وحدت، استحکام اور سالمیت کا آئینہ دار ہے۔
قادیانی جماعت اس عقیدہ کی منکر ہے۔ قادیانیوں کا اس عقیدے سے انکار امت مسلمہ کی یکجہتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے اور انتشار و تفریق پیدا کرنے کا باعث ہے لہٰذا مسلمانوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ ایسی جماعت کی مذموم سرگرمیوں کے خلاف اپنا دفاع کریں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام اور قادیانیت دو الگ الگ مذہب ہیں۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ نبوت ورسالت حضور نبی کریم ﷺ پر ختم ہو گئی ہے جبکہ قادیانی مرزا غلام احمد کو نیا نبی اور رسول مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک غیر قادیانی یعنی مسلمان کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ دراصل قادیانیت برطانوی سامراج کی بدترین یادگار ہے جو اس کی حمایت اور سرپرستی میں کام کر رہی ہے۔ قادیانیت ایک مذہب ہی نہیں بلکہ ایک ایسی
کیا مسلمانوں کی غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس 53
تحریک بھی ہے جس کی اسلام اور پاکستان سے وفاداری مشکوک ہے۔ پاکستان کے مذہبی حلقوں کا ہمیشہ سے یہ تاثر رہا ہے کہ قادیانی امت مسلمہ کے ہر معاملے کی بھر پور مخالفت کرتے رہتے ہیں اور یہود و ہنود کے ہر اس منصوبے کی حمایت کرتے ہیں جس کا مقصد مسلمانوں یا اسلام کو نقصان پہنچانا ہو۔ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اسلام دشمن طاقتوں سے تعاون کرتے ہوئے اسلامی عقائد اور تعلیمات کو مسخ کرنے اور ان میں تحریف کرنے کے لیے ان کے ایجنٹ کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ملتی رہی ہیں کہ قادیانی لابی غیر محسوس طریقے سے پاکستان کو اندر ہی اندر سے کمزور کرنے میں مصروف ہے۔ کراچی اور پنجاب میں جو تخریب کاری، دہشت گردی اور قتل و غارت ہو رہی ہے قادیانی لابی کو بھی اس ضمن میں شک کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے بعض مذہبی حلقوں کا یہ خیال ہے کہ یہی وہ خفیہ ہاتھ ہے جو ملک کی معاشی ترقی اور استحکام کا دشمن ہے۔ خود علامہ اقبال نے بھی اس خطرناک گروہ کی نشاندہی پنڈت جواہر لعل کے نام اپنے تاریخی مکتوب میں یہ کہہ کر کر دی تھی کہ ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں“۔
- 1974ء میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو ان کے
کفریہ عقائد کی بنا پر آئین کی آرٹیکل 106 اور آرٹیکل 260 کی ذیلی شق (3) کے تحت غیر مسلم قرار دیا۔ یہ ترمیم طویل صلاح مشورے، علمی بحث و مباحثے اور مسئلے کی مکمل چھان بین کے بعد جمہوری، پارلیمانی اور عدالتی طریقے پر کی گئی تھی۔ پارلیمنٹ میں انہیں غیر مسلم قرار دیے جانے والے اجلاس میں یہ قرارداد بھی پیش کی گئی کہ ”احمدی (قادیانی) اندرونی اور بیرونی سطح پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، حکومت پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ان سرگرمیوں کے سد باب کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے“۔ درج بالا حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری اس بات کی ہے کہ اس گروہ کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور مسلمانوں کو ان (مرزائیوں، قادیانیوں) کی حقیقت اور مذموم عقائد وعزائم سے آگاہ کیا جائے۔ مسلمانوں کے لیے جہاں عقیدہ ختم نبوت کی تفصیلات سے آگاہی ضروری ہے وہاں ان کے لیے قادیانیوں کے اصل چہرے سے شناسی بھی ضروری ہے۔
٭٭٭٭٭٭
مقامِ رنگ و بو کا راز پا جا
(علامہ محمد اقبال)
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
نوٹ: قادیانیت تاریخ کی بدترین مسلم کش تحریک ہے
العاقب شوکت ختم رسالت ﷺ
شوکت ختم رسالت ﷺ
پروفیسر محمد اکرم رضا گوجرانوالہ
شہ کونین ٭ کے ناموس پر مٹنا عبادت ہے
شہ کونین ٭ کی ہرگز نہ گستاخی جو سہہ پائے
محبت مصطفیٰ ٭ ہے وہ مقدر اس کا جنت ہے
شہ کونین ٭ کا ناموس ہی دین کی تجلی ہے
سلامت اس سے ایماں ہے یہی پیغام رفعت ہے
سلام ان کو جو قرباں ہو گئے ناموس احمد ٭ پر
انہی کے عزم عالی سے مسلماں میں حرارت ہے
ہے موت اس کا مقدر جو ہو گستاخ شہ بطحا ٭
گواہی اس کی علم الدین ٭٭ کا ذوق شہادت ہے
وہ جو ناموس احمد ٭ کی حقیقت کو سمجھ جائے
مہک ہے اس کی سانسوں میں سراپا نور و نکہت ہے
جو گستاخ شہ دارین ہو اس بزم فطرت میں
مثال بولہب وہ خوار ہے پیغام ذلت ہے
نبی ٭ کے چاہنے والو ! خدا را آج جاگ اٹھو
کہ اس ہنگامۂ ذلت میں تو سو رہنا بھی ذلت ہے
ہمیشہ موج پر دیکھا عَلم ختم رسالت کا
ہمیشہ روشنی پرور محمد ٭ کی رسالت ہے
بہر سُو شمع ناموس نبی ٭ ہی ضو فگن دیکھی
رضا ختم رسالت کی یہی زندہ حقیقت ہے
٭ ﷺ ٭٭ رحمۃ اللہ علیہ
ندائے مجذوب تا لاکھ گستاخ نبی ہو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے ......
العافی ناموس رسالت ﷺ
ناموس رسالت ﷺ
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 5 جولائی 1971ء کو کراچی میں شیخ لیاقت حسین کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے نانا سردار علی صابری نے بانی پاکستان محمد علی جناح کو ”قائداعظم“ کا لقب دیا تھا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت صاحب نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ MQM میں گزارا لیکن اب وہ اس لسانی تنظیم سے بالکل کنارہ کش ہیں۔ مشرف دور میں آپ وزارت مذہبی امور اور زکوٰۃ وعشر کے وفاقی وزیر بھی رہے لیکن ملعون سلمان رشدی کے خلاف پروگرام کرنے کی پاداش میں وزارت سے الگ کروا دیے گئے۔ کافی عرصہ مشرف کی آنکھوں کا تارا اور پھر کانٹا بنے رہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی تردید سے آپ کو قلبی و فطری لگاؤ ہے جس کا اظہار گاہے بگاہے ہوتا رہتا ہے۔ آپ کلامِ اعلیٰ حضرت جھوم جھوم کر بہت خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس وقت آپ روزنامہ جنگ کے کالم نگار اور جیوٹی وی کے پروگرام عالم آن لائن کے میزبان ہیں۔
عشق تو ایک کیفیت کا نام ہے جو کسی پہ طاری اور کسی پہ بھاری ہوتی ہے‘ جنہوں نے اسے اپنے وجود پر طاری کیا ان کے فیض کے چشمے آج بھی جاری ہیں اور جن بدنصیبوں نے اسے بھاری محسوس کیا‘ رب نے اپنی رحمت سے انہیں ہمیشہ کے لیے مایوس کیا۔ کسی مرید نے اپنے مرشد سے پوچھا ”حضرت یہ تو فرمائیے کہ ابلیس نے آخر سجدے سے انکار کیوں کیا“؟ مرشد نے مسکرا کر کہا‘ بہ زبانِ ایمان سننا چاہتا ہے تو جان لے کہ میرے رب کی یہی مشیت تھی اور اگر عقل کی جہتوں میں گم ہے تو سن لے کہ ہزاروں برس کی عبادتوں کے باوجود اس کے پاس صرف تین ہی ”عین“ تھے چوتھا ہوتا تو انکار نہ کرتا۔ مرید نے حیرانگی سے دریافت کیا‘ کون سے عین؟ مرشد نے استعجاب سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مسکان کی سلوٹوں کو چشمان کے کناروں سے تہہ کر کے جواب دیا۔ وہ عارف تھا‘ عابد تھا‘ عالم بھی تھا مگر ”عاشق“ نہ تھا اگر عشق کرتا تو سجدہ کرتا اور سمجھ جاتا کہ خالق کے نزدیک انسان ”محترم“ کیوں ہے؟ عشق سے خالی تھا‘ اسی لیے احترام نہ کر سکا‘ ناموس کے معنی نہ جان سکا اور قیامت تک کے لیے بے عزت ہو گیا۔ عشق نے تو آنکھ ہی ادب کی آغوش میں کھولی ہے۔ پست نگاہوں کی فنکاری نے بلند مرتبے کو رفتہ رفتہ جوان
رضوی بتلادو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب ناموس رسالت
کیا ہے۔ جھکاؤ نے اٹھان اور تواضع نے کلام میں رس کو پیدا کیا ہے مگر اسے عبادت‘ ریاضت‘ علم اور تحقیق پر غرور تھا‘ اس نے کبھی عشق کے سجدے ہی نہیں کیے تھے تو کیسے جانتا کہ سجدوں میں لذت تو آتی ہی اس وقت ہے جب وہ حکم پر کیے جاتے ہیں۔ اوقات میں تو سب ہی کو سجدے مل جاتے ہیں مگر جنہیں ”سوغات“ میں ملتے ہیں وہ خود سپردگی کے زینے کی ہر سیڑھی پر ہونٹوں کے قدم رکھتے ہیں۔ عبادت کے شوق میں سب سے آگے نکلنے کی خواہش نے اسے ”خیر“ اور ”شر“ میں تقسیم کر دیا اور دربار سے آواز آئی ”خیر“ تو وہ ہے یہی نائب بنے گا اور ”شر“ کہ ہم نے تجھے دھتکار کر رجیم بنا دیا۔ اے ناموس کے دشمن! دور ہو جا ہماری بارگاہ سے اور بہکا جب تک ہم تجھے بہکانے کی مہلت دیتے ہیں‘ تو آج عزت سے غریب ہوا اور اب یقیناً عزتوں پر ہی ڈاکے ڈالے گا۔ حیلے تراشے گا‘ بہانے بنائے گا‘ وسوسے ڈالے گا اور ابن آدم کے بدن پر پیرہن ناموس کو حاسدانہ ناخنوں سے تار تار کرے گا مگر مجھے اپنی ناموس کی قسم! تیرے بہکاوے میں صرف وہی آئیں گے جنہیں ہم نے صحف تقدیر کے ہر صفحے پر پہلے ہی سے بے آبرو قرار دے دیا ہے۔
بے شک ایسا ہی ہے‘ شراب کی چسکیوں سے دانتوں میں پھنسے سور کے ریشوں کو حلق کی امانت بنانے والے کل بھی ناموس کے دشمن تھے اور آج بھی اس پر وار کرنے سے قطعاً نہیں چوکتے۔ دراصل ان کی اپنی ناموس تو ہے ہی نہیں‘ گرم بستروں میں شہوت کے قطروں سے حرام کی قطاریں لگانے والے کیا جانیں کہ عزت کسے کہتے ہیں اور اس پر حرف آجائے تو کس قدر تکلیف ہوتی ہے؟ پھر اگر بات ”ناموس رسالت ﷺ“ کی ہو تو تعظیم وتوقیر کے قرآنی حکم کی حفاظت کے لیے امتی کو کبھی ”قانونی سہارے“ کی حاجت نہیں رہی۔ یعنی اگر قانون توہین رسالت نہ ہوتا تو کیا ادب نہ ہوتا؟ آل رسول ﷺ کے دیوانے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے پروانے مخصوص دائرے میں سفر کرتے ہیں یا پرواز؟ ویسے بھی یہ قانون فطرت ہے کہ بدبو میں رہنے والے کو خوشبو میں بھی خوشبو نہیں آتی اور خوشبو میں رہنے والا بدبو کو ایک لحظہ بھی برداشت نہیں کر سکتا چہ جائیکہ وہ چمن میں کچھ دیر کے لیے قیام کرے۔ ہم اپنے آقا اور مولا ﷺ سے ساری دنیا سے بڑھ کر اور ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں کیونکہ اگر محبت میں ٹوٹے ہی نہیں تو جوڑے بنانے والا جوڑے گا کیسے؟
معاف کیجیے گا کہ عزت کا مطلب اور اس کی حد کیا ہے؟ وہ کیسے بتا سکتے ہیں جنھوں نے اپنی عزتوں کی بین الاقوامی منڈیاں لگا رکھی ہیں۔ کم از کم برطانیہ تو یہ نہ سکھائے کہ ”ناموس رسالت ﷺ کے قانون کو کیسے ختم کیا جائے“ بلکہ یہ بتائے کہ ”اینگلو اور سیکسن“ نامی قبائل نے جس ”انگلینڈ“ کو جنم دیا ہے وہاں آج بھی عورت صرف ”افزائش
بتاو گستاخ نبی کی غیرت مسلم کدھر ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب ناموس رسالت ﷺ
نسل کی مشین‘‘ کیوں سمجھی جاتی ہے؟ میں نہیں کہتا برطانوی جریدے ٹیلی گراف کی سالانہ رپورٹ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ برطانیہ میں ہر سال 46.5 فیصد خواتین ”بن بیاہی ماں“ بن جاتی ہیں اور ان میں سے 9.5 فیصد وہ خواتین ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سے بائیس برس کے لگ بھگ ہیں۔
آمنہ کے لال کی حرمت (معاذ اللہ) پامال ہونے پر ہمارے عشق کی بھڑکتی ہوئی آگ کو سرد کرنے کی تدبیروں کے بجائے پہلے اپنی عورتوں کو ”سیدہ مریم علیہا السلام“ کی وہ عظیم پاکیزگی یاد دلائیے جن پر انگلیاں اٹھانے والے ہی ناہنجار تھے۔ جنہیں قرآن نے ” انبیاء کا قاتل “ قرار دیا اور آپ کے ہاں Mel Gibson نے Passion of Christ بنا کر دنیا کی سب سے بڑی Blasphemy کرنے والوں سے اپنی نفرت کا اظہار کیا ہے۔ میں اور میرے ماں باپ مریم علیہا السلام کی عفت پر قربان کہ ان کی عصمت کی گواہی تو پالنے میں لیٹے ہوئے مسیح اللہ نے خدا کا کلام سنا کر دی اور کیوں نہ دیتے کہ وہ اللہ کے سچے رسول تھے۔ مگر مسیح سے بولنے کا فن سیکھ کر رسول اللہ سے محبت کی گواہی مسلمان گھرانوں کے وہ 6 سالہ بچے بھی دے دیتے ہیں جنہیں حفظ کی غذا پر قرآن نے قرأت کے لاڈ سے پالا ہے۔
اہلیان یورپ کا چونکہ اصول ہے کہ وہ ہر برائی کو علمی رنگ اور فلسفے کا جامہ پہنا کر اسے اعلیٰ ذوق کی علامت بنا دیتے ہیں چنانچہ جرمن یہودی فلسفی ہیگل نیطشے اور لاک نے ” آزادی “ کے خوبصورت نام سے تعبیر کر کے عورت کا رہا سہا مقام بھی گرا دیا۔ لیکن ہم تو اپنے ماضی کے ایسے غلام ہیں کہ ” زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ“ بن کر غلامی رسول ﷺ میں اپنی آزادی بھی قربان کر دیتے ہیں یا پھر ثوبانؓ بلالؓ انسؓ اور ضمیرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح عمر بھر سرکار کے نعلین مبارک تھام کر سگِ مصطفیٰ ﷺ کی طرح ان کے پیچھے چلنے ہی کو زندگی بنا لیتے ہیں‘ یہاں تک کہ سماعت محمد ﷺ کو غلاموں کے عاجزانہ قدموں کی چاپ جنت میں بھی سنائی دیتی ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور کوپن ہیگن یونیورسٹی کے Gender Studies ڈیپارٹمنٹ کے مطابق امریکہ‘ ڈنمارک‘ ناروے‘ سویڈن‘ جرمنی اور فرانس‘ دنیا میں ولدالحرام بچوں کا ہر سال 76 فیصد حصہ آپس میں بانٹتے ہیں۔ گویا اپنی ان حرام حرکتوں کو درست کرنے کے بجائے اللہ نے جسے حرام قرار دیا ہے اسے حلال کرنے کے لیے انسانی حقوق‘ آزادیِ اظہار اور جنسی تفریق کے خاتمے کے نام پر فضائل و دلائل کے ذریعے حرام کے خصائل بیان کرنے والے ان ناموس کے دشمنوں کی زبانیں نہیں تھکتیں۔ یہ کیا جانیں کہ تعظیم رسول ﷺ کے باعث نظریں جھکانے‘ آوازوں کے پست کرنے‘ سوال کرنے سے ڈرنے‘ بسترِ نبوی پر مشرک باپ کو نہ بیٹھنے دینے‘
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے غلامی مصطفیٰ سے غیرت مسلم بیدار ہے
العاقب ناموس رسالت ﷺ
معاہدے میں رسول اللہ کا لفظ مٹادینے سے انکار کرنے‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان جیسے الفاظ تکیہ کلام بنا لینے‘ بے ادبی کے شائبے سے بھی گریز کرنے‘ اس کے خیال کو بھی بُرا سمجھنے‘ برابر کھڑے ہونے اور آگے بیٹھنے کو گستاخی سمجھنے‘ آپ کی رہائش کے اوپر اپنی رہائش کو توہین جاننے‘ حضور ﷺ سے کیے گئے عہد کو پورا نہ کرنے پر رنج میں مبتلا رہنے‘ حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کرنے میں سخت ناراضگی کا اظہار کرنے‘ مسجد نبوی میں بلند آواز میں تنبیہہ کرنے‘ موئے مبارک سے برکت حاصل کرنے‘ حضور ﷺ کے وضو کا پانی جسموں پر ملنے اور جسد اطہر کے پسینے سے گلاب کا پودا اُگانے جیسے عشق کے ان مظاہر میں کیا مزا ہے؟
انہوں نے تو عمر بھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے بدکلامی کی‘ مسیح اللہ سے چرب زبانی کی اور محمد رسول اللہ ﷺ سے روگردانی کی۔ کاش یہ موسیٰ علیہ السلام کے ”میم“ پر مصر رہنے کے بجائے محمد ﷺ کے ”میم“ کی اتباع کر کے ختم نبوت کی گرہ کے ساتھ اگر مسیح اور مہدی کے ”میم“ کے منتظر رہتے تو شاید فلاح پا جاتے۔۔۔۔۔!!!
گزشتہ شمارے کے جوابات
- ❶ امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ ہے کہ مدعی نبوت سے اس
کے دعوے کی دلیل طلب کرنا بھی کفر ہے۔
- ❷ دجال قادیان‘ مرزا قادیانی نے عمر بھر ایک بھی حج اور عمرہ نہیں کیا۔
- ❸ غازی عامر چیمہ رحمۃ اللہ علیہ 3 مئی 2006ء کو شہید ہوئے۔
نعرۂ جنوں خبردار! گستاخی کی تو غیرت مسلم زندہ ہے دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العقاب گستاخ رسول کی شرعی سزا
گستاخ رسول کی شرعی سزا
علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی
غزالی زماں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی 13 مارچ 1913ء کو امروہہ ضلع مراد آباد یو پی میں سید محمد مختار کاظمی کے ہاں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ہی والد گرامی کے وصال کے بعد آپ کی نگہداشت برادر اکبر پیر طریقت سید محمد خلیل کاظمی نے فرمائی ۔ 1929ء میں فراغت کے بعد آپ اپنے برادر اکبر کے دست اقدس پر بیعت ہوئے۔ بعد از فراغت آپ نے کچھ عرصہ دارالعلوم نعمانیہ لاہور میں تدریس فرمائی اور پھر 1931ء میں امروہہ واپس چلے گئے۔ چار سال وہاں تدریس فرمانے کے بعد 1935ء میں ملتان تشریف لائے اور مدرسہ انوارالعلوم کی بنیاد رکھی۔ اس وقت آپ کا قائم کردہ یہ مدرسہ پاکستان کے مرکزی سنی مدارس میں سے ایک ہے۔ تحریک پاکستان میں آپ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سرگرم عمل رہے۔ قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948ء میں آپ نے جمعیت علماء پاکستان کے قیام کے لیے ملتان میں کنونشن طلب کیا۔ اس کنونشن میں جمعیت علماء پاکستان کی صدارت کے لیے خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا ابوالحسنات قادری صدر اور آپ ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ 1953ء، 1974ء کی تحاریک ختم نبوت اور 1977ء کی تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ میں آپ نے قائدانہ کردار ادا فرمایا۔ 1963ء تا 1975ء کے عرصہ میں آپ جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں شیخ الحدیث کے منصب پر بھی فائز رہے۔ بہر کیف آپ مستند محقق، مصنف، مقرر، مدبر اور شریعت وطریقت کے جامع الکمال حامل شخصیت کے مالک تھے۔ ہزاروں لاکھوں افراد نے آپ سے علمی و روحانی فیضان حاصل کیا۔ 25 رمضان المبارک 1406ھ / 4 جون 1986ء بروز بدھ آپ اس دار فانی سے دار البقاء کی جانب کوچ فرما گئے۔ آپ کا مزار اقدس آج بھی مرجع خاص وعام ہے۔
کتاب وسنت، اجماع امت اور تصریحات آئمہ دین کے مطابق توہین رسول کی سزا صرف قتل ہے۔ رسول کی صریح مخالفت توہین رسول ہے۔ قرآن مجید نے اس جرم کی سزا قتل بیان کی ہے۔ اسی بنا پر کافروں سے قتال کا حکم دیا گیا۔ ● قرآن مجید میں ہے ﴿ذلک بانهم شاقوا الله ورسوله﴾ یہ (یعنی کافروں کو قتل کرنے کا حکم) اس
نعرہ : بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب گستاخ رسول کی شرعی سزا
لیے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی صریح مخالفت کر کے ان کی توہین کا ارتکاب کیا ۔
- ● توہین رسول کے کفر ہونے پر بکثرت آیات قرآنیہ شاہد ہیں مثلاً ﴿ولئن سألتھم لیقولن انما کنا
نخوض ونلعب قل ابااللہ وآیتہ ورسولہ کنتم تستھزؤن لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم﴾ ﴿۳﴾ ترجمہ: ”اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو وہ ضرور کہیں گے ہم تو صرف ہنسی مذاق کرتے تھے۔ آپ (ان سے) کہیں، کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہو۔ کوئی عذر نہ کرو۔ بے شک ایمان کے بعد تم نے کفر کیا“۔
- ● مسلمان کہلانے کے بعد کفر کرنے والا مرتد ہوتا ہے اور از روئے قرآن مرتد کی سزا صرف قتل ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے فرمایا ﴿قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید تقاتلونھم او یسلمون﴾ ﴿۴﴾ ترجمہ: ”اے رسول ﷺ پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے فرما دیجیے، عنقریب تم سخت جنگ کرنے والوں کی طرف بلائے جاؤ گے۔ تم ان سے قتال کرتے رہو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے“۔
یہ آیت مرتدین اہل یمامہ کے حق میں بطور اخبار بالغیب نازل ہوئی۔ اگرچہ بعض علماء نے اس مقام پر فارس وروم وغیرہ کا ذکر بھی کیا ہے لیکن حضرت رافع بن خدیجؓ کی حسب ذیل روایت نے اس کو مرتدین بنی حنیفہ (اہل یمامہ) کے حق میں متعین کر دیا۔ ﴿عن رافع بن خدیج انا کنا نقرأ ھذہ الآیۃ فیما مضی ولا نعلم من ھم حتی دعا ابوبکر الی قتال بنی حنیفۃ فعلمنا انھم اریدوا بھا﴾ ﴿۵﴾ ترجمہ: ”حضرت رافع بن خدیجؓ فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانے میں ہم اس آیت کو پڑھا کرتے تھے اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ وہ کون لوگ ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (مرتدین) بنی حنیفہ (اہل یمامہ) کے قتال کی طرف مسلمانوں کو بلایا۔ اس وقت ہم سمجھے کہ اس آیت کریمہ میں یہ مرتدین ہی مراد ہیں“۔ ثابت ہوا کہ اگر مرتد اسلام نہ لائے تو از روئے قرآن اس کی سزا قتل کے سوا کچھ نہیں۔
- ● قتل مرتد کے بارے میں متعدد احادیث وارد ہیں۔ اختصار کے پیش نظر صرف ایک حدیث پیش کی جاتی
ہے ﴿اتی علی بزنادقۃ فاحرقھم (وفی روایۃ ابی داؤد)ان علیا احرق ناسا ارتدوا عن الاسلام فبلغ ذلک ابن عباس فقال لو کنت انا لم احرقھم لنھی رسول اللہ ﷺ لا تعذبوا بعذاب اللہ ولقتلتھم لقول رسول اللہ ﷺ من بدل دینہ فاقتلوہ﴾ ﴿۶﴾ ترجمہ: ”حضرت علی کے پاس (مرتد ہو جانے والے) زندیق لوگ لائے گئے تو آپ نے انہیں جلا دیا۔ اس کی خبر حضرت عبداللہ بن عباس کو پہنچی تو انہوں
یہ نعرہ بتلاؤ گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العقبیٰ گستاخ رسول کی شرعی سزا
نے فرمایا ”اگر (آپ کی جگہ) میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب نہ دو اور میں انہیں قتل کرا دیتا‘ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو (مسلمان) اپنے دین سے پھر جائے اسے قتل کر دو“۔
قتل مرتد کے بارے میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طرز عمل
- سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مسند خلافت پر بیٹھتے ہی جس شدت سے مرتدین کو قتل کیا محتاج بیان نہیں۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لیے مرتد کو زندہ دیکھنا ناقابل برداشت تھا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما دونوں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یمن کے دو مختلف حصوں پر حاکم تھے۔ ایک دفعہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے آئے۔ ایک بندھے ہوئے شخص کو دیکھ کر انہوں نے پوچھا ”یہ کون ہے؟ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا ﴿کان یہودیا فاسلم ثم تہود قال اجلس قال لا اجلس حتی یقتل قضاء اللہ ورسولہ ثلاث مرات فامر بہ فقتل﴾ کے ترجمہ: ”یہ یہودی تھا۔ مسلمان ہونے کے بعد پھر یہودی (ہو کر مرتد) ہو گیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بیٹھنے کے لیے کہا۔ انہوں نے تین بار فرمایا: جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے‘ میں نہیں بیٹھوں گا۔ (قتل مرتد) اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حکم سے اسے اسی وقت قتل کر دیا گیا“۔
گستاخ رسول کا قتل:
- غلاف کعبہ سے لپٹے ہوئے توہین رسول کے مرتکب مرتد کو مسجد حرام میں قتل کرنے کا حکم رسول اللہ ﷺ
نے دیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح کے دن رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔ کسی نے حضور ﷺ سے عرض کی حضور ﷺ! (آپ کی شان میں توہین کرنے والا) ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ﴿اقتلوہ﴾ اسے قتل کر دو‘۔ ۸
یہ عبداللہ ابن خطل مرتد تھا۔ ارتداد کے بعد اس نے کچھ ناحق قتل کیئے رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں شعر کہہ کر حضور ﷺ کی شان میں توہین و تنقیص کیا کرتا تھا۔ اس نے دو گانے والی لونڈیاں اس لیے رکھی ہوئی تھیں کہ وہ حضور کی ہجو میں اشعار گایا کریں۔ جب حضور ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا تو اسے غلاف کعبہ سے باہر نکال کر
بتلاؤ گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب گستاخ رسول کی شرعی سزا
باندھا گیا اور مسجد حرام میں مقام ابراہیم اور زم زم کے درمیان اس کی گردن ماری گئی۔ 1۔
یہ صحیح ہے کہ اس دن ایک ساعت کے لیے حرم مکہ کو حضور ﷺ کے لیے حلال قرار دے دیا گیا تھا لیکن بالخصوص مسجد حرام میں مقام ابراہیم اور زم زم کے درمیان اس کا قتل کیا جانا، اس بات کی دلیل ہے کہ گستاخ رسول باقی مرتدین سے بدر جہا بدتر و بدحال ہے۔
اجماع امت:
- ❶ قال محمد بن سحنون اجمع العلماء ان شاتم النبی ﷺ المنتقص له کافر
والوعید جار علیه بعذاب الله له وحکمه عند الامة القتل ومن شک فی کفره وعذابه کفر ﴾ 1 ترجمہ: ”محمد بن سحنون نے فرمایا: علماء امت کا اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والا‘ حضور ﷺ کی توہین کرنے والا کافر ہے اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیک اس کا حکم قتل ہے۔ جو اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے‘ کافر ہے“۔
- ❷ وقال ابو سلیمان الخطابی لا اعلم احدا من المسلمین اختلف فی وجوب قتله اذا
کان مسلماً ﴾ 2 ترجمہ: ”امام ابوسلیمان الخطابی نے فرمایا: جب مسلمان کہلانے والا نبی ﷺ کے سب کا مرتکب ہو تو میرے علم میں ایسا مسلمان نہیں جس نے اس کے قتل میں اختلاف کیا ہو“۔
- ❸ واجمعت الامة علی قتل منتقصه من المسلمین وسابه ﴾ 12 ترجمہ: اور امت کا اجماع
ہے کہ مسلمان کہلا کر حضور ﷺ کی شان میں سب اور تنقیص کرنے والا قتل کیا جائے گا“۔
- ❹ قال ابوبکر بن المنذر اجمع عوام اهل العلم علی ان من سب النبی ﷺ یقتل قال
ذلک مالک بن انس واللیث واحمد واسحاق وهو مذهب الشافعی قال القاضی ابو الفضل وهو مقتضی قول ابی بکر الصدیق ولا تقبل توبته عند هؤلاء وبمثله قال ابو حنیفة واصحابه والثوری واهل الکوفة والاوزاعی فی المسلمین لکنهم قالوا هی ردة ﴾ 3 ترجمہ: ”امام ابوبکر بن منذر نے فرمایا‘ علماء اسلام کا اجماع ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو سب کرے‘ قتل کیا جائے۔ ان ہی میں سے مالک بن انس‘ لیث‘ احمد‘ اسحاق (رحمہم اللہ) ہیں اور یہی شافعی کا مذہب ہے۔ قاضی عیاض نے فرمایا‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قول کا یہی مقتضی ہے۔ (پھر فرماتے ہیں) اور ان ائمہ کے نزدیک اس کی توبہ بھی قبول نہ کی
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے ادارہٴ غفران
العاقب جائے گی۔ امام ابو حنیفہ‘ ان کے شاگر ہے۔ ان کے نزدیک یہ ردت ہے“۔
- ❺ ان جميع من سب
خصلة من خصاله او عرض به او بشانه او الغض منه والعی نستثنى فصلاً من فصوله او تلويحاً ........... وهذا كله إ عليهم الى هلم جرا ﴾ 4 ترجمہ طرف کسی عیب کو منسوب کیا یا حضو خصلت سے کسی نقص کی نسبت کی یا ذات مقدسہ کی طرف کسی عیب کو ا صراحتاً گالی دینے والا ہے‘ اسے قت شک کرتے ہیں۔ خواہ صراحتاً توہین صحابہ سے لے کر آج تک رضی اللہ
- ❻ والحاصل ان
المنقول عن الائمة الاربع مستحق قتل ہونے میں کوئی شبہ ن
- ❼ كل من ابغض ر
عندنا ﴾ 5 ترجمہ : ”جو شخص ر والا تو بطریق اولیٰ مستحق گردن زد
- ❽ ایما رجل تعم
وبانت منه زوجته
العاقب گستاخ رسول کی شرعی سزا
جائے گی۔ امام ابو حنیفہؒ ان کے شاگردوں‘ امام ثوری‘ کوفہ کے دوسرے علماء اور امام اوزاعی کا قول بھی اسی طرح ہے۔ ان کے نزدیک یہ ردّت ہے‘‘۔
❺ ﴿ان جميع من سب النبى ﷺ او عابه او الحق به نقصاً في نفسه او نسبه او دينه او خصلة من خصاله او عرض به او شبهه بشي على طريق السب له او لازراء عليه او التصغير بشانه او الغض منه والعيب له فهو ساب له والحكم فيه حكم الساب يقتل كما نبينه ولا نستثنى فصلاً من فصول هذا الباب على هذا المقصد ولا نمترى فيه تصريحاً كان او تلويحاً ........... وهذا كله اجماع من العلماء وائمة الفتوى من لدن الصحابه رضوان الله عليهم الى هلم جرا ﴾ ﴿ترجمہ: ”بے شک ہر وہ شخص جس نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی یا حضور ﷺ کی طرف کسی عیب کو منسوب کیا یا حضور ﷺ کی ذاتِ مقدسہ‘ آپ ﷺ کے نسب‘ دین یا آپ ﷺ کی کسی خصلت سے کسی نقص کی نسبت کی یا آپ ﷺ پر طعنہ زنی کی یا جس نے بطریقِ سب اہانت یا تحقیر شان مبارک یا ذاتِ مقدسہ کی طرف کسی عیب کو منسوب کرنے کے لیے حضور ﷺ کو کسی چیز سے تشبیہ دی‘ وہ حضور ﷺ کو صراحتاً گالی دینے والا ہے‘ اسے قتل کر دیا جائے۔ ہم اس حکم میں قطعاً کوئی استثناء نہیں کرتے۔ نہ ہم اس میں کوئی شک کرتے ہیں۔ خواہ صراحۃً توہین ہو یا اشارۃً کنایۃً ....... اور یہ سب علماء امت اور اہل فتویٰ کا اجماع ہے۔ عہدِ صحابہ سے لے کر آج تک رضی اللہ عنہم“۔
❻ ﴿والحاصل انه لا شك ولا شبهة في كفر شاتم النبي ﷺ وفي استباحة قتله وهو المنقول عن الائمة الاربعة ﴾ ﴿ترجمہ: ”خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کو گالی دینے والے کے کفر اور اس کے مستحقِ قتل ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ چاروں ائمہ (ابوحنیفہؒ‘ مالکؒ‘ شافعیؒ‘ احمد بن حنبلؒ) سے یہی منقول ہے‘‘۔
❼ ﴿كل من ابغض رسول الله ﷺ بقلبه كان مرتداً فالساب بطريق اولى ثم يقتل حداً عندنا ﴾ ﴿ترجمہ: ”جو شخص رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل میں بغض رکھے وہ مرتد ہے۔ آپ ﷺ کو گالی دینے والا تو بطریقِ اولیٰ مستحقِ گردن زدنی ہے۔ پھر (مخفی نہ رہے کہ) یہ قتل ہمارے نزدیک بطورِ حد ہوگا‘‘۔
❽ ﴿ايما رجل مسلم سب رسول الله ﷺ او كذبه او عابه او تنقيصه فقد كفر بالله وبانت منه زوجته ﴾ ﴿ترجمہ: ”جو مسلمان رسول اللہ ﷺ کو سب کرے یا تکذیب کرے یا عیب لگائے یا
العاقب بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقبة گستاخ رسول کی شرعی سزا
آپ کی تنقیص شان کا (کسی اور طرح سے) مرتکب ہو تو اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس کی زوجہ اس کے نکاح سے نکل گئی“۔
- 9 ﴿اذا عاب الرجل النبی ﷺ فی شئ کان کافرا وکذا قال بعض العلماء لو قال لشعر
النبی ﷺ شعیر فقد کفر وعن ابی حفص الکبیر من عاب النبی ﷺ بشعرة من شعراته الکریمة فقد کفر و ذکر فی الاصل ان شتم النبی کفر ﴾ 18 ترجمہ: ”کسی شے میں حضور پر عیب لگانے والا کافر ہے اور اسی طرح بعض علماء نے فرمایا ’اگر کوئی حضور ﷺ کے بال مبارک کو ”شعر“ کے بجائے (بصیغہ تصغیر ”شعیر“ کہہ دے) تو وہ کافر ہو جائے گا۔ امام ابو حفص الکبیر (حنفی) سے منقول ہے کہ اگر کسی نے حضور ﷺ کے کسی ایک بال مبارک کی طرف بھی عیب منسوب کیا تو وہ کافر ہو جائے گا اور امام محمد نے ”مبسوط“ میں فرمایا کہ نبی ﷺ کو گالی دینا کفر ہے“۔
- 10 ﴿ولا خلاف بین المسلمین ان من قصد النبی ﷺ بذلک فهو ممن ینتحل الاسلام
انه مرتد یستحق القتل ﴾ 19 ترجمہ: ”کسی مسلمان کو اس میں اختلاف نہیں کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ کی اہانت و ایذا رسانی کا قصد کیا اور وہ مسلمان کہلاتا ہے‘ وہ مرتد مستحق قتل ہے“۔
چند اہم امور کی وضاحت:
یہاں تک ہمارے بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کتاب و سنت‘ اجماع امت اور اقوال علمائے دین کے مطابق گستاخ رسول کی سزا یہی ہے کہ وہ حدًا قتل کیا جائے۔ اس کے بعد حسب ذیل امور کی وضاحت بھی ضروری ہے:
- 1 بارگاہ نبوت کی توہین و تنقیص کو موجب حد جرم قرار دینے کے لیے یہ شرط صحیح نہیں کہ گستاخی کرنے والے
نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی غرض سے گستاخی کی ہو۔ یہ شرط ہر گستاخ نبوت کے تحفظ کے مترادف ہو گی اور توہین رسالت کا دروازہ کھل جائے گا۔ ہر گستاخ نبوت اپنے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے یہ کہہ کر چھوٹ جائے گا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا میری غرض نہ تھی۔ علاوہ ازیں یہ شرط کتاب اللہ کی بھی منافی ہے۔ سورۃ توبہ کی آیت ہم لکھ چکے ہیں کہ توہین کرنے والے منافقوں کا یہ عذر کہ ”ہم تو آپس میں صرف دل لگی کرتے تھے‘ ہماری غرض توہین نہ تھی اور نہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل کرنا ہمارا مقصد تھا“۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عذر کو مسترد کر دیا اور واضح طور پر فرمایا ﴿لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم ﴾ 20 ترجمہ: ”بہانے
سلسلہ مسئلہ گستاخ نبی کی سزا موت ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقبة گستاخ رسول کی شرعی سزا
نہ ہٹاؤ، ایمان کے بعد تم نے کفر کیا“۔
- ❷ صریح توہین میں نیت کا اعتبار نہیں۔ ”راعنا“ کہنے کی ممانعت کے بعد اگر کوئی صحابی نیت توہین کے بغیر حضور ﷺ کو ”راعنا“ کہتا تو وہ ﴿واسمعوا وللکافرین عذاب الیم﴾ کی قرآنی وعید کا مستحق قرار پاتا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ نیت توہین کے بغیر بھی حضور ﷺ کی شان میں توہین کا کلمہ کہنا کفر ہے۔
امام شہاب الدین خفاجی حنفی ارقام فرماتے ہیں: ﴿المدار فی الحکم بالکفر علی الظواھر ولا نظر للمقصود والنیات ولا نظر لقرائن حالہ﴾ ۱۲ ترجمہ: ”توہین رسالت پر حکم کفر کا مدار ظاہر الفاظ پر ہے۔ توہین کرنے والے کے قصد ونیت اور اس کے قرائن حال کو نہیں دیکھا جائے گا“۔ ورنہ توہین رسالت کا دروازہ کبھی بند نہ ہو سکے گا لہذا ہر گستاخ نبوت کی نیت اور قصد کا اعتبار نہ کیا جائے۔
- ❸ یہاں اس شبہ کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ اگر کسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجوہ کفر کی ہوں اور اسلام کی صرف ایک وجہ کا احتمال ہو تو فقہاء کا قول ہے کہ کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔ اس کا ازالہ یہ ہے کہ فقہاء کا یہ قول اس تقدیر پر ہے کہ کسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجوہ کفر کا صرف احتمال ہو، کفر صریح نہ ہو لیکن جو کلام مفہوم توہین میں صریح ہو اس میں کسی وجہ کو ملحوظ رکھ کر تاویل کرنا جائز نہیں۔ اس لیے کہ لفظ صریح میں تاویل نہیں ہو سکتی۔ قاضی عیاض نے لکھا ﴿قال حبیب ابن الربیع لان ادعاء التاویل فی لفظ صراح لا یقبل﴾ ترجمہ: ”حبیب بن ربیع نے فرمایا کہ لفظ صریح میں تاویل کا دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا“۔ ۲۲
کسی کلام کا توہین صریح ہونا عرف اور محاورے پر مبنی ہے۔ معذرت کے ساتھ بطور مثال عرض کرتا ہوں کہ اگر کسی کو ولد الحرام کہا جائے اور کہنے والا لفظ ”حرام“ کی تاویل کرے اور کہے کہ میں نے ”المسجد الحرام“ اور ”بیت الحرام“ کی طرح معظم ومحترم کے معنی میں یہ لفظ بولا ہے تو اس کی یہ تاویل کسی ذی فہم کے نزدیک قابل قبول نہ ہوگی کیونکہ عرف ومحاورے میں ”ولد الحرام“ کا لفظ گالی اور توہین ہی کے لیے بولا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر وہ کلام جس سے عرف ومحاورے میں توہین کے معانی مفہوم ہوتے ہوں، توہین ہی قرار پائے گا، خواہ اس میں ہزار تاویلیں ہی کیوں نہ کی جائیں۔ عرف اور محاورے کے خلاف تاویل معتبر نہ ہوگی۔
- ❹ یہاں اس شبہ کو دور کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر توہین رسول کی سزا حداً قتل کرنا ہے تو کئی منافقین نے حضور ﷺ کی صریح توہین کی۔ بعض اوقات صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی کہ حضور ﷺ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اس گستاخ منافق کو قتل کردیں لیکن حضور ﷺ نے اجازت نہیں دی۔
مجلہ ختم نبوت بتلادے گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مرنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العافیت گستاخ رسول کی شرعی سزا
ابن تیمیہ نے اس کی متعدد جوابات لکھی ہیں، جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔
- (الف)...... اس وقت ان لوگوں پر حد قائم کرنا فساد عظیم کا موجب تھا۔ ان کے کلمات توہین پر صبر کر لینا اس فساد کی
نسبت آسان تھا۔
- (ب)...... منافقین اعلانیہ توہین رسالت نہ کرتے تھے بلکہ آپس میں چھپ کر حضور ﷺ کے حق میں توہین آمیز
باتیں کیا کرتے تھے۔
- (ج)...... منافقین کے ارتکاب توہین کے موقع پر صحابہ کرام علیہم الرضوان کا حضور ﷺ سے ان کے قتل کی اجازت
طلب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام جانتے تھے کہ گستاخ رسول کی سزا قتل ہے۔ گستاخان شان رسالت ابو رافع یہودی اور کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا حکم رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیا تھا۔ اس حکم کی بناء پر صحابہ کرام کو علم تھا کہ حضور ﷺ کی شان میں توہین کرنے والا قتل کا مستحق ہے۔
- (د)...... رسول اللہ ﷺ کے لیے جائز تھا کہ وہ اپنے گستاخ اور موذی کو اپنی حیات میں معاف فرما دیں لیکن
امت کے لیے جائز نہیں کہ وہ حضور ﷺ کے گستاخ کو معاف کر دے۔ ۲۳؎
نبی اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو بجا لائے کہ ”آپ معافی کو اختیار فرمائیں اور جاہلوں سے منہ پھیر لیں اور نیکی کا حکم دیں“۔ ۲۴؎
میں عرض کروں گا کہ گستاخ رسول پر قتل کی حد جاری کرنا ایسی حد ہے جو رسول اللہ ﷺ کا اپنا حق ہے۔ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کی توہین حضور ﷺ کی امت کے لیے بھی سخت ترین اذیت کا موجب ہے۔ اس طرح اس حد کو پوری امت کا حق بھی کہا جا سکتا ہے لیکن بلا واسطہ نہیں بلکہ بواسطہ ذاتِ اقدس ﷺ کے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور ﷺ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ اپنا یہ حق کسی کو خود معاف فرمادیں۔ جیسا کہ بعض دیگر احکام شرع کے متعلق دلیل سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان احکام میں حضور ﷺ کو اختیار عطا فرمایا۔ مثلاً
- ● حضرت براء بن عازب رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بردہ رضی اللہ کو بکری
کے ایک بچے کی قربانی کرنے کا حکم دیا اور فرمایا ﴿ولن تجزی عن احد بعدک﴾ ۲۵؎ ترجمہ: ”کہ (یہ قربانی) تمہارے علاوہ کسی دوسرے پر ہرگز جائز نہیں“۔
- ● اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ جب حضور ﷺ نے
خاتم النبیین بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب گستاخ رسول کی شرعی سزا
حرم مکہ کی گھاس کاٹنے کو حرام قرار دیا تو حضرت عباس نے عرض کی ﴿الا الاذخر﴾ یعنی ”اذخر“ گھاس کو حرمت کے اس حکم سے مستثنیٰ فرمادیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ”الا الاذخر“ یعنی اذخر کو حرمت کے حکم سے ہم نے مستثنیٰ فرمادیا۔ ۲۶ اس حدیث کے تحت شیخ عبدالحق محدث دہلوی اور نواب صدیق حسن خان بھوپالی تحریر فرماتے ہیں: ﴿و در مذہب بعضے آن است کہ احکام مفوض بود بوے ﷺ ہر چہ خواہد و بہر کہ خواہد حلال و حرام گرداند و بعضے گویند با اجتہاد گفت ۔ واول اصح اظہر است﴾۔ ۲۷ ترجمہ: ”بعض کا مذہب یہ ہے کہ احکام شرعیہ حضور ﷺ کے سپرد کر دیے گئے تھے۔ جس کے لیے جو کچھ چاہیں حلال اور حرام فرمادیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں حضور علیہ السلام نے یہ اجتہاد کے طور پر فرمایا تھا اور پہلا مذہب اصح اور اظہر ہے“۔
ان احادیث کی روشنی میں حضور ﷺ کو یہ اختیار حاصل ہو سکتا ہے کہ کسی حکمت ومصلحت کے لیے حضور ﷺ ان منافقین پر قتل کی حد جاری نہ فرمائیں، لیکن حضور ﷺ کے بعد کسی کو یہ اختیار نہیں۔
آخر میں عرض کروں گا کہ توہین رسالت کی حد اسی پر جاری ہو سکے گی جس کا یہ جرم قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو جائے۔ اس کے بغیر کسی کو اس جرم کا مرتکب قرار دے کر قتل کرنا ہرگز جائز نہیں۔ تواتر بھی دلیل قطعی ہے۔ اگر کوئی شخص توہین کے کلمات صریحہ بول کر یا لکھ کر اس بات کا اعتراف کرے کہ یہ کلمات میں نے بولے یا میں نے لکھے ہیں تو یقیناً وہ واجب القتل ہے۔ خواہ وہ کتنے ہی بہانے بنائے اور کہتا پھرے کہ میری نیت توہین کی نہ تھی۔ یا ان کلمات سے میری غرض یہ نہ تھی کہ میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاؤں۔ بہر حال وہ مستحق قتل ہے۔
علیٰ ھٰذا وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ کی توہین صریح کی تاویل کر کے اس کے مرتکب کو کفر سے بچانا چاہیں بالکل اسی طرح قتل کے مستحق ہیں جیسا کہ خود توہین کرنے والا مستوجب حد ہے۔ شاتم رسول کے حق میں محمد بن سحنون کا قول ہم شفاء قاضی عیاض اور الصارم المسلول سے نقل کر چکے ہیں کہ ﴿ومن شک فی کفرہ وعذابہ کفر﴾ ۲۸
﴿حوالہ جات﴾
- ۱۔ سورۃ الانفال: ۱۳
- ۲۔ مدارک التنزیل، ج: ۴، ص: ۳۷۴ / تفسیر خازن، ج: ۴، ص: ۱۷۴
مقالہ گستاخی کی نوعیت صریح ومبہم دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب گستاخ رسول کی شرعی سزا
- ۳ سورة التوبة: ۶۵۔۶۶
- ۴ الفتح: ۱۶
- ۵ روح المعانی، ج:۲۶، ص:۹۳/ البحر المحیط، ج:۸، ص:۱۳۳
- ۶ صحیح بخاری، ج:۲، ص:۱۰۱۲/ سنن ابی داؤد، ج:۲، ص:۱۳۸
- ۷ صحیح بخاری، ج:۲، ص:۱۰۲۳/ سنن ابی داؤد، ج:۲، ص:۱۳۸
- ۸ صحیح بخاری، ج:۱، ص:۲۴۹
- ۹ فتح الباری، ج:۸، ص:۱۳
- ۱۰ الشفاء ج:۲، ص:۱۹۰
- ۱۱ الصارم المسلول، ص:۷/ الشفاء، ج:۲، ص:۱۹۰
- ۱۲ الشفاء، ج:۲، ص:۱۸۶
- ۱۳ الشفاء، ج:۲، ص:۱۸۹
- ۱۴ الشفاء، ج:۲، ص:۱۸۸
- ۱۵ فتاویٰ شامی، ج:۳، ص:۳۲۱
- ۱۶ فتح القدیر، ج:۵، ص:۳۳۲
- ۱۷ فتاویٰ شامی ج:۳، ص:۳۱۹
- ۱۸ فتاویٰ قاضی خان، ج:۳، ص:۴۶۸
- ۱۹ احکام القرآن للجصاص، ج:۳، ص:۱۰۶
- ۲۰ سورة التوبة: ۶۶
- ۲۱ نسیم الریاض ج:۴، ص:۳۸۹
- ۲۲ الشفاء، ج:۲، ص:۱۹۱
- ۲۳ الصارم المسلول، ص:۲۲۲ تا ۲۲۳
- ۲۴ سورة الاعراف: ۱۹۹
- ۲۵ صحیح بخاری ج:۲، ص:۷۳۷
- ۲۶ صحیح بخاری ج:۱، ص:۲۱۶
- ۲۷ اشعة اللمعات، ج:۴، ص:۴۰۸/ مسک الختام، ج:۲، ص:۵۱۳
- ۲۸ الشفاء، ج:۲، ص:۱۹۰/ الصارم المسلول، ص:۷
نمرود و فرعون تا ابد گستاخ کی سرکوبی سنت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب گستاخی رسول ﷺ پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے
گستاخی رسول ﷺ پر
اسلامی حکمرانوں کے فیصلے
اسلامی تاریخ کے سب سے پہلے حکمران کی صورت میں صاحب شرع حضرت محمد کریم ﷺ فتح مکہ کے روز تاریخ کے افق پر جلوہ افروز ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنے اور اپنے اصحاب اور اہل بیت کے دشمنوں کو عام معافی دینے کا اعلان کیا مگر منصب رسالت کی تنقیص کرنے والوں کے لیے خصوصی حکم ارشاد فرمایا کہ ”ابن خطل کو قتل کیا جائے اگرچہ وہ خانہ کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہو“۔
ارشاد نبوی کی روشنی میں گستاخ رسول ﷺ کی سزا اور دیگر مجرمین کی سزا میں امتیاز اور استثناء‘ اسلامی حکمرانوں کے لیے گستاخ رسول ﷺ کی معافی اور رعایت کے تمام دروازے کلیتاً مسدود کرتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ خلفائے راشدین نے اپنے اپنے ادوار میں کبھی بھی کسی گستاخ اور شاتم رسول ﷺ کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھا اور گستاخان نبی ﷺ قتل کیے جاتے رہے‘ یہاں خلفائے راشدین کے بعد آنے والے اسلامی حکمرانوں کے فیصلے بیان کیے جائیں گے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا موقف:
قاضی عیاض لکھتے ہیں: ”خلیفہ عادل جناب عمر بن عبدالعزیز نے عامل کوفہ کے استفسار پر تحریر فرمایا تھا کہ سوائے اس شخص کے جو سرور عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو‘ ان کے علاوہ کسی دوسرے کو گالی دینے کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا“۔ ۱؎
مائل خیر آبادی اس واقعہ کو یوں ذکر کرتے ہیں: ”ایک بار ان (حضرت عمر بن عبدالعزیز) کے ایک گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمان نے لکھا کہ میرے سامنے ایک ایسا مجرم پیش کیا گیا جو آپ کو گالیاں دیتا ہے۔ میں نے چاہا کہ اس کو قتل کردوں لیکن پھر سوچا کہ آپ کی رائے لے لوں۔ چنانچہ آپ کا حکم آنے تک اسے قید کر دیا ہے۔ خلیفہ نے جواب لکھ بھیجا اگر تم اسے قتل کر دیتے تو میں تم سے قصاص لیتا۔ رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی اور کو گالی دینے پر قتل
ناموس رسول مسئلہ گستاخی کی سزا موت مسلمات سے ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب گستاخی رسول ﷺ پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے
کرنا جائز نہیں۔ ۲؎
خلیفہ ہارون الرشید کے جواب میں امام مالک کا فتویٰ:
”عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہو۔ ہارون الرشید نے لکھا تھا کہ عراق کے علماء نے شاتم رسول ﷺ کے لیے کوڑوں کی سزا تجویز کی ہے‘ آپ کا اس سلسلے میں کیا فتویٰ ہے؟ امام مالک نے ہارون کو استفسار پر غصہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا جو شخص حضور علیہ السلام کو گالی دے وہ ملت اسلامیہ کا فرد نہیں رہتا‘ ایسا شخص واجب القتل ہے اور جو کوئی شخص اصحاب رسول کو بُرا کہے اور گالیاں دے اس کو کوڑے مارے جائیں“۔ ۳؎
موسیٰ بن مہدی عباسی اور گستاخ رسول ﷺ:
”عباسی خلیفہ موسیٰ بن مہدی الملقب بہ ہادی کے عہد میں ایک شخص نے قبیلہ قریش کو بُرا بھلا کہا۔ اس سلسلے میں حضور نبی کریم ﷺ کی ذات پاک کے متعلق بھی گستاخی کی۔ وہ ہادی کے سامنے لایا گیا۔ اس نے علماء و فقہاء کو جمع کر کے اس کے متعلق فتویٰ لیا۔ انہوں نے اس کے قتل کا فتویٰ صادر کیا۔ اس پر خلیفہ نے کہا کہ اس کی سزا کے لیے قریش ہی کی اہانت کافی تھی۔ (کیونکہ یہ سرکار مدینہ ﷺ کا خاندان ہے) اس دشمنِ خدا نے رسول اللہ ﷺ کو بھی شامل کر لیا چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا“۔ ۴؎
سلطان نورالدین زنگی اور گستاخان رسول ﷺ:
۵۵۷ ہجری میں سلطان نورالدین زنگی کے زمانہ میں روضہ پاک میں نقب زنی کی ناپاک جسارت کی گئی مگر اللہ تعالیٰ جل مجدہ نے شرپسندوں کا منصوبہ خاک میں ملا دیا۔ سلطان کو خواب میں حضور سرور کونین ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ ﷺ نے ”دو نیلی آنکھوں والے“ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ان سے میری حفاظت کرو۔ سلطان کو سخت تشویش ہوئی۔ اُٹھ کر وضو کیا‘ نفل ادا کیے مگر جونہی لیٹے پھر وہی خواب دیکھا۔ غرضیکہ تین دفعہ ایسا ہوا تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اپنے وزیر جمال الدین کے مشورے پر فوراً مدینہ کی تیاری شروع کر دی۔ سولہویں دن مدینہ طیبہ پہنچے۔ ریاض الجنۃ میں تحیۃ المسجد ادا کرنے کے بعد سوچنے لگے کہ حصول مقصد کے لیے کیا تدبیر اختیار کرنی چاہیے۔ آخر وزیر نے اعلان کیا کہ بادشاہ مدینہ منورہ میں تشریف لائے ہیں‘ وہ اہلِ مدینہ کو انعامات سے نوازیں گے۔ ہر شخص حاضر ہو کر اپنا حصہ لے لے۔ ایک ایک آدمی آتا گیا‘ بادشاہ انعامات تقسیم کرتا رہا۔ وہ ہر شخص کو بغور
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العقاب گستاخی رسول ﷺ پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے
دیکھتا اور خواب میں نظر آنے والی شکلوں کو تلاش کرتا، حتیٰ کہ مدینہ کے تمام لوگ گزر گئے مگر مجرمین کا کھوج نہ لگایا جا سکا۔ بادشاہ نے استفسار کیا کہ کوئی رہ گیا ہو تو حاضر کیا جائے۔ بڑی سوچ بچار کے بعد شاہ کو بتایا گیا کہ صرف دو مغربی باشندے ہیں جو نہایت متقی ہیں اور انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر رکھی ہے۔ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے ہیں۔ بادشاہ نے انہیں بھی طلب کر لیا اور انہیں ایک نظر دیکھتے ہی پہچان لیا۔ پوچھا: کون ہو اور یہاں کیوں پڑے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم مغرب کے رہنے والے ہیں حج کے لیے آئے تھے روضہ انور کی زیارت کے لیے مدینہ آئے تو حضور ﷺ کے پڑوس میں رہنے کے شوق میں یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ بادشاہ ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر ان کی رہائش گاہ پر پہنچا جو ایک قریبی سرائے میں تھی مگر وہاں کوئی مشکوک چیز نظر نہ آئی جس کی وجہ سے بادشاہ اور پریشان ہو گیا۔
مدینہ پاک کے لوگوں نے ان کی صفائی میں بہت کچھ کہا کہ یہ نہایت پرہیز گار ہیں ریاض الجنہ میں نماز پڑھتے ہیں روزانہ جنت البقیع کی زیارت کرتے ہیں اور ہر شنبہ کو قبا میں نفل ادا کرتے ہیں۔ یہ قائم اللیل اور قیام النہار ہیں۔ اس سے بادشاہ کی تشویش میں اور اضافہ ہو گیا۔ دفعتاً بادشاہ کے دل میں کچھ خیال آیا اور اس نے ان آدمیوں کے مصلیٰ کو الٹ دیا۔ بوریا کا مصلیٰ ایک پتھر کے اوپر تھا۔ پتھر اٹھایا گیا تو نیچے سرنگ نمودار ہوئی جو دور تک روضہ انور ﷺ کے قریب پہنچ چکی تھی۔
بادشاہ نے اس کمینی حرکت کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ نصرانی ہیں اور عیسائی بادشاہوں نے انہیں بیش بہا دولت دے کر اس کام پر مامور کیا ہے کہ کسی طرح وہ حضور نبی کریم ﷺ کے حجرۂ مقدسہ میں داخل ہو کر آپ ﷺ کا جسم اطہر یہاں سے نکال کر لے جائیں۔ ان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ رات بھر سرنگ کی کھدائی کرتے اور مشکوں میں مٹی بھر کر بقیع کے مضافات میں ڈال آتے۔ سلطان نور الدین زنگی یہ بات سن کر آتش غضب سے بھڑک اٹھا ساتھ ہی رقت بھی طاری ہو گئی کہ اسے اس کام پر مامور کیا گیا ہے چنانچہ دونوں عیسائیوں کو صبح کے وقت قتل کرا دیا اور شام کے وقت ان کی ناپاک نعشوں کو نذر آتش کر کے خاکستر کر دیا گیا۔
اس کے بعد اس بیدار بخت بادشاہ نے حجرہ پاک کے چاروں طرف اتنی گہری بنیادوں کو سطح زمین تک بھر دیا کہ آئندہ کسی ملعون کو نبی پاک ﷺ کی لحد مبارک کی توہین کے قصد کا موقع نہ مل سکے۔ ۵
شاتم رسول ﷺ ریجی نالڈ اور سلطان صلاح الدین ایوبی:
”شیطان صفت پرنس ارناط والی کرک ریجی نالڈ نے جزیرہ نمائے عرب پر لشکر کشی کا قصد کیا تاکہ مدینہ منورہ
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا آج بھی ہے نعرہ : شاتم گستاخ نبی کی سزا سر تن سے جدا شاتم گستاخ نبی کی معافی نہیں
(العاقب) گستاخی رسول ﷺ پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے
میں آنحضرت ﷺ کے مزار مبارک کو منہدم اور مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کو مسمار کر دے۔ جب وہ سمندری راستے سے حملہ آور ہوا تو مسلمان مقابلے کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ اس کی فوج، اسلامی لشکر کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ وہ اپنے جہازوں کو چھوڑ کر پہاڑوں کی جانب بھاگے۔ مسلم سپاہ کے جیالوں نے انہیں پہاڑوں اور باغوں سے پکڑ کر ان کے ٹکڑے کر دیے۔ ریجی نالڈ جیسا شاتم رسول ﷺ خود بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن ابلیس کا فرزند اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور مسلمانوں کو دکھ پہنچانے اور حضور نبی کریم ﷺ کی توہین کا ارتکاب کرنا اس کی فطرت کی جزو لاینفک بن چکا تھا لیکن پول کا بیان ہے کہ ریجی نالڈ نے 1179ء میں مسلمانوں کے ایک کارواں کو لوٹ لیا اور اس کے تمام آدمی گرفتار کر لیے۔ بادشاہ یروشلم نے اس پر اعتراض کیا اور کارواں کے لوگوں کی رہائی اور لوٹے ہوئے مال کی واپسی کے لیے سفیر بھیجے۔ ریجی نالڈ نے ان کا مذاق اڑایا۔ 1183ء میں پھر یہی حرکت کی۔ 1186ء میں مسلمان تاجروں کے ایک قافلہ کو لوٹ کر اہل قافلہ کو گرفتار کر لیا۔ جب ان لوگوں نے اس سے رہائی کے لیے کہا تو اس نے یہ طعن آمیز جواب دیا کہ تم محمد (ﷺ) پر ایمان رکھتے ہو اس سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ آ کر تم کو چھڑائے۔ (استغفر اللہ ) جس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی کو ریجی نالڈ کی اس گستاخانہ گفتگو کی خبر ملی تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ اس صلح شکن کافر کو خدا نے چاہا تو میں اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا۔
صلیبی لڑائیوں کے سلسلے میں ایک موقع پر فرنگیوں کو شکست ہوئی۔ فرنگی بادشاہ اور شہزادے قید کر کے سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے لائے گئے۔ ان میں ریجی نالڈ بھی شامل تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس کو تمام بد اعمالیاں گنوائیں اور یہ بھی کہا کہ اس وقت میں محمد رسول اللہ ﷺ سے مدد چاہتا ہوں اور یہ کہہ کر اپنے ہاتھوں سے اس موذی کا سر قلم کر دیا۔
اس کے بعد فرمایا کہ ہم مسلمانوں کا یہ دستور نہیں کہ لوگوں کو خواہ مخواہ قتل کرتے رہیں۔ ریجی نالڈ تو صرف حد سے بڑھی ہوئی بداعمالیوں اور حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گستاخی کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے“۔
فقہائے اندلس اور گستاخ رسول ﷺ :
ابراہیم فرازی ماہر علوم اور اپنے زمانے کا مشہور شاعر تھا۔ وہ قاضی ابو العباس بن طالب کی علمی مجلس میں شریک ہوا کرتا تھا۔ جب اس کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ وہ خداوند تعالیٰ، انبیاء کرام علیہم السلام اور خاتم الانبیاء ﷺ کی بارگاہ میں گستاخیاں کرتا ہے اور استخفاف اور استہزاء کے کلمات ادا کرتا ہے تو قاضی بن عمرو اور دیگر فقہاء نے اس کو عدالت
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب گستاخئ رسول ﷺ پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے 73
میں طلب کیا اور اس کی کوتاہیوں کے ثبوت کے بعد اس کے قتل اور پھانسی کا حکم دیا، چنانچہ پہلے اس کے پیٹ میں چھری ماری گئی اور اس کے بعد اس کو اٹھا کر سولی پر لٹکایا گیا۔ بعد میں اس کی نعش سولی سے اتار کر جلا دی گئی“۔ 7
پادری یولوجیس کا قتل:
اے ہسٹری آف سپین کے مصنف لیور مور لکھتے ہیں: ”قرطبہ کے اس پادری (یولوجیس) نے 850ء میں سرِ عام پیغمبر اسلام ﷺ کی گستاخی اور بے ادبی کی تحریک کا آغاز کیا“۔
(اے ہسٹری آف سپین ص: ۷۷)
لین پول ’سٹوری آف دی نیشنز سیریز‘ کے مصنف لکھتے ہیں: ”یہ (پادری یولوجیس) اپنی مجنونانہ حرکتوں سے باز نہ آیا اور امیر عبدالرحمان کے فرزند ارجمند (امیر محمد) کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچا۔ 8
راہب اسحاق کا قتل:
اسحاق قرطبہ کے عیسائی ماں باپ کا بیٹا تھا۔ عربی زبان خوب جانتا تھا۔ ابھی نوعمر ہی تھا کہ امیر عبدالرحمان کے دربار میں اس کو کاتب کی جگہ مل گئی لیکن 24 برس کی عمر میں دنیا سے کنارہ کش ہو کر صبانوس کی مسیحی خانقاہ میں گوشہ نشین ہو گیا جہاں متعصب پادریوں کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے اس کے دل میں جوش پیدا ہوا کہ وہ اپنی جان دیکر بزرگی حاصل کرے۔ ایک دن وہ خانقاہ سے نکل کر قرطبہ پہنچا اور قاضی کے سامنے آ کر کہا ”میں آپ کا دین قبول کرنا چاہتا ہوں، مہربانی کر کے آپ مجھے اس کی ہدایات کریں ۔“ قاضی اس سے خوش ہو کر اسے دین اسلام کے متعلق بتانے لگا۔ اس نے برملا حضور ﷺ پر سب و شتم کیا۔ جب قاضی نے سمجھایا تو اس کو بھی بُرا بھلا کہا۔ قاضی نے اسے جیل بھیج دیا۔ امیر عبدالرحمان نے اس گستاخ رسول ﷺ کی بابت حکم جاری کیا کہ اسے پھانسی دی جائے اور اس کی لاش کو کئی دن تک پھانسی پر اس طرح لٹکا رہنے دیا جائے کہ سر نیچے اور پاؤں اوپر ہوں۔ اس کے بعد لاش جلا کر اس کی راکھ دریا میں بہا دی جائے۔ چنانچہ جون 851ء میں ان احکام کی تعمیل ہوئی۔ 9
پرفیکٹس کا قتل:
پرفیکٹس سینٹ اکیس کلولس کے گرجا کا ایک پادری تھا۔ عربی زبان پر مہارت رکھتا تھا۔ ایک دن بازار میں کچھ خریدنے نکلا، وہاں چند مسلمانوں سے گفتگو کرنے لگا۔ معمولی بات چیت کے بعد مذہب کا ذکر چھڑا۔ مسلمانوں نے پادری سے کہا ”تم ہمارے رسول مقبول ﷺ اور مسیح علیہ السلام کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟ پادری نے کہا مسیح میرا خدا ہے۔ تم اپنے پیغمبر ﷺ کی نسبت نہ پوچھو کہ ہم عیسائی ان کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں“۔
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
سزائے گستاخِ رسول ﷺ سر تن سے جدا ہے
العاقب گستاخی رسول ﷺ پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے
جب مسلمانوں نے قاضی کو اس کی گفتگو نہ بتانے کا یقین دلایا تو اس نے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہے اور ان ﷺ پر سب وشتم کیا۔ ایک دن جب وہ سڑک پر جارہا تھا تو ان لوگوں نے جن کے سامنے اس نے بیہودہ الفاظ کہے تھے مسلمانوں کو اس کی نازیبا حرکت کی اطلاع دے دی۔ لوگ اسے پکڑ کر قاضی کے پاس لے گئے اور قاضی سے فریاد کی کہ اس پادری نے ہمارے نبی ﷺ کی شان میں نہایت بے ادبی کے الفاظ کہے ہیں۔ قاضی نے پادری سے پوچھا تو اس نے کانپتے ہوئے قطعاً انکار کر دیا۔ لیکن قاضی نے شرع کے مطابق اس کے قتل کا حکم سنایا اور اسے بیڑیاں پہنا کر جیل بھیج دیا۔ جہاں اس شاتم رسول ﷺ نے پھر اپنی سابقہ روش کا اعادہ کیا۔ چنانچہ مقررہ دن اس کا سر قلم کر دیا گیا۔ ۱؎
ایک اور گستاخ کا قتل:
اسحاق کے قتل کے دو دن بعد ایک افرنجی عیسائی نے جس کا نام ’’سانچو‘‘ تھا اور امیر عبدالرحمان کی فوج محافظ کا ایک سپاہی اور پادری یولوجیس کا شاگرد تھا، پیغمبر اسلام ﷺ کو گالیاں دیں اور قتل ہو کر جہنم واصل ہوا۔ ۲؎ ’’لین پول نے اس مردود کا نام ’’سانچو‘‘ لکھا ہے‘‘۔ ۱۲
عیسائی جنون کا ایک اور مظاہرہ اور سزائے موت:
سانچو کے قتل کے بعد اتوار کے دن 7 جون 1851ء چھ راہب، جن میں ایک اسحاق کا چچا یرمیاس اور دوسرا راہب جان بتوس تھا۔ وہ اپنے حجرے میں تنہا پڑا رہتا تھا۔ قاضی کے سامنے آئے اور کہا ’’ہم بھی اپنے دینی بھائیوں سانچو اور اسحاق کے الفاظ کا اعادہ کرتے ہیں اور پیغمبر اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام پر سب وشتم کرنے لگے۔ یہ چھ کے چھ قتل کر دیے گئے۔ ۳؎
آئزک کا قتل:
پرفیکٹس کی طرح آئزک بھی قاضی کی عدالت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ جیسے ہی اس کو مسلمان کرنے کے لیے دینی عقائد اس کے سامنے بیان کیے گئے تو اس نے سب وشتم شروع کر دیا۔ قاضی کے لیے برداشت کرنا دشوار ہو گیا۔ اس نے اس ذلیل کو طمانچہ رسید کر کے کہا جانتا ہے کہ اسلام میں اس کی سزا قتل ہے۔ اس نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر یہاں آیا ہے۔ اس لیے کہ خدا فرماتا ہے کہ مبارک ہیں وہ لوگ جو دینداری کے لیے ستائے گئے ۔ آسمان کی بادشاہت انہی کے لیے ہے۔ اس شاتم رسول ﷺ کو بھی قتل کر دیا گیا۔ ۴؎
بقاء گستاخ کی غیرت مسلم کو گوارا نہیں دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب گستاخی رسول ﷺ پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے
جس بے باکی اور بدمعاشی کا مظاہرہ مذکورہ گستاخان رسول ﷺ نے اس دور میں کیا اگر اس سیاہ عرصے کو روئے زمین کا سیاہ ترین دور تصور کر لیا جائے تو بے جا نہ ہوگا مگر جہاں اس سیاہ دور کی بدبختی کا قلق دامن گیر ہے وہاں اسلامی حکمرانوں کے جرأت مندانہ فیصلے سیاہ رات میں ستاروں کی مانند چمکتے نظر آتے ہیں اور ان ستاروں کی چمک ہی میں منزلوں کے آثار پنہاں ہیں۔
مغلیہ دور حکومت میں گستاخ رسول ﷺ کی سزا:
ملا عبدالقادر بدایونی لکھتے ہیں: ”عبدالرحیم قاضی متھرا نے شیخ (شیخ عبدالنبی چیف جسٹس) کے پاس ایک استغاثہ بھیجا جس میں بیان کیا گیا کہ وہاں مسلمان ایک مسجد کی تعمیر کا ارادہ کیے ہوئے ہیں لیکن ایک سرکش برہمن نے سارا عمارتی سامان اٹھوا لیا اور اسی سامان سے بت خانے کی تعمیر شروع کروا دی ہے۔ میں نے جب اس کے خلاف تادیبی کاروائی کا ارادہ کیا تو اس نے گواہوں کی موجودگی میں حضور نبی کریم ﷺ کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کی اس نے سخت توہین کی۔
شیخ عبدالنبی نے اس کو طلب کیا لیکن اس نے پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ جس پر بادشاہ (اکبر) نے بیربل اور شیخ ابوالفضل کو بھجوایا اور وہ اسے لے آئے۔ شیخ ابوالفضل نے جو کچھ گواہوں سے سنا تھا بیان کیا اور کہا کہ اس بات کی تحقیق ہو گئی کہ اس نے گالیاں بکی تھیں۔ اس کی سزا کے معاملہ میں علماء کے دو گروہ ہو گئے۔ ایک گروہ نے اسے واجب القتل قرار دے کر سزائے موت کا مطالبہ کیا اور دوسرا اس کے خلاف تعزیر اور جرمانے پر زور دے رہا تھا۔ بادشاہ نے صراحتاً اس کے قتل کی اجازت نہ دی اور گول مول کہہ دیا کہ یہ شرعی مسئلہ ہے سزاؤں کا تعلق تم سے ہے۔ ہم سے کیا پوچھتے ہو؟ وہ برہمن مدتوں اس جھگڑے میں قید میں پڑا رہا۔ شاہی محل کی بیگمات اس کی رہائی کے لیے سفارشیں کرتی رہیں لیکن بادشاہ شیخ کا بہت لحاظ کرتا تھا اس لیے اس نے رہائی کا حکم بھی نہ دیا۔ شیخ نے جب اس کے قتل کے لیے اصرار کیا تو بادشاہ نے وہی جواب دیا کہ ہم تو تم سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تم جو مناسب جانو کرو! اس کے بعد فوراً ہی شیخ عبدالنبی نے اس برہمن (گستاخ رسول ﷺ) کے قتل کا حکم دے دیا۔ چنانچہ اس کی تعمیل میں اس کی گردن مار دی گئی“۔ ۱۵
1734ء میں ایک اور گستاخ کو قتل کیا گیا:
ایک ہندو مورخ اس واقعہ کو اپنے الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں: ”حقیقت رائے باگھل پوری سیالکوٹ کے
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے ابتلاء و کشمکش میں غیرت مسلم زندہ ہے ذرا سوچیں
العاقب گستاخی رسول ﷺ پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے
کھتری کا پندرہ سالہ لڑکا تھا، جس کی شادی بٹالہ کے کشن سنگھ بھنڈرا کی سکھ لڑکی کے ساتھ ہوئی تھی۔ حقیقت رائے مسلمانوں کے سکول میں داخل کیا گیا جہاں ایک استاد نے ہندو دیوتاؤں کے بارے میں کچھ توہین آمیز باتیں کیں ۔ حقیقت رائے نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور اس نے بھی انتقاماً پیغمبر اسلام ﷺ اور بی بی فاطمہ کی شان میں نا زیبا الفاظ استعمال کیے ۔ اس جرم میں حقیقت رائے کو گرفتار کر کے لاہور عدالتی کاروائی کے لیے بھیجا گیا ۔ اس واقعہ سے پنجاب کی ساری غیر مسلم آبادی کو شدید دھچکا لگا۔ کچھ ہندو افسر زکریا خان کے پاس پہنچے (جو اس وقت کے گورنر لاہور تھا) کہ حقیقت رائے کو معاف کر دیا جائے۔ لیکن زکریا خان نے کوئی سفارش نہ سنی اور سزائے موت کے حکم پر نظر ثانی سے انکار کر دیا۔ جس کے اجراء میں پہلے مجرم کو ایک ستون سے باندھ کر اسے کوڑوں کی سزا دی گئی اس کے بعد اس کی گردن اڑا دی گئی۔ ۱۶
معلوم ہوتا ہے کہ ستون سے باندھ کر کوڑوں کی سزا اسے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گستاخی کی وجہ سے دی گئی تھی اور قتل کی سزا اسے نبی کریم ﷺ کی گستاخی کرنے کی وجہ سے دی گئی۔
وہی ہندو مورخ آگے لکھتے ہیں : ”پنجاب میں بسنت کا میلہ اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے“۔ یحیٰ ! اے کاش ! زندہ دلان لاہور ” بسنت“ کی حقیقت سے آشنا ہو جائیں اور اس مکروہ رسم پر لاکھوں اور کروڑوں روپے خرچ کر کے لاشعوری طور پر بھی قہر خداوندی کو آواز دینے سے بچ جائیں۔
سلطنت مغلیہ کا سورج (1857ء میں) جب غروب ہو چکا اور انگریز شاطر ہندوستان کے طول وعرض پر براجمان ہو گیا تو وہ قانون جو مسلمانوں کے زخموں کا مرہم تھا اسے یکسر ختم کر دیا۔ چنانچہ مسلمان سرفروشوں نے اس قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور گستاخان رسول ﷺ کو قتل کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچاتے رہے“۔
﴿حوالہ جات﴾
۱ الشفاء، جلد : ۲ ص : ۳۸۷
۲ عمر ثانی عمر بن عبدالعزیز، ص: ۵۰
۳ الشفاء، جلد: ۲ ص: ۳۸۷۔۳۸۸
بقاء گستاخ نبی غیرت مسلم سے بعید ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب گستاخی رسول ﷺ پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے
- ۴ تاریخ خطیب، جلد: ۱۳، ص: ۲۳
- ۵ آئینہ حج، ص: ۱۷۲۔۱۷۴
- ۶ ابن کثیر، جلد: ۱۱، ص: ۸۲ / کتاب الروضتین، جلد: ۲، ص: ۸
- ۷ الشفاء، جلد: دوم، ص: ۳۷۸
- ۸ اسٹوری آف دی نیشنز سیریز، جلد: ۶۰، ص: ۴۴
- ۹ عبرت نامہ اندلس، ص: ۴۷۹
- ۱۰ عبرت نامہ اندلس، جلد دوم، ص: ۳۸۱، ۴۷۴ / مسلمان اندلس میں، ص: ۱۳۱
- ۱۱ عبرت نامہ اندلس، جلد اول، ص: ۴۸۱
- ۱۲ مسلمان اندلس میں، ص: ۱۳۳
- ۱۳ عبرت نامہ اندلس، جلد اول، ص: ۲۸۱
- ۱۴ تاریخ اندلس از سید ریاست علی ندوی
- ۱۵ منتخب التواریخ از ملا عبدالقادر بدایونی
- ۱۶ پنجاب آخری مغل دور حکومت میں، ص: ۱۲۲
- ۱۷ پنجاب آخری مغل دور حکومت میں، ص: ۲۷۹
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذہانت (امام ابن جوزی)
امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو شیطان نے کہا کہ تیرا عقیدہ ہے کہ تم کو وہی پیش آتا ہے جو خدا نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ آپ نے فرمایا بے شک اس نے کہا اچھا! ذرا اس پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر دیکھ! اگر خدا نے تیرے ساتھ سلامتی مقدر کر دی ہے تو پھر سلامت ہی رہے گا۔ آپ نے فرمایا اے ملعون! اللہ عزوجل ہی کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے بندوں کا امتحان لے۔ بندے کو یہ حق نہیں کہ وہ خدائے عزوجل کا امتحان لے۔
﴿کتاب الاذکیاء المعروف بلطائف علمیہ، ص: ۵۶﴾
فدائے رسول بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب آئین پاکستان میں قانون توہین رسالت کیا ہے؟
آئین پاکستان میں
قانون توہین رسالت کیا ہے؟
P.P.C (پاکستان پینل کوڈ) کے قانون 295 کے تین سیکشنز ہیں۔ A-B-C۔ اس میں سیکشن A کے مطابق: کسی مذہب یا مذہبی گروہ کے عقائد کو دانستہ برا بھلا کہنا جرم ہے۔ سیکشن B کے مطابق: قرآن پاک کی بے حرمتی یا شہید کرنا اس سیکشن میں شامل ہے۔ سیکشن C کے مطابق: حضور پاک ﷺ کی شان میں گستاخی، یعنی توہین رسالت، اس میں گستاخی شان کے لیے تحریری، تقریری سمیت تمام انداز شامل ہیں۔
قانون میں ہر سیکشن کے حوالے سے باقاعدہ علیحدہ علیحدہ سزائیں مقرر ہیں۔ جیسے سیکشن A کے مطابق کسی کے مذہب یا مذہبی عقائد کو جان بوجھ کر بُرا بھلا کہنے اور اس کے نتیجے میں لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی سزا دس سال قید با مشقت اور جرمانہ ہے۔ جس کا تعین حالات اور دیگر شواہد کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن پاک کی بے حرمتی، شہید کرنا یعنی سیکشن B میں قرآن پاک کی بے حرمتی خواہ کسی بھی انداز سے کی گئی ہو، اس کے لیے عمر قید کی سزا رکھی گئی ہے۔ جبکہ سیکشن C نبی کریم ﷺ کی شان میں کسی بھی انداز میں گستاخی پر ملزم کے لیے سزائے موت اور عمر قید کے علاوہ جرمانہ عائد کرنے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب تحفظ ناموس رسالت ﷺ ایکٹ منزل بہ منزل
تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ ایکٹ
منزل بہ منزل
سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد جب ہندوستان میں برطانوی راج مسلط ہو گیا تو یہاں 1860ء میں گورنر جنرل ہند کی منظوری سے تعزیرات ہند (The Indian Penal Code) کو نافذ العمل کر دیا گیا۔ اس سے قبل سارے ملک میں اسلامی قانون جاری تھا۔ دیوانی اور فوجداری مقدمات کے فیصلے قرآن وسنت اور فقہ کی روشنی میں صادر ہوتے تھے۔ تعزیرات ہند کی تدوین لارڈ میکالے کی سربراہی میں تشکیل شدہ کمیشن نے نپولین کوڈ کو سامنے رکھ کر کی تھی اور اس سلسلہ میں انگلش قوانین اور خاص طور پر انتظامی مصلحتوں کو پیش نظر رکھا گیا تھا لیکن عجیب تر بات یہ ہے کہ انگلستان میں اس وقت بھی یعنی 1860ء میں قانون توہین مسیح بطور کامن لاء Common) (Law موجود تھا اور آج بھی بلاس فیمی ایکٹ (Blasphemy law) انگلینڈ کے مجموعہ قوانین میں شامل ہے۔ البتہ ہندوستان میں حکومت برطانیہ کے خلاف منافرت پھیلانے یا توہین حکومت یا حکومت کے خلاف اشتعال انگیزی کے جرم کی سزا کے لیے ایک دفعہ تعزیرات ہند میں شامل کی گئی جسے جرم بغاوت قرار دے کر اس کی سزا ”سزائے عمر قید“ کی گئی، جس کی جگہ 1898ء میں دفعہ 124۔الف کو معمولی ترمیم کے ساتھ شامل تعزیرات کیا گیا مگر سزا اور نوعیت جرم وہی برقرار رہی۔
اسی سال 1898ء میں دفعہ 124۔ الف کے ساتھ ہی مزید ایک دفعہ 153۔ الف کا بھی اضافہ کیا گیا تاکہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی وجہ سے ملک میں جو فتنہ اور فسادات پیدا ہوں ان کا سد باب کیا جا سکے اور حکومت ان خطرات سے محفوظ رہ سکے۔
دفعہ 153۔الف:
”جو کوئی الفاظ سے بذریعہ تقریر یا تحریر یا اشاروں سے یا کسی اور طریقہ سے ہندوستان میں ہر میجسٹی کی رعایا کی مختلف جماعتوں میں دشمنی یا منافرت کے جذبات ابھارے یا انہیں بھڑکانے کی کوشش کرے اسے دو سال قید تک سزا یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں“۔
بتاؤ گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب تحفظ ناموس رسالت ﷺ ایکٹ منزل بہ منزل
توضیح (Explaination)
”ایسا کوئی فعل جو بد نیتی کے بغیر نیک نیتی کے ساتھ ان امور کی نشاندہی کرے جو ہر میجسٹی کی رعایا کی مختلف جماعتوں کے درمیان دشمنی یا منافرت کے جذبات یا رجحانات پیدا کرنے کا باعث ہوں‘ ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہو مذکورہ بالا جرم کی تعریف میں نہیں آئے گا“۔
تشریحات (Commentary)
اس دفعہ کے اضافہ کا ایک مقصد یہ بھی بتلایا گیا کہ ہر میجسٹی کی رعایا کے درمیان امن وامان قائم کرنا ہے۔ شاتمان رسول ﷺ کے خلاف بھی مقدمات اسی دفعہ 153۔ الف کے تحت قائم ہوئے۔ ان میں سب سے مشہور مقدمہ راج پال کے خلاف اسی جرم کے ارتکاب پر رجسٹر ہوا اور عدالت سیشن جج سے اسے سزا دی گئی جس کے خلاف اس نے لاہور ہائی کورٹ میں نگرانی دائر کی‘ جو سماعت کے لیے دلیپ سنگھ جج کے سامنے لگوائی گئی‘ جس نے نگرانی منظور کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ مذہبی رہنماؤں پر تنقید یا طنز خواہ کتنا ہی غیر شائستہ یا نا پسندیدہ کیوں نہ ہو وہ 153۔ الف کے تحت قابل تعزیر جرم نہیں بنتا۔ اس فیصلہ کی رو سے ملزم راج پال ایک دفعہ پھر ناقص تعزیرات کے تحت‘ جس کی سزا زیادہ سے زیادہ دو سال ہو سکتی تھی‘ سزایاب نہ ہوسکا‘ جس سے ہندوستان بھر کے مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ یہ فیصلہ آل انڈیا رپورٹر 1927ء ص: 250 میں چھپ چکا ہے۔ اس فیصلہ کے خلاف اور تعزیرات ہند میں توہین رسالت کے جرم پر کوئی سزا نہ ہونے کی وجہ سے سارے ملک میں مسلمانوں نے ہر پلیٹ فارم سے اس پر سخت احتجاج کیا اور بالآخر غازی علم الدین شہید نے گستاخ رسول ﷺ راج پال کو موت کے گھاٹ اتار کر اپنے ہاتھوں سے اسے توہین رسالت کی سزا دی اور خود جام شہادت نوش کر کے زندہ جاوید بن گیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپیشل بنچ نے اختلاف کرتے ہوئے ”رسالہ ورتمان“ کیس کے ملزم کو جس نے رسول پاک ﷺ کی زندگی پر بالواسطہ طور پر طنز کیا تھا‘ اسی دفعہ 153۔ الف کے تحت سزا دی اور قرار دیا تھا کہ اس کتابچہ کی تحریر توہین آمیز ہے۔
برٹش گورنمنٹ نے جب دیکھا کہ دلیپ سنگھ کے اس فیصلہ میں دفعہ 153۔ الف کی غلط تعبیر اور تشریح کی وجہ سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہورہے ہیں تو ان کی اشک شوئی کے لیے دفعہ 295۔ الف کو قانون فوجداری کے ترمیمی ایکٹ مجریہ سال 1927ء کے ذریعہ تعزیرات ہند میں شامل کیا گیا جو حسب ذیل ہے۔
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے مقالات ختم نبوت
العاقب تحفظ ناموس رسالت ﷺ ایکٹ منزل بہ منزل
295۔الف:
”جو کوئی عمداً اور بدنیتی سے تحریری یا تقریری یا اعلانیہ طور پر ہر میجسٹی کی رعایا کی کسی جماعت کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرے یا توہین کرنے کی کوشش کرے تاکہ اس جماعت کے مذہبی جذبات مشتعل ہوں تو اسے دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں“۔
دفعہ 295۔الف میں 23 مارچ 1956ء سے صرف ”ہر میجسٹی کی رعایا“ کے الفاظ کو ”پاکستان کے شہریوں“ کے الفاظ میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس طرح اس دفعہ میں سال 1961ء کے ترمیمی آرڈیننس جس کو سال 1956ء سے موثر بہ ماضی کیا گیا تھا کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔
سال 1980ء میں دوسرے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعہ دفعہ 298۔الف کا اضافہ کیا گیا جو حسب ذیل ہے:
298۔الف:
”جو کوئی تحریری یا تقریری یا اعلانیہ یا اشارتاً یا کنایتاً بالواسطہ یا بلاواسطہ ’امہات المومنین‘ یا کسی ’اہل بیت‘ یا ’خلفائے راشدین‘ میں سے کسی ’خلیفہ راشد‘ یا اصحاب رسول ﷺ کی بے حرمتی کرئے، ان پر طعنہ زنی یا بہتان تراشی کرے اسے تین سال تک کی سزا یا سزائے تازیانہ دی جائے گی یا وہ ان دونوں سزاؤں کا مستوجب ہوگا“۔
اس دفعہ 298۔الف تعزیرات پاکستان کے اضافہ سے صرف امہات المومنین، اہل بیت، خلفائے راشدین یا اصحاب رسول ﷺ کی بے حرمتی اور ان کی شان میں گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا لیکن خود اس مقدس ترین ہستی، جن سے نسبت کی وجہ سے انہیں یہ مرتبہ حاصل ہوا ان کی شان میں گستاخی، اہانت، توہین، تنقیص، طعنہ زنی، بہتان تراشی جیسے سنگین اور ناقابل معافی جرم کے بارے میں کوئی سزا تجویز نہیں ہوئی۔ اس لیے اس کوتاہی اور کمی (Omission) کو پورا کرنے کے لیے سال 1984ء میں راقم کی طرف سے شریعت پٹیشن نمبر 1 سال 1984ء فیڈرل شریعت کورٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، صدر پاکستان اور گورنر ہائے صوبہ جات پاکستان کے خلاف دائر کی گئی۔ اس شریعت پٹیشن کا فیصلہ ابھی محفوظ تھا کہ نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں عاصمہ جہانگیر نامی خاتون نے بالواسطہ گستاخی کی، جس پر محترمہ آپا نثار فاطمہ نے راقم کے مشورہ سے توہین رسالت کے جرم کی سزا ”سزائے موت“ کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا، جو فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ نمبر 3 سال 1986ء کی صورت میں منظور ہوا، جس کی رو سے تعزیرات پاکستان میں 295۔سی کا اضافہ کیا گیا جو حسب ذیل ہے:
مرتدوں اللہ کا گستاخ نبی ﷺ کا غیرت مسلم دشمن ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب تحفظ ناموس رسالت ﷺ ایکٹ منزل بہ منزل
دفعہ 295-سی:
”جو کوئی عمداً زبانی یا تحریری طور پر یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلاواسطہ اشارتاً یا کنایتاً نام محمد ﷺ کی توہین و تنقیص یا بے حرمتی کرے وہ سزائے موت یا سزائے عمر قید کا مستوجب ہوگا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جائے گی۔“
چونکہ توہین رسالت کے متذکرہ بالا بل میں اہانت رسول ﷺ کی سزا بطور حد کے سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اس میں سزائے موت کی متبادل سزا سزائے عمر قید جو دفعہ 295۔سی میں رکھی گئی وہ قرآن وسنت کے منافی تھی۔ اس لیے راقم نے دوبارہ اس دفعہ سے ”عمر قید“ حذف کرنے کا مطالبہ بذریعہ پٹیشن کر دیا کہ توہین رسالت کی سزا بطور ”حد“ صرف سزائے موت مقرر ہے اور حد میں کسی قسم کی کمی یا بیشی نہیں کی جاسکتی۔ یہ شریعت پٹیشن فیڈرل شریعت کورٹ نے اپنے فیصلہ 30 اکتوبر 1990ء کے ذریعہ منظور کر لی اور قرار دیا کہ اہانت رسول ﷺ کی سزا بطور حد صرف سزائے موت ہے۔
فیڈرل شریعت کورٹ نے قانون توہین رسالت کا یہ فیصلہ صدر پاکستان کو ارسال کر دیا تھا کہ 295۔سی تعزیرات پاکستان میں ترمیم کر کے ”عمر قید“ کے الفاظ 30 اپریل 1991ء تک حذف کر دیے جائیں ورنہ اس تاریخ سے ”عمر قید“ کے الفاظ اس دفعہ سے غیر مؤثر ہو جائیں گے۔ اس فیصلہ میں حکومت پاکستان کو مزید ہدایت کی گئی کہ اس دفعہ میں ایک اور شق کا اضافہ کیا جائے جس کی رو سے دوسرے پیغمبروں کی اہانت کی سزا بھی سزائے موت مقرر کی جائے۔ اس فیصلہ کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی جو ہمارے مطالبہ پر واپس کر لی گئی۔ اس طرح فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ بحال رہا جس کی وجہ سے ”عمر قید“ کی سزا غیر مؤثر ہو چکی ہے اور اب پاکستان میں اہانت رسول مقبول ﷺ کی سزا بحمد اللہ تعالیٰ بطور حد سزائے موت مقرر ہو کر نافذ العمل ہے۔
دفعہ 295۔سی سے ”عمر قید“ کے الفاظ حذف ہو جانے کے بعد حکومت اور قانون ساز اسمبلی نے اس دفعہ کو مکمل طور پر قرآن وسنت کے احکام سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مزید کاروائی نہیں کی۔ اس مرحلہ پر ایک اہم شرعی اور قانونی نکتہ کی نشان دہی کو میں اپنا دینی اور ملی فریضہ سمجھتا ہوں جو ہماری قانون ساز اسمبلی کی فوری توجہ کا مستحق ہے۔
میری رائے میں اس دفعہ 295۔سی میں مزید ترمیم کر کے اسے قرآن وسنت کے مطابق بنانا نہایت ضروری ہے ورنہ اگر یہ دفعہ موجودہ صورت ہی میں برقرار رہے تو اس کی وجہ سے ”ابہام“ اور قانونی پیچیدگیوں کے پیدا ہو
بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
تحفظ ناموس رسالت ﷺ ایک منزل بہ منزل العاقب
جانے کا اندیشہ ہے۔ قرآن وسنت میں ”حد“ اور تعزیری سزاؤں کے لیے چند شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ اسلام ہی نے دنیا میں سب سے پہلے ”نیت“ ”ارادے“ اور قصد (Intention) کو جرم کا بنیادی رکن بنایا ہے۔ اس سے قبل رومن لاء یا ہندوستان میں لاگو اینگلو سیکسن لاء جس کا ماخذ بھی یہی رومن لاء ہے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی تک یورپ کے ان قوانین میں ”ارادہ“ یا ”قصد“ یا ”نیت“ کو جرم کا بنیادی رکن یا اسے جرم سے متعلق جرم نہیں سمجھا جاتا تھا مگر آج سے چودہ سو سال قبل شارع اسلام علیہ التحیۃ والسلام نے ارادہ اور نیت کو جرم اور ہر عمل کی بنیاد بنا کر انسان کو جزا اور سزا کا مستحق قرار دیا‘ جو دنیائے قانون وعدل میں سب سے پہلا انقلابی قدم تھا۔ چونکہ ساری دنیا نے اس کو تسلیم کرلیا ہے اور یہ جزو قانون بن چکا ہے‘ اس لیے اس کی تاریخی حقیقت کو دنیا نے فراموش کردیا ہے۔
جناب رسالت مآب ﷺ کی یہ مشہور حدیث ﴿ انما الاعمال بالنیات ﴾ یعنی ہر عمل کا دار ومدار نیت پر ہے کی روشنی میں 295۔سی کو قرآن وسنت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہمیں اسے دو حصوں میں منقسم کرنا پڑے گا۔ ایک تو بالارادہ جرم توہین رسالت یعنی وہ عمل جو قصداً اور عمداً اہانت رسول ﷺ اور انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے کیا جائے تو اس کی سزا بطور حد سزائے موت مقرر کی جائے جس میں قطعاً کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ دوسرا جرم جو بلا ارادہ ہو جس میں اہانت اور گستاخی کے کسی پہلو کی کوئی نیت یا ارادہ کسی صورت ظاہر نہ ہو یا اس میں ایسی کوئی بات نہ ہو جس پر ملزم کی مجرمانہ ذہنیت پر استدلال کیا جاسکے تو ایسے جرم کو مستوجب حد کی بجائے لائق تعزیر بنایا جائے جس کی سزا بھی غیر معمولی مقرر کی جائے‘ اس لیے کہ مجرم نے بلاقصد وارادہ سہواً گستاخی کرکے حزم واحتیاط کو ملحوظ نہیں رکھا‘ جس کی ہر عاقل بالغ شخص سے توقع کی جاتی ہے۔ البتہ جبر واکراہ میں ملزم مستوجب سزا نہیں ہے مگر جو شخص جبر واکراہ کا مرتکب ہو وہ سزائے موت کا مستحق قرار پائے گا۔ قتل جیسے سنگین جرم میں قتل بالارادہ ہو تو وہ قتل عمد کہلائے گا جس کی سزا بطور حد سزائے موت ہے لیکن اگر وہ قتل بالارادہ نہ ہو تو اسے قتل خطا کہا جائے گا۔ اس کی سزا حد کی طرح قتل نہیں بلکہ اس سے کم تر ہے البتہ جبر واکراہ کا مرتکب شخص مستوجب سزائے موت قرار پائے گا۔
ایک اور بات بھی واضعان قانون کے ذہن نشین ہونا چاہیے کہ حدود کے نفاذ کے لیے نصاب شہادت اور تزکیۃ الشہود کو ضروری قرار دیا گیا ہے جس کے بغیر زنا جیسے سنگین جرم میں بھی حد جاری نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اگر توہین رسالت کے جرم میں شرائط حد پوری نہ ہوتی ہوں تو ایسی صورت میں اسے قابل تعزیر جرم قرار دے کر اس کے لیے قرار واقعی سزا جس میں سزائے تازیانہ اور جرمانہ بھی شامل ہو‘ مقرر کی جائے۔
﴿ماخوذ از: ناموس رسالت اور قانون توہین رسالت ﷺ، ص: ۳۲۱ تا ۳۲۷‘ ناشر الفیصل ناشران کتب‘ لاہور﴾
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے مقننہ گستاخ نبی کو غیرت مسلم سے بچائے فرمودات
العاقب پاکستان میں قانون توہین رسالت کے اجراء کے لیے کوششوں کا اجمالی جائزہ
پاکستان میں قانون توہین رسالت کے اجراء
کے لیے کوششوں کا اجمالی جائزہ
مسلم دل آزاری عیسائیوں کی صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں پے در پے شکستوں کی وجہ سے ہزیمت خوردہ ذہنیت کی غماز تھیں لیکن یہ بھی ایک اندوہناک حقیقت ہے کہ لاہور کے ایک اشتراکیت زدہ ایڈووکیٹ مشتاق راج نے 1983ء میں ”آفاقی اشتراکیت“ نامی ایک کتاب لکھی جس کا انگریزی میں ترجمہ (Heavenly Communism) کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ کتاب راقم الحروف کو جسٹس میاں صادق اکرم نے لاکر دی اور فرمایا کہ اس کا جواب دینا چاہیے مگر یہ دیکھنے کے لیے کہ اس کتاب میں کمیونزم کا مذہبی نقطہ نظر سے کسی طرح جائزہ لیا گیا ہے میں نے کتاب کو پڑھنا شروع کیا۔
جیسے جیسے میں کتاب کو پڑھتا گیا‘ میری قوت برداشت جواب دیتی چلی گئی اور کتاب پڑھنے کے بعد مجھ پر غم وغصہ کی جو کیفیت طاری ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔ کتاب میں نہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ تمسخر کیا گیا تھا بلکہ مذاہب اور ادیان کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ دینی پیشواؤں کو ”مذہبی شیطان“ کہا گیا۔ انبیائے کرام پر نہایت گھٹیا اور سوقیانہ حملے کیے گئے اور انتہا یہ کہ حضور رسالت مآب ﷺ کی جناب میں بھی گستاخی کی جسارت کی گئی۔ میں نے انتہائی صبر وضبط سے کام لیتے ہوئے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پاکستان) کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ حسن اتفاق سے اس وقت عالم اسلام کے دو ممتاز سکالرز ڈاکٹر ربیع المدخلی اور جناب سعید صالح پروفیسر اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ بھی پاکستان میں موجود تھے۔ انہوں نے بھی ہماری دعوت پر اس اجلاس میں شرکت کی۔ ان سب کی یہ رائے تھی کہ یہ انتہائی دل آزار کتاب ہے۔ میں نے اس اجلاس میں کتاب اور اس کے مصنف کے خلاف قرار داد مذمت پیش کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ کتاب کی ساری کاپیاں ضبط کر لی جائیں اور گستاخ رسول ﷺ کو سزائے موت دی جائے۔ اس قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
اس کے بعد راقم الحروف نے ایک قرار داد لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں بھی پیش کی کہ مشتاق راج کی بار ایسوسی ایشنز سے رکنیت فوری ختم کر دی جائے اور اس کی پریکٹس کا لائسنس ضبط کرنے کے لیے بار کونسل کو تحریک
ارمغان بقائے گستاخی کا غیرت مسلم دفعیہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب پاکستان میں قانون توہین رسالت کے اجراء کے لیے کوششوں کا اجمالی جائزہ
کی جائے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسے عبرتناک سزا دی جائے جس کو پاکستان کی مقتدر بار ایسوسی ایشن نے اپنے ہنگامی اجلاس میں جس میں پانچ سو سے زائد اراکین موجود تھے متفقہ طور پر منظور کر لیا اور اسے بار ایسوسی ایشن سے خارج کر دیا گیا جس پر مشتاق راج چراغ پا ہو کر دشنام طرازیوں پر اتر آیا اور اس نے پریس کو ایک بیان جاری کیا جس میں عذر گناہ پیش کرتے ہوئے مجھے اور ان تمام ساتھیوں اور معزز اراکین بار کو جنہوں نے متفقہ طور پر اس قرار داد کو منظور کیا تھا ”بہیمانہ جذبات کے علم بردار“ اور ”موروثی جہالت کے وارث“ کے خطابات سے نوازا جس سے اس کی بوکھلاہٹ صاف ظاہر ہوتی تھی اور اس طرز تخاطب سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ موصوف کو گالیاں دینے کا سلیقہ بھی نہیں۔
ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قرارداد کے بعد حکومت نے یہ کاروائی کی کہ مشتاق راج کی کتاب ”آفاقی اشتمالیت“ کو ضبط کر لیا۔ ہم نے مصنف کے خلاف قانونی کاروائی کے لیے انارکلی پولیس اسٹیشن لاہور میں رپورٹ درج کرائی جس پر پولیس نے مشتاق راج کے خلاف 'توہین مذہب' کے جرم میں زیر دفعہ 295 الف تعزیرات پاکستان مقدمہ درج کر لیا۔ کیونکہ تعزیرات پاکستان میں ”توہین رسالت“ جیسے سنگین اور انتہائی دل آزار جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں تھی، ابتدائی رپورٹ کے باوجود مشتاق راج کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی جس کی وجہ سے مسلمانوں میں اضطراب پیدا ہوا۔ ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کی تحریک پر تمام مکاتب فکر کے مقتدر علماء اور ممتاز قانون دانوں کی کانفرنس اسی سال 1983ء میں منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس میں علمائے دین، قانون دان حضرات اور شرکائے کانفرنس نے حکومت سے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ اسلام میں توہین رسالت کی سزا سزائے موت ہے۔ اس لیے گستاخ رسول ﷺ کو سزائے موت دی جائے۔ پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب انوار الحق اور لاہور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جناب ذکی الدین پال نے بھی اس مطالبہ کی تائید اور حمایت کی۔ پاکستان کے قومی اخبارات جن میں روزنامہ ”جنگ“، ”نوائے وقت“، ”مشرق“ اور ”امروز“ قابل ذکر ہیں نے نہ صرف اس مطالبہ کے حق میں مقالات شائع کیے بلکہ اداریے بھی لکھے۔ بالآخر اسلامی نظریاتی کونسل نے ہماری قرارداد اور اسلامیان پاکستان کے اس مطالبہ کا نوٹس لیا۔ شیخ غیاث محمد سابق اٹارنی جنرل کی تحریک پر کونسل نے حکومت سے سفارش کی کہ توہین رسالت اور ارتداد جیسے جرائم کی سزا سزائے موت مقرر کی جائے۔ اس کے باوجود حکومت وقت نے اس نازک مسئلہ کو مستحق توجہ نہ سمجھا جس کی وجہ سے وکلاء اور بالخصوص نوجوانوں میں اضطراب اور ہیجان بڑھنے لگا۔ لاہور کے نوجوانوں کا ایک گروہ انتہائی مشتعل حالت میں میرے پاس پہنچا۔ ان میں سے دو نوجوانوں کے نام جو ذہن میں محفوظ رہ گئے وہ یہ ہیں: طارق طفیل اور محمد خلیل بھٹی۔ ان
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے غلامان مصطفیٰ کی غیرت مسلم زندہ ہے
العاقبت پاکستان میں قانون توہین رسالت کے اجراء کے لیے کوششوں کا اجمالی جائزہ
سب نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اس ملعون شخص کی نشاندہی کروں، جس نے ان کے آقا اور مولا کی شان میں ایسی گستاخی کی جسارت کی ہے۔ وہ ایسے شخص کے وجود کو ایک لمحے کے لیے بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ میں نے انہیں سمجھانے بجھانے کی کوشش کی لیکن ان کے اصرار اور اضطراب کو دیکھ کر غالب کی ہم نوائی پر مجبور ہو گیا۔
مجھ سے کوئی تسلی بخش جواب نہ پا کر سرفروشوں کا یہ گروہ مشاق راج کی تلاش میں نکل پڑا۔ حکومت کو بھی اس کی اطلاع مل گئی تھی اس لیے اس خطرہ کے پیش نظر پولیس نے مشاق راج کو گرفتار کر لیا۔ جب ان نوجوانوں کو یہ معلوم ہوا کہ مشاق راج کو حراست میں لے لیا گیا ہے تو وہ پھر میرے پاس واپس آئے اور دھاڑیں مار کر رونے لگے کہ وہ شہادت جیسی نعمت عظمیٰ سے محروم ہو گئے۔
مشاق راج کی گرفتاری کے بعد ایک عجیب تر واقعہ رونما ہوا۔ مشاق راج کے چند ساتھیوں نے لاہور ہائی کورٹ میں اس کی ضمانت کے لیے درخواست پیش کی جس کی وجہ سے وکلاء سخت برہم ہو گئے۔ رشید مرتضیٰ قریشی، محمد شاہ نواز خان اور محمد عبدالعزیز قریشی ایڈووکیٹ اتنے بے قابو ہو گئے کہ ایک مرحلہ پر وہ مرنے مارنے کے لیے تیار ہو گئے۔ وکلاء کی ایک کثیر تعداد درخواست ضمانت کی مخالفت کے لیے مسٹر جسٹس میاں اسلم کی عدالت میں پیش ہوئی۔ ہم نے قانونی دلائل پیش کرتے ہوئے درخواست ضمانت کو مسترد کرنے پر زور دیا۔ ابھی یہ بحث جاری تھی کہ اتنے میں شیر بیشہ قانون رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ روسٹرم کی طرف بڑھے۔ ان کی گھن گرج سے سارا کمرہ عدالت گونج اٹھا اور دفعتاً ایسا جوش اور جذبہ بے اختیار طوفان سا امڈ آیا جس نے ایک بار پھر مولانا محمد علی جوہر کی خالق دینا ہال کراچی والے مقدمہ بغاوت کی یاد از سر نو تازہ کر دی۔ شاید حالات کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا لیکن اس وقت کے ایڈووکیٹ جنرل (اور بعد میں لاہور ہائی کورٹ کے جج) راشد عزیز خان نے ہائی کورٹ کو بتلایا کہ حکومت پنجاب نے مشاق راج کا مقدمہ عام فوجداری عدالت سے واپس لے کر ملٹری کورٹ کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مشاق راج کے وکلاء نے بھی عافیت اسی میں سمجھی کہ اس کی درخواست ضمانت واپس لے لی جائے اس لیے موصوف جیل سے باہر نہ آسکے۔ جیل کے اندر جب قیدیوں کو یہ معلوم ہوا کہ ان میں ایک ایسا شخص بھی موجود ہے جس نے سرکار رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے تو وہ بھی اسے مارنے کے لیے دوڑے۔ اس لیے وہاں پر بھی اسے قیدیوں سے علیحدہ کوٹھڑی میں رکھا گیا۔
مسلمانوں کے ان مشتعل جذبات اور احساسات کے باوجود حکومت وقت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اگرچہ اس
نعرہ بقاء پاکستان ملی غیرت مسلم سے ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب پاکستان میں قانون توہین رسالت کے اجراء کے لیے کوششوں کا اجمالی جائزہ
وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے علماء کنونشن منعقدہ 21 اگست 1981ء میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ حضور ختمی مرتبت ﷺ اور ان کے صحابہ کرام یا دیگر مذہبی اکابرین کے متعلق ہتک آمیز‘ گستاخانہ تحریر و تقریر کی حوصلہ شکنی کے لیے جلد ہی ضروری قانون بنایا جائے گا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزا مقرر کی جائے گی۔ اس یقین دہانی کے باوجود اس سلسلہ میں کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔ بالآخر راقم الحروف نے وفاقی شرعی عدالت میں صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق اور تمام صوبوں کے گورنروں کے خلاف پٹیشن دائر کی‘ جس میں کہا گیا کہ تعزیرات پاکستان میں پیغمبر ﷺ کی شان میں گستاخی‘ اہانت‘ توہین جیسے سنگین اور ناقابل معافی جرم کے بارے میں کوئی سزا مقرر نہیں‘ اس لیے توہین رسالت اور توہین مذہب کے جرائم کی سزا قرآن اور سنت کی روشنی میں سزائے موت مقرر کی جائے۔ یہ درخواست ایک سو پندرہ سربرآوردہ مسلمان شہریوں کی جانب سے دائر ہوئی جن میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام‘ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان‘ سابق وزرائے قانون‘ سابق اٹارنی جنرل‘ ایڈووکیٹ جنرل اور ممتاز قانون دان شامل تھے۔
یہ پٹیشن وفاقی شرعی عدالت کی فل بینچ کے سامنے جو چیف جسٹس شیخ آفتاب حسین‘ جسٹس فخر عالم‘ جسٹس چودھری محمد صدیق‘ جسٹس ملک غلام علی اور جسٹس عبدالقدوس قاسمی پر مشتمل تھا۔ 18 جولائی 1983ء کو پیش ہوئی۔ فاضل عدالت نے ابتدائی بحث کی سماعت کے بعد اٹارنی جنرل پاکستان اور تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کے نام نوٹس جاری کر دیے اور پٹیشن برائے سماعت منظور کر لی۔ اس کے بعد پھر پٹیشن کی باقاعدہ سماعت اسی فیڈرل شریعت کورٹ کی فل بینچ نے کی‘ جو چیف جسٹس جناب گل محمد خان‘ جسٹس جناب فخر عالم‘ جسٹس مولانا عبدالقدوس قاسمی‘ جسٹس مفتی شجاعت علی قادری اور جسٹس جناب فخر الدین ایچ شیخ پر مشتمل تھا۔ اس کی سماعت 13 نومبر کو شروع ہوئی اور 21 نومبر 1985ء تک مسلسل روزانہ جاری رہی‘ پٹیشن پر بحث کا آغاز راقم الحروف کے دلائل سے شروع ہوا۔ اس پٹیشن کی تائید میں تمام مکاتب فکر کے علماء‘ معروف قانون دان اور یونیورسٹی‘ کالجوں‘ دینی درسگاہوں کے اساتذہ کی کثیر تعداد عدالت میں آتی رہی۔
فیڈرل گورنمنٹ کی جانب سے ڈاکٹر سید ریاض الحسن ڈپٹی اٹارنی جنرل‘ حکومت پنجاب کی جانب سے جناب خلیل رمدے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب (موجودہ جج سپریم کورٹ)‘ حکومت سرحد کی جانب سے میاں اجمل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور صوبہ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے اپنی اپنی حکومتوں کا موقف پیش کیا۔ تمام علمائے کرام جنہوں نے بحث میں حصہ لیا اپنے اپنے تحریری دلائل بھی عدالت میں داخل کیے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے العاقب مقالہ گستاخ نبی غیرت مسلم مذہب
العاقب پاکستان میں قانون توہین رسالت کے اجراء کے لیے کوششوں کا اجمالی جائزہ
