قادیانیوں کے
صد سالہ جشن پر پابندی جائزے
انصاف کے ایوانوں میں جھوٹی نبوت کی ذلت و رسوائی
لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ
محترم جسٹس خلیل الرحمن خاں صاحب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ
حضوری باغ روڈ ملتان ☎ 40978
قادیانی اسلام اور ملک
دونوں کے غدار ہیں !
علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حدیث دل
الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ۔ اما بعد اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں قادیانیت کا فتنہ ایک ایسا فتنہ ہے جسے اسلام و اہل اسلام کے لئے بلاشبہ خطرناک‘ مہلک اور بدترین قرار دیا جاسکتا ہے۔
اس فتنہ کے بانی‘ فتان اعظم مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی نے ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ (بھارت) میں اس فتنہ کی بنیاد رکھی۔ چنانچہ اس فتنہ کے سو سال پورے ہونے پر قادیانی ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کو ”صد سالہ جشن“ منانا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے اپنے پاکستانی مرکز ربوہ میں یہ انتظام کیا کہ
- ۱۔ پورے ربوہ اور گرد و نواح کی پہاڑیوں اور عمارتوں پر چراغاں کے لئے لائٹ اینڈ ڈیکوریشن
پارٹیوں سے گوجرانوالہ‘ سرگودھا‘ فیصل آباد‘ راولپنڈی اور جھنگ وغیرہ سے سامان کرایہ پر لینے کے لئے معاہدے کئے‘ ہزاروں روپیہ ایڈوانس دیا اور اسٹام پر تحریریں حاصل کیں۔
- ۲۔ بجلی بند ہونے کی صورت میں وسیع پیمانہ پر جنریٹروں کا انتظام کیا۔
- ۳۔ مٹی کے ”دیئے“ کئی ٹرکوں پر منگوائے جو سرسوں کے تیل سے جلانے تھے۔
- ۴۔ ربوہ میں سو گھوڑے‘ سو ہاتھی اور سو ملکوں کے جھنڈے لہرانے کا انتظام کیا۔
- ۵۔ اس موقعہ پر ربوہ میں عورتوں اور مردوں کے لئے فوجی وردی تیار کی گئی جسے پہن کر
انہیں عسکری طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔
- ۶۔ اس کے علاوہ تقسیم مٹھائی‘ جشن‘ جلسے اور تقریبات وغیرہ کے دیگر لوازمات کا اہتمام کیا۔
غرض اس طرح وہ اپنے کفر کی تبلیغ کے لئے سرگرم عمل تھے۔ اور تماشہ دیکھئے کہ جھوٹے کے جھوٹ کے سو سال مکمل ہونے پر ”صد سالہ جشن“ اور وہ بھی آئین و قانون کی خلاف ورزی اور مسلمانوں کے لئے اشتعال کا باعث۔
قادیانی جماعت کی اس تیاری پر اسلامیان پاکستان کو تشویش لاحق ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فوری طور پر اپنی مرکزی ورکنگ کمیٹی کا دفتر مرکزیہ ملتان میں ۱۲ مارچ ۱۹۸۹ء کو اجلاس طلب کیا۔ اور اس تشویشناک صورتحال پر غور کر کے اہم فیصلے کئے۔
- ۱۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور‘ راولپنڈی‘ کراچی‘ ملتان‘ روزنامہ جنگ‘ لاہور‘ کراچی‘
راولپنڈی‘ کوئٹہ کے تمام ایڈیشنوں میں آخری صفحہ پر ہزاروں روپیہ کی لاگت سے اشتہار دیا۔
جس میں جشن پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ اور پابندی نہ لگنے کی صورت میں ۲۳ مارچ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ پر ”آل پاکستان ختم نبوت ریلی“ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔
- ۲۔ ۱۷ مارچ ۱۹۸۹ء کو پورے ملک کے تمام مکاتب فکر نے یوم احتجاج منایا۔
- ۳۔ ۱۲ مارچ کو ملتان، ۱۸ مارچ کو بہاولنگر، ۱۹ مارچ بھلوال جہلم میں عظیم الشان احتجاجی
کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ ربوہ میں مشترکہ جمعہ اور سرگودھا، جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب اپنے رفقاء کی ٹیم لیکر پورے پنجاب میں سرگرم عمل ہوگئے۔
- ۴۔ ۱۸ مارچ کو سرگودھا میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی کی
قیادت میں مسلمانان سرگودھا نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں تمام دینی جماعتوں اور شبان ختم نبوت نے بھرپور حصہ لیکر نمایاں کردار ادا کیا۔
- ۵۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا اور چنیوٹ نے ۲۳ مارچ کو سرگودھا، چنیوٹ سے ربوہ
کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا۔
- ۶۔ پورے ملک کے اخبارات میں احتجاجی بیانات اور غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ اس سلسلہ
میں مولانا فقیر محمد صاحب سیکرٹری اطلاعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد نے بھرپور اور موثر کردار ادا کیا۔ یوں پورے ملک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنان و رہنما سراپا احتجاج بن گئے۔
- ۷۔ پورے ملک سے وفود اور قافلے ”جشن“ بند نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کے لئے
ربوہ پہنچنے کی تیاری کرنے لگے۔
- ۸۔ مولانا زاہد الراشدی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان
نے گوجرانوالہ کی لائٹ اینڈ ڈیکوریشن کی پارٹیوں سے ملاقات کی اور مرزائیوں کے خود ساختہ جشن پر چراغاں کا سامان سپلائی نہ کرنے کا وعدہ لیا اور تمام مکاتب فکر کی طرف سے ایک مشترکہ فتویٰ مرتب کیا کہ مرزائیوں کے جشن پر مسلمانوں کا سامان چراغاں مہیا کرنا تعاون علی الاثم کے باعث قطعاً حرام اور ناجائز ہے۔ مولانا کی اخلاص بھری کاوش سے گوجرانوالہ کی لائٹ اینڈ ڈیکوریشن کی پارٹیوں نے نہ صرف سامان دینے کے معاہدے منسوخ کئے۔ بلکہ ایک وفد مرتب کیا اور تمام ایسے شہر جہاں سے مرزائیوں نے سامان کی بکنگ کا معاہدہ کیا تھا، کا دورہ کر کے تمام مسلمان پارٹیوں کو سامان دینے سے روکا۔ جس پر انہوں نے اپنی دینی حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرزائیوں کو کورا جواب دے دیا۔
- ۹۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی ان دنوں پنجاب اسمبلی کے ممبر تھے۔ انہوں نے اسمبلی میں آواز
بلند کی۔
مرزائیوں نے یہ صورتحال دیکھ کر ربوہ میں جشن کے انتظامات کے علاوہ بھارتی سرحد کے قریب جلو موڑ سے تقریباً تین کلومیٹر آگے ”باہنڈو“ نامی گاؤں میں وسیع قطعہ اراضی لیکر اس پر بلڈوزر اور کرینیں لگا کر پنڈال بنایا۔ ٹیوب ویل بور کئے پانی کے پائپ بچھائے اور متبادل انتظام کی مکمل تیاری کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیر الحاج بلند اختر نظامی کو ایک خط کے ذریعہ اس کی اطلاع ہوئی۔ مرزائیوں کی اس سازش پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان محمد صاحب نے اخبارات کو بیان جاری کیا جو روزنامہ جنگ لاہور کے صفحہ اول پر مورخہ ۱۷ مارچ ۱۹۸۹ء کو شائع ہوا۔ عالمی مجلس نے لاہور کے کمشنر‘ ڈی سی اور ہوم سیکرٹری پنجاب کو ٹیلی گرام دیئے۔ یوں قادیانی کفر نے مسلمانوں کو الجھانے کے لئے ربوہ کے علاوہ دوسرا محاذ بھی کھول دیا۔
