نئے اضافوں کے ساتھ
عالم اسلام میں اپنی نوعیت کی منفرد کتاب
قادیانیت
ثبوت حاضر ہیں!
قادیانیوں کے بدترین کفریہ عقائد و عزائم پر مبنی عکسی شہادتیں
2
ترتیب و تحقیق
محمد متین خالد
چیلنج
”ثبوت حاضر ہیں“
یہ کتاب، اپنے اندر قادیانی مذہب کے بانی آنجہانی، مرزا غلام احمد قادیانی اس کے بیٹوں ، اس کے نام نہاد خلیفوں اور دیگر اہم قادیانیوں کی مستند تصانیف اور اخبارات و رسائل کی قابل اعتراض اور دل آزار کفریہ عبارتوں کی عکسی نقول لیے ہوئے ہے قادیانی جرائم کے یہ ثبوت اتنے واضح ہیں کہ دنیا کی کسی بھی عدالت میں ان عکسی دستاویزات کی صداقت کو چیلنج کرنا کسی بھی قادیانی کے لیے ممکن نہیں ہے میں اس کتاب میں درج تمام حوالوں اور عکسی نقول کے مصدقہ ہونے کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ سمیت دنیا کے تمام قادیانیوں (بشمول لاہوری گروپ) کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر اس کتاب میں موجود، کوئی بھی عکس غیر حقیقی ہو، یا میری طرف سے کسی بھی نوع کی ترمیم ہوئی ہو، کسی قسم کا اضافہ کیا گیا ہو، یا ایک بھی خانہ ساز حوالہ پایا جائے تو میں اس کے لیے ہر قسم کی سزا پانے کے لیے تیار ہوں! بصورت دیگر انہیں ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر آخرت کی فکر کرتے ہوئے اسلام کی آغوش میں آجانا چاہیے ہے کسی قادیانی میں اخلاقی جرأت جو میرے اس چیلنج کو قبول کرے؟
محمد متین خالد
نئے اضافوں کے ساتھ
عالم اسلام میں اپنی نوعیت کی منفرد کتاب
قادیانیت
ثبوت حاضر ہیں!
جلد دوم
قادیانیوں کے بدترین کفریہ عقائد وعزائم پر مبنی عکسی شہادتیں
محمد متین خالد
علم و عرفان پبلشرز
الحمد مارکیٹ 40-اردو بازار، لاہور
فون: 8405100-7232336-7352332
جملہ حقوق محفوظ
نام کتاب قادیانیت ثبوت حاضر ہیں ! جلد دوم مصنف محمد متین خالد ناشر علم و عرفان پبلشرز قانونی مشیر محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ مطبع جوہر رحمانیہ پرنٹرز، لاہور سرورق فضیل کیانی کمپوزنگ تاج کمپوزنگ سنٹر، لاہور سن اشاعت (نئے اضافوں کے ساتھ) 2010ء قیمت -/600 روپے
علم و عرفان پبلشرز
الحمد مارکیٹ 40- اردو بازار، لاہور، فون: 8405100-7232336-7352332
انتساب
پھول، خوشبو، رنگ، بہار، صبا، شبنم، روشنی، شفق، نور، چاندنی، حسن، ترنم، سحر، آبشار، ستارا، نگینہ اور قوس قزح...... اگر یہ ملکوتی جمال آفرینیاں انسانی رُوپ دھار لیں تو یقیناً میرے اہل خانہ کی مانند ہوں گی۔ میری عمر 13 سال تھی جب میرے والد صاحب اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوئے۔ پھر میری والدہ محترمہ نے ہم سب بھائیوں کی بہترین تعلیم و تربیت کی۔ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے محاذ پر سب سے زیادہ حوصلہ افزائی اور جرأت انہی کی طرف سے ملی۔ وہ غرقاب محبت رسول ﷺ اور دینی غیرت و حمیت کا استعارہ تھیں۔ والدہ ہونے کے ناتے ان کی عزت و تکریم مجھ پر فرض ہے لیکن ایک اور حوالہ سے بھی میں انہیں مزید قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ ان کا نام فاطمہ ہے۔ شہر خموشاں کے یہ دونوں منور چراغ ماضی کی طرح اب بھی مجھے اپنی محبت و شفقت کی لَو دیتے ہیں۔ میرے سب بھائی اور بھتیجے تحفظ ختم نبوت کے مقدس مشن کے ساتھ بڑی مضبوطی اور اخلاص سے وابستہ ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں برادر گرامی محترم محمد شاہین پرواز صاحب ہیں جو ناسازی طبع کے باوجود پورے جوش اور جذبے سے میری سرپرستی فرما رہے ہیں۔ گھر میں تالیف و تصنیف کے دوران میری اہلیہ محترمہ ہمیشہ مجھے پرسکون ماحول فراہم کرتے ہوئے میری تمام ضرورتوں کا خاص خیال رکھتی ہیں۔ میری دونوں بیٹیوں نے میری پوری لائبریری کی تزئین و آرائش
سنبھال رکھی ہے جس سے مجھے حوالہ جات کی تلاش میں بے حد آسانی رہتی ہے۔ میرے بیٹے محمد بن متین اور احمد متین جنہیں میں نے تحفظ ختم نبوت کے لیے وقف کر دیا ہے، وہ بھی میرے کام میں بے حد معاون و مددگار رہتے ہوئے اس بہانے خوب تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ نورِ چشم عزیزی علی مدثر حسین کی معاونت اور مشاورت بھی قابلِ صد ستائش ہے۔ زہد و تقویٰ میں یگانہ روزگار محترمہ آپا جی، خالہ جان اور ماموں جان کی خصوصی دعائیں ہمیشہ میرے لیے مشعل راہ ثابت ہوتی ہیں۔ میں اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ہوں جسے ایسے مشفق اہل خانہ کی سرپرستی اور سائبانی میسر ہے۔ میں اس کتاب کا انتساب ان تمام افراد کے نام کرتے ہوئے غیر معمولی دلی راحت اور خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ
اللهم صلی علیٰ محمد خاتم النبیین و خاتم المرسلین
ترتیب عنوانات
- چیلنج 2
- انتساب 5
- توجہ فرمائیں 25
- فہرست ٹائٹل کتب 27
- قادیانی ڈائریکٹری احمد کریم شیخ (کینیڈا) 31
- نہیں ملتا سخن اپنا کسی سے محمد متین خالد 35
View Proof مرزا قادیانی کے حالات زندگی 41
- تذکرہ 46
- سیرت المہدی 47
- پیدائش 48
- سر اور پیر 49
- تاریخ پیدائش کا دلچسپ اختلاف 49
- نام و نسب 52
- میں کون ہوں؟ 52
- ذات بدلنے والا کون؟ 53
- والد اور بھائی کے نقش قدم پر 54
- والد کی وفات پر اللہ تعالیٰ کی تعزیت 54
- مرزا قادیانی کا والد بے نمازی 55
- مقدمات میں وقت ضائع 56
- مرزا قادیانی کی تلاش 56
- بازو ٹوٹ گیا 56
- اور انگلی کٹ گئی 57
- کسی کی جان گئی، کسی کی ادا ٹھہری 57
- چھری چل گئی 58
- لطیفہ 58
- راکھ سے روٹی 59
- مٹی اور گڑ کے ڈھیلے 59
- سندھی 60
- اِدھر اُدھر 60
- مختاری کے امتحان میں فیل 64
- غرارہ 64
- قادیانی جماعت کا نام 64
- ہرنی کا کلہ 65
- تیمم 65
- تیز گرم پانی سے طہارت 65
- عورتوں کا امام 66
- زنانہ نماز 66
- □ نماز میں فارسی نظم 67
- □ نماز میں پان 67
- □ بواسیر اور ...... نماز 67
- □ بیٹے کی خاطر نماز جمعہ نہیں پڑھی 68
- □ سب کا نماز جنازہ پڑھا دیا 68
- □ روزہ توڑ دیا 69
- □ روزے تڑوا دیئے 69
- □ روزے نہیں رکھے 69
- □ روزہ کھلوا دیا 70
- □ رمضان المبارک کا احترام؟ 70
- □ حج، اعتکاف، زکوٰۃ 71
- □ اعتکاف 71
- □ مُردہ اسلام 72
- □ کنچنی (بدکار عورت) کی رقم 72
- □ سود جائز ہے! 72
- □ جیب میں اینٹ 73
- □ جرابیں، کاج، گرگابی اور کھانا 73
- □ الٹے کاج 74
- □ الٹی سیدھی گرگابی 74
- □ الٹی سیدھی جرابیں 75
- □ پہلوانوں والی خوراک 75
- □ کھانے کا انداز 78
- گوشت کی قیمت 78
- ٹکے کے نیچے کپڑے 78
- ریشمی ازار بند 79
- ریشمی ازار بند کے فوائد 79
- جیبی گھڑی 80
- پیشۂ نبوت 80
- خدا کی مشین 81
- نبی کے ہتھیار 81
- قادیانی خلیفہ مرزا مسرور کا دادا 82
- پانچ اور پچاس کا شہرت یافتہ قادیانی فرق 82
- سرسید کی نظر میں 85
- ہندؤں کی نظر میں 85
- کتب فروش 86
- چوہڑی، زانیہ اور کنجروں کے خواب 88
- ٹپی ٹپی 89
- ”ماہواری“ چندہ 89
- جماعت مرغی کی آواز پر توجہ دے 90
- دعا برائے فروخت 90
- افریقہ کے بندر اور مرزا قادیانی 91
- بتوں کی زیارت 92
- مرزا قادیانی کی علمی باتیں 92
- حمل کاذب 92
- عورتوں کی خاص قسم 93
- مرشد کے ساتھ مرید کا تعلق 93
- مرزا قادیانی کی سائنس 93
- قلمی اسلحہ 93
- ایک ایک حرف ...... خدا تعالیٰ کی طرف سے 95
- مرزا قادیانی کے معجزات 96
- اللہ نے جو مجھے سکھایا ، وہ کسی اور کو نہ سکھایا 96
- جو میرے ہاتھ سے جام پئے گا ، وہ ہرگز نہیں مرے گا 96
- معجزانہ انشا پردازی کا ایک نمونہ 103
- مجھ سے خدا تعالیٰ لکھواتا ہے 104
View Proof مرزا قادیانی کے خانگی حالات 105
- بیوی سے حسن سلوک 110
- بیوی سے عمدہ سلوک 110
- طلاق سے پرہیز کرو 110
- ”پھجے دی ماں“ کو طلاق 111
- بدذات بیوی 112
- حالت مردمی کالعدم 113
- بیوی کے ایام نے عزت رکھ لی 113
- پچاس مردوں کے برابر طاقت 116
- حقیقی بیعت 117
- نصرت جہاں بیگم نے بیعت نہیں کی 117
- بیعت نہ کرنے والا منافق 118
- تنگ پاجامہ 119
- غرارہ 119
- مصافحہ 119
- ملکہ کا راج 120
- میں ایسے پردے کا قائل نہیں 121
- مرزا بیوی دی گل بڑی مندا اے 121
- مبارکہ بیگم اور امۃ الحفیظ کا حق مہر 122
- داماد کی قوت باہ کا علاج 123
- اپنے بیٹے فضل احمد کی موت پر خوشی کا اظہار 123
- سسرالی عورتوں کے متعلق الہام 124
مرزا قادیانی اور غیر محرم عورتیں 125
- نبی کریم ﷺ کا تقویٰ 127
- اسلام کی اعلیٰ تعلیم 128
- جو عورتیں پردہ نہیں کرتیں، شیطان ان کے ساتھ ہے 128
- عورت سے مصافحہ جائز نہیں 128
- غیر محرم عورتوں کو چھونا 129
- ”نبی معصوم“ 129
- اِدھر اُدھر 129
- تھپڑ 130
- ٹانک وائن شراب کا استعمال 131
- ٹانک وائن کا فتویٰ 131
- لڑکی کیسی ہونی چاہیے؟ 132
- گول منہ، لمبا منہ 133
- ایہو کڑی لینی ایں 133
- احکام 134
- میں ایسے پردے کا قائل نہیں 135
- رات کا پہرہ 135
- مائی تابی 136
- مائی کاکو 136
- بھانو 136
- زینب بیگم 137
- دوپٹہ تیرا ململ دا 138
- بچہ سپیشلسٹ 138
- کبھی کبھی زنا 139
شرمناک قادیانی تحریریں 141
- فحاشی کی اشاعت 146
- مصروفیات 146
- پلید دل 146
- خیالات 147
- بے حیا انسان 147
- جب انسان حیا چھوڑ دیتا ہے............ 147
- میں وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا ہے 147
- مرزا قادیانی کی اپنی جماعت کو نصیحت 147
- بڑا کارنامہ 148
- پرمیشر کی جگہ 148
- قادیانی کوک شاستر 149
- میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا 152
- نیوگ، روز کی مشق 153
- قانون دکھائی 154
- قادیانی خشوع و خضوع 157
- قادیانی ترانہ 160
- نرم اندام عورتیں اور ہمارے باکرہ مضامین 161
- برہنہ شخص سے بغلگیری 162
- پیٹ سے چوہا؟ 162
- رحم پر مُہر 162
- عضو تناسل کاٹ دینا...... 163
- جہاں سے نکلے تھے...... 163
- بے غسل......؟ 163
- عورت کی کارروائی 164
- سلطان القلمی کا نادر نمونہ 165
- یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ 165
- اللہ عورت، مرزا مرد 166
- کبھی کبھی زنا 166
- تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق 166
- مباہلہ جائز ہے 168
- خلیفہ صاحب کی عیاری 168
- میاں زاہد سے میری بیویاں پردہ نہیں کرتیں 169
- شہادت نمبر 1 169
- شہادت نمبر 2 171
- ایک احمدی خاتون کا بیان 171
- شہادت نمبر 3 172
- شہادت نمبر 4 173
- شہادت نمبر 5 (حلفیہ شہادت) 173
- شہادت نمبر 6 173
- بے خوف مجاہد 173
- شہادت نمبر 7 (حلفیہ شہادت) 174
- شہادت نمبر 8 (حلفیہ شہادت) 175
- شہادت نمبر 9 (حلفیہ شہادت) 175
- شہادت نمبر 10 175
- حلفیہ شہادت 175
- شہادت نمبر 11 (حلفیہ شہادت) 176
- محمد یوسف ناز کا حلفیہ بیان 176
- شہادت نمبر 12 177
- شہادت نمبر 13 (حلفیہ شہادت) 177
- شہادت نمبر 14 (حلفیہ شہادت) 178
- شہادت نمبر 15 (حلفیہ شہادت) 179
- شہادت نمبر 16 (حلفیہ شہادت) 179
- شہادت نمبر 17 (حلفیہ شہادت) 179
- مرزا محمود کی اپنی گواہی 179
- شہادت نمبر 18 (حلفیہ شہادت) 180
- شہادت نمبر 19 (حلفیہ شہادت) 180
- شہادت نمبر 20 (حلفیہ شہادت) 181
- شہادت نمبر 21 (حلفیہ شہادت) 181
- شہادت نمبر 22 (حلفیہ شہادت) 181
- شہادت نمبر 23 (حلفیہ شہادت) 183
- شہادت نمبر 24 (حلفیہ شہادت) 185
- شہادت نمبر 25 (حلفیہ شہادت) 186
- شہادت نمبر 26 187
- شہادت نمبر 27 188
- شہادت نمبر 28 190
- سول سرجن کی شہادت 190
- حق پسند اصحاب کی توجہ کے لیے 191
- بدکردار مصلح موعود نہیں ہو سکتا 192
- اظہار واقعہ کو بد زبانی نہیں کہا جا سکتا 193
- انتباہ 194
- فیصلہ عدالت عالیہ ہائی کورٹ لاہور 195
- مرزائیوں کی روحانی شکار گاہ 198
- بے نقاب 204
- مرزا قادیانی کی کتابیں پڑھنے سے فرشتے نازل ہوتے ہیں 204
- مرزا قادیانی کی کتابوں میں قرآن مجید والا نور اور ہدایت ہے 205
- مرزا قادیانی کی کتابیں قرآن کی تفسیر ہیں 205
- مرزا قادیانی کا طرز تحریر 205
مرزا قادیانی بحیثیت ایک طبیب 207
- حکمت کی کتابیں، تفسیر قرآن ہیں 210
- مرزا قادیانی کی علم طب میں دسترس 210
- کچلہ کونین فولاد 210
- نیم حکیم، خطرہ جان 211
- پیغمبری ادویات 211
- ممنوعہ چیزیں ”بھنگ، دھتورہ، افیون“ سب جائز 212
- افیون 212
- سنکھیا 213
- دو بوتل برانڈی 214
- ٹانک وائن 214
- ٹانک وائن کا فتویٰ 215
- حالت مردی 215
- قادیانی ویاگرا 216
- داماد اور قوت باہ 217
- بھنگ، افیون شراب کے بہن بھائی ہیں 217
- ”دست شریف“ میں دودھ کا استعمال 218
- سوڈا وغیرہ 218
- تریاق الٰہی؟ 218
- شربت کی جگہ تیل 219
- کھانسی کا علاج 219
- گنے سے کھانسی کا علاج 220
- پھوڑے کا علاج 220
- بال بڑھانے کی دوا 220
- مفت بر 220
- چچا زاد بھائی سے علاج 221
- مرغا ذبح کر کے...... 221
- رسوا کن باتیں 221
مرزا قادیانی اور شاعری 223
- شاعر اور شاعری 226
- مرزا قادیانی کی عشقیہ شاعری 227
- بھینی بھینی خوشبو 228
- قادیانی ترانہ 229
- مرزا قادیانی کی شاعری سے قبض دور ہوتا ہے 230
- پاکیزہ جذبات عشق میں ڈوبا ہوا کلام 230
- حیا سوز شاعری 231
- تسلیاں ہیں میری بے شمار 232
- ہوں بشر کی جائے نفرت............ 232
- خدا کا کلام 232
مرزا قادیانی ایک ڈرپوک اور بزدل شخص 235
- میرا نام غازی ہے 237
- غازی نام رکھنا رسول کریم ﷺ کی نافرمانی ہے 237
- ہم موت سے نہیں ڈرتے 238
- بزدلی ایمان کی کمزوری ہے 238
- مجھے للکارنا اچھا نہیں 238
- پادریوں کی حمایت 240
- زلزلہ 241
- انگریزی عدالت میں، ”اپنے مریدوں کی اطلاع کے لیے“ 242
- آئندہ پیش گوئی سے میری توبہ! 243
- حج نہ کرنے کی وجہ 243
- پولیس کا پہرہ 243
- کتا محافظ 244
- مناظرہ سے فرار 244
قادیان 245
- قادیان کی گمنام حالت 247
- کشف کا قادیان 249
- خواب میں قادیان 250
- لاہور بھی کوئی شہر ہوتا تھا 250
View Proof بہشتی مقبرہ 253
- بہشتی مقبرہ بہشتی لوگ 255
- جنت ارضی 255
- مرزا اور اس کے اہل وعیال کے لیے کوئی فیس نہیں 256
- بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی وصیت نہ کرنے والا منافق 256
- بہشت سے اخراج ، چندہ ضبط 257
- دائمی جنت 257
- ابوبکرؓ و عمرؓ کی سی فضیلت 257
- بہشتی مقبرہ 258
- بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی شرائط 259
- بہشتی مقبرہ کا آنکھوں دیکھا حال 262
View Proof مرزا قادیانی کے استاد 265
- مہدی کسی کا شاگرد نہیں ہوتا 267
- مہدی کے لیے ضروری ہے .............. 267
- نبی کا کوئی استاد نہیں ہوتا 268
- میرے کئی استاد تھے 268
- بیٹے کی تصدیق 269
- حلفاً کہتا ہوں میرا کوئی استاد نہیں 270
- قسم کی اہمیت 270
- اپنے استاد کی تعریف 271
- شاگرد ، استاد کی مانند ہوتا ہے 271
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ”فیض یافتہ“ مرید 273
- نماز میں نامناسب تکلیف 275
- اللہ کا بچہ 276
- اللہ مرد، مرزا عورت 276
- جسم پر نامناسب ہاتھ پھیرنا 277
- قادیان اور سجدہ 278
- کفن چور 278
- تھیٹر 279
- ضرور بدکاری کرے گا 279
- قوت رجولیت بالکل معدوم 280
- قادیان میں بڑے بڑے خبیث، شریر، ناپاک طبع، کذاب اور مفتری رہتے ہیں 281
- مرزا قادیانی کی بیعت کا ”فیض“ 281
- کثرت قبولیت دعا کا نشان 283
قادیانی جماعت، قادیانی قیادت کی نظر میں 285
- درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے 287
- قادیان؟ 287
- بھیڑیوں کی جماعت 288
- درندے، قادیانیوں سے اچھے 288
- قادیانی جلسہ، اخلاقی حالتوں کے بگاڑنے کا ایک ذریعہ 289
- کج دل لوگوں کی جماعت 289
- تہذیب اور پرہیزگاری سے عاری جماعت 290
- مخنثوں کی جماعت 290
- اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو بہتر تھا! 290
- جیسے کتا مردار کی طرف 291
- شوق پورا نہیں ہوا 291
- جلنے والی لکڑیاں 292
- خصی جماعت 292
- سُوروں کی جماعت 293
- جماعت میں بہت کمی ہے 294
- میں کسی کو حساب نہیں دوں گا 295
- بے حیا اور بزدل جماعت 296
- جہنم کی آگ کی حامل جماعت 296
- بد دیانت جماعت 297
- گالیاں کھلوانے والی جماعت 297
- کتے 298
- احمق جماعت 299
- انگاروں والی جماعت 299
- جھگڑالو جماعت 299
- غیر مہذب اور غیر شائستہ جماعت 300
- نفس پرور جماعت 301
- ایک پیسے سے بھی کم حیثیت جماعت 301
- لومڑی، سور اور سانپ 301
مرزا قادیانی کی بیماریاں 303
- مردانہ حسن کا نمونہ 305
- صحت کا ٹھیکہ 306
- انمیا اور خبیث امراض 306
- دائم المرض اور طرح طرح کی بیماریاں 306
- آنکھوں کی نسبت خاص الہام 306
- مائی اوپیا 307
- چشم نیم باز 307
- الٹا جوتا پہننا 307
- کس کی چھڑی ہے؟ 308
- گھڑی 308
- ”انہوں کچھ دیدا ہے“ 309
- ذیابیطس، سو سو دفعہ پیشاب 309
- حالتِ مردی کالعدم 309
- سر درد، کمی خواب، تشنج دل، ذیابیطس، کثرت پیشاب 310
- سر درد، کثرت پیشاب و دست 310
- سر اور دستوں کی بیماری 311
- دست 311
- دورے 311
- دورے اور روزے 312
- مرگی 312
- ہسٹریا (Hysteria) 313
- ہسٹریا کے دورے 313
- اگر ہسٹریا ثابت ہو جائے................ 314
- مراق 315
- ہسٹریا اور مراق 315
- مراق اور کثرت بول 315
- ہر نبی کو مراق 316
- سل 316
- خونی قے 316
- قولنج زحیری 317
- کیچڑ اور ریت سے علاج 317
- خارش 318
- لکنت 318
- دانتوں کو کیڑا 318
- ایڑیاں پھٹ گئیں 319
- بال سفید 319
- دایاں بازو 319
- حافظہ خراب 320
- سرعت انزال 320
مرزا قادیانی کا عبرتناک انجام 321
- بہت بری موت 323
- مولوی ثناء اللہ سے آخری فیصلہ 324
- یہ خدا کی طرف سے ہے 326
- حالت دگرگوں 326
- میر صاحب ! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے 328
- میں نجاست کے کیڑے سے بھی بدتر ہوں! 329
- دوزخ کا الہام 329
- جھوٹے مدعی کو خدا ہلاک کرتا ہے 329
- خدا جھوٹوں کو ہلاک کرتا ہے 329
- دوزخ کا وعدہ 330
عکسی شہادتیں 331
توجہ فرمائیں !
- اس کتاب کے 14 ابواب ہیں۔
- ہر باب ایک مختلف موضوع کا مکمل احاطہ کرتا ہے۔
- ان ابواب کے شروع میں قادیانیوں کی متعلقہ گستاخیوں، ہرزہ سرائیوں اور مضحکہ
خیزیوں کو نمبر شمار لگا کر ایک ترتیب سے درج کیا گیا ہے۔
- پھر کتاب کے آخر میں اسی ترتیب کے ساتھ اصل قادیانی کتب کے عکس دے
دیے گئے ہیں۔ مثلاً ”شرمناک قادیانی تحریریں“ کے باب میں حوالہ نمبر 177 کا عکسی ثبوت، کتاب کے آخر میں حوالہ نمبر 177 کے تحت فراہم کر دیا گیا ہے۔
- اصل قادیانی کتابوں کے ٹائٹل کا عکس ہر حوالہ کے ساتھ بار بار دینے کے بجائے
صرف ایک دفعہ دیا گیا ہے، اس کے لیے دیکھیے صفحہ نمبر 27 تا 30
- اہم معترضہ قادیانی تحریروں کو نمایاں کرنے کے لیے ان کے گرد موٹی آؤٹ لائن
لگا دی گئی ہے۔
- قادیانی کتب سے پورے صفحے کا عکس دینے سے قادیانیوں کا یہ اعتراض بھی ختم
ہو جاتا ہے کہ ان کی گستاخانہ اور متنازع فیہ عبارات سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کی جاتی ہیں۔
- قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اس کتاب میں موجود قابل اعتراض، دل آزار
اور توہین آمیز قادیانی عبارات پڑھتے وقت کثرت سے استغفار کریں۔ شکریہ!
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيْرًا. لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِيْنَ. اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِىْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَىَّ الْقَيُّوْمَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ. وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِىِّ الْعَظِيْمِ. اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَآئِثِ.
فہرست ٹائٹل قادیانی کتب
صفحہ نمبر
- تذکرہ مجموعہ وحی والہامات (مرزا قادیانی) 333
- سیرت المہدی جلد اوّل (مرزا بشیر احمد ایم اے) 334
- سیرت المہدی جلد دوم (مرزا بشیر احمد ایم اے) 335
- سیرت المہدی جلد سوم (مرزا بشیر احمد ایم اے) 336
- ملفوظات جلد اوّل (مرزا قادیانی) 337
- ملفوظات جلد دوم (مرزا قادیانی) 338
- ملفوظات جلد سوم (مرزا قادیانی) 339
- ملفوظات جلد چہارم (مرزا قادیانی) 340
- ملفوظات جلد پنجم (مرزا قادیانی) 341
- مجموعہ اشتہارات جلد اوّل (مرزا قادیانی) 342
- مجموعہ اشتہارات جلد دوم (مرزا قادیانی) 343
- مکتوبات احمد جلد دوم (مرزا قادیانی) 344
- دعوۃ الامیر، انوار العلوم جلد 7 (مرزا بشیر الدین محمود) 345
- تریاق القلوب (مرزا قادیانی) 346
- کتاب البریہ (مرزا قادیانی) 347
- مجدد اعظم جلد اوّل (ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری قادیانی) 348
- حقیقت الوحی (مرزا قادیانی) 349
- براہین احمدیہ حصہ پنجم (مرزا قادیانی) 350
- تفسیر صغیر (مرزا بشیر الدین محمود) 351
- ازالہ اوہام (مرزا قادیانی) 352
- ذکر حبیب (مفتی محمد صادق قادیانی) 353
- مسیح موعود کے مختصر حالات، ملحقہ براہین احمدیہ حصہ اوّل تا چہارم
(معراج الدین عمر قادیانی) 354
- سیرت مسیح موعود (مرزا بشیر الدین محمود) 355
- آئینہ کمالات اسلام (مرزا قادیانی) 356
- چشمہ معرفت (مرزا قادیانی) 357
- انجام آتھم (مرزا قادیانی) 358
- خطوط امام بنام غلام (حکیم محمد حسین قریشی قادیانی) 359
- کشتی نوح (مرزا قادیانی) 360
- تحفہ گولڑویہ (مرزا قادیانی) 361
- نزول المسیح (مرزا قادیانی) 362
- اصحاب احمد جلد 13 (ملک صلاح الدین قادیانی) 363
- کلمۃ الفصل (مرزا بشیر احمد ایم اے) 364
- نور القرآن (مرزا قادیانی) 365
- تحفہ غزنویہ (مرزا قادیانی) 366
- براہین احمدیہ جلد اول تا چہارم (مرزا قادیانی) 367
- اعجاز احمدی (مرزا قادیانی) 368
- تذکرہ الشہادتین (مرزا قادیانی) 369
- تفسیر کبیر (مرزا بشیر الدین محمود) 370
- آریہ دھرم (مرزا قادیانی) 371
- نسیم دعوت (مرزا قادیانی) 372
- حجۃ اللہ (مرزا قادیانی) 373
- سراج منیر (مرزا قادیانی) 374
- حیات احمد (یعقوب علی عرفانی) 375
- تذکرہ المہدی (پیر سراج الحق نعمانی قادیانی) 376
- تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق (مظہر الدین ملتانی) 377
- مرزائیوں کی روحانی شکار گاہ (عبدالرزاق مہتہ) 378
- کلام محمود (مرزا بشیر الدین محمود) 379
- ملائکۃ اللہ مندرجہ انوار العلوم جلد پنجم (مرزا بشیر الدین محمود) 380
- تقریر دلپذیر مندرجہ انوار العلوم جلد 10 (مرزا بشیر الدین محمود) 381
- منہاج الطالبین مندرجہ انوار العلوم جلد 9 (مرزا بشیر الدین محمود) 382
- دافع البلاء (مرزا قادیانی) 383
- درثمین (مرزا قادیانی) 384
- نشان آسمانی (مرزا قادیانی) 385
- خطبہ الہامیہ (مرزا قادیانی) 386
- البلاغ (مرزا قادیانی) 387
- الوصیت (مرزا قادیانی) 388
- اربعین (مرزا قادیانی) 389
- ایام الصلح (مرزا قادیانی) 390
- حمامۃ البشریٰ (مرزا قادیانی) 391
- اسلامی قربانی (قاضی یار محمد قادیانی) 392
- ضرورت الامام (مرزا قادیانی) 393
- شہادت القرآن (مرزا قادیانی) 394
- فتح اسلام (مرزا قادیانی) 395
- حیات ناصر (شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی) 396
قادیانی ڈائریکٹری
قادیانیت اگر چہ بدبختی کا دوسرا نام ہے لیکن خوش بختی تمام قادیانیوں سے محض دو قدم کے فاصلے پر منتظر کھڑی ہے۔ جی ہاں! کفر سے ایمان کی جانب سفر ایسی نیکی ہے جس سے بہر حال ”جامد مومن“ محروم رہتا ہے۔ وہ خواتین و حضرات جو ”احمدیت“ سے تائب ہو کر از سر نو بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور حضوری کے درجات حاصل کر گئے، ان کے مقدر پر رشک کیا جاسکتا ہے۔ قدرت نے اگر انھیں سرفراز فرمایا ہے تو اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ انھوں نے اپنے موروثی معتقدات سے نجات پانے کے لیے ایک صبر آزما جنگ لڑی ہے۔ دوستو! دنیا کا سب سے مشکل کام اپنے آبائی عقیدے کے قلادے کو گردن سے اتار پھینکنا ہے۔ فرد کا تعلق چاہے اقلیت سے ہو اس کی سوسائٹی کا محاصرہ بڑا ہی سخت ہوتا ہے۔ میں ظاہری پہروں کی بات نہیں کر رہا ہوں میرے پیش نگاہ وہ ماحول ہے وہ جذباتی وراثت ہے جو فرد کو لہو کے خلیوں میں تحلیل شدہ حالت میں ملتی ہے۔ ماں باپ ہر شخص کے ایک جیسے مکرم و مقدس ہوتے ہیں۔ وہ اولاد کو صرف جنم ہی نہیں دیتے اپنی بے مثل محبت بھی رگوں میں منتقل کرتے ہیں۔ اسی لیے غلط سے غلط مذہب کا پیروکار بھی اپنے اجداد کے مذہب سے شدید قلبی لگاؤ رکھتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ فرد اکثر بے عمل ہوتا ہے، پوجا پاٹھ میں بھی اخلاص اس کا قبلہ نہیں ہوتا مگر جب اس کے بزرگوں کے عقیدے پر حرف گیری کا مرحلہ آتا ہے تو اس کا لہو کھول اٹھتا ہے اور وہ مرنے مارنے پر تل جاتا ہے۔ وجہ یہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے اعتقادات کی حقانیت کے سحر میں گرفتار ہوتا ہے بلکہ سبب اس کا یہ ہوتا ہے کہ اسے اپنے والدین کی نفی کرنا یا ان کا نفی کیا جانا دشنام محسوس ہوتا ہے۔ اس قضیے کا تعلق انسانی نفسیاتی پیچیدگیوں کے
ساتھ ہے اور یہ مسئلہ ایسا سادہ نہیں ہے۔ بہر قصہ جب کسی شخص کو معروضی احوال میں اپنے مذہب کا جائزہ لینے کی توفیق ملتی ہے تو اس کے عقل و شعور اکٹھے ہو کر بین شہادت دے دیتے ہیں، کیا غلط ہے اور کیا درست ہے۔ ...... مگر جس کشمکش کا حصار بالعموم اس سے عبور نہیں ہو پاتا، اس کا نام خون کے رشتوں کے ساتھ جذباتی وابستگی ہے۔ عہد طفولیت سے جس ماں نے اپنے بچے کو سکھایا پڑھایا ہو کہ یہی سچ ہے، اس شخصیت کا تقدس ہر ظن سے بالا ہے، جس باپ نے قدم قدم پر اپنے بیٹے/بیٹی کے لیے لازوال ایثار کا مظاہرہ کیا ہو، اس نے ساتھ ساتھ اس کے شعور کو یوں مرتب کیا ہو کہ یہی نظریہ آسمانی ہے، یہی مامور ربانی ہے اور پھر اس عمل کا تواتر کم و بیش ربع صدی پر محیط ہو۔ نیز ایسے ماں باپ اپنے تئیں اس ”سچ“ کو سچ یقین کرنے کے فریب میں بھی مبتلا ہوں۔ علاوہ ازیں بچپن سے ہی ارد گرد موجود تمام ”ایجنسیاں“ اسی کارِ خیر پر مامور ہوں۔ سماجی، معاشی حال و مستقبل ان سے جڑے رہنے ہی سے وابستہ ہو ...... تو جناب خم ٹھونک کر یہ کہہ دینا کہ میں آج سے اس مدار کے باہر کھڑا ہوں، بچوں کا کھیل نہیں ہے۔
دوستو! ”احمدیت“ تاریخ کا ایسا التباس ہے جس کی نظیر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے۔ میں گھر کا بھیدی ہوں، مجھے بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ پیدائشی احمدی کو، احمدی برقرار رکھنے اور مزاج احمدیت میں پختہ تر کر دینے کے لیے کیسے کیسے جتن کیے جاتے ہیں۔ ”احمدیت“ وہ قلعہ ہے جسے نقب لگانا ایسا سہل نہیں ہے۔ اس کے بانیوں نے اس ریاست کے گرد ایسی فولادی فصیل استوار کر رکھی ہے، جس پر کمند ڈالنا آسان نہیں ہے، احمدی گھرانوں میں فکری آزادی اور بے جھجک مکالمے کے لیے فضا کبھی سازگار نہیں رکھی گئی۔ اور عملاً یہ کوشش کی گئی ہے کہ احمدیت کے فکری نظام پر کوئی گفتگو نہ کر سکے۔ احمدی خاندانوں میں مخالف نقطہ نظر کی جس قدر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، اس کی مثال ڈھونڈنی مشکل ہے۔
دوستو! یہ تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ میں وہ شخص ہوں، جس نے اعصاب کی رزم گاہ میں ایک ایک ساعت صلیب پر کاٹی ہے۔ ...... پیاس کے ایک طویل ریگزار کو طے کیا، تب کہیں جا کر مدنی نخلستانوں تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ قادیانیت سراسر دھوکا ہے مگر اس کا تانا بانا بڑی مہارت سے ترتیب دیا گیا ہے۔ میں اندر کی ہوشربا کہانی سے واقف ہوں ...... لیکن میں اکثر یہ سوچ کر ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہوں کہ علمی دنیا میں ایک شخص
ایسا بھی ہے، جس کی ماضی بعید و قریب میں کبھی کسی بھی نوعیت کی احمدیت سے نسبت نہیں رہی۔ اس کے علی الرغم وہ قادیانیت کے ریشے ریشے سے آگاہ ہے۔ ان محترم کا نام محمد متین خالد ہے۔ مجھے اکثر یہ گمان گزرتا ہے کہ اگر متین خالد صاحب مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانے میں ہوتے تو یہ اس مدعی نبوت کی راہ میں سد سکندری ثابت ہوتے۔ مجھے بہت اچھی طرح جانکاری ہے کہ احمدی حلقوں میں محمد متین خالد کا حوالہ آتے ہی سب دم بخود ہو جاتے ہیں۔ قادیانیت کی کس چال سے متین صاحب نابلد ہیں نہیں وہ اس عجیب و غریب مذہب کی رگ رگ سے آگہی رکھتے ہیں۔ احمدیوں کے ساتھ مناظروں میں جب وہ ان کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھتے ہیں تو منظر دیدنی ہوتا ہے۔ محمد متین خالد صاحب کا طغرائے امتیاز یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر محقق ہیں اور اگر میں یہ کہوں کہ کافی بے رحم محقق ہیں تو نہ یہ گستاخی ہے اور نہ مبالغہ۔ تحقیق کی بازی میں وہ پورے اعتماد کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک عمر صرف کر کے احمدیہ لٹریچر کو لفظ بہ لفظ پڑھا ہے۔ اور ان کی ریسرچ باون تولے پاؤ رتی درست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رد قادیانیت پر لکھی ہوئی چالیس کے قریب کتب میں درج بے شمار حوالوں میں سے کوئی حوالہ چیلنج نہیں ہو سکا۔ یوں تو جناب متین خالد کا سارا کام ہی وقیع ہے لیکن جو اعتبار ان کی کتاب ”ثبوت حاضر ہیں“ کو حاصل ہوا ہے، وہ لاجواب ہے۔ مذکورہ تصنیف پہلی مرتبہ اکتوبر 1997ء میں منظر عام پر آئی تھی اور علمی مجالس میں اس نے تہلکہ مچا دیا تھا۔ اس تالیف کا اختصاص یہ ہے کہ اس میں جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد کی تصانیف کے اصل عکس شامل کر دیے ہیں۔ اس سے قادیانیوں کا یہ شکوہ بھی دور ہو گیا ہے کہ مخالفین بغیر کسی ثبوت کے بات کرتے ہیں۔ حال ہی میں متین صاحب نے اس کتاب کو ”سیریز“ بنا دیا ہے یعنی اس سلسلے کی مزید جلدیں ترتیب دے دی ہیں۔ ان تمام جلدوں میں نئے حوالے قادیانیت پر شش جہات کو تنگ کرنے پر مستعد ہیں۔ سچی بات ہے ”ثبوت حاضر ہیں“ کی اشاعت کے بعد احمدیوں کے لیے کوئی جائے مفر، کوئی گریز کی راہ رہی نہیں۔
اللہ تعالیٰ متین صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی اس کاوش کو قادیانیوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ آمین! قادیانی علما کا سدا یہ وتیرہ رہا ہے کہ حالات و واقعات کے مطابق اپنی کتب میں تحریف کر لو (اس ضمن میں ایک نایاب مال میں نے بھی محفوظ کر رکھا ہے جو وقت
آنے پر جب سامنے آیا تو قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا) لیکن یہ تحریفات متین صاحب کی نظر سے بچ کر کہیں نہ جاسکیں۔ سو ”ثبوت حاضر ہیں“ پڑھیے اور سر دھنیے ......
احمد کریم شیخ کینیڈا www.ahmedi.org
۞.......۞.......۞
نہیں ملتا سخن اپنا کسی سے
یہ محض اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے ورنہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ”ثبوت حاضر ہیں!“ کو اس قدر پذیرائی اور مقبولیت حاصل ہوگی کہ اندرون اور بیرون ممالک سے بے شمار خطوط، فون اور ای میلز موصول ہوں گی جن میں احباب نے اس کتاب کی اشاعت پر نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مبارک باد اور دعائیں دیں۔ دراصل ”ثبوت حاضر ہیں!“ ایک ایسی کتاب ہے جس کی روشنی میں ایک عام شخص، قادیانی عقائد و عزائم کی بھیانک تصویر واضح طور پر دیکھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کے لیے بھی یہ کتاب اس لیے ہوش ربا اور چشم کشا ہے کہ انھوں نے آج تک مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے بیٹوں کی ایسی تحریریں کبھی نہیں دیکھیں۔ قادیانی قیادت نے ایک خاص منصوبے کے تحت ایسی متنازعہ تحریروں کو مدت مدید قادیانیوں سے چھپا رکھا ہے۔ اس کتاب میں قادیانی تحریروں کی عکسی شہادتوں کی موجودگی میں کیا کوئی قادیانی کہہ سکتا ہے کہ اس میں کسی نوع کا ترمیم و اضافہ کیا گیا ہے؟ یا کوئی حوالہ من گھڑت ہے یا کوئی حوالہ سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے؟ یا کوئی حوالہ قادیانی کتب میں موجود نہیں ہے؟
مجھے سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی ہے جب قادیانی مجھے فون یا ای میل کر کے کسی حوالہ پر گفتگو کرتے اور اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ انھیں اصل کتب دکھائی جائیں۔ اس کے جواب میں، میں انھیں عرض کرتا ہوں کہ آپ اس کتاب میں موجود حوالہ جات کی تصدیق و توثیق کے لیے کسی قادیانی لائبریری بالخصوص اپنی مرکزی خلافت لائبریری چناب نگر (ربوہ) جائیں اور وہاں سے متعلقہ کتاب نکلوا کر مطلوبہ حوالہ کو سطر بہ سطر، لفظ بہ لفظ، حرف بہ حرف موازنہ کریں، اس عبارت کو مکمل سیاق و سباق کے ساتھ پڑھیں، پھر بالکل غیر
جانبدار ہو کر بغیر کسی تاویل کے دیانتداری کے ساتھ اس تحریر کا وہی مطلب سمجھیں جو لکھا گیا ہے۔ اس کے بعد اپنے ضمیر کی عدالت سے فیصلہ لیں کہ کیا یہ سب کچھ آپ سے جان بوجھ کر نہیں چھپایا گیا؟ کیا ان عقائد کی موجودگی میں مسلمانوں کی آپ سے نفرت حق بجانب ہے یا نہیں؟ جس شخص کو مجدد، مہدی، مسیح موعود اور نبی کہتے آپ کا منہ سوکھتا ہے، کیا اس کا کردار اس قابل ہے کہ اسے ایک شریف آدمی بھی کہا جا سکے؟ اس پر وہ بیچارے دوبارہ رابطہ کرنے کا رسمی وعدہ کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ سچ کہا گیا ہے:
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر
”ثبوت حاضر ہیں!“ کے حوالہ سے یہاں ایک بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل مختلف ٹی وی چینلوں بالخصوص ایکسپریس نیوز چینل پر قادیانیوں کی حمایت میں کئی ایک پروگرام نشر ہوئے۔ جن میں قادیانی جماعت کے سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی اور بڑے جارحانہ انداز میں اپنا موقف پیش کیا۔ ان لوگوں نے یہاں تک کہا کہ کسی شخص یا جماعت کو عقائد کی بنا پر غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ 7 ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی جانے والی ترمیم کو مانتے اور نہ اس سلسلے میں کسی قسم کے آئین، دستور، ضابطے، قانون کو مانتے ہیں۔ اسی طرح اس حوالے سے کسی اعلیٰ عدالتی فیصلے کو بھی ہم تسلیم نہیں کرتے۔ قادیانیوں کا یہ اقدام ریاست کے خلاف اعلان جنگ اور کھلی بغاوت کے مترادف ہے۔ ایسے پروگراموں کے نشر کیے جانے پر ایکسپریس نیوز چینل کو مسلمانوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجہ میں اس کی انتظامیہ نے ”توازن“ برقرار رکھنے کے لیے ایک پروگرام منعقد کروانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اس اعتبار سے 11 جون 2010ء کو سہ پہر 4 بجے معروف ٹی وی پروگرام ”فرنٹ لائن“ کے اینکر جناب کامران شاہد کا مجھے فون آیا اور کہا کہ آج رات 10 بجے ”ختم نبوت اور قادیانیت“ کے موضوع پر لائیو پروگرام نشر ہو رہا ہے۔ آپ میرے پروگرام کے مہمان ہیں۔ آپ کے ساتھ ایک معروف قادیانی مبلغ کو بھی مدعو کیا جا رہا ہے جس کی منظوری مرکزی قادیانی قیادت دے گی۔ مزید کہا کہ آپ 9 بجے تک ہمارے سٹوڈیو پہنچ جائیں تاکہ پروگرام کے بارے میں کچھ ضروری امور طے کر لیں۔ میں نے بصد خوشی ہامی بھرتے ہوئے جناب کامران شاہد کا
شکریہ ادا کیا۔ جلدی میں گھر پہنچا، چند ضروری کتب اکٹھی کیں، نشانات لگائے اور ایک خاص ترتیب سے انھیں بیان کرنے کے لیے ذہن میں خاکہ بنایا۔ دوستوں اور بزرگوں کو فون کر کے دعاؤں کی درخواست کی۔ اسی اثنا میں جب جانے کے لیے تیار ہوا تو جناب کامران شاہد کا فون آ گیا: میں آپ سے بے حد معذرت چاہتا ہوں کہ ایکسپریس انتظامیہ کی طرف سے آج کا پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے۔ میں نے حیرت سے وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ قادیانی قیادت نے مجھ سے دریافت کیا تھا کہ پروگرام میں غیر احمدی علماء کی طرف سے کون آ رہا ہے تو میں نے کہا: محمد متین خالد۔ انھوں نے کہا کہ وہ ...... ”ثبوت حاضر ہیں“ ...... والے! میں نے عرض کیا ...... ہاں ! اس پر انھوں نے فوراً کہا کہ ہم اس پروگرام میں شرکت نہیں کریں گے۔ کامران شاہد نے مجھے مزید بتایا کہ قادیانیوں نے اس خوف سے کہ اگر یہ پروگرام نشر ہو گیا تو لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو ہمارے اصل عقائد ونظریات کا علم ہو جائے گا اور اس طرح مسلمانوں میں ہمارے خلاف غصہ کی ایک نئی لہر دوڑ جائے گی۔ چنانچہ قادیانی قیادت نے پیمرا اور وزارت اطلاعات ونشریات میں موجود اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانیوں کے ذریعے ایکسپریس نیوز چینل کے مالکان سے اس پروگرام کی منسوخی کے لیے دباؤ ڈالا جس پر ایکسپریس نیوز چینل کی انتظامیہ نے فوری طور پر پروگرام کینسل کر دیا۔ میں نے کامران شاہد کو بتایا کہ میں نے آپ کے پروگرام میں قادیانیوں کی آئینی، قانونی، عدالتی اور شرعی حیثیت کو پیش کرنا تھا اور قادیانیوں کے وہ کفریہ عقائد جنھیں پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، جو آنجہانی مرزا قادیانی اور اس کے بیٹوں کی کتابوں میں موجود ہیں، بیان کرنے تھے۔ لہٰذا ان عقائد کے منظر عام پر آنے کے اندیشے سے قادیانی راہ فرار اختیار کر گئے۔ میں نے گزارش کی کہ قادیانی جب چاہیں، جس وقت چاہیں، جہاں چاہیں، صحافیوں کی موجودگی میں اپنے عقائد پر پرامن طور پر بحث مباحثہ کر سکتے ہیں۔ اس پر کامران شاہد بہت خوش ہوئے اور ایک بار پھر معذرت کی۔
16 جون 2010ء کو رات 11 بجے ایکسپریس نیوز چینل کے پروگرام ”پوائنٹ بلینک“ (Point Blank) کے معروف اینکر جناب مبشر لقمان نے اپنے لائیو پروگرام میں ”ثبوت حاضر ہیں“ ! کا تعارف کرواتے ہوئے اسے تمام مسلمانوں اور قادیانیوں کو پڑھنے کی دعوت دی۔ جس پر قادیانیوں نے انٹرنیٹ پر جناب مبشر لقمان کے خلاف اپنے مسیح موعود کی پیروی میں خوب ہرزہ سرائی کی:
سورج کا مرکز ہے معین، ظلمت جتنا سایہ ہے
باطل اپنے چہرے پر حق کا غازہ مل لے تو سادہ لوحوں کا اس سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ قادیانیت اور دھوکہ دہی دو جڑواں بہنیں ہیں جن کی سرشت ایک، طینت ایک اور روح ایک ہے۔ قادیانیت کا اپنا ایک جہنم ہے جہاں لالچ کے کانٹے، مفاد کے ہتھکنڈے، عقائد کے اندھے غارے اور مادی دولت کے آتش کدے ہیں جو اپنے پیروکاروں کو حق کی طرف جانے نہیں دیتے۔ لیکن ہمارا فرض ہے کہ بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھایا جائے۔ ٹیڑھے میڑھے، اوبڑ کھابڑ راستوں سے ہٹا کر انھیں صراط مستقیم پر چلایا جائے۔ سچائی سے انکار کی بھیڑ میں کھوئے ہوئے انسانوں کو راہ راست پر لایا جائے۔ ”ثبوت حاضر ہیں“! اسی مشن کی تکمیل کے لیے تحریر کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے! آمین!
ہماری گفتگو کا ڈھب جدا ہے
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد متین خالد Email: fatehqadyaniat@hotmail.com
قادیانیت
ثبوت حاضر ہیں!
ثبوت حاضر ہیں!
مرزا قادیانی
کے
حالاتِ زندگی
مسیلمہ ثانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنی ذات کے متعلق ایک بڑا ہی عجیب شعر ہے:
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
واقعہ یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ جو حاکم مطلق اور مختار کل ہے، اس نے اپنی قدرت کاملہ اور لازوال طاقت کے ذریعہ ”مسیلمہ قادیان“ کی زبان وقلم سے وہ کچھ کہلوایا جس سے مرزا قادیانی کی حقیقت الم نشرح ہو کر رہ گئی۔ آنجہانی کی تحریرات کو ایک خاص نظم وترتیب سے سامنے رکھا جائے تو اس کے پاگل پن، مراقی طبیعت اور حماقت کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے اور ہر شریف آدمی یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ مرزا قادیانی اسلامی اقدار تو کیا، عمومی انسانی اخلاق سے بھی عاری اور محروم تھا، چہ جائیکہ نبوت کا عالی مرتبت مقام، جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں انسانیت کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ ایسی نعمت جس کی تکمیل اللہ رب العزت نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر کر دی۔ حضور خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے اس عظیم منصب پر بہت سے ڈاکو حملہ آور ہونے کے لئے اس جہان رنگ و بو میں نمودار ہوئے لیکن آقائے نامدار ﷺ کے غلاموں نے ان طالع آزماؤں کی ایک نہ چلنے دی اور اکثر تو ”ارتداد“ کے سنگین جرم کے سبب تہہ تیغ کر دیے گئے۔
یہ محض حسن اتفاق تھا کہ مرزا قادیانی نے منصب نبوت پر اس وقت ڈاکہ ڈالا، جب گوری اقلیت حکمران تھی اور بلکہ اسی اقلیت نے اسے کام کے لیے منتخب کیا۔ برٹش حکومت کے زیر سایہ موصوف پروان چڑھے اور 1908ء میں عبرت ناک موت کے بعد بھی اس کی جماعت اسلام کے نام پر پھیلتی رہی۔ تا آنکہ 1974ء میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مرزا قادیانی کے تمام پیروکاروں کو جسد ملی سے آئینی اور دستوری طور پر کاٹ کر
پھینک دیا۔
”ثبوت حاضر ہیں!“ حصہ اوّل میں آپ مرزا غلام احمد قادیانی کی اسلام، نبی کریم ﷺ اور دیگر مقدس شخصیات کے بارے میں کلیجہ شق کر دینے اور آنکھوں میں خون اتار دینے والی گستاخیاں، ہرزہ سرائیاں اور توہینیں پڑھ آئے ہیں، جس کی مثال پوری تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ ایسی دریدہ دہنیوں کی جرأت تو شیطان کو بھی نہ ہوسکی تھی۔ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، راج پال، لیکھ رام اور سلمان رشدی، مرزا قادیانی کے مقابلہ میں اسلام کے خلاف بغض و عناد کے حوالے سے بونے نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف مرزا قادیانی کا ذاتی کردار اس قدر مضحکہ خیز ہے کہ اسے نبی تو کیا، ایک شریف آدمی بھی کہنا، شرافت کی اہانت ہے۔
”وفات مسیح“ اور ”اجرائے نبوت“ ہر قادیانی کا پسندیدہ موضوع ہے۔ یہ ایک ایسا ٹیکنیکل موضوع ہے کہ ایک عام اور سادہ لوح مسلمان قرآن و حدیث سے لاعلمی اور ناقص مطالعہ کی بنا پر مدلل گفتگو نہیں کر سکتا۔ جبکہ ایک عام قادیانی کی اس خاص موضوع پر بھرپور تیاری ہوتی ہے اور یوں وہ ایک عام مسلمان پر نفسیاتی فتح بزعم خود حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس کسی بھی قادیانی سے گفتگو، بحث یا مناظرہ کے شروع میں اگر یہ کہہ دیا جائے کہ ”آج مرزا قادیانی کی شخصیت و کردار“ پر بات ہوگی تو یقین جانیے، قادیانیوں کے اوسان خطا اور ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں بلکہ بعض تو اس قدر طیش میں آجاتے ہیں کہ گویا گالی سے ان کی تواضع کی گئی ہے۔ قادیانی کبھی اس موضوع پر بات کرنے کے لیے رضامند نہیں ہوتے بلکہ صاف انکار کر دیتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ ”کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔“ قادیانیوں کو تنہائی میں بیٹھ کر اس اہم نکتہ پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
خود قادیانی قیادت کے نزدیک کسی مدعی نبوت و رسالت کے دعویٰ کو جانچنے کا پہلا معیار یہ ہے کہ اس کا کردار دیکھیں کہ آیا وہ صادق ہے یا کاذب۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:
- (1) ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل فرماتے تھے کہ جب فتح اسلام، توضیح
مرام شائع ہوئیں تو ابھی میرے پاس نہ پہنچی تھیں اور ایک مخالف شخص کے پاس پہنچ گئی تھیں۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: دیکھو اب میں مولوی صاحب کو یعنی مجھے مرزا غلام احمد سے علیحدہ کیے دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب! کیا نبی کریمؐ کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ اس نے کہا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر؟ میں نے کہا تو پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راستباز ہے یا نہیں۔ اگر صادق ہے تو بہر حال اس کی بات کو قبول کریں گے۔“
(سیرت المہدی ج اول ص 98 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ 397 پر)
View Proof
اس طرح قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ مرزا محمود اس کی تصدیق کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- (2) ”جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک شخص فی الواقع مامور من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی
طرف سے بھیجا ہوا ہے تو پھر اجمالاً اس کے تمام دعاوی پر ایمان لانا واجب ہو جاتا ہے...... غرض اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ مدعی ماموریت فی الواقع سچا ہے یا نہیں؟ اگر اس کی صداقت ثابت ہو جائے تو اس کے تمام دعاوی کی صداقت بھی ساتھ ہی ثابت ہو جاتی ہے۔ اور اگر اس کی سچائی ہی ثابت نہ ہو تو اس کے متعلق تفصیلات میں پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔“
(دعوۃ الامیر ص 49، 50 مندرجہ انوار العلوم ج 7 ص 376، 377 از مرزا بشیر الدین محمود)
(عکس صفحہ 398 پر)
View Proof
قادیانی عقائد کے مطابق اگر مرزا قادیانی نبی اور رسول ہے تو قادیانیوں کو مرزا قادیانی کے کردار پر بات کرتے ہوئے ہرگز نہیں کترانا چاہیے۔ کیونکہ نبی اور رسول تو سب سے پہلے لوگوں کے سامنے اپنا کردار پیش کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں، میں آپ کے سامنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔
ایک روز حضور نبی کریم ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کے لوگوں کو بلانا شروع کیا جب سب جمع ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم مجھے بتاؤ کہ تم مجھے سچا سمجھتے ہو یا جھوٹا جانتے ہو؟
سب نے ایک آواز سے کہا: ہم نے کوئی بات غلط یا بیہودہ آپ کے منہ سے نہیں سنی، ہم یقین کرتے ہیں کہ آپ صادق و امین ہیں۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ دیکھو! میں پہاڑی کی چوٹی پر کھڑا ہوں اور تم اس کے نیچے ہو۔ میں پہاڑ کے ادھر بھی دیکھ رہا ہوں اور ادھر بھی نظر کر رہا ہوں، اچھا اگر میں یہ کہوں کہ رہزنوں کا ایک مسلح گروہ دور سے نظر آ رہا ہے جو مکہ پر حملہ آور ہوگا۔ کیا تم اس بات کا یقین کر لو گے؟
لوگوں نے کہا: ”بے شک! کیونکہ ہمارے پاس آپ جیسے راست باز آدمی کے جھٹلانے کی کوئی وجہ نہیں، خصوصاً جبکہ وہ ایسے بلند مقام پر کھڑا ہے کہ دونوں طرف دیکھ رہا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ سب کچھ سمجھانے کے لیے ایک مثال تھی۔ اب یہ یقین کر لو کہ موت تمہارے سر پر آ رہی ہے اور تمہیں اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور میں عالم آخرت کو بھی ایسا ہی دیکھ رہا ہوں، جیسے دنیا پر تمہاری نظر ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے شرک کے خرافات و بطلان کا پردہ چاک کرنا اور بتوں کی حقیقت اور حیثیت کو واشگاف کرنا شروع کر دیا۔ آپ ﷺ مثالیں دے دے کر سمجھاتے کہ یہ کس قدر عاجز و ناکارہ ہیں اور دلائل سے واضح فرماتے کہ جو شخص انہیں پوجتا ہے، وہ کس قدر کھلی ہوئی گمراہی میں ہے۔ قریش یہ سب کچھ سمجھ رہے تھے، لیکن مشکل یہ آن پڑی تھی کہ ان کے سامنے ایک ایسا شخص تھا جو صادق و امین تھا۔ انسانی اقدار اور مکارم اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھا اور ایک طویل عرصے سے انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ میں اس کے کردار کی نظیر نہ دیکھی تھی اور نہ سنی تھی۔ آخر اس کے بالمقابل کریں تو کیا کریں؟ قریش حیران تھے اور انہیں واقعی حیران ہونا چاہیے تھا۔
قارئین محترم! اس باب میں زیادہ تر حوالہ جات ”تذکرہ“ اور ”سیرت المہدی“ نامی قادیانی کتب سے لیے گئے ہیں۔
”تذکرہ“ مرزا غلام احمد قادیانی پر اترنے والی خود ساختہ وحیوں اور الہامات کا مجموعہ ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک اس کی حیثیت نعوذ باللہ قرآن مجید جیسی ہے، کیونکہ قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام وحیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں (نعوذ باللہ)! قرآن مجید
کے بہت سے نام ہیں جن میں ایک نام ”تذکرہ“ بھی ہے۔ قادیانیوں نے دجل و تلبیس سے کام لیتے ہوئے اس کا نام ”تذکرہ“ رکھا۔
”سیرت المہدی“ مرزا بشیر احمد ایم اے کی بدنام زمانہ تصنیف ہے۔ مرزا بشیر احمد، مرزا قادیانی کا منجھلا بیٹا ہے جسے مرزا نے ”قمر الانبیا“ قرار دیا تھا۔ اس کتاب میں مرزا بشیر احمد نے اپنے باپ مرزا قادیانی کے تمام حالات زندگی اور ذاتی کردار تفصیلاً بیان کیا ہے۔ اس لیے اس کی تمام روایات قادیانیوں کے نزدیک مستند ہیں جن سے وہ انکار نہیں کر سکتے۔ قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باللہ) یہ حدیث اور سنت کی کتاب ہے، کیونکہ جو کچھ مرزا قادیانی نے کہا اور کوئی عمل کیا ہے، قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باللہ) حدیث وسنت کے زمرے میں آتا ہے۔ جس طرح ہماری حدیث کی کتابوں (بخاری ومسلم وغیرہ) میں ہر حدیث مبارکہ کے شروع میں درج ہوتا ہے، مثلاً: ”روایت کیا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں.......“
اس کی نقل اتارتے ہوئے مرزا بشیر احمد نے اس کتاب میں درج تمام روایات کے شروع میں لکھا: مثلاً، روایت کیا ہے ام المومنین (مرزا قادیانی کی بیوی) نے کہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں.......... (نعوذ باللہ)!
قادیانی روزنامہ ”الفضل“ قادیان مورخہ 14 ستمبر 1929ء کے مطابق اس کتاب میں کافی چھان بین اور غور وخوض کے بعد مرزا قادیانی کے خصائص و شمائل و سیرت کے متعلق نہایت ثقہ روایات درج کی گئی ہیں۔ 19 فروری 1924ء کے ”الفضل“ کے مطابق ”ہر روایت کتب حدیث کی طرز پر بیان کی گئی ہے۔ ہر روایت پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے حدیث کی کتاب پڑھی جارہی ہے۔ ہر احمدی کے پاس اس کتاب کا ہونا لازم ہے۔“
خدا کی زمین پر اس سے بڑی توہین اور کیا ہوگی!
آئیے مرزا قادیانی کی کہانی، خود اس کی اور اس کے اپنوں کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:۔
پیدائش
- (3) ”میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا اور یہ الہام
کہ یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ 496 میں درج ہے۔ اس میں جو جنت کا لفظ ہے اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ پیدا ہوئی ، اس کا نام جنت تھا اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہو گئی تھی۔ غرض چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام اور الہام میں مجھے آدم صفی اللہ سے مشابہت دی تو یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس قانون قدرت کے مطابق جو مراتب وجود دوریہ میں حکیم مطلق کی طرف سے چلا آتا ہے۔ مجھے آدم کی خو اور طبیعت اور واقعات کے مناسب حال پیدا کیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ واقعات جو حضرت آدم پر گزرے۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زوج کے طور پر تھی۔ یعنی ایک مرد اور ایک عورت ساتھ تھی۔ اور اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی۔ یعنی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں۔ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا۔ اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد میں اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا۔“
(تریاق القلوب صفحہ 351 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 479 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 400 پر)
مرزا قادیانی کے الفاظ پر غور فرمائیں : ”پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد میں اس کے میں نکلا تھا ۔“ کتنے بازاری اور گھٹیا الفاظ ہیں۔ جبکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ ہے کہ میں سلطان القلم بنایا گیا ہوں ۔ پھر قرآن مجید کی آیت کو اپنا الہام بنا کر پیش کیا اور وہ آسمانی جنت جس میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا کو قیام کرنے کی نوید سنائی گئی تھی، مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ وہ میری بہن ہے۔ ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ یہاں مرزا قادیانی ”بقلم خود“ خاتم الاولاد کا معنی ”اولاد کے ختم کرنے والا“ تسلیم کر رہا ہے، لیکن جب خود نبی بننے کی سوجھی تو خاتم الانبیا کا معنی ”نبیوں کے ختم کرنے والا“ ماننے سے انکار کر دیا۔
سر اور پیر
(4) ”اور اس پیشگوئی کو شیخ محی الدین ابن العربی نے فصوص الحکم میں فص شیث میں لکھا ہے اور دراصل یہ پیشگوئی فص آدم میں رکھنے کے لائق تھی۔ مگر انھوں نے شیث کو الولد سر لابیہ کا مصداق سمجھ کر اسی کے فص میں اس کو لکھ دیا ہے۔ ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ اس جگہ شیخ کی اصل عبارت نقل کر دیں اور وہ یہ ہے۔ ”وعلیٰ قدم شیث یکون آخر مولود یولد من ھذا النوع الانسانی وھو حامل اسرارہ، ولیس بعدہ ولد فی ھذا النوع فھو خاتم الاولاد. وتولد معہ اخت لہ فتخرج قبلہ و یخرج بعدھا یکون رأسہ عند رجلیھا. و یکون مولدہ بالصین ولغتہ لغت بلدہ. و یسری العقم فی الرجال والنساء فیکثر النکاح من غیر ولادۃ. ویدعوھم الی اللہ فلا یجاب.“ یعنی کامل انسانوں میں سے آخری کامل ایک لڑکا ہوگا جو اصل مولد اس کا چین ہوگا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ قوم مغل اور ترک میں سے ہوگا۔ اور ضروری ہے کہ عجم میں سے ہوگا نہ عرب میں سے۔ اور اس کو وہ علوم اور اسرار دیے جائیں گے جو شیث کو دیے گئے تھے اور اس کے بعد کوئی اور ولد نہ ہوگا اور وہ خاتم الاولاد ہوگا۔ یعنی اس کی وفات کے بعد کوئی کامل بچہ پیدا نہیں ہوگا اور اس فقرہ کے یہ بھی معنی ہیں کہ وہ اپنے باپ کا آخری فرزند ہوگا۔ اور اس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوگی جو اس سے پہلے نکلے گی۔ اور وہ اس کے بعد نکلے گا۔ اس کا سر اس دختر کے پیروں سے ملا ہوا ہوگا۔ یعنی دختر معمولی طریق سے پیدا ہوگی کہ پہلے سر نکلے گا اور پھر پیر اور اس کے پیروں کے بعد بلا توقف اس پسر کا سر نکلے گا (جیسا کہ میری ولادت اور میری توام ہمشیرہ کی اسی طرح ظہور میں آئی۔“)
(تریاق القلوب صفحہ 355 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 482، 483 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 401 پر)
تاریخ پیدائش کا دلچسپ اختلاف
مرزا غلام احمد قادیانی پنجاب میں ضلع گورداسپور کے ایک قصبے ”قادیان“ میں پیدا ہوا۔ یہ قصبہ امرتسر سے شمال مشرق کی طرف ریلوے لائن پر ایک قدیم شہر بٹالہ سے گیارہ میل
کے فاصلے پر واقع ہے۔ مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش کا تذکرہ کئی کتابوں سے ملتا ہے، لیکن اس کی تاریخ پیدائش کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی اپنی پیدائش کے بارے لکھتا ہے:
- (5) ’’میری پیدائش 1839ء یا 1840ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور
میں 1857ء میں سولہ برس کا یا سترہویں برس میں تھا اور ابھی ریش و بروت کا آغاز نہیں تھا۔‘‘
(کتاب البریہ (حاشیہ) صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 177 مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 403 پر)
View Proof
- (6) ’’لیکن بعد میں اس کے خاندان کے افراد میں ان کے سال ولادت کے متعلق
اختلاف پیدا ہوگیا، اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد ، جو اس کا سوانح نگار اور سیرت المہدی کا مصنف ہے، کے پہلے نظریے کے مطابق سال ولادت 1836 یا 1837ء ہوسکتا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 150 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 404 پر)
View Proof
- (7) ’’پس 13 فروری 1835ء عیسوی بمطابق 14 شوال 1250 ہجری بروز جمعہ والی
تاریخ صحیح قرار پاتی ہے۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 76 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 405 پر)
View Proof
- (8) ’’ایک تخمینہ کے مطابق سال ولادت 1831ء ہوسکتا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 74 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 406 پر)
View Proof
- (9) ’’معراج دین نے تاریخ ولادت 17 فروری 1832ء مقرر کی ہے۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 302 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 407 پر)
View Proof
- (10) ”جبکہ دیگر 1833ء یا 1834ء کو سال ولادت قرار دیتے ہیں۔“
(سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 194 از مرزا بشیر احمد ایم اے ) (عکس صفحہ نمبر 408 پر)
View Proof
1914ء میں جب قادیانی جماعت دو گروہوں میں تقسیم ہو گئی اور لاہوری گروپ کا وجود عمل میں آیا تو لاہوری گروپ کے مورخ بشارت احمد لاہوری نے مرزا قادیانی کی تحریر کے 42 سال بعد 1939ء میں مرزا قادیانی کی سوانح حیات ”مجدد اعظم“ میں لکھا:
- (11) ”حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی سنہ ولادت کے متعلق کوئی تحریری یاداشت تو
ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ اس لیے اس امر میں اختلاف ہونا لازمی امر تھا۔ مگر تحقیقات سے سنہ ولادت 1835ء صحیح معلوم ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آپ نے کتاب البریہ میں اپنی پیدائش کا سنہ 1839ء یا 1840ء لکھا ہے لیکن ظاہر ہے کہ آپ نے یہ کسی تحریری یاداشت کی بنا پر نہیں لکھا، محض تخمینہ یا اندازہ سے قیاس کر کے ایسا لکھ دیا۔ اسی لیے کوئی سنہ متعین نہیں کیا۔“
(مجدد اعظم جلد اوّل صفحہ 16 از ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 409 پر)
View Proof
آنجہانی مرزا قادیانی کے اپنے قول کے مطابق اس کی پیدائش 1839ء یا 1840ء میں ہوئی ہے لیکن اس کے سوانح نگاروں نے اس سلسلے میں مرزا قادیانی کی تحریروں کو باہمی اختلاف و تضاد، تخمین و ظن اور قیاس پر مبنی مان کر ان کو مسترد کر دیا ہے اور اپنی نئی نئی تحقیقات کی بنا پر 1835ء ، 1836ء کو ولادت کا سن متعین کیا ہے۔
لیکن اس موقع پر مرزائیوں کے لیے ایک بات ضرور غور طلب ہے کہ مرزائیوں کا مرزا قادیانی کی ہی لکھی ہوئی تاریخ ولادت میں اختلاف کرنا اور نت نئی تحقیقات پیش کرنا خود مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی دلیل بنتی ہے۔
مرزا قادیانی کی عمر میں ترمیم ایک خاص مقصد کے لیے کی گئی تھی تاکہ اس کی ایک پیش گوئی کو سچ ثابت کیا جاسکے ، مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی اربعین نمبر 3 صفحہ 80 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 422) پر درج کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی غلط ثابت ہوئی۔
نہایت تاسف کا مقام ہے کہ مرزائی حضرات نے مرزا قادیانی کی مقام افسوس اور خلاف الہام وفات سے سبق لینے کی بجائے اس کے واقعات عمر میں ہی ردو بدل کرنا شروع کر دیا۔ وفات کی تاریخ تو وہ بدل نہ سکتے تھے۔ ناچار انہوں نے تاریخ پیدائش میں اختلاف کرنا شروع کر دیا کہ کسی نہ کسی بہانے واقعات کو پیش گوئی پر منطبق کیا جاسکے۔
نام ونسب
- (12) ”میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد، میرے والد صاحب کا نام
غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا، اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے۔“
(کتاب البریہ (حاشیہ) صفحہ 144 روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 162 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 410 پر)
View Proof
میں کون ہوں؟
- (13) ”ہمارے خاندان کی قومیت ظاہر ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ قوم کے برلاس مغل ہیں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 145 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 273 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 411 پر)
View Proof
- (14) ”ہمارا خاندان جو اپنی شہرت کے لحاظ سے مغلیہ خاندان کہلاتا ہے، اس پیشگوئی کا
مصداق ہے کیونکہ اگرچہ سچ وہی ہے کہ جو خدا نے فرمایا کہ یہ خاندان فارسی الاصل ہے مگر یہ تو یقینی اور مشہور ومحسوس ہے کہ اکثر مائیں اور دادیاں ہماری مغلیہ خاندان سے ہیں اور وہ حسینی الاصل ہیں یعنی یمن کے رہنے والی۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 209 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 209 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 412 پر)
View Proof
- (15) ”میں باپ کے لحاظ سے قوم کا مغل ہوں مگر بعض دادیاں میری سادات میں سے تھیں۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 192 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 363 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 413 پر)
View Proof
- (16) ”اس عاجز کا خاندان دراصل فارسی ہے نہ مغلیہ۔ نہ معلوم کس غلطی سے مغلیہ
خاندان کے ساتھ مشہور ہو گیا۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 78 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 81 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 414 پر)
View Proof
- (17) ”میں اپنے خاندان کی نسبت کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ وہ ایک شاہی خاندان ہے
اور بنی فارس اور بنی فاطمہؓ کے خون سے ایک معجون مرکب ہے۔“
(تریاق القلوب صفحہ 158 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 286، 287 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 415، 416 پر)
View Proof
ذات بدلنے والا کون؟
- (18) ”عتل بعد ذلک زنیم۔“ (القلم: 13)
قرآن مجید میں زنیم کا لفظ ہے جس کے معنی ہوتے ہیں کہ وہ شخص جو کسی قوم کا فرد تو نہیں مگر اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتا ہے۔“
(تفسیر صغیر صفحہ 763 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 417 پر)
View Proof
- (19) مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں عتل بعد ذلک زنیم، (القلم: 13)
کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ زنیم کے معنی ہیں ولد الزنا (یعنی زنا کی پیداوار، ولد الحرام)
(ازالہ اوہام صفحہ 29، 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 116، 117 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 418، 419 پر)
View Proof
والد اور بھائی کے نقش قدم پر
(20) ”اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا اور عند الضرورت خدمتیں بجا لاتا رہا۔ یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غمخواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پا گیا تب ان خصلتوں میں اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا جس کا نام مرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے شامل حال ہو گئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا، پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی۔“
(نورالحق صفحہ 38 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 38 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 420 پر)
View Proof
والد کی وفات پر اللہ تعالیٰ کی تعزیت
(21) ”میں اس بات کو فراموش نہیں کروں گا کہ میرے والد صاحب کی وفات کے وقت خدا تعالیٰ نے میری عزا پرسی کی اور میرے والد کی وفات کی قسم کھائی جیسا کہ آسمان کی قسم کھائی۔ جن لوگوں میں شیطانی روح جوش زن ہے وہ تعجب کریں گے کہ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدا کسی کو اس قدر عظمت دے کہ اس کے والد کی وفات کو ایک عظیم الشان صدمہ قرار دے کر اس کی قسم کھاوے۔ مگر میں پھر دوبارہ خدائے عزوجل کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعہ حق ہے اور وہ خدا ہی تھا جس نے عزا پرسی کے طور پر مجھے خبر دی اور کہا کہ والسماء والطارق اور اسی کے موافق ظہور میں آیا۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 219 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 219 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 421 پر)
حیرت زدہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام سے ان کے والد محترم
View Proof
حضرت یعقوب علیہ السلام کی رحلت پر عزا پرسی نہ کی اور اگر کی ہوتی تو ضرور احادیث نبویہ میں اس کا ذکر ہوتا۔ اسی طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس ان کے والد مکرم حضرت اسحاق علیہ السلام کے حادثہ انتقال پر تعزیت نہ فرمائی اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے ان کے پدر بزرگوار حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر کوئی عزا پرسی نہ کی۔ اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس ان کے والد مکرم حضرت داؤد علیہ السلام کے سانحہ ارتحال پر تعزیت نہ کی حالانکہ یہ تمام باپ بیٹے انبیا و مرسلین تھے لیکن عزاداری کی تو انگریزوں کے ٹاؤٹ غلام مرتضیٰ کے انتقال پر کی، جو نبی تھا نہ صدیق، مہاجر تھا نہ شہید، زاہد تھا نہ عارف، عالم تھا نہ حافظ، غرض کچھ بھی نہ تھا۔ البتہ مرزا غلام مرتضیٰ میں دو ”خصوصیات“ ایسی پائی جاتی تھیں جو کسی نبی میں گزری ہیں اور نہ کسی صدیق، شہید، عارف اور ولی میں۔ ان میں سے پہلی خصوصیت یہ تھی کہ وہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کا والد تھا۔ دوسری یہ کہ وہ بے نمازی تھا۔ موخر الذکر خصوصیت کے متعلق مرزا بشیر احمد، ایم۔اے ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتا ہے:
مرزا قادیانی کا والد بے نمازی
- (22) ”بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم
اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ایک بغدادی مولوی آیا۔ دادا صاحب نے اس کی بڑی خاطر و مدارات کی۔ اس مولوی نے دادا صاحب سے کہا مرزا قادیانی آپ نماز نہیں پڑھتے؟ دادا صاحب نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاں بیشک میری غلطی ہے۔ مولوی صاحب نے پھر بار بار اصرار کے ساتھ کہا اور ہر دفعہ دادا صاحب یہی کہتے گئے کہ میرا قصور ہے۔ آخر مولوی نے کہا آپ نماز نہیں پڑھتے، اللہ آپ کو دوزخ میں ڈال دے گا۔ اس پر دادا صاحب کو جوش آ گیا اور کہا ”تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے کہاں ڈالے گا۔ میں اللہ تعالیٰ پر ایسا بدظن نہیں ہوں، میری امید وسیع ہے۔ خدا فرماتا ہے لا تقنطوا من رحمۃ اللہ تم مایوس ہو گئے، میں مایوس نہیں ہوں۔ اتنی بے اعتقادی میں تو نہیں کرتا۔“ پھر کہا ”اس وقت میری عمر 75 سال کی ہے۔ آج تک خدا نے میری پیٹھ نہیں لگنے دی ہے تو کیا اب وہ مجھے دوزخ میں ڈال دے گا۔“ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ پیٹھ لگنا پنجابی کا محاورہ ہے جس کے معنی دشمن کے مقابلہ میں
ذلیل و رسوا ہونے کے ہیں ورنہ ویسے مصائب تو دادا صاحب پر بہت آئے ہیں۔"
(سیرت المہدی ، جلد اول صفحہ 231 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 422 پر)
View Proof
مقدمات میں وقت ضائع
- (23) ”میرے والد صاحب اپنے بعض آبا و اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لیے
انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے، انھوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔ میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا۔ اس لیے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتا رہا۔“
(کتاب البریہ حاشیہ صفحہ 164 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 182 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 423 پر)
View Proof
مرزا قادیانی کی تلاش
- (24) ”کوئی حضرت مرزا صاحب سے ملنے آتا اور آپ کے متعلق دریافت کرتا تو
فرماتے کہ مسجد کے سقاوہ کی کسی ٹونٹی میں جا کر دیکھو۔ اگر وہاں نہ پاؤ تو مسجد کے اندر کسی گوشہ میں تلاش کرو۔ اگر وہاں بھی نہ ہو تو دیکھنا کہ کسی صف میں کوئی لپیٹ کر کھڑا کر گیا ہوگا، کیونکہ وہ زندگی میں ہی مرا ہوا ہے۔“
(مجدد اعظم جلد اول صفحہ 27 از ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 424 پر)
View Proof
بازو ٹوٹ گیا
- (25) ”بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم
اے کہ ایک دفعہ والد صاحب اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گر گئے اور دائیں بازو پر چوٹ آئی
چنانچہ آخر عمر تک وہ ہاتھ کمزور رہا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ آپ کھڑکی سے اترنے لگے تھے، سامنے سٹول رکھا تھا، وہ الٹ گیا اور آپ گر گئے اور دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور یہ ہاتھ آخر عمر تک کمزور رہا۔ اس ہاتھ سے آپ لقمہ تو منہ تک لے جاسکتے تھے مگر پانی کا برتن وغیرہ منہ تک نہیں اٹھا سکتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ نماز میں بھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے سہارے سے سنبھالنا پڑتا تھا۔“
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 216، 217 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 425 پر)
View Proof
اور انگلی کٹ گئی
(26) ”خاکسار کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گھر میں ایک مرغی کے چوزہ کے ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ تھا۔ اس لیے حضرت صاحب اس چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی جس سے بہت خون گیا اور آپ توبہ توبہ کرتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا۔“
(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 4 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 427 پر)
View Proof
کسی کی جان گئی، کسی کی ادا ٹھہری
(27) ”صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم کے دل بہلانے کے واسطے ایک دفعہ چھوٹی چھوٹی چڑیاں کہیں سے لائی گئیں۔ صاحبزادہ صاحب ان چڑیوں کو اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھنا پسند کرتے تھے اور بعض دفعہ بچپن کی نادانگی سے ایسی طرح پکڑتے اور دبائے رکھتے کہ چڑیا کی جان پر بن جاتی۔ اس پر گھر کی کسی خادمہ نے صاحبزادہ صاحب کو چڑیا ہاتھ میں پکڑنے سے روکا۔ مگر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اس خادمہ کو منع کیا۔ فرمایا کہ یہ چڑیاں اس کے دل بہلانے کے واسطے ہیں۔ جس طرح چاہے پکڑے، تم نہ روکو۔“
(ذکر حبیب صفحہ 171 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 428 پر)
View Proof
چھری چل گئی
(28) "حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ایک چوزہ ذبح کرتے ہوئے زخمی ہو گئے۔ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود عصر کی نماز کے وقت مسجد مبارک میں تشریف لائے، بائیں ہاتھ کی انگلی پر پٹی پانی میں بھیگی ہوئی باندھی ہوئی تھی۔ اس وقت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے حضرت اقدس سے پوچھا کہ حضور نے یہ پٹی کیسے باندھی ہے؟ تب حضرت اقدس نے ہنس کر فرمایا کہ ایک چوزہ ذبح کرنا تھا۔ ہماری انگلی پر چھری پھر گئی۔ مولوی صاحب مرحوم بھی ہنسے اور عرض کیا کہ آپ نے ایسا کام کیوں کیا۔ حضرت نے فرمایا کہ اس وقت اور کوئی نہ تھا۔"
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 6 از بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 429 پر)
لطیفہ
(29) "بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بُورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی، بس پھر کیا تھا میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا، وہ بُورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد آیا کہ ایک دفعہ گھر میں میٹھی روٹیاں پکیں کیونکہ حضرت صاحب کو میٹھی روٹی پسند تھی، جب حضرت صاحب کھانے لگے تو آپ نے اس کا ذائقہ بدلا ہوا پایا مگر آپ نے اس کا خیال نہ کیا، کچھ اور کھانے پر حضرت صاحب نے کڑواہٹ محسوس کی اور والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ روٹی کڑوی معلوم ہوتی ہے؟ والدہ صاحبہ نے پکانے والی سے پوچھا، اس نے کہا میں نے تو میٹھا ڈالا تھا۔ والدہ صاحبہ نے پوچھا کہ کہاں سے لے کر ڈالا تھا؟ وہ برتن لاؤ۔ وہ عورت ایک ٹین کا ڈبہ اٹھا لائی دیکھا تو معلوم ہوا کہ کونین کا ڈبہ تھا اور اس عورت نے جہالت سے بجائے میٹھے کے روٹیوں میں کونین ڈال دی تھی، اس دن گھر میں یہ بھی ایک لطیفہ ہو گیا۔"
(سیرت المہدی، جلد اول صفحہ 244، 245 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 430 پر)
راکھ سے روٹی
(30) ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا، انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت نے کہا نہیں یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی، حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں، سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر راکھ سے روٹی کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا۔ یہ حضرت صاحب کا بالکل بچپن کا واقعہ ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ جس وقت اس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی، اس وقت حضرت صاحب بھی پاس تھے مگر آپ خاموش رہے۔“
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 245 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 432 پر)
View Proof
مٹی اور گڑ کے ڈھیلے
(31) ”آپ (مرزا قادیانی) کو شیرینی سے بہت پیار تھا اور مرض بول بھی عرصہ سے آپ کو لگی ہوئی تھی۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔“
View Proof
(مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ طبع چہارم صفحہ 67، مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 433 پر)
نمک اور چینی میں فرق نہ کرنے والا مرزا قادیانی مٹی اور گڑ کے ڈھیلے سے جو سلوک کرتا ہو گا، وہ تو ظاہر ہی ہے مگر اس سے بھی زیادہ مزیدار بات یہ ہے کہ اس جیب کی صورت اور حالت کیا ہوگی جس میں ڈھیلے کے لئے مٹی کے کئی ڈھیلے اور کھانے کے لئے گڑ کے ڈھیلے اکٹھے رکھتا تھا۔ کیا مرزا قادیانی کی نفاست طبعی جانچنے کے لئے یہ ایک عمل ہی کافی نہیں ہے؟
بالفرض اگر ڈھیلے نہ بھی بدلتا ہو مگر مٹی کو گڑ اور گڑ کو مٹی تھوڑا بہت تو لگ ہی جاتا ہوگا۔ اس طرح مرزا قادیانی گڑ کھاتے وقت مٹی کے ذائقے اور ڈھیلا کرتے وقت گڑ کے مزے سے یقیناً لطف اندوز ہوتا ہوگا۔
سُندھی
(32) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہاری دادی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم اپنی والدہ کے ساتھ بچپن میں کئی دفعہ ایمہ گئے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کر لیا کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا کہ سندھی ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نہ سمجھ سکی کہ سندھی سے کون مراد ہے۔ آخر معلوم ہوا کہ ان کی مراد حضرت صاحب سے ہے۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ دستور ہے کہ کسی منت ماننے کے نتیجے میں بعض لوگ خصوصاً عورتیں اپنے کسی بچے کا عرف سندھی رکھ دیتے ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے آپ کی والدہ اور بعض عورتیں آپ کو بھی بچپن میں کبھی اس لفظ سے پکار لیتی تھیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ سندھی غالباً دسوندھی یا دسبندھی سے بگڑا ہوا ہے۔ جو ایسے بچے کو کہتے ہیں جس پر کسی منت کے نتیجہ میں دس دفعہ کوئی چیز باندھی جاوے اور بعض دفعہ منت کوئی نہیں ہوتی بلکہ یونہی پیار سے عورتیں اپنے کسی بچے پر یہ رسم ادا کر کے اسے سندھی پکارنے لگ جاتی ہیں۔“
(سیرت المہدی ، جلد اول صفحہ 45 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 434 پر)
View Proof
مرزا قادیانی کا مشہور شعر ہے:
نیز ابراہیم ہوں، نسلیں ہیں میری بے شمار
(درثمین صفحہ 123 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کو چاہئے تھا، اس شعر میں اپنا سب سے بہتر نام ”سندھی“ بھی کسی طرح ایڈجسٹ کرتا۔
اِدھر اُدھر
(33) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے، باہر لے گیا اور اِدھر اُدھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اُڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے (نہ کرتے بے شرمی کا کام) اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں، اس لیے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔“......................
......................”والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین اِدھر اُدھر پھرتا رہا۔ آخر اس نے چائے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ معلوم ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری (”خدمتِ خاص“ کی) وجہ سے ہی اسے قید سے بچا لیا ورنہ خواہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا، ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔“ View Proof
(سیرت المہدی، جلد اول صفحہ 43، 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 435 پر)
عجیب بات ہے ”خدمت خاص“ کی وجہ سے اللہ نے ایک ڈاکو کو سزا سے تو بچا لیا مگر اسے ڈاکے کی واردات سے نہیں بچایا۔
یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ مرزا قادیانی کا چچا زاد بھائی، امام الدین نہ صرف بے دین اور دہریہ طبع بلکہ بھنگی چرسی تھا۔ مرزا قادیانی ادھر ادھر اس کے ساتھ پھرتا رہا تو اس سفر کی روشنی میں مرزا قادیانی کا کردار بھی واضح ہو جاتا ہے۔
کبوتر با کبوتر باز با باز
اس سلسلہ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی لکھتے ہیں:
”واضح ہو کہ مرزا قادیانی کی عمر اس وقت 24، 25 برس کی تھی کیونکہ اس کا سن پیدائش بقول اس کے 1839ء یا 1840ء ہے۔ (دیکھیے حاشیہ کتاب البریہ صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 177) اور تاریخ ملازمت حسب تحریر سیرت المہدی صفحہ 154 جلد اوّل، 1864ء ہے اور یہ واقعہ ملازمت سے کچھ پہلے کا ہے۔ نیز واضح ہو کہ یہ پنشن کی رقم
معمولی رقم نہ تھی بلکہ 700 سو روپیہ تھی جو آج کل کے سات لاکھ کے برابر ہے۔ (دیکھیے سیرۃ المہدی حصہ اول صفحہ 131)
اب مرزا قادیانی کی عمر کو ملحوظ رکھیے اور اتنی خطیر رقم کو بھی ذہن میں رکھیے اور ادھر ادھر کے الفاظ پر غور کیجیے کہ آخر اتنی بڑی رقم سیر و تفریح میں کہاں خرچ ہوئی؟ کیا مرزا قادیانی اس وقت بچہ تھا کہ کوئی دھوکہ دے سکتا ہے یا پھسلا سکتا ہے؟ اور پھر ادھر ادھر پھرانے کا کیا مطلب ہے؟ یہ بات تو قطعی ہے کہ کسی دینی کام یا مسجد و مدرسہ میں نہیں گئے ہوں گے اور نہ یہ رقم کسی اچھی جگہ خرچ کی ہو گی۔ ”اِدھر اُدھر“ سے اگر بازارِ حسن مراد نہیں تو اور کون سی جگہ ہو گی جو مرزا قادیانی کو پسند آئی ہو گی۔ اگر یہ کوئی شرمناک وارداتیں نہ تھیں تو مرزا قادیانی کو شرم کیوں آئی جو وہ سیالکوٹ بھاگ گیا؟
اب مرزائیوں سے ہمارا سوال یہ ہے کہ وہ اتنی خطیر رقم کا حساب دیں کہ کہاں کہاں خرچ ہوئی، بصورت دیگر مرزا قادیانی کی شرافت باقی نہیں رہتی اور یہ دعویٰ کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے قبل کی زندگی بالکل بے داغ تھی، بالکل باطل ہو جاتا ہے۔“
(رد قادیانیت کے زریں اصول از مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ صفحہ 267، 268)
مولانا رفیق دلاوریؒ کا کہنا ہے: ”بقول نصرت جہاں بیگم، امام الدین، مسیح موعود صاحب کو ان کی جوانی کے زمانہ میں پھسلا کر لے گیا اور ان کو دھوکا دیا۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا ”مسیح موعود“ کوئی ناسمجھ لڑکی تھی جسے کوئی بدمعاش اغوا کر کے لے گیا یا کوئی ننھا بچہ تھا جو مٹھائی کا نام سن کر پیچھے چل پڑا؟ جب ”مسیح موعود“ صاحب عاقل، بالغ، ذی ہوش اور صاحب علم و خرد تھے تو مرزا امام الدین کا پھسلانا اور دھوکا دینا کیا معنی رکھتا ہے؟ ممکن ہے کہ مرزا امام الدین نے ہی یہ رائے دی ہو کہ چلو ذرا لاہور اور امرتسر کی دلفریبیاں دیکھیں، وہاں کے تعیشات سے جی بہلائیں، چمن جوانی کی بہار کے مزے لوٹیں کہ ؎
لیکن ظاہر ہے کہ جب تک خود مسیح صاحب ہوا و ہوس کے غلام نہ ہوتے، فانی دلچسپیوں اور نفسانی خواہشوں سے انس نہ ہوتا، مرزا امام الدین لاکھ سر پٹکتا، وہ اس کے دام اغوا میں نہیں پھنس سکتے تھے۔ پس کوئی ذی عقل انسان ایسی طفل تسلیوں کو ایک منٹ کے لیے
بھی باور کرنے پر تیار نہ ہوگا کہ مرزا امام الدین کے پھسلاتے وقت ”مسیح موعود“ صاحب کے ہوش و حواس برقرار نہیں تھے۔ ظاہر ہے کہ کھانے پینے میں سات سو روپیہ کی کثیر رقم خصوصاً 1864ء جیسے ارزاں ترین زمانہ میں جبکہ گیہوں کا نرخ قریباً آٹھ آنہ من، گوشت ایک آنہ سیر، گھی چار آنہ فی سیر بتایا جاتا ہے، صرف کھانے پینے پر یا اس قسم کی عام مباح تفریحات پر کبھی اٹھ نہیں سکتی تھی اور اگر بالفرض پندرہ بیس روپے جائز تفریحات پر اٹھ ہی گئے تھے تو یہ کوئی ایسا قابل سرزنش فعل نہیں تھا کہ جس کی وجہ سے مسیح صاحب گھر جانے سے ہچکچاتے اور بھاگ کر سیالکوٹ جیسے دور افتادہ مقام پر جا دم لیتے۔ لیکن دس بیس روپے کا کیا ذکر ہے، اتنی کثیر رقم میں سے ایک حبہ بھی گھر نہیں پہنچا۔ ظاہر ہے کہ اس ضیاع مایہ پر مرزا غلام مرتضیٰ اور چراغ بی بی، جن کے سال بھر کے مصارف اور خانگی ضروریات کا مدار اسی رقم پر تھا، کس درجہ مضطرب اور بدحواس ہوئے ہوں گے۔ اس وقت مرزا امام الدین سن کہولت کو پہنچا ہوا تھا اور مرزا قادیانی کا اوج شباب تھا اور جوش جوانی میں اکثر لوگ بے اعتدالیاں کر گزرتے ہیں۔ پس اگر ”مسیح موعود“ صاحب سے کچھ بے اعتدالیاں ہوگئیں تو میرے نزدیک وہ نظر انداز کر دینے کے قابل ہیں، کیونکہ جوانی دیوانی مشہور ہے اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو عالم شباب سے نکل کر سن کہولت میں قدم رکھ دیتے ہیں ۔
اک جن چڑھا ہوا تھا کہ سر سے اتر گیا
اس لیے کم از کم مجھے عالم شباب کی بے اعتدالیوں پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں ہے اور اگر اعتراض ہے تو محض اس چیز پر کہ جب ”مسیح موعود“ صاحب نہ صرف عاقل، بالغ بلکہ بقول مرزائیہ مادر زاد نبی تھے تو وہ مرزا امام الدین کے چکمہ میں کس طرح آگئے اور مرزا امام الدین کو تنہا کیوں مجرم گردانا جاتا ہے؟
غور فرمائیں! جو شخص والدین کے اعتماد کو دھوکا دیتے ہوئے، اتنے سستے زمانے میں اتنی زیادہ رقم ایک بھنگی چرسی آدمی کی مصاحبت میں ادھر ادھر اڑا دے۔ ایسا شخص نبوت جیسے عظیم الشان منصب کا اہل ہونا تو کجا، کسی سیٹھ کا منشی یا منیم بننے کا اہل بھی نہیں ہو سکتا۔“
مختاری کے امتحان میں فیل
(34) ”چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے، اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کردی اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے۔“
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 156 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 437 پر)
View Proof
غرارہ
(35) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود اوائل میں غرارے استعمال فرمایا کرتے تھے۔ پھر میں نے کہہ کر وہ ترک کروا دیئے۔ اس کے بعد آپ معمولی پاجامے استعمال کرنے لگ گئے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ غرارہ بہت کھلے پانچے کے پاجامے کو کہتے ہیں۔ (پہلے اس کا ہندوستان میں بہت رواج تھا، اب بہت کم ہو گیا ہے)۔“
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 66 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 438 پر)
کیا قادیانی حضرات اپنے ”نبی جی“ کی متروک سنت کو زندہ کرنے کی مشکور مساعی نہیں کریں گے؟ View Proof
قادیانی جماعت کا نام
(36) ”اور وہ نام جو اس سلسلہ کے لیے موزوں ہے جس کو ہم اپنے لیے اور اپنی جماعت کے لیے پسند کرتے ہیں وہ نام مسلمان فرقہ احمدیہ ہے اور جائز ہے کہ اس کو احمدی مذہب کے مسلمان کے نام سے بھی پکاریں۔ یہی نام ہے جس کے لیے ہم ادب سے اپنی معزز گورنمنٹ میں درخواست کرتے ہیں کہ اسی نام سے اپنے کاغذات اور مخاطبات میں اس فرقہ کو موسوم کرے یعنی مسلمان فرقہ احمدیہ۔“
(تریاق القلوب صفحہ 398 از روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 526 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 439 پر)
View Proof
ہر نبی کا کلمہ
(37) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح اول فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کا ایک کلمہ ہوتا ہے۔ مرزا کا کلمہ یہ ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 305 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 440 پر)
تیمم
(38) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو اگر تیمم کرنا ہوتا تو بسا اوقات تکیہ یا لحاف پر ہی ہاتھ مار کر تیمم کر لیا کرتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ تکیہ یا لحاف میں سے جو گرد نکلتی ہے، وہ تیمم کی غرض سے کافی ہوتی ہے۔ لیکن اگر کوئی تکیہ یا لحاف بالکل نیا ہو اور اس میں کوئی گرد نہ ہو تو پھر اس سے تیمم جائز نہ ہوگا۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 259 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 441 پر)
اس کا ”فقہی حل“ بڑا آسان ہے، پہلے تھوڑی سی گرد تکیے یا لحاف پر چھڑک لی جائے، پھر اس خاک کو اڑایا جائے اور تیمم کر لیا جائے۔
تیز گرم پانی سے طہارت
(39) ”میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) عموماً گرم پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے اور ٹھنڈے پانی کو استعمال نہ کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے کسی خادمہ سے فرمایا کہ آپ کے لیے پاخانہ میں لوٹا رکھ دے۔ اس نے غلطی سے تیز گرم پانی کا لوٹا رکھ دیا۔ جب حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فارغ ہو کر باہر تشریف لائے تو دریافت فرمایا کہ لوٹا کس نے رکھا تھا؟ جب بتایا گیا کہ فلاں خادمہ نے رکھا تھا تو آپ نے اسے بلوایا اور اسے اپنا ہاتھ آگے کرنے کو کہا اور پھر اس کے ہاتھ پر آپ نے اس لوٹے کا بچا ہوا پانی بہا دیا تا کہ اسے احساس ہو کہ یہ پانی اتنا گرم ہے کہ
طہارت میں استعمال نہیں ہوسکتا۔ اس کے سوا آپ نے اُسے کچھ نہیں کہا۔" View Proof
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 243، 244 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 442 پر)
یہ بھی قادیانی نبی کی کوئی اعلیٰ اخلاقی حالت ہوگی جو اس واقعہ کو اس کی سیرت پر لکھی گئی کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔ ورنہ عام حالت میں اس سے زیادہ بداخلاقی ہو ہی نہیں سکتی کہ جان بوجھ کر بطور سزا کسی خادمہ کے ہاتھ گرم پانی سے جلائے جائیں۔
عورتوں کا امام
- (40) "باہر مردوں میں نمازیں باجماعت ہونے کے علاوہ آخری سالوں میں حضرت مسیح
موعود (مرزا قادیانی) ایک بہت بڑے عرصہ تک اندر عورتوں میں خود پیش امام ہو کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک لمبے عرصہ تک جمع کراتے رہے۔" View Proof
(ذکر حبیب صفحہ 65 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 444 پر)
زنانہ نماز
- (41) "ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا
قادیانی) کو میں نے بارہا دیکھا کہ گھر میں نماز پڑھاتے تو حضرت اُم المومنین کو اپنے دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کرلیتے حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ ہے کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اسے مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔ ہاں اکیلا مرد مقتدی ہو تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہیے۔ میں نے حضرت ام المومنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آ جایا کرتا ہے۔ اس لیے تم میرے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیا کرو۔" View Proof
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 131 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 445 پر)
مرزا قادیانی کی کیفیت اس شعر سے گہری مطابقت کی حامل دکھائی دیتی ہے ۔
میں گر پڑوں گا دیکھ مجھے آسرا نہ دے
لیکن لگتا ہے کہ کبھی کبھی اپنی مقتدیہ کا آسرا لینے کے لیے وہ دورانِ نماز چکر کا اہتمام کر لیتا ہوگا۔
نماز میں فارسی نظم
(42) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق صاحب نے پڑھائی ۔ حضور (مرزا قادیانی) بھی اس نماز میں شامل تھے۔ تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انہوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی ، جس کا یہ مصرعہ ہے:
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فارسی نظم نہایت اعلیٰ درجہ کی مناجات ہے جو روحانیت سے پُر ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 138 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 446 پر)
نماز میں پان
(43) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی ایسی کہ دم نہ آتا تھا البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی تا کہ آرام سے پڑھ سکیں۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 103 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 447 پر)
بواسیر اور نماز
(44) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی
عبدالکریم صاحب مرحوم نماز نہ پڑھا سکے، حضرت خلیفۃ المسیح اول بھی موجود نہ تھے تو حضرت صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو نماز پڑھانے کے لیے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔ میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں؟ حضور نے فرمایا حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا ہاں حضور۔ فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی، آپ پڑھائیے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو، نواقض وضو میں نہیں سمجھا جاتا۔‘‘ View Proof
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 111 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 448 پر)
مرید کی ریح جاری، نبی صاحب کا پیشاب جاری۔ سچ ہے، جیسی روح ویسے فرشتے!
بیٹے کی خاطر نماز جمعہ نہیں پڑھی
(45) ”صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی مرض الموت کے ایام میں ایک جمعہ کے دن حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) حسب معمول کپڑے بدل کر عصا ہاتھ میں لے کر جامعہ مسجد کو جانے کے واسطے تیار ہوئے۔ جب صاحبزادہ کی چار پائی کے پاس سے گزرتے ہوئے ذرا کھڑے ہو گئے، تو صاحبزادہ صاحب نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا دامن پکڑ لیا اور اپنی چار پائی پر بیٹھا دیا اور اٹھنے نہ دیا۔ صاحبزادہ صاحب کی خاطر حضور بیٹھے رہے، اور جب دیکھا کہ بچہ اٹھنے نہیں دیتا اور نماز جمعہ کے وقت میں دیر ہوتی ہے تو حضور نے کہلا بھیجا کہ جمعہ پڑھ لیں اور حضور کا انتظار نہ کریں۔‘‘
(ذکر حبیب صفحہ 172 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 449 پر)
View Proof
سب کا نماز جنازہ پڑھا دیا
(46) ”قاضی سید امیر حسین صاحب کا ایک چھوٹا بچہ فوت ہونے پر جنازے کے ساتھ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بھی تشریف لے گئے۔ اور خود ہی جنازہ پڑھایا۔ عموماً جنازے کی نمازیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اگر موجود ہوتے تو خود ہی امامت
کرتے۔ اس وقت نماز جنازہ میں شامل ہونے والے دس پندرہ آدمی ہی تھے۔ بعد سلام کسی نے عرض کی کہ حضور میرے لیے بھی دعا کریں۔ فرمایا۔ میں نے تو سب کا ہی جنازہ (ایمان کا۔ ناقل) پڑھ دیا ہے۔ مراد یہ تھی کہ جتنے لوگ نماز جنازہ میں شامل ہوئے تھے، ان سب کے لیے نماز جنازہ کے اندر حضرت صاحب نے دعائیں کر دی تھیں۔‘‘
(ذکر حبیب صفحہ 161، 162 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 450 پر)
View Proof
روزہ توڑ دیا
- (47) ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا۔ آپ ہمیشہ شریعت میں سہل راستہ کو اختیار فرمایا کرتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 131 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 452 پر)
View Proof
روزے تڑوا دیئے
- (48) ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لاہور سے کچھ
احباب رمضان میں قادیان آئے۔ حضرت صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ مع کچھ ناشتہ کے ان سے ملنے کے لیے مسجد میں تشریف لائے۔ ان دوستوں نے عرض کیا کہ ہم سب روزے سے ہیں۔ آپ نے فرمایا سفر میں روزہ ٹھیک نہیں، اللہ تعالیٰ کی رخصت پر عمل کرنا چاہیے، چنانچہ ان کو ناشتہ کروا کے ان کے روزے تڑوا دیئے۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 59 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 453 پر)
View Proof
روزے نہیں رکھے
- (49) ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود (مرزا
قادیانی) کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے
نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کیے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا اس لیے باقی چھوڑ دیئے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جتنے رمضان آئے آپ نے سب روزے رکھے مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے رہے۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتداءً دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے تو کیا بعد میں ان کو قضا کیا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں صرف فدیہ ادا کر دیا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 65، 66 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 454 پر)
روزہ کھلوا دیا
(50) ’’بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ اوائل زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں کوئی مہمان یہاں حضرت صاحب کے پاس آیا۔ اسے اس وقت روزہ تھا اور دن کا زیادہ حصہ گزر چکا تھا۔ بلکہ شاید عصر کے بعد کا وقت تھا۔ حضرت صاحب نے اسے فرمایا آپ روزہ کھول دیں۔ اس نے عرض کیا کہ اب تھوڑا سا دن رہ گیا ہے، اب کیا کھولنا ہے۔ حضور نے فرمایا آپ سینہ زوری سے خدا تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ سینہ زوری سے نہیں بلکہ فرمانبرداری سے راضی ہوتا ہے۔ جب اس نے فرما دیا ہے کہ مسافر روزہ نہ رکھے تو نہیں رکھنا چاہیے۔ اس پر اس نے روزہ کھول دیا‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 108، 109 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 456 پر)
رمضان المبارک کا احترام؟
(51) ’’اس موخر الذکر سفر میں حضور نے لدھیانہ میں ایک لیکچر دیا، جس میں ہندو، عیسائی، مسلمان اور بڑے بڑے معزز لوگ موجود تھے۔ تین گھنٹے حضور اقدس نے تقریر فرمائی۔
حالانکہ بوجہ سفر دہلی کچھ طبیعت بھی درست نہ تھی۔ رمضان کا مہینہ تھا، اس لیے حضور اقدس نے بوجہ سفر روزہ نہ رکھا تھا۔ اب حضور اقدس نے تین گھنٹہ تقریر جو فرمائی تو طبیعت پر ضعف سا طاری ہوا۔ مولوی محمد احسن صاحب نے اپنے ہاتھ سے دودھ پلایا، جس پر ناواقف مسلمانوں نے اعتراضاً کہا کہ مرزا رمضان میں دودھ پیتا ہے، اور شور کرنا چاہا۔ لیکن چونکہ پولیس کا انتظام اچھا تھا، فوراً یہ شور کرنے والے مسلمان وہاں سے نکال دیئے گئے۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 272 از مرزا بشیر احمد ) (عکس صفحہ نمبر 458 پر)
View Proof
(52) ”آپ (مرزا قادیانی) لیکچر گاہ میں اندر تشریف لے گئے اور لیکچر شروع کیا۔ لیکن مولوی صاحبان کو اعتراض کا کوئی موقعہ نہ ملا جس پر لوگوں کو بھڑکائیں۔ پندرہ منٹ آپ کی تقریر ہو چکی تھی کہ ایک شخص نے آپ کے آگے چائے کی پیالی پیش کی کیونکہ آپ کے حلق میں تکلیف تھی اور ایسے وقت میں اگر تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کوئی سیال چیز استعمال کی جائے تو آرام رہتا ہے۔ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ رہنے دو لیکن اُس نے آپ کی تکلیف کے خیال سے پیش کر ہی دی۔ اس پر آپ نے بھی اُس میں سے ایک گھونٹ پی لیا۔ لیکن وہ مہینہ روزوں کا تھا۔ مولویوں نے شور مچا دیا کہ یہ شخص مسلمان نہیں کیونکہ رمضان شریف میں روزہ نہیں رکھتا۔“
(سیرت مسیح موعود صفحہ 55، 56 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 459 پر)
View Proof
حج، اعتکاف، زکوٰۃ
(53) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں کیا، زکوٰۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی......... اور زکوٰۃ اس لیے نہیں دی کہ آپ کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے البتہ حضرت والدہ صاحبہ زیور پر زکوٰۃ دیتی رہی ہیں اور تسبیح اور رسمی وظائف وغیرہ کے آپ قائل ہی نہ تھے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 119 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 461 پر)
View Proof
اعتکاف
(54) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ میں نے کبھی حضرت مسیح موعود (مرزا
قادیانی) کو اعتکاف بیٹھتے نہیں دیکھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ سنوری نے بھی مجھ سے یہی بیان کیا ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 68 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 462 پر)
View Proof
مُردہ اسلام
- (55) ”چنانچہ ایک دفعہ ان لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ ریویو میں حضرت صاحب کا اور
احمدیت کی خصوصیات کا ذکر نہ ہو بلکہ عام اسلامی مضامین ہوں تاکہ اشاعت زیادہ ہو۔ اخبار وطن میں بھی یہ تحریک چھپی تھی جس پر حضرت صاحب نے نہایت ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور فرمایا تھا کہ ہمیں چھوڑ کر کیا آپ مردہ اسلام کو پیش کریں گے؟“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 116 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 463 پر)
View Proof
کنچنی (بدکار عورت) کی رقم
- (56) ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری صاحب نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص
نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ میری ایک بہن کنچنی تھی۔ اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا پھر وہ مرگئی اور مجھے اس کا ترکہ ملا مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی۔ اب میں اس مال کو کیا کروں؟ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ ہوسکتا ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 261، 262 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 464 پر)
(نوٹ) کنچنی پیشہ ور فاحشہ عورت کو کہتے ہیں۔
View Proof
سود جائز ہے!
- (57) ”ہمارا یہی مذہب ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ہمارے دل میں ڈالا ہے کہ ایسا روپیہ
اشاعت دین کے کام میں خرچ کیا جاوے۔ یہ بالکل سچ ہے کہ سود حرام ہے لیکن اپنے نفس
کے واسطے۔ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں جو چیز جاتی ہے وہ حرام نہیں رہ سکتی کیونکہ حرمت اشیاء کی انسان کے لیے ہے نہ اللہ تعالیٰ کے واسطے۔ پس سود اپنے نفس کے لیے، بیوی بچوں، احباب، رشتہ داروں اور ہمسائیوں کے لیے بالکل حرام ہے۔ لیکن اگر یہ روپیہ خالصتاً اشاعت دین کے لیے خرچ ہو تو حرج نہیں ہے۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ اسلام بہت کمزور ہوگیا ہے۔“
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 368 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 466 پر)
- □ "ومن تفوہ بکلمۃ لیس لہ اصل صحیح فی الشرع، ملہما کان او
مجتہدا، فبہ الشیاطین متلاعبۃ"
(ترجمہ): ”جو شخص ایسی بات کہے کہ جس کی شرع میں کوئی اصل نہ ہو، خواہ وہ شخص ملہم یا مجتہد ہی کیوں نہ ہو، سمجھ لینا چاہئے کہ شیاطین اس سے کھیلتے ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 21 از مرزا قادیانی)
جیب میں اینٹ
- (58) ”آپ کے ایک بچے نے آپ کی واسکٹ کی ایک جیب میں ایک بڑی اینٹ ڈال
دی۔ آپ جب لیٹتے تو وہ اینٹ چبھتی۔ کئی دن ایسا ہی ہوتا رہا۔ ایک دن اپنے ایک خادم کو کہنے لگے کہ میری پسلی میں درد ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چبھتی ہے۔ وہ حیران ہوا اور آپ کے جسد مبارک پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا ہاتھ اینٹ پر جا لگا۔ جھٹ جیب سے نکال لی۔ دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ چند روز ہوئے، محمود نے میری جیب میں ڈالی تھی، اور کہا تھا کہ اسے نکالنا نہیں، میں اس سے کھیلوں گا۔“
(مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ طبع چہارم صفحہ 53، مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 467 پر)
جرابیں، کاج، گرگابی اور کھانا
- (59) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا
قادیانی) اپنی جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے
تو جہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لیے گرگابی ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں ۔ چنانچہ اس تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتی پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آجاتا ہے ۔“
(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 58 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 468 پر)
الٹے کاج
(60) ”بارہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوئے ہوتے تھے بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے ۔“
(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 126 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 469 پر)
الٹی سیدھی گرگابی
(61) ”ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لیے گرگابی لے آیا، آپ نے پہن لی مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا، کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ، ان (انگریز) کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔ (یہاں تک کہ انگریزوں سے کوئی ڈھنگ کا ”نبی“ بھی نامزد نہ ہوسکا۔مرتب) والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لیے نشان لگا دیے تھے مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔“
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 67 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 470 پر)
اس پر قارئین کی تفنن طبع کے لیے ایک لطیفہ پیش کرتے ہیں: دو سکھوں نے دو گھوڑے خرید لیے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ شناخت کیسے ہو، کون سا گھوڑا کس سکھ کا ہے؟ حل اس پرابلم کا یہ ڈھونڈا گیا کہ بطور نشانی ایک سکھ نے اپنے گھوڑے کا
کان کاٹ دیا۔ اگلی صبح جو دیکھا تو دوسرے گھوڑے کا کان بھی کسی نے کاٹ دیا تھا۔ نئے سرے سے غور و خوض ہوا اور اب یہ کیا گیا کہ دوسرا کان کاٹ ڈالا گیا تا کہ گھوڑے مکس نہ ہو جائیں۔ اگلی صبح عجیب حادثہ دیکھا گیا کہ دوسرے گھوڑے کا دوسرا کان بھی کٹا ہوا تھا۔ دونوں دانشور سکھ سخت پریشان ہوئے۔ سو تازہ فیصلہ کے مطابق پہلے گھوڑے کی دُم کاٹ ڈالی گئی۔ جب نیا دن طلوع ہوا تو منظر یہ تھا کہ دوسرے گھوڑے کی دم بھی کٹی ہوئی تھی۔ سو طویل تر تفکر کے بعد دونوں سکھوں نے مستقل بنیادوں پر یہ قضیہ حل کرلیا۔ جی ہاں دونوں نے فیصلہ کرلیا کہ ایک کا گھوڑا کالا ہوگا اور دوسرے کا سفید۔ معلوم ہوتا ہے مرزا قادیانی کے جوتوں کے حوالے سے بھی ایسا ہی............... پائیدار حل ڈھونڈا گیا تھا۔ مگر افسوس! وہ پھر بھی جوتا الٹا ہی پہنتا رہا۔
الٹی سیدھی جرابیں
(62) "جرابیں آپ سردیوں میں استعمال فرماتے اور ان پر مسح فرماتے۔ بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر تلے چڑھا لیتے مگر بار ہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی ، کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آ جاتی ، کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی۔"
(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 127 از مرزا بشیر احمد ایم اے ) (عکس صفحہ نمبر 471 پر)
پہلوانوں والی خوراک
(63) "روٹی آپ تندوری اور چولھے کی دونوں قسم کی کھاتے تھے، ڈبل روٹی چائے کے ساتھ یا بسکٹ اور بکرم بھی استعمال فرمالیا کرتے تھے بلکہ ولایتی بسکٹوں کو بھی جائز فرماتے تھے اس لیے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس میں چربی ہے کیونکہ بنانے والوں کا ادعا تو مکھن ہے پھر ہم ناحق بدگمانی اور شکوک میں کیوں پڑیں۔ مکئی کی روٹی بہت مدت آپ نے آخری عمر میں استعمال فرمائی کیونکہ آخری سات آٹھ سال سے آپ کو دستوں کی بیماری ہوگئی تھی اور ہضم کی طاقت کم ہوگئی تھی۔ علاوہ ان روٹیوں کے آپ شیر مال کو بھی پسند فرماتے تھے اور باقر خانی کلچہ
وغیرہ غرض جو جو اقسام روٹی کے سامنے آ جایا کرتے تھے، آپ کسی کو رد نہ فرماتے تھے۔ سالن آپ بہت کم کھاتے تھے۔ گوشت آپ کے ہاں دو وقت پکتا تھا مگر دال آپ کو گوشت سے زیادہ پسند تھی۔ یہ دال ماش کی یا اوڑدہ کی ہوتی تھی جس کے لیے گورداسپور کا ضلع مشہور ہے۔ سالن ہر قسم کا اور ترکاری عام طور پر ہر طرح کی آپ کے دسترخوان پر دیکھی گئی ہے اور گوشت میں ہر حلال اور طیب جانور کا آپ کھاتے تھے۔ پرندوں کا گوشت آپ کو مرغوب تھا۔ اس لیے بعض اوقات جب طبیعت کمزور ہوتی تو تیتر فاختہ وغیرہ کے لیے شیخ عبدالرحیم صاحب نو مسلم کو ایسا گوشت مہیا کرنے کو فرمایا کرتے تھے۔ مرغ اور بٹیروں کا گوشت بھی آپ کو پسند تھا مگر بٹیرے جب سے کہ پنجاب میں طاعون کا زور ہوا، کھانے چھوڑ دیئے تھے بلکہ منع کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس کے گوشت میں طاعون پیدا کرنے کی خاصیت ہے اور بنی اسرائیل میں ان کے کھانے سے سخت طاعون پڑی تھی۔ حضور کے سامنے دو ایک دفعہ گوہ کا گوشت پیش کیا گیا مگر آپ نے فرمایا کہ جائز ہے جس کا جی چاہے کھا لے مگر رسول کریمؐ نے چونکہ اس سے کراہت فرمائی اس لیے ہم کو بھی اس سے کراہت ہے اور جیسا کہ وہاں ہوا تھا۔ یہاں بھی لوگوں نے آپ کے مہمان خانہ بلکہ گھر میں بھی بچوں اور لوگوں نے گوہ کا گوشت کھایا مگر آپ نے اسے اپنے قریب نہ آنے دیا۔ مرغ کا گوشت ہر طرح کا آپ کھا لیتے تھے۔ سالن ہو یا بھنا ہوا کباب ہو یا پلاؤ مگر ایک ران پر ہی گزارہ کر لیتے تھے اور وہی آپ کو کافی ہو جاتی تھی بلکہ کبھی کچھ بچ بھی رہا کرتا تھا۔ پلاؤ بھی آپ کھاتے تھے مگر ہمیشہ نرم اور گداز اور گلے گلے ہوئے چاولوں کا اور میٹھے چاول تو کبھی خود کہہ کر پکوا لیا کرتے تھے مگر گڑ کے اور دہی آپ کو پسند تھے۔ عمدہ کھانے یعنی کباب مرغ پلاؤ یا انڈے اور اسی طرح فیرینی میٹھے چاول وغیرہ۔“
(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 132 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 472 پر)
مرزا قادیانی انگریزوں کے ساتھ ساتھ ان کی ”ایجاد“ بسکٹوں سے بھی بہت مرعوب تھا۔ معروف افسانہ نگار آغا بابر، اعجاز حسین بٹالوی اور عاشق حسین بٹالوی کے بھائی ہیں۔ وہ اپنی کتاب ”خدوخال“ کے صفحات 110، 111 میں بتاتے ہیں کہ غالباً 1900ء میں ان کے والد غلام اکبر صاحب کو ذوق تجسس قادیان لے گیا تاکہ مرزا غلام احمد قادیانی سے مل سکیں۔ اس ملاقات کی تفصیل بڑی دلچسپ ہے، پڑھ کر لطف اٹھائیے۔ ہم آپ کی ضیافت طبع
کے لیے یہاں صرف دو سطریں Quote کرتے ہیں: ”(مرزا صاحب بولے): ”شاباش! تمہیں ایک خاص چیز کھلاؤں؟“ چھت سے ایک چھینکا لٹک رہا تھا۔ اٹھ کر انہوں نے اس میں سے ایک چیز نکالی اور کہنے لگے: ”کسی نے امرتسر سے یہ سوغات بھیجی ہے۔ اسے 'بسٹی سکٹ' کہتے ہیں۔ کیسا ہے؟“ والد صاحب نے تعریف کی۔ بولے: ”یہ انگریز لوگ کھاتے ہیں۔“ ”بڑی مزیدار چیز ہے۔“
- قارئین! آپ بسکٹ کے مزے کو جانے دیجیے، آپ بس 'بسٹی سکٹ' (Biscuit)
کی ادائیگی پر فدا ہو جائیے۔ اس اچھے خاصے نرم اور ملائم لفظ کو جانگلی لہجے کے سپرد کرنے کی بجائے بہتر تھا، موصوف 'بادامی رنگ کی خستہ اور میٹھی ٹکیہ' فرما کر ہی اپنا مدعا بیان کر لیتے۔
- (64) ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب جب بڑی
مسجد میں جاتے تھے تو گرمی کے موسم میں کنوئیں سے پانی نکلوا کر ڈول سے ہی منہ لگا کر پانی پیتے تھے اور مٹی کی تازہ ہنڈیا تازہ آبخورہ میں پانی پینا آپ کو پسند تھا اور میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب اچھے تلے ہوئے کرارے پکوڑے پسند کرتے تھے۔ کبھی کبھی مجھ سے منگوا کر مسجد میں ٹہلتے ٹہلتے کھایا کرتے تھے اور سالم مُرغ کا کباب بھی پسند تھا۔ چنانچہ ہوشیار پور جاتے ہوئے ہم مرغ پکوا کر ساتھ لے گئے تھے۔ مولی کی چٹنی اور گوشت میں مونگرے بھی آپ کو پسند تھے۔ گوشت کی خوب بھنی ہوئی بوٹیاں بھی مرغوب تھیں۔ چپاتی خوب سکی ہوئی جو سکنے سے سخت ہو جاتی ہے، پسند تھی۔ گوشت کا پتلا شوربہ بھی پسند کرتے تھے۔ جو بہت دیر تک پکتا رہا ہو حتیٰ کہ اس کی بوٹیاں خوب گل کر شوربہ میں اس کا عرق پہنچ جاوے۔ سکنجبین بھی پسند تھی۔ میاں جان محمد مرحوم آپ کے واسطے سکنجبین تیار کیا کرتا تھا۔ نیز میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب نے ایک دفعہ یہ بھی فرمایا تھا کہ گوشت زیادہ نہیں کھانا چاہیے۔ جو شخص چالیس دن لگاتار کثرت کے ساتھ صرف گوشت ہی کھاتا رہتا ہے۔ اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ دال، سبزی، ترکاری کے ساتھ بدل بدل کر گوشت کھانا چاہیے، بھیڑ کا گوشت ناپسند فرماتے تھے۔ میٹھے چاول، گُڑ یعنی قند سیاہ میں پکے ہوئے پسند
فرماتے تھے۔ ابتدا میں چائے میں دیسی شکر (جو گڑ کی طرح ہوتی ہے) ڈال کر استعمال فرماتے تھے۔ شوربہ کے متعلق فرماتے تھے کہ گاڑھا کیچڑ جیسا ہم کو پسند نہیں، ایسا پتلا کرنا چاہیے کہ ایک آنہ کا گوشت آٹھ آدمی کھائیں۔ اس وقت ایک آنہ کا سیر خام گوشت آتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 181، 182 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 473 پر)
کھانے کا انداز
(65) ’’کھانا کھاتے ہوئے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتے جاتے تھے، کچھ کھاتے تھے، کچھ چھوڑ دیتے تھے، کھانے کے بعد آپ کے سامنے سے بہت سے ریزے اٹھتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 51 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 475 پر)
گوشت کی قیمت
(66) ’’شوربہ کے متعلق فرماتے تھے کہ گاڑھا کیچڑ جیسا ہم کو پسند نہیں۔ ایسا پتلا کرنا چاہیے کہ ایک آنہ کا گوشت آٹھ آدمی کھائیں۔ اس وقت ایک آنہ کا سیر خام گوشت آتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 182 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 476 پر)
تکیے کے نیچے کپڑے
(67) ’’کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ، صدری، ٹوپی، عمامہ رات کو اتار کر تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پر ٹانگ دیتے ہیں، وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے ملے جاتے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا دشمن ان کو دیکھ لے تو سر پیٹ لے۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 128 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 477 پر)
ریشمی ازار بند
(68) ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہم بچے تھے تو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) خواہ کام کر رہے ہوں یا کسی اور حالت میں ہوں، ہم آپ کے پاس چلے جاتے تھے کہ ابا پیسہ دو اور آپ اپنے رومال سے پیسہ کھول کر دے دیتے تھے۔ اگر ہم کسی وقت کسی بات پر زیادہ اصرار کرتے تھے تو آپ فرماتے تھے کہ میاں میں اس وقت کام کر رہا ہوں۔ زیادہ تنگ نہ کرو۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ آپ معمولی نقدی وغیرہ اپنے رومال میں جو بڑے سائز کا ململ کا بنا ہوا تھا، باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا کنارہ واسکٹ کے ساتھ سلوا لیتے یا کاج میں بندھوا لیتے تھے اور چابیاں ازار بند کے ساتھ باندھتے تھے جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا (کیا نظارہ ہوتا ہوگا کہ انگریزی نبوت جارہی ہے؟) اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا اس لیے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھولنے میں وقت نہ ہو۔ سوتی ازار بند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔“
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 478 پر)
View Proof
ریشمی ازار بند کے فوائد
(69) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے پاجاموں میں، میں نے اکثر ریشمی ازار بند پڑا ہوا دیکھا ہے اور ازار بند میں کنجیوں کا گچھا بندھا ہوتا تھا (اور جب چلتا ہوگا تو چھن چھنا چھن چھن سے کیا سماں پیدا ہوتا ہوگا؟) ریشمی ازار بند کے متعلق بعض اوقات فرماتے تھے کہ ہمیں پیشاب کثرت سے اور جلدی جلدی آتا ہے تو ایسے ازار بند کے کھولنے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 479 پر)
View Proof
جیبی گھڑی •
(70) ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ میں دی۔ حضرت صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے۔ زنجیر نہیں لگاتے تھے اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک کے ہندسے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ رکھ کر ہندسے گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے اور گھڑی دیکھتے ہی وقت نہ پہچان سکتے تھے۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ آپ کا جیب سے گھڑی نکال کر اس طرح وقت شمار کرنا مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا تھا۔“
View Proof
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 180 از مرزا بشیر احمد ایم اے ) (عکس صفحہ نمبر 480 پر)
گویا ذہانت یا دماغی قابلیت کو گولہ ماریئے ”انگریزی نبی“ کی ادا پر لہلوٹ ہو جائیے۔ سچ ہے کہ دنیا میں ہر فرد کی قسمت کے بے وقوف مقرر و موجود ہیں جو خود چل کر اس تک پہنچ جاتے ہیں۔
پیشہ نبوت
(71) ”18 جنوری 1905ء کو جبکہ میں قادیان کے ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر تھا، میں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی خدمت بابرکت میں ایک رقعہ لکھا تھا، جس کا اصل بمعہ جواب درج کرنا مناسب ہے۔ امید ہے کہ ناظرین کی دلچسپی کا موجب ہوگا:
رقعہ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم حضرت اقدس مرشدنا ومہدینا مسیح موعود السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صاحبزادہ میاں محمود احمد کا نام برائے امتحان (مڈل) آج ارسال کیا جائے گا۔ جس فارم کی خانہ پری کرنی ہے، اس میں ایک خانہ ہے کہ اس لڑکے کا باپ کیا کام کرتا ہے؟ میں نے وہاں لفظ نبوت لکھا ہے۔“
(ذکر حبیب صفحہ 244، 245 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 481 پر)
View Proof
خدا کی مشین
(72) ”ایک دفعہ جب سخت گرمی پڑی، تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک مضمون لکھا جس میں گرمی کا اظہار کرتے ہوئے، اور گرمی کے سبب کام نہ کر سکنے کی معذرت کرتے ہوئے یہ الفاظ بھی لکھ دیئے کہ ”گرمی ایسی سخت ہے کہ اس کے سبب سے خدا کی مشین بھی بند ہو گئی ہے۔“ اس میں مولوی صاحب نے اس امر کی طرف اشارہ کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے بھی شدت گرمی کے سبب کام چھوڑ دیا ہے۔ جب حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے یہ مضمون سنا تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو غلط ہے ہم نے تو کام نہیں چھوڑا۔“
(ذکر حبیب صفحہ 161 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 483 پر)
View Proof
نبی کے ہتھیار
(73) ”بیان کیا مجھ سے شیخ عبدالرحمٰن صاحب مصری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نماز ظہر کے بعد مسجد میں بیٹھ گئے۔ ان دنوں میں آپ نے شیخ سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق لکھا تھا کہ یہ ابتر رہے گا اور اس کا بیٹا جو اب موجود ہے، وہ نامرد ہے۔ گویا اس کی اولاد آگے نہیں چلے گی۔ (خاکسار عرض کرتا ہے کہ سعد اللہ سخت معاند تھا اور حضرت مسیح موعود کے خلاف بہت بیہودہ گوئی کیا کرتا تھا) مگر ابھی آپ کی یہ تحریر شائع نہ ہوئی تھی۔ اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے آپ سے عرض کیا کہ ایسا لکھنا قانون کے خلاف ہے۔ اس کا لڑکا اگر مقدمہ کر دے تو پھر اس بات کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ وہ واقعی نامرد ہے؟ حضرت صاحب پہلے نرمی کے ساتھ مناسب طریق پر جواب دیتے رہے۔ مگر جب مولوی محمد علی صاحب نے بار بار پیش کیا اور اپنی رائے پر اصرار کیا تو حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے غصے کے لہجے میں فرمایا۔ ”جب نبی ہتھیار لگا کر باہر آ جاتا ہے تو پھر ہتھیار نہیں اتارتا ۔“ View Proof
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 34، 35 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 484 پر)
کس درجہ افسوس کی بات ہے کہ یہ نعرہ لگانے والا ”نبی“ عدالت میں لکھ کر توبہ کرتا ہے کہ میں آئندہ کسی کے خلاف انذاری پیش گوئی شائع نہیں کیا کروں گا.......... تفصیل آگے آ رہی ہے۔
قادیانی خلیفہ مرزا مسرور کا دادا
(74) ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ ہم گھر کے بچے مل کر حضرت صاحب کے سامنے میاں شریف احمد کو چھیڑنے لگ گئے کہ ابا کو تم سے محبت نہیں ہے اور ہم سے ہے۔ میاں شریف بہت چڑتے تھے۔ حضرت صاحب نے ہمیں روکا بھی کہ زیادہ تنگ نہ کرو مگر ہم بچے تھے لگے رہے۔ آخر میاں شریف رونے لگ گئے اور ان کی عادت تھی کہ جب روتے تھے تو ناک سے بہت رطوبت بہتی تھی۔ حضرت صاحب اٹھے اور چاہا کہ ان کو گلے لگا لیں تا کہ ان کا شک دور ہو مگر وہ اس وجہ سے کہ ناک بہہ رہا تھا، پرے پرے کھنچتے تھے۔ حضرت صاحب سمجھتے تھے کہ شاید اسے تکلیف ہے، اس لیے دور ہٹتا ہے چنانچہ کافی دیر تک یہی ہوتا رہا کہ حضرت صاحب ان کو اپنی طرف کھینچتے تھے اور وہ پرے پرے کھنچتے تھے اور چونکہ ہمیں معلوم تھا کہ اصل بات کیا ہے، اس لیے ہم پاس کھڑے ہنستے جاتے تھے۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 54، 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے ) (عکس صفحہ نمبر 486 پر)
View Proof
بقول شخصے : مرزا محمود احمد نے ہمیشہ مرزا شریف احمد کو ایک کونے میں لگا کر رکھا۔ جب وہ قادیان میں تھا، تب اس کو باڈی بلڈنگ کا شوق تھا۔ اس کے مسلز اتنے زبردست ہو گئے تھے کہ کوئی لاٹھی چلانے والا لاٹھی مارتا تو لاٹھی ٹوٹ جاتی۔ تب مرزا محمود نے اس کی قوت سے ڈر کر اسے بعض فضول قسم کے نشوں میں لگا دیا۔ نیز اپنی نگرانی میں چھپوائی جانے والی ”سیرت المہدی“ میں اس کا ذکر اس انداز سے کرایا جس میں اس کی تضحیک کا پہلو نمایاں رکھا گیا۔
پانچ اور پچاس کا شہرت یافتہ قادیانی فرق
مرزا قادیانی نے شروع شروع میں ایک عالم کا روپ دھارا اور اعلان کیا کہ وہ عیسائیت، ہندومت اور آریہ سماج کے خلاف کتاب لکھے گا جس میں اسلام کی حقانیت اور ان مذکورہ مذاہب کا ابطال ہوگا اور یہ کتاب پچاس جلدوں پر مشتمل ہوگی۔ مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ تمام مسلمان مخیر حضرات اس کی طباعت وغیرہ کے لیے پیشگی رقوم ارسال کریں۔ مرزا قادیانی کے بیان کے مطابق لوگوں نے پچاس جلدوں کی رقم پیشگی بھجوادی۔ مرزا قادیانی نے
”براہین احمدیہ“ کے نام سے اس کتاب کو لکھا۔ 5 جلدیں مکمل ہونے پر اعلان کر دیا کہ چونکہ 5 اور 50 میں صرف صفر کا فرق ہے، اس لیے پانچویں جلد کے ساتھ ہی ان کا پچاس جلدیں لکھنے کا وعدہ پورا ہو گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے مرزا قادیانی کی مضحکہ خیز دلیل!
- (75) ”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ
پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے، اس لیے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 9 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 488 پر)
View Proof
اسلامی شریعت میں خیانت بہت بڑا اور سنگین جرم ہے۔ خیانت میں جھوٹ، بے ایمانی، دھوکا، فریب اور دغا بازی جیسی برائیاں شامل ہیں۔ سب سے پہلے خیانت کے معنی سمجھ لینے چاہئیں۔ ایک انسان کا جو حق دوسرے انسان کے ذمے واجب ہو، اس کے ادا کرنے میں ایمان داری نہ برتنا بد دیانتی اور خیانت ہے۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
- ”اے ایمان والو! تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے
سے مت کھاؤ۔“
یہ آیت ایک اصولی حیثیت رکھتی ہے، جس میں ہر اس مال کو حرام بتایا گیا ہے، جو کسی ناجائز طریقے سے حاصل کیا گیا ہو۔
حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”کوئی بندہ حرام مال کھائے، پھر اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرے تو یہ صدقہ اس کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا اور اگر اپنی ذات اور گھر والوں پر خرچ کرے گا تو برکت سے خالی ہوگا۔ اگر وہ اس کو چھوڑ کر مرا تو وہ اس کے جہنم کے سفر میں زادِ راہ بنے گا۔“
حضور نبی کریم ﷺ جن بری باتوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، ان میں سے
ایک خیانت بھی ہے۔ ابوداؤد کی ایک روایت ہے کہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”الہی! مجھے خیانت سے بچائے رکھنا کہ یہ بہت برا اندرونی ساتھی ہے۔“
خیانت کی کراہیت کا اندازہ حضرت ابن مسعودؓ کی اس روایت سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: کہ اللہ کی راہ میں مارا جانا ہر گناہ کا کفارہ ہے لیکن خیانت کا نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک بندے کو لایا جائے گا، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوا ہو اور کہا جائے گا: ”تم امانت لاؤ اور ادا کرو۔“ وہ کہے گا: ”اے اللہ! اب کیسے لاؤں؟“ کہا جائے گا کہ: ”اس کو دوزخ میں لے جاؤ۔“
مولانا رفیق دلاوریؒ لکھتے ہیں: ”اس شاعرانہ خیال آفرینی کے متعلق التماس ہے کہ اس قسم کی طفل تسلیاں اور مہمل نگاریاں مرزا قادیانی کے ماؤف الدماغ اور فریب خوردہ مرید تو قبول کر سکتے ہیں لیکن دنیا کا کوئی دوسرا صحیح العقل انسان ان سے مطمئن نہیں ہو سکتا۔ اگر پچاس کا وعدہ پانچ سے پورا ہو سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اگر کوئی شخص رمضان کے تین روزے رکھ کر باقی روزے ترک کر دے اور کہنے لگے کہ 30 اور 3 کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے، اس لیے 30 روزوں کا فریضہ خداوندی ادا ہو گیا تو ارباب قادیاں اپنے مرزائی اصول کے بموجب اس کی تصدیق نہ کریں یا اگر مرزا قادیانی کے ذمہ کسی کے پچاس روپے قرض تھے تو وہ پانچ روپے دے کر قرض خواہ کو اس قسم کی حیلہ گرانہ منطق سے کبھی مطمئن نہیں کر سکتے تھے کہ پچاس اور پانچ میں ایک ہی نقطہ کا فرق ہے، اس لیے سارا قرضہ ادا ہو گیا۔“ بہر حال مرزا قادیانی صاحب مسلمانوں کا جو ہزار ہا روپیہ کھا گئے، اس کے متعلق یوم الحساب کو ان سے یقیناً باز پرس ہوگی اور رب العالمین کی بارگاہ عالی میں پچاس کی جگہ پانچ حصوں سے وعدہ پورا کرنے کی جسارت کا جو انجام ہو سکتا ہے، وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔“
(رئیس قادیان از مولانا رفیق دلاوریؒ)
معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی بھی غبی ہیں، اپنے ”نبی“ پر گئے ہیں، وگرنہ اس مسئلے کا حل بڑا سادہ ہے کہ ”براہین احمدیہ“ کے پانچوں حصوں کے صفحات کو برابر تقسیم کر کے پچاس جلدیں بنوالیں۔ یوں مرزا قادیانی کا وعدہ بھی پورا ہو جائے گا اور ”فقہ احمدیہ“ میں ”باب الحیل“ کا مفید اضافہ بھی ہو جائے گا۔
سرسید کی نظر میں
[HEIGHT OF INSULT]
(76) ”ہنسی اور ٹھٹھا کرنا اکثر انکا شیوہ تھا۔ جب میں ایک دفعہ علی گڑھ میں گیا۔ تو مجھ سے بھی اسی رعونت کی وجہ سے جس کا محکم پودہ ان کے دل میں مستحکم ہو چکا تھا، ہنسی ٹھٹھا کیا اور یہ کہا کہ ”آؤ، میں مُرید بنتا ہوں اور آپ مُرشد بنیں اور حیدر آباد میں چلیں اور کچھ جھوٹی کرامات دکھائیں اور میں تعریف کرتا پھروں گا۔ تب ریاست اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے ایک لاکھ روپیہ دے دے گی۔ اس میں دو حصے میرے اور ایک حصہ آپ کا ہوا۔“ گویا اس تقریر میں وہ ٹھگ جو سادھو کہلاتے ہیں، مجھے قرار دیا۔ ایسا ہی اور کئی باتیں تھیں جن کا اب ان کی وفات کے بعد لکھنا بے فائدہ ہے۔“
(تریاق القلوب صفحہ 339، 340 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 467، 468 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 489 پر)
ہندؤوں کی نظر میں
(77) ”جس شخص نے اُن کے اخبار شبھ چنتک کے چند پرچے دیکھے ہوں گے، وہ اس بات کا اقرار کرے گا کہ یہ تمام پرچے بد زبانی اور گند اور افترا سے بھرے ہوئے ہیں، چنانچہ اخبار مذکور کے پرچہ 22 اپریل 1906ء میں میری نسبت لکھا ہے کہ یہ شخص خود پرست ہے، نفس پرست ہے، فاسق ہے، فاجر ہے، اس واسطے گندی اور ناپاک خوائیں اس کو آتی ہیں۔
پھر پرچہ 15 مئی 1906ء میں لکھا ہے۔ قادیانی مسیح کے الہاموں اور اس کی پیشگوئیوں کی اصلیت طشت از بام کرنے کا ذمہ اٹھانے والا ایک ہی پرچہ شبھ چنتک ہے۔ مرزا قادیانی بداخلاق، شہرت کا خواہاں، شکم پرور ہے۔
اور پھر پرچہ 22 مئی 1906ء میں میری نسبت لکھتا ہے۔ محنت کمانے سے عار رکھنے والا۔ مکر اور فریب اور جھوٹ میں مشاق۔ اور پھر پرچہ 22 دسمبر 1906ء میں لکھتا ہے۔ ہم ان کی چالاکیوں کو ضرور طشت از بام کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہم اپنے ارادہ میں
ضرور کامیاب ہوں گے۔ اور پرچہ 22 دسمبر 1906ء میں لکھا ہے۔ مرزا مکار اور جھوٹ بولنے والا ہے۔ مرزا کی جماعت کے لوگ بدچلن اور بدمعاش ہیں۔ غرض ہر ایک پرچہ ان کا ناپاک گالیوں سے بھرا ہوا نکلتا رہا ہے۔ میں نے کئی مرتبہ جناب الہی میں دعائیں کیں کہ خدا اس اخبار کے کارکنوں کو نابود کر کے اس فتنہ کو درمیان سے اٹھا دے۔ چنانچہ کئی مرتبہ مجھے یہ خبر دی گئی کہ خدا تعالیٰ ان کی بیخ کنی کرے گا۔ زیادہ تر میرے پر ناگوار یہ امر تھا کہ چونکہ یہ لوگ قادیان میں رہتے تھے۔ اس لیے ان کے قرب مکانی کی وجہ سے ان کے جھوٹ کو بطور سچ کے دیکھا جاتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے خود بھی اپنے اخبار یکم مارچ 1907ء میں محض دھوکا دینے کے لیے یہ شائع کیا ہے کہ ہم نے ...... پندرہ سال تک متواتر پہلو بہ پہلو ایک ہی قصبہ میں ان کے ساتھ رہ کر ان کے حال پر غور کی تو اتنی غور کے بعد ہمیں یہی معلوم ہوا کہ یہ شخص درحقیقت مکار، خود غرض، عشرت پسند، بد زبان وغیرہ وغیرہ ہے۔“ اب ظاہر ہے کہ جو لوگ پندرہ سال کی ہمسائیگی کا دعویٰ کر کے یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص درحقیقت مکار اور مفتری ہے، ایسے لوگوں کی گواہی کا کس قدر دلوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ پھر اسی پرچہ میں لکھا ہے کہ نشان تو ہم نے اس مدت تک کوئی نہیں دیکھا، البتہ یہ دیکھا ہے کہ یہ شخص ہر روز جھوٹے الہام بناتا ہے۔ ایک لاثانی بے وقوف ہے۔“
(حقیقۃ الوحی (تتمہ) صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 590، 591 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 491 پر)
View Proof
کتب فروش
- (78) ”اس وقت ایک کتاب ”آئینہ کمالات اسلام“ نام سے تالیف کی ہے جس میں
بڑی تحقیق و تدقیق سے اسلام اور قرآن کریم کی خوبیوں اور کمالات کا بیان ہے۔ اور علاوہ اس کے مخالفین مذہب کے عقاید باطلہ کا ردّ ہے۔ اور فرقہ نیچریہ کے خیالات باطلہ کا بھی اچھی طرح استیصال کیا گیا ہے۔ ضخامت اس کی ساڑھے چھ سو صفحہ سے زیادہ ہے۔ قیمت دو روپیہ اور محصول علاوہ ہے۔ اور ماسوا اس کے مفصلہ ذیل کتابیں بھی موجود ہیں۔ فتح اسلام، توضیح مرام، ازالہ اوہام۔ محصول علاوہ ہے اور فتح اسلام اور توضیح مرام کی قیمت آٹھ آٹھ آنہ تھی۔
اب ہم نے چار چار آنہ کم کر دیئے ہیں۔ (المشتہر مرزا غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور پنجاب)‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 359، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 493 پر)
(79) ’’چونکہ رسالہ سراج منیر جو پیشگوئیوں پر مشتمل ہوگا۔ چودہ سو روپیہ کی لاگت سے چھپے گا۔ اس لیے چھپنے سے پہلے خریداروں کی درخواستیں آنا ضروری ہے۔ تا بعد میں دقتیں پیدا نہ ہوں۔ قیمت اس رسالہ کی ایک روپیہ علاوہ محصول ہوگی۔ لہٰذا اطلاع دی جاتی ہے کہ جو صاحب پختہ ارادہ سے سراج منیر کو خریدنا چاہتے ہیں، وہ اپنی درخواست معہ پتہ سکونت وغیرہ کے ارسال فرمائیں۔ جب ایک حصہ کافی درخواستوں کا آجائے گا تو فی الفور کتاب کا طبع ہونا شروع ہو جائے گا۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ خاکسار غلام احمد از قادیان۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 118 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 494 پر)
(80) ’’عزیزو! یہ کتاب قدرت حق کا ایک نمونہ ہے اور انسان کی معمولی کوششیں خود بخود اس قدر ذخیرہ معارف کا پیدا نہیں کر سکتیں۔ اس کی ضخامت چھ سو صفحہ کے قریب ہے اور کاغذ عمدہ اور کتاب خوشخط اور قیمت دو روپیہ اور محصول علاوہ ہے اور یہ صرف ایک حصہ ہے اور دوسرا حصہ الگ طبع ہوگا اور قیمت اس کی الگ ہوگی۔ اس میں علاوہ حقائق و معارف قرآنی اور لطائف کتاب رب عزیز کے ایک وافر حصہ ان پیشگوئیوں کا بھی موجود ہے جن کو اوّل سراج منیر میں شائع کرنے کا ارادہ تھا۔ اور میں اس بات پر راضی ہوں کہ اگر خریداران کتاب میری اس تعریف کو خلاف واقعہ پائیں تو کتاب مجھے واپس کر دیں میں بلا توقف ان کی قیمت واپس بھیج دوں گا۔ لیکن یہ شرط ضروری ہے کہ کتاب کو دو ہفتے کے اندر واپس کریں اور دست مالیدہ اور داغی نہ ہو......... اب گزارش مدعا یہ ہے کہ جو صاحب اس کتاب کو خریدنا چاہیں وہ بلا توقف مصمم ارادہ سے اطلاع بخشیں تاکہ کتاب بذریعہ ویلیو پی ایبل ان کی خدمت میں روانہ کی جائے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ (خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب)‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 652 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 652 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 495 پر)
(81) ”اور کتاب ازالہ اوہام کے خریداروں پر واضح ہو کہ میں بلی ماروں کے بازار میں کوٹھی لاہور والی میں فروکش ہوں اور ازالہ اوہام کی جلدیں میرے پاس موجود ہیں۔ جو صاحب تین روپیہ قیمت داخل کریں۔ وہ خرید سکتے ہیں۔ والسلام (المشتہر خاکسار غلام احمد قادیانی حال وارد دہلی بازار بلیماراں کوٹھی نواب لوہارو۔ ۲۔ اکتوبر ۱۸۹۱ء)“
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 218 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 496 پر)
View Proof
(82) ”کتاب براہین احمدیہ کی قیمت جو بالفعل دس روپیہ قرار پائی ہے۔ وہ صرف مسلمانوں کے لیے کمال درجہ کی تخفیف اور رعایت ہے کہ جن کو بشرط وسعت اور طاقت مالی کے اعانت دین متین میں کسی نوع کا دریغ نہیں۔ لیکن جو صاحب کسی اور مذہب یا ملت کے پابند ہوکر اس کتاب کو خریدنا چاہیں تو چونکہ اعانت کی ان سے کچھ توقع نہیں۔ لہٰذا ان سے وہ پوری پوری قیمت لی جائے گی جو حصہ اول کے اعلان میں شائع ہوچکی ہے۔ (المشتہر مؤلف براہین احمدیہ)“
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 50 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 497 پر)
View Proof
چوہڑی، زانیہ اور کنجروں کے خواب
(83) ”بعض فاسق اور فاجر اور زانی اور ظالم اور غیر متدین اور چور اور حرام خور اور خدا کے احکام کے مخالف چلنے والے بھی ایسے دیکھے گئے ہیں کہ ان کو بھی کبھی کبھی سچی خوابیں آتی ہیں اور یہ میرا ذاتی تجربہ ہے (تجربہ کے لیے مرزا قادیانی ان کے پاس جاتے تھے یا وہ ان کے پاس آتے تھے؟) کہ بعض عورتیں جو قوم کی چوہڑی یعنی بھنگن تھیں جن کا پیشہ مردار کھانا اور ارتکاب جرائم کام تھا، انہوں نے ہمارے روبرو بعض خوابیں بیان کیں اور وہ سچی نکلیں۔ اس سے بھی عجیب تر یہ تھا کہ بعض زانیہ عورتیں اور قوم کے کنجر جن کا دن رات زنا کاری کام تھا، ان کو دیکھا گیا کہ بعض خوابیں انہوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہوگئیں۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 3، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 5 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 498 پر)
واہ! کیا خوب تحقیق ہے۔ View Proof
ٹیچی ٹیچی
(84) ”5 مارچ 1905ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا، میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ (بلی کو خواب چھچھڑوں کے) میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا، نام کچھ نہیں، میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی۔ ٹیچی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا۔ تب میری آنکھ کھل گئی۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 332، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 346 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 499 پر)
مرزا قادیانی کے فرشتے کا نام ٹیچی ٹیچی ہے۔ جب قادیانیوں سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ لفظ ”ٹچ“ سے بنا ہے جس کا مطلب تیز رفتار ہے۔ یہ فرشتہ ٹچ کر کے مرزا قادیانی کا پیغام اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتا ہے اور ٹچ کر کے واپس آتا ہے۔ اب اگر کوئی مسلمان کسی قادیانی کو از راہ مذاق ”ٹیچی ٹیچی“ کہتا ہے تو وہ غصہ سے آگ بگولا ہو جاتا ہے۔ کئی قادیانی اساتذہ نے طلبہ کی طرف سے بلیک بورڈ پر ”ٹیچی ٹیچی“ لکھنے یا کورس کے انداز میں با آواز بلند ٹیچی ٹیچی کہنے پر اپنے تبادلے کروا لیے ہیں۔ (آزمائش شرط ہے) جس کی وجہ بظاہر ہمیں نظر نہیں آتی۔ حالانکہ انہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ مسلمان مرزا قادیانی کے فرشتے کا نام لے رہے ہیں۔
”ماہواری“ چندہ
(85) ”ہر ایک شخص سوچ سمجھ کر اس قدر ماہواری چندہ کا اقرار کرے جس کو وہ دے سکتا ہے، گو ایک پیسہ ماہواری ہو۔ مگر خدا کے ساتھ فضول گوئی اور دروغ گوئی کا برتاؤ نہ کرے۔ ہر ایک شخص جو مرید ہے، اس کو چاہئے جو اپنے نفس پر کچھ ماہواری مقرر کر دے خواہ ایک پیسہ ہو اور خواہ ایک دھیلہ اور جو شخص کچھ بھی مقرر نہیں کرتا اور نہ جسمانی طور پر اس سلسلہ کے لیے کچھ بھی مدد دے سکتا ہے، وہ منافق ہے۔ اب اس کے بعد وہ سلسلہ میں رہ نہیں سکے گا۔ اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر ایک بیعت کرنے والے کے جواب کا انتظار کیا جائے گا کہ وہ کیا کچھ ماہواری چندہ اس سلسلہ کی مدد کے لیے قبول کرتا ہے۔ اور اگر تین ماہ
تک کسی کا جواب نہ آیا تو سلسلہ بیعت سے اُس کا نام کاٹ دیا جائے گا اور مشتہر کر دیا جائے گا۔ اگر کسی نے ماہواری چندہ کا عہد کر کے تین ماہ تک چندہ کے بھیجنے سے لاپرواہی کی، اس کا نام بھی کاٹ دیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی مغرور اور لاپروا جو انصار میں داخل نہیں، اس سلسلہ میں ہرگز نہیں رہے گا۔ والسلام علی من اتبع الہدٰی۔‘‘
(اشتہارات جلد دوم صفحہ 556 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 500 پر)
قادیانی حضرات صرف اس ایک اشتہار پر غور کر لیں تو انہیں معلوم ہو جانا چاہئے کہ مرزا قادیانی نے ”نبوت“ کو بطور دھندے کے اختیار کیا تھا۔ چندے کے نام پر پیسے بٹورنا اس کا بنیادی مقصد تھا۔
جماعت مرغی کی آواز پر توجہ دے
- (86) ”رؤیا دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک مرغی ہے۔ وہ کچھ بولتی ہے۔ سب فقرات یاد
نہیں رہے۔ مگر آخری فقرہ جو یاد رہا یہ تھا:۔
ان کنتم مسلمین
(ترجمہ) اگر تم مسلمان ہو۔ اس کے بعد بیداری ہوئی۔ یہ خیال تھا کہ مرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں۔ پھر الہام ہوا:۔
انفقوا فی سبیل اللہ ان کنتم مسلمین
(ترجمہ) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔ اگر تم مسلمان ہو۔
فرمایا کہ
مرغی کا خطاب اور الہام کا خطاب ہر دو جماعت کی طرف تھے۔ دونو فقروں میں ہماری جماعت مخاطب ہے۔ چونکہ آج کل روپیہ کی ضرورت ہے۔ لنگر میں بھی خرچ بہت ہے اور عمارت پر بھی بہت خرچ ہو رہا ہے۔ اس واسطے جماعت کو چاہئے کہ اس حکم پر توجہ کریں۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم، صفحہ 582، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 501 پر)
دعا برائے فروخت
- (87) ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ پٹیالہ میں خلیفہ محمد حسین
صاحب وزیر پٹیالہ کے مصاحبوں اور ملاقاتیوں میں ایک مولوی عبدالعزیز صاحب ہوتے تھے جو کوم ضلع لدھیانہ کے رہنے والے تھے۔ ان کا ایک دوست تھا، جو بڑا امیر کبیر اور صاحب جائداد تھا اور لاکھوں روپے کا مالک تھا۔ مگر اس کے کوئی لڑکا نہ تھا جو اس کا وارث ہوتا۔ اس نے مولوی عبدالعزیز صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب سے میرے لیے دعا کرواؤ کہ میرے لڑکا ہو جاوے۔ مولوی عبدالعزیز نے مجھے بلا کر کہا کہ ہم تمھیں کرایہ دیتے ہیں۔ تم قادیان جاؤ اور مرزا صاحب سے اس بارہ میں خاص طور پر دعا کے لیے کہو۔ چنانچہ میں قادیان آیا اور حضرت صاحب سے سارا ماجرا عرض کر کے دعا کے لیے کہا۔ آپ نے اس کے جواب میں ایک تقریر فرمائی، جس میں دعا کا فلسفہ بیان کیا اور فرمایا کہ محض رسمی طور پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دینے سے دعا نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ایک خاص قلبی کیفیت کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جب آدمی کسی کے لیے دعا کرتا ہے تو اس کے لیے ان دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یا تو اس شخص کے ساتھ کوئی ایسا گہرا تعلق اور رابطہ ہو کہ اس کی خاطر دل میں ایک خاص درد اور گداز پیدا ہو جائے، جو دعا کے لیے ضروری ہے اور یا اس شخص نے کوئی ایسی دینی خدمت کی ہو کہ جس پر دل سے اس کے لیے دعا نکلے۔ مگر یہاں نہ تو ہم اس شخص کو جانتے ہیں اور نہ اس نے کوئی دینی خدمت کی ہے کہ اس کے لیے ہمارا دل پگھلے۔ پس آپ جا کر اسے یہ کہیں کہ وہ اسلام کی خدمت کے لیے ایک لاکھ روپیہ دے یا دینے کا وعدہ کرے۔ (یعنی مینوں نوٹ وکھا، میرا موڈ بنے۔ مرتب) پھر ہم اس کے لیے دعا کریں گے۔ اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ پھر اللہ اسے ضرور لڑکا دے دے گا۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے جا کر یہی جواب دے دیا۔ مگر وہ خاموش ہو گئے اور آخر وہ شخص لاولد ہی مر گیا۔ اور اس کی جائداد اس کے دور نزدیک کے رشتہ داروں میں کئی جھگڑوں اور مقدموں کے بعد تقسیم ہو گئی۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 257 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 502 پر)
View Proof
افریقہ کے بندر اور مرزا قادیانی
(88) ”میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ ایک عرب حضرت مسیح موعودؑ کے پاس بیٹھا ہوا افریقہ کے بندروں کے اور افریقن لوگوں کے لغو قصے سنانے لگا۔ حضرت صاحب بیٹھے ہوئے ہنستے رہے۔ آپ نہ تو کبیدہ خاطر ہوئے اور نہ
ہی اس کو ان لغو قصوں کے بیان کرنے سے روکا کہ میرا وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ اس کی دلجوئی کے لیے اخیر وقت تک خندہ پیشانی سے سنتے رہے۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 215 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 503 پر)
بتوں کی زیارت
(89) ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ سفر ملتان کے دوران میں حضرت صاحب ایک رات لاہور میں شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کے ہاں بطور مہمان ٹھہرے تھے۔ ان دنوں لاہور میں ایک کمپنی آئی ہوئی تھی۔ اس میں قد آدم موم کے بنے ہوئے مجسمے تھے۔ جن میں بعض پرانے زمانہ کے تاریخی بت تھے اور بعض میں انسانی جسم کے اندرونی اعضاء طبعی رنگ میں دکھائے گئے تھے۔ شیخ صاحب مرحوم حضرت صاحب کو اور چند احباب کو وہاں لے گئے اور حضور نے وہاں پھر کر تمام نمائش دیکھی۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 38 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 504 پر)
یہاں سید ضمیر جعفری کے شعر بے ساختہ یاد آئے ہیں:
کی تھی از راہ مروت بھی ستائش میں نے
آج تک دونوں گناہوں کی سزا پاتا ہوں
لوگ کہتے ہیں کہ کیا دیکھا تو شرماتا ہوں
مرزا قادیانی کی ”علمی“ باتیں
حمل کاذب
(90) ”اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک تو حمل حقیقی ہوتا ہے۔ جب مدت مقررہ نو ماہ گزر جاتے ہیں تو لڑکا یا لڑکی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک اس کے مقابلہ میں حمل کاذب ہوتا ہے۔ بعض
عورتیں رات دن اولاد کی خواہش کرتی رہتی ہیں جس سے رجاء کی مرض پیدا ہو جاتی ہے اور جھوٹا حمل ہو کر پیٹ پھولنے لگتا ہے اور حمل کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ لیکن نو ماہ کے بعد پانی کی مشک نکل جاتی ہے۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 105، 106 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 505 پر)
عورتوں کی خاص قسم
- (91) ”تحقیق کی رُو سے بعض اس قسم کی بھی عورتیں ہوتی ہیں کہ قوت رجولیت اور انوثیت
دونوں اُن میں جمع ہوتی ہیں اور کسی تحریک سے جب اُن کی منی جوش مارے تو حمل ہو سکتا ہے۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 218 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 226 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 507 پر)
مرشد کے ساتھ مرید کا تعلق
- (92) ”مرشد کے ساتھ مُرید کا تعلق ایسا ہونا چاہیے، جیسا عورت کا تعلق مرد سے ہو۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ 404 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 508 پر)
مرزا قادیانی نے یہ واضح نہیں کیا کہ مرید کے ذمے کس کردار کو نبھانا ضروری ہے؟ یا پھر اس پر مابون الطرفین ہونے کی پابندی ہے؟
کسی کا راکب، کسی کا مرکب، کسی کو عبرت کا تازیانہ
مرزا قادیانی کی سائنس
قلمی اسلحہ
- (93) ”اس وقت جو ضرورت ہے۔ وہ یقیناً سمجھ لو۔ سیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔
ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کئے ہیں اور مختلف سائنسوں اور مکائد کی رُو سے
اللہ تعالیٰ کے سچے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے۔ اس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدان کارزار میں اتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ بھی دکھلاؤں۔ میں کب اس میدان کے قابل ہوسکتا تھا۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اُس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 38، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 509 پر)
(94) ’’اور اس مادہ کے لیے ضروری نہیں کہ ساگ پات کی کسی قسم پر رُوح، شبنم کی طرح گرے اور اس سے رُوح کا نطفہ پیدا ہو۔ بلکہ وہ مادہ گوشت سے بھی پیدا ہوسکتا ہے خواہ وہ گوشت بکرہ کا ہو۔ یا مچھلی کا۔ یا ایسی مٹی ہو جو زمین کی نہایت عمیق تہہ کے نیچے ہوتی ہے جس سے مینڈکیں وغیرہ کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے ہیں۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 116 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 124 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 510 پر)
(95) ’’اگر تم مثلاً دودھ کو جو باسی ہو کر سڑنے کو ہے، ہاتھ میں لو اور خوب اس دودھ میں نظر لگائے رکھو تو تمہارے دیکھتے دیکھتے ہزار ہا کیڑے بن جائیں گے۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 117 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 125 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 511 پر)
(96) ’’مثلاً زمین کے نیچے کا طبقہ جو ستر اسی ہاتھ تک کھود کر پھر دکھائی دیتا ہے، اس میں جاندار پائے جاتے ہیں۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 122 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 130 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 512 پر)
(97) ’’دُنیا میں ہزاروں چیزیں نیست سے ہست ہو رہی ہیں مثلاً ایک دھات جو بالکل نیست ہو جاتی اور مرجاتی ہے وہ شہد اور سہاگہ اور گھی میں جوش دینے سے پھر زندہ ہو جاتی ہے کسی نے پنجابی میں کہا ہے شہد سہاگہ گھی ، موئی دھات دا ایہو جی۔ یعنی شہد، سہاگہ اور گھی جو
ہے، مری ہوئی دھات کی یہی جان ہے۔“ View Proof
(چشمہ معرفت صفحہ 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 171 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 513 پر)
- (98) ”یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ایک گلہری کو پتھر یا سوٹے سے مارا جائے اور وہ
بظاہر بالکل مر جائے مگر ابھی تازہ ہو تو اگر اس کے سر کو گوبر میں دبایا جائے تو چند منٹ میں وہ زندہ ہو کر بھاگ جاتی ہے، مکھی بھی اگر پانی میں مر جائے تو وہ بھی زندہ ہو کر پرواز کر جاتی ہے اور بعض جانور جیسے زنبور اور دوسرے حشرات الارض سخت سردی کے ایام میں مر جاتے ہیں اور زمین میں یا دیواروں کے سوراخوں میں چمٹے رہتے ہیں اور جب گرمی کا موسم آتا ہے تو پھر زندہ ہو جاتے ہیں۔“ View Proof
(چشمہ معرفت صفحہ 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 171، 172 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 514 پر)
- (99) ”اور بعض درخت ایسے ہیں کہ ان کے پتوں میں سے بڑے بڑے پرندے پیدا ہو جاتے
ہیں ۔ ان میں سے ایک آک کا درخت بھی ہے اور اس کی نظیریں ہزار ہا ہیں نہ صرف ایک دو۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 269 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 282 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 516 پر)
مرزا قادیانی کا حال اس سکھ جیسا ہے جس نے شراب پی کر ایک مکھی کے دونوں پر کاٹ دیئے اور کہا ”اُڑ جا“۔ وہ نہ اڑی تو سردار جی بولے۔ تجربہ سے ثابت ہوا کہ مکھی کے دونوں پر کاٹ دیئے جائیں تو وہ سن نہیں سکتی۔ اس کے باوجود مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے:
ایک ایک حرف ...... خدا تعالیٰ کی طرف سے
- (100) ”میں تو ایک حرف بھی نہیں لکھ سکتا۔ اگر خدا تعالیٰ کی طاقت میرے ساتھ نہ ہو۔
بارہا لکھتے لکھتے دیکھا ہے کہ ایک خدا کی روح ہے جو تیر رہی ہے۔ قلم تھک جایا کرتی ہے مگر اندر جوش نہیں تھکتا۔ طبیعت محسوس کیا کرتی ہے کہ ایک ایک حرف خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 483 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 517 پر)
اللہ نے جو مجھے سکھایا، وہ کسی اور کو نہ سکھایا
- (101) ”کالجوہریین من المادة الواحدة ووہب لی علوما مقدسة نقية و
معارف صافية جلية وعلمنی مالم یعلم غیری من المعاصرین.“
(ترجمہ) اور اُس نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) مجھے پاکیزہ اور صاف علوم دیئے اور خالص اور اعلیٰ درجہ کے معارف دیئے اور مجھے وہ کچھ سکھایا جو اس زمانہ میں کسی اور کو نہ سکھایا۔
(انجام آتھم صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 75 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 518 پر)
جو میرے ہاتھ سے جام پیے گا، وہ ہرگز نہیں مرے گا
- (102) ”اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے مگر جو شخص
میرے ہاتھ سے جام پیے گا جو مجھے دیا گیا ہے، وہ ہرگز نہیں مرے گا۔ وہ زندگی بخش باتیں جو میں کہتا ہوں۔ اور وہ حکمت جو میرے مُنہ سے نکلتی ہے اگر کوئی اور بھی اس کی مانند کہہ سکتا ہے تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا۔ لیکن اگر یہ حکمت اور معرفت جو مُردہ دلوں کے لیے آبِ حیات کا حکم رکھتی ہے، دوسری جگہ سے نہیں مل سکتی تو تمہارے پاس اس جرم کا کوئی عذر نہیں کہ تم نے اس سرچشمہ سے انکار کیا جو آسمان پر کھولا گیا ۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 104 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 519 پر)
یہ غالباً وہی ”جام“ ہے جو مرزا امام الدین کی رفاقت میں مرزا قادیانی کو نصیب ہوا تھا۔
مرزا قادیانی کے ”معجزات“
- (103) ”ہر ایک شخص کا الہام جو نرے الفاظ ہوں اور کوئی فوق العادت امر اُن میں نہ ہو،
خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتا۔ اور کوئی الہام ہرگز قابلِ پذیرائی نہیں جب تک کہ اس میں
الہی شوکت نہ ہو۔ اور الہی شوکت یہ ہے کہ فوق العادت اور عظیم الشان پیشگوئیاں جو الوہیت کی قدرت اور علم سے بھری ہوئی ہوں، اُس الہام میں پائی جائیں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 42، 43 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 15، صفحہ 170، 171 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 520 پر)
(104) ”خدا نے میرے لیے وہ نشان دکھائے کہ اگر وہ ان امتوں کے وقت نشان دکھلائے جاتے جو پانی اور آگ اور ہوا سے ہلاک کی گئیں تو وہ ہلاک نہ ہوتیں
(حقیقۃ الوحی صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 619 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 522 پر)
(105) ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں، وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 148 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 152 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 523 پر)
(106) ”صد ہا نشانوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لیے مجبور کر دیا کہ مَیں اپنے تئیں مسیح موعود مان لوں۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 150 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 153 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 524 پر)
(107) ”خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لیے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کیے۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 168 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 525 پر)
(108) ”پس یقیناً سمجھو کہ سچا مذہب اور حقیقی راستباز ضرور اپنے ساتھ امتیازی نشان رکھتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں معجزہ اور کرامت اور خارق عادت امر ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 50 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 63 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 526 پر)
(109) ”نشان: بعض نشان اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کے وقوع میں ایک منٹ کی تاخیر بھی نہیں ہوتی کہ فی الفور واقع ہو جاتے ہیں اور ان میں گواہ کا پیدا ہونا کم میسر آتا ہے۔ اسی قسم کا یہ ایک نشان ہے کہ ایک دن بعد نماز صبح میرے پر کشفی حالت طاری ہوئی۔ اور میں نے اُس وقت اس کشفی حالت میں دیکھا کہ میرا لڑکا مبارک احمد باہر سے آیا ہے اور میرے قریب جو ایک چٹائی پڑی ہوئی تھی، اُس کے ساتھ پیر پھسل کر گر پڑا ہے اور اُس کو بہت چوٹ لگی ہے اور تمام کُرتہ خون سے بھر گیا ہے۔ میں نے اس وقت مبارک احمد کی والدہ کے پاس جو اُس وقت میرے پاس کھڑی تھیں، یہ کشف بیان کیا۔ تو ابھی میں بیان ہی کر چکا تھا کہ مبارک احمد ایک طرف سے دوڑا آیا۔ جب چٹائی کے پاس پہنچا تو چٹائی سے پیر پھسل کر گر پڑا۔ اور سخت چوٹ آئی اور تمام کُرتہ خون سے بھر گیا اور ایک منٹ کے اندر ہی یہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 384 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 398، 399 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 527 پر)
(110) ”نشان: ایسا ہی عرصہ قریباً تین سال کا ہوا ہے کہ صبح کے وقت کشفی طور پر مجھے دکھایا گیا کہ مبارک احمد سخت مبہوت اور بدحواس ہو کر میرے پاس دوڑا آیا ہے اور نہایت بے قرار ہے اور حواس اُڑے ہوئے ہیں اور کہتا ہے کہ ابا پانی یعنی مجھے پانی دو! یہ کشف میں نے نہ صرف گھر کے لوگوں کو بلکہ بہتوں کو سنا دیا تھا۔ کیونکہ اس کے وقوع میں ابھی قریباً دو گھنٹے باقی تھے۔ اس کے بعد اُسی وقت ہم باغ میں گئے اور قریباً 8 بجے صبح کا وقت تھا اور مبارک احمد بھی ساتھ تھا اور مبارک احمد کئی دوسرے چھوٹے بچوں کے ساتھ باغ کے ایک گوشہ میں کھیلتا تھا اور عمر تقریباً چار برس کی تھی، اُس وقت میں ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا۔ میں نے دیکھا کہ مبارک احمد زور سے میری طرف دوڑتا چلا آتا ہے اور سخت بدحواس ہو رہا ہے۔ میرے سامنے
آکر اتنا اُس کے مُنہ سے نکلا کہ ابا پانی۔“
(حقیقة الوحی صفحہ 385 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 399 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 529 پر)
View Proof
(111) ”نشان: ایک دفعہ 1902ء میں مجھے الہام ہوا یریدون ان یطفؤا نورک ويتخطفوا عرضک وانی معک ومع اہلک یعنی دشمن لوگ ارادہ کریں گے کہ تیرے نور کو بجھا دیں اور تیری آبرو ریزی کریں مگر میں تیرے ساتھ ہوں گا۔ اور ان کے ساتھ جو تیرے ساتھ ہیں اور انہی دنوں میں میں نے دیکھا میں ایک کوچہ میں ہوں جو آگے سے بند ہے اور بہت تنگ کوچہ ہے کہ بمشکل ایک آدمی اس میں گزر سکتا ہے۔ میں بند کوچہ کے آخری حصہ میں جس کے آگے کوئی راہ نہ تھا، دیوار کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ اور جو واپس جانے کی طرف راہ تھی، اس کی طرف جب نظر اُٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تین قوی ہیکل سنڈھے وہاں کھڑے ہیں جو خونی ہیں اور گزرنے کی راہ بند کر رکھی ہے۔ ایک اُن میں سے میری طرف حملہ کر کے دوڑا۔ اُس کو میں نے ہاتھ سے ہٹا دیا۔ پھر دُوسرا حملہ آور ہوا اور اس کو بھی میں نے ہاتھ سے ہٹا دیا۔ پھر تیسرا اس شدت اور جوش سے آیا کہ اسے دیکھ کر یقین ہوتا تھا کہ اب خیر نہیں لیکن جب میرے قریب آیا تو دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا اور میں اس کے ساتھ رگڑ کر اُس کے پاس سے گزر گیا۔ اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے چند کلمات میرے دل پر القا ہوئے جن کو میں پڑھتا جاتا اور دوڑتا تھا اور وہ یہ ہیں رب کل شیء خادمک رب فاحفظنی وانصرنی وارحمنی۔ اس واقعہ کے دیکھنے کے ساتھ ہی مجھ کو تفہیم ہوا کہ کوئی دشمن مقدمہ برپا کرے گا اور اس کے تین وکیل ہوں گے۔“
(حقیقة الوحی صفحہ 381 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 394، 395 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 530 پر)
View Proof
(112) ”نشان: ایک دفعہ مجھے لدھیانہ سے پٹیالہ جانے کا اتفاق ہوا اور میرے ساتھ وہی شیخ حامد علی اور دوسرا شخص فتح خان نام ساکن ایک گاؤں متصل ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور کا اور تیسرا شخص عبدالرحیم نام ساکن انبالہ چھاؤنی تھا اور بعض اور بھی تھے جو یاد نہیں رہے۔ جس صبح ہم نے ریل پر سوار ہونا تھا، مجھے الہام کے ذریعہ سے بتایا گیا تھا کہ اس سفر میں کچھ نقصان ہوگا
اور کچھ حرج بھی۔ میں نے اپنے ان تمام ہمراہیوں کو کہا کہ نماز پڑھ کر دُعا کر لو کیونکہ مجھے یہ الہام ہوا ہے۔ چنانچہ سب نے دُعا کی اور پھر ہم ریل پر سوار ہو کر ہر ایک طور کی عافیت سے پٹیالہ میں پہنچ گئے۔ جب ہم اسٹیشن پر پہنچے تو وزیرِ اعظم ریاست کا خلیفہ محمد حسن مع اپنے تمام ارکان ریاست کے جو شاید اٹھارہ گاڑیوں پر سوار ہوں گے، پیشوائی کے لیے موجود دیکھے۔ اور جب آگے بڑھے تو شاید سات ہزار کے قریب دوسرے عام و خاص شہر کے رہنے والے ملاقات کے لیے موجود تھے۔ اس حد تک تو خیر گزری نہ کوئی نقصان ہوا اور نہ کوئی حرج۔ لیکن جب واپس آنے کا ارادہ ہوا تو وہی وزیر صاحب مع اپنے بھائی سید محمد حسین صاحب کے جو شاید ان دنوں میں ممبر کونسل ہیں، مجھے ریل پر سوار کرنے کے لیے اسٹیشن پر میرے ہمراہ گئے اور ان کے ساتھ نواب علی محمد خان صاحب مرحوم بھجر والے بھی تھے۔ جب ہم اسٹیشن پر پہنچے تو ریل کے چلنے میں کچھ دیر تھی۔ میں نے ارادہ کیا کہ عصر کی نماز یہیں پڑھ لوں، اس لیے میں نے چوغہ اتار کر وضو کرنا چاہا اور چوغہ وزیر صاحب کے ایک ملازم کو پکڑا دیا اور پھر چوغہ پہن کر نماز پڑھ لی اور اس چوغہ میں زادِ راہ کے طور پر کچھ روپیہ تھے اور اسی میں ریل کا کرایہ بھی دینا تھا۔ جب ٹکٹ لینے کا وقت آیا تو میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا کہ تا ٹکٹ کے لیے روپیہ دوں تو معلوم ہوا کہ وہ رومال جس میں روپیہ تھا، گم ہو گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ چوغہ اتارنے کے وقت کہیں گر پڑا۔ مگر مجھے بجائے غم کے خوشی ہوئی کہ ایک حصہ پیشگوئی کا پورا ہو گیا۔ پھر ہم ٹکٹ کا انتظام کر کے ریل پر سوار ہو گئے۔ جب ہم دوراہہ کے اسٹیشن پر پہنچے تو شاید اس وقت دس بجے رات کا وقت تھا اور وہاں صرف پانچ منٹ کے لئے ریل ٹھہرتی تھی۔ میرے ایک ہمراہی شیخ عبدالرحیم نے ایک انگریز سے پوچھا کہ کیا لودہانہ آ گیا؟ اُس نے شرارت سے یا کسی اپنی خود غرضی سے جواب دیا کہ ہاں آ گیا۔ (یہ ہوتا ہے نتیجہ بچ کر کے آنے والے ”ٹچی ٹچی“ پر اعتماد کرنے کا، وگرنہ کوئی جینون فرشتہ رکھا ہوتا تو بتا دیتا مرزا صاحب! یہ انگریز آپ سے دھوکا کر رہا ہے۔ مرتب)۔ تب ہم مع اپنے تمام اسباب کے جلد جلد اُتر آئے۔ اتنے میں ریل روانہ ہو گئی۔ اُترنے کے ساتھ ہی ایک ویرانہ اسٹیشن دیکھ کر پتہ لگ گیا کہ ہمیں دھوکہ دیا گیا۔ وہ ایسا ویرانہ اسٹیشن تھا کہ بیٹھنے کے لیے چارپائی بھی نہیں ملتی تھی اور نہ روٹی کا سامان ہو سکتا تھا مگر اس امر کے خیال سے کہ اس حرجہ کے پیش آنے سے دُوسرا حصہ پیشگوئی کا بھی پورا ہو گیا۔ اس قدر مجھے خوشی ہوئی کہ گویا اس مقام میں کسی نے ہمیں بھاری دعوت دی اور گویا ہر ایک قسم کا خوش مزہ کھانا ہمیں مل گیا۔ بعد اس کے اسٹیشن ماسٹر اپنے کمرہ سے نکلا۔ اس نے افسوس کیا کہ
کسی نے ناحق شرارت سے آپ کو حرج پہنچایا اور کہا کہ آدھی رات کو ایک مال گاڑی آئے گی۔ اگر گنجائش ہوئی تو میں اس میں بٹھا دوں گا۔ تب اُس نے اس امر کے دریافت کے لیے تار دی اور جواب آیا گنجائش ہے۔ تب ہم آدھی رات کو سوار ہو کر لدھیانہ میں پہنچ گئے۔ گویا یہ سفر اسی پیشگوئی کے لیے تھا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ 257 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 257 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 532 پر)
(113) ’’نشان: ایک دفعہ نواب علی محمد خان مرحوم رئیس لدھیانہ نے میری طرف خط لکھا کہ میرے بعض امور معاش بند ہو گئے ہیں، آپ دُعا کریں کہ تا وہ کھل جائیں۔ جب میں نے دعا کی تو مجھے الہام ہوا کہ کھل جائیں گے۔ میں نے بذریعہ خط اُن کو اطلاع دے دی۔ پھر صرف دو چار دن کے بعد وہ وجوہ معاش کھل گئے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ 257 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 257 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 534 پر)
(114) ’’میرے پاس ایک شیشی مُشک کی ہے جس میں سے میں کھایا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کے سلسلہ کو منقطع کرنا نہیں چاہتا تو جس طرح چاہے اس کو برکت دے دے۔ میں نے گھر والوں سے کہا کہ لاؤ اس شیشی کو میں برکت دیتا ہوں۔ چنانچہ میں نے اُس میں پھونک مار دی۔ ڈاک کے وقت فضل الٰہی ایک شیشی لایا۔ میں نے سمجھا کہ کوئی دوائی ہے اور رکھ دی۔ مگر فجر کو جب اسے کھول کر دیکھا تو وہ مُشک نکلا۔ میں نے اس کو بُلا کر پوچھا کہ کس نے بھیجی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ کاغذ گم ہو گیا۔ اس شیشی پر بھی مُرسل و فرستندہ کا نام نہیں۔ یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے برکت کا دیا ہے میں نے گھر میں خود پھونک ماری اور دوسرے دن وہ شیشی آ گئی۔ یہ خدا کے عجیب کام ہیں۔ جو آج کل ظاہر ہو رہے ہیں۔ فالحمد لله علی ذالک۔‘‘
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 286 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 535 پر)
(115) ”نشان: ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت درد ہوئی۔ ایک دم قرار نہ تھا۔ کسی شخص سے میں نے دریافت کیا کہ اس کا کوئی علاج ہے۔ اس نے کہا کہ علاج دندان، اخراج دندان۔ اور دانت نکالنے سے میرا دل ڈرا۔ تب اس وقت مجھے غنودگی آ گئی اور میں زمین پر بے تابی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا اور چارپائی پاس بچھی تھی۔ میں نے بے تابی کی حالت میں اس چارپائی کی پائینتی پر اپنا سر رکھ دیا اور تھوڑی سی نیند آ گئی۔ جب میں بیدار ہوا تو درد کا نام و نشان نہ تھا اور زبان پر یہ الہام جاری تھا:۔ اذا مرضت فهو یشفین یعنی جب تو بیمار ہوتا ہے تو وہ تجھے شفا دیتا ہے فالحمد لله علی ذالک.
(حقیقۃ الوحی صفحہ 246، 247 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 246، 247 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 536 پر)
(116) ”نشان: خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ ایک لڑکی تمہارے گھر میں پیدا ہوگی اور مر جائے گی اور اس کا نام غاسق رکھا یعنی غروب ہونے والی۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ طفولیت میں ہی مر جائے گی۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق لڑکی پیدا ہوئی اور پیشگوئی کے مطابق طفولیت میں ہی مرگئی۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 396 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 396 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 538 پر)
(117) ”میری سچائی پر ایک نشان ہے۔ یہ ہے کہ جب میری لڑکی مبارکہ پیٹ میں تھی۔ اور قریباً پچیس روز اس کی پیدائش میں باقی رہتے تھے تو اس لڑکی کی والدہ نہایت تکلیف میں مبتلا تھی۔ اور حساب کی غلطی سے یہ غم بھی ان کو لاحق ہوا کہ شاید یہ حمل نہ ہو، کوئی اور بیماری ہو۔ کیونکہ انہوں نے ٹھیک ٹھیک یاد نہ رہنے کی وجہ سے خیال کیا کہ یہ گیارہواں مہینہ جاتا ہے اور عام دستور کے لحاظ سے یہ مدت حمل کی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے دوہری تکلیف دامنگیر ہوگئی اور جب ایسے ایسے خیالات سے ان کا غم حد سے بڑھ گیا تو میں نے ان کے لیے دعا کی۔ تب مجھے یہ الہام ہوا۔ آید آں روزے کہ مستخلص شود۔ یعنی وہ دن چلا آتا ہے کہ چھٹکارا ہو جائے گا
اور اس الہام کے معنوں کی مجھے یہ تفہیم ہوئی کہ لڑکی پیدا ہوگی اور اسی وجہ سے کوئی لفظ بشارت کا اس الہام میں استعمال نہیں کیا گیا بلکہ چھٹکارا کا لفظ استعمال کیا گیا۔ چنانچہ میں نے اس الہام سے اپنی جماعت میں سے بہتوں کو اطلاع دے دی۔ آخر 27 رمضان 1314ھ کو لڑکی پیدا ہوگئی جس کا نام مبارکہ رکھا گیا۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 323 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 451 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 539 پر)
(118) ’’میرا ارادہ تھا کہ ان نشانوں کو تین سو تک اس کتاب میں لکھوں اور وہ تمام نشان جو میری کتاب نزول المسیح اور تریاق القلوب وغیرہ کتابوں میں لکھے گئے ہیں اور دوسرے نئے نشان اس قدر اس میں لکھ دوں کہ تین سو کا عدد پورا ہو جائے مگر تین روز سے میں بیمار ہو گیا ہوں اور آج انتیس ستمبر 1906ء کو اس قدر غلبہ مرض اور ضعف اور نقاہت ہے کہ میں لکھنے سے مجبور ہوگیا ہوں۔ اگر خدا نے چاہا تو حصہ پنجم براہین احمدیہ میں یہ تین سو نشان یا زیادہ اس سے لکھے جائیں گے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ 400 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 400 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 540 پر)
(119) ’’جھوٹے اور فریبی اپنے جھوٹ میں تھک کر رہ جاتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 642 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 541 پر)
بائبل میں لکھا ہے:
- ’’احمق بھی بہت سی باتیں بناتا ہے، پر آدمی نہیں بتا سکتا ہے کہ کیا ہوگا، اور جو کچھ
اس کے بعد ہوگا اسے کون سمجھا سکتا ہے؟ احمق کی محنت اسے تھکاتی ہے۔‘‘
(واعظ 15:10-14)
معجزانہ انشا پردازی کا ایک نمونہ
(120) ’’محبّی اخویم حکیم محمد حسین صاحب قریشی سلمہ اللہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و
برکاتہ ۔ اشیاء مفصلہ ذیل ہمراہ لیتے آویں اور اگر خدانخواستہ ایسی مجبوری ہو تو کسی اور آنے والے کے ہاتھ بھیج دیں۔ وائی بیوٹر جو ایک رحم کے متعلق دوائی ہے، پلومر کی دوکان سے (حصہ) مشک خالص عمدہ جس میں چھیچڑا نہ ہو ایک تولہ، پان عمدہ بمبئی (حصہ) اور ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جو ایک چوکی ہوتی ہے اور اس میں ایک برتن ہوتا ہے اس کی قیمت معلوم نہیں۔ آپ ساتھ لاویں۔ قیمت یہاں سے دی جاوے گی، مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہو گئی ہے۔ پیروں پر بوجھ دے کر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آتا ہے۔ اس لیے ایسے پاخانہ کی ضرورت پڑی۔ اگر شیخ صاحب کی دوکان میں ایسا پاخانہ ہو تو وہ دے دیں گے مگر ضرور لانا چاہیے اور روپیہ 30 کا منی آرڈر آپ کی خدمت میں بھیجا جاتا ہے۔ باقی سب خیریت ہے۔ والسلام۔ مرزا غلام احمد !
(خطوط امام بنام غلام صفحہ 6 از حکیم محمد حسین قریشی قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 542 پر)
View Proof
مجھ سے خدا تعالیٰ لکھواتا ہے
(121) ”یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اُردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“
(نزول المسیح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 434 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 543 پر)
View Proof
ثبوت حاضر ہیں!
مرزا قادیانی
کے
خانگی حالات
Back
اسلام کا خانگی نظام بے نظیر و بے مثال ہے۔ اسلام فطرت اور اخلاقی پاکیزگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنگامی حالات میں دوسری شادی بلکہ چار شادیوں تک کی اجازت دیتا ہے اور اس حالت میں بیویوں کے درمیان پورا انصاف اور تمام حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ ایک کڑی شرط ہے جو دین اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب میں نہیں۔ پہلی بیوی کو صرف اس لیے طلاق دے دینا کہ مرد کو دوسری عورت سے نکاح کی خواہش یا ضرورت ہے، پہلی بیوی اور اس کی اولاد سے سراسر ناانصافی ہے۔ جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں 2 شادیاں کیں۔ مگر نفسانی خواہش اور لالچ کی بنا پر ان دونوں میں انصاف و حقوق کا پلڑا برابر نہ رکھ سکا۔ بقول ملک محمد جعفر خاں:
”مرزا قادیانی کی پہلی شادی عمر کے اوائل میں ہی ہوگئی تھی اور اس شادی سے مرزا قادیانی کے دو لڑکے مرزا سلطان احمد اور فضل احمد موجود تھے۔ 1884ء میں جب کہ مرزا قادیانی کی عمر تقریباً انچاس سال تھی، انہوں نے دہلی کے ایک معزز خاندان کی ایک نوعمر کنواری لڑکی سے رشتہ کیا۔ جس بیوی کے ساتھ مرزا قادیانی کی جوانی کا بہترین حصہ گزر چکا تھا، بڑھاپے میں اسے عذاب میں مبتلا کرنا کسی طرح جائز نہ تھا۔ اگر مرزا قادیانی قرآنی حکم کے ماتحت دیانت داری سے غور کرتا تو یقیناً وہ اس نتیجہ پر پہنچتا کہ اس عمر میں وہ اپنی نئی دلہن اور ادھیڑ عمر کی بیوی کے درمیان انصاف نہ کرسکے گا۔ خدا سے زیادہ کون انسانی فطرت اور ازدواجی تعلقات کے تقاضوں کی نزاکت اور اہمیت سے واقف ہے۔ اس لیے سورہ نساء میں جہاں تعدد ازواج کے لیے انصاف کی شرط مقرر کی گئی ہے، ساتھ ہی مردوں کو اس حقیقت سے متنبہ کردیا گیا ہے کہ اس بارے میں اپنی استعداد کی نسبت کسی خوش فہمی اور حسن ظن میں مبتلا نہ رہو اور یہ نہ سمجھو کہ تم آسانی کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کرسکو گے۔ چنانچہ فرمایا:
- ”ولن تستطيعوا ان تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلو
كل ايمل فتذروها كالمعلقة. (النساء: 129)
ترجمہ: ”اور تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ پورا پورا انصاف کرو اپنی بیویوں کے درمیان، اگرچہ تم اس کے بڑے خواہش مند بھی ہو۔ تو یہ نہ کرو کہ جھک جاؤ (ایک بیوی کی طرف) بالکل اور چھوڑ دو دوسری کو جیسے وہ (درمیان میں) لٹک رہی ہو۔“
مرزا قادیانی کی نسبت ہمارے پاس ایسی شہادت موجود ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ اپنے حالات کے ماتحت ان کو یقین تھا کہ دوسری شادی کے بعد وہ اپنی پہلی بیوی سے انصاف نہ کر سکیں گے اور اس کے حقوق ادا کرنے سے قاصر رہیں گے۔ مرزا قادیانی کی زندگی کے حالات کی نسبت ان کے چھوٹے صاحبزادے میاں بشیر احمد صاحب ایم۔ اے نے ایک کتاب ”سیرۃ المہدی“ لکھی ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی والدہ یعنی مرزا قادیانی کی دوسری بیوی کی زبانی یہ واقعہ لکھا ہے:
- ❑ ”والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے
انہیں (یعنی پہلی بیوی کو) کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا، ہوتا رہا، اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے۔ اس لیے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو میں گنہگار ہوں گا۔ اس لیے اب دو باتیں ہیں۔ یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ میں تم کو خرچ دیے جاؤں گا۔ انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے، میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔“
مرزا بشیر احمد صاحب نے ”سیرت المہدی“ میں ہمیں اپنی سوتیلی والدہ کا اصل نام تک نہیں بتایا لیکن اس کا ذکر ان تحقیر آمیز الفاظ سے کیا ہے کہ ”فضل احمد کی والدہ جس کو لوگ عام طور پر ’پھجے دی ماں‘ کہا کرتے تھے۔“ خدا کی شان ہے کہ ایک عورت تو اس اعزاز سے ام المومنین بن جائے کہ اس نے اپنی جوانی میں ایک ادھیڑ عمر کے مرد سے شادی کر لی اور دوسری بے چاری محض اس قصور کی بنا پر کہ وہ خاوند کے ساتھ ساتھ بوڑھی ہوتی گئی، صرف ’پھجے دی ماں‘ ہو کر رہ جائے۔ اس ذکر سے میرے ذہن میں بیسیوں اور مثالیں آ گئی ہیں۔
اگر آپ اپنے ملک کے ان لوگوں پر نظر ڈالیں تو شروع میں چھوٹے چھوٹے عہدوں پر فائز تھے یا متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور اب اتفاق زمانہ سے یک لخت اعلیٰ عہدوں پر پہنچ گئے ہیں یا دولت مند ہو گئے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کی ایک تو ”بیگم صاحبہ“ ہوتی ہے اور ایک غریب کوئی ”بچے دی ماں“ ہوتی ہے جو گمنامی میں اپنے آبائی گاؤں میں کسی نہ کسی طرح زندگی کے دن پورے کر رہی ہوتی ہے۔ ان حالات میں مرزا قادیانی کا طرزعمل کوئی ایسا انوکھا نہیں ہے۔ انہوں نے وہی کیا جو ان کے طبقے کے دوسرے مرد کرتے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ لیکن کیا نبی اور مجددین کی صداقت کا یہی معیار ہونا چاہیے کہ اس کی زندگی معاشرہ کی مروج برائیوں کے عین مطابق ہے اور کسی برائی میں وہ منفرد نہیں ہے؟ کیا نبی برائیوں کی تقلید اور ان کے استحکام کے لیے آتے ہیں؟
اور کتنی بے بسی اور مظلومیت ٹپکتی ہے مرزا قادیانی کی بیوی کے جواب سے...... ”اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی!“...... ان الفاظ میں ایک لطیف اور گہرا طنز ہے، جس کو مرزا قادیانی اور ان کے سیرت نگار دونوں نے محسوس نہیں کیا۔ کیا یہ عورت یہ کہتی ہوئی نہیں معلوم ہوتی:
- ”آخر میرا قصور کیا ہے؟ یہی نا کہ میں جوان نہیں رہی؟ کیا میں ہمیشہ
بوڑھی تھی؟ میں نے اپنی جوانی کس پر نثار کی ہے؟ پھر اپنی عمر کا بھی تو خیال کرو۔ کیا تم ویسے ہی جوان ہو؟ کیا نکاح صرف جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ کیا ہم نے زندگی کا اتنا لمبا عرصہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہو کر نہیں گزارا۔ اب مجھے کیوں چھوڑتے ہو؟ کیا زندگی کی شام کے لیے جوانی کی یادیں اور جوان بیٹوں کی خوشیاں ناکافی ہیں؟“
سیرۃ المہدی کے متذکرہ بالا اقتباس سے واضح ہوگا کہ مرزا قادیانی اس امر کے معترف تھے کہ وہ دو بیویوں میں برابری کا سلوک کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ تعجب ہے کہ اس احساس کے باوجود انہوں نے (محمدی بیگم نامی ایک کم عمر لڑکی سے) جلد ہی ایک تیسری شادی کا بھی ارادہ کر لیا۔“
(احمدیہ تحریک از ملک محمد جعفر خاں)
آئیے دیکھتے ہیں مرزا قادیانی کے خانگی حالات۔
بیوی سے حسن سلوک
(122) ”جو شخص اپنی اہلیہ اور اس کے اقارب سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا، وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔“
(کشتی نوح صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 19 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 544 پر)
View Proof
بیوی سے عمدہ سلوک
(123) ”ہمارے ہادی کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ خیر کم خیر کم لاھلہ۔ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔ بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں، وہ نیک کہاں۔ دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 403 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 545 پر)
View Proof
طلاق سے پرہیز کرو
(124) ”اس الہام میں تمام جماعت کے لیے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی کے ساتھ پیش آئیں۔ وہ ان کی کنیزیں نہیں ہیں۔ درحقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔ پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ٹھہرو۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ وعاشروھن بالمعروف یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو اور حدیث میں ہے۔ خیر کم خیر کم لاھلہ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔ سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ ان کے لیے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پرہیز کرو۔ کیونکہ نہایت بد، خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔ جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلد مت توڑو۔“
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 39 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 75 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 546 پر)
View Proof
’’پھجے دی ماں‘‘ کو طلاق
(125) ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو، اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر ”پھجے دی ماں“ کہا کرتے تھے، بے تعلقی سی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں۔ اس لیے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔ (اپنی دوسری والدہ کی بابت یہ بے رحم حقیقت نگاری کیا نام پائے گی؟ کوئی قادیانی ہی اس پر تبصرہ کرے!۔مرتب) ہاں آپ اخراجات وغیرہ باقاعدہ دیا کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انھیں کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا، ہوتا رہا، اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے اس لیے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو میں گنہگار ہوں گا۔ اس لیے اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ میں تم کو خرچ دیے جاؤں گا۔ انھوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے، میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا بلکہ ان کے ساتھ رہیں۔ تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا جو آپ نے 2 مئی 1891ء کو شائع کیا تھا اور جس کی سرخی تھی ”اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین۔“ اس میں آپ نے بیان فرمایا تھا کہ اگر مرزا سلطان احمد اور ان کی والدہ اس امر میں مخالفانہ کوشش سے الگ نہ ہو گئے تو پھر آپ کی طرف سے مرزا سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوں گے اور ان کی والدہ کو آپ کی طرف سے طلاق ہوگی۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ فضل احمد نے اس وقت اپنے آپ کو عاق ہونے سے بچا لیا۔ نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس واقعہ کے بعد ایک دفعہ مرزا سلطان احمد کی والدہ بیمار ہوئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی، میں انھیں دیکھنے کے لیے گئی۔ واپس آ کر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ پھجے کی ماں بیمار
ہے، اور یہ تکلیف ہے۔ آپ خاموش رہے۔ میں نے دوسری دفعہ کہا تو فرمایا میں تمھیں دو گولیاں دیتا ہوں، یہ دے آؤ۔ مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام نہ لینا۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ اور بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارۃً کنایۃً مجھ پر ظاہر کیا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کا نام درمیان میں نہ آئے ، اپنی طرف سے کبھی کچھ مدد کر دیا کروں، سو میں کر دیا کرتی تھی ۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 33، 34 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 547 پر)
View Proof
بدذات بیوی
(126) ”عورتوں میں یہ بھی ایک بدعادت ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند کسی اپنی مصلحت کے لیے کوئی دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ عورت اور اس کے اقارب سخت ناراض ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور شور مچاتے ہیں اور اس بندۂ خدا کو ناحق ستاتے ہیں۔ ایسی عورتیں اور ایسے ان کے اقارب بھی نابکار اور خراب ہیں کیونکہ اللہ جل شانہ نے اپنی حکمت کاملہ سے جس میں صد ہا مصالح ہیں، مردوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا مصلحت کے وقت چار تک بیویاں کر لیں۔ پھر جو شخص اللہ رسولؐ کے حکم کے مطابق کوئی نکاح کرتا ہے تو اس کو کیوں بُرا کہا جائے۔ ایسی عورتیں اور ایسے ہی اس عادت والے اقارب جو خدا اور اس کے رسولؐ کے حکموں کا مقابلہ کرتی ہیں، نہایت مردود اور شیطان کی بہنیں اور بھائی ہیں کیونکہ وہ خدا اور رسولؐ کے فرمودہ سے منہ پھیر کر اپنے رب کریم سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں۔ اور اگر کسی نیک دل مسلمان کے گھر میں ایسی بدذات بیوی ہو تو اسے مناسب ہے کہ اس کو سزا دینے کے لیے دوسرا نکاح ضرور کرے۔
بعض جاہل مسلمان اپنے ناطہ رشتہ کے وقت یہ دیکھ لیتے ہیں کہ جس کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرنا منظور ہے اس کی پہلی بیوی بھی ہے یا نہیں۔ پس اگر پہلی بیوی موجود ہو تو ایسے شخص سے ہرگز نکاح کرنا نہیں چاہتے۔ سو یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے لوگ بھی صرف نام کے مسلمان ہیں اور ایک طور سے وہ ان عورتوں کے مددگار ہیں جو اپنے خاوندوں کے دوسرے نکاح سے ناراض ہوتی ہیں۔ سو ان کو بھی خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 86 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 549 پر)
View Proof
حالت مردمی کالعدم
(127) ”ایک ابتلاء مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا۔ اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا۔ میری حالت مردمی کالعدم تھی۔ اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی اس لیے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے۔ غرض اس ابتلا کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی اور مجھے اس نے دفع مرض کے لیے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں۔ اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوائیں میں نے تیار کی اور اس میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کیا کہ وہ پر صحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے۔ وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطا کیے گئے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 98، 99 طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 550 پر)
View Proof
بیوی کے ایام نے عزت رکھ لی
(128) ”مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ، حافظ صاحب سے روایت کرتے ہیں: حضرت مسیح موعود نے (گویا نومبر 1884ء میں) ایک روز مجھے فرمایا: میاں حامد علی! سفر پر جانا ہے۔ چنانچہ یکہ کرایہ پر لیا۔ جب خاکروبوں کے محلہ کے قریب پہنچے تو مر
ہوں۔ اس جواب پر میں کیا عرض کرتا۔ سو میں خاموش ہو گیا۔
دہلی میں حضرت میر ناصر نواب صاحب کے ہاں پہنچے تو بیٹھک میں مجھے ٹھہرایا گیا۔ چند روز قبل ہی بیوی صاحبہ (حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ) ایام سے پاک ہوئی تھیں۔ گھر پر ہی رخصتانہ عمل میں آیا۔ رخصتانہ کی رات میں نہایت بیقرار تھا کہ کیا ہوگا۔ چنانچہ شدت اضطراب کی وجہ سے میری نیند کافور ہو گئی۔ اور میں رات بھر حضور کے لیے نہایت تضرع سے دعا میں مصروف رہا۔ صبح کی اذان ہوئی تو حضور میرے پاس تشریف لائے اور ہم نے نماز فجر ادا کی، جس کے بعد فرمایا۔ آؤ! لال قلعہ کی طرف سیر کر آئیں۔ چنانچہ راستہ میں خود ہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کتنی پردہ پوش اور باوفا ہے کہ رات بیوی صاحبہ کو پھر ایام شروع ہو گئے اور ہمیں چھٹی ہو گئی۔ چنانچہ اسی حالت میں حضور حضرت ام المومنین کو لے کر قادیان تشریف لے آئے۔
کچھ عرصہ بعد حضرت میر صاحب نے حضور کو لکھا کہ آپ لڑکی کو چھوڑ جائیں۔ حضور نے ایک سو روپیہ بھجوا کر لکھا کہ مجھے تصنیف کے کام کی وجہ سے فرصت نہیں، آپ آ کر لے جائیں۔ چنانچہ میر صاحب آ کر لے گئے۔ پھر دو تین ماہ بعد حضور کو لکھا کہ آپ آ کر بچی کو لے جائیں۔ حضور نے ایک سو روپیہ بھیج دیا اور لکھا کہ آپ آ کر چھوڑ جائیں۔ چنانچہ میر صاحب آ کر چھوڑ گئے۔ حضرت ام المومنین کے اخلاق عالیہ قابل تعریف ہیں کہ آپ نے اپنے والدین کے ہاں اور سہیلیوں سے اس بارہ میں کوئی شکوہ نہیں کیا۔
میں حضور کے علاج میں پہلے ہی مصروف تھا۔ بیوی صاحبہ کی واپسی پر آٹھ دس ماہ گزر گئے لیکن علاج بے اثر رہا۔ ایک روز سیر میں حضور نے ہمیں فرمایا کہ تم لوگ دعویٰ محبت کرتے ہو، میں تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہوں۔ ہم حیران ہوئے کہ نہ معلوم کیا امتحان ہوگا۔ تو فرمایا: میرے دل میں ایک بات ہے اس کے متعلق دعا کرو۔ اور جو پتہ لگے بتاؤ۔ چنانچہ حضور روزانہ ہم سے دریافت کرتے تھے کہ کیا خواب آئی ہے۔ دیگر احباب اپنی خوابیں سناتے تو حضور فرماتے کہ یہ اس امر کے متعلق نہیں۔ مجھے کوئی خواب نہ آئی تھی۔ ایک روز موضع حصہ غلام نبی اپنے اہل وعیال کے پاس جانے کی میں نے اجازت لی اور ابھی قادیان سے نکلا ہی تھا کہ غیر اختیاری طور پر میری زبان پر درود شریف جاری ہو گیا اور میں گاؤں تک درود شریف ہی پڑھتا گیا اور گھر پہنچا اور بچوں سے ملا، کھانا کھایا۔ لیکن میری یہ خاص کیفیت اسی طرح قائم تھی۔ تھکا ماندہ تھا، سو گیا۔ رات خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ملے اور فرمایا۔ حامد علی!
تمہاری کاپی میں جو فلاں نسخہ ہے وہ مرزا صاحب کو کیوں نہیں دیتے؟ اس پر میں بیدار ہو گیا۔ اور صحن میں نکل کر دیکھا تو رات چاندنی ہونے کی وجہ سے یہ سمجھا کہ صبح ہو گئی ہے۔ اور میں قادیان کو روانہ ہو گیا۔ جب میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر
ہے.............!!!
سب پہ سبقت لے گئی بے حیائی آپ کی
پچاس مردوں کے برابر طاقت
(129) ’’ایک ابتلا مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ باعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا۔ اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور درد سر مع دوران سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اس لیے میری حالت مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لیے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا اور ایک خط جس کو میں نے اپنی جماعت کے بہت سے معزز لوگوں کو دکھلا دیا ہے۔ جیسے اخویم مولوی نور الدین صاحب اور اخویم مولوی برہان الدین وغیرہ۔ مولوی محمد حسین صاحب ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے ہمدردی کی راہ سے میرے پاس بھیجا کہ آپ نے شادی کی ہے اور مجھے حکیم محمد شریف کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے۔ اگر یہ امر آپ کی روحانی قوت سے تعلق رکھتا ہے تو میں اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ میں اولیاء اللہ کے خوارق اور روحانی قوتوں کا منکر نہیں ورنہ ایک بڑے فکر کی بات ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلا پیش آوے۔‘‘ یہ ایک چھوٹے سے کاغذ پر رقعہ ہے جو اب تک اتفاقاً میرے پاس محفوظ رہا ہے۔ اور میری جماعت کے پچاس کے قریب دوستوں نے بچشم خود اس کو دیکھ لیا اور خط پہچان لیا ہے۔ اور مجھے امید نہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب اس سے انکار کریں اور اگر کریں تو پھر حلف دینے سے حقیقت کھل جائے گی۔ غرض اس ابتلا کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی۔ اور مجھے اس نے رفع مرض کے لیے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں۔ اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوائیں میں نے طیار کی اور اس میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کر لیا کہ وہ پوری طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطا کیے گئے۔ اگر دنیا اس بات کو مبالغہ نہ سمجھتی تو میں اس جگہ اس واقعہ حقہ کو جو اعجازی رنگ میں ہمیشہ کے لیے مجھے عطا کیا گیا بہ تفصیل بیان کرتا تا معلوم ہوتا کہ ہمارے قادر قیوم کے نشان ہر رنگ میں
ظہور میں آتے ہیں اور ہر رنگ میں اپنے خاص لوگوں کو وہ خصوصیت عطا کرتا ہے جس میں دنیا کے لوگ شریک نہیں ہو سکتے۔ میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک بچہ کی طرح تھا۔ اور پھر اپنے تئیں خدا داد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔ اس لیے میرا یقین ہے کہ ہمارا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔“
(تریاق القلوب صفحہ 36 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 203، 204 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 555 پر)
واقعی یہ ایک عجیب نسخہ ہوگا اور عجب نہیں کہ حکیم نور الدین سے لے کر موجودہ قادیانی خلیفہ تک اس نسخہ سے نہ صرف خود مستفیض ہوئے ہوں گے بلکہ خاص خاص ”قادیانیوں“ کو بھی اس عجیب الفعل تریاق سے بہرہ مند فرماتے ہوں گے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی کے گھر میں چالیس پچاس زن مدخولہ ہوتیں تو پچاس مردوں کی طاقت قرین قیاس تھی لیکن ایک بیوی اور پچاس مردوں کی طاقت، ایک بعید از فہم اور بے جوڑ سی بات معلوم ہوتی ہے۔
حقیقی بیعت
(130) ”ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ اگر آپ کو ہر طرح سے بزرگ مانا جائے اور آپ کے ساتھ صدق اور اخلاص ہو مگر آپ کی بیعت میں انسان شامل نہ ہووے تو اس میں کیا حرج ہے؟ فرمایا۔ ”بیعت کے معنی ہیں اپنے تئیں بیچ دینا اور یہ ایک کیفیت ہے جس کو قلب محسوس کرتا ہے جبکہ انسان اپنے صدق اور اخلاص میں ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اس میں یہ کیفیت پیدا ہو جائے تو وہ بیعت کے لیے خود بخود مجبور ہو جاتا ہے۔ اور جب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جائے تو انسان سمجھ لے کہ ابھی اس کے صدق اور اخلاص میں کمی ہے۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ 506 طبع جدید از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 557 پر)
نصرت جہاں بیگم نے بیعت نہیں کی
(131) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود نے پہلی بیعت
لدھیانہ میں لی تھی۔ پہلے دن چالیس آدمیوں نے بیعت کی تھی، پھر جب آپ گھر میں آئے تو بعض عورتوں نے بیعت کی۔ سب سے پہلے مولوی صاحب (حضرت مولوی نور الدین صاحب) نے بیعت کی تھی۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ آپ نے کب بیعت کی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ میرے متعلق مشہور ہے کہ میں نے بیعت سے توقف کیا اور کئی سال بعد بیعت کی۔ یہ غلط ہے بلکہ میں کبھی بھی آپ سے الگ نہیں ہوئی۔ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی اور شروع سے ہی اپنے آپ کو بیعت میں سمجھا اور اپنے لیے باقاعدہ الگ بیعت کی ضرورت نہیں سمجھی۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 18، 19 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 558 پر)
View Proof
بیعت نہ کرنے والا منافق
(132) ’’اب یہ ظاہر بات ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعود کو واقعی سچا مسلمان جانتا ہے اور آپ کے مکذبین کو کافر سمجھتا ہے اور آپ کے الہامات اور نشانات کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مانتا ہے اور پھر آپ کی بیعت نہیں کرتا، ایسا شخص یقیناً منافق ہے اور صرف زبانی دعویٰ کرتا ہے ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ حضرت صاحب تو یہ کہیں کہ میری بیعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر ایک شخص پر ضروری ہے اور وہ باوجود آپ کو راستباز جاننے اور آپ کے نشانات اور الہامات پر ایمان لانے کے آپ کی بیعت میں داخل نہ ہو۔ اس لیے اگر کوئی شخص ایسا اشتہار دے بھی دے جس میں حضرت صاحب کے منکرین کو کافر لکھا گیا ہو اور یہ بھی اعلان کرے کہ میں حضرت مرزا قادیانی کو راستباز مسلمان سمجھتا ہوں اور آپ کے نشانات پر ایمان لاتا ہوں لیکن بیعت نہ کرے تو تب بھی ہم اس کو مسلمان نہیں کہیں گے کیونکہ وہ منافق ہے اور صرف زبان سے دعویٰ کرتا ہے ...... اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک شخص آپ کو آپ کے تمام دعاوی میں صادق جانتا ہو اور پھر باقاعدہ سلسلہ میں داخل نہ ہو۔ خاص کر جب حضرت مسیح موعود کا یہ ارشاد بھی موجود ہے کہ میری بیعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر ایک شخص پر واجب قرار دی گئی ہے ایسے شخص کے منافق ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل صفحہ 162، 163، 165 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 560 پر)
View Proof
تنگ پاجامہ
(133) ”مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن حضرت صاحب کی مجلس میں عورتوں کے لباس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ایسا تنگ پاجامہ جو بالکل بدن کے ساتھ لگا ہوا ہو اچھا نہیں ہوتا کیونکہ اس سے عورت کے بدن کا نقشہ ظاہر ہو جاتا ہے جو ستر کے منافی ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ صوبہ سرحد میں اور اس کے اثر کے ماتحت پنجاب میں بھی عورتوں کا عام لباس سلوار ہے۔ لیکن ہندوستان میں تنگ پاجامہ کا دستور ہے اور ہندوستان کے اثر کے ماتحت پنجاب کے بعض خاندانوں میں بھی تنگ پاجامے کا رواج قائم ہو گیا ہے۔ چنانچہ ہمارے گھروں میں بھی بوجہ حضرت والدہ صاحبہ کے اثر کے جو دلی کی ہیں، زیادہ تر تنگ پاجامے کا رواج ہے۔ لیکن سلوار بھی استعمال ہوتی رہتی ہے مگر اس میں شک نہیں کہ ستر کے نکتہ نگاہ سے تنگ پاجامہ ضرور ایک حد تک قابل اعتراض ہے اور سلوار کا مقابلہ نہیں کرتا ہاں زینت کے لحاظ سے دونوں اپنی اپنی جگہ اچھے ہیں یعنی بعض بدنوں پر تنگ پاجامہ سجتا ہے اور بعض پر سلوار۔“
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 66 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 563 پر)
غرارہ
(134) ”آخری ایام میں حضور ہمیشہ ایسے پاجامے پہنا کرتے تھے، جو نیچے سے تنگ اوپر سے کھلے گاؤ دم طرز کے اور شرعی کہلاتے ہیں۔ لیکن شروع میں 1890-95ء میں، میں نے حضور کو بعض دفعہ غرارہ پہنے ہوئے بھی دیکھا ہے۔“
(ذکر حبیب صفحہ 39 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 564 پر)
مصافحہ
(135) ”میاں فخر الدین صاحب ملتانی ثم قادیانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب 1907ء میں حضرت بیوی صاحبہ لاہور تشریف لے گئیں تو ان کی واپسی کی اطلاع آنے پر حضرت مسیح موعود ان کو لانے کے لیے بٹالہ تک تشریف لے گئے۔ میں نے بھی مولوی سید محمد احسن صاحب مرحوم کے واسطے سے حضرت صاحب سے آپ کے ساتھ جانے کی اجازت حاصل کی
اور حضرت صاحب نے اجازت عطا فرمائی۔ مگر مولوی صاحب سے فرمایا کہ فخرالدین سے کہہ دیں کہ اور کسی کو خبر نہ کرے اور خاموشی سے ساتھ چلا چلے۔ بعض اور لوگ بھی حضرت صاحب کے ساتھ ہمرکاب ہوئے۔ حضرت صاحب پالکی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے جسے آٹھ کہار باری باری اٹھاتے تھے۔ قادیان سے نکلتے ہی حضرت صاحب نے قرآن شریف کھول کر اپنے سامنے رکھ لیا اور سورہ فاتحہ کی تلاوت شروع فرمائی اور میں غور کے ساتھ دیکھتا گیا کہ بٹالہ تک حضرت صاحب سورہ فاتحہ ہی پڑھتے چلے گئے اور دوسرا ورق نہیں الٹا۔ راستہ میں ایک دفعہ نہر پر حضرت صاحب نے اتر کر پیشاب کیا اور پھر وضو کر کے پالکی میں بیٹھ گئے اور اس کے بعد پھر اسی طرح سورۃ فاتحہ کی تلاوت میں مصروف ہوگئے۔ بٹالہ پہنچ کر حضرت صاحب نے سب خدام کی معیت میں کھانا کھایا اور پھر سٹیشن پر تشریف لے گئے۔ جب حضرت صاحب سٹیشن پر پہنچے تو گاڑی آچکی تھی۔ اور حضرت بیوی صاحبہ گاڑی سے اتر کر آئی ہوئی تھیں اور حضرت صاحب کو ادھر دیکھ رہی تھیں۔ حضرت صاحب بھی بیوی صاحبہ کو دیکھتے پھرتے تھے کہ اتنے میں لوگوں کے مجمع میں حضرت بیوی صاحبہ کی نظر حضرت صاحب پر پڑگئی اور انھوں نے محمود کے ابا کہہ کر حضرت صاحب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور پھر حضرت صاحب نے سٹیشن پر ہی سب لوگوں کے سامنے بیوی صاحبہ کے ساتھ مصافحہ فرمایا اور ان کو ساتھ لے کر فرودگاہ پر واپس تشریف لے آئے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 106 ، 107 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 565 پر)
View Proof
ملکہ کا راج
(136) ”مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں میں کسی وجہ سے اپنی بیوی مرحومہ پر کچھ خفا ہوا، جس پر میری بیوی نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی بڑی بیوی کے پاس جا کر میری ناراضگی کا ذکر کیا اور حضرت مولوی صاحب کی بیوی نے مولوی صاحب سے ذکر کر دیا۔ اس کے بعد میں جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے ملا تو انھوں نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ ”مفتی صاحب آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں ملکہ کا راج ہے۔“ پس اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا مگر میں ان کا مطلب سمجھ گیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے یہ الفاظ عجیب معنی خیز ہیں کیونکہ ایک طرف تو ان دنوں میں برطانیہ کے تخت پر ملکہ وکٹوریا متمکن تھیں اور دوسری
صرف حضرت مولوی صاحب کا اس طرف اشارہ تھا کہ حضرت مسیح موعود اپنے خانگی معاملات میں حضرت ام المومنین کی بات بہت مانتے ہیں۔“
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 102 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 567 پر)
میں ایسے پردے کا قائل نہیں
(137) ”بیان کیا حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے۔ سٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی، آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ سٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے، یہ دیکھ کر مولوی عبد الکریم صاحب جن کی طبیعت غیور (اور مرزا قادیانی کی؟) اور جوشیلی تھی، میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں۔ آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جاوے۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا میں تو نہیں کہتا آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبد الکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور، لوگ بہت ہیں۔ بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا جاؤ جی میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبد الکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے۔ میں نے کہا مولوی صاحب! جواب لے آئے؟“
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 63 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 568 پر)
مرزا بیوی دی گل بڑی مندا اے
(138) ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ جاننے کے لیے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا اپنے گھر والوں کے ساتھ کیسا معاملہ تھا، مولوی عبد الکریم صاحب کی تصنیف سیرت مسیح موعود کے مندرجہ ذیل فقرات ایک عمدہ ذریعہ ہیں۔ مولوی صاحب موصوف فرماتے ہیں: ”عرصہ قریب پندرہ برس کا گزرتا ہے جبکہ حضرت صاحب نے باوجودیکہ خدا تعالیٰ کے امر سے معاشرت کے بھاری اور نازک فرض کو اٹھایا ہے۔ اس اثنا میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ خانہ جنگی کی آگ مشتعل ہوئی ہو۔ وہ ٹھنڈا دل اور بہشتی قلب قابل غور ہے، جسے اتنی مدت میں کسی قسم کے
رنج اور تعفن عیش کی آگ کی آنچ تک نہ چھوئی ہو۔ اس بات کو اندرون خانہ کی خدمتگار عورتیں جو عوام الناس سے ہیں، اور فطری سادگی اور انسانی جامہ کے سوا کوئی تکلف اور تصنع، زیرکی اور استنباطی قوت نہیں رکھتیں بہت عمدہ طرح محسوس کرتی ہیں۔ وہ تعجب سے دیکھتی ہیں اور زمانہ اور گردو پیش کے عام عرف اور برتاؤ کے بالکل برخلاف دیکھ کر بڑے تعجب سے کہتی ہیں اور میں نے بارہا انہیں خود حیرت سے کہتے ہوئے سنا ہے کہ
(سیرت المہدی، جلد اول صفحہ 276 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 569 پر)
View Proof
مبارکہ بیگم اور امتہ الحفیظ کا حق مہر
(139) ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کا نکاح حضرت صاحب نے نواب محمد علی خان صاحب کے ساتھ کیا تو مہر 56 ہزار روپیہ مقرر کیا گیا تھا اور حضرت صاحب نے مہر نامہ کو باقاعدہ رجسٹری کروا کے اس پر بہت سے لوگوں کی شہادتیں ثبت کروائی تھیں۔ اور جب حضرت صاحب کی وفات کے بعد ہماری چھوٹی ہمشیرہ امتہ الحفیظ بیگم کا نکاح خان محمد عبداللہ خان صاحب کے ساتھ ہوا تو مہر -/15000 مقرر کیا گیا اور یہ مہر نامہ بھی باقاعدہ رجسٹری کرایا گیا تھا۔ لیکن ہم تینوں بھائیوں میں سے جن کی شادیاں حضرت صاحب کی زندگی میں ہوگئی تھیں، کسی کا مہر نامہ تحریر ہو کر رجسٹری نہیں ہوا اور مہر ایک ایک ہزار روپیہ مقرر ہوا تھا۔“ (اس لیے کہ آپ کی بیویاں پیغمبر زادیاں نہ تھیں۔ ناقل)
View Proof
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 53 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 570 پر)
قادیانی بتائیں! لڑکی اور لڑکوں کے مہر میں اتنا تفاوت کیوں؟ اور کیا انبیا کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ اتنا گراں مہر مقرر کریں، اور رجسٹری کرادیں۔ ظلی اور بروزی نبوت کا رنگ بھرنے والو! حضرت زہرا سیدۃ النسا اہل الجنۃ کے نکاح کی سادگی دیکھو اور خانہ ساز نبوت کو ظلی اور عین محمد ﷺ کی نبوت کہتے ہوئے شرم کرو! یہاں یہ بھی یاد رہے کہ اس زمانہ میں ایک روپیہ آج کے 6000 ہزار روپے کے برابر تھا۔ قارئین کرام اب خود ہی جمع تفریق کرلیں۔
داماد کی قوت باہ کا علاج
(140) ”محب عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کسی قدر تریاق جدید کی گولیاں ہمدست مرزا خدا بخش صاحب آپ کی خدمت میں ارسال ہیں اور کسی قدر اس وقت دے دوں گا جب آپ قادیان آئیں گے۔ یہ دوا تریاق الٰہی سے فوائد میں بہت بڑھ کر ہے۔ اس میں بڑی بڑی قابل قدر دوائیں پڑی ہیں۔ جیسے مشک عنبر، زہبی، مروارید، سونے کا کشتہ، فولاد، یاقوت احمر، کونین، فاسفورس، کہربا، مرجان، صندل، کیوڑہ، زعفران۔ یہ تمام دوائیں قریب سو کے ہیں اور بہت سا فاسفورس اس میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ دوا علاج طاعون کے علاوہ مقوی دماغ، مقوی جگر، مقوی معدہ، مقوی باہ اور مراق کو فائدہ کرنے والی مصفی خون ہے۔ مجھ کو اس کے تیار کرنے میں اول تامل تھا کہ بہت سے روپیہ پر اس کا تیار کرنا موقوف تھا لیکن چونکہ حفظ صحت کے لیے یہ دوا مفید ہے، اس لیے اس قدر خرچ گوارا کیا گیا۔ چالیس تولہ سے کچھ زیادہ اس میں یاقوت احمر ہے۔ اگر خریدا جاتا تو شاید کئی سو روپیہ سے آتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوراک اس کی اول استعمال میں دو رتی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تاکہ گرمی نہ کرے۔ نہایت درجہ مقوی اعصاب ہے اور خارش اور بثورات اور جذام اور ذیابیطس اور انواع و اقسام کے خطرناک امراض کے لیے مفید ہے اور قوت باہ میں اس کا ایک عجیب اثر ہے۔“
(خاکسار مرزا غلام احمد 29 اگست 1899ء)
(مرزا قادیانی کا اپنے داماد نواب محمد علی کے نام، مکتوبات احمد جلد دوم، طبع جدید صفحہ 250 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 571 پر)
View Proof
اپنے بیٹے فضل احمد کی موت پر خوشی کا اظہار
(141) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب مرزا فضل احمد فوت ہوا تو اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ تمہاری اولاد کے ساتھ جائداد کا حصہ بٹانے والا ایک فضل احمد ہی تھا۔ سو وہ بیچارہ بھی گزر گیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے دادا صاحب کے دو لڑکے تھے ایک حضرت صاحب جن کا نام مرزا غلام احمد تھا اور دوسرے ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب جو حضرت صاحب سے بڑے
تھے۔ ہمارے دادا نے قادیان کی زمین میں دو گاؤں آباد کر کے ان کو اپنے دونوں بیٹوں کے نام موسوم کیا تھا۔ چنانچہ ایک کا نام قادر آباد رکھا اور دوسرے کا احمد آباد، احمد آباد بعد میں کسی طرح ہمارے خاندان کے ہاتھ سے نکل گیا اور صرف قادر آباد رہ گیا۔ چنانچہ قادر آباد حضرت صاحب کی اولاد میں تقسیم ہوا اور اسی میں مرزا سلطان احمد صاحب کا حصہ آیا۔ لیکن خدا کی قدرت کہ اب قریباً چالیس سال کے عرصہ کے بعد احمد آباد جو ہمارے خاندان کے ہاتھ سے نکل کر غیر خاندان میں جاچکا تھا۔ واپس ہمارے پاس آ گیا ہے اور اب وہ کلیتہً صرف ہم تین بھائیوں کے پاس ہے۔ یعنی مرزا سلطان احمد صاحب کا اس میں حصہ نہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ قادر آباد قادیان سے مشرق کی جانب واقع ہے اور احمد آباد جانب شمال ہے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 22 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 572 پر)
سسرالی عورتوں کے متعلق الہام
(142) ’’ایک دفعہ میری بیوی کے حقیقی بھائی سید محمد اسمعیل کا (جن کی عمر اس وقت دس برس کی تھی) پٹیالہ سے خط آیا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہے۔ اور اسحاق میرے چھوٹے بھائی کو کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے۔ اور پھر خط کے اخیر میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ اسحاق فوت ہو گیا ہے اور بڑی جلدی سے بلایا کہ دیکھتے ہی چلے آئیں۔ اس خط کے پڑھنے سے بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اس وقت میرے گھر کے لوگ بھی سخت تپ سے بیمار تھے...... تب مجھے اس تشویش میں یک دفعہ غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا۔
اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ
یعنی اے عورتو! تمھارے فریب بہت بڑے ہیں...... اس کے ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ یہ ایک خلاف واقعہ بہانہ بنایا گیا ہے۔ تب میں نے...... شیخ حامد علی کو جو میرا نوکر تھا، پٹیالہ روانہ کیا، جس نے واپس آ کر بیان کیا کہ اسحق اور اس کی والدہ ہر دو زندہ موجود ہیں۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 163، 164 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 573 پر)
۞......۞......۞
ثبوت حاضر ہیں!
مرزا قادیانی
اور
غیر محرم عورتیں
اسلام نے عورت کی عصمت و پاکیزگی کی حفاظت کے لیے پردہ ضروری قرار دیا۔ عورت کے پردہ ترک کر دینے سے وہ عورت نہیں رہتی بلکہ بے حیائی کا مجسم فتنہ بن جاتی ہے جس سے معاشرے کی اخلاقی حالت نا گفتہ بہ ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام نے غیر محرم مردوں اور عورتوں کے اختلاط پر بھی سختی سے پابندی عائد کی ہے کیونکہ اس سے جنسی جذبات انگیخت ہوتے ہیں جس کا اکثر نتیجہ زنا کی صورت میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ نکاح کی تقدیس کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر محرم عورت اور مرد تنہائی میں ایک جگہ پر اکٹھے نہ ہوں کیونکہ یہ ملاقات دعوت گناہ کی پہلی دستک ثابت ہو سکتی ہے۔ اور شیطان کی منشا و مراد اسی طرح پوری ہوتی ہے۔
جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی اسلام کی ان بنیادی قدغنوں سے نالاں تھا۔ اس کی اپنی شریعت تھی۔ وہ اپنے پیشرو مسیلمہ کذاب کی طرح بڑا حسن پرست تھا۔ اس لیے غیر محرم عورتوں سے بڑی بے تکلفی سے گفتگو کرتا۔ رات کو وہ عورتیں چراغ محفل بن کر اُسے رغبت اور شہوت دلانے کا محرک بنتیں۔ مرزا قادیانی ان کے جسم سے لطف اٹھاتا اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے اہل خانہ یا مریدوں میں سے کسی کو بھی مرزا قادیانی کے ان مشاغل پر کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ ممکن ہے قارئین کرام میرے ان خیالات کو جانبدارانہ سمجھیں اور انھیں اس سے حیرت ہو مگر مجھے یقین ہے کہ مندرجہ ذیل حوالہ جات پڑھنے کے بعد وہ میری تائید فرمائیں گے۔
نبی کریم محمد ﷺ کا تقویٰ
- (143) ”ہمارے سید و مولیٰ افضل الانبیاء خیر الاصفیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کا تقویٰ دیکھیے کہ وہ
ان عورتوں کے ہاتھ سے بھی ہاتھ نہیں ملاتے تھے جو پاکدامن اور نیک بخت ہوتی تھیں اور بیعت کر لینے کے لیے آتی تھیں بلکہ دور بٹھا کر صرف زبانی تلقین توبہ کرتے تھے۔‘‘
(نور القرآن صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 449 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 574 پر)
اسلام کی اعلیٰ تعلیم
(144) ’’یہ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کا ایک نمونہ ہے کہ ہرگز قصداً کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھو کہ یہ بد نظری کا پیش خیمہ ہے۔‘‘
(نور القرآن صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 447 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 575 پر)
جو عورتیں پردہ نہیں کرتیں، شیطان ان کے ساتھ ہے
(145) ’’عورتوں کو چاہیے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چراویں اور نامحرم سے اپنے تئیں بچاویں۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ بغیر خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جتنے مرد ہیں اُن سے پردہ کرنا ضروری ہے۔ جو عورتیں نامحرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان اُن کے ساتھ ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 86 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 576 پر)
عورت سے مصافحہ جائز نہیں
(146) ’’مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود سے عرض کیا کہ میرے ساتھ شفاخانہ میں ایک انگریز لیڈی ڈاکٹر کام کرتی ہے اور وہ ایک بوڑھی عورت ہے۔ وہ کبھی کبھی میرے ساتھ مصافحہ کرتی ہے، اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ تو جائز نہیں ہے۔ آپ کو عذر کر دینا چاہیے کہ ہمارے مذہب میں یہ جائز نہیں۔‘‘
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 76 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 577 پر)
غیر محرم عورتوں کو چھونا
(147) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) عورتوں سے بیعت صرف زبانی لیتے تھے۔ ہاتھ میں ہاتھ نہیں لیتے تھے نیز آپ بیعت ہمیشہ اُردو الفاظ میں لیتے تھے مگر بعض اوقات دہقانی لوگوں یا دیہاتی عورتوں سے پنجابی الفاظ میں بھی بیعت لے لیا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلعم بھی عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے ان کے ہاتھ کو نہیں چھوتے تھے۔ دراصل قرآن شریف میں جو یہ آتا ہے کہ عورت کو کسی غیر محرم پر اظہارِ زینت نہیں کرنا چاہیے، اسی کے اندر لَمس کی ممانعت بھی شامل ہے کیونکہ جسم کے چھونے سے بھی زینت کا اظہار ہو جاتا ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 15 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 578 پر)
View Proof
”نبی معصوم“
(148) ”سوال ششم: حضرت اقدس (مرزا قادیانی) غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے ہیں؟
جواب: وہ نبی معصوم ہیں، ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں بلکہ موجب رحمت و برکات ہے۔“
(قادیانی اخبار الحکم قادیان جلد 11 نمبر 13 مورخہ 17 اپریل 1907ء) (عکس صفحہ نمبر 579 پر)
View Proof
اِدھر اُدھر
(149) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے، باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ
اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے (بے شرمی کا کام نہ کرتے) اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں، اس لیے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔“ ...................
................ ”والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین ادھر اُدھر پھرتا رہا۔ آخر اس نے چائے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ معلوم ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری (”خدمت خاص“ کی) وجہ سے ہی اسے قید سے بچا لیا ورنہ خواہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا، ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچازاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد اول صفحہ 43، 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 580 پر)
تھیٹر
(150) ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں آگئے۔ چنانچہ کپور تھلہ سے محمد خاں صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے۔ گرمی کا موسم تھا۔ اور منشی صاحب اور میں ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چارپائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے۔ ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا، جو مکان کے قریب ہی تھا۔ اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تا کہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا۔ منشی ظفر احمد صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا کہ میں تو حضرت صاحب کے پاس آپ کی شکایت لے کر گیا تھا اور میرا خیال تھا کہ حضرت صاحب آپ کو بلا کر تنبیہ کریں گے مگر حضور نے تو صرف یہی فرمایا کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے۔“
(ذکر حبیب صفحہ 18 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 582 پر)
ٹانک وائن شراب کا استعمال
- (151) ”محبّی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ!
اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء ضروری خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلمر کی دکان سے خرید دیں مگر ٹانک وائن چاہیے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام (مرزا غلام احمد)“
(خطوط امام بنام غلام، صفحہ 5، مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، بنام حکیم محمد حسین قریشی صاحب
قادیانی، مالک دواخانہ رفیق الصحت لاہور) (عکس صفحہ نمبر 583 پر)
- ”ٹانک وائن کی حقیقت لاہور میں پلمر کی دکان سے ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی
معرفت معلوم کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جواباً تحریر فرماتے ہیں حسب ارشاد پلمر کی دکان سے دریافت کیا گیا، جواب حسب ذیل ملا: ”ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ڈیڑھ روپیہ ہے۔“ (21 ستمبر 1933ء)
(”سودائے مرزا، صفحہ 39، حاشیہ، طبع دوم، مصنفہ حکیم محمد علی صاحب، پرنسپل طبیہ کالج امرتسر)
ٹانک وائن کا فتویٰ
- ”پس ان حالات میں اگر حضرت مسیح موعود برانڈی اور رم کا استعمال بھی اپنے
مریضوں سے کرواتے یا خود بھی مرض کی حالت میں کر لیتے تو وہ خلاف شریعت نہ تھا۔ چہ جائیکہ ٹانک وائن جو ایک دوا ہے۔ اگر اپنے خاندان کے کسی ممبر یا دوست کے لیے جو کسی لمبے مرض سے اٹھا ہو اور کمزور ہو یا بالفرض محال خود اپنے لیے بھی منگوائی ہو اور استعمال بھی کی ہو تو اس میں کیا حرج ہو گیا۔ آپ کو ضعف کے دورے ایسے شدید پڑتے تھے کہ ہاتھ پاؤں سرد ہو جاتے تھے، نبض ڈوب جاتی تھی۔ میں نے خود ایسی حالت میں آپ کو دیکھا ہے۔ نبض کا پتہ نہیں ملتا تھا تو اطبا یا ڈاکٹروں کے مشورے سے آپ نے ٹانک وائن کا استعمال اندریں حالات کیا ہو تو عین مطابق شریعت ہے۔ آپ تمام تمام دن تصنیفات کے کام میں لگے رہتے تھے۔ راتوں کو عبادت کرتے تھے۔ بڑھاپا بھی پڑتا تھا تو اندریں حالات اگر ٹانک وائن بطور
علاج پی بھی لی ہو تو کیا قباحت لازم آگئی۔“
(از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی، فریق لاہوری، مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ جلد 23، نمبر 15،
مورخہ 4 مارچ 1935ء، و جلد 23، نمبر 65، مورخہ 11 اکتوبر 1935ء)
لڑکی کیسی ہونی چاہیے؟؟
(152) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے لاہور کی پہلی شادی حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے گورداسپور میں کرائی تھی۔ جب رشتہ ہونے لگا تو لڑکی کو دیکھنے کے لیے حضور نے ایک عورت کو گورداسپور بھیجا تاکہ وہ آکر رپورٹ کرے کہ لڑکی صورت وشکل وغیرہ میں کیسی ہے اور مولوی صاحب کے لیے موزوں بھی ہے یا نہیں۔ چنانچہ وہ عورت گئی۔ جاتے ہوئے اسے ایک یادداشت لکھ کر دی گئی۔ یہ کاغذ میں نے لکھا تھا اور حضرت صاحب نے بمشورہ حضرت ام المومنین لکھوایا تھا۔ اس میں مختلف باتیں نوٹ کرائی تھیں۔ مثلاً یہ کہ لڑکی کا رنگ کیسا ہے۔ قد کتنا ہے۔ اس کی آنکھوں میں کوئی نقص تو نہیں۔ ناک، ہونٹ، گردن، دانت، چال ڈھال وغیرہ کیسے ہیں۔ غرض بہت ساری باتیں ظاہری شکل وصورت کے متعلق لکھوادی تھیں کہ ان کی بابت خیال رکھے اور دیکھ کر واپس آکر بیان کرے۔ جب وہ عورت واپس آئی اور اس نے ان سب باتوں کی بابت اچھا یقین دلایا تو رشتہ ہو گیا۔ اسی طرح جب خلیفہ رشید الدین صاحب نے اپنی بڑی لڑکی حضرت میاں صاحب (مرزا محمود) کے لیے پیش کی تو ان دنوں میں یہ خاکسار ڈاکٹر صاحب موصوف کے پاس چکرتہ پہاڑ پر جہاں وہ متعین تھے، بطور تبدیلی آب وہوا کے گیا ہوا تھا۔ واپسی پر مجھ سے لڑکی کا حلیہ وغیرہ تفصیل سے پوچھا گیا۔ پھر حضرت میاں صاحب سے بھی شادی سے پہلے کئی لڑکیوں کا نام لے لے کر حضور نے ان کی والدہ کی معرفت دریافت کیا کہ ان کی کہاں مرضی ہے۔ چنانچہ حضرت میاں صاحب نے بھی والدہ ناصر احمد کو انتخاب فرمایا اور اس کے بعد شادی ہوگئی۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 296 از مرزا بشیر احمد ) (عکس صفحہ نمبر 584 پر)
گول منہ، لمبا منہ
(153) ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ مدت کی بات ہے جب میاں ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہوگئی اور ان کو دوسری بیوی کی تلاش ہوئی تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر میں دو لڑکیاں رہتی ہیں۔ ان کو میں لاتا ہوں، آپ ان کو دیکھ لیں۔ پھر ان میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کر دی جاوے۔ چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دولڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کر دیا اور پھر اندر آ کر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں، آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے ان کو دیکھ لیا اور پھر حضرت صاحب نے ان کو رخصت کر دیا اور اس کے بعد میاں ظفر احمد صاحب سے پوچھنے لگے کہ اب بتاؤ تمھیں کونسی لڑکی پسند ہے؟ وہ نام تو کسی کا جانتے نہ تھے، اس لیے انھوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے، وہ اچھی ہے۔ اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی۔ میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا۔ پھر آپ خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے جس کا منہ گول ہے۔ پھر فرمایا جس شخص کا چہرہ لمبا ہوتا ہے، وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بد نما ہو جاتا ہے۔ لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت حضرت صاحب اور میاں ظفر احمد صاحب اور میرے سوا اور کوئی شخص وہاں نہ تھا۔ اور نیز یہ کہ حضرت صاحب ان لڑکیوں کو کسی احسن طریق سے وہاں لائے تھے اور پھر ان کو مناسب طریق پر رخصت کر دیا تھا، جس سے ان کو کچھ معلوم نہیں ہوا مگر ان میں سے کسی کے ساتھ میاں ظفر احمد صاحب کا رشتہ نہیں ہوا۔ یہ مدت کی بات ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اللہ کے نبیوں میں خوبصورتی کا احساس بھی بہت ہوتا ہے۔ دراصل جو شخص حقیقی حسن کو پہچانتا اور اس کی قدر کرتا ہے۔ وہ مجازی حسن کو بھی ضرور پہچانے گا۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 259 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 585 پر)
ایہو کڑی لینی ایں
(154) ”آج میں نے بوقت صبح صادق چار بجے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے۔ اس
میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے۔ تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے، اور اس مشک کو اٹھا کر لایا ہوں۔ اور وہ پانی لا کر ایک گھڑے میں ڈال دیا ہے۔ میں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی، یکا یک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آگئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت ہے۔ (محمدی بیگم۔ ناقل) پیروں سے سر تک سرخ لباس پہنے ہوئے شاید جالی کا کپڑا ہے۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لیے اشتہار دیئے تھے۔ لیکن اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی۔ گویا اس نے کہا، یا دل میں کہا کہ میں آگئی ہوں۔ میں نے کہا یا اللہ آ جاوے! اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی۔ اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ اس سے دو چار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ روشن بی بی میرے دالان کے دروازہ پر آ کھڑی ہوئی ہے اور میں دالان کے اندر بیٹھا ہوں۔ تب میں نے کہا کہ آ، روشن بی بی اندر آ جا۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 158، 159 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 586 پر)
View Proof
احتلام
- (155) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے خادم میاں حامد
علی کی روایت ہے کہ ایک سفر میں حضرت صاحب کو احتلام ہوا۔ جب میں نے یہ روایت سنی تو بہت تعجب ہوا کیونکہ میرا خیال تھا کہ انبیا کو احتلام نہیں ہوتا پھر بعد فکر کرنے کے اور طبی طور پر اس مسئلہ پر غور کرنے کے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ احتلام تین قسم کا ہوتا ہے ایک فطرتی، دوسرا شیطانی خواہشات اور خیالات کا نتیجہ اور تیسرا مرض کی وجہ سے۔ انبیا کو فطرتی اور بیماری والا احتلام ہوسکتا ہے مگر شیطانی نہیں ہوتا۔ لوگوں نے سب قسم کے احتلام کو شیطانی سمجھ رکھا ہے جو غلط ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 242 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 588 پر)
View Proof
میں ایسے پردے کا قائل نہیں
(156) ”بیان کیا حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے۔ سٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی، آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ سٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے، یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب جن کی طبیعت غیور (اور مرزا قادیانی کی؟) اور جوشیلی تھی، میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں۔ آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جاوے۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا میں تو نہیں کہتا آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور، لوگ بہت ہیں۔ بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا جاؤ جی میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے۔ میں نے کہا مولوی صاحب! جواب لے آئے؟“
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 63 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 589 پر)
View Proof
رات کا پہرہ
(157) ”مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت میں، میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سونے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دینا۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو جگا دیا۔ اس وقت رات کے بارہ بجے تھے، ان ایام میں عام طور پر پہرہ پر مائی فجو، منشیانی اہلیہ محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 213 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 590 پر)
View Proof
مائی تابی
(158) ”میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم گھر کی چند لڑکیاں تربوز کھا رہی تھیں۔ اس کا ایک چھلکا مائی تابی کو جالگا جس پر مائی تابی بہت ناراض ہوئی اور ناراضگی میں بد دعائیں دینی شروع کردیں اور پھر خود ہی حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے پاس جا کر شکایت بھی کردی۔ اس پر حضرت صاحب نے ہمیں بلایا اور پوچھا کہ کیا بات ہوئی ہے؟ ہم نے سارا واقعہ سنا دیا جس پر آپ مائی تابی پر ناراض ہوئے کہ تم نے میری اولاد کے متعلق بد دعا کی ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی تابی قادیان کے قریب ایک بوڑھی عورت تھی جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے گھر میں رہتی تھی اور اچھا اخلاص رکھتی تھی۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 244 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 591 پر)
مائی کاکو
(159) ”مائی کاکو نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے سامنے میاں عبدالعزیز صاحب پٹواری سیکھواں کی بیوی حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے لیے کچھ تازہ جلیبیاں لائی۔ حضرت صاحب نے ان میں سے ایک جلیبی اٹھا کر منہ میں ڈالی۔ اس وقت ایک راولپنڈی کی عورت پاس بیٹھی تھی۔ اس نے گھبرا کر حضرت صاحب سے کہا حضرت یہ تو ہندو کی بنی ہوئی ہیں۔ حضرت صاحب نے کہا تو پھر کیا ہے۔ ہم جو سبزی کھاتے ہیں، وہ گوبر اور پاخانہ کی کھاد سے تیار ہوتی ہے اور اسی طرح بعض اور مثالیں دے کر اسے سمجھایا۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 244، 245 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 592 پر)
بھانو
(160) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المومنین (مرزا قادیانی کی بیوی) نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو
تھی۔ وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑ رہی تھی، حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی اس لیے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں، وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا بھانو آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی ”ہاں جی تدے تے تہاڈی لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں ایں۔“ یعنی جی ہاں جبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں بھی غالباً یہ جتانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی شدت کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہورہی ہے اور تمہیں پتہ نہیں لگا کہ کس چیز کو دبا رہی ہو مگر اس نے سامنے سے اور ہی لطیفہ کر دیا۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 210 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 594 پر)
View Proof
زینب بیگم
(161) ”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس (مرزا قادیانی) کی خدمت میں رہی ہوں، گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی۔ مجھ کو اس اثنا میں کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔ دو دفعہ ایسا موقع آیا کہ عشا کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقع ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوئی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔ (موقع بھی تو سُرور کا تھا۔ مرتب) اسی طرح جب مبارک احمد صاحب بیمار ہوئے تو مجھ کو ان کی خدمت کے لیے بھی اسی طرح کئی راتیں گزارنی پڑیں تو حضور نے فرمایا کہ زینب اس قدر خدمت کرتی ہے کہ ہمیں اس سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے (کیوں؟) اور آپ کئی دفعہ اپنا تبرک مجھے دیا کرتے تھے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 272، 273 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 595 پر)
View Proof
(162) ”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری لڑکی
زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضور (مرزا قادیانی) سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے تو میں رعیہ سے ان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ ان ایام میں مجھے مراق کا سخت دورہ تھا، میں شرم کے مارے آپ سے عرض نہ کرسکتی تھی مگر میرا دل چاہتا تھا کہ میری بیماری سے کسی طرح حضور کو علم ہو جائے تاکہ میرے لیے حضور دعا فرمائیں۔ میں حضور کی خدمت (؟) کر رہی تھی کہ حضور نے اپنے انکشاف اور صفائی قلب سے خود معلوم کر کے فرمایا: زینب تم کو مراق کی بیماری ہے، ہم دعا کریں گے۔“ (ولی را ولی می شناسد۔ مرتب)!
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 275 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 597 پر)
View Proof
دوپٹہ تیرا ململ دا
(163) ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری کی ایک بیوی ڈاکٹرنی کے نام سے مشہور تھی۔ وہ مدتوں قادیان آ کر حضور (مرزا قادیانی) کے مکان میں رہی اور حضور کی خدمت کرتی تھی۔ اس بے چاری کو سل کی بیماری تھی۔ جب وہ فوت ہو گئی تو اس کا ایک دوپٹہ حضرت صاحب نے دعا کے لئے یاد دہانی کے لئے بیت الدعا کی کھڑکی کی ایک آہنی سلاخ سے بندھوا دیا۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 126، از مرزا بشیر احمد ) (عکس صفحہ نمبر 598 پر)
View Proof
بچہ سپیشلسٹ
(164) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب کی دائی کا نام لاڈو تھا۔ اور وہ ہاکو ناکو بر والوں سکنہ قادیان کی ماں تھی۔ جب میں نے اسے دیکھا تھا تو وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھی۔ مرزا سلطان احمد بلکہ عزیز احمد کو بھی اسی نے جنایا تھا۔ ایک دفعہ حضرت صاحب نے اس سے اپنی پیدائش کے متعلق کچھ شہادت بھی لی تھی۔ اپنے فن میں وہ اچھی ہوشیار عورت تھی چنانچہ ایک دفعہ یہاں کسی عورت کے بچہ پھنس گیا اور پیدا نہ ہوتا تھا تو حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ لاڈو کو بلا کر دکھاؤ وہ ہوشیار ہے۔ چنانچہ اسے بلایا گیا تو اللہ کے فضل سے بچہ آسانی سے پیدا ہو گیا۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل از مرزا بشیر احمد صفحہ 256) (عکس صفحہ نمبر 599 پر)
View Proof
قادیانی لاہوری جماعت کے ایک ذمہ دار شخص نے قادیانی خلیفہ مرزا محمود پر رنگ رلیوں کے الزامات لگائے اور اس سلسلہ میں ایک اہم خط لکھا۔ لاہوری جماعت کے لوگ مرزا محمود کے تو خلاف ہیں لیکن مرزا قادیانی کو مہدی اور مسیح موعود مانتے ہیں۔ ایسے ہی ایک عقیدت مند نے اپنے خط میں لکھا کہ مرزا قادیانی اور اس کا بیٹا مرزا محمود قادیانی خلیفہ دونوں زنا کرتے تھے۔ مرزا محمود نے قادیان میں اپنے ایک خطبہ جمعہ میں اس خط کو پڑھ کر سنایا اور بعد ازاں یہ خط قادیانی اخبار روزنامہ الفضل میں شائع بھی ہوا۔ ملاحظہ فرمائیں:
کبھی کبھی زنا
(165) ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ولی اللہ تھے۔ اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں۔ اگر انھوں نے کبھی کبھی زنا کر لیا تو اس میں حرج کیا ہوا۔ پھر لکھا ہے۔ ہمیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر اعتراض نہیں۔ کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے۔ کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔“
(روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ 31 اگست 1938ء) (عکس صفحہ نمبر 600 پر)
۞......۞......۞
ثبوت حاضر ہیں!
شرمناک
قادیانی تحریریں
ارشاد خداوندی ہے:
- ولا تقربوا الفواحش ماظهر منها وما بطن.
(سورۃ الانعام: 152)
”اور بے حیائیوں کے پاس بھی نہ جاؤ، چاہے ان میں سے پوشیدہ ہوں یا ظاہر۔“
قرآن حکیم نے فحاشی کے ارتکاب سے بڑی شدت کے ساتھ روکا ہے۔ مذکورہ بالا حکم کے باوجود جو لوگ بے حیائی کی طرف راغب رہتے ہیں اور افواہوں یا دیگر حرکات کے ذریعے برائی کو فروغ دینے میں سرگرم عمل رہتے ہیں، انھیں سرزنش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
- ان الذين يحبون ان تشيع الفاحشة فى الذين آمنوا لهم عذاب اليم فى
الدنيا والآخرة.
(النور: 19)
بے شک جو لوگ (مسلمانوں میں) بے حیائی کا چرچا کرنے کو عزیز رکھتے ہیں، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
اس دنیوی اور اخروی عذاب میں اس وقت مزید اضافہ ہو جاتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے بے حیائی کے کاموں سے سختی سے منع فرما دیا ہے:۔
- ان الله لا يأمر بالفحشاء.
(الاعراف: 28)
بے شک اللہ تعالیٰ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔
- وينهى عن الفحشاء والمنكر
(النحل: 90)
اور اللہ تعالیٰ فحش اور منکر باتوں سے روکتا ہے۔
فحاشی کو ناپسند کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ایک عمدہ معیار مقرر فرمایا:
- عن انس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما كان الفحش فى
شئ الا شانه وما كان الحياء فى شئ الا زانه.
(مشکوۃ المصابیح)
”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
جس چیز میں فحاشی ہو، وہ اسے عیب دار بنا دیتی ہے اور جس چیز میں حیا ہو، وہ اسے زینت بخشتی ہے۔‘‘ اس حدیث سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ فحاشی کی ضد حیا ہے اور حیا ایمان کا ایک اساسی حصہ ہے اور انسانوں کو جنت کی طرف لے جاتا ہے۔ مسلمان حیا دار ہوتا ہے اور وہ اسلامی حدود و قیود میں رہ کر زندگی بسر کرتا ہے، جب کہ بے حیا انسان جو چاہے، کر گزرتا ہے۔ وہ اخلاقی، سماجی اور مذہبی حدود و قیود کا پابند نہیں ہوتا۔
بابو تاج محمد، مرزا قادیانی کی ”خوش اخلاقی“ کے بارے میں لکھتے ہیں: ”مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف میں دو قسم کی بد زبانی پائی جاتی ہے۔ پہلی قسم انفرادی حیثیت رکھتی ہے اور دوسری اجتماعی۔ اگر ایک طرف مرزا یہ لکھتا ہے: ”گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے“ (ست بچن صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133) تو دوسری طرف تحریر کرتا ہے: کہ ”اگر تو بدی کرے گا تو میں بھی بدی کروں گا۔ اگر تو گالی دے گا تو میں بھی گالی دوں گا“ (حجۃ اللہ صفحہ 93) اگر ایک پہلو پر یہ فقرہ نظر آئے گا کہ ”کسی کو گالی مت دو اگر چہ وہ گالی دیتا ہو۔“ (کشتی نوح صفحہ 11) تو دوسرے پہلو پر یہ عبارت بھی ملے گی کہ ”کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی مخالف کی نسبت اس کی بدگوئی سے پہلے خود بد زبانی میں سبقت کی ہو۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 21) اگر ایک طرف یہ لکھا ہوا دیکھو گے کہ ”ہر ایک سختی کو برداشت کرو۔ ہر ایک گالی کا نرمی سے جواب دو“، تو دوسری جانب یہ تحریر بھی ملے گی کہ ”اے گولڑہ کی سر زمین تجھ پر لعنت تو ملعون کے سبب ملعون ہو گئی۔“ (اعجاز احمدی صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 188)
مناظر اسلام مولانا حافظ نور محمد صاحب سہارنپوری تحریر فرماتے ہیں کہ ایک مصلح اور رہبر قوم جس کا فرض منصبی قوموں و جماعتوں کی اصلاح و تعلیم ہو اس کے لیے یہ امر نہایت ضروری ہے کہ وہ تہذیب و اخلاق سے موصوف اور صبر و تحمل، حلم و عفو سے آراستہ ہو۔ وہ برگشتہ قوم کو اپنی شیریں بیانی کے ذریعہ راہ راست پر لائے اور ان کو رذائل و خبائث سے پاک کر کے محاسن و مکارم کا حامل بنا دے۔ چنانچہ دیکھیے انبیا علیہم السلام و دیگر مصلحین امت میں کس قدر اخلاق حسنہ کی فراوانی تھی۔ خصوصاً سردار انبیا حضور نبی رحمت ﷺ تو مکارم اخلاق کے ایک بے نظیر پیکر اور صبر و تحمل اور حلم و عفو کے ایک بے مثال مجسمہ بن کر رونق افروز عالم ہوئے تھے کہ دوستوں کے علاوہ ان کے جانی دشمنوں کے لیے بھی جن کا شب و روز آپ ﷺ
کو تکلیف پہنچانا، شیوۂ خاص تھا، مگر آپ ﷺ سراپا رحمت تھے کہ زبان مبارک سے ان کے لیے کبھی کوئی برا کلمہ نہیں نکلا۔ اس نرمی و شیریں بیانی سے گفتگو فرماتے تھے کہ دشمن سخت دل بھی پانی پانی ہو جاتا تھا اور دل دکھانے والے سخت الفاظ سے دشمن کو بھی یاد کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔
لیکن پنجاب کی نبوت خیز سر زمین ضلع گورداسپور کے ایک غیر معروف گاؤں قادیان میں غلام احمد نامی ایک شخص پیدا ہوا اور کچھ لکھ پڑھ کر سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپے ماہوار پر کلرک لگ گیا۔ اس کے بعد اس کا اپنے متعلق یہ یقین ہو گیا کہ میں ”مصلح اعظم“، ”مسیح موعود“ اور ”نبی و رسول“ ہوں بلکہ کامل اتباع و فنا فی الرسول کے باعث ”محمد ثانی“ ہوں۔ اس لیے لازم تھا کہ وہ بھی اعلیٰ اخلاق، بہترین تہذیب، حلم و عفو، شیریں کلامی، سنجیدگی و دیگر اخلاقی کمالات سے نہ صرف موصوف ہی ہوتا بلکہ اس میں یکتائے روزگار بھی ہوتا۔ لیکن افسوس کہ مصلح اعظم بننے والے اور نبوت و رسالت کے دعوے کرنے والے مرزا کے ”ظرف“ میں اخلاق حسنہ کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ بلکہ وہ سراسر اخلاقی کمزوریوں نکتہ چینیوں، بدگوئیوں بدکلامیوں سے لبریز تھا۔ اور یہاں تک اس نے اس فن دشنام دہی میں وہ ترقی کی تھی کہ اس کو دیکھ کر اور سن کر بداخلاقی و بدتمیزی بھی شرم و ندامت سے سرنگوں ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر مرزا قادیانی کو اس فن کا ”بے تاج بادشاہ“ کہا جائے تو کچھ بے جا نہیں۔ نگاہ عبرت سے دیکھیے کہ خدا تعالیٰ کو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ اس کے مقدس حبیب ﷺ کی نبوت کا روپ بدلنے والا دنیا میں مہذب و خلیق بن کر زندگی بسر کرے۔ بقول مرزا قادیانی
- (166) ”ہر ایک برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہے۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 1 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 9 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 602 پر)
فواحش سے لبریز یہ تحریریں ہر معاشرے کے لیے زہر قاتل ہیں۔ اس سے نہ صرف معاشرے میں شرم و حیا ختم ہو جاتا بلکہ عفت و عصمت اپنی اصل قدر و قیمت بھی کھو بیٹھتی ہیں۔ انسانی جذبات و احساسات کو برانگیختہ کرنے والی، آنجہانی مرزا قادیانی کی کتابیں فحش لٹریچر کا نادر نمونہ ہیں۔ اس کی تحریروں میں بے شرمی و بے حیائی کی باتیں نمایاں ہوتی ہیں۔
قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی جس طرح ظاہری طور پر بدصورت تھا،
اسی طرح باطنی طور پر بھی بدسیرت تھا۔ قادیانی امت اسے ”سلطان القلم“ کہتی نہیں تھکتی۔ اس پنجابی نبی کی تحریرات کو ملاحظہ کیا جائے تو جا بجا بدکلامی و بدگوئی کی نجاست و غلاظت بکھری ہوئی نظر آئے گی۔ ذیل میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے نمونہ کے طور پر ”سلطان القلم“ کی تحریروں کے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں، وگرنہ مرزا قادیانی کی ساری کتابیں ایسی ہی تحریروں سے بھری ہوئی ہیں۔ ان فحش، مخرب اخلاق، حیا سوز، گندی اور بازاری تحریروں سے بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیا یہ کسی شریف انسان کی تحریریں ہو سکتی ہیں اور ہے کوئی قادیانی جو اپنے ”نبی“ کی ان تحریروں کو اپنی جوان اولاد کے سامنے بآواز بلند پڑھ سکے۔
فحاشی کی اشاعت
- (167) ”مومنوں کو چاہیے کہ اشاعت فحش سے پرہیز کریں۔“
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 603 از مرزا قادیانی)
View Proof
مصروفیات
- (168) ”آج کل میری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے
بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی جاتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ مگر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 565 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 604 پر)
View Proof
پلید دل
- (169) ”پلید دل سے پلید باتیں نکلتی ہیں اور پاک دل سے پاک باتیں۔ انسان اپنی
باتوں سے ایسا ہی پہچانا جاتا ہے جیسا کہ درخت اپنے پھلوں سے۔“
(تحفہ غزنویہ صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 541 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 605 پر)
View Proof
خیالات
(170) ”انسان کے الفاظ ہمیشہ اس کے خیالات کے تابع ہوتے ہیں۔“ (براہین احمدیہ جلد اول تا چہارم صفحہ 393 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 393 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 606 پر)
View Proof
بے حیا انسان
(171) ”بے حیا انسان کی زبان کو قابو میں لانا تو کسی نبی کے لیے ممکن نہیں ہوا۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 59 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 75 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 607 پر)
View Proof
جب انسان حیا چھوڑ دیتا ہے......
(172) ”جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے تو جو چاہے بکے۔ کون اس کو روکتا ہے۔“ (اعجاز احمدی صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 109 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 608 پر)
View Proof
میں وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا ہے
(173) ”میں اپنے نفس سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا ہے۔“ (تذکرۃ الشہادتین صفحہ 79 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 79 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 609 پر)
View Proof
مرزا قادیانی کی اپنی جماعت کو نصیحت
(174) ”مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے
کہ ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہیے کہ کم از کم تین دفعہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کریں اور فرماتے تھے کہ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا، اس کے ایمان کے متعلق مجھے شبہ ہے۔“
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 78 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 610 پر)
View Proof
بڑا کارنامہ
(175) ”اخرجت الارض من اثقالها کے نیچے جو یہ معنے بتائے گئے تھے کہ لوگ اپنے گندے خیالات بیان کرنے لگ جائیں گے۔
اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی خبر دی گئی ہے کہ لوگ اپنے گند کتابوں میں شائع کریں گے اور خوش ہوں گے کہ انہوں نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے گویا جن امور کو لوگ پہلے چھپایا کرتے تھے، ان کو مزے لے لے کر بیان کریں گے اور شرم و حیا کا مفہوم اس زمانہ میں بالکل بدل جائے گا۔“
View Proof
(تفسیر کبیر از مرزا بشیر الدین محمود جلد نمبر 9 صفحہ 416، 418) (عکس صفحہ نمبر 611، 612 پر)
پرمیشر کی جگہ
View Proof (176) ”پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے (سمجھنے والے سمجھ لیں)۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 106 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 114 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 613 پر)
پرمیشر ہندوؤں کے خدا کو کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ہندوؤں کے خدا کو اپنی ناف سے دس انگلی نیچے قرار دے کر انہیں بہت بڑی گالی دی۔ اس کے ردعمل میں ہندوؤں نے نہ صرف اپنے جلوسوں میں اسلام اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین کی بلکہ مسلمانوں کی دل آزاری پر مبنی ”ستیارتھ پرکاش“ نامی رسوائے زمانہ کتاب بھی لکھی جس کے پہلے ایڈیشن میں صرف 13 ابواب تھے جبکہ مرزا قادیانی کی طرف سے ہندوؤں کی مذہبی شخصیات کو گالیاں دینے کے بعد چودھویں باب کا اضافہ کیا گیا جس میں انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کو ناقابل بیان گالیاں دیں۔ پھر ایک عرصہ بعد بدنام ترین کتاب ”رنگیلا رسول“ بھی لکھی گئی جس سے
برصغیر کے مسلمانوں میں کہرام برپا ہو گیا۔ اس کی تمام تر ذمہ داری مرزا قادیانی اور اس کی ذریت پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے ہندوؤں کو اشتعال دلایا۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جھوٹے خداؤں کو بھی گالی نہ دو مبادا یہ کہ وہ تمہارے سچے خدا کو گالی دیں۔
قادیانی کوک شاستر
(177) ”ایک معزز آریہ کے گھر میں اولاد نہیں ہوتی، دوسری شادی کر نہیں سکتا کہ وید کی رُو سے حرام ہے، آخر نیوگ کی ٹھہرتی ہے، یار دوست مشورہ دیتے ہیں کہ لالہ صاحب نیوگ کرائیے، اولاد بہت ہو جائے گی۔ ایک بول اٹھتا ہے کہ مہر سنگھ جو اسی محلہ میں رہتا ہے، اس کام کے بہت لائق ہے۔ لالہ بہاری لال نے اس سے نیوگ کرایا تھا، لڑکا پیدا ہو گیا۔ یہ لالہ لڑکا پیدا ہونے کا نام سن کر باغ باغ ہو گیا۔ بولا مہاراج آپ ہی نے سب کام کرنے ہیں، میں تو مہر سنگھ کا واقف بھی نہیں۔ مہاراج شریر النفس بولے کہ ہاں ہم سمجھا دیں گے، رات کو آجائے گا۔ مہر سنگھ کو خبر دی گئی، وہ محلہ میں ایک مشہور قمار باز، اول نمبر کا بدمعاش اور حرام کار تھا۔ سنتے ہی بہت خوش ہو گیا اور انہیں کاموں کو وہ چاہتا تھا پھر اس سے زیادہ اس کو کیا چاہیے تھا۔ ایک نوجوان عورت اور پھر خوبصورت، شام ہوتے ہی آ موجود ہوا۔ لالہ صاحب نے پہلے ہی دلالہ عورتوں کی طرح ایک کوٹھری میں نرم بستر بچھوا رکھا تھا اور کچھ دودھ اور حلوا بھی دو برتنوں میں سرہانے کی طاق میں رکھوا دیا تھا تا اگر بیرج داتا کو ضعف ہو تو کھا پی لیں۔ پھر کیا تھا آتے ہی بیرج داتا نے لالہ دیوث کے نام و ناموس کا شیشہ توڑ دیا اور وہ بدبخت عورت تمام رات اس سے منہ کالا کراتی رہی اور اس پلید نے جو شہوت کا مارا تھا، نہایت قابل شرم اس عورت سے حرکتیں کیں اور لالہ باہر کے دالان میں سوئے اور تمام رات اپنے کانوں سے بے حیائی کی باتیں سنتے رہے بلکہ تختوں کی دراڑوں سے مشاہدہ بھی کرتے رہے۔ صبح وہ خبیث اچھی طرح لالہ کی ناک کاٹ کوٹھری سے باہر نکلا۔ لالہ تو منتظر ہی تھے، دیکھ کر اس کی طرف دوڑے اور بڑے ادب سے اس پلید بدمعاش کو کہا سردار صاحب رات کیا کیفیت گذری؟ اس نے مسکرا کر مبارک باد دی اور اشاروں میں جتا دیا کہ حمل ٹھہر گیا۔ لالہ دیوث سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تو اسی دن سے آپ پر یقین ہو گیا تھا جبکہ میں نے بہاری لالہ کے گھر کی کیفیت سنی تھی اور پھر کہا وید حقیقت میں ودیا سے بھرا ہوا ہے۔ کیا عمدہ تدبیر لکھی ہے جو خطا نہ گئی۔ مہر سنگھ نے کہا کہ ہاں لالہ صاحب، سب سچ ہے کیا وید کی آگیا کبھی خطا بھی ہو جاتی
ہے میں تو انہی باتوں کے خیال سے وید کو ست ودیاؤں کا پستک مانتا ہوں۔ اور دراصل مہر سنگھ ایک شہوت پرست آدمی تھا۔ اس کو کسی وید شاستر اور شرتی شلوک کی پروا نہ تھی اور نہ ان پر کچھ اعتقاد رکھتا تھا۔ اس نے صرف لالہ دیوث کی حماقت کی باتیں سن کر اس کے خوش کرنے کے لیے ہاں میں ہاں ملا دی۔ مگر اپنے دل میں بہت ہنسا کہ اس دیوث کی پتر لینے کے لیے کہاں تک نوبت پہنچ گئی۔ پھر اس کے بعد مہر سنگھ تو رخصت ہوا اور لالہ گھر کی طرف خوش خوش آیا اور اسے یقین تھا کہ اس کی استری رام دئی بہت ہی خوشی کی حالت میں ہوگی کیونکہ مراد پوری ہوئی۔ لیکن اس نے اپنے گمان کے برخلاف اپنی عورت کو روتے پایا اور اس کو دیکھ کر تو وہ بہت ہی روئی، یہاں تک کہ چیخیں نکل گئیں، اور ہچکی آنی شروع ہوئی۔ لالہ نے حیران سا ہو کر عورت کو کہا کہ ”ہاہے بھاگوان آج تو خوشی کا دن ہے کہ دل کی مرادیں پوری ہوئیں اور بیج ٹھہر گیا پھر تو روتی کیوں ہے؟ وہ بولی میں کیوں نہ روؤں، تو نے سارے کنبے میں میری مٹی پلید کی اور اپنی ناک کاٹ ڈالی اور ساتھ ہی میری بھی۔ اس سے بہتر تھا کہ میں پہلے ہی مر جاتی۔ لالہ دیوث بولا کہ یہ سب کچھ ہوا مگر اب بچہ ہونے کی بھی کس قدر خوشی ہوگی، وہ خوشیاں بھی تو تو ہی کرے گی مگر رام دئی شاید کوئی نیک اصل کی تھی۔ اس نے ترت جواب دیا کہ حرام کے بچہ پر کوئی حرام کا ہی ہو تو خوشی منائے۔ لالہ تیز ہو کر بولا کہ ہے ہے کیا کہہ دیا۔ یہ تو وید آگیا ہے۔ عورت کو یہ بات سن کر آگ لگ گئی، بولی میں نہیں سمجھ سکتی کہ یہ کیسا وید ہے جو بدکاری سکھلاتا اور زنا کاری کی تعلیم دیتا ہے۔ یوں تو دنیا کے مذاہب ہزاروں باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں سنا کہ کسی مذہب نے وید کے سوا یہ تعلیم بھی دی ہو کہ اپنی پاک دامن عورتوں کو دوسروں سے ہم بستر کراؤ۔ آخر مذہب پاکیزگی سکھلانے کے لیے ہوتا ہے نہ بد کاری اور حرام کاری میں ترقی دینے کے لیے۔ جب رام دئی سب باتیں کہہ چکی تو لالہ نے کہا کہ چپ رہو، اب جو ہوا سو ہوا۔ ایسا نہ ہو کہ شریک سنیں اور میرا ناک کاٹیں۔ رام دئی نے کہا کہ اے بے حیا کیا ابھی تک تیرا ناک تیرے منہ پر باقی ہے۔ ساری رات میرے شریک نے جو تیرا ہمسایہ اور تیرا پکا دشمن ہے، تیری بیدوں کی بیاہتا اور عزت کے خاندان والی سے تیرے ہی بستر پر چڑھ کر تیرے ہی گھر میں خرابی کی اور ہر ایک ناپاک حرکت کے وقت جتا بھی دیا کہ میں نے خوب بدلا لیا۔ سو کیا اس بے غیرتی کے بعد تو جیتا ہے۔ کاش تو اس سے پہلے ہی مرا ہوتا۔ اب وہ شریک اور پھر دشمن باتیں بنانے اور ٹھٹھا کرنے سے کب باز رہے گا بلکہ وہ تو کہہ گیا ہے کہ میں اس فتح عظیم کو چھپا نہیں سکتا کہ جو آج وساوامل کے مقابل پر مجھے حاصل ہوئی۔ میں ضرور رام دائی کا سارا نقشہ محلہ کے لوگوں پر ظاہر کروں گا، سو یاد رکھ کہ وہ ہر ایک
مجلس میں تیرا ناک کاٹے گا اور ہر ایک لڑائی میں یہ قصہ تجھے جتائے گا اور اس سے کچھ تعجب نہیں کہ وہ دعویٰ کر دے کہ رام دئی میری ہی عورت ہے کیونکہ وہ اشارہ سے یہ بھی کہہ گیا ہے کہ آئندہ بھی میں تجھے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ لالہ دیوث نے کہا کہ نکاح کا دعویٰ ثابت ہونا تو مشکل ہے البتہ یارانہ کا اظہار کرے تو کرے تا ہماری اور بھی رسوائی ہو، بہتر تو یہ ہے کہ ہم دیش ہی چھوڑ دیں۔ بیٹا ہونے کا خیال تھا، وہ تو ایشر نے دے ہی دیا۔ بیٹے کا نام سن کر عورت زہر خندہ ہنسی اور کہا کہ تجھے کس طرح اور کیونکر یقین ہوا کہ ضرور بیٹا ہوگا، اول تو پیٹ ہونے میں ہی شک ہے اور پھر اگر ہو بھی تو اس بات پر کوئی دلیل نہیں کہ لڑکا ہی ہوگا، کیا بیٹا ہونا کسی کے اختیار میں رکھا ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ حمل ہی خطا جائے یا لڑکی پیدا ہو۔ لالہ دیوث بولے کہ اگر حمل خطا گیا تو میں کھڑک سنگھ کو جو اسی محلہ میں رہتا ہے، نیوگ کے لیے بلا لاؤں گا۔ عورت نہایت غصہ سے بولی کہ اگر کھڑک سنگھ بھی کچھ نہ کر سکا تو پھر کیا کرے گا؟ لالہ بولا کہ تو جانتی ہے کہ نرائن سنگھ بھی ان دونوں سے کم نہیں، اس کو بلا لاؤں گا۔ پھر اگر ضرورت پڑی تو جیمل سنگھ، لہنا سنگھ، بوڑ سنگھ، جیون سنگھ، صوبا سنگھ، خزان سنگھ، ارجن سنگھ، رام سنگھ، کشن سنگھ، دیال سنگھ سب اس محلہ میں رہتے ہیں اور زور اور قوت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں، میرے کہنے پر سب حاضر ہو سکتے ہیں۔ عورت بولی کہ میں اس سے بہتر تجھے صلاح دیتی ہوں کہ مجھے بازار میں ہی بٹھا دے، تب دس بیس کیا ہزاروں لاکھوں آ سکتے ہیں، منہ کالا جو ہونا تھا، وہ تو ہو چکا مگر یاد رکھ کہ بیٹا ہونا پھر بھی اپنے بس میں نہیں اور اگر ہوا بھی تو تجھے اس سے کیا جس کا وہ نطفہ ہے آخر وہ اسی کا ہوگا اور اسی کی خو بو لائے گا کیونکہ درحقیقت وہ اسی کا بیٹا ہے، اس کے بعد رام دئی نے کچھ سوچ کر پھر رونا شروع کیا اور دور دور تک آواز گئی اور آواز سن کر ایک پنڈت نہال چند نام دوڑا آیا اور آتے ہی کہا کہ لالہ سکھ تو ہے، یہ کیسی رونے کی آواز آئی۔ لالہ ناک کٹانا چاہتا تو نہیں تھا کہ نہال چند کے آگے قصہ بیان کرے مگر اس خوف سے کہ رام دئی اس وقت غصہ میں ہے، اگر میں بیان نہ کروں تو وہ ضرور بیان کر دے گی۔ کچھ کھسیانا سا ہو کر زبان دبا کر کہنے لگا کہ مہاراج آپ جانتے ہیں کہ وید میں وقت ضرورت نیوگ کے لیے آگیا ہے۔ سو میں نے بہت دنوں سوچ کر رات کو نیوگ کرایا تھا، مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے نیوگ کے لیے مہر سنگھ کو بلا لیا، پیچھے معلوم ہوا کہ وہ میرے دشمن کرم سنگھ کا بیٹا اور نہایت شریر آدمی ہے، وہ مجھے اور میری استری کو ضرور خراب کرے گا اور وہ وعدہ کر گیا ہے کہ میں یہ ساری کیفیت خوب شائع کروں گا۔ نہال چند بولا کہ درحقیقت بڑی غلطی ہوئی اور پھر بولا کہ وساوا مل تیری سمجھ پر نہایت ہی افسوس ہے۔ کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ نیوگ کے لیے پہلا
حق برہمنوں کا ہے اور غالباً یہ بھی تجھ پر پوشیدہ نہیں ہوگا کہ اس محلہ کی تمام کھترانی عورتیں مجھ سے ہی نیوگ کراتی ہیں اور میں دن رات اسی سیوا میں لگا ہوا ہوں پھر اگر تجھے نیوگ کی ضرورت تھی تو مجھے بلا لیا ہوتا۔ سب کام سدھ ہو جاتا اور کوئی بات نہ نکلتی۔ اس محلہ میں اب تک تین ہزار کے قریب ہندو عورتوں نے نیوگ کرایا ہے مگر کیا کبھی تم نے اس کا ذکر بھی سنا، یہ پردہ کی باتیں ہیں، سب کچھ ہوتا ہے پھر ذکر نہیں کیا جاتا لیکن مہر سنگھ تو ایسا نہیں کرے گا۔ ذرہ دو چار گھنٹوں تک دیکھنا کہ سارے شہر میں رام دئی کے نیوگ کا شور و غوغا ہوگا۔ لالہ دیوث بولا کہ درحقیقت مجھ سے سخت غلطی ہوئی۔ اب کیا کروں۔ اس وقت شریر پنڈت نے جو بباعث نہ ہونے رسم پردہ کے رام دئی کو دیکھ چکا تھا کہ جوان اور خوش شکل ہے، نہایت بے حیائی کا جوا ب دیا کہ اگر اسی وقت رام دئی مجھ سے نیوگ کرے تو میں ذمہ دار ہوتا ہوں کہ مہر سنگھ کے فتنہ کو میں سنبھال لوں گا اور پہلا حمل ایک پکی بات ہے۔ اب بہر حال یقینی ہو جائے گا۔ تب وساوا مل دیوث تو اس بات پر بھی راضی ہو گیا مگر رام دئی نے سن کر سخت گالیاں اس کو نکالیں۔ تب وساوا مل نے پنڈت کو کہا کہ مہاراج اس کا یہی حال ہے، ہرگز نیوگ کرنا نہیں چاہتی۔ پہلے بھی مشکل سے کرایا تھا جس کو یاد کر کے اب تک رو رہی ہے کہ میرا منہ کالا کیا۔ اسی سے تو اس نے چیخیں ماری تھی جن کو آپ سن کر دوڑے آئے۔ تب وہ شہوت پرست پنڈت وساوا مل کی یہ بات سن کر رام دئی کی طرف متوجہ ہوا اور کہا نہیں بھاگوان نیوگ کو برا نہیں ماننا چاہیے۔ یہ وید آگیا ہے مسلمان بھی تو عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور وہ عورتیں کسی دوسرے سے نکاح کر لیتی ہیں۔ سو جیسے طلاق جیسے نیوگ۔ بات ایک ہی ہے۔“
(آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 مندرجہ ذیل روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا 34 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 614 تا 617 پر)
میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا
مرزا قادیانی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے مجھ سے وعدہ کیا:
(178) ”واوحی الی ربی ووعدنی انه سینصرنی حتی یبلغ امری مشارق الارض ومغاربها، وتتموج بحور الحق حتى یعجب الناس حباب غواربها.“
ترجمہ: ”میرے رب نے میری طرف وحی بھیجی اور وعدہ فرمایا کہ وہ مجھے مدد دے گا یہاں تک کہ میرا کلام مشرق ومغرب میں پہنچ جائے گا اور راستی کے دریا موج میں آئیں گے یہاں
تک کہ اس کی موجوں کے حباب لوگوں کو تعجب میں ڈالیں گے۔“ ”میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 260، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 618 پر)
نیوگ ، روز کی مشق
(179) ”واضح ہو کہ آریہ سماج کے اصولوں میں سے نہایت قبیح اور قابل شرم نیوگ کا مسئلہ ہے، جس کو پنڈت دیانند صاحب نے بڑی جرأت کے ساتھ اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں درج کیا ہے اور وید کی قابل فخر تعلیم اس کو ٹھہرایا ہے۔ اور اگر وہ اس مسئلہ کو صرف بیوہ عورتوں تک محدود رکھتے ، تب بھی ہمیں کچھ غرض نہیں تھی کہ ہم اس میں کلام کرتے مگر انھوں نے تو اس اصول، انسانی فطرت کے دشمن کو، انتہا تک پہنچا دیا، اور حیا اور شرم کے جامہ سے بالکل علیحدہ ہو کر یہ بھی لکھ دیا کہ ایک عورت جو خاوند زندہ رکھتی ہے اور وہ کسی بدنی عارضہ کی وجہ سے اولاد نرینہ پیدا نہیں کر سکتا۔ مثلاً لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہیں، یا بباعث رقتِ منی کے اولاد ہی نہیں ہوتی، یا وہ شخص گو جماع پر قادر ہے، مگر بانجھ عورتوں کی طرح ہے، یا کسی اور سبب سے اولاد نرینہ ہونے میں توقف ہو گئی ہے، تو ان تمام صورتوں میں اس کو چاہیے کہ اپنی عورت کو کسی دوسرے سے ہم بستر کراوے۔ اور اس طرح پر وہ غیر کے نطفہ سے گیارہ بچے حاصل کر سکتا ہے گویا قریباً بیس برس تک اس کی عورت دوسرے سے ہم بستر ہوتی رہے گی۔ جیسا کہ ہم نے مفصل کتاب کے حوالہ سے یہ تمام ذکر اپنے رسالہ آریہ دھرم میں کر دیا ہے اور حیا مانع ہے کہ ہم اس جگہ وہ تمام تفصیلیں لکھیں۔ غرض اسی عمل کا نام نیوگ ہے۔
اب ظاہر ہے کہ یہ اصول انسانی پاکیزگی کی بیخ کنی کرتا ہے اور اولاد پر ناجائز ولادت کا داغ لگاتا ہے۔ اور انسانی فطرت اس بے حیائی کو کسی طرح قبول نہیں کر سکتی کہ ایک انسان کی ایک عورت منکوحہ ہو، جس کے بیاہنے کے لیے وہ گیا تھا اور والدین نے صدہا یا ہزار ہا روپیہ خرچ کر کے اس کی شادی کی تھی جو اس کے ننگ و ناموس کی جگہ تھی، اور اس کی عزت و آبرو کا مدار تھا۔ وہ باوجودیکہ اس کی بیوی ہے اور وہ خود زندہ موجود ہے۔ اس کے سامنے رات کو دوسرے سے ہم بستر ہووے اور غیر انسان اس کے ہوتے ہوئے اسی کے مکان میں اس کی بیوی سے منہ کالا کرے۔ اور وہ آوازیں سنے اور خوش ہو کہ اچھا کر رہا ہے، اور یہ تمام ناجائز حرکات اس کی آنکھوں کے سامنے ہوں اور اس کو کچھ بھی جوش نہ آوے۔ اب بتلاؤ کہ کیا ایسا شخص جس کی منکوحہ اور سہروں کے ساتھ بیاہی ہوئی اس کی آنکھوں کے سامنے
دوسرے کے ساتھ خراب ہو۔ کیا اس کی انسانی غیرت اس بیحیائی کو قبول کرے گی............. مجھے ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں کہ نیوگ میں یعنی اپنی بیوی کو دوسرے سے ہم بستر کروا کر صرف گیارہ بچوں تک لینے کا حکم ہے یا زیادہ۔ مدت ہوئی کہ میں نے ستیارتھ پرکاش میں پڑھا تو تھا مگر حافظہ اچھا نہیں، یاد نہیں رہا۔ آریہ صاحبان خود مطلع فرمائیں۔ کیونکہ بوجہ روز کی مشق کرانے کے ان کو خوب یاد ہوگا۔ (حاشیہ)
(نسیم دعوت صفحہ 78 تا 80 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 438 تا 440 بمعہ حاشیہ از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 619 تا 621 پر)
قانون چھاؤنی
(180) ”وزارت کے تبدیل ہوتے ہی ولایت کے نامور اور سر برآوردہ اخبار ٹائمز نے جس زور شور سے قانون چھاؤنی کو پھر جاری کرنے کے سلسلہ جنبانی کی ہے، وہ ناظرین پر ظاہر کی جا چکی ہے۔ کنزرویٹو وزارت سے جو سرکاری عہدہ داران کی رائے کو ہمیشہ بڑی وقعت سے دیکھتی ہے۔ امید ہو سکتی ہے کہ بالضرور وہ اس معاملہ پر اچھی طرح غور کرے گی کیونکہ اس قانون کی منسوخی کے وقت سر جارج وائٹ صاحب کمانڈر انچیف افواج ہند نے جو پر زور مخالفانہ رائے ظاہر کی تھی، وہ اس قابل ہے کہ ضرور کنزرویٹو گورنمنٹ اس پر توجہ کرے گورنمنٹ ہند بھی اس قانون کے منسوخ کرنے پر رضامند نہ تھی پس ان واقعات کی رو سے پورے طور پر خیال ہو سکتا ہے کہ قانون چھاؤنی پھر جاری کیا جاوے اس میں شک نہیں ہے کہ قانون چھاؤنی کے منسوخ ہونے کے دن سے گورہ سپاہیوں کی حالت بہت خراب ہو گئی ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ برٹش کے بہادر سپاہی بازاروں میں آتشک کی مریض فاحشہ عورتوں کے ساتھ خراب ہوتے پھرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ حسب رائے کمانڈر انچیف صاحب بہادر بہت خوفناک نکلنے کی امید ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ سرکاری طور پر ہمیں اس بات کی خبر نہیں ملی کہ سال 1894ء میں کتنے گورے سپاہی مرض آتشک میں مبتلا ہوئے۔ گو مخالفان قانون چھاؤنی نے مہم چترال کی گورہ فوج کی صحت کو دیکھ کر نہایت مسرت ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ مویدان قانون چھاؤنی کی یہ رائے کہ اس قانون کے منسوخ ہونے سے تمام گورہ سپاہ مرض آتشک وغیرہ میں مبتلا ہو جائے
گی، غلط ٹھہرتی ہے مگر یہ واقعہ اس قابل نہیں ہے کہ جس سے تشفی ہو سکے کیونکہ مہم چترال میں چیدہ اور تندرست جوان بھیجے گئے تھے نیز لڑائی اور جنگلی ملک کی وجہ سے وہ کہیں خراب ہو کر بیمار نہیں ہو سکتے تھے۔ اس امر کا دہرانا ضروری نہیں کہ گورے سپاہی چونکہ بالکل کم تعلیم یافتہ اور دیہاتی نوجوان ہیں۔ نیز بوجہ گوشت خور ہونے کے وہ زیادہ گرم مزاج کے ہیں۔ اس لیے ان سے نفسانی خواہش روکے رکھنے کی امید رکھنا محض لاحاصل ہے۔ قانون دکھائی کے جاری ہونے کے دنوں ہر ایک گورہ پلٹن کے لیے کسبی عورتیں ملازم رکھی جاتی تھیں جن کا ہمیشہ ڈاکٹری معائنہ ہوتا رہتا تھا اور تمام گورہ لوگوں کو ان ملازم رنڈیوں کے علاوہ اور جگہ جانے کی بھی شاید ممانعت تھی۔ اس طریق سے ان کی صحت میں کسی قسم کا خلل واقع نہیں ہوتا تھا نیز اس طریق کے بند ہونے کی وجہ سے اور بھی کئی ایسی وارداتیں ہوئی ہیں جن سے اہل ہند کی طرف سے بہت ناراضی پھیلتی جاتی ہے جن میں سے میاں میر کا مقدمہ زنا بالجبر جو گورہ سپاہیوں کی طرف سے ایک بدصورت بڑھی اور اندھی عورت سے کیا گیا تھا، قابل غور ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ مدراس کے صوبہ میں ہوا جہاں ایک ریلوے پھاٹک کے چوکیدار نے ہندوستانی عورتوں کی عفت بچانے میں اپنی جان دے دی تھی۔ اگر چندے گورے سپاہیوں کے لیے انتظام سرکاری طور پر نہ کیا گیا تو علاوہ اس کے کہ تمام فوج بیماری سے ناکارہ ہو جائے ملک میں بڑی بھاری بددلی پھیلنے کا اندیشہ ہے اور یہ دونوں امور قیام سلطنت کے لیے غیر مفید ہیں۔ اس وقت جبکہ قانون دکھائی کو پھر جاری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ہمیں یہ ظاہر کر دینا بھی نہایت ضروری ہے کہ اگر اب پھر قانون مذکور جاری کیا جاوے تو گورنمنٹ ہند اور خصوصاً کمانڈر انچیف افواج ہند کو یہ بھی ضرور انتظام کرنا چاہیے کہ بجائے ہندوستانی عورتوں کے یورپین عورتیں ملازم رکھی جائیں کیونکہ قانون دکھائی کے متعلق ہندوستانی اور انگریز مخالفین کا سب سے بڑا اعتراض یہی تھا کہ ہندوستان کی غریب عورتوں کو دلالہ عورتوں کے ذریعہ سے اس فحش ملازمت کی ترغیب دی جاتی ہے اور بعض اوقات نہایت کمینہ فریبوں سے اچھے گھروں کی یتیم لڑکیوں کو اس پیشہ کے لیے مجبور کیا جاتا ہے اور یہی وجہ تھی جس سے ہند کے بہت سے باشندگان نے قانون دکھائی کی منسوخی میں معمول سے بڑھ کر انٹرسٹ لیا تھا۔ ورنہ کسی معمولی سمجھ کے آدمی کو بھی ان بدمعاش عورتوں سے ہرگز ہمدردی نہیں ہو سکتی تھی۔ قانون دکھائی کے مکرر اجرا کی کوشش محض اسی غرض سے کی جاتی ہے کہ گورہ سپاہیوں
کی خواہش نفسانی کو پورا کرنے کے لیے سرکاری طور پر انتظام کیا جائے ورنہ دیسی لوگوں کی بہتری کا اس میں ذرا بھی خیال نہیں۔ اس لیے اگر مخالفین قانون مذکور کی دلجوئی گورنمنٹ کو منظور ہو تو یہی ایک طریق ہے جس سے بلا قانون مذکور کے جاری کرنے کے مقصد مطلوبہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اگر حسب تجویز ہماری کے یورپین سپاہیوں کے لیے یورپین عورتیں بہم پہنچائی جائیں تو ان سے مرض آتشک کا خدشہ نہیں رہ سکتا کیونکہ ایک تو یورپ میں مرض مذکور شاید ہوگا ہی نہیں دوم ان عورتوں کو بر وقت بھرتی ہونے کے دایہ ڈاکٹروں کے ذریعہ مثل فوجی سپاہیوں کے ملاحظہ کرایا جائے گا اس سے فریقین کے مرض مذکور سے پاک ہونے کی وجہ سے ڈاکٹری معائنہ کی ہمیشہ کے لیے ضرورت ہی نہ رہے گی۔ اس طرح بغیر قانون دکھائی جاری کرنے کے سپاہیوں کی خواہش نفسانی کے لیے عمدہ طور سے انتظام ہو سکتا ہے۔
اس بات سے تو کوئی انکار ہی نہیں کر سکتا کہ ولایت میں مثل ہندوستان کے فاحشہ عورتیں موجود ہیں۔ اس لیے گورنمنٹ کو اس انتظام میں ذرا بھی دقت نہ ہوگی بلکہ ہمیں یقین ہے کہ یورپ کی مہذب کسبیاں (واہ مرزا قادیانی! کسبیاں اور مہذب!۔مرتب) بہادر سپاہیوں کو خوش رکھنے کے لیے نہایت خوشی سے اپنی خدمات سپرد کر دیں گی رہی یہ بات کہ ان عورتوں کے ہندوستان لانے اور واپس لے جانے میں گورنمنٹ کو رقم کثیر خرچ کرنی پڑے گی۔ اس کا ہندوستان کے باشندوں کو ذرا بھی رنج نہ ہوگا جہاں وہ ملٹری ڈیپارٹمنٹ کے اخراجات کے لیے پہلے سے ہی لاتعداد روپیہ خوشی سے دیتے ہیں اس رقم کے اضافہ سے بھی ہرگز انھیں اختلاف نہ ہوگا بلکہ وہ اس تجویز کو جس سے ہندوستان کی بدبخت عورتوں کی عفت بچ رہے گی اور برٹش گورنمنٹ کے بہادر گورے سپاہی تندرست اور خوش رہ سکیں گے۔ نہایت خوشی سے پسند کریں گے۔
اگر گورنمنٹ ہند کو یہ مطلوب ہے کہ ہندوستان کے نوجوان بھی جن میں دیسی پلٹنوں اور رسالوں کے سپاہی بھی شامل ہیں بازاری عورتوں کے ذریعہ مریض ہونے سے بچ رہیں تو ہم تمام ہندوستان کی فاحشہ عورتوں کے لیے قانون دکھائی کے جاری ہونے کو صدق دل سے پسند کرتے ہیں۔ کسی شریف ہندوستانی کو ان بدکار فاحشہ عورتوں کے ساتھ جو تمام قسم کے لوگوں کے لیے باعث خرابی ہیں۔ ذرا بھی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ ہم قبل ازیں بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایسی عورتوں کے لیے جنھوں نے اپنے خاندان کے ناموس کو خیر باد کہہ دی ہے، قانون
دکھائی کی آزمائش باعث شرم نہیں ہو سکتی ہے۔ وہ عورتیں جو تھوڑے سے پیسوں میں بھنگی کے ساتھ منہ کالا کرنے کو تیار ہیں۔ معزز ڈاکٹر کے معائنہ سے کب شرمسار ہو سکتی ہیں۔ بے شک یہ افسوسناک امر ہے کہ عورتوں کی عفت کا مردوں کے ذریعہ امتحان کرایا جائے مگر کیا ہو سکتا ہے ان بے شرم بدذات عورتوں کے لیے جنھوں نے دنیا کی شرم کو بالائے طاق رکھ دیا ہے حق بات تو یہ ہے کہ قانون دکھائی کی ہندوستان میں سخت ضرورت ہے۔ جب یہ قانون جاری تھا تو ہر ایک بدکار عورت کو خوف ہوتا تھا کہ اگر وہ فحش پیشہ اختیار کرے گی تو اسے قانون دکھائی کی سخت آزمائش بھی برداشت کرنی پڑے گی۔ بہت سی عورتیں اسی خوف کی وجہ سے اپنی زندگی خراب کرنے سے بچ رہتی تھیں۔ اس زمانہ میں جبکہ دکھائی کا طریق بند ہے۔ مرض آتشک کے ادویات کے اشتہارات کثرت سے شائع ہوتے ہیں جو اس امر کا کافی ثبوت ہیں کہ ملک میں مرض آتشک بہت پھیلا ہوا ہے اول تو ہمیں اس خراب فرقہ کے وجود سے ہی سخت اختلاف ہے مگر ایسے زمانہ میں جبکہ اخلاق اور مذہب کی سخت کمزوری ہو رہی ہے، یہ امید کرنا فضول ہے کہ یہ شیطانی فرقہ نیست و نابود ہو جائے گا۔ اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان کے لیے کوئی ایسا قانون بنایا جائے جس سے یہ اخلاق اور مذہب کو بگاڑنے کے علاوہ عوام کی صحت کو ہمیشہ کے لیے خراب کرنے کے قابل نہ رہ سکیں اور وہ قانون صرف قانون دکھائی ہی ہے۔ ہم نہایت شکر گزار ہوں گے اگر دوبارہ ہند میں قانون دکھائی جاری کیا جائے گا مگر یہ شرط ضرور ساتھ ہے کہ گورہ لوگوں کے لیے یورپین رنڈیاں بہم پہنچائی جائیں۔ یقین ہے کہ گورنمنٹ ہند اور معزز ممبران اس معاملہ پر ضرور توجہ اور غور فرمائیں گے۔“
(آریہ دھرم صفحہ 72 تا 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 72 تا 75 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 622 تا 625 پر)
قادیانی خشوع و خضوع
(181) مرزا قادیانی سورۃ المومنون کی ابتدائی آیات کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”جیسا کہ اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے: قد افلح المومنون الذین ہم فی صلوتہم خاشعون، یعنی وہ مومن مراد پا گئے جو اپنی نمازوں میں اور ہر ایک طور کی یاد الٰہی
میں فروتنی اور عجز و نیاز اختیار کرتے ہیں اور رقت اور سوز و گداز اور قلق اور کرب اور دلی جوش سے اپنے رب کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔ یہ خشوع کی حالت جس کی تعریف کا اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔............. وہ لوگ جو قرآن شریف میں غور کرتے ہیں سمجھ لیں کہ نماز میں خشوع کی حالت روحانی وجود کے لیے ایک نطفہ ہے اور نطفہ کی طرح روحانی طور پر انسان کامل کے تمام قویٰ اور صفات اور تمام نقش و نگار اس میں مخفی ہیں اور جیسا کہ نطفہ اس وقت تک معرض خطر میں ہے جب تک کہ رحم سے تعلق نہ پکڑے.................... یہی سنت اللہ بنی آدم کے لیے جاری ہے پس جبکہ انسان نماز اور یاد الہی میں خشوع کی حالت اختیار کرتا ہے، تب اپنے تئیں رحیمیت کے فیضان کے لیے مستعد بناتا ہے۔ سو نطفہ میں اور روحانی وجود کے پہلے مرتبہ میں جو حالت خشوع ہے، صرف فرق یہ ہے کہ نطفہ رحم کی کشش کا محتاج ہوتا ہے اور یہ رحیم کی کشش کی طرف احتیاج رکھتا ہے اور جیسا کہ نطفہ کے لیے ممکن ہے کہ وہ رحم کی کشش سے پہلے ہی ضائع ہو جائے۔ ایسا ہی روحانی وجود کے پہلے مرتبہ کے لیے یعنی حالت خشوع کے لیے ممکن ہے کہ وہ رحیم کی کشش اور تعلق سے پہلے ہی برباد ہو جائے۔ جیسا کہ بہت سے لوگ ابتدائی حالت میں اپنی نمازوں میں روتے اور وجد کرتے اور نعرے مارتے اور خدا کی محبت میں طرح طرح کی دیوانگی ظاہر کرتے ہیں اور طرح طرح کی عاشقانہ حالت دکھلاتے ہیں اور چونکہ اس ذات ذوالفضل سے جس کا نام رحیم ہے، کوئی تعلق پیدا نہیں ہوتا اور نہ اس کی خاص تجلی کے جذبہ سے اس کی طرف کھنچے جاتے ہیں۔ اس لیے ان کا وہ تمام سوز و گداز اور تمام وہ حالت خشوع بے بنیاد ہوتی ہے اور بسا اوقات ان کا قدم پھسل جاتا ہے یہاں تک کہ پہلی حالت سے بھی بدتر حالت میں جا پڑتے ہیں۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 188 تا 190 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 188 تا 190 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 626 تا 628 پر)
(182) ”یاد رکھنا چاہیے کہ نماز اور یاد الہی میں جو کبھی انسان کو حالت خشوع میسر آتی ہے اور وجد اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے یا لذت محسوس ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس انسان کو رحیم خدا سے حقیقی تعلق ہے جیسا کہ اگر نطفہ اندام نہانی کے اندر داخل ہو جائے اور لذت بھی محسوس ہو تو اس سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ اس نطفہ کو رحم سے تعلق ہو گیا ہے بلکہ تعلق کے لیے علیحدہ آثار اور علامات ہیں۔ پس یاد الہی میں ذوق شوق جس کو دوسرے لفظوں میں
حالت خشوع کہتے ہیں نطفہ کی اس حالت سے مشابہ ہے جب وہ ایک صورت انزال پکڑ کر اندام نہانی کے اندر گر جاتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 192 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 192 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 629 پر)
- (183) ”جیسا کہ نطفہ کبھی حرام کاری کے طور پر کسی رنڈی کے اندام نہانی میں پڑتا ہے تو
اس میں بھی وہی لذت، نطفہ ڈالنے والے کو حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اپنی بیوی کے ساتھ۔ پس ایسا ہی بت پرستوں اور مخلوق پرستوں کا خشوع وخضوع اور حالت ذوق وشوق، رنڈی بازوں سے مشابہ ہے یعنی خشوع اور خضوع مشرکوں اور ان لوگوں کا جو محض اغراض دنیویہ کی بنا پر خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں، اس نطفہ سے مشابہت رکھتا ہے جو حرام کار عورتوں کے اندام نہانی میں جا کر باعث لذت ہوتا ہے بہرحال جیسا کہ نطفہ میں تعلق پکڑنے کی استعداد ہے، حالت خشوع میں بھی تعلق پکڑنے کی استعداد ہے مگر صرف حالت خشوع اور رقت اور سوز اس بات پر دلیل نہیں ہے کہ وہ تعلق ہو بھی گیا ہے جیسا کہ نطفہ کی صورت میں جو اس روحانی صورت کے مقابل پر ہی مشاہدہ ظاہر کر رہا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے اور منی عورت کے اندام نہانی میں داخل ہو جائے اور اس فعل سے کمال لذت حاصل ہو تو یہ لذت اس بات پر دلالت نہیں کرے گی کہ حمل ضرور ہو گیا ہے۔ پس ایسا ہی خشوع اور سوز و گداز کی حالت گو وہ کیسی ہی لذت اور سرور کے ساتھ ہو، خدا سے تعلق پکڑنے کے لیے کوئی لازمی علامت نہیں ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 193 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 630 پر)
- (184) ”اور پھر ایک اور مشابہت خشوع اور نطفہ میں ہے اور وہ یہ کہ جب ایک شخص کا
نطفہ اس کی بیوی یا کسی اور عورت کے اندر داخل ہوتا ہے تو اس نطفہ کا اندام نہانی کے اندر داخل ہونا اور انزال کی صورت پکڑ کر رواں ہو جانا بعینہ رونے کی صورت میں ہوتا ہے جیسا کہ خشوع کی حالت کا نتیجہ بھی رونا ہی ہوتا ہے، اور جیسے بے اختیار نطفہ اچھل کر صورت انزال اختیار کرتا
ہے، یہی صورت کمال خشوع کے وقت رونے کی ہوتی ہے کہ رونا آنکھوں سے اچھلتا ہے اور جیسی انزال کی لذت کبھی حلال طور پر ہوتی ہے جبکہ اپنی بیوی سے انسان صحبت کرتا ہے اور کبھی حرام طور پر جبکہ انسان کسی حرام کار عورت سے صحبت کرتا ہے۔ یہی صورت خشوع اور سوز و گداز اور گریہ و زاری کی ہے یعنی کبھی خشوع اور سوز و گداز محض خدائے واحد لاشریک کے لیے ہوتا ہے جس کے ساتھ کسی بدعت اور شرک کا رنگ نہیں ہوتا۔ پس وہ لذت سوز و گداز کی ایک لذت حلال ہوتی ہے مگر کبھی خشوع اور سوز و گداز اور اس کی لذت بدعات کی آمیزش سے یا مخلوق کی پرستش اور بتوں اور دیویوں کی پوجا میں بھی حاصل ہوتی ہے مگر وہ لذت حرامکاری کے جماع سے مشابہ ہوتی ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 196 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 196 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 631 پر)
View Proof
قادیانی ترانہ
آریوں کا اصول بھاری ہے
زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں
جس کو دیکھو وہی شکاری ہے
غیر مردوں سے مانگنا نطفہ
سخت خبث اور نابکاری ہے
غیر کے ساتھ جو کہ سوتی ہے
وہ نہ بیوی زن بازاری ہے
نام اولاد کے حصول کا ہے
ساری شہوت کی بے قراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط
دس سے کروا چکی زنا لیکن
پاک دامن ابھی بچاری ہے
گھر میں لاتے ہیں اس کے یاروں کو
ایسی جورو کی پاسداری ہے
اس کے یاروں کو دیکھنے کے لیے
سر بازار ان کی باری ہے
ہے قوی مرد کی تلاش انہیں
خوب جورو کی حق گذاری ہے
(آریہ دھرم صفحہ 75، 76 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 75، 76 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 632، 633 پر)
نرم اندام عورتیں اور ہمارے باکرہ مضامین
(186) ”اور میرے مضامین نازک اندام عورتوں کی طرح تھے، پس حسن کے ساتھ پھر اس آواز کے ساتھ جو بطور قبا کے تھی، دل اس کی طرف جھک گئے۔ اور میرے کلمے آئینہ کی طرح صاف کیے گئے ہیں، پس تعجب کرنے والے کی نظر اس کو ٹکٹکی لگا کر دیکھتی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ نرم اندام عورتیں امراء کی ہمارے لیے ننگی ہو گئیں اور غیروں سے وہ چھپنے والیوں کی طرح دور ہو گئیں۔ اور جب کہ وہ ہودج سے زینت کے ساتھ نکلیں پس ان کا حسن اندام دیکھنے والوں کا دل لے گیا۔ اور جب ان کا حسن اپنے نور کے ساتھ چمکا، پس اندھیرا یوں چلا گیا جیسا کہ وہ لوگ جو اپنے گھروں سے آوارہ پھرتے ہیں۔ اور معشوقوں میں سے بہت کم ہوگا جس کا حسن ہمارے ان باکرہ مضامین کی طرح ہوگا اور رخسار روشن ہوں گے۔ اور جب میں نے خدا سے کلمات فصاحت طلب کیے پس میں اپنے رب سے گونا گوں فصاحت کلام دیا گیا۔“
(حجۃ اللہ صفحہ 100 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 227، 238، 247 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 634 تا 636 پر)
برہنہ شخص سے بغلگیری
(187) ”اور ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں محمد حسین کے مکان پر گیا ہوں اور میرے ساتھ ایک جماعت ہے اور ہم نے وہیں نماز پڑھی اور میں نے امامت کرائی اور مجھے خیال گزرا کہ مجھ سے نماز میں یہ غلطی ہوئی ہے کہ میں نے ظہر یا عصر کی نماز میں سورۃ فاتحہ کو بلند آواز سے پڑھنا شروع کر دیا تھا پھر مجھے معلوم ہوا کہ میں نے سورۃ فاتحہ بلند آواز سے نہیں پڑھی بلکہ صرف تکبیر بلند آواز سے کہی پھر جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ محمد حسین ہمارے مقابل پر بیٹھا ہے اور اس وقت مجھے اس کا سیاہ رنگ معلوم ہوتا ہے اور بالکل برہنہ ہے پس مجھے شرم آئی کہ میں اس کی طرف نظر کروں پس اسی حال میں وہ میرے پاس آ گیا۔ میں نے اسے کہا کہ کیا وقت نہیں آیا کہ تو صلح کرے اور کیا تو چاہتا ہے کہ تجھ سے صلح کی جائے اس نے کہا کہ ہاں پس وہ بہت نزدیک آیا اور بغلگیر ہوا۔“
(سراج منیر صفحہ 78 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 80 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 637 پر)
View Proof
پیٹ سے چوہا؟
(188) ”اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہیے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا؟ کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔ ۔۔۔۔۔۔ اور اب تک اس کی عورت کے پیٹ میں سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔“
(انجام آتھم صفحہ 311، 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311، 317 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 638، 639 پر)
View Proof
رحم پر مُہر
(189) ”خدا تعالیٰ نے اس (عبدالحق غزنوی) کی بیوی کے رحم پر مُہر لگا دی“
(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 444 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 444 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 640 پر)
View Proof
عضو تناسل کاٹ دیتا......