کے نمائندوں نے بھی بیک زبان اس کی تائید کی کہ شاتم رسول کی سزا قرآن اور سنت کی روشنی میں سزائے موت مقرر ہے لیکن دوران بحث ڈپٹی اٹارنی جنرل سید ریاض الحسن گیلانی نے یہ موقف اختیار کیا کہ گستاخ رسول کو پولیس یا عدالت سے رجوع کیے بغیر موقع پر قتل کر دیا جائے۔ پھر یہ عجیب نکتہ اٹھایا کہ تعزیرات پاکستان میں توہین رسالت کی سرے سے کوئی سزا ہی موجود نہیں جسے قرآن وسنت کے منافی قرار دیا جائے۔ اس لیے وفاقی شرعی عدالت کو اس پیٹیشن کی سماعت کا اختیار ہی نہیں۔ راقم الحروف اور صوبائی حکومتوں کے تمام نمائندوں نے وفاقی حکومت کے دوسرے موقف کی تردید میں اپنے دلائل پیش کیے کہ فیڈرل شریعت کورٹ کو توہین مذہب کے بارے میں جو سزا مقرر ہے اس کے قانونی سقم کو جو قرآن وسنت سے متصادم ہے دور کر کے توہین رسالت کی سزا کو بطور حد جاری کرنے کے لیے حکومت کو یہ حکم دینے کا پورا پورا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے فریقین اور معاونین علماء کے مبسوط دلائل کے سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھا۔
اس کے بعد ماہ جولائی 1986ء میں ایک خاتون ایڈووکیٹ عاصمہ جہانگیر نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے معلم انسانیت حضور ختمی مرتبت ﷺ کے بارے میں ناخواندہ اور تعلیم سے نابلد جیسے نازیبا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے جو سامعین اور تمام امت مسلمہ کی دل آزاری کا باعث تھے۔ اس پر راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے معزز اراکین میں سے عباد الرحمن لودھی اور ظہیر احمد قادری ایڈووکیٹ نے سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ ان توہین آمیز الفاظ کو واپس لے کر اس گستاخی پر معافی مانگے لیکن اس کے انکار پر سیمینار میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ جب یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو راقم الحروف کی تجویز پر ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کا ایک غیر معمولی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس میں عاصمہ جہانگیر کی اس قابل اعتراض تقریر پر انتہائی غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر توہین رسالت کی سزائے حد کو پاکستان میں نافذ کرے اور اس جرم کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دے ورنہ اس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ راقم الحروف کی درخواست پر لاہور میں وکلاء اور علماء کا ایک مشترکہ اجلاس ماہ جون 1986ء میں منعقد ہوا جس میں تمام مکاتب فکر کے سربرآوردہ علماء اور ممتاز قانون دان حضرات نے شرکت کی اور متفقہ طور پر حسب ذیل قرارداد منظور کی گئی۔
”ہم دین اور قانون سے وابستہ لوگ برملا اس کا اعلان کرتے ہیں کہ سر زمین پاکستان کا کوئی مسلمان اس ملک میں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں کسی قسم کی اہانت آمیز بات کو کسی نوع میں برداشت نہیں کر سکتا اور نہ
العاقب پاکستان میں قانون توہین رسالت کے اجراء کے لیے کوششوں کا اجمالی جائزہ
ہی سیکولر ذہن رکھنے والے عناصر کو یہ اجازت دینے کے لیے تیار ہے کہ وہ یہاں اپنی مذموم اور شر انگیز سرگرمیوں کو جاری رکھے اور فتنہ و فساد پھیلانے کی کوشش کرے۔ ہم واشگاف الفاظ میں ان عناصر کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے سے باز آجائیں ورنہ اس کے نہایت سنگین نتائج برآمد ہوں گے“۔
عاصمہ جہانگیر کی اس قابل اعتراض تقریر کا نوٹس سب سے پہلے قومی اسمبلی میں اسلامی جذبہ سے سرشار خاتون ایم۔ این۔ اے محترم نثار فاطمہ نے لیا اور انہوں نے وہاں پوری قوت کے ساتھ آواز اٹھائی کہ عاصمہ جہانگیر کے ان توہین آمیز الفاظ کے خلاف حکومت فوری کاروائی کرے لیکن چونکہ اس وقت قانون میں توہین رسالت کے جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں تھی اس لیے اس کے خلاف کوئی موثر کاروائی نہ ہوسکی۔
اس بندہ عاجز کے مشورے سے قومی اسمبلی میں اسی مجاہدہ خاتون نثار فاطمہ نے ایک بل پیش کیا، جس میں توہین رسالت کی اسلامی سزا سزائے موت تجویز کی گئی لیکن اس وقت کے وزیر انصاف جناب اقبال احمد خان نے جن سے ہمارے پیشہ وکالت کے تعلق سے دیرینہ مراسم تھے اس تجویز سے اختلاف کیا۔ ان کے خیال میں اس جرم کی کوئی سزا قرآن میں مقرر نہیں۔ اس لیے انہوں نے اس بل کی حمایت میں معذرت کا اظہار کیا۔
حیرت اس بات پر ہوئی کہ وزیر موصوف علامہ اقبال جیسے عاشق رسول ﷺ کے نام سے منسوب مجلس اقبال کے رکن رکین بھی تھے۔ یہ معلوم کر کے اور بھی حیرت ہوئی کہ ان موصوف کے علاوہ مولانا وصی مظہر ندوی، جناب لیاقت بلوچ، شاہ بلیغ الدین اور کچھ اسلامی ذہن رکھنے والے اراکین اسمبلی بھی اس تجویز سے پوری طرح متفق نہ تھے۔ وہ حضرات بوجوہ صرف عمر قید کی سزا کو کافی سمجھتے تھے جس پر محترمہ نثار فاطمہ اور اس فقیر نے فرداً فرداً ہم خیال اراکین اسمبلی سے مل کر ان کے سامنے قرآن و حدیث، ائمہ کرام اور اجماع امت کے فیصلے پیش کیے اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس بل کی حمایت کر کے اسے قومی اسمبلی سے منظور کرائیں۔ پھر ہمت مردانہ سے کام لیتے ہوئے محترمہ نثار فاطمہ نے جب یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تو اراکین کی اکثریت کو اس کی حمایت میں دیکھ کر کسی کو اس بل کی مخالفت کی جرات نہ ہوسکی اور بالآخر 2 اکتوبر 1986ء کو پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر اس بل کو منظور کرلیا۔
اس طرح رسول پاک ﷺ کے لیے اسلامیان پاکستان کا جذبہ محبت و عقیدت اور احترام غالب آکر رہا۔
حق سبحانہ و تعالیٰ کا فضل بے پایاں اور نبی کریم ﷺ کا کرم خاص تھا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ توہین رسالت کے جرم کی سزا ”سزائے موت“ مقرر ہوئی اور تعزیرات پاکستان میں دفعہ 295 سی کا اضافہ کیا گیا لیکن اس دفعہ میں پھر بھی ایک سقم باقی رہ گیا۔ دفعہ مذکورہ میں توہین رسالت کی سزا موت یا اس کے متبادل سزا عمر قید رکھی
نظام اسلامی کی حقیقت مسلمہ ہے دین پر مٹنا اسلام کی بقا آج بھی ہے
العاقب پاکستان میں قانون توہین رسالت کے اجراء کے لیے کوششوں کا اجمالی جائزہ
گئی۔ حالانکہ اہانت رسول اکرم ﷺ کی سزا بطور حد سزائے موت مقرر ہے اور کسی کو حد کی سزا میں کمی بیشی یا اس کی متبادل سزا مقرر کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ اس لیے میں نے پھر فیڈرل شریعت کورٹ میں صدر پاکستان اور حکومت پاکستان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا اور دفعہ 295۔سی کی اس شق کو چیلنج کیا جس کی رو سے عدالت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ توہین رسالت کے مجرم کو سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا بھی دینے کی مجاز ہے۔ اس پٹیشن میں وفاقی شرعی عدالت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ سزائے عمر قید کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے صدر پاکستان کو یہ ہدایت جاری کی جائے کہ وہ توہین رسالت کی سزا بطور حد صرف سزائے موت مقرر کریں کیونکہ سزائے حد میں صدر، گورنر، پارلیمنٹ بلکہ پوری امت مسلمہ کو بھی کسی قسم کی ترمیم، تبدیلی یا تخفیف کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ پٹیشن فیڈرل شریعت کورٹ کے فل بینچ کے سامنے یکم اپریل 1987ء کو پیش ہوئی۔ فاضل عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نام نوٹس جاری کر دیے۔ اس کے بعد اسلام آباد، پھر لاہور میں اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل عبدالستار نجم اور صوبائی حکومت پنجاب کی جانب سے عزیزان گرامی نذیر غازی اور جلال الدین خٹک پیش ہوئے۔ حکومت سرحد کی نمائندگی میاں محمد اجمل نے کی۔
بحث کی سماعت لاہور میں ماہ مارچ 1990ء کے پہلے ہفتہ میں فل بینچ کے سامنے ہوئی جو چیف جسٹس جناب گل محمد خان، جناب جسٹس عبدالکریم خان کنڈی، جناب جسٹس عبادت یار خان، جناب جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان اور جناب جسٹس عبدالرزاق تھیم پر مشتمل تھا۔ وفاقی حکومت کا موقف تھا کہ توہین رسالت کی سزا ”سزائے موت“ کی بجائے صرف عمر قید کافی ہے، کیونکہ اس جرم کی سزا کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔ اس لیے یہ سزا بطور حد نہیں دی جا سکتی۔ اس کے علاوہ ایک فرقہ دوسرے فرقہ پر توہین رسالت کا الزام عائد کر کے سزائے موت کا مطالبہ کرے گا۔ مولانا مفتی غلام سرور قادری کی رائے میں حنفی نقطہ نظر سے توہین رسالت کے جرم کی سزا ”موت“ بوجہ ارتداد دی جائے گی لیکن ارتداد نا قابل معافی جرم ہے۔ اہل حدیث مکتب فکر کے اسکالر حافظ صلاح الدین یوسف نے بھی مفتی صاحب کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ توبہ سے سزا موقوف ہو جائے گی لیکن باغی اور سر کردہ مجرموں کی توبہ قابل قبول نہ ہوگی۔
راقم الحروف نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ان علماء حضرات کے دلائل کی سختی سے تردید کی۔ قرآن مجید کی متعلقہ آیات اور صحاح ستہ کی احادیث کے حوالہ سے بتلایا کہ توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت دی جائے گی۔ خود سرکار رسالت مآب ﷺ کے حکم سے سزائے موت ان لوگوں کو بھی دی گئی جو یہودی اور غیر مسلم تھے اور جنہوں نے
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
(العاقب) پاکستان میں قانون توہین رسالت کے اجراء کے لیے کوششوں کا اجمالی جائزہ
حضور کی اہانت کر کے آپ ﷺ کو ایذا دی تھی۔ اس لیے اس میں مسلمان اور غیر مسلم کی کوئی تمیز نہیں۔ اگر مسلمان اس جرم کا ارتکاب کرے تو وہ مرتد ہونے کی وجہ سے بھی سزائے موت کا مستحق ہے۔ اس کے علاوہ امام احمد بن حنبلؒ، امام شافعیؒ اور دیگر ائمہ حدیث و فقہ ابن حزمؒ، ابن تیمیہؒ کے فتاویٰ کے مطابق توہین رسالت کے جرم کی سزا بطور حد سزائے موت ہے اور یہ نا قابل معافی جرم ہے جس کے مرتکب کی توبہ بھی قابل قبول نہیں۔ خود فقہ حنفی کی مستند کتب البحر الرائق شرح کنز الدقائق‘ رد المحتار علی الدر المختار‘ شرح تنویر الابصار اور فتح القدیر سے بھی یہ ثابت ہے کہ شاتم رسول کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اسے بطور حد قتل کیا جائے گا۔ ہمارے اس موقف کی تائید صوبہ پنجاب کے نمائندے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل صاحبان نے کی۔ اس کے بعد فیڈرل شریعت کورٹ نے اس مقدمہ کا تاریخی فیصلہ 30 اکتوبر 1990ء کو سنا دیا۔
اس فیصلہ کے بعد پھر ایک عجیب مرحلہ پیش آیا۔ فیڈرل شریعت کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت نے جو نفاذ اسلام اور قرآن وسنت کے قانون کی بالا دستی کا منشور دے کر برسر اقتدار آئی تھی‘ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی اور راقم الحروف کے نام وفاقی حکومت کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ چودھری اختر علی کا نوٹس بھی موصول ہو گیا۔ جس پر راقم نے اس وقت کے وزیر اعظم کو پیغام بھجوایا کہ حکومت اس اپیل کو فوری طور پر سپریم کورٹ سے واپس لے ورنہ مسلمانوں کے جذبات اس حکومت کے خلاف بھی مشتعل ہو جائیں گے اور اس حکومت کا بھی وہی انجام ہوگا جو اس کی پیش رو حکومت کا ہو چکا ہے۔ جس نے اسلامی قوانین کو اپنی کابینہ میں ظالمانہ اور فرسودہ قرار دے کر قانون قصاص ودیت کو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن سپریم کورٹ نے راقم کی درخواست پر کابینہ کی اس کاروائی کا سختی سے نوٹس لے کر قانون قصاص ودیت کے خلاف گورنمنٹ کی اپیل کو مسترد کر دیا اور پھر یہ حکومت غضب الٰہی کا شکار ہوئی۔ خدا کا شکر ہے کہ نواز شریف نے اس انتباہ پر برسر عام اعلان کیا کہ اس اپیل کا انہیں قطعی علم نہیں تھا ورنہ ایسی غلطی کبھی سرزد نہ ہوتی اور اس جرم کی سزائے موت بھی کم تر سزا ہے۔ اس لیے یہ اپیل سپریم کورٹ سے فوری طور پر واپس لے لی گئی جس کے بعد بفضل تعالیٰ اب پاکستان میں توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت حتمی اور قطعی طور پر جاری ہو چکی ہے اس قانون کی بدولت اب کوئی شخص شاتم رسول ﷺ کو خود کیفر کردار تک پہنچانے کی بجائے عدالت سے رجوع کرے گا جہاں فریقین سے شہادت لی جائے گی۔ ملزم کو صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر جرم ثابت ہو تو پھر مجرم کو سزا دی جائے گی۔
﴿ماخوذ از: ناموس رسالت اور قانون توہین رسالت ﷺ ، ص: ۴۱۷ تا ۴۲۹﴾
غلامان مصطفیٰ کی غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقبة قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت
قانون تحفظ ناموس رسالت
کی ضرورت واہمیت
مولانا شاہ احمد نورانی
رحمۃ اللہ علیہ
کوچہ سیاست کی چکا چوند میں بے داغ کردار کا نام شاہ احمد نورانی ہے۔ حضرت نورانی میاں خلیفہ اعلیٰ حضرتؒ حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھیؒ کے نور نظر تھے۔ بے داغ کردار، پختہ استدلال، سلجھا لہجہ، میٹھا و دلکش انداز بیان، ذہانت، دیانت اور متانت یہ نورانی میاں کی ایسی خوبیاں تھیں جو کم ہی کسی کو عطا ہوتی ہیں۔ صاحب طرز خطیب تھے اور جب دوران خطبہ آیات الٰہی کی تلاوت فرماتے تو سماں باندھ دیتے۔ عشق رسالت مآب ﷺ آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ مستقل مزاجی اور ذرہ نوازی آپ کی فطرت میں ایسی ودیعت کر گئیں کہ دنیا پرستی، دولت اندوزی اور زرگری کے دور میں بھی جس حجرے سے نکل کر وادی سیاست میں آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سب پر چھا گئے اسی حجرے میں اپنی حیات مستعار کے شب و روز بسر کر دیئے۔ جس مسجد میں نماز تراویح میں قرآن حکیم کی تلاوت شروع کی آخری سال تک اسی مسجد کے منبر و محراب کو رونق بخشی۔ کئی ناتجربہ کار اطفال کو آپ نے انگلی پکڑ کر سیاست کے میدان میں چلنا سکھایا اور جب وہ کچھ چلنا سیکھ گئے تو خود ہی راہبر بن گئے۔ خدا کی قدرت ان گمشدہ بچوں کے سامنے اس وقت نورانی جیسا ”کوہ ہمالیہ“ بھی نہیں، راستہ بالکل صاف ہے تو پھر ان بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ میدان عمل میں کیوں نہیں اترتے جن کا ذکر ”حیات نورانی“ میں بڑے بھدے انداز میں ہوتا تھا۔
حضرت نورانی صاحب نسبی طور پر طرفین کی جانب سے خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تھے۔ خون صدیقی ہی کا اثر تھا کہ آپ نے اپنی ساری زندگی تحفظ ناموس رسالت اور نظام مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کے لئے وقف کر دی۔ تحریک ختم نبوت 1953ء میں کراچی کی سطح تک خدمات سرانجام دیں اور تحریک ختم نبوت 1974ء میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ اسی تحریک میں آپ نے قومی اسمبلی میں ملت اسلامیہ کی جانب سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے قرارداد پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کیا اور قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار دیے گئے۔ تحریک ختم نبوت 1984ء میں بھی آپ نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ اس تحریک کے نتیجے میں ”امتناع قادیانیت آرڈینینس“ جاری ہوا جس کی بدولت قادیانیوں کی طرف سے شعائر اسلام کے استعمال پر پابندی عائد کی
تحفظ ختم نبوت دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت العاقب
گئی۔ 1999ء میں پرویز مشرف کی جانب سے منتخب حکومت پر شب خون مارنے کے بعد ”دور پرویز“ میں قادیانیوں کو نوازنے کی پالیسی تیار ہوئی۔ حضرت نورانی صاحب کے دور بین نگاہوں نے معاملات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ قادیانی نواز ”پرویزی ٹولہ“ قادیانی ووٹر فارم کی علیحدہ تیاری اور ختم نبوت کے حلف نامہ کی بحالی پر مجبور ہو گیا۔
نصف صدی سے زائد آپ نے آقائے دو جہاں ﷺ کی عظمت ورفعت اور مقام مصطفیٰ ﷺ کے علم کو اٹھائے رکھا۔ ان گنت قادیانی آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر کے آغوش امن میں آئے۔ آج جمیعت علمائے پاکستان، ورلڈ اسلامک مشن، فدایان ختم نبوت اور دیگر کئی ادارے اپنے محبوبِ حق گو اور بے لوث قائد کی راہ دیکھ رہی ہیں لیکن صدیقی شہزادہ ان سے بہت دور عالم ارواح میں خاتم النبیین ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا بے انتہا احسان ہے کہ ہم اور آپ اسلام اور دین حق کی رحمت سے سرفراز ہیں اور اس کا احسان ہے کہ ہم اور آپ اللہ کے گھر میں اللہ عزوجل کے حضور میں سر بسجود ہونے کے لیے حاضر ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ مجھ گناہ گار کی اور آپ سب کی حاضری قبول فرمائے اور جو کچھ بیان کیا جائے اس کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور ہمارے لیے کفارۂ سیئات بنائے۔
اللہ جل جلالہ نے حضور پُر نور ﷺ کی ذات اقدس کو با برکت اور رحمۃ للعلمین بنا کر تمام عالم کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بھیجا۔ نبوت ورسالت ایک عظیم منصب ہوتا ہے ایک اعلیٰ مقام ہوتا ہے۔ اس کی بلندی وعظمت کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات میں بیان فرمایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب بھی کسی نبی کو مبعوث فرمایا تو اس کے تقدس‘ اس کی عظمت و حرمت کے تمام پہلو اجاگر فرمائے۔ جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے ان میں خواہ کوئی نبی صاحب شریعت ہو یا صاحب شریعت نہ ہو صاحب کتاب ہو یا صاحب کتاب نہ ہو (یعنی تشریعی نبی ہو یا غیر تشریعی ) اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کی عزت و حرمت اور ان کی شان و عظمت کے تحفظ کا سامان فراہم کیا۔ عزت وحرمت اور مرتبے کے اعتبار سے ہم کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ ﴿لا نفرق بین احد من رسلہ﴾ ”ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے“۔ یعنی نفس رسالت ونبوت میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں“۔
الحمد للہ ہم حضور پر نور شافع یوم النشور ﷺ کے امتی اور غلام ہیں‘ ان کے چاہنے والے ہیں‘ ان سے محبت کرنے
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے سن لو ! گستاخ نبی ! غیرت مسلم زندہ ہے
العاقب قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت 94 والے ہیں‘ ان پر ایمان لانے والے ہیں‘ ان کی عظمت وشان پر مر مٹنے والے اور حضور ﷺ کے مقام اور عزت وحرمت کے قائم رکھنے والے ہیں۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا کسی دوسرے نبی کے مقابلے میں حضور اکرم ﷺ کی عزت وحرمت اور شان وعظمت قائم کرنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم نے اس نبی کی بے حرمتی کردی۔ (معاذ اللہ) کسی بھی پیغمبر برحق کی توہین وتنقیص ہو جائے تو یہ کفر ہے۔ یہ اہل سنت کا اجماعی عقیدہ ہے اور اہل سنت کا یہ عقیدہ عین قرآنی ہے۔ اللہ رب العالمین جل جلالہ وعم نوالہ ارشاد فرماتا ہے ﴿ والذین یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالآخرة هم یوقنون ﴾ ”اور ایمان لائیں اس پر‘ جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں“۔
اس آیہ کریمہ سے یہ واضح ہوا کہ حضور ﷺ پر ایمان لانا ضروری ہے کیونکہ حضور علیہ السلام پر ایمان لائے بغیر عقیدہ توحید کی تکمیل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی آدمی مومن و مسلمان ہو سکتا ہے۔ حضور ﷺ پر بھی ایمان لانا ہے اور آپ کے ساتھ ساتھ جتنے بھی انبیاء ومرسلین علیہم السلام حضور ﷺ سے پہلے تشریف لائے ہیں ان پر بھی ایمان لانا ہے۔ ان کی عزت وحرمت کو بھی قائم رکھنا ہے۔ کسی ایک نبی کی توہین بھی اسلام میں ناقابل معافی جرم ہے اور اپنے ایمان کو غارت کرنا ہے۔ نبی کی توہین پر سزائے موت دی جائے گی اور یہ مسئلہ اتفاقی ہے کہ نبی کی توہین کرنے سے آدمی مرتد ہو جاتا ہے۔ اس کو تین دن دیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے ارتداد سے توبہ کرے اگر توبہ نہیں کرتا ہے تو شرعی قانون کے تحت واجب القتل ہے۔ اسلامی حکومت اس کو قتل کر سکتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی یا کسی بھی نبی کی توہین کھلا ہوا کفر ہے کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے منصب نبوت کی خود حفاظت فرمائی ہے۔ تمام مسلمانوں کا یہ اجماعی عقیدہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کوئی رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔
آج کل انگلستان کے سب سے بڑے لارڈ پادری صاحب پاکستان آئے ہوئے ہیں اس کو آرچ بشپ آف کنٹربری بھی کہتے ہیں۔ یہ انگلستان میں سب سے بڑا پادری اور عیسائیوں کا سب سے بڑا نمائندہ ہوتا ہے۔ انگلستان کا جو بادشاہ ہے اس کے حلف میں یہ بات شامل ہے کہ I will defend the faith (یعنی میں عقیدہ کا تحفظ کروں گا) اس لیے انگلستان کے بادشاہ کو کہتے ہیں Defender of the faith (یعنی عقیدے کا تحفظ کرنے والا) میں ذرا اس بات کی وضاحت کر دوں کہ چرچ آف انگلینڈ کا ایک علیحدہ مستقل نظام ہے جو رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ سے ہٹ کر ہے اور شاہ برطانیہ اس کا محافظ ہے۔ آرچ بشپ جو برطانیہ سے
دربارہ مقام نبوت مقالہ گستاخ نبی کی غیرت مسلمہ مردہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون تح... پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے فرانس‘ پرتگال‘ بیلجیم‘ ہالینڈ وغیرہ دو روز ٹہر کر سنگاپور چلا گیا۔ س... یہ بیان پڑھا کہ آرچ بشپ آف ک... ہے کہ Blassphemy کی ... بجائے سزائے موت کے کوئی معمو... of Blassphemy آپ کو بتانا چاہتا ہوں اور یہ آ... آرچ بشپ پاکستان میں جو ایک... قرار دیا ہے۔ 1973ء سے پ... اسلامی جمہوریہ پاکستان تھا او... بالکل درست تھی‘ اس میں کوئی ... رکھتے ہیں یا جاوید اختر رکھتے ہ... لیکن جب آپ اس سے ایک ل... اس زمانے (1973ء) کہ پاکستان کا سرکاری مذہب ا... تھی وہ میرے اس مطالبے م... لیں۔ میں نے کہا نہیں! اس م... پاکستان کی تاریخ میں اسلام ا... ”اسلامی جمہوریہ پاکست...“ چاہیں رکھ دیں لیکن اس کی من... یہ بات بھی آپ کے علم م... تھا اور عراق کو بظاہر شکست ہ...
العاقب قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں، کل ان کا بیان ملک کے اخبارات میں چھپا۔ میں ملک سے باہر اسپین‘ فرانس‘ پرتگال‘ بیلجیم‘ ہالینڈ وغیرہ کے تبلیغی دورے پر تھا، دو مسجدوں کا وہاں افتتاح کرنا تھا۔ وہاں سے واپس آیا اور دو روز ٹھہر کر سنگا پور چلا گیا۔ سنگا پور میں کانفرنس تھی اور وہ کانفرنس ختم کر کے کل جب میں وطن واپس آیا تو اخبار میں یہ بیان پڑھا کہ آرچ بشپ آف کنٹربری چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ نے اسلام آباد میں اپنی تقریر میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ Law of Blasphemy میں سزائے موت دی گئی ہے، اس سزائے موت میں تخفیف کی جائے، بجائے سزائے موت کے کوئی معمولی سزا دی جائے۔
Law of Blasphemy کیا ہے؟ اس میں سزائے موت کیوں مقرر کی گئی ہے؟ اس کی تفصیل آپ کو بتانا چاہتا ہوں اور یہ آپ کے علم میں رہنی چاہیے۔ اس لیے کہ یہ بہت بڑی بات ہے کہ عیسائیوں کا ایک رہنما آرچ بشپ پاکستان میں جو ایک اسلامی ملک ہے، جس میں بڑی جدوجہد کے بعد اسلام اس ملک کا سرکاری مذہب قرار دیا ہے۔ 1973ء سے پہلے جتنے بھی آئین تھے ان میں اسلام اس ملک کا سرکاری مذہب نہیں تھا۔ نام تو اسلامی جمہوریہ پاکستان تھا اور اس نام کی وجہ سے لوگ یہ کہتے تھے کہ یہ مسلمانوں کا ملک ہے۔ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست تھی، اس میں کوئی شک نہیں تھا لیکن یہ بالکل ایسی بات تھی کہ جیسے بعض لوگ اپنے بیٹے کا نام اقبال مسیح رکھتے ہیں یا جاوید اختر رکھتے ہیں، نام تو ہے جاوید اختر چنانچہ یہ نام سن کر آپ شبہ میں پڑ جاتے ہیں کہ مسلمان ہوگا لیکن جب آپ اس سے اس کا مذہب پوچھیں گے تو وہ بتائے گا کہ وہ کرسچن (عیسائی) ہے۔
اس زمانے (1973ء) میں قومی اسمبلی میں جب یہی دلائل زیر بحث تھے۔ میں نے قومی اسمبلی میں مطالبہ کیا کہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہونا چاہیے، تو اس زمانے کے وزیر اعظم اور ان کی پارٹی والے جن کی حکومت تھی وہ میرے اس مطالبے پر بڑے پریشان ہوئے، مجھ سے بار بار یہ کہتے تھے۔ نہ مولانا آپ اپنا یہ مطالبہ واپس لیں۔ میں نے کہا نہیں! اس ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہی ہوگا۔ اس پر برسر اقتدار پارٹی نے یہ جواب دیا کہ پاکستان کی تاریخ میں اسلام کبھی بھی سرکاری مذہب نہیں ہوا اور آپ جو مطالبہ کرتے ہیں تو اس کے لیے ملک کا ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ نام ہونا ہی بس کافی ہے، تو میں نے اپنی تقریر میں یہی مثال دی کہ بچے کا نام آپ جو چاہیں رکھ دیں لیکن اس کی شناخت بھی ضروری ہے۔
یہ بات بھی آپ کے علم میں ہے کہ امریکن عساکر نے اپنے منافقین کو ساتھ ملا کر 1991ء میں عراق پر حملہ کیا تھا اور عراق کو بظاہر شکست ہوئی۔ جب جنگ ختم ہوئی تو بہت سے بے وقوف اور احمق کویتیوں نے اپنے بچوں کا نام
بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے الفرقان دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت 96
”بش“ رکھ دیا۔ غور کیجیے کہ مسلمان گھرانوں نے اپنے بچوں کا نام ”بش“ رکھ دیا۔ اس وقت کے اخبارات میں یہ افسوسناک خبریں آئیں اور ہم نے اور آپ نے پڑھیں۔ اسی طرح ہمارے بہت سے لوگ بے معنی نام رکھ دیتے ہیں جس کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ حالانکہ نام تو اچھے رکھنے چاہئیں۔ حضور پُر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اچھے نام رکھو کیونکہ اس کے اثرات پہنچتے ہیں۔ لہٰذا بے معنی اور لغو ناموں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اپنی مسجد کے خطیب یا عالم یا کسی بزرگ سے پوچھ لیا کریں تاکہ وہ کوئی اچھا نام تجویز کریں جو بامعنی بھی ہو تاکہ بچے پر اس کے اچھے اثرات قائم ہوں۔
بہر حال میں نے اس وقت قومی اسمبلی میں کہا کہ محض ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ نام رکھنے سے کچھ نہیں ہوتا ملک کا مذہب کیا ہے وہ بتائیے؟ اسلام اس ملک کا سرکاری مذہب ہونا چاہیے اور یہ باقاعدہ دستور میں لکھا ہونا چاہیے کہ ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہے‘ حکومت کا مذہب اسلام ہے اور پاکستان کا مذہب اسلام ہے۔ الحمد للہ ہمارا یہ مطالبہ منظور ہوگیا۔
میں آپ کو بتا رہا تھا کہ Law of Blassphemy کا ترجمہ ہوا قانون تحفظ ناموس رسالت۔ اس پر کیا سزا دی جائے؟ تقریباً پانچ‘ چھ سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد 1990ء کی پارلیمنٹ سے یہ پاس ہوا کہ اگر کوئی شخص حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس یا دیگر انبیاء ومرسلین علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کی توہین کا مرتکب ہو تو اس کو سزائے موت ہونی چاہیے۔ اس قانون کا نام ہوا Law of Blassphemy تو According to the act of the Parliment یعنی پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت ”قانون تحفظ ناموس رسالت“ نافذ ہوا۔
اب قانون بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی شخص خواہ وہ مسلمان ہو یا عیسائی یا اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو‘ اگر اس نے کسی بھی نبی برحق کی بے حرمتی کی تو اس کے لیے سزائے موت ہے۔ آپ نے غور فرمایا کہ مسلمانوں نے جو قانون تحفظ ناموس رسالت بنایا اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی تحفظ دیا گیا ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ کوئی عیسائی شکایت کرے کہ آپ لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چھوڑ دیا اور اپنے نبی محترم ﷺ کے لیے تحفظ ناموس رسالت کا قانون بنادیا‘ اب یہ شکایت نہیں ہوسکتی۔
لیکن بڑے تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ آج بشپ عیسائیوں کے نمائندے ہیں‘ ان کو تو اس قانون سے خوش ہونا چاہیے تھا کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں بھی گستاخی ہو تو اس کے لیے بھی یہی قانون ہے مگر افسوس کہ
نصیحت بقائے گستاخ نبی پر غیرت مسلم مقدم ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت
کل ان کا ایک طویل دوکالمی بیان نشر ہوا۔ انگریزی اخبار میں میں نے پڑھا اور اس کے علاوہ اسلام آباد اور کراچی سے جو اخبار نکلتے ہیں اس میں بھی میں نے پڑھا ہے کیونکہ انگریزی میں ان کی تقریر تھی لہٰذا انگریزی اخبارات میں زیادہ تفصیل آئی ہے۔ مجھے اس بیان پر بڑی حیرت ہے کہ ایک عیسائی ایسا مطالبہ کر رہا ہے بلکہ ان کو تو خوش ہونا چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ایک مسلمان ملک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عزت وحرمت کو اس طرح تحفظ دیا گیا کہ ہم عیسائی بھی اتنا تحفظ نہیں کرسکے۔ انگلستان میں کوئی تحفظ نہیں ہے مگر پاکستان میں جہاں حضور اکرم ﷺ کی عزت وحرمت کے تحفظ کا قانون ہے اسی قانون کے ذریعے حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کی عزت وحرمت کا تحفظ بھی موجود ہے۔ عیسائیوں کے ساتھ یہودیوں کو بھی اس قانون پر خوش ہونا چاہیے کہ مسلمانوں نے جو قانون بنایا ہے اس سے اپنے پیغمبر کی عزت وحرمت کے ساتھ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی عزت وحرمت کا تحفظ بھی کیا گیا ہے لیکن عیسائیوں کے بڑے رہنما مطالبہ کر رہے ہیں کہ نہیں ! اس قانون میں جو سزائے موت دی گئی ہے اس کو ختم کر دینا چاہیے ۔ The death .sentence should be abolished یہ ان کا مطالبہ اور یہ فقرہ تمام اخبارات میں شائع ہوا کہ سزائے موت کو ختم کر دینا چاہیے۔
اب ذرا غور فرمائیں کہ اگر نبی کی عزت وحرمت نہ رہے تو پھر نبی کی کسی بات کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ اس لیے اللہ رب العالمین نے قرآن مجید میں خاص طور سے ہدایت فرمائی۔ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهًا﴾ ”اے ایمان والو! ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا تو اللہ نے اسے بری فرما دیا اس بات سے جو انہوں نے کہی اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے“۔
تم ایسے مت ہو جانا جیسے حضرت موسیٰ کی امت میں لوگوں نے حضرت موسیٰ کو اذیت دی۔ تم نبی کو اذیت مت دینا ورنہ تم پر بھی وہی رسوائی اور وہی ذلت مسلط ہو جائے گی جو یہودیوں پر اس زمانے میں مسلط کی گئی تھی۔ یعنی تم حضور اکرم ﷺ کو اذیت مت دینا جس طرح یہودی اپنے پیغمبر کو اذیت دیتے تھے۔
اس اذیت کا بھی بڑا عجیب وغریب واقعہ ہے۔ یہودیوں (قارون اور اس کے ساتھی) نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تہمت لگائی کہ آپ کے جسم پر داغ ہیں، آپ کا جسم برص اور کوڑھی ہے جبکہ نبی کا جسم پاک صاف ہوتا ہے۔ نبی کے جسم پر اللہ کے نور کی بارش ہوتی ہے، نبی کے جسم سے خوشبو آتی ہے۔ ہمارے آقا ومولیٰ حضور اکرم ﷺ سید الانبیاء والمرسلین ہیں۔ آپ کے جسم اقدس سے ایسی خوشبو آتی تھی کہ آپ جس کوچہ و بازار یا گلی سے گزر جاتے تھے
نوٹ : عقائد و سنن کی غیرت مسلم نہ ہو مردہ دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت
کئی کئی روز تک لوگ اس خوشبو کو سونگھ کر کہتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ یہاں سے گزرے ہیں، کیونکہ نبی کا جسم انوار الہی سے معطر ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا جو پسینہ شریف نکلتا تھا اس پسینے کو ام ایمن اور دوسرے بہت سے صحابہ اور صحابیات کسی خاص برتن یا بوتل میں جمع کر کے رکھ لیتے تھے اور پھر کسی خاص موقع پر پسینہ مبارک کو اپنے جسم پر ملتے تھے تو ان کے جسم اور کپڑوں سے مشک و عنبر سے بھی تیز تر خوشبو آتی تھی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور ﷺ اور دیگر انبیاء علیہم السلام کو یہ عظمت عطا فرمائی کہ ان کے جسم اقدس سے کوئی چیز مس ہو جائے تو وہ بھی بابرکت ہو جاتی تھی۔ ہر نبی معظم ہے، محترم ہے۔ جملہ انبیاء و مرسلین میں حضورِ پُر نور ﷺ کا مقام ووقار بہت ہی بلند و بالا ہے۔ آپ نبیوں میں سب سے اعلیٰ ہیں اور رسولوں میں سب سے بالا ہیں۔ اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو! جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو انہوں نے تکلیف دی خبردار! تم تکلیف نہ دینا۔ یہودیوں کی بدبخت، بد نصیب قوم کے لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر معاذ اللہ زنا کی تہمت بھی لگائی جیسا کہ مفسرین نے اس واقعہ کی تفصیل بیان فرمائی۔ سورہ احزاب میں یہ واقعہ بھی ہے۔
اس کے علاوہ مفسرین نے اور واقعات بھی لکھے ہیں ان ہی میں سے ایک یہ واقعہ بھی ہے کہ قارون نے ایک عورت کو پیسے دیے اور اس کو سکھایا کہ مجمع میں لوگوں کے سامنے یہ کہو کہ میری گود میں جو بچہ ہے یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ شرمناک تہمت اس عورت نے اس وقت لگائی کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام وعظ فرما رہے تھے اور لوگوں کو اللہ کے احکام سے آگاہ کر رہے تھے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ نماز پڑھو اللہ نے تم کو حکم دیا ہے کہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو تو قارون کو زکوٰۃ ادا کرنی نہیں تھی۔ وہ سونے اور چاندی جمع کرنا چاہتا تھا، زمین کے اندر اس کے خزانے سونے اور چاندی سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ منکر تھا زکوٰۃ نہیں دینا چاہتا تھا اس لیے اس نے یہ سارا ڈھونگ رچایا تھا۔ وہ عورت آپ پر تہمت لگانے کے لیے کھڑی ہو گئی کہ میری گود میں یہ بچہ حرام کا ہے اور اس کے مرتکب معاذ اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ دوسری طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ حرام سے بچو، اللہ کی نافرمانی نہ کرو، اس کے احکام پر عمل کرو اور وہ عورت بار بار لوگوں کو متوجہ کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین کر رہی ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ صورتحال دیکھی تو اللہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے چنانچہ اپنی پُر جلال آواز میں عورت سے کہا کہ سچ بتا یہ کس کا بیٹا ہے؟ وہ عورت فوراً بول پڑی کہ یہ آپ کا بیٹا نہیں ہے، میں نے آپ پر جھوٹا الزام لگایا ہے۔ اس کام کے لیے قارون نے مجھے پیسے دیے تھے، میں آپ سے معافی چاہتی ہوں بلاشبہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں۔ اس کے بعد قارون پر جو اللہ کا دردناک
علاوہ کتابی کوئز ٹیسٹ سلسلہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت
عذاب آیا وہ سب کو معلوم ہے۔ میں اس کی تفصیل میں زیادہ جانا نہیں چاہتا ہوں۔ الغرض اس کا خزانہ زمین میں دھنس گیا اور وہ خود بھی زمین میں دھنس گیا‘ وہ خود بھی ختم ہوا اور اس کے محلات بھی ختم ہوئے۔ قرآن مجید میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ ﴿فخسفنا به وبداره الارض﴾ ”تو ہم نے اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا“۔
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور پیغمبر برحق پر جھوٹا الزام لگانے کی سزا ضرور ملتی ہے۔ کسی بھی نبی کو اذیت دینے کی سزا انتہائی عبرت ناک ہوتی ہے۔ ہر نبی اپنے بلند مرتبہ و مقام پر فائز ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا ہماری بارگاہ میں یہ مقام ہے ﴿وكان عند الله وجيها﴾ ”اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی عزت والے اور بڑی وجاہت والے“۔ بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین اور ان کو اذیت دینے کی دردناک سزا ملی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہماری تنبیہ کے لیے یہ واقعات بیان فرمائے تا کہ ہم اس سے عبرت اور سبق حاصل کریں۔
اسی طرح عیسائیوں کا بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے بڑا شرمناک نظریہ ہے اور ان کی بعض کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (معاذ اللہ) طوائفوں سے سر میں تیل ملواتے تھے (استغفر الله العظيم) کوئی مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا ہے لیکن بہر حال عیسائیوں نے اپنی کتابوں میں اسے لکھا ہے۔ عیسائی اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام طوائفوں کو ان کی اصلاح کے لیے بلواتے تھے (معاذ الله‘ توبہ، توبہ، استغفر الله) کسی بھی نبی کے بارے میں مسلمان ایسا سوچ بھی نہیں سکتا کہ غیر محرم عورت نبی کے جسم کو ہاتھ لگائے۔ اللہ کے محبوب حضور اکرم ﷺ کے متعلق ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا ﴿ما مست يد رسول الله ﷺ يد امراة الخ﴾ ترجمہ: ”رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ نے کسی بھی غیر محرم عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا“۔ گویا غیر محرم عورت سے ہاتھ ملانا بھی حرام ہے۔ آج کل یہ جاہلانہ رواج عام ہو گیا ہے کہ غیر محرم عورتوں سے بعض لوگ مصافحہ کرتے ہیں اور فعل حرام کے مرتکب ہوتے ہیں۔ غیر محرم عورت سے ہاتھ ملانا‘ جسم سے جسم ملانا حرام ہے اور مسلمانوں کو اس فعل حرام سے بچنا چاہیے۔
یورپ اور افریقہ وغیرہ میں یہ رواج عام ہے۔ میں ایک تقریب میں انہیں مسائل پر روشنی ڈال رہا تھا اور اس کی خرابیاں بھی بیان کر رہا تھا‘ تقریب کے بعد سوال و جواب کا تھوڑا سا وقت دیا جاتا ہے اگر کسی صاحب کو کسی مسئلہ کی وضاحت چاہیے تو سوال کرے۔ اس تقریب میں ایک انگریز کھڑا ہوا‘ انہوں نے کہا کہ میں سوال پوچھنا چاہتا ہوں‘ میں نے کہا ضرور پوچھیں It,s my pleasure بڑی خوشی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی
عقائد و گستاخی کی نوعیت مسلمہ نہ رہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت
عورت بھی مرد سے ہاتھ ملائے تو کیا فرق پڑتا ہے ایک ہی بات ہے۔ میں نے کہا کہ دیکھیں عورت اور مرد میں فرق ہے اور جب عورت اور مرد میں فرق ہے تو مرد سے مصافحہ کرنے میں جذبات الگ ہوتے ہیں اور عورت کے ساتھ ہاتھ ملانے میں جذبات مختلف ہوتے ہیں۔ اس انگریز نے کہا کہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ پھر میں نے کہا کہ اس کو یوں سمجھئے۔ اگر میں کہوں کہ لیموں کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے تو آپ کیا محسوس کریں گے What do you feel about it? اب وہ خاموش ہو گئے تو میں نے کہا کہ جب میں نے آپ سے پوچھا کہ لیموں کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے تو آپ کے منہ میں پانی آیا کہ نہیں؟ وہ کہنے لگے کہ پانی تو آگیا۔ میں نے کہا کہ اگر میں آپ کے سامنے ٹماٹر کا نام لوں تو منہ میں پانی نہیں آئے گا لیکن لیموں کا نام لیتے ہی پانی بھر آئے گا اور جب کوئی آپ سے یہ کہے کہ فلاں عورت بہت خوبصورت ہے اور اس کا خوبصورت جسم بہت نرم و نازک ہے تو آپ کی خواہشات ابھریں گی یا نہیں؟ تب انہوں نے اعتراف کیا۔
بات اصل میں یہی ہے عورت کا تصور آتے ہی شیطان شہوانی جذبات کو بھڑکاتا ہے۔ اسی لیے اللہ کے حبیب ﷺ نے مردوں کو غیر محرم عورتوں سے دور رہنے حتیٰ کہ ان کو دیکھنے سے بھی منع فرمایا ہے چونکہ یہی راستہ ہے جس سے انسان بے حیائی، فحاشی اور زنا کاری کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اسلام نے زنا کو حرام کیا اور اس کے تمام راستوں کو بھی بند کر دیا۔ بشری تقاضوں کے مطابق نکاح کا حکم دیا جس کے بعد اپنی منکوحہ سے یہ تمام چیزیں جائز ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کوئی شخص عدل وانصاف کی استطاعت رکھتا ہے تو وہ دو یا تین حتیٰ کہ چار نکاح بھی کر سکتا ہے۔ بہر حال یہ بات تو درمیان میں آگئی جس کی میں نے مختصر وضاحت کر دی۔
عرض یہ کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کی ذات کی حفاظت فرمائی اور ان کی بارگاہ میں آنے اور بیٹھنے کے آداب بھی مقرر فرمائے ۔ ذرا غور فرمائیں کہ قرآن پاک میں ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ جب اللہ کے رسول تمہیں کھانا کھانے لیے بلائیں تو جیسے ہی کھانا ختم ہو جائے باہر آجاؤ زیادہ دیر مت ٹھہرو کیونکہ ہمارے نبی کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ رب العالمین جل جلالہ ارشاد فرماتا ہے ﴿ولكن اذا دعيتم فادخلوا فاذا طعمتم فانتشروا ولا مستانسين لحديث ﴾ ”ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ“۔
گویا قرآن ہمیں دربار مصطفیٰ ﷺ کے آداب سکھا رہا ہے۔ گھر میں داخل ہونے، بیٹھنے اور ٹھہرنے کے آداب بتا رہا ہے تا کہ قیامت تک امت یہ پڑھتی رہے اور یاد بھی رکھے کہ رسول کا مقام کتنا بلند ہے۔ نبی ﷺ کے
مقالات ختم نبوت کی حقانیت مسلمہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت
گھر میں اتنا نہ بیٹھو کہ ان کو تکلیف ہو اگر یہ باتیں حضور ﷺ خود بیان فرماتے اہل ایمان تو بہر حال اس کا انکار نہیں کرتے لیکن بعض بدعقیدہ لوگ یہ کہتے کہ ہاں یہ حدیث میں ہے اور یہ حدیث ضعیف ہے وغیرہ وغیرہ۔ جیسا آج کل رواج پڑ گیا ہے فوراً کہہ دیتے ہیں صاحب بخاری میں تو نہیں ہے اس لیے کہ ترجمے چھپ گئے ہیں۔ بخاری بغل میں دبائے پھرتے ہیں کوئی حدیث ان کے سامنے بیان کی جائے تو کہہ دیں گے بخاری میں نہیں کیونکہ اپنی کم علمی کی بنیاد پر وہ حضرات ہر مرض کی دوا بخاری میں تلاش کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ
آتا ہے بخار ان کو، نہیں آتی ہے بخاری
شاید بے چارے یہ سمجھتے ہوں گے کہ بخاری شریف کے علاوہ حدیث کی کوئی کتاب نہیں ہے جبکہ بخاری شریف کے علاوہ بے شمار احادیث صحیحہ کی کتابیں موجود ہیں۔ صحیح مسلم، ترمذی شریف، ابوداؤد شریف وغیرہ۔ امام نسائی بھی اپنے وقت کے بہت بڑے محدث تھے اور بھی بڑے جلیل القدر محدثین کرام گزرے ہیں اور احادیث کے بے شمار شارحین گزرے ہیں جنہوں نے بڑی ایمان افروز شرحیں کی ہیں۔ بعض محدثین نے احادیث کی اقسام کو بھی بیان کر دیا۔ ضعیف، قوی، حسن، غریب، مرسل، مشہور، متواتر اور اس کے لیے باقاعدہ اسماء الرجال کا پورا فن ایجاد ہو گیا جو دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ہے۔ وہ طبقہ جنہوں نے باقاعدہ محدثین کے حالات تحقیقی انداز میں بیان فرمائے کہ یہ کون تھے، کیسے تھے، سچ بولنے والے تھے یا نہیں اور اس کی تمام وضاحتیں اسماء الرجال کی کتابوں میں موجود ہیں۔
اس ضمن میں امام بخاری علیہ الرحمہ کا واقعہ ہے کہ آپ ایک محدث کی خدمت میں پہنچے، ان سے ایک حدیث معلوم کرنی تھی اور اس کے لیے ایک طویل سفر کی تکلیف برداشت کی کیونکہ اس زمانے میں ریل، ہوائی جہاز، کاریں وغیرہ تو تھیں نہیں۔ آپ انداز کر سکتے ہیں کہ اس زمانہ کا سفر کتنا مشکل تھا۔ بہر حال امام صاحب ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام عرض کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ امام صاحب نے عرض کیا کہ میں آپ سے فلاں مسئلے کے سلسلہ میں ایک حدیث سننے کے لیے آیا ہوں، آپ کے پاس اس مسئلے میں کوئی حدیث ہے تو انہوں نے کہا کہ جی ہاں موجود ہے۔ اس وقت وہ صاحب گھوڑے کو گھاس کھلانے کے بجائے اس کو جھانسا دے کر بلا رہے تھے۔ امام صاحب نے جب یہ دیکھا تو ان سے کہا کہ حضور گھاس تو ہے نہیں اور آپ اس کو اس طرح بلا رہے ہیں کہ جیسے آپ گھاس یا چارہ کھلائیں گے تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں اس کو ایسے ہی بلا رہا ہوں گھاس وغیرہ اس کو نہیں دینی۔ امام صاحب نے کہا حضور میں اجازت چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا آپ تو حدیث سننے آئے تھے لیکن آپ وہاں سے
بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت
چلے آئے اور حدیث نہیں سنی۔ بعد میں لوگوں نے امام صاحب سے پوچھا کہ آپ نے اتنا طویل سفر کیا اور حدیث سنے بغیر واپس آگئے تو آپ نے کہا کہ بات دراصل یہ ہے کہ وہ صاحب جانور کو دھوکہ دے رہے تھے اور جانور کو دھوکہ دینے والے سے میں حدیث نہیں سننا چاہتا تھا اور نہ ہی ایسے آدمی کی حدیث بیان کرنا چاہتا ہوں۔ غور کیجیے کہ محدثین کرام کی جماعت کتنی محتاط تھی اور جب امام بخاری علیہ الرحمۃ حدیث شریف لکھنے بیٹھتے تو وضو کرتے پھر دو رکعت نفل ادا فرماتے اور پھر حدیث لکھتے اور بیان فرماتے۔ یہ امام صاحب کا ہمیشہ کا معمول تھا۔
آج کل لوگوں نے معمول بنالیا ہے کہ جس حدیث کو چاہتے ہیں بے دھڑک انکار کر دیتے ہیں۔ نہیں جی! یہ بخاری میں نہیں ہے، مسلم میں نہیں ہے، ابو داؤد میں نہیں ہے۔ لاپرواہی اور بے احتیاطی کا یہ عالم ہے کہ جس کا دل چاہتا ہے حدیث کا انکار کر دیتا ہے۔ اللہ رب العالمین جل جلالہ نے قرآن مجید فرقان حمید میں اپنے حبیب ﷺ کے آداب کو بیان کر دیا تاکہ کسی انکار کی گنجائش نہ رہے۔ حدیث کے سلسلے میں تو وہ کہہ سکتا تھا کہ ضعیف ہوگی لیکن جو کچھ قرآن میں ہے اس کا انکار کیسے کرے گا؟ قرآن کا انکار کفر ہے تو اللہ تعالیٰ نے مخالفین کی زبان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دی اور اہل ایمان کو یہ بتا دیا کہ فرش زمین پر میرے محبوب کا وہ دربار ہے جس کے آداب خود میں نے بنائے ہیں۔
قرآن عظیم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی تعظیم اور ان کے آداب کا بیان فرمایا۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ جب تم حضور ﷺ کے دروازے پر پہنچو تو آواز مت دو۔ اللہ اکبر! کیا ادب ہے۔ یعنی اگر آواز نہیں دی تو چلو کھٹکھٹا کریں، ظاہر ہے اس زمانے میں آواز دیتے تھے یا کھٹکھٹایا کرتے تھے اور کیونکہ آواز یا کھٹکے سے آرام میں خلل پڑ سکتا ہے لہٰذا فرمایا خاموش رہو اور انتظار کرو۔ رسول اللہ ﷺ جب کرم فرمائیں گے تو تشریف لے آئیں گے۔ اللہ رب العالمین جل جلالہ ارشاد فرماتا ہے ﴿ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثرهم لا یعقلون﴾ ”بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں“۔