لاہور کے قریب اس سازش کی اخبارات میں خبر آتے ہی مولانا عبدالتواب صدیقی نے باغبانپورہ سے داروغہ والا تک ۲۲ مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔
جمیعۃ علماء اسلام کے نائب امیر محترم مولانا قاری محمد اجمل خاں‘ مولانا محمد اجمل قادری اور جامع مسجد وزیر خاں لاہور کے خطیب مولانا خلیل احمد قادری سرگرم عمل ہو گئے۔ قائد جمیعۃ مولانا فضل الرحمن صاحب نے وفاقی حکومت کی سربراہ بے نظیر بھٹو کو اس طرف متوجہ کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ اعتزاز احسن‘ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار بہادر خان اسے صوبائی مسئلہ کہہ کر فارغ ہو گئے۔
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے ۲۰ مارچ کو اسلام آباد میں مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس جامع مسجد دارالسلام میں طلب کر لیا۔ اسلام آباد میں عالمی مجلس کے مبلغ مولانا عبدالرؤف‘ مولانا قاری محمد امین‘ مولانا محمد رمضان علویؒ اور مولانا محمد عبداللہ اراکین شوریٰ شب و روز ایک کر کے اسے کامیاب بنانے پر لگ گئے۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خاں کے جانشین مولانا قاضی احسان الحق صاحب نے اپنی راجہ بازار کی جامع مسجد میں ۲۰ مارچ کو ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔
۱۸ مارچ کی شام کو ڈی۔ سی اور ایس۔ پی جھنگ ربوہ گئے۔ جہاں عالمی مجلس کے راہنما مولانا محمد اشرف ہمدانی‘ صاحبزادہ طارق محمود‘ مولانا فقیر محمد اور مولانا خدا بخش نے ان سے ملاقات کر کے سارے ملک کی صورتحال سے ان کو باخبر کیا۔ صوبائی حکومت عالمی مجلس‘ مرکزی مجلس عمل‘ اسلامیان پاکستان اور تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو دیکھ
رہی تھی۔ ۲۰ مارچ کو اسلام آباد میں مجلس عمل کا اجلاس منعقد ہوا۔ اسلام آباد راولپنڈی کے تمام علماء کرام، جماعت اسلامی، جمعیۃ علماء اسلام، جمعیۃ اہل حدیث، جمعیۃ علماء پاکستان اور منہاج القرآن غرضیکہ تمام مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے پچاس نمائندگان نے شرکت کی۔ مولانا سید چراغ الدین نے مولانا سمیع الحق صاحب سے ہسپتال جاکر ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ میری عیادت کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب جناب محمد نواز شریف آرہے ہیں۔ ان سے میں دو ٹوک بات کروں گا۔ وفاقی وزارت داخلہ و مذہبی امور کے نمائندگان عجیب ذہنی کیفیت اور دوغلی پالیسی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
مجلس عمل کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ مولانا زاہد الراشدی۔ آئی۔ جے۔ آئی کی جماعت کا وفد لیکر ہوم سیکرٹری پنجاب کو ملیں۔ اتحاد العلماء کے مولانا محمد عبدالمالک نے حضرت امیر مرکزیہ کے نام قاضی حسین احمد صاحب کا پیغام پہنچایا کہ اس جدوجہد میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہی پیغام ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے ان کے نمائندے لائے۔