(190) ”حضرت مسیح موعود کے قریباً ہم عمر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی تھے۔ ان کے والد کا جس وقت نکاح ہوا، اگر ان کو حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی حیثیت معلوم ہوتی اور وہ جانتے کہ میرا ہونے والا بیٹا محمد رسول اللہ ﷺ کے ظل اور بروز کے مقابلہ میں وہی کام کرے گا جو آنحضرت ﷺ کے مقابلہ میں ابوجہل نے کیا تھا تو وہ اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔“
(مرزا بشیر الدین محمود کا خطبہ نکاح۔ روزنامہ الفضل قادیان مورخہ 2 نومبر 1922ء جلد 10 شمارہ 35)
(عکس صفحہ نمبر 641 پر)
View Proof
جہاں سے نکلے تھے......
(191) ”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔“
(حیات احمد، حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات جلد دوم نمبر اول صفحہ 25 از یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان)
(عکس صفحہ نمبر 642 پر)
View Proof
بے غسل......؟
(192) ”اس شخص نے کہا کہ کیا ہم یہودی ہیں۔ میں نے کہا تم اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو کہ تمھارے قول و فعل کس سے ملتے جلتے ہیں۔ اس بات پر وہ شخص سخت غضبناک ہو کر کہنے لگا۔ دیکھو جی مرزا رات کو لگائی سے بدکاری کرتا ہے اور صبح کو بے غسل لونڈا بنا ہوا ہوتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا اور وہ الہام ہوا، میں مہدی ہوں، مسیح ہوں۔ مجھ جیسا انسان غیرت مند کب روا رکھ سکتا تھا کہ حضرت اقدس مرزا قادیانی (فداہ
جانی و روحی و نفسی و امی و ابی ) کی نسبت ایسا گندہ جملہ سن سکے۔ پس میں نے اس کے ایک ایسا تھپڑ مارا کہ اس کی ٹوپی پگڑی سر پر سے اتر کر دور جا پڑی اور کہا او مردود و دشمن مقبول الہی ، تو ایسا جملہ ناپاک ایسے صادق مصدوق، طاہر ومطہر انسان کی نسبت اور میرے سامنے بکتا ہے اور نہیں جانتا کہ میں ان کا خادم اور مرید ہوں اور وہ میرے آقا اور مرشد اور رہنما ہیں۔ خبر دار جو آج سے میرے پاس آیا اور یا مجھ سے ملا۔“
(تذکرہ المہدی صفحہ 157 از پیر سراج الحق نعمانی قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 643 پر)
View Proof
عورت کی کارروائی
(193) ”مرد اور کئی وجوہات اور موجبات سے ایک سے زیادہ بیوی کرنے کے لیے مجبور ہوتا ہے۔ مثلاً اگر مرد کی ایک بیوی تغیر عمر یا کسی بیماری کی وجہ سے بدشکل ہو جائے تو مرد کی قوت فاعلی جس پر سارا مدار عورت کی کارروائی کا ہے، بیکار اور معطل ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر مرد بدشکل ہو تو عورت کا کچھ بھی حرج نہیں کیونکہ کارروائی کی کل مرد کو دے دی گئی ہے اور عورت کا تسکین کرنا مرد کے ہاتھ میں ہے۔ ہاں اگر مرد اپنی قوت مردی میں قصور یا عجز رکھتا ہے تو قرآنی حکم کی رُو سے عورت اس سے طلاق لے سکتی ہے اور اگر پوری پوری تسلی کرنے پر قادر ہو تو عورت یہ عذر نہیں کر سکتی کہ دوسری بیوی کیوں کی ہے۔ کیونکہ مرد کی ہر روزہ حاجتوں کی عورت ذمہ دار اور کار برار نہیں ہو سکتی۔ اور اس سے مرد کا استحقاق دوسری بیوی کرنے کے لیے قائم رہتا ہے۔“
View Proof
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 282 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 282 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 644 پر)
نوٹ: (لجنہ اماء اللہ سے تعلق رکھنے والی تمام قادیانی حوریں کارروائی کرواتے وقت مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا ہدایات پر ”سختی“ سے عمل کریں، فائدہ ہوگا)۔
قابل افسوس بات یہ ہے کہ جس کتاب میں مرزا قادیانی نے ”عورت سے کارروائی“ کا فلسفہ پیش کیا، اس کا نام ”آئینہ کمالات اسلام“ رکھا ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ اس کی فروخت کے لیے جھوٹے خوابوں کا سہارا لے کر کہا ”ایک رات یہ بھی دیکھا کہ ایک
فرشتہ بلند آواز سے لوگوں کے دلوں کو اس کتاب کی طرف بلاتا ہے اور کہتا ہے هذا كتاب مبارک فقومو الاجلال والاکرام یعنی یہ کتاب مبارک ہے، اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 652 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 652 از مرزا قادیانی)
سلطان القلمی کا نادر نمونہ
(194) ”جس طرح کھانگڑ بھینس کا دودھ نکالنا بہت مشکل ہے۔ اسی طرح سے خدا کے نشان بھی سخت تکلیف کی حالت میں اترا کرتے ہیں۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 428 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 645 پر)
یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ
(195) ”جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں۔ مگر قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقع نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چودھری ظفر اللہ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے، کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آسکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ اوپیرا سینما کو کہتے ہیں۔ چودھری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے، اس لیے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چودھری صاحب سے کہا، کیا یہ ننگی ہیں؟ انہوں نے بتایا یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے، وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں۔ تو یہ بھی ایک لباس ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کے شام کی دعوتوں کے گاؤن ہوتے ہیں۔ نام تو اس کا بھی لباس ہے۔ مگر اس میں سے جسم کا ہر حصہ بالکل ننگا نظر آتا ہے۔“
(روزنامہ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 24 جنوری 1934ء) (عکس صفحہ نمبر 646 پر)
کبھی کبھی زنا
(196) ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ولی اللہ تھے۔ اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے کبھی کبھار زنا کر لیا، تو اس میں حرج کیا ہوا۔ پھر لکھا ہے۔ ہمیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر اعتراض نہیں، کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے، کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔“
(روزنامہ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 31 اگست 1938ء) (عکس صفحہ نمبر 647 پر)
اللہ عورت، مرزا مرد
(197) ”اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود کو فرماتا ہے یا شمس یا قمر! اے سورج، اے چاند! سورج کی خاصیت یہ ہے کہ وہ چاند کو روشنی دیتا ہے، اور چاند کی خاصیت یہ ہے کہ وہ سورج سے روشنی لیتا ہے۔ گویا اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو سورج کہا اور خود چاند بنا۔ اسی طرح عورت مرد سے نطفہ لیتی ہے اور مرد نطفہ دیتا ہے۔ سورج کا قائم مقام مرد ہے، اور چاند کا قائم مقام عورت ہے، اس وقت بھی لوگوں نے حضرت موعود پر اعتراض کیا کہ خود سورج بنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو چاند بنایا ہے اور اب بھی لوگ اعتراض کر سکتے ہیں، (میں نے) اللہ تعالیٰ کو عورت دیکھا۔“
(قادیانی خلیفہ مرزا محمود کا خواب مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان، 20 مارچ 1947ء جلد 35 شمارہ 67 صفحہ 2)
(عکس صفحہ نمبر 649 پر)
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق
زمین و آسمان اپنے جائے قیام بدل سکتے ہیں، فرشتے زمین پر اور انسان آسمان پر منتقل ہو سکتے ہیں لیکن خدائے برتر ایسے انسانوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا جن کی مذہبی قیادت نے ہزاروں عصمتوں پر ڈاکے ڈالے، وہ پیشوا جو رہبر کے بھیس میں دنیا کے سامنے آیا،
لوگ اسے رہنما سمجھ کر پیچھے ہولیے لیکن وہ رہزن نکلا۔ دنیا نے اسے انسان سمجھا لیکن وہ بھیڑیا ثابت ہوا۔ اس نے اپنے چاروں طرف ظلمتیں پھیلا دیں تاکہ اس کی بے راہ روی پر پردے پڑے رہیں۔ بظاہر رہنما بباطن رہزن یہ کون شخص تھا، یہ تھا مرزا بشیر الدین قادیانی۔
مرزا بشیر الدین محمود آنجہانی جو مرزا غلام احمد قادیانی کا بڑا بیٹا تھا، اس پر زنا کا الزام تواتر کے ساتھ اس کے مریدوں نے لگایا۔ اس نے قادیان و ربوہ کے کسی قابل ذکر لڑکے و عورت کو نہیں چھوڑا۔ اس کی بدکرداریوں پر انہی کے اپنے آدمی، یعنی قادیانیوں کا تبصرہ، اعداد و شمار، شواہد، حلفی بیانات، مباہلے، قسمیں، حکومت کو درخواستیں، بشیر الدین سے خط کتابت غرضیکہ ایسی ایسی چیزیں ہیں کہ آپ پڑھ کر پکار اٹھیں گے کہ جس طرح مرزا قادیانی اس صدی میں دنیا کا سب سے بڑا کذاب تھا۔ اسی طرح آپ یقین کریں گے کہ اس صدی کا سب سے بڑا بدکردار شخص مرزا بشیر الدین تھا جس نے اپنی بیٹیوں تک کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ مرزائیوں کے منہ پر مرزائیوں کے جوتے یہ اس کتاب کا تعارف ہے۔ مصنف کے باپ فخر الدین ملتانی کو مرزا بشیر الدین محمود نے محض اس لیے قتل کرا دیا تھا کہ اس نے بشیر الدین کے کریکٹر سے متعلق قادیان میں ایک اشتہار شائع کیا تھا۔ قادیانیوں کی قادیانی سربراہ کے متعلق تصنیف اور تحریری شہادت ایک تاریخی دستاویز ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے، جس میں قادیانی اپنے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی عریاں تصویریں دیکھ سکتے ہیں۔
مرزا بشیر الدین محمود آنجہانی نام نہاد مرزائی خلیفہ کی عریاں، شرمناک سنگین و رنگین کہانی کو حلفاً موکد بعذاب کے ساتھ اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے اور مرزائیوں کی عورتوں، مردوں کی حلفیہ شہادتوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا بشیر الدین ایک زانی و بدمعاش شخص تھا جو تقدس کے پردہ میں عورتوں اور لڑکوں کا شکار کرتا تھا۔
مظہر الدین ملتانی قادیانی نے راسپوٹین مرزا محمود کے متعلق جو انکشافات کیے ہیں، وہ پڑھنے کے لائق ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مظہر الدین ملتانی آخری وقت تک قادیانی مذہب پر قائم رہے۔ صرف مرزا محمود سے اس کی رنگینیوں اور سنگینیوں کی وجہ سے اختلاف رہا۔ سچ ہے اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔
مباہلہ جائز ہے
(198) ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے تین حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔ اس میں زنا کے الزام پر مباہلہ کرنے کی پوری پوری وضاحت موجود ہے۔ اس سے یہ ثابت ہے کہ زنا کے الزام لگانے والے خواہ چار گواہ پیش نہ بھی کریں تو وہ میدان مباہلہ میں نکل آئیں تو ان سے مباہلہ کرنا چاہیے۔ چنانچہ حضور کا حکم ملاحظہ فرمائیے:
- (1) ”مباہلہ صرف ایسے شخصوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی قطع اور یقین پر بنا رکھ کسی
دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔“ (الحکم، 24 مارچ 1902ء)
- (2) ”دوم اس ظالم کے ساتھ جو بے جا تہمت کسی پر لگا کر اور اس کو ذلیل کرنا چاہتا
ہے۔ مثلاً مستورہ عورت کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ عورت زانیہ ہے، کیونکہ میں نے بچشم خود اس کو زنا کرتے دیکھا ہے یا مثلاً ایک شخص کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شراب خور ہے، کیونکہ بچشم خود اسے شراب پیتے دیکھا ہے۔ تو اس حالت میں بھی مباہلہ جائز ہے، کیونکہ اس جگہ کوئی اجتہادی اختلاف نہیں کیونکہ ایک شخص اپنے یقین اور رؤیت کی بنا رکھ کر ایک مومن بھائی کو ذلت پہنچانا چاہتا ہے۔“ (الحکم، 24 مارچ 1902ء)
- (3) ”یہ تو اسی قسم کی بات ہے جیسے کوئی کسی کی نسبت یہ کہے کہ میں نے اسے بچشم خود زنا
کرتے دیکھا ہے یا بچشم خود شراب پیتے دیکھا ہے۔ اگر میں اس بے بنیاد افترا کے لیے مباہلہ نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔“ (تبلیغ رسالت، جلد نمبر 2، صفحہ 2)
خلیفہ صاحب کی عیاری
- □ خلیفہ صاحب ربوہ نے جب یہ دیکھا کہ میری بدچلنی کا بھانڈا چوراہے میں پھوٹ
رہا ہے اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے فتویٰ کی روشنی میں چار گواہوں کی بھی ضرورت نہیں اور کہیں احمدی جماعت کے افراد مجھے مباہلہ کے لیے تیاری شروع نہ کروا دیں، فوراً کمال چابکدستی سے پینترا یوں بدلا کہ میں مباہلہ کے لیے تیار ہوں مگر گمنام شخص دعوت مباہلہ دے رہا
ہے ۔ اس لیے اس سے مباہلہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور 8 ستمبر 1956ء کے الفضل میں گواہوں کو رد کرتے ہوئے میاں زاہد کی گواہی کو سراہا اور یوں فرمایا: ’’کہ مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ میرے لیے میاں زاہد کی گواہی اور اپنا حافظہ کافی ہے۔‘‘ (الفضل، 8 ستمبر 1956ء) الفضل 31 جولائی 56 میں میاں محمود احمد صاحب خلیفہ ربوہ نے یہ بھی شکوہ فرمایا ہے کہ ’’ہر عقل مند انسان سمجھ سکتا ہے کہ گمنام شخص سے مباہلہ کون کر سکتا ہے۔‘‘
(الفضل، 31 جولائی 1956ء)
میاں زاہد سے میری بیویاں پردہ نہیں کرتیں
- چونکہ خلیفہ صاحب کو اپنے حافظہ پر ناز ہے۔ بھولنا بھی ان کے بس کی بات نہیں۔
حفظ ما تقدم کے طور پر یاد کروانا ضروری خیال کرتا ہوں۔ ہاں! یہ وہی میاں زاہد ہیں جن کو آپ نے مورخہ 8 ستمبر 1956ء کے الفضل میں فرمایا تھا کہ میری بیویاں میاں زاہد سے پردہ نہیں کرتیں۔ الفضل ............ میں عرض کر رہا تھا۔ یہ دونوں صورتیں میاں زاہد نے پوری کر دیں، جو ان کے بیان سے ظاہر ہے۔ اس لیے غور سے ملاحظہ کیجیے۔
شہادت نمبر 1
چیلنج مباہلہ
بنام میاں محمود احمد خلیفہ قادیان
صدق و کذب میں فیصلہ کا آسان طریق
اب میاں زاہد صاحب کا بیان مباہلہ بغیر تبصرہ کے شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں اور میاں محمود احمد صاحب ان کی گواہی از خود تسلیم کر چکے ہیں۔ اس لیے آپ بغیر کسی تاویل کے حضرت مسیح موعود کے فتویٰ کی روشنی میں اس مباہلہ کو قبول فرمائیے۔ ’’مباہلہ ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی قطع اور یقین کی بنا رکھ کر دوسرے کو مفتری اور زانی
قرار دیتے ہیں۔“
(اخبار الحکم)
کیونکہ آپ عجیب وغریب تفرقہ انگیز فتویٰ مثلاً یہ کہ تمام روئے زمین کے کلمہ گو مسلمان کافر ہیں۔ ان کے پیچھے نماز قطعی حرام ہے۔ ان کے اور ان کے معصوم بچوں کا جنازہ تک پڑھنا ناجائز اور ان سے رشتہ و ناطہ حرام ہے، صادر فرمانے کی وجہ سے مسلمانوں میں خصوصاً اور باقی دنیا میں عموماً کافی شہرت رکھتے ہیں۔ آنجناب کا دعویٰ ہے کہ آپ خدا کے مقرر کردہ خلیفۃ المسلمین ہیں اور خدا نے ہی آپ کو دنیا کی ہدایت و اصلاح کے لیے مامور فرمایا ہے اور اگر فی زمانہ کوئی روحانیت کا مجسم نمونہ اور اسلام کا سچا حامی علمبردار ہے تو وہ آپ کی ذات والا صفات ہے۔
خلافت مآب کے ان عظیم الشان دعاوی نے ایک دنیا کو حیرت میں ڈال رکھا تھا لیکن یہ کیونکر ممکن تھا کہ وہ قادر مطلق خبیر وعلیم جس سے کوئی نہاں در نہاں فعل پوشیدہ نہیں اور جس نے ابتدائے عالم سے مخلوق کو گمراہی سے بچانے کے سامان پیدا کیے اور بالآخر ہمارے مولیٰ و آقا سید الکونین حضرت محمد ﷺ کو دنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا، کسی ایسے شخص کو زیادہ مہلت دیتا جو اس کے اور اس کے پاک رسولؐ کے نام کی آڑ میں بندگان خدا کو گمراہ کر رہا ہو۔ آج اس مسبب الاسباب کے پیدا کردہ یہ سامان ہیں کہ خود خلیفۂ قادیان کے مخلص مرید آنجناب کے پوشیدہ رازوں کا انکشاف کر رہے ہیں اور عرصہ سے خلافت مآب کو جو پیشتر ازیں ہر مخالف کو مباہلہ کے لیے بلایا کرتے تھے، ان کے مشتبہ چال چلن پر مباہلہ کی دعوت دے رہے ہیں مگر آج تک اس روحانیت، پاکیزگی اور تعلق باللہ کے مدعی کو میدان میں آنے کی جرأت نہیں۔
خاکسار اپنے فرض سے سبکدوش ہونے کے لیے اور دنیا پر حقیقت کو بے نقاب اور جملہ برادران اسلامی کی آگاہی کے لیے بذریعہ اشتہار ہذا اس امر کی اطلاع دیتا ہوں کہ یہ عاجز بھی عرصہ سے خلافت مآب کو یہی چیلنج دے رہا ہے کہ اگر ان کی ذات پر عائد کردہ الزامات غلط ہیں تو وہ میدان مباہلہ میں آکر اپنی روحانیت کی صداقت کا ثبوت دیں مگر خلافت مآب نے آج تک اس چیلنج کو قبول ہی نہیں کیا۔ آج پھر اتمام الحجت بذریعہ اعلان ہذا میں خلیفۂ قادیان کو چیلنج دیتا ہوں کہ ان کے دعاوی میں ذرہ بھر بھی صداقت ہے تو اپنے چال چلن پر الزامات کے خلاف دُعاء مباہلہ کریں تا کہ فریقین میں سے جو جھوٹا اور کاذب ہو، وہ
سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے اور دنیا اس مباہلہ کے نتیجے میں حق و باطل میں فیصلہ کر سکے۔
کیا میں امید کروں کہ آنحضرت ﷺ کی مماثلت کا دعویٰ کر کے اہل اسلام کے دلوں کو مجروح کرنے والا اور تمام انبیاء کی پیش گوئیوں کا مصداق ہونے کا دعوے دار اس دعوت مباہلہ کو قبول کر کے اپنی صداقت کا ثبوت دے گا۔
ذیل میں یہ عاجز اس ہستی کا فتویٰ درج کرتا ہے جس کے قائم مقام ہونے کا خلافت مآب کو دعویٰ ہے اور جس کو آپ بعد آنحضرت ﷺ حقیقی نبی تسلیم کرتے ہیں تا کہ خلیفہ صاحب یہ کہنے کی جرأت نہ کر سکیں کہ ایسا مباہلہ جائز نہیں۔
مباہلہ ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی قطع اور یقین پر بناء رکھ کر دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔
(اخبار الحکم)
خاکسار خلیفہ قادیان کا ایک سابق مرید محمد زاہد اخبار مباہلہ قادیان
شہادت نمبر 2
چونکہ شریعت نے عورتوں کو پردے کی اجازت دی ہے، اس لیے اس نام کو بے پردہ نہیں کیا گیا۔ اس کی فی الحال ضرورت تو نہ تھی لیکن اس خوف سے کہ خلیفہ صاحب کو ٹال مٹول کا موقع نہ ملے کہ عورتوں کی گواہی کسی کی بھی نہیں۔ اس لیے مباہلہ نامی اخبار قادیان میں جو بیان شائع ہوا ہے وہ ایک احمدی قادیانی خاتون کا ہے۔ وہ پیش خدمت ہے:
ایک احمدی خاتون کا بیان
میں میاں صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں اور لوگوں میں، میں ظاہر کر دینا چاہتی ہوں کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے ہیں۔ میں اکثر اپنی سہیلیوں سے سنا کرتی تھی کہ وہ بڑے زانی شخص ہیں مگر اعتبار نہیں آتا تھا کیونکہ ان کی مومنانہ صورت اور نیچی شرمیلی آنکھیں ہرگز یہ اجازت نہ دیتی تھیں کہ ان پر ایسا الزام لگایا جاسکے۔
ایک دن کا ذکر ہے کہ میرے والد صاحب نے، جو ہر کام کے لیے حضور سے اجازت حاصل کیا کرتے تھے اور بہت مخلص احمدی ہیں، ایک رقعہ حضرت صاحب کو پہنچانے کے لیے دیا، جس میں اپنے ایک کام کے لیے اجازت مانگی تھی۔ خیر میں رقعہ لے کر گئی۔ اس وقت میاں صاحب نئے مکان (قصر خلافت) میں مقیم تھے۔ میں نے اپنے ہمراہ ایک لڑکی لی،
جو وہاں تک میرے ساتھ گئی اور ساتھ ہی واپس آگئی۔ چند دن بعد مجھے پھر ایک رقعہ لے کر جانا پڑا۔ اس وقت بھی وہی لڑکی میرے ہمراہ تھی۔ جونہی ہم دونوں میاں صاحب کی نشست گاہ میں پہنچیں تو اس لڑکی کو کسی نے پیچھے سے آواز دی۔ میں اکیلی رہ گئی۔ میں نے رقعہ پیش کیا اور جواب کے لیے عرض کیا مگر انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو جواب دے دوں گا، گھبراؤ مت! باہر ایک دو آدمی میرا انتظار کر رہے ہیں، ان سے مل آؤں۔ مجھے یہ کہہ کر اس کمرے کے باہر کی طرف چلے گئے اور چند منٹ بعد پیچھے کے تمام کمروں کو قفل لگا کر اندر داخل ہوئے اور اس کا بھی باہر والا دروازہ بند کر دیا اور چٹخنیاں لگا دیں۔ جس کمرے میں، میں تھی وہ اندر کا چوتھا کمرہ تھا۔ میں یہ حالت دیکھ کر سخت گھبرائی اور طرح طرح کے خیال دل میں آنے لگے۔ آخر میاں صاحب نے مجھ سے چھیڑ چھاڑ شروع کی اور مجھ سے برا فعل کروانے کو کہا۔ میں نے انکار کیا۔ آخر زبردستی انہوں نے مجھے پلنگ پر گرا کر میری عزت برباد کر دی اور ان کے منہ سے اس قدر بدبو آرہی تھی کہ مجھ کو چکر آگیا اور وہ گفتگو بھی ایسی کرتے تھے کہ بازاری آدمی بھی ایسی نہیں کرتے۔ ممکن ہے جسے لوگ شراب کہتے ہیں، انہوں نے پی ہو، کیونکہ ان کے ہوش وحواس بھی درست نہیں تھے۔ مجھ کو دھمکایا کہ اگر کسی سے ذکر کیا تو تمہاری بدنامی ہوگی۔ مجھ پر کوئی شک بھی نہ کرے گا۔"
(از حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود کی تحریر میں مرزا محمود احمد کی تصویر)
شہادت نمبر 3
خاکسار پرانا قادیانی ہے اور قادیان کا ہر فرد بشر مجھے خوب جانتا ہے۔ ہجرت کا شوق مجھے بھی دامن گیر ہوا اور میں قادیان ہجرت کر آیا۔ قادیان میں سکونت اختیار کی۔ خلیفۂ قادیان کے محکمہ قضاء میں بھی کچھ عرصہ کام کیا۔ مگر دل میں آرزو آزاد روزگار کی تھی اور اخلاص مجبور کرتا تھا کہ اپنا کاروبار شروع کر کے خدمت دین بجا لاؤں۔ چنانچہ خاکسار نے احمدیہ دوا گھر کے نام سے ایک دواخانہ کھولا، جس کے اشتہارات عموماً اخبار الفضل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو بجا ہوگا کہ قادیان کی رہائش میری عقیدت کو زائل کرنے کا باعث ہوئی ورنہ اگر میں قادیانی بھائیوں کی طرح دور دور ہی رہتا تو آج مجھے اس تجارتی کمیٹی کے ایکٹروں کے سربستہ رازوں کا انکشاف نہ ہوتا یا اگر میں خاص قادیان میں اپنا مکان بنا لیتا یا خلیفۂ قادیان کا ملازم ہو جاتا تو بھی مجھے آج اس اعلان کی جرأت نہ ہوتی۔............
(خاکسار شیخ مشتاق احمد، احمدیہ دوا گھر قادیان)
شہادت نمبر 4
میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اسی کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے، یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں اس ایمان اور یقین پر ہوں کہ موجودہ خلیفہ مرزا محمود احمد دنیا دار، بدچلن اور عیش پرست انسان ہے۔ میں ان کی بدچلنی کے متعلق خانہ خدا خواہ وہ مسجد ہو یا بیت اللہ شریف یا کوئی اور مقدس مقام ہو، میں حلف مؤکد بعذاب اٹھانے کے لیے ہر وقت تیار ہوں۔ اگر خلیفہ صاحب مباہلہ کے لیے نکلیں تو میں مباہلہ کے لیے حاضر ہوں۔ یہ الفاظ میں نے دلی ارادہ سے لکھ دیئے ہیں تاکہ دوسروں کے لیے ان کی حقیقت کا انکشاف ہوسکے۔ والسلام!
(خاکسار ڈاکٹر محمد عبداللہ، آنکھوں کا ہسپتال قادیان حال لائلپور)
شہادت نمبر 5 (حلفیہ شہادت)
میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر یہ تحریر کرتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ مرزا محمود احمد دنیا دار، عیش پرست اور بدچلن انسان ہے۔ میں ہر وقت اس سے مباہلہ کے لیے تیار ہوں۔
(مستری اللہ بخش احمدی، قادیان)
شہادت نمبر 6
بیگم صاحبہ ڈاکٹر عبداللطیف صاحب مرحوم ہم زلف خلیفہ ربوہ فرماتی ہیں: ”مرزا محمود احمد خلیفہ ربوہ بدچلن، زنا کار انسان ہیں۔ میں نے ان کو خود زنا کرتے دیکھا اور میں اپنے دونوں بیٹوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر مؤکد بعذاب حلف اٹھاتی ہوں۔“
بے خوف مجاہد
خان عبدالرب خان صاحب مرحوم صدر انجمن کے دفتر بیت المال میں کام کرتے اور سر محمد ظفر اللہ کی کوٹھی کے ایک حصہ میں رہائش پذیر تھے۔ آپ نے مرزا محمود کی ہمشیرہ کا دودھ بھی پیا ہوا ہے۔ اس سے آپ گہرے مراسم کا اندازہ لگائیے۔ باوجود اس قدر گہرے تعلقات کے جب حق کی بات کا قصہ آیا، حق کو مقدم کرکے خدا کو خوش کرلیا۔
امر واقعہ یہ ہے کہ آپ نے ایک مخلص قادیانی دوست کو مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی آلودہ زندگی کے مخفی در مخفی حقائق سنائے۔ اس پر مخلص احمدی دوست نے مرزا محمود احمد صاحب کو لکھ بھیجا کہ خان صاحب موصوف نے آپ کی بدچلنی کے واقعات سنا کر مجھے محو حیرت کر دیا ہے اور دلائل اس نے ایسے دیئے ہیں جو میرے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس شکایت کے چند گھنٹے بعد مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے المعروف ”قمر الانبیاء“ نے خان صاحب موصوف کو بلا کر سمجھایا کہ اگر حضور کچھ باتیں دریافت کریں تو اس سے لاعلمی کا اظہار کر دینا۔ آپ خاموش ہو گئے۔ مرزا بشیر احمد صاحب کے دل میں خیال آیا، اب بس کام بن گیا۔
ان کے ایک آدھ گھنٹہ بعد خان صاحب کو قصر خلافت میں مرزا محمود احمد صاحب نے بلایا۔ جب آپ وہاں گئے تو وہ مخلص احمدی دوست بھی موجود تھا اور خان صاحب موصوف کے والد محترم بھی وہیں تھے اور دو تین تنخواہ دار ایجنٹ بھی تھے اور سب کو اکٹھے کرنے کا مطلب یہ تھا تا کہ رعب ڈال کر حق کو بدلا جاسکے۔ میں عرض کر رہا تھا کہ خلیفہ صاحب نے جب خان صاحب موصوف سے دریافت کیا تو اس بے خوف مجاہد نے کہا: جو کچھ میں نے آپ کی بدچلنی کے متعلق ان صاحب سے کہا، وہ حرف بحرف درست ہے۔ آخر جب کام نہ بنا تو کھڑے ہو کر خلیفہ صاحب نے احسان گننے شروع کر دیئے اور ساتھ ہی یہ کہا کہ تم نے میری ہمشیرہ کا دودھ بھی پیا ہوا۔ خاں صاحب موصوف نے کہا یہ درست ہے لیکن یہ حق کا معاملہ ہے۔ دنیا داری کے مقابلہ میں حق مقدم ہے اور اس حق کے لیے ہم نے حضرت مسیح موعود کو مانا ہے۔ اس لیے آپ نے قصر خلافت سے آ کر از خود بیعت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ آپ نے ایک کتاب بلائے دمشق بھی لکھی ہے جس میں حضرت مسیح موعود کے حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ خلیفہ قادیان غیر صالح ہے۔ اس کا اشتہار اس کتاب کے صفحہ 80 پر ملاحظہ کریں۔ خان صاحب کا حلفیہ بیان درج ذیل ہے:
شہادت نمبر 7 (حلفیہ شہادت)
میں شرعی طور پر پورا پورا اطمینان حاصل کرنے کے بعد خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ صاحب یعنی مرزا محمود احمد کا چال چلن نہایت خراب ہے۔ اگر وہ مباہلہ کے لیے آمادگی کا اظہار کریں تو میں خدا کے فضل سے ان کے مد مقابل مباہلہ کے لیے
ہر وقت تیار ہوں۔ (عبدالرب خاں برہم)
شہادت نمبر 8 (حلفیہ شہادت)
میری قادیانی جماعت سے علیحدگی کی وجوہات منجملہ دیگر دلائل و براہین کے ایک وجہ اعظم جناب خلیفہ صاحب کی سیاہ کاریاں اور بدکاریاں ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ خلیفہ صاحب مقدس اور پاکیزہ انسان نہیں بلکہ نہایت ہی سیاہ کار اور بدکار ہیں۔ اگر خلیفہ صاحب اس امر کے تصفیہ کے لیے مباہلہ کرنا چاہیں تو میں بطیب خاطر میدان مباہلہ میں آنے کے لیے تیار ہوں۔ فقط (خاکسار عتیق الرحمان فاروق، سابق مبلغ جماعت احمدیہ (قادیان)
شہادت نمبر 9 (حلفیہ شہادت)
میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے، مندرجہ ذیل شہادت لکھتا ہوں۔ بیان کیا مجھے میری والدہ نے کہ میں حضرت خلیفہ مرزا محمود احمد صاحب کے گھر میں رہا کرتی تھی۔ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب جوان نامحرم لڑکیوں پر عمل مسمریزم کر کے انہیں سلا دیا کرتے تھے۔ پھر آپ ان کو کئی جگہ سے ہاتھ سے ٹٹولتے۔ تب بھی انہیں ہوش نہ ہوتی تھی۔
- (2) ایک دفعہ حضرت صاحب کے گھر میں سیڑھیاں چڑھ رہی تھی کہ اوپر سے حضرت
صاحب انہیں سیڑھیوں پر اترتے آ رہے تھے۔ جب میرے مقابل پہنچے تو انہوں نے میری چھاتی پکڑ لی۔ میں نے زور سے چھڑائی۔ (خاکسار علی حسین)
شہادت نمبر 10
جناب ملک عزیز الرحمٰن صاحب جنرل سیکرٹری احمدیہ حقیقت پسند پارٹی لاہور قادیانی جماعت کے مشہور و معروف سرگرم مبلغ ملک عبدالرحمٰن صاحب خادم گجراتی مصنف احمدیہ پاکٹ بک کے حقیقی برادر ہیں۔ آپ وقف زندگی ہو کر ربوہ میں عرصہ تک قیام پذیر رہے اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں بطور سپرنٹنڈنٹ کے فرائض سرانجام دیتے رہے اور آپ فارن مشن اکاؤنٹس کے انچارج بھی تھے۔ ان کی شہادت پیش خدمت ہے:
حلفیہ شہادت
میں اس قہار خدا کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے یہ بیان کرتا ہوں کہ ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض واقف زندگی ربوہ (حال راولپنڈی) نے میرے سامنے میرے مکان واقعہ لاہور پر کئی ایک ایسے واقعات بیان کیے جن سے خلیفہ صاحب ربوہ کے اول درجہ بدکار ہونے کا یقین کامل ہو جاتا ہے۔ اس نے میرے اور چند دوستوں کے سامنے بالوضاحت یہ بیان دیا کہ خلیفہ صاحب ربوہ معہ اپنی بیویوں کے باقاعدہ پروگرام کے تحت بدکاری کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید فرمایا کہ میں نے اس تمام بدکاری کو چشم خود دیکھا۔ اگر ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض اس بیان مذکورہ بالا سے انحراف کریں تو میں ان سے حلف موکد بعذاب کا مطالبہ کروں گا۔ مزید برآں مجھے چونکہ خلیفہ صاحب کے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں بطور سپرنٹنڈنٹ کام کرنے اور خلیفہ صاحب کو نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ میں بھی خلیفہ صاحب سے اس ضمن میں اور ان کے جھوٹے دعویٰ مصلح موعود کے بارہ میں مباہلہ کرنے کو ہر وقت تیار ہوں۔ فقط
(ملک عزیز الرحمن جنرل سیکرٹری احمدیہ حقیقت پسند پارٹی لاہور)
شہادت نمبر 11 (حلفیہ شہادت)
اگر چہ میں نے خلیفہ صاحب .......... کا مطالبہ پورا کر دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان تحریروں میں کسی نقص کا جواز نکال لیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ کہیں میری زنا کاری کی وضاحت نہیں کی گئی۔ اس لیے مباہلہ نہیں کر سکتا۔ وقت کی بچت کی خاطر محمد یوسف صاحب ناز کا بیان ہدیہ ناظرین ہے۔
محمد یوسف ناز کا حلفیہ بیان
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ.
میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ خدا کے نبی اور خاتم النبیین اور اسلام سچا مذہب ہے۔ میں احمدیت کو برحق سمجھتا ہوں اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے دعویٰ پر ایمان رکھتا ہوں اور مسیح موعود مانتا ہوں اور اس کے بعد میں موکد بعذاب حلف اٹھاتا ہوں۔ میں اپنے علم مشاہدہ اور رویت عینی اور آنکھوں دیکھی بات کی بنا پر خدا کو حاضر و
ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ نے خود اپنے سامنے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد سے زنا کروایا۔ اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ اس بات پر مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ساتھ بالمقابل حلف اٹھانے کو تیار ہوں۔
(دستخط محمد یوسف ناز معرفت عبدالقادر تیرتھ سنگھ جے بھوانی روڈ عقب شالیمار ہوٹل کراچی، از حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود کی تحریر میں مرزا محمود احمد کی تصویر )
شہادت نمبر 12
خلیفہ صاحب کے رفیق کار جن کو 1924ء میں انگلستان ہمراہ لے گئے تھے یعنی فاضل اجل حضرت شیخ عبدالرحمن صاحب مصری مولوی فاضل بی۔اے کا مکمل بیان آگے ملے گا۔ آپ کی خلیفہ صاحب سے بیعت کی علیحدگی کے اسباب کا بیان درج ہے:
”موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لیے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“
(دور حاضر کا مذہبی آمر)
جناب عبدالمجید صاحب ایک احمدی مخلص نوجوان ہیں۔ قادیان کی مقدس سرزمین میں آپ پیدا ہوئے اور مختلف طریق سے جماعت کی خدمت میں منہمک رہے۔ اس خدمت کی وجہ سے آپ اس قدر مقبول ہو گئے۔ آپ کو سیکرٹری خدام الاحمدیہ حلقہ مسجد اقصیٰ منتخب کر لیا گیا۔ آپ ہر کس و ناکس سے متانت اور سنجیدگی سے پیش آتے تھے۔ ان اوصاف حمیدہ کی وجہ سے مزید مقبولیت حاصل ہو گئی اور ممبر مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ لاہور کی رکنیت بھی خدمت کے اصول کے پیش نظر اعزازی طور پر قبول فرمائی۔ ان کا حلفیہ بیان پیش خدمت ہے:
شہادت نمبر 13 (حلفیہ شہادت)
قسم ہے مجھ کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی، قسم ہے مجھ کو قرآن پاک کی سچائی کی، قسم ہے مجھ کو حبیب کبریا کی معصومیت کی کہ میں اپنے قطعی علم کی بنا پر جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ربوہ کو ایک ناپاک انسان سمجھنے میں حق الیقین پر قائم ہوں۔ نیز مجھے اس بات پر بھی
شرح صدر حاصل ہے کہ آپ جیسے شعلہ بیان یعنی (سلطان البیان) مقرر سے قوت بیان کا چھن جانا اور دیگر بہت سے امراض کا شکار ہونا مثلاً نسیان، فالج وغیرہ یقیناً خدائی عذاب ہیں، جو کہ خدائے عزیز کی طرف سے اس کی قدیم سنت کے مطابق مفتریان کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔
علاوہ دیگر واسطوں کے آپ کے مخلص ترین مریدوں کی زبانی وقتاً فوقتاً آپ کے گھناؤنے کردار کے بارہ میں عجیب و غریب انکشافات اس عاجز پر ہوئے۔ مثال کے طور پر آپ کے ایک مخلص مرید جناب محمد صدیق صاحب شمس نے بارہا میرے سامنے جناب خلیفہ صاحب کے چال چلن اور غیر شرعی افعال کے مرتکب ہونے کے بارہ میں بہت سے دلائل و ثبوت اور خلیفہ صاحب کے پرائیویٹ خط پیش کیے۔
اس جگہ میں احتیاطاً یہ لکھ دینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ اگر محترم صدیق صاحب کو میرے بیان بالا کی صحت کے بارہ میں کوئی اعتراض ہو تو میں ہر دم ان کے ساتھ اپنے اس بیان کی صداقت پر مباہلہ کے لیے تیار ہوں۔
(احقر العباد عبدالمجید اکبر، مکان نمبر 5، بلاک ڈی ٹمپل روڈ لاہور)
شہادت نمبر 14 (حلفیہ شہادت)
میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو جبار و قہار ہے، جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی اور مردود کا کام ہے، حسب ذیل شہادت دیتا ہوں۔
میں 1932ء سے لے کر 1936ء تک مرزا گل محمد صاحب رئیس قادیان کے گھر میں رہا۔ اس دوران میں کئی مرتبہ ایک عورت مسماۃ عزیز بیگم صاحبہ کے خطوط خفیہ طریقہ سے ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کہ ان خطوں کا کسی سے بھی ذکر نہ کرنا، خلیفہ محمود کے پاس لے جاتا رہا۔ خلیفہ مذکور بھی اس طریقہ سے اور ہدایت بالا کو دہراتے ہوئے جواب دیتا رہا۔ خطوط انگریزی میں تھے۔
اس کے علاوہ اس عورت کو رات کے دس بجے بیرونی راستہ سے لے جاتا رہا، جب کہ اس کا خاوند کہیں باہر ہوتا۔ عورت غیر معمولی بناؤ سنگھار کر کے خلیفہ کے دفتر میں آتی تھی۔ میں بموجب ہدایت اسے گھنٹہ یا دو گھنٹہ بعد لے آتا تھا۔
ان واقعات کے علاوہ بعض اور واقعات سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ خلیفہ صاحب کا چال چلن خراب ہے اور میں ہر وقت ان سے مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔
(حافظ عبدالسلام، پسر حافظ سلطان حامد خان صاحب استاد میاں ناصر احمد)
شہادت نمبر 15 (حلفیہ شہادت)
میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اور اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی آنکھ سے حضرت صاحب (یعنی مرزا محمود احمد) کو صادقہ کے ساتھ زنا کرتے دیکھا۔ اگر میں جھوٹ لکھ رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر لعنت ہو۔ (غلام حسین احمدی)
شہادت نمبر 16 (حلفیہ شہادت)
مجھے دلی یقین ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۂ قادیان نہایت بدچلن لوز کریکٹر انسان ہے۔ بے شمار عینی شہادتیں جو مجھ تک پہنچ چکی ہیں جن کی بنا پر میں یہ جاننے کے لیے تیار ہوں کہ واقعی خلیفہ صاحب قادیان زانی اور اغلام باز (فاعل ومفعول) بھی ہیں۔ اس دلی یقین کا ثبوت میں یہاں تک دے سکتا ہوں اگر خلیفہ صاحب قادیان اپنے کریکٹر چال چلن کی صفائی کے لیے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں تو ہر طرح اسے قبول کرنے کو تیار ہوں۔ (مرزا منیر احمد نصیر)
شہادت نمبر 17 (حلفیہ شہادت)
میں خداوند تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر بیان کرتا ہوں کہ میں نے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو چشم خود زنا کرتے دیکھا ہے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو۔ (شیخ بشیر احمد مصری)
مرزا محمود کی اپنی گواہی
حکیم عبدالعزیز صاحب (سابق پریذیڈنٹ انجمن انصار احمدیہ قادیان پنجاب) نے خلیفہ صاحب کی بدچلنی کے پیش نظر مسجد اقصیٰ میں جب خلیفہ صاحب مجمع عام کے سامنے تقریر کر رہے تھے علی الاعلان لکھ کر دیا کہ آپ زنا کار اور بدچلن ہیں۔ اس لیے میں آپ کی بیعت نہیں کر سکتا۔ آپ پر بھی 1937ء میں حملہ کروایا گیا۔ پندرہ بیس دن ہسپتال میں رہے اور خلیفہ صاحب کو للکارتے رہے۔ آپ نے مرزا محمود احمد صاحب کو ایک خط لکھا، جس میں آپ نے تحریر کیا کہ ”سنا ہے کہ آپ نے چار گواہوں کا ذکر لوگوں سے کیا ہے اگرچہ ہم سے تو نہیں کیا۔
اگر یہ بات درست ہے تو پھر آپ اسی کے لیے تیاری فرمالیں۔ ہم صرف چار ہی نہیں بلکہ بہت سی شہادتیں علاوہ عورتوں، لڑکیوں اور لڑکوں کی شہادت کے خود جناب والا کی اپنی شہادت بھی پیش کریں گے۔ اگر ہم ثبوت نہ دے سکے تو آپ کی بریت ہو جائے گی اور ہم ہمیشہ کے لیے ذلیل ہونے کے علاوہ ہر قسم کی سزا بھگتنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ حکیم صاحب موصوف کا حلفیہ بیان درج ذیل ہے:
شہادت نمبر 18 (حلفیہ شہادت)
میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے، یہ تحریر کرتا ہوں کہ میں مرزا محمود احمد صاحب کی بیعت سے اس لیے علیحدہ ہوا تھا کہ میرے پاس ان کے خلاف احمدی لڑکوں، لڑکیوں اور عورتوں کے صحیح واقعات پہنچے تھے، جن کے ساتھ مرزا محمود احمد نے بدکاری کی تھی۔ اسی بنا پر میں نے مرزا محمود احمد صاحب کو لکھا تھا کہ آپ کے خلاف احمدی لڑکے، لڑکیاں اور عورتیں اپنے واقعات بیان کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں آپ یا جماعتی کمیشن کے سامنے معاملہ پیش ہونے دیں، یا میدان مباہلہ کے لیے تیار ہوں یا حلف موکد بعذاب اٹھائیں یا ہمیں موقع دیں کہ ہم تمام واقعات پیش کر کے جلسہ سالانہ کے موقع پر تمام احمدیوں کی موجودگی میں آپ کے سامنے حلف موکد بعذاب اٹھائیں گے تاکہ روز بروز کا جھگڑا ختم ہو کر حق کا بول بالا ہو لیکن مرزا محمود احمد صاحب کو کسی طریق پر بھی عمل پیرا ہونے کی جرات نہیں ہوئی۔ سوائے کفار والا حربہ بائیکاٹ مقاطعہ استعمال کرنے کے۔
37ء سے لے کر آج تک میں اسی عقیدہ پر علی وجہ البصیرت قائم ہوں کہ میاں محمود احمد ایک زانی اور بدچلن انسان ہے، جس کو خدا، رسول اور اس کے خادم حضرت مسیح موعود سے کسی قسم کی کوئی نسبت نہیں۔ اگر میں اپنے اسی عقیدہ میں باطل پر ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر لعنت ہو۔ (حکیم عبدالعزیز سابق پریذیڈنٹ انجمن انصار احمدیہ قادیان)
شہادت نمبر 19 (حلفیہ شہادت)
میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر جس کی جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے، یہ تحریر کرتا ہوں کہ میں نے حضرت مرزا محمود احمد صاحب قادیان کو اپنی آنکھ سے زنا کرتے دیکھا ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ اس نے میرے ساتھ بھی بدفعلی کی ہے، اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر خدا کی
لعنت ہو۔ میں بچپن سے وہیں رہتا ہوں۔ (منیر احمد)
شہادت نمبر 20 (حلفیہ شہادت)
مصری عبدالرحمٰن صاحب کے بڑے لڑکے حافظ بشیر احمد نے میرے ساتھ ہاتھ میں قرآن شریف لے کر یہ لفظ کہے، خدا تعالیٰ مجھے پارہ پارہ کر دے اگر میں جھوٹ بولتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ صاحب نے میرے ساتھ بدفعلی کی ہے۔ میں خدا کی قسم کھا کر یہ واقعہ لکھ رہا ہوں۔ (بقلم خود محمد عبداللہ احمدی، سینٹ فرنیچر ہاؤس مسلم ٹاؤن لاہور)
شہادت نمبر 21 (حلفیہ شہادت)
مرزا گل محمد صاحب مرحوم (آپ قادیان کے رئیس اعظم تھے اور وہاں بڑی جائداد کے مالک تھے) اور مرزا غلام احمد صاحب کے خاندان کے رکن تھے، ان کی دوسری بیوہ (چھوٹی بیگم) نے مجھے بیان کیا کہ خلیفہ صاحب کو میں نے اپنی آنکھوں سے ان کی صاحبزادی اور بعض دوسری عورتوں کے ساتھ زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے خلیفہ صاحب سے ایک دفعہ عرض کی، حضور یہ کیا معاملہ ہے؟
آپ نے فرمایا کہ قرآن و حدیث میں اس کی اجازت ہے۔ البتہ اس کو عوام میں پھیلانے کی ممانعت ہے۔ (نعوذ باللہ من ذالک)!!!
میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ بیان تحریر کر رہی ہوں۔ شاید میری مسلمان بہنیں اور بھائی اس سے کوئی سبق حاصل کریں۔ فقط
(سیدہ ام صالحہ بنت سید ابرار حسین، سمن آباد لاہور)
شہادت نمبر 22 (حلفیہ شہادت)
چودھری علی محمد صاحب واقف زندگی اپنے خاندان میں صرف اکیلے ہی احمدی ہیں جنہوں نے سب کچھ قربان کر کے احمدیت جیسی نعمت کو پا لیا۔ آپ ملٹری میں حوالدار تھے اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی کتب کے مطالعہ کے بعد آپ نے احمدیت قبول کی۔ اللہ بخش صاحب تسنیم کے برادر میر محمد بخش، ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ گوجرانوالہ کے ذریعہ 30 مارچ 1945ء کو جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے اور کچھ دن بعد اپنے آپ کو خدمت دین کے لیے وقف کر دیا۔ مئی 1945ء میں قادیان سے بلاوا آیا تو آپ بلا حیل و حجت پورے
اخلاص و عقیدت مندی کے ساتھ قادیان تشریف لے گئے اور خدمت کی ابتدا دفتر وکیل الصنعت تحریک جدید سے کی اور پھر مختلف شعبہ جات میں متعین کیے گئے مثلاً
سندھ جننگ فیکٹری کنڈی میں بطور اکاؤنٹنٹ مقرر کیا گیا۔ پھر اس دوران میں نمائندہ خصوصی بنا کر دی ایشیو افریقین لمیٹڈ کراچی سپیشل آڈٹ کرنے کی غرض سے بھیجا گیا اور منڈی گوجرہ میں تحریک جدید کے حصول کی نگرانی کے لیے نمائندہ خاص مقرر کیا گیا۔ لاہور میں انڈسٹریل کمرشل ڈویلپمنٹ کمپنی کے دفتر میں اکاؤنٹنٹ مقرر کیا گیا۔ تجارت اور صنعت کے دفتر میں ہیڈ اکاؤنٹنٹ مقرر کیا گیا اور دی بورڈ آف ڈائریکٹر کا سیکرٹری مرزا محمود احمد کی ذاتی منظوری سے کیا گیا جس کا چیئرمین مرزا مبارک احمد ہے۔ بدستور سالہا سال سندھ کی زمینوں ............ سلسلہ کے تجارتی کارخانوں اور فضل عمر انسٹیٹیوٹ کا حساب آڈٹ کرتے رہے۔ بسا اوقات قیام ربوہ میں اکثر مالی خیانتوں کے قصوں پر آپ کو بطور کمیشن مقرر کیا جاتا اور بعض دفعہ دارالقضا بھی فیصلوں کے لیے آپ کو ہی بطور کمیشن مقرر کرتے۔ آپ بطور محاسب خدام الاحمدیہ مرکزی میں بھی کام کرتے رہے اور خلیفہ صاحب چودھری صاحب موصوف سے خاص ملاقاتیں بھی کیا کرتے تھے۔ حافظ عبدالسلام وکیل اعلیٰ نے جب کسی بات پر چودھری صاحب کی شکایت خلیفہ صاحب سے کی، خلیفہ صاحب نے بالوضاحت جواب میں کہا جو درج ذیل ہے: ”میرے نزدیک تو یہ محنت اور دیانت داری سے کام کرتے ہیں۔“
الغرض چودھری صاحب موصوف نے مختلف شعبہ جات میں اکاؤنٹنٹ اور بطور نائب آڈیٹر کے کام کیے، ان کے علم اور یقین کے پیش نظر ان کو تمام مخفی راز از بر بھی یاد ہیں کہ روپیہ پیسے کیسے اور کس طریق سے ہضم کیا جاتا ہے۔ پھر آپ نے ایک کتاب میں حساب بنا کر پیش کیا ہے اور چیلنج بھی دیا ہے کہ یہاں مالی بدعنوانیوں، خیانتوں اور دھاندلیوں کے ریکارڈ کی رُو سے میں عینی شاہد ہوں۔
بہرحال چودھری صاحب موصوف کی خدمات جلیلہ قابل قدر ہیں۔ ضرورت پڑنے پر وقت کے تقاضوں کو ضرور پورا کریں گے۔ قیام ربوہ میں ان سے جو حالات پیش آئے، اس کے ذرائع سے ان کا حلفیہ بیان پیش خدمت ہے:
میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ صوفی روشن دین صاحب جو ربوہ میں انجمن کی چکی پر عرصہ تک بطور
مستری کام کرتے رہے اور وہ قادیان کے پرانے رہنے والوں میں سے ہیں اور مخلص احمدی ہیں اور جن کے مرزا محمود احمد صاحب اور ان کے خاندان کے بعض افراد سے قریبی تعلقات تھے اور خصوصاً مرزا حنیف احمد ابن مرزا محمود احمد کے صوفی صاحب موصوف کے ساتھ نہایت عقیدت مندانہ مراسم تھے اور قلبی عقیدت کی بنا پر مرزا حنیف احمد گھنٹوں صوفی صاحب کے پاس روزانہ ان کے گھر جا کر بیٹھتے اور بسا اوقات صوفی صاحب کو قصر خلافت میں اپنے ایک کمرۂ خاص میں بھی لے جا کر ان کی خاطر مدارات کرتے۔ انہوں نے مجھ سے بارہا بیان کیا کہ مرزا حنیف احمد خدا کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ جس کو تم لوگ خلیفہ اور مصلح الموعود سمجھتے ہو، وہ زنا کرتا ہے اور یہ کہ مرزا حنیف نے اپنی آنکھوں سے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا۔ صوفی صاحب نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کئی دفعہ حنیف احمد سے کہا کہ تم ایسا سنگین الزام لگانے سے قبل اچھی طرح اپنی یادداشت پر زور ڈالو۔ کہیں ایسا تو نہیں جس کو تم کوئی غیر سمجھے ہو، وہ دراصل تمہاری کوئی والدہ ہی تھیں۔ مبادا خدا کے قہر وغضب کے نیچے آجاؤ تو اس پر مرزا حنیف احمد اپنی رویت عینی پر حلفاً مُصر رہے کہ ان کا والد پاک سیرت نہیں ہے اور یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے والد کی کبھی کوئی کرامت مشاہدہ نہیں کی۔ البتہ یہ تڑپ شدت کے ساتھ پائی ہے کہ کسی طرح انہیں جلد از جلد دنیاوی غلبہ حاصل ہو جائے۔
اگر میں اس بیان میں جھوٹا ہوں اور افراد جماعت کو اس سے محض دھوکا دینا مقصود ہے تو خدا تعالیٰ مجھ پر اور میری بیوی بچوں پر ایسا عبرتناک عذاب نازل فرمائے جو مخلص اور ہر دیدۂ بینا کے لیے ازدیادِ ایمان کا موجب ہو۔
ہاں اس نام نہاد خلیفہ کی مالی بدعنوانیوں، خیانتوں اور دھاندلیوں کے ریکارڈ کی رو سے میں عینی شاہد ہوں، کیونکہ خاکسار نے ساڑھے نو سال تحریک جدید اور انجمن احمدیہ کے مختلف شعبوں میں اکاؤنٹنٹ اور نائب آڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔
(خاکسار، چودھری علی محمد عفی عنہ، واقف زندگی حال نمائندہ خصوصی کوہستان، لائل پور)
شہادت نمبر 23 (حلفیہ شہادت)
جناب مولوی محمد صالح نور واقف زندگی سابق کارکن وکالت، تحریک جدید ربوہ مولانا محمد یامین صاحب تاجر کتب کے چشم و چراغ ہیں۔ صحابی ہونے کے علاوہ سلسلہ احمدیہ کا
بے شمار لٹریچر شائع کرتے ہیں۔ آپ قادیان کی مقدس سرزمین میں 1929ء میں پیدا ہوئے اور مولوی فاضل تک تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں مختلف شعبہ جات میں آپ نہایت خوش اسلوبی سے خدمت سرانجام دیتے رہے مثلاً:
- (1) قادیان میں مسجد خدام الاحمدیہ کے جنرل سیکرٹری کے عہدہ پر فائز رہے۔
- (2) زعیم مجلس خدام الاحمدیہ دارالصدر ربوہ۔
- (3) نائب منتظم تبلیغ مرکز خدام الاحمدیہ ربوہ۔
- (4) سندھ ویجی ٹیبل اور پروڈکٹس کے ہیڈ آفس میں کام کیا۔
- (5) رسالہ ریویو آف ریلیجنز اور سن رائز اخبار کے منیجر بھی رہے۔
- (6) محتسب امور عامہ کا معتمد خاص ربوہ بھی رہے۔ ان شعبہ جات کے علاوہ بھی
جماعتی طور پر جس خدمت پر بھی مامور کیا گیا، آپ نے دیانت اور تقویٰ کی راہ پر چل کر صحیح معنوں میں خدمت کی۔ آپ میاں عبدالرحیم احمد جو خلیفہ صاحب کے داماد ہیں، ان کے پرسنل اسسٹنٹ وکیل التعلیم تحریک جدید ربوہ بھی تھے۔ آپ جس جانفشانی، اخلاص اور محنت سے کام کرتے تھے، اس کی وجہ سے آپ کے ذمہ مزید کام سپرد کیے جاتے تھے۔ آٹھ دس شعبہ جات کی کارکردگی آپ کی مقبولیت کی شاہد ہے اور گہرے تعلقات کا اندازہ بھی اس سے لگایا جاسکتا ہے۔ آپ کا حلفیہ بیان ہدیۂ ناظرین ہے:
حلفیہ شہادت
میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر مندرجہ ذیل سطور محض اس لیے سپرد قلم کر رہا ہوں کہ جو لوگ اب بھی مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ ربوہ کے تقدس کے قائل ہیں، ان کے لیے راہنمائی کا باعث ہو۔ اگر میں درج ذیل بیان میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ کا عذاب مجھ پر اور میرے اہل وعیال پر نازل ہو۔
میں پیدائشی احمدی ہوں اور 57ء تک میں مرزا محمود احمد صاحب کی خلافت سے وابستہ رہا۔ خلیفہ صاحب نے مجھے ایک خود ساختہ فتنہ کے سلسلہ میں جماعت ربوہ سے خارج کر دیا۔ ربوہ کے ماحول سے باہر آ کر خلیفہ صاحب کے کردار کے متعلق بہت ہی گھناؤنے
حالات سننے میں آئے۔ اس پر میں نے خلیفہ صاحب کی صاحبزادی امۃ الرشید بیگم، بیگم میاں عبدالرحیم احمد سے ملاقات کی۔ انہوں نے خلیفہ صاحب کے بدچلن اور بدقماش اور بدکردار ہونے کی تصدیق کی۔ باتیں تو بہت ہوئیں لیکن خاص بات قابل ذکر یہ تھی کہ جب میں نے امۃ الرشید بیگم سے کہا کہ آپ کے خاوند کو ان حالات کا علم ہے تو انہوں نے کہا کہ صالح نور صاحب آپ کو کیا بتلاؤں کہ ہمارا باپ ہمارے ساتھ کیا کچھ کرتا رہا ہے۔ اگر وہ تمام واقعات میں اپنے خاوند کو بتلا دوں تو وہ مجھے ایک منٹ کے لیے بھی اپنے گھر میں بسانے کے لیے تیار نہ ہوگا۔ تو پھر میں کہاں جاؤں گی۔ اس واقعہ پر امۃ الرشید کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور یہ لرزہ خیز بات سن کر میں بھی ضبط نہ کرسکا اور وہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ اس وقت میں ان واقعات کی بنا پر جو میں ڈاکٹر نذیر احمد ریاض، محمد یوسف ناز، راجہ بشیر احمد رازی سے سن چکا ہوں، حق الیقین کی بنا پر خلیفہ صاحب کو ایک بدکردار اور بدچلن انسان سمجھتا ہوں اور اسی کی بنا پر وہ آج خدا کے عذاب میں گرفتار ہیں۔
(خاکسار محمد صالح نور، واقف زندگی سابق کارکن وکالت تعلیم تحریک جدید ربوہ)
شہادت نمبر 24 (حلفیہ شہادت)
حضرت ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض کی شہادت
خلیفہ صاحب کا اصول
حضرت ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض، مولوی فاضل واقف زندگی خلیفۂ ربوہ کے خاص ڈاکٹر تھے اور خلیفہ صاحب نے از خود سلسلہ کے خرچ سے حکمت اور ڈاکٹری کی تعلیم دلوائی۔ ڈاکٹر صاحب موصوف علاج مخصوصہ میں کافی سے زیادہ مہارت رکھتے ہیں اور عرصہ دراز تک خلافت مآب کے چرنوں میں رہے۔ آپ نے حضرت مولوی شیر علی صاحب کی سوانح حیات مرتب کر کے شائع کی ہے جو تقریباً 300 صفحات پر مشتمل ہے۔ آپ جامعہ المبشرین میں پروفیسر بھی تھے۔ آپ اپنی خداداد دماغی صلاحیتوں کی وجہ سے خلیفہ صاحب کی آلودہ زندگی سے ہی نہیں بلکہ اندرون خانہ کے ہر شعبہ سے پوری طرح واقف راز بھی ہیں۔ یعنی بہت سے چشم دید و راز دار خصوصی کے علاوہ آپ خلیفہ صاحب کے اصول کے متعلق فرماتے ہیں:
آپ کو یاد ہوگا جب تک ہم ربوہ میں رہے، ہماری آپس میں کچھ ایسی قلبی مجانست
رہی کہ باہم مل کر طبیعت بے حد خوش ہوتی تھی۔ کبھی شعر و شاعری کے سلسلہ میں، تو کبھی مخلص کے مصنوعی تقدس پر نکتہ چینی کرنے میں بڑا لطف آتا تھا۔ دراصل خلیفہ صاحب کا اصول ہے کہ
اور پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں انہیں
اور خود خوب رنگ رلیاں مناؤ۔ عیش وعشرت میں بسر کرو۔ ہم نے تو بھائی خلوص دل سے وقف کیا تھا۔ خدا ہمیں ضرور اس کا اجر دے گا۔ انہیں یہ خلوص پسند نہ آیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر حکم و عدل سے خود فیصلہ کردے گا کہ ٹھکرائے ہوئے ہیرے کتنے قیمتی اور کتنے عزیز تھے۔
شروع شروع میں میرے دل کی عجیب کیفیت تھی۔ ہر وقت دل مختلف افکار کی آماج گاہ بنا رہتا تھا۔ ماں باپ کی یاد، عزیزوں کی جدائی کا احساس، دوستوں کے بچھڑنے کا غم اور حاسدوں کے تیروں کی چھبن سبھی کچھ تھا لیکن
سب سے بڑا معلم انسان کی فطرت صحیحہ ہے جس کی روشنی میں انسان اپنے قدموں کو استوار رکھتا ہے اور ہر افتاد پر ڈگمگانے سے بچاتا ہے۔ اگر یہ کلی طور پر مسخ ہو جائے تو پھر کسی بے راہ روی کا احساس دل میں نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر چلائے! آمین! آپ کا ریاض
شہادت نمبر 25 (حلفیہ شہادت)
جناب غلام حسین صاحب احمدی فرماتے ہیں:
میں نے اپنی شہادت کے علاوہ حبیب احمد کا بھی ذکر کیا تھا۔ وہ مجھے قادیان میں مل گئے۔ میں نے ان سے قسم دے کر دریافت کیا تو انہوں نے قسم کھا کر مجھے بتلایا کہ حضرت صاحب (مرزا محمود) نے دو مرتبہ ان سے لواطت (یعنی لونڈے بازی) کی ہے۔ ایک دفعہ قصر خلافت میں اور دوسری دفعہ ڈلہوزی میں۔ میں نے اس سے تحریری شہادت مانگی تو پوری تفصیل کے ساتھ نہیں لکھی بلکہ نامکمل لکھ کر دی۔ حبیب احمد صاحب اعجاز اس کی پوری پوری تصدیق
فرما رہے ہیں جو درج ذیل ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم و علی عبدہ المسیح الموعود. نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم. بخدمت شریف جناب بھائی غلام حسین صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے بعد التماس ہے کہ میں نے آپ کو ......... جو بات بتائی تھی، میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ وہ بات بالکل صحیح ہے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو خدا کی لعنت ہو مجھ پر۔............
میں علی وجہ البصیرت شاہد ناطق ہوں۔ (خاکسار حبیب احمد اعجاز)
شہادت نمبر 26
راجہ بشیر احمد صاحب رازی (خلف)
مکرمی و محترمی راجہ علی محمد صاحب ریٹائرڈ افسر مال امیر جماعت احمدیہ گجرات کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ نے خدمت دین کے لیے 1945ء میں اپنے آپ کو وقف کیا اور پورے اخلاص کے ساتھ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا اور خلیفۂ ربوہ کے بلاوے پر آپ ربوہ تشریف لے آئے اور نائب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ ربوہ کے کام پر مامور کیا گیا۔ آپ نے اس کام کو یا جو کام بھی آپ کے سپرد کیے جاتے، نہایت ہی استقلال اور محنت اور دیانت داری سے سرانجام دیتے رہے۔ آپ ربوہ کے کچے کوارٹروں میں رہائش پذیر تھے اور دوستوں کے علاوہ آپ کے مراسم جناب شیخ نور الحق صاحب احمدیہ سنڈیکیٹ سے ہوئے تو انہوں نے خلیفہ صاحب کی آلودہ زندگی کا ایسا بھیانک منظر پیش کیا، آپ ششدر رہ گئے۔ آپ کا ذہن اس آلودہ زندگی کو تسلیم نہیں کرتا تھا کہ ایسا مقدس انسان بدکار نہیں ہو سکتا۔ بالآخر رفتہ رفتہ آپ کے مراسم رازدار خصوصی ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض سے ہو گئے تو انہوں نے بھی اس ناپاک انسان کے عشرت کدہ کی رنگین مجالسوں کا ذکر فرمایا اور ان کی مزید پختگی کے لیے اس رنگین اور سنگین مجالس تک لے جانے کا وعدہ کر کے اس مجلس میں شامل کر لیا۔ رازی صاحب موصوف نے جب اس مجالس خاص میں عملاً رسائی حاصل کر لی اور اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھا تو آپ محو حیرت ہو گئے۔ بعد ازیں آپ نے علی الاعلان پوری دیانت داری سے اس نقشہ خصوصی کو جو علی وجہ البصیرت پورے اطمینان کے ساتھ دیکھ چکے تھے، اپنے دوستوں سے کھلم کھلا اظہار
کرتے رہے۔ رازی صاحب موصوف کا بجواب خط بیان درج ذیل ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ارشاد گرامی پہنچا۔ خلیفہ صاحب سے عدم وابستگی کی اصل وجہ تو وہی ہے جو ہمارے مکرم بھائی مرزا محمد حسین صاحب بی کام فرمایا کرتے ہیں کہ جو سفر ہم نے ماموریت سے شروع کیا، اسے آمریت پر ختم کرنا ہمیں گوارا نہیں۔
مگر یہ اجمال شاید آپ کے لیے وجہ تسلی نہ بن سکے۔ لیجیے مختصراً ہماری روئیداد بھی سن لیجیے۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہم ربوہ کے کچے کوارٹروں میں خلیفہ صاحب ربوہ کے کچے قصر خلافت کے سامنے رہائش پذیر تھے۔ قرب مکانی کے سبب شیخ نور الحق احمد ”احمدیہ سنڈیکیٹ“ سے راہ رسم بڑھی تو انہوں نے خلیفہ صاحب کی زندگی کے ایسے مشاغل کا تذکرہ کیا، جن کی روشنی میں ہمارا وقف کار امتحان نظر آنے لگا۔ اتنے بڑے دعویٰ کے لیے شیخ صاحب کی روایت کافی نہ تھی۔ خدا بھلا کرے ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض کا جن کی ہم رکابی میں مجھے خلیفہ صاحب کے ایک ذیلی عشرت کدہ میں چند ایسی ساعتیں گزارنے کا موقع ہاتھ آیا جس کے بعد میرے لیے خلیفہ صاحب ربوہ کی پاک دامنی کی کوئی سی بھی تاویل و تعریف کافی نہ تھی اور میں اب بفضل ایزدی علیٰ وجہ البصیرت خلیفہ صاحب ربوہ کی بداعمالیوں پر شاہد ناطق ہو گیا ہوں۔ میں صاحب تجربہ ہوں کہ یہ سب بداعمالیاں ایک سمجھی سوچی ہوئی سکیم کے تحت وقوع پذیر ہوتی ہیں اور ان میں اتفاق یا بھول کا کوئی دخل نہیں۔ جن دنوں ہم تھے۔
محاسب کا گھڑیال
ان رنگین مجالس کے لیے سٹینڈرڈ ٹائم (Standard Time) کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب نہ جانے کون سا طریقہ رائج ہے۔ میرے اس بیان کو اگر کوئی صاحب مذکور چیلنج کرے تو میں حلف موکد بعذاب اٹھانے کو تیار ہوں۔ والسلام
(بشیر رازی بی کام، سابق نائب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ، ربوہ)
شہادت نمبر 27
چوہدری صلاح الدین صاحب بنگالی (خلف)
خاں بہادر ابوالہاشم خاں مرحوم چوہدری صاحب موصوف کے والد محترم نے بنگال میں جماعت احمدیہ کی قیادت کی اور آپ نے پورے اخلاص کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی
تعلیم کو اجاگر کیا اور آپ نے مرزا محمود کی تفسیر کا انگریزی میں ترجمہ بطور خدمت کے کیا، اور آپ جب ریٹائر ہوئے تو آپ مع اہل وعیال قادیان تشریف لے آئے اور محلہ دارالانوار میں ایک بہترین کوٹھی رہائش کے لیے تعمیر کی اور آپ کے خاندان کو خلیفہ صاحب کے خاندان سے والہانہ عقیدت تھی۔ اس قریبی تعلقات کی وجہ سے آپ خصوصیت سے واقف راز ہوگئے۔ چودھری صاحب صدر انجمن کے شعبہ جات میں بھی کام کرتے رہے اور آپ کی انتھک مساعی محض دین کی خاطر شامل حال رہی۔ آپ بھی ربوہ میں کچے کوارٹروں میں عرصہ تک رہائش پذیر رہے۔ لیکن جب آپ کو مرزا محمود کی ناپاک سیرت کا بخوبی علم ہوگیا اور علی وجہ البصیرت حق الیقین تک پہنچ گئے تو آپ نے ربوہ کو خیر باد کرنے کا تہیہ کرلیا۔ موقع پا کر آپ خفیہ طور سے مع ہمشیرگان اور والدہ محترمہ کو رات کی تاریکی میں لے کر لاہور روانہ ہوگئے اور پھر علی الاعلان خلیفہ صاحب کی ناپاک سیرت پر اخباروں اور لیکچروں میں بلاخوف اظہار فرماتے رہے۔ چودھری صاحب موصوف حقیقت پسند پارٹی کے پہلے جنرل سیکرٹری رہے۔ آپ نے اس کام کو بھی اپنی صلاحیتوں کے پیش نظر حسب دستور مستعدی اور جانفشانی سے انجام دیا۔ اس بدکار اور بداعمال کے لیے آپ نے اپنے آپ کو وقف کیا اور اس کی ناپاک سیرت پر الارم دینا اپنا فرض اولین تصور کرتے ہیں۔ چودھری صاحب گہرے رازداروں میں سے واقع ہوئے ہیں۔ لکھتے ہیں:
”قادیانی جماعت کے اندر فدائیان احمدیت کے نام کی خفیہ تنظیم کو بے نقاب کیا جائے، جو ایک نقاب پوش خطرناک قسم کی نوجوانوں کی تنظیم ہے، جو عملی طور پر تشدد کی حامی ہے اور اپنے کسی راز کو افشا کرنے والے کا کام تمام کر دیتی ہے اور ذیل کے احمدی حضرات کو عدم آباد تک پہنچا چکی ہے۔“ (’نوائے پاکستان‘ 28 مارچ 1957ء)
چودھری صاحب کی مجاہدانہ سرگرمیوں کا اندازہ بہت سے اخباروں کے علاوہ مذکورہ بالا عبارت سے ظاہر ہے، جس میں آپ نے طویل لسٹ مختلف لوگوں کی دی ہے، جن کو راز افشا کرنے کے جرم میں ان کا کام تمام کر دیا گیا۔ طوالت کے خوف سے مثال کے طور پر صرف ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں۔ چودھری صاحب نے اپنی ہمشیرہ عابدہ بیگم بنت خاں بہادر ابوالہاشم خاں صاحب آف بنگال کے اہم واقعہ کا ذکر بھی فرمایا ہے، کہ ان کو بھی بذریعہ بندوق مار کر اچانک موت سے منسوب کیا گیا۔ ان کے خیال کے مطابق کہ کہیں راز افشا نہ کردے۔
بہر حال چودھری صاحب صحیح معنوں میں حقیقت پسند واقع ہوئے ہیں۔ ان کا ہر کام دیانتدارانہ اور اخلاص پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کو مزید استقامت بخشے۔ علاوہ ازیں جب گجرات میں جلسہ ہوا تو آپ نے اس وقت بھی صداقت کو پورے طور سے روشن کیا کہ ہم نے تقدس کے پردے میں جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، وہی ہماری اس سے علیحدگی کا باعث ہوا۔ چنانچہ چودھری صاحب فرماتے ہیں:
بعد ازاں چودھری صلاح الدین صاحب نے جو مشرقی پاکستان کے رہنے والے ہیں، بنگالی میں تقریر کی اور بتایا کہ ہم نے تقدس کے پردے میں جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ہماری اس جماعت سے علیحدگی اس کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا میں مشرقی پاکستان کے ایک معزز خاندان کا نوجوان ہوں اور امام جماعت احمدیہ کی دھاندلیوں کی وجہ سے علیحدہ ہو گیا ہوں اور دیانتداری سے سمجھتا ہوں کہ ان کے خلاف آمریت کا ایک واضح نمونہ ہے۔
(”نوائے پاکستان“ 28 مارچ 1957ء)
شہادت نمبر 28
امام جماعت احمدیہ (قادیان) ربوہ کے متعلق
حضرت ڈاکٹر سید میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم
سول سرجن کی شہادت
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب، خلیفہ صاحب کے ماموں اور خسر بھی ہیں۔ آپ کی قطعی رائے ہے کہ خلیفہ عیاش ہو تو میں ڈاکٹر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ عیاشی کی وجہ سے نہ دماغ کام کرتا ہے اور نہ عقل اور نہ ہی حرکات صحیح طور پر کر سکتا ہے۔ سب قویٰ برباد ہو جاتے ہیں جس کو انگریزی میں Wreck کہتے ہیں۔ زنا انسان کو بنیاد سے نکال دیتا ہے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب موصوف فرماتے ہیں۔ بڑا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ خلیفہ عیاش ہے۔ اس کے متعلق میں کہتا ہوں۔ میں ڈاکٹر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو چند دن بھی عیاشی میں پڑ جائیں، وہ وہ ہو جاتے ہیں، جنہیں انگریزی میں Wreck کہتے ہیں۔ ایسے انسان کا دماغ کام کا رہتا ہے نہ عقل درست رہتی ہے، نہ حرکات صحیح طور پر کرتا ہے۔ غرض سب قویٰ اس کے برباد ہو جاتے ہیں اور سر سے لے کر پیر تک اس پر نظر ڈالنے سے فوراً معلوم ہو جاتا
ہے کہ وہ عیاشی میں پڑ کر اپنے آپ کو برباد کر چکا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں: الزنا يخرج البناء زنا انسان کو بنیاد سے نکال دیتا ہے۔
(”الفضل“ 10 جولائی 1937ء)
حق پسند اصحاب کی توجہ کے لیے
اپنی طرف سے نہایت اختصار کے ساتھ کچھ حوالہ جات حضرت مسیح موعود پیش کر دیے ہیں تاکہ فیصلہ میں آسانی رہے۔ اہل دانش اور طالبان حق کے لیے نہایت ضروری ہے کہ ٹھنڈے دل سے ان تمام واقعات کو جو خلیفہ کے چال چلن پر سالہا سال سے بیان کیے جارہے ہیں اور وہ انہیں ٹال رہے ہیں۔ آپ نے دلائل کی روشنی میں موازنہ کر کے خلیفہ صاحب کا احتساب کرنا ہے تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اصول جو بدچلن اور بدکار کے متعلق موجود ہے، اس کی بے حرمتی نہ ہو۔ اگر آپ نے اس اصول کو جرأت مندانہ اقدام سے اجاگر کر دیا تو آنے والی نسلیں آپ کی اس جسارت کو جو اصول کے لیے برتی جائے گی، قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھیں گی۔
علاوہ ازیں انسان غلطی کا پتلا ہے، بھول جانا کوئی بات نہیں ہوتی چونکہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے مصنفہ جواہر پارے دیگر تنخواہ دار علما اس امر کے لیے کوشاں رہتے ہیں کہ اس خلافت کو مضبوطی سے پکڑو اور بعض حوالے ان پر چسپاں کیے جاتے ہیں۔ لیکن حضرت اقدس نے زانی، بدکار، عیاش کے متعلق ایک قطعی فیصلہ دیا ہے جو درج ذیل ہے:
- (1) مباہلہ صرف ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی قطع اور یقین پر بنا رکھ کر کسی
دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔
(”الحکم“ 24 مارچ 1902ء)
- (2) یہ تو اسی قسم کی بات ہے جیسے کوئی کسی کی نسبت یہ کہے کہ میں نے اسے بچشم خود زنا
کرتے دیکھا یا بچشم خود شراب پیتے دیکھا۔ اگر میں اس بے بنیاد افترا کے لیے مباہلہ نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔
(”تبلیغ رسالت“ جلد دوم صفحہ نمبر 2)
تو اس کی طرف آنے میں ہچکچاہٹ کیوں! جب آپ کا دعویٰ ہے کہ خلیفہ صاحب سے خدا خلوت میں باتیں کرتا ہے اور جلوت میں باتیں کرتا ہے۔ اس عدالت میں حضرت اقدس کا حوالہ بھی یہی مطالبہ کرتا ہے، پھر ڈرتے کیوں ہو؟ ہاں میں عرض کر رہا تھا کہ حضرت
اقدس کا قطعی فیصلہ ہے یا آپ کی نگاہ میں حضرت اقدس کی کتابوں میں ایسا حوالہ موجود ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ بدکار عیاش بھی مصلح موعود ہوسکتا ہے تو خدا کی قسم اگر یہ حوالہ میرے علم اور سمجھ میں آگیا تو میں سرتسلیم خم کروں گا۔ ورنہ بصورت دیگر آپ کا فرض ہوگا کہ حضرت اقدس کے ان حوالوں کی موجودگی میں جو بدکار کے لیے آپ نے لکھا ہے عمل کرنا ہوگا اور جماعت کے ہر فرد کو احتساب کرنا پڑے گا۔
بدکردار مصلح موعود نہیں ہوسکتا
یہ بات اظہر من الشمس ہوچکی ہے کہ خلیفہ صاحب بدکار، عیاش، بدچلن انسان ہیں۔ بدکردار مصلح موعود نہیں ہوسکتا اور اپنی اس بدمعاشی کو چھپانے کی خاطر مختلف بہانے اور حیل و حجت، قتل و غارت و بائیکاٹ اور صدر انجمن احمدیہ کا روپیہ مقدمے میں ضائع کیا جاتا ہے۔ پھر ”الفضل“ میں یوں کہا جاتا ہے کہ زنا کرنا جرم نہیں، اس کی تشہیر جرم ہے۔ زنا تو آپ عین شریعت کے مطابق کرتے ہیں، اس لیے اس کا تو جرم نہیں۔ مگر مباہلہ حضرت اقدس کے فرمان کے مطابق کیا جاتا ہے۔ وہ جرم ہے۔ خلیفہ صاحب نے حضرت اقدس کی تعلیم کو پس پشت ڈال کر اپنا سکہ جمانے کی کوشش کی۔ مقدس اصطلاحوں سے اپنے آپ کو نوازا۔ کبھی صحابہ کرام کے متعلق بدتہذیبی کا مظاہرہ کیا اور کبھی آنحضرت ﷺ سے بھی آگے بڑھنے کا قدم اٹھایا۔ انشاء اللہ ایسے شخص کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اس کو اس دنیا میں جو سزا مل رہی ہے، وہ ایک زندہ نشان ہے۔ چلنے پھرنے سے عاری ہے۔ دماغ کسی قدر ماؤف ہوچکا ہے، فالج نے اس کو اپنا شکار بنالیا ہے۔
(”الفضل“ 4 اگست 1956ء)
ایسے شخص کو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے قادیان کی مقدس سرزمین میں بھی جگہ نصیب نہیں ہوئی۔ دراصل اگر غور سے دیکھا جائے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ گندی مچھلی سب کو خراب کرتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ناپاک وجود کو وہاں سے نکال کر مقدس بستی کو محفوظ کرلیا۔
میں عرض کررہا تھا کہ اب حاشیہ بردار اس کو سہارا دیے ہوئے ہیں۔ کبھی ٹیکہ کے زور سے اس کو ہوش میں لایا جاتا ہے، کبھی ٹیپ ریکارڈر سنا کر جماعت کو تسلی دی جاتی ہے۔ بہر طریق سے اس میں پیوند لگائے گئے، لیکن جب ایک عمارت بوسیدہ ہوجاتی ہے اس کے پیوند کہاں تک سہارا دے سکتے ہیں۔ بالآخر اس بوسیدہ عمارت کو تہس نہس کرکے ازسرنو بنانی
پڑتی ہے۔ یہی حال خلیفہ کا ہے۔ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے قعر مذلت میں گر چکا ہے۔ اس وقت سہارا بے سود ہے۔ یہ غلط ملط سہارے دیکھنے والوں کے لیے اس شخص کی بدکرداری کا زندہ ثبوت ہے۔ یہ ناپاک وجود ختم ہو کر رہے گا اور حضرت اقدس کا اصول بڑی آب و تاب سے چمکے گا۔ خدا کے گھر میں دیر ضرور ہے اندھیر نہیں۔
میرے احمدی بزرگو! بھائیو اور بہنو! جماعت احمدیہ کا ہر فرد جو حضرت مسیح موعود کے اصولوں کو اپنانے کے لیے بے تاب ہے، ان سے استدعا ہے کہ خلیفہ صاحب اس وقت زندہ ہیں۔ ان کی موجودگی میں جس اسلامی شریعت کو آپ پسند فرمائیں، فیصلہ کی راہ نکالیں۔ انسان کی سوجھ بوجھ کے مطابق تین ہی صورتیں قابل عمل ہیں:۔
- (1) عدالت
- (2) کمیشن
- (3) مباہلہ
اظہار واقعہ کو بدزبانی نہیں کہا جاسکتا
حضرت اقدس ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں:
”دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ کا گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو، دوسری شے ہے۔ ہر ایک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر مخاطب گم گشتہ کے کانوں تک پہنچادے۔ پھر اگر وہ سچ سن کر برافروختہ ہو تو ہوا کرے۔
(ازالہ اوہام، صفحہ 20)
خلیفہ صاحب کی بداعمالیوں کے متعلق اقوال اور مسیح موعود کے حوالہ جات اور شہادتیں درج ہیں:
میں انصاف پسند اور فہمیدہ اصحاب سے درخواست کرتا ہوں۔ تینوں صورتیں پیش کر دی ہیں جو صورت آپ کے لیے آسان ہو، اس پر عمل کریں ورنہ بصورت دیگر اگر اس میں لیت ولعل کیا گیا تو وہ اپنے متعلق شکوک میں اضافہ کریں گے لیکن یاد رکھیں خلیفہ صاحب اپنی بدکرداری اور کرتوتوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ کبھی بھی مباہلہ کے لیے میدان میں نہیں نکلیں گے۔
حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں بھی مرزا محمود احمد صاحب پر کمیشن مقرر کیا گیا اور سنا
ہے کہ جرم ثابت ہے مگر بدنامی کے خوف سے اس کو درگزر کیا گیا۔ اگر ہمارے بزرگانِ ملت اُس وقت اس خوف کو بالائے طاق رکھ کر اس کو گندے چیتھڑے کی طرح نکال دیتے تو آج اس بدنما داغ اور لعنت سے محفوظ رہتے۔
بس آپ اپنے فرضوں کو پہچانیں۔ اس بدنما دھبہ کو مباہلہ کی صورت میں خدا کی عدالت میں لائیں تاکہ تقدس اور پاکبازی الم نشرح ہو کر جماعت احمدیہ کے لیے خصوصاً ہدایت کا موجب ہو۔ (طالب دعا، خادم ملت مظہر ملتانی)
انتباہ!
جس قدر شہادتیں اور حلفیہ بیان کتاب ہذا میں درج ہیں، ان کی اصل تحریرات موجود ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو اصل تحریرات کے عکس شائع کر دیے جاویں گے۔ تاہم اگر کوئی صاحب کسی دباؤ کے ماتحت یا جماعت احمدیہ ربوہ کے سربراہ یا بالخصوص مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے ”قمر الانبیا“ (ان کے کریکٹر کے متعلق بھی شہادتیں موجود ہیں جو کسی وقت منظر عام پر لائی جاسکتی ہیں) اپنے حکیمانہ اور فلسفیانہ لاطائل انداز میں ان بیانات کی تردید کرنے کی جرأت کریں تو اس موقع پر بھی انہیں قہار و جبار کی عدالت میں آنا ہوگا اور موکد بعذاب حلف اٹھانا ہوگا۔ جو صاحب تردید کریں ان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ بالتقابل کم از کم دو صد اشخاص کے سامنے مسجد میں کھڑے ہو کر بروئے اشہاد مندرجہ ذیل موکد بعذاب حلف اٹھائیں۔
میں اس خدائے ذوالجلال حی و قیوم اور قہار و جبار کی قسم کھا کر کہتا ہوں، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے، اور میں اپنے بیٹوں، بیٹیوں، بیوی، بہنوں، ماں، باپ، (لکھتے وقت جو رشتہ دار زندہ یا موجود نہ ہوں، ان کا نام کاٹ دیا جائے) سر پر ہاتھ رکھ کر موکد بعذاب حلف اٹھاتا ہوں کہ جناب مرزا محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ ربوہ نے کبھی زنا یا لواطت نہیں کی۔ اور میری طرف جو یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ میں نے ان کے دامن کو ایسی بدکاری سے داغ دار قرار دیا ہے، بالکل غلط ہے۔ میں نے کبھی نہ انہیں بدکار اور زانی سمجھا اور نہ کہا اور نہ ہی کوئی ایسی بات ان کی طرف منسوب کی اور نہ ہی میں نے کوئی تحریر لکھ کر دی۔
اے میرے خدا میں تجھے حاضر و ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ میرا یہ بیان بالکل سچ
اور واقعات کے مطابق ہے اور میں نے کسی ترغیب و ترہیب یا کسی بھی قسم کے دباؤ کے تحت یہ بیان نہیں دیا، میں جانتا ہوں کہ تیرے ہاتھ کے برابر کوئی ہاتھ نہیں۔ تیری قوت سے بڑھ کر کوئی قوت نہیں، تو ہی جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کرتا ہے۔
اے میرے خدا اگر میں اوپر کے سارے بیان میں جھوٹا ہوں اور فریب، دغا، مکاری، چالبازی، لفظوں کے ہیر پھیر، فقرہ بازی اور خیانت سے کام لے رہا ہوں تو تیرا قہر تلوار کی مانند مجھ پر پڑے۔ تیرا غضب مجھے بھسم کر دے۔ ذلت، تباہی، غربت، بیماری، عزیزوں، رشتہ داروں، بیوی بچوں کی موت اور مصائب و آلام کی مار مجھ پر مار اور اپنے ہیبت ناک ہاتھ کے ساتھ مجھے تباہ و برباد کر کے رکھ دے۔ میرے در و دیوار پر آگ برسے۔ میرے دشمنوں کو خوش کر دے۔ میں ذلیل اور رسوا ہو جاؤں اور میری اور میرے باپ کی نسل منقطع ہو جائے اور ابدالآباد کے لیے مجھ پر لعنتیں برستی رہیں اور عفو کی چادر مجھے کبھی نہ ڈھانپے۔ لعنة الله على الكاذبين
فیصلہ عدالت عالیہ ہائی کورٹ لاہور
بہ نگرانی شیخ عبدالرحمن مصری قادیان
ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے جو حکم شیخ عبدالرحمن مصری کی اپیل کے خلاف دیا ہے، اس پر نظر ثانی کے لیے موجودہ درخواست ہے۔ شیخ عبدالرحمن مصری سے میجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے حکم کے ماتحت 14 مارچ 1938ء کو ضمانت حفظ امن طلب کی گئی تھی اور اس حکم کے خلاف ڈپٹی کمشنر نے 24 مئی 1938ء کو اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔ لہٰذا اب وہ عدالت ہذا میں نظر ثانی کی درخواست دے رہا ہے۔ چنانچہ اس عدالت کے ایک فاضل جج نے حکومت کو حاضری کا نوٹس دیا۔
موجودہ کارروائی کی تحریک کا اصل باعث وہ اختلاف ہے جو جماعت احمدیہ قادیان کے اندر رونما ہوا ہے۔ درخواست کنندہ اس انجمن کا صدر ہے جو خلیفہ سے شدید اختلاف کے باعث علیحدہ ہو چکی ہے۔ درخواست کنندہ کے خلاف اصل الزام یہ ہے کہ اس نے دو پوسٹر شائع کیے۔ اولاً پی۔ اے ایگزبٹ جو مورخہ 29 جون 1937ء کو شائع ہوا اور ثانیاً ایگزبٹ پی۔ جی جو 13 جولائی 1937ء کو شائع کیا گیا۔ ان پوسٹروں کے ذریعے درخواست کنندہ نے اپنا مافی الضمیر
بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ پوسٹر بجائے خود قابل اعتراض نہیں ہیں۔ مدعی نے اگزبٹ پی۔جے میں سے ایک پیرا کی بنا پر اپنا دعویٰ قائم کیا ہے جو اس طرح شروع ہوتا ہے:
”میرے عزیزو، میرے بزرگو آپ نے اپنے ایک بے قصور بھائی، ہاں اس بھائی کو جس نے محض آپ لوگوں کو ایک خطرناک ظلم کے پنجہ سے چھڑانے کے لیے اپنی عزت، اپنے مال، اپنے ذریعہ معاش اور اپنے آرام کو قربان کر دیا ہے۔۔۔۔“
مدعی کا دارو مدار ایک اور پیرا بھی ہے جس کا خلاصہ یوں دیا جاسکتا ہے کہ موجودہ خلیفہ میں ایسے سخت عیوب ہیں کہ اسے معزول کرنا ضروری ہے اور میں نے اپنے آپ کو جماعت سے اس لیے علیحدہ کیا ہے تاکہ میں ایک نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے جدوجہد کرسکوں۔“
میری رائے میں متذکرہ بالا قسم کے بیانات بجائے خود ایسے نہیں ہیں کہ ان کی بنا پر کسی شخص کی حفظ امن کی ضمانت طلب کی جائے۔ مگر عدالت میں درخواست کنندہ نے ایک تحریری بیان دیا ہے، جس کے دوران میں اس نے کہا ہے۔
”موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لیے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“
درخواست کنندہ نے آگے چل کر بیان کیا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ قوم کو اس قسم کے گندے شخص سے آزاد کرائے۔
اب اگر پوسٹر کو جس کا خلاصہ میں نے اوپر بیان کیا ہے، درخواست کنندہ کے اس بیان کی روشنی میں جو اس نے عدالت میں دیا ہے، پڑھا جائے، جیسا کہ بہت سے پڑھنے والے ایسا کریں گے تو ان کا رنگ کچھ اور ہی ہوجائے گا اور میری رائے میں یہ امر قابل اعتراض ہو جاتا اور حفظ امن کی ضمانت طلبی کا متقاضی ہے۔
اس خطبہ میں خلیفہ نے جماعت سے علیحدہ ہونے والے شخصوں پر حملے کیے ہیں اور ایسے الفاظ ان کی نسبت استعمال کیے ہیں جن کی نسبت میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ وہ منحوس Unfortunate اور افسوس ناک تھے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فخر الدین نے جو اس انجمن کا سیکرٹری تھا، جس کے صدر شیخ
عبدالرحمن مصری ہیں، ان کا جواب لکھا جس میں اس نے یہ کہا۔ ’’اسی لیے تو ہم بار بار جماعت سے آزاد کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اس کے روبرو تمام امور اور شہادتوں اور مخفی در مخفی حقائق پیش ہو کر اس قضیہ کا جلد فیصلہ ہو جائے کہ کس کا خاندان ’’فحاشی کا مرکز‘‘ یا بالفاظ دیگر وہ ہے جو خلیفہ نے بیان کیا۔‘‘
اب اس بیان میں خلیفہ کے خطبہ کے بیان کی طرف اشارہ ہے جس میں اس نے اپنے دشمنوں اور مجرمین کے خاندانوں کے متعلق یہ کہا تھا کہ ان میں سے حیا اور پاکیزگی جاتی رہے گی اور وہ فحاشی کا اڈا بن جائیں گے۔ میری رائے میں فخر الدین کے اس پوسٹر کا مطلب صاف اور واضح ہے اور ایسا ہی قادیان میں اس کا مطلب سمجھا گیا۔ کیونکہ صرف دو دن بعد سات اگست کو ایک متعصب مذہبی مجنون نے فخر الدین کو مہلک زخم لگایا۔
میاں محمد امین خان نے جو درخواست کنندہ کا وکیل ہے، اس امر پر زور دیا ہے کہ شیخ عبدالرحمان مصری اس آخری پوسٹر کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ واقعات یہ ہیں کہ انجمن ایک مختصر سی حیثیت رکھتی تھی جس کا صدر عبدالرحمن اور سیکرٹری فخر الدین تھے۔ اصل پوسٹر ہاتھ کا لکھا ہوا تھا جو اب دستیاب نہیں ہو سکتا۔ البتہ اس کی نقل ایک کانسٹیبل نے کی تھی، جس کا یہ بیان ہے کہ اس کے نیچے فخر الدین سیکرٹری مجلس احمدیہ کے دستخط تھے مگر اس امر کے برخلاف فخر الدین کے لڑکے نے اصل مسودہ پیش کیا ہے جو اس کے باپ نے اس کی موجودگی میں لکھا تھا اور جس کے نیچے صرف اس قدر دستخط ہیں۔ فخر الدین ملتانی۔ میں کانسٹیبل کے بیان کو قابل قبول سمجھتا ہوں، کیونکہ اسے جھوٹ کہنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی جو وجہ صفائی کے گواہ میں پائی جاتی ہے یعنی یہ کہ اس کا مقصد اپنے لیڈر کو چھڑانا ہے۔
یہ امر کہ فخر الدین نے اصل مسودہ پر ’’سیکرٹری‘‘ کے الفاظ نہ لکھے تھے، ظاہر نہیں کرتا کہ صاف کردہ اور شائع کنندہ کاپی پر بھی یہ الفاظ نہیں لکھے گئے تھے۔ میری رائے میں شیخ عبدالرحمن پر بھی اس پوسٹر کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ خصوصاً اس بیان کے سامنے جو انہوں نے عدالت میں دیا ہے۔
ان حالات میں مقامی حکام نے شیخ عبدالرحمان کے برخلاف جو کچھ کارروائی حفظ امن کی ضمانت کی کی، وہ مناسب تھی۔
ایک ہزار روپیہ کی ضمانت کچھ بھاری ضمانت نہیں ہے اور یہ ضمانت دی جا چکی ہے
اور نصف سے زائد عرصہ گزر بھی چکا ہے۔ لہٰذا درخواست مسترد کی جاتی ہے۔
دستخط
ایف ڈبلیو سکیمپ جج
(عدالت عالیہ ہائیکورٹ لاہور مورخہ 23 ستمبر 1938ء)
(تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی) (عکس صفحہ نمبر 651 تا 684 پر)
مرزائیوں کی روحانی شکار گاہ
عبدالرزاق مہتہ پاکستان بھر کے قادیانیوں میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے خاندان نے قادیانیت کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔ شب و روز قادیانیت کی خدمت میں جت گئے۔ ان کی یہ قربانیاں رنگ لائیں اور وہ ”خاندان“ سے قریب تر ہوتے گئے۔ ان کے اخلاص میں حماقت کی حد تک اضافہ ہو گیا تو وہ مرزا محمود کی خلوتوں کے ساتھی بن گئے۔ مرزا محمود کی بیگمات و صاحبزادیوں سے پھکڑے اڑاتے اور احمدیت کی برکات کے ترانے گاتے رہے۔ ایک مرتبہ خود خلیفہ جی سے سدومیت کا بدیشی شوق بھی فرمایا۔ فوٹو گرافی کے رسیا ہونے کی وجہ سے انہوں نے ”اجنتا“ اور ”ایلورا“ کے غاروں کے مناظر کو کیمرے کی گرفت میں لے کر ہمیشہ کے لیے انہیں محفوظ کر لیا اور خود غیر محفوظ ہو گئے۔ مگر ان کی ہمت مردانہ پر قربان جائیے کہ یہ سب دیکھنے، کرنے اور کرانے کے باوجود بھی احمدیت کی صداقت پر ان کا ایمان متزلزل نہیں ہوا۔ ان رنگین تصویروں اور سنگین لمحات کی یادوں کو ان سے واپس حاصل کرنے کے لیے ان کے گھر پر متعدد بار شب خون مارا گیا، حملے کرائے گئے، تلاشی لی گئی۔ ان مظالم سے عاجز آ کر انہوں نے جماعت کے سربراہ کو خط لکھا کہ مجھے ان کے مظالم سے نجات دلوائی جائے۔ اس درخواست میں مظالم کے جو اسباب اور واقعات بیان کیے، انہیں پڑھ کر ایک شریف النفس انسان لرزہ بر اندام ہو جاتا ہے۔ عصمت و عفت کو بازیچہ اطفال بنانے میں مرزائیت نے ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا ہے جسے بڑے سے بڑا بدکار بھی نہیں توڑ سکتا۔ خود مصنف کا بیان ہے کہ مرزا محمود نے میرے ساتھ مل کر اپنی لڑکی کو ہوس کا نشانہ بنایا۔ الف ننگے ایک چارپائی پر باہم دیگر تینوں ”مصروف بکار خاص“ تھے کہ مؤذن نے نماز کے لیے بلایا، اسی حالت میں غسل و وضو تو درکنار کسی عضو کو دھوئے بغیر مصلیٰ پر چڑھ گئے اور پھر پھرتی میں واپس
آ کر بیٹی کے سینے پر سوار ہو گئے۔ لعنت ہو قادیانیت پر۔ مرزائیت ایسی گندگی ہے جسے صاف کرنا چاہیں تو اس گندگی کا وجود پانی پڑنے سے ختم ہوتا جائے گا مگر یہ پاک نہ ہوگی۔ اسے پاک کرنے والوں کو کبھی نہ بھولنا چاہیے کہ اسے ختم کر دینا ہی، اصل اس کا علاج ہے۔
روحانی شکار گاہ
(199) ”ایک خاندان کی بیماری، دوسرے خاندان میں (یعنی اولاد وغیرہ) میں آجاتی سنی ہوگی۔ دودھ کو ایک دفعہ جاگ لگا دی جائے تو پھر وہی جاگ کام آتی رہتی ہے۔ بعینہ اسی طرح اب یہ جاگ آخر (یعنی عیاشوں کی رنگ رلیاں) انہی مغلیہ خاندان کی نسل ہوتے اس خاندان میں بھی لگنی ضروری تھی، سو لگی اور خوب لگی اور غالباً ان کی طرز عیاشوں کو بھی مات کر دیا ہوگا۔
جناب سیکرٹری صاحب ہوشیار باش جاگتے رہیے، نظارہ جلوہ قریب آرہا ہے۔ دل مضبوط کر لیجیے۔ ہوش و حواس قائم رکھیے گا۔ قادیان کے عوام ہماری اس خاندان سے وابستگی چولی دامن کا ساتھ سمجھتے تھے۔ ایک دن ہوتا کیا ہے غور فرمائیے گا۔ حضرت خلیفہ ثانی حکم فرماتے ہیں عشا کے بعد اُم طاہر کے صحن والی سیڑھیوں کی طرف سے آنا۔ چنانچہ حاضر ہو کر دستک دی۔ حضور خود دروازہ کھول کر اپنے ساتھ صحن میں لے گئے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ دو بڑی چارپائیاں ہیں جن پر بستر بچھے ہیں جن کی پوزیشن یوں تھی۔ سرہانہ شمال قبلہ رخ والی چارپائی کے پاس لے جاکر اس پر بیٹھنے کا حکم دیا تو دوسری پر حضور لیٹ گئے۔ مقام خلیفہ کے تقدس کے خیال سے کبھی برابری میں بیٹھنے کا وہم و خیال بھی نہ ہوتا تھا۔ اسی شش و پنج میں حیران پریشان کھڑا بت بنا رہا۔ الٰہی کیا شامت اعمال ہے، کیا مصیبت آنے والی ہے۔ اتنے میں حضور تشریف لائے۔ پکڑ کر بٹھاتے ہوئے فرمایا فکر نہ کرو، شرماؤ نہیں۔ جس کے چند ہی سیکنڈ بعد چارپائی پر بچھی چادر کے نیچے سے کچھ حرکت معلوم ہوئی۔ سکڑا، سنبھلا کہ ایک چٹکی پیٹھ پر کٹتی ہے۔ گھبرایا ہوش و حواس گم ہی تھے کہ اب چادر کے نیچے سے کوئی ذرا زیادہ ہلتا معلوم ہوا دراصل کروٹ لی گئی تھی کروٹ لیتے پھر دو چار چٹکیاں کٹتی ہیں پھر بھی ”صم بکم“ بنا بیٹھا تھا کہ پھر حضور آئے شرماؤ نہیں، لیٹ جاؤ فرماتے چادر کے اندر منہ کر کے اس صاحبہ سے کچھ کہا جس
نے نصف اٹھتے ہوئے اپنے بازو میری کمر کے گرد حمائل کرتے کھینچ کر اپنے اوپر لٹا لیا، اس کھینچنے کے نتیجے میں سر ماتھا اچانک جو اس جسم نفیس پر لگے تو حیرانی ہوئی کہ محترمہ الف ننگی پڑی ہیں۔ ادھر میں بے حس و حرکت پتھر بنا پڑا تھا، مجھے علم نہ ہو سکا کس وقت میرے بھی کپڑے اتار پھینکے اور کیسے پوری طرح اپنے اوپر لٹانے لگیں بدمستی کی شرارتیں کرتے ”آخر جیت ان کی ہوئی یار میری“ گویا ان فرینڈ کو فرینڈ کر کے مستقل ممبر سر روحانی (یہ نام میرا دیا ہوا ہے) کا اعزاز بخشا گیا۔ ہاں یہ صاحبہ آخر کون تھیں آپ جستجو تو ضرور کر رہے ہوں گے، لیکن فی الحال بغیر نام بتائے اتنا عرض کیے دیتا ہوں کہ وہ صاحبہ حضور خلیفہ ثانی کی بیٹی تھیں بس پھر کیا تھا پانچوں گھی میں سر کڑاہی میں والا معاملہ۔ آئے دن بلاوے دن ہو یا رات دفتر یا چوکیدار کو پہلے بھی روک ٹوک نہ تھی مگر اب تو بالکل ہی ختم سیدھے اوپر بیٹیوں سے بڑھتے اب بیگمات کے پیش ہونے یا کیے جانے لگے۔ پہلے پہل تو گھروں میں پھر قصر خلافت کے ایک کمرہ ملحقہ باتھ روم جو دراصل مستقل داد عیش کی رنگ رلیوں کے لیے مخصوص فرمایا ہوا تھا۔ جہاں بیک وقت ایک ہی بیٹی اور یا بیگم صاحبہ سے خود بھی اکثر شریک رنگ رلیاں ہو جاتے گویا تینوں ایک ہی چار پائی پر پڑے محو مستیاں ہوتے (محترم سیکرٹری صاحب امور عامہ اسلام میں پردہ کا حکم سخت بتایا جاتا ہے۔ لیکن یہاں دیکھتے ہیں کہ آپ کا امور عامہ، خلیفہ کے اس پردہ زادہ پر کیا نوٹس لیتا ہے، کونسی جماعت سے خارج کرتا ہے) خیر یہ آپ کی درد سری ہے۔
ناراض تو نہیں ہو گئے ابھی تو ابتدائے عشق ہے آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ بقول کہاوت ”پاندڑیا متھا سڑیا“ ابھی تو سنسنی خیز جلوؤں کی رونمائی ہونی باقی ہے لہذا دل قابو میں رکھیے جناب ہوشیار رہیں غور فرمائیں ایک عرصہ جب کہ ایک بیٹی سے دونوں ہی رنگ رلیاں مناتے محو مستیاں تھے کہ موذن نے آکر نماز کی اطلاع دی مجھے یوں فرمایا تم مزے کرتے رہو، میں نماز پڑھا کر ابھی آیا۔ چنانچہ اسی حالت میں جب کہ پسینہ میں شرابور تھے، وضو تو درکنار اعضا بھی نہ دھوئے نماز پڑھی اور سنتیں نوافل، پھر بیٹی کے سینہ پر پڑے غرق عیش و عشرت ہو گئے۔ کیا خوب کہا ہے:
(جس کسی نے بھی یہ کہا خوب باموقع اور اغلباً انہی کی ذات مبارک کا نقشہ اللہ نے کھنچوایا ہے ) مختصر کرنے کے لیے اللہ کو حاضر ناظر کرتے جن سے یہ رنگ رلیاں منائی منوائی
گئیں فی الحال تعداد لکھ دیتا ہوں بوقت کارروائی اسمائے گرامی سے مطلع کروں گا۔ بیگمات تین، صاحبزادیاں بھی تین۔ ان دو صاحبزادیوں سے دو دو دفعہ ایک تو قریباً مستقل۔
یہاں لگے ہاتھوں ایک بیگم صاحبہ (بڑی) اُمِ ناصر کی حسرت جو قبر میں ساتھ لے گئے یوں فرمایا دیکھو ام ناصر ہیں کہ یہ شریک محفل نہیں ہوتیں تبھی تو موٹی بھینس ہوتی جاتی ہیں۔ اس کے مقابل غور فرمایا جائے۔ ام مظفر کو دیکھو کیسی خوبصورت نازک سی چلتی پھرتی ہیں کیونکہ یہ کرواتی رہتی ہیں گویا بھاوجوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ یہ خیال ذہن نشین ہونا ضروری ہے جن سے یا صاحب مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہوا۔ وہ پاک وصاف ہیں اور الفاظ ’رنگ یا مطلب “ جس کی نسبت بیان کیے یا کہے گئے وہی تحریر ہذا کر رہا ہوں کسی کا بلاوجہ مبالغۃً قطعاً قطعاً اشارہ بھی نہ کروں گا انشاء اللہ۔
انسان گنہگار ہے اور ضرور ہے لیکن حد سے تجاوز ارکان اسلام سے استہزا شاید کوئی نام کا مسلمان بھی نہ کرے گا۔ چہ جائیکہ جو خود کو مقام خلیفہ پر کھڑا کرے استغفر اللہ ربی جناب عالیٰ یہ تو رہی نماز اور اس کا احترام اب ذرا اچھی طرح سنبھل کر اپنی غیرت کے جوش کو دبا کر قرآن پاک کی عظمت پر اس اولو العزم خلیفہ کے اس چاند سے مکھڑے کی زبان مبارک سے ادا کیے ہوئے بولے ہوئے خواہ ایک دفعہ دوسرے کی نسبت کہ وہ یوں کہتا ہے اول تو اگر کسی نے ان کے سامنے کہے بھی تو غیرت کا تقاضا اس کو ڈانٹنا تھا، چہ جائیکہ ان الفاظ کو اپنی زبان مبارک سے نہ صرف ایک دفعہ بلکہ ڈھٹائی کی حد یوں کہ پھر دوسری دفعہ وہی دہرائے جاتے ہیں۔ جناب عالیٰ یقین جانیں ان کے لکھنے کی مجھ میں نہ ہمت نہ ہی سکت ہے، سمجھانے کی کوشش کروں گا کہا نعوذ باللہ نعوذ باللہ قرآن پاک کا نام لیتے ہیں میں اس کو اپنے ............ پر مارتا ہوں استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب علیہ شرم کے مارے میری آنکھیں زمین پر گڑ گئیں کاٹو تو جسم میں خون کا قطرہ نہیں۔ کیا یہی مقام خلیفہ ہے اور یہی وہ بلند بانگ پرچار ہے کہ ہم ہی ہیں جو خدمت قرآن فلاں فلاں زبانوں میں کر رہے ہیں اور ادھر اسی قرآن کی فضیلت وعظمت کا عمل بمحاورہ ”صورت مومناں کرتوت کافراں“ سے دیا جاتا ہے توبہ توبہ۔
یہ بھی بتائے جاؤں کہ یہ کس موڈ میں کہے گئے۔ ایک بیگم صاحبہ کو حضور کے ہر طرح کے قرب، صلاح مشورے وغیرہ وغیرہ کی بنا پر چہیتی کہا جاتا اور مانا جاتا تھا اور اہلِ قادیان کی مستورات خصوصاً جانتی تھیں، عید منانے رنگ رلیاں حضور کی خوشنودی کے لیے کھڑے محو گفتگو
تھے کہ اُن بیگم صاحبہ نے مجھے اپنے سینہ سے لگاتے کہا ”آپ مجھے اپنی چہیتی کہتے ہیں، یہ میرا چہیتا ہے۔“ باموقع خوب مذاق ہوا جس میں نعوذ باللہ وہ الفاظ دو مرتبہ کہے گئے یہ الفاظ پنجابی میں نام لیتے کہے گئے جو ان کی خلافت کی جیتی جاگتی حقیقت و اصلیت اسلام اور رسول مقبول ﷺ سے وابستگی کی نمایاں جھلک دیتی ہے۔ اب ان کی اصلیت ضمیر کی نصیحت و وصیت بھی لگے ہاتھوں ملاحظہ فرما ہی لیجیے۔ فرمایا:
”میں نے تمام بچوں کو کہہ دیا ہوا ہے کہ جس کے اولاد نہ ہو، ایک دوسرے سے کر لی جائے۔ سبحان اللہ کیا یہ نصیحت و وصیت خلیفہ کو زیب دیتی ہے۔ گویا اس سے صاف ثابت ہو گیا کہ یہ رنگ رلیاں صرف حضور کی ذات مبارک تک ہی محدود نہیں بلکہ کل اولاد کیا لڑکے اور کیا لڑکیاں جن کو پہلے ہی استعمال کرنا کرانا شروع کر دیا ہوا ہے۔
تو بھلا اس صورت میں لڑکے کہاں متقی و پرہیزگار ہو سکتے ہیں تبھی تو یہ رونا حق بجانب ہے کہ ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بھاوجوں کی عزت و ناموس ہر وقت خطرے میں ہے۔
اب ان ملفوظات میں سے ایک اور فرمان ملاحظہ فرما لیا جائے:
فرمایا لوگ باہر سے تبرک کے لیے اپنی بیویاں، بیٹیاں، بہوئیں بھیجتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی جنون عشق بازی سے تسلی نہیں ہوتی۔ مجبوراً پنجابی کہاوت ”جنے لائی لوئی، کرے کی کوئی“، کے مطابق بے شرموں کے ساتھ بے شرم ہونا ہی پڑے گا۔ مجبوراً حقیقت حال بیان کرنا پڑے گی۔ وہ یہ کہ لونڈے بازی کروانے کا بھی شوق باقی تھا۔ چنانچہ یہ چکر میرے ساتھ بھی ہو چکا ہے لیکن چونکہ مجھے اس قبیح عادت سے نفرت تھی مجبوراً خود ہی کروٹ لیتے اعضا پکڑ کے اپنے میں ڈالنے کی ناکام عیاشی۔
تو اس پر ایک دفعہ یوں فرمایا کہ خلیفہ صلاح الدین کا (جو رشتہ میں سالا تھا) ...............(وہی پنجابی لفظ اعضا) کتنا موٹا اور لمبا ہے۔ اب اس سے غور کریں کہ ان کی عادات رنگ رلیاں اور عشق مزاجی میرے اس لفظ ممبر محفل سیر روحانی سے بالکل صحیح اور سچ ثابت ہو گیا، ابھی اور بھی ممبر اور ممبرات محفل ہیں جن کی تعداد جو میرے علم میں ہے، پندرہ بیس ہے اور ان سے آگے جاگ لازمی لگے گی، جاگ کا کام ہی یہی ہے۔ اب واقعات کرسچین استانیوں کے، ایک کا ذکر لاہور کے اخبارات میں ہوا، خبر یوں لگی کہ ”مرزا قادیانی ہوٹل سے
ایک لڑکی لے اڑے‘ یہ برگینز ہوٹل لاہور کا واقعہ ہے ایک دوسرے کو بھیجنے پر ناکامی کے بعد مجھے حکم ملا، بعد کامیابی شاباش ملی الغرض اسے لے کر سینما جو ملکہ کے بت کے پاس ریڈ کراس آفس کے بالمقابل ہے ( پلازہ سینما ناقل ) مع عملہ گئے انٹرول کے قریب یکدم بھاگم بھاگ کاروں میں بیٹھ یہ جا وہ جا بعد میں علم ہوا کہ کیبن میں یہ کرسچن لڑکی بغل میں لیے ہوئے پیار وغیرہ کرتے تھے۔ باہر سے کسی کی نظر کا نظارہ ہو گیا گویا نام کو استانی اندر خانہ عیاشی۔
اب یہاں اصل معاملہ یوں بیٹھتا ہے کہ قادیان پہنچ کر سینما بینی میں کل دنیا جہان کی خرابیاں گنوائیں۔ خطبہ جمعہ کے سٹیج سے اخبارات رسائل تقاریر کے ذریعہ سینما بینی سے سختی سے منع فرمایا جاتا ہے مگر اس سے پہلے جب بھی لاہور گئے سینما ضرور دیکھا جاتا، آیا خیال شریف میں۔
جناب سیکرٹری صاحب امور عامہ معلوم ہوتا ہے سینما بینی سختی سے منع ہونے پر آپ کا حلق خشک ہو گیا ہے فکر نہ کریں میرے پاس تری کا بھی سامان موجود ہے۔ سو محترم من وہ یوں قادیان سے کار لاہور جاتی وہاں سے محترم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ ممدوح کے ذریعہ شراب کار کی پچھلی سیٹ کے نیچے چھپا کر لائی جاتی تا کہ عیاشی میں کوئی کمی نہ رہ سکے (حلق ٹھیک ہو گیا ہو گا ) مگر صاحب میں معافی چاہوں گا اوپر لکھا تو ”وجہ مظالم“ تھا لیکن مظالم کی بجائے عیاشیوں کی داستانوں میں پڑ گئے مگر جناب مجبور ہوا تھا سو چلیے میرے ساتھ قصر خلافت کے اس مخصوص کمرہ رنگینیوں میں جسے اس اولوالعزم خلیفہ نے مغلوں کی عیاشیوں کا گہوارہ بنا رکھا تھا ملاحظہ ہو بحیثیت فن فوٹو گرافی ایسے ایسے رنگین نظاروں سے بھلا نظر کیونکر چوک سکتی تھی۔ لہذا ہر ہر پہلو سے اچھی طرح محفوظ ہوئے بس اور بس یہی 42 سالہ وجہ مظالم ہے جن کی تلاش کے لیے چوریاں خانہ تلاشیاں تالے ڈکیتی میں توڑے تڑوائے گئے۔ سر توڑ کوشش فرماتے، ایڑی چوٹی کا زور لگاتے، ناکام و نامراد ہوتے، ذلت کے اتھاہ گڑھے میں ڈبکیاں ہی کھاتے رہے۔ اب جب کہ خاموش بیٹھے بھی صبر نہ آیا مجبور کر دیا ” تم صبر کرو وقت آنے دو“، سو وقت آ گیا ہے ڈبکیوں کی بجائے ڈوبنے کا۔ بھلا ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے ایسی ایسی رنگینیوں کی تصاویر بھلا کوئی گھروں میں رکھتا ہے۔ خصوصاً جب کہ تلاش میں ہر قسم کی ذلالت کے حربے استعمال کیے کروائے جاتے ہوں۔ اب وقت آیا ہے ان کے منظر عام پر لانے کا جو پیش کیے جائیں گے تاکہ ان کی عیاشیوں کو حقیقی رنگ میں ننگا کرنے
کے لیے بوقت کارروائی ممد و معاون ہوں۔“
(مرزائیوں کی روحانی شکار گاہ، صفحہ 21 تا 30 از عبدالرزاق مہتہ قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 685 تا 694 پر)
اس حوالے کی موجودگی میں سمجھ نہیں آتا، قادیانی مذہب کس طرح باقی ہے؟ یقیناً یہ اعتراف رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ اے کاش! قادیانی حضرات قادیانیت کے چنگل سے نکل کر اسلام کی آغوش میں آ جائیں۔
بے نقاب
(200) مرزا بشیر الدین محمود کا اپنا ایک شعر ہے جس میں اس نے مندرجہ بالا برائیوں کا اقبال جرم کرتے ہوئے کہا:
سب جہاں بیزار ہو جائے جو ہوں میں بے نقاب“
(کلام محمود از مرزا بشیر الدین محمود صفحہ 78) (عکس صفحہ نمبر 695 پر)
مرزا قادیانی کی کتابیں پڑھنے سے فرشتے نازل ہوتے ہیں
(201) ”جو کتابیں ایک ایسے شخص نے لکھی ہوں جس پر فرشتے نازل ہوتے تھے۔ ان کے پڑھنے سے بھی ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت صاحب کی کتابیں جو شخص پڑھے گا اس پر فرشتے نازل ہوں گے۔ یہ ایک خاص نکتہ ہے کہ کیوں حضرت صاحب کی کتابیں پڑھتے ہوئے نکات اور معارف کھلتے ہیں اور جب پڑھو جب ہی خاص نکات اور برکات کا نزول ہوتا ہے۔ براہین احمدیہ خاص فیضان الٰہی کے ماتحت لکھی گئی ہے۔ اس کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ جب کبھی میں اس کو لے کر پڑھنے کے لیے بیٹھا ہوں۔ دس صفحے بھی نہیں پڑھ سکا کیونکہ اس قدر نئی نئی باتیں اور معرفت کے نکتے کھلنے شروع ہو جاتے ہیں کہ دماغ انہیں میں مشغول ہو جاتا ہے۔“
(ملائکۃ اللہ صفحہ نمبر 30 مندرجہ انوار العلوم جلد 5 صفحہ 560 از مرزا بشیر الدین محمود)
(عکس صفحہ نمبر 696 پر)
مرزا قادیانی کی کتابوں میں قرآن مجید والا نور اور ہدایت ہے
(202) ”اصلاح نفس کے لیے دوسری چیز یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کی کتب کا مطالعہ کیا جائے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لوگ باقاعدہ حضرت صاحب کی کتب کا مطالعہ نہیں کرتے۔ اگر ہر ایک احمدی یہ فیصلہ کر لے کہ حضرت صاحب کی کسی کتاب کا روزانہ کم از کم ایک صفحہ کا مطالعہ کیا کروں گا تو اس کا بہت بڑا فائدہ ہوسکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود کی کتب میں وہ روشنی اور وہ معارف ہیں جو قرآن کریم میں مخفی طور پر بیان ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے ان کی اپنی کتب میں تشریح فرمائی ہے حتیٰ کہ ایک ادنیٰ لیاقت کا آدمی بھی انہیں سمجھ سکتا ہے۔ اس وجہ سے آپ کی کتب میں بھی وہ نور اور ہدایت ہے جو قرآن کریم میں ہے۔“
(تقریر دلپذیر صفحہ 25 مندرجہ انوار العلوم جلد 10 صفحہ 92، 93 از مرزا بشیر الدین محمود)
(عکس صفحہ نمبر 697 پر)
مرزا قادیانی کی کتابیں قرآن کی تفسیر ہیں
(203) ”تم بے شک ظاہری علوم پڑھو مگر دین کا علم ضرور حاصل کرو اور اپنے اندر دین کی باتیں سمجھنے اور اخذ کرنے کا ملکہ پیدا کرو۔ اس کے لیے ایک تو قرآن کریم سیکھو اور دوسرے حضرت صاحب کی کتابیں پڑھو اور خوب یاد رکھو کہ حضرت صاحب کی کتابیں قرآن کی تفسیر ہیں۔ کل میں ان کے متعلق ایک خاص نکتہ بتاؤں گا، آج صرف اتنا ہی کہتا ہوں کہ وہ قرآن کی تفسیر ہیں، ان کو پڑھو۔“
(اصلاح نفس صفحہ 95 مندرجہ انوار العلوم جلد 5 صفحہ 447 از مرزا بشیر الدین محمود)
(عکس صفحہ نمبر 699 پر)
مرزا قادیانی کا طرز تحریر
(204) ”حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے 10، جولائی 1931ء کو جماعت کے مصنفوں، اخبار نویسوں اور مضمون نگاروں کو یہ اہم تحریک فرمائی کہ وہ حضرت مسیح موعود کی طرز تحریر اپنائیں تا ہمارے جماعتی لٹریچر ہی میں اس کا نقش قائم نہ ہو بلکہ دنیا کے ادب کا رنگ ہی اس میں ڈھل جائے۔ چنانچہ حضور نے فرمایا:
’’حضرت مسیح موعود کے وجود سے دنیا میں جو بہت سی برکات ظاہر ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی برکت آپ کا طرز تحریر بھی ہے۔ جس طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے الفاظ جو ان کے حواریوں نے جمع کیے ہیں یا کسی وقت بھی جمع ہوئے، ان سے آپ کا ایک خاص طرز انشا ظاہر ہوتا ہے اور بڑے بڑے ماہرین تحریر اس کی نقل کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
اسی طرح حضرت مسیح موعود کا طرز تحریر بھی بالکل جدا گانہ ہے اور اس کے اندر اس قسم کی روانی، زور اور سلاست پائی جاتی ہے کہ باوجود سادہ الفاظ کے، باوجود اس کے کہ وہ ایسے مضامین پر مشتمل ہے جن سے عام طور پر دنیا ناواقف نہیں ہوتی اور باوجود اس کے کہ انبیا کا کلام مبالغہ، جھوٹ اور نمائشی آرائش سے خالی ہوتا ہے، اس کے اندر ایک ایسا جذب اور کشش پائی جاتی ہے کہ جوں جوں انسان اسے پڑھتا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے الفاظ سے بجلی کی تاریں نکل نکل کر جسم کے گرد لپٹتی جارہی ہیں اور یہ انتہا درجہ کی ناشکری اور بے قدری ہوگی، اگر ہم اس عظیم الشان طرز تحریر کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے طرز تحریر کو اس کے مطابق نہ بنائیں۔‘‘
نیز فرمایا:
’’پس میں اپنی جماعت کے مضمون نگاروں اور مصنفوں سے کہتا ہوں کہ کسی کی فتح کی علامت یہ ہے کہ اس کا نقش دنیا میں قائم ہو جائے۔ پس جہاں حضرت مسیح موعود کا نقش قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے، آپ کے اخلاق کو قائم کرنا اس کے ذمہ ہے۔ آپ کے دلائل کو قائم رکھنا ہمارے ذمہ ہے۔ آپ کی قوت قدسیہ اور قوت اعجاز کو قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے۔ آپ کے نظام کو قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے وہاں آپ کے طرز تحریر کو قائم رکھنا بھی جماعت کے ذمہ ہے۔‘‘
اس ضمن میں حضور نے اپنا تجربہ بتایا کہ:
’’میں نے ہمیشہ یہ قاعدہ رکھا ہے۔ خصوصاً شروع میں جب مضمون لکھا کرتا تھا۔ پہلا مضمون جو میں نے تشحیذ میں لکھا، وہ لکھنے سے قبل میں نے حضرت مسیح موعود کی تحریروں کو پڑھا، تاکہ اس رنگ میں لکھ سکوں اور آپ کی وفات کے بعد جو کتاب میں نے لکھی، اس سے پہلے آپ کی تحریروں کو پڑھا اور میرا تجربہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس سے میری تحریر میں ایسی برکت پیدا ہوئی کہ ادیبوں سے بھی میرا مقابلہ ہوا اور اپنی قوت ادبیہ کے باوجود انہیں نیچا دیکھنا پڑا۔‘‘ (روزنامہ الفضل 16 جولائی 1931ء صفحہ 5)
(قادیانی روزنامہ الفضل چناب نگر، 8 ستمبر 2007ء) (عکس صفحہ نمبر 700 پر)
۞........۞........۞
ثبوت حاضر ہیں!
مرزا قادیانی
بحیثیت
ایک طبیب
آنجہانی مرزا قادیانی مدعی نبوت و رسالت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک طبیب ہونے کا دعوے دار بھی تھا۔ جس طرح اس کی پیغمبری ہر قسم کے پیغام سے خالی تھی، اسی طرح اس کی طب بھی ہر قسم کی حکمت سے خالی تھی۔ ”نیم حکیم خطرہ جاں“ کی ضرب المثل اس پر پوری طرح صادق آتی تھی۔ بالکل اس شخص کی طرح جس نے اپنے دوست سے کہا تھا: یار! میری بھینس بہت بیمار ہے۔ دوست نے جواب دیا: اسے ایک بوتل مٹی کا تیل پلا دو۔ وہ شخص اپنے گھر گیا اور بھینس کو مٹی کا تیل پلا دیا۔ چند منٹوں بعد بھینس مر گئی۔ وہ شخص بھاگم بھاگ اپنے دوست کے پاس واپس آیا اور پریشانی کے عالم میں بولا: یار! میں نے تمھارے تجویز کردہ نسخہ کے مطابق بھینس کو مٹی کا تیل پلایا لیکن وہ تو منٹوں میں مر گئی۔ دوست نے بڑی بے نیازی سے جواب دیا: ”میری بھینس بھی اسی طرح مر گئی تھی۔“
مرزا قادیانی ایک دائم المرض آدمی تھا جسے بیسیوں بیماریاں لاحق تھیں جو اس کے جسم پر ناسور بن کر ہمہ وقت کرکٹ میچ کھیلتی رہتی تھیں۔ بھلا سوچیے! ایسا شخص دوسروں کا کیا علاج کر سکتا ہے؟ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے اور دوسروں کے علاج میں استعمال ہونے والی اشیا وغیرہ میں حلال و حرام کی تمیز نہ کرتا تھا۔ جبکہ شافع محشر حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”حرام چیزوں سے علاج نہ کیا جائے۔“ اور ایک دوسری حدیث مبارکہ ہے: ”اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں میں شفا نہیں رکھی جنھیں تم پر حرام کر دیا گیا ہے۔“ یاد رہے مرزا قادیانی جو ادویات استعمال کرتا، ان میں شراب، افیون، بھنگ اور دھتورہ وغیرہ کا خوب استعمال ہوتا۔ بقول مرزا قادیانی طب کا علم اس نے اپنے والد غلام مرتضیٰ سے حاصل کیا جو نہایت حاذق طبیب تھا۔ ظاہر ہے جیسا سوتا، ویسا ہی دھارا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا طریقہ علاج کیا تھا؟
حکمت کی کتابیں، تفسیر قرآن ہیں
مرزا قادیانی اپنے ایک کشف میں لکھتا ہے:
(205) ”ایک دفعہ مجھے بعض محقق اور حاذق طبیبوں کی بعض کتابیں کشفی رنگ میں دکھلائی گئیں جو طب جسمانی کے قواعد کلیہ اور اصول علمیہ اور ستہ ضروریہ وغیرہ کی بحث پر مشتمل اور متضمن تھیں، جن میں طبیب حاذق قرشی کی کتاب بھی تھی۔ اور اشارہ کیا گیا کہ یہی تفسیر قرآن ہے...... اور جب میں نے ان کتابوں کو پیش نظر رکھ کر جو طب جسمانی کی کتابیں تھیں، قرآن شریف پر نظر ڈالی تو وہ عمیق در عمیق طب جسمانی کے قواعد کلیہ کی باتیں نہایت بلیغ پیرایہ میں قرآن شریف میں موجود پائیں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 628، 629 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 701 پر)
View Proof
مرزا قادیانی کی علم طب میں دسترس
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:
(206) ”خاکسار عرض کرتا ہے، کہ طبابت کا علم ہمارا خاندانی علم ہے اور ہمیشہ سے ہمارا خاندان اس علم میں ماہر رہا ہے۔ دادا صاحب نہایت ماہر اور مشہور حاذق طبیب تھے۔ تایا صاحب نے بھی طب پڑھی تھی۔ حضرت مسیح موعود بھی علم طب میں خاصی دسترس رکھتے تھے۔ اور گھر میں ادویہ کا ایک ذخیرہ رکھا کرتے تھے۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 703 پر)
View Proof
کچلہ کونین فولاد
(207) ”مفتی محمد صادق صاحب نے بیان کیا:
حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ایک صاحب جو غالباً ریاست جیند کے رہنے والے تھے، بیمار ہو کر علاج کے واسطے قادیان آئے، اور پیر سراج الحق صاحب کے مکان پر انھوں نے قیام کیا۔ پیر صاحب نے ان کی سفارش حضرت صاحب سے کی کہ یہ بیمار رہتے
ہیں۔ حضور ان کے لیے دعا کریں۔ حضور نے ان کے لیے دعا کی تو حضور کو الہام ہوا:
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 674 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 704 پر)
یعنی کچلہ کھائیں اور قبرستان جائیں!
نیم حکیم، خطرہ جان
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- (208) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ علاج کے معاملہ میں حضرت
مسیح موعود کا طریق تھا کہ کبھی ایک قسم کا علاج نہ کرتے تھے، بلکہ ایک ہی بیماری میں انگریزی دوا بھی دیتے رہتے تھے اور ساتھ ساتھ یونانی بھی دیتے جاتے تھے۔ پھر جو کوئی شخص مفید بات کہہ دے اس پر بھی عمل کرتے تھے۔ اور اگر کسی کو خواب میں کچھ معلوم ہوا تو اس پر بھی عمل فرماتے تھے۔ پھر ساتھ ساتھ دعا بھی کرتے تھے۔ اور ایک ہی وقت میں ڈاکٹروں اور حکیموں سے مشورہ بھی لیتے تھے اور طب کی کتاب دیکھ کر بھی علاج میں مدد لیتے تھے۔ غرض علاج کو ایک عجیب رنگ کا مرکب بنا دیتے تھے۔ اور اصل بھروسہ آپ کا خدا پر ہوتا تھا۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 270 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 705 پر)
عجیب مماثلت ہے۔ مرزا قادیانی کے دعاوی بھی مرکب، خاندان بھی مرکب، اور اب طب بھی مرکب۔ میرے خیال میں یہ طریقہ علاج نہیں بلکہ چوں چوں کا ”مرکب“ ہے۔ ایک ایسا شخص جسے (نعوذ باللہ) سب نبیوں اور رسولوں سے افضل ہونے کا دعویٰ ہے، فن طبابت میں بالکل ناکام ہے۔ معمولی علم رکھنے والا ہر شخص بھی یہ بات جانتا ہے کہ کسی مریض کا ایک ہی وقت میں ایلو پیتھک اور یونانی علاج نہیں کیا جاتا۔ اس سے فائدہ کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔ لیکن کیا کیا جائے اس کے بغیر بھینس مرتی بھی تو نہیں۔
پیغمبری ادویات
- (209) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مفصلہ ذیل ادویات
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہمیشہ اپنے صندوق میں رکھتے تھے اور انہی کو زیادہ استعمال کرتے تھے۔ انگریزی ادویہ میں کونین، ایسٹن سیرپ، فولاد، ارگٹ، وائنم اپی کاک، کوکا اور کولا کے مرکبات، سپرٹ ایمونیا، بیدمشک، سٹرس وائن آف کاڈلیور آئل، کلوروڈین کافل پل سلفیورک ایسڈ ایرومیٹک۔ سکاٹس ایملسن رکھا کرتے تھے اور یونانی میں سے مشک، عنبر، کافور، ہینگ، جدوار، اور ایک مرکب جو خود تیار کیا تھا یعنی تریاق الہی رکھا کرتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ ہینگ غربا کی مشک ہے اور فرماتے تھے کہ افیون میں عجیب و غریب فوائد ہیں۔ اسی لیے اسے حکما نے تریاق کا نام دیا ہے۔ ان میں سے بعض دوائیں اپنے لیے ہوتی تھیں اور بعض دوسرے لوگوں کے لیے۔ کیونکہ اور لوگ بھی حضور کے پاس دوا لینے آیا کرتے تھے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 284 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 706 پر)
View Proof
ممنوعہ چیزیں ”بھنگ دھتورہ افیون“ سب جائز
(210) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے سل دق کے مریض کے لیے ایک گولی بنائی تھی۔ اس میں کونین اور کافور کے علاوہ افیون، بھنگ اور دھتورہ وغیرہ زہریلی ادویہ بھی داخل کی تھیں اور فرمایا کرتے تھے کہ دوا کے طور پر علاج کے لیے اور جان بچانے کے لیے ممنوع چیز بھی جائز ہو جاتی ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 111 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 707 پر)
View Proof
افیون
(211) ”مجھے اس وقت اپنا سرگزشت قصہ یاد آتا ہے اور وہ یہ کہ مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ روز پیشاب آتا ہے اور بعض وقت سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آتا ہے بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر ہے، کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے اور کثرت پیشاب سے بہت ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لیے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ
ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لیے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی اور دوسرا افیونی۔“
(”نسیم دعوت“ صفحہ 67، روحانی خزائن صفحہ 434، 435 جلد 19 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 708 پر)
- افیون دواؤں میں اس کثرت سے استعمال ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا
قادیانی) فرمایا کرتے تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک وہ نصف طب ہے۔ پس دواؤں کے ساتھ افیون کا استعمال بطور دواء نہ کہ بطور نشہ کسی رنگ میں بھی قابل اعتراض نہیں۔ ہم میں سے ہر ایک شخص نے علم کے ساتھ یا بغیر علم کے ضرور کسی نہ کسی وقت افیون کا استعمال کیا ہوگا۔ حضرت مسیح موعود نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نور الدین صاحب) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔
(مضمون میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد 17 نمبر 6 صفحہ 2
مورخہ 19 جولائی 1929ء)
(212) ”مجھے بچپن میں بیماری کی وجہ سے افیون دیتے تھے۔ چھ ماہ متواتر دیتے رہے۔“
(”منہاج الطالبین“ صفحہ 74، مندرجہ انوار العلوم جلد 9 صفحہ 220، از مرزا بشیر الدین محمود)
(عکس صفحہ نمبر 710 پر)
سنکھیا
- ”جب مخالفت زیادہ بڑھی اور حضرت مسیح موعود کو قتل کی دھمکیوں کے خطوط موصول
ہونے شروع ہوئے تو کچھ عرصے تک آپ نے سنکھیا کے مرکبات استعمال کیے تا کہ خدانخواستہ آپ کو زہر دیا جائے تو جسم میں اس کے مقابلے کی طاقت ہو۔“
(ارشاد میاں محمود احمد صاحب، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان،
جلد 22، نمبر 99، صفحہ 4، مورخہ 5 فروری 1935ء)
دو بوتل برانڈی
- ”حضور (مرزا قادیانی) نے مجھے لاہور سے بعض اشیا لانے کے لیے ایک فہرست
لکھ کر دی۔ جب میں چلنے لگا تو پیر منظور محمد صاحب نے مجھے روپیہ دے کر کہا کہ دو بوتل برانڈی کی میری اہلیہ کے لیے پلومر کی دکان سے لیتے آئیں۔ میں نے کہا کہ اگر فرصت ہوئی تو لیتا آؤں گا۔ پیر صاحب فوراً حضرت اقدس کی خدمت میں گئے اور کہا کہ حضور مہدی حسین میرے لیے برانڈی کی بوتل نہیں لائیں گے۔ حضور ان کو تاکید فرما دیں۔ حقیقۃً میرا ارادہ لانے کا نہ تھا۔ اس پر حضور اقدس (مرزا قادیانی) نے مجھے بلا کر فرمایا کہ میاں مہدی حسین! جب تک تم برانڈی کی بوتلیں نہ لے لو، لاہور سے روانہ نہ ہونا۔ میں نے سمجھ لیا کہ اب میرے لیے لانا لازمی ہے۔ میں نے پلومر کی دکان سے دو بوتلیں برانڈی کی غالباً چار روپیہ میں خرید کر پیر صاحب کو لا دیں۔ ان کی اہلیہ کے لیے ڈاکٹروں نے بتلائی ہوں گی۔“
(اخبار ”الحکم“ قادیان، جلد 39، نمبر 25، مورخہ 7 نومبر 1936ء)
ٹانک وائن
محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! (213) ”اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیا خریدنی خود خرید دیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں مگر ٹانک وائن چاہیے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام (مرزا غلام احمد)
(خطوط امام بنام غلام، صفحہ 5، مجموعہ مکتوبات، مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، بنام حکیم محمد حسین
قریشی صاحب قادیانی، مالک دواخانہ رفیق الصحت لاہور) (عکس صفحہ نمبر 711 پر)
- ”ٹانک وائن کی حقیقت لاہور میں پلومر کی دکان سے ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی
معرفت معلوم کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جواباً تحریر فرماتے ہیں حسب ارشاد پلومر کی دکان سے دریافت کیا گیا، جواب حسب ذیل ملا: ”ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند
بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ڈیڑھ روپیہ ہے۔“ (21 ستمبر 1933ء)
(”سودائے مرزا، صفحہ 39، حاشیہ، طبع دوم، مصنفہ حکیم محمد علی صاحب، پرنسپل طبیہ کالج امرتسر)
ٹانک وائن کا فتویٰ
- ❑ ”پس ان حالات میں اگر حضرت مسیح موعود برانڈی اور رم کا استعمال بھی اپنے
مریضوں سے کرواتے یا خود بھی مرض کی حالت میں کر لیتے تو وہ خلاف شریعت نہ تھا۔ چہ جائیکہ ٹانک وائن جو ایک دوا ہے۔ اگر اپنے خاندان کے کسی ممبر یا دوست کے لیے جو کسی لمبے مرض سے اٹھا ہو اور کمزور ہو یا بالفرض محال خود اپنے لیے بھی منگوائی ہو اور استعمال بھی کی ہو تو اس میں کیا حرج ہو گیا۔ آپ کو ضعف کے دورے ایسے شدید پڑتے تھے کہ ہاتھ پاؤں سرد ہو جاتے تھے، نبض ڈوب جاتی تھی۔ میں نے خود ایسی حالت میں آپ کو دیکھا ہے۔ نبض کا پتہ نہیں ملتا تھا تو اطبا یا ڈاکٹروں کے مشورے سے آپ نے ٹانک وائن کا استعمال اندریں حالات کیا ہو تو عین مطابق شریعت ہے۔ آپ تمام تمام دن تصنیفات کے کام میں لگے رہتے تھے۔ راتوں کو عبادت کرتے تھے۔ بڑھاپا بھی پڑتا تھا تو اندریں حالات اگر ٹانک وائن بطور علاج پی بھی لی ہو تو کیا قباحت لازم آ گئی۔“
(از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی، فریق لاہوری، مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ جلد 23، نمبر 15،
مورخہ 4 مارچ 1935ء، جلد 23، نمبر 65، مورخہ 11 اکتوبر 1935ء)
حالتِ مردی
(214) ”ایک ابتلا مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا، اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا، میری حالتِ مردی کالعدم تھی، اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لیے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے...... غرض اس ابتلا کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی، اور مجھے اس نے دفع مرض کے لیے اپنے الہام کے
ذریعہ سے دوائیں بتلائیں۔ اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوائیں میں نے تیار کی اور اس میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کیا کہ وہ پُرصحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے، وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطا کیے گئے۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 98، 99 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 712 پر)
View Proof
قادیانی ویاگرا
(215) ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حافظ حامد علی صاحب خادم حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بیان کرتے تھے کہ جب حضرت صاحب نے دوسری شادی کی تو ایک عمر تک تجرد میں رہنے اور مجاہدات کرنے کی وجہ سے آپ نے اپنے قویٰ میں ضعف محسوس کیا۔ اس پر وہ الہامی نسخہ جو ’’زوجام عشق‘‘ کے نام سے مشہور ہے، بنوا کر استعمال کیا۔ چنانچہ وہ نسخہ نہایت ہی بابرکت ثابت ہوا۔ حضرت خلیفۃ اول بھی فرماتے تھے کہ میں نے یہ نسخہ ایک بے اولاد امیر کو کھلایا تو خدا کے فضل سے اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس پر اس نے ہیرے کے کڑے ہمیں نذر دیئے۔
نسخہ زوجام عشق یہ ہے جس میں ہر حرف سے دوا کے نام کا پہلا حرف مراد ہے۔ زعفران، دار چینی، جائفل (جند بیدستر) افیون، مشک، عقر قرحا، شنگرف، قرنفل یعنی لونگ، ان سب کو ہم وزن کوٹ کر گولیاں بناتے ہیں اور روغن سم الفار میں چرب کر کے رکھتے ہیں اور روزانہ ایک گولی استعمال کرتے ہیں۔
الہامی ہونے کے متعلق دو باتیں سنی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ نسخہ ہی الہام ہوا تھا۔ دوسرے یہ کہ کسی نے یہ نسخہ حضور کو بتایا، اور پھر الہام نے اسے استعمال کرنے کا حکم دیا۔ واللہ اعلم!‘‘
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 50، 51 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 714 پر)
View Proof
داماد اور قوت باہ
(216) محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! کسی قدر تریاق جدید کی گولیاں بدست مرزا خدا بخش صاحب آپ کی خدمت میں ارسال ہیں اور کسی قدر اس وقت دے دوں گا جب آپ قادیان آئیں گے۔ یہ دوا تریاق الٰہی سے فوائد میں بہت بڑھ کر ہے۔ اس میں بڑی بڑی قابل قدر دوائیں پڑی ہیں۔ جیسے مشک، عنبر، زہبی، مروارید، سونے کا کشتہ، فولاد، یاقوت احمر، کونین، فاسفورس، کہربا، مرجان، صندل، کیوڑہ، زعفران۔ یہ تمام دوائیں قریب سو کے ہیں اور بہت سا فاسفورس اس میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ دوا علاج طاعون کے علاوہ مقوی دماغ، مقوی جگر، مقوی معدہ، مقوی باہ اور مراق کو فائدہ کرنے والی مصفی خون ہے۔ مجھ کو اس کے تیار کرنے میں اول تامل تھا کہ بہت سے روپیہ پر اس کا تیار کرنا موقوف تھا لیکن چونکہ حفظ صحت کے لیے یہ دوا مفید ہے، اس لئے اس قدر خرچ گوارا کیا گیا۔ چالیس تولہ سے کچھ زیادہ اس میں یاقوت احمر ہے۔ اگر خریدا جاتا تو شاید کئی سو روپیہ سے آتا.............
خوراک اس کی اول استعمال میں دو رتی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تا کہ گرمی نہ کرے۔ نہایت درجہ مقوی اعصاب ہے اور خارش اور بثورات اور جذام اور ذیابیطس اور انواع واقسام کے خطرناک امراض کے لیے مفید ہے اور قوت باہ میں اس کا ایک عجیب اثر ہے۔“
(خاکسار مرزا غلام احمد 29 اگست 1899ء)
(مرزا قادیانی کا اپنے داماد نواب محمد علی کے نام، مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 250 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 716 پر)
View Proof
بھنگ، افیون شراب کے بہن بھائی ہیں
(217) ہر ایک شے کے لیے چالیس دن ہی ہیں۔ بات یہ ہے کہ شراب اور اُس کے بہن بھرا (بھنگ، افیون وغیرہ) ایسی خراب شے ہیں کہ ان سے مٹی پلید ہوتی ہے۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 423 طبع جدید از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 717 پر)
View Proof
”دست شریف“ میں دودھ کا استعمال
(218) ”دودھ کا استعمال آپ اکثر رکھتے تھے اور سوتے وقت تو ایک گلاس ضرور پیتے تھے اور دن کو بھی پچھلے دنوں میں زیادہ استعمال فرماتے تھے کیونکہ یہ معمول ہو گیا تھا کہ ادھر دودھ پیا اور ادھر دست آ گیا۔ اس لیے بہت ضعف ہوتا جاتا تھا۔ اس کے دور کرنے کو دن میں تین چار مرتبہ تھوڑا تھوڑا دودھ طاقت قائم کرنے کو پی لیا کرتے تھے۔“
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 134 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 718 پر)
علم طب کی رُو سے دستوں کے دوران دودھ استعمال کرنا نہایت مضر صحت ہے۔ مگر مرزا قادیانی تو دست بہ دست ”جنگ مقدس“ کا ماہر تھا۔
سوڈا وغیرہ
(219) ”زمانہ موجودہ کے ایجادات مثلاً برف اور سوڈا لیمونیڈ جنجر وغیرہ بھی گرمی کے دنوں میں پی لیا کرتے تھے بلکہ شدت گرمی میں برف بھی امرتسر لاہور سے خود منگوالیا کرتے تھے۔“
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 134 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 719 پر)
تریاق الٰہی؟
(220) ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے طاعون کے ایام میں ایک دوائی تریاق الٰہی تیار کرائی تھی۔ حضرت خلیفہ اوّل نے ایک بڑی تھیلی یاقوتوں کی پیش کی۔ وہ بھی سب پسوا کر اس میں ڈلوا دیے۔ لوگ کوٹتے پیستے تھے۔ آپ اندر جا کر دوائی لاتے اور اس میں ملاتے جاتے تھے۔ کونین کا ایک بڑا ڈبہ لائے اور وہ بھی سب اسی کے اندر الٹا دیا۔ اسی طرح وائینم اپی کاک کی ایک بوتل لا کر ساری الٹ دی۔ غرض دیسی اور انگریزی اتنی دوائیاں ملا دیں کہ حضرت خلیفہ اوّل فرمانے لگے کہ طبی طور پر تو اب اس مجموعہ میں کوئی جان اور اثر نہیں رہا۔ بس روحانی اثر ہی ہے۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 218 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 720 پر)
اور جہاں تک روحانی اثر کا تعلق ہے، مندرجہ ذیل حوالہ ملاحظہ فرمائیں:
شربت کی جگہ تیل
(221) ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کی اولاد میں آپ کی لڑکی عصمت ہی صرف ایسی تھی جو قادیان سے باہر پیدا ہوئی اور باہر ہی فوت ہوئی۔ اس کی پیدائش انبالہ چھاؤنی کی تھی اور فوت وہ لدھیانہ میں ہوئی۔ اسے ہیضہ ہوا تھا۔ اس لڑکی کو شربت پینے کی عادت پڑ گئی تھی، یعنی وہ شربت کو پسند کرتی تھی۔ حضرت مسیح موعود اس کے لیے شربت کی بوتل ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ رات کو وہ اٹھا کرتی تو کہتی ابا شربت پینا۔ آپ فوراً اٹھ کر شربت بنا کر اسے پلا دیا کرتے تھے۔ ایک روز لدھیانہ میں اس نے اسی طرح رات کو اٹھ کر شربت مانگا۔ حضرت صاحب نے اسے شربت کی جگہ غلطی سے چنبیلی کا تیل پلا دیا۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 259 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 721 پر)
View Proof
حالانکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
(222) ”اللہ تعالیٰ مجھے غلطی پر ایک لمحہ بھی باقی نہیں رہنے دیتا، اور مجھے ہر ایک غلط بات سے محفوظ رکھتا ہے۔“
(نور الحق صفحہ 86 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 272 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 722 پر)
View Proof
کھانسی کا علاج
(223) ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی۔ ایسی کہ دم نہ آتا تھا۔ البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی، تاکہ آرام سے پڑھ سکیں۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 103 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 723 پر)
View Proof
گنے سے کھانسی کا علاج
(224) ”سفر گورداسپور میں 1903ء میں ایک دفعہ حضرت صاحب کو کھانسی کی شکایت تھی۔ میں نے عرض کی کہ میرے والد مرحوم اس کا علاج گرم کیا ہوا گنا بتلایا کرتے تھے۔ تب حضور کے فرمانے سے ایک گنا چند پوریاں لے کر آگ پر گرم کیا گیا اور اس کی گنڈیریاں بنا کر حضور کو دی گئیں اور حضور نے چوسیں۔“
(ذکر حبیب صفحہ 111 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 724 پر)
View Proof
پھوڑے کا علاج
(225) ”حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے ٹخنے کے پاس پھوڑا ہو گیا تھا۔ جس پر حضرت صاحب نے اس پر سکہ یعنی سیسہ کی ٹکیا بندھوائی تھی جس سے آرام آ گیا۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 28 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 725 پر)
View Proof
بال بڑھانے کی دوا
(226) ”آخری عمر میں حضور کے سر کے بال بہت پتلے اور ہلکے ہو گئے تھے۔ چونکہ یہ عاجز ولایت سے ادویہ وغیرہ کے نمونے منگوایا کرتا تھا۔ غالباً اس واسطے مجھے ایک دفعہ فرمایا۔ مفتی صاحب سر کے بالوں کے اگانے اور بڑھانے کے واسطے کوئی دوائی منگوائیں۔“
(ذکر حبیب صفحہ 173 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 726 پر)
View Proof
مفت پر
(227) ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! جزاکم اللہ خیراً کثیرا فی الدنیا والآخرۃ۔ دوا پہنچ گئی۔ ایک اشتہار بالوں کی کثرت کا شاید لندن میں کسی نے دیا ہے، اور مفت دوا بھیجتا ہے۔ آپ وہ دوا بھی منگوالیں
تا کہ آزمائی جائے ۔ لکھتا ہے کہ اس سے گنجے بھی شفا پاتے ہیں۔ والسلام‘‘ مرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ
(ذکر حبیب صفحہ 360 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 727 پر)
View Proof
چچازاد بھائی سے علاج
(228) ’’ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کا ایک چچیرا بھائی مرزا کمال الدین تھا۔ یہ شخص جوانی میں فقرا کے پھندے میں پھنس گیا تھا۔ (شکر ہے آپ کے دھندے میں نہیں پھنسا۔ ناقل) اس لیے دنیا سے کنارہ کش ہو کر بالکل گوشہ گزین ہو گیا۔ مگر وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح حضرت صاحب سے پرخاش نہ رکھتا تھا۔ علاج معالجہ اور دم تعویذ بھی کیا کرتا تھا، اور بعض عمدہ عمدہ نسخے اس کو یاد تھے۔ چنانچہ ہماری والدہ صاحبہ میاں محمد اسحاق کے علاج کے لیے ان سے ہی گولیاں اور ادویہ وغیرہ منگایا کرتی تھیں اور حضرت صاحب کو بھی اس کا علم تھا۔ آپ بھی فرماتے تھے کہ کمال الدین کے بعض نسخے اچھے ہیں۔‘‘
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 234 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 728 پر)
یعنی گھر والے بھی مرزا قادیانی کی طبابت پر یقین نہ رکھتے تھے اور دوسروں سے علاج کرواتے تھے۔ اور جب کبھی کوئی طبیب نہ ملتا تو پھر مجبوراً وہ مرزا قادیانی سے علاج کرواتے۔ اور مرزا قادیانی کس طرح علاج کرتا تھا، ملاحظہ فرمائیں: View Proof
مرغا ذبح کر کے......
(229) ’’حضرت والدہ صاحبہ یعنی ام المومنین اطال اللہ بقائہا نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مرزا نظام الدین صاحب کو سخت بخار ہوا، جس کا دماغ پر بھی اثر تھا۔ اس وقت کوئی اور طبیب یہاں نہیں تھا۔ مرزا نظام الدین صاحب کے عزیزوں نے حضرت صاحب کو اطلاع دی اور آپ فوراً وہاں تشریف لے گئے اور مناسب علاج کیا۔ علاج یہ تھا کہ آپ نے مرغا ذبح کرا کے سر پر باندھا، جس سے فائدہ ہو گیا۔ اس وقت باہمی سخت مخالفت تھی۔‘‘
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 27 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 729 پر)
View Proof
زیادہ بہتر تھا زندہ مرغ ہی سر پر بندھوا دیتے تاکہ بے چارے مرغ کی جان تو بچ جاتی.......... نیز اس بہانے مرزا نظام الدین کی سماعتیں مرغ کی بانگ سے بھی مستفیض ہو جاتیں۔ قربان جائیں ایسی طبابت پر!
رسوا کن باتیں
- (230) ”لا ابقی لک فی المخزیات ذکراً
اور اس (اللہ تعالیٰ) نے مجھے بشارت دی اور فرمایا، میں تیرے متعلق رسوا کن باتوں کا ذکر تک نہیں چھوڑوں گا۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 371 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 730 پر)
ثبوت حاضر ہیں!
مرزا قادیانی
اور
شاعری
مرزا قادیانی کی ادبی لیاقت بالکل زیرو تھی۔ شعر و نثر میں مخالفین کو موٹی موٹی گالیاں دینا اس کی ”سلطان القلمی“ کا شرمناک نمونہ ہے۔ قواعد، عروض اور محاورات کا موصوف کو کچھ خیال نہ تھا۔ اس کی کوئی نظم کسی بھی معمولی شاعر کے سامنے رکھی جائے تو تخلیقیت کے وصف اور ادبیت کے جوہر کے لحاظ سے بالکل شاخ بے برگ نظر آتی ہے۔ اس نے شاعری کے میدان میں ایسے ایسے گل کھلائے ہیں کہ ان کی موجودگی میں اس کے پیروکار ہمیشہ شرمندہ نظر آئیں گے۔ مرزا قادیانی نے شاعری کا وہ ستیاناس کیا کہ علم عروض کے ماتھے پر یہ جناب کلنک کا ٹیکہ ہیں۔
یہ بات مسلمہ اصول میں شامل ہے کہ نبی شاعر نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:
- ❑ ”وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ (یٰسین: 69)
(ترجمہ): اور نہیں سکھایا ہم نے اپنے نبی کو شعر اور نہ یہ ان کے شایانِ شان ہے۔ اور اسی طرح قرآن کے بارے میں فرمایا:
- ❑ ”وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ“ (الحاقہ: 41)
”اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں۔“
لیکن مرزا قادیانی نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود شاعر تھا۔ اس کی شاعری ”فحش ادب“ کا ایک اہم تر نمونہ ہے۔ وہ اپنی ”ناموزوں“ شاعری میں عورت کو خواہ مخواہ برہنہ کر کے اپنی شاعری میں گھسیٹ لاتا ہے اور یہ سب کچھ اس کے خبیث باطن کا کرشمہ ہے۔ مرزا قادیانی ایک آوارہ مزاج اور بدقماش شاعر تھا جو اپنی پوری رذالتوں کے ساتھ خیر کے نام پر شر پھیلاتا رہا۔ اس کی شاعری ہر قادیانی گھرانے میں موجود ہے جسے بڑی محبت اور شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے قادیانی لڑکے اور لڑکیاں پاکیزگی اور ناپاکی میں کیا
فرق کر سکتے ہیں۔ بصیرت سے محروم یہ نسل، جہالت کی تاریکی میں مخصوص ”قادیانی کارنامے“ انجام دے کر خوشی سے پھولے نہیں سماتی۔
مرزا قادیانی ”شاعر اور شاعری“ کے بارے میں لکھتا ہے:
(231) ”کوئی شاعر اس بات کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا کہ اس کا کلام ہر ایک قسم کے کذب اور ہزل اور غیر ضروری باتوں سے پاک اور ضروری اور لابدّی امور پر احاطہ رکھتا ہے۔ پھر جبکہ شاعروں کی فضول باتوں کو وہ مراتب حاصل نہیں ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کے پاک کلام کو حاصل ہیں اور نہ اس بارے میں شاعر کچھ دم مارتے ہیں اور نہ ذمہ دار بنتے ہیں، بلکہ اپنے عجز کے آپ ہی اقراری ہیں تو کلام الٰہی کے مقابلہ پر ان کا ناچیز کلام پیش کرنا کیسی سفاہت اور نادانی ہے۔ شاعر تو اگر مر بھی جاویں تو صداقت اور راستی و ضرورت حقہ کا اپنے کلام میں التزام نہ کرسکیں۔ وہ تو بغیر فضول گوئی کے بول ہی نہیں سکتے اور ان کی ساری کل فضول اور جھوٹ پر ہی چلتی ہے۔ اگر جھوٹ نہیں یا فضول گوئی نہیں تو پھر شعر بھی نہیں۔ اگر تم ان کا فقرہ فقرہ تلاش کرو کہ کس قدر حقائق وقائق ان میں جمع ہیں۔ کس قدر راستی اور صداقت کا التزام ہے۔ کس قدر حق اور حکمت پر قیام ہے۔ کس ضرورت حقہ سے وہ باتیں ان کے منہ سے نکلی ہیں اور کیا کیا اسرار نیچرل و مابعد ان میں لپٹے ہوئے ہیں تو تمھیں معلوم ہو کہ ان تمام خوبیوں میں سے کوئی بھی خوبی ان کی مروجہ عبارات میں پائی نہیں جاتی۔ ان کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ جس طرف قافیہ ردیف ملتا نظر آیا، اسی طرف جھک گئے اور جو مضمون دل کو اچھا لگا وہی ہانک ماری۔ نہ حق اور حکمت کی پابندی ہے اور نہ فضول گوئی سے پرہیز ہے اور نہ یہ خیال ہے کہ اس کلام کے بولنے کے لیے کونسی سخت ضرورت درپیش ہے اور اس کے ترک کرنے میں کونسا سخت نقصان عائد حال ہے۔ ناحق بے فائدہ فقرہ سے فقرہ ملاتے ہیں۔ سر کی جگہ پاؤں، پاؤں کی جگہ سر لگاتے ہیں۔ سراب کی طرح چمک تو بہت ہے پر حقیقت دیکھو تو خاک بھی نہیں۔ شعبدہ باز کی طرح صرف کھیل ہی کھیل، اصلیت دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔ نادار، ناطاقت اور ناتوان اور گئے گزرے ہیں۔ آنکھیں اندھی اور اس پر عشوہ گری ان کی نسبت نہایت ہی نری کہیے تو یہ کہیے کہ وہ سب ضعیف اور ہیچ ہونے کی وجہ سے عنکبوت کی طرح ہیں اور ان کے اشعار بیتِ عنکبوت ہیں۔ ان کی نسبت خداوند کریم نے خوب فرمایا ہے وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُوْنَ o اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِيْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيْمُوْنَ o وَاَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ۔“
ترجمہ: رہے شعرا تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں۔“
(الشعراء: 224، 226)
(براہین احمدیہ جلد اول صفحہ 467 تا 469 مندرجہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 467 تا 469 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 731 تا 733 پر)
ان ساری باتوں کے برعکس مرزا قادیانی کی عشقیہ شاعری ملاحظہ فرمائیں:
(232) ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا سلطان احمد صاحب سے مجھے حضرت مسیح موعود کی ایک شعروں کی کاپی ملی ہے جو بہت پرانی معلوم ہوتی ہے۔ غالباً نوجوانی کا کلام ہے۔ حضرت صاحب کے اپنے خط میں ہے جسے میں پہچانتا ہوں۔ بعض بعض شعر بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔
ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے
کچھ مزا پایا مرے دل! ابھی کچھ پاؤ گے
تم بھی کہتے تھے کہ اُلفت میں مزا ہوتا ہے
........................................
مفت بیٹھے بٹھائے غم میں پڑے
اس کے جانے سے صبر دل سے گیا
ہوش بھی ورطۂ عدم میں پڑے
........................................
کسی صورت سے وہ صورت دکھا دے
کرم فرما کے آ او میرے جانی
بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے
کبھی نکلے گا آخر تنگ ہو کر
دلا اک بار شور و غل مچا دے
........................................
سمجھ ایسی ہوئی قدرت خدا کی
مرے بت اب سے پردہ میں رہو تم
کہ کافر ہو گئی خلقت خدا کی
تو یہ مجھ کو بھی جتلایا تو ہوتا
مری دلسوزیوں سے بے خبر ہو
مرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا
دل اپنا اس کو دوں یا ہوش یا جاں
کوئی اک حکم فرمایا تو ہوتا
اس کاپی میں کئی شعر ناقص ہیں۔ یعنی بعض جگہ مصرع اول موجود ہے۔ مگر دوسرا نہیں ہے اور بعض جگہ دوسرا ہے مگر پہلا ندارد۔ بعض اشعار نظر ثانی کے لیے بھی چھوڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اور کئی جگہ فرخ تخلص استعمال کیا ہے۔“
(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 332، 333 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ 734، 735 پر)
بھینی بھینی خوشبو
(233) ”حضرت مسیح موعود کے اردو اشعار جن کی تمام اردو لٹریچر میں کوئی نظیر موجود نہیں، جس کی بھینی بھینی خوشبو دل و دماغ کو حیات تازہ بخشتی اور روح کو فرحت پہنچاتی ہے۔“
(پیش لفظ درثمین از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 736 پر)
قادیانی ترانہ
آریوں کا اصول بھاری ہے
زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں
جس کو دیکھو وہی شکاری ہے
غیر مردوں سے مانگنا نطفہ
سخت خبث اور نابکاری ہے
غیر کے ساتھ جو کہ سوتی ہے
وہ نہ بیوی زن بازاری ہے
نام اولاد کے حصول کا ہے
ساری شہوت کی بے قراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط
یار کی اس کو آہ و زاری ہے
دس سے کروا چکی زنا لیکن
پاک دامن ابھی بچاری ہے
گھر میں لاتے ہیں اس کے یاروں کو
ایسی جورو کی پاسداری ہے
اس کے یاروں کو دیکھنے کے لیے
سیر بازار ان کی باری ہے
ہے قوی مرد کی تلاش انہیں
خوب جورو کی حق گزاری ہے“
(آریہ دھرم صفحہ 75، 76 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 75، 76 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ 737، 738 پر)
مرزا قادیانی کی شاعری سے قبض دور ہو جاتا ہے
مرزا قادیانی اپنی شاعری کے بارے میں لکھتا ہے:
- ’’اشعار میں اپنے مضامین کو بیان کرنے کی ہمیں ضرورت اس لیے پیش آئی کہ
بعض طبائع اس قسم کی ہوتی ہیں کہ ان کو نثر عبارت میں ہزار پیرایۂ لطیف میں کوئی صداقت بتائی جائے، وہ نہیں سمجھتے۔ لیکن اسی مفہوم کو اگر ایک برجستہ شعر میں منظوم کر کے سنایا جاوے تو شعر کی لطافت ان پر بہت کچھ اثر کر جاتی ہے۔ شعر کو سن کر پھڑک اٹھتے ہیں اور حق کو شعر کے ذریعہ فوراً قبول کر لیتے ہیں۔ اس کی مثال طبیب کے اس معالجۂ جسمانی کی طرح ہے کہ جب طبیب دیکھتا ہے کہ مریض کو منہ کی راہ سے اب دوا مفید نہیں ہوگی تو پھر بیمار کے لیے حقنہ تجویز کرتا ہے اور اس ذریعہ سے بیمار کی قبض دُور ہو جاتی ہے اور وہ صحت یاب ہو جاتا ہے۔ سو یہی حال ہمارے شعر سخن کا ہے۔ اور تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ بعض طبائع کے لیے مضامین شعریہ بہ نسبت مضامین نثر کے زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔ اسی لیے قرآن شریف مقفیٰ اور مسجع عبارت میں نازل ہوا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہمیں اشعار کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اکثر لوگوں کو بہت کچھ دلائل دے کر سمجھایا گیا مگر کارگر نہ ہوئے۔ لیکن جب انہوں نے اشعار پڑھے تو یہ اشعار انہی منکرین پر بہت اثر کر گئے۔ اور فوراً انہوں نے حق کو قبول کر لیا۔‘‘
(الحکم قادیان 28 اگست 7 ستمبر 1938ء صفحہ 2)
پاکیزہ جذبات عشق میں ڈوبا ہوا کلام
مرزا قادیانی کی شاعری کے متعلق قادیانی جماعت کے چوتھے خلیفہ مرزا طاہر کا کہنا ہے:
- ’’ایک ایک شعر، ایک ایک مصرعہ، ایک ایک لفظ سچائی میں ڈوبا ہوا ہے اور حقیقت
یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کا کلام ہی آپ کی سچائی کی دلیل ہے۔ کوئی سعید فطرت انسان اگر اس کلام کو سنے تو ممکن نہیں ہے کہ وہ اس کلام کے کہنے والے کے حق میں اس سچائی کی گواہی نہ دے۔ حیرت انگیز طور پر پاکیزہ جذبات عشق میں ڈوبا ہوا یہ کلام سن کر روح پر وجد طاری ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ حضرت مسیح موعود کا کلام یاد کریں اور درویشوں کی طرح گاتے ہوئے قریہ قریہ
پھریں اور اس کلام کی منادی کریں اور دنیا کو بتائیں کہ وہ آ گیا ہے جس کے آنے سے تمہاری نجات وابستہ ہے۔‘‘
(روزنامہ الفضل 28 جون 1983ء)
حیا سوز شاعری
مرزا قادیانی کی مخرب اخلاق اور حیا سوز شاعری کا مزید نمونہ ملاحظہ فرمائیں:
- (235) ’’ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود کو کئی
دفعہ یہ شعر پڑھتے سنا ہے اور فرمایا کرتے تھے کہ زبان کے لحاظ سے یہ بڑا فصیح و بلیغ شعر ہے۔
پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے لکھنؤ
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 253 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 739 پر)
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء صفحہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 240 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ 740 پر)
کجا عیسیٰ کجا دجال ناپاک
فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ مرزا قادیانی کا مذکورہ بالا شعر اس طرح پڑھتے تھے۔
اس سے بدتر غلام احمد ہے
یاد رہے کہ ابن ملجم حضرت علیؓ کا قاتل تھا۔
نسلیں ہیں میری بے شمار
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(درثمین صفحہ 123 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 741 پر)
اس شعر میں ”نسلیں ہیں میری بے شمار“ سے مراد، مرزا قادیانی کہہ رہا ہے کہ میری اتنی نسلیں ہیں جنھیں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دعویٰ مرزا قادیانی کے علاوہ شاید کسی نے نہ کیا ہو۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ براہ کرم وہ مرزا قادیانی کی چند نسلیں ضرور بتا دیں۔ مگر قادیانی حضرات شاید اس لیے شرماتے ہیں کہ وہ سب ”اداس نسلیں“ ہیں۔ (عبداللہ حسین سے معذرت کے ساتھ)۔
ہوں بشر کی جائے نفرت............
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 742 پر)
اس شعر میں مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں خاک کا کیڑا ہوں اور میں کسی انسان کی اولاد نہیں ہوں۔ البتہ میں بشر کی نفرت اور شرم والی جگہ ہوں۔ یاد رہے کہ ہر انسان کی جائے نفرت عقب اور پیش ہے۔ میں یہ فیصلہ قادیانیوں پر چھوڑتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ مرزا قادیانی کا تعلق کس علاقے سے تھا؟ قادیانی اس شعر پر اعتراض کے جواب میں کہتے ہیں کہ اس شعر میں مرزا قادیانی نے نہایت عاجزی و انکساری کا اظہار کیا ہے۔ قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ کہاں کا عجز و انکسار ہے کہ ایک آدمی، آدم زادہ ہونے سے انکار کردے اور یہ اعلان کرتا پھرے کہ میں بشر کی جائے نفرت اور عار والی جگہ ہوں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک جگہ تو مرزا قادیانی خود کو آدمیت سے خارج کر دے اور دوسری جگہ اپنے آپ کو نبیوں سے افضل قرار
دے۔ قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے نبی مرزا قادیانی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھروں کے باہر دروازوں پر موٹے حروف سے مرزا قادیانی کا مذکورہ بالا شعر لکھوائیں تاکہ اس کی عاجزی اور انکساری عام ہو جائے۔ ہے کوئی قادیانی یہ جرأت کرنے والا؟ جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
خدا کا کلام
(239) ”یہ کلام جو میں سناتا ہوں، یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے۔“
(کشتی نوح صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 95 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 743 پر)
ثبوت حاضر ہیں!
مرزا قادیانی
ایک ڈرپوک اور
بزدل شخص
Back
نبوت کی شرائط میں ہے کہ نبی انتہائی بہادر اور نڈر ہوتا ہے۔ وہ فولادی اور مضبوط اعصاب کا مالک ہوتا ہے۔ وہ اسباب پر بھروسہ کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے۔ اس کی شجاعت و بہادری کے قصے زبان زد عام ہوتے ہیں۔ وہ ایسے ایسے جانگسل کارنامے سرانجام دیتا ہے کہ اپنے تو اپنے مخالفین بھی عش عش کر اٹھتے ہیں۔ لیکن خفقان زدہ قادیان کا جھوٹا مدعی نبوت و رسالت مرزا غلام احمد قادیانی انتہائی بزدل، کمزور دل اور ڈرپوک شخصیت کا مالک تھا۔ مگر اُسے شیخ چلی کی طرح بہادر بننے کا بہت شوق تھا۔ مراق اور مالخولیا کے بخارات جب اس کے دماغ کو چڑھتے تو وہ خبط عظمت میں مبتلا ہو جاتا اور اسے جو بھی نام یا خطاب یاد آ جاتا، اسے الہام کا جامہ پہنا کر اپنے اوپر فٹ کر لیتا۔ ایسے ہی ناموں میں ان کا ایک نام ”امین الملک جے سنگھ بہادر“ بھی ہے۔ شاید اس نے اپنا یہ نام آئینہ دیکھ کر رکھا ہو۔ مرزا قادیانی ایک جگہ لکھتا ہے:
میرا نام غازی ہے
(240) ”اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔“
(نشان آسمانی صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 375 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ 744 پر)
غازی نام رکھنا رسول کریم ﷺ کی نافرمانی ہے
جبکہ دوسری جگہ لکھتا ہے: (241) ”اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے، وہ اس رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 408 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 745 پر)
ہم موت سے نہیں ڈرتے
مرزا قادیانی اپنے بہادر ہونے کے سلسلہ میں لکھتا ہے:
- (242) ”اور ہم ایسے نہیں ہیں کہ کوئی موت ہمیں خدا کی راہ سے ہٹا دے اور اگرچہ خدا کی
راہ میں ہم مجروح ہو جائیں یا ذبح کیے جائیں۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم (ضمیمہ) صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 321 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ 746 پر)
View Proof
بزدلی ایمان کی کمزوری ہے
- (243) ”ہم خدا کے مرسلین اور مامورین کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے، بلکہ سچے مومن بھی
بزدل نہیں ہوتے۔ بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔“
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 286 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 747 پر)
View Proof
- (244) مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے:
”انی لا یخاف لدی المرسلون۔ میرے قرب میں میرے رسول کسی دشمن سے نہیں ڈرا کرتے۔“
(حقیقت الوحی صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 75 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 748 پر)
View Proof
مجھے للکارنا اچھا نہیں
مرزا قادیانی کا ایک شعر ہے:
ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار و نزار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 101 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 131 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ 749 پر)
View Proof
مرزا قادیانی کا ایک اور الہام ملاحظہ فرمائیں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مرزا (246) ”ارید ماتریدون. میں وہی ارادہ کروں گا جو تمہارا ارادہ ہے۔“
(حقیقت الوحی صفحہ 109 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 109 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 750 پر)
View Proof
مرزا قادیانی کہتا ہے: (247) ”اور میرے ساتھ تو خدا تعالیٰ کے پاسبان ہیں کہ وہ میری میرے دشمنوں سے حفاظت کرتے ہیں۔“
(خطبہ الہامیہ صفحہ 64 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 110، 111 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 751 پر)
View Proof
(248) مرزا قادیانی نے مزید کہا: ”براہین احمدیہ میں میری نسبت خدا تعالیٰ کی یہ پیش گوئی ہے کہ قتل وغیرہ کے منصوبوں سے میں بچایا جاؤں گا۔“
(حقیقت الوحی صفحہ 234 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 234 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 753 پر)
View Proof
(249) مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے: ”اور خدا کی طرف سے آپ کو ایک رعب عطا ہوا تھا جس کے سامنے دلیر سے دلیر دشمن بھی کانپنے لگ جاتا تھا اور آپ ایک مجسمہ محاسن و احسان سے آراستہ کیے گئے تھے۔“
(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 138 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ 754 پر)
View Proof
مذکورہ بالا حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ:
- (1) مرزا قادیانی سکھوں کی طرح بہادر تھا۔
- (2) مرزا قادیانی کا ایک نام ”غازی“ بھی تھا۔
- (3) مرزا قادیانی کو دنیا کی کوئی طاقت کسی کام سے ہٹا نہیں سکتی تھی خواہ وہ مجروح ہوتا یا
ذبح کیا جاتا۔
- (4) مرزا قادیانی بزدل نہیں تھا کیونکہ بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔
- (5) مرزا قادیانی شیر تھا اور شیر کو للکارنا اچھا نہیں۔
- (6) مرزا قادیانی سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میں وہی کروں گا جو تیرا ارادہ ہے۔
- (7) مرزا قادیانی سے اللہ تعالیٰ کا یہ بھی وعدہ تھا کہ وہ قتل وغیرہ کے منصوبوں سے بچایا
جائے گا۔
- (8) خدا کے پاسباں مرزا قادیانی کی حفاظت کرتے تھے۔
- (9) بقول مرزا بشیر احمد، مرزا قادیانی کو خدا کی طرف سے ایسا رعب عطا ہوا تھا کہ بڑے
سے بڑے دشمن بھی اس کے سامنے کانپنے لگ جاتے تھے۔
آئیے اب دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی واقعی بہادر، دلیر اور نڈر تھا؟ کیا اسے اپنے الہامات پر پورا یقین تھا؟ اور کیا وہ جو کہتا تھا، اس پر پورا بھی اترتا تھا؟ سب سے پہلے میں قارئین کرام سے پرزور درخواست کروں گا کہ وہ مرزا قادیانی کی بہادری کے سلسلہ میں اس کا تحریر کردہ کتابچہ ”ستارہ قیصرہ“ کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ ستارہ قیصرہ ایک خط ہے جو مرزا قادیانی نے ملکہ وکٹوریہ (والیہ برطانیہ) کو لکھا۔ مرزا قادیانی نے اس خط میں ملکہ وکٹوریہ کی مبالغہ آمیز خوشامد کر کے اس کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہیں۔ ملکہ برطانیہ کی قصیدہ گوئی میں مرزا قادیانی اس حد تک آگے چلا گیا ہے کہ اسے پڑھ کر متلی ہونے لگتی ہے۔ چاپلوسی کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔ اس خط کا ایک ایک لفظ قادیانیت کی ذلت و رسوائی پر خدائی مہر ہے۔ اس خط کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نبی نہیں بلکہ ایک اعلیٰ درجے کا جھولی چک اور میراثی تھا۔ اگر وہ اس تملق بھرے کتابچے کا نام ”ستارہ قیصرہ“ کی بجائے ”بھاگ لگے رہن!“ رکھ لیتا تو زیادہ بہتر تھا۔
پادریوں کی حمایت
قادیانی اکثر پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے عیسائیت کے غلط عقائد کا جواب دیا اور اس طرح اسے کسرِ صلیب کا اعزاز
حاصل ہوا۔ لیجیے دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی عیسائیت کے غلط عقائد کے خلاف کام کرنے والوں کو کیا مشورہ دیتا ہے:
- (250) ”یہ بھی تو سوچو کہ پادری صاحبوں کا مذہب ایک شاہی مذہب ہے۔ لہٰذا ہمارے
ادب کا یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ ہم اپنی مذہبی آزادی کو ایک طفیلی آزادی تصور کریں، اور اس طرح پر ایک حد تک پادری صاحبوں کے احسان کے بھی قائل رہیں۔ گورنمنٹ اگر ان کو باز پرس کرے تو ہم کس قدر باز پرس کے لائق ٹھہریں گے۔ اگر سبز درخت کاٹے جائیں تو پھر خشک کی کیا بنیاد ہے۔ کیا ایسی صورت میں ہمارے ہاتھ میں قلم رہ سکے گی؟ سو ہوشیار ہو کر طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو اور اس محسن گورنمنٹ کو دعائیں دو جس نے تمام رعایا کو ایک ہی نظر سے دیکھا۔“
(البلاغ صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 392 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 755 پر)
زلزلہ
مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے:
- (251) ”میں ہر ایک کو جو اس گھر کی چار دیواری کے اندر ہے، بچالوں گا۔ کوئی ان میں
سے طاعون یا بھونچال سے نہیں مرے گا۔“
(حقیقت الوحی صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 97 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 756 پر)
لیکن ہوا کیا؟ مرزا قادیانی کے بیٹے کی زبانی سنیے!
- (252) ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب 1905ء کا زلزلہ آیا تو میں بچہ تھا اور نواب محمد علی
خان صاحب کے شہر والے مکان کے ساتھ ملحق حضرت صاحب کے مکان کا جو حصہ ہے، اس میں ہم دوسرے بچوں کے ساتھ چارپائیوں پر لیٹے ہوئے سو رہے تھے۔ جب زلزلہ آیا تو ہم سب ڈر کر بے تحاشا اٹھے اور ہم کو کچھ خبر نہیں تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ صحن میں آئے تو اوپر سے کنکر روڑے برس رہے تھے۔ ہم بھاگتے ہوئے بڑے مکان کی طرف آئے وہاں حضرت مسیح
موعود اور والدہ صاحبہ کمرے سے نکل رہے تھے۔ ہم نے جاتے ہی حضرت مسیح موعود کو پکڑ لیا اور آپ سے لپٹ گئے۔ آپ اس وقت گھبرائے ہوئے تھے اور بڑے صحن کی طرف جانا چاہتے تھے۔ مگر چاروں طرف بچے چمٹے ہوئے تھے۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 26 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 757 پر)
View Proof
دوسرا بیان مرزا قادیانی کا اپنا ہے:
(253) ”اور جس آنے والے زلزلہ سے میں نے دوسروں کو ڈرایا، ان سے پہلے میں آپ ڈرا اور اب تک قریباً ایک ماہ سے میرے خیمے باغ میں لگے ہوئے ہیں۔ میں واپس قادیان میں نہیں گیا۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 649 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 758 پر)
View Proof
انگریزی عدالت میں
مرزا قادیانی نے عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے 26 فروری 1899ء کو ایک اشتہار شائع کیا جس کا عنوان تھا۔ ’اپنے مریدوں کی اطلاع کے لیے۔‘ اس اشتہار میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:
اپنے مریدوں کی اطلاع کے لیے
(254) جو پنجاب اور ہندوستان اور دوسرے ممالک میں رہتے ہیں اور نیز دوسروں کے لیے اعلان جو کہ ایک مقدمہ زیر دفعہ 107 ضابطہ فوجداری مجھ پر اور مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعت السنہ پر عدالت جے۔ ایم ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور میں دائر تھا۔ بتاریخ 24 فروری 1899ء بروز جمعہ اس طرح پر اس کا فیصلہ ہوا کہ فریقین سے اس مضمون کے نوٹسوں پر دستخط کرائے گئے کہ آئندہ کوئی فریق اپنے کسی مخالف کی نسبت موت وغیرہ دل آزار مضمون کی پیشگوئی نہ کرے۔ کوئی کسی کو کافر اور دجال اور مفتری اور کذاب نہ کہے۔ کوئی کسی کو مباہلہ کے لیے نہ بلاوے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 299 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 759 پر)
View Proof
اسی اشتہار میں مزید لکھتا ہے:
آئندہ پیش گوئی سے میری توبہ
(255) ”اور ہم تو ایک عرصہ گزر گیا کہ اپنے طور پر یہ عہد شائع بھی کر چکے کہ آئندہ کسی مخالف کے حق میں موت وغیرہ کی پیشگوئی نہیں کریں گے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 300 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 760 پر)
View Proof
حج نہ کرنے کی وجہ
ایک موقع پر مرزا قادیانی پر اعتراض ہوا کہ اگر آپ مسیح موعود ہیں تو آپ حج کے لئے کیوں نہیں جاتے؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ ایسا نہ ہو کہ موقع پر لوگ مجھے قتل کردیں۔ لہٰذا جان بچانی فرض ہے۔ مزید کہا:
(256) ”تمام مسلمان علماء اوّل ایک اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ہم حج کر آئیں تو وہ سب کے سب ہمارے ہاتھ پر توبہ کر کے ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہمارے مرید ہو جائیں گے۔ اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرار حلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔“
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 248 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 761 پر)
View Proof
پولیس کا پہرہ
(257) ”حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب شروع دعویٰ مسیحیت میں دہلی تشریف لے گئے تھے اور مولوی نذیر حسین کے ساتھ مباحثہ کی تجویز ہوئی تھی، اس وقت شہر میں مخالفت کا سخت شور تھا۔ چنانچہ حضرت صاحب نے افسران پولیس کے ساتھ انتظام کر کے ایک پولیس مین کو اپنی طرف سے تنخواہ دینی کر کے مکان کی ڈیوڑھی پر پہرہ کے لیے مقرر کرالیا تھا۔ یہ پولیس مین پنجابی تھا۔ اس کے علاوہ ویسے بھی مردانہ میں کافی احمدی حضرت صاحب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے۔“
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 64 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 762 پر)
View Proof
کتا محافظ
(258) ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے گھر کی حفاظت کے لیے ایک دفعہ ایک گدی کتا بھی رکھا تھا۔ وہ دروازے پر بندھا رہتا تھا اور اس کا نام شیرو تھا۔ اس کی نگرانی بچے کرتے تھے یا میاں قدرت اللہ خان صاحب مرحوم کرتے تھے جو گھر کے دربان تھے۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 298 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 763 پر)
View Proof
مناظرہ سے فرار
مرزا قادیانی نے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو مناظرے کا چیلنج دیا تو پیر صاحب نے اس چیلنج کو مرزا قادیانی کی تمام شرائط پر قبول کر لیا۔ لیکن جب مرزا قادیانی کو پتہ چلا کہ جناب پیر صاحب مناظرہ کے لیے لاہور تشریف لا رہے ہیں تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور مقررہ تاریخ کو وہ اس مناظرہ میں نہ آیا اور پیٹھ دکھا کر بھاگ گیا۔ بعد میں اس نے مندرجہ ذیل عذر کیا:
(259) ”اور میں بہرحال لاہور پہنچ جاتا مگر میں نے سنا ہے کہ اکثر پشاور کے جاہل سرحدی پیر صاحب کے ساتھ ہیں۔ اور ایسا ہی لاہور کے اکثر سفلہ اور کمینہ طبع لوگ گلی کوچوں میں مستوں کی طرح گالیاں دیتے پھرتے ہیں اور نیز مخالف مولوی بڑے جوشوں سے وعظ کر رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ تو اس صورت میں لاہور میں جانا بغیر کسی احسن انتظام کے کس طرح مناسب ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 461 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 764 پر)
View Proof
ثبوت حاضر ہیں!
قادیان
معروف قادیانی مصنف، مورخ احمدیت، دوست محمد شاہد ”قادیان کی گمنام حالت“ کے عنوان سے لکھتا ہے:
”اُس زمانہ میں قادیان ایک انتہائی بے رونق گاؤں تھا۔ چنانچہ پیر سراج الحق نعمانی کی چشم دید شہادت ہے کہ جب آپ 1882ء میں قادیان گئے تو یہ بستی ویران پڑی تھی جس کے بازار خالی پڑے تھے اور بہت کم آدمی چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ بعض دکانیں ٹوٹی پھوٹی اور بعض غیر آباد خالی پڑی تھیں اور دو تین یا کم و بیش دکانیں نون مرچ کی تھیں، وہ بھی ایسی کہ اگر چار پانچ آنے کا مصالحہ خریدنے کا اتفاق ہو تو ان دکانوں سے بجز دو چار پیسہ کے نہیں مل سکتا تھا، اور تھوڑی تھوڑی ضرورتوں کے واسطے بٹالہ جانا پڑتا تھا۔ علیٰ ہٰذا القیاس اور چیزوں کا بھی یہی حال تھا۔ دو دکان حلوائیوں کی بھی تھی لیکن ان کی بے رونقی اور کم مائیگی کا یہ حال تھا کہ شاید دو تین پیسہ کی ریوڑیاں گڑ کی جن سے دانتوں کے بھی ٹوٹنے کا احتمال ہو، اگر کوئی خرید لے تو خریدے، ورنہ اور مٹھائی کے لیے مصالحہ کی طرح بٹالہ ہی یاد آئے۔ مجھے اب تک وہ دکان یاد ہے کہ جس میں کسی قدر نون مرچ اور کچھ تیل کے علاوہ دو چار تھان کپڑے کے بھی رکھے تھے، ایک تھان گاڑھے اور ادھوتڑ کا جس کو پنجابی میں کھدر کہتے ہیں اور ایک دو تھان کھیس قدر سرخ کے جس کو الوان بھی کہتے ہیں اور شاید ایک دو تھان نکمی سی سوسی اور بھدی سی چھینٹ کے بھی رکھے ہوئے تھے جن کو جٹیوں کے سوا اور کوئی خریدنے کا نام تک نہ لے۔ اناج کی منڈی، سبزی کی منڈی یا اور کسی قسم کے فواکہ اور میوے کا تو ذکر کیا، گھی چاول دودھ کمیاب اور دیگر اشیائے ضروری مفقود۔ قصائی کی ایک دکان ایسی تھی کہ اگر قصاب کبھی شامت سے ایک بکرا ذبح کر لیتا تھا تو وہ بکرا اس کی جان کا وبال ہو جاتا تھا۔ اگر گرمیوں کا موسم ہے تو گل سڑ کر خراب ہو گیا اور جو سردیاں ہوئیں تو چار پانچ روز تک رکھ کر کچھ یہاں کچھ دیہات میں اناج کے بدلے بمشکل تمام بیچ کھوج کر پورا کیا، جس میں نفع نقصان برابر سرابر..... جس
طرف دیکھو کچے مکان اور بے مرمت مکان پڑے تھے۔ ہاں مرزا قادیانی کا مکان پختہ تھا یا آپ کے بڑے بھائی کا لیکن وہ کچے مکانوں کی طرح مکان تھے، جو بعض حصہ ان کا زمین دوز تھا۔ اندر کا پانی باہر جانا برسات میں دشوار تھا جس کا نمونہ اب تک موجود ہے کہ مرزا قادیانی کے مکان کے ملحق مرزا غلام قادر قادیانی کا مکان ہے۔ مرزا قادیانی جس مکان میں جلوہ افروز تھے وہ ایک چھوٹا سا حجرہ تھا اور اب بھی ہے۔ اس میں دس پندرہ آدمیوں کے سوا زیادہ نہیں آ سکتے تھے، اس حجرہ کا نام بیت الفکر ہے۔ اس حجرے کے آگے ایک دالان تھا اور نیچے کے مکان میں بھی ایک دالان تھا اور ایک دو مکان اور مختصر سے تھے۔ اور ایک طرف کی عمارت خام تھی اور ایک گول کمرہ تھا جس کو تیار کرایا جاتا تھا یعنی کچھ حصہ اس کا بن چکا تھا اور کچھ بن رہا تھا، اور مسجد مبارک بھی اس وقت ناتمام تھی۔ معمار مزدور لگ رہے تھے اور اب تو اس مکان میں بہت سے مکان بعمارت پختہ عالی شان بن گئے ہیں۔ آپ کے ہاں لوگوں کی آمد و رفت بہت کم تھی یہاں تک کہ بعض دو دو چار چار یا دس دس کوس کے آدمی بھی آپ سے کم واقفیت رکھتے تھے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ اس وقت دو چار نمازی آپ کے ساتھ ہوتے تھے۔ اکثر مرزا قادیانی نماز پڑھایا کرتے تھے اور کبھی میں ایک ہی مقتدی ہوتا تھا اور آپ امام، اور کبھی میں امام اور آپ مقتدی۔ سیر کا بھی یہی حال تھا کہ کبھی ایک دو آدمی ساتھ ہوتے تھے اور کبھی آپ اکیلے ہی سیر کو تشریف لے جاتے تھے۔ ایک دو ہندو اُس زمانہ میں آیا کرتے تھے۔ وہ ہندو آپ کے الہامات کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتے تھے لکھا کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کی پیشگوئیوں کی تک و دو میں لگے رہتے تھے کہ آیا یہ پیشگوئی پوری ہوئی یا نہیں۔“ (الحکم 30 اپریل 1902ء صفحہ 9) غرضیکہ اس وقت قادیان ایک ویرانے کا منظر پیش کر رہا تھا جس پر چاروں طرف غار کی سی تاریکی اور خاموشی مسلط تھی۔“
(تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 207، 208 از دوست محمد شاہد قادیانی)
اس کے برعکس مرزا قادیانی کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ قادیان کسی نہ کسی طرح ایک عظیم الشان شہر بن جائے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے کہا:
کشف کا قادیان
- (260) ہم نے کشف میں دیکھا کہ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن گیا اور انتہائی نظر
سے بھی پرے تک بازار نکل گئے۔ اونچی اونچی دومنزلی یا چومنزلی یا اس سے بھی زیادہ اونچے اونچے چبوتروں والی دوکانیں عمدہ عمارت کی بنی ہوئی ہیں اور موٹے موٹے سیٹھ، بڑے بڑے پیٹ والے، جن سے بازار کو رونق ہوتی ہے، بیٹھے ہیں اور ان کے آگے جواہرات اور لعل اور موتیوں اور ہیروں، روپوں اور اشرفیوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں اور قسم قسم کی دوکانیں خوبصورت اسباب سے جگمگا رہی ہیں۔ یکے، بگھیاں، ٹم ٹم، فٹن، پالکیاں، گھوڑے، شگرامیں، پیدل اس قدر بازار میں آتے جاتے ہیں کہ مونڈھے سے مونڈھا بھڑ کر چلتا ہے اور راستہ بمشکل ملتا ہے۔"
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 343 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 765 پر)
View Proof
معروف مصنف جناب پروفیسر محمد اسلم (سابق صدر شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی لاہور) اپنے ”سفر نامہ ہند“ میں قادیان کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”دو سال کے بعد مجھے دوبارہ امرتسر، بٹالہ اور قادیان جانے کا اتفاق ہوا۔ اس بار میں نے اکیلے ہی قادیاں میں گھوم پھر کر قصبے کا جائزہ لیا۔ وہاں اس وقت تیرہ صد قادیانی آباد تھے۔ ان میں اکثریت بہاریوں کی تھی۔ انھوں نے گزر بسر کے لیے تھوڑا بہت کام شروع کیا ہوا تھا۔ کوئی ریڈیو مرمت کرتا تھا۔ کسی نے بجلی کے سامان کی دکان کھولی ہوئی تھی۔ کوئی معمولی سا چائے کا ریسٹورنٹ چلا رہا تھا۔ ایک شخص بازار میں بیٹھا آئس کریم بیچ رہا تھا۔ ایک مرزائی سائیکلوں کو پنکچر لگا رہا تھا۔ غربت و افلاس کی جھلک ان کے چہروں سے نمایاں تھی۔ ان کا فقط یہی ”کارنامہ“ تھا کہ وہ قادیان میں آباد تھے۔ قادیان کی آبادی پندرہ ہزار نفوس پر مشتمل ہے جس میں تیرہ صد مرزائی ہیں اور وہ سمٹ سمٹا کر قادیان کے ایک گوشے میں آ بسے ہیں۔ گلیوں اور بازاروں میں ہو کا عالم تھا۔ کوئی ویرانی سی ویرانی تھی۔ مرزا قادیانی نے بر بنائے الہام یہ بھی کہا تھا کہ ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ لوگ لاہور کے بارے میں استفسار کریں گے تو انھیں بتایا جائے گا کہ اب وہ قادیاں کا ایک محلہ ہے۔ میں قادیان کے ویران بازار میں کھڑا اس الہام پر غور کر رہا تھا تو اس الہام کے تار و پود تار عنکبوت کی طرح ہوا میں ہچکولے کھاتے ہوئے نظر آتے تھے۔ یہاں بڑی بڑی توندوں والے جواہرات کا کاروبار کرنے والے سیٹھ
تو کیا، خالی شکم مرجھائے ہوئے چہروں والے ٹٹ پونجیے دکاندار نظر آ رہے تھے جو قادیاں کے ایک گوشے میں سمٹ آئے تھے۔ قادیاں پھیلنے کی بجائے اب سمٹ چکا تھا...... بہشتی مقبرے سے نکل کر میں سیدھا بس سٹینڈ کی طرف روانہ ہوا، راستے میں ایک اور بات مشاہدہ میں آئی کہ گلیوں میں موٹے تازے چوہے مرے پڑے تھے۔ میں نے دل میں سوچا کہ شاید اس مقبور بستی میں کوئی وبا پھوٹنے والی ہے کیونکہ طاعون پھیلنے سے پہلے چوہے مرنے لگتے ہیں۔ بس سٹینڈ پر پہنچتے ہی مجھے بس مل گئی اور میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں امرتسر پہنچ گیا۔
خواب میں قادیان
(261) ”مجھے یاد ہے اس میدان سے جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود نے اپنا ایک رؤیا سنایا تھا کہ قادیان بیاس تک پھیلا ہوا ہے اور مشرق کی طرف بھی بہت دور تک اس کی آبادی چلی گئی ہے۔ اس وقت یہاں صرف آٹھ دس گھر احمدیوں کے تھے اور وہ بھی بہت تنگدست۔ باقی سب بطور مہمان آتے تھے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 666 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 766 پر)
دریائے بیاس قادیان سے تقریباً 60 کلومیٹر دور ہے۔ 22 جنوری 1886ء کو ہوشیار پور جاتے ہوئے مرزا قادیانی نے بذریعہ کشتی اس دریا کو عبور کیا تھا۔ اب اس پر پختہ پل تعمیر ہو چکا ہے۔ مرزا قادیانی کی خواہش تھی کہ قادیان، شیطان کی آنت کی طرح پھیل کر دریائے بیاس تک جا پہنچے مگر مرزا قادیانی کا یہ رویا بھی پورا نہ ہوا۔
لاہور بھی کوئی شہر ہوتا تھا
(262) ”حضرت مسیح موعود نے ایک دفعہ طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”ابھی کیا ہے۔ ابھی وہ دن آئیں گے جبکہ لوگ کہیں گے کہ ”لاہور بھی کوئی شہر ہوتا تھا۔“
لاہور کی تباہی کی پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں شائع ہو چکی تھی۔ وہ یہ ہے: ”لاہور کی نسبت کہا جاتا تھا کہ اس کی سرزمین میں ایسے اجزا ہیں کہ اس میں طاعونی کیڑے زندہ نہیں رہ سکتے۔ لیکن وہاں بھی طاعون نے آن ڈیرا ڈالا ہے۔ ابھی لوگوں کو معلوم نہیں ہے لیکن سالہا سال کے بعد لوگ دیکھیں گے کہ کیا ہوگا۔ کئی لوگ اور دیہات بالکل تباہ ہو جائیں گے۔ دنیا سے ان کا نام ونشان مٹ جائے گا اور ان کے آثار تک باقی نہ رہیں گے۔ لیکن یہ حالت قادیان پر وارد نہ ہوگی۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 676 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 767 پر)
View Proof
مرزا قادیانی کا یہ خواب بھی اس کے جھوٹے مدعی نبوت ہونے کی بین دلیل ہے۔ مرزا قادیانی نے لاہور شہر کی تباہی کے بارے میں یہ پیش گوئی 1908ء میں کی تھی۔ پیش گوئی کے 2 ماہ بعد وہ لاہور میں ہی عبرتناک موت سے ہمکنار ہو کر سوئے جہنم واصل ہوا۔ مرزا قادیانی کی اس پیشگوئی کو تقریباً 100 سال پورے ہونے کو ہیں مگر لاہور ہے کہ پھلتا پھولتا ہی جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی حفظ وامان میں رکھے! یہاں کئی جید اولیائے کرام کے علاوہ بے شمار نیک اور متقی آدمی استراحت فرما رہے ہیں۔ ان شاء اللہ یہ شہر ہمیشہ قائم رہے گا، اس کے برعکس قادیان و ربوہ، شہر سدوم، عمورہ اور ادمہ کی طرح جلد ہی حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔
شہر لاہور تحفظ ختم نبوت کا مضبوط گڑھ ہے۔ 1953ء کی مقدس تحریک ختم نبوت میں 10 ہزار سے زائد زندہ دلان لاہور اپنے سروں کی فصل کٹوا کر یمامہ کے شاہسواروں کے ہم رکاب ہوئے اور اس طرح بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں باریاب ہوئے۔ لاہور کی فضاؤں میں اس کی بوئے جناں آج بھی محسوس ہوتی ہے۔ ان کی موت حیات جاوداں ہے۔ یہ لوگ فتح وظفر کے روشن باب ہیں۔ ان کی قربانیوں کے نتیجہ میں قادیانی کبر وغرور کی ایسی کمر ٹوٹی کہ وہ 7 ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔ زندہ دلان شہر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ جب آنجہانی مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء کو لاہور میں جہنم واصل ہوا تو انھوں نے اس گستاخ رسول جھوٹے مدعی نبوت کے جنازہ پر تاریخی کوڑا پاشی کی۔
ثبوت حاضر ہیں!
قادیانی
بہشتی مقبرہ
بہشتی مقبرہ قادیانیوں کا ایک ایسا منافع بخش ادارہ ہے جو آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی نسل در نسل کے شاہانہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے قادیان میں قائم کیا۔ بعد میں پاکستان بننے کے بعد جب قادیانیوں نے چنیوٹ ضلع جھنگ کے قریب اپنا الگ شہر ”ربوہ“ بسایا تو بہشتی مقبرہ کی ایک برانچ یہاں بھی کھول دی گئی۔ معتبر ذرائع کے مطابق اب یورپ میں بھی اس کی برانچیں کھولنے پر غور ہو رہا ہے۔ نام نہاد بہشتی مقبرہ کی تقدیس کے متعلق مرزائیوں کے عقائد درج ذیل ہیں:۔
بہشتی مقبرہ بہشتی لوگ
(263) ”فرمایا کہ نماز (فجر) سے کوئی بیس یا پچیس منٹ پیشتر میں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک زمین خریدی ہے کہ اپنی جماعت کی میتیں وہاں دفن کیا کریں تو کہا گیا کہ اس کا نام مقبرہ بہشتی ہے۔ یعنی جو اس میں دفن ہوگا، وہ بہشتی ہوگا۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 360 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 768 پر)
جنت ارضی
(264) ”فاوحی الی ربی واشار الی ارض وقال انها ارض تحتها الجنۃ فمن دفن فیها دخل الجنۃ و انه من الامنین.“
ترجمہ: خدا تعالیٰ نے مجھے وحی کی اور ایک زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ وہ زمین ہے جس کے نیچے جنت ہے۔ پس جو شخص اس میں دفن ہوگا، وہ جنت میں داخل ہوا اور
وہ امن پانے والوں میں سے ہے۔
(حقیقۃ الوحی ضمیمہ الاستفتاء صفحہ 51 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 675 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 769 پر)
View Proof
(265) ”پھر بعد اس کے کشفی رنگ میں وہ مقبرہ مجھے دکھلایا گیا جس کا نام خدا نے بہشتی مقبرہ رکھا ہے اور پھر الہام ہوا۔
”کل مقابر الارض لا تقابل ھذا الارض یعنی ہند کے تمام قبرستان اس زمین سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ یعنی اس زمین کو جو برکتیں دی گئیں، وہ برکتیں تمام پنجاب اور ہندوستان میں کسی اور قبرستان کو نہیں دی گئیں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 599، 600 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 770 پر)
View Proof
مرزا اور اس کے اہل و عیال کے لیے کوئی فیس نہیں
(266) ”میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے، باقی ہر ایک مرد یا عورت ان کو ان شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔“
(الوصیت صفحہ 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 327 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 772 پر)
آپ مرزا قادیانی کی لالچی ذہنیت کا اندازہ کیجیے کہ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے استثنا تراش لیا، مبادا اپنی جائیدادوں کا 1/10 مرکز کو نہ دینا پڑ جائے۔ گویا ذرا بھی حوصلہ نہیں ہے وگرنہ قادیانی خزانہ عامرہ ”خاندان نبوت“ کے ہی تصرف میں رہا ہے۔
View Proof
بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی وصیت نہ کرنے والا منافق
(267) ”حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے جو وصیت نہیں کرتا، وہ منافق ہے اور وصیت کا کم از کم چندہ 1/10 حصہ مال کا رکھا ہے جس میں عام چندہ جو وقتاً فوقتاً کرنا پڑے، شامل نہیں۔“
(منہاج الطالبین صفحہ 16 مندرجہ انوار العلوم جلد 9 صفحہ 166 از مرزا بشیر الدین محمود)
(عکس صفحہ نمبر 773 پر)
View Proof
بہشت سے اخراج، چندہ ضبط
- □ ”بموجب ارشاد حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کیا گیا
ہے کہ جو مومن وصیت کا چندہ واجب ہونے کی تاریخ کے چھ ماہ بعد تک رقم وصیت ادا نہ کرے گا۔ نہ دفتر سے اپنی معذوری بتا کر مہلت حاصل کرے گا۔ اس کی وصیت انجمن کار پردازان مصالح قبرستان کو منسوخ کرنے کا کامل اختیار ہے اور جس قدر روپیہ وہ وصیت میں ادا کر چکا ہے۔ اس کے واپس لینے کا موصی کو حق نہ ہوگا۔“ (سیکرٹری مقبرہ بہشتی قادیان)
(اخبار الفضل قادیان جلد 24 نمبر 62 مورخہ 11 ستمبر 1936ء)
دائمی جنت
- □ یہ وہ نعمت ہے کہ جس کو آدم کے وقت سے اس وقت تک کے لوگ ترستے مر گئے۔
گویا یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدم اول کو جب شیطان نے ایک عارضی بہشت سے نکالا تھا تو اس کی تلافی کے لیے چھ ہزار سال بعد پھر آدم ثانی کی معرفت یہ محکمہ دائمی جنت میں داخل ہونے کا اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کے لیے کھولا ہے۔ (فردوس اعلیٰ عارضی جنت، بہشتی مقبرہ دائمی جنت نعوذ باللہ) اگلے زمانہ میں انبیا اپنے بعض خاص خاص مقبروں کو بہشت میں داخل ہونے کی بشارت دیا کرتے تھے اور یہاں تو یہ نظر آتا ہے کہ بہشت کا دروازہ کھل گیا ہے۔ صرف ذرا کھڑا ہونے اور قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان جلد 24 نمبر 65، 15 ستمبر 1936ء)
ابوبکرؓ و عمرؓ کی سی فضیلت
- □ آج تمھارے لیے ابوبکرؓ و عمرؓ کی فضیلت حاصل کرنے کا موقع ہے اور وہ بہشتی مقام
موجود ہے جہاں تم وصیت کر کے اپنے پیارے آقا مسیح الموعود کے قدموں میں دفن ہو سکتے ہو۔ اور چونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح موعود رسول کریم کی قبر میں دفن ہوگا اس لیے تم اس مقبرہ میں دفن ہو کر خود رسول اکرم کے پہلو میں دفن ہو گے۔ اور تمھارے لیے اس خصوصیت
میں ابوبکرؓ کے ہم پلہ ہونے کا موقع ہے۔“
(اعلان مندرجہ الفضل قادیان جلد سوم نمبر 99، 2 فروری 1915ء)
بہشتی مقبرہ
(268) ”خدا نے مجھے میری وفات سے اطلاع دی ہے اور مجھے مخاطب کر کے میری زندگی کی نسبت فرمایا کہ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اور فرمایا کہ تمام حوادث اور عجائباتِ قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضرور ہے کہ میری وفات سے پہلے دنیا پر کچھ حوادث پڑیں اور کچھ عجائباتِ قدرت ظاہر ہوں تا دنیا ایک انقلاب کے لیے تیار ہو جائے اور اس انقلاب کے بعد میری وفات ہو اور مجھے ایک جگہ دکھلائی گئی کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہوگی۔ ایک فرشتہ میں نے دیکھا کہ وہ زمین کو ناپ رہا ہے تب ایک مقام پر اس نے پہنچ کر مجھے کہا کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہے۔ پھر ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی۔ تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے اور ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں۔ تب سے ہمیشہ مجھے یہ فکر رہی کہ جماعت کے لیے ایک قطعہ زمین قبرستان کی غرض سے خریدا جائے لیکن چونکہ موقع کی عمدہ زمینیں بہت قیمت سے ملتی تھیں۔ اس لیے یہ غرض مدت دراز تک معرضِ التوا میں رہی۔ اب اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد جب کہ میری وفات کی نسبت بھی متواتر وحی الٰہی ہوئی، میں نے مناسب سمجھا کہ قبرستان کا جلدی انتظام کیا جائے، اس لیے میں نے اپنی ملکیت کی زمین جو ہمارے باغ کے قریب ہے جس کی قیمت ہزار روپیہ سے کم نہیں اس کام کے لیے تجویز کی اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اسی کو بہشتی مقبرہ بنادے۔“
(الوصیت صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 316 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 774 پر)
مرزا قادیانی کی یہ انوسٹ منٹ بے حد کامیاب رہی ہے............. قادیانیو! ٹکٹ کٹاؤ! لین بناؤ............. بکتے کٹے جانا، بہشتی مقبرہ!!! انسانی کمزوریوں کو Exploit کرنے کی ایسی مثال مذہب کی تاریخ میں کہیں کم ہی ملے گی۔ View Proof
بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی شرائط
(269) ”رسالہ الوصیت کے متعلق چند ضروری امر قابل اشاعت ہیں جو ذیل میں لکھے جاتے ہیں:
- (1) اول یہ کہ جب تک انجمن کار پرداز مصالح قبرستان اس امر کو شائع نہ کرے کہ
قبرستان باعتبار لوازم ضروری کے من کل الوجوہ طیار ہو گیا ہے اس وقت تک جائز نہ ہوگا کہ اس کی میت جس نے رسالہ الوصیت کی شرائط کی پابندی کی ہے، قبرستان میں دفن کرنے کے لیے لائی جائے بلکہ پل وغیرہ لوازم ضروریہ کا پہلے طیار ہو جانا ضروری ہو گا اور اس وقت تک میت ایک صندوق میں امانت کے طور پر کسی اور قبرستان میں رکھی جائے گی۔
- (2) ہر ایک صاحب جو شرائط رسالہ الوصیت کی پابندی کا اقرار کریں ضروری ہوگا کہ وہ
ایسا اقرار کم سے کم دو گواہوں کی ثبت شہادت کے ساتھ اپنے زمانہ قائمی ہوش و حواس میں انجمن کے حوالہ کریں اور تصریح سے لکھیں کہ وہ اپنی کل جائداد منقولہ و غیر منقولہ کا دسواں حصہ اشاعت اغراض سلسلہ احمدیہ کے لیے بطور وصیت یا وقف دیتے ہیں۔ اور ضروری ہو گا کہ وہ کم سے کم دو اخبار میں اس کو شائع کرا دیں۔
- (3) انجمن کا یہ فرض ہوگا کہ قانونی اور شرعی طور پر وصیت کردہ مضمون کی نسبت اپنی پوری
تسلی کر کے وصیت کنندہ کو ایک سرٹیفکیٹ اپنے دستخط اور مہر کے ساتھ دے دیں اور جب قواعد مذکور بالا کی رو سے کوئی میت اس قبرستان میں لائی جائے تو ضروری ہوگا کہ وہ سرٹیفکیٹ انجمن کو دکھلا دیا جائے اور انجمن کی ہدایت اور موقع نمائی سے وہ میت اس موقع میں دفن کی جائے جو انجمن نے اس کے لیے تجویز کیا ہے۔
- (4) اس قبرستان میں بجز کسی خاص صورت کے جو انجمن تجویز کرے، نابالغ بچے دفن
نہیں ہوں گے کیونکہ وہ بہشتی ہیں اور نہ اس قبرستان میں اس میت کا کوئی دوسرا عزیز دفن ہو گا جب تک وہ اپنے طور پر کل شرائط رسالہ الوصیت کو پورا نہ کرے۔
- (5) ہر ایک میت جو قادیان کی زمین میں فوت نہیں ہوئی ان کو بجز صندوق قادیان میں لانا
ناجائز ہو گا اور نیز ضروری ہو گا کہ کم سے کم ایک ماہ پہلے اطلاع دیں تاکہ انجمن کو اگر
اتفاقی موانع قبرستان کے متعلق پیش آگئے ہوں، ان کو دور کر کے اجازت دے۔
- (6) اگر کوئی صاحب خدانخواستہ طاعون کی مرض سے فوت ہوں جنہوں نے رسالہ
الوصیت کے تمام شرائط پورے کر دیئے ہوں ان کی نسبت یہ ضروری حکم ہے کہ وہ دو برس تک صندوق میں رکھ کر کسی علیحدہ مکان میں امانت کے طور پر دفن کیے جائیں اور دو برس کے بعد ایسے موسم میں لائے جائیں کہ اس فوت ہونے کے مقام اور قادیان میں طاعون نہ ہو۔ (گویا طاعون سے متوفی پر دو برس تک بہشتی مقبرہ کی رحمتیں نازل نہیں ہوتیں۔ مرتب)
- (7) یاد رہے کہ صرف یہ کافی نہ ہوگا کہ جائداد منقولہ اور غیر منقولہ کا دسواں حصہ دیا
جائے بلکہ ضروری ہوگا کہ ایسا وصیت کرنے والا جہاں تک اس کے لیے ممکن ہے، پابند احکام اسلام ہو اور تقویٰ طہارت کے امور میں کوشش کرنے والا ہو اور مسلمان، خدا کو ایک جاننے والا اور اس کے رسولؐ پر سچا ایمان لانے والا ہو اور نیز حقوق عباد غصب کرنے والا نہ ہو۔
- (8) اگر کوئی صاحب دسویں حصہ جائداد کی وصیت کریں اور اتفاقاً ان کی موت ایسی ہو
کہ مثلاً کسی دریا میں غرق ہو کر ان کا انتقال ہو یا کسی اور ملک میں وفات پاویں جہاں سے میت کو لانا متعذر ہو تو ان کی وصیت قائم رہے گی اور خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہوگا کہ گویا وہ اسی قبرستان میں ایک کتبہ اینٹ یا پتھر پر لکھ کر نصب کیا جائے اور اس پر واقعات لکھے جائیں۔
- (9) انجمن جس کے ہاتھ میں ایسا روپیہ ہوگا، اس کو اختیار نہیں ہوگا کہ بجز اغراض سلسلہ
احمدیہ کے کسی اور جگہ وہ روپیہ خرچ کرے۔ اور ان اغراض میں سے سب سے مقدم اشاعت اسلام ہوگی اور جائز ہوگا کہ انجمن باتفاق رائے اس روپیہ کو تجارت کے ذریعہ ترقی دے۔
- (10) انجمن کے تمام ممبر ایسے ہوں گے کہ جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوں اور پارسا طبع اور
دیانتدار ہوں اور اگر آئندہ کسی کی نسبت یہ محسوس ہوگا کہ وہ پارسا طبع نہیں ہے یا یہ کہ وہ دیانت دار نہیں یا یہ کہ وہ ایک چالباز ہے اور دنیا کی طمع اپنے اندر رکھتا ہے تو انجمن کا فرض ہوگا کہ بلا توقف ایسے شخص کو اپنے مجمع سے خارج کرے اور اس کی
جگہ کوئی اور مقرر کرے۔
- (11) اگر وصیتی مال کے متعلق کوئی جھگڑا پیش آئے تو اس جھگڑے کی پیروی میں جو
اخراجات ہوں، وہ تمام وصیتی مالوں میں سے دیئے جائیں گے۔
- (12) اگر کوئی شخص وصیت کر کے پھر اپنے کسی ضعف ایمان کی وجہ سے اپنی وصیت سے
منکر ہو جائے یا اس سلسلے میں روگردان ہو جائے تو گو انجمن نے قانونی طور پر اس کے مال پر قبضہ کر لیا ہو۔ پھر بھی جائز نہ ہوگا کہ وہ مال اپنے قبضہ میں رکھے، بلکہ وہ تمام مال واپس کرنا ہوگا۔ کیونکہ خدا کسی کے مال کا محتاج نہیں اور خدا کے نزدیک ایسا مال مکروہ اور رد کرنے کے لائق ہے۔
- (13) چونکہ انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے اس لیے اس انجمن کو دنیا داری
کے رنگوں سے بکلی پاک رہنا ہوگا اور اس کے تمام معاملات نہایت صاف اور انصاف پر مبنی ہونے چاہئیں۔
- (14) جائز ہوگا کہ اس انجمن کی تائید اور نصرت کے لیے دور دراز ملکوں میں اور انجمنیں
ہوں جو اس کی ہدایت کی تابع ہوں اور جائز ہوگا کہ اگر وہ ایسے ملک میں ہوں کہ وہاں سے میت کو لانا متعذر ہے تو اسی جگہ میت کو دفن کردیں اور ثواب سے حصہ پانے کی غرض سے ایسا شخص قبل از وفات اپنے مال کے دسویں حصہ کی وصیت کرے اور اس وصیتی مال پر قبضہ کرنا اس انجمن کا کام ہوگا جو اس ملک میں ہی ہے اور بہتر ہوگا کہ وہ روپیہ اسی ملک کے اغراض دینیہ کے لیے خرچ ہو اور جائز ہوگا کہ کوئی ضرورت محسوس کر کے وہ روپیہ اس انجمن کو دیا جائے جس کو ہیڈ کوارٹر یعنی مرکز مقامی قادیان ہوگا۔
- (15) یہ ضروری ہوگا کہ مقام اس انجمن کا ہمیشہ قادیان رہے کیونکہ خدا نے اس مقام کو
برکت دی ہے اور جائز ہوگا کہ وہ آئندہ ضرورتیں محسوس کر کے اس کام کے لیے کوئی کافی مکان طیار کریں۔
- (16) انجمن میں کم سے کم ہمیشہ ایسے دو ممبرز رہنے چاہئیں جو علم قرآن اور حدیث سے
بخوبی واقف ہوں اور تحصیل علم عربی رکھتے ہوں اور سلسلہ احمدیہ کی کتابوں کو یاد رکھتے ہوں۔
- (17) اگر خدانخواستہ کوئی ایسا شخص جو رسالہ الوصیت کی رو سے وصیت کرتا ہے، مجذوم ہو
جس کی جسمانی حالت اس لائق نہ ہو جو وہ اس قبرستان میں لایا جائے تو ایسا شخص حسب مصالح ظاہری مناسب نہیں ہے اس قبرستان میں لایا جائے لیکن اگر اپنی وصیت پر قائم ہو گا تو اس کو وہی درجہ ملے گا جیسا کہ دفن ہونے والے کو۔
- (18) اگر کوئی جائداد منقولہ یا غیر منقولہ نہ رکھتا ہو اور بایں ہمہ ثابت ہو کہ وہ ایک صالح
درویش ہے اور متقی اور خالص مومن ہے اور کوئی حصہ نفاق یا دنیا پرستی یا قصور اطاعت کا اس کے اندر نہ ہو تو وہ بھی میری اجازت سے یا میرے بعد انجمن کی اتفاق رائے سے اس مقبرہ میں دفن ہو سکتا ہے۔
- (19) اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی خاص وحی سے رد کیا جائے تو گو وصیتی مال بھی پیش
کرے تاہم اس قبرستان میں داخل نہیں ہوگا۔
- (20) میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔ باقی ہر ایک
مرد ہو یا عورت اُن کو ان شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔‘‘
(رسالہ الوصیت صفحہ 25 تا 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 323 تا 327 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 775 تا 779 پر)
جناب پروفیسر محمد اسلم ”بہشتی مقبرہ“ کے بارے میں آنکھوں دیکھا حال لکھتے ہیں: ”تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے ساتھ والی گلی میں مہمان خانہ بھی ہے، جہاں مجھے گذشتہ سفر قادیان میں قیام کرنے کی دعوت ملی تھی۔ اسی گلی کے خاتمہ پر ایک بڑا سا جوہڑ ہے جسے عرف عام میں ”ڈھاب“ کہتے ہیں۔ اسی ڈھاب میں ہوس کا شکار معصوم لڑکیاں اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی غرض سے خود کشی کیا کرتی تھیں یا ان کا گلا گھونٹ کر رات کے اندھیرے میں ڈھاب میں پھینک دیا جاتا تھا۔ میں اسی خونی ڈھاب کے کنارے چلتا ہوا بہشتی مقبرے کی طرف بڑھا۔ ڈھاب سے بہشتی مقبرے کا فاصلہ بمشکل ایک فرلانگ ہوگا۔ مقبرے کے اردگرد ایک مضبوط اور بلند چار دیواری ہے۔ میں ایک آہنی پھاٹک سے گزر کر بہشتی مقبرے میں داخل ہوا۔ کلکتہ کے ایک مرزائی تاجر نے بہشتی مقبرے کی آرائش کے لیے کافی رقم خرچ
کی ہے۔ میں پھاٹک سے گزر کر سیدھا جنازہ گاہ کی طرف بڑھا۔ اس کے قریب ہی درختوں کے ایک جھنڈ میں ایک پتھر نصب ہے جس پر ”ظہور قدرت ثانیہ“ کندہ ہے۔ اس پتھر پر منقوش ایک عبارت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نماز جنازہ کے بعد اس مقام پر حکیم نور الدین بھیروی کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوئی تھی۔ اس روایت کے راوی ”بھائی عبدالرحمن قادیانی“ کا نام بھی پتھر پر درج ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں مرزا غلام احمد قادیانی کو الہام ہوا تھا کہ وہ مسیح موعود ہے۔ بھائی عبدالرحمن پیدائشی سکھ تھا لیکن بعد میں مرزائی ہو گیا تھا۔ اس کا شمار مرزا قادیانی کے خواص میں ہوتا ہے۔ وہ اس بیعت کا عینی شاہد تھا، اس لیے اس کی روایت اور نشاندہی پر اس تاریخی مقام پر پتھر نصب کر دیا گیا ہے۔
بھائی عبدالرحمن آزادی کے بعد پاکستان آ گیا تھا۔ اس کا انتقال ربوہ میں ہوا اور اس کی میت تدفین کے لیے قادیان لے جائی گئی اور اسے بہشتی مقبرہ میں ”خواص“ کی صف میں دفن کیا گیا۔ یہ پہلی اور غالباً آخری مثال ہے کہ کسی مرزائی کی میت تدفین کے لیے پاکستان سے قادیان لے جائی گئی ہو، ورنہ مرزا بشیر الدین محمود اور ان کی ماں نصرت جہاں بھی اس ”سعادت“ سے محروم رہے ہیں۔ ربوہ میں بشیر الدین محمود کی قبر پر ایک تختی نصب ہے جس پر یہ لکھا ہوا ہے کہ اس کے معتقدین کا یہ فرض ہے کہ جب بھی موقع ملے اس کا تابوت ربوہ سے قادیان پہنچا دیا جائے۔ بہشتی مقبرہ میں غلام احمد متنبی کی قبر کے دائیں جانب حکیم نور الدین کی قبر ہے اور بائیں طرف نصرت کے لیے جگہ مخصوص ہے۔
نصرت سے یاد آیا۔ مولانا احمد سعید دہلویؒ بیان کیا کرتے تھے کہ جب نصرت کا غلام احمد کے ساتھ نکاح ہوا تو دلی والیاں اسے وداع کرنے آئیں۔ انھوں نے نصرت کو مخاطب کر کے کہا ”اری نصو سنا ہے کہ تمہارا نکاح کسی پنجابی نبی کے ساتھ ہوا ہے۔“ دلی میں پنجابی کو گنوار سمجھا جاتا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ وہ متنبی بھی ہے۔ مولانا احمد سعید کی کرخنداری زبان میں یہ دلچسپ جملہ سن کر جو لطف آتا تھا، وہ بیان سے باہر ہے۔
میں جنازہ گاہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کی قبر کی طرف چلا۔ مرزا اور اس کے رشتہ داروں اور خاص خاص دوستوں اور حواریوں کی قبریں ایک مخصوص احاطے کے اندر ہیں۔ اس احاطے کے باہر ایک ہینڈ پمپ نصب ہے جس کا پانی مرزائیوں کے نزدیک کوثر و سلسبیل کے پانی کا حکم رکھتا ہے۔ مجھے اس وقت پیاس محسوس ہو رہی تھی لیکن اس کے باوجود میں نے اس
پمپ کا پانی پینا مناسب نہ سمجھا۔
مرزا غلام احمد اور حکیم نور الدین کی قبروں کے جانب غرب ایک ”مواجہہ“ بنایا گیا ہے اور ایک ایسا ہی مواجہہ جانب جنوب بھی ہے جسے میں اپنے پہلے سفر قادیان میں نہیں دیکھ سکا تھا۔ جنوبی مواجہے کے قریب مرزا بشیر الدین محمود کی تین بیویاں دفن ہیں۔ ان میں سے ایک بیوی ام طاہر سابق قادیانی سربراہ مرزا طاہر کی ماں ہے۔ دوسری بیوی سارہ کے بطن سے طاہر احمد کا حریف مرزا رفیع احمد ہے۔ تیسری بیوی کا نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں رہا۔ وہ لجنہ اماء اللہ کی سیکرٹری تھی۔
ان میں سے ایک بیوی کی لوح مزار پر بشیر الدین محمود نے ایک طویل عبارت کندہ کروائی ہے اور اس میں اس بات کا ادعا کیا گیا ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود کے لیے اس کا انتخاب مرزا غلام احمد نے بذریعہ الہام کیا تھا۔ چند روز قبل میں نے اس کا ذکر مرزا شفیق سے کیا تو انھوں نے کہا کہ باپ کے لیے بذریعہ الہام جس خاتون (محمدی بیگم) کا انتخاب خالق کون و مکان نے کیا تھا، وہ تو اسے مل نہ سکی، بیٹے کو وحی کے ذریعہ کیسے مل گئی؟
بہشتی مقبرے میں مدفون لوگوں کی قبروں کے اندر جو حالت ہوگی، وہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ امام حسن بصریؒ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ جس خطۂ زمین کو شہر خموشاں کہتے ہیں، اگر انھیں یہ معلوم ہو جائے کہ وہاں مدفون لوگوں کے ساتھ کیا بیت رہی ہے تو لوگ مارے ڈر کے اپنے مردے وہاں لانے سے انکار کر دیں۔ بس ایسا ہی معاملہ بہشتی مقبرہ میں دفن مردوں کے ساتھ پیش آ رہا ہوگا۔“
(سفر نامہ ہند از پروفیسر محمد اسلم سابق صدر شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی لاہور)
ثبوت حاضر ہیں!
مرزا قادیانی
کے
اُستاد
ہر طالب علم کا فرض ہے کہ وہ اپنے استاد کا ادب و احترام کرے۔ جس طرح مریض طبیب کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتا ہے، اس طرح ہر طالب علم استاد کے سامنے تواضع کا مظاہرہ کرے۔ اگر کسی شاگرد کے دل میں اپنے استاد کے خلاف نفرت و بغض ہوگا تو وہ علم تو درکنار، تزکیہ نفس بھی حاصل نہ کر سکے گا۔ مشہور کہاوت ہے: با ادب، بانصیب، بے ادب بے نصیب! آنجہانی مرزا قادیانی ہمیشہ بے ادب اور بے نصیب رہا۔ وہ علم کے میدان میں ”تیس مار خاں“ تھا۔ ڈینگیں مارنا، بے پرکیاں اڑانا، شیخیاں بگھارنا، لاف زنی کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ اس کے کئی اساتذہ تھے۔ مگر وہ ان سب کا انکاری ہے۔ بلکہ اپنی کتابوں میں ان کا تذکرہ بھی بڑی حقارت سے کرتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں اپنے اساتذہ کے بارے مرزا قادیانی کا طرزعمل!
مہدی کسی کا شاگرد نہیں ہوتا
(270) ”مہدی کے مفہوم میں یہ معنی ماخوذ ہیں کہ وہ کسی انسان کا علم دین میں شاگرد یا مرید نہ ہو۔ اور خدا کی ایک خاص تجلی تعلیم لدنی کے نیچے دائمی طور پر نشوونما پاتا ہو جو روح القدس کے ہر ایک تمثل سے بڑھ کر ہے اور ایسی تعلیم پانا صفت محمدی ہے۔“
(اربعین نمبر 2 صفحہ 19 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 360، 361 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 780 پر)
مہدی کے لیے ضروری ہے۔...........
(271) ”مہدی کے لیے ضروری ہے کہ آدم وقت ہو اور اس کے وقت میں دنیا بالکل بگڑ گئی
ہو اور نوع انسان میں سے اس کا دین کے علوم میں کوئی استاد اور مرشد نہ ہو بلکہ اس لیاقت کا آدمی کوئی موجود ہی نہ ہو اور محض خدا نے اسرار اور علوم آدم کی طرح اس کو سکھائے ہوں۔“
(اربعین نمبر 2 صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 17 صفحہ 360 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 781 پر)
View Proof
مذکورہ تحریر میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ ”مہدی کے لئے ضروری ہے کہ وہ آدم وقت ہو“۔ اس تحریر کی روشنی میں مرزا قادیانی مہدی نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ آدم زاد نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کہتا ہے:
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 782 پر)
View Proof
نبی کا کوئی استاد نہیں ہوتا
(273) ”لاکھ لاکھ حمد اور تعریف اس قادرِ مطلق کی ذات کے لائق ہے کہ جس نے ساری ارواح اور اجسام بغیر کسی مادہ اور ہیولی کے اپنے ہی حکم اور امر سے پیدا کر کے اپنی قدرتِ عظیمہ کا نمونہ دکھلایا اور تمام نفوسِ قدسیہ انبیا کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوضِ قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا۔“
(دیباچہ براہین احمدیہ جلد اوّل صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 16 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 783 پر)
View Proof
میرے کئی استاد تھے
(274) ”جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا،
جنھوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لیے مقرر کیے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی، اس لیے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے، وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لیے مقرر کیا تھا۔ اور ان آخرالذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔‘‘
(کتاب البریہ صفحہ 162 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 180، 181 [حاشیہ] از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 784، 785 پر)
View Proof
بیٹے کی تصدیق
(275) ’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ جہاں تک میں نے تحقیق کی ہے حضرت مسیح موعود کی زندگی کے مندرجہ ذیل واقعات ذیل کے سنین میں وقوع پذیر ہوئے ہیں:۔ واللہ اعلم!
1836ء یا 1837ء۔ ولادت حضرت مسیح موعود۔ 1842ء یا 1843ء۔ ابتدائی تعلیم از منشی فضل الٰہی صاحب۔ 1846ء یا 1847ء۔ صرف و نحو کی تعلیم از مولوی فضل احمد صاحب۔ 1852ء یا 1853ء۔ حضرت مسیح موعود کی پہلی شادی (غالباً)۔ 1853ء یا 1854ء۔ نحو و منطق و حکمت و دیگر علوم مروجہ کی تعلیم از مولوی گل علی شاہ صاحب اور اسی زمانہ کے قریب بعض کتب طب اپنے والد ماجد سے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 150 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 786 پر)
View Proof
حلفاً کہتا ہوں میرا کوئی استاد نہیں
(276) ”سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا، سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا۔ اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔ یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔“
(ایام الصلح صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 394 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 787 پر)
مرزا قادیانی نے مذکورہ عبارت میں حلفاً یعنی قسم اٹھا کر کہا ہے کہ میرا کوئی استاد نہیں۔ قسم کے بارے میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے۔
View Proof
قسم کی اہمیت
(277) ”والقسم يدل علی ان الخبر محمول علی الظاهر لا تأویل فیہ ولا استثناء والا فأی فائدة كانت فی ذكر القسم.“
ترجمہ: ”قسم اس امر کی دلیل ہے کہ خبر اپنے ظاہر پر محمول ہے۔ اس میں نہ تاویل ہے نہ استثنا۔ ورنہ قسم سے بیان کرنے کا کیا فائدہ۔“
(حاشیہ حمامۃ البشریٰ صفحہ 26 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 192 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 788 پر)
View Proof
اس عبارت کی رو سے کوئی قادیانی اپنے گرو گھنٹال مرزا قادیانی کے اساتذہ کے حوالے سے کوئی تاویل نہیں کر سکتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے قسم اٹھا کر کہا ہے کہ میرا کوئی استاد نہیں اور بقول مرزا قادیانی جب کوئی بات قسم اٹھا کر کہی جائے تو اس میں کوئی تاویل نہیں کرنی چاہیے۔
قارئین کرام! آپ مرزا قادیانی کی تحریروں سے خود اندازہ لگا لیں کہ ایک طرف وہ قسم اٹھا کر کہتا ہے کہ میرا کوئی استاد نہیں کیونکہ نبی یا مہدی کا کوئی استاد نہیں ہوتا، اس لیے کہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس مرزا قادیانی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے کئی اساتذہ سے علم حاصل کیا۔
اپنے استاد کی تعریف
- (278) ”ہمارے استاد ایک شیعہ تھے۔ گل علی شاہ ان کا نام تھا۔ کبھی نماز نہ پڑھا کرتے تھے۔
منہ تک نہ دھوتے تھے۔“ (یقیناً مرزا قادیانی نے ایسے ہی لوگوں سے ٹیوشن پڑھی ہوگی۔ مرتب)۔
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 583 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 789 پر)
- ”آج سے تیس سال قبل بہت سے لوگ ایسے تھے جو حضرت مسیح موعود (مرزا
قادیانی) کے متعلق کہتے تھے انھیں اردو بھی نہیں آتی اور عربی دوسروں سے لکھا کر اپنے نام سے شائع کرتے ہیں۔ بعض لوگ کہتے مولوی نور الدین آپ کو کتابیں لکھ کر دیتے ہیں۔ خود حضرت مسیح موعود کو بھی یہ دعویٰ نہ تھا کہ آپ نے ظاہری علوم کہیں پڑھے۔ آپ فرمایا کرتے میرا ایک استاد تھا جو افیم کھایا کرتا تھا اور حقہ لے کر بیٹھ رہتا تھا۔ کئی دفعہ پینک میں اس سے اس کے حقہ کی چلم ٹوٹ جاتی۔ ایسے استاد نے پڑھانا کیا تھا۔ غرض آپ کو لوگ جاہل اور بے علم سمجھتے تھے۔“
(تقریر مرزا بشیر الدین محمود، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد 16، نمبر 62،
صفحہ 8، مورخہ 5 فروری 1929ء)
دیکھیے کس طرح تصدیق پر تصدیق ہو رہی ہے کہ مرزا قادیانی کے ٹیوٹرز بھی اس جیسے تھے۔ لیکن شاید نہیں۔
ولے اس کا چیلا شکر ہو گیا
جو ”ناموری“ مرزا قادیانی کے حصے میں آئی ہے، استاد بے چارے تو بہت پیچھے رہ گئے۔
شاگرد، استاد کی مانند ہوتا ہے
- ”شاگرد اپنے استاد سے بڑا نہیں ہوتا اور نہ نوکر اپنے مالک سے۔ شاگرد کے لیے
یہ کافی ہے کہ اپنے استاد کی مانند ہو۔“
(متی باب 10 فقرہ 24، 25)
۞......۞......۞
ثبوت حاضر ہیں!
مرزا قادیانی
اور
اُس کے ”فیض یافتہ“ مُرید
قادیان کے جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب ”خطبہ الہامیہ“ میں لکھا ہے کہ جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا، درحقیقت وہ ”صحابہ“ کی جماعت میں داخل ہوا۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ 171 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 258 از مرزا قادیانی) ظاہر ہے جب کوئی آدمی کسی جماعت کا پیروکار بن جاتا ہے تو وہ اس سے اثر لیتا ہے۔ اردو کی ایک کہاوت ہے کہ گوہ کا کیڑا گوہ ہی میں خوش رہتا ہے۔ یعنی بری صحبت میں رہنے والا اس محفل کا ضرور اثر لیتا ہے اور اس میں خوش رہتا ہے۔ ایک اور مثل مشہور ہے: ”جیسا راجا ویسی پرجا۔“ جس طرح سونے کا کھوٹا اور کھرا پن کسوٹی پر پرکھنے سے معلوم ہوتا ہے، اس طرح ہم مرزا قادیانی کے نام نہاد ”صحابہ“ کو بھی اخلاقیات کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھ لیتے ہیں کہ وہ کس قماش کے لوگ تھے۔
گرو جنہاں دے ٹپنے۔ چیلے انہاں دے شڑپ۔ (یعنی جن کے گرو تیز رو ہوں، ان کے چیلے چانٹے اس سے بھی تیز چلنے والے ہوتے ہیں)۔ صفحات کی کمی کے پیش نظر صرف چند حوالے بطور نمونہ مشتے از خروارے پیش خدمت ہیں:۔
نماز میں نامناسب تکلیف
(279) ”قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت اقدس حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ساتھ اس کوٹھڑی میں نماز کے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے جو مسجد مبارک میں بجانب مغرب تھی مگر 1907ء میں جب مسجد مبارک وسیع کی گئی تو وہ کوٹھڑی منہدم کر دی گئی۔ اس کوٹھڑی کے اندر حضرت صاحب کے کھڑے ہونے کی وجہ اغلبًا یہ تھی کہ قاضی یار محمد صاحب حضرت اقدس کو نماز میں تکلیف دیتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی یار محمد صاحب بہت مخلص آدمی تھے مگر ان کے دماغ میں کچھ خلل تھا جس کی وجہ سے ایک زمانہ میں ان کا یہ طریق ہو گیا تھا کہ حضرت صاحب کے جسم (خاص حصہ) کو ٹٹولنے لگ جاتے تھے اور تکلیف اور پریشانی کا باعث ہوتے تھے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 265 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 790 پر)
View Proof
اللہ کا بچہ
(280) ”اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر 4 صفحہ 19 میں بابو الہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے...... یعنی بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 581، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 581 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 791 پر)
View Proof
کم بخت بابو الہی بخش کو سوجھی بھی تو کیا سوجھی اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا! مرزا قادیانی کا حیض و نفاس اور وہ بھی کن دنوں میں جبکہ مرزا قادیانی ایام ماہواری کی مصیبت میں دو چار تھا۔
بچہ معہ زچہ کے غائب
اللہ مرد، مرزا عورت؟
(281) ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“
(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34، صفحہ 12 از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 792 پر)
View Proof
جسم پر نامناسب ہاتھ پھیرنا
(282) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ قدیم مسجد مبارک میں حضور (مرزا قادیانی) نماز میں ہمیشہ پہلی صف کے دائیں طرف دیوار کے ساتھ کھڑے ہوا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے آج کل موجودہ مسجد مبارک کی دوسری صف شروع ہوتی ہے۔ یعنی بیت الفکر کی کوٹھڑی کے ساتھ ہی مغربی طرف۔ امام اگلے حجرہ میں کھڑا ہوتا تھا۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک شخص پر جنون کا غلبہ ہوا اور وہ حضرت صاحب کے پاس کھڑا ہونے لگا اور نماز میں آپ کو تکلیف دینے لگا اور اگر کبھی اس کو پچھلی صف میں جگہ ملتی۔ تو ہر سجدہ میں وہ صفیں پھلانگ کر حضور کے پاس آتا اور تکلیف دیتا اور قبل اس کے کہ امام سجدہ سے سر اٹھائے، وہ اپنی جگہ پر واپس چلا جاتا۔ اس تکلیف سے تنگ آ کر حضور (مرزا قادیانی) نے امام کے پاس حجرہ میں کھڑا ہونا شروع کر دیا مگر وہ بھلا مانس حتی المقدور وہاں بھی پہنچ جایا کرتا اور ستایا کرتا تھا مگر پھر بھی وہاں نسبتاً امن تھا۔ اس کے بعد آپ وہیں نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ مسجد کی توسیع ہو گئی۔ یہاں بھی آپ دوسرے مقتدیوں سے آگے امام کے پاس ہی کھڑے ہوتے رہے۔ مسجد اقصیٰ میں جمعہ اور عیدین کے موقع پر آپ صف اول میں عین امام کے پیچھے کھڑے ہوا کرتے تھے۔ وہ معذور شخص جو ویسے مخلص تھا، اپنے خیال میں اظہار محبت کرتا اور جسم پر نامناسب طور پر ہاتھ پھیر کر تبرک حاصل کرتا تھا۔“ (سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 268، 269 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 793، 794 پر)
جناب افتخار احمد صاحب (جرمنی) اس حوالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”غور طلب بات یہ ہے کہ عرصہ دراز تک ایک شخص دوران نماز، نبوت کے دعویدار کے ساتھ انتہائی فحش اور نازیبا حرکات کرتا رہا اور جسم کے حصوں پر ہاتھ پھیرتا رہا اور پچھلی صف میں جگہ پانے کی صورت میں ہر سجدے کے دوران چھلانگیں لگا لگا کر یہ حرکتیں کرتا رہا اور نمازیوں کے آگے سے گزر کر ان کی نمازیں خراب کرتا رہا، مگر بجائے اس شخص کو مسجد میں آنے سے منع کرنے کے تحریر میں بھی اسے مخلص اور بھلا مانس لکھا گیا۔ دوران نماز ایسی حرکتیں جب بار بار ہو رہی ہوں تو یقیناً کوئی بھی شخص ایسی بے ہودہ حرکات دیکھ کر اپنی نماز توجہ سے ادا نہیں
کر سکتا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگ نماز پڑھنے کم اور تماشا دیکھنے زیادہ آتے ہوں ۔ اعلیٰ صفات اور اعلیٰ اخلاق کے حامل نبی کے دعویدار اور اس کے امتی کے اخلاق کا اندازہ مندرجہ بالا تحریر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔‘‘ (ہفت روزہ لولاک ، ملتان ستمبر 2009ء)
قادیان اور سجدہ
(283) ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود نے پسر موعود کی پیشگوئی شائع فرمائی تو آپ کی زندگی میں ہی ایک شخص نور محمد نامی جو پٹیالہ کی ریاست میں کھیر دگاؤں کا رہنے والا تھا، پسر موعود ہونے کا مدعی بن بیٹھا اور بعض جاہل طبقہ کے لوگ اس نے اپنے مرید کر لیے۔ سنا ہے یہ لوگ قادیان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے اور ایک دفعہ ان کا ایک وفد قادیان بھی آیا تھا۔ انھوں نے حضرت صاحب کو سجدہ کیا مگر حضرت صاحب نے سختی سے منع فرمایا۔ وہ لوگ چند روز رہ کر واپس چلے گئے اور پھر نہیں دیکھے گئے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 232 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 795 پر)
View Proof
کفن چور
(284) ’’ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں الہ دین فلاسفر اور پھر اس کے بعد مولوی یار محمد صاحب کو ایک زمانہ میں قبروں کے کپڑے اتار لینے کی دھت ہو گئی تھی یہاں تک کہ فلاسفر نے ان کو بیچ کر کچھ روپیہ بھی جمع کر لیا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ اس طرح ہم بدعت اور شرک کو مٹاتے ہیں ۔ حضرت صاحب نے جب یہ سنا تو اس کام کو ناجائز فرمایا، تب یہ لوگ باز آئے اور وہ روپیہ اشاعت اسلام میں دے دیا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 264 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 796 پر)
View Proof
ظاہر ہے کفن چوری کی رقم ’’اشاعت اسلام‘‘ کے لیے مرزا قادیانی کی خدمت میں ہی پیش کی ۔ گویا غریبوں کے کفنوں کی کمائی بھی نہ چھوڑی موصوف نے ۔
تھیٹر
(285) ’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں آگئے۔ چنانچہ کپور تھلہ سے محمد خاں صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے۔ گرمی کا موسم تھا۔ اور منشی صاحب اور میں ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چارپائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے۔ ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا، جو مکان کے قریب ہی تھا۔ اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا۔ منشی ظفر احمد صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا کہ میں تو حضرت صاحب کے پاس آپ کی شکایت لے کر گیا تھا اور میرا خیال تھا کہ حضرت صاحب آپ کو بلا کر تنبیہ کریں گے مگر حضور نے تو صرف یہی فرمایا کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے۔‘‘
(ذکر حبیب صفحہ 18 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 797 پر)
ضرور بدکاری کرے گا
(286) ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ایک دفعہ کسی شخص کا ذکر سنانے لگے کہ وہ کسی عورت پر سخت عاشق ہو گیا اور باوجود ہزار کوشش کے وہ اس عشق کو دل سے نہ نکال سکا۔ آخر حضرت صاحب کے پاس آیا اور طالب دعا ہوا۔ حضرت صاحب نے مولوی صاحب سے فرمایا کہ مجھے خدا کی طرف سے معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص اس عورت سے ضرور بدکاری کرے گا۔ مگر میں بھی پورے زور سے اس کے لیے دعا کروں گا۔ چنانچہ وہ شخص قادیان ٹھہرا رہا اور حضور دعا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اس نے ایک روز مولوی صاحب سے کہا کہ آج رات خواب میں میں نے اس عورت کو دیکھا اور خواب میں ہی اس سے مباشرت کی اور میں نے اس دوران میں اس کی شرمگاہ کو جہنم کے گڑھے کی طرح دیکھا۔ جس سے مجھے اس سے اس قدر خوف اور نفرت پیدا ہوئی کہ یکدم وہ آتش عشق
ٹھنڈی ہو گئی اور وہ محبت کی بے قراری سب دل سے نکل گئی۔ بلکہ دل میں دوری پیدا ہو گئی۔ اور خدا کے فضل اور حضور کی دعا کی برکت سے میں بدکاری سے بھی محفوظ رہا اور وہ جنون بھی جاتا رہا۔ اور حضور نے جو بات میری بابت کہی تھی وہ ظاہری رنگ سے بدل کر خدا نے خواب میں پوری کر دی۔ یعنی میں نے اس سے تعلق بھی کر لیا اور ساتھ ہی مجھے گناہ سے بھی بچا لیا۔ غالباً یہ شخص سیالکوٹ کا رہنے والا تھا اور متمول آدمی تھا اور اس نے حضرت صاحب کی بیعت بھی کی تھی۔ مگر تعلق کو آخر تک نہیں نبھایا۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 298 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 798 پر)
قوت رجولیت بالکل معدوم
(287) ”ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں معراج الدین صاحب عمر کے ساتھ ایک نو مسلمہ چوہڑی لاہور سے آئی۔ اس کے نکاح کا ذکر ہوا۔ تو حافظ عظیم بخش صاحب مرحوم پٹیالوی نے عرض کی کہ مجھ سے کر دیا جائے۔ حضرت مسیح موعود نے اجازت دے دی اور نکاح ہو گیا۔ دوسرے روز اس مسماۃ نے حافظ صاحب کے ہاں جانے سے انکار کر دیا اور خلع کی خواہش مند ہوئی۔ خلیفہ رجب دین صاحب لاہوری نے حضرت صاحب کی خدمت میں مسجد مبارک میں یہ معاملہ پیش کیا۔ آپ نے فرمایا، کہ اتنی جلدی نہیں۔ ابھی صبر کرے۔ پھر اگر کسی طرح گزارہ نہ ہو تو خلع ہو سکتا ہے۔ اس پر خلیفہ صاحب نے جو بہت بے تکلف آدمی تھے، حضرت صاحب کے سامنے ہاتھ کی ایک حرکت سے اشارہ کر کے کہا کہ حضور وہ کہتی ہے کہ حافظ صاحب کی یہ حالت ہے۔ (یعنی قوت رجولیت بالکل معدوم ہے) اس پر حضرت صاحب نے خلع کی اجازت دے دی۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 227 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 799 پر)
عجیب بات ہے نا ”زکام عشق“ کے ہوتے ہوئے خلع کی اجازت!
قادیان میں بڑے بڑے خبیث، شریر،
ناپاک طبع، کذاب اور مفتری رہتے ہیں
(288) ”جیسا کہ اُس نے فرمایا کہ لَوْ لَا الْاِکْرَامُ لَهَلَكَ الْمَقَامِ یعنی اگر مجھے تمہاری عزت ظاہر کرنا ملحوظ نہ ہوتا تو میں اس مقام کو یعنی قادیان کو طاعون سے فنا کر دیتا یعنی اس گاؤں میں بھی بڑے بڑے خبیث اور شریر اور ناپاک طبع اور کذاب اور مفتری رہتے ہیں اور وہ اس لائق تھے کہ قہر الٰہی سب کو ہلاک کر دیوے۔“
(نزول المسیح صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 394 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 800 پر)
مرزا قادیانی کی بیعت کا ”فیض“
(289) ”منجملہ ان نشانوں کے جو پیشگوئی کے طور پر ظہور میں آئے۔ وہ پیشگوئی ہے جو میں نے اخویم قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹلی ضلع گوجرانوالہ کے متعلق کی تھی اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس جگہ خود ان کے خط کی عبارت نقل کر دوں جو اس پیشگوئی کے بارے میں انھوں نے میری طرف بھیجا ہے اور وہ یہ ہے:
”مجھے یقینی یاد ہے کہ حضور (مرزا قادیانی) نے بماہ مارچ 1888ء جبکہ اس عاجز نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کی تو ایک لمبی دعا کے بعد اسی وقت آپ نے فرمایا تھا کہ قاضی صاحب آپ کو ایک سخت ابتلا پیش آنے والا ہے۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے بعد اس عاجز نے کئی اپنے عزیز دوستوں کو اس سے اطلاع بھی دے دی کہ حضور نے میری نسبت اور میرے حق میں ایک ابتلائی حالت کی خبر دی تھی۔ اب اس کے بعد جس طرح پر وہ پیشگوئی پوری ہوئی وہ وقوعہ بعینہ عرض کرتا ہوں کہ میں حضرت اقدس سے روانہ ہو کر ابھی راستہ میں ہی تھا کہ مجھے خبر ملی کہ میری اہلیہ بعارضہ درد گردہ و قولنج و قے مفرط سخت بیمار ہے۔ جب میں گھر پہنچا اور دیکھا تو واقع میں ایک نازک حالت طاری تھی اور عجیب تر یہ کہ شروع بیماری وہی رات تھی، جس کی شام کو حضور نے اس ابتلاء سے اطلاع دی تھی۔ شدت درد کا یہ حال تھا کہ جان ہر
دم ڈوبتی جاتی تھی اور بے تابی ایسی تھی کہ باوجود کثیر الحیاء ہونے کے، مارے درد کے بے اختیار ان کی چیخیں نکلتی تھیں اور گلی کوچے تک آواز پہنچتی تھی۔ اور ایسی نازک اور درد ناک حالت تھی کہ اجنبی لوگوں کو بھی وہ حالت دیکھ کر رحم آتا تھا۔ شدت مرض تخمیناً تین ماہ تک رہی۔ اس قدر مدت میں کھانے کا نام تک نہ تھا۔ صرف پانی پیتیں اور قے کر دیتیں۔ دن رات میں پچاس ساٹھ دفعہ متواتر قے ہوتی۔ پھر درد قدرے کم ہوا۔ مگر نادان طبیبوں کے بار بار فصد لینے سے ہزال مفرط کی مرض مستقل طور پر دامنگیر ہو گئی۔ ہر وقت جان بلب رہتیں۔ دس گیارہ دفعہ تو مرنے تک پہنچ کر بچوں اور عزیز اقربا کو پورے طور پر الوداعی غم والم سے رلایا۔ غرض گیارہ مہینے تک طرح طرح کے دکھوں کی تختہ مشق رہ کر آخر کشادہ پیشانی بہوش تمام کلمہ شریف پڑھ کر 28 برس کی عمر میں سفر جاودانی اختیار کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اور اس حادثہ جانکاہ کے درمیان ایک شیر خوار بچہ رحمت اللہ نام بھی دودھ نہ ملنے کے سبب سے بھوکا پیاسا راہی ملک بقا ہوا۔ ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ عاجز کے دو بڑے بیٹے عبدالرحیم و فیض رحیم تپ محرقہ سے صاحب فراش ہوئے۔ فیض رحیم کو تو ابھی گیارہ دن پورے نہ ہونے پائے کہ اس کا پیالہ عمر کا پورا گیا۔ اور سات سالہ عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر جلدی سے اپنی پیاری ماں کو جا ملا، اور عبدالرحیم تپ محرقہ اور سرسام سے برابر دو ڈھائی مہینے بیہوش میت کی طرح پڑا رہا۔ سب طبیب لاعلاج سمجھ چکے۔ کوئی نہ کہتا تھا کہ یہ بچے گا۔ لیکن چونکہ زندگی کے دن باقی تھے، بوڑھے باپ کی مضطربانہ دعائیں خدا نے سن لیں اور محض اس کے فضل سے صحیح سلامت بچ نکلا۔ اگرچہ پٹھوں میں کمزوری اور زبان میں لکنت ابھی باقی ہے۔ یہ حوادث جانکاہ تو ایک طرف ادھر مخالفوں نے اور بھی شور مچا دیا تھا۔ آبرو ریزی اور طرح طرح کے مالی نقصانوں کی کوششوں میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ غریب خانہ میں نقب زنی کا معاملہ بھی ہوا۔ اب تمام مصیبتوں میں یکجائی طور پر غور کرنے سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ عاجز راقم کس قدر بلیہ دل دوز سینہ سوز میں مبتلا رہا۔“
راقم مسکین ضیاء الدین عفی عنہ قاضی کوٹی ضلع گوجرانوالہ (تریاق القلوب صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 472 تا 475 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 801 تا 804 پر)
کثرت قبولیت دعا کا نشان
(290) ”میں کثرت قبولیت دعا کا نشان دیا گیا ہوں۔ کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میری دعائیں تیس ہزار کے قریب قبول ہو چکی ہیں اور ان کا میرے پاس ثبوت ہے“
(ضرورۃ الامام صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 497 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 805 پر)
View Proof
(291) ”پس یہ اصول نہایت صحیح اور سچا ہے کہ جن نبیوں کو قبولیت دی جاتی ہے اور ہر ایک قدم میں حمایت اور نصرت الہیٰ اُن کے شامل حال ہو جاتی ہے۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 378 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 378 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 806 پر)
View Proof
قادیانو! آپ کبھی تنہائی میں غور کرنا کہ آخر مرزا قادیانی کے خدا نے اسے اس قدر رسوا کر کے کیوں رکھ دیا؟ کیا اتنی سی بات بھی آپ کو سمجھ میں نہیں آتی کہ مرزا قادیانی جو کچھ کہتا تھا، نتیجہ ہمیشہ الٹ نکلا، ایک بار بھی تائید خداوندی اس کے شامل حال نہیں ہوئی، مطلب کتنا واضح ہے کہ سچے خدا نے مرزا قادیانی سے حق عداوت ادا کر کے مرزا قادیانی کے کذب کو دو اور دو چار کی طرح دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔ گویا مرزا قادیانی کے دعوٰی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ خدا کا سچوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوا کرتا۔
مسیلمہ پنجاب اور مسیلمہ کذاب میں کئی باتوں میں مماثلت ہے۔ ان میں ایک یہ بھی ہے کہ دونوں کی کرامات الٹ ہوتی تھیں۔ ایک مرتبہ مسیلمہ کذاب کے بعض پیروکاروں نے اس سے کہا کہ فلاں کنویں میں تھوک دیجیے تاکہ پانی تبرک بن جائے چنانچہ اس نے کنویں میں تھوک دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی نجاست سے سارے کنویں کا پانی خراب اور نمکین ہو گیا۔ اسی طرح ایک بار اس کے کسی چیلے چانٹے نے مسیلمہ سے اپنے بچے کے سر پر ہاتھ رکھوا دیا۔ نتیجہ میں وہ بچہ ایسا گنجا ہوا کہ عمر بھر اس کی کھوپڑی پر ایک بال بھی نہیں نکلا (اور اس کے ہاتھ کی ناپاکی اسے ہمیشہ لیے لے ڈوبی) اسی طرح ایک دفعہ ایک شخص نے اپنے دو بچوں کے لیے اس سے برکت کی دعا کرائی مگر مسیلمہ سے دعا کرا کے جب وہ شخص اپنے گھر
پہنچا تو معلوم ہوا کہ دونوں بچوں میں سے ایک کنویں میں گر کر ہلاک ہو چکا ہے اور دوسرے کو کسی درندے نے پھاڑ کھایا۔ ایک بار اس کے ایک پیروکار کی آنکھوں میں کچھ تکلیف ہوئی اس غریب نے شفا کی امید میں مسیلمہ کا ہاتھ اپنی دونوں آنکھوں پر پھیر لیا مگر اس کا انجام یہ ہوا کہ اس کی دونوں آنکھیں بالکل سفید اور بے رونق و بے نور ہو گئیں۔
ثبوت حاضر ہیں!
قادیانی جماعت
قادیانی قیادت کی نظر میں
فارسی مقولہ مشہور ہے:
”ایں خانہ تمام آفتاب است!“ یعنی اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ ہر بات کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے اور تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ خرابی اور بگاڑ دونوں جانب سے ہوتا ہے۔ قادیانی قیادت اور ان کے پیروکار دونوں بدزبانی و بدعملی، فتنہ و فساد اور بدی و شرارت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔ آئیے! ملاحظہ فرمائیں!
درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے
- □ ”درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔“ یہ ایک خدا کے صادق نبی کا قول ہے اور
درحقیقت ایک بہت سچی بات ہے۔ اگر ایک شخص خود راستی پر نہیں بلکہ وہ کذاب اور مفتری ہے، اور اس میں خود قوت قدسی نہیں، بلکہ وہ ایک گمراہ اور گندہ آدمی ہے، جو مکر و فریب سے لوگوں کا مال کھاتا ہے، اور خدا پر گند کے افترا پر منہ مارتا ہے تو وہ دوسروں میں راستی کی روح کیونکر پھونک سکتا ہے؟ اور ان کو گندوں سے کیونکر پاک کر سکے گا؟ مرزا قادیانی کی صداقت یا غیر صداقت پرکھنے کے لیے آسان نسخہ یہی راہ ہے کہ جس جماعت کو وہ تیار کر کے چھوڑ گئے ہیں، اس جماعت کو دیکھ لو کہ اس کی کیا حالت ہے؟“
(مسٹر محمد علی ایم اے، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز قادیان جون، جولائی 1908ء)
قادیان؟
- (292) ”قادیان کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ
”اخرج منہ الیزیدیون“
یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کیے گئے ہیں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 141 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 807 پر)
View Proof
بھیڑیوں کی جماعت
(293) ”بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آئیں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بنا پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔“
(شہادت القرآن صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 808 پر)
View Proof
درندے، قادیانیوں سے اچھے
(294) ”خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جھک کر بات کرنا مقبول الٰہی ہونے کی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے۔
مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ سختی سے اس کو اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گرا دیتا ہے۔ پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔ یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں۔ تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔ پھر میں کس
خوشی کی امید سے لوگوں کو جلسہ کے لیے اکٹھے کروں۔‘‘
(شہادت القرآن صفحہ 2 (آخر) مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 396 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 809 پر)
View Proof
قادیانی جلسہ، اخلاقی حالتوں کے بگاڑنے کا ایک ذریعہ
(295) ’’اس اجتماع میں بعض دفعہ بباعث تنگی مکانات اور قلت وسائل مہمانداری ایسے نالائق رنجش اور خود غرضی کی سخت گفتگو بعض مہمانوں میں باہم ہوتی دیکھی ہے کہ جیسے ریل میں بیٹھنے والے تنگی مکان کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں اور اگر کوئی بیچارہ عین ریل چلنے کے قریب اپنی گٹھڑی کے سمیت مارے اندیشہ کے دوڑتا دوڑتا ان کے پاس پہنچ جاوے تو اس کو دھکے دیتے اور دروازہ بند کر لیتے ہیں کہ ہم میں جگہ نہیں، حالانکہ گنجائش نکل سکتی ہے مگر سخت دلی ظاہر کرتے ہیں اور وہ ٹکٹ لیے اور بوجھ اٹھائے ادھر ادھر پھرتا ہے اور کوئی اس پر رحم نہیں کرتا مگر آخر ریل کے ملازم جبراً اس کو جگہ دلاتے ہیں۔ سو ایسا ہی یہ اجتماع بھی بعض اخلاقی حالتوں کے بگاڑنے کا ایک ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘
(شہادت القرآن صفحہ ”ر“ مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 810 پر)
View Proof
کج دل لوگوں کی جماعت
(296) ’’میں اس وقت کج دل لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے۔ یہ کونسی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے۔ نفسانی لالچوں پر کیوں ان کے دل گرے جاتے ہیں اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کو ستاتا اور اس سے بلندی چاہتا ہے۔‘‘
(شہادت القرآن صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 811 پر)
View Proof
تہذیب اور پرہیزگاری سے عاری جماعت
(297) ”اخی مکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیزگاری اور للہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔“
(شہادۃ القرآن صفحہ 99، مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 812 پر)
View Proof
مخنثوں کی جماعت
(298) ”اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہو جائیں تو میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ فرشتے بن جائیں اور اگر وہ اس گورنمنٹ کے سب قوموں سے بڑھ کر خیر خواہ ہو جائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہو جائیں۔ اگر وہ مجھے قبول کر لیں اور مخالفت نہ کریں تو یہ سب کچھ انہیں حاصل ہوگا اور ایک نیکی اور پاکیزگی کی روح ان میں پیدا ہو جائے گی، اور جس طرح ایک انسان خوجہ (مخنث) ہو کر گندے شہوات کے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے اسی طرح میری تعلیم سے ان میں تبدیلی پیدا ہوگی (گویا مرزا قادیانی کی تعلیم پر عمل کرنے والی قادیانی جماعت اب خوجوں یعنی مخنثوں پر مشتمل ہے۔ مرتب)
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 357، 358 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 813، 814 پر)
View Proof
اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو بہتر تھا
(299) ”میں کہتے کہتے ان باتوں کو تھک گیا کہ اگر تمہاری یہی حالتیں ہیں تو پھر تم میں اور غیروں میں فرق ہی کیا ہے لیکن یہ دل کچھ ایسے ہیں کہ توجہ نہیں کرتے اور ان آنکھوں سے مجھے بینائی کی توقع نہیں لیکن خدا اگر چاہے اور میں تو ایسے لوگوں سے دُنیا اور آخرت میں بیزار ہوں۔ اگر میں صرف اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو میرے لیے ایسے لوگوں کی رفاقت سے بہتر تھا
جو خدا تعالیٰ کے احکام کو عظمت سے نہیں دیکھتے۔“
(شہادۃ القرآن صفحہ 101 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 397 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 815 پر)
View Proof
جیسے کتا مردار کی طرف
(300) ”بیعت سے مراد وہ بیعت نہیں جو صرف زبان سے ہوتی ہے اور دل اس سے غافل بلکہ روگرداں ہے۔ بیعت کے معنے بیچ دینے کے ہیں۔ پس جو شخص درحقیقت اپنی جان اور مال اور آبرو کو اس راہ میں بیچتا نہیں، میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا کے نزدیک بیعت میں داخل نہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں اور ایک کمزور بچہ کی طرح ہر ایک ابتلا کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔ پس میں کیونکر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں۔ مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے مگر اذن نہیں دیا جاتا کہ ان کو مطلع کروں۔ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کیے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے۔ پس مقام خوف ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 114 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 816 پر)
View Proof
شوق پورا نہیں ہوا
(301) ”میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ بھی دن ہو کہ اپنی جماعت میں بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے درحقیقت جھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کر لیا کہ وہ ہر ایک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے اور تکبر سے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے، بالکل دور جا پڑیں گے اور اپنے رب سے ڈرتے رہیں گے۔ مگر ابھی تک بجز خاص چند آدمیوں کے ایسی شکلیں مجھے نظر نہیں آتیں۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 364 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 817 پر)
View Proof
جلنے والی لکڑیاں
(302) ”اور میں اس جگہ اس بات کا اظہار بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہیں، وہ سب کے سب ابھی اس بات کے لائق نہیں کہ میں ان کی نسبت کوئی عمدہ رائے ظاہر کرسکوں۔ بلکہ بعض خشک ٹہنیوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ جن کو میرا خداوند جو میرا متولی ہے، مجھ سے کاٹ کر جلنے والی لکڑیوں میں پھینک دے گا۔ بعض ایسے بھی ہیں کہ اول ان میں دلسوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب اُن پر سخت قبض وارد ہے اور اخلاص کی سرگرمی اور مریدانہ محبت کی نورانیت باقی نہیں رہی۔ بلکہ صرف بلعم کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجز اس کے کسی کام کے نہیں کہ مُنہ سے اُکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دیئے جائیں۔ وہ تھک گئے اور درماندہ ہوگئے۔ اور نا بکار دنیا نے اپنے دامِ تزویر کے نیچے انہیں دبا لیا۔ سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عنقریب مجھ سے کاٹ دیئے جائیں گے۔“
(فتح اسلام صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن جلد سوم صفحہ 40 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 818 پر)
View Proof
خصی جماعت
- □ ”ہمیں تو حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) نے خصی کردیا ہے۔“
(تقریر مرزا محمود سابق خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد 22 نمبر 87، صفحہ 7،
20 جنوری 1935ء)
- □ ”حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے: ”سچا مومن خصی ہو جاتا ہے۔“ پس حکومت
کے افسروں کو، پولیس اور سول کے حکام کو اور احراریوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ باوجود ان اشتعال انگیزیوں کے جو وہ کر رہے ہیں، ہم بالکل پرامن ہیں، کیونکہ ہم سچے مومن ہیں اور مومن خصی ہوجاتا ہے۔“
(تقریر مرزا محمود سابق خلیفہ قادیان مندرجہ ”الفضل“ قادیان جلد 22، نمبر 87، صفحہ 5، مورخہ
20 جنوری 1935ء)
سُوروں کی جماعت
(303) ”مجھے نہایت ہی افسوس سے معلوم ہوا کہ ”جامعہ احمدیہ“ میں جو طلبا تعلیم پاتے ہیں، انھیں کنوؤں کے مینڈکوں کی طرح رکھا گیا ہے۔ ان میں کوئی وسعت خیال نہ تھی۔ ان میں کوئی شاندار امنگیں نہ تھیں اور ان میں کوئی روشن دماغی نہ تھی۔ میں نے کرید کرید کر ان کے دماغ میں داخل ہو جانا چاہا۔ مگر مجھے چاروں طرف سے ان کے دماغ کا راستہ بند نظر آیا اور مجھے معلوم ہوا کہ سوائے اس کے کہ انھیں کہا جاتا ہے۔ وفات مسیح کی یہ آیتیں رٹ لو یا نبوت کے مسئلہ کی یہ دلیلیں یاد کر لو، انھیں اور کوئی بات نہیں سکھلائی جاتی......... میں نے جس سے بھی سوال کیا، معلوم ہوا کہ اس نے اخبار کبھی نہیں پڑھا، اور جب بھی میں نے ان سے امنگ پوچھی تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم تبلیغ کریں گے، اور جب سوال کیا کہ کس طرح تبلیغ کرو گے، تو یہ جواب دیا کہ: ”جس طرح بھی ہوگا تبلیغ کریں گے“ یہ الفاظ کہنے والوں کی ہمت تو بتاتے ہیں مگر عقل تو نہیں بتاتے۔ الفاظ سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ کہنے والا ہمت رکھتا ہے مگر یہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ کہنے والے میں عقل نہیں اور نہ وسعت خیال ہے۔ ”جس طرح ہوگا“ تو سُور کیا کرتا ہے۔ اگر سُور کی زبان ہوتی اور اس سے پوچھا جاتا کہ تو کس طرح حملہ کرے گا تو وہ یہی کہتا کہ: ”جس طرح ہوگا کروں گا۔ پس سور کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ سیدھا چل پڑتا ہے۔ آگے نیزہ لے کر بیٹھو تو نیزہ پر حملہ کر دے گا۔ بندوق لے کر بیٹھو تو بندوق کی گولی کی طرف دوڑتا چلا آئے گا۔ پس یہ تو سوروں والا حملہ ہے کہ سیدھے چلے گئے اور عواقب کا کوئی خیال نہیں کیا۔“
(تقریر مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد 22 نمبر 89 صفحہ 8 مورخہ 24 جنوری 1935ء)
(عکس صفحہ نمبر 819 پر) View Proof
کیا خراج تحسین پیش کیا گیا ہے، اپنے سادہ لوح مریدوں کو! ویسے خلیفہ صاحب اگر غور کرتے تو اسی نتیجے پر پہنچتے کہ اگر ان کے فدائیوں میں عقل و شعور نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ قادیانیت سے وابستہ ہی کیوں رہتے...... چنانچہ ایسے ہی بے سمجھوں سے انھیں استفادہ کرنا چاہیے تھا جو خیر سے سوا صدی سے برابر ہو بھی رہا ہے۔ جس گاؤں میں بے وقوف نہیں ہوتے، اس کے ٹھگ بھوکے مرجاتے ہیں جناب!
جماعت میں بہت کمی ہے
(304) ’’بیان کیا مجھ سے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ کسی کام کے متعلق میر صاحب یعنی میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب کا اختلاف ہو گیا۔ میر صاحب نے ناراض ہو کر اندر حضرت صاحب کو جا اطلاع دی۔ مولوی محمد علی صاحب کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ ہم لوگ یہاں حضور کی خاطر آئے ہیں کہ تا حضور کی خدمت میں رہ کر کوئی خدمت دین کا موقعہ مل سکے۔ لیکن اگر حضور تک ہماری شکایتیں اس طرح پہنچیں گی تو حضور بھی انسان ہیں۔ ممکن ہے کسی وقت حضور کے دل میں ہماری طرف سے کوئی بات پیدا ہو تو اس صورت میں ہمیں بجائے قادیان آنے کا فائدہ ہونے کے الٹا نقصان ہو جائے گا۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ میر صاحب نے مجھ سے کچھ کہا تو تھا۔ مگر میں اس وقت اپنی فکروں میں اتنا محو تھا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے معلوم نہیں کہ میر صاحب نے کیا کہا اور کیا نہیں کہا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ چند دن سے ایک خیال میرے دماغ میں اس زور کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے کہ اس نے دوسری باتوں سے مجھے بالکل محو کر دیا ہے۔ بس ہر وقت اٹھتے بیٹھتے وہی خیال میرے سامنے رہتا ہے۔ میں باہر لوگوں میں بیٹھا ہوتا ہوں اور کوئی شخص مجھ سے کوئی بات کرتا ہے تو اس وقت بھی میرے دماغ میں وہی خیال چکر لگا رہا ہوتا ہے۔ وہ شخص سمجھتا ہو گا کہ میں اس کی بات سن رہا ہوں مگر میں اپنے اس خیال میں محو ہوتا ہوں۔ جب میں گھر جاتا ہوں تو وہاں بھی وہی خیال میرے ساتھ ہوتا ہے غرض ان دنوں یہ خیال اس زور کے ساتھ میرے دماغ پر غلبہ پائے ہوئے ہے کہ کسی اور خیال کی گنجائش نہیں رہی۔ وہ خیال کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ میرے آنے کی اصل غرض یہ ہے کہ ایک ایسی جماعت تیار ہو جائے جو سچی مومن ہو اور خدا پر حقیقی ایمان لائے اور اس کے ساتھ حقیقی تعلق رکھے اور اسلام کو اپنا شعار بنائے اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ پر کار بند ہو اور اصلاح و تقویٰ کے رستے پر چلے اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ قائم کرے تاکہ پھر ایسی جماعت کے ذریعہ دنیا ہدایت پائے اور خدا کا منشا پورا ہو پس اگر یہ غرض پوری نہیں ہوتی تو اگر دلائل و براہین سے ہم نے دشمن پر غلبہ بھی پا لیا اور اس کو پوری طرح زیر بھی کر لیا تو پھر بھی ہماری کوئی فتح نہیں کیونکہ اگر ہماری بعثت کی اصل غرض پوری نہ ہوئی تو گویا ہمارا سارا کام
رائیگاں گیا۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ دلائل و براہین کی فتح کے تو نمایاں طور پر نشانات ظاہر ہو رہے ہیں اور دشمن بھی اپنی کمزوری محسوس کرنے لگا ہے لیکن جو ہماری بعثت کی اصل غرض ہے۔ اس کے متعلق ابھی تک جماعت میں بہت کمی ہے اور بڑی توجہ کی ضرورت ہے۔ پس یہ خیال ہے جو مجھے آج کل کھا رہا ہے اور یہ اس قدر غالب ہو رہا ہے کہ کسی وقت بھی مجھے نہیں چھوڑتا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 254 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 821 پر)
میں کسی کو حساب نہیں دوں گا
(305) ’’میں ایک مدت سے بیماریوں میں رہا اور اب بھی ان کا بقیہ باقی ہے۔ میں چاہتا تھا کہ اپنے ہاتھ سے جواب لکھوں مگر بباعث بیماری کے لکھ نہ سکا۔ آپ کے پہلے خط کا ماحصل جس قدر مجھ کو یاد ہے، یہ ہے کہ میری نسبت ...... کی جماعت کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ روپیہ کے خرچ میں بہت اسراف ہوتا ہے آپ اپنے پاس روپیہ جمع نہ رکھیں اور یہ روپیہ ایک کمیٹی کے سپرد ہو جو حسب ضرورت خرچ کیا کریں اور یہ بھی ذکر تھا کہ اس روپیہ میں سے باغ کے چند خدمتگار بھی روٹیاں کھاتے ہیں اور ایسا ہی اور کئی قسم کے اسراف کی طرف اشارہ تھا جن کو میں سمجھتا ہوں آپ نے اپنی نیک نیتی سے جو کچھ لکھا بہتر لکھا۔ میں ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کا رد لکھوں میں آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو پورا کرنا مومن کا فرض ہے اور اس کی خلاف ورزی معصیت ہے کہ آپ ...... کی تمام جماعت کو اور خصوصاً ایسے صاحبوں کو جن کے دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہوا ہے، بہت صفائی اور کھول کر سمجھا دیں کہ اس کے بعد ہم ...... کا چندہ بکلی بند کرتے ہیں اور ان پر حرام ہے اور قطعاً حرام ہے اور مثل گوشت خنزیر ہے کہ ہمارے کسی سلسلہ کی مدد کے لئے اپنی تمام زندگی تک ایک حبہ بھی بھیجیں۔ ایسا ہی ہر شخص جو ایسے اعتراض دل میں مخفی رکھتا ہے، اس کو بھی ہم یہی قسم دیتے ہیں۔
یہ کام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جس طرح وہ میرے دل میں ڈالتا ہے خواہ وہ کام لوگوں کی نظر میں صحیح ہے یا غیر صحیح، درست ہے یا غلط، میں اسی طرح کرتا ہوں۔ پس جو شخص کچھ مدد دے کہ مجھے اسراف کا طعنہ دیتا ہے وہ میرے پر حملہ کرتا ہے۔ ایسا حملہ قابل
برداشت نہیں۔ اصل تو یہ ہے کہ مجھے کسی کی بھی پروا نہیں۔ اگر تمام جماعت کے لوگ متفق ہو کر چندہ بند کردیں یا مجھ سے منحرف ہو جائیں تو وہ جس نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا ہے، وہ اور جماعت ان سے بہتر پیدا کردے گا جو صدق اور اخلاص رکھتی ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے ینصرک اللہ من عندہ۔ ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء۔ یعنی خدا تیری اپنے پاس سے مدد کرے گا۔ تیری وہ مدد کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ وحی کریں گے اور الہام کریں گے۔ پس اس کے بعد میں ایسے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بھی نہیں سمجھتا جن کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں اور کیا وجہ ہے کہ انہیں جبکہ میں ایسے خشک دل لوگوں کو چندہ کے لیے مجبور نہیں کرتا جن کا ایمان ہنوز ناتمام ہے۔ مجھے وہ لوگ چندہ دے سکتے ہیں جو اپنے سچے دل سے مجھے خلیفۃ اللہ سمجھتے ہیں اور میرے تمام کاروبار خواہ ان کو سمجھیں یا نہ سمجھیں، ان پر ایمان لاتے اور ان پر اعتراض کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ میں تاجر نہیں کہ کوئی حساب رکھوں، میں کسی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دوں۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 249، 250، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 822 پر)
بے حیا اور بزدل جماعت
- (306) ’’کیا تمھیں شرم نہیں آتی کہ تم ایک سخت بد لگام دشمن کا جواب دے کر اس سے
حضرت مسیح (یعنی مرزا قادیانی) کو گالیاں دلواتے ہو اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھے رہتے ہو۔ اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہ عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہیے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ یا گالیاں دینے والوں کو مٹا ڈالو۔ مگر ایک طرف تم جوش اور بہادری کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف بزدلی اور دوں ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہو۔‘‘
(تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25 نمبر 129، صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء)
(عکس صفحہ نمبر 824، 825 پر)
جہنم کی آگ کی حامل جماعت
- (307) ’’رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جہنم کی آگ میں سے اگر ایک رائی کے برابر
آگ بھی ساری دنیا پر ڈالی جائے تو دنیا جل کر راکھ ہو جائے۔ میری کوشش یہ ہے کہ میں وہ جہنم کی آگ تمھارے اندر پیدا کروں جو پہاڑوں کے برابر ہو۔ اگر جہنم کی رائی بھر آگ ساری دنیا کو جلانے کے لیے کافی ہے تو جو آگ میں تمھارے دلوں میں پیدا کرنا چاہتا ہوں، اگر پیدا ہو جائے تو ایک دنیا نہیں، ہزاروں دنیاؤں کو تم جلانے کے قابل ہو جاؤ گے (یہ آگ قادیانیوں کے اندر اسی وقت پیدا ہو گئی تھی جب انھوں نے محمد عربی ﷺ سے رشتہ توڑ کر مرزا غلام احمد قادیانی سے رشتہ جوڑ لیا تھا۔ یہ آگ انھیں دنیا میں بھی جلائے گی اور آخرت میں بھی وہ جہنم کی آگ میں جلیں گے۔ مرتب)“
(تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان مورخہ 12 دسمبر 1935ء جلد 23 نمبر 139 صفحہ 9)
(عکس صفحہ نمبر 826، 827 پر)
بددیانت جماعت
(308) ”جیسا کہ سب کو معلوم ہے، یہاں (یعنی قادیان میں) ایک سٹور قائم کیا گیا تھا۔ جماعت کے کچھ افراد نے اس میں روپیہ دیا تھا ............ میرے نام ایک خط آیا ہے ............ یہ بات کہ یہ کسی احمدی کہلانے والے کا ہے، اس سے معلوم ہوتی ہے کہ میرا نام خلیفۃ المسیح لکھا ہے ............ وہ یہ ہے کہ یہ قادیانیوں کی دیانت کا حال ہے، جو دنیا میں بڑے بڑے دینداری کے دعویدار ہیں۔ اس کے بعد اس نے پہلے میری سٹور کے متعلق سفارش نقل کی ہے کہ ”جہاں تک میرا علم ہے، سٹور کے کارکن دیانت دار ہیں۔“ اس کو نقل کر کے (خط میں) کہا ہے کہ یہ ایک پھندا تھا، جب روپیہ لوگوں نے دیا تو پھر روپیہ کھانا شروع کر دیا اور کھاتے کھاتے یہاں تک پہنچایا کہ (اس دور کے) ساٹھ ہزار میں سے صرف اٹھارہ ہزار باقی رہ گیا۔“
(تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 10 نمبر 41، 42 صفحہ 6 مورخہ 23 تا 27 نومبر 1942ء)
(عکس صفحہ نمبر 828، 829 پر)
گالیاں کھلوانے والی جماعت
(309) ”گندے سے گندے الفاظ حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کے متعلق کہے جاتے
ہیں ۔ تم خود دشمن سے وہ الفاظ کہلواتے ہو اور پھر تمہاری تگ و دو یہیں تک آکر ختم ہو جاتی ہے کہ گورنمنٹ سے کہتے ہو، وہ تمہاری مدد کرے، گورنمنٹ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے؟"
(مرزا محمود کا خطبہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25 نمبر 129، صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء)
(عکس صفحہ نمبر 830 پر)
کتے
(310) ”وہ مفسد لوگ جو میرے ہاتھ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اور یہ کہہ کر کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا۔ پھر وہ اپنے گھروں میں جا کر ایسے مفاسد میں مشغول ہو جائیں کہ صرف دنیا ہی دنیا ان کے دلوں میں ہوتی ہے۔ نہ ان کی نظر پاک ہے، نہ ان کا دل پاک ہے۔ اور نہ ان کے ہاتھوں سے کوئی نیکی ہوتی ہے اور نہ ان کے پیر کسی نیک کام کے لیے حرکت کرتے ہیں اور وہ اس چوہے کی طرح ہیں جو تاریکی میں ہی پرورش پاتا ہے اور اسی میں رہتا اور اسی میں مرتا ہے۔ وہ آسمان پر ہمارے سلسلہ میں سے کاٹے گئے ہیں۔ وہ عبث کہتے ہیں کہ ہم اس جماعت میں داخل ہیں کیونکہ آسمان پر وہ داخل نہیں سمجھے جاتے۔ جو شخص میری اس وصیت کو نہیں مانتا کہ درحقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور درحقیقت ایک پاک انقلاب اس کی ہستی پر آ جائے اور درحقیقت وہ پاک دل اور پاک ارادہ ہو جائے اور پلیدی اور حرامکاری کا تمام چولہ اپنے بدن پر سے پھینک دے اور نوع انسان کا ہمدرد اور خدا کا سچا تابعدار ہو جائے اور اپنی تمام خود روی کو الوداع کہہ کر میرے پیچھے ہولے۔ میں اُس شخص کو اُس کتے سے مشابہت دیتا ہوں جو ایسی جگہ سے الگ نہیں ہوتا جہاں مردار پھینکا جاتا ہے اور جہاں سڑے گلے مردوں کی لاشیں ہوتی ہیں۔ کیا میں اس بات کا محتاج ہوں کہ وہ لوگ زبان سے میرے ساتھ ہوں اور اس طرح پر دیکھنے کے لیے ایک جماعت ہو۔“
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 78 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 78 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 832 پر)
”سلطان القلم“ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ تابع دار، تابِع رکھنے والے کو کہتے ہیں، جیسے تھانے دار، جمع دار وغیرہ...... یہاں اسے تابع فرمان لکھنا چاہیے تھا۔
احمق جماعت
(311) ”میں نے دیکھا ہے، قادیان کی لوکل جماعت کے پریذیڈنٹ (صدر یا امیر) چونکہ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے ان کے متعلق یہ بات خوب نظر آتی ہے، ایک وقت جب ایک شخص پریذیڈنٹ ہوتا ہے تو دوسرا آ کر کہتا ہے: دیکھیے کیا اندھیر نگری ہے، کوئی سننے والا ہی نہیں، ہر کوئی اپنی حکومت جتاتا ہے۔ لیکن جب دوسرے وقت وہی شخص خود پریذیڈنٹ ہو جاتا ہے تو شکایت کرتا ہے: پبلک (یعنی قادیانی) بالکل جاہل اور احمق ہے، وہ تو کام کرنے ہی نہیں دیتی، گویا جب خود پریذیڈنٹ ہوتا ہے تو (قادیانی) پبلک کو احمق قرار دیتا ہے اور جب پبلک میں شامل ہو جاتا ہے تو (اپنے) پریذیڈنٹ کو احمق کہنے لگ جاتا ہے۔“ (گویا پوری قادیانی جماعت ہی احمق ہے۔ اس حساب سے بہشتی مقبرے کا نام ”جنت الحمقا“ ہونا چاہیے تھا۔ مرتب)“
(خطبہ جمعہ از مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 20، نمبر 143، صفحہ 7 مورخہ یکم جون 1933ء)
(عکس صفحہ نمبر 833، 834 پر)
انگاروں والی جماعت
(312) ”میں چاہتا ہوں کہ جو جو مظالم تم پر کیے جاتے ہیں، وہ تمھارے دلوں میں انگارے بن بن کر جمع ہوتے چلے جائیں لیکن ان کا دھواں باہر نہ نکلے، یہاں تک کہ تم ان انگاروں سے جل کر اندر ہی اندر راکھ ہو کر بھسم ہو جاؤ۔“
(خطبہ جمعہ از مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 23، نمبر 139، صفحہ 9 مورخہ 12 دسمبر 1935ء)
(عکس صفحہ نمبر 835، 836 پر)
جھگڑالو جماعت
(313) ”مجھے ان (قادیانی) لوگوں کو ڈھیل دیتے دیتے ایک لمبا عرصہ ہو گیا ہے اور اب بھی میں انھیں کچھ نہیں کہتا مگر میں انھیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سوچیں ان کا اپنا طریقِ عمل کیا ہے۔ ان کی اپنی تو یہ حالت ہے کہ وہ اس بات پر لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں کہ ہمیں فلاں عہدہ
کیوں نہیں دیا گیا؟ فلاں کیوں دیا گیا؟ فلاں کے ماتحت ہم رہنا نہیں چاہتے۔ کبھی تنخواہ پر جھگڑا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تمام باتیں بتلاتی ہیں کہ ان کے دماغ کی کل بگڑی ہوئی ہے، ورنہ کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کو اگر برا بھلا کہا جائے تو انھیں غصہ نہیں آتا لیکن اپنی کوئی بات ہو تو جھگڑے بغیر رہ نہیں سکتے۔“
(اخبار الفضل قادیان جلد 22، نمبر 94، صفحہ 9 مورخہ 5 فروری 1935ء) (عکس صفحہ نمبر 837، 838 پر)
کسی ماہر نفسیات کے لیے یہ بہت بڑی Assignment ہے کہ وہ گہرائی میں جا کر مفصل علمی تجزیہ کرے، آخر مرزا قادیانی کے لیے قادیانیوں کے دلوں میں غیرت کا اس قدر فقدان کیوں ہے؟ مرزا قادیانی کو نبی کہتے ہوئے ان کا منہ سوکھتا ہے مگر جب موقع آتا ہے، اپنے اس ”مسیح موعود“ کی عزت کے لیے تو ان کی حمیت نہیں جاگتی۔ آخر اس کے اسباب کیا ہیں؟
غیر مہذب اور غیر شائستہ جماعت
(314) ”بعض دفعہ (میری) بغل کے نیچے سے کوئی ہاتھ نمودار ہو رہا ہوتا ہے اور بعض دفعہ میں آگے ہوتا ہوں اور کوئی پیچھے سے میرے ہاتھ کو مروڑ رہا ہوتا ہے اور میں قیاس سے سمجھتا ہوں کہ کوئی مصافحہ کرنا چاہتا ہے، پھر میں نے کئی بار دیکھا ہے بعض لوگ میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہیں............ پھر میری یہ حالت ہے کہ اگر میرے بدن پر ہاتھ رکھ دیا جائے تو میری حالت ناقابل برداشت ہو جاتی ہے اور دم گھٹنے لگتا ہے............ وہ تو برکت حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں مگر مجھے ایسی گدگدی اور کھجلی ہوتی ہے کہ طبیعت میں سخت انقباض پیدا ہوتا ہے پھر کئی لوگ ہیں کہ وہ دبانے لگتے ہیں مگر دو چار بار دبا کر پھر کمر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں، حالانکہ یہ تو برابر کے دوست کے لیے بھی معیوب بات ہے، چہ جائیکہ امام جماعت کے لیے ہو۔ ہماری مجالس میں باہر سے غیر احمدی بلکہ غیر مسلم بھی آ کر بیٹھتے ہیں اور عام طور پر ہماری جماعت کو مہذب اور شائستہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسی حالت دیکھ کر ان لوگوں پر کیا اثر ہوتا ہوگا؟ (ظاہر ہے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مہذب اور غیر شائستہ ہی سمجھیں گے۔ مرتب)“
(خطبہ جمعہ از مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 21، نمبر 149، صفحہ 5 تا 6 مورخہ 14 جون 1934ء)
(عکس صفحہ نمبر 839 تا 841 پر)
نفس پرور جماعت
- (315) ”پس جو لوگ دنیا میں نفسا نفسی میں ہی پڑے رہتے ہیں، قیامت کے روز ان سے
بھی نفسی نفسی کا معاملہ ہوگا۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس کی تازہ مثال ہم میں موجود ہے۔ ایک (قادیانی) شخص کی لڑکی فوت ہو گئی۔ وہ اکیلا اس کا جنازہ لے کر گیا اور راستہ میں دو ایک آدمی اور مل گئے۔ یہ کیوں ہوا؟ اس لیے کہ میں بوجہ بیماری کے اس جنازے کے ساتھ نہ جاسکا۔“
(خطبہ جمعہ از مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 8، نمبر 60، صفحہ 8 مورخہ 12 اگست 1920ء)
(عکس صفحہ نمبر 842، 843 پر)
View Proof
ایک پیسے سے بھی کم حیثیت جماعت
- (316) ”اگر ہزاروں احمدیوں کی جانیں بھی چلی جائیں تو پھر بھی ان کی اتنی حیثیت بھی نہ
ہوگی، جتنی ایک کروڑ پتی کے لیے ایک پیسہ کی ہوتی ہے۔“
(خطبہ جمعہ از مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 22، نمبر 72، صفحہ 8 مورخہ 13 دسمبر 1934ء)
(عکس صفحہ نمبر 844، 845 پر)
View Proof
لومڑی، سؤر اور سانپ
مرزا قادیانی کا اپنی جماعت کے بارے میں ”ارشاد“ ہے:
کوئی ہے روباہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 108 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 138، از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 846 پر)
مرزا قادیانی کے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ اے قادیان کے رہنے والو! تم ہر گز انسان نہیں ہو۔ تم میں کوئی اپنی منافقت اور مکر و فریب کی وجہ سے لومڑی ہے۔ کوئی بے حیا اور پلید ہونے کی وجہ سے سور ہے اور کوئی اپنی زہرناکیوں کی وجہ سے سانپ ہے۔ View Proof
ان القابات کے جواب میں قادیانی بھی اپنے ”حضرت صاحب“ کو کہہ سکتے ہیں کہ جناب اگر ہم لومڑی، سور اور سانپ ہیں تو آپ بھی انسان نہیں ہیں کیونکہ مستند ہے آپ کا فرمایا ہوا کہ
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)
ثبوت حاضر ہیں!