اب ذرا غور فرمائیے! آپ گھر میں موجود ہوں، کوئی آدمی باہر سے آپ کو آواز دے تو یہ کوئی غلط بات نہیں ہے اور نہ ہی آپ یہ کہیں گے کہ بے وقوف ہو آواز کیوں دیتے ہو۔ لیکن مقام ادب رسول ﷺ دیکھیے! فرمایا خبردار! آواز مت دینا اس لیے کہ آواز دینے سے تکلیف پہنچ سکتی ہے، رسول اللہ ﷺ کے آرام میں خلل آسکتا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کا قلب اطہر ہمہ وقت اللہ رب العزت کی طرف متوجہ رہتا ہے۔
دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت
حضورِ پُر نور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ”اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ میرا وقت ہے‘ وہ وقت خاص اللہ کے ساتھ میرا ایسا ہے کہ اس وقت میں کسی نبی ورسول اور فرشتہ کے وہاں آنے کی گنجائش نہیں ہوتی“۔ ایسے خاص وقت میں کسی نے آواز دی تو بے ادبی ہے۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچی لہٰذا خبردار! آواز مت دینا‘ خاموش بیٹھے رہو۔ یہ بھی نہ سمجھنا کہ رسول اللہ ﷺ تمہارے آنے سے بے خبر ہیں۔ ارے بے وقوف جو اللہ سے ہر وقت با خبر ہے وہ تم سے کیسے بے خبر ہوسکتا ہے۔ اس لیے آواز دینے کی ضرورت نہیں۔ بس ادب سے بیٹھے رہو‘ انتظار کرو‘ جب بھی سرکار ﷺ کرم فرمائیں گے تشریف لے آئیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے دربار میں حاضری کے آداب قرآن میں بیان کردیے۔ اب قرآن کا کیسے انکار کرو گے؟ جو کرے گا‘ وہ بے وقوف ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور قیامت میں مجرمین کی صف میں شامل ہوگا۔ اللہ رب العالمین نے حضور ﷺ کے مرتبہ کو تحفظ دے دیا۔ خبردار! اللہ تبارک وتعالیٰ کی شیطان پر لعنت ہے اور جس نے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دی اس پر بھی اللہ کی لعنت ہے۔ دیکھیے قرآن میں ارشاد فرمایا ﴿ومن دخله كان امنا﴾ ”جو بیت اللہ شریف میں داخل ہو گیا اس کو امن مل گیا“ یعنی بیت اللہ شریف امن کی جگہ ہے۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ﴿واذ جعلنا البيت مثابة للناس وامنا﴾ ”اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کولوگوں کے لیے مرجع اور امان بنایا“۔ مسجد حرام امن کی جگہ ہے اور جو اس میں داخل ہو گیا اس کو امن مل گیا یعنی اس کو مار نہیں سکتے اگر کوئی جرم کرنے کے بعد کعبۃ اللہ شریف میں گھسا تو اب انتظار کریں گے کہ وہ باہر آئے۔ ظاہر ہے باہر تو اس کو ایک نہ ایک دن آنا ہی پڑے گا‘ جب باہر آئے گا تو پکڑلو لیکن جو داخل ہو گیا اس کو امن مل گیا۔
اب دیکھیے رمضان المبارک میں حضور پرنور ﷺ کے عہد میں مکہ فتح ہو گیا۔ آپ ﷺ اپنے لشکر کے ساتھ مکہ شریف میں اس طرح داخل ہوئے کہ اونٹنی مبارکہ پر سوار تھے اور گردن شریف جھکی ہوئی تھی۔ بڑے عجز و نیاز کے ساتھ حضور ﷺ مکہ شہر میں داخل ہورہے تھے۔ حضور ﷺ نے داخل ہوتے ہی ارشاد فرمایا خبردار! جو شخص بھی اپنے گھر میں ہے اس کو امن ہے‘ ابوسفیان کے گھر میں جو چلا گیا اس کو بھی امان ہے۔ آج جن لوگوں کو امان دی جارہی ہے وہ مکہ شریف کے رہنے والے تھے‘ جنہوں نے آپ ﷺ کو بڑی اذیتیں دی تھیں اور بڑی تکلیفیں پہنچائی تھیں‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بہت تنگ کیا تھا لیکن فرمایا خبردار! انتقام نہیں لینا‘ مسلمان انتقام نہیں لیتا بلکہ مسلمان رحم دل ہوتا ہے۔
عقائد اہلسنت کی فہرست صفحہ ۴ پر ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت
شفاء شریف میں یہ واقعہ ہے کہ حضور ﷺ کو اطلاع ملی کہ وہ شخص جو آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرتا تھا مکہ شہر میں موجود ہے آپ ﷺ نے فرمایا تلاش کرو۔ بتایا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس نے کعبۃ اللہ شریف کے غلاف کے اندر پناہ لے رکھی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسے قتل کر دو، چھوڑو نہیں، گستاخ رسول کی سزا قتل ہے۔ گستاخ رسول کی توبہ قبول نہیں ہے یعنی حضور پر نور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے مرتد ہے، اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی، وہ واجب القتل ہے۔ یہ قانون یعنی Law of Blasphemy یہاں موجود ہے اور آرچ بشپ صاحب نے اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کر کے بہت غلط بیان دیا ہے۔ اس قانون سے تو جہاں حضور پُر نور ﷺ کے مرتبہ کا تحفظ ہے وہاں دیگر تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی عزت و حرمت کا تحفظ بھی کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے ہم مسلمان تمام انبیاء و مرسلین کی قدر و منزلت کرتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں۔ اس قانون کو یا اس قانون کے تحت مقرر کردہ سزائے موت کو ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام وغیرہ کی عزت نہ ہو جبکہ بات اصل میں یہ ہے کہ ان کو رسول اللہ ﷺ سے دشمنی ہے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی عزت و حرمت کے سلسلہ میں اگر قانون تحفظ ناموس رسالت میں سزائے موت ختم ہو جائے یا کم ہو جائے تو ان کو رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کا موقع مل جائے اور یہ ان کو معلوم ہے کہ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی نہیں کرے گا۔ اصل میں آرچ بشپ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے لیے جواز پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
آرچ بشپ نے جو یہ مطالبہ کیا ہے ہم مسلمان اس کی مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے بھی کہتے ہیں کہ وہ اس معاملہ میں بہت ہوشیار رہے اور عیسائیوں کی اس سازش کو ناکام بنائے اور اگر حکومت عیسائیوں کے ہاتھوں میں کھیلی اور اس قانون میں کسی قسم کی ترمیم کی کوشش کی تو خود مسلمان دین اور مذہب کے مطابق اس سزا کو نافذ کر دیں گے۔ اگر حکومت اس کو چھوڑ دے گی تو ظاہر ہے مسلمان تو اس کو نہیں چھوڑیں گے۔ ویسے حکومتیں جو ہیں زیادہ تر ان کی خواہش یہ رہی ہے کسی طرح عیسائیوں کو خوش کرو، یہودیوں کو خوش کرو، مغرب کو خوش کرو، کوئی بات ایسی نہ کرو کہ جس سے عیسائی، یہودی اور مغربی اقوام ناراض ہو جائیں۔ اس کی وجہ ایمان کی کمزوری ہے۔ اگر ایمان مضبوط ہو حکومت کا اور وہ یہ سمجھے کہ عیسائی ناراض ہو رہے ہیں تو ہو جائیں، یہودی ناراض ہو رہے ہیں تو ہو جائیں، بس اللہ ناراض نہ ہو۔
علانیہ گستاخی کی کھلی چھوٹ مسلم کو قبول نہیں
دنیا پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی ضرورت واہمیت
لیکن افسوس یہ ہے کہ جتنے بھی حکمران اب تک آئے ہیں ان میں زیادہ تر حکمرانوں کی یہ خواہش رہی کہ امریکہ خوش ہو جائے اور ہمارے متعلق یہ تصور کریں کہ ہم لبرل ہیں۔ لبرل کا مطلب ہے کھچڑی یعنی آدھے مسلمان آدھے یہودی یا آدھے مسلمان آدھے ہندو سکھ عیسائی وغیرہ۔ ان حکمرانوں نے نام مسلمانوں کا رکھا ہوا ہے باقی سب کام غیروں ہی کے کرتے ہیں تاکہ حکمرانوں کی نظروں میں مقبولیت ہو اور انگریزوں کہہ سکیں کہ ہم Fundamantalism نہیں ہیں یعنی بنیاد پرست نہیں۔ گویا اسلام کی بنیادوں پر کوئی خاص یقین نہیں رکھتے بس جیسا دیس ویسا بھیس بنا لیتے ہیں۔ قوم کی بہو بیٹیوں کو ٹی وی پر نچوانے والے اور ان کو مغربی تہذیب میں ڈھال کر Prostitute بنانے والے اللہ تبارک وتعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ حضور پُرنور ﷺ کی عزت وحرمت کا محافظ ہے۔ اگر کسی نے رسول اللہ کے دامن اطہر کو داغدار کرنے کی کوشش کی تو دنیا میں بھی اس کا انجام برا ہے اور آخرت میں بھی عذاب الیم اس کا مقدر ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو حضور پرنور ﷺ کی عزت اور ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
﴿وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ﴾
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
میاں محمد نواز شریف ٭ سابق وزیر اعظم و صدر مسلم لیگ (ن) ٭
اگر توہین رسالت کی سزا موت سے بھی زیادہ سخت ہوتی تو اس پر بھی عمل درآمد کیا جاتا۔ یہ قانون کسی اقلیت کے خلاف نہیں بلکہ صرف گستاخان رسول ﷺ کے خلاف بنایا گیا ہے خواہ ان کا تعلق اسلام ہی سے کیوں نہ ہو۔ اس لیے اقلیتوں کو اس سے خوف زدہ ہونے کی بالکل ضرورت نہیں۔ اس قانون سے اقلیتوں کے جان و مال اور تمام شہری حقوق کی حفاظت ہوگی۔
﴿ناموس رسالت اور قانون توہین رسالت، ص: 453﴾
سینیٹر ایس ایم ظفر ٭ ممتاز ماہر قانون، سابق وزیر قانون و سابق چیئرمین ہیومن رائٹس سوسائٹی پاکستان ٭
قانون توہین رسالت ﷺ جیسے سنگین جرم کے لیے بھی اسلام میں وہی معیار شہادت ہے جو دوسرے جرائم کے لیے مقرر ہے اور یہ قانون انسانی حقوق کے منافی نہیں بلکہ ان حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے۔
﴿ایضاً، ص: 454﴾
فرمان ثناء گستاخ کی تو غیرت مسلم عدم ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب یورپ اور قانون توھین انبیاء علیہم السلام
یورپ اور قانون توہین انبیاء علیہم السلام
پاپائے روم یا چرچ کے اقتدار میں آنے سے قبل یورپ میں رومن لا (Roman law) کی عمل داری تھی چونکہ انجیل میں کوئی قانونی احکام موجود نہ تھے لیکن جب کلیسا نے اسٹیٹ (State) پر غلبہ و اقتدار حاصل کر لیا تو پوپ کے منہ سے نکلے ہوئے ہر حکم کو قانون کی بالا دستی حاصل ہو گئی۔ تورات کے برعکس انجیل صرف پند و نصائح کا مجموعہ تھا اس لیے یورپ اور ایشیا میں جہاں جہاں عیسائی حکومتیں قائم ہوئیں وہاں کاروبار حکومت چلانے کے لیے اہلِ کلیسا کو رومی قانون اور یہودیوں کے تالمودی قانون ہی پر انحصار کرنا پڑا۔
موسوی قانون کے تحت قبل مسیح علیہ السلام کے انبیاء کی اہانت اور تورات کی بے حرمتی کی سزا سنگسار مقرر تھی۔ رومن امپائر کے شہنشاہ جسٹینین (Justinian) کا دور حکومت طلوع اسلام سے چند سال قبل 528 تا 565 صدی عیسوی پر محیط ہے۔ رومن لا کی تدوین کا سہرا بھی اسی کے سر ہے اور اس کو عدل و انصاف کا مظہر بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے جب دین مسیحی قبول کر لیا تو قانون موسوی کو منسوخ کر کے انبیائے بنی اسرائیل علیہم السلام کی بجائے صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا سزائے موت مقرر کی گئی۔ اس کے دور سے قانون توہین مسیح سارے یورپ کی سلطنتوں کا قانون بن گیا۔ روس اور سکاٹ لینڈ میں اٹھارویں صدی تک اس جرم کی سزا سزائے موت ہی دی جاتی رہی ہے۔
روس میں بالشویک انقلاب کے بعد جب کمیونسٹ حکومت برسر اقتدار آئی تو سب سے پہلے اس نے دین و مذہب کو سیاست اور ریاست سے کلیتاً خارج کر دیا۔ اس کے بعد یہاں سزائے موت برقرار رہی لیکن اہانت مسیح کے جرم کی پاداش میں نہیں بلکہ مسیح کی جگہ اشتراکی امپریلزم کے سربراہ نے لے لی۔ اسٹالن جو رشین امپائر کا سربراہ بن بیٹھا تھا‘ اس کی اہانت تو بڑی دُور بات تھی‘ اس سے اختلاف رائے رکھنا بھی ممالک محروسہ روس کا سنگین جرم بن گیا۔ ایسے سرپھرے لوگوں کے یا تو سر کچل دیے جاتے تھے جس کی مثال لینن کے ساتھی ٹراٹسکی کی خونچکاں موت کی صورت میں موجود ہے‘ جو اپنی جان بچانے کی خاطر روس سے بھاگ کر امریکہ میں پناہ گزیں تھا یا پھر ایسے
العاقب یورپ اور قانون توہین انبیاء علیہم السلام
مجرموں کو سائبیریا کے بیگار کیمپوں میں موت کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ ایسی اذیت ناک سزاؤں اور موت کی گرم بازاری نے زار روس کے دور سیاہ کی عقوبتوں کو بھی بھلا دیا۔
برطانیہ میں بھی اگرچہ توہین مسیح کی جسمانی سزائے موت موقوف کر دی گئی تھی لیکن وہاں بھی اس جرم کی سزا کا قانون کامن لاء کے علاوہ بلاس فیمی ایکٹ (Blasphemy Act) کی صورت میں تبدیل ہو گیا۔ مناسب ہوگا کہ یہاں بلاس فیمی کے معنی کے ساتھ اس کی تعریف (Definition) کی بھی وضاحت کر دی جائے تاکہ اس کا صحیح مفہوم ذہن نشین ہو سکے۔
بلاس فیمی لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اہانت کے ہیں۔ لاطینی اصطلاح میں خدا کے وجود اور دین مسیح کی صداقت سے انکار یا نجات دہندہ عالم یسوع مسیح کی شان میں اہانت اور انجیل مقدس کی تحقیر اور تضحیک کو بلاس فیمو کہا جاتا ہے۔ انگریزی زبان کی مستند قانونی لغت بلیکز لاء ڈکشنری (Black,s Law Dictionary) کی رو سے بلاس فیمی ایسی تحریر یا تقریر ہے جو خدا‘ یسوع مسیح‘ انجیل یا دعائے عام کے خلاف ہو اور جس سے انسانی جذبات مجروح ہوں یا اس کے ذریعہ قانون کے تحت قائم شدہ چرچ کے خلاف جذبات کو مشتعل کیا جائے اور اس سے بد کرداری کو فروغ حاصل ہو۔ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا میں بلاس فیمی کی تعریف ذرا کچھ مختلف ہے جس میں بتلایا گیا ہے کہ مسیحی مذہب کی رو سے بلاس فیمی گناہ ہے اور علمائے اخلاقیات بھی اس کی تائید کرتے ہیں جبکہ اسلام میں نہ صرف خدا کی شان میں بلکہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی بھی بلاس فیمی کی تعریف میں آتی ہے۔
(انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا‘ ج: ۲‘ ص: ۷۴)
برطانیہ میں توہین مسیح (Blasphemy) کامن لاء کے تحت قابل تعزیر جرم ہے‘ جبکہ بلاس فیمی ایکٹ میں مجرم کے لیے جسمانی موت کی بجائے شہری موت (Civil Death) کی سزا مقرر ہے جس کی رو سے حکومت ایسے مجرم کے سارے شہری حقوق سلب کرنے کی مجاز ہے۔ بلاس فیمی اگر تقریری ہو تو دو معتبر گواہوں کی شہادت لازمی ہوگی اور اگر تحریری ہو تو ایسی تحریر ثبوت جرم میں پیش کی جائے گی۔
معروف جج پولاک کے خیال میں بلاس فیمی ایکٹ کے تحت کسی شخص کو تادیبی موت (Civil Death) کی سزا نہیں دی گئی مگر برطانیہ ہی کے ایک دوسرے ممتاز جج برام ویل نے صحیح طور پر جج پولاک (Pollock) کی تردید کی ہے۔ ہم برام ویل جج کی تائید میں ڈینس لی مون (Denis Lemon) ایڈیٹر گے نیوز Gay) (News کے ایک اہم مقدمہ کا حوالہ دیں گے۔ لی مون پر 1978ء میں توہین مسیح کے الزام میں برطانیہ کی
محاکمہ گستاخ کی نوعیت مسلم مکذوبے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب یورپ اور قانون توھین انبیاء علیھم السلام
عدالت میں کیس دائر ہوا۔ ایڈیٹر لی مون پر الزام یہ تھا کہ اس نے حضرت مسیح پر ایک مزاحیہ نظم لکھی ہے۔ جس میں اس نے ان کو ہم جنس پرستی کی طرف مائل دکھلایا تھا۔ اس مقدمہ کی اہم ترین بات یہ ہے کہ صفائی کے وکلاء نے ملزم کی طرف سے دفاع میں یہ نکتہ اٹھایا کہ ملزم نے بلاس فیمی کا ارتکاب ارادتاً (Wilfylly) یا قصداً (Motive) نہیں کیا تھا۔ یہ بات اس نے بطور تفریح کہی ہے جس سے اہانت یا توہین مقصود نہیں۔ یہ وہی عذر ہے جو گستاخانِ رسالت شروع سے کرتے چلے آئے ہیں۔ جس کا ذکر کلام الٰہی میں آج سے چودہ سو سال سے قبل ہی کر دیا تھا اور انہیں یہ بھی بتایا تھا کہ یہ عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ دیکھئے قرآن حکیم کا یہ ارشاد قل ابا اللہ وآیاتہ ورسولہ کنتم تستھزؤن لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم (التوبہ: 65) ”تم اللہ کے ساتھ‘ اس کی آیات کے ساتھ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ استہزاء (ہنسی مذاق) کرتے ہو۔ تمہارا کوئی عذر نہیں سنا جائے گا‘ بلاشبہ تم نے ایمان کے بعد کفر کا ارتکاب کیا ہے“۔
لی مون (Lemon) کے مقدمہ میں صفائی کے وکلاء کا تمام تر زور اسی نکتہ پر تھا کہ گے نیوز (Gay News) میں ملزم نے مسیح کے بارے میں ایسی بات تفریحاً یا دل لگی کے طور پر کی ہے جس میں اس کی نیت یا ارادہ کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات بدنیتی سے کہی گئی ہے لیکن جیوری نے متفقہ طور پر قرآن مجید کے بیان کردہ فیصلہ کے مطابق ملزم کے اس عذر کو مسترد کر دیا اور یہ قرار دیا کہ بلاس فیمی یا توہین مسیح کے کیس میں ”نیت“ یا ”ارادہ“ غیر متعلق ہیں کیونکہ جو بات جناب مسیح کے بارے میں کہی گئی ہے اس کا براہ راست تعلق ایک واضح حقیقت سے ہے جس کی وجہ سے پیروانِ مسیح کے جذبات مشتعل ہوئے ہیں۔ اس لیے کہ ہر وہ بات اور ہر وہ چیز جو خدا‘ یسوع مسیح اور بائبل کی تضحیک‘ استہزا‘ توہین اور تنقیص کا باعث ہو وہ بلاس فیمی یا قانون توہین مسیح کے تحت لائقِ تعزیر جرم ہے۔ اس لیے لی مون کو بلاس فیمی لا کے تحت جیوری نے سزا سنائی۔ فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں قانون تو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مذہب کا انکار کر دیا جائے وہ قابل گرفت جرم نہیں لیکن مذہب کے خلاف ناشائستہ اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اس طرح اہانت رسول ﷺ کے بارے میں قرآن مجید کی یہ وعید کہ استہزا کرنے والوں کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ بیسویں صدی میں خود منکرین ہی کے ذریعہ پوری کر کے دکھلا دی گئی۔ فیصلہ کا اقتباس برطانیہ کے کثیر الاشاعت روزنامہ THE TIMES London میں 27 اگست 1998ء کو ڈیوڈ ہالو (David Hollow) نے رپورٹ کیا ہے جو درج ذیل ہے:
مقابلہ گستاخ نبی غیرت مسلمہ کا تقاضہ ہے
دین پر مرنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب یورپ اور قانون توھین انبیاء علیہم السلام 109
BLASPHEMY AND BIGOTORY
"Sincerity" and an "atmosphere of reverence"are not a sufficient defence against blasphemy.The 1978 conviction of Denis Lemon, editor of "Gay News"for publishing a poem suggesting that jesus was a promiscuous homosexual established that the intention, or motive,of an artist is irrelevant. It is a question of fact: Is Christian religious feeling "outraged and insulted"?
The law is clear:"Every publication is said to be blasphemous which contains any contemptuous, reviling, scurrilous or ludicrous matter relating to God,Jesus Christ, or the Bible" The law allows you to attack subvert or deny the Christian religion, but not in a way that is"indecent"or "intemperate".
امریکہ اور اس کی اکثر سیکولر ریاستوں میں قانون توہین مسیح کو امریکی آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے منافی نہیں قرار دیا گیا۔ اس سلسلہ میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے بڑے دور رس فیصلے دیئے ہیں جو ملک عزیز کے معروضی حالات میں نہایت اہم ہیں۔ یہاں ہم امریکی سپریم کورٹ کے ایک معرکۃ الآراء فیصلے سٹیٹ بنام موکس (State Vs. Mokas) سے ضروری اقتباس پیش کریں گے جس میں آزادی مذہب اور آزادی پریس کے بنیادی حقوق سے بحث کرتے ہوئے فاضل عدالت عظمیٰ نے جو متفقہ فیصلہ دیا ہے اس کی تلخیص حسب ذیل ہے۔
”اگرچہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں چرچ اور اسٹیٹ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور ان میں باہمی کوئی ربط اور تعلق نہیں لیکن اسلام، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے مقابلہ میں پیروان مسیح کی تعداد زیادہ ہے۔ حکومت کی زمام کار بھی ان ہی کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں ان کا اثر و رسوخ ہے اور عیسائیت ریاست
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بتلادو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
العاقب یورپ اور قانون توہین انبیاء علیہم السلام
اور ملک کی غالب اکثریت کا مذہب ہے‘‘۔ فاضل عدالت نے اپنے بصیرت افروز فیصلہ میں تاریخ کے حوالے سے لکھا ہے ’’اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں تہذیب وتمدن کے آغاز ہی سے کسی ملک کے طرز حکومت کی تشکیل میں دین ومذہب کا نہایت اہم رول رہا ہے اور اس ملک کے استحکام اور بقا کا انحصار بڑی حد تک اس مذہب کے احترام اور تکریم سے وابستہ ہے جو وہاں کی غالب اکثریت کے دینی شعائر سے علیحدہ نہ ہونے والا لازمی حصہ ہے‘‘۔
فاضل عدالت نے اس کی مزید توضیح کرتے ہوئے لکھا ہے ’’صدر امریکہ کی تقریب حلف وفاداری‘ اس کے علاوہ کانگریس اور مقننہ کی افتتاحی تقاریب اور عدالتوں کی کاروائی شہادت کا انجیل مقدس پر حلف سے آغاز سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ مملکت کے تکون یعنی عدلیہ‘ مقننہ اور انتظامیہ کا بھی مذہب سے یک گونہ بالواسطہ تعلق ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنے ریفرنس کا جواب دیتے ہوئے حتمی طور پر یہ قرار دیا ہے کہ آزادی مذہب اور آزادی پریس کے آئینی تحفظات اور بنیادی حقوق توہین مسیح کے قانون اور اس کی بابت قانون سازی کی راہ میں مزاحم نہیں ہیں۔
یورپ کے قانون داں بلاس فہمی کے قانون کی توجیہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ اس قانون کا محرک بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذہب پر حملہ دراصل ریاست پر حملہ کے مترادف ہے۔ ان کی رائے میں اسی وجہ سے اکثر سیکولر ریاستوں میں بھی بلاس فہمی کو قابل تعزیر جرم بنا دیا گیا۔
مقتنین کی اس منطقی توجیہ اور امریکہ کی سپریم کورٹ کے ناقابل تردید دلائل کے بعد مزید کسی دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ یہ مملکت خداداد پاکستان‘ جسے غلامان محمد عربی ﷺ نے علیحدہ قومیت کی بنیاد پر حاصل کیا تھا‘ جہاں ریاست کا سرکاری مذہب اسلام ہے‘ جہاں پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قرآن اور سنت رسول ﷺ کے خلاف کوئی فیصلہ صادر نہ کرے اور نہ ہی انتظامیہ کو شرع پیغمبر ﷺ سے سرمو اختلاف کی جسارت ہو سکتی ہے۔ ایسے میں کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر کسی کو یہ کھلی اجازت ہے کہ وہ مسلمانوں کے آقا ومولا سرکار ختمی مرتبت ﷺ جن کے نام و ناموس پر مسلمان اپنی جان و مال اور ہر چیز قربان کرنے کو حاصل حیات سمجھتا ہے‘ کی شان میں گستاخی کرے اور قانون کی گرفت سے آزاد رہے۔
تاریخ کی یہ ایک معروضی حقیقت ہے کہ ماضی میں برطانیہ‘ امریکہ‘ روس اور یورپ کے کسی ملک میں بھی جب تک چرچ اور سٹیٹ‘ دین اور ریاست ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہوئے تھے اس وقت تک سارے ملکوں میں چرچ کو مملکت پر برتری حاصل تھی اور وہاں یسوع مسیح کی پرستش ہوتی رہی۔ اس کے درپردہ کلیسا کو ملک کے سیاہ
تحفظ ختم نبوت بقائے کائنات نبی کی ختم نبوت سے ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب یورپ اور قانون توھین انبیاء علیھم السلام
و سفید پر اقتدار کلی حاصل تھا‘ جس نے نشہ اقتدار میں بدمست ہوکر انسانیت پر لرزہ خیز مظالم کیے جس کے خلاف بغاوت کے نتیجہ میں چرچ اور مملکت‘ دین اور سیاست کی تفریق عمل میں آئی۔ اس لیے ان ملکوں نے سیکولر یعنی لادینی طرز حکومت کو اپنا لیا۔ اس کے باوجود ذوق پرستش ختم نہ ہوسکا اور اس نے ایک نئی صورت اختیار کرلی۔ اب یسوع مسیح کی بجائے ریاست کو فیٹش (Fetish) یعنی پوجا مان شے بنا لیا گیا اس لیے دنیا میں جہاں جہاں بھی سیکولر حکومتیں قائم ہوئیں وہاں ریاست کی مخالفت کو سنگین جرم بغاوت اور غداری قرار دیا گیا۔
آج دنیا کے تمام ملکوں میں خواہ وہ سیکولر ہوں یا غیر سیکولر جرم بغاوت کا قانون موجود ہے جس کی سزا سزائے موت مقرر ہے۔ جو لوگ اس جرم کے الزام میں ماخوذ ہوں انہیں گولیوں سے اڑا دیا جاتا ہے یا پھر انہیں تختہ دار پر کھینچا جاتا ہے۔ امریکہ جیسے مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں میں انہیں گیس چیمبرز یا الیکٹرک چیئر میں بٹھا کر اذیت ناک طریقہ سے مار دیا جاتا ہے اور جس ملک میں اس جرم کی سزا عمر قید ہے وہاں ایسے ملزموں کو عقوبت خانوں میں تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ اس قانون کے خلاف آج تک کسی نے لب کشائی نہیں کی تو پھر کیا پاکستان ہی میں جو اس محسن انسانیت ﷺ کی نسبت غلامی کی وجہ سے معرض وجود میں آیا اور جن کا نام نامی ہی اس ملک کے قیام اور بقا کا ضامن ہے‘ ان کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف قانون توہین رسالت‘ قابل اعتراض قانون ہے؟؟؟ قانون توہین رسالت پر اعتراض دراصل دین و مذہب بلکہ خود اپنی عقل و دانش اور فہم و فراست سے یکسر انکار ہے۔
۞ ۞ ۞ ۞ ۞ ۞
ائمہ و خطباء سے اپیل
تمام آئمہ و خطباء سے پرزور اپیل ہے کہ اپنے خطبہ جمعہ اور دروس میں مسئلہ ختم نبوت اور رد قادیانیت کو زیادہ سے زیادہ موضوع بنائیں۔
العاقب زنده نه رهے دھر میں گستاخ کوئی بھی
زندہ نہ رہے دہر میں گستاخ کوئی بھی
سید عارف محمود مہجور رضوی
ناقابلِ تحمل ہے توہینِ رسالت برداشت نہ ہو پائے گا اسلام کا بطلان
جو عقل کہے اس کو پسِ پشت ہی ڈالو تقلید کرو اس کی جو فرمائے ہے وجدان
ناموسِ رسالت ﷺ پہ کوئی دوسری رائے؟ نا قابلِ تسلیم ہے اس قسم کا رجحان
ناموسِ رسالت ﷺ ہے نہیں عام کوئی بات اس بات سے وابستہ مسلماں کا ہے ایماں
کس کام کی ہیں اس کی عبادات و ریاضات حاصل نہ جسے عشقِ محمد ﷺ کا ہو عرفان
نذرانۂ جاں لے کے ہتھیلی پہ ہیں پھرتے اللہ نے بخشی ہے جنہیں قوتِ ایمان
تخلیق ہوئے جن کے لیے دونوں جہاں ہیں آؤ کہ کریں اُن ﷺ پہ ہر اک چیز کو قربان
اے پاک نبی ﷺ آپ کی ناموس سے بڑھ کر دو جگ میں نہیں کوئی بھی توقیر کا سامان
معمور نہیں یاد سے جو اُن کی وہ دل کیا؟ پُرنم جو نہیں ذکر پہ وہ آنکھ ہے ویران
محبوب ہے ہر وصف فقط آپ ﷺ کے دم سے ہر ایک فضیلت ہے فقط آپ ﷺ کا فیضان
ہیں آپ ﷺ کے کردار کی عکاس احادیث ہے آپ ﷺ کے اوصاف کے غماز یہ قرآن
کہتا ہے بصد آہ یہ غیرت کا تقاضا کب ہوگا تو سر گرمِ عمل مردِ مسلماں
آؤ کہ ہے اب وقت کریں پورے وہ سارے باندھے تھے جو ہم سب نے خداوند سے پیمان
زندہ نہ رہے دہر میں گستاخ کوئی بھی یہ شمعِ رسالت ﷺ کے ہو پروانوں کا اعلان
سرکار ﷺ کی نسبت سے غلامی کا شرف ہی ہر ایک مسلمان کی بخشش کا ہے فرمان
سرکار ﷺ کی ناموس کی حرمت کا تحفظ
مہجور ہے زیست کا تازیست ہی عنوان
عنوان : بمقابلہ گستاخی غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قادیانیت کا اصل چہرہ
قادیانیت کا اصل چہرہ
مجید نظامی
محترم مجید نظامی 3 اپریل 1928ء کو سانگلہ ہل ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے۔ مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے آپ نے تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لیا۔ آپ کی انہی خدمات کی بدولت پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید لیاقت علی خاں نے آپ کو ”مجاہد تحریک پاکستان“ کا خطاب دیا۔ محترم مجید نظامی نے اپنے برادر اکبر حمید نظامی مرحوم کے بعد ادارہ نوائے وقت کی نگہداشت کی۔ اس وقت آپ نوائے وقت گروپ (روزنامہ نوائے وقت، دی نیشن، ندائے ملت، فیملی میگزین، پھول، وقت ٹی وی) کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ محترم نظامی صاحب نے درج ذیل مضمون میں قادیانیت کے غلیظ چہرے سے نقاب کشائی کی ہے ملاحظہ فرمائیں:
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس کا سرکاری مذہب اس کے آئین کی رو سے اسلام قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں عقیدہ توحید اور عقیدہ ختم نبوت بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک حضور اکرم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ ختم نبوت کا یہ عقیدہ تاریخ کے ہر دور میں ہر مسلک کے مسلمانوں کے درمیان متفقہ طور پر موجود رہا ہے۔ اجماع امت کے حامل مسلمانوں کے اس عقیدے سے انحراف نہ صرف قرآن وسنت کی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ اتحاد امت کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم کوشش کے مترادف بھی ہے۔ اس عقیدہ کا تحفظ وطن عزیز کے جغرافیائی حدود کی حفاظت سے بھی زیادہ لازمی ہے۔ یوں تو لا تعداد مسلمانوں نے تحفظ ختم نبوت کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ مگر میں یہاں مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال کے ان کلمات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو انہوں نے پنڈت جواہر لعل نہرو سے بحث کے دوران ادا کئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لائے بغیر کسی مسلمان کا ایمان کامل نہیں ہو سکتا اور اب جو کوئی کسی بھی قسم کا دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا‘ کاذب‘ کافر اور مرتد ہے“۔ ربوہ والے حضور ﷺ کے بجائے نعوذ باللہ مرزا صاحب کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جب وہ (قادیانی، مرزائی) یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی ختم نبوت کے قائل ہیں تو ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مرزا صاحب
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے نشان منزل بقاء گستاخ نبی! غیرت مسلم عدم ہے
العاقب قادیانیت کا اصل چہرہ
کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہی وجہ ہے کہ پہلے قادیان (بھارت میں) اور اب ربوہ (چناب نگر پاکستان) میں صرف ”خلیفے“ آ رہے ہیں کوئی نبی نہیں آیا۔ لاہوری حضرات مرزا صاحب کو نبی نہیں صرف ”مصلح“ قرار دیتے ہیں حالانکہ مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت کیا تھا اور ان کی جھوٹی نبوت کے دعویدار کو ”مصلح“ ماننے والے بھی انہی کے بھائی بند ہو سکتے ہیں اور انہی کی صف میں شامل ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مسئلہ دور غلامی کی یادگار ہے۔ اگر ہم غلام نہ ہوتے تو یہ مسئلہ کبھی پیدا نہ ہوتا۔ گزشتہ تیرہ سو سال میں کسی بھی آزاد اسلامی یا مسلمان ملک میں یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ کسی بھی اسلامی یا مسلمان ملک میں کسی دیوانے یا پاگل نے بھی دعویٰ نبوت کی جرات نہیں کی۔ ایران میں بہائی مذہب کے بانی کا جو حشر ہوا‘ اس سے کون ناواقف ہے؟ بہاء اللہ نے خود ہی اپنے آپ کو اسلام سے خارج کر لیا۔ مسلمان کہلانے کی اسے بھی جرات نہ ہوئی لیکن ایران نے اس کے باوجود اسے اور اس کے مقلدین کو برداشت نہ کیا۔ ہمیں افسوس ہے کہ آزادی کے بعد 26, 27 سال تک ہم نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش نہ کی‘ حالانکہ ہم نے یہ ملک اللہ اس کے رسول ﷺ اور اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا۔ اگر ختم نبوت ہمارا جزو ایمان ہے تو رسول کریم کو خاتم النبیین ماننے کے بعد ختم نبوت کی مختلف تاویلیں کرتے ہوئے دعویٰ نبوت کرنے والے اور اس جھوٹے نبی کی امت کے لیے پاکستان میں کیا جگہ رہ جاتی ہے؟ یہ پنجاب کی بدقسمتی تھی کہ یہ (قادیانی) پودا اس سرزمین میں ہی لگ سکا اور اس نے یہیں نشوونما پائی۔ یہ پنجابیوں کی مذہب کے معاملے میں سادہ لوحی اور اسلام کے معاملے میں فراخدلی کا نتیجہ تھا کہ انگریز کا یہ خودکاشتہ پودا تناور درخت بن گیا۔
قادیانیوں کی امنگوں اور آرزوؤں کا مرکز قادیان ہے جو بھارت میں واقع ہے۔ یہ تصور ان (قادیانیوں) کا جزو ایمان ہے کہ وہ ایک نہ ایک دن ضرور واپس قادیان (بھارت) جائیں گے۔ ان کے قادیان جانے کے دو ہی طریقے ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ قادیانی حضرات مشرقی پنجاب کو بزور بازو فتح کر کے قادیان پہنچیں‘ یہ بڑی ناقابل عمل سی بات ہے‘ ویسے بھی قادیانی حضرات جہاد پر یقین نہیں رکھتے اور ان سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ لڑ کر مشرقی پنجاب فتح کر سکیں۔ دوسرا ذریعہ اکھنڈ بھارت کا ہے یعنی مغربی پاکستان بھی خدانخواستہ بھارت کا حصہ بن جائے یا پنجاب اور تین پاکستانوں میں تقسیم ہو جائے‘ جنہیں بھارت کی زیر سرپرستی بنگلہ دیش جیسا درجہ حاصل ہو جائے۔ ہمارے خیال میں یہ صورت کسی بھی باغیرت پاکستانی کو پسند نہیں ہو گی۔
قادیانیت کی تاریخ سے شناسا لوگوں کو علم ہو گا کہ قادیانیت کی تحریک کا واحد مقصد دنیا کے مسلمانوں کو احمدی
ختم نبوت بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
بصائر قادیانیت کا اصل چہرہ
(قادیانی، مرزائی) بنانا تھا۔ وہ ہندوستان کو اس لیے اکھنڈ رکھنا چاہتے تھے کہ ”وسیع بیس“ سے اس مقصد کے لیے کام کیا جائے۔ وہ برصغیر کی تقسیم کو عارضی سمجھتے تھے۔ اُن کے ان عزائم کی تصدیق قادیانیوں کے ترجمان روزنامہ ”الفضل“ قادیان کے 5 اپریل 1947ء کے اس شمارے سے بخوبی ہو جاتی ہے جس میں قادیانی جماعت کے دوسرے سربراہ مرزا بشیر الدین کا سرظفر اللہ چوہدری کے بھتیجے کے نکاح کے موقع پر خطبہ شائع ہوا تھا۔ اس خطبہ میں قادیانی جماعت کے سربراہ نے بڑے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ”ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں ....... ممکن ہے عارضی طور پر کچھ افتراق پیدا ہو اور دونوں قومیں جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر رہیں“۔
سماجی اور سیاسی اعتبار سے یہ فرقہ خود کو سواد اعظم سے الگ تصور کرتا ہے۔ واقعات کے لحاظ سے یہ گروہ برطانیہ، اسرائیل اور بھارت کے ففتھ کالمسٹ کی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان میں سرگرم عمل ہے اور اس کی وفاداری بھی مشکوک ہے۔ انہوں نے تقسیم ہند کے بعد سے جان بوجھ کر اپنی جماعت کا ایک حصہ قادیان میں متعین کر رکھا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ان سے کام لیا جائے۔ قادیانی حضرات خود ہی اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ سمجھتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو اپنے میں سے نہیں سمجھتے، ان کے ساتھ شادی بیاہ نہیں کرتے، ان کی نماز اور جنازے میں شرکت نہیں کرتے، اُن کی دعا میں ان کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر شامل ہونا پسند نہیں کرتے۔ ایسے طرز عمل کے بعد انہیں بطور مسلمان وہ تمام مراعات حاصل کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے جو انہیں دفاعی اور سول ملازمتوں میں میسر ہیں یا بینکنگ، صنعت اور زندگی کے دیگر تمام دوسرے شعبوں میں حاصل ہیں۔
قادیانی جماعت میں سے زیادہ پڑھا لکھا اور روشن خیال سرظفر اللہ چوہدری تھے، لیکن انہوں نے بھی بانی پاکستان بابائے قوم حضرت قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے کی بجائے غیر مسلم سفیروں کے ساتھ زمین پر بیٹھنا پسند کیا تھا اور جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ وزیر خارجہ ہیں لیکن جنازہ میں شریک نہیں ہوئے اس کی وجہ کیا ہے؟ اس پر ظفر اللہ خان نے کہا کہ ”مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر خارجہ سمجھ لیا جائے یا مسلمان حکومت کا کافر وزیر خارجہ“۔ عقیدہ کے لحاظ سے اس سے بڑھ کر کسی کی پختہ زناری اور کیا ہو سکتی ہے؟ اس طرح انہوں نے تاریخ میں یہ شہادت ریکارڈ کروائی کہ مسلمانوں کا مذہب الگ ہے اور قادیانی ان سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار ہیں۔
علامہ اقبال اس گروہ کو یہودیت کا چربہ قرار دیتے تھے۔ وہ فرماتے ہیں ”کسی مذہبی تحریک کی اصل روح ایک
ختم نبوت تلاوت قرآن کی کثرت مسلمہ سنت ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قادیانیت کا اصل چہرہ
دن میں نمایاں نہیں ہو جاتی‘ اچھی طرح ظاہر ہونے کے لیے برسوں چاہیے۔ تحریک کے دو گروہوں کے باہمی نزاعات اس امر پر شاہد ہیں کہ خود ان لوگوں کو جو بانی تحریک کے ساتھ ذاتی رابطہ رکھتے تھے معلوم نہ تھا کہ تحریک آگے چل کر کس راستہ پر پڑ جائے گی؟ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا تھا جب ایک نئی نبوت..... بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت..... کا دعویٰ کیا گیا۔ تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ درخت جڑ سے نہیں‘ پھل سے پہچانا جاتا ہے‘۔
(’’اسٹیٹسمین کے جواب میں‘‘ حرف اقبال از لطیف شیروانی)
علامہ صاحب مزید فرماتے ہیں: ”ثانیاً ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ بانی تحریک نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ سے اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار‘ اپنی جماعت کا نیا نام‘ مسلمانوں کے قیام نماز سے قطع تعلق‘ نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے‘ یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ (قادیانی) اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں‘ جتنے سکھ ہندوؤں سے کیونکہ سکھ ہندوؤں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں اگرچہ وہ ہندوؤں میں پوجا نہیں کرتے“۔ (ایضاً)
بھٹو حکومت کے دور میں ستمبر 1974ء میں پارلیمنٹ میں بڑی مفصل بحث کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا۔ بھٹو حکومت نے اس طرح نوے سالہ پرانا مسئلہ حل کرنے کی سعادت حاصل ہونے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ یہ دعویٰ بے جا بھی نہیں تھا لیکن اس آئینی ترمیم کے بعد مروجہ تعزیرات میں ترمیم کے لیے جن قانونی اقدامات کی ضرورت تھی ان کے اہتمام کو بوجوہ موخر کر دیا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس زمانے میں قومی اسمبلی میں ایک نجی مسودہ قانون بھی پیش کیا گیا تھا لیکن اسے دبا دیا گیا تھا اور اس طرح مسلمانوں کے اس ضمن میں یہ مطالبات پورے نہ ہو سکے اور دس سال تک وجہ اضطراب بنے رہے بعد ازاں حکومت پاکستان کی طرف سے امتناع قادیانیت کے نام سے نافذ کئے جانے والے آرڈیننس سے قانونی اقدامات پورے ہو گئے۔ اس آرڈیننس کے نفاذ نے مسلمانوں کے مطالبہ‘ توقع اور خواہش پورا کرنے والے قانونی اور منطقی اقدام کا اہتمام کیا۔ (اسی آرڈیننس کے تحت قادیانیوں پر شعائر اسلام کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ۔) ٭٭٭٭٭٭
ختم نبوت عقیدہ ختم نبوت کی نوعیت مسلمہ ہے دین پر حملے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
قادیانیت ’ مرزائیت مشاہیر کی نظر میں
قادیانیت ’ مرزائیت
مشاہیر کی نظر میں
قائد اعظم محمد علی جناح
﴿بانی پاکستان، گورنر جنرل﴾
جب کشمیر سے واپسی پر قائد اعظم سے سوال کیا گیا کہ آپ قادیانیوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں تو آپ نے فرمایا ”میری رائے وہی ہے جو علماء کرام اور پوری امت کی رائے ہے“۔
(لولاک دسمبر 1971ء)
علامہ محمد اقبال
﴿مصور پاکستان، شاعر مشرق﴾
میرے نزدیک بہائیت قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے لیکن موخر الذکر (قادیانیت) اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لیے مہلک ہے۔
حکومت قادیانیوں کو (مسلمانوں سے) ایک الگ جماعت تسلیم کرے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی ہی رواداری سے کام لے گا جیسی وہ باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتا ہے۔
(حرف اقبال ص: 199)
ابوالاثر حفیظ جالندھری
﴿خالق قومی ترانہ﴾
مرزائے قادیان اور ان کے ایجنٹوں کی تحریریں تقریریں اور تبلیغیں تزویر ہیں۔ ان تزویروں کا مقصد دنیائے اسلام پر یہود کی حکومت قائم کرنا ہے۔
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
العاقب قادیانیت 'مرزائیت مشاہیر کی نظر میں
ذوالفقار علی بھٹو
﴿بانی پیپلز پارٹی و سابق وزیراعظم﴾
جو شخص سرور عالم ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتا میرے نزدیک وہ کافر ہے۔
(ماہنامہ ضیائے حرم جولائی 1974ء)
مسلمان وہ ہے جو ختم نبوت کا قائل ہے اور جو ختم نبوت کا قائل نہیں وہ مسلمان نہیں۔
(روزنامہ جسارت کراچی 15 جون 1974ء)
جو شخص ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہے۔ میں مسلمان ہوں مجھے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ کلمہ کے ساتھ پیدا ہوا ہوں اور کلمہ کے ساتھ مروں گا۔ ختم نبوت پر میرا کامل ایمان ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں نے ملک کو جو دستور دیا ہے اس میں ختم نبوت کی اتنی ٹھوس ضمانت نہ دی گئی ہوتی۔
(13 جون 1974ء قوم سے خطاب)
جنرل ضیاء الحق
﴿سابق چیف آف آرمی، سابق صدر﴾
قادیانیت کا وجود عالم اسلام کے لیے سرطان کی حیثیت رکھتا ہے۔
(روزنامہ مشرق کوئٹہ 10 اگست 1985ء)
جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ
﴿سابق صدر پاکستان و جج سپریم کورٹ﴾
مرزا غلام احمد قادیانی کا مذہب خود کاشتہ پودا ہے جسے برطانوی سامراج نے پیدا کیا تھا۔
(روزنامہ جنگ لاہور 12 جولائی 1987ء)
محمد خان جونیجو
﴿سابق وزیراعظم پاکستان﴾
ختم نبوت کے منکرین (قادیانیوں) کے خلاف پوری قوت سے کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ توہین ختم
فداک ابی و امی
بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قادیانیت مشاہیر کی نظر میں
نبوت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
(روزنامہ جنگ لاہور 28 نومبر 1985ء)
محترمہ بے نظیر بھٹو
﴿سابق وزیر اعظم﴾
قادیانیوں (کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے) کے بارے میں آئینی ترمیم ملک کی منتخب اسمبلی میں اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی۔ اس لیے وہ ترمیم درست ہے اور اسے ختم نہیں کیا جائے گا۔
(روزنامہ جنگ لاہور جون 1987ء)۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خاں
﴿محسن پاکستان، بانی اسلامی ایٹم بم﴾
اس بات میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ عرصہ دراز سے قادیانی ملک کے اندر اور باہر یہودی لابی سے مل کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بے بنیاد پروپیگنڈہ کر کے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش میں سرگرم عمل ہیں۔
(ہفت روزہ چٹان 31 اگست 1986ء)
وہ (ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو نوبل انعام) بھی نظریات کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام 1957ء سے اس کوشش میں تھے کہ انہیں نوبل انعام ملے اور آخر کار آئن سٹائن کی صد سالہ وفات پر ان کا مطلوبہ انعام دے دیا گیا۔ دراصل قادیانیوں کا اسرائیل میں باقاعدہ مشن ہے جو ایک عرصے سے کام کر رہا ہے۔ یہودی چاہتے تھے کہ آئن سٹائن کی برسی پر اپنے ہم خیال لوگوں کو خوش کر دیا جائے سو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو بھی اس انعام سے نوازا گیا۔
(انٹرویو ہفت روزہ چٹان 6 فروری 1984ء)
ڈاکٹر تنزیل الرحمن
﴿سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل﴾
اسلامی کونسل نے حکومت کو یہ سفارش کی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے شخص
بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قادیانیت‘ مرزائیت مشاہیر کی نظر میں
کو موت کی سزا دی جائے۔ کونسل نے مزید سفارش کی ہے کہ قادیانیوں کو اپنی عبادت گاہوں کو مسجد اور عبادت کی ادائیگی کے لیے دی جانے والی ”کال“ کو اذان کہنے سے روک دیا جائے کیونکہ یہ مسلمانوں کے ”شعائر“ ہیں۔
(جنگ کراچی 6 جنوری 1984ء)
جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے
﴿ جج سپریم کورٹ آف پاکستان ﴾
قادیانی ایک منصوبے کے تحت مسلمانوں کے جذبات مشتعل کر کے قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے کے مطابق بار بار جرم کرنے والے فرد کی ضمانت منظور نہیں کی جاسکتی۔ قادیانیوں کی جانب سے سینے پر کلمہ طیبہ کا بیج لگانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنا چاہتے ہیں اور اس میں اہانت رسول کا پہلو بھی موجود ہوتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا مذہب خود کاشتہ پودا ہے جو برطانوی سامراج کا پیدا کردہ تھا۔ اس لیے مرزا غلام احمد قادیانی کے جو پیروکار مرزا غلام احمد کے لیے ”محمد رسول اللہ“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں وہ حضرت نبی آخر الزمان ﷺ کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں ایک غلطی کا ازالہ‘ آئینہ کمالات اسلام اور تبلیغ رسالت میں ”محمد رسول اللہ“ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اپنی نبوت کے دعویٰ کے سلسلہ میں انتہائی غلیظ زبان استعمال کی ہے۔ جب کہ یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ خود مرزا قادیانی انگریز کی پیداوار تھا۔
(نوائے وقت‘ 12 جولائی 1987ء)
جسٹس (ر) میاں محبوب احمد
﴿ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ﴾
اوائل اسلام ہی سے اہانت رسول کے جرم قبیح کا ارتکاب کرنے والوں کو موت کی سزا دی جاتی رہی ہے۔ کرہ ارض پر جہاں بھی اسلامی حکومت قائم ہوئی وہاں شاتم رسول ﷺ کے لیے سزائے موت کا قانون رائج رہا۔ عہد رسالت ﷺ‘ دور خلافت اور بعد میں مشرق و مغرب کی تمام اسلامی سلطنتوں میں گستاخی کرنے والوں کو ہمیشہ موت کی سزا دی جاتی رہی ہے۔
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بتادو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
العاقب قادیانیت‘ مرزائیت مشاہیر کی نظر میں
جسٹس (ر) میاں نذیر اختر
﴿سابق جج لاہور ہائیکورٹ﴾
مرزا غلام احمد اور اس کے پیروکار غیر مسلم ہیں اور ایک جداگانہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ امت مسلمہ کا جزو نہیں۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال
﴿فرزند اقبال وسابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ﴾
مسلم معاشرے کو ختم نبوت کا عقیدہ ہی سالمیت کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔
جسٹس (ر) ڈاکٹر فدا محمد خان
﴿سابق جج وفاقی شرعی عدالت﴾