صوبائی حکومت آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل کی کارروائی سے لمحہ بہ لمحہ آگاہی حاصل کر رہی تھی۔ پورے صوبہ کی صورت حال ان کے سامنے تھی۔ مجلس عمل کا یہ فیصلہ کہ اگر مرزائی جشن بند نہ ہوا تو ۲۳ مارچ کو پورے ملک کا رخ ربوہ کی طرف ہو گا۔ اس فیصلہ کی اطلاع ملتے ہی لاہور میں ہوم سیکرٹری نے مجلس عمل کے نمائندگان کو بلایا۔ اور اسی وقت ۲۰ مارچ کو ڈی۔ سی اور ایس۔ پی جھنگ، ربوہ گئے۔ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا محمد اشرف ہمدانی، صاحبزادہ طارق محمود اور مولانا فقیر محمد، ربوہ اور چنیوٹ کے رفقاء سمیت ان افسران سے ملے اور پنجاب حکومت کی ہدایت پر ڈی۔ سی جھنگ نے قادیانی جشن پر مکمل پابندی کا اعلان کر دیا۔ مولانا فقیر محمد صاحب قادیانیوں کے تمام پروگراموں سے باخبر تھے۔ انہوں نے ان کی تفصیل ڈی۔ سی کو بتائی۔ انہوں نے تمام پروگراموں کو منسوخ کرنے کا آرڈر جاری کر دیا۔
۲۰ مارچ کی رات کو راولپنڈی راجہ بازار میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی اس سے قبل ریڈیو کے ذریعہ پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے ”جشن“ پر پابندی کا اعلان ہو چکا تھا۔ کانفرنس سے فارغ ہوتے ہی حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم گوجرانوالہ، فیصل آباد کے راستہ ربوہ روانہ ہوئے۔ صوفی ریاض الحسن گنگوہی اور دوسرے رفقاء فیصل آباد سے آپ کے ہمراہ ہو گئے۔ ۲۳ مارچ کو آپ نے اپنی آنکھوں سے ربوہ میں مرزائی سازش کی ناکامی کا منظر دیکھا اور خدا کے حضور سجدہ شکر بجا لائے۔ اس مختصر دورہ کے بعد آپ خانقاہ عالیہ تشریف لے
گئے۔
یوں ایک بار پھر کفر ہار گیا اور اسلام اور مسلمان جیت گئے۔ فالحمد للہ ربوہ کی طرح ” ہنڈو“ گاؤں میں بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ لاہور پولیس نے سب سامان اٹھوا دیا۔ مرزائی‘ مرزا قادیانی کو ماننے کے گناہ سمیت جلسہ کا سامان سروں پر رکھ کر دوڑے۔ پورے پنجاب میں مرزائیوں کے جشن پر پابندی لگ چکی تھی۔ بلوچستان اور سرحد کے مسلمانوں کے سامنے بھی مرزائیوں کی سازش کامیاب نہ ہو سکی۔ البتہ سندھ میں جہاں خالصتاً پیپلز پارٹی کی حکومت تھی بعض مقامات پر مرزائیوں نے پروگرام کئے مگر انتہائی راز داری سے‘ بزدلانہ طریقہ پر چھپ کر۔ الحمد للہ۔ یوں ۲۳ مارچ کا سورج مرزائیت کی رسوائی کا سامان لیکر طلوع ہوا۔ فالحمد للہ
مرزائیوں نے اس پابندی کے خلاف ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ کے حکم ”پابندی جشن“ کو چیلنج کیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے عزت مآب جسٹس خلیل الرحمن صاحب‘ دامت برکاتہم کے ہاں کیس لگا۔
ہائیکورٹ کے قابل احترام جج نے مرزائیوں کو کہا کہ اب جشن کا وقت گزر گیا ہے اب یہ رٹ بوجہ لغو و عبث ہے۔ مگر مرزائی مصر تھے کہ نہیں جناب فیصلہ ہونا چاہئے کہ یہ پابندی جائز تھی یا ناجائز۔
مرزائیوں کی طرف سے اصرار پر عدالت میں کاروائی شروع ہوئی۔ مرزائیوں کے وکیل مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پنڈورہ بکس لیکر آئے۔ ادھر پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کی سعادت و وکالت کے لئے قدرت نے جناب مقبول الٰہی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نذیر احمد غازی صاحب کو منتخب فرمایا۔ جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ اور جناب عبدالرشید قریشی ایڈووکیٹ بھی مرزائیت کے مقابلہ میں خم ٹھونک کر میدان میں آگئے۔ اس موقعہ پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اللہ رب العزت نے پھر توفیق بخشی۔ ملتان مرکز سے مرزائیت کی کتابوں کا سیٹ لیکر حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی‘ لاہور کے حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور سندھ سے مولانا احمد میاں حمادی پہنچ گئے۔ اللہ رب العزت جزائے خیر دے لاہور کے رفقاء کرام جناب محمد متین خالد‘ جناب طاہر رزاق‘ جناب سید محمد صدیق شاہ‘ سید منظور الحسن شاہ‘ جناب محمد صابر شاکر اور ننکانہ صاحب کے مہر محمد اسلم ناصر ایڈووکیٹ‘ قدیر شہزاد‘ چوہدری محمد اختر اور دوسرے رفقاء کو کہ وہ ہر روز عدالتی کاروائی میں دیوانہ وار دلچسپی لیتے رہے۔ پاکستان کے نامور عالم دین علامہ خالد محمود صاحب نے بھی دن رات ایک کر دیا۔
مرزائیوں کے جواب الجواب کا جب مرحلہ آیا تو قدرت نے عالیجناب محترم و مکرم‘ مجاہد
و محافظ ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جناب نذیر احمد غازی صاحب اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو توفیق دی۔ ان کے رفقاء و متوسلین جناب پروفیسر سید قمر علی زیدی، جناب پروفیسر ملک خالق داد، جناب مسعود ایڈووکیٹ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ محترم مولانا اللہ وسایا اور محترم مولانا محمد اسماعیل صاحب نے پوری رات جاگ کر جواب الجواب تیار کیا۔ غازی نذیر احمد صاحب نے اس کیس کو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنے لئے باعث سعادت سمجھ کر اس کی تیاری کی۔ صبح جب عدالت میں پیش ہوئے اور گھنٹوں دلائل و براہین کے ساتھ نپے تلے انداز میں مرزائیوں کا جواب الجواب دیا۔ تو عدالت میں سناٹا چھا گیا۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ ایمان و اسلام کا نمائندہ اور ختم نبوت کا وکیل دل کی دنیا سے ایمان و وجدان، محبت و عشق سے نغمہ زن ہے۔ مرزائیت پر اوس پڑ گئی۔ انکے چہرے ان کے دلوں کی طرح سیاہ ہو گئے۔ اور مورخہ ۲۲ مئی ۱۹۹۱ء کو سماعت مکمل ہو گئی۔ عالیجناب عزت مآب جسٹس خلیل الرحمن صاحب نے مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۹۱ء کو فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ ایمان پرور بھی ہے، حقائق افروز بھی۔ اس فیصلہ سے ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ کے عزت و وقار میں مزید در مزید اضافہ ہوا۔ فیصلہ کا ایک ایک حرف قدرت کی طرف سے مرزائیت کی رگ جان کے لئے نشتر ہے۔ پڑھئے، سر دھنئے اور اپنے ایمان کو تازہ کیجئے۔ تائید رحمت حق اور شفاعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔ بندہ عاجز آپ کے لئے دعا گو بھی ہے اور دعا جو بھی۔ آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جملہ رفقاء، آل پارٹیز مجلس عمل کے تمام نمائندگان، تمام دینی جماعتوں اور تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں کو اس پر مبارک باد پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں اس کے علاوہ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے جناب عنایت اللہ رشیدی صاحب، ہفت روزہ ”زندگی“ کے محمود صاحب اور عبدالواحد صاحب اور گرافو ورڈ کمپوزنگ کے جاوید بٹ صاحب، ارشد غوری صاحب، محمد یاسین صاحب اور کامران پراسس کے سعید صاحب بھی خصوصی شکریہ کے مستحق ہیں، جن کے تعاون سے یہ فیصلہ شائع ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ ہماری اس آزمائش میں جس شخص نے جتنا حصہ ڈالا وہ اسی قدر مبارک باد اور شکریہ کا مستحق ہے۔