مرزا قادیانی
کی
بیماریاں
انبیائے کرام انسانوں میں اللہ تعالیٰ کا بہترین انتخاب ہوتے ہیں۔ انھیں نبوت و رسالت ایسے عظیم ترین منصب سے سرفراز اور ممتاز کیا جاتا ہے۔ وہ عنداللہ بے حد مقبول اور محبوب ہوتے ہیں۔ ان کا مقام و مرتبہ پوری انسانیت میں سے بلند ہوتا ہے۔ انھیں جہاں دیگر اعلیٰ ترین اوصاف حمیدہ سے نوازا جاتا ہے، وہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ انبیائے کرام کی صحت نہایت قابل رشک ہوتی ہے کیونکہ بار نبوت اٹھانے اور نباہنے کے لیے ان کا تندرست اور صحت مند ہونا لازمی امر ہے۔ وہ کسی خاص مرض کا نشانہ نہیں بنتے۔ انھیں کوئی ایسی بیماری لاحق نہیں ہوتی جو ان کے عظیم مشن میں رکاوٹ بن سکے۔ اگر کبھی خدانخواستہ کوئی نبی کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو یہ دائمی اور ابدی نہیں ہوتی بلکہ وقتی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر کی آزمائش ہوتی ہے۔ اس کے برعکس آنجہانی مرزا قادیانی پوری زندگی جسمانی اور دماغی بیماریوں کا شکار رہا۔ وہ بیمار نہیں بلکہ ”بیماری“ تھا۔ سستی نامردی سے لے کر مراق تک ہر بیماری اسے ”جاناں“ سمجھ کر چمٹی ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی چلتا پھرتا بیماریوں کا ہسپتال تھا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آنجہانی مرزا قادیانی کو کون کون سی پیچیدہ بیماریاں لاحق تھیں:
مردانہ حسن کا نمونہ
(318) ”آپ مردانہ حسن کے اعلیٰ نمونہ تھے۔“
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 120 از مرزا بشیر احمد ) (عکس صفحہ نمبر 847 پر)
صحت کا ٹھیکہ
مرزا قادیانی کو الہام ہوا کہ
- (319) ”ہم نے تیری صحت کا ٹھیکہ لیا ہے؟“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 685 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 848 پر)
View Proof
انبیاء اور خبیث امراض
- (320) ”انبیاء خبیث امراض سے محفوظ رکھے جاتے ہیں۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ 397 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 849 پر)
View Proof
دائم المرض اور طرح طرح کی بیماریاں
- (321) ”اس عاجز کی عمر اس وقت پچاس برس سے کچھ زیادہ ہے اور ضعیف اور دائم المرض
اور طرح طرح کے عوارض میں مبتلا ہے۔“
(سراج منیر صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 17 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 850 پر)
View Proof
آنکھوں کی نسبت خاص الہام
- (322) ”ایسا ہی خدا تعالیٰ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر کوئی خبیث مرض دامن گیر ہو جائے جیسا
کہ جذام اور جنون اور اندھا ہونا اور مرگی، تو اس سے یہ لوگ نتیجہ نکالیں گے کہ اس پر غضب الہی ہو گیا۔ اس لیے پہلے سے اس نے مجھے براہین احمدیہ میں بشارت دی کہ ہر ایک خبیث عارضہ سے تجھے محفوظ رکھوں گا۔ اور اپنی نعمت تجھ پر پوری کروں گا۔ اور بعد اس کے آنکھوں کی نسبت خاص کر یہ بھی الہام ہوا۔ تنزل الرحمة علی ثلث۔ العین و علی الاخوین۔ یعنی رحمت تین عضووں پر نازل ہوگی۔ ایک آنکھیں کہ پیرانہ سالی ان کو صدمہ نہیں پہنچائے گی اور نزول الماء وغیرہ سے جس سے نور بصارت جاتا رہے محفوظ رہیں گی اور دو عضو اور ہیں جن کی
خدا تعالیٰ نے تصریح نہیں کی۔ ان پر بھی یہی رحمت نازل ہوگی اور ان کی قوتوں اور طاقتوں میں فتور نہیں آئے گا۔“
(تحفہ گولڑویہ [ضمیمہ] صفحہ 31 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 67 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 851 پر)
View Proof
مائی اوپیا
(323) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کی آنکھوں میں مائی اوپیا تھا، اسی وجہ سے پہلی رات کا چاند نہ دیکھ سکتے تھے۔“
(سیرت المہدی، حصہ سوم صفحہ 119 از مرزا بشیر احمد)
(عکس صفحہ نمبر 852 پر)
View Proof
چشم نیم باز
(324) ”مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب مع چند خدام کے فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہو گئیں۔“
(سیرت المہدی، حصہ دوم صفحہ 77 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
(عکس صفحہ نمبر 853 پر)
View Proof
الٹا جوتا پہننا
(325) ”ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لیے گرگابی لے آیا آپ نے پہن لی مگر اس کے اُلٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا، کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے اُلٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لیے نشان لگا دیے تھے مگر باوجود اس کے آپ اُلٹا سیدھا پہن لیتے تھے اس لیے
آپ نے اسے اتار دیا۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 67 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 854 پر)
کس کی چھڑی ہے؟
(326) ”بیان کیا مجھ سے مولوی ذوالفقار علی خان صاحب نے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کا مقدمہ تھا، ایک دن حضرت صاحب کچہری کی طرف تشریف لے جانے لگے اور حسب معمول پہلے دعا کے لیے اس کمرہ میں گئے جو اس غرض کے لیے پہلے مخصوص کر لیا تھا۔ میں اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ باہر انتظار میں کھڑے تھے اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں اس وقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی۔ حضرت صاحب دعا کر کے باہر نکلے تو مولوی صاحب نے آپ کو چھڑی دی۔ حضرت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اسے دیکھا اور فرمایا۔ یہ کس کی چھڑی ہے؟ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اچھا! میں تو سمجھا تھا کہ یہ میری نہیں ہے۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ وہ چھڑی مدت سے آپ کے ہاتھ میں رہتی تھی۔“ (کیا تجاہلِ عارفانہ ہے! مرتب)۔
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 245 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 855 پر)
گھڑی
(327) ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی۔ حضرت صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے۔ زنجیر نہیں لگاتے تھے، اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک کے ہندسے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ رکھ کر ہندسے گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے اور گھڑی دیکھتے ہی وقت نہ پہچان سکتے تھے۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 180 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 856 پر)
”انہوں کچھ دیدا ہے“
(328) ”حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی۔ ایک دفعہ اس نے کیا حرکت کی کہ جس کمرے میں حضرت صاحب بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے، وہاں ایک کونے میں غسلخانہ تھا، جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے۔ وہاں اپنے کپڑے اتار کر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی۔ حضرت صاحب اپنے کام تحریر میں مصروف رہے اور کچھ خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے۔ جب وہ نہا چکی تو ایک اور خادمہ اتفاقاً آ نکلی۔ اس نے اس نیم دیوانی کو ملامت کی کہ حضرت صاحب کے کمرے میں اور موجودگی کے وقت تُو نے کیا حرکت کی؟ تو اس نے ہنس کر جواب دیا، انہوں کچھ دیدا ہے؟ یعنی اسے کیا دکھائی دیتا ہے؟“ (اسے کہتے ہیں: دیوانہ بکار خویش ہوشیار۔ مرتب)
(ذکر حبیب صفحہ 38 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 857 پر)
ذیابیطس، سو سو دفعہ پیشاب
(329) ”مجھے اس وقت ایک اپنا سرگزشت قصہ یاد آتا ہے اور وہ یہ کہ مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ روز پیشاب آتا ہے۔ اور بعض وقت سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آیا ہے اور بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر ہے، کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے اور کثرت پیشاب سے بہت ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لیے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی لیکن اگر میں ذیابیطس کے لیے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا، اور دوسرا افیونی۔“
(نسیم دعوت صفحہ 74، 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 434، 435 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 858 پر)
حالت مردی کالعدم
(330) ”میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو
مرضیں یعنی ذیابیطس اور دردسر مع دوران سر، قدیم سے میرے شامل حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اس لیے میری حالت مردی کالعدم تھی ۔“
(تریاق القلوب صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 203 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 859 پر)
سردرد، کمی خواب، تشنج دل، ذیابیطس، کثرت پیشاب
(331) ”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں اور وہ دو زرد چادریں جن کے بارے میں حدیثوں میں ذکر ہے کہ ان دو چادروں میں مسیح نازل ہوگا، وہ دو زرد چادریں میرے شامل حال ہیں، جن کی تعبیر علم تعبیر الرؤیا کے رُو سے دو بیماریاں ہیں۔ سو ایک چادر میرے اوپر کے حصہ میں ہے کہ ہمیشہ سردرد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے، وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے، اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے، اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں، وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر 4 صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 470، 471 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 860 پر)
سردرد، کثرت پیشاب و دست
(332) ”مجھے دو مرض دامن گیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سر درد اور دوران سر اور دوران خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا، نبض کم ہو جانا، دوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماریاں قریباً بیس برس سے ہیں۔ کبھی دعا سے ایسی رخصت ہو جاتی ہیں کہ گویا دُور ہوگئیں۔ مگر پھر شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک دفعہ میں نے دعا کی کہ یہ بیماریاں بالکل دُور کر دی جائیں تو جواب ملا کہ ایسا نہیں ہوگا۔“
(نسیم دعوت صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 435 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 862 پر)
سر اور دستوں کی بیماری
(333) ”احادیث میں ہے کہ مسیح موعود دو زرد رنگ چادروں میں اترے گا۔ ایک چادر بدن کے اوپر کے حصہ میں ہوگی اور دوسری چادر بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ سو میں نے کہا کہ یہ اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود دو بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہوگا کیونکہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے۔ اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں یعنی ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری۔“
(تذکرہ الشہادتین صفحہ 44 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 46 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 863 پر)
View Proof
دست
(334) ”مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 565 طبع جدید از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 864 پر)
View Proof
دورے
(335) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کو سخت دورہ پڑا۔ کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آگئے۔ پھر ان کے سامنے بھی حضرت صاحب کو دورہ پڑا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزا سلطان احمد تو آپ کی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا اور وہ کبھی اِدھر بھاگتا تھا اور کبھی اُدھر۔ کبھی اپنی پگڑی اتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پاؤں دبانے لگ جاتا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 28 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
(عکس صفحہ نمبر 865 پر)
View Proof
دورے اور روزے
(336) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کیے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا اس لیے باقی چھوڑ دیے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جتنے رمضان آئے آپ نے سب روزے رکھے مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے رہے۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتدا دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد میں ان کو قضا کیا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں صرف فدیہ ادا کر دیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود کو دوران سر اور برد اطراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے تو اس زمانہ میں آپ بہت کمزور ہو گئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی، اس لیے جب آپ روزے چھوڑتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پھر دوسرے رمضان تک ان کے پورا کرنے کی طاقت نہ پاتے تھے۔ مگر جب اگلا رمضان آتا تو پھر شوق عبادت میں روزے رکھنے شروع فرما دیتے تھے لیکن پھر دورہ پڑتا تھا تو ترک کر دیتے تھے اور بقیہ کا فدیہ ادا کر دیتے تھے۔“
(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 65، 66 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 866، 867 پر)
مرگی
(337) ”مجھے دو بیماریاں مدت دراز سے تھیں۔ ایک شدید درد سر جس سے میں نہایت بیتاب ہو جاتا تھا اور ہولناک عوارض پیدا ہو جاتے تھے اور یہ مرض قریباً پچیس برس تک دامنگیر رہی اور اس کے ساتھ دوران سر بھی لاحق ہو گیا اور طبیبوں نے لکھا کہ ان عوارض کا آخر نتیجہ مرگی ہوتی ہے۔ چنانچہ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر قریباً دو ماہ تک اسی مرض میں مبتلا ہو
کر آخر مرض صرع میں مبتلا ہو گئے اور اسی سے ان کا انتقال ہو گیا۔
(حقیقۃ الوحی صفحہ 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 376 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 868 پر)
مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ اپنی تقریر میں ایک بات کو کم از کم تین دفعہ عموماً دہراتا تھا اور یہ غالباً مراق کا اثر تھا کیونکہ جس قدر کسی کو مراق ہوتا ہے۔ اس قدر اپنا سلسلہ کلام لمبا کرتا ہے اور ایک بات کو بار بار دہراتا ہے۔ انبیائے علیہم السلام میں یہ کمزوری نہیں پائی جاتی بلکہ وہ قلیل الکلام ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے مراق کا خود اقرار کرتا ہے:
ہسٹریا
- (338) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح
موعود (مرزا قادیانی) سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یکدم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذلک۔ یہ اعصاب کی ذکاوت حس یا تکان کی علامات ہیں اور ہسٹریا کے مریضوں کو بھی ہوتی ہیں اور انہیں معنوں میں حضرت صاحب کو ہسٹریا یا مراق بھی تھا۔“
(سیرت المہدی ، جلد دوم صفحہ 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 869 پر)
ہسٹریا کے دورے
- (339) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر
اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا جو 1888ء میں فوت ہو گیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اچھو آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت
خراب ہو گئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لیے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرما گئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی (حضرت مسیح موعود کے ایک پرانے مخلص خادم تھے۔ اب فوت ہوچکے ہیں) نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہوگی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے۔ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کے مسجد میں چلی گئی، تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ میں جب پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھا رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس کے بعد سے آپ کو با قاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ خاکسار نے پوچھا: دورہ میں کیا ہوتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھچ جاتے تھے، خصوصاً گردن کے پٹھے۔ اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس حالت میں آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے۔ پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی اور کچھ طبیعت عادی ہو گئی۔ خاکسار نے پوچھا اس سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تھی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا پہلے معمولی سر درد کے دورے ہوا کرتے تھے۔ خاکسار نے پوچھا کیا پہلے حضرت صاحب خود نماز پڑھاتے تھے؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاں مگر پھر دوروں کے بعد چھوڑ دی۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 16، 17 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 870، 871 پر)
اگر ہسٹریا ثابت ہوجائے......
- ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا یا مالنخولیا یا مرگی کا
مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لیے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیتی ہے۔“
(ریویو آف ریلیجنز قادیاں اگست 1926ء مضمون شاہنواز قادیانی)
مراق
(340) ”آج کل میری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی جاتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ مگر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کیے جاتا ہوں۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 565 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 872 پر)
ہسٹریا اور مراق
(341) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹیریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یکدم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذلک۔“
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 873 پر)
مراق اور کثرت بول
(342) ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرتﷺ نے پیشگوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپؐ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اُترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں، ایک اُوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 32، 33 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 874 پر)
مسیح موعود کی صداقت کے لیے اس کا دائم المرض ہونا کیا ضروری تھا؟ یقیناً یہ مرزا قادیانی کا ذہن رسا ہے جو دو زرد چادروں کو علامت قرار دے کر پھر اسے ”ڈی کوڈ“ کر دیا کہ دراصل یہ دو بیماریاں ہیں جو مجھے لاحق ہیں۔ مسیح کا کام مسیحائی ہے نہ کہ خود امراض کا مجموعہ ہونا۔
ہر نبی کو مراق
(343) ”سیٹھی غلام نبی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن کا ذکر ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے حضرت مسیح موعود سے فرمایا کہ حضور غلام نبی کو مراق ہے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے اور مجھ کو بھی ہے۔ یہ طبیعتوں کی مناسبت ہے۔ جس قدر ایسے آدمی ہیں کھنچے چلے آویں گے ۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 304 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 876 پر)
سل
(344) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ تمھارے دادا کی زندگی میں حضرت صاحب کو سل ہو گئی اور چھ ماہ تک بیمار رہے اور بڑی نازک حالت ہو گئی، حتیٰ کہ زندگی سے ناامیدی ہو گئی۔ چنانچہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے چچا آپ کے پاس آ کر بیٹھے اور کہنے لگے کہ دنیا میں یہی حال ہے۔ سبھی نے مرنا ہے۔ کوئی آگے گزر جاتا ہے۔ کوئی پیچھے جاتا ہے اس لیے اس پر ہراساں نہیں ہونا چاہیے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمھارے دادا خود حضرت صاحب کا علاج کرتے تھے اور برابر چھ ماہ تک انھوں نے آپ کو بکرے کے پائے کا شوربا کھلایا تھا۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 55، 56 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 877 پر)
خونی قے
(345) ”پھر آپ نے فرمایا میں کیا کروں میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں
تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہننے کو تیار ہوں۔ مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا۔ پھر آپ محبت الٰہی پر تقریر فرمانے لگے اور قریباً نصف گھنٹہ تک جوش کے ساتھ بولتے رہے۔ لیکن پھر یکلخت بولتے بولتے آپ کو اُبکائی آئی اور ساتھ ہی قے ہوئی، جو خالص خون کی تھی، جس میں کچھ خون جما ہوا تھا اور کچھ بہنے والا تھا۔ حضرت نے قے سے سر اٹھا کر رومال سے اپنا منہ پونچھا اور آنکھیں بھی پونچھیں، جو قے کی وجہ سے پانی لے آئیں تھیں۔ مگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ قے میں کیا نکلا ہے کیونکہ آپ نے یکلخت جھک کر قے کی اور پھر سر اٹھا لیا۔ مگر میں اس کے دیکھنے کے لیے جھکا تو حضور نے فرمایا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا۔ حضور قے میں خون نکلا ہے۔ تب حضور نے اس کی طرف دیکھا۔ پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور دوسرے لوگ بھی کمرے میں آ گئے اور ڈاکٹر کو بلوایا گیا۔ ڈاکٹر انگریز تھا۔ وہ آیا اور قے دیکھ کر خواجہ صاحب کے ساتھ انگریزی میں باتیں کرتا رہا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اس بڑھاپے کی عمر میں اس طرح خون کی قے آنا خطرناک ہے۔ پھر اس نے کہا کہ یہ آرام کیوں نہیں کرتے؟ خواجہ صاحب نے کہا آرام کس طرح کریں۔ مجسٹریٹ صاحب قریب قریب کی پیشیاں ڈال کر تنگ کرتے ہیں، حالانکہ معمولی مقدمہ ہے جو یونہی طے ہو سکتا ہے۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 97 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 879 پر)
قولنج زحیری
- (346) ”ایک مرتبہ میں قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن پاخانہ کی راہ سے خون
آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 234 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 246 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 880 پر)
کیچڑ اور ریت سے علاج
- (347) ”بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم
ہے کہ ایک دفعہ والد صاحب سخت بیمار ہو گئے اور حالت نازک ہو گئی اور حکیموں نے نا امیدی کا اظہار کر دیا اور نبض بھی بند ہو گئی۔ مگر زبان جاری رہی۔ والد صاحب نے کہا کہ کیچڑ لا کر میرے اوپر اور نیچے رکھو۔ چنانچہ ایسا کیا گیا اور اس سے حالت رُو بہ اصلاح ہو گئی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ یہ مرض قولنج زحیری کا تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھایا تھا کہ پانی اور ریت منگوا کر بدن پر ملی جاوے۔ سو ایسا کیا گیا تو حالت اچھی ہو گئی۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 221، 222 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 881 پر)
خارش
(348) ”ڈاکٹر میر محمد اسمعٰیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو غالباً 1892ء میں ایک دفعہ خارش کی تکلیف بھی ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے بہت عرصہ بعد ایک دفعہ ہنس کر فرمانے لگے کہ خارش والے کو کھجانے سے اتنا لطف آتا ہے کہ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ہر بیماری کا اجر انسان کو آخرت میں ملے گا، سوائے خارش کے۔ کیونکہ خارش کا بیمار دنیا میں ہی اس سے لذت حاصل کر لیتا ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو خارش کی تکلیف مرزا عزیز احمد صاحب کی پیدائش پر ہوئی تھی جو غالباً 1891ء کا واقعہ ہے۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 53 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 883 پر)
لکنت
(349) ”قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی زبان میں کسی قدر لکنت تھی اور آپ پرنالے کو پنالہ فرمایا کرتے تھے۔“
(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 25 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 884 پر)
دانتوں کو کیڑا
(350) ”دندانِ مبارک آپ کے آخر عمر میں کچھ خراب ہو گئے تھے، یعنی کیڑا بعض ڈاڑھوں کو لگ گیا تھا جس سے کبھی کبھی تکلیف ہو جاتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک ڈاڑھ کا سرا
ایسا نوکدار ہو گیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تو ریتی کے ساتھ اس کو گھسوا کر برابر بھی کرایا تھا۔ مگر کبھی کوئی دانت نکلوایا نہیں۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 125 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 885 پر)
View Proof
ایڑیاں پھٹ گئیں
(351) ’’پیر کی ایڑیاں آپ کی بعض دفعہ گرمیوں کے موسم میں پھٹ جایا کرتی تھیں۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 125 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 886 پر)
View Proof
بال سفید
(352) ’’فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے بال تیس سال کی عمر میں سفید ہونے شروع ہوئے تھے (البتہ دل آخری وقت تک سیاہ رہا۔ ناقل) اور پھر جلد جلد سب سفید ہو گئے۔‘‘
(ذکر حبیب صفحہ 38 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 887 پر)
View Proof
دایاں بازو
(353) ’’بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ ایک دفعہ والد صاحب اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گر گئے اور دائیں بازو پر چوٹ آئی۔ چنانچہ آخر عمر تک وہ ہاتھ کمزور رہا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ آپ کھڑکی سے اُترنے لگے تھے سامنے سٹول رکھا تھا وہ اُلٹ گیا اور آپ گر گئے اور دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور یہ ہاتھ آخر عمر تک کمزور رہا۔ اس ہاتھ سے آپ لقمہ تو منہ تک لے جا سکتے تھے مگر پانی کا برتن وغیرہ منہ تک نہیں اُٹھا سکتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ نماز میں بھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے سہارے سے سنبھالنا پڑتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 216، 217 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 888 پر)
View Proof
حافظہ خراب
(354) ”میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو، تب بھی بھول جاتا ہوں۔ یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔“
(مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 483 (طبع جدید) از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 890 پر)
View Proof
سرعت انزال
(355) ”ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ بالکلی جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوا حرارت غریزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔“
(مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 20 (طبع جدید) از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 891 پر)
View Proof
قارئین کرام! آپ نے آنجہانی مرزا قادیانی کو لاحق مختلف بیماریوں کا مطالعہ کیا۔ ان بیماریوں میں ایک اہم بیماری مراق ہے جس کے متعلق دنیا بھر کے مستند ڈاکٹروں اور حکیموں کا کہنا ہے کہ یہ مالیخولیا کی ایک قسم ہے۔ یہ مرض، خمیر سودا سے جو معدہ میں جمع ہوتا ہے پیدا ہوتا ہے، اس سے فضلات اور آنتوں کے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں، مریض اس کی ظلمت سے پراگندہ خاطر ہو جاتا ہے اور یہی چیز مراق ہوتی ہے۔
ماہرین طب نے مراق کی علامات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس مرض میں مریض کے افکار و خیالات، حالت طبعی سے بدل جاتے ہیں اور بالعموم اس میں انانیت یعنی خودی، تکبر اور تعلیٰ یعنی اپنی بڑائی کے فاسد خیالات سما جاتے ہیں۔ وہ ہر بات میں مبالغہ کرتا ہے۔ اس کے دماغی حواس درست نہیں رہتے۔ وہ ہر وقت مست متفکر اور خودی کے خیالات میں مست رہتا ہے۔ اگر مریض پڑھا لکھا ہو تو پیغمبری اور معجزات و کرامات کا دعویٰ کرتا ہے۔ خدائی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔ مرض کبھی اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ مریض گمان کرنے لگتا ہے کہ وہ فرشتہ ہے اور کبھی اس سے بھی زیادہ حد تک پہنچ جاتا ہے اور گمان کرتا ہے کہ وہ خدا ہے۔ بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ مرض اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور بعض میں یہ مرض یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ فرشتہ ہے اور کبھی اپنے آپ کو بادشاہ اور کبھی پیغمبر سمجھتا ہے۔
ثبوت حاضر ہیں!
مرزا قادیانی
کا
عبرتناک انجام
جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کو درجنوں بیماریاں لاحق تھیں اور یہ بیماریاں ساری زندگی اس کے ساتھ چمٹی رہیں۔ بالآخر اس کی زندگی کا عبرتناک انجام قریب آ گیا۔ روزنامہ الفضل قادیان، مرزا قادیانی کی اہم تحریروں میں سے درج ذیل اقتباس نقل کرتا ہے جو ہر قادیانی کے لیے دعوت فکر ہے:۔
بہت بری موت
- ❑ ”اور جو شخص کہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور اس کے الہام اور کلام سے
مشرف ہوں حالانکہ وہ نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے نہ اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہے، وہ بہت بری موت مرتا ہے اور اس کا انجام نہایت ہی بد اور قابل عبرت ہوتا ہے۔“
(روزنامہ الفضل قادیان جلد 28، نمبر 50، صفحہ 1 مورخہ 2 مارچ 1940ء)
اب اس معیار پر مرزا قادیانی کو جانچ لیتے ہیں۔ یعنی اگر مرزا قادیانی اپنے دعوؤں میں سچا تھا تو اس کا انجام اچھا ہونا چاہیے تھا، اور اگر اپنے دعوؤں میں جھوٹا تھا تو ”نہایت ہی بد اور قابل عبرت انجام“ ہونا چاہیے تھا۔ مزید براں خود مرزا قادیانی کیا کہتا ہے:
- (356) ”غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں، بلکہ نہایت شریر اور بد
ذات آدمیوں کا کام ہے۔“
(آریہ دھرم صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 13 از مرزا غلام احمد قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 892 پر)
View Proof
- (357) ”واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور
کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 288، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 5 صفحہ 288 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 893 پر)
- (358) ”مولوی ثناء اللہ سے آخری فیصلہ“ میں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے لکھوایا تھا:
”بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔ السلام علی من اتبع الہدیٰ! مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور دجال اور کذاب ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افترا ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لیے مامور ہوں اور آپ بہت سے افترا میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں ...... اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے، تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں، آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔
یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیش گوئی نہیں محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک! ...... اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے، تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت
کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی ہی میں ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین!
میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لیے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے...... تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص (مرزا قادیانی) در حقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے...... میں دیکھتا ہوں مولوی ثناء اللہ ان ہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لیے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے، اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔ یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک! تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین! ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔
بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
(مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار مورخہ 5 اپریل 1907ء مجموعہ اشتہارات، جلد دوم، صفحہ 705، 706 طبع جدید)
(عکس صفحہ نمبر 894، 895 پر)
اس اشتہار کی اشاعت کے ہفتہ عشرہ بعد ہی 25 اپریل 1907ء کو اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کی روزانہ ڈائری میں شائع ہوا کہ:
یہ خدا کی طرف سے ہے
(359) ”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری (یعنی مرزا قادیانی کی) طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 206 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 896 پر)
View Proof
اس پیش گوئی کے تقریباً ایک سال بعد مرزا قادیانی کی موت نے ”آخری فیصلہ“ کر دیا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں تھا کیونکہ اس کی موت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی زندگی میں بقول اس کے ”خدائی ہاتھوں کی سزا“ سے ہوئی۔ ہر شخص دم بخود رہ گیا کہ خود مرزا قادیانی کی دعا پر قدرت حق نے عجب فیصلہ کیا۔
25 مئی 1908ء کو شام کھانے کے بعد اس کی حالت اچانک بگڑنے لگی۔ اسے مسلسل اسہال شروع ہو گئے۔ ایک دو دفعہ رفع حاجت کے لیے لیٹرین گیا، بعد ازاں ضعف کی وجہ سے نڈھال ہو گیا۔ اس کے جسم کا پانی اور نمک ختم ہو گیا تھا۔ بلڈ پریشر کم ہونے سے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ آنکھیں اندر کو دھنس گئیں اور نبض اتنی کمزور ہو گئی کہ محسوس کرنا مشکل ہو گئی۔ مرزا بشیر احمد ایم، اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
حالت دگرگوں
(360) ”حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا، تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے، اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لیے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا: تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا۔ نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ
پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا۔ اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے۔ پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے۔ اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ 11 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 897 پر)
View Proof
- بقول حکیم نورالدین ”معدہ کے اندر کی تمام سوزشیں، آنتوں کی سوزشیں اور پیٹ کی
جھلیوں کی سوزشیں قے کا باعث بنتی ہیں۔ ہیضہ کی صورت میں جب آنتیں متاثر ہوتی ہیں تو قے کے ساتھ اسہال ہوتے ہیں۔ قے کا آنا بذات خود کوئی بیماری نہیں بلکہ یہ متعدد بیماریوں کی علامت ہے۔ آنتوں کے فالج اور رکاوٹ میں غذا ہی قے کا باعث بنتی ہے۔ کھانے کے فوراً بعد شراب یا افیون کے استعمال سے بھی قے ہوتی ہے۔ اگر اسہال کے ساتھ قے بھی شامل ہو تو مرض اسہال کے بجائے ہیضہ بن جاتا ہے۔“ (بیاض نور الدین ص 209)
- مسلسل اسہال اور قے کی وجہ سے مرزا قادیانی کے جسم، بستر اور کمرے میں سخت
بدبو اور تعفن پھیل گیا تھا۔ اس کی حالت دگرگوں ہوگئی اور نور الدین کو بلانے کے لیے کہا۔ حکیم نور الدین آیا تو مرزا قادیانی نے اسے کہا ”مجھے اسہال کا دورہ ہو گیا ہے۔ آپ کوئی دوائی تجویز کریں۔“ (ضمیمہ الحکم 28 مئی 1908ء)
حکیم نورالدین نے چند مقوی ادویات کھانے کو دیں مگر مرزا قادیانی نے قے کر دیں۔ اس کے بعد اس کی نبض ڈوبنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد ایک انگریز ڈاکٹر آیا مگر وہ نہایت عبرتناک حالت دیکھتے ہی چلا گیا۔ بعض عینی شاہدین کے مطابق مرزا قادیانی کے منہ سے پاخانہ نکل رہا تھا۔ ایسی ہی بھیانک حالت میں مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء کو صبح ساڑھے دس بجے جہنم واصل ہو گیا۔
قول کا پکا تھا پہلے مر گیا
قادیانی کہتے ہیں کہ: مرزا قادیانی کی موت ہیضہ سے نہیں ہوئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی موت کس عارضہ سے ہوئی؟ اس کے لیے کسی ڈاکٹری رپورٹ کی احتیاج نہیں، بلکہ مرزا قادیانی کے ”نام نہاد صحابی“ اور خسر میر ناصر نواب کی ثقہ روایت سے خود مرزا قادیانی کا اپنا ”اقرارِ صالح“ موجود ہے، میر ناصر نواب لکھتا ہے:
میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے
(361) ”حضرت (مرزا) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا، جب آپ کو سخت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا، جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ”میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔“ اس کے بعد کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں آپ نے نہیں فرمائی، یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔“
(حیات ناصر صفحہ 14، از شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 898 پر)
لیجیے! بہت ”بری موت“ کے تینوں مرحلے اللہ تعالیٰ نے خود مرزا قادیانی کی زبان و قلم سے طے کرا دیئے، یعنی پہلے اس سے لکھوایا کہ مفتری بہت ہی بری موت مرتا ہے، پھر اس کی تعیین و تشخیص بھی اسی کے قلم سے کرا دی کہ طاعون اور ہیضہ کی موت ہی وہ ”بری موت“ ہے، جو بطور سزا ”خدا تعالیٰ کے ہاتھوں“ سے کسی سرکش مفتری کو دی جاتی ہے، اور پھر خود اسی کی زبان سے یہ اقرار بھی کرا دیا کہ وہ ”وبائی ہیضہ“ سے ”بہت بری موت“ مر رہا ہے، اور یہ اقرار ریکارڈ پر موجود ہے۔
قادیانیوں کی نفسیات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو ”مسیح موعود“ مانتے ہیں مگر اس کی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا ”مسیحا“ کہتا ہے ”...... مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔“ ...... مگر قادیانی مصر ہیں کہ حضرت صاحب کا کہنا درست نہیں ہے۔
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا
میں نجاست کے کیڑے سے بھی بدتر ہوں
(362) ”مگر مجھے ایسے مفتری اور بدگو لوگوں کی کچھ پروا نہیں۔ کیونکہ اگر جیسا کہ مجھے اس نے دغا باز، حرام خور، مکار، فریبی اور جھوٹ بولنے والا قرار دیا ہے اور طریق اسلام اور دیانت اور پیروی آنحضرت ﷺ سے باہر مجھے کرنا چاہا ہے اور میرے وجود کو محض فضول اور اسلام کے لیے مضر ٹھہرایا ہے بلکہ مجھے محض شکم پرور اور دشمن اسلام قرار دیا ہے۔ اگر یہ باتیں سچ ہیں تو میں اس کیڑے سے بھی بدتر ہوں جو نجاست سے پیدا ہوتا اور نجاست میں ہی مرتا ہے۔“
(ملفوظات جلد 8 صفحہ 428 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 899، 900 پر)
View Proof
دوزخ کا الہام
(363) ”اتنے میں الہام ہوا: یاتیک من کل فج عمیق۔ پھر دوزخ دکھایا گیا۔ وہ سخت مکروہ اور پاخانہ کی شکل کا تھا۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 281 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 901 پر)
View Proof
جھوٹے مدعی کو خدا ہلاک کرتا ہے
(364) ”جھوٹے مدعی کو خدا ہلاک کرتا ہے اور اس کو مہلت نہیں دی جاتی کیونکہ وہ خدا پر افتراء کرتا ہے اور حق و باطل میں گڑبڑ ڈالنا چاہتا ہے۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 554 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 902 پر)
View Proof
خدا جھوٹوں کو ہلاک کرتا ہے
(365) ”اے بدقسمت بدگمانو! کیا ممکن ہے کہ کوئی خدا پر جھوٹ باندھے اور پھر اس کے دست قہر سے بچ رہے۔ خدا جھوٹوں کو ہلاک کرے گا اور وہ جو اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کا الہام ہے، وہ ہلاک کیے جائیں گے کیونکہ انہوں نے دلیری کر کے خدا پر بہتان باندھا۔“
(ایام الصلح صفحہ 115 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 341 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 903 پر)
View Proof
دوزخ کا وعدہ
(366) ”آج سے چھبیس برس پہلے خدائے عزوجل براہین احمدیہ میں فرما چکا ہے، میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ میں اس کو گھسیٹوں گا اور اس کو دوزخ دکھلاؤں گا۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 520 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 904 پر)
کسی زندہ دل شاعر نے مرزا قادیانی آنجہانی کی تاریخ وفات لکھی ہے ۔
اور تو زندہ ہیں خود ہی مر گیا
اس کے بیماروں کا ہو گا کیا علاج
کالرہ سے خود مسیحا مر گیا
مرزا قادیانی کی تاریخ وفات ہے: لَقَدْ دَخَلَ فِي قَعْرِ جَهَنَّمَ. ١٣٢٦ھ
۞......۞......۞
ثبوت حاضر ہیں!
عکسی
شہادتیں
Back
تذکرہ
مجموعہ
الہامات ، کشوف و رؤیا
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود ومہدی معہود علیہ السلام
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰي رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ
وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ
سِيْرَةُ الْمَهْدِي عَلَيْهِ السَّلَام
حِصَّہ اَوَّل
مُرَتَّبَہ
حَضْرَت صَاحِبْزَادَہ مِيْرْزَا بَشِيْر اَحْمَد صَاحِبْ اِيْم۔اَے سَلَّمَہُ اللّٰهُ تَعَالٰی
حَسْبِ فَرْمَائِشِ
مَوْلَانَا الْمُكَرَّم مُعَظَّم مَوْلَوِي مُحَمَّد اِسْمٰعِيْل صَاحِبْ مَوْلَوِي فَاضِل مُنْشِي فَاضِل اُسْتَاذ مَدْرَسَہ اَحْمَدِيَّہ قَادِيَان
نَے مُحَمَّد فَخْرُ الدِّيْن (مُلْتَانِي) مُهْتَمِم اَحْمَدِيَّہ كِتَابْ گَھَرْ قَادِيَان سﮯ شَائِع كَرَا كے فَرُوْخْت كِيَا
حُقُوْقِ طَبْع بَحَقِّ مُرَتِّب مَحْفُوْظ
قِيْمَت فِىْ نُسْخَہ مُجَلَّد
سَنَہ ۱۹۲۳ء
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِىْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ
سیرت المہدی
(حصہ دوم)
تالیفِ لطیف حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے
جسے
مینجر بک ڈپو تالیف و اشاعت قادیان دارالامان
نے
ماہ دسمبر ۱۹۲۷ء میں شایع کیا :۔
اسلامیہ سٹیم پریس میں حافظ محمد الیاس کے اہتمام سے طبع ہوکر قادیان میں چھپا
نحمدہ
ونصلی
وعلیٰ عبدہ المسیح الموعود
سیرت المہدی
حصہ سوم
(مرتبہ فرمودہ)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے
جسے
خاکسار
ابوالمنیر محمد اسمعیل مولوی فاضل منشی فاضل نے قادیان دارالامان سے
شائع کیا
تعداد
ایڈیشن اول صفر ۱۳۵۸ھ اپریل ۱۹۳۹ء
قیمت
ملفوظات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود
بانی جماعت احمدیہ
ملفوظات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود
بانی جماعت احمدیہ
جلد دوم
ملفوظات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود
بانی جماعت احمدیہ
جلد سوم
ملفوظات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود
بانی جماعت احمدیہ
آغاز مئی ۱۹۰۳ء تا اواخر ۱۹۰۵ء
جلد چہارم
ملفوظات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود
بانی جماعت احمدیہ
جنوری ۱۹۰۶ء تا مئی ۱۹۰۸ء
جلد پنجم
مجموعہ
اشتہارات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام
جلد اوّل
مجموعہ
اشتہارات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام
جلد دوم
مکتوباتِ احمد
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام
کے
خطوط اور مکاتیب
جلد دوم
انوار العلوم جلد ۷ ۳۲۷ دعوۃ الامیر
دعوۃ الامیر
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
خلیفۃ المسیح الثانی
۱۲۷
انّ ھذَا الکتابَ یدفع وسَاوِس الخنّاس ۔ وفیہ
شِفَاءٌ لِلنّاس ۔ وھو یَھَب السکینۃ
ویجلو الکروب ۔ وسمّیتہ ۔
تریاق القلوب
تصنیف
امام ربانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی
مسیح موعود ومہدی مسعود علیہ الصّلوٰۃ والسّلام ۔
بچا لیا اور میری براءت ظاہر کر دی فالحمد للہ علی ذلک۔ اور اس مقدمہ کے فیصلہ سے ۱۲ برس پہلے جو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں دیا گیا تھا جس کی نسبت پادری صاحبان بھی اقرار کر چکے ہیں کہ وہ اسی تاریخ میں چھپا تھا جس میں یہ الہام تھا کہ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ۔ اور اس الہام کی نسبت یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ خدا کا کلام ہے اور اس میں یہ پیشینگوئی ہے کہ ہر ایک بلا اور ہر ایک مقدمہ سے خدا بچائے گا اور یہ کہ مجھ کو الہام ہوا کہ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ۔ اور میں نے اس کو ایک پتھر پر کندہ کرا کر ایک نگینہ میں جڑوا لیا تھا اور میں نے اس کو ایک انگوٹھی میں لگوا لیا تھا جو اب تک میرے پاس ہے اور اس انگوٹھی پر یہ الہام کندہ ہے سو خدا نے اس الہام کو اس خونی مقدمہ میں کیسا پورا کر کے دکھایا اور ایک خونی مقدمہ سے مجھ کو
۱- اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ۔ قَالُوْا لَہٗ مَا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْھاً ۔ ذٰلِکَ یَوْمٌ مِّنْ کَیْدِ الْکَافِرِیْنَ ۔ وَلَیَجْعَلَنَّھُمْ اَئِمَّۃً ۲- مَلْجَاُ الْاَشْھَادِ بِہِ الْحُکَّامِ ۔ اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ۔ اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ ۳- بَغْتَۃً ۔ وَلَا عُقْبٰی یَوْمٍ ۔ بَیِّضْ وَجْھِیْ کَمَا بَیَّضْتَ وُجُوْہَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ ۴- اس حصہ اشتہار میں جو پہلے دیا گیا تھا وہی وعدہ دوبارہ اس الہام میں بلفظ مَعَاد کے اشارہ کے ساتھ دیا گیا ہے کہ ہم تم کو پھر قادیان میں لائیں گے۔ ۵- اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ ہم عبدالحمید اور اس کے حامیوں کو جو ذلیل کر چکے پھر وہ ذلیل ہوں گے۔ ۶- کون نیک دل قبول کر سکتا ہے کہ ایک ہی وقت بڑے بڑے معززوں کی جن میں بعض حکام بھی ہیں قیام گاہیں
مقام قادیان میں جو ایک گمنام گاؤں ہے تجویز کی جائیں اگر یہ خدا کا فعل نہیں تو اور کیا ہے۔
اور یہ سب امور جو الہام کی رو سے پہلے سے شائع کئے گئے تھے کیونکر پورے ہو گئے۔ فالحمد للہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بماہ جنوری ۱۸۹۸
کِتَابُ البَريَّۃ
مَعَ
آیَاتِ البَرِیَّۃ
مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپی تعداد جلد ۷۰۰
یہ پیشینگوئیاں جو ۱۲ برس پیشتر اس مقدمہ سے شائع ہو چکی تھیں کس صفائی سے پوری ہوئیں جن کے دیکھنے سے ہر ایک منصف کو یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ اسی خدا کا کلام ہے جو غیب دان ہے اور جس کے ہاتھ میں سب کی جانیں اور عزتیں ہیں اگر اس پیشینگوئی کے پورا ہونے میں کسی کو شک ہو تو وہ امرتسر میں جا کر پادریوں سے پوچھ لے کہ کیا ہم نے یہ پیشینگوئی ۱۲ برس پہلے شائع نہیں کر دی تھی۔
٭ اہل اسلام کے مخالفوں کی نسبت بہت موقعہ ہے کہ وہ اس مقدمہ میں حق کی تائید دیکھ کر صدق دل سے رجوع کریں اور ناحق کی ضد سے باز آویں ورنہ ان کے لئے تباہی ہے۔
اَلَا اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ (یونس)
مجدّد اعظم
یعنی
سوانحعمری حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی رحمۃ اللہ علیہ
مسیح موعود و مہدی معہود مجدّد صدی چہار دہم
حصّہ اوّل
از ابتدا تا جون ۱۹۰۰ء
مؤلفہ
جناب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب
بماہ ذیقعدہ ۱۳۵۸ھ مطابق ستمبر ۱۹۳۹ء
احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نے
شائع کیا
تعداد اشاعت تین ہزار جلد اوّل قیمت مجلّد تین روپے آٹھ آنے (عمدہ)
557
ٹائیٹل پیج بار اوّل
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ (سورة صافات)
وَكَفَانِي مَا أُوْحِيَ اِلَيَّ هَذَا الْوَحْيُ الْمُبَشِّرُ قال ربک انه نازل من السماء ما یرضیک ومما ننزل لک آیات ربک ما ارسل نبی الا اخزی به الله قوما لا یؤمنون۔ ان الله مع الذین اتقوا والذین هم محسنون۔ وبشر الذین امنوا بان لهم الفتح۔ والله متم نوره ولو کره الکافرون کتب الله لاغلبن انا ورسلی لا تخف انی انا لَدَیَّ الْمُرْسَلُونَ
حقیقۃ الوحی
خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ یہ کتاب جامع جس میں ہر ایک قسم کے حقائق اور معارف اور بہت سے آسمانی نشان درج ہیں محض اسی کے فضل اور کرم اور خالص اسکی توفیق اور تائید سے مرتب و تالیف ہو کر
مطبع میگزین قادیان میں باہتمام مہتمم مطبع کے چھپی
تعداد ایک ہزار مجلد تاریخ اشاعت ۱۵ مئی ۱۹۰۷ء
جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا
آنانکہ بر دعویٰ ما حملہ ہا کنند وز راہ جہل عربدہ ہا برپا کنند
گر یک نظر کنند بدیں نسخہ کتاب ہست ایں یقیں کہ توبہ ز ادعا بکنند
باور نمیکنم کہ نیایند عذر خواہ ویں امر دیگر است کہ ترک حیا کنند
براہین احمدیہ
حصہ (۵) پنجم
ملقب
بالبراہین الاحمدیۃ علی حقیۃ کتاب اللہ القران والنبوۃ المحمدیۃ
مؤلفہ
حضرت اقدس مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام
اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهٗ وَمَا نُنَزِّلُهٗ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ
تفسیر صغیر
قرآن مجید
کا
اُردو بامحاورہ ترجمہ مع مختصر تفسیر
از
الحاج حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ
ناشر
ادارۃ المصنّفین ربوہ ضلع جھنگ
ازالۃ الاوہام ۱۰۱ حصہ اول
نقل ٹائیٹل بارِ اول
حصہ اول
جس کو خدا کان دے سنے جو اس کو پڑھے گا قبول کر لے گا
خدا نے تسلی کی نگاہ اور بڑے زور آور قلعوں کی کنجیاں مجھے دیں
اِزَالَۃُ اَوْھَام
فِيهِ بَأْسٌ شَدِيْدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ
الحمد والمنت کہ بماہ مبارک ذی الحجہ ۱۳۰۸ھ کتاب
جامع معارف قرآنی و شارح اسرار کلام ربانی از
تالیفات مرسل یزدانی و مامور رحمانی
جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی
بمطبع ریاض ہند امرتسر باہتمام مسمی شیخ احمد مطبوع گردید
تعداد جلد ۲۰۰۰ قیمت فی جلد مجلد
ذکرِ حبیب
مُصَنِّفَۃ
حضرت مفتی محمّد صادق
٥٠
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام
مولف براہین احمدیہ کے مختصر حالات
(مرتبہ خاکسار سراج الدین محمد)
اللہ تعالےٰ کا شکر کس زبان وقلم سے ادا ہو سکے جس نے قدرت کاملہ سے تمام جہان کو پیدا فرمایا اور ہر شے کی جبلت اور فطرت کو اس بات پر متقاضی اور مضطر رکھا کہ وہ اپنے اپنے رنگ و طرز میں بغیر خواہش و منت کسی ہادی و راہنما کے ہمہ وقت اور ہمہ جہت حمد و ثنا اور مدحت خوانی ہی کی کسی نوع کو ہستی میں یا عدم میں گو یہ سبقت و شرف نہ دیا، اس کی خلقت کی غایت کو ہمیشہ صیغہ راز میں مخفی رکھا اور مادہ نمو و تمدن اور جوہر عقل و نقل اور صفت انانیت وخلافت بخشکر اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کے برخلاف تمام مخلوقات انسان ایسا سادہ تھا کہ انصرام و انجاح مہمات عبودیت و ادائے فرائض و ذمہ داری حقوق و تکمیل کے ہنگاموں کا ظہور لانے کے لئے سر پر لے لیا اسکی اس بھولے پن کو دیکھ کر اُس نے بکمال رحم و شفقت اور فضل و لطف اسکی دستگیری کے لیے رُسُل کا ایک سلسلہ مبعوث فرمایا جنہیں اپنے مکالمہ کے شرف سے مفیض فرما کر اپنے پیام انسان کو پہنچانے اور انسان کی کمزوریوں اور دکھوں اور دردوں کے درمان کے لیے اپنے حضور پیش کرانے، اور انسان کو اپنی رضا میں داخل کرنے اور اسکی کشتی کو ساحل نجات پر لگانے کے لیے مینارۂ نور شفیع اور کشتی بان بنایا۔ پس یہ تمام علوم اور حقایق و معارف ترقی کے زینے تمام اچھے اصول تمدن و تہذیب و ارتقاء ہدایت و شفقت خالق و مخلوق اور تمام طرق معرفت و حقیقت و ربوبیت و مرجعیت دنیا میں شایع ہوئے اُنہیں کی بدولت نظم و نسق دنیا مبدأ و منتہائے عالمین جادہ اعتدال و استقامت پر قائم ہوئے۔ مگر احتیاج حقیقی سے
سیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
تصنیف
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ
شائع کردہ: مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
(ٹائٹل طبع اوّل)
الحمد للہ والمنت کہ بتائید وتوفیق آن نعم المولیٰ ونعم النصیر وعنایات اُس ذات جلیل وعظیم کے یہ حصہ اولیٰ کتاب لاجواب موسوم بہ
آئینہ کمالاتِ اسلام
جس کا دوسرا نام دافع الوساوس بھی ہے
بماہ فروری سِنہ ۱۸۹۳ء
مطبع ریاض ہند قادیان میں باہتمام شیخ نور احمد مہتمم و مالک مطبع طبع ہو کر شائع ہُوا
(نقل ٹائٹل طبع اوّل) بغیر دستخط مہتمم کتب خانہ یہ کتاب مسروقہ سمجھی جاوے گی۔
قَدْ فَرَغْنَا مِنَ الرَّدِّ عَلَى قَوْمٍ يُسَمَّوْنَ آرْيَهْ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ
(ترجمہ) ہم آریوں کا رد لکھنے سے فراغت کر چکے سو اس خدا کو سب تعریف ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ہم جب ایک قوم پر چڑھائی کرتے ہیں اور اُنکے صحن میں اُترتے ہیں تو وہ صبح ان کی ایک بُری صبح ہوتی ہے جو تباہی کی خبر دیتی ہے
یہ کتاب آریہ صاحبوں کے اس مضمون کے جواب میں ہے جسکو اُنہوں نے اپنے مذہبی جلسہ میں دسمبر ۱۹۰۷ء میں بمواجہہ چار سو معزز ہماری جماعت کے مسلمانوں کے خود اُنکو اپنے گھر میں بلا کر سنایا تھا جو ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور دشنام دہی سے پُر تھا جس میں دینِ اسلام پر جا بجا توہین اور ہنسی اور ٹھٹھا کیا گیا تھا اور نہایت شوخی سے گندی گالیاں دے کر اور بے حیا تہمتیں ہمارے مقدس ذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگا کر صدہا مسلمانوں کو خود مدعو کر کے نہایت دُکھ دیا تھا اور اُس کتاب کا نام ہے
چشمۂ معرفت
از مؤلفات حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعودؑ جو ۱۵؍ مئی ۱۹۰۸ء کو مطبع انوار احمدیہ مشین پریس قادیان ضلع گورداسپور میں طبع ہوئی باہتمام شیخ یعقوب علی ترابؔ مینجر
دو ہزار چار سو قیمت فی جلد غیر مجلد اور قیمت مجلد تین روپے
ٹائیٹل پیج بار اوّل
جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ
اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
بفضلہٖ تعالیٰ
یہ رسائل مؤلفہ جن کے نام بہ تفصیل ذیل ہیں
انجام آتھم
خدائی فیصلہ ۔ دعوتِ قوم
مکتوبِ عربی بنام عُلماء
مطبع ضیاء الاسلام میں طبع ہو کر عام فائدہ
کے لئے شائع کئے گئے
بمقام قیمت فی جلد ۱۲؍ قادیان
۷۸۶
از سگان کوچہ باہم کمتریم
اے خدائے طالبان راہ رضا
بر رضائے تو حیات و مرگ ما
بر رضائے خویش کن انجام ما
تا برآید در دو عالم کام ما
فرماتے ہیں بندہ تو وہ ہے کہ صبح سے
شام تک اس کو ہر وقت اور ہر آن
یہ دھڑکا لگا رہے کہ مجھ سے کوئی کام
ایسا نہ ہو جائے جس سے میرا مولیٰ مجھ
پر ناراض ہو جائے
(حضرت مسیح موعود علیہ السلام)
مجموعہ
حصہ اول
خطوط امام
بنام غلام
خاکم نثار کوچہ آل محمد است
در ہر مکان ندائے جمال محمد است
یک قطرہ ز بحر کمال محمد است
ویں آب من ز آب زلال محمد است
(حضرت مسیح)
باہتمام حکیم محمد حسین قریشی الیکٹرک پریس لاہور
ٹائٹل پیج بار اول
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
بسم الله الرحمن الرحیم
یہ خدا کی وحی ہے جو قرآن کی آیت
میں مجھ پر نازل
ہوئی
وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ
اور ہمارے روبرو ہماری وحی پر ایک کشتی بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہے
رسالہ آسمانی ٹیکا جو طاعون کے باب میں اپنی جماعت کیلئے تیار کیا گیا
کشتی نوح
وَإِن مِّن قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا (بنی اسرائیل ۵۸)
مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا (النساء ۱۴۸)
اور دوسرا نام
دعوت الایمان
جو شخص اس
رسالہ کی تعلیم
پر سچے دل سے
عمل کرے گا
وہ طاعون سے
بچایا جائے گا
(مؤلفہ)
مرزا غلام احمد
مسیح موعود و مہدی معہود
اور جو شخص اس
کی تعلیم سے
انکار کرے گا وہ
ہلاک کیا جائے گا
اشتهار فیہ ان محمدا رسول اللہ خاتم النبیین وان المسیح الموعود قد جاء
اس رسالہ میں طاعون کی بیماری سے بچنے کے لئے محض خدا کے فضل سے ایک آسمانی ٹیکا تیار کیا گیا ہے
باہتمام حکیم فضل دین صاحب بھیروی
۵ اکتوبر ۱۹۰۲ء
تعداد جلد ۵۰۰۰
مقام قادیان دارالامان مطبع ضیاء الاسلام میں چھپ کر شائع ہوا
ٹائیٹل پیج طبع اول
الحمدللہ والمنۃ کہ یہ رسالہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور ان کے مریدوں اور ہمخیال لوگوں پر اتمام حجت کے لئے محض نصیحتاً للہ شائع کیا گیا ہے اور بغرض اس کے کہ عام لوگوں پر حق واضح ہو جائے اس رسالہ کے ساتھ پچاس روپیہ کے انعام کا اشتہار بھی دیا گیا ہے جو اسی ٹائیٹل پیج کے دوسرے صفحہ پر مندرج ہے اور یہ رسالہ موسوم بہ
تحفہ گولڑویہ
ہو کر مطبع ضیاء الاسلام قادیان ضلع گورداسپور میں باہتمام حکیم حافظ فضل الدین صاحب بھیروی مالک مطبع چھپ کر یکم ستمبر ۱۹۰۲ء کو شائع ہوا
قیمت ۱۰ محصول ۲ر مجلد ۰۰۰ دوکاندار کل ۱۲ر
ٹائیٹل طبع اول
كَيْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ وَ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ
خدائے تعالیٰ کے بے انتہا احسانوں میں سے یہ بھی ایک عظیم الشان فضل و احسان ہے ۔
کہ کتاب مستطاب منبع ایقان و عرفان مُسمّی بہ
صد ہزاراں پردہ روئے من بکشادہ اند
صادقم زاں رو عیاں شد بہر براء امدا
نزول المسیح
فِي آخر الزمان
ایں دو شاہد از پئے تصدیق من استادہ اند
آسمان بارد نشاں وقت میگوید زمیں
خود مسیح موعود علیہ السلام کے قلم سے نکلی ہوئی جس کا نزول جمالی اور جلالی
رنگوں میں حضرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئیوں کے
مطابق (جو آخری زمانہ کے متعلق تھیں) اسوقت کے اُولُو الاَلبابْ اُولُو الاَبصارْ
نے برأی العین مشاہدہ کیا
مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپ کر کتبخانہ احمدی بسعی مہتمم کتب خانہ حضرت مسیح موعود
علیہ السلام کے زیر نگرانی شائع ہوئی ۔ ٹائیٹل پیج مطبع میگزین قادیان میں چھپ کر طیار ہوا ۔
بار اوّل تعداد اشاعت ۲۹۰۰
ماہ اگست ۱۹۰۹ء قیمت ۴ ؍ شعبان المعظم ۱۳۲۷ھ
وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ
اصحابِ احمد علیہ السّلام
جلد سیزدہم
(صحابہؓ ضلع گورداسپور)
مؤلّفہ
ملک صلاح الدین ایم۔اے
ناشر:- احمدیہ بکڈپو ربوہ
بارِ اوّل
دسمبر ۱۹۶۷ء
آؤ لوگو کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے ܀ لو تمھیں طور تسلی کا بتایا ہم نے
ریویو آف ریلیجنز
یعنی
دنیا کے مذاہب پر
جلد ۱۴ بابت ماہ مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء نمبر ۳ و ۴
مطابق جمادی الاول و جمادی الثانی ۱۳۳۳ھ
چندہ سالانہ
معہ ڈاکخرچ ۴ روپیہ
فہرست مضامین
کلمۃ الفصل ۹۱ - ۱۸۴
ٹائیٹل طبع اوّل
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ط
نُورُالقرآن
اطلاع
یہ رسالہ نورالقرآن بالفعل تین ماہ کے بعد یعنی چوتھے مہینے شایع ہوا کرے گا ہدیہ نمبر تین ماہ مئی جون ۔ جولائی اگست ۱۳۸۵ھ کے بارے میں ہے قیمت بالفعل وہی ایک روپیہ سالانہ ہے
راقم خاکسار سراج الحق جمالی نعمانی
۳۲۴
ٹائیٹل طبع اول
الحمد للہ
والمنۃ کہ رسالہ ہذا
از تصنیفات حضرت
امام ہمام مسیح موعود و مہدی معہود
جناب مرزا غلام احمد صاحب نصرہ اللہ و ایدہ
تحفہ غزنویہ
سنہ ۱۹۰۲ء
بماہ اکتوبر
مطبع ضیاء الاسلام قادیان ضلع
گورداسپور میں باہتمام حکیم
قیمت محصول ڈاک فضل الدین صاحب وی پی مسجل
۱۲ ۱ بھیروی مالک مطبع ۱ ۲
ار ار چھپ کر شایع ار ار
ہوا
تعداد اشاعت
٤٠٠
(ٹائیٹل طبع اول حصہ اول)
جَاءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا بفضل عظیم حضرت ہادی عالم عالمیان و رحمت عمیم رہنمائے گمشتگان کتاب ہذا کا یہ حصہ اول
براہین احمدیہ
ملقب بہ
البراہین الاحمدیہ علی حقیقت کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ
جس کو فخر اہل اسلام پنجاب جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس اعظم قادیان ضلع گورداسپور پنجاب دام اقبالہم نے کمال تحقیق اور تدقیق سے تالیف کر کے منکرین اسلام پر حجت اسلام پوری کرنے کیلئے بَوَعْدَ انعام دس ہزار روپیہ شائع کیا
امرتسر پنجاب سفیر ہند پریس میں در سنہ ۱۸۸۰ء طبع ہوئی
قیمت چھپنے کے بعد تین روپے مع محصول ڈاک خریداری کے واسطے اس پتہ پر خط بھیجنا چاہیے کہ امرتسر متصل دروازہ رام باغ کے ۱۲۹۷
امیر علی دولہ پرنٹر
ٹائٹل بار اول
اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده
الحمد للہ والمنتہ کہ ضمیمہ نزول المسیح جسکے ساتھ
دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے
حسب استدعا مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری کے محض پانچ دن میں ابتداء ۸ نومبر ۱۹۰۲ء سے طیار ہو کر اس کا نام
اعجاز احمد
رکھا گیا اور اس رسالہ میں پیر مہر علی شاہ صاحب مولوی اصغر علی صاحب ومولوی علی حائری صاحب شیعہ وغیرہ بھی مخاطب ہیں جن کا نام رسالہ میں مفصل درج ہے (تاریخ طبع ۱۵ نومبر ۱۹۰۲ء) بمقام قادیان باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مطبع ضیاء الاسلام میں طبع ہوا
اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده اليس الله بكاف عبده
تعداد اشاعت ۲۵۰۰
(ٹائٹل طبع اول)
الحمد للہ والمنتہ
کہ یہ رسالہ مبارکہ جس میں اخوند زادہ سرآمد علماء
کابل اور شیخ اجل افغانستان اور رئیس اعظم مرحوم
مولوی محمد عبد اللطیف صاحب مرحوم کی شہادت کا
ذکر ہے اور نیز اُنکے شاگرد رشید میاں عبدالرحمن کے
شہید ہونے کے حالات مذکور ہیں تالیف ہو کر
نام اس کا مندرجہ ذیل رکھا گیا یعنے
تذکرۃ الشہادتین
مع رسالہ عربی و علامات المقربین
اور یہ رسالہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام
حکیم مولوی فضل الدین صاحب مالک مطبع
اکتوبر کے مہینہ میں چھاپ کر شائع کیا گیا۔
تعداد جلد ۸۰۰ قیمت فی جلد ۲؍
وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ وَمَا نُنَزِّلُهٗ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (الحجر:۲۲)
تَفْسِیْرِ کَبِیْر
مُصَنَّفَہ
حَضْرَت مِرزَا بَشِیْرُ الدِّیْن مَحْمُوْد اَحْمَد
خَلِیْفَۃُ الْمَسِیْحِ الثَّانِی الْمُصْلِحُ الْمَوْعُوْدُ
رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ
جِلْدِ نُہُم
سُوْرَتَہائے الشَّمْس، الَّیْل، الضُّحٰی، اَلَمْ نَشْرَحْ، التِّیْن، الْعَلَق، الْقَدْر
الْبَیِّنَۃ، الزِّلْزَال، الْعَادِیَات، الْقَارِعَۃ، التَّکَاثُر، الْعَصْر، الْہُمَزَۃ
✦ ✦ ✦
نظارت نشر و اشاعت قادیان
ٹائٹل بار اول
وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَاُولئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ
جو شخص مظلوم ہو کے بدلہ لے اس پر کوئی الزام نہیں
ست بچن
آریہ دھرم
مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں حکیم فضل دین مالک مطبع
کے اہتمام سے چھپے
۱۴ صفر ۱۳۱۴ ہجری
قیمت فی جلد ۴ آنے
(ٹائٹل بار اوّل)
وہ خدا جس نے تمام رُوحیں اور ذرہ ذرہ عالمِ علوی اور سفلی کا پیدا کیا اُسی نے
اپنے فضل و کرم سے اس رسالہ کا مضمون ہمارے دل میں پیدا کیا۔
اور
اس کا نام
ہے
نسیم دعوت
دلِ بیمار کا یہ درماں ہے طالبوں کا یہ یار خلوت ہے
کفر کے زہر کو یہ ہے تریاق ہر ورق اس کا جامِ صحت ہے
غور کر کے اِسے پڑھو پیارو یہ خدا کے لئے نصیحت ہے
خاکساری سے ہم نے لکھا ہے نہ تو سختی نہ کوئی شدّت ہے
قوم سے مت ڈرو خدا سے ڈرو آخر اُس کی طرف ہی رحلت ہے
سخت دل کیسے ہو گئے ہیں لوگ سر پہ طاعون ہے پھر بھی غفلت ہے
ایک دُنیا ہے مر چکی اب تک پھر بھی توبہ نہیں یہ حالت ہے
مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب بھیروی
بِتاریخ ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء چھپ کر شائع ہُوا
ٹائیٹل پیج بار اول
حُجَّۃُ اللّٰہِ
مطبُوعہ مطبع ضیاء الاسلام
قادیان دارالامن والامان
۲۴ ذی الحجۃ
سنہ ۱۳۱۴ھ
ٹائیٹل طبع اوّل
مطبوعہ ضیاء الاسلام
۱۳۱۴ھ
سِرَاج مُّنِيْرُ
مشتمل بر نشانہائے ربّ قدیر
قادیان دارالامان
مئی ۱۸۹۷ء
(جملہ حقوق محفوظ ہیں)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام
حیات احمد
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح حیات
جلد نمبر اول
جس میں بانی سلسلہ احمدیہ حضرت امیر المومنین مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام و علیٰ آلہ و اصحابہ کے
از زمانہ طفولیت تا دعویٰ مجددیت کے مفصل حالات درج ہیں
طبع اول ماہ مارچ ١٩٣٩ء تعداد ١٠٠٠
حضرت مولانا شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب رضی اللہ عنہ ایڈیٹر الحکم
باہتمام مکرم بھائی عبد الرحیم صاحب قادیانی پرنٹر و پبلشر نے مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھاپ کر شائع کیا
اس سے بہتر غلام احمدؑ ہے
تذکرۃ المہدی
مؤلفہ
اخویم پیر سراج الحق صاحب نعمانی ہمدانی السرسوی سرساوی احمدی
بماہ جون ۱۹۱۵ء
حصہ ٹائیٹل
ضیاء الاسلام پریس قادیان میں باہتمام حبیب الرحمٰن طبع کرا کر
ایم قاسم علی صاؓ ایڈیٹر الحق دہلی نے قادیان سے
شائع کیا
بار اول ۵۰۰
قیمت صرف یک روپیہ
چوں بخلوت می روند آں کار دیگر می کنند
تاریخ محمودیت
کے
اہم - مگر - پوشیدہ اوراق !
حصہ اول
LIBRARY A.A.I.I. LAHORE. REGISTER NO. BOOK. NO.
* خط و کتابت و منگوانے کا پتہ
دفتر انصار احمدیہ
حلقہ لاہور
قیمت تین روپے آٹھ آنے علاوہ محصول ڈاک۔
پاپائے ربوہ کے خلاف ایک مرید کا استغاثہ
مرزائیوں کی
رُوحانی شِکار گاہ
تحریر
عبدالرزاق مہتہ
ابن حاجی عبدالرحمٰن سابق قادیانی
شائع کردہ
انجمن خادمان رسول لاہور
کلام محمود
منظوم کلام
حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
المصلح الموعود
۴۷۵
ملائکۃ اللہ
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
خلیفۃ المسیح الثانی
انوار العلوم جلد ۱۰ ۶۳ تقریر دلپذیر
تقریر دلپذیر
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
خلیفۃ المسیح الثانی
انوار العلوم جلد ۹ ۱۵۱ منہاج الطالبین
مِنْہَاجُ الطَّالِبِيْن
(فرمودہ ۲۷، ۲۸ دسمبر ۱۹۲۵ء بر موقع جلسہ سالانہ)
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
خلیفۃ المسیح الثانی
ایڈیشن طبع اوّل
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ
الْفَاتِحِيْنَ
الحمدللہ کہ زمانہ کی ضرورت کے موافق بہتوں کو طاعون سے نجات
دینے کے لئے یہ رسالہ تالیف کیا گیا اور اس کا نام
ہے
دَافِعُ الْبَلَاءِ وَمِعْيَارُ اَهْلِ الْاِصْطِفَاءِ
بمقام
قادیان دارالامان
باہتمام حکیم فضل دین صاحب مطبع ضیاء الاسلام
میں چھپا
تعداد جلد ۵۰۰ اپریل ۱۹۰۲ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
”در کلام تو چیزےست کہ شعراء را در آں دخلے نیست“
دُرّثمین
منظوم اُردو کلام مسیح موعود علیہ السلام
مرتبہ
شیخ محمد اسمعیل پانی پتی
ٹائیٹل طبع اوّل
الحمد للہ المنۃ
کہ رسالہ شافیہ کافیہ جو مخالفون پر حُجَّۃُ اللہ اور موافقوں کیلئے موجبِ ثبات و ایمان و عرفان ہے
موسوم بہ
نشانِ آسمانی
جسکا دُوسرا نام
شَہَادَتُ المُلہَمِین
بھی ہے
از تالیفات مہدیٔ زمان و مسیح دَوران مجدّد الوقت حضرت میرزا غلام احمد صاحب قادیانی
جون ۱۸۹۲ء میں
بزیراہتمام خاکسار غلام محمد کاتب
ریاضِ ہند امرتسر میں چھپا
اِیں ست نشانِ آسمانی * شُد فاش بَر کُلِّ جہانِ
باصِرَۃِ چشمِ دِلِ ما * یا نُورِ سِرِّ سُویدائے جانِ
۳۵۵
ٹائٹل بار اول
هذا هو الكتاب الذي الهمت بضعة منه من رب العباد. في يوم عيد من الاعياد. فقرأته على الحاضرين. بانطاق الروح الامين. من غير مدد الترقيم والتدوين. فلاشك انه آية من الآيات. وما كان لبشر ان ينطق كمثلي مرتجلا مستحضرا في مثل هذه العبارات. وكان الناس يرفعون اليه رقبة يوم العيد ويستطلعون بعيون المشتاق المريد. فالحمد لله الذى اراهم مقصودهم بعد الانتظار. ووجدوا مطلوبهم كبستان مذللة اغصانه من الثمار. وانه صنيعة احسان الحضرة. ومطية تبليغ الناس الى السعادة وانه غيث من الله بعدما أَمْحَلَتِ البلادُ وعم الفساد. ولن تجد هذه المعارف في الآثار المنتقاة المدونة من الثقات. بل هي حقائق اوحيت الي من رب الكائنات. وانه اظهار تام. وهل بعد الصبح متكتم. وهل بعد خاتم الخلفاء على السرّ ختم. وليس من العجب ان تسمع من خاتم اولياء. انما ما سمعت من قبل من علماء الملة. بل العجب كل العجب ان يأتي المسيح الموعود والامام المنتظر وتكتم الناس دعائم الخفاء. ثم لا يأتي بمعرفة جديدة من حضرة الكبرياء. ويتكلم كتكلم العامة من العلماء ولا يفرق فرقا بينا بين الظلمة والضياء. وانى سميت هذه الرسالة
خُطْبَةُ الْهَامِيَّة
وَ اِنّی عَلَّمْتُهَا اِلْهَامًا مِّنْ رَّبِّیْ كَانَتْ اٰیَةً
تعداد الاشاعة ٢١٠٠
ثمن نسخة واحدة عانہ
وانها طبعت في مطبع ضياء الاسلام قاديان باهتمام الحكيم فضل الدين البهيروى فى سنة ١٣١٩ من الهجرة المقدسة
۳۸۷
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلَاغُ
الْبَلَاغ
جس کا دُوسرا نام ہے
فریادِ درد
تصنیف منیف حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
باجازت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ
مینیجر بکڈپو تالیف و اشاعت قادیان نے شائع کیا
۲۹؍ مئی ۱۹۲۲ء تعداد ۱۰۰۰ ۱۳۴۰ ھ ہجریہ
ایڈیشن طبع اوّل
(وَحْيِ الله)
دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے
اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔
یہ رسالہ جسکا
نام
ہے
الوصيّة
بقلم خود
حضرت حجة اللہ مسیح موعود و مہدی معہود میرزا
غلام احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام
قادیانی
باہتمام قاضی عبدالحمید منیجر میگزین پریس قادیان میں چھپ کر شائع ہوا
۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۵ء کو طبع ہوا
ٹائیٹل بار اول
الحمد للہ والمنۃ
کہ تمام مخالفوں پر الہی حجت پوری کرنے کیلئے
یہ رسالہ
جس کا نام ہے
اربعین
لاتمام الحجۃ علی المخالفین
بمقام قادیان مطبع ضیاء الاسلام میں باہتمام حکیم فضل دین صاحب
مالک مطبع چھپکر
شائع ہوا
جلد ۷۰۰
قیمت ۵ ر
۱۵۔ دسمبر ۱۹۰۰ء
ٹائٹل بار اول
الحمد للہ والمنہ کہ یہ رسالہ
موسومہ
ایام الصلح
قیمت فی جلد ۴؍
تعداد اشاعت ۷۰۰
مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم حافظ فضل الدین صاحب
بھیروی مالک مطبع کے مطبوع ہوا
یکم جنوری ۱۸۹۹ء
۱۶۵
الى وطن النبي حبيب ربّي وسيد رسله خير الانام
الرّسَالة
اللطيفة المشتملة على معارف القرآن ودقائقه المسماة
حَمَامَةُ البُشْرى
الى
اَهْلِ مَكَّة وَصُلحاءِ اُمّ القُرَى
لحضرة احمد المسيح الموعود والمهدي المعهود
عَلَيْهِ وَعَلى مُطَاعِهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَام
الطبعة الأولى في رجب سنه ۱۳۱۱ الهجرية
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جو بات ہے تار تار گریباں میں دیکھ لو
تم اپنے خانہ ویراں میں دیکھ لو
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
جو مٹ رہے ہیں تمنائے خام پر
کوئی بتائے ذرا انجام ان کو
ٹریکٹ موسومہ
اسلامی قربانی
نمبر۔ (۳۲)
مؤلفہ
قاضی یار محمد صاحب بی ۔ اے ۔ ایل ایل بی پلیڈر
نور پور
ضلع کانگڑہ
جنوری ۱۹۳۲ء
ریاض ھند پریس امرتسر میں باہتمام شیخ نور احمد پرنٹر چھپا
اور
قاضی یار محمد پبلشر نے نور پور ضلع کانگڑہ سے شائع کیا ۔
ٹائٹل طبع اول
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا
قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ
الْحَمْدُ لِلّٰهِ
کہ یہ رسالہ جس کا نام ہے
ضَرُورَةُ الْاِمَام
صرف ڈیڑھ دن میں طیار ہو کر
مطبع
ضیاء الاسلام قادیان میں
قیمت ۲ محصول علاوہ جلد - . ۷ -
بِاهْتِمَامِ حَكِيم فضل الدّین صاحب بھیروی مَالِك وَمُهْتَمِم مَطْبَعِ هَذَا
۲۹۵
(ٹائٹل پیج طبع بار ثانی)
الحمدللہ والمنت کہ رسالہ طیبہ مبارکہ
المسماۃ بہ
شَهَادَةُ القُرْآنِ
عَلَى
نُزُولِ المَسِيحِ المَوعُودِ فِى اَخِرِ الزَّمَانِ
مطبع پنجاب پریس سیالکوٹ میں
باہتمام
منشی غلام قادر صاحب
فصیح کے چھپا
ٹائٹل پیج طبع اول
الحمدللہ والمنتہ کہ رسالہ تالیف کردہ مجدد وقت و مسیح الزمان مرزا غلام احمد
رئیس قادیان موسوم بہ
الہامی
یہ رسالہ جس میں ایک سو
پچاس نشان ثبت ہیں مجلداً
بحوالہ تصنیف دیگر ہدیہ
پانچسو روپیہ یا کچھ کم مقرر ہوا
الہامی
فتح اسلام
اور خدا تعالیٰ کے تجلیٔ خاص کی بشارت
اور اُسکی پیروی کی راہوں اور اُسکی تائید کے
طریقوں کی طرف دعوت
جمادی الاوّل ۱۳۰۸ ہجری میں
باہتمام شیخ نور احمد مالک مطبع ریاض ہند امرتسر میں طبع ہو کر ہدایت عام
و تبلیغ پیام اور اتمام حجت کی غرض سے بامر واذن الٰہی شائع کیا گیا
ربانی مبشر کا ثبوت
حضرت مسیح موعود کے اصحاب کی سوانح حیات طیبہ کا سلسلہ
(نمبر اوّل)
حیاتِ ناصر
یعنے
حضرت میر ناصر نواب صاحب بقیۃ حضرت خواجہ میر درد رضی اللہ عنہما کے سوانح حیات طیبہ و سیرة
جسکو
حضرت مولانا صاحب شیخ یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر اخبار الحکم قادیان نے مرتب کیا
اور
ابوالمنیر محمود احمد (ناصر) ناظم انوار احمدیہ پریس نے قادیان میں چھپوا کر کتاب منزل دارالامان قادیان سے شائع کیا۔
دسمبر ١٩٢٦ء
بار اوّل تعداد جلد ۵۰۰ - قیمت مجلد علاوہ محصول ۱/-
حوالہ نمبر 01
۹۸
تھے۔ مگر حضرت صاحب کے چہرہ پر بالکل اطمینان تھا چنانچہ ہم سب قادیان چلے آئے بعد میں ہمنے سنا کہ مجسٹریٹ نے سرٹیفکٹ پر بڑی جرح کی اور بہت جھلایا اور ڈاکٹر کو شہادت کے لیئے بلایا مگر اس انگریز ڈاکٹر نے کہا کہ میرا سرٹیفکٹ بالکل درست ہے۔ میں اپنے فن کا ماہر ہوں اسپر میرے فن کی رو سے کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور میرا سرٹیفکٹ تمام اعلیٰ عدالتوں تک چلتا ہے۔ مجسٹریٹ بڑبڑا کر اُٹھ گیا کچھ پیش نہ گئی ۔ پھر اسی دفعہ میں اس کا گورداسپور سے تبادلہ ہو گیا ۔ اور نتیجہ یہ ہوا نامعلوم وجہ سے اس کا تنزل بھی ہو گیا۔ یعنی وہ ای ۔ اے ۔ سی سے منصف کر دیا گیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ غالباً اس مجسٹریٹ کا نام چندو لال تھا اور مقدمہ بیج چپڑاس پر تھا۔ جو حضرت صاحب نے نہیں پہنا تھا۔ غالباً ۱۹ فروری ۱۸۹۸ء تھی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ ایکدفعہ ہم نے حضرت صاحب سے دریافت کیا ۔ کہ حضور حدیث میں آتا ہے۔ کہ سب نبیوں نے بکریاں چرائی ہیں کیا کبھی حضور نے بھی چرائی ہیں ؟ آپ نے فرمایا۔ کہ ہاں میں ایک دفعہ باہر کھیتوں میں گیا ۔ وہاں ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا اسنے کہا کہ میں ذرا ایک کام جاتا ہوں آپ میری بکریوں کا خیال رکھیں ۔ مگر وہ ایسا گیا کہ میں شام کو واپس آیا اور اس کے آنے تک ہمیں اسکی بکریاں چرانی پڑیں ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے ۔ کہ جب فتح اسلام توضیح مرام شایع ہوئیں ۔ تو ابھی میرے پاس نہ پہنچی تھیں کہ ایک مخالف شخص کے پاس پہنچ گئی تھیں ۔ اسنے اپنے ساتھیوں سے کہا دیکھو اب میں مولوی صاحب کو یعنی مجھے مرزا صاحب سے علیحدہ کیئے دیتا ہوں ۔ چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔ کہ مولوی صاحب ! کیا نبی کریم صلعم کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں اسنے کہا اگر کوئی نبوت کا دعوےٰ کرے۔ تو پھر ؟ میں نے کہا تو پھر ہم یہ دیکھینگے کہ کیا وہ صادق اور راستباز ہے یا نہیں ۔ اگر صادق ہے ۔ تو ہم خود اسکی بات کو قبول کرینگے ۔ میرا یہ جواب سنکر وہ بولا۔
سیرت المہدی ج اوّل ص 98 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 44 پر درج ہے
حوالہ نمبر 02
انوارالعلوم جلد ۷ ۳۷۶ دعوۃ الامیر
جائیں۔
آپ کے دعوے کے دلائل
آپ کے دعوے کو مختصر الفاظ میں بیان کر دینے کے بعد میں اصولاً اس امر کے متعلق کچھ بیان کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ ایک مامور من اللہ کے دعوے کی صداقت کے کیا دلائل ہوتے ہیں اور پھر یہ کہ ان دلائل کے ذریعہ سے آپ کے دعوے پر کیا روشنی پڑتی ہے کیونکہ جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک شخص فی الواقع مامور من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہے تو پھر اجمالاً اس کے تمام دعاوی پر ایمان لانا واجب ہو جاتا ہے کیونکہ عقل سلیم اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کا مامور بھی ہو اور لوگوں کو دھوکا دے کر حق سے دور بھی لے جاتا ہو اگر ایسا ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے علم پر ایک سخت حملہ ہو گا اور ثابت ہو گا کہ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ اس نے اپنے انتخاب میں سخت غلطی کی اور ایک ایسے شخص کو اپنا مامور بنا دیا جو دل کا ناپاک اور گندہ تھا اور بجائے حق اور صداقت کی اشاعت کے اپنی بڑائی اور عزت چاہتا اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر اپنے نفس کو مقدم کرتا تھا۔
علاوہ اس کے کہ یہ عقیدہ عقل سلیم کے خلاف ہے قرآن کریم بھی اس کو باطل کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبَّانِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ ٥ وَلَا يَأْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرْبَابًا اَيَأْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ٥ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کتاب اور حکم اور نبوت دے کر بھیجے اور پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ خدا تعالیٰ کے ہو جاؤ بسبب اس کے کہ تم اللہ تعالیٰ کا کلام لوگوں کو سکھاتے اور پڑھتے ہو اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایسا آدمی لوگوں سے یہ کہے کہ فرشتوں یا نبیوں کو رب سمجھ لو کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ وہ کوشش کر کے لوگوں کو مسلمان بنائے اور پھر ان کو کافر کر دے۔
غرض اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ مدعی ماموریت فی الواقع سچا ہے یا نہیں؟ اگر اس کی
دعوۃ الامیر ص 49، 50 مندرجہ انوارالعلوم ج 7 ص 376، 377 از مرزا بشیر الدین محمود | یہ حوالہ صفحہ 45 پر درج ہے
حوالہ نمبر 02
انوار العلوم جلد ۷ ۳۷۷ دعوت الامیر
صداقت ثابت ہو جائے تو اس کے تمام دعاوی کی صداقت بھی ساتھ ہی ثابت ہو جاتی ہے اور اگر اس کی سچائی ہی ثابت نہ ہو تو اس کے متعلق تفصیلات میں پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔ پس میں اسی اصل کے مطابق آپ کے دعوے پر نظر کرنی چاہتا ہوں تاکہ جناب والا کو ان دلائل سے مختصراً آگاہی ہو جائے جن کی بناء پر آپ نے اس دعوے کو پیش کیا ہے اور جن پر نظر کرتے ہوئے لاکھوں آدمیوں نے آپ کو اس وقت تک قبول کیا ہے
پہلی دلیل
ضرورت زمانہ
سب سے پہلی دلیل جس سے کسی مامور کی صداقت ثابت ہوتی ہے وہ ضرورت زمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ بے محل اور بے موقع کوئی کام نہیں کرتا جب تک کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اسے نازل نہیں کرتا اور جب کسی چیز کی حقیقی ضرورت پیدا ہو جائے تو وہ اسے روک کر نہیں رکھتا۔ انسان کی جسمانی ضروریات میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے مہیا نہ کیا ہو چھوٹی سے چھوٹی ضرورت اس کی پوری کر دی ہے پس جب کہ دنیاوی ضروریات کے پورا کرنے کا اس نے اس قدر اہتمام کیا ہے تو یہ اس کی شان اور اس کی رفعت کے منافی ہے کہ وہ اس کی روحانی ضروریات کو نظر انداز کر دے اور ان کے پورا کرنے کیلئے کوئی سامان پیدا نہ کرے حالانکہ جسم ایک فانی شے ہے اور اس کی تکالیف عارضی ہیں اور اس کی ترقی محدود ہے اور اس کے مقابلے میں انسانی روح کیلئے ابدی زندگی مقرر کی گئی ہے اور اس کی تکالیف ایک ناقابل شمار زمانے تک ممتد ہو سکتی ہیں اور اس کی ترقی کے راستے انسانی عقل کی حد بندی سے زیادہ ہیں۔
جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی صفات پر اس روشنی کی مدد سے نظر ڈالے گا جو قرآن کریم سے حاصل ہوتی ہے وہ کبھی اس بات کو باور نہیں کرے گا کہ بنی نوع انسان کی روحانی حالت تو کسی مصلح کی محتاج ہو لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا سامان نہ کیا جائے جس کے ذریعے سے
دعوۃ الامیر ص 49، 50 مندرجہ انوار العلوم ج 7 ص 376، 377 از مرزا بشیر الدین محمود
یہ حوالہ صفحہ 45 پر درج ہے
حوالہ نمبر 03
۴۷۹
جس پر کمال و تمام دورہ حقیقت آدمیہ ختم ہو ۔ وہ خاتم الاولاد ہو۔ یعنے اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے ۔ اب یاد رہے کہ اس بندۂ حضرت احدیت کی پیدائش جسمانی اس پیشگوئی کے مطابق بھی ہوئی ۔ یعنے مَیں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنّت تھا ۔ اور یہ الہام کہ یٰاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے ۔ اس میں جو جنّت کا لفظ ہے اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ پیدا ہوئی اُس کا نام جنّت تھا۔ اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر ۱۵۵ فوت ہو گئی تھی ۔ غرض چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام اور الہام میں مجھے آدم صفی اللہ سے مشابہت دی تو یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا ۔ کہ اس قانونِ قدرت کے مطابق جو مراتب وجود دوریہ میں حکیم مطلق کی طرف سے چلا آتا ہے ۔ مجھے آدم کی خُو اور طبیعت اور واقعات کے مناسب حال پیدا کیا گیا ہو۔ چنانچہ وہ واقعات جو حضرت آدم پر گذرے ۔ منجملہ اُن کے یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زوج کے طور پر تھی ۔ یعنے ایک مرد اور ایک عورت ساتھ تھی ۔ اور اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی ۔ یعنے جیسا کہ مَیں ابھی لکھ چکا ہوں میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنّت تھا۔ اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے مَیں نکلا تھا ۔ اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا ۔ اور مَیں اُن کیلئے خاتم الاولاد تھا ۔ اور یہ میری پیدائش کی وہ طرز ہے جس کو بعض اہلِ کشف نے مہدی خاتم الولایت کی علامتوں میں سے لکھا ہے اور بیان کیا ہے کہ وہ آخری مہدی جس کی وفات کے بعد اور کوئی مہدی پیدا نہیں ہوگا ۔ خدا سے براہ راست
۳۵۱
یہ حوالہ صفحہ 48 پر درج ہے
تریاق القلوب صفحہ 351 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 479 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 04)
۴۸۲
زبان سے مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ پر ہوا تھا۔ غرض یہ پیشگوئی ایک دُور دراز زمانہ سے چلی آتی ہے کہ آخری کامل انسان آدم کے قدم پر ہوگا۔ تا دائرہ حقیقت آدمیہ پُورا ہو جائے۔ اور اس پیشگوئی کو شیخ محی الدین ابن العربی نے فصوص الحکم میں فصّ شیث میں لکھا ہے اور دراصل یہ پیشگوئی فصّ آدم میں رکھنے کے لائق تھی۔ مگر انھوں نے شیث کو الولد سرّ لابیہ کا مصداق سمجھ کر اسی کے فصّ میں اسکو لکھدیا ہے۔ ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ اس جگہ شیخ کی اصل عبارت نقل کردیں اور وہ یہ ہے۔ "وعلی قدم شیث یکون آخر مولود یولد من ھذا النوع الانساني وھو حامل اسرارہ۔ ولیس بعدہ ولد في ھذا النوع فھو خاتم الاولاد۔ وتولد معہ اخت لہ فتخرج قبلہ و یخرج بعدھا یکون رأسہ عند رجلیھا۔ ویکون مولدہ بالصّین و لغتہ لغت بلدہ۔ ویسری العُقم في الرجال والنسآء فیکثر النکاح من غیر ولادۃ۔ ویدعوھم الی اللہ فلا یجاب" یعنے کامل انسانوں میں سے آخری کامل ایک لڑکا ہوگا جو اصل مولد اس کا چین ہوگا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ قوم مغل اور ترک میں سے ہوگا۔ اور ضروری ہے کہ عجم میں سے ہوگا نہ عرب میں سے۔ اور اس کو وہ علوم اور اسرار دیئے جائیں گے جو شیث کو دیئے گئے تھے۔ اور اس کے بعد کوئی اور ولد نہ ہوگا اور وہ خاتم الاولاد ہوگا۔ یعنے اس کی وفات کے بعد کوئی کامل بچہ پیدا نہیں ہوگا۔ اور اس فقرہ کے یہ بھی معنے ہیں کہ وہ اپنے باپ کا آخری فرزند ہوگا۔ اور اُس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوگی جو اُس سے پہلے نکلے گی۔ اور وہ اُس کے بعد نکلے گا۔ اُس کا سر اُس دُختر کے پیروں سے ملا ہُوا ہوگا۔ یعنے دُختر معمولی طریق سے پیدا ہوگی کہ پہلے سر نکلے گا اور پھر پیر۔ اور اُسکے
۳۵۲
تریاق القلوب صفحہ 355 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 482، 483 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 49 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 04
۴۸۳
پیروں کے بعد بلا توقف اُس پسر کا سر نکلے گا۔ (جیسا کہ میری ولادت اور میری توام ہمشیرہ کی اسی طرح ظہور میں آئی۔) اور پھر بقیہ ترجمہ شیخ کی عبارت کا یہ ہے کہ اُس زمانہ میں مردوں اور عورتوں میں بانجھ کا عارضہ سرایت کریگا۔ نکاح بہت
۱۵۹
ہوگا۔ یعنی لوگ مباشرت سے نہیں رکیں گے مگر کوئی صالح بندہ نہیں ہوگا اور وہ زمانہ کے لوگوں کو خدا کی طرف بلائے گا۔ مگر وہ قبول نہیں کرینگے۔ اور اس عبارت کے شارح نے جو کچھ اس کی شرح میں لکھا ہے وہ یہ ہے ۔ پہلا مولود جو آدم کو بخشا گیا وہ شیث ہے۔ اور ایک لڑکی بھی تھی جو شیث کے ساتھ بعد اُسکے پیدا ہوئی ۔ پس خدا نے چاہا کہ وہ نسبت جو اوّل اور آخر میں ہوتی ہے ۔ وہ نوع انسان میں متحقق کرے ۔ اس لئے اس نے ابتدا سے مقدر کر رکھا تھا کہ طرز ولادت پسر آخری پسر اوّل سے مشابہت رکھے پس پسر آخر جو خاتم الخلفاء تھا ۔ اور بموجب اس پیشگوئی کے جو شیخ نے اپنی کتاب عنقاء مغرب میں لکھی ہے وہ خاتم الخلفاء اور خاتم الاولیاء عجم میں سے پیدا ہونے والا تھا نہ عرب سے ۔ اور وہ حضرت شیث کے علوم کا حامل تھا۔ اور پیشگوئی میں یہ بھی الفاظ ہیں کہ اُس کے بعد یعنی اُسکے مرنے کے بعد نوع انسان میں علتِ عقم سرایت کریگی یعنی پیدا ہونیوالے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے ۔ اور انسانیت حقیقی صفحہ عالم سے مفقود ہو جائیں گے۔ وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام ۔ پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔ اب واضح ہو کہ شیخ موصوف کی یہ پیشگوئی اگرچہ کسی صریح حدیث سے ابتک ثابت نہیں ہوئی ۔ لیکن اشارۃ النص ہمیں اس بات کی طرف توجہ دیتی ہے کہ یہ پیشگوئی قرآن میں موجود ہے۔ کیونکہ اوّل تو قرآن نے بہت سے
۲۵۵
تریاق القلوب صفحہ 355 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 482، 483 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 49 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 05
۱۷۷
ملا عبداللہ آتھم صاحب کو ایک ہزار انعام کا وعدہ دیا گیا تھا۔ بشرطیکہ اس طرح پر (تسلیم کیا گیا) ۔ ۱۲؎ عبداللہ آتھم صاحب کو دو ہزار روپیہ کے انعام کا وعدہ دیا گیا۔ ۱۳؎ ایضاً تین ہزار ایضاً۔ ۱۴؎ ایضاً چار ہزار ایضاً۔ ۱۵؎ انجام آتھم شائع کیا گیا (تسلیم ہوا) ۱۶؎ انجام آتھم میں مرزا صاحب نے پیش گوئی کی تھی کہ ۱۴ مولوی اور ۲۸ عیسائی اگر مباہلے پر ایمان نہیں لائیں گے تو مر جائیں گے (مرزا صاحب نے اس کو تسلیم نہیں کیا) ۱۷؎ اس پیش گوئی میں لیکھرام کے مرنے کی بابت وہ لوگوں کو بتلاتے ہیں کہ مباہلہ کریں (تسلیم کیا گیا)۔ ۱۸؎ گنگا بشن کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا) ۱۹؎ مولوی محمد حسین بٹالوی کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا گیا) ۲۰؎ سردار دیال سنگھ کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا گیا) ۲۱؎ پیشگوئی بابت مرنے لیکھرام کی (تسلیم کیا گیا) ۲۲؎ نسبت
بقیہ حاشیہ
سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دئے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کو اس قسم کی مدد کا عندالضرورت وعدہ بھی دیا ۔ اور سرکار انگریزی کے حکام وقت سے بوجہ ان خدمات عمدہ عمدہ چٹھیاں خوشنودی مزاج ان کو ملی تھیں۔ چنانچہ سرلیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہر دلعزیز تھے۔ اور بسا اوقات ان کی دلجوئی کے لئے حکام وقت ڈپٹی کمشنر و کمشنر ، ان کے مکان پر آکر ان کی ملاقات کرتے تھے۔ یہ مختصر میرے خاندان کا حال ہے میں ضروری نہیں دیکھتا کہ اس کو بہت طول دوں۔ اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا۔ اور ابھی ریش و بروت کا آغاز نہیں تھا۔ میری پیدائش سے پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے ۔ ایک دفعہ ہندوستان کا پیادہ پا سفر بھی کیا۔ لیکن میری پیدائش
ہ حاشیہ: میں توام پیدا ہوا تھا ایک لڑکی جو میرے ساتھ تھی وہ چند روز کے بعد فوت ہو گئی تھی۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح پر خدا تعالیٰ نے اثنیت کا مادہ مجھ سے بکلی الگ کر دیا ۔ منہ
۱۵۹
یہ حوالہ صفحہ 50 پر درج ہے | کتاب البریہ (حاشیہ) صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 177 از مرزا قادیانی
Back
حوالہ نمبر 06
۱۵۰
یہ فرماتے ہیں کہ میں تو خدا کے سارے رسولوں کو مانتا ہوں۔ اللہ جل شانہ کیا شان دلربائی ہے (۴۷۶) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جہاں تک میں نے تحقیق کی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے مندرجہ ذیل واقعات ذیل کے سنین میں وقوع پذیر ہوئے ہیں، واللہ اعلم۔
۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء ۔ ولادت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ؛ ۱۸۴۶ء یا ۱۸۴۷ء ۔ ابتدائی تعلیم از منشی فضل الٰہی صاحب ؛ ۱۸۴۹ء یا ۱۸۵۰ء ۔ صرف و نحو کی تعلیم از مولوی فضل احمد صاحب ؛ ۱۸۵۲ء یا ۱۸۵۳ء ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی شادی (غالباً) ؛ ۱۸۵۳ء یا ۱۸۵۴ء ۔ نحو، منطق و حکمت و دیگر علوم مروجہ کی تعلیم از مولوی گل علی شاہ صاحب اور اسی زمانہ کے قریب بعض کتب طب اپنے والد ماجد سے ؛ ۱۸۵۵ء یا ۱۸۵۶ء ۔ ولادت خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب (غالباً) ؛ ۱۸۵۷ء یا ۱۸۵۸ء ۔ ولادت مرزا فضل احمد (غالباً) ؛ ۱۸۶۴ء یا ۱۸۶۵ء ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رویا میں آنحضرت صلعم کی زیارت اور اشارات ماموریت ؛ ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء ۔ ایام ملازمت بمقام سیالکوٹ ؛ ۱۸۶۸ء ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کا انتقال ؛ ۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء ۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ بعض مسائل میں مباحثہ کی تیاری اور الہام ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“ جو غالباً سب سے پہلا الہام ہے ؛ ۱۸۷۵ء یا ۱۸۷۶ء ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آٹھ یا نو ماہ تک لگاتار روزے رکھنا (غالباً) ۱۸۷۶ء ۔ تعمیر مسجد اقصیٰ ۔ الہام الیس اللہ بکاف عبدہ ۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد ماجد کا انتقال ؛ ۱۸۷۷ء ۔ اخبارات میں مضامین بھجوانے کا آغاز (غالباً) مقدمہ از جانب محکمہ ڈاک خانہ (غالباً) سفر سیالکوٹ ؛
سیرت المہدی ، جلد 2 صفحہ 150 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 50 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 07 76
تاریخ ہندی بموجب سنہ بکرمی دن تاریخ چاند وسنہ ہجری تاریخ سنہ عیسوی 2 پھاگن 1894 بکرمی جمعہ 20 ذیقعدہ 1253ھ 9 فروری 1838ء 21 پھاگن 1895 بکرمی جمعہ 15 ذیقعدہ 1254ھ یکم فروری 1839ء 4 پھاگن 1896 بکرمی جمعہ 12 ذی الحج 1255ھ 12 فروری 1840ء
(اس کے لئے دیکھو توقیقات الہامیہ ص 11 و تقویم ہجری ہندی)
اس نقشہ کی رُو سے 1838ء عیسوی کی تاریخ بھی درست سمجھی جاسکتی ہے۔ مگر دوسرے قرائن کہ جن میں سے بعض اوپر بیان ہوچکے ہیں اور بعض آگے بیان کئے جائیں گے یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیدائش 1839ء عیسوی میں ہوئی تھی۔ پس 17 فروری 1839ء عیسوی مطابق 14 شوال 1254ھ ہجری بروز جمعہ والی تاریخ صحیح قرار پاتی ہے۔ اور اس حساب کی رو سے وفات کے وقت جو 26 ربیع الثانی 1326ھ ہجری (اخبار الحکم ضمیمہ مورخہ 28 مئی 1908ء) میں ہوئی ۔ آپ کی عمر پورے 71 سال 2 ماہ اور دس دن کی بنتی ہے۔ پس امید کرتا ہوں کہ اب جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کی تاریخ متعین طور پر معلوم ہو گئی ہے۔ ہمارے احباب اپنی تحریر و تقریر میں ہمیشہ اسی تاریخ کو بیان کیا کریں گے۔ تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تاریخ پیدائش کے متعلق کوئی ابہام اور اشتباہ کی صورت نہ رہے اور ہم لوگ اس بارہ میں ایک معین بنیاد پر قائم ہو جائیں۔
اس نوٹ کے ختم کرنے سے قبل یہ ذکر بھی ضروری ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہام الٰہی میں یہ بتایا گیا تھا۔ کہ آپ کی عمر اسی یا اس سے پانچ چار کم یا پانچ چار زیادہ ہوگی (حقیقۃ الوحی صفحہ 94) اگر اس الہام الٰہی کے لفظی معنے لئے جائیں۔ تو آپ کی عمر پچھتر چھہتر، یا اسی یا، چوراسی پچاسی سال کی ہونی چاہیئے۔ بلکہ اگر اس الہام کے معنے کرنے میں زیادہ عقلی پابندی اختیار کی جائے تو آپ کی عمر پورے ساڑھے چھہتر (76½) یا اسی یا ساڑھے چوراسی (84½) سال کی ہونی چاہیئے۔ اور یہ ایک عجیب حقیقت نمائی ہے کہ مندرجہ بالا تحقیق کی رو سے آپ کی عمر پورے ساڑھے چھہتر (76½) سال کی بنتی ہے۔
اسی ضمن میں یہ بات بھی قابل نوٹ ہے۔ کہ ایک دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی پیدائش کے متعلق بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت آدم سے لیکر ہزار ششم میں سے ابھی گیارہ سال باقی رہتے تھے کہ میری ولادت ہوئی۔ اور اسی جگہ یہ بھی تحریر فرماتے ہیں۔ کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 76 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 50 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 08
۷۴
حضرت صاحب سے اس بارہ میں بات کروں گا۔ چنانچہ والد صاحب حضرت صاحب سے ملے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ شیخ صاحب ہم نے آپ کے بیٹے کو یہاں رہنے کے لئے کہا ہے کیونکہ میاں حامد علی کے والد نے بھی ان کو یہاں ہی چھوڑ دیا ہے۔ والد صاحب نے عرض کیا کہ جناب جس مکان میں چھ سات چراغ جل رہے ہوں اگر وہاں سے ایک اٹھا لیا جائے۔ تو وہاں روشنی میں کوئی خاص کمی واقع نہ ہوگی اور جس گھر میں فقط ایک چراغ ہو۔ اور اس کو اٹھا دیا جائے تو بالکل اندھیرا ہو جائیگا۔ اس طرح میرے والد صاحب نے ہنس کر بات ٹال دی۔ کیونکہ میاں حامد علی کے پانچ چھ بھائی تھے۔ اور میں گھر میں عملہ کا ایک ہی بیٹا تھا۔ لیکن مجھکو اس بات پر سخت افسوس ہوا اور اب تک ہے۔ کہ والد صاحب نے حضرت کی بات کو قبول کیوں نہ کرلیا۔ اور مجھے اس موقعہ سے مستفید کیوں نہ ہونے دیا۔
۵۱۴ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تاریخ پیدائش اور عمر بوقت وفات کا سوال ایک عرصہ سے زیر غور چلا آتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تصریح فرمائی ہے۔ کہ حضور کی تاریخ پیدائش معین صورت میں محفوظ نہیں ہے۔ اور آپ کی عمر کا صحیح اندازہ معلوم نہیں۔ (دیکھو ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۹۴) کیونکہ آپ کی پیدائش سکھوں کی حکومت کے زمانہ میں ہوئی تھی۔ جبکہ پیدائشوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا۔ البتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض ایسے امور بیان فرمائے ہیں جن سے ایک حد تک آپ کی عمر کی تعیین کی جاتی رہی ہے۔ ان اندازوں میں سے بعض اندازوں کے لحاظ سے آپ کی پیدائش کا سال ۱۸۳۵ء بنتا ہے۔ اور بعض کے لحاظ سے ۱۸۳۹ء تک پہونچتا ہے۔ اور اسی لئے یہ سوال ابھی تک زیر بحث چلا آیا ہے۔ کہ صحیح تاریخ پیدائش کیا ہے؟
میں نے اس معاملہ میں کئی جہت سے غور کیا ہے اور اپنے اندازوں کو سیرۃ المہدی کے مختلف حصوں میں بیان کیا ہے لیکن حق یہ ہے کہ گو مجھے یہ خیال غالب رہا ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کا سال ۱۸۳۹ء عیسوی یا اس کے قریب قریب ہے۔ مگر ابھی تک کوئی تاریخ معین نہیں کی جاسکی تھی لیکن اب بعض حوالے اور بعض روایات ایسی ملی ہیں۔ جن سے معین تاریخ کا پتہ لگ گیا ہے۔ جو بروز جمعہ ۱۴ شوال ۱۲۵۰ھ ہجری مطابق ۱۳ فروری ۱۸۳۵ء عیسوی مطابق یکم پھاگن ۱۸۹۱ء بکرمی ہے۔ اس تعیین کی وجوہ یہ ہیں۔
سیرت المہدی ، حصہ سوم صفحہ 74 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 50 پر درج ہے
حوالہ نمبر 09 ۴۰۷
کا وقت تھا۔ اور قمری حساب سے چاند کی چودھویں رات تھی۔ یہی بات اخی مکرمی حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب نے اپنی کتاب ”ذکر حبیب“ کے صفحہ ۲۴۲ پر لکھی ہے۔ جس کو ناظرین دیکھ سکتے ہیں اگرچہ یہ بات مجھے یاد بھی تھی۔ لیکن حال میں ذکر حبیب کے مطالعہ سے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ بیان مستحضر ہو گیا۔ اور میں نے تحقیق کرنا شروع کر دی۔ کیونکہ میرے دل میں تحقیق کرنے کی زور سے تحریک پیدا ہوئی۔ خوش قسمتی سے میری مرتبہ کتاب تقویم عمری جو ایک سو پچیس برس کی جنتری کے نام سے بھی موسوم ہے۔ میرے سامنے آگئی اور میں نے غور سے اس کا مطالعہ کیا۔ کتاب بھی میں نے ان دنوں میں ہی چھپائی تھی۔ جب براہین احمدیہ چھپائی تھی۔ یہ اجتماع اور تطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ولادت کے سال و وقت کے متعلق فرمایا ہے۔ اس کی تلاش سے یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ آپ کی ولادت جس جمعہ کو ہوئی تھی وہ ۱۴؍ ماہ رمضان المبارک ۱۲۵۴ھ ہجری کا دن تھا۔ اور بحساب سمت بکرمی یکم پھاگن ۱۸۹۵ء کے مطابق تاریخ تھی جو عیسوی سن کے حساب سے ۱۷؍ فروری ۱۸۳۹ء کے مطابق ہوتی ہے۔ پس اس طریق سے حضور موصوف کی عمر ہر ایک حساب سے حسب ذیل ثابت ہوتی ہے۔
- (الف) بحساب سمت ہندی بکرمی آپ یکم پھاگن ۱۸۹۵ء بکرمی کو پیدا ہوئے اور جیٹھ ۱۹۶۵ء بکرمی
کو آپ کا رفع ہوا۔ گویا ہندی بکرمی سالوں کی رُو سے آپ کی عمر ۷۰ سال چار ماہ ہوئی۔
- (ب) عیسوی سال ۱۷؍ فروری ۱۸۳۹ء کو آپ کی ولادت ہوئی اور ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو آپ اپنے
خالق حقیقی رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ پس اس حساب سے آپ نے ۶۹ سال دو ماہ اور ۹ دن عمر پائی۔
- (ج) سن ہجری مقدس کے مطابق آپ ۱۴؍ رمضان المبارک ۱۲۵۴ھ کو پیدا ہوئے اور ۲۴؍ ربیع الثانی
۱۳۲۶ھ کو وفات پاگئے۔ اس حساب سے آپ کی عمر ۷۱ سال ۵ ماہ اور ۲۵ دن ہوئے۔ یعنی ۷۲ واں سال ہوئی۔
اس سے اب صاف طور پر واضح ہو جاتا ہے۔ کہ آنحضور کی عمر الہی الہام کے مطابق ۸۰ سال کے قریب ہوتی ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں اپنی تحقیق روایت ۴۱۵ میں درج کر چکا ہوں۔ میاں معراج الدین صاحب مرحوم کی تحقیق اس سے مختلف ہے لیکن چونکہ دوستوں کے سامنے ہر قسم کی رائے آجانی چاہیے
سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 302 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 50 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 10
۱۹۴
سید احمد علی صاحب نے درج کیا ہے۔ اس کے مطابق آپ کی تاریخ پیدائش ۱۸۳۹ء بنتی ہے اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے حوالوں سے ۱۸۳۹ء اور ۱۸۴۰ء پیدائش کے سن نکلتے ہیں۔ لیکن میرے نزدیک ان سے بڑھ کر جس مخالف کا علم ہونا چاہئے۔ وہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں۔ جن کو بچپن سے ہی آپ سے ملنے کا موقعہ ملتا رہا ہے ۔ ان کے اشاعت السنۃ ۱۸۹۳ء کے حوالہ سے آپ کی پیدائش ۱۸۳۹ء کے قریب بنتی ہے۔ غرض ۱۸۳۹ء انتہائی حد ہے۔ اس کے بعد کا کوئی سن ولادت تجویز نہیں کیا جا سکتا۔ بحیثیت مجموعی زیادہ تر میلان ۱۸۳۹ء اور ۱۸۴۰ء کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ شرف مکالمہ مخاطبہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ مبین ہیں۔ اور یہ واقعی ایک اہم واقعہ ہے۔ جس پر تاریخ پیدائش کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ ۱۸۴۰ء ایک معین تاریخ ہے اور اس حساب سے ۱۸۳۹ء کی پیدائش ثابت ہوتی ہے۔ دوسرا اہم واقعہ آپ کے والد ماجد کا انتقال کا ہے۔ انسانی فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت کے متعلق جو رائے ہے وہ بھی زیادہ وزن دار سمجھنی چاہئے۔ سن کے متعلق آپ واضح الفاظ میں فرماتے ہیں کہ والد ماجد کی وفات کے وقت آپ کی عمر چالیس سال کے قریب تھی۔ اور اپنے والد صاحب کی وفات ۱۸۷۶ء میں معین فرما دی۔ خلاصہ میرے نزدیک یہ نکلا کہ ۱۸۳۹ء صحیح سن ولادت قرار دیا جاسکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس جگہ دردؔ کا مضمون ختم ہوا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرمی مولوی عبدالرحیم صاحب دردؔ ایم اے مبلغ لندن نے یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر اور تاریخ پیدائش کی تعیین کے متعلق لندن سے ارسال کیا تھا جو پہلے اخبار الفضل ۳۱/اگست ۱۹۳۲ء میں شائع ہوچکا ہے۔ مضمون بہت محنت اور تحقیق کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ مگر جیسا کہ میں روایت ۴ میں لکھ چکا ہوں مجھے اس تحقیق سے اختلاف ہے کیونکہ میری تحقیق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ۱۲/فروری ۱۸۳۵ء بنتی ہے۔ اور دردؔ نے جو ہمارے دادا صاحب کی تاریخ وفات ۱۸۷۶ء لکھی ہے۔ یہ بھی میری تحقیق میں درست نہیں، بلکہ صحیح تاریخ ۱۸۷۴ء ہے جیسا کہ حضرت صاحب نے سرکاری ریکارڈ کے حوالہ سے کشف الغطاء میں لکھی ہے۔ لیکن ایسے تحقیقی مضامین میں رائے کا اختلاف بھی بعض لحاظ سے مفید ہوتا ہے۔
یہ حوالہ صفحہ 51 پر درج ہے سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 194 از مرزا بشیر احمد ایم اے
حوالہ نمبر 11
۱۶
میں جود و سخا اور مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اپنے شہر کے غربا و ضعفا کا خصوصیت سے خیال رکھتی تھیں۔ اور غربا کے مُردوں کو کفن اُن کے ہاں سے ملتا تھا۔
بہن بھائی حضرت مرزا غلام احمد صاحب سب ملا کر پانچ بہن بھائی تھے۔ سب سے بڑی آپ کی ہمشیرہ مراد بی بی صاحبہ تھیں جن کی شادی مرزا محمد بیگ ہوشیارپوری سے ہوئی تھی۔ مگر وہ عین جوانی میں بیوہ ہو گئی تھیں۔ وہ نہایت عابدہ اور زاہدہ تھیں اور تمام عمر یاد الٰہی میں گزار دی۔ ان سے بعض خوارق و کرامات کا ظہور بھی ہوا۔ مراد بی بی صاحبہ سے چھوٹے مرزا غلام قادر صاحب تھے ان سے چھوٹا ایک اور لڑکا تھا جو بچپن میں ہی فوت ہو گیا۔ اُن سے چھوٹی جنت بی بی تھی جو حضرت صاحب کے ساتھ توام پیدا ہوئی تھیں اور پیدا ہوتے ہی فوت ہو گئی تھیں۔ گویا بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے حضرت مرزا غلام احمد صاحب تھے۔
ولادت ۔ طفولیت اور تعلیم
سنہ ولادت حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی سنہ ولادت کے متعلق کوئی تحریری یادداشت تو ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ اس لئے اس امر میں اختلاف ہونا لازمی امر تھا۔ مگر تحقیقات سے سنہ ولادت ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء صحیح معلوم ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آپ نے کتاب البریہ میں اپنی پیدائش کا سنہ ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء لکھا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ آپ نے یہ کسی تحریری یادداشت کی بنا پر نہیں لکھا محض تخمینہ یا اندازہ سے قیاس کر کے ایسا لکھ دیا ۔ اسی لئے کوئی سنہ متعین نہیں کیا۔ ورنہ ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء کیا معنی ؟ آپ کو ایک سنہ متعین کر کے لکھنا چاہئے تھا۔ اور پھر اسی کتاب البریہ میں اسی سلسلہ مضمون میں آگے چل کر آپ تحریر فرماتے ہیں:۔ ”غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گزری۔“ اب یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ کے والد بزرگوار کی وفات ۱۸۷۶ء میں ہوئی تو اس سے پھر یہ نتیجہ نکلا کہ آپ کا سنہ ولادت تخمیناً ۱۸۳۶ء تھا۔ دوم حضرت اقدس مرزا صاحب نے کتاب التبلیغ آئینہ کمالات اسلام میں لکھا ہے جس کا ملخص یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی والدہ محترمہ آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کرتی تھیں کہ تمہارے خاندان کے مصیبت کے دن تیری ولادت کے ساتھ پھر گئے تھے اور فراخی میسر آگئی تھی! اور اسی لئے وہ آپ کی پیدائش کو مبارک سمجھا کرتی تھیں۔ اب یہ قطعی طور پر یقینی بات ہے کہ راجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں اس خاندان کے مصائب کے دن دور ہو کر فراخی شروع ہوئی تھی۔ اور قادیان اور اس کے ارد گرد کے بعض مواضعات
مجدد اعظم جلد اوّل صفحہ 16 از ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری
یہ حوالہ صفحہ 51 پر درج ہے
حوالہ نمبر 12
۱۶۲
بالکل جھوٹ تھی۔ اور اس کا نام عبدالحمید تھا۔ نہ عبدالمجید جیسا اُس نے بیان کیا تھا۔ نہ وہ پٹالہ کا برہمن تھا۔ بلکہ پیدائشی مسلمان علاقہ جہلم سے تھا۔ اس کا چچا برہان الدین غازی ایک مشہور مذہبی مجنون ہے۔ اور اُن کا تمام خاندان مرزا قادیانی پر فدائی مرید ہے۔ یہ نوجوان عیسائی مذہب کے متلاشیوں کی طرح گجرات میں رہا تھا۔ اس نے اپنے چچا کے چالیس روپے چرا کر بُرے کاموں میں خرچ کئے۔ جس پر اس کے چچا نے مرزا قادیانی کے پاس اُس کو بھیج دیا۔ میں خود بٹالہ گیا۔ اور پھر اس سے دریافت کیا۔ اور پانچ گواہوں کے سامنے اس نے کھُلا کھُلا اقرار کیا کہ اُسے مرزا غلام احمد نے میرے قتل کے لئے بھیجا ہے۔ وہ موقعہ کی تلاش میں تھا کہ جب کبھی وہ مجھے سویا ہوا یا کسی اور حالت میں پائے تو میرے سر کو پتھر سے یا کسی اور ایسی چیز سے پھوڑے۔ اس نے یہ تمام واقعات اپنی مرضی سے لکھے۔ میں اس لکھے ہوئے کاغذ کو پیش کرتا ہوں جس پر اُس نے آٹھ گواہوں کے سامنے دستخط کئے۔ میری واقفیت مرزا صاحب سے
حاشیہ کا قائم مقام ہو جائے ۔ تا اگر ایسی خوش بیانی سے کسی کا وقت خوش ہو تو اس سوانح نویس کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے دُعا بھی کرے۔ اور صفحات تاریخ پر نظر ڈالنے والے خوب جانتے ہیں کہ جن بزرگ محققوں نے نیک نیتی اور افادہ عام کے لئے قوم کے ممتاز شخصوں کے تذکرے لکھے ہیں انہوں نے ایسا ہی کیا ہے۔ اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطاء محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے ٭ اور میرے بزرگوں کے
بقیہ حاشیہ ٭ عمر سترہ یا اٹھارہ برس کا ہوا کہ خدا تعالیٰ کے متواتر الہامات سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ میرے باپ دادے فارسی الاصل ہیں۔ وہ تمام الہامات میں نے ان ہی دنوں میں براہین احمدیہ کے حصہ دوم میں درج کر دئے تھے جن میں سے میری نسبت ایک یہ الہام ہے خذوا التوحید
۱۶۳
یہ حوالہ صفحہ 52 پر درج ہے
کتاب البریہ (حاشیہ) صفحہ 144 روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 162 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 13
۲۷۳
ایک شریف قوم سے جو سیّد تھے کیا۔ اور خود تمہاری نسب کو شریف بنایا۔ جو فارسی خاندان اور سادات سے معجون مرکب ہے۔ اِس پیشگوئی کو دُوسرے الہامات میں اور بھی تصریح سے بیان کیا گیا ہے۔ یہانتک کہ اُس شہر کا نام بھی لیا گیا تھا۔ جو دہلی ہے۔ اور یہ پیشگوئی بہت سے لوگوں کو سُنائی گئی تھی۔ جن میں سے ایک شیخ حامد علی اور میاں جان محمد اور بعض دُوسرے دوست ہیں۔ اور ایسا ہی ہندوؤں میں سے شرمپت اور ملاوا مل کھتریاں ساکنانِ قادیان کو قبل از وقت یہ پیشگوئی بتلائی گئی تھی۔ اور جیسا کہ لکھا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا۔ کیونکہ بغیر سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہور خاندانِ سیادت میں میری شادی ہو گئی۔ جدۂ عالیا خواجہ میر درد کی لڑکی کی اولاد میں سے ہے جو مشاہیر اکابر سادات دہلی میں سے ہے۔ جبکہ سلطنت چغتائی کی طرف سے بہت سے دیہات بطور جاگیر عطا ہوئے تھے۔ اور ابتک اس
* حاشیہ ہمارے خاندان کی قومیت ظاہر ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ قوم کے برلاس مغل ہیں۔ اور ہمیشہ اس خاندان کے اکابر امیر اور والیانِ ملک رہے ہیں۔ وہ سمرقند سے کسی تفرقہ کی وجہ سے بابر بادشاہ کے وقت میں پنجاب میں آئے اور اس علاقہ کی ایک بڑی حکومت انکو ملی۔ اور کئی سَو دیہات انکی ملکیت کے تھے جو آخر کم ہوتے ہوتے ۸۵ رہ گئے اور سکھوں کے زمانہ میں وہ بھی ہاتھ سے جاتے رہے۔ اور پانچ گاؤں باقی رہ گئے۔ اور پھر ایک گاؤں اُن میں سے جسکا نام بہادرشین تھا جس کو حسین نامی ایک بزرگ نے آباد کیا تھا۔ انگریزی سلطنت کے عہد میں ہاتھ سے جاتا رہا۔ کیونکہ ہم نے خود اپنی غفلت سے ایک مدت تک اس گاؤں سے کچھ وصول نہیں کیا تھا۔ اور جیسا کہ مشہور چلا آتا ہے۔ ہماری قوم کو سادات سے یہ تعلق رہا ہے کہ بعض دادیاں ہماری شریف اور مشہور خاندانِ سادات سے ہیں۔ لیکن مغل قوم کے ہونے کے بارے میں خدا تعالیٰ کے الہام نے مخالفت کی ہے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ صفحہ ۵۲۲ میں یہ الہام ہے۔ خُذُوا التَّوْحِيدَ التَّوْحِيدَ يَا أَبْنَاءَ الْفَارِسِ ۔ یعنے توحید کو پکڑو توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو ۔ اس الہام سے صریح طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ہمارے بزرگ دراصل بنی فارس ہیں۔
٭ یہ گاؤں بٹالہ سے شمالی طرف بفاصلہ تین کوس واقع ہے۔ منہ
۱۴۵
تریاق القلوب صفحہ 145 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 273 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 52 پر درج ہے
باب دوم
احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں
عقیدہ ختم نبوت
(۱) عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال مثلی و مثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا فاحسنہ و اجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ و یعجبون لہ و یقولون ھلا وضعت ھذہ اللبنۃ قال فانا اللبنۃ و انا خاتم النبیین۔
(صحیح بخاری کتاب المناقب باب خاتم النبیین ﷺ ج ۱ ص ۵۰۱، صحیح مسلم ج ۲ ص ۲۴۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور اسے خوب حسین و جمیل بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے، اس پر خوش ہوتے اور تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھ دی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں، اور میں تمام نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں (یعنی میرے آنے سے نبوت کی عمارت مکمل ہو گئی اب کسی اور نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی)۔
(۲) عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض طھورا ومسجدا وارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون۔
(صحیح مسلم کتاب المساجد باب المساجد ج ۱ ص ۱۹۹، مشکوٰۃ ص ۵۱۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے چھ چیزوں میں انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے (۱) مجھے جامع کلمات دیئے گئے ہیں (۲) رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے (۳) میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے (۴) میرے لئے تمام روئے زمین کو مسجد اور پاک کرنے والی چیز (یعنی تیمم کے لئے مٹی) بنایا گیا ہے (۵) مجھے تمام مخلوق کی طرف (نبی بنا کر) بھیجا گیا ہے (۶) اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔
(۳) عن جابر بن عبداللہ قال قال رسول اللہ ﷺ مثلی و مثل الانبیاء کمثل رجل بنی دارا فاکملھا و احسنھا الا موضع لبنۃ فکان من دخلھا فنظر الیھا قال ما احسنھا الا موضع ھذہ اللبنۃ فانا موضع اللبنۃ ختم بی الانبیاء۔
(صحیح بخاری ج ۱ ص ۵۰۱، صحیح مسلم ج ۲ ص ۲۴۸)
حوالہ نمبر 15
ضمیمہ براہین احمدیہ ۳۶۳ حصہ پنجم
اور خفیہ گواہوں کے مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی تھے۔ اور الزام یہ تھا کہ اس شخص نے عبدالمجید لے نام ایک شخص کو ڈاکٹر مارٹن کلارک کے قتل کے لئے بھیجا تھا۔ چنانچہ شہادتیں برخلاف میرے پورے طور پر گزر گئیں۔ مگر خدا نے مجھے مقدمہ سے پہلے ہی اطلاع دی تھی کہ ایسا مقدمہ ہوگا۔ اور میں تجھے بچاؤں گا۔ اور وہ وحی الہی قریباً ساٹھ یا ستر یا اسی آدمی کو قبل از مقدمہ سنائی گئی تھی ۔ چنانچہ خدا نے مجھے اپنی پاک وحی کے مطابق اس جھوٹے الزام سے عزت کے ساتھ نجات دی۔ پس وہ تمام کوشش میرے پھانسی دلانے کے لئے تھی جیسا کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے کی تھی۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ جیسا پیلاطوس رومی نے (جو اُس نواح کا گورنر تھا جہاں حضرت مسیح تھے) یہودیوں کو کہا تھا کہ میں اس شخص یعنی عیسیٰ کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا جس کی وجہ سے اس کو صلیب دوں۔ ایسا ہی اس حاکم نے جس کی عدالت میں میرے پر مقدمہ قتل دائر تھا جس کا نام ڈگلس تھا اور ہمارے ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا مجھے مخاطب کر کے کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام قتل کا نہیں لگاتا۔ اور عجیب تر یہ ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ کے ساتھ ایک چور بھی صلیب دیا گیا تھا۔ جس دن میری نسبت یہ خون کا مقدمہ فیصل ہوا۔ اُسی دن اُسی عدالت میں ایک عیسائی فوج کا عیسائی چور بھی پیش ہوا۔ جس نے کچھ روپیہ چرایا تھا۔ غرض میری نسبت خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّ یہ ایک پیشگوئی تھی جس میں یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ حضرت عیسیٰ کی طرح میرے قتل کے لئے بھی کچھ منصوبے بنائے جائیں گے اور ان منصوبوں میں دشمن نامراد رہیں گے۔
[ تیسرا امر جو مجھے ذو شقین کرتا ہے میری خونی حالت ہے۔ اور جیسا کہ ظاہر طور پر سُنا منہ ص ۱۸۲ گیا ہے میں باپ کے لحاظ سے قوم کا مغل ہوں مگر بعض دادیاں میری سادات میں سے تھیں۔ ]
لے سہو کاتب ہے اصل نام عبدالحمید ہے (ناقل)
براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 192 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 363 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 53 پر درج ہے
Back
(حوالہ نمبر 16) باب چہارم ۸۱ حقیقۃ الوحی سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّونَ الدُّبُرَ ۔ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ منہ یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور پیٹھ پھیرلیں گے ۔ تو ہمارے نزدیک آج صاحب مرتبہ اَمِينٌ ۔ وَ اِنَّ عَلَيْكَ رَحْمَتِي فِي الدُّنْيَا وَالدِّينِ وَ اِنَّكَ امین ہے۔ اور تیرے پر میری رحمت دنیا اور دین میں ہے اور تو اُن لوگوں میں سے ہے مِنَ الْمَنْصُورِينَ ۔ يَحْمَدُكَ اللهُ وَيَمْشِى اِلَيْكَ ۔ سُبْحٰنَ جن کے شامل نعمت الٰہی ہوتی ہے ۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چل رہا ہے۔ وہ پاک ذات الَّذِي اَسْرٰى بِعَبْدِه لَيْلًا ۔ خَلَقَ اٰدَمَ فَاَكْرَمَهُ ۔ وہی خدا ہے جس نے ایک رات میں تجھے سیر کرا دیا۔ اُس نے آدم کو پیدا کیا اور پھر اُس کو عزت دی۔
بقیہ حاشیہ اس کو پالیں ۔ پھر اپنی ایک اور وحی میں مجھ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے خذوا التوحید خذوا التوحید یآ ابناء الفارس۔ یعنی توحید کو پکڑو توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو۔ ان تمام کلمات الٰہیہ سے ثابت ہے کہ اس عاجز کا خاندان دراصل فارسی ہے نہ مغلیہ ۔ یہ معلوم نہیں غلطی سے مغلیہ خاندان کے ساتھ مشہور ہو گیا اور جیسا کہ ہمیں اطلاع دی گئی ہے میرے خاندان کا شجرہ نسب اس طرح پر ہے کہ میرے والد کا نام مرزا غلام مرتضیٰ تھا اور اُنکے والد کا نام مرزا عطا محمد مرزا عطا محمد کے والد مرزا گل محمد مرزا گل محمد کے والد مرزا فیض محمد اور مرزا فیض محمد کے والد مرزا محمد قائم۔ مرزا محمد قائم کے والد مرزا محمد اسلم۔ مرزا محمد اسلم کے والد مرزا دلاور۔ مرزا دلاور کے والد مرزا اَلّہ دین۔ مرزا اَلّہ دین کے والد مرزا جعفر بیگ۔ مرزا جعفر بیگ کے والد مرزا محمد بیگ۔ مرزا محمد بیگ کے والد مرزا عبدالباقی۔ مرزا عبدالباقی کے والد مرزا محمد سلطان۔ مرزا محمد سلطان کے والد مرزا ہادی بیگ۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا اور بیگ کا لفظ کسی زمانہ میں بطور خطاب کے انکو ملا تھا جس طرح خان کا نام بطور خطاب دیا جاتا ہے۔ بہرحال جو کچھ خدا نے ظاہر فرمایا ہے وہی درست ہے۔ انسان ایک ادنیٰ سی لغزش سے غلطی میں پڑ سکتا ہے مگر خدا سہو اور غلطی سے پاک ہے۔ منہ
عہ حاشیہ۔ میرے خاندان کی نسبت ایک اور وحی الٰہی ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا میری نسبت فرماتا ہے سلمان منا اھل البیت ترجمہ سلمان یعنی یہ عاجز جو دو صلح کی بنیاد ڈالتا ہے ہم میں سے ہے جو اہل بیت ہیں۔ یہ وحی الٰہی اس مشہور واقعہ کی تصدیق کرتی ہے جو بعض دادیاں اس عاجز کی سادات میں سے تھیں اور دو صلح سے مراد یہ ہے کہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ ایک صلح میرے ہاتھ سے اور میرے ذریعہ سے اسلام کے اندرونی فرقوں میں ہوگی اور بہت کچھ تفرقہ اُٹھ جائے گا اور دوسری صلح اسلام کے بیرونی دشمنوں کے ساتھ ہوگی کہ بہتوں کو اسلام کی حقانیت کی سمجھ دی جائیگی اور وہ اسلام میں داخل ہو جائینگے تب خاتمہ ہوگا۔ منہ
یہ حوالہ صفحہ 53 پر درج ہے حقیقۃ الوحی صفحہ 78 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 81 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 17)
۲۸۶
خدا کو تمام تعریفیں ہیں جسنے تیری دامادی کا رشتہ عالی نسب میں کیا۔ اور خود تجھے عالی نسب اور شریف خاندان بنایا۔ یہ تو ہم ابھی بیان کرچکے ہیں کہ جن سادات کے خاندان میں دہلی میں میری شادی ہوئی تھی۔ وہ تمام دہلی کے سادات میں سے سندی سید ہونے میں اوّل درجہ پر ہیں۔ اور علاوہ اپنی آبائی بزرگی کے خواجہ میر درد کے نبیرہ ہیں اور ابتک دہلی میں خواجہ میر درد کے وارث متصوّر ہوکر خواجہ ممدوح کی گدّی انہی کو ملی ہوئی ہے کیونکہ خواجہ موصوف کا کوئی لڑکا نہ تھا۔ یہی وارث ہیں جو انکی لڑکی کی اولاد ہیں۔ اور ان کی سیادت ہندوستان میں ایک روشن ستارہ کی طرح چمکتی ہے۔ بلکہ سوچنے سے معلوم ہوگا کہ ان کا خاندان خواجہ میر درد کے آبائی خاندان سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ خواجہ میر درد نے ان کی عظمت کو قبول کر کے ان کے بزرگ کو لڑکی دی۔ اور اس زمانہ میں یہ خیال اسلیے بھی زیادہ تھا کہ لڑکی دینے کے وقت عالی خاندان کو ڈھونڈتے تھے۔ اور خواجہ میر درد باخدا اور بزرگ ہونے کی وجہ سے سلطنت چغتائیہ سے ایک بڑی جاگیر پاتے تھے اور دُنیوی حیثیت رُو سے ایک نواب کا منصب رکھتے تھے۔ اور پھر انکی وفات کے بعد وہ جاگیر کے بہت حصے انہی میں تقسیم ہوئے۔ اور اس عظمت خاندانی کے علاوہ میرے الہامات میں جس قدر اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ یہ خالص سیّد اور بنی فاطمہ ہیں۔ یہ ایک خاص فخر کا مقام منہ ان لوگوں کے لئے ہے۔ اور میں خیال نہیں کر سکتا کہ تمام پنجاب اور ہندوستان بلکہ تمام اسلامی دُنیا میں کوئی اور خاندان سادات کا ایسا ہو کہ نہ صرف ان کی سیادت کو اسلامی سلطنت نے مان کر انکی تعظیم کی ہو۔ بلکہ خدا نے اپنی خاص کلام اور گواہی سے اس کی تصدیق کر دی ہو۔ یہ تو انکے خاندان کا حال ہے۔ اور میں اپنے خاندان کی نسبت کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ وہ ایک
۱۵۸
تریاق القلوب صفحہ 158 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 286 ، 287 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 53 پر درج ہے
حوالہ نمبر 17
۲۸۶
شاہی خاندان ہے اور بنی فارس اور بنی فاطمہ کے خون سے ایک معجون مرکب ہے۔ یا شہرت عام کے لحاظ سے یوں کہو کہ وہ خاندان مغلیہ اور خاندان سادات سے ایک ترکیب یافتہ خاندان ہے۔ مگر میں اسپر ایمان لاتا اور اسی پر یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے خاندان کی ترکیب بنی فارس اور بنی فاطمہ سے ہے ۔ کیونکہ اِسی پر الہام الٰہی کے تواتر نے مجھے یقین دلایا ہے اور گواہی دی ہے۔
- ۵۰ ایک دفعہ جس کو قریباً اکیس برس کا عرصہ ہوا ہے مجھ کو یہ الہام ہوا اَشْکُرْ
نِعْمَتِيْ رَئَيْتَ خَدِيْجَتِيْ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْكَ حَظٌّ عَظِيْمٌ ۔ ترجمہ ۔ میری نعمت کا شکر کر ۔ تو نے میری خدیجہ کو پایا آج تو ایک حظِّ عظیم کا مالک ہے ۔ براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۸ ۔ اور اسی زمانہ کے قریب ہی یہ بھی الہام ہوا تھا بِكْرٌ وَّ ثَيِّبٌ یعنے ایک کنواری اور ایک بیوہ تمہارے نکاح میں آئے گی۔ یہ موخر الذکر الہام مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ کو بھی سنا دیا گیا تھا۔ لیکن الہام مذکورہ بالا جس میں خدیجہ کے پانے کا وعدہ ہے ۔ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۸ میں درج ہوکر نہ صرف محمد حسین بلکہ لاکھوں انسانوں میں اشاعت پاچکا تھا۔ ہاں شیخ محمد حسین مذکور ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ کو سبسے زیادہ اس پر اطلاع ہے۔ کیونکہ اُس نے براہین احمدیہ کے چاروں حصّوں کا ریویو لکھا تھا اور اسکو خوب معلوم تھا کہ ان صفات کی ایک بکر و بیوہ کا وعدہ دیا گیا ہے ۔ جو خدیجہ کی اولاد میں سے یعنے سیّد ہوگی۔ جیسا کہ الہام موصوفہ بالا میں آیا ہے کہ تو میرا شکر کر اس لئے کہ تو نے خدیجہ کو پایا یعنے تو خدیجہ کی اولاد کو پائے گا۔ اسی کی تائید میں وہ الہام ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۶ حاشیہ دوم اور صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے اور وہ یہ ہے ۔ اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ ۔
۱۵۹
تریاق القلوب صفحہ 158 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 286 ، 287 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 53 پر درج ہے
حوالہ نمبر 18
تبارك الذى ٢٩ ۷۶۳ القلم ٦٨
فَسَتُبْصِرُ وَ يُبْصِرُوْنَ ۙ ﴿۵﴾ پس جلد تو بھی دیکھ لیگا اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ (الٰہی مدد سے) تو محروم رہتا
بِاَيِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ ﴿۶﴾ ہے کہ وہ ۱؎ اور (اسی کو پتہ لگ جائے گا کہ) تم دونوں میں سے کون گمراہ ہے۔
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۖ تیرا رب اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستہ سے بھٹک گیا ہے
وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ﴿۷﴾ اور اس کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہے۔
فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ ۙ ﴿۸﴾ (اور چونکہ تو خدا کی ہدایت پر قائم ہے اور تیرے منکر تباہ ہونے والے ہیں تو) تُو اُن منکروں کی بات نہ مان۔
وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ ۚ ﴿۹﴾ یہ (کفار) خواہش رکھتے ہیں کہ تُو اپنے دین میں کچھ نرمی کرے تو وہ بھی اپنے طریق میں کچھ نرمی کریں۔
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ ۙ ﴿۱۰﴾ اور تو اس کی بات کبھی نہ مان جو قسمیں کھاتا ہے (لیکن خدا کی طرف سے مدد نہ ملنے کے باعث) وہ ذلیل (وخوار) ہی رہتا ہے۔
هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۢ بِنَمِيْمٍ ۙ ﴿۱۱﴾ جس کو (لوگوں پر) طعنہ کرنے اور (ان کی) چغلیاں کرنے کی عادت ہے۔
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ ۙ ﴿۱۲﴾ جو لوگوں کو نیکیوں سے روکنے والا، حد سے تجاوز کرنے والا اور گناہ گار ہے۔
عُتُلٍّ ۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍ ۙ ﴿۱۳﴾ وہ بد لگام بھی ہے اور خدا کا بندہ ہو کر شیطان سے تعلق رکھنے والا بھی۔
اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِيْنَ ؕ ﴿۱۴﴾ صرف اس وجہ سے کہ وہ بہت مالدار ہے اور اس کی اولاد اور ساتھی بہت ہیں
اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو
الْاَوَّلِيْنَ ؕ ﴿۱۵﴾ پہلوں کی کہانیاں ہیں۔
سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ ﴿۱۶﴾ ہم جلد ہی اس کی ناک پر داغ لگائیں گے (اور اس کو اپنی مدد سے محروم کر دیں گے)
١؎ یہ جو پہلے شہادت دی کہ آپ پاگل نہیں اور فرما دیا کہ کیا پاگل کو کبھی خدا کی مدد ملتی ہے، پس اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انجام ایسا ہوا کہ دشمن اور دوست نے اس کو خیر محض قرار دیا تو اُسے پاگل کہنے والا پاگل ہوگا یا وہ ؟
یہاں قسم کا طریق عقل اور شریعت نے مقرر کر دیا ہے جو شخص خلافِ عقل اور بیہودہ بات کو سچا بنانے کے لیے قسمیں کھاتا ہے لیکن خدا کا فعل اسے ذلیل ہی کرتا ہے، وہ لاکھ قسمیں کھائے اس کی بات کو نہیں ماننا چاہیے۔
یہاں عُتُلٍّ کے معنے لغت میں سخت کلامی کرنے والے کے لکھے ہیں (اقرب) میں نے اس جگہ بد لگام کا لفظ استعمال کیا ہے جو ٹھیٹھ لفظ ہے اور وہی معنے دیتا ہے۔
۲؎ قرآن مجید میں زَنِیْمٍ کا لفظ ہے جس کے معنے ہوتے ہیں کہ وہ شخص جو کسی قوم کا فرد تو نہیں مگر اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتا ہے (مفردات) ہم نے اس کا ترجمہ ”خدا کا بندہ ہو کر شیطان سے تعلق رکھنے والا“ کیا ہے یعنی ہے تو وہ خدا کا مگر اپنے آپ کو منسوب غیروں کی طرف کرتا ہے۔
Back
تفسیر صغیر صفحہ 763 از مرزا بشیر الدین محمود
یہ حوالہ صفحہ 53 پر درج ہے
حوالہ نمبر 19 ازالہ اوہام ۱۱۶ حصہ اول
جو ایمانی غیوری سے بہت دُور پڑی ہوئی ہے ہمارے علماء کے دلوں کو بھی کسی قدر دبا لیا ہے۔ اس سخت آندھی کے چلنے کی وجہ سے اُن کی آنکھوں میں بھی کچھ غبار سا پڑ گیا ہے اُن کی فطرتی کمزوری اس نزلہ کو قبول کر گئی ہے۔ اسی وجہ سے وہ ایسے خیالات پر زور دیتے ہیں جن کا کوئی اصل صحیح حدیث و قرآن میں نہیں پایا جاتا ہاں یورپ کی اخلاقی ۲۷ کتابوں میں تو ضرور پایا جاتا ہے اور اِن اخلاق میں یورپ نے یہاں تک ترقی کی ہے کہ ایک جوان عورت سے ایک نامحرم طالب کی بھی دل شکنی مناسب نہیں سمجھی گئی ۔ تو کیا قرآن شریف یورپ کے ان اخلاق سے اتفاق رائے کرتا ہے ؟ کیا وہ ایسے لوگوں کا نام دیوث نہیں رکھتا ؟ میں ایسے علماء کو محض للہ متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ایسی نکتہ چینیاں کرنے اور ایسے خیالات کو دل میں جگہ دینے سے حق اور حق بینی سے بہت دُور جا پڑے ہیں اگر وہ مجھ سے ۲۸ لڑنے کو تیار ہوں تو اپنی خشک منطق سے جو چاہیں کہیں لیکن اگر وہ خدائے تعالیٰ کا خوف کر کے کسی قدر سوچیں تو یہ ایسی بات نہیں ہے جو اُن کی نظر سے پوشیدہ رہ سکے ایک سخت
تہذیب کے برخلاف ہے لیکن خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض کا نام ابولہب اور بعض کا نام کلب اور خنزیر رکھا اور ابوجہل تو خود مشہور ہے ایسا ہی ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے فلا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ هَمَّازٍ مَّشَّآءٍ بِنَمِيْمٍ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍ .... ۲۹ سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ دیکھو سورة القلم الجزو نمبر ۲۹۔ یعنی تو اُن مکذبوں کے کہنے پر مت چل جو مداہنت کے آرزو مند ہیں کہ ہمارے معبودوں کو بُرا مت کہو اور ہمارے مذہب کی ہجو مت کرو۔ تو پھر ہم بھی تمہارے مذہب کی نسبت ہاں میں ہاں ملاتے رہینگے اُنکی چرب زبانی کا خیال مت کر یہ شخص جو مداہنہ کا خواستگار ہے جھوٹی قسمیں کھانے والا اور ضعیف الرّائے اور ذلیل آدمی ہے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے والا اور سخن چینی سے لوگوں میں تفرقہ ڈالنے والا اور نیکی کی
۱؎ القلم : ۹-۱۶
ازالہ اوہام صفحہ 29، 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 116، 117 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 53 پر درج ہے
حوالہ نمبر 19
ازالہ اوہام ۱۱۷ حصہ اوّل
انسان کا فرض ہے کہ سچائی کے طریقوں کو ہاتھ سے نہ دیوے بلکہ اگر ایک ادنیٰ سے ادنیٰ انسان کی زبان پر کلمہ حق جاری ہو اور اپنے آپ سے غلطی ہو جائے تو اپنی غلطی کا اقرار کر کے شکرگزاری کے ساتھ اس حقیر آدمی کی بات کو مان لیوے اور اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ کا ۱۷ دعویٰ نہ کرے ورنہ تکبر کی حالت میں کبھی مُرشد حاصل نہیں ہوگا۔ بلکہ ایسے آدمی کا منہ ایمان بھی معرضِ خطر میں ہی نظر آتا ہے۔
اور سخت الفاظ کے استعمال کرنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ غافل دل اس سے بیدار ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے جو مداہنہ کو پسند کرتے ہیں ایک تحریک ہو جاتی ہے مثلاً ہندوؤں کی قوم ایک ایسی قوم ہے کہ اکثر اُن میں سے ایسی عادت رکھتے ہیں کہ اگر اُنکو ۱۸ اپنی طرف سے چھیڑا نہ جائے تو وہ مداہنہ کے طور پر تمام عمر دوست بن کر دینی امور میں ہاں منہ سے ہاں ملاتے رہتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف اور اس دین کے اولیاء کی مدح و ثنا کرنے لگتے ہیں لیکن دل اُن کے نہایت درجہ کے سیاہ
بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۱۶ راہوں سے روکنے والا، طعنہ زن اور بایں ہمہ نہایت درجہ کا بدخلق اور ان سب عیبوں کے بعد دغا باز زنیم بھی ہے عنقریب ہم اس کے اس ناک پر جو سور کی طرح بہت لمبا ہو گیا ہے داغ لگاویں گے یعنی ناک سے مراد رسوم اور ننگ و ناموس کی پابندی ہے جو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے (اے خدا کے قادر مطلق ہماری قوم کے بعض لمبی ناک والوں کی ناک پر بھی اُستَرہ رکھ) اب کیوں حضرت مولوی صاحب کیا آپ کے نزدیک ان جامع لفظوں سے کوئی گالی باہر رہ گئی ہے۔ اور اس جگہ ایک نہایت عمدہ لطیفہ یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ نے منہ نرمی اختیار کر کے چاہا کہ ہم سے نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔ اس کے جواب میں اس کے تمام پردے کھولے گئے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومنین سے مداہنہ کی امید مت رکھو۔
٭
ازالہ اوہام صفحہ 29، 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 116، 117 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 53 پر درج ہے
حوالہ نمبر 20
۳۸
وَوَجَبَ الارْتِحَالُ وَ لَوْ قَصَدْنَا ذِكْرَ خَدَمَاتِه لَضَاقَ بِنَا الْمَجَالُ وَعَجَزْنَا کا وقت آگیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عَنِ التدوين - فَالْمُلَخَّصُ اِنَّ اَبِي لَمْ يَزَلْ كَانَ شَائِمَ بَرْقِ الدَّوْلَةِ وَقَائِمًا عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہو کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا عَلَى الْخِدمَةِ عِندَ الضَّرُورَةِ حَتَّی اِعْتَرَفَتِ الدَّوْلَةُ بِمَكَاتِيْبِ رِضَاءِهَا وَ مَحْمَدَتِه اور عندالضرورت خدمتیں بجالاتا رہا یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اسکو معزز فِي كُلِّ وَقْتٍ بِعَطَاءِهَا وَاسْمَحَتْ لَه بِمُوَاسَاتِهَا وَتَفَضَّلَتْ عَلَيهِ بِمُرَاعَاتِهَا وَ کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے ساتھ اُسکو خاص فرمایا اور اُسکی غمخواری فرمائی اور اُسکی رعایت رکھی ۲۷ حَسِبَتْه مِنْ دَوَاعِي الْخَيْرِ ومِنَ الْمُخْلِصِين - ثُمَّ اِذَا تُوُفِّيَ اَبِي فَقَامَ مَقَامَه اور اُسکو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا ۔ پھر جب میرا باپ وفات پا گیا تب ان خصلتوں میں فِى هَذِهِ السِيَرِ اَخِى الْمِيْرَزَا غُلَام قَادِر وغَمَرَتْه مَوَاهِبُ الدَّوْلَةِ كَمَا اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا جس کا نام میرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسی ہی اُس کے غَمَرَتْ وَالِدِى وَتُوُفِّيَ اَخِي بَعْدَ اَبِي فِي بِضْعِ سِنِيْنَ ثُمَّ بَعْدَ وَفَاتِهِمَا شامل حال ہوگئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا قَفَوْتُ اَثَرَهُمَا وَاقْتَدَيْتُ بِسِيَرِهِمَا وَذَكَرت عَصَر هُما ولكنى مَا كُنْتُ پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں اُنکے نقش قدم پر چلا اور اُنکی سیرتوں کی پیروی کی اور اُنکے زمانہ کو یاد کیا ذَا مَنصَبٍ ونِعْمَةٍ وسَعَةٍ وثَروَةٍ وَلَا ذَا اَمْلَاكٍ و اَرَضِينَ ـ بَلْ تَبَتَّلْتُ لیکن میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا۔ بلکہ میں اُنکی وفات کے اِلى اللهِ بَعدَ ارْتِحَالِهِمَا ولَحِقْتُ بِقَومٍ مُنقَطِعِين ـ وجَذَبَنِى رَبِّى اِلَيْهِ بعد اللہ جلشانہ کیطرف جھک گیا اور اُنہیں جاملا جنہوں نے دنیا کا تعلق توڑ دیا ۔ اور میرے ربّ نے اپنی طرف و اَحسَن مَثْوَايَ واَسْبَغَ عَلَىَّ مِن نَعْمَاءِ الدِّين ـ وَقَادَنِي مِن تَدَنُّسَاتِ مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے
۳۸
یہ حوالہ صفحہ 54 پر درج ہے نور الحق صفحہ 38 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 38 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 21
حقیقتہ الوحی ۲۱۹ بعض اعتراضوں کے جواب
آکر چار پائی پر بیٹھے تو بیٹھتے ہی جان کندن کا غرغرہ شروع ہوا۔ اُسی غرغرہ کی حالت میں اُنہوں نے مجھے کہا کہ دیکھنا یہ کیا ہے! اور پھر لیٹ گئے اور پہلے اِس سے مجھے کبھی اِس بات کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا کہ کوئی شخص غرغرہ کے وقت میں بول سکے اور غرغرہ کی حالت میں صفائی اور استقامت سے کلام کر سکے۔ بعد اس کے عین اس وقت جب کہ آفتاب غروب ہوا وہ اس جہان فانی سے انتقال فرما گئے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اور یہ اُن سب الہاموں سے پہلا الہام اور پہلی ۲۱۹ پیشگوئی تھی جو خدا نے مجھ پر ظاہر کی دوپہر کے وقت خدا نے مجھے اس کی اطلاع دی کہ ایسا ہونے والا ہے اور غروب کے بعد یہ خبر پوری ہوگئی اور مجھے فخر کی جگہ ہو۔ اور میں اِس بات کو فراموش نہیں کروں گا کہ میرے والد صاحب کی وفات کے وقت خدا تعالیٰ نے میری عزّا پرسی کی اور میرے والد کی وفات کی قسم کھائی جیسا کہ آسمان کی قسم کھائی۔ جن لوگوں میں شیطانی رُوح جوش زن ہو وہ تعجب کریں گے کہ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدا کسی کو اس قدر عظمت دے کہ اُسکے والد کی وفات کو ایک عظیم الشان صدمہ قرار دیکر اُسکی قسم کھائے مگر میں پھر دوبارہ خدائے عزّوجلّ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعہ حق ہے اور وہ خدا ہی تھا جس نے عزّا پرسی کے طور پر مجھے خبر دی اور کہا کہ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ اور اُسی کے موافق ظہور میں آیا۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ ۔
۲۲۔ بائیسواں نشان یہ ہے کہ جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے تو بموجب مقتضائے بشریت کے مجھے اس خبر کے سُننے سے درد پہنچا۔ اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وُجوہ اُنہیں کی زندگی سے وابستہ تھے اور وہ سرکار انگریزی کی طرف سے پینشن پاتے تھے اور نیز ایک رقم کثیر انعام کی پاتے تھے۔ جو اُن کی حیات سے مشروط تھی۔ اِس لئے یہ خیال گذرا کہ اُن کی وفات کے بعد کیا ہوگا۔ اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گذر گیا تب اُسی وقت غنودگی ہو کر یہ دوسرا الہام ہوا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کیلئے کافی نہیں ہے؟
۲۱۹
حقیقتہ الوحی صفحہ 219 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 219 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 54 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 22
۲۳۱
(۲۲۳)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے۔ کہ دادا صاحب کا تکیہ کلام ”جے بات کہ نہیں“ تھا جو جلدی میں ”جے با کہ نہیں“ سمجھا جاتا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسکے متعلق اور بھی کئی لوگوں سے سُنا گیا ہے۔
(۲۲۴)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔ اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ایک بغدادی مولوی آیا دادا صاحب نے اس کی بڑی خاطر مدارات کی۔ اس مولوی نے دادا صاحب سے کہا مرزا صاحب آپ نماز نہیں پڑھتے؟ دادا صاحب نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا۔ اور کہا کہ ہاں بیشک میری غلطی ہے مولوی صاحب نے پھر بار بار اصرار کے ساتھ کہا اور ہر دفعہ دادا صاحب یہی کہتے گئے کہ میرا قصور ہے۔ آخر مولوی نے کہا آپ نماز نہیں پڑھتے اللہ آپ کو دوزخ میں ڈال دیگا۔ اسپر دادا صاحب کو جوش آ گیا اور کہا ”تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے کہاں ڈالیگا۔ میں اللہ تعالیٰ پر ایسا بخل نہیں کرتا میری امید وسیع ہے۔ خدا فرماتا ہے لا تقنطوا من رحمۃ اللہ تم مایوس ہوتے ہو میں مایوس نہیں ہوں۔ اُسی بے اعتقادی میں تو نہیں مرتا“ پھر کہا ”اس وقت میری عمر ۸۵ سال کی ہے۔ آجتک خدا نے میری پیٹھ نہیں لگنے دی۔ تو کیا اب وہ مجھے دوزخ میں ڈال دیگا“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیٹھ لگنا پنجابی کا محاورہ ہے۔ جسکے معنی دُشمن کے مقابلہ میں ذلیل و رُسوا ہونے کے ہیں۔ ورنہ ویسے مصائب تو دادا صاحب پر بہت آئے ہیں۔
(۲۲۵)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ جب سے تمہاری دادی فوت ہوئی۔ تمہارے دادا نے اندر زنانہ میں آنا چھوڑ دیا تھا۔ دن میں صرف ایک دفعہ تمہاری پھوپھی کو ملنے آتے تھے۔ اور پھوپھی کے فوت ہونیکے بعد تو بالکل نہیں آتے تھے۔ باہر مردانے میں رہتے تھے۔ (خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت حضرت والدہ صاحبہ نے کسی اور سے سُنی ہو گی۔ کیونکہ یہ واقعہ حضرت امان جان کے قادیان تشریف لانے کے پہلے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے)
سیرت المہدی ، جلد اوّل صفحہ 231 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 55 پر درج ہے
حوالہ نمبر 23
١٨٢
ہمارے پاس ہے اور ہم پیش کریں گے۔ پھر ہم نے اس نوجوان لڑکے کے حالات کی بابت دریافت کرنا شروع کیا۔ ایک آدمی بٹالہ میں دریافت کے واسطے بھیجا گیا۔ اس آدمی کا نام مولوی عبدالرحیم ہے۔ اس نے بٹالہ کے متعلق حالات عبدالحمید کے محض جھوٹے پائے۔ ذرہ بھر بھی اس میں سچ نہ تھا۔ تب مولوی عبدالرحیم سیدھا قادیان میں مرزا صاحب کے پاس پہنچا اور مکان پر پہنچ کر اس نے دریافت کیا کہ آیا کوئی شخص عبدالحمید نام یہاں پر ہے۔ ایک لڑکا وہاں تھا۔ اس نے کہا کہ ہاں تھا مگر مرزا صاحب کو گالیاں دے کر چلا گیا ہے۔ پھر مولوی عبدالرحیم مرزا صاحب کے پاس گیا اور دریافت پر کہا کہ میں عیسائی ہوں۔ اور عبدالحمید کی بابت دریافت کیا۔ مرزا صاحب نے کہا کہ وہ جھوٹا ہے۔ پیدائشی مسلمان ہے اور اس کا پیدائشی نام عبدالحمید ہے اور وہ مولوی برہان الدین جہلمی کا بھتیجا ہے۔ وہ راولپنڈی میں عیسائی ہوا تھا اور یہاں قادیان میں آکر پھر مسلمان ہو گیا تھا۔ اور چند عرصہ محنت مزدوری اٹھا کر کرتا رہا۔ اور قریباً سات آٹھ یوم سے یہاں سے چلا گیا ہے۔ اور یہ عرصہ اُس عرصہ سے مطابق ہے جب وہ ہماری کوٹھی پر آیا تھا۔ اور آخر کار مرزا صاحب نے کہا کہ اس کی اچھی طرح خاطر مدارات کرو اور خوراک پوشاک عمدہ دو تو وہ تمہارے پاس رہے گا۔ پھر ہم نے جہلم سے دریافت کیا وہاں سے ہم کو معلوم ہوا کہ اس نوجوان آدمی کا نام
حاشیہ ہو کر ان کے غم و ہموم میں شریک ہو جاؤں۔ آخر ایسا ہی ہوا۔ میرے والد صاحب اپنے بعض آبائی املاک و دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے۔ انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔ میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتا رہا۔ اُن کی ہمدردی اور مہربانی میرے پر نہایت درجہ پر تھی مگر وہ چاہتے تھے کہ دنیا داروں کی طرح مجھے دولتمند بنادیں
یہ حوالہ صفحہ 56 پر درج ہے کتاب البریہ حاشیہ صفحہ 164 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 182 از مرزا قادیانی
Back
۲۷
حوالہ نمبر 24
آپ کی خلوت نشینی پر آپ کے والد ماجد کی برہمی
شروع شروع میں تو آپ کے والد ماجد کو آپ کی یہ خلوت نشینی بہت شاق گزری کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ یہ زمینداری میں لگیں۔ ان مقدمات کی پیروی کریں جن میں وہ خود لگے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ کو دن رات مطالعہ میں مستغرق اور مسجد میں عبادت الٰہی میں مصروف دیکھتے تو کبھی کبھی چڑ کر فرماتے یہ ہمارے گھر میں مُلاّ کہاں سے پیدا ہو گیا ہے یا کوئی حضرت مرزا صاحب سے ملنے آتا اور آپ کے متعلق دریافت کرتا تو فرماتے کہ :۔
”مسجد کے سقاوہ کی کسی ٹونٹی میں جا کر دیکھو۔ اگر وہاں نہ پاؤ تو مسجد کی اندھیری کوٹھری میں تلاش کرو۔ اگر وہاں بھی نہ ہو تو مسجد کے کسی گوشے میں کوئی لپٹا پڑا ہو گا، کیونکہ وہ زندگی میں ہی مرا ہوا ہے“
آپ کے والد صاحب کے یہ ریمارکس کس قدر معنی خیز ہیں۔ ایک باپ جو دن رات چاہتا ہے کہ بیٹا میرے مسلک پر چلے، اس حقیقت سے بیزار نہیں کہ میرا بیٹا دن رات عبادت الٰہی کا دلدادہ ہے۔ اور اس میں اسے اس قدر شغف ہے کہ وہ جیتے جی مر چکا ہے یعنی اپنی تمام خواہشات و جذبات اور تمناؤں پر موت وارد کر کے وہ منقطع الی اللہ ہو چکا ہے گویا خود باپ اس بات پر گواہ تھا کہ بیٹا موتوا قبل ان تموتوا کا مرتبہ پانے کا پورا پورا مصداق بن چکا ہے۔
آپ کی اس بڑھی ہوئی عبادت گزاری کے متعلق ایک دفعہ آپ کے والد صاحب کے ریمارکس سننے کے قابل ہیں۔ مرزا اسماعیل بیگ مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم کے چچا زاد بھائی تھے، اس وقت لڑکے سے تھے۔ حضرت مرزا صاحب کے پاس ملازم تھے۔ کام فقط یہ تھا کہ آپ کے گھر سے روٹی لے آیا کریں اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے جایا کریں۔ سردیوں میں تہجد کے وقت گرم پانی لائیں، اور خود بھی تہجد پڑھیں، دوسرے لفظوں میں یہ خادم اور تہجد پڑھنے کی نوکری ہوئی یا روٹی لانے اور کھانے کی، کیونکہ کھانے میں دوسرے یتیم بچوں کے ساتھ انہیں بھی حصہ ملتا تھا۔ تہجد کے وقت مرزا اسماعیل نہ جاگتے تو حضرت خود انہیں جگا لیتے۔ جگانے میں معمول یہ تھا کہ ہلا کر جگاتے۔ آواز نہ دیتے تھے اس لئے کہ پچھلی رات کو زور کی آواز سے دوسروں کی نیند میں خلل نہ آوے۔ خیر تو ان کا بیان ہے کہ کبھی کبھی بڑے مرزا صاحب یعنی حضرت کے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مجھے بلا لیتے۔ وہ آپ چارپائی پر لیٹے ہوتے، پاس دو کرسیاں پڑی ہوتیں ان میں سے ایک پر مجھے بٹھا کر دریافت کرتے کہ ”سنا تیرا مرزا کیا کرتا ہے؟“ میں کہتا کہ قرآن دیکھتے رہتے ہیں“۔ اس پر وہ فرماتے کہ ”کبھی ہنس بھی لیتا ہے“، یعنی کبھی قرآن پڑھتے پڑھتے درمیان میں وقفہ بھی کرتا ہے یا پڑھے ہی جاتا ہے، بس یہی باتیں کرتا پھر یہ پوچھتے کہ قرآن کو روتا بھی ہے یعنی جواب
مجدد اعظم صفحہ 27 از ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی بقیہ صفحہ 56 پر
حوالہ نمبر 25
۲۱۶
مبارک بھی کرتی تھیں۔ اب یہ قطعی طور پر یقینی ہے ۔ کہ راجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں ہی خاندان کے مصائب کے دن دور ہو کر فراخی شروع ہو گئی تھی۔ اور قادیان اور اسکے ارد گرد کے بعض مواضعات دادا صاحب کو راجہ رنجیت سنگھ نے بحال کر دیئے تھے۔ اور دادا صاحب کو اپنے ماتحت ایک معزز عہدہ فوجی بھی دیا تھا۔ اور راجہ کے ماتحت دادا صاحب نے بعض فوجی خدمات بھی سر انجام دی تھیں پس بہر حال حضرت صاحب کی پیدائش راجہ رنجیت سنگھ کی موت یعنی ۱۸۳۹ء سے کچھ عرصہ پہلے ماننی پڑیگی۔ لہٰذا اس طرح بھی ۱۸۳۹ء والی روایت کی تصدیق ہوتی ہے ۔ وهو المراد۔ اور حضرت صاحب نے جو ۱۸۳۹ء لکھا ہے سو اس کو خود آپ کی دوسری تحریریں رد کر رہی ہیں۔ چنانچہ ایک جگہ آپ نے ۱۸۹۰ء میں اپنی عمر ۵۰ سال بیان کی ہے اور کہیں یہ بھی لکھا ہے یہ تمام اندازے ہیں۔ صحیح علم صرف خدا کو ہے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میری تحقیق میں اوائل ۱۸۳۵ء میں آپکی ولادت ہوئی تھی اور وفات ۱۹۰۸ء میں ہوئی ۔ واللّٰہ اعلم ۔
(۱۸۶)
بسم الله الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے ۔ کہ میں بچپن میں والد صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تاریخ فرشتہ ۔ مثنوی روم اور شاید گلستاں ۔ بوستاں پڑھا کرتا تھا۔ اور والد صاحب کبھی کبھی پچھلا پڑھا ہوا سبق بھی سنا کرتے تھے ۔ مگر پڑھنے کے متعلق مجھ پر کبھی ناراض نہیں ہوئے۔ حالانکہ میں پڑھنے میں بے پروا تھا لیکن آخر دادا صاحب نے مجھے والد صاحب سے پڑھنے سے روک دیا اور کہا کہ میں نے سب کو ملاں نہیں بنانا ۔ تم مجھ سے پڑھا کرو مگر ویسے دادا صاحب والد صاحب کی بڑی قدر کرتے تھے ۔
(۱۸۷)
بسم الله الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ والد صاحب اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گر گئے ۔ اور دائیں بازو پر چوٹ آئی ۔ چنانچہ آخر عمر تک وہ بازو کمزور رہا خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں ۔ کہ آپ کھڑکی سے اُترنے لگے تو سلپنے
سیرت المہدی ، جلد ۱ ، صفحہ 216 ، 217 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 56 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 25
۲۷
سٹول رکھا تھا وہ اُلٹ گیا۔ اور آپ گر گئے اور دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور یہ ہاتھ آخر عمر تک کمزور رہا۔ اس ہاتھ سے آپ لقمہ تو منہ تک لیجا سکتے تھے مگر پانی کا برتن وغیرہ منہ تک نہیں اُٹھاسکتے تھے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ نماز میں بھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے سہارے سے سنبھالنا پڑتا تھا ۔
(۱۸۸)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب تیرا کی اور سواری خوب جانتے تھے اور سنایا کرتے تھے ۔ کہ ایک دفعہ بچپن میں میں ڈوب چلا تھا تو ایک اجنبی بُڑھے سے شخص نے مجھے نکالا تھا۔ اس شخص کو میں نے اس سے قبل یا بعد کبھی نہیں دیکھا۔ نیز فرماتے تھے کہ میں ایک دفعہ ایک گھوڑے پر سوار ہوا اس نے شوخی کی اور بے قابو ہو گیا۔ میں نے بہت روکنا چاہا۔ مگر وہ شرارت پر آمادہ تھا نہ رُکا۔ چنانچہ وہ اپنی پُورے زور میں ایک درخت یا دیوار کی طرف بھاگا (الشک منی ) اور پھر اس نے مجھے ساتھ اس زور سے ٹکرایا۔ کہ اس کا سرپھٹ گیا۔ اور وہ وہیں مر گیا۔ مگر مجھے اللہ تعالیٰ نے بچا لیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب بہت نصیحت کیا کرتے تھے کہ سرکش اور شریر گھوڑے پر ہر گز نہیں چڑھنا چاہیئے۔ اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اس گھوڑے کا مجھے مارنے کا ارادہ تھا۔ مگر میں ایک طرف گر کر بچ گیا اور وہ مر گیا ۔
(۱۸۹)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ والد صاحب باہر چوبارے میں رہتے تھے۔ وہیں اُن کے لئے کھانا جاتا تھا ۔ اور جس قسم کا کھانا بھی ہوتا تھا کھا لیتے تھے۔ کبھی کچھ نہیں کہتے تھے ۔
(۱۹۰)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے ۔ کہ والد صاحب تین کتابیں بہت کثرت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ یعنی قرآن مجید۔ مثنوی رومی اور دلائل الخیرات اور کچھ نوٹ بھی لیا کرتے تھے۔ اور قرآن شریف بہت کثرت سے پڑھا کرتے تھے ۔
(۱۹۱)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ
سیرت المہدی ، جلد اوّل صفحہ 216 ، 217 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 56 پر درج ہے
حوالہ نمبر 26
۴
(۳۰۷) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گھر میں ایک مرغی کے چوزہ کے ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی ۔ اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ تھا اسلئے حضرت صاحب اس چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی جس سے بہت خون گیا اور آپ توبہ توبہ کرتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جب کوئی چوٹ وغیرہ اچانک لگتی تھی تو جلدی جلدی توبہ توبہ کے الفاظ منہ سے فرمانے لگتے تھے۔ دراصل جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ عموماً کسی قانون شکنی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ خواہ وہ قانون شریعت ہو یا قانون نیچر یعنے قانون قضاء و قدر یا کوئی اور قانون ! پس ایک صحیح الفطرت آدمی کا یہی کام ہونا چاہئے کہ وہ ہر قسم کی تکلیف کے وقت توبہ کی طرف رجوع کرے۔ اور یہی مفہوم انا للہ وانا الیہ راجعون کہنے کا ہے جس کی کہ قرآن شریف تعلیم دیتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چونکہ کبھی جانور وغیرہ ذبح نہ کئے تھے۔ اسلئے بجائے چوزہ کی گردن کے اپنی انگلی پر چھری پھیر لی۔ اور یہ نتیجہ تھا ۔ اس بات کا کہ آپ قانون ذبح کے عملی پہلو سے ناواقف تھے۔ واللہ اعلم ۔
(۳۰۸) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ پیر ــــــــــــــــ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ چند احباب نے حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ یہ جو مشہور ہے کہ آنحضرت صلعم پر بادل کا سایہ رہتا تھا، یہ کیا بات ہے؟ آپ نے جواب میں فرمایا کہ ہر وقت تو بادل کا سایہ رہنا ثابت نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی کافر کافر نہ بنتا ۔ سب لوگ فوراً یقین لے آتے کیونکہ ایسا معجزہ دیکھ کر کون انکار کر سکتا تھا۔ دراصل سنت اللہ کے مطابق معجزہ تو وہ ہوتا ہے کہ جس میں ایک پہلو خفاء کا بھی ہو اور فرمایا کہ ہر وقت بادل کا سایہ رہنا تو موجب تکلیف بھی ہے۔ علاوہ ازیں اگر ہر وقت بادل کا سایہ رہتا تو کیوں گرمی کے وقت حضرت ابوبکرؓ آپ پر چادر تان کر سایہ کرتے اور ہجرت کے سفر میں آپ کے لئے کیوں سایہ دار جگہ تلاش کرتے ؟ ہاں کسی خاص وقت کسی حکمت کے ماتحت آپ کے سر پر بادل نے آکر سایہ کیا تو تعجب نہیں۔ چنانچہ ایک دفعہ ہمارے ساتھ بھی ایسا واقعہ ہوا تھا
سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 14 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 57 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 27)
۱۷۱ شاہ روم و روس میں جنگ ہوئی ہے۔ اور شاہ روم کو فتح ہوگئی ہے۔ ہم نے اس کی تعبیر کی ، تمہارے شاہ روم ہم ہی ہیں۔ اور تعبیر اس خواب کی یہ ہے کہ اِن مقدما میں ہماری فتح ہوگی ۔ اور ہمارے شرکاء کو شکست ہوگی چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ فرمایا اگر یہی خواب وزیر سلطنت روم یا رُوس دیکھتا ۔ تو اسکی تعبیر اور ہوتی ۔ خواب کی تعبیر دیکھنے والے کی حالت اور حیثیت کے مطابق ہوتی ہے :
عاجز کو دُودھ پلایا
جب عاجز راقم لاہور سے قادیان آیا کرتا ۔ تو حضور مجھے عموماً صبح ہر روز پینے کے واسطے دُودھ بھیجا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مجھے اندر بُلایا ۔ ایک لوٹا دُودھ کا بھرا ہوا حضور کے ہاتھ میں تھا۔ اُس میں سے ایک بڑے گلاس میں حضور نے دُودھ ڈالا اور مجھے دیا اور مجھ سے فرمایا ۔ آپ یہ پی لیں ۔ پھر میں اور دیتا ہوں ۔ میں تو اُس گلاس کو بھی ختم نہ کر سکا ۔ ابھی اُس میں دُودھ باقی تھا۔ کہ بس کر دی اور واپس کیا ۔ تبسم کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔ بس ۔ آپ تو بہت تھوڑا پیتے ہیں ۔
بچے کے دل بہلاؤ کے لئے چڑیا
صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم کے دل بہلانے کے واسطے ایک دفعہ چھوٹی چھوٹی چڑیاں کہیں سے لائی گئیں ۔ صاحبزادہ صاحب اُن چڑیوں کو اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھنا پسند کرتے تھے۔ اور بعض دفعہ بچپن کی ناواقفی سے ایسی طرح پکڑتے ، اور دبائے رکھتے ، کہ چڑیا کی جان پر بن جاتی ۔ اسپر گھر کی کسی خادمہ نے صاحبزادہ صاحب چڑیا ہاتھ میں پکڑنے سے روکا۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُن خادمہ کو منع کیا ۔ فرمایا ۔ کہ یہ چڑیا اسکے دل بہلانے کے واسطے ہیں جس طرح چاہے پکڑے۔ تم نہ روکو ۔
ذکر حبیب صفحہ 171 از مفتی محمد صادق قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 57 پر درج ہے
حوالہ نمبر 28
خود بھی دی ۔ مولوی محمد احسن صاحب نے حوالہ نکالنے کی کوشش کی ۔ مگر نہ نکلا ۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود نکال کر پیش کیا ۔ اور یہ حدیث صحیح بخاری پارہ ۱۴ حصہ اول باب مناقب عمرؓ میں ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں عن ابی ھریرة رضی الله تعالیٰ عنہ ۔ قال قال النبی صلی الله علیہ وسلم قد كان فيمن قبلكم من بنى اسرائيل رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبياء فان يك من امتى منهم احد فعمر جب حضرت صاحب نے یہ حدیث نکال کر دکھا دی ۔ تو فریق مخالف پر گویا ایک موت وارد ہوگئی اور مولوی عبدالحکیم صاحب نے اسی پر مباحثہ ختم کردیا خاکسار عرض کرتا ہے کہ مندرجہ بالا روایتوں میں جو اختلاف ہے اس کے متعلق خاکسار ذاتی طور پر کچھ عرض نہیں کرسکتا۔ کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ ہاں اس قدر درست ہے کہ خونی بقچہ والی بحث دہلی میں مولوی محمد بشیر والے مباحثہ میں پیش آئی تھی۔ اور بظاہر اس سے بخاری والے حوالہ کا جوڑ نہیں ہے۔ پس اس حد تک تو درست معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ دہلی والے مباحثہ کا نہیں ہے۔ آگے رہا لاہور اور لدھیانہ کا اختلاف۔ سو اس کے متعلق میں کچھ عرض نہیں کرسکتا ۔ نیز خاکسار افسوس کے ساتھ عرض کرتا ہے کہ اس وقت جبکہ سیرة المہدی کا حصہ سوم زیر تصنیف ہے ۔ پیر سراج الحق صاحب نعمانی فوت ہوچکے ہیں ۔ پیر صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق روایات کا ایک عمدہ خزانہ تھے۔
(۹) روایت نمبر ۳۷۱ کی تشریح میں جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ایک چوزہ ذبح کرتے ہوئے زخمی ہوگئے۔ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا ۔ کہ ایک دفعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام عصر کی نماز کے وقت مسجد مبارک میں تشریف لائے۔ بائیں ہاتھ کی انگلی پر پٹی پانی میں بھیگی ہوئی باندھی ہوئی تھی۔ اس وقت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے حضرت اقدس سے پوچھا ۔ کہ حضور نے یہ پٹی کیسے باندھی ہے؟ تب حضرت اقدس علیہ السلام نے ہنس کر فرمایا ۔ کہ ایک چوزہ ذبح کرنا تھا۔ ہماری انگلی پر چھری پھر گئی۔ مولوی صاحب مرحوم بھی ہنسے اور عرض کیا ۔ کہ آپ نے ایسا کام کیوں کیا۔ حضرت نے فرمایا ۔ کہ اس وقت اور کوئی نہ تھا۔
(۱۰) روایت نمبر ۳۷۳ کی تشریح میں جس میں لدھیانہ کی پہلے دن کی بیعت کا ذکر ہے ۔ مکرم الشیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔ کہ روایت نمبر ۳۰۹ میں مخدومی منشی معراج
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 16 از بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 58 پر درج ہے
حوالہ نمبر 29
۲۴۴
پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔ حضرت صاحب نے اس سے اظہار ہمدردی کیا اور پوچھا کہ گرم دودھ یا اور کوئی چیز منگوائیں؟ اُسنے کہا نہیں کوئی بات نہیں مگر بچارے کو چوٹ سخت آئی تھی۔ والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ حضرت صاحب اسے خود ایک کمرے سے دوسرے کیطرف لیجاتے تھے اور ایک ایک چیز دِکھاتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے اس خانہ تلاشی کا ذکر اپنے اشتہار مورخہ ۱۸ اپریل ۱۸۹۸ء میں کیا ہے۔ جہاں لکھا ہے کہ خانہ تلاشی ۱۸ اپریل ۱۸۹۸ء کو ہوئی تھی اور نیز یہ کہ یہاں خانہ مطبع وغیرہ کی بھی تلاشی ہوئی تھی، خاکسار عرض کرتا ہے کہ لیکھرام ۶ مارچ ۱۸۹۷ء کو قتل ہوا تھا۔ اور اسکے قتل پر آریوں کیطرف سے ملک میں ایک طوفان عظیم برپا ہوگیا تھا۔ سُنا گیا ہے کہ کئی جگہ مسلمان بچے دشمنوں کے ہاتھ سے ہلاک ہوئے اور حضرت صاحب کے قتل کے لیے بھی بہت سازشیں ہوئیں۔ اور یہ خانہ تلاشی بھی غالباً آریوں ہی کی تحریک پر ہوئی تھی۔
(۴۴۴) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا۔ تو ایک دفعہ بعض بچیوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا۔ اور راستہ میں ایک مُٹھی بھر کر مُنہ میں ڈال لی۔ بَس پھر کیا تھا میرا دم رُک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے مَیں نے سفید بُورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بُورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد آیا کہ ایک دفعہ گھر میں میٹھی روٹیاں پکیں۔ کیونکہ حضرت صاحب کو میٹھی روٹی پسند تھی۔ جب حضرت صاحب کھانے لگے تو آپ نے اس کا ذائقہ بدلا ہوا پایا۔ مگر آپ نے اس کا خیال نہ کیا کچھ اور کھانے پر حضرت صاحب نے کڑواہٹ محسوس کی۔ والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ روٹی کڑوی معلوم ہوتی ہے ؟ والدہ صاحبہ نے پکانیوالی سے پوچھا اُسنے کہا مَیں تو میٹھا ڈالا تھا۔ والدہ صاحبہ نے پوچھا کہ کہاں سے لیکر ڈالا تھا ؟ وہ برتن لاؤ۔ وہ عورت ایک ٹین کا ڈبہ اُٹھا لائی دیکھا تو معلوم ہوا کہ کُونین کا ڈبہ تھا۔ اور اس عورت نے جہالت سے بجائے میٹھے کے روٹیوں میں کُونین ڈالدی
سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 244، 245 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 58 پر درج ہے
حوالہ نمبر 29
۴۴۵
تھی اُس دن مگر بس یہ بھی ایک لطیفہ ہو گیا ۔
(۲۲۵) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا، کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کیساتھ کچھ کھانے کو مانگا انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت نے کہا نہیں یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی۔ حضرت صاحب نے اُسپر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اسوقت کسی بات پر چڑہی ہوئی بیٹھی تھیں سختی سے کہنے لگیں، کہ جاؤ پھر راکھ کو روٹی کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈالکر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا۔ یہ حضرت صاحب کا بالکل بچپن کا واقعہ ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے، کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سُنا کر کہا کہ جسوقت اُس عورت نے مجھے یہ بات سُنائی تھی۔ اسوقت حضرت صاحب بھی پاس تھے ۔ مگر آپ خاموش رہے ۔
(۲۲۶) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مولوی ذوالفقار علیخان صاحب نے کہ جب قادیاں میں گور داسپور میں کچہریوں کا مقدمہ تھا ایک دن حضرت صاحب کچہری کی طرف تشریف لے جانے لگے اور حسب معمول پہلے دُعا کے لئے اُس کمرہ میں گئے جو اِس غرض کے لیئے پہلے مخصوص کر لیا تھا۔ میں اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ باہر انتظار میں کھڑے تھے اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں اُسوقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی۔ حضرت صاحب دُعا کر کے باہر نکلے تو مولویصاحب نے آپ کو چھڑی دی حضرت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اُسے دیکھا اور فرمایا۔ یہ کس کی چھڑی ہے ؟ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ اچھا۔ میں تو سمجھا تھا کہ یہ میری نہیں ۔ خاں صاحب کہتے ہیں، کہ وہ چھڑی مُدت سے آپکے ہاتھ میں رہتی تھی۔ مگر محویت کا یہ عالم تھا۔ کہ کبھی اُسکی شکل کو غور سے دیکھا ہی نہیں تھا۔ کہ پہچان سکیں۔ خان صاحب کہتے ہیں۔ کہ اسی طرح ایک دفعہ میں قادیان آیا۔ اسوقت حضرت صاحب مسجد کی سیڑھیوں میں کھڑے ہو کر کسی افغان کو رخصت کر رہے تھے اور میں دیکھتا تھا کہ آپ اُس وقت خوش نہ تھے ۔ کیونکہ وہ شخص افغانستان میں جا کر تبلیغ کرنے سے ڈرتا تھا۔ خیر میں جا کر حضور سے ملا۔ اور
سیرت المہدی ، جلد اول صفحہ 244، 245 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 58 پر درج ہے
حوالہ نمبر 30
۲۴۵
تھی اُس دن گھر میں یہ بھی ایک لطیفہ ہو گیا۔
[۴۳۵]
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کیساتھ کچھ کھانے کو مانگا انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت نے کہا نہیں یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی۔ حضرت صاحب نے اُسپر بھی وہی جواب دیا وہ اسوقت کسی بات پر چڑھی ہوئی بیٹھی تھیں۔ سختی سے کہنے لگیں۔ کہ جاؤ پھر راکھ رکھ روٹی کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈالکر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا۔ یہ حضرت صاحب کا بالکل بچپن کا واقعہ ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ جھوٹ اُس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی۔ اسوقت حضرت صاحب بھی پاس بیٹھے۔ مگر آپ خاموش رہے۔
(۴۳۶)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مولوی ذوالفقار علیخان صاحب نے کہ مدتوں میں گورداسپور میں کریم دین کا مقدمہ تھا ایک دن حضرت صاحب کچہری کی طرف تشریف لے جانے لگے اور حسب معمول پہلے دُعا کے لئے اُس کمرہ میں گئے جو اس غرض کے لیئے پہلے مخصوص کر لیا تھا۔ میں اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ باہر انتظار میں کھڑے تھے اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں اُسوقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی۔ حضرت صاحب دُعا کر کے باہر نکلے تو مولوی صاحب نے آپ کو چھڑی دی حضرت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اُسے دیکھا اور فرمایا۔ یہ کس کی چھڑی ہے ؟ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ اچھا۔ میں تو سمجھا تھا کہ یہ میری نہیں ہے۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ وہ چھڑی مدت سے آپکے ہاتھ میں رہتی تھی۔ مگر محویت کا یہ عالم تھا۔ کہ کبھی اُسکی شکل کو غور سے دیکھا ہی نہیں تھا۔ کہ پہچان سکیں۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ اسی طرح ایک دفعہ میں قادیان آیا۔ اسوقت حضرت صاحب مسجد کی سیڑھیوں میں کھڑے ہو کر کسی افغان کو رخصت کر رہے تھے اور میں دیکھتا تھا کہ آپ اُس وقت خوش نہ تھے۔ کیونکہ وہ شخص افغانستان میں جاکر تبلیغ کرنے سے ڈرتا تھا۔ خیر میں جاکر حضور سے ملا۔ اور
یہ حوالہ صفحہ 59 پر درج ہے
سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 245 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 31
47 حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات چاہتی تھی کہ آپ نوکری پر ڈٹے رہیں اور خوب استغراق سے کام کر کے کوئی بڑا معزز عہدہ حاصل کریں لیکن محبت اس بات پر زور دیتی تھی کہ کچھ بھی ہو ہم اپنے ایسے لخت جگر کو آنکھوں سے دور رہنا برداشت نہیں کر سکتے اس بحث میں مہر غالب آئی۔ اور قضا نے کہا کہ آپ نوکری چھوڑ کر گھر پر پہنچ جائیں۔ اس حکم کو بھی آپ نے بسر و چشم قبول فرمایا اور بخوشی استعفا دیکر ملازمت سے سبکدوشی حاصل کر لی اور گھر پہنچ گئے۔ اگر چہ قضا و قدر کے ایک دراز مدت تک جنجال نوکری کے صدموں سے مخلصی ہوئی تھی اور خیال تھا کہ اب آپ کو خلوت اور فراغت میسر آ جائے گی لیکن قادیان پہنچتے ہی والد صاحب نے بدستور آپکو زمینداری کے کاموں میں مصروف کر دیا۔ گو اس جگہ آپ اپنے کام کے لیے بہت وقت نکال لیتے اور اکثر قرآن شریف کے ترجمہ اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں مشغول رہتے اور بسا اوقات والد صاحب کو بھی وہ کتابیں سنایا کرتے تھے۔ میرزا غلام مرتضیٰ صاحب کا ایک مقولہ ہے یا نکتہ جس سے پتا چلتا ہے کہ بوجہ غایت آپ کی کار و بار دنیا سے نفرت اور تفقہ فی الدین میں کوشش کی شدت اور مطالعہ و غور کتب میں شغف اور محویت دیکھ کر یہ سمجھ لیا تھا کہ آپ دنیا کے کسی کام کے لائق نہیں۔ اور اکثر دوستوں کے آگے یہی بات پیش کیا کرتے کہ مجھے تو غلام احمد کا فکر رہتا ہے کہ اس سے کیا ہوگا اور اسکی عمر کس طرح کٹے گی بلکہ بعض دوستوں کو یہ بھی کہا کرتے تھے کہ آپ ہی اسکو سمجھائیں کہ وہ اس استغراق کو چھوڑ کر کمانے کے دھندے میں لگے اگر کبھی اتفاق سے ان سے کوئی دریافت کرتا کہ مرزا غلام احمد کہاں ہیں؟ تو وہ یہ جواب دیتے کہ مسجد میں جا کر دیکھو کسی کوٹھڑی میں تلاش کرو مگر وہاں نہ ملے تو باہر مت تلاش کرنا بلکہ مسجد کے اندر چلے جانا اور وہاں کسی گوشہ میں تلاش کرنا وہاں بھی نہ ملے تو پھر بھی ناامید ہو کر لوٹنا مت بلکہ صفوں میں دیکھنا اگر کوئی بوریا لپیٹے پڑا ہو گا کیونکہ وہ تو نماز ہی میں پڑا ہوا ہے۔ اور اگر کوئی آکر اسے صف میں لیٹے ہوئے کو لات مارے تو وہ آگے سے حرکت بھی نہیں کرینگا۔ یہ کیسی بڑی بے ہمتی پیدا ہوئی ہے اور مرض مراق بھی بوجہ زیادتی سودا کے ہے اس زمانہ میں آپ کی یہ کیفیت تھی کہ بعض اوقات چنے جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔ اسی قسم کی اور بہت سی باتیں ہیں جو کہ اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ آپ کو اپنے پروردگار کی محبت میں کیسی محویت تھی کہ جسکے باعث سے اس دنیا سے بالکل بے خبر ہو رہے تھے۔
در اصل والد کی زندگی بھی آپکے لیے ایک مکتب تھی۔ وہ اپنی زندگی سے اسقدر حسرت اور تاسف ظاہر کیا کرتے تھے کہ سُن کر رونا آتا تھا بارہا کہا کرتے تھے کہ میں نے جسقدر اس پلید دنیا کے لیے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لیے کرتا تو شاید آج قطب یا غوث وقت ہوتا۔ اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ ؎ عمر گذشت و دریغا عبث اندر تگ و تاز یک دم بیادِ کسے صبح نکردیم شام کئی دفعہ آپ اپنا بنایا ہوا یہ شعر انکے سامنے پڑھا کرتے تھے۔ ؎ ایکہ در بزمِ طرب جامِ تمنا نوشی مرغِ بسمل شدہ را ہم ز نظر دور مدار ۔ ایک دفعہ انہوں نے خواب بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلعم کو دیکھا کہ بڑی شان کے ساتھ میرے مکان کی طرف چلے آتے ہیں جیسا کہ ایک عظیم الشان بادشاہ آتا ہے۔ تو میں اسوقت آپکی طرف پیشوائی کے لیے دوڑا۔ جب قریب پہنچا تو خیال آیا کہ کچھ نذر پیش کرنی چاہئیے یہ سمجھ کر جیب میں ہاتھ ڈالا جس میں صرف ایک روپیہ تھا۔ اور جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی کھوٹا ہے یہ دیکھ کر میں چشم پر آب ہو گیا۔
مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ حصہ اول تا چہارم صفحہ 47 از معراج الدین عمر قادیانی یہ حوالہ صفحہ 59 پر درج ہے
حوالہ نمبر 32
۴۵
جس سے بیماروں کو دوا دیتے تھے۔ مرزا سلطان احمد صاحب نے بھی طب پڑھی تھی۔ اور خاکسار سے حضرت خلیفہ ثانی نے ایک دفعہ بیان کیا تھا۔ کہ مجھے بھی حضرت مسیح موعود نے علم طب کے پڑھنے کے متعلق تاکید فرمائی تھی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ باوجود اس بات کے کہ علم طب ہمارے خاندان کی خصوصیت رہا ہے۔ ہمارے خاندان میں سے کبھی کسی نے اس علم کو اپنے روزگار کا ذریعہ نہیں بنایا۔ اور نہ ہی علاج کے بدلے میں کسی سے کبھی کچھ معاوضہ لیا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہاری دادی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم اپنی والدہ کے ساتھ بچپن میں کئی دفعہ ایمہ گئے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے۔ اور چاقو تو نہیں ملتا تھا۔ تو سرکنڈے سے ذبح کرلیتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیں۔ تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا۔ کہ سندھی ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا ۔ کہ میں نہ سمجھ سکی۔ کہ سندھی سے کون مراد ہے۔ آخر معلوم ہوا۔ کہ ان کی مراد حضرت صاحب سے ہے۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ دستور ہے۔ کہ کسی منت ماننے کے نتیجہ میں بعض لوگ خصوصاً عورتیں اپنے کسی بچے کا عرف سندھی رکھ دیتے ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے آپکی والدہ اور بعض عورتیں آپ کو بھی بچپن میں کبھی اس لفظ سے پکار لیتی تھیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ سندھی غالباً دسوندھی یا دسندھی سے بگڑا ہوا ہے۔ جو ایسے بچے کو کہتے ہیں۔ جس پر کسی منت کے نتیجہ میں دس دفعہ کوئی چیز بانٹی جاوے۔ اور بعض دفعہ منت کوئی نہیں ہوتی بلکہ یونہی پیار سے عورتیں اپنے کسی بچے پر یہ رسم ادا کر کے اسے سندھی پکارنے لگجاتی ہیں۔ (اس روایت میں جو یہ ذکر آتا ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود بچپن میں کبھی کبھی شکار کی ہوئی چڑیا کو سرکنڈے سے ذبح کرلیتے تھے اسکے متعلق یہ بات قابل ذکر
سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 45 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 60 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 33)
۴۴
حصہ پر خود قابض ہو گئے۔ مرزا غلام حسین کی چونکہ نسل نہیں چلی اسلیئے ان کا حصہ پسران مرزا غلام مرتضے صاحب و پسران مرزا غلام محی الدین کو مل گیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت مرزا تصدق جیلانی اور مرزا قاسم بیگ کی تمام شاخ معدوم ہوچکی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس مرزا غلام حیدر کی بھی شاخ معدوم ہے۔ ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب اور مرزا امام الدین اور مرزا کمال الدین بھی لاولد فوت ہوئے۔ ہاں مرزا نظام الدین کا ایک لڑکا مرزا گل محمد موجود ہے۔ مگر وہ احمدی ہو کر حضرت صاحب کی روحانی اولاد میں داخل ہو چکا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ: ینقطع آبائک و یبدأ منک اور یہ الہام اس وقت کا ہے جب آپکے شجرہ خاندانی کی یہ تمام شاخیں سر سبز تھیں ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی۔ تو وہ آپکو پھسلا کر اور دھوکہ دیکر بجائے قادیان لانے کے باہر لیگیا اور ادھر اُدھر پھراتا رہا پھر جب اُسنے سارا روپیہ اُڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے۔ اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اس لیئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔ اور کچھ عرصہ تک وہاں ملازمت پر رہے، پھر جب تمہاری دادی بیمار ہوئیں۔ تو تمہارے دادا نے آدمی بھیجا کہ ملازمت چھوڑ کر آ جاؤ۔ جسپر حضرت صاحب فوراً روانہ ہو گئے۔ امرتسر پہنچکر قادیان آنے کے واسطے یکہ کرایہ پر لیا۔ اس موقعہ پر قادیان سے ایک اور آدمی بھی آپ کے لینے کے لیئے امرتسر پہنچ گیا۔ اس آدمی نے کہا یکہ جلدی چلاؤ کیونکہ ان کی حالت بہت نازک تھی، پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا۔ بہت ہی نازک حالت تھی جلدی کرو کہیں فوت نہ ہو گئی ہوں۔ والدہ صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں اسی
سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 43، 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 60 پر درج ہے
حوالہ نمبر 33
۴۴
ثابت ہو گیا۔ کہ دراصل والدہ فوت ہو چکی ہیں۔ کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتیں تو وہ شخص ایسے الفاظ نہ بولتا۔ چنانچہ قادیان پہنچے تو پتہ لگا کہ واقعی وہ فوت ہو چکی تھیں۔ والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے۔ کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین ادھر اُدھر پھرتا رہا۔ آخر اسنے چائے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے۔ کہ معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری وجہ سے ہی اسے قید سے بچا لیا ورنہ خواہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیالکوٹ کی ملازمت ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء کا واقعہ ہے ۔
(اس روایت سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سیالکوٹ میں ملازم ہونا اس وجہ سے تھا ۔ کہ آپ سے مرزا امام الدین نے دادا صاحب کی پنشن کا روپیہ دھوکا دے کر اُڑا لیا تھا۔ کیونکہ جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیفات میں تصریح کی ہے۔ آپ کی ملازمت اختیار کرنیکی وجہ صرف یہ تھی۔ کہ آپ کے والد صاحب ملازمت کے لیئے زور دیتے رہتے تھے۔ ورنہ آپکی اپنی رائے ملازمت کے خلاف تھی ۔ اسی طرح ملازمت چھوڑ دینے کی بھی اصل وجہ یہی تھی ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ملازمت کو ناپسند فرماتے تھے۔ اور اپنے والد صاحب کو ملازمت ترک کر دینے کی اجازت کے لیئے لکھتے رہتے تھے۔ لیکن دادا صاحب ترک ملازمت کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ مگر بالآخر جب دادی صاحبہ بیمار ہوئیں ۔ تو دادا صاحب نے اجازت بھجوا دی ۔ کہ ملازمت چھوڑ کر آ جاؤ۔)
(۵۰)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ طبابت کا علم ہمارا خاندانی علم ہے۔ اور ہمیشہ سے ہمارا خاندان اس علم میں ماہر رہا ہے۔ دادا صاحب نہایت نامور اور مشہور حاذق طبیب تھے۔ تایا صاحب نے بھی طب پڑھی تھی۔ حضرت مسیح موعود بھی علم طب میں خاصی دسترس رکھتے تھے۔ اور گھر میں ادویہ کا ایک ذخیرہ رکھا کرتے تھے
سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 43، 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 60 پر درج ہے
حوالہ نمبر 34
۱۵۶
پادری صاحب سے تشریف آوری کا سبب پوچھا۔ تو پادری صاحب نے جواب دیا۔ کہ میں مرزا صاحب سے ملاقات کرنیکو آیا تھا۔ چونکہ میں وطن جانے والا ہوں اسواسطے ان سے آخری ملاقات کرونگا۔ چنانچہ جہاں مرزا صاحب بیٹھے تھے وہیں چلے گئے اور فرش پر بیٹھے رہے اور ملاقات کر کے چلے گئے۔
چونکہ مرزا صاحب پادریوں کے ساتھ مباحثہ کو بہت پسند کرتے تھے اسلئے مرزا شکستہ تخلص نے جو بعد ازاں موحد تخلص کیا کرتے تھے اور مراد بیگ نام جالندھر کے رہنے والے تھے۔ مرزا صاحب کو کہا۔ کہ سید احمد خان صاحب نے تورات انجیل کی تفسیر لکھی ہے آپ ان سے خط و کتابت کریں اس معاملہ میں آپ کو بہت مدد ملینگی۔ چنانچہ مرزا صاحب نے سرسید کو عربی میں خط لکھا۔
کچہری کے منشیوں سے شیخ الہ داد صاحب مرحوم سابق محافظ دفتر سے بہت اُنس تھا اور نہایت سچی اور پکی محبت تھی۔ شہر کے بزرگوں سے ایک مولوی صادق علی صاحب نام ہے جو مجذوب گونہ ہیں اور بڑے عابد اور پارسا اور نقشبندی طریق کے صوفی تھے مرزا صاحب کو بڑی محبت تھی۔
چونکہ جس بیٹھک میں مرزا صاحب حکیم منصب علی کے جو اس زمانہ میں وثیقہ نویس تھے رہتے تھے۔ اور وہ سر بازار تھی۔ اور اس دوکان کے بہت قریب تھی جس میں حکیم حسام الدین صاحب مرحوم سامان دوا سازی اور دوا فروشی اور مطب رکھتے تھے اس سبب سے حکیم صاحب اور مرزا صاحب میں تعارف ہو گیا۔ چنانچہ حکیم صاحب نے مرزا صاحب سے قانونچہ اور موجز کا بھی کچھ حصہ پڑھا۔
چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے ماسوائے اسکے آپ نے مختاری کے امتحان کی طیاری شروع کر دی۔ اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے اور کیونکر ہوتے۔ وہ دُنیوی اشغال کے لئے بنائے نہیں گئے تھے۔ سچ ہے۔ ع
سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 156 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 64 پر درج ہے
حوالہ نمبر 35
٦٦
کئے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا اسلئے باقی چھوڑ دئے اور فدیہ ادا کر دیا اسکے بعد جو رمضان آیا تو اسمیں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کیوجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپنے فدیہ ادا کر دیا اسکے بعد جو رمضان آیا تو آپکا تیرہواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپکو دورہ پڑا اور آپنے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا اسکے بعد جتنے رمضان آئے آپنے سب روزے رکھے مگر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کیوجہ سے روزے نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے رہے خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپنے ابتدا دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد میں انکو قضا کیا ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں صرف فدیہ ادا کر دیا تھا خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود کو دوران سر اور برد اطراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے تو اس زمانہ میں آپ بہت کمزور ہو گئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی اسلئے جب آپ روزے چھوڑتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پھر دوسرے رمضان تک انکے پورا کرنے کی طاقت نہ پاتے تھے مگر جب اگلا رمضان آتا تو پر شوق جہاد میں روزے رکھنے شروع فرما دیتے تھے لیکن پھر دورہ پڑتا تھا تو ترک کر دیتے تھے اور بقیہ کا فدیہ ادا کر دیتے تھے۔ واللہ اعلم۔
(۸۲)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود اوائل میں غرارہ استعمال فرمایا کرتے تھے پھر آپنے وہ ترک کر دیا ۔ اسکے بعد آپ معمولی پاجامے استعمال کرنے لگ گئے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ غرارہ بہت کھلے پائنچے کے پاجامہ کو کہتے ہیں۔ (یعنے اسکا ہندوستان میں بہت رواج تھا اب بہت کم ہو گیا ہے)
(۸۳)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود عام طور پر سفید ململ کی پگڑی استعمال فرماتے تھے جو عموماً دس گز لمبی ہوتی تھی پگڑی کے نیچے کلاہ کی جگہ نرم قسم کی رومی ٹوپی استعمال کرتے تھے ۔ اور گھر میں بعض اوقات پگڑی اتار کر سر پر صرف ٹوپی ہی رہنے دیتے تھے بدن پر گرمیوں میں عموماً ململ کا کرتہ استعمال فرماتے تھے۔ اسکے اوپر گرم صدری اور گرم کوٹ پہنتے تھے پاجامہ بھی آپکا گرم ہوتا تھا۔ نیز آپ
سیرت المہدی ، جلد اوّل صفحہ 66 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 64 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 36
۵۲۶
وقت تک قائم رہو۔ یہ وہ میرے سلسلہ کے اصول ہیں جو اس سلسلہ کے لئے امتیازی نشان کی طرح ہیں جس انسانی ہمدردی اور ترک ایذاء یعنی قمع اور ترک مخالفت حکام کی یہ سلسلہ بنیاد ڈالتا ہے۔ دوسرے مسلمانوں میں اس کا وجود نہیں۔ اُن کے اصول اپنی بے شمار غلطیوں کی وجہ سے اور طرز کے ہیں جنکی تفصیل کی حاجت نہیں اور نہ یہ ان کا موقع ہے۔
اور وہ نام جو اس سلسلہ کے لئے موزون ہے جس کو ہم اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے پسند کرتے ہیں وہ نام مسلمان فرقہ احمدیہ ہے۔ اور جائز ہے کہ اس کو احمدی مذہب کے مسلمان کے نام سے بھی پکاریں۔ یہی نام ہے جس کے لئے ہم ادب سے اپنی معزز گورنمنٹ میں درخواست کرتے ہیں کہ اسی نام سے اپنے کاغذات اور مخاطبات میں اِس فرقہ کو موسوم کرے یعنے مسلمان فرقہ احمدیہ۔
جہانتک میرے علم میں ہے میں یقین رکھتا ہوں کہ آجتک تیس ہزار کے قریب متفرق مقامات پنجاب اور ہندوستان کے لوگ اس فرقہ احمدیہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ اور جو لوگ ہر ایک قسم کے بدعات اور شرک سے بیزار ہیں۔ اور دل میں یہ فیصلہ بھی کر لیتے ہیں کہ ہم اپنی گورنمنٹ برطانیہ سے منافقانہ زندگی کرنا نہیں چاہتے۔ اور صلحکاری اور بُردباری کی فطرت رکھتے ہیں۔ وہ لوگ بکثرت اِس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموماً عقلمندوں کی اس طرف ایک تیز حرکت ہو رہی ہے۔ اور یہ لوگ محض عوام میں سے نہیں ہیں۔ بلکہ بعض بڑے بڑے معزز خاندانوں میں سے ہیں۔ اور ہر ایک قسم کے تاجر اور ملازمت پیشہ اور تعلیم یافتہ اور علماء اسلام اور رؤساء اس فرقہ میں داخل ہیں۔ گو
۳۹۸
تریاق القلوب صفحہ 398 از روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 526 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 64 پر درج ہے
حوالہ نمبر 37 ۳۰۵ سیرۃ المہدی حصہ سوم
کام کا خلاصہ تھا۔ اور تقویٰ ، اصلاح نفس کا خلاصہ ہے۔ مگر آجکل وفات مسیح سے بحث کا میدان بدل کر دوسری طرف منتقل ہو گیا ہے۔
۹۷۲
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں بشیر احمد صاحب (یعنی خاکسار مؤلف) جب چھوٹے تھے تو ان کو ایک زمانہ میں شکر کھانے کی بہت عادت ہو گئی تھی ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پہونچتے اور ہاتھ پھیلا کر کہتے " ابا چینی" حضرت صاحب تصنیف میں بھی مصروف ہوتے تو کام چھوڑ کر فوراً اٹھتے ۔ کوٹھڑی میں جاتے۔ شکر نکال کر ان کو دیتے۔ اور پھر تصنیف میں مصروف ہو جاتے۔ تھوڑی دیر میں میاں صاحب موصوف پھر دستِ سوال دراز کرتے ہوئے پہونچ جاتے۔ اور کہتے " ابا چینی" (چینی شکر کو کہتے تھے کیونکہ بورا پوڈر سا آتا تھا۔ اور مراد یہ تھی کہ چٹے رنگ کی شکر لینی ہے) حضرت صاحب پھر اُٹھ کر ان کا سوال پورا کر دیتے۔ غرض اس طرح ان دنوں میں روزانہ کئی کئی دفعہ یہ بیگار سی ہوتی رہتی تھی۔ مگر حضرت صاحب با وجود تصنیف میں سخت مصروف ہونے کے کچھ نہ فرماتے ۔ بلکہ ہر دفعہ ان کے کام کے لئے اٹھتے تھے۔ یہ ۹۸-۱۸۹۷ء یا اس کے قریب کا ذکر ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میری پیدائش اپریل ۱۸۹۳ء کی ہے۔
۹۷۳
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اصل میں عربی زبان کی ستائیس لاکھ لغت ہے۔ جس میں سے قرآن مجید میں صرف ۷۴ ہزار کے قریب استعمال ہوئی ہے۔ عربی میں ہزار نام تو صرف اونٹ کا ہے اور چار سو نام شہد کا۔
۹۷۴
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کا ایک کلمہ ہوتا ہے۔ مرزا کا کلمہ یہ ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھونگا ۔
۹۷۵
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اخلاق میں کامل تھے۔ یعنی :۔ آپ نہایت رؤف رحیم تھے۔ سخی تھے۔ مہمان نواز تھے۔ اشجع الناس تھے۔ ابتلاؤں کے وقت جب لوگوں کے دل بیٹھے جاتے تھے آپ شیر نر کی طرح آگے بڑھتے تھے۔ عفو ، چشم پوشی ، فیاضی دیانت ۔ خاکساری ۔ صبر ۔ شکر ۔ استغناء ۔ حیاء ۔ غض بصر ۔ عفت ۔ محنت ۔ قناعت ۔ وفاداری ۔ یکرنگی
سیرت المہدی جلد سوم ص 305 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 65 پر درج ہے
حوالہ نمبر 38 ۲۵۹ سیرۃ المہدی حصہ سوم
ہے تو آپ نے فرمایا کہ میاں حامد علی تم نے ہم کو کیوں نہ بتایا کہ اس کی شادی کرنے لگے ہیں۔ اس کی شادی نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ کیونکہ اس کو ضعف جگر کا مرض تھا۔ اور موجودہ حالت میں وہ شادی کے قابل نہیں تھا۔ چنانچہ وہ شادی کے چند روز بعد فوت ہو گئے۔
۸۷۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے احباب کو جب خط لکھتے تو یا تو محبی فی اللہ یا مکرمی اخویم لکھ کر مخاطب کیا کر تے کئی دفعہ مجھے ڈاک میں ڈالنے کو لفافے دیتے تو میں پتے دیکھتا۔ کہ کس کے نام کے خط ہیں سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی اور زین الدین ابراہیم صاحب انجینیر بمبئی اور میاں غلام نبی صاحب سیٹھی راولپنڈی کے پتے مجھے اب تک یاد ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ تینوں اصحاب اس وقت جو جنوری ۱۹۲۳ء ہے فوت ہو چکے ہیں وكل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاكرام ۔
۸۷۸ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اگر تیمم کرنا ہوتا۔ تو بسا اوقات تکیہ یا لحاف پر ہی ہاتھ مار کر تیمم کر لیا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ تکیہ یا لحاف میں سے جو گرد نکلتی ہے وہ تیمم کی غرض سے کافی ہوتی ہے۔ لیکن اگر کوئی تکیہ یا لحاف بالکل نیا ہو اور اس میں کوئی گرد نہ ہو۔ تو پھر اس سے تیمم جائز نہ ہوگا۔
۸۷۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں آپ کی لڑکی عصمت ہی صرف ایسی تھی جو قادیان سے باہر پیدا ہوئی اور باہر ہی فوت ہوئی۔ اس کی پیدائش انبالہ چھاؤنی کی تھی اور فوت وہ لدھیانہ میں ہوئی۔ اُسے ہیضہ ہوا تھا۔ اس لڑکی کو شربت پینے کی عادت پڑ گئی تھی۔ یعنی وہ شربت کو پسند کرتی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے لئے شربت کی بوتل ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ رات کو وہ اٹھتی تو کہتی ابا شربت پینا۔ آپ فوراً اُٹھ کر شربت بنا کر اسے پلا دیا کرتے تھے۔ ایک روز لدھیا میں اس نے اسی طرح رات کو اُٹھ کر شربت مانگا۔ حضرت صاحب نے اُسے شربت کی جگہ غلطی سے چنبیلی کا تیل پلا دیا۔ جس کی بوتل اتفاقاً شربت کی بوتل کے پاس ہی پڑی تھی۔ لڑکی بھی وہ شربت
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 259 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 65 پر درج ہے
حوالہ نمبر 39
سیرۃ المہدی حصہ سوم ۴۴۳
درجہ کا فرق ہے یعنی اصل اقسام دو ہی ہیں۔ ایک فطرتی احتلام جو کسی طبعی تقاضے کا نتیجہ ہوتا ہے اور دوسرے شیطانی احتلام جو گندے خیالات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ واللہ اعلم ۔
۸۴۴
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیشاب کر کے ہمیشہ پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے میں نے کبھی ڈھیلا کرتے نہیں دیکھا
۸۴۵
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندھیرے میں نہیں سویا کرتے تھے۔ بلکہ ہمیشہ رات کو اپنے کمرہ میں لالٹین روشن رکھا کرتے تھے اور تصنیف کے وقت تو دس پندرہ موم بتیاں اکٹھی جلا لیا کرتے تھے۔
۸۴۶
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے گھر سے یعنی والدہ عزیزہ مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کتاب قادیان کے آریہ اور ہم کی نظم لکھ رہے تھے جس کے آخر میں دُعا یہی ہے۔ دُعا یہی ہے وغیرہ آتا ہے۔ تو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی بڑی بیوی مولویانی مرحومہ کسی کام کی غرض سے حضرت صاحب کے پاس آئیں حضرت صاحب نے ان سے فرمایا کہ میں ایک نظم لکھ رہا ہوں جس میں یہ یہ قافیہ ہے آپ بھی کوئی قافیہ بتائیں۔ مولویانی مرحومہ نے کہا۔ ہمیں کسی نے پڑھایا ہی نہیں۔ تو میں بتاؤں کیا، حضرت صاحب نے ہنس کر فرمایا کہ آپ نے بتا تو دیا ہے اور پھر یہی آپ شکایت کرتی ہیں کہ کسی نے پڑھایا نہیں مطلب حضرت صاحب کا یہ تھا کہ پڑھایا نہیں کے الفاظ میں جو پڑھا کا لفظ ہے۔ اسی میں قافیہ آگیا ہے۔ چنانچہ آپ نے اسی وقت ایک شعر میں اس قافیہ کو استعمال کر لیا۔
۸۴۷
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میرے گھر سے یعنی والدہ عزیزہ مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عموماً گرم پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے اور ٹھنڈے پانی کو استعمال نہ کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے کسی خادم سے فرمایا۔ کہ آپ کے لئے پاخانہ میں لوٹا رکھ دے۔ اس نے غلطی سے تیز گرم پانی کا لوٹا رکھ دیا جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فارغ ہو کر باہر تشریف لائے۔ تو دریافت فرمایا کہ لوٹا کس نے رکھا تھا۔ جب بتایا گیا کہ فلاں خادم نے رکھا تھا۔ تو آپ نے اُسے بلوایا۔ اور اُسے اپنا ہاتھ آگے کرنے کو کہا۔ اور پھر اس کے ہاتھ پر اپنے اس لوٹے کا بچا ہوا پانی بہا دیا۔ تاکہ اُسے احساس ہو کہ یہ پانی اتنا گرم ہے کہ طہارت میں استعمال
سیرۃ المہدی ، جلد سوم صفحہ 244،243 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 65 پر درج ہے
حوالہ نمبر 39
۲۴۴
نہیں ہو سکتا۔ اس کے سوا آپ نے اُسے کچھ نہیں کہا۔
۸۲۸
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ میرے گھر سے یعنی والدہ عزیزم مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم گھر کی چند لڑکیاں تربوز کھارہی تھیں، اس کا ایک چھلکا مائی تابی کو جا لگا جس پر مائی تابی بہت ناراض ہوئی ۔ اور ناراضگی میں بددعائیں دینی شروع کر دیں ۔ اور پھر خود ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جاکر شکایت بھی کر دی ۔ اس پر حضرت صاحب نے ہمیں بلایا اور پوچھا کہ کیا بات ہوتی ہے ۔ ہم نے سارا واقعہ سنا دیا جس پر آپ مائی تابی پر ناراض ہوئے کہ تم نے میری اولاد کے متعلق بددعا کی ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی تابی قادیان کے قریب کی ایک بوڑھی عورت تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں رہتی تھی اور اچھا اخلاص رکھتی تھی ۔ مگر ناراضگی میں عادتاً بددعائیں دینے لگتی تھی ۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے گھر سے خان بہادر مولوی غلام حسن صاحب پشاوری کی لڑکی ہیں ۔ جو حضرت مسیح موعود کے پرانے صحابی ہیں ۔ مگر افسوس ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو خلافتِ ثانیہ کے موقعہ پر ٹھوکر لگی ۔ اور وہ غیر مبائعین کے گروہ میں شامل ہو گئے لیکن الحمد للہ کہ میرے گھر سے بدستور جماعت میں شامل ہیں اور وابستگانِ خلافت میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے والد ماجد کو بھی ہدایت نصیب فرمائے ۔ آمین ۔
۸۲۹
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مائی امیر بی بی عرف مائی کا کو ہمشیرہ میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیشتر طور پر عورتوں کو نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ نماز باقاعدہ پڑھیں ۔ قرآن شریف کا ترجمہ سیکھیں اور خاوندوں کے حقوق کو ادا کریں جب کبھی کوئی عورت بیعت کرتی تو آپ عموماً یہ پوچھا کرتے تھے کہ تم قرآن شریف پڑھی ہوئی ہو یا نہیں۔ اگر وہ نہ پڑھی ہوئی ہوتی تو نصیحت فرماتے تھے کہ قرآن شریف پڑھنا سیکھو۔ اور اگر صرف ناظرہ پڑھی ہوتی ۔ تو فرماتے کہ ترجمہ بھی سیکھو۔ تاکہ قرآن شریف کے احکام سے اطلاع ہو ۔ اور ان پر عمل کرنے کی توفیق ملے ۔
۸۳۰
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مائی کا کو نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے سامنے میاں عبدالعزیز صاحب پٹواری سیکھواں کی بیوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کچھ تازہ جلیبیاں
یہ حوالہ صفحہ 65 پر درج ہے سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 243 ، 244 از مرزا بشیر احمد ایم اے
حوالہ نمبر 40
۶۵
دوستوں کا خیال ہو گیا۔ کہ احمدی سلسلہ میں جمع نماز کا مسئلہ مستقل طور پر جاری رہیگا۔ ایسی جمع کے وقت فرمایا کرتے تھے۔ کہ یہ وہ حدیث پوری ہو رہی ہے۔ جس میں پہلے سے پیشگوئی ہے۔ کہ مسیح موعود کی خاطر نمازیں جمع کی جائیں گی۔ (تجمع له الصلوٰۃ) میرا (راقم الحروف کا) خیال ہے۔ کہ اس پیشگوئی میں یہ اشارہ ہے۔ کہ مسیح موعود کی جہادی ضروریات ایسی بڑھی ہوئی ہوں گی۔ کہ نمازیں بھی جمع کرنی پڑیں گی۔ جیسا کہ حضرت خاتم النبیین محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ غزوہ خندق میں چار نمازوں کو جمع کر کے پڑھا۔ کیونکہ خندق کے کھودنے کی مصروفیت اور جلدی کے سبب نمازوں کے پڑھنے کے تمام اوقات گزر گئے۔ اور نمازیں اوقات مقررہ پر پڑھی نہ جاسکیں۔ لہ
باہر مردوں میں نمازیں باجماعت ہونے کے علاوہ آخری سالوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک بہت بڑے عرصہ تک اندر عورتوں میں خود پیش امام ہو کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک لمبے عرصہ تک جمع کراتے رہے ۔
اپریل ۱۹۰۲ء میں نماز جمعہ کے بعد واپس گھر کو آتے ہوئے مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک شخص کو والدین کی عزت کرنے کے متعلق نصیحت کر رہے تھے۔ اس میں آپؐ نے فرمایا۔ کہ میرا تو یہ خیال ہے ۔ کہ سوائے دینی معاملات کی مخالفت کے باقی معاملات میں خواہ کتنا ہی نقصان ہوتا ہو انسان برداشت کرے۔ اور والدین کے حکم کی نافرمانی نہ کرے۔ یہاں تک کہ والدین کہیں کہ تم کنویں میں گر جاؤ۔ تو بھی اُن کی بات مان لینی چاہیئے ۔
حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمدؒ صاحب مرحوم کی پیدائش سے چند روز قبل میں اتفاقاً قادیان آیا ہوا تھا۔ ایک شب میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم ایک چھوٹے سے نوزائیدہ بچہ کو اٹھائے ہوئے باہر تشریف لائے ہیں۔ حضرت صاحب کی خدمت میں میں نے یہ خواب عرض کیا۔ تو حضور نے فرمایا۔ کہ اس میں
لہ اس سے مراد اشد تاکید فرمانبرداری ہے۔ ورنہ یہ مطلب نہیں کہ انسان خودکشی کر لے جو شرعاً حرام ہے (صادق)
ذکر حبیب صفحہ 65 از مفتی محمد صادق قادیانی یہ حوالہ صفحہ 66 پر درج ہے
445 حوالہ نمبر 41
سیرۃ المہدی حصہ سوم ايضاً
کرتا ہے۔ کہ عدالت کے ان سوالوں کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو جوابات دیئے ہیں وہ سب کے سب اہم مسائل پر مشتمل ہیں۔ اور آپ کے جوابات سے نبوت اور افضلیت مسیح ناصری وغیرہ کے مسائل بھی خوب واضح ہو جاتے ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود ۴۹۶ علیہ السلام کو مَیں نے بارہا دیکھا کہ گھر میں نماز پڑھاتے تو حضرت امّ المومنین کو اپنے داہنی جانب بطور مقتدی کے کھڑا کر لیتے۔ حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ ہے۔ کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اُسے مرد کے ساتھ نہیں۔ بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہیئے۔ ہاں اکیلا مرد مقتدی ہو، تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہیئے۔ مَیں نے حضرت امّ المومنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا۔ کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آ جایا کرتا ہے۔ اس لئے تم میرے پاس کھڑی ہو کر نماز پڑھ لیا کرو۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ لدھیانہ ۴۹۷ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا۔ کہ دل گھٹنے کا دورہ پڑا۔ اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ اس وقت غروبِ آفتاب کا وقت بہت قریب تھا۔ مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا۔ آپ ہمیشہ شریعت میں سہل رستہ کو اختیار فرمایا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ حدیث میں حضرت عائشہؓ کی روایت سے آنحضرت صلعم کے متعلق بھی یہی ذکر آتا ہے۔ کہ آپ ہمیشہ دو جائز رستوں میں سے سہل رستہ کو پسند فرماتے تھے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ وہ کتابیں جو اکثر ۴۹۸ حضرت صاحب کی زیرِ نظر رہتی تھیں نیز تصنیف کے تمام کاغذات بستوں میں بندھے رہتے تھے ایک ایک وقت میں اس قسم کے تین تین بستے جمع ہوجاتے تھے۔ عموماً دو بستے تو ضرور رہتے تھے یہ بستے سلے ہوئے نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ صرف ایک چورس کپڑا ہوتا تھا۔ جس میں کاغذ اور کتابیں رکھ کر دونوں طرف سے گانٹھیں دے لیا کرتے تھے۔ تصنیف کے وقت آپ کا سارا دفتر آپ کا پلنگ ہوتا تھا اسی واسطے ہمیشہ بڑے پلنگ پر سویا کرتے تھے۔
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 131 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 66 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 42
۱۳۸
کے لئے ایک حکایت بھی بیان کیا کرتے تھے۔ کہ ایک دفعہ مہاراجہ شیر سنگھ نے اپنے ایک باورچی کو کھانے میں نمک زیادہ ڈالنے کی سزا میں حکم دیا۔ کہ اس کی سب جائیداد ضبط کر کے اسے قید خانہ میں ڈال دیا جائے۔ اس پر کسی اہلکار نے حاضر ہو کر عرض کیا۔ کہ مہاراج اتنی سی بات پر یہ نہایت سخت ہے راجہ کہنے لگا۔ کہ تم نہیں جانتے۔ یہ صرف نمک کی سزا نہیں۔ اس کم بخت نے میرا شیر بھی ہضم کیا ہے۔
- ۷ [بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ گرمیوں
میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق صاحب نے پڑھائی۔ حضور علیہ السلام بھی اس نماز میں شامل تھے۔ تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انہوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی جس کا مصرع ہے اے خدائے چارہ سازِ ما " خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فارسی نظم نہایت اعلیٰ درجہ کی مناجات ہے جو روحانیت سے پُر ہے مگر معروف مسئلہ یہ ہے کہ نماز میں صرف مسنون دعائیں بالجہر پڑھنی چاہئیں۔ باقی دل میں پڑھنی چاہئیں پس اگر یہ روایت درست ہے تو حضرت صاحب نے اس وقت خاص کیفیت کے رنگ میں اس پر اعتراض نہیں فرمایا ہوگا۔ اور چونکہ ویسے بھی یہ واقعہ صرف ایک منفرد واقعہ ہے اس لئے میری رائے میں حضرت صاحب کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہوگا۔ کہ لوگ اس طرح کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت صاحب نے اس وقت سکوت اختیار کر کے بعد میں پیر صاحب کو علیحدہ طور پر سمجھا دیا ہو۔ کہ یہ مناسب نہیں۔ کیونکہ پیر صاحب کی طرف سے اس کی تکرار ثابت نہیں۔ واللہ اعلم۔
- ۸ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مولوی عبداللہ صاحب مولوی فاضل سابق مدرس ڈیرہ بابا نانک نے
مجھ سے بیان کیا۔ کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مندرجہ ذیل خط شیخ فتح محمد صاحب کے پاس دیکھا تھا۔ یہ خط حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اولؓ کے نام تھا۔ مگر خط کا مضمون شیخ فتح محمد صاحب کے متعلق تھا۔ اور لفافہ پر حضرت خلیفہ اولؓ کا پتا درج تھا۔
مکرمی اخویم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ ۔
فتح محمد حصول بشارت کے لئے دو رکعت نماز وقت عشاء پڑھ کر اکتالیس دفعہ سورۃ فاتحہ پڑھیں اور اس کے اوّل اور آخر گیارہ گیارہ دفعہ درود شریف پڑھے اور اپنے مقصد کے لئے دُعا کر کے سورہے۔ باوضو سورہے۔ جس دن سے شروع کریں۔ ۴۱ دن تک اس کو ختم کریں۔ انشآء اللہ العزیز ]
سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 138 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 67 پر درج ہے
حوالہ نمبر 43 ۱۰۳ سیرۃ المہدی حصہ سوم
دیہاتیوں کو یہ موقعے کم میسر آتے ہیں۔ اس لئے وہ عموماً کمزور رہتے ہیں۔ بلکہ حق یہ ہے کہ قرآن شریف میں جو اعراب کا لفظ آتا ہے۔ اس کے معنے دیہاتی کے نہیں ہیں۔ بلکہ اس سے تعلیم نبوی سے دور رہنے والے بادیہ نشین لوگ مراد ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی۔ ایسی کہ دم نہ آتا تھا۔ البتہ منہ میں پان رکھکر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی ۔ تاکہ آرام سے پڑھ سکیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا ۔ کہ حضرت صاحب
(۶۳۹)
مسواک بہت پسند فرماتے تھے۔ تازہ کیکر کی مسواک کیا کرتے تھے۔ گو التزاماً نہیں۔ وضو کے وقت صرف انگلی سے ہی مسواک کر لیا کرتے تھے۔ مسواک کئی دفعہ کہکر مجھ سے بھی منگائی ہے ۔ اور دیگر خادموں سے بھی منگوا لیا کرتے تھے۔ اور بعض اوقات نماز اور وضو کے وقت کے علاوہ بھی استعمال کرتے تھے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ میاں خیرالدین صاحب سیکھوانی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب
(۶۴۰)
مبشر پنڈوری مجھ پر بیان کیا ۔ کہ ایک دفعہ ماہ رمضان کی ۲۷ تاریخ تھی منشی عبدالعزیز صاحب پٹواری بھی سیکھواں سے قادیان آئے ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صبح نماز فجر کے لئے تشریف لائے اور فرمایا ۔ کہ آج شب گھر میں درد زہ کی کیفیت تھی (ہمشیرہ مبارکہ بیگم اسی شب میں پیدا ہوئی تھیں خاکسار مؤلف) دعا کرتے کرتے لیکرام سامنے آ گیا۔ اس کے معاملہ میں بھی دعا کی گئی ۔ اور فرمایا ۔ کہ جو کام خدا کے منشاء میں جلد ہو جانے والا ہو۔ اس کے متعلق دعا میں یاد کرایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس کے چوتھے روز لیکرام مارا گیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ۱۸۹۷ء مطابق ۱۳۱۴ھ کا واقعہ ہے۔ مبارکہ بیگم ۲۷ رمضان ۱۳۱۴ھ کو پیدا ہوئی تھیں ۔ جو غالباً ۲ مارچ ۱۸۹۷ء کی تاریخ تھی۔ اور لیکرام عید کے دوسرے دن ۶ مارچ بروز ہفتہ زخمی ہو کر ۶ اور ۷ کی درمیانی شب کو بعد نصف شب اس دُنیا سے رخصت ہوا تھا۔ مبارکہ بیگم کی ولادت کی دُعا کے وقت حضرت صاحب کے سامنے عالم توجہ میں لیکرام کا آ جانا اور حضرت صاحب کا اس کے معاملہ میں بھی دُعا کرنا اور پھر اس کا چار روز کے اندر اندر مارا جانا ایک عجیب تصرف الٰہی ہے جس کے تصوّر سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔
سیرۃ المہدی ، جلد سوم صفحہ 103 از مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 67 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 44
111 سیرت المہدی حصہ سوم
قرآن مجید کا ترجمہ تھوڑا سا پڑھا دیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ چند روز ہی جاری رہا۔ پھر بند ہو گیا۔ عام درس نہ تھا۔ صرف سادہ ترجمہ پڑھاتے تھے۔ یہ ابتدائی زمانہ بیعت کا واقعہ ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسی طریق پر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میاں عبداللہ ثناء سنوری کو بھی کچھ حصہ قرآن شریف کا پڑھایا تھا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی ٦٥٤ عبدالکریم صاحب نماز نہ پڑھا سکے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل بھی موجود نہ تھے۔ تو حضرت صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو نماز پڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔ میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں؟ حضور نے فرمایا۔ حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا۔ ہاں حضور۔ فرمایا۔ کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی۔ آپ پڑھائیے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو تو ناقض وضو نہیں سمجھا جاتا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت ٦٥٥ مسیح موعود علیہ السلام نے سل دق کے مریض کے لئے ایک گولی بنائی تھی۔ اس میں کونین اور کافور کے علاوہ افیون۔ بھنگ اور دھتورہ وغیرہ زہریلی ادویہ بھی داخل کی تھیں۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ دوا کے طور پر علاج کے لئے اور جان بچانے کے لئے ممنوع چیز بھی جائز ہو جاتی ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ شراب کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی فتویٰ تھا۔ کہ ڈاکٹر یا طبیب اگر دوائی کے طور پر دے تو جائز ہے۔ مگر باوجود اس کے آپ نے اپنے پڑدادا مرزا گل محمد صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں ان کی مرض الموت میں کسی طبیب نے شراب بتائی۔ مگر انہوں نے انکار کیا۔ اور حضرت صاحب نے اس موقعہ پر ان کی تعریف کی ہے کہ انہوں نے موت کو شراب پر ترجیح دی۔ اس سے معلوم ہوا۔ کہ فتویٰ اور ہے اور تقویٰ اور۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب ٦٥٦ ایک دفعہ سالانہ جلسہ پر تقریر کر کے جب واپس گھر تشریف لائے۔ تو حضرت میاں صاحب سے (خلیفہ ثانی)
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 111 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 67 پر درج ہے
حوالہ نمبر 45
۱۷۲
بچوں کو مارنا نہیں چاہیئے
مدرسہ تعلیم الاسلام کے اساتذہ کو ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حکم بھیجا۔ کہ آئندہ جو استاد کسی لڑکے کو مارے گا۔ اُسے فوراً موقوف کر دیا جائے گا۔ حضور اس امر کے بہت مخالف تھے۔ کہ استاد بچوں کو ماریں اور جھڑکا کریں ٭
چاند کیواسطے عینک
پہلی شب کے چاند دیکھنے کے واسطے عموماً حضرت صاحب میری عینک لیا کرتے تھے۔ اگر میں اس وقت مسجد میں موجود نہ ہوتا۔ تو میرے گھر آدمی بھیجکر منگوایا کرتے تھے، لیکن ایک دفعہ جب عینک سے دیکھ لیتے تھے۔ کہ چاند کہاں ہے۔ تو پھر بغیر عینک کے بھی آپ کو چاند نظر آتا تھا ٭
مُبارک احمدؒ مرحوم کی خاطر نماز جمعہ میں نہیں گئے
صاحبزادہ مرزا مبارک احمدؒ صاحب مرحوم کی مرض الموت کے ایام میں ایک جمعہ کے دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حسب معمول کپڑے بدل کر عصاء ہاتھ میں لیکر جامعہ مسجد کو جانے کے واسطے طیار ہوئے۔ جب صاحبزادہ کی چارپائی کے پاس سے گزرتے ہوئے ذرا کھڑے ہو گئے۔ تو صاحبزادہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دامن پکڑ لیا۔ اور اپنی چارپائی پر بٹھا دیا اور اُٹھنے نہ دیا۔ صاحبزادہ صاحب کی خاطر حضور بیٹھے رہے۔ اور جب دیکھا۔ کہ بچہ اُٹھنے نہیں دیتا اور نماز جمعہ کیوقت میں دیر ہوتی ہے۔ تو حضور نے کہلا بھیجا کہ جمعہ پڑھ لیں۔ اور حضور کا انتظار نہ کریں ٭
بال بڑھانے کی دوائی
آخری عمر میں حضور کے سر کے بال بہت پتلے اور ہلکے ہو گئے تھے۔ چونکہ بوجہ
ذکر حبیب صفحہ 172 از مفتی محمد صادق قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 68 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 46
١٦١
یہاں ایک پنکھا لگا لینا چاہیئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ پنکھا تو لگ سکتا ہے۔ اور پنکھا ہلانیوالے کا بھی انتظام کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جب ٹھنڈی ہوا چلے گی تو بے اختیار نیند آنے لگیگی اور ہم سو جائیں گے تو یہ مضمون کیسے ختم ہوگا۔ (اس وقت حضرت صاحب ایک رسالے کا مضمون لکھ رہے تھے۔)
گرمی میں بھی کام جاری رکھتے
ایک دفعہ جب سخت گرمی پڑی ، تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک مضمون لکھا جس میں گرمی کا اظہار کرتے ہوئے ، اور گرمی کے سبب کام نہ کر سکنے کی معذرت کرتے ہوئے یہ الفاظ بھی لکھ دیئے ۔ کہ "گرمی ایسی سخت ہے۔ کہ اس کے سبب سے خدا کی مشین بھی بند ہوگئی ہے ۔" اس میں مولوی صاحب مرحوم نے اس امر کی طرف اشارہ کیا تھا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی شدت گرمی کے سبب کام چھوڑ دیا ہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ مضمون سُنا۔ تو آپؑ نے فرمایا۔ کہ یہ تو غلط ہے۔ ہم نے تو کام نہیں چھوڑا :
پہاڑ پر جانا
ایک دفعہ کسی دوست نے عرض کی ۔ کہ گرمی بہت ہے۔ حضور کسی پہاڑ پر تشریف لے چلیں۔ فرمایا ۔ ہمارا پہاڑ تو قادیان ہی ہے۔ یہاں چند روز دُھوپ تیز ہوتی ہے۔ تو پھر بارش بھی آجاتی ہے۔
سب کا جنازہ پڑھ دیا
قاضی سید امیر حسین صاحب کا ایک چھوٹا بچہ فوت ہونے پر جنازے کیساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی تشریف لے گئے۔ اور خود ہی جنازہ پڑھایا۔ عموماً جنازے کی نمازیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگر موجود ہوتے ، تو خود ہی امامت کرتے ۔ اسوقت
ذکر حبیب صفحہ 161 ، 162 از مفتی محمد صادق قادیانی یہ حوالہ صفحہ 68 پر درج ہے
حوالہ نمبر 46
۱۶۲
نماز جنازہ میں شامل ہونے والے دس پندرہ آدمی ہی تھے۔ بعد سلام کسی نے عرض کی کہ حضور! میرے لئے بھی دُعا کریں۔ فرمایا ۔ میں نے تو سبکا ہی جنازہ پڑھ لیا ہے۔ مراد یہ تھی ۔ کہ جتنے لوگ نماز جنازہ میں شامل ہوئے تھے، اُن سب کے لئے نماز جنازہ کے اندر حضرت صاحب نے دُعائیں کر دی تھیں :
بُنیادی اِینٹ
بعض نئی عمارتوں کے بننے کے وقت جب حضرت صاحب سے درخواست کیجاتی کہ حضور تبرکاً بنیادی اینٹ رکھدیں۔ تو حضرت صاحب فرمایا کرتے ۔ کہ ایک اینٹ لے آؤ۔ میں اُسپر دُعا کر دُوں گا۔ چنانچہ ایک اینٹ لائی جاتی ۔ اور حضورؑ اُس اینٹ کو اپنی گودی میں رکھکر ہاتھ اُٹھا کر دُعا کرتے ۔ اور پھر اُسپر دم کر کے ۔ دے دیتے کہ جاؤ لگاؤ :
غم دُور کرنے کا ذریعہ
عاجز راقم کا اور اکثر احباب کا یہ تجربہ تھا ۔ کہ جب کبھی طبیعت میں کسی وجہ سے کوئی غم پیدا ہو ۔ تو ہم حضرت مسیح موعودؑ کی مجلس میں جا بیٹھتے ۔ تو غم دُور ہو جاتا ۔ اور طبیعت میں بشاشت اور فرحت پیدا ہو جاتی :
پِیر کُتّے مار
ایک دفعہ قادیان میں آوارہ کُتّے بہت ہوگئے۔ اور ان کی وجہ سے شور و غل رہتا تھا ۔ پیر سراج الحق صاحب نے بہت سے کُتّوں کو زہر دیکر مار ڈالا۔ اسپر بعض لوگوں نے پیر صاحب کو چِڑانے کے واسطے اُن کا نام پِیر کُتّے مار رکھ دیا ۔ پیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں شاکی ہوئے ۔ کہ لوگ مجھے کُتّے مار کہتے ہیں ۔ حضرت صاحب نے تبسّم کے ساتھ فرمایا ۔ کہ اس میں کیا حرج ہے ۔ دیکھئے حدیث شریف میں میرا نام ”سُؤر مار“ لکھا ہے۔ کیونکہ مسیح کی تعریف میں آیا ہے ۔ کہ یَقْتُلُ الخِنزِیر۔
ذکر حبیب صفحہ 161 ، 162 از مفتی محمد صادق قادیانی یہ حوالہ صفحہ 68 پر درج ہے
حوالہ نمبر 47
ایضاً سیرۃ المہدی حصہ سوم
کرتا ہے۔ کہ عدالت کے ان سوالوں کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو جوابات دیئے ہیں وہ سب کے سب اہم مسائل پر مشتمل ہیں ۔ اور آپ کے جوابات سے نبوت اور افضلیت کے پیچ نامری وغیرہ کے مسائل بھی خوب واضح ہو جاتے ہیں۔
۷۹۶ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے بارہا دیکھا کہ گھر میں نماز پڑھاتے تو حضرت امّ المومنینؓ کو اپنے دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کر لیتے حالانکہ مشہور یعنی مسئلہ یہ ہے ۔ کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اُسے مرد کے ساتھ نہیں، بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے ۔ ہاں اکیلا مرد مقتدی ہو ۔ تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے ۔ میں نے حضرت امّ المومنینؓ سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا ۔ کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا ۔ کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آ جایا کرتا ہے ۔ اس لئے تم میرے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیا کرو۔
۷۹۷ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا ۔ کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا۔ کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا ۔ اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے ۔ اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا ۔ مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا ۔ آپ ہمیشہ شریعت میں سہل رستہ کو اختیار فرمایا کرتے تھے ۔
خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ حدیث میں حضرت عائشہؓ کی روایت سے آنحضرت صلعم کے متعلق بھی یہی ذکر آتا ہے کہ آپ ہمیشہ دو جائز رستوں میں سے سہل رستہ کو پسند فرماتے تھے ۔
۷۹۸ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا ۔ کہ وہ کتابیں جو اکثر حضرت صاحب کی زیر نظر رہتی تھیں نیز تصنیف کے تمام کاغذات بستوں میں بندھے رہتے تھے ایک ایک وقت میں اس قسم کے تین تین بستے جمع ہو جاتے تھے ۔ عموماً دو بستے تو ضرور رہتے تھے یہ بستے سلے ہوئے نہیں ہوتے تھے ۔ بلکہ صرف ایک چورس کپڑا ہوتا تھا ۔ جس میں کاغذ اور کتابیں رکھ کر دونوں طرف سے گانٹھیں دے لیا کرتے تھے ۔ تصنیف کے وقت آپ کا سارا دفتر آپ کا پلنگ ہوتا تھا اسی واسطے ہمیشہ بڑے پلنگ پر سویا کرتے تھے۔
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 131 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 69 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 48
۵۹
(۳۶۷) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان کے ایک حصہ میں بالاخانہ میں رہا کرتے تھے اور جب تک ان کی شادی اور خانہ داری کا انتظام نہیں ہوا حضرت صاحب خود ان کے لئے صبح کے وقت گلاس میں دودھ ڈال کر اور پھر اس میں مصری حل کر کے خاص اہتمام سے بھجوایا کرتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو مہمانوں کی بہت خاطر منظور ہوتی تھی اور پھر جو لوگ دینی مشاغل میں مصروف ہوں ان کو تو آپ بڑی قدر اور محبت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔
(۳۶۸) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لاہور سے کچھ احباب رمضان میں قادیان آئے ۔ حضرت صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ صدری پہنے ہوئے ان سے ملنے کے لئے مسجد میں تشریف لائے ۔ ان دوستوں نے عرض کیا کہ ہم سب روزے سے ہیں ۔ آپ نے فرمایا۔ سفر میں روزہ ٹھیک نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رخصت پر عمل کرنا چاہئے ۔ چنانچہ ان کو ناشتہ کروا کے ان کے روزے تڑوا دیئے ۔
(۳۶۹) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صفائی کا بہت خیال ہوتا تھا ۔ خصوصاً طاعون کے ایام میں اتنا خیال رہتا تھا کہ فینائل لوٹے میں حل کر کے خود اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں اور نالیوں میں جا کر ڈالتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض اوقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر میں ایندھن کا بڑا ڈھیر لگوا کر آگ بھی جلوایا کرتے تھے تا کہ مضر وبائی جراثیم مرجاویں اور آپ نے ایک بہت بڑی آہنی انگیٹھی بھی منگوائی ہوئی تھی۔ جسے کوئلے ڈال کر اور گندھک وغیرہ رکھ کر کمروں کے اندر جلایا جاتا تھا اور اس وقت دروازے بند کر دیئے جاتے تھے ۔ اس کی اتنی گرمی ہوتی تھی کہ جب انگیٹھی کے ٹھنڈا ہونے کے ایک عرصہ بعد بھی کمرہ کھولا جاتا تھا تو پھر بھی وہ اندر سے بھٹی کی طرح تپتا تھا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ انبیاء کی عجیب شان ہوتی ہے کہ وہ ایک طرف تو اسباب کی اتنی رعایت کرتے ہیں کہ دیکھنے والے کو یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ ان کی نظر میں انہی اسباب کے ہاتھ میں سارا قضا و قدر کا معاملہ ہے اور اگر ان کی رعایت نہ رکھی گئی تو پھر کام نہیں بن سکتا اور دوسری طرف ان کو خدا کی ذات پر اس درجہ توکل ہوتا ہے کہ اسباب کو وہ ایک مردہ کیڑے کی طرح سمجھتے ہیں اور ایک سطحی نظر رکھنے والا انسان
سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 59 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 69 پر درج ہے
حوالہ نمبر 49
۶۵
میرا ساتھ دیا ہے اسی طرح جنت میں بھی میرے ساتھ ہوگی ۔
(۴۸)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے نے کہ میرا دادا جسے لوگ عام طور پر خلیفہ کہتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سخت مخالف تھا اور آپکے حق میں بہت بد زبانی کیا کرتا تھا۔ اور والد صاحب کو بہت تنگ کیا کرتا تھا والد صاحب نے اس سے تنگ آکر حضرت مسیح موعود کو دعا کیلئے خط لکھا حضرت مسیح موعود کا جواب آیا کہ ہم نے دعا کی ہے والد صاحب نے یہ خط تمام محلہ والوں کو دکھا دیا اور کہا کہ حضرت صاحب نے دعا کی ہے اب دیکھ لینا خلیفہ گالیاں نہیں دیگا۔ دوسرے میرے دن جمعہ تھا۔ ہمارا دادا حسب دستور غیر احمدیوں کے ساتھ جمعہ پڑھنے گیا مگر وہاں سے واپس آکر غیر معمولی طور پر حضرت مسیح موعود کے متعلق خاموش رہا۔ حالانکہ اسکی عادت تھی کہ جمعہ کی نماز پڑھ کر آنے کے بعد خصوصاً بہت گالیاں دیا کرتا تھا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تم آج مرزا صاحب کے متعلق خاموش کیوں ہو؟ اسنے کہا کسی کے متعلق بدزبانی کرنے سے کیا حاصل ہے اور مولوی نے بھی آج جمعہ میں وعظ کیا ہے کہ کوئی شخص اپنی جگہ کیسا ہی برا ہو ہمیں بد زبانی نہیں کرنی چاہئے۔ لوگوں نے کہا اچھا یہ بات ہے؟ ہمیشہ تو تم گالیاں بکتے تھے اور آج تمہارا یہ خیال ہو گیا ہے۔ بلکہ اصل میں بات یہ ہے کہ بابو (میرے والد کو لوگ بابو کہا کرتے تھے) کل ہی ایک خط دکھا رہا تھا کہ قادیان سے آیا ہے اور کہتا تھا کہ اب خلیفہ گالی نہیں دیگا۔ مولوی رحیم بخش صاحب کہتے تھے کہ اسکے بعد باوجود کئی دفعہ مخالفوں کے بھڑکانے کے میرے دادا نے کبھی حضرت مسیح موعود کے متعلق بد زبانی نہیں کی اور کبھی میرے والد صاحب کو احمدیت کیوجہ سے تنگ نہیں کیا (اس روایت کے متعلق یہ بات قابل توجہ ہے کہ اسکے راوی صاحب نے اب حضرت خلیفہ المسیح کے منشاء کے ماتحت اپنا نام عبدالرحیم رکھ لیا ہے اور عموماً مولوی عبدالرحیم صاحب درد کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں)۔
(۴۹)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال بیمار ہوکر رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپنے روزے رکھنے شروع
یہ حوالہ صفحہ 69 پر درج ہے
سیرت المہدی ،جلد دوم صفحہ 65، 66 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 49
۶۶
گئے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا اسلئے باقی چھوڑ دئے اور فدیہ ادا کر دیا اسکے بعد جو رمضان آیا تو اسمیں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کیوجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپنے فدیہ ادا کر دیا اسکے بعد جو رمضان آیا تو آپکو تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپکو دورہ پڑا اور آپنے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا اسکے بعد جتنے رمضان آئے آپنے سب روزہ رکھے مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کیوجہ سے روزے نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے رہے خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپنے ابتداء دوروں کے زمانہ میں روزہ کو چھوڑا تو کیا پھر بعد میں انکو قضا کیا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں صرف فدیہ ادا کر دیا تھا خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود کو دوراں سر اور برد اطراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے تو اس زمانہ میں آپ بہت کمزور ہو گئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی اسلئے جب آپ روزے چھوڑتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پھر دوسرے رمضان تک انکے پورا کرنے کی طاقت نہ پاتے تھے۔ مگر جب اگلا رمضان آتا تو پھر بشوق جہاد میں روزہ رکھنا شروع فرما دیتے تھے لیکن پھر دورہ پڑتا تھا تو ترک کر دیتے تھے اور بقیہ کا فدیہ ادا کر دیتے تھے۔ واللہ اعلم۔
(۸۲)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود اوائل میں نوارے استعمال فرمایا کرتے تھے پھر پیشاب کیوجہ سے ترک کر دیا ۔ یعنے اسکے بعد آپ معمولی پاجامے استعمال کرنے لگ گئے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ نوارہ بہت کھلے پاجامے کو پاجاما کو کہتے ہیں ۔ ویسے اسکا ہندوستان میں بہت رواج تھا اب بہت کم ہو گیا ہے)
(۸۳)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود عام طور پر سفید ململ کی پگڑی استعمال فرماتے تھے جو عموماً دس گز لمبی ہوتی تھی پگڑی کے نیچے کلاہ کی جگہ نرم قسم کی رومی ٹوپی استعمال کرتے تھے۔ اور گھر میں بعض اوقات پگڑی اتار کر سر پر صرف ٹوپی ہی رہنے دیتے تھے بدن پر گرمیوں میں عموماً ململ کا کرتہ استعمال فرماتے تھے۔ اسکے اوپر گرم صدری اور گرم کوٹ پہنتے تھے پاجامہ بھی آپکا گرم ہوتا تھا۔ نیز آپ
یہ حوالہ صفحہ 69 پر درج ہے
سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 65، 66 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 50)
١٠٨
کڑا دھکا تھا۔ مگر جماعت حضرت صاحب کی تربیت کے نیچے ایک حد تک مستحکم اور سنت اللہ سے واقف ہو چکی تھی اسلئے برداشت کر گئی۔ لیکن مخالفوں میں سخت شماتت و استہزاء کی لہر اُٹھی۔ اس کے بعد زلزلہ کے خفیف خفیف دھکے آتے رہے۔ مگر وہ قابل ذکر نہیں لیکن سب کے آخر میں جماعت پر پانچواں زلزلہ آیا یہ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کا زلزلہ تھا۔ اس دھکے نے بھی اس وقت سلسلہ کی عمارت کو بنیاد تک ہلا دیا تھا۔ اور یہ وہ زلزلہ عظیم تھا۔ جسے زلزلۃ الساعۃ کہنا چاہئے۔ اور اسکو زیادہ خطرناک اس بات نے کر دیا تھا کہ اس سے پہلے زلزلے خواہ کیسے ہی سخت تھے مگر حضرت مسیح موعود کا مقناطیسی وجود لوگوں کے اندر موجود تھا۔ اور آپ کا ہاتھ گرتے ہوئے کو سنبھالنے کیلئے فوراً آگے بڑھتا تھا۔ مگر اب وہ بات نہ تھی۔ یہ وہ پانچ زلزلے تھے۔ جو حضرت مسیح موعود کے متعلق آپکی جماعت پر آئے۔ انکے بعد حضرت خلیفہ اوّل کی وفات پر بھی سخت زلزلہ آیا مگر وہ اور نوعیت کا تھا اور نیز وہ خاص جماعت احمدیہ کے متعلق تھا۔ یعنی یہ دھکا حضرت مسیح موعود کے متعلق نہیں تھا۔ یعنی ایسا واقعہ نہیں تھا۔ جو آپکے صدق دعوے کے متعلق کمزور دلوں میں عام طور پر کوئی اشتباہ پیدا کر سکے۔ اسکے بعد اور بھی آئندہ سنت اللہ کے موافق اور حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیوں کے مطابق مصائب کی آندھیاں آئینگی مگر یہ پانچ زلزلے اپنی نوعیت میں اور ہی رنگ رکھتے ہیں۔ اور یہ عبارت لکھتے لکھتے خاکسار کو خیال آیا۔ کہ حضرت مسیح موعود کو جو پانچ زلزلوں کی خبر دی گئی تھی اور آخری زلزلہ کو زلزلۃ الساعۃ کہا گیا تھا۔ وہ گو دنیا کے واسطے الگ بھی مقدر ہوں۔ مگر اس میں شک نہیں کہ ان پانچ زلزلوں پر بھی آپ کی اس پیشگوئی کے الفاظ صادق آتے ہیں۔
(۱۷۷)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ اوائل زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں کوئی مہمان یہاں حضرت صاحب کے پاس آیا۔ اسے اسوقت روزہ تھا۔ اور دن کا زیادہ حصہ گزر چکا تھا۔
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 108، 109 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 70 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 50
۱۰۹
بلکہ شاید عصر کے بعد کا وقت تھا۔ حضرت صاحب نے اسے فرمایا آپ روزہ کھول دیں اسنے عرض کیا کہ اب تھوڑا سا دن رہ گیا ہے اب کیا مزہ لینا ہے۔ حضور نے فرمایا آپ سینۂ زوری سے خدا تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ سینہ زوری سے نہیں بلکہ فرمانبرداری سے راضی ہوتا ہے۔ جب اسنے فرما دیا ہے کہ مسافر روزہ نہ رکھے تو نہیں رکھنا چاہیئے ۔ اسپر اسنے روزہ کھول دیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے تھے۔ کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے زمانہ میں حکیم فضل الدین صاحب بھیروی اعتکاف بیٹھے ۔ مگر اعتکاف کے دنوں میں ہی ان کو کسی مقدمہ میں پیشی کے واسطے باہر جانا پڑ گیا۔ چنانچہ وہ اعتکاف توڑ کر عصر کے قریب یہاں سے جانے لگے ۔ تو حضرت صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ کو مقدمہ میں جانا تھا۔ تو اعتکاف بیٹھنے کی کیا ضرورت تھی ۔
(۱۱۸)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا ہماری تائی صاحبہ نے کہ میرے تایا (یعنی خاکسار کے دادا صاحب) کبھی کبھی مرزا غلام احمد یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مسیتی یا مسیتر کہا کرتے تھے۔ تائی صاحبہ نے کہا کہ میرے تایا کو کیا علم تھا کہ کسی دن انکی خوش قسمتی کیا کیا پھل لائے گی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مسیتی پنجابی میں اسے کہتے ہیں جو ہر وقت مسجد میں بیٹھا رہے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ سنا ہے کہ بعض دوسرے لوگ بھی حضرت صاحب کے متعلق یہ لفظ بعض اوقات استعمال کر دیتے تھے ۔
(۱۱۹)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب گورداسپور میں کرم الدین کیساتھ حضرت صاحب کا مقدمہ تھا تو ایک دفعہ میں نے خواب دیکھا کہ کوئی کہتا ہے کہ حضرت صاحب کو امرتسر میں سولی پر لٹکایا جائیگا تاکہ قادیان والوں کو آسانی ہو۔ میں نے یہ خواب حضرت صاحب سے بیان کیا ۔ تو حضرت صاحب خوش ہوئے اور کہا کہ یہ مبشر خواب ہے۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں ۔ کہ حضرت صاحب سولی پر چڑھنے کی یہ تعبیر کیا کرتے تھے۔ کہ عزت افزائی ہوگی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مقدمہ
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 108، 109 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 70 پر درج ہے
حوالہ نمبر 51
۲۷۲
کس خیال میں پھر رہے تھے۔ ورنہ حضور کو اکیلے پھرتے لدھیانہ میں نہ دیکھا تھا۔ اور خاکسار بھی اسی خیال سے سامنے نہ ہوا کہ شاید کوئی بھید ہوگا۔ پھر اسی لدھیانہ میں خاکسار نے اپنی آنکھ سے دیکھا کہ جب حضور اقدس علیہ السلام دہلی سے واپس لدھیانہ تشریف لائے۔ تو حضور کی زیارت کے لئے اس قدر سٹیشن پر ہجوم ہو گیا تھا کہ بڑے بڑے معزز لوگ آدمیوں کی کثرت اور دھکم پیل سے زمین پر گر گئے تھے۔ اور پولیس والے بھی عاجز آگئے تھے گرد و غبار آسمان کو جا رہا تھا۔ اور حضور اقدس علیہ السلام نے بھی بڑی محبت سے لوگوں کو فرمایا کہ ہم تو یہاں چوبیس گھنٹے ٹھہریں گے ملنے والے وہاں قیامگاہ پر آجائیں۔ ایک وقت اکیلے یہاں پھرتے دیکھا اور پھر یہ بھی دیکھا کہ اس قدر ہجوم آپ کی زیارت کے لئے جمع ہو گیا تھا۔
اس موخر الذکر سفر میں حضور علیہ السلام نے لدھیانہ میں ایک لیکچر دیا جس میں ہندو عیسائی مسلمان اور بڑے بڑے معزز لوگ موجود تھے تین گھنٹے حضور اقدس نے تقریر فرمائی۔ حالانکہ بوجہ سفر دہلی کچھ طبیعت بھی درست نہ تھی۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ اس لئے حضور اقدس نے بوجہ سفر روزہ نہ رکھا تھا۔ اب حضور اقدس نے تین گھنٹہ تقریر جو فرمائی تو طبیعت پر ضعف سا طاری ہوا۔ مولوی محمد احسن صاحب نے اپنے ہاتھ سے دودھ پلایا۔ جس پر نادانستہ مسلمانوں نے اعتراض کیا کہ یہ رمضان میں دودھ پیتا ہے۔ اور شور کرنا چاہا۔ لیکن چونکہ پولیس کا انتظام اچھا تھا۔ فوراً یہ شور کرنے والے مسلمان وہاں سے نکال دیئے گئے۔ اس موقعہ پر یہاں پر تین تقاریر ہوئیں۔ اول مولوی سید محمد احسن صاحب کی دوسرے حضرت مولوی نور الدین صاحب کی۔ تیسرے حضور اقدس علیہ السلام کی۔ پھر یہاں سے حضور امرت سر تشریف لے گئے۔ وہاں سنا ہے کہ مخالفوں کی طرف سے سنگباری بھی ہوئی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بازار میں اکیلے پھرنے کی بات تو خیر ہوئی مگر مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ حضور بازار کے اندر صرف صدری میں پھر رہے تھے۔ اور جسم پر کوٹ نہیں تھا۔ کیونکہ حضرت صاحب کا طریق تھا کہ گھر سے باہر ہمیشہ کوٹ پہنکر نکلتے تھے۔ پس اگر میر صاحب کو کوئی غلطی نہیں لگی تو اس وقت کوئی خاص بات ہوگی یا جلدی میں کسی کام کی وجہ سے نکل آئے ہوں گے۔ یا کوٹ کا خیال نہیں آیا ہوگا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 272 از مرزا بشیر احمد
یہ حوالہ صفحہ 70 پر درج ہے
حوالہ نمبر 52
سیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام 55
مختلف موقعوں پر آپ کے لیکچر سنایا کرتے تھے ایک لمبی بیماری کے بعد فوت ہوئے اور آپ نے قادیان میں ایک عربی مدرسہ کھولنے کا ارشاد فرمایا جس میں دین اسلام سے واقف علماء پیدا کیے جائیں تاکہ فوت ہونے والے علماء کی جگہ خالی نہ رہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات سے چند روز بعد آپ دہلی تشریف لے گئے اور وہاں قریباً پندرہ دن رہے۔ اُس وقت دہلی گو پندرہ سال پہلے کی دہلی نہ تھی جس نے دیوانہ وار شور مچایا تھا لیکن پھر بھی آپ کے جانے پر خوب شور ہوتا رہا۔ اس پندرہ دن کے عرصہ میں آپ نے دہلی میں کوئی پبلک لیکچر نہ دیا لیکن گھر پر قریباً روزانہ لیکچر ہوتے رہے جن میں جگہ کی تنگی کے سبب دو اڑھائی سو سے زیادہ آدمی ایک وقت میں شامل نہیں ہو سکتے تھے۔ ایک دو دن لوگوں نے شور بھی کیا اور ایک دن حملہ کر کے گھر پر چڑھ جانے کا بھی ارادہ کیا لیکن پھر بھی پہلے سفر کی نسبت بہت فرق تھا۔
اس سفر سے واپسی پر لدھیانہ کی جماعت نے دو دن کے لیے آپ کو لدھیانہ میں ٹھہرایا اور آپ کا ایک پبلک لیکچر نہایت خیر و خوبی سے ہوا۔ وہاں امرتسر کی جماعت کا ایک وفد پہنچا کہ آپ ایک دو روز امرتسر بھی ضرور قیام فرمائیں جسے حضرت نے منظور فرمایا اور لدھیانہ سے واپسی پر امرتسر میں اتر گئے۔ وہاں بھی آپ کے ایک عام لیکچر کی تجویز ہوئی۔ امرتسر سلسلہ احمدیہ کے مخالفین سے پُر ہے اور مولویوں کا وہاں بہت زور ہے۔ اُن کے اُکسانے سے عوام الناس بہت شور کرتے رہے۔ جس دن آپ کا لیکچر تھا اُس روز مخالفین نے فیصلہ کر لیا کہ جس طرح ہو لیکچر نہ ہونے دیں۔ چنانچہ آپ لیکچر ہال میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ دروازہ پر مولوی بڑے بڑے جبے پہنے ہوئے لمبے لمبے ہاتھ مار کر آپ کے خلاف وعظ کر رہے تھے اور بہت سے لوگوں نے اپنے دامنوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے۔ آپ لیکچر گاہ میں اندر تشریف لے گئے اور لیکچر شروع کیا۔ لیکن مولوی صاحبان کو اعتراض کا کوئی موقعہ نہ ملا جس پر لوگوں کو بھڑکائیں۔ پندرہ منٹ آپ کی تقریر ہو چکی تھی کہ ایک شخص نے آپ کے
سیرت مسیح موعود، صفحہ 55، 56 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 71 پر درج ہے
حوالہ نمبر 52
56 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
آگے چائے کی پیالی پیش کی کیونکہ آپ کے حلق میں تکلیف تھی اور ایسے وقت میں اگر تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کوئی سیال چیز استعمال کی جائے تو آرام رہتا ہے۔ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ رہنے دو لیکن اُس نے آپ کی تکلیف کے خیال سے پیش کر ہی دی۔ اس پر آپ نے بھی اُس میں سے ایک گھونٹ پی لیا۔ لیکن وہ مہینہ روزوں کا تھا۔ مولویوں نے شور مچا دیا کہ یہ شخص مسلمان نہیں کیونکہ رمضان شریف میں روزہ نہیں رکھتا۔ آپ نے جواب میں فرمایا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیمار یا مسافر روزہ نہ رکھے بلکہ جب شفا ہو یا سفر سے واپس آئے تب روزہ رکھے اور مَیں تو بیمار بھی ہوں اور مسافر بھی۔ لیکن جوش میں بھرے ہوئے لوگ کب رُکتے ہیں۔ شور بڑھتا گیا اور باوجود پولیس کی کوشش کے فرو نہ ہو سکا۔ آخر مصلحتاً آپ بیٹھ گئے اور ایک شخص کو نظم پڑھنے کے لیے کھڑا کر دیا گیا۔ اُس کے نظم پڑھنے پر لوگ خاموش ہو گئے۔ تب پھر آپ کھڑے ہوئے تو پھر مولویوں نے شور مچا دیا اور جب آپ نے لیکچر جاری رکھا تو فساد پر آمادہ ہو گئے اور سٹیج پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ پولیس نے روکنے کی کوشش کی لیکن ہزاروں آدمیوں کی رَو اُن سے روکے نہ رُکتی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سمندر کی ایک لہر ہے جو آگے ہی بڑھتی چلی آتی ہے۔ جب پولیس سے اُن کا سنبھالنا مشکل ہو گیا تب آپ نے لیکچر چھوڑ دیا لیکن پھر بھی لوگوں کا جوش ٹھنڈا نہ ہوا اور انہوں نے سٹیج پر چڑھ کر حملہ آور ہونے کی کوشش جاری رکھی۔ اس پر پولیس انسپکٹر نے آپ سے عرض کی کہ آپ اندر کے کمرہ میں تشریف لے چلیں اور فوراً سپاہی دوڑائے کہ بند گاڑی لے آئیں۔ پولیس لوگوں کو اس کمرہ میں آنے سے روکتی رہی اور دوسرے دروازہ کے سامنے گاڑی لا کر کھڑی کر دی گئی، آپ اُس میں سوار ہونے کے لیے تشریف لے چلے۔ آپ گاڑی میں بیٹھنے لگے تو لوگوں کو پتہ لگ گیا کہ آپ گاڑی میں سوار ہو کر چلے ہیں۔ اس پر جو لوگ لیکچر ہال سے باہر کھڑے تھے وہ حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے اور ایک شخص نے بڑے زور سے ایک بہت موٹا اور مضبوط سوٹا آپ کو مارا۔ ایک
سیرت مسیح موعود صفحہ 55، 56 از مرزا بشیر الدین محمود
یہ حوالہ صفحہ 71 پر درج ہے
حوالہ نمبر 53
119 سیرۃ المہدی حصہ سوم
تک میں نے ایسی بیعت نہ کی تھی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے حضرت صاحب سے قدیم تعلقات تھے جو غالباً حضرت خلیفہ اوّل کے واسطہ سے قائم ہوئے تھے۔ مگر مولوی صاحب موصوف نے بیعت کچھ عرصہ بعد کی تھی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جماعت کے بہترین مقررین میں سے تھے۔ اور آواز کی غیر معمولی بلندی اور خوش الحانی کے علاوہ ان کی زبان میں غیر معمولی فصاحت اور طاقت تھی جو سامعین کو مسحور کر لیتی تھی۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود ۱۷۲ علیہ السلام نے حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں کیا، زکوٰۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی، میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا۔ صدقہ نہیں کھایا۔ زکوٰۃ نہیں کھائی۔ صرف نذرانہ اور ہدیہ قبول فرماتے تھے۔ پیروں کی طرح مصلیٰ اور خرقہ نہیں رکھا۔ رائج الوقت درود و وظائف (مثلاً پنجسورہ، دعاء گنج العرش، درود تاج، حزب البحر، دعائے سریانی وغیرہ) نہیں پڑھتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حج نہ کرنے کی تو خاص وجوہات تھیں کہ شروع میں آپ کے لئے مالی لحاظ سے انتظام نہیں تھا۔ کیونکہ ساری جائداد وغیرہ اوائل میں ہمارے دادا صاحب کے ہاتھ میں تھی اور بعد میں تایا صاحب کا انتظام رہا۔ اور اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ ایک تو آپ جہاد کے کام میں منہمک رہے دوسرے آپ کے لئے حج کا راستہ بھی مخدوش تھا، تاہم آپ کی خواہش رہتی تھی۔ کہ حج کریں۔ چنانچہ حضرت والدہ صاحبہ نے آپ کے بعد آپ کی طرف سے حج بدل کرایا۔ اعتکاف ماموریت کے زمانہ سے قبل غالباً بیٹھے ہونگے مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلمی جہاد اور دیگر مصروفیت کے نہیں بیٹھ سکے کیونکہ یہ نیکیاں اعتکاف سے مقدم ہیں۔ اور زکوٰۃ اس لئے نہیں دی۔ کہ آپ کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے۔ البتہ حضرت والدہ صاحبہ زیور پر زکوٰۃ دیتی رہی ہیں۔ اور تسبیح اور رسمی وظائف وغیرہ کے آپ قائل ہی نہیں تھے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت صاحب کی ۱۷۳ آنکھوں میں مائی اوپیا تھا۔ اسی وجہ سے پہلی رات کا چاند نہ دیکھ سکتے تھے۔ مگر نزدیک سے آخر عمر تک باریک حروف بھی پڑھ لیتے تھے۔ اور عینک کی حاجت محسوس نہیں کی۔ اور ورثۃً آنکھوں کی یہ حالت
سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 119 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 71 پر درج ہے
حوالہ نمبر 54 ۶۸
یہ نعمت اللہ صاحب لاہوری اس خدمت میں خاص امتیاز رکھتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود بعض اوقات گرم کوٹ کا بھی استعمال فرماتے تھے اور جب کبھی گھر سے باہر تشریف لے جاتے تھے، تو کوٹ ضرور پہنا کرتے تھے۔ اور ہاتھ میں عصا رکھنا بھی آپ کی سنت ہے۔ والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں، کہ میں حضرت صاحب کے واسطے ہر سال نصف تھان کے کرُتے تیار کیا کرتی تھی لیکن جس سال آپ کی وفات ہوئی مَیں نے پورے تھان کے کرتے تیار کئے۔ حضرت صاحب نے مجھے کہا بھی کہ اتنے کرتے کیا کرنے ہیں۔ مگر میں نے تیار کر لئے ان میں سے اب تک بہت سے کرتے بے پہنے میرے پاس رکھے ہیں۔
(رقم ۸۸)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود جمعہ کے دن خوشبو لگاتے اور کپڑے بدلتے تھے۔
(رقم ۸۹)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود جب کبھی مغرب کی نماز گھر میں پڑھاتے تھے تو اکثر سورہ یوسف کی وہ آیات پڑھتے تھے جس میں یعقوبؑ کا ذکر ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی آواز میں بہت سوز اور درد تھا۔ اور آپکی قرأت بہت پر اثر ہوتی تھی۔
(رقم ۹۰)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ مَیں نے کبھی حضرت مسیح موعود کو گرگابی پہنے نہیں دیکھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب سنوری نے مجھ سے یہی بیان کیا ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے سید فضلشاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود یہاں مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے میں پاس بیٹھا تھا۔ بھائی عبداللہ صاحب سنوری بھی پاس تھے اور بعض اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت صاحب سب کے ساتھ گفتگو فرماتے تھے مگر جب بھائی عبداللہ صاحب بولتے تھے تو حضرت صاب دوسروں کی طرف سے توجہ ہٹا کر ان کی طرف توجہ کر لیتے تھے۔ مجھے اس کا ملال ہوا اور مَیں نے ان پر رشک کیا ۔ حضرت صاحب میرے اس خیال کو سمجھ گئے اور میری طرف دیکھ کر فرمانے لگے شاہ صاحب آپ جانتے ہیں یہ کون ہیں ؟ میں نے عرض کیا ہاں حُضور
یہ حوالہ صفحہ 71 پر درج ہے سیرت المہدی ، جلد اول صفحہ 68 از مرزا بشیر احمد ایم اے
حوالہ نمبر 55 ۱۱۶
مرتد ہوتے وقت بیان کئے ہیں۔ وہ سب آجکل غیر مبائعین میں موجود ہیں۔ دراصل ان لوگوں کو اس نے ہلاک کیا۔ اور خود اس کو اس کی خواب بینی اور طبعی صفات نے ہلاک کیا۔ چنانچہ ایک دفعہ ان لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ ریویو میں حضرت صاحب کا اور احمدیت کی خصوصیات کا ذکر نہ ہو۔ بلکہ عام اسلامی مضامین ہوں تاکہ اشاعت زیادہ ہو۔ اخبار وطن میں بھی یہ تحریک چھپی تھی جس پر حضرت صاحب نے نہایت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ اور فرمایا تھا کہ ہمیں چھوڑ کر کیا آپ مردہ اسلام پیش کریں گے؟ عبدالحکیم خاں نے حضور کو لکھا تھا ۔ کہ آپ کا وجود خادم اسلام ہے نہ کہ عین اسلام۔ + مگر حضرت صاحب کے اس فقرہ نے اس کی تردید کر دی۔ کہ دراصل آپ کا وجود ہی روح اسلام ہے خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ مسئلہ بہت باریک ہے کہ کسی مذہب میں اس مذہب کے بانیوالے کے وجود کو کس حد تک اور کس رنگ میں داخل سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر بہر حال یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ نبی کے وجود سے مذہب کو جدا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دونوں باہم اس طرح پیوستہ ہوئے ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک کپڑے کا تانا اور بانا ہوتا ہے جن کے علیحدہ کرنے سے کپڑے کی تار پود بکھر جاتی ہے۔ بے شک بعض خام طبع موحدین اسے شرک قرار دے سکتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال خود شرک میں داخل ہے کہ ایک خدائی فعل کے مقابلہ میں اپنے خیال کو مقدم کیا جائے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ خوابوں کا مسئلہ بھی بڑا نازک ہے۔ کئی خوابیں انسان کی دماغی بناوٹ کا نتیجہ ہوتی ہے اور اکثر لوگ ان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا ۔ کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں اس عاجز نے نمازوں میں اور خصوصاً سجدوں میں لوگوں کو آجکل کی نسبت بہت زیادہ ۶۶۶ روتے سنا ہے۔ رونے کی آوازیں مسجد کے ہر گوشہ سے سنائی دیتی تھیں۔ اور حضرت صاحب نے اپنی جماعت کے اس رونے کا فخر کے ساتھ ذکر کیا ہے جس نماز سے پہلے حضرت صاحب کی کوئی خاص تحریر اور نصیحت ہو جاتی تھی۔ اس نماز میں تو مسجد میں گویا ایک کہرام برپا ہو جاتا تھا۔ یہانتک کہ سنگدل سے سنگدل آدمی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے تھے۔ ایک جگہ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ دن میں کم از کم ایک دفعہ تو انسان خدا کے حضور رو لیا کرے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کے لئے خلوت میں بیٹھ کر نعماء الہی کو یاد کرنا اور انبیاء اور اولیاء کے
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 116 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 72 پر درج ہے
حوالہ نمبر 56 ۲۶۱
کو قبول کر لونگا۔ اور اور بھی بہت سے لوگ حق کو قبول کر لینگے۔ اور حضرت صاحب نے یہ بھی کہا۔ کہ یہ بھی اُسے کہنا کہ جھوٹے کو اُسکے گھر تک پہنچانا چاہیے۔ یہ ایک بڑا نادر موقعہ ہے مرزا صاحب نے بڑا اثر ڈالکر کہا ہے۔ آپ اگر ان کو شکست دیدینگے۔ اور ان سے انعام حاصل کر لینگے۔ تو یہ ایک عیسائیت کی نمایاں فتح ہو گی۔ اور پھر کوئی مُسلمان سامنے نہیں بول سکیگا۔ وغیرہ وغیرہ۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں۔ جسوقت حضرت صاحب نے یہ مجھ سے فرمایا۔ اسوقت شام کا وقت تھا۔ اور بارش ہو رہی تھی اور سردیوں کے دن تھے اسلیئے میاں حامد علی نے مجھے روکا۔ کہ صبح چلے جانا۔ مگر میں نے کہا ۔ کہ جب حضرت صاحب نے فرمایا ہے۔ تو خواہ کچھ ہو۔ میں تو ابھی جاؤنگا۔ چنانچہ میں اُسیوقت پیدل روانہ ہو گیا۔ اور قریباً رات کے دس گیارہ بجے بارش سے تر بتر امرتسر پہنچ کر سیدھا بٹالہ پہنچا۔ اور اُسی وقت پادری مذکور کی کوٹھی پر گیا۔ وہاں پادری کے خانسامہ نے میری بڑی خاطر کی۔ اور مجھے سونے کے لئے جگہ دی۔ اور کھانا دیا۔ اور بہت آرام پہنچایا۔ اور وعدہ کیا۔ کہ صبح پادری صاحب سے ملاقات کراؤنگا۔ چنانچہ صبح ہی اُس نے مجھے پادری سے ملایا ۔ اسوقت پادری کے پاس اُس کی میم بھی بیٹھی تھی۔ میں نے اُسی طریق پر جس طرح حضرت صاحب نے مجھے سمجھایا تھا۔ اُس سے گفتگو کی۔ جس سے اُس نے انکار کیا۔ اور کہا کہ ہم ان باتوں میں نہیں پڑتے میں نے اسے بہت غیرت دلائی اور عیسائیت کی فتح پر نمائشی صورت میں اپنے آپ کو حق کے قبول کر لینے کیلئے تیار ظاہر کیا۔ مگر وہ انکار ہی کرتا چلا گیا۔ آخر میں مایوس ہوکر قادیان آ گیا۔ اور حضرت صاحب سے سارا قصہ عرض کر دیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ واقعہ غالباً سلسلہ بیعت سے پہلے کا ہے۔
(۲۷۲) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے خط لکھ کر دریافت کیا۔ کہ میری ایک بہن کنجنی تھی۔ اُس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا۔ پھر وہ مرگئی ۔ اور مجھے اسکا ترکہ ملا مگر بعد میں مجھے اللہ تعالےٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی۔ اب میں اُس مال کو کیا کروں؟ حضرت صاحب نے جوابدیا۔ کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت
کنجنی ← پیشہ ور فاحشہ عورت کو کہتے ہیں ۔
سیرت المہدی ، جلد اوّل صفحہ 261 ، 262 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 72 پر درج ہے
حوالہ نمبر 56 ۲۶۲
میں خرچ ہو سکتا ہے ۔ اور پھر مثال دیکر بیان کیا ۔ کہ اگر کسی شخص پر کوئی سگ دیوانہ حملہ کرے ۔ اور اسکے پاس اسوقت کوئی چیز اپنے دفاع کے لئے نہ ہو۔ نہ سوٹی نہ پتھر وغیرہ۔ صرف چند نجاست میں پڑے ہوئے پیسے اسکے قریب ہوں ۔ تو کیا وہ اپنی جان کی حفاظت کے لئے ان پیسوں کو اٹھا کر اس کتے کو نہ دے ماریگا۔ اور اسوجہ سے رُک جاوے گا۔ کہ یہ پیسے ایک نجاست کی نالی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ ہر گز نہیں ۔ پس اسی طرح اس زمانہ میں جو اسلام کی حالت ہے اسے مدِّ نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہتے ہیں ۔ کہ اس روپیہ کو خدمت اسلام میں لگایا جا سکتا ہے ۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا ۔ کہ اس زمانہ میں جب کی یہ بات ہے ۔ آجکل والے انگریزی پیسے زیادہ رائج نہ تھے ۔ بلکہ موٹے موٹے بھدے سے پیسے چلتے تھے ۔ جنکو منصوری پیسے کہتے ہیں ۔
خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ اس زمانہ میں خدمتِ اسلام کے لئے بعض شرائط کے ماتحت سودی روپیہ کے خرچ کئے جانے کا فتوے بھی حضرت صاحب نے اسی اصول پر دیا ہے۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہئے ۔ کہ یہ فتوے وقتی ہیں ۔ اور خاص شرائط کے ساتھ مشروط ہیں۔ ومن اعتدی فقد ظلم وحارب اللہ ۔
(۲۷۳) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے ۔ کہ الاستقامة فوق الكرامة ۔
(۲۷۴) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ حضرت مسیح موعود فرماتے تھے ۔ کہ سُود سے مسلمانوں کو سخت نفرت ہے جو طبیعت کا ایک حصہ بن گئی ہے ۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ خدا اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کو سودی نفرت یہ بتانا چاہتا ہے کہ انسان اگر چاہے ۔ تو تمام منہیات سے ایسی ہی نفرت کر سکتا ہے کا سبب اور اُسے ایسی ہی نفرت کرنی چاہئے ۔
(۲۷۵) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ آتھم کے مباحثہ میں میں بھی موجود تھا جب حضرت صاحب نے اپنے آخری مضمون میں یہ بیان کیا ۔ کہ آتھم صاحب نے اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں آنحضرت صلعم کو (نعوذ باللہ) دجال
سیرت المہدی ، جلد اوّل صفحہ 261، 262 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 72 پر درج ہے
حوالہ نمبر 57
۳۶۸
اس پر فرمایا : ہمارا یہی مذہب ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہی ہمارے دل میں ڈالا ہے کہ ایسا روپیہ اشاعت دین کے کام میں خرچ کیا جاوے۔ یہ بالکل سچ ہے کہ سُود حرام ہے لیکن اپنے نفس کے واسطے۔ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں جو چیز جاتی ہے وہ حرام نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ حُرمت اشیاء کی انسان کے لیے ہے نہ اللہ تعالیٰ کے واسطے۔ پس سُود اپنے نفس کے لیے ، بیوی بچوں ، احباب ، رشتہ داروں اور ہمسایوں کے لیے بالکل حرام ہے۔ لیکن اگر یہ روپیہ خالصتاً اشاعت دین کے لیے خرچ ہو تو حرج نہیں ہے۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ اسلام بہت کمزور ہو گیا ہے اور پھر اُس پر دوسری مصیبت یہ ہے کہ لوگ زکوٰۃ بھی نہیں دیتے ہیں۔ دیکھتا ہوں کہ اس وقت دو مصیبتیں واقع ہو رہی ہیں اور دو حُرمتیں روا رکھی گئی ہیں۔ اوّل یہ کہ زکوٰۃ جس کے دینے کا حکم تھا وہ دیتے نہیں اور سُود جس کے لینے سے منع کیا تھا وہ لیتے ہیں۔ یعنی جو خدا تعالیٰ کا حق تھا وہ تو دیا نہیں اور جو اپنا حق نہ تھا اُسے لیا گیا۔
جب ایسی حالت ہو رہی ہے اور اسلام خطرناک ضعف میں مبتلا ہے تو میں یہی فتویٰ دیتا ہوں کہ ایسے سُودوں کی رقمیں جو بینک سے ملتا ہے یک مشت اشاعت دین میں خرچ کرنی چاہئیں ۔ اِس لئے جو فتویٰ دیا ہے وہ عارضی ہے ورنہ سُود کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔ مگر اس ضعیف اسلام کے زمانہ میں جبکہ مالی ترقی کے ذرائع پیدا نہیں ہوئے اور مسلمان توجہ نہیں کرتے ایسا روپیہ اسلام کے کام میں بھی حرام نہیں ہے۔
قرآن شریف کے مفہوم کے موافق جو حُرمت ہے وہ یہی ہے کہ وہ اپنے نفس کے لیے اگر خرچ ہو تو حرام ہے۔ یہ بھی یاد رکھو جیسے سُود اپنے لیے دُرست نہیں کسی اور کو اس کا دینا بھی دُرست نہیں۔ ہاں خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ایسے مال کا دینا دُرست ہے اور یہی اس کا طریقہ ہے کہ وہ صرف اشاعت
۱۔ حاشیہ : سود کا روپیہ بالکل حرام ہے کہ کوئی شخص اپنے نفس پر خرچ کرے۔ اور کسی قسم کے بھی ذاتی مصارف میں خرچ کرے یا اپنے بال بچے کو دے یا کسی فقیر مسکین کو دے۔ کسی ہمسایہ کو دے یا مسافر کو دے۔ سب حرام ہے۔ سُود کے روپیہ کا لینا اور خرچ کرنا گناہ ہے۔
۲۔ حاشیہ : اپنا جو حق نہ تھا وہ لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا جو حق تھا وہ بھی نہیں دیتے اور اپنے اندر دو گناہ ایک ہی وقت میں جمع کرتے ہیں۔
بدر جلد ۱ نمبر ۶ صفحہ ۴ مورخہ ۱۹ ستمبر ۱۹۰۵ء
ملفوظات جلد چہارم صفحہ 368 طبع جدید ، از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 72 پر درج ہے
حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات حوالہ نمبر 58
ق
کوئی کرے۔ کبھی کوئی اشارہ تک نہیں کیا کہ تیری باتیں فضول ہیں جس قسم کا کوئی سوال لاوے، اسکو تحمل سے سنتے ہاں میں، ناں میں اور جو کچھ خرچ کیا اور جو کچھ واپس دیا ہے اُسکو بند کر کے لے لیا۔ اور جیب میں ڈال لیا ہے۔ کبھی کسی سے لین دین میں یا کسی اور بات پر تکرار نہیں کیا۔ اگر کبھی کسی حادثہ کے سبب کسی چیز کیلئے خاص رنجش کی ہے اور کوئی انتقام بھی نہیں لیا۔ کہا کبھی نہیں بلکہ یا اللہ وہ چیز یہیں تھی، گم گئی، تو مسکرا کر الگ ہو جاتے ہیں۔ اب تک ایک دفعہ شور و شر نہیں کیا۔ کبھی کسی دشمن پر بھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔ آپ کی صداقت اور اعلیٰ اخلاق اور حلم اور قوت قدسیہ کا یہاں تک اثر ہے کہ آپ کی زوجہ محترمہ جو آپ سے بہت بے تکلف ہیں، عجائب امور ہونے پر صدق دل سے ایمان رکھتی ہے جناب ممدوحہ کافی فہم اور ذکاء اور دانا اور بصیر ہے۔ بعض عقائد کے سوء ظن کی نسبت آپ سے زیادہ محبت اور حسن ظن ہے اگر کوئی خادم قصداً بھی آپ کے کام میں حرج کرے تو بھی آپ کے منہ سے کبھی بیزار اور توبہ کا کلمہ نہیں نکلتا۔ گو آپ کی فطرت کی لغت میں فریب۔ بدعہدی۔ سرد مہری۔ بد اندیشی۔ ہٹ دھرمی۔ محبت دنیا وغیرہ بالکل نہیں۔ آپ بچوں کو مارتے اور ڈانٹنے کے سخت مخالف ہیں۔ فرماتے ہیں کہ جتنی کوشش بچوں کو سزا دینے میں کیجاتی ہے کاش اتنی ہی کوشش ان کے لئے دعا کرنے میں کیجائے۔ یہ خدا کا فضل ہے۔ فرماتے ہیں اس شخص کو نیکی کی تلقین و پند و وعظ نہ کرنا چاہیے جو اپنے عیوبوں سے غافل رہ جائے آپ مکان اور لباس کی آرائش اور زینت سے بالکل غافل اور بے پرواہ ہیں۔ آپ کو کسی مکان سے کوئی انس نہیں، وقت ضایع نہیں کرتے لباس کی حفاظت کیطرف توجہ نہیں ہوتی۔ جب کبھی ضرورت آتی ہے تو اپنے اوپر کا، اپنا اوڑھنا بچھونا سب دے دیتے ہیں۔ جب تک کہ وہ میلا نہ ہو جائے فرماتے ہیں۔ ہم حق کے لئے ہیں، اور دین کے لئے وقف ہیں۔ ہمیں کوئی روک نہیں، ہم نہیں بچتے۔ جو آئے کام ہو، ہم آپ کے ایک عاجز بندے ہیں، آپ کی دستگیری کی ایک عجیب حالت ہے۔ آپ میں یہی ایک خصلت۔ آپ جب بیٹھے ہیں، کوئی اینٹ چبھتی، کوئی دن ایسا ہی ہوتا کہ ایک دن اپنے ایک خادم کو کہنے لگے کہ میرا کامل یقین ہو گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چبھتی ہے۔ وہ حیران ہوا اور آپ کے جسد مبارک پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا ہاتھ ایک اینٹ پر جا لگا۔ جب اینٹ نکال لی، دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ یہ بچی روڑے میری جیب میں ڈال لائی۔ اور کہا تم اسے کھونا نہیں میں اس سے کھیلوں گی۔ آپ کے مزاج میں وہ قناعت اور استغناء اور بے غرضی ہے کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں۔ آپ زمین پر بیٹھے ہوں، اور لوگ پلنگ پر یا اوپر بیٹھے ہوں، آپ کا قلب مبارک ان باتوں کو محسوس ہی نہیں کرتا۔ آپ کی نشست کی کوئی خاص وضع نہیں ہوتی۔ ایک اجنبی آپ کو خاص امتیاز سے پہچان نہیں سکتا۔ آپ کی مجلس میں علماء اور امراء اور ادنیٰ اور اعلیٰ بے تکلفی اور سادگی سے ایک ہی درجہ میں جمع رہتے ہیں، سب کی مجلس کا رنگ ہو بہو نبوت کا رنگ ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میرا یہ منصب نہیں کہ میں ایسا آستانہ نوابی بناؤں، کہ جس کے دروازہ پر دربان بیٹھے ہوں اور لوگ مجھے ملنے سے ڈرتے ہیں۔ میں بت بننے سے سخت نفرت کھاتا ہوں۔ میں اپنے نفس کو دوسروں پر ترجیح نہیں دیتا۔ آپ اپنے خدام کو بڑے ادب اور احترام سے پکارتے ہیں۔ اور حاضر و غائب ہر ایک کا نام ادب سے لیتے ہیں۔ ہرگز کسی کو برے نام سے نہیں پکارتے۔ آپ کی ملاقات کی جگہ مسجد ہے۔ برابر پانچ وقت نماز باجماعت پڑھتے ہیں۔ آپ بڑے خداترس ہیں۔ بدعات و رسومات کو
مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ حصہ اول تا چہارم صفحہ 53 از معراج الدین عمر قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 73 پر درج ہے
حوالہ نمبر 59
۵۸
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری زمانہ میں اکثر دفعہ احباب آپ کے لئے نیا کرتہ بنوا لاتے تھے اور اسے بطور نذر پیش کر کے تبرّک کے طور پر حضور کا اترا ہوا کرتہ مانگ لیتے تھے۔ اس طرح ایک دفعہ کسی نے میرے ہاتھ ایک نیا کرتہ بھجوا کر پُرانے اترے ہوئے کرتہ کی درخواست کی۔ گھر میں تلاش سے معلوم ہوا کہ اسوقت کوئی اترا ہوا بے دھلا کرتہ موجود نہیں۔ جس پر آپ نے اپنا مستعمل کرتہ دھوبی کے ہاں کا دُھلا ہوا دیئے جانے کا حکم فرمایا ۔ میں نے عرض کیا کہ یہ تو دھوبی کے ہاں کا دُھلا ہوا کرتہ ہے اور وہ شخص تبرّک کے طور پر میلا کرتہ لے جانا چاہتا ہے ۔ حضور ہنسکر فرمانے لگے کہ وہ بھی کیا برکت ہے جو دھوبی کے ہاں دھلنے سے جاتی رہے۔ چنانچہ وہ کرتہ اس شخص کو دیدیا گیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ وہ شخص غالباً یہ تو جانتا ہو گا کہ دھوبی کے ہاں دُھلنے سے برکت جاتی نہیں رہتی لیکن محبت کا یہی تقاضا ہوتا ہے کہ انسان اپنے مقدس محبوب کا اترا ہوا میلا بے دھلا کپڑا اپنے پاس رکھنے کی خواہش کرتا ہے اور اسی طبعی خواہش کا احترام کرتے ہوئے گھر میں پہلے میلے کپڑے کی تلاش کی گئی، لیکن جب وہ نہ ملا تو دُھلا ہوا کرتہ دیدیا گیا ۔
(۳۷۵) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوا ہوتا تھا۔ اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لئے گرگابی ہدیہً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتی پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اسوقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آجاتا ہے ۔
(۳۷۶) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی وفات سے قبل سالہا سال اسہال کا عارضہ رہا تھا۔ چنانچہ حضور اسی مرض میں فوت ہوئے ۔ بارہا دیکھا کہ حضور کو دست آنے کے بعد ایسا ضعف ہوتا تھا کہ حضور فوراً دودھ کا گلاس منگوا کر پیتے تھے۔
سیرت المہدی ، جلد دوم صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 73 پر درج ہے
حوالہ نمبر 60 ۱۲۶
کپڑے بنتے تھے اور استعمال ہوتے تھے۔ اسی طرح ساتھ ساتھ خرچ بھی ہوتے جاتے تھے یعنی ہر وقت تبرک مانگنے والے طلب کرتے رہتے تھے بعض دفعہ تو یہ نوبت پہنچ جاتی کہ آپ ایک کپڑا بطور تبرک کے عطا فرماتے تو دوسرا بنوا کر اس وقت پہننا پڑتا۔ اور بعض سمجھدار اس طرح بھی کرتے تھے کہ مثلاً ایک کپڑا اپنا بھیج دیا اور ساتھ عرض کر دیا کہ حضور ایک اپنا اترا ہوا تبرک مرحمت فرماویں۔
خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ اب آپ کے لباس کی ساخت سنئے۔ عموماً یہ کپڑے آپ زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ کرتہ یا قمیض۔ پائجامہ۔ صدری۔ کوٹ۔ عمامہ، اسکے علاوہ رومال بھی ضرور رکھتے تھے اور جاڑوں میں جرابیں۔ آپ کے سب کپڑوں میں خصوصیت یہ تھی کہ وہ بہت کھلے کھلے ہوتے تھے۔ اور اگرچہ بعض دفعہ کوٹ انگریزی طرز کے ہوتے مگر انکی ہیئت کشادہ اور لمبے یعنی گھٹنوں سے نیچے ہوتے تھے۔ اور جبے اور چوغے بھی جو آپ پہنتے تھے تو وہ بھی ایسے لمبے کہ بعض تو ان میں سے ٹخنے تک پہنچتے تھے۔ اسی طرح کرتے اور صدریاں بھی کشادہ ہوتی تھیں۔
بنیان آپ کبھی نہ پہنتے تھے بلکہ اس کی تنگی سے گھبراتے تھے۔ گرم قمیض جو پہنتے تھے اس کا اکثر اوپر کا بٹن کھلا رکھتے تھے۔ اسی طرح صدری اور کوٹ کا اور قمیض کے کفوں میں اگر بٹن ہوں تو وہ بھی ہمیشہ کھلے رہتے تھے آپکا طرز عمل "ما انا من المتکلفین" کے ماتحت تھا کہ کسی مصنوعی جکڑ بندی میں جو شرعاً غیر ضروری ہے پابند رہنا آپ کے مزاج کے خلاف تھا اور نہ آپ کو کبھی پرواہ تھی کہ لباس عمدہ ہے یا برش کیا ہوا ہے یا بٹن سب درست لگے ہوئے ہیں یا نہیں۔ صرف لباس کی اصلی غرض مطلوب تھی ۔ چنانچہ دیکھا گیا کہ بٹن ٹوٹا ہوا چھوڑ کر دوسری میں لگائے ہوئے تھے بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے۔ آپ کی توجہ ہمہ تن اپنے مشن کی طرف تھی اور اصلاح امت میں اتنے محو تھے کہ اصلاح لباس کی طرف توجہ نہ تھی۔ آپ کا لباس
آخر عمر میں چند سال سے بالکل گرم وضع کا ہی رہتا تھا یعنی کوٹ اور صدری اور پاجامہ گرمیوں میں بھی گرم رکھتے تھے ۔ اور یہ علالت طبع کے باعث تھا۔ گرمی آپ کو مانع نہ تھی۔ اسلئے یہی گرم کپڑے رکھا کرتے تھے۔ البتہ گرمیوں میں نیچے کرتہ ململ کا رہتا تھا۔ بجائے گرم کرتے کے پاجامہ آپ کا معروف شرعی وضع کا ہوتا تھا (یعنی غرارہ یعنی ڈھیلا مردانہ پاجامہ ہی پہنا کرتے تھے۔ مگر آخر عمر میں ترک کر دیا تھا) مگر گھر میں گرمیوں میں کبھی کبھی دن کو اور عادتاً رات کے وقت تہبند باندھ کر
سیرت المہدی ۔ جلد دوم صفحہ 126 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 74 پر درج ہے
حوالہ نمبر 61 ۵۷
عموماً جراب بھی پہنے رہتے تھے۔ بلکہ سردیوں میں تو بستر کے اندر سوتے وقت بھی آپ کے پاؤں میں آپ ہمیشہ دیسی جوتا پہنتے تھے۔ نیز یہ بھی بیان کیا کہ حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب سے حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے اسوقت سے آپ نے سردی گرمی میں گرگابی کا استعمال شروع فرما دیا تھا۔ ان کپڑوں میں آپ کو گرمی بھی لگتی تھی۔ اور بعض اوقات تکلیف بھی ہوتی تھی مگر جب ایک دفعہ شروع کر دیتے تو پھر آخر تک یہی استعمال فرماتے رہے۔ اور جب سے شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی ثم لاہوری احمدی ہوئے وہ آپ کے لئے کپڑوں کے جوتے بنوا کر باقاعدہ لاتے تھے اور حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جیسا کپڑا کوئی لے آئے پہن لیتے تھے۔ ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی لے آیا آپ نے پہن لی مگر اسکے الٹے سیدھے پاؤں کی آپکو تمیز نہیں لگتی تھی کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپکی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کیلئے نشان لگا دیئے تھے مگر با وجود اسکے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے اسلئے آپ نے اسے اتار دیا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب بعض اوقات انگریزی طرز کی قمیص کے کفوں کے متعلق بھی اسی قسم کی ناپسندیدگی کے الفاظ فرماتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ صاحب موصوف آپکے لئے انگریزی طرز کی قمیصیں بنوا کر لایا کرتے تھے آپ انہیں استعمال تو فرماتے تھے۔ مگر انگریزی طرز کی قمیص کو پسند نہیں فرماتے تھے کیونکہ اول تو کفوں کے بٹن لگانے سے آپ گھبراتے تھے دوسرے بٹنوں کے کھولنے اور بند کرنے کا التزام آپ کے لئے مشکل تھا۔ بعض اوقات فرماتے تھے کہ یہ کیا کان سے لٹکے رہتے ہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ لباس کے متعلق حضرت مسیح موعود کا عام اصول یہ تھا کہ جس قسم کا کپڑا ملجاتا تھا پہن لیتے تھے۔ مگر عموماً انگریزی طریق لباس کو پسند نہیں فرماتے تھے کیونکہ اول تو اسے اپنے لئے سادگی کے خلاف سمجھتے تھے دوسرے آپ ایسے لباس سے جو اعضاء کو جکڑا ہوا رکھے بہت گھبراتے تھے۔ گھر میں آپکے لئے صرف ململ کے کرتے اور پگڑیاں تیار ہوتی تھیں باقی سب کپڑے عموماً ہدیہ آپ کو آ جاتے تھے۔ شیخ
سیرت المہدی ، جلد اوّل صفحہ 67 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 74 پر درج ہے
حوالہ نمبر 62
۱۲۷
خضاب فرمایا کرتے تھے،
صدری گھر میں اکثر پہنے رہتے مگر کوٹ عموماً باہر جاتے وقت ہی پہنتے۔ اور سردی کی زیادتی کے دنوں میں اوپر تلے دو دو کوٹ بھی پہنا کرتے۔ بلکہ بعض اوقات پوستین بھی،
صدری کی جیب میں یا بعض اوقات کوٹ کی جیب میں ایک رومال ہوتا تھا۔ آپ ہمیشہ بڑا رومال رکھتے تھے۔ نہ کہ چھوٹا جینٹلمینی رومال جو آجکل بہت مروج ہے۔ اسی کے کونوں میں آپ مشک اور ایسی ہی ضروری ادویہ جو آپ کے استعمال میں رہتی تھیں اور ضروری خطوط وغیرہ باندھ رکھتے تھے۔ اور اسی رومال میں نقد وغیرہ جو نذر لوگ مسجد میں پیش کر دیتے تھے باندھ لیا کرتے۔
گھڑی بھی آپ ضرور اپنے پاس رکھا کرتے مگر اس کی کنجی دینے میں چونکہ اکثر ناغہ ہو جاتا اسلئے اکثر وقت غلط ہی ہوتا تھا۔ اور چونکہ گھڑی جیب میں سے اکثر نکل پڑتی اسلئے آپ اسے بھی رومال میں باندھ لیا کرتے۔ گھڑی کو ضرورت کے لئے رکھتے نہ زیبائش کے لئے۔
آپ کو دیکھ کر کوئی شخص ایک لمحہ کے لئے بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس شخص کی زندگی میں یا لباس میں کسی قسم کا بھی تصنع ہے یا یہ زیب وزینت دنیوی کا دلدادہ ہے۔ ہاں البتہ و اما بنعمۃ ربک فحدث کے ماتحت آپ صاف اور ستھری چیز ہمیشہ پسند فرماتے اور گندی اور میلی چیز سے سخت نفرت رکھتے۔ صفائی کا اس قدر اہتمام تھا کہ بعض اوقات آدمی موجود نہ ہو تو بیت الخلا میں خود فینائل ڈالتے تھے۔
عمامہ شریف آپ ململ کا باندھا کرتے تھے۔ اور اکثر اگاڑا کچھ اوپر دبا ہوتا تھا۔ شملہ آپ لمبا چھوڑتے تھے کبھی کبھی شملہ کو آگے ڈال لیا کرتے۔ اور کبھی اس کا پلو دہن مبارک پر بھی رکھ لیتے۔ جبکہ مجلس میں خاموشی ہوتی۔ عمامہ کے باندھنے کی آپ کی خاص وضع تھی۔ نوک تو ضرور سامنے ہوتی مگر سر پر ڈھیلا ڈھالا لپٹا ہوا ہوتا تھا۔ عمامہ کے نیچے اکثر رومی ٹوپی رکھتے تھے اور گھر میں عمامہ اُتار کر صرف یہ ٹوپی ہی پہنے رہا کرتے۔ مگر نرم قسم کی ہوتی ، جو سخت متبرک نہ ہوتی۔
جرابیں آپ سردیوں میں استعمال فرماتے اور ان پر مسح کرتے ۔ بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر تلے چڑھا لیتے۔ مگر بارہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی۔ کبھی تو پنجہ آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ ٹخنے یا پشت پر آجاتی۔ کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی۔ اگر جراب کہیں سے کچھ پھٹ جاتی تو بھی مسح جائز رکھتے بلکہ فرماتے تھے کہ رسول صلعم کے
سیرت المہدی ، جلد دوم صفحہ 127 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 75 پر درج ہے
حوالہ نمبر 63 ۱۳۲
سالن پر ناپسندیدگی کا اظہار بھی فرمایا تو صرف اسلئے اور یہ کہہ کر کہ مہمانوں کو یہ کھانا پسند نہ آیا ہو گا؟ روٹی آپ قندھاری اور پھلکے کی دو قسم کی کھاتے تھے۔ ڈبل روٹی چائے کے ساتھ یا بسکٹ اور مکھن بھی استعمال فرما لیا کرتے تھے۔ بلکہ ولائتی بسکٹوں کو بھی جائز فرماتے تھے اسلئے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس میں چربی ہے۔ کیونکہ بنانے والوں کا ادعاء مکھن ہے، پھر ہم ناحق بدگمانی اور شکوک میں کیوں پڑیں۔ مکئی کی روٹی بہت مدت آپ نے آخری عمر میں استعمال فرمائی۔ کیونکہ آخری سات آٹھ سال سے آپ کو دستوں کی بیماری ہو گئی تھی اور ہضم کی طاقت کم ہو گئی تھی۔ علاوہ ان روٹیوں کے آپ شیر مال کو بھی پسند فرماتے تھے ۔ اور باقرخانی، قلچہ وغیرہ غرض جو جو اقسام روٹی کے سامنے آجایا کرتے تھے آپ کسی کو رد نہ فرماتے تھے!