تاریخ شاہد ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان نے بھی اپنے خونی رشتے داروں کے ضمن میں چشم پوشی یا عفو درگزر سے تو کام لیا ہوگا مگر ختم المرتبت‘ رسالت مآب ﷺ کی شان اقدس میں کبھی بھی وہ رو رعایت کا روادار نہیں ہوا۔ اس لیے اس بات کی سخت ضرورت تھی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون میں جہاں حدود و قصاص اور تعزیرات کے ضمن میں جرائم کی مختلف اقسام کے لیے سزائیں موجود ہیں‘ ان میں گستاخِ رسالت مآب ﷺ کے لیے قرار واقعی سزا موجود ہوتا کہ نہ امن و امان کا کوئی مسئلہ کھڑا ہو اور نہ فدایانِ رسول ﷺ کسی آزمائش سے دوچار ہوں۔
جسٹس (ر) ملک غلام علی
﴿سابق جج وفاقی شرعی عدالت﴾
قادیانیت ایک بارودی سرنگ ہے جسے اسلام دشمن طاقتوں نے بڑی ہنرمندی کے ساتھ اس کی دیواروں کے نیچے بچھا رکھا ہے۔
(ترجمان القرآن لاہور‘ جولائی 1974ء)
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی
﴿سابق جج لاہور ہائیکورٹ﴾
قادیانیوں کی جانب سے کلمہ طیبہ کا بیج لگانا توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے اور توہین رسالت کے جرم
دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قادیانیت مرزائیت مشاہیر کی نظر میں
کی سزا موت ہے۔
(نوائے وقت 2 اپریل 1990ء)
اگر قادیانیوں کو ان کے مذہب کی تبلیغ کی اجازت دے دی جائے تو اس سے نہ صرف معاشرے میں ہیجان پیدا ہوگا بلکہ اخلاقیات بھی تباہ ہو جائیں گی۔
(روزنامہ نوائے وقت 23 مئی 1991ء)
سید ریاض الحسن گیلانی
﴿سابق اٹارنی جنرل پاکستان﴾
عقیدہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے کی سزا موت ہے اور اسلامی مملکت میں یہ سنگین ترین جرم ہے۔ اس لیے اس جرم کے مرتکب کو سزا دینے کے لیے صرف حکومت کی مشینری کے حرکت میں آنے کا انتظار کرنا ضروری نہیں بلکہ کوئی مسلمان بھی اس سلسلے میں قانون کو ہاتھ میں لے سکتا ہے کیونکہ یہی شریعت کا حکم ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت کراچی 19 نومبر 1985ء)
محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ
﴿سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن﴾
جنوبی افریقہ کے یہودی جج کا فیصلہ اس امر کی شہادت مہیا کرتا ہے کہ قادیانی مذہب اسلام دشمن قوتوں کی سرپرستی سے پھل پھول رہا ہے۔ یہودی جج کو اس بات کا کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی شخص کے مسلمان یا غیر مسلم ہونے کا فتویٰ صادر کرے کیونکہ یہ مسئلہ صرف کوئی غیر متعصب عدالت ہی طے کر سکتی ہے۔ اس معاملہ پر اجماع امت ہے کہ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی مبعوث نہیں ہوگا جبکہ اس عقیدہ سے انحراف کرنے والا دائرہ اسلام سے واضح طور پر خارج ہے۔ قادیانی نہ صرف یہ کہ غیر مسلم ہیں بلکہ وہ پوری امت مسلمہ کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ انہیں اپنے سے علیحدہ قرار دیں۔
(لولاک 27 دسمبر 1985ء)
حمید نظامی
﴿چیف ایگزیکٹو نوائے وقت گروپ﴾
غیر ممالک میں پاکستان کے سفارت خانے تبلیغ مرزائیت کے اڈے اور ان کے جماعتی دفاتر معلوم ہوتے ہیں۔
(ماہنامہ صوت الاسلام ستمبر اکتوبر 1985ء)
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقبۃ قادیانیت، مرزائیت مشاہیر کی نظر میں
مجیب الرحمٰن شامی
﴿چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان﴾
مرزائیت کیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسے محض ایک مذہبی ٹولہ سمجھا گیا ہے لیکن در حقیقت یہ ایک سیاسی تحریک ہے۔ ایسی تحریک جس کا مقصد اکھنڈ بھارت کا قیام اور برصغیر میں سامراجی مفادات کی نگہداشت ہے۔
(ہفت روزہ لیل ونہار 2 تا 8 جون 1974ء)
بعض افراد مجھے مل کر یہ کہتے ہیں کہ جناب دنگا فساد ہو رہا ہے، قادیانیوں کے گھر اجاڑے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکہ تک قادیانیوں کے دفاع کے لیے کمیٹیاں قائم ہو رہی ہیں۔
میں نے اس نکتے پر بہت غور کیا کہ یہ جھگڑا یا فساد کیوں ہوتا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ سمجھ میں آئی کہ قادیانی حضرات پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ پاکستان کے آئین میں تمام سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی سے مسلم لیگ تک، جمعیت علمائے اسلام سے لے کر جماعت اسلامی تک اور نیپ سے پی ڈی ایم تک تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے یہ ترمیم کی کہ قادیانی ملت اسلامیہ کا حصہ نہیں بلکہ غیر مسلم ہیں۔ اب قادیانی حضرات آئین کی اس شق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور درحقیقت ان کا یہ دعویٰ ہی فساد کا باعث بنتا اور فتنے کے دروازے کھولتا ہے۔
(خطاب ننکانہ جولائی 1989ء)
پروفیسر مغیث الدین شیخ
﴿صدر شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی﴾
ملت اسلامیہ سے جھٹک دیے جانے کے باوجود قادیانیت ایک ایسا ناسور ہے جو اپنے غلیظ عقائد و نظریات کے ماتھے پر اسلام کا لیبل چپکائے رکھنے پر اصرار کرتا ہے۔ عالمی صہیونی تحریک کا آلہ کار، یورپ کا تربیت یافتہ اور اسرائیل نواز یہ گروہ دراصل اپنے مغربی آقاؤں کے مخصوص مقاصد و مفادات کی خاطر امت مسلمہ کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے مسلمانوں سے علیحدہ ہونا نہیں چاہتا۔
(ہفت روزہ لولاک 14 اگست 1989ء)
دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب منقبت
منقبت خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
از: پیرزادہ حافظ محمد آصف قادری
ملا تقدیر سے حاجت روا فاروق اعظم سا
ترا رشتہ بنا شیرازۂ جمعیت خاطر
پڑا تھا دفتر دین کتاب اللہ برہم سا
مراد آئی مرادیں ملنے کی پیاری گھڑی آئی
ملا حاجت روا ہم کو در سلطان امم سا
ترے جود و کرم کا کوئی اندازہ کرے کیونکر
ترا اک اک گدا فیض و سخاوت میں ہے، حاتم سا
خدارا مہر کر اے ذرّہ پرور مہر نورانی
سیہ بختی سے ہے روز سیہ میرا شب غم سا
تمہارے در سے جھولی بھر مرادیں لے کر اٹھیں گے
نہ کوئی بادشاہ تم سا نہ کوئی بے نوا ہم سا
فدا اے اُم کلثوم آپ کی تقدیر یاور کے
علی بابا ہوا دولہا ہوا فاروق اعظم سا
غضب میں دشمنوں کی جان ہے تیغ سر افگن سے
خروج و رفض کے گھر میں نہ کیوں برپا ہو ماتم سا
شیاطیں مضمحل ہیں تیرے نام پاک کے ڈر سے
نکل جائے نہ کیوں رفاض بد اطوار کا دم سا
منائیں عید جو ذی الحجہ میں تیری شہادت کی
الٰہی روز و ماہ و سن انہیں گزرے محرم سا
حسنؔ در عالم ہستی سر رفعت اگر داری
بیا فرق ارادت بر در فاروق اعظم سا
غلیظ گستاخ کی آخرت مسلّم تباہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اقبال اور قادیانیت
اقبال اور قادیانیت
میر شکیل الرحمٰن
محترم میر شکیل الرحمٰن ابن خلیل الرحمٰن پاکستان کے سب سے بڑے نیوز نیٹ ورک ”جنگ گروپ“ کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ اس گروپ کے زیر انتظام روزنامہ جنگ‘ روزنامہ عوام‘ The News‘ Daily News اور اخبار جہاں وغیرہ شائع ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ جیو نیٹ ورک کے تمام چینلز بھی اس گروپ کے زیر اہتمام کام کرتے ہیں۔ کئی مرتبہ آپ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (APNS) اور پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن (PBA) کے صدر رہے ہیں۔ پیش نظر مضمون میں میر شکیل الرحمٰن صاحب نے فکر اقبال کے تناظر میں مرزائیت قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کیا ہے اور قادیانیت کے خونخوار چہرے سے دبیز پردوں کو سرکایا ہے۔ قادیانیوں کے روشن خیال ہمنواؤں کو یہ مضمون پورے غور و فکر سے پڑھنا اور سمجھنا چاہیے کیونکہ جس شخصیت کی فکر کے تناظر میں یہ مضمون قلمبند کیا گیا ہے وہ اور صاحب مضمون دونوں ہی غیر مولوی اور جہاندیدہ شخصیات ہیں۔
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
اقبال اپنی شاعرانہ عظمتوں کی بناء پر شاعر مشرق کے اعزاز کے حامل ہیں۔ سیاسی بصیرت اور قومی حمیت کی بنا پر وہ ”مصور پاکستان“ کی حیثیت سے معروف اور مقبول ہیں لیکن اقبال کا ایک امتیاز جو اب تک پس منظر میں ہے اور جسے ان سطور میں نمایاں کرنا مقصود ہے وہ ان کی قادیانیت کے خلاف جدوجہد ہے۔ اقبال کو دینی امور میں گہری بصیرت اور قومی معاملات میں پیش بینی حاصل تھی۔ قادیانیت کی حقیقت کو نقد و نظر کی ترازو میں جس طرح اقبال نے پرکھا ہے کسی دوسرے نے نہیں پرکھا۔
قادیانیت جسد ملت کا ناسور:
قادیانیت محض مذہبی مسئلہ نہیں جیسا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں۔ یہ اپنے مخصوص احوال کے پیش نظر ایک اجتماعی‘ قومی‘ ملی‘ تہذیبی‘ معاشرتی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقے میں اقبال وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے
بتلادو گستاخ نبیؐ کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اقبال اور قادیانیت
فتنہ قادیانیت کی سنگینی کا صحیح ادراک اور احساس کیا۔ وہ فتنہ قادیانیت کو جسد ملت کا ناسور اور وحدت ملی کے لیے زہر قاتل تصور کرتے تھے۔
بانی قادیانیت کی حکمت عملی شروع ہی سے یہ رہی ہے کہ ملت اسلامیہ میں انتشار پسند اور حریص عناصر کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اس کے اتحاد کو کمزور کیا جائے۔ یورپی طاقتوں کو ہندوستان میں ایک ایسا دینی اور سیاسی قمار باز درکار تھا جو اپنی اور ان کی اغراض کی خاطر مسلم اتحاد کے خلاف ایک جداگانہ ہی جماعت کی تشکیل کر سکتا ہو مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت میں ان کا مطلوبہ جھوٹا نبی مل گیا۔
ادھر ہندو سیاست اور ذہنیت نے قادیانی تحریک کو سیاسی اعتبار سے مفید پا کر اس کی زبردست حمایت کی۔ ان کے خیال میں قادیانیت کی تحریک ہی مسلمانوں کے اتحاد عالم عرب سے تعلق اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کر سکتی تھی۔ انگریز اور ہندو کی سرپرستی میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت اور تنسیخ جہاد کے اعلان نے ایک اہم برطانوی ضرورت کو پورا کر دیا۔
قادیانی نبوت کا دعویٰ:
قادیانیت کے اس کردار کا اعتراف خود اس کے بانی نے کیا مثلاً اپنی ایک کتاب میں کہتے ہیں:
- میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوا، اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام
نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ ۱؎
- سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ ۲؎
- میں خدا تعالیٰ کے ان تمام الہامات پر جو مجھ پر وارد ہو رہے ہیں، ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں جیسا کہ تورات اور انجیل
اور قرآن مقدس پر ایمان رکھتا ہوں۔ ۳؎
- خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ
مسلمان نہیں ہے۔ ۴؎
- میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں، اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول
ہوں تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلینڈ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں، ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں۔ ۵؎
ختم نبوت مقابلہ گستاخ نبی کا غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
اقبال اور قادیانیت العاقب
یہ ہے وہ فتنہ قادیانیت جس کی سنگینی کا اقبال نے بروقت احساس کیا اور اپنے طویل مکاتیب اور مضامین کے ذریعہ قادیانی فتنہ کی اصل حقیقت‘ اس کے دور رس اثرات اور نتائج کی وضاحت کی۔
اس سلسلہ میں اقبال نے اس دور کے علماء و اکابرین اسلام سے طویل خط و کتابت کی۔ پوری تحقیق اور توثیق کے بعد قادیانی مسئلہ کے ہر پہلو پر غور و خوض کیا اور نتائج اخذ کر کے مسلمانوں کی جماعت کے مفادات کی مدافعت غیر معمولی کامیابی کے ساتھ انجام دی........... عقیدوں کی یہ جنگ ایسی دشوار اور نازک تھی کہ اسلام میں الہی نظریات کی تشکیل نو کے فاضل مقالہ نگار (اقبال) نے ایک مسلمان اور عاشق رسول کے جذبے سے اسے کامیابی سے سر انجام دیا۔
قادیانیت سے بیزاری:
(قادیانی) تحریک کے اوائل میں اسے ایک مذہبی تحریک خیال کر کے اقبال نے اس کی حمایت کی تھی۔ اس حوالے سے قادیانی ہفت روزہ ”سن رائز“ لاہور نے ان پر متضاد رائے رکھنے کا الزام لگایا۔ جواباً اقبال نے فرمایا ”کسی تحریک کی اصل روح ایک دن میں نمایاں نہیں ہوتی‘ اسے پوری طرح نمایاں ہونے کے لیے برسوں درکار ہوتے ہیں۔ ابتداء میں مولوی چراغ علی مرحوم جیسے اکابرین کے تحریک میں شامل ہونے کی بناء پر میں تحریک کا مداح تھا۔
آج پچیس سال بعد میں قادیانی تحریک سے اس لیے بیزار ہوا کہ ایک نئی نبوت کا دعویٰ کیا گیا ہے اور ایسی نبوت جسے بانی اسلام کی اصل نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کہا گیا ہے اور میں نے ایک بڑے قادیانی کو حضور رسالت مآب ﷺ کی شان میں دشنام طرازی کرتے سنا۔ درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔
اقبال نے وضاحت کی کہ میرے رویے میں تناقض یا تضاد ایک زندہ صاحب فکر انسان کا حق ہے‘ وہ اپنی رائے بدل سکتا ہے۔ بقول ایمرسن ”صرف پتھر اپنے آپ کو نہیں جھٹلا سکتے“۔ 1
لاہوری جماعت کا قادیانی جماعت کے ساتھ اختلاف اور تنازعہ اس حقیقت پر شاہد ہے۔ اقبال کے مطابق قادیانیت کی اصل حقیقت قرون وسطیٰ کے غیر اسلامی تصوف اور دینیات میں پوشیدہ ہے۔ اس کا تصور خدا ایک ایسے خدا کا تصور ہے جو حاسد ہو اور جس کے پاس دشمنوں کے لیے طاعون اور زلزلے اور بیماریاں ہوں۔ اس فرقہ کا نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ (جو دراصل مسیح موعود کا یہودی تصور) ہے۔
مہر نبوت مقالہ نگار کی یہ تحریر مسلمہ نہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اقبال اور قادیانیت
قادیانیت کی تحریک یہودیت کی تحریک:
یہ چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں کہ گویا یہ تحریک یہودیت کی طرف رجوع ہے کرتی۔ اسلامی ایران میں موبدانہ (یہودی، نصرانی وغیرہ) اثر کے تحت کئی ملحدانہ تحریکیں اٹھیں اور انہوں نے تناسخ کے یہودی تصور کو چھپانے کی غرض سے بروزی، ظلی نبی اور مسیح موعود وغیرہ کی اصطلاحیں وضع کیں تاکہ وہ مسلم قلوب کو نا گوار نہ گزریں۔ اس نظریہ کے تحت جن دو جماعتوں نے حال ہی میں جنم لیا ہے ان میں میرے نزدیک بہائیت، قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے کیونکہ وہ کھلے بندوں اسلام سے منحرف ہے لیکن قادیانیت اسلام کی چند اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے، لیکن اندرونی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لیے مہلک ہے۔ ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو لیکن اپنی بناء نئی نبوت پر رکھے اور اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے، اسلام کی وحدت کے لیے خطرہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے استوار ہوتی ہے“۔
پنڈت جواہر لال نہرو نے قادیانیت کی حمایت میں تین طویل مضامین چھپوائے جو ماڈرن ریویو کلکتہ میں جنوری 1936ء میں شائع ہوئے۔ ان مضامین کا لب ولہجہ بڑا سخت اور تعصب آمیز تھا۔ اقبال نے جواب میں ان کے اعتراضات کی خاطر خواہ وضاحت کی، فرماتے ہیں: ہندوؤں کی طرح قادیانی بھی مسلمانان ہند کی سیاسی بیداری سے خائف ہیں کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ مسلمانان ہند کی سیاسی ترقی سے ان کا مقصد فوت ہو جائے گا کہ پیغمبر عرب ﷺ کی امت سے ہندوستانی پیغمبر (مرزا قادیانی) کی ایک نئی امت تیار کریں۔ ایسے نبی کا تصور، جس کا منکر اسلام سے خارج اور جہنمی ہو جاتا ہے، قادیانیت کا ایک لازمی عنصر ہے۔
- جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور صرف تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔ ۷
- اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔ ۸
- اپنی ایک کتاب میں مرزا قادیانی کہتا ہے: ”کل مسلمانوں نے مجھے مان لیا ہے اور تصدیق کی ہے مگر کنجریوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا“۔ ۹
دین پر مرنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بچتا گستاخ نبی غیرت مسلم عدم ہے قادیانیوں
العاقب اقبال اور قادیانیت
قادیانی ملک وملت کے غدار :
اقبال نے واضح کیا کہ ایسی مذہبی جماعت جو اسلام کے مسلمہ عقیدوں سے انحراف کرے دائرہ اسلام سے خارج کیے جانے کے قابل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ایران کا احساس بہائیوں کے خلاف اس قدر سخت تھا اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانان ہند کا احساس قادیانیوں کے خلاف اس قدر شدید ہے۔ اپنے جواب کی اس منطقی بناء پر اقبال نے پنڈت جواہر لال نہرو پر ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا۔ اقبال فرماتے ہیں ”میں اپنے ذہن میں اس امر کے متعلق کوئی شبہ نہیں پاتا کہ قادیانی اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار (Traitors) ہیں“۔ قادیانیت کی حمایت میں لکھے گئے سٹیٹسمین 14 مئی 1935ء کے اداریہ کے جواب میں اقبال نے مسلمانان ہند کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ”ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بانی تحریک نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ سے تشبیہہ دی اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے منع کیا۔ علاوہ ازیں ان کا اسلام کے بنیادی اصولوں کے قیام نماز اور نکاح وغیرہ میں مسلمانوں کا مقاطعہ اور سب سے بڑھ کر یہ اعلان (جو رسالہ تشحیذ الاذہان) میں شائع ہوا کہ ملت اسلامیہ کافر ہے۔ یہ تمام باتیں قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔ ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے کیونکہ وہ غداران اسلام ہیں۔ میرے نزدیک قادیانیوں کے سامنے صرف دو راستے ہیں یا وہ بہائیوں کی طرح ختم نبوت کو صریحاً جھٹلادیں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر ختم نبوت کو صدق دل سے قبول کر لیں۔ لیکن ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہوتا رہے اور وہ سیاسی فائدے (اعلیٰ ملازمتیں جو مسلمانوں کے لیے مختص ہوں) حاصل کرتے رہیں“۔
ایک خط میں جو روزنامہ احسان لاہور میں شائع ہوا اقبال نے فرمایا ” قادیانی نظریہ ایک جدید نبوت کے اختراع سے قادیانی افکار کو ایسی راہ پر ڈال دیتا ہے کہ اس کی انتہا نبوت محمدیہ کے کامل واکمل ہونے سے انکار کی راہ کھولتی ہے۔ چنانچہ قادیانی بجا طور پر ”باغیانِ محمد“ کہلانے کے سزاوار ہیں۔ ختمِ نبوت کے معنی ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر یہ دعویٰ کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزاء نبوت کے موجود ہیں، یعنی مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں نہ داخل ہونے والا کافر ہے تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل ہے۔ مسیلمہ کذاب کو اسی بنا پر قتل کیا گیا تھا“۔
مسیلمہ نبی کریم ﷺ کے لیے اذان دیتا تھا کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ (مسیلمہ کے لیے) اذان عبداللہ بن النواحہ دیتا اور اقامت مجیر بن عمیر کہتا اور جب مجیر شہادت کے قریب پہنچتا تو مسیلمہ کہتا اے مجیر خوب زور سے کہو (یعنی
یہ بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اقبال اور قادیانیت
شہادت کو بلند آواز سے کہتا کہ لوگوں کو اچھی طرح سنائی دے) پس، حجیر آواز کو بلند کرتا‘ اس طرح مسیلمہ اپنی تصدیق میں مبالغہ کرتا“۔
قادیانیوں کی مسلمانوں سے علیحدگی:
اخبار سٹیٹسمین کے اداریے کے جواب میں اقبال نے فرمایا: ”اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کے حدود مقرر ہیں یعنی وحدت الہٰی پر ایمان‘ انبیاء کرام پر ایمان‘ رسول کریم ﷺ کی ختم رسالت پر ایمان۔ دراصل یہ آخری عقیدہ ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان خط امتیاز کھینچتا ہے کہ فرد یہ یا جماعت ملتِ اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں۔ قادیانی رسول کریم ﷺ کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے آج تک کوئی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کرسکا۔“ اقبال نے فرمایا ”قادیانیوں کی تفریق کی پالیسی کے پیش نظر جو انہوں نے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں ایک نئی نبوت کا اعلان کر کے اختیار کی ہے‘ خود حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے بنیادی اختلافات کا لحاظ رکھتے ہوئے آئینی اقدام اٹھائے۔ ملتِ اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔
جہاد کے خلاف فتویٰ:
قادیانیت ایک ایسی تحریک ہے جس نے مسلمانوں سے جذبہ جہاد سلب کرنے کی تگ و دو کی۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے اس سلسلے میں سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر؟
1935-37ء کے دوران قادیانی فتنہ اپنے عروج پر تھا۔ اسلام اور قادیانیت کا متنازعہ بحث کا خاص موضوع بن چکا تھا۔ چنانچہ اقبال کی تقریر و تحریر اور مضامین کے علاوہ ضرب کلیم کی اکثر غزلوں میں قادیانیت اور بانی قادیانیت کے معاندانہ رویے سے متعلق ناقدانہ اشارے ملتے ہیں۔ بانی تحریک مرزا قادیانی اور اس کے مقلد انگریز آقاؤں کے حواری‘ آلہ کار‘ وفادار اور خودکاشتہ تھے۔ اس کردار کا اعتراف خود اس کے بانی نے بڑے کھلے
بقاء گستاخ کی غیرت مسلم پہ عجب ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اقبال اور قادیانیت
لفظوں میں فخر کے ساتھ کیا ہے۔ مثلاً اپنی کتاب (تریاق القلوب) میں ایک مقام پر لکھتا ہے: ”میں نے ممانعتِ جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس ہزار الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں“۔ ۱؎
اسی کتاب میں آگے چل کر کہتا ہے ”ہر شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود یعنی رسول اللہ مانتا ہے اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے کیونکہ مسیح آچکا‘ خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ اسی کو بننا پڑتا ہے“۔ ایسا امام قوم کی صحیح امامت کا دعویٰ کیونکر کر سکتا ہے جو انگریز حکمرانوں کی اطاعت کو قوم کا مقدس دینی فریضہ قرار دے۔
قادیانیت‘ اشعار اقبال کے آئینے میں:
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے
- ● قادیانی نبوت اور الہام کے منکر ملت اسلامیہ کے خلاف کفر کے فتوے کے اعلان پر اقبال نے فرمایا:
کہتی ہے کہ یہ مومن پارینہ ہے کافر
- ● بانی قادیانیت کے وحی والہام کے اعلان سے متعلق جو ملت اسلامیہ میں تفریق کا باعث بنا اقبال کا ارشاد ہے:
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
قادیانی گروہ جس کے ماننے والے برطانیہ کے وظیفہ خوار ہیں‘ طرح طرح سے قادیانی نبوت کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں جس کا مقصد نبوت کے عقیدے پر ضرب لگانا اور نعوذ باللہ رسول اکرم ﷺ کے کامل و اکمل ہونے میں شبہ پیدا کرنا تھا۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کے حواری اس طرح کی خرافات کہتے رہتے تھے:
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
ریمارکس علماء گستاخ کی تکفیر پر متفق ہیں دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی
العاقب اقبال اور قادیانیت
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
اقبال نے مسلمانوں کو اس فتنے سے بچانے کی زبردست کوشش کی۔ انہوں نے اپنی زبردست شاعرانہ صلاحیت کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا اور جگہ جگہ اپنے کلام میں مسلمانوں کو خاتم النبیین کی عظمت اور مرتبے سے واقف کرانے کی کوشش کی اور ختم نبوت پر ایمان اور عشق رسول کے تقاضے انہیں یاد دلائے۔ اقبال کا قادیانیوں کو علیحدہ جماعت تسلیم کرنے کا مطالبہ تصورِ پاکستان کی طرح کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ قادیانیت کے فتنہ کے طلسم کو باطل ثابت کرنے کے سلسلے میں یوں تو اقبال نے بہت پہلے ہی سے قدم اٹھا رکھا تھا مگر خاص کر 1935ء سے 1937ء کے عرصے میں جب وہ خرابی صحت کی بناء پر اکثر علیل رہتے تھے۔ وہ ملت اسلامیہ خاص کر مسلمانان برصغیر کے لیے باعث فخر و مباہات ہیں۔ ان مساعی جمیلہ کی بناء پر جس کے نتیجہ میں آج قادیانی فرقہ آئینی اور دستوری طور پر مسلمانوں سے الگ ایک اقلیتی فرقہ تسلیم کرلیا گیا ہے۔ یقیناً شاعر مشرق‘ مصور پاکستان علامہ اقبال نظریہ ختم نبوت کے محافظ اور فتنہ قادیانیت کے استیصال کی کوشش میں نمایاں اور ممتاز ہوئے ہیں۔
قوم کی طرف سے اقبال کو ان مساعی جمیلہ کا احترام اور اس عاشق رسول ﷺ کی خدمت میں ہمارا نذرانہ عقیدت بھی ہو سکتا ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر فتنہ قادیانیت کے طلسم کے اندھیروں کو عشق رسول ﷺ کے انوار سے دور کردیں اور ہر طرف ختم الرسل محمد ﷺ کا نور پھیلا دیں۔
دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کر دے
﴿حوالہ جات﴾
- 1۔ مرزا قادیانی کا خط‘ مورخہ 3 مئی 1908ء بنام اخبار عام لاہور
- 2۔ دافع البلاء‘ ص: 10-11 مصنف مرزا قادیانی
- 3۔ ماخوذ ’تبلیغ رسالت‘ جلد ہشتم‘ اشتہار مورخہ 4 اکتوبر 1899ء
- 4۔ حقیقۃ الوحی از مرزا قادیانی‘ ص: 123
- 5۔ درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ منجانب مرزا قادیانی مورخہ 24 فروری 1898ء
دیں پہ مرنے کا جذبہ جو کل تھا آج بھی ہے مقامِ مصطفیٰ کی غیرت سلامت ہے
FC
العاقب اقبال اور قادیانیت
- ۶ حرفِ اقبال‘ ۱۲۳-۱۲۲
- ۷ اشتہار معیار الاخیار ص: ۸‘ مطبوعہ ضیاءالاسلام پریس قادیان 25 مئی 1900ء
- ۸ انجام آتھم‘ ص: ۶۲‘ مطبوعہ قادیان 1922ء
- ۹ آئینہ کمالات اسلام ص: ۵۴۸
- ۱۰ تریاق القلوب‘ ص: ۱۳۰‘ مرزا قادیانی‘ مطبوعہ 1902ء
- ۱۱ قاضی محمد ظہور الدین اکمل قادیانی‘ منقول از اخبار پیغام صلح لاہور‘ مورخہ 14 مارچ 1916ء
گواہی
میں اذان دے کر ہٹا تو ایک صاحب پوچھنے لگے مولانا! کیا بغیر دیکھے گواہی دی جاسکتی ہے؟ میں نے کہا نہیں ۔ پوچھنے لگا آپ نے خدا کو دیکھا ہے؟ میں بولا نہیں ۔ وہ صاحب کہنے لگے کہ آپ نے ابھی ﴿اشہد ان لا الہ الا اللہ﴾ (میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) کیوں کہا ہے؟
میں نے عرض کی حضور ! چاند چند بندے دیکھتے ہیں اور شور سب مچاتے ہیں کہ کل عید ہے‘ کل عید ہے ۔ آپ ان سے پوچھیں کہ چاند دیکھا ہے تو کہیں گے نہیں ۔ تو پھر کیوں کہہ رہے ہو‘ عید ہے کل عید ہے ۔ وہ جواب دیں گے بھائی ہمیں جن لوگوں نے بتایا ہے ان لوگوں نے دیکھا ہے ۔
ٹھیک ہے ہم نے خدا کو نہیں دیکھا کیونکہ ہم دیکھ نہیں سکتے مگر جس نے کہا ہے اس نے دیکھا ہے اور وہ ہے ذات محمد ﷺ‘ جو صادق و امین ہے ۔ اس ذات بابرکات کی بات کو ہم نے عین الیقین کا درجہ دیا ہے ۔
﴿بات سے بات‘ ص: ۹۵﴾
بتلاؤ گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی
العاقب محافظ قادیانی موومنٹ (MQM) کے قائد الطاف حسین؟
محافظ قادیانی موومنٹ (MQM) کے قائد،
الطاف حسین؟
٭٭٭ محمد وحید نور ٭٭٭
محافظ قادیانی موومنٹ (MQM) کے بانی وقائد الطاف حسین صاحب کبھی کبھار اوٹ پٹانگ ہانکتے رہتے ہیں جن کی تردید یا تنقید ان کی دماغی کیفیت کو مدنظر رکھ کر اکثر نہیں کی جاتی۔ لیکن اس مرتبہ تو موصوف کچھ زیادہ ہی ترنگ میں اناپ شناپ سے نواز رہے ہیں۔ اے آروائے نیوز (ARY NEWS) پر قادیانیوں کے ہمنوا ”پی جے میر“ کو انٹرویو دیتے ہوئے الطاف حسین نے بھاشن دیا کہ ”قادیانیوں کو حق ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے رکن بنیں......... مجھے معلوم ہے کہ مجھ پر فتوے لگیں گے“۔
اس کے بعد 9 ستمبر 2009ء کو قادیانیوں کے وکیل بے دام ”مبشر لقمان“ کو ایکسپریس نیوز پر الطاف صاحب نے بھاشن (انٹرویو) جھاڑا۔ اس انٹرویو کے بعینہٖ الفاظ یہ ہیں:
- ● مبشر لقمان: پرابلم یہ ہے کہ مسیحی برادران کے لیے بھی آپ بول لیں گے۔ آپ یہودی، اگر
کوئی وہاں ہوں گے تو ان کے حق میں بھی بول لیں گے۔ سکھوں اور ہندوؤں کے حق میں بھی بول لیں گے۔ میں ایک بڑا ٹچی (حساس) سوال کرنے لگا ہوں۔ اپنے ویورز سے معذرت کے ساتھ کہ قادیانیوں کے لیے کوئی نہیں بولتا، جب ان کے اوپر مظالم ہوتے ہیں۔
- ☆ الطاف حسین: جی بالکل، مبشر بھائی صحیح کہہ رہے ہیں۔ لیکن MQM کو اس کا الزام نہیں
دے سکتے۔ MQM واحد آرگنائزیشن ہے کہ جب قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر بیگ صاحب کا انتقال ہوا تھا۔ واحد الطاف حسین تھا جس کا تعزیتی بیان گیا تھا۔ جس پر کئی اخبارات نے اداریے لکھے کہ میں نے کفر کیا ہے اور میں یہ کفر دوبارہ کرنے جا رہا ہوں، جس کا دل چاہے مجھ پر فتویٰ دے۔ قادیانیوں کو اگر آپ مسلمان نہیں سمجھتے تو نہ سمجھیں، کس نے کہا ہے۔ لیکن جو قادیانی یا احمدی پاکستان میں رہتے ہیں، انہیں اپنے عقیدے، مسلک کے مطابق زندگی گزارنے کی برابر اجازت ہونی
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب محافظ قادیانی موومنٹ (MQM) کے قائد الطاف حسین؟
چاہیے۔ چاہے تمام لوگ مجھ سے ناراض ہو جائیں لیکن میں حق بولنا نہیں چھوڑوں گا۔ ● مبشر لقمان : ہمارا 73ء کا آئین تو کہتا ہے کہ اقلیتیں جو ہیں ان کو اپنے مذہب کی Preach (تبلیغ) کرنے کی اجازت ہے، تو کیا پھر جماعت احمدیہ کو بھی اپنا مذہب Preach (تبلیغ) کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ☆ الطاف حسین : بالکل ہونی چاہیے۔ میری نظر میں ہونی چاہیے۔ ہر کسی کو ہونی چاہیے۔ ● مبشر لقمان : It is very bold statement. ☆ الطاف حسین : ہر کسی کو ہونی چاہیے، تو اب فاشزم کا الزام مجھ پر نہیں لگے گا تو کسی اور پر لگے گا (شیطانی ہنسی ہنسا) ایسے نہیں کہہ رہا میں ۔ میں نے احمدیوں کا لٹریچر بھی پڑھا ۔ احمدیہ کے پروگرام بھی دیکھے۔ میں نے دیکھا وہی کلمہ ہے، وہی سرکار دو عالم ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں۔ اب جھگڑا جو آتا ہے اس کی بحث میں نہیں جاتا۔ اس کو جو نہیں مانے، وہ نہ مانے ۔ آپ انہیں مسلمان نہیں مانتے، نہ مانیں ۔ چاہے ہندو ہے، ہندو کے تو اللہ رسول جو ہے، اس کا اپنا اللہ رسول ہے۔ اس کو تو آپ تسلیم کرتے ہیں تو احمدیوں کو بھی تسلیم کیجیے ۔ یہ جرات پاکستان کے اندر کسی میں نہیں ہے۔
احمدیوں پر پاکستان میں ظلم نہیں ہونا چاہیے۔ وہ انسان ہیں، وہ پاکستانی ہیں۔ میں آپ کو ایک اور بات بتادوں ۔ مبشر بھائی پاکستان کا سب سے پہلا نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام، وہ بھی احمدی تھا۔ ● مبشر لقمان : He was the great man ☆ الطاف حسین : آپ اس کا نام صرف اس لیے نہ لیں یا طلباء کو اس لیے نہ پڑھایا جائے کہ ڈاکٹر عبدالسلام احمدی تھے تو یہ سراسر ظلم ہے، زیادتی ہے۔ یہ نا انصافی کو ختم ہونا چاہیے۔ یہ علامہ اقبال کے خیالات کبھی نہ تھے رحمۃ اللہ علیہ ۔ یہ قائد اعظم محمد علی جناح کے خیالات کبھی نہیں تھے۔ میں شاعر مشرق جو دنیا بھر کے بہت بڑے فلاسفر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح
رسول ﷺ بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب محافظ قادیانی موومنٹ (MQM) کے قائد الطاف حسین؟
کا پاکستان چاہتا ہوں۔ یہ ملاؤں کا جعلی نام نہاد‘ یہ جعلی سیاستدانوں کا جو راتوں رات تالی بجا کر وفاداریاں بدلتے ہیں۔ ادھر سے مال پکڑا اُدھر سے مال پکڑا میں اس کا قائل نہیں ہوں۔‘‘
سینیٹر پروفیسر ابراہیم خاں کے بقول ”آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے سامنے MQM اور ANP نے تحریری سفارشات پیش کی ہیں جن میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل A-2 کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ختم نبوت قانون میں سے اس شق کو بھی نکال دیا جائے جس کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم کانسٹی ٹیوشنل ریفارمز کمیٹی کے ارکان کی اکثریت نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا“۔
الطاف صاحب قادیانیوں کی وکالت کے غم میں اس قدر گھلے جا رہے ہیں کہ موجودہ قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد اور پوری قادیانی قیادت بھی حیران و پریشان ہے کہ قادیانیوں کی سربراہی کا تاج ان کے سر سے چھین کر الطاف ”بھائی“ کے روشن سر پر نہ رکھ دیا جائے اور وہ خود مدعی سست اور گواہ چست کی عملی تصویر نہ بن بیٹھیں۔ ویسے ہمارا الطاف صاحب کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ روز روز کے چٹکلے سنانے کی بجائے ایک دفعہ ہی ادھر یا اُدھر کا اعلان کر دیں تاکہ اہل اسلام کو آئے روز آپ کی NRO سے پاک کی گئی ”شخصیت“ کے متعلق ایمانی و دلی جذبات کا اظہار نہ کرنا پڑے۔
- الطاف حسین کو اعتراض ہے کہ قادیانیوں کو اپنے نظریات و عقائد پھیلانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی
ہے؟ ☆ ہمارا متحدہ کے قائد سے سوال ہے کہ اندرونِ سندھ میں متحدہ مخالف سیاسی جماعتوں کو پنپنے کا موقع کیوں فراہم نہیں کیا جاتا؟ ویسے بھی پورے پاکستان میں قادیانی اعلانیہ و غیر اعلانیہ اپنے عقائد باطلہ کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔ قادیانیوں کے اخبار شائع ہو رہے ہیں‘ رسائل شائع ہو رہے ہیں‘ کتب شائع ہو رہی ہیں اور لٹریچر نہ صرف شائع بلکہ سرعام تقسیم ہو رہا ہے۔ قادیانیوں پر مظالم کا ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود آج بھی پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں سرعام قادیانیوں کا اخباری سٹال لگتا ہے۔ آئینی و قانونی طور پر تو قادیانی اپنے عقائد باطلہ کا پرچار نہیں کر سکتے لیکن ماڈل ٹاؤن کا برسرعام قادیانی اخباری سٹال کس چیز پر دلالت کر رہا ہے؟
یہ صرف ایک مثال ہے وگرنہ اس جیسی درجنوں مثالیں گنوائی جاسکتی ہیں۔ آئینی و قانونی پابندی کے باوجود اگر الطاف حسین چاہتے ہیں کہ قادیانی گھر گھر جا کر مرزائیت کے جراثیم پھیلائیں‘ دجال قادیاں مرزا قادیانی کی گستاخیاں‘ کفریات اور شعائرِ اسلام کے خلاف کھلی گالیاں مسلمانوں تک پہنچائیں تو اس کی اجازت کوئی بھی غیور
بتا دو گستاخ نبیؐ کو غیرت مسلم زندہ ہے ................... دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب محافظ قادیانی موومنٹ (MQM) کے قائد الطاف حسین؟
مسلمان کسی بھی صورت نہیں دے سکتا۔ مسلمان کٹ جائے گا، مر جائے گا لیکن آقا کریم ﷺ کی شان اقدس میں کوئی گستاخی کبھی برداشت نہیں کرے گا۔
الطاف صاحب یہ ملک ”اسلام“ کے نام پر وجود میں آیا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت اس ملک کی بنیادوں میں شامل ہے۔ اگر اس بنیاد کو چھیڑنے کی کوشش کی گئی تو ایسا بھونچال آئے گا جو سب کچھ بدل دے گا۔ روشن خیالی کی آندھی اور جھکڑ کے باوجود الحمد للہ پاکستان میں بسنے والے مسلمان زبان، قوم، رنگ اور طبقات سے بالاتر ہو کر اپنے آقا کریم ﷺ کی ناموس رسالت پر کٹ مرنا اور اس کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔
- ● الطاف صاحب قادیانیوں / مرزائیوں کو اسلام کا فرقہ قرار دے رہے ہیں۔ ☆ پہلی بات تو یہ ہے کہ
قادیانیت اسلام کا فرقہ نہیں بلکہ الگ مذہب ہے۔ قادیانی ناسور اسی وقت امت مسلمہ سے الگ ہو گیا تھا جب اس نے نبی کریم ﷺ کے مقابلے میں نعوذ باللہ دجال قادیاں مرزا قادیانی کی ڈمی کھڑی کرنے کی ناکام و ناپاک کوشش کی تھی۔
قادیانیت سے اصل خرابی ہی اس وقت آتی ہے جب قادیانی اپنی آئینی و قانونی حدود کو روندتے ہوئے مسلمانوں میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں رہنے والے ہندو، سکھ، عیسائی وغیرہ اپنی مذہبی شناخت نہیں چھپاتے اور ہنسی خوشی سے پاکستان میں زندگی بسر کرتے ہیں لیکن قادیانی نہ صرف اپنی مذہبی شناخت چھپاتے ہیں بلکہ کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔
پاکستان میں دیگر اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن قادیانی اقلیت کو اپنی منافقت کی وجہ سے یہ آزادی حدود و قیود میں حاصل ہے۔ وہ حدود و قیود شعائر اسلام کے استعمال اور اپنے دجل و فریب کے پرچار پر پابندی کی صورت میں موجود ہیں۔ نہ جانے قادیانی / مرزائی اپنی اسلامی اور آئینی حیثیت تسلیم کرنے سے کیوں انکاری ہیں؟ آج بھی قادیانی اس دستوری شق کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سفاکیت اور باغی پن کی انتہا کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے عقائد باطلہ کو اسلام کے نام سے پیش کر رہے ہیں۔ قادیانیوں کے وکیل بے دام بتائیں کہ کیا اقلیتوں پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ شعائر اسلام کا احترام کریں اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور مشتعل کرنے سے باز رہیں؟
1974ء کی اسمبلی میں قادیانی سربراہ مرزا ناصر قادیانی نے کہا تھا ”جو مرزا غلام قادیانی کی (معاذ اللہ) نبوت پر ایمان نہیں رکھتا، ہم اس کو غیر مسلم اور کافر سمجھتے ہیں“۔ اب قادیانیوں کے تمام وکلاء بتائیں کہ وہ دجال قادیاں مرزا
بقاء پاکستان کی خاطر غیرت مسلم زندہ ہے دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب محافظ قادیانی موومنٹ (MQM) کے قائد الطاف حسین؟
قادیانی کو کیا سمجھتے ہیں؟ وہ کن کے ساتھ ہیں، آقا کریم ﷺ پر ایمان رکھنے والوں کے ساتھ یا ختم نبوت کے باغی دجال قادیانی کے نام لیواؤں کے ساتھ؟
اگر اس کا جواب دینا مشکل ہو رہا ہو تو اپنے قادیانی آقاؤں سے اس امر کی وضاحت طلب کر لی جائے کہ ”جو شخص عقیدہ ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھے اور نبی کریم ﷺ کو آخری نبی جانتا و مانتا ہو اور آپ ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کے مدعی نبوت کو کذاب، دجال اور کافر کہتا ہو۔ قادیانی ذریت اس شخص کے بارے میں کیا کہتی ہے نیز قادیانی / مرزائی کلمہ طیبہ میں ”محمد رسول اللہ“ سے کیا مراد لیتے ہیں۔ نبی محتشم ﷺ یا قادیانی دجال“؟ کیا مفتی آگرہ کے پوتے اپنے قادیانی کرم فرماؤں سے اس کا جواب لے کر دے سکتے ہیں۔ آگرہ کے مفتی رمضان صاحب کی قبر بھی اپنے پوتے کی قادیانیت نوازی پر ضرور لرز اٹھی ہوگی۔
قادیانی 1974ء کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت میں بھی گئے لیکن ہر طرف سے ان کے کفر پر مہر تصدیق ثبت ہوئی حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے فل بینچ نے تاریخ ساز فیصلہ دیا کہ نہ تو کوئی قادیانی خود کو مسلمان کہلوا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکتا ہے۔
- ● الطاف صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے قادیانی لٹریچر پڑھا ہے، ان کے پروگرام دیکھے ہیں، میں نے دیکھا
ہے وہی کلمہ ہے، وہی سرکار دو عالم ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں۔ ☆ حیرت ہے کہ الطاف صاحب کو تو مسلمانوں اور قادیانیوں / مرزائیوں میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا لیکن جنوبی افریقہ کی عدالت کے عیسائی جج کو مسلمانوں اور قادیانیوں میں فرق سمجھ آگیا۔ ضیاء الحق کے دور میں جب جنوبی افریقہ کی غیر مسلم عدالت میں ایک عیسائی جج کے سامنے قادیانیوں کا مقدمہ پیش ہوا تو اس نے بھی قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ تھلگ اور غیر مسلم قرار دیا۔
سیشن کورٹ سے سپریم کورٹ تک اور پاکستان سے جنوبی افریقہ کی عدالتوں تک نے قادیانی کفر و ضلالت پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ سعودی عرب، ابوظہبی، شام، افغانستان، فلسطین، مصر اور انڈونیشیا وغیرہ کی حکومتوں اور علماء نے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ سمجھا لیکن الطاف صاحب کی عقل میں یہ ایمانی مسئلہ نہ آسکا۔
الطاف صاحب کو قادیانیوں سے اگر اندھا عشق نہیں ہے تو انہیں سابق قادیانیوں زیڈ اے سلہری، حسن محمود عودہ، پروفیسر مرزا منور احمد، ایئر کموڈور (ر) رب نواز، بریگیڈیئر (ر) احمد نواز خاں، بشیر احمد مصری، قاضی خلیل احمد صدیقی، شفیق مرزا، بشیر باجوہ اور رفیق باجوہ وغیرہ کی آنکھیں پھاڑ دینے والی تحریروں کو ضرور پڑھنا چاہیے اور حق
نوٹ
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب محافظ قادیانی موومنٹ (MQM) کے قائد الطاف حسین؟
آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔
اگر جناب کو یہ تجویز بھی پسند نہ آئے تو غیر مسلم شخصیات میں سکھ اور ہندو دانشوروں ڈاکٹر شنکر داس‘ راجندر سنگھ‘ دیوان سنگھ مفتون (معروف مصنف) اور عیسائی دانشوروں ڈاکٹر ایچ ڈی گرس دولڈ (سابق پرنسپل فورمن کالج لاہور)‘ پادری اے آر ناصر (صدر پاکستان مسیحی انجمن)‘ پروفیسر ایس ایم پال (ایف سی کالج لاہور)‘ اکبر مسیح (معروف مصنف)‘ پطرس گل‘ عبد الناصر گل اور ریونڈ راج اے واٹر (سیکرٹری لٹریری سوسائٹی انڈیا) کے قادیانیت / مرزائیت پر تبصرے پڑھیں کہ ان غیر مسلموں نے بھی یہ جانا کہ اسلام الگ ہے اور قادیانیت اس کے متوازی الگ مذہب ہے۔ اب اتمام حجت کی انسانی کوشش حاضر خدمت ہے اور ہدایت اللہ رب العزت کے پاس ہے کہ شاید الطاف صاحب کو یہ موٹی سی بات سمجھ آجائے۔
- ● الطاف صاحب اور قادیانیوں کے وکیل بے دام مبشر لقمان نے ڈاکٹر عبد السلام قادیانی کی تعریف میں زمین و آسمان کو ملانے کی کوشش کی ہے ☆ الطاف صاحب کیا یہ بھی بتانا پسند فرمائیں گے عبدالسلام قادیانی نے تعلیم یہاں حاصل کی اور نوکری اٹلی میں کیوں کی؟ کیا عبدالسلام قادیانی کے مداح بتانا پسند فرمائیں گے کہ 1974ء میں قادیانیوں کو جب پارلیمنٹ میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو اس وقت عبدالسلام قادیانی وزیر اعظم کے مشیر کی حیثیت سے بھٹو کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ عبدالسلام نے لندن سے واپس پاکستان آنے سے انکار کرتے ہوئے یہ کیوں کہا تھا کہ ”میں اس ملعون سرزمین پر اس وقت تک قدم نہیں رکھوں گا جب تک آئین میں کی گئی (قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے متعلق) ترمیم واپس نہیں لی جاتی“۔ امریکہ اور اسرائیل تک پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے متعلق خفیہ معلومات کیسے پہنچی تھیں؟
جناب الطاف صاحب! اگر مذہب کی سچائی کے لیے نوبل انعام یافتہ شخص کا ہونا ضروری ہے تو عیسائیوں اور یہودیوں نے تو اَن گنت نوبل انعام حاصل کیے ہیں تو پھر قادیانیت چاکری سے پہلے عیسائیوں اور یہودیوں کا یہ حق زیادہ بنتا ہے‘ انہیں اس حق سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟ عالمی مارکیٹ پر چھائے ہوئے چائینہ اور جاپان کے کتنے باسیوں کو باقی دنیا کی نسبت نوبل انعام ملا ہے؟ اگر نوبل انعام ہی انسانیت کی معراج ہوتا تو آج امریکہ‘ چائینہ کے رحم و کرم پر نہ ہوتا۔
- ● الطاف صاحب نے انٹرویو میں فرمایا کہ میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان چاہتا ہوں۔ ☆ بغیر سوچے سمجھے ترنگ میں آکر محترم الطاف صاحب نے اچھی بات کی ہے۔ اگر
مقولہ مبتلائے گستاخی نبی کی غیرت مسلم مُردہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب محافظ قادیانی موومنٹ (MQM) کے قائد الطاف حسین؟
تھوڑی جرأت مزید کرتے تو یہ بھی فرما دیتے کہ پاکستان میں جو بھی ان دو شخصیات کے نظریات کے خلاف ہوگا اسے دریائے سندھ میں پھینک دیا جائے گا۔ بہر کیف الطاف صاحب بتانا پسند فرمائیں گے کہ اقبال نے قادیانیت کو یہودیت کا چربہ کیوں قرار دیا تھا؟ اقبال نے قادیانیوں کو اسلام اور ملک کے غدار کیوں قرار دیا تھا؟ اقبال نے مرزا دجال کے ناخلف بیٹے مرزا بشیر الدین کو کشمیر کمیٹی سے کیوں نکلوایا تھا؟ اقبال نے گورنمنٹ سے کیوں مطالبہ کیا تھا کہ قادیانیوں / مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ کیا جائے؟ فکرِ اقبال سے اندھے نام نہاد سکالروں کو جواہر لال نہرو سے اقبال کی قادیانیت کے متعلق خط و کتابت ضرور پڑھنی چاہیے۔ اگر وہ مشکل محسوس ہو تو حرفِ اقبال میں قادیانیت کے متعلق نظریات ضرور پڑھنے چاہیے۔ اگر وہ بھی سمجھ شریف سے بالا ہوں تو کلیاتِ اقبال فارسی نہ سہی اردو تو سمجھ آہی جائے گی‘ اسے ضرور دیکھیے گا۔۔ شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے ’اقبال‘ کی بات
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے تو قادیانیت کے متعلق ایک سوال کے جواب میں واضح الفاظ میں فرما دیا تھا کہ ”میری رائے وہی ہے جو علماء کرام کی رائے ہے“۔ قادیانیت‘ مرزائیت کے متعلق علماء اسلام کی رائے یہی ہے کہ قادیانی اپنے گستاخانہ عقائد کی بنا پر اسلام سے خارج ہیں اور جو مسلمان‘ قادیانیوں کے عقائد جاننے کے باوجود انہیں مسلمان یا مظلوم سمجھے وہ بھی قادیانیوں کی طرح بے دین و کافر ہے۔ نیز ان کی خوشی وغمی میں شرکت حرام‘ ان سے رشتہ و تعلق حرام‘ ان سے میل ملاپ حرام‘ ان سے سلام دعا حرام‘ الغرض قادیانیوں سے ہر قسم کا بائیکاٹ لازمی ہے۔ (الطاف صاحب کا کہنا ہے کہ مرزا طاہر کی موت کے وقت واحد الطاف حسین تھا جس کا تعزیتی بیان گیا تھا۔) الطاف صاحب اس واقعے کی کیا وضاحت فرمائیں گے کہ جب بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے جنازے میں سرظفر اللہ خاں قادیانی نے وزیر خارجہ ہونے کے باوجود شرکت نہیں کی اور نماز جنازے کی جگہ پر سامنے بچھائی گئی چٹائیوں پر غیر ملکی مندوبین کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ اخباری رپورٹروں نے جب اس متعلق سوال کیا تھا تو وہ بول اٹھا کہ ”مجھے مسلمان حکومت کا کافر نمائندہ سمجھ لو یا کافر حکومت کا مسلمان نمائندہ“۔
الطاف صاحب اور ان کے تمام چیلے بہن بھائی جو آج قادیانیوں کی وکالت کر رہے ہیں اس وقت سے ڈریں جب قادیانی ہمنوائی ان کا ایمان لے ڈوبے اور جن (قادیانیوں‘ مرزائیوں) کی وجہ سے ایمان برباد ہوا ہو وہ ملعون سرظفر اللہ قادیانی والے الفاظ دہرا رہے ہوں۔
نوٹ بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب الطاف بھائی مرد بچہ بنیے اور توبہ کیجیے!