سالن آپ بہت کم کھاتے تھے۔ گوشت آپ کے ہاں دو وقت پکتا تھا مگر دال آپ کو گوشت سے زیادہ پسند تھی۔ یہ دال ماش کی یا اوڑد کی ہوتی تھی جس کے لئے گورداسپور کا ضلع مشہور ہے۔ سالن ہر قسم کا اور ترکاری عام طور پر ہر طرح کی آپکے دستر خوان پر دیکھی گئی ہے اور گوشت بھی ہر حلال اور طیب جانور کا آپ کھاتے تھے۔ پرندوں کا گوشت آپ کو مرغوب تھا اسلئے بعض اوقات جب طبیعت کمزور ہوتی تو تیتر ، فاختہ وغیرہ کے لئے شیخ عبدالرحیم صاحب نو مسلم کو ایسا گوشت مہیا کرنے کو فرمایا کرتے تھے۔ مرغ اور بٹیروں کا گوشت بھی آپ کو پسند تھا۔ مگر بٹیرے جب سے کہ پنجاب میں طاعون کا زور ہوا کھانا چھوڑ دیئے تھے۔ بلکہ منع کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اسکے گوشت میں طاعون پیدا کرنے کی خاصیت ہے۔ اور بنی اسرائیل میں ان کے کھانے سے سخت طاعون پڑی تھی۔ حضور کے سامنے دو ایک دفعہ گوہ کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جائز ہے جس کا جی چاہے کھائے۔ مگر رسول کریم ص نے چونکہ اسکو بہت خوشی سے نہیں کھایا اسلئے میں بھی اس کو مکروہ سمجھتا ہوں۔ اور یہ سنا ہے کہ ہاں گوہاں پکا کر بھی لوگوں نے آپکے مہمان خانہ پر لاکر گھر میں بھی کچھ بچوں اور لوگوں نے گوہ کا گوشت کھایا مگر آپ نے اسے اپنے قریب نہ آنے دیا۔ مرغ کا گوشت ہر طرح کا آپ کھالیتے تھے بھنا ہوا ہو یا بنا ہوا کباب ہو۔ یا پلاؤ۔ مگر اکثر ایک ران پر ہی گذارہ کر لیتے تھے۔ روٹی کی کمی ہو جاتی تھی بلکہ کبھی کچھ بچ بھی رہا کرتا تھا۔ پلاؤ بھی آپ کھاتے تھے مگر ہمیشہ نرم اور گداز اور گلے ہوئے چاولوں کا اور میٹھے چاول تو کبھی خود کہہ کر پکوا لیا کرتے تھے۔ مگر کریلے اور دہی آپ کو پسند نہ تھے، عمدہ کھانے پینے کباب مرغ، پلاؤ یا انڈے اور اسی طرح فیرنی میٹھے چاول وغیرہ کبھی آپ کہہ کر
سیرت المہدی ، جلد دوم صفحہ 132 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 75 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 64)
۱۸۱
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے بیان فرمایا کہ قرآن شریف کی جو آیات بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہیں۔ اور ان پر بہت اعتراض ہوتے ہیں۔ دراصل ان کے نیچے بڑے بڑے معارف اور حقائق کے خزانے ہوتے ہیں۔ اور پھر مثال دیکر فرمایا کہ ان کی ایسی ہی صورت ہے۔ جیسے خزانہ کی ہوتی ہے جس پر سنگین پہرہ ہوتا ہے اور جو بڑے مضبوط کمرے میں رکھا جاتا ہے۔ جس کی دیواریں نہایت موٹی ہوتی ہیں اور دروازے بھی بڑے موٹے اور لوہے سے ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور بڑے بڑے موٹے اور مضبوط قفل ان پر لگائے جاتے ہیں اور اسکے اندر بھی مضبوط آہنی صندوق ہوتے ہیں جن میں خزانہ رکھا ہوتا ہے اور پھر صندوق بھی تہ بہ تہ مقفل اور اندھیری کوٹھڑیوں اور غلافوں میں رکھے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہر شخص وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور نہ اس سے آگاہ ہوسکتا ہے۔ بخلاف ان کشادہ مکانوں کے جو کھلے کمرے ہوتے ہیں۔ دروازوں میں بھی صاف شیشے جڑے ہوتے ہیں۔ جن کیوجہ سے باہر والا شخص بھی اندر نظر ڈال سکتا ہے اور جانور آنا چاہے بآسانی آسکتا ہے ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب جب بٹالہ کی مسجد میں جاتے تھے۔ تو گرمی کے موسم میں کنوئیں سے پانی نکلوا کر ڈول سے ہی منہ لگا کر پانی پیتے تھے۔ اور مٹی کی تازہ ہنڈیا تازہ کٹورے میں پانی پینا آپ کو پسند تھا۔ اور میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب چنے بھنے ہوئے کرارے چبانے پسند کرتے تھے۔ کبھی کبھی مجھ سے منگوا کر مسجد میں ٹہلتے ٹہلتے کھایا کرتے تھے۔ اور سالم مُرغ کا کباب بھی پسند تھا۔ چنانچہ ہوشیار پور جاتے ہوئے ہم ایک مرغ پکوا کر ساتھ لے گئے تھے۔ املی کی چٹنی اور گوشت میں مونگرے بھی آپ کو پسند تھے۔ مگر گوشت کی خوب بھنی ہوئی بوٹیاں بھی مرغوب تھیں۔ چپاتی خوب سکی ہوئی جسکے کنارے سخت ہو جاتے ہوں پسند تھی۔ مگر گوشت کا پتلا شوربہ بھی پسند کرتے تھے۔ جو بہت دیر تک پکتا رہا ہو۔ حتٰی کہ اسکی بوٹیاں خوب گل کر شوربہ میں اس کا عرق نچڑ جاوے یخنی بھی پسند تھی پینا
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 181 ، 182 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 77 پر درج ہے
حوالہ نمبر 64
۱۸۲
جان محمد مرحوم ہمارے واسطے سکنجبین تیار کیا کرتا تھا۔ نیز میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب نے ایکدفعہ یہ بھی فرمایا تھا۔ کہ گوشت زیادہ نہیں کھانا چاہئے۔ جو شخص چالیس دن لگاتار کثرت کے ساتھ صرف گوشت ہی کھاتا رہتا ہے۔ اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ دال سبزی ترکاری کیساتھ بدل بدل کر گوشت کھانا چاہئے، بھیڑ کا گوشت ناپسند فرماتے تھے۔ بینگن چاول، کدو یعنی ٹنڈے سیاہ مرچ میں پکے ہوئے پسند فرماتے تھے ابتداء میں چائے میں دیسی شکر جو گڑ کی طرح ہوتی ہو ، ڈال کر استعمال فرماتے مگر شوربہ کے متعلق فرماتے تھے۔ کہ گاڑھا شوربہ ہم کو پسند نہیں ایسا پتلا کرنا چاہئے کہ ایک آنہ کا گوشت آٹھ آدمی کھائیں ۔ اسوقت ایک آنہ کا سیر خام گوشت آتا تھا ۔
(١٩٨)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کوئی شخص حضرت صاحب کے لئے ایک تسبیح تحفہ لایا وہ تسبیح آپ نے مجھے دیدی اور فرمایا لو اس پر درود شریف پڑھا کرو۔ وہ تسبیح بہت خوبصورت تھی۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ تسبیح کے استعمال کو حضرت مسیح موعود عام طور پر پسند نہیں فرماتے تھے۔
(١٩٩)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب بیان فرماتے تھے کہ قیامت کو ایک شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگا اور اللہ اس سے دریافت کریگا ۔ کہ اگر تو نے کبھی کوئی نیکی کی ہو تو بتا۔ مگر وہ نہیں بتا سکیگا۔ اسپر اللہ یہ فرمائیگا۔ اچھا کیا تو کبھی کسی بزرگ شخص سے ملا تھا ۔ وہ جواب دیگا کہ نہیں اسپر خدا فرمائیگا ۔ اچھی طرح یاد کر کے جواب دے ۔ پھر وہ بولیگا کہ ہاں ایکدفعہ میں ایک گلی میں سے گذر رہا تھا۔ تو میرے پاس سے ایک شخص گزرا تھا۔ جسکو لوگ بزرگ کہتے تھے اللہ تعالیٰ فرمائیگا ۔ جا ہم نے تجھے اسی وجہ سے بخشدیا ۔ میاں عبداللہ کہتے ہیں ۔ کہ حضرت صاحب نے ایک وقت یہ بھی فرمایا تھا۔ کہ جو شخص کسی کامل کے پیچھے نماز پڑھتا ہے تو پیشتر اسکے کہ وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھائے اللہ اسکے گناہ بخشدیتا ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ یہ کوئی مستقل چیز نہیں اخلاص اور حسن نیت شرط ہے (یہ روایت زیادہ تفصیل کے ساتھ حصہ دوم کی روایت نمبر ۲۷۴ میں بھی بیان ہوئی ہے )
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 181 ، 182 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 77 پر درج ہے
حوالہ نمبر 65
۵۱
میں سکنجبین کا شربت بہت استعمال فرمایا تھا۔ مگر پھر چھوڑ دی ۔ ایک دفعہ آپ نے ایک لمبے عرصہ تک کوئی پکی ہوئی چیز نہیں کھائی صرف تھوڑے سے دیسی گھی کیساتھ روٹی لگا کر کھا لیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی مکی کی روٹی بھی پسند کرتے تھے۔ کھانا کھاتے ہوئے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ان میں سے کچھ کھاتے کچھ کچھ چھوڑ دیتے تھے ۔ کھانے کے بعد آپکے سامنے سے بہت سے ریزے اُٹھتے تھے ۔ ایک زمانہ میں آپ نے چائے کا بہت استعمال فرمایا تھا۔ مگر پھر چھوڑ دی ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا ۔ حضرت صاحب کھانا بہت تھوڑا کھاتے تھے۔ اور کھانے کا وقت بھی کوئی خاص مقرر نہیں تھا۔ صبح کا کھانا بعض اوقات بارہ بارہ ایک ایک بجے بھی کھاتے تھے ۔ شام کا کھانا عموماً مغرب کے بعد۔ مگر کبھی کبھی پہلے بھی کھا لیتے تھے۔ غرض کوئی وقت معین نہیں تھا۔ بعض اوقات خود کھانا مانگ لیتے تھے۔ کہ لاؤ کھانا تیار ہے ۔ تو دے دو ۔ پھر میں نے کام شروع کرنا ہے ۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ آپ کس وقت کام کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا ۔ کہ بس سارا دن کام میں ہی گذرتا تھا۔ ۱۰ بجے ڈاک آتی تھی تو ڈاک کا مطالعہ فرماتے تھے۔ اور اس سے پہلے بعض اوقات تصنیف کا کام شروع نہیں فرماتے تھے۔ تاکہ ڈاک کی وجہ سے درمیان میں سلسلہ منقطع نہ ہو۔ مگر کبھی پہلے بھی شروع کر دیتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ حضرت مسیح موعود روزانہ اخبار عام لاہور منگاتے اور باقاعدہ پڑھتے تھے۔ اسکے علاوہ آخری ایام میں اور کوئی اخبار خود نہیں منگاتے تھے ہاں کبھی کوئی بھیج دیتا تھا تو وہ بھی پڑھ لیتے تھے ۔
(۵۷) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ پہلے لنگر کا انتظام ہمارے گھر میں ہوتا تھا۔ اور گھر سے سارا کھانا پک کر جاتا تھا۔ مگر جب آخری سالوں میں زیادہ کام ہو گیا۔ تو میں نے کہہ کر باہر انتظام کروا دیا۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا ۔ کہ کیا حضرت صاحب کسی مہمان کے
سیرت المہدی ، جلد اول صفحہ 51 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 78 پر درج ہے
حوالہ نمبر 66 ۱۸۶
جان محمد مرحوم آپکے واسطے سکنجبین تیار کیا کرتا تھا۔ نیز میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب نے ایکدفعہ یہ بھی فرمایا تھا ۔ کہ گوشت زیادہ نہیں کھانا چاہیئے۔ جو شخص چالیس دن لگاتار گوشت کھائے صرف گوشت ہی کھاتا رہتا ہے۔ اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ دال ، سبزی ، ترکاری کیساتھ بدل بدل کر گوشت کھانا چاہیئے ، بھیڑ کا گوشت ناپسند فرماتے تھے۔ میٹھے چاول ، گُڑ یعنی قند سیاہ میں پکے ہوئے پسند فرماتے تھے ابتداء میں چائے میں دیسی شکر (جو گڑ کی طرح ہوتی ہے ) ڈال کر استعمال فرماتے ۔ گیہوں کے متعلق فرماتے تھے۔ کہ کاٹھیا گیہوں ہم کو پسند نہیں، پیسا چھنا ہونا چاہیئے کہ ایک آدھ چھٹانک آٹا اُڑ جایا کرے۔ اُسوقت ایک آنہ کا سیر خام گوشت آتا تھا۔
(۱۶۸)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کوئی شخص حضرت صاحب کے لئے ایک تسبیح تحفہ لایا۔ وہ تسبیح آپ نے مجھے دیدی اور فرمایا کہ اس پر درود شریف پڑھا کرو۔ وہ تسبیح بہت خوبصورت تھی۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ تسبیح کے استعمال کو حضرت مسیح موعود عام طور پر پسند نہیں فرماتے تھے۔
(۱۶۹)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب بیان فرماتے تھے کہ قیامت کو ایک شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگا اور اللہ اس سے دریافت کریگا۔ کہ اگر تو نے کبھی کوئی نیکی کی ہو تو بتا۔ مگر وہ نہیں بتا سکیگا۔ اسپر اللہ تعالیٰ فرمائیگا۔ اچھا کیا تو کبھی کسی بزرگ شخص سے ملا تھا۔ وہ جواب دیگا کہ نہیں اسپر خدا فرمائیگا۔ اچھی طرح یاد کر کے جواب دے اسپر وہ بولیگا کہ ہاں ایکدفعہ میں ایک گلی میں سے گزر رہا تھا۔ تو میرے پاس سے ایک شخص گزرا تھا۔ جسکو لوگ بزرگ کہتے تھے اللہ تعالیٰ فرمائیگا ۔ جا ہم نے تجھے اسی وجہ سے بخش دیا۔ میاں عبداللہ کہتے ہیں ۔ کہ حضرت صاحب نے ایک وقت یہ بھی فرمایا تھا ۔ کہ جو شخص کسی کامل کے پیچھے نماز پڑھتا ہے تو پیشتر اسکے کہ وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھائے خدا اسکے گناہ بخشدیتا ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ یہ کوئی منتر جنتر نہیں اخلاص اور صحت نیت شرط ہے (یہ روایت زیادہ تفصیل کے ساتھ حصہ دوم کی روایت ۲۷۵ میں بھی بیان ہوئی ہے )
سیرت المہدی جلد اول صفحہ 182 از مرزا بشیر احمد
یہ حوالہ صفحہ 78 پر درج ہے
حوالہ نمبر 67
١٢٨
اصحاب بھی موزوں پر بھی مسح کر لیا کرتے تھے جس میں سے ان کی انگلیوں کے پوٹے باہر نکلے رہا کرتے ۔
جوتی آپ کی دیسی ہوتی۔ خواہ کسی وضع کی ہو۔ پشاوری ۔ لاہوری ۔ لدھیانوی سلیم شاہی ہر وضع کی پہن لیتے مگر ایسی جو کھلی کھلی ہو۔ انگریزی بوٹ کبھی نہیں پہنا۔ گرگابی حضرت صاحب کو پہنے پہنے نہیں دیکھا ۔
جوتی اگر تنگ ہوتی تو اس کی ایڑی بٹھا لیتے۔ مگر ایسی جوتی کے ساتھ باہر تشریف نہیں لیجاتے تھے۔ لباس کے ساتھ ایک چیز کا اور بھی ذکر کر دیتا ہوں وہ یہ کہ آپ عصا ضرور رکھتے تھے۔ مگر کیا ہاں جب مسجد مبارک میں روزانہ نماز کو جانا ہوتا۔ تب تو نہیں مگر مسجد اقصیٰ کو جانے کے وقت یا جب باہر سیر وغیرہ کے لئے تشریف لاتے تو ضرور ہاتھ میں ہوا کرتا تھا۔ اور بڑی موٹی اور مضبوط لکڑی کو پسند فرماتے مگر کسی پر سہارا یا بوجھ دیکر نہ چلتے تھے جیسے اکثر ضعیف العمر آدمیوں کی عادت ہوتی ہے ۔
موسم سرما میں ایک دوشالہ لیکر آپ مسجد میں نماز کے لئے تشریف لایا کرتے تھے جو اکثر آپ کے کندھے پر پڑا ہوا ہوتا تھا۔ اور اسے اپنے آگے ڈال لیا کرتے تھے جب تشریف رکھتے تو پھر پیروں پر ڈال لیتے ۔
کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ ۔ صدری ۔ ٹوپی ۔ عمامہ رات کو اتار کر تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے ۔ اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں پہنا ہوتا لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پر ٹانگ دیتے ہیں وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے دبے جاتے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا دشمن ان کو دیکھ لے تو سر پیٹ لے ۔
موسم گرما میں دن کو بھی اور رات کو تو اکثر آپ کپڑے اتار دیتے اور صرف چادر یا لنگی باندھ لیتے گرمی دانے بعض دفعہ بہت نکل آئے تو اس کی خاطر بھی کرتہ اتار دیا کرتے۔ تہہ بند اکثر نصف ساق تک ہوتا تھا۔ اور گھٹنوں سے اوپر ایسی حالتوں میں مجھے یاد نہیں کہ آپ برہنہ ہوئے ہوں ۔
آپ کے پاس کچھ کنجیاں بھی رہتی تھیں۔ یہ یا تو رومال میں یا اکثر ازار بند میں باندھ کر رکھتے روئی دار کوٹ پہننا آپ کی عادت میں داخل تھا ۔ نہ ایسی رضائی اوڑھ کر باہر تشریف لاتے بلکہ چادر پشمینہ یا دُھسّہ استعمال کرتے تھے اور وہ بھی سر پر کبھی نہیں اوڑھتے تھے بلکہ کندھوں اور
یہ حوالہ صفحہ 78 پر درج ہے سیرت المہدی ، جلد دوم صفحہ 128 از مرزا بشیر احمد
حوالہ نمبر 68 ۵۵
تھے تو ناک سے بہت رطوبت بہتی تھی۔ حضرت صاحب اُٹھتے اور جایا کر ان کو گلے لگا لیں۔ تاکہ ان کا شک دُور ہو مگر وہ اس وجہ سے کہ ناک بہہ رہا تھا۔ پرے پرے کھنچتے تھے۔ حضرت صاحب سمجھتے تھے۔ کہ شاید اسے تکلیف ہے اسلیئے دُور ہٹتا ہے چنانچہ کافی دیر تک یہی ہوتا رہا کہ حضرت صاحب ان کو اپنی طرف کھینچتے تھے اور وہ پَرے پَرے کھنچتے تھے اور چونکہ ہمیں معلوم تھا کہ اصل بات کیا ہے اسلئے ہم پاس کھڑے ہنستے تھے
(۵۴)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہم چھوٹے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خواہ کام کر رہے ہوں، یا کسی اور حالت میں ہوں ہم آپ کے پاس چلے جاتے تھے۔ کہ ابا پیسہ دو اور آپ اپنے رومال سے پیسہ کھول کر دے دیتے تھے۔ اگر ہم کسی وقت کسی بات پر زیادہ اصرار کرتے تھے۔ تو آپ فرماتے تھے کہ میاں مَیں اس وقت کام کر رہا ہوں ۔ زیادہ تنگ نہ کرو ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ آپ معمولی نقدی وغیرہ اپنے رومال میں جو بڑے سائز کا ململ کا بنا ہوا ہوتا تھا باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا کنارہ واسکوٹ کے ساتھ پھنسا لیتے یا کاج میں بندھوا لیتے تھے۔ اور چابیاں ازار بند کے ساتھ باندھتے تھے۔ جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا۔ اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں۔ کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا اسلیئے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جائے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازار بند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی۔ تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی ۔
(۶۶)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت صاحب کو سل ہوگئی اور چھ ماہ تک بیمار رہے۔ اور بڑی نازک حالت ہو گئی۔ حتیٰ کہ زندگی سے ناامیدی ہو گئی چنانچہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے چچا آپکے پاس آکر بیٹھے۔ اور کہنے لگے کہ دُنیا میں یہی حال ہے۔ سبھی نے مرنا ہے۔ کوئی آگے گزر جاتا ہے۔ کوئی پیچھے جاتا ہے اس لیئے
یہ حوالہ صفحہ 79 پر درج ہے سیرت المہدی ، جلد اول صفحہ 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے
(حوالہ نمبر 69)
۱۱۰
اور کسی قدر بیان کی بے احتیاطی کی بھی گنجائش رکھی جائے۔ تو پھر بھی یہ واقعہ بہت تعجب کے قابل ہے۔
۶۵۰ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بیان کیا۔ ایک دفعہ ایام جلسہ میں میرے ڈیرہ پر جہاں اب مدرسہ تعلیم الاسلام ہے۔ حضور علیہ السلام تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر گئے۔ ایک دوست نے چادر بچھا دی۔ جس کو پنجابی میں لوئی کہتے ہیں۔ اس پر حضور علیہ السلام بیٹھ گئے۔ مگر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو ابھی بچہ تھے کھڑے رہے۔ اس پر حضور علیہ السلام نے دیکھ کر فرمایا۔ میاں محمود تم بھی بیٹھ جاؤ۔ اس پر آپ چادر پر بیٹھ گئے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا عام طریق یہ تھا۔ کہ یا تو اپنے بچوں کو صرف نام لے کر بلاتے تھے۔ اور یا خالی میاں کا لفظ کہتے تھے۔ میاں کے لفظ اور نام کو ملا کر یوں مجھے یاد نہیں مگر ممکن ہے کسی موقعہ پر ایسا بھی کہا ہو۔
۶۵۱ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بیان کیا۔ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اوّلؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا۔ کہ فلاں غیر احمدی مولوی حضرت صاحبزادہ صاحب (یعنی حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) کے متعلق رسالہ تَشْحِیذُ الْاَذْہَان میں پڑھ کر لکھتا ہے کہ مرزا صاحب کے بعد ان کا بیٹا ان کی دکان چلائیگا۔ حضور علیہ السلام نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف نظر اُٹھا کر صرف دیکھا۔ اور زبانی کچھ نہ فرمایا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دُعا فرما رہے ہیں۔
۶۵۲ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاجاموں میں مَیں نے اکثر ریشمی ازار بند پڑا ہوا دیکھا ہے۔ اور ازار بند پر کنجیوں کا گچھا بندھا ہوتا تھا۔ ریشمی ازار بند کے متعلق بعض اوقات فرماتے تھے۔ کہ ہمیں پیشاب کثرت سے اور جلدی جلدی آتا ہے۔ تو ایسے ازار بند کے کھولنے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔
۶۵۳ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ ایک دفعہ حکیم فضل دین صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا۔ کہ حضور مجھے قرآن پڑھایا کریں۔ آپ نے فرمایا۔ اچھا۔ وہ چاشت کے قریب مسجد مبارک میں آجاتے اور حضرت صاحب انکو
سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد یہ حوالہ صفحہ 79 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 70)
۱۸۰
کہ میں پھر نو گاؤں میں چلا جاؤں اور بڑی بیقراری سے عرض کیا۔ حضور نے فرمایا۔ جلدی نہیں کرنی چاہیئے اپنے وقت پر یہ خود ہو جائیگا۔ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں۔ کہ کچھ عرصہ بعد میرا تبادلہ غوث گڑھ میں ہو گیا۔ جہاں میرا اتنا دل لگا کہ نو گاؤں کی خواہش دل سے نکل گئی۔ اور میں نے حضرت کے فرمان کی یہ تاویل کر لی کہ چونکہ غوث گڑھ بھی مسلمانوں کا گاؤں ہے اور اسمیں مسجد ہے۔ اور یہاں میرا دل بھی خوب لگ گیا ہے اس لیئے حضرت کے فرمان کے یہی معنی ہونگے۔ جو پورے ہو گئے۔ مگر کچھ عرصہ بعد نو گاؤں کا حلقہ خالی ہوا۔ اور تحصیلدار نے میری ترقی کی سفارش کی اور لکھا کہ ترقی کی یہ صورت ہو کہ مجھے علاوہ غوث گڑھ کے نو گاؤں کا حلقہ بھی جو دس روپے سالانہ کا تھا۔ دیدیا جائے۔ اور دو نوں حلقوں کی تنخواہ یعنے بائیس روپے مجھے دی جاوے۔ یہ سفارش مہاراج سے منظور ہو گئی اور اس طرح میرے پاس غوث گڑھ اور نو گاؤں دونوں حلقے آگئے۔ اور ترقی بھی ہو گئی۔ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص ابتلائی فعل تھا۔ ورنہ نو گاؤں غوث گڑھ سے پندرہ کوس کے فاصلہ پر ہے اور درمیان میں کئی غیر حلقے ہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ غوث گڑھ کا تمام گاؤں میاں عبداللہ صاحب کی تبلیغ سے احمدی ہو چکا ہے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ یہ تمام دیہات ریاست پٹیالہ میں واقع ہیں۔
﴿۱۹۷﴾ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی ۔ حضرت صاحب اسکو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے۔ زنجیر نہیں لگاتے تھے۔ اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا۔ تو گھڑی نکال کر ایک کے ہندسے یعنی عدد سے گنکر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ رکھ کر ہندسے گنتے تھے۔ اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے اور گھڑی دیکھتے ہی وقت نہ پہچان سکتے تھے ۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ آپ کا جیب سے گھڑی نکال کر اسطرح وقت شمار کرنا مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا تھا ۔
یہ حوالہ صفحہ 80 پر درج ہے سیرت المہدی، حصہ اول صفحہ 180 از مرزا بشیر احمد ایم۔اے
حوالہ نمبر 61
۲۴۲
رکھا۔ بیمار ہو گیا۔ مگر اُس کے بعد ۲۹ روزے پورے رکھے۔ تکلیف نہیں ہوئی۔ تب میرے لئے خوشی کی عید تھی۔ روزے کے خاص برکات ہوتے ہیں جیسا کہ ہر میوے میں جُدا ذائقہ ہے۔ ایسا ہی ہر عبادت میں جُدا لذت ہے۔ ان عبادات میں رُوحانیت ہے۔ جس کو انسان بیان نہیں کر سکتا۔ اگر شوق ہو، تو آلام اور تکلیف کم ہو جاتی ہے۔ چاہیئے کہ عبادت میں انسان کی رُوح نہایت درجہ رقیق ہو کر پانی کی طرح بہ کر خدا سے جاملے۔
جماعت کی ترقی
فرمایا :۔ ہماری جماعت کو چاہیئے۔ کہ نیکی میں فرشتوں کی طرح ہو جائے خدا نے اُن کے لئے ترقی کے بہت سے سامان رکھے ہیں۔ اور وعدہ کیا ہے۔ کہ جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ ۔ سب سے بہتر یہ جماعت ہے، جس نے ہم کو دیکھا۔ اور ہماری باتوں کو سُنا۔ خدا کی طرف رجوع کر کے کوئی شخص ذلیل نہیں ہوتا۔ بدکاروں کی گالیاں سُننا اُنکے کسی ذلت کا موجب نہیں۔ جو شخص سچے دل سے خدا کی طرف آتا ہے۔ وہی حقیقی عزت حاصل کرتا ہے۔
مسیح موعود کا کام کیا تھا
۱۸ جنوری ۱۹۰۶ء کو جبکہ میں قادیان کے ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر تھا۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت بابرکت میں ایک رقعہ لکھا تھا۔ جس کا اصل بمعہ جواب درج کرنا مناسب ہے ۔ امید ہے کہ ناظرین کی دلچسپی کا موجب ہو گا۔ رقعہ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم حضرت اقدس مرشدنا و مہدینا مسیح موعود السّلام علیک و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ صاحبزادہ میاں محمود احمد کا نام برائے امتحان (مڈل) آج ارسال کیا جائیگا۔
ذکر حبیب صفحہ 244، 245 از مفتی محمد صادق قادیانی یہ حوالہ صفحہ 80 پر درج ہے
حوالہ نمبر 71
۲۴۵
جس فارم کی خانہ پُری کرنی ہے۔ اس میں ایک خانہ ہے کہ اس لڑکے کا باپ کیا کام کرتا ہے۔ میں نے وہاں لفظ نبوت لکھا ہے۔ کان میں طنین ہوتا ہے۔ گولیوں کا کھانا اگر مناسب ہو، تو ارسال فرمائیں حضور کو بار بار تکلیف دیتے بھی شرم آتی ہے۔ اگر مناسب ہو، تو اس کا نسخہ تحریر فرمائیں۔ میں خود بنالوں ۔ والسلام حضور کی جوتیوں کا غلام ۔ محمد صادق عفا اللہ عنہ ۱۷۔ جنوری ۱۹۰۵ء
جواب اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ ۔ نبوت کوئی کام نہیں۔ یہ لکھ دیں ۔ کہ فرقہ احمدیہ جو تین لاکھ کے قریب ہے ۔ اس کے پیشوا اور امام ہیں۔ اصلاح قوم کام ہے۔ غلام احمد عفی عنہ پس میں نے اُس فارم پر حضرتؑ کا نام یوں لکھا :۔ National Reformation and leadership of Ahmadiyya. sect (300,000 members.)
نُورانی نوٹ بک ۱۹۰۵ء
ساری اُمت عیسیٰ بن جائے
فرمایا :۔ ”آج کل کے مسلمان عیسیٰ کو امتی بنانا چاہتے ہیں۔ اور ہم ساری اُمت کو عیسیٰ بنانا چاہتے ہیں۔ یہی فرق ہم میں اور اُن میں ہے“
نوٹ۔ ؎ ایک دفعہ میں بیمار ہو گیا تھا۔ معدہ میں کچھ خرابی تھی۔ بخار ہو جاتا تھا۔ حضرت صاحب (مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام) ایک نسخہ کے تازہ اجزاء ہر روز منگوا کر ایک گولی اپنے دست مبارک سے بنا کر مجھے بھیجتے تھے۔ اس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی۔ اسکے اجزاء مجھے اس وقت معلوم نہ تھے۔ بعد میں حضرت صاحب نے مجھے بتلا دیئے تھے ۔ (صادق)
ذکر حبیب صفحہ 244، 245 از مفتی محمد صادق قادیانی یہ حوالہ صفحہ 80 پر درج ہے
حوالہ نمبر 72
۱۶۱
یہاں ایک پنکھا لگا لینا چاہیئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ۔ پنکھا تو لگ سکتا ہے۔ اور پنکھا ہلا نیوالے کا بھی انتظام کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جب ٹھنڈی ہوا چلے گی تو بے اختیار نیند آنے لگیگی اور ہم سو جائیں گے تو یہ مضمون کیسے ختم ہو گا (اس وقت حضرت صاحب ایک رسالے کا مضمون لکھ رہے تھے ۔)
گرمی میں بھی کام جاری رکھتے
ایک دفعہ جب سخت گرمی پڑی ، تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک مضمون لکھا جس میں گرمی کا اظہار کرتے ہوئے ، اور گرمی کے سبب کام نہ کر سکنے کی معذرت کرتے ہوئے یہ الفاظ بھی لکھ دیئے ۔ کہ "گرمی ایسی سخت ہے۔ کہ اس کے سبب سے خدا کی مشین بھی بند ہو گئی ہے ۔" اس میں مولوی صاحب مرحوم نے اس امر کی طرف اشارہ کیا تھا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی شدت گرمی کے سبب کام چھوڑ دیا ہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ مضمون سُنا۔ تو آپؑ نے فرمایا ۔ کہ یہ تو غلط ہے ہم نے تو کام نہیں چھوڑا :
پہاڑ پر جانا
ایک دفعہ کسی دوست نے عرض کی ۔ کہ گرمی بہت ہے ۔ حضورؑ کسی پہاڑ پر تشریف لے چلیں ۔ فرمایا ۔ ہمارا پہاڑ تو قادیان ہی ہے۔ یہاں چند روز دھوپ تیز ہوتی ہے۔ تو پھر بارش بھی آجاتی ہے :
سب کا جنازہ پڑھ دیا
قاضی سیّد امیر حسین صاحب کا ایک چھوٹا بچہ فوت ہونے پر جنازے کیساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی تشریف لے گئے۔ اور خود ہی جنازہ پڑھایا ۔ عموماً جنازے کی نماز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگر موجود ہوتے ، تو خود ہی امامت کرتے ۔ اسوقت
ذکر حبیب صفحہ 161 از مفتی محمد صادق قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 81 پر درج ہے
حوالہ نمبر 73
۲۲
بڑھاپے میں کیا طلاق لونگی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے۔ میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ محمدی بیگم کا سوال اُٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا، بلکہ ان کے ساتھ رہیں، تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دیدی خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا جو آپ نے ۲ مئی ۱۸۹۱ء کو شائع کیا تھا اور جسکی سُرخی تھی "اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین" اس میں آپ نے بیان فرمایا تھا کہ اگر مرزا سلطان احمد اور ان کی والدہ اس امر میں مخالفانہ کوشش سے الگ نہ ہونگے۔ تو پھر آپ کی طرف سے مرزا سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہونگے اور ان کی والدہ کو آپ کی طرف سے طلاق ہوگی والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ فضل احمد نے اس وقت اپنے آپ کو عاق ہونے سے بچا لیا، نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس واقعہ کے بعد ایک دفعہ مرزا سلطان احمد کی والدہ بیمار ہوئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی، میں انہیں دیکھنے کے لیئے گئی۔ واپس آکر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا، کہ بچے کی ماں بیمار ہے۔ اور یہ تکلیف ہے۔ آپ خاموش رہے۔ میں نے دوسری دفعہ کہا تو فرمایا میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں۔ یہ دے آؤ۔ مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام نہ لینا، والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ اور بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارۃً کنایۃً مجھ پر ظاہر کیا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کا نام درمیان میں نہ آئے اپنی طرف سے کبھی کچھ مدد کر دیا کروں سو میں کر دیا کرتی تھی +
(۴۴)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم، بیان کیا مجھ سے شیخ عبدالرحمٰن صاحب مصری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز ظہر کے بعد مسجد میں بیٹھ گئے۔ ان دنوں میں آپ نے شیخ سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق لکھا تھا کہ یہ ابتر رہیگا اور اس کا بیٹا جو اب موجود ہے، وہ نامرد ہے، گویا اس کی اولاد آگے نہیں چلیگی
سیرت المہدی جلد اول صفحہ 34، 35 از مرزا بشیر احمد
یہ حوالہ صفحہ 81 پر درج ہے
حوالہ نمبر 73 ۳۵
خاکسار عرض کرتا ہے کہ سعداللہ سخت معاند تھا اور حضرت مسیح موعود کے خلاف بہت بیہودہ گوئی کیا کرتا تھا ، مگر ابھی آپ کی یہ تحریر شائع نہ ہوئی تھی۔ اسوقت مولوی محمد علی صاحب نے آپ سے عرض کیا ۔ کہ ایسا لکھنا قانون کے خلاف ہے ۔ اس امر کا اگر مقدمہ کر دے تو پھر اثبات کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے ۔ کہ وہ واقعی نامرد ہے ۔ حضرت صاحب پہلے نرمی کے ساتھ مناسب طریق پر جواب دیتے رہے۔ مگر جب مولوی محمد علی صاحب نے بار بار پیش کیا ۔ اور اپنی رائے پر اصرار کیا تو حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے غصے کے لہجہ میں فرمایا :۔ جب نبی ہتھیار لگا کر باہر آجاتا ہے تو پھر ہتھیار نہیں اتارتا ۔
(۴۳)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے والد صاحب اوائل میں تعلیم کے لئے باہر گئے ۔ تو شاید دہلی کی بات ہے کہ وہ ایک مسجد میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ چونکہ زاد ختم ہو گیا تھا۔ کئی وقت فاقے گزر گئے تھے ۔ آخر کسی نے ان کو طالب علم سمجھ کر ایک چپاتی دی ۔ جو بوجہ باسی ہو جانے کے خشک ہو کر نہایت سخت ہو چکی تھی ۔ والد صاحب نے لے لی ۔ مگر ابھی کھائی نہ تھی ۔ کہ آپ کا ساتھی جو قادیان کا کوئی شخص تھا ۔ اور اس پر بھی اسی طرح فاقہ تھا ۔ بولا ۔ " مرزا جی ساڈا وی حصہ رکھنا " یعنے مرزا صاحب ہمارا بھی خیال رہے ۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ اسپر والد صاحب نے وہ چپاتی اسکی طرف پھینک دی ۔ جو اتفاق سے اسکے ناک کے اوپر لگی ۔ اور لگتے ہی وہاں سے ایک خون کی نالی بہ نکلی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ والدہ صاحبہ نے بیان کیا ۔ کہ ساتھی بھی قادیان کا کوئی مغل تھا ۔ مگر حضرت خلیفۃ المسیح ثانی بیان کرتے ہیں ۔ کہ میں نے حضرت صاحب سے سنا ہے کہ وہ کوئی نائی یا میراثی تھا ۔ چنانچہ حضرت صاحب لطیفہ کے طور پر بیان فرماتے تھے ۔ کہ ان لوگوں کو ایسے موقعہ پر بھی مفت کی بات ہی سوجھتی ہے ۔
(۴۴)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہارے
یہ حوالہ صفحہ 81 پر درج ہے
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 34 ، 35 از مرزا بشیر احمد
حوالہ نمبر 74
۵۴
پاجامہ اتار کر تہ بند باندھ لیتے تھے اور عموماً کرتہ بھی اُتار کر سوتے تھے نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود جب رفع حاجت کے بعد طہارت سے فارغ ہوتے تھے۔ تو اپنا ہاتھ مٹی سے مل کر پانی سے دھوتے تھے ۔
(۶۲)
بسم الله الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض اوقات گھر میں بچوں کو بعض کہانیاں بھی سنایا کرتے تھے ۔ چنانچہ ایک بڑے بھلے کی کہانی بھی آپ عموماً سناتے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک بُرا آدمی تھا اور ایک اچھا آدمی تھا ۔ اور دونوں نے اپنے رنگ میں کام کئے اور آخر کار برے آدمی کا انجام بُرا ہوا اور اچھے کا اچھا ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک بینگن کی کہانی بھی آپ سناتے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا ۔ کہ ایک آقا تھا اُسنے اپنے نوکر کے سامنے بینگن کی تعریف کی تو اسنے بھی بہت تعریف کی چند دن کے بعد آقا نے مذمت کی ۔ تو نوکر بھی مذمت کرنے لگا ۔ آقا نے پوچھا یہ کیا بات ہے کہ اُسدن تو تو تعریف کرتا تھا ۔ اور آج مذمت کرتا ہے ۔ نوکر نے کہا۔ میں تو حضور کا نوکر ہوں ۔ بینگن کا نوکر نہیں ہوں ۔ ٭
(۶۳)
بسم الله الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ ہم تینوں بھائیوں نے مل کر ایک ہوائی بندوق کے منگانے کا ارادہ کیا ۔ مگر ہم فیصلہ نہ کر سکتے تھے کہ کونسی منگوائیں ۔ آخر ہم نے قرعہ لکھ کر حضرت صاحب سے قرعہ اُٹھوایا ۔ اور جو بندوق نکلی وہ ہم نے منگائی اور پھر اس سے بہت شکار کیا (یہ ۲۲ بور کی بی ۔ ایس اے ائیر رائفل تھی )
(۶۴)
بسم الله الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایکدفعہ ہم گھر کے بچے ملکر حضرت صاحب کے سامنے میاں شریف احمد کو چھیڑنے لگ گئے ۔ کہ ابّا کو تم سے محبت نہیں ہے اور ہم سے ہے میاں شریف بہت چڑتے تھے ۔ حضرت صاحب نے ہمیں روکا بھی کہ زیادہ تنگ نہ کرو مگر ہم بکنے لگے رہے ۔ آخر میاں شریف رونے لگ گئے ۔ اور انکی عادت تھی کہ جب روتے
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 54 ، 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 82 پر درج ہے
حوالہ نمبر 74
۵۵
تھے تو ناک سے بہت رطوبت بہتی تھی۔ حضرت صاحب اُٹھتے اور چاہا کہ پکڑ کر گلے لگا لیں، تاکہ ان کا شک دُور ہو مگر وہ اِس وجہ سے کہ ناک بہہ رہا تھا۔ پرے پرے کھسکتے تھے۔ حضرت صاحب سمجھتے تھے کہ شاید اسے تکلیف ہے اسلئے دُور ہٹتا ہے چنانچہ کافی دیر تک یہی ہوتا رہا کہ حضرت صاحب ان کو اپنی طرف کھینچتے تھے اور وہ پرے پرے کھسکتے تھے اور چونکہ ہمیں معلوم تھا کہ اصل بات کیا ہے اسلئے ہم پاس کھڑے ہنستے تھے
(۴۵)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہم بچے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خواہ کام کر رہے ہوں، یا کسی اور حالت میں ہوں ہم آپ کے پاس چلے جاتے تھے۔ کہ ابا پیسہ دو اور آپ اپنے رومال سے پیسہ کھول کر دے دیتے تھے۔ اگر ہم کسی وقت کسی بات پر زیادہ اصرار کرتے تھے ۔ تو آپ فرماتے تھے کہ میاں مَیں اس وقت کام کر رہا ہوں ۔ زیادہ تنگ نہ کرو۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ آپ معمولی نقدی وغیرہ اپنے رومال میں جو بڑے سائز کا ململ کا بنا ہوا ہوتا تھا باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا کنارہ واسکٹ کے ساتھ لٹکا لیتے یا کاج میں باندھوا لیتے تھے۔ اور چابیاں ازاربند کے ساتھ باندھتے تھے۔ جو بوجہ کہ بعض اوقات لٹک آتا تھا۔ اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں ۔ کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازاربند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا اسلئے ریشمی ازاربند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جائے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازاربند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑجاتی تھی۔ تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی ۔
(۴۶)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت صاحب کو سل ہو گئی اور چھ ماہ تک بیمار رہے۔ اور بڑی نازک حالت ہو گئی ۔ حتیٰ کہ زندگی کی نا امیدی ہو گئی۔ چنانچہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے چچا آپکے پاس آکر بیٹھے ۔ اور کہنے لگے کہ دُنیا میں یہی حال ہے۔ سبھی نے مرنا ہے۔ کوئی آگے گزر جاتا ہے۔ کوئی پیچھے جاتا ہے اس لیئے
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 54 ، 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 82 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 75)
دیباچہ ٩ براہین احمدیہ حصہ پنجم
کہ باوجود صدہا عوائق اور موانع کے محض خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد نے اِس حصّہ کو خلعتِ وجود بخشا۔ چنانچہ اس حصہ کے چند اوائل ورق کے ہر ایک صفحہ کے سر پر نصرت الحق لکھا گیا مگر پھر اس خیال سے کہ تا یاد دلایا جائے کہ یہ وہی براہین احمدیہ ہے جس کے پہلے چار حصے طبع ہو چکے ہیں بعد اسکے ہر ایک سر صفحہ پر براہین احمدیہ کا حصہ پنجم لکھا گیا۔ پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفاء کیا گیا۔ اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اسلئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا ۔
دوسرا سبب اس التوا کا جو پچیس برس تک حصہ پنجم ملتوی رہا ۔ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ اُن لوگوں کے دلی خیالات ظاہر کرے جن کے دل مرضِ بدگمانی میں مبتلا تھے اور ایسا ہی ظہور میں آیا۔ کیونکہ اسقدر دیر کے بعد خام طبع لوگ بدگمانی میں بڑھ گئے۔ یہاں تک کہ بعض ناپاک فطرت گالیوں پر اُتر آئے اور چار حصے اس کتاب کے جو طبع ہو چکے تھے کچھ تو مختلف قیمتوں پر فروخت کئے گئے تھے اور کچھ مفت تقسیم کئے گئے تھے۔ پس جن لوگوں نے قیمتیں دی تھیں اکثر نے گالیاں بھی دیں اور اپنی قیمت بھی واپس لی ۔ اگر وہ اپنی جلد بازی سے ایسا نہ کرتے تو اُن کے لئے اچھا ہوتا۔ لیکن اس قدر دیر سے اُن کی فطری حالت آزمائی گئی ۔
اس دیر کا ایک یہ بھی سبب تھا کہ تا خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر ظاہر کرے کہ یہ کاروبار اُس کی مرضی کے مطابق ہے اور یہ تمام الہام جو براہین احمدیہ کے حصصِ سابقہ میں لکھے گئے ہیں یہ اُسی کی طرف سے ہیں نہ انسان کی طرف سے۔ کیونکہ اگر یہ کتاب خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق نہ ہوتی اور یہ تمام الہام اُس کی طرف سے نہ ہوتے تو یہ امر خدائے عادل و قدوس کی عادت کے برخلاف تھا کہ جو شخص
براہین احمدیہ حصہ پنجم ، دیباچہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 9 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 83 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 6)
۴۸۷
اور ثابت قدمی اور رُوحانی زندگی اور استقامت اور اخلاق نبوت عطا کرتا ہے۔ اسلئے وہ معمولی دُنیا داروں کی طرح اس مالی صدمہ کی برداشت نہ کرسکے اور اسی غم سے دن بدن کوفتہ ہو کر انکی رُوح تحلیل ہوتی گئی۔ یہانتک کہ یہ مُردار دُنیا جسکو وہ بڑا مدعا سمجھتے تھے۔ ایک دم میں ان سے جدا ہو گیا۔ گویا وہ کبھی دُنیا میں نہیں آئے تھے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ جیسا کہ غموم اور صدمۂ مالی کے وقت میں بدنی کمزوری ان سے ظہور میں آئی۔ اور اس مصیبت سے غشی بھی ہو گئی اور آخر اسی میں انتقال فرماگئے۔ ایسا ہی دُوسرے پہلو کی وجہ سے یعنے جب انکو دُنیا کی عزت اور مرتبت اور عروج اور ناموری حاصل ہوئی۔ تو ان ایّام میں بھی اُن سے اس دوسرے رنگ میں سخت کمزوری ظہور میں آئی۔ انکے وقت میں خدا نے یہ آسمانی سلسلہ پیدا کیا۔ مگر اُنھوں نے اپنی دُنیوی عزت کی وجہ سے اس سلسلہ کو ایک ذرّہ عظمت کی نظر سے نہیں دیکھا۔ بلکہ اپنے ایک خط میں کسی اپنے رُوشناس کو لکھا کہ شخص جو ایسا دعویٰ کرتا ہے۔ بالکل ہیچ ہے اور اسکی تمام کتابیں لغو اور بے سود اور باطل ہیں۔ اور اس کی تمام باتیں ناراستی سے بھری ہوئی ہیں۔ حالانکہ سرسیّد صاحب اِس بات سے بکُلّی محروم رہے کہ کبھی میرے کسی چھوٹے سے رسالہ کو بھی اوّل سے آخر تک دیکھیں۔ وہ غصے کے وقت میں دُنیوی رعونت سے ایسے مدہوش تھے کہ ہر ایک کو اپنے پیروں کے نیچے کچلتے تھے اور یہ دکھلاتے تھے کہ گویا انکو دُنیوی حیثیت کے رُو سے ایسا عروج ہے کہ انکا کوئی بھی ثانی نہیں۔ ہنسی اور ٹھٹھا کرنا اکثر انکا شیوہ تھا۔ جب میں ایکدفعہ علیگڑھ میں گیا۔ تو مجھ سے بھی اسی رعونت کی وجہ سے جس کا تخم پودہ انکے دل میں مستحکم ہو چکا تھا ہنسی ٹھٹھا کیا۔ اور یہ کہا کہ آؤ۔ میں مُرید بنتا ہوں کہ آپ مُرشد بنیں اور حیدر آباد میں چلیں اور کچھ نبوتی کرامات
۳۳۹
یہ حوالہ صفحہ 85 پر درج ہے تریاق القلوب صفحہ 339، 340 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 467، 468 از مرزا قادیانی
Back
حوالہ نمبر 76
۴۶۸
۱۵۱ دکھائیں اور میں تعریف کرتا پھروں گا۔ تب ریاست اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے ایک لاکھ روپیہ دے دیگی۔ اس میں دو حصے میرے اور ایک حصہ آپ کا ہوگا۔ گویا اس تقریر میں وہ ٹھگ جو سادھو کہلاتے ہیں مجھے قرار دیا۔ ایسا ہی اور کئی باتیں تھیں جن کا اب انکی وفات کے بعد لکھنا بے فائدہ ہے۔ اس قدر تحریر سے غرض یہ ہے کہ اس پہلو کی کمزوری بھی ان میں موجود تھی جو دولت اور عزت اور ناموری تک پہنچکر تکبر اور نخوت اور رعونت اور خود پسندی کے رنگ میں ظہور میں آتی ہے۔ اور یہ اُن کا قصور نہیں ہے بلکہ ہر ایک دنیا دار کا یہی حال ہے کہ وہ دو قسم کی کمزوری اپنے اندر رکھتا ہے۔ مثلاً ایک شخص جو مولوی کے خطاب سے مشہور ہے۔ وہ اپنے تئیں مولوی کہلا کر نہیں چاہتا کہ دُوسرے کا عزت سے نام بھی لے۔ بلکہ اسکی بڑی مہربانی ہوگی۔ اگر وہ دُوسرے کو منشی بھی کہہ دے۔ بہت سے دولتمند رئیس یا مسلمان حکام ہیں۔ وہ اس بات کو اپنے لئے سخت عار سمجھتے ہیں کہ کسی کو السلام علیکم کا جواب دیں اور اگر کوئی السلام علیکم کہے تو بہت بُرا مانتے ہیں۔ اور اگر ممکن ہو تو سزا دیں۔ یہ تمام کمزوری کے طریق ہیں۔ اور اس کو چراغ نبوت سے روشنی لینے والے اخلاقی کمزوری سے نامزد کرتے ہیں۔ غرض سید احمد خاں صاحب کی موت بھی آخر کمزوری کی وجہ سے ہوئی۔ خدا اُن پر رحم کرے۔
اب ہم اس اشتہار مورخہ ۱۶۔ مارچ ۱۸۹۷ء کو جس میں سید احمد خاں صاحب کی موت کی نسبت پیشگوئی ہے۔ بعینہٖ اس جگہ درج کر دیتے ہیں۔ اور یہ اشتہار لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہو چکا ہے۔ اور ہم بہت سے لوگوں کو قبل از وقت زبانی کہہ چکے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے معلوم کرا دیا ہے۔ کہ اب عنقریب سید صاحب فوت ہو جائیں گے۔ اور اشتہار ۲۰۔ فروری ۱۸۸۶ء
۴۳۰
تریاق القلوب صفحہ 339، 340 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 467، 468 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 85 پر درج ہے
حوالہ نمبر 77 تتمہ ۵۹۰ حقیقۃ الوحی
مگر جو وجود لوگوں کے لئے مفید ہے میں اُسکو دیر تک رکھوں گا۔ تجھے ایسا غلبہ دیا جائیگا جس کی تعریف ہو گی اور کاذب کا خدا دشمن ہے اُس کو جہنّم میں پہنچائے گا۔ ایک مومن ہے میں اُسکو ظاہر کرونگا۔ اور لوگوں کے سامنے اُس کو عزت دُونگا۔ لیکن جس نے میرا گناہ کیا ہے میں اُس کو گھسیٹوں گا اور اُسکو دوزخ دکھلاؤں گا۔ میرا دشمن ہلاک ہو گیا اور اب معاملہ اُس کا خدا سے جا پڑا یعنی ہلاک ہو جائیگا۔ اے چاند اور اے سُورج تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے عنقریب خدا تجھے وہ انعام دیگا کہ تو راضی ہو جائے گا۔
یہ وہ الہامات ہیں جو عصائے موسیٰ کے الہامات شایع ہونے کے بعد مجھ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ۱۵۴ اس چھ برس کی مُدت میں ہوئے جب سے کتاب عصائے موسیٰ تصنیف ہو کر شایع ہوئی ہے۔ اُسی وقت سے یہ الہامات شروع ہوئے اور یہ سب الہامات بابو صاحب کی موت سے پہلے کے ہیں۔ اب ناظرین عصائے موسیٰ کے الہامات اور اُن الہامات کا مقابلہ کر کے خود ہی بتلاویں کہ انجام کار یہ الہامات سچے ہوئے یا بابو الٰہی بخش صاحب کے الہام سچے ہوئے۔ ایک منصف کیلئے تو یہ مقابلہ کافی ہے۔ اِسی سے سچا جھوٹا معلوم ہو جاتا ہو اور اگر نیت میں صفائی نہیں تو ایسے شخص کا فیصلہ خدا تعالیٰ خود کریگا۔
نشان نمبر ۱۹۹ و ۲۰۰ و ۲۰۱۔ قادیان کے آدمیوں نے محض مجھے دُکھ دینے اور بدزبانی کرنے کے لئے ایک اخبار قادیان میں نکالا تھا جس کا نام شحنہ چبک رکھا تھا۔ اور ایڈیٹر اور منتظم اسکے تین آدمی تھے۔ ایک کا نام سومراج۔ دُوسرے کا نام مُکھر چند۔ تیسرے کا نام جگت رام تھا۔ ان تینوں کی موت سے خدا کے تین نشان ظاہر ہوئے یہ تینوں نہایت درجہ موذی اور ظالم تھے۔ جس شخص نے اُن کے اخبار شحنہ چبک کے چند پرچے دیکھے ہونگے وہ اِس بات کا اقرار کریگا کہ یہ تمام پرچے بدزبانی اور گند اور افتراء سے بھرے ہوئے ہیں، چنانچہ اخبار مذکور کے پرچہ ۲۲؍ اپریل ۱۹۰۴ء میں میری نسبت لکھا ہو کہ یہ شخص خود پرست ہے نفس پرست ہے فاسق ہے فاجر ہے۔ اِس واسطے گندی اور ناپاک خوابیں اِس کو آتی ہیں۔ پھر پرچہ ۵؍ مئی ۱۹۰۴ء میں لکھا ہے۔ قادیانی مسیح کے الہاموں اور اسکی پیش گوئیوں کی
حقیقۃ الوحی (تتمہ) صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 591.590 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 85 پر درج ہے
حوالہ نمبر 77 حقیقۃ الوحی ۵۹۱ تتمہ
اصلیت طشت از بام کرنے کا ذمہ اٹھانے والا ایک ہی پرچہ شحنہ ہند ہے۔ مرزا قادیانی بد اخلاق۔ شہرت کا خواہاں۔ شکم پرور ہے اور پھر پرچہ ۲۲ مئی ۱۹۰۶ء میں میری نسبت لکھتا ہے کہ محنت کرنے سے عار رکھنے والا۔ مکار اور فریب اور جھوٹ میں مشتاق۔ اور پھر پرچہ ۲۶ دسمبر ۱۹۰۶ء میں لکھتا ہے کہ ہم اسکی چالاکیوں کو ضرور طشت از بام کرینگے اور ہمیں امید بھی ہے کہ ہم اپنے ارادہ میں ضرور کامیاب ہونگے۔ اور پرچہ ۲۲ نومبر ۱۹۰۶ء میں لکھا ہے مرزا مکار اور جھوٹ بولنے والا ہے مرزا کی جماعت کے لوگ بد چلن اور بد معاش ہیں۔ غرض ہر ایک پرچہ ان کا ناپاک گالیوں سے بھرا ہوا نکلتا رہا ہے۔ ۱۵۳ میں نے کئی مرتبہ جناب الٰہی میں دعائیں کیں کہ خدا اس اخبار کے کارکنوں کو نابود کر کے اس فتنہ کو درمیان سے اٹھائے چنانچہ کئی مرتبہ مجھے یہ خبر دی گئی کہ خدا تعالیٰ ان کی بیخکنی کریگا۔ زیادہ تر میرے پر ناگوار یہ امر تھا کہ چونکہ یہ لوگ قادیان میں رہتے تھے اس لئے ان کے قرب مکانی کی وجہ سے ان کے جھوٹ کو بطور سچ کے دیکھا جاتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے خود بھی اپنے اخبار یکم مارچ ۱۹۰۷ء میں محض دھوکا دینے کے لئے یہ شایع کیا ہے کہ ہم نے ..... پندرہ سال تک متواتر پہلو بہ پہلو ایک ہی قصبہ میں ان کے ساتھ رہ کر اُن کے حال پر غور کی تو اسی غور کے بعد ہمیں یہی معلوم ہوا کہ یہ شخص درحقیقت مکار۔ خود غرض۔ عشرت پسند۔ بد زبان۔ وغیرہ وغیرہ ہے!! اب ظاہر ہے کہ جو لوگ پندرہ سال کی ہمسائیگی کا دعویٰ کر کے یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص درحقیقت مکار اور مفتری ہے ایسے لوگوں کی گواہی کا کس قدر دلوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ پھر اسی پرچہ میں لکھا ہے کہ نشان تو ہم نے اس مدت تک کوئی نہیں دیکھا البتہ یہ دیکھا ہے کہ یہ شخص ہر روز جھوٹے الہام بناتا ہے اور ایک لاثانی بیوقوف ہے۔ پس یہی باعث تھا کہ مجھے ان لوگوں کے حق میں بد دعائیں کرنی پڑیں۔ آخر میں نے ایک رسالہ لکھا جس کا نام ہے قادیان کے آریہ اور ہم اس رسالہ کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ قادیان کے دو آریہ جن میں سے ایک کا نام شرمپت اور دوسرے کا نام ہے ملاوا مل۔ یہ
حقیقۃ الوحی (تتمہ) صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 590، 591 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 85 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 78)
۳۵۹
کی پیشگوئی پوری ہوئی۔
آئینہ کمالات اسلام کے شائقین کیلئے اطلاع
اس وقت ایک کتاب آئینہ کمالات اسلام نام سے تالیف کی ہے جس میں بڑی تحقیق و تدقیق سے اسلام اور قرآن کریم کی خوبیوں اور کمالات کا بیان ہے۔ اور علاوہ اس کے مخالفین مذہب کے عقاید باطلہ کا رد ہے اور فرقہ نیچریہ کے خیالات باطلہ کا بھی اچھی طرح استیصال کیا گیا ہے ضخامت اس کی ساڑھے چھ سو صفحہ سے زیادہ ہے قیمت دوروپیہ اور محصول علاوہ ہے۔ اور ماسوا اس کے مفصلہ ذیل کتب بھی موجود ہیں۔ فتح اسلام ، توضیح مرام، ازالۃ اوہام محصول علاوہ ہے اور فتح اسلام اور توضیح مرام کی قیمت آٹھ آٹھ آنہ تھی۔ اب ہم نے چار چار آنہ کم کر دیئے ہیں۔
المشتہر مرزا غلام احمد قادیان ضلع گورداسپورہ پنجاب ( مطبوعہ ریاض ہند پریس قادیان)
مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 359 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 86 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 79)
۱۱۸
۴۱
اشتہار
چونکہ رسالہ سراج منیر جو پیشگوئیوں پر مشتمل ہو گا چودہ سو روپیہ کی لاگت سے چھپے گا۔ اس لیے چھپنے سے پہلے خریداروں کی درخواستیں آنا ضروری ہے۔ تا بعد میں دقتیں پیدا نہ ہوں۔ قیمت اس رسالہ کی ایک روپیہ علاوہ محصول ہوگی۔ لہٰذا اطلاع دی جاتی ہے کہ جو صاحب پختہ ارادہ سے سراج منیر کو خریدنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی درخواست معہ پتہ سکونت وغیرہ کے ارسال فرمائیں۔ جب ایک حصہ کافی درخواستوں کا آ جائے گا تو فی الفور کتاب کا طبع ہونا شروع ہو جائے گا۔ والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ۔
خاکسار غلام احمد از قادیان
جن صاحبوں کو اس رسالہ کی ضرورت ہو وہ اپنا نام معہ پتہ ونشان نقشہ ذیل میں لکھ دیں
نمبر شمار نام پتہ ونشان العبد ۱ ۲ ۳ ۴ ۵ ۶ ۷ ۸ ۹ ۱۰
اطلاع ضروری ۔ ایک کتاب جواب مسمی شحنہ حق جس میں ویدک فلاسفی اور آریہ مذہب کی حقیقت صاف صاف اور کافی طور سے کھول دی گئی ہے۔ چھپ کر تیار ہو چکی ہے۔ قیمت اس کتاب کی ۱۲ ؍ علاوہ محصول ڈاک مقرر ہوئی ہے جس صاحب کو منظور ہو بارسال قیمت نقد یا ویلیو پے ایبل پارسل طلب کرے۔ ( یہ اشتہار ۲۶ تاریخ دسمبر سنہ ۱۸۹۰ء کے ایک پرچہ کا ہے )
مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 118 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 87 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 80)
۴
اشتہار کتاب آئینہ کمالات اسلام
یا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ اے ایماندارو اگر تم اللہ تعالیٰ کی مدد کرو تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔
واضح ہو کہ یہ کتاب جس کا نام کمالات اسلام ہے ۔ ان دنوں میں اس عاجز نے اس غرض سے لکھی ہے کہ تا دنیوی لوگوں کو قرآن کریم کے کمالات معلوم ہوں اور اسلام کی اعلیٰ تعلیم سے ان کو اطلاع ملے اور میں اس بات سے شرمندہ ہوں کہ میں نے یہ کہا کہ میں نے اسکو لکھا کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اوّل سے آخر تک اسکے لکھنے میں آپ مجھ کو عجیب در عجیب مددیں دی ہیں اور وہ عجیب لطائف و نکات اس میں بھر دیئے ہیں کہ جو انسان کی معمولی طاقتوں سے بہت بڑھ کر ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اُس نے یہ اپنا ایک نشان دکھلایا ہے تاکہ معلوم ہو کہ وہ کیونکر اسلام کی غربت کے زمانہ میں اپنی خاص تائیدوں کے ساتھ اُس کی حمایت کرتا ہے اور کیونکر ایک عاجز انسان کے دل پر تجلی کر کے لاکھوں آدمیوں کے منصوبوں کو خاک میں ملاتا اور انکے حملوں کو پاش پاش کر کے دکھلا دیتا ہے۔ مجھے یہ بڑی خواہش ہے کہ مسلمانوں کی اولاد اور اسلام کے شرفاء کی ذریت جن کے سامنے نئے علوم کی لغزشیں دن بدن بڑھتی جاتی ہیں۔ اس کتاب کو دیکھیں۔ اگر مجھے وسعت ہوتی تو میں تمام ہند کو مفت بطریق ہدیہ تقسیم کرتا۔ عزیزو ! یہ کتاب قدرتِ حق کا ایک نمونہ ہے اور انسان کی معمولی کوششیں جو بخود اس قدر ذخیرہ معارف کا پیدا نہیں کر سکتیں۔ اس کی ضخامت چھ سو صفحہ کے قریب ہے اور کاغذ عمدہ اور کتابت خوشخط اور قیمت دو روپیہ اور محصول علاوہ ہے اور یہ صرف ایک حصہ چھاپہ ہوا ہے اور دوسرا حصہ الگ طبع ہوگا اور قیمت اسکی الگ ہوگی۔ نیز علاوہ حقائق و معارف قرآنی اور لطائف کتاب ربّ عزیز کے ایک وافر حصہ اُن پیشگوئیوں کا بھی موجود ہے جن کو اُوّل سراجِ منیر میں شائع کرنے کا ارادہ تھا۔ اور میں اِس بات پر راضی ہوں کہ اگر خریداران کتاب میری اِس تعریف کو خلافِ واقعہ پاویں تو کتاب مجھے واپس کر دیں میں بلا توقف اُنکی قیمت واپس بھیج دوں گا۔ لیکن یہ شرط ضروری ہے کہ کتاب کو دو ہفتے کے اندر واپس کریں اور دست مالیدہ اور داغی نہ ہو۔
اخیر میں یہ بات بھی لکھنا چاہتا ہوں کہ اِس کتاب کی تحریر کے وقت دو دفعہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مجھ کو ہوئی اور اُنہوں نے اِس کتاب کی تالیف پر بہت مسرت ظاہر کی اور ایک رات یہ بھی دیکھا کہ ایک فرشتہ بلند آواز سے لوگوں کے وفود کو اِس کتاب کی طرف بلاتا ہے اور کہتا ہے هٰذَا کِتَابٌ مُّبَارَکٌ فَقُوْمُوْا لِلْاِجْلَالِ وَالْاِکْرَامِ یعنے یہ کتاب مبارک ہے اسکی تعظیم کیلئے کھڑے ہو جاؤ۔ اب ہر طالب حق پر واضح ہو کہ جو صاحب اس کتاب کو خریدنا چاہیں وہ بلا توقف مصمم ارادہ سے اطلاع بخشیں تا کہ کتاب بذریعہ ویلیو پے ایبل اُن کی خدمت میں روانہ کی جائے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ ۔ خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب
مطبوعہ ریاض ہند قادیان ۶۵۲
یہ حوالہ صفحہ 87 پر درج ہے آئینہ کمالات اسلام صفحہ 652 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 652 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 81
۲۱۸
تو دوسرا دعویٰ خود چھوڑ دوں گا۔ اور ان تمام نشانوں کی پروا نہیں کروں گا جو میرے اس دعوے کے مصدق ہیں کیونکہ قرآن کریم سے کوئی حجت بڑھ کر نہیں۔ وما عندنا شئی الا کتاب الله وان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والرسول فبای حدیث بعد اللہ و اٰیاتہ یؤمنون ۔ میں ایک ہفتہ تک اس اشتہار کے شایع ہونے کے بعد حضرات موصوفہ کے جواب باصواب کا انتظار کروں گا۔ اور اگر وہ شرائط مذکورہ بالا کو منظور کر کے مجھے طلب کریں تو جس جگہ چاہیں میں حاضر ہو جاؤں گا۔ والسلام علی من اتبع الہدیٰ۔
اور کتاب ازالۃ اوہام کے خریداروں پر واضح ہو کہ میں بلی ماروں کے بازار میں کوٹھی لوہارو والی میں فروکش ہوں اور ازالۃ اوہام کی جلدیں میرے پاس موجود ہیں ۔ جو صاحب تین روپیہ قیمت داخل کریں ۔ وہ خرید سکتے ہیں ۔ والسلام
المشتہر خاکسار غلام احمد قادیانی حال وارد دہلی بازار بلیماران کوٹھی نواب لوہارو ۔ ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء
مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 218 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 88 پر درج ہے
حوالہ نمبر 82
۵۰
اشتہار ضروری
کتاب براہین احمدیہ کی قیمت جو بالفعل دس روپیہ قرار پائی ہے وہ صرف مسلمانوں کے لیے کمال درجہ کی تخفیف اور رعایت ہے کہ جن کو بشرط وسعت اور طاقت مال کے اعانت دین متین میں کسی نوع کا دریغ نہیں۔ لیکن جو صاحب کسی اور مذہب یا ملت کے پابند ہو کر اس کتاب کو خریدنا چاہیں تو چونکہ اعانت کی ان سے کچھ توقع نہیں لہذا ان سے وہ پوری پوری قیمت لی جائے گی جو حصہ اولیٰ کے اعلان میں شایع ہو چکی ہے۔
المشـــــــــــــــــــــــــــــــــتہر
مؤلف براہین احمدیہ
اشتہار بر ٹائٹل براہین احمدیہ حصہ دوم ۱۸۸۴ء مطبوعہ سفیر ہند پریس لاہور
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 50 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 88 پر درج ہے
حوالہ نمبر 83 حقیقة الوحی
بھی پیش کرتے ہیں کہ وہ سچی بھی ہو گئیں۔ تو ایسے تناقض اور باہمی تکذیب اور انکار کو دیکھ کر وہ لوگ سخت دھوکہ کھاتے ہیں کیونکہ جب خدا ایک ہے تو کیونکر ممکن ہے کہ وہ زید کو ایک الہام کرے اور پھر بکر کو اُسکے مخالف کہے اور پھر خالد کو کچھ اور ہی سنا دے۔ اسلئے نادانوں کو خدا کے وجود میں ہی شک پڑتا ہے۔ غرض یہ امور عام لوگوں کیلئے گھبراہٹ کی جگہ ہیں اور اُنکی نظر میں سلسلۂ نبوت اس سے مشتبہ ہو جاتا ہے اور اس مقام میں عام لوگوں کو حیرت میں ڈالنے والا ایک اور امر بھی ہے اور وہ یہ کہ بعض فاسق اور فاجر اور زانی اور ظالم اور غیر متدین اور چور اور حرامخور اور خدا کے احکام کے مخالف چلنے والے بھی ایسے دیکھے گئے ہیں کہ اُن کو بھی کبھی کبھی سچی خوابیں آتی ہیں اور یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بعض عورتیں جو قوم کی چوہڑی یعنی بھنگن تھیں جن کا پیشہ مُردار کھانا اور ارتکاب جرائم کام تھا۔ انہوں نے ہمارے رُوبرو بعض خوابیں بیان کیں اور وہ سچی نکلیں۔ اس سے بھی عجیب تر یہ کہ بعض زانیہ عورتیں اور قوم کے کنجر بھی جن کی رات زنا کاری کام تھا اُن کو دیکھا گیا کہ بعض خوابیں اُنہوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہو گئیں۔ اور بعض ایسے ہندوؤں کو بھی دیکھا کہ نہایت شرک سے ملوث اور اسلام کے سخت دشمن ہیں بعض خوابیں اُنکی جیسا کہ دیکھا تھا ظہور میں آئیں۔ چنانچہ میں اس رسالہ کی تحریر کے وقت ایک قادیان کا ہندو میرے پاس آیا جو قوم کا کھتری تھا اُس نے بیان کیا کہ فلاں سب پوسٹماسٹر کو میں نے دیکھا تھا کہ تبدیلی اُسکی ہو کر پھر ملتوی رہ گئی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اُس ہندو نے مختلف وقتوں میں میرے پاس بیان کیا کہ کئی اور خوابیں بھی میری سچی ہو گئی ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ ایسے بیانات اُسکی کیا غرض تھی اور کبھی وہ بار بار اپنی خوابیں مجھے سُناتا تھا کیونکہ وید کی رُو سے تو خوابوں اور الہاموں پر مہر لگ گئی ہے۔ ایسا ہی ایک بڑا بدذات چور اور زانی بھی جو ہندو تھا اور قید میں ڈالا گیا تھا جیل سے رہائی پا کر کسی اتفاق سے مجھے ملا اور مجھے یاد ہے کہ کسی جُرمِ سرقہ وغیرہ میں اُس کو کئی سال کی قید ہوئی تھی۔ اُس کا بیان ہے کہ جس صبح کو عدالت سے قید کی سزا کا حکم مجھے دیا جانا تھا جس حکم کی بظاہر کچھ بھی اُمید نہ تھی۔ رات کو خواب میں میرے پر بظاہر کیا گیا کہ میں قید کیا جاؤں گا۔ سو ایسا ہی ظہور
حقیقة الوحی صفحہ 3، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 5 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 88 پر درج ہے
حوالہ نمبر 84 حقیقة الوحی ۳۴۲ نشانات صداقت
اس لئے دُعا کی گئی۔ ۵۔ مارچ ۱۸۹۵ء کو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اُس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا مَیں نے اُس کا نام پوچھا۔ اُس نے کہا نام کچھ نہیں۔ مَیں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اُس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی ٹیچی۔ پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنیوالا۔ تب میری آنکھ کھل گئی۔ بعد اس کے خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا ڈاک کے ذریعہ سے اور کیا براہِ راست لوگوں کے ہاتھوں سے اس قدر مالی فتوحات ہوئیں جن کا خیال و گمان نہ تھا اور کئی ہزار روپیہ آگیا چنانچہ جو شخص اسکی تصدیق کیلئے صرف ڈاک خانہ کے رجسٹر ہی ۵ مارچ ۱۸۹۵ء سے ۳۳۲ آخر سال تک دیکھے اُس کو معلوم ہو گا کہ کس قدر روپیہ آیا تھا۔
یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ آنیوالا ہو۔ یا اور چیزیں تحائف کے طور پر ہوں اُن کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب کے مجھ کو دیدیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔
۴۸م نشان ۔ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ میں نعمت اللہ ولی کا وہ قصیدہ دیکھ رہا تھا جس میں اُس نے میرے آنے کی بطور پیشگوئی خبر دی ہے اور میرا نام بھی لکھا ہے اور بتلایا ہے کہ تیرھویں صدی کے اخیر میں وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا اور میری نسبت یہ شعر لکھا ہے کہ:۔
یعنی وہ آنیوالا مہدی بھی ہوگا اور عیسیٰ بھی ہوگا دونوں ناموں کا مصداق ہوگا اور دونوں طور کے دعوے کریگا۔ پس اِس اثناء میں مَیں یہ شعر پڑھ رہا تھا عین پڑھنے کیوقت مجھے یہ الہام ہوا :۔
یعنی مَیں دیکھتا ہوں کہ مولوی سید محمد حسن امروہی اِسی غرض کیلئے اپنی نوکری سے جو ریاست بھوپال میں تھی علیحدہ ہو گئے تا خدا کے مسیح موعود کے پاس حاضر ہوں اور اُسکے دعوے کی تائید کے لئے خدمت بجالاوے اور یہ ایک پیشگوئی تھی جو بعد میں نہایت صفائی سے ظہور میں آئی۔
۳۲۹
حقیقة الوحی صفحہ 332 ، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 346 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 89 پر درج ہے
حوالہ نمبر 85 ۵۵۶
ایسے میں گویا خدا تعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ سو ہر ایک شخص کو چاہیے کہ اس نئے انتظام کے بعد نئے سرے عہد کر کے اپنی خاص تحریر سے اطلاع دے کہ وہ ایک فرض حتمی کے طور پر اس قدر چندہ ماہواری بھیج سکتا ہے ۔ مگر چاہیے کہ اس میں لاف گزاف نہ ہو جیسا کہ پہلے بعض سے ظہور میں آیا کہ اپنی زبان پر وہ قائم نہ رہ سکے ۔ سو انہوں نے خدا کا گناہ کیا جو عہد کو توڑا ۔ اب چاہیے کہ ہر ایک شخص سوچ سمجھ کر اس قدر ماہواری چندہ کا اقرار کرے جس کو وہ دے سکتا ہے گو ایک پیسہ ماہواری ہو۔ مگر خدا کے ساتھ فضول گوئی اور دروغ گوئی کا برتاؤ نہ کرے ۔ ہر ایک شخص جو مرید ہے اسی کو چاہیے جو اپنے نفس پر کچھ ماہواری مقرر کر دے خواہ ایک پیسہ ہو اور خواہ ایک دھیلہ اور جو شخص کچھ بھی مقرر نہیں کرتا اور نہ جسمانی طور پر اس سلسلہ کے لیے کچھ بھی مدد دے سکتا ہے وہ منافق ہے ۔ اب اس کے بعد وہ سلسلہ میں رہ نہیں سکے گا ۔ اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر ایک بیعت کرنے والے کے جواب کا انتظار کیا جائے گا کہ وہ کیا کچھ ماہواری چندہ اس سلسلہ کی مدد کے لیے قبول کرتا ہے ۔ اور اگر تین ماہ تک کسی کا جواب نہ آیا تو سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا اور مشتہر کر دیا جائیگا ۔ اگر کسی نے ماہواری چندہ کا عہد کر کے تین ماہ تک چندہ کے بھیجنے سے لاپرواہی کی اس کا نام بھی کاٹ دیا جائے گا ۔ اور اس کے بعد کوئی مغرور اور لاپروا جو انصار میں داخل نہیں اس سلسلہ میں ہرگز نہیں رہیگا ۔ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰی ۔ المشـــــــــــــــــــــــــــــــــــتہر میرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان ضلع گورداسپور ۵ مارچ ۱۹۰۲ء
تتمہ
بدیہی ہے کہ مدرسہ کا قیام اور بقا بھی جو کہ بہت سے مصالح پر مبنی ہے ۔ لہٰذا زبس ضروری ہے کہ
۱؎ تقسیم اشتہارات کا یہ قاعدہ ہے کہ ہر ایک شہر میں چند اشتہار ایک آدمی کی طرف بھیجے جاتے ہیں ۔ پس ہر ایک صاحب کو جن کے پاس ان اشتہارات کا پیکٹ پہنچے لازم ہے کہ وہ اپنے شہر اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو جو سلسلہ بیعت میں داخل ہیں اس اشتہار کا مضمون بخوبی سمجھا کر بضروری مقاصد اس چندہ کا لے ۔ پھر ان تمام لوگوں کے ناموں کی ایک فہرست مرتب کر کے بھیج دے اگر وہ لوگ خواندہ ہوں تو ان کے دستخط بھی کرا دے ۔ منہ
اشتہارات جلد دوم صفحہ 556 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 89 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 86)
۵۸۲
۱۲؍ دسمبر ۱۹۰۵ء
ایک رؤیا اور ایک الہام
رؤیا دیکھا کہ ایک چڑا اور ایک مُرغی ہے۔ وہ کچھ بولتی ہے۔ سب فقرات یاد نہیں رہے۔ مگر آخری فقرہ جو یاد رہا یہ تھا : اِنْ کُنْتُمْ مُسْلِمِیْنَ (ترجمہ) اگر تم مسلمان ہو۔ اس کے بعد بیداری ہوئی۔ یہ خیال تھا کہ مُرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں۔ پھر الہام ہوا : اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اِنْ کُنْتُمْ مُسْلِمِیْنَ (ترجمہ) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو ۔ اگر تم مسلمان ہو ۔ فرمایا کہ :۔ مُرغی کا خطاب اور الہام کا خطاب ہر دو جماعت کی طرف تھے۔ دونوں فقروں میں ہماری جماعت مخاطب ہے۔ چونکہ آجکل روپیہ کی ضرورت ہے۔ لنگر میں بھی خرچ بہت ہے اور عمارت پر بھی بہت خرچ ہو رہا ہے اس واسطے جماعت کو چاہئیے کہ اس حکم پر توجہ کریں۔
پرندوں میں انفاق فی سبیل اللہ کا سبق
فرمایا :۔
مُرغی اپنے عمل سے دکھاتی ہے کہ کس طرح انفاق فی سبیل اللہ کرنا چاہئیے۔ چونکہ وہ انسان کی خاطر اپنی ساری جان قربان کرتی ہے اور انسان کے واسطے ذبح کی جاتی ہے۔ اسی طرح مرغی نہایت محنت اور مشقت کے ساتھ ہر روز انسان کے واسطے انڈا دیتی ہے۔
ایسا ہی ایک پرند کی مہمان نوازی پر ایک حکایت ہے کہ ایک درخت کے نیچے ایک مسافر کو رات آگئی۔ جنگل کا ویرانہ اور سردی کا موسم۔ درخت کے اوپر ایک پرند کا آشیانہ تھا۔ نر اور مادہ آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ یہ غریب الوطن آج ہمارا مہمان ہے اور سردی زدہ ہے۔ اس کے واسطے ہم کیا کریں؟ سوچ کر ان میں یہ صلاح قرار پائی کہ ہم اپنا آشیانہ توڑ کر نیچے پھینک دیں اور وہ اس کو جلا کر آگ تاپے؛ چنانچہ انہوں نے کہا کہ یہ بھوکا ہے، اس کے واسطے کیا دعوت تیار کی جائے۔ اور تو کوئی چیز
ملفوظات جلد چہارم، صفحہ 582 طبع جدید، از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 90 پر درج ہے
حوالہ نمبر 87
۲۵۷
کو بھی ان دنوں میں خارش کی تکلیف ہو گئی تھی ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ نانی جان
(۲۶۳)
ہے اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ ان کا مہر میر صاحب کی تجویز پر گیارہ سو روپیہ مقرر ہوا تھا خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے نانا جان صاحب کا نام میر ناصر نواب ہے ۔ میر صاحب خواجہ میر درد صاحب کے قریبی خاندان میں سے ہیں اور پنجاب کے محاورہ میں مخدوم تھے ۔ اور قریباً عرصہ پچیس سال ہوئے وفات پا گئے ہیں شروع شروع میں میر صاحب نے حضرت مسیح موعود کی کچھ مخالفت کی تھی ۔ لیکن جلد ہی تائب ہو کر بیعت میں شامل ہو گئے ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ جب میں
(۲۶۴)
خلیفہ محمد حسین صاحب وزیر پٹیالہ کے مصاحبوں اور ملاقاتیوں میں ایک مولوی عبدالعزیز صاحب ہوتے تھے ۔ جو کہ موضع لدھیانہ کے رہنے والے تھے ۔ ان کا ایک دوست تھا ۔ جو بڑا امیر کبیر اور صاحب جائیداد تھا ۔ اور لاکھوں روپے کا مالک تھا مگر اُسکے کوئی لڑکا نہ تھا ۔ جو اُس کا وارث ہوتا اُس نے مولوی عبدالعزیز صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب سے میرے لئے دُعا کروائو کہ میرے لڑکا ہو جاوے مولوی عبدالعزیز نے مجھے بُلا کر کہا کہ ہم تمھیں کرایہ دیتے ہیں ۔ تم قادیان جائو اور مرزا صاحب سے اس بارہ میں خاص طور پر دُعا کے لئے کہو ۔ چنانچہ میں قادیان آیا ۔ اور حضرت صاحب سے سارا ماجرا عرض کر کے دُعا کیلئے کہا ۔ آپ نے اسکے جواب میں ایک تقریر فرمائی ۔ جس میں دُعا کا فلسفہ بیان کیا اور فرمایا کہ محض رسمی طور پر دُعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دینا تو دُعا نہیں ہوتی بلکہ اسکے لئے ایک خاص قلبی کیفیت کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے جب کوئی کسی کے لئے دُعا کرتا ہے تو اُسکے لئے ان دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ یا تو اس شخص کیساتھ کوئی ایسا گہرا تعلق اور رابطہ ہو کہ اُسکی خاطر دل میں ایک خاص ہمدردی و گداز پیدا ہو جائے ۔ جو دُعا کے لئے ضروری ہے اور یا اس شخص نے کوئی ایسی دینی خدمت کی ہو کہ جسپر دل دُعا کے لئے اُٹھے ۔ مگر یہاں نہ تو ہم اس شخص کو جانتے ہیں ۔ اور نہ اس نے کوئی دینی خدمت کی ہے کہ اس کے لئے ہمارا دل پگھلے پس آپ جا کر اُسے یہ کہیں ۔ کہ وہ اسلام کی خدمت کے لئے ایک لاکھ روپیہ دے یا اپنے گائوں کی پختہ مسجد بنوا دے ہم اس کیلئے دعا کرینگے ۔ اور ہم یقین رکھتے ہیں ۔ کہ پھر اللہ اسے ضرور لڑکا دیگا ۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے جا کر یہی جواب دیدیا ۔ مگر وہ خاموش ہو گیا ۔ اور آخر وہ شخص لاولد ہی مرگیا ۔ اور اسکی جائداد اسکی بیوہ زوجہ کے رشتہ داروں میں کئی جھگڑوں اور مقدموں کے بعد تقسیم ہو گئی ۔
سیرت المہدی جلد اول صفحہ 257 از مرزا بشیر احمد
یہ حوالہ صفحہ 90 پر درج ہے
حوالہ نمبر 88
۲۱۵ سیرۃ المہدی حصہ سوم
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی خیر بخش صاحب اب کچھ عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں۔ ان کا گاؤں تھونڈی بھمبیاں قادیان سے چار میل کے فاصلہ پر جانب غرب واقع ہے۔ اور خدا کے فضل سے اس گاؤں کا بیشتر حصہ احمدی ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۷۹۰ ایک مرتبہ ایک عرب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بیٹھا ہوا افریقہ کے ہندؤوں کے اور افریقین لوگوں کے انوکھے قصے سنانے لگا۔ حضرت صاحب بیٹھے ہوئے سنتے رہے۔ آپ نہ تو کبیدہ خاطر ہوئے اور نہ ہی اس کو ان لغو قصوں کے بیان کرنے سے روکا کہ میرا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ بلکہ اس کی دلجوئی کے لئے اخیر وقت تک خندہ پیشانی سے سنتے رہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ۷۹۱ کہ ایک دفعہ ایام جلسہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت کچھ علیل تھی۔ مگر جب آپ نے سیر فرمانے کے وقت دیکھا کہ بہت سے لوگ آگئے ہیں۔ اور سننے کی خواہش سے آئے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ چونکہ دوست سننے کی نیت سے آئے ہیں۔ اس لئے اب اگر کچھ بیان نہ کروں تو گناہ ہو گا۔ لہذا آج کچھ بیان کرونگا۔ اور فرمایا ۔ لوگوں میں اطلاع کردیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ۷۹۲ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ ہم اپنے گاؤں میں دو شخص احمدی ہیں کیا ہم جمعہ پڑھ لیا کریں۔ حضور نے مولوی محمد احسن صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا ۔ کیوں مولوی صاحب؟ اس پر مولوی صاحب نے کہا ۔ جمعہ کے لئے جماعت شرط ہے۔ اور حدیث شریف سے ثابت ہے کہ دو شخص بھی جماعت ہیں۔ لہذا جائز ہے۔ حضور علیہ السلام نے اس شخص سے فرمایا کہ فقہاء نے کم از کم تین آدمی لکھے ہیں۔ آپ جمعہ پڑھ لیا کریں۔ اور تیسرا آدمی اپنے بیوی بچوں میں سے شامل کر لیا کریں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی۔ اے نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب ۷۹۳ مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا ۔ کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں شاہ نشین پر رونق افروز تھے۔ میں نے عرض کی کہ بعض لوگوں نے میرے سامنے اعتراض کیا تھا کہ پنڈت لیکھرام اور عبداللہ آتھم کی پیشگوئیاں خدا کی طرف سے نہیں تھیں بلکہ انسانی دماغ اور منصوبہ
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 215 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 91 پر درج ہے
حوالہ نمبر 89
۳۸ کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آخری سفر میں لاہور جانے کا ارادہ فرمایا۔ اور سامان اور سواری وغیرہ کا انتظام ہو چکا۔ تو رات کو میاں شریف احمد صاحب کو بخار ہو گیا حضور کو رات کے وقت یہ الہام ہوا مباش ایمن از بازی روزگار“ جو آپ نے صبح کو سنایا۔ آپ نے حکم دیا کہ آج کا جانا ملتوی کرو کل کو دیکھا جائیگا۔ اور حضور علیہ السلام نے پہلے بھی لکھ دیا ہوا تھا کہ مجھکو اللہ تعالیٰ سے مطلع کیا جا چکا ہے کہ اب میری عمر قریب الاختتام ہے۔ دوسرے روز حضور تشریف لے گئے اور وہاں لاہور میں ہی حضور کا انتقال ہوا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس فارسی الہام کے یہ معنی ہیں کہ زندگی کی چال سے امن میں نہ رہ کہ یہ دھوکہ دینے والی چیز ہے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ لاہور جا کر حضرت صاحب کو اپنی وفات کے متعلق اُس سے بھی زیادہ واضح الہام ہوئے تھے۔ مثلاً ایک الہام یہ تھا کہ مکن تکیہ برعمر ناپائدار“ یعنی اس ناپائیدار عمر پر بھروسہ نہ کر کہ یہ اب ختم ہو رہی ہے۔ اور ایک الہام جو غالباً آخری الہام تھا یہ تھا کہ الرحیل ثُمَّ الرحیل یعنی اب کوچ کا وقت آگیا ہے کوچ کا وقت آگیا ہے۔ اس الہام کے چار پانچ روز کے بعد آپ انتقال فرما گئے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
- ۵۳۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ سفر ملتان کے
دوران میں حضرت صاحب ایک رات لاہور میں شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کے ہاں بطور مہمان ٹھہرے تھے۔ ان دنوں لاہور میں ایک کمپنی آئی ہوئی تھی۔ اس میں قد آدم موم کے بنے ہوئے مجسمے تھے۔ جن میں بعض پرانے زمانہ کے تاریخی بت تھے اور بعض میں انسانی جسم کے اندرونی اعضاء طبعی رنگ میں دکھائے گئے تھے۔ شیخ صاحب مرحوم حضرت صاحب کو اور چند احباب کو وہاں لے گئے اور حضور نے وہاں پھر کر تمام نمائش دیکھی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ملتان کا سفر ۱۸۹۷ء میں ہوا تھا۔ اور حضور کو وہاں ایک شہادت کے لئے جانا پڑا تھا۔
- ۵۴۰ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کی
زندگی کے آخری سالوں میں ایک شخص میاں کریم بخش نامی بیعت میں داخل ہوا۔ اور قادیان میں ہی رہ پڑا۔ یہ شخص بڑا کاریگر باورچی تھا۔ حضرت صاحب جب کبھی اُسے کھانے کی فرمائش کرتے۔ تو اس کا کمال
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 38 از مرزا بشیر احمد ایم۔ اے یہ حوالہ صفحہ 92 پر درج ہے
حوالہ نمبر 94
۱۰۵
پس پہلے اس بات کو پیدا کرو۔ پھر اس کے ثمرات خود بخود حاصل ہوں گے۔ ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ بُری چیزیں ہیں یا برا طریق ہے ۔ نہیں نہیں ۔ اصل مطلب یہ ہے کہ بد استعمالی بُری شے ہے ۔ بیمار کا فرض یہ ہے کہ وہ اوّل علاج کرائے نہ یہ کہ علاج تو کرائے نہیں اور کہے مجھے الف لیلہ کے دو چار ورق سنا دو ۔ اسی طرح کشوف اور رؤیا روحانی سیریں ہیں ۔ جب روحانی بیماریوں کا علاج ہو جاوے گا اور روحانی صحت درست ہو گی اس وقت سیر بھی مفید ہوگی۔
جب انسان اپنے نفس کو کھو دیتا ہے اور غیر اللہ کی طرف التفات نہیں رہتی اور کسی کو اپنی نظر میں نہیں دیکھتا اور خدا ہی کو دیکھتا اور اس کو ہی سناتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کو سناتا ہے مگر وہ لوگ جن کے باوجود یکہ دو کان ہوتے ہیں مگر وہ حرص، ہوا، غصّہ، کینہ وغیرہ ہر قسم کی غلاظتوں کی باتیں سنتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی بات کیونکر سُن سکتے ہیں۔ ہاں ایک قوم ہوتی ہے جو باقی سب کو ذبح کر ڈالتے ہیں اور سب طرف سے کانوں کو بند کر لیتے ہیں۔ نہ کسی کی سنتے ہیں نہ کسی کو سناتے ہیں ۔ انہیں ہی خدا بھی اپنی سناتا ہے اور ان کی سُنتا ہے اور وہی مبارک ہوتا ہے
پس اگر اس قوم میں داخل ہونا چاہتے ہو تو ان کے نقش قدم پر چلو۔ جب تک یہ بات پیدا نہ ہو ایسی آوازوں اور خوابوں پر ناز نہ کرو۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ حدیث میں اضغاث احلام اور حدیث النفس کا ذکر موجود ہے۔ یہ کوئی چیز نہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک تو حملِ حقیقی ہوتا ہے جب مدّتِ مقرّرہ نو ماہ گذر جاتے ہیں تو لڑکا یا لڑکی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک اس کے مقابلہ میں حمل کاذب ہوتا ہے بعض عورتیں رات دن اولاد کی خواہش کرتی رہتی ہیں جس سے رجاء کی مرض پیدا ہو جاتی ہے اور جھوٹا حمل ہوکر پیٹ پھولنے لگتا ہے اور حمل کی علامات
۱۔ بدر سے :۔ "خوابوں کے ذریعہ سے کوئی شخص نجات نہیں پاسکتا ۔ یہ طریق برا نہیں مگر اس کی بد استعمالی نقصان رساں ہے" ۔
(بدر جلد ۶ نمبر ۱۶ ، صفحہ ۶)
۲۔ بدر سے :۔ "بیمار کو چاہیئے کہ اوّل اپنا علاج کرائے ۔ اگر بیمار اپنا علاج نہ کرے اور چند قصے سُننے لگے تو اس سے وہ اچھا نہ ہو جائے گا۔ ایک شخص جو اپنی خراب صحت کے سبب درجہ بہ درجہ مرنے والا ہے اگر وہ کہے کہ میں امریکہ کی سیر کے واسطے جاتا ہوں تاکہ وہاں کے عجائبات دیکھوں تو یہ اس کی نادانی ہے۔ اس کو تو چاہیئے کہ اوّل اپنا علاج کرائے ۔ جب تندرست ہو جائے تو پھر سیر بھی کر سکتا ہے ۔ حالتِ بیماری میں تو سیر و سیاحت اور بھی نقصان رساں ہوگی " ۔
(بدر حوالہ مذکور)
۳۔ بدر سے :۔ "ایک کان جو ہزاروں طرف لگا ہوا ہے اور شرک کے ساتھ بھرا ہوا ہے اور جذبات نفسانی اور ہوا و ہوس کی متابعت میں پڑا ہے وہ کیونکر خدا تعالیٰ کے کلام کو سُن سکتا ہے "۔
(بدر حوالہ مذکور)
ملفوظات جلد پنجم صفحہ 105، 106 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 92 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 91)
١٠٦
ظاہر ہوتی ہیں لیکن وہ ہوا کے بلبلے کی طرح پھٹ جاتی ہے، ایسا ہی حال ان کشوف اور خوابوں کا ہے جبتک انسان محض خدا ہی کا نہ ہو جاوے۔ یہ کچھ بھی چیز نہیں۔ انسان کی عزت اسی میں ہے اور یہی سب سے بڑی دولت اور نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہو۔ جب وہ خدا کا مقرب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہزاروں برکات اس پر نازل کرتا ہے زمین سے بھی اور آسمان سے بھی اس پر برکات اُترتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے لیے قریش نے کس قدر زور لگایا ۔ وہ ایک قوم تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تنِ تنہا ۔ مگر دیکھو! کون کامیاب ہوا ۔ اور کون نامراد رہے ۔
نصرت اور تائید خدا تعالیٰ کے مقرب کا بہت بڑا نشان ہے۔ دوسرے یہ کہ ایسا شخص خزاں کے وقت آتا ہے اور بہار ہو جاتی ہے۔ وہ لوگ جو خدا کی طرف سے نہ ہوں اور اس قسم کی شیخیاں مارنے والے ہوں انکی مثال ایسی ہے جیسے مُردار پر بیٹھے ہوں۔ مگر جو خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے حیّ و قیوم خدا اس کے ساتھ ہے وہ خود زندہ ہے اُسے زندہ کرے گا۔ وہ اپنے وعدوں کو جو اُس سے کئے ہیں سچا کر دکھائے گا ١؎
میری نصیحت بار بار یہی ہے کہ جدا ہو کے اپنے نفسوں کا بار بار مطالعہ کرو۔ بدی کا چھوڑ دینا یہ بھی ایک نشان ہے اور خدا تعالیٰ ہی سے چاہو کہ وہ تمہیں توفیق دے کیونکہ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (الصافات: ٩٦) تو یہ بھی اس نے ہی پیدا کئے ہیں ٢؎
پھر میں ایک اور نقص بھی دیکھتا ہوں، بعض لوگ تھک جاتے ہیں۔ میرے پاس ایسے خطوط آئے ہیں جن میں لکھنے والوں نے ظاہر کیا کہ ہم چار سال یا اتنے سال تک نماز پڑھتے رہے دعائیں کرتے رہے۔ کوئی فائدہ نہیں ہوا ، ایسے لوگوں کو میں مُخَنَّث سمجھتا ہوں تھکنا نہیں چاہئے۔ ٣؎
شرطِ عشق است در طلب مُردن
میں تو یہانتک کہتا ہوں اگر تیس چالیس برس گذر جاویں تب بھی تھکے نہیں اور باز نہ آوے خواہ جذبات بڑھتے
١؎ بدر سے :- "وہ اس مُردار سے کیا حاصل کر سکتا ہے" (بدر جلد ١ نمبر ١٠ صفحہ ١٠)
٢؎ بدر سے :- "جب تک خدا تعالیٰ کے وعدے جو اس کے ساتھ ہوتے ہیں پورے نہ ہوویں تب تک وہ مرتا
نہیں اور اس کے سلسلہ میں کچھ کمی نہیں آتی ۔" (بدر جلد ٢ نمبر ٢١ صفحہ ١٦)
٣؎ بدر سے :- "بدیوں کو چھوڑ دینا کسی کے اختیار میں نہیں۔ اس واسطے راتوں کو اٹھ اٹھ کر تہجد میں خدا کے حضور دعائیں کرو ۔ وہی تمہارا پیدا کرنے والا ہے خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ۔ پس وہ کون ہے جو ان بدیوں کو
دُور کر کے نیکیوں کی توفیق تم کو دے" (بدر حوالہ مذکورہ بالا)
یہ حوالہ صفحہ 92 پر درج ہے ملفوظات جلد پنجم صفحہ 105، 106 طبع جدید از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 91
چشمہ معرفت ۲۴۶ دوسرا حصہ
اُس کو پیدا کیا جو بموجب قول آریہ سماج کے ہر ایک ابتدا دنیا میں لاکھوں انسان کو یوں ہی مولی گاجر کی طرح زمین میں سے نکالتا ہے جب کہ وید کے بیان کی رو سے کروڑہا مرتبہ بلکہ بے شمار مرتبہ خدا
حوالہ نمبر 92 ۴۴ ناحق ناراض ہو کر اس کو مارتا ہے اور کسی نازک مقام پر چوٹ لگتی ہے اور بیوی مر گئی ہے، اس لیے اُن کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء : ۲۰) ہاں اگر وہ بدذاتی کام کرے ، تو تنبیہ ضروری چیز ہے۔
انسان کو چاہیے کہ عورتوں کے دل میں یہ بات جمادے کہ وہ کوئی ایسا کام جو دین کے خلاف ہو کبھی بھی پسند نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی وہ ایسا جابر اور ستم شعار نہیں کہ اس کی کسی غلطی پر بھی چشم پوشی نہیں کر سکتا۔
خاوند عورت کے لیے اللہ تعالیٰ کا مظہر ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے سوا کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا، تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ پس مرد میں جلال اور جمال رنگ دونوں موجود ہونے چاہئیں۔ اگر خاوند عورت کو کہے کہ تو اینٹوں کا ڈھیر ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دے، تو اس کا حق نہیں ہے کہ اعتراض کرے۔
مرشد اور مرید کا تعلق
ایسا ہی قرآن کریم اور حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مرشد کے ساتھ مرید کا تعلق ایسا ہونا چاہیے، جیسا عورت کا تعلق مرد سے ہو۔ مرشد کے کسی حکم کا انکار نہ کرے۔ اور اس کی دلیل نہ پوچھے، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحہ : ۶ ، ۷) فرمایا ہے کہ منعم علیہ کی راہ کے مقلد رہیں۔ انسان چونکہ طبعاً آزادی کو چاہتا ہے پس حکم کر دیا کہ اس راہ کو اختیار کرے تجربہ کار ڈاکٹر اگر غلطی بھی کرے، تو جاہل کے علاج سے بہتر ہے۔ ایک جاہل کے پاس اگر اعلیٰ درجہ کے تیز اوزار ہیں، لیکن ہاتھ حاذق ڈاکٹر کا نہ ہو تو وہ اوزار کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں، کسی نے کہا ہے: ؎
چہ خاصیت دہد نقش سلیماں
پس قرآن کریم ایک تیز ہتھیار ہے، لیکن اس کے استعمال کے لیے اعلیٰ درجہ کے ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی تائیدات سے فیض یافتہ ہو۔
یہ ضروری بات ہے کہ دل پاک ہو، لیکن ہر جگہ یہ دولت میسر نہیں آ سکتی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو پیدا کیا، مگر ہر شخص نبی نہیں ہوتا اور نہ خدا ہمکلام ہے۔
آدم کہلانے کی حقیقت
آدم ہی ایک ہے جو نُطفہ کے بغیر پیدا ہوا ہے۔ اسی طرح میرا یہ الہام ہے : اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ ۔
یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اس کو کسی کی بیعت، اور مُریدی کی ضرورت نہ ہوگی، بلکہ جیسے آدم کو خدا نے اپنے
ملفوظات جلد اول صفحہ 404 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 93 پر درج ہے
حوالہ نمبر 93
اس وقت قلم کی ضرورت ہے
یہ یقیناً سمجھ لو۔ تیغ کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کیے ہیں اور مختلف قسموں کے حملے کیئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے رد کے لئے مجھے پیدا کیا ہے۔ اس لئے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدان کارزار میں اتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ بھی دکھلاؤں میں کہاں میں اور کہاں یہ دعویٰ ہو سکتا تھا یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اُس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔ میں نے ایک وقت اُن اعتراضات اور حملات کو شمار کیا تھا جو اسلام پر ہمارے مخالفین نے کیے ہیں تو اُن کی تعداد میرے خیال اور اندازہ میں تین ہزار ہوئی تھی اور بلکہ مجھے یاد ہے کہ اب تو تعداد اور بھی بڑھ گئی ہوگی۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اسلام کی بنا ایسی کمزور باتوں پر ہے کہ اس پر تین ہزار اعتراض وارد ہو سکتا ہے۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ یہ حماقت تو کوتاہ اندیش اور نادانوں کی نظر میں اعتراض ہیں مگر میں قسم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے جہاں ان اعتراضات کو شمار کیا ہے وہاں یہ بھی غور کیا ہے کہ ان اعتراضات کی تہہ میں کمال حقانیت ہی کار فرما نظر آتی ہے گو بظاہر باطل ہوں۔ یہ کور باطنی کی وجہ سے معترضین کو دکھائی نہیں دیتی اور در حقیقت یہ نادانوں کی ظلمت ہے کہ جہاں نابینا معترض ٹھوکر کھاتا ہے۔ ورنہ حقائق و معارف کا ایک خزانہ رکھا ہے۔
مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض
اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا کہ میں ان تمام باتوں کو دنیا پر ظاہر کروں اور ناپاک اعتراضات کا جو گرد و غبار جواہرات پر تھوپا گیا ہے۔ اس سے ان کو پاک صاف کروں۔ خدا تعالیٰ کی غیرت اس وقت بڑے جوش میں ہے کہ قرآن شریف کی عزت کو ہر ایک خبیث دشمن کے داغ اعتراض سے منزہ و مقدس کرے۔
الغرض ایسی صورت میں کہ مخالفین قلم سے ہم پر وار کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں۔ کس قدر بیوقوفی ہوگی کہ ہم ان سے تیغ بکف ہونے کو تیار ہو جائیں۔ میں یہ قبول نہیں کر سکتا کہ ایسی صورت میں اگر کوئی اسلام کا نام لیکر جنگ و جدال کا طریق جواب میں اختیار کرے۔ تو وہ اسلام کا بدنام کرنے والا ہوگا۔ اور اسلام کا کبھی یہ منشاء نہ تھا کہ بے مطلب اور بلا ضرورت تلوار اُٹھائی جائے۔ اب لڑائیوں کی اغراض بدل گئی ہیں۔ ملکی اغراض باقی رہی نہیں ہیں۔ نہ کوئی جنگ اب دین کی رہی ہے۔ بلکہ دنیوی اغراض ان کا موضوع ہو گیا ہے۔ پس کس قدر ظلم ہوگا کہ ان کو جو اب قلم سے لڑتے ہیں تلوار دکھائی جائے۔ اب تلوار کے ساتھ ضرب کا پہلو بدل گیا ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ پہلے اپنے دل اور دماغ سے تمام نفسانی جذبات کا تزکیہ کریں۔ راستبازی اور تقویٰ سے خدا تعالیٰ سے امداد اور فتح چاہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا ایک اٹل اور محکم اصول ہے کہ اگر انسان صرف قیل و قال اور باتوں سے مقابلہ میں کامیابی اور فتح پانا چاہے تو یہ ممکن نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ لاف و گزاف اور لفاظی کو نہیں چاہتا۔ وہ تو حقیقی تقویٰ کو چاہتا اور سچی طہارت کو پسند
ملفوظات جلد اول صفحہ 38 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 93 پر درج ہے
حوالہ نمبر 94 چشمہ معرفت ۱۲۴
عورت کا بغیر اسکے کہ اُسپر شبنم کی طرح آسمان کی فضا سے رُوح گرے رُوح پیدا ہونے کی اپنے اندر استعداد رکھتا ہو۔ پھر جب مرد اور عورت کا نطفہ باہم مل جاتا ہے تو وہ استعداد بہت قوی ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ استعداد بڑھتی جاتی ہے یہانتک کہ جب بچہ کا پورا قالب طیار ہو جاتا ہے تو خُدا تعالیٰ کی قدرت اور امر سے اُسی قالب میں سے رُوح پیدا ہو جاتی ہے یہ وہ ۱۱۹ واقعات ہیں جو مشہور اور محسوس ہیں۔ اِسی کو ہم کہتے ہیں کہ نیستی سے ہستی ہوئی۔ کیونکہ ہم رُوح کو جسم اور جسمانی نہیں کہہ سکتے۔ اور یہ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ رُوح اُسی مادہ میں سے پیدا ہوتی ہے جو بعد اجتماع دونوں نطفوں کے رحمِ مادر میں آہستہ آہستہ قالب کی صورت پیدا کرتا ہے اور اس مادہ کے لئے ضروری نہیں کہ ساگ پات کی قسم پر رُوح شبنم کی طرح گرے بعد اُسکے رُوح کا نطفہ پیدا ہو۔ بلکہ وہ مادہ گوشت سے بھی پیدا ہو سکتا ہے خواہ وہ گوشت بکرہ کا ہو۔ یا مچھلی کا۔ یا ایسی مٹی ہو جو زمین کی نہایت عمیق تہ کے نیچے ہوتی ہے جس سے مینڈکیں وغیرہ کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے ہیں۔ ہاں بلاشبہ یہ خدا کی قدرت کا ایک راز ہے کہ وہ جسم میں سے ایک ایسی چیز پیدا کرتا ہے کہ وہ نہ جسم ہے اور نہ جسمانی۔ پس واقعات موجودہ مشہودہ محسوسہ ظاہر کر رہے ہیں کہ آسمان سے رُوح نہیں گرتی بلکہ یہ ایک نئی رُوح ہوتی ہے جو ایک مرکب نطفہ میں سے
حوالہ نمبر 95
چشمہ معرفت ۱۲۵
ہوتی ہے اور جبکہ محض گوشت سے بھی نطفہ پیدا ہوتا ہے اور اسکی اولاد پیدا ہوتی ہے تو کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ مثلاً روح کسی بکری پر بھی پڑتی ہے اور اس کی کھال میں دھنس کر اُس کے گوشت میں رچ جاتی ہے اور پھر بعد اس کے کسی خالص بوٹی میں وہ رُوح داخل ہوتی ہے اور اسکے اندر سرایت کر جاتی ہے اور پھر اُس بوٹی کے دو ٹکڑے ہو کر ایک ٹکڑا مرد کھا لیتا ہے اور دُوسرا ٹکڑا عورت ۔ گو وہ عورت اس مرد سے کتنے ہی فاصلہ پر ہو ۔ اور خواہ وہ گوشت بھی نہ کھاتی ہو ۔ اور کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ وہ درندے جو صرف گوشت ہی کھاتے ہیں جیسے شیر ۔ بھیڑیا ۔ چیتا ان کی پیدائش کی رُوح بکریوں اور گائیوں وغیرہ حیوانات کی کھال پر بطور شبنم پڑتی ہے اور کیا یہ خیال گذر سکتا ہے ؟ کہ پانی کی مچھلیوں کی روح اور دُوسرے تمام جاندار جو پانی کے اندر غرق رہتے ہیں اُن کی رُوح شبنم کی طرح ہو کر پانی میں پڑتی ہے اور سبزہ خور کے علاوہ وہ کیڑے مکوڑے ہیں جو بیس بیس تیس تیس ہاتھ زمین کو کھود کر اُس کے عمیق پردہ کے اندر سے نکلتے ہیں اور ایسا ہی وہ نہایت چھوٹے کیڑے جو اس کنوئیں کے پانی سے نکلتے ہیں جو نیا کھودا جاتا ہے اور ایک ایک قطرہ میں ہزارہا کیڑے ہوتے ہیں کہاں سے اور کس راہ سے یہ شبنمی رُوح ان کے اندر داخل ہو جاتی ہے پس اگر کوئی شخص مذہبی تعصب سے دیوانہ اور سودائی اور پاگل ہو جائے تو یہ اور بات ہے ورنہ ان تمام مثالوں کی رُو سے جو ذکر ہو چکی ہیں ماننا پڑتا ہے کہ یہ عقیدہ آریوں کا کہ گویا رُوح آسمان سے شبنم کی طرح ہو کر کسی گھاس پات پر پڑتی ہے بالکل جھوٹا ہے ۔ اگر تم مثلاً دُودھ کو جو باسی ہو کر سڑنے کو ہے ہاتھ میں لو اور خوب اس دُودھ میں نظر لگائے رکھو ۔ تو تمہارے دیکھتے دیکھتے ہزار ہا کیڑے بن جائیں گے ۔ ایسا ہی اگر کوئی دال ماش یا چنے وغیرہ کی جو خوب پکائی جائے جس کے اندر کے کیڑے بھی مر گئے ہوں جب وہ دال باسی ہو جائے اور سڑ جائے تو اس میں بھی ہزار ہا کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں ۔ اب عقلمند کیلئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ اگر کسی مادہ میں جان پڑنے کیلئے یہ ضروری ہو کہ
چشمہ معرفت صفحہ 117 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 125 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 94 پر درج ہے
حوالہ نمبر 96
چشمہ معرفت ۱۳۰
١٢٢ ایک قطرہ سے انسان کیونکر پیدا ہو جاتا ہے اور ہم سمجھ نہیں سکتے کہ دیکھنے والی آنکھیں کیونکر اس میں پیدا ہو جاتی ہیں اور ہم اس بات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتے کہ سُننے والے کان کیونکر اس میں بنائے جاتے ہیں اور ہمارے خیال میں نہیں آتا کہ انسان کی صورت اور ہاتھ اور پیر اور دل اور دماغ اور جگر اور تمام اعضاء کیونکر اس میں بن جاتے ہیں۔ پس بلا شبہ یہ تمام امور ہمارے نزدیک ایسے ہی محال ہیں جیسے نیست سے ہست ہونا۔ کیونکہ ہم اُن کے بنانے پر قادر نہیں اور ہماری عقل کوئی فلسفی دلیل اس بات پر قائم نہیں کر سکتی کہ کیونکر یہ تمام اعضا بن جاتے ہیں۔ پس جیسا کہ ان تمام اعضاء کا بننا ہماری عقل سے برتر ہے ایسا ہی رُوح کا بھی پیدا ہونا ہماری عقل سے برتر ہے اور جبکہ
حوالہ نمبر 97
چشمہ معرفت ۱۷۱ دوسرا حصہ
پر باقی نہ رہتا۔ پس خدا کی اسی قدرت نے جو نیست سے ہست کرنا ہے تمام دنیا کو بچا رکھا ہے انسان کی سخت بدذاتی ہے جو اس کو اپنی قدرت نمائی میں عاجز سمجھے اور اس کو نیست سے ہست کرنے پر قادر خیال نہ کرے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی ایجادیں بھی بعض ایسے کام دکھاتی ہیں کہ گویا نیست سے ہست کرتی ہیں مثلاً فونوگراف میں جو آواز بند کی جاتی ہے اور وہ اُس انسان کے ۱۹۳۰ء ٹھیک ٹھیک لہجہ پر جس کی آواز بند کی گئی ہے نکلتی ہے کیا اس ایجاد سے پہلے کسی کو سمجھ آسکتا تھا کہ آواز میں یہ بھی خاصیت ہے کہ وہ خاص قسم کے ظروف میں بند ہو سکتی ہے اور پھر اصل آواز کی طرح پیدا ہو کر سنائی دیتی ہے اور سالہا سال اور مدّتہائے دراز تک بند رہ سکتی ہے اور پھر جب اُس آواز کا سُننا منظور ہو تو ایسے طور سے نکلتی ہے کہ گویا وہ انسان جس کی آواز بند کی گئی ہے بول رہا ہے کیا یہ نیست سے ہست نہیں مگر اس طبعی راز کا کسی کو علم نہ ہو تو وہ ایسی آواز سے ڈریگا اور خیال کرے گا کہ شاید اس میں کوئی جنّ بول رہا ہے۔
اسی طرح اس زمانہ میں ہزارہا سائنس کے اسرار کا پردہ کھُلتا جاتا ہے جو کسی زمانہ میں نیست کے طور پر سمجھے جاتے تھے اور وہ عمیق در عمیق علم طبعی کے خواص نئی ایجادوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوتے جاتے ہیں کہ انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔ پھر تعجب آتا ہے کہ ایسے زمانہ میں وہ نادان بھی ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے اسرار قدرت پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نوع نیست سے کیونکر ہست ہو جاتی ہے اور دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہزاروں چیزیں نیست سے ہست ہو رہی ہیں مثلاً ایک دھات جو بالکل نیست ہو جاتی اور جلائی کردہ شہد اور سہاگہ اور گھی میں جوش دینے سے پھر زندہ ہو جاتی ہے کسی نے پنجابی میں کہا ہے شہد سہاگہ گھی ، موئی دھات دا ایہو جی یعنی شہد سہاگہ اور گھی جو ہے مری ہوئی دھات کی یہی جان ہے۔ اور اسرار قدرت الٰہی میں سے ایک یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ایک کھپری کو پتھر یا سوٹے سے مارا جائے اور وہ بظاہر بالکل مر جائے ذرا بھی جان نہ ہو تو اگر اس کے سر کو گوبر میں دبایا جائے تو چند منٹ میں وہ زندہ ہو کر بھاگ جاتی ہے مکھی بھی اگر پانی میں مرجائے تو وہ بھی زندہ ہوکر پرواز کر جاتی ہے اور بعض جانور
چشمہ معرفت صفحہ 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 171 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 94 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 98 چشمہ معرفت 171 دوسرا حصہ پر باقی نہ رہتا۔ پس خدا کی اسی قدرت نے جو نیست سے ہست کرتا ہے تمام دنیا کو ٹکا رکھا ہے انسان کی سخت بد ذاتی ہے جو اس کو اپنی قدرت نمائی میں عاجز سمجھے اور اس کو نیست سے ہست کرنے پر قادر خیال نہ کرے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی ایجادیں بھی بعض ایسے کام دکھاتی ہیں کہ گویا نیست سے ہست کرتی ہیں مثلاً فونوگراف میں جو آواز بند کی جاتی ہے اور
حوالہ نمبر 98
چشمہ معرفت ۱۷۲ دوسرا حصہ
جیسے زنبور اور دوسرے حشرات الارض سخت سردی کے ایام میں مرجاتے ہیں اور زمین میں یا دیواروں کے سوراخوں میں لیٹے رہتے ہیں اور جب گرمی کا موسم آتا ہے تو پھر زندہ ہوجاتے ہیں ۱۹۴ ان اسرار کو بجز خدا تعالیٰ کے کون سمجھ سکتا ہے۔ ایسا ہی بعض نباتی اور معدنی چیزیں علیحدہ علیحدہ ہونے کی حالت میں تو ایک خاصیت نہیں رکھتیں مگر ترکیب کے بعد ان میں ایک نئی خاصیت پیدا ہوجاتی ہے مثلاً شورہ اور گندھک اور کوئلہ ایک خاص ترکیب سے بارود بن جاتا ہے اور اگر چاہیں کہ صرف شور
حوالہ نمبر 99
چشمہ معرفت ۲۸۲ دوم حصہ
مشاہدہ ہے کہ کئی عجائب قدرتیں خدا تعالیٰ کی ایسے طور پر میرے دیکھنے میں آئی ہیں کہ بجز اس کے کہ اُن کو نیستی سے ہستی کہیں اور کوئی نام اُن کا ہم رکھ نہیں سکتے۔ جیسا کہ اُن نشانوں کی بعض مثالیں بعض موقعہ پر مَیں نے لکھ دی ہیں۔ پس جس نے یہ کرشمۂ قدرت نہیں دیکھا اُس نے پھر کیا دیکھا؟ ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جس کی قدرتیں صِرف ہماری عقل اور قیاس تک محدود ہیں اور آگے کچھ نہیں۔ بلکہ ہم اُس خدا کو مانتے ہیں جس کی قدرتیں اُس کی ذات کی طرح غیر محدود اور ناپیدا کنار اور غیر متناہی ہیں۔ ایسا ہی اُس کی قدرت کا یہ راز ہے کہ وہ نیست سے ہست کرتا ہے۔ جیسا کہ اس بات پر ہزار ہا نمونے ہماری نظر کے سامنے ہیں۔ بعض درخت ایسے ہیں کہ اُن کے پھل جیسے جیسے پکتے جاتے ہیں وہ پردار کیڑوں کی طرح بنتے جاتے ہیں اور بعض درخت ایسے ہیں کہ اُن کے پتوں میں سے بڑے بڑے پرندے پیدا ہو جاتے ہیں اُن میں سے ایک آک کا درخت بھی ہے اور اس کی نظیریں ہزار ہا ہیں نہ صرف ایک دو۔ پس اس جگہ بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ وہ نیستی سے ہستی ہے اور یہ ایک ایسا رازِ قدرت ہے کہ ہم اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے اور کیا یہ بھی ضروری ہے کہ ایک ناچیز انسان خدا کے تمام اسرار پر اطلاع منہ ۲۸۳ بھی پا جائے اور اس کی تمام قدرتوں پر محیط ہو جائے۔ یہ ایک فیصلہ شدہ بات ہے کہ اگر علم سائنس یعنی طبعی خدا تعالیٰ کے تمام عمیق کاموں پر احاطہ کر لے تو پھر وہ خدا ہی نہیں جبکہ انسان اُس کی باریک حکمتوں پر اطلاع پاتا ہے وہ انسانی علم اس قدر بھی نہیں کہ جیسے ایک سوئی کو سمندر میں ڈبویا جائے اور اس میں کچھ سمندر کے پانی کی تری باقی رہ جائے اور یہ کہنا کہ اُس کی تمام باریک قدرتوں پر اطلاع پانے کے لئے ہمارے لئے راہ کشادہ ہے اس سے زیادہ کوئی حماقت نہیں با وجودیکہ ہزارہا قرن اس دنیا پر گزر چکے ہیں پھر بھی انسان نے صرف اس قدر خدا کی حکمتوں پر اطلاع پائی ہے جیسا کہ ایک عالمگیر بارش میں سے صرف اس قدر تری جو ایک بال کی نوک کو بمشکل تر کر سکے۔ پس اس جگہ اپنی حکمت اور دانائی کا دَم مارنا جھوٹی شیخی اور حماقت ہے۔ انسان با وجودیکہ ہزارہا برسوں سے اپنے علوم طبعیہ اور ریاضیہ کے
یہ حوالہ صفحہ 95 پر درج ہے چشمہ معرفت صفحہ 269 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 282 از مرزا قادیانی
Back
حوالہ نمبر 100
۴۸۴
مقابلہ کی تحریروں میں مدد دیتا رہا ہے کہ اکثر اوقات حضرت اقدس بیمار تھے اور میعاد مقابلہ نزدیک آ گئی تو پھر اسی حالت میں بڑی محنتوں سے راتوں کو بیٹھ بیٹھ کر کتابیں لکھیں حضور نے فرمایا کہ میں تو ایک حرف بھی نہیں لکھ سکتا اگر خدا تعالیٰ کی طاقت میرے ساتھ نہ ہو۔ بارہا لکھتے لکھتے دیکھا ہے ایک خدا کی روح ہے جو تیر رہی ہے قلم تھک جایا کرتی ہے مگر اندر جوش نہیں تھکتا طبیعت محسوس کیا کرتی ہے کہ ایک ایک حرف خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔
ڈوئی کا ذکر
پھر ڈوئی کی کسی بات پر فرمایا کہ اس کے وجود سے شیطان کا وجود ثابت ہوتا ہے وہ بھی انسان کو اسی طرح فریفتہ کرتا ہے ؎
۴؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز سہ شنبہ
بوقت ظہر
علاقہ جہلم سے دو شخص بہت ضعیف العمر حضرت اقدس کی زیارت کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے بوجہ ضعیف العمری کے وہ چل نہیں سکتے تھے حضرت اقدس ان کی خاطر ٹھہر گئے اور ان کے حالات دریافت فرماتے رہے۔
آیت مَاذَا اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَاعِلْمَ لَنَا کی تفسیر
پھر حضور مشرق کی طرف سیر کو چلے سید سرور شاہ صاحب نے حضرت اقدس سے سوال کیا کہ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن ہر ایک رسول اپنی امت کے حالات سے لا علمی ظاہر کرے گا جیسے قرآن شریف میں ہے یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَاعِلْمَ لَنَا (المائدہ : ۱۱۰) تو پھر اس آیت کے مفہوم کے مطابق اگر مسیح بھی اپنی امت کے حالات سے لاعلمی ظاہر کریں اگرچہ وہ آخر زمانہ میں پھر آکر چالیس برس ان لوگوں میں گزار بھی جائیں تو آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کے لحاظ سے وہ اللہ تعالیٰ کے روبرو کاذب کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ
یہ لا علمی انبیاء کی ان کی اس امت کے بارے میں ہوتی ہے جو ان کی وفات کے بعد ہوتی
۱؎ البدر جلد ۱ نمبر ۳ صفحہ ۲۰۔۲۱ مورخہ ۱۴؍ نومبر ۱۹۰۲ء
ملفوظات جلد 2 صفحہ 483 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 95 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 101)
۷۵ الاسلامية ليكون بلاغا تامًا للطالبين ـ فاعلموا يا معشر الكرام وذوى تا برائے طالبان ایں تبلیغ بمرتبہ کمال رسد۔ پس بدانند اے گروہ بزرگان و صاحبان اولى الابصار والافهام انّ الله قد بعثنی مجدّدًا على راس ھٰذا المائة بصیرت و فہم کہ خدائے عزوجل مرا بر سر ایں صدی مجدد مبعوث فرمودہ و بندہ را برائے مصالح عامہ واختص عبده للمصالح العامة واعطانى علومًا ومعارف تجب لاصلاح خاص گردانیدہ است ۔ و مرا آں علوم و معارف بخشیدہ کہ برائے اصلاح ایں امت ازاں ناگزیر ھٰذہ الامة ووهب لى من لدنه علمًا لاتمام الحجة على الكفرة الفجرة ـ و اند ۔ و مرا علم لدنّی بخشید تا کہ بر کافران و فاسقان حجت تمام شود۔ و مرا ثمرہ تازہ و اعطانى ثمرًا غضًا طريًا لتغذية جياع الملة ـ وكاسًا دهاقًا لعطاشى تر عنایت کرد تا گرسنگان ملت را غذا دادہ شود ۔ و جامہائے پُر بخشید تا تشنگان ہدایت و الهداية والمعرفة وجعلنى امامًا لكل من يريد صلاح نفسه و يحب معرفت را نوشانیدہ شود۔ و مرا برائے ہر آں شخصے کہ صلاح نفس خود میجوید و رضائے رب خود می خواہد رضاء ربّه وجعلنى من المكالمين الملهمين ـ واكمل علىّ نعمه واتم تفضله امام گردانید و مرا از آں کساں گردانید کہ بشرف مکالمہ الہیہ مشرف میباشند ۔ و بر من نعمتھاے خود کامل کرد و تفضلہائے وسمّانى المسيح ابن مريم بالفضل والرحمة ـ وقدّر بينى وبينه تشابه الفطرة خود با تمام رسانید و نام من از فضل خود مسیح ابن مریم نہاد ۔ و در من و مسیح ابن مریم مشابہ فطرت مقدر كالجوهرين من المادة الواحدة ووهب لى علومًا مقدّسةً نقيةً ومعارف کرد۔ چنانکہ دو جوہر از یک مادہ می باشند و مرا علوم مقدس و مصفا بخشید و معارف صاف و روشن صافيةً جليةً وعلمنى مالم يعلم غيرى من المعاصرين ـ وصبّ فى عطا کرد و مرا چیز ہا بیاموخت کہ غیر من از مردم ہم زمانہ من ازاں ہا بیخبر اند۔ و در دل من معارفے قلبى ما لم يحيطوا بها علما ـ ونوّره لم يعطه احدا منهم وجعلنى مِن بریخت کہ علم آں از ایشاں احدے را نیست و در دل من نورے ریخت کہ ہیچ کس از ایشاں بداں آشنائی ندارد
انجام آتھم صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 75 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 96 پر درج ہے
حوالہ نمبر 102
ازالہ اوہام ۱۰۴ حصہ اول
تو ثابت ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونیوالے مر گئے مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں مریگا۔ یہ زندگی بخش باتیں جو میں کہتا ہوں۔ اور وہ حکمت جو میرے مُنہ سے نکلتی ہے اگر کوئی اور بھی اس کی مانند کہہ سکتا ہے تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا۔ لیکن اگر یہ حکمت اور معرفت جو مُردہ دلوں کے لئے آبِ حیات کا حکم رکھتی ہے دوسری جگہ سے نہیں مل سکتی تو تمہارے پاس اس جرم کا کوئی عذر نہیں کہ تم نے اس سرچشمہ سے انکار کیا جو آسمان پر کھولا گیا۔ زمین پر اس کو کوئی بند نہیں کر سکتا۔ سو تم مقابلہ کے لئے جلدی نہ کرو اور دیدہ و دانستہ اس الزام کے نیچے اپنے تئیں داخل نہ کرو جو خدائے تعالیٰ فرماتا ہے لا تقف ما لیس لک بہ علم ۱ ان السمع والبصر والفواد کل اولئک کان عنہ مسئولاً ۔ بدظنی اور بدگمانی میں حد سے زیادہ مت بڑھو ایسا نہ ہو کہ تم اپنی باتوں سے پکڑے جاؤ اور پھر اس دُکھ کے مقام میں تمہیں یہ کہنا پڑے کہ ما لنا لا نریٰ رجالاً کنا نعدھم من الاشرار ۲
صبر باید طالب حق را کہ تخم اندر جہاں ہر چہ پنہاں خاصیت دارد بحال بار آورد
اندکے نور فراست باید ایں جاہل را تا صداقت خویشتن را خود باظہار آورد
صادقاں را صدق پنہانی نمے ماند نہاں نور پنہاں بر جبینِ مرد انوار آورد
ہر کہ از دست کسے مسموم است کاساتِ ضلال ہر زماں زہرش بسر درد و تب بار آورد
اے مسلمانو ! اگر تم سچے دل سے حضرت خداوند تعالیٰ اور اُس کے مقدس رسول علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہو اور نصرتِ الٰہی کے منتظر ہو تو یقیناً سمجھو کہ نصرت کا وقت آ گیا اور یہ کاروبار انسان کی طرف سے نہیں اور نہ کسی انسانی منصوبہ نے اس کی بنا ڈالی ۔ بلکہ یہ وہی صبح صادق ظہور پذیر ہو گئی ہے جس کی پاک نوشتوں میں پہلے سے خبر دی گئی تھی۔ خدائے تعالیٰ نے بڑی ضرورت کے وقت تمہیں یاد کیا قریب تھا کہ تم کسی ہلاک گڑھے میں جا پڑتے مگر اُس کے
۱ بنی اسرائیل ع ۴ ۲ ص ۶۲ پ ۲۳
ازالہ اوہام صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 104 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 96 پر درج ہے Back
حوالہ نمبر 103
۱۷۰
ہوگیا تھا یا کیا وہ جو درحقیقت خدا سے ہے۔ اسکو کہہ سکتے ہیں کہ وہ درحقیقت شیطان سے ہے ؟ ماسوا اس کے جبکہ یہ حقیقت بھی کھل گئی کہ حضرت مسیح ہرگز مصلوب نہیں ہوئے بلکہ کشمیر میں اُن کی قبر ہے تو اب راستی کے بھوکے اور پیاسے کیونکر عیسائی مذہب پر قائم رہ سکتے ہیں۔ یہ سامان کسر صلیب کا ہے جو خدا نے آسمان سے پیدا کیا ہے نہ یہ کہ مار مار کر لوگوں کو مسلمان بناویں ہماری قوم کے علماء اسلام کو ذرہ ٹھہر کر سوچنا چاہیئے کہ کیا جبر سے کوئی مسلمان ہو سکتا ہے اور کیا جبر سے کوئی دین دل میں داخل ہو سکتا ہے۔ اور جو لوگ مسلمانوں میں سے فقراء کہلاتے ہیں اور مشائخ اور صوفی بنے بیٹھے ہیں اگر وہ اب بھی اس باطل عقیدہ سے باز نہ آویں اور ہمارے دعوٰی مسیحیت کے مصدق نہ ہو جائیں تو طریق یہی ہے کہ ایک مجمع مقرر کر کے کوئی ایسا شخص جو میرے دعوٰی مسیحیت کو نہیں مانتا اور اپنے تئیں ملہم اور صاحب الہام جانتا ہے مجھے مقام بٹالہ یا امرتسر یا لاہور میں بلائے اور بتوجہ تمام بجناب الہٰی میں دُعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جناب الہٰی میں سچا ہے ایک سال میں کوئی عظیم الشان نشان جو انسانی طاقتوں سے بالا تر اور معمول انسانی کے دسترس سے بلند تر ہو۔ اس سے ظہور میں آوے۔ ایسا نشان کہ جو اپنی شوکت اور طاقت اور چمک میں مثلاً عام انسانوں اور مختلف طبائع پر اثر ڈالنے والا ہو خواہ وہ پیشگوئی ہو ۔ یا اور کسی قسم کا اعجاز ہو جو انبیاء کے معجزات سے مشابہ ہو۔ پھر اس دُعا کے بعد ایسا شخص جس کی کوئی خارق عادت پیشگوئی یا اور کوئی عظیم الشان نشان ایک برس کے اندر ظہور میں آجائے اور اس شرط کے ساتھ ظہور میں آئے جو اس مرتبہ کا نشان حریف مقابل سے ظہور میں نہ آسکے تو وہ شخص سچا سمجھا جائے گا جس سے ایسا نشان ظہور میں آیا۔ اور پھر اسلام میں سے تفرقہ دُور کرنے کے لئے اُس شخص مغلوب پر لازم ہو گا کہ اس شخص کی مخالفت چھوڑ دے اور بلا توقف اور بلا تامل اُس کی بیعت کرے۔ اور اُس خدا سے جس کا غضب کھا جانے والی آگ ہے ڈرے۔ اکثر جاہلوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ الہام شیطانی بھی ہوا کرتے ہیں۔ اِس لئے تمام اکابر اس عقیدہ پر متفق ہیں۔ پس ہر ایک شخص کا الہام جو نرے الفاظ ہوں اور کوئی فوق العادت امر
۳۲
تریاق القلوب صفحہ 42، 43 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 170، 171 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 96 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 103)
۱۷۱
اُس میں نہ ہو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔ اور کوئی الہام ہرگز قابلِ پذیرائی نہیں جب تک کہ اُس میں الٰہی شوکت نہ ہو۔ اور الٰہی شوکت یہ ہے کہ خرق العادت اور عظیم الشان پیشگوئیاں جو الوہیت کی قدرت اور علم سے بھری ہوئی ہوں اُس الہام میں پائی جائیں یا دوسرے الہاموں میں جو اُسی شخص کے منہ سے نکلے ہوں۔ اور باایں ہمہ یہ شرط بھی ہوگی کہ اس مجلس کے انعقاد سے دس دن پہلے بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے مجھ کو خبر کر دیجائے کہ اِن تینوں مقامات متذکرہ بالا میں سے فلاں مقام اور نیز فلاں تاریخ اور وقت اِس کام کیلئے تجویز کیا گیا ہے۔ اس اطلاع دہی کے اشتہار پر بیس معزّز اور نامور علماء اور شہر کے رئیسوں کے دستخط ہونے چاہئیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی سفلہ محض ہنسی اور شرارت سے ایسا اشتہار شائع کر دے + اور نیز یہ ضروری ہوگا کہ اِس دُعا کے بعد اگر کوئی نشان پیشگوئی کی قسم میں سے کسی پر ظاہر ہو تو وہ پیشگوئی بذریعہ کسی اشتہار مطبوعہ کے شائع کر دیجائے۔ ہاں یہ کچھ ضروری نہیں کہ وہ کوئی نئی پیشگوئی ہو بلکہ اگر کوئی پُرانی پیشگوئی ہو جو ابھی پوری نہ ہوئی ہو۔ یا ایسی پیشگوئی ہو جو ملہم نے عام طور پر لوگوں کو اس سے اطلاع نہ دی ہو تو ایسی پیشگوئی بھی لیجائیگی۔ اور سب سے بہتر وہ پیشگوئی گنی جائے گی جو کسی دُعا کے قبول ہونے پر خدا تعالیٰ سے ملی ہو ۔ کیونکہ دعا کا قبول ہونا اوّل علامت اولیاء اللہ میں سے ہے۔ اب میں اس آیت پر اِس رسالہ کو ختم کرتا ہوں کہ رَبَّنَا اِفْتَحْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ ۱؎ آمین وَ آخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ المؤلف خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۸؍ اکتوبر ۱۸۹۹ء
+ کوئی مخفی خط ہمارے نام نہیں آنا چاہیئے بلکہ اگر سچی نیت سے مقابلہ کا ارادہ ہو۔ تو چھپا ہوا اعلان نامہ جس پر بیس معزّزین کی گواہی ہو۔ بقید وقت اور تاریخ اور مقام اور تصریح نام شخص مقابل و مستغیث دس دن پہلے میرے نام آنا چاہیئے۔ منہ
۱؎ الاعراف : ۹۰
تریاق القلوب صفحہ 42، 43 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 170، 171 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 96 پر درج ہے
حوالہ نمبر 104
۶۱۹
اور سب گذشتہ زمانوں سے زیادہ جوش مارا اور مجھے اُسنے مسیح موعود کر کے بھیجا تا کہ میں اُسکی نبوت کے لئے تمام دُنیا میں گواہی دوں۔ اگر میں بے دلیل یہ دعویٰ کرتا ہوں تو جھوٹا ہوں لیکن اگر خدا اپنے نشانوں کے ساتھ اس طور سے میری گواہی دیتا ہو کہ اس زمانہ میں مشرق سے مغرب تک اور شمال سے لیکر جنوب تک اسکی نظیر نہیں تو انصاف اور خدا ترسی کا مقتضا یہی ہے کہ مجھے میری اس تمام تعلیم کے ساتھ قبول کریں۔ خدا نے میرے لئے وہ نشان دِکھلائے کہ اگر وہ اُن اُمتوں کے وقت نشان دکھلائے جاتے جو پانی اور آگ اور ہوا سے ہلاک کی گئیں تو وہ ہلاک نہ ہوتیں مگر اس زمانہ کے لوگوں کو میں کس سے تشبیہ دوں وہ اُس بدقسمت کی طرح ہیں جسکی آنکھیں بھی ہیں پر دیکھتا نہیں اور کان بھی ہیں پر سُنتا نہیں اور عقل بھی ہے پر سمجھتا نہیں۔ میں اُن کیلئے روتا ہوں اور وہ مجھ پر ہنستے ہیں۔ اور میں اُنکو زندگانی کا پانی دیتا ہوں۔ اور وہ مجھ پر آگ برساتے ہیں۔ خدا میرے پر نہ صرف اپنے قول سے ظاہر ہوا ہے بلکہ اپنے فعل کے ساتھ بھی اُس نے میرے پر تجلی کی اور میرے لئے وہ کام دکھلائے اور دکھلائیگا کہ جبتک کسی پر خدا کا خاص فضل نہ ہو اس کیلئے یہ کام دکھلائے نہیں جاتے۔ لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا لیکن خُدا نے مجھے قبول کیا۔ کون ہے جو ان نشانوں کے دکھلانے میں میرے مقابل پر آسکتا ہو۔ میں ظاہر ہوا ہوں تا خدا میرے ذریعہ سے ظاہر ہو۔ وہ ایک مخفی خزانہ کی طرح تھا۔ مگر اب اُس نے مجھے بھیجکر ارادہ کیا کہ تمام دہریوں اور
حقیقۃ الوحی صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 619 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 97 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 105)
بعض معترضوں کے جواب ۱۵۲ حقیقۃ الوحی
اب ہم ان چند وساوس کا جواب دیتے ہیں جن کا جواب بعض حق کے طالبوں نے مجھ سے دریافت ۱۳۸ کیا ہے اور اکثر ان میں وہ وساوس ہیں جو عبدالحکیم خان اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے تحریراً یا تقریراً لوگوں کے دلوں میں ڈالے اور اپنے مرتد ہونے پر ایسی مہر لگا دی کہ اب غالباً اُس کا خاتمہ اِسی پر ہوگا۔ مَیں نے ان چند وساوس کا جواب منشی برہان الحق صاحب بھوپالی کے اصرار سے لکھا ہے جو اُنہوں نے نہایت انکسار سے اپنے خط میں ظاہر کیا ہے۔ چنانچہ مَیں ذیل میں منشی برہان الحق کے خط کی اصل عبارت ہر ایک سوال میں لکھ کر اُس کا جواب دیتا ہوں۔ وباللہ التوفیق۔
سوال (۱)
تریاق القلوب کے صفحہ ۱۵۷ میں (جو میری کتاب ہے) لکھا ہے۔ اِس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ مَیں نے اِس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے کہ جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔ پھر ریویو براہین صفحہ ۲۷۵ میں مذکور ہے خدا نے اِس اُمّت میں ایک مسیح موعود بھیجا جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ پھر ریویو صفحہ ۴۷۸ میں لکھا ہے۔ مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو مَیں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔ خلاصہ اعتراض یہ کہ ان دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔
الجواب۔ یاد رہے کہ اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھے ان باتوں سے نہ کوئی خوشی ہے نہ کچھ غرض۔ کہ مَیں مسیح موعود کہلاؤں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر ٹھہراؤں۔ خدا نے میرے ضمیر کی اپنی اس پاک وحی میں آپ ہی خبر دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے قُلْ اَجْرُدُ نَفْسِیْ مِنْ ضُرُوْبِ الْخِطَابِ۔ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا تو یہ حال ہے کہ مَیں کسی خطاب کو اپنے لئے نہیں چاہتا یعنی میرا مقصد اور میری مراد ان خیالات سے برتر ہے۔ اور کوئی خطاب دینا یہ خدا کا فعل ہے میرا اِس میں دخل نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہوگیا۔ سو اس بات کو توجّہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اُسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ
لے یہ عبارت ریویو کے صفحہ ۴۷۸ میں ہے اس لئے ۲۷۵ کی بجائے ۴۷۸ کر دیا گیا ہے۔ (مصحح)
یہ حوالہ صفحہ 97 پر درج ہے حقیقۃ الوحی صفحہ 148 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 152 از مرزا قادیانی
Back
حوالہ نمبر 106
حقیقۃ الوحی ۱۵۳ بعض اعتراضوں کے جواب
۱۴۹ ہاں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔ مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنیوالا مسیح میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی۔ مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہونگے۔ اسلئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔ لیکن بعد اسکے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے۔ اور ساتھ اسکے صدہا نشان ظہور میں آئے اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کیلئے کھڑے ہوگئے اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ میں مسیح آنے والا میں ہی ہوں ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا اور پھر میں نے اسپر کفایت نہ کرکے اس وحی کو قرآن شریف پر عرض کیا تو آیات قطعیۃ الدلالۃ سے ثابت ہوا کہ درحقیقت مسیح ابن مریم فوت ہوگیا ہے اور آخری خلیفہ مسیح موعود کے نام پر اسی اُمت میں سے آئیگا۔ اور جیسا کہ جب دن چڑھ جاتا ہے تو کوئی تاریکی باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح صدہا نشانوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لئے مجبور کردیا کہ میں اپنے تئیں مسیح موعود مان لوں۔ میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو مجھے اس بات کی ہرگز تمنا نہ تھی۔ میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔ اُس نے گوشہ تنہائی سے مجھے جبراً نکالا۔ میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں مگر اُس نے کہا کہ میں تجھے تمام دُنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دُوں گا۔ پس یہ اُس خدا سے پُوچھو کہ ایسا تُونے کیوں کیا ؟ میرا اس میں کیا قصور ہے۔ ہاں جسطرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت؟ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ ۱۵۰ اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اُسکو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اُس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور
۱۵۳
حقیقۃ الوحی صفحہ 150 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 153 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 97 پر درج ہے
حوالہ نمبر 107
بعض اعتراضوں کے جواب ۱۶۸ حقیقة الوحی
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔ علاوہ اسکے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی ۱۶۴ نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں میری اُمت میں سے ہی مسیح موعود آئیگا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی خبر دی تھی کہ جس معراج کی رات مَیں مسیح ابن مریم کو اُن نبیوں میں دیکھ آیا ہوں جو اس دُنیا سے گزر گئے ہیں اور یحییٰ شہید کے پاس دُوسرے آسمان میں اُنکو دیکھا ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں خبر دی کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور خدا نے میری سچائی کی گواہی کیلئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر کسوف خسوف رمضان میں ہوا۔ اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے؟ اور اگر وہ مومن ہے تو مَیں بوجہ افتراء کرنے کے کافر ٹھہرا کیونکہ مَیں اُسکی نظر میں مفتری ہوں اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ۔ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ۱؎ یعنی عربکے دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ اُن سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے۔ ہاں یوں کہو کہ ہم نے اطاعت اختیار کرلی ہے اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا پس جبکہ خدا اطاعت کرنیوالوں کا نام مومن نہیں رکھتا۔ پھر وہ لوگ خدا کے نزدیک کیونکر مومن ہو سکتے ہیں جو کھلے کھلے طور پر خدا کے کلام کی تکذیب کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ہزارہا نشان دیکھ کر جو زمین اور آسمان میں ظاہر ہوئے پھر بھی میری تکذیب سے باز نہیں آتے۔ وہ خود اِس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ اگر مَیں مفتری نہیں اور مومن ہوں ۔ تو اس صورت میں وہ میری تکذیب اور تکفیر کے بعد کافر ہوئے۔ اور مجھے کافر ٹھہرا کر اپنے کفر پر مہر لگادی ۔ یہ ایک شریعت کا مسئلہ ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا کافر ہو جاتا ہے ۔ پس جبکہ دو سو مولوی نے مجھے کافر ٹھہرایا اور میرے پر کفر کا فتویٰ لکھا گیا اور اُنہیں کے فتوے سے یہ بات ثابت ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا کافر ہو جاتا ہے اور کافر کو مومن کہنے والا بھی کافر ہو جاتا
۱؎ الحجرات : ۱۵ ۱۶۸
یہ حوالہ صفحہ 97 پر درج ہے حقیقة الوحی صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 168 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 108
۶۳ نصرة الحق
محض جاہل اس سے دھوکا بھی کھا لیتے ہیں ۔ لیکن حکیم مطلق نے سونے میں ایک امتیازی نشان رکھا ہے جس کو صرّاف فی الفور شناخت کرلیتے ہیں۔ اور بہتیرے سفید اور چمکتے ہوئے پتھر ایسے ہیں کہ جو ہیرے سے بہت ہی مشابہ ہیں اور بعض نادان اُن کو ہیرا سمجھ کر ہزار ہا روپیہ کا نقصان اٹھالیتے ہیں ۔ لیکن صانع عالم نے ہیرے کے لئے ایک امتیازی نشان رکھا ہوا ہے جس کو ایک دانشمند جوہری شناخت کر سکتا ہے ۔ ایسا ہی دنیا کے کل جواہرات اور عمدہ چیزوں کو دیکھ لو کہ اگرچہ بظاہر نظر کئی ردی اور ادنیٰ درجہ کی چیزیں اُن کی شکل میں مل جاتی ہیں مگر ہر ایک پاک اور قابل قدر جوہر اپنے امتیازی نشان سے اپنی خصوصیت کو ظاہر کر دیتا ہے ۔ اور اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا ۔ اور خود انسان کو دیکھو کہ اگرچہ وہ صورت میں بہت سے حیوانات سے مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ بندر سے تاہم اُس میں ایک امتیازی نشان ہے جس کی وجہ سے ہم کسی بندر کو انسان نہیں کہہ سکتے ۔ پھر جبکہ اِس مادی دنیا میں جو ناپائیدار اور بے ثبات ہے اور جس کا نقصان بھی بمقابل آخرت کے کچھ چیز نہیں ہے ہر ایک عمدہ اور نفیس جوہر کیلئے حکیم مطلق نے امتیازی نشان قائم کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ بسہولت شناخت کیا جاتا ہے ۔ تو پھر مذہب جس کی غلطی جہنم تک پہنچاتی ہے اور ایسا ہی ایک راستباز اور اہل اللہ کا وجود جس کا انکار شقاوت ابدی کے گڑھے میں ڈالتا ہے کیونکر یقین کیا جائے کہ اُن کی شناخت کے لئے کوئی بھی یقینی اور قطعی نشان نہیں پس ایسے شخص سے زیادہ کون احمق اور نادان ہے کہ جو خیال کرتا ہے کہ سچے مذہب اور سچے راستباز کے لئے کوئی امتیازی نشان خدا نے قائم نہیں کیا ۔ حالانکہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں آپ فرماتا ہے کہ کتاب اللہ جو مذہب کی بنیاد ہے امتیازی نشان اپنے اندر رکھتی ہے جس کی نظیر کوئی پیش نہیں کر سکتا ۔ اور نیز فرماتا ہے کہ ہر ایک مومن کو فرقان عطا ہوتا ہے یعنی امتیازی نشان ۵۰ جس سے وہ شناخت کیا جاتا ہے پس یقیناً سمجھو کہ سچا مذہب اور حقیقی راستباز ضرور اپنے ساتھ امتیازی نشان رکھتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں معجزہ اور کرامت اور خارق عادت امر ہے ۔
براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 50 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 63 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 98 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 109)
حقیقۃ الوحی ۳۹۸ نشانات صداقت
۱۸۴۔ نشان ۔ ایک دفعہ میری بیوی کے حقیقی بھائی سیّد محمد اسمعٰیل کا جو اسوقت اسسٹنٹ سرجن ہے پٹیالہ سے خط آیا جس میں لکھا تھا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہے اور خط کے اخیر میں یہ بھی لکھا تھا کہ اسحاق میرا چھوٹا بھائی بھی فوت ہو گیا ہے اور تاکید کی تھی کہ خط کو دیکھتے ہی چلے آئیں۔ اور اتفاق ایسا ہوا کہ ایسے وقت میں وہ خط پہنچا کہ جب خود میرے گھر کے لوگ سخت تپ سے بیمار تھے اور مجھے خوف تھا کہ اگر اُن کو اِس خط کے مضمون سے اطلاع دی جائے گی تو اندیشہ جان ہے۔ تب میرا دل نہایت اضطراب میں پڑا اس اضطراب کی حالت میں مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع دی گئی کہ یہ خبر وفات صحیح نہیں اور مَیں نے اِس الہام سے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور شیخ حامد علی اور بہت سے لوگوں کو اطلاع دی اور پھر بعد اس کے شیخ حامد علی کو جو میرا ملازم ہے پٹیالہ ۳۸۴ مَیں بھیجا تو معلوم ہوا کہ درحقیقت خلاف واقعہ تھی۔ سوچنے کا مقام ہے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے کسی کو اُمور غیبیہ پر اطلاع نہیں ہوتی۔ اور یہ خدا تعالیٰ نے ایک ایسی غیب کی خبر دی جس نے خط کے مضمون کو رَدّ کر دیا۔
۱۸۵۔ نشان ۔ بعض نشان اس قسم کے ہوتے ہیں کہ اُن کے وقوع میں ایک منٹ کی تاخیر بھی نہیں ہوتی۔ کہ فی الفور واقع ہو جاتے ہیں اور ان میں گواہ کا پیدا ہونا کم میسّر آتا ہے اِسی قسم کا یہ ایک نشان ہے کہ ایک دن بعد نمازِ صبح میرے پر کشفی حالت طاری ہوئی اور مَیں نے اُس وقت اس کشفی حالت میں دیکھا کہ میرا لڑکا مبارک احمد باہر سے آیا ہے اور میرے قریب جو ایک چٹائی پڑی ہوئی تھی اُس کے ساتھ پیر پھسل کر گر پڑا ہے اور اُس کو بہت چوٹ لگی ہے اور تمام کُرتہ خون سے بھر گیا ہے۔ مَیں نے اُس وقت مبارک احمد کی والدہ کے پاس جو اُس وقت میرے پاس کھڑی تھیں یہ کشف بیان کیا۔ تو ابھی مَیں بیان ہی کر چکا تھا کہ مبارک احمد ایک طرف سے دوڑا آیا۔ جب چٹائی کے پاس پہنچا تو چٹائی سے پیر پھسل کر گر پڑا۔ اور سخت چوٹ آئی اور تمام کُرتہ خون سے بھر گیا۔ اور
۳۹۸
حقیقۃ الوحی صفحہ 384 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 398-399 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 98 پر درج ہے
حوالہ نمبر 109
حقیقۃ الوحی ٣٩٩ نشانات صداقت
ایک منٹ کے اندر ہی یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ ایک نادان کہے گا کہ اپنی بیوی کی گواہی کا کیا اعتبار ہے اور نہیں جانتا کہ ہر ایک شخص طبعاً اپنے ایمان کی حفاظت کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر پھر جھوٹ بولے۔ سو اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر معجزات کے گواہ آنجناب کے دوست اور آنجناب کی بیویاں تھیں۔ اس صورت میں وہ معجزات بھی باطل ہوتے ہیں اور اکثر نشانوں کے دیکھنے والے یہی لوگ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہر وقت ساتھ رہنے کا انہیں کو اتفاق ہوتا ہے۔ دشمنوں کو کہاں نصیب ہو سکتا ہے کہ وہ ان نشانوں کو دیکھ سکیں کہ جو ایک طرف بذریعہ پیشگوئی بتلائے جاتے اور دوسری طرف مُعاً پورے ہو جاتے ہیں۔ دشمن کا تو دل بھی دُور ہوتا ہے اور جسم بھی دُور۔
۲۸۵
۱۸۶۔ نشان۔ ایسا ہی عرصہ قریباً تین سال کا ہوا ہے کہ صبح کے وقت کشفی طور پر مجھے دکھایا گیا کہ مبارک احمد سخت مبہوت اور بدحواس ہوکر میرے پاس دوڑا آیا ہے اور نہایت بے قرار ہے اور حواس اُڑے ہوئے ہیں اور کہتا ہے کہ ابّا پانی یعنی مجھے پانی دو۔ یہ کشف میں نے نہ صرف گھر کے لوگوں کو بلکہ بہتوں کو سُنا دیا تھا۔ کیونکہ اسکے وقوع میں ابھی قریباً دو گھنٹے باقی تھے۔ اس کے بعد اُسی وقت ہم باغ میں گئے اور قریباً دس بجے صبح کا وقت تھا اور مبارک احمد بھی ساتھ تھا اور مبارک احمد کئی دوسرے چھوٹے بچوں کے ساتھ باغ کے ایک گوشہ میں کھیلتا تھا اور عمر قریباً چار برس کی تھی اُس وقت میں ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا میں نے دیکھا کہ مبارک احمد زور سے میری طرف دوڑتا چلا آتا ہے اور سخت بدحواس ہو رہا ہے میرے سامنے آکر اُتنا اُسکے منہ سے نکلا کہ ابّا پانی۔ بعد اسکے نیم بیہوش کی طرح ہو گیا اور وہاں سے کنواں قریباً پچاس قدم کے فاصلہ پر تھا میں نے اُسکو گود میں اُٹھا لیا اور جہاں تک مجھ سے ہو سکا میں تیز قدم اُٹھا کر اور دوڑ کر کنوئیں تک پہنچا اور اُسکے مُنہ میں پانی ڈالا۔ جب اُس کو ہوش آئی اور کچھ آرام آیا تو میں نے اُس سے اس حادثہ کا سبب دریافت کیا تو اُس نے کہا کہ بعض بچوں کے کہنے سے میں نے بہت پسا ہوا
٣٩٩
حقیقۃ الوحی صفحہ 384 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 398، 399 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 98 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 110)
حقیقۃ الوحی ۳۹۹ نشاناتِ صداقت
ایک منٹ کے اندر ہی یہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔ ایک نادان کہے گا کہ اپنی بیوی کی گواہی کا کیا اعتبار ہے اور نہیں جانتا کہ ہر ایک شخص طبعاً اپنے ایمان کی حفاظت کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر پھر جھوٹ بولے۔ سوا اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر معجزات کے گواہ آنجناب کے دوست اور آنجناب کی بیویاں تھیں ۔ اس صورت میں وہ معجزات بھی باطل ہوتے ہیں اور اکثر نشانوں کے دیکھنے والے یہی لوگ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہر وقت ساتھ رہنے کا انہیں کو اتفاق ہوتا ہے۔ دشمنوں کو کہاں نصیب ہو سکتا ہے کہ وہ ان نشانوں کو دیکھ سکیں۔ کہ جو ایک طرف بذریعہ پیشگوئی بتلائے جاتے اور دوسری طرف معاً پورے ہو جاتے ہیں۔ دشمن کا تو دِل بھی دُور ہوتا ہے اور جسم بھی دُور۔
۱۸۴۔ نشان ۔ ایسا ہی عرصہ قریباً تین سال کا ہوا ہے کہ صبح کے وقت کشفی طور پر مجھے دکھایا گیا کہ مبارک احمد سخت مبہوت اور بدحواس ہو کر میرے پاس دوڑا آیا ہے اور نہایت بے قرار ہے اور حواس اُڑے ہوئے ہیں اور کہتا ہے کہ اَبّا پانی یعنی مجھے پانی دو۔ یہ کشف میں نے نہ صرف گھر کے لوگوں کو بلکہ بہتوں کو سنا دیا تھا۔ کیونکہ اسکے وقوع میں ابھی قریباً دو گھنٹے باقی تھے۔ اس کے بعد اُسی وقت ہم باغ میں گئے اور قریباً دس بجے صبح کا وقت تھا اور مبارک احمد بھی ساتھ تھا اور مبارک احمد کئی دوسرے چھوٹے بچوں کے ساتھ باغ کے ایک گوشہ میں کھیلتا تھا اور عمر قریباً چار برس کی تھی۔ اُس وقت میں ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا میں نے دیکھا کہ مبارک احمد زور سے میری طرف دوڑتا چلا آتا ہے اور سخت بدحواس ہو رہا ہے میرے سامنے آکر اُتنا اُسکے مُنہ سے نکلا کہ اَبّا پانی ۔ بعد اسکے نیم بیہوش کی طرح ہو گیا اور وہاں سے کنواں قریباً پچاس قدم کے فاصلہ پر تھا میں نے اُسکو گود میں اُٹھا لیا اور جہاں تک مجھ سے ہو سکا میں تیز قدم اُٹھا کر اور دَوڑ کر کنوئیں تک پہنچا اور اُسکے مُنہ میں پانی ڈالا۔ جب اُس کو ہوش آئی اور کچھ آرام آیا تو میں نے اُس سے اِس حادثہ کا سبب دریافت کیا تو اُسنے کہا کہ بعض بچوں کے کہنے سے میں نے بہت پیا تھا
۳۹۹
حقیقۃ الوحی صفحہ 385 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 399 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 98 پر درج ہے
حوالہ نمبر 111 حقیقۃ الوحی ۳۹۴ نشانات صداقت
منجانب اللہ الہام ہوا:۔
ص ۲۸۰
اُس دُعا کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ مشکلات اُن کے دُور کر دیئے اور اُنہوں نے شکر گزاری کا خط لکھا۔ اس واقعہ کا وُہی خط گواہ ہے جو میرے کسی بستہ میں موجود ہوگا اور کئی اور لوگ گواہ ہیں بلکہ اُس وقت صدہا آدمیوں میں یہ میرا الہام شہرت پا گیا تھا اور نواب علی محمد خان مرحوم رئیس جھجر نے بھی اس کو اپنی یادداشت میں لکھ لیا تھا۔
۱۷۹۔ نشان۔ مولوی کرم دین کے مقدمہ میں جو گورداسپور میں دائر تھا کرم دین مذکور اِس بات پر زور دیتا تھا کہ لئیم کے لفظ کے معنی ولدالزنا ہیں اور کذاب کے یہ معنی ہیں جو ہمیشہ جھوٹ بولتا ہو یہی معنی پہلی عدالت نے قبول کئے۔ اُن دنوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے الہام ہوا:۔ معنیٰ دیگر نہ پسندیم ما۔ جس سے یہ تفہیم ہوئی کہ دُوسری عدالت میں یہ معنی قائم نہیں رہیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اپیل کی عدالت میں صاحب ڈویژنل جج نے ان تمام عذرات کو رد کر دیا اور یہ لکھا کہ کذاب اور لئیم کے الفاظ کرم دین کے مناسب حال ہیں بلکہ وہ اس سے بڑھ کر الفاظ کا بھی مستحق ہے سو صاحب ڈویژنل جج نے وہ پُرتکلف معنے کرم دین کے پسند نہ کئے جو پہلی عدالت میں پسند کئے گئے تھے دیکھو اخبار الحکم نمبر ۱۰ جلد ۸۔ ۲۴ مئی ۱۹۰۴ء جس میں الہام موجود ہے
۱۸۰۔ نشان۔ ایک دفعہ ۱۹۰۴ء میں مجھے الہام ہوا يُرِيدُونَ اَنْ يُطْفِؤُا نُورَكَ وَيَجْعَلُوْا عِرْضَكَ وَاِنِّيْ مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِكَ یعنی دشمن لوگ ارادہ کرینگے کہ تیرے نُور کو بجھادیں۔ اور تیری آبرو ریزی کریں مگر میں تیرے ساتھ ہوں گا۔ اور اُن کے ساتھ جو تیرے ساتھ ہیں اور انہی دنوں میں مَیں نے دیکھا کہ مَیں ایک کوچہ میں ہوں جو آگے سے بند ہے اور بہت تنگ کوچہ ہو کہ بمشکل ایک آدمی اس میں گزر سکتا ہو۔ مَیں بند کوچہ کے آخری حصہ میں جسکے آگے کوئی راہ نہ تھا۔ دیوار کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور جو واپس جانے کی طرف راہ تھی اُسکی طرف جب نظر اُٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تین قوی ہیکل سنڈھے وہاں کھڑے ہیں جو خونی ہیں اور گزرنے کی
یہ اصل میں جلد کا نمبر درج نہیں تھا اب ضمیمہ کر دیا گیا ہے۔ ۱۲ منہ ۳۹۳
حقیقۃ الوحی صفحہ 381 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 394، 395 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 99 پر درج ہے
حوالہ نمبر 111
حقیقة الوحی ۳۹۵ نشانات صداقت
راہ بند کر رکھی ہو۔ ایک اُن میں سے میری طرف حملہ کر کے دوڑا۔ اُس کو میں نے ہاتھ سے ہٹا دیا۔ پھر دُوسرا حملہ آور ہُوا اور اُسکو بھی میں نے ہاتھ سے ہٹا دیا۔ پھر تیسرا اِس شدّت اور جوش سے آیا کہ ۱۸۰ اُسے دیکھکر یقین ہوتا تھا کہ اب خیر نہیں لیکن جب میرے قریب آیا تو دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا اور میں اُسکے ساتھ رگڑ کر اُسکے پاس سے گذر گیا۔ اِسی اثناء میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے چند کلمات میرے دل پر القا ہوئے جن کو میں پڑھتا جاتا اور دوڑتا تھا اور وہ یہ ہیں رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِيْ وَانْصُرْنِيْ وَارْحَمْنِيْ۔ اِس واقعہ کے دیکھنے کے ساتھ ہی مجھ کو تفہیم ہوئی کہ کوئی دُشمن مقدمہ برپا کریگا اور اُسکے تین وکیل ہونگے اور یہ الہام اور کشف قبل ظہور اِس مقدمہ کے پرچہ اخبار الحکم ۲۴؍ یعنی الحکم نمبر ۲۴ میں درج ہو کر شائع کی گئی بعد میں کرم دین نے جہلم میں میرے پر مقدمہ کیا اور میری طلبی ہوئی اور وہ مقدمہ فوجداری اور سخت مقدمہ تھا اور جیسا کہ کشفی حالت میں ظاہر کیا گیا تین وکیل اُسکے تھے۔ آخر کار بموجب وعدہ الٰہی وہ مقدمہ اُس کا خارج ہُوا۔ دیکھو پرچہ اخبار الحکم ۲۴؍ نوامبر ۱۹۰۴ء جلد ۸ ٭
٭٭ ۱۸۱۔ نشان۔ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ ایک لڑکی تمہارے گھر میں پیدا ہو گی اور مر جائیگی اور اُس کا نام غاسق رکھا یعنی غروب ہو نیوالی۔ اور یہ اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ طفولیت
٭ مولوی کرم دین کے متعلق ایک پیشگوئی مفصل طور پر اخبار الحکم میں قبل از وقت شائع ہو چکی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک فوجداری مقدمہ میں عدالت ماتحت میرے برخلاف فیصلہ کریگی اور پھر عدالت عالیہ سے میری بریت ہو جائیگی چنانچہ کرم دین نے جب گورداسپور میں میرے پر فوجداری مقدمہ کیا تو عدالت ماتحت یعنی آتمارام کے محکمہ سے پانچسو روپیہ جرمانہ میرے پر ہُوا۔ پھر عدالت عالیہ یعنی صاحب ڈویژنل جج کے محکمہ سے وہ حکم منسوخ ہو کر عزّت کے ساتھ میری بریت ہوئی اور حاکم تجویز نے لکھا کہ لفظ کذّاب اور لئیم جو کرم دین کی نسبت استعمال کئے گئے ہیں وہ محل پر ہیں اور کرم دین اِن الفاظ کا مستحق ہے بلکہ اگر اِن الفاظ سے بڑھ کر اور سخت الفاظ کرم دین کی نسبت لکھے جاتے تب بھی وہ اِن الفاظ کا مستحق تھا ایسے الفاظ سے کرم دین کی کوئی ازالہ حیثیت عرفی نہیں ہوئی۔ یہ پیشگوئی وقت سے بہت پہلے شائع کی گئی تھی۔ منہ ؏
٭٭ یہ نشان پہلے بھی لکھا جا چکا ہے مگر اب اس جگہ مزید تشریح کے لئے دوبارہ درج کیا گیا۔ منہ ؏
۳۹۵
حقیقة الوحی صفحہ 381 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 394، 395 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 99 پر درج ہے
حوالہ نمبر 112
بعض اعتراضوں کے جواب ۲۵۶ حقیقۃ الوحی
وارث نہیں تھا اس لئے اُس کی زمین میں سے آدھی تو ہمارے حصہ میں آئی اور آدھی زمین ہمارے چچازاد بھائیوں کے حصہ میں گئی اور اس طرح پر وہ پیشگوئی پوری ہو گئی جس کے پورے ہونے اور بیان کرنے پر ایک جماعت گواہ ہے اور نیز شیخ حامد علی بھی جو زندہ موجود ہے۔ ۹۵۔ پچانوے نشان۔ ایک دفعہ مجھے لدھیانہ سے پٹیالہ جانے کا اتفاق ہوا اور میرے ساتھ ایک شیخ حامد علی اور دُوسرا شخص فتح خان نام ساکن کوٹلہ مالندھ ضلع ہوشیار پور کا اور تیسرا شخص عبدالرحیم نام ساکن انبالہ چھاؤنی تھا اور بعض اور بھی تھے جو یاد نہیں رہے۔ جس صبح ہم نے ریل پر سوار ہونا تھا مجھے الہام کے ذریعہ سے بتلایا گیا تھا کہ اس سفر میں کچھ نقصان ہوگا اور کچھ حرج بھی۔ مَیں نے اپنے ان تمام ہمراہیوں کو کہا کہ نماز پڑھ کر دُعا کر لو کیونکہ مجھے یہ الہام ہو ا ہے۔ چنانچہ سب نے دُعا کی اور پھر ہم ریل پر سوار ہو کر ہر ایک طور کی عافیت سے پٹیالہ میں پہنچ گئے۔ جب ہم اسٹیشن پر پہنچے تو وزیر اعظم ریاست کا خلیفہ محمد حسن مع اپنے تمام ارکان ریاست کے جو شاید اٹھارہ گاڑیوں پر سوار ہونگے پیشوائی کے لئے موجود دیکھے ! اور جب آگے بڑھے تو شاید سات ہزار کے قریب دوسرے عام وخاص شہر کے رہنے والے ملاقات کیلئے موجود تھے اُس حد تک تو خیر گذری نہ کوئی نقصان ہوا اور نہ کوئی حرج۔ لیکن جب واپس آنے کا ارادہ ہوا۔ تو وہی وزیر صاحب مع اپنے بھائی سید محمد حسین صاحب کے جو شایداُن دنوں میں ممبر کونسل ہیں مجھے ۲۳۸ ریل پر سوار کرنے کیلئے اسٹیشن پر میرے ہمراہ گئے اور اُن کے ساتھ نواب علی محمد خان صاحب مرحوم جھجروالے بھی تھے۔ جب ہم اسٹیشن پر پہنچے تو ریل کے چلنے میں کچھ دیر تھی۔ مَیں نے ارادہ کیا کہ عصر کی نماز یہیں پڑھ لوں اسٹیشن میں مَیں نے چوغہ اُتار کر وضو کرنا چاہا اور چوغہ وزیر صاحب کے ایک ملازم کو پکڑادیا اور پھر چوغہ پہن کر نماز پڑھ لی۔ اور اس چوغہ میں زادِ راہ کے طور پر کچھ روپیہ تھے اور اسی میں ریل کا کرایہ بھی دینا تھا۔ جب ٹکٹ لینے کا وقت آیا تو مَیں نے جیب میں ہاتھ ڈالا کہ تا ٹکٹ کیلئے روپیہ دوں تو معلوم ہوا کہ وہ رومال جس میں روپیہ تھا گم ہو گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ چوغہ اُتارنے کے وقت کہیں گر پڑا۔ مگر مجھے بجائے غم کے خوشی ہوئی کہ ایک
۲۵۶
حقیقۃ الوحی صفحہ 257 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 556, 557 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 99 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 112)
حقیقۃ الوحی ۲۵۷ بعض اعتراضوں کے جواب
حصہ پیشگوئی کا پورا ہو گیا۔ پھر ہم ٹکٹ کا انتظام کر کے ریل پر سوار ہو گئے ۔ جب ہم دوراہہ کے اسٹیشن پر پہنچے تو شاید اس وقت دس بجے رات کا وقت تھا اور وہاں صرف پانچ منٹ کیلئے ریل ٹھہرنی تھی۔ میرے ایک ہمراہی شیخ عبدالرحیم نے ایک انگریز سے پوچھا کہ کیا لودہانہ آ گیا ؟ اُس نے شرارت سے یا کسی اپنی خود غرضی سے جواب دیا کہ ہاں آ گیا۔ تب ہم مع اپنے تمام اسباب کے جلد جلد اُتر آئے ۔ اتنے میں ریل روانہ ہو گئی۔ اُترنے کے ساتھ ہی ایک ویرانہ اسٹیشن دیکھ کر پتہ لگ گیا کہ ہمیں دھوکہ دیا گیا۔ وہ ایسا ویرانہ اسٹیشن تھا کہ بیٹھنے کے لئے چار پائی بھی نہیں ملتی تھی اور نہ روٹی کا سامان ہو سکتا تھا۔ مگر اس امر کے خیال سے کہ اس وجہ کے پیش آنے سے دوسرا حصہ پیشگوئی کا بھی پورا ہو گیا۔ اس قدر مجھے خوشی ہوئی کہ گویا اس مقام میں کسی نے ہمیں بھاری دعوت دی اور گویا ہر ایک قسم کا خوش مزہ کھانا ہمیں مل گیا۔ بعد اس کے اسٹیشن ماسٹر اپنے کمرہ سے نکلا۔ اُس نے افسوس کیا کہ کسی نے ناحق شرارت سے آپکو حرج پہنچایا اور کہا کہ آدھی رات کو ایک مال گاڑی آئے گی۔ اگر گنجائش ہوئی تو میں اُس میں بٹھا دوں گا۔ تب اُس نے اس امر کے دریافت کے لئے تار بھیجی اور جواب آیا گنجائش ہے۔ تب ہم آدھی رات کو سوار ہو کر لودہانہ میں پہنچ گئے۔ گویا یہ سفر اسی پیشگوئی کے لئے تھا۔
۹۶۔ چھیا نواں نشان ۔ ایک دفعہ نواب علی محمد خاں مرحوم رئیس لدھیانہ نے میری طرف خط لکھا کہ میرے بعض امور معاش بند ہو گئے ہیں آپ دُعا کریں کہ تا وہ کھل جائیں ۔ جب میں نے دُعا کی تو مجھے الہام ہوا کہ کھل جائیں گے۔ میں نے بذریعہ خط اُنکو اطلاع دے دی۔ پھر صرف دو چار دن کے بعد وہ وجوہ معاش کھل گئے اور اُنکو بشدّت اعتقاد ہو گیا ۔ پھر ایک دفعہ انہوں نے بعض اپنے پوشیدہ مطالب کے متعلق میری طرف ایک خط روانہ کیا۔ اور جس گھڑی انہوں نے خط ڈاک میں ڈالا اُسی گھڑی مجھے الہام ہوا کہ اس مضمون کا خط اُنکی طرف سے آنے والا ہے ۔ تب میں نے بلا توقف اُنکی طرف یہ خط لکھا کہ اس مضمون کا خط آپ روانہ کرینگے
۲۵۷
حقیقۃ الوحی صفحہ 257 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 557,556 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 99 پر درج ہے
حوالہ نمبر 113
حقیقۃ الوحی ۲۵۷ بعض اعتراضوں کے جواب
حصہ پیشگوئی کا پورا ہو گیا۔ پھر ہم ٹکٹ کا انتظام کر کے ریل پر سوار ہو گئے ۔ جب ہم دوراہہ کے اسٹیشن پر پہنچے تو شاید اس وقت دس بجے رات کا وقت تھا اور وہاں صرف پانچ منٹ کیلئے ریل ٹھہرتی تھی۔ میرے ایک ہمراہی شیخ عبدالرحیم نے ایک انگریز سے پوچھا کہ کیا لودہانہ آگیا ؟ اُس نے شرارت سے یا کسی اپنی خود غرضی سے جواب دیا کہ ہاں آگیا ۔ تب ہم بمع اپنے تمام اسباب کے جلد جلد اُتر آئے ۔ اتنے میں ریل روانہ ہو گئی ۔ اُترنے کے ساتھ ہی ایک ویرانہ اسٹیشن دیکھ کر پتہ لگ گیا کہ ہمیں دھوکہ دیا گیا ۔ وہ ایسا ویرانہ اسٹیشن تھا کہ بیٹھنے کے لئے چارپائی بھی نہیں ملتی تھی اور نہ روٹی کا سامان ہو سکتا تھا مگر اس امر کے خیال سے کہ اس حرج کے پیش آنے سے دُوسرا حصہ پیشگوئی کا بھی پورا ہو گیا ۔ اس قدر مجھے خوشی ہوئی کہ گویا اس مقام میں کسی نے ہمیں بھاری دعوت دی اور گویا ہر ایک قسم کا خوش مزہ کھانا ہمیں مل گیا ۔ بعد اس کے اسٹیشن ماسٹر اپنے کمرہ سے نکلا۔ اُس نے افسوس کیا کہ کسی نے ناحق شرارت سے آپکو حرج پہنچایا اور کہا کہ آدھی رات کو ایک مال گاڑی آئے گی ۔ اگر گنجائش ہوئی تو میں اُس میں بٹھا دونگا۔ تب اُس نے اس امر کے دریافت کے لئے تار دی اور جواب آیا گنجائش ہے ۔ تب ہم آدھی رات کو سوار ہو کر لودہانہ میں پہنچ گئے ۔ گویا یہ سفر اسی
ص ۲۳۶
پیشگوئی کے لئے تھا ۔
۹۶۔ چھیا نویں نشان ۔ ایک دفعہ نواب علی محمد خاں مرحوم رئیس لودھیانہ نے میری طرف خط لکھا کہ میرے بعض امور معاش بند ہو گئے ہیں آپ دُعا کریں کہ تا وہ کھل جائیں ۔ جب میں نے دُعا کی تو مجھے الہام ہوا کہ کھل جائیں گے ۔ میں نے بذریعہ خط انکو اطلاع دے دی ۔ پھر صرف دو چار دن کے بعد وہ وجوہ معاش کُھل گئے اور اُنکو بشدّت اعتقاد ہو گیا ۔ پھر ایک دفعہ انہوں نے بعض اپنے پوشیدہ مطالب کے متعلق میری طرف ایک خط روانہ کیا۔ اور جس گھڑی انہوں نے خط ڈاک میں ڈالا اُسی گھڑی مجھے الہام ہوا کہ اس مضمون کا خط اُنکی طرف سے آنے والا ہے ۔ تب میں نے بلا توقف اُنکی طرف یہ خط لکھا کہ اس مضمون کا خط آپ روانہ کرینگے
یہ حوالہ صفحہ 101 پر درج ہے حقیقۃ الوحی صفحہ 257 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 257 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 114
۲۸۶
اور قدرت کو دیکھ لے ہم کسی کو منع نہیں کرتے ۔
اسباب پرستی ، پتھر پرستی سے بڑھ کر ہے۔ پتھروں کی پوجا اگر محرقہ ہے، تو اسباب پرستی تپ دق ہے جس نے دنیا کو ہلاک کر دیا ہے۔ یاد رکھو جو اسباب میں دل لگاتا ہے، وہ شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اندر اور داخل کی حفاظت کا تو ذمّہ خدا نے لے لیا ہے۔ مگر ایک وہ دائرہ ہے جو خس و خاشاک غلیظ کا بنتا ہوا مرغیواڑہ سا گھر ہے اور ایک وہ جو ہمارے منشاء کے موافق رُوحانی طور پر اپنی تبدیلی کرتا ہے۔ وہ بھی ہمارے دار میں ہے۔
برکت کا نشان
میرے پاس ایک شیشی مُشک کی ہے جس میں سے میں کھایا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کے سلسلہ کو منقطع کرنا نہیں چاہتا، تو جس طرح چاہے اس کو برکت دے دے۔ میں نے گھر والوں سے کہا کہ لاؤ اس شیشی کو میں برکت دیتا ہوں ، چنانچہ میں نے اُس میں پھونک مار دی۔ ڈاک کے وقت فضل الٰہی ایک شیشی لایا، میں نے سمجھا کہ کوئی دوائی ہے اور رکھ دی ۔ مگر عصر کو جب اسے کھول کر دیکھا، تو وہ مُشک نکلا۔ میں نے اس کو ملا کر پڑیاں کر لیں۔ نہ ختم ہی ہے۔ اس لئے کہ روح کا قدم ہو گیا اس شیشی پر بھی مُرسل و فرستندہ کا نام نہیں، یہ نشان خدا تعالیٰ نے برکت کا دیا ہے۔ میں نے گھر میں خود پھونک ماری اور وہ ڈبہ ہے ان دنوں میں باقی ۔ یہ خدا کے عجیب کام ہیں، جو آجکل ظاہر ہو رہے ہیں۔ فالحمد للہ علٰی ذالک ۔
۳۰ ستمبر ۱۹۰۲ء
رومن کیتھولک اور پراٹسٹنٹ
وہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں دراصل ایک ہی ہیں، اور ان کی پرستش کرنے میں کوئی ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہے۔ ایک بیٹے کی پرستش کرتا ہے تو دوسرا ماں کو بھی خدا بناتا ہے اور اس معاملہ میں وہ عقلمندی سے کام لیتا ہے جب بیٹا خدا ہے تو ماں کو ضرور خدا ہونی چاہیے۔ مگر اب وقت آگیا ہے کہ انسان پرستی کا شیشہ ٹوٹ جاوے ۔
الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ صفحہ ۱۵ - ۱۶ - مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ء
ملفوظات جلد دوم صفحہ 286 طبع جدید ، ربوہ یہ حوالہ صفحہ 101 پر درج ہے
حوالہ نمبر 115
حقیقۃ الوحی ۲۴۷ بعض اعتراضوں کے جواب
اُٹھا اور امتحان کیلئے چلنا شروع کیا تو ثابت ہوا کہ میں بالکل تندرست ہوں۔ تب مجھے اپنے قادر خدا کی قدرت عظیم کو دیکھ کر رونا آیا کہ کیسا قادر ہمارا خدا ہے اور ہم کیسے خوش نصیب ہیں کہ اُس کی کلام قرآن شریف پر ایمان لائے اور اُسکے رسول کی پیروی کی۔ اور کیا بد نصیب وہ لوگ ہیں جو اس ذوالعجائب خدا پر ایمان نہیں لائے۔
۸۵۔ نشان ۔ ایک مرتبہ میں قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے انہیں دنوں میں شیخ رحیم بخش صاحب مرحوم مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کے والد ماجد بٹالہ سے میری عیادت کیلئے آئے اور میری نازک حالت انہوں نے دیکھی اور میں نے سُنا کہ وہ بعض لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ آجکل یہ مرض وبائی طرح پھیلی ہوئی ہے بٹالہ میں ابھی میں ایک جنازہ پڑھ کر آیا ہوں جو اسی مرض سے فوت ہوا تھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ
۲۳۹
کہ محمد بخش نام ایک حجام قادیان کا رہنے والا اسی دن اسی مرض سے بیمار ہوا اور آٹھویں دن مر گیا۔ اور جب سولہ دن میری مرض پر گذرے تو آثار نومیدی کے ظاہر ہو گئے اور میں نے دیکھا کہ بعض عورتیں میرے دیوار کے پیچھے روتے تھے اور مسنون طور پر تین مرتبہ سورہ یٰسین سُنائی گئی ۔ جب میری مرض اس نوبت پر پہنچ گئی تو خدا تعالیٰ نے میرے دل پر القاء کیا کہ اور علاج چھوڑ دو اور دریا کی ریت جس کے ساتھ پانی بھی ہو تسبیح اور درود کے ساتھ اپنے بدن پر ملو۔ تب بہت جلد دریا سے ایسی ریت منگوائی گئی اور میں نے اس کلمہ کے ساتھ کہ سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم اور درود شریف کے ساتھ اُس ریت کو بدن پر ملنا شروع کیا ۔ ہر ایک دفعہ جو جسم پر وہ ریت پہنچتی تھی تو گویا میرا بدن آگ میں سے نجات پاتا تھا صبح تک وہ تمام مرض دُور ہو گئی اور صبح کے وقت الہام ہوا ۔ وان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا فأتوا بشفاءٍ من مثلہ ۔
۸۶۔ نشان۔ ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت درد ہوئی۔ ایک دم قرار نہ تھا کسی شخص کو میں نے دریافت کیا کہ اس کا کوئی علاج ہو۔ اُس نے کہا کہ علاج دندان اخراج دندان۔ اور دانت نکالنے سے میرا دل ڈرا ۔ تب اُس وقت مجھے غنودگی آگئی اور میں زمین پر بیہوشی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا اور چارپائی
۲۴۹
حقیقۃ الوحی صفحہ 246، 247 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 246، 247 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 102 پر درج ہے
حوالہ نمبر 115
حقیقۃ الوحی ۲۴۷ بعض اعتراضوں کے جواب
پاس بھی تھی۔ مَیں نے بیتابی کی حالت میں اُس چار پائی کی پائینتی پر اپنا سر رکھ دیا اور تھوڑی سی نیند آ گئی۔ جب مَیں بیدار ہوا تو درد کا نام ونشان نہ تھا اور زبان پر یہ الہام جاری تھا۔ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِي یعنی جب تو بیمار ہوتا ہے تو وہ تجھے شفا دیتا ہے فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَى ذَالِكَ
۲۸۷ ستائیسواں نشان۔ یہ پیشگوئی ہے کہ میری اس شادی کے بارے میں جو دہلی میں ہوئی تھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ الہام ہوا تھا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی جَعَلَ لَكُمُ الصِّهْرَ وَالنَّسَبَ یعنی اُس خدا کی تعریف ہو جس نے تمہیں دامادی اور نسب دونوں طرف سے عزت دی یعنی تمہاری نسب کو بھی شریف بنایا اور تمہاری بیوی بھی سادات میں سے کی گئی یہ الہام شادی کیلئے ایک پیشگوئی تھی جس سے مجھے یہ فکر پیدا ہوا کہ شادی کے اخراجات کو کیونکر میں انجام دوں گا کہ اس وقت میرے پاس کچھ نہیں اور نیز کیونکر میں ہمیشہ کیلئے اس بوجھ کا متحمل ہو سکونگا۔ تو میں نے جنابِ الٰہی میں دعا کی کہ ان اخراجات کی مجھ میں طاقت نہیں۔ تب یہ الہام ہوا کہ ؎
۲۳۶
یعنی جو کچھ تمہیں شادی کے لئے درکار ہوگا۔ تمام سامان اُس کا میں آپ کر دونگا۔ اور جو کچھ تمہیں وقتاً فوقتاً حاجت ہوتی رہے گی۔ آپ دیتا رہونگا۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ شادی کے لئے جو کسی قدر مجھے روپیہ درکار تھا۔ اُن ضروری اخراجات کے لئے منشی عبدالحق صاحب اکونٹنٹ لاہور نے پانسو روپیہ مجھے قرضہ دیا اور ایک اور صاحب حکیم محمد شریف نام ساکن کلانور نے جو امرتسر میں طبابت کرتے تھے دوسو روپیہ یا تین سو روپیہ مجھے بطور قرض دیا۔ اُس وقت منشی عبدالحق صاحب اکونٹنٹ نے مجھے کہا کہ ہندوستان میں شادی کرنا ایسا ہے جیسا کہ ہاتھی کو اپنے دروازہ پر باندھنا۔ مَیں نے اُن کو جواب دیا کہ ان اخراجات کا خدا نے خود وعدہ فرما دیا ہے۔ پھر شادی کرنے کے بعد سلسلۂ فتوحات شروع ہو گیا۔ اور یا وہ زمانہ تھا کہ باعثِ تفرّد وجوہِ معاش پانچ سات آدمی کا خرچ بھی میرے پر ایک بوجھ تھا۔ اور یا اب وہ وقت آگیا کہ بحسابِ اوسط تین سو آدمی ہر روز مع عیال و اطفال اور ساتھ اسکے
۲۴۷
یہ حوالہ صفحہ 102 پر درج ہے حقیقۃ الوحی صفحہ 246، 247 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 246، 247 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 116)
حقیقۃ الوحی ۳۹۶ نشاناتِ صداقت
میں ہی مر جائے گی ۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق لڑکی پیدا ہوئی اور پیشگوئی کے مطابق طفولیت میں ہی مرگئی ۔ دیکھو اخبار الحکم نمبر ۴ جلد ۷ ۔
۱۸۲۔ نشان۔ مولوی محمد فضل صاحب احمدی مقام چھینگا تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی سے لکھتے ہیں کہ ایک روز ماہ مئی ۱۹۰۶ء کو مقام چھینگا تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی جبکہ میں کچھ آدمیوں کے ساتھ جن میں بعض احمدی و غیر احمدی شامل تھے نماز جمعہ ادا کر کے مسجد میں بیٹھا ہوا تھا تو ایک شخص مسمی فضل داد خان نمبردار چھینگا جو میرا ہمقوم اور رشتہ میں سے تھا ایک شخص کے ورغلانے سے مسجد میں آکر مجھے معہ دیگر احمدیوں کے ملامت کرنے لگا۔ اور کہا کہ تم لوگ مسجد میں نماز نہ پڑھا کرو مسجد کو بھرشٹ کر دیا ہے۔ پھر فروعی مسائل کا جو احمدیوں اور غیر احمدیوں میں مختلف فیہ ہیں ذکر چھیڑ کر میرے ساتھ مجادلہ شروع کر دیا ۳۸۲ میں نے اُس کو معقولاً و منقولاً سمجھایا اور خوب ملزم کیا مگر وہ تکذیب پر اڑا رہا۔ اور اُس کے بہکانے سے عوام کو میں نے احمدیوں پر مشتعل پایا اور دیکھا کہ وہ شخص فتنہ اور فساد سے باز نہیں آتا اُس وقت میرے دل پر سخت قلق و اضطراب پیدا ہوا کہ خداوندا اب اِس امر کا کیا علاج ہو ۔ اس شخص کے ذریعہ بڑا فتنہ ہونے والا ہے۔ تب میں نے اُس کو اپنا مخاطب بنا کر کہا کہ اگر میں جو مسائل بیان کر رہا ہوں اُن میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ مجھ سے پہلے مجھے ہلاک کرے اور اگر تو جھوٹا ہے تو خدا تعالیٰ تجھے ہلاک کرے۔ تب فضل داد خان نے ان لفظوں کے ساتھ مجھے جواب دیا کہ خدا تجھے ہلاک کرے۔ پھر میں اُسی وقت مسجد سے باہر آگیا اور لوگ منتشر ہو گئے۔ پھر چند روز کے بعد شخص مذکور (یعنی فضل داد خان) درد شکم کی سخت مرض میں مبتلا ہو گیا اور دس ماہ کے اندر ۲۴ مارچ ۱۹۰۷ء کو مر گیا اور اپنی موت سے سلسلہ احمدیہ کی صداقت کا نشان بطور یادگار چھوڑ گیا ۔ کچھ مدت تک مجلس مباہلہ میں حاضرین میں اس کے مرنے سے ایک دہشت اور رعب پھیل گیا تھا۔ اور میں نے اپنے بعض مخالفین سے بھی اپنے کانوں کے ساتھ یہ ذکر سُنا کہ اس شخص کی
۳۹۶
حقیقۃ الوحی صفحہ 396 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 396 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 102 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 117)
۴۵۱
نہ خدا تعالیٰ کا خوف ہے اور نہ انسانوں سے شرم ہے۔
- ۷۱ منجملہ ان پیشگوئیوں کے جو پوری ہو چکی ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے
میری سچائی پر ایک نشان ہے۔ یہ ہے کہ جب میری لڑکی مبارکہ پیٹ میں تھی۔ اور قریباً پچیس روز اس کی پیدائش میں باقی رہتے تھے تو اس لڑکی کی والدہ نہایت تکلیف میں مبتلا تھی۔ اور حساب کی غلطی سے یہ غم بھی ان کو لاحق ہوا کہ شاید یہ حمل نہ ہو کوئی اور بیماری ہو۔ کیونکہ انھوں نے ٹھیک ٹھیک یاد نہ رہنے کی وجہ سے خیال کیا کہ یہ گیارھواں مہینہ جاتا ہے اور عام دستور کے لحاظ سے یہ مدّت حمل کی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے دوہری تکلیف دامنگیر ہو گئی۔ اور جب ایسے ایسے خیالات سے اُن کا غم حد سے بڑھ گیا۔ تو مَیں نے اُن کے لئے دُعا کی۔ تب مجھے یہ الہام ہوا۔ آیَد آں روزے کہ مستخلص شود۔ یعنے وہ دن چلا آتا ہے کہ چھٹکارا ہو جائیگا۔ اور اس الہام کے معنوں کی مجھے تفہیم ہوئی کہ لڑکی پیدا ہو گی اور اسی وجہ سے کوئی لفظ بشارت کا اس الہام میں استعمال نہیں کیا گیا بلکہ چھٹکارا کا لفظ استعمال کیا گیا۔ چنانچہ مَیں نے اس الہام سے اپنی جماعت میں سے بہتوں کو اطلاع دیدی۔ آخر ۲۷ رمضان ۱۳۱۴ھ کو لڑکی پیدا ہو گئی جس کا نام مبارکہ رکھا گیا۔ کیونکہ انہی دنوں میں مجھے معلوم کرایا گیا تھا کہ ایک نشان ظاہر ہو گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور جس روز لڑکی کا عقیقہ تھا۔ اُسی روز ہمیں اطلاع پہنچی کہ وہ لیکھرام جس کے مارے جانے کی نسبت پیشگوئی کی گئی تھی وہ ۶ مارچ ۱۸۹۷ء کو اس غدّار دُنیا سے عالم مجازات کی طرف کھینچا گیا۔ تمام گواہ اس پیشگوئی کے زندہ ہیں جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں۔
- ۷۲ اور منجملہ میرے نشانوں کے جو میری تائید میں خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائے
۳۲۳
تریاق القلوب صفحہ 323 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 451 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 102 پر درج ہے
حوالہ نمبر 118
حقیقۃ الوحی ۴۰۰ نشانات صداقت
نمک پھانک لیا اور دماغ پر بخارات چڑھ گئے اور سانس رُک گیا اور گلا گھٹنے لگا۔ پس اِس طرح پر خدا نے اُس کو شفا دی اور کشفی پیشگوئی پوری کی ۔
- ۱۸۷۔نشان ۔ میرے بڑے بھائی جن کا نام مرزا غلام قادر تھا کچھ مدّت تک
بیمار رہے جس بیماری سے آخر اُن کا انتقال ہوا جس دن اُن کی وفات مقدر تھی صبح مجھے الہام ہوا کہ جنازہ ۔ اور اگرچہ کچھ آثار اُن کی وفات کے نہ تھے مگر مجھے سمجھایا گیا کہ آج وہ فوت ہو جائیں گے اور میں نے اپنے خاص ہم نشینوں کو اِس پیشگوئی کی خبر دے دی جو اب تک زندہ ہیں ۔ پھر شام کے قریب میرے بھائی ص ۲۸۷ کا انتقال ہو گیا۔
ان تمام پیشگوئیوں میں جو اِس جگہ لکھی گئی ہیں ۔ میں نے اختصار کے خیال سے بہت کم گواہوں کا ذکر کیا ہے مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی ہزار گواہ ہیں جن کے رُوبرو یہ پیشگوئیاں کی گئیں اور پُوری ہوئیں۔ بلکہ بعض پیشگوئیوں کے تو کئی لاکھ گواہ ہیں ۔
میرا ارادہ تھا کہ ان نشانوں کو تین سو تک اِس کتاب میں لکھوں اور وہ تمام نشان جو میری کتاب نزول المسیح اور تریاق القلوب وغیرہ کتابوں میں لکھے گئے ہیں اور دُوسرے نئے نشان اِس قدر اِس میں لکھ دوں کہ تین سو کا عدد پُورا ہو جائے مگر تین روز سے میں بیمار ہو گیا ہوں اور آج اُنتیسویں ستمبر ۱۹۰۶ء کو اِس قدر غلبہ مرض اور ضعف اور نقاہت ہے کہ میں لکھنے سے مجبور ہو گیا ہوں اگر خدا نے چاہا تو حصّہ پنجم براہین احمدیہ میں یہ بقیہ سو نشان یا زیادہ اِس سے لکھے جاویں گے۔ بالآخر میں اِس قدر لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر ان نشانوں سے کسی کا دل تسلّی پذیر نہ ہو اور ایسا شخص اُن لوگوں میں سے ہو جو الہام اور وحی کا دعوےٰ کرتے ہیں تو اُس کے لئے یہ دُوسری راہ کھلی ہو کہ وہ میرے مقابل پر اپنے الہام اپنی قوم کے دو اخباروں میں ایک سال تک شائع کرتا رہے اور دُوسری طرف میں وہ تمام
۴۰۰
Back
حقیقۃ الوحی صفحہ 400 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 400 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 103 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 119)
۶۴۲
اور وہ واقعی اخلاص سے لکھا تھا کیونکہ اس وقت اس کی یہ حالت تھی کہ بعض اوقات میرے جوتے اٹھا کر جھاڑ کر آگے رکھ دیا کرتا تھا اور ایک بار مجھے اپنے مکان میں اس غرض سے لے گیا کہ وہ مبارک ہو جاوے اور ایک بار اصرار کر کے مجھے وضو کرایا۔ غرض بڑا اخلاص ظاہر کیا کرتا تھا۔ کئی بار اس نے ارادہ کیا کہ میں قادیان ہی میں آکر رہوں۔ مگر میں نے اس وقت اسے یہی کہا تھا کہ ابھی وقت نہیں آیا۔ اس کے بعد اسے یہ ابتلاء پیش آیا۔ کیا تعجب ہے کہ اس اخلاص کے بدلے میں خدا تعالیٰ نے اس کا انجام اچھا رکھا ہو ۱؎
اس پر ایک بھائی نے سوال کیا کہ حضور اب اسے کیا سمجھیں۔ فرمایا۔ اب تو حکم حالت موجودہ ہی پر ہو گا۔ وہ دشمن ہی اس سلسلہ کا ہے یہ دیکھو جب تک نطفہ ہوتا ہے اس کا نام نطفہ رکھتے ہیں گو پورا انسان بن جاوے مگر جوں جوں اس کی حالتیں بدلتی جاتی ہیں اس کا نام بدلتا جاتا ہے۔ مضغہ علقہ وغیرہ ہوتا ہے۔ آخر اپنے وقت پر جا کر انسان بنتا ہے۔ یہی حال اس کا ہے۔ سردست تو وہ اس سلسلہ کا مخالف اور دشمن ہے اور یہی اس کو سمجھنا چاہیے۔
پھر اُس ضمن میں فرمایا کہ سزا اور عذاب صرف کفری کے باعث نہیں آتا۔ بلکہ فسق و فجور بھی عذاب کا موجب ہو جاتا ہے۔
خدا تعالیٰ ہمیشہ صادقوں ہی کی نصرت اور تائید کرتا ہے
فرمایا : کبھی کوئی جھوٹ اس قدر چل نہیں سکتا۔ آخر دنیا میں ہم دیکھتے ہیں۔ کہ بدی کرنے والے جھوٹے اور فریبی اپنے جھوٹ میں تھک کر رہ جاتے ہیں۔ پھر کیا کوئی ایسا مفتری ہو سکتا ہے جو برابر پچیس برس سے خدا تعالیٰ پر افترا کر رہا ہو اور تھکا نہ ہو اور خدا کو بھی اس کے لئے غیرت نہ آوے بلکہ اس کی تائید میں نشانات ظاہر کرتا رہے۔ یہ عجیب بات ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ صادقوں ہی کی نصرت اور تائید کرتا ہے۔ دیکھو یہ جو میری پیشگوئی ہے کہ میری عمر اسی برس کے قریب ہوگی کیا کوئی مفتری اس قسم کی
۱؎ البدر میں خط یوں لکھا ہے۔ "یہ خدا تعالیٰ کی رحمت کے تقاضے ہوتے ہیں۔ ایک کتاب میں میں نے دیکھا کہ موسیٰ کے زمانہ میں ایک بہروپیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی شکل پر سوانگ بنایا کرتا تھا جس وقت سب قوم فرعون کی غرق ہوئی تو وہ بچا رہا۔ حضرت موسیٰ نے خدا تعالیٰ سے اس کا باعث دریافت کیا تو فرمایا کہ چونکہ یہ تیرے چہرہ جیسا چہرہ بنایا کرتا تھا اس لئے ہماری رحمت نے تقاضا نہ کیا کہ تیرے مثیل شکل کو غرق کریں"۔
(البدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء)
ملفوظات جلد دوم صفحہ 642 طبع جدید، از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 103 پر درج ہے
حوالہ نمبر (120)
والسلام ۔ مرزا غلام احمد عفی عنہ ۔ ۲۴ مارچ ۱۸۹۹ء
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْكَرِيْمِ مُحِبّی اَخْوِیْم مُکَرَّمْ مِیَاں مُحَمَّد حُسَیْن صَاحِبْ ۔ آج کے خط سے واقعہ صدمہ جانکاہ پر اطلاع ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ خدا تعالےٰ آپ کو اجر دے اور صبر بخشے۔ اور بعد میں ہر ایک بلا سے بچاوے۔ آمین۔ دعا تو بہت کی گئی تھی مگر تقدیر مبرم کا کیا علاج ہے۔ جیسے پہلے اس سے دیکھا تھا یعنی الہام ہوا تھا کہ لاہور سے ایک خوفناک خبر آئی۔ اس الہام کو میں نے اخبار میں شائع کر دیا تھا۔ سو وہ بات پوری ہوئی ۔۔۔۔۔۔ اور اب صبر کریں۔ خدا تعالےٰ صبر پر اس کا اجر دیگا۔ والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ ۔ ۲۸ مارچ ۱۸۹۹ء
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْكَرِيْمِ مُحِبّی اَخْوِیْم مُکَرَّمْ مِیَاں مُحَمَّد حُسَیْن صَاحِبْ قُرَیْشِی ۔ السَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُہٗ۔ آپ براہِ مہربانی ایک تو روغنِ خالص جس میں ریشہ اور کھلی اور صوف نہ ہو۔ اندازہ دو تین سیر ہو۔ بذریعہ ویلیو پے ۔ یعنی پارسل ارسال فرماویں۔ کیونکہ پہلی منگائی ختم ہوچکی ہے۔ اور باعث روزہ کے مرضِ خفقان رہتی ہے۔ یہ لحاظ رکھیں کہ اکثر گھی میں چربی ملا دیتے ہیں۔ یا پرانی اور ردی ہوتی ہے۔ وہ خوشبو نہیں رکھتی ۔ ان باتوں کا لحاظ رہے۔ تلاش کرکے جہاں تک ممکن ہو جلد بھیج دیں۔ بصیغہ ٹرانزٹ امید ہے کہ پہنچ جاوے گا۔ والسلام۔ خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۔ ۲۴ اپریل ۹۹ء
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْكَرِيْمِ السَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُہٗ۔ ایک ضروری کام تھا کہ میں ملاقات کے وقت اسکا ذکر کرنا بھول گیا۔ وہ یہ ہے کہ پہلی مشک جو لاہور سے آپ نے بھیجی تھی وہ اب نہیں رہی۔ آپ جانتے ہیں ایک تولہ مشک خالص جس میں کچھ ملاوٹ نہ ہو اور کوئی عیب نہ ہو نہایت خوشبو دار ہو ضرور ویلیو پے پارسل کرا کر بھیج دیں۔ جس قدر قیمت ہو مضا یقہ نہیں۔ مگر مشک اعلےٰ درجہ کی ہو ۔ جھوٹھا
نہ ہو۔ اور جب کہ عمدہ اور تازہ مشک میں تیز خوشبو ہوتی ہے وہی اس میں ہو۔ اور ساتھ اسکے عطار کی دکان سے ایک روپیہ کا منقیٰ جو عمدہ ہو۔ ایک سیر پختہ ۔ صاف ہو۔ بہت احتیاط سے بند کرکے بذریعہ ڈاک وی ۔ پی کرکے بھیج دیں اور جہاں تک ممکن ہو پرسوں تک یہ دونو چیزیں روانہ کردیں۔ کیونکہ مجھ کو اپنی بیماری کے دورہ میں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ خیریت۔ والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْكَرِيْمِ مُحِبّی اَخْوِیْم مُکَرَّمْ مِیَاں مُحَمَّد حُسَیْن صَاحِبْ قُرَیْشِی سَلَّمَہٗ ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُہٗ۔ رقعہ آپ کا پہنچا۔ استفسار صحت کیا۔ بہتر ہے کہ آپ آویں۔ اور اگر خدا نخواستہ ایسی مجبوری ہو تو کسی اور آنے والے کے ہاتھ بھیجیں۔ وہاں نہ ہو تو جو ایک دفعہ کے لئے کافی ہے دوسری دوکان سے لیتے آئیں۔ مشک خالص عمدہ جس میں کچھ ملاوٹ نہ ہو کیونکہ مجھے پان میں کھانی ہے۔ اور ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جو ایک چوکی ہوتی ہے۔ اور اس میں ایک برتن ہوتا ہے اسکی قیمت معلوم نہیں ۔ آپ ساتھ لاویں۔ قیمت یہاں سے دلا دونگا۔ مجھے دورانِ سر کی بہت شدت سے مرض ہو گئی ہے۔ پیروں پر بوجھ دیکر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آتا ہے۔ اسلئے ایسے پاخانہ کی ضرورت پڑی۔ اگر شیخ صاحب کی دوکان میں ایسا پاخانہ ہو تو وہ دیدینگے۔ مگر ضرور لانا چاہئے۔ اور یہ عریضہ آپ کی خدمت میں بھیجا جاتا ہے۔ باقی سب خیریت ہے۔ والسلام۔ مرزا غلام احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْكَرِيْمِ مُحِبّی اَخْوِیْم مُکَرَّمْ مِیَاں مُحَمَّد حُسَیْن صَاحِبْ قُرَیْشِی السَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُہٗ۔ مجھے قریباً دوماہ سے کثرت پیشاب کی بہت شکایت ہے۔ تمام رات بار بار پیشاب آتا ہے ۔ بہت تکلیف ہوتی ہے۔ پہلے میں نے ثعلب مصری استعمال کیا تھا جو ایک سفید چپچپی چیز ہوتی ہے۔ اور پانی میں پینے سے کچھ شیریں معلوم ہوتی ہے۔ اس سے فائدہ معلوم ہوا۔ لاہور میں ہر پنساری کے ہاں سے مل جاتی ہے۔ وہ دوا خرید کرکے اور ایک شیشی میں بند کرکے
خطوط امام بنام غلام صفحہ 6 از حکیم محمد حسین قریشی قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 103 پر درج ہے
حوالہ نمبر 121
نزول المسیح ۴۳۴
۵۹ ناقابل اعتراض ٹھہر یگا۔ ایسا ہی اُدباء کو یہ اتفاق بھی پیش آجاتا ہے کہ دو بلیغ شخص ایک مضمون کے ہی لکھنے والے ہوں جو طبیعی ادیب اور بلیغ ہوں مگر بعض صورتوں کے ادائے بیان میں ایک ہی الفاظ اور ترکیب کے صیغہ پر ان کا توارد ہو جائیگا اور یہ باتیں ادبا کے نزدیک مسلمات میں سے ہیں جن میں کسی کو کلام نہیں۔ اور اگر غور کر کے دیکھو تو ہر ایک زبان کا یہی حال ہے کہ اُردو میں بھی مثلاً ایک فصیح شخص تقریر کرتا ہے اور اُس میں کہیں مثالیں لاتا ہے کہیں دلچسپ فقرے بیان کرتا ہے تو دُوسرا فصیح بھی اُسی رنگ میں کہہ دیتا ہے اور بجز ایک پاگل آدمی کے کوئی خیال نہیں کرتا کہ یہ سرقہ ہے انسان تو انسان خدا کے کلام میں بھی یہی پایا جاتا ہے۔ اگر بعض پُر فصاحت فقرے اور مثالیں جو قرآن شریف میں موجود ہیں شعراءِ جاہلیت کے قصائد میں دیکھی جائیں تو ایک لمبی فہرست طیار ہوگی اور ان امور کو محققین نے جائے اعتراض نہیں سمجھا بلکہ اسی غرض سے ائمہ لغت نے جاہلیت کے ہزار ہا اشعار کو حفظ کر رکھا تھا اور قرآن شریف کی بلاغت فصاحت کے لئے اُنکو بطور سند لاتے تھے۔
یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ مَیں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب مَیں عربی میں یا اُردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو مَیں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گو عربی ہو یا اُردو یا فارسی دوحصّہ پر منقسم ہوتی ہے (۱) ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور مَیں اُسکو لکھتا جاتا ہوں اور گو اُس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اُٹھانی نہیں پڑتی مگر دراصل وہ سلسلہ میری دماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی ایک خاص رنگ میں تائید نہ ہوتی تب بھی اسکے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اسکی معمولی تائید کی برکت سے جو لازمۂ فطرت خواصِ انسانی ہے کسی قدر مشقت اُٹھا کر اور بہت سا وقت لیکر اُن مضامین کو مَیں لکھ سکتا۔ واللّٰہ اعلم۔ (۲) دُوسرا حصّہ میری تحریر کا محض خارقِ عادت کے طور پر ہے عہ اور وہ یہ ہے کہ جب مَیں مثلاً ایک عربی عبارت
عہ ملہمہ کو بامعنی اور حقائق کے مطابق لکھنے کیلئے محض ارادہ پر وہ باتیں بذریعہ وحی معلوم ہوتی ہیں قطع نظر اسکے کہ وہ پہلے مجھ کو یا اور کسی کی کتاب میں مل گئی ہوں یا محض میرا ذاتی کمال ہو۔ ایسا ہی میری انشاء پردازی کا حال ہے۔ جو عبارتیں تائید کے طور پر مجھے خدا تعالیٰ سے معلوم ہوتی ہیں مجھے تو یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کسی اور کی کتاب میں آ چکی ہیں یا نہیں۔ یہ میرے اور ہر ایک کے لئے جو میرے حال سے واقف ہو یہ معجزہ ہے اور اگر کسی کے نزدیک معجزہ نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ بمقابلہ میرے اس اشتہار کے رو سے جو
نزول المسیح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 434 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 104 پر درج ہے
حوالہ نمبر 122 کشتی نوح 19 تقویۃ الایمان
اور خیانت۔ رشوت اور ہر ایک ناجائز تصرف سے توبہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص پنجگانہ نماز کا التزام نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص دُعا میں لگا نہیں رہتا اور انکسار سے خدا کو یاد نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص بد رفیق کو نہیں چھوڑتا جو اُس پر بد اثر ڈالتا ہو وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا اور امور معروفہ میں جو خلاف قرآن نہیں ہیں انکی بات کو نہیں مانتا اور انکی تہ دل سے خدمت کرنے سے لاپرواہ ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں۔ جو شخص اپنی اہلیہ اور اسکے اقارب سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص اپنے ہمسایہ کو ادنیٰ ادنیٰ خیر سے بھی محروم رکھتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص نہیں چاہتا کہ اپنے قصور وار کا گنہ بخشے اور کینہ پرور آدمی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ ہر ایک مرد جو بیوی سے یا بیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص اُس عہد کو جو اُس نے بیعت کے وقت کیا تھا کسی پہلو سے توڑتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص مجھے فی الواقع مسیح موعود و مہدی معہود نہیں سمجھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ اور جو شخص امور معروفہ میں میری اطاعت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ ۱۵ اور جو شخص مخالفوں کی جماعت میں بیٹھتا ہے اور ہاں میں ہاں ملاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ ہر ایک زانی۔ فاسق۔ شرابی۔ خونی۔ چور۔ قمار باز۔ خائن۔ مرتشی۔ غاصب۔ ظالم۔ دروغگو۔ جعلساز اور انکا ہمنشین اور اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانیوالا جو اپنے افعال شنیعہ سے توبہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ یہ سب زہریں ہیں۔ تم ان زہروں کو کھا کر کسی طرح بچ نہیں سکتے اور تاریکی اور روشنی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی۔ ہر ایک جو پیچ در پیچ طبیعت رکھتا ہے اور خدا کے ساتھ صاف نہیں ہے وہ اُس برکت کو ہرگز نہیں پاسکتا جو صاف دلوں کو ملتی ہے۔ کیا ہی خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو اپنے
۲۱
کشتی نوح صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 19 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 110 پر درج ہے
حوالہ نمبر 123
۲۰۴ دو تین زینے چڑھے پھر چکر آیا اور اسی چکر کے ساتھ جان نکل گئی۔ ایسا ہی غلام محی الدین کونسل ممبر کا لڑکا یکدفعہ ہی مر گیا۔ غرض موت کے آجانے کا ہم کو کوئی وقت معلوم نہیں کہ کس وقت آجاوے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس سے بے فکر نہ ہوں پس دین کی فکر ہی ایک بڑی چیز ہے جو سکرات الموت میں سرخرُو رکھتی ہے، قرآن شریف میں آیا ہے ۔ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِیْمٌ (الحج : ۲) ساعت مراد قیامت بھی ہوگی۔ ہم کو اس سے انکار نہیں، مگر اس میں سکرات الموت بھی مراد ہے، کیونکہ انقطاع تام کا وقت ہوتا ہے۔ انسان اپنے محبوبات اور مرغوبات سے یک دفعہ الگ ہوتا ہے اور ایک عجب قسم کا زلزلہ اُس پر طاری ہوتا ہے، گویا اندھا دھند وہ ایک شکنجہ میں ہوتا ہے، اِس لیے انسان کی تمام تر سعادت یہی ہے کہ وہ موت کا خیال رکھے اور دُنیا اور اُس کی چیزیں اس کی ایسی محبوبات نہ ہوں جو اس آخری ساعت میں علیحدگی کے وقت اُس کی تکالیف کا موجب ہوں۔ دنیا اور اس کی چیزوں کے متعلق ایک شاعر نے کہا ہے ؎
گاہ بصلح کشند و گاہ بجنگ
قرآن کریم نے اس مضمون کو اس آیت میں ادا کر دیا ہے اِنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ (الانفال: ۲۹) اَمْوَالُكُمْ میں عورتیں داخل ہیں، عورت چونکہ پردہ میں رہتی ہے، اس لیے اس کا نام بھی پردہ ہی میں رکھا ہے اور اس لیے بھی کہ عورتوں کو انسان مال خرچ کر کے لاتا ہے، مال کا لفظ مآل سے لیا گیا ہے، یعنی جس کی طرف طبعاً توجہ اور رغبت کرتا ہے۔ عورت کی طرف بھی چونکہ طبعاً توجہ کرتا ہے، اس لیے اس کو مال میں داخل فرمایا ہے۔ مال کا لفظ اس لیے رکھا تاکہ عام محبوبات پر حاوی ہو، ورنہ اگر صرف نِسَاء کا لفظ ہوتا، تو اولاد اور عورت دو چیزیں قرار دی جاتیں۔ اور اگر محبوبات کی تفصیل کی جاتی، تو پھر دس جزو میں بھی ختم نہ ہوتا، غرض مال سے مراد كُلُّ مَا يَمِيْلُ إِلَيْهِ الْقَلْبُ ہے۔ اولاد کا ذکر اس لیے کیا کہ انسان اولاد کو جگر کا ٹکڑا، اور اپنا وارث سمجھتا ہے۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ اور انسان کے محبوبات میں ضد ہے، دونوں باتیں ایک جا جمع نہیں ہوسکتیں۔
بیوی سے حُسن سلوک
اس سے یہ مت سمجھو کہ پھر عورتیں ایسی چیزیں ہیں کہ ان کو بہت ذلیل اور حقیر قرار دیا جاوے۔ نہیں نہیں۔ ہمارے ہادیِ کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاَهْلِهِ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔ بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں، وہ نیک کہاں۔ دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے، جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو۔ اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو۔ نہ یہ کہ ہر ادنیٰ بات پر زدوکوب کرے۔ ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک غصّہ سے بھرا ہوا انسان بیوی سے ادنیٰ سی
ملفوظات جلد اوّل صفحہ 403 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 110 پر درج ہے
حوالہ نمبر 124 546 ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ۷۵
بڑا نشان اس کے ساتھ ہوگا۔ (عزت کے خطاب سے مراد یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے اسباب پیدا ہو جائیں گے کہ اکثر لوگ پہچان لیں گے اور عزت کا خطاب دینگے اور یہ تم پر عجائب ایک نشان ظاہر ہوگا ۔) اور پھر فرمایا ۔ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ تیرا نام بڑھاوے اور آفاق میں تیرے نام کی خوب چمک دکھا دے۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اور قدرت نمائی سے تجھے اٹھاؤں گا۔ آسمان سے کئی تخت اُترے مگر سب سے اونچا تیرا تخت بچھایا گیا۔ دشمنوں سے ملاقات کرتے وقت فرشتوں نے تیری مدد کی۔ آپ کے ساتھ انگریزوں کا نرمی کے ساتھ ہاتھ تھا۔ اسی طرف خدا تعالیٰ تھا جو آپ تھے۔ آسمان پر دیکھنے والوں کو ایک رائی برابر غم نہیں ہوتا ۔ یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبد الکریم کو ٭ خذوا الرفق الرفق فان الرفق راس الخیرات نرمی کرو نرمی کرو کہ تمام نیکیوں کا سر نرمی ہے۔ (اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے اپنی بیوی سے کسی قدر زبانی سختی کا برتاؤ کیا تھا اس پر حکم ہوا کہ اس قدر سخت گوئی نہیں چاہیے۔ حتی المقدور پہلا فرض مومن کا ہر ایک کے ساتھ نرمی اور حسنِ اخلاق ہے اور بعض اوقات تلخ الفاظ کا استعمال بطریق تدافع جائز ہے۔ اما بحکم ضرورت و بقدر ضرورت نہ یہ کہ
٭ اس الہام میں تمام جماعت کیلئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی کے ساتھ پیش آئیں وہ اُن کی کنیزیں نہیں ہیں۔ درحقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔ پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغاباز نہ ٹھہرو۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وعاشروھن بالمعروف یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ اور حدیث میں ہے خیرکم خیرکم لاھلہ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے ۔ سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ اُن کے لئے دُعا کرتے رہو۔ اور طلاق سے پرہیز کرو۔ کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلد مت توڑو ۔ منہ
۱؎ النساء : ۲۰ ۳۹
تحفہ گولڑویہ صفحہ 39 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 75 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 110 پر درج ہے
حوالہ نمبر 125
۳۴
اور میں نے بہت استغفار پڑھا۔ یہ قصہ سنا کر مجھے خواجہ صاحب نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ کی عزت بھی کہیں اسی طریق کی نہ ہو۔ چنانچہ میں آپ کو سناتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی آتا ہے کہ آپ کمزور ایمان والوں اور منافقوں کی بہت خاطر تواضع کیا کرتے تھے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے کچھ مال تقسیم کیا۔ مگر ایک ایسے شخص کو چھوڑ دیا جسکے متعلق سعدؓ بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ وہ میرے خیال میں مومن تھا۔ اور ان لوگوں کی نسبت زیادہ حقدار تھا۔ جن کو آپ نے مال دیا چنانچہ سعدؓ نے اسکی طرف آپ کو توجہ دلائی۔ مگر آپ خاموش رہے۔ پھر توجہ دلائی۔ مگر آپ پھر خاموش رہے۔ سعدؓ نے پھر تیسری دفعہ توجہ دلائی۔ اس پر آپ نے فرمایا سعدؓ تو ہم سے جھگڑا کرتا ہے۔ خدا کی قسم بات یہ ہے کہ بعض وقت میں کسی کو کچھ دیتا ہوں۔ حالانکہ غیر اس کا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ مگر میں اسے اسلیئے دیتا ہوں کہ کہیں وہ منہ کے بل آگ میں نہ جا پڑے۔ یعنی تالیف قلب کے طور پر دیتا ہوں۔ کہ کہیں اسے ابتلاء نہ آجاوے پس منشی صاحب نے بیان کیا کہ جسکے ایمان کی حالت مطمئن ہو اسے ظاہری عزت اور خاطر مدارات کی ضرورت نہیں ہوتی اسکے ساتھ اور طریق پر معاملہ ہوتا ہے ۔
(۱۴۱)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر پھجّے دی ماں کہا کرتے تھے بے تعلقی سی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور الحاد کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں۔ اسلیئے حضرت مسیح موعودؑ نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی ہاں آپ اخراجات وغیرہ باقاعدہ دیا کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انہیں کہلا بھیجا کہ آجتک تو جس طرح ہوتا رہا ہوتا رہا اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے اسلیئے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں کرونگا تو میں گنہگار ہونگا۔ اسلیئے اب دو باتیں ہیں۔ یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ میں تم کو خرچ دیئے جاؤنگا۔ انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 33، 34 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 111 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 125)
۴۲
بڑھاپے میں کیا طلاق لونگی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے۔ میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں ۔ چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا ۔ حتیٰ کہ محمدی بیگم کا سوال اُٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا ۔ بلکہ ان کے ساتھ رہیں ۔ تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دیدی خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا ۔ جو آپ نے ۲ مئی ۱۸۹۱ء کو شائع کیا تھا اور جسکی سُرخی تھی "اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین" اس میں آپ نے بیان فرمایا تھا کہ اگر مرزا سلطان احمد اور ان کی والدہ اس امر میں مخالفانہ کوشش سے الگ نہ ہو گئے ۔ تو پھر آپ کی طرف سے مرزا سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہونگے اور ان کی والدہ کو آپ کی طرف سے طلاق ہو گی والدہ صاحبہ فرماتی تھیں ۔ کہ فضل احمد نے اس وقت اپنے آپ کو عاق ہونے سے بچا لیا۔ نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا ۔ کہ اس واقعہ کے بعد ایک دفعہ مرزا سلطان احمد کی والدہ بیمار ہوئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی ۔ میں انہیں دیکھنے کے لئے گئی ۔ واپس آکر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا ۔ کہ بچے کی ماں بیمار ہے ۔ اور یہ تکلیف ہے ۔ آپ خاموش رہے ۔ میں نے دُوسری دفعہ کہا تو فرمایا میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں ۔ یہ دے آؤ۔ مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام نہ لینا ۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ اور بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارةً کنایةً مجھ پر ظاہر کیا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کا نام درمیان میں نہ آئے اپنی طرف سے کبھی کچھ مدد کر دیا کروں سو میں کر دیا کرتی تھی ۔
(۴۴) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز ظہر کے بعد مسجد میں بیٹھ گئے ۔ ان دنوں میں آپ نے شیخ سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق لکھا تھا ۔ کہ یہ ابتر رہیگا اور اس کا بیٹا جو اب موجود ہے ۔ وہ نامرد ہے ۔ گویا اس کی اولاد آگے نہیں چلیگی
سیرت المہدی جلد اول صفحہ 33، 34 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 111 پر درج ہے
حوالہ نمبر 126
٨٦
اور رسول کے نزدیک لعنتی ہیں۔ ان کا نماز روزہ اور کوئی عمل منظور نہیں۔ اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ کوئی عورت نیک نہیں ہو سکتی جب تک پوری پوری اپنے خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے اور دلی محبت سے اس کی تعظیم بجا نہ لائے اور پس پشت یعنی اس کے پیچھے اس کی خیرخواہ نہ ہو۔ اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے مردوں کی تابعدار رہیں۔ ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں۔ اور نیز فرمایا ہے کہ اگر غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بد زبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے اور حکم ربانی سُنکر پھر بھی باز نہیں آتی تو وہ لعنتی ہے۔ خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔ عورتوں کو چاہیئے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چُراویں اور نامحرم سے اپنے تئیں بچاویں۔ اور یاد رکھنا چاہیئے کہ بغیر خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جتنے مرد ہیں اُن سے پردہ کرنا ضروری ہے۔ جو عورتیں نامحرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے۔ عورتوں پر یہ بھی لازم ہے کہ بدکار اور بد وضع عورتوں کو اپنے گھروں میں نہ آنے دیں اور ان کو اپنی خدمت میں نہ رکھیں کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے کہ بدکار عورت نیک عورت کی ہم صحبت ہو۔
- ۳ عورتوں میں یہ بھی ایک بدعادت ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند کسی اپنی مصلحت کے لیے کوئی دوسرا نکاح
کرنا چاہتا ہے تو وہ عورت اور اس کے اقارب سخت ناراض ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور شور مچاتے ہیں اور اس بندہ خدا کو ناحق ستاتے ہیں۔ ایسی عورتیں اور ایسے ان کے اقارب بھی نابکار اور خراب ہیں۔ کیونکہ اللہ جلشانہ نے اپنی حکمت کاملہ سے جس میں صدہا مصالح ہیں، مردوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا مصلحت کے وقت چار تک بیویاں کر لیں۔ پھر جو شخص اللہ رسول کے حکم کے مطابق کوئی نکاح کرتا ہے تو اس کو کیوں بُرا کہا جائے۔ ایسی عورتیں اور ایسے ہی اس عادت والے اقارب جو خدا اور اس کے رسول کے حکموں کا مقابلہ کرتی ہیں، نہایت مردود اور شیطان کی بہنیں اور بھائی ہیں کیونکہ وہ خدا اور رسول کے فرمودہ سے منہ پھیر کر اپنے ربّ کریم سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں۔ اور اگر کسی نیک دل مسلمان کے گھر میں ایسی بدذات بیوی ہو تو اُسے مناسب ہے کہ اس کو سزا دینے کے لیے دُوسرا نکاح ضرور کرے۔
- ۴ بعض جاہل مسلمان اپنے ناطہ رشتہ کے وقت یہ دیکھ لیتے ہیں کہ جس کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرنا منظور ہے
اس کی پہلی بیوی بھی ہے یا نہیں۔ پس اگر پہلی بیوی موجود ہو تو ایسے شخص سے ہرگز نکاح کرنا نہیں چاہتے۔ سو یاد رکھنا چاہیئے کہ ایسے لوگ بھی صرف نام کے مسلمان ہیں اور ایک طور سے وہ ان عورتوں کے مددگار ہیں جو اپنے خاوندوں کے دوسرے نکاح سے ناراض ہوتی ہیں۔ سو ان کو بھی خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیئے۔
- ۵ ہماری قوم میں یہ بھی ایک نہایت بد رسم ہے کہ دوسری قوم کو لڑکی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی
پسند نہیں کرتے۔ یہ سراسر تکبر اور نخوت کا طریق ہے جو سراسر احکام شریعت کے برخلاف ہے۔ بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں۔ رشتہ ناطہ میں صرف یہ دیکھنا چاہیئے کہ جس سے نکاح کیا جاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے
مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 86 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 112 پر درج ہے
حوالہ نمبر 127
۹۸
مئی ۱۸۸۴ء
”ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ نواب صاحب۱؎ کی حالت غم سے خوشی کی طرف مبدل ہو گئی ہے اور آسودہ حال اور شکر گذار ہیں اور نہایت عمدگی اور صفائی سے یہ خواب آئی اور یہ خواب بطور کشف تھی چنانچہ اسی صبح کو نواب صاحب کو اس خواب سے اطلاع دی گئی۔“
(مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب مورخہ ۲۶ مئی ۱۸۸۴ء مندرجہ الحکم جلد ۱۴ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۶ اپریل ۱۹۱۰ء صفحہ ۸)
مئی ۱۸۸۴ء
”پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک صاحب الٰہی بخش نام اکونٹنٹ نے کہ جو اس کتاب۳؎ کے معاون ہیں کسی اپنی مشکل میں دعا کے لئے درخواست کی اور بطور خدمت پچاس روپیہ بھیجے اور جس روز یہ خواب آئی اُس روز سے دو چار دن پہلے ان کی طرف سے دعا کے لئے الحاح ہو چکا تھا مگر یہ عاجز نواب۲؎ صاحب کے لئے مشغول تھا اِس لئے اُن کے لئے دعا کرنے کو کسی اور وقت پر موقوف رکھا اور جس روز نواب صاحب کے لئے بشارت دی گئی تھی تو اُس دن خیال آیا کہ آج منشی الٰہی بخش کے لئے توجہ سے دعا کریں۔ سو بعد نمازِ عصر جب وقتِ صفا پایا اور دعا کا ارادہ کیا گیا تو پھر بھی دل نے یہی چاہا کہ اس دعا میں بھی نواب صاحب کو شامل کر لیا جائے۔ سو اس وقت نواب صاحب اور منشی الٰہی بخش دونوں کے لئے دعا کی گئی۔ بعد دعا اسی جگہ الہام ہوا:۔ نُنَجِّيْهِمَا مِنَ الْغَمِّ یعنی ہم ان دونوں کو غم سے نجات دیں گے۔... پھر چند روز کے بعد نواب صاحب کا خط آ گیا کہ سرائے کا کام جاری ہو گیا ہے۔“
(مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب مورخہ ۲۶ مئی ۱۸۸۴ء مندرجہ الحکم جلد ۱۴ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۶ اپریل ۱۹۱۰ء صفحہ ۸ و نمبر ۱۵
مورخہ ۲۴ اپریل ۱۹۱۰ء صفحہ ۸)
نومبر ۱۸۸۴ء
”ایک ابتلا مجھ کو اس شادی۴؎ کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا.... میری حالتِ مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لئے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا.... کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے.... غرض اس ابتلا کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی اور مجھے اُس نے دفع مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے
۱؎ مراد نواب علی محمد خاں صاحب آف جھجر۔ (مرتب) ۳؎ براہین احمدیہ ۔ (مرتب) ۲؎ نواب علی محمد خاں صاحب آف جھجر۔ (مرتب) ۴؎ یہ شادی دہلی میں ہوئی۔ (مرتب)
تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 98، 99 طبع چہارم ، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 113 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 127)
۹۹
منہ میں ڈال رہا ہے چنانچہ وہ دوائیں میں نے تیار کیں اور اس میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے حق الیقین سے معلوم کیا کہ وہ پُرصحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دُنیا میں مل سکتی ہے وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطا کئے گئے“
(تریاق القلوب صفحہ ۳۵ ، ۳۶۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۰۲ ، ۲۰۳)
۱۸۸۴ء
اِنَّ اللّٰہَ بَشَّرَنِیْ بِاَبْنَائِیْ بِشَارَۃٍ بَعْدَ بِشَارَۃٍ حَتّٰی بَلَغَ عَدَدُھُمْ اِلٰی ثَلٰثَۃٍ وَاَنْبَانِیْ بِھِمْ قَبْلَ وُجُوْدِھِمْ بِالْاِلْھَامِ ۱
(انجام آتھم صفحہ ۱۷۲ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۱۷۲)
۳۰؍ دسمبر ۱۸۸۴ء
اِنِّیْ فَضَّلْتُكَ عَلَى الْعَالَمِيْنَ قَدْ أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا ۲
(مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مورخہ ۳۰؍ دسمبر ۱۸۸۴ء مندرجہ الحکم جلد ۱۹ نمبر ۳ مورخہ ۲۱؍ جنوری ۱۹۱۵ء صفحہ ۴)
اوائل مارچ ۱۸۸۵ء
”مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدّد وقت ہے اور روحانی طور پر اسکے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشدت مناسبت و مشابہت ہے اور اس کو خواص انبیاء ورسل کے نمونہ پر محض ببرکت متابعت حضرت خیر البشر افضل الرسل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن جہتوں پر اکابر اولیاء سے فضیلت دی گئی ہے کہ جو اُس سے پہلے گزر چکے ہیں اور اُس کے قدم پر چلنا موجب نجات وسعادت و برکت اور اس کے برخلاف چلنا موجب بُعد و حرمان ہے“
(اشتہار ضمیمہ سرمہ چشم آریہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۱۹)
۸؍ مارچ ۱۸۸۵ء
”عاجز مؤلف براہین احمدیہ حضرت قادر مطلق جل شانہ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ نبی ناصری مرسلِ حق ومسیح کی طرز پر کمالِ مسکینی ، فروتنی وغربت وتذلل و تواضع سے بصلاح خلق کے لئے کوشش کرے
۱ (ترجمہ از مرتب) اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے بیٹوں کے بارہ میں بشارت کے بعد بشارت دی یہاں تک کہ ان کی تعداد تین تک پہنچائی اور مجھے ان کی پیدائش سے پہلے الہام کے ذریعہ ان کی خبر دی۔ (نوٹ از مرتب) اس کے متعلق حضرت اُمّ المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے۔ فرمایا ”جب میری شادی ہوئی اور میں ایک مہینہ قادیان ٹھہر کر پھر واپس دہلی گئی تو ان ایام میں حضرت مسیح موعود نے مجھے ایک خط لکھا کہ میں نے خواب میں تمہارے تین جوڑے لڑکے دیکھے ہیں“ (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۱۴)
۲ (ترجمہ از مرتب) میں نے تجھ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی کہ میں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں ۔
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 98، 99 طبع چہارم، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 113 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 128)
۳۱
خدا نے خود وعدہ فرمایا ہے۔ پھر شادی کرنے کے بعد سلسلہ فتوحات کا شروع ہو گیا۔ اور یا وہ زمانہ تھا کہ باعث تفرقہ وجوہ معاش پانچ سات آدمی کا خرچ بھی میرے پر بوجھ تھا یا اب وہ وقت آگیا کہ بحساب اوسط تین سو آدمی ہر روز بصدق دل و اخلاص اور ساتھ اس کے کئی غرباء اور درویش اس لنگر خانہ میں روٹی کھاتے ہیں ۔ اور یہ پیشگوئی کہ کثرت آمدنی اور طالبان حق کی یہ ساکنان قادیان کو بھی قبل از وقت سُنائی گئی تھی اور شیخ حامد علی اور چند اور واقف کاروں کو اس سے اطلاع دے دی گئی تھی ۱؎
محترم عرفانی صاحب لکھتے ہیں کہ حضور شادی کے لئے دہلی تشریف لے گئے تو براتیوں میں حافظ صاحب ایسے تھے جو سب سے نمایاں تھے۔ آپ ہی اس شادی میں تمام انتظامات کرنے والے تھے اور حضرت نہایت بے تکلفی سے ہر ایک بات موقعہ کے مناسب حال آپ سے کرتے تھے۔ حضرت اقدس کا کوئی سفر ایسا نہیں ہوا جس میں حافظ صاحب بشرطیکہ وہ یہاں موجود ہوں ساتھ نہ ہوں۔ اور اس سفر کا سارا اہتمام و انتظام انہی کے سپرد ہوتا تھا ۲؎
مکرم مولوی عبد الرحمٰن صاحب مبشر حافظ صاحب سے روایت کرتے ہیں :۔
"حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے (گویا نومبر ۱۸۸۴ء میں) ایک روز مجھے فرمایا۔ میاں حامد علی! سفر پر جانا ہے۔ چنانچہ یکہ کرایہ پر لیا۔ جب بٹالہ کے چھپڑ کے قریب پہنچے تو مرزا اسمعیل بیگ صاحب سے فرمایا کہ میں دہلی شادی کرنے کے لئے جا رہا ہوں ۔ وہاں رخصتانہ اور ولیمہ ہو گا ۔ یہ بات کسی کو نہ بتائیں۔ میں جاکر خط لکھوں گا ۔ اُس وقت سلطان احمد کی والدہ کو بتا دینا ۔ تاکہ میری واپسی تک وہ رو دھو بیٹھے۔ میں حضور کی یہ بات سُنکر سخت حیرت زدہ ہو گیا۔ کیونکہ مجھے بخوبی معلوم تھا کہ حضور اس وقت ازدواجی زندگی کے قابل نہ تھے ۔ اور عرصہ سے میں مختلف حکیموں اور طبیبوں سے نسخے معلوم کرکے نوٹ کیا کرتا تھا اور حضور کو کھلاتا تھا لیکن کسی کا بھی اثر نہ ہوتا تھا ۔ مرزا اسمعیل بیگ صاحب کی موجودگی میں تو میں نے اپنے تئیں بمشکل ضبط کیا لیکن نہر کے پل پر پہنچے تو عرض کیا ۔ آپ کی حالت آپ پر اور نہ مجھ پر مخفی ہے ۔ پھر آپ نے شادی کا کیوں ارادہ فرمایا ہے فرمایا کہ آپ کی بات درست ہے۔ لیکن میں کیا کروں ۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں تو یوں چلتا ہوں۔ اِس جواب پر میں کیا عرض کرتا ۔ پس میں خاموش ہو گیا ۔
۱؎ حقیقتہ الوحی صفحہ ۲۲۵، ۲۲۶ ۔ نشان ۴۷ ۔ ۲؎ الحکم ۱۷؍۷؍۱۹۰۶ء صفحہ ۹ ۔ حضرت امّ المومنین بیان کرتی ہیں کہ شیخ حامد علی صاحب اور لالہ ملاومل صاحب بھی حضور کے ساتھ تھے (سیرۃ المہدی حصہ اوّل روایت ۶۹) اور مَیں نے خاکسار بعض اصحابِ احمد کے استفسار پر بتایا تھا کہ وہ بطور براتی ساتھ گئے تھے اور شادی کی عین تاریخ بھی مجھے بتائی تھی جو حضرت ام المومنین کی روایت میں تاریخ نکاح ۱۷ نومبر ۱۸۸۴ء عیسوی مذکور ہے ۔
اصحاب احمد جلد سیزدہم صفحہ 31 تا 33 از ملک صلاح الدین قادیانی یہ حوالہ صفحہ 113 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 128)
۳۲
میں حضرت میر ناصر نواب صاحب کے ہاں پہنچا تو بیٹھک میں مجھے ٹھہرایا گیا۔ چند روز قبل ہی بیوی صاحبہ (حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ) ایام سے پاک ہوئی تھیں۔ مگر یہ کہ رخصتانہ عمل میں آیا۔ رخصتانہ کی رات میں نہایت بیقرار تھا کہ کیا ہو گا۔ چنانچہ شدت اضطراب کی وجہ سے میری نیند کافور ہو گئی۔ اور میں رات بھر حضور کے لئے نہایت تضرع سے دعا میں مصروف رہا۔ صبح کی اذان ہوئی تو حضور میرے پاس تشریف لائے اور ہم نے نماز فجر ادا کی جس کے بعد فرمایا۔ ”آؤ باہر قلعہ کی طرف سیر کو چلیں۔“ چنانچہ راستہ میں خود ہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کتنی پردہ پوش اور باوفا ہے کہ رات بیوی صاحبہ کو پھر ایام شروع ہو گئے اور ہمیں چھٹی ہو گئی۔ چنانچہ اسی حالت میں حضور حضرت ام المومنین کو لیکر قادیان تشریف لے آئے۔
کچھ عرصہ بعد حضرت میر صاحب نے حضور کو لکھا کہ آپ لڑکی کو چھوڑ جائیں حضور نے ایک سو روپیہ بھجوا کر لکھا کہ مجھے تصنیف کے کام کی وجہ سے فرصت نہیں آپ آکر لے جائیں۔ چنانچہ میر صاحب آکر لے گئے پھر دو تین ماہ بعد حضور کو لکھا کہ آپ آکر بچی کو لے جائیں حضور نے ایک سو روپیہ بھجوایا اور لکھا کہ آپ آکر چھوڑ جائیں ۔ چنانچہ میر صاحب آکر چھوڑ گئے ۔ حضرت ام المومنین کے اخلاق عالیہ قابل تعریف ہیں کہ آپ نے اپنے والدین کے پاس ان مہینوں میں اشارہ میں کوئی شکوہ نہیں کیا ۔
میں حضور کے علاج میں پہلے ہی مصروف تھا۔ بیوی صاحبہ کی واپسی پر آٹھ دس ماہ گزر گئے لیکن علاج بے اثر رہا۔ ایک روز صبح حضور نے ہمیں فرمایا کہ تم لوگ دعویٰ محبت کرتے ہو میں تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہوں ہم حیران ہوئے کہ نہ معلوم کیا امتحان ہو گا۔ تو فرمایا۔ میرے دل میں ایک بات ہے اس کے متعلق دعا کرو۔ اور جو پتہ لگے بتاؤ۔ چنانچہ حضور روزانہ ہم سے دریافت کرتے تھے کہ کیا خواب آئی ہے۔ دیگر احباب اپنی خوابیں سناتے تو حضور فرماتے کہ یہ اس امر کے متعلق نہیں۔ مجھے کوئی خواب نہ آئی تھی۔ ایک روز موضع کٹھ گڑھ میں اپنے اہل و عیال کے پاس جانے کی میں نے اجازت لی اور ابھی قادیان سے نکلا ہی تھا کہ غیر اختیاری طور پر میری زبان پر درود شریف جاری ہو گیا۔ اور میں گاؤں تک درود شریف ہی پڑھتا گیا اور گھر پہنچا اور بچوں سے ملا کھانا کھایا ۔ لیکن میری یہ خاص کیفیت اسی طرح قائم تھی۔ تھکا ماندہ تھا۔ سو گیا۔ رات خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ملے اور فرمایا۔ حامد علی! تمہاری کاپی میں جو فلاں نسخہ ہے وہ مرزا صاحب کو کیوں نہیں دیتے! اس پر میں
نوٹ : حضور کے سلوک کی آپ نے اور آپ کی خادمہ نے تعریف کی (روایت حضرت مائی تابی سیرۃ المہدی حصہ دوم روایت ۳۴۰) شادی کے متعلق سیرۃ المہدی حصہ اول میں حضرت ام المومنین کی روایت نمبر ۱۷ پر حاشیہ میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ ۱۸ نومبر ۱۸۸۴ء کو آپکا خطبہ نكاح پڑھا گیا ہے اور ۲۷۔ ۲۸ دسمبر کی درمیانی شب کو آپکی رخصتی ہوئی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ محض سہو کاتب ہے ۔ دراصل صحیح تحریر یوں ہے کہ ۲۰ نومبر ۱۸۸۴ء جمعرات کو قادیان سے لدھیانہ تشریف لے گئے۔ رخصتی پیر کی رات یعنی ۱۴ ربیع الاول ۱۳۰۲ھ یعنی ۲ دسمبر ۱۸۸۴ء کو ہوئی۔ ۱۷ نومبر کو پیر کا دن ہے۔ گویا رخصتی شروع دسمبر میں اور ۱۷ نومبر ۱۸۸۴ء کو نکاح ہے۔
اصحاب احمد جلد سیزدہم صفحہ 31 تا 33 از ملک صلاح الدین قادیانی یہ حوالہ صفحہ 113 پر درج ہے
حوالہ نمبر 128
۳۳
بیدار ہو گیا۔ اور صحن میں نکل کر دیکھا تو رات چاندنی ہونے کی وجہ سے سمجھا کہ صبح ہو گئی ہے۔ اور میں قادیان کو روانہ ہو گیا ۔ جب میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے پرانے مکان کی بیٹھک والی جگہ پر پہنچا تو حضور بیت الفکر میں ٹہل رہے تھے اور اس وقت فجر کی اذان کا وقت ہو گیا تھا ۔ میں نے کوچہ سے السلام علیکم پیش کیا ۔ تو حضور نے جواب دے کر پوچھا ۔ کون ہے ؟ عرض کیا ۔ حامد علی ۔ فرمایا ۔ خیر ہے ؟ عرض کیا کہ خیر ہے ۔ اور حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی خواب بیان کی ۔ فرمایا ۔ یہی بات تھی جس کے لئے میں نے آپ دوستوں کو دعا کے لئے کہا تھا ۔ چنانچہ میں نے اپنی کاپی میں تحریر کردہ وہ دوائی جس کا معمولی نسخہ بنا کر حضور کو استعمال کرایا تو اللہ تعالے کے فضل سے یہ بیحد مفید ثابت ہوا کہ کچھ عرصہ تک حضور ہر نماز غسل کر کے پڑھتے رہے ۔ اللہ تعالے نے بعد میں ایک اور نسخہ بھی بتا دیا جو بے حد مفید ثابت ہوا ۔ چنانچہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحبؓ کی روایت ہے :۔
”حافظ حامد علی صاحب مرحوم خادم مسیح موعود علیہ السلام بیان کرتے تھے کہ جب حضرت صاحبؑ نے دوسری شادی کی تو ایک عمر تک مجرد میں رہنے اور مجاہدات کرنے کی وجہ سے آپ نے اپنے قویٰ میں ضعف محسوس کیا ۔ اس پر وہ الہامی نسخہ جو ”زرد چام عشق“ کے نام سے مشہور ہے بنوا کر استعمال کیا ۔ چنانچہ وہ نسخہ نہایت ہی بابرکت ثابت ہوا ۔ حضرت خلیفہ اولؓ بھی فرماتے تھے کہ میں نے یہ نسخہ ایک بے اولاد امیر کو لکھوایا تو خدا کے فضل سے اُس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس پر اس نے ہیرے کے کڑے ہمیں نذر دیئے ۔“ ۱
یہ ساری تفصیل فضل الہٰی کے نشان کی خاطر دی گئی ہے۔ حضور تحریر فرماتے ہیں :۔ ”اس وقت میرا دل و دماغ اور جسم نہایت کمزور تھا اور علاوہ ذیابیطس اور دوران سر اور تشنج قلب کے دق کی بیماری کا اثر ابھی بکلی دُور نہیں ہوا تھا ۔ اس نہایت درجہ کے ضعف میں جب نکاح ہوا تو بعض لوگوں نے افسوس کیا کیونکہ میری حالت مردی کالعدم تھی ۔ اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی ۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مجھے خط لکھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ آپ کو شادی نہیں کرنی چاہیئے تھی ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلاء پیش آوے ۔ مگر با وجود ان کمزوریوں کے خدا نے مجھے پوری قوتِ صحبت اور طاقت بخشی اور چار لڑکے عطا کئے ۔“ ۲
۱ سیرۃ المہدی حصہ سوم ۔ روایت ۵۶۹ ۔ کتاب میں نسخہ درج ہے ۔ ۲ ”نزول المسیح“ صفحہ ۲۰۸ ۔ ۲۰۹ ۔ اور اس کے گواہوں میں بھی شیخ حامد علی صاحب کا نام درج ہے (ملاحظہ ہو حاشیہ صفحہ ۲۰۹)
محاسبہ احمدیت جلد سیزدہم صفحہ 31 تا 33 از ملک صلاح الدین قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 113 پر درج ہے
حوالہ نمبر 129
۲۰۳
شادی میں تجھے کچھ فکر نہیں کرنا چاہیئے۔ ان تمام ضروریات کا رفع کرنا میرے ذمہ رہیگا۔ سو قسم ہے اُس ذات کی جسکی ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُس نے اپنے وعدہ کے موافق اس شادی کے بعد ہر ایک بار شادی سے مجھے سبکدوش رکھا اور مجھے بہت آرام پہنچایا۔ کوئی باپ دُنیا میں کسی بیٹے کی پرورش نہیں کرتا جیسا کہ اُس نے میری کی۔ اور کوئی والدہ پوری ہوشیاری سے دن رات اپنے بچہ کی ایسی خبر نہیں رکھتی جیسا کہ اُس نے میری رکھی۔ اور جیسا کہ اُس نے بہت عرصہ پہلے براہین احمدیہ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ۔ ایسا ہی وہ بجا لایا۔ معاش کا غم کرنے کے لئے کوئی گھڑی اُس نے میرے لئے خالی نہ رکھی۔ اور خانہ داری کے مہمات کے لئے کوئی اضطراب اُس نے میرے نزدیک آنے نہ دیا۔ ایک ابتلا مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا۔ اور دو مرضیں یعنی ذیا بیطس اور درد سر مع دوران سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اِس لئے میری حالت مردمی کالعدم تھی۔ اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اِس لئے میری اِس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا۔ اور ایک خط جس کو میں نے اپنی جماعت کے بہت سے معزز لوگوں کو دکھلا دیا ہے۔ جیسے اخویم مولوی نور الدین صاحب اور اخویم مولوی برہان الدین وغیرہ۔ مولوی محمد حسین صاحب ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ نے ہمدردی کی راہ سے میرے پاس بھیجا کہ آپ نے شادی کی ہے اور مجھے حکیم محمد شریف کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اِس لائق نہ تھے۔ اگر یہ امر آپکی روحانی قوّت سے تعلق رکھتا ہے تو میں اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میں اولیاء اللہ کے خوارق اور روحانی قوّتوں کا منکر نہیں ورنہ ایک بڑے فکر کی بات ہے ایسا نہ ہو کہ
۷۵
تریاق القلوب صفحہ 36 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 203، 204 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 116 پر درج ہے
حوالہ نمبر 129
۲۰۴
کوئی ابتلا پیش آوے۔ یہ ایک چھوٹے سے کاغذ پر رقعہ ہے جو ابتک اتفاقاً میرے پاس محفوظ رہا ہے۔ اور میری جماعت کے پچاس کے قریب دوستوں نے بچشم خود اسکو دیکھ لیا اور خط پہچان لیا ہے۔ اور مجھے امید نہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب اس سے انکار کریں۔ اور اگر کریں تو پھر حلف دینے سے حقیقت کھل جائیگی۔ غرض اس ابتلا کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دُعا کی۔ اور مجھے اس نے رفع مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں۔ اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوائیں میں نے طیار کیں۔ اور اسمیں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کر لیا کہ وہ پُر صحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطا کئے گئے۔ اگر دُنیا اس بات کو مبالغہ نہ سمجھتی تو میں اس جگہ اس واقعہ حقّہ کو جو اعجازی رنگ میں ہمیشہ کے لئے مجھے عطا کیا گیا بہ تفصیل بیان کرتا تا معلوم ہوتا کہ ہمارے قادر قیوم کے نشان ہر رنگ میں ظہور میں آتے ہیں اور ہر رنگ میں اپنے خاص لوگوں کو وہ خصوصیت عطا کرتا ہے جس میں دُنیا کے لوگ شریک نہیں ہو سکتے۔ میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک بچہ کی طرح تھا۔ اور پھر اپنے تئیں خدا داد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔ اسلئے میرا یقین ہے کہ ہمارا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
- ۱۲ ایک صاحب نواب محمد علی خان نام جھجر کے نوابوں میں سے لُدھیانہ میں
رہتے تھے اور اُنہوں نے لُدھیانہ میں اِس غرض سے ایک سرائے بنائی تھی کہ تا جسقدر غلہ باہر سے آتا ہے اسکی اسی سرائے میں خرید و فروخت ہو۔ اور اسی سرائے میں غلہ بیچنے والے اپنا مال اُتاریں۔ پھر ایسا ہوا کہ ایک شخص اِس کام میں انکا رہزن
۷۶
تریاق القلوب صفحہ 36 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 203، 204 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 116 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 130)
۵۰۶
صحیح ہے۔ خدا تعالیٰ مواخذہ نہیں کرتا۔ دیکھو مصلحت الٰہی نے یہی چاہا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کا پختہ گنبد ہو اور کئی بزرگوں کے مقبرے بنے ہیں۔ مثلاً نظام الدین اولیاءؒ گنج شکرؒ قطب الدینؒ معین الدین رحمۃ اللہ علیہم یہ سب مسلمان تھے۔
رسومات
ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہوا کہ محرم کے دنوں یا میّت کی رُوح کو ثواب دینے کے واسطے روٹیاں وغیرہ دینا جائز ہے یا نہیں، فرمایا :
- عام طور پر یہ بات مسلّم ہے کہ طعام کا ثواب میّت کو پہنچتا ہے، لیکن اُس کے ساتھ شرک کی رسومات
نہیں چاہئیں، رافضیوں کی طرح رسومات کا کرنا ناجائز ہے۔
بیعت کی حقیقت
ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ اگر آپ کو ہر طرح سے بزرگ مانا جائے اور آپ کے ساتھ صدق اور اخلاص ہو، مگر آپ کی بیعت میں انسان شامل نہ ہووے، تو اس میں کیا حرج ہے؟ فرمایا : بیعت کے معنے ہیں اپنے تئیں بیچ دینا اور یہ ایک کیفیت ہے جس کو قلب محسوس کرتا ہے جبکہ انسان اپنے صدق اور اخلاص میں ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اس میں یہ کیفیت پیدا ہو جائے، تو وہ بیعت کے لیے خود بخود مجبور ہو جاتا ہے اور جبتک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جائے، تو انسان سمجھے کہ ابھی اس کے صدق اور اخلاص میں کمی ہے۔
کشوف والہامات میں شیطان کا دخل
اس بات کا ذکر آیا کہ لاہوری علماء نے اہل کشف ومُلہم سے سوال کیا ہے کہ کیا تمھارا الہام تمھیں ابلیس سے معصوم ہے یا نہیں، جس کے جواب میں اہل کشف نے کہا کہ میرا الہام دخل شیطان سے پاک نہیں، اس پر حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا : "یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس میں کیا سِرّ ہے اور کسی کا الہام یا کشف شیطان کے دخل سے کہاں تک پاک ہوتا ہے۔ انسان کے اندر دو قسم کے گناہ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن سے انسان خدا کی نافرمانی دیدہ و دانستہ کرتا ہے اور بے باکی سے گناہ کرتا ہے۔ ایسے لوگ مجرم کہلاتے ہیں۔ یعنی خدا سے ان کا بالکل قطع تعلق ہو جاتا ہے اور وہ شیطان کے ہو جاتے ہیں۔ اور دوسرے وہ لوگ جو ہرچند بدی سے بچتے ہیں، مگر بعض دفعہ بسبب کمزوری کے کوئی فعل کر بیٹھتے ہیں، سو جس قدر انسان گناہوں کو چھوڑتا اور خدا کی طرف آتا ہے"
ملفوظات جلد اوّل صفحہ 506 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 117 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 131)
۱۸ کا لفظ ہے۔ جو غالباً سر درد ہی کی ایک قسم ہے جس میں سر میں چکر آتا ہے اور گردن وغیرہ کے پٹھوں میں کھچاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ اور اس حالت میں بیمار کے لیے چلنا یا کھڑے ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن ہوش و حواس پر قطعا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ چنانچہ خاکسار راقم الحروف نے متعدد دفعہ حضرت مسیح موعود کو دورے کی حالت میں دیکھا ہے۔ اور کبھی بھی ایسی حالت نہیں دیکھی۔ جس میں ہوش و حواس پر کوئی اثر پڑا ہو اور حضرت مسیح موعود کی یہ بیماری بھی دراصل آنحضرت صلعم کی ایک پیشگوئی کے مطابق تھی۔ جس میں بتایا گیا تھا۔ کہ مسیح موعود دو زرد چادروں (یعنی دو بیماریوں) میں لپٹا ہوا نازل ہوگا۔ دیکھو مشکواۃ باب اشراط الساعۃ بحوالہ مسلم وغیرہ ۔ اور روایت میں جو یہ لفظ آتے ہیں۔ کہ پہلے دورے کے وقت آپ نے کوئی کالی کالی چیز آسمان کی طرف اڑتی دیکھی۔ سو دوران سر کے عارضہ میں یہ ایک عام بات ہے ۔ کہ سر چکر کی وجہ سے اردگرد کی چیزیں گھومتی ہوئی اور اوپر کو اڑتی نظر آتی ہیں ۔ اور بوجہ اسکے کہ ایسے دورے کے وقت مریض کا میلان آنکھیں بند کر لینے کی طرف ہوتا ہے۔ عموماً یہ چیزیں سیاہ رنگ اختیار کر لیتی ہیں اور دورے میں غشی کی سی حالت ہو جانے سے جیسا کہ خود الفاظ بھی اسی حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں۔ حقیقی غشی مراد نہیں بلکہ بوجہ زیادہ کمزوری کے آنکھیں نہ کھول سکنا یا بول نہ سکنا مراد ہے ۔ واللہ اعلم )
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلی بیعت لدھیانہ میں لی تھی۔ پہلے دن چالیس آدمیوں نے بیعت کی تھی پھر جب آپ گھر میں آئے تو بعض عورتوں نے بیعت کی ۔ سب سے پہلے مولوی صاحب (حضرت مولوی نورالدین صاحب) نے بیعت کی تھی۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ آپ نے کب بیعت کی ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا ۔ میرے متعلق مشہور ہے کہ میں نے بیعت سے توقف کیا اور کئی سال بعد بیعت کی ۔ یہ غلط ہے۔ بلکہ میں کبھی بھی آپ سے الگ نہیں ہوئی ۔ ہمیشہ
سیرت المہدی جلد اول صفحہ 18، 19 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 117 پر درج ہے
حوالہ نمبر 131
19
آپکے ساتھ رہی اور شروع سے ہی اپنے آپ کو بیعت میں سمجھا اور اپنے لیے باقاعدہ الگ بیعت کی ضرورت نہیں سمجھی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ ابتدائی بیعت کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسیحیت اور مہدویت کا دعوے نہ تھا۔ بلکہ عام مجددانہ طریق پر آپ بیعت لیتے تھے۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ حضرت مولوی صاحب کے علاوہ اور کس کس نے پہلے دن بیعت کی تھی ؟ والدہ صاحبہ نے میاں عبداللہ صاحب سنوری اور شیخ حامد علی صاحب کا نام لیا ۔
(۲۱) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعویٰ مسیحیت شایع کرنے لگے تو اس وقت آپ قادیان میں تھے۔ آپ نے اسکے متعلق ابتدائی رسالے یہیں لکھے۔ پھر آپ لدھیانہ تشریف لے گئے اور وہاں سے دعوے شایع کیا ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا ۔ کہ دعوے شایع کرنے سے پہلے آپ نے مجھ سے فرمایا تھا ۔ کہ میں ایسی بات کا اعلان کرنے لگا ہوں جس سے ملک میں مخالفت کا بہت شور پیدا ہوگا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا ۔ اس اعلان پر بعض ابتدائی بیعت کرنیوالونکو بھی ٹھوکر لگ گئی ۔
(۲۲) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں میر حامد شاہ صاحب کے مکان پر تھے۔ اور سو رہے تھے۔ میں نے آپکی زبان پر ایک فقرہ جاری ہوتے سنا۔ میں نے سمجھا کہ الہام ہوا ہے پھر آپ بیدار ہوگئے۔ تو میں نے کہا۔ کہ آپ کو یہ الہام ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں تم کو کیسے معلوم ہوا ؟ میں نے کہا مجھے آواز سنائی دی تھی۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ الہام کے وقت آپکی کیا حالت ہوتی تھی ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ چہرہ سرخ ہو جاتا تھا اور ماتھے پر پسینہ آجاتا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود اپنے مکان کے چھوٹے
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 19،18 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 117 پر درج ہے
حوالہ نمبر 132
۱۶۲ کلمۃ الفضل جلد ۱۴
خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا جنہوں نے میرے آنے کی پیشگوئی کی اسی طرح وہ عبارت بھی جسپر معترض کو دھوکا لگا ہے درحقیقت اسی مطلب کیلئے ہے چنانچہ اصل عبارت کو دیکھنے سے سب معاملہ صاف ہو جائیگا۔ حضرت مسیح موعودؑ تحریر فرماتے ہیں کہ:۔
"مگر دوسرے لوگوں میں تخم دیانت اور ایمان ہے اور وہ منافق نہیں ہیں تو انکو چاہئے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار ہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شائع کردیں کہ یہ سب کافر ہیں کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا تب میں انکو مسلمان سمجھ لونگا۔ بشرطیکہ ان میں کوئی نفاق کا شبہ نہ پایا جاوے اور خدا کے کھلے کھلے معجزات کے مکذب نہ ہوں" (دیکھو حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۵)
یہ ہیں حضرت مسیح موعودؑ کے الفاظ جو ہمارے سامنے بار بار پیش کئے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس تحریر میں آپؑ نے اس بات کی امکان ضرور رکھی ہے کہ ایک شخص آپؑ کا انکار کر کے بھی مسلمان رہ سکتا ہے۔ مگر معترض نے غور نہیں کیا کہ یہ بات تعلیق بالمحال کے طور پر ہے جس طرح قرآن میں بھی آتا ہے قل ان کان للرحمٰن ولد فانا اول العابدین یعنی کہہ کہ اگر کوئی رحمٰن کا بیٹا ہے تو میں اس کا سب سے پہلا عبادت کرنیوالا ہوں۔ کیا اس تحریر کو پیش کر کے ہم سے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امکان تو پیدا ضرور رکھا ہے کہ رحمٰن کا لڑکا ہو سکتا ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں کیونکہ یہاں تو یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ نہ خدا کا بیٹا ثابت ہو سکیگا اور نہ میں اسکی عبادت کرونگا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ نے تعلیق بالمحال کے طور پر اس بات کو پیش کیا ہے کہ اگر کوئی شخص غیر احمدیوں میں سے ہمارے مکفر مولویوں کے نام لیکر اشتہار کے ذریعہ ان کے کافر ہونیکا اعلان کرے اور مسیح موعودؑ کو سچا مسلمان جانے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ان نشانوں کو بھی سچا جانتا ہو جو اس نے مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر ظاہر کئے ہیں اور یہ سب کچھ نفاق سے نہ ہو تب ہم ایسے شخص کو مومن مان لیں گے۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعودؑ کو واقعی سچا مسلمان جانتا ہے اور اپنے مکذبین کو کافر سمجھتا ہے اور آپؑ کے الہامات اور نشانات کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مانتا ہے اور پھر آپؑ کی بیعت نہیں
کلمۃ الفضل صفحہ 162 ، 163 ، 165 از مرزا بشیر احمد ایم اے | یہ حوالہ صفحہ 118 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 132)
نمبر ۴ ریویو آف ریلیجنز ۱۶۳
کہ ایسا شخص یقیناً منافق ہے اور صرف زبانی دعویٰ کرتا ہے ورنہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ حضرت صاحب تو یہ کہیں کہ میری بیعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر ایک شخص پر ضروری ہے اور وہ باوجود آپ کو راستباز جاننے اور آپکے نشانات اور الہامات پر ایمان لانے کے آپ کی بیعت میں داخل نہ ہو۔ اسلیے اگر کوئی شخص ایسا اشتہار دے بھی دے جس میں حضرت صاحب کے مکفرین کو کافر لکھا گیا ہو اور یہ بھی اعلان کرے کہ میں حضرت مرزا صاحب کو راستباز مسلمان سمجھتا ہوں اور آپکے نشانات پر ایمان لاتا ہوں لیکن بیعت نہ کرے تو تب بھی ہم اسکو مسلمان نہیں کہیں گے کیونکہ وہ منافق ہے اور صرف زبان سے دعویٰ کرتا ہے۔ پس حضرت صاحب نے جو ایک محال بات پیش کر کے مخالفین پر حجت قائم کی ہے نہ کہ انکے لیئے راستہ کھولا ہے۔ میں حضرت مسیح موعود کی مقرر کردہ شرائط کو پڑھکر اندر ہی اندر بہت لطف اٹھاتا ہوں کہ آپ نے ایسی شرائط رکھدی ہیں جن کا لازمی نتیجہ بیعت کرنا ہے۔ پہلی شرط تو یہ ہے کہ مکفرین کو کافر کہہ کر غیروں سے قطع تعلق کرے اور حضرت مسیح موعود کو سچا مسلمان سمجھ کر آپسے ایک گونہ تعلق پیدا کرے۔ یہ پہلا زینہ ہے جو غیر احمدیت سے احمدیت کی طرف انسان کو لیجاتا ہے دوسری شرط حضرت صاحب نے یہ رکھی ہے کہ خدا کے ان کھلے کھلے نشانات پر ایمان لائے جو اس نے آپ کو عطا فرمائے ہیں۔ یہ دوسرا زینہ ہے جو مخالف کو غیروں سے قطعی طور پر الگ کر کے حضرت مسیح موعود کے پاس لا کھڑا کرتا ہے۔ تیسری شرط حضرت صاحب نے یہ رکھی ہے کہ ان تمام باتوں میں نفاق ہرگز نہ ہو بلکہ یہ سب کچھ دل کے ایمان سے کرے اور یہ ظاہر ہے کہ جو شخص باوجود اس دعویٰ کے کہ وہ حضرت مرزا صاحب کے نشانات پر ایمان لاتا ہے آپ کی بیعت میں داخل نہیں ہوتا وہ منافق ہے صرف زبانی دعویٰ کرتا ہے پس اب یہ تیسرا زینہ ہوگا جو انسان کو مجبور کریگا کہ آگے بڑھکر مسیح موعود کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیدے اور آپ کی جماعت میں داخل ہو جائے تاکہ وہ ہمارے مخالف بھائی سمجھنے اور ٹھوکر کھانے سے بچے۔ علاوہ ازیں ہم کہتے ہیں کہ جب ابھی تک ایسا شخص کوئی پیدا ہی نہیں ہوا جس نے حضرت مسیح موعود کی مقرر کردہ شرائط کے ماتحت کوئی اشتہار نکالا ہو تو اس معاملہ پر بحث کرنا ہی فضول ہے اور اگر کوئی ایسا شخص ہے تو اسے پیش کیا جاوے ہم انشاء اللہ ضرور حضرت مسیح موعود
کلمۃ الفصل صفحہ 162، 163، 165 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 118 پر درج ہے
حوالہ نمبر 132
نمبر ۴ ریویو آف ریلیجنز ۱۳۵
بن گئے اس لیئے آپنے تحریر مندرجہ بالا میں سبسے پہلی شرط لگائی کہ جو شخص میرے مسلمان ہونے کا اعلان کرے۔ دوسری دلیل آپکی یہ تھی کہ چونکہ وہ لوگ جو مجھ کو کافر نہیں کہتے ان کافروں کو مسلمان سمجھتے ہیں جنہوں نے مجھ پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے اور اس طرح کافروں کو مومن سمجھنے سے خود کافر ہو جاتے ہیں اس لیئے دوسری شرط آپنے یہ لگائی کہ وہ میرے تمام مکفرین کو کافر مانے اور اس بات کا بذریعہ اشتہار اعلان کرے۔ تیسری دلیل حضرت مسیح موعودؑ یہ دیا کرتے تھے کہ چونکہ ہر ایک وہ شخص جو مجھ کو قبول نہیں کرتا مجھے مفتری علیٰ اللہ قرار دیتا ہے اور مفتری علیٰ اللہ نہ صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوتا ہے اس لیئے وہ میری تکفیر کر کے خود کافر ہو جاتا ہے علاوہ اِس کے چونکہ میرا مخالف آیات اللہ کی تکذیب کرتا اور آیات کی تکذیب کرنے والا بموجب آیت ومن اظلم ممن افتری علیٰ اللہ کذباً او کذب بایتہ نہ صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہے اس لیئے حضرت مسیح موعودؑ نے اس دلیل کے مقابل اس شرط کو رکھا کہ ایسا اشتہار دینے والا ان کھلے نشانوں کو بھی سچا جانے جو اللہ تعالیٰ نے آپکے ہاتھ پر ظاہر کئے۔ چوتھی دلیل حضرت مسیح موعودؑ یہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ چونکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرسل ہوں اس لیئے ہر ایک جسکو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھ کو نہیں مانا وہ مسلمان نہیں ہاں ”جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے (جسکی بنأ ظاہر پر ہے) اس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اسکو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب اٰیت لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا قابل مؤاخذہ نہیں ہوگا“ (دیکھو حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۸۰) اس دلیل کے مقابل حضرت صاحب نے یہ شرط رکھی کہ اشتہار دینے والا منافق نہ ہو جس سے مراد یہ ہے کہ وہ ظاہر طور پر بیعت بھی کرلے جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں۔ خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ نے بڑے احسن طریقہ پر اپنے مخالفین پر حجت قائم کی ہے اور انکو ایک ایسی بات پر آمادہ کرنا چاہا ہے جو درجہ بدرجہ انکو احمدیت کے اندر کھینچنے کی موجب ہو۔
نواں اعتراض یہ ہے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ کا نبوت کا بھی دعویٰ تھا تو کیوں آپنے صاف طور پر اس بات کو نہیں لکھا کہ میرے نہ ماننے سے چونکہ خدا کے رسولوں میں تفریق ہوتی ہے اس لیئے میرا
یہ جو حضرت مسیح موعودؑ نے سچا ماننے کی شرط رکھی ہے اس سے مراد بھی یہ ہے کہ میری رسالت اور نبوت کو سچا مانے کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے اشتہار میں یہ نہیں لکھا کہ میرے ان نشانوں کو سچا جانے جو میں نے دکھائے ہیں بلکہ یہ لکھا ہے کہ جو خدا نے میرے سچا ماننے کے لئے دکھائے ہیں ۔ پس ظاہر ہے کہ نشان سچا ماننے کا دعویٰ کر کے ہی دکھلائے جاتے ہیں اور جس شخص کو خدا نے ان نشانوں کا مظہر ٹھہرایا ہے وہ خود دعویدار ہے اس لیئے یہ شرط ماننے کے بعد شخص کے لئے دعویٰ کو ماننا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ منہ
؎ نشانات کو ماننے کا دعویٰ کر کے بیعت نہ کر لیوے اسکا نام آپنے منافق اس وجہ سے رکھا ہے کہ نشانات کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کے سچا ماننے کے لئے دکھلائے ہیں اور جو انکو سچا مانتا ہے اسکے لئے ضروری ہے کہ آپکے دعویٰ کو بھی سچا مانے۔ منہ
کلمۃ الفصل صفحہ 162 ، 163 ، 165 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 118 پر درج ہے
حوالہ نمبر 133
۶۶ از راہ ہمدردی اپنی رائے پر اصرار کیا ہو گا کہ مبادا یہ بات مخالفت اعداء کا موجب نہ ہو جائے ۔ مگر ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے صرف ایک قانون دان کی حیثیت میں غور کیا اور اس بات کو نہیں سوچا کہ خدائی تصرفات سب طاقتوں پر غالب ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اب صیغہ لنگر خانہ کا بھی اوپر
(۳۸۸) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن حضرت صاحب کی مجلس میں عورتوں کے لباس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ایسا تنگ پاجامہ جو بالکل بدن کے ساتھ لگا ہوا ہو اچھا نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس سے عورت کے بدن کا نقشہ ظاہر ہو جاتا ہے جو ستر کے منافی ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ صوبہ سرحد میں اور اسکے اثر کے ماتحت پنجاب میں بھی عورتوں کا عام لباس شلوار ہے لیکن ہندوستان میں تنگ پاجامہ کا دستور ہے ۔ اور ہندوستانیوں کے اثر کے ماتحت پنجاب کے بعض خاندانوں میں بھی تنگ پاجامے کا رواج قائم ہو گیا ہے۔ چنانچہ ہمارے گھروں میں بھی بوجہ حضرت والدہ صاحبہ کے اثر کے جو دلی کی ہیں، زیادہ تر تنگ پاجامے کا رواج ہے، لیکن شلوار بھی استعمال ہوتی رہتی ہے۔ مگر اس میں شک نہیں کہ ستر کے نکتہ نگاہ سے تنگ پاجامہ ضرور ایک حد تک قابل اعتراض ہے اور شلوار کا مقابلہ نہیں کرتا ہاں زینت کے لحاظ سے دونوں اپنی اپنی جگہ اچھے ہیں یعنی بعض بدنوں پر تنگ پاجامہ سجتا ہے اور بعض پر شلوار۔ دنیاوی حالات اگر بحیثیت مجموعی شلوار کو رواج دیا جائے تو بہتر ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عورت نے تو اپنے گھر کی چار دیواری میں ہی رہنا ہے اور اگر باہر بھی جانا ہے تو برقعہ میں ہی نکلنا ہے تو اس صورت میں تنگ پاجامہ اگر ایک حد تک ستر کے خلاف بھی ہو تو قابل اعتراض نہیں لیکن یہ خیال درست نہیں کیونکہ اول تو ایک قسم کا ستر شریعت نے عورتوں کا خود عورتوں سے بھی رکھا ہے، اور اپنے بدن کے حسن کو بیجا طور پر برملا ظاہر کرنے سے مستورات میں بھی منع فرمایا ہے۔ علاوہ ازیں گھروں میں علاوہ خاوند کے بعض ایسے مردوں کا بھی آنا جانا ہوتا ہے جن سے مستورات کا پردہ تو نہیں ہوتا لیکن یہ بھی نہایت معیوب بلکہ ناجائز ہوتا ہے کہ عورت ان کے سامنے اپنے بدن کے نقشہ اور ساخت کو برملا ظاہر کرے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایسے تنگ پاجامہ کو جس سے بدن کا نقشہ اور ساخت ظاہر ہو جاوے ناپسند کرنا نہایت حکیمانہ دانشمندی پر مبنی اور عین شریعت اسلامی کے منشاء کے مطابق ہے۔ ہاں خاوند کے سامنے عورت بے شک جس قسم کا
سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 66 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 119 پر درج ہے
حوالہ نمبر 134
۳۹
علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عادت غض بصر کی جو وہ ہر وقت مشاہدہ کرتی تھی۔ اس کا اثر اُس دیوانی عورت پر بھی ایسا تھا ۔ کہ وہ خیال کرتی تھی۔ کہ حضورؐ کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اِس واسطے حضورؐ کیلئے کسی پردہ کی ضرورت ہی نہیں :
استعمال خطاب ”تُو“
مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کبھی نہیں سُنا کہ آپ نے کبھی کسی کو ”تُو“ کے لفظ سے مخاطب کیا ہو۔ سوائے ایک دفعہ کے جبکہ ایک شخص جو مولوی ثناء اللہ کا وکیل ہو کر آپ کے سامنے آیا۔ اور بہت گستاخی سے اور چالاکی سے جلدی جلدی باتیں کرتا تھا۔ حضور نے ایک دفعہ اُسے ”تُو“ کے لفظ سے مخاطب کیا تھا :
غڑارہ
آخری ایام میں حضورؐ ہمیشہ ایسے پاجامے پہنا کرتے تھے۔ جو نیچے سے تنگ اُوپر سے کھلے گاؤ دم طرز کے اور شری کہلاتے ہیں۔ لیکن شروع میں ۱۸۹۰ء ۔ ۱۸۹۵ء میں مَیں نے حضورؐ کو بعض دفعہ غڑارہ پہنے ہوئے بھی دیکھا ہے :
ماتم میں چیخنے چلّانے سے منع فرمایا
جب صاحبزادہ حضرت مبارک احمد کی وفات ہوئی۔ اور نعش مبارک اُوپر کے صحن میں پڑی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت بیوی صاحبہ کو الگ دُوسری چھت پر لے گئے۔ تاکہ نعش کے پاس بیٹھ کر رونے چلّانے کی تحریک نہ ہو۔ اور دُوسری عورتوں کو بھی چیخنے چلّانے سے منع فرمایا :
حضور کا دایاں ہاتھ
حضورؐ کی دائیں کلائی (ہاتھ اور کہنی کے درمیان کا حصّہ ، کمزور تھی۔ فرمایا کرتے تھے کہ
ذکر حبیب صفحہ 39 از مفتی محمد صادق قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 119 پر درج ہے
حوالہ نمبر 135
۱۰۶
قبل مسجد میں تشریف لائے تو آپ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار تھے اور آپ مسجد میں ادھر ادھر ٹہلنے لگے۔ اسوقت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بھی موجود تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ اس طرح کسی کو مارنا بہت ناپسندیدہ فعل ہے اور یہ بہت بُری حرکت کی گئی ہے۔ مولوی عبد الکریم صاحب نے فلاسفر کے گستاخانہ رقعہ اور اپنی بریت کے متعلق کچھ عرض کی مگر حضرت صاحب نے غصہ سے فرمایا کہ نہیں یہ بہت ناواجب بات ہوئی ہے جب خدا کا رسول آپ لوگوں کے اندر موجود ہے تو آپ کو خود بخود اپنی رائے سے کوئی فعل نہیں کرنا چاہئے تھا بلکہ مجھ سے پوچھنا چاہئے تھا۔ وغیر ذلک ۔ حضرت صاحب کی اس تقریر پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب روپڑے اور حضرت صاحب سے معافی مانگی اور عرض کیا کہ حضور میرے لئے دعا فرماویں۔ اور اس کے بعد مارنے والوں نے فلاسفر سے معافی مانگ کر اسے راضی کیا اور اسے دودھ وغیرہ پلایا ۔
(۳۴۵) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ میاں نجم الدین صاحب ملتانی ثم قادیانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب ۱۹۰۵ء میں حضرت بیوی صاحبہ لاہور تشریف لے گئیں تو ان کی واپسی کی اطلاع آنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کو لانے کے لئے بٹالہ تک تشریف لے گئے ۔ پہلے بھی میں نے اسی سید محمد احسن صاحب مرحوم کے واسطہ سے حضرت صاحب سے آپ کے ساتھ جانے کی اجازت حاصل کی اور حضرت صاحب نے اجازت عطا فرمائی۔ مگر مولوی صاحب نے فرمایا کہ فخر الدین سے کہہ دیں کہ اور کسی کو خبر نہ کرے اور خاموشی سے ساتھ چلا چلے۔ بعض اور لوگ بھی حضرت صاحب کے ساتھ ہمرکاب ہوئے حضرت صاحب پالکی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے جسے آٹھ کہار باری باری اُٹھاتے تھے ۔ قادیان سے نکلتے ہی حضرت صاحب نے قرآن شریف کھول کر اپنے سامنے رکھ لیا اور سورہ فاتحہ کی تلاوت شروع فرمائی اور میں غور کے ساتھ دیکھتا گیا کہ بٹالہ تک حضرت صاحب سورہ فاتحہ ہی پڑھتے چلے گئے اور دوسرا ورق نہیں اُلٹا ۔ رستہ میں ایک دفعہ نہر پر حضرت صاحب نے اُتر کر پیشاب کیا اور پھر وضو کر کے پالکی میں بیٹھ گئے اور اسکے بعد پھر اسی طرح سورۃ فاتحہ کی تلاوت میں مصروف ہو گئے۔ بٹالہ پہنچ کر حضرت صاحب نے سب خدام کی معیت میں کھانا کھایا اور پھر سٹیشن پر تشریف لے گئے ۔ جب حضرت وہاں سٹیشن پر پہنچے تو گاڑی آچکی تھی۔ اور حضرت بیوی صاحبہ گاڑی سے اُتر کر آئی ہوئی تھیں اور حضرت کو ادھر دیکھ رہی تھیں حضرت صاحب بھی بیوی صاحبہ کو دیکھتے
سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 106 ، 107 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 119 پر درج ہے
حوالہ نمبر 135
١٠٧
پھرتے تھے کہ اتنے میں لوگوں کے مجمع میں حضرت بیوی صاحبہ کی نظر حضرت صاحب پر پڑگئی اور انھوں نے محمد دین کو بلا کر حضرت صاحب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور پھر حضرت صاحب نے سٹیشن پر ہی سب لوگوں کے سامنے بیوی صاحبہ کے ساتھ مصافحہ فرمایا اور ان کو ساتھ لے کر فرودگاہ پر واپس تشریف لے آئے ۔
(۴۳۶) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ آج بتاریخ ۷ اکتوبر ۱۹۲۲ء بروز جمعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک بہت بڑی یادگار اور خداوند عالم کی ایک زبردست آیت مقبرہ بہشتی میں سپرد خاک ہوگئی۔ یعنے میاں عبداللہ صاحب سنوری کے ساتھ حضرت مسیح موعود کا وہ کرتہ جس پر ذاتی روشنائی کے چھینٹے پڑے تھے دفن کر دیا گیا۔ خاکسار نے سیرۃ المہدی حصہ اول میں میاں عبداللہ صاحب کی زبانی وہ واقعہ قلمبند کیا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کرتہ پر چھینٹے پڑنے کے متعلق ہے۔ حضرت صاحب نے میاں عبداللہ صاحب کے اصرار پر ان کو یہ کرتہ عنایت کرتے ہوئے ہدایت فرمائی تھی کہ یہ کرتہ میاں عبداللہ صاحب کی وفات پر ان کے ساتھ دفن کر دیا جاوے تاکہ بعد میں کسی زمانہ میں شرک کا موجب نہ بنے سو آج میاں عبداللہ صاحب کی وفات پر وہ ان کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ میاں عبداللہ صاحب نے اپنی زندگی میں کئی دفعہ دکھایا تھا اور مینے وہ چھینٹے بھی دیکھے تھے جو خدائی یاقوتی روشنائی سے اس پر پڑے تھے۔ اور جب آج آخری وقت میں غسل کے بعد یہ کرتہ میاں عبداللہ صاحب کو پہنایا گیا تو اُس وقت بھی خاکسار وہاں موجود تھا۔ میاں عبداللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ کا دیا ہوا ایک صابن کا ٹکڑا اور ایک بالوں کو لگانے والے تیل کی چھوٹی بوتل اور ایک عطر کی چھوٹی سی شیشی بھی رکھی ہوئی تھی اور غسل بھی اسی صابن سے دیا گیا۔ یہی تیل اور عطر میاں عبداللہ صاحب کے بالوں وغیرہ کو لگایا گیا ۔ اور کرتہ پہنائے جانے کے بعد خاکسار نے خود اپنے ہاتھ سے کچھ عطر اس کرتہ پر بھی لگایا ۔ نماز جنازہ سے قبل جب تک حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ کی آمد کا انتظار رہا لوگ نہایت شوق اور درد و رقت کے ساتھ میاں عبداللہ صاحب کو دیکھتے رہے جو اس کرتہ میں ملبوس ہو کر فرشتہ ہی نظر آتے تھے اور جنازہ میں اس کثرت کے ساتھ لوگ شریک ہوئے کہ اس سے قبل میں نے قادیان میں کسی جنازے میں
سیرۃ المہدی جلد دوم صفحہ 106 ، 107 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 119 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
١٠٢
اس زمانہ میں چونکہ مجھے ہوشیار اور فکر مند ہو کر سونا پڑتا تھا تا کہ ایسا نہ ہو حضرت صاحب مجھ کو کوئی آواز دیں اور میں جاگنے میں دیر کروں اسلئے اسوقت سے میری نیند بہت ہلکی ہوگئی ہے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگر کبھی مجھے آواز دیتے تھے اور میری آنکھ نہ کھلتی تھی تو حضور آہستہ سے اٹھ کر میری چارپائی پر آکر بیٹھ جاتے تھے اور میرے بدن پر اپنا دست مبارک رکھ دیتے تھے جس سے میں جاگ پڑتا تھا اور سب سے پہلے حضور وقت دریافت فرماتے تھے اور حضور کو جو الہام ہوتا تھا حضور مجھے جگا کر نوٹ کروا دیتے تھے۔ چنانچہ ایک رات ایسا اتفاق ہوا کہ حضور نے مجھے الہام لکھنے کے لئے جگایا مگر اسوقت اتفاق سے میرے پاس کوئی قلم نہیں تھا۔ چنانچہ مینے ایک کوئلہ کا ٹکڑا لیکر اس سے الہام لکھا لیکن اسوقت کے بعد سے میں باقاعدہ پنسل یا فاؤنٹین پین اپنے پاس رکھنے لگ گیا ۔
(۴۲۸) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عموماً صبح کے وقت سیر کے لئے تشریف لیجایا کرتے تھے اور عموماً بہت سے اصحاب حضور کے ساتھ ہوتے تھے۔ تعلیم الاسلام ہائی اسکول قادیان کے بعض طالب علم بھی حضور کے ساتھ جانے کے شوق میں کسی بہانہ وغیرہ سے اپنے کلاس روم سے نکل کر حضور کے ساتھ ہو لیتے تھے۔ اساتذہ کو پتہ لگتا تھا تو تعلیم کے حرج کا خیال کر کے بعض اوقات ایسے طلبہ کو بلا اجازت چلے جانے پر سزا وغیرہ بھی دیتے تھے مگر بچوں کو کچھ ایسا شوق تھا کہ وہ عموماً موقعہ لگا کر نکل ہی جاتے تھے۔
(۴۲۹) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کسی وجہ سے اپنی بیوی مرحومہ پر کچھ خفا ہوا اس پر میری بیوی نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی بڑی بیوی کے پاس جاکر میری ناراضگی کا ذکر کیا۔ اور حضرت مولوی صاحب کی بیوی نے مولوی صاحب سے ذکر کر دیا۔ اسکے بعد میں جب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے ملا تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ ”مفتی صاحب آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہاں ملکہ کا راج ہے“ بس اسکے سوا اور کچھ نہیں کہا۔ مگر میں ان کا مطلب سمجھ گیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے یہ الفاظ عجیب معنی خیز ہیں۔ کیونکہ ایک طرف تو ان دنوں میں برطانیہ کے تخت پر ملکہ وکٹوریا متمکن تھیں اور دوسری طرف حضرت مولوی صاحب کا اس طرف اشارہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خانگی معاملات میں حضرت ام المومنین کی بات بہت مانتے ہیں۔
سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 102 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 120 پر درج ہے
حوالہ نمبر 137
۶۳
پورا زور لگایا پھر پلٹ کر دیکھا کہ وہی شیر میرے سر پر کھڑا گرجتا اور غراتا ہے اسوقت میں نے ہاتھ جوڑ کر چیخ ماری اور وہاں سے بھاگ اٹھا۔ حضرت خلیفہ ثانی یہ سن کر فرماتے تھے کہ وہ شخص پھر حضرت صاحب کا بہت معتقد ہو گیا تھا اور ہمیشہ جب تک زندہ رہا آپ سے خط و کتابت رکھتا تھا۔
(۷۷)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ منشی محمد اروڑا صاحب مرحوم مجھ کو بتلایا حضرت مسیح موعود کا ذکر مبارک کرتے تھے کہ ہم تو آپ کے منہ کے تھوک کے لئے پیدا بھی ہوئے تھے تو آپ کا چہرہ دیکھنے سے ایسے ہو جاتے تھے کہ ۔ منشی صاحب مرحوم بڑے مخلصوں میں سے تھے ۔ سابقہ مبایعین میں ان کا نمبر نشان والوں میں شمار ہوتا ہے ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مجھ سے بیان کیا حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے سٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ سٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب جنکی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جاوے مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا میں تو نہیں کہتا آپ کہکر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت صاحب نے منہ بنایا جانو جی میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے میں نے کہا مولوی صاحب! جواب پا آئے۔
(۷۸)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جن دنوں میں ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمار تھا ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول کو اسے دیکھنے کے لئے گھر میں بلایا ۔ اسوقت آپ صحن میں ایک چارپائی پر تشریف رکھتے تھے اور صحن میں کوئی فرش وغیرہ نہیں تھا۔ مولوی صاحب آتے ہی آپ کی
سیرت المہدی ، جلد اوّل صفحہ 63 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 121 پر درج ہے
حوالہ نمبر 138
۲۷۶
مولوی محمد علی صاحب یہاں ڈھاب میں کنارے پر نہانے لگے۔ مگر پاؤں پھسل گیا۔ اور وہ گہرے پانی میں چلے گئے ۔ اور پھر لگے ڈوبنے۔ کیونکہ تیرنا آتا نہیں تھا۔ کئی لوگ بچانے کیلئے پانی میں کودے ۔ مگر جب کوئی شخص مولویصاحب کے پاس جاتا تھا۔ تو وہ اُسے ایسا پکڑتے تھے۔ کہ وہ خود بھی ڈوبنے لگتا تھا۔ اس طرح مولوی صاحب نے کئی غوطے کھائے ۔ آخر شاید میاں امیر حسین صاحب نے پانی میں غوطے لگا لگا کر نیچے سے انکو ٹیلے کی طرف دھکیلا تب وہ باہر آئے ۔ جب مولوی صاحب حضرت صاحب سے اس واقعہ کے بعد ملے ۔ تو آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔ مولویصاحب آپ گھڑے کے پانی سے ہی نہا لیا کریں۔ ڈھاب کیطرف نہ جائیں۔ پھر فرمایا ۔ کہ ہمیں بچپن میں اتنا تیرنا تھا ۔ کہ ایک وقت میں ساری قادیان کے ارد گرد تیر جاتا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ برسات کے موسم میں قادیان کے ارد گرد اتنا پانی جمع ہو جاتا ہے ۔ کہ سارا گاؤں ایک جزیرہ بن جاتا ہے۔
(۲۸۵) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ جاننے کیلئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا اپنے کپڑوں کے ساتھ کیسا معاملہ تھا۔ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم مغفور کی تصنیف سیرت مسیح موعود کے مندرجہ ذیل فقرات ایک عمدہ ذریعہ ہیں۔ مولویصاحب موصوف فرماتے ہیں :-
" عرصہ قریب پندرہ برس کا گزرتا ہے۔ جبکہ حضرت صاحب نے بارِ دیگر خدا تعالیٰ کے امر سے معاشرت کے بھاری اور نازک فرض کو اُٹھایا ہے۔ اس اثناء میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا۔ کہ خانہ جنگی کی آگ مشتعل ہوئی ہو۔ وہ ٹھنڈا دل اور طبعی تحمل قابلِ غور ہے۔ جسے اتنی مدت میں کسی قسم کے رنج اور تنغص عیش کی آگ کی آنچ تک نہ چھوئی ہو۔ اس بات کو اندرونِ خانہ کی خدمتگار عورتیں۔ جو عوام الناس سے ہیں۔ اور فطری سادگی اور انسانی جذبہ کے سوا کوئی تکلف اور تصنع زیرکی اور استنباطی قوت نہیں رکھتیں۔ بہت عمدہ طرح محسوس کرتی ہیں۔ وہ تعجب سے دیکھتی ہیں کہ محض زمانہ اور گردو پیش کے عام عُرف اور برتاؤ کے بالکل بر خلاف دیکھ کر بڑے تعجب سے کہتی ہیں۔ اور میں نے بارہا انہیں خود حیرت سے کہتے ہوئے سنا ہے ۔ کہ :-
سیرت المہدی ، جلد اوّل صفحہ 276 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 121 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 139)
۵۳
صاحب کی طرف سے مندرجہ ذیل الفاظ درج ہیں:۔
"اقرار یہ ہے کہ عرصہ تیس سال تک فک الرہن مرہونہ نہیں کرائوں گا بعد تیس سالہ مذکور کے ایک سال میں جب چاہوں زر رہن دوں تب فک الرہن کرائوں ورنہ بعد انفصال میعاد بالا یعنی اکتیسویں سال کے شروع ہی میں مرہونہ بالا ان ہی روپوں میں بیع بالوفا ہو جائیگا اور مجھے دعویٰ ملکیت کا نہیں رہیگا، قبضہ اس کا آج سے کرا دیا ہے اور داخل خارج کرا دونگا اور منافع مرہونہ بالا کی فک رہن تک مرتہنہ مستحق ہے اور مالیہ سرکاری فصل خریف ۱۸۷۶ء (بکرمی) سے مرتہنہ دے گی اور پیدا وار لے گی۔"
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ عبارت ظاہر کرتی ہے کہ اس کے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تجویز کردہ نہیں ہیں بلکہ کسی وثیقہ نویس نے حضرت صاحب کے منشاء کو اپنے الفاظ میں لکھ دیا ہے،
(۳۶۷) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کا نکاح حضرت صاحب نے نواب محمد علی خان صاحب کے ساتھ کیا تو مہر چھپن ہزار روپیہ مقرر کیا گیا تھا اور حضرت صاحب نے مہرنامہ کو باقاعدہ رجسٹری کروا کے اسپر بہت سے لوگوں کی شہادتیں ثبت کروائی تھیں اور جب حضرت صاحب کی وفات کے بعد ہماری چھوٹی ہمشیرہ امتہ الحفیظ بیگم کا نکاح خان محمد عبداللہ خان صاحب کے ساتھ ہوا تو مہر -/۵۰۰۰ روپیہ مقرر کیا گیا اور یہ مہرنامہ بھی باقاعدہ رجسٹری کرایا گیا تھا، لیکن ہم تینوں بھائیوں میں سے جن کی شادیاں حضرت صاحب کی زندگی میں ہو گئی تھیں کسی کا مہرنامہ تحریر ہوکر رجسٹری نہیں ہوا اور مہر ایک ایک ہزار روپیہ مقرر ہوا تھا۔ در اصل مہر کی تعداد زیادہ تر خاوند کی موجودہ حیثیت اور کسی قدر بیوی کی حیثیت پر مقرر ہوا کرتی ہے اور مہرنامہ کا باقاعدہ لکھا جانا اور رجسٹری ہونا یہ شخصی حالات پر موقوف ہے۔ چونکہ نواب محمد علی خان صاحب کی جائیداد سرکار انگریزی کے علاقہ میں واقعہ نہ تھی بلکہ ایک ریاست میں تھی اور اس کے متعلق بعض تنازعات کے پیدا ہونے کا احتمال ہو سکتا تھا اسلئے حضرت صاحب نے مہرنامہ کو باقاعدہ رجسٹری کروانا ضروری خیال کیا اور ویسے بھی دیکھا جائے تو عام حالات میں یہی بہتر ہوتا ہے کہ مہرنامہ اگر رجسٹری نہ بھی ہو تو کم از کم باقاعدہ طور پر تحریر میں آجاوے اور معتبر لوگوں کی شہادتیں اس پر ثبت ہو جاویں۔ کیونکہ دراصل مہر بھی ایک قرضہ ہوتا ہے جس کی ادائیگی خاوند پر
سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 53 از مرزا بشیر احمد
یہ حوالہ صفحہ 122 پر درج ہے
حوالہ نمبر 140
مکتوبات احمد ۲۵۰ جلد دوم
کھول کر بیان کر دیا ہے۔ آپ نے اپنے اس دعوٰی سے کبھی انکار نہیں کیا۔ البتہ اس کا وہ مفہوم اور منطوق بھی کبھی قرار نہیں دیا جو آپ کے معاندین و منکرین نے آپ کی طرف منسوب کیا۔ (عرفانی)
مکتوب نمبر ۴۷ ملفوف
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
محبّی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہٗ تعالٰی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کسی قدر تریاق جدید کی گولیاں بدست مرزا خدا بخش صاحب آپ کی خدمت میں ارسال ہیں اور کسی قدر اس وقت دے دوں گا۔ جب آپ قادیان آئیں گے یہ دوا تریاق الہٰی سے فوائد میں بہت بڑھ کر ہے۔ اس میں بڑی بڑی قابل قدر دوائیں پڑی ہیں۔ جیسے مشک۔ عنبر۔ زہر مہرہ۔ مروارید۔ سونے کا کشتہ۔ فولاد۔ یاقوت احمر۔ کوئین۔ فاسفورس۔ کھریا۔ مرجان۔ صندل۔ کیوڑہ۔ زعفران۔ یہ تمام دوائیں قریب سو کے ہیں اور بہت سا فاسفورس اس میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ دوا علاج طاعون کے علاوہ مقوی دماغ۔ مقوی جگر۔ مقوی معدہ۔ مقوی باہ اور مراق کو فائدہ کرنے والی۔ مصفّٰی خون ہے۔ مجھ کو اس کے تیار کرنے میں اوّل تأمّل تھا کہ بہت سے روپیہ پر اس کا تیار کرنا موقوف تھا۔ لیکن چونکہ حفظِ صحت کے لئے یہ دوا مفید ہے۔ اس لئے اس قدر خرچ گوارا کیا گیا۔ چالیس تولہ سے کچھ زیادہ اس میں یاقوت احمر ہے۔ اگر خریدا جاتا تو شاید کئی سو روپیہ سے آتا۔ بہرحال یہ دوا خدا تعالٰی کے فضل سے تیار ہو گئی ہے گو بہت ہی تھوڑی ہے۔ لیکن اس قدر بھی محض خدا تعالٰی کی عنایت سے تیار ہوئی۔ خوراک اس کی اوّل استعمال میں دو رتی سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ تا گرمی نہ کرے۔ نہایت درجہ مقوی اعصاب ہے اور خارش اور ثبورات اور جذام اور ذیابیطس اور انواع و اقسام کے زہرناک امراض کے لئے مفید ہے اور قوت باہ میں اس کا ایک عجیب اثر ہے۔ سرخ گولیاں میں نے نہیں بھیجیں۔ کیونکہ صرف بواسیر اور جذام کے لئے ہیں اور ذیابیطس کو بھی مفید ہے۔ اگر ضرورت ہو گی تو وہ بھی بھیج دوں گا، موجود ہیں۔ مرزا خدا بخش کو نصیبین میں بھیجنے کی پختہ تجویز ہے۔ خدا تعالٰی کے راضی کرنے کے کئی موقعے
مرزا قادیانی کا اپنے داماد نواب محمد علی کے نام مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 250 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 123 پر درج ہے
حوالہ نمبر 141
۲۲
چنانچہ حضرت صاحب نے تمہارے تایا صاحب کی تمام جائداد مرزا سلطان احمد کے نام کرادی۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ حضرت صاحب نے بخشنے کی صورت کس طرح منظور فرمائی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ یہ تو یونہی ایک بات تھی۔ ورنہ وفات کے بعد بخشتے کیسا۔ مطلب تو یہ تھا۔ کہ تمہاری تائی کی خوشی کے لئے حضرت نے تمہارے تایا کی جائداد مرزا سلطان احمد کے نام داخل خارج کرا دی۔ اور اپنے نام نہیں کرائی۔ کیونکہ اس وقت کے حالات کے ماتحت ویسے بھی مرزا سلطان احمد کو آپ کی جائداد سے نصف حصہ جانا تھا۔ اور باقی نصف مرزا فضل احمد کو۔ پس آپ نے سمجھ لیا۔ کہ گویا آپ نے اپنی زندگی میں ہی مرزا سلطان احمد کا حصہ الگ کردیا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب مرزا فضل احمد فوت ہوا۔ تو اسکے کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب نے مجھے فرمایا۔ کہ تمہاری اولاد کے ساتھ جائداد کا حصہ بٹانے والا ایک فضل احمد ہی تھا۔ سو وہ بیچارہ بھی گزر گیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ ہمارے دادا صاحب کے دو لڑکے تھے ایک حضرت صاحب جن کا نام مرزا غلام احمد تھا اور دوسرے ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب جو حضرت صاحب سے بڑے تھے۔ ہمارے دادا نے قادیان کی زمین میں دو گاؤں آباد کر کے انکو اپنے دونوں بیٹوں کے نام موسوم کیا تھا۔ چنانچہ ایک کا نام قادر آباد رکھا۔ اور دوسرے کا احمد آباد۔ احمد آباد بعد میں کسی طرح ہمارے خاندان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اور صرف قادر آباد رہ گیا۔ چنانچہ قادر آباد حضرت صاحب کی اولاد میں تقسیم ہوا اور اسی میں مرزا سلطان احمد صاحب کا حصہ آیا۔ لیکن خدا کی قدرت کہ اب قریباً چالیس سال کے عرصہ کے بعد احمد آباد جو ہمارے خاندان کے ہاتھ سے نکل کر غیر خاندان میں جاچکا تھا۔ واپس ہمارے پاس آگیا ہے۔ اور اب وہ کلیتہً صرف ہم تین بھائیوں کے پاس ہے۔ یعنی مرزا سلطان احمد صاحب کا اس میں حصہ نہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ قادر آباد قادیان سے مشرق کی جانب واقع ہے۔ اور احمد آباد جانب شمال ہے۔
(۳۴۱)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے کہ جو خاکسار کے حقیقی ماموں ہیں۔ کہ جب حضور یعنی مسیح موعود علیہ السلام نے لدھیانہ میں سلسلہ بیعت شروع کیا۔ تو میں بالکل چھوٹا بچہ تھا۔ اور
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 22 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 123 پر درج ہے
حوالہ نمبر 142
۱۶۲
پٹیالہ سے خط آیا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور احمق میرے چھوٹے بھائی کو کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے اور پھر خط کے اخیر میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ احمق بھی فوت ہو گیا ہے اور بڑی جلدی سے بلایا کہ دیکھتے ہی چلے آویں ۔ اس خط کے پڑھنے سے بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اس وقت میرے گھر کے لوگ بھی سخت تپ سے بیمار تھے .... تب مجھے اس تشویش میں ایک دفعہ غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا :۔
یعنی اے عورتو ! تمہارے فریب بہت بڑے ہیں .... اس کے ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ یہ ایک خلافِ واقعہ بہانہ بنایا گیا ہے تب میں نے ... شیخ حامد علی کو جو میرا نوکر تھا پٹیالہ روانہ کیا جس نے واپس آکر بیان کیا کہ احمق اور اس کی والدہ ہر دو زندہ موجود ہیں ۔ (نزول المسیح صفحہ ۲۳۲، ۲۳۳۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۱۱ ، ۶۱۱ )
۴ ستمبر ۱۸۹۲ء ۱؎ عَلَّمَكَ الْاِبْتِلَاءُ . هٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ . يُوْلَدُ لَكَ الْوَلَدُ وَيُدْنَى مِنْكَ الْفَضْلُ . اِنَّ نُوْرِيْ قَرِيبٌ . اَجِيْئُ مِنْ حَضْرَةِ الْوُجُوْدِ ۔
(رجسٹر تصدیق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۰ )
۴ اکتوبر ۱۸۹۲ء ۲؎ عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَا اَذِنْتَ لَهُمْ . اِنَّمَا اَمْرُكَ إِذَا أَرَدْتَ شَيْئًا وَّ اَنْ تَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ . اَنْتَ بِنَا مُلْحَقٌّ . اِنَّمَا اَمْرُكَ إِذَا أَرَدْتَ شَيْئًا وَّ اَنْ تَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ . اٰتِيْكَ غَدًا . سُبْحَانَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى . اَنْتَ بِنَا مُلْحَقٌّ . إِنَّمَا اَمْرُكَ إِذَا أَرَدْتَ شَيْئًا أَنْ تَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ . اَنْتَ مِنْ مَّاءِنَا وَ هُمْ مِّنْ فَشَلٍ . اَنْتَ بِنَا مُلْحَقٌّ . اِنَّمَا اَمْرُكَ إِذَا أَرَدْتَ شَيْئًا اَنْ تَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ . اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِي
۱؎ (ترجمہ از مرتب) ابتلاء تجھے سکھا دے گا۔ یہ سخت دن ہے۔ تجھے ایک بیٹا عطا ہوگا اور فضل تیرے نزدیک ہوگا۔ بیشک نور قریب ہے۔ میں جناب باری سے آتا ہوں۔
۲؎ (ترجمہ از مرتب) اللہ تجھے معاف کرے ان کو تو نے کیوں اجازت دی ۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اُسے کہے کہ ہو جا تو ہو جائے گی۔ تو ہم سے ملنے والا ہے۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اُسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔ میں تیرے پاس کل آؤں گا۔ بڑا ہے اعلیٰ تیرے پاس آیا۔ تو ہم سے ملنے والا ہے۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔ تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ بُزدلی سے ۔ تو ہم سے ملنے والا ہے۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اُسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید اور
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 164 طبع چہارم از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 124 پر درج ہے
حوالہ نمبر 143
۴۴۹ روحانی خزائن جلد ۹
پڑگیا ہے کہ یہ کھاؤ پیو ہے۔ اس سے کس تقویٰ اور نیک بختی کی امید ہو سکتی ہے ہمارے سید و مولیٰ افضل الانبیاء خیر الاصفیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا تقویٰ دیکھئے کہ وہ ان عورتوں کے ہاتھ سے بھی ہاتھ نہیں ملاتے تھے جو پاکدامن اور نیک بخت ہوتی تھیں اور بیعت کر لینے کے لئے آتی تھیں بلکہ دور بٹھا کر صرف زبانی تلقین توبہ کرتے تھے مگر کون عقلمند اور پرہیز گار ایسے شخص کو پاک باطن سمجھے گا۔ جو جوان عورتوں کے چھونے سے پرہیز نہیں کرتا۔ ایک کنجری خوبصورت نامی قحبہ جب بیٹھی ہے گویا بغل میں ہے کبھی ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی ہے کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشنما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے۔ اور گود میں تماشہ کر رہی ہے یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں برادر طریقت تم کہوکہ جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد۔ اور ایک خوبصورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے ۔ کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کسبی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی ؟ افسوس کہ یسوع کو یہ بھی تمیز نہیں تھا کہ اس فاسقہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا۔ کمبخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہوں گے۔ اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہوگا۔ اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کار عورت مجھ سے دور رہ ۔ اور یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف میں سے تھی۔ اور زنا کاری میں سارے شہر میں مشہور تھی“
۷۴
یہ حوالہ صفحہ 127 پر درج ہے
نور القرآن صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 449 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 144)
۴۴۷ روحانی خزائن جلد ۹
درخت کی طرف دوڑے گئے کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ درخت ان کا یا ان کے والد صاحب کی ملک میں سے تھا۔ پس جو شخص بیگانہ درخت کو دیکھ کر اپنے نفس پر غالب نہ آسکا اور درخت کو چمٹ پڑا کھانے کے لئے اس کی طرف دوڑا گیا یا بغیر کسی استحقاق کے اس میں تصرف کیا گیا ۔ وہ خدا تو کجا بلکہ بقول آپ کے فرد کامل بھی نہیں۔ الغرض کسی کے دل میں یہ خیال گذرنا کہ یہ چیز خوبصورت ہے یہ ایک علیحدہ امر ہے جس کو خدا نے آنکھیں دی ہیں جیسے وہ کانٹے اور پھول میں فرق کر سکتا ہے۔ ایسا ہی وہ خوبصورت اور بدصورت میں فرق کر سکتا ہے۔ آپ کے خدا صاحب کو شاید یہ قوت ممیزہ فطرت سے نہیں ملی ہوگی کہ پیٹ کی شہوت کے لئے تو انجیر کے درخت کی طرف دوڑے یہی نہ سوچا کہ یہ کس کا انجیر ہے ؟
تعجب کہ ایک شرابی اور کھاؤ پیو کو شہوت پرست نہ کہا جائے اور وہ پاک ذات جس کی زندگی اور جس کا ہر ایک فعل خدا کے لئے تھا۔ اس کا نام اس زمانہ کے پلید طبع شہوت پرست کہیں عجیب تاریکی کا زمانہ ہے۔ یہ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کا ایک نمونہ ہے کہ ہرگز قصداً کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھو کہ یہ بد نظری کا پیش خیمہ ہے۔ اور اگر اتفاقاً کسی خوبصورت عورت پر نظر پڑے اور وہ خوبصورت معلوم ہو تو اپنی عورت سے صحبت کر کے اس خیال کو ٹال دو۔ خوب یاد رکھو کہ یہ تعلیم اور یہ حکم حفظ ما تقدم کے طور پر ہے جو شخص مثلاً ہیضہ کے دنوں میں ہیضہ سے بچنے کے لئے حفظ ما تقدم کے طور پر کوئی دوا استعمال کرتا ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کو ہیضہ ہو گیا ہے۔ یا ہیضہ کے آثار اس میں ظاہر ہو گئے ہیں بلکہ یہ بات اس کی دانشمندی میں محسوب ہوگی اور سمجھا جائے گا کہ وہ اس بیماری سے طبعاً نفرت رکھتا ہے اور اس سے
۷۲
نور القرآن صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 447 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 128 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 145)
۸۶
اور رسول کے نزدیک لعنتی ہیں۔ ان کا نماز روزہ اور کوئی عمل منظور نہیں۔ اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ کوئی عورت نیک نہیں ہوسکتی جب تک پوری پوری اپنے خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے اور دلی محبت سے اس کی تعظیم بجا نہ لائے اور پس پشت یعنی اس کے پیچھے اس کی خیر خواہ نہ ہو۔ اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے مردوں کی تابعدار رہیں۔ ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں۔ اور نیز فرمایا ہے کہ اگر غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بد زبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے اور حکم ربانی سُنکر پھر بھی باز نہیں آتی تو وہ لعنتی ہے۔ خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔ عورتوں کو چاہیئے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چرائیں اور نامحرم سے اپنے تئیں بچائیں۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ بغیر خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جتنے مرد ہیں ان سے پردہ کرنا ضروری ہے۔ جو عورتیں نامحرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے۔ عورتوں پر یہ بھی لازم ہے کہ بدکار اور بد وضع عورتوں کو اپنے گھروں میں نہ آنے دیں اور ان کو اپنی خدمت میں نہ رکھیں کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے کہ بدکار عورت نیک عورت کی ہم صحبت ہو۔
- (۱) عورتوں میں یہ بھی ایک بد عادت ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند کسی اپنی مصلحت کے لیے کوئی دوسرا نکاح
کرنا چاہتا ہے تو وہ عورت اور اس کے اقارب سخت ناراض ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور شور مچاتے ہیں اور اس بندہ خدا کو ناحق ستاتے ہیں۔ ایسی عورتیں اور ایسے ان کے اقارب بھی نابکار اور خراب ہیں۔ کیونکہ اللہ جلشانہ نے اپنی حکمت کاملہ سے جس میں صدہا مصالح ہیں۔ مردوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا مصلحت کے وقت چار تک بیویاں کرلیں۔ پھر جو شخص اللہ رسول کے حکم کے مطابق کوئی نکاح کرتا ہے تو اس کو کیوں بُرا کہا جائے۔ ایسی عورتیں اور ایسے ہی اس عادت والے اقارب جو خدا اور اس کے رسول کے حکموں کا مقابلہ کرتی ہیں۔ غایت مردود اور شیطان کی بہنیں اور بھائی ہیں کیونکہ وہ خدا اور رسول کے فرمودہ سے منہ پھیر کر اپنے رب کریم سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں۔ اور اگر کسی نیک دل مسلمان کے گھر میں ایسی بدذات بیوی ہو تو اُسے مناسب ہے کہ اس کو سزا دینے کے لیے دوسرا نکاح ضرور کرے۔
- (۲) بعض جاہل مسلمان اپنے نامزد رشتہ کے وقت یہ دیکھ لیتے ہیں کہ جس کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرنا منظور ہے
اس کی پہلی بیوی بھی ہے یا نہیں۔ پس اگر پہلی بیوی موجود ہو تو ایسے شخص سے ہرگز نکاح کرنا نہیں چاہتے۔ سو یاد رکھنا چاہیئے کہ ایسے لوگ بھی صرف نام کے مسلمان ہیں اور ایک طور سے وہ ان عورتوں کے مددگار ہیں جو اپنے خاوندوں کے دوسرے نکاح سے ناراض ہوتی ہیں۔ سو ان کو بھی خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیئے۔
- (۳) ہماری قوم میں یہ بھی ایک نہایت بد رسم ہے کہ دوسری قوم کو لڑکی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ بیٹی اس سے لینا بھی
پسند نہیں کرتے۔ یہ سراسر تکبر اور نخوت کا طریق ہے جو سراسر احکام شریعت کے برخلاف ہے۔ بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں۔ رشتہ ناطہ میں صرف یہ دیکھنا چاہیئے کہ جس سے نکاح کیا جاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے
Back
مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 86 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 128 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 146)
۷۶
اپنی جگہ بدل دے۔ چنانچہ یہ تجویز کارگر ہوئی اور اس کی اصلاح ہو گئی علم توجہ جسے کہتے ہیں یہ ہم نہیں کہتے ہیں وہ بھی اسی قلبی تجلی روح کا نتیجہ ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ مسمریزم میں توجہ ڈالنے والا ارادے اور شعور کے ساتھ اپنی توجہ کا ایک مرکز قائم کرتا ہے لیکن اس قسم کی عام حالت میں بلا ارادہ ہر شخص کے قلب کو ایک روحانی رو بہتی ہے اور اسی لئے یہ رو مسمریزم کی نسبت بہت کمزور اور بطی الاثر ہوتی ہے ۔
(۴۰۱) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ڈاکٹر محمود اسماعیل صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود سے عرض کیا کہ میرے ساتھ شفاخانہ میں ایک انگریز لیڈی ڈاکٹر کام کرتی ہے اور وہ ایک بوڑھی عورت ہے وہ کبھی کبھی میرے ساتھ مصافحہ کرتی ہے اسکے متعلق کیا حکم ہے حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ تو جائز نہیں ہے آپ کو عذر کر دینا چاہئے کہ ہمارے مذہب میں یہ جائز نہیں ۔
(۴۰۲) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی سید سرور شاہ صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ قادیان کے قصابوں نے کوئی شرارت کی تو اس پر حضرت صاحب نے حکم دیا کہ ان سے گوشت خریدنا بند کر دیا جاوے۔ چنانچہ کئی دن تک گوشت بند رہا اور سب لوگ دال وغیرہ کھاتے رہے۔ ان دنوں میں نے (مولوی سید سرور شاہ صاحب نے) حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ میرے پاس ایک بکری ہے وہ میں حضور کی خدمت میں پیش کرتا ہوں حضور اسے ذبح کرا کے اپنے استعمال میں لائیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمارا دل اسبات کو پسند نہیں کرتا کہ ہمارے دوست دالیں کھائیں اور ہمارے گھر میں گوشت پکے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ حضرت صاحب اسبات کے قائل تھے کہ سب مومنوں کے گھر میں ایک سا کھانا پکنا چاہئے اور سب کا تمدن و طریق ایک سا ہونا چاہئے۔ بلکہ منشاء صرف یہ ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ گوشت خریدنے کی ممانعت کی گئی تھی آپ کے اخلاق نے یہ گوارا نہیں کیا کہ آپ اپنے لئے تو کوئی خاص انتظام کرلیں اور دوسرے ذی استطاعت احباب جو گوشت خریدنے کی طاقت تو رکھتے تھے مگر بوجہ ممانعت کے رکے ہوئے تھے دالیں کھائیں والا ویسے اپنے گھر میں ہر شخص کو اختیار ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق
سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 76 از مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے یہ حوالہ صفحہ 128 پر درج ہے
حوالہ نمبر 147
۱۵ سیرۃ المہدی حصہ سوم
دعا اور ذکر الٰہی کے طریق پر بعض فقرات کی تلقین فرماتے تھے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بعض خاص فقرات ۴۷۷ حضور کی زبان پر اکثر جاری رہتے تھے۔ چنانچہ فرمایا کرتے تھے۔ الدعاء مخّ العبادة۔ لا یلدغ المومن من جحر واحد مرّتین۔ پہلا سانس اور چوکھا ہی ہو۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فقرہ ۲ کا ترجمہ یہی بکثرت سنا ہے یعنی مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں کاٹا جاتا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود ۴۷۸ علیہ السلام عورتوں سے بیعت صرف زبانی لیتے تھے۔ ہاتھ میں ہاتھ نہیں لیتے تھے۔ نیز آپ بیعت ہمیشہ اُردو الفاظ میں لیتے تھے۔ مگر بعض اوقات دیہاتی عورتوں یا دیہاتی مردوں سے پنجابی الفاظ میں بھی بیعت لے لیا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلعم بھی عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے اُن کے ہاتھ کو نہیں چھوتے تھے۔ دراصل قرآن شریف میں جو یہ آتا ہے کہ عورت کو کسی غیر محرم پر اظہارِ زینت نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے اندر لمس کی ممانعت بھی شامل ہے۔ کیونکہ جسم کے چھونے سے بھی زینت کا اظہار ہو جاتا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ ۴۷۹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ جو استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ پڑھنے کا کثرت سے حکم آیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ انسانی کمزوریوں اور غلطیوں کی وجہ سے انسان کو گویا ایک دُنب یعنی دم لگ جاتی ہے جو کہ حیوانی حصہ ہے۔ اور یہ انسان کے لئے بدنما اور اس کی خوبصورتی کے لئے ناموزوں ہے۔ اس واسطے حکم ہے کہ انسان بار بار یہ دُعا مانگے اور استغفار کرے۔ تاکہ اس حیوانی دم سے بچکر اپنی انسانی خوبصورتی کو قائم رکھ سکے۔ اور ایک مکرم انسان بنا رہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس روایت میں غالباً یہ لفظی لطیفہ بھی مدِنظر ہے کہ ذنب یعنی گناہ حقیقۃً ایک ذنب یعنی دُم ہے۔ جو انسان کی اصلی فطرت کے خلاف اُس کے ساتھ لاحق ہو جاتی ہے گویا جس طرح ذنب اور ذَنَب یعنی دُم کے الفاظ اپنی ظاہری صورت میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اسی طرح ان میں معنوی مشابہت بھی ہے۔ واللہ اعلم۔
سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 15 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 129 پر درج ہے
حوالہ نمبر 148
الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۰۷ء
اور لوگ بغور ملاحظہ فرماویں کہ یہ بات روز مرہ کے مشاہدات میں داخل ہے کہ بعض فطرتی علامات ایسی پوشیدہ اور مخفی ہوتی ہیں کہ بادی النظر میں ان کا پتہ نہیں لگا سکتے اور نہ عام لوگ ان سے واقف ہوتے ہیں ان کا معلوم کرنا کسی استاد کی تعلیم پر موقوف نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے جس پر چاہے کرے۔ جب تک انسان ان پر غور نہیں کرتا ان کے دریافت کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا اور بعض علامات ایسی بدیہی ہوتی ہیں کہ ادنیٰ ادنیٰ بصیرت والے انسان بھی ان کو سمجھ لیتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ ان تمام علامات کو معلوم کرنے کے لئے ایک قسم کی استعداد ہونا لازمی ہے۔ نہیں بلکہ بسا اوقات ادنیٰ درجہ کے لوگ قدرت کی بعض ایسی مخفی علامات کو فوراً تاڑ لیتے ہیں کہ جو بڑے بڑے اہل کمال کو بھی معلوم نہیں ہوتیں اس لئے خدا تعالیٰ نے تمام انسانوں کو اس امتحان میں مبتلا کیا ہے کہ وہ ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی اسی کی طرف رجوع کریں اور اسی پر توکل کریں اور اسی کو اپنا کارساز جانیں پس ہر ایک سچے طالب کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اس بات کی طرف توجہ کرے کہ خدا کے جو سچے نبی اور رسول آتے ہیں ان کے ماننے اور ان پر ایمان لانے میں کونسی بات مانع ہے پس جب وہ غور کرے گا تو معلوم ہوگا کہ یہ بات کسی دوسرے کے بتانے پر موقوف نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے خود انسان کی فطرت میں اس بات کا مادہ رکھا ہے کہ انسان سچے اور جھوٹے میں تمیز کر سکے پس اس صورت کے لئے ضرور ہے کہ انسان اپنے اندر ایک ایسی قوت پیدا کرے کہ وہ سچ اور جھوٹ میں امتیاز کر سکے ۔ اور یہ بات سوائے اس کے ممکن نہیں کہ انسان اپنے اندر سچی طلب پیدا کرے اور جب یہ سچی طلب پیدا ہو گی تو خدا تعالیٰ خود اس کی رہنمائی کرے گا جیسا کہ وہ فرماتا ہے والذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا ۔
میں ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت اقدس اپنے حجرہ میں (مقام قادیان) بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ایک خادم پاؤں دبا رہا تھا میں نے عرض کیا کہ حضور یہ مادہ کیسے پیدا ہوتا ہے۔ کہ انسان میں سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنے کی قوت پیدا ہو جائے اور ان علامات کو کس طرح معلوم کرے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے نبیوں اور رسولوں کی شناخت کے لئے مقرر فرمائی ہیں ۔ حضور نے فرمایا کہ اس کی شناخت کے لئے کوئی بڑی استعداد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ففطرت اللہ التی فطر الناس علیہ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں ہی یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ سچے اور جھوٹے میں تمیز کر سکے۔ اور اگر خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ مادہ نہ رکھا ہوتا تو پھر وہ کس طرح اس کا مکلف ہو سکتا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا یکلف اللہ نفسا الا وسعها یعنی اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک انسان میں یہ مادہ موجود ہے کہ وہ سچ اور جھوٹ میں تمیز کر سکے ۔ اور اس کے دریافت کرنے کے لئے کسی بڑے فلسفہ اور منطق کی ضرورت نہیں۔ بلکہ ایک ادنیٰ درجہ کا انسان بھی اس کو معلوم کر سکتا ہے ۔
- (۲) دوسری علامت یہ ہے کہ سچے نبی اور رسول کے ماننے
والوں کے دلوں میں ایک قسم کی حلاوت اور سرور پیدا ہوتا ہے اور انسان کے دل میں ایک قسم کی تسکین اور اطمینان پیدا ہوتا ہے جس سے وہ سچائی پر استقامت پکڑتا ہے اور کسی قسم کا خوف اور خطر اس کو راہ راست سے منحرف نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الا بذكر الله تطمئن القلوب یعنی اللہ کے ذکر سے دلوں کو تسکین ہوتی ہے۔ پس یہ تسکین اور اطمینان ایک سچے طالب کے لئے ایک بڑی بھاری علامت ہے۔ جس سے وہ معلوم کر سکتا ہے کہ وہ سچائی پر ہے یا نہیں۔
- (۳) تیسری علامت یہ ہے کہ سچے نبی اور رسول کے ماننے
والوں پر خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم ہوتا ہے۔ اور ان کے اخلاق اور عادات میں ایک تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور وہ پہلے سے بہتر ہو جاتے ہیں۔ اور ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور وہ دنیا کی محبت سے سرد ہو جاتے ہیں۔
مسلمانو! غور کرو کہ کیا ایسا شخص جو کھلے طور پر خدا پر افترا باندھے اور جھوٹے الہام بنا کر لوگوں کو دھوکہ دے وہ خدا کی طرف سے ہو سکتا ہے ہرگز نہیں ۔ پس تم پر لازم ہے کہ تم سچائی کو تلاش کرو۔
Back
یہ حوالہ صفحہ 129 پر درج ہے قادیانی اخبار الحکم قادیان جلد 11 نمبر 13 مورخہ 17 اپریل 1907ء
حوالہ نمبر 149
۴۴
حصہ پر تو قابض ہو گئے۔ مرزا غلام حسین کی چونکہ نسل نہیں چلی اسلئے ان کا حصہ پسران مرزا غلام مرتضیٰ صاحب و پسران مرزا غلام محی الدین کو آگیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ اس وقت مرزا تصدق بیگ کی اور مرزا قاسم بیگ کی تمام شاخ معدوم ہو چکی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس مرزا غلام حیدر کی بھی شاخ معدوم ہے۔ ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب اور مرزا امام الدین اور مرزا کمال الدین بھی لاولد فوت ہوئے، ہاں مرزا نظام الدین کا ایک لڑکا مرزا گل محمد موجود ہے، مگر وہ احمدی ہوکر حضرت صاحب کی روحانی اولاد میں داخل ہوچکا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ ۔ ینقطع آبائك ويبدأ منك اور یہ الہام اس وقت کا ہے۔ جب آپکے شجرہ خاندانی کی یہ تمام شاخیں سرسبز تھیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پینشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پینشن وصول کرلی، تو وہ آپکو پھسلا کر اور دھوکہ دیکر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور اِدھر اُدھر پھرتا رہا پھر جب اُس نے سارا روپیہ اُڑا کر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعودؑ اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے ۔ اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔ اور کچھ عرصہ تک وہاں ملازمت پر رہے۔ پھر جب تمہاری دادی بیمار ہوئیں۔ تو تمہارے دادا نے آدمی بھیجا، کہ ملازمت چھوڑ کر آجاؤ۔ جس پر حضرت صاحب فوراً روانہ ہوگئے۔ امرتسر پہنچکر قادیان آنے کے واسطے یکہ کرایہ پر لیا۔ اس موقعہ پر قادیان سے ایک اور آدمی بھی آپ کے لینے کے لیئے امرتسر پہنچ گیا۔ اس آدمی نے کہا یکہ جلدی چلاؤ کیونکہ ان کی حالت بہت نازک تھی پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا۔ بہت ہی نازک حالت تھی جلدی کرو کہیں فوت نہ ہو گئی ہوں۔ والدہ صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے، کہ میں یہی
سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 43، 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 129 پر درج ہے
حوالہ نمبر 149
۴۴
وقت سمجھ گیا ۔ کہ دراصل والدہ فوت ہو چکی ہیں۔ کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتیں تو وہ شخص ایسے الفاظ نہ بولتا۔ چنانچہ قادیان پہنچے تو پتہ لگا کہ واقعی وہ فوت ہو چکی تھیں۔ والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے ۔ کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین ادھر اُدھر پھرتا رہا۔ آخر جموں جانے والے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا۔ مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے ۔ کہ معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری وجہ سے ہی اسے قید سے بچا لیا ورنہ خواہ مخواہ کیسا ہی آدمی تھا ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیالکوٹ کی ملازمت ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء کا واقعہ ہے ۔
(اس روایت سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سیالکوٹ میں ملازم ہونا اس وجہ سے تھا ۔ کہ آپ سے مرزا امام الدین نے والد صاحب کی پینشن کا روپیہ دھوکا دے کر اڑا لیا تھا۔ کیونکہ جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیفات میں تصریح کی ہے۔ آپ کی ملازمت اختیار کرنیکی وجہ صرف یہ تھی۔ کہ آپ کے والد صاحب ملازمت کے لئے زور دیتے رہتے تھے۔ ورنہ آپکی اپنی رائے ملازمت کے خلاف تھی۔ اسی طرح ملازمت چھوڑ دینے کی بھی اصل وجہ یہی تھی ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ملازمت کو ناپسند فرماتے تھے ۔ اور اپنے والد صاحب کو ملازمت ترک کر دینے کی اجازت کے لئے لکھتے رہتے تھے ۔ لیکن دادا صاحب ترک ملازمت کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ مگر بالآخر جب دادی صاحبہ بیمار پڑیں ۔ تو دادا صاحب نے اجازت بھجوا دی ۔ کہ ملازمت چھوڑ کر آ جاؤ۔)
(۵۰)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ طبابت کا علم ہمارا خاندانی علم ہے ۔ اور ہمیشہ سے ہمارا خاندان اس علم میں ماہر رہا ہے ۔ دادا صاحب نہایت ماہر اور مشہور حاذق طبیب تھے۔ تایا صاحب نے بھی طب پڑھی تھی۔ حضرت مسیح موعود بھی علم طب میں خاصی دسترس رکھتے تھے۔ اور گھر میں ادویہ کا ایک ذخیرہ رکھا کرتے تھے
سیرت المہدی ، جلد اول صفحہ 43، 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 129 پر درج ہے
حوالہ نمبر 150 ۱۸ یہی مسئلہ پیش کیا ۔ کہ آپ کی بعض تحریروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے ۔ کہ آپ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ اس لئے لوگوں کو ٹھوکر لگتی ہے ۔ حضرت صاحب نے اسکی تشریح فرمائی ۔ کہ میری مراد اس سے کیا ہے ۔ جس پر ان مولوی صاحب نے کہا ۔ کہ اچھا آپ تحریر کر دیں ۔ کہ آپ کی تحریرات میں جہاں کہیں نبوت کا لفظ ہے ، وہ ایسا نہیں ۔ کہ جو ختم نبوت کے منافی ہو ۔ اور اس سے مراد محدثیت ہے ۔ حضرت صاحب نے فرمایا ۔ کہ بیشک میں لکھ دیتا ہوں ۔ چنانچہ اُسی وقت حضور نے ایک تحریر لکھ کر مولوی صاحب کو دیدی ۔ جو کہ انہوں نے اپنے پاس رکھ لی ۔ تاکہ اُن لوگوں کو دکھائیں ۔ جو اس وجہ سے حضرت صاحب پر کفر کا فتویٰ لگاتے تھے ۔ انہی دنوں میں ایک دن بعض شریر لوگ مخالف مولویوں کے بہکانے سے اُس مکان پر حملہ کر کے آ گئے ۔ جہاں پر ہم ٹھہرے ہوئے تھے ۔ اور مکان کے اُوپر زنانہ میں گھسنا چاہتے تھے ۔ مگر چند احمدیوں نے جو ساتھ تھے ۔ بڑی ہمت سے سیڑھیوں میں کھڑے ہو کر اُن لوگوں کو روکا ۔ اور بعد میں پولیس کے پہنچ جانے سے وہ لوگ منتشر ہوئے ۔
- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں آگئے ۔ چنانچہ کپور تھلہ سے محمد خاں صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے ۔ گرمی کا موسم تھا ۔ اور منشی صاحب اور میں ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چارپائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے ۔ ایک شب دس بجے کے قریب میں تھئیٹر میں چلا گیا ۔ جو مکان کے قریب ہی تھا ۔ اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی ۔ کہ مفتی صاحب رات تھئیٹر چلے گئے تھے ۔ حضرت صاحب نے فرمایا ۔ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے ۔ تاکہ معلوم ہو ۔ کہ وہاں کیا ہوتا ہے ۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا منشی ظفر احمد صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا ۔ کہ میں تو حضرت صاحب کے پاس آپکی شکایت لیکر گیا تھا ۔ اور میرا خیال تھا ۔ کہ حضرت صاحب آپکو بلا کر تنبیہ کریں گے ۔ مگر حضور نے تو صرف یہی فرمایا ۔ کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے ۔ اور اس سے معلومات حاصل ہوتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ
ذکر حبیب صفحہ 18 از مفتی محمد صادق قادیانی یہ حوالہ صفحہ 130 پر درج ہے
حوالہ نمبر 151
۵
دستی خط معرفت مولوی یار محمد صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میں چند روز سے سخت بیمار ہوں۔ بعض وقت جب دورہ دورانِ سر شدت سے ہوتا ہے تو خاتمہ زندگی محسوس ہوتا ہے۔ ساتھ ہی سر درد بھی ہے۔ یہی حالت میں روغن بادام سر اور پیروں کی انگلیوں پر ملنا اور پینا فائدہ مند محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے میں مولوی یار محمد صاحب کو بھیجتا ہوں کہ آپ خالص تلاش سے ایسا روغن بادام کہ جو تازہ ہو۔ اور کہنہ نہ ہو اور تیز کڑوے ساتھ کوئی ملونی نہ ہو ایک بوتل خرید کر بھجوائیں۔ یا بذرائعہ پوسٹ اسے ارسال کریں۔ اور نیز ہمارا بڑا کلاک یعنی گھنٹہ جو بگڑا ہے، بننے کیلئے ایک کلاک عمدہ ہو ساڑھے تین سو کے لئے مبلغ ۵/ بھیجتا ہوں یہ کلاک کوئی امتحان کر کے ارسال فرماویں، اسمیں یہ بھی شرط ہے کہ اسکے ساتھ نیم گھنٹہ کی آواز دینے والی کل ہرگز نہو صرف گھنٹوں کی آواز دے کہ اس صورت میں بسا اوقات دھوکہ ہو جاتا ہے۔ اور اسکے ساتھ کئی دوسری چیزیں بھی خریدی ہیں ..... اُن چیزوں کی تفصیل ذیل میں ہے۔ والسلام ۔ مرزا غلام احمد از قادیان
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبّی اخویم حکیم محمد حسین صاحب قریشی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آج مولوی یار محمد لایا تو بھی مجھے محمد احمد نے نہایت ضروری کام یاد دلایا ہے کہ مجھ کو ایک تولہ مشک عمدہ جس میں پھینٹا نہ ہو۔ اور اول درجہ کی خوشبو دار ہو۔ مگر سڑی ہوئی ہرگز نہ ہو۔ ورنہ اپنی ذمہ داری پر بھیجیں۔ اور دو تولہ تباشیر بگلا کی کئی قسمیں نشاستہ کی طرح ملمع کی ہوتی ہیں۔ گڑبڑی ملتی ہو۔ دونو چیزیں بذریعہ وی ۔ پی ۔ روانہ فرماویں۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام ۔ خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ دو تاریں پہنچیں نہایت فکر ہے۔ بیت الدعا میں بہت دعا کی تھی۔ خداوند تعالیٰ شفا بخشے۔ پہلے اس سے الہام ہوا تھا کہ لا ہور سے اَنْسُوْ سَابَ حَرَارَتِي۔ وہی خبر پہنچ گئی۔ خدا تعالیٰ آپ پر رحم کرے۔ آمین۔ پھر میں یہی تکرار کرونگا
سے زیادہ ہو۔ اور گوند لگا ہوا ہو۔ عید سے پہلے سلوا کر لاویں یہ چیزیں معہ قیمت ۔ اسکی کسی کے ہاتھ رسید بھجوا دیں۔ یا آپ کے آنے پر آپ کو دیجاوینگی۔ رنگ کوئی ہو مگر پارچہ ریشمی یا جالی ہو۔ دونو قمیصیں کا آپ کی لڑکی زینب کے اٹھانے پر ہو۔ والسلام۔ خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۴/ فروری ۱۹۰۴ء
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبّی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلّمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اِس وقت یہاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشتہار خبر دینی جو دونو دیدیں۔ اور ایک بوٹل ٹانک وائن کی پلومر کی دوکان سے خرید دیں مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اسکا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ
ذیل کا خط جواب میرے ایک عریضہ کا ہے جبکہ ہمراہ میاں محمود قادیان میں تھے درد زہ کے وقت چونکہ برسات کے دن تھے، راستہ سخت خطرناک تھا اور میں نے اپنے گھر کے لوگوں کے لئے یعنی مرحومہ والدہ یوسف کی ولادت کے لئے ضرورتاً حضرت سے چھٹی لینی طلب کی تھی چونکہ اسے کئی کچی بواسیر وقت حمل میں خطرناک ہوتی ہے اسپر حضور نے کمال مہربانی و شفقت سے ذیل کا خط لکھا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ انشاء اللہ مبارک ہو گا۔ پس آپکو اختیار ہے کہ یہیں سے جائیں۔ مگر میں نے سنا ہے کہ بٹالہ کی سڑک تک راستہ نہایت خراب ہے۔ بشکل سواری خطرناک ہے، اور ایسا ہی دوسری سواری بھی۔ شاید دس روز تک راستہ کسی قدر درست ہو جائیگا۔ میں گزشتہ دنوں میں اُسوقت گور داسپور سے بٹالہ آیا تھا، جب بارشیں ہو ایک مہینہ گذر چکا تھا۔ تب بھی خوفناک راہ تھا۔ خدانخواستہ بہت ہی خطرناک ہوگا۔ حمل کی حالت میں ان دنوں میں ساتھ لیجانا گویا قصداً ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ آپ خود بٹالہ کی سڑک تک راہ کی حالت دیکھ لیں۔ میرے نزدیک تو اب بغیر گزرنے دس بارہ روز کے سخت خطرناک اور خوفناک ہے۔ والسلام ۔ غلام احمد عفی عنہ
مخزونہ بنام غلام صفحہ 5، مرزا قادیانی ، بنام حکیم محمد حسین قریشی قادیانی یہ حوالہ صفحہ 131 پر درج ہے
584
حوالہ نمبر 152
۲۹۶
اور اچھی روٹی رکھتا تھا۔ مگر حضرت مولوی صاحب بکمال بے نفسی ومسکینی مدتوں اسی کھانے کو کھاتے رہے اور کوئی اشارہ تک اس کی اس حرکت کے متعلق نہ کیا۔ پھر اس کے بعد وہ زمانہ آیا کہ لوگ اپنے گھروں میں انتظام کھانے کا کرنے لگے تو ان دنوں میں چند دفعہ ایسا ہوا کہ حضرت مولوی صاحب اگر کبھی بیمار ہوتے اور حضرت صاحب کو معلوم ہوتا کہ مولوی صاحب کے کھانے کا انتظام ٹھیک نہیں ہے تو آپ اپنے ہاں سے ان کے لئے کھانا بھجوانا شروع کر دیتے تھے۔ جو مدت تک باقاعدہ ان کے لئے جاتا رہتا تھا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے لاہور کی پہلی شادی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گورداسپور میں کرائی تھی جب رشتہ ہونے لگا۔ تو لڑکی کو دیکھنے کے لئے حضور نے ایک عورت کو گورداسپور بھیجا تاکہ وہ آکر رپورٹ کرے کہ لڑکی صورت وشکل وغیرہ میں کیسی ہے اور مولوی صاحب کے لئے موزوں بھی ہے یا نہیں۔ چنانچہ وہ عورت گئی ۔ جاتے ہوئے اسے ایک یاد داشت لکھ کر دی گئی۔ یہ کاغذ میں نے دیکھا تھا اور حضرت صاحب نے بمشورہ حضرت ام المومنین لکھ دیا تھا۔ اس میں مختلف باتیں نوٹ کرائی تھیں مثلاً یہ کہ لڑکی کا رنگ کیسا ہے۔ قد کتنا ہے۔ اس کی آنکھوں میں کوئی نقص تو نہیں۔ ناک۔ ہونٹ۔ گردن۔ دانت۔ چال ڈھال وغیرہ کیسے ہیں۔ غرض بہت سی باتیں ظاہری شکل وصورت کے متعلق لکھوا دی تھیں تاکہ ان کی بابت خیال رکھے ۔ اور دیکھ کر واپس آکر بیان کرے۔ جب وہ عورت واپس آئی اور اس نے ان سب باتوں کی بابت اچھا یقین دلایا۔ تو رشتہ ہو گیا۔ اسی طرح جب خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے اپنی بڑی لڑکی حضرت میاں صاحب (یعنی خلیفہ المسیح الثانی ) کے لئے پیش کی ۔ تو ان دنوں میں یہ خاکسار ڈاکٹر صاحب موصوف کے پاس بکلوہ پہاڑ پر جہاں وہ متعین تھے۔ بطور تبدیل آب و ہوا کے گیا ہوا تھا۔ واپسی پر مجھ سے لڑکی کا حلیہ وغیرہ تفصیل سے پوچھا گیا۔ پھر حضرت میاں صاحب سے بھی شادی سے پہلے کئی لڑکیوں کا نام لے لے کر حضور نے ان کی والدہ کی معرفت دریافت کیا کہ ان کی کہاں مرضی ہے چنانچہ حضرت میاں صاحب نے یہی والدہ ناصر احمد کو انتخاب فرمایا اور اس کے بعد شادی ہو گئی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلعم بھی تاکید فرمایا کرتے تھے کہ شادی کو
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 296 از مرزا بشیر احمد یہ حوالہ صفحہ 132 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 153)
۲۵۹
(۲۹۷) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت فرماتے تھے کہ مجھ کو وہ لوگ جو دُنیا میں ملائکتی زندگی بسر کرتے ہیں بہت ہی پیارے لگتے ہیں ۔
(۲۹۸) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ (یعنی خدا کی رضا سب سے مقدم ہونی چاہیئے)
(۲۹۹) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ مدت کی بات ہے جب میاں ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہو گئی اور اُن کو دُوسری بیوی کی تلاش ہوئی ۔ تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے اُن سے کہا کہ ہمارے گھر میں دو لڑکیاں رہتی ہیں ، اُن کو میں لاتا ہوں آپ اُن کو دیکھ لیں ، پھر اُن میں جو آپ کو پسند ہو اُس سے آپکی شادی کر دی جاوے ۔ چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دو لڑکیوں کو بُلا کر کھڑکی کے باہر کھڑا کر دیا اور پھر اندر آکر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں آپ چِک کے اندر سے دیکھ لیں چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے ان کو دیکھ لیا اور پھر حضرت صاحب نے اُن کو رخصت کر دیا ۔ اور اسکے بعد میاں ظفر احمد صاحب سے پوچھنے لگے ، کہ اب بتاؤ ۔ تمہیں کونسی لڑکی پسند ہے کہ اُس کا ذکر کیا جاوے ۔ اُس نے اس کو پسند کیا کہ جس کا منہ لمبا ہے ۔ وہ اچھی ہے اسکے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی ۔ میں نے عرض کی، کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا۔ پھر آپ خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال میں تو دُوسری لڑکی بہتر ہے ۔ جس کا منہ گول ہے ۔ پھر فرمایا جس شخص کا چہرہ لمبا ہوتا ہے ۔ وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بد نما ہو جاتا ہے ۔ لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے ۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا ، کہ اس وقت حضرت صاحب اور میاں ظفر احمد صاحب اور میرے سوا اندر کوئی شخص وہاں نہ تھا ۔ اور نیز یہ کہ حضرت صاحب ان لڑکیوں کو کسی ایسے طریق سے وہاں لائے تھے اور پھر ان کو مناسب طریق پر رخصت کر دیا تھا ۔ جس سے ان کو کچھ معلوم نہیں ہوا مگر ان میں سے کسی کے ساتھ میاں ظفر احمد صاحب کا رشتہ نہیں ہوا ۔ یہ مدت کی بات ہے ۔
خاکسار عرض کرتا ہے، کہ اللہ کے نبیوں میں خوبصورتی کا احساس بھی بہت ہوتا ہے۔ دراصل جو شخص حقیقی حسن کو پہچانتا ہو۔ اسکی قدر کرتا ہو۔ وہ مجازی حسن کو بھی ضرور پہچانتا اور
سیرت المہدی جلد اول صفحہ 259 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 133 پر درج ہے
حوالہ نمبر 154 ۱۵۸
١٨٩٢ء
"بارہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے"
(نشان آسمانی صفحہ ۱۵، روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۷۵)
١٨٩٢ء
"یہ عاجز خدائے تعالیٰ کے احسانات کا شکر ادا نہیں کر سکتا کہ جس تکفیر کے وقت میں کہ ہر ایک طرف سے اس زمانہ کے علماء کی آوازیں آ رہی ہیں کہ لَسْتَ مُؤْمِنًا۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ ندا ہے کہ
ایک طرف حضرات مولوی صاحبان کہہ رہے ہیں کہ کسی طرح اس شخص کی بیخ کنی کرو۔ اور ایک طرف الہام ہوتا ہے
اور ایک طرف وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس شخص کو سخت ذلیل اور رسوا کریں اور ایک طرف خدا وعدہ کر رہا ہے :-
اور ایک طرف مولوی لوگ فتوے پر فتوے لکھ رہے ہیں کہ اس شخص کی ہم عقیدگی اور پیروی سے انسان کافر ہو جاتا ہے اور ایک طرف خدا تعالیٰ اپنے اس امام پر یہ امر فرما رہا ہے :-
غرض یہ تمام مولوی صاحبان خدا تعالیٰ سے لڑ رہے ہیں اب دیکھئے کہ فتح کس کی ہوتی ہے"
(نشان آسمانی صفحہ ۳۸، ۳۹، روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۹۸، ۳۹۹)
۲۵ جولائی ۱۸۹۲ء
۲۵ جولائی ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ روز دوشنبہ : آج میں نے بوقت
۱؎ (ترجمہ از مرتب) کہ مجھے مامور کیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔ ۲؎ (ترجمہ از مرتب) وہ تجھ پر حوادث کے نزول کا انتظار کر رہے ہیں، بُری گردش انہی پر پڑے گی۔ ۳؎ (ترجمہ از مرتب) جو تیری ذلّت چاہے میں اُسے ذلیل کروں گا۔ یہ تیرا اجر ہے، اللہ تجھے تیرا جلال عطا کرے گا۔ نوٹ از مرتب :- الہام اِنِّیْ مُهِيْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِهَانَتَكَ حضرت اقدس کو ۱۸۸۳ء میں بمقام ڈلہوزیہ شیخ محمد حسین بٹالوی کی نسبت بھی ہوا تھا، (دیکھئے الحکم جلد ۱ نمبر ۶ مورخہ ۲۰ نومبر ۱۸۹۷ء صفحہ ۲)۔ ۴؎ (ترجمہ از مرتب) کہہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا۔
تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 158 ، 159 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 133 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 154)
۱۵۹
صبح صادق ساڑھے چار بجے دن کے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے اس میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے ۔ تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اُٹھا کر لایا ہوں اور وہ پانی لا کر ایک اپنے گھڑے میں ڈال دیا ہے ۔ میں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی یکایک سُرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آگئی ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت ہے ۔ پیروں سے سَر تک سُرخ لباس پہنے ہوئے شاید جالی کا کپڑا ہے میں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لئے اشتہار دئے تھے لیکن اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوتی تھی ۔ اس نے کہا یا ولی میں کما کر میں آگئی ہوں میں نے کہا یا اللہ تمہارے اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی ۔ اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی ۔ فَالْحَمْدُلِلّٰهِ عَلٰى ذٰلِكَ ۔
اس کے دو چار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ روشن بی بی میرے دالان کے دروازہ پر آ کھڑی ہوئی ہے اور میں دالان کے اندر بیٹھا ہوں ۔ تب میں نے کہا کہ آ روشن بی بی اندر آجا۔"
(رجسٹر متفرق یادداشتیں صفحہ ۲۲ از حضرت مسیح موعود علیہ السلام)
۷؍اگست ۱۸۹۲ء "مجھے تین چار روز ہوئے ایک مشوش خواب آئی تھی جس کی یہ تعبیر تھی کہ ہمارے ایک دوست پر دشمن نے حملہ کیا ہے اور کچھ ضرر پہنچا ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کا بھی کام تمام ہو گیا ۔"
(مکتوب بنام حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نمبر ۷۶ ۔ اگست ۱۸۹۲ء مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ ۲ صفحہ ۶۶)
نوٹ از مرتب : یہ مشوش خواب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے متعلق تھی اور اس میں ایک دوست سے مراد بھی آپ ہی ہیں ۔ چنانچہ حضرت اقدسؑ اِسی مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں :-
"کل کی ڈاک میں اُن مکرم کا محبت نامہ پہنچ کر بوجہ بشریت اس کے پڑھنے سے ایک حیرت دل پر طاری ہوئی ۔ مگر ساتھ ہی دل پر کھل گیا ۔ یہ خداوند حکیم و قدیر کی طرف سے ایک ابتلاء ہے ۔ ان شاء اللہ بفضلہ کوئی خوف کی جگہ نہیں ...... مجھے معلوم نہیں کہ یہ جوازِ اشتعال حکم کس شقاوت کی وجہ سے دیا گیا ۔ کیا یہ صلۂ ریاضت ہے جس سے ایسے بزرگ قوم نیک بخت اور سچے خیر خواہ ستائے جائیں اور معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے :۔"
(مکتوب مذکور مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ ۲ صفحہ ۱۰۳)
حضرت مولانا یعقوب علی صاحب عرفانیؓ جوازِ اشتعال حکم کے سبب پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت حکیم الامت اور مولوی محرم علی چشتی مرحوم پر ایک سیاسی الزام آپ کے شمول سے لگایا گیا تھا۔ مسٹر میکن صاحب کو حضرت حکیم الامت سے سخت محبت تھی اور وہ آپ کی علمی زندگی اور صداقت پسندی کا عاشق تھا اور وہ ایک دبنگ اور بے باک نوجوان تھا وہ سیاسی
یہ حوالہ صفحہ 133 پر درج ہے تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 158، 159 طبع چہارم از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 155
۲۴۲
۸۴۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خواجہ عبدالرحمن صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر میں جب رفع حاجت کے لئے پاخانہ میں جاتے تھے تو پانی کا لوٹا لازماً ساتھ لے جاتے تھے اور اندر طہارت کرنے کے علاوہ پاخانہ سے باہر آکر بھی ہاتھ صاف کرتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا طریق تھا کہ طہارت سے فارغ ہو کر ایک دفعہ سادہ پانی سے ہاتھ دھوتے تھے۔ اور پھر مٹی مل کر دوبارہ صاف کرتے تھے۔
۸۴۲ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک شخص چھتر سنگھ ریاست جموں کے تھے۔ وہ قادیان آکر مسلمان ہو گئے۔ نام ان کا شیخ عبدالعزیز رکھا گیا۔ ان کو لوگ اکثر کہتے تھے کہ ختنہ کرالو۔ وہ پہلے سے چونکہ بڑی عمر کے ہو گئے تھے۔ اس لئے ہچکچاتے تھے۔ اور تکلیف سے بھی ڈرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا گیا۔ کہ آیا ختنہ ضروری ہے فرمایا بڑی عمر کے آدمی کے لئے ستر عورت فرض ہے مگر ختنہ صرف سنت ہے۔ اس لئے ان کے لئے ضروری نہیں کہ ختنہ کروائیں۔
۸۴۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت صاحب کے خادم میاں حامد علی مرحوم کی روایت ہے کہ ایک سفر میں حضرت صاحب کو احتلام ہوا جب میں نے یہ روایت سنی تو بہت تعجب ہوا۔ کیونکہ میرا خیال تھا کہ انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا۔ پھر بعد غور کرنے کے اور طبی طور پر اس مسئلہ پر غور کرنے کے میں اس نتیجہ پر پہنچا۔ کہ احتلام تین قسم کا ہوتا ہے ایک فطرتی۔ دوسرا شیطانی خواہشات اور خیالات کا نتیجہ اور تیسرا مرض کی وجہ سے۔ انبیاء کو فطرتی اور بیماری والا احتلام ہو سکتا ہے۔ مگر شیطانی نہیں ہوتا۔ لوگوں نے سب قسم کے احتلام کو شیطانی سمجھ رکھا ہے جو غلط ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب مکرم کا یہ خیال درست ہے کہ انبیاء کو بھی بعض اقسام کا احتلام ہو سکتا ہے اور میرا ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے چنانچہ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے بچپن میں اس حدیث کو پڑھا تھا کہ انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا۔ تو اس وقت بھی میں نے دل میں یہی کہا تھا کہ اس سے شیطانی نظارہ والا احتلام مراد ہے نہ کہ ہر قسم کا احتلام۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب نے جو فطرتی احتلام اور بیماری کے احتلام کی اصطلاح لکھی ہے۔ یہ غالباً ایک ہی قسم ہے جس میں قر
سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 242 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 134 پر درج ہے
حوالہ نمبر 156
۶۳
پورا زور لگایا۔ پھر ناگہاں میں نے دیکھا کہ وہی شیر میرے اوپر کود کر کھڑا ہو گیا ہے اسوقت میں نے بیخود ہوکر چیخ ماری اور وہاں سے بھاگ اٹھا۔ حضرت خلیفہ ثانی بیان فرماتے تھے کہ وہ شخص پھر حضرت صاحب کا بہت معتقد ہو گیا تھا اور ہمیشہ جب تک زندہ رہا آپسے خط و کتابت رکھتا تھا۔
(۷۶۶)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ منشی محمد اروڑا صاحب مرحوم کپور تھلوی حضرت مسیح موعود کے ذکر پر کہا کرتے تھے کہ ہم تو آپ کے منہ کے بھوکے تھے جو بھی معترض ہوتے تھے تو آپ کا چہرہ دیکھنے سے پسیج جاتے تھے۔ میرا کہنا ہے کہ منشی صاحب موصوف پرانے مخلصوں میں سے تھے۔ ہاں منشی موصوف میں یہ کمزوری تھی کہ دل میں ڈر جاتے تھے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے سٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ سٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب جنکی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جاوے مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا میں تو نہیں کہتا آپ کہکر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا جاؤ جی میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے میں نے کہا مولوی صاحب! جواب مل گیا؟
(۷۶۸)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جن دنوں میں ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمار تھا ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول کو اسے دیکھنے کے لئے گھر میں بلایا۔ اسوقت آپ صحن میں ایک چارپائی پر تشریف رکھتے تھے اور صحن میں کوئی فرش وغیرہ نہیں تھا۔ مولوی صاحب آتے ہی آپکی
سیرت المہدی ، جلد اوّل صفحہ 63 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 135 پر درج ہے
حوالہ نمبر 157
۲۱۳ سیرت المہدی حصہ سوم
خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیر کا مرید کی نذر رد کرنا مرید کے لئے موت سے بڑھ کر ہوتا ہے اس لئے بجائے اس کے کہ کسی پر کوئی خاص ناراضگی ہو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام سب کی نذر قبول فرما لیتے تھے اور سب کے لئے دعا کرتے تھے اور ہر ایک کو اپنے اپنے رنگ میں دعا فائدہ پہنچاتی تھی کسی کو فتح کے رنگ میں اور کسی کو اور رنگ میں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب جٹموی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں۔ اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سونے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دینا۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو ہلا دیا۔ اس وقت رات کے بارہ بجے تھے۔ ان ایام میں تمام عہدہ پہرہ پر مائی گوہر نشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی رسول بی بی صاحبہ میری رضاعی ماں ہیں اور حافظ حامد علی صاحب مرحوم کی بیوہ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے خادم تھے۔ مولوی عبدالرحمٰن صاحب ان کے داماد ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ۷۸۷ ایک دفعہ جب میں قادیان میں تھا اور اُوپر سے رمضان شریف آ گیا۔ تو میں نے گھر آنے کا ارادہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ۔ یہیں سارا رمضان رہیں۔ میں نے عرض کی۔ حضور ایک شرط ہے کہ حضور کے سامنے کا جو کھانا ہو۔ وہ میرے لئے آ جایا کرے۔ آپ نے فرمایا۔ بہت اچھا۔ چنانچہ دونوں وقت حضور برابر اپنے سامنے کا کھانا مجھے بھجواتے رہے۔ دوسرے لوگوں کو بھی یہ خبر ہوگئی اور وہ مجھ سے چھین لیتے تھے یہ کھانا بہت سا ہوتا تھا کیونکہ حضور بہت کم کھاتے تھے اور بیشتر حصہ سامنے سے اسی طرح اُٹھ کر آ جاتا تھا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کبھی کبھی تشنج ۷۸۸ مرگی کی تکلیف ہو جاتی تھی جو بعض اوقات اچانک پیدا ہو جاتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب گھر میں ایک چارپائی کو کھسکا کر ایک طرف کرنے لگے۔ تو اس وقت آپ کو اچانک چکر آ گیا
یہ حوالہ صفحہ 135 پر درج ہے سیرت المہدی ،جلد سوم صفحہ 213 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی
Back
(حوالہ نمبر 158)
۲۴۲
نہیں ہو سکتا۔ اس کے سوا آپ نے اُسے کچھ نہیں کہا۔
- ۸۴۸ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک
دفعہ ہم گھر کی چند لڑکیاں تربوز کھا رہی تھیں ۔ اس کا ایک چھلکا مانی تابی کو جا لگا جس پر مانی تابی بہت ناراض ہوئی۔ اور ناراضگی میں بددعائیں دینی شروع کر دیں۔ اور پھر خود ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جا کر شکایت بھی کر دی۔ اس پر حضرت صاحب نے ہمیں بلایا اور پوچھا کہ کیا بات ہوئی ہے۔ ہم نے سارا واقعہ سنا دیا جس پر آپ مانی تابی پر ناراض ہوئے کہ تم نے میری اولاد کے متعلق بددعا کی ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مانی تابی قادیان کے قریب کی ایک بوڑھی عورت تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں رہتی تھی اور اچھا اخلاص رکھتی تھی۔ مگر ناراضگی میں عادتاً بددعائیں دینے لگتی تھی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے گھر سے خان بہادر مولوی غلام حسن صاحب پشاوری کی لڑکی ہیں، جو حضرت مسیح موعود کے پرانے صحابی ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو خلافتِ ثانیہ کے موقعہ پر ٹھوکر لگی۔ اور وہ غیر مبائعین کے گروہ میں شامل ہو گئے لیکن الحمد للہ کہ میرے گھر سے بدستور جماعت میں شامل ہیں اور وابستگانِ خلافت میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے والد ماجد کو بھی ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین۔
- ۸۴۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مانی امیر بی بی عرف مانی کاکو ہمشیرہ میاں امام الدین صاحب
سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیشتر طور پر عورتوں کو نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ نماز باقاعدہ پڑھیں ، قرآن شریف کا ترجمہ سیکھیں اور خاوندوں کے حقوق کو ادا کریں جب کبھی کوئی عورت بیعت کرتی تو آپ عموماً یہ پوچھا کرتے تھے کہ تم قرآن شریف پڑھی ہوئی ہو یا نہیں۔ اگر وہ نہ پڑھی ہوئی ہوتی تو نصیحت فرماتے تھے کہ قرآن شریف پڑھنا سیکھو۔ اور اگر صرف ناظرہ پڑھی ہوتی ۔ تو فرماتے کہ ترجمہ بھی سیکھو۔ تاکہ قرآن شریف کے احکام سے اطلاع ہو۔ اور ان پر عمل کرنے کی توفیق ملے۔
- ۸۵۰ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مانی کاکو نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے سامنے میاں
عبدالعزیز صاحب پٹواری سیکھواں کی بیوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کچھ تازہ جلیبیاں
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 244 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 136 پر درج ہے
حوالہ نمبر 159
۲۴۴
نہیں ہو سکتا۔ اس کے سوا آپ نے اسے کچھ نہیں کہا۔
۸۴۸ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ میرے گھر سے میری والدہ عزیزہ مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم گھر کی چند لڑکیاں تربوز کھا رہی تھیں تو اس کا ایک چھلکا مائی تابی کو جا لگا جس پر مائی تابی بہت ناراض ہوئی ۔ اور ناراضگی میں بددعائیں دینی شروع کر دیں ۔ اور پھر خود ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جا کر شکایت بھی کر دی ۔ اس پر حضرت صاحب نے ہمیں بلایا اور پوچھا کہ کیا بات ہوئی ہے۔ ہم نے سارا واقعہ سنا دیا جس پر آپ مائی تابی پر ناراض ہوئے کہ تم نے میری اولاد کے متعلق بددعا کی ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی تابی قادیان کے قریب کی ایک بوڑھی عورت تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں رہتی تھی اور اچھا اخلاص رکھتی تھی ۔ مگر ناراضگی میں عادتاً بددعائیں دینے لگتی تھی ۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے گھر سے خان بہادر مولوی غلام حسن صاحب پشاوری کی لڑکی ہیں جو حضرت مسیح موعود کے پرانے صحابی ہیں، مگر افسوس ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو خلافتِ ثانیہ کے موقعہ پر ٹھوکر لگی ۔ اور وہ غیر مبایعین کے گروہ میں شامل ہو گئے لیکن الحمد للہ کہ میرے گھر سے بدستور جماعت میں شامل ہیں اور وابستگانِ خلافت میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے والد ماجد کو بھی ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین۔
۸۴۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مائی امیر بی بی عرف مائی کا کو ہمشیرہ میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیشتر طور پر عورتوں کو نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ نماز باقاعدہ پڑھیں قرآن شریف کا ترجمہ سیکھیں اور خاوندوں کے حقوق کو ادا کریں جب کبھی کوئی عورت بیعت کرتی تو آپ عموماً یہ پوچھا کرتے تھے کہ تم قرآن شریف پڑھی ہوئی ہو یا نہیں۔ اگر وہ نہ پڑھی ہوئی ہوتی تو نصیحت فرماتے تھے کہ قرآن شریف پڑھنا سیکھو۔ اور اگر صرف ناظرہ پڑھی ہوتی ۔ تو فرماتے کہ ترجمہ بھی سیکھو۔ تاکہ قرآن شریف کے احکام سے اطلاع ہو۔ اور ان پر عمل کرنے کی توفیق ملے۔
۸۵۰ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مائی کا کو نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے سامنے میاں عبدالعزیز صاحب پٹواری سیکھواں کی بیوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کچھ تازہ جلیبیاں
سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 244، 245 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 136 پر درج ہے
حوالہ نمبر 159
سیرۃ المہدی حصہ سوم ۲۴۵
لائی۔ حضرت صاحب نے ان میں سے ایک جلیبی اٹھا کر منہ میں ڈالی۔ اس وقت ایک راولپنڈی کی عورت پاس بیٹھی تھی۔ اس نے گھبرا کر حضرت صاحب سے کہا۔ حضرت یہ تو ہندو کی بنی ہوئی ہیں۔ حضرت صاحب نے کہا۔ تو پھر کیا ہے۔ ہم جو سبزی کھاتے ہیں۔ وہ گوبر اور پاخانہ کی کھاد سے تیار ہوتی ہے۔ اور اسی طرح بعض اور مثالیں دے کر اُسے سمجھایا۔
۸۵۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مائی کاکو نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے بھائی خیردین کی بیوی نے مجھ سے کہا کہ شام کا وقت گھر میں بڑے کام کا وقت ہوتا ہے اور مغرب کی نماز عموماً قضاء ہو جاتی ہے۔ تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کرو کہ ہم کیا کیا کریں۔ میں نے حضرت صاحب سے دریافت کیا۔ کہ گھر میں کھانے وغیرہ کے انتظام میں مغرب کی نماز قضاء ہو جاتی ہے۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اور فرمایا کہ صبح اور شام کا وقت خاص طور پر برکات کے نزول کا وقت ہوتا ہے۔ اور اس وقت فرشتوں کا پہرہ بدلتا ہے۔ ایسے وقت کی برکات سے اپنے آپ کو محروم نہیں کرنا چاہئے۔ ہاں کبھی مجبوری ہو تو عشاء کی نماز سے ملا کر مغرب کی نماز جمع کی جا سکتی ہے۔ مائی کاکو نے بیان کیا کہ اس وقت سے ہمارے گھر میں کسی نے مغرب کی نماز قضاء نہیں کی اور ہمارے گھروں میں یہ طریق عام طور پر رائج ہو گیا ہے کہ شام کا کھانا مغرب سے پہلے ہی کھا لیتے ہیں تاکہ مغرب کی نماز کو صحیح وقت پر ادا کر سکیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی کاکو نے جو قضاء کا لفظ استعمال کیا ہے یہ عرف عام میں غلط طور پر استعمال ہونے لگا ہے۔ ورنہ اس کے اصلی معنے پورا کرنے اور ادا کرنے کے ہیں نہ کہ کھونے اور ضائع کرنے کے۔ مجھے اس کا اس لئے خیال آیا کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت صاحب نے بھی ایک جگہ اس لفظ کے غلط استعمال کے متعلق ذکر کیا ہے۔
۸۵۲ بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مائی کاکو نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضرت صاحب نے جماعت میں بکروں کی قربانی کا حکم دیا تھا۔ تو ہم نے بھی اس ارشاد کی تعمیل میں بکرے قربان (صدقہ) کروائے تھے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد میں نے خواب دیکھا۔ کہ ایک بڑا بھاری جلوس آ رہا ہے اور اس جلوس کے آگے کوئی شخص رتھ میں سوار ہو کر چلا آ رہا ہے جس کے ارد گرد پردے پڑے ہوئے ہیں اور لوگوں میں شور ہے کہ محمدؐ صلعم آ گئے۔ محمدؐ صلعم آ گئے۔ میں نے آگے بڑھ کر رتھ کا
یہ حوالہ صفحہ 136 پر درج ہے
سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 244، 245 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی
حوالہ نمبر (161)
۲۱۰
جو تم میرے بیٹے ہو گے تو ناول نہیں پڑھو گے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یہ واقعہ یاد نہیں۔ مگر اس روایت سے مجھے ایک خاص سرور حاصل ہوا ہے کیونکہ میں بچپن سے محسوس کرتا آیا ہوں کہ مجھے ناول خوانی کی طرف کبھی توجہ نہیں ہوئی۔ نہ بچپن میں نہ جوانی میں اور نہ اب۔ بلکہ ہمیشہ اس کی طرف سے بے رغبتی رہی ہے حالانکہ اکثر نوجوانوں کو اس میں کافی شغف ہوتا ہے اور خاندان میں بھی بعض افراد کبھی کبھی ناول پڑھتے رہے ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت صاحب نے کسی کو ناول پڑھتے دیکھا ہوگا ۔ یا کسی اور وجہ سے ادھر توجہ ہوئی ہوگی جس پر بطریق انتباہ مجھے نصیحت فرمائی۔ اور الحمدللہ میں حضرت صاحب کی توجہ سے خدا کے فضل کے ساتھ اس لغو فعل سے محفوظ رہا ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المومنین نے ایک دن سُنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مائی بھانو تھی ۔ وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑرہی تھی حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی۔ اس لئے اُسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں ۔ وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے ۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا ۔ بھانو آج بڑی سردی ہے ۔ بھانو کہنے لگی ۔ ہاں جی تدے تے تہاڈی لتاں لکڑی وانگو ہویاں ہویاں ایں ۔ یعنی جی ہاں تبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں بھی غالباً یہ جتانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی شدت کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہورہی ہے اور تمہیں پتہ نہیں لگا کہ کس چیز کو دبا رہی ہو۔ مگر اس نے سامنے سے اور ہی لطیفہ کر دیا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی بھانو مذکورہ قادیان کے ایک قریبی گاؤں بسرا کی رہنے والی تھی۔ اور اپنے ماحول کے لحاظ سے اچھی مخلصہ اور دیندار تھی ۔
۱۷۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ قریباً ۱۸۹۵ء یا ۱۸۹۶ء کا واقعہ ہے کہ کہیں سے ایک بہت بڑا لوہے چینی کا پیالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آیا جس کی بڑائی کی وجہ سے معلوم نہیں اہل بیت نے یا خود حضرت صاحب نے اس کا نام
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 210 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 136 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 161)
۲۷۲ کس خیال میں پھر رہے تھے۔ ورنہ حضور کو اکیلے پھرتے لدھیانہ میں نہ دیکھا تھا۔ اور خاکسار بھی اسی خیال سے سامنے نہ ہوا کہ شاید کوئی بھید ہوگا۔ پھر اسی لدھیانہ میں خاکسار نے اپنی آنکھ سے دیکھا کہ جب حضرت اقدس علیہ السلام دہلی سے واپس لدھیانہ تشریف لائے۔ تو حضور کی زیارت کے لئے اس قدر اسٹیشن پر ہجوم ہو گیا تھا کہ بڑے بڑے معزز لوگ آدمیوں کی کثرت اور دھکمپیل سے زمین پر گر گئے تھے۔ اور پولیس والے بھی عاجز آگئے تھے گرد و غبار آسمان کو جا رہا تھا۔ اور حضور اقدس علیہ السلام نے بھی بڑی ہمت سے لوگوں کو فرمایا۔ کہ ہم تو یہاں چوبیس گھنٹے ٹھہریں گے ملنے والے وہاں قیامگاہ پر آجائیں۔ ایک وقت اکیلے پیدل پھرتے دیکھا اور پھر یہ بھی دیکھا کہ اس قدر ہجوم آپ کی زیارت کے لئے جمع ہو گیا تھا۔
اس مؤخرالذکر سفر میں حضور علیہ السلام نے لدھیانہ میں ایک لیکچر دیا جس میں ہندو عیسائی مسلمان اور بڑے بڑے معزز لوگ موجود تھے تین گھنٹے حضور اقدس نے تقریر فرمائی ۔ حالانکہ بوجہ سفر ریل کچھ طبیعت بھی درست نہ تھی۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ اس لئے حضور اقدس نے بوجہ سفر روزہ نہ رکھا تھا۔ اب حضور اقدس نے تین گھنٹہ تقریر جو فرمائی تو طبیعت پر ضعف سا طاری ہوا۔ مولوی محمد احسن صاحب نے اپنے ہاتھ سے دودھ پلایا۔ جس پر ناواقف مسلمانوں نے اعتراض کیا کہ مرزا رمضان میں دودھ پیتا ہے۔ اور شور کرنا چاہا۔ لیکن چونکہ پولیس کا انتظام اچھا تھا۔ فوراً یہ شور کرنے والے مسلمان وہاں سے نکال دیئے گئے۔ اس موقعہ پر یہاں پر تین تقاریر ہوئیں۔ اوّل مولوی سیّد محمد احسن صاحب کی دُوسرے حضرت مولوی نورالدین صاحب کی۔ تیسرے حضور اقدس علیہ السلام کی پھر یہاں سے حضور امرتسر تشریف لے گئے ۔ وہاں سُنا ہے کہ مخالفوں کی طرف سے سنگباری بھی ہوئی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بازار میں اکیلے پھرنے کی بات تو خیر ہوئی مگر مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ حضور بازار کے اندر صرف صدری میں پھر رہے تھے۔ اور جسم پر کوٹ نہیں تھا۔ کیونکہ حضرت صاحب کا طریق تھا کہ گھر سے باہر ہمیشہ کوٹ پہن کر نکلتے تھے۔ پس اگر میر صاحب کو کوئی غلطی نہیں لگی تو اس وقت کوئی خاص بات ہوگی یا جلدی میں کسی کام کی وجہ سے نکل آئے ہوں گے۔ یا کوٹ کا خیال نہیں رہا ہوگا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 272 ، 273 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 137 پر درج ہے
حوالہ نمبر 161 ۲۷۳ سیرۃ المہدی حصہ سوم
میں رہی ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی بوجہ کہ اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔ دو دفعہ ایسا موقعہ آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقعہ ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوئی۔ بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔ اسی طرح جب مبارک احمد صاحب بیمار ہوئے۔ تو مجھ کو ان کی خدمت کے لئے بھی اسی طرح کئی راتیں گزارنی پڑیں۔ تو حضور نے فرمایا کہ زینب اس قدر خدمت کرتی ہے کہ ہمیں اس سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ اور آپ کئی دفعہ اپنا تبرک مجھے دیا کرتے تھے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت خلیفہ اول ٩١١ کے درس میں جب آیت وما ابرئ نفسی ان النفس لامارۃ بالسوء الا ما رحم ربی ۔ ان ربی غفور رحیم آیا کرتی۔ تو آپ کہا کرتے تھے کہ یہ عزیز مصر کی بیوی کا قول ہے۔ ایک دفعہ حضرت صاحب کے سامنے بھی یہ بات کسی دوست نے پیش کر دی۔ کہ مولوی صاحب اسے امراۃ العزیز کا قول کہتے ہیں۔ حضرت صاحب فرمانے لگے کیا کسی کافرہ بدکار عورت کے منہ سے بھی ایسی معرفت کی بات نکل سکتی ہے۔ اس فقرہ کا تو لفظ لفظ کمال معرفت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ تو سوائے نبی کے کسی کا کلام نہیں ہوسکتا۔ یہ عجز اور اعتراف کمزوری کا اور اللہ تعالیٰ پر توکل اور اس کی صفات کا ذکر یہ انبیاء ہی کی شان ہے۔ آیت کا مضمون ہی بتا رہا ہے کہ یوسف کے سوا اور کوئی اسے نہیں کہہ سکتا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس واقعہ کا ذکر روایت ۳۷۲ میں بھی آچکا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود ٩١٢ علیہ السلام نے ایک دفعہ کسی تکلیف کے علاج کے لئے اس عاجز کو یہ حکم دیا ۔ کہ ڈاکٹر محمد حسین صاحب لاہوری ساکن بھاٹی دروازہ سے (جو کہ اب فوت ہو چکے ہیں) نسخہ لکھوا کر لاؤ۔ اور اپنا حال بھی لکھدیا۔ اور بتا بھی دیا۔ چنانچہ میں ڈاکٹر صاحب موصوف کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور ان سے نسخہ لا کر حضرت صاحب کو دیا۔ ڈاکٹر صاحب سے معلوم ہوا۔ کہ حضرت صاحب ان سے پہلے
سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 272، 273 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 137 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 162)
۲۷۵ سیرۃ المہدی حصہ سوم
چار پائیوں پر مفتی محمد صادق صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ایک دری نیچے پڑی ہوئی تھی۔ اس پر میں دو چار آدمیوں سمیت بیٹھا ہوا تھا۔ میرے پاس مولوی عبدالستار خان صاحب بزرگ بھی تھے۔ حضرت صاحب کھڑے تقریر فرما رہے تھے کہ اچانک حضور کی نظر مجھ پر پڑی تو فرمایا ۔ کہ ڈاکٹر صاحب آپ میرے پاس چارپائی پر آکر بیٹھ جائیں۔ مجھے شرم محسوس ہوئی۔ کہ میں حضور کے ساتھ برابر ہو کر بیٹھوں۔ حضور نے دوبارہ فرمایا کہ شاہ صاحب آپ میرے پاس چارپائی پر آجائیں ۔ میں نے عرض کی کہ حضور میں یہیں اچھا ہوں ۔ تیسری بار حضور نے خاص طور پر فرمایا کہ آپ میری چارپائی پر آکر بیٹھ جائیں۔ کیونکہ آپ سید ہیں اور آپ کا احترام ہم کو منظور ہے۔ حضور کے اس ارشاد سے مجھے بہت فرحت ہوئی۔ اور میں اپنے سید ہونے کے متعلق حق الیقین تک پہونچنے کے لئے جو آسمانی شہادت چاہتا تھا۔ وہ مجھے مل گئی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو تو اپنے سید ہونے کا ثبوت ملنے پر فرحت ہوئی اور مجھے اس بات سے فرحت ہوتی ہے کہ چودہ سو سال گزر جانے پر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلعم کی اولاد کا کس قدر پاس تھا۔ اور یہ پاس عام توہمانہ رنگ میں نہیں تھا بلکہ بصیرت اور محبت پر مبنی تھا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۔ ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضور علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے تو میں وہیں سے ان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ ان ایام میں مجھے مراق کا سخت دورہ تھا ۔ میں شرم کے مارے آپ سے عرض نہ کر سکتی تھی۔ مگر میرا دل چاہتا تھا کہ میری بیماری سے کسی طرح حضور کو علم ہو جائے تا کہ میرے لئے حضور دُعا فرمائیں۔ پس حضور کی خدمت کر رہی تھی کہ حضور نے اپنے انکشاف اور صفائی قلب سے خود معلوم کر کے فرمایا۔ زینب تم کو مراق کی بیماری ہے ہم دُعا کرینگے۔ تم کچھ ورزش کیا کرو۔ اور پیدل چلا کرو۔ مگر میں ایک قدم بھی پیدل نہ چل سکتی تھی۔ اگر دو چار قدم چلتی بھی۔ تو دورہ مراق و خفقان بہت تیز ہو جاتا تھا۔ میں نے اپنے مکان پر جانے کے لئے جو صفدر کے مکان سے قریباً ایک میل دُور تھا۔ تانگے کی تلاش کی۔ مگر نہ ملا۔ اس لئے مجبوراً مجھ کو پیدل جانا پڑا۔ مجھ کو یہ پیدل چلنا سخت مصیبت اور ہلاکت معلوم ہوتی
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 275 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 137 پر درج ہے
حوالہ نمبر 163 ١٢٦
جب سنا تو حضرت خلیفہ اولؓ کو تاکیداً کہلا بھیجا کہ اسے فوراً رخصت کر دیں چنانچہ مولوی صاحب نے اسے کچھ دے دلا کر رخصت کر دیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لکڑی کے شہتیر ہوتے تھے۔ جن سے یہ خطرہ ہوتا تھا کہ اگر شہتیر ٹوٹے تو ساری چھت گر جائے گی۔ مگر آجکل لوہے کے گرڈر نکل آئے ہیں۔ جو بہت محفوظ ہوتے ہیں۔
٦٨٧ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم:۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب ارکان اسلام میں سب سے زیادہ نماز پر زور دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ نمازیں سنوار کر پڑھا کرو۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ سنوار کر پڑھنے سے یہ مراد ہے کہ دل لگا کر پوری توجہ کے ساتھ ادا کی جاوے۔ اور نماز میں خشوع خضوع پیدا کیا جائے۔ اور اس میں کیا شبہ ہے کہ اگر کوئی شخص نماز میں ایسی کیفیت پیدا کرلے۔ تو وہ گویا ایک مضبوط قلعہ میں آجاتا ہے۔
٦٨٨ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم:۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری کی ایک بیوی ڈاکٹرنی کے نام سے مشہور تھی۔ وہ مدتوں قادیان آکر حضور کے مکان میں رہی اور حضور کی خدمت کرتی تھی۔ اس بیچاری کو سل کی بیماری تھی۔ جب وہ فوت ہو گئی تو اس کا ایک دوپٹہ حضرت صاحب نے دعا کے لئے یاد دہانی کے لئے بیت الدعا کی کھڑکی کی ایک آہنی سلاخ سے باندھوا دیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ ڈاکٹرنی مرحومہ بہت مخلصہ تھی اور اس کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کا اخلاص بھی ترقی کر گیا تھا۔
٦٨٩ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم:۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ قریباً ۱۸۹۵ء تک گول کمرہ ہی مہمانخانہ ہوتا تھا۔ پھر اس میں پریس آگیا جب یہاں مہمانخانہ تھا تو یہیں کھانا وغیرہ کھلایا جاتا تھا۔ اور کاتب بھی اسی جگہ مسودات کی کاپیاں لکھا کرتا تھا۔ اور حضرت صاحب کا ملاقات کا کمرہ بھی یہی تھا۔ ان دنوں میں مہمان بھی کم ہوا کرتے تھے۔ ۱۸۹۵ء میں حضرت والد صاحب یعنی میر ناصر نواب صاحب پنشن لیکر قادیان آگئے۔ اور چونکہ اس وقت پریس اور مہمانوں کے لئے فصیل قصبہ کے باہر نئے مکانات بن چکے تھے۔ اس لئے میر صاحب گول کمرہ میں رہنے لگے۔ اور انہوں نے اس کے آگے دیوار
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 126، از مرزا بشیر احمد یہ حوالہ صفحہ 138 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 164)
۲۵۶
مکن تکیه بر عمر ناپائدار ۔ مباش ایمن از بازی روزگار
و نیز این دو مصرع ثانی بود بدان قرح تا حیاتی نمک پاش جراحت دل میشود:
ہذا مے خواہم کہ بقیہ عمر در گوشہ تنہائی نشینم و دامن از صحبت مردم بچینم و بمولاہ سبحانہ مشغول شوم مگر گذشتہ را عذری و مافات را تدارکے شود:
کہ دنیا را اساسے محکم نیست و زندگی را اعتبارے نے و ایمن من خاف علیٰ نفسہ من آفت غیرہ والسلام:
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے شیخ صاحب سے دریافت کیا تھا کہ آپ نے یہ روایت کہاں سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ مرزا سلطان احمد صاحب نے مجھے چند پرانے کاغذات دئیے تھے جن میں بخط حضرت کی یہ تحریر نکلی تھی لیکن خاکسار کی رائی میں اگر حضرت صاحب کی صرف تحریر ملی ہو تو اس میں استدلال قوی نہیں ہوتا کہ اپنی عطا پر والدہ صاحبہ کے پیش کیا تھا بلکہ خط کے نیچے دستخط ہونا چاہئے تا ثابت ہو کہ قوی کرتا ہو۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب کی نانی کا نام ڈوڈو تھا۔ اور وہ نانکو بھروالوں سکنہ قادیان کی ماں تھی جب میں قادیان آئی تو وہ بہت بوڑھی ہوچکی تھی ۔ مرزا سُلطان احمد بلکہ مرزا عزیز احمد کو بھی اُسی نے کھلایا تھا۔ جبکہ خود حضرت صاحب نے اُس سے اپنی پیدائش کے متعلق کچھ شہادت بھی لی تھی۔ عورتوں میں وہ اچھی ہوشیار عورت تھی چنانچہ ایک دفعہ یہاں کسی عورت کے بچہ الٹا تھا اور پیدا نہ ہوتا تھا تو حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ ڈوڈو کو بلا کر دکھاؤ وہ ہوشیار ہے چنانچہ اسے بلایا گیا تو اللہ کے فضل سے بچہ آسانی سے پیدا ہو گیا۔ مگر والدہ صاحبہ کہتی تھیں کہ تم میں سے کسی کی پیدائش کے وقت اس کو نہیں بلایا گیا، کیونکہ بعض وجوہات سے اس پر کچھ شبہ پیدا ہوگیا تھا۔ نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ عزیز احمد کی پیدائش کے وقت جب ڈوڈو آئی۔ تو ان دنوں میں اسے خارش کی مرض تھی چنانچہ اس سے عزیز احمد کو خارش ہوگئی ۔ وہ پھر آہستہ آہستہ تمہارے تایا کے گھر میں اکثر لوگوں کو خارش ہوگئی۔ اور آخر ادھر سے ہمارے گھر میں بھی خارش کا اثر پہنچا ہے تو حضرت صاحب
سیرت المہدی جلد اول از مرزا بشیر احمد صفحہ 256
یہ حوالہ صفحہ 138 پر درج ہے
حوالہ نمبر 165
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا
الفضل
قادیان
روزنامہ THE DAILY ALFAZL, QADIAN
ٹیلیفون نمبر ۲۵ رجسٹرڈ نمبر ایل ۔ ۳۵ شرح چندہ عام سالانہ ۱۵ روپئے ششماہی ۸ روپئے سہ ماہی ۴ روپئے بغیر منظوری ۱۷ روپئے فی پرچہ ایک آنہ
ٹیلیگرام الفضل قادیان خلیفہ ثانی شرح چندہ مجلسی سالانہ ۱۲ روپئے ششماہی ۶ روپئے سہ ماہی ۳ روپئے بغیر منظوری ۱۴ روپئے فی پرچہ ایک آنہ
جلد ۲۶ مورخہ ۵ رجب ۱۳۵۷ھ یوم پنجشنبہ مطابق ۳۱ اگست ۱۹۳۸ء نمبر ۲۰۰
قادیان ۲۹ اگست۔ سیدنا حضرت امیر المومنین ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے قادیان سے مکہ معظمہ جانے کی افواہ اور اس کے متعلق آج کل شہر کے اندر اور باہر جو قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں اور جن کی کوئی حقیقت نہیں اس کے متعلق ہمیں اپنے معزز قارئین کو کوئی اطلاع دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ مگر چونکہ متواتر خطوط آ رہے ہیں کہ ان افواہوں کی کیا اصلیت ہے اس لئے ہم پبلک کی واقفیت کے لئے لکھتے ہیں کہ: ”حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے متعلق جو مکہ جانے کی افواہ مشتہر ہوئی ہے کہ ان کی قسمت میں یہ کام لکھا تھا، یہ محض بے بنیاد ہے۔ چونکہ جب مولوی قمر الدین صاحب ناظر بیت المال خزانہ کے متعلق یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ انہوں نے قادیان سے مکہ معظمہ میں ایک مکان خریدا ہے جس کا مقصد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ وہاں جا کر قیام کریں گے اور اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ قادیان کی طرح وہاں بھی ایک مرکز قائم کیا جائے۔ اس افواہ پر بعض ناواقف دوستوں نے مولوی صاحب کو خطوط لکھے ہیں کہ وہ اس کی تردید فرمائیں۔ ہمیں قادیان سے مکہ معظمہ جانے کی اس افواہ کی کوئی اصلیت معلوم نہیں ہوئی۔ اور نہ ہی حضرت صاحبزادہ صاحب کی مکہ معظمہ جانے کی کوئی تجویز ہے۔ دوستوں کو چاہیے کہ وہ ایسی افواہوں پر کان نہ دھرا کریں۔ اور نہ ہی ان کو نشر کیا کریں۔
ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
اولیاء اللہ کے دشمنوں کے پاس نہ سِرّ تفاضل کی رہتی ہے نہ دِلِ قنّابی
نہ ماننے والا پایا۔ اور اس سے ان کی نیت اور ان کی خصلت۔ جو دنیا پرستی میں ڈوبی ہے ظاہر ہوتی ہے اور انکار صدق اور اخلاص کی ان سے توفیق چھین لیتا ہے پھر آخر سلسلہ جہالت کا دھبہ ہو کر بیزاری کی اصلی حقیقت اڑ گئی۔ مسلمان کو پہلا غضب اور ہے یہ کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول پس اس حدیث کے موافق عادۃً اولیاء کی خصلت بادۂ شوق پینے کی ہے۔ دنیا کی ہوس نہیں۔ نہ ہی اس کی تمنا ہوتی کہ جس باب میں ہم الٰہی کے لئے بلند نام چاہیں۔ اولیاء خدا دوست ہیں اور وہ بندگانِ رحیم کے اتنے سچے اور پکے کہ جس قدم پر سنت کا قدم ہو سکتا ہے لیکن جب اس جاہ و حشم کی تمنا لمبی ہو، وہ خصلت ان کی ظاہر کرنے لگ پڑے ہیں اور مراتب کی کشمکش ان میں رہے اور اس کی طلب میں سادات آسمان اور زمین دونوں کی طرف سے آئے تو ان کا دن کو سنائی دیتی ہے۔ غرو! اس پر خاموشی
اور اس ذکر کو ملانا چاہتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے عہد میں کیا ہے تو اس صورت میں ظاہر ہے اور سچے کو نبات کی بنیاد ڈالی ہے۔ عادۃ اللہ یہ ہے کہ سچے کی مدد رحمن سے ہوتی ہے اور سچے پر وہ وقت ایمان اس سے چھین لیا ہے جب اس کی طرح صرف لفاظی اور زبانی قیل و قال رہے۔ پس دونوں پر، اندر تاریک بندوں کی خدا تعالیٰ کی طرف سے انس اور شوق اور ذوق اور محبت اور توکل اور تفویض کی بوتی آتی وہ اس سے کھوئی جاتی ہے۔ اور جس قدر جسارت کرتے ہیں یہام موجب غصہ الٰہی ہے جو کچھ اس کو وقت در پیش آئے اور پیش آئے اس کی طرف جھکنے اور دنیا اور اہل دنیا سے بیزاری کو واپسی ہو گی۔ اور جس طرح پچھلے کی پاکیزگی بھی اس کو کرتی ہے۔ وہ خدا کے سادہ بندوں سے بغاوت، بے حیائی، بے باکی تو اسے عاجز کرتی ہے۔ اور دنیا کی آگ اس کے اندر بھڑک اٹھتی ہے اور کام اندھا ہوتا ہے۔ سچی بھلائی میں کو نہیں۔ ہاں جھوٹے کی بدی نیک و بد کی ... سے معلوم ہوتی ہے ... (بدر)
روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ 31 اگست 1938ء یہ حوالہ صفحہ 139 پر درج ہے
حوالہ نمبر 165
جلد 26 روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ ۳۱ اگست ۱۹۳۸ء نمبر 203
سے قبول فرمائیے۔ اور اگر کوئی آپ کی اس مرضی کے خلاف کرے گا۔ پھر اس کا انجام خدا کے ہاتھ ہے۔ میں نے ارادہ کیا تھا کہ ایک شخص اور کو میں چن سکتا ہوں۔ اور آپ سے کیا مل سکتا ہے جو مجھ کو طرح طرح کے صدمے پہنچاتا ہے۔ گو مجھے ضرورت نہ ہو۔ اور اگر کوئی مجھ سے گھر والے کے لئے پوچھتا بھی ہے تو میں اسے جواب نہیں دیتا ۔ ایسی حالت میں میری یہ غرض ہوگی کہ جو شخص مجھ کو دیتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے دیتا ہے ۔ میں نے کبھی کسی سے پیسہ نہیں مانگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ایک دفعہ جب طالب علمی کے ایام میں سیالکوٹ کے ایک نوجوان دوست نے میرے ہاتھ پر چونی رکھ دی۔ مجھے یاد ہے۔ کہ اس وقت شرم کے مارے میرا جسم پسینہ پسینہ ہو گیا۔ اور میں اس مجلس سے بھاگا ۔ اور سیدھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں پیش ہو گیا۔ اور وہ چونی آپ کے سامنے پیش کر دی۔ اور میں نے کہا کہ ایک شخص نے آج میرے ہاتھ پر یہ چونی رکھ دی ہے۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ محسوس کرتے ہوئے۔ کہ مجھے اس کا فعل اچھا نہیں لگا ۔ فرمایا نہیں اس نے ہدیہ کے طور پر دی ہے اس نے جو کچھ کیا ہے ۔ محبت کے باعث کیا ہے۔ تم اسے واپس نہ کرو کیونکہ اس نے مانگ کر نہیں دیا ۔ حدیث میں بھی آیا ہے۔ کہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے کچھ دے۔ تو وہ لے لو۔ چنانچہ اب اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے مجھے کچھ دے دیوے۔ تو میں لے لیتا ہوں۔ ورنہ مانگنے کے لحاظ سے کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا ۔ میں نے کبھی کسی سے کچھ مانگا ۔ زبانی نہ چٹھی سے ۔ ہاں اگر میں نے اپنے لئے قرض مانگا ہو ۔ تو اسے قرض مانگنا ۔ مانگنے میں
اور جماعت کو وہ منافق خط قرار دے رہے ہیں۔ اس لئے میں آپ کو ایک ایک بات قرآن کریم میں دکھا دوں ۔ حالانکہ اسے چاہیے تھا ۔ وہ پہلے ان منافقوں سے مشورہ لیتا اور پوچھتا کہ منافق کون ہوتا ہے ۔ پھر جو تعریف بتاتے اسے قرآن میں نازل کرتا ۔ لیکن اس قدر اعتراضات کرنے کے باوجود ہر خط میں اپنا اخلاص بھی ظاہر کیا جاتا ہے ۔ اور لکھا جاتا ہے ۔ ہم سلسلہ کے خادم ہیں۔ مگر
اس کی سلسلہ سے محبت کا اندازہ
اس سے ہو سکتا ہے ۔ کہ ایک خط میں جس کے متعلق اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اس کا لکھا ہوا ہے ۔ سنیں یہ تحریر کیا ہے ۔ ” گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچے ہیں ۔ آپ کے الہام بھی سچے ہیں ۔ اور آپ کے خلیفہ بھی سچے ہیں۔ مگر میں جس طرح چاہتا ہوں ۔ خلیفہ کرے ۔ “ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض نہیں ۔ ان کے الہاموں کو پاک مانتے ہیں تو پھر اعتراض تو وہ خلیفہ پر ہے ۔ کیونکہ وہ ان کے بتائے ہوئے رستہ پر چلتا ہے۔ اس اعتراض سے پتہ لگتا ہے کہ یہ شخص بڑا بے حیا ہے ۔ اس لئے کہ ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق یہ اعتقاد ہے ۔ کہ سب پیشگوئیاں سچی ہیں جو بات کریں وہ حق ہے اور جو آپ کے خلیفہ کریں وہ بھی حق ہے ۔ مگر جب کوئی شخص ایک سچائی پر اعتراض کرتا ہے ۔ اسے لازماً دوسری سچائیوں پر بھی
اعتراض
کرنا پڑتا ہے ۔ مثلاً مصری صاحب کو سب سے پہلے میری خلافت میں نقائص نظر آئے ۔ اب اس کا دعویٰ یہ ہے ۔ کہ حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ پر بھی ان کا حملہ ہے۔ کیونکہ جس طرح میں خلیفہ ہوں ۔ اسی طرح وہ بھی خلیفہ تھے ۔ جس طرح میں اپنے تئیں خدا کا بنایا ہوا خلیفہ کہتا ہوں
یہ کسی انسان نے نہیں بنایا ۔ اس لئے تب ہی وہ فرما گئے کہ مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے ۔ اور کسی انسان کی یہ طاقت نہیں ۔ کہ مجھے خلافت سے معزول کرے ۔ پھر آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے ۔ کہ جو شخص میری خلافت پر اعتراض کرے گا ۔ وہ ابلیس میں جائے گا ۔ اور جب میں مر جاؤں گا ۔ تو پھر وہی کھڑا ہوگا ۔ جس کو خدا چاہے گا ۔ اور خدا ہی اس کو کھڑا کریگا ۔ پس جب انہوں نے بھی یہی باتیں کہی ہیں ۔ تو پھر میں اپنے دل میں سوچتا اور کہتا ہوں ۔ اگر حضرت خلیفہ اولؓ کی باتیں صحیح تھیں ۔ تو پھر میری خلافت پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ اور اگر موجودہ خلافت قابل اعتراض ہے ۔ تو حضرت خلیفہ اولؓ کی خلافت خود باطل ہے ۔ اور چونکہ اس کے دل میں یہ کھٹکتا ہے ۔ اس لئے وہ اعتراض جو وہ کرتا ہے ۔ حضرت خلیفہ اولؓ پر بھی گرا دیتا ہے ۔ وہ اس طرح پر اپنی خلافت کا بھی منکر ہو جاتا ہے ۔ پھر اس سے بڑھ کر جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان پیشگوئیوں کو دیکھتا ہے جو آپ نے میرے متعلق فرمائیں ۔ آپ کی ان دعاؤں کو پڑھتا ہے جو آپ نے میرے لئے اور اپنی باقی نامراد اولاد کے لئے کیں ۔ تو اسے کہنا پڑتا ہے ۔ یہ بھی غلط ہی ہیں ۔ وہ پیشگوئیاں غلط ہوئیں ۔ یہ پوری نہیں ہوئیں ۔ اور نہ ہوں گی ۔ تب اسے یہ کہنا پڑتا ہے ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعائیں مانگیں تھیں مگر وہ پوری نہیں ہوئیں ۔ ان کی بعض ہی دعائیں تو قبول ہو جاتیں ۔ لیکن اگر دعائیں قبول نہ ہوں ۔ تو خدا کے مسیح اور اس کے مدعی ۔ اپنے متعلق تو ان کا کیا دعویٰ ہے ۔ کہ وہ بارہا کہتے ہیں ۔ ہم دعا کریں گے ۔ اللہ ہمیں فہم دیگا۔ اللہ سب کی سنتا ہے۔ مگر یہ مسیح خدا ہی نعوذ باللہ ان کے دعوے کے مطابق کذاب اور دجال تھا ۔ کہ خدا نے اس کی دعاؤں کو نہ سنا ۔ دوستو ! یہ چالیں ہیں
منافقوں اور بدباطنوں کی ۔ پھر یہ مجھ پر الزام لگاتے ہیں
جماعت سے نذرانے
وصول کر کے انہیں خراب کیا ہے
اس وقت یہاں میں اس بات کو بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ میں نے کسی مجمع کو سنا کر نہیں کہا ۔ ہاں میں نے کبھی ایک پیسہ بھی اس مد میں نہیں مانگا۔ ہاں جماعت کی طرف سے ہمیشہ یہی ہے کہ بعض دوست میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ ہم فلاں چیز آپ کے لئے لائے ہیں ۔ وہ میں لے لیتا ہوں ۔ مثلاً کوئی مجھے کپڑا یا برتن یا کتاب لا کے دے دے ۔ مگر میں کبھی انہیں جواب نہیں دیتا ۔ سوائے اس کے کہ انہیں دعا دوں ۔ مجھے یاد ہے کہ بعض اوقات ناپ لے کے دے جاتے ہیں تو یہ دوسری بات ہے ۔ ورنہ میں نے کبھی کسی کی ایسی باتوں کا جواب نہیں دیا ۔ بلکہ بعض دفعہ تو وہ خط لکھتے ہیں ۔ اور جب میں ان کو جواب نہیں دیتا ہوں وہ شکایت کرتے ہیں ۔ اور سمجھتے ہیں کہ میں ان کا ہدیہ منظور نہیں کرتا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس کو برا سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ میں بسا اوقات ایسا کرتا ہوں کہ میں بصورت تحفہ کے نہ لوں ۔ اور میں اسے اس سوال کا ایک رنگ سمجھتا ہوں ۔ ہاں اگر کوئی دوست خود بخود کوئی تحفہ دے جائے تو میں اسے رد بھی نہیں کرتا ۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ امر ثابت ہے کہ آپ ایسے تحائف قبول فرما لیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا بھی ہے ۔ کہ ہدیہ تحفہ لیا کرو جس شخص کو اس میں شبہ ہو کہ حضور نے فرمایا تھا ۔ کہ جب کوئی تحفہ دے تو ہدیہ کے لفظ کے نیچے اللہ تعالیٰ اسے اس میں برکت دے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اپنے تحائف قبول کر لیا کرتے ۔ آخر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتا ہوں اس کی کوئی ممانعت بھی نہیں ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جو شخص کوئی چیز تمہیں دیتا ۔ اسے رد نہ کرو ۔ ہاں اگر کوئی اپنی مرضی سے کوئی چیز دے ۔ تو اسے لے لیا کرو ۔ اور میں کہتا ہوں ۔ کہ ان
روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ 31 اگست 1938ء یہ حوالہ صفحہ 139 پر درج ہے
حوالہ نمبر 166
چشمہ معرفت 9
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
آریہ سماج کا جلسہ اور اُنکی شرافت کا نمونہ
اور
اُن کے وید کی تعلیم اور اُنکے ویدوں کا ازالہ
آریہ سماج لاہور کا جلسہ ۴ دسمبر ۱۹۰۷ء کے بعد جو رات تھی اس میں ختم ہو گیا۔ جو لوگ ہمارے مضمون کے پڑھے جانے کے وقت حاضر تھے ان کو معلوم ہو گا کہ کس تہذیب اور نرمی اور صلحکاری کا وہ مضمون تھا اور کس ادب سے ہم نے اُن کے رشیوں اور اوتاروں اور اُن لوگوں کے نام لئے جن کی طرف وید منسوب کئے جاتے ہیں اور جو اُن کی قوم کے پیشوا اور رہبر خیال کئے جاتے ہیں۔ لیکن بقول شخصیکہ ہر ایک برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اُس کے اندر ہے۔ آریہ صاحبوں نے اپنے مضمون میں وہ گند ظاہر کیا اور اس قدر توہین اور تحقیر انبیاء علیہم السلام کی کی جو اس سے بڑھ کر متصور نہیں ہو سکتی۔ بالخصوص ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت وہ دلآزار اور گندے لفظ اور توہین اور تحقیر کے کلمے اور سراسر دروغ اور جھوٹی تہمتیں اور بے جا الزام جو سراسر گالیاں تھیں اس قدر
چشمہ معرفت صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 9 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 145 پر درج ہے
حوالہ نمبر 167
۱۲۳
مسیح اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دیا اور وہ مماثلت پوری ہو گئی اور آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اس امت میں یہودی طور پر وہی کرتوت یہودیوں والی پوری ہونی تھی اور یہ اس طرف اشارہ کرتی تھیں کہ آنے والا دورنگ لے کر آئے گا۔ اسی لئے مہدی اور مسیح کے زمانہ کی علامت ایک ہی ہیں اور ان دونو کا فعل بھی ایک ہی۔
(البدر جلد ۲ نمبر ۳۴ صفحہ ۲۵۸ - ۲۵۹ محولہ پرچہ نمبر ۳ - ۴)
۲۲ اگست ۱۹۰۳ء
مومنوں کو چاہئیے کہ اشاعت فحش سے پرہیز کریں
عام طور پر یہ ایک مرض لوگوں میں دیکھی جاتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مرد یا عورت کی نسبت یہ بیان کرے کہ وہ بدکار ہے یا اس کا دوسرے سے تعلق بدکاری کا ہے تو چونکہ نفس ایسے معلومات کی وسعت سے لذت پاتا ہے۔ اس لئے اس مدعی کے بیان پر بلا تحقیق یہ خیال کر لیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور اُسے شہرت دینے میں سعی کی جاتی ہے۔ اور اس طرح سے نیک مرد اور نیک عورتوں کی نسبت ناپاک خیال لوگوں کے دلوں میں متمکن ہو جاتے ہیں اور جن کی شہرت ہوتی ہے اُن کے دلوں پر اُس سے کیا صدمہ گذرتا ہے جس کو ہر ایک محسوس نہیں کر سکتا۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے ایسی شہرت دینے والوں کے لئے اسّی دُرّے سزا مقرر فرمائی ہے۔
اس مضمون کے متعلق حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں شہرت دینے والوں کے لئے بشرطیکہ وہ اُسے ثابت نہ کر سکیں ۸۰ دُرّے سزا رکھی ہے اس لئے کہ جو شہرت دیتا ہے اسے اس مقدمہ میں مدعی گردانا گیا ہے اور اسی سے چار گواہ طلب کئے گئے ہیں کہ اگر وہ سچا ہے تو اپنے علاوہ چار گواہ رؤیت کے لاوے ۔ یہ غلطی ہے کہ مدعی شخص کو بھی گواہوں میں شمار کیا جاوے۔
ملفوظات جلد 6 صفحہ 123 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 146 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 168)
۵۶۵
کے لیے بندشیں کی جاویں گی۔ تو یہ عظیم الشان پیشگوئی پوری ہورہی ہے۔ میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں۔ پھر بھی آج کل میری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا ہوں، حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی جاتی ہے اور دورانِ سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ مگر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں، چونکہ دن چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ دن کدھر جاتا ہے۔ اُسی وقت خبر ہوتی ہے جب شام کی نماز کے لیے وضو کرنے کے واسطے پانی کا لوٹا رکھ دیا جاتا ہے۔ اس وقت مجھے افسوس ہوتا ہے کہ کاش اتنا دن اور ہوتا، حالانکہ اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔ مگر جب پاخانے کی حاجت بھی ہوتی ہے تو مجھے رنج ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی اور ایسا ہی روٹی کے لیے جب کئی مرتبہ کہتے ہیں تو بزجر کر کے جلد جلد چند لقمے کھا لیتا ہوں۔ بظاہر تو میں روٹی کھاتا ہوں اور پانی پیتا ہوں، مگر میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے پتہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کھاتا ہوں۔ میری توجہ اور خیال اُسی طرف لگا ہوا ہوتا ہے۔ پس یہ کام بہت ضروری ہے اور خدا چاہے تو ایک نشان ہو گا جس کی نظیر لانے پر کوئی قادر نہ ہو گا۔
[ناظرین: حضرت اقدس کے اس جوش کا کسی قدر پتا ان الفاظ سے مل سکتا ہے جو آپؐ کو اعلائے کلمتہ الاسلام کے لیے حق نے عطا فرمایا ہے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم کس گڑھے میں ہیں اور وہ کیسی بلندی پر ہیں۔ پھر اسی سلسلہ کلام میں فرمانے لگے کہ :]
”گو یہ کتاب بظاہر کوئی عجیب اور اعجاز نظر نہ آتی ہو، مگر اس کی اشاعت پر دُنیا کو معلوم ہو جائے گا جب ہم نے ہندوؤں کے لیے مضمون لکھنا شروع کیا تو ہمارے ایک دوست نے اپنے خیال کے موافق کچھ خوشی ظاہر نہ کی۔ مگر خدا تعالیٰ نے ایسا اثر و شہرت دی کہ وہ مضمون بالا بالا چنانچہ یہ اشتہار جلسہ سے پہلے ہی شائع کر دیا گیا۔ آخر جب وہ جلسہ میں پڑھا گیا تو اس کی عظمت اور اس کے حقائق کو سب نے تسلیم کیا۔ یہاں تک کہ لاہور کے انگریزی اُردو اخبارات نے اس کے بالا رہنے کا اعتراف کیا۔ اسی طرح پر جب یہ کتاب شائع ہو کر باہر نکلے گی، تب پتہ لگے گا۔ میں نے ایک بار ایک شخص کو دہلی سے عطر لانے کے لیے کہا وہ کہنے لگا کہ جب میں عطار کی دوکان پر گیا، تو جو عطر وہ دکھاتا تھا، میں اس کو ہی واپس کر دیتا تھا۔ آخر عطار نے کہا، میاں تم یہاں دوکان میں بیٹھے ہو تمہیں پتہ نہیں لگتا۔ جب دوکان سے باہر لے کر جاؤ گے، تب اس عطر کی حقیقت معلوم ہوگی! چنانچہ جب وہ عطر لے کر آیا تو اُس نے بیان کیا کہ جو گاڑیاں ہم سے پیچھے آتی تھیں ان کے سوار کہتے تھے کہ کس کے پاس عطر ہے۔ مگر اس کی اتنی تیز مہک تھی۔“
[اس قسم کی باتیں ہوتی رہیں اپنے دعویٰ کی صداقت اور اپنے مامور من اللہ ہونے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ
ملفوظات جلد اول صفحہ 565 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 146 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 169)
۵۴۱
کے مانگنے میں کچھ قصور نہیں ہے بلکہ حسب آیت تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ١؎ ان کی طبیعت ہی اُن بدبخت کفار کے مشابہ واقع ہوئی ہے جو خداتعالیٰ کے نشانوں کو قبول نہیں کرتے تھے اور اپنی طرف سے اختراع کر کے درخواستیں کرتے تھے کہ ایسے ایسے نشان دکھاؤ۔ لیکن اگر افسوس ہے تو صرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے مولوی کہلا کر ہنسی ٹھٹھا اپنا شیوہ بنالیا ہے۔ جو شخص عبدالحق کے اشتہار کو غور سے پڑھے گا اس کو قبول کرنا پڑے گا کہ انہوں نے مرحوم مولوی عبدالکریم صاحب کا شرارت اور بے ادبی سے ذکر کر کے ان کی ٹانگ کی درستی یا آنکھ کی نظر کی نسبت جو نشان مانگا ہے یہ ایک اوباشانہ طریقہ پر ٹھٹھا کیا ہے جو کسی پرہیزگار اور نیک بخت کا کام نہیں ہے۔ پلید دل سے پلید باتیں نکلتی ہیں اور پاک دل سے پاک باتیں۔ انسان اپنی باتوں سے ایسا ہی پہچانا جاتا ہے جیسا کہ درخت اپنے پھلوں سے۔ جس حالت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرما دیا کہ لَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ٢؎ ۔ یعنے لوگوں کے ایسے نام مت رکھو جو ان کو بُرے معلوم ہوں تو پھر برخلاف اس آیت کے کرنا کن لوگوں کا کام ہے۔ لیکن اب تو نہ ہم عبدالحق پر افسوس کرتے ہیں نہ اس کے دوسرے رفیقوں پر کیونکہ ان لوگوں کا ظلم اور ناانصافی اور دروغ گوئی اور افتراء حد سے گزر گیا ہے اسی اشتہار کو پڑھ کر دیکھ لو کہ کس قدر جھوٹ سے کام لیا ہے کیا کسی جگہ بھی خدا تعالیٰ سے حیا کی ہے چنانچہ ہم بطور نمونہ بطرز قولہ و اقول اس ظالم شخص کے جھوٹوں کا ذخیرہ ذیل میں لکھ دیتے ہیں جو اس اشتہار میں اس نے استعمال کئے ہیں اور وہ یہ ہیں۔
قولہ مرزا بارہا متفرق مواضع کے مباحثات میں شرمندہ اور لاجواب ہوا اور ہر مجمع میں خائب اور خاسر اور نامراد رہا۔
١؎ البقرۃ : ۱۱۹ ٢؎ الحجرات : ۱۲
یہ حوالہ صفحہ 146 پر درج ہے تحفہ غزنویہ صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 541 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 170
براہین احمدیہ ۳۹۳ پہلی فصل
بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲ ۳۲۳ کے پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جس نے خود انسان کو بغیر باپ اور ماں کے
ان امور کا جمع ہونا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ کیونکہ جب کہ خدا بے مثل و مانند ہے اسی طرح جو چیز اُسی کی طرف سے صادر ہے وہ بے مثل و مانند چاہیے جس کی نظیر بنانے پر انسان قادر نہ ہوسکے۔ پس قرآن شریف نے جو اپنے کمالات میں بے مثل ہونے کا دعویٰ کیا ہے یہ کوئی بے موقعہ ۳۲۴ دعویٰ نہیں۔ یہ تو یہی قانونِ قدرت کا مسئلہ ہے جسپر چلنا انسان کی دانشمندی ہے جس سے انحراف کرنا حماقت کی نشانی ہے۔ ذرا اپنے ہی دل میں سوچ کر آپ انصاف فرمائیے کہ خدا کے کلام کا بے نظیر ہونا قانونِ قدرت کے لحاظ سے لازم ہے یا نہیں۔ اگر آپ کے نزدیک لازم نہیں، اور خدا کے کاموں میں شرکتِ غیر بھی جائز ہے تو پھر صاف یہی کیوں نہیں کہتے کہ ہم کو خدا کے واحد لاشریک ہونے میں ہی کلام ہے۔ کیا آپ اس بدیہی بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ خدا کی وحدانیت تب ہی تک ہے جب تک اس کی تمام صفات شرکتِ غیر سے منزہ ہیں۔ اگر خدا کے کلام کی یہ حیثیت ہو کہ انسان بھی ایسا ہی کلام بنا سکے۔ تو گویا خدا کی ساری حیثیت معلوم ہوگئی۔ گویا اس کی خدائی کا سارا بھید ہی کھل گیا۔ *
حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ اس بات پر عیسائیوں کو بھی نہایت توجہ سے غور کرنی چاہئے کہ خدائے بے مثل و مانند اور کامل کی کلام میں کن کن نشانیوں کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ان کی انجیل جو حدِ معرّف اور معقول ہوجانے کے ان نشانیوں سے بالکل بے بہرہ اور بے نصیب ہے۔ بلکہ الٰہی نشان تو برطرف رہے معمولی راستی اور صداقت بھی کہ جو ایک منصف اور دانشمند متکلم کے کلام میں ہونی چاہیئے انجیل کو نصیب نہیں۔ کم بخت مخلوق پرستوں نے خدا کے کلام کو، خدا کی ہدایت کو ، خدا کے نور کو اپنے ظلمانی خیالات سے ایسا ملا دیا، کہ اب وہ کتاب بجائے رہبری کے رہزنی کا ایک پکّا ذریعہ ہے۔ ایک عالم کو کس نے توحید سے برگشتہ کیا؟ اسی مصنوعی انجیل نے۔ ایک دُنیا کا کس نے خون کیا؟ انہیں تالیفاتِ اربعہ نے جن اعتقادوں کی طرف مخلوق پرست کا نفسِ امّارہ جھکتا گیا۔ اسی طرف ترجمہ کرنے کے وقت اُن کے الفاظ بھی جھکتے گئے۔ کیونکہ انسان کے الفاظ ہمیشہ اس کے خیالات کے تابع ہوتے ہیں۔ غرض انجیل کی ہمیشہ کایا پلٹ کرتے رہنے سے اب وہ کچھ اور ہی چیز ہے۔ اور خدا بھی اس کی تعلیم
براہین احمدیہ جلد اول تا چہارم صفحہ 393 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 393 (حاشیہ از مرزا قادیانی) یہ حوالہ صفحہ 147 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 161)
۷۵ براہین احمدیہ حصہ پنجم
نسبت ہے جو ہجرت کر کے قادیان میں آگئے۔ سو جس کا جی چاہے آکر دیکھ لے۔ یہ سات قسم کے نشان ہیں جن میں سے ہر ایک نشان ہزار ہا نشانوں کا جامع ہے۔ مثلاً یہ پیشگوئی کہ يَأْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ جس کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک جگہ سے اور دُور دراز ملکوں سے نقد اور جنس کی امداد آئیگی اور خطوط بھی آئیں گے۔ اب اس صورت میں ہر ایک جگہ سے جو اب تک کوئی ہدیہ آتا ہے یا پارچات اور دوسرے ہدیئے آتے ہیں یہ سب بجائے خود ایک ایک نشان ہیں کیونکہ ایسے وقت میں ان تمام باتوں کی خبر دی گئی تھی جبکہ انسانی عقل اس کثرتِ امداد کو دُور از قیاس و محال سمجھتی تھی۔ ایسا ہی یہ دوسری پیشگوئی یعنی يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ جس کے یہ معنے ہیں کہ دُور دُور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے یہاں تک کہ وہ سڑکیں ٹوٹ جائینگی جن پر وہ چلیں گے۔ اس زمانہ میں یہ پیشگوئی بھی پوری ہوگئی چنانچہ اب تک کئی لاکھ انسان قادیان میں آچکے ہیں اور اگر خطوط بھی اس کے ساتھ شامل کئے جائیں جنکی کثرت کی خبر بھی قبل از وقت کسمپرسی کی حالت میں دی گئی تھی تو شاید یہ اندازہ کروڑ تک پہنچ جائیگا مگر ہم صرف مالی امداد اور بیعت کنندوں کی آمد پر کفایت کرکے ان نشانوں کو تخمیناً دس لاکھ نشان قرار دیتے ہیں۔ بے حیا انسان کی زبان کو قابو میں لانا تو کسی نبی کے لئے ممکن نہیں ہوا لیکن وہ لوگ جو حق کے طالب ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے گمنامی کے زمانہ میں جس کو قریباً پچیس برس گذر گئے جبکہ مَیں کچھ بھی چیز نہ تھا اور کسی قسم کی شہرت نہ رکھتا تھا اور کسی بزرگ خاندان یا پیرزادہ سے نہ تھا تا رجوع خلائق سہل ہوتا۔ اسقدر کھلے طور پر آئندہ زمانہ کے عروج اور ترقیات کی ۵۹ خبر دینا اور پھر ان چیزوں کا اُسی طرح بعد زمانہ دراز وقوع میں آجانا کیا کسی انسان سے ہو سکتا ہے اور کیا ممکن ہے کہ کوئی کذّاب اور مفتری ایسا کر سکے۔ مَیں باور نہیں کر سکتا کہ جو شخص پہلے انصاف کی نظر سے اُس زمانہ کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھے جبکہ براہین احمدیہ تالیف کی گئی تھی اور ابھی شائع بھی نہیں ہوئی تھی اور ایک جوڈیشل تحقیقات کے طور پر خود موقع پر آکر دریافت کرے کہ اُس زمانہ میں مَیں کیا چیز تھا اور کس قدر خمول اور گمنامی کے زاویہ میں پڑا ہوا تھا
براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 59 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 75 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 147 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 172) ضمیمہ ۱۰۹ نزول المسیح
ہے کہ تم نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا تھا۔ سو تم اگر اس لفظ سے رجوع نہیں کرو گے تو پندرہ مہینہ میں ہلاک کئے جاؤ گے۔ سو آتھم نے اسی مجلس میں رجوع کیا اور کہا کہ معاذ اللہ میں نے کبھی آنجناب کی شان میں ایسا لفظ کوئی نہیں کہا اور دونوں ہاتھ اٹھائے اور زبان باہر نکالی اور لرزتے ہوئے زبان سے انکار کیا۔ جس کے نہ صرف مسلمان گواہ بلکہ چالیس سے زیادہ عیسائی بھی گواہ ہونگے۔ پس کیا یہ رجوع نہ تھا! اور کیا اُس کا ڈرنا اور میعاد پیشگوئی میں اُس بحث کو بکلی ترک کر دینا جو ہمیشہ میرے ساتھ کرتا تھا اور نیز شیخ غلام حسن صاحب مرحوم رئیس اعظم امرتسر کے ساتھ بھی اور میاں غلام نبی صاحب برادر میاں اسد اللہ صاحب مرحوم وکیل امرتسر کے ساتھ بھی کیا کرتا تھا۔ کیا یہ دلیل اس بات کی نہیں ہو کہ وہ ضرور ڈرا۔ اور کیا اسکا امرتسر کو چھوڑنا اور گوشہ میں خاموش زندگی بسر کرنا اور افسردہ حال رہنا اس بات کی دلیل نہیں ہو کہ وہ بادل ترساں اور لرزاں ہوا۔ اور کیا اُس کا باوجود چار ہزار روپیہ دینے کے قسم نہ کھانا حالانکہ ثابت کر دیا گیا تھا کہ عیسائی مذہب میں جواز قسم ہے اور خود مسیح نے بھی قسم کھائی اور پولس نے بھی۔ اِس بات کی دلیل نہیں ہو کہ وہ ڈر گیا۔ پس کیا اب تک دجال کہنے کے قول سے اُس کا رجوع ثابت نہیں ہوا؟ اور کون ثابت کر سکتا ہے کہ بعد اسکے اُس نے پیشگوئی کی میعاد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کر کے پکارا۔ اور پھر باوجود اس کے کہ میری پیشگوئی میں تھا کہ کاذب صادق کی زندگی میں مر جائے گا۔ کیا وہ میری زندگی میں نہیں مرا۔ اگر پیشگوئی سچی نہیں نکلی تو مجھے دکھلاؤ کہ آتھم کہاں ہے۔ اُس کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی یعنی قریب ۶۴ سال کے۔ اگر شک ہو تو اسکی پینشن کے کاغذات دفتر سرکاری میں دیکھ لو کہ کیا وہ اِس عمر میں اس نے پینشن پائی پس اگر پیشگوئی صحیح نہیں تھی تو وہ کیوں میرے پہلے مر گیا۔ خدا کی لعنت اُن لوگوں پر جو جھوٹ بولتے ہیں۔
جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے تو جو چاہے بکے۔ کون اُس کو روکتا ہے۔
دیکھو لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی اس میں صاف بتلایا گیا تھا کہ وہ چھ برس کے اندر قتل کے ذریعہ سے ہلاک کیا جائیگا اور عید کے دن سے وہ دن ملا ہوا ہوگا۔ وہ کیسی صفائی
۵
اعجاز احمدی صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 109 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 147 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 173)
۷۹ تذکرۃ الشہادتین
۵۴ اس مختصر کا مطلب یہ ہے کہ ایک لنگر خانہ اور رسالہ جو انگریزی اور اُردو میں نکلتا ہے جس کے لئے اکثر دوستوں نے سرگرمی ظاہر کی ہے ایک مدرسہ بھی قادیان میں کھولا گیا ہے ۔ اس سے یہ فائدہ ہے کہ نومبایعے یک طرف تو تعلیم پاتے رہیں ۔ اور دوسری طرف ہمارے سلسلہ کے اصولوں سے واقفیت حاصل کرتے جاویں ۔ اس طرح پر بہت آسانی سے ایک جماعت طیار ہو جاتی ہے ۔ مگر بسا اوقات اُن کے ماں باپ بھی اس سلسلہ میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ لیکن ان دنوں میں ہمارا یہ مدرسہ بڑی مشکلات میں پڑا ہوا ہے ۔ اور با وجودیکہ میرے عزیز ہی اخوی مکرم نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ اپنے پاس سے اَسّی روپیہ ماہوار اس مدرسہ کی مدد کرتے ہیں ۔ مگر پھر بھی اُستادوں کی تنخواہیں ماہ بماہ ادا نہیں ہوسکتیں ۔ مدرسہ زیر بار قرضہ رہتا ہے ۔ علاوہ اسکے مدرسہ کے متعلق کئی عمارتیں ضروری ہیں جو اب تک طیار نہیں ہوسکیں ۔ یہ غم علاوہ اور غموں کے میری جان کو کھا رہا ہے اس کی بابت میں نے بہت سوچا کہ کیا کروں آخر یہ تدبیر میرے خیال میں آئی کہ میں اسوقت اپنی جماعت کے مخلصوں کو بڑے زور کے ساتھ اس بات کی طرف توجہ دلاؤں کہ وہ اگر اس بات پر قادر ہوں کہ پوری توجہ سے اس مدرسہ کیلئے بھی کوئی ماہوار چندہ مقرر کریں تو چاہئے کہ ہر ایک اُن میں سے ایک حتمی عہد کے ساتھ کچھ نہ کچھ مقرر کرے جس کیلئے وہ ہرگز تخلف نہ کرے ۔ مگر کسی مجبوری سے جو قضاء و قدر سے واقع ہو ۔ اور جو صاحب ایسا نہ کر سکیں ان کیلئے بالضرورت یہ تجویز سوچی گئی ہے ۔ کہ جو کچھ وہ لنگر خانہ کیلئے بھیجتے ہیں۔ اسکا کچھ حصہ براہ راست مدرسہ کیلئے نواب صاحب موصوف کے نام بھیج دیں ۔ لنگر خانہ میں شامل کر کے ہرگز نہ بھیجیں ۔ بلکہ علیحدہ منی آرڈر کرا کر بھیجیں ۔ کیونکہ لنگر خانہ کا فکر ہر روز مجھے کرنا پڑتا ہے ۔ اور اس کا غم براہ راست میری طرف آتا ہے ۔ اور میری اوقات کو مشوش کرتا ہے ۔ لیکن یہ غم بھی مجھ سے دیکھا نہیں جاتا ۔ اسلئے میں کہتا ہوں کہ اس سلسلہ کے جو اور لوگ جن سے میں ہر طرح امید رکھتا ہوں کہ وہ میری اس التماس کو ردی کی طرح نہ پھینکیں اور پوری توجہ سے اس پر کاربند ہوں ۔ میں اپنے نفس سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا ہے۔ میں نے خوب سوچا ہے ۔ اور بار بار مطالعہ کیا ہے میری دانست میں اگر یہ مدرسہ قادیان کا قائم رہ جائے تو بڑی برکات کا موجب ہو گا اور اسکے ذریعہ سے ۵۵ ایک فوج نئے تعلیم یافتوں کی ہماری طرف آ سکتی ہے ۔ اگرچہ میں یہ بھی جانتا ہوں ۔ کہ اکثر طالب علم
۷۹
یہ حوالہ صفحہ 147 پر درج ہے تذکرۃ الشہادتین صفحہ 79 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 79 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 174)
۵۸
اگر گوشت نہ کھا دینے کی خاصیت اسکے اندر قائم رہے گی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ایک جہالت ہی بصورت نکتہ ہے جسے نہ سمجھنے کی وجہ سے عیسائی اور ہندو مذہب تباہ ہو گئے اور لاکھوں مسلمان کہلانے والے انسان بھی مایوسی کا شکار ہو گئے ۔
(۴۰۶) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک پر بعض فقرے کثرت کے ساتھ رہتے تھے مثلاً آپ اپنی گفتگو میں اکثر فرمایا کرتے تھے دست در کار دل با یار۔ خدا داری چہ غم داری۔ الاعمال بالنیات۔ المومن ملجم ۔ ، اپس تیغی زو۔ آئینہ حسن۔ گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی ۔ مالابد منہ ۔ کلہ کالی ۔ کلہ الطریقہ کلھا ادب ۔ ادب تاجیست از لطف الٰہی ۔ بنہ بر سر بہر جا کہ خواہی ۔
(۴۰۷) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہئے کہ کم ازکم تین دفعہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کریں اور فرماتے تھے کہ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا ۔ اسکے ایمان کے متعلق مجھے شبہ ہے ۔
(۴۰۸) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک بچہ نے گھر میں ایک چھپکلی ماری اور پھر اسے مذاقاً مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی چھوٹی اہلیہ پر پھینک دیا جس پر ڈر کے مارے ان کی چیخیں نکل گئیں اور چونکہ مسجد کا قرب تھا ان کی آواز مسجد میں بھی سنائی دی ۔ مولوی عبد الکریم صاحب بہت گھبرائے تو انہوں نے غیرت کے جوش میں اپنی بیوی کو بہت کچھ سخت سست کہا حتی کہ ان کی یہ غصہ کی آواز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نیچے اپنے مکان میں بھی سن لی ۔ چنانچہ یہ اس واقعہ کے متعلق اسی شب حضرت صاحب کو یہ الہام ہوا کہ ” یہ طریق اچھا نہیں ۔ اس سے روکو “ کہا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبد الکریم کو ” لطیفہ یہ ہوا کہ صبح مولوی صاحب مرحوم تو اپنی اس بات پر شرمندہ تھے ۔ اور لوگ انہیں مبارکبادیں دے رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام مسلمانوں کا لیڈر رکھا ہے ۔
(۴۰۹) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک شہادت کے لئے ملتان تشریف لے گئے تو رستہ میں
یہ حوالہ صفحہ 147 پر درج ہے سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 78 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 175
الزلزال ۹۹ ۴۱۶ عَمَّ
وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا ۚ يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا ۙ
اور انسان کہہ اُٹھے گا کہ اسے کیا ہو گیا ہے ۵؎ اس دن وہ اپنی (ساری ہی پوشیدہ) خبریں بیان کر دے گی ۶؎
۵؎ تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زمین اپنے اَثْقَالَ کو نکال باہر کرے گی یہاں تک کہ ان سب چیزوں کو دیکھ کر انسان حیرت سے کہہ اُٹھے گا کہ مَا لَهَا۔ اسے کیا ہو گیا ہے اس دنیا میں کیا کچھ راز پوشیدہ تھے جو ظاہر ہو رہے ہیں اور کیا کیا چیزیں مخفی تھیں جن کو زمین اُگل رہی ہے۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ اَثْقَالَ سے ہر انسان مراد نہ ہو بلکہ کامل انسان مراد ہو۔ اس صورت میں آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ کامل انسان دنیا کی عُریانی اور فنائیت کی حالت دیکھ کر کہے گا کہ اِس دُنیا کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ سے اس قدر دُور چلی گئی ہے۔
۶؎ تفسیر: یہ نیا مضمون بھی ہو سکتا ہے اور اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ اَثْقَالَهَا کی تشریح بھی ہو سکتا ہے۔ نئے مضمون کے لحاظ سے میرے نزدیک اس کے یہ معنے ہیں کہ یہ خُطہ زمین کے بارہ میں اس سے پہلے دنیا کو ایک مجمل اور ناقص علم حاصل ہو گا مگر فرماتا ہے اس زمانہ میں علم سائنس جیالوجی کی شکل میں اس قدر ترقی کر جائے گا کہ زمین کی بناوٹ، اوضاعوں اور جرا ثیموں کے ذریعہ سے زمین کی پیدائش کے مسئلہ پر بہت کچھ روشنی پڑنے لگے گی گویا اَخْبَارَهَا سے مراد یہ ہے کہ زمین اپنی حقیقت اور کیفیت پیدائش کے بارہ میں بہت کچھ باتیں بتانے لگ جائے گی۔ یہ اس لئے فرمایا کہ علم جیالوجی کا بڑا مدار تو مٹی کی ماہیت اور اُس کے رنگوں اور اُس کی تہوں پر ہے۔ یہ نہیں کہ کسی اور ذریعہ سے وہ ان معلومات کو حاصل کرتے ہیں بلکہ علم جیالوجی کے ماہرین مٹی کا رنگ دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس اس قسم کے تغیرات زمین پر گزرے ہیں اس کی تہوں سے اندازہ لگا کر بتا دیتے ہیں کہ یہ تہہ کس دور پر مشتمل ہے۔ اور اُس تہہ پر یہ شکل ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے فلاں تغیّر واقعہ ہوا اور پھر فلاں تغیّر پیدا ہوا، اسی طرح
چیزوں کے رنگوں اور اُن کی بُوؤں سے اب کانوں وغیرہ کے پتہ لگانے کا علم نکل آیا ہے۔ اس علم کے ماہر انجنیئر پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاتے ہیں اور پتھروں کو اٹھا اٹھا کر دیکھتے یا زمین کو سونگھتے ہیں اور بتاتے جاتے ہیں کہ یہاں فلاں قسم کی کانیں دفن ہیں، اسی طرح مٹی کی بُو کے ذریعہ سے کانوں کی اقسام اور اُن کی گہرائیوں کا پتہ دیا جاتا ہے۔ یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ زمین میں کس چیز کی کان ہے۔ لوہے کی ہے یا پیتل کی ہے۔ اور پھر یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ وہ سوگز نیچے ہے یا دو سوگز نیچے ہے یا چار سو گز نیچے ہے۔ غرض اس ذریعہ سے زمین اپنی خبریں بتا رہی ہے۔ وہ زمین جو پہلے گونگی تھی اب کلام کرنے لگ گئی ہے۔ عام لوگ گزرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ زمین خاموش ہے وہ کچھ کہہ نہیں رہی، لیکن ایک انجنیئر گزرتا ہے تو وہ سنتا ہے کہ زمین اسے یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ میرے نیچے مٹی کا تیل ہے اور وہ یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ وہ اتنی گز نیچے ہے یا یہ بتا رہی ہوتی ہے میرے نیچے سونے کی کان ہے، اور یہ بھی بتا رہی ہوتی ہے کہ وہ سونے کی کان اتنی دُور ہے یا یہ بتا رہی ہوتی ہے کہ میرے نیچے پتھر کا کوئلہ ہے اور یہ بھی بتا رہی ہوتی ہے کہ وہ پتھر کا کوئلہ اتنی دُور ہے۔ اسی طرح بتا رہی ہوتی ہے کہ میرے نیچے یورینیم یا پلاٹینیم یا فلاں دھات ہے اور یہ بھی بتا رہی ہوتی ہے کہ یہ دھاتیں اتنی گہرائیوں پر ہیں۔
اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا کے کچھ یہ معنے بتائے گئے تھے کہ لوگ اپنے گندے خیالات بیان کرنے لگ جائیں گے۔ اُن کے لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے بھی ہوں گے کہ نہ صرف لوگوں کے دبے ہوئے خیالات اُس زمانہ میں ظاہر ہونے لگ جائیں گے بلکہ اہل زمین اپنے اُن عیوب کو اس قدر جرأت کرنے میں ذلت محسوس نہ کریں گے بلکہ ان کو فخر سے بیان کریں گے
تفسیر کبیر از مرزا بشیر الدین محمود جلد نمبر 9 صفحہ 416، 418
یہ حوالہ صفحہ 148 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 175)
الزلزال ۹۹ ۴۱۸ عَمَّ
بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحٰى لَهَا ہ
اس لئے کہ تیرے رب نے اس (زمین) کے حق میں وحی کر چھوڑی ہے ہ
لکھا گیا ، ہم مسجد میں ہیں کہ وہ وہاں کھیل گئے ، اور کیوں انکی گاڑی اس دروازہ پر کھڑی دیکھی گئی ، میں سمجھتا ہوں حدیث میں اسی طرف اشارہ ہے مفسرین نے اسے غلطی سے قیامت پر ہی چسپاں کر دیا ہے حالانکہ قیامت کے ذکر میں قرآن کریم میں یہ کہیں بیان نہیں کیا گیا کہ اس روز زمین بھی کلام کرے گی ، یہ تو آتا ہے کہ ہاتھ بولیں گے پاؤں بولیں گے اور وہ انسان کے خلاف شہادت دیں گے مگر یہ کہیں ذکر نہیں آتا کہ اس روز زمین بھی بولے گی لیکن مسیح موعودؑ کے زمانہ کے متعلق جو علامات أَوْحٰى احادیث میں ذکر آتا ہے کہ اس وقت زمین کلام کرے گی چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ مسیح موعودؑ کے زمانہ میں وہ پتھروں کے پیچھے کھڑا چھپا ہوا ہو گا بول اٹھے گا اور کہے گا اے نبی اللہ یہ کافر چھپ رہا ہے غرض زمین کے بولنے کا حدیثوں میں جہاں بھی ذکر آتا ہے مسیح موعودؑ کے زمانہ کے متعلق ہے اور قرآن کریم میں جہاں قیامت کے دن کا خصوصیت سے ذکر آتا ہے وہاں ہاتھ اور پاؤں کے بولنے کا تو ذکر آتا ہے مگر زمین کا نہیں، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت موجودہ زمانہ کے متعلق ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی خبر دی گئی ہے کہ لوگ اپنے گند اخباروں میں ظاہر کریں گے، کتابوں اور ڈائریوں میں ان کو شائع کریں گے اور خوش ہوں گے کہ انہوں نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے گویا جن امور کو لوگ پہلے چھپایا کرتے تھے ان کو مزے لے لے کر بیان کریں گے اور شرم و حیا کا مفہوم اس زمانہ میں بالکل بدل جائے گا چنانچہ یہ اخبار جو مرد و عورت کے پیچھے آدمی لگاتے ہیں اور اُن کے مخفی حالات اخباروں میں چھاپتے اور ان کی بکری سے لاکھوں روپیہ کماتے ہیں، بعض ادنیٰ اخبار بلیک میلنگ سے روپے کماتے ہیں۔ اسی طرح عورتیں ، شریف کہلانے والی عورتیں بڑے بڑے معزز اور با رسوخ خاندانوں کی عورتیں ڈائریاں لکھتی ہیں جن میں نہایت
بے حیائی سے اپنی کرتوتیں بیان کرتی ہیں اور پھر وہ ڈائریاں ہزاروں کی تعداد میں چھپتی اور لوگوں کے مطالعہ میں آتی ہیں۔ غرض ایک اندھیر ہے جو مچ رہا ہے اور ایک زلزلہ عظیمہ ہے جو دنیا پر آیا ہوا ہے ۔ گذشتہ تاریخ پر غور کر کے دیکھ لو اس کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملے گی، یہی وہ زمانہ ہے جس میں یہ زلزلہ عظیمہ آیا اور جس میں اللہ تعالیٰ کی یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی کہ يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا ۔ ؎ حَلّ لُغَات : أَوْحٰى اِلَيْهِ بَعَثَ اَوْ كَلَّمَهُ أَوْحٰى بِكَلِمَةٍ : أَيْ بَعَثَهٗ۔ اُس کو کسی مقصد کے لئے کھڑا کیا اور اَوْحٰی بِكَذَا کے معنے ہیں اَلْهَمَهُ بِهٖ کسی کے دل میں کوئی بات ڈالی۔ اور وَحْیٌ بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ وَحٰى اِلَيْهِ وَحْيًا وَّ وُحِيًّا کے معنے ہیں اَشَارَ اُس نے اشارہ کیا۔ أَرْسَلَ اِلَيْهِ رَسُوْلًا اُس کی طرف پیغامبر بھیجا۔ اور وَحَى اللّٰهُ اِلٰى قَلْبِهِ کے معنے ہیں اَلْهَمَهُ کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اُس کے دل میں فلاں بات ڈالی۔ اور أَوْحٰى اِلٰى فُلَانٍ اَلْكَلَامَ کے معنے ہیں كَلَّمَهُ خَفِيًّا اُس کے ساتھ دوسروں سے علیحدہ ہو کر مخفی رنگ میں بات کی۔ وَفِي الْاَسَاسِ وَحَيْتُ إِلَيْهِ وَأَوْحَيْتُ اِلَيْهِ اَيْ كَلَّمْتُهُ بِمَا تُخْفِيْهِ عَنْ غَيْرِهِ۔ زمخشری کی کتاب اساس میں لکھا ہے کہ وَحَيْتُ اِلَيْهِ یا اَوْحَيْتُ اِلَيْهِ اُس وقت بولتے ہیں جب تم کسی سے کوئی ایسی بات کرو جو تم دوسروں سے چھپانا چاہتے ہو ۔ وَ فِي الْمِصْبَاحِ وَبَعْضُ الْعَرَبِ يَقُوْلُ وَحَيْتُ اِلَيْهِ بِمَعْنٰى أَوْحَيْتُ اِلَيْهِ وَ وَحَيْتُ لَهُ وَأَوْحَيْتُ إِلَيْهِ وَ أَوْحَيْتُ لَهُ ۔ اور مصباح میں لکھا ہے کہ بعض عرب وَحَيْتُ اِلَيْهِ اور أَوْحَيْتُ اِلَيْهِ ہی استعمال نہیں کرتے بلکہ وَحَيْتُ لَهُ اور أَوْحَيْتُ لَهُ بھی استعمال کرتے
تفسیر کبیر از مرزا بشیر الدین محمود جلد نمبر 9 صفحہ 416، 418 یہ حوالہ صفحہ 148 پر درج ہے
حوالہ نمبر 176
چشمہ معرفت ۱۱۴ حاشیہ تو مناسب تھا کہ وہ اس بحث میں اپنے تئیں نہ ڈالتے اور چپ ہی رہتے اور خواہ نخواہ اپنے موجودہ وید کی پردہ دری نہ کراتے۔ جو کچھ وید نے اپنا فلسفہ اور علم طبعی ظاہر کیا ہے وہ یہی ہے کہ ہندوؤں کے پرمیشر کو ایک انسان کا فرزند قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اندر آریوں کا پرمیشر کشیپ کا بیٹا ہے۔ اور نیز یہ کہ عناصر اور اجرام سماویہ سب پرمیشر ہی ہیں اور نیز وہ تعلیم دیتا ہے کہ ان تمام چیزوں سے مرادیں مانگی جائیں اور نیز یہ تعلیم جو نہایت گندی اور قابل شرم تعلیم ہے یعنے یہ کہ پرمیشر ناف سے دس انگل نیچے ہے (سمجھنے والے سمجھ لیں) ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی پہلے زمانہ میں یہی وید تھا۔ بلکہ ہماری مانے یہ ہے کہ یہ ایک محرف مبدل کتاب ہے جو کچھ تو باعتبار الفاظ کے اور کچھ باعتبار معنوں کے۔ اور ہمارے نزدیک ممکن اور اغلب ہے کہ کوئی اصل کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگی پھر کچھ گم کی گئی ہے اور کچھ زیادہ کی گئی۔ اور صورت بدلائی گئی ہے اور موجودہ وید بلاشبہ ایک گمراہ کرنیوالی کتاب ہے۔ جس میں پرمیشر کا بھی پتہ نہیں لگتا اور اس قدر مخلوق چیزوں کی اس میں پرستش کی تعلیم ہے کہ گویا وہ مخلوق پرستی کی ایک دوکان ہے پس جس جگہ ہم وید پر کوئی حملہ کرتے ہیں یا اُسکی تکذیب کے دلائل پیش کرتے ہیں اُس جگہ یہی موجودہ وید مراد ہے جو سراسر محرف مبدل ہے نہ وہ اصل وید جو کسی زمانہ میں خدا کی طرف سے آیا تھا اور ہم خدا کی تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور ایسا ہی اُس وید پر جو کسی زمانہ میں ملک ہند کے کسی نبی پر نازل ہوا ہو گا مگر موجودہ وید کی نسبت ہم اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جس قدر گندے فتوے مخلوق پرستوں کے اس ملک میں پھیلے ہوئے ہیں یہ سب وید کی ہی مہربانی ہے اور انسانی پاکیزگی کی نسبت جو کچھ وید نے سکھایا ہے اس کا عمدہ نمونہ نیوگ ہے۔ یہ نیوگ کی ہی پاک کارروائیوں میں سے ہے کہ آریہ قوم میں اس بات کا ثبوت ملنا مشکل ہے کہ کون آریہ صاحب اصل باپ کے نطفہ میں سے ہے۔ اور کون آریہ
چشمہ معرفت صفحہ 106 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 114 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 148 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 177)
۲۱
ایک معزز تاجر کے گھر میں اولاد نہیں ہوتی دوسری شادی کر نہیں سکتا کہ وید کی رو سے حرام ہے آخر نیوگ کی ٹھہرتی ہے یار دوست مشورہ دیتے ہیں کہ لالہ صاحب نیوگ کرالے اولاد بہت ہو جائیگی ایک بوند نطفہ کے لئے ہرسنگھ جو اسی محلہ میں رہتا ہے اس کام کے بہت لائق ہے لالہ بہاری لال نے اس سے نیوگ کیا تھا لڑکا پیدا ہو گیا پھر بیٹے کا پیدا ہوتے ہی مارے خوشی کے باغ باغ ہو گیا۔ بولا یہ سارا باغ آپ ہی نے سبز کیا ہے میں تو بستر سے مطلق واقف بھی نہیں۔ مہاراج مسکرا کر بولے کہ ہاں ہم سمجھا دیں گے رات کو آجائیے گا۔ ہرسنگھ کو خبر دی گئی وہ محلہ میں ایک مشہور قمار باز اول نمبر کا بدمعاش اور حرامکار تھا۔ سنتے ہی بہت خوش ہو گیا اور انہیں کاموں کو وہ چاہتا تھا پھر اس سے زیادہ اُس کو کیا چاہئے تھا۔ ایک نوجوان عورت اور پھر خوبصورت شام ہوتے ہی آموجود ہوئی۔ لالہ صاحب نے پہلے ہی دلالہ عورتوں کی طرح ایک کوٹھڑی میں نرم نرم بستر بچھا رکھا تھا اور کچھ دودھ اور حلوہ بھی دو برتنوں میں سرہانے کی طاق میں رکھ دیا تھا تاکہ بیچارہ تھکا ماندہ ہو تو کھا پی لیوے پھر کیا تھا آتے ہی مردک نے ننگ و ناموس کا شیشہ توڑ دیا اور وہ بدبخت عورت تمام رات اُس سے منہ کالا کراتی رہی اور اس پلید نے جو شہوت کا مارا تھا نہایت قابل شرم اس عورت سے حرکتیں کیں اور پھر باہر کے دالان میں سوئے اور تمام رات اپنے کانوں سے بیحیائی کی باتیں سنتے رہے بلکہ کتوں کی عادتوں سے مشابہت بھی کرتے رہے صبح وہ خبیث اچھی طرح ٹھیک ٹھاک بن کر حجرہ سے باہر نکلا لالہ تو منتظر ہی تھے دیکھ کر اُس کی طرف دوڑے اور بڑے ادب سے اس پلید بدمعاش کو کہا سردار صاحب رات کیا کیفیت گذری اُس نے مسکرا کر ہامی بھری اور اشاروں میں جتا دیا کہ تسلی ہو گیا لالہ بیوقوف یہ سنکر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تو اُسی دن سے آپ پر یقین ہو گیا تھا جبکہ میں نے بہاری لال کے گھر کی کیفیت سُنی تھی اور پھر کہا وید حقیقت میں گیان سے بھرا ہوا ہے کیا عمدہ تدبیر لکھی ہے جو خطا نہ گئی۔ ہرسنگھ نے کہا کہ ہاں لالہ صاحب سب سچ ہے کیا وید کی آگیا کبھی خطا بھی جاتی ہے میں تو انہی باتوں کے خیال سے وید کو سمست ودیاؤں کا پستک مانتا ہوں۔ اور دراصل ہرسنگھ ایک شہوت پرست آدمی تھا۔ اُس کو کسی وید شاستر اور شرتی شلوک کی پروا نہ تھی اور نہ اُن اپنشدوں کی جو خبیثوں نے لکھ دی ہیں کچھ پروا تھی بجز اس کے کہ کسی پرائی عورت سے ہم بستر ہونے کا مزہ لوٹے
یہ حوالہ صفحہ 149 پر درج ہے آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا 34 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 177)
۳۴
پر کچھ اعتقاد رکھتا تھا اُس نے صرف مال و دولت کی حفاظت کی باتیں سنکر اُس کے خوش کرنے کے لئے ہاں میں ہاں ملا دی مگر اپنے دل میں بہت ہنسا کہ اس دیوث کی بیٹی بننے کے لئے کہاں تک نوبت پہنچ گئی پھر اس کے بعد پرسنگہ تو رخصت ہوا اور لالہ گھر کی طرف خوش خوش آیا اور اُسے یقین تھا کہ اُس کی استری دھرم دتی بہت ہی خوشی کی حالت میں ہو گی کیونکہ مراد پوری ہوئی۔ لیکن اُس نے اپنے گمان کے برخلاف اپنی عورت کو روتے پایا اور اس کو دیکھ کر تو وہ بہت ہی روئی یہانتک کہ چیخیں نکل گئیں۔ اور ہچکی آنی شروع ہوئی۔ لالہ نے حیران سا ہو کر اپنی عورت کو کہا کہ ” ہے بھاگوان آج تو خوشی کا دن ہے کہ دل کی مرادیں پوری ہوئیں اور بیج ٹھہر گیا پھر تو روتی کیوں ہے۔ وہ بولی میں کیوں نہ روؤں تو نے سارے کنبے میں میری مٹی پلید کی اور اپنی ناک کاٹ ڈالی اور ساتھ ہی میری بھی اس سے بہتر تھا کہ میں پہلے ہی مر جاتی لالہ دیوث بولا کہ یہ سب کچھ ہوا مگر اب بچہ ہونے کی بھی کس قدر خوشی ہو گی وہ خوشیاں بھی تو تو ہی کرے گی مگر دھرم دتی شاید کوئی نیک اصل کی تھی اُس نے تُرّت جواب دیا کہ حرام کے بچہ پر کوئی حرام کا ہی ہو تو خوشی مناوے لالہ تیز ہو کر بولا کہ ہے ہے کیا کہہ دیا یہ تو وید آگیا ہے عورت کو یہ بات سُن کر آگ لگ گئی بولی میں نہیں سمجھ سکتی کہ یہ کیسا وید ہے جو بدکاری سکھلاتا اور زنا کاری کی تعلیم دیتا ہے یوں تو دنیا کے مذاہب ہزاروں باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں سُنا کہ کسی مذہب نے وید کے سِوا یہ تعلیم بھی دی ہو کہ اپنی پاکدامن عورتوں کو دوسروں سے ہمبستر کراؤ۔ آخر مذہب پاکیزگی سکھلانے کے لئے ہوتا ہے نہ بدکاری اور حرامکاری میں ترقی دینے کے لئے۔ جب دھرم دتی یہ سب باتیں کہہ چکی تو لالہ نے کہا کہ چُپ رہو اب جو ہونا سو ہوا۔ ایسا نہ ہو کہ شریک سُنیں اور میرا ناک کاٹیں۔ دھرم دتی نے کہا کہ اے بھڑویا کیا ابھی تک تیرا ناک تیرے مُنہ پر باقی ہے ساری رات تیرے شریک نے جو تیرا ہمسایہ اور تیرا پکا دشمن ہے تیری ہمیشہ کی بیاہتا اور عزت کے خاندان والی سے تیرے ہی بستر پر چڑھ کر تیرے ہی گھر میں خرابی کی اور ہر یک ناپاک حرکت کے وقت جتا بھی دیا کہ میں نے خوب بدلہ لیا۔ سو کیا اس بے غیرتی کے بعد بھی تو جیتا ہے۔ کاش تو اس سے پہلے ہی مرا ہوتا۔ اب وہ شریک اور پھر دشمن باتیں بنانے اور ٹھٹھا مارنے سے کب باز رہے گا بلکہ وہ تو کہہ گیا ہے
آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا 34 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 149 پر درج ہے
حوالہ نمبر 177
۲۳
کہ میں اس فتح عظیم کو چھپا نہیں سکتا کہ جو آج وساول کے مقابل پر مجھے حاصل ہوئی۔ میں ضرور رام دئی کا سارا نقشہ محلہ کے لوگوں پر ظاہر کروں گا سو یاد رکھ کہ وہ ہر ایک مجلس میں تیرا ناک کاٹے گا اور ہر ایک لڑائی میں یہ قصہ تجھے جتائے گا اور اُس سے کچھ تعجب نہیں کہ وہ دعوے کر دے کہ رام دئی میری ہی عورت ہے کیونکہ وہ اشارہ سے یہ کہہ بھی گیا ہے کہ آئندہ بھی میں تجھے کبھی نہیں چھوڑونگا۔ اور پنڈت نے کہا کہ نکاح کا دعویٰ ثابت ہونا تو مشکل ہے البتہ یارانہ کا اظہار کرے تو کرے تا ہماری اور بھی رسوائی ہو بہتر تو یہ ہے کہ ہم دیش ہی چھوڑ دیں۔ بیٹا ہونے کا خیال تھا وہ تو ایشر نے دے ہی دیا بیٹے کا نام شکر نعمت نہ ہو خندہ ہنسی اور کیا کہ تجھے کس طرح اور کیونکر یقین ہوا کہ ضرور بیٹا ہوگا اول تو پیٹ ہونے میں ہی شک ہے اور پھر اگر ہو بھی تو اس بات پر کوئی دلیل نہیں کہ لڑکا ہی ہوگا کیا بیٹا ہونا کسی کے اختیار میں رکھا ہے کیا ممکن نہیں کہ حمل ہی غلط جائے یا لڑکی پیدا ہو لالہ دیوث بولے کہ اگر حمل غلط گیا تو میں کھڑک سنگھ کو جو اسی محلہ میں رہتا ہے نیوگ کے لئے بلوا لوں گا عورت نہایت غصہ سے بولی کہ اگر کھڑک سنگھ بھی کچھ نہ کر سکا تو پھر کیا کریگا لالہ بولا کہ تو جانتی ہے کہ قزاقی سنگہ بھی ان دنوں سے کم نہیں اس کو بلا لاؤں گا۔ پھر اگر ضرورت پڑی تو چہیل سنگہ ۔ بسا سنگہ ۔ بوڑ سنگہ ۔ جیون سنگہ تیجا سنگہ ۔ بھون سنگہ ۔ رتن سنگہ ۔ رام سنگہ ۔ کشن سنگہ ۔ دیال سنگہ سب اسی محلہ میں رہتے ہیں اور زور اور قوت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں میرے کہنے پر سب حاضر ہو سکتے ہیں عورت بولی کہ میں اس سے بہتر تجھے صلاح دیتی ہوں کہ مجھے بازار میں ہی بٹھا دے تب دس بیس کیا ہزاروں لاکھوں آ سکتے ہیں منہ کالا جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا مگر یاد رکھ کہ بیٹا ہونا پھر بھی اپنے بس میں نہیں اور اگر ہوا بھی تو تجھے اُس سے کیا جس کا وہ نطفہ ہے آخر وہ اُسی کا ہوگا اور اُسی کی خو بو لے گا کیونکہ درحقیقت وہ اُسی کا بیٹا ہے اس کے بعد رام دئی نے کچھ سوچ کر پھر رونا شروع کیا اور زار و قطار روئی اور آواز سُن کر ایک پنڈت نہال چند نام دوڑا آیا اور آتے ہی کہا کہ لالہ سکھ تو ہے یہ کیسی رونے کی آواز آئی۔ لالہ یہ کہنا چاہتا تو نہیں تھا کہ نہال چند کے آگے قصہ بیان کرے مگر اس خوف سے کہ رام دئی اس وقت غصہ میں ہے اگر میں بیان نہ کروں تو وہ ضرور بیان کر دے گی کچھ کھسیانا سا ہو کر زبان دبا کر
یہ حوالہ صفحہ 149 پر درج ہے آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا 34 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 177)
۳۴
کہنے لگا کہ مہاراج آپ جانتے ہیں کہ وید میں وقت ضرورت نیوگ کیلئے آگیا ہے۔ سو میں نے بہت دنوں سوچ کر رات کو نیوگ کر لیا تھا مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے نیوگ کے لئے مہر سنگھ کو بلا لیا مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ میرے دشمن کرم سنگھ کا بیٹا اور نہایت شریر آدمی ہے وہ مجھے اور میری استری کو ضرور خراب کریگا اور وہ وعدہ کر گیا ہے کہ میں یہ ساری کیفیت خوب شایع کروں گا نہال چند بولا کہ درحقیقت بڑی غلطی ہوئی اور پھر بولا کہ وساخا مل تیری سمجھ پر نہایت ہی افسوس ہے کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ نیوگ کے لئے پہلا حق برہمنوں کا ہے اور غالباً یہ بھی تجھ پر پوشیدہ نہیں ہوگا کہ اس محلہ کی تمام کھترانی عورتیں مجھ سے ہی نیوگ کراتی ہیں اور میں دن رات اسی سیوا
حوالہ نمبر 178
۲۶۰
۱۸۹۸ء
(الف)۱ " وَاَوْحٰى اِلَىَّ رَبِّىْ وَ وَعَدَنِىْ اَنَّهٗ سَيَنْصُرُنِىْ حَتّٰى يَبْلُغَ اَمْرِىْ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا ۔ وَ تَتَمَوَّجُ بُحُوْرُ الْحَقِّ حَتّٰى يَعْجَبَ النَّاسُ حَبَابَ غَوَارِبِهَا ۔ "
(حجۃ اللہ صفحہ ۶ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۱۴۸)
اب۲ ! حضرت اقدس مامورالزمان سلمہ الرحمٰن واللہ کریم نے وعدہ دیا ہے کہ
میں دیکھتا ہوں کہ اس مقدس الہام کے پورا ہونے کی بہت سی صورتیں نکلتی آتی ہیں :
(الحکم جلد ۲ نمبر ۷-۸ مورخہ ۲۴ مارچ و ۵ اپریل ۱۸۹۸ء صفحہ ۱۳)
(الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۴ ، ۲۵ مورخہ ۲۰ ، ۲۷ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۴)
۲۱ جنوری ۱۸۹۹ء ۴
"میں نے تہجد میں اس۳ سے متعلق دعا کی تو الہام ہوا :-
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ
اب خیال ہوتا ہے کہ وہ الہام جو ہوا تھا کہ
شاید اس سے متعلق ہو۔"
(الحکم جلد ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۱)
۱ (ترجمہ از مرتب) میرے ربّ نے میری طرف وحی بھیجی، اور وعدہ فرمایا کہ وہ مجھے مدد دے گا یہاں تک کہ میرا کلام مشرق ومغرب میں پہنچ جائے گا اور راستی کے دریا موج میں آئیں گے یہاں تک کہ اس کی موجوں کے حباب لوگوں کو تعجب میں ڈالیں گے۔
۲ یعنی ایڈیٹر الحکم۔ (مرتب)
۳ یعنی طاعون کے متعلق۔ (مرتب)
۴ نواب محمد علی خان صاحب آف مالیرکوٹلہ کی ڈائری سے معلوم ہوتا ہے کہ اس الہام کے نزول کی تاریخ ۱۴ جنوری ہے۔ دیکھئے اصحاب احمد جلد۴/۵ ۔ (مرتب)
تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 260 طبع چہارم از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 152 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 179)
نسیم دعوت ۴۴۸
مثلاً دانت توڑ دے۔ یا آنکھ پھوڑ دے تو اس کی سزا اسی قدر بدی ہے جو اسکی کی۔ لیکن اگر تم ایسی صورت میں گناہ معاف کر دو۔ کہ اس معافی کا کوئی نیک نتیجہ پیدا ہو۔ اور اس سے کوئی اصلاح ہو سکے۔ یعنی مثلاً مجرم آئندہ اس عادت سے باز آجائے۔ تو اس صورت میں معاف کرنا ہی بہتر ہے۔ اور اس معاف کرنے کا خدا سے اجر ملے گا۔ اب دیکھو۔ اِس آیت میں دونوں پہلو کی رعایت رکھی گئی ہے اور عفو اور انتقام کو مصلحتِ وقت سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔ سو یہی حکیمانہ مسلک ہے جسپر نظامِ عالم کا چلن ہے۔ رعایت محل اور وقت سے گرم اور سرد دونوں کا استعمال کرنا یہی عقلمندی ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ہم ایک ہی قسم کی غذا پر ہمیشہ زور نہیں ڈال سکتے۔ بلکہ حسبِ موقعہ گرم اور سرد غذائیں بدلتے رہتے ہیں۔ اور جاڑے اور گرمی کے وقتوں میں کپڑے بھی مناسبِ حال بدلتے رہتے ہیں۔ پس اسی طرح ہماری اخلاقی حالت بھی حسبِ موقع تبدیلی کو چاہتی ہے۔ ایک وقت رعب دکھلانے کا مقام ہوتا ہے۔ وہاں نرمی اور درگزر سے کام بگڑ جاتا ہے۔ اور دوسرے وقت نرمی اور تواضع کا موقع ہوتا ہے۔ اور وہاں رعب دکھلانا سِفلہ پن سمجھا جاتا ہے۔ غرض ہر ایک وقت اور ہر ایک مقام ایک بات کو چاہتا ہے۔ پس جو شخص رعایتِ مصالح اوقات نہیں کرتا۔ وہ حیوان ہے۔ نہ انسان ۔ اور وہ وحشی ہے نہ مہذب۔
اب ہم آریہ مذہب میں کلام کرتے ہیں۔ کہ اس میں انسانی پاکیزگی اور انسانی نیک چلنی کیلئے کیا تعلیم ہے۔ پس واضح ہو۔ کہ آریہ سماج کے اصولوں میں سے نہایت قبیح اور قابل شرم نیوگ کا مسئلہ ہے۔ جس کو پنڈت دیانند صاحب نے بڑی جُرأت کے ساتھ اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں درج کیا ہے۔ اور وید کی قابلِ فخر تعلیم اس کو ٹھہرایا ہے۔ اور اگر وہ اُس مسئلہ کو صرف بیوہ عورتوں تک محدود رکھتے۔ تب بھی ہمیں کچھ غرض نہیں تھی کہ ہم اس میں کلام کرتے۔ مگر انہوں نے تو اس اصولی، انسانی فطرت کے دشمن کو،
۷۸
نسیم دعوت صفحہ 78 تا 80 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 438 تا 440 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 179)
۴۳۹ نسیم دعوت
انتہا تک پہنچادیا۔ اور حیا اور شرم کے جامہ سے بالکل علیحدہ ہوکر یہ بھی لکھدیا کہ ایک عورت جو خاوند زندہ رکھتی ہے۔ اور وہ کسی بدنی عارضہ کی وجہ سے اولاد نرینہ پیدا نہیں کرسکتا۔ مثلاً لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہیں۔ یا بباعث رقت منی کے اولاد ہی نہیں ہوتی۔ یا وہ شخص گو جماع پر قادر ہے۔ مگر بانجھ عورتوں کی طرح ہے۔ یا کسی اور سبب سے اولاد نرینہ ہونے میں توقف ہوگئی ہے۔ تو ان تمام صورتوں میں اس کو چاہئے ۔ کہ اپنی عورت کو کسی دوسرے سے ہم بستر کراوے۔ اور اس طرح پر وہ غیر کے نطفہ سے گیارہ بچے٭ حاصل کرسکتا ہے گویا قریباً بیس برس تک اس کی عورت دوسرے سے ہم بستر ہوتی رہیگی ۔ جیسا کہ ہم نے مفصل کتاب کے حوالہ سے یہ تمام ذکر اپنے رسالہ آریہ دھرم میں کر دیا ہے اور حیا مانع ہے کہ ہم اس جگہ وہ تمام تفصیلیں لکھیں۔ غرض اسی عمل کا نام نیوگ ہے۔
اب ظاہر ہے کہ یہ اصول انسانی پاکیزگی کی بیخکنی کرتا ہے اور اولاد پر ناجائز ولادت کا داغ لگاتا ہے ۔ اور انسانی فطرت اس بے حیائی کو کسی طرح قبول نہیں کرسکتی۔ کہ ایک انسان کی ایک عورت منکوحہ ہو جس کے بیاہنے کے لئے وہ گیا تھا۔ اور والدین نے صدہا یا ہزار ہا روپیہ خرچ کرکے اس کی شادی کی تھی جو اس کے ننگ و ناموس کی جگہ تھی۔ اور اس کی عزت و آبرو کا مدار تھا۔ وہ با وجودیکہ اس کی بیوی ہے۔ اور وہ خود منہ زندہ موجود ہے۔ اس کے سامنے رات کو دوسرے سے ہم بستر ہو وے اور غیر انسان اس کے ہوتے ہوئے اسی کے مکان میں اس کی بیوی سے منہ کالا کرے۔ اور وہ آوازیں سنے اور خوش ہو۔ کہ اچھا کر رہا ہے۔ اور یہ تمام ناجائز حرکات اس کی آنکھوں کے سامنے ہوں۔ اور اس کو کچھ بھی جوش نہ آوے۔ اب بتلاؤ کہ کیا ایسا شخص جس کی منکوحہ اور مہروں
٭ مجھے ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں کہ نیوگ میں یعنی اپنی بیوی کو دوسرے سے ہم بستر کروا کر صرف گیارہ بچوں تک لینے کا حکم ہے یا زیادہ۔ مدت ہوئی ۔ کہ میں نے ستیارتھ پرکاش میں پڑھا تھا ۔ مگر حافظہ اچھا نہیں یاد نہیں رہا۔ آریہ صاحبان خود مطلع فرماویں۔ کیونکہ بوجہ روز کی مشق کرانے کے انکو خوب یاد ہوگا۔ منہ
۷۹
نسیم دعوت صفحہ 78-80 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 438 تا 440 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 179)
نسیم دعوت ۴۰ کے ساتھ بیاہی ہوئی بیوی اسکی آنکھوں کے سامنے دوسرے کے ساتھ خراب ہو۔ کیا اسکی انسانی غیرت اس بیحیائی کو قبول کریگی۔ دیکھو رامچندر نے اپنی بیوی سیتا کیلئے کس قدر غیرت دکھلائی۔ حالانکہ راون ایک برہمن تھا۔ اور سیتا کی ابھی کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ اور بموجب اس قاعدہ کے برہمن سے نیوگ جائز تھا، تاہم رامچندر کی غیرت نے اپنی پاکدامن بیوی کیلئے راون کو قتل کیا ۔ اور لنکا کو جلا دیا ۔ وہ شخص انسان کہلانے کا مستحق نہیں جس کو اپنی بیوی کیلئے بھی غیرت نہیں۔ اور کیا وجہ کہ اس کا نام دیوث نہ رکھا جاوے۔ حیوانوں میں بھی یہ غیرت مشاہدہ کی گئی ہے۔ پرندوں میں بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک پرندہ روا نہیں رکھتا کہ دوسرا پرندہ اس کی مادہ سے تعلق پیدا کرے۔ پھر انسان ہو کر یہ حیا سے دُور حرکت کیا کوئی پاک فطرت اس کو قبول کریگی۔ اور دیانند کا یہ لکھنا کہ یہ وید کی شُرتی ہے ہم نہیں قبول کر سکتے کہ ایسی کوئی شُرتی وید میں ہو گی۔ نادانوں میں پنڈت دیانند نے جس قدر چاہا لافیں مارلیں۔ ورنہ کامل علمی فضیلت حاصل کرنا جو انسان کے دل کو روشن کرتی ہے۔ ہر ایک کا کام نہیں۔ بعض الفاظ کے بہت سے معنے ہوتے ہیں۔ اور ایک جاہل اپنی جلد بازی اور جہالت سے ایک معنے کو پسند کر لیتا ہے۔ پس ایسا شخص جس میں مادہ حیاء کا کم ہو۔ اُسے محسوس نہیں ہوتا کہ یہ میرا قول شرافت اور طہارت سے بعید ہے۔ مگر اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے قابل شرم امر پر دیانند نے کیوں زور دیا۔ اور کیوں دلیری کر کے یہ گندی تعلیم اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لکھدی۔ پس جہانتک میں نے سوچا ہے۔ میرے خیال میں اس کا یہ جواب ہے کہ چونکہ پنڈت دیانند تمام عُمر
۷۰
مجرد رہا ہے۔ اور بیوی نہیں کی ۔ لہذا اس کو اس غیرت کی خبر نہیں تھی کہ جو ایک شریف اور غیور انسان کو اپنی بیوی کی نسبت ہوا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کی ناتجربہ کار فطرت نے محسوس نہ کیا۔ کہ میں کیا لکھ رہا ہوں۔ دیانند کو معلوم نہیں تھا کہ اپنی بیویوں کی نسبت تو کنجروں کو بھی غیرت ہوتی ہے۔ بلکہ بہت سے لوگ جو بازاری عورتوں ۸۰ نسیم دعوت صفحہ 78-80 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 438 تا 440 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 180)
۷۲
قانون چھاؤنی
بغاوت کے احتمال ہونے پر ولایت کے نامور اور سر بر آوردہ اخبار ٹائیمز نے جس زور شور سے قانون چھاؤنی کو پھر جاری کرنے کے سلسلہ میں اپیل کی ہے وہ ناظرین پر ظاہر کی جا چکی ہے۔ کنسرویٹو وزارت سے جو سرکاری عہدہ داران کی رائے کو ہمیشہ بڑی وقعت سے دیکھتی ہے امید ہو سکتی ہے کہ بالضرور وہ اس معاملہ پر اچھی طرح غور کرے گی۔ کیونکہ اس قانون کی منسوخی کے وقت سر جارج وائٹ صاحب کمانڈر انچیف افواج ہند نے جو پر زور مخالفانہ رائے ظاہر کی تھی وہ اس قابل ہے کہ ضرور کنسرویٹو گورنمنٹ اس پر توجہ کرے گورنمنٹ ہند بھی اس قانون کے منسوخ کرنے پر رضامند نہ تھی پس ان واقعات کی رو سے پورے طور پر خیال ہو سکتا ہے کہ قانون چھاؤنی پھر جاری کیا جاوے اس میں شک نہیں ہے کہ قانون چھاؤنی کے منسوخ ہونے کے دن سے گورہ سپاہیوں کی حالت بہت خراب ہو گئی ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ فیصدی پیچھے دس سپاہی بازاروں میں آتشک کی مریض فاحشہ عورتوں کے ساتھ خراب ہوتے پھرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ حسب رائے کمانڈر انچیف صاحب بہادر بہت خوفناک نکلنے کی امید ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ سرکاری طور پر ہمیں اس بات کی خبر نہیں ملی کہ سال گزشتہ میں کتنے گورے سپاہی مرض آتشک میں مبتلا ہوئے۔ گو مخالفان قانون چھاؤنی نے ہم پر بنگال کی گورہ فوج کی صحت کو دیکھ کر نہایت مسرت ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ مؤیدان قانون چھاؤنی کی یہ رائے کہ اس قانون کے منسوخ ہونے سے تمام گورہ سپاہ مرض آتشک وغیرہ میں مبتلا ہو جاوے گی۔ غلط ٹھہرتی ہے۔ مگر یہ واقعہ اس قابل نہیں ہے کہ جس سے تشفی ہو سکے کیونکہ مہم چترال میں چیدہ اور تندرست جوان بھیجے گئے تھے نیز لڑائی اور جنگی ملک کی وجہ سے وہ کہیں خراب ہو کر بیمار نہیں ہو سکتے تھے۔ اس امر کا کسے اعتراف نہیں کہ گورے سپاہی جو کہ بالکل کم تعلیم یافتہ اور دیہاتی نوجوان ہیں نیز بوجہ گوشت خور ہونے کے وہ زیادہ گرم مزاج کے ہیں۔ اس لئے اُن سے نفسانی خواہش روکے رکھنے کی امید رکھنا محض و محال ہے۔ قانون چھاؤنی کے جاری ہونے کے دنوں ہر ایک گورہ پلٹن کے لئے کئی عورتیں ملازم رکھی جاتی تھیں جن کا ہمیشہ ڈاکٹری معائنہ ہوتا رہتا تھا اور تمام گورہ لوگوں کو ان ملازم رنڈیوں کے علاوہ اور جگہ
یہ حوالہ صفحہ 154 پر درج ہے
آریہ دھرم صفحہ 72 تا 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 72 تا 75 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 180
۷۳
جانے کی بھی شاید ممانعت تھی۔ اس طریقہ سے ان کی صحت میں کسی قسم کا خلل واقع نہیں ہوتا تھا۔ نیز اس طریق کے برباد ہونے کی وجہ سے اور بھی کئی ایسی وارداتیں ہوئی ہیں جن سے اہل ہند کی طرف سے صدائے سخت ناراضی پھیلتی جاتی ہے جن میں سے میانہ کا مقدمہ زنا بالجبر جو گورہ سپاہیوں کی طرف سے ایک پرموت بڑھئی اور اندھی عورت سے کیا گیا تھا۔ قابل غور ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ مدراس کے صوبہ میں ہوا جہاں ایک ریلوے پھاٹک کے چوکیدار نے ہندوستانی عورتوں کی عصمت بچانے میں اپنی جان دے دی تھی۔ اگرچہ نئے گورے سپاہیوں کے لئے انتظام سرکاری طور پر نہ کیا گیا تو علاوہ اس کے کہ تمام فوج بیماری سے ناکارہ ہو جائے ملک میں بڑی بھاری بددلی پھیلنے کا اندیشہ ہے اور یہ دونوں امر قیام سلطنت کے لئے غیر مفید ہیں ۔ اسی وقت جبکہ قانون چھاونی کو پھر جاری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمیں یہ ظاہر کر دینا بھی نہایت ضروری ہے کہ اگر اب پھر قانون مذکور جاری کیا جاوے تو گورنمنٹ ہند اور خصوصاً کمانڈر انچیف افواج ہند کو یہ بھی ضرور انتظام کرنا چاہیے کہ بجائے ہندوستانی عورتوں کے یورپین عورتیں ملازم رکھی جاویں کیونکہ قانون چھاونی کے متعلق ہندوستانی اور انگریز مخالفین کا سب سے بڑا اعتراض یہی تھا کہ ہندوستان کی غریب عورتوں کو دلالہ عورتوں کے ذریعہ سے اس فحش ملازمت کی ترغیب دی جاتی ہے اور بعض اوقات نہایت کمینہ فریبوں سے اچھے گھروں کی یتیم لڑکیوں کو اس پیشہ کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اور یہی وجہ تھی جس سے ہند کے بہت سے باشندگان نے قانون چھاونی کی منسوخی میں معمول سے بڑھ کر انٹرسٹ لیا تھا۔ علاوہ کسی معمولی سمجھ کے آدمی کو بھی ان بدمعاش عورتوں سے ہرگز ہمدردی نہیں ہو سکتی تھی۔ قانون چھاونی کے مکرر اجراء کی کوشش محض اس غرض سے کی جاتی ہے کہ گورہ سپاہیوں کی خواہش نفسانی کو پورا کرنے کے لئے سرکاری طور پر انتظام کیا جاوے ورنہ دیسی لوگوں کی بہتری کا اس میں ذرا بھی خیال نہیں۔ اس لئے اگر مخالفین قانون مذکور کی دلجوئی گورنمنٹ کو منظور ہو۔ تو یہی ایک طریق ہے جس سے نیا قانون مذکور کے جاری کرنے کے مقصد مطلوبہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اگر حسب تجویز ہماری کے یورپین سپاہیوں کے لئے یورپین عورتیں بہم پہنچائی جائیں تو ان سے مرض آتشک کا خدشہ نہیں رہ سکتا کیونکہ ایک تو یورپ میں مرض مذکور شاید ہو گا ہی نہیں دوم ان عورتوں کو بروقت بھرتی ہونے کے طبیب
آریہ دھرم صفحہ 72 تا 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 72 تا 75 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 154 پر درج ہے
حوالہ نمبر 180 ۷۴ ڈاکٹروں کے ذریعہ سے فوجی سپاہیوں کے ملاحظہ کرنا جاوے گا اس سے فریقین کے مرض مذکور سے پاک ہونے کی وجہ سے ڈاکٹری معائنہ کی ہمیشہ کے لئے ضرورت ہی نہ رہے گی۔ اس طرح بغیر قانون دکھائی جاری کرنے کے سپاہیوں کی خواہش نفسانی کے لئے عمدہ طور سے انتظام ہو سکتا ہے۔
اس بات سے تو کوئی انکار ہی نہیں کر سکتا کہ ولایت میں مثل ہندوستان کے فاحشہ عورتیں موجود ہیں۔ اس لئے گورنمنٹ کو اس
(حوالہ نمبر 180)
۷۵
ایک بدکار عورت کو خوف ہوتا تھا کہ آئندہ فاحشہ پیشہ اختیار کرے گی تو اُسے قانون دکھانی کی سخت آزمائش جھیلنی پڑے گی ۔ گو یہ چند ہی عورتیں اس خوف کی وجہ سے اپنی زندگی خراب کرنے سے رُکی رہتی تھیں ۔ پس اب ان میں چکلہ بٹھانے کا طریق بند ہے ۔ مرض آتشک کے ادویات کے اشتہارات کثرت سے شائع ہوتے ہیں ۔ جو اس امر کا کافی ثبوت ہیں کہ ملک میں مرض آتشک بہت پھیلا ہوا ہے اول تو ہمیں اس خراب فرقہ کے وجود سے ہی سخت اختلاف ہے مگر ایسے زمانہ میں جبکہ اخلاق اور مذہب کی سخت کمزوری ہو رہی ہے یہ امید کرنا فضول ہے کہ یہ شیطانی فرقہ نیست و نابود ہو جائے گا اس لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ اُن کے لئے کوئی ایسا قانون بنایا جائے جس سے یہ اخلاق اور مذہب کو بگاڑنے کے علاوہ عوام کی صحت کو ہمیشہ کے لئے خراب کرنے کے قابل نہ رہ سکیں اور وہ قانون صرف قانون دکھانی ہی ہے ۔ ہم نہایت شکر گزار ہوں گے اگر وہ بل ہند میں قانون دکھانی جاری کیا جاوے گا۔ مگر یہ شرط ضرور ساتھ ہے کہ گورہ لوگوں کے لئے یورپین رنڈیاں بہم پہونچائی جاویں۔ یقین ہے کہ گورنمنٹ ہند اور معزز ممبران اس معاملہ پر ضرور توجہ اور غور فرماویں گے۔
جس کے دیں میں ہے ایسی بے شرمی عقل و تہذیب سے وہ عاری ہے
جن کو آتی نہیں نیوگ سے عار اُن کی شیطان نے عقل ماری ہے
بید کی کھل گئی حقیقت ساری اب تو ناحق کی پردہ داری ہے
جس کے باعث یہ گندگی پھیلی وہ تو اک خبیث کی پٹاری ہے
دوسرا بیاہ کیوں حرام ہو جبکہ رسم نیوگ جاری ہے
کیوں نہ پوشیدہ ہو نیوگ کی رسم اس کے اظہار میں تو خواری ہے
چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے
آریہ سے یہ خبیث اور بد رسم ہند کے جاہلوں میں ساری ہے
آریہ دھرم صفحہ ۷۲ تا ۷۵ مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۷۲ تا ۷۵ از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ ۱۵۴ پر درج ہے
حوالہ نمبر 181
ضمیمہ براہین احمدیہ ۱۸۸ حصہ پنجم
وہ اس تخم کی طرح ہے جس نے ہنوز زمین سے کوئی تعلق نہیں پکڑا۔ اور ابھی وہ رحم کی کشش سے بے بہرہ نہیں ہوا۔ ممکن ہے کہ وہ اندام نہانی میں پڑ کر ضائع ہو جائے۔ جیسا کہ تخم بعض اوقات پتھریلی زمین پر پڑ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ نطفہ بذاتہا ناقص ہو یعنی اپنے اندر ہی کچھ نقص رکھتا ہو اور قابل نشوونما نہ ہو۔ اور یہ استعداد اس میں نہ ہو کہ رحم اس کو اپنی طرف جذب کر لے ۲۳ اور صرف ایک مُردہ کی طرح ہو جس میں کچھ حرکت نہ ہو۔ جیسا کہ ایک بوسیدہ تخم زمین میں بویا جائے۔ اور گو زمین عمدہ ہو مگر تاہم تخم بوجہ اپنے ذاتی نقص کے قابل نشوونما نہیں ہوتا یہ ممکن ہے کہ بعض اور عوارض کی وجہ سے جن کی تفصیل کی ضرورت نہیں نطفہ رحم میں تعلق پذیر نہ ہو سکے اور رحم اسکو اپنی کشش سے محروم رکھے۔ جیسا کہ تخم بعض موذی کیڑوں کے پنجہ کھایا جاتا ہے۔ یا پرندے اس کو چگ جاتے ہیں یا کسی اور حادثہ سے تلف ہو جاتا ہے۔
یہی صفات مومن کے روحانی وجود کے اوّل مرتبہ کے ہیں جو اوّل مرتبہ روحانی وجود کا جو خشوع اور رقّت اور سوز و گداز کی حالت ہے جو نماز اور یادِ الٰہی میں مومن کو میسر آتی ہے یعنی گدازش اور رقّت اور فروتنی اور عجز و نیاز اور رُوح کا انکسار اور ایک تڑپ اور تپش اپنے اندر پیدا کرنا۔ اور ایک خوف کی حالت اپنے پر وارد کر کے خدا عزوجل کی طرف دل کو جھکانا جیسا کہ اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِيْنَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ۔ یعنی وہ مومن مراد پا گئے جو اپنی نمازوں میں اور ہر ایک طور کی یادِ الٰہی میں فروتنی اور عجز و نیاز اختیار کرتے ہیں۔ اور رقّت اور سوز و گداز اور قلق اور کرب اور دلی جوش سے اپنے ربّ کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔ یہ خشوع کی حالت جس کی تعریف کا اوپر اشارہ کیا گیا ہے روحانی وجود کی تیاری کے لئے پہلا مرتبہ ہے یا یوں کہو کہ وہ پہلا تخم ہے جو عبودیت کی زمین میں بویا جاتا ہے اور وہ اجمالی طور پر ان تمام قویٰ اور صفات اور اعضاء اور تمام نقش و نگار اور حسن و جمال اور خط و خال اور شمائل روحانی پر مشتمل ہے
تفسیر براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 188 تا 190 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 188 تا 190 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 157 پر درج ہے
حوالہ نمبر 181
ضمیمہ براہین احمدیہ ۱۸۹ حصہ پنجم
جو پانچویں اور چھٹے درجہ میں انسان کامل کے لئے نمودار طور پر ظاہر ہوتے اور اپنے دلکش پیرایہ میں تجلی فرماتے ہیں۔ اور چونکہ وہ نطفہ کی طرح روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے اس لئے وہ آیت قرآنی میں نطفہ کی طرح پہلے مرتبہ پر رکھا گیا ہے۔ اور نطفہ کے مقابل پر دکھایا گیا ہے یا وہ لوگ جو قرآن شریف میں غور کرتے ہیں سمجھ لیں کہ نماز میں خشوع کی حالت روحانی وجود کے لئے ایک نطفہ ہے اور نطفہ کی طرح روحانی طور پر انسان کامل کے تمام قویٰ اور صفات اور تمام نقش و نگار اس میں مخفی ہیں۔ اور جیسا کہ نطفہ اُس وقت تک معرض خطر میں ہے جب تک کہ رحم سے تعلق نہ پکڑے۔ ایسا ہی روحانی وجود کی یہ ابتدائی حالت یعنی خشوع کی حالت اُس وقت تک خطرہ سے خالی نہیں جب تک کہ رحیم خدا سے تعلق نہ پکڑے۔ یاد رہے کہ جب خدا تعالیٰ کا فیضان بغیر توسط کسی عمل کے ہو تو وہ رحمانیت کی صفت سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ جو کچھ خدا نے زمین و آسمان وغیرہ انسان کے لئے بنائے یا خود انسان کو بنایا۔ یہ سب فیض رحمانیت سے ظہور میں آیا۔ لیکن جب کوئی فیض کسی عمل اور عبادت اور مجاہدہ اور ریاضت کے عوض میں ہو وہ رحیمیت کا فیض کہلاتا ہے۔ یہی سنت اللہ بنی آدم کے لئے جاری ہے پس جبکہ انسان نماز اور یاد الٰہی میں خشوع کی حالت اختیار کرتا ہے تب اپنے تئیں رحیمیت کے فیضان کے لئے مستعد بناتا ہے۔ سو نطفہ میں اور روحانی وجود کے پہلے مرتبہ میں جو حالت خشوع ہے صرف فرق یہ ہے کہ نطفہ رحم کی کشش کا محتاج ہوتا ہے اور یہ رحیم کی کشش کی طرف احتیاج رکھتا ہے اور جیسا کہ نطفہ کے لئے ممکن ہے کہ وہ رحم کی کشش سے پہلے ہی ضائع ہو جا
٭ پانچواں درجہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں وہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے یعنے وَالَّذِيْنَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُوْنَ ۔ اور چھٹا درجہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں وہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے یعنے وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ۔ اور یہ پانچواں درجہ جسمانی درجات کے پنجم درجہ کے مقابل پر ہوتا ہے جس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے یعنے فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ۔ اور چھٹا درجہ جسمانی درجات کے ششم درجہ کے مقابل پر پڑتا ہے جس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ ۔ منہ
ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 188، 190 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 188، 190 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 157 پر درج ہے
حوالہ نمبر 181
ضمیمہ براہین احمدیہ 140 حصہ پنجم
ایسا ہی روحانی وجود کے پہلے مرتبہ کے لئے یعنی حالت خشوع کے لئے ممکن ہے کہ وہ رحیم کی کشش اور تعلق سے پہلے ہی برباد ہو جائے۔ جیسا کہ بہت سے لوگ ابتدائی حالت میں اپنی نمازوں میں روتے اور وجد کرتے اور نعرے مارتے اور خدا کی محبت میں طرح طرح کی دیوانگی ظاہر کرتے ہیں اور طرح طرح کی عاشقانہ حالت دکھلاتے ہیں اور چونکہ اس ذات ذوالفضل سے جس کا نام رحیم ہے کوئی تعلق پیدا نہیں ہوتا اور نہ اس کی خاص تجلی کے جذبہ سے اس کی طرف کھینچے جاتے ہیں اس لئے ان کا وہ تمام سوزوگداز اور تمام وہ حالت خشوع بے بنیاد ہوتی ہے اور بسا اوقات ان کا قدم پھسل جاتا ہے یہاں تک کہ پہلی حالت سے بھی بدتر حالت میں جا پڑتے ہیں۔ پس یہ عجیب دلچسپ مطابقت ہے کہ جیسا کہ نطفہ جسمانی وجود کا اوّل مرتبہ ہے اور جب تک رحم کی کشش اُس کی دستگیری نہ کرے وہ کچھ چیز ہی نہیں ۲۵۰ ایسا ہی حالت خشوع روحانی وجود کا اوّل مرتبہ ہے اور جب تک رحیمِ خدا کی کشش اُسکی دستگیری نہ کرے وہ حالت خشوع کچھ بھی چیز نہیں۔ اسی لئے ہزارہا ایسے لوگوں کو پاؤ گے کہ اپنی عمر کے کسی حصہ میں یاد الٰہی اور نماز میں حالت خشوع سے لذّت اٹھاتے اور وجد کرتے اور روتے تھے اور پھر کسی ایسی لعنت نے اُن کو پکڑ لیا کہ یک مرتبہ نفسانی امور کی طرف گر گئے اور دنیا اور دنیا کی خواہشوں کے جذبات سے یہ تمام حالت کھو بیٹھے۔ یہ نہایت خوف کا مقام ہے کہ اکثر وہ حالت خشوع رحیمیت کے تعلق سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے اور قبل اس کے کہ رحیم خدا کی کشش اس میں کچھ کام کرے وہ حالت برباد اور نابود ہو جاتی ہے اور ایسی صورت میں وہ حالت جو روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے اس نطفہ سے مشابہت رکھتی ہے کہ جو رحم سے تعلق پکڑنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ غرض روحانی وجود کا پہلا مرتبہ جو حالتِ خشوع ہے اور جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ جو نطفہ ہے باہم اس بات میں مشابہ رکھتے ہیں کہ جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ یعنی نطفہ بغیر کشش رحم کے ہیچ ہے اور روحانی وجود کا پہلا مرتبہ یعنی حالت خشوع بغیر جذبِ رحیم کے ہیچ اور جیسا کہ دنیا میں ہزارہا نطفے تباہ ہوتے ہیں
ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 188 تا 190 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 188 تا 190 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 157 پر درج ہے
حوالہ نمبر 182
ضمیمہ براہین احمدیہ ۱۹۲ حصہ پنجم
کردہ ہیں اس لئے وہ باوجود اپنے طور کے وجد اور رقص اور اشعار خوانی اور سرود وغیرہ کے رحیم خدا کے تعلق سے سخت بے نصیب ہوتے ہیں اور اُس نطفہ کی طرح ہوتے ہیں جو آتشک کی بیماری یا جذام کے عارضہ سے جل جائے اور اس قابل نہ رہے کہ رحم اُس سے تعلق پکڑ سکے۔ پس رحم اور رحیم کا تعلق یا عدم تعلق ایک ہی بنا پر ہے صرف روحانی اور جسمانی عوارض کا فرق ہے۔ اور جیسا کہ نطفہ بعض اپنے ذاتی عوارض کی رُو سے اس لائق نہیں رہتا کہ رحم اس سے تعلق پکڑ سکے اور اس کو اپنی طرف کھینچ سکے ایسا ہی حالت خشوع جو نطفہ کے درجہ پر ہے بعض اپنے عوارض ذاتیہ کی وجہ سے جیسے تکبر اور عُجب اور ریا یا اور کسی قسم کی ضلالت کی وجہ سے یا شرک سے اس لائق نہیں رہتی کہ رحیم خدا اس سے تعلق پکڑ سکے۔ پس نطفہ کی طرح تمام فضیلت روحانی وجود کے اوّل مرتبہ کی جو حالت خشوع ہے رحیم خدا کے ساتھ حقیقی تعلق پیدا کرنے سے وابستہ ہے جیسا کہ تمام فضیلت نطفہ کی رحم کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے وابستہ ہے۔ پس اگر اس حالت خشوع کو اس رحیم خدا کے ساتھ حقیقی تعلق نہیں اور نہ حقیقی تعلق پیدا ہو سکتا ہے تو وہ حالت اس گندے نطفہ کی طرح ہے جس کو رحم کے ساتھ حقیقی تعلق پیدا نہیں ہو سکتا اور یاد رکھنا چاہیئے کہ نماز اور یاد الٰہی میں جو کبھی انسان کو حالت خشوع میسر آتی ہے اور وجد اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے یا لذت محسوس ہوتی ہے یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اُس انسان کو رحیم خدا سے حقیقی تعلق ہے جیسا کہ اگر نطفہ اندام نہانی کے اندر داخل ہو جائے اور لذت بھی محسوس ہو تو اس سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ اُس نطفہ کو رحم سے تعلق ہو گیا ہے بلکہ تعلق کے لئے علیحدہ آثار اور علامات ہیں۔ پس یاد الٰہی میں ذوق شوق جس کو دوسرے لفظوں میں حالت خشوع کہتے ہیں نطفہ کی اُس حالت سے مشابہ ہے جب وہ ایک حرارت غریزیہ پکڑ کر اندام نہانی کے اندر گر جاتا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ وہ جسمانی عالم میں ایک کمال لذت کا وقت ہوتا ہے لیکن تاہم فقط اُس قطرہ منی کا اندر گرنا اس بات کو مستلزم نہیں
ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 192 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 192 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 158 پر درج ہے
حوالہ نمبر 183
ضمیمہ براہین احمدیہ ۱۹۳ حصہ پنجم
کہ رحم سے اس نطفہ کا تعلق بھی ہو جائے اور وہ رحم کی طرف کھینچا جائے۔ پس ایسا ہی روحانی ذوق شوق اور حالتِ خشوع اس بات کو مستلزم نہیں کہ رحیم خدا سے ایسے شخص کا تعلق ہو جائے اور اس کی طرف کھینچا جائے بلکہ جیسا کہ نطفہ کبھی زنا کاری کے طور پر کسی رنڈی کے اندامِ نہانی میں پڑتا ہے تو اس میں بھی وہی لذّت نطفہ ڈالنے والے کو حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اپنی بیوی کے ساتھ۔ پس ایسا ہی بُت پرستوں اور مخلوق پرستوں کا خشوع و خضوع اور حالتِ ذوق و شوق رنڈی بازی سے مشابہ ہے یعنی خشوع اور خضوع مشرکوں اور ان لوگوں کا جو محض اغراضِ دنیویہ کی بنا پر خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اس نطفہ سے مشابہت رکھتا ہے جو زناکار عورتوں کے اندامِ نہانی میں جا کر باعثِ لذّت ہوتا ہے۔ بہرحال جیسا کہ نطفہ میں تعلّق پکڑنے کی استعداد ہے حالتِ خشوع میں بھی تعلّق پکڑنے کی استعداد ہے مگر صرف حالتِ خشوع اور رقّت اور سوز اس بات پر دلیل نہیں ہے کہ وہ تعلق ہو بھی گیا ہے جیسا کہ نطفہ کی صورت میں جو اس رُوحانی صورت کے مقابل پر ہی مشاہدہ ظاہر کر رہا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے اور مَنی عورت کے اندامِ نہانی میں داخل ہو جائے اور اس کو اس فعل سے کمالِ لذّت حاصل ہو تو یہ لذّت اس بات پر دلالت نہیں کر سکتی کہ حمل ضرور ہو گیا ہے پس ایسا ہی خشوع اور سوز و گداز کی حالت گو وہ کیسی ہی لذّت اور سرور کے ساتھ ہو خدا سے تعلّق پکڑنے کیلئے کوئی لازمی علامت نہیں ہے یعنی کسی شخص میں نماز اور یادِ الٰہی کی حالت میں خشوع اور سوز و گداز کا پیدا ہو جانا اس بات کو
٭ مبتدائی حالت میں خشوع اور رقّت کے ساتھ پرہیزگاری کا ملنا جمع ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ بچپن میں رونے کی عادت بہت ہوتی ہے اور بات بات میں رونا آتا ہے اور خشوع اور انکسار اختیار کرتا ہے مگر با ایں ہمہ بچپن کے زمانہ میں بسا اوقات بہت سے لغویات میں مبتلا ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے لغویاتوں اور فضول کاموں کی طرف ہی رغبت کرتا ہے اور اگر فطرتاً نیک اور صالح ہو اور نیکوکاروں اور اچھوں کی صحبت اس کو پسند آتی ہے جس میں بسا اوقات اپنے جسم کو بھی کوئی صدمہ پہنچا دیتا ہے اس کا سرّ یہ ہے کہ انسان کی زندگی کی راہ میں فطرۃً پہلے لغویات ہی آتے ہیں اور بغیر اس منزل کے طے کرنے کے وہ ہرگز نیک نہیں بن سکتا۔ پس طبعاً پہلا زینہ بلوغ کا یہی ہے یعنی تا کہ ایک پرہیزگار بنے یہ اس بات پر دلیل ہے کہ سب سے پہلا تعلق انسانی سرشت کو لغویات سے ہی ہوتا ہے۔ منہ
ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 193 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 159 پر درج ہے
حوالہ نمبر 184
ضمیمہ براہین احمدیہ 196 حصہ پنجم
شعروں کے سُننے اور سرود کی تاثیر سے رقص اور وجد اور گریہ وزاری شروع کر دیتے ہیں اور اپنے رنگ میں لذت اُٹھاتے ہیں۔ اور خیال کرتے ہیں کہ ہم خدا کو مل گئے ہیں۔ مگر یہ لذت اُس لذّت سے مشابہ ہے جو ایک زانی کو حرامکار عورت سے ہوتی ہے۔
اور پھر ایک اور مشابہت خشوع اور نطفہ میں ہے اور وہ یہ کہ جب ایک شخص کا نطفہ اس کی بیوی یا کسی اور عورت کے اندر داخل ہوتا ہے تو اس نطفہ کا اندام نہانی کے اندر داخل ہونا اور انزال کی صورت پکڑ کر رواں ہو جانا بعینہ رونے کی صورت پر ہوتا ہے جیسا کہ خشوع کی حالت کا نتیجہ بھی رونا ہی ہوتا ہے۔ اور جیسے بے اختیار نطفہ اچھل کر بصورت انزال بہنے لگتا ہے۔ یہی صورت کمال خشوع کے وقت بندے کی ہوتی ہے کہ رونا آنکھوں سے اچھلتا ہے اور جس طرح انزال کی لذت بھی جبلی طور پر ہوتی ہے جبکہ اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور کبھی حرام طور پر جبکہ انسان کسی حرام کار عورت سے صحبت کرتا ہے۔ یہی صورت خشوع اور سوز و گداز اور گریہ وزاری کی ہے یعنی کبھی خشوع اور سوز و گداز محض خدائے واحد لا شریک کے لئے ہوتا ہے جس کے ساتھ کسی بدعت اور شرک کا رنگ نہیں ہوتا۔ پس وہ لذت سوز و گداز کی ایک لذت حلال ہوتی ہے مگر کبھی خشوع اور سوز و گداز اور اس کی لذت بدعات کی آمیزش سے یا مخلوق کی پرستش اور بتوں اور دیویوں کی پوجا میں بھی حاصل ہوتی ہے مگر وہ لذت حرامکاری کے جماع مشابہ ہوتی ہے۔ غرض مجرد خشوع اور سوزوگداز اور گریہ وزاری اور اس کی لذتیں متقی ہونے کو مستلزم نہیں بلکہ جیسا کہ بہت سے ایسے نطفے ہیں جو ضائع جاتے ہیں اور رحم ان کو قبول نہیں کرتا ایسا ہی بہت سے خشوع اور خضوع اور زاری ہیں جو محض آنکھوں کو دھوتا ہے اور رحم خدا ان کو قبول نہیں کرتا۔ غرض حالت خشوع کو جو روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے نطفہ ہونے کی حالت سے جو جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے ایک کھلی کھلی مشابہت ہے جس کو ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور یہ مشابہت کوئی معمولی امر نہیں ہے بلکہ صانع قدیم جلشانہ کے خاص ارادہ سے ان دونوں میں مکمل اور اتم مشابہت ہے یہاں تک کہ خدا تعالٰی کی کتاب میں بھی لکھا گیا ہے کہ
ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 196 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 196 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 159 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 185)
۷۵
ایک بدکار عورت کو خوف ہوتا تھا کہ اگر وہ فعل پلید اختیار کرے گی تو اُسے قانون دیوانی کی سخت آزمائش بھی برداشت کرنی پڑے گی۔ بہت سی عورتیں اسی خوف کی وجہ سے اپنی زندگی خراب کرنے سے بچ رہتی تھیں۔ اس زمانہ میں جبکہ بدکاری کا طریق بند ہے۔ مرض آتشک کے ادویات کے اشتہارات کثرت سے شائع ہوتے ہیں۔ جو اس امر کا کافی ثبوت ہیں کہ ملک میں مرض آتشک بہت پھیلا ہوا ہے اور قومیں اس خراب فرقہ کے وجود سے ہی سخت خائف ہیں۔ مگر ایسے زمانہ میں جبکہ اخلاق اور مذہب کی سخت کمزوری ہورہی ہے یہ امید کرنا فضول ہے کہ یہ شیطانی فرقہ نیست و نابود ہو جائے گا۔ اس لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ اُن کے لئے کوئی ایسا قانون بنایا جائے جس سے یہ اخلاق اور مذہب کو بگاڑنے کے علاوہ عوام کی صحت کو ہمیشہ کے لئے خراب کرنے کے قابل نہ رہ سکیں۔ اور وہ قانون صرف قانون نکاح ہی ہے۔ ہم نہایت شکر گزار ہوں گے اگر دوبارہ ہند میں قانون نکاح جاری کیا جاوے گا۔ مگر یہ شرط ضرور ساتھ ہے کہ گورو لوگوں کے لئے پھر یہی بیٹیاں بہم پہونچائی جاویں۔ یقین ہے کہ گورنمنٹ ہند اور معزز ممبران اس معاملہ پر ضرور توجہ اور غور فرماویں گے۔
جس کے دیں میں ہے ایسی بے شرمی عقل و تہذیب سے وہ عاری ہے
جن کو آتی نہیں نیوگ سے عار ان کی شیطان نے عقل ماری ہے
بھید کی کھل گئی حقیقت کُل اب تو احمق کی پردہ داری ہے
جس کے باعث یہ گندگی پھیلی وہ تو اک خبط کی بیماری ہے
دوسرا بیاہ کیوں حرام نہو جبکہ رسم نیوگ جاری ہے
کیوں نہ پوشیدہ ہو نیوگ کی رسم اس کے اظہار میں تو خواری ہے
چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے
کہدے یہ خبیث اور بدرسم بید کے خادموں میں ساری ہے
یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے
آریہ دھرم صفحہ 75-76 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 75-76 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 185)
۷۶
لائق سوختن ہیں اُن کے مرد اُن کی ناری ہر ایک ناری ہے
واہ وا کیا دھرم ہے کیا ایمان جس میں واجب حرامکاری ہے
آریو ! دل میں غور سے سوچو شرم و غیرت کہاں تمہاری ہے
جس کو کہتے ہیں آریوں میں نیوگ ناک کے کاٹنے کی آری ہے
کچھ نہیں سوچتے یہ دشمن شرم کہ یہ پوشیدہ ایک بیماری ہے
مرتکب اس کا ہے بڑا دیوث اعتقاد اس پہ بد شعاری ہے
غیر مردوں سے مانگنا نطفہ سخت خبیث اور نابکاری ہے
غیر کے ساتھ جو کہ سوتی ہے وہ نہ بیوی زنِ بازاری ہے
ہے وہ چنڈال دُشٹ اور پاپی جفت اس کی کوئی چماری ہے
ہیں کروڑوں نیوگ کے بچے آریہ دیس میں یہ خواری ہے
ایسی اولاد پر خدا کی مار یہ نہ اولاد قہر باری ہے
نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بیقراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط یار کی اس کو آہ و زاری ہے
دس سے کروا چکی زنا لیکن پاک دامن ابھی بچاری ہے
لالہ صاحب بھی کیسے احمق ہیں اُن کی لالی نے عقل ماری ہے
گھر میں لاتے ہیں اس کے یاروں کو ایسی جورو کی پاسداری ہے
اس کے یاروں کو دیکھنے کے لئے سرِ بازار اُن کی باری ہے
روبرو سانڈوں پر فدا ہیں یہ گائے وہ نیوگی پہ اپنے واری ہے
شرم و غیرت ذرا نہیں باقی کس قدر اُن میں بدکاری ہے
ہے قوی مرد کی تلاش انہیں طلبِ جورو کی حق گزاری ہے
آریہ دھرم صفحہ 76،75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 76،75 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 186) ۲۲۷ حجۃ الله
اور نہ کوئی سحر تھا اور نہ کوئی چاپلوسی تھی پس وہ میرے کلموں کے ساتھ انکے دلوں کو کھینچتا تھا
على كل قلبٍ مستعدٍ مخفقِ و أضحى يمضّ الماءَ مَاءَ فصاحةٍ
دل پر جو طیار ہو فصاحت کا پانی گراتا تھا اور اُس نے شروع کیا کہ ہر ایک مستعد
سرًّا دفينا كمنا في المآزق وكلّ أذاعوا من أسارير وجهه
وہ سرّ ظاہر کیا جو تنگ دلی کے وقت میں تھا اور ہر ایک نے اپنے چہرہ کے نقشوں سے
فيا عجباً من ميلهم كالتعشق وكانوا كمحوٍ بغاتهم سكتةٌ
پس کیا عجوبہ اُنکی میل تھی جو عشق کے مانند ساتھ تھی اور وہ لوگ عالم سکتہ میں محو کی طرح تھے
وكم دررٍ كانت تلوح وتبرق وكم حكمٍ كانت بلغت كلامنا
اور بہت سے موتی ستارہ کیطرح چمک رہے تھے اور بہت سی حکمتیں ہمارے کلام میں تھیں
لما رغبوا في وصف قولٍ لمنطق جرائد أقوام تصدت لذكرها
کیونکہ انہیں سچے پختہ قول کیطرح رغبت کی ہے قوموں کے اخباروں نے اُس کا ذکر کیا ہے
أشاعوا كلامي للآناس كمشفق ترى زمر الآدباء في أخبارهم
میرے کلام کو لوگوں میں مشفق کی طرح شائع کیا تو اُنکو دیکھتا ہے کہ انہوں نے اپنے اخباروں میں
فأصبت بحسن ثم لحن كمنطق وكانت مضامين كغيد بلطفها
پس حُسن کیطرح ہر ایک کو بھلے لگے اور قُمری کیطرح بولنے لگے اور میرے مضامین نازک اندام عورتوں کی طرح تھے
عليه عيون قلوبهم بالتعشق ولمّا رآها أهل رأى تمايلت
تو اُنکے دلوں کی آنکھیں بڑی محبت کیساتھ اسکی طرف جھک گئیں اور جب اُس مضمون کو اہل الرائے لوگوں نے دیکھا
فنقّازها قد غسل أوساخ خندق ومرّ على الأعداء بعض رشاشها
پس اُس کا اُچھلنے والا قطرہ خندق کے میل کچیل کو دھو دیا اور بعض رشحات اُس کے دشمنوں پر گرے
وكل لطيف لا محالة يُرمق إلى هذه الأيام لم يُنسَ ذكرها
اور ہر ایک لطیف شئے لا محالہ دیکھی جاتی ہے اور نظروں کو کھینچتی ہے ان دنوں تک اُن کا ذکر فراموش نہیں ہوا
۸۹
یہ حوالہ صفحہ 161 پر درج ہے حجۃ الله صفحہ 100 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 227، 238، 247 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 186
۲۳۸
کیا تو خدا کے نشانوں سے انکار کرے گا کیا تو اے شقی اس کی تقدیر سے جنگ کرے گا
اتذعرنا كالذئب يا كلب جيفة وانا توكلنا على حافظ يقى
اے مردار کے کتے کیا تو ہمیں بھیڑیے کی طرح ڈراتا ہے اور ہم اُس نگہبان پر متوکل ہیں جو بچانے والا ہے
رضينا برب يظهر الخير والهدى رضينا بعسر ان قضى او تفنق
ہم خدا سے جو خیر اور ہدایت کو ظاہر کرتا ہے راضی ہو گئے اور ہم تنگی دستی پر راضی ہو گئے اگر وہ چاہے اور یا تنعم پر
او انت تؤيد فاسقا غير صالح احلت بمجهلك ايها الغوى فأفق
کیا تو فاسق ہونے کی حالت میں مدد کیا جائے گا یہ تو کلمہ مجہول منہ پر لایا پس تو بہ کر
وانى اذا ما قمت لله مخلصا فايدنى ربى معينى موفقى
اور میں جب اخلاص سے خدا کے لئے کھڑا ہوا پس خدا توفیق دہندہ نے میری مدد کی ۔
وكان لى الرحمن فى كل موطن فمزقتكم بالله كل الممزق
اور خدا میرے لئے ہر میدان میں تھا پس میں نے خدا کے ساتھ تم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا
واعطيت قلما مثل مجرى الوغى فيسعر نيرانا وكالبرق يخفق
اور میں قلم لڑائی کے گھوڑے کی طرح دیا گیا ہوں ۔ پس آگ کو سلگاتی ہے اور برق کی طرح چمکتی ہے
مكر مفر مقبل مدبر معا كداب اجياد عند موقف مازق
حملہ کرنیوالے ، پھرنیوالے ، آگے بڑھنیوالے ، پیچھے ہٹنیوالے جیسا کہ لڑائی کے میدان میں عمدہ گھوڑوں کی عادت ہے
وان يراعى صارم يحرق العدا كنار وما النيران منه بأحرق
اور میرا قلم ایک تلوار ہے جو دشمنوں کو جلاتا ہے اور آگ اس سے کچھ زیادہ جلانے والی نہیں
وان كلامى مثل سيف مقطع يجذ رؤس المفسدين و يفرق
اور میرا کلام تیغ برّان کی طرح ہے مفسدوں کا سر کاٹتی اور جدا کرتی ہے
وانى اذا حاولت كلما فصيحة فناولنى ربى افانين منطق
اور جب میں نے خدا سے کلمات فصاحت طلب کئے پس میں اپنے ربّ سے گوناگوں فصاحت کلام دیا گیا
واعطيت فى سبل الكلام قريحة كعوجاء مرقال تربع و تدفق
اور کلام کی راہوں میں ایسی طبیعت دیا گیا ہوں جو اُس اُونٹنی کی طرح کی ہے جو تیز رو ہے اور ایک پاؤں اُٹھاتی ہے تو قدم رکھتی ہے
۱۰۰
حجۃ اللہ صفحہ 100 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 227 ، 238، 247 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 161 پر درج ہے
حوالہ نمبر 186
۲۴۷
اور میرے کلمے آئینہ کی طرح صاف کئے گئے ہیں پس تعجب کرنیوالے کی نظر اسکو ٹکٹکی لگا کر دیکھتی ہے
اُرَى غِيْدَ اَسْرَارٍ تَضَمَّنَ لَوْحُنَا وَمِنْ غَيْرِنَا يَا عَذْلُ كَالْمُتَأَبِّقِ
میں دیکھتا ہوں کہ نرم اندام عورتیں اسرار کی ہمارے لوح میں بند ہوگئیں اور غیروں سے وہ چھپنے والیوں کی طرح دُور ہوگئیں
اِذَا مَا خَرَجْنَ مِنَ الْخَبِيْطِ بِزِيْنَةٍ فَاَصْبَى رَشَاقَتُهُنَّ قَلْبَ مُرَمِّقٍ
اور جب کہ وہ ہودج سے زینت کے ساتھ نکلیں پس اُن کا حُسنِ اندام دیکھنے والوں کا دل لے گیا
اِذَا مَا تَجَلّٰى حُسْنُهُنَّ بِنُوْرِهِ فَرَحَلَتْ كَجَالِيَةٍ ظَلَامٌ مُغَسِّقٌ
اور جب اُن کا حُسن اپنے نُور کے ساتھ چمکا پس اندھیرا یوں چلا گیا جیسا کہ وہ لوگ جو اپنے گھروں کی آڑ میں چھپتے ہیں
وَقَلَّ مِنَ الْاَخْدَانِ مَنْ كَانَ حُسْنُهُ كَحُسْنِ عَذَارَانَا وَخَدٌّ اَنِيْقٌ نَقِیْ
اور معشوقوں میں سے بہت کم ہوگا جس کا حُسن ہمارے ان پاک مضامین کی طرح ہوگا اور رخسار روشن ہونگے
فَجَعَلْتُ بِهٖ ذَاتَ الْكُسُوْرِ لَنَا اِسْتَوَتْ وَاَسْوَيْتُ هٰذِهِ الْمَحَافِرَ مِنْ كَمَلَقِ
پس میں نے ٹُوٹے ہوئے کو ہمارے لئے برابر کر دیا اور میں نے ظالموں کے گڑھوں کو برابر زمین کیطرح بنادیا
وَلَيْسَ بِشَرْحِ الصَّدْرِ لِلْمَرْءِ نِعْمَةٌ وَمِنْ اَرْدَءِ الْاَوْقَاتِ وَقْتُ الْمَآزِقِ
اور انسان کیلئے شرح صدر جیسی اور کوئی نعمت نہیں اور بدترین وقتوں میں سے تنگی اور تکلیف کا وقت ہے
وَنَفْسٌ كَمَوْمَاةِ السِّبَاعِ مُبِيْدَةٌ بِهَا الذِّئْبُ يَعْوِیْ كَالْاَسِيْرِ الْمُخَنَّقِ
اور بہت سی نفسیں ہیں کہ موماۃ السباع کی طرح ہلاک کرنیوالی انمیں بھیڑیا چیختا ہے روتا ہے جیسا کہ قیدی جس کا گلا گھونٹا گیا ہو
فَمَا خِفْتُ صَوْلَتَهُمْ وَحَقَّرْتُ اَمْرَهُمْ بِمَا صَانَنِیْ رَبِّیْ بِعَيْنِ التَّوَمُّقِ
پس میں انکے حملہ سے نہیں ڈرا اور انکے کاروبار کو حقیر جانا کیونکہ خُدا نے اپنی محبت کی آنکھ سے مجھے بچایا
وَكَائِنْ تَرَىٰ مِنْ مَفْسَدٍ هُوَ صَائِلٌ عَلَیَّ فَيَدْفَعُهُ الْحَفِيْظُ وَيُخْفِقُ
اور بہت مفسد تو دیکھے گا کہ وہ مجھ پر حملہ کرنیوالے ہیں پس بچانے والا اُسے دفع کرتا ہے اور وہ نامراد رہتا ہے
تَجَلَّتْ مِنَ الرَّحْمٰنِ اَنْوَارُ مَحَبَّتِیْ فَمَا الْخَوْفُ اِنْ تُمْرَسْ وَاِنْ تَتَمَزَّقِ
خُدا کی طرف سے میری محبت کے نُور ظاہر ہوگئے ہیں پس کچھ خوف کی جگہ نہیں اگر تُو رگڑے یا ٹکڑے ٹکڑے کرے
سَيَنْصُرُنِیْ رَبِّیْ وَيُعْلِیْ عِمَارَتِیْ فَهٰذَا وَرِضْوَانٌ مِنَ الْحَقِّ وَاَشْوَقِ
عنقریب خُدا مجھے مدد دیگا اور میری عمارت کو بلند کریگا پس یہ اور خوشنودی ہے حق کی طرف سے اور بڑی آرزو ہے
۱۰۹
بقیہ حاشیہ صفحہ 100 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 247،238 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 161 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 187)
سراج منیر ۸۰
چونتیسویں پیشگوئی۔ یہ پیشگوئی کتاب براہین احمدیہ کے ص ۵۱ میں درج ہے اور وہ یہ ہے وہ تجھے بہت برکت دیگا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اور اسی کے متعلق ایک کشف ہے اور وہ یہ ہے کہ عالم کشف میں میں نے دیکھا کہ زمین نے مجھ سے گفتگو کی اور کہا يَا وَلِىَّ اللّٰهِ كُنْتُ لَا اَشْعُرُ بِكَ یعنی اے خدا کے ولی میں تجھ کو پہچانتی نہ تھی۔
پینتیسویں پیشگوئی۔ شیخ محمد حسین بٹالوی صاحب رسالہ اشاعۃ السنہ جو بانی مبانی تکفیر ہے اور جس کی گردن پر نذیر حسین دہلوی کے بعد تمام مکفروں کے گناہ کا بوجھ ہے اور جس کے ہاتھ بظاہر نہایت ردی اور یاس کی حالت کے ہیں۔ اُسکی نسبت تین مرتبہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنی اس حالتِ پر ضلالت سے رجوع کریگا اور پھر خدا اُسکی آنکھیں کھولے گا۔ وَاللّٰهُ عَلَى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيرٌ ه
اور ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں محمد حسین کے مکان پر گیا ہوں اور میرے ساتھ ایک جماعت ہے اور ہم نے وہیں نماز پڑھی اور میں نے امامت کرائی اور مجھے خیال گزرا کہ مجھ سے نماز میں غلطی ہوئی ہے کہ میں نے ظہر یا عصر کی نماز میں سورۂ فاتحہ کو بلند آواز سے پڑھنا شروع کر دیا تھا پھر مجھے معلوم ہوا کہ میں نے سورۂ فاتحہ بلند آواز سے نہیں پڑھی بلکہ صرف تکبیر بلند آواز سے کہی پھر جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ محمد حسین ہمارے مقابل پر بیٹھا ہے اور اُس وقت مجھے اُس کا سیاہ رنگ معلوم ہوتا ہے اور بالکل برہنہ ہے پس مجھے شرم آئی کہ میں اُسکی طرف نظر کروں پس اُسی حال میں وہ میرے پاس آگیا میں نے اُسے کہا کہ کیا وقت نہیں آیا کہ تو صلح کرے اور کیا تو چاہتا ہے کہ تجھ سے صلح کیا جائے اُس نے کہا کہ ہاں پس وہ بہت نزدیک آیا اور بشکلِ چوزا اور درماندہ و خستہ چھوٹے بچہ کیطرح تھا پھر میں نے کہا کہ اگر تو چاہے تو ان باتوں سے درگذر کر جو میں نے تیرے حق میں کہی ہیں جن سے تجھے دُکھ پہنچا اور یہ یاد رکھ کہ میں نے کچھ نہیں کہا مگر صحتِ نیت سے اور ہم ڈرتے ہیں خُدا کے اُس بھاری دن سے جبکہ ہم اُسکے سامنے کھڑے ہونگے اُس نے کہا کہ میں نے درگذر کی تب میں نے کہا کہ گواہ رہ کہ میں نے
۷۸
یہ حوالہ صفحہ 162 پر درج ہے سراج منیر صفحہ 78 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 80 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 188
۳۱۱
ایک برس تک انتظار کریں۔ اور یا مباہلہ کر لیں۔ ششم۔ اور اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ کریں تو مجھے سچے
کیا تم میں ایک بھی سوچنے والا نہیں جو اس بات کو سوچے ۔ کیا تم میں ایک بھی دل نہیں جو اس بات کو سمجھے ۔ زمین نے عزت دی۔ آسمان نے عزت دی اور قبولیت پھیل گئی۔
پانچواں وہ امر جو مباہلہ کے بعد میرے لئے عزت کا موجب ہوا۔ علم قرآن میں اتمام حجت ہے۔ میں نے یہ علم پا کر تمام مخالفوں کو کیا عبدالحق کا گروہ اور کیا بطالوی کا گروہ ، غرض سب کو صلائے عام سے اس بات کے لئے مدعو کیا کہ مجھے مسلم حقائق اور معارف قرآن دیا گیا ہے۔ تم لوگوں میں سے کسی کی مجال نہیں کہ میرے مقابل پر قرآن شریف کے حقائق و معارف بیان کر سکے۔ سو اس اعلان کے بعد میرے مقابل ان میں سے کوئی بھی نہ آیا۔ اور اپنی جہالت پر جو تمام ذلتوں کی جڑ ہے انہوں نے مہر لگا دی۔ سو یہ سب کچھ مباہلہ کے بعد ہوا۔ اور اسی زمانہ میں کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی ۔ اس کرامت کے مقابل پر کوئی شخص ایک حرف بھی نہ لکھ سکا۔ تو کیا اب تک عبدالحق اور اس کی جماعت ذلیل نہ ہوئی۔ اور کیا اب تک یہ ثابت نہ ہوا۔ کہ مباہلہ کے بعد یہ عزت خدا نے مجھے دی۔
چھٹا امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور عبدالحق کی ذلت کا موجب ہوا ۔ یہ ہے کہ عبدالحق نے مباہلہ کے بعد اشتہار دیا تھا کہ ایک فرزند اُس کے گھر میں پیدا ہوگا۔ اور میں نے بھی خدا تعالیٰ سے الہام پاکر یہ اشتہار انوار الاسلام میں شائع کیا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے لڑکا عطا کرے گا۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرے گھر میں تو لڑکا پیدا ہو گیا۔ جس کا نام شریف احمد ہے اور قریباً پونے دو برس کی عمر رکھتا ہے۔ اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہئیے ۔ کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔ کیا اندھے کنویں میں جنین پڑ گیا یا بوجہ رجعت قہقری کے نطفہ بن گیا۔ کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا۔ اور جو کچھ میں نے خدا کے الہام سے کہا خدا نے اس کو پورا کر دیا۔ چنانچہ ضیاء الحق میں بھی اسی لڑکے کا ذکر لکھا گیا ہے۔
ساتواں امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور قبولیت کا باعث ہوا خدا کے راستباز بندوں کا وہ مخلصانہ جوش ہے جو انہوں نے میری خدمت کے لئے دکھلایا۔ مجھے کبھی یہ طاقت نہ ہوگی کہ میں خدا کے ان احسانات کا شکر ادا کر سکوں۔ جو روحانی اور جسمانی طور پر مباہلہ کے بعد میرے شامل حال ہو گئے۔ روحانی انعامات کا نمونہ میں لکھ چکا
بقیہ حاشیہ
۲۷
انجام آتھم صفحہ 311، 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311، 317 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 162 پر درج ہے
حوالہ نمبر 188 639 ۳۱۷
یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے کہ بعد دعوے کے کونسی عزت دنیا میں پائی۔ کونسی قبولیت اس کی لوگوں میں پھیلی۔ کونسے مالی فتوحات کے دروازے اس پر کھلے۔ کون سی علمی فضیلت کی پگڑی اس کو پہنائی گئی۔ صرف فضول گوئی کے طور سے ایک پیشہ اس نے گالیوں کا بنا لیا تھا کہ جو اس پر مباہلہ کا اثر سمجھا جائے۔ مگر اس کی بدبختی سے وہ دعوے بھی باطل نکلا۔ اور اب تک اس کی عورت کے پیٹ میں سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔ مگر اس کے مقابل پر خدا تعالیٰ نے میرے الہام کو پورا کر کے مجھے یہ دکھا دیا * یہ دس شرطیں مباہلہ کی ہیں جو میں نے لکھی ہیں۔ پھر بدبخت وہ لوگ ہیں جو اس مباہلہ کو بے اثر سمجھتے ہیں۔ فما لھم ان یستکبروا ویفکروا فی ھذہ العشرة الکاملة۔ جو انجام بدہوگا ہر یک مخالف منکر کذب پر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مباہلہ کے میدان میں آویں اور یقیناً سمجھیں کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے عبدالحق کے مباہلہ کے بعد یہ دس قسم کا ہم پر انعام واکرام کیا۔ بعد اس کو ذلیل کیا۔ اور اس کے بیٹے کا دعویٰ بھی جھوٹا نکلا۔ اور کوئی عزت اس کو حاصل نہ ہوئی۔ اور خدا تعالیٰ نے اس کے تمام دعووں کو ردّ کیا۔ اس سے بڑھ کر اس مباہلہ میں ہوگا۔ میں نے اس روز بدردِ دُعا نہیں کی کہ چونکہ وہ ناسمجھ اور غبی تھا۔ اور اس کی جہالت اس کو قابلِ رحم ٹھہراتی تھی مگر اب میں بدرد دُعا کروں گا۔ سو چاہیئے کہ ہر یک مباہلہ کی درخواست کرنے والا اپنی طرف سے چھپا ہوا اشتہار شائع کرے۔ اور یہ ضروری ہوگا کہ مباہلہ کرنے والا صرف ایک نہ ہو ۔ بلکہ کم سے کم دس ہوں ۔ اور چونکہ مباہلہ کے لئے ہر یک شخص جو داعی ہے خواہ پنجاب کا ہو یا ہندوستان کا۔ یا بلادِ عرب کا یا بلادِ فارس کا۔ اس لئے یہ مشقت مخالفوں پر جائز نہیں رکھی گئی کہ وہ دور دراز سفر کر کے پہنچیں بلکہ حسب منطوق وما جعل علیکم فی الدین من حرج۔ یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر۔ یہ تجویز فرمائی ہے کہ ہر یک شخص ان اشتہارات کے ذریعہ سے مباہلہ کر لے۔ مگر یہ شرط ضروری ہے کہ جو الہامات میں نے رسالہ انجامِ آتھم میں صفحہ ۵۱ سے صفحہ ۶۲ تک لکھے ہیں۔ وہ کل الہامات اپنے اشتہار مباہلہ میں لکھے۔ اور بعض حوالہ نہ دے بلکہ کل الہامات صفحات مذکورہ کے اشتہار میں درج کرے۔ اور پھر بعد اس کے عبارات ذیل کی دُعا اس اشتہار میں لکھے۔ اور وہ یہ ہے
دُعا
اے خداے علیم و خبیر میں جو فلاں ابن فلاں ساکن قصبہ فلاں ہوں اس شخص کو
حاشیہ مگر یادرہے کہ اس پیشگوئی کے وقت یعنی اس اشتہار کے وقت تک میری عمر ساٹھ برس کے قریب ہے اور میں ایک ایسا دائم المرض انسان ہوں کہ ایک خطرناک مرض یعنی دوران سر جو ایک مرگی کی قسم ہے جس سے دل اور دماغ کو ہر وقت سخت صدمہ پہنچتا ہے میرے شامل حال ہے اور جس کا یہ حال ہو کہ بسا اوقات دوران سر کا ایک ایسا سخت حملہ ہوتا ہے کہ اگر اس وقت میں بیٹھا ہوا نہ ہوں تو بلاشبہ گر پڑوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ گرنے کے ساتھ ہی موت کا بھی ظہور ہو جائے۔ ایسا شخص اس دعوے کے ساتھ کیسے ایک لمبی عمر کی خبر دے سکتا ہے کہ وہ اس عمر تک پہنچے گا جو اڑتیس ۳۸ برس تک محیط ہو سکتی ہے۔ کیا یہ انسان کا کام ہے۔ ہرگز نہیں۔ منہ
حاشیہ یہ پیشگوئی جس قدر ظاہر ہے ظاہر ہے۔ یہ کس قدر خداتعالیٰ کی قدرت کا نشان ہے کہ چونکہ میں نے مباہلہ کے لئے ۳۸ برس کی میعاد مقرر کی تھی اس لئے خداتعالیٰ نے میرے لئے اس قدر عمر کی پیشگوئی فرمائی کہ جب سے مباہلہ کا اشتہار دیا گیا ہے اس سے لے کر جو اڑتیس برس ہوتے ہیں خدا تعالیٰ مجھ کو زندہ رکھے گا۔ منہ
* یعنی طاعونِ قویہ نے جو طاعونِ سخت ہے اور اس لعنت کی بیماری کو جو ہیضہ ہے اس کے لئے پیدا کیا ہے اس لعنت کا جواب اس کے گھر میں بھی طاعون پہنچا ہے فاعتبروا یا اولی الابصار۔ اللہ کے کاموں میں جلدی کرنے والے تباہ ہو رہے ہیں بہت خوب یہی نشان دیکھ لے ۔ ۔ ۔ ۳۱۷
انجام آتھم صفحہ 311، 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311، 317 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 162 پر درج ہے
حوالہ نمبر 189 تتمہ ۴۴۴ حقیقة الوحی
۱۳ ابتر تھا یا مگر پادریوں کی اطاعت کا جُوا اُٹھا لیا۔ پس اِن معنوں کے رُو سے بھی وہ اَبتر ٹھہرا۔ پھر جیسا کہ بیان کر چکا ہوں اِن معنوں کے رُو سے بھی اَبتر ہُوا کہ اُسوقت سے جو اُسکی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ گویا اُسی دم سے خدا تعالیٰ نے اُسکی بیوی کے رحم پر مُہر لگا دی اور اُسکو یہ الہام کُھلے کُھلے لفظوں میں سُنایا گیا تھا کہ اب موت کے دِن تک تیرے گھر میں اولاد نہ ہوگی اور نہ آگے سلسلہ اولاد کا چلے گا اور یقیناً اُسلیے اِس الہام کو توڑنے کے لئے اَولاد حاصل کرنے کی غرض سے بہت کوشش کی ہوگی مگر وہ کوشش ضائع گئی۔ آخر نامراد مرا۔ اَبتر کے ہر ایک معنی اُسپر صادق آگئے۔ اور دُوسری طرف جو میری نسبت وہ بار بار بد دُعائیں کرتا تھا کہ یہ شخص مفتری ہے ہلاک ہو جائیگا اور اولاد بھی مرےگی اور جماعت متفرق ہو جائیگی۔ اس کی تکذیب ہو گئی کہ اِس الہام کے بعد یعنی الہام اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کے بعد تین لڑکے میرے گھر میں پیدا ہوئے اور تین لاکھ سے زیادہ جماعت ہو گئی اور کئی لاکھ روپیہ آیا اور کئی عیسائی اور ہندو میری دعوت سے مسلمان ہوئے۔ پس کیا یہ نشان نہیں اور کیا یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ! اور یہ کہنا کہ سعد اللہ کے لڑکے کی عبدالرحیم کی دختر سے نسبت ہو گئی ہے اور شادی ہو جائے گی اور اولاد بھی ہو گی یہ ایک خیالی پلاؤ ہے اور محض ایک لاف ہے جو ہنسی کے لائق ہے اور اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کے وعدے ٹل نہیں سکتے ۔ یہ بات تو اُس وقت پیش کرنی چاہیے تھی کہ جب شادی ہو جائے اور اولاد بھی ہو جائے ۔ بالفعل تو ایمانداری کا یہ تقاضا ہے کہ اس بات کو مخفی نہ رکھے یعنی یہ کہ میرے پر قرآن شریف کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ
٭ بقایا حاشیہ : ۔ یہ بھی سُنتے ہیں کہ جیسا کہ عبدالحق غزنوی ثُمّ امرتسری نے مباہلہ کے بعد اپنی نسبت مباہلہ کا اثر یہ ظاہر کیا تھا کہ میرا بھائی جو گویا میرا دایاں بازو تھا ہلاک ہو گیا اور وہ اسکے مال پر قابض ہوا اور اب اسکا لڑکا بیمار ہو گیا اور وہ جو ہمکو کافر کہتا تھا ہمارا طرفدار ہو گیا گویا وہ کبھی پیدا نہ ہوا اور اب تک وہ باوجود گزرنے چودہ برسکی تنہائی اور ذلّت کی زندگی بھگت رہا ہے اور بخلاف اسکے مباہلہ کے بعد میرے گھر میں کئی لڑکے پیدا ہوئے اور کئی لاکھ انسان نے بیعت کی اور کئی لاکھ روپیہ آیا اور دُنیا کے کناروں تک عزّت کے ساتھ میری شہرت ہو گئی اور اکثر دشمن تباہ ہو گئے۔ یہ سب اُس مباہلہ کا نتیجہ تھا۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک ۔ منہ
یہ حوالہ صفحہ 162 پر درج ہے تتمہ حقیقة الوحی صفحہ 444 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 444 از مرزا قادیانی
Back
حوالہ نمبر 190
قریب گئے۔ وہ صرف احمد کے لئے نہ تھا بلکہ اس میں سے کچھ بات زبان پر نہیں آسکی تھی۔
مولوی محمد حسین بٹالوی مرزا صاحب کی نسبت فرماتے ہیں اگر معلوم ہوتا کہ یہ شخص ایسا ہے تو میں اپنی لڑکی کی نسبت کبھی اس کے ساتھ نہ کرتا۔ اب تو اس کا بیڑا غرق ہو گیا ہے، اور ہمارے خاندان کی بھی سخت ہتک ہوئی ہے کہ وہ ایک دفعہ ہم سے مل چکا ہے (سیرۃ المہدی حصہ اول صفحہ 189، 190 پر درج ہے)
اس میں سے کچھ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ گو اس کو معلوم تھا جس کے گھر میں مجھے رہنا پڑا۔ میں نے اسے یہ بھی کہا کہ میں اور لے آؤں گا۔ جب وہ روکا تو میں نے اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہا۔ اور وہ سارا کام نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ ایسی چیزیں ہیں کہ میں اور لے آؤں گا مگر اس وقت جو میں ایک ایک قاضی القضات کی دفعہ سنائی تو وہ کانپنے لگا۔ ایک شخص کہ جس کی قضاء 11 بجے سے شروع ہوتی۔ لوگ اس کے گرد جمع ہونے لگتے تھے۔ ایک تو عدالتی وقت، اور اس کی فیس بندی سی ہوتی تھی۔ ایک شخص نے کہا کہ جناب یہ تو بتائیے کہ قادیان میں آپ کو کس نے بھیجا ہے۔ ایک جواب دے دیجیے۔ اس نے کہا میں خود سے آیا ہوں۔ اس شخص نے کہا کہ آپ کو اس کا وعدہ یاد نہ رہا ہو گا مگر مجھے یاد ہے۔ آپ نے یہ فیصلہ دیا تھا۔ اس نے کہا ۔ اے میرے دوست میں نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ ہے۔ لیکن سوال تم کرنا چاہتے ہو۔ میرے پاس وہ شخص آئے۔ ایک دفعہ ہوتا ہے اور میں نے خاوند کی طرف سے جو اس وقت مجھے یہی کہا ۔ کہ دوپہر کے وقت جب وہ قریب قریب تھا۔ تو آیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ کیا بات ہے۔ وہ کہنے لگا کہ آپ اگر میری قضاء کا کوئی دن بتا دیں۔ تو میں کہوں گا۔ وہ دن ظہر سے لے کر عصر تک کا ہے۔ لیکن تمہارا فیصلہ عشاء کے بعد ہو گا۔ تم اس کی پرواہ نہ کرو۔ میں تم کو کہہ دوں گا۔ میں نے کہا نہیں بلکہ تم ابھی کہو۔ کیونکہ میں اس وقت جا رہا ہوں۔ اس کے بعد میں نے اپنا فیصلہ دے دیا اور وہ چلا گیا۔ جب
حضرت مسیح موعود پر جو بعض دفعہ غم کے غلبہ کا ذکر آتا ہے ۔ جب آپ کو اسلام کے متعلق کوئی ایسا صدمہ پہنچتا کہ اس کی تسلی کی کوئی صورت نہ ملتی تھی۔ اور گو دل میں یہ یقین ہوتا کہ یہ مصیبت جلد ٹل جائے گی۔ اور ساری باتوں میں غلبہ ہوگا۔ مگر پھر بھی جو ایک فطرتی بات ہے کہ انسان کسی دکھ سے اس کے اثر سے بچ نہیں سکتا۔ اس کے اثر سے متاثر ہوتا ہے۔ اور پھر وہ دعائیں کرتا ہے۔ غرض اس غم کا تعلق اسلام کی کسی تکلیف سے ہوتا تھا۔ یا آپ کی ذات سے ہوتا تھا۔ تو آپ کی اس میں کوئی غرض نہیں ہوتی بلکہ اللہ و رسول کی محبت زیادہ سے زیادہ اس کے اندر ہوتی۔ اور آپ کے دل کے اندر جو یہ کیفیت پیدا ہوتی تھی۔ وہ نیکی کی کوئی معلوم بات آپ کے دل میں ہوتی۔ جس کا کسی کو معلوم نہ ہوتا۔ تو اس کی وجہ سے آپ کے دل میں یہ کیفیت پیدا ہوتی۔ گو وہ کیفیت اس بات کا ثبوت ہے۔ کہ دل میں جو دکھ کی کیفیت پیدا ہو وہ زیادہ سے زیادہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ خدا کے سچے نبی کے دل میں ایسی حالت پیدا ہو سکتی ہے کہ لیکن اس کی کیفیت معلوم نہ ہو۔ گو اس دکھ کی کوئی خاص وجہ نہ معلوم ہو۔ گو وہ ظاہر اس سے نہ ہو۔ بلکہ اس کے اندر ہو۔ کہ اس کے اندر کوئی دکھ ہے۔ وہ کیفیت اس کے دل میں پیدا ہو۔ جس سے وہ بے چین ہو اور اس بے قراری کی حالت میں اس کے کپڑوں سے، اس کے چلنے سے غرض کسی کیفیت سے معلوم ہو کہ کوئی دکھ ہے۔ اور یہ بات صرف مسیح موعود کی اس مجلس میں کوئی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اور نہ کوئی اور مجلس تھی۔ بلکہ آپ کا کوئی اور کام نہیں تھا۔ کوئی کسی کا، حضرت صاحب کے پاس اور کوئی کام نہیں تھا۔ معلوم ہوتا کہ کوئی بڑی غفلت میں استری کا کام کر رہے ہیں۔ اور اپنے کپڑوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ کبھی وہ کپڑے خراب کر لیتے تھے۔ کبھی ان کو پاس رکھ کر وہ بھول جاتے تھے۔ کسی کا کام کر رہے ہیں مگر میں یہ سمجھتا تھا، کہ وہ کام ایسا ہو گا اس کی فکر نہ کرو۔ لیکن جو چیز تھی وہ خراب ہو گئی تھی۔ اور گو بعد میں اس کو صاف کر دیا گیا تھا۔ اور میں نے اسے
باہر کوئی ایسا شخص نہیں تھا جس کی طرف لوگ توجہ کرتے ۔ اگر وہ سب کی طرف بلا تفریق توجہ دیا کرتے ۔ جن لوگوں کی توجہ ان پر نہ ہوتی تو وہ جو چاہیں کرتے اور جس سے ملنا ہوتا ۔ ان سے ملتے ۔ مگر جو باہر کے لوگ تھے۔ ان کی پرواہ نہ کی ۔ یہ بات تو سچ ہے کہ جب دعوے کے غلبے میں ہوتے ہیں تو لوگ ان کی طرف توجہ کر کے آجاتے ہیں۔ لیکن جب زمانہ بدلتا ہے۔ تو لوگ عجیب و غریب دعوے کرنے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ فلاں بات یوں ہوئی ۔ کوئی کچھ کہتا ہے۔ اور کوئی کچھ کہتا ہے۔ ان میں سے کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں ۔ اور کتنے ہی لوگ ہوتے ہیں جو پوچھتے ہیں کہ فلاں بات کس طرح سے ہے۔
نو مسلم کے والدین
کے نکاح کا ثبوت
کی کچھ پرانی باتیں ان باتوں میں بھی ہیں ہے۔ گو ایک دعویٰ تو حق ہے۔ اور جو سچے الہام سے ہوتے ہیں۔ ان کے دعوے ہیں کہ ان کے ثبوت بہت عجیب ہیں۔ جن کے ثبوت کے لئے یہ دعویٰ بے معنی سی ہو سکتی ہے اور گو بعض اس کی کوئی پرواہ نہ کرے۔ مگر یہ کوئی قاعدہ نہیں اور نہ ہم اسے روکیں گے۔ اس لئے ہم تو کوئی تصنیف اس میں پیش نہیں کر سکتے جو اس دعوے کے ثبوت میں ہو۔ البتہ جو باتیں ہم نے سنی ہیں۔ وہ بتا دی جائیں گی کہ فلاں فلاں بات فلاں شخص سے ہوئی۔ تو اس کو تسلیم کرنا ہمارا فرض ہے۔ ان باتوں میں بھی جو باتیں ہم نے اس وقت کسی کے پاس سنی تھیں۔ مگر وہ بھی اس دعویٰ کو نہیں پہنچتیں، مثلاً دنیا میں بڑے بڑے مصنفین کی بحث ہو رہی ہے۔ بعض اس بات کے لئے پیسے بھی دیتے ہیں۔ مگر وہ اس میں سے کوئی بات نہ بتلا سکیں تو لوگ آخر ان کے دعوؤں کو مانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ تو دنیا والے اپنے دعوؤں کے ثبوت میں کوئی نہ کوئی بات پیش کرتے ہیں۔ اب جب دعویٰ ہوتا ہے تو یہ سچ ہے۔ پس ہمارا دعویٰ اور اس کے لئے تو یہی ہے۔ کہ اس دعویٰ کو پیش کر کے دکھائے۔ کہ ہم میں یہ دعویٰ ہے ۔
حضرت مسیح موعود کا نکاح
مرزا بشیر الدین محمود کا خطبہ نکاح۔ روزنامہ الفضل قادیان مورخہ 2 نومبر 1922ء جلد 10 شمارہ 35 یہ حوالہ صفحہ 163 پر درج ہے
حوالہ نمبر 191 حیات احمد ۲۵ ۶۱۷
کہے گا۔ ورنہ خود لوگوں کو پکار رہا ہے۔ سمجھ جائیں گے کہ جھوٹا ہے۔ کون منصف اس عذر کو سن سکتا ہے۔ کوئی مدعی کہتا ہے کہ تمہارا دین ناقص ہے۔ تم یہ احکام وید سے نکالو۔ وہ اگر ناقص نہیں تو یہ جواب دیتے ہو اِس میں دقت نہیں۔ وید یہاں موجود نہیں۔ بھلا یہ کیا جواب ہے۔ اس جواب سے تو تم جھوٹے ٹھہرتے ہو۔ جس حالت میں ہم پانسو روپیہ نقد وعدہ کرتے ہیں۔ تو تمسک لکھ دیتے ہیں۔ رجسٹری کرا دیتے ہیں۔ تو پھر اگر تمہارا وید بھی کچھ چیز ہے۔ تو کس دن کے واسطے رکھا ہوا ہے۔ دس بیس روز کی ہم سے مہلت لے لو۔ پنڈت دیانند کو اپنا مددگار بنا لو۔ ہم کو وہ احکام دکھا دو ہم چپکے زبان بریدہ بنکر بیٹھیں گے۔ یا یہ اقرار کر دو۔ کہ یہ احکام ہمارے نزدیک ناجائز ہیں۔ تب پھر انکے ناجائز ہونیکا ثبوت وید سے دکھا دو۔ غرض تم ہمارے ہاتھ سے کہاں بھاگ سکتے ہو۔ اور یہ جو تم محض شرارت سے بارادہ توہین حضرت خاتم الانبیاء کی نسبت بد زبانی کرتے ہو۔ یہ محض تمہاری بد اصلی ہے۔ اپنے پرچہ میں تم نے اسمیں ایسی نامناسب بیہودگی کس نیت سے لکھی ہے۔
ہم کو خدا نے یہ شرف بخشا ہے کہ ہم سب نبیوں کی تعظیم کرتے ہیں
اور جیسا کہ خدا نے ہم کو فرمایا ہے ۔ نجات سب مخلوقات کی اسلام میں سمجھتے ہیں۔ تم کو اگر حضرت خاتم الانبیاء پر کچھ اعتراض ہے۔ تو زبان تہذیب سے وہ اعتراض جو سب سے بھاری ہو تحریر کر کے پیش کرو۔ ہم تم کو کہہ دیتے ہیں۔ کہ اگر وہ اعتراض تمہارا صحیح ہوا۔ تو ہزار روپیہ انعام ہم تم کو دینگے۔ اور تم ایک تمسک لکھ دو کہ اگر وہ اعتراض جھوٹا نکلا۔ تو سو روپیہ بطور جرمانہ تم ہم کو دو گے۔ اور اب اگر ہماری یہ تحریر سنکر چپ ہو جاؤ۔ اور اس شرط پر بحث شروع نہ کرو۔ تو ہر ایک منصف سمجھ جائیگا۔ کہ وہ سب توہین تم نے بے ایمانی سے کی تھی۔ اکثر کج بحثوں کا یہ قاعدہ ہے کہ گالیاں پر مستعد رہتے ہیں۔ اور دل میں بڑا زعم لئے بیٹھے ہو۔ دنیا کو بڑی چیز سمجھ رکھا ہے۔ کہ موت سے ڈرتے نہیں۔ ورنہ ایسے آفتاب کی توہین کرنا جو نور دنیا کا ہے نری حرامزدگی ہے۔ جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے۔ کہ جاہلوں کے روبرو تو بڑے لاف و گزاف مارتے ہیں۔ مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ۔ تو جہاں سے نکلے تھے۔ وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔ اب ہم نیچے وہ احکام فرقان مجید کے لکھتے ہیں۔ کہ جن میں ہمارا یہ دعویٰ ہے۔ کہ وید میں یہ تمام احکام سرمو ہرگز موجود نہیں۔ اسلئے وید ناقص تعلیم ہے۔ یا تو تم کہتے ہو کہ ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ ہرگز نہیں
اور لعنت اس شخص پر کہ جھوٹا ہے ۔
اوّل ۔ خدا تعالیٰ کی نسبت جو احکام فرقان مجید کے ہیں ۔ خلاصہ آیات کا نیچے لکھتا ہوں۔
- (۱) تم خدا کو اپنے جسموں اور روحوں کا ربّ سمجھو۔ جس نے تمہارے جسموں کو بنایا۔ اُسی نے تمہاری روحوں کو پیدا کیا۔
وہی تم سب کا خالق ہے۔ اس سے پہلے کوئی چیز موجود نہیں ہوئی۔
- (۲) آسمان اور زمین اور سورج اور چاند اور جتنی بستیاں زمین و آسمان میں نظر آتی ہیں۔ یہ کسی عمل کنندہ کے عمل کی پاداش
حیات احمد ، حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات جلد دوم نمبر اول صفحہ 25 از یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان یہ حوالہ صفحہ 163 پر درج ہے
حوالہ نمبر 192
۱۵۷ سفنام
کیا تھا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار مکہ کے قریش نے کیا۔ یہودیوں نے کہا کہ یہ وہ مسیح نہیں ہے جس کی آمد کی خبر ہے کہ وہ کسی آئندہ زمانہ میں آویگا۔ بلکہ یہود تو ابتک مسیح کے انتظار میں ہیں۔ اُس شخص نے کہا کہ کیا ہم یہودی ہیں۔ میں نے کہا کہ تم اپنے گریبان میں منہ ڈالکر دیکھو کہ تمہارے قول و فعل کیسے ملتے جلتے ہیں۔ اسبات پر وہ شخص سخت غضبناک ہو کر کہنے لگا۔ دیکھو جی مرزا رات کو لگائی سے بدکاری کرتا ہے اور صبح کو بے غسل لوٹا بھرا ہوا ہوتا ہے اور کہدیتا ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا اور وہ الہام ہوا میں مہدی ہوں مسیح ہوں۔ مجھ جیسا انسان غیرت مند کیونکر گوارا کر سکتا تھا کہ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام (فداہ جانی و روحی) کی اُس (امی) کی نسبت ایسا گندہ جملہ سُن سکے۔ پس میں نے اُسکے ایک ایسا طمانچہ مارا کہ اُسکی ٹوپی کیچڑ میں سر پر سے اتر کر دور جا پڑی اور کہا اے مردود دشمنِ مقبولِ الٰہی تو ایسا جملہ ناپاک ایسے صادق مصدوق طاہر و مطہر انسان کی نسبت اور میرے سامنے بکتا ہے۔ اور نہیں جانتا کہ میں اُنکا خادم اور مرید ہوں اور وہ میرے آقا اور مرشد اور رہنما ہیں ۔ خبردار جو آج سے میرے پاس آیا۔ اور یا مجھ سے ملا۔ سنیے
ے بعینہ وہی الفاظ ہیں جو اُس مردود کے مُنہ سے نکلے تھے میں نے وہی الفاظ نقل کر دیئے ہیں۔ تا کہ اُس کا انجام سُنکر لوگوں کو بھی عبرت ہو۔ مئولفہ
تذکرہ المہدی صفحہ 157 از پیر سراج الحق نعمانی قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 163 پر درج ہے
حوالہ نمبر 193
دافع الوساوس ۲۸۲ آئینہ کمالات اسلام
ممد ومعین ہو۔ خاوندوں کی حاجت براری کے بارے میں جو عورتوں کی فطرت میں ایک نقص طبعی پایا جاتا ہے جیسے ایام حمل اور حیض نفاس میں یہ طریق با برکت اُس نقصان کا تدارک تام کرتا ہے اور جس امر کا مطالبہ مرد اپنی فطرت کی رو سے کر سکتا ہے وہ اُسے بخشتا ہے۔ ایسا ہی مرد اور کئی وجوہات اور موجبات سے ایک سے زیادہ بیوی کرنے کیلئے مجبور ہوتا ہے۔ مثلاً اگر مرد کی ایک بیوی بوجہ عمر یا کسی بیماری کیوجہ سے بدشکل ہو جائے تو مرد کی قوّتِ فاعلی جس پر سارا مدار عورت کی کارروائی کا ہے بیکار اور معطل ہو جاتی ہے لیکن اگر مرد بدشکل ہو تو عورت کا کچھ بھی حرج نہیں کیونکہ کارروائی کی کل مرد کو دیگئی ہے اور عورت کی تسکین کرنا مرد کے ہاتھ میں ہے۔ ہاں اگر مرد اپنی قوّتِ مردی میں قصور یا عجز رکھتا ہے تو قرآنی حکم کے رو سے عورت اُس سے طلاق لے سکتی ہے اور اگر پوری پوری تسلی کرنے پر قادر ہو تو عورت یہ عُذر نہیں کر سکتی کہ دُوسری بیوی کیوں کی ہے۔ کیونکہ مرد کی ہر روزہ حاجتوں کی عورت ذمہ دار اور کار برار نہیں ہو سکتی اور اس سے مرد کا استحقاق دُوسری بیوی کرنے کے لئے قائم رہتا ہے۔ جو لوگ قوی طاقت اور متقی اور پارسا طبع ہیں اُن کیلئے یہ طریق نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔ بعض اس حکم کے مخالف نفس امارہ کی پیروی سے سب کچھ کرتے ہیں مگر اس پاک طریق سے سخت نفرت رکھتے ہیں کیونکہ بوجہ اندرونی بے قیدی کے جو اُن میں پھیلی رہی ہے اُن کو اس پاک طریق کی کچھ پروا اور حاجت نہیں۔ اس مقام میں عیسائیوں پر سب سے بڑھ کر افسوس ہے کیونکہ وہ اپنے مُسلّم الثبوت انبیاء کے حالات سے آنکھ بند کر کے مسلمانوں پر ناحق دانت پیستے جاتے ہیں۔ شرم کی بات ہے کہ جن لوگوں کا اقرار ہے کہ حضرت مسیح کے جسم اور وجود کا خمیر اور اصل جُدّہ انہی ماں کی جہت سے وُہی کثرت ازدواج ہے جس کی حضرت داؤد مسیح کے باپ نے نہ دو نہ تین بلکہ سو بیوی تک نوبت پہنچائی تھی وہ بھی ایک سے زیادہ بیوی کرنا زنا کرنے کی مانند سمجھتے ہیں اور اس پر نبوّت کُلّہ کا خاتمہ جو حضرت مریم
آئینہ کمالات اسلام صفحہ 282 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 282 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 164 پر درج ہے
حوالہ نمبر 194
۴۲۸
آخری زمانہ ہے۔ یہ وہی زمانہ تھا اور جس ساعت کے یہ لوگ منتظر ہیں اس کا تو ابھی کہیں پتہ بھی نہیں ہے ایک پہلو سے اول مسیح کے وقت یہودیوں نے بدبختی لے لی اور دوسرے وقت میں نصاریٰ نے بدبختی کا حصہ لے لیا مسلمانوں نے بھی پوری مشابہت یہود سے کر لی۔ اگر ان کی حکومت یا اختیار ہوتا تو ہمارے ساتھ بھی مسیح والا معاملہ کرتے۔
نشانوں کے ظہور کا وقت
جس طرح کٹکھنی بھینس کا دودھ نکالنا بہت مشکل ہے اسی طرح خدا کے نشان بھی سخت تکلیف کی حالت میں اترا کرتے ہیں جیسے حضرت موسیٰ کو بنی اسرائیل نے کہا تھا کہ اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ (الشعراء : ۶۲) وہ ایسا سخت مشکل کا وقت تھا کہ آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی ان کو موت ہی موت نظر آتی تھی سامنے سمندر اور پیچھے فرعون کا لشکر۔ اس وقت موسیٰؑ نے جواب دیا کَلَّا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ (الشعراء : ۶۳) پس ایسی ضرورتوں اور ابتلا کے اوقات میں نشان ظاہر ہوا کرتے ہیں جبکہ ایک قسم کی جان کنی پیش آجاتی ہے چونکہ خدا کا نام مجیب ہے اس لئے جب نہایت ہی اشد ضرورت آ پڑتی ہے تو امور غیبیہ ظاہر ہوا کرتے ہیں لیکھرام کے قتل کی طرز اور وضع اور وقت اور تاریخ وغیرہ سب کچھ کس صفائی سے بتلایا گیا۔ مگر بے ایمانوں کے واسطے تھوڑا سا شبہ اور ایمان والوں کے واسطے تھوڑی سی بات ایمان کے لئے باقی رکھ لی گئی ہے بے ایمانی کی بات ہی ہوئی جو کہا کہ شاید ان کی جماعت میں سے کسی نے اس کو قتل کر دیا ہو۔
(بعد از نماز مغرب)
بعد ادائے نماز مغرب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حسب معمول اجلاس فرما ہوئے تو قادیان میں جو چوہڑوں میں چند آدمی مر گئے ہیں یہ اس وجہ کہ ان ایام میں انہوں نے کئی ہلاک شدہ بھینسیں کھائی تھیں ان کا ذکر ہوتے ہوئے آخر طاعون کا تذکرہ ہو پڑا فرمایا :۔
خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو
ایک بار مجھے الہام ہوا تھا کہ خدا قادیان میں نازل ہو گا اپنے وعدہ کے موافق اور پھر یہ بھی تھا۔ "وَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ"
ملفوظات جلد دوم صفحہ 428 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 165 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 195)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خطبہ عید الفطر
خوشی میں غم اور غم میں خوشی کا خیال رہے
از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ 16؍ جنوری 1934ء
سوسائٹی کی علامت کے لئے فرداً۔ اسلامی تعلیم اور دوسرے مذاہب کی تعلیم میں ایک
خاص امتیاز
یہ نظر آتا ہے۔ وہ امتیاز یہ ہے ۔ کہ اس مذہب کی تعلیم میں
ایک حد تک اشتراک
پایا جاتا ہے۔ اور یہ امر جو کہ اس بات کا ثبوت ہے ۔ کہ پہلا مذہب بھی سچے خدا کی طرف سے آیا ہوا ہے ۔ اسے بے شک بدل دیا گیا ہو۔ مگر بنیاد اس کی سچی ہے۔ اس میں بعض باتیں وہ ہیں جو کوئی نہ کوئی شکل اور کوئی نہ کوئی صورت میں ہر مذہب میں ہیں۔ تو ہر مذہب میں جب ہیں کوئی نہ کوئی حصہ مشابہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوا ہے اگر مشابہ نہ ہو تو کوئی تعلیم ہی نہیں۔ تو ہر مذہب میں معتدبہ حصہ کی تعلیم پائی جاتی ہے ۔ اور وہ حصہ ایسا ہے جو ہر شخص مانتا ہے کہ یہ بہت ہی تعلیم عمدہ ہے۔ ہمیں
اجمالی رنگ
میں لوگ سمجھ جاتے ۔ اسلامی تعلیم اور دوسرے مذاہب میں کوئی فرق نہیں۔ اسی بناء پر لوگ انہوں نے
تفصیلات اور انکی اہمیت
پر غور نہیں کیا ہوتا ۔ کہہ دیتے ہیں۔ کہ سب مذاہب یکساں ہیں اور کوئی فرق ان میں نہیں ۔ وہ دیکھتے ہیں کہ سب نے خدا کی یاد ۔ اس کی فرمانبرداری ۔ اور نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ سب نے چوری اور بدی کی ممانعت کی ہے پھر کیوں کسی کو برا اور بھلا کہیں وہ کہتے ہیں ان میں کسی کو برا نہیں ۔ اور کسی کو سچا، کسی کو ناقص اور کسی کو کامل مگر سب سے گمراہ کن تعلیم یہی ہے ۔ یہی فضیلت میں فرق ہے۔ جتنا
زمین و آسمان میں
اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ ایک کپڑا ہے۔ یہ بھی کپڑا ہے یہ بھی۔ اور سب کو تم نے سلیقہ میں دیکھا ہے کیا تم کہہ سکتے ہو کہ سب کا رنگ ایک ہے؟ اس میں سے بعض ریشمی کپڑے ہیں۔ جن میں کچھ بنے ہیں اور کچھ خصوصیت سے خالی ہیں۔ ایک یہ ہے ۔ بعض سوسائٹی کی ہیئت اجتماعیہ میں انہوں نے کپڑا پہنا ۔ کتنے ہی رنگوں میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہ سب برابر ہوں۔ آج کل کی ہیئت عموماً نظر آتی ایک صاحب نے مجھ سے سوال کیا۔ کہنے لگے کوئی مذہب مکمل نہیں ۔ چند دن ہوئے میں مطالعہ کر رہا تھا ۔ یہ بات اس سے ثابت ہوتی ہے۔ عقلی طور پر۔ ایک دن میں نے انکے ۔ جن کا نام بھی یاد نہیں۔ آریہ سماج سے کیا کہتے ہیں ۔ چند دن ہوئے پتہ نہیں ۔ انہوں نے عیسائیوں کے ۔ جلسے میں کھڑے ہو کر کہہ سکتے ہیں ہیں۔ کہ وہ لوگ کوئی انسانیت ہے جس نے نظریہ کو سمجھا ہو۔ جس نے خدا کی مہربانی پر کیا تنقید ہے۔ سکھا سکتا ہے۔ یہ کہہ کر میں نے پوچھا ۔ تو انہیں معلوم ہوا ۔ کہ سب مذاہب ایک ہی ہیں ۔ اس چودھری صاحب سے کہا گیا۔ ذرا تم ہی بتاؤ۔ ان کا یہ کہنا کیسے سچ ہے بلکہ میرے بیٹے مرزا ناصر احمد ۔ بھی اس سے کچھ کم معلوم ہوتے تھیں۔ تو یہ بھی ایک لباس ہے ۔ اسی طرح ان لوگوں کے مشابہ کی جو ان کے قائم کردہ رہتے ہیں۔ ہم تو اس کو بھی لباس کہتے ہیں کوئی اس میں سے
جسم کا ہر حصہ بالکل ننگا
نظر آتا ہے پھر یہ کیسے برابر ہیں۔ جو چند دن ہوئے میں نے عیسائیوں اور آریوں کے متعلق ذکر کیا تھا۔ آج کل میں ہی ۔ عیسائیوں میں
چھوڑا جائے ۔ فقط ناخن تک۔ ایک فرق جو اسلام اور دوسرے مذاہب کے ایک نظریہ کے علاوہ ہے نہیں ملتا
نام دونوں کا لباس ہے
اسی طرح ایک دلیل دی جا سکتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون سا ملبوس کیسا ہے ۔ وہ ظاہری ہیں۔ کیا نظر آتی ہیں ؟ وہ یکساں ہوتا ہے جس میں اس حد تک ملکر رہنا پڑتا ہے کہ سب برابر سکتے ہیں۔ پھر ہم اس کے رنگ کی بنا پر۔ اس کے ریشم کی بنا پر۔ کپڑے کہتے ہیں۔ یا گرمی میں وہ ننگا کر دیتا ہے۔ سردی میں سردی سے محفوظ نہیں رکھتا۔ کھردرہ ہے۔ جو ننگا لگتا ہے۔ ہم ایک پاجامے کو ۔ یا سوٹ کو۔ کیا ان باتوں پر جوتے کو ترجیح دے سکتے ہیں ۔ حالانکہ نام سب کا لباس ہے۔ اسی طرح مختلف چیزوں کا نام سوسائٹی ہے۔ کہ اس میں ملکر رہنے والے ہیں۔ صرف اتنی حد تک کہہ سکتے ہیں کہ وہ لوگ ایک جگہ رہتے ہیں۔ گیت گاتے اور ناچتے ہیں۔ دعا کے وقت سر ہلاتے ہیں۔ پھر اس میں بھی یہ فرق ہے کہ
ہر مذہب الگ الگ انداز
کہتے ہیں۔ پس ضروری نہیں۔ کہ جتنی ہی برائیاں ہوں سب مذہب ہوتی ہیں ۔ اسی طرح گناہوں میں وہ بے شرمی کرینگے ۔ ہندو میں بدی ہے۔ جن میں ملکر کوئی کام کیا جائے۔ تو سوسائٹی بن جاتی ہے۔ اتنی بات میں ۔ ہم ایک عیسائی۔ ہندو کے مقابل پر۔ ہندو عیسائی دنیا کے سامنے یہی چیز رکھ دیجئے ۔ اور بتائیے ۔ یہی دیجئے۔ مگر یہ بات نہیں ہے۔ جیسے کپڑے کو ہم پسند کرتے ہیں کہ دیکھا جائے۔ کیا میرے بدن کے واسطے۔ یہ میرے اعضاء کو چھپاتا ہے۔ ایک وہ ہیں ۔ کہ دیکھا گیا کو ننگا ۔ پھر ہم کوئی کہتا پسنا پڑا ہے۔ تو میں ان سے دریافت کر سکتا ہوں۔ جیسے لباس خصلت ہوتی ہے ۔ اتنی ہم یہ ہے ۔ اور میں نے تو اتنی باتیں کہیں ۔ کیا یہ فرق انسانیت کی اس کے لئے ہے ۔ کہ جو سوالات ہیں۔ کہ کیا انہوں نے بھی وہ ننگا نہیں چھوڑ دیا۔ نہیں گئے۔ میں نے چند سوالات کیے ۔ تو انہوں نے کہا کیا آپ نے کسی مذہب کو دانستہ چھوڑا ہے ۔ کہہ دیتے ہیں کہ ایک دن عیسائی ۔ ہندو میں۔ وہ بدی کا ثبوت دے کر اگر کہا جائے۔ یہ لباس ہے۔ تو یہی خصلت ہے اگر چاروں
سب سے زیادہ عاجز ٹھہرنے والے
ہیں جو درد دکھلاتے ہیں ۔ جس میں سے بھی ننگا پن کہتے ہیں۔ تو میں بتائے دیتے کہ اس کا کیا جواب ہے۔ یہ سچ تو اس کے دن رات کی عبادت ہے ۔ اور یہ بھی ننگا کرنے سے خارج کر دیا۔ کوئی عبادت ہے ۔ جتنے یہ لوگ ہیں۔ سارا حصہ اور ان کے بدن کا حصہ کھلا ہے ۔ تم نہیں مانتے۔ کہ یہ لوگ حالات ابدال میں سے ہیں۔ یہ لوگ ننگے رہتے ہیں۔ اور
روزنامہ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 24 جنوری 1934ء یہ حوالہ صفحہ 165 پر درج ہے
حوالہ نمبر 196
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم جلد ۲۶ الفضل نمبر ۲۰۲ روزنامہ THE DAILY ALFAZL, QADIAN قادیان دارالامان مورخہ ۳۱ اگست ۱۹۳۸ء مطابق ۵ رجب ۱۳۵۷ھ و ۳۱ ظہور ۱۳۱۷ش
الدین خدا ان کی عزت کرتا ہے جو اس کے دین کی عزت کرتے ہیں اور اس کی عزت کے لئے ہر ایک دکھ اٹھاتے ہیں اور اس کے کلام کی عزت کرتے ہیں
التبلیغ مجھے اس بات کا سخت افسوس ہوتا ہے اور دلی رنج پہنچتا ہے جب میں سنتا ہوں کہ ہماری جماعت کے لوگ آپس میں لڑتے ہیں یا ایک دوسرے کی شکایت کرتے ہیں۔ میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تم آپس میں صلح و آشتی سے رہو اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا برتاؤ کرو۔
ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
اولیاء اللہ کے دشمنوں کے پاس فرشتہ ظاہری نورانی شکل میں نہیں آتا
یہ انکار اولیاء اور ان سے ہنسی رکھنا ایمان کی ہلاکت اور تباہی کا موجب ہے۔ انبیاء اور اولیاء کی عداوت میں فرق یہ ہے کہ انبیاء کی عداوت اور ان کا انکار موجب کفر ہے۔ اور اولیاء کی عداوت موجب سلب ایمان ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ اٰذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ کہ جس نے میرے ولی سے عداوت کی اس نے مجھ سے جنگ کی۔ پس اولیاء کی مخالفت اور ان سے عداوت میں خدا تعالیٰ ان کی طرف سے لڑتا ہے کسی قوم کا کوئی افسر یا کوئی بڑا عہدہ دار جس کا کوئی معتمد اور خاص ماتحت ہو جو اس کی نیابت اور اس کی طرف سے حکومت کے فرائض بجالاتا ہو۔ اگر کوئی اس پر حملہ کرے تو گویا اس افسر پر حملہ کرتا ہے کیونکہ وہ اس کا معتمد اور نائب ہے۔ اسی طرح اولیاء اللہ کے دشمنوں پر خدا تعالیٰ حملہ کرتا ہے اور فرشتہ ظاہری نورانی شکل میں تو نہیں مگر عذاب کی شکل میں اس کے پاس آتا ہے اور اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ انبیاء کی مخالفت سے بڑھ کر اولیاء کی مخالفت انسان کو ہلاک کرتی ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے ولی کے لئے بہت جلد غیور ہو کر اس کے دشمن کو تباہ کر دیتا ہے۔
اور جس کو خدا تعالیٰ چاہتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے لئے چن لیا ہے۔ تو اس صورت میں جبکہ خدا خود اس سے پیار کرتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ اور اس کا دشمن ہو جائے اور اس کے پے در پے اس کے درپے ہو۔ پس جو شخص خدا کے پیاروں کا دشمن ہوتا ہے خدا تعالیٰ اس کا دشمن ہوتا ہے اور اس پر خدا کا قہر نازل ہوتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی وہ نعمتیں جو اس کو ملی ہوتی ہیں وہ اس سے چھن جاتی ہیں۔ اور وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ اور آخرت کا عذاب اس کے لئے تیار ہوتا ہے۔ غرض اولیاء اللہ کی مخالفت بہت بری چیز ہے۔ انسان کو اس سے بچنا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے نیک بندوں سے محبت کرنی چاہیے۔
اور اس کا وہ نور جو اس نے خدا تعالیٰ سے پایا ہے وہ اس سے چھن جاتا ہے اور وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ وہ اولیاء اللہ کی مخالفت سے بچے اور ان کی عداوت سے پرہیز کرے۔
روزنامہ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 31 اگست 1938ء
یہ حوالہ صفحہ 166 پر درج ہے
حوالہ نمبر 196 ۶ روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ 31 اگست 1938ء
اور بہت بیہودہ معنی غلط قرار دے رہے ہیں۔ اس لئے آپ ہی آپ ایک بات گھڑ لی کہ ہم پر بھی ملائکہ اترتے ہیں۔ اسے چاہئے تھا ۔ وہ پہلے ان منافقوں سے مشورہ لیتا اور پوچھتا کہ منافق کون ہوتا ہے۔ پھر یہ قریب قیاس آیت قرآن میں نازل کرتا۔ لیکن اس قدر اعتراضات کرنے کے باوجود خطوط میں بڑا اخلاص بھی ظاہر کرنا پڑا ہے۔ اور لکھا ہوتا ہے۔ ہمارے لئے دعا کریں۔ مگر
اس کی مسلمانیت کا اندازہ اسی سے ہو سکتا ہے۔ کہ ایک شخص جس کے متعلق اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اس کا مقتدا ہے۔ اس پر یہ تحریر لکھتا ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۔ اور خود تسلیم کیا کہ میں نے یہ دُعا کی ہے۔ کہ یا الہٰی میرے بعد میرا کوئی خلیفہ نہ بنا۔ تو اس میں حرج کیا ہے۔ پھر لکھتا ہے۔ جس حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر افتراء ہے۔ کیونکہ وہ کبھی ایسی دُعا کیا کرتے تھے ہمیں اعتراض تو خود خلیفہ پر ہے۔ کیونکہ خدا کی سنت کو باطل بتاتا ہے۔ اس اعتراض سے پتہ لگتا ہے۔ کہ یہ شخص منافق طبع ہے۔ اس لئے کہ ہمارا مقتدا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اعتقاد ہے۔ کہ آپ نبی اللہ تھے۔ مگر یہ لاہوری اس بات کو نہیں مانتے اور وہ آپ کو صرف ولی سمجھتے ہیں۔
تو جب کوئی شخص ایک سچے نبی پر اعتراض کرتا ہے۔ اُسے ماننا
دوسری سچائیوں پر بھی
اعتراض
کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً مصری صاحب کو سب سے پہلے میری خلافت پر خامیاں نظر آئیں۔ اب اس کا لازمی نتیجہ ہے ۔ کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ پر بھی ان کا حملہ ہو۔ کیونکہ جس طرح میں خلیفہ ہوں۔ اسی طرح وہ بھی خلیفہ تھے ۔ جس طرح میں یہ کہتا ہوں ۔ کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنایا ہے، کسی انسان نے نہیں بنایا۔ اسی طرح آپ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے ۔ اور کسی انسان کی یہ طاقت نہیں ۔ کہ مجھے خلافت سے معزول کرے۔ پھر آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے۔ کہ جو شخص میری خلافت پر اعتراض کرے گا ۔ وہ ابلیس بن جائے گا۔ اور جب میں مرجاؤں گا ۔ تو پھر وہی کھڑا ہوگا ۔ جس کو خدا چاہے گا ۔ اور خدا اسی کو آپ کھڑا کریگا۔
ہاں جب انہوں نے یہ بھی باتیں کہی ہیں۔ تو پھر حق اپنے دل میں سوچنا پڑتا ہے ۔ کہ حضرت خلیفہ اولؓ کی باتیں صحیح تھیں ۔ تو پھر وہ خلافت پر کوئی اعتراض نہیں کرسکتا۔ اور اگر میری خلافت قابل اعتراض ہے ۔ تو حضرت خلیفہ اولؓ کی خلافت بھی باطل ہے۔ اور چونکہ اس کے دل میں بغض ہوتا ہے۔ اس لئے وہی اعتراض جو وہ مجھ پر کرتا ہے۔ حضرت خلیفہ اولؓ پر بھی کر دیتا ہے۔ اور اس طرح ان کی خلافت کا بھی منکر ہوجاتا ہے۔ پھر اس سے اور بہت دور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان پیشگوئیوں کو دیکھنا ہے جو آپ نے میرے متعلق فرمائیں ۔ آپ کی اُن دعاؤں کو پڑھنا ہے ۔ جو آپ نے میرے لئے اور اپنی باقی تمام اولاد کے لئے کیں ۔ تو اسے کہنا پڑتا ہے۔ یہ بھی غلط ہی ہیں۔ وہ پیشگوئیاں سب لغو اور کذب ہیں ۔ یہ پوری نہیں ہوئیں ۔ اور دعاؤں کا ذکر ملتا ہے۔ تو کہتا ہے ۔ ہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعائیں مانگی تو تھیں مگر وہ قبول نہیں ہوئیں۔ ان کے بچوں کی دعائیں تو قبول ہوجاتیں ۔ لیکن اگر دعائیں قبول نہ ہوں ۔ تو خدا کے مسیح اور اس کے نبی کی ۔ اس کے متعلق تو وہی درگت ہونی ہے ۔ کہ وہ بار بار کہے ہیں۔ ہم دعا کریں گے ۔ اللہ ہمیں تسلی دے گا۔ اللہ جس کی سنتا ہے، مگر مسیح موعود کہ جو خدا کا مرسل تھا۔ اسکے قول کے مطابق کذاب اور دجال تھا۔ کہ خدا نے اس کی دعاؤں کو نہ سنا۔ وہ کہتا ہے ۔ ظالم منافقوں اور بد باطنوں کی ۔ اسی طرح پھر یہ مجھے بدنام کرتا ہے۔ کہ یہ جماعت سے نذرانے وصول کر کرکے انہیں غریب کر دیا۔ تم اس وقت یہاں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہو۔ کیا تم میں سے کوئی ایک شخص بھی قسم کھاکر کہہ سکتا ہے ۔ کہ میں نے کبھی ایک پیسے کا بھی اس سے نذرانہ مانگا ہو۔ میرا طریق ہمیشہ یہ ہے کہ بعض دوست میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں۔ ہم فلاں چیز آپ کے لئے لانا چاہتے ہیں۔ وہ کس سائز کی ہو۔ مثلاً جوتہ کا کیا سائز ہو۔ یا ہم فلاں قسم کے کپڑے لائیں گے۔ مگر میں انہیں جواب نہیں دیتا۔ سوائے اس کے کہ بعض دفعہ کوئی ضد کرکے پاؤں کا ناپ لے لے تو یہ دوسری بات ہے۔ ورنہ میں نے کبھی کسی کو ایسی باتوں کا جواب نہیں دیا۔ بلکہ بعض تو کئی کئی خط بھیجتے ہیں۔ اور جب میں جواب نہیں دیتا تو وہ شکایت کرتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں شاید میں ان کی نذروں کا مان نہیں رکھتا۔ اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہوں۔ حالانکہ میں جواب اسلئے نہیں دیتا۔ کہ یہ بات میری طبعیت کے خلاف ہے۔ اور میں اسے بھی سوال کا ایک رنگ سمجھتا ہوں۔ ہاں اگر کوئی دوست خود بخود کوئی تحفہ دے جائے تو میں اسے رد بھی نہیں کرتا۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ حدیث ہے کہ آپ ایسے تحائف قبول فرما لیا کرتے تھے۔ آپ فرماتے ہیں ۔ تہادوا تحابوا ۔ تم ایک دوسرے کو تحائف دیا کرو۔ اس سے محبت بڑھتی ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ایسے تحائف قبول کر لیا کرتے۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی میں اگر مجھے کوئی خوشی سے کچھ دے دے ۔ تو میں اسے لیتا ہوں ۔ ورنہ مانگنے کے لحاظ سے کوئی شخص ثابت نہیں کرسکتا ۔ کہ میں نے کبھی کسی سے کچھ مانگا ہو۔ باقی رہے یہ چندے
سو اگر میں نے اپنے لئے جماعت سے نذرانے لینے ہوتے ۔ تو پھر میں کیوں
روزنامہ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 31 اگست 1938ء
یہ حوالہ صفحہ 166 پر درج ہے
حوالہ نمبر 197
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
مدینہ قادیان دارالامان ستمبر و اکتوبر میں اس کے سالانہ چندہ کی شرح بوجہ اشاعت جلسہ سالانہ نمبر کے مستقل و عارضی خریداروں کے لئے ۵ روپے ہوگی ۔ سالانہ ۳۴ روپے ششماہی ۱۷ روپے سہ ماہی ۹ روپے ۔ ایک ماہ کے لئے ۴ روپے بیرونی ممالک کے لئے ۳۸ روپے خط و کتابت صیغہ اجراء و شکایات مینیجر کے نام ہونی چاہئیں ۔ اور روپیہ صیغہ حسابات کے نام آنا چاہئے ۔
روزنامہ الفضل قادیان
جلد ۲۶ قادیان دارالامان مورخہ ۳۱؍ اگست ۱۹۳۸ء نمبر ۴۷
حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ
کے
تازہ رویا و کشوف
—: سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲۶؍ اگست ۱۹۳۸ء کو نماز جمعہ سے قبل درج ذیل رویا اور کشوف بیان فرمائے :—
فرمایا ۔ چند رؤیا یاد ہیں جو میں سناتا ہوں ۔ ایک رؤیا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ پر کھڑا ہوں ۔ اور میرے سامنے ایک ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی ہنڈیا سی ہوتی ہے ۔ مگر اس میں سے بھاپ نکل رہی ہے ۔ مجھے وہ ہنڈیا لیکن نہیں معلوم ہوتی ۔ پھر میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ۔ میں نے کہا ۔ ہنڈیا نہیں بلکہ فلاں قسم کی روٹی پکنے والی ہے ۔ مجھے دورانِ خواب میں کوئی عورت پاس خیال رکھا جائے ۔ میں نے کہا کہ مجھ میں اسے نہیں بھاپا کہ میں اسے میں نے ایک لکڑی لی ۔ وہ دوسرا ڈنڈا اس نے مارا ۔ تو میں نے کہا کہ یہ کیا ہے ۔ لیکن ایک بات رہ گئی ہے ۔ میں نے کہا کہ میں نے ایک بات رہ گئی ہے ۔
صاحب سے دریافت کیا ۔ اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ محمد علی صاحب نے کہا کہ مجھے معلوم ہے ۔ وہ مجھے کہہ رہے ہیں ۔ میں نے کہا ۔ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ اس شخص سے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن میرا مطلب تھا ۔ میں نے کہا۔ دوبارہ پوچھو کہ وہ کیا ضروری چیز ہے ۔ میں نے جلدی سے کہا۔ میں نے کہا۔ میں نے کہا کہ میں حالت میں جو کہتا ہوں ۔ میں نے کشف کی حالت میں دیکھا کہ میرے پاس آتے ہیں ۔ ایک دوائی کی شیشی ہے ۔ اس کا رنگ نیلا سا ہے ۔ اور وہ دوائی سرخ رنگ کی ہے ۔ اس کے بعد حالت بیدار ہو گئی ۔ حضور نے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی دباؤ کے ماتحت آیا عرب اشارہ کرتا ہے کہ وہ اس میں ضرور کامیاب ہوں گے ۔ وہ اس سے دوائی نکالنا چاہتے ہیں ۔ تو اس کا یہ مطلب سمجھنا چاہئیے ۔ پھر فرمایا۔ رؤیا میں نے دیکھا۔ وہ یہ دیکھا ہے کہ ایک شخص نے ایک اچھے موقعہ پر ایک خالی دفتر کو دیا ہے۔
آنا چاہئے ۔ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ میں نے اس سے پہلے کہ وہ مجھے بتاتا ۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ روٹی دے دو۔ میں نے کہا۔ اگر تم نے روٹی پکانی ہے ۔ تو کیا مجھے حرج ہے ۔ میں نے چابی اس کے ہاتھ سے لی اور اسے چابی دی ۔ میں نے کہا کہ تم نے مجھے روٹی کیوں نہ دی ۔ اس پر وہ کہنے لگا ۔ میں نے اس روٹی کو بہت سا کھا لیا ہے ۔ میں نے کہا ۔ مجھے کیوں نہیں دی ۔ کہنے لگا ۔ میں نے یہ سمجھا کہ میں نے اسے پکایا ہے ۔ اور وہ تمھارے لئے ہے۔ میں نے اسے نہیں کھایا ۔ میں نے اسے کہا ۔ کہ مجھے یہ معلوم نہیں ۔ میں نے اسے اس کے سامنے رکھ دیا ۔ اور میں نے اس سے پوچھا ۔ بتاؤ یہ کیا ہے ۔ میں نے اسے کہا ۔ یہ بتاؤ ۔ اس کے بعد میں اسے چابی دے دی ۔ اس کے بعد میں نے اس سے پوچھا ۔ اس کی کیا تعبیر ہے ۔ تو اس نے کہا ۔ مجھے یہ معلوم نہیں ۔ میں نے اس سے کہا ۔ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تم نے ایک دفتر میں کام کیا ہے ۔
کہا ۔ میں نے اس کا یہ مطلب لیا ہے ۔ کہ دیکھیں وہ اس دفتر کو کیا کرتے ہیں ۔ میں نے اسے کہا ۔ بھلا بتاؤ تم نے کیا کیا ۔ اس نے کہا ۔ میں نے اسے روٹی دی ہے ۔ میں نے اسے کہا ۔ تو تم نے روٹی کیوں نہیں دی ۔ میں نے اس سے کہا ۔ میں نے اسے روٹی دی ۔ تو وہ کہنے لگا ۔ میں نے اسے نہیں کھایا ۔ میں نے کہا ۔ میں نے اسے روٹی دی ۔ تو وہ کہنے لگا ۔ میں نے اسے نہیں کھایا ۔ میں نے اسے کہا ۔ میں نے اسے روٹی دی ۔ تو وہ کہنے لگا ۔ میں نے اسے نہیں کھایا ۔ میں نے اسے کہا ۔ میں نے اسے روٹی دی ۔ تو وہ کہنے لگا ۔ میں نے اسے نہیں کھایا ۔ میں نے اسے کہا ۔ میں نے اسے روٹی دی ۔ تو وہ کہنے لگا ۔ میں نے اسے نہیں کھایا ۔ میں نے اسے کہا ۔ میں نے اسے روٹی دی ۔ تو وہ کہنے لگا ۔ میں نے اسے نہیں کھایا ۔ میں نے اسے کہا ۔ میں نے اسے روٹی دی ۔ تو وہ کہنے لگا ۔ میں نے اسے نہیں کھایا ۔
روزنامہ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 31 اگست 1938ء
یہ حوالہ صفحہ 166 پر درج ہے
حوالہ نمبر 197
بن جاتی ہیں۔ اور جب میں آتا ہے۔ اور کچھ کچھ وہ سمجھتی ہیں۔ اور یہاں دیکھا جاتا ہے وہاں دیکھتی ہیں اللہ تعالیٰ کی صفات اس کی خوشی کے مطابق ظاہر ہونے لگیں۔ اور جب وہ چاہتا ہے کہ اس طرح ہو تو وہ اسی طرح ہو جاتا ہے۔ جب کہ بعض دفعہ ہم میں کوئی بے قراری و ناگواری پائی جاتی ہے وہ دکھ مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن ان کی دید ہی کے لئے اس طرح کرنی پڑتی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے بندے بھی ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ جو وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ویسا ہی کر دیتا ہے۔ اس مقام پر نام صوفیاء نے انقطاع کون کا مقام رکھا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ درجہ دکھا کر یہ بات ظاہر کر دی ہے کہ میں کتنا بڑا مقام لوگوں کی ترقی کے لئے رکھے ہوئے ہوں صفات میرے تابع کی گئی ہیں وہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔ خواب میں میں نے جو کچھ دیکھے ہیں ، اور اس کے ساتھ آواز آئی کہ پڑھو قرآن۔ اس میں اشارہ ہے جماعت کو یہ سکھا دیا ہے کہ دوزخ سے بچنے کا ذریعہ صرف قرآن کریم ہے۔ اور مجھ کو وہ لوگ نظارہ سے ایک دوزخ کی بھی حل ہو گیا۔ پوری اور عیسائی فلاسفر اس پر عقائد لادے کہ دوزخ میں انسان کو ہمیشہ تپش ملے قوس میں اب نے اس کو حل کر دیا کہ دوزخ آگ میں ہی ایک دوسرے کو کاٹیں گے۔ اور وہ آگ جو ان کی طبیعت کو شعلہ ور بنائے جس میں کوئی اپنے ان کو چھوڑیں گی بشکل دے دیں گی ورنہ دوزخ میں کیوں۔ تاہم یہ ہے کیسے لاکھ کہیں ڈالے جائیں گے۔
اس خواب میں نباتات کے گملے اس رنگ میں سمو کر بشارت ہے تو میں نے اس عورت سے کہا۔ کہ سردیوں میں مجھے سخت قمیص پر رحم آیا۔ اور وہ معاملہ ختم گیا۔ جنت میں سردیوں سے
مرد بچہ ۔ درجہ نما کا ناظم مقام عورت نما اس وقت میں توڑا ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کیا کہ خود سورج بنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو چاند بنایا ہے اور اب بھی لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو عورت دیکھا ۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو سمجھا نہیں ہمارا نکتہ اس جگہ یہ خدا اپنے تئیں کو ہزاروں ناموں کرتا ہے۔ وہ ہم میں درجہ سے اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے ۔ وہ اپنا درجہ ویسا ظاہر کر دیتا ہے۔ معارف سے فرماتا ہے۔ لا تدرکه الابصار وهو يدرك الابصار وهو اللطيف الخبیر کہ اس نگاہوں تک پہنچنے سے بہت ہی بالا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہوتے ہیں جو بناتے ہیں ۔ حق تو یہ ہے اور خود خدا نے میرے کانوں کے تحت نہیں کر دی ہے ۔ اور دوسری خواب میں جانور والی نہیں ۔ بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجانا ۔ مانا ہے اس لئے وہ جانور بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سونے خدا کو مختلف نقطہ نگاہ سے مختلف نام خدا تعالیٰ کو زبان کے تحت نہیں اسی طرح سے، سورج میں، چاند میں اور خدا تعالیٰ جاندار دوسری جہت سے وہ جانداروں میں اور اللہ تعالیٰ سورج جیسے کوئی دیوتا ہے آپ کو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں تو وہاں بے قراریت نے اس کے لئے اپنی صفت رحمت کو ظاہر کرنا ہے۔ اور ذرا غفلت و کوتاہی کرتے تو مجھے اپنا مقام ہاتھوں کے بناتے ہیں خدا کا ظاہر کرنا دیتے ۔ بلکہ ملائکہ ایک رنگ میں خدا تعالیٰ کا اپنے بندے کی غرض میں اپنی خوش حالی کر کے دوزخ کی شکل اختیار لیتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث نوافل سے بندہ اللہ تعالیٰ کو اور جو خیال پیش آیا وہ یہ ہے سے وہ کہتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے کان بن جاتا ہے جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں بن جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاؤں بن جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے۔ پھر سمیع العالمین وہ آنکھیں
جو قعر سے نیچے آرہی ہے۔ یا کوئی پڑھ رہی ہے۔ رستہ میں کوئی ڈر بن جس کے کمرے نہایت خوبصورت اور عالیشان ہیں ۔ اور ان گھروں میں خوبصورت گائیں اور بھینسوں کی طرح جانور ہیں ۔ میں پڑھتے پڑھتے ہوئے ایک جگہ کو ایک طرف کر کے یوں گزرتا ہوا جو چیز رستہ میں آتی ہے اُسے سیدھا بچاؤ کر کے آگے جا رہا ہوں۔ اور معلوم سے گزرنے کے لئے میں رستہ تلاش نہیں کر تا ۔ رستہ پڑا ہے۔ یہ وہاں میرے رستہ پر آتے ہیں میں ان کے بغیر سنے ان کے سروں پر پاؤں رکھ کر پار کر کے اُترتا ہوں۔ آخر ایک ایسی جگہ میں پہنچا ہوں جہاں ایک میدان ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ایک مکان جس میں میرا مکان ہے ۔ مرے پیچھے پیچھے وہ عورت بھی وہاں پہنچ چکی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں ۔ یہ عورت جس نے میرے ساتھ دینے کے لئے آتی ہے ۔ وہ بہت ہی خوبصورت عورت ہے ۔ میں اس کی خوبصورتی کو کیا کہوں ۔ کہ میں نے کبھی بہشت میں میرے ساتھ رہے گی ۔ اس نے کہا میں آپ کے ساتھ بہشت میں رہوں گی ۔ ہے کہ یہ میری بیوی ہو۔ اس کے ساتھ دنیا میں رہنے کا ۔ وہ کچھ حیرت ظاہر کرتی ہے کہ بیویوں کے ساتھ اُتر ا جاتا دیکھا نہیں گیا ۔ اس وقت مجھے میری دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ خوبصورت عورت اللہ تعالیٰ ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ میرے ساتھ شکل میں دیکھا اپنے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ حضرت مریم کے خدا داد ۔ جنونک میں نے دن رات یہ غار کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس خواب میں یہ مذاق کھول کر دیا ہے اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فرماتا ہے یا شمس یا قمر ۔ اے سورج اے چاند۔ سورج کی خاصیت ہے کہ وہ روشنی دیتا ہے۔ اور چاند کی خاصیت یہ ہے کہ وہ سورج سے روشنی لیتا ہے گویا یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سورج کہا اور خود چاند بنایا ۔ اسی طرح عورت مرد سے نطفہ لیتی ہے ۔ اور مرد نطفہ دیتا ہے جس کا نتیجہ
جو کہ ایک دوسرے کے قریب ہونے جا رہے ہیں۔ میں نے ایک دوسرے پر اس طرح گرے جس طرح کبوتر بیٹھی کے لئے جمع ہوتے ہیں جب ایک دوسرے پر گرنے کی کوشش کرتا ہے تو میں نے دیکھا کہ دوسرے نے اوپر گرنے والے کبوتر کو زور سے ٹانگ ماری اور وہ اُچھل کر سامنے جا پڑا۔ پھر اس نے دوسرے کی طرف منہ کر کے چیل کی مثل اڑان شروع کر دی۔ اور اوپر تک جاتا ہے ۔ اور دوسرے نے بھی اس کے جواب میں اُڑنا اور اُچھلنا شروع کر دیا ۔ اور وہ دونوں شعلوں کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی کر رہے ہیں۔ اس کے بعد کچھ اور کبوتر پیدا ہو گئے۔ ان کے قدیم اسی طرح ہے ۔ آخر گرتے قریب ہیں۔ پھر انہوں نے بھی اُڑنا شروع نے لڑنا شروع کر دیا۔ دوران جنگ شعلوں کا نظارہ ہوتا ہے بہت کافی میں نے دیکھا کہ کچھ پر آب نیلے سے باغ میں۔ اور گواہی کی شکل اختیار کر لی ۔ اور اس نے اسی کبوتر کی طرف جانا شروع کیا جہاں میں بیٹھا تھا۔ میں گھبرا کر وہاں سے چل پڑا۔ دفعتاً مجھے پیچھے کی طرف سے آواز آئی مجھے معلوم نہیں کہ وہ فرشتہ کی آواز ہے یا کسی کی البتہ میرا وجدان یہی کہتا ہے یہ آواز کہتی ہے کہ جس نے قرآن شریف سنا اور صوفی آواز سے پڑھنا شروع کر دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ میری آواز بہت سریلی اور بلند ہے اور میں جس طرف سے گزرتا ہوں ۔ میرے آواز پہاڑوں اور میدانوں میں گونج پیدا کر دیتی ہے گو یا ساری نباتیں ہری ہے اور میں نے کہا یہ وہ آواز آتی ہے وہ سن کر کہہ پڑھے لگ جاتا ہے۔ میں پڑھتا جایا ہوں اور قرآنی کریم پڑھتا جا رہا ہوں۔ چاروں طرف سے قرآن کریم کی صدائیں میرے کانوں میں آرہی ہیں۔ میری آواز کے بعد میں نے محسوس کیا کہ کوئی عورت بھی قرآن کریم پڑ
یہ حوالہ صفحہ 166 پر درج ہے
قادیانی خلیفہ مرزا محمود کا خواب مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان ، 20 مارچ 1947ء جلد 35 شمارہ 67 صفحہ 2
حوالہ نمبر 198
۴۳
- ۱۱۔ کیا حضرت مسیح موعود نے اپنی کسی کتاب یا اشتہار ، مکتوب یا
تحریر میں آپ کو ڈائریکٹر ، ناظر ، امیر ، خلیفہ ، امام ، سید ، آقا ، مولیٰ ، مسیح ، حارث یا کوئی اور نام دے کر اپنے بعد اس امت کا پیشوا بنایا تھا ؟ اور کیا آپ کی بیعت کا کسی کو حکم دیا تھا ؟
- ۱۲۔ بھلا حضرت خلیفہ اول نے بھی کبھی اپنے بعد تمہیں اپنا خلیفہ بنایا
یا خلفاء راشدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تمہیں منتخب کر کے امر خلافت سونپا تھا ؟ ہرگز نہیں ۔
- ۱۳۔ جب کسی نے تمہیں خلیفہ ، امیر ، حارث یا مصلح موعود نہیں بنایا تو
اس کے بعد تم خدا تعالیٰ کے ماننے والے مسلمانوں کو کافر کہنے اور اپنے تئیں خدا کا سچا اور حقیقی مامور ہونے کا کیونکر دعویٰ کر سکتے ہو ۔
میرا چیلنج اور مباہلہ
حضرت میاں محمود احمد صاحب کی خدمت میں میرا یہ کھلا چیلنج ہے کہ میں نے ان پر جو الزامات لگائے ہیں وہ ان کی صفائی دیں اور اگر وہ سچے ہیں تو میرے ساتھ مباہلہ کریں تاکہ خدا تعالیٰ سچے کو بچائے اور جھوٹے کو ہلاک کرے ۔ تا یہ ثابت ہو جائے کہ خدا کس کے ساتھ ہے اور سچا کون ہے اور کاذب کون ہے ۔
- ۱۴۔ مباہلہ کے لئے کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہوتی ، یہ تو اپنے قول کی تصدیق
کرانے کے لئے ہوتا ہے ۔ پس اگر آپ سچے ہیں تو میدان مباہلہ میں نکل آئیں اور مجھ سے مباہلہ کریں ۔ اگر آپ سچے ہوئے تو میں ہلاک ہو جاؤں گا اور اگر میں سچا ہوا تو آپ ہلاک ہو جائیں گے ۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے میں ہر وقت تیار ہوں ۔
۴۰
اور یقینی ہوتا ہے مگر کسی دوسرے کو اس کی سچائی کا اقرار نہیں ہوتا ۔
(انوار خلافت صفحہ ۹۳)
- ۳۔ دوم اس لئے کہ خود میاں محمود احمد صاحب نے حقیقت النبوۃ میں
کہا ہے کہ ”ایک قسم کے ملہم وہ ہوتے ہیں جنہیں سچا مانا جاتا ہے مگر ان کی وحی کو شریعت کے ماتحت رکھا جاتا ہے “ پس اس سے ثابت ہوا کہ میاں محمود احمد صاحب کے نزدیک الہام کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جس کی پابندی کی جائے اور دوسری وہ جس کی پابندی نہ کی جائے ۔ پس اگر بالفرض میاں محمود احمد صاحب سچے بھی ہوں تو ان کا الہام دوسری قسم کا ہے کہ جس کی پابندی ان کے سوا کسی دوسرے پر فرض نہیں ۔ اور اس لئے ہم ان کے ماننے پر مجبور نہیں ۔
(آئینہ صداقت صفحہ ۳۵)
خلیفہ صاحب کی عیاری
خلیفہ صاحب ہر وہ مطلب جو میاں محمود احمد صاحب کی مخالفت میں ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صریح الفاظ کی روشنی میں سچا ہوتا ہے اس کی تردید کرتے ہیں اور اس سے جماعت کے افراد
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۲۵
کیسے ہو سکے، اُلٹے تیاریاں شروع کر دیں۔ ایڈیٹر ظل کمال یہ کہہ کر تمسخر اُڑاتا رہا ہے ۔ کہ اس میں کیا حرج ہے مباہلہ کے لئے تیار ہیں ۔ مگر کسی نے دعوت مباہلہ اسے نہ دی ۔ یہاں تک کہ ۲۵ ستمبر آگیا، اور مرزائیوں کی طرف سے کوئی میدان میں نہ آیا اور اپنے اس سکوت سے انہوں نے دنیا کو بتا دیا کہ ہم سچے نہیں ، اور مرزا محمود کی طرح یہ دعویٰ بھی محض لفاظی اور دھوکہ دہی تھا کہ :-
(الفضل ۲۸ جولائی ۱۹۳۳ء)
ہرگز کسی اور سے مباہلہ کی ضرورت نہیں ، میرے لئے میاں تاج محمود ہی اس کا مقابلہ کافی ہے ۔
مگر جب اس لفاظی کی حقیقت کھل گئی تو قادیان سے یہ اعلان شائع ہوا کہ :-
ہم نے یہ کب کہا تھا کہ ہم مباہلہ کرنا چاہتے ہیں ، اور اس کا طریق بھی ہمارے نزدیک یہ نہیں ہے ، کہ اس طرح دونوں فریق قسمیں کھا ئیں، مباہلہ تو قادیان جا کر ہو سکتا ہے، کوئی آئے تو سہی ہم مباہلہ کرنے کو تیار ہیں “
(الفضل ۲۰ ستمبر ۱۹۳۳ء)
میاں بشیر الدین محمود کا ایک اور چیلنج اور اس کا انجام :
۲۶
شہادتِ حقہ کی تکمیل حجتہ الہدیٰ کی تکمیل اور سنتِ انبیاء کی تکمیل کے لئے
چیلنج مباہلہ
بنام میاں محمود خلیفہ قادیان
صدق و کذب کے فیصلہ کا آسان طریق
میاں محمود صاحب کا یہ اعلان ۲۸ ستمبر کو شائع ہوا ۔ اس میں اس کے سوا اور کیا تھا، کہ عوام کو دھوکا دیا جائے، اور خفت مٹائی جائے ۔ ورنہ ہم تو چیلنج مباہلہ دے ہی چکے تھے ، اور ہم نے بتا دیا تھا کہ جب تم خود مباہلہ کی دعوت دے چکے ہو تو اب فرار کیوں ؟ مگر خیر ہم نے اس چیلنج کو بھی منظور کر لیا۔ اور اسی وقت میاں محمود کو بذریعہ تار اور رجسٹری خط کے اطلاع دے دی ، کہ ہم قادیان پہنچ کر مباہلہ کرنے کو تیار ہیں ۔ آپ تاریخ مقرر کر کے ہمیں اطلاع دیں۔ اور ہم اس اطلاع کے بعد قادیان پہنچ جائیں گے ۔
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۲۷
کیونکہ آپ عجیب و غریب فتنہ انگیز فتوے سناتے ہیں کہ تمام روئے زمین کے کلمہ گو مسلمان کافر ہیں ۔ ان کے پیچھے نماز قطعی حرام ہے ۔ بلکہ ان کے معصوم بچوں کا جنازہ تک پڑھنا نا جائز اور ان سے رشتہ و ناطہ حرام ہے ۔ ایسے فتوے صادر فرمانے کی وجہ سے مسلمانوں میں خصوصاً اور باقی دنیا میں عموماً کافی شہرت رکھتے ہیں ۔ آنجناب کا دعویٰ ہے کہ آپ خدا کے مقرر کردہ خلیفۃ المسلمین ہیں ۔ اور خدا نے ہی آپ کو دنیا کی ہدایت و اصلاح کے لئے مامور فرمایا ہے اور اگر فی زمانہ کوئی روحانیت کا مجسم نمونہ اور اسلام کا سچا حامی علمبردار ہے ۔ تو وہ آپ کی ذات والا صفات ہے ۔
خلافت مآب کے ان عظیم الشان دعاوی نے ایک دنیا کو حیرت میں ڈال رکھا تھا ۔ لیکن یہ کیونکر ممکن تھا کہ اس قادر مطلق خبیر و علیم جس سے کوئی نہاں در نہاں فعل پوشیدہ نہیں۔ اور جس نے ابتدائے عالم سے مخلوق کو گمراہی سے بچانے کے سامان پیدا کئے اور بالآخر ہمارے سید و آقا سید الکونین حضرت محمد صلے اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا ۔ کسی ایسے شخص کو زیادہ مہلت دیتا جو اس کے اور اسکے پاک رسول کے نام کی آڑ میں بندگان خدا کو گمراہ کر رہا ہو ۔ آج اس مسبب الاسباب کے پیدا کردہ یہ سامان ہیں کہ خود خلیفہ قادیان کے مخلص مرید آنجناب کے پوشیدہ رازوں کا انکشاف کر رہے ہیں ۔ اور عرصہ سے خلافت مآب کو ، جو پیشتر ازیں ہر مخالف کو مباہلہ کے لئے بلایا کرتے تھے ان سے مشتبہ چال چلن پر مباہلہ کی دعوت دے رہے ہیں
۲۸
مگر آج تک اس دعویٰ تعلق باللہ کے مدعی کو میدان میں آنے کی جرات نہیں۔
خاکسار اپنے فرض سے سبکدوش ہونے کے لئے اور دنیا پر حقیقت کو بے نقاب اور جملہ برادران اسلامی کی آگاہی کے لئے بذریعہ اشتہار ہٰذا اس امر کی اطلاع دیتا ہوں ۔ کہ یہ عاجز بھی عرصہ سے خلافت مآب کو یہی چیلنج دے رہا ہے کہ اگر ان کی ذات پر عائد کردہ الزامات غلط ہیں تو وہ میدان مباہلہ میں آ کر اپنی روحانیت و صداقت کا ثبوت دیں۔ مگر خلافت مآب نے آج تک اس چیلنج کو قبول ہی نہیں کیا۔ آج پھر اتمام حجت بذریعہ اعلان ہٰذا میں خلیفہ قادیان کو چیلنج دیتا ہوں کہ ان کے دعاوی میں ذرہ بھر بھی صداقت ہے تو اپنے چال چلن پر الزامات کے خلاف وہ مباہلہ کریں تاکہ فریقین میں سے جو جھوٹا اور کاذب ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے اور دنیا اس مباہلہ کے نتیجے سے حق و باطل میں فیصلہ کر سکے۔
کیا میں امید کروں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی متابعت کا دعویٰ کر کے ۔ اہل اسلام کے دلوں کو مجروح کرنے والا اور تمام انبیاء کی پیش گوئیوں کا مصداق ہونے کا دعوے دار اس دعوت مباہلہ کو قبول کر کے اپنی صداقت کا ثبوت دے گا ۔
ذیل میں یہ عاجز اس ہستی کا فتویٰ درج کرتا ہے جس کے قائم مقام ہونے کا خلافت مآب کو دعویٰ ہے اور جس کو آپ بعد آنحضرت صلی
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 198)
۲۶ اللہ علیہ وسلم بطریق نبی تسلیم کرتے ہیں ، تاکہ خلیفہ صاحب یہ کہنے کی جرات نہ کر سکیں کہ ایسا مباہلہ جائز نہیں۔ مباہلہ ، ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی صدق اور یقین پر بنا رکھ کر دوسرے کو مفتری اور کاذب قرار دیتے ہیں۔ (اخبار الحکم) خاکسار خلیفہ قادیان کا ایک سابق مرید محمد الہٰ داد خاں (اخبار اہل قادیان)
شہادت نمبر ۲
چونکہ شریعت نے عورتوں کو پردے کی ہدایت دی ہے اس لئے اس نام کو بے پردہ نہیں کیا گیا۔ اس کی فی الحال ضرورت تو نہ تھی لیکن اس خوف سے کہ خلیفہ صاحب کو ٹال مٹول کا موقع نہ ملے کہ عورتوں کی گواہی کسی کام کی نہیں، اسلئے مباہلہ نامی اخبار قادیان میں جو بیان شائع ہوا ہے وہ ایک احمدی قادیانی خاتون کا ہے ۔ وہ پیش خدمت ہے ۔
ایک احمدی خاتون کا بیان
میں میاں صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں اور لوگوں میں بھی ظاہر کر دینا چاہتی ہوں ۔ کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے ہیں ۔ میں کھتریانی
عہ مباہلہ قادیان نے ساتھ ہی یہ لکھ دیا کہ ہمارے نزدیک قادیانی خاتون کی حجت قابل قبول ہے ہم نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ خلیفہ صاحب مباہلہ پر آمادہ ہوں تو نام کا اظہار تو کوئی ادنیٰ بات ہے
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
مسجدوں میں اعلان کرا دیا کہ تم میں سے جو کوئی شخص بھی فدائیوں کی مخالفت کی غرض سے کوئی جلسہ جلوس کرے گا اس پر بغاوت کا جرم عاید ہو گا ۔ اس اعلان کے ایک دن کا ذکر ہے کہ میرے والد صاحب نے مجھے کہا کہ جاؤ حضرت صاحب (محمود) سے جا کر کہو کہ میں نے مرنے کے لئے بیعت نہیں کی ۔ بلکہ مارنے سے بچنے کے لئے بیعت کی ہے ۔ اس وقت میاں صاحب قادیان سے باہر سردار مہربان سنگھ کے ہاں گئے ہوئے تھے ۔ میں نے وہاں جا کر حضرت صاحب کے کسی مصاحب سے کہا کہ میں چند منٹ کے لئے میاں صاحب سے ملنا چاہتا ہوں ۔ اس وقت میاں صاحب سردار مہربان سنگھ کے زنان خانے میں تھے ۔ مصاحب نے میرا یہ پیغام دیا ۔ اندر سے مجھے بلانے کا حکم آ گیا ۔ میں نے اندر جا کر میاں صاحب کو والد صاحب کا پیغام دیا ۔ تو میاں صاحب نے غصے سے کہا کہ جاؤ ۔ اپنے والد کو کہو کہ میں نے کب کسی کو منع کیا ہے کہ فدائیوں کے جلسوں میں شریک نہ ہوں ۔ مجھے یہ کہہ کر میاں صاحب نے غصے سے مجھے کہا کہ جاؤ یہاں سے ۔ میں نے آکر والد صاحب کو سب روداد سنائی ۔ اس پر میرے والد صاحب نے کہا کہ میں نے میاں
۴۱
شب بیداری نمبر ۳
خاکسار راقم نے یہ بات میاں محمود کو بتائی ۔ کہ ۴۷ء میں جب ہم نے خواب میں دیکھا کہ میاں محمود صاحب نے کوئی ایسا کام کیا ہے جس سے جماعت کو سخت نقصان پہنچا ہے اور جماعت میں تفرقہ پڑ گیا ہے ۔ اس خواب کی بنا پر ہم نے میاں صاحب سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ تو اس کا میاں صاحب نے یہ جواب دیا کہ ”یہ خواب تو سچا ہے مگر اس کی تعبیر تم نے غلط کی ہے ۔ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ۔ جس سے جماعت میں تفرقہ پڑا ہو ۔ البتہ ایک کام مجھ سے ایسا ضرور ہوا ہے کہ جس سے جماعت میں تفرقہ پڑنے کا احتمال تھا ۔ مگر میں نے اس تفرقہ کو بچانے کے لئے جماعت کے سامنے جھوٹ بولا ۔ تاکہ جماعت میں تفرقہ نہ پڑے۔“ خاکسار نے میاں صاحب سے پوچھا کہ وہ کون سا کام تھا ۔ تو میاں صاحب نے کہا کہ ”میں نے اپنی سالی کے ساتھ زنا کیا تھا ۔“ تو خاکسار نے پوچھا کہ آپ نے یہ زنا کہاں کیا تھا تو میاں صاحب نے جواب دیا کہ ”قادیان میں اپنے گھر کے اندر ۔“ خاکسار نے کہا کہ پھر آپ نے جھوٹ کیا بولا تھا تو میاں صاحب نے کہا کہ ”میں نے جھوٹ یہ بولا تھا کہ میں نے زنا نہیں کیا ۔“
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۳ - کے ایجنٹوں کے ذریعہ سازشوں کا آلہ کار نہ بنتا ، یا اگر میں خاص قادیان میں نیا مکان بنا لیتا ، خلیفہ قادیان کا غلام بن جاتا ، تو میں سچ کہتا ہوں اعلان کی نوبت نہ ہوتی ۔۔۔۔۔
(بحوالہ رسالہ شیخ الاسلام نمبر ۱۰، حصہ دوم مطبوعہ قادیان)
شہادت نمبر ۳
میں حلفاً خدا کو حاضر ناظر جان کر اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے قریباً گیارہ سالہ قیام قادیان میں ایسی بے شمار باتیں سنی ہیں، جن میں قادیان اور خلیفہ پر ایمان نہ لانے والے کو کافر قرار دیا گیا ہے، گو موجودہ خلیفہ مرزا محمود احمد دنیا دار، عیاش اور عیش پرست انسان ہے، میں ان کی بیعت کے سخت خلاف ہوں ، اور وہ مسجد نبوی، بیت اللہ شریف، یا کوئی اور مقدس مقام ہو، میں حلفاً ہر جگہ یہ بات کہنے کے لئے ہروقت تیار ہوں ، گو خلیفہ صاحب مباہلہ کے لئے نکلیں، تو میں مباہلہ کے لئے حاضر ہوں۔
(یہ الفاظ میں نے دلی ارادہ سے لکھے ہیں ، تاکہ دور دور کے لوگوں پر ان کی حقیقت کھلے ، اور ان کو پتہ لگے ۔ والسلام
خاکسار (ڈاکٹر محمد سعید دانش کمال ہومیو پیتھک ڈاکٹر ، محلہ بلال گنج ، لائلپور)
شہادت نمبر ۵
حلفیہ شہادت
میں حلفاً خدا کو حاضر ناظر جان کر اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ مرزا محمود احمد بوجہ اپنی بدعملیوں کے انسان نہیں ہے، بلکہ درحقیقت وہ بدترین شیطان ہے اور مرزا محمود احمد کی قادیان سے باہر کے لئے دنیا سازی
شہادت نمبر ۶
میں یہ بات حلفاً کہنے کے لئے تیار ہوں کہ خلیفہ قادیان (مرزا محمود احمد) بوجہ اپنی بدعملیوں کے انسان نہیں ہیں، بلکہ درحقیقت وہ بدترین شیطان ہیں ، اور میں ان کی بیعت کے سخت خلاف ہوں اور مرزا محمود احمد کی قادیان سے باہر کے لئے دنیا سازی ہے، حقیقت میں اندرون قادیان ان کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے۔
بے خوف مجاہد
خانوادہ مجددیہ کے ایک چشم و چراغ نے، قادیان میں رہ کر ، خلیفہ قادیان کے جن ہولناک مظالم کا چشم دید مشاہدہ کیا ہے، اس کی تفصیلات چھپتے ہی، دنیائے قادیانیت میں زلزلہ آگیا ہے، اور خلیفہ قادیان کے حواری، بوکھلاہٹ کے عالم میں ، اس کی تردید کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 198)
۳۴
سرانجام نہ ہونے پایا کہ یکایک اسی قادیانی دوست کا مکتوب پہونچا اور اس کے مضمون نے حیرت میں ڈال دیا۔ جس میں اس نے کہا تھا کہ میں نے اپنی بیٹی سلمہا کی شادی دوست مکرم سید احمد صاحب کے لڑکے سے کر دی ہے۔ یہ خط پڑھتے ہی آپ کی پیشانی پر غصے کے بل پڑگئے ۔ مکتوب کو پھاڑ دیا ۔ اور فرمایا اس نے اپنے لیئے جہنم خریدی ہے۔ میرے دل میں تو ہمیشہ یہ حسرت رہے گی کہ کاش یہ وقت نہ آتا۔ پھر فرمایا ۔ خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ الہام کیا ہے کہ میں نے تیری دعائیں سن لیں ۔ اس بشارت کے بعد باتوں باتوں میں فرمایا کہ خدا تعالیٰ جب کسی پر فضل کرتا ہے تو اس کو فہم دیتا ہے اور اس کی نظر وسیع کرتا ہے۔ اور فرمایا کہ میں تو ہمیشہ اپنی جماعت کو فرماتا رہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سب ضرورتیں پوری کر سکتا ہے ۔ اگر صدق و یقین سے دعائیں کی جائیں ۔ اس پر علی میاں نے کہا کہ آپ ناراض نہ ہوں مجھے مولوی احمد صاحب شجاع آبادی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ وہ قاضی احمدی دوست ان کے ساتھ قادیان میں تھا اور جب ہم مرزا صاحب کی ملاقات میں بیٹھے ہوئے تھے تو قاضی صاحب نے میاں محمود کی نسبت یہ ذکر کیا کہ خاں صاحب نے جب خاں صاحب موصوف سے دریافت کیا تو ان کی بیوی نے بتایا تھا کہ میاں محمود کا چال چلن نہایت خراب ہے اور وہ ناخلف ہے اور میں اس کا ذکر کسی سے نہیں کر سکتی ۔ قاضی صاحب نے یہ واقعہ قادیان میں موجود تھا کہ مرزا صاحب کو سنایا مگر مرزا صاحب سن کر خاموش ہو گئے تھے اور کوئی جواب نہیں دیا ۔ قاضی صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب نے کہا وہ عورت درست کہتی ہے ۔ آخر جب کام نہ بنتا دیکھ کر میاں محمود نے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ قاضی صاحب کو مرگی کی بیماری کا دورہ بھی پڑتا ہے ۔ اور خلل دماغی ہے۔ قاضی صاحب موصوف نے کہا کہ میری بیوی
۳۵
لیکن یہ میاں محمود کا جھوٹ ہے۔ قادیان میں ایک ہی طبیب محلہ میں رہتا ہے اور اس کا نام حکیم فضل الدین ہے اس سے دریافت کر لو۔ طب یونانی کا ماہر ہے اس نے کئی دفعہ میرا علاج کیا ہے اور نبض بھی دیکھی ہے میری صحت ہمیشہ اچھی رہی ہے اور کامل ہوش و حواس میں ہوں مجھ میں کوئی خبط نہیں ہے ۔ یہ میاں محمود کا افترا ہے اس کتاب کے صفحہ ۱۶ پر خبطی ۔ مختل الحواس کا لفظ بے جا درج فرمایا ہے
شہادت نمبری
حلفیہ شہادت
میں شرعی طور پر بحلف بیان کرتا ہوں خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ مروجہ خلیفہ صاحب یعنی میاں محمود احمد کا چال چلن نہایت خراب ہے مگر وہ مکار ہے ۔ بلکہ اتنا مکار ہے کہ اللہ کی پناہ وہ خبطی ہے۔ بلکہ مختل الحواس ہے۔ بلکہ پاگل ہے۔ میری شہادت پر میرا نام عبداللہ خاں پریم
شہادت نمبری
حلفیہ شہادت
میری بیوی کی زبانی جماعت کے لوگوں نے یہ بات سنکر رنج و ملال کو چھپایا ۔ ایک دفعہ میاں محمود خلیفہ قادیان کی سگی سالی بیان کر رہی تھی
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۲۶
شہادت نمبر ۱۰
جناب قاضی فضل احمد صاحب انسپکٹر مدارس نے بیان کیا کہ میں نے خود ماسٹر فضل دین صاحب سیکرٹری احمدیہ جماعت قادیان سے سنا ہے کہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ جناب میاں صاحب (یعنی میاں محمود احمد صاحب) نے مجھ سے فرمایا کہ میں نے اپنے والد صاحب (یعنی مرزا غلام احمد صاحب) سے سنا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگ کہیں گے کہ میاں صاحب نبی ہیں۔
حلفیہ شہادت
میں حلفاً کہتا ہوں کہ ماسٹر فضل دین صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں محمود احمد صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ میں نبی ہوں۔ چنانچہ میں نے جب میاں محمود احمد صاحب کے دعویٰ نبوت کا ذکر سنا تو میں نے میاں محمود احمد صاحب کو خط لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اگر یہ سچ ہے تو میں آپ کی بیعت سے خارج ہوں۔ اس پر مجھے میاں صاحب کا خط آیا کہ میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ مگر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ میاں صاحب نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے۔ اس پر میں نے میاں محمود احمد صاحب کو پھر خط لکھا کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے اس لئے میں آپ کی بیعت سے خارج ہوں۔ اس کے بعد میں نے میاں صاحب کی بیعت کا طوق اپنی گردن سے اتار دیا۔ فقط ۔ دستخط قاضی فضل احمد
۲۷ ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ خلیفہ صاحب محض دھوکہ سے کام لے رہے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا دعویٰ نبوت ہے۔ خلیفہ صاحب کا یہ عقیدہ ہے کہ ان کے والد صاحب نبی ہیں اور جو ان کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ (دیکھو رسالہ آئینہ صداقت صفحہ ۳۵)
حلفیہ شہادت
میں قاضی فضل احمد صاحب انسپکٹر مدارس حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میں نے ماسٹر فضل دین صاحب سیکرٹری احمدیہ جماعت قادیان سے سنا ہے کہ میاں محمود احمد صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ میں نے اپنے والد صاحب (یعنی مرزا غلام احمد صاحب) سے سنا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگ کہیں گے کہ میاں صاحب نبی ہیں۔ یہ سن کر میں نے میاں محمود احمد صاحب کو خط لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اگر یہ سچ ہے تو میں آپ کی بیعت سے خارج ہوں۔ اس پر مجھے میاں صاحب کا خط آیا کہ میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ مگر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ میاں صاحب نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے۔ اس پر میں نے میاں محمود احمد صاحب کو پھر خط لکھا کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے اس لئے میں آپ کی بیعت سے خارج ہوں۔ اس کے بعد میں نے میاں صاحب کی بیعت کا طوق اپنی گردن سے اتار دیا۔ فقط ۔ دستخط قاضی فضل احمد
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
حوالہ نمبر 198
۲۸ ضیاء الدین مجھے یہ عذر تو نہ تھا مگر میں نے اس خیال سے کہ کہیں میری بیعت میں فرق نہ آجائے کام کرنا شروع کر دیا ۔ اس کے ترغیب دینے کا یہ طریقہ تھا کہ جب میں خلیفہ صاحب کے پاس جاتا تھا تو وہ مجھ سے یہی کہتے تھے کہ تو نے اپنا نکاح احمدی لڑکی سے نہیں کیا ۔ جب تک تو ایسا نہ کرے گا تیرا
حلفیہ شہادت
میں نے خلیفہ صاحب پر جو الزام لگایا ہے وہ بالکل بجا اور صحیح ہے۔ اور میں نے ان کو بدکاری کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے چونکہ میں ان کی زنا کاری کی شہادت دینے کے لئے تیار ہوں ۔ خلیفہ صاحب اگر سچے ہیں تو میرے مقابلہ پر آئیں ۔ میں ان کی حرکات و سکنات سے بخوبی واقف ہوں ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں
۲۷ میں ۱۹۲۱ء میں قادیان گیا تھا جب میں بیعت کر کے قادیان میں داخل ہوا تو قوم نے مجھے بڑی خوشی سے قبول کیا اور میں نے بھی سلسلہ احمدیہ کو سچا مان کر اس کی تبلیغ میں بڑی سرگرمی سے حصہ لینا شروع کر دیا ۔
- ۲۔ میں خلیفہ صاحب کو سچا اور مسیح موعود کا سچا جانشین مان کر ان کی بیعت
کی ۔ مگر خلیفہ صاحب کی بعض حرکات سے مجھے شک گزرنے لگا ۔ جن کی وجہ سے مجھے ان کو سچا خلیفہ ماننے سے انکار کرنا پڑا ۔ میں نے دیکھا کہ خلیفہ صاحب نے زنا کاری ۔ اغلام بازی ۔ اور اس قسم کی عادات کو اپنا شعار بنا لیا ہے ۔ پس میں نے اس کی بیعت کو چھوڑ دیا ۔ تو میں نے اس کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا ۔ اور اس کی تمام حرکات کو عوام الناس کے سامنے رکھنا شروع کر دیا ۔
ضیاء الدین نمبر ۱۲
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
(حوالہ نمبر 198)
کیے گئے ہیں ان کے بارے میں قطعی اور یقینی دلیل موجود ہیں اور ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ خلیفہ ثانی کی لڑکیوں کی جو بات ہے اس کے بارے میں ایک بیان حلفی بھی آچکا ہے جو براہ راست خلیفہ ثانی کی بیٹی اور اس ساری سکیم کی مجسمہ ہے :۔ وہ حلفی بیان کیا ہے ملاحظہ فرمائیں
جناب عبدالرحیم صاحب نے ایک دعویٰ کے جواب میں تحریری بیان سپرد عدالت کیا ہے جس میں آپ نے یہ حلفیہ بیان دیا ہے کہ جماعت احمدیہ کی تحریک سے ہی خدمت اسلام کے لیے ایک فنڈ کی اپیل ہو گئی تھی ۔ اس فنڈ کی رقوم سے خلیفہ ثانی نے ذاتی جائیدادیں بھی بنائی ہیں اس کے علاوہ بھی آپ نے بہت اور خطرناک قسم کے حقائق سے نقاب کشائی کی ہے جس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ درپردہ کس قدر گھناؤنی سازشیں کھیلی جا رہی ہیں اور مذہب کے نام پر کس طرح مسلمانوں کو بیوقوف بنا کر ان کی گاڑھی پسینے کی کمائی سے عیش اڑائے جا رہے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں اس حلفیہ بیان کی ایک کاپی جو ذیل میں درج ہے ۔
شہادت نمبر ۱
حلفیہ شہادت
قسم ہے مجھ کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی قسم ہے مجھ کو قرآن پاک کی سچائی کی قسم ہے مجھ کو حبیب کبریا کی عصمت کی کہ میں اس بات کا قطعی علم کی بنا پر حلفاً اظہار دیتا ہوں کہ محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے ایک
فنڈ بنام تحریک جدید کے نام سے جاری کیا تھا ۔ اس فنڈ کی رقوم جو کہ خالصتاً مذہبی مقاصد کے لیے جمع کی گئی تھیں ان سے خلیفہ قادیان نے ذاتی جائیدادیں بنائی ہیں اور ان کی بیگمات اور لڑکوں کی ذاتی اور انفرادی ملکیت ہیں ۔
علاوہ ازیں ان فنڈز سے خلیفہ قادیان نے انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے اپنے لڑکوں اور دیگر رشتہ داروں کے نام جائیدادیں بنائی ہیں ۔ ان حقائق کی نقاب کشائی میں نے ایک مقدمہ فوجداری میں کر دی تھی جو کہ جناب محمد انور خاں صاحب مجسٹریٹ درجہ اول کی عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ یہ حلفیہ بیان میں اس مقدمہ میں پیش کر چکا ہوں جس کے جواب میں خلیفہ قادیان یا ان کے کسی پیروکار نے کسی قسم کی کوئی تردید یا صفائی پیش نہیں کی جس سے میری بیان کردہ حقائق کی صداقت ثابت ہوتی ہے ۔ میں نے یہ بیان حلفیہ آج بتاریخ ۲۸ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو روبرو جناب ایم ۔ اے ۔ خان صاحب مجسٹریٹ درجہ اول راولپنڈی میں دیا تھا جوکہ من و عن درج ذیل ہے ۔
(یہاں وہ حلفیہ بیان درج ہے جو خلیفہ قادیان کے خلاف دیا گیا ہے)
دستخط عبدالرحیم کلرک نہرہ بلاک چکلالہ راولپنڈی ۲۸ اکتوبر ۱۹۳۷ء
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین عثمانی
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۷۲
شہادت نمبر ۱
حلفیہ شہادت
میں خدا کو حاضر ناظر جان کر قسم کھاتا ہوں کہ میں جو بیان دوں گا سچ دوں گا کوئی بات مخفی نہ رکھوں گا اور سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا۔
یہ کہ میں نے مورخہ ۲۶ مارچ ۱۹۳۸ء کو ایک خط بنام میر قاسم علی صاحب تحریر کیا تھا۔ یہ خط میری ہی قلم سے لکھا ہوا ہے اور میں اسے تسلیم کرتا ہوں۔ اس خط میں جو کچھ میں نے تحریر کیا ہے وہ بالکل صحیح ہے اور میں اس پر قائم ہوں۔
دستخط : غلام نبی احمدی
۷۳
شہادت نمبر ۲
حلفیہ شہادت
میں خدا کو حاضر ناظر جان کر قسم کھاتا ہوں کہ میں جو بیان دوں گا سچ دوں گا کوئی بات مخفی نہ رکھوں گا اور سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا۔
یہ کہ میں نے مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۳۸ء کو ایک خط بنام میر قاسم علی صاحب تحریر کیا تھا۔ یہ خط میری ہی قلم سے لکھا ہوا ہے اور میں اسے تسلیم کرتا ہوں۔ اس خط میں جو کچھ میں نے تحریر کیا ہے وہ بالکل صحیح ہے اور میں اس پر قائم ہوں۔
دستخط : عبدالرحمن
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۴۴
مرزا محمود کی ایک گواہی
جبکہ مرزا محمود صاحب نے یہ بیان حلفی دیا تھا کہ مرزا قادیانی پر مجددیت یا نبوت کا جو الہام ہوا ہے وہ سب محمدی بیگم کے متعلق تھا ۔ جب محمدی بیگم کا نکاح مرزا احمد بیگ کے ساتھ ہو گیا تو مرزا محمود صاحب نے اپنا پہلا عقیدہ چھوڑ دیا۔ اس کے متعلق مجھ سے مولوی فضل الہی صاحب مرحوم نے جو کہ مرزا محمود صاحب کے بڑے معتمد اور نہایت مقرب تھے اور جن کا اکثر ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا ۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ حضرت صاحب کا سارا انحصار محمدی بیگم کے الہام پر تھا۔ جب محمدی بیگم کا نکاح مرزا احمد بیگ سے ہو گیا تو حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ اب تم ہی بتاؤ کہ اب میں کیا کروں۔ تو مرزا محمود صاحب نے مجھے فرمایا کہ اس وقت میں نے حضرت صاحب سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں یہ الہام تو ابھی پورا ہو سکتا ہے۔ وہ اس طرح کہ محمدی بیگم کے خاوند احمد بیگ کو مروا دیں اور محمدی بیگم کو بیوہ بنا کر اس سے آپ خود شادی کر لیں۔ تو حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ تم یہ کام کر سکتے ہو تو میں نے کہا کہ ہاں میں یہ کام کر سکتا ہوں لیکن اس میں کچھ دقت ہے۔ وہ یہ کہ میں اس وقت محمدی بیگم کے خاوند کو جانتا تک نہیں ہوں اور نہ مجھے اس کے متعلق یہ علم ہے کہ وہ کہاں رہتا ہے۔ تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں تمھیں اس کا پتہ بتا دوں گا۔ تم اس کے مرنے کا انتظام کرو۔ چنانچہ میں نے ایک آدمی کی ڈیوٹی اس کام کے لیے لگا دی تھی۔ لیکن اس کے بعد مجھے معلوم نہیں کہ اس کا کیا بنا ۔ اور حضرت صاحب نے پھر اس کے متعلق مجھ سے کوئی ذکر نہیں کیا ۔
(ضیاء الاسلام صفحہ ۱۸)
مخفی شرارت
میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ اس میں کوئی
۴۵
شرارت نہیں اور نہ میں نے کبھی کسی شرارت کا کام کیا ہے ۔ اور نہ آئندہ ایسا کرنے کی نیت ہے۔ البتہ خلیفہ ثانی نے ایک مرتبہ میرے پاس ان کے خلاف جو دعویٰ دائر کیا تھا۔ اس میں انہوں نے بیان حلفی دیا تھا کہ محمدی بیگم کے ساتھ مرزا احمد بیگ کا نکاح ان کی اپنی سعی و کوشش کا نتیجہ تھا ۔ اور اس میں خلیفہ ثانی کا کوئی ہاتھ نہیں تھا ۔ حالانکہ میں اس کے خلاف حلفیہ بیان دینے کو تیار ہوں کہ مرزا محمود صاحب نے خود مجھے کہا تھا کہ میں نے مرزا احمد بیگ کے ساتھ محمدی بیگم کا نکاح کرانے میں بڑی کوشش کی ہے ۔ آپ اس کے خلاف حلفیہ بیان دے سکتے ہیں کہ آپ کی اس میں کوئی کوشش نہیں ۔ یہ بیان خلیفہ ثانی نے اس وقت دیا تھا جبکہ قادیان میں ایک مقدمہ دائر ہوا تھا کہ خلیفہ ثانی نے محمدی بیگم کے ساتھ مرزا احمد بیگ کا نکاح کرایا تھا ۔ اور اس پر خلیفہ ثانی نے محمدی بیگم کے خاوند احمد بیگ کو مروا دیا تھا تا کہ محمدی بیگم کو بیوہ بنا کر اس سے خود شادی کر لیں ۔ اس وقت خلیفہ ثانی نے یہ بیان دیا تھا۔
یہ بیان سن کر مجھے بڑا تعجب ہوا ۔ میں نے فضل الہی مرحوم سے کہا کہ یہ تمام باتیں جو آپ بیان کر رہے ہیں یہ تو بڑی خطرناک ہیں ۔ کیا آپ یہ تمام باتیں حلفاً بیان کر سکتے ہیں تو فضل الہی مرحوم نے کہا کہ میں حلفاً بیان کرنے کو تیار ہوں ۔ اگر میں نے اس میں کوئی جھوٹ بولا ہو یا اس میں کوئی ملاوٹ کی ہو تو خدا میرا حشر اس کے ساتھ کرے جس نے محمدی بیگم کے خاوند کو مروایا اور میں رسول اور اس کے خادم حضرت مسیح موعود کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس میں میں نے ذرہ بھر بھی اپنی طرف سے کوئی بات نہیں ملائی اور جو کچھ خلیفہ ثانی نے مجھے کہا تھا میں نے من و عن آپ کے سامنے بیان کر دیا ہے۔
(یہ بیان ایک فدائی نے مجھ سے بیان کیا تھا ۔ میں اس کو خدا کو حاضر و ناظر جان کر لکھ رہا ہوں۔ اور اگر اس میں کوئی جھوٹ ہو تو خدا تعالیٰ کی مجھ پر لعنت ہو۔)
(ناقل عبد الرحمن قادیانی)
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
شہادت نمبر ۴ ۴۶
حلفیہ شہادت
میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میں نے جماعت احمدیہ کا روپیہ جو تبلیغ کے لئے بغرض تجارت لیا تھا وہ محمود احمد صاحب قادیانی کو واپس کر دیا ہے جس کی رسید میرے پاس موجود ہے۔ اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس نے میرے ساتھ بدفعلی کی ہے جس کی رپورٹ پولیس میں بھی موجود ہے۔ حبیب اللہ کاپی نویس امرتسر دستخط
شہادت نمبر ۵
حلفیہ شہادت
میری عمر ۱۶ سال کے قریب ہے میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ محمود احمد نے میرے ساتھ بدفعلی کی ہے جس کی رپورٹ پولیس میں موجود ہے ۔ خدا تعالیٰ اسے سمجھے یہ بار بار کہتا ہے کہ میں نے تیرے ساتھ بدفعلی کی ہے۔ مجھ پر محمود احمد صاحب نے ظلم کیا ہے ساتھ بدفعلی کی ہے۔ دستخط عبدالرحمن مستری محمد شفیع کارخانہ دار واقعہ کپور تھلہ یہ محمود احمد خلیفہ قادیان نے میری زندگی خراب کی ہے میں قسم کھا کر کہتا ہوں
شہادت نمبر ۶ ۴۷
حلفیہ شہادت
میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفاً بیان کرتا ہوں کہ جب میں قادیان میں مدرسہ احمدیہ میں پڑھتا تھا اور دارالطلبہ میں رہتا تھا تو ایک دفعہ محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان دارالطلبہ کی مسجد میں آئے اور مجھ کو کہا کہ میرے ساتھ چلو۔ میں ان کے ساتھ ہولیا وہ مجھے اپنے مکان پر لے گئے اور اندر لے جا کر کنڈی بند کر لی اور میرے ساتھ بدفعلی کی میں نے ان کو بہت روکا لیکن انہوں نے نہ مانا اور کہا کہ یہ کوئی گناہ نہیں ہے ۔ بلکہ میاں خلیفہ صاحب سے ایک شخص بھی فیض حاصل کر چکا ہے اب تو بھی فیض حاصل کر۔ میں نے عرض کیا کہ قرآن حدیث میں اس کی ممانعت ہے اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ پرانے وقتوں کی بات ہے اب ایسا نہیں ہے۔ غرضیکہ میں مجبور تھا ۔ خدا تعالیٰ ان سے سمجھے ۔ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ محمود احمد خلیفہ قادیان نے میرے ساتھ بدفعلی کی ہے۔ سید محمد امین ولد سید عبد الرحمن دستخط سکنہ مزنگ لاہور سید محمد امین
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۷۱ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ ثانی نے کسی وجہ سے ناراض ہو کر مولوی عبدالغفور کو کہا تھا کہ یہ تو بے نور یعنی بے حیا ہے جس پر مولویوں کو تاؤ آیا ہے۔ اس نے ایک رسالہ بھی لکھا ہے جس میں مرزا اور خلیفہ ثانی پر اور دوسروں پر بہتان باندھے ہیں۔ وہ رسالہ شائع نہیں ہوا
جناب ایڈیٹر صاحب میں نے بعض اچھے خاصے آدمیوں کو بھی شک میں مبتلا دیکھا ہے کہ جناب مرزا صاحب کے متعلق کوئی ان سے پوچھے تو خاموش رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ان کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے۔ آپ بتلائیں کہ ان کی غلطی پر وہ کونسی دلیل ہے جس سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہو سکے میں نے ان کے سامنے یہ پیش کی کہ جناب مرزا صاحب کے الہامات میں کوئی نشان نہیں ہے ۔ کوئی پیشگوئی ان کی پوری نہیں ہوئی جس پر مجھے سخت گالیاں دی گئیں اور کہا کہ ان کی کوئی پیشگوئی ایسی نہیں جو پوری نہ ہوئی ہو۔
حلفیہ شہادت
محترمی جناب ایڈیٹر قسم ہے مجھ کو خداتعالیٰ کی اور رسول کی کہ میں نے محمود کو دیکھا کہ وہ اپنی بھانجی کے ساتھ یعنی امتہ النصیر کے ساتھ عملاً بدفعلی کر رہا تھا۔ یہ امتہ النصیر وہی محمود احمد صاحب خلیفہ ربوہ کی ایک
۷۲ وہ ایک کاپی لکھی ہوئی تھی جس پر دستخط کر دیئے گئے ہیں ۔ بات یہ بھی چلی کہ مرزا صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ میں سلطان الہام ہوں ۔ حالانکہ یہ لفظ تو قرآن میں آیا ہے اور اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ میں سلطان الہام ہوں تو بے جا نہیں ہوگا۔ حالانکہ تمہاری موت ہی اسہال یعنی دست کے مرض سے ہوئی جو کہ اللہ کا قہر ہے۔ علاوہ اس کے تمہارے الہاموں میں بھی سخت غلطیاں پائی گئی ہیں مثلاً تم نے کہا کہ زلزلہ آیا جس میں بہت سی جانیں ضائع ہوئیں اور یہ زلزلہ کابل کے گرد و نواح میں آیا حالانکہ زلزلہ تو کوئٹہ میں آیا۔ اگر تم سچے ہوتے تو ضرور کوئٹہ کا نام لیتے اس میں تم نے تاویلیں کرنی شروع کر دیں۔ پھر جب میں نے کہا کہ تمہارے پاس تو کوئی دلیل نہیں تو تم گالیاں دیتے ہو۔ اگر تم سچے ہو تو میرے ساتھ مباہلہ کر لو مباہلہ کا نام سنتے ہی ان کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں ۔ بہر حال احقر ان کے مقابل پر ہر وقت مباہلہ کے لئے تیار ہے امیدوار ہوں کہ آپ اس خط کو اپنے اخبار میں شائع فرما کر ممنون فرمائیں گے۔
احقر العباد عبد المجید بجر گڑھی نزد چک نمبر 156 لائل پور
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۴۲
شہادت نمبر ۱۲
حلفیہ شہادت
میں خدا کو حاضر ناظر جان کر حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میری یہ شہادت جو ذیل میں ہے سچی ہے میں جو کہوں گا سچ کہوں گا اور سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا ۔ حسب ذیل بیانات سچ ہیں ۔ میں پچھلے سال قادیان گیا، ایک دفعہ رات کے قریب ۱۰ بجے میں نے دیکھا کہ خلیفہ محمود کے ہاں میر محمد سعید صاحب کو بلایا گیا، مرزا محمود صاحب کی لڑکیوں نے خلیفہ محمود کی طرف سے ان سے یہ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان عورتوں کے گھر میں ۱۰ ہی سال کی ہیں کہ خلیفہ محمود کے ہاں جاتی ہیں تو خلیفہ محمود ان کے ساتھ بڑے افسوس سے بات کرتے ہیں کہ تم میں بڑی بو آتی ہے ۔ انہوں نے خلیفہ محمود کے سامنے اس عورت کو رات کے دس بجے ایک بیہوشی کی حالت میں پایا ۔ جس کی وجہ سے وہ عورت ان سے کچھ نہ کہہ سکی ۔ یہ بات مجھ پر بہت اثر انداز ہوئی اور میں اس وقت سے احمدیت سے بیزار ہو گیا ۔ میر محمد سعید صاحب نے خلیفہ محمود کی اس حالت کو دیکھا ، مگر وہ اس کی اس حالت کی وجہ سے اس سے کچھ نہ کہہ سکے کہ خلیفہ محمود نے اس عورت کے ساتھ کیا کیا ۔ ان واقعات کے علاوہ اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن کی وجہ سے میں نے احمدیت کو چھوڑ دیا ہے اور میں اپنا بیان حلفاً دے رہا ہوں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ خلیفہ محمود صاحب کے اعمال بہت ہی خراب ہیں اور میں ان پر لعنت بھیجتا ہوں ۔ حافظ عبدالسلام سپرنٹنڈنٹ دفتر حسابات دیوان خانہ قادیان، حال سرائے مغل
شہادت نمبر ۱۱
حلفیہ شہادت
میں خدا کو حاضر ناظر جان کر حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میں نے سچ بولنے کی قسم کھائی ہے ، میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا ۔ اور سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا ۔ قاضی محمد اسعد
شہادت نمبر ۱۰
حلفیہ شہادت
مجھے کامل یقین ہے کہ مرزا محمود صاحب خلیفہ قادیان سچ مچ ایک زانی شخص ہے ۔ بلکہ یہ انسان ہی نہیں ہے بلکہ ایک درندہ ہے ۔ میں نے خود بھی قادیان میں جا کر بہت کچھ دیکھا ہے ، اس کی عیاشی کے قصے سنے ہیں اور ان لوگوں سے سنے ہیں جو اس کے حلقہ ارادت میں داخل ہیں ۔ میں اس پر لعنت بھیجتا ہوں کہ یہ شخص کذاب اور مفتری ہے اور حیران ہوں کہ لوگ اندھے کیوں ہو گئے ہیں ۔ رحمت علی ، موضع بھینی
شہادت نمبر ۹
حلفیہ شہادت
میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میں نے مرزا بشیر الدین محمود صاحب کو جو قادیان کے خلیفہ ہیں ، ان کی بیعت کی تھی پھر میں نے اس کو چھوڑ دیا ۔ میں نے اس کو اس لئے چھوڑا کہ میں نے اس کو کئی دفعہ زنا کاری کرتے دیکھا ہے ۔ عبدالکریم ، موضع بھینی
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 198)
۴۴
مرزا محمود کی اپنی گواہی
حکیم عبد العزیز صاحب صابی پریذیڈنٹ انجمن انصار احمدیہ قادیان پنجاب نے خلیفہ صاحب کی یہ باتیں سنیں اور جس وقت میاں محمود خلیفہ صاحب میر محمد اسحاق کے سامنے تقریر کر رہے تھے۔ علی الاعلان کہہ دیا کہ آپ نہ مانیں اور یہ بھی کہا اس لئے میں آپ کی بیعت نہیں کر سکتا۔ آپ پر جس خدا نے یہ ظاہر کر دیا کہ ہندوؤں میں کوئی سچا رسول ہے اور خلیفہ صاحب کو انکار کرتے رہے۔ آپ نے مرزا محمود احمد صاحب کو ایک خط لکھا جس میں آپ نے تحریر کیا کہ سُنا ہے کہ آپ نے جابجا گواہوں کا ذکر لوگوں سے کیا ہے۔ اگر چہ ہم سے تو نہیں کہا۔ مگر یہ بات درست ہے تو پھر آپ اس کے لئے تیاری فرمائیں۔ ہم صرف گواہیں نہیں۔ بلکہ بہت سی شہادتیں علاوہ عورتوں لڑکیوں اور لڑکوں کی شہادت کے خود دوں گا کہ اپنی شہادت بھی پیش کرینگے۔ اگر ہم ثبوت نہ دے سکے تو آپ کی بریت ہو جائے گی اور ہم ہمیشہ کے لئے ذلیل ہونے کے علاوہ ہر قسم کی سزا بھگتنے کے لئے بھی تیار ہیں حکیم صاحب موصوف کا حلفیہ بیان درج ذیل ہے
شہادت نمبر ۱۸
حلفیہ شہادت
میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر سچ کہوں گا کہ
۴۵ قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔ یہ تحریر کرتا ہوں کہ میں مرزا محمود احمد صاحب کی بیعت سے اس لئے علیحدہ ہوا تھا کہ میرے پاس ان کے خلاف ایسی درجنوں لڑکیوں اور عورتوں کے صحیح واقعات پہنچے تھے جن کے ساتھ مرزا محمود احمد نے بدکاری کی تھی، اسی بنا پر میں نے مرزا محمود احمد صاحب کو لکھا تھا کہ آپ کے خلاف احمدی لڑکے لڑکیاں اور عورتیں اپنے واقعات بیان کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں آپ یا جماعتی کمیشن کے سامنے معاملہ پیش ہونے دیں۔ یا میدان مباہلہ کے لئے تیار ہوں یا حلفاً کہیں کہ بے بنیاد اتہام ہیں یا ہمیں موقع دیں کہ ہم تمام واقعات پیش کر کے جلسہ سالانہ کے موقع پر تمام احمدیوں کی موجودگی میں آپ کے سامنے حلفاً مؤکد بعذاب الٰہی بیان کریں تاکہ روز بروز کا جھگڑا ختم ہو کر حق کا بول بالا ہو۔ لیکن مرزا محمود احمد صاحب کو کسی طرح پر بھی عمل پیرا ہونے کی جرات نہیں ہوئی۔ سوائے کفارانہ حربہ بائیکاٹ مقاطعہ بندی کرنے کے سنہ 1927ء سے لے کر آج تک میں اسی عقیدہ پر علی وجہ البصیرت قائم ہوں کہ میاں محمود احمد ایک زانی اور بدچلن انسان ہے جس کو خدا رسول اور اس کے خادم حضرت مسیح موعود سے کسی قسم کی کوئی نسبت نہیں۔ اگر میں اپنے اس عقیدہ میں باطل پر ہوں تو اللہ تعالٰی کی مجھ پر لعنت ہو۔ حکیم عبد العزیز صابی پریذیڈنٹ انجمن انصار احمدیہ قادیان
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
شہادت نمبر ۴۱
۴۷
حلفیہ شہادت
میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ مرزا قادیان میں میرے کمرے میں آکر زنا کا مرتکب ہوا ۔ جس کا مجھے گمان نہ تھا ۔ اس کے بعد مرزا محمود صاحب قادیان کو اپنی حرکت پر سخت ندامت ہوئی اور مجھے قادیان سے نکال دیا ۔ اس میں تمام واقعات سچے ہیں جس سے مرزا محمود کی اصلیت کھل گئی ہے اگر یہ جھوٹ ہوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو ۔ مہر بی بی سے سنا گیا تھا ۔ دستخط
شہادت نمبر ۴۲
۴۷
حلفیہ شہادت
مرزا محمود صاحب قادیان کے ایک پرانے خادم قادیان کے رہنے والے دعویٰ سے یہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مرزا محمود صاحب کو کئی دفعہ لڑکیوں اور عورتوں سے زنا کرتے دیکھا ہے ۔ میں نے بے شمار مرتبہ ان کو ننگا دیکھا ان کے ساتھ لڑکے ہوتے تھے ۔ میں یہ حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ مرزا محمود صاحب کی یہ حالت ہے جس کا میں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے ۔ اگر اس میں کوئی بات جھوٹ ہو تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو ۔ (نوٹ) اس بیان کرنے والے نے اپنا نام بوجہ خوف ظاہر نہیں کیا کہ مبادا قادیان میں میرے اہل و عیال کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیا جائے ۔ فقط سید امجد حسین سید ابو الامین سمن آباد ۔ لاہور
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۴۰ خبر ملی ، تو آپ سفر ہی میں تھے ۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے موقع پر لوگوں کا ، قادیان کی سڑکوں پر ایک خوفناک ہجوم ہو گیا ، جس میں شریک جماعت احمدیہ کے مخالف اور کاذب مدعی کی موت کی خوشی میں رانوں پر ہاتھ مار مار کر ہنس رہے تھے ۔ ایسے وقت میں جماعت احمدیہ کے نام پر فخر کیا گیا ۔ میں کہتا ہوں یہ تاریخ کا ایک قابل مطالعہ ورق ہے کہ قادیان کی یہ چھوٹی سی بستی جو اپنی گنجائش سے زیادہ آباد ہو چکی تھی اس میں ایسا انتظام اور وقت کی نوعیت کے پیش نظر ایک کامیاب اور پر اثر جلسہ قادیان میں منعقد کیا گیا۔
۴۱ میں اگرچہ قادیان میں مقیم تھا ، مگر چونکہ اس کا علم نہ تھا اس لیے جلسہ میں شامل نہ ہو سکا ۔ مجھ سے قادیان ہی میں ایک شخص نے آکر کہا کہ جناب مفتی محمد صادق صاحب نے ایک بڑے جلسے سے خطاب فرمایا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خواب میں دیکھا ہے اور آپ نے مجھ سے فرمایا ہے کہ : ۔ ’’ محمود میاں میرے نزدیک تو اب خلافت کے حقدار وہی ہیں ‘‘ حضرت مفتی صاحب موصوف کی اس خواب کی شہرت اس جماعت میں اتنی ہوئی کہ بعد میں مولوی محمد علی صاحب مرحوم نے اپنی اس کتاب میں جس کا نام ’’ خلافت ‘‘ ہے اور طبع ہو چکی ہے ، اس تمام خواب کو نقل کر دیا ہے ۔ بہرحال مفتی صاحب موصوف کی خواب اور قادیان کے جلسہ میں ان کی تقریر ، ایک ایسی چیز ہے جس کے گواہ خود مولوی محمد علی صاحب مرحوم اپنی کتاب ’’ خلافت ‘‘ میں موجود ہیں ۔ اس موقع پر میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج ان کے ذریعے سے اللہ نے یہ عظیم الشان خدمت لی ہے ۔ خدا کا شکر ہے کہ جس ایک ذات کی ہم کو تمنا تھی وہ
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
حوالہ نمبر 198
۵۰
مسلح احمدی تو اس خونی انقلاب کی نیت سے جو ملک گیری کے لئے خونریزی کا موجب ہو راہ میں پیش کی گئی ہر رکاوٹ کو مسترد ہی کرتے ہوئے گزرے البتہ جب تک ہم چند افراد ہیں ہم اس طاقت کو حاصل کرنے کی پوشیدہ تیاریاں کرتے رہیں۔ ہمارے ان عزائم کے لئے خلیفہ کی جانب سے تو قوی خطبات تھے اور خصوصاً مرزا بشیر الدین محمود کی اس تقریر نے کہ ہمیں چاہئے کہ ہم فوج میں شامل ہو کر فوجی تنظیم سے واقف ہوں تاکہ اندرونی طور پر ہم طاقتور ہوں ہماری امنگوں میں ایک حشر برپا کر دیا۔
صوفی صاحب موصوف کے اس نہایت ہی خطرناک عزم کو محسوس کرتے ہوئے میں نے ایک موقع پر ان سے بحث کی کہ اس خونی اور وحشیانہ طرز عمل کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی کوئی ظاہری وجہ اور ثبوت ہے تو صوفی صاحب نے جو جواب دیا وہ بہت ہی لرزہ خیز اور خوفناک تھا۔ صوفی صاحب نے کہا کہ میں نے اس مسئلے پر کافی غور و فکر کیا ہے ۔ یہ پروگرام خلیفہ نے وضع کیا ہے ۔ خلیفہ کا ہر حکم خدا کا حکم ہے اس لئے ہمیں اس پر عمل کرنا ہے ۔ خلیفہ خدا کی آواز ہے۔ جب خلیفہ نے کہہ دیا ہے کہ ہم نے دنیا پر احمدیت کو غالب کرنا ہے تو ہمیں اس کے لئے ہر ممکن طریقہ اختیار کرنا چاہئے یہاں تک کہ اگر ہمیں اس مقصد کی تکمیل کے لئے خونریزی بھی کرنی پڑے تو ہم اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ کیونکہ خلیفہ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ خدا کا لفظ ہے ۔ اس لئے خلیفہ کا ہر حکم خدا کا حکم ہے اس کے لئے ہمیں کسی اور حجت کی ضرورت نہیں ہے۔ جس وقت صوفی صاحب نے مجھ سے یہ باتیں کیں میں دنگ رہ گیا۔
۵۱
کے ساتھ باتیں کی ہیں کیا کسی طرح بھی جواز پیدا کر سکتا ہے؟ یعنی خلیفہ کا ہر حکم مانئے۔
میں نے اس بیان میں جو باتیں درج کی ہیں وہ سو فیصد درست ہیں ان میں ذرا سا بھی مبالغہ اور جھوٹ نہیں ہے ۔ خود خلیفہ محمود اور اس کی حاشیہ نشینوں کا یہ طرز عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ احمدیت اندر ہی اندر دنیا کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بن رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی میں اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کرتا ہوں کہ وہ خلیفہ کے اس نئے دین سے جسے محمودیت کہنا ہی بجا ہوگا۔ دنیا کو محفوظ رکھے اور خلیفہ محمود اور اس کے حواریوں کے دلوں میں نیک ارادے پیدا کرے تاکہ وہ اپنے خطرناک عزائم اور تباہ کن ارادوں سے باز رہیں۔
خاکسار چوہدری علی محمد انور ریٹائرڈ کلرک دفتر اکاونٹنٹ جنرل، لاہور
نمبر شمار 107
حلفیہ شہادت
جناب چوہدری علی محمد انور صاحب نے مندرجہ بالا بیان پر میرے روبرو حلفیہ تصدیق کی ہے۔ میں ان کو ذاتی طور پر جانتا ہوں۔
دستخط میاں عبدالخالق، اوتھ کمشنر، لاہور
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۵۲ ہوتے اور مولوی فاضل کی تعلیم کے بعد وہ نابینا ہو گئے تھے۔ وہ نہایت ہی مخلص احمدی تھے، خلافت ثانیہ کے بہت وفادار تھے۔ وہ میرٹھ سے قادیان میں ہجرت کر کے آئے تھے۔ ان کا یہ حال تھا کہ جب مرزا محمود احمد صاحب نے خلافت کا دعویٰ کیا تھا تو مولوی محمد علی نے ان کی مخالفت کی تھی اور وہ قادیان سے لاہور آ گئے تھے۔ مولوی محمد علی کے ساتھ مولوی محمد احسن امروہی بھی قادیان سے لاہور آ گئے تھے۔ مولوی محمد احسن نے قادیان میں مرزا محمود احمد صاحب کی بیعت سے انکار کر دیا تھا جس پر مرزا محمود احمد صاحب نے مولوی محمد احسن کے خلاف جماعت میں اشتعال پیدا کر دیا تھا جس کے نتیجے میں جماعت کے لوگوں نے مولوی محمد احسن کو بہت تنگ کیا۔ ان کو گالیاں دیں، ان کے مکان پر پتھر پھینکے، ان کا حقہ پانی بند کر دیا اور ان کا قادیان میں رہنا محال کر دیا۔ مولوی محمد احسن تنگ آ کر لاہور آ گئے تھے۔
ایک دن مولوی عبد الرحیم درد نے مولوی محمد احسن سے کہا کہ تم نے مرزا محمود احمد صاحب کی بیعت نہ کر کے بہت برا کیا ہے۔ مولوی محمد احسن نے اس کا جواب دیا کہ میں نے تو اس لیے بیعت نہیں کی کہ میں نے مرزا محمود احمد صاحب کو اپنی آنکھوں سے بدکاری کرتے دیکھا ہے۔ مولوی عبد الرحیم درد نے کہا کہ تم نے یہ بات کسی اور کو بتائی ہے؟ مولوی محمد احسن نے کہا کہ ہاں میں نے یہ بات مولوی محمد علی کو بھی بتائی ہے۔ مولوی عبد الرحیم درد نے کہا کہ تم نے یہ بات بتا کر بہت برا کیا ہے، اب دیکھنا تمہارے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی جماعت میں مولوی محمد احسن کے خلاف اشتعال پیدا کیا گیا تھا۔
یہ بات سن کر میں بہت حیران ہوا اور میں نے سوچا کہ اگر خلیفہ صاحب ایسے ہیں تو پھر ان کی بیعت میں رہنا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ میں نے اسی وقت خلیفہ صاحب کی بیعت توڑ دی اور جماعت احمدیہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔
یہ ہیں وہ حقائق جن کی بنا پر میں نے جماعت احمدیہ چھوڑی ہے۔
۵۳ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ اگر یہ بات غلط ہو تو خدا تعالیٰ کی مجھ پر سخت لعنت ہو، میں تو اس عذاب سے بچنے کے لیے یہ بات بتا رہا ہوں میرا تو اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔
دستخط: میاں فضل محمد، پٹواری قادیان مورخہ ۲۴ اکتوبر ۱۹۳۵ء
خلافت کی وراثت
میں نے مولوی سید سرور شاہ صاحب سے دریافت کیا کہ مرزا محمود احمد کو جو خلافت ملی ہے، یہ خلافت ان کو اپنے والد مرزا غلام احمد صاحب کی وراثت میں ملی ہے؟ مولوی سرور شاہ صاحب نے اس کا جواب دیا کہ ہاں، یہ خلافت ان کو وراثت میں ہی ملی ہے۔ کیونکہ مرزا غلام احمد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے مرزا محمود احمد کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔
میں نے ان سے پوچھا کہ کیا انبیاء کی وراثت ہوتی ہے؟ مولوی سرور شاہ صاحب نے جواب دیا کہ ہاں، انبیاء کی وراثت جاری ہوتی ہے۔ جس طرح سلیمان علیہ السلام نے داؤد علیہ السلام کی وراثت پائی تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی، پھر ان کی وراثت کس کو ملی؟ مولوی سرور شاہ صاحب اس پر خاموش ہو گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے۔ وہ تمام عقائد جو مرزا محمود احمد نے گھڑے تھے، مولوی سرور شاہ صاحب ان کی تائید و توثیق کیا کرتے تھے۔
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۵۴ شوق کے لئے بھی جاتے ہیں ۔ مگر میں نے ایسا نہیں کیا ، بلکہ تمہارا رونا دیکھ کر مجھے بھی رونا آیا ، میں نے دعاء کی ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری آنکھیں روشن کر دیں ۔ اکٹھے اور بھی ہم نے باتیں کی ہیں، جن کی بڑی یاد آتی ہے ۔ اور وہ فرماتے تھے کہ کیا تم نے سنا ہے ، جب خلیفہ ثانی کی بیعت ہوئی ، میں نے خلیفہ ثانی کی بیعت سے انکار کر دیا ۔ حقائق ، مجبوریوں ، ناخوشگوار حالات سے میرا سینہ بھرا ہوا ہے، میں نے اس وقت یہ محسوس کیا ، کہ بندہ خدا سے کٹ کر کتنا بے یار و مددگار ہو جاتا ہے ۔
خاکسار عبد المناف ظفر گنگوہی حال گوجرانوالہ (قلمی مسودہ)
شہادت نمبر ۲۴
حضرت حافظ نذیر احمد صاحب کی شہادت
شیخوپورہ کا وفد :
حضرت حافظ نذیر احمد صاحب ، میاں طارق اور قضاۃ کی کمیٹی نے بلایا ، ظفر احمد ، ابو العطاء صاحب نے ان سے توثیق کرتے ہوئے دریافت کیا کہ مولوی فاضل ، حافظ نذیر احمد نے قادیانیت کی تبلیغ میں اپنی ساری عمر صرف کی ہے ، اب اسے کیا ضرورت پڑی کہ خلافت کے بارے میں یوں باتیں کرے ۔ آپ نے اسے حضرت
۵۵ مولوی فضل احمد صاحب کی بیعت ، جو آپ کے سگے چچا ہیں، ان کی بیعت نہیں کی ۔ ابا جان ، جو خلافت اولی میں مدعی رہے ہیں ، انہوں نے بھی ان کی بیعت نہیں کی ، حالانکہ وہ خلیفہ ثانی صاحب کی بیعت کر چکے ہیں ۔ حافظ نذیر احمد کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ۔ اصل بات حق کی ہے ، میں آپ کو بتاتی ہوں ، حافظ نذیر احمد صاحب کے دل میں حق کی تڑپ ہے ۔ انہوں نے حق پایا ہے ، اس لئے ان کی باتیں دل پر اثر کرتی ہیں ، اگر حق نہ ہوتا ، تو کبھی بھی میری بیعت اس سے نہ ہوتی ، اور نہ ہی میرا اس میں کوئی قصور ہوتا ۔
آپ کیا کریں گے ، کچھ نہیں ۔ اگر حق ہے، تو حق کو چھپانا نہیں چاہیئے ۔ میاں محمود احمد صاحب کا یہ قول کہ : آج خلیفہ کی بیعت نہیں کی تو کل پچھتائیں گے اے حضرت تم کو بھی ایک دن پچھتانا پڑے گا ۔
امرتسر کی مسجد ، مرزا محمود خلیفہ ثانی کی بیعت سے رجوع
ان کے لئے یہ ایک عجیب بات تھی، انہوں نے کھڑے ہو کر باقاعدہ کہا کہ ہم نے تو خلیفہ ثانی کی بیعت کر لی تھی ۔ خلیفہ ثانی نے اس کا اعلان کر دیا ۔ اس پر بہت سے لوگ اکھٹے ہو کر خلیفہ صاحب کے پاس گئے ، اور ان سے کہا، کہ حضور نے یہ کیا کیا ؟ ہم نے آپ کی بیعت کر لی تھی ۔ ہم اس پر قائم تھے۔ خلیفہ صاحب نے انہیں تسلی دی، اور کہا : کہ میں نے جو بیعت کی ہے ، یہ اس لئے نہیں کی کہ میں ان سے متفق ہوں، بلکہ اس لئے کہ مجھے ایک الہام ہوا تھا، میں اس کی تاویل کر رہا ہوں ۔ خلیفہ صاحب کی اس بات پر ایک بار پھر ان کی تسلی ہو گئی ، اس پر انہوں نے پھر خلیفہ صاحب کی بیعت کر لی ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ خلیفہ صاحب نے جو کچھ کہا تھا، اس میں بھی ان کی کوئی شرارت
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۵۶
شہادت مرزا پر ایک عبرت خیز تبصرہ
رئیس الاحرار صاحبؒ کی
غلط فہمی
کون نہیں جانتا کہ مجلس احرار نے قادیانیت کے خلاف سب سے پہلے علم بغاوت بلند کیا ۔ احرار ہی وہ جماعت تھی جس نے مسلمانوں کو قادیانیوں کے ناپاک عزائم سے آگاہ کیا اور انہیں قادیانیت کے خلاف منظم کیا ۔ اس تحریک میں احرار کے سینکڑوں کارکنوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کیں ۔ ہزاروں کارکنوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ یہاں تک کہ مجلس احرار کے بانیوں میں سے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے اس قدر دکھ اٹھائے کہ ان کی صحت تباہ ہو گئی اور آخر کار وہ اسی تحریک کے صدمات سے جانبر نہ ہو سکے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ ان تمام حقائق کے باوجود حیرت ہے کہ رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کو یہ غلط فہمی کیسے پیدا ہو گئی کہ قادیانیت کے خلاف اس تحریک میں مجلس احرار کا کوئی حصہ نہیں تھا ۔ اور یہ کہ یہ تحریک صرف مولانا مودودیؒ نے چلائی تھی ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مجلس احرار نے جب قادیانیت کے خلاف تحریک شروع کی تو اس وقت جماعت اسلامی کا وجود تک نہیں تھا ۔
۵۷ سب سے بڑی قربانی اس تحریک میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے دی ہے ۔ اگر چہ بظاہر حضرت ممدوح نے اس تحریک میں عملی حصہ نہیں لیا لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مجلس احرار کی اس تحریک کو کامیاب بنانے میں آپ کی دعائیں شامل حال رہیں اور آپ کے مخلصانہ مشوروں سے احرار کو بہت مدد ملی ۔ آپ نے احرار کے رہنماؤں کو ہمیشہ یہ نصیحت فرمائی کہ وہ اپنے اس مقصد میں ثابت قدم رہیں اور قادیانیوں کی مخالفت میں کسی قسم کی لغزش نہ آنے دیں ۔ چنانچہ حضرت تھانویؒ کی انہی دعاؤں اور مشوروں کا نتیجہ تھا کہ احرار نے قادیانیت کے خلاف اس قدر زبردست تحریک چلائی کہ جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ خدا تعالیٰ حضرت تھانویؒ کو غریق رحمت کرے جنہوں نے اس نازک موقع پر احرار کی سرپرستی فرمائی ۔ (آمین)
اس تحریک میں مجلس احرار کے علاوہ دیگر مکاتب فکر کے علماء نے بھی نمایاں حصہ لیا۔ دیوبندی ، بریلوی ، اہل حدیث اور شیعہ حضرات نے متحد ہو کر اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے کام کیا ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس محاذ پر سب سے آگے احرار ہی تھے اور انہوں نے ہی سب سے زیادہ قربانیاں پیش کیں ۔
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 198)
۵۹
دعویٰ مندرجہ براہین بارے پچاس حصہ
کامیابی کا نہیں بلکہ خلیفہ صاحب کے ایک
ذلیل عذر کا
میں نے دل سے مان لیا ہے کہ خدا کا فضل ہوا کہ جماعت میں میری جگہ ایک خلیفہ صاحب پیدا کئے ہیں لیکن اس میں میری کوئی ذلت اور تحقیر نہیں ہے۔ مجھ میں بوجہ غلبہ حق جوش پیدا ہوتا ہے خلیفہ صاحب میں کوئی ایسا جوش نہیں کچھ سخت قوی جذبات ہیں جنہیں خلیفہ صاحب سمجھنے میں کامل قصور رکھتے ہیں۔
احمد یار کا خط
ان باتوں کے سننے کے بعد مجھ سے میر محمد اسمٰعیل (شیشے والے) نے بات کرنا چھوڑ دیا اب وہ اپنے ملنے والوں کو بتاتے ہیں کہ میرے پاس میاں محمود کو خلیفہ صاحب نے بھیج کر مجھ سے تو بہ پر دستخط کروا لئے ہیں خدا نے بچایا ۔ ورنہ والسلام فقط احمد یار معتمد حلقہ شیرانوالہ نوٹ ۔ احمد یار کی یہ مجال ہے کہ وہ کہتا ہے کہ توبہ پر دستخط کروا لئے حالانکہ مجھے کوئی توبہ کا خط نہیں دیا گیا جس پر دستخط کئے گئے ہوں اس پر میں حلفاً وہ مجھ پر لعنت بھیجے تو قبول
۵۸ ہو سکتا ہے کہ اس میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہو کہ میں محض آپ جیسا مفتری و کذاب نہیں ہوں۔ حضرت صاحب کے الہامات یاد آتے ہیں جس سے اس وقت مجھ کو کامل طور پر تسلی ہو گئی ہے سوائے اس کے کہ اللہ خود فیصلہ کرے وہ جھوٹوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ خلیفہ صاحب پر موت آئے گی اور ان کا جھوٹا ہونا سب پر ظاہر ہو جائیگا۔
ہمارے مکرم بھائی میر قاسم علی صاحب کا خط
میرے پاس میری ہمشیرہ آئی اور کہنے لگی کہ خلیفہ صاحب نے مجھ سے تیرے بارے میں فرمایا ہے کہ میں اس کو کافر نہیں کہتا۔ میں نے اسے کہا کہ اگر وہ مجھے کافر نہیں کہتا تو میں بھی اسے کافر نہیں کہتا۔
میرے پاس بہت سے خطوط آئے ہیں جن میں مجھے کہا گیا ہے کہ خلیفہ صاحب نے یہ کہا ہے کہ وہ مجھے کافر نہیں کہتے۔ میں ان کی باتوں میں آ کر دھوکہ کھا گیا۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ وہ خلیفہ صاحب کے پاس جائیں اور ان کو سمجھائیں کہ خلیفہ صاحب نے جو خط لکھا ہے اس میں مجھے کافر نہیں کہا ۔ میں ان کی باتیں سن کر بڑا خوش ہوا اور میں نے خلیفہ صاحب کو ایک خط لکھا کہ خلیفہ صاحب نے جو خط مجھ کو لکھا ہے اس میں مجھے کافر نہیں کہا۔ میں نے ان کی باتیں سن کر
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 198)
قادیانیت کا جنازہ
چودھری صلاح الدین صاحب ناظم بنگال
کے خلاف
تفصیل بالا سے ظاہر ہے کہ ناظم بنگال چودھری صلاح الدین صاحب کے دلائل کا کوئی جواب مرزا محمود نے نہ دیا بلکہ قادیان پہنچ کر چودھری صاحب کے خلاف ایک نہایت ہی بھونڈا اور شرمناک قسم کا انتقامی قدم اٹھایا چنانچہ الفضل قادیان مورخہ ۲۵ مئی ۱۹۳۷ء میں ایک خبر شائع کی گئی جس کا عنوان تھا ۔ ”چودھری صلاح الدین صاحب ناظم بنگال کی معطلی“ ۔ اس خبر میں لکھا گیا تھا کہ چونکہ چودھری صلاح الدین صاحب ناظم بنگال نے ایک خط میں بعض ایسی باتیں لکھی ہیں جو سلسلہ کے مفاد کے خلاف ہیں اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان کو معطل فرما دیا ہے ۔ یہ معطلی کا حکم ۱۳ مئی کے واقعہ کے ۱۲ دن بعد ۲۵ مئی کو دیا گیا تھا ۔ یہ بات قابل غور ہے کہ چودھری صاحب ناظم بنگال تھے اور ناظم بنگال کی حیثیت سے ہی انہوں نے محمود قادیانی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا اور ان کا یہ مطالبہ خلیفہ قادیان کے استعفیٰ کا تھا ۔ پس ایسی صورت میں خلیفہ قادیان کو یہ حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ ایک ایسے شخص کو جو اس سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہا ہے معطل کر دے ۔ ناظم بنگال کا یہ مطالبہ کوئی انفرادی مطالبہ نہیں تھا بلکہ یہ بنگال کی جماعت کا مطالبہ تھا ۔ اس لئے ناظم بنگال کی معطلی کا حکم دراصل تمام بنگال کی جماعت کی معطلی تھی ۔ یہ مرزا محمود کی کھلی دھاندلی اور صریحاً بے انصافی تھی ۔ علاوہ ازیں ناظم بنگال کا تقرر چونکہ صدر انجمن احمدیہ قادیان کی منظوری سے ہوتا تھا اس
قادیانیت کا جنازہ لئے ان کی معطلی بھی صدر انجمن احمدیہ کی منظوری سے ہی ہو سکتی تھی ۔ مرزا محمود نے یہ کارروائی بالکل خلاف ضابطہ اور خلاف نظام کی تھی ۔
قادیانی جماعت کے اندر مرزا محمود کے اس جابرانہ اقدام کے خلاف شدید بے چینی پھیل گئی ۔ اور ایک زبردست طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔ چودھری صاحب چونکہ ایک زبردست مناظر اور مبلغ تھے اور ان کا قادیانی جماعت پر بڑا اثر تھا اس لئے ان کی معطلی سے جماعت میں ایک بھونچال سا آ گیا ۔ مرزا محمود قادیانی کو جب اس شدید رد عمل کا علم ہوا تو وہ سخت گھبرایا ۔ اور اس نے اپنے اخبار الفضل میں ایک لمبا چوڑا بیان شائع کیا جس میں اس نے اپنا موقف واضح کرنے کی کوشش کی ۔ چنانچہ اس نے لکھا کہ ناظم بنگال کا یہ مطالبہ کہ میں مستعفی ہو جاؤں بالکل بے جا اور غلط ہے ۔ نیز یہ کہ ان کا یہ الزام کہ میں نے خلافت کو ایک موروثی گدی بنا لیا ہے بالکل غلط اور بے بنیاد ہے ۔ مرزا محمود نے اپنے اس بیان میں اپنے دفاع کے لئے کئی اور دلیلیں بھی دیں ۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود بنگال کی جماعت پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا ۔ آخر کار مرزا محمود نے ایک اور چال چلی ۔ اس نے اپنے ایک خاص آدمی مولوی جلال الدین شمس کو اپنا نمائندہ بنا کر بنگال بھیجا تاکہ وہ وہاں جا کر چودھری صاحب کے اثر کو زائل کرے ۔ مولوی جلال الدین شمس نے بنگال پہنچ کر چودھری صاحب کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر دیا ۔ اس نے چودھری صاحب کے متعلق یہ مشہور کر دیا کہ وہ قادیانی جماعت سے باغی ہو گئے ہیں اور اب وہ جماعت کے وفادار نہیں رہے ۔ اس پراپیگنڈہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنگال کی جماعت
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
٦٢ تو آپ نے اس وقت بھی صراحت کر دی کہ مجھے اس عقیدے میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں ۔ ہاں اس سے مجھے بھی بحث نہیں کہ ان کا جسم آسمان پر گیا یا نہیں ۔ قاضی عبدالماجد و مولوی صلاح الدین صاحب جو قادیانیت ہی کے پختے عاشقوں میں گنے جاتے ہیں گواہ ہیں کہ پیغام صلح کے ایڈیٹر جو مجھے اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں ۔ اس جماعت سے کلی طور پر بیزار ہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ پاکستان کے ایک معزز خاندان کا نوجوان جو اس نام نہاد جماعت احمدیہ (لاہوری) کی وجہ سے ملحد ہو گیا تھا ۔ بالآخر دیانتداری سے سمجھ بوجھ کر اس کھوکھلے فریب سے ایک دفعہ ہی توبہ کر کے پکا سچا مسلمان بن گیا ہے ۔
(نوائے پاکستان ۷ ، ۸ مئی ۶۰ ء)
٦٣ شہادت نمبر ۴۳
امام جماعت احمدیہ ربوہ کے متعلق
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی
شہادت
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب خلیفہ صاحب کے ماموں و خسر ہیں آپ کی علمی قابلیت اس درجہ مسلمہ ہے کہ جاہل احمدی بلا تامل کہدیا کرتے ہیں کہ جس نے دفاع کا کام کرنا ہے ۔ اور اس غرض کے لئے محمد علی لاہوری کا مقابلہ کرنا ہے تو اس کے پاس جائے یہ بھی لاہوری احمدیوں کو منافق کہتے ہیں ۔ قادیانی کو بیعت سے نکال دیا ہے ۔ صرف لاہوریوں کی نسبت فرماتے ہیں :۔ ....... چہارم یہ کہ گالیاں تو لاہوریوں نے ہی بکی تھیں جنہیں
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۷۲
کہتا ہوں۔ کہ میں جن مجبوریوں میں مبتلا ہوں۔ وہ گوناگوں ہیں۔ ذہنی بھی۔ جسمانی بھی۔ خاندانی بھی۔ پھر مجبوری بھی کہ مجھ سے ملنے کیلئے اپنے آدمی کو دماغ کا ایک خاص حصہ صرف کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں کسی تحریک کا براہ راست مجھ پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔ مجبوری ہی مجبوری ہے۔ لیکن جس تحریک کے متعلق آپ نے فرمایا ہے۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں واقعی ہی براہ راست اس تحریک سے بغاوت کر چکا ہوں۔ اسی لئے
کہتا ہوں :-
اَللّٰهُمَّ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ وَالْاَبْصَارِ
کونا کونا اس کا فریاد سے گونج اٹھتا ہے دلیل اس دعوے کی یہ ہے جاؤ دیکھو مکھ پر مجھ کو لوٹے
خلیفہ ربوہ جب اس کا مطلب پوچھیں۔۔۔
علاوہ ازیں خلیفہ ثانی کی عقل کا جو ہے۔ میرا خیال ہے۔ حق تو یہ ہے کہ جب وہ بھان متی کی طرح ہاتھ چلاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ ان باتوں کو ہوا میں اُڑا دو۔ یہ کیا کرشمہ ہے۔ کوئی بات ہے کوئی معجزہ ہے کہ ان کے پاس، ان کا ہاتھ جس طرف اٹھتا ہے۔ اس طرف ہم کھنچے چلے جاتے ہیں۔ غالباً یہ ۱۹۲۸ء میں جب آپ نے اس مشق کا آغاز کیا تھا۔ تو میرے سامنے ہوا تھا۔ اس وقت تو میں مسکرایا تھا۔ آج خلیفہ ربوہ مجھ سے کہتے ہیں کہ سیدھے ہو جاؤ۔ میں حیران ہوں کہ میں کہاں اُڑتا پھروں گا۔ خلیفہ صاحب نے پھر کہا۔ لوٹ آؤ۔ خلیفہ کا پیغام دو دفعہ آیا۔
۷۳
مجلس صحابہ کی توہین کے لئے
ان میں سے نہایت گھٹیا قسم کی ہے۔ مثلاً ایک شخص مجلس میں کھانسی ، چھینک ، پیشاب و ریاح مروڑ اور پیٹ کی تکلیف ظاہر کرتا ہے۔ میری مراد یہ ہے کہ ان تمام واقعات کو جو خلیفہ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ نہایت بے تکا ہے۔ بے موقع صاحب! آپ احمق ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ جو باتیں اور حرکات کرتے ہیں۔ آپ ان کی ہنسی اڑاتے ہیں۔ کون آپ کی اس بات کو مانے گا۔ جس کی قدر ومنزلت ان سے زیادہ ہو۔ چونکہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب میرے حق میں فیصلہ دے چکے تھے کہ یہ تو دیوانہ ہے۔ اور میں اس وقت ان کی باتوں پر ہنستا تھا۔ خلیفہ نے پکارا۔ او بدمعاش! او گدھے! جب ایک انسان اُمت میں ایک عظیم الشان عہدے پر فائز ہو۔ اور اس کے سامنے ایک شخص ہنس دے۔ تو یہ بہت بڑی بے ادبی ہے اس پر میں نے کہا کہ آپ نے مجھے گالیاں دی ہیں۔ تو میں آپ کی داڑھی نوچ لوں گا۔ خلیفہ صاحب نے کہا کہ یہ شخص پاگل ہو گیا ہے۔ اس کو پاگل خانے بھیج دو۔ میں نے کہا کہ میں تو پاگل نہیں ہوں۔ اگر تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تو میں تمہاری داڑھی نوچ لوں گا۔ خلیفہ صاحب نے پھر کہا کہ یہ پاگل ہو گیا ہے اسے پکڑ لو۔ مگر کسی کی ہمت نہ پڑی کہ وہ آگے بڑھتا۔ پھر میں وہاں سے چلا آیا۔
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۶۳ پرویز ۔ تو آپ کو اس کی بات سے جینے کی تو کیا نسبت بلکہ مرنے اسے آپ نے خود نزع کے دکھا دیئے پھر تعلیہ پر تعلیہ دیکھیے کیسی خوب ہے مجھ کو مسیح بن کر بتا دیا کہ مجھ کو خدا نے بنا دیا مسیح مگر اس پر خدا کی تجلی دیکھئے کہ آپ نے خود ہی اسے کاٹ دیا ۔ (شرم) تو اس کی موت ، جس کی موت عیسیٰ کی موت بنی ، کیسی ہوئی ہو گی حضرت اقدس کا دعویٰ بھی کیا خوب دعویٰ ہے ۔ ہم تو سنتے آئے ہیں ۔ نازل عیسیٰ کو کرنا تھا حضرت اقدس کو مسیح بنا کر اتارا گیا ۔ سبحان اللہ حضرت اقدس کی شان بھی کیا خوب ہے دجال جس نے آپ کے مقابلہ پر کھڑا ہونا ہے مغلوب ہو سکتا ہے نہ تو دجال کو مغلوب کر سکے کیونکہ جب دجال اس وقت تک موجود ہی نہیں ۔ تو مغلوب کسے کیا جائے ۔ غرض کہ حضرت اقدس نے دجال کی موجودگی سے ہی انکار کیا ہے ۔ آپ نے لکھا ہے حق تو یہ ہے کہ دجال کا نام و نشان کہیں نہ پائے گا ۔
یاد رکھو مسیح موعود دجال نہیں ہو سکتا
۶۴ یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی ہے کہ خلیفہ صاحب دجال اور عیسیٰ یعنی اس نشان میں یار اور مسیح موعود میں وہی نسبت واقع ہوئی ہے جو عیسیٰ کو دجال کے خاتمہ کے ماتحت لائے ہیں حالانکہ دجال کا نشان کہیں اور دجال عیسیٰ کا غیر نہ تھا۔ عیسیٰ اور دجال متضاد تھے۔ اس طرح یار اور مظہر نہیں ملتا ۔ جب دجال ہے ہی نہیں تو اس کا خاتمہ کیا اور کیسا ؟ خلیفہ میں کیا نسبت ہے کہ نشان اور موعود میں اسکی تعلیم دی ہے ۔ مثلاً آفتاب صاحب نے خلافِ حق اس کی تعلیم دی ۔ تو کیا وہ مسیح کہلائیگا ؟ حضرت اقدس کی شان دکھا دی گئی ۔ یہ علاج اس وقت کا ہے جب یار کیا دجال کو مغلوب کر کے مسیح کہلایا جاتا ہے ۔ دجال تو ہے نہیں خلیفہ دجال و خلیفہ دونوں کا انجام برا ہوتا ہے ۔ اس کا حال بھی وہی ہوگا ۔ تو کیا ہم اسے مسیح مانیں گے ۔ ہم نے ماننے کا جو عہد کیا تھا ہم نے پورا کیا ۔ جب ایک دجال کی حد میں نہیں آیا تو مغلوب کیسے ہوگا اور کیا ہم اسے دجال مانتے ہیں یا مسیح ۔ تو یہ آپ کے ایمان کی بات پر مبنی ہے کہ خلیفہ صاحب دجال کی حد میں تو آ ہی گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ اس لیے کیا ہے کہ سب کو سمجھ آ جائے کہ دجال کون ہے ہم آپ کو اس دجال میں سے نکال کر دکھائیں گے کہ دجال کون ہے ۔
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۷۵
کرنے کی نہ تو کوئی گنجائش ہی ہے ، نہ ہی بوجہ سالہا سال کی وجہ سے ضرورت ہی ، کجا یہ کہ اس وقت جبکہ سارا مورچہ ہی غلط ہو گیا ہے ۔ یہ کوئی دکان کے غلے کی چوری کی کاروائی کا ثبوت تو ہے ہی نہیں ۔ نہ کوئی سیندھ ہے ، نہ کھوج ، نقد ہی نکلوا دینا بتاتا ہے کہ یکا یک تمہارا کہیں یہ دعویٰ ہے کہ یہ دکان کی موجودہ غلطی تو ہے ، یا چابی یا تالا ہی غلط یا چوری کا ہے
ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا کے فضل سے ایسا کامل معجزہ عطا ہوا ہے جس کی نظیر پچھلے نبیوں میں تو درکنار خود نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی میں بھی ثابت نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک طرف تو ہمارے رسول مقبول ﷺ ہیں جن کی ساری زندگی کا یہ خلاصہ ہے کہ مکہ میں تو ماریں کھائیں اور مدینہ میں آکر لوٹ مار شروع کر دی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (نعوذ باللہ)
(سیرت المہدی حصہ اول ص ۴۱)
انبیاء اور القاب کو بدل دیا گیا ، سنیں ، کیا کیا کیا گیا
محمدؐ علیؓ حسینؓ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں عین محمدؐ ہوں، میں نے خواب میں دیکھا کہ میں علیؓ ہوں اور حسینؓ ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(تذکرہ ص ۴۶۲)
۷۶
پھر آگے ایک اور دعویٰ فرما دیا، ذرا ملاحظہ فرمائیں: "خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں میرا نام مریم رکھا اور پھر فرمایا کہ میں نے تجھ میں عیسیٰ کی روح پھونک دی اور تو مریم سے عیسیٰ بن گیا ۔ پھر ایک اور دعویٰ فرما دیا کہ مریم کی طرح میرے اندر عیسیٰ کی روح پھونکی گئی اور میں حاملہ ہو گیا اور پھر مدت پوری ہونے پر میں نے عیسیٰ کو جنا اور اس طرح میں ابن مریم بن گیا لو جی ! یہ باتیں تو آپ نے سنی ہوں گی مگر اب تو کمال ہی کر دیا گیا ہے اور بات اس سے بھی آگے بڑھ گئی ہے، ملاحظہ فرمائیں: قَالُوْا تَاللّٰهِ إِنَّكَ لَفِيْ ضَلَالِكَ الْقَدِيْمِ O مخالفین مرزا صاحب سے کہتے ہیں کہ تم اپنی اسی پرانی گمراہی میں مبتلا ہو ۔ یعنی مرزا صاحب پرانی گمراہی میں مبتلا تھے جبکہ اس سے بڑھ کر ایک اور دعویٰ موجود ہے جس میں آپ نے دعویٰ فرمایا ہے کہ میں خدا ہوں اور میں نے یہ زمین و آسمان پیدا کئے ہیں، چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:
اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۶۴)
طالب دعا ۔۔ خادم سنت ۔ مصطفیٰ شیرانی
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
اعلان !
جس قدر اشتہارات اس وقت تک میری طرف سے شائع ہو چکے ہیں ۔ ان کی اصل غرض اور مقصود یہی ہے ۔ کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور ہم پر جو کفر کے فتوے دیئے گئے ہیں ان کی اصل حقیقت ظاہر ہو جائے ۔ اس لئے میں نے بار بار یہ اعلان کیا ہے ۔ کہ علماء مجھے کافر کہنے میں جلدی نہ کریں ۔ بلکہ میری بات سن لیں ۔ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میں اسی اسلام کا پیرو ہوں جو آنحضرت ﷺ لے کر آئے ۔ میں کسی نئے دین کا مدعی نہیں ہوں ۔ اور نہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ۔ بعض علماء جو میرے خلاف اشتہارات دے کر عوام کو بھڑکا رہے ہیں ۔ ان کو چاہیئے کہ وہ اس وقت تک مجھ پر کفر کا فتویٰ نہ لگائیں ۔ جب تک وہ میری کتب کو غور سے نہ پڑھ لیں ۔ میری یہ کتب ہر جگہ دستیاب ہیں ۔ اور جو چاہے ان کو منگوا کر پڑھ سکتا ہے ۔ اگر کوئی شخص ان کتب کو پڑھ کر مجھ پر کفر کا فتویٰ لگائے گا تو اس کا جواب دہ وہ خود ہوگا ۔ میں نے ہمیشہ ان علماء کو مباہلہ کی دعوت دی ہے ۔ لیکن وہ ہمیشہ اس سے جان بچاتے رہے ہیں ۔ میں ایک بار پھر ان علماء کو مباہلہ کی دعوت دیتا ہوں ۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اس کی تصدیق کرے گا ۔ اور سچے کا حامی ہوگا ۔
مداخلت نہیں کی ۔ اور نہ میری طرف سے کوئی ایسی بات شائع کی گئی ہے کہ میں نے کوئی کلمہ یا اس کا کوئی ایسا حصہ جو کہ باعث نزاع تھا دبایا ہے ۔ بالکل غلط ہے ۔ میں نے کبھی دھوکہ نہیں دیا ۔ اور نہ اپنی جماعت کو شریک کیا ۔ اور نہ ہی کوئی ایسی بات ان کی طرف منسوب کی ۔ اور نہ ہی ان کے کسی قول کو مخفی رکھا ۔ میں نے صرف خدا کے حکم سے یہ کہا تھا ۔ کہ قادیان کے مخالفوں کو میرے بیان پر غور اور انصاف سے کام لینا چاہیئے ۔ میں نے کسی تحریک یا ترغیب نہیں دی ۔ جس قدر میں نے دیکھا اس کے ماتحت بیان کیا ہے ۔ خدا نے مجھے تسلی دی ہے کہ میں تیری مدد کروں گا اور تیرے مخالفوں کو ذلت سے ہلاک کروں گا ۔ اور تیرے ہر ایک سچے کام میں برکت دوں گا اور تیرے چاہنے والوں کو بھی بخشوں گا ۔ میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوں ۔ تو خدا کی طرف سے سر سبز و شاداب رہے گا ۔ اور اس کے کلام پر قائم رہو ۔ تو خدا تمہارے ہر ایک کام میں برکت دے گا اور تمہاری حفاظت کرے گا ۔ میرے خطوط وغیرہ پر آگ لگنے سے میرے مخالفوں کو خوشی ہوئی ۔ لیکن میرا خدا میرے ساتھ ہے ۔
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۷۹ کر دے ، میں ذلیل اور رسوا ہو جاؤں ۔ اور میری اور میرے باپ کی نسل منقطع ہو جائے ۔ اور یہ دعا گڑگڑا کر خدا تعالیٰ سے مانگتا ہوں کہ میرے جیسے جھوٹے کی یادگار دنیا میں نہ چھوڑے لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ 0
فیصلہ عدالت عالیہ ہائیکورٹ لاہور
فل بنچ جسٹس خلیل الرحمن رمدے
قادیانی منکر ختم نبوت ہیں اس لئے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ان کو اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کا حق حاصل نہیں ہے قادیانیوں کا شعائر اسلام کو استعمال کرنا مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور نقص امن کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے قادیانی امت مسلمہ کی ایک مسلمہ اور متفقہ علامات مثلاً کلمہ طیبہ، اذان ، مسجد وغیرہ استعمال کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں حکومت کو ان کے اس فریب اور دھوکہ دہی سے روکنے کا حق حاصل ہے۔
قادیانیوں کا امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء کے خلاف شوروغوغہ بے وزن ہے ۔ دفعہ ۲۹۸ ۔ سی آئین کے منافی نہیں ہے بلکہ یہ تو آئین کے عین مطابق ہے ۔ حکومت کو امن عامہ اور پبلک آرڈر برقرار رکھنے کے لیے قادیانیوں کی ایسی حرکات پر پابندی لگانے کا پورا پورا اختیار حاصل ہے جس سے کہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں ۔
۷
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۲۵
مدعی نے اسے فریق بنا لیا۔ علی محمد کی شرکت نیا رنگ پیدا کرتی ہے، ظاہراً اس پیرایہ میں اس نے شرکت کی ہے۔
”جب دعوے بحق بیت المال ہے تو اس دعوے میں تمام مسلمانوں کی اس جماعت کو جو مدعا علیہ کی بیعت کر چکی ہے، مدعی بنانا چاہئے تھا۔ ورنہ سچا فریق بیت المال ہے۔ علی محمد فریق نہیں ہے، بلکہ وہ تو ایک مدعی کا گواہ ہے۔ .... یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ جس شخص کو گواہ ہونا چاہئے اسے مدعی بنا لیا گیا ہے۔“
محمود احمد کے اس بیان سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ بموجب شرع یہ دعویٰ بیت المال پر ہے اور اس میں تمام مبائعین شریک ہیں .... صدہا گواہ پیش کر کے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ مدعا علیہ نے بیت المال کی رقوم میں سے لاکھوں روپے اپنے ذاتی مصرف میں لائے ہیں۔ اس لئے خلیفہ کو بیت المال میں سے خرچ کرنے کا اختیار کیسے ہے جبکہ اوروں کو :
”میری ذات کے لئے بیت المال سے روپیہ لینے کا اس لئے حق ہے کہ میں خلیفہ ہوں۔ اس کے بعد میں نے اپنا وقت تبلیغ کے لئے وقف کر دیا ہے۔“
اس خطبہ میں خلیفہ نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ خلیفہ کے لئے بیت المال میں سے لینا جائز ہے۔ کیسی کیسی تاویلیں کی ہیں، نہایت تعجب ہے کہ مدعا علیہ اس بات پر فخر سمجھے، جس کی حقیقت یہ ہے کہ :
”صدہا خطوط خلیفہ ثانی نے بیعت لینے کے بعد لوگوں کو لکھے ہیں اور جن میں انہوں نے اقرار کیا ہے کہ میں تمہارے اموال کا امین ہوں اور میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ مجھ کو اپنا روپیہ دیا کرو تا کہ میں اس سلسلہ میں اسے خرچ کروں اور مدعا علیہ کا یہ بھی قول ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔ یہ منصب لوگوں کا دیا ہوا نہیں ہے۔“
ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اس بیان سے کیا ثابت ہوتا ہے کہ مدعا علیہ امین اور وکیل ہے۔ اس کے جواب میں ہم یہی کہتے ہیں کہ جب مدعا علیہ کو اپنا وقت اس سلسلہ کی ترقی میں لگانا چاہئے تھا اور یہ اس کا فرض منصبی تھا تو :
”وہ کون سے اوقات ہیں جن کو مدعا علیہ نے سلسلہ کی ترقی و مقاصد کی بہبودی اور اشاعت کے لئے مخصوص کر رکھا ہے، یا جن میں اس نے اس مقصد کی بہبودی
۲۶
اور قیام و ترقی کے لئے اپنے کو مختص کر رکھا ہے۔“
یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج کل کے حالات میں خلیفہ ہونے کے لئے کوئی ایسا شخص درکار نہیں جس میں علم و فضل اور فراست و دیانت ہو۔ خلیفہ کے لئے صرف ایک گدی کا ہونا لازمی ہے جس پر وہ بیٹھے اور احمقوں کی جماعت سے نذرانے وصول کرے۔ ورنہ خلیفہ ثانی کی حالت پر اگر غور کیا جائے تو وہ علم و فضل کا کورا کاغذ ہے۔ جب خلیفہ میں یہ شرائط موجود نہیں ہیں، اور نہ وہ ان شرائط کا اہل ہے تو اس سے باز پرس کی جا سکتی ہے کہ وہ بیت المال کی رقوم کو ذاتی اغراض کے لئے کیوں استعمال کر رہا ہے۔
جیسا کہ مدعا علیہ کے ایک مرید کا بیان ہے :
”میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ بیت المال کی رقوم اپنے ذاتی اغراض کے لئے استعمال کرتے ہیں اور جن کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ ایک پرلے درجہ کے عیاش اور بدکار ہیں۔“
اس سے یہ امر بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ خلیفہ کی کیا حیثیت ہے اور وہ کیا کر رہا ہے۔ ان حالات میں مدعا علیہ کا یہ کہنا کہ :
”مجھے اس بات کا حق ہے کہ میں بیت المال میں سے اپنے ذاتی مصارف کے لئے روپیہ خرچ کروں کیونکہ میں خلیفہ ہوں“
کیا یہ اس کا حق ہے کہ وہ بیت المال کا روپیہ اپنی عیاشیوں پر خرچ کرے، اور جب اس سے حساب طلب کیا جائے تو وہ کہے کہ :
”بیت المال سے مجھے جس قدر چاہے روپیہ لینے کا حق ہے۔“
ہم حیران ہیں کہ ایک طرف تو مدعا علیہ اپنے آپ کو خلیفہ کہتا ہے اور دوسری طرف اس کی یہ حالت ہے کہ وہ اپنے آپ کو لوگوں کا امین کہتا ہے۔
کیا ایک امین کا یہ فرض نہیں کہ وہ ایک ایک پیسے کا حساب دے۔ جبکہ اس سے طلب کیا جائے۔ اور جب اس سے حساب مانگا جائے تو وہ کہے کہ :
”میں خلیفہ ہوں مجھے کسی کو حساب دینے کی ضرورت نہیں“
ان حالات میں مدعا علیہ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی | یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 198
۲۰۴ میں اسے یقیناً سن لوں گا میں نے اس کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ مجھے کیا کہنا ہے ۔ اس سے مجھ پر اثر پڑنے والا نہیں ہے ۔ اور وہ اپنی سی کوشش کرتا رہا لیکن میں نے اسے جواب دیا کہ میں اس کا مطلب صاف الفاظ میں جانتا ہوں اور میں قائل نہیں ہوں کہ مجھ پر کیا اثر پڑے گا ۔ صرف چند لمحات گزرنے کے بعد جب شیخ عبدالرحمان نے یہ محسوس کر لیا کہ مجھے دھمکیوں سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا چنانچہ اس نے ایک انکسار کی سی صورت پیدا کر لی اور مجھ سے کہا کہ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آیا تم ان بیانات کی بناء پر جو تم دے چکے ہو مجھے پھانسی کے تختہ پر لٹکانا چاہتے ہو ۔ میں نے اسے جواب دیا کہ یہ میرا کام نہیں ہے کہ میں کسی کی نسبت یہ فیصلہ کروں کہ وہ پھانسی کے تختہ پر لٹکایا جائے یا نہیں۔ میں تو صرف ایک گواہ ہوں اور میں نے وہی کچھ بیان کرنا ہے جو میں نے سنا ہے اور جو میں نے دیکھا ہے ۔ یہ ایک جج کا کام ہے کہ وہ تمہیں سزا دے یا بری کر دے ۔ اس کے بعد اس نے پھر مجھ سے استدعا کی کہ میں اس کی جان بچا لوں ۔ میں نے اسے پھر جواب دیا کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔
یہاں تک تو گفتگو کا حال تھا ۔ اس کے بعد شیخ عبدالرحمٰن کی بیوی بھی آگئی ۔ اس نے بھی گڑ گڑا کر مجھے کہا کہ میں اس کے خاوند کی جان بچا لوں ۔ اس نے کہا کہ میں اس کی جان بچا لوں تاکہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم نہ ہو جائیں ۔ میں نے اس سے بھی یہی کہا کہ یہ میرا کام نہیں ہے ، یہ تو ججوں کا کام ہے کہ وہ جان بچائیں یا پھانسی پر لٹکائیں۔
اس کے بعد مارشل لاء کمیشن گوجرانوالہ کے روبرو شیخ عبدالرحمٰن کا مقدمہ پیش ہوا جس میں مسٹر کینڈی صاحب نے گواہی دی کہ شیخ عبدالرحمٰن نے مجھ سے استدعا کی تھی کہ میں اس کی جان بچا لوں۔ چنانچہ کمیشن لکھتے ہیں :۔ میرا ارادہ ہے کہ میں شیخ عبدالرحمٰن کو بھی اس بلوہ کا ذمہ دار بناؤں
۲۵۰ ماحول میں ہے ۔ خصوصاً اس علاقہ کے باشندوں نے عدالتی کارروائی میں جو حصہ لیا ہے ، ان حالات میں مقامی حکام کے لئے شیخ عبدالرحمان کے بیانات کو سچائی متصور نہیں کیا جا سکتا ۔ نیز یہ کہ یہ مناسب نہیں ۔ کہ ایک مجرمانہ قسم کی کارروائی جو ہماری عدالت کے سامنے بغاوت کی شکل میں ہے ۔ اس کے مقدمہ کو التواء میں رکھا جائے۔ لہٰذا درخواست مسترد کی جاتی ہے ۔
دستخط لیفٹنٹ کرنل جولین کیمپ جج عدالت عرفی ماتحت ملٹری کمانڈر گوجرانوالہ
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
(حوالہ نمبر 198)
ہفت روزہ
صلائے عام
قرآن شریف میں صادقوں کی یہ نشانی مقرر ہے
کذاب اور مفتری موت سے ڈرتا ہے
فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ
قادیان کے کرشن اور اس کی ذریت کو دعوت مباہلہ
مباہلہ
حق و صداقت کا آئینہ دار
قادیانیت کے لئے پیام موت
ایڈیٹر و مہتمم
منشی عبد الکریم قریشی
جلد ۱ قادیان ماہ صفر المظفر ۱۳۵۴ھ مطابق جون ۱۹۳۵ء نمبر ۴
فہرست مضامین
دعوت مباہلہ کا فیصلہ کن چیلنج . . . . ص ۱
خلیفہ قادیان کے ایک خط کی حقیقت . . . . ص ۱
مسلمان اور احمدی میں حد فاصل (بقیہ) . . ص ۲
اپنے پیشوا میں اختلافات . . . . . ص ۲
قادیانی اخبار الفضل کے ایک جھوٹ کا انکشاف . ص ۳
قصر خلافت میں بھونچال . . . . . . ص ۳
خلیفہ قادیان مرید کی بغل میں . . . . . ص ۴
افشائے راز . . . . . . . . . ص ۴
قادیان کی جیل یا دارالامان کا عقوبت خانہ . . ص ۵
خلیفہ قادیان کی لڑکی کی شرمناک داستان . . ص ۵
خلافت پر مباہلہ . . . . . . . ص ۵
خلیفہ قادیان کی درگت . . . . . . ص ۵
قادیانی جماعت کے غول بیابانی کے نام . . ص ۵
خلیفہ قادیان کا کچا چٹھا
جانسوز افعال کا ارتکاب
ایک قادیانی خاتون کا سنسنی خیز بیان
مجھے پلنگ پر گرا کر زبردستی میری عزت برباد کر دی
صفحہ ۸ پر ملاحظہ فرمائیے
یہ اخبار منشی عبد الکریم قریشی ایڈیٹر و مہتمم نے مطبع کریمی لاہور میں چھپوا کر دفتر اخبار مباہلہ قادیان سے شائع کیا
یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی
(حوالہ نمبر 198)
١٧٢
قادیانی خاتون کا بیان پڑھنے سے قبل اس تحریر کا مطالعہ کریں
ناظرین کرام! آئندہ صفحات میں ہم ایک قادیانی خاتون کا وہ سنسنی خیز بیان درج کر رہے ہیں جو اس نے اخبار ”مدینہ“ بجنور میں اشاعت کے لئے ارسال کیا تھا۔ اس بیان میں خلیفہ قادیان میاں محمود احمد کے ان حیا سوز افعال اور شرمناک حرکات کا پردہ چاک کیا گیا ہے جو وہ مذہب کی آڑ میں قادیان کے اندر کیا کرتے تھے۔ یہ خاتون چونکہ خود قادیانی تھی اور اس نے قادیان میں رہ کر خلیفہ قادیان کی حرکات کا قریب سے مشاہدہ کیا تھا، اس لئے اس کا یہ بیان کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔
ہمیں امید ہے کہ اس چشم کشا بیان کو پڑھ کر قادیانی جماعت کے ان سادہ لوح افراد کی آنکھیں کھل جائیں گی جو میاں محمود احمد کو اپنا روحانی پیشوا اور مصلح موعود مانتے ہیں۔ انہیں معلوم ہو جائے گا کہ جس شخص کو وہ تقدس کا مجسمہ سمجھتے ہیں، اس کی نجی زندگی کس قدر تاریک اور غلاظت سے بھری ہوئی ہے۔ ہم یہ بیان صرف اس لئے شائع کر رہے ہیں تاکہ حق و باطل کا فیصلہ ہو سکے اور لوگ قادیانیت کے دام فریب سے بچ سکیں۔
١٧٣
خلیفہ قادیان کا کچا چٹھا
حیا سوز افعال کا ارتکاب
ایک قادیانی خاتون کا سنسنی خیز بیان
(بحوالہ اخبار ”مدینہ“ بجنور)
جناب ایڈیٹر صاحب اخبار مدینہ! میں ایک احمدی عورت ہوں اور میں نے خلیفہ قادیان میاں محمود احمد کی بیعت کی تھی۔ میرا یہ عقیدہ تھا کہ خلیفہ صاحب ایک برگزیدہ اور پاکباز ہستی ہیں۔ لیکن جب میں نے قادیان میں رہ کر ان کی اور ان کے حواریوں کی حرکات کا بنظر غائر مطالعہ کیا تو مجھ پر یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا کہ خلیفہ صاحب نے مذہب کی آڑ میں قادیان کو ایک قحبہ خانہ بنا رکھا ہے جہاں شریف اور معصوم عورتوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں۔
خلیفہ صاحب کے حواری ہر وقت ایسی عورتوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کی ہوس کا نشانہ بن سکیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے بے شمار واقعات دیکھے ہیں جنہیں بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ خلیفہ صاحب کی اپنی زندگی اس قدر ناپاک اور عیاشانہ ہے کہ کوئی بھی شریف انسان اسے سن کر کانپ اٹھے گا۔
میں نے ان حالات سے دلبرداشتہ ہو کر احمدیت سے توبہ کر لی ہے اور اب میں سچے دل سے اسلام میں داخل ہو چکی ہوں۔ میں قادیانی جماعت کے ان تمام افراد سے جو خلیفہ صاحب کو اپنا روحانی پیشوا مانتے ہیں، اپیل کرتی ہوں کہ وہ خلیفہ صاحب کی اصلیت کو پہچانیں اور اس دجال کے فریب سے نکل کر سچے دین اسلام کی طرف لوٹ آئیں۔
والسلام ایک سابق قادیانی خاتون
تاریخ احمدیت کے چند پوشیدہ اوراق از مظہر الدین ملتانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 199
۲۱
(۴) ایک خاندان کی بیماری دوسرے خاندان میں (یعنی اولاد وغیرہ) میں آجاتی سنی ہوگی دودھ کو ایک دفعہ جاگ لگا دی جائے تو پھر وہی جاگ کام آتی رہتی ہے۔ بعینہ اسی طرح اب یہ جاگ آخر (یعنی عیاشیوں کی رنگ رلیاں) انہی مغلیہ خاندان کی نسل ہوتے اس خاندان میں بھی لگنی ضروری تھی سو لگی اور خوب لگی اور غالباً انکی طرز عیاشیوں کو بھی مات کر دیا ہوگا۔ جناب سیکرٹری صاحب ہوشیار باش جاگتے رہئیے نظارہ جلوہ قریب آرہا ہے دل مضبوط کر لیجئے ہوش وحواس قائم رکھئے گا۔ قادیان کے عوام ہماری اس خاندان سے وابستگی چولی دامن کا ساتھ سمجھتے تھے۔ ایک دن ہوتا کیا ہے غور فرمائیے گا حضرت خلیفہ ثانی حکم فرماتے ہیں عشاء کے بعد ام طاہر کے صحن والی سیڑھیوں کی طرف سے آنا چنانچہ حاضر ہو کر دستک دی حضور خود دروازہ کھول کر اپنے ساتھ صحن میں لے گئے کیا دیکھتا ہوں کہ دو بڑی چارپائیاں ہیں جن پر بستر لگے ہیں جنکی پوزیشن یوں تھی سرہانہ شمال قبلہ رخ والی چارپائی کے پاس لے جا کر اس حضور پر بیٹھنے کا حکم دیا تو دوسری پر حضور لیٹ گئے مقام خلیفہ قبلہ رخ کے تقدس کے خیال سے کبھی برابری میں بیٹھنے کا وہم و خیال بھی نہ ہوتا تھا اسی شش و پنج میں حیران پریشان کھڑا ہی تھا کہ یہ ابتلا الہی کیا شامت اعمال آئی
یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے مرزائیوں کی روحانی شکار گاہ، صفحہ 21 تا 30 از عبدالرزاق مہتہ قادیانی
(حوالہ نمبر 199)
۲۲
ہے کیا مصیبت آنے والی ہے کہ اتنے میں حضور تشریف لائے پکڑ کر بٹھلاتے ہوئے فرمایا فکر نہ کرو شرماؤ نہیں جس کے چند ہی سیکنڈ بعد چارپائی پر بچھی چادر کے نیچے سے کچھ حرکت معلوم ہوئی ۔ سکڑا ۔ سنبھلا کہ ایک چٹکی پیٹھ پر کٹتی ہے ۔ گھبرایا ہوش و حواس گم ہی تھے کہ اب چادر کے نیچے سے کوئی ذرا زیادہ ہلتا معلوم ہوا دراصل کروٹ لی گئی تھی کہ وہ سمیٹتے پھر دوچار چٹکیاں کٹتی ہیں میں پھر بھی صم بکم بنا بیٹھا تھا ۔ کہ پھر حضور آئے شرماؤ نہیں لیٹ جاؤ فرماتے چادر کے اندر منہ کر کے اس صاحبہ سے کچھ کہا جس نے نصف اٹھتے ہوئے اپنے بازو میری کمر کے گرد حمائل کرتے کھینچ کر اپنے اوپر لٹا لیا اس کھینچنے کے نتیجہ میں سر ماتھے اچانک جو اس جسم نفیس سے ٹکرے تو حیرانی ہوئی کہ محترمہ الف ننگی پڑی ہیں اُدھر میں بے حس و حرکت پتھر بنا پڑا تھا مجھے علم نہ ہو سکا ۔ کس وقت میرے بھی کپڑے اتار پھینکے اور کیسے پوری طرح اپنے اُوپر لٹانے لگیں بدمستی کی شرارتیں کرنے ” آخر جیت ان کی ہوئی ہار میری “ گویا ان ٹریننڈ کو ٹرینڈ کر کے مستقل ممبر سیر روحانی (یہ نام میرا دیا ہوا ہے) کا اعزاز بخشا گیا ہاں یہ صاحبہ آخر کون تھیں آپ جستجو تو ضرور کر رہے ہونگے لیکن فی الحال بغیر نام بتائے اتنا عرض کئے دیتا ہوں کہ وہ صاحبہ حضور خلیفہ ثانی کی بیٹی صاحبہ تھیں بس پھر کیا تھا پانچوں گھی میں سر کڑاہی
مرزائیوں کی روحانی شکار گاہ، صفحہ 21 تا 30 از عبدالرزاق مہتہ قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے
حوالہ نمبر 199
۲۳
میں والا معاملہ آئے دن بلاوے دن ہو یا رات دفتر یا چوکیدار کی گو پہلے بھی روک ٹوک نہ تھی مگر اب تو بالکل ہی ختم سیدھے اوپر بیٹیوں سے بڑھتے اب بیگمات کے پیش ہونے یا کئے جانے لگے پہلے پہل تو گھروں میں پھر قصر خلافت کے ایک کمرہ ملحقہ باتھ روم میں جو در اصل مستقل داد عیش کی رنگ رلیوں کے لئے مخصوص فرمایا ہوا تھا۔ جہاں بیک وقت ایک ہی بیٹی اور یا بیگم صاحبہ سے خود بھی اکثر شریک رنگ رلیاں ہوجاتے گویا تینوں ایک ہی چارپائی پر پڑے محو مستیاں ہوتے (محترم سیکرٹری صاحب امور عامہ اسلام میں پردہ کا حکم سخت بتایا جاتا ہے لیکن یہاں دیکھتے ہیں آپ کا امور عامہ خلیفہ کے اس پردہ زادہ پر کیا نوٹس لیتا ہے کونسی جماعت سے خارج کرتا ہے) خیر یہ آپ کی درد سری ہے۔
ناراض تو نہیں ہوگئے ابھی تو ابتدائے عشق ہے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے بقول کہاوت "پاندھ ٹریا متھا سڑیا" ابھی تو سنسنی خیز جلوؤں کی رونمائی ہونی باقی ہے لہٰذا دل قابو میں رکھئے جناب ہوشیار رہیں غور فرمائیں ایک عرصہ جب کہ ایک بیٹی سے دونوں ہی رنگ رلیاں مناتے محو مستیاں تھے کہ موذن نے آکر نماز کی اطلاع دی مجھے یوں فرمایا تم مزے کرتے چلو میں نماز پڑھا کر ابھی آیا ۔ چنانچہ اسی حالت
مرزائیوں کی روحانی شکارگاہ، صفحہ 21 تا 30 از عبدالرزاق مہتہ قادیانی یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے
حوالہ نمبر 199
۲۴
پسینہ میں شرابور تھے وضو تو درکنار اعضا بھی نہ دھوئے نماز پڑھی تھیں نوافل پھر بیٹی کے سینہ پر پڑے غرق عیش و عشرت ہو گئے کیا خوب کہا ہے ع
(جس کسی نے بھی یہ کہا خوب باموقع اور اغلباً انہی کی ذات مبارک کا نقشہ اللہ نے کھچوایا ہے) مختصر کرنے کے لئے اللہ کو حاضر ناظر کرتے جن سے یہ رنگ رلیاں مناتی منوائی گئیں فی الحال تعداد لکھ دیتا ہوں بوقت کارروائی اسمائے گرامی سے مطلع کروں گا۔ بیگمات تین صاحبزادیاں بھی تین ان دو صاحبزادیوں سے دو دو دفعہ ایک تو قریباً مستقل ۔ یہاں لگے ہاتھوں ایک بیگم صاحبہ (بڑی) ام ناصر کی حسرت جو قبر میں ساتھ لے گئے یوں فرمایا دیکھو ام ناصر ہیں کہ یہ شریک محفل نہیں ہوتیں تبھی تو موٹی بھینس ہوتی جاتی ہیں اس کے مقابل غور فرمایا جائے ام مظفر کو دیکھو کیسی خوبصورت نازک سی چلتی پھرتی ہیں کیونکہ یہ کرواتی رہتی ہیں گویا بھاوجوں کو بھی نہ بخشا گیا یہ خیال ذہن نشین ہونا ضروری ہے جن سے یا صاحب مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہوا۔ وہ پاک وصاف ہیں اور الفاظ ”رنگ رلیاں“ جس کی نسبت بیان کئے یا کہے گئے وہی تحریر ہٰذا کر رہا ہوں کسی کا بلا وجہ مبالغہ قطعا غلط اشارہ بھی نہ
مرزائیوں کی روحانی شکارگاہ ،صفحہ 21 تا 30 از عبد الرزاق مہتہ قادیانی یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے
حوالہ نمبر 199
۲۵
کروں گا انشا ء اللہ، انسان گنہگار ہے اور ضرور ہے لیکن حد سے تجاوز ارکان اسلام سے استہزاء شاید کوئی نام کا مسلمان بھی نہ کرے گا چہ جائیکہ جو خود کو مقام خلیفہ پر کھڑا کرے استغفر اللہ ربی جناب عالی یہ تو رہی نماز اور اس کا احترام اب ذرا اچھی طرح سے سنبھل کر اپنی غیرت کے جوش کو دبا کر قرآن پاک کی عظمت پر اس اولوالعزم خلیفہ کے اس چاند سے مکھڑے کی زبان مبارک سے ادا کئے ہوئے جملے خواہ ایک دفعہ دوسرے کی نسبت کہ وہ یوں کہتا ہے اوّل تو اگر کسی نے ان کے سامنے کہے بھی تو غیرت کا تقاضا اس کو ڈانٹ تھا چہ جائیکہ ان الفاظ کو اپنی زبان مبارک سے نہ صرف ایک دفعہ بلکہ ڈھٹائی کی حد یوں کہ پھر دوسری دفعہ وہی دہرائے جاتے ہیں۔ جناب عالی یقین جانیں ان کے لکھنے کی مجھ میں نہ ہمت نہ ہی سکت ہے سمجھانے کی کوشش کروں کہ یوں کہا نعوذ باللہ نعوذ باللہ قرآن پاک کا نام لیتے ہوئے میں اس کو اپنے . . . . . . . . . پر مارتا ہوں استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ شرم کے مارے میری آنکھیں زمین میں گڑ گئیں کاٹو تو جسم میں خون کا قطرہ نہیں کیا یہی مقام خلیفہ ہے اور یہی وہ بلند بانگ پرچار ہے کہ ہم ہی ہیں جو خدمت قرآن فلاں فلاں زبانوں میں کر رہے ہیں اور اِدھر
مرزائیوں کی روحانی شکارگاہ ، صفحہ 21 تا 30 از عبدالرزاق مرتد قادیانی یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 199) ۲۶
اسی قرآن پاک کی فضیلت و عظمت کا عملاً مظاہرہ صورت موصوفہ کی کرتوت کافرانہ سے دیا جاتا ہے تو بہ تو بہ ۔ یہ بھی بتاتا جاؤں کہ یہ کس موڈ میں کہے گئے ایک بیگم صاحبہ کو حضور کے ہر طرح کے قرب صلاح مشورے وغیرہ وغیرہ کی بنا پر چہیتی کہا جاتا اور مانا جاتا تھا اور اہل قادیان کی مستورات خصوصاً جانتی تھیں بعد منانے رنگ رلیاں حضور کی خوشنودی کے لئے کس قدر موقوف تھے کہ ان بیگم صاحبہ نے مجھے اپنے سینہ سے لگا کر کہا کہ آپ مجھے اپنی چہیتی کہتے ہیں یہ میرا چہیتا ہے، باموقع خوب مذاق ہوا جس میں نعوذ باللہ وہ الفاظ دو مرتبہ کہے گئے یہ الفاظ پنجابی میں نام لے کر کہے گئے جو ان کی غلاظت کی جیتی جاگتی حقیقت و اصلیت اسلام اور رسول مقبول صلعم سے وابستگی کی نمایاں جھلک دیتی ہے اب ان کی اصلیت ضمیر کی نجاست و وصیت بھی لگے ہاتھوں ملاحظہ فرما ہی لی جاوے فرمایا ” میں نے تمام بچوں کو کہہ دیا ہوا ہے کہ جس کے اولاد نہ ہو ایک دوسرے سے کر لی جائے۔ سبحان اللہ کیا یہ نصیحت و وصیت خلیفہ کو زیب دیتی ہے۔ گویا اس سے صاف ثابت ہو گیا کہ یہ رنگ رلیاں صرف حضور کی ذات مبارک تک ہی محدود نہیں بلکہ کل اولاد کیا لڑکے اور کیا لڑکیاں جن کو
مرزائیوں کی روحانی شکارگاہ ، صفحہ 21 تا 30 از عبدالرزاق مہتہ قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے
حوالہ نمبر 199
۲۷ پہلے ہی استعمال کرنا کرانا شروع کر دیا ہوا ہے تو بھلا اس صورت میں لڑکے کہاں متقی و پرہیز گار ہو سکتے ہیں تبھی تو یہ رونا حق بجانب ہے کہ ماؤں بہنوں بیٹیوں بھاوجوں کی عزت و ناموس ہر وقت خطرے میں ہے ۔ اب ان ملفوظات میں سے ایک اور فرمان ملاحظہ فرما لیا جائے ۔
فرمایا لوگ باہر سے تبرک کے لئے اپنی بیویاں ۔ بیٹیاں بہوئیں بھیجتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی جنونِ عشق بازی سے تسلی نہیں ہوتی مجبوراً پنجابی کہاوت ”جنے لائی لوئی کرے کی کوئی“ کے مطابق بے شرموں کے ساتھ بے شرم ہونا ہی پڑے گا ۔ مجبوراً حقیقتِ حال بیان کرنا پڑے گی وہ یہ کہ لونڈے بازی کروانے کا بھی شوق باقی تھا ۔ چنانچہ یہ چکر میرے ساتھ بھی ہو چکا ہے لیکن چونکہ مجھے اس قبیح عادت سے نفرت تھی مجبوراً خود ہی کروٹ لیتے اعضاء پکڑ کے اپنے میں ڈالنے کی ناکام عیاشی تو اس پر ایک دفعہ یوں فرمایا کہ خلیفہ صلاح الدین کا (جو رشتہ میں سالا تھا) ....... وہی پنجابی لفظ اعضاء کتنا موٹا اور لمبا ہے اب اس سے غور کریں کہ ان کی عادات رنگ رلیاں اور عشق مزاجی میرے اس لفظ ممبر محفل سیر روحانی سے بالکل صحیح اور سچ ثابت ہو گیا ابھی اور بھی ممبر اور ممبرات محفل ہیں جن کی تعداد جو میرے علم میں ہے پندرہ بیس ہیں
مرزائیوں کی روحانی شکار گاہ صفحہ 21 تا 30 از عبدالرزاق س م قادیانی یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے
حوالہ نمبر 199 ۲۸
اور ان سے آگے آگ لازمی لگے گی آگ کا کام ہی یہی ہے ۔ اب واقعہ کرسچین استانیوں میں سے ایک کا ذکر لاہور کے اخبارات میں ہوا خبر یوں لگی کہ "مرزا قادیانی ہوٹل سے ایک لڑکی لے اڑے" یہ برگینزا ہوٹل لاہور کا واقعہ ہے ایک دوسرے کو بھیجنے پر ناکامی کے بعد مجھے حکم ملا بعد کامیابی شاباش ملی الغرض اسے لے کر سینما جو ملکہ کے بت کے پاس ریڈ کراس آفس کے بالمقابل ہے (پلازا سینما نافل) مع عملہ گئے انٹرول کے قریب یکدم بھاگم بھاگ کاروں میں بیٹھ یہ جا وہ جا بعد میں علم ہوا کہ کیبن میں یہ کرسچین لڑکی بغل میں لئے ہوئے پیار وغیرہ کرتے تھے باہر سے کسی کی نظر کا نظارہ ہو گیا گویا نام کو امتناعی اندر خانہ عیاشی۔ اب یہاں اصل معاملہ یوں بیٹھتا ہے کہ قادیان پہنچکر سینما بینی میں کل دنیا جہان کی خرابیاں گنوائیں خطبہ جمعہ کے سٹیج سے اخبارات رسائل تقاریر کے ذریعہ سینما بینی سے سختی سے منع فرمایا جاتا ہے مگر اس سے پہلے جب بھی لاہور گئے سینما ضرور دیکھا جاتا آیا خیال شریف میں۔
جناب سیکرٹری صاحب امور عامہ معلوم ہوتا ہے سینما بینی سختی سے منع ہونے پر آپ کا حلق خشک ہو گیا ہے فکر نہ کریں میرے پاس تری کا بھی سامان موجود ہے ۔ بس محترم من وہ یوں قادیان سے کار لاہور جاتی وہاں سے محترم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ
مرزائیوں کی روحانی شکار گاہ ، صفحہ 21 تا 30 از عبدالرزاق مہتہ قادیانی یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے
حوالہ نمبر 199
۲۹
بیگ کے ذریعہ شراب کار کی پچھلی سیٹ کے نیچے چھپا کر لائی جاتی تاکہ عیاشی میں کوئی کمی نہ رہ سکے (حلق ٹھیک ہو گیا ہوگا) مگر صاحب میں میں معافی چاہوں گا اوپر لکھا تو ”وجہ مظالم“ تھا لیکن مظالم کی بجائے عیاشیوں کی داستانوں میں پڑ گئے مگر جناب مجبور ہوا تھا سوچنے میرے ساتھ قصر خلافت کے اس مخصوص کمرہ رنگینیوں میں جسے اس اولوالعزم خلیفہ نے مغلوں کی عیاشیوں کا گہوارہ بنا رکھا تھا ملاحظہ ہو بحیثیت فن فوٹو گرافی ایسے ایسے رنگیں نظاروں سے بھلا نظر کیونکر چوک سکتی تھی لہذا ہر ہر پہلو سے اچھی طرح محفوظ ہوئے بس اور بس یہی ۴۲ سالہ وجہ مظالم ہے جن کی تلاش کے لئے چوریاں خانہ تلاشیاں تالے ڈکٹیٹری میں توڑے تڑوائے گئے۔ سر توڑ کوششیں فرماتے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ناکام و نامراد ہوتے ذلت کے اتھاہ گڑھے میں ڈبکیاں ہی کھاتے رہے۔ اب جبکہ خاموش بیٹھے بھی صبر نہ آیا مجبور کر دیا ” تم صبر کرو وقت آنے دو “ سو وقت آ گیا ہے ڈبکیوں کی بجائے ڈوبنے کا بھلا ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے ایسی ایسی رنگینیوں کی تصاویر بھلا کوئی گھروں میں رکھتا ہے خصوصاً جبکہ تلاش میں ہر قسم ذلالت کے حربے استعمال کئے کروائے جاتے ہوں اب وقت آیا ہے ان کے منظر عام پر لانے کا جو پیش
مرزائیوں کی روحانی شکار گاہ، صفحہ 21 تا 30 از عبدالرزاق مہتہ قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے
حوالہ نمبر 199
٣٠
کئے جائیں گے تا ان کی عیاشیوں کو حقیقی رنگ میں ننگا کرنے کے لئے بوقت کارروائی ممد و معاون ہوں۔ جناب والا شاید بوجہ مظالم درج کی ہے اس سے غلط مفہوم اخذ کریں کہ اس خاکسار کا سارا وقت انہی مشاغل میں مبتلا رکھا جاتا تھا زیادہ نہیں صرف تین واقعات گوش گزار کر دوں جیسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں کہ ہمارا اس خاندان سے عقیدۃً گہرا تعلق رہا ہے جس کی وجہ سے حضور کے ذاتی باڈی گارڈ کے طور پر ہر وقت ہی حاضر خدمت رہتے جس کی وجہ سے نہ صرف قادیان بلکہ حضور کی ہمرکابی میں قادیان سے باہر جانے کا شرف نصیب رہا چنانچہ اور مواقع کے علاوہ تین اہم واقع پیش کرتا ہوں۔
- ١۔ دہلی کے ایک جلسہ میں تلاوت کے لئے حضرت مرزا ناصر احمد
صاحب کو حکم ہوا تلاوت میں زیر زبر کی غلطی بسا اوقات سہواً ہو ہی جاتی ہے مگر وہاں تو مقصد دراصل جلسہ کو درھم برھم کرنے کا تھا ایک ٹولے نے کھڑے ہو کے شور مچانا شروع کیا ہی تھا کہ اس کے دوسرے ساتھی بھی اس کے ساتھ مل کر لگے بکواس کرنے نتیجہ میں ہلا گلا ہوا ایسا میدان صاف کہ ان کو ہمیشہ یاد رہے گا۔
- ٢۔ دوسرے سیالکوٹ میں حضور کی تقریر ہونی تھی جہاں
مرزائیوں کی روحانی شکارگاہ ، صفحہ 21 تا 30 از عبدالرزاق بھٹہ قادیانی یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے
حوالہ نمبر 200
۴۱
غافلو کیوں ہو رہے ہو عاشقاں کے در باب آساں ہو جائیں گے تم پر آج سب عرفاں کے باب
سست ہو کیوں اس قدر اُمید کے اقوال پر اس شۂ خُوباں کی تم کیوں چھوڑ بیٹھے ہو طناب
کیا بتائیں کیوں عقل پر ان سب کے پتھر پڑ گئے چھوڑ کیوں بیٹھے ہیں مادی دنیا کے یہ عیش و شباب
پانی یہ کیسے بہاتے ہیں تیراک ان میں بھاگے جاتے ہیں یہ ان پر لاتے ہیں کیوں عتاب
امر بالمعروف کا بیڑا اٹھاتے ہیں جو لوگ ان کو دینا چاہتے ہیں ہر طرح کا یہ عذاب
پر رسولوں کی رضا کے واسطے کرتے ہیں کام اور ہی ہوتی ہے انکی عز و شان و آب و تاب
وہ شجر ہیں سنگ ماروں کو بھی جو دیتے ہیں پھل ساری دنیا سے نرالا ان کا ہوتا ہے جواب
لوگ ان کے لاکھ دشمن ہوں پہ سب کے دوست ہیں خاک کے بندے ہیں یہ مہکتے مشک و گلاب
یا الہی آپ ہی اب میری نصرت کیجئے کام ہیں لاکھوں مگر ہے زندگی مثلِ حباب
کیا بتاؤں کس قدر مجبوریوں میں ہوں پھنسا سب جہاں بیزار ہو جائے جو پڑھوں میں کتاب
میں ہوں خالی ہاتھ مجھ کو یوں ہی جانے دیجئے شاہ ہو کر آپ کیا لیں گے فقیروں سے حساب
شکل پرستی میں جتنا کیا دنیا سے پیار پانی سمجھ کے پیا وہ تھا حقیقت میں سراب
رسالہ تشحیذ الاذہان ۔ ماہ فروری ۱۹۱۴ء
کلام محمود از مرزا بشیر الدین محمود صفحہ 78 یہ حوالہ صفحہ 204 پر درج ہے
حوالہ نمبر 201
انوار العلوم جلد ۵ ۵۶۰ ملائکۃ اللہ
چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ جہاں قرآن پڑھا جائے وہاں ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔ ؎ پس یہ بات یاد رکھو کہ جو کام بھی ملک کرتا ہے جب وہی کام انسان کرنے لگا تو اس سے ملائکہ کا تعلق پیدا ہو جائے گا۔
چھٹا طریق جو کتابیں ایک ایسے شخص نے لکھی ہوں جس پر فرشتے نازل ہوتے تھے ان کے پڑھنے سے بھی ملائکہ نازل ہوتے ہیں چنانچہ حضرت صاحبؑ کی کتابیں جو شخص پڑھے گا اس پر فرشتے نازل ہوں گے۔ یہ ایک خاص نکتہ ہے کہ کیوں حضرت صاحبؑ کی کتابیں پڑھتے ہوئے نکات اور معارف کھلتے ہیں۔ اور جب پڑھو جب ہی خاص نکات اور برکات کا نزول ہوتا ہے۔ براہین احمدیہ خاص فیضانِ الٰہی کے ماتحت لکھی گئی ہے۔ اس کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ جب کبھی میں اس کو لے کر پڑھنے کے لئے بیٹھا ہوں۔ دس صفحے بھی نہیں پڑھ سکا کیونکہ اس قدر نئی نئی باتیں اور معرفت کے نکتے کھلنے شروع ہو جاتے ہیں کہ دماغ انہیں میں مشغول ہو جاتا ہے۔
تو حضرت صاحبؑ کی کتابیں بھی خاص فیضان رکھتی ہیں۔ ان کا پڑھنا بھی ملائکہ سے فیضان حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور ان کے ذریعہ نئے نئے علوم کھلتے ہیں۔ دوسری اگر کوئی کتاب پڑھو تو اتنا ہی مضمون سمجھ میں آئے گا ۔ جتنا الفاظ میں بیان کیا گیا ہوگا مگر حضرت صاحبؑ کی کتابیں پڑھنے سے بہت زیادہ مضمون کُھلتا ہے۔ بشرطیکہ خاص شرائط کے ماتحت پڑھی جائیں۔ اس سے بھی بڑھ کر قرآن کریم کے پڑھنے سے معارف کُھلتے ہیں اگرچہ ان شرائط کا بتانا جن کے ساتھ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب پڑھنی چاہئیں اس مضمون سے بے تعلق ہے جو میں بیان کر رہا ہوں مگر پھر بھی ایک شرط کا ذکر کر دیتا ہوں۔
اسی وقت دوسری چیز داخل ہو سکتی ہے جبکہ پہلی نکال دی جائے۔ مثلاً ایک جگہ لوگ بیٹھے ہوں تو جب تک وہ نہ نکلیں تب تک اور آدمی نہیں آ سکتے۔ اس کے سوا نہیں پس حضرت صاحبؑ کی کوئی کتاب پڑھنے سے پہلے چاہئے کہ اپنے اندر سے سب خیالات نکال دیئے جائیں اور اپنے دماغ کو بالکل خالی کر کے پھر ان کو پڑھا جائے۔ اگر کوئی اس طرح ان کو پڑھے گا تو بہت زیادہ اور صحیح علم حاصل ہوگا۔ لیکن اگر اپنے کسی عقیدہ کے ماتحت رکھ کر ان کو پڑھے گا تو یہ نتیجہ نہ نکلے گا۔
پس حضرت صاحبؑ کی کتابیں بالکل خالی الذہن ہو کر پڑھنی چاہئیں۔ اگر کوئی اس طرح کرے گا تو اسے بہت سی برکات نمایاں طور نظر آئیں گے۔
ساتواں طریق ملائکہ سے فیضان حاصل کرنے کا یہ ہے کہ جس مقام پر ملائکہ کا خاص نزول ہوا ہو۔
؎ بخاری کتاب فضائل القرآن باب نزول السكينة والملائكة عند قراءۃ القرآن
ملائکۃ اللہ صفحہ نمبر 30 مندرجہ انوار العلوم جلد 5 صفحہ 560 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 204 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 202)
انوار العلوم جلد 10 ۹۲ تقریر دلپذیر
کریم کی ایک ایک آیت قلب میں وہ تغیر پیدا کر دیتی ہے جو دنیا کی ہزاروں کتابیں نہیں کر سکتیں۔ قرآن کریم پڑھنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ درس جاری کیا جائے۔ بہت سی ٹھوکریں لوگوں کو اس لئے لگتی ہیں کہ وہ قرآن کریم پر تدبر نہیں کرتے۔ پس ضروری ہے کہ ہر جگہ قرآن کریم کا درس جاری کیا جائے اگر روزانہ درس میں لوگ شامل نہ ہو سکیں تو ہفتہ میں تین دن سہی اگر تین دن بھی نہ آسکیں تو دو دن ہی سہی۔ اگر دو دن بھی نہ آسکیں تو ایک ہی دن سہی مگر درس ضرور جاری ہونا چاہئے تاکہ قرآن کریم کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو۔ اس کے لئے بہترین صورت یہ ہے کہ جہاں جہاں امیر مقرر ہیں وہاں وہ درس دیں۔ اگر کسی جگہ کا امیر درس نہیں دے سکتا تو وہ مجھ سے اس بات کی منظوری لے کہ میں درس نہیں دے سکتا درس دینے کے لئے فلاں آدمی مقرر کیا جائے یہ نہیں کہ وہ خود ہی اپنے متعلق فیصلہ کرلے۔ کئی لوگ اپنے متعلق آپ ہی فتویٰ دے لیتے ہیں اور اپنا بوجھ دوسرے پر ڈال دیتے ہیں۔ ہر جگہ کے امیر کا فرض ہے کہ وہ خود درس دے اگر نہیں دے سکتا تو مجھے لکھے میں اور آدمی مقرر کرونگا یا اسے ہی درس دینے کے قابل سمجھوں گا تو کہوں گا وہ خود دے۔ تمام امراء کو جنوری کے مہینہ کے اندر اندر مجھے اطلاع دینی چاہئے کہ درس کے متعلق انہوں نے کیا فیصلہ کیا ہے اور درس روزانہ ہو گا یا دوسرے دن یا ہفتہ میں دو بار یا ایک بار۔ میں سمجھتا ہوں درس کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں قرآن کریم کی محبت راسخ ہو جائے گی اور بہت سے فتن کا آپ ہی آپ ازالہ ہو جائے گا۔
دوسری تجویز یہ ہے کہ ایک دفعہ میں نے اعلان کیا تھا قرآن کریم کا درس دیا جائے گا اور اس کے مطابق اگست ۱۹۴۲ء میں دس پاروں کا درس دیا گیا جس میں باہر سے ساٹھ ستر کے قریب دوست شامل ہوئے تھے۔ اب اعلان کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی صحت اور زندگی بخشی تو اس دفعہ جولائی کے مہینہ میں پھر دس پاروں کا گیارہویں سے لے کر بیسویں تک کا درس دوں گا جو لوگ شامل ہونا چاہیں جنوری میں ہی اطلاع دے دیں۔ کم از کم پچاس دوست باہر سے آئیں گے تو درس دوں گا۔ اس طرح تین سال کے اندر اندر باہر کی جماعتوں کے امراء اور دوسرے لوگ قرآن کریم کی موٹی موٹی باتیں سیکھ سکتے ہیں۔
اصلاح نفس کے لئے دوسری چیز یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کیا جائے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لوگ باقاعدہ حضرت صاحب کی کتب کا مطالعہ نہیں کرتے۔ اگر ہر ایک احمدی یہ فیصلہ کرلے کہ حضرت صاحب کی کسی کتاب کا روزانہ کم از کم
تقریر دلپذیر صفحہ 25 مندرجہ انوار العلوم جلد 10 صفحہ 92، 93 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 205 پر درج ہے
حوالہ نمبر 202 انوار العلوم جلد 15 ۹۳ تقاریر دلپذیر
ایک صفحہ کا مطالعہ کیا کریں تو اس کا بہت بڑا فائدہ ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب میں وہ روشنی اور وہ معارف ہیں جو قرآن کریم میں مخفی طور پر بیان ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کی اپنی کتب میں تشریح فرمائی ہے حتیٰ کہ ایک ادنیٰ لیاقت کا آدمی بھی انہیں سمجھ سکتا ہے۔ اس وجہ سے آپ کی کتب میں بھی وہ نور اور ہدایت ہے جو قرآن کریم میں ہے۔ قرآن کریم کو یہ فوقیت ہے کہ وہ خود خدا تعالیٰ کے الفاظ میں ہے۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر ایک احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب میں سے کم از کم ایک صفحہ روزانہ پڑھا کرے۔ عیسائی انجیل کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو علی الاعلان دہریہ ہیں باقی سب اسے پڑھتے ہیں۔ وہ رات کو اپنے بچوں کو سونے نہیں دیتے جب تک کہ دعا نہ کرا لیں پھر کتنے افسوس کی بات ہے کہ جن کو دہریہ اور بے دین اور کیا کیا کہا جاتا ہے وہ تو اپنی اس مذہبی کتاب کا مطالعہ نہیں چھوڑتے جس میں بہت کچھ تغیر و تبدل ہو چکا ہے مگر آپ لوگ جن کو تازہ کتابیں ملی ہیں آپ انہیں نہیں پڑھتے کم از کم ایک صفحہ روزانہ ضرور پڑھنا چاہئے۔
دوسری بات اس سال کے پروگرام میں یہ رکھی جاتی ہے کہ منافقین کا اس سال مقابلہ کرنا چاہئے جو کئی جگہ پائے جاتے ہیں وہ ظاہر میں جماعت کے ساتھ ملے رہتے ہیں مگر باطن میں دشمن ہیں لیکن یاد رکھنا چاہئے اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ شر کا مقابلہ شر سے کیا جائے اور جھوٹ کے مقابلہ میں جھوٹ اختیار کیا جائے۔ خواہ کچھ ہو جائے حتیٰ کہ جان بھی چلی جائے تو بھی شرارت کے مقابلہ میں شرارت نہیں کرنی چاہئے۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ منافقوں کا مقابلہ کرنا چاہئے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ان کے حالات اور ان کی شرارتیں معلوم کی جائیں اور ان سے جماعت کو آگاہ کیا جائے۔
منافق کی ایک موٹی علامت یہ یاد رکھو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بتائی ہے کہ وہ جماعت کی عیب گیری کرے گا وہ کھلے طور پر کہے گا کہ جماعت خراب ہو گئی ہے جماعت بگڑ گئی ہے جو شخص بھی یہ کہتا ہو کہ جماعت خراب ہو گئی ہے سمجھ لو کہ وہ منافق ہے اگر کسی کے پاس ثبوت ہو تو اسے یہ تو حق ہے کہ کہے زید بگڑ گیا ہے یا بکر بگڑ گیا ہے اور اگر سنی سنائی بات ہے تو زید و بکر کے متعلق بھی کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے۔ اول تو اخلاقی لحاظ سے یہ بھی جائز نہیں کہ کسی کے متعلق اس طرح کہا جائے لیکن جو زید و بکر کا نام نہیں لیتا اور نہ کوئی واقعہ پیش کرتا ہے بلکہ یونہی کہتا
یہ حوالہ صفحہ 205 پر درج ہے تقریر دلپذیر صفحہ 25 مندرجہ انوار العلوم جلد 10 صفحہ 92 ، 93 از مرزا بشیر الدین محمود
(حوالہ نمبر 203)
اصلاح نفس ۴۳۷ انوار العلوم جلد ۵
جیسا کہ میں ابھی کہہ آیا ہوں نبی جاہل نہیں ہو سکتا۔ مگر جاہل نہ ہونے سے میری یہ مراد نہیں کہ خط پڑھ سکتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خط نہ پڑھ سکتے تھے مگر ان سے بڑا عالم کون تھا ؟ یا کون ہو گا ؟ ساری دنیا کے عالم آپ کی جوتیاں اٹھا کر رکھنے کے بھی قابل نہ تھے۔ تم بے شک ظاہری علوم پڑھو۔ مگر دین کا علم ضرور حاصل کرو اور اپنے اندر دین کی باتیں سمجھنے اور اخذ کرنے کا ملکہ پیدا کرو۔ اس کے لئے ایک تو قرآن کریم سیکھو اور دوسرے حضرت صاحب کی کتابیں پڑھو۔ اور خوب یاد رکھو کہ حضرت صاحب کی کتابیں قرآن کی تفسیر ہیں۔ کل میں ان کے متعلق ایک خاص نکتہ بتاؤں گا آج صرف اتنا ہی کہتا ہوں کہ وہ قرآن کی تفسیر ہیں ان کو پڑھو۔
چوتھی نصیحت میں آپ لوگوں کو یہ کرنی چاہتا ہوں کہ
خدا کی محبت دل میں پیدا کرو
خدا اور اس کی محبت کے مقابلہ میں باقی سب کچھ ہیچ ہے۔ آپ لوگ کہیں گے ہم مسلمان ہیں پھر خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیوں نہ ہو گی۔ مگر بہت لوگ ہوتے ہیں جن میں حقیقی محبت بہت کم ہوتی ہے۔ ان کا اعتقاد خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق عقلی یا رسمی ہوتا ہے۔ مگر احمدیوں کا ایسا اعتقاد نہیں ہونا چاہئے۔ تمہارا خدا تعالیٰ سے محبت کا وہ تعلق ہونا چاہئے جو ماں کو بچہ سے ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کو بھی عقل کہا جا سکتا ہے مگر یہ عقل سے اوپر کا درجہ رکھتا ہے۔
پس تمہیں اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا محبت کا تعلق ہو کہ جب ان کے خلاف کوئی بات سنو تو یہ نہ ہو کہ عقلی اور رسمی لحاظ سے تمہارے اندر جوش پیدا ہو۔ بلکہ اس طرح جوش اور محبت پیدا ہو جس طرح تمہارے ماں باپ کو جب کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو اس وقت ان کی محبت تمہارے دل میں جوش مارتی ہے۔ یہ تو ضروری بات ہے کہ جس کا باپ مارا جائے گا اس کو نقصان پہنچے گا۔ مگر کوئی شخص اس نقصان کی وجہ سے اپنے باپ کے دشمن سے نہیں لڑتا بلکہ اس سے لڑتا ہے کہ وہ اس کا باپ ہے۔ پس تم ان اعتراضات کا جو خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود پر کئے جائیں اس لئے دفاع نہ کرو کہ تمہیں ان سے عقلی یا رسمی لحاظ سے تعلق ہے، بلکہ اس لئے کرو کہ تمہیں ان سے الفت اور محبت ہے۔ اور ان کی محبت تمہارے رگوں ریشوں میں رچی ہوئی ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم لوگوں کو گالیاں دیتے پھرو یا ان سے لڑنا شروع کر دو۔ میں تمہیں پہلے بتا چکا ہوں کہ کسی سے درشتی نہ کرو۔ ہاں میں یہ کہوں گا کہ جب تم خدا یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
اصلاح نفس صفحہ 95 مندرجہ انوار العلوم جلد 5 صفحہ 447 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 205 پر درج ہے
حوالہ نمبر 204
روزنامہ الفضل چناب نگر 8 ستمبر 2007ء
کتب حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کی تحریکات
مطالعہ کرنے، پھیلانے، طرز تحریر اختیار کرنے اور ان سے اردو سیکھنے کی تلقین
عبدالسمیع خان
حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت احمدیہ کے لئے حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے مطالعہ کی عادتوں پر زور دیا اور اس ضمن میں بعض اہم تحریکات بھی فرمائیں۔
مطالعہ کی تحریک
27 دسمبر 1928ء کو جلسہ سالانہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”تم نے ملیں بنانے، کارخانے کھولنے اور مکانات حاصل کرنے اور اپنے اندر دنیا کی باتیں جمع کرنے کا نام ترقی رکھا ہے۔ اسی کے لئے تم نے قرآن کریم چھوڑا، اسی کے لئے حضرت صاحب کی کتابیں چھوڑیں۔ یاد رکھو کہ حضرت صاحب کی کتابیں تم میں ایک نئی روح پیدا کر دیں گی۔ تم محض ایک دکاندار بننے کی ہوس نہ رکھو بلکہ نگاہوں کو وسیع کرو جن سے تمہیں دین کی سمجھ آئے۔“
(الفضل یکم جنوری 1929ء صفحہ 7 تا 14)
ایک خاص نکتہ
اگلے خطبہ جمعہ میں بیان کردہ اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی: ”تم ایک ایسے شخص کے مخلص ہو جس پر فرشتے نازل ہوتے تھے جس پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا تھا۔ چنانچہ حضرت صاحب کی کتابیں جو شخص پڑھے گا اس پر فرشتے نازل ہوں گے۔ یہ ایک خاص نکتہ ہے کہ کیوں حضرت صاحب کی کتابیں پڑھتے ہوئے لذت اور معارف کھلتے ہیں اور جب پڑھو جب ہی خاص لذت اور برکات کا نزول ہوتا ہے۔ وہ یہی امر ہے کہ میں نے کئی دفعہ تجربہ کیا ہے کہ بعض دفعہ میں بیمار ہوتا ہوں، طبیعت میں اس قدر سستی ہوتی ہے کہ اٹھ نہیں سکتا مگر جوں ہی پڑھنے کے لئے کتاب لیتا ہوں، ایک نیا جوش اٹھنے لگتا ہے، پڑھتا چلا جاتا ہوں، جب بند کرتا ہوں تو پھر اسی طرح سستی ہو جاتی ہے۔“
(ماخوذ از خطبہ جمعہ 6 جون 1930ء)
روزانہ ایک صفحہ پڑھو
حضور نے 31 دسمبر 1931ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر کتب حضرت مسیح موعودؑ کا کم از کم ایک صفحہ پڑھنے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: ”پس میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنے اندر حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کا مطالعہ بڑھاؤ۔ افسوس کہ یہ کتب ضائع ہو رہی ہیں۔ اگر ان کا مطالعہ نہ کیا جائے تو حضرت صاحب کی کتب کا روزانہ کم از کم ایک صفحہ کا مطالعہ کرو جس کا تم پر بڑا بھاری اثر ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب میں وہ روشنی اور وہ معارف ہیں جو ... حضرت مسیح موعودؑ ایک جگہ اپنی کتب میں تحریر فرماتے ہیں کہ کئی ایک عربی بیانات کو عرب بھی نہیں سمجھ سکتا۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر ایک آدمی حضرت مسیح موعودؑ کی کتب میں سے کم از کم ایک صفحہ روزانہ پڑھا کرے۔ جنہیں ناولوں کا مطالعہ کرنے کی عادت ہے وہ اس عادت کو چھوڑیں، یہ کتب ان ناولوں سے بڑھ کر ہیں۔ دوست جو اپنے پاس دوستوں کو بلاتے ہیں، انہیں کہہ دیا کریں کہ اتنے صفحوں کا مطالعہ کر کے آیا کرو۔ ایک ہندو تمہاری طرف کھنچا چلا آتا ہے اور تم اپنی اس مذہبی کتاب کا مطالعہ نہیں چھوڑتے جس میں مرنے کا طریقہ لکھا ہوا ہوتا ہے مگر آپ لوگ جن کا نام احمدی ہے آپ اپنے امام کی کتابیں نہیں پڑھتے حالانکہ آپ کو ان کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔“
(تقریر جلسہ سالانہ 1931ء صفحہ 13 تا 15)
مطالعہ کتب مسیح موعودؑ کا
نظام، ترتیب مختلف مواقع پر حضورؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتب و تحریرات کے مطالعہ کا نظام بیان فرمایا جو کہ مندرجہ ذیل ترتیب سے پڑھنی چاہئے: ”سب سے بہتر یہ ہے کہ پہلے وہ کتب پڑھی جائیں جن میں اسلام کی خوبیاں اور اس کی ضرورت بیان ہے۔ (2) پھر وہ جن میں یہ حصہ تعلیم کا آتا ہو کہ مذہب کیا چیز ہے (3) پھر وہ جن میں دوسرے مذاہب کی تردید ہے (4) عقائد (5) متفرق مضامین (کشتئ نوح) (6) عربی کتب۔ ان کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد دوسرا سلسلہ (1) براہین احمدیہ پہلا حصہ، حصہ دوم اور حصہ سوم، (2) اسلامی اصول کی فلاسفی (3) سرمہ چشم آریہ اور اس کے بعد باقی سب حضرت مسیح موعودؑ کی دوسری کتب ہیں، وہ پڑھی جائیں۔ ... یہی ایک ذریعہ ہے جو ہمارے عقائد کی پختگی کا باعث ہو سکتا ہے۔ اس میں تحقیق کی وسعت ہو تو براہین احمدیہ کا حصہ پڑھنا چاہئے۔ گویا پہلا زینہ جو ہے وہ ان کتب کا مطالعہ کا ہے۔ اس کے بغیر علم کامل نہیں ہوتا۔ ایک حد تک رہتا ہے۔ اس کے بغیر حضرت اقدسؑ کی بعثت کے مقصد کی انتہا کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور جب ان چیزوں کا مطالعہ ہو جائے تو پھر انسان میں ایک تسلی بخش نتیجہ پیدا ہو سکتا ہے۔ پھر حضرت اقدسؑ کی کتب ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ایک نصب العین پر زور دینا ہوتا ہے جس کی وجہ سے بظاہر بعض دفعہ ایک تضاد کا پتہ لگتا ہے۔ ایک یہ کہ حضرت اقدسؑ اس بات کا مطلب کیا سمجھتے تھے اور اسے سمجھانے کے لئے کس رنگ میں کوشش کرتے رہے۔ دوسرے یہ کہ جن لوگوں کے سامنے حضرت اقدسؑ نے بات کو رکھا انہوں نے اسے کیونکر قبول کیا۔ اور صحابہ کا حال تو یہ آپ کے سامنے ہے کہ ان سے آپ کی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ انہوں نے حضور کے کلام سے کیا سمجھا اور آپ کے ساتھ کس رنگ میں معاملہ کرتے تھے۔ ان دونوں باتوں کے جاننے کے بغیر انسان بصیرت کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔“
(الفضل 6 ستمبر 1929ء صفحہ 5، 6)
کتب کے پھیلانے کی تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے 27 دسمبر 1928ء کو ارشاد فرمایا کہ ”تم لوگ دین کے بارے میں جو قربانی (مالی) دیتے ہو وہ بہت ہی کم ہے صرف کتب کی اشاعت پر۔ اس پر دوسری قوموں کے جماعتی فنڈ میں سے کتب کی اشاعت پر خرچ ہونا ایک کثیر فنڈ ہوتا ہے جو کام آتا ہے۔ اسی طرح جلسہ سالانہ 1928ء میں آپ نے نوجوانوں پر اس کا بوجھ ڈالا۔ یہ وہ ہیں جن کی گردنیں موٹی ہیں اور ان پر چربی چڑھی ہوئی ہے۔ اس لئے اشاعت کتب کے سلسلہ میں ان کے ذمہ کیا کہ وہ مختلف ٹولیوں میں، دکانوں کے دکانداروں کی دکانوں پر کھڑے ہو کر اسے بیچیں، گلی کوچوں سے گزرتے ہوئے، اڈوں پر جاتے ہوئے، جنہیں کوئی معاوضہ بھی نہ دیا جائے اور نقصان بھی نہ ہو اور دوسری طرف احباب کو توجہ دلائی کہ وہ بھی اس بارہ میں مکمل تعاون کریں۔“
(الفضل یکم جنوری 1929ء صفحہ 38 تا 40)
حضرت مسیح موعودؑ کی طرز تحریر
اختیار کرنے کی تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ایک دفعہ فرمایا: ”ایک طویل عرصہ میں میں نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کو جو بار بار پڑھتا ہے۔ اس کی عبارت حضرت مسیح موعودؑ کی طرز تحریر پر ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس طرح میں اس قابل ہوا کہ جو کچھ آپ نے مجھے لکھنے کو کہا اسے میں اچھی طرح لکھ سکوں۔“
پھر اسی ضمن میں فرمایا: ”حضرت مسیح موعودؑ کے وجود سے دنیا میں جو تاریکی کا دور تھا وہ بدلا۔ اس میں سے ایک بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے جس طرح اپنے مضامین کے لئے الفاظ کو اردو زبان میں سے چنا ہے میں بلاشبہ دعوٰی سے کہتا ہوں کہ دنیا کا کوئی انسان بھی ان الفاظ کا مقابلہ نہیں کر سکے گا، اور میں نہیں جانتا کہ یہ تحریر اس درجہ کی ہو کہ کوئی اس کی نقل کر سکے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ کا طرز تحریر بھی بالکل الگ ہے اور اس سے ذرا اس کا اندازہ لگاؤ کہ وہ عظمت جو پائی جاتی ہے کہ یہ دعوٰی بظاہر الفاظ کے لحاظ سے کچھ نہیں ہوتا۔ مضامین، تفاصیل اور نتیجہ کے لحاظ سے ویسا اثر نہیں کرتا جیسا اثر اس کے پڑھنے کا ہوتا ہے۔ پھر یہ بات کہ ہر شخص اسے الہامی کتاب نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے جناب محمد سلیم پانی پتی نے کہا ہے کہ حضرت صاحب کے ہاں تو ویسے ہی علوم کا وہ سوتہ جاری ہے جس کی کوئی نظیر گزشتہ ایام میں نہیں پائی گئی، اور یہ اعجاز ان کی ہر تحریر اور ہر زبان میں پایا جاتا ہے کہ ہر شخص جو ان تحریروں پر غور کرے، وہ فورا سمجھ جائے گا کہ یہ تحریر کسی بناوٹ کی نہیں۔ تین چار دن ہوئے کہ ایک شخص کا مجھ سے ذکر ہوا، اس نے کہا مجھ سے ایک شخص نے کہا کہ تم اس شخص کی باتوں میں آگئے ہو جو ایک دن میں اپنے قلم سے اتنا کچھ لکھ سکتا ہے تو اس نے کہا ”مجھے اسی نے تو احمدی بنایا ہے کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ کتنا قادر ہے، کہ یہ کام کرتا ہے اور دنیا میں کوئی ایسا نہیں جو ایسا کر سکے۔ آپ نے جو کچھ کام کرنا تھا اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ کو اس کام میں شریک ہونے کی دعوت دی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تو ایک شخص کا سنی سنائی بات پر ایمان لانے کا نتیجہ تھا۔ ہم تو روز دیکھتے ہیں کہ آج فلاں مضمون چھپ گیا، کل فلاں چھپ گیا اور ہم جانتے ہیں کہ یہ حضرت صاحب کی ہی تحریر کا اعجاز ہے، جس کے متعلق ہم دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم تو روز سنتے ہیں کہ فلاں دن اتنے صفحے لکھے، فلاں دن اتنے صفحے لکھے، لیکن ان میں سے ہر حرف یہ پکارتا ہے کہ یہ...“
(الفضل 16 جولائی 1931ء صفحہ 6)
یہ حوالہ صفحہ 205 پر درج ہے
مآخذ: روزنامہ الفضل چناب نگر، 8 ستمبر 2007ء
حوالہ نمبر 205
٦٢٨
کی طرف سے ہو چکی ہے۔ میں نے پیر محمد کے لڑکوں کے کسی پر اس کو ظاہر نہیں کیا اس پیشگوئی کے ایک حصہ کا حادثہ ہم میں اور آپ ۱ میں مشترک ہے۔ بہت دُعا کرتا ہوں کہ خدا اس کو ٹال دے اور دوسرے حصہ کا حادثہ خاص ہم سے اور ہمارے گھر کے کسی شخص سے متعلق ہے۔"
(مکتوب ۲۴۴ مکتوبات احمدیہ جلد ہفتم حصہ اوّل صفحہ ۴۵)
۱۰؍ نومبر ۱۹۰۶ء "ایک وَبا پڑے گی (فرمایا) معلوم نہیں یہ کس قسم کی وَبا ہوگی"
(بدر جلد ۵ نمبر ۴۶ مورخہ ۱۰ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۰ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳)
نومبر ۱۹۰۶ء "(۱) قُذِفَ فِي قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ (۲) وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ۔ ۲"
(بدر جلد ۵ نمبر ۴۷ مورخہ ۲۲ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳)
۲۶ نومبر ۱۹۰۶ء "(۱) بلاء ناگہانی۔ (۲) ایک عربی لفظ الہام ہوا جس کے معنے ہیں عورتوں کی چیخیں سُنے گا۔ (۳) يَا اَللّٰهُ افْتَحْ"
(بدر جلد ۵ نمبر ۴۸ مورخہ ۲۹ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳)
۲۹ نومبر ۱۹۰۶ء "اِنَّمَا صَنَعُوْا كَيْدُ سَاحِرٍ ط وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ اَتٰی۔ ۳ (فرمایا) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی قوم یا گروہ اپنے دقیق مکر سے میدانِ مقابلہ میں سلسلہ کی عظمت کو مٹانا چاہتی ہے مگر خدا تعالیٰ اسے بامراد نہیں کرے گا بلکہ حق کی عظمت ظاہر ہوگی۔"
(الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخہ ۳۰ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۱)
۱۹۰۷ء ۴ "ایک دفعہ مجھے بعض محقق اور حاذق طبیبوں کی بعض کتابیں کشفی رنگ میں دکھلائی گئیں جو طبّ
۱۔ یعنی نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ۔ (مرتب) ۲۔ (ترجمہ) خدا تعالیٰ نے اُن کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ (۲) یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔ ۳۔ (ترجمہ) تحقیق جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ ایک دھوکے کا منصوبہ ہے اور دھوکہ باز کامیاب نہیں ہو سکتا جس راہ سے بھی وہ آئے۔ ۴۔ چونکہ نزولِ الہام کی صحیح تاریخ معلوم نہیں ہوسکی اس لئے اسے سنہ تصنیف کتاب ہٰذا کے صِرف سَنہ ۱۹۰۷ء کے ماتحت درج کیا گیا۔ (مرتب)
تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 628، 629 طبع چہارم از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 210 پر درج ہے
حوالہ نمبر 205 ۶۲۹
جسمانی کے قواعد کلیہ اور اصول علمیہ اور ستّہ ضروریہ وغیرہ کی بحث پر مشتمل، وہ متضمن تھیں جن میں طبیب حاذق قرشی کی کتاب بھی تھی اور اشارہ کیا گیا کہ یہی تفسیر قرآن ہے۔... اور جب میں نے ان کتابوں کو پیش نظر رکھ کر جو طبّ جسمانی کی کتابیں تھیں، قرآن شریف پر نظر ڈالی تو وہ عمیق در عمیق طبّ جسمانی کے قواعد کلیہ کی باتیں نہایت بلیغ پیرایہ میں قرآن شریف میں موجود پائیں۔ (چشمۂ معرفت صفحہ ۹۵۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۰۳)
۲؍ دسمبر ۱۹۰۶ء
- (الف) "اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ النَّجْمِ الثَّاقِبِ۔
- (۲) اِنَّمَا صَنَعُوْا كَيْدُ سَاحِرٍ وَّلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ اَتٰی۔
- (۳) اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ رُوْحِیْ۔
- (۴) اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ النَّجْمِ الثَّاقِبِ۔
- (۵) جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ"
(بدر جلد ۵ نمبر ۴۹ مورخہ ۶ دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۷ و ضمیمہ
چشمۂ معرفت صفحہ ۶۸۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۶)
- (ب) "جب میں مضمون کو ختم کر چکا تو ساتھ ہی مجھ کو یہ الہام خدا کی طرف سے ہوا تھا۔
اِنَّمَا صَنَعُوْا كَيْدُ سَاحِرٍ وَّلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ اَتٰی ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ النَّجْمِ الثَّاقِبِ۔ (ترجمہ) آریہ لوگوں نے جو یہ جلسہ تجویز کیا ہے یہ مکار لوگوں کی طرح ایک مکر ہے اور اس کے نیچے ایک شرارت اور بد نیتی مخفی ہے مگر فریب کرنے والا میرے ہاتھ سے کہاں بھاگے گا۔ جہاں جائے گا میں اس کو پکڑوں گا اور میرے ہاتھ سے چھٹکارا نہیں پائے گا۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ وہ ستارہ جو شیطان پر گرتا ہے۔"
(اشتہار ۱۵ مئی ۱۹۰۸ء بعنوان باعث تالیف کتاب ہذا مندرجہ چشمۂ معرفت صفحہ ۶۸، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۷)
۱؎ (ترجمہ) (۱) تو مجھ سے بمنزلہ اس ستارے کے ہے جو قوت اور روشنی کے ساتھ شیطان پر حملہ کرتا ہے۔ ۲؎ (۲) جو کچھ انہوں نے بنایا ہے وہ ساحر کی تدبیر ہے اور ساحر کسی راہ سے آئے وہ کامیاب نہیں ہوگا۔ (۳) تو مجھ سے بمنزلہ میری روح کے ہے (۴) تو مجھ سے بمنزلہ اُس ستارے کے ہے جو قوّت اور روشنی کے ساتھ شیطان پر حملہ کرتا ہے۔ (۵) حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔ ۳؎ (نوٹ از مرتب) یہ الہامات اس لیکچر کی تصنیف کے وقت ہوئے جو ۳ دسمبر ۱۹۰۶ء کو لاہور میں پڑھا گیا۔ (مرتب) ۴؎ یعنی وہ مضمون جو قادیان میں آریوں کے مذہبی جلسہ میں سنانے کے لئے لکھا گیا تھا اور یہ مضمون چشمۂ معرفت کے آخر میں بطور ضمیمہ شامل ہے۔ (مرتب)
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 629، 628 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 210 پر درج ہے
حوالہ نمبر 206
۴۴
وقت ہو گیا ۔ کہ دراصل والدہ فوت ہو چکی ہیں ۔ کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتیں تو وہ متنفس ایسے الفاظ نہ بولتی ۔ چنانچہ قادیان پہنچے تو پتہ لگا کہ واقعی وہ فوت ہو چکی تھیں ۔ والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے ۔ کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین ادھر اُدھر پھرتا رہا ۔ آخر اُسنے چائے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا ۔ حضرت صاحب فرماتے تھے ۔ کہ معلوم ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری وجہ سے ہی اسے قید سے بچا لیا ورنہ خواہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیالکوٹ کی ملازمت ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء کا واقعہ ہے ۔ (اس روایت سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سیالکوٹ میں ملازم ہونا اس وجہ سے تھا ۔ کہ آپ سے مرزا امام الدین نے دادا صاحب کی پنشن کا روپیہ دھوکا دے کر اُڑا لیا تھا ۔ کیونکہ جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیفات میں تصریح کی ہے۔ آپ کی ملازمت اختیار کرنیکی وجہ صرف یہ تھی ۔ کہ آپ کے والد صاحب ملازمت کے لیئے زور دیتے رہتے تھے۔ ورنہ آپکی اپنی رائے ملازمت کے خلاف تھی ۔ اسی طرح ملازمت چھوڑ دینے کی بھی اصل وجہ یہی تھی ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ملازمت کرنا پسند نہ فرماتے تھے ۔ اور اپنے والد صاحب کو ملازمت ترک کر دینے کی اجازت کے لیے لکھتے رہتے تھے ۔ لیکن دادا صاحب ترک ملازمت کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔ مگر بالآخر جب دادی صاحبہ بیمار ہوئیں ۔ تو دادا صاحب نے اجازت بھجوا دی ۔ کہ ملازمت چھوڑ کر آجاؤ ۔)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ طبابت کا علم ہمارا خاندانی علم ہے ۔ اور ہمیشہ سے ہمارا خاندان اس علم میں ماہر رہا ہے ۔ دادا صاحب نہایت ہی بڑے مشہور حاذق طبیب تھے ۔ تایا صاحب نے بھی طب پڑھی تھی ۔ حضرت مسیح موعود بھی علم طب میں خاصی دسترس رکھتے تھے ۔ اور گھر میں ادویہ کا ایک ذخیرہ رکھا کرتے تھے
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 210 پر درج ہے
حوالہ نمبر 207
٦٧٣
- ۱۔ اوائل کا واقعہ ہے کہ حضرت اقدس سیدنا مسیح موعود علیہ السلام کو ایک دفعہ مسجد اقصیٰ میں کشفاً دکھایا گیا کہ ایک
باغ لگایا جا رہا ہے اور میں اس کا مالی مقرر کیا گیا ہوں۔
(حیات احمد صفحہ ۲۲۵ مرتبہ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ)
- ۲۔ حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان فرمایا کہ:۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے ...... اللہ تعالیٰ کی طرف سے ...... بتایا گیا ہے ...... کہ
بہت پڑھنا چاہئیے ۔
(سیرت المہدی حصہ اول روایت ۸۱ صفحہ ۶۱ ایڈیشن دوم)
- ۳۔ حضرت خلیفۃ اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
" ہمارے امام علیہ السلام نے اُن کو خاتم النبیین رسول ربّ العالمین نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی شکل رویا میں دیکھا ہے اور یہ سبب ان کی کمالِ اتباع سُنت کے تھا۔"
(مقدمہ مرقاۃ الیقین فی حیاۃ نورالدین زیر عنوان مذہب وعقائد صفحہ ۲۹)
- ۴۔ (الف) مفتی محمد صادق صاحبؓ نے بیان کیا :۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ایک صاحب جو غالباً ریاست جیند کے رہنے والے تھے بیمار ہو کر علاج کے واسطے قادیان آئے اور پیر سراج الحق صاحبؓ کے مکان پر اُنہوں نے قیام کیا۔ پیر صاحبؓ نے اُن کی سفارش حضرت صاحب سے کی کہ یہ بیمار رہتے ہیں حضور اُن کے لئے دُعا کریں۔ حضور نے دُعا کی تو حضور کو الہام ہوا:۔
(اخبار الفضل قادیان جلد ۸ نمبر ۵۹ مورخہ ۸ جنوری ۱۹۲۱ء صفحہ ۴)
- (ب) " حُبّ کچلہ کونین فولاد مساوی نصف سرخ ۔ الہامی ہے ۔"
(طبی بیاض حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ صفحہ ۱۳، بیاض نورالدین مرتبہ مفتی فضل الرحمٰن صاحب جلد۱ صفحہ ۶۱ طبع اوّل)
- ۵۔ (الف) حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا :۔
"حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا اور دکھایا گیا کہ یہ جو مسجد مبارک کے پاس مکان۳؎ ہے اس میں ہم کچھ حُسنی۴؎ طریق سے داخل ہوں گے اور کچھ حسینی طریق سے ..... معلوم نہیں کہ اس الہام کا کیا مطلب ہے ۔"
(الفضل جلد ۷ نمبر ۲۸ مورخہ ۸ اکتوبر ۱۹۱۹ء صفحہ ۸)
- ۱؎ یہاں سے وہ الہامات و کشوف و رؤیا شروع ہوتے ہیں جن کے سنہ نزول کا پتہ نہیں چل سکا۔ (مرتب)
- ۲؎ یعنی مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی ۔ (مرتب)
- ۳؎ یعنی مرزا نظام الدین صاحب کا مکان ۔ (مرتب)
- ۴؎ "لیکن وقت پر معنے کھلتے ہیں۔ ..... اس کے معنے یہی ہیں ..... کہ حضرت حُسنی یعنی ..... کا رنگ اختیار کر کے ہم داخل ہوں گے ..... جو
یہ حوالہ صفحہ 210 پر درج ہے
تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 674 طبع چہارم از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 208)
۲۷۰
رکھتے تھے۔ باقیوں کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے
۹۰۶ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ علاج کے معاملہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق تھا کہ کبھی ایک قسم کا علاج نہ کرتے تھے۔ بلکہ ایک ہی بیماری میں انگریزی دوا بھی دیتے رہتے تھے اور ساتھ ساتھ یونانی بھی دیتے جاتے تھے۔ پھر جو کوئی شخص مفید بات کہدے اس پر بھی عمل کرتے تھے۔ اور اگر کسی کو خواب میں کچھ معلوم ہوا تو اس پر بھی عمل فرماتے تھے۔ پھر ساتھ ساتھ دعا بھی کرتے تھے۔ اور ایک ہی وقت میں ڈاکٹروں اور حکیموں سے مشورہ بھی لیتے تھے۔ اور طب کی کتاب دیکھ کر بھی علاج میں مدد لیتے تھے۔ غرض علاج کو ایک عجیب رنگ کا مرکب بنا دیتے تھے۔ اور اصل بھروسہ آپ کا خدا پر ہوتا تھا۔
۹۰۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ موسم گرما میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک کے بالائی حصہ میں بعد نماز مغرب تشریف رکھتے تو عموماً مغربی بنچ نما نشیمن کے نشان (x) پر بیٹھا کرتے تھے۔ مولوی عبدالکریم صاحب عام طور پر نشان (۱) پر۔ اور حضرت مولوی نورالدین صاحب نشان (ب) کی جگہ پر ہوتے تھے اور حضرت مسیح موعود کے بائیں طرف دوسرے خاص احباب بیٹھتے تھے باقی سب نیچے یا جنوبی شہ نشین پر بیٹھتے تھے۔ اس نقشہ کے چاروں کونوں پر چار چھوٹے میناروں کے نشان ہیں۔ جن میں سے ایک تو توسیع کے وقت اُڑ گیا تھا اور دو ساتھ کی دیوار میں جذب ہو گئے ہیں صرف ایک جو جنوب مشرقی کونے میں ہے۔ یہی ایک اسی طرح قائم ہے۔
مغربی بنچ نما نشیمن جگہ مسیح موعود X جگہ ب ۱ جگہ مولوی عبدالکریم یہاں مسجد مبارک کی بالائی چھت ہے
۹۰۸ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حاجی محمد اسمٰعیل صاحب پینشنر اسٹیشن ماسٹر حال محلہ دارالبرکات قادیان نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ عہدِ طفولیت کے وقت میں حضرت میاں محمد یوسف صاحب مردان کے ہمراہ کھانا کھا رہا تھا ۔ چونکہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابہ میں سے ہیں۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہمراہ کھانا کھانے کا کتنی دفعہ شرف حاصل ہوا۔ فرمایا۔ دو دفعہ مختلف موقعوں پر موقعہ ملا۔ پہلی دفعہ تو گول کمرہ میں اور دوسری بار بٹالہ کے باغ میں جو کچہریوں کے متصل ہے جہاں حضرت صاحب کسی گواہی کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ اس وقت
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 270 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 211 پر درج ہے
حوالہ نمبر 209
۲۸۴
۹۲۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مفصلہ ذیل ادویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ اپنے صندوق میں رکھتے تھے۔ اور انہی کو زیادہ استعمال کرتے تھے۔ انگریزی ادویہ میں سے کوئین۔ ایسٹن سیرپ۔ فولاد۔ ارگٹ۔ وائنم اپی کاک۔ کوکا اور کوکا کے مرکبات۔ سپرٹ ایمونیا۔ سیڈلٹز۔ ایملشن آف کاڈ لیور آئل ۔ کلورو ڈین کلورل سلفیورک ایسڈ ایرومیٹک ۔ سکاٹس ایمالشن ۔ رکھا کرتے تھے۔ اور یونانی میں سے ۔ مُشک ، عنبر، یاقوت ہینگ۔ جدوار ۔ اور ایک مرکب جو خود تیار کیا تھا یعنی تریاق الہی رکھا کرتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ ہینگ غرباء کی مُشک ہے۔ اور فرماتے تھے کہ افیون میں عجیب و غریب فوائد ہیں اسی لئے اسے حکماء نے تریاق کا نام دیا ہے۔ ان میں سے بعض دوائیں اپنے لئے ہوتی تھیں ۔ اور بعض دیگر لوگوں کے لئے ۔ کیونکہ اور لوگ بھی حضور کے پاس دوائی لینے آیا کرتے تھے۔
۹۳۰ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں نماز صبح کے وقت کچھ پہلے تشریف لے آئے ابھی کوئی روشنی نہ ہوئی تھی۔ اس وقت آپ مسجد کے اندر اندھیرے میں ہی ٹہلتے رہے ۔ پھر جب ایک شخص نے آکر روشنی کی تو فرمانے لگے کہ دیکھو روشنی کے آگے ظلمت کس طرح بھاگتی ہے
۹۳۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک روز پیر سراج الحق صاحب سرساوی اپنے علاقہ کے آموں کی تعریف کر رہے تھے کہ ہمارے علاقہ میں آم بہت میٹھے ہوتے ہیں ۔ جو لوگ ان کو کھاتے ہیں۔ گٹھلیوں کا ڈھیر لگا دیتے ہیں گویا لوگ کثرت سے آم چوستے ہیں۔ اس وقت حضرت اقدس بھی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ فرمایا میٹھے آم جو آم میٹھے ہوتے ہیں وہ عموماً ثقیل ہوتے ہیں اور جو آم کسی قدر ترش ہوتے ہیں وہ سریع الہضم ہوتے ہیں ۔ پس میٹھے اور ترش دونوں چوسنے چاہئیں۔ کیونکہ قدرت نے ان کو ایسا ہی بنایا ہے
۹۳۲ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تکمیل ہدایت کا زمانہ تھا۔ اور مسیح موعود کا زمانہ تکمیل اشاعت کا زمانہ ہے ۔
۹۳۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 284 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 212 پر درج ہے
حوالہ نمبر 210
۱۱۱ سیرۃ المہدی حصہ سوم
قرآن مجید کا ترجمہ تھوڑا سا پڑھا دیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ پندرہ بیس روز جاری رہا۔ پھر بند ہو گیا۔ عام درس نہ تھا۔ صرف سادہ ترجمہ پڑھاتے تھے۔ یہ ابتدائی زمانہ بیعت کا واقعہ ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسی طریق پر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میاں عبداللہ سنوری صاحب کو بھی کچھ حصہ قرآن شریف کا پڑھایا تھا۔
۶۵۴ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مرض کی وجہ سے مولوی عبدالکریم صاحب نماز نہ پڑھا سکے حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ بھی موجود نہ تھے۔ تو حضرت صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو نماز پڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا۔ کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔ میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں؟ حضور نے فرمایا۔ حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا۔ ہاں حضور۔ فرمایا۔ کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی۔ آپ پڑھائیے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو ناقض وضو نہیں سمجھا جاتا۔
۶۵۵ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سل و دق کے مریض کے لئے ایک گولی بنائی تھی۔ اس میں کونین اور کافور کے علاوہ افیون، بھنگ اور دھتورہ وغیرہ زہریلی ادویہ بھی داخل کی تھیں۔ اور فرمایا کرتے تھے۔ کہ دوا کے طور پر علاج کے لئے اور جان بچانے کے لئے ممنوع چیز بھی جائز ہو جاتی ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ شراب کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی فتویٰ تھا۔ کہ ڈاکٹر یا طبیب اگر دوائی کے طور پر دے تو جائز ہے۔ مگر باوجود اس کے آپ نے اپنے پڑدادا مرزا گل محمد صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں ان کی مرض الموت میں کسی طبیب نے شراب بتائی۔ مگر انہوں نے انکار کیا۔ اور حضرت صاحب نے اس موقعہ پر ان کی تعریف کی ہے کہ انہوں نے موت کو شراب پر ترجیح دی۔ اس سے معلوم ہوا۔ کہ فتویٰ اور ہے اور تقویٰ اور۔
۶۵۶ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت صاحب ایک دفعہ سالانہ جلسہ پر تقریر کر کے جب واپس گھر تشریف لائے۔ تو حضرت میاں صاحب سے (خلیفہ ثانی)
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 111 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 212 پر درج ہے
حوالہ نمبر 211
نسیم دعوت
۴۴۴
پیدا کرتا ہے۔ جن سے اب یورپ بھی دن بدن واقف ہوتا جاتا ہے۔ آخر جیسے بہت سے تجارب کے بعد طلاق کا قانون پاس ہو گیا ہے۔ اسی طرح کسی دن دیکھ لوگے کہ تنگ آکر اسلامی پردہ کے مشابہ یورپ میں بھی کوئی قانون شائع ہوگا۔ ورنہ انجام یہ ہوگا۔ کہ چارپایوں کی طرح عورتیں اور مرد ہو جائیں گے۔ اور مشکل ہوگا کہ یہ شناخت کیا جائے کہ فلاں شخص کس کا بیٹا ہے۔ اور وہ لوگ کیونکر پاک دل ہوں۔ پاک دل تو وہ ہوتے ہیں۔ جن کی آنکھوں کے آگے ہر وقت خدا رہتا ہے۔ اور نہ صرف ایک موت اُن کو یاد ہوتی ہے۔ بلکہ وہ ہر وقت عظمتِ الٰہی کے اثر سے مرتے رہتے ہیں۔ مگر یہ حالت ۴۶ شراب خوری میں کیونکر پیدا ہو۔ شراب اور خدا ترسی ایک وجود میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ خونِ مسیح کی دلیری اور شراب کا جوش تقویٰ کی بیخکنی میں کام یاب ہو گیا ہے۔ ہم اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آیا کفارہ کے مسئلہ نے یہ خرابیاں زیادہ پیدا کی ہیں یا شراب نے۔ اگر اسلام کی طرح پردہ کی رسم ہوتی۔ تو پھر بھی کچھ پردہ رہتا۔ مگر یورپ تو پردہ کی رسم کا دشمن ہے۔ ہم یورپ کے اس فلسفہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ اگر وہ اس اصرار سے باز نہیں آتے۔ تو شوق سے شراب پیا کریں۔ کہ اس کے ذریعہ سے کفارہ کے فوائد بہت ظاہر ہوتے ہیں۔ کیونکہ مسیح کے خون کے سہارے پر جو لوگ گناہ کرتے ہیں۔ شراب کے وسیلہ سے ان کی میزان بڑھتی ہے۔ ہم اس بحث کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتے۔ کیونکہ فطرت کا تقاضا الگ الگ ہے۔ ہمیں تو ناپاک چیزوں کے استعمال سے کسی سخت مرض کے وقت بھی دُکھ لگتا ہے۔ چہ جائیکہ پانی کی جگہ بھی شراب پی جائے۔ مجھے اس وقت ایک اپنا سرگزشت قصہ یاد آتا ہے۔ اور وہ یہ کہ مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ دن میں پیشاب آتا ہے۔ اور بعض وقت سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آیا ہے۔ اور بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر ہے۔ کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے۔ اور کثرتِ پیشاب سے بہت ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس
۷۳
”نسیم دعوت“ صفحہ 67، روحانی خزائن صفحہ 434، 435 جلد 19 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 212 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 211
نسیم دعوت ۴۳۵
کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں۔ تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا۔ اور دوسرا افیونی۔
پس اس طرح جب میں نے خدا پر توکل کیا۔ تو خدا نے مجھے ان خبیث چیزوں کا محتاج نہیں کیا۔ اور بارہا جب مجھے غلبہ مرض کا ہوا۔ تو خدا نے فرمایا کہ دیکھ میں نے تجھے شفا دیدی۔ تب اسی وقت مجھے آرام ہو گیا۔ انہی باتوں سے میں جانتا ہوں کہ ہمارا خدا ہر ایک چیز پر قادر٭ ہے۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ نہ اُس نے رُوح پیدا کی اور نہ ذرات اجسام۔ وہ خدا سے غافل ہیں۔ ہم ہر روز اُس کی نئی پیدائش دیکھتے ہیں۔ اور ترقیات سے منہ نئی نئی رُوح وہ ہم میں پھونکتا ہے۔ اگر وہ نیست سے ہست کرنیوالا نہ ہوتا۔ تو ہم تو زندہ ہی مرجاتے۔ عجیب ہے۔ وہ خدا جو ہمارا خدا ہے۔ کون ہے جو اس کی مانند ہے۔ اور عجیب ہیں اُس کے کام۔ کون ہے جس کے کام اس کی مانند ہیں۔ وہ قادر مطلق ہے۔ ہاں بعض وقت حکمت اس کی ایک کام کرنے سے اُسے روکتی ہے۔ چنانچہ مثال کے طور پر ظاہر کرتا ہوں ۔کہ مجھے دو مرض دامنگیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سر درد اور دورانِ سر اور دورانِ خون کم ہوکر ہاتھ پیر سرد ہوجانا۔ نبض کم ہوجانا۔ دُوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماریاں قریباً بیس برس سے ہیں۔ کبھی دُعا سے ایسی رخصت ہو جاتی ہیں کہ گویا دُور ہو گئیں۔ مگر پھر شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک دفعہ میں نے دُعا کی ۔کہ یہ بیماریاں بالکل دُور کر دی جائیں۔ تو جواب ملا۔ کہ ایسا نہیں ہوگا۔
٭ انسان جب تک خود خدا کی تجلی سے اور خدا کے وسیلہ سے اس کے وجود پر اطلاع نہ پاوے۔ تب تک وہ خدا کی پرستش نہیں کرتا۔ بلکہ اپنے خیال کی پرستش کرتا ہے۔ محض خیال کی پرستش کرنا اندرونی گندگی کو صاف نہیں کرتا۔ ایسے لوگ تو بت پرستوں کی طرح ہوتے ہیں کہ خود خدا کا پتا آپ لگاتے ہیں۔ منہ
۵۔
”نسیم دعوت“ صفحہ 67، روحانی خزائن صفحہ 434، 435 جلد 19 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 212 پر درج ہے
حوالہ نمبر 212
انوار العلوم جلد 9 ۲۲۰ منہاج الطالبین
کے سخت مخالف تھے۔ اور جو لوگ یہاں آتے وہ انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ ان کی عادت تھی کہ اپنے صحن میں چارپائیاں بچھا کر حقہ رکھ دیتے لوگ حقہ کو دیکھ کر جاتے اور وہ گمراہ کرنے کی کوشش کرتے اور کہتے ہم ان کے رشتہ دار ہیں اور ان کے حالات سے واقف اگر کوئی بات ہوتی تو ہم نہ مان لیتے۔ اس طرح کئی لوگوں کو ٹھوکر لگ جاتی۔ ایک دفعہ ایک احمدی آیا اور حقہ پینے ان کے پاس چلا گیا۔ اُسے پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف باتیں سناتے رہے لیکن جب وہ خاموش بیٹھا رہا تو پھر اس کے سامنے حضرت مسیح موعود کو گالیاں بھی دیں۔ اس پر بھی وہ کچھ نہ بولا۔ آخر اُسے کہنے لگے تم کس سوچ میں ہو کیوں کوئی بات نہیں کرتے؟ وہ کہنے لگا۔ میں اس سوچ میں ہوں کہ حقہ کی خبیث عادت مجھے یہاں لائی۔ اگر یہ نہ ہوتی تو میں نہ یہاں آتا اور نہ حضرت صاحب کے خلاف باتیں سنتا۔
اس وقت میں ضمناً یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ پہلے بھی کئی بار اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ حقہ بہت گندی چیز ہے اسی طرح دوسرے نشے بھی سخت مُضِر ہیں ان کو ترک کر دینا چاہئے۔ بعض نشے ایسے ہیں جن کی وجہ سے جھوٹ کی عادت پڑتی ہے۔ میں ان کے نام نہیں لیتا تاکہ جو ان کے عادی ہیں ان کے متعلق بدظنی نہ پیدا ہو۔ مگر یہ بات بالکل سچی ہے بعض نشوں سے اعصاب پر خاص اثر پڑتا ہے اس لئے کسی نشہ کی بھی عادت نہیں ڈالنی چاہئے۔ مجھے کسی چیز کی عادت نہیں ہوتی۔ مجھے بچپن میں بیماری کی وجہ سے افیون دیتے تھے۔ چھ ماہ متواتر دیتے رہے مگر ایک دن نہ دی تو والدہ صاحبہ فرماتی ہیں مجھ پر نہ دینے کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اس پر حضرت صاحب نے فرمایا۔ خدا نے چھڑا دی ہے تو آپ نہ دو۔ تو میں ہر چیز جو استعمال کرتا ہوں اگر چھوڑ دوں تو کوئی تکلیف نہیں ہوتی لیکن باوجود اس کے چائے جس کا استعمال ہمارے گھروں میں ناشتہ کے طور پر ہوتا ہے کبھی کبھی پینا چھوڑ دیتا ہوں کہ عادت نہ ہو جائے۔ مؤمن کو کسی چیز کے نشہ کی عادت نہ ڈالنی چاہئے یہ بھی ایک بُرائی ہے۔
- (۲۶) دوسروں کو حقیر سمجھنا۔
- (۲۷) دلی عداوت۔ عداوت کا خواہ اظہار نہ کیا جائے اور دل میں رکھی جائے تو یہ بھی بُرائی
ہے۔
- (۲۸) دوسروں پر بے اعتباری کرنا۔ انسان دوسرے کے سپرد کوئی کام کرتا ہوا ڈرتا ہے۔
- (۲۹) طمع۔ یہ بھی قلبی بدی ہے۔
”منہاج الطالبین“ صفحہ 74، مندرجہ انوار العلوم جلد 9 صفحہ 220، از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 213 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 213)
دستی خط معرفت مولوی یار محمد صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ میں چند روز سے سخت بیمار ہوں ۔ بعض وقت جب دردِ گردہ اس شدت سے ہوتا ہے تو خاتمہ زندگی محسوس ہوتا ہے۔ ساتھ ہی سر درد بھی ہے ۔ ایسی حالت میں روغن بادام سر اور پیروں کی پنڈلیوں پر ملنا اور پینا فایدہ مند محسوس ہوتا ہے ۔ اس لئے میں مولوی یار محمد صاحب کو بھیجتا ہوں کہ آپ خالص بادام سے ایسا روغن بادام کہ جو تازہ ہو۔ اور تلخ نہ ہو۔ اور نیز اُسکے ساتھ کوئی عمدہ تازہ جو ایک بوتل عمدہ عرق بیدمشک ہو اُسکے لئے مبلغ دو روپیہ ارسال ہے۔ اور نیز چار آنے کا ڈاک ٹکٹ بھیجدیجئے۔ یہ بابت ایک کلاک عمدہ و دلپسند ہو اُسکے لئے مبلغ الگ بھیجتا ہوں یہ کلاک بخوبی امتحان کر کے ارسال فرماویں ۔ نیز یہ بھی شرط ہے کہ اُسکے ساتھ نیم گھنٹے کی آواز دینے والی کل ہو نہ کہ صرف گھنٹوں کی آواز دے کہ اس صورت میں بسا اوقات دھوکا ہو جاتا ہے اور اُسکے ساتھ کئی دوسری چیزیں بھی خریدنی ہیں ۔۔۔۔ اُن چیزوں کی تفصیل ذیل میں ہے۔ والسلام ۶ مرزا غلام احمد از قادیان
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم محبّی اخویم مکرم میر حامد علی صاحب قریشی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ آج مولوی یار محمد صاحب بھیجا گیا ہے کہ انکو نہایت ضروری کام یاد دلا دے تاکیداً لکھتا ہوں کہ ایک بوتل عطر کی جو سائز میں چھوٹی نہ ہو ۔ اور اوّل درجہ کی خوشبودار ہو ۔ اگر شرطی ہو تو بہتر ہو ۔ ورنہ اپنی ذمہ داری پر بھیجیں ۔ اور دو ڈبیا سردرد کی دوا کی جیسے پپرمینٹ کی طرح ٹکیا ہوتی ہیں ۔ اگر بڑی ٹکی ہو ۔ دو آنہ یا چار آنہ والی ۔ پوری ارسال فرمادیں ۔ زیادہ خیریت ہے ۔ والسلام ۶ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ آج میں نہیں جا سکا ۔ بخار جدا ۔ بیت الدّعا میں بہت دعا کی گئی ۔ خداوند شفا بخشے ۔ پہلے اس سے الہام ہوا تھا کہ لا ہور سے افسوسناک خبر آئی ۔ وہی خبر پہنچ گئی ۔ خدا تعالیٰ آپ پر رحم کرے ۔ آمین ۔ پھر بہشت میں ملا دیگا
سے زیادہ نہ ہو ۔ اور کوئی گھٹیا نہ ہو ۔ امید ہے پارسل خط ملتے ہی بھیجیں ۔ قیمت اسکی کسی کے ہاتھ بھیجدیجائیگی ۔ یا آپکے آنے پر آپ کو دیجائیگی ۔ ڈبّہ کوئی ہو مگر پرانا نہ ہو ۔ نہ جعلی ہو ۔ اداء قیمتوں کا آپ کی طرف کے اشارہ پر ہو ۔ والسلام ۶ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان عفی عنہ ۲۴؍فروری ۱۹۰۴ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم محبّی اخویم مکرم میر حامد علی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے ۔ آپ اشیاء خریدنی خود خریدیں عطر کی بوتل ایک اچھّی سی اور ایک دُکان سے خریدیں۔ جیساکہ بتائیں چاہئے ۔ اسکا لحاظ رہے ۔ باقی خیریت ہے ۔ والسلام مرزا غلام احمد از قادیان
ذیل کا خط بحوالہ میرے ایک عریضہ کے ہے جبکہ ہم لودھیانہ دارالامان قادیان میں تھے اور واپسی کے وقت چونکہ برسات کے دن تھے راستہ سخت خطرناک تھا اور میں نے اپنے گھر کے لوگوں کے لئے یعنی برخودار محمود کی والدہ کے لئے جو اسوقت حضرت سے ایک بگھی طلب کی ۔ کیونکہ یکہ کی سواری حالت حمل میں خطرناک ہوتی ہے اسپر حضور نے کمال مہربانی و شفقت سے ذیل کا خط لکھا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ انشاء اللہ عاجزہ کا یہ ارادہ ہے کہ پیدل ہی جائیں۔ مگر میں نے سنا ہے کہ بٹالہ کی سڑک تک راستہ نہایت خراب ہے۔ یکہ کی سواری خطرناک ہے ۔ اور ایسا ہی دوسری سواری بھی ۔ شاید دس روز تک راستہ کسی قدر درست ہو جائیگا ۔ میں گزشتہ دنوں میں جسوقت گور داسپور سے بٹالہ کی راہ آیا تھا ۔ جب بارش پر ایک دن گزر چکا تھا تب بھی خوفناک راہ تھا ۔ تو اب تو بہت ہی خطرناک ہوگا ۔ حمل کی حالت میں ان دنوں میں ساتھ لیجانا کیسا خوفناک ہے ۔ پس ڈرتا ہوں ۔ آپ خود بٹالہ کی سڑک تک راہ کی حالت دیکھ لیں ۔ میرے نزدیک تو اب بغیر گزرے دس بارہ روز کے سخت خطرناک اور خوفناک ہے ۔ والسلام ۶ غلام احمد عفی عنہ
خطوط امام بنام غلام، صفحہ 5، مجموعہ مکتوبات، مرزا قادیانی، بنام حکیم محمد حسین قریشی قادیانی، مالک دواخانہ، رفیق الصحت لاہور یہ حوالہ صفحہ 214 پر درج ہے
حوالہ نمبر 21
۹۸
مئی ۱۸۸۳ء
"ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ نواب صاحب۱؎ کی حالت غم سے خوشی کی طرف مبدل ہو گئی ہے اور آسودہ حال اور شکر گزار ہیں اور نہایت عمدگی اور صفائی سے یہ خواب آئی اور یہ خواب بطور کشف تھی چنانچہ اسی صبح کو نواب صاحب کو اس خواب سے اطلاع دی گئی"
(مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب مورخہ ۲۸ مئی ۱۸۸۳ء مندرجہ الحکم جلد ۳ نمبر ۱۴ و ۱۵ مورخہ ۱۸ اپریل ۱۸۹۹ء صفحہ ۸)
مئی ۱۸۸۳ء
"پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک صاحب دہلوی منشی نام، اکونٹنٹ نے کہ جو اس کتاب۲؎ کے معاون ہیں کسی اپنی مشکل میں دعا کے لئے درخواست کی اور بطور خدمت پچاس روپیہ بھیجے۔ اور جس روز یہ خواب آئی اُس روز سے دو چار دن پہلے ان کی طرف سے دعا کے لئے الحاح ہو چکا تھا مگر یہ عاجز تو نواب صاحب۳؎ کے لئے مشغول تھا اِس لئے اُن کے لئے دعا کرنے کو کسی اور وقت پر موقوف رکھا اور جس روز نواب صاحب کے لئے بشارت دی گئی تھی تو اُس دن خیال آیا کہ آج منشی الہی بخش کے لئے توجہ سے دعا کریں۔ سو بعد نماز عصر جب وقت صفا پایا اور دعا کا ارادہ کیا گیا تو پھر بھی دل نے یہی چاہا کہ اس دعا میں بھی نواب صاحب کو شامل کر لیا جائے۔ سو اس وقت نواب صاحب اور منشی الہی بخش دونوں کے لئے دعا کی گئی۔ بعد دعا اسی جگہ الہام ہوا :-
یعنی ہم اِن دونوں کو غم سے نجات دیں گے.... پھر چند روز کے بعد نواب صاحب کا خط آگیا کہ مباحثے۴؎ کا کام جاری ہو گیا ہے"
(مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب مورخہ ۲۸ مئی ۱۸۸۳ء مندرجہ الحکم جلد ۳ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۸ اپریل ۱۸۹۹ء صفحہ ۸ و نمبر ۱۲
مورخہ ۱۶ اپریل ۱۸۹۹ء صفحہ ۸)
نومبر ۱۸۸۴ء
"ایک ابتلا مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا .... میری حالتِ مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی اِس لئے میری اِس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا.... کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے .... غرض اس ابتلا کے وقت میں نے جناب الہیٰ میں دعا کی اور مجھے اُس نے دفع مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے
۱؎ مراد نواب علی محمد خان صاحب آف جھجر ۔ (مرتب) ۲؎ براہین احمدیہ ۔ (مرتب) ۳؎ نواب علی محمد خان صاحب آف جھجر ۔ (مرتب) ۴؎ جو ، براہین احمدیہ کی ہو رہی تھی۔ (مرتب)
یہ حوالہ صفحہ 215 پر درج ہے تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 98، 99 طبع چہارم از مرزا قادیانی
Back
حوالہ نمبر 214
۹۹
منہ میں ڈال رہا ہے چنانچہ وہ دوائیں میں نے تیار کی اور اس میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے بالیقین سے معلوم کیا کہ وہ بڑی صحت وطاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطا کئے گئے" (تریاق القلوب صفحہ ۳۵، ۳۶۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۰۳، ۲۰۴)
۱۸۸۴ء
اِنَّ اللّٰهَ بَشَّرَنِيْ فِيْ اَبْنَائِيْ بِشَارَةً بَعْدَ بِشَارَةٍ حَتّٰى بَلَغَ عَدَدُهُمْ اِلٰی ثَلٰثَةٍ وَاَنْبَاَنِيْ بِهِمْ قَبْلَ وُجُوْدِهِمْ بِالْاِلْهَامِ ۱؎
(انجام آتھم صفحہ ۱۷۲۔ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۱۸۲)
۳۰؍ دسمبر ۱۸۸۴ء
اِنِّيْ فَضَّلْتُكَ عَلٰی الْعَالَمِيْنَ قَدْ اَرْسَلْتُ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا ۲؎
(مکتوب بحضرت مسیح موعود علیہ السلام مورخہ ۳۰؍ دسمبر ۱۸۸۴ء مندرجہ الحکم جلد ۱۹ نمبر ۳ مورخہ ۲۱؍ جنوری ۱۹۱۵ء صفحہ ۴)
اوائل مارچ ۱۸۸۵ء
"مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدّدِ وقت ہے اور روحانی طور پر اسکے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشدّت مناسبت و مشابہت ہے اور اس کو خواص انبیاء و رسل کے نمونہ پر محض بہ برکت متابعت حضرت خیرالبشر افضل الرسل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن جہتوں پر اکابر اولیاء سے فضیلت دی گئی ہے کہ جو اُس سے پہلے گذر چکے ہیں اور اُس کے قدم پر چلنا موجبِ نجات وسعادت وبرکت اور اس کے برخلاف چلنا موجب بُعد وحرمان ہے"
(اشتہار ضمیمہ نمبر ۲ چشمہ آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۱۹)
۸؍ مارچ ۱۸۸۵ء
"عاجز مؤلف براہین احمدیہ حضرت قادر مطلق جلّ شانہٗ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ نبی ناصری (مسیح) کی طرز پر کمال مسکینی و فروتنی و غربت وتذلل و تواضع سے اصلاحِ خلق کے لئے کوشش کرے
۱؎ (ترجمہ از مرتب) اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے بیٹوں کے بارہ میں بشارت کے بعد بشارت دی یہاں تک کہ ان کی تعداد تین تک پہنچائی اور مجھے ان کی پیدائش سے پہلے الہام کے ذریعہ ان کی خبر دی۔ (نوٹ از مرتب) اس کے متعلق حضرت اُمّ المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے فرمایا "جب میری شادی ہوئی اور میں ایک مہینہ قادیان ٹھہر کر پھر واپس دہلی گئی تو ان ایام میں حضرت مسیح موعود نے مجھے ایک خط لکھا کہ میں نے خواب میں تمہارے تین جوان لڑکے دیکھے ہیں" (سیرۃ المہدی حصہ اوّل صفحہ ۱۴)
۲؎ (ترجمہ از مرتب) میں نے تجھ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، کہ میں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 98، 99 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 215 پر درج ہے
حوالہ نمبر 215 ۵۰ سمجھ کر پھینکا کہ مبادا کھرل کو دھوتے وقت کتے پیئں پھینک دیا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ دودھ تھا۔ تو مجھے سخت ندامت ہوئی لیکن حضور نے بڑی نرمی اور دلجوئی سے فرمایا۔ اور بار بار فرمایا۔ کہ بہت اچھا ہوا کہ آپ نے اُسے پھینک دیا۔ یہ دودھ اب خراب ہو چکا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ علاوہ دلداری کے حضرت صاحب کا منشاء یہ ہوگا کہ لوٹے وغیرہ کی قسم کے برتن میں اگر دودھ زیادہ دیر تک پڑا رہے تو وہ خراب ہو جاتا ہے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب حضرت صاحب کے پرانے مخلصین میں سے ہیں اور اب ایک عرصہ سے پٹوار کے کام سے ریٹائر ہو کر قادیان میں سکونت پذیر ہوچکے ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ منشی عبدالعزیز صاحب کی بہت سی روایات مجھے مکرم مرزا عبدالحق صاحب وکیل گورداسپور نے لکھ کر دی ہیں ۔ فجزاہ اللہ خیراً ۔
- ۵۶۸ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک
شخص مسمی سادھن ساکن سیکھواں نے میرے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔ اب وہ مقبرہ بہشتی میں دفن ہیں۔ ان کو نزول الماء کی بیماری تھی۔ حضرت خلیفہ اولؓ کو آنکھیں دکھائیں تو انہوں نے فرمایا ۔ کہ پہلے پانی اترے بینائی بالکل جاتی رہے گی۔ تو پھر ان کا علاج کیا جائے گا۔ ان کو اس سے بہت صدمہ ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے یہ طریق اختیار کیا ۔ کہ جب کبھی وہ قادیان آتے اور حضرت مسیح موعودؑ علیہ السلام کے پاس بیٹھنے کا موقعہ پاتے تو حضور کا شملہ مبارک اپنی آنکھوں سے لگا لیتے۔ کچھ عرصہ میں ہی ان کی بیماری نزول الماء جاتی رہی اور جب تک وہ زندہ رہے ان کی آنکھیں درست رہیں ۔ کسی علاج وغیرہ کی ضرورت پیش نہ آئی ۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر یہ روایت درست ہے تو اس قسم کی معجزانہ شفا کے نمونے آنحضرت صلعم کی زندگی میں بھی کثرت سے ملتے ہیں اور حدیث میں ان کا ذکر موجود ہے ۔
- ۵۶۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا ۔ کہ حافظ حامد علی
صاحب مرحوم خادم حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان کرتے تھے ۔ کہ جب حضرت صاحب نے دوسری شادی کی ۔ تو ایک عمر تک تجرد میں رہنے اور مجاہدات کرنے کی وجہ سے آپ نے اپنے قویٰ میں ضعف محسوس کیا۔ اس پر وہ الہامی نسخہ جو زرجام عشق کے نام سے مشہور ہے۔ بنوا کر استعمال کیا چنانچہ یہ نسخہ نہایت ہی بابرکت ثابت ہوا ۔ حضرت خلیفہ اولؓ بھی فرماتے تھے۔ کہ میں نے یہ نسخہ ایک پہلوان
یہ حوالہ صفحہ 216 پر درج ہے سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 50، 51 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی Back
حوالہ نمبر 215
۵۱ سیرۃ المہدی حصہ دوم
امیر کو کھلایا۔ تو خدا کے فضل سے اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس پر اس نے ہیرے کے کڑے ہمیں نذر دیئے۔
نسخہ زدجامِ عشق یہ ہے۔ جس میں ہر حرف سے دوا کے نام کا پہلا حرف مراد ہے : ۔ زعفران ۔ دارچینی ۔ جائفل ۔ افیون ۔ مُشک ۔ عقر قرحا ۔ شنگرف ۔ قرنفل یعنی لونگ ۔ ان سب کو ہموزن کوٹ کر گولیاں بناتے ہیں اور روغن سم الفار میں چرب کرکے ملتے ہیں اور روزانہ ایک گولی استعمال کرتے ہیں ۔
الہام ہونے کے متعلق دو باتیں سُنی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ یہ نسخہ ہی الہام ہوا تھا۔ دوسرے یہ کہ کسی نے یہ نسخہ حضور کو بتایا ۔ اور پھر الہام نے اسے استعمال کرنے کا حکم دیا ۔ واللہ اعلم ۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے مولانا مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل نے بیان کیا کہ : روغن سم الفار کی مقدار اجزاء کی مقدار سے ڈھائی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ یعنی اگر یہ اجزاء ایک ایک تولہ کی صورت میں جمع کئے جائیں تو روغن سم الفار ڈھائی تولہ ہوگا ۔ اور اسی طرح مولوی صاحب نے بیان کیا کہ ان اجزاء میں بعض اوقات مروارید بھی اسی نسبت سے یعنی فی تولہ جزو پر ڈھائی تولہ روغن زیادہ کر لیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اور حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ روغن سم الفار اس طرح تیار کروایا کرتے تھے کہ مثلاً ایک تولہ سم الفار کو باریک پیس کر اُسے دو سیر دودھ میں حل کر کے دہی کے طور پر جاگ لگا کر جما دیتے تھے اور پھر اس دہی کو بلو کر جو مکھن نکلتا تھا اسے بصورت گھی صاف کر کے استعمال کرتے تھے۔ اور نسخہ میں جو روغن سم الفار کی مقدار بتائی گئی ہے۔ وہ اسی روغن سم الفار کی مقدار ہے نہ کہ خود سم الفار کی۔ اور تیار شدہ دوائی کی خوراک نصف رتی سے ایک رتی تک ہے جو دن رات میں ایک دفعہ کھائی جاتی ہے اور کبھی کبھی ناغہ بھی کرنا چاہیئے ۔
- ۵۷۰ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود
علیہ السلام فرماتے تھے۔ کہ ہمارے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ اور الہام ہے کہ نزلت الرحمۃ علی الثلاثۃ العین وعلی الاٰخرین۔ یعنی تمہارے تین اعضاء پر خدائی رحمت کا نزول ہے ایک ان میں سے آنکھ ہے اور دو اور اعضاء ہیں۔ فرماتے تھے۔ دوسرے دو اعضاء کا نام
سیرۃ المہدی ، جلد دوم صفحہ 50، 51 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 216 پر درج ہے
حوالہ نمبر 216 مکتوبات احمد ۲۵۰ جلد دوم
کھول کر بیان کر دیا ہے۔ آپ نے اپنے اس دعوٰی سے کبھی انکار نہیں کیا۔ البتہ اس کا وہ مفہوم اور منطوق بھی کبھی قرار نہیں دیا جو آپ کے معاندین و منکرین نے آپ کی طرف منسوب کیا۔
(عرفانی)
مکتوب نمبر ۴۷ ملفوف
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
محبّی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہٗ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کسی قدر تریاق جدید کی گولیاں بہم دست مرزا خدا بخش صاحب آپ کی خدمت میں ارسال ہیں اور کسی قدر اس وقت دے دوں گا۔ جب آپ قادیان آئیں گے یہ دوا تریاق الٰہی سے فوائد میں بہت بڑھ کر ہے۔ اس میں بڑی بڑی قابلِ قدر دوائیں پڑی ہیں۔ جیسے مشک۔ عنبر۔ نرسی۔ مروارید۔ سونے کا کشتہ۔ فولاد۔ یاقوت احمر۔ کو نین۔ فاسفورس۔ کہربا۔ مرجان۔ صندل۔ کیوڑہ۔ زعفران۔ یہ تمام دوائیں قریب سو کے ہیں اور بہت سا فاسفورس اس میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ دوا علاج طاعون کے علاوہ مقوی دماغ۔ مقوی جگر۔ مقوی معدہ۔ مقوی باہ اور مراق کو فائدہ کرنے والی۔ مصفیٰ خون ہے۔ مجھ کو اس کے تیار کرنے میں اوّل تامل تھا کہ بہت سے روپیہ پر اس کا تیار کرنا موقوف تھا۔ لیکن چونکہ حفظِ صحت کے لئے یہ دوا مفید ہے۔ اس لئے اس قدر خرچ گوارا کیا گیا۔ چالیس تولہ سے کچھ زیادہ اس میں یا قوت احمر ہے۔ اگر خریدا جاتا تو شاید کئی سو روپیہ سے آتا۔ بہر حال یہ دوا خدا تعالیٰ کے فضل سے تیار ہو گئی ہے گو بہت ہی تھوڑی ہے۔ لیکن اس قدر بھی محض خدا تعالیٰ کی عنایت سے تیار ہوئی۔ خوراک اس کی اوّل استعمال میں دو رتی سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ تا گرمی نہ کرے۔ نہایت درجہ مقوی اعصاب ہے اور خارش اور بثورات اور جذام اور ذیابیطس اور انواع واقسام کے زہر ناک امراض کے لئے مفید ہے اور قوت باہ میں اس کو ایک عجیب اثر ہے۔ سرخ گولیاں میں نے نہیں بھیجیں۔ کیونکہ صرف بواسیر اور جذام کے لئے ہیں اور ذیابیطس کو بھی مفید ہے۔ اگر ضرورت ہوگی تو وہ بھی بھیج دوں گا، موجود ہیں۔
مرزا خدا بخش کو نصیبین میں بھیجنے کی پختہ تجویز ہے۔ خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے کئی موقعے
مرزا قادیانی کا اپنے داماد نواب محمد علی کے نام ، مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 250 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 217 پر درج ہے
حوالہ نمبر 217
۴۲۳
ہیں ایک طرف پھر موڑھے پر بازار میں جا بیٹھتی ہیں۔
پھر شراب کو دیکھو کہ تمام گناہوں کی جڑ یہ ہے اس کی تخم ریزی مسیح نے کی۔ شراب کے جائز رکھنے سے کروڑہا لوگوں کی گردن پر چھری پھر گئی جب انسان نشہ کا عادی ہو جاتا ہے تو پھر چھوڑنا مشکل ہے یہ نشہ بھی کیا شے ہے۔ کہ ایک طرف زندگی کو کھا جاتا ہے دوسری طرف زندگی کا شہتیر بھی ہے نشہ والوں کو نشہ نہ ملے تو موت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
ایک نشہ کا عامل
ایک دفعہ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے تین دن سے نشہ نہیں ملا اس کی حالت بہت ردی تھی اور نشہ کے لئے مجھ سے پیسہ طلب کرتی تھی میں نے تعجب کیا کہ یہ نہ روٹی کا سوال کرتی ہے نہ کپڑے کا اور نشہ کے لئے بے قرار ہے۔ اسے عادت ہو گئی اور اب اس کی زندگی کا گویا جزو ہو گیا ہے اس لئے اس کو اپنے بیان میں سچا جان کر میں نے ایک پیسہ اسے دے دیا۔
اس موقعہ پر حضرت اقدس نے حکیم نور الدین صاحب سے سوال کیا کہ کتنے عرصہ کے بعد انسان کسی نشہ کا ایسا عادی ہو جاتا ہے کہ پھر اسے چھوڑ نہیں سکتا اور مجبور ہو جاتا ہے حکیم صاحب نے کہا کہ کسی جگہ شاید نظر سے تو نہیں گزرا مگر چالیس دن میں ایسا ہو سکتا ہے۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔
ہر ایک نشہ کے لئے چالیس دن ہی ہیں بات یہ ہے کہ شراب اور اس کے بہن بھرا (بھنگ افیون وغیرہ) ایسی خراب شئے ہیں کہ ان سے مٹی پلید ہوتی ہے مگر پھر وہ مذہب کیسے اچھا ہو سکتا ہے جس میں ایسی تعلیم ہو ہاں ایک صورت ہے یہ نشہ چھوٹ سکے کہ جیلخانہ میں بند ہوں داروغہ بھی ایسا ہو کہ کسی سے سازش نہ کرے پھر شاید یہ عادت چھوٹ جاوے۔
فرمایا کہ :۔
یحییٰ جو نشہ نہیں پیتے تھے تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منع تھا مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی۔
شاید کوئی یہ اعتراض کرے کہ اوائل اسلام میں تو حرمت تھی نہیں۔ ۱۳ برس کے بعد حرمت ہوئی تو جواب یہ ہے کہ اسلام تو آہستہ آہستہ صفائی کرنا چاہتا تھا اور قوم بن رہی تھی جب قوم بن گئی تو حکم آگیا ابتداء میں تو صحابہؓ کو یہ مصیبت تھی کہ پانی بھی کھارا ہوتا ہو گا شراب کا کیا ذکر ہے۔
ملفوظات جلد دوم صفحہ 423 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 217 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 218)
۱۴۴
دودھ کا استعمال آپ بکثرت کرتے تھے اور سوتے وقت تو ایک گلاس ضرور پیتے تھے اور دن کو بھی پچھلے دنوں میں زیادہ استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ معمول ہو گیا تھا کہ دوپہر کو دودھ پیا اور ادھر دست آگیا ۔ اسلئے پیٹ ضعیف ہو چکا تھا ۔ اسکے دُور کرنے کو دن میں تین چار مرتبہ تھوڑا تھوڑا دودھ طاقت قائم کرنے کو پی لیا کرتے تھے ۔
دن کے کھانے کے وقت پانی کی جگہ گرمی میں آپ لسی بھی پی لیا کرتے تھے اور برف موجود ہو تو اس کو بھی استعمال فرما لیتے تھے ۔
ان چیزوں کے علاوہ شیرہ بادام بھی گرمی کے موسم میں جس میں چند دانہ مغز بادام اور چند چھوٹی الائچیاں اور کچھ مصری پیس کر چھان کر بناتے تھے ۔ پیا کرتے تھے ۔ اور اگرچہ عموماً نہیں مگر کبھی کبھی ضعف معدہ کے لئے آپ کچھ دن متواتر یخنی گوشت یا ہڈیوں کی پیا کرتے تھے ۔ یخنی بھی بہت بدمزہ چیز ہوتی تھی یعنی صرف گوشت کا اُبلا ہوا رس ہوا کرتا تھا ۔
میوہ جات آپ کو پسند تھے اور اکثر خدام بطور تحفہ کے لایا بھی کرتے تھے ۔ گاجر ہے بھٹا ہے فالسہ بھی منگواتے تھے ۔ پسندیدہ میووں میں سے آپکو انگور ، بمبئی کا کیلا ، ناگپوری سنترے ، سیب ، سردہ اور مروٹی آم زیادہ پسند تھے ۔ باقی میوے بھی گاہے ماہے جو آتے رہتے تھے کھا لیا کرتے تھے ۔
بطیخ بھی آپ کو پسند تھا ۔
شہتوت بیدانہ کے موسم میں آپ بیدانہ اکثر اپنے باغ کی ٹہنی سے منگوا کر کھاتے تھے اور کبھی کبھی ان دنوں سیر کے وقت باغ کی جانب تشریف لیجاتے اور مع سب رفیقوں کے اسی جگہ بیدانہ تڑوا کر سبکے ہمراہ ایک ٹوکرے میں نوش جان فرماتے ۔ اور خشک میووں میں سے صرف بادام کم تر ، منقے رہتے تھے ۔
چائے کا میں پہلے اشارہ کر آیا ہوں ۔ آپ جاڑوں میں صبح کو اکثر مہمانوں کے لئے روزانہ بنواتے تھے اور خود بھی پی لیا کرتے تھے ۔ مگر عادت نہ تھی ۔ سبز چائے استعمال کرتے ۔ اور سیاہ کو ناپسند فرماتے تھے ۔ اکثر دودھ والی میٹھی پیتے تھے ۔
زمانہ موجودہ کے ایجادات مثلاً برف اور سوڈا لیمونیڈ وغیرہ تو وہ بھی گرمی کے دنوں میں پی لیا کرتے تھے بلکہ شدت گرمی میں برف بھی بعض دفعہ لاہور سے خود منگوا لیا کرتے تھے ۔
سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 134 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 218 پر درج ہے
حوالہ نمبر 219
۱۴۴
دودھ کا استعمال آپ اکثر رکھتے تھے اور سوتے وقت تو ایک گلاس ضرور پیتے تھے اور ان بھی پچھلے دنوں میں زیادہ استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ یہ معمول ہو گیا تھا کہ ادھر دودھ پیا اور ادھر دست آ گیا۔ اسلئے بہت ضعف ہو جاتا تھا۔ اسکے دُور کرنے کو دن میں تین چار مرتبہ تھوڑا تھوڑا دودھ طاقت قائم کرنے کو پی لیا کرتے تھے ۔
دن کے کھانے کے وقت پانی کی جگہ گرمی میں آپ لسی بھی پی لیا کرتے تھے اور برف موجود ہو تو اس کو بھی استعمال فرما لیتے تھے ۔
ان چیزوں کے علاوہ شیرہ بادام بھی گرمی کے موسم میں جس میں چند دانہ مغز بادام اور چند چھوٹی الائچیاں اور کچھ مصری پیس کر چھانکر پیا کرتے تھے۔ اور اگر چہ عموماً نہیں مگر کبھی کبھی دفع ضعف کے لئے آپ کچھ دن متواتر یخنی گوشت یا پاؤں کی پیا کرتے تھے۔ یہ یخنی بھی بہت بدمزہ چیز ہوتی تھی یعنی صرف گوشت کا اُبلا ہوا رس ہوا کرتا تھا۔
میوہ جات آپ کو پسند تھے اور اکثر خدام بطور تحفہ کے لایا بھی کرتے تھے۔ گاہے بگاہے خود بھی منگوا لیتے تھے۔ پسندیدہ میووں میں سے آم، انگور، بمبئی کا کیلا ، ناگپوری سنگترے ، سیب ، سردہ اور سرولی آم زیادہ پسند تھے۔ باقی میوے بھی گاہے ماہے جو آتے رہتے تھے کھا لیا کرتے تھے۔ منقیٰ بھی آپ کو پسند تھا۔
شہتوت بیدانہ کے موسم میں آپ بیدانہ اکثر اپنے باغ کی جنس سے منگوا کر کھاتے تھے اور کبھی کبھی ان دنوں سیر کے وقت باغ کی جانب تشریف لیجاتے اور مع سب رفیقوں کے اسی جگہ بیدانہ تڑوا کر سبکے ہمراہ ایک ٹوکرے میں نوش جان فرماتے۔ اور خشک میووں میں سے صرف بادام کو ترجیح دیتے تھے ۔
چائے کا میں پہلے اشارہ کر آیا ہوں۔ آپ جاڑوں میں صبح کو اکثر مہمانوں کے لئے روزانہ بنواتے تھے اور خود بھی پی لیا کرتے تھے۔ مگر عادت نہ تھی۔ سبز چائے استعمال کرتے ۔ اور سماوار ناشتہ فرماتے تھے۔ اکثر دودھ والی میٹھی پیتے تھے۔
زمانہ موجودہ کے ایجادات مثلاً برف اور سوڈا لیمونیڈ وغیرہ خود بھی گرمی کے دنوں میں پی لیا کرتے تھے بلکہ شدت گرمی میں برف بھی امرتسر، لاہور سے خود منگوا لیا کرتے تھے ۔
سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 134 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 218 پر درج ہے
حوالہ نمبر 220 ۲۱۸
تو مولوی برہان دین صاحب جہلمی مرحوم نے عرض کیا کہ حضرت کچھ ایسا ہو کہ اندر گھل جائے اس پر آپ نے فرمایا کہ ایک بزرگ تھے۔ بادشاہ نے ان کو بلوا بھیجا کہ میں تم کو اپنا وزیر بنانا چاہتا ہوں اس بزرگ نے یہ قطعہ بادشاہ کو لکھ کر بھیج دیا۔؎
آید اگر بدل ہوسِ تختِ چنبرم
زاں دَم کہ یافتم خبر از مُلکِ نیم شب
صَد مُلکِ نیم روز بیک جَو نمی خرم
اس بادشاہ کے چتر کا رنگ سیاہ تھا۔ اور اس کے ملک کا نام ملک نیمروز تھا اور بادشاہ کا لقب چنبر تھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ان فارسی اشعار کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر میں چنبر بادشاہ کے تخت کی ہوس کروں تو میرے بخت کا منہ بھی چنبر کے چتر کی طرح سیاہ ہو جائے جس وقت سے مجھے ملک نیم شب (یعنی عبادت وتہجد گزاری) پر آگاہی ہوئی ہے۔ اس وقت سے میرا یہ حال ہے کہ میں ایک سو ملک نیمروز کو ایک جَو کے دانہ میں بھی خریدنے پر آمادہ نہیں ہو سکتا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مراد یہ تھی کہ آپ ملک نیم شب کی طرف توجہ دیں اس سے آپ کا اندر خود بخود گھل جائے گا۔
۷۹۷
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میر حامد محمد صاحب ان سے بیان کرتے تھے کہ جب لیکھرام کے قتل کی خبر قادیان پہنچی تو اسے سنکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے کہ مسلمانوں کے لئے یہ ایک ابتلا ہے۔
۷۹۸
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے طاعون کے ایام میں ایک دوائی تریاقِ الٰہی تیار کرائی تھی حضرت خلیفہ اوّلؓ نے ایک بڑی تھیلی یاقوتوں کی پیش کی۔ وہ بھی سب پسوا کر اس میں ڈلوا دیئے۔ لوگ کوٹتے پیستے تھے۔ آپ اندر جاکر دوائی لاتے اور اس میں ملواتے جاتے تھے۔ کونین کا ایک بڑا ڈبہ لائے اور وہ بھی سب اسی کے اندر الٹا دیا۔ اسی طرح وائین اِپی کاک کی ایک بوتل لاکر ساری اُلٹ دی۔ غرض دیسی اور انگریزی اتنی دوائیاں ملادیں کہ حضرت خلیفہ اوّلؓ فرمانے لگے کہ طبعی طور پر تو اب اس مجموعہ میں کوئی جان اور اثر نہیں رہا۔ پس روحانی اثر ہی ہے۔ ان دنوں میں جو عرقیں بھی مقطر
یہ حوالہ صفحہ 218 پر درج ہے سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 218 از مرزا بشیر احمد ایم اے
(حوالہ نمبر 221)
۲۵۹ سیرۃ المہدی حصہ سوم
ہے تو آپ نے فرمایا کہ میاں حامد علی تم نے ہم کو کیوں نہ بتایا کہ اس کی شادی کرنے لگے ہیں۔ اس کی شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ کیونکہ اس کو ضعف جگر کا مرض تھا۔ اور موجودہ حالت میں وہ شادی کے قابل نہیں تھا۔ چنانچہ وہ شادی کے چند روز بعد فوت ہو گئے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے احباب کو جب خط لکھتے تو یا تو منشی جی یا مکرمی اخویم لکھ کر مخاطب کیا کرتے ۸۷۷ تھے۔ کئی دفعہ مجھے ڈاک میں ڈالنے کو لفافے دیتے تو میں پتے دیکھتا۔ کہ کس کے نام کے خط ہیں۔ سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی اور زین الدین ابراہیم صاحب انجینیر بمبئی اور میاں فضل دین صاحب پنشنر راولپنڈی کے پتے مجھے اب تک یاد ہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ تینوں اصحاب اس وقت جو جنوری ۱۹۲۳ء ہے فوت ہو چکے ہیں وكل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاكرام۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود ۸۷۸ علیہ السلام کو اگر تیمم کرنا ہوتا۔ تو بسا اوقات تکیہ یا لحاف پر ہی ہاتھ مار کر تیمم کر لیا کرتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ تکیہ یا لحاف میں سے جو گرد نکلتی ہے وہ تیمم کی غرض سے کافی ہوتی ہے۔ لیکن اگر کوئی تکیہ یا لحاف بالکل نیا ہو اور اس میں کوئی گرد نہ ہو۔ تو پھر اس سے تیمم جائز نہ ہوگا۔ ۸۷۹
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں آپ کی لڑکی عصمت ہی صرف ایسی تھی جو قادیان سے باہر پیدا ہوئی اور باہر ہی فوت ہوئی۔ اس کی پیدائش انبالہ چھاؤنی کی تھی اور فوت وہ لدھیانہ میں ہوئی۔ اُسے ہیضہ ہوا تھا۔ اس لڑکی کو شربت پینے کی عادت پڑ گئی تھی۔ یعنی وہ شربت کو پسند کرتی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے لئے شربت کی بوتل ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ رات کو وہ اٹھتی تو کہتی ابا شربت پینا۔ آپ فوراً اُٹھ کر شربت بنا کر اسے پلا دیا کرتے تھے۔ ایک روز لدھیا میں اس نے اسی طرح رات کو اٹھ کر شربت مانگا۔ حضرت صاحب نے اُسے شربت کی جگہ غلطی سے چنبیلی کا تیل پلا دیا۔ جس کی بوتل اتفاقاً شربت کی بوتل کے پاس ہی پڑی تھی۔ لڑکی پی ہی وہ شربت
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 259 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 219 پر درج ہے
حوالہ نمبر 222
۲۷۲
لهذه المناضلة ان كانوا من الصادقين وعلمت من ربي انهم من المغلوبين۔ و والله إنى لست من العلماء ولا من اهل الفضل والدعاء وكلما اقول من انواع حسن البيان او من تفسير القرآن فهو من الله الرحمان وكلما اخطأت فيه فهو منى وكلما هو حق فهو من ربى وان ربى ارانى من كاس العرفان ومع ذلك ما ابرىء نفسى من السهو والنسيان وان الله لا يتركنى على خطأ طرفة عين و يعصمنى من كل شين ويحفظنى من سبل الشياطين ـ فيا اهل الاهواء و الدعاوى والرياء إن كنتم تحسبون انفسكم من اولى العلم والفضل والذكاء او من الصلحاء والاولياء والاتقياء او من الذين يسمع دعاؤهم كالاحباء فأتوا بمثل ذلك الكتاب فى جميع الانحاء وارونى علمكم وقدركم فى حضرة الكبرياء وإن لم تفعلوا ولن تفعلوا يا معشر السفهاء فتادبوا مع اهل الحق والنهى والضياء ولا تعتدوا كل الاعتداء وما هذا الا صنيعة الرب القوى لا فعل المشركين والضعفاء وان الكرامات تظهر فى وقت توهين الاعداء وان عباد الله ينصرون عند انتهاء الجور من اهل الجفاء واذا بلغ الظلم غايته فيدركهم رب السماء فتوبوا من المعائب والجرءات وبادروا الى الحسنات والصالحات وان الحزامة كل الحزامة فى قبول الكرامة فاقبلوها قبل الندامة واتقوا سواد الخزى و الملامة ونكال القيامة فطوبى لكم ان جئتم كالتائبين المعتذرين من الخاتمة النصيحة وخاتمة الختام الحياء واتمام الحجة والسلام على من قبلنا قبل المذلة و ترك سبيل المجرمين ـ و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين *
الراقم الحقير المفتقر الى الله الصمد غلام احمد عافاه الله وايده وكان هذا المكتوب فى ذى القعدة ١٣١١ هـ من هجرة نبى الهدى مقبول الاحد صلى الله عليه وسلم من الازل الى الابد
٨٦
نور الحق صفحہ 86 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 272 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 219 پر درج ہے
حوالہ نمبر 223 ۱۰۳ سیرۃ المہدی حصہ سوم
دہاتیوں کو یہ موقعے کم میسر آتے ہیں۔ اس لئے وہ عموماً گنوار رہتے ہیں ۔ بلکہ حق یہ ہے کہ قرآن شریف میں جو اعراب کا لفظ آتا ہے۔ اس کے معنے دیہاتی کے نہیں ہیں ۔ بلکہ اس سے مجلس نبوی سے دور رہنے والے بادیہ نشین لوگ مراد ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت ۴۲۸ صاحب کو سخت کھانسی ہوئی۔ کھانسی کو دم نہ آتا تھا۔ البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی ۔ تا کہ آرام سے پڑھ سکیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب ۴۲۹ مسواک بہت پسند فرماتے تھے۔ تازہ کیکر کی مسواک کیا کرتے تھے۔ گو التزاماً نہیں ۔ وضو کے وقت صرف انگلی سے ہی مسواک کر لیا کرتے تھے ۔ مسواک کئی دفعہ کتر کے پھر آگے سے چبا لیتے تھے۔ اور دیگر خلالوں سے بھی خلال کیا کرتے تھے ۔ اور بعض اوقات نماز اور وضو کے وقت کے علاوہ بھی استعمال کرتے تھے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بواسطہ مولوی عبد الرحمٰن صاحب ۴۳۰ مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ ماہ رمضان کی ۲۷ تاریخ تھی منشی عبد العزیز صاحب پٹواری بھی سیکھواں سے قادیان آئے ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام صبح نماز فجر کے لئے تشریف لائے اور فرمایا ۔ کہ آج شب گھر میں دردِ زہ کی تکلیف تھی ہمشیرہ مبارکہ بیگم اسی شب میں پیدا ہوئی ہیں۔ لیکھرام ملعون، دعا کرتے کرتے ایکدم سامنے آگیا ۔ اس کے معاملہ میں بھی دعا کی گئی ۔ اور فرمایا ۔ کہ جو کام خدا کے منشاء میں جلد ہو جانے والا ہو۔ اس کے متعلق دُعا میں یاد کرایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس کے چوتھے روز لیکھرام مارا گیا ۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ غالباً ۲۷ رمضان ۱۳۱۴ھ کا واقعہ ہے۔ مبارکہ بیگم ۲۷ رمضان ۱۳۱۴ھ کو پیدا ہوئی تھیں ۔ جو غالباً ۲ مارچ ۱۸۹۷ء کی تاریخ تھی ۔ اور لیکھرام عید کے دوسرے دن ۶ مارچ کو بروز ہفتہ زخمی ہو کر ۷ اور ۸ کی درمیانی شب کو بوقت نصف شب اس دُنیا سے رخصت ہُوا تھا مبارکہ بیگم کی ولادت کی دُعا کے وقت حضرت صاحب کے سامنے عالمِ توجہ میں لیکھرام کا آجانا اور حضرت صاحب کا اس کے معاملہ میں بھی دُعا کرنا اور پھر اس کا چار روز کے اندر اندر مارا جانا ایک عجیب تصرفِ الٰہی ہے جس کے تصوّر سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 103 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 219 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 224
١١١
ہو گیا۔ تب حضور نے عدالت سے نماز پڑھنے کی اجازت چاہی ۔ اور باہر آکر برآمدے میں ہی اکیلے ہر دو نمازیں جمع کر کے پڑھیں :-
گنے سے کھانسی کا علاج
سفر گورداسپور میں ۱۹۳۲ء میں ایک دفعہ حضرت صاحب کو کھانسی کی سخت شکایت تھی۔ مَیں نے عرض کی کہ میرے والد مرحوم اس کا علاج گرم کیا ہوا گنا بتلایا کرتے تھے۔ تب حضور کے فرمانے سے ایک گنا پختہ پوریاں لیکر آگ پر گرم کیا گیا۔ اور اس کی گھنڈیریاں بنا کر حضور کو دی گئیں۔ اور حضور نے چوسیں :-
گُل محمد عیسائی
اگست ۱۹۳۲ء میں بٹالہ کا ایک عیسائی گُل محمد نام قادیان آیا ۔ بہت گستاخی سے جھگڑا ، بحث و مباحثہ کرتا رہا ۔ اور اسی حالت میں چلا گیا ۔ اُس کے چلا جانے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک رؤیا دیکھا ۔ کہ گُل محمد آنکھوں میں سُرمہ لگا رہا ہے ۔ فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ اُسے ہدایت ہو جائے گی۔ چنانچہ بہت سالوں کے بعد سُنا گیا تھا کہ اُسنے پھر اسلام قبول کیا تھا بٹالہ کے مشہور ڈاکٹر پینل کی بیوہ نے بھی مجھے اپنے کارڈ میں لکھا ہے ۔ کہ گُل محمد نے عیسائیت کو ترک کر دیا تھا۔ اور اپنے پہلے مذہب میں داخل ہو گیا تھا۔ جب گل محمد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے ایک تحریر ہونے لگی جس میں غالباً اس قسم کا کچھ اقرار تھا ۔ کہ گُل محمد دوبارہ آیا ہے۔ اور اس کے ساتھ کس طرح گفتگو ہو ۔ تو گُل محمد نے اصرار کیا کہ اُس کے نام کیساتھ مولوی کا لفظ لکھا جائے ۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ۔ مولوی ایک عزت کا لفظ ہے۔ جو مسلمانوں کے لئے خاص ہے۔ آپکے نام کیساتھ ہم یہ لفظ نہیں لکھ سکتے۔ تھوڑی بحث کے بعد یہ طے پایا کہ اسکے نام کیساتھ مسٹر کا لفظ لکھا جائے :-
مسئلہ شفاعت بہت صفائی سے حل ہو گیا
اکتوبر ۱۹۳۲ء ۔ ہمارے مکرم خان صاحب میجر علی خان صاحب کا چھوٹا لڑکا عبدالرحیم سخت بیمار
ذکر حبیب صفحہ 111 از مفتی محمد صادق قادیانی یہ حوالہ صفحہ 220 پر درج ہے
حوالہ نمبر 225
۲۸ یہ ایک یقینی ثبوت ہے کہ ایک دفعہ دشمن کی تکلیف کا سنکر بھی آپ کی طبیعت پریشان ہو گئی ۔ اور آپ اس کی امداد کے لئے پہونچ گئے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کو کبھی کبھی پاؤں کے انگوٹھے پر نقرس کا درد ہو جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ شروع میں گھٹنے کے جوڑ میں بھی درد ہوا ۵۹۲ تھا۔ نہ معلوم وہ کیا تھا۔ مگر دو تین دن زیادہ تکلیف رہی۔ پھر جونکیں لگانے سے آرام آیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ نقرس کے درد میں آپ کا انگوٹھا سوج جایا کرتا۔ اور سرخ بھی ہو جاتا تھا۔ اور بہت درد ہوتی تھی۔ خاکسار نے یہی درد نقرس حضرت صاحب سے ہی ورثہ میں پایا ہے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو بھی کبھی کبھی اس کی شکایت ہو جاتی ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے ٹخنے کے پاس پھوڑا ہو گیا تھا۔ جس پر حضرت صاحب نے اس پر سکہ یعنی سیسہ کی ٹکیا بندھوائی تھی ۵۹۳ جس سے آرام آگیا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مکرم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلہ نے مجھ سے بیان کیا۔ ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب کے ساتھ کوئی امروہہ کا آدمی قادیان آیا۔ اس کے کان بند تھے۔ اور نلکی ۵۹۴ کی مدد سے بہت اونچا سنتا تھا۔ اس نے حضرت صاحب کو دعا کے لئے کہا۔ حضور نے فرمایا۔ ہم دعا کرینگے۔ اللہ تعالیٰ سب چیزوں پر قادر ہے پھر اللہ نے اپنا فضل کیا کہ اس نے حضور علیہ السلام کی ساری تقریر سن لی۔ جس پر وہ خوشی کے جوش میں کود پڑا۔ اور نلکی توڑ کر پھینک دی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ منشی ظفر احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ آتھم کے مباحثہ میں آتھم نے ایک دفعہ ایسے سوالات کئے۔ کہ ہمارے بعض احباب گھبرا گئے۔ کہ ان کا جواب فوراً نہیں دیا جا سکتا لہٰذا ۵۹۵ بعض احباب نے ایک کمیٹی کی۔ اور قرآن شریف اور انجیل کے حوالے چھاننے کہ حضرت صاحب کو امداد دیں۔ میں نے مولوی عبد الکریم صاحب کو مزاحاً کہا۔ کہ کیا نبوتیں بھی مشورہ سے ہوا کرتی ہیں۔ اتنے میں حضرت صاحب تشریف لے آئے۔ اور حضور کچھ باتیں کر کے جانے لگے۔ تو مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے کھڑے ہو کر عرض کی۔ کہ اگر کل کے جواب کے لئے مشورہ کر لیا جائے۔ تو کوئی حرج تو نہیں۔ اس پر حضرت صاحب نے ہنستے ہوئے فرمایا کہ ”آپ کی دعا کافی ہے“ اور فوراً تشریف لے گئے۔
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 28 از مرزا بشیر احمد یہ حوالہ صفحہ 220 پر درج ہے
حوالہ نمبر 226 ۱۷۳ ولایت سے ادویہ وغیرہ کے نمونے منگوایا کرتا تھا۔ غالباً اس واسطے مجھے ایک دفعہ فرمایا۔ ”مفتی صاحب سر کے بالوں کے اُگانے اور بڑھانے کے واسطے کوئی دوائی منگوائیں“
پانچویں روز مہندی
عموماً حضرت صاحب ہر پانچویں روز سر اور ریش مبارک پر مہندی لگواتے تھے :
بارش کے واسطے نماز
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی کے ایام میں قادیان میں عموماً موسم گرما میں متواتر گرمی ایک ہفتہ سے زائد نہ ہوا کرتی تھی۔ پانچ سات روز کے بعد کچھ بادل آکر ترشح کر دیتے تھے۔ جس سے ہوا میں کچھ خنکی آ جاتی تھی۔ لیکن ایک سال بارش بہت کم ہوئی۔ اور دھانیں خشک ہوگئیں۔ اور نماز استسقاء پڑھی گئی۔ اور اسکے بعد جلد بارش ہوگئی :
تبرک
میری اہلیہ (امام بی بی مرحومہ) نے اپنے لڑکے عبدالسلام سلمہ الرحمٰن کی پیدائش کی کچھ عرصہ قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے حضور کا ایک کرتہ تبرکاً مانگ کر لیا۔ اور اس کرتہ سے چھوٹے چھوٹے کرتے بنا کر محفوظ رکھے۔ اور ہر بچہ کو پیدا ہونیکے وقت سب سے پہلے وہی کرتہ پہنایا کرتی :
سیٹھ عبدالرحمٰن مدراسی کا اخلاص و ادب
فرمایا۔ ایک دفعہ میں کسی کو دینے کے لئے اندر سے مبلغ یکصد روپیہ ایک ڈبیا میں لایا اور اس شخص کو دیا۔ کہ گن لو یہ ایک سو روپیہ ہے۔ جب اُس نے گنا تو وہ پچانویں روپے تھے۔ اُسی مجلس میں سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی بھی تھے۔ اُنہوں نے از رُوئے
ذکر حبیب صفحہ 173 از مفتی محمد صادق قادیانی یہ حوالہ صفحہ 220 پر درج ہے
حوالہ نمبر 227
۳۶۰
خط نمبر ۳
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ٭ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
بباغ تُست اگر قسمتم رسا باشد
پناہ بیضۂ اسلام، پہلوان ربّ جلیل، ہزبر بیشۂ الہدیٰ، خلیفہ شاہ ارض و سماوات، مسیح خدائے قدیر۔ بعد از صد صلوٰۃ و سلام ایں نابکار و شرمسار برائے یک نظر رحمت بر در تو امیدوار عرضگزار است کہ در اخبارے کہ از ملک امریکہ رسیدہ بود خواندہ بودم کہ دوائے جدید برائے درد گُردہ و امراض مثانہ و کثرت پیشاب نو ایجاد شدہ است یک شیشہ خورد کہ برائے تجربہ مفت می فرستند طلب کردم ہماں ارسال خدمت اقدس است۔ والسلام۔ سگِ درگہِ صاحبِ بیت الدعاء ۔
عاجز محمد صادق عفی عنہ سنہ ۱۴ جون ۱۸۹۲ء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ:۔ جزاکم اللہ خیراً کثیراً فی الدنیا والآخرۃ۔ دوا پہنچ گئی۔ ایک اشتہار بالوں کی کثرت کا شاید لندن میں کسی نے دیا ہے۔ اور مفت دوا بھیجتا ہے۔ آپ وہ دوا بھی منگوائیں تاکہ آزمائی جائے۔ لکھتا ہے کہ اس سے گنجے بھی شفا پاتے ہیں۔ والسلام
مرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ
خط نمبر ۳۴
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
حضرت اقدس مرشدنا و مہدینا مسیح موعود و مہدی معہود! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ حسب الحکم تحقیقات کی گئی کہ ملاّ اور ایک طالب علم عمر رسیدہ صالح شہادت دیتے ہیں کہ ہم نے بدھ کی شام کو چاند دیکھا تھا۔ پہلے تو ملاّ نے دیکھا اور اس کے دکھانے سے اس طالب علم نے دیکھا۔ کہتے ہیں کہ چاند باریک دُھندلا اور شفق کے اندر تھا ۔ اور بھی کئی لوگ مسجد میں موجود تھے۔ مگر باوجود ان کے
ذکر حبیب صفحہ 360 از مفتی محمد صادق قادیانی یہ حوالہ صفحہ 220 پر درج ہے
حوالہ نمبر 228 ۲۳۲
نہیں تھا۔ بلکہ یہ تھا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال ایسی ہے کہ اعتراض ہونے پر گویا تلوار لیکر سامنے تن جاتے ہیں کہ جو کچھ اسلام نے کہا ہے وہی ٹھیک ہے اور جو تم کہتے ہو وہ غلط اور جھوٹ ہے خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے یہ بہت ہی لطیف اور درست مثال دی ہے اور یہ مثال جچتی بھی انہی کی زبان سے ہے کیونکہ وہ کھرے بھیدی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے متعلق فرماتے ہیں :۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک چچیرا بھائی مرزا کمال الدین تھا۔ یہ شخص جوانی میں فقراء کے پھندے میں پھنس گیا تھا۔ اس لئے دنیا سے کنارہ کش ہو کر بالکل گوشہ گزین ہو گیا، مگر وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح حضرت صاحب سے پرخاش نہ رکھتا تھا۔ علاج معالجہ اور دَم تعویذ بھی کیا کرتا تھا، اور بعض عمدہ عمدہ نسخے اس کو یاد تھے، چنانچہ ہماری والدہ صاحبہ میاں محمد اسحاق کے علاج کے لئے ان سے ہی گولیاں اور ادویہ وغیرہ منگایا کرتی تھیں۔ اور حضرت صاحب کو بھی اس کا علم تھا۔ آپ بھی فرماتے تھے کہ کمال الدین کے بعض نسخے اچھے ہیں۔ اب مرزا کمال الدین کو فوت ہوئے کئی سال ہو گئے ہیں۔ مگر ان کے تکیہ میں اب تک فقیروں کا قبضہ ہے، عرس بھی ہوتا ہے مگر کچھ رونق نہیں ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کے چچا مرزا غلام محی الدین صاحب کے تین لڑکے تھے ۔ سب سے بڑے مرزا امام الدین تھے جو بہت لمبے اور وجیہہ شکل تھے اور مخالفت میں بھی سب سے آگے تھے، ان کی لڑکی خورشید بیگم صاحبہ ہمارے بڑے بھائی خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب کے عقد میں آئی تھیں، اور عزیزم مرزا رشید احمد انہی کے بطن سے ہیں۔ دوسرے بھائی مرزا نظام الدین تھے جن کی نسل سے مرزا گل محمد صاحب ہیں۔ اور تیسرے بھائی مرزا کمال الدین تھے جن کا اس روایت میں ذکر ہے۔ وہ ہمیشہ مجرد رہے، مرزا کمال الدین مخالفت میں حصہ نہیں لیتے تھے۔
۸۳۴
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں نواب محمد علی خانصاحب نے قادیان میں ایک فونوگراف جس کے ریکارڈ موم کے سیلنڈروں کی طرح گول ہوتے تھے منگایا تھا۔ اس میں حضرت خلیفہ اول نے اپنا لیکچر بھرا ، مولوی عبد الکریم صاحب نے
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 234 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 221 پر درج ہے
حوالہ نمبر 229 ۷۸ سیرۃ المہدی حصہ سوم
عیدالاضحی کے موقعہ پر خطبہ الہامیہ پڑھا تھا۔ اس سال ۹ ذی الحج کو یعنی حج کے دن اعلان کرا دیا تھا کہ آج ہم دعا کریں گے۔ لوگ اپنے نام رقعوں پر لکھ کر بھیج دیں۔ چنانچہ قریباً تمام اصحاب الصفہ اور مہمانوں نے اپنے نام لکھ کر حضور کی خدمت میں پہونچا دیئے۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ خاص خاص موقعوں پر لوگ اسی طرح ناموں کی فہرست بنا کر حضور کی خدمت میں دعا کے لئے بھیجا کرتے تھے۔ بلکہ بعد میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب روزانہ ہی ایسی فہرست ڈاک کے خطوط میں سے منتخب کر کے اور نیز دیگر حاجتمندان دُعا کے نام لکھ کر حضور کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب کی مراد اصحاب الصفہ سے وہ اصحاب ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیض صحبت کی خاطر اپنے وطنوں کو چھوڑ کر قادیان میں ڈیرہ جما بیٹھے تھے جیسا کہ حضور کے الہام میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔
۵۱۰ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا ۔ کہ جب بعض مخلصین حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رخصت ہو کر جاتے تھے۔ اور دعا کے لئے عرض کرتے۔ تو حضرت صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے۔ کہ آپ گاہ بگاہ خط کے ذریعہ سے یاد دہانی کراتے رہیں۔ پس انشاء اللہ دعا کرونگا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض دوستوں کی عادت تھی ۔ کہ حضور کی خدمت میں دُعا کے لئے قریباً روزنامچہ لکھتے تھے۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ لاہور کے ایک دوست کو کوئی کام در پیش تھا۔ جس پر انہوں نے مسلسل کئی ماہ تک ہر روز بلا ناغہ حضور کی خدمت میں دُعا کے لئے خط لکھا۔
۵۱۱ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۔ حضرت والدہ صاحبہ یعنی امّ المومنین اطال اللہ بقاءہا نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ مرزا نظام الدین صاحب کو سخت بخار ہوا۔ جس کا دماغ پر بھی اثر تھا۔ اس وقت کوئی اور طبیب یہاں نہیں تھا۔ مرزا نظام الدین صاحب کے عزیزوں نے حضرت صاحب کو اطلاع دی۔ اور آپ فوراً وہاں تشریف لے گئے۔ اور مناسب علاج کیا۔ علاج یہ تھا کہ آپ نے تریاقِ فاروق لا کر اسکے سر پر باندھا۔ جس سے فائدہ ہوگیا۔ اس وقت باہمی سخت مخالفت تھی۔
خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ یہ ابتدائی زمانہ کی بات ہوگی۔ ورنہ آخری زمانہ میں تو حضرت خلیفہ اوّل جو ایک ماہر طبیب تھے ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے۔ یا ممکن ہے کہ یہ کسی ایسے وقت کی بات ہو۔ جب حضرت خلیفہ اوّل عارضی طور پر کسی سفر پر باہر گئے ہونگے۔ مگر بہر حال حضرت صاحب کے اعلیٰ اخلاق کا
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 27 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 221 پر درج ہے Back
حوالہ نمبر 230 ۲۷۱
۱۳؍ جنوری ۱۹۰۳ء ۱ "اِنِّیْ مُهِيْنُ مَّنْ اَرَادَ اِهَانَتَكَ ۔ اِنِّیْ مُعِيْنُ مَّنْ اَرَادَ اِعَانَتَكَ ۔ اَنْتَ وَجِيْہٌ فِیْ حَضْرَتِیْ ۔ اِخْتَرْتُكَ لِنَفْسِیْ وَسِرُّكَ سِرِّیْ ۔ اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْكَ وَسِرُّكَ سِرِّیْ ۔ اِذَا غَضِبْتَ غَضِبْتُ وَكُلَّمَا اَحْبَبْتَ اَحْبَبْتُ ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيْدِیْ وَ تَفْرِيْدِیْ ۔ فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ ، يَحْمَدُكَ اللهُ مِنْ عَرْشِهٖ وَيَحْمَدُكَ اللهُ وَيَمْشِیْ اِلَيْكَ ۔ اَنْتَ وَجِيْہٌ فِیْ حَضْرَتِیْ ۔ اُخْتَرْتُكَ لِنَفْسِیْ وَسِرُّكَ سِرِّیْ ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةٍ لَّا يَعْلَمُهَا الْخَلْقُ ۔ يَا اَحْمَدُ اَنْتَ مُرَادِیْ وَ مَعِیْ ۔ وَ اَنْتَ مَعِیْ وَ اَنَا مَعَكَ ۔ سِرُّكَ سِرِّیْ ۔ اِذَا غَضِبْتَ غَضِبْتُ وَكُلَّمَا اَحْبَبْتَ اَحْبَبْتُ ۔ اَنْتَ وَجِيْہٌ فِیْ حَضْرَتِیْ اِخْتَرْتُكَ لِنَفْسِیْ ۔"
(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱)
۱۹۰۳ء ۲ وَاِنَّهُ بَشَّرَنِیْ وَقَالَ "لَا اُبْقِیْ لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا"
وَقَالَ ۳ يَعْصِمُكَ اللهُ مِنْ عِنْدِهٖ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الرَّحْمٰنُ ۔"
(مواہب الرحمٰن صفحہ ۱۸، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۳۷)
۱ (ترجمہ از مرتب) میں اس شخص کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کرے۔ میں اس شخص کی اعانت کروں گا جو تیری اعانت کرے۔ تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے۔ میں نے تجھے اپنے لئے چن لیا اور تیرا بھید میرا بھید ہے۔ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں اور تیرا بھید میرا بھید ہے۔ جب تو غضبناک ہوتا ہے تو میں غضبناک ہوتا ہوں اور جب تو محبت کرتا ہے میں محبت کرتا ہوں۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔ پس وقت آگیا ہے کہ تیری مدد کی جائے اور تجھے لوگوں میں مشہور کیا جائے۔ اللہ عرش سے تیری تعریف کرتا ہے ۔ اور اللہ تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔ تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے۔ میں نے تجھے اپنے لئے چن لیا اور تیرا بھید میرا بھید ہے۔ تو میرے نزدیک بایں مرتبہ ہے جس کو لوگ نہیں جانتے۔ اے احمد میرے، تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔ اور تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ جب تو غضبناک ہوتا ہے تو میں غضبناک ہوتا ہوں۔ اور جب تو محبت کرتا ہے تو میں محبت کرتا ہوں۔ تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے میں نے تجھ کو اپنے لئے چن لیا۔ ۲ (ترجمہ از مرتب) اور اس نے مجھے بشارت دی اور فرمایا میں تیرے متعلق رسوا کن باتوں کا ذکر تک نہیں چھوڑوں گا۔ ۳ (ترجمہ از مرتب) اور فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری حفاظت اپنی طرف سے کرے گا اور وہی حامی اور رحم کرنے والا دوست ہے۔
تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 371 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 222 پر درج ہے
حوالہ نمبر 231
براہین احمدیہ ۴۶۷ پہلی فصل
انسان پیدا کیا گیا ہے۔ اس سعادت تک وہ پہنچ جائے۔ غرض خدا کے جتنے کام ہیں۔ وہ صرف موٹی صنعت پر ختم نہیں ہو سکتے۔ بلکہ ان میں جس قدر کھودتے جاؤ۔ زیادہ سے زیادہ باریکیاں نکلتی ہیں۔ پس جبکہ اُن تمام چیزوں کی نسبت جو خدا کی طرف ۲۹۱ سے ہیں۔ یہ عام قانون ثابت ہوچکا۔ کہ وہ سب نکات دقیقہ اور اسرار عمیقہ سے پُر
بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱۱ نہ رہے ۔ اور جو خدا کی صفت کا مدعی ہو وہ سب ابن مریم پر تھاپ دی ۔ سو اُنکے مذہب کا خلاصہ یہ ہو کہ خدائے تعالیٰ جمیع ما فی العالم کا ربّ نہیں ہے بلکہ مسیح اسکی ربوبیت سے باہر ہے بلکہ مسیح آپ ہی ربّ ہے اور جو کچھ عالم میں پیدا ہوا۔ وہ بزعم باطل اُنکے بطور قاعدہ کلیہ مخلوق اور حادث نہیں بلکہ ابن مریم عالم کے اندر حدوث پا کر اور صریح مخلوق ہو کر پھر غیر مخلوق اور خدا کے برابر بلکہ آپ ہی خدا ہے۔ اور اسکی عجیب ذات میں ایک ایسا اعجوبہ ہے کہ باوجود حادث ہونے کے قدیم ہے۔ اور باوجود اسکے کہ خود اپنے اقرار کی رُو سے واجب الوجود کے ماتحت اور اس کا محکوم ہے۔ مگر پھر بھی آپ ہی واجب الوجود اور آزاد مطلق اور کسی کا ماتحت نہیں۔ اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے عاجز اور ناتوان ہے مگر پھر بھی عیسائیوں کے بے بنیاد زعم میں قادر مطلق ہے اور عاجز نہیں۔ اور باوجود اس کے کہ خود اپنے
بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱۲ تو پھر وہ خدا کا کلام ہی نہیں رہتا۔ اس لئے وہ خود اپنے تمام بیانات کو بہ پایۂ ثبوت پہنچاتا ہے۔ لیکن کوئی شاعر اس بات کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا کہ اس کا کلام ہر یک قسم کے کذب اور ہزل اور غیر ضروری باتوں سے پاک اور ضروری اور لابدی امور پر احاطہ رکھتا ہے۔ پھر جبکہ شاعروں کی فضول باتوں کو وہ مراتب حاصل نہیں ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کے پاک کلام کو حاصل ہیں اور نہ اس بارے میں شاعر کچھ دم مارتے ہیں اور نہ ذمہ دار بنتے ہیں۔ بلکہ اپنے عجز کے آپ ہی اقراری ہیں۔ تو کلام الٰہی کے مقابلہ پر اُن کا ناچیز کلام پیش کرنا کیسی سفاہت اور نادانی ہے۔ ۲۹۱ شاعر تو اگر مر بھی جاویں تو صداقت اور راستی و ضرورت حقّہ کا اپنے کلام میں التزام
براہین احمدیہ جلد 4 صفحہ 469 مندرجہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 467 تا 469 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 226 پر درج ہے
حوالہ نمبر 231
پہلی فصل ۴۶۸ براہین احمدیہ
۳۹۶
ہیں ۔ تو اِسے قانون قدرت کی متابعت سے یہ بھی ہر ایک عاقل کو ماننا پڑا کہ خدا کا کلام بھی نکات دقیقہ سے خالی نہیں ہونا چاہیئے۔ بلکہ اس میں سب سے زیادہ لطائف چاہیئے۔ کیونکہ وہ خدا کا کلام ہے۔ اور حکیم مطلق کے علوم قدیم کا مخزن ہے جس کو خدا نے اِس بات کا آلہ بنایا ہے کہ تمام قوانین قدرتیہ جو
بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳۹۶
اقرار سے اور غیبیہ کے بارہ میں نادانی محض ہے یہانتک کہ قیامت کی بھی خبر نہیں کہ کب آئیگی۔ مگر پھر بھی نصرانیوں کے خوش عقیدہ کے رُوسے عالم الغیب ہے ۔ اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے اور نیز صحف انبیاء کی گواہی سے ایک مسکین بندہ ہے ۔ مگر پھر بھی حضرات مسیحیوں کی نظر میں خدا ہے۔ اور باوجود اسکے کہ خود اپنے اقرار سے نیک اور بے گناہ نہیں ہے مگر پھر بھی عیسائیوں کے خیال میں نیک اور بے گناہ ہے۔ غرض عیسائی قوم بھی ایک عجیب قوم ہے جنہوں نے ضدین کو جمع کر دکھایا اور تناقض کو جائز سمجھ لیا۔ اور گو اُن کے اعتقاد کے قائم ہونے سے مسیح کا دروغگو ہونا لازم آیا ۔ مگر انہوں نے اپنے اعتقاد کو نہ چھوڑا۔ ایک ذلیل اور عاجز بندہ کو ربّ العالمین قرار دیا۔ اور ربّ العالمین پر ہر طرح کی ذلّت اور موت اور درد اور دُکھ اور تجسّم اور حلول اور تغیّر اور تبدّل اور حدوث اور تولّد کو روا رکھا ہے۔ نادانوں نے خدا کو بھی ایک کھیل بنا لیا ہے۔ عیسائیوں پر کیا حصر ہے اُن سے پہلے کئی عاجز بندے خدا قرار دیئے گئے ہیں۔ کوئی کہتا ہے رام چندر خدا ہے۔ کوئی کہتا ہے
۳۹۷
بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳۹۷
کہ سکیں۔ وہ تو بغیر فضول گوئی کے بول ہی نہیں سکتے۔ اور اُن کی ساری کل فضول اور جھوٹ پر ہی چلتی ہے۔ اگر جھوٹ نہیں یا فضول گوئی نہیں تو پھر شعر بھی نہیں۔ اگر تم اُن کا فقرہ فقرہ تلاش کرو کہ کس قدر حقائق دقاق اُن میں جمع ہیں۔ کس قدر راستی اور صداقت کا التزام ہے۔ کس قدر حق اور حکمت پر قیام ہے۔ کس ضرورت حقہ سے وہ باتیں اُن کے مُنہ سے نکلی ہیں اور کیا کیا اسرار تمثیل و مانند اُن میں لپٹے ہوئے ہیں تو تمہیں معلوم ہو کہ ان تمام خوبیوں میں سے کوئی بھی خوبی اُنکی مُردہ عبارات میں پائی نہیں جاتی۔ اُن کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ جس طرف قافیہ ردیف ملتا نظر آیا ۔ اُسی طرف جھک
براہین احمدیہ جلد اول صفحہ 467، 469 مندرجہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 467، 469 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 226 پر درج ہے
حوالہ نمبر 231
براہین احمدیہ ۴۶۹ پہلی فصل
فِي السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ پائے جاتے ہیں۔ اِن کی اصلاح کے لئے اُس میں سامان موجود ہو۔ پس اگر وہ ناقص ہو تو اتنے بڑے کام اس سے کیونکر انصرام ہوسکیں۔ اگر وہ تمام غلطیوں سے انسان کو پاک نہ کرسکتا تو پھر صرف بعض غلطیوں سے پاک
بقیہ حاشیہ حاشیہ نمبر ۱
نہیں کرسکتا کہ خدائی اُس سے قوی تر ہے۔ اسی طرح کوئی بُت کو کوئی کسی کو کوئی کسی کو خدا ٹھہراتا ہے۔ ایسا ہی آخری زمانہ کے اِن سادہ لوحوں نے بھی اپنے پیشواؤں کی رِیس کر کے ابن مریم کو بھی خدا اور خدا کا فرزند ٹھہرا لیا۔ غرض عیسائی لوگ نہ تو خُداوند حقیقی کو ربّ العالمین سمجھتے ہیں نہ اُسے رحمان اور رحیم خیال کرتے ہیں اور نہ جزا سزا اُس کے ہاتھ میں یقین رکھتے ہیں، بلکہ اُن کے گمان میں حقیقی خدا کے وجود سے زمین اور آسمان خالی پڑا ہوا ہے اور جو کچھ ہے ابن مریم ہی ہے۔ اگر ربّ ہے تو وہی ہے۔ اگر رحمان ہے تو وہی ہے۔ اگر رحیم ہے تو وہی ہے۔ اگر مالک یوم الدین ہے تو وہی ہے۔ ایسا ہی عام ہنود اور آریہ بھی اِن صداقتوں سے مُنحرف ہیں۔ کیونکہ اِن میں سے جو آریہ ہیں۔ وہ تو خدائے تعالیٰ کو خالق ہی نہیں سمجھتے۔ اور اپنی رُوحوں کا ربّ اُس کو قرار نہیں دیتے۔ اور جو اُن میں سے بُت پرست
بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲
گئے اور جو مضمون دل کو اچھا لگا وہی ہانک ماری۔ نہ حق اور حکمت کی پابندی ہے اور نہ فضول گوئی سے پرہیز ہے اور نہ یہ خیال ہے کہ اس کلام کے بولنے کیلئے کونسی سخت ضرورت درپیش ہے اور اِس کے ترک کرنے میں کونسا سخت نقصان عائد حال ہے ناحق بے فائدہ فقرہ سے فقرہ ملاتے ہیں۔ سر کی جگہ پاؤں پاؤں کی جگہ سر لگاتے ہیں۔ سراب کی طرح چمک تو بہت ہے پر حقیقت دیکھو تو خاک بھی نہیں۔ شعبدہ باز کی طرح صرف کھیل ہی کھیل اصلیت دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔ نادار ۔ ناطاقت اور ناتواں اور کند ذہن ہیں آنکھیں اندھی اور بصیرت کوری اِن کی نسبت نہایت سچی بات تو یہ ہے کہ وہ سب ضعیف اور ہیچ ہونے کی وجہ سے عنکبوت کی طرح ہیں اور ان کے اشعار بَیْتِ عنکبوت ہیں۔ اُن کی نسبت خُداوند کریم نے خوب فرمایا ہے وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُنَ ٭ اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِىْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيمُوْنَ ٭ وَ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ ٭ وَسَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا اَىَّ مُنْقَلَبٍ
براہین احمدیہ جلد اول صفحہ 467 تا 469 مندرجہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 467 تا 469 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 226 پر درج ہے
حوالہ نمبر 232
۲۳۲
(۲۲۶)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مرزا سلطان احمد صاحب نے کہ دادا صاحب نے طب کا علم حافظ روح اللہ صاحب باغبانپورہ لاہور سے سیکھا تھا اسکے بعد دہلی جاکر تکمیل کی تھی ۔
(۲۲۷)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے نے کہ ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ دادا صاحب کی ایک لائبریری تھی جو بڑے بڑے غاروں میں رہتی تھی ۔ اور اُس میں بعض کتابیں ہمارے خاندان کی تاریخ کے متعلق بھی تھیں ۔ میری عادت تھی کہ میں دادا صاحب اور والد صاحب کی کتابیں وغیرہ چوری نکال کر لے جایا کرتا تھا۔ چنانچہ والد صاحب اور دادا صاحب بعض وقت کہا کرتے تھے ۔ کہ ہماری کتابوں کو یہ ایک چوہا لگ گیا ہے ۔
(۲۲۸)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ مرزا سلطان احمد صاحب سے مجھے حضرت مسیح موعود کی ایک شعروں کی کاپی ملی ہے جو نہایت پرانی معلوم ہوتی ہے۔ غالباً نوجوانی کا کلام ہے حضرت صاحب اپنے خط میں جو ہے میں پہچانتا ہوں بعض بعض شعر بطور نمونہ درج ذیل ہیں ؎
کچھ مزا پارسا ہوکر نہ ملا آگے کچھ پاؤ گے تم بھی کہوگے کہ اُلفت میں مزا ہوتا ہے
اسکے جاتے ہی دنیا سے گیا ہوش بھی ورطۂ عدم میں پڑے
کرم فرماکے آ او میرے جانی بہت ملنے کے ہیں اب ہم تمنائی
کبھی نکلے گا آخر تنگ ہو کر وہ اک بار شور و غل مچاوے
یہ حوالہ صفحہ 227 پر درج ہے سیرت المہدی جلد اول صفحہ 232، 233 از مرزا بشیر احمد ایم اے
حوالہ نمبر 232
۲۳۳
بجھی ایسی ہوائی قدرت خدا کی
ارے بت بن کے پردہ میں رہو تم
کہ کافر ہو گئی خلقت خدا کی
تو یہ مجھ کو بھی جتلایا تو ہوتا
میری دلسوزیوں سے بے خبر ہو
مرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا
دل اپنا اسکو دوں یا ہوش یا جاں
کوئی اک حکم فرمایا تو ہوتا
رضا مندی خدا کی مدعا کر
اس کاپی میں کئی شعر ناقص ہیں ۔ یعنے بعض جگہ مصرع اول موجود ہے۔ مگر دوسرا نہیں ہے۔ اور بعض جگہ دوسرا ہے۔ مگر پہلا ندارد۔ بعض اشعار نظر ثانی کے لئے بھی چھوڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اور کئی جگہ قریح تخلص استعمال کیا ہے ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ
(۲۲۹)
مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ تایا صاحب کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی اور کئی دن تک جشن رہا تھا۔ اور ۲۲ طائفے ارباب نشاط کے جمع تھے۔ مگر والد صاحب کی شادی نہایت سادہ ہوئی تھی۔ اور اس میں کوئی خلاف شریعت رسوم نہیں ہوئیں۔ بلکہ وجہ عرض کرتا ہے کہ یہ بھی تصوف کی تھی۔ ورنہ دادا صاحب کو دونوں بیٹے ایک سے تھے۔ ونیز یہ طائفے ان لوگوں کی وجہ سے آئے ہوں گے ۔ جو ایسے تماشوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ورنہ خود دادا صاحب کو ایسی باتوں کی شغف نہیں تھی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی
(۲۳۰)
رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے نے کہ ہماری دادی صاحبہ بڑی مہمان نواز تھی اور غریب پرور تھیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی
(۲۳۱)
رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ یعنے سنا جاتا ہے کہ ایک دفعہ والد صاحب سشن عدالت میں اسیسر مقرر ہوئے تھے ۔ مگر آپ نے انکار کر دیا۔ (اسجگہ دیکھو روایت ۳۳)
سیرت المہدی جلد اول صفحہ 232، 233 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 227 پر درج ہے
حوالہ نمبر 233
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ وَعَلٰى عَبْدِهِ الْمَسِيْحِ الْمَوْعُوْدِ
پیش لفظ
یہ منظوم کلام اُن اُردو اشعار کا مجموعہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی مختلف تصانیف میں تحریر فرمائے ۔ ان نظموں میں آپ کو اسلام کی صداقت ، خدا تعالیٰ کی اُلفت ، قرآن کریم کی عظمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عقیدت کے ایسے عجیب نمونے ملیں گے جن کی تمام اُردو لٹریچر میں کوئی نظیر موجود نہیں تبلیغی لحاظ سے یہ مجموعہ ایک عظیم انسائیکلو پیڈیا ہے جس میں عیسائیوں ، آریوں ، سناتن دھرمیوں ، برہموؤں اور دہریوں وغیرہ کو محکم دلائل کیساتھ حق کا پیغام پہنچایا گیا ہے ۔ علاوہ ازیں اخلاقی نصائح ، دینی نکات اور پُر معارف کلمات کا بھی یہ کتاب ایسا حسین گلدستہ ہے جس کی بھینی بھینی خوشبو دل و دماغ کو حیات تازہ بخشتی اور رُوح کو فرحت پہنچاتی ہے ۔
اس طرز اور ترتیب کا پہلا ایڈیشن محترم محمد اسماعیل صاحب پانی پتی کی طرف سے سن ۱۹۶۳ء میں شائع ہوا تھا ۔ جس کی جاذبیت و دلکشی اور حُسنِ صحت کے پیش نظر اب شعبہ نشر و اشاعت نظارتِ دعوۃ و تبلیغ طبع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترم موصوف کی اِس مخلصانہ کوشش کو بہتوں کی ہدایت کا موجب بنائے ۔ آمین یا رب العالمین
خاکسار مرزا وسیم احمد ناظر دعوۃ و تبلیغ قادیان ۱۳۹۵ھ (بھارت)
پیش لفظ درثمین از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 228 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 234)
۷۵
ایک بدکار عورت کو خوف ہوتا تھا کہ اگر وہ فعل شنیعہ اختیار کرے گی تو اُسے قانون دکھائی کی سخت سزائیں بھی برداشت کرنی پڑیں گی۔ بہت سی عورتیں اسی خوف کی وجہ سے اپنی زندگی خراب کرنے سے بچ رہتی تھیں۔ اس زمانہ میں جبکہ دکھائی کا طریق بند ہے۔ مرض آتشک کے ادویات کے اشتہارات کثرت سے شائع ہوتے ہیں۔ جو اس امر کا کافی ثبوت ہیں کہ ملک میں مرض آتشک بہت پھیلا ہوا ہے اول تو ہمیں اس خراب فرقہ کے وجود سے ہی سخت اختلاف ہے مگر ایسے زمانہ میں جبکہ اخلاق اور مذہب کی سخت کمزوری ہورہی ہے یہ امید کرنا فضول ہے کہ یہ شیطانی فرقہ نیست و نابود ہو جائے گا اس لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ اُن کے لئے کوئی ایسا قانون بنایا جائے جس سے یہ اخلاق اور مذہب کو بگاڑنے کے علاوہ عوام کی صحت کو ہمیشہ کے لئے خراب کرنے کے قابل نہ رہ سکیں اور وہ قانون صرف قانون دکھائی ہی ہے۔ ہم نہایت شکرگزار ہوں گے اگر دوبارہ ہند میں قانون دکھائی جاری کیا جاوے گا۔ مگر یہ شرط ضرور ساتھ ہے کہ گورے لوگوں کے لئے پھر نئی رنڈیاں بہم پہونچائی جاویں۔ یقین ہے کہ گورنمنٹ ہند اور معزز ممبران اس معاملہ پر ضرور توجہ اور غور فرمائیں گے۔
جس کے دیں میں ہے ایسی بے شرمی عقل و تہذیب سے وہ عاری ہے
جن کو آتی نہیں نیوگ سے حیا ان کی شیطان نے عقل ماری ہے
بید کی کھل گئی حقیقت سب اب تو ناحق کی پردہ داری ہے
جس کے باعث یہ گندگی پھیلی وہ تو اک خبیث کی پٹاری ہے
دوسرا بیاہ کیوں حرام ہو جبکہ رسم نیوگ جاری ہے
کیوں نہ پوشیدہ ہو نیوگ کی رسم اس کے اظہار میں تو خواری ہے
چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے
آہ یہ خبیث اور بد رسم بید کے خادموں میں ساری ہے
آریہ دھرم صفحہ 75 ، 76 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 75 ، 76 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 229 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 234)
۷۹
دیو صفت ہیں اُن کے مرد اُن کی ناری ہر ایک ناری ہے
واہ وا کیا دھرم ہے کیا ایمان جس میں واجب حرام کاری ہے
آریو! دل میں غور سے سوچو شرم و غیرت کہاں تمہاری ہے
جس کو کہتے ہیں آریوں میں نیوگ ناک کٹنے کا صدمہ بھاری ہے
کچھ نہیں سوچتے یہ دشمنِ شرم کہ یہ پوشیدہ ایک بیماری ہے
مرتکب اس کا ہے بڑا دیوث اعتقاد اس پہ بد شعاری ہے
غیر مردوں سے مانگنا نطفہ سخت خباثت اور نابکاری ہے
غیر کے ساتھ جو کہ سوتی ہے وہ نہ بیوی زنِ بازاری ہے
ہے وہ چنڈال دشٹ اور پاپی جفت اس کی کوئی چماری ہے
ہیں کروڑوں نیوگ کے بچے آریہ دیس میں یہ خواری ہے
ایسی اولاد پر خدا کی مار یہ نہ اولاد قہرِ باری ہے
نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بیقراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط یار کی اس کو آہ و زاری ہے
دس سے کروا چکی زنا لیکن پاک دامن ابھی بچاری ہے
آریہ صاحب بھی کیسے احمق ہیں اُن کی ناری نے عقل ماری ہے
گھر میں لاتے ہیں اس کے یاروں کو ایسی جورو کی پاسداری ہے
اس کے یاروں کو دیکھنے کے لئے سر بازار اُن کی تیاری ہے
جورو جی پر فدا ہیں یہ جی سے وہ نیوگی پہ اپنے واری ہے
شرم و غیرت ذرا نہیں باقی کِس قدر اُن میں بد کاری ہے
ہے قوی مرد کی تلاش انہیں خوب جورو کی حق گزاری ہے
آریہ دھرم صفحہ 75، 76 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 75، 76 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 229 پر درج ہے
حوالہ نمبر 235 ٢٥٣ سیرت المہدی حصہ سوم
بھجوانے کا احتمال تھا اس لئے دادا صاحب منع کرتے تھے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ زوجہ رشید احمد سے ہمارے بھائی خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کی بیوہ مراد ہیں جو حضرت مسیح موعود کے چچا زاد بھائی مرزا غلام محی الدین کی لڑکی ہیں اور ان کی پھوپھی صاحبہ سے ہماری تائی صاحبہ مراد ہیں جو حضرت صاحب کی بھاوج تھیں اور مرزا غلام محی الدین کی سگی ہمشیرہ تھیں اور دادا صاحب سے یہاں اپنے دادا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد مراد ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح ٨٦٥ موعود علیہ السلام کو کئی دفعہ شعر پڑھتے سنا ہے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ زباں کے لحاظ سے یہ بڑا فصیح و بلیغ شعر ہے۔
پھر گئیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہاے لکھنؤ
خاکسار عرض کرتا ہے کہ شعر واقعی بہت لطیف ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ حضرت صاحب نے اس کو شاید اس کی عام خوبی کی وجہ سے ہی پسند نہیں کیا ہو گا بلکہ غالباً آپ اپنے ذہن میں اس کے معانی کو خود پیش آمدہ حالات پر بھی چسپاں فرماتے ہوں گے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مجھے ٨٦٦ کئی بار حضرت اقدس علیہ السلام کی مٹھیاں بھرنے اور پاؤں دبانے کا موقعہ ملا ہے۔ آپ کے جسم کا گوشت بہت سخت اور ٹھوس گتھا ہوا تھا۔ ایک دفعہ کسی بدبخت نے بجائے پاؤں دبانے کے آپ کے پاؤں پر چونٹیاں بھرنی شروع کر دیں مگر آپ خاموشی سے برداشت کرتے رہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مٹھیاں بھرنا اور چونٹیاں لینا پنجابی الفاظ ہیں ان سے ہاتھ کی ہتھیلی سے جسم کو دبانا اور چٹکیاں لینا مراد ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور ٨٦٧ اقدس علیہ السلام جب مقدمہ گورداسپور کے ایام میں عدالت کے انتظار میں لب سڑک گورداسپور میں گھنٹوں تشریف فرما رہتے تو بسا اوقات لوگ خیال کرتے کہ آپ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں مگر آپ اکثر کسی اور خیال میں مستغرق ہوتے تھے۔ عادۃً بعض اوقات مجلس میں بیٹھے ہوئے بھی مجلس سے غائب ہوتے تھے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ منشی غلام نبی صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ۱۸۹۸ء یا ۱۸۹۹ء ٨٦٨
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 253 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 231 پر درج ہے
حوالہ نمبر 236
۲۴۰
منہ سمجھتے ہیں۔ پس ہم قرآن کو چھوڑ کر اور کس کتاب کو تلاش کریں اور کیونکر اسکو نا کامل سمجھ لیں۔ خدا نے ہمیں تو یہ بتلایا ہے کہ عیسائی مذہب بالکل مر گیا ہے اور انجیل ایک مُردہ اور ناتمام کلام ہے۔ پھر مُردہ کو مُردہ سے کیا جوڑ ۔ عیسائی مذہب سے ہماری کوئی صلح نہیں وہ سب کی سب ردی اور باطل ہے اور آج آسمان کے نیچے بجز فرقان حمید کے اور کوئی کتاب نہیں ۔ آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میری نسبت یہ الہام درج ہے جو اسکے صفحہ ۲۴۱ میں پاؤ گے اور وہ یہ ہے:۔ ولن ترضی عنك الیهود ولا النصاریٰ و خرقوا له بنین و بنات بغير علم قل ھو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن له کفواً احد ۔ ویمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر الماکرین ۔ الفتنة ھھنا فاصبر کما صبر اولو العزم و قل رب ادخلنی مدخل صدق ۔ یعنے تیرا اور یہود اور نصاریٰ کا کبھی مصالحہ نہیں ہوگا اور وہ کبھی تجھ سے راضی نہیں ہونگے (نصاریٰ سے مراد پادری اور انجیلوں کے حامی ہیں) اور پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے ناحق اپنے دل سے خدا کیلئے بیٹے اور بیٹیاں تراش رکھی ہیں اور نہیں جانتے کہ ابن مریم ایک عاجز انسان تھا ۔ اگر خدا چاہے تو عیسیٰ ابن مریم کی مانند کوئی اور آدمی پیدا کر دے یا اس سے بھی بہتر جیسا کہ اُس نے کیا۔ مگر وہ خدا تو واحد لاشریک ہے جو موت اور تولد سے پاک ہے اُس کا کوئی ہمسر نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عیسائیوں نے شور مچا رکھا تھا کہ مسیح بھی اپنے قرب اور وجاہت کے رُو سے واحد لاشریک ہے ۔ اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اُس کا ثانی پیدا کرونگا جو اُس سے بھی بہتر ہے۔ جو غلام احمد ہے یعنے احمدؐ کا غلام ۔
لاکھ ہوں انبیاء مگر بخدا سب سے بڑھ کر مقام احمدؐ ہے
باغ احمدؐ سے ہم نے پھل کھایا میرا بستان کلام احمدؐ ہے
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اُس سے بہتر غلام احمدؐ ہے
یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کے رُو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے
۲۴
دافع البلاء صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 240 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 231 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 237)
۱۶۳
غور کیا جائے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اُس کے ہوئے ہم جاں نثار
میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہُوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار
پر مسیحا کیطرح میں دیکھتا رُوئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار
دشمنو! ہم اُس کی رہ میں مر رہے ہیں ہر گھڑی
کیا کرو گے تم ہماری نیستی کا انتظار
سر سے میرا وُہی دلدار مجھ میں پنہاں اے مرے بدخواہ کرتا ہے تُو کس بُوتے پہ وار
کیا کروں تعریف اُس یار کی اور کیا لکھوں اِک قطرہ ہو گیا میں یا سمندر بے کنار
اِس قدر عرفاں بڑھا میرا کہ کافر ہو گیا آنکھ میں سب کی کہ ہے وہ دُور تر از فہمِ یار
اِس قدر روشن ہوئی آنکھ میری دین میں ہو گئے اسرار اُس دلبر کے مجھ پر آشکار
قوم کے لوگو! اِدھر آؤ کہ نکلا آفتاب وادیِ ظلمت میں کیا بیٹھے ہو تم لیل و نہار
کیا تماشا ہے کہ میں کافر ہوں تم مومن بنے
پھر بھی اِس کافر کا حامی ہے وہ مقبولوں کا یار
کیا انوکھی بات ہے کافر کی کرتا ہے مَدَد وہ خُدا جو چاہئے تھا مومنوں کا دوستدار
اہلِ تقویٰ تھا کبھی میں وہی تمھاری آنکھ میں جس نے ناحق ظلم کی رو سے کیا تھا مجھ پہ وار
بے سر و ساماں میں تھا تھی نصرتِ حق میرے ساتھ فتح کی دی تھی وحیِ حق نے بشارت بار بار
پر مجھے اُس نے نہ دیکھا آنکھ اُسکی بند تھی پر سزا پا کر گرایا سِر پہ اپنے نابکار
نام ہی کذاب اُس کا دفتروں میں رہ گیا اب مٹا سکتا نہیں نام تا قیامِ روزِ شمار
دُرّثمین صفحہ 123 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 232 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 238
۱۲۷ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۹۷
اے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار
کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس
وہ زبان لاؤں کہاں جس سے ہو یہ کاروبار
بدگمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ
کر دیا دشمن کو اک حملہ سے مغلوب اور خوار
کام جو کرتے ہیں تیری راہ میں پاتے ہیں جزا
مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے بار بار
تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم
کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعتِ قرب و جوار
کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
یہ سراسر فضل و احساں تھا کہ میں آیا پسند
ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار
دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ مرتد بن گئے
پر نہ چھوڑا ساتھ تو نے اے مرے غفار یار
اے مرے یارِ یگانہ اے مری جاں کی پناہ
بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن بکار
میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف
پھر نہ جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار
اے خدا ہو تیری راہ میں میرا جسم و جان و دل
میں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار
ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کھلے
گود میں تیری رہا میں مثلِ طفلِ شیر خوار
نسلِ انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے
تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یارِ غمگسار
لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول
میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار
اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم
جن کا مشکل ہے کہ تا روزِ قیامت ہو شمار
آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ
چاند اور سورج بنے میرے لئے تاریک و تار
تو نے طاعون کو بھی بھیجا میری نصرت کیلئے
تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار
ہو گئے بیکار سب حیلے جب آئی وہ بلا
ساری تدبیروں کا خاکہ اڑ گیا مثلِ غبار
سرزمین ہند میں ایسی ہے شہرت مجھ کو دی
جیسے چمکے صدق کا اک دم میں ہر جا اقتدار
براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 232 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 239
۹۵
خیال کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ امر لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ پر موقوف ہے۔ پھر میں اُن کا حَکَم ہونا کس وجہ سے منظور کروں۔ ہاں اگر چند منتخب مولوی ان میں سے بطور طالب حق قادیان میں آجاویں تو میں زبانی انکو تبلیغ کر سکتا ہوں۔ ورنہ خدا کا کام چل رہا ہے کوئی مخالف اسکو روک نہیں سکتا۔ مخالف سے فتویٰ لینا کیا معنے رکھتا ہے۔ ہاں البتہ ہم حافظ صاحب کے اس اشتہار سے ندوہ کیلئے ایک موقع تبلیغ کا نکالتے ہیں۔ حافظ صاحب یاد رکھیں کہ جو کچھ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیان نبوت کی نسبت بے سرو پا حکایتیں لکھی گئی ہیں وہ حکایتیں اُسوقت تک ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعوے پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی۔ اور یہ امر کیونکر ثابت ہو سکتا ہے جب تک اُسی زمانہ کی کسی تحریر کے ذریعہ سے یہ امر ثابت نہ ہو کہ وہ لوگ اسی افتراء اور جھوٹے دعوےٰ نبوت پر مرے اور اُن کا کسی اُسوقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھا۔ اور نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کئے گئے۔ اور ایسا ہی یہ حکایتیں ہرگز ثابت نہیں ہو سکتیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ اُنکی تمام عمر کے مفتریات جنکو انہوں نے بطور افتراء خدا کا کلام قرار دیا تھا وہ اب کہاں ہیں اور ایسی کتاب انکی وحی کی کس کے پاس ہے تا اس کتاب کو دیکھا جائے کہ کیا کبھی اُنہوں نے کسی قطعی یقینی وحی کا دعویٰ کیا اور اس بنا پر اپنے تئیں ظلی طور پر یا اصلی طور پر نبی اللہ ٹھہرایا ہے اور اپنی وحی کو دُوسرے انبیاء علیہم السلام کی وحی کے مقابل پر منجانب اللہ ہونے میں برابر سمجھا ہو تا تَقَوَّلَ کے معنے اسپر صادق آویں۔ حافظ صاحب کو معلوم نہیں کہ تَقَوَّلَ کا حکم قطع اور یقین کے متعلق ہے۔ پس جیسا کہ میں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے۔ اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے گو وہ مسلمان ہو مگر مجھے اپنا حکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے وہ آسمان پر قابل مواخذہ ہو کیونکہ جس امر کو اُس نے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا اُس کو ردّ کر دیا میں صرف
۱؎ الواقعۃ : ۸۰
یہ حوالہ صفحہ 233 پر درج ہے
کشتی نوح صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 95 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 240 ۱۵ نشان آسمانی
یعنی اُس کا وہ روشن ہاتھ جو اتمامِ حُجّت کی رُو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے پھر مَیں اُس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں یعنے ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گُزر گیا کہ جب ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ میں تھی مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اُس امام کو دے دے گا۔ اِس طرح پر کہ اسکا چمکنے والا ہاتھ وہ کام کریگا جو پہلے زمانہ میں ذوالفقار کرتی تھی سو وہ ہاتھ ایسا ہوگا کہ گویا وہ ذوالفقارِ علی کرم اللہ وجہہ ہے جو پھر ظاہر ہو گئی ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ امام سُلطان القلم ہو گا اور اسکی قلم ذوالفقار کا کام دیگی۔ یہ پیشگوئی بعینہٖ اس عاجز کے اُس الہام کا ترجمہ ہے جو اس وقت سے دس برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے کِتابُ الولی ذُوالفقارِ علی۔ یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقارِ علی کی ہے یہ اِس عاجز کی طرف اشارہ ہے اسی بناء پر ] بارہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے چنانچہ براہین احمدیہ کے [ بعض دیگر مقامات میں اِسی کی طرف اشارہ ہے۔
وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک غازی ہے دوستوں کو بچانے والا اور دُشمنوں کو مارنے والا۔
یعنی ظاہر و باطن اپنا نبی کی مانند رکھتا ہے اور شانِ نبوت اُس میں نمایاں ہے اور علم اور حلم اُس کا شعار ہے مُراد یہ کہ بباعث اپنی اتباع نبی کریم کے گویا وہی صُورت اور وہی سیرت اُسکو حاصل ہوگئی ہے۔ یہ اُس الہام کے مطابق ہے جو اِس عاجز کے بارے میں براہین میں چھپ
۲۷۵
نشان آسمانی صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 375 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 237 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 241)
۴۰۸
کا نزول ہے وہ دمشق میں واقع ہے بلکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منارہ سے اسی مسجد اقصیٰ کا منارہ مراد لیا ہے جو دمشق کے شرقی طرف واقع ہے یعنی مسیح موعود کی مسجد جو حال میں وسیع کی گئی ہے اور عمارت بھی زیادہ کی گئی۔ اور یہ مسجد فی الحقیقت دمشق کے شرقی طرف واقع ہے۔ اور یہ مسجد صرف اس غرض سے وسیع کی گئی اور بنائی گئی ہے کہ تا دمشقی منارہ کی اصلاح کرے اور یہ منارہ وہ منارہ ہے جس کی ضرورت احادیث نبویہ میں تسلیم کی گئی۔ اور اس منارۃ المسیح کا خرچ دس ہزار روپیہ سے کم نہیں ہے۔ اب جو دوست اس منارہ کی تعمیر کے لئے مدد کریں گے میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بھاری خدمت کو انجام دیں گے۔ اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ ایسے موقع پر خرچ کرنا ہرگز ہرگز ان کے نقصان کا باعث نہیں ہوگا۔ وہ خدا کو قرض دیں گے اور صد سود واپس لیں گے۔ کاش ان کے دل سمجھیں کہ اس کام کی خدا کے نزدیک کس قدر عظمت ہے جس خدا نے منارہ کا حکم دیا ہے اس نے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے کہ اسلام کی مردہ حالت میں اسی جگہ سے زندگی کی روح پھونکی جائے گی اور یہ فتح نمایاں کا میدان ہوگا مگر یہ فتح ان ہتھیاروں کے ساتھ نہیں ہوگی جو انسان بناتے ہیں بلکہ آسمانی حربہ کے ساتھ ہے جس حربہ سے فرشتے کام لیتے ہیں۔ آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔
اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اُٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلحکاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف دعوت کرنے کی ایک راہ نہیں۔ پس جس راہ پر نادان لوگ اعتراض کر چکے ہیں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نہیں چاہتی کہ اسی راہ کو پھر اختیار کیا جائے اس کی ایسی ہی شان ہے کہ جیسے جن نشانوں کی پہلے تکذیب ہو چکی وہ ہمارے سید رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیئے گئے۔ لہٰذا مسیح موعود اپنی فوج کو اس ممنوع مقام سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے جو بدی کا بدی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اپنے تئیں شریر کے حملہ سے بچاؤ مگر خود شریرانہ مقابلہ مت کرو۔ جو شخص ایک
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 408 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 237 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 242)
ضمیمہ براہین احمدیہ ۳۲۱ حصہ پنجم
ولسنا علی الاعقاب موت یردّنا ولوفی سبیل اللّٰہ ندمٰی وننجز اور ہم ایسے نہیں ہیں کہ کوئی موت ہم کو پیچھے کی طرف ہٹاوے اگر خدا تعالیٰ کی راہ میں ہم پر زخم بھی ہو جائیں تغیّرت وجوہ الجاھلین تغیظا اذا اُخْبِرُوْا عَنْ مَّوْتِ عِیْسٰی وَ اَعْبَرُوْا جاہلوں کا منہ بگڑ گیا مارے غصہ کے جب ان کو حضرت عیسیٰ کے مرنے کی خبر دی گئی وقالوا کذوبٌ کافرٌ یتّبع الھوٰی وحثّوا علی قتلی عواماً وغیّروا اور بولے کہ یہ جھوٹا کافر ہے نفسانی پیروی کرتا ہے اور میرے قتل کیلئے عوام کو اُبھار ا اور جوش دلایا تضاقت علینا الارض من کثرۃ الزّحَم ولولا ید المولٰی لکنّا نتبرّ پس ہجوم کی کثرت سے زمین ہم پر تنگ ہوگئی اگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ نہ ہوتا تو ہم ہلاک ہو جاتے فلم یغن عنہم مکرہم حین اشرقت شموس عنایات القدیر فادبروا پس مکر کے کرنے نے ان کو کچھ فائدہ نہ دیا جبکہ خدا کی مہربانیوں کے سورج چمکے اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے رجعنا وقد ردّت الیہم سھامہم یقضی لامری ملیک لا یعادلہ منکر ہم واپس آئے اور انکے تیر انہی کی طرف پھیرے گئے اُس مالک نے فیصلہ کر دیا جس کا کوئی منکر مقابلہ نہیں کرسکتا من الحقد والشحناء یھذون کلھم وامری مبین واضح لو تفکروا کینہ اور دشمنی سے تمام وہ بکواس کرتے ہیں اور میرا یہ امر روشن اور واضح ہے اگر وہ سوچیں واصل التنازع فِی التخالف بیننا ٭ ویعصمنی منکم ثمّ بالغیب ینصر اور ہم میں اور ان میں جو اختلاف ہے دراصل وہ تمھارے شر سے مجھے بچائے گا اور غیبی مدد کرے گا
٭ اصل التنازع فی عیسیٰ علیہ السلام ۔ اعنی فی انّہ ھل ھو حیّ او میّت فذلک امر واضح لقولہ عزوجل فلمّا توفّیتنی الخ ۔ یعنی انّ توفّیک وقع قبل رفعک الیّ فقدم التوفی علی الرفع کما انتم تقرؤن ۔ انّی متوفّیک ورافعک الیّ ۔ ومن لم یحکم بما انزل اللّٰہ فاولٰئک ھم الکافرون ۔ ولا ینبغی لاحدٍ ان یحرّف کلام اللّٰہ عن مواضعہ ولقد لعن اللّٰہ المحرّفین کما انتم تعلمون ۔ ثمّ الشاھد الثانی قولہ تعالٰی انّی متوفّیک فلو کان حیّا لم یقل متوفّیک فھل انتم تتدبّرون ۔ ثمّ الشاھد الثالث من القرآن قولہ تعالٰی وما محمّد الّا رسول قد خلت من قبلہ الرّسل فبایّ حدیثٍ بعدہ یؤمنون ۔ ولقد رای عیسیٰ نبیّنا صلّی اللّٰہ علیہ وسلم لیلۃ المعراج فی الاموات ثم انتم تکفرون ۔ منہ
براہین احمدیہ حصہ پنجم (ضمیمہ) صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 321 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 238 پر درج ہے
حوالہ نمبر 243
۴۲۸
چنگا بھلا پھرتا تھا۔ لیکن آسمان پر اس کے لیے ہلاکت کا حکم ہو چکا تھا۔ اس واسطے یہ بات ایسے طور پر بیان کی گئی کہ یہ کام ہو چکا ہے۔ پہلے ایک معاملہ آسمان پر ہو جاتا ہے اور پھر زمین پر اس کا ظہور ہوتا ہے۔ ایسا ہی ہمارا الہام عَفَتِ الدِّیَارُ مَحَلُّھَا فَمَقَامُھَا مٹ گئے، اگرچہ گیارہ ماہ پہلے یہ زلزلہ کی پیشگوئی تھی، تاہم چونکہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ زلزلہ ضرور آئے گا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مکانات عارضی اور مستقل سب گر گئے اور نشانات مٹ گئے۔ جو لوگ مثلاً یہ عیسائیوں کے ہمنوا، پیسہ اخبار وغیرہ اعتراض کرتے ہیں وہ اس محاورہ سے ناواقف اور جاہل ہیں یا جان بوجھ کر تعصب کے ساتھ ضد کرتے ہیں ورنہ یہ محاورہ سب زبانوں میں پایا جاتا ہے آتھم کے متعلق جب ہم نے پیشگوئی کی تھی تو اس نے بھی مجلس میں کہا تھا کہ میں تو مر گیا۔ باوجود عیسائی ہونے کے وہ ادب کا بہت لحاظ رکھتا تھا اور یہی سبب تھا کہ وہ ڈرتا رہا اور میعاد کے اندر مرنے سے بچ گیا۔ ابولہب کے متعلق یہی پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ ہلاک ہوگا۔ حالانکہ وہ جنگ بدر کے بعد طاعون سے مرا تھا۔
فرمایا : روح و ریحان سے مراد ہر قسم کی آسائش اور آسودگی ہوتی ہے۔
مبارک شنبہ کے مبارک الفاظ سننا
(بمزار شیخ عبدالرحیم صاحبؒ)
بوقت ۹ بجے آپ باہر تشریف لائے۔ شیخ رحمت اللہ صاحب کوڑا اور مولوی صاحبان اور دیگر احباب محفل موجود تھے۔ ادھر اُدھر کی باتوں میں آپ نے فرمایا کہ : ہم خدا کے مرسلین اور ائمہ میں کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے بلکہ سچے موحد کبھی بزدل نہیں ہوتے بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم پر مصیبتوں نے بار ہا حملے کئے مگر انہوں نے کبھی بزدلی نہیں دکھائی۔ خدا تعالیٰ اُن کی نسبت فرماتا ہے : مِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا۔ الاحزاب ۲۳ یعنی جس ایمان پر انہوں نے مہر ثبت کی تھی اس کو بعض نے تو نبھا دیا اور بعض منتظر ہیں کہ کب موقعہ ملے اور
۱؎ یہ حصہ جلد نمبر ۱ صفحہ نمبر ۴۵ پر موجود ہے ایڈیشن گزشتہ ۔ (بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ ۲۸ مئی کے بعد شائع ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ ۲۹ مئی کی ڈائری کا اس میں اندراج ہے۔ (مرتب)
۲؎ اس ڈائری پر تاریخ نہیں لکھی ۔ الفاظ ”آج ۲۹“ اور ”مبارک شنبہ“ سے معلوم ہوتی ہے۔ ان دنوں میں شیخ رحمت اللہ صاحب قادیان میں موجود تھے۔ (مرتب)
ملفوظات جلد چہارم صفحہ 286 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 238 پر درج ہے
حوالہ نمبر 244
باب چہارم ۷۵ حقیقة الوحی
لك درجة فى السّماءِ وفى الذين هم يبصرون۔ ولك تیرا آسمان پر ایک درجہ اور مرتبہ ہے اور نیز اُن لوگوں کی نگہ میں جو دیکھتے ہیں۔ اور تیرے لئے نرى ايات ونهدم ما يعمرون ۔ الحمد للّه الذى ہم نشان دکھائیں گے اور جو عمارتیں بناتے ہیں ہم ڈھا دینگے۔ اُس خدا کی تعریف ہے جس نے تجھے جعلك المسيح ابن مريم لا يُسْئَلُ عمّا يفعلُ وهُم مسیح ابن مریم بنایا ۔ وہ اُن کاموں سے پوچھا نہیں جاتا جو کرتا ہے۔ اور لوگ اپنے کاموں سے يُسْئَلُونَ۔ وقالوا اتجعل فيها من يفسد فِيهَا پوچھے جاتے ہیں۔ اور انہوں نے کہا کہ کیا تو ایسے شخص کو خلیفہ بناتا ہے جو زمین پر فساد کرتا ہے۔ قال إنّى اعلم ما لا تعلمون۔ اني مهين مَنْ ارادَ اُس نے کہا کہ اسکی نسبت جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ۔ میں اُس شخص کی اہانت کرونگا جو تیری اهانتك ۔ انى لايخاف لدى المرسلون۔ کتب الله اہانت کا ارادہ کریگا ۔ میرے قریب میں میرے رسول کسی دشمن سے نہیں ڈرا کرتے ۔ خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ
❁ خدا تعالیٰ کا پاک کلام جو میری کتاب براہین احمدیہ کے بعض مقامات میں لکھا گیا ہے اُس میں خدا تعالیٰ نے تصریح ذکر کر دیا ہے کہ کس طرح اُسنے مجھے عیسیٰ بن مریم ٹھہرایا ۔ اس کتاب میں پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا اور بعد اسکے ظاہر کیا کہ اس مریم میں خدا کی طرفسے روح پھونکی گئی اور پھر فرمایا کہ روح پھونکنے کے بعد مریمی مرتبہ عیسیٰ کے مرتبہ کیطرف نقل ہو گیا اور اس طرح مریم سے عیسیٰ پیدا ہو کر ابن مریم کہلایا۔ پھر دوسرے مقام میں اسی مرتبہ کے متعلق فرمایا فاجاءه المخاض الیٰ جذع النخلة ط قال یٰلیتنی مت قبل ہذا وکنت نسیاً منسیاً۔ اس جگہ خدا تعالیٰ ایک استعارہ کے رنگ میں فرماتا ہے کہ جب اس مابعد میں مریمی مرتبہ سے عیسوی مرتبہ کا تولّد ہوا اور اس لحاظ سے یہ مامور ابن مریم بننے لگا تو تبلیغ کی ضرورت جو درد زہ سے مشابہت رکھتی ہے اسکو اُمّت کی خشک جڑ کے سامنے لائی جن میں فہم اور تقویٰ کا پھل نہیں تھا اور وہ طیار تھے کہ ایسا دعویٰ سُنکر افتراء کی تہمتیں لگاویں اور دُکھ دیں اور طرح طرح کی باتیں اُسکے حق میں کریں تب اُس نے اپنے دل میں کہا کہ کاش میں پہلے اس سے مرجاتا اور ایسا بھولا بسرا ہو جاتا کہ کوئی میرے نام سے واقف نہ ہوتا ۔ ہٰذا
حقیقت الوحی صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 75 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 238 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 245)
براہین احمدیہ حصہ پنجم ١۴١
بدگمانی نے تمہیں مجنون و اندھا کر دیا ورنہ تھے میری صداقت پر براہین بیشمار
جہل کی تاریکیاں اور سوء ظن کی تند باد جب اکھٹے ہوں تو پھر ایماں اُڑے جیسے غبار
زہر کے پینے سے کیا انجام جز موت و فنا بدگمانی زہر ہے اس سے بچو اے دیں شعار
کانٹے اپنی راہ میں بوتے ہیں ایسے بدگمان جن کی عادت میں نہیں شرم و شکیب و اصطبار
یہ خطا کاری بشر کی بد نصیبی کی ہے جڑ پر مقدّر کو بدل دینا ہے کس کے اختیار
سخت جلدی میں کسی کے بُغْض کی پروا نہیں دل قوی رکھتے ہیں ہم وعدوں کی ہے ہم کو بہار
] جو خدا کا ہے اُسے افکار نا انجام کیا ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار و نزار [
ہے مرے ہر مورچہ پر خود کھڑا مولیٰ کریم پس نہ بیٹھو میری رہ میں اے شریران دیار
سنت اللہ ہے کہ وہ خود فرق کو دکھلاتا ہے تا عیاں ہو کون پاک اور کون ہے مُردار خوار
مجھ کو پردے میں نظر آتا ہے اِک میرا معین تیغ کو کھینچے ہوئے اُسپر کہ جو کرتا ہے وار
دشمن غافل اگر دیکھے وہ بازو وہ سلاح ہوش ہو جائیں خطا اور بھول جائے سب وقار
ہر جہاں کا کیا کوئی داور نہیں اور دادگر پھر شریر نفس ظالم کو کہاں جائے فرار
کیوں عجب کرتے ہو گر میں آگیا ہو کر مسیح خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ باد بہار
آسمان پر دعوت حق کے لئے اِک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار
آرہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار
کہتے ہیں تثلیث کو اب اہلِ دانش الوداع پھر یہ سوئے چشمۂ توحید پر از جان نثار
باغ میں رُت کس کی ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے باد صبا گلزار سے مستانہ وار
آ رہی ہے بُوئے خوشبو میرے دوست کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اُس کا انتظار
براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 101 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 131 ، از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 238 پر درج ہے
حوالہ نمبر 246
باب چہارم ۱۰۹ حقیقۃ الوحی
لَوَجَدْتُمْ فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا۔ قُلْ عِنْدِي شَهَادَةٌ مِنَ اللّٰهِ ١ تو اس میں بہت اختلاف تم دیکھتے ۔ اُن کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے فَهَلْ اَنْتُمْ مُؤْمِنُوْنَ ۔ يَأْتِي قَمَرُ الْاَنْبِيَاءِ ۔ وَ اَمْرُكَ يُتَأَتّٰی پس کیا تم ایمان لاؤ گے یا نہیں نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام پکّا ہو جائے گا وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ۲ بھونچال آیا اور بشدّت آیا اور آج اے مجرمو ! تم الگ ہو جاؤ بڑی شدّت سے زلزلہ آئے گا اور زمین تہ و بالا کردی ۳ هٰذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ اُوپر کی زمین نیچے کر دے گا یہ وُہی وعدہ ہے جس کی تم جلدی کرتے تھے۔ اِنِّي اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ ۔ سَفِيْنَةٌ وَّ سَكِيْنَةٌ ۔ اِنِّي مَعَكَ مَیں ہر ایک کو جو اِس گھر میں ہو اِس زلزلہ سے بچالوں گا ۔ کشتی ہے اور آرام ہے مَیں تیرے ساتھ وَمَعَ اَهْلِكَ اُرِيْدُ مَا تُرِيْدُوْنَ ۔ پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔ میں وہی ارادہ کرونگا جو تمہارا ارادہ ہو۔ بنگالہ کی نسبت پیشگوئی ہے جو ضمیمہ تریاق القلوب میں بنگالہ حُکم جاری کیا گیا تھا۔ اَب اُن کی دلجوئی ہوگی۔ کی تازہ آفت کی نسبت خدا فرماتا ہے کہ پھر وہ وقت آئے گا کہ جس میں ان اہل بنگالہ کی دلجوئی کی جائے گی۔
٭ حاشیہ اِس بارہ میں خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے جیسا کہ یسعیاہ نبی کے زمانہ میں چونکہ اُس نبی کی پیشگوئی کے مطابق پہلے ایک عورت سے ایک عما نوایل کا پیدا ہونا۔ پھر بعد اس کے حزقیاہ بادشاہ نے فتنہ پر فتح پائی۔ اِسی طرح اس زلزلہ سے پہلے جو منظورِ خدا ہے یا تو میری بیوی کو یا جس کا نام محمدی بیگم ہے لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس بڑے زلزلہ کے لئے نشان ہو گا جو قیامت کا نمونہ ہو گا ۔ مگر ضروری ہے کہ اس سے پہلے اور زلزلے بھی آویں ۔ اس لڑکے کے مختلف نام ہونگے ۔ بشیر الدّولہ کیونکہ وہ ہماری فتح کیلئے نشان ہو گا۔ کلمۃ اللّٰہ تاکہ صبغۃ اللّٰہ کا غلبہ ہو ۔ عالم کباب ۔ وَرَدّ ِ شادِیّتَان ۔ کلمۃ العزیز وغیرہ کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا جس سے حق کا غلبہ ہو گا۔ تمام دُنیا پر خدا کے بھید کھلیں گے۔ اس لئے اس کا نام کلمتہ اللّٰہ رکھنا غیر معمولی بات نہیں ہے وہ لڑکا اب کی دفعہ پیدا نہیں ہوا کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ اَخَّرَهُ اللّٰهُ اِلٰی وَقْتٍ مُّسَمًّی یعنی وہ زلزلہ الساعۃ جس کیلئے وہ لڑکا نشان ہو گا ہم نے اسکو ایک اور وقت پر ڈال دیا ۔ منہ
۱ یسعیاہ باب ۷ (ناشر)
١٠٦
حقیقۃ الوحی صفحہ 109 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 109 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 239 پر درج ہے
حوالہ نمبر 247
خطبہ الہامیہ 110
وَقَدْ اُشِيْرَ اِلَيْهِ فِى الْفَاتِحَةِ مَرَّةً اُخْرٰی ۚ وَتَقْرَءُوْنَ و در سورۃ فاتحہ بار دوم سوئے ایں وعدہ اشارت کردہ شدہ ۔ و ایں سورۃ فاتحہ اور سورۃ فاتحہ میں دوسری بار اس وعدہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور یہ آیت سورۃ فاتحہ
فِى الصَّلٰوةِ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ تَسْتَقِرُّوْنَ یعنی صراط الذین انعمت علیہم در نماز ہائے خود مے خوانید باز حیلہ جوئی را یعنی صراط الذین انعمت علیہم اپنی نمازوں میں پڑھتے ہو ۔ پھر حیلہ و بہانہ
سُبُلَ الْاِنْکَارِ وَتُسِرُّوْنَ النَّجْوٰی ۚ مَا لَكُمْ تَدُوْسُوْنَ اختیار مے کنید و برائے دفع و قمع حجت الٰہیہ مشورے مے کنید چہ شد شما را کہ اختیار کرتے ہو اور حجت الٰہی کے دفع و قمع کیلئے مشورے کرتے ہو تمہیں کیا ہو گیا کہ
قَوْلَ اللّٰهِ تَحْتَ الْاَقْدَامِ اَلَّا تَمُوْتُوْنَ اَوْ تَتْرُكُوْنَ قولِ خدا تعالیٰ را زیر قدم ہائے خود پامال مے کنید آیا نخواہید مُرد یا ہیچ کس شما را نخواہد پرسید خدا تعالیٰ کے فرمودہ کو اپنے پیروں میں روندتے ہو ۔ کیا ایک دن تم نہیں مرو گے یا کوئی تم کو نہیں پوچھے گا
سُدًی ۚ وَتَذْكُرُوْنَنِيْ كَمَا يُذْكَرُ الْكُفَّارُ وَتَقُوْلُوْنَ و ذِکر من ہمچو ذکر کافراں مے کنید و مے گوئید کہ اور میرا ذکر کافروں کے ذکر کی طرح کرتے ہو اور کہتے ہو کہ
اُقْتُلُوْهُ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ وَتَكْتُبُوْنَ الْفَتْوٰی ۚ وَمَا اگر توانید او را قتل کنید و ہمچنیں فتوٰی مے نویسید و اگر ہو سکے تو قتل کر دیا جائے اور اسی طرح فتوے لکھتے ہو اور
كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ وَاِنَّ مَعِيَ ہیچ نفسے نمے میرد مگر باذن الٰہی و با من کوئی نفس بجز اذنِ الٰہی نہیں مرتا اور میرے ساتھ تو
خطبہ الہامیہ صفحہ 64 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 110 ، 111 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 239 پر درج ہے
حوالہ نمبر 247
١٤١ خطبہ الہامیہ
حَفَظَةً يَّحْفَظُوْنَنِيْ مِنَ الْعِدَا ط- فَاجْمِعُوْا كَيْدَكُمْ پاسباناں ہستند کہ از دشمناں حفاظت من مے کنند پس ہر مکر کہ دارید جمع کنید خدا تعالیٰ کے پاسبان ہیں کہ وہ میرے دشمنوں سے حفاظت کرتے ہیں۔ تم ہر ایک تدبیر جمع کر لو اور
ثُمَّ انْظُرُوْا هَلْ يَسْقُطُ الْكَيْدُ اِلَّا عَلٰى مَنْ جَعَلَ باز ببینید کہ آں مکر بر کہ افتد آیا بر جفاکار یا بر دیگرے پھر دیکھو کہ ہر مکر کی تدبیر اُسی پر لوٹ کر پڑے گی کہ جو ظالم ہے ۔
وَعَسٰى اَنْ تَحْسَبُوْا رَجُلًا كَاذِبًا وَهُوَ صَادِقٌ و ممکن است کہ شما کسے را دروغگو خیال کنید و او در دعویٰ خود صادق باشد اور ممکن ہے کہ تم کسی کو دروغگو خیال کرو اور وہ اپنے دعوے میں صادق نکلے
فِيْمَا ادَّعٰى ط- فَلَا تَمِيْلُوْا كُلَّ الْمَيْلِ وَمَنْ تَرَكَ پس از حق بکلی دُور نشوید و ہر کہ تقویٰ را پس حق سے بالکل دُور نہ ہو جاؤ جس نے تقویٰ کو
التَّقْوٰى فَقَدْ هَوٰى ط- اَرَاَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ مِنْ عِنْدِ ترک کرد پس بیفتاد آیا مے بینید کہ اگر من از طرف ترک کیا وہ گر گیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر میں خدا کی طرف سے
اللّٰهِ وَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَمَا بَالُ مَنِ اعْتَدٰى ط- وَ خدا تعالیٰ ہستم و شما تکذیب من کردہ اید پس حال آںکس چہ خواہد شد کہ از حد تجاوز کرد ہوں اور تم مجھے جھٹلاتے ہو پس اُس شخص کا کیا حال ہو گا جو حد سے بڑھ گیا
اَنْتُمْ تَكْرَهُوْنَ اَنْ يَّمُوْتَ عَبْدُ اللّٰهِ عِيْسٰى ط- و شما را خوش نمی آید کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت شوند تم کو اچھا معلوم نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو جائیں ۔
خطبہ الہامیہ صفحہ 64 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 110 ، 111 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 239 پر درج ہے
حوالہ نمبر 248
بعض اعتراضوں کے جواب ۲۳۴ حقیقة الوحی
ہے اور ان دنوں میں کسی ضلع کے بندوبست میں مشغول ہو اور بعد اسکے میرے پر کھولا گیا کہ یہ الہام میرے بھائی کی موت کی طرف اشارہ ہو چنانچہ میرا بھائی دو تین دن کے بعد ایک ناگہانی طور پر فوت ہوگیا اور میرے اُس لڑکے کو اُسکی موت کا صدمہ پہنچا اور اس بیچ میں اگر شرمپت مذکور جو سخت متعصب آریہ ہوگا اُلو بن گیا۔ اگر کہو کہ خدا کے الہام کے اُسی وقت کیوں معنے نہ کھولے گئے تو میں اسکے جواب میں کہتا ہوں کہ مقطعات قرآنی کے اب تک معنے نہیں کھولے گئے۔ کون جانتا ہے کہ طٰہٰ کیا چیز ہے اور یٰسٓ کیا چیز ہے اور کٰہٰیٰعٓصٓ کیا چیز ہے۔ اور آیت سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ ۱؎ کی نسبت حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تک مجھے اسکے معنی معلوم نہیں ۲۳۴ اور نیز آپ نے فرمایا کہ مجھے ایک خوشہ بہشتی انگور کا دیا گیا کہ جو ابوجہل کیلئے ہو اور میں اسکی تاویل سمجھ نہ سکا جبتک کہ عکرمہ اُس کا بیٹا مسلمان ہوا۔ اور مجھے ہجرت کی زمین بتلائی گئی اور میں نہ سمجھ سکا کہ وہ مدینہ ہے۔ غرض ایسے اعتراض بوجہ بے خبری سُنت اللہ کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔
- ۶۲ - باسٹھواں نشان۔ قیصر رومی کی تباہی کی نسبت پیشگوئی جو اسکا مفصل حال میری کتابوں میں
مذکور ہے۔
- ۶۳ - تریسٹھواں نشان۔ براہین احمدیہ میں میری نسبت خدا تعالیٰ کی یہ پیشگوئی ہو کہ قتلی وغیرہ
منصوبوں سے میں بچایا جاؤں گا۔ چنانچہ آجتک باوجود متعدد حملوں کے خدا تعالےٰ نے دشمنوں کے شَر سے مجھے بچایا۔
- ۶۴ - چونسٹھواں نشان۔ براہین احمدیہ میں یہ پیشگوئی ہو کہ جس قدر میرے پر مقدمات کئے جائیں گے
مجھے فتح ہوگی۔ چنانچہ ہر ایک مقدمہ میں مجھے فتح ہوتی رہی۔
- ۶۵ - پینسٹھواں نشان۔ براہین احمدیہ میں یہ پیشگوئی ہو کہ اس قدر لوگ میرے پاس آئیں گے
کہ قریب ہوگا کہ میں انکی کثرت ملاقات سے تھک جاؤں۔ چنانچہ کئی لاکھ آدمی میرے پاس آیا۔
- ۶۶ - چھیاسٹھواں نشان۔ براہین احمدیہ میں اصحاب الصفہ کی نسبت پیشگوئی ہو چنانچہ کئی مخلص لوگ
اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے میرے مکان کے بعض حصوں میں مع عیال مقیم ہیں جن میں سے سب سے
۶۳۲ لے القمر : ۴۶
حقیقة الوحی صفحہ 234 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 234 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 239 پر درج ہے Back
حوالہ نمبر 249 ۱۳۸
بڑھ کر یہ کہ آپ کو منہاج نبوت پر ایک مقناطیسی جذب دیا گیا تھا۔ جس سے سعید روحیں خود بخود آپ کی طرف کھنچی چلی آتی تھیں اور خدا کی طرف سے آپکو ایک رعب عطا ہوا تھا جس کے سامنے دلیر سے دلیر دشمن بھی کانپنے لگ جاتا تھا اور آپ ایک معجز نما حسن بلاغت سے آراستہ کئے گئے تھے ۔ اور ہر قدم پر خدائی نصرت و تائید آپکے ساتھ تھی ورنہ آپ بے زبان عالم و منطقی دنیا میں پیدا ہوئے اور حباب کی طرح اُٹھ کر بیٹھ گئے ۔
(۱۳۵) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے چوہدری حاکم علی صاحب نے کہ جب مرزا امام الدین اور نظام الدین مسجد مبارک کا راستہ دیوار کھینچکر بند کرنے لگے ۔ تو حضرت صاحب نے چند آدمیوں کو جن میں مَیں بھی تھا فرمایا کہ ان کے پاس جاؤ اور بڑی نرمی سے سمجھاؤ کہ یہ راستہ بند نہ کریں اس سے ہمسایوں کو بہت تکلیف ہوگی ۔ اور اگر چاہیں تو میری کوئی اور جگہ دیکھ کر بے شک قبضہ کر لیں ۔ اور حضرت صاحب نے تاکید کی کہ کوئی سخت لفظ استعمال نہ کیا جائے ۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں ہم گئے تو آگے وہ نوکروں کو مجلس لگائے بیٹھے تھے ۔ اور حقے کا دور چل رہا تھا ۔ ہم نے جا کر حضرت صاحب کا پیغام دیا اور بڑی نرمی سے بات شروع کی لیکن مرزا امام دین نے سنتے ہی غصہ سے کہا وہ (یعنی حضرت صاحب) خود کیوں نہیں آیا اور میں تم لوگوں کو کیا جانتا ہوں ۔ پھر طعن سے کہا کہ جب سے آسمانوں سے وحی آنی شروع ہوئی ہے اسوقت سے اسے خبر نہیں کیا ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں ہم لوگ اپنا سا مُنہ لیکر واپس آگئے پھر حضرت صاحب نے ہمارے ساتھ اور بعض بھائیوں کو ملا دیا اور کہا کہ ڈپٹی کمشنر کے پاس جاؤ اور اس سے جا کر ساری حالت بیان کرو اور کہو کہ ہم لوگ دور دراز سے دین کی خاطر یہاں آتے ہیں اور یہ ایک ایسا فعل کیا جا رہا ہے ۔ جس سے ہم کو بہت تکلیف ہو گی کیونکہ مسجد کا راستہ بند ہو جائیگا ۔ ان دنوں میں قادیان کے قریب ایک گاؤں میں کوئی سخت واردات ہو گئی تھی اور ڈپٹی کمشنر اور کپتان پولیس سب وہاں آئے ہوئے تھے ۔ چنانچہ ہم لوگ وہاں گئے اور ذرا دور ہٹکر ٹھہر گئے نہ آگے بڑھے ڈپٹی کمشنر اسوقت باہر میدان میں کپتان کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا ۔ ہم میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور کہا کہ ہم قادیان سے آئے ہیں ۔ اور اپنا
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 138 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 239 پر درج ہے
حوالہ نمبر 250
۳۹۲
ایک معمولی بات ہے کمال میں داخل نہیں۔ کمال انسانیت یہ ہے کہ ہم حتی الوسع گالیوں کے مقابل پر اعراض اور درگزر کی خو اختیار کریں۔
یہ بھی تو سوچو کہ پادری صاحبوں کا مذہب ایک شاہی مذہب ہے۔ لہذا ہمارے ادب کا یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ ہم اپنی مذہبی آزادی کو ایک طفیلی آزادی تصور کریں۔ اور اس طرح پر ایک حد تک پادری صاحبوں کے احسان کے بھی قائل رہیں۔ گورنمنٹ اگر انکو باز پرس کرے تو ہم کسقدر باز پرس کے لائق ٹھہرینگے۔ اگر سبز درخت کاٹے جائیں تو پھر خشک کی کیا بنیاد ہے۔ کیا ایسی صورت میں ہمارے ہاتھ میں قلم رہ سکے گی؟ سو ہوشیار ہو کہ طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو۔ اور اس محسن گورنمنٹ کو دعائیں دو جسنے تمام رعایا کو ایک ہی نظر سے دیکھا۔ یہ بالکل نامناسب اور سخت نامناسب ہے کہ پادریوں کی نسبت گورنمنٹ میں شکایت کریں۔ ہاں جو شبہات اور اعتراض اٹھائے گئے اور جو بہتان شائع کئے گئے انکو جڑ سے اکھاڑنا چاہیئے۔ اور وہ بھی نرمی سے اور حق اور حکمت کے معاون ہو کر دنیا کو فائدہ پہنچانا چاہیئے اور ہزاروں دلوں کو شبہات کے زندان سے نجات بخشنا چاہیئے۔ یہی کام ہے جس کی اب ہمیں اشد ضرورت ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں نے تائید اسلام کے دعوے پر جابجا انجمنیں قائم کر رکھی ہیں۔ لاہور میں بھی تین انجمنیں ہیں۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ باوجود عیسائیوں کیطرف سے دس کروڑ کے قریب مخالفانہ کتابیں اور رسائل نکل چکے ہیں اور تین ہزار کے قریب ایسے اعتراضات شائع ہوچکے جن کا جواب دینا مولویوں اور انجمنوں کا فرض تھا۔ انہوں نے ہر ایک رسالہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم مخالفوں کے سوالات کے جواب دینگے ان حملوں کا ان انجمنوں نے کیا بندوبست کیا اور کون کونسی مفید کتاب دنیا میں پھیلائی۔ ہم بقول اُن کے کافر سہی دجال سہی سخت گو سہی مگر ان لوگوں نے باوجود ہزار ہا روپیہ بنام اسلام جمع کرنے کے اسلام کی حقیقی مدد کیا کی۔ علوم مروجہ کی تعلیم کا شاید بڑے سے بڑا نتیجہ یہ ہوگا کہ تا لڑکے تعلیم پا کر کوئی معقول نوکری پاویں۔ اور یتیموں کی پرورش کا نتیجہ بھی اس سے بڑھ کر
البلاغ صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 392 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 241 پر درج ہے
حوالہ نمبر 251 756 باب چہارم ۹۷ حقیقت الوحی
اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا ە لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ۱ میں ایک عظیم فتح تجھ کو عطا کروں گا جو کھلی کھلی فتح ہوگی تاکہ تیرا خدا تیرے تمام گناہ بخش دے جو پہلے ہیں وَمَا تَاَخَّرَ ە اِنِّیْ اَنَا التَّوَّابُ ە مَنْ جَاءَكَ جَاءَنِیْ ۔ سَلَامٌ اور پچھلے ہیں۔ میں توبہ قبول کرنیوالا ہوں۔ جو شخص تیرے پاس آئیگا وہ گویا میرے پاس آئیگا۔ تم پر عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ نَحْمَدُكَ وَنُصَلِّیْ صَلٰوةَ الْعَرْشِ اِلَی الْفَرْشِ ە سلام تم پاک ہو ۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ عرش سے فرش تک تیرے پر درود ہے نَزَلْتُ لَكَ وَلَكَ نُرِیْ اٰيَاتٍ۔ اَلْاَمْرَاضُ تُشَاعُ ۔ وَالنُّفُوْسُ میں تیرے لئے اترا ہوں اور تیرے لئے اپنے نشان دکھلاؤنگا۔ ملک میں بیماریاں پھیلیں گی اور بہت جانیں تُضَاعُ ۔ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُغَيِّرَ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا ضائع ہونگی۔ اور خدا ایسا نہیں ہے جو اپنی تقدیر کو بدل دے جو ایک قوم پر نازل کی جب تک وہ قوم اپنے دلوں کے خیالات بِاَنْفُسِهِمْ ۔ اِنَّهُ اٰوَی الْقَرْيَةَ ج لَوْلَا الْاِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمَقَامُ ە کو نہ بدل ڈالیں۔ وہ اس قادیان کو کسی قدر بلا کے بعد اپنی پناہ میں لے لیگا۔ اگر تجھے میری عزت کا پاس نہ ہوتا تو اس تمام گاؤں کو میں ہلاک کردیتا اِنِّیْ اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ ە مَاکَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ [میں ہر ایک کو جو اس گھر کی چار دیوار کے اندر ہو بچاؤنگا۔ کوئی ان میں سے طاعون یا ہیضہ کی بلا میں نہیں مریگا۔ خدا ایسا نہیں جو]
یہ ظالم انسان کا قاعدہ ہے کہ وہ خدا کے رسولوں اور نبیوں پر بڑا بھاری دھبہ چسپاں کرتا ہے اور طرح طرح کے عیب ان میں نکالتا ہے گویا دُنیا کے تمام عیبوں اور خرابیوں اور جرائم اور معاصی اور خیانتوں کا وہی مجموعہ ہیں۔ اب ان وساوس کا کہاں تک جواب دیا جائے جو نفس کی شرارت کے ساتھ مخلوط ہیں۔ اس لئے یہ سنت اللہ ہے کہ آخر ان تمام جھگڑوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور کوئی ایسا عظیم الشان نشان ظاہر کرتا ہے جس سے اس نبی کی بریت ظاہر ہوتی ہے۔ پس لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ کے یہی معنے ہیں ۔ منہ
بقیہ حاشیہ ۔ اٰوٰی کا لفظ عرب کی زبان میں اس موقعہ پر استعمال پاتا ہے جبکہ کسی قدر تکلیف کے بعد کسی شخص کو اپنی پناہ میں لیا جائے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰی۲ ۔ اور جیسا کہ فرماتا ہے اٰوَيْنٰهُمَا اِلٰی رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍ۳ ۔ منہ
۱ الفتح : ۳ ۲ الضحیٰ : ۷ ۳ المومنون : ۵۱
یہ حوالہ صفحہ 241 پر درج ہے حقیقت الوحی صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 97 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 252
۲۶
زلزلہ آیا تھا۔ اور آپ باغ میں رہائش کے لئے چلے گئے تھے۔ مفتی محمد صادق صاحب کے لڑکے محمد منظور نے جو ان دنوں میں بالکل بچہ تھا۔ خواب میں دیکھا کہ بہت سے بکرے ذبح کئے جارہے ہیں۔ حضرت صاحب کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے کئی بکرے منگوا کر صدقہ کروادئیے۔ اور حضرت صاحب کی اتباع میں اور اکثر لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ میرا خیال ہے۔ اسوقت باغ میں ایک سو سے زیادہ بکرا ذبح ہوا ہوگا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ۱۹۰۵ء کا زلزلہ آیا تو میں بچہ تھا۔ اور نواب محمد علی خان صاحب کے شہر والے مکان کے ساتھ ملحق حضرت صاحب کے مکان کا جو حصہ ہے اس میں ہم دوسرے بچوں کے ساتھ چار پائیوں پر لیٹے ہوئے سو رہے تھے۔ جب زلزلہ آیا تو ہم سب ڈر کر بے تحاشا اُٹھے ۔ اور ہم کو کچھ خبر نہیں تھی۔ کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ صحن میں آئے تو اوپر سے کنکر روڑے برس رہے تھے۔ ہم بھاگتے ہوئے بڑے مکان کی طرف آئے وہاں حضرت مسیح موعود اور والدہ صاحبہ کمرے سے نکل رہے تھے۔ بچے جاتے ہی حضرت مسیح موعود کو پکڑ لیا اور آپ سے لپٹ گئے۔ آپ اس وقت گھبرائے ہوئے تھے اور بڑے صحن کی طرف جانا چاہتے تھے۔ مگر چاروں طرف بچے چمٹے ہوئے تھے اور والدہ صاحبہ بھی کوئی ادھر کھینچتا تھا۔ تو کوئی ادھر اور آپ سب کے درمیان میں تھے۔ آخر بڑی مشکل سے آپ اور آپکے ساتھ چمٹے ہوئے ہم سب بڑے صحن میں پہنچے۔ اس وقت تک زلزلے کے دھکے بھی کمزور ہو چکے تھے تھوڑی دیر کے بعد آپ ہم کو لیکر اپنے باغ میں تشریف لے گئے۔ دوسرے احباب بھی اپنا ڈیرا ڈنڈا اُٹھا کر باغ میں پہنچ گئے۔ وہاں حسب ضرورت کچھ کچے مکان بھی تیار کر دئیے گئے۔ اور کچھ خیمے منگوا لئے گئے اور پھر ہم سب ایک لمبا عرصہ باغ میں مقیم رہے۔ ان دنوں میں مدرسہ بھی وہیں لگتا تھا۔ گویا باغ میں ایک شہر آباد ہو گیا تھا۔ اللہ اللہ کیا زمانہ تھا۔
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 26 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 241 پر درج ہے
حوالہ نمبر 253
۶۴۹
بھی یہی مضمون شائع کرایا اور پائونیر وغیرہ انگریزی اخباروں میں بھی شائع کرا دیا بلکہ اس اطلاع کے لیے ایک چٹھی بخدمت جناب لفٹنٹ گورنر بہادر اور ایک چٹھی جناب نواب لارڈ کرزن وائسرائے ہند بالقابہ کی خدمت میں بھیجی گئی اور ابھی میں اس بات کی طرف متوجہ ہوں کہ یا تو خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس گھڑی کو ٹال دے اور مجھے اطلاع دے اور یا پورے طور پر بقیہ تاریخ اور روز اور وقت اس آنے والے حادثہ سے مطلع فرماوے کیونکہ وہ ہر ایک بات پر قادر ہے۔
اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ کسی بدنیتی یا دغابازی یا ستانے کے لیے میں نے یہ کام نہیں کیا اور جس آنے والے زلزلہ سے میں نے دوسروں کو ڈرایا ، اس سے پہلے میں آپ ڈرا ۔ اور اب تک قریباً ایک ماہ سے میرے خیمے باغ میں لگے ہوئے ہیں۔ میں واپس قادیان میں نہیں گیا۔ کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ وقت کب آنے والا ہے میں نے اپنے مریدوں کو بھی اپنے اشتہارات میں بار بار یہی نصیحت کی کہ جس کی مقدرت ہو اسے ضروری ہے کہ کچھ وقت خیموں میں باہر جنگل میں رہے اور جو لوگ بے مقدرت ہیں وہ دعا کرتے رہیں کہ خدا اس بلا سے ہمیں بچاوے۔ پس میری نیک نیتی پر اس سے زیادہ کون گواہ ہو سکتا ہے کہ اسی خیال سے میں مع اپنی عیال اور اپنی تمام جماعت کے جنگل میں پڑا ہوں اور جنگل کی گرمی کو برداشت کر رہا ہوں حالانکہ قادیان طاعون سے بالکل پاک صاف ہے مگر جس بات سے خدا نے ڈرایا اس سے ڈرنا لازم ہے اور جس ضرر کا یقین ہے اس سے بنی نوع کو ڈرانا بھی شرائط ہمدردی میں داخل ہے۔ اگر میں دیکھوں کہ کسی گھر کے کسی حصہ کو آگ لگنے کو ہے اور گھر کے لوگ خواب میں ہیں۔ ان کو کچھ خبر نہیں اور میں ان کو اطلاع نہ دوں کہ وہ تشویش میں پڑیں گے تو میں ایک سخت گناہ کا مرتکب ہوں گا۔
یہ بھی یاد رہے کہ کسی کمزور بناء پر یہ پیشگوئی نہیں کی گئی ہے بلکہ اگر حکام کی طرف سے بھی میرے اس دعوے کی پڑتال ہو تو کم سے کم ہزار پیشگوئی ایسی ثابت ہوگی جو سچی نکلی ہیں جبکہ میں صدہا پیشگوئیوں کی سچائی کے تجربہ سے اس بات کے باور کرنے کے لیے ایک بھاری ثبوت اپنے پاس رکھتا ہوں کہ جو کچھ خدا نے مجھے فرمایا ہے سچ ہے تو پھر اس سے لوگوں کو متنبہ نہ کرنا ایک ظلم تھا۔ کیونکہ یہ زلزلہ کی پیشگوئی قطعی نہیں بلکہ شرطی ہے۔ ہر ایک شخص جو نیک چلنی اختیار کریگا وہ بچایا جائے گا۔ پس ایسے شخص کو کیا غم ہے جو اپنے چال چلن کی درستی رکھتا ہے۔ ہاں وہ بدمعاش لوگ جو اپنا پیشہ بدکاری حرام خوری خوں ریزی وغیرہ رکھتے ہیں البتہ ایسے اشتہاروں
(بقیہ حاشیہ صفحہ سابقہ)
کی نسبت یہ بھی الہام ہوا تھا۔ عفت الدیار ۔ کہ خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ مجھے اس پر غور کرنے سے اجتہادی طور پر خیال گذرتا ہے کہ بہر حال اندازہ ہائے اجتہاد یہ چاہتے ہیں کہ یہ پیشگوئی بہار کے ایام میں پوری ہو گی۔ شاید ان تحریکات کے لیے بہار کے ایام کو کچھ خصوصیت ہو اور ممکن ہے کہ اس وحی کے اور معنے ہوں اور بہار سے مراد کچھ اور ہو۔ منہ
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 649 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 242 پر درج ہے
حوالہ نمبر 254
۲۹۹
۲۰۹
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نحمدہ و نصلّے
اپنے مُریدوں کی اطلاع کیلئے
جو پنجاب اور ہندوستان اور دوسرے ممالک میں رہتے ہیں اور نیز دوسروں کے لیے اعلان ہو کہ ایک مقدمہ زیر دفعہ ۱۰۷ ضابطہ فوجداری مجھ پر اور مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنّہ پر عدالت جے ۔ ایم ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور میں دائر تھا بتاریخ ۲۴؍ فروری ۱۸۹۹ء بروز جمعہ اس طرح پر اس کا فیصلہ ہوا کہ فریقین سے اس مضمون کے نوشتوں پر دستخط کرائے گئے کہ آئندہ کوئی فریق اپنے کسی مخالف کی نسبت موت وغیرہ دل آزار مضمون کی پیشگوئی نہ کرے۔ کوئی کسی کو کافر اور دجّال اور مفتری اور کذّاب نہ کہے ۔ کوئی کسی کو مباہلہ کے لیے نہ بلاوے اور قادیان کو چھوٹے قاف سے نہ لکھا جاوے اور نہ بٹالہ کو طا کے ساتھ اور ایک دوسرے کے مقابل پر نرم الفاظ استعمال کریں۔ بدگوئی اور گالیوں سے مجتنب رہیں۔ اور ہر ایک فریق حتی الامکان اپنے دوستوں اور مریدوں کو بھی اس ہدایت کا پابند کرے اور یہ طریق نہ صرف باہم مسلمانوں میں بلکہ عیسائیوں سے بھی یہی چاہئیے ۔ لہٰذا میں نہایت تاکید سے اپنے ہر ایک مُرید کو مطلع کرتا ہوں کہ وہ ہدایت مذکورہ بالا کے پابند رہیں اور مولوی محمد حسین اور نہ اس کے گروہ اہل حدیث اور نہ کسی اور سے اس ہدایت کے مخالف معاملہ کریں۔ بہتر تو یہی ہے کہ ان لوگوں سے بکلی قطع کلام اور ترک ملاقات رکھیں۔ ہاں جس میں رُشد اور سعادت دیکھیں اس کو معقول اور نرم الفاظ سے راہِ راست سمجھائیں اور جس میں تیزی اور شرّ کا مادہ دیکھیں اس سے کنارہ کریں ۔ کسی کے دل کو ان الفاظ سے دُکھ نہ دیں کہ یہ کافر ہے یا دجّال ہے یا کذّاب ہے یا مفتری ہے گو وہ مولوی محمد حسین ہو یا اس گروہ میں سے یا اس کے دوستوں میں سے کوئی اور ہو۔ ایسا ہی کسی عیسائی اور کسی دوسرے فرقہ کے ساتھ بھی ایسے الفاظ جو فتنہ کو برپا کر سکتے ہیں استعمال میں نہ لاویں اور نرم فروتنی سے ہر ایک سے برتاؤ کریں۔ اور ہم مولوی محمد حسین صاحب کی خدمت میں بھی عرض کرتے
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 299 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 242 پر درج ہے
حوالہ نمبر 255
٣٠٠
ہیں کہ چونکہ اس نوٹس پر اُن کے بھی دستخط کرائے گئے ہیں بلکہ اسی تحریر کی شرط سے عدالت نے ان پر مقدمہ چلانے سے ان کو معافی دی ہے لہٰذا وہ بھی اسی طور سے اپنے گروہ اہلحدیث امرتسری لاہوری لدھیانوی و بٹالوی اور راولپنڈی کے رہنے والے اور دوسرے اپنے دلی دوستوں کو بذریعہ چھپے ہوئے اعلان کے بوقت اس نوٹس سے اطلاع دیں کہ وہ حسب ہدایت صاحب مجسٹریٹ بہادر ضلع گورداسپور ہمارے فریق مخالف یعنی میری نسبت کافر اور دجال اور مفتری اور کذّاب کہنے سے اور گندی گالیاں دینے سے روکے گئے ہیں اور اس معاہدہ کی پابندی کے لیے نوٹس پر دستخط کر دیئے گئے ہیں کہ وہ آئندہ نہ مجھے کافر کہیں گے نہ دجال نہ کذاب نہ مفتری اور نہ گالیاں دیں گے اور نہ قادیان کو چھوٹے کاف سے لکھیں گے اور ایک حد تک اس بات کے ذمہ دار رہیں گے کہ ان کے دوستوں اور ملاقاتیوں اور گروہ کے لوگوں میں سے کوئی شخص ایسے الفاظ استعمال نہ کرے ۔ سو سمجھا دیں کہ اگر وہ لوگ بھی اس نوٹس کی خلاف ورزی کریں گے تو اس عہد شکنی کے جواب دہ ہوں گے۔
غرض جیسا کہ میں نے اس اعلان کے ذریعہ سے اپنی جماعت کے لوگوں کو متنبہ کر دیا ہے۔ مولوی محمد حسین کی دلی صفائی کا یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ وہ بھی اپنے اہل حدیث اور دوسرے منہ زور لوگوں کو جو اُن کے دوست ہیں بذریعہ اعلان متنبہ کریں کہ اب وہ کافر ، دجال ، کذّاب کہنے سے باز آجائیں اور دلآزار گالیاں نہ دیں ورنہ سلطنت انگریزی جو امن پسند ہے باز نہ آنے کی حالت میں پورا پورا قانون سے کام لے گی ۔ اور ہم تو ایک عرصہ گزر گیا کہ اپنے طور پر یہ عہد شائع بھی کر چکے کہ آئندہ کسی مخالف کے حق میں موت وغیرہ کی پیشگوئی نہیں کریں گے اور اس مقدمہ میں جو ۲۴؍ فروری ۱۸۹۹ء کو فیصلہ ہوا ، ہم نے اپنے ڈیفنس میں جو عدالت میں دیا گیا ثابت کر دیا ہے کہ یہ پیشگوئی کسی شخص کی موت وغیرہ کی نسبت نہیں تھی محض ایسے لوگوں کی غلط فہمی تھی جن کو عربی سے ناواقفیت تھی ۔ سو ہمارا خدا تعالیٰ سے وہی عہد ہے جو ہم اُس مقدمہ سے مدت پہلے کرچکے۔ ہم نے ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۲۹ میں شیخ محمد حسین اور اس کے گروہ سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ سات سال تک اس طور سے ہم سے صلح کرلیں کہ تکفیر اور تکذیب اور بدزبانی سے منہ بند رکھیں اور انتظار کریں کہ ہمارا انجام کیا ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت کسی نے ہماری یہ درخواست قبول نہ کی اور نہ چاہا کہ کافر اور دجال کہنے سے باز آجائیں۔ یہاں تک کہ عدالت کو اب امن قائم رکھنے کے لیے وہی طریق استعمال کرنا پڑا جس کو ہم صلح کاری کے طور سے چاہتے تھے۔
یاد رہے کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے مقدمہ کے فیصلہ کے وقت مجھے یہ بھی کہا تھا کہ وہ گندے الفاظ جو محمد حسین اور اس کے دوستوں نے آپ کی نسبت شائع کئے آپ کو حق تھا کہ عدالت کے ذریعہ سے اپنا انصاف چاہتے اور چارہ جوئی کراتے اور وہ حق اب تک قائم ہے ۔ اس لیے میں شیخ محمد حسین اور
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 300 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 243 پر درج ہے
حوالہ نمبر 256
۳۲۵
کبھی خوف نہیں کرتے تو وہاں یہ لوگ کیا نہ کریں گے لیکن ان لوگوں کو اس امر سے کیا غرض ہے کہ ہم حج نہیں کرتے۔ کیا اگر ہم حج کریں گے تو وہ ہم کو مسلمان سمجھ لیں گے؟ اور ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے؟ اچھا یہ تمام مسلمان علماء اول ایک اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ہم حج کو آویں تو وہ سب کے سب ہمارے ہاتھ پر توبہ کر کے ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہمارے مرید ہو جائیں گے۔ اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرار قطعی کریں تو ہم حج کو آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے اسباب آسانی کے پیدا کر دے گا تاکہ آئندہ مولویوں کا فتنہ دفع ہو۔ ناحق شرارت کے ساتھ اعتراض کرنا اچھا نہیں ہے یہ اعتراض ان کا ہم پر نہیں پڑتا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صرف آخری سال میں حج کیا تھا۔
توکّل
فرمایا ۔
توکل کرنے والے اور خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے۔ جو آدمی صرف اپنی کوششوں میں رہتا ہے اس کو سوائے ذلت کے اور کیا حاصل ہو سکتا ہے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہمیشہ سے سنت اللہ یہی چلی آتی ہے کہ جو لوگ دنیا کو چھوڑتے ہیں وہ اس کو پاتے ہیں اور جو اس کے پیچھے دوڑتے ہیں وہ اس سے محروم رہتے ہیں جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے وہ اگر چند روز مکر و فریب سے کچھ حاصل بھی کر لیں تو وہ لاحاصل ہے کیونکہ آخر اُن کو سخت ناکامی دیکھنی پڑتی ہے۔ اسلام میں عمدہ لوگ وہی گذرے ہیں جنہوں نے دین کے مقابلہ میں دنیا کی کچھ پروا نہ کی ہندوستان میں قطب الدین اور معین الدین خدا کے اولیاء گذرے ہیں۔ ان لوگوں نے پوشیدہ خدا تعالیٰ کی عبادت کی مگر خدا تعالیٰ نے ان کی عزت کو ظاہر کر دیا۔
ملفوظات جلد 9 صفحہ 325 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 243 پر درج ہے
حوالہ نمبر 257 ۶۴
واقعہ ہیں چنانچہ نمبر وار ڈاکٹروں کی ڈیوٹی شروع ہوئی اور میری باری آنے والی تھی۔ مجھے بہت تردد اور فکر ہوا کہ مجھے ہر سال معہ اہل و عیال و سامان وغیرہ کے ضلع میں جانا ایک سخت مصیبت تھی۔ اتفاقاً میں چند روز کی رخصت لے کر قادیان آیا اور حضرت اقدس کی خدمت میں یہ سب ماجرا عرض کیا۔ حضور نے فرمایا۔ آپ فکر نہ کریں شائد آپ کی باری وہاں جانے کی نہ آوے گی۔ گو آپ نے شائد کا لفظ بولا تھا لیکن میرے دل کو اطمینان ہو گیا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ انسپکٹر جنرل کی طرف سے میرے نام ایک حکم آگیا کہ تم اس ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہو۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ خاص حالات کی باتیں ہوتی ہیں۔ اس سے یہ مطلب نہیں سمجھنا چاہئے کہ جو بات بھی انبیاء فرمادیں وہ اسی طرح وقوع میں آجاتی ہے۔ انبیاء عالم الغیب نہیں ہوتے ۔
- (۳۸۵) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت
صاحب شروع دعویٰ مسیحیت میں دہلی تشریف لے گئے تھے اور مولوی نذیر حسین کے ساتھ مباحثہ کی تجویز ہوئی تھی۔ اس وقت شہر میں مخالفت کا سخت شور تھا چنانچہ حضرت صاحب نے افسران پولیس کے ساتھ انتظام کر کے ایک پولیس مین کو اپنی طرف سے تنخواہ دے کر مکان کی ڈیوڑھی پر پہرہ کے لئے مقرر کر لیا تھا۔ یہ پولیس مین پنجابی تھا۔ اسکے علاوہ ویسے بھی مردانہ میں کافی احمدی حضرت صاحب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے ۔
- (۳۸۶) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ
جب میں ۱۸۹۸ء میں پہلی دفعہ قادیان میں آیا تو حضور ان دنوں میں صبح اپنے باغ کی طرف سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ چنانچہ جب حضرت صاحب باغ کی طرف تشریف لے گئے تو میں بھی ساتھ گیا اور حضور نے شہتوت منگوا کر درختوں کے سائے کے نیچے خدام کے ساتھ ملکر کھائے اور پھر مجھے مخاطب فرما کر اپنے دعویٰ کی صداقت میں تقریر فرمائی ۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ کی صداقت کے متعلق تو کوئی شبہ نہیں رہا لیکن اگر بیعت نہ کی جاوے اور آپ پر ایمان رکھا جاوے کہ آپ صادق ہیں تو کیا حرج ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ویسے ایمان سے آپ مجھ سے روحانی فیض حاصل نہیں کر سکتے۔ بیعت سنت انبیاء ہے اور اس سنت میں بہت بڑے فوائد اور برکتیں ہیں چنانچہ سب سے زیادہ فائدہ یہ ہے کہ انسان کے نفسانی درخت کا جو کڑوا پھل اور بد ذائقہ ثمر ہے اسے
سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 64 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 243 پر درج ہے
حوالہ نمبر 258
۲۹۸
مقدمہ سے پہلے شائع کیا ہوا تھا کہ ایک تو مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون ۔ یعنی خدا تعالیٰ اس فریق کے ساتھ ہے جو متقی ہے اور دوسرا الہام یہ تھا کہ عدالت عالیہ سے بری کیا جائیگا ۔ اب دونوں کو ملا کر دیکھو کہ یہ کیسی عظیم الشان صداقت ہے جو پوری ہوئی ۔
- ۹۵۶ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی
عبدالکریم صاحب ایک دفعہ کسی شخص کا ذکر سنانے لگے کہ وہ کسی عورت پر سخت عاشق ہو گیا ۔ اور باوجود ہزار کوشش کے وہ اس عشق کو دل سے نہ نکال سکا ۔ آخر حضرت صاحب کے پاس آیا ۔ اور طالب دُعا ہوا ۔ حضرت صاحب نے مولوی صاحب سے فرمایا کہ مجھے خدا کی طرف سے معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص اس عورت سے ضرور بدکاری کرے گا ۔ مگر میں بھی پورے زور سے اس کے لئے دُعا کرونگا چنانچہ وہ شخص قادیان ٹھہرا رہا ۔ اور حضور دعا کرتے رہے ۔ یہانتک کہ اس نے ایک روز مولوی صاحب سے کہا کہ آج رات خواب میں میں نے اس عورت کو دیکھا اور خواب میں ہی اس سے مباشرت کی اور میں نے اس دوران میں اس کی شرمگاہ کو جہنم کے گڑھے کی طرح دیکھا جس سے مجھے اس سے اس قدر خوف اور نفرت پیدا ہوئی کہ یکدم وہ آتش عشق ٹھنڈی ہو گئی ۔ اور وہ محبت کی بے قراری سب دل سے نکل گئی ۔ بلکہ دل میں دوری پیدا ہو گئی ۔ اور خدا کے فضل اور حضور کی دعا کی برکت سے میں بدکاری سے بھی محفوظ رہا اور وہ جنون بھی جاتا رہا ۔ اور حضور نے جو بات میری بابت کہی تھی وہ ظاہری رنگ سے بدل کر خدا نے خواب میں پوری کرا دی یعنی میں نے اس سے تمتع بھی کر لیا اور ساتھ ہی مجھے گناہ سے بھی بچا لیا ۔ غالباً یہ شخص سیالکوٹ کا رہنے والا تھا اور متمول آدمی تھا ۔ اور اُسنے حضرت صاحب کی بیعت بھی کی تھی ۔ مگر تعلق کو آخر تک نہیں نبھایا ۔