الطاف بھائی
مرد بچہ بنیے اور توبہ کیجیے! علی خان
ہمیں ایم کیو ایم کے کئی رہنما اچھے لگتے ہیں۔ ان میں ایک جناب حیدر عباس رضوی بھی ہیں۔ کیا خوب بولتے ہیں، متحدہ کے بہت تیزی سے ابھرتے ہوئے رہنما ہیں۔ ان کو نظر نہ لگے کیونکہ متحدہ میں جو بھی تیزی سے ابھرا وہ اس سے زیادہ تیزی سے غروب ہو گیا۔ ایسے کتنے ہی ستارے ٹوٹ کر بکھر گئے۔ جناب الطاف حسین کے ابتدائی ساتھیوں اور ایم کیو ایم کے بانیوں میں سے کتنے رہ گئے؟ زیادہ تر قتل کر دیے گئے یا نکال دیے گئے۔ سامنے کی مثال عامر لیاقت کی ہے جو اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لگانا پسند کرتے ہیں۔ وہ بھی خوب بولتے تھے اور پھر یہ زعم ہو گیا تھا کہ الطاف حسین سے زیادہ قابل اور ان سے زیادہ اچھا بولتے ہیں۔ پھر وہ الطاف بھائی کا فکر وفلسفہ بھلا بیٹھے چنانچہ اب زیادہ تر پاکستان سے باہر رہتے ہیں۔ تاہم حیدر عباس رضوی کو تخصص حاصل ہے لیکن عجیب بات ہے کہ گزشتہ دنوں الطاف حسین کو ”مرد بچہ“ کہنے پر بُرا مان گئے، نجانے کیوں؟
ہم اب تک یہ سمجھتے آ رہے تھے کہ کسی کو مرد بچہ کہنا اس کی تعریف کرنا ہے لیکن رضوی صاحب نے اس کا کچھ اور ہی مطلب نکال لیا۔ ہوا یوں کہ ایک ٹی وی چینل پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے حوالہ دیا کہ متحدہ کے رہنما وسیم اختر نے بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) امتیاز کے ”انکشافات“ پر ان کو مرد بچہ قرار دیا ہے، الطاف حسین بھی مرد بچہ بنیں اور پاکستان تشریف لے آئیں۔ اس پر رضوی صاحب بھڑک اٹھے اور یہ شبہ ظاہر کیا کہ خواجہ آصف نے الطاف حسین کو نامرد کہا ہے۔ بہر حال ٹی وی چینل پر تو خواجہ آصف نے انہیں مرد بچہ قرار دینے پر معذرت کر لی لیکن ہم اب تک حیران ہیں۔ ہمارے خیال میں تو انسان کا ہر بچہ مرد بچہ ہی ہوتا ہے۔
الطاف حسین کی جرأت اظہار میں کوئی شک نہیں۔ اسی لیے تو انہوں نے ایک ٹی وی چینل کو بڑی تفصیل سے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجھ پر تو پہلے بھی کفر کے فتوے لگ چکے ہیں اور اب ایک بار پھر یہ کفر کرنے جا رہا ہوں اور پھر انہوں نے اپنے کہے پر عمل بھی کر دکھایا۔ کافروں، مرتدوں، شاتمان رسول ﷺ اور اسلام کے باغیوں کی کھل کر حمایت کرنا اور ان کی تعظیم کرنا پھر اپنے کہے سے پھر جانا جرأت ہی کی تو بات ہے۔
بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب الطاف بھائی مرد بچہ بنیے اور توبہ کیجیے!
الطاف حسین کے نظریات و خیالات تو بدلتے ہی رہتے ہیں کہ یہی ان کی فکر و فلسفہ ہے اور ان کے معتقدین آنکھیں بند کر کے ان کی پوجا کرتے ہیں۔ الطاف حسین کا کروٹن کے پتوں اور پتھروں پر نمودار ہونا کوئی معمولی بات تو نہ تھی۔ ماننے والے جی جان سے ان کرامات پر ایمان لائے۔ ایک مسجد کے صحن میں لگے پتھر پر الطاف بھائی نمودار ہوئے تو ان کے حامیوں نے صحن کے پتھر ہی اکھاڑ کر الطاف بھائی کے دروازے پر رکھ دیا۔ صحن حرم میں ایک بزرگ نے اچانک نمودار ہو کر الطاف بھائی کو آشیر باد دی اور غائب ہو گئے۔ اب یہ کہانیاں کچھ کم ہو گئی ہیں لیکن آمَنَّا وَصَدَقْنَا کہنے والے کم نہیں۔
عقیدت بھی عجیب رنگ دکھاتی ہے۔ انتہائی پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ ہندو بھی تو بلا سوچے سمجھے اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے گئے بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور شجر و حجر کو نفع، نقصان کا باعث قرار دیتے ہیں۔ قادیانیوں میں کیسے کیسے پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام تو نوبل انعام یافتہ تھے۔ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ بھی بڑے ذہین تھے لیکن یہ سب اس پر ایمان رکھتے تھے اور کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی (دجال) نبی تھا۔ اس پر وحی ہوتی تھی اور جو اسے نبی ماننے سے کتراتے ہیں وہ کم از کم مسیح موعود (یعنی حضرت عیسیٰؑ جن کو دنیا میں واپس آنا ہے۔) قرار دیتے ہیں۔ مرزا غلام احمد نے کہا اور انہوں نے مانا کہ مسیح دنیا میں واپس آگئے۔ ویسے تو دجال کو بھی مسیح دجال کہا جاتا ہے۔ انگریز بھی اپنے خودکاشتہ پودے کے اس دعوے سے پریشان ہو گئے تھے کہ وہ مسیح بھی ہے۔ غلام احمد نے بھی اپنے درجات کو رفتہ رفتہ بلند کیا اور اس کی فکر و فلسفہ بھی کروٹیں بدلتا رہا۔
الطاف حسین قادیانیوں کے مبلغ، ہمدرد، سرپرست یا جو کچھ بھی ہیں، وہ ان کے انٹرویو سے ظاہر ہو چکا ہے لیکن یہ ”مرزا مبشر لقمان“ کون ہیں؟ کیا ہیں؟ اور قادیانی مسئلہ میں ان کی دلچسپی کا اصل سبب کیا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ قادیانی ہیں یا مسلمان۔ لیکن قادیانیوں کو مسلمان قرار دلوانے میں ان کی کاوشیں قابل توجہ ہیں۔ قادیانی مسئلہ پر الطاف حسین سے انٹرویو ”مبشر ڈاٹ کام“ کا پہلا کارنامہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے وہ ڈاکٹر اسرار احمد، محمد علی درانی اور نذیر ناجی تک سے اسی موضوع پر انٹرویو کر چکے ہیں۔ ایک علمی مسئلہ پر محمد علی درانی اور نذیر ناجی سے انٹرویو اور ان کے خیالات نشر کرنے کی کیا حیثیت ہے؟ نذیر ناجی کی جو شہرت ہے وہ سب کے علم میں ہے۔ جب ہوش میں نہیں ہوتے تو کیسی کیسی گالیاں ایجاد کرتے ہیں۔ یہ ریکارڈ پر ہے اور اتفاق سے دی نیوز اخبار کے ایک رپورٹر ہی نے یہ گالیاں ریکارڈ کی ہیں۔ ایسے شخص سے عقیدہ ختم نبوت پر بات کرنا اور اسے نشر کرنا مسلمانوں کے خلاف سازش نہیں تو اور کیا ہے؟ نذیر ناجی نے اپنے انٹرویو میں قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کو مسلمان قرار دیا اور حسب عادت علماء کو بُرا بھلا کہا۔
ختم نبوت بتلاؤ گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقبۃ الطاف بھائی مرد بچہ بنیے اور توبہ کیجیے!
مُلّا مُلّا کہہ کر طنز و تحقیر کرنا آگرہ کے مفتی کے پوتے کی بھی عادت ہے۔ نذیر ناجی کو شکایت تھی کہ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کو قادیانی ہونے کی وجہ سے پاکستان میں کام نہیں کرنے دیا گیا لیکن یہ سوگ تو بہت سے مسلمان زعماء کے ساتھ بھی روا رکھا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے ایٹمی نظام کے خالق ڈاکٹر عبد الکلام بھی پاکستان آئے تھے لیکن پذیرائی نہ ہونے پر واپس چلے گئے۔ حسرت موہانی پاکستان آئے تو ان کے پیچھے انٹیلی جنس لگا دی گئی۔ پاکستان کا نام دینے والے چودھری رحمت علی بھی ناراض ہو کر واپس چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کوئی واحد مثال نہیں۔
نذیر ناجی یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان میں کتنے ہی قادیانی اہم مناصب پر کام کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی ناک کا بال اور اہم مشیر طارق (عزیز) کے نام سے تو واقف ہوں گے۔ قادیانی فوج میں اہم مناصب پر رہے۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے بارے میں ہمارے پاس معلومات نہیں ہیں؟ پطرس بخاری اور ان کے بھائی زیڈ اے بخاری سے کون واقف نہیں؟ پطرس کے مضامین کورس میں شامل ہیں اور وہ ایک عرصہ تک اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے۔ ان کے والد پشاور میں قادیانی مبلغ تھے۔ دوسری طرف پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے قائد اعظم کی نماز جنازہ پڑھنے سے اس بنا پر انکار کر دیا تھا کہ وہ ان کو مسلمان ہی نہیں مانتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یا تو وہ مسلمان نہیں یا میں مسلمان نہیں اور یہ صرف ان کا عقیدہ نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے پیروکاروں کے سوا تمام مسلمانوں کو مسلمان تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور یہ ان کی تحریروں میں موجود ہے۔ الطاف حسین صاحب کو قادیانی مسلمان نہیں مانتے‘ اب شاید کوئی تبدیلی آگئی ہو۔
تاہم یہ سوال قابل توجہ ہے کہ مبشر لقمان قادیانی مسئلہ پر اتنے سرگرم کیوں ہیں اور اپنے مطلب کی باتیں اگلوانے میں کیوں مصروف ہیں؟ ان کے لیے گئے انٹرویوز سے قادیانیوں کی ویب سائٹ خوب فائدہ اٹھا رہی ہے۔ مبشر لقمان اس سے پہلے جس چینل سے وابستہ تھے وہ چینل ایک اور جھوٹے نبی یوسف کذاب کے خلیفہ اول زید حامد کو بھی پروجیکٹ کر کے اتنا معتبر بنا چکا ہے کہ جو اس کی اصلیت سے واقف نہیں وہ اس کو اسلام کا سپاہی اور بڑا دانشور سمجھ بیٹھا ہے۔ کیا مذکورہ چینل نادانستگی میں اسلام کے دشمنوں کو آگے بڑھا رہا ہے؟
اب آئیے! الطاف حسین کی طرف۔ موصوف نے پہلے تو قادیانیوں کی عبادت گاہوں کو مسجد قرار دیا اور اعلان کیا کہ اگر وہ برسر اقتدار آگئے تو ایسا کمپاؤنڈ بنائیں گے جس میں مندر‘ کلیسا اور احمدیوں کی مسجد ایک جگہ ہوگی۔ وہ نجانے کیوں یہودیوں کا صومعہ بھول گئے۔ اگر غیر مسلم قادیانیوں کی عبادت گاہ مسجد کہلائی جا سکتی ہے تو پھر ہندوؤں
رضوان بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے!
العاقب الطاف بھائی مرد بچہ بنیے اور توبہ کیجیے !
کی مسجد‘ عیسائیوں کی مسجد اور یہودیوں کی مسجد کہنے میں کیا حرج ہے؟ الطاف حسین کو یہ معلوم نہیں کہ مساجد صرف مسلمانوں کی ہوتی ہیں اور یہ قرآنی اصطلاح ہے۔ یقین نہ آئے تو آگرہ کی مسجد میں رکھے گئے اپنے دادا مفتی رمضان کے فتاویٰ سے رجوع کر لیں‘ دادا زندہ نہیں لیکن آگرہ میں کوئی تو ان کا جانشین ہوگا۔ الطاف بھائی کے اپنے فرمودات کے بعد جب بھی ان کے عقائد کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں تو وہ جھٹ یہ دلیل لے آتے ہیں کہ وہ آگرہ کے مفتی کے پوتے ہیں۔ آگرہ کے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے وہاں یہ نام نہیں سنا تھا‘ لیکن یہ کوئی ضروری نہیں ہے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی نبی آئے ان کے دور میں ان کی امت نے انہی کا کلمہ پڑھا اور ﴿لا اله الا اللہ﴾ کے بعد ان کا نام شامل کیا۔ اب اگر مرزا غلام احمد نبوت کا دعویدار ہے تو اس کے امتی اسی کا کلمہ پڑھیں گے نہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا۔ مرزا غلام احمد نے کھل کر اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو ریکارڈ پر ہے۔ مثلاً اپنی وفات سے صرف تین دن پہلے 23 مئی 1908ء کو ایڈیٹر اخبار عام لاہور کے نام خط میں لکھا ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیوں کر اس سے انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک کہ میں اس دنیا سے گزر جاؤں“۔ ایک اور جگہ (5 مارچ 1908ء کو ) لکھتا ہے ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں“۔ ان کا خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود اپنی کتاب حقیقۃ النبوت‘ صفحہ: 172 میں لکھتا ہے ”پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی) ہرگز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں“۔
نبوت کے دعوے کا لازمی نتیجہ ہے کہ جو شخص بھی اس نبوت پر ایمان نہ لائے وہ کافر قرار دیا جائے چنانچہ قادیانیوں نے یہی کیا۔ وہ ان تمام مسلمانوں کو اپنی تحریر و تقریر میں اعلانیہ کافر قرار دیتے ہیں جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے مثلاً ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“۔ (آئینہ صداقت‘ مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی‘ صفحہ: 35) مرزا بشیر قادیانی کی سنیے ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے مگر ”مسیح موعود“ کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام خارج ہے“۔ مرزا بشیر الدین محمود نے سب جج عدالت گورداسپور میں بیان دیا جو ان کے رسالے ”الفضل“ 26 تا 29 جون 1922ء میں شائع ہوا ”ہم چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے اس لیے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کسی ایک نبی کا
بتا دو گستاخ نبی ﷺ کے کٹھ پتلیوں کو یہ بے غیرتوں کا ٹولہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب
انکار بھی کفر ہے‘ غیر احمدی کافر غیر احمدیوں کو کافر قرار کا کلمہ اور ان کی نماز ا کے اخبار ”الفضل“ میں ۔ نے کہا ”ہمارا خدا‘ ہمارا اسلام‘ ہمارا فرماتے ہیں ”ورنہ حضرت مسیح موعود اور ہے اور ہمارا اور‘ ہمارا حج اور ہے اور الطاف حسین کو بھی کافر قرار دیتے ہیں کا خدا‘ ان کا نبی‘ ان کا حج سب کچھ نماز سب ہمارے جیسی ہے‘ کیا بات نذیر ناجی جیسے لوگوں کی تو الطاف حسین فخریہ فرماتے ہیں کہ ایک جانے پر انہوں نے تعزیتی پیغام بھیجا صبر جمیل کی دعا بھی کی ہوگی۔ جو شخص رسول ہے۔ اس کے لیے تعزیت الطاف بھائی فرماتے ہیں کہ احمدیوں مسلم قرار دے کر تبلیغ کریں لیکن وہ مذہب اختیار کرتے ہیں وہ مسلمان موصوف نے سب کچھ کہہ کما کا یہ مشترکہ بیان نشر ہوا کہ ”الطاف وہ وضاحت بھی کر دیتے کہ شر پسند نماز قرار دینے والے‘ ان کو اپنے شر پسند کون ہیں اور مسلمانوں میں
سورا
الطاف بھائی مرد بچہ بنیے اور توبہ کیجیے! العاقب
انکار بھی کفر ہے‘ غیر احمدی کافر ہیں۔‘‘ غیر احمدیوں کو کافر قرار دینے سے متعلق قادیانیوں کی تحریریں بھری پڑی ہیں۔ الطاف حسین فرماتے ہیں کہ ان کا کلمہ اور ان کی نماز ایک ہے تو اس کے بارے میں بھی سن لیجئے‘ شاید توبہ کی توفیق ہو جائے۔ 2 اگست 1917ء کے اخبار ”الفضل“ میں خلیفہ صاحب کی ایک تقریر ”طلباء کو نصائح“ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا: ”ہمارا خدا‘ ہمارا اسلام‘ ہمارا قرآن‘ ہماری نماز‘ ہمارا روزہ غرض ہماری ہر چیز مسلمانوں سے الگ ہے“۔ وہ فرماتے ہیں: ”ورنہ حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ ان کا (یعنی مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور‘ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور‘ ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے“۔ یہ قادیانی تو الطاف حسین کو بھی کافر قرار دیتے ہیں اور وہ ہیں کہ ان کی وکالت فرما رہے ہیں۔ قادیانی خود تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کا خدا‘ ان کا نبی‘ ان کا حج سب کچھ عام مسلمانوں سے مختلف ہے اور الطاف حسین فرما رہے ہیں کہ ان کا کلمہ‘ ان کی نماز سب ہمارے جیسی ہے‘ کیا بات ہے! پتہ نہیں کون سا لٹریچر پڑھ رکھا ہے۔
نذیر ناجی جیسے لوگوں کی تو کوئی اہمیت نہیں لیکن الطاف حسین کے خلفاء اور معتقدین فرمائیں کہ ان کا کیا خیال ہے؟ الطاف حسین فخریہ فرماتے ہیں کہ ایک جھوٹے نبی کے خلیفہ اور رسول اکرم ﷺ کی توہین کے مرتکب شخص کے آنجہانی ہو جانے پر انہوں نے تعزیتی پیغام بھیجا۔ پیغام میں یقیناً درجات کی بلندی‘ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی ہوگی۔ جو شخص بھی رسول اکرم ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا اور ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا‘ وہ شاتمِ رسول ہے۔ اس کے لیے تعزیت خود رسول اکرم ﷺ کی توہین ہے۔ ایسا شخص بھی شاتمِ رسول اور کفر کا مرتکب ہے۔
الطاف بھائی فرماتے ہیں کہ احمدیوں (قادیانیوں‘ مرزائیوں) کو تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے‘ ٹھیک ہے وہ اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دے کر تبلیغ کریں لیکن وہ تو خود کو مسلمان قرار دے کر دھوکا دیتے ہیں اور ان کی تبلیغ کے نتیجے میں جو لوگ ان کا مذہب اختیار کرتے ہیں وہ مسلمان بھی نہیں رہتے۔ عیسائی اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں تو دھوکے سے کام نہیں لیتے۔ موصوف نے سب کچھ کہہ کر اعلان فرمایا ہے کہ وہ ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس پر ایک ٹی وی چینل سے کچھ علماء کا یہ مشترکہ بیان نشر ہوا کہ ”الطاف حسین نے بروقت شر پسندوں کے منہ بند کر دیئے“۔ اگر واقعی یہ علماء کا بیان ہے تو وہ وضاحت بھی کر دیں کہ شر پسند کون ہیں؟ قادیانیوں کی عبادت گاہ کو مسجد‘ ان کے کلمہ اور نماز کو مسلمانوں کا کلمہ اور نماز قرار دینے والے‘ ان کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت دینے والے یا ان کفریہ خیالات کی تشہیر کرنے والے؟ شر پسند کون ہیں اور مسلمانوں میں شر پھیلانے والے کون؟ الطاف بھائی مرد بچہ بنیے اور جواب دیجیے۔ ٭
نوٹ مقالہ گستاخ نبیؐ پر غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب الطاف حسین اور سلمان تاثیر کی لغویات ماہرین قانون کی نظر میں
الطاف حسین اور سلمان تاثیر کی لغویات
ماہرین قانون کی نظر میں
حبیب الوہاب الخیری ایڈووکیٹ
﴿سپریم کورٹ آف پاکستان﴾
الطاف حسین جن خیالات کا پہلے بھی اظہار گاہے بگاہے کرتے رہتے ہیں درحقیقت یہ بڑی گمراہی اور آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ لندن میں بیٹھ کر وہ یہ حرکتیں امریکہ اور اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کوئی مذہبی آدمی نہ تھے لیکن انہوں نے بھی تمام مسالک کے اتفاق رائے کو دیکھتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا تھا۔ قادیانیوں کو کافر قرار دینے پر ہی انہیں سزائے موت کا مزہ چکھنا پڑا۔ بھٹو کیس کا سب سے بڑا وعدہ معاف گواہ مسعود محمود قادیانی تھا۔ بھٹو نے جب قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوایا تو پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان قادیانی نے لندن میں پریس کانفرنس کی جو لاہور کے مشرق میں بڑی نمایاں شائع ہوئی اس نے کہا کہ ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار دلوایا‘ مالی مدد فراہم کی اور اس نے ہمیں یہ صلہ دیا۔ اب الطاف حسین ان کا مہرہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ مولوی کا بیٹا کافر ہو سکتا ہے یہ (الطاف حسین) تو پوتے ہونے کے دعوے دار ہیں۔ آئین کی صریحاً خلاف ورزی اور شریعت کے احکامات نہ ماننے پر الطاف حسین کے خلاف کسی بھی شہری کی طرف سے مقدمہ دائر ہو سکتا ہے اور ایسے زندیق شخص کی سربراہی میں کوئی سیاسی جماعت پارلیمنٹ کی مسلم نشستوں پر الیکشن نہیں لڑ سکتی۔ اب الطاف حسین کی جماعت کو صرف غیر مسلم نشستوں پر الیکشن لڑنے کا قانونی حق حاصل ہوگا‘ مسلم نشستوں پر ان کے امیدواروں کے خلاف دوسرے امیدواروں کو ان کے کاغذات نامزدگی چیلنج کرنے کا قانونی و آئینی حق حاصل ہے۔ الطاف حسین کی قادیانیوں سے قربت اور ان کے حق میں بیانات کو آپ ان کے کل کے بیان کے ساتھ ملا کر پڑھیں جس میں انہوں نے پورے ملک میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ قادیانیوں کی ہم رکابی سے انہیں پورے ملک سے سیاسی کارکن میسر آ گئے ہیں کیونکہ بہت سے قادیانی اپنے آپ کو مسلمانوں کے پردے میں چھپائے ہوئے ہیں۔ اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ الطاف حسین کے ساتھ
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
الطاف حسین اور سلمان تاثیر کی لغویات ماہرین قانون کی نظر میں العاقب
ملنے سے وہ بھی بے نقاب ہو جائیں گے اور ان کی اصلیت معاشرے میں ظاہر ہو جائے گی۔ الطاف حسین اور ان کے ماننے والوں کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کی جاسکتی ہے۔ سادہ لوح افراد کو دھوکہ دینے کے لیے الطاف حسین کی پارٹی 1973ء کے اصل آئین کی بحالی کا مطالبہ کرتی ہے جس کے مطابق قادیانی کافر نہیں تھے۔ یہ منافقت کے پردے میں چھپا ہوا گروہ ہے۔ الطاف حسین نے پہلے بھی ایک بار اقتصادی بنیادوں اور وڈیرہ شاہی کے خلاف نعرہ لگا کر اپنی تنظیم کو پورے ملک میں وسعت دینے کا ارادہ کیا تھا اور اب وہ مذہبی بنیادوں پر ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس (قادیانیت نوازی) سے انہیں پاکستان بھر سے تمام اقلیتی ورکرز مل جائیں گے۔ مذہبی رہنما صرف نعرے لگاتے رہتے ہیں وہ بھی اب اپنی آنکھیں کھولیں ۔ الطاف حسین برطانوی شہری ہیں اس کے باوجود پاکستان کی سیاست میں حصہ لیتے ہیں اور اب اس سے کئی قدم آگے بڑھ کر نہ صرف شریعت اسلامیہ بلکہ پاکستان کے آئین کا مذاق اڑایا ہے۔ حکومت پاکستان کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور آئین کے غدار کے خلاف حرکت میں آنا چاہیے۔ اس وقت علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور سیاسی انداز میں ابھرتے ہوئے اس فتنے کے سدباب کے لیے عملی میدان میں اتریں۔
اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ
﴿سپریم کورٹ آف پاکستان﴾
قادیانیوں کو الطاف حسین مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھتے ہیں، اس مسئلے کو ہم نے سپریم کورٹ کے ذریعے حل کرایا ہے۔ قادیانیوں کو 1974ء میں آئینی ترمیم کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود قادیانیوں نے خود کو مسلمان کہلوانے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ 1984ء کے آرڈیننس میں کہا گیا تھا کہ کوئی قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر نہ پیش کرے۔ ظہیر الدین کیس میں ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر کسی صورت پیش نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ وہ اسلام قبول کر لیں نیز وہ مسلمانوں کی عبادت گاہیں اور القابات بھی استعمال نہیں کر سکتے۔ جرمنی اور یورپ کے دیگر ممالک میں تو وہ اپنی عبادت گاہوں کو دارالذکر کہتے ہیں تو پھر پاکستان میں انہیں کس نے اجازت دی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہیں۔ یہ مقدمہ اس لیے دائر کیا گیا تھا کہ وہ آرڈی نینس بنیادی حقوق سے متصادم تھا اور آئین کے مطابق اگر کوئی ایسا آرڈیننس جاری ہوتا ہے جو بنیادی حقوق سے متصادم ہو تو نافذ نہیں ہوگا اور بنیادی حقوق کو اس پر برتری حاصل ہوگی۔ میں نے اس کے جواب میں یہ دلیل
دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
الطاف حسین اور سلمان تاثیر کی لغویات ماہرین قانون کی نظر میں العاقب
پیش کی کہ اگر کوئی قانون قرآن وسنت کے منافی ہو تو قرآن وسنت کے قوانین کو اس پر برتری حاصل ہونی چاہیے۔ میرے اس موقف کو عدالت نے تسلیم کیا۔ (ظہیر الدین کیس 1993ء سپریم کورٹ page17-18) جن لوگوں نے اس کی خلاف ورزی کی تھی ان کو سپریم کورٹ نے سزائیں بھی دی ہیں۔ اس بینچ میں ایک جج صاحب اگر چہ قادیانیوں سے ہمدردی رکھتے تھے لیکن انہوں نے بھی یہ لکھا کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر پیش نہیں کر سکتے۔ اس مقدمے کی رُو سے ہمیشہ کے لیے یہ طے پا چکا ہے کہ آئین کے تحت قادیانی غیر مسلم ہیں اور وہ اپنی عبادت گاہوں کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔ اس کے باوجود الطاف حسین قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ، ان کی عبادت گاہ کو مسجد اور ان کی عبادت کو نماز کہتے ہیں تو یہ صریحاً توہین عدالت اور آئین پاکستان سے بغاوت ہے۔
اسلام کے مقابلے میں غیر مسلم سے اس لیے ہمدردی کرنا کہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلام کے ظلم کے شکار ہوا ہے یہ بھی پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔ الطاف حسین آئین کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ توہین عدالت کے بھی مرتکب ہورہے ہیں۔ عدالتی توہین پر انہیں چھ ماہ کی اور مذکورہ آئین کی خلاف ورزی پر چھ سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ الطاف حسین نے جو کچھ کہا ہے اس کی سزا وہ بھگتنے کے لیے تیار ہو جائیں، آج نہیں تو کل وہ پکڑ میں آئیں گے۔ یہ سزا اس وقت ختم ہو گی جب الطاف حسین یہ حلف نامہ داخل کرائیں گے کہ وہ قادیانیوں کے تمام فرقوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں اور ختم نبوت پر کامل اور غیر مشروط یقین رکھتے ہیں۔
میں نے ایک قادیانی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جسٹس سعید الزمان صدیقی چیف جسٹس تھے۔ میں نے کہا کہ اس شخص نے توہین رسالت کی ہے اس کو سزائے موت ہونی چاہیے۔ اس موقع پر انہوں نے مجھ سے کہا کہ قریشی صاحب آپ سمجھتے ہیں کہ ایک غلط لفظ بولنے پر آدمی کو پھانسی کی سزا دینا مناسب ہے۔ میں نے کہا کہ 1945ء میں امریکی ہوائی جہاز کے پائلٹ کو یہ حکم ملا کہ Drop the bomb یعنی بم گرا دو اور اس شخص نے ایٹم بم گرا دیا اور جاپان کے دو شہر ہیرو شیما اور ناگاساکی تباہ ہو گئے۔ چند الفاظ سے کتنی تباہی واقع ہوئی۔
شہاب نامہ میں ذکر ہے اور میں نے اس کا سپریم کورٹ میں حوالہ بھی دیا تھا۔ ظفر اللہ خان عالمی عدالت میں جج تھے اور شہاب وہاں سفیر تھے۔ کسی تقریب میں شہاب اور ان کی بیوی موجود تھے اور تقریب میں میٹ بال سرو ہو رہے تھے۔ ان میٹ بال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں خنزیر کا گوشت شامل ہوتا ہے۔ ظفر اللہ خان بڑے مزے لے لے کر کھا رہے تھے۔ شہاب کی بیوی نے کہا کہ آپ نے ہمیں منع کیا ہے اور ظفر اللہ خان کھا رہے ہیں۔ جب ان سے کہا گیا کہ جناب یہ تو حرام ہیں، اس میں خنزیر کا گوشت شامل ہوتا ہے۔ اس پر چوہدری ظفر اللہ خان
دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی بتلاؤ گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے العاقب
الطاف حسین اور سلمان تاثیر کی لغویات ماہرین قانون کی نظر میں العاقب
نے کہا کہ حضور نے فرمایا ہے کہ ایسی باتوں میں تجسس نہ کریں۔ شہاب نے لکھا ہے کہ میری بیوی بہت غصے میں تھیں، کہنے لگیں کہ آپ کے حضور نے یا ہمارے حضور محمد ﷺ نے۔ میں نے یہ واقعہ اس لیے سنایا کہ آپ اس بات کو سمجھ سکیں کہ جب وہ اسلامی اصطلاحات استعمال کر کے عام مسلمانوں کو گمراہ کریں گے تو کتنا خطرناک ہوگا۔ یعنی یہ کہ حلال و حرام کا تجسس بھی نہ کرو۔ لہٰذا الطاف حسین کے یہ بیانات عقیدہ ختم نبوت میں رخنہ اندازی ہیں کیونکہ انہوں نے قادیانیوں کو مسلم فرقہ کہا، ایک غیر مسلم کو کس طرح انہوں نے مسلمانوں کا فرقہ بنا دیا۔ کل وہ عیسائیوں کو بھی مسلمانوں کا فرقہ قرار دیں گے۔ الطاف نے قادیانیوں کو فرقہ کہہ کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔
منظور احمد میئو
﴿ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان﴾
سب سے پہلے میں مختصراً پس منظر سے آگاہ کر دوں کہ 295.A کا قانون 1927ء میں انگریز دور میں متعارف کرایا گیا تھا جس میں صرف اسلام یا نبی ﷺ کی توہین کے حوالے سے نہیں بلکہ تمام مذاہب کی توہین یا بے حرمتی کی سزا مقرر کی گئی تھی۔ اس میں کہا گیا کہ اگر کسی بھی مذہب کی بے حرمتی کا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو گریڈ 18 کے صوبائی یا وفاقی حکومت کے کسی افسر یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی اجازت کے بعد ایف آئی آر کا اندراج ہوگا۔
اس کے بعد 1974ء میں جب آئین پاکستان میں ترمیم کر کے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تو اس قانون پر ابتدائی کام ہوا۔ بعد میں جنرل ضیاء کے دور میں اس قانون میں 295.C کا اضافہ کر کے توہین رسالت کے مجرم کے لیے سزائے موت یا عمر قید کی سزا مقرر کی گئی۔ طریقہ کار وہی رکھا گیا کہ مجسٹریٹ کی اجازت کے بعد ایف آئی آر کا اندراج ہوگا۔ ہمیں اس قانون کے اس حصے پر اعتراضات اور تحفظات ہیں کیونکہ یہ دنیا کا پہلا اور واحد قانون ہے جس کی توثیق مجسٹریٹ سے کرانے کے بعد ایف آئی آر کا اندراج ہوتا ہے۔ اس کے بعد بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے دونوں ادوار میں توہین رسالت کے مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے عام عدالتوں میں منتقل کرنے کا قانون بنایا پھر قانون میں مزید ترمیم کر کے تفتیش کا حق ایس ایس پی (سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس) کو دیا گیا۔ اس طرح کی ترامیم کے بعد ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ مشرف کے دور حکومت میں توہین رسالت کے جرائم
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بتاؤ گستاخ نبی کی دیت کس نے دی رضوان
العاقبۃ الطاف حسین اور سلمان تاثیر کی لغویات ماہرین قانون کی نظر میں
میں اضافہ ہو گیا یہ قانون اب تک موجود ہے۔ اس قانون کے ذریعے سزا کے لیے بہت تھوڑی گنجائش رکھی گئی ہے بلکہ توہین رسالت کے مجرم کو ہر طرح سے رعایت دی گئی ہے۔ اگر اس پر کوئی الزام لگائے تو جب تک مجسٹریٹ اجازت دے وہ آسانی سے فرار ہو سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس قانون کے تحت غلط مقدمات درج کرائے جاتے ہیں ذاتی دشمنی یا عداوت ومخالفت کی بنا پر۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک مسلمان تو اس طرح کا تصور بھی نہیں کر سکتا ہے اور یہ کہ اگر کوئی آدمی توہین رسالت سے ہٹ کر کسی بھی معاملے یعنی چوری ڈکیتی، لڑائی جھگڑے کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرواتا ہے تو اس کے خلاف قانون موجود ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182 کے تحت اس کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے۔ یہ تو کوئی جواز ہی نہیں ہے کہ اس قانون کے تحت یا کسی اور جرم کی جھوٹی ایف آئی آرز درج ہوتی ہیں اس لیے یہ قانون ہی ختم کیا جائے۔ میں گورنر پنجاب اور عاصمہ جہانگیر کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ثابت کریں کہ ایک بھی توہین رسالت کا کیس غلط درج ہوا ہے اور توہین رسالت کا ملزم کسی عدالت سے یا پولیس کی تفتیش ہی میں بے گناہ ثابت ہوا ہے۔ میں نے ذاتی طور پر توہین رسالت کے 50 سے زیادہ کیس مختلف عدالتوں میں چلائے ہیں اور ان میں سب کو سزا ملی ہے کوئی بھی بے گناہ ثابت نہیں ہوا ہے۔ توہین رسالت کے تمام مقدمات غیر مسلموں کے خلاف ہی درج ہوئے ہیں لیکن کچھ ایسے افراد کے خلاف بھی مقدمات بنے ہیں جنہوں نے پہلے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا تھا بعد میں جب ان کے خلاف مقدمات چلے تو ثابت ہوا کہ وہ قادیانی تھے۔ کراچی کی عدالت میں ابھی ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔ ایک شخص نے ایس ایم ایس کے ذریعے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ ہمارا تو اس حوالے سے یہ مطالبہ ہے کہ دیگر جرائم کی طرح اس کی ایف آئی آر بھی فوری درج کی جائے اور ایسے حساس ترین نوعیت کے مقدمات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے۔ سابق صدر پرویز مشرف کی طرف سے کی گئی غیر قانونی ترامیم ختم کی جائیں۔ آئینی طور پر یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر کوئی اس قانون کو سرے سے ہی ختم کرنے کی بات کرتا ہے جس طرح الطاف حسین اور گورنر پنجاب کر رہے ہیں تو یہ پاکستان اور آئین سے غداری ہو گی کیوں کہ پاکستان تو بنا ہی اسلام کے نام پر ہے۔
جسٹس (ر) شفیع محمدی
﴿سندھ ہائی کورٹ﴾
قادیانیوں کو مسلمان قرار دینا امریکی سازش ہے۔ امریکی قادیانیوں کو پاکستان میں اور عالمی طور پر آگے لانا
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
الطاف حسین اور سلمان تاثیر کی لغویات ماہرین قانون کی نظر میں العاقب
چاہتے ہیں تاکہ دنیا کو یہ دکھایا جا سکے کہ مسلمان بھی ان کے ساتھ ہیں۔ قادیانی قطعی طور پر مسلمان نہیں ہیں۔ مذہبی اعتبار سے بھی اور آئینی و قانونی اعتبار سے بھی۔ مذہبی اعتبار سے یوں کہ پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر ان کے عقائد کا جائزہ لے کر ان کو کافر قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے 1993ء میں ان کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے انہیں مسلم شناخت کی تمام چیزیں استعمال کرنے سے منع کر دیا تھا اس طرح یہ معاملہ حل ہو گیا۔ عالمی طور پر انڈونیشیا، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں ان کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح ملک میں ایک تباہی کا آغاز ہو چکا ہے اس طرح کی باتیں کر کے ملک کو مزید تباہی و بربادی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ جو بھی گروہ یا پارٹی اس طرح کی باتیں کرتی ہے اس کے ممبران پارلیمنٹ کو آئینی اعتبار سے نااہل قرار دینا چاہیے۔
نعیم قریشی
جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ کراچی بار ایسوسی ایشن
قادیانیوں کو مسلمانوں کا فرقہ قرار دینا مذہبی، آئینی اور قانونی حوالوں سے ایک طے شدہ معاملہ کو چھیڑنا اور آئین و قانون کی خلاف ورزی تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ مسلمانوں کے دینی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے بھی برابر ہے۔ آئین و قانون میں واضح طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔ لہٰذا کچھ حلقوں کو خوش کرنے کے لیے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ایک غلط عمل ہے۔ قانون کے حوالے سے اگر کوئی قادیانی اپنے آپ کو مسلمان قرار دیتا ہے یا اپنی عبادت گاہ کو مسجد قرار دیتا ہے تو وہ سزا کا مستحق ہے۔ اس لیے جو بھی شخص قادیانیوں کو مسلمان قرار دے گا تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا۔ حکومت کو ان چیزوں کا سخت نوٹس لینا چاہیے کہ ملک جو پہلے ہی افراتفری کا شکار ہے اس میں اس طرح کی باتیں کیوں کہی جا رہی ہیں۔ کوئی مسلمان نبی کریم ﷺ کو آخری نبی نہ ماننے والے کو مسلمان نہیں کہہ سکتا ہے۔ جہاں تک قادیانیوں کو پاکستان میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق حاصل ہونے کی بات ہے تو انہیں یہاں ہر طرح کی آزادی میسر ہے ان کے کسی بھی بنیادی انسانی حق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ مسلمانوں کو ان کے ساتھ صرف یہ اختلاف ہے کہ یہ اپنے آپ کو مسلمان کہلا کر سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکا نہ دیں۔ سرکاری ملازمتوں میں ملک کے کلیدی عہدوں پر ماضی میں قادیانی فائز رہے ہیں اس وقت بھی ہیں۔ قادیانیوں کو پاکستان کے شہری کی حیثیت سے تمام حقوق حاصل ہیں۔ تمام مسلمان ان سے صرف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ نہ دیں اور اپنی شناخت الگ کروائیں۔
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
الطاف حسین اور سلمان تاثیر کی لغویات ماہرین قانون کی نظر میں العاقب
توفیق آصف ایڈووکیٹ
﴿صدر راولپنڈی بار ایسوسی ایشن﴾
آئین پاکستان کی رو سے قادیانی غیر مسلم ہیں لیکن آئین نے انہیں وہ تمام حقوق دیے ہیں جو دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ یہ شہری حقوق ہندو، عیسائی، سکھ اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی پاکستان میں حاصل ہیں۔ قادیانیوں کے بارے میں یہ رائے مصدقہ ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کے اس حصے کو نہیں مانتے جس میں انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے۔ آئین کی کسی ایک شق کو بھی نہ ماننے کی سزا تعزیرات پاکستان میں موجود ہے۔ اسی طرح ایسا شخص جو بے شک اپنے آپ کو پاکستانی اور مسلمان کہتا ہو لیکن آئین پاکستان کی قادیانیوں کے بارے میں شق یا دوسری کسی شق پر مکمل یقین نہ رکھتا ہو اور اسے ماننے میں اسے کسی قسم کا تامل ہو وہ بھی آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب کہلائے گا اور آئین کی خلاف ورزی کرنے والے کی تعزیرات پاکستان میں باقاعدہ سزا موجود ہے لہٰذا الطاف حسین چوں کہ آئین پاکستان سے بغاوت کے مرتکب ہوئے ہیں اگر وہ اعلانیہ اپنے الفاظ واپس نہیں لیتے تو پھر انہیں سزا ہو سکتی ہے۔ امتناع قادیانیت آرڈی نینس 1984ء میں قادیانیوں کو مسلمانوں کی رائج شدہ مذہبی اصطلاحات مثلاً اذان، نماز وغیرہ استعمال کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ اسی آرڈی نینس کے تحت میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسا شخص جو قادیانیوں کو کھلے عام غیر مسلم تسلیم نہیں کرتا، ان کی عبادت گاہوں کو مسلمانوں کی عبادت گاہ یعنی مساجد کے نام سے یاد کرتا ہے وہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی اور دین اسلام کی توہین کا ارتکاب کرتا ہے۔ آئینی و قانونی امور سے ہٹ کر ایک اور بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ قادیانیوں پر پاکستان میں کسی طور پر کوئی پابندی نہیں۔ خود کو مسلمان ظاہر کر کے وہ جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان پر اس معاشرے میں کوئی پابندی نہیں۔ ان کو مظلوم کہنے کا مطلب ہے کہ مسلمان ظالم ہیں حالانکہ ہمارے معاشرے میں دیگر اخلاقی برائیاں جتنی بھی ہوں غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ ہمارا مذہب غیر مسلموں سے حسن سلوک کا حکم دیتا ہے۔ اگر ظلم کسی نے دیکھنا ہو تو اسے بھارت پر ایک نظر ڈالنی چاہیے جہاں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی غیر محفوظ ہیں۔
عبد الرشید ایڈووکیٹ
﴿شریعت کورٹ بار ایسوسی ایشن﴾
1973ء کی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اور کافر قرار دیا ہے۔ اس اسمبلی میں بڑے بڑے قد آور
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب الطاف حسین اور سلمان تاثیر کی لغویات ماہرین قانون کی نظر میں
مذہبی اور سیاسی رہنما موجود تھے۔ مولانا ظفر احمد انصاری‘ مولانا مفتی محمود اور علامہ شاہ احمد نورانی جیسی مذہبی شخصیات کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو اور ولی خان جیسے سیکولر ذہن رکھنے والے رہنما بھی اس اسمبلی کے رکن تھے۔ الطاف حسین اپنے آپ کو جتنا چاہے سیکولر اور روشن خیال سمجھیں‘ ان قد آور شخصیات کے سامنے ان کی حیثیت طفل مکتب کی سی ہے۔ متحدہ کے قائد کے قادیانیوں کے بارے میں خیالات نہ تو کم علمی ہیں اور نہ ہی پہلی دفعہ سامنے آئے ہیں۔ ان کا اصل مسئلہ سیاسی بقا کا ہے۔ مغرب اور یورپ کے نزدیک اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنانے کے لیے وہ پہلے بھی ایسے کام کرتے رہے ہیں۔ پاکستان میں ان کے خلاف بے شمار مقدمات ہیں لہٰذا جب بھی انہیں کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے تو وہ کوئی نئی بات کر کے پاکستان میں اپنے لیے خطرات کی نشاندہی کر کے اہل مغرب کی ہمدردیاں سمیٹتے ہیں۔ الطاف حسین کے قادیانیوں کی مدد اور حمایت میں بیانات آئین و قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ آئین کی اس حوالے سے جو شقیں ہیں ان کی خلاف ورزی پر غداری کا مقدمہ کیا جاسکتا ہے۔ آئین کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی آئین سے غداری کے مترادف ہے۔
امین اولیس
﴿سابق صدر لاہور ہائی کورٹ بار﴾
قادیانیوں کو مسلمان قرار دینا سراسر بدنیتی پر مبنی عمل اور مسلم دشمن عالمی طاقتوں کو خوش کرنے کی حرکت ہے۔ اس طرح کی باتیں کرنے والے پاکستان میں ایک نیا محاذ کھڑا کر کے تصادم کرانے کی سازش اور پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ حکومت کو اس طرح کے سازشی عناصر کا نوٹس لینا چاہیے۔ 1974ء میں پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر ایک آئینی ترمیم کے ذریعے انہیں (قادیانیوں کو) غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔ بعد میں قادیانیوں نے شرارت کر کے 90 کے عشرے میں اپنے سینوں پر کلمہ شریف کے بیج لگانے شروع کیے‘ اپنی عبادت گاہوں کو مساجد قرار دے کر مسلمانوں کو دھوکے سے اپنے چنگل میں پھنسانے کی سازش کی۔ 1993ء میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے انہیں غیر مسلم قرار دے کر مسلم شناخت کی ہر چیز استعمال کرنے سے منع کر دیا تھا۔ اگر کسی سیاسی رہنما کو ان (قادیانیوں) کو مسلمان قرار دینے کا شوق ہے تو وہ پارلیمنٹ میں قرارداد لائے (اور اسے دو تہائی اکثریت سے پاس کرائے) تو اسے اپنی حیثیت کا پتہ چل جائے گا کہ اس ملک کے عوام اس سیاست دان کا کیا حشر کرتے ہیں۔ یہ قطعی طور پر غیر اسلامی‘ احمقانہ اور غیر آئینی بات ہے جو غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
ختم نبوت تحفظ ختم نبوت ہر مسلم کا فریضہ ہے ختم نبوت دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب الطاف حسین اور سلمان تاثیر کی لغویات ماہرین قانون کی نظر میں
منظور گیلانی ایڈووکیٹ
﴿صدر استقلال پارٹی﴾
یہ آئینی اور قانونی طور پر طے شدہ امر ہے کہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں۔ اب کوئی شخص انہیں مسلمان کہتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے بنیادی اسلامی معلومات کے ساتھ آئین وقانون کا بھی کوئی علم نہیں ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے ستمبر 1974ء میں اور سپریم کورٹ نے 1993ء میں واضح طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ اس معاملے پر حکومت کو نوٹس لینا چاہیے اور کاروائی کرنی چاہیے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی اس سے قبل کیے گئے تمام جرائم پر گرفت کی جاتی تو اس کے قائد کو اس طرح کا بیان دینے کی ہمت نہ ہوتی۔ انہوں نے 12 مئی کو قتل عام کیا‘ 19 اپریل کو وکلاء کو زندہ جلا دیا‘ اس سے قبل کراچی میں قتل عام کیا لیکن نہ جانے کیوں ملک کی مقتدر قوتوں کو ان کے جرائم نظر نہیں آتے ہیں۔ اب متحدہ کے قائد قادیانیوں کی حمایت کر کے آئین وقانون کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں‘ اب بھی اگر حکومت نے نوٹس نہیں لیا تو یہ بیرونی احکامات پر ملک میں مزید انتشار پھیلائیں گے۔
مولوی
جسے آپ حقارت سے مُلاں یا مولوی کہتے ہیں‘ یاد رہے وہ آپ سب سے زیادہ وقت کا پابند ہوتا ہے۔ جب آپ سب سو رہے ہوتے ہیں تو وہ فجر کی اذان دیتا ہے اور دن میں پانچ وقت یہی عمل دہراتا ہے۔ جس دین کے پیروکار انبیاء علیہم السلام کے نائبین (علماء) کو نشانہ تضحیک بنائیں ان کو اپنے دعویٰ پیروی و عقیدت پر نظر کرنی چاہیے۔
﴿بات سے بات‘ ص: ۱۰۴﴾
بتا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون توہین رسالت پر اعتراضات کیوں؟
قانون توہین رسالت پر اعتراضات
کیوں
اسلام دشمن اور متعصبین بالخصوص عیسائی مشنریاں اکثر یہ اعتراض کرتی رہتی ہیں کہ پیغمبر اسلام علیہ التحیۃ والسلام جب رحمۃ للعالمین ہیں تو پھر انہوں ﷺ نے اپنے مخالفین کو تہہ تیغ کیوں کرایا؟
حقیقت یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی ذات اور اپنے نفس کے لیے کبھی بھی کسی سے انتقام نہیں لیا، جس کی شہادت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے دی ہے اور خود تاریخ کا ایک ایک حرف اس پر گواہ ہے۔ شعب ابی طالب، بطحا کی وادیاں، طائف کی چٹانیں اور یثرب کے پہاڑ، سب آج بھی گواہی دے رہے ہیں کہ ہمارے آقا ومولا ﷺ نے اپنے جانی دشمنوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا۔ طائف میں بے سرو سامانی کی حالت میں جب آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے اور آپ سر سے پاؤں تک لہولہان ہو گئے۔ اس کے باوجود آپ ﷺ نے کفار کے لیے عذاب الٰہی اور قہر خداوندی کو دعوت نہیں دی بلکہ ان کے حق میں ان کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی۔
فتح مکہ کے موقع پر اسی شہر میں جہاں اہل مکہ نے ظلم وستم کی انتہا کر دی تھی۔ موت کی گھاٹی میں آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو محصور کر دیا تھا۔ تمام قبائل عرب نے ہم صلاح ہو کر (نعوذ باللہ) آپ کو شہید کرنے کے لیے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تھا اور آپ کو ایسی اذیتیں پہنچائی تھیں جو کسی پیغمبر کو نہیں دی گئیں۔ مگر جب آپ ﷺ ہزاروں جانثاران نبوت کے لشکر جرار کو لیے ہوئے فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے خونخوار دشمن سر نیچے کیے آپ کے سامنے منتظر مکافات کھڑے تھے اس وقت آپ ﷺ نے ﴿لا تثريب عليكم اليوم﴾ (آج کے دن تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی) کہتے ہوئے معافی کا اعلان فرمایا اور اپنے بدترین دشمن ابوسفیان کے گھر کو دارالامان قرار دیا۔ آپ کے چہیتے اور محبوب چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبانے والی ہندہ اور انہیں وحشیانہ طور پر قتل کرنے والے وحشی اور ان دشمنوں کو بھی جو آپ کے خون کے پیاسے تھے اس وقت معاف فرمایا جبکہ آپ تمام اہل مکہ سے انتقام لینے کی پوری طاقت اور قدرت رکھتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اس یہودی عورت کو بھی معاف فرمایا جس نے
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے بتا دو گستاخ کو غیرت مسلم زندہ ہے
العاقب قانون توہین رسالت پر اعتراضات کیوں؟
ایک بھنی ہوئی بکری سے آپ کی تواضع کی تھی لیکن پہلے لقمہ ہی نے آپ ﷺ کو بتلا دیا تھا کہ میں زہر آلود ہوں اور آپ ﷺ کے استفسار پر اس عورت نے اقرار جرم کرتے ہوئے بتلایا تھا کہ میں نے یہ اہتمام اس لیے کیا تھا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو زہر آپ پر اثر انداز نہیں ہوگا اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو ہماری قوم کو آپ ﷺ سے نجات مل جائے گی۔ ایسی دشمن جاں یہودیہ کو بھی آپ کے عفو کریمانہ کے دامن میں پناہ ملی۔
یہ ہے آپ کی شان رحمۃ للعالمینی کی ایک ادنیٰ سی جھلک۔ اسی وصف رحمۃ للعالمینی کی جھلک ان ہستیوں میں بھی صاف نظر آتی ہے جو آپ کے زیر تربیت رہی ہیں۔ آپ کے عم زاد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب ایک شہ زور دشمن اسلام پہلوان کو زیر کر لیا اور ان کا خنجر آب دار اس کی رگ گردن پر تھا اور اس نے اس خیال سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے منہ پر تھوک دیا کہ فوراً ہی اسے اس عالم جانکنی سے نجات مل جائے گی مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مشتعل ہو کر اس کا سر کاٹنے کی بجائے اسی وقت اسے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا اور دریافت پر بتلایا کہ پہلے تو وہ رضائے الہی کی خاطر درپے قتل تھے مگر تھوکنے کے بعد جب خواہش نفس نے انہیں فوری آمادہ قتل کیا تو انہوں نے اس کے قتل سے ہاتھ اٹھا لیا۔
حضور ﷺ تو اس دنیا میں انسان کو انسان کی اور ہر قسم کی غلامی سے آزاد کر کے خالق کی بندگی واطاعت قائم کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ اس لیے جو شیاطین آپ کو ہدف طعن وتشنیع اور نشانہ تضحیک بنا کر آپ ﷺ کے عالمگیر انقلاب کی راہ میں سنگ گراں بنے ہوئے تھے انہیں ہٹانا ضروری تھا کیونکہ اس کے بغیر انسانیت پیغمبر اسلام کے بے کراں فیوض وبرکات سے محروم رہ جاتی۔ انسان، انسان کا غلام بن کر رہ جاتا بلکہ شجر، حجر کی پرستش کر کے ہمیشہ کے لیے شرف انسانیت کھو بیٹھتا اور تسخیر کائنات کی جانب اس کا قدم کبھی نہ اٹھتا۔ اس لیے آپ کے بعد یہ ذمہ داری آپ کی امت کے سپرد ہوئی کہ وہ ایسے شیاطین سے براہ راست نمٹ لے۔
آپ ﷺ کی توہین وتنقیص دراصل شہنشاہ ارض وسماوات کی جناب میں گستاخی ہے اور اس قانون فطرت کے خلاف بغاوت ہے جو اللہ کے فرستادہ آخری پیغمبر ﷺ اس دنیا میں برپا کرنے آئے تھے۔ اس لیے ان گستاخان رسالت کو جو سزا دی گئی وہ عین شریعت الہی کے مطابق ہے جس کو یہ امت قائم کیے ہوئے ہے اور تا قیامت یہ قائم رہے گی۔ (وللہ المستعان)
بین الاقوامی اداروں کی جانب سے توہین رسالت کے قانون کے بارے میں استفسارات ہو رہے ہیں،
دُرِّ مکنون مقالہ: گستاخ کی توبہ غیر مسموع ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون توہین رسالت پر اعتراضات کیوں؟
چنانچہ اس اہم مسئلہ پر مسلم ماہرین قانون سے بھی معاونت طلب کی گئی اور دریافت کیا گیا تھا کہ برطانیہ اور امریکہ میں توہین مسیح (Blasphemy) سے متعلق کیا قوانین ہیں؟ اس کے علاوہ حقوق انسانی کے بعض نام نہاد اداروں کی جانب سے بھی اعتراضات آنے شروع ہو گئے تھے جس میں میری ذات کو بھی ہدف تنقید بنایا جا رہا تھا کیونکہ میں نے مسلم ماہرین کی تنظیم کی جانب سے یہ مسئلہ وفاقی شرعی عدالت میں اٹھایا تھا جہاں سے توہین رسالت کی سزا بطور حد ”سزائے موت“ مقرر ہوئی۔ پھر حکومت پاکستان کے سپریم کورٹ سے اپیل سے دستبردار ہونے کے بعد توہین رسالت کا قانون پاکستان میں نافذ العمل ہو گیا، جس پر فادر روفن‘ طارق سی قیصر (سابق ایم این اے) اور ان کے بعض ہم مذہب مسیحی لیڈروں نے ناخوشگوار ردعمل کا اظہار کیا اور اس قانون کو سال 1993ء کے انتخابات میں الیکشن ایشو بھی بنایا گیا اور یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ یہ قانون بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور بعض نے یہ بھی کہا کہ اس قانون کی وجہ سے اقلیتوں کے سر پر ننگی تلوار لٹک رہی ہے۔
یہ سارے اندیشے، خدشات اور اعتراضات سراسر بے بنیاد ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اسلامی قوانین اور قانون توہین رسالت سے کم علمی ہے جو لاعلمی اور جہالت سے بھی زیادہ خطرناک چیز ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ توہین رسالت کے جرم کی سزا صرف پیغمبر اسلام علیہ التحیۃ والسلام کی شان میں گستاخی کی حد تک محدود نہیں بلکہ قرآن وسنت کی روشنی میں وہ تمام پیغمبر اور رسول (جن میں سارے انبیائے بنی اسرائیل علیہم السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام بھی شامل ہیں) کی توہین اور تنقیص کی بھی وہی سزا مقرر ہے جو شاتم رسول کریم ﷺ کی ہے۔ اہل کتاب کو یقیناً اس بات کا علم ہو گا کہ بائبل میں نہ صرف رسولوں کی شان میں گستاخی کی سزا سزائے موت ہے بلکہ نائبین رسول ﷺ کے گستاخوں کو بھی واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔ (کتاب استثناء باب: 12:17) مجھے نہیں معلوم کہ پیروان مسیح اس صریح حکم کا کس طرح انکار کر سکتے ہیں اگر اپنی کتاب مقدس پر ان کا اعتقاد ہے!