- ۹۵۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود
علیہ السلام نے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے ایک دفعہ ایک کُتا بھی رکھا تھا ۔ وہ دروازے پر بندھا رہتا تھا اور اس کا نام شیرو تھا ۔ اس کی نگرانی بچے کرتے تھے یا میاں نتھو مرحوم کرتے تھے جو گھر کے دربان تھے ۔
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 298 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 244 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 259
۴۶۱
اور بایں ہمہ ان کے مرید لاہور کے کوچہ و بازار میں مشہور کر رہے ہیں کہ پیر صاحب نے سب شرطیں منظور کر لی تھیں۔ اور مرزا ان سے خوف کھا کر بھاگ گیا۔ یہ عجیب زمانہ ہے کہ اس قدر منہ پر جھوٹ بولا جاتا ہے پیر صاحب کا وہ کونسا اشتہار ہے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ میں کوئی زیادہ شرط نہیں کرتا۔ مجھے بالتقابل عربی فصیح میں تفسیر لکھنا منظور ہے اور اسی پر فریقین کے صدق و کذب کا فیصلہ ہو گا اور اس کے ساتھ کوئی شرط زائد نہیں لگائی جائے گی۔ ہاں منہ سے تو کہتے ہیں کہ شرطیں منظور ہیں مگر پھر ساتھ ہی یہ حیلت پیش کر دیتے ہیں کہ پہلے قرآن اور حدیث کے رُو سے مباحثہ ہوگا۔ اور مغلوب ہو گئے تو اسی وقت بیعت کرنی ہوگی ۔ افسوس کہ کوئی صاحب پیر صاحب کی اس چال کو نہیں سوچتے کہ جبکہ مغلوب ہونے کی حالت میں کہ جو صرف مولوی محمد حسین کی قسم سے سمجھی جائیگی میرے لیے بیعت کرنے کا قطعی حکم ہے جس کے بعد میرا عذر نہیں سُنا جائے گا تو پھر تفسیر لکھنے کے لیے کونسا موقع میرے لیے باقی رہا۔ گویا مجھے تو صرف مولوی محمد حسین صاحب کے ان چند کلمات پر بیعت کرنی پڑے گی کہ جو پیر صاحب کے عقائد میں وہی صحیح ہیں۔ گویا پیر صاحب آپ ہی فریق مقدمہ اور آپ ہی منصف بن گئے کیونکہ جبکہ مولوی محمد حسین صاحب کے عقائد حضرت مسیح اور مہدی کے بارے میں بالکل پیر صاحب کے مطابق ہیں تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب اور پیر صاحب گویا ایک ہی شخص ہیں۔ دو نہیں ہیں تو پھر فیصلہ کیا ہوا۔ یہی مشکلات اور انہی وجوہ پر تو میں نے بحث سے کنارہ کر کے یہی طریق فیصلہ نکالا تھا جو اس طرح پر ٹال دیا گیا۔ بہرحال اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ لاہور کے گلی کوچے میں پیر صاحب کے مرید اور ہم مشرب شہرت دے رہے ہیں کہ پیر صاحب تو بالمقابل تفسیر لکھنے کے لیے لاہور میں پہنچ گئے تھے مگر مرزا بھاگ گیا اور نہیں آیا۔ اس لیے پھر عام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ یہ تمام باتیں خلاف واقعہ ہیں بلکہ خود پیر صاحب بھاگ گئے ہیں اور بالمقابل تفسیر لکھنا منظور نہیں کیا اور نہ ان میں یہ مادہ اور نہ خدا کی طرف سے تائید ہے۔ اور میں بہرحال لاہور پہنچ جاتا۔ مگر مَیں نے سُنا ہے کہ اکثر پشاور کے جاہل سرحدّی پیر صاحب کے ساتھ ہیں۔ اور ایسا ہی لاہور کے اکثر سفلہ اور کمینہ طبع لوگ گلی کوچوں میں مستوں کی طرح گالیاں دیتے پھرتے ہیں اور نیز مخالف مولوی بڑے جوشوں سے وعظ کر رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ تو اس صورت میں لاہور میں جانا بغیر کسی احسن انتظام کے کس طرح مناسب ہے۔ ان لوگوں کا جوش اس قدر بڑھ گیا ہے بعض کارڈ گندی گالیوں کے ان لوگوں کی طرف سے مجھے پہنچے ہیں جو چوہڑوں چماروں کی گالیوں سے بھی فحش گوئی میں زیادہ ہیں جو میرے پاس محفوظ ہیں۔ بعض تحریروں میں قتل کی دھمکی دی ہے۔ یہ سب کاغذات حفاظت سے رکھے گئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے اس درجہ کی گندہ دہنی کو ان لوگوں نے استعمال کیا ہے کہ مجھے اُمید نہیں کہ اس قدر گندہ زبانی ابو جہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 461 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 244 پر درج ہے
حوالہ نمبر 260
۴۴۳
اُن کی شکل بڑی با رُعب تھی۔ انہوں نے ریاست کا زمانہ دیکھا ہوا تھا اس لئے بڑے بلند ہمت اور عالی حوصلہ تھے۔ غرض میں نے دیکھا کہ وہ ایک عظیم الشان تخت پر بیٹھے ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ خدا تعالیٰ ہے۔ اس میں سِرّ یہ ہوتا ہے کہ باپ چونکہ شفقت اور رحمت میں بہت بڑا ہوتا ہے اور قرب اور تعلق شدید رکھتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا باپ کی شکل میں نظر آنا اس کی غایتِ شفقت اور شدتِ محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لئے قرآن شریف میں بھی آیا ہے كَاذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اور یہ کہ الہامات میں بھی ہے اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ اَوْلَادِی یہ قرآن شریف کی اسی آیت کے مفہوم اور مصداق پر ہے :
(الحکم جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۷)
۱۰؍اپریل ۱۹۰۲ء
(الحکم جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۷)
۱۱؍اپریل ۱۹۰۲ء
(الحکم جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۷)
۱۹۰۲ء "حضرت اقدس ایک روز فرماتے تھے ہم نے کشف میں دیکھا کہ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن گیا اور انتہائے نظر سے بھی پرے تک بازار نکل گئے۔ اونچی اونچی دو منزلہ یا چومنزلہ یا اس سے بھی زیادہ اونچے اونچے چھجّوں والی دوکانیں عمدہ عمارت کی بنی ہوئی ہیں اور موٹے موٹے سیٹھ ، بڑے بڑے پیٹ والے جن سے بازار کو رونق ہوتی ہے بیٹھے ہیں اور اُن کے آگے جواہرات اور لعل اور موتیوں اور ہیروں، روپوں اور اشرفیوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں اور قسم قسم کی دوکانیں خوبصورت اسباب سے چمک رہی ہیں۔ یکّے ، بگھیاں، ٹمٹم، فٹن، پالکیاں، گھوڑے، بائیسکلیں، پیدل اس قدر بازار میں آتے جاتے ہیں کہ مونڈھے سے مونڈھا بھڑ کر چلتا ہے اور راستہ بمشکل ملتا ہے ۔"
(از مضمون پیر سراج الحق صاحبؒ مندرجہ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۲، ۱۳)
۱۹۰۲ء "دو دفعہ ہم نے رویا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور ہمارے آگے نقدیں دیتے ہیں۔"
(الحکم جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ ۸)
سلہ ترجمہ از مرتب : اس نے عالمِ بقا کی راہ اختیار کر لی ۔
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 343 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 249 پر درج ہے
حوالہ نمبر 261
۶۶۶
کے لئے آنے سے روکا جاتا ۔ راستہ میں کیلے گاڑ دیئے جاتے تاکہ گزرنے والے گریں۔ اُس وقت حضرت مسیح موعودؑ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بتایا مجھے دکھایا گیا ہے کہ (یہ علاقہ اس قدر آباد ہو گا کہ دریائے بیاس تک آبادی پہنچ جائے گی “
(الفضل جلد ۱۰ نمبر ۱۹، مورخہ ۲۸؍ اگست ۱۹۲۲ء صفحہ ۶)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :۔
- (ب) ” مجھے یاد ہے اسی میدان سے جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا ایک رؤیا
سنایا تھا کہ قادیان بیاس تک پھیلا ہوا ہے اور مشرق کی طرف بھی بہت دُور تک اس کی آبادی چلی گئی ہے ۔ اُس وقت یہاں صرف آٹھ دس گھر احمدیوں کے تھے اور وہ بھی بہت تنگی سے رہتے تھے۔ باقی سب بطور مہمان آتے تھے “
(فرمودہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۳۶ء برموقع دعوت ماحوالہ مولانا جلال الدین شمس ۔ الفضل جلد ۱۹ نمبر ۶۵ مورخہ ۵؍ فروری
۱۹۳۲ء صفحہ ۶)
اگست ۱۹۰۱ء
حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ (مقدمہ دیوار میں) ”عدالت نے فیصلہ کیا کہ خرچ کا کچھ حصہ ہمارے چچاؤں پر ڈالا جائے .... جب اس ڈگری کے اجراء کا وقت آیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور میں تھے۔ آپؑ کو عشاء کے قریب رؤیا یا الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ یہ بار اُن پر بہت زیادہ ہے اور اس کی وجہ سے وہ (مخالف رشتہ دار) تکلیف میں ہیں چنانچہ آپؑ نے فرمایا کہ مجھے رات نیند نہیں آئے گی اسی وقت آدمی بھیجا جائے جو جاکر کہہ دے کہ ہم نے یہ خرچہ تمہیں معاف کر دیا ہے “
(خطبہ فرمودہ ۲۳؍ جولائی ۱۹۳۶ء ۔ الفضل جلد ۲۴ نمبر ۲۶ مورخہ ۶؍ اگست ۱۹۳۶ء صفحہ ۸)
۱۶؍ دسمبر ۱۹۰۱ء
منشی فخر الدین صاحب واصل باقی نویس نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کو الہام ہوا ۔
(رجسٹر روایات صحابہؓ جلد ۱۱ صفحہ ۱۶۹ و رجسٹر روایات صحابہؓ جلد ۱۳ صفحہ ۱۵۱)
۲۲؍ دسمبر ۱۹۰۱ء
نور محمد صاحب پنشنر تحصیلدار موضع کھوڑی پورہ ضلع ملتان نے بیان کیا کہ (میں جبکہ) ۲۲؍ دسمبر ۱۹۰۱ء کو دارالامان میں آیا حضرت مسیح موعودؑ کو اُس روز الہام ہوا تھا کہ :۔
؎ ترجمہ از مرتب : وہ اس کی مانند نہیں لاسکیں گے خواہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں ۔
تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 666 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 250 پر درج ہے
حوالہ نمبر 262 ٦٤٦
- ۹۔ (۱) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ نے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔
"حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے جو پہلے کبھی شائع نہیں ہوا کہ:۔ "حق اولاد در اولاد" یعنی اولاد کا حق اس کے اندر موجود ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس جگہ اولاد سے مراد صرف جسمانی اولاد ہو بلکہ ہر احمدی جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قبول کیا وہ آپ کی روحانی اولاد میں شامل ہے۔"
(الفضل لاہور سلسلہ جدید جلد ۱ نمبر ۵۹ مورخہ ۲ نومبر ۱۹۴۵ء صفحہ ۴)
- (ب) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام وفات پاگئے۔ آپ کی وفات کے بعد والدہ مجھے بیت الدعا میں گئیں
اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں والی کاپی مجھے سامنے رکھ دی اور کہا میں سمجھتی ہوں یہی تمہارا سب سے بڑا ورثہ ہے۔ میں نے ان الہامات کو دیکھا تو ان میں ایک الہام آپ کی اولاد کے متعلق درج تھا "حق اولاد در اولاد" …… حق اولاد در اولاد کے معنی درحقیقت یہی تھے کہ وہ حق جو باہر سے تعلق رکھتا ہے یعنی زمینوں اور جائدادوں وغیرہ میں حصہ یہ کوئی زیادہ قیمتی نہیں۔ زیادہ قیمتی یہ چیز ہے کہ میں نے تمہاری اولاد کے دماغوں میں وہ قابلیت رکھ دی ہے کہ جب بھی یہ اس قابلیت سے کام لیں گے دنیا کے لیڈر ہی بنیں گے …… اور یہ وہ ورثہ ہے جو ہم نے تمہاری اولاد کے دماغوں میں مستقل طور پر رکھ دیا ہے۔"
(الفضل جلد ۴۴ نمبر ۲۶۶ مورخہ ۱۲/نومبر ۱۹۵۵ء صفحہ ۳ خطبہ جمعہ فرمودہ ۴/نومبر ۱۹۵۵ء)
- ۱۰۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سورۃ الغاشیۃ آیت ۳، ۴ کا درس دیتے ہوئے
فرمایا کہ:۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔"ابھی کیا ہے۔ ابھی وہ دن آئیں گے جب کہ لوگ کہیں گے کہ لاہور بھی کوئی شہر ہوتا تھا"
(تفسیر اخبار الفضل جلد ۲ نمبر ۶۱ مورخہ ۱۱/اکتوبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۸)
لے لاہور کی تباہی کی پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودہ میں شائع ہوچکی تھی وہ یہ ہے :۔ "لاہور کی نسبت کہا جاتا تھا کہ اس کی سرزمین میں ایسے اشرار ہیں کہ اس میں طاعون کے کیڑے زندہ نہیں رہ سکتے لیکن وہاں بھی طاعون نے آن ڈیرا ڈالا ہے۔ ابھی لوگوں کو معلوم نہیں ہے لیکن سالہا سال کے بعد لوگ دیکھیں گے کہ کیا ہو گا۔ کئی لوگ اور دیہات بالکل تباہ ہو جائیں گے۔ دنیا سے جن کا نام ونشان مٹ جائے گا اور اُن کے آثار تک باقی نہ رہیں گے لیکن یہ حالت کبھی قادیان پر وارد نہ ہوگی"
(الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ ، ۴۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۲)
لیکن لاہور کے متعلق خاص لفظوں میں الہام، یہ نہ تو پہلے شائع ہوا ہے، اور نہ ہی الہامات میں سے پتہ ملتا ہے جو اس پیشگوئی
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 676 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 250 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 263
۴۶۰
عدالت میں لے گئے تو حاکم نے اُسے دیکھتے ہی ۴ یا ۶ یا ۸ ماہ کی قید کا حکم دے دیا :
(البدر جلد ۱ نمبر ۴۸ مورخہ ۲۸؍ نومبر و ۵؍ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۷)
۱۹۰۲ء
"فرمایا کہ مجھے رؤیا ہوتا ہے کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی میرے ننگے پنڈے یعنی کپڑے پہنے ہوئے میرے پاس آیا ہے ۔ اُس سے مجھے سخت بدبُو آتی ہے ۔ میرے پاس آکر کہتا ہے کہ میرے کان کے نیچے طاعون کی گلٹی نکلی ہوئی ہے۔ میں اُسے کہتا ہوں پیچھے ہٹ جا ۔ پیچھے ہٹ جا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ تعبیر مخفی کوئی نہیں ۔"
(البدر جلد ۱ نمبر ۴۶ مورخہ ۲۱؍ نومبر و ۵؍ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۴)
۱۷؍ نومبر ۱۹۰۲ء
"فرمایا۔ رات میں نے خواب میں کچھ بارش ہوتی دیکھی ہے ۔ یونہی ترشح سا ہے اور قطرات پڑ رہے ہیں مگر بڑے آرام اور سکون سے ۔"
(البدر جلد ۱ نمبر ۴۷ مورخہ ۲۸؍ نومبر و ۵؍ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۴۵ ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۱ مورخہ ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۴)
۱۸؍ نومبر ۱۹۰۲ء
"فرمایا کہ نمازِ فجر سے کوئی گھنٹہ پیشتر یا کچھ ہی منٹ پیشتر میں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک زمین خریدی ہے کہ اپنی جماعت کی میتیں وہاں دفن کیا کریں تو کہا گیا کہ اس کا نام مقبرہ بہشتی ہے یعنی جو اس میں دفن ہوگا وہ بہشتی ہوگا۔ پھر اس کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ کشف میں کہ صلیب کے لئے یہ سامان ہوتا ہے کہ کچھ پُرانی انجیلیں وہاں سے نکلی ہیں۔ میں نے تجویز کی کہ کچھ آدمی وہاں جاویں تو وہ انجیلیں لاویں تو ایک کتاب اُن پر لکھی جاوے ۔ پس میر مبارک علی صاحب تیار ہوئے کہ میں جاتا ہوں مگر اس مقبرہ بہشتی میں سے میرے لئے جگہ مل جاوے ۔ میں نے کہا کہ خلیفہ نور الدین کو بھی ساتھ بھیج دو ۔۔۔۔۔۔
فرمایا کہ اس سے پیشتر میں نے تجویز کی تھی کہ ہماری جماعت کی میتوں کے لئے ایک الگ قبرستان یہاں ہو سو خدا نے آج اُس کی تائید کر دی۔ اور انجیل کے معنے بشارت کے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ وہاں سے کوئی بڑی بشارت ظاہر کرے اور جو شخص وہ کام کر کے لائے گا وہ قطعی بہشتی ہے۔"
(البدر جلد ۱ نمبر ۴۷ مورخہ ۲۸؍ نومبر و ۵؍ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۴۵ و
الحکم جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخہ ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۴)
۲۰؍ نومبر ۱۹۰۲ء بروز پنجشنبہ
"چٹھی سے متعلق تھا اور توجہ کرنے سے حضرت اقدسؑ نے رؤیا میں دیکھا کہ کچھ ہے ۔ جے پگٹ لندن کا ایک پادری تھا جس نے دعویٰ کیا کہ وہ مسیح موعود ہے ۔ چند آدمی اُس کے ساتھ ہو گئے ۔ اُس کا ایک ٹائپ شدہ اشتہار مفتی محمد صادق صاحب کے نام آیا تھا مفتی صاحب نے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تب حضور نے
تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 360 طبع چہارم از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 255 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 264)
الاستفتاء ۶۵ ضمیمہ حقیقة الوحی
بات الدين يُعلى ويبتاع ۔ ومثلك دُرّ لا يضاع وكان هذا اوّل ما اُوحِیَ الى هذا الحقير - من القدير النصير - وبشرنى ربّى بانه يظهر لى آيات باهرات - وينصرنى بتائيدات متواترات - ليحق الحق ويبطل الباطل بالحجج القاهرة - والمعجزات الباهرة - ثم بعد ذلك دعوت القسيسين من النصارى والمتنصّرين وغيرهم من البراهمة والمشركين - وقلت جئت بالحق بآيات الله ونصرته ليظهر من ينصر من الله ومن يكون محلّ لعنته ۔ فما بارزوا لهذا النضال كالكمأة - واختفوا فى الوكنات - ووالله لو بارزوا لما رمى ربي الّا صائبا ۔ وما رجع احد منهم الّا خاسرًا وخائبًا ۔ ووالله ان فتشت لرئيت الاسلام كنز الآيات ومدينتها وتجد فيه نورًا يحب لكل نفس سكينتها فياحسرة على قوم يكفرون بدلائله ولا يتوجهون الى خزائنه - ويحسبون الاسلام كالعظام الرميمة - لا يعلمون من النعم العظيمة - اولئك قوم لا يؤمنون بان يكلّم الله احدًا بعد ۵۴
ه الى يوم الدين ۔ وما كان هذه الاحزاب المكذبين يحسبوننى ۱ من اهل جهنم وان كنت ۱( فى شك فاسئل المفتين ومن عجائب عالم البرزخ ان بعض الناس بعد موتهم يقربون الى روضة النبى التى تحتها الجنة وبعضهم يبعدون منها فاخبرنى رسولى انى من ۲( المقربين وهذا ردّ على من قال انه من جهنميين - وهذا الدفن ۲ الذى يكمله الله على ظهر بقعة الارض حقيقة امر لا يوجد فى كتاب الله وقول رسوله اثره واتفق عليه طائفة قوم روحانيين - وكذلك قالوا ان جماعة هذا الرجل قوم كافرون ۳( لا من المؤمنين ۳ - فلا تدفنوا موتاهم فى مقابر المسلمين - فانهم شرّ الكافرين فاوحى الى ربى واشار الى ارض وقال انها ارض تحتها الجنة فمن دفن فيها ۴( دخل الجنة وانه من الآمنين ۴ - فلولا اقوال الاعداء ما كان وجود هذه الآلاء فهيج غضبهم رحمة الله فالحمد لله ربّ العالمين - منه
حقیقة الوحی ضمیمہ الاستفتاء صفحہ 51 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 675 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 255 پر درج ہے
حوالہ نمبر 265
۵۹۹
- (۳) لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا ١؎
(بدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخہ ۲۸؍ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۱ مورخہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۲)
۲۸؍ مارچ ۱۹۰۶ء
- (۱) میرا دشمن ہلاک ہو گیا۔ بَيْنِ اُمَرَاءِ مَکَّه خدا نال جا پڑا اے۔
یعنی عنقریب میرا دشمن ہلاک ہو جائے گا اور پھر اس کا خدا سے معاملہ پڑے گا۔
- (۲) میرے دشمن ہلاک ہو گئے۔
یعنی آئندہ و عنقریب ہلاک ہوں گے۔
- (۳) اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الْاَبْرَارِ ٢؎
- (۴) کوئی درباری میرے حلقۂ اطاعت سے گزرنے نہ پاوے۔ کوئی درباری اس جُرم پر سزا
سے محفوظ نہیں رہے گا۔ یعنی جو شخص خدا سے تعلق رکھنے والا ہے اس کا تعلق قائم نہیں رہ سکتا جب تک وہ مجھے قبول نہ کرے اور جو شخص اس حکم سے لاپروا ہے وہ سزا سے محفوظ نہیں رہے گا۔
- (۵) سلطان عبدالقادر
اس الہام میں میرا نام سلطان عبدالقادر رکھا گیا۔ کیونکہ جس طرح سلطان دوسروں پر حکمران اور افسر ہوتا ہے۔ اسی طرح مجھ کو تمام روحانی درباریوں پر افسری عطا کی گئی ہے یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے ہیں ان کا تعلق نہیں رہے گا جب تک وہ میری اطاعت نہ کریں اور میری اطاعت کا جُوا اپنی گردن پر نہ اُٹھائیں ۔ یہ اسی قسم کا فقرہ ہے جیسا کہ یہ فقرہ کہ قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَةِ كُلِّ وَلِيِّ اللّٰهِ ۔ یہ فقرہ سَیِّد عبدالقادر رضی اللہ عنہ کا ہے جس کے معنے ہیں کہ ہر ایک ولی کی گردن پر میرا قدم ہے۔
- (۶) اُحِلَّ لَهُ الطَّيِّبَاتُ۔ قُلْ مَا فَعَلْتُ اِلَّا مَا اَمَرَنِیَ اللّٰهُ۔
(تشریح) اس سلطان عبدالقادر کے لئے وہ تمام چیزیں حلال کی گئیں جو پاک ہیں۔ کہ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جو خدا کے حکم کے برخلاف ہو بلکہ وہی کیا جو خدا نے مجھے فرمایا۔
- (۷) پھر بعد اس کے کشفی رنگ میں وہ مقبرہ مجھے دکھلایا گیا جس کا نام خدا نے بہشتی مقبرہ رکھا ہے اور
١؎ (ترجمہ) (۳) بے شک تجھے اللہ نے ہم پر ترجیح دی۔ ٢؎ (ترجمہ) خدا نیکوں کے ساتھ ہے۔
یہ حوالہ صفحہ 256 پر درج ہے تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 599، 600 طبع چہارم از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 265
٦٠٠
پھر الہام ہوا :۔
كُلُّ مَقَابِرِ الْأَرْضِ لَا تُقَابِلُ هٰذِهِ الْأَرْضَ
یعنی زمین ہند کے تمام قبرستان اس زمین سے مقابلہ نہیں کر سکتے یعنی اس زمین کو جو برکتیں دی گئیں وہ برکتیں تمام پنجاب اور ہندوستان میں کسی اور قبرستان کو نہیں دی گئیں۔
- (۸) پھر میں نے دیکھا کہ ایک راہ پر چل رہا ہوں اور میرے ساتھ میرا لڑکا مبارک احمد اور اُس کی والدہ ہے اور مجھے
خیال گزرتا ہے کہ میرزا غلام قادر مرحوم بھی (جو میرے بھائی ہیں) میرے ساتھ ہیں اور راہ میں اس قدر بھونڈیں یعنی خاکی کُہر کی طرح زمین پر پھیل رہے ہیں اور ایک میری ناک کے اندر بیٹھ گیا ہے اور پھر اُڑ گیا مگر کسی نے ضرر نہیں پہنچایا اور پھر ہم سب ایک مسجد میں داخل ہو گئے ہیں اور مسجد میں بھی بھونڈ اُڑ رہے ہیں مگر ہم ان کی شر سے محفوظ رہے ہیں ۔
(بدر جلد ۶ نمبر ۱۴ مورخہ ۴۔ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۳۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱۔ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱)
۲۹؍ مارچ ۱۹۰۷ء
- "(۱) اے اَزلی اَبدی خدا ! مجھے زندگی کا شربت پلا۔
- (۲) اَحَقَّ اللّٰهُ اَشْيَائِی وَلَا تَنْفَكُّ مِنْ هٰذِهِ الْمَرْحَلَةِ لے
- (۳) وفاتِ اعداء بطریق پلیگ شہ بہشتی کمرہ میں نزول ہوگا۔
- (۴) هَلْ تَرٰی جَزَاءَ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ تے "
(بدر جلد ۶ نمبر ۱۴ مورخہ ۴۔ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱۔ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱)
۲۹؍ مارچ ۱۹۰۷ء
" لَوْلَا الْاِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمَقَامُ " ثے
لے (ترجمہ) خدا نے میری بات کو سچا کر دیا اور تم دونوں اس مرحلہ سے نہیں چھوٹو گے۔
شہ نوٹ از مرتب : الحمدللہ یہ پیشگوئی بفضلہٖ قادیان کے خونی درندے گنڈہ سنگھ اور بھگوان داس کے طاعون سے ہلاک ہونے سے پوری ہوگئی۔ یہ دونوں اشخاص یعنی گنڈہ سنگھ اور بھگوان داس قادیان کے آریوں کے لیڈر تھے اور قادیان میں رہ کر نہایت ناپاکی کے ساتھ سلسلۂ حقہ کے برخلاف بولتے اور لکھتے رہتے تھے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب ۔ (دیکھیے بدر ۱۱۔ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۵)
تے (ترجمہ) نہیں دیکھتے ہم احسان کی جزا بجز احسان کے۔
ثے (ترجمہ) اگر تیری عزت ہمیں منظور نہ ہوتی تو یہ مقام تباہ ہو جاتا۔
نوٹ از مرتب : بدر جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخہ ۱۱ اپریل ۱۹۰۷ء پر جو الہام دوبارہ چھپا ہے اس میں یہ الفاظ ہیں :۔
" لَوْلَا الْاِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمَقَامُ يا لَوْلَا خَيْرُ الْاَنَامِ لَهَلَكَ الْمَقَامُ "
(ترجمہ) اگر تمام مخلوق سے بہتر شخص نہ ہوتا تو یہ مقام تباہ ہو جاتا۔
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 599، 600 طبع چہارم از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 256 پر درج ہے
حوالہ نمبر 266
ضمیمہ ۳۲۷ رسالۃ الوصیت
یا دُنیا پرستی یا قصور اطاعت کا اس کے اندر نہ ہو تو وہ میری اجازت سے یا میرے بعد انجمن کی اتفاق رائے سے اس مقبرہ میں دفن ہو سکتا ہے ۔
- ۱۹ ۔ اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی خاص وحی سے روکا جائے تو گو وہ وصیتی مال بھی
پیش کرے تاہم اس قبرستان میں داخل نہیں ہوگا۔
- ۲۰ ۔ میری نسبت اور میرے اہل وعیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے ۔ باقی ہر ایک
مرد ہو یا عورت اُن کو شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔
یہ شرائط ضروریہ ہیں جو اوپر لکھی گئیں۔ آئندہ اس مقبرہ بہشتی میں وہ دفن کیا جائیگا جو ان شرائط کو پورا کرے گا ۔ ممکن ہے کہ بعض آدمی جن پر بدگمانی کا مادہ غالب ہو ۔ وہ اس کارروائی میں ہمیں معترضوں کا نشانہ بناویں اور اس انتظام کو اغراض نفسانیہ پر مبنی سمجھیں یا اس کو بدعت قرار دیں ۔ لیکن یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کے کام میں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ بلاشبہ اُس نے ارادہ کیا ہے کہ اس انتظام سے منافق اور مومن میں تمیز کرے اور ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ جو لوگ اس الٰہی انتظام پر اطلاع پا کر بلا توقف اس فکر میں پڑتے ہیں کہ وصیت حصہ ثلث جائیداد کا خدا کی راہ میں دیں بلکہ اس سے زیادہ اپنا جوش دکھاتے ہیں وہ اپنی ایمانداری پر مہر لگا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔ الٓمٓ ۔ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْا اَنْ یَّقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ؎١ کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں اِسی قدر پر راضی ہو جاؤں کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے ۔ اور ابھی ان کا امتحان نہ کیا جائے ؟ اور یہ امتحان تو کچھ بھی چیز نہیں ۔ صحابہؓ کا امتحان جانوں کے مطالبہ پر کیا گیا ۔ اور انہوں نے اپنے سر خدا کی راہ میں دیئے۔ پھر ایسا گمان کہ کیوں یونہی عام اجازت ہر ایک کو نہ دی جائے کہ وہ اس قبرستان میں دفن کیا جائے کس قدر بُعد از حقیقت ہے ۔ اگر یہی روا ہو تو خدا تعالیٰ نے ہر ایک زمانہ میں امتحان کی کیوں بنیاد ڈالی ؟ وہ ہر ایک زمانہ میں چاہتا ہے کہ خبیث اور طیّب
۲۹
؎١ العنکبوت : ۲ ۔ ۳
الوصیت صفحہ 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 327 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 256 پر درج ہے
حوالہ نمبر 267 انوار العلوم جلد ۵ 144 منہاج الطالبین
کے کپڑے پھاڑ ڈالوں۔ بے شک ہماری جماعت پر بہت بوجھ ہے اور وہ بہت کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرتی ہے۔ مگر جماعت نے ہی سارا بوجھ اُٹھانا ہے غیروں سے تو ہم نے کچھ لینا نہیں۔ میں نے ابھی کہا ہے کہ ہماری جماعت نے بہت بوجھ اٹھایا ہوا ہے لیکن جماعت کی مجموعی حالت کو دیکھ کر میں کہہ سکتا ہوں کہ ہماری جماعت نے ابھی اتنی مالی قربانی نہیں کی جتنی پہلی جماعتیں قربانی کرتی رہی ہیں۔ میں نے روم میں وہ مقام دیکھا ہے جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والے اپنے دشمنوں کی سختیوں اور ظلموں سے بچنے کے لئے رہے۔ بیس میل کے قریب وہ مقام لمبا ہے۔ وہاں عیسائی اپنے گھر بار مال و اموال چھوڑ کر چلے گئے تھے اور وہ فاقے پر فاقے اُٹھاتے تھے۔ سورہ کہف میں ان کا نام اصحاب کہف والرقیم رکھا گیا ہے۔ ہم چند گھنٹے کے لئے وہاں گئے۔ مگر کئی دوست وہاں ٹھہرنا برداشت نہ کر سکے حالانکہ وہ لوگ وہاں کئی سال تک دقیانوس ۷۳ کے وقت رہے۔ وہ نہایت تنگ و تاریک گیلی مٹی کے غار ہیں سرکاری فوجوں نے ان میں سے جن کو وہاں مارا ان کی قبریں بھی وہیں بنی ہوئی ہیں اور اُن پر کتبے لگے ہیں کہ یہ فلاں وقت مارا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے خدا کے لئے سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور ایسی ایسی تکلیفیں برداشت کی تھیں جن کا خیال کر کے اب بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت مسیح ناصری علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بڑے تھے۔ پھر آپ لوگوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری قربانیاں بھی حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے والوں سے بڑی ہوں۔ مگر کیا اس وقت تک کی ہماری قربانیاں ایسی ہیں؟ دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ نے فرمایا ہے۔ جو وصیت نہیں کرتا وہ منافق ہے ۷۴ اور وصیت کا کم از کم چندہ 1/10 حصہ مال کا رکھا ہے ۷۵ جس میں عام چندہ جو وقتاً فوقتاً کرنا پڑے شامل نہیں۔ مگر ہماری جماعت اس وقت اپنی آمد کا 1/16 حصہ چندہ میں دیتی ہے اور بعض یہ بھی نہیں دیتے بلکہ اس سے کم شرح سے دیتے ہیں اور بعض بالکل ہی نہیں دیتے مگر باوجود اس کے کہا جاتا ہے ہم پر بڑا بوجھ پڑا ہوا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو کام کرنے کا ہم نے تہیہ کیا ہے وہ کتنا بڑا ہے۔ اب جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر بڑا بوجھ پڑ گیا اُن کی حالت اُس شخص کی سی ہے جو ہاتھی اُٹھانے کے لئے جائے اور جب اُٹھانے لگے تو کہے یہ تو بڑا بوجھ ہے یا اُس شخص کی سی ہے جو اپنے ہاتھ میں آگ کا انگارا پکڑنا چاہے اور پکڑ کے کہے اس سے تو ہاتھ جلتا ہے۔ پس جو قوم یہ کہتی ہے کہ وہ دنیا کو اس طرح اُڑا دینے کی کوشش کر رہی ہے جس طرح ڈائنامیٹ پہاڑ کو اُڑا دیتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ڈائنامیٹ کی طرح پھٹ کر اپنے آپ کو تباہ کر
منہاج الطالبین صفحہ 16 مندرجہ انوار العلوم جلد 9 صفحہ 166 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 256 پر درج ہے
حوالہ نمبر 268
رسالہ الوصیت ۲۱۶
مجھے میری وفات کی اطلاع دی ہے اور مجھے مخاطب کر کے میری زندگی کی نسبت فرمایا کہ ” بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں “ اور فرمایا کہ ” تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئیگا “ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضرور ہے کہ میری وفات سے پہلے دنیا پر کچھ حوادث پڑیں اور کچھ عجائبات قدرت ظاہر ہوں تا دنیا ایک انقلاب کے لئے تیار ہو جائے اور اس انقلاب کے بعد میری وفات ہو ۔
اور مجھے ایک جگہ دکھلائی گئی کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہوگی ۔ ایک فرشتہ میں نے دیکھا کہ وہ زمین کو ناپ رہا ہے ۔ تب ایک مقام پر اس نے پہنچکر مجھے کہا کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہے پھر ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی ۔ تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے ۔ اور ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا ۔ اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں ۔ تب سے ہمیشہ مجھے یہ فکر رہی کہ جماعت کے لئے ایک قطعہ زمین قبرستان کی غرض سے خریدا جائے لیکن چونکہ موقعہ کی عمدہ زمینیں بہت قیمت سے ملتی تھیں اس لئے یہ غرض مدت دراز تک معرض التواء میں رہی ۔ اب اخویم مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی وفات کے بعد جبکہ میری وفات کی نسبت بھی متواتر وحی الٰہی ہوئی میں نے مناسب سمجھا کہ قبرستان کا جلدی انتظام کیا جائے ۔ اس لئے میں نے اپنی ملکیت کی زمین جو ہمارے باغ کے قریب ہے جس کی قیمت ہزار روپیہ سے کم نہیں اس کام کے لئے تجویز کی ۔ اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اس کو بہشتی مقبرہ بنا دے اور یہ اس جماعت کے پاک دل لوگوں کی خوابگاہ ہو جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کر لیا اور دنیا کی محبت چھوڑ دی ۔ اور خدا کے لئے ہو گئے اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا ۔ اٰمِيْن يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ ۔
پھر میں دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر خدا اس زمین کو میری جماعت میں سے ان پاک دلوں
١٤
الوصیت صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 316 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 258 پر درج ہے
حوالہ نمبر 269
ضمیمہ ۳۲۳ رسالہ الوصیت
ضمیمہ متعلقہ رسالہ الوصیۃ
رسالۃ الوصیۃ کے متعلق چند ضروری امر قابل اشاعت ہیں جو ذیل میں لکھے جاتے ہیں :-
- ۱ - اول یہ کہ جب تک انجمن کار پرداز مصالح قبرستان اس امر کو شائع نہ کرے
کہ قبرستان باعتبار لوازم ضروری کے من کل الوجوہ تیار ہو گیا ہے اُس وقت تک جائز نہ ہوگا کہ اُس کی میت جس نے رسالۃ الوصیۃ کے شرائط کی پابندی کی ہے قبرستان میں دفن کرنے کے لئے لائی جائے بلکہ کفن وغیرہ لوازم ضروریہ کا پہلے تیار ہو جانا ضروری ہوگا۔ اور اس وقت تک میت ایک صندوق میں امانت کے طور پر کسی اور قبرستان میں رکھی جائیگی۔
- ۲ - ہر ایک صاحب جو شرائط رسالۃ الوصیۃ کی پابندی کا اقرار کریں ضروری
ہوگا کہ وہ ایسا اقرار کم سے کم دو گواہوں کی ثبت شہادت کے ساتھ اپنے کمال ہوش و حواس میں انجمن کے حوالہ کریں اور تصریح سے لکھیں کہ وہ اپنی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کا دسواں حصہ اشاعت اغراضِ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئے بطور وصیت یا وقف دیتے ہیں۔ اور ضروری ہو گا کہ وہ کم سے کم دو اخباروں میں اسکو شائع کرادیں۔
- ۳ - انجمن کا یہ فرض ہوگا کہ قانونی اور شرعی طور پر وصیت کردہ مضمون کی
نسبت اپنی پوری تسلی کر کے وصیت کنندہ کو ایک سرٹیفیکیٹ اپنے دستخط اور مہر کے ساتھ دے دے۔ اور بموجب قواعد محررہ بالا کی رُو سے کوئی میت اس قبرستان میں
منہ رسالہ الوصیت طبع شدہ از صفحہ ۲۴ تا ۲۵
یہ حوالہ صفحہ 259 پر درج ہے رسالہ الوصیت صفحہ 25 تا 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 323 تا 327 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 269)
ضمیمہ ۳۲۴ رسالہ الوصیت
لائی جائے تو ضروری ہوگا کہ وہ سرٹیفکیٹ انجمن کو دکھایا جائے اور انجمن کی ہدایت اور موقعہ نمائی سے وہ میت اس موقعہ میں دفن کی جائے جو انجمن نے اُس کے لئے تجویز کیا ہے ۔
- ۴۔ اس قبرستان میں بجز کسی خاص صورت کے جو انجمن تجویز کرے ، نابالغ بچے دفن نہیں
ہونگے کیونکہ وہ بہشتی ہیں ۔ اور نہ اس قبرستان میں اس میت کا کوئی دوسرا عزیز دفن ہوگا جب تک وہ اپنے طور پر کل شرائط رسالہ الوصیت کو پورا نہ کرے ۔
- ۵ ۔ ہر ایک میت جو قادیان کی زمین میں فوت نہیں ہوئی اُن کو بجز صندوق قادیان میں
لانا جائز ہوگا۔ اور نیز ضروری ہوگا کہ کم سے کم ایک ماہ پہلے اطلاع دیں تاکہ اگر انجمن کو مقامی موانع قبرستان کے متعلق پیش آگئے ہوں تو ان کو دُور کر کے اجازت دے ۔
- ۶ ۔ اگر کوئی صاحب خدانخواستہ طاعون کی مرض سے فوت ہوں جنہوں نے رسالہ
الوصیۃ کے تمام شرائط پورے کر دیئے ہوں اُن کی نسبت یہ ضروری حکم ہے کہ وہ دو برس تک صندوق میں رکھ کر کسی علیحدہ مکان میں امانت کے طور پر دفن کئے جائیں ۔ اور دو برس کے بعد ایسے موسم میں لائے جائیں کہ اُن کے فوت ہونے کے مقام اور قادیان میں طاعون نہ ہو ۔
- ۷ ۔ یاد رہے کہ صرف یہ کافی نہ ہوگا کہ جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کا دسواں حصہ دیا
جاوے بلکہ ضروری ہوگا کہ ایسا وصیت کرنے والا جہاں تک اس کے لئے ممکن ہے پابند احکامِ اسلام ہو اور تقویٰ اور طہارت کے امور میں کوشش کرنے والا ہو اور مسلمان خدا کو ایک جاننے والا اور اس کے رسول پر سچا ایمان لانے والا ہو ۔ اور نیز حقوق عباد غصب کرنے والا نہ ہو ۔
- ۸ ۔ اگر کوئی صاحب دسواں حصہ جائیداد کی وصیت کریں اور اتفاقاً اُن کی موت ایسی
ہو کہ مثلاً کسی دریا میں غرق ہو کر ان کا انتقال ہو یا کسی اور ملک میں وفات پاویں جہاں سے میت کو لانا متعذّر ہو تو ان کی وصیت قائم رہے گی اور خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہوگا
۲۶
رسالہ الوصیت صفحہ 25 تا 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 323 تا 327 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 259 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 269)
ضمیمہ ۲۲۵ رسالہ الوصیت
کہ گویا وہ اسی قبرستان میں دفن ہوئے ہیں۔ اور جائز ہو گا کہ اُن کی یادگار میں اسی قبرستان میں ایک کتبہ اینٹ یا پتھر پر لکھ کر نصب کیا جائے اور اس پر واقعات لکھے جائیں۔
۹ ۔ انجمن جس کے ہاتھ میں ایسا روپیہ ہوگا۔ اس کو اختیار نہیں ہو گا کہ بجز اغراض سلسلہ احمدیہ کے کسی اور جگہ وہ روپیہ خرچ کرے اور ان اغراض میں سے سب سے مقدم اشاعتِ اسلام ہو گی۔ اور جائز ہو گا کہ انجمن باتفاق رائے اس روپیہ کو تجارت کے ذریعہ سے ترقی دے۔
۱۰۔ انجمن کے تمام ممبر ایسے ہونگے جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوں اور پارسا طبع اور دیانت دار ہوں۔ اور اگر آئندہ کسی کی نسبت یہ محسوس ہو گا کہ وہ پارسا طبع نہیں ہے یا یہ کہ وہ دیانت دار نہیں یا یہ کہ وہ ایک چال باز ہے اور دنیا کی طمع بھی اپنے اندر رکھتا ہے تو انجمن کا فرض ہو گا کہ بلا توقف ایسے شخص کو اپنی انجمن سے خارج کرے اور اس کی جگہ اور مقرر کرے۔
۱۱۔ اگر وصیتی مال کے متعلق کوئی جھگڑا پیش آوے تو اس جھگڑے کی پیروی میں جو اخراجات ہوں وہ تمام وصیتی مالوں میں سے دیئے جائیں گے۔
۱۲۔ اگر کوئی شخص وصیت کر کے پھر کسی اپنے ضعفِ ایمان کی وجہ سے اپنی وصیت سے منکر ہو جائے یا اس سلسلہ سے روگرداں ہو جائے تو گو انجمن نے قانونی طور پر اس کے مال پر قبضہ کر لیا ہو پھر بھی جائز نہ ہو گا کہ وہ مال اپنے قبضہ میں رکھے بلکہ وہ تمام مال واپس کرنا ہوگا۔ کیونکہ خدا کسی کے مال کا محتاج نہیں اور خدا کے نزدیک ایسا مال مکروہ اور رَدّ کرنے کے لائق ہے۔
۱۳۔ چونکہ انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے اس لئے انجمن کو دنیا داری کے رنگوں سے بکلی پاک رہنا ہو گا اور اس کے تمام معاملات نہایت صاف اور انصاف پر مبنی ہونے چاہئیں۔
۲۷
رسالہ الوصیت صفحہ 25 تا 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 323 تا 327 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 259 پر درج ہے
حوالہ نمبر 269
ضمیمہ ۳۲۶ رسالہ الوصیت
- ۱۴ - جائز ہوگا کہ اس انجمن کی تائید اور نصرت کے لئے دُور دراز ملکوں میں
نو انجمنیں ہوں جو اس کی ہدایت کے تابع ہوں ۔ اور جائز ہوگا کہ اگر وہ ایسے ملک میں ہوں کہ وہاں سے میت کو لانا متعذّر ہے تو اُسی جگہ میت کو دفن کر دیں ۔ مگر ثواب کے حصہ پانے کی غرض سے ایسا شخص قبل از وفات اپنے مال کے دسویں حصّہ کی وصیّت کرے اور اس وصیّتی مال پر قبضہ کرنا اس انجمن کا کام ہو گا جو اس ملک میں ہے ۔ اور بہتر ہو گا کہ وہ روپیہ اسی ملک کی اغراضِ دینیہ کے لئے خرچ ہو اور جائز ہوگا کہ کوئی ضرورت محسوس کر کے وہ روپیہ اس انجمن کو دیا جائے جس کا ہیڈکوارٹر یعنی مرکز مقامی قادیان ہو گا ۔
- ۱۵ - یہ ضروری ہوگا کہ مقام اس انجمن کا ہمیشہ قادیان رہے ۔ کیونکہ خدا نے
اس مقام کو برکت دی ہے۔ اور جائز ہو گا کہ وہ آئندہ ضرورتیں محسوس کر کے اس کام کے لئے کوئی کافی مکان تیار کریں۔
- ۱۶ - انجمن میں کم سے کم ہمیشہ ایسے دو ممبر رہنے چاہئیں جو مُسلّم قرآن اور
حدیث سے بخوبی واقف ہوں اور تحصیلِ علمِ عربی رکھتے ہوں ۔ اور سلسلہ احمدیہ کی کتابوں کو یاد رکھتے ہوں ۔
- ۱۷ - اگر خدانخواستہ کوئی ایسا شخص جو رسالہ الوصیت کی رُو سے وصیت
کرتا ہے مجذوم ہو ۔ جس کی جسمانی حالت اس لائق نہ ہو جو وہ اس قبرستان میں لایا جائے تو ایسا شخص حسب مصالح ظاہرہ مناسب نہیں ہے کہ اس قبرستان میں لایا جائے۔ لیکن اگر اپنی وصیت پر قائم ہو گا تو اس کو وہی درجہ ملے گا جیسا کہ دفن ہونے والے کو ۔
- ۱۸ - اگر کوئی کچھ بھی جائیداد منقولہ یا غیر منقولہ نہ رکھتا ہو اور بایں ہمہ ثابت
ہو کہ وہ ایک صالح درویش ہے اور متقی اور خالص مومن ہے ۔ اور کوئی حصہ نفاق
۲۸
رسالہ الوصیت صفحہ 25 تا 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 323 تا 327 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 259 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 269)
ضمیمہ ۳۲۷ رسالہ الوصیت
یا دُنیا پرستی یا قصور اطاعت کا اس کے اندر نہ ہو تو وہ میری اجازت سے یا میرے بعد انجمن کی متفق رائے سے اس مقبرہ میں دفن ہو سکتا ہے۔
- ۱۹۔ اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی خاص وحی سے روکا جائے تو گو وہ بسیوں مال بھی
پیش کرے تاہم اس قبرستان میں داخل نہیں ہوگا۔
- ۲۰۔ میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔ باقی ہر ایک
مرد ہو یا عورت ان کو شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔
یہ شرائط ضروریہ ہیں جو اوپر لکھی گئیں۔ آئندہ اس مقبرہ بہشتی میں وہ دفن کیا جائیگا جو ان شرائط کو پورا کرے گا۔ ممکن ہے کہ بعض آدمی جن پر بدگمانی کا مادہ غالب ہو۔ وہ اس کارروائی میں ہمیں اعتراضوں کا نشانہ بناویں اور اس انتظام کو اغراض نفسانیہ پر مبنی سمجھیں یا اس کو بدعت قرار دیں۔ لیکن یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کے کام میں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ بلاشبہ اُس نے ارادہ کیا ہے کہ اس انتظام سے منافق اور مومن میں تمیز کرے اور ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ جو لوگ اس الٰہی انتظام پر اطلاع پا کر بلا توقف اس فکر میں پڑتے ہیں کہ دسواں حصّہ کُل جائیداد کا خدا کی راہ میں دیں بلکہ اس سے زیادہ اپنا جوش دکھاتے ہیں وہ اپنی ایمانداری پر مہر لگا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ الٓمٓ ۔ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْا اَنْ يَّقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں اِسی قدر پر راضی ہو جاؤں کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے۔ اور ابھی ان کا امتحان نہ کیا جائے ۔ اور یہ امتحان تو کچھ بھی چیز نہیں۔ صحابہؓ کا امتحان جانوں کے مطالبہ پر کیا گیا۔ اور انہوں نے اپنے سر خدا کی راہ میں دیئے۔ پھر ایسا گمان کہ کیوں یونہی عام اجازت ہر ایک کو نہ دی جائے کہ وہ اس قبرستان میں دفن کیا جائے کس قدر بُعد از حقیقت ہے۔ اگر یہی روا ہو تو خدا تعالیٰ نے ہر ایک زمانہ میں امتحان کی کیوں بنیاد ڈالی ؟ وہ ہر ایک زمانہ میں چاہتا رہا کہ خبیث اور طیّب
۲۹
له العنکبوت : ۲-۳
رسالہ الوصیت صفحہ 25 تا 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 323 تا 327 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 259 پر درج ہے
حوالہ نمبر 270 اربعین نمبر ۴ ۳۶۱
۱۳ بقیہ ترجمہ یہ ہے:۔ اور تم ایک گڑھے کے کنارہ پر تھے خدا نے تمہیں اس سے نجات دی اور یہ ابتدا سے مقدر تھا ۔ خدا کی باتوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا اور وہ ہنسی کرنیوالوں کے لئے کافی ہوگا۔ یہ تمام کا رو بار خدا کی رحمت سے ہے۔ وہ اپنی نعمت تیرے پر پوری کرے گا تا کہ لوگوں کے لئے نشان ہو ۔ انکو کہہ دے کہ اگر خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔ اور ان کو کہہ دے کہ میرے پاس میری سچائی پر خدا کی گواہی ہے پس کیا تم خدا کی گواہی قبول کرتے ہو یا نہیں۔ اور ان کو کہہ دے کہ تم اپنی جگہ پر کام کرو اور میں اپنی جگہ پر کرتا ہوں پھر تمہیں معلوم ہو جائیگا کہ خدا کس کے ساتھ ہے۔ خدا نے تجلی فرمائی ہے کہ تا تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم نے مُنہ پھیر لیا تو وہ بھی مُنہ پھیرے گا اور سچائی کے مخالف ہمیشہ کے زندان میں رہینگے۔ تجھ کو یہ لوگ ڈراتے ہیں۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔ خدا عرش پر سے تیری تعریف کر رہا ہے۔ ہم تیری یقیناً نصرت کرتے اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں ۔ مگر خدا اس نور کو نہیں چھوڑے گا جب تک پورا نہ کرلے اگرچہ
بقیہ حاشیہ شاگرد یا مرید نہ ہو۔ اور خدا کی ایک خاص تجلی تعلیم لدنی کے نیچے دائمی طور پر نشوونما پاتا ہو جو سدرۃ المنتہیٰ کے ہر ایک تمثل سے بڑھ کر ہے۔ اور ایسی تعلیم پانا صفت محمدی ہے۔ اور اسی کی طرف آیت عَلَّمَهُ شَدِيْدُ الْقُوٰی کی اشارہ ہے اور اس فیض کے دائمی اور غیر منقطع ہونے کی طرف آیت مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَیٰ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰی کی اشارہ ہے اور مسیح کے مفہوم میں یہ معنے ماخوذ ہیں جو دائمی طور پر وہ روح القدس کے شعاعِ جمال ہو جو شدید القویٰ کے درجہ سے کمتر ہے کیونکہ روح القدس کی تاثیر یہ ہے کہ وہ اپنی منزلِ علیہ میں ہو کر انسانوں کو راستہ کا علم دیتا ہے مگر شدید القویٰ راستہ کا اعلیٰ رنگ منزلِ علیہ میں ہو کر انسانوں کے دلوں میں چڑھاتا ہے۔ منہ
لہ النجم : ۶ کہ النجم : ۳ ، ۴
اربعین نمبر 2 صفحہ 19 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 361 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 267 پر درج ہے
حوالہ نمبر 271,270
اربعین نمبر ۲
۳۶۰
کہ ظاہر ہونے والا آدم کی طرح ظاہر ہو جس کا استاد اور مرشد صرف خدا ہو ۔ اور اسی کو دوسرے لفظوں میں مہدی کہتے ہیں۔ یعنی خاص خدا سے ہدایت پانے والا اور تمام رُوحانی وجوہ اُسی سے حاصل کرنے والا ۔ اور اُن علوم اور معارف کو پھیلانے والا جن سے لوگ بے خبر ہو گئے ہیں ۔ کیونکہ یہ ضروری لازمہ صفت مہدویت ہے کہ گم شدہ علوم اور معارف کو دوبارہ دنیا میں لاوے کیونکہ وہ آدم رُوحانی ہے ۔ ایسا ہی چاہئے کہ وہ بذریعہ نشانوں کے دوبارہ خدا تعالیٰ پر یقین دلانے والا ہو ۔ اور ایمان جو آسمان پر اُٹھ گیا اُس کو بذریعہ نشانوں کے دوبارہ لانے والا ہو کیونکہ یہ بھی ضروری خاصہ صفت مہدویت ہے ۔ مہدی کے لئے ضروری ہے کہ ہر ایک پہلو سے آدم وقت ہو حقیقی اور کامل مہدی نہ موسٰیؑ تھا کیونکہ اس نے صحفِ ابراہیمؑ وغیرہ پڑھے تھے ۔ اور نہ عیسٰی تھا کیونکہ اُس نے توریت اور صحف انبیاء پڑھے تھے ۔ حقیقی اور کامل مہدی دنیا میں صرف ایک ہی ہے یعنی محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو محض اُمیّ تھا ۔ ایسا ہی یہ زمانہ جس میں ہم ہیں مسیح کو بھی چاہتا ہے ۔ کیونکہ اس زمانہ میں ہزارہا رُوحانی بیماریاں پیدا ہو گئی ہیں ۔ پس ضرورت پڑی کہ اتمام حجت ہو کہ ہر ایک قسم کی روحانی بیماری دُور ہو اور مہدی اور مسیح میں کُھلا کُھلا فرق یہ ہے کہ مہدی کے لئے ضروری ہے کہ آدمِ وقت ہو اور اس کے وقت میں دنیا بکلی بگڑ گئی ہو اور نوعِ انسان میں سے اُس کا دین کے علوم میں کوئی استاد اور مرشد نہ ہو بلکہ اس لیاقت کا کہیں کوئی موجود ہی نہ ہو اور محض خدا نے اسرار اور علوم آدم کی طرح اس کو سکھائے ہوں ۔ لیکن مسیح کے صرف یہ معنے ہیں کہ رُوح القدس سے تائید یافتہ ہو اور وقتاً فوقتاً فرشتے اس کی مدد کرتے ہوں +
+ اسجگہ بظاہر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ مہدی کو بھی بذریعہ روح القدس ہی ہدایت ملتی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ مہدی کے مفہوم میں یہ معنے ماخوذ ہیں کہ وہ کسی انسان کا علم دین میں
۱۸
اربعین نمبر 2 صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 360 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 267 پر درج ہے
حوالہ نمبر 272 ۱۲۷ براہین احمدیہ حصہ پنجم
کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں جس سے ہو یہ کاروبار
بدگمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ کر دیا دشمن کو اک حملہ سے مغلوب اور خوار
کام جو کرتے ہیں تیری راہ میں پاتے ہیں جزا مجھ میں کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے بار بار
تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعت قرب و جوار
کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار
دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے پر نہ چھوڑا ساتھ تو نے اے میرے غمگسار
اے مرے یار یگانہ اے میری جاں کی پناہ بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن بکار
میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار
اے فدا ہو تیری راہ میں میرے جسم و جان و دل میں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار
ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میں پروان چڑھے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار
نسل انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یار غمگسار
لوگ کہتے ہیں کہ خطائی نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار
اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار
آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار
تو نے طاعون کو بھی بھیجا میری نصرت کیلئے تاکہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار
ہو گئے بیکار سب حیلے جب آئی وہ بلا ساری تدبیروں کی خاک اڑ گئی مثل غبار
سرزمین ہند میں ایسی ہے شہرت مجھ کو دی جیسے چمکے برق کا اک دم میں ہر جا اشتہار
یہ حوالہ صفحہ 268 پر درج ہے براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 273
براہین احمدیہ ۱۶ دیباچہ
ہست یادت کلید ہر کارے خاطر بے تو خاطر آزارے
ہر کہ نالد بدرگہت بہ نیاز بخت گم کردہ را بیابد باز
لطف تو ترک طالباں نکند کس بکارہ بعبث زیاں نکند
ہر کہ باذات تو سرے دارد پشت بر روئے دیگرے دارد
زینکہ چوں کار بر تو بگذارد رو بہ اغیار از چہ رو آرد
ذات پاکت بس ست یار یکے دل یکے جان یکے نگار یکے
ہر کہ پوشیدہ با تو در سازد رحمتت آشکار بنوازد
ہر کہ گیرد درت بصدق و حضور از در و بام او ببارد نور
ہر کہ راحت گرفت کارش شد صد اُمیدے بروزگارش شد
منہ
وآنکہ از ظلِّ قُربت تو رمید بر در ہر کہ رفت ذلت دید
اے خداوند من گناہم بخش سوئے درگاہ خویش راہم بخش
روشنی بخش در دل و جانم پاک کن از گناہ پنہانم
دست گیری و دلربائی کن بے نگاہے گرہ کشائی کن
در دو عالم مرا عزیز توئی وآنچہ میخواہم از تو نیز توئی
لاکھ لاکھ حمد اور تعریف اس قادر مطلق کی ذات کے لائق ہے کہ جس نے ساری ارواح اور اجسام بغیر کسی مادّہ اور ہیولیٰ کے اپنے ہی حکم اور امر سے پیدا کر کے اپنی قدرت عظیمہ کا نمونہ دکھلایا اور تمام نفوس قدسیہ انبیا کو بغیر کسی اُستاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا سُبْحان اللہ کیا رحمن اور منّان وہ ذات ہے کہ جس نے بغیر کسی استحقاق ہمارے کے
دیباچہ براہین احمدیہ جلد اوّل صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 16 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 268 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 274
١٨٠
کیونکہ بٹالہ اور گورکھپور میں مشنری صاحب موجود ہیں اور نہ اس نے کوئی خاص وجہ بتلائی کہ وہ کیا پیام خاص کر میرے پاس آیا ہے۔ جب کہ اور بھی مشنری صاحب موجود ہیں۔ اس نے صرف یہ کہا کہ اتفاقیہ ایک شخص کے آپ کی کوٹھی بتلانے پر آیا ہوں جب ہم نے اُس سے پوچھا کہ تم نے کرایہ ریل کا کہاں سے لیا تو وہ بتلا نہ سکا ۔ ان باتوں پر ہماری خاص توجہ غور کے واسطے ہوئی اور غور طلب معاملہ ہم نے سمجھا اور یہ میرے دل میں گذرا کہ اس کے بیانات لیکھرام کے قاتل کے بیانات سے عجیب تشبیہ رکھتے ہیں۔ پس ہم نے اس کی طرف خاص دھیان رکھا۔ پس اس سے گفتگو کر کے ہم نے قصد مذکور کیا۔ اس شخص نے واقفیت دین عیسوی سے ظاہر کی ہم نے پوچھا کہاں سے یہ واقفیت حاصل کی ۔ اس نے کہا کہ قادیان میں ایک عیسائی بٹالہ کا رہتا ہے جو مسلمان ہو کر مرزا صاحب کے یہاں رہتا ہے نام اس کا ساتیاں ہے۔ اس کے پاس انجیل مقدس تھی اور مطالعہ کیا کرتا تھا یہاں سے مجھے شوق و رغبت ہوئی۔ میں نے اس نوجوان کو مہاں سنگھ گیٹ والے شفاخانہ میں بھیج دیا۔ کہ وہاں طالب علموں کے پاس رہے اور تعلیم پائے۔ اور ہم نے اس کو جوتوں کے صاف کرنے وغیرہ کا کام دیا۔ قریباً پانچ چھ یوم تک وہ اس جگہ رہا۔ اوّل اس میں قابل توجہ یہ بات تھی کہ وہ مرزا صاحب
اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔ اور جب میری عمر قریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے۔ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو اُن سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا
١٦٢
کتاب البریہ صفحہ 162 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 180، 181 (حاشیہ از مرزا قادیانی)
یہ حوالہ صفحہ 268 پر درج ہے
حوالہ نمبر 274
١٨١
کے حق میں بہت ہی برا بکتا تھا۔ دوم وہ بپتسمہ لینے کی ازحد خواہش رکھتا تھا۔ اور سوم وہ بلاوجہ اور بلاطلبی ہمارے کوٹھی پر آکر گشت اور سیر اور ملاقات چاہتا تھا۔ اور باوجودیکہ ۷۵ سال کی عمر میں وہ محمدی ہوا تھا۔ اپنی گوت (برہمن) سے ناواقف تھا اور ناگوں سے ناواقف تھا۔ اور مختلف اشخاص سے مختلف قسم کی اپنی نسبت کہانی بیان کی۔ مثلاً ایک شخص سے اُس نے اپنے دوست ایسر داس نام کو بجائے کرپارام کے بتلایا۔ بعد انقضائے پانچ روز ہم نے اپنے ہسپتال واقع بیاس پر اُسے بھیج دیا۔ وہاں بھی میرے طالب علم پڑھتے ہیں۔ جاتے ہی اس نے ایک خط مولوی نور الدین کے نام جو میرزا صاحب کا داہنے ہاتھ کا فرشتہ ہے لکھا۔ یہ اسی شخص کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ خط اُس نے لکھا ہے۔ مطلب اس خط کا یہ تھا کہ میں عیسائی ہونے لگا ہوں آپ روک سکتے ہیں تو روک لیں۔ یہ مطلب بھی اس کی زبانی ہی معلوم ہوا تھا اور دیگر شہادت بھی ہے۔ باعث خط لکھنے کا یہ تھا کہ ہم نے اس کو کہا تھا۔ کہ یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم مرزا صاحب کو لکھیں کہ یہ شخص عیسائی ہونا چاہتا ہے۔ کل کو یہ نہ کہیں کہ تم اُن کے چور ہو۔ اس نے کہا کہ نہیں میں خود ہی خط لکھتا ہوں۔ اور اس نے خط لکھ کر بیرنگ ڈاک میں ڈالا۔ اور مجھے خط کے ذریعہ سے خط لکھنے سے منع کیا تھا۔ جب تک میرے بپتسمہ کا وقت ہو۔ وہ خط
بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۸۰
اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں بیٹھنے کے لئے مقرر کیا تھا۔ اور میں اقول للہ کہ مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالے نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں۔ اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے ۔ کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے اور نیز اُن کا یہ بھی مطلب تھا کہ میں اس شغل سے الگ
۱۶۳
کتاب البریہ صفحہ 162 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 180، 181 (حاشیہ) از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 268 پر درج ہے
حوالہ نمبر 275
۱۵۰
یہ فرماتے ہیں کہ میں تو خدا کے سارے رسولوں کو مانتا ہوں ۔ اللہ اللہ اللہ اللہ کیا شانِ دلربائی ہے ؎
(۴۷۶) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جہاں تک میری تحقیق گئی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے مندرجہ ذیل واقعات ذیل کے سنین میں وقوع پذیر ہوئے ہیں، واللہ اعلم ۔ ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء ۔ ولادت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ؛ ۱۸۴۶ء یا ۱۸۴۷ء ۔ ابتدائی تعلیم از منشی فضل الٰہی صاحب ؛ ۱۸۴۹ء یا ۱۸۵۰ء ۔ صرف و نحو کی تعلیم از مولوی فضل احمد صاحب ؛ ۱۸۵۲ء یا ۱۸۵۳ء ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی شادی (غالباً) ؛ ۱۸۵۴ء یا ۱۸۵۵ء ۔ نحو و منطق و حکمت و دیگر علوم مروجہ کی تعلیم از مولوی گل علی شاہ صاحب اور اسی زمانہ کے قریب بعض کتب طب اپنے والد ماجد سے ؛ ۱۸۵۵ء یا ۱۸۵۶ء ۔ ولادت خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب (غالباً) ؛ ۱۸۵۷ء یا ۱۸۵۸ء ۔ ولادت مرزا فضل احمد (غالباً) ؛ ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۵ء ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رویا میں آنحضرت صلعم کی زیارت اور اشارات ماموریت ؛ ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء ۔ ایام ملازمت بمقام سیالکوٹ ؛ ۱۸۶۸ء ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کا انتقال ؛ ۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء ۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ بعض مسائل میں مباحثہ کی تیاری اور الہام ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“ جو غالباً سب سے پہلا الہام ہے ؛ ۱۸۷۵ء یا ۱۸۷۶ء ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آٹھ یا نو ماہ تک لگاتار روزے رکھنا (غالباً) ۱۸۷۶ء ۔ تعمیر مسجد اقصیٰ ۔ الہام اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد ماجد کا انتقال ؛ ۱۸۷۷ء ۔ اخبارات میں مضامین بھجوانے کا آغاز (غالباً) مقدمہ از جانب محکمہ ڈاکخانہ (غالباً) سفر سیالکوٹ ؛
سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 150 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 269 پر درج ہے
ایام الصلح ۳۹۴
(حوالہ نمبر 276)
وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَى ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا ۔ مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی اُستاد سے تمام توریت پڑھی تھی ۔ غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اُستاد سے نہیں پڑھا خدا آپ ہی اُستاد ہوا ۔ اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اقراء کہا ۔ یعنی پڑھ ۔ اور کسی نے نہیں کہا۔ اِس لئے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی ہوئے ۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا۔ سو اِس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کریگا ۔ اور قرآن اور حدیث میں کسی اُستاد کا شاگرد نہیں ہوگا ۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے ۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔ یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے ۔ پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہؐ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے ۔ اور اسرارِ دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے ۔ اور جس طرح مذکورہ بالا وجہ سے آنے والا مہدی کہلائے گا اسی طرح وہ مسیح بھی کہلائیگا کیونکہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانیت بھی اثر کرے گی ۔ لہٰذا وہ عیسیٰ ابن مریم بھی کہلائیگا اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے اپنے خاصہ مہدویت کو اس کے اندر تجلی دیا۔
+ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبد بھی ہے اور اس لئے خدا نے عبد نام رکھا کہ اکمل عبودیت عجز اور ذل ہے اور عبودیت کی حالت کاملہ وہ ہے جس میں کسی قسم کا غلو اور بلندی نہ رہے اور صاحب اس حالت کا اپنی عملی تکمیل محض خدا کی طرف سے دیکھے ۔ اور کوئی ہاتھ درمیان نہ دیکھے ۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ کہتے ہیں معبد
* نوٹ :۔ یہ مرتبہ عبودیت کا بجز اس مہدی کامل کے جس کی عملی تکمیل تمام وکمال محض خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ہوئی ہو دوسرے کو میسر نہیں آ سکتا کیونکہ اپنی جد و جہد اور کوشش کا اثر ضرور ایک ایسا خیال پیدا کرتا ہے کہ جو عبودیت تامہ کے منافی ہے۔ اس لئے مرتبہ عبودیت کاملہ بھی بوجہ اس کے کہ مرتبہ مہدویت کاملہ کے تابع ہے بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی دوسرے کو بوجہ کمال حاصل نہیں ۔ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ فَاشْهَدُوا اَنَّا نَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُوْلُه ۔ منہ
له الضحیٰ : ۸
١٦٨
ایام الصلح صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 394 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 270 پر درج ہے
حوالہ نمبر 277
١٩٢
من جملتھا ھٰذا الھام، أعنی یا عیسٰی انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ، وان اللّٰہ قد سمانی فی ھذا عیسٰی؛ ومن جملتھا الھام آخر خاطبنی ربی فیہ وقال انی خلقتک من جوھر عیسٰی وانک وعیسٰی من جوھر واحد وکشیئ واحد؛ ومن جملتھا الھام سمی فیہ کل من خالفنی من العلماء الیھود و النصارٰی۔ ثم ما ألھمت الی عشر سنین بمثل ھذہ الالھامات وما کنت أدری انی أومر بعد ھذہ المدۃ الطویلۃ و أسمٰی مسیحا موعودا من اللّٰہ تعالٰی بل کنت احسب ان المسیح نازل من السماء کما ھو مرکوز فی مدارک القوم، ولکن کنت اقول فی نفسی تعجبا ان اللّٰہ لم سمانی عیسٰی ابن مریم فی الھامہ المتواتر المتتابع ولم قال انک وانہ من جوھر واحد، ولم سمٰی المخالفین الیھود والنصارٰی ؟ فظھرت علیّ معانی تلک الالھامات والاشارات بعد وعن ابن مسعود لا یأتی مائۃ سنۃ وعلی الارض نفس منفوسۃ الیوم رواہ مسلم، وھکذا ذکر البخاری فی صحیحہ والمضمون واحد لا حاجۃ الی الاعادۃ۔ فوجب من ھٰذا علی کل مؤمن ان یؤمن بموت الدجال بعد المائۃ من زمان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم والا فکیف یمکن التخلف فیما قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بوحی من اللّٰہ تعالٰی مؤکدا بقسمہ، والقسم یدل علی ان الخبر محمول علی ظاھرہ لا تأویل فیہ ولا استثناء والا فأی فائدۃ کانت فی ذکر القسم ؟ فتدبر کالمفتشین المحققین۔ واما تطبیق ھٰذین الحدیثین فلا یمکن الا بعد تأویل حدیث الدجال وجعلہ من قبیل الاستعارات، فنقول ان حدیث خروج الدجال یدل علی خروج طائفۃ الکذابین فی آخر الزمان من قوم النصارٰی، وفی الحدیث اشارۃ الی انھم یشابھون آباءھم المتقدمین فی مکرھم و خدیعتھم و انواع فتنتھم وحرصھم علی اضلال الناس کانھم ھم، الا ان آباءھم کانوا مقیدین بالسلاسل والاغلال ولکن ھؤلاء یخرجون من ذلک السجن ویضع اللّٰہ عنھم اغلالھم فیمشون یمینا وشمالا ویفسدون فی الارض
٢٦
حاشیہ حمامۃ البشریٰ صفحہ 26 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 192 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 270 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 278)
۵۸۳
کے ہیں میسّر آئے ہیں۔ اور اس زمانہ میں جمع ہوئے ہیں وہ پہلے نہیں ہوئے اور نہ مذاہب کا اس قدر زور ہوا بفرض یہ نشانات اپنی نظیر نہیں رکھتے۔ انکی پیش گوئیاں کیا حقیقت رکھ سکتی ہیں؟
سچے موحد ہی خُداداد قویٰ سے کام لے سکتے ہیں
فرمایا: جو قویٰ خدا تعالیٰ نے انسان کو دیئے ہیں۔ ان سے بجز سچے موحد کے کوئی دُوسرا کام نہیں لے سکتا۔ شیعہ ترقی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہ تو اپنی ساری کوششوں کا منتہا یہ امام حسینؓ کو سمجھ بیٹھے۔ ان کو رو لینا اور ماتم کر لینا کافی قرار دے لیا۔ ہمارے استاد ایک شیعہ تھے۔ گل علی شاہ اُن کا نام تھا۔ کبھی نماز نہ پڑھا کرتے تھے۔ حُقہ تک نہ دھوتے تھے۔
(اس پر نواب صاحب نے آپ کی تائید میں بیان کیا کہ وہ میرے والد صاحب کے بھی اُستاد تھے اور وہاں جایا کرتے تھے۔ اور یہ واقعی سچ ہے کہ اُن کی مسجدیں غیر آباد ہوتی ہیں)
ہماری مسجد کا ایسا ہی حال تھا اور اب خدا کے فضل سے وہ آباد ہو گئی ہے اور لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں۔
اس پر حضرت اقدسؑ نے نواب صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا :
وہ کبھی کبھی آپ کے والد صاحب کا ذکر کیا کرتے تھے اور یہاں سے تین تین مہینے کی رخصت لے کر باہر کو نکل جایا کرتے تھے۔
میں نے غالباً یہ بھی کئی مرتبہ ذکر کیا ہے اور میری فراست مجھے یہی بتاتی ہے (یہ نواب صاحب کی مسجد کے آباد ہونے اور نمازیوں کے آنے کے ذکر پر فرمایا) کہ سچائی کو قبول کرنا اور پھر خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال سے ڈر جانا اور اُس کی طرف رُجوع کرنا آپ کے اور آپ کی اولاد کے اقبال کا نشان ہے۔ بجز اس کے کہ انسان سچائی سے خدا کی طرف آئے۔ خُدا کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ خواہ وہ کوئی ہو۔ مبارک دن ہمیشہ نیک بخت کو ملتے ہیں یہ آثار صلاحیت، تقویٰ اور خدا ترسی کے جو آپ میں پیدا ہو گئے ہیں، آپ کے لیے اور آپ کی اولاد کے لیے بہت ہی مفید ہیں۔
مخالفت ہمیشہ سچوں کی ہوتی ہے
فرمایا : جس طور پر لکھا ہے کہ طاعون ترقی پر ہے میرا ارادہ ہے کہ مولوی صاحب نے بھی کہا ہے کہ ایک بار پھر طاعون کے متعلق ایک اشتہار دے دیا جاوے کہ لوگ رُجوع کریں اور سچی پاکیزگی اور تبدیلی پیدا کریں۔ دیکھا گیا ہے اور سُنّت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جس قدر زور ہوا ہے، سچوں پر ہی ہوا ہے۔ اُن کی مخالفت میں ساری طاقتیں خرچ کی گئی ہیں۔ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں کتنا زور لگایا گیا۔ برخلاف اس کے مسیلمہ کذاب
ملفوظات جلد اوّل صفحہ 583 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 271 پر درج ہے
حوالہ نمبر 279 ۲۶۵ سیرت المہدی حصہ سوم
لوگوں نے اسی وقت غلام ظفر سے معافی مانگی اور اس کو دودھ پلایا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس واقعہ کا ذکر روایت نمبر ۴۳۴ میں بھی ہوچکا ہے۔ اور مارنے کی وجہ یہ تھی کہ غلام ظفر صاحب مجذوب طبیعت تھے۔ اور جو دل میں آتا تھا وہ کہہ دیتے تھے اور مذہبی بزرگوں کے احترام کا خیال نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ کسی ایسی ہی حرکت پر بعض لوگ انہیں مار بیٹھے تھے۔ مگر حضرت مسیح موعود نے اُسے پسند نہیں فرمایا۔ آجکل غلام ظفر صاحب اسی قسم کی حرکات کی وجہ سے جماعت سے خارج ہوچکے ہیں۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان ۸۹۱ کیا کہ میں نے پہلی مرتبہ دسمبر ۱۹۰۳ء میں بموقعہ جلسہ سالانہ حضرت اقدس علیہ السلام کو دیکھا۔ حضرت سید عبداللطیف صاحب شہید کابل بھی ان ایام میں قادیان میں مقیم تھے۔ حضرت اقدس ان سے فارسی زبان میں گفتگو فرمایا کرتے تھے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ۸۹۲ کہ جب میں پہلی مرتبہ قادیان آیا۔ تو حضرت اقدس ان ایام میں حافظ حامد علی صاحب کی کوٹھڑی میں نماز پڑھا کرتے تھے اور مسجد مبارک میں جو گھر کی طرف کو ایک کھڑکی کی طرز کا دروازہ ہے اُسکے قریب دیوار کے ساتھ کھڑے ہوا کرتے تھے۔ بحالت نماز ہاتھ سینہ پر باندھتے تھے اور اکثر اوقات نماز مغرب سے عشاء تک مسجد کے اندر احباب میں جلوہ افروز ہوکر مختلف مسائل پر گفتگو فرماتے تھے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ۸۹۳ ایک زمانہ میں حضرت اقدس حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ساتھ اس کوٹھڑی میں نماز کے لئے کھڑے ہوا کرتے تھے جو مسجد مبارک میں بجانب مغرب تھی۔ مگر ۱۹۰۵ء میں جب مسجد مبارک وسیع کی گئی تو وہ کوٹھڑی منہدم کر دی گئی۔ اس کوٹھڑی کے اندر حضرت صاحب کے کھڑے ہونے کی وجہ اغلبًا یہ تھی کہ قاضی یار محمد صاحب حضرت اقدس کو نماز میں تکلیف دیتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی یار محمد صاحب بہت مخلص آدمی تھے۔ مگر ان کے دماغ میں کچھ خلل تھا جس کی وجہ سے ایک زمانہ میں ان کا یہ طریق ہوگیا تھا کہ حضرت صاحب کے جسم کو ٹٹولنے لگ جاتے تھے اور تکلیف اور پریشانی کا باعث ہوتے تھے۔
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 265 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 275 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 280)
تتمہ ۵۸۱ حقیقۃ الوحی
۱۴۴ کہ میں آپ کے افتراء کی وجہ سے کسی انسانی عدالت میں آپ پر نالش نہیں کرونگا۔ سو میں کہتا ہوں کہ میں نہ صرف انسانی عدالت میں نالش کرونگا بلکہ میں خدا کی عدالت میں بھی نالش نہیں کرتا۔ لیکن چونکہ آپ نے محض جھوٹے اور قابل شرم الزام میرے پر لگائے ہیں اور مجھے ناکردہ گناہ دکھ دیا ہے اسلئے میں ہرگز یقین نہیں رکھونگا۔ کِہ اس وقت سے پہلے مروں جب تک کہ میرا قادر خدا ان جھوٹے الزاموں سے مجھے بری کر کے آپکو کاذب ہونا ثابت نہ کرے۔ اَلاَ لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔ اسی کے متعلق قطعی اور یقینی طور پر مجھ کو ۱۸؍ دسمبر ۱۹۰۶ء روز پنجشنبہ کو یہ الہام ہوا۔
انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مگر بہر حال ایک نشان میری بریت کے لئے اس مدت میں ظاہر ہوگا جو آپ کو سخت شرمندہ کریگا۔ خدا کی کلام پر ہنسی نہ کرو۔ پہاڑ ٹل جاتے ہیں۔ دریا خشک ہو سکتے ہیں۔ موسم بدل جاتے ہیں مگر خدا کا کلام نہیں بدلتا جبتک پورا نہ ہولے۔
اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر ۴ صفحہ ۱۹ میں بابو الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے یریدون ان یروا طمثك واللہ یرید ان یريك انعامہ۔ الانعامات المتواترة۔ انت منی بمنزلة اولادی۔ واللہ ولیك وربك فقلنا یا نارکونی برداً ۔
یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہونگے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔ یعنی حیض ایک ناپاک چیز ہے جو بچہ کا جسم اسی سے تیار ہوتا ہے۔ اسی طرح جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو جس قدر فطرتی ناپاکی اور گند ہوتا ہے جو انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہوتا ہے اسی سے ایک روحانی جسم تیار ہوتا ہے۔ یہی سِرّ انسانی ترقیات کا نتیجہ ہے۔ اسی بناء پر صوفیہ کا قول ہے کہ اگر گناہ نہ ہوتا تو انسان کوئی ترقی نہ کر سکتا۔ آدم کی ترقیات کا بھی یہی موجب ہوا۔ اسی وجہ سے ہر ایک نبی مخفی کمزوریوں پر نظر کر کے استغفار
تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 581 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 581 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 276 پر درج ہے
حوالہ نمبر 281 اسلامی قربانی ۱۴
ظاہر ہے کہ یہ تمثیل کی قسم انبیاء ؑ میں اشارہ کے طور پر ہے۔ اور مدائح میں سے ایک درجے کی علامت کنایہ مقرر فرمائی گئی ہیں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی ۔ کہ گویا آپ عورت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے پس جن لوگوں کو یہ سادہ واقعہ جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فضیلت میں لکھا تھا اور اُس میں اپنی کشفی حالت ظاہر کی تھی میرے جنون کی دلیل نظر آتا ہے وہ اپنے ایمان کی فکر کریں اور قرآن کے الفاظ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ کی کسوٹی پر اپنے ایمان کو پرکھیں یہاں اللہ تعالیٰ ڈرنے والے کو دو جنت عطا فرمانے کا وعدہ فرماتا ہے جس کی تعریف درمیانی فقرات میں ۔ یعنے اون میں چشمے ہونگے۔ لولو اور مرجان ہونگے سرہانے ہونگے وغیرہ وغیرہ اخیر میں فرماتا ہے کہ اون دو جنتوں سے پرے دو جنت اور بھی ہیں یعنے جیسے مرنے کے بعد اون کو دو جنت ملیں گے ایسے ہی اسی اولیٰ زندگی میں بھی دو جنت ملیں گے اور الفاظ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهِ اَعْمٰی فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰی ۔ اس کی تشریح ہے ۔
اب میاں صاحب اور مولوی محمد علی صاحب مہربانی فرما کر کھول کر لکھیں کہ اُن کو دو جنت کون سے حاصل ہیں ۔ یہ ہلکا اعتراض کر دینا تو بڑا آسان ہے خود کسی صفت کے موصوف بنکر دکھاویں ۔ اب میں مختصر طور پر اون خوابوں اور کشفوں کو ظاہر کرتا ہوں جو بطور پیشگوئی ظاہر ہوئے اور ہونے والے ہیں ایک سال سے زیادہ عرصہ گذرا۔ کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ پشاور کے گرد کسی مسلمان بادشاہ کی چھاؤنی پڑی ہوئی ہے۔ انجام کچھ معلوم نہ ہوا تھا۔ مگر تاہم میں نے
اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34 صفحہ 12 از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 276 پر درج ہے
حوالہ نمبر 282
۲۶۸
درست ہے لیکن ہم لوگ جو خدا کے رسول کو ہاتھ لگاتے اور بوسہ دیتے اور مٹھیاں بھرتے ہیں۔ حتیٰ کہ میں تو اس قدر بے ادب ہوں کہ جب نماز میں حضرت صاحب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں تو اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ نماز ٹوٹتی ہے یا نہیں۔ مونڈھا کہنی جو بھی آپ کے ساتھ لگ سکے لگاتا ہوں۔ کیا دوزخ کی آگ ہم کو بھی چھوئے گی۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ بھائی صاحب بات تو ٹھیک ہے لیکن تابعداری شرط ہے۔ اللہ اللہ یہ اس وقت کی حالت ہے۔ اور اب ڈاکٹر صا کی یہ حالت ہے کہ حضرت صاحب کے جگر گوشہ اور خلیفہ وقت سے منحرف ہورہے ہیں۔
- ۹۰۲ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان
کیا کہ جولائی ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور کی کچہری سے باہر تشریف لائے۔ اور خاکسار سے کہا کہ انتظام کرو کہ نماز پڑھ لیں۔ خاکسار نے ایک دری نہایت شوق سے اپنی چادر پر بغرض جانماز ڈال دی۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ظہر وعصر ادا کی۔ اس وقت غالباً ہم بیس پچیس آدمی مقتدی تھے۔ نماز سے فارغ ہونے پر معلوم ہوا کہ وہ دری حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی تھی۔ اور انہوں نے طے کی۔
- ۹۰۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ قدیم مسجد
مبارک میں حضور علیہ السلام نماز جماعت میں ہمیشہ پہلی صف کے دائیں طرف دیوار کے ساتھ کھڑے ہوا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے آجکل موجودہ مسجد مبارک کی دوسری صف شروع ہوتی ہے یعنی بیت الفکر کی کوٹھڑی کے ساتھ ہی مغربی طرف ۔ امام اگلے حجرہ میں کھڑا ہوتا تھا۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک شخص پر جنون کا غلبہ ہوا۔ اور وہ حضرت صاحب کے پاس کھڑا ہونے لگا۔ اور نماز میں آپ کو تکلیف دینے لگا۔ اور اگر کبھی اس کو پہلی صف میں جگہ ملتی تو ہر سجدہ میں وہ صفیں پھلانگ کر حضور کے پاس آتا اور تکلیف دیتا اور قبل اس کے کہ امام سجدہ سے سر اٹھائے وہ اپنی جگہ پر واپس چلا جاتا۔ اس تکلیف سے تنگ آکر حضور نے امام کے بائیں حجرہ میں کھڑا ہونا شروع کر دیا۔ مگر وہ بھلا مانس حتی المقدور وہاں بھی پہونچ جایا کرتا اور ستایا کرتا تھا۔ مگر پھر بھی وہاں نسبتاً امن تھا۔ اس کے بعد آپ وہیں نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ مسجد کی توسیع ہوگئی۔ یہاں بھی آپ دوسرے مقتدیوں سے آگے امام کے پاس ہی کھڑے ہوتے رہے۔ مسجد اقصیٰ میں جمعہ اور عیدین
یہ حوالہ صفحہ 277 پر درج ہے سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 268، 269 از مرزا بشیر احمد
(حوالہ نمبر 282)
۲۶۱ سیرۃ المہدی حصہ سوم
کے موقعہ پر آپ صف اول میں عین امام کے پیچھے کھڑے ہوا کرتے تھے۔ وہ مجذوب نما شخص جو وہیں مختص تھا اپنے خیال میں اظہار محبت کرتا اور جسم پر نامناسب طور پر ہاتھ پھیر کر تبرک حاصل کرتا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کا ذکر روایت نمبر ۸۳ میں بھی ہوچکا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر
۹۳ میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ کو بیان کیا کہ قدیم مسجد مبارک کا نقشہ یہ ہے ۔ اس کے تین حصے تھے۔ ایک حجرہ نما مغربی جزو امام کے لئے تھا جس میں دو کھڑکیاں تھیں۔ درمیانی حصہ جس میں دو صفیں اور فی صف ۶ آدمی ہوتے تھے۔ اسی میں
مغرب امام کی جگہ بیت الفکر حصہ مسجد حضرت صاحب پرنالہ نیا اضافہ مسجد محراب مسجد تہہ خانہ غسلخانہ مشرق سیڑھیاں قدیم مسجد
بیت الفکر کی کھڑکی کھلتی تھی اور اس کے مقابل پر جنوبی دیوار میں ایک کھڑکی روشنی کے لئے کھلتی تھی۔ تیسرا باہر کا مشرقی حصہ اس میں عموماً دو اور بعض اوقات تین صفیں اور فی صف ۵ آدمی ہوا کرتے تھے اسی میں نیچے سیڑھیاں آتی ہیں اور ایک دروازہ اس کا غسلخانہ میں تھا جو اب چھوٹے کمرہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے اسی تیسرے حصہ میں ایک دروازہ شمالی دیوار میں حضرت صاحب کے گھر میں کھلتا تھا۔ غرضیکہ اس زمانہ میں مسجد مبارک میں امام سمیت ۲۴ آدمیوں کی با فراغت گنجائش تھی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جو کمرہ بطور غسلخانہ دکھایا گیا ہے اس میں حضرت صاحب کے قدم دھونے کے چھینٹے پڑنے کا نشان ظاہر ہوتا تھا۔
۹۴ بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ خاکسار نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ قلمی تحریر دیکھی ہے جس میں حضور نے اس زمانہ کی جماعت کی بابت لکھا تھا کہ وہ انشاء اللہ جنت میں میرے ساتھ ہوں گے ۔ اس زمانہ کی جماعت میں محمود خاں صاحب مرحوم ۔ میر عباس علی صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب نمایاں تھے ۔
سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 268 ، 269 از مرزا بشیر احمد یہ حوالہ صفحہ 277 پر درج ہے
حوالہ نمبر 283 ۲۳۴
ابتداء میں شرطا میں کوئی اور احمدی نہ تھا۔ لہذا میری مخالفت شروع ہوئی۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں مخالفت کی نسبت ایک خط ارسال کیا۔ اور دعا کے لئے درخواست کی۔ جس کا جواب حضور علیہ السلام نے یہ رقم فرمایا کہ صبر کرو۔ وہاں بھی بہت لوگ ایمان لائیں گے۔ خواجہ عبدالرحمٰن صاحب بیان کرتے ہیں کہ بعد میں اگرچہ شرطا والے لوگ تو ابھی تک ایمان نہیں لائے۔ لیکن اس کے بالکل متصل گاؤں موسہ رکھنہ پورہ سارے کا سارا احمدی ہو گیا۔ اور علاقہ میں کئی اور جگہ احمدیت پھیل گئی ہے خاکسار عرض کرتا ہے کہ خواجہ صاحب جلدی کرتے ہیں۔ اگر حضرت صاحب نے ایسا فرمایا ہے تو تسلی رکھیں شرطا بھی بچ نہیں سکتا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پسر موعود کی پیشگوئی شائع فرمائی۔ تو آپ کی زندگی میں ہی ایک شخص نور محمد نامی جو پٹیالہ کی ریاست میں کبیر پور گاؤں کا رہنے والا تھا پسر موعود ہونے کا مدعی بن بیٹھا۔ اور بعض جاہل طبقہ کے لوگ اس نے اپنے مرید کر لئے۔ سنا ہے یہ لوگ قادیان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ اور ایک دفعہ ان کا ایک وفد قادیان بھی آیا تھا۔ انہوں نے حضرت صاحب کو سجدہ کیا مگر حضرت صاحب نے سختی سے منع فرمایا۔ وہ لوگ چند روزہ رہ کر واپس چلے گئے۔ اور پھر نہیں دیکھے گئے خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسے مجانین اور غالی لوگوں کا وجود ہر قوم میں ملتا ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود ۸۲۷ علیہ السلام کو ایک دفعہ الہام ہوا تھا کہ پھر بہار آئی تو آئے فتح کے دن ؟ اس سال سے میں دیکھ رہا ہوں کہ ہر بہار کے موسم میں ایک نہ ایک حملہ سخت سردی کا ضرور ہوتا ہے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود ۸۲۸ علیہ السلام فرماتے تھے کہ یہ جو حضرت موسیٰ کو فرعون کے پاس بھیجواتے ہوئے خدا نے حکم دیا تھا کہ قُوْلَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰی۔ اس میں اللہ تعالےٰ نے فرعون کا بہت لحاظ کیا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نصیحت کی ہے کہ یہ بادشاہ ہے اس لئے اس کے ساتھ اس کے رتبہ کے موافق نرمی اور ادب سے گفتگو کی جائے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح بھی یہ نکتہ بیان کیا کرتے تھے اور غالباً انہوں نے حضرت
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 232 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 278 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 284) ٢٤٢
مچھلی کا ٹوکرا تھا کہ تمام مکان بدبو سے بھر گیا (در اصل مچھلی سڑی ہوئی نہ تھی۔ بلکہ اس میں ایسی ہی بدبو ہوتی ہے۔ وہاں کے لوگ اُسے بھون کر کھاتے ہیں اور واقعی نہایت لذیذ ہوتی ہے۔ مگر بہرحال بو برابر رہتی ہے) حضرت صاحب نے فرمایا۔ کہ اسے لے جاؤ اور گاؤں سے دور لے جاکر ڈھاب کے کنارے دفن کر دو۔ اس میں سخت بدبو ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو بدبو سے بہت نفرت تھی۔
٨٨٨ بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جب لوگ حضور سے ملنے قادیان آتے یا جلسہ اور عیدین وغیرہ کے موقعوں پر آتے تو بہت دیر تک ٹھہرا کرتے تھے۔ آجکل لوگ ان موقعوں پر بہت کم آتے ہیں اور آتے ہیں تو بہت کم ٹھہرتے ہیں ان ایام میں بعض لوگ پیدل بھی اپنے وطن سے آتے تھے۔ ایک شخص وریم نامی تھا جو جہلم سے پیدل آتا تھا۔ اور ایک مولوی جمال الدین صاحب سید والہ ضلع شیخوپورہ کے تھے جو بمعہ ایک قافلہ کے پیدل کوچ کرتے ہوئے قادیان آیا کرتے تھے۔ حضور علیہ السلام کا بھی قاعدہ تھا کہ کثرت سے ملتے رہتے اور قادیان میں بار بار آنے کی تاکید فرماتے رہتے تھے۔
٨٨٩ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں نجم الدین فلاسفر اور پھر اس کے بعد مولوی یار محمد صاحب کو ایک زمانہ میں قبروں کے کپڑے اتار لینے کی دھت ہو گئی تھی یہاں تک کہ فلاسفر نے ان کو بیچکر کچھ روپیہ بھی جمع کر لیا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ اس طرح ہم بدعت اور شرک کو مٹاتے ہیں۔ حضرت صاحب نے جب یہ سُنا۔ تو اس کام کو ناجائز فرمایا۔ تب یہ لوگ باز آئے اور وہ روپیہ اشاعت اسلام میں دیدیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسلام نے نہ صرف ناجائز کاموں سے روکا ہے بلکہ جائز کاموں کے لئے ناجائز وسائل کے اختیار کرنے سے بھی روکا ہے۔
٨٩٠ بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں نُور دین عرف ماسٹر کو بعض لوگوں نے کسی بات پر مارا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو علم ہوا۔ تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اگر وہ عدالت میں جائے اور تم وہاں اپنے قصور کا اقرار کر لو۔ تو عدالت تم کو سزا دیگی۔ اور اگر جھوٹ بولو اور انکار کرو۔ تو پھر تمہارا میرے پاس ٹھکانا نہیں۔ غرض آپ کی ناراضگی سے ڈر کر اُن
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 264 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 278 پر درج ہے
حوالہ نمبر 285
۱۸
یہی مسئلہ پیش کیا ۔ کہ آپ کی بعض تحریروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے ۔ کہ آپ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ اس لئے لوگوں کو ٹھوکر لگتی ہے حضرت صاحب نے اسکی تشریح فرمائی ۔ کہ میری مراد اس سے کیا ہے ۔ جسپر اُن مولوی صاحب نے کہا ۔ کہ اچھا آپ تحریر کر دیں ۔ کہ آپ کی تحریرات میں جہاں کہیں نبوت کا لفظ ہے ۔ وہ ایسا نہیں ۔ کہ جو ختم نبوت کے منافی ہو ۔ اور اس سے مراد محدثیت ہے ۔ حضرت صاحب نے فرمایا ۔ کہ بیشک میں لکھ دیتا ہوں ۔ چنانچہ اسی وقت حضور نے ایک تحریر لکھکر مولوی صاحب کو دیدی ۔ جو کہ اُنہوں نے اپنے پاس رکھ لی ۔ تاکہ اُن لوگوں کو دکھا ئیں ۔ جو اس وجہ سے حضرت صاحب پر کفر کا فتویٰ لگاتے تھے ۔ انہی دنوں میں ایک دن بعض شریر لوگ مخالف مولویوں کے بہکانے سے اُس مکان پر حملہ کر کے آ گئے ۔ جہاں پیر جی ٹھہرے ہوئے تھے ۔ اور مکان کے اُوپر زنانہ میں گھسنا چاہتے تھے ۔ مگر چند احمدیوں نے جو ساتھ تھے ۔ بڑی ہمت سے سیڑھیوں میں کھڑے ہو کر اُن لوگوں کو روکا ۔ اور بعد میں پولیس کے پہنچ جانے سے وہ لوگ منتشر ہوگئے ۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں آ گئے ۔ چنانچہ کپور تھلہ سے محمد خاں صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے ۔ گرمی کا موسم تھا ۔ اور منشی صاحب اور میں ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چار پائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے ۔ ایک شب دَس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا ۔ جو مکان کے قریب ہی تھا ۔ اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی ۔ کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے تھے حضرت صاحب نے فرمایا ۔ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے ۔ تاکہ معلوم ہو ۔ کہ وہاں کیا ہوتا ہے ۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا منشی ظفر احمد صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا ۔ کہ میں تو حضرت صاحب کے پاس آپکی شکایت لیکر گیا تھا اور میرا خیال تھا ۔ کہ حضرت صاحب آپکو بلا کر تنبیہ کریں گے ۔ مگر حضور نے تو صرف یہی فرمایا ۔ کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے ۔ اور اس سے معلومات حاصل ہوتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ
ذکر حبیب صفحہ 18 از مفتی محمد صادق قادیانی یہ حوالہ صفحہ 279 پر درج ہے
حوالہ نمبر 286
۲۹۸
مقدمہ سے پہلے شائع کیا ہوا تھا کہ ایک تو مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون۔ یعنی خدا تعالیٰ اس فریق کے ساتھ ہے جو متقی ہے اور دوسرا الہام یہ تھا کہ عدالت عالیہ سے بُری کیا جائیگا۔ اب دونوں کو ملا کر دیکھو کہ یہ کیسی عظیم الشان صداقت ہے جو پوری ہوئی۔
۹۸۶ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ایک دفعہ کسی شخص کا ذکر سنانے لگے کہ وہ کسی عورت پر سخت عاشق ہو گیا۔ اور باوجود ہزار کوشش کے وہ اس عشق کو دل سے نہ نکال سکا۔ آخر حضرت صاحب کے پاس آیا۔ اور طالبِ دُعا ہُوا۔ حضرت صاحب نے مولوی صاحب سے فرمایا کہ مجھے خدا کی طرف سے معلوم ہُوا ہے کہ یہ شخص اس عورت سے ضرور بدکاری کرے گا۔ مگر میں بھی پُورے زور سے اس کے لئے دُعا کرونگا چنانچہ وہ شخص قادیان ٹھہرا رہا۔ اور حضور دُعا کرتے رہے۔ یہانتک کہ اس نے ایک روز مولوی صاحب سے کہا کہ آج رات خواب میں میں نے اس عورت کو دیکھا اور خواب میں ہی اس کو مباشرت کی اور میں نے اس دوران میں اس کی شرمگاہ کو جہنم کے گڑھے کی طرح دیکھا جس سے مجھے اس سے اس قدر خوف اور نفرت پیدا ہوئی کہ یکدم وہ آتشِ عشق ٹھنڈی ہوگئی۔ اور وہ محبت کی بے قراری سب دل سے نکل گئی۔ بلکہ دل میں دوری پیدا ہوگئی۔ اور خدا کے فضل اور حضور کی دُعا کی برکت سے میں بدکاری سے بھی محفوظ رہا اور وہ جنون بھی جاتا رہا۔ اور حضور نے جو بات میری بابت کہی تھی وہ ظاہری رنگ سے بدل کر خدا نے خواب میں پُوری کرا دی یعنی میں نے اس سے تعلق بھی کر لیا اور ساتھ ہی مجھے گناہ سے بھی بچا لیا۔ غالباً یہ شخص سیالکوٹ کا رہنے والا تھا اور متمول آدمی تھا۔ اور اُسنے حضرت صاحب کی بیعت بھی کی تھی۔ مگر تعلق کو آخر تک نہیں نبھایا۔
۹۸۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے ایک دفعہ ایک گدّی کُتا بھی رکھا تھا۔ وہ دروازے پر بندھا رہتا تھا اور اس کا نام شیرو تھا۔ اس کی نگرانی بچے کرتے تھے یا میاں قدرت اللہ حافظ مرحوم کرتے تھے جو گھر کے دربان تھے۔
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 298 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 279 پر درج ہے
حوالہ نمبر 287
۷۴۲ سیرۃ المہدی حصہ سوم
مسجد اقصیٰ سے الگ تھا ۔ مگر وہ کسی قدر دور تھا اور چند سیڑھیاں چڑھ کر اس تک پہنچنا پڑتا تھا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ۱۹۰۶ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ کرم دین کی وجہ سے گورداسپور بمکان مٹی دھیال ٹھہرے ہوئے ۸۱۲ تھے۔ ایک دن آپ کی پشت پر ایک پھنسی نمودار ہوئی جس سے آپ کو بہت تکلیف ہوئی۔ خاکسار کو بلایا اور دکھایا اور بار بار پوچھا کہ یہ کاربکل تو نہیں ۔ کیونکہ مجھے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ میں نے دیکھ کر عرض کی کہ یہ بال توڑ یا معمولی پھنسی ہے۔ کاربکل نہیں ہے۔
در اصل حضرت صاحب کو ذیابیطس اس قسم کا تھا جس میں پیشاب بہت آتا ہے مگر پیشاب میں شکر خارج نہیں ہوتی۔ اور یہ دورے ہمیشہ محنت اور زیادہ تکلیف کے دنوں میں ہوتے تھے۔ اور بکثرت اور بار بار پیشاب آتا تھا۔ اور یہ ایک عصبی تکلیف تھی۔ اور بہت پیشاب آکر ضعف ہو جاتا تھا۔ ایک دفعہ کسی ڈاکٹر نے عرض کیا کہ پیشاب کا ملاحظہ شکر کے لئے کرالینا چاہئے تو فرمانے لگے نہیں۔ اس سے تشویش زیادہ ہوگی، اس خاکسار نے بھی کبھی اس کا ملاحظہ نہیں کیا تھا مگر ہمیشہ کے حالات دیکھ کر تشخیص کی تھی کہ یہ مرض نروس پال یوریا ہے۔ مگر حضرت صاحب کی ایک تحریر سے مجھے علم ہوا ہے کہ ایک دفعہ آپ کے پیشاب میں شکر بھی پائی گئی تھی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں معراج الدین صاحب عمر کے ساتھ ایک نو مسلم چوہڑی لاہور سے آئی۔ اس کے نکاح کا ذکر ہوا۔ تو حافظ ۸۱۳ حامد علی صاحب مرحوم پٹیالوی نے عرض کی کہ مجھ سے کر دیا جائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اجازت دیدی اور نکاح ہو گیا دوسرے روز اس مسماۃ نے حافظ صاحب کے ہاں جانے سے انکار کر دیا اور خلع کی خواہش مند ہوئی۔ خلیفہ رجب دین صاحب لاہوری نے حضرت صاحب کی خدمت میں مسجد مبارک میں یہ معاملہ پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اتنی جلدی نہیں۔ ابھی صبر کرے۔ پھر اگر کسی طرح گزارہ نہ ہو۔ تو خلع ہو سکتا ہے۔ اس پر خلیفہ صاحب نے جو بہت بے تکلف آدمی تھے حضرت صاحب کے سامنے ہاتھ کی ایک حرکت سے اشارہ کر کے کہا کہ حضور وہ کہتی ہے کہ حافظ صاحب کی یہ حالت ہے۔ (یعنی قوت رجولیت بالکل معدوم ہے، اس پر حضرت صاحب نے خلع کی اجازت دیدی۔ مگر احتیاطاً
سیرۃ المہدی حصہ سوم صفحہ 227 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 280 پر درج ہے
حوالہ نمبر 288 نزول المسیح ۳۹۴
١٦ اشتہاروں میں یہ اغیار کے نقش قدم پر چلے ہیں۔ بعض نے یہانتک جھوٹ بولا ہے کہ گویا ہماری جماعت میں ہی طاعون پھوٹ پڑی ہے اور گویا قادیان میں وہ طاعون پیدا ہوگئی ہے جو طاعونِ جارف کہلاتی ہے۔ انکے جواب میں بجز اسکے ہم کیا کہیں کہ لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ ۔ وہ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ کی یہی قدیم سنت ہے کہ جس گاؤں یا شہر میں خدا کی طرف سے کوئی مرسل آتا ہے وہ جگہ نسبتی طور پر دارالامن ہو جاتی ہے اور اس میں وہ بیہوش اور دیوانہ کرنیوالی تباہی نہیں پڑتی جس میں لوگ بے حواسوں کی طرح مرتے ہیں ہاں موت کا دروازہ بھی بند نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ باوجودیکہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے دَارُالْاَمَانْ ہونے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں اور قرآن کریم نے بھی اس کی تصدیق کی ہے مگر پھر بھی بعض اوقات انسانی برداشت تک مکہ معظمہ میں ہیضہ پھوٹ پڑتا ہے اور ایسا ہی مدینہ منورہ میں بھی کئی وارداتیں ہو جاتی ہیں مگر ان وارداتوں سے ان دونوں حرمین شریفین دارالامن ہونے میں فرق نہیں آتا۔ اِسی طرح ہمیں اس سے انکار نہیں کہ قادیان میں بھی کبھی وبا پڑے یا کسی معمولی حد تک طاعون سے جانوں کا نقصان ہو لیکن یہ ہرگز نہیں ہو گا کہ جیسا کہ قادیان کے ارد گرد تباہی آئی یہاں تک کہ بعض گاؤں موت کی وجہ سے خالی ہو گئے یہی حالت قادیان پر بھی آئے۔ کیونکہ وہ خدا جو قادر ہے اپنے پاک کلام میں وعدہ کر چکا ہے کہ قادیان میں تباہ کرنیوالی طاعون نہیں پڑے گی۔ جیسا کہ اُس نے فرمایا لَوْلَا الْاِکْرَامُ لَهَلَكَ الْمَقَامُ ۔ یعنی اگر مجھے تمہاری عزت ظاہر کرنا ملحوظ نہ ہوتا تو میں اس مقام کو یعنی قادیان کو طاعون سے فنا کر دیتا یعنی اس گاؤں میں بھی بڑے بڑے خبیث اور شریر اور ناپاک طبع اور کذاب اور مفتری رہتے ہیں اور وہ اس لائق تھے کہ قہر الٰہی سب کو ہلاک کر دیوے مگر میں ایسا کرنا نہیں چاہتا کیونکہ درمیان میں تمہارا وجود بطور شفیع کے ہے اور تمہارا اکرام مجھے منظور ہے اس واسطے میں اس تباہی عامہ سے درگذر کرتا ہوں کہ ایک خوفناک تباہی اور موت ان لوگوں پر ڈال دوں تا ہم کلیتہً یہ سزا نہیں چھوڑوں گا اور کسی حد تک وہ بھی عذاب طاعون میں سے حصہ لیں گے تا شریروں کی آنکھیں کھلیں ۔ ماسوا اسکے اگر قادیان میں ایسی طاعون آئے جیسا کہ گردو نواح میں بعض جگہ یہ صورتیں پیدا ہوئیں کہ دیہات میں صد ہا لوگ مرے اور کئی دیہات تباہ ہو گئے اور بہت سے گھر ایسے ہو گئے کہ بجز شیر خوار بچوں کے اُن میں کوئی بھی نہ رہا۔
١٨
یہ حوالہ صفحہ 281 پر درج ہے نزول المسیح صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 394 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 289)
۴۷۲
ہوگا کہ اس قدر مسلمانوں کا مال ضائع ہو گیا۔ میرے ایک دوست میرزا خدا بخش صاحب ماسٹر سید محمود صاحب سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ اگر میں اس نقصان کے وقت علیگڑھ میں موجود نہ ہوتا تو میرے والد صاحب ضرور اس غم سے مرجاتے۔ یہ بھی مرزا صاحب نے سُنا کہ آپنے اس غم سے تین دن روٹی نہیں کھائی۔ اور اسقدر قومی مال کے غم سے دل بھر گیا کہ ایک مرتبہ غشی بھی ہو گئی۔ سو اے سید صاحب یہی حادثہ تھا جس کا اس اشتہار میں صریح ذکر ہے۔ چاہو تو قبول کرو۔ والسلام۔ ۱۲؍ مارچ ۱۸۹۸ء
۴۷ منجملہ اُن نشانوں کے جو پیشگوئی کے طور پر ظہور میں آئے ۔ وہ پیشگوئی ہے جو میں نے اخویم قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ کے متعلق کی تھی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس جگہ خود اُنکے خط کی عبارت نقل کر دوں جو اس پیشگوئی کے بارے میں انھوں نے میری طرف بھیجا ہے اور وہ یہ ہے۔
” مجھے یقینی یاد ہے کہ حضور علیہ السلام نے بماہ مارچ ۱۸۸۸ء جبکہ اس عاجز نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کی تو ایک لمبی دُعا کے بعد اُسی وقت آپ نے فرمایا تھا کہ قاضی صاحب آپ کو ایک سخت ابتلاء پیش آنے والا ہے۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے بعد اس عاجز نے کئی اپنے عزیز دوستوں کو اِس سے اطلاع بھی دیدی کہ حضور نے میری نسبت اور میرے حق میں ایک ابتلائی حالت کی خبر دی تھی۔ اب اس کے بعد جس طرح پر وہ پیشگوئی پوری ہوئی وہ وقوعہ بعینہ عرض کرتا ہوں کہ میں حضرت اقدس سے روانہ ہو کر ابھی راستہ میں ہی تھا کہ مجھے خبر ملی کہ میری اہلیہ بعارضہ درد گُردہ و
۳۴۴
تریاق القلوب صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 472 تا 475 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 281 پر درج ہے
حوالہ نمبر 289 ۴۷۳
قولنج و قے مفرط سے سخت بیمار ہے ۔ جب میں گھر پہنچا اور دیکھا تو واقع میں ایک نازک حالت طاری تھی ۔ اور عجیب تر یہ کہ شروع بیماری وہی رات تھی ۔ جس کی شام کو حضور نے اِس ابتلاء سے اطلاع دی تھی ۔ شدت درد کا یہ حال تھا کہ جان ہر دم ڈوبتی جاتی تھی ۔ اور بے تابی ایسی تھی کہ باوجود کثیر الحیاء ہونے کے مارے درد کے بے اختیار اتنی چیخیں نکلتی تھیں اور گلی کوچے تک آواز پہنچتی تھی ۔ اور ایسی نازک اور درد ناک حالت تھی کہ اجنبی لوگوں کو بھی وہ حالت دیکھ کر رحم آتا تھا ۔ شدت مرض تخمیناً تین ماہ تک رہی ۔ اسقدر مدت میں کھانے کا نام تک نہ تھا ۔ صرف پانی پیتیں اور قے کر دیتیں ۔ دن رات میں پچاس ساٹھ دفعہ قے دست ہوتی ۔ پھر درد قدرے کم ہوا ۔ مگر نادان طبیبوں کے بار بار فصد لینے سے ہزال مفرط کی مرض مستقل طور پر دامنگیر ہو گئی ۔ ہر وقت جان بلب رہتیں ۔ دس گیارہ دفعہ تو مرنے تک پہنچکر بچیں اور عزیز اقربا کو پورے طور پر الوداعی غم و الم سے رلایا ۔ غرض گیارہ مہینے تک طرح طرح کے دُکھوں کی تختہ مشق رہ کر آخر کشادہ پیشانی بہوش تمام کلمہ شریعت پڑھ کر ۲۸ برس کی عمر میں سفر جاودانی اختیار کیا ۔ اِنَّالِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُون ۔ اور اس حادثہ جانکاہ کے درمیان ایک شیر خوار بچہ رحمت اللہ نام بھی دودھ نہ ملنے کے سبب سے بھوکا پیاسا راہیِ مُلک بقا ہوا ۔ ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ عاجز کے دو بڑے بیٹے عبد الرحیم و فضل رحیم تپ محرقہ سے
۱۴۳
صاحب فراش ہوئے ۔ فضل رحیم کو تو ابھی گیارہ دن پورے نہ ہونے پائے کہ اُس کا پیالہ عمر کا بھر گیا ۔ اور سات سالہ عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر جلدی سے اپنی پیاری ماں کو جا ملا ۔ اور عبد الرحیم تپ محرقہ اور سرسام سے برابر دو ڈھائی مہینے بیہوش میّت کی طرح پڑا رہا ۔ سب طبیب لاعلاج
۳۴۵
تریاق القلوب صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 472 تا 475 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 281 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 289)
۴۷۴
سمجھ چکے ۔ کوئی نہ کہتا تھا کہ یہ بچے گا ۔ لیکن چونکہ زندگی کے دن باقی تھے ۔ بوڑھے باپ کی مضطربانہ دُعائیں خدا نے سُن لیں ۔ اور محض اُسکے فضل سے صحیح سلامت بچ نکلا ۔ اگرچہ پٹھوں میں کمزوری اور زبان میں لکنت ابھی باقی ہے ۔ یہ حوادث جانکاہ تو ایک طرف اُدھر مخالفوں نے اور بھی شور مچا دیا تھا ۔ آبرو ریزی اور طرح طرح کے مالی نقصانوں کی کوششوں میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا ۔ غریب خانہ میں نقب زنی کا معاملہ بھی ہوا۔ اب تمام مصیبتوں میں یکجائی طور پر غور کرنے سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ عاجز راقم کسقدر بلیہ دل دوز سینہ سوز میں مبتلا رہا ۔ اور یہ سب انہی آفات و مصائب کا ظہور ہوا ۔ جس کی حضور نے پہلے سے ہی مجمل طور پر خبر کر دی تھی۔ اسی اثناء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے از راہِ نوازش تعزیت کے طور پر ایک تسلی دہندہ چٹھی بھیجی ۔ وہ بھی ایک پیشگوئی پر مشتمل تھی جو پوری ہوئی ۔ اور ہو رہی ہے ۔ لکھا تھا کہ ”واقع میں آپ کو سخت ابتلا پیش آیا ۔ یہ سُنت اللہ ہے تاکہ وہ اپنے مستقیم الحال بندوں کی استقامت لوگوں پر ظاہر کرے ۔ اور تاکہ صبر کرنے سے بڑے بڑے اجر بخشے۔ خدا تعالیٰ ان تمام مصیبتوں سے مخلصی عنایت کر دیگا ۔ دشمن ذلیل و خوار ہونگے جیسا کہ صحابہ کے زمانہ میں ہوا کہ خدا تعالیٰ نے اُنکی ڈوبتی کشتی کو تھام لیا ۔ ایسا ہی اس جگہ ہوگا ۔ اُن کی بد دُعائیں آخر اُنہی پر پڑیں گی“ سو بار الحمد للہ کہ حضور کی دُعا سے ایسا ہی ہوا ۔ عاجز بہر حال استقامت و صبر میں بڑھتا گیا ۔ باوجود بشریت اگر کبھی مداہنہ کے طور پر مخالفوں کی طرف سے صلح صفائی کا پیغام آیا ۔ تو یہی خیال کہ پھر یہ انبیاء کی مصیبتوں سے حصہ کہاں ۔ دل میں ایسی صلح کرنے سے ایک قبض سی وارد ہو جاتی ۔ اور مَیں نے بچشم خود مخالفوں کی یہ
۲۳۶
یہ حوالہ صفحہ 281 پر درج ہے
تریاق القلوب صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 472 تا 475 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 289)
۴۷۵
حالت دیکھی اور دیکھ رہا ہوں کہ اُنکی وہ خشک وہابیت بھی رخصت ہو چکی۔ کتاب وسنّت سے تمسّک کی کوئی پرواہ نہیں۔ اور دُنیا بھی شب و روز ہاتھوں سے جا رہی ہے جس کے گھمنڈ سے غرباء کو تکلیفیں دی تھیں۔ غرض دُنیا دین دونوں کھو رہے ہیں۔ خوار و شرمندہ ہیں۔ حضور کی وہ پیشگوئی جو اُنکے ایڈوکیٹ کے حق میں فرمائی تھی کہ انّی مھین من اراد اھانتک مناسبت کے لحاظ سے حسبِ قسمت سب برابر اس سے حصّہ لے رہے ہیں جیسا کہ تمام ہمعصر گواہ ہیں۔ راقم مسکین ضیاء الدین عفی عنہ قاضی کوٹلہ ضلع گوجرانوالہ
۷۵ منجملہ نہایت زبردست نشانوں کے جو خدا تعالیٰ نے غیب گوئی اور معارفِ عالیہ کے رنگ میں میری تائید میں ظاہر فرمائے۔ براہین احمدیہ کی وہ پیشگوئی ہے جو اسکے صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے یعنے یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ۔ اردت ان استخلف فخلقت آدم۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ یہ الہام جو میری نسبت ہوا۔ یعنے یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ۔ اردت ان استخلف فخلقت آدم۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ اے آدم تو اپنے جوڑے کے ساتھ جنّت میں رہ۔ میں نے چاہا کہ میں اپنا مظہر دکھلاؤں۔ اس لئے میں نے اِس آدم کو پیدا کیا۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدم صفی اللہ کے وجود کا سلسلہ دوریّہ اِس عاجز کے وجود پر آکر ختم ہوگیا۔ یہ بات اہلِ حقیقت اور
۱۵۵
معرفت کے نزدیک مسلّم ہے کہ مراتب وجود دوریّے ہیں یعنے نوع انسان میں سے بعض بعض کی خو اور طبیعت پر آتے رہتے ہیں جیسا کہ پہلی کتابوں کے
۳۴۷
تریاق القلوب صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 472 تا 475 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 281 پر درج ہے
حوالہ نمبر 290
ضرورۃ الامام ۴۹۷
جو اس کا مقابلہ کر سکے۔
- (۳) میں کثرتِ قبولیت دُعا کا نشان دیا گیا ہوں۔ کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔ میں حلفاً
کہہ سکتا ہوں کہ میری دُعائیں تیس ہزار کے قریب قبول ہو چکی ہیں اور اُنکا میرے پاس ثبوت ہے۔
- (۴) میں غیبی اخبار کا نشان دیا گیا ہوں۔ کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔ یہ خدا تعالیٰ کی
گواہیاں میرے پاس ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں میرے حق میں چمکتے ہوئے نشانوں کی طرح پوری ہوئیں۔
مدت ہوئی کسوف خسوف رمضان میں ہو گیا۔ حج بھی بند ہوا۔ اور بموجب حدیث کے طاعون بھی ملک میں پھیلی اور بہت سے نشان مجھ پر ظاہر ہوئے جسکے صدہا ہندو اور مسلمان گواہ ہیں جن کو میں نے ذکر نہیں کیا۔ ان تمام وجوہ سے میں امام الزمان ہوں اور خدا میری تائید میں ہے۔ اور وہ میرے لئے ایک تیز تلوار کی طرح کھڑا ہو اور مجھے خبر دی گئی ہیکہ جو شرارت سے میرے مقابل پر کھڑا ہو گا وہ ذلیل اور شرمندہ کیا جائیگا۔ دیکھو میں نے وہ حکم پہنچا دیا جو میرے ذمہ تھا۔ اور یہ باتیں میں اپنی کتابوں میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں مگر جس واقعہ نے مجھے اِن اُمور کے مکرر لکھنے کی تحریک کی وہ میرے ایک دوست کی اجتہادی غلطی ہے جسپر اطلاع پانے سے میں نے ایک نہایت دردناک دل کیساتھ اس رسالہ کو لکھا ہے۔
تفصیل اس واقعہ کی یہ ہیکہ ان دنوں میں یعنی ماہ ستمبر ۱۸۹۸ء میں جو مطابق جمادی الاول ۱۳۱۶ھ ہے۔ ایک میرے دوست جن کو میں ایک بے شر انسان اور نیک بخت اور متقی اور پرہیزگار جانتا ہوں اور انکی نسبت ابتدا سے میرا بہت نیک گمان ہے وَاللّٰهُ حَسِيْبُه۔ مگر بعض خیالات میں غلطی میں پڑا ہوا سمجھتا ہوں۔ اور اس غلطی کے ضرر سے انکی نسبت اندیشہ بھی رکھتا ہوں وہ تکالیف سفر اُٹھا کر اور ایک اور میرے عزیز دوست کو ہمراہ لیکر قادیان میں میرے پاس پہنچے۔ اور بہت سے الہامات اپنے مجھ کو سنائے پس اس سے مجھ کو بہت خوشی ہوئی کہ خدا تعالیٰ نے انکو الہامات کا شرف بخشا ہے مگر انہوں نے سلسلہ الہامات میں ایک یہ خواب بھی اپنی مجھے سنائی کہ میں نے
منہ
ضرورۃ الامام صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 497 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 283 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 291 ۴۷۸
یہ اقرار ہے کہ ہم خدا کے رسولوں میں تفرقہ نہیں ڈالتے اس طرح پر کہ بعض کو قبول کریں اور بعض کو رَدّ کریں بلکہ ہم سب کو قبول کرتے ہیں ہم نے سُنا اور ایمان لائے اے خدا ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف ہی ہماری بازگشت ہے ۔ ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف ان تمام نبیوں کا ماننا جن کی قبولیت دنیا میں پھیل چکی ہے مسلمانوں کا فرض ٹھہراتا ہے اور قرآن شریف کی رُو سے ان نبیوں کی سچائی کے لئے یہ دلیل کافی ہے کہ دنیا کے ایک بڑے حصہ نے اُن کو قبول کیا اور ہر ایک قدم میں خدا کی مدد اور نصرت اُن کے شامل حال ہو گئی خدا کی شان اس سے بلند تر ہے کہ وہ کروڑ ہا انسانوں کو اس شخص کا سچا تابع اور جان نثار کرے جس کو وہ جانتا ہے کہ خدا پر افترا کرتا ہے اور دنیا کو دھوکا دیتا ہے اور دروغگو ہے اور مکار کاذب کو ایسی ہی عزت دی جائے جیسا کہ صادق کو۔ تو امان اُٹھ جاتا ہے اور امر نبوت صادقہ مشتبہ ہو جاتا ہے پس یہ اصول نہایت صحیح اور سچا ہے کہ جن نبیوں کو قبولیت دی جاتی ہے اور ہر ایک قدم میں حمایت اور نصرت الٰہی اُن کے شامل حال ہو جاتی ہے وہ ہرگز جھوٹے ہُوا نہیں کرتے ۔ ہاں ممکن ہے کہ پیچھے آنے والے اُن کے نوشتوں میں تحریف تبدیل کر دیں اور اپنی نفسانی تفسیروں سے اُن کے مطالب کو اُلٹا دیں بلکہ پرانی کتابوں کے لئے یہ بھی ایک لزومی امر ہے کہ مختلف خیالات کے آدمی اپنے خیال کے طور پر اُن کے معنی کرتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ وہی معنی جزو کتاب ہی سمجھے جاتے ہیں اور پھر انہیں مختلف خیالات کی کشش کی وجہ سے کئی فرقے ہو جاتے ہیں اور ہر ایک فرقہ دوسرے فرقہ کے مخالف معنی کرتا ہے
خلاصہ کلام یہ کہ یہ عقیدہ جس کو قرآن شریف نے ہمیں سکھایا ہے نہایت سچا اور مستحکم عقیدہ ہے کیونکہ انسانی فطرت شہادت دیتی ہے کہ جن نبیوں کی عام طور پر کروڑ ہا لوگوں میں قبولیت پھیل جاتی ہے اور دلوں میں اُن کی نہایت درجہ محبت اور عظمت بیٹھ ج
حوالہ نمبر 292
۱۴۱
لگا رہ، جب تک میں زندہ ہوں، جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دوں گا۔
(ازالہ اوہام صفحہ ۱۷۹۔۱۸۰۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۱۷، ۱۱۸)
”یہ سب مضمون الہاماً اِس فقرہ کا اگرچہ کتابوں میں درج ہے مگر یہ تمام عبارت الہامی ہے جو خدائے تعالیٰ نے اِس عاجز کے دل پر نازل کی۔ صرف کوئی کوئی فقرہ تفہیم کے لئے اِس عاجز کی طرف سے ہے“
(ازالہ اوہام صفحہ ۱۷۹، ۱۸۰ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۱۷، ۱۱۸ حاشیہ)
۱۸۹۱ء ”صحیح مسلم میں جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے منارہ سفید شرقی کے پاس اُتریں گے۔۔۔۔ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں.... مجھ پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے دراصل وہ مقام مراد ہے جس میں یہ دمشق والی مشہور خاصیت پائی جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ نے مسیح کے اُترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد وہ اصلی مسیح نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی بلکہ مسلمانوں میں سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو اپنی روحانی حالت کی رُو سے مسیح سے اور نیز امام حسین سے بھی مشابہت رکھتا ہے کیونکہ دمشق پایہ تخت یزید ہو چکا ہے اور یزیدیوں کا منصوبہ گاہ جس سے ہزار ہا طرح کے ظالمانہ احکام نافذ ہوئے وہ دمشق ہی ہے۔... سو خدا تعالیٰ نے اس دمشق کو جس سے ایسے پر ظلم احکام نکلتے تھے اور جس میں ایسے سنگ دل اور سیاہ درون لوگ پیدا ہو گئے تھے اس غرض سے نشانہ بنا کر رکھا کہ اب مثیل دمشق عادل اور ایمان پھیلانے کا ہیڈکوارٹر ہو گا کیونکہ اکثر یہی ظالموں کی بستی میں ہی آتے رہے ہیں اور خدا تعالیٰ لعنت کی جگہوں کو برکت کے مکانات بناتا رہا ہے“
(ازالہ اوہام صفحہ ۶۸ تا ۷۰ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۳۴۔۱۳۶ حاشیہ)
۱۸۹۱ء ”قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ اُخْرِجَ مِنْهُ الْيَزِيدِيُّوْنَ یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں“
(ازالہ اوہام صفحہ ۷۳ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۳۸ حاشیہ)
۱۸۹۱ء ”(۱) ایک صاف اور صریح کشف میں مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ ایک شخص حارث ۱؎ نام یعنی حراثیت آنے والا جو
۱؎ حارث کے معنے زمیندار کے ہیں اور حراثیت سے مراد بڑا زمیندار ہے اور یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں پائی جاتی ہے۔ (مرتب)
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 141 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 287 پر درج ہے
حوالہ نمبر 293
خدا ترسی اور پاک دلی کو پیدا نہ کرے تب تک یہ جلسہ قرین مصلحت معلوم نہیں ہوتا ہمارا دل تو یہی چاہتا ہے کہ مبایعین محض للہ و للہیت لے کر آویں اور میری صحبت میں رہیں اور کچھ تبدیلی پیدا کر کے جائیں کیونکہ موت کا اعتبار نہیں۔ میرے نزدیک مبایعین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو مجھ سے سچا تعلق پیدا کریں اور فقط دین کو چاہتے ہیں سو ایسے پاک نیت لوگوں کا آنا بیٹھنا بہتر ہے کسی جلسہ پر موقوف نہیں بلکہ وقتا فوقتا جس کو فرصت اور فراغت ملے باتیں کر سکتے ہیں اور یہ جلسہ ایسا تو نہیں ہے کہ دنیا کے میلوں کی طرح خواہ مخواہ التزام اس کا لازم ہو بلکہ اس کا انعقاد محض نیت اور حسن ثمرات پر موقوف ہے اور بغیر اسکے ہیچ۔ اور جب تک معلوم نہ ہو اور تجربہ شہادت نہ دے کہ اس جلسہ سے دینی فائدہ ہے وہ قطعا قابل پابندی نہیں۔ اخلاق پر اس کا اثر نیک نہ ہو تب تک ایسا جلسہ صرف فضول ہی نہیں بلکہ میں سچ کہتا ہوں کہ اس سے مفاسد کے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ ایک مصیبت اور طریق ضلالت اور بدعت شنیعہ ہی ہے میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حال کے بعض پیرزادوں کی طرح صرف ظاہری شوکت دکھانے کیلئے اپنے مبایعین کو اکٹھا کروں بلکہ وہ علت غائی جس کے لئے میں بیعت لیتا ہوں اصلاح خلق اللہ ہے پس اگر کوئی امر یا انتظام موجب اصلاح نہ ہو بلکہ موجب فساد ہو تو مخلوق میں سے میرے جیسا اس کا کوئی دشمن نہیں ۔ اور اسی طرح حضرت مولوی نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں میں اب تک کوئی خاص انسیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیزگاری اور قلبی محبت باہم پیدا نہیں ہوئی سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اپنے پر نام بیعت رکھ کر اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ایسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح دیکھتے ہیں وہ ملنے کو تو یکسو، سلام علیک نہیں کر سکتے چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انہیں حقیر اور ذلیل جان کر اس قدر کینہ رکھتے ہیں کہ وہ ادنی ادنی خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی نسبت نری نفسانی بحثیں ہوتی ہیں، حالانکہ ایک دعویٰ بھی ہماری جماعت میں ہے۔ بلکہ یقینا اس سے دنیا دار ہی بہتر ہے جس پر خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو نصیحتوں کو سن کر اپنے فائدہ و عاقبت کو مقدم رکھتے ہیں اور انکے دلوں پر نصیحتوں کا عجیب اثر ہوتا ہے لیکن جس قسم کے کج دل لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اس میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے یہ کونسی جماعت ہے جو میرے ساتھ پیوند ایمانی کیا رکھیں انکے دل مرے ہوئے ہیں اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کو ستاتا اور اس سے بدظنی پر آمادہ ہوتا ہے سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہو سکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہرائے۔ اگر میرا ایک بھائی میرے
۹۹
یہ حوالہ صفحہ 288 پر درج ہے شہادت القرآن صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 294)
۳۹۶
سامنے با وجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہو اور میں با وجود اپنی صحت اور تندرستی کے چارپائی پر قبضہ کرتا ہوں تا وہ اُسپر بیٹھ نہ جائے تو میری حالت پر افسوس ہو اگر میں دردمندوں کی محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چارپائی اُسکے نہ دوں اور اپنے تئیں فرش زمین پسند نہ کروں اگر میرا بھائی بیمار ہو اور کسی درد میں لاچار ہو تو میری حالت پر حیف ہو اگر میں اُسکے مقابل پر امن ہو سو رہوں اور اُسکے لئے جہانتک میرے بس میں ہو آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں اور اگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ کو کچھ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہو اگر میں بھی دیدہ و دانستہ اُس سختی سے پیش آؤں بلکہ مجھے چاہیے کہ میں اُسکی باتوں پر صبر کروں اور اپنی خلوتوں میں اُسکے لئے رو رو کر دُعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے اور رُوحانی طور پر بیمار ہو اگر میرا بھائی سادہ ہو یا کم علم یا سادگی سے کوئی خطا اُس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہیے کہ میں اُس پر ٹھٹھا کروں یا میں رنجیدہ ہو کر تیوری دکھاؤں یا بدنیتی سے اسکی عیب گیری کروں یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں کوئی سچا مومن نہیں ہو سکتا جبتک اُسکا دل نرم نہ ہو جبتک وہ اپنے تئیں ہر ایک سے ذلیل تر نہ سمجھے اور ساری شیخیتیں دور نہ ہو جائیں خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جھک کر بات کرنا مقبول الہی ہونیکی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اُسکی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ سختی سے اُسکو اُٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اُٹھتا تو چارپائی کو اُلٹا دیتا ہے اور اُسکو نیچے گرا دیتا ہے پھر وہ دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور بُرا کہنے لگ جاتا ہے یہ انپڑھ اور ناپاک بخارات نکالتا ہے یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میں ہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہوں پھر میں کس خوشی کی اُمید سے لوگوں کو جلسہ کیلئے اکٹھے کروں یہ دنیا کے تماشوں میں سے کوئی تماشا نہیں، ابھی تک میں جانتا ہوں کہ میں اکیلا ہوں بجز ایک مختصر گروہ رفیقوں کے جو دو سو سے کسی قدر زیادہ ہیں جن پر خدا کی خاص رحمت ہے جن میں اَوّل درجہ پر میرے خالص دوست اور محب مولوی حکیم نور الدین صاحب اور چند اور دوست ہیں جنکو میں جانتا ہوں کہ وہ صرف خدا تعالیٰ کیلئے میرے ساتھ سچی محبت رکھتے ہیں اور میری باتوں اور نصیحتوں کو تعظیم کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اُنکی آخرت پر نظر ہے سو وہ انشاء اللہ دونوں جہانوں میں میرے ساتھ ہیں اور میں اُنکے ساتھ ہوں۔ میں اپنے ساتھ اُن لوگوں کو کیا سمجھوں جنکے دل میرے ساتھ نہیں
٭ یہ باتیں ہماری طرف سے اٹکل پچو نہیں بلکہ محض بصیرت سے ہیں اور کوئی مجاز نہیں کہ کسی کا نام لیکر اشارہ کرے کہ وہ درندہ صفت ہے غصہ کو اتارے اور فتنہ کی راہ اختیار کرے۔
۱۰۰
شہادت القرآن صفحہ 2 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 396 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 288 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 295)
۳۹۴
التوائے جلسہ ۲۷ دسمبر ۱۸۹۳ء
ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ چند ایسے وجوہ ہم کو پیش آئے جنہوں نے ہماری رائے کو اس طرف مائل کیا کہ ایک دفعہ اس جلسہ کو ملتوی رکھا جائے اور چونکہ بعض لوگ تعجب کرینگے کہ اس التواء کا موجب کیا ہوا لہٰذا بطور اختصار کسی قدر ان وجوہ میں سے لکھا جاتا ہے۔
اوّل۔ یہ کہ اس جلسہ سے مدعا اور اصل مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ اُنکے دل آخرت کیطرف بکلی جھک جائیں اور اُنکے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیزگاری اور نرم دلی اور باہم محبّت اور مواخات میں دُوسروں کے لئے ایک نمونہ بنجائیں اور انکسار اور تواضع اور راستبازی اُنہیں پیدا ہو اور دینی مہمات کیلئے سرگرمی اختیار کریں لیکن اس پہلے جلسہ کے بعد ویسا اثر نہیں دیکھا گیا بلکہ خاص جلسہ کے دنوں میں ہی بعض کی شکایت سُنی گئی کہ وہ اپنے بعض بھائیوں کی بدخوئی سے شاکی ہیں اور بعض اُس مجمع کثیر میں نیز اپنے آرام کیلئے دوسرے لوگوں سے کج خُلقی ظاہر کرتے ہیں گویا وہ مجمع ہی اُن کیلئے موجب ابتلاء ہوگیا۔ اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ جلسہ کے بعد کوئی بہت عُمدہ اور نیک اثر ابتک اس جماعت کے بعض لوگوں میں ظاہر نہیں ہوا اور اس تجربہ کیلئے یہ تقریب پیش آئی کہ ان دنوں سے آجتک ایک جماعت کثیر مہمانوں کی اس عاجز کے پاس بطور تبادل رہتی ہے یعنی بعض آتے اور بعض جاتے ہیں اور بعض وقت یہ جماعت سَو سَو مہمان تک بھی پہنچ گئی ہے اور بعض وقت اس سے کم لیکن اس اجتماع میں بعض دفعہ بباعث تنگی مکانات اور قلّتِ وسائل مہمانداری ایسی نالائق رنجش اور خود غرضی کی سخت گفتگو بعض مہمانوں میں باہم ہوتی دیکھی ہے کہ جیسے ریل میں بیٹھنے والے تنگی مکان کی وجہ سے ایک دُوسرے سے لڑتے ہیں اور اگر کوئی بیچارہ عین ریل چلنے کے قریب اپنی گٹھڑی کے سمیت بڑے اندیشہ کے دَوڑتا دَوڑتا اُن کے پاس پہنچ جائے تو اُسکو دھکے دیتے اور دروازہ بند کر لیتے ہیں کہ ہم میں جگہ نہیں حالانکہ گنجائش نکل سکتی ہو مگر سخت دلی ظاہر کرتے ہیں اور وہ ٹکٹ لئے اور بُقچہ اُٹھائے اِدھر اُدھر پھرتا ہے اور کوئی اُسپر رحم نہیں کرتا مگر آخر ریل کے ملازم جبراً اُسکو جگہ دلاتے ہیں۔ سو ایسا ہی اجتماع بھی بعض اخلاقی حالتوں کے بگاڑنے کا ایک ذریعہ معلوم ہوتا ہے اور جبتک کہ ایزادی کے پُورے وسائل میسّر نہ ہوں اور جبتک خدا تعالیٰ ہماری جماعت میں اپنے خاص فضل سے کچھ مادہ رقّت اور نرمی اور ہمدردی اور
۹۸
شہادۃ القرآن صفحہ ”ز“ مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 289 پر درج ہے
حوالہ نمبر 296
اندھے اور جیسا کہ کشتی کو غوطہ زن کے غوطہ تک کی حالت قرین مصلحت معلوم نہیں ہوتی ۔ تمہارا دل تو یہی چاہتا ہو کہ صاحبین محض للہ موجود ہو کر آویں اور میری صحبت میں رہیں اور کچھ تبدیلی پیدا کر کے جائیں کیونکہ موت کا اعتبار نہیں ۔ میں نے دیکھا ہے کہ مبایعین کو فائدہ پہونچتا ہے۔ حقیقۃً دلوں پر زنگ چڑھا ہو اور جس نے کہ سچے دین کو تلاش کرنا ہو اور فقط دین کو چاہتا ہے سو ایسے پاک نیت لوگوں کا آنا جانا بہتر ہے کسی جلسہ سے ۔ غرض یہ نہیں بلکہ اکثر وقتوں میں وہ میرے نزدیک رہ کر فراغت سے باتیں کر سکتے ہیں ورنہ جلسہ ایسا تو نہیں ہے کہ دنیا کے میلوں کی طرح خواہ مخواہ ہجوم اکٹھا کرنا لازم ہو بلکہ اس کا مقصد حسن نیت کے ثمرات پر موقوف ہے ورنہ بغیر اسکے ہیچ۔ اور جبتک معلوم نہ ہو اور تجربہ شہادت نہ دے کہ جلسہ سے یہ دینی فائدہ پہونچتا ہے اور خطائیں محو کی جاتی ہیں اور اخلاق پر اس کا اثر ہوتا ہے تبتک ایسا جلسہ صرف فضول ہی نہیں بلکہ میں کہوں گا کہ اس اجتماع سے خدا کے نزدیک ثواب پیدا نہیں ہوتا بلکہ ایک معصیت کی طرح فعل عبث اور بدعت شنیعہ ہے جسکو میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حال کے بعض پیرزادوں کی طرح صرف ظاہری شوکت دکھلانے کیلئے بے فائدہ مبایعین کو اکٹھا کروں بلکہ وہ بیعتِ خالی جسکے ضمن میں جملہ خلائق کی اصلاح مقصود نہ ہو پھر اگر کوئی امر یا انتظام موجب اصلاح نہ ہو بلکہ موجب فساد ہو تو مخلوق میں مجھے اس سے کچھ سروکار نہیں۔ لہٰذا مکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب نے اور احقر نے ادھر متوجہ ہو کر دیکھا ہے کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے ابتک کوئی خاص انسیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیزگاری کا عمدہ ثبوت باہم پیدا نہیں کیا سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور صدہا کوس پر سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کے ویسے ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں وہ مادہ تکبر کے سبب سے سیدھے منہ بات نہیں کر سکتے چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور میں ان میں بسا اوقات یہ خود غرضانہ احتقار دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ باتوں کی بناء پر لڑتے اور ایکدوسرے سے دست و گریبان ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے باہم کینہ رکھتے ہیں بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کلماتِ طعنہ زنی منہ پر لاتے ہیں اور نفسانی بحثیں ہوتی ہیں حالانکہ تکبر اور نخوت بھی ہماری جماعت میں بہت ہے۔ بلکہ یقیناً بعضوں میں سو گنا زیادہ ہے۔ بایں ہمہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ نصیحتوں کو سنکر بعضے سعید عاقبت کو مقدم رکھتے ہیں اور اُنکے دلوں پر نصیحتوں کا عجیب اثر ہوتا ہے لیکن میں بسا اوقات بعض لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے کہ یہ جماعت کے جو میرے ساتھ ہیں نفسانی باتوں میں کیوں اندھے ہو کر لڑ جاتے ہیں اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کو ستاتا اور اُس سے ہنسی ٹھٹھا کرتا ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہو سکتا جبتک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہراوے۔ اگر میرا ایک بھائی میرے
۹۹
یہ حوالہ صفحہ 289 پر درج ہے شہادت القرآن صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی
Back
حوالہ نمبر 297
خدمت اور بجا آوری کو حرزِ جان کر دے۔ تب تک یہ جلسہ قرینِ مصلحت معلوم نہیں ہوتا۔ حالانکہ اول تو یہی چاہئے تھا کہ مبائعین محض للہ سفر کر کے آویں اور میری صحبت میں رہیں اور کچھ تبدیلی پیدا کر کے جائیں کیونکہ موت کا اعتبار نہیں۔ میں نے دیکھنے میں مبائعین کو فائدہ پہونچے گا۔ حقیقی طور پر اُسی وقت پہونچ سکتا ہے کہ وہ کثرت سے یہاں آویں اور فقط دین کو بہانہ کرکے آ ویں ۔ ایسے پاک نیت لوگوں کا آنا بیحد خوب تر ہے۔ کسی جلسہ پر موقوف نہیں ۔ بلکہ جس وقت میں بھی وہ فرصت اور فراغت سے آ کر رہ سکتے ہیں اور یہ جلسہ ایسا تو نہیں ہو گا کہ ان کے میلوں کی طرح خواہ مخواہ التزام اس کا لازم ہو۔ بلکہ اس کا انعقاد محض حصول ثمرات پر موقوف ہے اور یہ جلسہ اسکے تابع اور مسبّب معلوم ہوتا ہے اور خود بخود شہادت دینے لگتا ہے کہ جلسہ سے کوئی بڑا فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی جاہلی پن دور ہو اور نہ اخلاقی پاکیزگی کا اثر ہو تب تک ایسا جلسہ صرف فضول ہی نہیں بلکہ میں قسّم کھا کر کہتا ہوں اس نوع سے نتائج نیک پیدا نہیں ہوتے۔ بلکہ معصیت اور طریق ضلالت اور بدعت شنیعہ ہے پس ہم کو یہ نہیں چاہئے کہ حال کے بعض پیرزادوں کی طرح صرف ظاہری شوکت دکھانے کیلئے اپنے مبائعین کو اکٹھا کریں جبکہ وہ عُفْونتِ خانے جنکے کوچے میں میلہ لگا رہتا ہے اور اصلاح باطن ناپید ہو ہم اگر کوئی امر یا انتظام موجب اصلاح نہ ہو بلکہ موجب فساد ہو تو مخلوق میں ہم بھی دجالوں کی طرح ایک دکان بنیں ہمارے مکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب سَلَّمَہُ اللہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت ابھی تک کوئی خاص اہمیّت اور تہذیب اور یگانگت اور قلبی محبت باہم پیدا نہیں کر سکی میں تو دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز پر بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ اپنی جماعت کے غریبوں کو حقیر نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ مارے تکبّر کے سیدھے منہ سلام علیک نہیں کر سکتے چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انمیں بڑا غرور اور تکبر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بگریباں ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور ایک معمولی بات پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں اور گو یہ عیب ابھی ہماری جماعت میں بہت سے بلکہ یقیناً دو سو سے زیادہ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو نصیحتوں کو سنکر کے مقاصد عاقبت کو مقدم رکھتے ہیں اور اُنکے دلوں پر نصیحتوں کا عجیب اثر ہوتا ہے لیکن میں بعضوں کی کج دلی و کجروی کا ذکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدا جانے یہ کہاں سے میری جماعت میں آ ملے ہیں جنہوں نے میرے ساتھ بیعت کی ہے مگر کیوں انکے دل کڑے ہوتے ہیں اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کو ستاتا اور اسکی غیبت کرتا ہے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہو سکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدّم نہ ٹھہراوے۔ اگر میرا ایک بھائی میرے
٨٩
یہ حوالہ صفحہ 290 پر درج ہے
شہادت القرآن صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 298
۳۵۷
بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کرے گی ۔ اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں ۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے ۔ (۱) اوّل والد مرحوم کے اثر نے (۲) دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے (۳) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے ۔
اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں ۔ صرف ایک رنج اور درد و غم ہر وقت مجھے لاحق حال ہے جس کا استغاثہ پیش کرنے کے لیے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے کہ اس ملک کے مولوی مسلمان اور ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دُکھ دیتے ہیں ۔ میرے قتل کے لیے ان لوگوں نے فتوے دیئے ہیں ۔ مجھے کافر اور بے ایمان ٹھہرایا ہے اور بعض ان میں سے حیا اور شرم کو ترک کر کے اس قسم کے اشتہار میرے مقابل پر شائع کرتے ہیں کہ یہ شخص اس وجہ سے بھی کافر ہے کہ اس نے انگریزی سلطنت کو سلطنت روم پر ترجیح دی ہے اور ہمیشہ سلطنت انگریزی کی تعریف کرتا ہے اور ایک باعث یہ بھی ہے کہ یہ لوگ مجھے اس وجہ سے بھی کافر ٹھہراتے ہیں کہ مَیں نے خدا تعالیٰ کے سچے الہام سے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس خونی مہدی کے آنے سے انکار کیا ہے جس کے یہ لوگ منتظر ہیں ۔ بیشک مَیں اقرار کرتا ہوں کہ مَیں نے ان لوگوں کو بڑا نقصان کیا ہے کہ مَیں نے ایسے خونی مہدی کا آنا سراسر جھوٹ ثابت کر دیا ہے جس کی نسبت ان لوگوں کا خیال تھا کہ وہ آکر بے شمار روپیہ ان کو دے گا ۔ مگر مَیں معذور ہوں ۔ قرآن اور حدیث سے یہ بات بپایہ ثبوت نہیں پہنچتی کہ دُنیا میں کوئی ایسا مہدی آئے گا جو زمین کو خون میں غرق کر دے گا ۔ پس میں نے ان لوگوں کا بجز اس کے کوئی گناہ نہیں کیا کہ اس خیالی لُوٹ مار کے روپیہ سے مَیں نے ان کو محروم کر دیا ہے مَیں خدا سے پاک الہام پا کر یہ چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے اخلاق اچھے ہو جائیں اور وحشیانہ عادتیں دُور ہو جائیں اور نفسانی جذبات سے اُن کے سینے دھوئے جائیں اور ان میں آہستگی اور سنجیدگی اور حلم اور میانہ روی اور انصاف پسندی پیدا ہو جائے اور یہ اپنی اس گورنمنٹ کی ایسی اطاعت کریں کہ دوسروں کے لیے نمونہ بن جائیں اور یہ ایسے ہو جائیں کہ کوئی بھی فساد کی رگ ان میں باقی نہ رہے ۔ چنانچہ کسی قدر یہ مقصود مجھے حاصل بھی ہو گیا ہے اور مَیں دیکھتا ہوں کہ دس ہزار یا اس سے بھی زیادہ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو میری ان پاک تعلیموں کے دل سے پابند ہیں؎۱ ۔ اور یہ نیا فرقہ مگر گورنمنٹ کے لیے نہایت مبارک فرقہ برٹش انڈیا میں زور سے ترقی کر رہا ہے اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہو جائیں تو مَیں قسم کھا کر
؎۱ مَیں نے اپنی کسی کتاب میں لکھا تھا کہ میری جماعت تین سو آدمی ہیں، لیکن اب وہ شمار بہت بڑھ گیا ہے کیونکہ زور سے ترقی ہو رہی ہے ۔ اب مَیں یقین رکھتا ہوں کہ میری جماعت کے لوگ دس ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہوں گے۔ اور میری فراست یہ پیشگوئی کرتی ہے کہ تین سال تک ایک لاکھ تک میری اس جماعت کا عدد پہنچے گا۔ منہ
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 357، 358 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 290 پر درج ہے
Back
(حوالہ نمبر 298) ۲۵۸
کہ سکتا ہوں کہ وہ فرشتے بن جائیں۔ اور اگر وہ اس گورنمنٹ کی سب قوموں سے بڑھ کر خیر خواہ ہو جائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہو جائیں۔ اگر وہ مجھے قبول کر لیں اور مخالفت نہ کریں تو یہ سب کچھ انہیں حاصل ہو گا اور ایک نیکی اور پاکیزگی کی روح ان میں پیدا ہو جائے گی۔ اور جس طرح ایک انسان تائب ہو کر گندے شہوات کے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح میری تعلیم سے ان میں تبدیلی پیدا ہو گی مگر میں نہیں کہتا کہ گورنمنٹ عالیہ جبراً ان کو میری جماعت میں داخل کرے اور نہ میں اس وقت یہ استغاثہ کرتا ہوں کہ کیوں وہ ہر وقت میرے قتل کے درپے ہیں اور کیوں میرے قتل کے لیے جھوٹے فتوے شائع کر رہے ہیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ یہ بد ارادے ان کے عبث ہیں ۔ کیونکہ کوئی چیز زمین پر نہیں ہو سکتی جب تک آسمان پر نہ ہولے۔ اور میں ان کی بدی کے عوض میں اُن کے حق میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے اور وہ خدا اور مخلوق کے حقوق کے شناسا ہو جائیں مگر چونکہ ان لوگوں کی عداوت حد سے بڑھ گئی ہے اس لیے میں نے اُن کی اصلاح کے لیے اور ان کی بھلائی کے لیے بلکہ تمام مخلوق کی خیر خواہی کے لیے ایک تجویز سوچی ہے جو ہماری گورنمنٹ کی امن پسند پالیسی کے مناسب حال ہے جس کی تعمیل اس گورنمنٹ عالیہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ محسن گورنمنٹ جس کے احسانات سب سے زیادہ مسلمانوں پر ہیں، ایک یہ احسان کرے کہ اس ہر روزہ تکفیر اور تکذیب اور قتل کے فتوؤں اور منصوبوں کے روکنے کے لیے خود درمیان میں ہو کر یہ ہدایت فرما دے کہ اس تنازعہ کا فیصلہ اس طرح پر ہو کہ مدعی یعنی یہ عاجز جس کو مسیح ہونے کا دعویٰ ہے اور جس کو یہ دعویٰ ہے کہ جس طرح نبیوں سے خدا تعالیٰ ہمکلام ہوتا تھا اسی طرح مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور غیب کے بھید مجھ پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور آسمانی نشان دکھلائے جاتے ہیں۔ یہ مدعی یعنی یہ عاجز گورنمنٹ کے حکم سے ایک سال کے اندر ایک ایسا آسمانی نشان دکھلاوے ایسا نشان جس کا مقابلہ کوئی قوم اور کوئی فرقہ جو زمین پر رہتے ہیں نہ کر سکے اور مسلمانوں کی قوموں یا دوسری قوموں میں سے کوئی ایسا ملہم اور خواب بین اور معجزہ نما پیدا نہ ہو سکے جو اس نشان کے ایک سال کے اندر نظیر پیش کر سکے اور ایسا ہی ان تمام مسلمانوں بلکہ ہر ایک قوم کے پیشواؤں کو جو ملہم اور خدا کے مقرب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ہدایت اور فرمائش ہو کہ اگر وہ اپنے تئیں سچ پر اور خدا کے مقبول سمجھتے ہیں اور ان میں کوئی ایسا پاک دل ہے جس کو خدا نے ہمکلام ہونے کا شرف بخشا ہے اور اپنی طاقت کے نمونے اس کو دیئے گئے ہیں تو وہ بھی ایک سال تک کوئی نشان دکھلاویں۔ پھر بعد اس کے اگر ایک سال تک اس عاجز نے ایسا کوئی نشان نہ دکھلایا جو انسانی طاقتوں سے بالاتر اور انسانی ہاتھ کی طول سے بھی بلند تر ہو یا یہ کہ نشان تو دکھلایا مگر اس قسم کے نشان اور مسلمانوں یا اور قوموں سے بھی ظہور میں آگئے تو یہ سمجھا جائے کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں اور اس صورت میں مجھ کو کوئی سخت سزا دی جائے گو موت
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 357، 358 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 290 پر درج ہے
حوالہ نمبر 299
۲۹۷
جو اسکو نہیں پہچانتے جسکو میں نے پہچانا ہو اور نہ اسکی عظمتیں اپنے دلوں میں بٹھاتے ہیں اور نہ ٹھٹھوں اور بیہودگیوں سے تامل کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہو اور کبھی نہیں سوچتے کہ ہم ایک زہر کھا رہے ہیں جس کا بالضرور نتیجہ موت ہے، درحقیقت وہ ایسے ہیں جنکو شیطانی راہیں چھوڑنا منظور ہی نہیں۔ یاد رہے کہ جو میری راہ پر چلنا نہیں چاہتا وہ مجھ سو نہیں اور اپنے دعوؤں میں جھوٹا ہو اور میرے مذہب کو قبول کرنا نہیں چاہتا بلکہ اپنا مذہب پسندیدہ سمجھتا ہو وہ مجھ سو ایسا دور ہے جیسا کہ مغرب مشرق سو وہ خطاء پر ہو کہ سمجھتا ہو کہ میں اسکے ساتھ ہوں میں بار بار کہتا ہوں کہ آنکھوں کو پاک کرو اور انکو روحانیت کے طور سو ایسا ہی روشن کرو جیسا کہ وہ ظاہری طور پر روشن ہیں ظاہری رویت تو حیوانات میں بھی موجود ہے مگر انسان اُس وقت سچا کھرا کہلا سکتا ہو جبکہ باطنی رویت یعنی نیک بد کی شناخت کا اُسکو حصہ ملے اور پھر نیکی کیطرف جھک جائے سو تم اپنی آنکھوں کیلئے نہ صرف چارپاؤں کی بینائی بلکہ حقیقی بینائی ڈھونڈھو اور اپنے دلوں سو بدی کے بُت باہر پھینکو کہ دنیا میں ہی عذاب سو جلد مرو گے اور دیکھو گے کہ نجات انہیں کو ہو جو دنیا کے جذبات سو بیزار اور بَری اور صاف دل ہو ۔ میں کہتے کہتے ان باتوں کو تھک گیا کہ اگر تمہاری یہی حالتیں ہیں تو پھر تم میں اور غیروں میں فرق ہی کیا ہو لیکن یہ دل کچھ ایسے ہیں کہ توجہ نہیں کرتے اور ان آنکھوں سو مجھے بینائی کی توقع نہیں لیکن خدا اگر چاہے اور میں تو ایسے لوگوں سو دنیا اور آخرت میں بیزار ہوں۔ اگر میں صرف اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو میرے لئے ایسے لوگوں کی رفاقت سو بہتر تھا جو خدا تعالیٰ کے احکام کو عظمت سو نہیں دیکھتے اور اُسکے جلال اور عزت سو نہیں کانپتے اگر انسان بغیر حقیقی راستبازی کے صرف منہ سو کہے کہ میں مسلمان ہوں یا اگر ایک سجدہ کا صرف زبان پر ادنیٰ کا نام لاوے تو کیا فائدہ ان طریقوں سو نہ وہ نجات پائیگا اور نہ وہ سیر ہوگا ۔ کیا خدا تعالیٰ دلوں کو نہیں دیکھتا۔ کیا اُس علیم وحکیم کی گہری نگاہ انسان کی طبیعت کے پاتال تک نہیں پہنچتی۔ پس اے نادانو خوب سمجھو اے غافلو خوب سوچ لو کہ بغیر سچی پاکیزگی ایمانی اور اخلاقی اور اعمال کے کسی طرح رہائی نہیں اور جو شخص ہر طرح سو گندہ رہ کر پھر اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہو وہ خدا تعالیٰ کو نہیں بلکہ وہ اپنے تئیں دھوکا دیتا ہے اور مجھے ان لوگوں سو کیا کام جو سچے دل سو دینی احکام اپنے سر پر نہیں اُٹھالیتے اور رسول کریم کے پاک نمونے کے نیچے سچے دل سو اپنی گردنیں نہیں دیتے اور راستبازی کو اختیار نہیں کرتے اور فاسقانہ عادتوں سو بیزار ہونا نہیں چاہتے اور ٹھٹھے کی مجالس کو نہیں چھوڑتے اور ناپاکی کے خیالوں کو ترک نہیں کرتے اور انسانیت اور تہذیب اور خدا ترسی کا جامہ نہیں پہنتے بلکہ غریبوں کو ستاتے اور عاجزوں کو دھکے دیتے اور اکڑ کر بازاروں میں چلتے اور تکبر سے کرسیوں پر بیٹھتے ہیں اور اپنے تئیں بڑا سمجھتے ہیں اور کوئی بڑا نہیں مگر وہی جو اپنے تئیں چھوٹا خیال کرے۔
۱۰۱
یہ حوالہ صفحہ 290 پر درج ہے شہادت القرآن صفحہ 101 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 397 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 300 براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۱۴
کئے گئے ہیں۔ لیکن بیعت سے مراد وہ بیعت نہیں جو صرف زبان سے ہوتی ہے اور دل اس سے غافل بلکہ روگردان ہے بیعت کے معنے بیچ دینے کے ہیں پس جو شخص درحقیقت اپنی جان اور مال اور آبرو کو اس راہ میں بیچتا نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا کے نزدیک بیعت میں داخل نہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک بختی کا مادہ بھی ہنوز اُن میں کامل نہیں اور ایک کمزور بچہ کی طرح ہر ایک ابتلاء کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں۔ اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور بدگمانی کی طرف دوڑتے ہیں جیسے کُتّا مُردار کی طرف۔ پس میں کیونکر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے مگر اِذن نہیں دیا جاتا کہ ان کو مطلع کروں ۔ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے ۔ پس مقامِ خوف ہے ۔
اسی طرح براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں میرا نام ابراہیم بھی رکھا گیا ہے جیسا کہ فرمایا۔ سلام عليك يا ابراهيم (دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۸) یعنی اے ابراہیم تجھ پر سلام۔ ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے بہت برکتیں دی تھیں اور وہ ہمیشہ دشمنوں کے حملوں سے سلامت رہا پس میرا نام ابراہیم رکھ کر خدا تعالیٰ یہ اشارہ کرتا ہے کہ ایسا ہی اس ابراہیم کو برکتیں دی جائیں گی۔ اور مخالف اس کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ جیسا کہ اسی براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے بوركت يا احمد وكان ما بارك الله فيك حقاً يعنى یعنی اے احمد! تجھے مبارک کیا گیا اور یہ تیرا ہی حق تھا۔ اور انہیں حصص سابقہ براہین احمدیہ میں اللہ تعالیٰ ایک جگہ مجھے مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ میں تجھے اس قدر برکت دونگا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ۔ اور جس طرح ابراہیم سے خدا نے خاندان شروع کیا اسی طرح اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں میری نسبت فرماتا ہے۔ سبحان الله ۸۸ زاد مجدك۔ ينقطع آباؤك ويبدء منك ۔ یعنی خدا پاک ہے جس نے تیری بزرگی کو
براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 114 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 291 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 301)
۴۶۴
اور فاسقانہ عادتوں سے بیزار ہونا نہیں چاہتے اور تماشے کی مجالس کو نہیں چھوڑتے اور ناپاکی کے خیالوں کو ترک نہیں کرتے اور انسانیت اور تہذیب اور حلم اور نرمی کا جامہ نہیں پہنتے بلکہ غریبوں کو ستاتے اور عاجزوں کو دھکے دیتے اور اکڑ کر بازاروں میں چلتے اور تکبر سے کرسیوں پر بیٹھتے ہیں۔ اور اپنے تئیں بڑا سمجھتے ہیں۔ اور کوئی بڑا نہیں مگر وہی جو اپنے تئیں چھوٹا خیال کرے۔ مبارک وہ لوگ جو اپنے تئیں سب سے زیادہ ذلیل اور چھوٹا سمجھتے ہیں اور نرمی سے بات کرتے ہیں اور غریبوں اور مسکینوں کی عزت کرتے اور عاجزوں کو تعظیم سے پیش آتے ہیں اور کسی شرارت اور تکبر کی وجہ سے شیخی نہیں کرتے اور اپنے رب کریم کو یاد رکھتے ہیں اور زمین پر فروتنی سے چلتے ہیں۔ سو میں بار بار کہتا ہوں کہ ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لیے نجات تیار کی گئی ہے۔ جو شخص شرارت اور تکبر اور خود پسندی اور غرور اور دنیا پرستی اور لالچ اور بدکاری کی دوزخ سے اسی جہان میں باہر نہیں آیا۔ وہ اس جہان میں بھی باہر نہیں آئے گا۔ میں کیا کروں اور کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں جو اس گروہ کے دلوں پر کارگر ہوں۔ خدا یا مجھے ایسے لفظ عطا فرما اور ایسی تقریریں الہام کر جو ان دلوں پر اپنا نُور ڈالیں اور اپنی تریاقی خاصیت سے ان کی زہر کو دُور کر دیں۔ میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ بھی دن ہو کہ اپنی جماعت میں بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے در حقیقت جھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کر لیا کہ وہ ہر یک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے۔ اور تکبر سے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے بالکل دُور جائیں گے اور اپنے ربّ سے ڈرتے رہیں گے۔ مگر ابھی تک بجز خاص چند آدمیوں کے ایسی شکلیں مجھے نظر نہیں آتیں۔ ہاں نماز پڑھتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ نماز کیا شئے ہے۔ جب تک دل فروتنی کا سجدہ نہ کرے۔ صرف ظاہری سجدوں پر اُمید رکھنا طمع خام ہے۔ جیسا کہ قربانیوں کا خون اور گوشت خدا تک نہیں پہنچتا۔ صرف تقویٰ پہنچتی ہے۔ ایسا ہی جسمانی رکوع و سجود بھی ہیچ ہے جب تک دل کا رکوع و سجود و قیام نہ ہو۔ دل کا قیام یہ ہے کہ اس کے حکموں پر قائم ہو اور رکوع یہ کہ اس کی طرف جھکے اور سجود یہ کہ اس کے لیے اپنے وجود سے دست بردار ہو۔ سو افسوس ہزار افسوس کہ ان باتوں کا کچھ بھی اثر میں ان میں نہیں دیکھتا۔ مگر دُعا کرتا ہوں اور جب تک مجھ میں دمِ زندگی ہے کئے جاؤں گا۔ اور دعا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ میری اس جماعت کے دلوں کو پاک کرے اور اپنی رحمت کا ہاتھ لمبا کر کے اُن کے دل اپنی طرف پھیر دے۔ اور تمام شرارتیں اور کینے ان کے دلوں سے اُٹھا دے اور باہمی سچی محبت عطا کر دے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ دُعا کسی وقت قبول ہوگی اور خدا میری دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا۔
ہاں میں یہ بھی دُعا کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میری جماعت میں خدا تعالیٰ کے علم اور ارادہ میں بدبخت ازلی ہے جسکے لیے یہ مقدر ہی نہیں کہ سچی پاکیزگی اور خدا ترسی اُسکو حاصل ہو تو اسکو اے قادر خدا میری طرف سے بھی قطع کر دے۔ کیونکہ میری طرف سے نفرت ہے اور اس کی جگہ کوئی اور لا، جس کا دل نرم اور جس کی جان میں تیری طلب ہو۔ اب میری یہ حالت ہے کہ بیعت کرنے والے سے میں ایسا ڈرتا ہوں جیسا کہ کوئی شیر سے۔ اسی وجہ سے کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی دُنیا کا کیڑہ ہو کر میرے ساتھ
مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 364 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 291 پر درج ہے
حوالہ نمبر 302
فتح اسلام ۴۰ بیان مسیح موعود
اور بے سامانی کی حالت میں چھوڑ گئے ۔ اے خداوند قادر مطلق تو اُن کا متکفل اور متولی ہو ۔ اور میرے محبّین کے دلوں میں الہام ڈال کہ اپنے اس بزرگ بھائی کے پسماندوں کے لئے جو بے کس اور بے سامان رہ گئے کچھ ہمدردی کا حق بجا لاویں۔
از کرم آں بندہ خود را ببخشش ہا نواز اِیں گدا افتادگاں را از ترحم یارب بیں
میں نے بطور نمونہ اس جگہ چند دوستوں کا ذکر کیا ہے اور اسی رنگ اور اسی شان کے میرے اور دوست بھی ہیں جن کا مفصل ذکر انشاء اللہ ایک مستقل رسالہ میں کروں گا۔ اب مضمون طول ہوا جاتا ہے اسی پر بس کرتا ہوں۔
اور میں اس جگہ اس بات کا اظہار بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہیں وہ سب کے سب ابھی اس بات کے لائق نہیں کہ میں اُن کی نسبت کوئی عمدہ رائے ظاہر کر سکوں ۔ بلکہ بعض خشک ٹہنیوں کی طرح نظر آتے ہیں جن کو میرا خدا وند جو میرا متولی ہے مجھ سے کاٹ کر جلنے والی لکڑیوں میں پھینک دے گا بعض ایسے بھی ہیں کہ اوّل اُن میں دلسوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب اُن پر سخت قبض وارد ہے اور اخلاص کی شبنم گری اور مریدانہ محبت کی نورانیت باقی نہیں رہی ۔ بلکہ صرف بَلْعَم کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں اور بوسیدہ درخت کی طرح اب بجز اس کے کسی کام کے نہیں کہ جڑ سے اُکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دیئے جائیں۔ وہ تھک گئے اور درماندہ ہو گئے۔ اور نابکار دنیا نے اپنے دامِ تزویر کے نیچے اُنہیں دبا لیا۔ سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عنقریب مجھ سے کاٹ دیئے جائیں گے۔ بجز اُس شخص کے کہ خدا تعالےٰ کا فضل نئے سرے اُس کا ہاتھ پکڑ لیوے ۔ ویسے بھی بہت ہیں جن کو خدا تعالےٰ نے ہمیشہ کے لئے مجھے دیا ہے اور وہ میرے درختِ وجود کی سرسبز شاخیں ہیں۔ اور میں انشاء اللہ کسی دوسرے وقت میں اُن کا تذکرہ لکھوں گا۔
فتح اسلام صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن جلد سوم صفحہ 40 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 292 پر درج ہے
Back
(حوالہ نمبر 303)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَلَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسَالَاتِ اللّٰهِ وَيَخْشَوْنَهٗ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ
الفضل
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پاک جماعت کا ترجمان دین اسلام کی اشاعت اور احمدیت کی ترقی کا بہترین ذریعہ ایڈیٹر غلام نبی The ALFAZL QADIAN. اخبار الفضل قادیان نمبر 89 مورخہ 18 شوال 1353ھ مطابق 24 جنوری 1935ء جلد 22
ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
فرمایا :۔ مومن کو ابتلاؤں کے نیچے آ کر خوش ہونا چاہئے اور ابتلاء اور شدائد میں قدم آگے پیچھے نہیں کرنا چاہئے۔ تحقیقاً حق یہ ہے کہ جو سچا مومن ہے۔ ابتلاء اس کے ایمان کی صداقت اور اس کی پختگی کی علامت ہے۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ میں نے ایمان قبول کیا اور پھر اس پر کوئی ابتلاء نہیں آیا۔ اور وہ ہمیشہ راحت اور سکھ ہی میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا ایمان یقیناً خطرے میں ہے۔ مومن کے لئے ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔ اور یہ ابتلاء اس کی ترقی کا باعث ہوتا ہے۔ جن سے گزر کر وہ ترقی کے مدارج طے کرتا ہے۔ اس لئے ابتلاؤں سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ بلکہ ان کو خدا تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھ کر اس کا شکر ادا کرنا چاہئے۔
مومن کیلئے ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے
یقیناً یاد رکھو کہ ابتلاء اور امتحان ایمان کی شرط ہے۔ اس کے بغیر انسان سچا مومن نہیں ہو سکتا۔ اور نہ وہ کمالات اس میں پیدا ہو سکتے ہیں جو سچے مومن کے لئے ضروری ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی شخص بغیر امتحان کے کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پس یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کے مدارج بغیر امتحان کے حاصل ہو جائیں۔ پس ابتلاء کا آنا ضروری ہے اور اس سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ بلکہ اس کو خدا تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھ کر اس کا شکر ادا کرنا چاہئے۔
تقریر مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار "الفضل" جلد 22 نمبر 89 صفحہ 8 مورخہ 24 جنوری 1935ء یہ حوالہ صفحہ 293 پر درج ہے
حوالہ نمبر 303
خادمہ
کہا ہے۔ اور کیا ہی الفاظ سے کتنا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ہر انسان کو اپنا حقیر خادم سمجھا۔ حقیقت ان کی
انسان سے مراد انسان کامل ہے
میں نہیں کہتا کہ یہ دعویٰ کیا ہے۔ البتہ میں نے سنا ہے کہ وہ جامعہ کے تدریسی بورڈ کے ممبر ہونے پر بہت خوش ہوئے یا حقیقت میں خادم ہونے میں۔ اور جس طرح پر وہ زندگی بسر کرتے تھے وہ تو ایک عجیب بات تھی۔ اس واسطے ہم نے کوئی حقیقت میں نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ سب پر فضل اسی طرح ایک
عورتوں کی نگاہ
خادمہ پر پڑتی ہے۔ ان کی کوئی وقعت نہیں۔ اس کی عقل تیزی کے حوصے بند۔ اس کو سمجھ نہیں ہوتیں۔ اور ان کا خیال آواز پر بہت اونچا ہوتا ہے۔ اگر مجھے ثبوت ہی دیں تو میں یہ مان لوں۔ میں یہ نہیں جانتا قطعی باتیں۔ یا نہ سنیں
شوہروں کے بینکوں کی کاپی
رکھی ہے۔ ان میں کوئی وقعت نہیں۔ ان میں کوئی شاندار شخصیتیں نہیں ۔ اور ان میں کوئی روشنی و رمق نہیں میں نے کہہ دیا کہ ان کے دماغ میں داخل ہوتا ہے۔ مگر مجھے چاروں طرف سے ان کے دماغ کا پتہ نہیں چلتا آہ۔ یہ مجھے معلوم کیا ہے۔ میں کے انہیں کیا سمجھا جاتا ہے۔ خادمہ سمجھ کر نہ میں نے کوئی بات نہ کی۔ مسئلہ کی یہ دلیلیں بیان کرو۔ انہیں اور کوئی بات نہیں سمجھائی جاتی ۔ میں کے یہ عہد کیا ۔ میں جو کہتا ہوں کیونکہ خبریں کیوں اور ہم سے مشورہ نہیں لیا۔ خدا کے پاس خادمہ ماننے
تعمیر کا کام
کوئی نہیں۔ اگر ہے تو تعمیری کام کیا ہے۔ اور پھر اسی نکتے پر میں ۔ کہ اگر چندہ ہو گیا یہ خیال جو کھڑے تھے احساس کروائو۔ اور پھر اس کے بعد ثبوت کو اور زیادہ مضبوط۔ یہ براہِ راست یہ خیال نہ پھیلا دیجئے ۔ کہ کہیں تعمیری کام پر بندہ ہوتا تو میں تو نہ
مسیح موعود کی ضرورت
تھی۔ ورنہ اس قدر مسلئے انہی۔ گویا ہماری جماعت صرف چندوں ہی کے لئے مسلمانوں کو روکے۔ یہ بات میں کام کر رہی ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا۔ اس سے زیادہ دلیل اس سے زیادہ وزنی۔ اس سے زیادہ واضح اور اس سے زیادہ
کینہ خیال
اس میں کوئی بات نہیں۔ یہ تو عام بات ہے۔ جس کا سارا زور ہے۔ اور یہ ہی سچا ہے۔ جھوٹ کی کیا ۔ تبلیغ کے لئے تعلیم دی جارہی ہے۔ حالانکہ یہ بہت ہی
مسلہ کے معنے
اس میں ہم نے لکھا ہے کہ یہ مسئلہ اس قدر اہم ہے۔ کسی نے اور پڑھا۔ کہ اس کے کیا معنے ہیں۔ بھلا معلوم ہوا۔ اکثریت بے حد ناواقفیت پر حیرت۔ بلکہ بعض وقت تو غصہ بھی آجاتا ہے۔ ہم میں کوئی ڈاکٹر کو بلا سکتا ہے۔ وہ علم وہی ہے کہ جو میں بتا رہا ہوں کوئی نہیں۔ میں نے تو بغور صحیح یہ خط مطالعہ کیا۔ سب کچھ دیکھا ہے۔ آپ لوگوں کو بھی کم از کم روزانہ قرآن کو پڑھتے اور
اخبارات کا باقاعدہ مطالعہ
کرتے۔ ہمیں شرمندگی۔ اور اس میں ڈاکٹر سے لے کر عام تک جو اپنے نے چھاپی ہیں۔ میں سارا اخبار کا مطالعہ کیا مگر نہیں پڑھا۔ میں تو جو خط و عہد نامہ پڑھتا ہوں۔ تو اس نے اس شرط کو رکھا ہے۔ کہ جب ہم سوتے وقت تو میں بھی جاگ رہے ہوتے۔ اور جب ہم جاگتے تو اسی وقت بھی آپ کام کر رہے ہوتے ۔ جب انہیں علم ہی نہیں ۔ کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ تو وہ دنیا میں کام کیا کر سکتے ہیں۔ میں نے ایک ہی مثال دے کر انہیں بتایا ہے۔ کہ کیا آپ اس سے ناواقف۔ اور ابھی میں نے ان سے ایک اور بھی سوال کیا کہ جب ایک شخص سے میں نے پوچھا۔ کیا آپ کو
کس طرح تبلیغ کرو گے
اور ہم اب ۔ کہ اس طرح میں کیا کر سکتا ہوں ۔ یہ غلط تھے۔ ان کی جہالت تو بتاؤ۔ یہ تو خود نہیں بتاتے۔ ان صاحب نے مجھ سے پوچھا ۔ اس وقت مجھے یہ کہہ دیں ۔ میں کام کر رہا ہوں ۔ مگر کتنے والے ہیں۔ میں ان سے خیال ہے۔ میں طریقہ بتاؤ ۔ میں کہتا کیا ہے ۔ اگر مرزا کی زبان پر آیا۔ اور اس سے پوچھا جائو۔ تو کس طرح بتاؤ گے وہ یہی کہتا ۔ میں طرح ہر کوئی کہتا ۔ میں سوال کیا کام کیا ہے ۔ کہ وہ سیدھا چل پڑتا ہے۔ آگے نہ پیچھے دیکھتا وہ تو یوں جھونک دئیے ۔ یہ تو ان سے پوچھو تو
بندوق کی گولی
پڑا۔ وہ کہتا جائے گا۔ ہم احمدی ہیں جو مسلمانوں والا سے پیچھے گئے۔ اور طوائف کا کوئی خیال نہ کیا ۔ خدا کا دھیان نہ اور وہ یوں مرنے جا رہیں۔ ہم تو دنیا میں کوئی
بینک اور سینیما تھیٹر
کرتا ہے۔ مگر ہم تو کوئی کافی مانگ رہی ہے۔ جو فرما نہیں سے یہ چندہ ہو گئے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ جماعت ترقی نہیں کرتی۔ حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ قادیان میں ایک
تبلیغی شعبہ
قائم ہے۔ جو سارے ملک میں۔ اور اسی طرح بیرون ممالک میں بھی۔ کام کر رہا ہے۔ مگر یہاں تو روٹی اور کپڑا کی وجہ۔ بیرون جانے والے کو کھانے پینے کی جگہ مل جائے گی۔ میں نے اس کی جگہ ہم کام کرنے بیٹھے ہیں۔ اور ان کے متعلق ہم یہی کہتے ہیں ۔ کہ بالکل ناواقف میں کہہ سکتا۔ لیکن اگر ہم ملکی ناخواندہ اور بچوں اور عورتوں تک یہ مسئلہ آسانی سے پہنچا جائے۔ تو ہم دونوں میں ہی کام چل سکتا۔
مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کی تعلیم
ہمارے ہاں دی جاتی ہے۔ یہ ہی ہماری غایت ہے ۔ یہ ہی وہ غایت ہے۔ اس میں شک نہیں۔ کہ مخالف طبقہ میں ان کے اخلاص پر بہت اثی ہے کہ ہم سچائی پر ہیں۔ اب ہم جب میں نے چاہا۔ کہ میں کچھ دو کروں ۔ تو میں حالانکہ وہاں کیا ہے۔ لیکن ہے بہت ہی مدت میں۔ تو اس نے ان پر کیا کچھ کہا۔ میں نے ہے میں جو آسمان سے انقلاب کی قسم آپ اس پر غور کریں۔ کہ جن میں جذبات نہیں
نوکری یافتوں میں
ہم اور ان کی تنخواہ نہ بڑھا دی جائے ۔ یہ طلاق نامے ۔ جن کی انکار کی ذات میں اخلاص ہے۔ مگر یہ اخلاص استعادہ سے یہ نہ ہوگا۔ کہ ہم
ناخلف
میں۔ یہ رسم اور مسلمانوں کو ہونا چاہیے۔ خواہ نہیں ہوں وہ میرے میں گھسنے کیلئے ہوئے۔ ہم نے مدرسہ اور جامعہ میں ہیں۔ اس لئے کیا ہے۔ کہ وہ باہر سے میں کام کرنے کیلئے جائیں۔ پھر جو جا سکتا ہو وہ یہ نہیں آسکتے ۔ یہ ایک اتنی بڑی بات ہے کہ میں کہتا ہوں کہ یہ سب خالص ہیں۔ میں کی زندگیاں تباہ کر دی گئیں۔ .... ہیں ملتے اور
مسجد کے اشکال مولوی
نے کیا ہے۔ مدرسہ کے طالب علموں کی طرح جو ہم عالم ہے۔ نہ ان کی صورتیں ملتی ہے۔ اور نہ ان کے
سینوں میں سلگائی ہوئی آگ
بے لاگ ہے تو وہاں ہو تو مگر دبی ہوئی آگ یک دم سے سلگتی ہے۔ جذبات کوئی فائدہ نہیں۔ یہ نہ کہتے۔ کہ ہم میں ایمان فائدہ اور ہے۔ پھر کھوکھلا اور ایمان جب کھلے گا۔ تو
تقریر مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد 22 نمبر 89 صفحہ 8 مورخہ 24 جنوری 1935ء یہ حوالہ صفحہ 293 پر درج ہے
حوالہ نمبر 304
۲۸۴
- (۹۶۸) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ کسی
کام کے متعلق میر صاحب یعنی میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب کا اختلاف ہو گیا۔ میر صاحب نے ناراض ہو کر اندر حضرت صاحب کو جا اطلاع دی ۔ مولوی محمد علی صاحب کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ ہم لوگ یہاں حضور کی خاطر آئے ہیں کہ تا حضور کی خدمت میں رہ کر کوئی خدمت دین کا موقعہ مل سکے ۔ لیکن اگر حضور تک ہماری شکایتیں اس طرح پہنچیں گی تو حضور بھی انسان ہیں ۔ ممکن ہے کسی وقت حضور کے دل میں ہماری طرف سے کوئی بات پیدا ہو تو اس صورت میں ہمیں بجائے ثواب کے الٹا نقصان ہو جائے گا ۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ میر صاحب نے مجھ سے کچھ کہا تو تھا مگر میں اسقدر محو تھا کہ کانوں میں آتا ہی نہ تھا ، کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے معلوم نہیں کہ میر صاحب نے کیا کہا اور کیا نہیں کہا ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ چند دن ہوئے ایک خیال میرے دماغ میں اس زور کے ساتھ پیدا ہوا ہے ۔ کہ اسنے دوسری باتوں سے مجھے بالکل محو کر دیا ہے بس ہر وقت اُٹھتے بیٹھتے وہی خیال میرے سامنے رہتا ہے ۔ میں باہر لوگوں میں بیٹھا ہوتا ہوں اور کوئی شخص مجھ سے کوئی بات کرتا ہے تو اس وقت بھی میرے دماغ میں وہی خیال چکر لگا رہا ہوتا ہے ۔ وہ شخص سمجھتا ہوگا ۔ کہ میں اس کی بات سن رہا ہوں مگر میں اپنے اس خیال میں محو ہوتا ہوں ۔ جب میں گھر جاتا ہوں تو وہاں بھی یہی خیال میرے ساتھ ہوتا ہے ۔ غرض ان دنوں یہ خیال اس قدر کے ساتھ میرے دماغ پر غلبہ پائے ہوئے ہے ۔ کہ کسی اور خیال کی گنجائش نہیں رہی ۔ وہ خیال کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ میرے آنے کی اصل غرض یہ ہے کہ ایک ایسی جماعت تیار ہو جاوے جو سچے موحد ۔ حامد ۔ خدا پر حقیقی ایمان لانے والی ہو اور اُسکے ساتھ حقیقی تعلق رکھنے والی اور اسلام کا سچا پیرو بنے اور آنحضرت صلعم کے اس نمونہ پر کاربند ہو اور اصلاح و تقویٰ کے رستے پر چلنے والوں کا اعلیٰ نمونہ قائم کرے ۔ سو ہماری جماعت کے اندر یہ اشیاء نہایت کم ہیں ۔ ورنہ اسکا منشا پورا نہیں ہوگا ۔ غرض میری توجہ جو تھی ۔ وہ اگرچہ بیرونی دشمن پر غلبہ پانے اور اسکو پوری طرح مغلوب کرنے کی تھی مگر میں یہی دیکھ رہا ہوں کہ ہماری بیعت کی اصل غرض تو یہی نہ تھی ۔ تو گویا ہمارا سارا کام ادھورا رہ گیا ۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ گو میں وہ باتیں کماحقہ بجا نہ لا سکا تو نمایاں طور پر نشانات ظاہر ہورہے ہیں اور دشمن بھی اپنی کمزوری محسوس کرنے لگا ہے لیکن جو ہماری بیعت
سیرت المہدی جلد اول صفحہ 254 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 294 پر درج ہے
حوالہ نمبر 305
۲۴۹
جس خط کا حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ذکر کیا۔ یہ خط الحکم جلد 9 نمبر 11 مورخہ 21 مارچ 1905ء صفحہ 9 پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے تشریحی مضمون کے ساتھ شائع ہوا ہے جو یہ ہے :
" محبّی اخویم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ میں ایک مدت سے بیماریوں میں رہا۔ اور اب بھی ان کا بقیہ باقی ہے میں چاہتا تھا کہ اپنے ہاتھ سے جواب لکھوں مگر بباعث بیماری کے لکھ نہ سکا۔ آپ کے پہلے خط کا ماحصل جس قدر مجھ کو یاد ہے یہ ہے کہ میری نسبت ۱؎ کی جماعت کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ روپیہ کے خرچ میں بہت اسراف ہوتا ہے۔ آپ اپنے پاس روپیہ جمع نہ رکھیں اور یہ روپیہ ایک کمیٹی کے سپرد ہو جو حسبِ ضرورت خرچ کیا کریں اور یہ بھی ذکر تھا کہ اُس روپیہ میں سے باغ کے چند خدمتگار بھی روٹیاں کھاتے ہیں۔ اور ایسا ہی اور کئی قسم کے اسراف کی طرف اشارہ تھا جن کو میں سمجھتا ہوں آپ نے اپنی نیک نیتی سے جو کچھ لکھا بہتر لکھا میں ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کا بُرا مانوں۔ میں آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو پورا کرنا مومن کا فرض ہے اور اس کی خلاف ورزی معصیت ہے کہ آپ ۔۔۔۔۔ تمام جماعت کو اور خصوصاً ایسے صاحبوں کو جن کے دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہوا ہے بہت صفائی سے اور کھول کر سمجھا دیں کہ اس کے بعد ہم ۔۔۔۔۔ کا چندہ کلیۃً بند کرتے ہیں اور ان پر حرام ہے اور قطعاً حرام ہے اور مثل گوشت خنزیر ہے کہ ہمارے کسی سلسلہ کی مدد کے لیے اپنی تمام زندگی تک ایک حبہ بھی بھیجیں۔ ایسا ہی ہر شخص جو ایسے اعتراض دل میں مخفی رکھتا ہے اس کو بھی ہم یہی قسم دیتے ہیں۔
یہ کام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جس طرح وہ میرے دل میں ڈالتا ہے خواہ وہ کام لوگوں کی نظر میں صحیح ہے یا غیر صحیح، دُرست ہے یا غلط میں اسی طرح کرتا ہوں پس جو شخص کچھ مدد دے کر مجھے اسراف کا طعنہ دیتا ہے وہ میرے پر حملہ کرتا ہے۔ ایسا حملہ قابل برداشت نہیں۔ اصل تو یہ ہے کہ مجھے کسی کی بھی پروا نہیں۔ اگر تمام جماعت کے لوگ متفق ہو کر چندہ بند کر دیں یا مجھ سے منحرف ہو جائیں تو وہ جس نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا ہے وہ اور جماعت ان سے بہتر پیدا کر دے گا جو صدق اور اخلاص رکھتی ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ یَنْصُرُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدِہٖ ۔ یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُّوْحِیْ اِلَیْہِمْ مِنَ السَّمَاءِ یعنی خدا تیری اپنے پاس سے مدد کرے گا۔ تیری وہ مدد کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ وحی کریں گے اور الہام کریں گے۔ پس اس کے بعد میں ایسے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بھی نہیں سمجھتا جن کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اور کیا وجہ کہ اُلجھیں جبکہ میں ایسے شک دل لوگوں کو چندہ کے لیے مجبور
۱؎ جس شخص کے نام یہ خط تھا اس کا اظہار نہیں کیا گیا (مرتب)
ملفوظات جلد چہارم صفحہ 249، 250 [حاشیہ] از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 295 پر درج ہے
حوالہ نمبر 305
۲۵۰
نہیں کرتا جن کا ایمان ہنوز ناتمام ہے۔ مجھے وہ لوگ چندہ دے سکتے ہیں جو اپنے سچے دل سے مجھے خلیفۃ اللہ سمجھتے ہیں۔ اور میرے تمام کاروبار خواہ اُن کو سمجھیں یا نہ سمجھیں ان پر ایمان لاتے اور ان پر اعتراض کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ میں تاجر نہیں کہ کوئی حساب رکھوں ، میں کسی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دوں ۔ میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو ایک ذرہ بھی میری نسبت اور میرے مصارف کی نسبت اعتراض دل میں رکھتا ہے اس پر حرام ہے کہ ایک کوڑی میری طرف بھیجے۔ مجھے کسی کی پروا نہیں ، جبکہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے گویا ہر روز کہتا ہے کہ میں ہی بھیجتا ہوں جو آتا ہے اور کبھی میرے مصارف پر وہ اعتراض نہیں کرتا تو دُوسرا کون ہے، جو مجھ پر اعتراض کرے۔ ایسا اعتراض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی تقسیم اموال غنیمت کے وقت کیا گیا تھا۔ سو میں آپ کو دوبارہ کہتا ہوں کہ آئندہ سب کو کہدیں کہ تم کو اس خدا کی قسم ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور ایسا ہی ہر ایک جو اس خیال میں شریک ہے کہ ایک حبّہ بھی میری طرف کسی سلسلہ کے لیے بھی چندہ تک ارسال نہ کریں، پھر دیکھیں کہ ہمارا کیا حرج ہوا؟ اب قسم کے بعد میرے پاس کچھ نہیں کہ اور لکھوں۔ خاکسار مرزا غلام احمد
حل مشکلات کا طریق ایک شخص نے اپنی مشکلات کے لیے عرض کی ۔ فرمایا : استغفار کثرت سے پڑھا کرو اور نمازوں میں یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ پڑھو۔ پھر اس نے عرض کی کہ استغفار کتنی مرتبہ پڑھوں؟ فرمایا : کوئی تعداد نہیں۔ کثرت سے پڑھو یہانتک کہ ذوق پیدا ہو جائے اور استغفار کو منتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ سمجھ کر پڑھو ۔ خواہ اپنی زبان میں ہی ہو۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ اے اللہ ! مجھے گناہوں کے بُرے نتیجوں سے محفوظ رکھ اور آئندہ گناہوں سے بچا۔ زاں بعد خاکسار ایڈیٹر الحکم نے مولوی اشرف الدین احمد صاحب کے صاحبزادہ کے لیے دُعا کے واسطے عرض کیا ۔ فرمایا : اُن کا خط بھی آیا ہے۔ اُن کو لکھ دو کہ یاد دلاتے رہیں۔
ملفوظات جلد چہارم صفحہ 249 ، 250 [حاشیہ] از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 295 پر درج ہے
حوالہ نمبر 306
رجسٹرڈ نمبر L 50
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ
رجسٹرڈ ٹیلیفون نمبر ۸۴
ایڈیٹر: غلام نبی الفضل خطبہ نمبر قادیان روزنامہ THE DAILY ALFAZL, QADIAN قیمت ایک آنہ
جلد ۲۵ ۲۲ ربیع الاول ۱۳۵۶ھ یوم شنبہ مطابق ۵ جون ۱۹۳۷ء نمبر ۱۲۹
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
امام کا مقام یہ ہے کہ وہ حکم دے اور ماموم کا مقام یہ ہے کہ وہ اطاعت کرے
افرادِ جماعت کو خود بخود اُن باتوں میں دخل نہیں دینا چاہئے جن کا اثر ساری جماعت پر پڑتا ہو
از حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ
فرمودہ ۲۸ مئی ۱۹۳۷ء
سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- جائیداد دیکھنے کو گئے ہیں۔ مگر میں نے کل
ایک خطبہ
دیئے تھے کہ وہ ان میں پڑھا جائے۔ وہ باتیں جو لکھ کر میں نے بعض جگہوں پر پڑھنے کے لئے بھجوا دیا جائے ۔ کیونکہ وہ خطبہ
موجودہ فتنوں کے متعلق
تھا ۔ اور گو وہ درپردہ سیاسی تھا۔ اور لوگ اس وقت سیاسی پہلو
ان میں سے اکثر اپنے اپنے گاؤں کی خیر و خبر قادیان میں پہنچاتے رہتے تھے۔ بلکہ اس مطلب کے لئے چند اشخاص قادیان میں اپنے ڈیرے لگا رہے تھے۔ اور میں جو چاہتا تھا کہ میری بات قادیان سے باہر رہنے والے لوگوں تک پہنچے۔ اس لئے میں نے ہدایت دے کر روانہ کئے۔ کہ میرے سامنے ہی روانہ ہو سکیں۔ اور انہیں کہوں کہہ دے۔ اور ان کے سامنے
ہدایت اور تاکید
پیش کر رہی تھی ۔ مگر باوجود میرے منع کرنے کے احرار نے شرارتیں شروع کیں ۔ جن کی ہمدردی مجھ پر نہیں ۔ ان پر ہے ۔ میں آج پھر اُسی مضمون کے متعلق آپ لوگوں سے کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں ۔ اور صرف آپ لوگوں سے بلکہ
باہر کی جماعتوں سے
بھی ۔ اور خدا تعالیٰ کے سامنے ۔ اس لئے یہ خطبہ پڑھتا ہوں ۔ کہ میں نے جو امانت آپ لوگوں تک پہنچانی
ہے ۔ جو میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا منشاء اور قرآنی تعلیم ہے :- میں نے اُس خطبہ میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ جو جماعتیں منظم ہوتی ہیں ۔ اُن پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں ۔ اور کچھ
شرائط کی پابندی
کرنی ان کے لئے لازم ہوتی ہے جن کے بغیر ان کے کام کبھی بھی صحیح طور پر نہیں چل سکتے۔
تقریر مرزا محمود احمد مندرجہ الفضل قادیان جلد 25 نمبر 129 صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء یہ حوالہ صفحہ 296 پر درج ہے
نمبر ۱۲۹ جلد ۲۵ روزنامہ الفضل قادیان مورخہ ۵ جون ۱۹۳۷ء حوالہ نمبر 306
نے لگا کہ دیکھو، یہ میری بات کو سنتا ہی نہیں ہے۔ میں کیا کروں۔
تین قسم کے خطابات
یہ سن کر میں نے اسے سمجھایا کہ ہاں تم سچ کہتے ہو وہ نہیں سنتا۔ اِس میں کیا حرج ہے۔ دیکھو قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وہ کھڑا کر کے دکھا دیتا ہے۔ کہ تم فلاں ہو۔ طعنہ باز اِن ہی کا مقدر ہو۔ تم کہتے ہو۔ تو ایسے لوگوں کے متعلق یہی کہتا ہے انسان کو مزا آنا چاہیے۔ یا ان کی کو مزا آتا ہو ۔ چار طریقوں کے بارے میں تمہیں ہم کہتے ہیں۔ ہم نے خدا تعالیٰ سے یہی اس نظام پر رکھا ہوا ہے۔ کہ باوجود اگر اپنی زبان نہ کھولو ۔ کیا تم نے خدا پر احسان کیا ہے۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سنت تمہیں پڑھی اس میں کس نے تمہیں بیوقوف بنایا ہوا اور اس نے پسند کیا ہے ۔ کہ تم اپنا کام تو کرو ۔ تو خدا تعالیٰ تمہیں مومن نہ کہلاتا بتاؤ ۔ اس کا مفاد کیا ہے۔ خدا ہی بتاتا ہے ۔ کہ یہ تو اس کے بعد جا کر کام آتا ہے اس طرح اگر تم ہم سے دھوکے کھاتے رہو ہو ۔ تو تمہیں اس میں سے گزارنے کی طاقت اور اس کے سامان بھی ملتے۔ ہم ہمیشہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ مگر تم میں کیا توفیق پیدا ہو گئی ہے۔ اور کتنا سامان نہیں دیتے تھے۔ پس ہماری گالیاں سننے اور سنانے سے ہی اثر پڑا۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں اکٹھے آؤ اور سنو کہ ۔ اور اگر تم گالیاں سنتے ہو۔ تو اس کے دل میں بغض نہیں رکھ سکتے۔ جس کے متعلق مسیح نے کہا کہ میں اس دنیا کا نور ہوں ۔ پس تم نہیں دنیا میں ہم نے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ ہم نے اسے کہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق ایک نیا طریق بتایا ہے۔ ہم نے اس کو اپنا لیا ہے اگر تم
اور تمہارا مسیح بیچ بیچ یہ ہے کہ تم باتیں کس طرح سچی چاہئے۔ یہ سمجھ لو کہ تم میں سے کتنے ہیں جو گالیاں دے لیں تو اس وقت تم پر ایک قسم کا جوش اور بہادری کا دعویٰ کرتے ہو۔ اور دوسری طرف تم اپنی زد میں بھی کام خراب کرتے ہو۔ پس تو ایسے لوگوں کے متعلق یہی کہتا ہے۔ کہ وہ خبیث ہیں۔ پس موعود علیہ السلام والسلام کو گالیاں دلوانے میں۔ تم پر خدا اور آپ صلی اللہ کے دشمن ۔ اور خطرناک دشمن ہیں اگر کسی کو برا پیش آنا پڑتا۔ تو کیا تم ان کے ایسے لوگوں کو برا نہ کہتے ۔ انہیں جو مصیبت پیش آئے ۔ کیا تم کچے ہو ۔ یا پختہ ہو۔ کیا خدا اور رسول کو تم گالیاں دلاتے ہیں۔ اور پھر تمھیں اور ان کو کہلاتے پھرتے ہو۔ میں اس وقت یہ ان لوگوں کو بھی جو اِن میں اچھے معلوم پڑتے ہیں۔ کہتا ہوں کہ کوئی انسان ایسا بیوقوف نہیں ہوتا کہ حق کو سمجھے اور پھر گالیاں سن کر ان کو بہادری ہے۔ تم کسی بوڑھے کو گالی دے کر دیکھو کہ وہ تم سے زیادہ گالیاں دے دیگا۔ پس تم میں اگر کوئی بہادری ہو ۔ تو وہ یہ ہے کہ با وجود غصہ اور گالی کے ہونے کے اس جگہ اس مسئلہ میں یہ نہیں کہتا۔ کہ تم اِن کی گالیاں سنو۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر تم سمجھو کہ ہم میں اس بارے میں کوئی اثر قبول کرنے کی طاقت نہیں ۔ تو تم کیوں ایسے مجمع میں جاتے ہو۔ جس کے پاس جانے کا تمہیں حکم نہیں
تو دونوں میں سے ایک اصل اختیار کرو ۔ جو کچھ میں سمجھتا ہوں۔ اور میں کہوں ۔ کہ میں سچ سمجھتا ہوں ۔ وہ یہ ہے اور جو تم کو اس طرح کی باتیں گالیاں سُننے کی عادت ڈالو اور اس کے نیچے ہو کر دشمن سے جنگ کرو ۔ ہاں جب وہ تمھے گالیاں دے ۔ اسوقت جنگ اور سکون میں تمھیں اِس الزام کا حکم دے دیتا ۔ اسوقت جنگ و طعن کو سُن دینے کا تمہیں اختیار نہیں۔ اسکو تم سنتے رہے ہو پس تم کچھ یہ کہنا چاہیے تھا۔ کہ میں تمہارے لئے آیا ہی نہیں بلکہ میں کہتا ہوں ۔ یہ خطرناک رنگ ہے۔ گلاب کے پھول سے بھی تمھیں دشمن کو اس وقت تک مارنے کی اجازت نہیں جب تک امام تمھیں لڑائی کی اجازت نہ دے۔ لیکن اگر تم یہ سمجھتے ہو۔کہ تم سب کے سب شریف ہو۔ تم میں کوئی بزدل نہیں۔ کہ تم پر بوجھ نہیں پڑتا ۔ گالیاں دینے والے دشمن کو تم پر مزہ لینا چاہیے اور تم اس گالیاں دینے والے کے جواب میں سخت کلامی کرتے ہو۔ اور اس سے جوش میں آکر۔ لاٹھی اور بندوق کی طرف ہاتھ کرتے ہو۔ اور اپنے آپ کو بچاؤ۔ لیکن اس کو نہ کہو تو وہ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے گالی نکالی تھی۔ کیونکہ اس کو خاموش کرانا تمہارا ہی فرض ہے۔ کیونکہ تمہارے ہی تمہیں لئے اس نے شروع کیا ۔ ہاں میں بھی کہہ سکتا ہوں۔ کہ چونکہ اس کے سخت بدزبانی میں کوئی ہے ۔ کہ اِس سے سخت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دلاتے ہو۔ اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھے رہتے ہو مگر تم میں ایک ادنیٰ درجہ کا بے وقوف ہوتا ہے
جماعت کے نظام کی پابندی کرنا اپنے جذبات پر قابو رکھنا ۔ اگر تم اس خیال کے قائل نہیں تھے۔ تو پھر تمہیں ہمارے پاس جنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ تمہیں چاہئے کہ تم احمدی کے بجائے اپنے نام کو احرار رکھو ۔ اگر ان دونوں مکتبوں میں کے پاس جائیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہم ان کو ڈرا سکتے ہیں۔ اگر چالیس آدمی ایسے مل جائیں جو مرنے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں۔ تو وہ دنیا کو ڈرا سکتے ہیں۔ ورنہ اگر چالیس آدمی ایسے میسر آجائیں جو مارنے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں۔ تو وہ بھی دنیا کو ڈرا سکتے ہیں۔ مگر تم میں اتنی طاقت ہے کہ تم چالیس کے چالیس دشمن کے آگے گالی سنتے ہی اُس کے جواب میں بھاگ کھڑے ہوتے ہو اور وہ آکر اس پر حملہ کر دیتے ہیں ۔ لیکن آنحضرت ان کے پیر چومنے کی طرف بڑھے جاتے ہیں ۔ تم میں سے بعض تجربہ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ۔ کہ ہم مر جائیں گے ۔ مگر سلسلہ کی ہتک برداشت نہ کریں گے۔ لیکن جب کوئی قدم انکا اُٹھتا ہے۔ تو پھر وہی سُپر دیکھتے رہتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ۔ کہ بھائی ! کچھ روپے ہیں۔ کہ جن سے مقدمہ لڑا جائے ۔ کوئی وکیل ہے جو وکالت کرے ۔ بھلا ایسے شخص نے بھی کسی قوم کو فائدہ پہنچایا ہے بہادر وہ ہے جو مار کھانے کا فیصلہ کرتا ہے ۔ تو مار کھا کے پیچھے ہٹتا ہے۔ اور مار کھاتا ہے ۔ تو احمدی کے تاج اسکے سر ۔ نہ اگر مار کھانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ تو جوش میں نہیں آتا اور اپنے نفس کو شدید اشتعال کے وقتوں میں بھی قابو میں رکھتا ہے۔ پس اگر تم جیتنا چاہتے ہو
اندھی تقلید کا طوفان اُٹھانے والے دانا کے کام میں ٹانگ کس طرح اڑا سکتے ہیں
تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25 نمبر 129 صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء | یہ حوالہ صفحہ 296 پر درج ہے
حوالہ نمبر 307
الفضل قادیان THE ALFAZL QADIAN
مخلوقات میں سے جو مرتبہ انسانیت کا ہے غالب آنے کے لئے اس کا
تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان مورخہ 12 دسمبر 1935ء جلد 23 نمبر 139 صفحہ 9
یہ حوالہ صفحہ 296 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 307)
لایا گیا تو امیر معاویہؓ نے فرمایا کہ نہیں یہ نہیں فرمایا کہ یہود کے علماء نے کیا ہے جس کا وہ ہے ۔ تب امیر معاویہؓ نے فرمایا کہ اب سے استرا ۔۔۔ عورتیں بھی کاٹیں ۔ یہ نہیں کہ ان کے اوپر لایا گیا تو یہ ہے ۔ اور وہ نہیں ہے جس سے تم شبہ کرتے ہو ۔ کہ یہ عورتوں کے بال ہیں ۔ کیونکہ بال معلوم نہیں کہ کہاں سے لائے جاتے ہیں ۔ کیا کوئی ان پر بھی شبہ کر سکتا ہے ۔ یہ نہیں ۔ اگر کوئی عورت اپنے بالوں میں کسی اور کے بال ملائے ۔ تو اس پر لعنت ہے ۔ اور اس پر بھی جو بال ملا کر دے ۔ پس یہ لوگ
مشرق کی طرف رخ نہ کرو
ہمارے زمانہ میں ایک اور مسئلہ ہے جس کے متعلق عالموں نے بگاڑ کر دیا۔ غرض دوستوں اور دشمنوں حقیقت سے مخفی کر دیا ہے ۔ اور ہم میں سے ۔ ہم میں سے پیدا کر دیا ہے ۔ بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ دشمنوں کی بعض باتوں پر ہم بحث کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اور ہم اس حقیقت سے پس ۔ ہٹاتے ہیں ۔ کہ
من شرورھم
کہ ہم اس وقت تک اس پر حملہ آور نہ ہوں ۔ یہ بچا تا ہے ۔ مگر ہم اشارے کو نہ سمجھیں کہ کل رات جو ان لوگوں نے حرکت کی مخالفت پسند نہ تھی۔ کیونکہ وہ کام کریں ۔ اور ہم ان کے فعلوں کی پرواہ نہ کریں ۔ باہر ہی لوگ تھے جو ہم میں آ کر خلط ملط ہوئے تھے ۔ مگر
خدا تعالیٰ کے آگے جھکو
اور آج کل جو فساد کی ہوا چل رہی ہے ۔ بعض لوگ ہمارے بھائیوں میں سے بھی متاثر ہوتے ہیں ۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ تمہارا کیا بگڑتا ہے۔ احمدیہ جماعت پر کئی دفعہ ایسے وقت آئے ہیں ۔ کبھی ہم پر مقدمہ بنتا ہے ۔ اور کبھی گھروں میں سے بعض مرد اور عورتیں ہمارے خلاف ہو جاتے ہیں ۔ اس وقت کون ہے جس نے ہمیں بچایا ۔ خدا ہی ہے جس نے اپنے فضل سے ہمیں محفوظ رکھا اگر ہم نے خدا کو اپنا مقصود بنا لیا تو پھر ہمیں کسی کی پرواہ نہیں ۔ وہ ہمارا کام خود کر دے گا ۔ اور ہمیں یہ تسلی رکھنی چاہیے کہ ہم اپنے
حق میں کوئی فیصلہ نہ ہو ۔ یہ جو ہم پر لایا گیا ہے ۔ یہ اس لئے نہیں کہ ہم پر لایا گیا ہے ۔ بلکہ اس لئے ہمارا تو یہ کام ہے کہ ہم فتح کریں ۔ اور ہم فتح کریں گے ۔ اس کے بعد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ کہ میں نے تو یہ نہیں کہا کہ یہود کے عالم کو لایا گیا ۔ یہ نہیں کہا کہ یہود کے عالم کو لایا گیا ۔ یہ نہیں کہا کہ یہود کے عالم کو لایا گیا ۔ یہ نہیں کہا کہ یہود کے عالم کو لایا گیا ۔ یہ نہیں کہا کہ یہود کے عالم کو لایا گیا ۔ اور اگر میں یہ کہتا تو اس کو لایا گیا ۔ اور اگر
باہر نکلنے کا اذن
میں نے ان کو باہر نکلنے کی اجازت دے دی ہے ۔ کیونکہ رسول کریم صلعم نے ان کو باہر نکلنے کی اجازت دے دی تھی ۔ میں نے بھی ان کو باہر نکلنے کی اجازت دے دی ہے ۔ اب جو کوئی ان کو روکے گا اس کو میں روکوں گا ۔ پس یہ
جہنم کی آگ
میں نے ان کو روکا ہے ۔ اور میں نے ان کو جہنم کی آگ سے بچایا ہے ۔ جو کوئی ان کو جہنم کی آگ میں ڈالے گا ۔ وہ خود جہنم کی آگ میں جلے گا ۔ میں نے ان کو
صبر کی تعلیم
دی ہے ۔ اور میں نے ان کو صبر کی تعلیم دی ہے ۔ اور میں نے ان کو صبر کی تعلیم دی ہے ۔ پس تم بھی صبر کی تعلیم حاصل کرو ۔ اور صبر کی تعلیم حاصل کرو ۔ اور صبر کی تعلیم حاصل کرو ۔ اور صبر کی تعلیم حاصل کرو ۔ اور صبر کی تعلیم
وقتوں کو اٹھا کر
کردے ۔ اور اسے یہ نہ پہنچے ۔ پھر اسے کہو وہ نہ مانے تو اسے کہو وہ مانے ۔ مجھ پر تو یہ ہے کہ آؤں ۔ کے وقت بھی یہی ہو سکتا ہے کہ ناواقف پوچھے کہ کیا کریں ۔ کہو کہ میں نے تجھے کہا تھا یہ کرو اور وہ نہ مانے تو اس کو اٹھا کر باہر کرو ۔ جس پر سب کو پیار ہو ۔ جسے سب عزیز جانیں ۔ میں نے تجھے کہا تھا کہ تجھے مجھ پر ایمان ہے تو میرے ہاتھ میں ہاتھ دے ۔ پھر تو نے کیا سمجھا ہے ۔ کیا تیرا اور کوئی حاکم ہے ۔ یہ بات میں نے کسی کو نہیں بتائی ۔ اور نہ میں نے کبھی کسی کو اپنا ہم جنس سمجھا ہے ۔ میں نے جو کچھ کہا ہے اپنے منہ سے کہا ہے ۔ اسے مانو۔ میں نے کبھی تم سے یہ نہیں کہا اور نہ کسی سے یہ کہا ہے ۔ کہ تم نے جو کچھ کہا ہے مان لو ۔ میں نے کبھی یہ نہیں کہا ۔ کہ تم مجھے نبی مانو۔ میں نے یہ کہا ہے ۔ کہ مجھے خدا کی طرف سے ۔ رسول مانو ۔ میں نے کبھی تم سے یہ نہیں کہا کہ تم مجھے نبی مانو ۔ تم جو کہتے ہو میں نہیں مانتا ۔ تو وہ الگ تھلگ رہے ۔ پھر وہ جو اس وقت رسول کریم صلعم کے ماننے والے نہ رہے تو کیا ان کے حصے میں کچھ آیا ۔ ہم یہاں رہ کر نہ گئے ۔ تو وہ الگ تھلگ رہے ۔ اور ہم جب تک یہیں ہیں ہمت سے کام لیں۔ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ہمت سے کام لیں۔ پس اگر مرنے کی نوبت ہے تو آؤ ۔ اور ان صداقتوں میں مردہ بن جاؤ جو خدا اور اس کے رسولوں کے نام پر اٹھ کھڑی ہوئی ہے ۔ وہاں اگر ایک دفعہ بھی ہاتھ آ گیا کہ تم نے ہمارے کام پر چھاپہ مارا ہے ۔ ایک دفعہ بھی یہ آ گیا ۔ تو تم نے دیکھا کہ ہم نے کیسے اس کا بدلہ لیا ۔
رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا نام
ہی کافی ہے ۔ تمہارے لئے اس کا نام ہی کافی ہے ۔ تمہیں کیا ضرورت ہے کہ تم اور طرف جاؤ ۔ اور کچھ اپنے ذمہ لو ۔ تم جو کچھ کر رہے ہو وہی کافی ہے ۔ پس یہ بہت بڑی بات ہے ۔ کہ تم اس پر قائم رہو۔ اور اس پر جمے رہو ۔ تمہاری کامیابی کے لئے یہ بڑا بھاری نشان ہے۔ خدا تعالیٰ کا تم پر بہت بڑا فضل ہے ۔ اور اس فضل کے تم وارث ہو ۔ میں نے جو کچھ کہا ہے اس کو مانو ۔ اور اس پر قائم رہو ۔
بالکل ڈرائیور اور چوکیدار کی شہادت ہی ارزاں ترین ہے ۔ بہر حال کل جس بچہ کو بے دردی سے قادیان میں زخمی کیا گیا ہے اس کا نتیجہ اچھا نہیں ۔
تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان مورخہ 12 دسمبر 1935ء جلد 23 نمبر 139 صفحہ 9 یہ حوالہ صفحہ 296 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 308)
رجسٹرڈ ایل نمبر ۳۱۴ (287) THE ALFAZL QADIAN قیمت سالانہ ۱۲ روپے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَنَحْمَدُهُ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
دیں کی نصرت کیلئے ایک سچا مامور ہے عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا اب کیا وقت خزاں آنے پر بھی گلستاں کھلے
دنیا میں ایک ہی آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کریگا اور بڑے زور اور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دیگا (الہام حضرت مسیح موعود)
الفضل
کاروباری اُمور کے متعلق خط و کتابت بنام منیجر اور مضامین وغیرہ ایڈیٹر کے نام آنے چاہئیں
فہرست مضامین حضرت خلیفۃ المسیح کی ایک پرانی نظم کی صدا عہد صحابہؓ اور ہماری قربانی غائبانہ دعائیں خلافت قرآنی کا منشاء میرے نزدیک احمدی ہونے کے کیا معنی ہیں تازہ خبریں ۔ ضروری اعلان خطبہ جمعہ (حضرت مصلح موعود) اقتباسات اندریں آخرین کی صدائے دل ... کے اقتباسات ۔ متفرق امور
ایک سو روپیہ انعام جو کوئی شخص ثابت کر دے کہ قادیان سے کوئی چھپنے والا اخبار الفضل سے زیادہ شائع ہوتا ہے۔
ایڈیٹر : سید غلام نبی اسسٹنٹ ایڈیٹر : محمد علی
جلد ۳۰ مورخہ ۲۳، ۲۷ نومبر ۱۹۴۲ء مطابق ۲۳، ۲۷ نبوت ۱۳۲۱ ہجری | نمبر ۱۴۴ - ۱۴۵
التبلیغ
گزشتہ دنوں ایک دوست نے خواب دیکھا کہ قادیان کی ایک محفل ہے جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی تشریف فرما ہیں اور احباب بھی بیٹھے ہیں ۔ اتنے میں ایک پرچہ میری طرف آیا ۔ میں نے اُسے پڑھ کر سب کو سنایا ۔
اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”اس خواب کے یہ معنی ہیں کہ قادیان کے لوگوں میں تبلیغ کی سخت ضرورت ہے“ اور پھر آپ نے نصیحت فرمائی کہ ”دیکھو ہم کو چاہئے کہ ہم تبلیغ کریں“ ۔
حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی ایک پرانی نظم
مگر تیری ہی قَسم کیا یہ دلداری ہے میرے رونے پہ ہنسے اور ہنسانے والے
دوستی کیا ہے یہ مُجھے دل سے بھلانے والے جلوہ دکھا کے مُجھے اپنا دِوانا بنانے والے
کیا یہی سِکھلائی ہیں اب کچھ بھی مُروّت باقی ہوش اڑا کے اپنا دِوانا بنانے والے
جو مصیبت زدہ کو آنکھیں دکھانے والے میں تو زندہ ہوں دم سے تیرے اے جلانے والے
مُجھ کو دُکھ دے ہوئے اب بھی وہ کھڑے ہیں سب کہہ دیں جو دل میں ہے الزام لگانے والے
اے غضب کیسے ہو تم راہ دِکھانے والے تیر محبت کا دل پہ چلانے والے
دشمنِ حق ہیں مگر آنکھیں نہیں پاتیں ان کو مجھ کو در سے نہ تو اپنے اٹھانے والے
ہیں کہاں وہ مجھے روتے کو ہنسانے والے رخ سے پردہ تو اٹھا جلوہ دکھانے والے
ایک آنسو میں لگی دل کی بُجھانے والے تیری راہ میں ہم جان لٹانے والے
تقریر مرزا محمود احمد مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 10 نمبر 41، 42 صفحہ 6 مورخہ 23 تا 27 نومبر 1942ء یہ حوالہ صفحہ 297 پر درج ہے
حوالہ نمبر 308
شبہ نہ کرو کہ لوگ اس میں سوار ہوں گے۔ بہت سے جہاز ہوں گے جو زمین پر نہیں چلیں گے بلکہ ہوائوں میں اڑیں گے۔ بہت سے چھکڑے پیدا ہوں گے جنہیں اٹھایا نہیں جا سکتا۔ اور وہ بڑی تیزی سے چلیں گے۔
کیا تم یہ دیکھ کر کہ وہ بڑی رفتار کے ساتھ چل رہے ہیں۔ انقلاب ہو گیا ۔ اور تم ان کو مانتے ہو۔ کہ ان کے پر ہیں۔ یہ ان انسانوں کی حماقت نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ زمانہ اور اس کے بدلنے کا نتیجہ ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ کی وحی میں یہ بات نہیں۔ کہ ان کی تہہ میں خدائے تعالیٰ کی ذات اور صفات کا بھی کوئی دخل ہے۔ یہ ایک حقیقت الٰہی ہے کہ جس سے انسانوں میں سے بعض اس درجہ تک پہنچتے ہیں ۔ نبوت ایک ہی ہے۔ جس کے ذریعہ انسان کو خدا ملتا ہے۔ جس سے خدا ملتا ہے۔ اور جس کی محبت میں انسان خدا کو پاتا ہے۔ مگر جاہل ہے وہ جو خدا کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرے۔
فرق
جس کو معلوم ہے کہ خدا کی محبت میں مراتب ہیں۔ بعض بعض کے لئے زیادہ محبت ہوتا ہے بعض کو کم ۔ مثلاً ایک شخص کو تم زیادہ چاہتے ہو یا اس سے زیادہ پیار کرتے ہو۔ یہ نہیں کہ جو اس کا نام زیادہ لیتا ہے۔ وہ اس سے زیادہ تم کو پیارا ہو۔ لیکن یہ امر طے ہے کہ خدا جس کو اپنا دوست بناتا ہے۔ جس میں وہ یہ خوبی دیکھے کہ وہ اس سے زیادہ محبت کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کی طرف سے محبت اور اس کے میں انسان ہی کا حصہ ہے جو اللہ کی صفات میں رنگا گیا اس غرض سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے۔ اسے کھٹکا نہ ہو کہ انسان جس قدر بڑھتا ہے اسی قدر اپنے کو خدا کے قریب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کی طرف ۔ ۔ ۔
نبوت و رسالت کا مقام
ایک شخص خدا کے ساتھ محبت اور وفاداری میں حصہ لے۔ اور پھر وہ کہتا ہے۔ کہ نبوت و رسالت میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے۔ جس میں نبی جو ہم نے پایا کہ وہ وقت واحد میں ۔ مقامات الٰہیہ کو پا لیتے ہیں ۔ بلکہ ایک ایک ان مقامات میں وقت گزارتے ہیں ۔ اور اگر ان کو اس میں دقت پیش آئے۔ تو وہ پر اثر نہ ڈالیں۔ جی چاہے پڑھ لیں اور روزے کے متعلق وقت پر تم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ جی چاہے کہ تم اس کے کرنے سے انکار کرتے ہو۔ اس لئے بعض احکام میں تم حصہ نہیں لے سکتے۔ چونکہ روزے ایک خاص موسم اور مہینے سے مخصوص ہیں نبی تو ہمیشہ روزے رکھتے ہیں۔ غرضکہ ان کے احکام میں طبیعت پر جبر نہ ہو۔ انسان جس حالت میں مبتلا تھا اسے اس کی تعمیل میں عذر نہیں۔ یہ ہے اسلام اور اس کے کمالات
ایک شبہ
ایک شخص اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ اور جب یہ خبر ملتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔ اور وہ اپنے دعویٰ میں سچا نہیں ہو سکتا ۔ اگر وہ سچا ہوتا تو کیا وجہ ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں۔ اور اس مقام پر پہنچتا ہے۔ جو مقام خدا کے جلیل القدر نبیوں نے حاصل کیا ہے۔
مسئلہ حلول
کسی نے یہ نہیں کہا کہ میں خدا ہوں ہاں اس کا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ہر چیز میں خدا کی صفات کو دیکھتا ہے۔ اور وہ کہتا ہے کہ خدا کی طرف سے بولتا ہے۔ پس ایک صوفی کہہ سکتا ہے کہ میں خدا کا مظہر ہوں۔ اس کے متعلق لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ خدا ہے۔ لیکن حدیث میں ہم دیکھتے ہیں۔ کہ ایک شخص خدا کا قرب پاتا ہے اور حال یہ ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ سنتا ہے خدا کے کانوں سے سنتا ہے اور جو کچھ دیکھتا ہے خدا کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اب یہ جو کہا ہے کہ کانوں سے سنتا ہوں تو یہ اس لئے کہ ان باتوں میں اس کو دخل نہیں۔ کسی نے نہیں کہا کہ میں خدا ہوں ۔ پس لوگوں نے جو اس کے مراتب سمجھے ۔ اس میں ان کو دھوکا ہوا ۔ اور یہ دھوکا یہاں تک پہنچا کہ بسا اوقات کہہ دیتے ہیں کہ میں خدا ہوں ۔ وہ جو اَنا الحَق کہتے ہیں۔ وہ بھی دھوکا ہے سچائی یہ ہے کہ وہ
حالت سکر
یہ وہ باتیں ہیں۔ جن کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ ہم بعض لوگوں کی باتوں پر حیران ہو گئے ۔ شبہ نہ کریں۔ جب تم لوگوں کی اس حالت پر تو حیرت کرتے ہو یا عاجز آ جاتے ہو۔ اس حالت میں جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی طرف سے ہم کو کچھ ملتا ہے۔
تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 10 نمبر 41، 42 صفحہ 6 مورخہ 23 تا 27 نومبر 1942ء | یہ حوالہ صفحہ 297 پر درج ہے
حوالہ نمبر 309
۶ روزنامہ الفضل قادیان دارالامان ۵ جون ۱۹۳۷ء نمبر ۱۲۹ جلد ۲۵
جماعت کے نظام کی پابندی
کرنا بہت بھاری ہے باوجود اس کے کہ تم اس خیال کے قائل نہیں تھے۔ جو ہم تمہیں بتا رہے ہیں پس مبارکباد دینے کی کیا ضرورت ہے ۔ تمہیں چاہئے کہ تم منبر پر کھڑے ہو اور اپنے جرم کا اقرار کرو ۔ اگر ان دونوں طبقوں والوں کے پاس چالیس آدمی بھی میسر آجائیں تو ہم دنیا کو ڈرا سکتے ہیں ۔ مگر چالیس آدمی ایسے مل جائیں جو مار کھانے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں ۔ تو وہ دنیا کو ڈرا سکتے ہیں ۔ اور اگر چالیس آدمی ایسے میسر آ جائیں جو مارنے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں ۔ تو وہ بھی دنیا کو ڈرا سکتے ہیں ۔ مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم کسی سے یعنی دشمن سے کوئی گالی سنتے ہو تو تمہارے منہ پر پسینہ آ جاتا ہے چھاتی دھڑکتی ہے ۔ اور وہ کڑوا گھونٹ پی کر نہیں رہ جاتے ۔ بلکہ تمہارے پیر پیچھے کی طرف پڑ رہے ہوتے ہیں ۔ تم میں سے بعض تو منبر پر کھڑے روتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں ۔ کہ ہم مر جائیں گے ۔ مگر ہم مسیح کی ہتک برداشت نہ کریں گے ۔ لیکن جب کوئی قدم اٹھاتا ہے تو تم اس کے پیر پکڑنے لگتے ہو ۔ اور کہتے ہو ۔ کہ بھائی ! کچھ روپے ہیں، کہ جن سے مقدمہ لڑا جائے ۔ کوئی وکیل ہے جو وکالت کرے ۔ بھلا یہ بھی شان ہے تم میں کس قدر کایا پلٹ ہے ۔ سچا بندہ وہ ہے۔ جو اگر مار کھاتا ہے تو ہنس کر سہتا ہے ۔ اور گالی سنتا ہے ۔ اور اڑا دیتا ہے ۔ جو تم میں سے ایک روتا ہے اور مار کھانے کو پسند کرتا ہے ۔ تو ہم جو حق پر ہوتا ہے ۔ اور اپنے نفس کو شدید اشتعال کے وقتوں میں بھی قابو میں رکھتا ہے ۔ پس اگر تم بزدل ہو
تو دونوں میں سے ایک پہلو اختیار کرو ۔ جو میں کہہ سکتا ہوں ۔ اور میں جانتا ہوں ۔ کہ میں سچ سمجھتا ہوں ۔ بزدل ہو تو گھر میں بیٹھو مگر اس طرح کہ مار
کھانے کی عادت ڈالو
اور امام کے پیچھے ہو کر دشمن سے جنگ کرو ۔ اس وقت وہ کہے کہ اب دوڑو تو سینہ تان دو ۔ لیکن جب تک تمہیں امام لڑائی کا حکم نہیں دیتا ۔ اسوقت تک دشمن کو مارنا اپنے لئے ممنوع سمجھے رکھو ۔ گویا تم مردے سے بھی بدتر ہو ۔ پس گالیاں سن کر طیش میں آنا تمہارے لئے جائز نہیں ہاتھ میں سوٹا ہو ۔ چھری ہو ۔ یا ایک گلاب کے پھول سے بھی تمہیں دشمن کو اس وقت تک مارنے کی اجازت نہیں جب تک امام تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دے ۔ لیکن اگر تمہارا عقیدہ یہ ہے تب بھی میں شریف انسان تمہیں جب سمجھوں گا کہ گالی دینے والے کو مارو ۔ مگر گالی دینے والے دشمن کو اگر تم آپ ہی سزا دے دیتے ہو ۔ اور تم اس کی ایک گالی کے جواب میں دس گالیاں دیتے ہو اور جوش میں آکر تم پتھر اور ڈنڈا چلاتے ہو ۔ تو پھر تم مجرم ہو اور اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ کر قانون کو توڑو اور جس منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے گالی نکلی تھی ۔ تم نے اس کے دانتوں کو نہیں توڑا ۔ وہ مجرم ہے ۔ کیونکہ تمہارے ہی سامنے اس نے ایسی گالیاں دی ہیں کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اسکے محرک ہو جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی گئیں اور تم سنتے ہو اور پھر منبر پر چڑھ کر کہیں رونے لگتے ہو کہ فلاں نے
ہمارے گال پر تھپڑ مارا ہے۔ تو اگر تم اپنا بدلہ نہیں لے سکتے ۔ تو تمہیں پھر منبر پر جانا جائز نہیں ۔
جوش اور بہادری کا دعویٰ
کرتے ہو ۔ گو تم میری بات کو سنتے ہی رہتے ہو ۔ مگر کیا تم نے میرے
تین سالہ خطبات
میں نہیں پڑھے ۔ جن میں میں نے یہ امر نہیں کہا کہ میں پھر ایک دفعہ کہتا ہوں کہ بتا دیتا ہوں ۔ کہ مجھے تو دو ہی طریق پسند ہیں ۔ یا انسان کو مرنا آتا ہو یا انسان کو مارنا آتا ہو ۔ ہمارا طریقہ مرنے کا ہے۔ مارنے کا نہیں۔ اس لئے میں تمہیں یہ بتا دینے کے لئے یہ انذار کرتا ہوں ۔ کہ اب تم میں سے جو کوئی دشنام سن کر اپنی زبان بند نہ کر سکتا ہو ۔ وہ جماعت احمدیہ میں نہیں رہ سکتا ۔ جو احمدی کسی دشنام دہندہ کو گالی دیتا معلوم ہو یا کبھی وہ ایسی مجلس میں بیٹھے جہاں مسیح موعود علیہ السلام کو دشنام دی جاتی ہو اور وہ وہاں سے اٹھ نہ جائے تو خدا کے فضل سے میں اسے خارج کر دوں گا ۔ اس کو طعنہ نہ دیا جائے ۔ مگر یہ تلوار کے جہاد کا موقعہ نہیں اسی طرح اگر تمہارے سامنے کوئی شخص ہو اور تمہیں اس کو مارنے کی طاقت اور اس کے سامان بھی میسر ہوں ۔ جس منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ اگر تمہیں اس کی توفیق نہیں دی گئی ۔ اور کوئی سامان نہیں دئے گئے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ خدا اسے پسند نہیں کرتا تھا یعنی مقدر نہ تھا۔
گالیاں سن کر گالی دینا بزدلی اور بے صبری
اور اگر ایک انسان کو نیت کے ساتھ مارنے کی طاقت ہے ۔ تو وہ اس کو مارے ۔ ورنہ تو آگے کیوں آتا ہے ۔ اور کیوں ان کو نہیں روکتا ۔ پس ہمیشہ کے لئے میرا یہ فتویٰ ہے کہ جو شخص اس گالی دینے والے سے گالی سنے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دلوائے اور کھڑا ہو کر سنتا رہے ۔ میرا یہ فتویٰ ہے کہ میں تم لوگوں سے ان عورتوں کو بہتر جانتا ہوں
اندر ہی اندر کھاتے کارروائی ۔ سٹہ بازوں کا کام جس میں کئی بیوگان کا روپیہ ڈوب گیا
مرزا محمود کا خطبہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25 نمبر 129 صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء
یہ حوالہ صفحہ 297 پر درج ہے
حوالہ نمبر 309 روزنامہ الفضل قادیان 7
تمہاری ٹانگ پکڑ کر یہاں آ کر تم روتے ہو۔ اگر تم سچے ہوتے تو تم وہ بہادری دکھاتے کہ گورنمنٹ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے۔ کیا اس کا اور تمہارا مذہب ایک ہے؟ اس کی اور تمہاری جماعت ایک ہے؟ اس کا نظام تمہارے نظام سے ملتا ہے پھر تمہارا کیا حق ہے۔ کہ تم اس کو یہ کہو کہ وہ تمہاری مدد کرے۔ مدد تو اُن کی کرے گی جو اُن کے دوست ہیں ۔ اور وہ کون ہیں ؟ وہی لوگ جو تمہارے دشمن ہیں کیونکہ وہ اکثریت میں ہیں ۔ اور تم اقلیت میں ہو۔
گورنمنٹوں کو اکثریت کی خوشنودی
کی ضرورت ہوتی ہے
پس گورنمنٹ کو تم سے کس طرح ہمدردی ہو سکتی ہے۔ اس کو تو اسی وقت تک تمہارے ساتھ ہمدردی ہو سکتی ہے جب تک تم خاموش رہو۔ اور دشمن کے مقابلہ میں صبر سے کام لو اور اس صورت میں کہ
صرف شریف حاکم تمہاری مدد کرینگے
اور کہیں گے ۔ کہ انہوں نے پہل نہیں کی دنیا میں فساد نہیں کیا ۔ مگر یہ خیال کرنا کہ گورنمنٹ اس وقت مدد کرے جب دشمن تم کو گالیاں دے رہا ہو۔ اور تم جواب میں اسے گالیاں دے رہے ہو۔ نادانی ہے۔ اس وقت اُس کی ہمدردی اکثریت کے ساتھ ہو گی ۔ کیونکہ وہ جانتی ہے اقلیت کچھ نہیں کر سکتی ۔ پس گورنمنٹ سے اُس ہمدردی کی امید نہ رکھو۔ ہاں اگر تم لڑائی اور جھگڑے سے بچو۔ اور شرارت میں پہل نہ کرو ۔ تو پھر شریف حکام تمہاری مدد کریں گے ۔ ورنہ وہ کہیں گے ۔ کہ انہوں نے ہماری بات مان لی اور خاموش رہ کر اور صبر کر کے فتنہ و فساد کی جڑ کاٹنے نہ دیا مگر ۔ کوئی حاکم پھر بھی تمہار ے ساتھ نہیں ہوگا۔ اور کہیں گے کہ یہ اگر دشمن کو گالیوں دینے میں پہل کرتے ۔ تو زیادہ تھے اور یہ تھوڑے اگر اکثریت نے مارا کہ تم پر کیا کیا؟
یہ کوئی قولی بات نہیں۔ میں واقعہ کے طور پر کہہ سکتا ہوں۔ اور میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سنا ہے۔ پس تمہاری مدد کرنا ہمارا فرض ہے ۔ یہ شکایت کرنی کہ تم ہماری مدد نہیں کرتے۔ اور تمھاری شان کے خلاف ہے۔ یہ بھی بالکل ہی غلط ہے۔ پہلے زمانہ میں جب یہ معلوم ہوتا تھا کہ کشمیر کی فوج نہیں بھرتی ہو سکتیں
تو اُس وقت
ایک دفعہ سرحد پر لڑائی ہوئی۔ اور حکومت انگریزی نے مہاراجہ صاحب جموں سے کہا کہ اپنی فوج میں سے ایک دستہ ہماری فوج کے ساتھ امداد کو دیں۔ انہوں نے ایک دستہ تو کہہ دیا ۔ مگر جب وقت آیا کہ دستہ تیار ہو کر جائے تو بڑی شرمندگی ہوئی ۔ دستہ کی صورت میں مہاراجہ صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے ہم نے اتنی مدت تک آپ کا نمک کھایا ہے۔ ہمیں لڑائی سے ہرگز انکار نہیں ۔ ہم ہر وقت جانے کے لئے تیار ہیں۔ صرف ایک ہماری
عاجزانہ التماس
ہے اور وہ یہ کہ سُنا ہے جہاں ہم نے جانا ہے وہاں گولیوں کی بارش ہو گی کچھ سپاہی تو ہمارے بچاؤ کے لئے ہمارے ساتھ کر دیں ۔ جو ہماری حفاظت کریں کیونکہ ہماری فوج لڑنے کے لئے نہیں ۔ ہم تو محض اس لئے بھرتی ہوئے ہیں کہ ہم روٹی کھاتے رہیں ۔ اس وقت تم لوگوں کو ہنسی آئے گی۔ اور تم کہو گے کہ یہ کیسی فوج ہے جو دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے گئی ہے ۔ مگر حفاظت کے لئے اور سپاہی مانگتی ہے ۔ تو تم بھی خدا تعالیٰ کے سپاہی ہو کر پھر دشمن کا مقابلہ کرنے گئے ہو۔ اور پھر کہتے ہو کہ دنیا دار ہماری مدد کریں ۔ یہ کیسی بات ہے ۔ اگر واقعہ میں تم خدا تعالیٰ کے سچے سپاہی ہو۔ اور اس کے دشمن کے مقابلہ پر کھڑے ہو تو پھر تمہیں کسی حفاظت کی ضرورت ہی نہیں ۔ اگر تم سچے سپاہی ہوتے تو تم کہتے کہ ہم میدانِ جنگ میں جائیں گے ۔ پھر خدا تعالیٰ کے سپاہی
تب وہی مد د کے لئے آسمان سے اتریں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایک دفعہ ایک مقدمہ پڑا۔ جس مجسٹریٹ کے پاس وہ مقدمہ تھا اُس پر آریہ ہندوؤں نے بڑا سخت زور ڈالا کہ جس طرح بھی ہو سکے تم کسی نہ کسی طرح مرزا صاحب کو سزا دے دو ۔ اور اُس پر اصرار کیا کہ آخر اس نے یہ جرم کیا ہے۔ تم اسے کیوں سزا نہیں دیتے۔ آخر ایک ہندو دوست جو اُس کے پاس بیٹھے تھے۔ اُنہوں نے سارا حال آکر
ایک احمدی وکیل
کے پاس بیان کیا۔ اور کہا کہ میں تو اُس مجلس میں موجود تھا ۔ آریوں نے بہت اصرار کیا اور ہندو مجسٹریٹ نے اُن سے وعدہ کیا ہے کہ میں ضرور مرزا صاحب کو کچھ نہ کچھ سزا دے دوں گا۔ وہ احمدی وکیل گھبرائے ہوئے قادیان آئے ۔ حضور مسجد میں موجود تھے ۔ احمدیوں نے اُن کو کہا کہ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ ہم نے مجسٹریٹ سے وعدہ لے لیا ہے کہ وہ سزا دے گا۔ حضور نے فرمایا کہ اگر تو وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے مجسٹریٹ سے وعدہ لے لیا ہے تب تو وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ اُس مجسٹریٹ نے فیصلہ لکھ دیا تھا کہ آپ کو ضرور سزا دے۔ مگر فیصلہ سنائے جانے کے وقت اُس نے اُس کی طرف
کوئی توجہ نہ فرمائی
آخر اُنہوں نے اصرار کیا۔ اور کہا کہ یہ بہت حیرانی اور دکھ اور درد کی بات ہے ۔ ہم تو اس لئے تمہارے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔ اور سب نے کہا کہ اب ضرور کوئی فکر کرنی چاہئیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اِسی وقت لیٹے ہوئے تھے ۔ آپ نے جب حضرات کی یہ باتیں سنیں تو آپ نے فرمایا ۔ اور لیٹے لیٹے ہی یہ تکبیر کہی کہ
اللہ اکبر
پھر آپ نے فرمایا ۔ کہ ہم نے وہ خدا کے شیر کو ہاتھ ڈالا کہ
میری پیاری بہنو!
ہماری خاندانی تحریک دعاء جو ۱۵ مئی ۱۹۳۷ء کو شروع ہوئی تھی۔ محض بفضلہ تعالیٰ بہت کامیاب ہو رہی ہے ۔ مگر اب کوئی ایسا گھر نہیں جس میں یہ تحریک جاری نہ ہو۔ میری اپنے محلہ کی بہنوں سے بھی گذارش ہے کہ اگر آپ کو یہ عذر ہو کہ ہمارے ہاں کام ہے۔ اور ہم سے پڑھا نہیں جاتا یا ہم تک رقعہ نہیں پہنچتا ۔ تو یہ عذر کوئی نہیں ۔ ہم نے خود یہ انتظام کر لیا ہے ۔ کہ روزانہ صبح کے وقت ایک رقعہ آپ کے گھر بھیج دیا کریں ۔ جس کو آپ پڑھ لیں ۔ میں امید رکھتی ہوں کہ اب آپ کو کوئی عذر نہ ہو گا ۔ آپ بھی اس میں شامل ہو جائیں ۔ کتابیں فضلِ عمر میں مل رہی ہیں ۔ اگر آپ کہیں کہ ہمیں نہیں ملتیں تو ہم آپ کو دے دیں گے ۔ پس میری آپ سے پرزور گذارش ہے کہ آپ یہ کتب ضرور پڑھیں ۔ اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں ۔ تاکہ آپ کی یہ زندگی جو کہ چند روزہ ہے نیک اور عورت بن کر گزرے ۔ آخر میں پھر میری آپ سے یہی التماس ہے کہ آپ یہ کتب ضرور پڑھیں ۔
(الامۃ المسلمہ محمودہ بیگم ۔ قادیان)
مرزا محمود کا خطبہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25 نمبر 129 صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء یہ حوالہ صفحہ 297 پر درج ہے
حوالہ نمبر 310 تذکرۃ الشہادتین ۷۸
چاہئے کہ ہر سچے نمونہ سے لوگوں کو خدا یاد آوے۔ اور جو تقویٰ اور طہارت کے اول درجہ پر قائم ہوں اور جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیا ہو۔ پس وہ مفسد لوگ جو میرے ہاتھ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اور یہ کہلا کر کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا۔ پھر وہ اپنے گھروں میں جاکر ایسے مفاسد میں مشغول ہو جائیں ۔ کہ صرف دنیا ہی دنیا اُن کے دلوں میں ہوتی ہے۔ نہ اُنکی نظر پاک ہے نہ انکا دل پاک ہے نہ انکے ہاتھوں سے کوئی نیکی ہوتی ہے اور نہ اُنکے پیر کسی نیک کام کیلئے حرکت کرتے ہیں۔ اور وہ اس چوہے کی طرح ہیں جو تاریکی میں ہی پرورش پاتا ہے۔ اندھا ہی پیدا ہوتا اور اسی میں مرتا ہے۔ وہ آسمان پر ہمارے سلسلہ میں سے کاٹے گئے ہیں۔ وہ عبث بکتے ہیں کہ ہم اس جماعت میں داخل ہیں۔ کیونکہ آسمان پر وہ داخل نہیں سمجھے جاتے جو شخص میری اس وصیّت کو نہیں مانتا کہ درحقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور درحقیقت ایک پاک انقلاب اس کی ہستی میں آجائے اور درحقیقت وہ پاک دل اور پاک ارادہ ہو جائے اور پلیدی اور حرامکاری کا تمام چولہ اپنے بدن پر سے پھینکدے اور نوع انسان کا ہمدرد اور خدا کا سچا تابعدار ہو جائے اور اپنی تمام خود روی کو الوداع کہہ کر میرے پیچھے ہولے میں اُس شخص کو اُس کتے سے مشابہت دیتا ہوں جو ایسی جگہ سے الگ نہیں ہوتا جہاں مردار پھینکا جاتا ہے۔ اور جہاں سڑے گلے مُردوں کی لاشیں ہوتی ہیں۔ کیا میں اس بات کا محتاج ہوں کہ وہ لوگ زبان سے میرے ساتھ ہوں اور اسطرح پر دکھاوے کیلئے ایک جماعت ہو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تمام لوگ مجھے چھوڑ دیں اور ایک بھی میرے ساتھ نہ رہے۔ تو میرا خدا میرے لئے ایک اور قوم پیدا کرے گا جو صدق اور وفا میں ان سے بہتر ہوگی یہ آسمانی کشش کام کر رہی ہے۔ جو نیک دل لوگ میری طرف دوڑتے ہیں۔ کوئی نہیں جو آسمانی کشش کو روک سکے۔ بعض لوگ خدا سے زیادہ اپنے مکر اور فریب پر بھروسہ رکھتے ہیں شاید اُن کے دلوں میں یہ بات پوشیدہ ہو کہ یہ تمام الہامات سب انسانی مکر ہیں! درآنحالیکہ طبعی طور پر شریر ہیں اور بے ایمان ہیں۔ اس خیال سے کوئی خیال بد تر نہیں اور ایسے انسان کو اس خدا پر ایمان نہیں جسکے ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا۔ لعنتی ہیں ایسے دل اور طبعیں۔ ایسی طبیعتوں کو خدا ذلت سے مارے گا۔ کیونکہ وہ خدا کے کارخانہ کے دشمن ہیں۔ ایسے لوگ درحقیقت دہریہ اور خبیث باطن ہوتے ہیں۔ وہ بہیمی زندگی کے دن گزارتے ہیں۔ اور مرنے کے بعد بجز جہنم کی آگ کے اُن کے حصہ میں کچھ نہیں ۔
۷۸ تذکرہ الشہادتین صفحہ 78 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 78 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 298 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 311)
ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذو الفضل العظیم 288 الیس اللہ بکاف عبدہ رجسٹرڈ نمبر ایل ۳۰۲۶ الفضل قادیان ایڈیٹر غلام نبی The ALFAZL QADIAN. چندہ سالانہ ۱۵ روپے ہفتہ میں تین دفعہ نکلتا ہے جلد ۲۰ مورخہ یکم جون ۱۹۳۳ء مطابق ۷ صفر ۱۳۵۲ھ نمبر ۱۴۳
ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
قرآن کے مقابلہ میں حدیث کا درجہ
(فرمودہ ۲۸ مئی ۱۹۰۳ء) یہ ایک اور غلطی اکثر مسلمانوں کے درمیان ہے کہ وہ حدیث کو قرآن شریف پر مقدم کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ غلط بات ہے ۔ قرآن شریف ایک یقینی اور قطعی حکم رکھتا ہے اور حدیث ظنی ہے ۔ حدیث کا اپنی جگہ پر ایک مقام اور درجہ ہے ہاں حدیث سچی بات کی تلاش کے لئے ایک خادم کا کام دیتی ہے ۔ حدیث کا کام یہ نہیں کہ وہ قرآن کو منسوخ کرے ۔ بلکہ حدیث کا کام یہ ہے کہ وہ قرآن کے مجملات کی تفسیر اور تشریح کرے ۔
یہ سچ ہے ۔ قرآن شریف پر اگر کوئی اور چیز مقدم کی جائے تو وہ شرک ہے ۔ قرآن شریف سب چیزوں پر مقدم ہے ۔ حدیث کا کام نہیں کہ وہ قرآن کو منسوخ کرے بلکہ وہ تو اس کا ایک خادم ہے ۔ جو حدیث قرآن کے معارض ہو ۔ اس کو ہم ردّ کرتے ہیں ۔ پس ہمارا مذہب یہی ہے کہ حدیث اگر قرآن کے معارض نہ ہو تو وہ سر آنکھوں پر ۔ اور جو حدیث قرآن کے معارض ہو ہم اس پر عمل نہیں کرتے ۔ اور اس کو حدیث نہیں سمجھتے ۔ (الحکم ۱۹ جون ۱۹۰۳ء) (بقیہ صفحہ ۸ پر)
خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 20 نمبر 143 صفحہ 7 مورخہ یکم جون 1933ء یہ حوالہ صفحہ 299 پر درج ہے
حوالہ نمبر 311
امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ۔ مورخہ ۲ جون ۱۹۳۳ء
صحابہؓ نے یہی تو کہا ہے ۔ کہ یکم جون کو ہم فلاں جگہ پہنچیں گے۔ سننے والا حیران رہ جاتا ہے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ لیکن جب وقت آتا ہے تو پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے تو سچ کہا تھا۔
مجلس شوریٰ سے
تسلیم کریں گے۔ کہ ان کے نشان پورے ہوتے ہیں
شرائط فارم کی خانہ پُری
یہ احسان ہے کہ بندے اپنی جانوں کو پیش کریں۔ دنیا کو بتلائیں کہ ہم کیا پیش کرتے ہیں۔ کہ ہم نے خدا کے لئے وقت وقف کیا ہے۔
انکار کے باوجود
جس میں یہ ہے چند طالب علم اور چند بدمعاش تھے۔ جن کی تسلی نہیں کرائی گئی۔ فرض کیا کہ چند تھے پھر کیا ہوا کہ ان کو تسلی نہیں دی گئی یہ بات کیسی ہے کہ ان کے
نکاح کی پیشینگوئی
کرنے والا ان کو دکھایا گیا ہے۔ کہ وہ صرف یہ کہہ کر کہ یہ ہمارا کام ہے ایک موت کا نقشہ پورا کر گیا جو لوگ اس پر نہیں آئے ۔ ہمارا کیا بحث کرنا ہے۔ کہ وہ پیدا نہیں کیا ۔ وہ ایک بحث کی کوشش کی جاتی ہے اس کے لئے بھی سنتے ہیں۔ جس کی کوئی غلطی نہیں ہوتی کہتے ہیں کہ کسی بندے کی ایسی باتوں کے باوجود بھی ۔ نہیں پہنچتی کہ یہ خصوصاً جبکہ خدا کا ارادہ ہے۔ کہ ایسی نکاح کی اجازت نہیں دیگی۔ پھر ان لوگوں کے نام اور نشان مل سکتا تھا۔ کہ انہیں معلوم بھی ہوتا کہ خدا کی طرف سے ان پر پستول سے بچانے میں اور ہم میں متارکہ
بھیانک شکل
پیدا ہو گیا۔ جنہوں نے چھپ کر اس میں حصہ لیا ہے۔ ان کا یہ خیال ہے کہ وہ اتنے چالاک ہیں کہ ان کی بغل میں چھری اور فریب
سے کام لے کر سمجھتے ہیں۔ کہ اس موقعہ پر ہم بچ جاتے ہیں۔ فتنہ اٹھانے کی طرف سے جو امر مانع ہو سکتا تھا وہ تو یہ ہے کہ ان میں یہ احساس ہوتا کہ نہیں ہماری غلطی ہے مگر یہ تو کام بننے کو تھا۔
ایک محفوظ چٹان
کی طاقت ہو۔ اب میں ان کو دنیا کے ہر مستند امین حکومت سے باہر بھی اگر ایسے منافقوں سے مل کر آؤ گے۔ اور ایسے موقعہ پر ہم کرتے یا گناہگار ہو جاتے۔ جبکہ عمر مناسب نہیں۔ تیری اپنی مخالفت کی ذمہ دار اول تو اس کو سمجھا کرتے تھے ہوگا کہ مجھے پسند نہ آیا تھا۔ مگر یہ جو مانتے ہیں کہ آپ کے خلیفہ ہونے میں ہم مانتے ہیں۔ اور اگر کوئی غلطی ہو تو خلیفہ میں ہے ہم کسی سے بڑھ کر تمہارے لئے خیر خواہ نہیں۔ تو یقیناً وہ
خدا کا قائم کردہ خلیفہ
نہیں ہو سکتا۔ پھر بھلا ہم کیسے تسلیم کریں۔ یا تو ہم کو نہیں ۔ پھر
دباؤ کو سہنا
ہوتا ہے۔ اور کیسے لوگ
شیطان کا ایک آلہ
ہیں ۔ مگر حق ہمیشہ شیطان پر غالب آیا کرتا ہے۔ عقل سے نہیں ہوتے ۔ خدا ایک دن لاتا ہے۔ کہ شیطانی ہتھیاروں کو وہ توڑے۔ گو وہ کہتے ہیں۔ ہم سن لینا چاہتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ہوتا ۔ وہ ایک وقت میں کہتا ہے۔ تمہاری کوئی بات سچی ہے میں سخت نادم ہوتا ہے۔ مگر جب وہ اُٹھتا ہے۔ اسے شرم نہیں آتی ۔ اور مانتے ہیں ۔ کہ حماقت و سفاہت ہوتا ہے۔ اتنا سخت کہ لوگ خیال کرتے ہیں۔ کہ شاید اس لئے یہ کہے کہ اول کوئی نہیں۔ گو یہ
دونوں قسم کے لوگ
غلطی پر ہوتے ہیں۔ وہ بدل گئے ہیں۔ کچھ اصول ہوتا ہے۔ جو اپنا منہ کی نہیں۔ بلکہ
مستقل مزاج اور اولوالعزم
ہوتے ہیں۔
مصیبتوں کا نام لے لے کر
جن میں دانا ۔ بے عقل ۔ مادی جماعتیں کب تک چل جائیگی ۔ ان کے دلوں پر اس کا ڈر تھا۔ کہ ساتھ دیں گے کہ
ناگزیر امور کا صدمہ
کہیں کہ اس صدمہ میں آپکو اس قدر ملول کر دیا۔ آپنے یہ کہا خلیفہ وقت میں یہی بے وقوفی ہے۔ کہ وہ ان کو احمقانہ اگر موقوف نہ ہو ظالم ہوں۔ اور لوگ یہ خیال کرنے والے ہیں
عقل، ہوش اور فریب
میں کہتا ہوں ۔ کہ اس کا دل مجھے کہلواتا ہے۔ اس کو یہ جرات ہے کہ وہ فریب خور اس نکاح کے معاملہ میں میرے حق میں خلل ڈالے ہے ۔
کر چکے ہیں۔ اور جنہوں نے نہایت سختی سے طبائع کی منافرت کو پیدا کیا ہے۔ جب تک ان کی سرکوبی نہ ہو۔ یہ بات نہیں آتی۔ کہ آئندہ پر
نکاح کرنے والے عاملوں کو
کس لئے معاف کروں ۔ جن پر خدا کی آیت بینہ چلتی ہے۔ مگر تین دفعہ سننے کے باوجود اس کے خلاف کیا جاتا ہے۔ پھر کسی سے منافقت ۔ یہ کتنی غلطی ہو گئی تھی۔ ہو گیا۔ پردہ میں ہو گئی۔ کہہ دیتے ہیں۔ تو دُکھ دینے کے لئے یہ سب کچھ اس فعل پر پچھتانے میں تو یہ اور بات تھی۔ گو وہ ایک اپنی سانس میں یہ کہتے ہیں۔ کہ نہیں نہیں۔ نہ ایک بات چھپائی ۔ نہ ہونے والی ۔ اب اسی سانس میں یہ کہتے ہیں۔ کہ یہ کوئی ۔ غلطی نہیں ۔
اپنے فعل پر پچھتانے والا رویہ
ہوتا ۔ تو کیا تھا۔ کیا تم میں سے کوئی خدا ترس ہے ۔ گو وہ تو ایک ہی سانس میں یہ کہتے ہیں۔ کہ نہیں نہیں ۔ نہ ظلم ہم پر ڈالا ۔ یہ عذر یہ بھی کہہ دیتے ہیں۔ کہ نہیں سچ نہیں تھا۔ کہ اس طرح نکاح میں ہونا چاہئے تھا۔ اگر تین دفعہ کہنے کے باوجود بھی ایک بات خفیہ رکھی گئی۔ تو اس میں ہم اس کو اپنی توہین نہیں سمجھتے ۔ ایسے شخص کو خود بخود سمجھ لینا چاہئے۔ میں کہتا ہوں ۔ لعنت ان پر ساتھ ہی یہ سن کر لوگ سمجھتے ہیں۔ ہم دھوکہ دہی میں پکڑے گئے ۔ پس حقیقت کیا ہے
ناکامی کی صورت میں شرمندہ ہونا
جو کچھ کہتے ہیں سنتے ہیں۔ اس کے معنی ان کے متعلق یہ ہوتے ہیں کہ جیسے ہم سے دُور ۔ کچھ اس لئے شرمندہ ہوتا ہے اور ذرا غور سے اس پر غور کرنا چاہئے۔ اور نہ یہ کہ کوئی سلسلہ کو خاک میں ملانے والی حکومت ہوتی ہے۔ بلکہ جب دوسرے وقت ادنیٰ شخص توجہ دلائے شرمندہ ہو جاتا ہے۔ تو شکایت کرتا ہے بلکہ سائل ۔
حائل اور دُور
ہے۔ یہ تو نہیں کہ وہ ناگزیر ہو گئی۔ کہ اب یہ تو وہی کر سکتا تھا بے وقوفی کی باتیں ہوتی ہیں۔ اور نہ ان میں کوئی مثال ہو جاتی ہے۔ تو بیہودہ باتوں کا حق ہے کہ وہ لوگ مجھے اپنی طرح سمجھیں
سفلہ کے بعض افراد
کو الجھانے ۔ ذلیل کرنے کے لئے عبث بکتے ہیں
بے وقوف اور جاہل
ہے ۔
خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 20 نمبر 143 صفحہ 7 مورخہ 7 جون 1933ء
یہ حوالہ صفحہ 299 پر درج ہے
حوالہ نمبر 312
الفضل ALFAZL QADIAN
خطبہ جمعہ از مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 23 نمبر 139، صفحہ 9 مورخہ 12 دسمبر 1935ء یہ حوالہ صفحہ 299 پر درج ہے
حوالہ نمبر 312
مسلط کیجئے جو اپنے رحم میں آکر ہم کو بچائے اور ہمارے دشمنوں کو ہلاک کرے۔ اور ہمیں زندگی بخشے۔
راتوں کو اُٹھ کر
گڑگڑاؤ۔ اور اُسے مناؤ۔ پھر تم دیکھنا کہ تم کیسی طاقت پاتے ہو۔ پھر تم خود بذاتِ خود محسوس کرو گے۔ کہ تمہارے اندر کیسی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ اور تم کیسی طاقت محسوس کرتے ہو۔
ہماری جماعت ایک رنگ لگا کر دیکھے
میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں۔ کہ ہماری جماعت میں ابھی وہ رنگ پیدا نہیں ہوا۔ جو صحابہؓ میں پیدا ہوا تھا۔
خدا کے لئے قربانیاں
صحابہؓ نے اپنے آپ کو خدا اور اس کے رسولؐ پر فدا کر دیا تھا۔ مگر ہماری جماعت کے افراد میں وہ روح نہیں۔ وہ اپنے آپ کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اور دین کی ان کو پرواہ نہیں۔ وہ اپنے دنیوی کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ اور دین کے کاموں کے لیے ان کے پاس وقت نہیں۔
دعاؤں کی قبولیت
ہمیں کیسی کیسی تکلیفیں پہنچ رہی ہیں اور ہم کس طرح ان کا مقابلہ کر رہے ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان تکلیفوں کو برداشت کریں اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں اگر ہم ان تکلیفوں کو برداشت کریں گے تو خدا تعالیٰ ہم پر اپنے فضل نازل کرے گا
اللھم انا نجعلک فی نحورھم ونعوذبک من شرورھم
آج کل چونکہ ہمارے مخالفین ہم پر زور لگا رہے ہیں۔ اس لئے میں جماعت کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس دُعا کو کثرت سے پڑھیں۔ تاکہ خدا تعالیٰ ہماری مدد کرے۔ اور ہمارے دشمنوں کے حملوں سے ہمیں محفوظ رکھے۔ اور ان کے شر سے ہمیں بچائے۔
خدا تعالیٰ کے آگے جھکو
اس میں بڑی برکت ہے۔ اور اس میں بڑی طاقت ہے۔ اس کے بعد اور کوئی چیز نہیں۔ جو انسان کو پاک کر سکے۔ پس تم خدا تعالیٰ کے آگے جھکو۔ اور اُس سے مدد مانگو۔
خطبہ جمعہ از محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 23 نمبر 139 مورخہ 12 دسمبر 1935ء یہ حوالہ صفحہ 299 پر درج ہے
حوالہ نمبر 313
289
ان الفضل بيد الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم
الفضل
ایڈیٹر: غلام نبی The ALFAZL QADIAN.