اسلامی قانون تعزیر میں کسی جرم کی جتنی سنگین سزا مقرر ہے، اسی قدر کڑی شرائط بھی اس کے ثبوت کے لیے درکار ہیں۔ چنانچہ حد کی سزا میں شہادت کا معیار عام شہادت کے معیار سے بہت زیادہ سخت اور غیر معمولی ہے۔ حدود کی سزا کے لیے ایسے گواہوں کی شہادت قابل قبول ہوتی ہے جو گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتے ہوں۔ صادق القول اور عادل ہوں اور مزید برآں تزکیۃ الشہود کے معیار پر بھی پورا اترتے ہوں۔ حد کی سزا کا ایک بنیادی رکن ملزم کی نیت، ارادہ اور قصد ہے۔ ایسی تحریر یا تقریر جو انبیاء کرام علیہم السلام یا نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی نیت سے قصداً ہو تو اسے قابل مواخذہ جرم قرار دیا جائے گا۔ ارادہ اور نیت کا مصدر بھی حضور نبی کریم ﷺ کی وہ
نوٹ بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب قانون توہین رسالت پر اعتراضات کیوں؟
مشہور حدیث ہے جس میں فرمایا گیا ﴿انما الاعمال بالنیات﴾ بلاشبہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ نیت کے بغیر اسلامی قانون میں کوئی جرم مستوجب سزا نہیں ہے۔ صاحبان علم و دانش سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ شریعت اسلامی کی وجہ سے ”نیت“ اور ”ارادے“ کو دنیائے قانون میں سب سے پہلے اسلام ہی نے روشناس کرایا اور اسے موجودہ قانون جرم وسزا کے لیے بنیادی شرط قرار دیا گیا ورنہ رومن لاء (Roman law) میں ایسی کوئی شرط موجود نہیں تھی۔ اٹھارویں صدی سے قبل برٹش قوانین کے قانون تعزیر میں بھی اس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اس سلسلے میں انگلستان کی بعض عدالتوں نے بڑے دلچسپ فیصلے صادر کیے ہیں۔ یہاں برسبیل تذکرہ صرف ایک فیصلہ کا حوالہ دوں گا۔ ایک شخص درخت سے گر کر مر گیا تو اس ”قاتل درخت“ کو سزائے موت سنائی گئی اور اس کا تنا کاٹ کر اس سزا پر عمل درآمد ہوا۔
اس کے علاوہ ”شک“ کا فائدہ بھی اسلامی قانون کی رو سے ملزم کو پہنچتا ہے۔ اس کا ماخذ بھی وہ حدیث مبارکہ ہے جس میں حکم دیا گیا ہے ﴿ادرؤ الحدود بالشبهات﴾ حدود کی سزاؤں کو شبہات کی بنا پر ختم کیا جائے۔ اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد سے آج تک کسی ایک شخص کو پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے قانون توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت نہیں دی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قانون توہین رسالت ان تمام لوگوں کی زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے جن کے خلاف فرد جرم ثابت نہ ہو ورنہ سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد 1860ء میں جب برٹش گورنمنٹ نے ہندوستان میں قانون توہین رسالت کو منسوخ کیا تو اس کے بعد مسلمان سرفروشوں نے اس قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور گستاخان رسول کو قتل کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچاتے رہے۔
یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ جس وقت ہندوستان میں توہین رسالت کا اسلامی قانون منسوخ کیا گیا اس وقت انگلستان میں قانون توہین مسیح (Blasphemy) ملک کے قانون عام (Common law) کے طور پر رائج تھا اور آج بھی وہاں کے کامن لاء کا حصہ ہے اور انگلستان کے مجموعہ قوانین (Statutory Book) میں شامل ہے۔ قانون توہین رسالت کے پاکستان میں نافذ ہو جانے کے بعد اب اس کی سزا کا معاملہ افراد کے ہاتھوں کی بجائے عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آ گیا، جو تمام حقائق اور شہادتوں کا بغور جائزہ لے کر جرم ثابت ہونے کے بعد ہی کسی ملزم کو مستوجب سزا قرار دے گی۔ اگر جرم توہین رسالت کی سزائے حد کے لیے اسلام کے معیار شہادت کے مطابق مطلوب گواہ موجود یا دستیاب نہ ہوں تو سزائے حد موقوف ہو جائے گی۔ لیکن وہاں اسلام کا قانون تعزیر حرکت میں آئے گا کیونکہ جہاں حد کی شرائط پوری نہ ہوں وہاں اسلامی اصول قانون کے رو سے ملزم کو نہیں بلکہ مجرم
نوٹ مبتلائے گستاخی کو غیرت مسلمہ نہ سہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا، وہ بھی
العاقب قانون توہین رسالت پر اعتراضات کیوں؟
کو تعزیری سزا دی جائے گی۔
اس اصول قانون کا ماخذ بھی وہ حدیث مبارکہ ہے جس میں فرمایا گیا ﴿ان الله ليزع بالسلطان ما لا يزع بالقرآن﴾ حق سبحانہ و تعالیٰ ہیئت مقتدرہ کے ذریعہ ان چیزوں کا سد باب کرتے ہیں جن کا سد باب قرآن کے ذریعہ نہیں کیا جاتا۔ یہاں ہیئت مقتدرہ سے مراد احکام الٰہی نافذ کرنے والا ادارہ ہے جس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کی زمین میں فساد اور بگاڑ کو پھیلنے سے روکے۔
مسیحی برادری کو قانون توہین رسالت کا خوش دلی سے خیر مقدم کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس قانون کی رو سے سیدنا مسیح اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام جنہیں عیسائی اور مسلمان سب ہی اپنا پیغمبر برحق مانتے ہیں‘ کی شان میں گستاخی اور اہانت قابل تعزیر جرم بن گیا ہے اور ان کی اہانت اور توہین کی وہی سزا مقرر ہے جو خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی جناب میں گستاخی کی سزا ہے۔ مسلمان ان تمام پیغمبران کرام علیہم السلام کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جیسا کہ یہودی اور عیسائی اپنے پیغمبروں کا احترام کرتے ہیں‘ اس لیے وہ ان کے بارے میں کسی قسم کی گستاخی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ان پیغمبروں کے علاوہ اسلام کے احکام کے مطابق مسلمانوں کو دیگر مذاہب کے پیشواؤں کے خلاف بھی اہانت کی اجازت نہیں اور نہ ہی انہوں نے آج تک ایسی شرارت کی ہے۔
یہودی فلم ساز مارٹن اسکورسس کی انتہائی شرمناک فلم ”مسیح کی آخری ترغیب جنسی“ (The Last Temptation Of Christ) جو سال 1988ء میں لندن کے سینما گھروں میں دکھلائی جا رہی تھی‘ اس میں معاذ اللہ حضرت مسیح کو ایک آبرو باختہ طوائف کے ساتھ سرگرم دکھلایا گیا تھا۔ میں ان دنوں لندن میں مقیم تھا۔ ہماری دینی حمیت اسے ہرگز برداشت نہ کر سکی چنانچہ ہماری اپیل پر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف عیسائیوں ہی کے نہیں بلکہ مسلمانوں کے بھی واجب الاحترام پیغمبر ہیں‘ اس فلم کی نمائش بند ہونی چاہیے۔ اس کے بعد لندن میں مسلمانوں نے خاموش احتجاجی مظاہرے کیے جس پر بالآخر وہ فلم فلاپ ہوگئی۔
مسیحی برادری اور اقلیتی فرقوں کے رہنماؤں اور ان کے پیروکاروں کی نیت پر ہمیں شبہ نہیں۔ جب وہ ہمارے پیغمبر کی توہین اور گستاخی نہیں کریں گے تو پھر انہیں ڈر اور خوف کس بات کا ہے؟ کیا قانون بلاوجہ ان کے خلاف حرکت میں آجائے گا یا پھر پاکستان کی عدلیہ ان بے گناہ لوگوں کو جو توہین رسالت کے مجرم نہیں پھانسی کی سزا سنائے گی یا کیا وہ پاکستان میں پیغمبر اسلام علیہ السلام کے خلاف گستاخی اور توہین کے لیے کھلا لائسنس طلب کر رہے ہیں؟ ان میں جب کوئی بات بھی قرین قیاس نہیں تو پھر اس کی منسوخی کے مطالبہ کا آخر کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟
مٹانے گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
تعاقب اہم خبروں پر نظر
اہم خبروں پر نظر
تمام قادیانی الطاف حسین کی کامیابی کے لیے دعا کریں (مرزا مسرور)
لندن (نمائندہ خصوصی) جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا مسرور احمد نے متحدہ کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے قادیانیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر دنیا بھر کے قادیانیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ الطاف حسین کی جرات، حق گوئی میں اضافے اور کامیابی کے لیے دعا کریں۔ انہوں نے الطاف حسین سے بھی اپیل کی کہ وہ پاکستان کے جاہل علماء اور مولویوں کی باتوں میں نہ آئیں اور قادیانیوں سے متعلق اپنی حق گوئی کو سیاست اور مصلحت کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ساری دنیا کے قادیانیوں سے ایم ٹی وی پر اپنی خصوصی تقریر میں کیا۔ مرزا مسرور نے روزنامہ امت میں شائع ہونے والی خبروں پر بھی تنقید کی اور علمائے کرام کے خلاف بھی لغو زبان کا استعمال اور ہرزہ سرائی کی۔ اپنے ایک گھنٹہ طویل خطاب میں مرزا مسرور نے کہا کہ آج پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے اور جس طرح وہاں کے عوام شور مچا رہے ہیں، مہنگائی ہے، ظلم و زیادتی کا بازار گرم ہے، یہ سب اس لیے ہے کہ پاکستان میں ”زمانہ کے امام“ کے خلاف قانون بنا کر ان کے ماننے والوں پر ظلم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پاکستانی علماء کو جاہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ہندو، سکھ اور عیسائی اللہ عز وجل اور محمد ﷺ کے نام کا لاکٹ پہن لے تو یہ بہت خوش ہوتے ہیں، تب انہیں بے حرمتی یاد نہیں آتی لیکن اگر کوئی قادیانی اپنی مسجد میں اللہ عز وجل ومحمد ﷺ کا نام لگا لے تو یہ اسے توڑ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان جاہل علماء اور مولویوں کا عالم یہ ہے کہ وہ ٹی وی پر آ کر کہتے ہیں کہ صرف وہ مسلمان کہلانے کے لائق ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر دنیا میں کوئی مسلمان ہے تو وہ احمدی (مرزائی، قادیانی) ہیں۔ مرزا مسرور نے دعویٰ کیا کہ حضور ﷺ نے ہمیں خود مسلمان قرار دیا ہے اور احادیث اس کا واضح ثبوت ہیں، ہمیں کسی پارلیمنٹ یا مولوی سے اپنے مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے متحدہ کے سربراہ الطاف حسین سے ہونے والے رابطوں
مرزا کے جھوٹ بولنا پاکستان ٹی وی نے سکھا دیا ہے ان پر بنے حاشیہ پڑھیے تعاقب اس میں ہے
العاقب اہم خبروں پر نظر
کے حوالے سے کہا کہ اخبارات سنسنی پھیلاتے ہیں ملاقات کے بارے میں الطاف حسین اگر کہنا چاہتے تو خود کچھ کہہ دیتے میں اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ الطاف حسین نے بہت جرأت کا مظاہرہ کیا ہے اور بہت کھلے انداز میں پاکستان میں احمدیوں پر ہونیوالے مظالم پر آواز بلند کی ہے۔ ان کا بیان کافی اچھا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ملک میں امن چاہتے ہیں فرقہ واریت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ہر محب وطن پاکستانی بھی یہی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کامیاب کرے وہ کبھی سیاسی مصلحت کا شکار نہ ہوں۔ مرزا مسرور نے کہا کہ ختم نبوت والوں کے حوالے سے الطاف حسین کا یہ بیان بھی میری نظر سے گزرا ہے کہ انہوں نے ان مولویوں کو مطمئن کر دیا ہے مجھے نہیں پتہ کہ الطاف حسین نے انہیں کیا کہا اور کیسے مطمئن کیا ہے لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ وہ جرأت کا مظاہرہ کریں گے۔
﴿روزنامہ امت کراچی 13 ستمبر 2009ء﴾
پنجاب میں متحدہ کو فعال کرنے کے لیے قادیانی جماعت سرگرم
لندن (خبر نگار خصوصی) قادیانی جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا مسرور احمد نے پنجاب میں متحدہ قومی موومنٹ کو فعال کرنے کے لیے الطاف حسین کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ قادیانی جماعت کے وفد نے لندن میں متحدہ کے سربراہ سے ملاقات کر کے انہیں اس حوالے سے پیغام پہنچایا جبکہ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا مسرور احمد نے خود بھی الطاف حسین سے رابطہ کیا ہے جس میں انہوں نے ایم کیو ایم کو ملک بھر خصوصاً پنجاب میں فعال کرنے کے لیے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے قادیانیوں کے حق میں آواز اٹھانے پر متحدہ قائد کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس سلسلے میں دنیا بھر میں موجود قادیانی الطاف حسین کو اظہار تشکر کے فیکس اور ای میلز بھیج رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ کے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا مسرور احمد نے ایم کیو ایم کو ملک بھر خصوصاً پنجاب میں فعال کرنے کے لیے الطاف حسین کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں قادیانی جماعت کے وفد نے لندن میں متحدہ قائد سے ملاقات کی جبکہ مرزا مسرور احمد نے خود بھی الطاف حسین سے رابطہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان رابطوں میں طے پایا ہے کہ قادیانی جماعت پنجاب میں متحدہ سے مکمل تعاون کرے گی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں قادیانیوں کے حق میں آواز بلند کرنے پر قادیانی قیادت نے الطاف حسین کی پذیرائی کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 روز کے دوران دنیا بھر کے
مجلہ ختم نبوت بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اہم خبروں پر نظر
قادیانی افراد نے الطاف حسین کو 7 ہزار سے زائد شکریہ کے خطوط و پیغامات ارسال کیے ہیں۔ ان پیغامات میں الطاف حسین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کے خاتمے اور قادیانیوں کے حقوق کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرانے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قادیانی وفد نے ملاقات اور مرزا مسرور احمد کے الطاف حسین سے رابطے میں پاکستان میں قادیانی عبادت گاہوں کے تحفظ کے حوالہ سے بھی بات کی۔ الطاف حسین نے قادیانیوں کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کی مذمت کی اور کہا کہ پارلیمنٹ میں اس حوالے سے متحدہ بھر پور آواز اٹھائے گی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مرزا مسرور احمد نے متحدہ کو ملک گیر سطح پر فعال ہونے کے لیے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے جبکہ خصوصیت کے ساتھ پنجاب کی سطح پر متحدہ سے تعاون کیا جائے گا۔
﴾روزنامہ امت کراچی 7 ستمبر 2009ء﴿
الطاف حسین کے حق میں علماء سے رابطہ کی کوششیں ناکام
لندن (نمائندہ خصوصی) ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے قادیانیوں کی حمایت میں جاری بیان سے پنجاب میں پیدا ہونے والے منفی ردعمل سے متحدہ قیادت سخت پریشان ہے۔ دوسری طرف متحدہ رہنما دباؤ ڈالنے کے باوجود الطاف حسین کی جانب سے بعد میں جاری کردہ نیم وضاحتی بیان پر نامور علماء کی حمایت حاصل نہیں کر سکے، جس پر لندن قیادت نے رابطہ اور مذہبی کمیٹی کے رہنماؤں پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق متحدہ پنجاب کی آرگنائزنگ کمیٹی نے اپنی ایک سروے رپورٹ میں لندن قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ الطاف حسین کی جانب سے قادیانیوں کے حق میں بیان اور اس پر علماء و مذہبی حلقوں کے ردعمل کے سبب پنجاب کے مضافاتی علاقوں اور شہروں میں ایک بار پھر متحدہ کے حوالے سے منفی رجحان سامنے آیا ہے اور پنجاب کے عوام عوامی حمایت مہم میں خاطر خواہ ردعمل ظاہر نہیں کریں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے عوام مذہبی معاملات خصوصاً ختم نبوت کے حوالے سے بہت حساس ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ مقتدر اور نامور علماء سے الطاف حسین کی وضاحت کی حمایت کرائی جائے اور اسے زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے تاکہ پنجاب کے عوام میں ایم کیو ایم کے حوالے سے پیدا ہونے والے منفی ردعمل کو کم کیا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کمیٹی کی رپورٹ پر متحدہ کے سربراہ الطاف حسین نے رابطہ اور مذہبی کمیٹی کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان کے وضاحتی بیان کے حق میں علما سے بیانات جاری کرائیں۔ ذرائع کے مطابق لندن قیادت کے حکم پر مقامی رہنماؤں نے چاروں مکاتب فکر کے نامور اور مقتدر علماء سے انفرادی سطح پر
ختم نبوت بتلادو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اہم خبروں پر نظر
رابطے کر کے الطاف حسین کے وضاحتی بیان کی حمایت کی درخواست کی تھی اور اس مقصد کے لیے علما پر دباؤ بھی ڈالا گیا تاہم بیشتر علما نے رابطے کرنے والوں پر واضح کیا کہ وہ اس وقت تک الطاف حسین کے حق میں بیان نہیں دیں گے جب تک متحدہ قائد اعلانیہ طور پر قادیانیوں کو کافر قرار نہیں دیتے۔
﴿روزنامہ امت کراچی 24 ستمبر 2009ء﴾
قائمہ کمیٹی نے توہین رسالت قانون کے ازسر نو جائزے کی تجویز دی
اسلام آباد (ایجنسیاں/ مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ملک بھر میں بسنے والی اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکومت کو تجویز دی ہے کہ توہین رسالت کے قانون کا از سرنو جائزہ لے کر اس قانون کے ناجائز استعمال کے سدباب کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں کمیٹی چیئرمین ریاض فتیانہ کی صدارت میں تجویز دی گئی کہ وزارت تعلیم بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے نصاب تعلیم میں ایک نئے باب کا اضافہ کرے اور لاؤڈ اسپیکر کا بے حد استعمال بند کرایا جائے۔ اس موقع پر گوجرہ واقعہ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے فیصل آباد کے ریجنل پولیس آفیسر احمد رضا نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے نتیجے میں 5 افراد کے نام سامنے آئے تھے جن میں سے چار کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ ایک ملزم نفیس الرحمٰن گرفتار نہیں ہو سکا۔ ان سب کا تعلق کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآنی آیات کی بے حرمتی اتفاقیہ طور پر ہوئی۔ طالب مسیح جو ردی اکٹھی کرنے کا کام کرتا ہے 25 جولائی کو اس کے بیٹے کی شادی ہونی تھی اور اس رات مہندی کی رسم کے دوران کچھ بچوں نے طالب مسیح کے گھر پر پڑی ردی کو نوٹوں کی شکل میں کاٹا اور مہندی کے وقت اسے پھینکتے رہے۔ اس واقعہ کا علم اس وقت ہوا جب اگلے روز کچھ کاغذات گلیوں میں پڑے ہوئے تھے جن پر قرآنی آیات درج تھیں۔
﴿روزنامہ امت کراچی 2 ستمبر 2009ء﴾
توہین رسالت ﷺ کے قانون میں بعض شقوں کا خاتمہ ناگزیر ہے گورنر پنجاب
لاہور (آن لائن) گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے قانون میں بعض ایسی شقوں کا دور کرنا ضروری ہے جن سے معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ لاحق ہو۔ گورنر ہاؤس لاہور میں صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے افطار ڈنر کے موقع پر گورنر نے کہا کہ اسلام میں کسی ایک شخص کا ناجائز قتل پوری انسانیت کے قتل
ختم نبوت بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
(العاقب) اہم خبروں پر نظر
کے مترادف ہے اور یہی میرے آقا کا فرمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ذاتی دشمنی لینے کے لیے مخالفین پر توہین رسالت کا غلط الزام لگا دیتے ہیں اور عوام کو اشتعال دلا کر لوگوں کے جان و مال کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ ہمیں ذاتی دشمنیوں کے لیے نبی کریم ﷺ کی پاک ہستی کا نام قطعا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ سلمان تاثیر نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون میں ترامیم کر کے معصوم لوگوں کے جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
﴿روزنامہ امت کراچی 20 ستمبر 2009ء﴾
پنجاب بار کونسل گورنر پنجاب کے بیان کی مذمت میں متفقہ قرارداد
پنجاب بار کونسل کے زیر اہتمام سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں گورنر پنجاب کی جانب سے توہین رسالت کا قانون ختم کرنے کے بیان کی مذمت میں اتفاق رائے سے قرارداد منظور کی گئی۔ اس فیصلے پر کانفرنس کے شرکاء نے بعض سخت جملے استعمال کیے۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کانفرنس کے مہمان خصوصی تھے جنہوں نے خطاب میں دعا کی کہ اللہ ملک کو صالح حکمران عطا کرے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج میاں نذیر اختر نے خطاب کرتے ہوئے توہین رسالت کے قانون کا حوالہ دیا اور کہا کہ آج کل یہ قانون ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں جبکہ یہ قانون مسلمان کا عقیدہ ہے۔ غازی علم الدین شہید کی طرح اس اصول پر جس نے بھی عمل کیا وہ عظیم منصب پا گیا۔ آج بھی ہر مسلمان اس پر بخوشی عمل کرنے کو تیار ہے۔
﴿روزنامہ امت کراچی 18 ستمبر 2009ء﴾
عاصمہ جہانگیر نے توہین رسالت قانون ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا
لاہور (این این آئی) جوائنٹ ایکشن فار پیپلز رائٹس کی رہنما عاصمہ جہانگیر نے توہین رسالت کا قانون فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت اس قانون کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتی تو اسے اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔ توہین رسالت کے متعلق تمام کیسز کو ماتحت عدالتوں کے بجائے ہائیکورٹس میں سنا جائے اور عدالتوں میں بیٹھے ججز یاد رکھیں کہ اگر وہ اس میں انصاف نہیں کریں گے تو ان کو بھی اٹھا کر عدالتوں سے باہر پھینک دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
ترانہ ختم نبوت بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے ۹۵
العاقب اہم خبروں پر نظر
کیا۔ اس موقع پر جوائنٹ ایکشن فار پیپلز رائٹس کے دیگر رہنما آئی اے رحمان، پروفیسر حسین، فاروق طارق اور دیگر بھی موجود تھے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ہر کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرے لیکن ضیاء الحق کی طرف سے بنائے جانے والے قوانین کی وجہ سے آج توہین رسالت قانون کے نام پر نہ صرف اقلیتوں بلکہ مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ سب کو مذہب کی زنجیریں پہنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی کی جا رہی ہیں، جن کا اصل مقصد موجودہ جمہوری نظام کو نقصان پہنچانا ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اگر سیاست کے معاملے میں مذہب کو لایا گیا تو ضیاء الحق اور موجودہ حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی ایسا قانون نہیں جس میں مذہب کے نام پر سزائے موت دی جاتی ہو۔
﴿ روزنامہ امت کراچی 17 ستمبر 2009ء ﴾
توہین رسالت قانون میں ترمیم سیاسی رہنما
اسلام آباد (ثناء نیوز / آن لائن) سیاسی رہنماؤں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر توہین رسالت کی تنسیخ یا اس میں ترمیم کی کوشش ہوئی تو بھر پور مزاحمت کی جائے گی اور بدامنی پھیل سکتی ہے۔ وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نے بیرون ملک دورے سے واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کو چھیڑنا مناسب نہیں، ایسا ہوا تو مزید بدامنی پھیلے گی، ہر مذہب کا احترام ضروری ہے۔ دریں اثنا مسلم لیگ (ق) کے مرکزی صدر چوہدری شجاعت حسین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ توہین رسالت قانون میں تنسیخ یا ترمیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس قانون کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا اور مزاحمت کی جائے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ توہین رسالت قانون کا غلط استعمال نہ ہو، اس بارے میں مناسب تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں، اقلیتوں کا تحفظ ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ توہین رسالت قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ انتہائی غیر سنجیدہ اور کم فہمی پر مبنی ہے۔ یہ کمزور دلیل دی جاتی ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے، تعزیرات پاکستان کی ہر دفعہ کا غلط استعمال ہو سکتا ہے لہٰذا یہ سوچ ہی غلط ہے۔
﴿ روزنامہ امت کراچی 20 ستمبر 2009ء ﴾
شعر بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اہم خبروں پر نظر
الطاف حسین نے قادیانیوں کی عبادت گاہ کو مسجد کہہ کر آئین کی خلاف ورزی کی (راجہ ظفر الحق)
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین اور موتمر عالم اسلامی کے پاکستان میں نمائندے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اگر غیر مسلموں کے لیے کوئی عبادت گاہ بنانا چاہتے ہیں تو یہ ان کی مرضی ہے لیکن ان پر یہ واضح ہونا چاہیے کہ احمدی، مرزائی، قادیانی ان تمام فرقوں کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور 1974ء میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے انہیں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔ الطاف حسین نے قادیانیوں کی عبادت گاہوں کو مسجد کہا لیکن پاکستان کے عدالتی حکم کی روشنی میں قادیانیوں کی عبادت گاہ کو کسی صورت مسجد نہیں کہا جا سکتا۔ یہ آئین اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے اور حب رسول ﷺ کے بھی منافی ہے۔
﴿روزنامہ امت کراچی 11 ستمبر 2009ء﴾
قادیانیوں کے خلاف مقدمات ختم کرانے کی تیاری
کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ نے پاکستان بھر میں قادیانیوں اور مرزائیوں کے خلاف درج توہین رسالت، توہین صحابہ اور قرآن کریم کی بے حرمتی کے مقدمات کی تفصیلات عدالتوں میں جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔ متحدہ ان مقدمات کے خاتمے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے۔ صوبہ سندھ میں قادیانیوں کے خلاف 27 مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن میں 11 مقدمات کراچی کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان کی تفصیلات متحدہ قومی موومنٹ کے ذرائع نے کراچی کی عدالتوں سے مقدمات میں نئے وکالت ناموں کی درخواستوں کے ذریعے حاصل کر لی ہیں۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں متحدہ کے قائد الطاف حسین نے قادیانی رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک بھر خاص کراچی سمیت سندھ میں ان کے لوگوں کے خلاف درج ہونے والے مقدمات ختم کرائے جائیں گے اور مفرور ملزمان کو تبلیغ کرنے کے لیے اجازت دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق متحدہ نے سندھ بھر کی عدالتوں میں قادیانیوں کے خلاف زیر سماعت مقدمات کی تفصیلات جمع کرنے کے لیے بھی حکمت عملی طے کر لی ہے۔ اہم ذریعے نے ”امت“ کو بتایا ہے کہ متحدہ کے ذرائع نے قادیانیوں کے خلاف زیر سماعت توہین رسالت کے جن مقدمات کی تفصیلات حاصل کی ہیں ان میں 3 مقدمات ایسے بھی شامل ہیں جو گزشتہ 18 برس کے عرصے سے زیر سماعت ہیں اور جنہیں 1990ء میں ٹنڈو آدم سے کراچی
فراز
دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اہم خبروں پر نظر
کی سیشن کورٹ جنوبی میں منتقل کیا گیا تھا۔ مذکورہ تینوں مقدمات میں گستاخ رسول قاضی منیر احمد قادیانی ملوث ہے۔ ملزم نے 1991ء میں تینوں مقدمات میں 10,10 ہزار روپے کی ضمانتیں حاصل کیں اور ضمانت پر رہا ہونے کے بعد عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (جنوبی) عبدالنعیم میمن کی عدالت میں زیر سماعت توہین رسالت کے ایک اور مقدمے کی تفصیلات بھی متحدہ نے حاصل کر لی ہیں، جس میں ملزم خورشید احمد پر الزام ہے کہ اس نے 16 جون 2005ء کو چاکیواڑہ تھانے کی حدود میں واقع بسم اللہ بلڈنگ میں قرآن مجید کی بے حرمتی کی۔ علاوہ ازیں توہین آمیز لٹریچر تقسیم کرنے اور قادیانیت کی تبلیغ کے الزام میں ملوث مرزا مبارک احمد کا مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (جنوبی) نمبر 3 کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اسی عدالت میں زیر سماعت مقدمے میں ملزم منور احمد پر الزام ہے کہ اس نے 2007ء میں مدعی مقدمہ خورشید احمد کے فون پر ایس ایم ایس کیے جن میں حضور اکرم ﷺ ، صحابہ کرام اور اہل بیت کی شان میں گستاخانہ کلمات ادا کئے۔ سیشن کورٹ (جنوبی) کی عدالت میں زیر سماعت توہین رسالت کے مقدمے میں ملزم شمس الحسین پر الزام ہے کہ اس نے 2003ء میں ملک کے معروف ڈاکٹروں جن میں صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود بھی شامل ہیں، کو خطوط لکھے اور ان خطوط میں خود کو امام مہدی کے علاوہ رسول آخر الزماں تحریر کیا۔ ملزم محکمہ ڈاک میں آفیسر ہے اور ڈیوٹی پر ہے۔ سیشن کورٹ (جنوبی) عبدالنعیم میمن کی عدالت میں زیر سماعت مقدمے میں ملزم شیخ سکندر پر الزام ہے کہ اس نے 2009ء میں پاکستان بھر میں سیرت معصومیت نامی 8 لاکھ کتابیں تقسیم کیں، جس میں اس نے لکھا کہ (نعوذ باللہ) قرآن مجید مشکوک کتاب ہے، قرآن مجید کے الفاظ الف۔ لام۔ میم جیسے اشارے کر کے کہا گیا کہ ان شکوک کو دور کرنے کے لیے نئی کتاب نازل ہو رہی ہے جو کہ ان کے مذہبی پیشوا (ملعون) کے پاس ہے۔ انتہائی اہم ذرائع کے مطابق متحدہ نے عید الفطر کے بعد اپنے مختلف افراد کے ذریعے مذکورہ تمام مقدمات کی تفصیلات جمع کی ہیں اور مختلف لوگوں نے قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات کی نقول عدالتوں سے وصول کی ہیں۔ ذریعے نے ”امت“ کو مزید بتایا کہ متحدہ کے قائد الطاف حسین اور رابطہ کمیٹی کے ارکان نے قادیانیوں کے خلاف مقدمات کے حوالے سے وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور اقلیتوں کے امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی سے رابطے کئے ہیں اور مزید رابطے جاری رکھنے کا عزم بھی کیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک سے متحدہ کے قائد نے قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات کو ختم کروانے کے لیے خصوصی سفارش کی ہے۔ عدالتی ذریعے نے ”امت“ کو بتایا کہ بعض مقدمات جو سرکار کی مدعیت میں درج ہوئے ہیں ان کو ترجیحی بنیادوں پر ختم کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے جبکہ دیگر مقدمات حکومتی
نعرہ بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب اہم خبروں پر نظر
سطح پر دباؤ ڈال کر ختم کرانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ متحدہ کے قائد نے قادیانیوں کے مرکزی رہنماؤں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ عید الاضحیٰ سے قبل مقدمات کے خاتمے کے لیے خاص پیشرفت کر لی جائے گی۔ دریں اثنا سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمین محمود الحسن نے کہا کہ جن مقدمات میں سرکار مدعی ہے، ان کا خاتمہ تو ممکن ہو سکتا ہے لیکن جن مقدمات میں مدعی شہری ہیں، ان کا خاتمہ آسان نہیں ہوگا۔ ورلڈ ریفارم کمیشن کے چیئرمین مقبول الرحمن ایڈووکیٹ نے اس حوالے سے ”امت“ کو بتایا کہ جس طرح متحدہ قومی موومنٹ کے لوگوں کے خلاف سرکاری مدعیت میں درج جرائم، قتل و غارت گری کے مقدمات ہوم سیکرٹری اور حکومت نے واپس لئے ہیں اور عدالتوں نے مقدمات خارج کر دیے ہیں۔ اسی طرح قادیانیوں کے خلاف درج سرکاری مدعیت والے مقدمات واپس ہو سکتے ہیں لیکن آئین اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قوانین کے اندر ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں جس سے قادیانی سزاؤں سے بچ سکیں۔
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ظرافت امام ابن جوزی
امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کتاب الاذکیاء میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حاجب (چوکیدار) کے پاس آیا اور اسے کہا کہ معاویہ کو اطلاع کرو کہ آپ کا باپ شریک اور ماں شریک بھائی دروازے پر ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حاجب سے حال معلوم کر کے فرمایا کہ میں نے تو اس کو پہچانا نہیں۔ اچھا چلو بلا لو۔ جب یہ شخص سامنے پہنچا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تو میرا بھائی کس طرح ہے؟ اس نے کہا کہ میں آدم اور حوا کا بیٹا ہوں۔ یہ سن کر انہوں نے غلام کو حکم دیا کہ اس کو ایک درہم دے دو۔ اس شخص نے کہا اپنے بھائی کو جو کہ ماں اور باپ دونوں میں شریک ہے آپ ایک درہم دے رہے ہیں؟ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنے ان سب بھائیوں کو جو آدم اور حوا کی اولاد میں ہیں دینے بیٹھوں گا تو تیرے حصے میں یہ بھی نہیں آئے گا۔
﴿کتاب الاذکیاء المعروف لطائف علمیہ، ص: ۷۱﴾
نعرہ بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے دین پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے طرز
العاقب وہ لیڈر کون ھوتے ہیں؟
وہ لیڈر کون ہوتے ہیں؟
محمد یعقوب طاهر
اعزہ پروری لکھی ہے جن کی داستانوں میں
شرابیں چل رہی ہیں شان سے جن کے گھرانوں میں
جو ہیں سٹے کے جوئے کے زنا کے پاسبانوں میں
خدا سے روکنے والے وہ لیڈر کون ہوتے ہیں؟
حیا سوزی کی، عریانی کی اور گانے بجانے کی
خیانت، جھوٹ، مکر اور چور بازاری چلانے کی
نہیں ہے کچھ رکاوٹ جن کے ہاتھوں سود کھانے کی
خدا سے روکنے والے وہ لیڈر کون ہوتے ہیں؟
کسی کا چھین کر حق جو گھر اپنے بھرنے والے ہیں
خدا کو چھوڑ کر جو ماسویٰ سے ڈرنے والے ہیں
شکم کے واسطے جو جینے والے مرنے والے ہیں
خدا سے روکنے والے وہ لیڈر کون ہوتے ہیں؟
جو لاکھوں بھائیوں کو حال سے بے حال کر ڈالیں
جو ساری قوم کو بدمست و کنگال کر ڈالیں
جو اپنی معصیت کوشی میں ماہ و سال کر ڈالیں
خدا سے روکنے والے وہ لیڈر کون ہوتے ہیں؟
جو رہبر بھی نرالے تھے جو رہزن بھی نرالے ہیں
، باطن بھیڑیئے لیکن بظاہر بھولے بھالے ہیں
فرنگی ساحروں کے واسطے جو تر نوالے ہیں
خدا سے روکنے والے وہ لیڈر کون ہوتے ہیں؟
جو روسی گرگ کو انسانیت کا سر کچلنے دیں
جو الحاد اور بے دینی کے جذبوں کو مچلنے دیں
درخت مرزائیت کو جو پاکستان میں پھلنے دیں
خدا سے روکنے والے وہ لیڈر کون ہوتے ہیں؟
دین پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
العاقب سکندر مرزا کی قبر پر شاپنگ سنٹر
سکندر مرزا کی قبر پر شاپنگ سینٹر
احمد شکیل میاں
سکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر تھے ان کی ذاتی اور سیاسی کردار کے حوالہ سے تاریخی طور پر جو شواہد موجود ہیں انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سکندر مرزا کن حالات میں اور کس پس منظر کے ساتھ برسر اقتدار آئے تھے اور پھر بعد ازاں ان کے نام دین اور وطن دشمنی پر مبنی کیسے کیسے کارنامے منسوب ہوئے۔ اس کی تمام تفصیلات سے قطع نظر کرتے ہوئے صرف یہ جان لینا ہی کافی ہے کہ 1953ء میں دشمنان ختم نبوت قادیانی فتنہ کے خلاف برپا ہونے والی تحریک ختم نبوت کے دوران ان کا کردار چنگیز خان اور ہلاکو خان سے مختلف نہ تھا۔ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے سکندر مرزا کے ایما پر ہی 10 ہزار فدایان ختم نبوت کو گولیوں سے چھلنی کروا دینے کے احکامات جاری کئے تھے اور ان کی میتیں چھانگا مانگا کے جنگلات میں لے جا کر جلا دی گئی تھیں۔ اس ہولناک واقعہ کے حوالہ سے معروف مسلم لیگی لیڈر سردار عبدالرب نشتر کا یہ بیان اپنی جگہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ ”شہدائے ختم نبوت کے قاتلین پر مشتمل ٹولہ ساری زندگی ایک لمحہ بھی سکھ چین سے نہیں گزار سکا۔ ان کی زندگی کا ایک ایک پل عبرت گاہ اور ان کا انجام اس سے بھی زیادہ عبرت مقام تھا“۔
جنرل سکندر مرزا کی اولاد آج بھی زندہ ہے اور ان کے بڑے بیٹے ہمایوں مرزا کے بقول وہ خاندانی پس منظر کے اعتبار سے میر جعفر کے خاندان سے ہیں اور انہیں اس پر فخر ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ سکندر مرزا اور شاہ ایران اپنے انجام کے اعتبار سے حیرت انگیز مماثلت رکھتے ہیں۔ شاہ ایران کو اگر ایران میں دفن ہونا نصیب نہیں ہوا تو سکندر مرزا بھی پاکستان میں دفن نہیں ہو سکے بلکہ انہیں دفن کے لیے دو گز زمین ایران میں میسر آئی۔ اب معلوم ہوا ہے کہ اس قبرستان پر ایک شاپنگ پلازہ تعمیر ہو چکا ہے۔ تاریخ کا یہ عبرت ناک سبق ہر دور کے ظالم و جابر حکمران نجانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ
بالخصوص غداران ختم کے انجام پر نظر ڈالی جائے تو یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ زیر نظر مضمون امریکہ میں مقیم ایک صحافی جناب احمد شکیل میاں کی سکندر مرزا کے بڑے بیٹے ہمایوں مرزا سے ملاقات کے احوال پر مبنی ہے۔ اس ملاقات میں ہمایوں مرزا نے ایسے شرمناک انکشافات کیے ہیں کہ جنہیں پڑھتے ہوئے بحیثیت ایک عام پاکستانی، دل غمزدہ اور سر شرم سے جھکا جارہا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
سکندر مرزا کی قبر پر شاپنگ سنٹر العاقب میاں صاحب یہ بائیں طرف آپ دیکھ رہے ہیں؟ جی ہاں! مرزا صاحب یہ تو برننگ ٹری کنٹری کلب ہے۔ یہاں بیٹھ کر ایوب خان نے سی آئی اے کے ساتھ مل کر میرے والد کو صدر پاکستان کے عہدے سے معزول کرنے کی سازش کی تھی۔ ایوب خان کو میرے والد نے اسلحہ خریدنے کے لیے واشنگٹن بھیجا تھا اور اس کے ساتھ امجد کو بھی بھیج دیا تھا تا کہ وہ اس پر نظر رکھے لیکن ایوب ہر شام امریکی افواج کے جوائنٹ چیف سے ملنے کے بہانے Burning tree country club آجاتا اور سی آئی اے کے اہلکاروں کے ساتھ میرے والد کو معزول کرنے کی پلاننگ کرتا رہتا۔ یہ بات پاکستان کے پہلے صدر ”میجر جنرل سکندر مرزا“ کے بڑے بیٹے ”ہمایوں مرزا“ نے اس وقت بتائی جب ہم ان کے ساتھ ورجینیا کے ایک حلال ریسٹورنٹ میں لنچ کھانے کے بعد انہیں میری لینڈ میں ان کے گھر چھوڑنے جا رہے تھے۔ میری لینڈ میں ہمایوں مرزا کا درمیانہ سا گھر واشنگٹن سے پانچ چھ میل دور اور برننگ ٹری کنٹری کلب سے ایک میل سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔ حالات اتفاقات اور تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ہمایوں مرزا جب بھی اپنے گھر سے نکلتے ہیں تو انہیں برننگ ٹری کنٹری کلب کے سامنے سے ہی گزرنا پڑتا ہے۔ ان کے ذہن میں تو نجانے اس وقت کون کون سے طوفان اٹھتے ہوں گے۔ ہمایوں مرزا نے چند سال قبل ایک کتاب بھی لکھی تھی جس کا نام From Plassey to Pakistan ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے بڑے فخر سے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ”میر جعفر“ ان کے جد امجد تھے۔ اس کتاب میں ہمایوں مرزا نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نواب سراج الدولہ کو انگریز سے شکست میر جعفر کی غداری کی وجہ سے نہیں بلکہ خود اپنی نااہلی کی وجہ سے ہوئی تھی۔
ہمایوں مرزا سے ہماری پہلی ملاقات دو سال سے زیادہ عرصہ قبل واشنگٹن پالیسی اینالیسس گروپ کے ایک ڈنر میں ہوئی تھی اور ہم نے اس ملاقات کی ایک رپورٹ بھی لکھی تھی۔ ابھی چند ہفتے قبل لنچ کی ایک دعوت میں ان سے اچانک پھر ملاقات ہوگئی۔ ہم نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں لنچ کی دعوت دے دی جو انہوں نے بغیر کسی اعتراض کے قبول کر لی۔ مرزا صاحب کی سفری مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ طے ہوا کہ ہم بدھ 28 فروری کو میری لینڈ میں انہیں ان کے گھر سے لے کر کسی دیسی ریسٹورنٹ میں لے جائیں گے اور ہم ساری دوپہر اکٹھے رہیں گے اور پاکستان اور ان کی فیملی کے متعلق باتیں کریں گے۔ لنچ سے فارغ ہونے اور ڈھیر ساری باتیں کرنے کے بعد جب شام ساڑھے چار بجے کے قریب ہم انہیں ان کے گھر چھوڑنے کے لیے گئے تو انہوں نے کہا کہ اندر آجاؤ مل کر کافی پیتے ہیں۔ سلیقے سے سجائے ہوئے صاف ستھرے گھر میں ہمایوں مرزا اپنی برازیلی
العاقب سکندر مرزا کی قبر پر شاہنگ سنٹر
نژاد بیوی ”مارٹلیا“ اور ایک سفید بلی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس بلی کا نام تو انہوں نے ہمیں نہیں بتایا لیکن مرزا صاحب نے یہ ضرور بتایا کہ ان کے والد کے پاس ایک بڑا چہیتا کتا تھا جس کا نام سکندر مرزا نے ”ملا“ رکھا ہوا تھا۔ جب سکندر مرزا قبائلی علاقوں میں پولیٹیکل ایجنٹ تھے اور قبائلی عمائدین انہیں ملنے کے لیے ان کے دفتر میں آتے تو سکندر مرزا ان باریش عمائدین کی موجودگی میں ”ملا“ کو بار بار آواز ضرور دیتے۔
اپنی فیملی کے متعلق انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ کا نام رفعت بیگم تھا جن سے وہ چھے بہن بھائی تھے۔ ان کی بڑی بہن فوت ہو چکی ہیں اور تین بہنیں اب بھی پاکستان میں رہتی ہیں جبکہ ان کا اکلوتا بھائی ”انور مرزا“ جنرل سکندر مرزا کے دور حکومت میں ہی جہاز کے حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ انور مرزا عمر میں ہمایوں مرزا سے چھوٹے تھے اور رائل پاکستان ایئر فورس میں پائلٹ تھے۔ ہمایوں مرزا دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے چھوٹے بھائی نے پاکستان ایئر فورس کا جہاز بچاتے ہوئے اپنی جان دے دی تھی کیونکہ اس حادثے سے کچھ ہی عرصہ قبل ”سکندر مرزا“ نے ایئر فورس کی ایک تقریب میں پائلٹوں سے اپیل کی تھی کہ وہ حادثے کی صورت میں ہر ممکن جہاز بچانے کی کوشش کریں کیونکہ اس وقت پاکستان کے پاس جہازوں کی قلت تھی۔ ہمایوں مرزا نے کہا کہ اگر انور کو جہاز بچانے کی فکر نہ ہوتی تو وہ حادثے کے شروع میں ہی جہاز سے کود کر اپنی جان بچا لیتا۔
ہمایوں مرزا کہتے ہیں کہ ان کے والد سکندر مرزا ان کی والدہ رفعت شیرازی (رفعت بیگم) کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تھے اور خصوصاً ناہید الخانی کے ساتھ دوسری شادی رچانے کے بعد تو وہ کبھی رفعت بیگم کو ملے بھی نہیں۔ ساتھ ہی ہمایوں مرزا یہ بھی کہتے ہیں کہ ناہید سکندر مرزا کے ساتھ رہتی ضرور رہی لیکن انہیں اس بات کا یقین نہیں کہ ان کے والد نے باقاعدہ ناہید سے نکاح کیا بھی تھا کہ نہیں کیونکہ نہ تو انہیں کبھی ایسی کوئی دستاویز ملی ہے اور نہ ہی ناہید نے ایسی کوئی دستاویز کبھی کسی کو دکھائی جس سے سکندر مرزا اور ناہید کا نکاح ثابت ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ناہید پاکستان میں ایرانی ملٹری اتاشی کی مطلقہ تھی اور پاکستانیوں کو اچھا نہیں سمجھتی تھی جس کی وجہ سے سکندر مرزا کے قریبی دوست آہستہ آہستہ ان سے چھوٹتے گئے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ خود ایوب خان بھی ناہید کے سلوک سے نالاں تھے اور ناہید نے سکندر مرزا کے دوسرے دو قریبی دوستوں اور اتحادیوں اورنگ زیب اور خادم شاہ کو بھی ان سے دور کر دیا تھا۔ اسی طرح جب ایوب خان نے جنرل مرزا کو سبکدوش کیا تو اس وقت تک سکندر مرزا کے سب دوست ناہید کے ناقابل برداشت رویے کی وجہ سے انہیں چھوڑ چکے تھے۔
سکندر مرزا کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے ہمایوں مرزا نے کہا کہ سکندر مرزا انتہائی نا آسودگی کی حالت میں اپنی
العاقب سکندر مرزا کی قبر پر شاپنگ سنٹر
سترویں برتھ ڈے والے دن لندن میں فوت ہوئے اور ان کی فیملی چاہتی تھی کہ انہیں کراچی میں دفن کیا جائے لیکن یحییٰ خان نے اس کی اجازت نہیں دی۔ ایرانی حکومت نے سرکاری طور پر انہیں تہران میں جنرل زاہدی کے مقبرے کے ساتھ دفن کر دیا۔ جنرل زاہدی ایران کے وزیرخارجہ اردشیر زاہدی کے والد تھے اور انہوں نے سی آئی اے کی مدد کے ساتھ ایران کے وزیراعظم ڈاکٹر مصدق سے شاہ ایران کو دوبارہ حکومت لے کر دی تھی۔ خمینی کے اقتدار میں آنے کے بعد انقلابیوں نے جنرل زاہدی کا مقبرہ مسمار کر دیا تھا اور اب سنا ہے کہ جنرل زاہدی اور جنرل سکندر مرزا کی قبروں کے اوپر شاپنگ سنٹر تعمیر ہو چکا ہے۔
ہمایوں مرزا نے بتایا کہ ایران میں پاکستان کے سفیر شاہنواز کے علاوہ حکومت پاکستان کا کوئی نمائندہ جنرل مرزا کی آخری رسومات میں شامل نہیں ہوا اور شاہنواز کی شرکت بھی اپنی ذاتی حیثیت سے تھی نہ کہ وہ حکومت پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ہمایوں مرزا نے انکشاف کیا کہ ان کا پاسپورٹ ابھی تک پاکستانی ہے اور وہ اپنے باپ کی معزولی کے بعد پاکستان جانا چاہتے تھے لیکن ایوب خان نے انہیں اس کی اجازت نہ دی بلکہ انہیں خاموش رکھنے کے لیے ان کی ماں کو پاکستان سے باہر نہ نکلنے دیا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بھٹو انہیں اپنی حکومت میں شامل کرنا چاہتے تھے لیکن وہ چونکہ نیشنلائزیشن کے مخالف تھے اس لیے وہ بھٹو کی حکومت میں شامل نہیں ہوئے۔ بھٹو کے ساتھ اپنی دوستی کی تاریخ بتاتے ہوئے ہمایوں مرزا نے کہا کہ ایک دفعہ امریکی سفیر اور ان کے سسر ”ہوریس ہلڈرتھ“ نے ان سے کہا کہ لاڑکانہ کا ایک نوجوان وڈیرہ جو حال ہی میں امریکہ سے پڑھ کر واپس لوٹا ہے بار بار ان سے تقاضا کرتا ہے کہ امریکی سفیر ایک دفعہ اس کی زمینوں پر شکار کھیلنے کے لیے ضرور آئیں۔ مسٹر ہلڈرتھ نے مرزا صاحب سے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس نوجوان وڈیرے کی دعوت قبول کرنے سے پہلے مرزا صاحب ایک دفعہ اس سے مل کر اس کے متعلق کوئی رائے قائم کر لیں۔ ہمایوں مرزا نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ایک ہی ملاقات میں ان کی بھٹو کے ساتھ دوستی ہو گئی اور اس کے بعد مسٹر ہلڈرتھ بھی بھٹو کی میزبانی سے بڑے محظوظ ہوئے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ امریکی سفیر کے ساتھ ملنے کے بعد بھٹو نے مطالبہ کیا کہ سکندر مرزا بھی ان کے گوٹھ میں آ کر شکار پر ان کے مہمان بنیں۔