مورخہ ۲۰ شوال ۱۳۵۳ھ مطابق ۵ فروری ۱۹۳۵ء جلد ۲۲ نمبر ۹۴
ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام
زبانی تواضع تکبر اور تعلی
میں اپنی جماعت کو بصدق دل یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ طریق تعلی سے پرہیز کریں۔ اور باہم ایک دوسرے سے کمال فروتنی سے ملیں۔ اور اپنے اندر کبر کا نام و نشان نہ رہنے دیں۔ اس سے ان میں باہمی محبت بڑھے گی اور وہ ایک جان ہو جائیں گے۔ خاموش رہیں۔ اور تھوڑے بولنے کی عادت ڈالیں۔ جب تک کوئی ضرورت حقہ نہ ہو لب نہ کھولیں۔ اور نرمی اور تواضع سے کلام کریں۔ اور ہر ایک شخص اپنے بھائی کی عزت کرے۔ جو شخص ایسا نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
میں سچ کہتا ہوں کہ یہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی ہے کہ وہ
ترقی کا مادہ
اپنے اندر رکھتی ہے کہ کوئی مخالفت اسے بیخ و بن سے اکھاڑ نہیں سکتی۔
التبلیغ
یہ رسالہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ایک تقریر ہے جس میں آپ نے تبلیغ کے اصول اور اس کے طریق کار پر بڑی شرح و بسط سے روشنی ڈالی ہے۔ اس میں وہ تمام ضروری امور بیان کئے گئے ہیں جن کا جاننا ہر ایک مبلغ کے لئے ضروری ہے۔
اس کے علاوہ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مبلغ کو کیا کیا کرنا چاہئے اور کس طرح تبلیغ کرنی چاہئے۔
قیمت فی کاپی مجلد عمدہ کاغذ پر
اخبار الفضل قادیان جلد 22 نمبر 94 صفحہ 9 مورخہ 5 فروری 1935ء
یہ حوالہ صفحہ 299 پر درج ہے
حوالہ نمبر 313
اخبار الفضل قادیان مورخہ ۵ فروری ۱۹۳۵ء
نجات کا دروازہ
اپنے ہاتھ سے بند کر رہے ہیں۔ اور اگر یہ قوم نہیں مانتی، اسے ترکی دی گئی اور یہ کہہ کر انہیں ملنے دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں آج
دنیا جہاں سے تمام احمدیوں
کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ ان کے لیے ہم اپنی جانیں قربان کر دیں گے۔ اور یہ کہہ کر ہم یہاں آئے ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہاں کی
ہندوستان حکومت
کا رویہ ہمارے ساتھ ٹھیک نہیں ہے۔ اس لیے ہم کیا کر سکتے ہیں کیونکہ حکومت ان کی پشت پناہی کرتی ہے۔ اور ان کو بچاتی ہے۔ پس اگر حکومت یہی رویہ رکھتی ہے تو
رائپرا ہیمان
ان کے ہاتھوں سے قتل کر دیا جائے گا۔
میدان میں آؤ تو ہمیں مل جائے ہم تمہارے
ہم نے ان کو تباہ کر دیا ہے
ظاہری ہتھکنڈوں کے بل بوتے پر
سے جو ہم کو تباہ کرنے کے لیے تم نے کر رکھے ہیں۔
بدترین اخلاق
بتایا گیا ہے کہ ہم حق پر ہیں اور باطل ہونے کے دعویدار
کفر کی تاریکیوں کے پردوں
میں پڑے ہیں۔ میں ان لوگوں کے اس قسم کے بیانات پر تعجب نہیں کرتا۔ اور نہ مجھے غصہ آتا ہے ۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ ان کی ذہنی کمزوری کی دلیل ہے ۔ جس کے متعلق قرآن مجید میں ذکر آچکا ہے ۔ جہاں کیا یہ معلوم ہے کہ یہ محض پروپیگنڈہ ہے ۔ اور ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے ۔ جس کی تائید میں بہت کچھ پیش کیا جا سکتا ہے ۔ بلکہ ان سے
سادہ لوح لوگوں کو دھوکا
دینے اور اپنے دامِ تزویر میں پھنسانے کے لیے کیسا کیسا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ خدا کے فضل سے، اور اس کے
شیطان کا حربہ
ہے ۔ اور اس سے بچنے کے لیے یہی ایک طریقہ ہے ۔ کہ ہم ان کی کسی بات کی پرواہ نہ کریں ۔
جھوٹے دعوے
کرتے ہیں ۔ اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے احمدیت کو تباہ کر دیا ہے ۔ اور ہم ان کو تباہ کر کے ہی چھوڑیں گے ۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ تم کیا تباہ کرو گے ۔ خدا تم کو تباہ کر دے گا ۔
اعوذ اور لاحول پڑھ کر
ان سے دور ہو جائیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اس طرح اپنے آپ کو ان کے شر سے بچائیں گے ۔ تو یہ لوگ خود بخود تھک کر بیٹھ جائیں گے ۔ اور ان کی ساری شرارتیں ان کے اپنے ہی گلے پڑ جائیں گی ۔ اس کے بعد
تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھیں
اور اس کے لیے کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں ۔ اور خدا کے فضل سے ہمارا یہ سلسلہ تو
ایک احراری مولوی عنایت اللہ کی امن شکن تقریر
احمدیوں کی آڑ میں حکومت کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش
یہ مسلمان جو انگریزوں کی غلامی کر رہے ہیں، حکومت برطانیہ تو خود کہہ رہی ہے کہ ہم جا رہے ہیں۔ تو تم ان سے ڈرتے ہو۔ ہم تمہیں حکومت برطانیہ کی غلامی سے نکال کر آزاد کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ملازم شاہی جو ہم پر رعب جماتے ہیں۔ ان کو حکومت کے بل بوتے پر غرور ہے۔ ہم ان کا غرور خاک میں ملا دیں گے۔ ہم ان کو تباہ کر دیں گے۔ اگر تم میں کچھ ہمت ہے تو آؤ ہم سے مقابلہ کرو۔
مولوی عنایت اللہ احراری نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت برطانیہ نے احمدیوں کو کھڑا کیا ہے تاکہ وہ ہم مسلمانوں کو کمزور کر سکیں۔ لیکن ہم حکومت برطانیہ اور احمدیوں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کی ان چالوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہم ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور ان کو نیست و نابود کر دیں گے۔ حکومت برطانیہ کو چاہیے کہ وہ احمدیوں کی پشت پناہی چھوڑ دے ورنہ ہم حکومت برطانیہ کو بھی تباہ کر دیں گے۔
اخبار الفضل قادیان جلد 22 نمبر 94 صفحہ 9 مورخہ 5 فروری 1935ء
یہ حوالہ صفحہ 299 پر درج ہے
حوالہ نمبر 314
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ
رجسٹرڈ نمبر ایل ۳۰ یہ اخبار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگویوں کے مطابق خدا تعالیٰ کے فضل و رحم سے جاری ہوا۔ اور اس کی اشاعت کا مقصد اشاعت اسلام ہے
الفضل
روزنامہ قادیان دارالامان غلام نبی
The ALFAZL QADIAN.
چندہ سالانہ بمعہ ڈاک خرچ ۱۵ روپے ششماہی ۸ روپے بیرون ممالک کے لیے ۲۰ شلنگ قیمت فی کاپی دو پیسے
جلد ۲۱ یکم ربیع الاول ۱۳۵۳ھ مطابق ۱۴ جون ۱۹۳۴ء نمبر ۱۴۹
ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
صداقت اسلام کا ایک عظیم الشان ثبوت
فرمایا:۔ (۲۹ مئی ۱۹۰۸ء)
”دنیا بہت سی لغزشوں سے بھری ہوئی ہے۔ اور لوگ ایک جھوٹی منطق پر راضی ہورہے ہیں۔ مذہب وہی ہے۔ جو خدا تعالیٰ کو دکھاتا ہے اور خدا سے ایسا قریب کر دیتا ہے کہ گویا انسان خدا کو دیکھتا ہے۔ اور جب انسان یقین سے جانتا ہے۔ تو خدا تعالیٰ سے اس کا ایک خاص تعلق ہو جاتا ہے۔ اور اس میں اور خدا میں ایک سچا اخلاص پیدا ہو جاتا ہے۔ اور اس کا سارا فخر خدا ہو جاتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ اپنے خاص نشانوں سے اور اپنی خاص تجلی سے اور اپنے خاص کلام سے اس پر ظاہر کرتا ہے کہ میں موجود ہوں۔ تب اس روز سے وہ جانتا ہے کہ اسی روز سے وہ گناہ سے بچ جاتا ہے۔ اور اتنی بڑی آفتیں جن کی مثالیں دنیا میں پڑی ہیں ان سے بچ جاتا ہے۔ جہالت کی گلی ہے جس میں لوگ اندھے ہو کر گرتے ہیں۔ مگر پیغمبر علیہ السلام جو خدا کی صفات کا آئینہ ہے۔ وہ بتلاتا ہے کہ خدا کیسا ہے۔ اور وہ نور جو اس پر ظاہر ہوتا ہے وہ ان لوگوں پر بھی ظاہر ہوتا ہے جو اس کے پاک کلام کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے نور کو اپنا نور بناتے ہیں۔ پس میں سچ کہتا ہوں کہ یہ بھی سچ ہے کہ جو لوگ سچائی کے طالب ہیں اور اسے دل کی سچی پیاس سے تلاش کرتے ہیں وہ ضرور اس کو پا لیتے ہیں۔ مگر جو اس سے لاپروائی کرتے ہیں وہ اس سے محروم رہتے ہیں۔ پس جو شخص اپنے دلی مقصد کو پانا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس کی طرف سچے دل سے رجوع کرے۔“
ہدیہ تبلیغ
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے مندرجہ ذیل احباب نے اپنے اپنے عطیات بھیجے ہیں:۔
مکرم بابو محمد دین صاحب کلرک نہر پتوکی ۱۰/-
مکرم شیخ عبدالرحمن صاحب تاجر کتب لاہور ۵/-
مکرم مولوی عبداللہ صاحب امام مسجد گوجرانوالہ ۲/-
مکرم منشی فضل دین صاحب پنشنر گجرات ۱/-
خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 21 نمبر 149 صفحہ 5 تا 7 مورخہ 14 جون 1934ء | یہ حوالہ صفحہ 300 پر درج ہے
حوالہ نمبر 314
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم (۵)
مومن کو ہمیشہ عقل وفکر اور مشورہ سے کام لینا چاہئے
ایک مبلغ کی شہادت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا فرمودہ ۸؍جون ۱۹۳۴ء
مومن کو مشورہ
کرنا چاہئے کیونکہ سال ہوتے ہیں۔ حالات بدلتے رہتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک کام ہوا ہے۔ گو اس سے مخالفت کو اتنی مدد ملی تھی۔ کہ وہ مل کر اسے بند بھی کر سکتے تھے۔ مگر چونکہ وہ
دروازہ پر بار بار دستک
نہیں دی جائیگی۔ بلکہ ہر دفعہ نئے لوگ دستک دیا کریں گے۔ اس کی یہ حالت ہوگی۔ کہ وہ بار بار یہ کام کرے گا اور پناہ لے گا۔ پس جوں جوں لوگوں کی اس میں شمولیت بڑھتی جائے گی۔ وہ اپنا کام پورے زور کے ساتھ شروع کر دے گا اور اس کا جو کام ہم آج ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔ وہ کل بند ہوتے ہوئے دیکھیں گے ۔ وقت قریباً ایک ہی ہوگا۔ اور یہی حالت اس کی ہے۔ اس طرح کا جو کام ہوتا ہے۔ اس کے لئے مشورہ کرتے رہو۔ مثلاً کسی جگہ پبلک جلسہ ہوا۔ اس میں کوئی شرارت نہ ہوئی۔ تو یہ مت سمجھ لو کہ آئندہ بھی کوئی شرارت نہ ہوگی۔ اور یہ نہ چاہو ۔ تو تمہیں اس میں کامیابی کس طرح ہو جائے گی۔ غرضیکہ
معاملہ
چند نئی الگ باتوں پر مشتمل نہیں ہوتا ، جس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے بلکہ اس سے بہت سی باتوں کے لئے راستہ کھل جاتا ہے۔ مخالف خود تو سمجھتا ہے، لیکن بعض اوقات ہماری جماعت کے آدمی ناواقفیت کے باعث اسے معمولی بات سمجھتے ہیں اور ان کی بے توجہی کی وجہ سے جو بات چند دن میں ختم ہونی ہوتی ہے، اس کے لئے بہت وقت لگ جاتا ہے۔ پس
وقت ضائع کرنے والی بات
ہے۔ قادیان کی آبادی اب بہت وسیع ہو چکی ہے۔ اور بہت سے لوگ موجود ہیں۔ جن میں سے بعض کے پاس کام نہیں ہے۔ تو ان کے پاس کچھ آدمی آتے ہیں۔ جو ان کے پاس بیٹھے رہتے ہیں۔ اور ان کے اس شوق کے لئے جو ان کے دل میں حق کے لئے پیدا ہوتا ہے کچھ وقت دے دیتے ہیں۔ لیکن جب ان کے متعلق کوئی شخص یہ کہے کہ
یہ معمولی بات
ہے۔ باہر سے باہر سنا ہے۔ یا حجام کے سامنے بالوں کے لئے، یا چیز لانے والے یا سنار کی دکان پر بیٹھ کر باتیں کرتا ہے ، تو ہم اس کی یہ گفتگو سن کر سخت حیران ہوتے ہیں کہ یہ سنتے سنتے آخر اس کی یہ حالت ہو گئی ہے۔ اور سنانے والے کے متعلق ہم کیا کہیں۔ میں تو حیران ہوں کہ یہ باتیں ہوتی ہیں، اور یہ بھی باتیں نہیں کرتا، جو اس پر میں ہوتی ہیں، اور
اس کے بعد فرمایا: کہ میں دیگر احمدیوں کو بھی ملازم اور غیر ملازم پائیں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائیں۔ یا یہ سمجھیں کہ جبکہ یہ باتیں ہمارے اندر موجود ہیں تو پھر ہمیں کس طرح ممکن ہے کہ ہم خاموش ہو جائیں، یا ان کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔
میدان میں
کہتے ہیں کہ لوگوں کو شک شبہ میں ڈالتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس ظاہری طاقت بھی پیدا ہو گئی ہے اور وہ طاقت کے بل بوتے سے اس کو اپنے لئے خطرناک سمجھتے ہیں۔ پس
پیسے، اخبار اور مدرسے میں خلیفہ
کی کوئی بات نہیں مانتے لیکن اگر ان کو یہ معلوم ہو کہ ہم چند انسان ہیں جو ایک بات کو لے کر کھڑے ہیں تو کیا وہ ہماری مخالفت نہیں کریں گے۔ پس اگر وہ ہمیں خلیفہ کا آلہ کار سمجھتے ہیں تو
آلہ کار بننے کا خطرناک انجام
ہمیں اس سے کیا ڈر ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر ہم صرف خلیفہ کے کہنے پر ہی سب کچھ کر رہے ہیں اور اپنے اندر کوئی جوش اور ولولہ نہیں رکھتے تو پھر یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے اور ہمارا کوئی نام و نشان نہیں رہے گا۔ پس ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اندر ایک سچا جوش اور ولولہ پیدا کریں۔ تاکہ ہم دنیا پر یہ ثابت کر دیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ اپنے سچے ایمان اور سچے جوش سے کر رہے ہیں۔ میں فیصلہ کروں، اور سنوں کہ آخر وہ
خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 21 نمبر 149 صفحہ 5 تا 7 مورخہ 14 جون 1934ء یہ حوالہ صفحہ 300 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 314)
سارا سارا دن
یہاں تک کہ بعض اوقات مجھ سے اُٹھا نہیں جاتا۔ اور میں طرح بیٹھنے کی بجائے اس طرح میں بیٹھتا ہوں۔ اور سیکرٹری بھی دفتر میں اسی غرض سے لگا ہوا ہے کہ بیچارے جو مجھ سے ملنے کے لئے آتے ہیں وہ مجھے بتا دیتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ تھکتے نہیں ہیں بلکہ یہ ان کی محبت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تو ثواب دیتا ہے۔ مگر مجھے آرام ہو جاتا ہے۔ بہرحال میں تو بیٹھتا اور دفتری کاغذوں کے کام پر لگا رہتا ہوں۔ حالانکہ تھکنے کے باعث بسا اوقات مجھ سے خط نہیں پڑھا جاتا اور کانوں سے
99 فیصدی
ایسے ہیں جنہیں کاغذ کے ذریعہ مجھ سے کوئی غرض نہیں ہوتی مگر پھر بھی وہی بات کہی جاتی ہے جو زبان سے کہہ دیتے ہیں۔ 99 فیصدی یہی ہیں۔
ہزار میں سے 999
ایسے ہوتے ہیں جن کی اس طرح بھی کوئی غرض نہیں ہوتی بلکہ یہ لکھوا دیا جاتا ہے کہ میرا فلاں بیمار ہے میرے لئے دعا کریں۔ یا کوئی اور کام کے سلسلہ میں۔ اور یہی باتیں ہوتی ہیں جو لکھتے ہیں۔ حالانکہ جو باتیں
رقعہ بھیجنے والے کا نقصان
یہاں تک کہ میرے مرض کی وجہ سے اور جو رقعے مجھے ملتے ہیں ان کا مجھ پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ درد ہوتا ہے۔ میں نے یہاں تک کیا ہوا ہے کہ جو میں دعا کی تحریک ہوتی ہے اس کو میں لکھ لیتا ہوں بسا اوقات درد سر کے باعث میرے لئے دعا کرنا بھی ناگوار گزرتی ہے۔ اور جو لوگ مجھے دعا کی تحریک کرتے ہیں اور لکھتے ہیں ان کو اگر میں نہ بھی پڑھوں تو کام چلتا ہے مگر میں احتیاطاً پڑھتا ہوں کہ شاید کوئی نیا میرے دل پر بوجھ پڑتا ہے۔ اگر میں اسے نہ پڑھوں تھے ان کے لئے
زبانی بات
کہنی چاہئیے۔ اس سے وقت بھی بچتا ہے اور بعض دفعہ جو وقت ہوتا ہے۔ وہ بھی بچ جاتا ہے۔ اور انسان
محبت و پیار کا مستحق
ہے۔ رقعہ اتنا لمبا ہوتا ہے۔ اور اتنے خط کے میں لکھا ہوتا ہے۔ اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو رقعہ آتے ہیں اور ان کے لئے جو دعا کے لئے
تک پہنچتے تو ان سے کہا جاتا ہے لیکن اس وقت تک کے لئے اذن ہو چکا تھا۔ مگر میں نے تو بیعت نہیں لی۔ میں کہتا ہوں کہ
- (6)
مامور کی بیعت
ہوتی ہے۔ اور پھر اس کے لئے اس واسطے کہا گیا کہ فرمایا چونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے سنا دیا تھا کہ اسے موسٰی تمام ہو گئی ہے اس لئے میں اس کا انتظار نہیں کیا گیا۔ پس میں سے یہ اثر ایک سے بڑھتا ہے کہ یہ میری بنائی ہوئی بیعت نہیں بلکہ یہی
امریکہ کا واقعہ ہے
کہیں ایک دوست نے مجھے لکھا کہ میری ایک وقت میں دست بوسی کی غرض آگئی تو اسے بڑی دلداری کے لہجے سے باہر نکال دیا۔ اسے اللہ کی قسم ہے۔ اس لئے تو انتظار
بیعت کا نظارہ
نہیں معلوم ہوتا۔ بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے۔ جیسے ایک ہی آدمی کے اندر اللہ تعالیٰ کی تجلی کامل ہو جائے۔ جسے قرآن میں
ذکاء وحس
وحی ہے۔ اور اُسی کے مطابق میں کہتا ہوں کہ یہ شخص کو سمجھ لینا چاہیئے۔ کہ نبی کیسی کام کا ہے۔ اور میں تو کہا کرتا ہوں بعض کہ ایک مومن جس طرح صحابہ کے حجروں کے سامنے باہر ہوتا تھا۔ کہ اچھے اچھے صحابہ کے آنے پر ان سے میں کوئی بھی کام لیتا ہوں۔ اور اسے میں نے کہا تم نے یہ اسے میں نے بیعت کے واسطے روکا تھا۔ انہوں نے فرمایا میں رکھا جا سکتا ہے۔ حتٰی کہ میں نے اُسے رونے کی بھی پروا نہیں باہر رہنے دیا۔ یہ میرے لئے رضائی کر دی ہے۔ میں اسے برا نہیں آئی تو وہ شخص جانتا ہے کہ دنیا کی رعایت ہے۔ اس میں کوئی حد سے تجاوز نہیں۔ اگر کوئی میری بیعت کر لے۔ اور میں اسے نہ سمجھوں تو میں اسے چھوڑ دوں گا۔ میں نے تو یہ کر کے نہیں دیکھا۔ میں نے تو ان کو اور قریب تر کر دیا ہے۔ تاکہ
خوان کا ذائقہ
چکھے تو وہ اس کی حلاوت سمجھے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ میں یہ دوں اور جانے دوں۔ اس طرح اللہ کی محبت طاقت سے اور اس لئے بجائے نصیحت میں آتا ہوں۔ صحابہ ہی ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ جن لوگوں کو ان باتوں کی نقل و حرکت ہو ۔ کہ وہ خیال کرتے ہیں میں دیکھتا ہوں۔ خاندان میں سے کوئی ضروری کام کرتے ہیں۔ اور ان میں مبتلا ہو جائیں تو آتے ہیں مجھے پھر ان لوگوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ مگر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمہارا کیا کام تھا۔ اور وقت سخت ضائع ہو گا۔ ان میں سے کوئی ناگہانی طور پر ملنے آئے تو قریب میں تو یہ حالت ہے کہ
اور کوئی پیچھے سے میرے ہاتھ کو دباتا ہے کہ میں نے اپنے قیاس سے سمجھنا ہے کہ کوئی مصافحہ کرنا چاہتا ہے پھر میں نے کئی بار دیکھا ہے بعض لوگ میری
پیٹھ پر ہاتھ
پھیرتے ہیں۔ ہوتے تو بزرگوں سے یہ نسبت اپنے سے چھوٹوں کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ اس کی غرض برکت لینا ہوتی ہے لیکن چونکہ اناڑی پن سے مجھ پر ہاتھ پھیرا تو میں اس کام کی بنا پر اسے بھی برا نہیں کہتا ۔ اس سے ان کا حق مجھ پر گہرا ہوتا ہے۔ اور میں ان سے ملتا ہوں ۔ لیکن یہ طریقہ مسنون نہیں ۔ مسنون طریقہ مصافحہ ہی ہے۔ اور اگر اور غرض سے ملیں جانا مضر نہیں ۔ وہ غیر مسنون ہے۔ ہاں میں نے دیکھا ہے ۔ اب بعض ملنے والے دونوں کی طرف سے تکلیف پہنچنے کی وجہ سے اٹھ کر چلے جاتے ۔ کوئی ایسا دکھ ہو جاتا۔ تو میں اسے کوئی بیعت شکن تو نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ بیعت کے معنی تو یہ ہیں کہ وہ اقرار کر چکے تو پھر اسے جانے دینے کے لئے
دعائیں کرنے کے لئے
دیکھتے ہیں۔ ان کی اس قدر محبت مجھ پر آتی ہے ۔ میں تیزی سے نہیں مانتا تو معلوم نہیں کہ کوئی رنجیدہ نہ ہو۔ یا میرے نہ دیکھنے سے میرا بھی برا حال ہے پھر میں ان سے ملتا ہوں ۔ کہ اگر میرے لئے دعا کا رقعہ دیا جائے ۔ تو میں طاقت نہیں رکھتا کہ ہر ملاقاتی سے رقعہ لے کر پڑھوں ۔ اس لئے میرے لئے ممکن ہے کہ جو ملتا ہوں ۔ یا کوئی مجھ سے کام ہو ۔ یا بات ہو ۔ یا دعا کرانا ہو تو نہیں کہ میرے لئے منع کر دیتا ہوں ۔ کوئی بات حاصل کرنے کے لئے میں یہ نہیں کرتا ۔ پھر اپنے لئے کوئی اور بھی بات ہو کہ میرے لئے سخت محتاجی پیدا ہو۔ تو میں لکھ لیتا ہوں ۔ کہ وہ بات لکھیں مگر میں بوجہ دیگر جو کہتا ہوں کہ میرے لئے دعا کریں۔ ان کے دوست کے لئے بھی یہ بات ہے جو چاہتے ہیں اور جماعت کے لئے جو ہماری مجالس میں جو پرلے غیر احمدی بلکہ غیر مسلم بھی آکر بیٹھتے ہیں۔ اور عام طور پر ہماری جماعت کو
مہذب اور شائستہ
کہا جاتا ہے۔ لیکن حالت یہ ہو کہ جن لوگوں میں یہ اثر ہوتا ہے ۔ جو بغیر نشان کے مجھ میں تسلی سے کھڑا ہونا چاہتے ہیں ۔ ان کو نہیں دیکھا ہے۔ میں یہ بہت چاہتا ہوں ۔ کہ چیز ہو۔ یہ چیز نہایت ہی بُری معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے میں خوف کھاتا ہوں توقف باعث ہوتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ قرآن کریم میں گالیاں دی جائیں۔ اور گالیوں سے
یہ حوالہ صفحہ 300 پر درج ہے خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 21 نمبر 149 صفحہ 5 تا 7 مورخہ 14 جون 1934ء
حوالہ نمبر 315
رجسٹرڈ نمبر ال ۳۲۵ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
عَسٰى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا
اب کسی دن خدا کی ہے پھر باری آچکی
دنیا میں ایک نبی آیا دنیا نے اسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اسکو قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اسکی سچائی ظاہر کردے گا۔ (الہام حضرت مسیح موعود)
ہر سوموار اور جمعرات کو شائع ہوتا ہے۔ سالانہ چندہ پانچ روپیہ ششماہی تین روپیہ ۔ ایک پرچہ کی قیمت ایک آنہ ہے
الفضل
(290)
مضامین بنام ایڈیٹر کاروباری امور متعلق خط و کتابت مینیجر کے نام ہونی چاہئیں
فہرست مضامین
- ۱۔ کارروائی مجلسِ مشاورت (پہلا اجلاس) ۲
- ۲۔ خطبہ جمعہ (حضرت خلیفۃ المسیح) ۳
- ۳۔ جناب سیدنا محمود (نظم) ۴
- ۴۔ متعلق خط و کتابت مینیجر ۴
- ۵۔ مکتوب (حضرت فضل عمر از لندن) ۵
- ۶۔ حلفیہ بیان (مولوی ثناء اللہ صاحب) ۷
- ۷۔ اشتہارات ۷
- ۸۔ ملکی و غیر ملکی خبریں ۸
ایڈیٹر:۔ غلام نبی اسسٹنٹ ۔ میر محمد خان ۔ جلد ۸ مورخہ ۱۲۔ اگست ۱۹۲۰ء مطابق ۲۶۔ ذیقعد ۱۳۳۸ھ نمبر ۱۰
قادیان
خادمانِ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بفضلِ خدا بیدار ہورہے ہیں۔ حضرت اُمّ المومنین مدظلہا کی صحت دن بـ دن روبہ ترقی ہے۔ اور نمازیں پڑھنے لگی ہیں۔
موجودہ تنگیِ مکانات احمدی بھائیوں کو جو باہر سے آتے ہیں اپنے قیام کا بندوبست کر لینا چاہئے ۔ یہاں مہمان خانہ کی توسیع اور تعمیر شروع کی ہے۔ ہمارے خیال میں اگر احباب کچھ چندہ دیں اور دیگر مخیر حضرات ادھر بھی توجہ مبذول فرمائیں۔ تو آج کل کے لئے یہی چندے مصلحتاً انسب ہیں۔ اس میں بہت بڑی سہولت احباب کے واسطے ہو جائے گی۔
اخبار احمدیہ
حضرت خلیفۃ المسیح کی ڈاک کے متعلق اطلاع
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی خدمت میں آپ کی ڈاک بھجوائی جانے لگی ہے۔ اس لئے خطوط کا جواب دیر سے ملے گا۔ احباب پریشان نہ ہوں کہ ان کے خطوط حضور کے پاس پہنچ گئے ہیں ۔ اور حضور ان پر دعا فرماتے ہیں۔ ہاں اگر کوئی بات دریافت کرنی ہو یا پوچھنی ہو ۔ تو براہ مہربانی خطوط میں تاکید نہ کریں۔ اس کا جواب دیا جا سکے گا۔ والسلام خاکسار رحیم بخش ۔ مہتمم ڈاک ۔ ۵؍ اگست ۱۹۲۰ء
جناب شیخ عبد الرحمٰن صاحب کی اطلاع
مصری بی اے ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ اطلاع دیتے ہیں کہ قادیان مدرسہ احمدیہ کے نام سے مدرسہ کے لئے چندہ وصول کرنے کے لئے کاپیوں وغیرہ چھپوا کر بعض لوگ چندہ کی رسید دیتے ہیں اُنکو چندہ نہ دیا جائے۔ اور نہ وہ رسیدیں منظور ہونگی۔
احباب کا شکریہ
جن دوستوں نے میری اپیل کی بناء پر چندہ بھجوا کر ہمدردی کا اظہار فرمایا ہے۔ میں ان کا شکر گزار ہوں۔ نیز احبابِ انجمن احمدیہ میں اپنے ان بھائیوں سے اس امر کی توقع رکھتا ہوں ۔ کہ وہ اس عاجز کو وقتاً فوقتاً خاص وقت کی خاص دعاؤں میں یاد فرما کر ممنون منت بنائیں گے۔ خاکسار حافظ جمال احمد۔ قادیان
اطلاع
مولوی عطاء محمد صاحب قادیانی کا نکاح بیگم جان بنت محمد داد خاں صاحب ساکن ملتان چھاؤنی حال کیمبل پور سے مبلغ دو سو روپیہ مہر پر
اخبار الفضل قادیان جلد 8، نمبر 10 صفحہ 8 مورخہ 12 اگست 1920ء | یہ حوالہ صفحہ 301 پر درج ہے
حوالہ نمبر 315
اخبار الفضل قادیان دارالامان
... میں کوئی مرض پیدا نہیں ہوتی۔ اسی طرح اخلاق کی خرابی اچانک نہیں ہوتی جس طرح جسمانی مرض ذوق ذوق سے آتی ہے۔ اسی طرح آہستہ آہستہ آتے ہیں۔ میں نے اس کے متعلق بارہا توجہ دلائی ہے۔ مگر اس کی طرف جس قدر توجہ ہونی چاہئے تھی اتنی نہیں ہوتی۔ یہ ایک مخفی مرض ہے آہستہ آہستہ آتا ہے وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتا ہے۔ پہلے طمع و قناعت کا سلب ہونا شروع ہوتا ہے۔ اور جو ملتا ہے اس کو معمولی سمجھا جاتا ہے۔ اور اس کا کچھ بھی اثر نہ جانتا ہے۔ یہ مرض جب حد سے بڑھتا ہے۔ یعنی اخلاق کو خراب کر دیتا ہے۔ جھوٹ بولنا اور فریب دینا شروع ہوتا ہے۔ جس وقت کوئی ایسی بات اس کے سامنے آئے تو وہ اخلاقی کمزوری دکھاتے ہیں۔ جب یہ مرض بڑھتا ہے تو وہ بے حیاء ہو جاتے ہیں۔ اور جب بے حیاء ہو جاتے ہیں تو اخلاقی عادات ہو جاتی ہیں۔ اور خود کو سچا ثابت کرنے کے لئے ...
یہ مرض ہو جائے
ہمدردی کی کمی انسان کی
بدترین مرض ہے۔ جس کے دکھ کو دیکھتے ہیں، تو ان کو رحم نہیں آتا بلکہ بے حسی طاری ہو جاتی ہے۔ یہ ایک بیماری ہے۔ جس کی ہمدردی کی حد یہاں تک ہے، اس کے لئے نہیں، لیکن جو سمجھتا ہے کہ میں بنی نوع کی ہمدردی میں ہوں۔ ہمدردی کے بغیر انسان انسان نہیں رہتا۔ بلکہ حیوان کے درجہ پر آجاتا ہے۔ ہمدردی میں بڑے بڑے نقص پیدا ہو جاتے ہیں یہ ہوتی ہے۔ جو شخص ایک دفعہ مبتلا ہو جائے اس کی ہمدردی نہیں ہوتی۔ ان کی مثال چوپایوں کی طرح ہوتی ہے۔ اور یہی وہ ہمدردی ہے جو ہے۔ کہ اگر کوئی دکھ میں ہے اور ...
ہمدردی کے اس حد تک آجائے گا۔ اسی طرح ایک اور کی بھی کیفیت ہوتی ہے۔ کہ کوئی ہمدردی کا کام چند سے نہیں ہوتی۔ لیکن آگے کو ہمدردی ہوتی ہے۔ مگر ایسے نہیں بلکہ ایک آدمی کو بھی فائدہ پہنچے تو وہ کرتا ہے۔ اور پھر جب یہ مسلمان ہو، تو اس سے ہمدردی کرے۔ جس نے کلمہ پڑھا ہو، تواس طرح اس کو ہمدردی میں محدود ہونا پڑتا ہے۔ مگر اپنی قوم اور اپنی جماعت تک تو اسے ہمدردی کرنی چاہئے یہ بھی ہمدردی کی ایک قسم ہے، جس کو عام لوگ بھی، اگر غور سے دیکھا جائے، تو ایسے لوگ سے کتے بہتر ہیں۔ کیونکہ کتے اپنے ہم جنس کی ہمدردی کرتے ہیں۔ مگر یہ لوگ اپنے ہم جنسوں کو چھوڑ کر غیروں کی ہمدردی کرتے ہیں۔ اور اس کی غرض یہ ہوتی ہے تاکہ لوگ انہیں بڑا کہیں۔ اور یہ مسلمان ہو کر بھی اپنوں کی ہمدردی کے لئے ادنیٰ درجہ کی بھی ہمدردی کو چھوڑ دیتے ہیں کے خلاف فیصلہ دیا جائے، تو ان کو چڑ ہوتی ہے، حالانکہ اور پھر تعصب بھی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ہمدردی کا یہ تو کتوں کا حال ہے کہ جب کتے آپس میں لڑتے ہیں تو ایک کتا دوسرے پر حملہ کرے۔ تو پھر وہی کتا جو آپس میں لڑتے ہیں، ایک دم مل کر کتے پر حملہ کر دیتے ہیں، اور متفق ہو کر غیر کتے پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسے مار بھگاتے ہیں۔ مگر ہماری جماعت میں بعض لوگ ہمدردی کے اس درجہ سے بھی گرے ہوئے ہیں جو کتوں میں ہوتی ہے۔ یہ لوگ اپنی جماعت کے مسلمان اور اپنی جماعت کے لوگوں سے ہمدردی نہیں کرتے۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ غیر لوگ ہماری جماعت کے لوگوں کو دکھ دینے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تو ان لوگوں کو یہ چاہیے تھا کہ کم از کم اس ہمدردی کو تو دکھاتے۔ جو کہ کتوں میں پائی جاتی ہے۔ کہ جب کوئی غیر ان پر حملہ آور ہو تو اپنے اختلافات بھول جائیں۔ اور اس کی مخالفت میں ایک ہو جائیں مگر یہ کتے کے برابر بھی ہمدردی نہیں دکھاتے۔ اور جب غیر حملہ آور ہوتا ہے۔ تو اس پر خوش ہوتے ہیں
کہ یہ لوگ اپنی جماعت کے آدمیوں کی ہمدردی کرنے کے عوض غیروں کی ہمدردی پر خوش ہوتے ہیں، بلکہ ان کی ہمدردی کرتے ہیں۔ اور کتوں کی طرح غیروں کے آنے پر اپنے بھائیوں کے خلاف ان کی مدد کرتے ہیں۔ اور اس طرح اپنی کمینگی ظاہر کرتے ہیں۔ کیا ایسے لوگ انسانوں کے خاندان کے ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ جو کتوں سے بھی بدتر ہوں۔ اور پھر وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، اور مسلمان خاندان کے ہیں۔ اور مسلمانوں کے خاندان کے ہو کر بھی ان کو خدا کی پرواہ نہیں کہ خدا ہم سے کیا فرماتا ہے؟ ان کو خدا کی پرواہ نہیں کہ ہمارا کیا حشر ہو گا۔ ان کو پرواہ نہیں کہ ہماری کیا حالت ہو گی۔ مگر وہ اپنی ضد میں آ کر مخالفت کرتے ہیں۔ اور اپنی جماعت کے خلاف ہو کر غیروں کی خوشی کے لیے اپنے بھائیوں کو دکھ دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی جماعت کو چھوڑ کر غیروں کے ساتھ ملتا ہے، اور غیروں کی مدد کرتا ہے تو وہ اپنی جماعت کا دشمن ہے۔
ہماری جماعت کو ایسے آدمیوں سے بچنا چاہیے۔ اور ایسے آدمیوں کو جماعت میں سے نکال دینا چاہیے۔ جو کہ اپنی جماعت کے آدمیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ اور غیروں کی ہمدردی کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ جو شخص جماعت کے خلاف ہوتا ہے، وہ جماعت کا دشمن ہوتا ہے۔ اور اس کا جماعت میں رہنا جماعت کے لئے مضر ہے۔
اخلاقی دنیا کی ترقی کے لئے یہی ضروری ہے کہ ہمیں اپنے اندر اخلاقی خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں۔ جیسے صدق، امانت، دیانت، ہمدردی، اخوت اور محبت۔ جب تک ہم اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا نہیں کریں گے، ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ ہم کو اپنی جماعت کی ترقی کے لئے اور اپنے خاندان کی عزت اور نام کے لئے اپنی جماعت کے آدمیوں کی ہمدردی کرنی چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے۔ نہ کہ غیروں کی ہمدردی کریں۔
خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 8 نمبر 10، صفحہ 8 مورخہ 12 اگست 1920ء
یہ حوالہ صفحہ 301 پر درج ہے
حوالہ نمبر 316
اِنَّ فَضْلَ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلی علی رسوله الكريم
الفضل The ALFAZL QADIAN.
اڈیٹر محمود احمد
تار کا پتہ الفضل قادیان رجسٹرڈ نمبر ایل ۳۰۳
شرائط چندہ سالانہ ۱۵/ ششماہی ۸/ سہ ماہی ۴/ ماہوار ۱/۸ ایک پرچہ /۱ بیرونی ممالک ۱۷/
پوسٹ بکس نمبر ۳۲ قادیان
خط و کتابت بنام منیجر اخبار الفضل قادیان (پنجاب)
نمبر ۷۲ | ۵ رمضان المبارک ۱۳۵۳ھ مطابق ۱۳ دسمبر ۱۹۳۴ء | جلد ۲۲
رمضان المبارک کے متعلق فرمان نبوی
جنت اور روزہ دار
عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ۔ (بخاری شریف)
سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے۔ اس دروازہ میں سے قیامت کے دن روزہ دار ہی داخل ہونگے۔ اس وقت اعلان کیا جائیگا کہ روزہ دار کہاں ہیں وہ اٹھیں اور اس دروازہ سے داخل ہوں ۔ جب وہ سب داخل ہو چکیں گے تو دروازہ بند کر دیا جائیگا۔ پھر اس دروازہ سے کوئی داخل نہ ہوگا۔
المبلغ
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق بوجہ اس بے حد مصروفیت کے جو آپ کو ان دنوں ہے یہ امر تو ممکن نہیں کہ ابھی تک کوئی تاریخ دورہ کے لئے مقرر کی جائے البتہ ضرورت اس امر کی ہے کہ احباب حضور کی خدمت میں دعوات بھیج کر اپنے لئے وقت حاصل کریں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تعمیل میں کہ احمدیوں کو مشقت کے کام اپنے ہاتھ سے کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے محولہ بالا جماعت کے بہت سے احباب جن میں محترم عبدالقدوس صاحب وغیرہ پیش پیش ہیں، جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خیمہ وغیرہ میں قیام کی بجائے قادیان آکر کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔
غالب امید ہے کہ آئندہ سال احباب قادیان جلسہ سالانہ کے موقع پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔
اخبار الفضل قادیان جلد 22 نمبر 72 صفحہ 8 مورخہ 13 دسمبر 1934ء یہ حوالہ صفحہ 301 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 316
سے ہی میں مزید بولوں میں
ایک مومن کا استعمال
ڈول کا برا حال ہوتا ہے۔ وہ اس سے سباق ہو سکتے ہیں۔ جن لوگوں کے لئے ایک ہی کنارہ ہے۔ اور صرف تو دنیا ہی کی ہے۔ ظاہری طور پر خیال کرتے ہیں کہ یہیں ان کی تمنائیں پوری ہوتیں اور یہیں ان کی دنیائیں اور ان کے خیالات ہیں۔ ان کے عشق میں کیا ۔ اور جس میں کوئی بات ہو اس کا کیا ۔ کہ یہ لوگ ہیں ۔ دنیا ان سے محبت کرتی ہے۔ اور دنیا ان پر اپنا اثر ڈالتی ہے ۔ تو وہ اس دنیا کے نہیں ہوتے۔ اور وہ دنیا ان سے محبت کرتی ہے۔
پھر آپ نے فرمایا ہے کہ جس بچے میں یہ دو باتیں لے آئیں۔ ایک تو اس کے اندر عاجزی ۔ اور دوسری سچائی ہونا ضروری ہے۔ کامل مومن اس کے ہوتے ہیں۔ اور عمر کے اس حصے میں جس میں کہ بچے کی پیدائش کا وقت ہو، بچے کو اس کے سامنے پیش کریں۔ تو سچائی کریں۔ تو پھر بچہ سچائی کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ اس کی فطرت میں خلوص پیدا ہوگا۔ اور وہی اس کی زندگی ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ بچے جو ہوتے ہیں۔ کتنی ہی باتیں کرتے ہیں۔ تو ان میں کچھ نہ کچھ گہرائی ہوتی ہے۔ وہ اس کے متعلق کبھی یہ نہیں کہ سکتے۔ اور پھر جب کوئی انہیں کچھ کہے گا ، تو وہ اسے برا نہیں منائے گا ۔ اور جب کوئی اسے کہے گا کہ یہ ہے تمہارا نتیجہ ! تو وہ کہے گا کہ یہ ہے میرا نتیجہ اور یہ ہے میرا نبی۔ تو اس کی حالت سے اور اس کی سچائی سے یہ ظاہر ہوتا ہے۔ کہ اس سے زیادہ بے لوث کون ہو سکتا ہے۔
اور یہ ظاہر ہے کہ مثال تو اس شخص کی ہو گی ۔ جو کہیں نہ سکے کہ میری حالت یہ ہے۔ لہٰذا کسی نے اس سے کہا کہ میاں انگوٹھے میں درد ہوتا ہے۔ تو وہ کہنے لگا میں نے گلا کٹوایا ہوا ہے۔ میں کب روتا ہوں۔ اس کا مدعا یہی ہے کہ درد ہوتا ہے۔ بیمار ہوتا ہے۔ تکلیف ہوتی ہے۔ بہت اوروں کے یہ بتاتا ہے۔ کہ مجھے کیا ہوا ہے۔ مجھے تکلیف ہے ۔
ظاہری قربانی ہے۔ مگر ان کی قربانی تو قربانی ہے۔ اس لئے یہ غریب سے غریب آدمی ہوتے ہوئے بھی اپنے دلوں ۔ اور اپنی سچائی کی وجہ سے اتنے بلند ہو جاتے ہیں کہ اس کے مقابلہ میں کوئی بادشاہ اور کوئی امیر کوئی چیز نہیں ۔ کیا کوئی امیر کسی غریب کو اس کی سچائی سے بدل سکتا ہے۔ تو وہ غریب اس کے سچائی کا کیا بدلہ دیتا ہے کہ یہ لوگ سچائی کو دل میں جگہ دیتے ہیں۔ اس میں ، کوئی امیر آدمی تو اپنی دولت پر انحصار بناتے ہیں۔ مگر ان غریبوں کے دلوں میں سچائی کی وہ لہریں اٹھتی ہیں۔ جب تک کہ ان کے دلوں میں سچائی ہوتا ہے۔ وہ اس دنیا کو بھی نہیں چھوڑ سکتا۔
کر سکے۔ یاد رکھیں جن کو اپنی کمیٹی ، حقوق کا دھاوا ہے مگر وہ حکومتیں جو ان پر قائم ہیں، سب کو اپنے خیالات پر رکھتی ہیں۔ انہیں نے بھی یہ سمجھ لیا ہے کہ جماعت یہ نہیں کر سکتی نہ وہ ان چیزوں کو سمجھا کرتی ہے۔ جن کے پاس کوئی حکومتی بنیاد پر معاملہ ہو، ایک بات یہ بھی ہے کہ ہم جو چاہیں ، اور حکومتوں سے مطالبہ کریں، ہم کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہر حکومت کے دائرہ حد میں وہ چیز آتی ہے یا نہیں آتی۔ اس چیز کو جو تم کو فائدہ دے سکتی ہے، اسے اختیار کرنا ہی ہمارا فرض ہے۔ اس لئے ہمارے تعلقات اس قدر وسیع ہونے چاہئیں کہ کسی حکومت یا رعایا کے ہمارے متعلق خیالات میں تغیر پیدا ہو تو ہمیں اس وقت
آئندہ نسلوں کی شرکت
کی معمولی بات پر نظر رہے تاکہ کسی وقت بھی اس دوران میں ہمیں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک وقت دیا ہے کہ ہمارے دلوں میں وہ پیدا کر رہا ہے کہ کل کا دن جو ہمارے لئے آئے گا ، تو اپنے نونہالوں کی ، ان کی شرکت کے لئے تیاری کریں۔ اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔ اور ان کی تربیت ہماری ذمہ داری ہے۔ اور ان کی شرکت کا جو ہمارا قدم اٹھ چکا ہے ۔ کہ اسے
زیں کس مگرا ایں عهد الست
یعنی ہرگز نہ تو اس عشق سے دست بردار ہو۔ کیونکہ یہی ایک عہد عشق ہوتا ہے جس پر انسان کی ایک شاندار فتح یا شاندار ہزیمت مبنی ہوتا ہے۔ کہ انسان کے لئے محبت کا ایک ایسا وقت آتا ہے۔ جس میں اس کے دل میں ایک ایسا جذبہ قائم ہوتا ہے جو اس مصیبت کے گرد طواف کرنے پر اسے مجبور کرتا۔ اور میں نے پیش کیا ۔ کہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ جس سے ایک جانب تو اس نے اس مصیبت میں حصہ لیا ہوتا ہے۔ اور اسی لئے اس کو محبوب کی جگہ ملی ہے۔ کیونکہ اس نے اپنی اسی قربانی میں اس محبوب نے حصہ لیا۔ کیونکہ اس نے اندرونی قربانی کی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے اندر کے تعلق میں اسے باہر کی تکلیف ، اور اس سے نوائی مل سکتی ہے۔
اس کے علاوہ اور بھی چند نظمیں ہیں۔ ان میں میں نے کچھ پیش کئے ہیں۔ جن سے بیان کرنے میں، بیان کر کے ان چیزوں سے تمسخر اور مذاق اڑانے والوں سے مجھے ڈرایا۔
تھا اس لئے اس کو تسلیم بھی کر سکتے تھے۔ اور پڑوسیوں کے گھروں سے بھی مانگ تانگ کر لے جایا جاتا تھا۔ اور اس سے وہ خود ستائی کی کہ آپ باتیں سنیں۔ اس نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ میری اپنی کمائی ہوئی چیز ہے اور میں جاہل ہوں۔ اور انہوں نے کہا کہ فرض کیا موت تیرے لئے اعلان کر چکی کہ تو اپنے میں ویسے کو بعض دفعہ ایسی چیزوں کی ایسی اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ ان کے ملنے کے بعد تم ان کو نہیں پا سکتے۔
قادیان کی اہمیت
یہ قادیان ہمارا مرکز ہے، شعلوں میں تجلی ہے۔ اس مقام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم اسے عزت دنیا میں بھر دیں گے۔ اور یہ فرمایا کہ ہم تجھے عزت دیں گے۔ اور اس کو بھاری فضیلت کی وجہ سے سب کی نگاہوں میں بچائیں گے۔ کوئی طاقت جو مخالف ہوگی، اس کی یہاں کئی شاخیں پھیل کر اس کی جڑوں سے زیادہ پھیلتی ہیں۔ اور یہاں کے مقدس مقامات کو جو قادیان کے ارد گرد ہیں۔ اور یہاں کی پاک مٹی میں خدا تعالیٰ اور پیغمبروں کی اتنی تاثیریں پھیلی کہ ہم کو یہاں ایک مرکز بنانا پڑا۔ اور ایک عظیم الشان مسجد یہاں بنوانی پڑی۔ اور اس کی شان و شوکت کی حفاظت خدا وند تعالیٰ نے اپنے ذمے لی ہے ۔ گو اسے
مزید خطروں کے لئے تیاری
تو میں اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بعض دفعہ ایسے مقام پر پہنچ کر انسان کے لئے بعض اوقات معمولی باتیں اتنی اہم ہو جایا کرتی ہیں کہ ان کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تو قادیان کی مرکزیت اپنے اثر کھو دے۔ اور پھر جو قوم کل پیدا ہونے والی ہو گی۔ اس کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں ہو گا۔ لے قادیان
مشرقی حکومتوں سے تعلقات کی استواری
دسویں بات میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی حکومتوں میں سے بعض مشرقی حکومتیں ایسی ہیں جن کے پاس کوئی جہاز نہیں ، کوئی صرف ایک ہی حکومت سے ہے۔ اور افغانستان کے پاس ہماری جماعت ہے۔ آپ کا فرض نہیں کہ کشتی ، اور اس کا جہاز بنائیں۔ اتنی سب مشکلات پیدا ہیں یہاں دیا، اور دیکھئے، کئی جماعتیں ہیں۔ اور مسلمانوں تاکہ یہ لوگ کرکٹ، اور میلوں ، ریشوں وغیرہ مقامات پر نہ کھیلیں اور تماشے وغیرہ کے لئے دیگر حکومتوں سے امداد طلب نہ کریں۔ سوائے چند حکومت کے کوئی ہماری پشت پر ہیں۔ اور یہ چیزیں کوئی معمولی نہیں ہیں۔ اور نہ ہی ہم ہماری تعلیم اور ہماری تہذیب حکومتوں سے جدا گانہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومتوں میں شریک ہوں یا جو ہم حکومت
لیکن میں تو تمام جہانوں کے لئے
اس لئے ان لوگوں کو بھی جو خدا وند تعالیٰ کے لئے
یہ حوالہ صفحہ 301 پر درج ہے
اخبار الفضل قادیان جلد 22 نمبر 72 صفحہ 8 مورخہ 13 دسمبر 1934ء
حوالہ نمبر 317 براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۲۸
۱۱۹
پھر دوبارہ آگئی ابرار میں رسم یہود پھر مسیح وقت کے دشمن ہوئے یہ جبّہ دار
تھا نوشتوں میں یہی از ابتدا تا انتہا پھر مٹے کیونکر کہ ہے تقدیر نے نقش جدا
میں تو آیا اس جہاں میں بن مریم کی طرح میں نہیں مامور از بہر حملہ و کار زار
پر اگر آتا کوئی عیسیٰ انہیں امید تھی اور کرتا جنگ اور دیتا غنیمت بے شمار
ایسے مہدی کیلئے میدان کھلا تھا قوم میں پھر تو اس پر جمع ہوتے ایکدم میں صد ہزار
پر یہ تھا رحمِ خداوندی کہ میں ظاہر ہوا آگ آتی گر نہ میں آتا تو پھر جاتا قرار
آگ اس پر آگئی جب دیکھ کر اتنے نشاں قوم نے مجھ کو کہا کذّاب ہے اور بد شعار
ہے یقیں یہ آگ کچھ مدت تلک جاتی نہیں ہاں مگر توبہ کریں با صد نیاز و انکسار
یہ نہیں اک اتفاقی امر تا ہوتا علاج ہے خدا کے حکم سے یہ سب تباہی اور دمار
وہ خدا جس نے بنایا آدمی اور دیں دیا وہ نہیں راضی کہ بے دینی ہو ان کا کاروبار
بے خدا بے زہد و تقویٰ بے دیانت بے صفا حق ہے یہ دنیا کے دوں طالبوں کو لے اس میں شکار
صیدِ طاعوں مت بنو پورے بنو تم متقی! یہ جو ایماں ہے زباں کا، کچھ نہیں آتا بکار
موت سے گر خود ہو بے ڈر مجھ کو سچوں پر رحم امن کی رہ پر چلو حق کو کرو سب اختیار
ان کے کہنے والو! تم ہرگز نہیں ہو آدمی کوئی ہے روبہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار
ہاں دلوں کو خود بدل دے اے مرے قادر خدا تو تو ربّ العالمیں ہے اور سب کا شہریار
تیرے آگے محو یا اثبات ناممکن نہیں جوڑنا یا توڑنا یہ کام تیرے اختیار
بگڑے کاموں کو بنا دے جب نگاہِ فضل ہو پھر بنا کر توڑ دے اک دم میں کر دے تار تار
براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 108 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 138 ، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 301 پر درج ہے
حوالہ نمبر 318
۱۲۰
احمد کے دیکھنے والے اور نہ دیکھنے والے احمدیوں میں بھی ایک فرق ہے۔ دیکھنے والوں کے دل میں ایک سوز اور لذت اسکے دیدار اور صحبت کی ٹپک جاتی ہے۔ نہ دیکھنے والے بارہا تاسف کرتے پائے گئے کہ ہائے ہم نے خداوند کی لذیذ شکل اور کیمیا اثر اس محبوب کا اصلی چہرہ اس کی زندگی میں نہ دیکھ لیا تصویر اور اصل میں بہت فرق ہے۔ اور وہ فرق بھی وہی جانتے ہیں جنہوں نے اس کو دیکھا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ احمد صلے اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور عادات پر کچھ تحریر کروں۔ شاید ہمارے وہ دوست جنہوں نے اس ذات بابرکات کو نہیں دیکھا حظ اُٹھائیں۔
حلیہ مبارک | بجائے اسکے کہ میں آپ کا حلیہ بیان کروں اور ہر چیز پر خود کوئی نوٹ دوں یہ بہتر ہے کہ میں سرسری طور پر اس کا ذکر کرتا جاؤں۔ اور جو پڑھنے والے کی اپنی رائے پر چھوڑ دوں آپ کے تمام حلیہ کا خلاصہ ایک فقرہ میں یہ ہو سکتا ہے کہ
”یہ آپ مردانہ حُسن کے اعلیٰ نمونہ تھے :
مگر یہ فقرہ بالکل نامکمل رہے گا اگر اسکے ساتھ دوسرا یہ نہ ہو کہ
”یہ حُسن انسانی ایک روحانی تجلّی کی چادر اوڑھے ہوئے تھا “
اور جس طرح آپ حقانی رنگ میں اس امت کے لئے مبعوث ہوئے تھے اسی طرح آپ کا جمال بھی خدائی قدرت کا نمونہ تھا۔ اور دیکھنے والے کے دل کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔ آپ کے چہرہ پر نورانیت کے ساتھ رعب و ہیبت اور استکبار نہ تھے۔ بلکہ فروتنی ، خاکساری اور محبت کی آمیزش موجود تھی چنانچہ ایک دفعہ کا واقعہ میں بیان کرتا ہوں کہ جب حضرت اقدس چولہ صاحب کو دیکھنے ڈیرہ بابا نانک تشریف لے گئے تو وہاں پہنچکر ایک درخت کے نیچے سایہ میں کپڑا بچھایا گیا اور سب لوگ بیٹھ گئے۔ اُس پاس کے دیہات اور خاص قصبہ کے لوگوں نے حضرت صاحب کی آمد سنکر ملاقات اور مصافحہ کے لئے آنا شروع کیا۔ اور جو شخص آتا مولوی سید محمد احسن صاحب کی طرف آتا اور ان کو حضرت اقدس سمجھ کر مصافحہ کر کے بیٹھ جاتا۔ غرض کچھ دیر تک لوگوں پر یہ امر نہ کھلا ۔ جب تک خود مولوی صاحب موصوف نے اشارہ سے اور یہ کہہ کر لوگوں کو ادھر متوجہ نہ کیا کہ حضرت صاحب یہ ہیں، بعینہ ایسا واقعہ ہجرت کے وقت نبی کریم صلعم کو مدینہ میں پیش آیا تھا۔ وہاں بھی لوگ حضرت ابوبکر رض کو رسولخدا سمجھ کر مصافحہ کر لیتے رہے۔ جب تک کہ انہوں نے آپ پر چادر سے سایہ کر کے لوگوں کو ان کی غلطی
سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 120 از مرزا بشیر احمد
یہ حوالہ صفحہ 305 پر درج ہے
حوالہ نمبر 319
۶۸۵
- ۴۶۔ ”اَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا“ ؎ ۱
(البشریٰ صفحہ ۵۵)
- ۴۷۔ ”دختر نیک اُٹھا ہی مثال خورد تو چندیں سال“ ؎ ۲
(البشریٰ صفحہ ۶۳، ۶۴)
- ۴۸۔ ”اے خدا اِس پیالہ کو ٹال دے“ ؎ ۳
(البشریٰ صفحہ ۸۹)
- ۴۹۔ ”تُو نِہالِ درختِ ادیان“ ؎ ۴
(البشریٰ صفحہ ۹۹)
- ۵۰۔ ”تیری نمازوں سے تیرے کام اَفضل ہیں“ ؎ ۵
(البشریٰ صفحہ ۹۹)
- ۵۱۔ مولانا جلال الدین صاحب شمس رضی اللہ عنہ شرح قصیدہ ”یا عَيْنَ فَيْضِ اللّٰهِ“ میں لکھتے ہیں کہ:۔
”اسی قصیدہ کے متعلق ایک اور روایت مرحوم و مغفور حضرت پیر سراج الحق رضی اللہ عنہ کی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب یہ قصیدہ تصنیف فرما چکے تو آپ کا چہرہ مبارک خوشی سے چمکنے لگا اور فرمایا کہ یہ قصیدہ جناب الٰہی میں قبول ہو گیا اور خدا نے مجھ سے فرمایا جو اس قصیدہ کو حفظ کرے گا اور ہمیشہ پڑھے گا میں اس کے دل میں اپنی اور اپنے رسول صلے اللہ علیہ وسلم کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دوں گا اور اپنا قُرب عطا کروں گا۔“
(شرح القصیدہ صفحہ ۲۱، ۲۶ جون ۱۹۵۶ء)
- ۵۲۔ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بیان کیا کہ :۔
”ایک مرتبہ حضرت اقدس کو خارش کی بہت سخت شکایت ہو گئی، تمام ہاتھ بھرے ہوئے تھے لکھنا یا دوسری ضروریات کا سرانجام دینا مشکل تھا، علاج بھی برابر کرتے تھے مگر خارش دُور نہ ہوتی تھی ..... ایک دن میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا، عصر کے قریب وقت تھا، کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کے ہاتھ بالکل صاف ہیں مگر آپ کے آنسو بہہ رہے ہیں ..... میں نے جرأت کر کے پوچھا کہ حضور آج خلافِ معمول آنسو کیوں بہہ رہے ہیں، حضور نے فرمایا کہ میرے دل میں ایک معصیت کا خیال گزرا کہ اللہ تعالیٰ نے کام تو اتنا بڑا میرے سپرد کیا ہے اور ادھر صحت کا یہ حال ہے کہ آئے دن کوئی نہ کوئی شکایت رہتی ہے، اس پر مجھے الہام ہوا:۔
”ہم نے تیری صحت کا ٹھیکہ لیا ہے“
؎ ۱ (ترجمہ) زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اُٹھی۔ (مرتب)
؎ ۲ ان کی ایک لڑکی سب سے چھوٹی چند سال کی ہے۔ (مرتب) نوٹ:۔ اس الہام کے متعلق پیر صاحب نے البشریٰ صفحہ ۶۴ پر لکھا ہے:۔ ”الہام منقول از بیاض حضرت آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی“
؎ ۳ (ترجمہ) قادیان میں نزول۔ (مرتب) ؎ ۴ یعنی جو عظیم الشان خدمات تو اسلام کی تائید میں بجا لا رہا ہے۔ (مرتب)
؎ ۵ یہ الہام غالباً ۱۸۹۳ء یا ۱۸۹۴ء کا ہے، حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے خارش کی تکلیف کا واقعہ ۱۸۹۱ء کا بتلایا۔ (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۲۵۶، ۲۵۷ روایت نمبر ۲۶۶)۔ اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب رضی اللہ عنہ نے اسے ۱۸۹۴ء کا۔ (دیکھئے سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۵۲ روایت نمبر ۵۷۹)۔ (مرتب)
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 685 طبع چہارم از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 306 پر درج ہے
حوالہ نمبر 320
۳۹۷
اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ سے پایا جاتا ہے کہ جب انسانی کوششیں تھک کر رہ جاتی ہیں، تو آخر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔
دُعا کامل تب ہوتی ہے کہ ہر قسم کی خیر کی جامع ہو اور ہر شر سے بچاوے پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ میں سارے خیر جمع ہیں۔ اور غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ میں سب شروں حتیٰ کہ دجالی فتنہ سے بچنے کی دُعا ہے۔ مَغْضُوْب سے بالاتفاق یہودی اور الضَّآلِّیْنَ سے نصاریٰ مراد ہیں۔ اب اگر اس میں کوئی اور مراد حقیقت نہ تھی، تو اس دُعا کی تعلیم سے کیا غرض تھی؟ اور پھر ایسی تاکید کہ اس دُعا کے بدوں نماز ہی نہیں ہوتی اور ہر رکعت میں اس کا پڑھا جانا ضروری قرار دیا۔ بھلا اس میں کیا تھا کہ یہ ہمارے زمانہ کی طرف ایما ہے کہ اس وقت صراطِ مستقیم یہی ہے جو ہماری راہ ہے،،
۹۔ مسیح کی شبیہ کا افسانہ
کہتے ہیں کہ مسیح کی شبیہ کو سولی دی گئی۔ مگر میں کہتا ہوں کہ اس میں مضحکہ ہی بنتا ہے کہ ایک شخص جو مسیح کی شبیہ بنایا گیا، یا دشمن ہو گا یا دوست۔ مگر وہ دشمن تھا تو ضرور تھا کہ وہ شور مچاتا کہ میں مسیح نہیں ہوں اور میرے فلاں رشتہ دار موجود ہیں۔ میرا اپنی بیوی کے ساتھ فلاں راز ہے۔ مسیح کو میں ایسا سمجھتا ہوں۔ غرض وہ شور مچا کر اپنی صفائی اور بریت کرتا، حالانکہ کسی تاریخ صحیح سے یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ جو شخص صلیب پر لٹکایا گیا تھا، اُس نے شور مچا کر رہائی حاصل کر لی تھی۔
اور اگر وہ مسیح کا دوست اور حواری ہی تھا۔ پھر صاف بات ہے کہ وہ مومن باللہ تھا اور وہ صلیب پر مرنے کی وجہ سے بلاوجہ ملعون ہوا اور خدا نے اُس کو ملعون بنایا۔ رہی یہ بات کہ مصلوب ملعون کیوں ہوتا ہے؟ یہ عام بات ہے کہ جو چیز کسی فرقہ سے تعلق رکھتی ہے، وہ اُس کے ساتھ منسوب ہو جاتی ہے۔ سولی کو مجرموں کے ساتھ تعلق ہے جو گویا کاٹ دینے کے قابل ہوتے ہیں اور خدا کا تعلق مجرم کے ساتھ کبھی نہیں ہوتا، یہی لعنت ہے۔ اس وجہ سے وہ لعنتی ہوتا ہے۔
اس لیے یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ایک مومن، ناکردہ گناہ لعنتی قرار دیا جاوے۔ پس یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ اصل وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر ظاہر کی کہ مسیح کی حالت غشی وغیرہ سے ایسی ہو گئی جیسے مُردہ ہوتے ہیں۔
۱۰۔ انبیاء خبیث امراض سے محفوظ رکھے جاتے ہیں
انبیاء علیہم السلام اور اللہ تعالیٰ کے مامور خبیث اور ذلیل بیماریوں سے محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ مثلاً آتشک ہو، جذام ہو یا اور کوئی ایسی ذلیل مرض۔ یہ بیماریاں خبیث لوگوں ہی کو ہوتی ہیں اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ (النور : ۲۶) اس میں عام لفظ رکھا ہے اور نکات بھی عام ہیں۔ اس لیے خبیث
ملفوظات جلد اوّل صفحہ 397 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 306 پر درج ہے
سراج منیر ۱۷ حوالہ نمبر 321
یہی نکلا کہ کوئی معمولی تپ آیا یا معمولی طور پر کوئی درد ہوا یا ہیضہ ہوا اور پھر اصلی حالت صحت کی قائم ہوگئی تو وہ پیشگوئی متصور نہیں ہوگی۔ اور بلاشبہ ایک مکر اور فریب ہوگا کیونکہ ایسی بیماریوں سے تو کوئی بھی خالی نہیں۔ ہم سب کبھی نہ کبھی بیمار ہو جاتے ہیں۔ پس اس صورت میں مَیں بلاشبہ اُس سزا کے لائق ٹھہرونگا جس کا ذکر مَیں نے کیا ہے لیکن اگر پیشگوئی کا ظہور اس طور سے ہوا کہ جس میں قہر الٰہی کے نشان صاف صاف اور کھلے طور پر دکھائی دیں تو پھر سمجھو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ پیشگوئی کی ذاتی عظمت اور ہیبت دنوں اور وقتوں کے مقرر کرنے کی محتاج نہیں۔ اس بارے میں تو زمانہ نزول عذاب کی ایک حد مقرر کر دینا کافی ہے۔ پھر اگر پیشگوئی فی الواقع ایک عظیم الشان ہیبت کے ساتھ ظہور پذیر ہو تو وہ خود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور یہ سارے خیالات اور یہ تمام نکتہ چینیاں جو پیش از وقت دلوں میں پیدا ہوتی ہیں ایسی معدوم ہو جاتی ہیں کہ منصف مزاج اہل الرّائے ایک انفعال کے ساتھ اپنی رایوں سے رجوع کرتے ہیں۔ ماسوا اسکے یہ عاجز بھی تو قانون قدرت کے تحت میں ہے۔ اگر میری طرف سے بنیاد اس پیشگوئی کی صرف اُسی قدر ہے کہ مَیں نے صرف یاوہ گوئی کے طور پر چند احتمالی بیماریوں کو ذہن میں رکھ کر اور اَٹکل سے کام لیکر یہ پیشگوئی شائع کی ہو تو جس شخص کی نسبت یہ پیشگوئی ہے وہ بھی تو ایسا کر سکتا ہے کہ انھیں اَٹکلوں کی بنیاد پر میری نسبت کوئی پیشگوئی کردے۔ بلکہ مَیں راضی ہوں کہ بجائے چھ برس کے جو مَیں نے اُسکے حق میں میعاد مقرر کی ہے وہ میرے لئے دس لکھدے۔ لیکھرام کی عمر اسوقت شایَد زیادہ سے زیادہ تیس برس کی ہوگی اور وہ ایک جوان قوی ہیکل صحیح القویٰ کا آدمی ہے۔ اور اس عاجز کی عمر اسوقت پچاس برس سے کچھ زیادہ ہے اور ضعیف اور دائم المرض اور طرح طرح کے عوارض میں مبتلا ہے۔ پھر باوجود اسکے مقابلہ میں خود معلوم ہو جائیگا کہ کونسی بات انسان کی طرف سے ہے اور کونسی بات خدا تعالیٰ کی طرف سے۔
اور معترض کا یہ کہنا کہ ایسی پیشگوئیوں کا اب زمانہ نہیں۔ یہ ایک معمولی فقرہ ہے
۱۵
سراج منیر صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 17 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 306 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 322)
منیر قمر گوجرانوالہ ٦٧
کل فج عمیق ۔ والملوک یتبرکون بثیابک ۔ اذا جاء نصر اللہ والفتح ط انتھی امر الزمان الینا الیس ھذا بالحق ۔ یعنی تیری مدد وہ لوگ کرینگے جن کے دلوں پر میں آسمان سے وحی نازل کروں گا۔ وہ دُور دُور کی راہوں سے تیرے پاس آئینگے اور بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈینگے۔ جب ہماری مدد اور فتح آجائیگی تب مخالفین کو کہا جائیگا کہ کیا یہ انسان کا افتراء تھا یا خدا کا کاروبار + ۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ یہ بھی جانتا تھا کہ دشمن یہ بھی تمنا کریں گے کہ یہ شخص منقطع النسل رہ کر نابود ہو جائے۔ تا نادانوں کی نظر میں یہ بھی ایک نشان ہو۔ لہٰذا اس نے پہلے سے براہین احمدیہ میں خبر دے دی کہ ینقطع اباءک ویبداء شانک۔ یعنی تیرے بزرگوں کی پہلی نسلیں منقطع ہو جائیں گی اور اُن کے ذکر کا نام و نشان نہ رہے گا۔ اور خدا تجھ سے ایک نئی بنیاد ڈالے گا۔ اسی بنیاد کی مانند جو ابراہیم سے ڈالی گئی ۔ اسی
+ ایسا ہی خدا تعالیٰ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر کوئی خبیث مرض دامن گیر ہو جائے جیسا کہ جذام اور جنون اور اندھا ہونا اور مرگی۔ تو اس سے یہ لوگ نتیجہ نکالیں گے کہ اس پر غضب الٰہی ہو گیا۔ اس لئے پہلے سے اُس نے مجھے براہین احمدیہ میں بشارت دی کہ ہر ایک خبیث عارضہ سے تجھے محفوظ رکھوں گا۔ اور اپنی نعمت تجھ پر پوری کروں گا ۔ اور بعد اس کے آنکھوں کی نسبت خاص کر یہ بھی الہام ہوا۔ تنزل الرحمۃ علیٰ ثلٰث العین و علی الاخریین۔ یعنی رحمت تین عضووں پر نازل ہو گی۔ ایک آنکھیں کہ پیر سالی ان کو صدمہ نہیں پہنچائے گا اور نزول الماء وغیرہ سے جس سے نورِ بصارت جاتا رہے محفوظ رہیں گی۔ اور دو عضو اور ہیں جن کی خدا تعالیٰ نے تصریح نہیں کی۔ اُن پر بھی یہی رحمت نازل ہو گی۔ اور اُن کی قوتوں اور طاقتوں میں فتور نہیں آئے گا ۔ اب بولو تم نے دنیا میں کس کذّاب کو دیکھا کہ اپنی عمر بتلاتا ہے اپنی صحت بصری اور دو مستورہ اعضا کی صحت کا آخر عمر تک دعویٰ کرتا ہے ۔ ایسا ہی چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ لوگ قتل کے منصوبے کریں گے اُس نے پہلے سے براہین میں خبر دے دی یعصمک اللہ ولو لم یعصمک الناس ۔ منہ
٣١
تحفہ گولڑویہ [ضمیمہ] صفحہ 31 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 67 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 306 پر درج ہے
حوالہ نمبر 323 ۱۱۹ سیرۃ المہدی حصہ سوم
تک میں نے ابھی بیعت نہ کی تھی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے حضرت صاحب سے قدیم تعلقات تھے جو غالباً حضرت خلیفہ اول کے واسطہ سے قائم ہوئے تھے۔ مگر مولوی صاحب موصوف نے بیعت کچھ عرصہ بعد کی تھی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جماعت کے بہترین مقررین میں سے تھے۔ اور آواز کی غیر معمولی بلندی اور خوش الحانی کے علاوہ ان کی زبان میں غیر معمولی فصاحت اور طاقت تھی جو سامعین کو مسحور کر لیتی تھی۔
۶۷۲ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں کیا، زکوٰۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی۔ میرے سامنے عنّاب یعنی گولہ کھانے سے انکار کیا، صدقہ نہیں کھایا۔ زکوٰۃ نہیں کھائی۔ صرف نذرانہ اور ہدیہ قبول فرماتے تھے۔ پیروں کی طرح مصلیٰ اور خرقہ نہیں رکھا۔ رائج الوقت درود و وظائف (مثلاً پنجسورہ، دعائے گنج العرش، درود تاج، حزب البحر، دعائے سریانی وغیرہ) نہیں پڑھتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حج نہ کرنے کی تو خاص وجوہات تھیں کہ شروع میں آپ کے لئے مالی لحاظ سے انتظام نہیں تھا۔ کیونکہ ساری جائداد وغیرہ اوائل میں ہمارے دادا صاحب کے ہاتھ میں تھی اور بعد میں تایا صاحب کا انتظام رہا۔ اور اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہوگئے، کہ ایک تو آپ جہاد کے کام میں منہمک رہے دوسرے آپ کے لئے حج کا راستہ ہی مخدوش تھا۔ تاہم آپ کی خواہش رہتی تھی کہ حج کریں۔ چنانچہ حضرت والدہ صاحبہ نے آپ کے بعد آپ کی طرف سے حج بدل کرایا۔ اعتکاف ماموریت کے زمانہ سے قبل غالباً بیٹھے ہونگے۔ مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلمی جہاد اور دیگر مصروفیت کے نہیں بیٹھ سکے۔ کیونکہ یہ نیکیاں اعتکاف سے مقدم ہیں۔ اور زکوٰۃ اس لئے نہیں دی۔ کہ آپ کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے۔ البتہ حضرت والدہ صاحبہ زیور پر زکوٰۃ دیتی رہی ہیں۔ اور تسبیح اور رسمی وظائف وغیرہ کے آپ قائل ہی نہیں تھے۔
۶۷۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت صاحب کی آنکھوں میں مائی اوپیا تھا۔ اسی وجہ سے پہلی رات کا چاند نہ دیکھ سکتے تھے۔ مگر نزدیک سے آخری عمر تک باریک حروف بھی پڑھ لیتے تھے۔ اور عینک کی حاجت محسوس نہیں کی۔ اور دانستہ آنکھوں کی یہ حالت
سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 119 از مرزا بشیر احمد
یہ حوالہ صفحہ 307 پر درج ہے
Back
(حوالہ نمبر 324)
۷۷
جس طرح کا چاہے کھانا کھائے ،
(۴۰۳) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بیان فرماتے تھے کہ میں حضرت صاحب کے مکان کے باہر کے حصہ میں رہتا ہوں بیشتر کئی دفعہ حضرت صاحب کے گھر کی عورتوں کو آپس میں یہ باتیں کرتے سنا ہے کہ حضرت صاحب کی تو آنکھیں ہی نہیں ہیں، ان کے سامنے سے کوئی عورت کسی طرح سے بھی گذر جاوے ان کو پتہ نہیں لگتا۔ یہ بات ایسے موقعہ پر کہا کرتی ہیں کہ جب کوئی عورت حضرت صاحب کے سامنے سے گذرتی ہوئی اپنے چہرہ پر گھونگھٹ یا پردہ کا اہتمام کرنے لگتی ہے ۔ اور ان کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ حضرت صاحب کی آنکھیں ہر وقت نیچی اور نیم بند رہتی ہیں اور وہ اپنے کام میں بالکل منہمک رہتے ہیں ان کے سامنے سے جاتے ہوئے کسی خاص پردہ کی ضرورت نہیں ۔ نیز مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ باہر مردوں میں بھی حضرت صاحب کی یہی عادت تھی کہ آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں اور ادھر ادھر آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی آپ کو عادت نہ تھی ۔ بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ سیر میں جاتے ہوئے آپ کسی خادم کا ذکر غائب کے صیغہ میں فرماتے تھے حالانکہ وہ آپ کے ساتھ ساتھ جا رہا ہوتا تھا۔ اور پھر کسی کے جتلانے پر آپ کو پتہ چلتا تھا کہ وہ شخص آپ کے ساتھ ہے ۔
(۴۰۴) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب معہ چند خدام کے فوٹو کھنچانے لگے تو فوٹوگرافر نے آپ سے عرض کیا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی ۔ اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہو گئیں ۔
(۴۰۵) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے گناہوں پر غالب آنے کا مادہ رکھا ہے پس خواہ انسان اپنی بداعمالیوں سے کیسا ہی گندہ ہو گیا ہو وہ جب بھی نیکی کی طرف مائل ہونا چاہے گا ۔ اس کی نیک فطرت اس کے گناہوں پر غالب آجائیگی اور اس کی مثال اس طرح پر سمجھایا کرتے تھے کہ جیسے پانی کے اندر یہ طبعی خاصہ ہے کہ وہ آگ کو بجھاتا ہے پس خواہ پانی خود کتنا بھی گرم ہو جاوے حتیٰ کہ وہ جلانے میں آگ کی طرح ہو جاوے لیکن پھر بھی
سیرت المہدی ، جلد دوم صفحہ 77 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 307 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 325)
۶۷
عموماً جراب بھی پہنے رہتے تھے۔ بلکہ سردیوں میں بیشتر پشمینہ کے موزے اور گرمیوں میں سوت کی جرابیں پاؤں میں آپ ہمیشہ دیسی جوتا پہنتے تھے۔ نیز یہ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب سے حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے اسوقت سے آپ نے سردی گرمی میں گرم کپڑے کا استعمال شروع فرما دیا تھا۔ ان کپڑوں میں آپ کو گرمی بھی لگتی تھی۔ اور بعض اوقات تکلیف بھی ہوتی تھی مگر جب ایک دفعہ شروع کر دیتے تو پھر آخر تک یہی استعمال فرماتے رہے۔ اور جب سے شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی ثم لاہوری احمدی ہوئے وہ آپ کے لئے کپڑوں کے جوڑے بنوا کر باقاعدہ لاتے تھے اور حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جیسا کپڑا کوئی لے آئے پہن لیتے تھے۔ ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی لے آیا آپ نے پہن لی مگر اسکے تلے سیدھے ہونے سے پاؤں کا پتہ نہیں لگتا تھا کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ مینے انکی سہولت کیواسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کیلئے نشان لگا دیئے تھے مگر باوجود اسکے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے اسلئے آپ نے اسے اتار دیا ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب نے بعض اوقات انگریزی طرز کی قمیص کے بٹنوں کے متعلق بھی اسی قسم کی ناپسندیدگی کے الفاظ فرماتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ صاحب موصوف آپکے لئے انگریزی طرز کی قمیصیں بنوا کر لایا کرتے تھے آپ انہیں استعمال تو فرماتے تھے ۔ مگر انگریزی طرز کی قمیص کو پسند نہیں فرماتے تھے کیونکہ اول تو گھنڈی کے بٹن لگانے سے آپ گھبراتے تھے دوسرے بٹنوں کے کھولنے اور بند کرنے کا التزام آپ کے لئے مشکل تھا۔ بعض اوقات فرماتے تھے کہ یہ کیا کانٹے سے لگے رہتے ہیں ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ لباس کے متعلق حضرت مسیح موعود کا عام اصول یہ تھا کہ جس قسم کا کپڑا مل جاتا تھا پہن لیتے تھے۔ مگر عموماً انگریزی طریق لباس کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ کیونکہ اول تو اسے اپنے لئے سادگی کے خلاف سمجھتے تھے دوسرا آپ ایسے لباس سے جو اعضاء کو جکڑا ہوا رکھے بہت گھبراتے تھے۔ گھر میں آپکے لئے صرف ململ کے کرتے اور پاجامے تیار ہوتے تھے۔ باقی سب کپڑے عموماً باہر سے آپ کو آجاتے تھے۔ شیخ
سیرت المہدی جلد اول صفحہ 67 از مرزا قادیانی
حوالہ صفحہ 307 پر درج ہے
حوالہ نمبر 326
۲۴۵
تھی اُسدن گھر میں یہ بھی ایک لطیفہ ہو گیا ۔
(۲۳۵)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کیساتھ کچھ کھانے کو مانگا انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو ۔ حضرت نے کہا نہیں یہ میں نہیں لیتا ۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی ۔ حضرت صاحب نے اُسپر بھی وہی جواب دیا ۔ وہ اسوقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں سختی سے کہنے لگیں ۔ کہ جاؤ پھر راکھ سے روٹی کھا لو ۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈالکر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا ۔ یہ حضرت صاحب کا بالکل بچپن کا واقعہ ہے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سُنا کر کہا کہ جبوقت اُس عورت نے مجھے یہ بات سُنائی تھی ۔ اسوقت حضرت صاحب بھی پاس تھے ۔ مگر آپ خاموش رہے ۔
(۲۳۶)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مولوی ذوالفقار علیخان صاحب نے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کریم دین کا مقدمہ تھا ایک دن حضرت صاحب کچہری کی طرف تشریف لے جانے لگے اور حسب معمول پہلے دُعا کے لئے اُس کمرہ میں گئے جو اس غرض کے لیئے پہلے مخصوص کر لیا تھا ۔ میں اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ باہر انتظار میں کھڑے تھے اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں اُسوقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی ۔ حضرت صاحب دُعا کر کے باہر نکلے تو مولویصاحب نے آپ کو چھڑی دی حضرت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اُسے دیکھا اور فرمایا ۔ یہ کس کی چھڑی ہے ؟ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ۔ اچھا ۔ میں تو سمجھا تھا کہ یہ میری نہیں ۔ خاں صاحب کہتے ہیں کہ وہ چھڑی مدّت سے آپکے ہاتھ میں رہتی تھی ۔ مگر محویت کا یہ عالم تھا ۔ کہ کبھی اُسکی شکل کو غور سے دیکھا ہی نہیں تھا ۔ کہ پہچان سکیں ۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ اسی طرح ایک دفعہ میں قادیان آیا ۔ اسوقت حضرت صاحب مسجد کی سیڑھیوں میں کھڑے ہو کر کسی افغان کو رخصت کر رہے تھے اور میں دیکھتا تھا کہ آپ اُس وقت خوش نہ تھے ۔ کیونکہ وہ شخص افغانستان میں جاکر تبلیغ کرنے سے ڈرتا تھا ۔ خیر میں جا کر حضور سے ملا ۔ اور
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 245 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 308 پر درج ہے
حوالہ نمبر 327
۱۸۰
کہ میں پھر نو گاؤں میں چلا جاؤں اور بڑی بیقراری سے عرض کیا۔ حضور نے فرمایا۔ جلدی نہیں کرنی چاہیئے اپنے وقت پر یہ خودبخود ہو جائیگا۔ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد میرا تبادلہ غوث گڑھ میں ہو گیا۔ جہاں میرا اتنا دل لگا کہ نو گاؤں کی خواہش دل سے نکل گئی۔ اور میں نے حضرت کے فرمان کی یہ تاویل کر لی کہ چونکہ غوث گڑھ بھی مسلمانوں کا گاؤں ہے اور اسمیں مسجد ہے۔ اور یہاں میرا دل بھی خوب لگ گیا ہے اس لیئے حضرت کے فرمان کے یہی معنی ہونگے۔ جو پورے ہو گئے۔ مگر کچھ عرصہ بعد نو گاؤں کا حلقہ خالی ہوا۔ اور تحصیلدار نے میری ترقی کی سفارش کی اور لکھا کہ ترقی کی یہ صورت ہو کہ مجھے علاوہ غوث گڑھ کے نو گاؤں کا حلقہ بھی جو وہ بھی مبلغ ۷۵ سالانہ کا تھا۔ دیدیا جاوے۔ اور دونوں حلقوں کی تنخواہ یعنے ماہانہ مجھے دی جاوے۔ یہ سفارش مہاراج سے منظور ہو گئی اور اس طرح میرے پاس غوث گڑھ اور نو گاؤں دونوں حلقے آگئے۔ اور ترقی بھی ہو گئی۔ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص اقتداری فعل تھا۔ ورنہ نو گاؤں غوث گڑھ سے پندرہ کوس کے فاصلہ پر ہے اور درمیان میں کئی غیر حلقے ہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ غوث گڑھ کا تمام گاؤں میاں عبداللہ صاحب کی تبلیغ سے احمدی ہو چکا ہے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ تمام دیہات ریاست پٹیالہ میں واقع ہیں ۔
(۱۶۰)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی ۔ حضرت صاحب اسکو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے۔ زنجیر نہیں لگاتے تھے۔ اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا۔ تو گھڑی نکال کر ایک کے ہندسہ سے یعنی عدد سے گنکر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ رکھ کر ہندسے گنتے تھے۔ اور منہ سے بھی گنتے تھے اور گھڑی دیکھتے جب تک وقت نہ پہچان سکتے تھے۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ آپ کا جیب سے گھڑی نکال کر اسطرح وقت شمار کرنا مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا تھا ۔
سیرت المہدی جلد اول صفحہ 180 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 308 پر درج ہے
حوالہ نمبر 328
۲۸
کھیت کو بہت سی بھرتی ڈلوا کر حضرت اُمّ المومنین نے تیار کروایا تھا۔ (اُس وقت نواب صاحب کی بیگم جو وہ مالیرکوٹلہ سے ساتھ لائے تھے، زندہ تھیں) یہ بات حضرت اُمّ المومنین کی ناراضگی کا موجب ہوئی۔ اور حضرت اُمّ المومنین نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اِس ناراضگی کا اظہار کیا۔ حضور نے نواب صاحب کو لکھا۔ جس پر نواب صاحب نے اُس فونڈیشن پر مکان بنانے کے ارادہ کو ترک کیا۔ کہ اس میں ابتداء ہی میں تنازع ہُوا ہے، یہ جگہ مبارک نہیں ہوسکتی۔ اور بعد میں دوسرے اصحاب نے بھرتی ڈلوا کر وہاں مکانات بنوا لئے۔ اور نواب صاحب نے مدرسہ تعلیم الاسلام کے پاس زمین خرید کر کے کوٹھی بنوائی۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ تعلقاتِ محبّت کے بڑھانے میں اُنہیں بڑی برکات حاصل ہوئیں :
بال سفید
فرمایا کرتے تھے۔ کہ ہمارے بال تیس سال کی عمر میں سفید ہونے شروع ہوئے تھے۔ اور پھر جَلد جَلد سب سفید ہوگئے :
اُنہوں کُچھ ڈِیٹھا ہے
حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی۔ ایک دفعہ اُس نے کیا حرکت کی۔ کہ جس کمرے میں حضرت صاحب بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے۔ وہاں ایک کونے میں گھڑا تھا جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے۔ وہاں اپنے کپڑے اُتار کر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی حضرت صاحب اپنے کام تحریر میں مصروف رہے، اور کچھ خیال نہ کیا۔ کہ وہ کیا کرتی ہے۔ جب وہ نہا چکی تو ایک اور خادمہ اتفاقاً آ نکلی۔ اُس نے اُس نیم دیوانی کو ملامت کی ۔ کہ حضرت صاحب کے کمرے میں موجودگی کے وقت تُو نے یہ کیا حرکت کی۔ تو اُسنے ہنس کر جواب دیا۔ اُنہوں کُچھ ڈِیٹھا ہے۔ یعنی اُسے کیا دکھائی دیتا ہے۔ حضور
ذکر حبیب صفحہ 38 از مفتی محمد صادق قادیانی یہ حوالہ صفحہ 309 پر درج ہے
حوالہ نمبر 329 نسیم دعوت ۴۲۲
پیدا کرتا ہے۔ جن سے اب یورپ بھی دن بدن واقف ہوتا جاتا ہے۔ آخر جیسے بہت سے تجارب کے بعد طلاق کا قانون پاس ہو گیا ہے۔ اسی طرح کسی دن دیکھ لوگے کہ تنگ آ کر اسلامی پردہ کے مشابہ یورپ میں بھی کوئی قانون شائع ہوگا۔ ورنہ انجام یہ ہوگا کہ چارپایوں کی طرح عورتیں اور مرد ہو جائیں گے۔ اور مشکل ہوگا کہ یہ شناخت کیا جائے کہ فلاں شخص کس کا بیٹا ہے۔ اور وہ لوگ کیونکر پاک دل ہوں۔ پاک دل تو وہ ہوتے ہیں جن کی آنکھوں کے آگے ہر وقت خدا رہتا ہے۔ اور نہ صرف ایک موت اُن کو یاد ہوتی ہے۔ بلکہ وہ ہر وقت عظمتِ الٰہی کے اثر سے مرتے رہتے ہیں۔ مگر یہ حالت شراب خوری میں کیونکر پیدا ہو۔ شراب اور خدا ترسی ایک وجود میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ خونِ مسیح کی دلیری اور شراب کا جوش تقویٰ کی بیخکنی میں کامیاب ہو گیا ہے۔ ہم اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آیا کفارہ کے مسئلہ نے یہ خرابیاں زیادہ پیدا کی ہیں یا شراب نے۔ اگر اسلام کی طرح پردہ کی رسم ہوتی۔ تو پھر بھی کچھ پردہ رہتا۔ مگر یورپ تو پردہ کی رسم کا دشمن ہے۔ ہم یورپ کے اس فلسفہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ اگر وہ اس اصرار سے باز نہیں آتے۔ تو شوق سے شراب پیا کریں۔ کہ اس کے ذریعہ سے کفارہ کے فوائد بہت ظاہر ہوتے ہیں۔ کیونکہ مسیح کے خون کے سہارے پر جو لوگ گناہ کرتے ہیں۔ شراب کے وسیلہ سے ان کی میزان بڑھتی ہے۔ ہم اس بحث کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتے۔ کیونکہ فطرت کا تقاضا الگ الگ ہے۔ ہمیں تو ناپاک چیزوں کے استعمال سے کسی سخت مرض کے وقت بھی دُکھ لگتا ہے۔ چہ جائیکہ پانی کی جگہ بھی شراب پی جائے۔ مجھے اس وقت ایک اپنا سرگزشت قصّہ یاد آتا ہے۔ اور وہ یہ کہ مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ روز پیشاب آتا ہے۔ اور بعض وقت سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آیا ہے۔ اور بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر ہے۔ کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے۔ اور کثرتِ پیشاب سے بہت ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس
۷۳
نسیم دعوت صفحہ 75، 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 434، 435 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 309 پر درج ہے
حوالہ نمبر 330
۲۰۳
شادی میں تجھے کچھ فکر نہیں کرنا چاہئیے۔ ان تمام ضروریات کا رفع کرنا میرے ذمہ ہوگا سو قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُس نے اپنے وعدہ کے موافق اس شادی کے بعد ہر ایک بار شادی سے مجھے سُبکدوش رکھا اور مجھے بہت آرام پہنچایا۔ کوئی باپ دُنیا میں کسی بیٹے کی پرورش نہیں کرتا جیسا کہ اُس نے میری کی۔ اور کوئی والدہ پوری ہوشیاری سے دن رات اپنے بچے کی ایسی خبر نہیں لیتی جیسا کہ اُس نے میری رکھی۔ اور جیسا کہ اُس نے بہت عرصہ پہلے براہین احمدیہ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ۔ ایسا ہی وہ بجا لایا۔ معاش کا غم کرنے کے لئے کوئی گھڑی اُس نے میرے لئے خالی نہ رکھی۔ اور خانہ داری کے مہمات کے لئے کوئی اضطراب اُس نے میرے نزدیک آنے نہ دیا۔ ایک ابتلا مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا۔ اور دو مرضیں یعنے ذیابیطس اور درد سر مع دورانِ سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اس لئے میری حالت مردی کالعدم تھی۔ اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لئے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا۔ اور ایک خط جس کو میں نے اپنی جماعت کے بہت سے معزز لوگوں کو دکھلا دیا ہے۔ جیسے اخویم مولوی نور الدین صاحب اور اخویم مولوی برہان الدین وغیرہ۔ مولوی محمد حسین صاحب ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ نے ہمدردی کی راہ سے میرے پاس بھیجا کہ آپ نے شادی کی ہے اور مجھے حکیم محمد شریف کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے۔ اگر یہ امر آپکی روحانی قوۃ سے تعلق رکھتا ہے تو میں اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میں اولیاء اللہ کے خوارق اور رُوحانی قوتوں کا مُنکر نہیں ورنہ ایک بڑے فکر کی بات ہے ایسا نہ ہو کہ
۷۵
تریاق القلوب صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 203 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 309 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 331)
اربعین نمبر۴
۴۷۰
دشمن ہو گئے مگر ہر ایک خدا کا فرستادہ جو بھیجا جاتا ہے ضرور ایک ابتلاء ساتھ لاتا ہے ۔ حضرت عیسٰی جب آئے تو بدقسمت یہودیوں کو یہ ابتلاء پیش آیا کہ ایلیا دوبارہ آسمان نازل نہیں ہوا ۔ اور ضرور تھا کہ پہلے ایلیا آسمان سے نازل ہوتا تب مسیح آتا ۔ جیسا کہ ملا کی نبی کی کتاب میں لکھا ہے ۔ اور جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اہل کتاب کو یہ ابتلاء پیش آیا کہ یہ نبی بنی اسرائیل میں نہیں آیا ۔ اب کیا ضرور نہ تھا کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت بھی کوئی ابتلاء ہو ۔ اور اگر مسیح موعود تمام باتیں اسلام کے تہتر فرقہ کی مان لیتا تو پھر کن معنوں سے اس کا نام حَکَم رکھا جاتا ۔ کیا وہ باتوں کو ماننے آیا تھا یا منوانے آیا تھا ؟ تو اس صورت میں اسکا آنا بھی بے سود تھا ۔ سو اے قوم ! تم ضد نہ کرو ۔ ہزاروں باتیں ہوتی ہیں جو قبل از وقت سمجھ نہیں آتیں ۔ ایلیا کے دوبارہ آنے کی اصل حقیقت حضرت مسیح سے پہلے کوئی نبی سمجھا نہ سکا تا یہود حضرت مسیح کے ماننے کے لئے تیار ہو جاتے ۔ ایسا ہی اسرائیلی خاندان میں سے خاتم الانبیاء آنے کا خیال جو یہود کے دل میں مرکوز تھا اس خیال کو بھی کوئی نبی پہلے نبیوں میں سے صفائی کے ساتھ دور نہ کر سکا ۔ اسی طرح مسیح موعود کا مسئلہ بھی مخفی چلا آیا تا سنت اللہ کے موافق اس میں بھی ابتلاء ہو ۔ بہتر تھا کہ میرے مخالف اگر ان کو ماننے کی توفیق نہیں دی گئی تھی تو بارے کچھ مدت زبان بند رکھ کر اور کفِ لسان اختیار کر کے میرے انجام کو دیکھتے اب جس قدر عوام نے بھی گالیاں دیں یہ سب گناہ مولویوں کی گردن پر ہے افسوس یہ لوگ فراست سے بھی کام نہیں لیتے ۔ میں ایک دائم المرض آدمی ہوں اور وہ دو زرد چادریں جن کے بارے میں حدیثوں میں ذکر ہے کہ ان دو چادروں میں مسیح نازل ہو گا وہ دو زرد چادریں میرے شامل حال ہیں جن کی تعبیر علم تعبیر الرؤیا کے رُو سے دو بیماریاں ہیں ۔ سو ایک چادر میرے اوپر کے حصہ میں ہے کہ ہمیشہ سر درد اور
۱۲۸
اربعین نمبر 4 صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 470 ، 471 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 310 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 331)
اربعین نمبر ۴ ۴۷۱
دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے ۔ اور دوسری بیماری جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں ۔ بسا اوقات میرا یہ حال ہوتا ہے کہ نماز کے لئے جب زینہ پر چڑھکر اوپر جاتا ہوں تو مجھے اپنے ظاہر حالت پر امید نہیں ہوتی کہ زینہ کی ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر پاؤں رکھتے تک میں زندہ رہوں گا ۔ اب جس شخص کی زندگی کا یہ حال ہے ۵۰ کہ ہر دفعہ موت کا سامنا اس کے لئے موجود ہوتا ہے اور ایسے مریضوں کے انجام کی نظیریں بھی موجود ہیں تو وہ ایسی خطرناک حالت کے ساتھ کیونکر افتراء پر جرات کر سکتا ہے اور وہ کس صحت کے بھروسے پر کہتا ہے کہ میری اتنی برس کی عمر ہوگی ۔ حالانکہ ڈاکٹری تجارب تو اس کو موت کے پنجہ میں ہر وقت پھنسا ہوا خیال کرتے ہیں ۔ ایسی مرضوں والے مدقوق کی طرح گداز ہو کر جلد مر جاتے ہیں یا کاربنکل یعنی سرطان سے اُن کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ تو پھر جس زور سے میں ایسی حالت پُر خطر میں تبلیغ میں مشغول ہوں کیا کسی مفتری کا کام ہے ۔ جب میں بدن کے اوپر کے حصہ میں ایک بیماری ۔ اور بدن کے نیچے کے حصہ میں ایک دوسری بیماری دیکھتا ہوں تو میرا دل محسوس کرتا ہے کہ یہ وہی دو چادریں ہیں جن کی خبر جناب رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ۔
مَیں محض نصیحتاً بعض مخالف علماء اور ان کے ہمنوا لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے ۔ اگر آپ لوگوں کی یہی طبیعت ہے تو خیر آپ کی مرضی ۔ لیکن اگر مجھے آپ لوگ کاذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بد دعائیں کریں
۱۴۹
اربعین نمبر 4 صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 470، 471 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 310 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 332) ۴۲۵ نسیم دعوت
کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی ۔ لیکن اگر میں ذیا بیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں۔ تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا۔ اور دوسرا افیونی۔ پس اس طرح جب میں نے خدا پر توکل کیا ۔ تو خدا نے مجھے ان خبیث چیزوں کا محتاج نہیں کیا ۔ اور بار ہا جب مجھے غلبہ مرض کا ہوا۔ تو خدا نے فرمایا کہ دیکھ میں نے تجھے شفا دیدی ۔ تب اسی وقت مجھے آرام ہو گیا ۔ انہی باتوں سے میں جانتا ہوں کہ ہمارا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ نہ اُس نے رُوح پیدا کی اور نہ ذَرّات اَجسام ۔ وہ خدا سے غافل ہیں ۔ ہم ہر روز اُس کی نئی پیدائش دیکھتے ہیں۔ اور ترقیات سے نئی نئی رُوح وہ ہم میں پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ نیست سے ہست کرنیوالا نہ ہوتا۔ تو ہم تو زندہ ہی مرجاتے۔ عجیب ہے۔ وہ خدا جو ہمارا خدا ہے۔ کون ہے جو اس کی مانند ہے۔ اور عجیب ہیں اُس کے کام۔ کون ہے جس کے کام اس کی مانند ہیں۔ وہ قادر مطلق ہے۔ ہاں بعض وقت حکمت اس کی ایک کام کرنے سے اُسے روکتی ہے چنانچہ مثال کے طور پر ظاہر کرتا ہوں۔ کہ مجھے دو مرض دامنگیر ہیں۔ ایک جسم کے اُوپر کے حصّہ میں کہ سر درد اور دورانِ سر اور دورانِ خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا۔ نبض کم ہو جانا ۔ دُوسرے جسم کے نیچے کے حصّہ میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماریاں قریباً بیس برس سے ہیں۔ کبھی دُعا سے ایسی رخصت ہو جاتی ہیں کہ گویا دُور ہو گئیں۔ مگر پھر شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک دفعہ میں نے دُعا کی۔ کہ یہ بیماریاں بالکل دُور کر دی جائیں ۔ تو جواب ملا ۔ کہ ایسا نہیں ہوگا۔
٭ انسان جبتک خود خدا کی تجلّی سے اور خدا کے وسیلہ سے اس کے وجود پر اطلاع نہ پاوے۔ تب تک وہ خدا کی پرستش نہیں کرتا۔ بلکہ اپنے خیال کی پرستش کرتا ہے۔ محض خیال کی پرستش کرنا اندرونی گندگی کو صاف نہیں کرتا۔ ایسے لوگ اُس صنم کے پجاری پر ہنستے ہیں کہ خود اس کا بت آپ بناتے ہیں ۔ منہ
(حوالہ صفحہ 310 پر درج ہے) نسیم دعوت صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 435 از مرزا قادیانی
(حوالہ نمبر 333)
تذکرۃ الشہادتین ۴۶
کیونکہ احمد نبی ہے۔ نبوت اس سے منفک نہیں ہو سکتی۔ اور ایک فقرہ یہ ذکر آیا کہ احادیث میں ہے کہ مسیح موعود دو زرد رنگ چادروں میں اُتریگا۔ ایک چادر بدن کے اوپر کے حصّہ میں ہوگی اور دوسری چادر بدن کے نیچے کے حصّہ میں سو میں نے کہا کہ یہ اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہوگا کیونکہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے۔ اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں یعنی ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری۔ ابھی وہ اسی جگہ تھے کہ بوجہ سچے یقین اور بھاری تبدیلی کی وجہ سے اُن پر الہام اور وحی کا دروازہ کھولا گیا اور خدا تعالیٰ کیطرف سے کھلے لفظوں میں میری تصدیق کے بارے میں اُنہوں نے شہادتیں پائیں جنکی وجہ سے آخر کار انہوں نے اس شہادت کا شربت اپنے لئے منظور کیا جس کے مفصل لکھنے کیلئے اب وقت آ گیا ہے۔ یقیناً یاد رکھو کہ جس طرز سے انہوں نے میری تصدیق کی راہ میں مرنا قبول کیا۔ اس قسم کی موت اسلام کے تیرہ سو برس کے سلسلہ میں بجز سید احمد یعنی سید احمد شہید کے اور کسی جگہ نہیں پاؤ گے۔ پس بلاشبہ اس طرح انکا مرنا اور میری تصدیق میں نقد جان خدا تعالیٰ کے حوالہ کرنا یہ میری سچائی پر ایک عظیم الشان نشان ہے مگر اُن کیلئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔ انسان شک شبہ کی حالت میں کب چاہتا ہے کہ اپنی جان دیوے۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو تباہی میں ڈالے پھر تعجب تو یہ کہ یہ بزرگ معمولی انسان نہیں تھا۔ بلکہ ریاست کابل میں کئی لاکھ کی انکی اپنی جاگیر تھی اور انگریزی عملداری میں بھی بہت سی زمین تھی۔ اور طاقت علمی اس درجہ تک تھی کہ ریاست کے تمام مولویوں کا انکو سردار قرار دیا تھا۔ وہ سب سے زیادہ عالم علم قرآن اور حدیث اور فقہ میں سمجھے جاتے تھے اور نئے امیر کی دستار بندی کی رسم بھی انہی کے ہاتھ سے ہوتی تھی۔ اور اگر امیر فوت ہو جائے تو اُسکے جنازہ پڑھنے کیلئے بھی وُہی مقرر تھے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں متواتر ذریعہ سے پہنچی ہیں۔ اور اُنکی خاص زبان سے میں نے سُنا تھا کہ ریاست کابل میں پچاس ہزار کے قریب اُنکے معتقد اور ارادتمند ہیں جن میں سے بعض ارکان ریاست بھی تھے۔ غرض یہ بزرگ ملک کابل میں ایک فرد تھا۔ اور کیا علم کے لحاظ سے اور کیا تقویٰ کے لحاظ سے اور کیا جاہ اور مرتبہ کے لحاظ سے اور کیا خاندان کے لحاظ سے اُس ملک میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا۔ اور علاوہ مولوی کے خطاب کے صاحبزادہ اور اخونزادہ اور شہزادہ کے لقب سے اُس ملک میں مشہور تھے۔ اور شہید مرحوم ایک بڑا کتب خانہ حدیث اور
۴۲
تذکرۃ الشہادتین صفحہ 44 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 46 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 311 پر درج ہے
حوالہ نمبر 334
۵۶۵
کے لئے تدبیریں بھی کی جاویں گی۔ تو یہ عظیم الشان پیشگوئی پوری ہورہی ہے۔ میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دق بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں۔ پھر بھی آج کل میری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا ہوں احاطہ فکر زیادہ ہونے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی جاتی ہے اور دورانِ سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ مگر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں؛ چونکہ دن چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ دن کدھر جاتا ہے۔ اس وقت خبر ہوتی ہے جب شام کی نماز کے لیے وضو کرنے کے واسطے پانی کا لوٹا رکھ دیا جاتا ہے۔ اس وقت مجھے افسوس ہوتا ہے کہ کاش اتنا دن اور ہوتا، حالانکہ استسقاء کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔ مگر جب پاخانے کی حاجت بھی ہوتی ہے تو مجھے رنج ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی۔ اور ایسا ہی روٹی کے لیے جب کئی مرتبہ کہتے ہیں تو باجبر کر کے جلد جلد چند لقمے کھا لیتا ہوں۔ بظاہر تو میں روٹی کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہوں۔ مگر میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کھاتا ہوں۔ میری توجہ اور خیال اُسی طرف لگا ہوا ہوتا ہے ۔ پس یہ کام بہت ضروری ہے اور خدا چاہے تو ایک نشان ہو گا جس کی نظیر لانے پر کوئی قادر نہ ہو گا ۔" [ ناظرین ! حضرت اقدس کے اس جوش کا کسی قدر پتا ان الفاظ سے مل سکتا ہے جو آپ کو اعلائے کلمۃ الاسلام کے لیے حق نے عطا فرمایا ہے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم کس دھن میں ہیں اور وہ کس خیال میں۔ پھر اسی سلسلہ کلام میں فرمانے لگے کہ : ] "گرچہ یہ کتاب بظاہر کوئی عجیب اور اعجاز نما نظر نہ آتی ہو ۔مگر اس کی اشاعت پر دُنیا کو معلوم ہو جائے گا ۔ جب ہم نے براہین کے لیے مضمون لکھنا شروع کیا تو ہمارے ایک دوست نے اپنے خیال کے موافق کچھ خوشی ظاہر نہ کی۔ مگر خدا تعالیٰ نے الہاماً خوشخبری دی کہ وہ مضمون بالا رہا۔ چنانچہ یہ اشتہار جلسہ سے پہلے ہی شائع کر دیا گیا ۔مگر جب وہ جلسہ میں پڑھا گیا تو اس کی عظمت اور اس کے حقائق کو سب نے تسلیم کیا۔ یہاں تک کہ لاہور کے انگریزی اُردو اخبارات نے اس کے بالا رہنے کا اعتراف کیا۔ اسی طرح پر جب یہ کتاب شائع ہو کر باہر نکلے گی ۔تب پتہ لگے گا۔ میں نے ایک بار ایک شخص کو دہلی سے عطر لانے کے لیے کہا۔ وہ کہنے لگا کہ جب میں عطار کی دُکان پر گیا، تو جو عطر وہ دکھاتا تھا۔ میں اس کو ہی واپس کر دیتا تھا۔ آخر عطار نے کہا ، میاں تم یہاں دُکان میں بیٹھے ہو تمہیں پتہ نہیں لگتا۔ جب دُکان سے باہر لے کر جاؤ گے ، تب اس عطر کی حقیقت معلوم ہوگی ! چنانچہ جب وہ عطر لے کر آیا تو اس نے بیان کیا کہ جو گاڑیاں ہم سے پیچھے آتی تھیں ان کے سوار کہتے تھے کہ کس کے پاس عطر ہے۔ گویا اس کی اتنی خوشبو تھی۔" [ اس قسم کی باتیں ہوتی رہیں ۔ اپنے دعوٰی کی صداقت اور اپنے مامور من اللہ ہونے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ
ملفوظات جلد اوّل صفحہ 565 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 311 پر درج ہے
Back
(حوالہ نمبر 335)
۲۸
(۳۵) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان سے گورداسپور جاتے ہوئے بٹالہ ٹھہرے وہاں کوئی مہمان جو آپ کی تلاش میں قادیان سے ہوتا ہوا بٹالہ واپس آیا تھا آپ کے پاس کچھ پھل بطور تحفہ لایا ۔ پھلوں میں انگور بھی تھے۔ آپ نے انگور کھائے۔ اور فرمایا انگور میں ترشی ہوتی ہے۔ مگر یہ ترشی نزلہ کے لئے مضر نہیں ہوتی۔ پھر آپ نے فرمایا ابھی میرا دل انگور کو چاہتا تھا ۔ سو خدا نے بھیج دیئے۔ فرمایا۔ کئی دفعہ میں نے تجربہ کیا ہے۔ کہ جس چیز کو دل چاہتا ہے ۔ اللہ اُسے مہیا کر دیتا ہے۔ پھر ایک واقعہ سُنایا۔ کہ میں ایک سفر میں جا رہا تھا۔ کہ میرے دل میں پونڈے گنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ مگر وہاں راستہ میں کوئی گنّا میسر نہیں تھا۔ مگر اللہ کی قدرت کہ تھوڑی دیر کے بعد ایک شخص ہم کو مل گیا جس کے پاس پونڈے تھے۔ اس سے ہم کو پونڈے مل گئے۔
(۳۶) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت دورہ پڑا۔ کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دیدی اور وہ دونوں آگئے ۔ پھر ایک دفعہ بھی حضرت صاحب کو دورہ پڑا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس وقت مَیں نے دیکھا۔ کہ مرزا سلطان احمد تو آپکی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا۔ اور ایک جاتا تھا اور وہ کبھی اِدھر بھاگتا تھا۔ اور کبھی اُدھر۔ کبھی اپنی پگڑی اُتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا۔ اور کبھی پاؤں دبانے لگ جاتا تھا۔ اور گھبراہٹ میں اُسکے ہاتھ کانپتے تھے ۔
(۳۷) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ ہو گئی اور قادیان کے تمام رشتہ داروں نے حضرت صاحب کی سخت مخالفت کی اور خلافِ کوشش کرتے رہے اور سب نے
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 28 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 311 پر درج ہے
حوالہ نمبر 336 40
میرا ساتھ دیا ہے اسی طرح جنت میں بھی میرے ساتھ ہو گی ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے نے کہ (۸۰) میرا دادا جسے لوگ عام طور پر خلیفہ کہتے تھے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سخت مخالف تھا اور آپکے حق میں بہت بد زبانی کیا کرتا تھا اور والد صاحب کو بہت تنگ کیا کرتا تھا والد صاحب نے اس سے تنگ آکر حضرت مسیح موعود کو دعا کیلئے خط لکھا حضرت مسیح موعود کا جواب آیا کہ ہم نے دعا کی ہے۔ والد صاحب نے یہ خط تمام محلہ والوں کو دکھا دیا اور کہا کہ حضرت صاحب نے دعا کی ہے اب دیکھ لینا خلیفہ گالیاں نہیں دیگا ۔ دوسرے دن جمعہ کا دن تھا۔ ہمارا دادا حسب دستور غیر احمدیوں کے ساتھ جمعہ پڑھنے گیا مگر وہاں سے لوٹا تو غیر معمولی طور پر حضرت مسیح موعود کے متعلق خاموش رہا ۔ حالانکہ اسکی عادت تھی کہ جمعہ کی نماز پڑھ کر گھر آنے کے بعد خصوصاً بہت گالیاں دیا کرتا تھا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تم آج مرزا صاحب کے متعلق خاموش کیوں ہو ؟ اسنے کہا کسی کے متعلق بد زبانی کرنے سے کیا حاصل ہے، اور مولوی نے بھی آج جمعہ میں وعظ کیا ہے کہ کوئی شخص بھلے بلکہ کیسا ہی برا ہو ہمیں بد زبانی نہیں کرنی چاہئیے۔ لوگوں نے کہا اچھا یہ بات ہے ! ہمیشہ تو تم گالیاں بکتے تھے اور آج تمہارا یہ خیال ہو گیا ہے۔ بلکہ اصل میں بات یہ ہے کہ (باوجود میرے والد کو لوگ باؤلا کہا کرتے تھے) کل ہی ایک خط دکھا رہا تھا کہ قادیان سے آیا ہے اور کہتا تھا کہ اب خلیفہ گالی نہیں دیگا۔ مولوی رحیم بخش صاحب کہتے تھے کہ اسکے بعد باوجود کئی دفعہ مخالفوں کے بھڑکانے کے میرے دادا نے کبھی حضرت مسیح موعود کے متعلق بد زبانی نہیں کی اور کبھی میرے والد صاحب کو احمدیت کیوجہ سے تنگ نہیں کیا (اس روایت کے متعلق یہ بات قابل توجہ ہے کہ اسکے راوی صاحب نے اب حضرت خلیفۃ المسیح کے منشاء کے ماتحت اپنا نام عبدالرحیم رکھ لیا ہے اور عموماً مولوی عبدالرحیم صاحب درد کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں) ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت (۸۱) مسیح موعود علیہ السلام کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال بیمار رہنے کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 65، 66 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 312 پر درج ہے
حوالہ نمبر 336 ۶۶
کئے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا اسلئے باقی چھوڑ دئے اور فدیہ ادا کر دیا اسکے بعد جو رمضان آیا تو اسمیں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کیوجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپنے فدیہ ادا کر دیا اسکے بعد جو رمضان آیا تو آپکا تیرہواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپکو دورہ پڑا اور آپنے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا اسکے بعد جتنے رمضان آئے آپنے سب روزے رکھے مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کیوجہ سے روزے نہیں رکھے تھے اور فدیہ ادا فرماتے رہے خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپنے ابتداء دوروں کے زمانہ میں روزہ چھوڑا تو کیا پھر بعد میں انکو قضا کیا ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں صرف فدیہ ادا کر دیا تھا خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود کو دوران سر اور درد اطراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے تو اس زمانہ میں آپ بہت کمزور ہو گئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی اسلئے جب آپ روزے چھوڑتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پھر دوسرے رمضان تک اسکے پورا کرنے کی طاقت نہ پاتے تھے۔ مگر جب اگلا رمضان آتا تو پرشوق ہوکر پھر روزے رکھنے شروع فرما دیتے تھے لیکن پھر دورہ پڑتا تھا تو ترک کر دیتے تھے اور بقیہ کا فدیہ ادا کر دیتے تھے۔ واللّٰہ اعلم ۔
(۸۲)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود اوائل میں تنبان استعمال فرمایا کرتے تھے پھر پھٹنے کیوجہ ترک کروا دیئے اسکی جگہ آپ معمولی پاجامے استعمال کرنے لگ گئے خاکسار عرض کرتا ہے کہ تنبان بہت کھلے پاجامے کو یا پائینچہ کو کہتے ہیں ۔ یہ دیسی لفظ ہندوستان میں بہت رواج تھا اب بہت کم ہو گیا ہے)
(۸۳)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود عام طور پر سفید ململ کی پگڑی استعمال فرماتے تھے جو عموماً دس گز لمبی ہوتی تھی پگڑی کے نیچے کلاہ کی جگہ نرم قسم کی رومی ٹوپی استعمال کرتے تھے۔ اور گھر میں بعض اوقات پگڑی اتار کر سر پر صرف ٹوپی ہی رہنے دیتے تھے بدن پر گرمیوں میں عموماً ململ کا کرتہ استعمال فرماتے تھے۔ اسکے اوپر گرم صدری اور گرم کوٹ پہنتے تھے پاجامہ بھی آپکا گرم ہوتا تھا ۔ نیز آپ
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 66،65 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 312 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 337) حقیقۃ الوحی ۳۷۲ نشانات صداقت
اور ماسٹر عبدالرحمن صاحب اور ماسٹر شیر علی صاحب بی اے اور حافظ عبدالعلی صاحب اور بہت سے دوستوں کو اطلاع دی گئی۔ تب میں عید کی نماز کے بعد عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کیلئے کھڑا ہو گیا اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ غیب سے مجھے ایک قوّت دی گئی ۔ اور وہ فصیح تقریر عربی میں فی البدیہہ میرے منہ سے نکل رہی تھی کہ میری طاقت سے بالکل باہر تھی اور میں نہیں خیال کر سکتا کہ ایسی تقریر جسکی ضخامت کئی جزو تک تھی ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ بغیر اس کے کہ اوّل کسی کاغذ میں قلمبند کی جائے کوئی شخص دنیا میں بغیر خاص الہام الٰہی کے بیان کر سکے جس وقت یہ عربی تقریر جس کا نام خُطبہ الہامیہ رکھا گیا
۳۶۳
لوگوں میں سُنائی گئی اُس وقت حاضرین کی تعداد شاید دو سو کے قریب ہو گی سُبحان اللہ اُس وقت ایک غیبی چشمہ کُھل رہا تھا مجھے معلوم نہیں کہ میں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کر رہا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا۔ چنانچہ تمام فقرات چھپے ہوئے موجود ہیں جن کا نام خطبہ الہامیہ ہے ۔ اس کتاب کے پڑھنے سے معلوم ہو گا کہ کیا کسی انسان کی طاقت میں ہے کہ اتنی لمبی تقریر بغیر سوچے اور فکر کے عربی زبان میں کھڑے ہو کر محض زبانی طور پر فی البدیہہ بیان کر سکے ۔ یہ ایک علمی معجزہ ہے جو خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا ۔
١٦٦۔ نشان ۔ مجھے دو بیماریاں مدت دراز سے تھیں ۔ ایک شدید درد سر جس سے میں نہایت بیتاب ہو جاتا تھا اور ہولناک عوارض پیدا ہو جاتے تھے اور یہ مرض قریباً پچیس برس تک دامنگیر رہی اور اس کے ساتھ دوران سر بھی لاحق ہو گیا اور طبیبوں نے لکھا کہ ان عوارض کا آخر نتیجہ مرگی ہوتی ہے ۔ چنانچہ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر بھی دو ماہ تک اسی مرض میں مبتلا ہو کر آخر مرض صرع میں مبتلا ہو گئے اور اسی سے انکا انتقال ہو گیا ۔ لہٰذا میں دُعا کرتا رہا کہ خدا تعالیٰ ان امراض سے مجھے محفوظ رکھے ۔ ایک دفعہ
۳۷۶
حقیقۃ الوحی صفحہ 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 376 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 312 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 338)
۵۵
(۳۶۹) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سُنا ہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹیریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یکدم ضعف ہو جانا۔ چکروں کا آنا۔ ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا۔ گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک ۔ یہ اعصاب کی ذکاوت حس یا تکان کی علامات ہیں اور ہسٹیریا کے مریضوں کو بھی ہوتی ہیں اور انہی معنوں میں حضرت صاحب کو ہسٹیریا یا مراق بھی تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسری جگہ جو مولوی شیر علی صاحب کی روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ یہ جو بعض انبیاء کے متعلق لوگوں کا خیال ہے کہ ان کو ہسٹیریا تھا یہ ان کی غلطی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ حس کی تیزی کی وجہ سے ان کے اندر بعض ایسی علامات پیدا ہو جاتی ہیں جو ہسٹیریا کی علامات سے ملتی جلتی ہیں اسلئے لوگ غلطی سے اسے ہسٹیریا کہنے لگ جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب جو کبھی کبھی یہ فرما دیا کرتے کہ مجھے ہسٹیریا ہے یہ اسی عام محاورہ کے مطابق تھا ورنہ آپ علمی طور پر یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہسٹیریا نہیں بلکہ اس سے ملتی جلتی علامات ہیں جو ذکاوت حس یا شدت کار کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ایک بہت قابل اور لائق ڈاکٹر ہیں ۔ چنانچہ زمانہ طالب علمی میں بھی وہ ہمیشہ اعلیٰ نمبروں میں کامیاب ہوتے تھے اور ڈاکٹری کے آخری امتحان میں تمام صوبہ پنجاب میں اوّل نمبر پر رہے تھے اور ایام ملازمت میں بھی ان کی لیاقت وقابلیت مسلّم رہی ہے اور چونکہ بوجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت قریبی رشتہ دار ہونے کے ان کو حضرت صاحب کی صحبت اور آپکے علاج معالجہ کا بھی بہت کافی موقعہ ملتا رہتا تھا اس لئے ان کی رائے اس معاملہ میں ایک خاص وزن رکھتی ہے جو دوسری کسی رائے کو کم حاصل ہے ۔
(۳۷۰) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں گھر کے بچے کبھی شب برات وغیرہ کے موقع پر پٹاخے کھیل تفریح کے
سیرت المہدی ، جلد دوم صفحہ 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 313 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 339) 16 معلوم ہوا یا فرمایا اشارہ ہوا کہ اس راہ میں ترقی کرنے کے لیئے روزے رکھنے بھی ضروری ہیں۔ فرماتے تھے۔ پھر میں نے چھ ماہ لگاتار روزے رکھے اور گھر میں یا باہر کسی شخص کو معلوم نہ تھا کہ میں روزہ رکھتا ہوں۔ صبح کا کھانا جب گھر سے آتا تھا۔ تو میں کسی حاجتمند کو دیدیتا تھا۔ اور شام کا خود کھا لیتا تھا۔ میں نے حضرت والدہ صاحبہ سے پوچھا ۔ کہ آخر عمر میں بھی آپ نفلی روزے رکھتے تھے یا نہیں ؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ آخر عمر میں بھی آپ روزے رکھا کرتے تھے۔ خصوصاً شوال کے چھ روزے التزام کے ساتھ رکھتے تھے۔ اور جب کبھی آپ کو کسی خاص کام کے متعلق دُعا کرنا ہوتی تھی تو آپ روزہ رکھتے تھے ؛ ہاں مگر آخری دو تین سالوں میں بوجہ ضعف و کمزوری رمضان کے روزے بھی نہیں رکھ سکتے تھے (خاکسار عرض کرتا ہے کہ کتاب البریہ میں حضرت صاحب نے روزوں کا زمانہ آٹھ نو ماہ بیان کیا ہے )
(۱۹) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہلی دفعہ دورانِ سر اور غشی کا دورہ بشیر اول (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا جو ۱۸۸۸ء میں فوت ہو گیا تھا ) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اچھو آیا اور پھر اسکے بعد طبیعت خراب ہو گئی ۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اسکے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کیلئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرما گئے ۔ کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا ۔ کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے مخلص خادم تھے۔ اب فوت ہو چکے ہیں) نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا ۔ کہ میں سمجھ گئی ۔ کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہو گی ۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ ان سے پوچھو ۔ آپ کی طبیعت کا کیا حال ہے۔ شیخ حامد علی نے کہا ۔ کہ کچھ خراب ہو گئی ہے ۔ میں پردہ کرا کے مسجد میں چلی گئی ۔ تو آپ لیٹے ہوئے تھے ۔ میں جب پاس گئی تو
سیرت المہدی جلد اول صفحہ 16، 17 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 313 پر درج ہے
Back
(حوالہ نمبر 339)
۱۷
فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھا رہا تھا۔ کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اُٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہوگئی والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اسکے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہوگئے خاکسار نے پوچھا۔ دورہ میں کیا ہوتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے۔ اور سر میں چکر ہوتا تھا۔ اور اس حالت میں آپ اپنے بدن کو سنبھال نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے۔ پھر اسکے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی۔ اور کچھ طبیعت عادی ہوگئی۔ خاکسار نے پوچھا اس سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تھی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا پہلے معمولی سر درد کے دورے ہوا کرتے تھے۔ خاکسار نے پوچھا کیا پہلے حضرت صاحب خود نماز پڑھاتے تھے والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاں مگر پھر دوروں کے بعد چھوڑ دی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بیعت کے دعویٰ سے پہلے کی بات ہے ۔
(اس روایت میں جو حضرت مسیح موعود کے دورانِ سر کے دوروں کے متعلق حضرت والدہ صاحبہ نے ہسٹریا کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس سے وہ بیماری مراد نہیں ہے۔ جو علمِ طب کی رُو سے ہسٹریا کہلاتی ہے۔ بلکہ یہ لفظ اس جگہ ایک غیر طبی رنگ میں دورانِ سر اور ہسٹریا کی جزوی مشابہت کی وجہ سے استعمال کیا گیا ہے۔ ورنہ جیسے کہ حصہ دوم کی روایت نمبر ۳۲۵ و ۳۶۹ میں تشریح کی جاچکی ہے۔ حضرت مسیح موعود کو حقیقتاً ہسٹریا نہیں تھا چنانچہ خود حضرت مسیح موعود نے جہاں کہیں بھی اپنی تحریرات میں اپنی اس بیماری کا ذکر کیا ہے۔ وہاں اسکے متعلق کبھی بھی ہسٹریا وغیرہ کا لفظ استعمال نہیں کیا اور نہ ہی علم طب کی رو سے دورانِ سر کی بیماری کسی صورت میں ہسٹریا یا مراق کہلا سکتی ہے۔ بلکہ دورانِ سر کی بیماری کے لیے انگریزی میں غالباً ورٹیگو
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 16، 17 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 313 پر درج ہے
حوالہ نمبر 340 ۵۶۵ کے لیے کتابیں طبع کی جاویں گی۔ تو یہ عظیم الشان پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔ میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دُکھ بیماریوں میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہوں، پھر بھی آج کل میری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا ہوں؛ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی جاتی ہے اور دوار سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے، مگر میں اس بات کی پروا نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں؛ چونکہ دن چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ دن کدھر جاتا ہے۔ اُسی وقت خبر ہوتی ہے جب شام کی نماز کے لیے وضو کرنے کے واسطے پانی کا لوٹا رکھ دیا جاتا ہے۔ اس وقت مجھے افسوس ہوتا ہے کہ کاش اتنا دن اور ہوتا، مجھ کو اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں، مگر جب پاخانے کی حاجت بھی ہوتی ہے تو مجھے رنج ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی اور ایسا ہی روٹی کے لیے جب کئی مرتبہ کہتے ہیں تو بڑا جبر کر کے جلد جلد چند لقمے کھا لیتا ہوں۔ بظاہر تو میں روٹی کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہوں، مگر میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے پتہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کھاتا ہوں۔ میری توجہ اور خیال اُسی طرف لگا ہوا ہوتا ہے، پس یہ کام بہت ضروری ہے اور خدا چاہے تو ایک نشان ہو گا جس کی نظیر لانے پر کوئی قادر نہ ہو گا"
[ناظرین ! حضرت اقدس کے اس جوش کا کسی قدر پتہ ان الفاظ سے مل سکتا ہے جو آپ کو اعلائے کلمۃ الاسلام کے لیے حق نے عطا فرمایا ہے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم کن دُکھوں میں ہیں اور وہ کس خیال میں، پھر اسی سلسلہ کلام میں فرمانے لگے کہ : ]
" اگرچہ یہ کتاب بظاہر کوئی عجیب اور اعجاز نظر نہ آتی ہو، مگر اس کی اشاعت پر دُنیا کو معلوم ہو جائے گا، جب ہم نے براہین کے لیے مضمون لکھنا شروع کیا تو ہمارے ایک دوست نے اپنے خیال کے موافق کچھ غلطی ظاہر کی، مگر خدا تعالیٰ نے ابا کیا، اور خوشخبری دی کہ وہ مضمون بالا رہا، چنانچہ یہ اشتہار جلسہ سے پہلے ہی شائع کر دیا گیا، مگر جب وہ جلسہ میں پڑھا گیا تو اس کی عظمت اور اس کے حقائق کو سب نے تسلیم کیا، یہاں تک کہ لاہور کے انگریزی اُردو اخبارات نے اس کے بالا رہنے کا اعتراف کیا۔ اسی طرح پر جب یہ کتاب شائع ہو کر باہر نکلے گی، تب پتہ لگے گا۔ میں نے ایک بار ایک شخص کو دہلی سے عطر لانے کے لیے کہا، وہ کہنے لگا کہ جب میں عطار کی دوکان پر گیا، تو جو عطر وہ دکھاتا تھا، میں اس کو ہی واپس کر دیتا تھا۔ آخر عطار نے کہا، میاں تم یہاں دوکان میں بیٹھے ہو، تمہیں پتہ نہیں لگتا، جب دوکان سے باہر لے کر جاؤ گے، تب اس عطر کی حقیقت معلوم ہو گی۔ چنانچہ جب وہ عطر لے کر آیا تو اس نے بیان کیا کہ جو گاڑیاں ہم سے پیچھے آئی تھیں ان کے سوار کہتے تھے کہ کس کے پاس عطر ہے، گویا اس کی اتنی خوشبو تھی"
[ اس قسم کی باتیں ہوتی رہیں اپنے دعویٰ کی صداقت اور اپنے مامور من اللہ ہونے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ
ملفوظات جلد دوم صفحہ 565 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 315 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 341 ۵۵
- (۳۶۹) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے
کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یکدم ضعف ہو جانا۔ چکروں کا آنا۔ ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا۔ گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونا۔ غشی وغیرہ وغیرہ۔ یہ ہسٹریا کی ذکاوتِ حس یا تکان کی علامات ہیں اور ہسٹریا کے مریضوں کو بھی ہوتی ہیں اور انہی معنوں میں حضرت صاحب کو ہسٹریا یا مراق بھی تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسری جگہ جو مولوی شیر علی صاحب کی روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ یہ جو بعض انبیاء کے متعلق لوگوں کا خیال ہے کہ ان کو ہسٹریا تھا۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ ان کی تیزی کی وجہ سے ان کے اندر بعض ایسی علامات پیدا ہو جاتی ہیں جو ہسٹریا کی علامات سے ملتی جلتی ہیں اس لئے لوگ غلطی سے اسے ہسٹریا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب جو کبھی کبھی یہ فرما دیا کرتے کہ مجھے ہسٹریا ہے یہ اسی عام محاورہ کے مطابق تھا ورنہ آپ علمی طور پر یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہسٹریا نہیں بلکہ اس سے ملتی جلتی علامات ہیں جو ذکاوتِ حس یا شدتِ کار کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ایک بہت قابل اور لائق ڈاکٹر ہیں۔ چنانچہ زمانہ طالب علمی میں بھی وہ ہمیشہ اعلٰے نمبروں میں کامیاب ہوتے تھے اور ڈاکٹری کے آخری امتحان میں تمام صوبہ پنجاب میں اوّل نمبر پر رہے تھے اور ایامِ ملازمت میں بھی ان کی لیاقت و قابلیت مسلّم رہی ہے۔ اور چونکہ بوجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت قریبی رشتہ دار ہونے کے ان کو حضرت صاحب کی صحبت اور آپکے علاج معالجہ کا بھی بہت کافی موقعہ ملتا رہتا تھا اس لئے ان کی رائے اس معاملہ میں ایک خاص وزن رکھتی ہے جو دوسری کسی رائے کو کم حاصل ہے۔
- (۳۷۰) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح
موعود علیہ السلام کے زمانہ میں گھر کے بچے کبھی شب برات وغیرہ کے موقع پر پٹاخے کھیل تفریح کے
سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 315 پر درج ہے
حوالہ نمبر 342 ۲۲
السلام علیکم۔ الہام خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔ بندہ کی الہام میں فضیلت نہیں۔ بلکہ اعمالِ صالحہ میں فضیلت ہے۔ اور اس میں کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے۔ سو نیک کاموں میں کوشش چاہیے تاکہ موجب نجات ہو۔ والسلام۔ مرزا غلام احمد
مسیح موعود کے لیے نمازیں جمع کی جائیں گی
چونکہ کچھ مدت سے حضرت کی طبیعت دن کے دُوسرے حصہ میں اکثر خراب ہو جاتی ہے۔ اس لیے نمازِ مغرب اور عشاء گھر میں باجماعت پڑھ لیتے ہیں۔ باہر تشریف نہیں لا سکتے۔ ایک دن نماز مغرب کے بعد چند عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا جو ملنے کو آئی تھیں۔ (بقیہ گزشتہ)
فرمایا : کوئی یہ نہ دل میں گمان کرے کہ یہ روز گھر میں جمع کر کے نماز پڑھا دیتے ہیں اور باہر نہیں جاتے۔ یہ نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کی کہ آخر زماں مسیح نماز جمع کیا کرے گا۔ سو مجھ پر یہ وقت گزرا اور آتا رہا۔ اب میں نے کہا کہ عورتوں میں بھی اس پیشگوئی کو پورا کر دینا چاہیے۔ چونکہ بوجہ ضرورت کے نماز جمع کرنا جائز ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے مجھ کو بیمار کر دیا اور اس طرح سے نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کیا۔ ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کرے۔ کیونکہ وہ پورا نہ ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔ اس لیے ہر ایک کو وہ بات جو اس کے اختیار میں ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے کے موافق پوری کر دینی چاہیے۔ اور خدا تعالیٰ خود بھی سامان مہیا کر دیتا ہے جیسا کہ مجھ کو بیمار کر دیا تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کر دے۔ جیسا کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا کہ تیرا اس وقت کیا حال ہو گا جبکہ تیرے ہاتھ میں کسریٰ کے سونے کے کڑے پہنائے جائیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب کسریٰ کا ملک فتح ہوا۔ تو حضرت عمرؓ نے اس کو سونے کے کڑے جو لُوٹ میں آئے تھے، پہنائے۔ حالانکہ سونے کے کڑے یا کوئی اور چیز پہننے کی مردوں کے لیے ویسی ہی حرام ہے جیسا کہ اور حرام چیزیں۔ لیکن چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ بات نکلی تھی اس لیے پوری کی گئی۔ اسی طرح ہر ایک دُوسرے انسان کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
دو زرد چادروں سے مُراد
فرمایا کہ : دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
یہ حوالہ صفحہ 315 پر درج ہے ملفوظات جلد پنجم صفحہ 32، 33 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 342
۲۳ پیشگوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اُترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اُوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرتِ بول۔ ہمارے مخالف مولوی اس کے معنے یہ کرتے ہیں۔ کہ وہ سچ مچ جوگیوں کی طرح دو چادریں اوڑھے ہوئے آسمان نیچے اُتریں گے۔ لیکن یہ غلط ہے چونکہ معبروں نے ہمیشہ زرد چادر کے معنے بیماری کے ہی لکھے ہیں۔ ہر ایک شخص جو زرد چادر دیکھے یا کوئی اُونٹ دیکھے تو اس کے معنے بیماری کے ہی ہوں گے اور ہر ایک شخص جو ایسا دیکھے آزما سکتا ہے کہ اس کے معنے یہی ہیں۔
صلح پسندی کے ساتھ
مذہب کی غیرت ضروری ہے
دو عورتوں کے جھگڑے پر فرمایا کہ : قرآن شریف میں آیا ہے وَالصُّلْحُ خَيْرٌ (النساء: ۱۲۸) اس لیے اگر آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا ہو جائے تو صلح کرلینی چاہیے کیونکہ اس میں خیر اور برکت ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ غیر مذاہب کے ساتھ بھی یہ بات رکھی جائے بلکہ اُن کے ساتھ سخت مذہبی عداوت رکھنا چاہیے۔ بیشک مذہب کی غیرت نہ ہو انسان کا مذہب ٹھیک نہیں ہوتا۔ اب یہ جو ہندو عیسائی ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتے ہیں تو کیا ہم اُن کے ساتھ صلح رکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی صفوں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ دوستی کرنا اور ان کے گھروں میں جانا تو معصیت میں داخل ہے
جھگڑوں کی بنیاد بدظنی ہوتی ہے
ہاں آپس میں جو ایک فرقہ میں ہوں تو لڑائی جھگڑا کی زیادہ تر بنیاد بدظنی ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ دوزخ میں دو تہائی آدمی بدظنی کی وجہ سے داخل ہوں گے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ اگر تم مجھ پر بدظنی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا۔ حقیقت میں اگر لوگ خدا تعالیٰ پر بدظنی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا۔ حقیقت میں اگر لوگ خدا تعالیٰ پر بدظنی نہ کرتے تو اس کے احکام پر کیوں نہ چلتے۔ انھوں نے خدا تعالیٰ پر بدظنی کی اور کفر اختیار کیا۔ اور بعض تو خدا کے وجود تک کے منکر ہو گئے۔ پس فسادوں اور لڑائیوں کی وجہ یہی بدظنی ہے۔
پیشگوئیوں کے مطابق زلزلوں کا وقوع
زلزلہ کی نسبت باتوں میں فرمایا کہ : قرآن شریف میں زلزلہ آنے کی خبر دی گئی ہے کہ مسیح کے وقت ایسے زلزلے آئیں گے کہ شدت میں نہایت ہی سخت ہوں گے۔ ابتک ان مولویوں نے
ملفوظات جلد پنجم صفحہ 32، 33 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 315 پر درج ہے
حوالہ نمبر 343
شاید محکمہ اپیل میں پورے ہوں۔ سو ایسا ہی ہوا کہ حاکم نے پانچ صد روپیہ جرمانہ کیا۔ جو اپیل میں واپس آگیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ مولوی کرم دین والے مقدمہ کا واقعہ ہے۔
۹۶۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ منشی غلام نبی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن کا ذکر ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فرمایا ۔ کہ حضور غلام نبی کو مراق ہے ۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے اور مجھ کو بھی ہے ۔ یہ طبیعتوں کی مناسبت ہے ۔ جس قدر ایسے آدمی ہیں مجھے ملنے آوینگے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جیسا کہ روایت نمبر ۷۹ ، ۲۰۵ ، ۴۳۹ میں تشریح کی جا چکی ہے اس سے طبی اصطلاح والا مراق مراد نہیں ۔ بلکہ اس کی غیر معمولی تیزی اور طبیعت کی ذکاوت مراد ہے ۔ جس کے اندر یہ احساس بھی شامل ہے کہ جب ایک کام کا خیال پیدا ہو تو جب تک وہ کام ہو نہ جائے چین نہ لیا جاوے اور اس کی وجہ سے طبیعت میں گھبراہٹ رہے ۔
۹۷۰ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ سیٹھی غلام نبی صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن بڑی مسجد میں بیٹھے تھے مسجد کے ساتھ جو گھر ہندوؤں کے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جگہ اگر مسجد میں شامل ہو جائے تو مسجد فراخ ہو جائے حضور کے چلے جانے کے بعد حضرت خلیفۃ الاولؓ نے فرمایا کہ آج مرزا نے یہ سارے مکان لے لئے ۔ سو اب آکر حضور علیہ السلام کا وہ ارشاد پورا ہوا کہ یہ مکانات مسجد میں مل گئے ۔ ہمارا تو اس وقت یہی ایمان تھا کہ حضرت صاحب کی سرسری باتیں بھی پوری ہو کر رہیں گی۔ کیونکہ حضور بن بلائے بولتے نہ تھے ۔
۹۷۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی شاذ و نادر ہی مجلس ایسی ہوتی ہوگی ۔ جس میں ہر پھر کر وفات مسیح ناصری علیہ السلام کا ذکر نہ آجاتا ہو ۔ آپ کی مجلس کی گفتگو کا خلاصہ میرے نزدیک دو لفظوں میں آ جاتا ہے ۔ ایک وفات مسیح اور دوسرے تقویٰ ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ وفات مسیح عقائد کی اصلاح اور دوسرے مذاہب کو مغلوب کرنیکی
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 304 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 316 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 344)
۵۵
تھے تو ناک سے بہت رطوبت بہتی تھی۔ حضرت صاحب اُٹھے اور چاہا کہ ان کو گلے لگا لیں۔ تاکہ ان کا شک دُور ہو مگر وہ اس وجہ سے کہ ناک بہہ رہا تھا۔ پرے پرے کھسکتے تھے۔ حضرت صاحب سمجھتے تھے کہ شاید اسے تکلیف ہے اسلیئے دُور ہٹتا ہے چنانچہ کافی دیر تک یہی ہوتا رہا کہ حضرت صاحب ان کو اپنی طرف کھینچتے تھے اور وہ پرے پرے کھسکتے تھے اور چونکہ ہمیں معلوم تھا کہ اصل بات کیا ہے اسلیے ہم پاس کھڑے ہنستے رہتے
(۹۴)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہم بچے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خواہ کام کر رہے ہوں۔ یا کسی اور حالت میں ہوں ہم آپ کے پاس چلے جاتے تھے۔ کہ ابا پیسہ دو اور آپ اپنے رومال سے پیسہ کھول کر دے دیتے تھے۔ اگر ہم کسی وقت کسی بات پر زیادہ اصرار کرتے تھے۔ تو آپ فرماتے تھے کہ میاں میں اس وقت کام کر رہا ہوں۔ زیادہ تنگ نہ کرو۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ آپ معمولی نقدی وغیرہ اپنے رُومال میں جو بڑے سائز کا ململ کا چوکور ہوتا تھا باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا کنارہ واسکٹ کے ساتھ اٹکا لیتے یا کاج میں باندھ لیتے تھے۔ اور چابیاں ازاربند کے ساتھ باندھتے تھے۔ جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا۔ اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں ۔ کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا اسلیے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازار بند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی۔ تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔
[۹۹]
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت صاحب کو سِل ہو گئی اور چھ ماہ تک بیمار رہے۔ اور بڑی نازک حالت ہو گئی۔ حتیٰ کہ زندگی کی ناامیدی ہو گئی چنانچہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے چچا آپکے پاس آکر بیٹھے۔ اور کہنے لگے کہ دُنیا میں یہی حال ہے۔ سبھی نے مرنا ہے۔ کوئی آگے گزر جاتا ہے۔ کوئی پیچھے جاتا ہے اس لیئے
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 55، 56 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 316 پر درج ہے
حوالہ نمبر 344 ۵۶
اسپر ہراساں نہیں ہونا چاہئیے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ کہ تمہارے دادا خود حضرت صاحب کا علاج کرتے تھے۔ اور برابر چھ ماہ تک انہوں نے آپ کو بکرے کے پائے کا شوربا کھلایا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس جگہ چاچے سے مراد مرزا غلام محی الدین صاحب ہیں۔
(۲۷)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے ہماری پھوپھی صاحبہ یعنی مرزا امام الدین کی ہمشیرہ نے جو ہماری تائی کی چھوٹی بہن ہیں۔ اور مرزا احمد بیگ صاحب ہوشیار پوری کی بیوہ ہیں۔ کہ ایک دفعہ ہمارے والد اور تایا کو سکھوں نے بیساوا کے قلعہ میں بند کر دیا تھا اور قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ غالباً سکھوں کے آخری عہد کی بات ہے۔ جب کہ راجہ رنجیت سنگھ کے بعد ملک میں پھر بدامنی پھیل گئی تھی۔ اس وقت سنا ہے کہ مہاراجہ شیر سنگھ کے زمانہ میں مرزا غلام محی الدین صاحب کو سکھوں نے قلعہ میں بند کر دیا تھا اور سنتے ہیں کہ یوں ہوا کہ جب مرزا غلام حیدر ان کے چھوٹے بھائی کو اطلاع ہوئی۔ تو انہوں نے لاہور سے کٹک لاکر ان کو چھڑایا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ بیساواں قادیان سے قریباً اڑھائی میل مشرق کی طرف ایک گاؤں ہے۔ اُس زمانہ میں وہاں ایک کچا قلعہ ہوتا تھا۔ جو اب مسمار ہوچکا ہے۔ مگر اسکے آثار باقی ہیں۔
(۲۸)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب میں چھوٹی لڑکی تھی۔ تو میر صاحب (یعنی خاکسار کے نانا جان) کی تبدیلی ایک دفعہ یہاں قادیان بھی ہوئی تھی۔ اور ہم یہاں چھ سات ماہ ٹھہرے تھے۔ پھر یہاں سے دوسری جگہ میر صاحب کی تبدیلی ہوئی۔ تو وہ تمہارے تایا سے بات کر کے ہم کو تمہارے تایا کے مکان میں چھوڑ گئے تھے۔ اور پھر ایک مہینہ کے بعد آکر لے گئے۔ اسوقت تمہارے تایا قادیان سے باہر رہتے تھے اور آٹھ روز کے بعد یہاں آیا کرتے تھے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے اُنکو دیکھا ہے خاکسار نے پوچھا کہ حضرت صاحب کو بھی ان دنوں میں آپنے کبھی دیکھا تھا یا نہیں؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 55، 56 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 316 پر درج ہے
حوالہ نمبر 345
۹۷
اور چہرہ اتنا سُرخ تھا کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا۔ یہ کیا کروں نتیجہ تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے بلکہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں بھی کٹ دینے کو تیار ہوں ۔ مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے عزت سے بچاؤنگا ۔ اور عزت کے ساتھ بری کرونگا۔ پھر آپ بہت اونچی لے پر تقریر فرمانے لگے ۔ اور قریباً نصف گھنٹہ تک جوش کے ساتھ بولتے رہے۔ لیکن پھر یکلخت بولتے بولتے آپ کو اُبکائی آئی اور ساتھ ہی قے ہوئی ۔ جو خالص خون کی تھی ۔ جس میں کچھ خون جما ہوا تھا اور کچھ بہنے والا تھا۔ حضرت نے قے سے سر اُٹھا کر رومال سے اپنا منہ پونچھا اور آنکھیں بھی پونچھیں ۔ جو قے کی وجہ سے بھر آئی تھیں ۔ مگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہوا ۔ کہ قے میں کیا نکلا ہے ۔ کیونکہ آپ نے یکلخت جھک کر قے کی اور پھر سر اُٹھا لیا ۔ مگر میں اسکے دیکھنے کے لیے جھکا ۔ تو حضور نے فرمایا کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا ۔ حضور قے میں خون نکلا ہے ۔ تب حضور نے اسکی طرف دیکھا ۔ پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور دوسرے لوگ بھی کمرے میں آ گئے اور ڈاکٹر کو بلوایا گیا ۔ ڈاکٹر انگریز تھا ۔ وہ آیا ۔ اور قے دیکھ کر خواجہ صاحب کے ساتھ انگریزی میں باتیں کرتا رہا ۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اس بڑھاپے کی عمر میں اس طرح خون کی قے آنا خطرناک ہے پھر اسنے کہا کہ یہ آرام کیوں نہیں کرتے ؟ خواجہ صاحب نے کہا آرام کس طرح کریں مجسٹریٹ صاحب قریب قریب کی پیشیاں ڈال کر تنگ کرتے ہیں ۔ حالانکہ معمولی مقدمہ ہے جو یونہی طے ہو سکتا ہے اسنے کہا اسوقت آرام ضروری ہے میں سرٹیفیکیٹ لکھ دیتا ہوں ۔ کتنے عرصہ کے لیے سرٹیفیکیٹ چاہیے ؟ پھر خود ہی کہنے لگا۔ میرے خیال میں دو مہینے آرام کرنا چاہیے ۔ خواجہ صاحب نے کہا فی الحال ایک مہینہ کافی ہو گا ۔ اس نے فوراً ایک مہینہ کے لیے سرٹیفیکیٹ لکھدیا اور لکھا کہ اس عرصہ میں میں ان کو کچہری میں پیش ہونے کے قابل نہیں سمجھتا ۔ اس کے بعد حضرت صاحب نے واپسی کا حکم دیا ۔ مگر ہم سب ڈرتے تھے ۔ کہ اب کہیں کوئی نیا مقدمہ نہ شروع ہو جاوے ۔ کیونکہ دوسرے دن پیشی تھی اور حضور گورداسپور آ کر بغیر عدالت کی اجازت کے واپس جارہے
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 97 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 316 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 346)
حقیقة الوحی ۲۴۶ بعض اعتراضوں کے جواب
اُٹھا اور امتحان کیلئے چلنا شروع کیا تو ثابت ہوا کہ میں بالکل تندرست ہوں ۔ تب مجھے اپنے قادر خدا کی قدرت عظیم کو دیکھ کر رونا آیا کہ کیسا قادر ہمارا خدا ہے اور ہم کیسے خوش نصیب ہیں کہ اُس کی کلام قرآن شریف پر ایمان لائے اور اُسکے رسول کی پیروی کی ۔ اور کیا بد نصیب وہ لوگ ہیں جو اس ذوالعجائب خدا پر ایمان نہیں لائے ۔ ۸۵ - نشان - ایک مرتبہ میں قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے انہیں دنوں میں شیخ رحیم بخش صاحب مرحوم مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کے والد ماجد بٹالہ سے میری عیادت کیلئے آئے اور میری نازک حالت انہوں نے دیکھی اور میں نے سنا کہ وہ بعض لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ آجکل یہ مرض وباء کی طرح پھیل چکی ہے بٹالہ میں ابھی میں ایک جنازہ پڑھ کر آیا ہوں جو اسی مرض سے فوت ہوا ہو اور ایسا اتفاق ہوا کہ
۲۳۵
مکھن نام ایک حجام قادیان کا رہنے والا اسی دن اُسی مرض سے بیمار ہوا اور آٹھویں دن مر گیا۔ اور جب سولہ دن میری مرض پر گزرے تو آثار نومیدی کے ظاہر ہو گئے اور میں نے دیکھا کہ بعض عورتیں میرے رشتہ دار کھڑے مجھے روتے تھے اور مسنون طور پر تین مرتبہ سورہ یٰس سنائی گئی ۔ جب میری مرض اس نوبت پر پہنچ گئی تو خدا تعالیٰ نے میرے دل پر القاء کیا کہ اور علاج چھوڑ دو اور دریا کی ریت جس کے ساتھ پانی بھی ہو تسبیح اور درود کے ساتھ اپنے بدن پر ملو۔ تب بہت جلد دریا سے ایسی ریت منگوائی گئی اور میں نے اس کلمہ کے ساتھ کہ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم اور درود شریف کے ساتھ اُس ریت کو بدن پر ملنا شروع کیا۔ ہر ایک دفعہ جو جسم پر وہ ریت پہنچتی تھی تو گویا میرا بدن آگ میں سے نجات پاتا تھا صبح تک وہ تمام مرض دُور ہو گئی اور صبح کے وقت الہام ہوا ۔ وإن كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فأتوا بشفاء من مثله ۔ ۸۶ - نشان ۔ ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت درد ہوئی ۔ ایک دم قرار نہ تھا کسی شخص کو میں نے دریافت کیا کہ اس کا کوئی علاج ہو۔ اُس نے کہا کہ علاج دندان اخراج دندان ۔ اور دانت نکالنے سے میرا دل ڈرتا تھا تب اُس وقت مجھے غنودگی آگئی اور میں زمین پر بیتابی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا اور چارپائی
۲۳۶
حقیقة الوحی صفحہ 234 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 246 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 317 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 347)
۲۲۱
آدمی تھا۔ اور کچھ پڑھا ہوا بھی تھا۔ اسکے لڑکے میاں دین محمد مرحوم عرف میاں پنجا کو ہمارے اکثر دوست جانتے ہونگے۔ قوم کا کشمیری تھا۔
(١٩٨)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ ہمارے ساتھ والد صاحب کے بہت کم تعلقات تھے۔ یعنی میل جول کم تھا۔ وہ ہم سے دور رہتے تھے۔ اور ہم اُن سے دور رہتے تھے اور جتنے وہ ہم سے الگ الگ رہتے تھے۔ اور ہم اُن سے الگ الگ رہتے تھے کیونکہ ہر دو کا طریق اور مسلک جدا تھا۔ اور چونکہ تایا صاحب مجرد پیشوں کی طرح رہتے تھے اور جائداد وغیرہ بھی سب انہی کے انتظام میں تھی۔ والد صاحب کا کچھ دخل نہ تھا۔ اسلیے ہمیں کہیں اپنی ضروریات کے لیے تایا صاحب کے ساتھ تعلق رکھنا پڑتا تھا۔
(١٩٩)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے ۔ کہ والد صاحب کی ایک بہن ہوتی تھیں اُن کو بہت خواب اور کشف ہوتے تھے۔ مگر والد صاحب کی انکے متعلق یہ رائے تھی کہ اُنکے دماغ میں کوئی نقص ہو لیکن بآخر انہوں نے بعض ایسی خوابیں دیکھیں کہ والد صاحب کو یہ خیال بدلنا پڑا۔ چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ کوئی سفید ریش بڈھا شخص اُنکو ایک کاغذ جسپر کچھ لکھا ہوا ہے۔ بطور تعویذ کے دے گیا ہے۔ جب آنکھ کھلی تو ایک بھورج پتر کا ٹکڑا ہاتھ میں تھا۔ جسپر قرآن شریف کی بعض آیات لکھی ہوئی تھیں۔ پھر انہوں نے ایک اور خواب دیکھا کہ وہ کسی دریا میں چل رہی ہیں جسپر انہوں نے فوراً پانی پانی کی آواز نکالی اور پھر آنکھ کھل گئی۔ دیکھا تو اُن کی پنڈلیاں تر تھیں اور تازہ ریت کے نشان لگے ہوئے تھے۔ والد صاحب کہتے تھے۔ کہ ان باتوں سے عقل دماغ کو کوئی تعلق نہیں۔
(٢٠٠)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے۔ کہ ایکدفعہ والد صاحب سخت بیمار ہو گئے۔ اور حالت نازک ہو گئی اور حکیموں نے ناامیدی کا اظہار کر دیا اور نبض بھی بند ہو گئی۔ مگر زبان جاری رہی والد
سیرت المہدی جلد اول صفحہ 221، 222 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 317 پر درج ہے
حوالہ نمبر 347
۲۴۴
صاحب نے کہا کہ کپڑا لا کر میرے اوپر اور نیچے رکھو۔ چنانچہ ایسا کیا گیا۔ اور اس سے حالت رو بہ اصلاح ہو گئی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے۔ کہ یہ مرض قولنج زہیری کا تھا۔ اور یہ کہا تھا کہ الہام میں مجھ کو دکھایا تھا کہ پانی اور ریت نکلوا کر بدن پر ملی جاوے۔ سو ایسا کیا گیا تو حالت اچھی ہو گئی۔ مرزا سلطان احمد صاحب کو ریت کے متعلق ذہول ہو گیا ہے ۔
(۲۰۱)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت صاحب ایک دفعہ غیر معمولی طور پر جنوب کی طرف سیر کو گئے۔ تو راستہ سے ہٹ کر عید گاہ والے قبرستان میں تشریف لے گئے اور پھر آپ نے قبرستان کے جنوب کی طرف کھڑے ہو کر دیر تک دعا فرمائی۔ خاکسار نے دریافت کیا۔ کہ کیا آپ نے کوئی خاص قبر پر دعا کی تھی؟ مولوی صاحب نے کہا مجھے اب نہیں خیال رہا۔ اور میں نے اس وقت دل میں یہ سمجھا تھا کہ چونکہ اس قبرستان میں حضرت صاحب کے رشتہ داروں کی قبریں ہیں اسلیئے حضرت صاحب نے دعا کی ہو۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ شیخ یعقوب علی صاحب نے لکھا ہے کہ وہاں ایک دفعہ حضرت صاحب نے اپنی والدہ صاحبہ کی قبر پر دعا کی تھی۔ سو مولوی صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ جب حضرت صاحب کی لڑکی امۃ النصیر فوت ہوئی تو حضرت صاحب اُسے اسی قبرستان میں دفنانے کے لیے لے گئے تھے۔ اور آپ خود اُسے اُٹھا کر قبر کے پاس لے گئے۔ کسی نے آگے بڑھ کر حضور سے لڑکی کو لینا چاہا۔ مگر آپ نے فرمایا کہ میں خود لیجاؤں گا۔ اور حافظ روشن علی صاحب بیان کرتے ہیں۔ کہ اُس وقت حضرت صاحب نے وہاں اپنے کسی بزرگ کی قبر بھی دکھائی تھی ۔
(۲۰۲)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ میرے چچا مولوی شیر محمد صاحب مرحوم بیان کرتے تھے کہ اوائل میں بعض اوقات حضرت مسیح موعود بھی حضرت مولوی نور الدین صاحب کے درس میں چلے جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مولوی صاحب نے درس میں بدر کی جنگ کے موقع پر فرشتے نظر آنے کا واقعہ بیان کیا اور پھر اس کی کچھ تاویل کرنے لگے تو حضرت صاحب نے فرمایا۔ کہ نہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ فرشتوں کے دیکھنے میں نبی
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 221، 222 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 317 پر درج ہے
حوالہ نمبر 348
سیرۃ المہدی حصہ سوم ۵۳
سمجھتا ہوں کہ سلسلہ مجددین امت محمدیہ میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سیّد عبدالقادر صاحب جیلانی کے ساتھ سب سے زیادہ محبت تھی۔ اور فرماتے تھے کہ میری روح کو ان کی روح سے خاص جوڑ ہے۔
۹۴۴ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو غالباً ۱۸۸۳ء میں ایک دفعہ خارش کی تکلیف بھی ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے بہت عرصہ بعد ایک دفعہ ہنس کر فرمانے لگے کہ خارش والے کو کھجانے سے اتنا لطف آتا ہے کہ بعض لوگوں نے لکھا ہے۔ کہ ہر بیماری کا اجر انسان کو آخرت میں ملے گا۔ سوائے خارش کے۔ کیونکہ خارش کا بیمار دنیا میں ہی اس سے لذت حاصل کر لیتا ہے
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خارش کی تکلیف مرزا عزیز احمد صاحب کی پیدائش پر ہوئی تھی۔ جو غالباً ۱۸۸۱ء کا واقعہ ہے۔ اس کا ذکر روایت ۱۰ میں بھی ہوچکا ہے۔
۹۴۵ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مکرم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔ کہ رزق کی تنگی بسااوقات ایمان کی کمزوری کا موجب ہو جاتی ہے۔ یہ بھی فرمایا۔ کہ دنیا میں مصائب اور مشکلات سے کوئی خالی نہیں یہانتک کہ انبیاء علیہم السلام اور خدا کے اولیاء کرام بھی اس سے خالی نہیں رہتے۔ مگر انبیاء اور اولیاء کی تکالیف کا سلسلہ روحانی ترقیات کا باعث ہوتا ہے۔ اور دنیا داروں پر جو مصائب اور مشکلات کا سلسلہ آتا ہے وہ ان کی شامتِ اعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔ نیز فرمایا کہ جب تک مصائب و آلام بصورت انعام نظر نہ آنے لگیں۔ اور ان سے ایک لذت اور سرور حاصل نہ ہو۔ اس وقت تک کوئی شخص حقیقی مومن نہیں کہلا سکتا۔
۹۴۶ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر ذکر کیا ۔ کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قصرِ نماز کے متعلق سوال کیا۔ حضور نے فرمایا جس کو تم پنجابی میں وانڈھا کہتے ہو۔ بس اس میں قصر ہونا چاہیے۔ میں نے عرض کیا۔ کہ کیا کوئی میلوں کی بھی شرط ہے۔ آپ نے فرمایا۔ نہیں۔ بس جس کو تم وانڈھا کہتے ہو۔ وہی سفر ہے جس میں قصر جائز ہے۔ میں نے عرض کیا۔ کہ میں سیکھواں سے قادیان آتا ہوں کیا اس وقت نماز قصر کر سکتا ہوں۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں۔ بلکہ میرے نزدیک اگر ایک عورت قادیان سے ننگل جائے تو وہ بھی قصر کر سکتی ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیکھواں قادیان سے غالباً چار میل کے فاصلہ پر ہے اور ننگل تو شاید ایک میل سے بھی کم ہے۔ ننگل کے متعلق جو حضور نے قصر کی اجازت فرمائی ہے۔ اس سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 53 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 318 پر درج ہے
حوالہ نمبر 349
۲۵ سیرۃ المہدی حصہ دوم
ہوا تھا۔
(۳۳۵) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان میں کسی قدر لکنت تھی اور آپ پرنالے کو پنالہ فرمایا کرتے تھے اور کلام کے دوران میں کبھی کبھی جوش کی حالت میں اپنی ٹانگ پر ہاتھ بھی مارا کرتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی صاحب کی یہ روایت درست ہے مگر یہ لکنت صرف کبھی کبھی کسی خاص لفظ کے تلفظ میں ظاہر ہوتی تھی ورنہ ویسے عام طور پر آپ کی زبان بہت صاف چلتی تھی۔ اور ٹانگ پر ہاتھ مارنے کے صرف یہ معنی ہیں کہ کبھی کبھی جوش تقریر میں آپ کا ہاتھ اُٹھ کر آپ کی ران پر گرتا تھا۔
(۳۳۶) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ایک دفعہ میں اور عبدالرحیم خان صاحب پسر مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری مسجد مبارک میں کھانا کھا رہے تھے جو حضرت کے گھر سے آیا تھا۔ ناگاہ میری نظر کھانے میں ایک مکھی پر پڑی چونکہ مجھے مکھی سے طبعاً نفرت ہے میں نے کھانا ترک کر دیا۔ اس پر حضرت کے گھر کی ایک خادمہ کھانا اُٹھا کر واپس لے گئی۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اسوقت حضرت اقدس اندرون خانہ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ خادمہ حضرت کے پاس سے گزری تو اسنے حضرت سے یہ ماجرا عرض کر دیا۔ حضرت نے فوراً اپنے سامنے کا کھانا اُٹھا کر اس خادمہ کے حوالہ کر دیا کہ یہ لے جاؤ۔ اور اپنے ہاتھ کا نوالہ بھی برتن میں ہی چھوڑ دیا۔ وہ خادمہ خوشی خوشی ہمارے پاس وہ کھانا لائی اور کہا کہ لو حضرت صاحب نے اپنا تبرک دیدیا ہے۔ اسوقت مسجد میں سید عبدالجبار صاحب بھی جو گذشتہ ایام میں کچھ عرصہ پادشاہ سوات بھی رہے ہیں، موجود تھے۔ چنانچہ وہ بھی ہمارے ساتھ شریک ہو گئے ۔
(۳۳۷) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ۱۸۹۳ء میں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور میں قیام فرما تھے ایک دفعہ رات کو بارش ہونی شروع ہوگئی۔ اسوقت حضرت اقدس مکان کی چھت پر تھے جہاں پر کہ ایک برساتی بھی تھی۔ بارش کے آجانے پر حضور اس برساتی میں داخل ہونے لگے۔ مگر اس کے عین دروازے میں مولوی عبداللہ صاحب متوطن سنور ضلع کیمبل پور
یہ حوالہ صفحہ 318 پر درج ہے سیرۃ المہدی، جلد دوم صفحہ 25 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 350
۱۲۵
مگر چوڑان ماتھے کی تنگ ہوتی ہے۔ آپ میں یہ تینوں خوبیاں جمع تھیں۔ اور پھر یہ خوبی کہ چین جبیں بہت کم پڑتی تھی۔ سر آپکا بڑا تھا۔ خوبصورت گول تھا۔ اور علم قیافہ کی رو سے ہر سمت سے پورا تھا۔ یعنی لمبا بھی تھا۔ چوڑا بھی تھا۔ اونچا بھی اور سطح اوپر کی ۔ اکثر حصہ ہموار اور پیچھے سے بھی گولائی درست تھی۔ آپ کی کنپٹی کشادہ تھی اور آپ کی بھل متصل پر دلالت کرتی تھی ۔ لب مبارک | آپ کے لب مبارک پتلے پتلے تھے۔ مگر تاہم ایسے موٹے بھی نہ تھے کہ برے لگیں۔ دہانہ آپ کا متوسط تھا۔ اور جب بات نہ کرتے ہوں تو منہ کھلا نہ رہتا تھا بعض اوقات مجلس میں جب خاموش بیٹھے ہوں تو آپ عمامہ کے شملہ سے دہان مبارک ڈھک لیا کرتے تھے۔ دندان مبارک آپ کے آخر عمر میں کچھ خراب ہو گئے تھے یعنی کیڑا بعض ڈاڑھوں کو لگ گیا تھا۔ جس سے کبھی کبھی تکلیف ہو جاتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک ڈاڑھ کا سرا ایسا نوکدار ہو گیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تو ریتی کے ساتھ اس کو گھسوا کر برابر بھی کرایا تھا۔ مگر کبھی کوئی دانت نکلوایا نہیں۔ مسواک آپ اکثر فرمایا کرتے تھے ۔ پیر کی ایڑیاں آپکی بعض دفعہ گرمیوں کے موسم میں پھٹ جایا کرتی تھیں ۔ مگر چونکہ گرم کپڑے سردی گرمی برابر پہنتے تھے۔ تاہم گرمیوں میں پسینہ بھی خوب آتا تھا مگر آپ کے پسینہ میں کبھی بو نہیں آتی تھی خواہ کتنے ہی دن بعد کرتہ بدلیں۔ اور کیسا ہی موسم ہو ۔ گردن مبارک | آپ کی گردن متوسط لمبائی اور موٹائی میں تھی۔ آپ اپنے لباس میں نبی کریم صلعم کی طرح ان کے اتباع میں ایک حد تک جسمانی زینت کا خیال ضرور رکھتے تھے غسل جمعہ ۔ حجامت ۔ حنا ۔ مسواک روغن اور خوشبو ۔ کنگھی اور آئینہ بہم رسانی براہ سنت طریق پر آپ فرمایا کرتے تھے۔ مگر ان باتوں میں انہماک آپ کی شان سے بہت دور تھا ۔ لباس | سب سے اول یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ آپ کو کسی قسم کے خاص لباس کا شوق نہ تھا۔ آخری ایام کے کچھ سالوں میں آپ کے پاس کپڑے بنے بنائے اور سلے سلائے بطور تحفہ کے بہت آتے تھے۔ خاص کر کوٹ صدری اور پائجامہ قمیض وغیرہ جو اکثر شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری ہر عید بقر عید کے موقعہ پر اپنے ہمراہ نذر لاتے تھے وہی آپ استعمال فرمایا کرتے تھے۔ مگر علاوہ اس کے کبھی کبھی آپ خود بھی بنوا لیا کرتے تھے۔ عمامہ تو اکثر خود ہی خرید کر باندھتے تھے جس طرح
سیرت المہدی ، جلد دوم صفحہ 125 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 318 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 351)
۱۲۵
مگر چوڑان مانگ کی تنگ ہوتی ہے۔ آپ میں یہ تینوں خوبیاں جمع تھیں۔ اور پھر یہ خوبی کہ شکن جبیں بہت کم پڑتی تھی۔ سر آپکا بڑا تھا۔ خوبصورت بڑا تھا۔ اور علم قیافہ کی رو سے ہر سمت سے پورا تھا۔ یعنی لمبا بھی تھا۔ چوڑا بھی تھا۔ اونچا بھی اور مسطح اوپر کی۔ اکثر حصہ ہموار اور پیچھے سے بھی گولائی درست تھی۔ آپ کی کنپٹی کشادہ تھی اور آپ کی کھال صحت پر دلالت کرتی تھی ۔
لب مبارک آپ کے لب مبارک پتلے تھے۔ مگر تاہم ایسے موٹے بھی نہ تھے کہ بُرے لگیں۔ دہانہ آپ کا متوسط تھا۔ اور جب بات نہ کرتے ہوں تو منہ کھلا نہ رہتا تھا۔ بعض اوقات مجلس میں جب خاموش بیٹھے ہوں تو آپ عمامہ کے شملہ سے دہان مبارک ڈھک لیا کرتے تھے ۔
دندان مبارک آپ کے آخر عمر میں کچھ خراب ہوگئے تھے یعنی کیڑا بعض ڈاڑھوں کو لگ گیا تھا جس سے کبھی کبھی تکلیف ہو جاتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک ڈاڑھ کا سرا ایسا نوکدار ہو گیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تو ریتی کے ساتھ اس کو گھس کر برابر بھی کرایا تھا۔ مگر کبھی کوئی دانت نکلوایا نہیں ۔ مسواک آپ اکثر فرمایا کرتے تھے ۔
پیر کی ایڑیاں آپکی بعض دفعہ گرمیوں کے موسم میں پھٹ جایا کرتی تھیں ۔
مگر چونکہ گرمی سردی میں کپڑے برابر پہنتے تھے۔ تاہم گرمیوں میں پسینہ بھی خوب آجاتا تھا مگر آپکے پسینہ میں کبھی بو نہیں آتی تھی خواہ کتنے ہی دن بعد کپڑے بدلیں ۔ اور کیسا ہی موسم ہو ۔
گردن مبارک آپ کی گردن متوسط لمبائی اور موٹاپا میں تھی۔ آپ اپنے مطاع نبی کریم صلعم کی طرح ان کے اتباع میں ایک حد تک جمالی زینت کا خیال ضرور رکھتے تھے غسل جمعہ ۔ حجامت ۔ حنا ۔ مسواک ۔ روغن اور سرمہ وغیرہ کنگھی اور آئینہ کا استعمال بپابندی سنن طریقہ پر آپ فرمایا کرتے تھے۔ مگر ان باتوں میں انہماک آپ کی شان سے بہت دور تھا ۔
لباس سب سے اوّل یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ آپ کو کسی قسم خاص لباس کا شوق نہ تھا۔ آخری ایام کے کچھ سالوں میں آپکے پاس کپڑے بنے بنائے اور سلے سلائے بطور تحفہ کے بہت آتے تھے۔ خاص کر کوٹ صدری اور پائجامہ قمیض وغیرہ جو اکثر شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری ہر عید بقرعید کے موقعہ پر اپنے ہمراہ نذر لاتے تھے وہی آپ استعمال فرمایا کرتے تھے ۔ مگر علاوہ ان کے کبھی کبھی آپ خود بھی بنوا لیا کرتے تھے۔ عمامہ تو اکثر خود ہی خرید کر باندھتے تھے جس طرح
سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 125 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 319 پر درج ہے
حوالہ نمبر 352
۳۸
کمیت کو بہت سی بھرتی ڈلوا کر حضرت اُمّ المومنین نے تیار کروایا تھا۔ (اُس وقت نواب صاحب کی بیگم جو وہ مالیرکوٹلہ سے ساتھ لائے تھے، زندہ تھیں) یہ بات حضرت اُمّ المومنین کی ناراضگی کا موجب ہوئی۔ اور حضرت اُمّ المومنین نے حضرت مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃ والسّلام سے اِس ناراضگی کا اظہار کیا۔ حضور نے نواب صاحب کو لکھا۔ جسپر نواب صاحب نے اُس زمین پر مکان بنانے کے ارادہ کو ترک کیا۔ کہ اِس میں ابتداء ہی میں تنازع ہُوا ہے یہ جگہ مبارک نہیں ہو سکتی۔ اور بعد میں دوسرے اصحاب نے بھرتی ڈلوا کر وہاں مکانات بنوائے۔ اور نواب صاحب نے مدرسہ تعلیم الاسلام کے پاس زمین خرید کر کے کوٹھی بنوائی۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃ والسّلام کے ساتھ تعلقات محبت کے بڑھانے میں اُنہیں بڑی برکات حاصل ہوئیں +
بال سفید
فرمایا کرتے تھے۔ کہ ہمارے بال تیس سال کی عمر میں سفید ہونے شروع ہوئے تھے۔ اور پھر جلد جلد سب سفید ہوگئے +
اُنہوں کُچھ دِیدا ہے
حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی۔ ایک دفعہ اُس نے کیا حرکت کی۔ کہ جس کمرے میں حضرت صاحب بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے۔ وہاں ایک کونے میں غسلخانہ تھا جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے۔ وہاں
(حوالہ نمبر 353)
۲۱۶
مبارک یہی کرتی تھیں۔ اب یہ قطعی طور پر یقینی ہے۔ کہ راجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں ہی خاندان کے مصائب کے دن دُور ہو کر فراخی شروع ہو گئی تھی۔ اور قادیان اور اسکے ارد گرد کے بعض مواضعات دادا صاحب کو راجہ رنجیت سنگھ نے بحال کر دیئے تھے۔ اور دادا صاحب کو اپنے ماتحت ایک معزز عہدہ فوجی بھی دیا تھا۔ اور راجہ کے ماتحت دادا صاحب نے بعض فوجی خدمات بھی سرانجام دی تھیں پس بہرحال حضرت صاحب کی پیدائش راجہ رنجیت سنگھ کی موت یعنے ۱۸۳۹ء سے کچھ عرصہ پہلے ماننی پڑیگی۔ لہٰذا اس طرح بھی ۱۸۳۵ء والی روایت کی تصدیق ہوتی ہے۔ وھو المراد۔ اور حضرت صاحب نے جو ۱۸۳۹ء لکھا ہے سو اس کو خود آپ کی دوسری تحریریں رد کر رہی ہیں۔ چنانچہ ایک جگہ آپ نے ۱۸۹۳ء میں اپنی عمر ۶۰ سال بیان کی ہے اور کہیں یہ بھی لکھا ہے یہ تمام اندازے ہیں۔ صحیح علم صرف خدا کو ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میری تحقیق میں اوائل ۱۸۳۵ء میں آپکی ولادت ہوئی تھی اور وفات ۱۹۰۸ء میں ہوئی۔ واللہ اعلم ۔
(۱۸۶)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔ اے ۔ کہ میں بچپن میں والد صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تاریخ فرشتہ۔ مثنوی۔ اور شاید گلستان۔ بوستاں پڑھا کرتا تھا۔ اور والد صاحب کبھی کبھی پچھلا پڑھا ہوا سبق بھی سنا کرتے تھے۔ مگر پڑھنے کے متعلق مجھ پر کبھی ناراض نہیں ہوتے۔ حالانکہ میں پڑھنے میں بے پروا تھا لیکن آخر دادا صاحب نے مجھے والد صاحب سے پڑھنے سے روک دیا اور کہا کہ میں نے سب کو ملاں نہیں بنانا۔ تم مجھ سے پڑھا کرو مگر ویسے دادا صاحب والد صاحب کی بڑی قدر کرتے تھے۔
(۱۸۷)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔ اے۔ کہ ایک دفعہ والد صاحب اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گر گئے۔ اور دائیں بازو پر چوٹ آئی ۔ چنانچہ آخر عمر تک وہ ہاتھ کمزور رہا خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں ۔ کہ آپ کھڑکی سے اُترنے لگے تو سائے
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 216، 217 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 319 پر درج ہے
حوالہ نمبر 353
۲۶۷
سٹول رکھا تھا وہ الٹ گیا ۔ اور آپ گر گئے اور دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور یہ ہاتھ آخر عمر تک کمزور رہا۔ اس ہاتھ سے آپ لقمہ تو منہ تک لیجاسکتے تھے مگر پانی کا برتن وغیرہ منہ تک نہیں اُٹھا سکتے تھے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ نماز میں بھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے سہارے سے سنبھالنا پڑتا تھا ۔
(۱۸۸)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب تیرنا اور سواری خوب جانتے تھے اور ہمیشہ سنایا کرتے تھے ۔ کہ ایک دفعہ بچپن میں مَیں ڈوب چلا تھا تو ایک اجنبی بڑھے سے شخص نے مجھے نکالا تھا۔ اس شخص کو میں نے اس سے قبل یا بعد کبھی نہیں دیکھا۔ نیز فرماتے تھے کہ میں ایک دفعہ ایک گھوڑے پر سوار ہوا اس نے شوخی کی اور بے قابو ہوگیا۔ میں نے بہت روکنا چاہا۔ مگر وہ شرارت پر آمادہ تھا نہ رُکا۔ چنانچہ وہ اپنی رَو سے گلی میں ایک درخت یا دیوار کی طرف بھاگا (الشک منی) اور پھر اس زور کے ساتھ اس سے ٹکرایا۔ کہ اس کا سر پھٹ گیا۔ اور وہ وہیں مرگیا۔ مگر مجھے اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب بہت نصیحت کیا کرتے تھے کہ سرکش اور شریر گھوڑے پر ہرگز نہیں چڑھنا چاہئے۔ اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اس گھوڑے کا مجھے مارنے کا ارادہ تھا۔ مگر میں ایک طرف گر کر بچ گیا اور وہ مرگیا ۔
(۱۸۹)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ والد صاحب باہر چوبارے میں رہتے تھے۔ وہیں اُن کے لئے کھانا جاتا تھا ۔ اور جو جس قسم کا کھانا بھی ہوتا تھا کھا لیتے تھے ۔ کبھی کچھ نہیں کہتے تھے۔
(۱۹۰)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ والد صاحب تین کتابیں بہت کثرت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ یعنی قرآن مجید۔ مثنوی رومی اور دلائل الخیرات اور کچھ نوٹ بھی لیا کرتے تھے۔ اور قرآن شریف بہت کثرت سے پڑھا کرتے تھے ۔
(۱۹۱)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 216، 217 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 319 پر درج ہے
حوالہ نمبر 354
مکتوبات احمد ۴۸۳ جلد دوم
جس قدر جلد اس رسالہ کی فروخت ہو گی اسی قدر جلد تر رسالہ سراج منیر طبع ہو گا۔ آٹھ سو روپیہ جمع تھا۔ وہ سب رسالہ سرمہ چشم آریہ پر خرچ ہو گیا۔ اس رسالہ میں کچھ تو بوجہ علالت طبع اس عاجز اور کچھ دیگر موانع سے مطبع وغیرہ سے توقف ہوئی۔ اب یہ رسالہ سرمہ چشم آریہ، امید قوی ہے کہ پندرہ روز تک من کل الوجوہ تیار ہو کر میرے پاس پہنچ جائے گا۔ چونکہ یہ رسالہ ضخامت میں بہت بڑا ہو گیا ہے اور خرچ بھی اس پر بہت ہوا ہے اور ابھی دوسو روپیہ دینا ہے اس لئے قیمت اس کی ایک روپے بارہ آنے مقرر ہوئی ہے جس زمانہ میں یونہی تخمینہ سے ۴/ قیمت مقرر کی گئی تھی اس زمانہ میں آپ نے ڈیڑھ سو رسالہ کا فروخت کرنا اپنے ذمہ لیا تھا۔ پس اس حساب سے سینتیس روپے آٹھ آنے کا رسالہ آپ کے ذمہ فروخت کرنا ہے۔ لیکن اس سے قطع نظر کر کے اگر آپ محض للہ پوری پوری کوشش کریں اور جہاں تک ممکن ہو، رقم کثیر جمع کرنے میں سعی مبذول فرماویں تو نہایت ثواب کی بات ہے۔ منجملہ اس کے پانچسو روپیہ منشی عبدالحق صاحب اکونٹنٹ شملہ کا ہے جو بطور قرضہ طبع رسالہ کے لئے لیا گیا۔ اور تین سو روپیہ چندہ کا ہے۔ اس میں بہت کوشش کرنی چاہئے تا سراج منیر کے طبع میں توقف نہ ہو۔ امید ہے کہ یہ کوشش موجب خوشنودی رحمن ہو۔ آپ کے رفیق ہندو کو اس رسالہ کا پڑھنا مفید ہے اگر وہ غور سے پڑھے اور نجابت طبع رکھتا ہو۔ اور سعادت ازلی مقدر ہو تو ہدایت پانے کے لئے کافی ہے۔ انشاء اللہ القدیر دعا بھی کروں گا۔ کبھی کبھی یاد دلاتے رہیں۔ میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔ وللّٰہ فی کل فعل حکمة۔
والسلام خاکسار غلام احمد از صدر انبالہ حاطہ ناگ پھنی
مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 483 (طبع جدید) از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 320 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 355
مکتوبات احمد جلد دوم
مکتوب نمبر ۱۰
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ مجھے نہایت تعجب ہے کہ دَوا معلومہ سے آں مخدوم سے کچھ فائدہ محسوس نہ ہوا۔ شاید کہ یہ وہی قول درست ہو کہ ادویہ کو ابدان سے مناسبت ہے۔ بعض ادویہ بعض ابدان کے مناسب حال ہوتی ہیں اور بعض دیگر کے نہیں۔ مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوئی ہے کہ چند امراض کاہلی و سستی و رطوبات معدہ اس سے دور ہو گئے ہیں۔ ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ بالکل جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوا حرارت غریزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔ غرض میں نے تو اس میں آثار نمایاں پائے ہیں۔ واللہ اعلم و عِلمُہ احکم۔ اگر دوا موجود ہو اور آپ دودھ اور ملائی کے ساتھ کچھ زیادہ قدر شربت کر کے استعمال کریں۔ تو میں خواہشمند ہوں کہ آپ کے بدن میں ان فوائد کی بشارت سنوں۔ کبھی کبھی دوا کی چھپی چھپی تاثیر بھی ہوتی ہے کہ جو ہفتہ عشرہ کے بعد محسوس ہوتی ہے چونکہ دوا ختم ہو چکی ہے اور میں نے زیادہ زیادہ کھائی ہے اس لئے ارادہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو دوبارہ تیار کی جائے۔ لیکن چونکہ گھر میں ایام امید ہونے کا کچھ گمان ہے جس کا میں نے ذکر بھی کیا تھا۔ ابھی تک وہ گمان پختہ ہوتا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کو راست کرے۔ اس جہت سے جلد تیار کرنے کی چنداں ضرورت میں نہیں دیکھتا۔ مگر میں شکر گزار ہوں کہ خدا تعالیٰ نے دوا کا بہانہ کر کے بعض خطرناک عوارض سے مجھ کو مخلصی عطا کی۔ فالحمد للہ علی احسانہ۔ مجھے اس بات کے سننے سے افسوس ہوا کہ رسالہ امرتسر سے واپس منگوایا گیا۔ فیروز پور کو وہ خاص ترجیح کونسی تھی؟ بلکہ میری دانست میں حال کے زمانہ میں دنیوی واقف کاروں سے کوئی معاملہ نہیں ڈالنا چاہئے کہ وہ عہد شکنی میں بڑے دلیر ہوتے ہیں۔ عمدہ اور سیدھا طریق یہ ہے کہ قانونی طور پر کارروائی کی جائے۔ اللہ جلشانہ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جب کوئی داد ستد تم کرو تو اس معاملے کے بارے میں تحریر ہونی چاہئے۔ مطبع ایسا ہونا چاہئے جن کے پریس میں استاد
مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 20 (طبع جدید) از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 320 پر درج ہے
حوالہ نمبر 356
۱۳ کہ دروغگو کو اس کے گھر تک پہنچا دیں کیونکہ مکاروں اور خیانت پیشوں کی سزا واقعی یہی ہے کہ اُن کے خیانت کے طریقوں کو پوشیدہ نہ رکھا جائے اور صدق اور امانت کو محفوظ رکھنے کی غرض سے ہم نے اس رسالہ کو لکھا ہے غلط بیانی کے بیجا الزام کا فیصلہ ہو جائے کیونکہ بیسیوں بدزبانیاں میری نسبت کی گئیں اور کہا گیا کہ یہ شخص غلط بیان اور تاریک التعصب اور خبیث النفس ہے یہ ایسا خباثت سے بھرا ہوا بہتان ہے کہ کوئی صادق آدمی اس پر جرات نہیں کر سکتا اور نیز اس بے جا بکواس و فریب سے خلق اللہ کو دھوکا پہنچتا ہے اور یہ لوگ دھوکا کھا رہے ہیں ۔ غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں بلکہ نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے کہ جو نہ خدا سے ڈریں اور نہ خلقت کے طعن و لعن کی پروا رکھیں اور چونکہ ناحق ان لوگوں نے گالیاں دیں اور ہرزہ سرائی کی اِنسانی شرم نے ان کو ممانعت نہیں کی اور جب میرے بعض مخلصوں نے مجھ کو وہ مقام پڑھ کر سنایا تو مجھ کو بوجہ عذر پیش خدا کے یہ طریق اس حالت میں جائز معلوم ہوا کہ جب مقابلہ پر ایک شریر ہو تو اس کے پاداش میں جواز ہے۔ چنانچہ ان کو کہلا بھیجا گیا کہ سفاہت بکار بردن یہ عادت کتوں کی ہے کہ ایسا نامرد جو عملاً قائل اور ملزم نہ ہو اس پر وہ نامرد کتے کی مثل ہیں جو بھونکے اور پھر بھاگے اور یہ بھی سن لیں کہ اگر وہ دلیل لانے اور ثبوت دینے میں اپنی سچائی ثابت نہ کر سکیں تو پھر وہ جھوٹے اور کذاب اور پلید سؤروں کے مثل ہیں کہ جو گند کھاتے ہیں اور پھر یہ بھی کہلا بھیجا تھا کہ اگر وہ چُپ نہ رہیں گے اور باز نہ آئیں گے تو پکے سُور بن جائیں گے ۔ لوگ خاموش ہو گئے مگر حال میں ایک پنڈت جی بولے کہ بے شک ایسی حالتوں میں گالی دینا بھی ٹھیک ہوتا ہے ۔ سفاہت نہیں اور ہمیں ایسے ننگ پر عار نہیں ہے ۔ غرض اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ عام ہندوؤں کے نزدیک یہی مذہب ہے کہ یہ لوگ ضرورتوں کے وقت خنزیروں اور کتوں سے بھی بدتر ہیں۔ اور یہی گمان ہے کہ یہ لئیم النفس ہیں کوئی ننگ ان کو اور ننگ ان کی فطرت میں نہیں ۔ ہر ایک راستباز اس کلام پر لعنت بھیجتا ہے اور انسان تو انسان ایک مرغ بھی اپنی مرغیوں کے لئے غیرت رکھتا ہے یہ کیسا ننگ کا کلام ہے کہ لوگ اس بارہ میں کوئی اور تحریر چھاپیں ۔ پس اب اگر وہ چاہتے ہوں تو ہم اپنے خرچ سے ان کو ان کی درخواست پر قادیان میں بلا سکتے ہیں۔ اور ۱۵ اگست ۱۸۹۹ء تک مہلت ہے۔
راقم میرزا غلام احمد ۳ جولائی ۱۸۹۹ء مطابق ۲۴ صفر ۱۳۱۷ھ
آریہ دھرم صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 13 از مرزا غلام احمد قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 323 پر درج ہے
حوالہ نمبر 357
دافع الوسواس ۲۸۸ مقدمہ عقیدۃ الاسلام
شائع کر دیا اور شائع بھی ایسا کیا کہ شاید ایک یا دو ہفتہ تک دہ ہزار مرد و عورت تک ہماری درخواست نکاح اور ہمارے مضمون الہام سے بخوبی اطلاع یاب ہوگئے ہونگے یہ خبر زبانی اشاعت پر اکتفا نہ کر کے اخباروں میں ہمارا خط چھپوایا اور بازاروں میں ان کے دکھلانے سے وہ خط جابجا پڑھا گیا اور عورتوں اور بچوں تک اس خط کے مضمون کی منادی کی گئی ۔ اب جب مرزا نظام الدین کی کوشش سے وہ خط ہزار ہا انسانوں میں بھی چھپ گیا ۔ اور عیسائیوں نے اپنے مادہ کے موافق بیجا افترا کرنا شروع کیا تو ہم پر فرض ہو گیا کہ اپنے قلم سے اصلیت کو ظاہر کریں ۔ بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا اور نیز یہ پیشگوئی ایسی بھی نہیں کہ جو پہلے پہل اسی وقت میں ہم نے ظاہر کی ہے بلکہ مرزا امام الدین ونظام الدین اور اس جگہ کے تمام آریہ اور نیز لیکھرام پشاوری اور صدہا دوسرے لوگ خوب جانتے ہیں کہ کئی سال ہوئے کہ ہم نے اسی کے متعلق مجملاً ایک پیشگوئی کی تھی یعنے یہ کہ ہماری برادری میں سے ایک شخص احمد بیگ نام فوت ہو نیوالا ہے ۔ اب منصف آدمی سمجھ سکتا ہے کہ وہ اس پیشگوئی کا ایک شعبہ تھی یا یوں کہو کہ یہ تفصیل اور وہ اجمال تھی اور اس میں تاریخ اور مدت ظاہر کی گئی اور اُس میں تاریخ اور مدت کا کچھ ذکر نہ تھا اور اس میں شرائط کی تصریح کی گئی اور وہ ابھی اجمالی حالت میں تھی ۔ سمجھدار آدمی کیلئے یہ کافی ہے کہ پہلی پیشگوئی اُس زمانہ کی ہے کہ جبکہ ہنوز وہ لڑکی نابالغ تھی اور جبکہ یہ پیشگوئی بھی اسی شخص کی نسبت ہے جس کی نسبت اب سے پانچ برس پہلے کی گئی تھی یعنے اُس زمانہ میں جبکہ اُس کی یہ لڑکی آٹھ یا نو برس کی تھی تو اُسپر نفسانی افترا کا گمان کرنا اگر حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ ۔ خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپورہ پنجاب ۔ ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء ۔
آئینہ کمالات اسلام صفحہ 288 مندرجہ روحانی خزائن ،جلد 5 صفحہ 288 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 323 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 358)
۷۰۵ (۲۸۵)
مولوی ثناء اللہ صاحب (امرتسری) کے ساتھ آخری فیصلہ
هو الله الواحد ۷۸۶ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ يَسْتَنْبِئُوْنَكَ أَحَقٌّ هُوَ ۗ قُلْ إِيْ وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ ۱؎
بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علیٰ من اتبع الھدےٰ۔ مدّت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود کذّاب دجّال مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذّاب اور دجّال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اُٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لیے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کرکے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا اگر میں ایسا ہی کذّاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذّاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلّت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔ اور اگر میں کذّاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنّت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں محض دُعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دُعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذّاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت
۱؎ یونس ع ۵
مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار مورخہ 5 اپریل 1907ء مجموعہ اشتہارات، جلد دوم، صفحہ 705، 706 طبع جدید یہ حوالہ صفحہ 324 پر درج ہے
حوالہ نمبر 358
۷۰۶
سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے آمین۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا۔ اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراضِ مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرضِ منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دُکھ دیتا ہے۔ آمین یا ربّ العالمین۔ مَیں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب مَیں دیکھتا ہوں کہ ان کی بد زبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن جن کا وجود دنیا کے لیے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ؎١ پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دُنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دُور دُور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذّاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو مَیں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لیے اب مَیں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذّاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اُٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ؎٢۔ آمین۔
بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
الراقم
عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد مسیح الموعود عافاہ اللہ و ایّدہ
مرقوم تاریخ ۱۵؍ اپریل ۱۹۰۷ء مطابق یکم ربیع الاول ۱۳۲۵ھ روز دوشنبہ
؎١ بنی اسرائیل: ۳۶ ؎٢ الاعراف: ۹۰
مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار مورخہ 15 اپریل 1907ء مجموعہ اشتہارات ، جلد دوم، صفحہ 705، 706 طبع جدید یہ حوالہ صفحہ 324 پر درج ہے
حوالہ نمبر 359
۲۰۶
۱۴؍ اپریل ۱۹۰۴ء (قبل عصر)
صداقت اسلام کیلئے طاعون کی تلوار
ابوسعید عرب صاحب نے ذکر کیا کہ دکن میں بندروں میں بھی طاعون کی وبا پڑی تھی۔ حضرت نے فرمایا کہ:۔
براہین کے لکھنے کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ہم کو اس طاعون کے پڑنے کی خبر دی تھی۔ بدقسمت کفار کی ہمیشہ سے یہ عادت ہے کہ وہ انبیاء کے مقابلہ میں اپنی موت کا نشان مانگا کرتے ہیں۔ اب ہمارے مخالفوں کا بھی یہی حال ہے۔ اس واسطے خدا تعالیٰ نے ان کے واسطے یہ تلوار بھیج دی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ براہین میں جو دلائل کا وعدہ دیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ حالانکہ براہین میں صداقت اسلام کے واسطے کئی لاکھ دلیل ہے۔ خدا تعالیٰ نے پہلے سے اس میں یہ باتیں لکھوا دی ہیں۔ کیا ہی شان ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے کہ پہلے زمانہ میں جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں کو نامراد اور ذلیل کر کے ہلاک کیا جاتا تھا ایسا ہی آخر میں بھی ہو رہا ہے۔ اُس وقت شریروں کی سزا کے واسطے تلوار آنحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ میں دی گئی تھی اور اس زمانہ میں تلوار خدا خود چلا رہا ہے جو لوگ جہاد پر اعتراض کرتے ہیں وہ دیکھ لیں کہ بدقسمت کفار اس وقت بھی اپنی شامت اعمال کے سبب اسی طرح ہلاک ہوئے تھے جیسے کہ اب ہو رہے ہیں۔ دین اسلام کی خاطر اگر اس وقت تلوار چلی تھی تو اس وقت بھی دین اسلام ہی کی خاطر تلوار چل رہی ہے۔
سب سے بڑی کرامت استجابت دعا ہے
فرمایا:۔ یہ زمانہ کے عجائبات ہیں۔ رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا کہ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ (البقرۃ: ۱۸۷) صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہی ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔
ملفوظات جلد پنجم صفحہ 206 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 326 پر درج ہے
Back
حوالہ نمبر 360
لاہوری نے آپکی چھاتی میں پستان کے پاس انجکشن یعنی دوائی کی پچکاری کی۔ جس سے وہ جگہ کچھ اُبھر آئی۔ مگر کچھ افاقہ محسوس نہ ہوا۔ بلکہ بعض لوگوں نے بُرا منایا۔ کہ اس حالت میں آپ کو کیوں یہ تکلیف دی گئی ہے تھوڑی دیر تک غرغرہ کا سلسلہ جاری رہا۔ اور ہر آن سانسوں کے درمیان کا وقفہ لمبا ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ آپ نے ایک لمبا سانس لیا اور آپ کی روح رفیقِ اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئی۔ اللّٰہم صل علیہ وعلیٰ آلہ و بارک وسلم ۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ کی یہ روایت جو شروع میں درج کی گئی ہے جب دوبارہ والدہ صاحبہ کے پاس برائے تصدیق بیان کی۔ اور حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کا ذکر آیا۔ تو والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اسکے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے۔ اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے۔ اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے اسکے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا۔ تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اُٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپکے پاؤں دبانے کے لیئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا۔ تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا، نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپکو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اسقدر ضعف تھا۔ کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اسلیئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اُٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا اسکے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے۔ تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے۔ اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت
سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ 11 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 326 پر درج ہے
حوالہ نمبر 361
حیات ناصر ۱۴۱
بچشم خود دیکھے۔ بلکہ خود میری ذات اور میرے گھر والوں اور بچوں پر ان کا اثر پڑا۔ زلزلہ کے وقت نہایت اندیشہ ہوا کہ خدا جانے محمد اسمعیل کا کیا حال ہوا۔ ممکن ہے۔ زلزلہ میں کہیں کسی مکان کے نیچے دب کر مر گیا ہو۔ حضرت صاحبؓ نے فرمایا کہ مرا نہیں۔ مجھے الہام ہوا ہے۔ کہ ڈاکٹر محمد اسمعیل زندہ ہوگا۔ محمد اسحاق کو دو دفعہ طاعون ہوا۔ آپ کی دُعا سے اچھا ہوا۔ اور آپ نے پہلے ہی فرما دیا تھا۔ کہ یہ مریگا نہیں۔
دھلی میں علالت اور حضرت کی دُعا سے صحت
ایک دفعہ تین چار گھنٹہ میں بخار بھی جاتا رہا اور گلٹیاں بھی دور ہوگئیں۔ مجھے ایک دفعہ سخت گردہ کا درد پڑا۔ میں نے جب آپ کو بلایا تو آپ گھبرا گئے۔ تنہائی میں جا کر دعا شروع کر دی جس کا اثر فوراً ہوا۔ اور یہ عاجز اچھا ہوگیا۔ ایک دفعہ ہم سب حضرت مرزا صاحب کے ہمراہ دلی گئے۔ وہاں میں سخت بیمار ہو گیا۔ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور محمد اسمعیل میرا بیٹا سخت پریشان ہوگئے۔ حضرت صاحب نے مولوی حکیم مولوی نور الدین صاحب کو تار دیا۔ کہ چلے آؤ۔ وہ فوراً دلی چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء فرمادی۔ اور حضرت صاحب میرے تندرست ہونے سے بہت خوش ہوئے۔ ابتداء
حضرت اقدس کی خدمت
میں جب کہیں حضرت صاحب باہر تشریف لے جاتے تھے۔ تو مجھے ہمراہی حفاظت اور قادیان کی خدمت کے لئے چھوڑ جاتے تھے۔ اور آخر زمانہ میں جب کہیں سفر کرتے تھے اور گھر کے لوگ ہمراہ ہوتے تھے۔ تو بندہ بھی ہم رکاب ہوتا تھا۔ چنانچہ جب آپ لاہور میں تشریف لے گئے۔ جس سفر میں آپ کو سفر آخرت پیش آیا۔ تب بھی بندہ آپ کے ہمراہ تھا۔ اور اس شام کی سیر میں بھی شریک تھا جس کے دوسرے روز آپ نے قبل از دوپہر انتقال فرمایا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ط
اب بڑی اور سخت تبدیلی میرے حال میں پیدا ہوئی۔ اور ایسی سخت مصیبت نازل ہوئی۔ کہ جس کی تلافی بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا میری تکلیف کو کوئی نہیں جان سکتا۔ حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے۔ اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی۔ تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا۔ اور آپ کا حال دیکھا۔ تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔ ایک غشی جو ان پر طاری
حیات ناصر صفحہ 14 ، از شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 328 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 362)
۶۶۷
(۲۷۵)
بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم .
تمام جماعت احمدیہ کے لئے اعلان
چونکہ ڈاکٹر عبدالحکیم اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے جو پہلے اس سلسلہ میں داخل تھا نہ صرف یہ کام کیا کہ ہماری تعلیم سے اور ان باتوں سے جو خدا نے ہم پر ظاہر کیں منہ پھیر لیا بلکہ اپنے خط میں وہ سختی اور گستاخی دکھلائی اور وہ گندے اور ناپاک الفاظ میری نسبت استعمال کئے کہ بجز ایک سخت دشمن اور سخت کینہ ور کے کسی کی زبان اور قلم سے نکل نہیں سکتے اور صرف اسی پر کفایت نہیں کی بلکہ بیجا تہمتیں لگائیں اور اپنے صریح لفظوں میں مجھ کو ایک حرام خور اور بندۂ نفس اور شکم پرور اور لوگوں کا مال فریب سے کھانے والا قرار دیا اور محض تکبر کی وجہ سے مجھے پیروں کے نیچے پامال کرنا چاہا اور بہت سی ایسی گالیاں دیں جو ایسے مخالف دیا کرتے ہیں جو پورے جوش عداوت سے ہر طرح سے دوسرے کی ذلت اور توہین چاہتے ہیں اور یہ بھی کہا کہ پیشگوئیاں جن پر ناز کیا جاتا ہے کچھ چیز نہیں مجھ کو ہزار ہا ایسے الہام اور خوابیں آتی ہیں جو پوری ہو جاتی ہیں۔ غرض اس شخص نے محض توہین اور تحقیر اور دل آزاری کے ارادہ سے جو کچھ اپنے خط میں لکھا ہے اور جس طرح اپنی ناپاک بدگوئی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے ان تمام تہمتوں اور گالیوں اور عیب گیریوں کے لکھنے کے لئے اس اشتہار میں گنجائش نہیں علاوہ اس کے میری تحقیر کی غرض سے جھوٹ بھی پیٹ بھر کے بولا ہے مگر مجھے ایسے مفتری اور بدگو لوگوں کی کچھ پرواہ نہیں کیونکہ اگر جیسا
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 667، 668 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 329 پر درج ہے
حوالہ نمبر 362 ۶۶۸
کہ مجھے اس نے دغا باز حرام خور مکار فریبی اور جھوٹ بولنے والا قرار دیا ہے اور طریق اسلام اور دیانت اور پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باہر مجھے کرنا چاہا ہے اور میرے وجود کو محض فضول اور اسلام کے لئے مُضِر ٹھہرایا ہے۔ بلکہ مجھے محض شکم پرور اور دشمن اسلام قرار دیا ہے۔ اگر یہ باتیں سچ ہیں تو میں اس کیڑے سے بھی بدتر ہوں جو نجاست سے پیدا ہوتا اور نجاست میں ہی مرتا ہے لیکن اگر یہ باتیں خلاف واقعہ ہیں تو میں اُمید نہیں رکھتا کہ خدا ایسے شخص کو اس دنیا میں بغیر مواخذہ کے چھوڑے گا جو مرید ہو کر اور پھر مرتد ہو کر اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو ذلیل سے ذلیل زندگی بسر کرنے والے جیسے چوہڑے اور چمار جو شکم پرور کہلاتے ہیں اور مُردار کھانے سے بھی عار نہیں رکھتے ان کی مانند مجھے بھی محض شکم پرست اور بندہ نفس اور حرام خور قرار دیتا ہے۔
اب میں ان باتوں کو زیادہ طول دینا نہیں چاہتا اور خدا کی شہادت کا منتظر ہوں اور اس کے ہاتھ کو دیکھ رہا ہوں اور اس اشارہ پر ختم کرتا ہوں إِنَّمَا اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْ إِلَى اللّٰهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۱؎
اب چونکہ یہ شخص اس درجہ پر میرا دشمن معلوم ہوتا ہے جیسا کہ عمرو بن ہشام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور جان کا دشمن تھا اس لئے میں اپنی تمام جماعت کو متنبہ کرتا ہوں کہ اس سے بکلی قطع تعلق کر لیں اس کے ساتھ ہرگز واسطہ نہ رکھیں ورنہ ایسا شخص ہرگز میری جماعت میں سے نہیں ہوگا۔ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ ۲؎ آمین آمین آمین۔
المشتہر خاکسار مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب (الحکم ۳۰؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲)
۱؎ یوسف: ۸۶ ۲؎ الاعراف: ۹۰
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 667، 668 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 329 پر درج ہے
حوالہ نمبر 363
۲۸۱
۱۸۹۹ء ؎
(الف) "ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت درد ہوئی۔ ایک دَم قرار نہ تھا۔ کسی شخص سے مَیں نے یافت کیا کہ اِس کا کوئی علاج ہے۔ اُس نے کہا کہ علاج دندان اخراج دندان۔ اور دانت نکالنے سے میرا دل ڈرا۔ تب اُسی وقت مجھے غنودگی آگئی اور میں زمین پر بیہوشی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا اور چارپائی پاس بچھی تھی میں نے بیتابی کی حالت میں اُس چارپائی کی پائینتی پر اپنا سر رکھ دیا اور تھوڑی سی نیند آگئی جب میں بیدار ہوا تو دَرد کا نام و نشان نہ تھا اور زبان پر یہ الہام جاری تھا :
یعنی جب تُو بیمار ہوتا ہے تو وہ تجھے شفا دیتا ہے۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰی ذٰلِكَ ۔"
(حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۴۵۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۴۶ ، ۲۴۷)
(ب) (حضرت) مولوی نورالدین صاحب کو ایک مہینہ سے زیادہ عرصہ ہوا لگاتار دانت کا سخت دَرد رہا اور سوائے اُکھڑوانے کے کسی علاج سے فائدہ نہ ہوا۔ فرما رہے تھے ؎ ایک دفعہ خطرناک درد ہوا یہاں تک کہ مارے درد کے غشی ہو گئی۔ اس میں الہام ہوا :
جب اُٹھا تو درد جاتا رہا۔" (از خط مولوی عبدالکریم صاحبؒ مندرجہ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۸۹۹ء صفحہ ۴)
۶ جولائی ۱۸۹۹ء
"۶ جولائی کی رات کو خدا تعالیٰ نے بہشت و دوزخ کا نظارہ آپ کو دکھایا ۔ اوّل بہشت دکھائی گئی اور اس کے ہر قسم کے ثمرات و نعماء دکھائے گئے۔ اتنے میں الہام ہوا :
پھر دوزخ دکھایا گیا۔ وہ سخت مکروہ اور پاخانہ کی شکل کا تھا۔ اتنے میں الہاماً زبان پر جاری ہوا :
اس رویا کی تفصیلی تاویل پوری ہو گئی۔ (خط حضرت مولانا عبد الکریم صاحبؒ مندرجہ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۸۹۹ء صفحہ ۲)
؎ نوٹ از مرتب : یہ الہام یہاں اس لئے لایا گیا ہے کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے (جو متن میں درج ہے) معلوم ہوتا ہے کہ ۶ جولائی ۱۸۹۹ء سے یہ پہلے کا الہام ہے ۔
؎ یعنی حضرت اقدسؑ نے فرمایا ۔ (مرتب)
؎ (ترجمہ از مرتب) وہ (الٰہی تائید) تیرے پاس ہر گہرے راستے سے آئے گی۔
تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 281 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 329 پر درج ہے
حوالہ نمبر 364
۵۵۴
نہیں وہ ہرگز مومن نہیں ہو سکتا۔ اسے ایک دن قرآن کو بھی چھوڑنا پڑے گا۔ پس قرآن شریف میں جس شخص کا نام خاتم الخلفاء رکھا گیا ہے اسی کا نام احادیث میں مسیح موعود رکھا گیا ہے اور اسی طرح سے دونوں ناموں کے متعلق جتنی پیشگوئیاں ہیں وہ ہمارے ہی متعلق ہیں۔ خلیفہ کہتے ہیں پیچھے آنے والے کو۔ اور کامل وہ ہے جو سب سے پیچھے آوے۔ اور ظاہر ہے کہ جو قرب قیامت کے وقت آوے گا وہی سب سے پیچھے ہوگا۔ لہٰذا وہی سب سے اکمل اور افضل ہوا۔ صرف تعبیر الفاظ ہی ہے۔ قرآن شریف نے خلیفہ کے لفظ سے پکارا ہے اور حدیث میں اس کو مسیح موعود کے نام سے نامزد کیا گیا ہے۔ رہا یہ کہ ہمارے اس دعویٰ کا ثبوت کیا ہے۔ سو یاد رکھو کہ ہماری صداقت کا ثبوت وہی ہے جو ہمیشہ سے انبیاء اور ماموروں کا ہوتا رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا جو ثبوت کوئی شخص پیش کر سکتا ہے اسی دلیل سے ہم اپنے دعویٰ کا صدق ظاہر کر سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے خدا تعالیٰ ہی کی گواہی سے سچے ٹھہرا کرتے ہیں۔ دعویٰ تو صادق بھی کرتا ہے اور کاذب بھی۔ اور نفسِ دعویٰ کرنے میں تو دونوں یکساں ہیں مگر ان میں مابہ الامتیاز یہی تو ہوتا ہے۔ بھلا فرض کرو کہ مسیح موعود کا ذکر قرآن میں بھی نہ ہوتا اور حدیث میں بھی پایا نہ جاتا تو پھر کیا تھا، پھر بھی صادق اپنے نشانوں سے شناخت کر لیا جاتا۔ دیکھو حضرت موسیٰؑ کا ذکر بھلا کس پہلی کتاب میں درج تھا، کون بتا سکتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے آنے کی خبر اور پیشگوئی کس کتاب میں موجود تھی؟ پھر حضرت موسیٰؑ کس طرح نبی مان لئے گئے؟ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی تازہ بتازہ گواہی ہی صدق کی دلیل ہو سکتی ہے۔ صرف دعویٰ بلا دلیل صدق کی دلیل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ بلکہ جس دعویٰ کے ساتھ خدائی شہادت نہ ہو وہ جھوٹا ہے اور خدا کے مؤاخذہ کے قابل ہے۔ جھوٹے مدعی کو خدا خود ہلاک کرتا ہے اور اس کو مہلت نہیں دی جاتی کیونکہ وہ خدا پر افتراء کرتا ہے اور حق و باطل میں گڑبڑ ڈالنا چاہتا ہے۔
میں اسی شریعت کی خدمت اور تجدید کے واسطے آیا ہوں
یہ کوئی نئی بات نہیں لایا اور نہ ہی میں نے
کوئی نئی شریعت قائم کی ہے۔ میں اسی شریعت کی خدمت اور تجدید کے واسطے آیا ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے اور میری سچائی و دعویٰ کے لیے بھی منہاج نبوت پر ہی نشان موجود ہیں۔ میں نے اپنی کتابوں میں ان کا ذکر کیا ہے۔ ابھی ایک تازہ کتاب حقیقۃ الوحی میں نے لکھی ہے اس کا مطالعہ کر کے دیکھ لیا جاوے کہ کسقدر نشان خدا تعالیٰ نے میری تائید کے واسطے ظاہر فرمائے۔ کیا یہ کسی جھوٹے کے واسطے بھی دکھائے جاتے ہیں؟ دیکھو بعض انبیاء صرف ایک ہی معجزہ سے صادق قبول کر لیے گئے۔ مگر یہاں تو ہزاروں نشان موجود ہیں پھر ہم اگر کسی نئے دین کا دعویٰ کرتے۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی نیا حکم اپنی طرف سے بیان کرتے۔ سنتِ رسول
ملفوظات جلد پنجم صفحہ 554 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 329 پر درج ہے
حوالہ نمبر 365
ایام الصلح ۳۴۱
مجھے معلوم ہوئی تھی اور وہ یہ ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۔ اِنَّهٗ اٰوِى الْقَرْيَةَ ۔ یعنی خدا تعالیٰ اُس نیکی یا بدی کو جو کسی قوم کے شامل حال ہے دُور نہیں کرتا جب تک وہ قوم ان باتوں کو اپنے سے دُور نہ کرے جو اُس کے دل میں ہیں ۔ پس خدا نے اس قریہ کو جو اس کے علم میں ہے آفات سے محفوظ رکھا ۔ افسوس کہ بعض نادان کہتے ہیں کہ الہام آپ بنا لیا ہے ۔ ہم اُن کے حاشیہ جواب میں کیا کہیں اور کیا لکھیں ۔ اے بدقسمت بدگمانو ! کیا ممکن ہے کہ کوئی خدا پر جھوٹ باندھے اور پھر اُس کے دستِ قہر سے بچ رہے ۔ خدا جھوٹوں کو ہلاک کرے گا ۔ اور وہ جو اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کا الہام ہے وہ ہلاک کئے جائیں گے کیونکہ انہوں نے دلیری کر کے خدا پر بہتان باندھا ۔ راستبازوں کے لئے یہی دن مقرر ہیں ۔ اور جھوٹے مفتریوں کے لئے بھی منہ وقت مقرر کئے گئے ہیں ۔ جب وہ وقت آئیں گے تو خدا تعالیٰ دکھا دے گا کہ کس نے شوخی سے باتیں کیں اور کس نے رُوح القدس کی آواز کی پیروی کی ۔ خدا کی باتوں کو خدائی نشانوں سے تم شناخت کرو گے سچائی پوشیدہ نہیں رہے گی اور نہ باطل مخفی رہے گا ۔ وہ خدا جو ہمیشہ اپنے تئیں ظاہر کرتا رہا ہے وہ اب بھی دکھلائیگا کہ وہ اُن کے ساتھ ہے جو واقعی طور پر اس سے ڈرتے اور نیکی اور پرہیزگاری کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں ۔
اے لوگو ! خدا سے ڈرو ۔ اور درحقیقت اس سے صلح کرو ۔ اور سچ مچ صلاحیت کا جامہ پہن لو ۔ اور چاہئے کہ ہر ایک شرارت تم سے دُور ہو جائے ۔ خدا میں بے انتہا عجیب قدرتیں ہیں ۔ خدا میں بے انتہا طاقتیں ہیں خدا میں بے انتہا رحم اور فضل ہے ۔ وہی ہے جو ایک ہولناک سیلاب کو ایک دم میں خشک کر سکتا ہے ۔ وہی ہے جو مہلک بلاؤں کو ایک ہی ارادے سے اپنے ہاتھ سے اُٹھا کر دُور پھینک دیتا ہے ۔ مگر اس کی یہ عجیب قدرتیں اُن ہی پر کھلتی ہیں جو اس کے ہی ہو جاتے ہیں ۔ اور وہی یہ خوارق دیکھتے ہیں جو اس کے لئے اپنے اندر ایک پاک تبدیلی کرتے ہیں ۔ اور اُس کے آستانے پر گرتے ہیں اور اُس قطرے کی طرح جس سے موتی بنتا ہے صاف ہو جاتے ہیں ۔ اور محبت اور صدق اور صفا کی سوزش سے پگھل کر اس کی طرف بہنے لگتے ہیں ۔ تب وہ مصیبتوں میں
؎ الرعد : ۱۲ ۱۱۵
ایام الصلح صفحہ 115 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 341 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 329 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 366) تتمہ ۵۲۰ حقیقت الوحی
۸۲ میرا گناہ کیا ہے۔ مَیں اُس کو گھسیٹوں گا اور اُس کو دوزخ دکھلاؤں گا یعنی عیسیٰ ابنِ مریم کے ظہور سے تو لوگ کچھ بھی متنبہ نہ ہوئے اب مَیں اپنے اس بندہ کو موُسیٰ کی صفات میں ظاہر کروں گا اور فرعون اور ہامان کو وہ دِن دکھلاؤں گا جس سے وہ ڈرتے تھے۔ سو اے عزیزو ! مُدت تک مَیں مسیح ابن مریم کے رنگ میں دُکھ اُٹھاتا رہا اور جوکچھ قوم نے کرنا چاہا میرے ساتھ کیا۔ اب خدا میرا نام موُسیٰ رکھتا ہے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ مقابل کے لوگوں کا نام اُس نے فرعون رکھا ہے اور یہ نام آج سے نہیں بلکہ اِس بات پر چھبیس برس گزرے ہیں۔ جبکہ خداتعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام موُسیٰ رکھ کر فرمایا انت منّی بمنزلۃ موسیٰ ۔ اور پھر اِسی براہین احمدیہ میں میرا نام موُسیٰ رکھ کر فرمایا ولما تجلیٰ ربّہ للجبل جعلہ دکاً وخرّ موسیٰ صعقاً۔ مگر چونکہ خدا نے ابتداء وحی سے ہی راہ اپنی بُرد باری کو پُورے طور پر دکھلایا اسلئے میرا نام ابن مریم رکھا گیا ۔ کیونکہ ابن مریم اپنی قوم سے کوفتہ خاطر رہا اور اُسکو بہت دُکھ دیا گیا اور ستایا گیا اور عدالتوں کی طرف اُسکو کھینچا گیا اور اُس کا نام کافر اور مکار اور ملعون اور دجّال رکھا گیا اور نہ صرف اِسی پر کفایت کی گئی بلکہ یہ چاہا گیا کہ اُسکو قتل کر دیا جائے مگر چونکہ وہ خدا کا برگزیدہ تھا اور اُن لوگوں میں سے تھا جن کے ساتھ خدا ہوتا ہے اِسلئے وہ خبیث قوم
۱ یہ الہام ۲۰ مارچ ۱۹۰۶ء جو ۲۲ مارچ کو اخبار بدر میں شائع ہوچکا ہے اور بعد میں بھی اسکی حمایت پر ایک بڑی پیشینگوئی ہے جسکو ظاہر کرونگا اور لوگوں کے سامنے اُسکو عزت دونگا جلّت آیاتی ۔ تلک آیات ظہرت بعضھا خلف بعض اعجل او نقیم وازیہ الجمع یرانی اوثرک واختارک (ترجمہ) میرے نشان روشن ہونگے بعض نشان بعض کے بعد ظہور میں آئیں گے تا اُس مومن کی عزت ظاہر کروں۔ یہ پیشینگوئی ہے کہ مَیں اُس کو گھسیٹوں گا اور اُسکو دوزخ دکھلاؤں گا۔ مَیں نے تجھ کو چُن لیا اور اختیار کیا۔ تیری عاجزانہ راہیں مجھے پسند آئیں۔ میرا دشمن ہلاک ہوگا۔ انّ اللہ مع الصادقین ۔ خدا سچوں کے ساتھ ہے۔ یہ پیشگوئی کھلے طور پر بابو الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ کی نسبت ہے جو ۶ اپریل ۱۹۰۶ء کو طاعون سے فوت ہو گیا۔ کیونکہ اُس نے موسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا تھا سو خدا فرماتا ہے کہ موسیٰ ایک ہی اِس زمانہ میں ہے جس کو مَیں نے موسیٰ بنایا۔ پر وہ شخص جو خود بخود موسیٰ بن گیا وہ ہلاک ہو گا۔ صادق اور کاذب میں فرق ظاہر ہو جائے گا چُنانچہ طاعون جو دوزخ کا ایک نمونہ ہے اُس میں بابو مذکور گرفتار ہوکر اِس دارفانی کو تاریخ ۶ اپریل ۱۹۰۶ء میں چھوڑ گیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔ منہ
یہ حوالہ صفحہ 330 پر درج ہے حقیقتہ الوحی صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 520 از مرزا قادیانی
Saboot Hazir Han Volume 1 Contents
ترتیب عنوانات
- چیلنج 2
- انتساب 5
- توجہ فرمائیں 27
- فہرست ٹائٹل کتب 29
- قادیانی عقائد کی بھیانک تصویر جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازھری 35
- قادیانیت کا اصل چہرہ جناب مجید نظامی 37
- دعوت فکر لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل 42
- جعلی نبوت کا خاتمہ پروفیسر محمد سلیم 45
- شاہکار کتاب حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی 49
- قادیانیت کا Kaleidoscope حضرت مولانا اللہ وسایا 52
- قادیانیوں پر اتمام حجت ڈاکٹر محمود احمد غازی 66
- ثبوت حاضر ہیں، ایک مطالعہ پروفیسر رفیع الدین ہاشمی 68
- ”اک حرف مخلصانہ“ پروفیسر منظور احمد ملک 71
- کوزے میں دریا حضرت خواجہ خان محمد مدظلہ 80
- تاریخ ساز آئینہ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری 82
- نفیر قلم محمد متین خالد 84
عقیدۂ ختم نبوت 91
- ختم نبوت اور قرآن مجید 95
- ختم نبوت اور احادیث مبارکہ 100
- ختم نبوت اور صحابہ کرام 103
- ختم نبوت اور اکابرین امت 105
- اب نبی کی آخر ضرورت کیا ہے؟ 107
- اوصاف نبوت اور مرزا قادیانی 111
- ختم نبوت پر قادیانی اعتراضات اور اُن کے جوابات 120
نبوت بند ہے 153
- وحی رسالت بند ہے 156
- وحی رسالت کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی آمد، ناممکن 156
- حضرت جبرائیل علیہ السلام کو وحی نبوت لانے سے منع کر دیا گیا ہے 157
- وحی رسالت تا قیامت منقطع ہے 157
- نئی شریعت، نیا الہام...... ناممکن 157
- خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت میں کوئی شریک نہیں 157
- ختم نبوت پر ایمان اور اقرار، قرآن مجید کی روشنی میں 158
- تمام آدم زادوں کے لیے محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں 158
- حدیث لا نبی بعدی متواتر ہے 159
- حضور خاتم النبیین ﷺ پر ہر قسم کی نبوت ختم ہو گئی 159
- نبی کریم ﷺ پر نبوت کا ہر کمال ختم ہو گیا 160
- دین و رسالت کمال تک پہنچ گیا 160
- تمام نبوتیں رسول اللہ ﷺ پر ختم 160
- میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں 161
- ختم المرسلین ﷺ کے بعد مدعی نبوت ورسالت کاذب اور کافر ہے 161
- نبوت کا دعویٰ کرنے والے پر لعنت 161
- نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر 161
- نبوت کا دعویٰ کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج 162
- مدعی نبوت، مسیلمہ کذاب کا بھائی 162
- وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری کر کے دشمن قرآن نہ بنو 163
- ختم نبوت کا منکر بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج ہے 163
- آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا بدبخت ہے 163
- ختم نبوت کے منکر کو ملعون سمجھتا ہوں 164
- یہ جھوٹ ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا 164
- معاذ اللہ، میں نبوت کا مدعی کیوں بنوں؟ 164
- اب نبی نہیں، مجدد آئیں گے 165
- ہمارا مذہب 165
- اجماعی عقیدہ کا منکر لعنتی ہے 166
- اہل سنت کی اجماعی رائے کو ماننا فرض ہے 166
- اعتراف حقیقت 166
- اہم نکات 166
نبوت جاری ہے 171
- مخبوط الحواس کون؟ 173
- پاگل اور منافق کون؟ 174
- سچے، عقل مند اور صاف دل انسان کے کلام کی نشانی 174
- نبی نہیں محدث 175
- محدث نہیں نبی 176
- ختم نبوت، ایک باطل عقیدہ، اسلام شیطانی مذہب 176
- ایک غلطی کا ازالہ 177
- میرے پاس جبرائیل آیا 177
- امور غیبیہ کی نعمت 178
- خدا تعالیٰ کی وحی 178
- کثرت وحی 178
- بارش کی طرح وحی نازل ہوئی 179
- 23 برس کی متواتر وحی 179
- امتی بھی، نبی بھی 179
- خدا کا فرستادہ 179
- ہم نبی اور رسول ہیں 180
- خدا نے اپنے رسول کو دین حق کے ساتھ بھیجا 180
- سچا خدا 180
- تو بھی ایک رسول ہے 180
- قادیان، رسول کا تخت گاہ 180
- خدا نے میرا نام نبی رکھا، تصدیق کے لئے تین لاکھ نشان دیئے 181
- سب لوگوں کی طرف خدا کا رسول 181
- ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا 181
- خدا کا مرسل 181
- تیری خبر قرآن و حدیث میں 182
- نبوت کا دروازہ کھلا ہے 182
- مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کی گواہی 182
- امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہیے 184
- گردن پر تلوار 186
- نبوت کا قادیانی تصور 186
- منافق کون ہے؟ 187
- کتوں، سوروں اور بندروں سے بدتر 187
- اہم نکات 187
- قادیانی جماعت کے لاہوری گروپ کا عقیدہ 189
اللہ تعالیٰ کی توہین 191
- اللہ تعالیٰ کے بے شمار ہاتھ پیر 195
- اللہ کی زبان پر مرض 195
- اللہ اور چور 195
- اللہ خطا کرتا ہے 195
- قادیان میں خدا 196
- سچا خدا 196
- اولاد کی طرح ہے 196
- میرے بیٹے کی طرح ہے 197
- اے میرے بیٹے! 197
- لڑکا اور خدا 197
- تو ہمارے پانی سے ہے 197
- میں چاند، اللہ سورج، میں سورج، اللہ چاند 197
- مرزا قادیانی سے اللہ تعالیٰ کی تعزیت 198
- مرزا قادیانی، اللہ کے ساتھ ایک پلنگ پر 199
- اللہ تعالیٰ کے دستخط 199
- میں خود خدا ہوں 200
- ’’خدا تیرے اندر اتر آیا‘‘ 200
- کن فیکون 204
- فنا کرنے اور زندہ کرنے کی صفت 205
- خدا سے نہانی تعلق 205
- اللہ مرد، مرزا قادیانی عورت؟ 206
- حاملہ 206
- درد زہ 207
- خدا پر بہتان کا نتیجہ 207
- بدکاروں کو سچی خوابیں 207
- جو خود کو خدا کہے، وہ کافر 208
- دجال کی نشانی 208
- قرآن کا فتویٰ 208
- اہم نکات 208
حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی توہین 211
- مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ہے 215
- مرزا قادیانی خاتم النبیین ہے 216
- مرزا قادیانی تمام نبیوں کا مجموعہ 217
- قادیان میں محمد رسول اللہ 217
- محمد رسول اللہ ﷺ کے تمام کمالات مرزا قادیانی میں 218
- قادیانی کلمہ 218
- افضلیت مرزا قادیانی 219
- مرزا قادیانی پر درود 220
- مرزا قادیانی پر درود و سلام 221
- مرزا قادیانی پر درود و سلام کے اعتراض کا قادیانی جواب 222
- نبی کریم ﷺ سورج، مرزا قادیانی چاند 222
- مرزا قادیانی بعینہ محمدؐ رسول اللہ 223
- پہلے محمدؐ رسول اللہ سے بڑھ کر 223
- نبی کریم ﷺ کے تین ہزار معجزات 223
- مرزا قادیانی کے 10 لاکھ نشانات 224
- نشان اور معجزہ ایک ہی ہے 224
- محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے 225
- رسول مدنی 226
- محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر 228
- حضور نبی کریم ﷺ کی چھڑی استعمال کرتے تھے 228
- روضۂ رسول ﷺ کی توہین 228
- وہ نبی بھی کیسا نبی ہے؟ 229
- تکمیل اشاعتِ ہدایت 229
- مرزا قادیانی کی تعلیم، نوح کی کشتی 230
- مرزا قادیانی، تمام انبیا کا لباس 230
- اے مومنو! اپنی آواز مرزا قادیانی کی آواز سے بلند نہ کرو 231
- ”احمد“ سے مراد مرزا قادیانی 231
- مرزا قادیانی کو دیکھنے کے لیے نبیوں کی خواہش 232
- مرزا قادیانی کے کئی نام 232
- مرزا قادیانی، احمد مجتبیٰ 233
- اپنی وحی پر ایمان 233
- قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی پر نازل ہونے والی وحی 233
- اگر تجھے پیدا نہ کرتا...... 235
- روضۂ آدم اور مرزا قادیانی 236
- آخری اینٹ کون؟ 236
- حضور نبی کریم ﷺ کے معراج جسمانی کا انکار 237
- کثیف جسم 237
- گستاخ رسول حرامی ہے 238
- اہم نکات 238
انبیائے کرام علیہم السلام کی توہین 241
- نبی کی تحقیر غضب الٰہی کا موجب 244
- تمام انبیا سے اجتہاد میں غلطی ہوئی 244
- رسولوں کی وحی میں شیطانی کلمہ 244
- چار سو نبیوں کی پیشگوئی جھوٹی نکلی 244
- تمام انبیا کا مجموعہ 245
- مرزا قادیانی کی ہزاروں پیش گوئیاں 246
- مرزا قادیانی، ہزار نبیوں پر بھاری 246
- حضرت آدم علیہ السلام سے مماثلت 246
- حضرت آدم علیہ السلام کی طرح مرزا قادیانی کے لیے سجدہ 248
- حضرت آدم علیہ السلام کی توہین 248
- حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین 248
- حضرت نوح علیہ السلام پر فضیلت 249
- حضرت یوسف علیہ السلام پر فضیلت 249
- حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت 249
- حضرت ابراہیم علیہ السلام پر فضیلت 249
- مرزا قادیانی بلندی کے مینارہ پر 250
- پرلے درجہ کی بے غیرتی 250
- ہر رسول میری قمیض میں چھپا ہوا ہے 251
- نبوت کا قادیانی تصور 252
- اہم نکات 252
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین 255
- اعتراف عظمت 260
- خبیث لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تہمتیں لگاتے ہیں 260
- نعوذ باللہ 260
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام گالیاں دیتے تھے 261
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انجیل چرا کر لکھی 261
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ نہیں 262
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کی حقیقت 262
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مکر و فریب 262
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کیڑے مکوڑے 264
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیاں 264
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیتے تھے 265
- شراب کی خم ریزی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کی 266
- شراب اور افیون 266
- شراب اور خدائی کا دعویٰ 266
- مسیح کا چال چلن 266
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کنجریاں 267
- شراب اور فاحشہ عورتیں 268
- حرام کار عورتوں کے پیسے سے! 268
- کاش ایسا شخص دنیا میں نہ آیا ہوتا 269
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سؤروں کا شکار 269
- کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی سؤر بھی کھایا تھا؟ 270
- اخلاقی تعلیم؟ 270
- دماغ میں خلل 271
- دیوانہ 271
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک شرمناک بہتان 271
- پہلے مسیح سے بڑھ کر 271
- پیٹ میں باتیں 272
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت 272
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوسرے نام 273
- توریت وانجیل تحریف شدہ ہیں 273
- میں نے جو کچھ لکھا، وہ یہودیوں کے الفاظ ہیں 274
- یہودیوں کی پیروی 275
- مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی نہیں دے سکتا 275
- میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہر لحاظ سے ایک ہی ہیں 275
- میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا نمونہ ہوں 276
- میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں بھائی ہیں 276
- عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی 277
- اعتراف 277
- اہم نکات 278
حضرت مریم علیہا السلام کی توہین 281
- حضرت مریم علیہا السلام کی صدیقیت؟؟؟ 289
- حضرت مریم کی اولاد؟ 289
- حضرت مریم علیہا السلام کا دوسرا نکاح 290
- حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب سے نکاح سے پہلے تعلق 290
- نکاح سے دو ماہ بعد (نعوذ باللہ) 290
- کنجر اور ولد الزنا بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں 291
- جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے 291
- اہم نکات 291
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم واہل بیت کی توہین 293
- نادان صحابی 296
- حضرت ابو ہریرہ کی توہین 296
- حضرت ابوبکر صدیقؓ کی توہین 297
- حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر کی توہین 297
- قادیانی خلیفہ حکیم نور الدین ابوبکر ہے 297
- زندہ علی ، مردہ علی 298
- حضرت امام حسین کی توہین 298
- مرزا قادیانی اور حضرت امام حسین میں فرق 298
- کربلا کی سیر 299
- سو حسین کی قربانی، مرزا قادیانی کی ایک گھڑی کے برابر 300
- حضرت امام حسین سے بڑھ کر 301
- عبداللطیف قادیانی کی فضیلت 301
- حضرت امام حسین کی توہین سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے 302
- سیدۃ النساء حضرت بی بی فاطمہؓ کی شرمناک توہین 302
- پنج تن کی توہین 303
- مرزا قادیانی کی بیوی ...... ام المومنین؟ 303
- مرزا قادیانی کے 313 صحابی 303
- سید کون؟ 304
- اہم نکات 304
قرآن وسنت کی توہین 307
- قرآن مجید قادیان کے قریب نازل ہوا 309
- قرآن مجید میں تبدیلی کرنے والا ملحد اور کافر ہے 310
- قادیان کا نام قرآن مجید میں 311
- ناقصوں کا کشف، خواب اور الہام ناقص ہوتا ہے 312
- الہام اور کشف قرآن مجید کے برابر 313
- قرآن، مرزا قادیانی پر دوبارہ اترا 313
- ”مجھ پر پھر اترا ہے قرآن رسول مدنی“ 313
- 20 پارے 314
- میں قرآن کی طرح ہوں 314
- قرآن شریف، مرزا قادیانی کی باتیں 314
- مرزا قادیانی کے الہامات، قرآن کی طرح 314
- خدا کی قسم میری وحی کلام مجید ہے 315
- قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں (معاذ اللہ) 316
- احادیث رسول ﷺ کی توہین 316
- جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے...... 317
- اہم نکات 317
حرمین شریفین کی توہین 319
- قرآن شریف میں تین شہروں کے نام 322
- مسجد اقصیٰ کی توہین 323
- قادیان کی فضیلت 324
- مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ 324
- قادیان تمام دنیا کی بستیوں کی ماں 325
- قادیانی جلسہ، حج کی طرح 325
- اہم نکات 325
حضرت اولیائے عظامؒ و علمائے کرامؒ کی توہین 327
- پرلے درجہ کی خباثت اور شرارت 329
- مرزا قادیانی، خاتم الاولیا 329
- حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی توہین 330
- حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کی توہین 330
- علمائے کرام کی توہین 332
- سلطان القلم کی گل افشانیاں 333
- گالیاں دینا سفلیوں اور کمینوں کا کام ہے 334
- بد زبان ہر ایک سے بدتر ہے 334
مسلمانوں کو گندی گالیاں اور کفر کا فتویٰ 335
- جب دل بگڑتا ہے 338
- اخلاقی معلم کا فرض 338
- میری فطرت 338
- تہذیب اخلاق 338
- گالیاں سن کے دعا دو 338
- سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے 339
- گالیاں شکست کو ثابت کرتی ہیں 339
- ولد الحرام 340
- عیسائی، یہودی، مشرک 340
- کنجریوں کی اولاد 340
- مسلمان مرد خنزیر، ان کی عورتیں کتیاں 341
- مرزا قادیانی کو نہ ماننے والا پکا کافر 341
- مرزا قادیانی کا انکار کفر 342
- خواہ نام بھی نہیں سنا 342
- جہنمی 343
- بندروں اور سوروں کی طرح 343
- خنزیر سے زیادہ پلید لوگ 343
- جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے 343
- کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھانے والے 344
- خراب عورتیں اور دجال کی نسل 344
- پیٹ سے چوہا؟ 344
- رحم پر مہر 344
- عضو تناسل کاٹ دینا...... 345
- جہاں سے نکلے تھے....... 345
- افغانوں کی شکلیں اور رسوم 345
- ”سلطان القلم“ کی گل افشانیاں 347
- ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے 349
- میری طرف سے گالیوں کا جواب خدا دے گا 349
- کتا پن 349
- بدتر ہر ایک بد سے 349
مسلمانوں سے نفرت اور معاشرتی بائیکاٹ 359
- مسلمانوں سے ہر چیز میں اختلاف 361
- مسلمانوں سے تعلقات حرام 362
- مسلمانوں کے پیچھے نماز قطعی حرام 362
- مسلمانوں کے پیچھے نماز؟؟ 363
- مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کی حکمت 363
- مسلمانوں کی نماز جنازہ 363
- مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے اور انہیں قادیانی لڑکیوں کا رشتہ نہ
دینے کے متعلق احکامات 364
- قائد اعظم کی نماز جنازہ 365
- مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے کا جنازہ نہ پڑھا 366
- مسلمانوں کو لڑکی دینا 367
مرزا قادیانی کے دعوے 369
- میں بشر ہوں 373
- میں غلام احمد قادیانی ہوں 373
- میں کرم خاکی، بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار ہوں 373
- میں سُؤر مار ہوں 374
- میں امین الملک جے سنگھ بہادر ہوں 374
- میں کرشن ہوں 374
- میں آریوں کا بادشاہ ہوں 375
- میں کرشن جی رُودر گوپال ہوں 376
- میں سلطان القلم ہوں 376
- میں غازی ہوں 376
- میں گورنمنٹ برطانیہ کے لیے پناہ اور تعویذ ہوں 376
- میں محدث ہوں 377
- میں عبدالقادر ہوں 377
- میں ذوالقرنین ہوں 377
- میں آدم ہوں، میں احمد ہوں، میں مریم ہوں 377
- میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں 377
- میں خاتم الاولیاء ہوں 378
- میں معجون مرکب ہوں 378
- میں خلیفۃ اللہ ہوں 379
- میں امام الزماں ہوں 379
- میں مجدد ہوں، میں مہدی ہوں، میں مسیح موعود ہوں 379
- میں حجر اسود ہوں 379
- میں بیت اللہ ہوں 380
- میں قرآن ہوں 380
- میں میکائیل ہوں 380
- میں حضرت حسین سے بڑھ کر ہوں 380
- میں زندہ علی ہوں 381
- میں مدینۃ العلم ہوں 381
- میں مریم اور عیسیٰ ہوں 381
- میں مریم ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں ابن مریم ہوں 381
- میں ابن مریم سے افضل ہوں 382
- میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں 382
- میں آدم اور احمد مختار ہوں 382
- میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا ہوں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں 382
- میں تمام انبیاء کا مجموعہ ہوں 383
- میں محمد ہوں 383
- میں احمد ہوں 383
- میں رحمۃ للعالمین ہوں 384
- میں خاتم الانبیاء ہوں 384
- میں توحید خدا اور تفرید خدا ہوں 384
- میں عرش خدا ہوں 384
- میں مالک کن فیکون ہوں 385
- میں زندہ کرنے والا اور مارنے والا ہوں 385
- میں نطفۂ خدا ہوں 385
- میں خدا کا بیٹا ہوں 386
- میں خدا کی بیوی ہوں 386
- میں خدا کا باپ ہوں 386
- میں خود خدا ہوں 387
مرزا قادیانی مرد یا عورت؟ 389
- اللہ کا بچہ 391
- اللہ مرد، مرزا عورت؟ 391
- خدا سے نہانی تعلق 393
- حاملہ 393
- مرزا قادیانی کو درد زہ 394
- مرزا قادیانی عیسیٰ ابن مریم کیسے بنا؟ 394
- ”سلطان القلم“ کا دعویٰ 397
مرزا قادیانی کے فرشتے 399
- ٹیچی ٹیچی 401
- شیر علی 402
- مرزا غلام قادر 403
- خیراتی 403
- مکھن لال 403
- حفیظ 404
- درشنی 404
مرزا قادیانی کے الہامات اور خواب 405
- شیطانی الہامات کا ہونا حق ہے 407
- غیر معقول اور بے ہودہ امر 409
- تعجب کی بات 409
- ربنا عاج 409
- ہو شعنا نعسا 410
- ظن اور شک کی تاریکی 410
- بے یقینی کا کلام 411
- عجیب و غریب الہامات جن کی سمجھ نہیں آئی 411
- عربی الہامات 414
- انگریزی الہامات 414
- فارسی الہامات 416
- پنجابی الہامات 417
- ایک اور ہندو کا تپ دق 419
- مرزا قادیانی کے عجیب و غریب خواب 421
- بلی کو پھانسی 421
- ہاتھی نامرد 421
- مرغ، بکرا، بلی، چوہا 421
- مرغی کے الفاظ 422
- بلا عنوان! 422
مرزا قادیانی ...... امیر الجہلا 423
- نبی کریم ﷺ کے والد محترم 426
- نبی کریم ﷺ کے گیارہ لڑکے 427
- نبی کریم ﷺ کی 12 لڑکیاں 427
- امام بخاریؒ 427
- چوتھا مہینہ صفر، چوتھا دن چارشنبہ 428
- قادیان؟ 428
- چائے 429
- کروڑہا انسانوں کی موت 429
- آسمانی روح 430
- علمی قوت کی ضرورت 430
- میں زمین کی باتیں نہیں کہتا 430
متفرقات
- قادیانی کلمہ کی حقیقت 431
- احمد سے مراد مرزا قادیانی 433
- تصویر بولتی ہے 433
- جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے 436
- اکھنڈ بھارت 437
- باؤنڈری کمیشن میں قادیانیوں کا موقف 443
- سپریم کورٹ آف پاکستان کا تاریخ ساز فیصلہ 444
- پندرہویں صدی کا آغاز اور قادیانیوں کے لیے لمحہ فکریہ 451
455
Saboot Hazir Han Volume 3 Contents
ترتیب عنوانات
- چیلنج 2
- انتساب 5
- توجہ فرمائیں 23
- فہرست ٹائٹل کتب 27
- تقریظ جمیل حضرت مولانا مفتی جمیل احمد نعیمی ضیائی مدظلہ 33
- آئینہ قادیانیت شیخ راحیل احمد (جرمنی) 42
- مقابل ہے آئینہ! محمد متین خالد 45
قادیانی اخلاق 53
Love for all, Hatred for none
- لوگوں پر لطف اور رحم 56
- لوگوں سے نرمی اور احسان کر 57
- نہایت قابل شرم بات 57
- اندھے کو اندھا کہنا بھی دل دکھانا ہے 57
- اللہ تعالیٰ کا حکم 58
- تلخ بات 58
- پرلے درجے کا شریر النفس 58
- سفلوں اور کمینوں کا کام 58
- کبھی گالی کا جواب نہیں دیا 59
- کبھی دشنام دہی نہیں کی 59
- گالی مت دو 59
- مجھے تہذیب و اخلاق کے ساتھ بھیجا گیا ہے 59
- بدزبانی طریق شرافت نہیں 60
- گالیاں سن کے دعا دو 60
- سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے 60
- اہم نکات 60
- بندروں اور سورؤں کی طرح 61
- خنزیر سے زیادہ پلید لوگ 62
- جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے 62
- جھوٹ کی نجاست، آسمانی لعنت 62
- خدائی لعنت کے دس لاکھ جوتے 63
- مرد خنزیر، عورتیں کتیاں 63
- ولد الحرام 63
- عیسائی، یہودی، مشرک 63
- کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھانے والے 64
- خراب عورتیں اور دجال کی نسل 64
- پرمیشر کی جگہ 64
- پیٹ سے چوہا؟ 65
- رحم پر ٹیومر 65
- عضو تناسل کاٹ دینا ....... 65
- جہاں سے نکلے تھے ...... 66
- کنجریوں کی اولاد 66
- ذریۃ البغایا کی تشریح 67
- حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو گالیاں 68
- بدتر ہر ایک بد سے 71
- گالیاں دینے کی وجہ 80
لعنت بازی
مرزا قادیانی کا پسندیدہ مشغلہ 81
- میں امام الزماں ہوں 83
- مومن لعان نہیں ہوتا 84
- 10 لعنتیں 84
- لعنت، لعنت، لعنت...... 1 تا 1000 85
- 10 لاکھ لعنتیں 86
- جب دل بگڑتا ہے 86
- یہ خدا کا کلام ہے 86
قادیانی ڈکشنری 87
- اعتراف 89
- کدعہ سے مراد قادیان 89
- ادنیٰ الارض سے مراد قادیان 92
- دمشق سے مراد قادیان 93
- قرآن مجید قادیان کے قریب نازل ہوا 93
- یروشلم سے مراد قادیان 93
- مقام لد سے مراد لدھیانہ 94
- مسجد اقصیٰ سے مراد قادیان کی مسجد 95
- جہنم سے مراد طاعون 95
- محدث سے مراد نبوت 95
- زرد کپڑے سے مراد بیماری 96
- آدم، احمد، موسیٰ، عیسیٰ، داؤد، مریم سے مراد مرزا قادیانی 98
- دجال سے مراد با اقبال قومیں 99
- فرعون اور ہامان سے مراد 99
- ہندو سے مراد 100
- موت کے معنی فتح 100
- بیوہ سے مراد 100
- دابۃ الارض سے مراد 101
- دجال کون؟ 104
- مجھ سے خدا تعالیٰ لکھواتا ہے 104
مرزا قادیانی کے سفید جھوٹ 105
- جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے؟ 109
- کتوں کا طریق 110
- جھوٹ بولنے سے بدتر! 110
- جھوٹ بولنے والا کتوں، سوروں اور بندروں سے بدتر 110
- جھوٹ کی نجاست 110
- جھوٹ بولنے والا مرتد 111
- جھوٹ بولنے والا کنجر اور ولدالزنا 111
- لعنت ہے مفتری پر 111
- جھوٹ تمام گناہوں کی ماں 111
- جھوٹے پر قیامت تک لعنت 111
- جھوٹے کی زندگی...... لعنتی زندگی 112
- جھوٹ بولنا، مردار خوروں کا کام 112
- جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا برابر 112
- اہم نکات 112
- قرآن مجید میں طاعون کا ذکر 113
- قرآن مجید میں قادیان کا ذکر 114
- نبیوں کی بشارت اور خواہش 114
- دنیا کی عمر سات ہزار برس 115
- قیامت کب آئے گی؟ 115
- بخاری شریف میں 115
- سیاہ رنگ کا نبی 116
- قرآن میں مثیل ابن مریم 117
- احادیث میں مثیل ابن مریم 117
- مسیح موعود اور اس کی توہین 117
- انبیاء گذشتہ کے کشوف 118
- اولیائے گذشتہ کے کشوف 118
- چودھویں صدی کا مجدد 118
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین 119
- کرشن نبی، رُدّر گوپال، آریوں کا بادشاہ 120
- کتاب سوانح یوسف آز 120
- میرا کوئی استاد نہیں 121
- انبیائے کرام اور زرد چادر کی تعبیر 122
- ھٰذا خليفة المهدى 122
- میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا 123
- اگر میں جھوٹا ہوں تو پھر اسلام بھی جھوٹا ہے 123
- نبیوں کی توہین کرنے والا خبیث، شیطان اور پلید ہے 124
مرزا قادیانی کی تضاد بیانیاں 125
- ہم اللہ تعالیٰ کے بغیر بلائے نہیں بولتے 127
- میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی روح بولتی ہے 128
- دو متضاد اعتقاد 128
- جھوٹا 128
- مخبوط الحواس انسان 128
- دو متناقض باتیں 129
- پاگل، مجنوں یا منافق 129
- اہم نکات 129
- خدا تعالیٰ کا قانون قدرت 130
- مسیح کی قبر 130
- دو بکریاں 131
- مولوی عبدالطیف قادیانی اور عبدالرحمان قادیانی 131
- مرزا احمد بیگ اور اس کا داماد 132
- میرا نام غازی ہے 132
- غازی نام رکھنا رسول کریم ﷺ کی نافرمانی ہے 132
- اندھے کو اندھا کہنا بھی دل دکھانا ہے 133
- اندھے کو اندھا کہنا درست ہے 133
- مسیح موعود کی پیش گوئی اجماع امت ہے 134
- مسیح موعود کی پیش گوئی اجماع امت نہیں ہے 134
- پرندوں کا اڑنا قرآن سے ثابت ہے 134
- پرندوں کا اڑنا قرآن سے ثابت نہیں ہے 135
- مسیح موعود؟ 135
- مسیح موعود 135
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی ہیں 136
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی نہیں ہیں 136
- دابۃ الارض سے مراد طاعون 136
- دابۃ الارض سے مراد علماء سو 137
- آسمان سے 137
- آسمان سے نہیں 137
- سرسید...... ایک منکر 138
- سرسید...... دانا اور مردم شناس 138
- سرسید...... فراڈیا اور دھوکے باز 138
- سرسید...... قدر مرداں بعد از مُردن 139
- طاعون کی خواہش 140
- طاعون سے پناہ 140
- کبھی گالی کا جواب نہیں دیا 140
- گالی جوابی طور پر ہے 140
- میری دادیاں سادات میں سے تھیں 141
- میری دادیاں مغلیہ خاندان سے تھیں 141
- اللہ تعالیٰ سے التجا 142
- انگریز سے التجا 142
- انگریزی نہیں آتی 142
- انگریزی پڑھی تھی 143
- میرے کئی استاد تھے 143
- میرا کوئی استاد نہیں 144
- انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا 145
- اور احتلام ہو گیا......! 146
- الہام اپنی زبان میں 146
- الہام دوسری زبانوں میں 146
- الہامی کتابوں میں تبدیلی نہیں ہوئی 146
- الہامی کتابیں تبدیل ہو چکی ہیں 147
- حضرت مسیح متواضع، حلیم اور عاجز 147
- حضرت مسیح شرابی، کبابی 148
- لُد ایک گاؤں 148
- لُد، بے جا جھگڑے کرنے والے 148
باپ سچا یا بیٹا؟ 151
- تائید الٰہی سے لکھے گئے رسائل 153
- نبی کریم ﷺ کے والد محترم (مرزا قادیانی کی تحریر) 154
- مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف 155
- معجزہ شق القمر (مرزا قادیانی کی تحریر) 155
- مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف 156
- اسمہ احمد سے مراد (مرزا قادیانی کی تحریر) 156
- مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف 157
- نبی دوسرے نبی کا مطیع (مرزا قادیانی کی تحریر) 157
- مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف 158
- نبی کے لیے شرط (مرزا قادیانی کی تحریر) 158
- مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف 158
- حضرت مسیح صلیب پر (مرزا قادیانی کی تحریر) 159
- مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف 159
- کرمہائے تو مارا کرد گستاخ (مرزا قادیانی کی تحریر) 160
- مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف 160
- مسیح موعود صرف مسلمان ہو گا یا نبی بھی (مرزا قادیانی کی تحریر) 160
- مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف 160
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی (مرزا قادیانی کی تحریر) 161
- مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف 161
- باپ جھوٹا 161
- بیٹا مردود 162
قادیانی تحریفات
- میں قرآن کی تفسیر تیار کروں گا 166
- ملحد اور کافر کون؟ 166
- سخت شریر، بدمعاش اور گنڈا؟؟؟ 167
- دجال کون؟ 167
- اللہ تعالیٰ مجھے غلطی پر ایک لمحہ بھی باقی نہیں رہنے دیتا 167
- روح القدس کی قدسیت ہر وقت ملہم کے تمام قوی میں کام کرتی رہتی ہے 167
- میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے 168
- جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں، وہ بلائے نہیں بولتے 168
- میں قرآن کو دوبارہ واپس لاؤں گا 168
- عیسیٰ لدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا 169
- اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے صحیح معنی مجھ پر ظاہر کیے 169
- اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے 169
- مسیلمہ کذاب کی تحریف قرآن 170
- مسیلمہ کذاب کی تحریف شدہ آیات 170
- قرآن مجید کی لفظی تحریف
(اصل قرآنی آیات اور مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیات) 171
- قرآن مجید کی معنوی تحریف 178
- تحریف منصبی 181
- تحریف حدیث 186
- اگر تجھے پیدا نہ کرتا...... 187
- کلمہ طیبہ اور درود شریف میں تحریف 187
- مسلمانوں کا کلمہ 187
- قادیانیوں کا کلمہ 187
- مسلمانوں کا درود شریف 188
- قادیانی امت کا درود 188
- مرزا قادیانی پر درود و سلام 189
- مرزا قادیانی پر درود و سلام کے اعتراض کا قادیانی جواب 190
- حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تحریر میں تحریف 191
- شیخ سعدیؒ کے کلام سے سرقہ 192
- مرزا قادیانی کی اپنی تحریروں میں تحریف 194
- قرآن مجید میں تحریف کرنے والا ملحد، بے ایمان، یہودی، سور اور بندر 198
قرآن مجید میں تبدیلی کرنے والا ملحد اور کافر ہے 199
- کتابت کی غلطیاں 199
مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں 205
(جو پوری نہ ہو سکیں)
- صدق یا کذب جانچنے کا معیار 207
- اگر ایک بھی پیش گوئی جھوٹی نکلی 208
- تمام رسوائیوں سے بڑھ کر 208
- مدعی کاذب کی پیش گوئی 208
- نبیوں کی پیشگوئیاں ٹلتی نہیں 208
- توریت اور قرآن میں نبوت کا ثبوت 209
- اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے 209
- پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہوگا! 209
- غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں 209
- کاذب کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی 210
- اہم نکات 210
- پہلی پیش گوئی 211
- خواتین مبارکہ 211
- دوسری پیش گوئی 213
- موت مکہ میں ہوگی یا مدینہ میں 213
- تیسری پیش گوئی 215
- مرزا قادیانی کی عمر 215
- چوتھی پیش گوئی 219
- 9 نام والا لڑکا 219
- ساڑھے تین ماہ بعد ”الہام“...... لڑکے کے دو نام 220
- اسی دن پھر ”الہام“...... لڑکے کے چار نام 221
- گیارہ دن بعد پھر الہام...... لڑکے کے 9 نام 222
- 27 دن بعد لڑکے کے بجائے لڑکی پیدا ہوئی 222
- پانچویں پیش گوئی 223
- ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی 223
- میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی میری نسبت پیشگوئی 227
- تمام جماعت احمدیہ کے لیے اعلان 229
- راست باز کون 231
- چھٹی پیش گوئی 233
- عبداللہ آتھم 233
- ساتویں پیش گوئی 241
- بکر و ثیب (کنواری یا بیوہ) 241
- آٹھویں پیش گوئی 245
- چاند و سورج گرہن 245
- گرہنوں کا پہلا اجتماع 269
- گرہنوں کا دوسرا اجتماع 270
- گرہنوں کا تیسرا اجتماع 270
- صالح بن طریف برغواطی 272
- ابو منصور عیسیٰ 272
- علی محمد باب 273
- مرزا قادیانی 273
- نویں پیش گوئی 274
- مولانا ثناء اللہ امرتسری کی موت 274
- ”مولوی ثناء اللہ صاحب کا قادیان آنا. 280
- مولوی ثناء اللہ کے رقعہ کا جواب 281
- مولوی ثناء اللہ صاحب (امرتسری) کے ساتھ آخری فیصلہ 287
- دسویں پیش گوئی 294
- محمدی بیگم 294
- خانہ بربادی 317
قادیانیوں سے 30 انعامی سوالات 339
- (1) پہلا سوال...... جھوٹا کون؟؟؟ 341
- با ادب گذارش! 343
- قابل توجہ گورنمنٹ 344
- اپنی وحی پر یقین 350
- (2) دوسرا سوال...... قرآن نے میرا نام ابن مریم رکھا؟ 350
- (3) تیسرا سوال...... جہاد، خدا کے حکم سے بند؟ 352
- (4) چوتھا سوال...... بیوہ کا نام؟ 352
- (5) پانچواں سوال...... پچاس الماریاں؟ 353
- (6) چھٹا سوال...... قرآن شریف میں قادیان کا ذکر؟ 354
- (7) ساتواں سوال......مسلمانوں کی جاسوسی؟ 355
- ”قابل توجہ گورنمنٹ از طرف مہتمم کاروبار تجویز تعطیل جمعہ“ 356
- پر اسرار منی آرڈر 358
- (8) آٹھواں سوال......بخاری شریف میں؟ 359
- (9) نواں سوال......کنجریوں کی اولاد؟ 359
- ”اشتہار نصرتِ دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین“ 361
- (10) دسواں سوال......کئی لاکھ پیش گوئیاں؟ 364
- نشان اور معجزہ ایک ہی ہے 365
- (11) گیارہواں سوال......حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہودی استاد؟ 366
- (12) بارہواں سوال......شوخ و شنگ لڑکا؟ 367
- (13) تیرہواں سوال......گستاخِ رسول حرامی ہے؟ 367
- (14) چودھواں سوال......مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش؟ 369
- (15) پندرھواں سوال......مرزا قادیانی کی ایک فحش اور شرمناک تحریر؟ 371
- میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا 375
- (16) سولہواں سوال......آخری مجدد کون؟ 376
- (17) سترھواں سوال......خدا تعالیٰ کا الہام؟ 377
- (18) اٹھارھواں سوال......کمینے آدمی کی عادت؟ 377
- (19) انیسواں سوال......تھیٹر؟ 378
- (20) بیسواں سوال......پانچ اور پچاس کا قادیانی فرق؟ 379
- (21) اکیسواں سوال......نماز میں فارسی نظم؟ 381
- (22) بائیسواں سوال......بلا عنوان؟ 382
- (23) تئیسواں سوال...... مسیح موعود اور اس کی توہین؟ 382
- (24) چوبیسواں سوال...... اِدھر اُدھر؟ 383
- (25) پچیسواں سوال...... ٹینچی ٹینچی؟ 384
- (26) چھبیسواں سوال...... اسلام میں نیچی قومیں؟ 385
- (27) ستائیسواں سوال...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صلیب؟ 386
- (28) اٹھائیسواں سوال...... قادیانی کلمہ کی حقیقت؟ 387
- احمد سے مراد مرزا قادیانی 388
- (29) انتیسواں سوال...... اکھنڈ بھارت؟ 389
- (30) تیسواں سوال...... مرزا قادیانی کی تصویر؟ 391
عکسی شہادتیں 393
- مجھے ضرور پڑھیے!!! 395
- مناظرہ کی کتاب 395
- تبلیغ زبانی نہیں بلکہ تحریر پیش کرنی چاہیے 395
- غور و فکر کرنے کی نصیحت 395
- مسخ شدہ لوگوں کی علامت 396
- تعصب 396
۞ ۞ ۞
Saboot Hazir Han Volume 4 Contents
ترتیب عنوانات
- چیلنج
- انتساب
- توجہ فرمائیں 32
- فہرست ٹائٹل کتب 33
- قادیانی طلسم ہوشربا کی چند جھلکیاں شفیق مرزا 37
- تعبیر قلم محمد متین خالد 45
قادیانیت انگریز کا خود کاشتہ پودا 51
- REPORT OF MISSIONARY FATHERS 57
- مرزا قادیانی کا قلم...... حضرت علیؓ کی تلوار؟ 66
- ہمارے قلم رسول اللہ ﷺ کی تلواروں کے برابر ہیں 66
- خاندانی خدمات 67
- قدیم خیر خواہ خاندان 67
- والد کی خدمات 68
- میرا باپ، بھائی اور میں 69
- باپ بڑا یا بیٹا؟ 70
- قادیانی بزرگوں کا کارنامہ 70
- قدیم خدمت گزار 71
- بزرگوں سے زیادہ خدمات 71
- خود کاشتہ پودا 72
- ہم اور ہماری اولاد پر فرض 73
- کیریکٹر سرٹیفکیٹ 73
- ممانعت جہاد کی کتابیں، بے نظیر کارگزاری 77
- 20 سالہ بے نظیر خدمات 79
- لاجواب سروس 80
- شکر گزاری 81
- خدا تعالیٰ سے عہد 81
- پچاس الماریاں 82
- پچاس ہزار کتابیں، رسائل اور اشتہارات 83
- مجھے فخر ہے! 84
- 16 برس سے ...... حق واجب ٹھہرا لیا 84
- 19 برس سے ...... اپنا وقت بسر کیا 85
- 22 برس سے ...... اپنے ذمہ فرض کر رکھا ہے 85
- سلطنت برطانیہ ...... نعمت الہی، نعمت عظمیٰ 86
- گورنمنٹ برطانیہ ............ ابر رحمت 86
- سلطنت برطانیہ ............ باران رحمت 87
- انگریزی سلطنت، ایک رحمت اور برکت 88
- گورنمنٹ انگریزی کا زمانہ ...... روحانی اور جسمانی برکات کا مجموعہ 88
- برٹش گورنمنٹ میں آسمان، زمین سے نزدیک ہو گیا 88
- سرکار انگریزی پھل دار درخت کی طرح ہے 89
- راحت کا جام 89
- گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور اطاعت کا 60 سالہ درس 92
- اسلام کو دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت سے ملی 93
- حدیثوں سے انگریز سلطنت کی تعریف ثابت ہوتی ہے 93
- انگریزی گورنمنٹ بمقابلہ رومی گورنمنٹ 94
- رگ و ریشہ میں شکر گزاری 94
- خدا کی پسند 95
- سچی خیر خواہی 96
- سخت جاہل، نادان اور نالائق مسلمان 96
- گورنمنٹ کی وفاداری 97
- لعنت 98
- مرزا قادیانی، حرز سلطنت 98
- سلطنت برطانیہ ...... امن و راحت کی پناہ گاہ 99
- گورنمنٹ برطانیہ کے لیے پناہ اور تعویز 99
- حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ سے بڑھ کر 99
- اللہ کی قسم !!! 100
- اعتقاد اور یقین 100
- ملکہ وکٹوریہ کی حکومت کے سائے میں 101
- تلوار 101
- قادیانی تلوار 102
- ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض ہے جیسا کہ خدا کا 102
- خدا کا شکر 103
- سکون، نہ مکہ میں نہ مدینہ میں 103
- مکہ و مدینہ والے میرے لیے درندوں کی طرح ہیں 103
- مکہ معظمہ سے لندن بہتر! (نعوذ باللہ) 104
- مرزا قادیانی کو مسیح اور مہدی ماننے کا نتیجہ؟ 104
- قادیانی بیعت کی شرط 105
- قادیانی جماعت کے لیے ضروری نصیحت 106
- قادیانی اصول، ہدایتیں اور تعلیم 106
- قادیانی مذہب اور عقیدہ 107
- ہر قادیانی کا عقیدہ 107
- حق بات کو ظاہر کرنا فرض ہے 108
- ہمارا فرض ہے 109
- قادیانی جماعت...... انگریز کی وفادار جماعت 109
- انگریز کی نمک پروردہ جماعت 110
- مسلمانوں کی جاسوسی 110
- ”قابل توجہ گورنمنٹ از طرف مہتمم کاروبار تجویز تحصیل جمعہ 111
- پُر اسرار منی آرڈر 113
- سچا مخبر 114
- جمعہ کے خطبات میں انگریز کا شکریہ 115
- انگریز کے لیے چندہ 115
- تنگ ظرف لوگ 116
- طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو 117
- میرا مدعا 117
- قادیانی حکمت عملی؟؟؟ 118
- وہ نبی بھی کیسا نبی ہے؟ 119
- قادیانی عہد 120
- خون کا آخری قطرہ 121
- حرامی اور بدکار آدمی 121
- گورنمنٹ انگریزی کا رزق مقسوم 121
- بندوق کا جہاد؟ 122
- دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ 122
- میں سچ سچ کہتا ہوں 125
- میں ایک حکم لے کر آیا ہوں 126
- خلیفہ جو جنگ کا حکم نہ دے 126
- دین کے لیے لڑنا حرام ہے 127
- خدا تعالیٰ کا الہام؟ 127
- جہاد، خدا کے حکم سے بند 128
- جہاد ختم 129
- اسلام کے دو حصے 129
- اولی الامر سے مراد......... انگریز حکمران 129
- رسول دنیا میں مطیع ہو کر نہیں آتا 131
- نیا فرقہ 132
- فرقہ احمدیہ 132
- قادیانیت فرقہ جدیدہ 133
- برٹش گورنمنٹ کا وفادار اور جانثار فرقہ 133
- ایک نیا فرقہ 133
- مرزا قادیانی کی تعلیمات سے انسان کھسرا بن جاتا ہے 135
- با ادب گذارش! 135
- ملکہ معظمہ کا واسطہ 136
- ستارۂ قیصرہ 136
- اللہ کی روح میرے اندر بولتی ہے 148
- اے قیصرہ و ملکہ معظمہ ! 149
- مبارک ، مبارک ، مبارک !! 151
- مبارک ہو 152
- اے موحدہ صدیقہ، تجھے آسمان سے بھی مبارک باد 152
- مہربانی کے مینہ سے پرورش 154
- یا اللہ انگریزوں کے چہرے آخرت میں بھی نورانی اور منور فرما! 154
- خدا تعالیٰ برطانوی حکومت کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے! 155
- اللہ انگریز حکومت کو تکلیف (عذاب) میں نہ ڈالے گا 155
- یا اللہ! ملکہ معظمہ کے دل میں الہام کر 156
- ملکہ وکٹوریہ، مرزا قادیانی کے گھر میں 156
- انگریز فرشتہ 157
- انگریزی الہامات 157
- قلم کی طاقت کمزور ثابت ہوئی 158
- مرزا قادیانی کی تحریریں پڑھ کر شرم آتی ہے 159
- قادیانی حکومت کی پلاننگ 159
- گورنمنٹ کی پٹھو جماعت 160
- قادیانی جماعت ...... انگریزوں کی ایجنٹ 160
- مرزا قادیانی کی حفاظت 161
- قرآن سے دوسرے درجہ پر 162
- تائید الہی سے لکھے گئے رسائل 162
- میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی روح بولتی ہے 163
- خدا کا کلام 163
- خزائن مدفونہ 163
- شجاعت 164
- کوئی اندر سے تعلیم دیتا ہے 164
- علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت 168
- شیخ او لرد فرنگی را مرید 169
- آں ز ایراں بود و ایں ہندی نژاد 172
- کہ از تیغ و سپر بیگانہ ساز و مرد غازی را !! 173
- نبوت 175
- مہدی برحق 175
- امامت 175
- جہاد 176
- دریں غلامی 177
- آزاد قادیانی ریاست کا اعلان 178
- تصویریں بولتی ہیں! 180
- مرزا قادیانی کی تصویر 182
حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام 183
- حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور قرآن مجید 185
- اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اعتراض کرنا؟ 186
- کافر اور دہریہ کون؟ 186
- پہلی آیت 188
- دوسری آیت 191
- تیسری آیت 197
- مسیح صلیب پر چڑھایا گیا 199
- چوتھی آیت 202
- پانچویں آیت 205
- چھٹی آیت 206
- مرزا قادیانی کا موقف 207
- ساتویں آیت 212
- آٹھویں آیت 215
- نویں آیت 215
- دسویں آیت 216
- گیارہویں آیت 217
- بارہویں آیت 218
- تیرہویں آیت 219
- حیات عیسیٰ علیہ السلام اور احادیث مبارکہ 225
- پہلی حدیث 228
- دوسری حدیث 233
- تیسری حدیث 236
- چوتھی حدیث 237
- پانچویں حدیث 238
- چھٹی حدیث 242
- ساتویں حدیث 243
- آٹھویں حدیث 244
- نویں حدیث 245
- دسویں حدیث 247
- گیارہویں حدیث 248
- خبیث کون؟ 249
- بیس ہزار روپے تاوان! 250
- آسمان سے 250
- احادیث کے چھوڑنے سے 251
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی نشانیاں
(احادیث مبارکہ کی روشنی میں) 252
- حیات عیسیٰ علیہ السلام اور صحابہ کرام 259
- حیات عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع اُمت 264
- 13 صدیوں کے مجددین کی قادیانی فہرست 270
- اجماعی عقیدہ سے انکار باعث لعنت ہے 274
- اجماعی عقیدہ ماننا فرض ہے 274
- اجماعی عقیدے کا انکار کرنے والے پر اللہ کی لعنت 274
- اکابرین اسلام نے ہر زمانہ میں قرآن مجید کو تحریف معنوی سے محفوظ رکھا 274
- حیات عیسیٰ علیہ السلام ............ 13 سو برس سے 275
- پچھلی صدی کے بڑے بڑے بزرگوں اور اولیاء کا عقیدہ 276
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول کی حکمت 277
- اصلی مسیح اور نقلی مسیح: انجیل کیا کہتی ہے؟ 287
- دس ہزار سے زیادہ مسیح 292
- مرزا قادیانی کس کا مثیل؟ 292
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا قادیانی میں مشابہت؟؟؟ 295
- حضرت امام مہدی 299
- حضرت امام مہدی اور مرزا قادیانی میں مشابہت؟؟؟ 307
- میں مہدی نہیں ہوں...... مرزا قادیانی کا اعتراف 311
- مہدی کا وجود ایک فرضی وجود ہے 312
- میں کسی خونی مہدی کا قائل نہیں ہوں 312
- مہدی کے بارے میں تمام حدیثیں ناقابل اعتبار ہیں 313
- مہدی کفار سے جنگ کرے گا، یہ باتیں صحیح نہیں 313
- نہ میں جہاد کا قائل اور نہ ایسے مہدی کو ماننے والا 313
- میں وہ مہدی نہیں ہوں 314
- پہلے بھی مہدی آئے، ممکن ہے آئندہ بھی آئیں 314
- مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں 314
- خونی مہدی 315
- دجال 316
- دجال، مرزا قادیانی کی نظر میں 322
- حضور نبی کریم ﷺ کی توہین 322
- دجال کا گدھا اور ریل گاڑی 323
- دجال ....... پادریوں کا گروہ 323
- دجال ....... اس زمانے کے پادری 323
- دجال سے مراد جھوٹوں کا گروہ 323
- دجال ....... خدا کے کلام میں تحریف کرنے والا 324
- دجال سے مراد ....... با اقبال قومیں 324
- دجال سے مراد ....... عیسائیت کا بھوت 324
- پادری سب سے بڑے دجال 324
- دجال اکبر ....... پادریوں کا فتنہ 325
- دجال معہود ....... پادریوں کا گروہ 325
- دجال ....... شیطان کا اسم اعظم 326
- شیطان ....... دجال 326
- ناس سے مراد ....... دجال 326
- پرلے درجے کا جاہل 327
- دجال ایک جماعت ہے ....... منہم 327
- میری جماعت ....... منہم 327
- مرزا قادیانی کی دجالیت ....... حدیث میں تحریف 327
- اصل حدیث 329
- اعتراف 330
- دجال اور مرزا قادیانی میں مشابہت 331
حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانیت 337
- قرآن وحدیث کے مخالف اعتقاد رکھنے والا 339
- صدق وکذب آزمانے کے لیے ...... قرآن 340
- ہمارا مذہب 341
- حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے 341
- حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے 342
- حضرت مسیح آسمانوں پر جابیٹھے 342
- نزول مسیح کی پیش گوئی، قرآن مجید میں 343
- نزول مسیح کی پیش گوئی، انجیل میں 343
- مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اوّل درجہ کی پیشگوئی ہے 343
- مسیح موعود کے آنے کی خبر تواتر سے ہے 344
- حضرت مسیح کے آنے سے متعلقہ احادیث کا جھوٹ ہونا ناممکن ہے 344
- تواتر کیا ہے؟ 345
- متواترات سے انکار گویا اسلام کا انکار ہے 345
- وہ نبی آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے 345
- مسیح موعود کے بارے میں پیش گوئی ابتدا سے مسلمانوں کے رگ و
ریشہ میں داخل ہے 346
- تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ آنے والا شخص عیسیٰ بن مریم ہوگا 346
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے پر تمام صدیوں کے
بزرگوں کا عقیدہ تھا 347
- کمال تحقیق اور تدقیق 347
- منکرین اسلام کو لاجواب کرنے والی کتاب 348
- براہین احمدیہ: اثبات حقانیت قرآن و صداقت دین اسلام 348
- براہین احمدیہ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر لکھا 349
- جو شخص براہین احمدیہ میں درج دلائل کو توڑے، اسے دس ہزار
روپے انعام 349
- اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین ہے 349
- براہین احمدیہ: حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئی 350
- براہین احمدیہ: حضور نبی کریم ﷺ کا اظہار پسندیدگی 351
- براہین احمدیہ: تفسیر قرآن جسے حضرت علیؓ نے تالیف کیا 353
- براہین احمدیہ میں درج تمام دلائل قرآن مجید سے لیے گئے ہیں 353
- اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے صحیح معنی مجھ پر ظاہر کیے 354
- اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے 354
- ہم نے اس کتاب میں اپنے قیاس سے کوئی دلیل نہیں لکھی 355
- تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلائل پر مشتمل کتاب 355
- براہین احمدیہ کے فوائد 356
- مجھے اللہ تعالیٰ ہر ایک خطا سے محفوظ رکھتا ہے 356
- کبھی کسی کتاب میں قرآن و حدیث کے خلاف نہیں لکھا 356
- میں وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے 357
- ملہم کی زبان ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے 357
- خدا کی قسم مجھے قرآن کے حقائق و معارف ہر ایک شخص سے بڑھ
کر سمجھائے گئے ہیں 358
- خدا تعالیٰ سے الہام پانے والے بغیر بلائے نہیں بولتے 358
- روح القدس کی قدسیت ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی ہے 358
- میں علوم لدنیہ و آیات سماویہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجدد ہوں 358
- مجدد ان نعمتوں کا وارث ہوتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں 359
- میں از خود کوئی کام نہیں کرتا 359
- مجھے اندر سے تعلیم ملتی ہے 360
- مجھ سے لغزش ہو جائے تو رحمت الٰہی جلد اس کا تدارک کر لیتی ہے 360
- اقرار کے بعد انکار 360
- اہم نکات 361
- براہین احمدیہ: بڑی تحقیقات کے بعد تالیف کی گئی 366
- خدا کا رسول 367
- مرزا قادیانی کی قلابازیاں 369
- الہام: مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے 369
- قرآن میں وفات مسیح 370
- وفات مسیح پر 3 آیتیں 371
- وفات مسیح پر 30 آیتیں 371
- صحیح بخاری میں 372
- اب وفات مسیح کا مسئلہ 374
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر؟؟؟ 375
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے وطن گلیل میں فوت ہوئے 375
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلاد شام میں موجود ہے 375
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر یروشلم میں ہے 376
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ہے 377
- مرزا قادیانی: مثیل مسیح موعود ہونے کا دعویٰ 379
- مثیل مسیح کے دعویٰ میں کیا حرج ہے؟ 380
- کم فہم لوگ مجھے مسیح موعود سمجھتے ہیں، وہ کذاب ہیں 380
- فقط مثیل مسیح 381
- میرے جیسے دس ہزار مثیل مسیح 381
- قرآن مجید میں مسیح موعود سے مراد مثیل مسیح 381
- مرزا قادیانی: مسیح موعود بننے کی تیاریاں 384
- تم مسیحا بنو خدا کے لیے 384
- مخالفت کا شور 384
- بار بار الہام کی بنا پر مسیح موعود ہونے کا اعلان 385
- ’’میں مسیح موعود ہوں‘‘...... مرزا قادیانی کا دعویٰ 386
- میں مسیح موعود ہوں 386
- میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے 386
- میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں 387
- خدا نے مجھے مسیح موعود بنا کر بھیجا 387
- خدا نے مجھے مسیح ابن مریم بنایا 388
- خدا نے وعدہ کے مطابق اپنے مسیح موعود کو پیدا کیا 388
- قرآن مجید کی آیت کی رو سے...... 388
- نبی مار نبی! 388
- کیا مرزا قادیانی مسیح موعود ہے؟؟؟ 389
- مرزا قادیانی عیسیٰ ابن مریم کیسے بنا؟ 403
- اللہ کا بچہ 403
- اللہ مرد، مرزا عورت؟ 404
- خدا سے نہانی تعلق 404
- حاملہ 404
- مرزا قادیانی کو دروزہ 405
- مرزا قادیانی عیسیٰ ابن مریم کیسے بنا؟ 405
- بغیر باپ کے 406
- عیسیٰ علیہ السلام کی مانند ............. جو قریش میں سے نہ ہو 407
- عیسیٰ علیہ السلام کی مانند ............. جو قریش میں سے ہو 407
- المسیح الدجال کی حقیقت 408
- ہندوؤں کا اصول 409
- ”سلطان القلم“ کا دعویٰ 409
- مرزا غلام احمد قادیانی ...... ابن غلام مرتضیٰ یا ابن مریم؟؟؟ 410
- میرا نام غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ ہے 410
- میں مسیح ابن مریم نہیں ہوں 410
- مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں 410
- خدا نے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا 411
- خدا نے مجھے مسیح ابن مریم بنایا 411
- میں جھوٹا ہوں 411
- ابن مریم سے اصل ہی کا آنا ثابت ہوتا ہے 412
- مسلمانوں کا اتفاق کہ آنے والا عیسیٰ ابن مریم ہوگا 412
- احادیث کے چھوڑنے سے 412
- قادیانی تاویلات 413
- مریم اور عیسیٰ سے مراد مرزا قادیانی 414
- دمشق سے مراد قادیان 414
- قادیان میں یزیدی لوگ 415
- انا انزلنہ قریباً من القادیان کی انوکھی تفسیر 415
- منارہ 415
- منارۃ المسیح کے لیے چندہ 416
- اور حدیث پوری ہوگئی 417
- صحیح مسلم کی حدیث 417
- زرد رنگ کی چادریں یا بیماریاں 418
- مقام لد کہاں ہے؟ 418
- لد سے مراد لدھیانہ 418
- یاجوج و ماجوج 419
- رفع ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام ...... مرزا قادیانی کی اہم تشریحات 421
- خدا کا مسیح سے وعدہ 421
- قرآن شریف صاف کہتا ہے 421
- اپنی طرف اٹھاؤں گا 422
- تجھ کو پوری نعمت دوں گا 422
- تجھے کامل اجر بخشوں گا 423
- میں تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچاؤں گا 423
- عیسیٰ پیدا ہوگیا 424
- میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا نمونہ ہوں 424
- اللہ نے حضرت عیسیٰ کو زندہ کر کے اپنے پاس آسمان پر بلا لیا 425
- معراج کی رات نبی کریم ﷺ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات 425
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھوڑی سی عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے 425
- روح اور جسم لازم وملزوم ہیں 426
- حضرت عیسیٰ کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی 426
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا احادیث صحیحہ کے عین مطابق ہے 426
- آسمان سے 427
- مسیح آسمان سے نازل ہوگا 427
- مرزا قادیانی نے عقیدہ بدل لیا 429
- میرا بھی یہی اعتقاد تھا جو مسلمانوں کا تھا لیکن ...... 429
- میں نے براہین احمدیہ میں غلط عقیدہ اپنی رائے کے طور پر لکھ دیا تھا 430
- حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ، سرسری پیروی کی وجہ سے 430
- حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام کا رسمی عقیدہ 431
- خدا نے مجھے بار بار سمجھایا کہ عیسیٰ فوت ہو گیا ہے 432
- قرآن کے مخالف الہام 432
- قرآنی عقیدہ الہاموں نے چھڑا دیا 433
- خاص الہام 433
- شیطانی الہامات کا ہونا حق ہے 434
- متناقض باتوں کو براہین احمدیہ میں جمع کر دیا 434
- خبط الحواس انسان 434
- میں بارہ برس تک غافل رہا 435
- اس وحی کو سمجھ نہ سکا جو مجھے مسیح موعود بناتی ہے 435
- میں نے اپنا عقیدہ 10 سال تک چھپائے رکھا 436
- کمینہ کون؟ 436
- جھوٹ بولنا، کتوں کا طریقہ 437
- انکار کی نجاست 437
- خنزیر سے زیادہ پلید جو حق کی گواہی چھپائے 437
- مرزا قادیانی کا استدراج 437
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ 438
- پہلے مسیح سے بڑھ کر 438
- پیٹ میں باتیں 438
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت 438
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین 440
- نعوذ باللہ 442
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام گالیاں دیتے تھے 442
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انجیل چرا کر لکھی 443
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ نہیں 443
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کی حقیقت 443
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مکر و فریب 444
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کیڑے مکوڑے 444
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیاں 444
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیتے تھے 444
- شراب کی تخم ریزی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کی 445
- شراب اور افیون 445
- شراب اور خدائی کا دعویٰ 445
- مسیح کا چال چلن 446
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کنجریاں 446
- شراب اور فاحشہ عورتیں 447
- کاش ایسا شخص دنیا میں نہ آیا ہوتا! 448
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سؤروں کا شکار 449
- کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی سؤر بھی کھایا تھا؟ 449
- اخلاقی تعلیم؟ 449
- دماغ میں خلل 450
- دیوانہ 450
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک شرمناک بہتان 450
- میں نے جو کچھ لکھا، وہ یہودیوں کے الفاظ ہیں 451
- حضرت مریم علیہا السلام کی توہین 452
- حضرت مریم علیہا السلام کی صدیقیت؟؟؟ 453
- حضرت مریم کی اولاد؟ 453
- حضرت مریم علیہا السلام کا دوسرا نکاح؟ 454
- حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب سے نکاح سے پہلے تعلق 454
- نکاح سے دو ماہ بعد (نعوذ باللہ) 454
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سچا سفیر 455
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایلچی 455
- کنجر اور ولد الزنا بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں 456
- جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے 456
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت کا دعویٰ 457
- میری زندگی کو مسیح ابن مریم کی زندگی سے اشد مشابہت ہے 457
- میرے اندر یسوع مسیح کی روح ہے 457
- میں عیسیٰ مسیح کے اخلاق کے ساتھ ہم رنگ ہوں 457
- مجھے ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہہ دی گئی ہے 458
- مجھے مسیح ابن مریم کا جامہ پہنایا گیا ہے 458
- مجھے حضرت مسیح کی روحانی شکل، خو اور طبیعت پر بھیجا گیا ہے 458
- میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پہلی زندگی کا نمونہ ہوں 458
- میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں بھائی ہیں 459
- نزول عیسیٰ علیہ السلام کا علم 461
- نبی کریمﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت نہ کھلی 461
- اللہ تعالیٰ نے نزول عیسیٰ کا واقعہ صحابہ کرام سے چھپائے رکھا 462
- صحابہ کرام اور تابعین نزول عیسیٰ پر مجمل ایمان رکھتے تھے 462
- اللہ تعالیٰ نے نزول عیسیٰ کی حقیقت مجھ پر منکشف کی 462
- حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ مرزا قادیانی کی نظر میں 464
- پہلا موقف 464
- نزول مسیح کا عقیدہ ایمانیات میں نہیں ہے 464
- نزول مسیح کا عقیدہ کوئی اہم امر نہیں 465
- نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ پر کوئی گناہ نہیں 465
- حیات و وفات مسیح علیہ السلام ایک ادنیٰ سی بات ہے 466
- دوسرا موقف 467
- حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ شرک عظیم ہے 467
- حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ گپ ہے 467
- نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قائل مسلمان گمراہ ہیں 468
- حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ گمراہی ہے 468
- حیات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل کافر ہے 468
- نزول عیسیٰ علیہ السلام میں عیسائیوں کا فائدہ ہے 469
- عقیدہ حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام جھوٹا ہے 469
- اسلام کی زندگی اور موت 469
- اعتراف 469
- پیش گوئیاں مسیح موعود 471
- مسیح موعود شادی کرے گا 471
- نامرد 473
- صحبت کے وقت 473
- حالت مردی کالعدم 473
- قادیانی ویاگرا 474
- مسیح موعود حج کرے گا 475
- مسیح موعود نبی کریمؐ کی قبر میں دفن ہوگا 475
- تاویل کے بارے میں مرزا قادیانی کا فیصلہ 476
- مرزا قادیانی اور حج 477
- مسیح موعود کا فرض؟ 478
- ہمارا حج 479
- میں ابھی فارغ نہیں 480
- پہلے میری بیعت کریں! 480
- پہلا فرض تبلیغ ہے، حج نہیں 481
- حج نہیں کیا ..... گھر کی گواہی 482
- آمدن 482
- ہم بزدل نہیں ہیں 483
- اے مرزا، تو خدا کا پہلوان ہے 484
- اے مرزا، تو مت ڈر 484
- خدا تجھے بچائے گا 484
- ہم تیرے محافظ رہیں گے 484
- دجال مکہ مدینہ میں داخل نہ ہوگا 485
- حیات عیسیٰ علیہ السلام پر ایک زبردست دلیل 486
- حضرت موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں 486
- دودھ دینے والا بکرا 489
- قانون قدرت 490
- چولہ آسمان سے نازل ہوا 491
- گورونانک کے چولہ کی فرضی تصویر 492
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات 492
- بلا عنوان 493
- دہریہ اور فلسفی لوگ 494
- فرقہ ضالہ نیچریہ 494
حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قادیانی اعتراضات اور اُن کے جوابات 495
- قادیانی اعتراض نمبر 1 498
- قادیانی اعتراض نمبر 2 501
- قادیانی اعتراض نمبر 3 503
- قادیانی اعتراض نمبر 4 504
- قادیانی اعتراض نمبر 5 504
- قادیانی اعتراض نمبر 6 505
- قادیانی اعتراض نمبر 7 505
- قادیانی اعتراض نمبر 8 507
- قادیانی اعتراض نمبر 9 509
- قادیانی اعتراض نمبر 10 510
- قادیانی اعتراض نمبر 11 510
- قادیانی اعتراض نمبر 12 514
- قادیانی اعتراض نمبر 13 515
- قادیانی اعتراض نمبر 14 517
- قادیانی اعتراض نمبر 15 518
- قادیانی اعتراض نمبر 16 519
- قادیانی اعتراض نمبر 17 519
- قادیانی اعتراض نمبر 18 524
- قادیانی اعتراض نمبر 19 526
- قادیانی اعتراض نمبر 20 527
- قادیانی اعتراض نمبر 21 529
- قادیانی اعتراض نمبر 22 530
- قادیانی اعتراض نمبر 23 532
- قادیانی اعتراض نمبر 24 534
- قادیانی اعتراض نمبر 25 535
- قادیانی اعتراض نمبر 26 536
- قادیانی اعتراض نمبر 27 538
- قادیانی اعتراض نمبر 28 542
- قادیانی اعتراض نمبر 29 544
- قادیانی اعتراض نمبر 30 547
- قادیانی اعتراض نمبر 31 547
حق کے متلاشی قادیانیوں سے ایک 549
دردمندانہ درخواست
عکسی شہادتیں 599
- مجھے ضرور پڑھیے!!! 601
- مناظرہ کی کتاب 601
- زبانی تبلیغ نہیں بلکہ تحریر پیش کرنی چاہیے 601
- غور و فکر کرنے کی نصیحت 601
- مسخ شدہ لوگوں کی علامت 602
- تعصب 602