یہاں سے بھٹو اور سکندر مرزا کے تعلقات کا آغاز ہوا اور سکندر مرزا نے بھٹو کی ذہانت اور شخصیت سے متاثر ہو کر انہیں وفاقی وزیر بنا دیا۔ بعد میں سکندر مرزا کی معزولی کے باوجود ایوب خان نے انہیں وزارت کے عہدے پر بحال رکھا۔ ہمایوں مرزا نے اپنی یادداشت کو ٹٹولتے ہوئے بتایا کہ ایک دفعہ وہ اپنے والد کو لندن میں پارک لین کے
ختم نبوت ۶
العاقب سکندر مرزا کی قبر پر شاپنگ سنٹر
ایک ریسٹورنٹ میں کھانے پر لے گئے اور جب وہ ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے تو اتفاق سے بھٹو بھی ”آغا ہلالی“ کی معیت میں اس ریسٹورنٹ میں آ گئے ۔ آغا ہلالی نے ریسٹورنٹ میں سکندر مرزا کو بیٹھا ہوا دیکھ کر بھٹو کے بالکل سامنے آ کر کوشش کی کہ وہ سکندر مرزا کو نہ دیکھ سکیں لیکن جب بھٹو نے سکندر مرزا کو دیکھا تو وہ سیدھے ان کی ٹیبل پر آ کر بیٹھ گئے اور ان کے ساتھ مل کر کھانا کھایا جبکہ آغا ہلالی اور وفد کے دوسرے ارکان نے دوسری ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا کھایا ۔ مرزا صاحب نے بتایا کہ ان کے والد سکندر مرزا‘ بھٹو کو بہت عزیز رکھتے تھے اور بھٹو نے بھی آخری وقت تک حتی کہ ان کی صدارت سے سبکدوشی کے بعد تک ان کے ساتھ اپنی نیاز مندی قائم رکھی ۔ ہمایوں مرزا نے بتایا کہ ان کے والد سکندر مرزا‘ بھٹو کو بڑی محبت کے ساتھ کراچی کے ایوان صدر میں اپنے سامنے بٹھا کر شراب پلاتے تھے اور جب بھٹو نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عنان حکومت سنبھالی تو ایک دفعہ وہ یعنی ہمایوں مرزا انہیں ملنے کے لیے کراچی گئے ۔ ہمایوں مرزا نے بتایا کہ بھٹو نے انہیں اپنے ساتھ بٹھایا اور شراب کا ایک پیگ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ بڑے مرزا صاحب بھی بھٹو کے ساتھ ایسی ہی شفقت کا مظاہرہ کرتے تھے ۔ اس موقع پر اچانک ایک پرانا سوال ہمیں یاد آیا ۔ ہم نے ہمایوں مرزا سے پوچھا کہ بھٹو کے دور میں بلوچستان میں ایک زلزلہ آیا تھا اور پاکستان کو اسلامی ممالک سے خاصی بڑی مالی امداد ملی تھی ۔ اس امداد میں سے 75 ملین ڈالر کا ایک چیک غائب ہو گیا تھا جو کرنل قذافی نے پاکستان کو دیا تھا ۔ جواب میں ہمایوں مرزا نے کہا کہ انہوں نے بھی بھٹو سے ان 75 ملین ڈالروں کے متعلق پوچھا تھا اور بھٹو نے ان کے سوال کا براہ راست جواب دینے کے بجائے سکندر مرزا کی لندن میں مالی مشکلات سے عبارت پر صعوبت زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صرف اتنا کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ حکومت چھوڑنے کے بعد وہ بھی اپنی لانڈری دھلوانے کے لئے بسوں میں دھکے کھاتے پھریں ۔
بھٹو اور ایوب خان کے درمیان اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے ہمایوں مرزا نے بھٹو کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ بھٹو نے انہیں تاشقند سے واپسی پر بتایا تھا کہ تاشقند میں روسیوں نے شاستری اور ایوب خان کو اکیلے ایک کمرے میں بند کر کے انہیں کہہ دیا تھا کہ جب تک تم کسی فیصلے پر نہیں پہنچتے تمہیں باہر نہیں نکالا جائے گا ۔ بھٹو نے انہیں بتایا کہ بند کمرے میں ایوب خان نے شاستری کے سامنے جو پسپائی اختیار کی تھی وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں تھی جس پر انہوں نے تاشقند سے واپسی پر وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے دیا جو ایوب خان نے منظور نہیں کیا ۔ بھٹو نے ہمایوں مرزا کو بتایا کہ جب انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دیا تو ایوب خان نے انہیں بلا کر حکم دیا کہ وہ اپنا استعفیٰ واپس لے لیں اور کہا کہ میری کابینہ سے کوئی وزیر استعفیٰ نہیں دیتا ۔ یا میں اسے
(العاقب) سکندر مرزا کی قبر پر شاپنگ سنٹر
نکالتا ہوں یا وہ کام کرتا ہے۔ تیسری صورت میں میں اسے کالا باغ (معروف نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان) کے حوالے کر دیتا ہوں۔
ہارورڈ کے پوسٹ گریجویٹ 78 سالہ ہمایوں مرزا 1987ء میں ایک سال تک جنرل ضیاء الحق کے ایڈوائزر بھی رہے ہیں اور ضیاء الحق نے انہیں محمد خان جونیجو کی حکومت میں شمولیت کی دعوت بھی دی تھی لیکن کچھ ہی عرصے بعد یہ حکومت نہ رہی، اور پھر نہ رہی جونیجو کی حکومت اور نہ رہے خود ضیاء الحق ۔ مرزا صاحب نے کہا کہ ان کی درخواست پر ضیاء الحق نے انہیں اسلام آباد کے کسی دفتر میں باقاعدہ بیٹھنے سے مستثنیٰ قرار دے دیا تھا اور وہ باقاعدگی سے ٹیلی فون پر ہی مختلف امور پر ضیاء الحق کو اپنی آراء سے مطلع کر دیا کرتے تھے۔ ضیاء الحق کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے مرزا صاحب نے بتایا کہ ضیاء الحق کے ساتھ ان کے تعلقات ان کے حکومت میں آتے ہی استوار ہو گئے تھے اور انہوں نے ضیاء الحق سے بھٹو کی جان بخشی کی پرزور سفارش بھی کی تھی لیکن ضیاء الحق نے دو ٹوک کہہ دیا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نے بھٹو کی اپیل نہ مانی تو وہ بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیں گے۔ مرزا صاحب نے بتایا کہ ان کے بار بار کے اصرار پر ضیاء الحق نے ایک دفعہ انہیں تاثر دیا تھا کہ اگر بے نظیر فوج کے خلاف وائٹ پیپر نکالنا بند کر دیں تو شاید وہ بھٹو کی جان بخشی کر دیں۔ اس کے بعد وہ بے نظیر کے پاس گئے اور انہیں اس بات سے آگاہ کیا لیکن بے نظیر نے فوج کو کوئی رعایت دینے سے انکار کر دیا۔
ایوب خان کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے ہمایوں مرزا نے بتایا کہ کینیڈی کے دور میں جب ایوب خان امریکہ کے سرکاری دورے پر آئے تو ایوب خان نے ان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن انہوں نے ایوب خان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ تاہم بعد میں ایک دفعہ ان کی وائٹ ہاؤس میں ایوب خان سے اس وقت ملاقات ہو گئی جب ایوب خان ایک پرائیویٹ وزٹ پر امریکہ آئے ہوئے تھے۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ ایوب خان نے انہیں بتایا کہ انہیں اب بھی سکندر مرزا کے ساتھ محبت ہے اور اگر سکندر مرزا اس عورت (ناہید) سے بروقت جان چھڑا لیتے تو انہیں سکندر مرزا کو سبکدوش نہ کرنا پڑتا۔ جب شام سات بجے کے قریب ہم نے ہمایوں مرزا سے اجازت چاہی تو انہوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ ملاقات میں وہ ہمیں نواب سراج الدولہ کا وہ خنجر دکھائیں گے جو انگریزوں نے سراج الدولہ سے چھین کر ان کے جد امجد میر جعفر کو دیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭
ختم نبوت
العاقب قادیانی رہنما کو حج کوٹے کا اجراء
قادیانی رہنما کو حج کوٹے کا اجراء
وفاقی وزارت حج و مذہبی امور نے پشاور سے تعلق رکھنے والے قادیانی رہنما و سابق رکن پارلیمنٹ کو حج کوٹہ جاری کر دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ سابق رکن پارلیمنٹ ملک نسیم الدین خالد موٹو ” ٹریول نامی ٹریول ایجنسی کے مالک ہیں جو وفاقی وزارت حج سے نہ صرف رجسٹر ڈ ہے بلکہ گزشتہ چند برسوں سے اس کمپنی کو ہر سال حج کوٹہ بھی باقاعدگی سے جاری کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس مذکورہ کمپنی کو وزارت حج نے 80 حاجیوں کا کوٹہ جاری کیا تھا جبکہ اس سال ان کے کوٹے میں اضافہ کر کے 120 حاجی کر دیا گیا ہے جبکہ قوانین کے مطابق کسی غیر مسلم کو حج آرگنائزر کی حیثیت کا لائسنس جاری نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع نے بتایا کہ چند برس قبل جب موٹو ٹریول ایجنسی کو وزارت حج نے حج کوٹے کے لیے رجسٹرڈ کیا تھا تو اس وقت بھی نسیم الدین خالد کے حوالے سے اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ وزارت حج نے ایک غیر مسلم پاکستانی کو حج کوٹہ کیوں جاری کیا ؟ بعد ازاں کمپنی کے مالکان نے معاملے کو دبانے کے لیے کمپنی کے ہی ایک آدمی جبار کو چیف ایگزیکٹو ظاہر کر کے معاملہ ٹھنڈا کر دیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ نسیم الدین خالد موٹو ٹریول ایجنسی کے فارم 29 میں دوبارہ چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے شامل ہو چکے ہیں جبکہ جبار نامی شخص کا نام کمپنی کے دیگر ارکان میں شامل ہے۔ واضح رہے کہ نسیم الدین خالد 1990ء کے انتخابات میں پشاور سے اقلیتی رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے منتخب ہوئے تھے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس وقت جاری کردہ نوٹیفکیشن میں نسیم الدین خالد کو قادیانیوں کا منتخب نمائندہ قرار دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ سعودی حکومت نے قادیانیوں کے سعودی عرب میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت حج کی جانب سے ایک قادیانی شخص کی ٹریول کمپنی کو حج کوٹہ جاری ہونے سے اس بات کا خدشہ بھی موجود ہے کہ مذکورہ کمپنی کے پلیٹ فارم سے قادیانیوں کو مسلمانوں کے روپ میں حج پر روانہ کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں بھی کسی غیر مسلم شہری کی ٹریول ایجنسی کو حج کوٹہ جاری نہیں کیا جاتا اور نہ ہی وہاں غیر مسلم فرد کو حج کے حوالے سے کسی قسم کے انتظامی امور انجام دینے کی اجازت ہے۔
﴿روزنامہ امت کراچی 29 اگست 2009ء﴾
قادیانیت و ختم نبوت
العاقب اسرائیلی حکومت قادیانیوں کی پشت پناہ
اسرائیلی حکومت
قادیانیوں کی پشت پناہ
لندن (نمائندہ خصوصی) اسرائیلی حکومت نے اسلام دشمنی میں قادیانی جماعت کی پشت پناہی شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے قادیانی جماعت کو اسرائیل میں مکمل تحفظ و تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے، قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا مسرور احمد اور اسرائیلی صدر کے درمیان براہ راست بات چیت و تعلقات کے بعد اسرائیل نے قادیانیوں کو دنیا بھر میں مالی تعاون فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیل کے شہر حیفہ میں قادیانی جماعت کی دعوت پر صہیونی صدر شمعون پیریز نے خصوصی تقریب میں شرکت کی ہے۔ قادیانی جماعت اسرائیل میں بطور مسلمان جماعت سرگرمیاں شروع کر چکی ہے اور اپنی عبادت گاہیں بھی تعمیر کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق شمعون پیریز اور قادیانی جماعت کے اسرائیل میں موجود نمائندوں کے درمیان 2 ماہ قبل بھی تفصیلی مذاکرات ہوئے تھے۔ یہ مذاکرات مرزا مسرور احمد کے شمعون پیریز سے رابطے کے بعد ہوئے۔ ذرائع کے مطابق مرزا مسرور احمد نے اسرائیل کی اسلام دشمن سرگرمیوں کی حمایت کی ہے اور دنیا بھر میں موجود قادیانیوں کی طرف سے اسرائیل کو حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شمعون پیریز چند ہفتے قبل باقاعدہ جماعت احمدیہ کی تقریب میں شریک ہوئے ۔ اس تقریب کی ویڈیو کلپس قادیانیوں کو خصوصی طور پر فراہم کی گئی ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی اور قادیانی قیادت کے درمیان ہونے والے رابطے کے بعد مرزا مسرور کی ہدایت پر حیفہ شہر میں باقاعدہ قادیانی مرکز قائم کر دیا گیا ہے جبکہ دنیا بھر میں قادیانیوں اور اسرائیل کے حامیوں کے درمیان رابطے کے لیے خصوصی نمائندے بھی مقرر کیے جارہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 6 ماہ قبل مرزا مسرور احمد اور شمعون پیریز کا بعض مغربی سفارتکاروں کے توسط سے رابطہ ہوا تھا۔ اس رابطے کو قادیانی قیادت نے کئی ماہ خفیہ رکھا تاہم شمعون پیریز کی خواہش پر رابطوں کی تفصیلات اور تعلقات سے متعلق معلومات دنیا بھر کے خاص خاص قادیانیوں کو فراہم کی گئیں۔ قادیانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل، قادیانی قیادت کی سرپرستی کر کے اور انہیں مسلمانوں کی جماعت قرار دلوا کر دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس کی حامی ہے۔ ذرائع
عزم نو
العاقب اسرائیلی حکومت قادیانیوں کی پشت پناہ
کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران قادیانی قیادت نے اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کی جو شمعون پیریز اور مرزا مسرور کے درمیان طے پانے والے خفیہ معاہدے کے سبب ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مرزا مسرور نے بیت المقدس پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو بھی درست تسلیم کرلیا ہے‘ تاہم جب تک قادیانیوں کو اسرائیل میں مکمل تحفظ و سرکاری طور پر مسلمان جماعت کا اعلانیہ درجہ نہیں ملتا اس وقت تک مرزا مسرور بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو جائز قرار دینے کے حوالے سے کوئی بیان دینے کو تیار نہیں ہیں۔
﴿روزنامہ امت کراچی 22 جنوری 2009ء﴾
الدنیا
یہ لفظ قرآن مجید میں 115 مرتبہ آیا ہے۔ اس کا معنی ہے نزدیک ترین چیز۔ دنیا چار دن کی ہے • ایک دن بچپن کا • دوسرا دن لڑکپن کا • تیسرا دن جوانی کا • چوتھا دن بڑھاپا۔
لفظ آخرت بھی قرآن میں 115 مرتبہ آیا ہے۔ دنیا کو دنیا کہتے بھی اس لیے ہیں کہ یہ آخرت کے قریب ہے۔
- • آپ پیدا ہوئے تو ننگے تھے • مرے تو سفید لباس لوگوں نے پہنایا گویا زندگی صرف
اتنی ہے کہ نہائے‘ لباس پہنا اور چل دیے۔
فی الدنیا‘ حب الدنیا خطرناک ہے۔ آپ دنیا میں حُبّ آخرت اختیار کریں۔ دنیا کی مثال خارش جیسی ہے۔ خارش والا خارش کی جگہ خارش کرے تو اسے بڑا مزا آتا ہے۔ اگر اس لُطف میں محو ہو جائے تو خون نکلنا شروع ہو جائے گا۔ یہی حال دنیا سے دل لگانے والے کا ہوگا۔ آغاز میں لطف ومزا۔ انجام میں ہلاکت‘ درد اور تکلیف۔
﴿بات سے بات‘ ص:۱۰۳﴾
العاقبت
سید الشہداء رضی اللہ عنہ
نفرین ستمگاراں کرب و بلا
بر در حسین سید الشہداء
نخلِ زہرا شہزادہ گلگوں قبا امداد کن
اے حسین اے مصطفےٰ را راحتِ جاں نورِ عین
راحتِ جاں نورِ عینم دہ بیا امداد کن
اے زحسن خلق و حسن خلق احمد نسخہ
سینہ تا پا شکلِ محبوبِ خدا امداد کن
جانِ حسن ایمانِ حسن اے کانِ حُسن اے شانِ حُسن
اے جمالت لمعِ شمعِ من رأى امداد کن
جان زہرا و شیر خدا را زور و ظہیر
زہرت ازہار تسلیم و رضا امداد کن
اے بواقع بیکسانِ دہر را زیبا کسے
اے بظاہر بیکس در دشت جفا امداد کن
اے گلویت گہ لبانِ مصطفےٰ را بوسہ گاہ
گہ لب تیغ لعیں را حسرتا امداد کن
اے تنِ تو گہ سوار شہسوار عرش تاز
گہ چناں پامالِ خیلِ اشقیا امداد کن
اے دل و جانہا فدائے تشنہ کامیہائے تو
اے لبِ شیریں رضینا بالقضا امداد کن
ہے چہ بحر و تشنگی کوثر لب و ایں تشنگی
خاک بر فرقِ فرات از لب تشنہ امداد کن
ابر گو ہرگز مباد و نہر گو ہرگز مریز
خود لب تسلیم و رضا را امداد کن
نامعلوم
العاقبۃ دار الافتاء
دار الافتاء
مولانا محمد الیاس عطار قادری امیر دعوت اسلامی پاکستان
- ختم نبوت کے منکرین یعنی جو قادیانیوں کو کافر نہ مانے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
- مرزائیوں (قادیانیوں) کے کفر پر مطلع ہو کر انہیں کافر نہ سمجھنے والا خود کافر مرتد ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، ج : ١٤، ٣٢١، ملخصاً)
اس میں قادیانیوں کے تمام گروہ شامل ہیں۔ وہ قادیانی بھی جو مرزا غلام احمد کو نبی مانیں اور وہ بھی جو مرزا کو مجدد یا مسیح مانیں اور وہ بھی جو اُن میں سے تو کچھ نہ مانیں مگر اس کو محض مسلمان مانیں بلکہ وہ بھی کافر و مرتد ہیں جو اس کے عقائد کو جاننے کے باوجود اس کے کافر ہونے پر شک کریں ۔ قادیانی عقائد کی تفصیل میرے آقا اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خاں علیہ رحمۃ الرحمٰن کے رسائل میں موجود ہے جو رد مرزائیت کے نام سے مل سکتے ہیں ۔
﴿ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص:٨٣ ﴾
- اگر کفر قطعی ہو (مثلاً قادیانی کا کفر) اور کوئی مفتی اس میں اختلاف کرے تو کیا حکم ہے؟
- وہ ”مفتی“ ہی نہیں جو قطعی کفر میں اختلاف کرے بلکہ عوام کے ساتھ ساتھ ایسے مفتی کا حکم بھی
فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ہے ﴿من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر﴾ یعنی جو اس (قطعی کفر بکنے والے کافر) کے عذاب اور کفر میں شک کرے وہ خود کافر ہے۔
(درمختار، ج: ٦، ص: ٣٥٦)
﴿ایضاً، ص: ٥٣﴾
ختم نبوت
العقائد دار الافتاء
☆ کیا مرتد کے ساتھ انسانی ناطے سے بھی ہمدردی نہ کی جائے؟
- ● حقیقت میں دیکھا جائے تو مسلمان ہی ”انسان“ ہے۔ جبکہ جو اپنے خالق و مالک عزوجل کی توہین
اور اس کے پیارے حبیب ﷺ کی گستاخی کرے وہ نام نہاد انسان بالیقین بدتر از حیوان ہے۔ مرتد کے ساتھ ہر طرح کے مقاطعہ (یعنی بائیکاٹ) کو بھی شاید ان معنوں پر ایک گونہ ہمدردی کہا جاسکے کہ یوں وہ کسی طرح بیزار ہو کر، تائب ہو کر دامن مصطفیٰ ﷺ میں پناہ لے لے۔ یاد رکھئے! مرتد سے ہمدردی کا اظہار ایمان کے لیے زہر ہلاہل (یعنی زہر قاتل) ہے۔
﴿ایضاً، ص:۲۰۲﴾
﴿بقیہ حاشیہ صفحہ: 180﴾
- (۳۲) ﴿شامی﴾ ص:۴۱
- (۳۳) ﴿فتح الباری﴾ ج:۷، ص:۳۳۲
- (۳۴) ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم ﴿المستدرک علی الصحیحین﴾ ج:۳، ص:۱۵، رقم
۴۲۸۷۔ ذہبی نے اس روایت کی موافقت کی ہے اور اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
- (۳۵) ﴿الفاروق﴾ ص:۴۶۰
- (۳۶) مقریزی ﴿امتاع الاسماع﴾ ج:۱، ص:۵۶
- (۳۷) ﴿زرقانی﴾ ج:۱، ص:۳۵۲/ ﴿فتح الباری﴾ ج:۷، ص:۳۳۲
- (۳۸) یہ خیال اردو دائرہ معارف اسلامیہ، دانش گاہ پنجاب کے مقالہ نگار نے ظاہر کیا ہے مگر اس کی
تائید کسی دوسری کتاب اور مورخ کے قول سے نہیں ہوتی۔ دیکھیے ج:۶، ص:۳۹
مدینہ
العاقبۃ پیر سید مظہر قیوم مشہدی کا وصال پُر ملال
پیر سید مظہر قیوم مشہدی کا وصال پُرملال
21 اگست 2009ء / 29 شعبان 1430ھ بروز جمعہ تقریباً سوا دو بجے حافظ الحدیث مولانا سید جلال الدین شاہ مشہدی علیہ الرحمۃ کے لخت جگر مولانا پیر سید مظہر قیوم مشہدی وصال فرما گئے۔ مرحوم مستند اور جید عالم دین اور اپنے والد گرامی قدر کے علوم کے امین تھے۔ نماز جنازہ اگلے روز صبح تقریباً 10 بجے گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں صاحبزادہ میاں ولید احمد صاحب شرقپوری کی اقتداء میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں تاحد نظر علماء و مشائخ اور خلق خدا کا کثیر ہجوم آپ کی عندالناس مقبولیت کا غماز تھا۔ بعد از نماز جنازہ آپ کو اپنے والد گرامی کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
پیر سید مظہر قیوم مشہدی 4 محرم الحرام 1370ھ / 1950ء بروز جمعرات حافظ الحدیث پیر سید جلال الدین شاہ مشہدی علیہ الرحمۃ کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد درس نظامی کی جانب متوجہ ہوئے اور 1973ء میں درس نظامی سے فراغت پا کر مسند تدریس پر رونق افروز ہو گئے۔ جلد ہی آپ جامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف کے ناظم اعلیٰ منتخب ہو گئے۔ 27 اکتوبر 1979ء کو والد گرامی قدر کے دست اقدس پر بیعت ہوئے اور 1985ء میں سلاسل اربعہ میں والد گرامی سے خلافت و اجازت حاصل کی۔ والد گرامی حضرت حافظ الحدیث علیہ الرحمۃ کے وصال کے بعد سجادہ نشین منتخب ہوئے اور ہزاروں افراد کی روحانی تربیت فرمائی۔
آپ نے 1974ء کی تحریک ختم نبوت اور 1977ء کی تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ میں سرفروشانہ کردار ادا کیا۔ جنرل (ر) ضیاء الحق نے آپ کو اپنی مجلس شوریٰ کا رکن نامزد کرنا چاہا تو آپ نے انکار فرما دیا۔ آپ محکمہ اوقاف کے ڈسٹرکٹ خطیب کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔
خدا تعالیٰ کی مشیت کہ آپ کے وصال کے چند ماہ بعد آپ کی رفیقہ حیات بھی اس دار فانی سے کوچ فرما گئیں۔ مرحومہ عابدہ زاہدہ اور شب بیدار خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کے طفیل مرحومہ کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے۔
اللہ رب العزت آپ کے تمام صاحبزادگان صاحبزادہ سید نوید الحسن مشہدی (سجادہ نشین)‘ صاحبزادہ سید مسعود الحسن ایڈووکیٹ‘ صاحبزادہ سید شعیب الحسن شاہ مشہدی اور برادران مولانا سید محمد محفوظ شاہ مشہدی‘ مولانا سید عرفان شاہ مشہدی‘ مولانا سید انوار شاہ مشہدی سمیت جملہ متوسلین و تلامذہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
ن
العاقب اسلامی کیلنڈر کی ضرورت واہمیت
1. اسلامی کیلنڈر کی ضرورت واہمیت 30
محرم الحرام سے تقویم اسلامی کا آغاز کیوں؟
حافظ سید عزیز الرحمن
ہجری تقویم اسلام کی چند اہم خصوصیات میں سے ایک ہے‘ اس کا شمار شعائر اسلام میں بھی ہوتا ہے‘ یہ تقویم عہد نبوی ﷺ کے اہم واقعے کی جانب منسوب ہے‘ جسے مورخین اور اہل سیر ہجرت مدینہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
ہجرت مدینہ:
ہجرت مدینہ‘ غزوات اور فدائیت کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے‘ سرفروشی اور جاں نثاری کی نہ جانے کتنی قدر قیمتی داستانیں اس واقعے سے مربوط ہیں‘ قسام ازل نے ہجرت مدینہ کو ان گنت شرف عطا فرمائے ہیں‘ یہ شرف بھی ازل سے اس کی قسمت میں لکھا تھا کہ آئندہ لیل و نہار کی گردشوں کا شمار بھی اسی سے ہوگا۔
آنحضرت ﷺ کی مکہ مکرمہ سے ہجرت اور مکہ سے مسلمانوں کی انتقال آبادی اگرچہ ظاہری طور پر قریش مکہ کی ایذا رسانیوں کے سبب سے تھی‘ مگر درحقیقت خالق کائنات نے اپنے پسندیدہ دین‘ دین اسلام کی عظمت و شوکت اور سیادت کا سکہ بٹھانے اور اس کی ضیاء پاش کرنوں سے سارے عالم کو منور کرنے کے لیے جو وقت متعین کیا تھا اس کا آغاز اسی ہجرت مدینہ سے ہوا۔
ہجرت مدینہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اسلام اپنی دیگر خصوصیات کے علاوہ ایک مکمل سیاسی نظام بھی رکھتا ہے جو اسلامی ریاست وسلطنت کی بنیاد ہے‘ نیز اس کی تعلیمات دیگر مذاہب اور دنیا میں مروج نظاموں کی طرح محض تخیلاتی یا کاغذی و کتابی نہیں بلکہ ہر طرح سے قابل قبول‘ قابل عمل اور لائق نفاذ ہیں۔
ہجرت سے قبل مسلمان مکے میں کمزور حالت میں تھے‘ انہیں نہ مذہبی آزادی حاصل تھی نہ ان کے پاس سیاسی اقتدار موجود تھا اور نہ معاشی اعتبار سے ان کو بے فکری‘ اطمینان اور سکون حاصل تھا۔ ہر طرح کا اختیار اور مکمل اقتدار دشمنوں اور مخالفین کے پاس تھا۔ تمدن اور معاشرت کے لوازم سے بھی مکہ کے مسلمان محروم تھے اس لیے یہاں رہ کر وہ اسلام کے سیاسی و معاشرتی نظام کی تشکیل کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کے برعکس مدینہ منورہ
العاقب اسلامی کیلنڈر کی ضرورت واہمیت
میں خالق کائنات نے ایسے اسباب مہیا کر دیے تھے جو اس کام کے لیے ضروری اور مناسب تھے۔ مدینہ منورہ میں جو لوگ ابتداء میں مسلمان ہوئے وہ ان قبائل سے تعلق رکھتے تھے جن کے پاس اس ریاست کی زمام کار پہلے ہی سے موجود تھی اور ان پر کسی دوسرے کا کوئی تسلط نہ تھا۔ اس لیے ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو مکمل انداز میں یہ موقع ملا کہ وہ ایک نئے معاشرے کی تشکیل دیں جس کی بنیاد خالص اسلامی اصولوں پر استوار ہو اور جو زندگی کے تمام مراحل میں دور جاہلیت سے یکسر مختلف اور ہر لحاظ سے منفرد وممتاز ہو۔ وہ معاشرہ اس عالم گیر دعوت کا نمائندہ ہو جس کی خاطر مسلمان گزشتہ 13 سال سے مخالفین اسلام اور دشمنان دین کی مختلف الجہت اور مختلف النوع سازشیں، مصیبتیں اور مشقتیں برداشت کرتے چلے آ رہے تھے۔ یہ تھا تقویم اسلامی کے ہجرت مدینہ سے آغاز کا تاریخی پس منظر، اگر دیکھا جائے تو اسلامی تقویم کے آغاز کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی اور مناسب واقعہ یا موقع ہو ہی نہیں سکتا۔
تقویم اسلامی کی اہمیت:
تقویم اسلامی کے معاملے کا فیصلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کافی غور وخوض اور دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان سے طویل مشورے کے بعد کیا تھا، مہتم بالشان معاملات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہی طریقہ کار ہوتا تھا۔ تقویم دراصل کسی قوم کی شناخت اور تعارف کا ٹائٹل ہوتا ہے۔ ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں : ”قومی زندگی کے مقدمات میں سے ایک نہایت اہم چیز سنہ اور تاریخ ہے جو قوم اپنا سنہ نہیں رکھتی وہ گویا اپنی بنیاد کی ایک اینٹ نہیں رکھتی، قوم کا سنہ اس کی پیدائش اور ظہور کی تاریخ ہوتا ہے۔ یہ اس کی قومی زندگی کی روایات قائم رکھتا اور صفحہ عالم پر اس کے اقبال وعروج کا عنوان ثبت کر دیتا ہے یہ قومی زندگی کے ظہور وعروج کی ایک جاری و قائم یادگار ہے۔ ہر طرح کی یادگاریں مٹ سکتی ہے لیکن یہ نہیں مٹ سکتی، کیونکہ سورج کے طلوع وغروب اور چاند کی غیر متغیر گردش سے اس کا دامن بندھ جاتا ہے اور دنیا کی عمر کے ساتھ ساتھ اس کی عمر بھی بڑھتی رہتی ہے۔ (1)
عربوں میں تقویم کا رواج:
عربوں میں چوں کہ لکھنے پڑھنے کا زیادہ رواج نہ تھا، اس لیے تقویم اور ماہ وسال کے حساب کا بھی کوئی خاص طریقہ مقرر نہ تھا، نہ ان کا کوئی خاص سن تھا۔ اس لیے اگر کوئی بات بیان کرنی ہوتی تو کسی اہم واقعے سے ماہ وسال کا حساب کر لیا کرتے تھے۔ ابن الجوزیؒ عامر الشعبی کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ جب روئے زمین پر آدم کی اولاد کی تعداد زیادہ ہو گئی اور وہ اطراف واکناف میں پھیل گئے تو انہوں نے ہبوط آدم علیہ السلام سے تاریخ شمار کی، یہ سلسلہ طوفان نوح علیہ السلام تک جاری رہا، وہاں سے نار خلیل تک تاریخ کا حساب کرتے رہے، پھر یوسف علیہ
الخاتم اسلامی کیلنڈر کی ضرورت واہمیت
السلام کے واقعے سے تاریخ کا کیا گیا وہاں سے حساب بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کے واقعے سے تاریخ شمار ہوئی، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کو بنیاد بنایا گیا۔ (۲)
واقدی کا قول یہ ہے کہ تاریخ کا شمار پہلے حضرت آدم علیہ السلام سے طوفان نوح تک تھا، پھر نار خلیل تک، وہاں سے بنو اسماعیل نے تعمیر کعبہ سے تاریخ شمار کی، وہاں سے معد بن عدنان کے زمانے تک پھر وہاں سے کعب بن لوی کے عہد تک اور وہاں سے عام الفیل تک تاریخ شمار کی گئی۔ (۳)
نیز حمیر والے اپنے بادشاہ تبع کے عہد سے تاریخ کا حساب کرتے تھے، غسان والے سد مارب کے پھٹنے سے اور صنعاء والے یمن پر حبشیوں کی فتح اور بعد ازاں ایرانیوں کے غلبے سے، بعد میں عرب اپنی لڑائیوں سے حساب تاریخ رکھا کرتے تھے مثلاً بسوس، داحس اور غبراء کی لڑائی سے اور ذی قار اور حرب فجار جیسے معرکوں سے۔ (۴)
اسلام آجانے کے بعد بھی مسلمانوں کا یہی طرزِ عمل قائم رہا اور اب سورتوں کے نزول کی نسبت سے واقعات یاد رکھے جانے لگے، ہجرت کے بعد جن منکرین سے قتال کی اجازت ملی اور سورۂ حج نازل ہوئی تو کچھ عرصے تک یہ واقعہ بطور سن استعمال ہوا پھر جب سورۂ براۃ کا نزول ہوا تو سنہ براءۃ چل پڑا، آخر میں سنۃ الوداع مشہور ہوا جو حجۃ الوداع کے بعد رائج ہوا۔ (۵)
یہ بھی کہا گیا کہ سن ہجرت کے آغاز سے قبل لوگ ہر سال کو اس واقعے کا نام دیتے تھے جو اس میں وقوع پذیر ہوتا تھا اور اسی سے تاریخ بتاتے تھے چنانچہ حضور اکرم ﷺ کے مدینہ منورہ میں قیام کا پہلا سال مکہ سے ہجرت کی اجازت کا سال کہلاتا تھا، دوسرا سال جنگ کے اذن کا اور تیسرا لتمحیص تمحیص (آزمائش) کا۔ (۶)
یہی وجہ ہے کہ اس دور کی تاریخیں گڈ مڈ ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام اور دیگر تاریخی واقعات کے بارے میں بڑا اختلاف تاریخ پایا جاتا ہے۔
اسلامی تقویم کی ضرورت:
اسلامی تقویم کی ضرورت کب، کیسے اور کیوں پیش آئی؟ اس کے متعلق کئی روایات ملتی ہیں جن کا تذکرہ ذیل میں علیحدہ علیحدہ کیا جاتا ہے۔
- ❶ حاکم نے ”اکلیل“ میں ابن شہاب زہری سے روایت نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں: ﴿لما قدم النبی ﷺ
المدينة امر بالتاريخ فكتب فی ربیع الاول﴾ (۷) جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو
العاقب اسلامی کیلنڈر کی ضرورت واہمیت
آپ ﷺ نے تاریخ لکھنے کا حکم فرمایا، یکم ربیع الاول سے اس کا آغاز ہوا۔
یہی روایت ابو جعفر بن نحاس نے اپنی کتاب ”صناعۃ الکتاب“ میں بھی ذکر کی ہے (۸) اور قلقشندی نے بھی ابن شہاب زہری ہی سے روایت نقل کی ہے (۹) لیکن حافظ ابن حجر نے اس روایت کو معضل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشہور قول اس کے خلاف ہے۔ (۱۰) اس کے برعکس یہی روایت یعقوب بن سفیان نے ان الفاظ سے نقل کی ہے ﴿التاریخ من یوم قدم النبی ﷺ المدینۃ مہاجراً﴾ (۱۱) اسلامی تاریخ کا آغاز اس روز سے ہوا جب حضور ﷺ ہجرت فرماتے ہوئے مدینہ منورہ تشریف لائے تھے۔
ابن عساکر نے بھی اس کو درست قرار دیا ہے اور زیادہ صحیح بات بھی یہی ہے کہ تقویم اسلامی کا آغاز حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے حکم اور صحابہ کرام کے مشورہ سے ہوا (۱۲) البتہ آغاز کے لیے ہجرت مدینہ کے اہم واقعے کو بنیاد بنایا گیا۔
- ❷ ابو طاہر بن محمش الزیادی نے ”تاریخ الشروط“ میں ذکر کیا اور اسے علامہ جلال الدین سیوطی نے بھی نقل کیا
ہے کہ ﴿ان رسول اللہ ﷺ ارخ بالہجرۃ حین کتب الکتاب لنصاریٰ نجران وامر علیا ان یکتب فیہ حین کتب عنہ﴾ (۱۳) رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے اسلامی تاریخ کا ہجرت مدینہ سے آغاز کیا، جب آپ نے نجران کے نصاریٰ کو خط ارسال کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس خط پر تاریخ ڈالنے کا حکم دیا۔
- ❸ امام احمد نے سند صحیح کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے کہ ﴿اول من ارخ التاریخ یعلیٰ بن امیہ حیث
کان بالیمن﴾ (۱۴) سب سے پہلے ہجری تاریخ کا آغاز یعلیٰ بن امیہ نے کیا، جب وہ یمن میں تھے۔
- ❹ اس روایت میں ذکر ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ نے جب وہ یمن کے گورنر تھے اپنے ایک خط
میں حضرت عمر رضی اللہ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی۔ خط کی عبارت یہ تھی ﴿انہ تاتینا منک کتب لیس لہا تاریخ﴾ (۱۵) ہمارے پاس آپ کے خطوط آتے ہیں ان پر کوئی تاریخ درج نہیں ہوتی۔
- ❺ ﴿رفع لعمر صک محلہ شعبان، فقال ای شعبان، الماضی، او لذی نحن فیہ، او الآتی؟
ضعوا للناس یعرفونہ من التاریخ﴾ (۱۶) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک چیک لایا گیا، اس پر شعبان تحریر تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کون سا شعبان؟ جو گزر گیا ہے یا جو جاری ہے یا جو آنے والا ہے؟ لوگوں کی سہولت کے لیے کوئی نظام طے کرو تا کہ وہ تاریخ کا صحیح علم رکھیں۔
اسلامی کیلنڈر کی ضرورت واہمیت العاقب
یہ روایت امام احمد بن حنبل اور ابو عروبہ نے ”الاوائل“ میں، امام بخاری نے ”الادب المفرد“ میں اور حاکم نے بھی میمون بن مہران سے نقل کی ہے۔ (۱۷)
- 6 اس سلسلے کی ایک روایت ابن خثیمہ کی ابن سیرین سے ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص یمن سے آیا اس نے
بتایا کہ میں نے ایک چیز دیکھی ہے جسے تاریخ کہا جاتا ہے اس میں یوں لکھتے ہیں ﴿من عام كذا و بشهر كذا﴾ یعنی فلاں سال اور فلاں مہینہ۔ حضرت رضی اللہ عنہ نے اسے پسند فرمایا اور اسلامی تقویم، تقویم ہجری کا آغاز فرما دیا۔ (۱۸) اس روایت کو ابو داؤد و طیالسی نے بھی نقل کیا ہے۔ (۱۹) اور سخاوی کے ہاں بھی یہ روایت موجود ہے۔ (۲۰)
روایات پر ایک نظر:
آگے بڑھنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان روایتوں پر جن میں کسی قدر اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہے سند و متن اور روایت کے اعتبار سے ایک نظر ڈالتے چلیں تاکہ درست نتائج تک پہنچنا ہمارے لیے آسان ہو سکے۔
- 1 پہلی روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے آغاز تاریخ کا حکم دیا اور ربیع الاول سے آغاز ہوا لیکن
اس روایت کو معضل قرار دیا گیا ہے۔ نیز یہی روایت اس کے برعکس یعقوب بن سفیان نے ان الفاظ میں نقل کی ہے کہ اسلامی تاریخ کا آغاز واقعہ ہجرت سے ہوا ان الفاظ سے بھی اس روایت کا مفہوم واضح اور متعین و تعارض ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ابن حجر اور سخاوی وغیرہ نے بھی یہی لکھا ہے کہ مشہور اور محفوظ روایت یہ ہے کہ تاریخ کا آغاز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے ہوا۔ (۲۱)
- 2 دوسری روایت میں یہ ذکر ہے کہ اہل نجران کو آنحضور ﷺ نے جو خط تحریر کیا تھا اس میں حضرت علی رضی
اللہ عنہ کو تاریخ تحریر کرنے کا حکم دیا تھا۔ مگر یہ بات بھی غور طلب ہے کیونکہ اہل نجران کے نام آپ ﷺ کے خطوط جن کتب میں تحریر ہیں ان میں کہیں بھی تاریخ کا ذکر نہیں ہے، تمام بغیر تاریخ کے ہیں۔ (۲۲) نیز آپ ﷺ کے چھ خطوط مبارکہ دستیاب ہو گئے ہیں جن کے عکس متعدد کتب میں شائع ہو چکے ہیں۔ (۲۳) یہ تمام خطوط 5 ہجری کے بعد کے تحریر کردہ ہیں۔ ان میں بھی کسی میں تاریخ موجود نہیں ہے، اس بارے میں تفصیلی بحث مضمون کے آخر میں آئے گی۔
- 3 تیسری روایت امام احمد کی ہے، اس میں یعلیٰ بن امیہ کے بارے میں ذکر ہے کہ انہوں نے یمن میں تاریخ
اسلامی کا آغاز کیا تھا۔ اگرچہ یہ روایت سند صحیح کے ساتھ روایت کی گئی ہے مگر اس میں عمرو بن دینار اور یعلیٰ بن امیہ کے مابین انقطاع ہے۔
العاقب اسلامی کیلنڈر کی ضرورت واہمیت ❹ تا ❻ چوتھی پانچویں اور چھٹی روایات معناً قریب تر ہیں۔ ان میں زیادہ فرق نہیں ہے یہ عین ممکن ہے کہ یہ تمام اسباب اس موقع پر جمع ہو گئے ہوں ۔ ﴿واللہ اعلم﴾
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کب تاریخ کا آغاز کیا:
اسلامی تاریخ کے آغاز کے سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے کے بارے میں تین اقوال مذکور ہیں۔ 16 ہجری، 17 ہجری، 18 ہجری (۲۴) جبکہ شبلی نعمانی نے ”الفاروق“ میں 21 ہجری کا قول نقل کیا ہے۔ (۲۵) ابو موسیٰ اشعری اور ابن سیرین سے 17 ہجری کا قول نقل کیا گیا ہے۔ (۲۶) محمد بن اسحاق نے زہری اور شعبی سے بھی 17 ہجری کا ہی قول نقل کیا ہے۔ (۲۷) ابن عساکر نے حضرت سعید بن المسیب سے نقل کیا ہے کہ بارِ خلافت سنبھالنے کے ڈھائی برس کے بعد محرم میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا فیصلہ کیا۔ (۲۸) اس اعتبار سے بھی 16 ہجری ہی بنتا ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا آغاز 13 ہجری جمادی الآخر میں ہوا تھا۔ (۲۹)
یعقوبی نے بھی 16 ہجری کا قول اختیار کیا ہے، وہ 16 ہجری کے واقعات میں لکھتا ہے : اسی زمانے (16 ہجری) میں حضرت عمر نے ارادہ کیا کہ ضبطِ کتابت کے لیے ایک تاریخ قرار دے دی جائے، پہلے انہیں خیال ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی ولادت سے شروع کریں، پھر خیال آیا کہ آپ ﷺ کی بعثتِ مبارکہ سے ابتداء کی جائے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ہجرت سے آغاز کیا جائے، سو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا مشورہ قبول کرتے ہوئے ہجرت نبوی ﷺ سے اسلامی تقویم کے آغاز کا فیصلہ فرمادیا۔ (۳۰)
ابن سعد کا بیان ہے : حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ربیع الاول 16 ہجری سے اسلامی تقویم کا آغاز کیا، چنانچہ تاریخ لکھنے کے سلسلے کا آغاز انہوں نے نبی کریم ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے واقعے سے کیا۔ (۳۱)
ان تمام روایات کے تتبع سے بھی یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں 16 ہجری میں اسلامی ہجری تقویم کا آغاز ہوا۔ ﴿واللہ اعلم﴾
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ مسئلہ پیش ہوا تو انہوں نے حسب عادت صحابہ کرام علیہم الرضوان کو جمع کر کے اس میں ان کا مشورہ چاہا مختلف باتیں سامنے آئیں جس کی تفصیل کتب تاریخ میں موجود ہے۔ مشورے میں ہر مزان کو بھی طلب کیا گیا وہ ایرانی شہنشاہ کی جانب سے خوزستان کے گورنر تھے اور مسلمان ہونے کے بعد مدینہ
العاقب اسلامی کیلنڈر کی ضرورت واہمیت
منورہ میں مقیم تھے‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے بھی اہم معاملات میں مشورے کرتے تھے۔ ہرمزان نے بتایا کہ ہمارے یہاں ایک حساب موجود ہے جسے ماہ روز کہتے ہیں۔ اسی کو عربی میں مورخہ بنالیا گیا اور تاریخ کو اس کا مصدر قرار دیا گیا۔ بعض دوسرے حضرات کے خیال میں جن میں اہل لغت کی ایک بڑی جماعت شامل ہے‘ یہ لفظ عربی الاصل ہے اور ”الارخ“ سے مشتق ہے جو نیل گائے کے بچے کو کہا جاتا ہے‘ جس کی جمع آراخ اور اراخ آتی ہے‘ ابو منصور جوالیقی کے بقول الارخ وقت کو کہتے ہیں اور التاریخ توقیت کو۔ (۳۲)
بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ ہجرت مدینہ سے اسلامی تقویم کا آغاز کیا جائے‘ اس بارے میں روایات مختلف ہیں کہ کس کی رائے سے ہجرت کے آغاز تقویم کا فیصلہ ہوا؟ امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی لکھتے ہیں کہ جن امکانی صورتوں پر اتفاق ہوا اور جن سے آغاز تقویم ہو سکتی تھی وہ چار تھیں۔
❶ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت سے ❷ بعثت مبارکہ سے ❸ ہجرت مبارکہ سے ❹ پردہ فرما جانے سے۔
ان میں سے ولادت اور بعثت کے وقت کے بارے میں اس قدر اختلاف تھا کہ ان کا سال متعین نہیں ہو سکتا تھا‘ اس لیے انہیں چھوڑ دیا گیا‘ وفات سے اس لیے آغاز تقویم نہیں کیا گیا کہ وہ واقعہ رنج والم اور افسوس وصدمے کا باعث تھا اب صرف ہجرت مدینہ باقی رہ گئی چنانچہ اسی سے آغاز کر دیا گیا۔ (۳۳)
حاکم نے سعید بن المسیب سے بیان کیا ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ تاریخ کا آغاز کس واقعے سے کیا جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ﴿مِنْ یَّوْمِ ہَاجَرَ النَّبِیُّ ﷺ وَتَرَکَ اَرْضَ الشِّرْکِ﴾ اس روز سے آغاز کریں جب نبی کریم ﷺ نے ہجرت فرمائی تھی اور سرزمین شرک (مکہ مکرمہ) کو چھوڑا تھا۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تجویز قبول کر لی۔ (۳۴) ابن عساکر نے بھی سعید بن المسیب سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ (۳۵)
مقریزی نے بھی حضرت سعید بن المسیب سے یہی ذکر کیا ہے وہ لکھتا ہے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ کس روز سے اسلامی تاریخ کا آغاز کیا جائے‘ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس روز سے جس روز رسول اللہ ﷺ نے ہجرت فرمائی تھی اور مکہ کو چھوڑا تھا‘ سو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کیا۔ (۳۶)
یعقوبی کے بیان سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ تجویز‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیش فرمودہ تھی جب کہ ابونعیم نے
مہر نبوت
المعارف اسلامی کیلنڈر کی ضرورت واہمیت
شعبی کے طریق سے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے یہ روایت کی ہے کہ یہ تجویز خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تھی اور ان کا استدلال یہ تھا کہ چونکہ ہجرت مدینہ حق و باطل کے مابین فرق کرنے کا سبب بنی ہے، اس لیے اسی کو تقویم اسلامی کے آغاز کی بنیاد بنایا جائے۔ (۳۷)
ایک خیال کے مطابق یہ تجویز ہرمزان کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ (۳۸) لیکن عام طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام ہی آتا ہے، ان میں بھی زیادہ تر روایات حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کے بارے میں ہیں، اس لیے اس تجویز کی نسبت ان ہی کی جانب درست معلوم ہوتی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جانب اس تجویز کو اس لیے منسوب کر دیا گیا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تجویز کی تائید کی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی ان ہی کے حکم سے ہوا۔
﴿جاری ہے﴾
﴿ حوالہ جات ﴾
- ۱) ابوالکلام آزاد ﴿رسول رحمت﴾ ترتیب غلام رسول مہر، شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، ص: ۲۰۳
- ۲) شمس الدین محمد بن عبدالرحمن السخاوی ﴿الاعلان بالتوبیخ﴾ اردو ترجمہ ڈاکٹر سید محمد یوسف، ص: ۱۷۵
- ۳) ایضاً
- ۴) ایضاً، ص: ۱۷۶
- ۵) شاہ مصباح الدین شکیل ﴿سیرت احمد مجتبیٰ﴾ پاکستان اسٹیٹ آئل، کراچی 1996ء، ج:۲، ص:۵۶
- ۶) ﴿الاعلان﴾ ص:۱۷۴
- ۷) ابوجعفر محمد بن جریر طبری ﴿تاریخ الرسل والملوک﴾ ج:۲، ص:۳۸۸ / ابن الحجر العسقلانی ﴿فتح
الباری﴾ ج:۷، ص:۳۴۱ / محمد بن عبدالباقی الزرقانی ﴿شرح المواہب اللدنیہ﴾ ج:۱، ص:۳۵۲ / محمد بن یوسف الصالحی الشامی ﴿سبل الہدیٰ والرشاد﴾ ج:۱۲، ص:۳۶
- ۸) شیخ عبدالحی الکتانی ﴿نظام الحکومۃ النبویۃ المسمیٰ التراتیب الاداریہ﴾ ص:۱۸۰
- ۹) قلقشندی ﴿صبح الاعشیٰ﴾ ج:۶، ص: ۲۴۰
- ۱۰) ابن حجر ﴿فتح الباری﴾ ج:۷، ص:۳۴۱
- ۱۱) ﴿سبل الہدیٰ والرشاد﴾ ج:۱۲، ص:۳۶
سیرت نمبر
العاقب اسلامی کیلنڈر کی ضرورت واہمیت
- ۱۲) ﴿طبری﴾ ج:۲، ص:۳۸۸
- ۱۳) ﴿التراتب الاداریه﴾ ص:۱۸۱
- ۱۴) ﴿فتح الباری﴾ ص:۱۳۴۲/ ابوالفداء اسماعیل بن کثیر ﴿البدایه والنهایه﴾ ج:۳، ص:۲۱۷۔ یہ روایت
تلاش بسیار کے باوجود راقم کو مسند احمد میں نہیں مل سکی، مگر حاکم نے مستدرک میں اس کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ ابو عبد اللہ بن عبد اللہ حاکم ﴿المستدرک﴾ ج:۳، ص:۴۷۹، رقم ۴۲۹۰، ۱۳۸۸۵
- ۱۵) ڈاکٹر حمید اللہ ﴿الوثائق السياسيه﴾ ص:۵۲۱، رقم: ۳۶۸
- ۱۶) ﴿ابن حجر﴾ ص:۱۳۴۲/﴿سبل الهدى والرشاد﴾ ص: ۳۸/﴿الاعلان﴾ ۱۷۱
- ۱۷) ﴿الاعلان﴾ ایضاً، ابو یقظان نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس طرح نقل کیا ہے۔ دیکھیے الاعلان محولہ بالا
- ۱۸) ﴿ابن حجر﴾ ص: ۱۳۴۲/﴿سبل الهدى والرشاد﴾ محولہ بالا
- ۱۹) ﴿البدایه﴾ ج:۳، ص:۲۱۷
- ۲۰) ﴿الاعلان﴾ ص:۱۷۱
- ۲۱) ﴿فتح البارى﴾ ص:۱۳۴۱/ ﴿طبری﴾ ج:۲، ص: ۳۸۸/ ﴿الاعلان﴾ ص:۱۶۸
- ۲۲) ان خطوط کے لیے ملاحظہ کیجیے ڈاکٹر حمید اللہ ﴿الوثائق السياسيه﴾ ص: ۱۸۰تا۱۸۶
- ۲۳) ان خطوط کے لیے ملاحظہ کیجیے سید فضل الرحمٰن ﴿خطوط ہادی اعظم ﷺ﴾
- ۲۴) ﴿البدایه والنهایه﴾ ج:۳، ص:۲۱۶
- ۲۵) شبلی نعمانی ﴿الفاروق﴾ ص:۴۶۰
- ۲۶) ﴿زرقانی﴾ ج:۱، ص:۳۵۲
- ۲۷) ﴿ابن کثیر﴾ ج:۳، ص:۲۱۶
- ۲۸) ﴿شامی﴾ ص:۳۸
- ۲۹) ﴿البدايه والنهایه﴾ ج:۸، ص:۱۸
- ۳۰) احمد بن ابی یعقوب ﴿تاریخ یعقوبی﴾ ج:۲، ص:۱۴۵
- ۳۱) محمد بن سعد ﴿الطبقات الکبری﴾ ج:۳، ص:۲۱۳
﴿بقیہ صفحہ: 181﴾
مہر نبوت
العاقب بزم اطفال
بَزمِ اطفال
سوال: تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ کیا ہے؟ جواب: اس سے مراد ہے کہ نبی کریم ﷺ کی عزت وعظمت اور تکریم و تقدس کا پورا پورا لحاظ رکھا جائے اور آپ ﷺ کی شان اقدس میں معاذ اللہ ادنیٰ سے ادنیٰ ہلکی بات کہنا یا لکھنا تو بہت دُور اس کا تصور بھی نہ کیا جائے۔
سوال: کیا تحفظ ناموس رسالت سے صرف رسول اللہ ﷺ کی ناموس کا تحفظ مراد ہے؟ جواب: اس سے صرف رسول اللہ ﷺ ہی نہیں بلکہ حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے نبی کریم ﷺ تک تمام انبیاء ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس مراد ہے۔ لیکن عام طور پر نبی کریم ﷺ کا ذکر کر کے تمام انبیاء کرام اور رسل عظام بشمول حضرت سیدنا عیسیٰ و حضرت سیدنا موسیٰ علیہم السلام مراد لیے جاتے ہیں۔ اسلامی عقائد میں یہ بات واضح طور پر شامل ہے کہ کسی بھی ایک نبی کی توہین یا گستاخی کرنے والا اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
سوال: توہین رسالت کرنے والے کی سزا کیا ہے؟ جواب: اسلام میں جمہور علماء کے نزدیک گستاخ رسول کی شرعی سزا ”موت“ ہے۔
سوال: کیا آئین پاکستان میں بھی اس متعلق کوئی قانون ہے؟ جواب: جی ہاں! آئین پاکستان میں دفعہ 295 کی شق تین یا سی (C) کے تحت توہین رسالت کے مرتکب شخص کی سزا ”موت“ ہے۔
ختم نبوت
اسپیشل
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
اَنَا العَاقِبُ وَالعَاقِبُ الَّذِيْ لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ (الحديث)
پَرْدَۂ نَامُوسِ دِیْنِ مُصْطَفٰی اَسْت
فِدَايَانِ خَتْمِ نُبُوَّت کا تَرجُمَان
ماهنامه
العاقب
لاهور
شَوَّال تا ذُوالحِجَّة ۱۴۳۰ھ
اکتوبر تا دسمبر 2009ء
زیر سرپرستی :
حضور علامہ حافظ خادم حسین رضوی