طالب دعا عزیز الرحمن خادم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دفتر مرکزیہ ملتان ۳۰-۱۲-۱۹۹۱ء
ابتدائی کوائف
عنوان مقدمہ ...... مرزا خورشید احمد و دیگر بنام حکومت پنجاب مقدمہ نمبر ...... رٹ پٹیشن نمبر 2089 / 1989 فریق اول ...... مرزا خورشید احمد و دیگر اپیلانٹ
فریق ثانی ...... حکومت پنجاب وغیرہ مسؤل الیہان
فریق اول کے وکلاء ...... سی اے رحمان، مبشر لطیف احمد اور مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ
فریق دوم کے وکلاء ...... مقبول الٰہی ملک، ایڈووکیٹ جنرل ان کے معاونین این اے غازی، اے اے جی ارشاد اللہ خان اور مسعود احمد خان ایڈووکیٹ
دیوانی متفرق ...... درخواست نمبر 5377 / 1989 کی پیروی ایم اسماعیل قریشی اور دیوانی متفرق ...... درخواست نمبر 2049 / 1991ء میں رشید مرتضیٰ قریشی پیش ہوئے۔ تاریخ ہائے سماعت :۔ ۶، ۷، ۱۱، ۱۴، ۱۵، ۱۸، ۱۹، ۲۰، ۲۱، اور ۲۲ مئی ۱۹۹۱ء فیصلہ کا اعلان ...... مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۹۲ء کو کیا گیا۔
فیصلہ
جسٹس خلیل الرحمان (جج)
- ۱۔ یہ رٹ پٹیشن سائلان مرزا خورشید اور حکیم خورشید احمد کی طرف سے دائر کی گئی جو
احمدیہ برادری کے ارکان اور اس کی مرکزی و مقامی تنظیم کے عہدیداران ہونے کے دعویدار ہیں۔ اس آئینی درخواست میں اس امر کا فیصلہ کرنے کی استدعا کی گئی تھی کہ پنجاب کے ہوم
سیکرٹری نے مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۹ء کو قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات پر پابندی کی بابت جو حکم صادر کیا نیز جھنگ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے مورخہ ۲۱ مارچ ۱۹۸۹ء کو زیر دفعہ ۱۴۴ مجموعہ ضابطہ فوجداری جو حکم جاری کیا گیا جس کی رو سے ضلع جھنگ کے قادیانیوں کو ایسی سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی جو مذکورہ بالا حکم میں مذکور تھیں، بعد ازاں ربوہ کے ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے ۲۵ مارچ ۱۹۸۹ء کو ایک حکم کے ذریعے احمدیہ جماعت ربوہ کے عہدیداران کو خبردار اور ہدایت کی کہ وہ شہر ربوہ میں لگائے گئے آرائشی گیٹ ہٹا دیں۔ جھنڈے اور چراغاں کے لئے لگائی گئی روشنی کی تار اتار لیں اور اس امر کی یقین دہانی کرائیں کہ دیواروں پر مزید اشتہار نہ لکھے جائیں گے۔ نیز یہ کہ ۲۱ مارچ ۱۹۸۹ء کو جاری کئے گئے حکم کی میعاد میں تاحکم ثانی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات خلاف قانون و باطل ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔ یہ استدعا بھی کی گئی کہ مسئول الیہان کو اس امر کی ہدایت کی جائے کہ وہ سائلان کو ان واضح بنیادی و اساسی حقوق کے استعمال سے نہ روکیں جو سائلان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل ۲۰ کی رو سے حاصل ہیں۔
- ۲۔ مذکورہ بالا احکام و ہدایات جاری کرنے کی استدعا اس دعویٰ پر مبنی ہے کہ احمدیہ جماعت کو
جس کا قیام ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو عمل میں آیا تھا، قائم ہوئے سو سال ہو گئے ہیں۔ جماعت کی تشکیل کے ۱۰۰ برس پورے ہونے پر دنیا بھر کے دوسرے احمدیوں کی طرح ربوہ کے احمدیوں نے بھی ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء سے صد سالہ جشن کی تقریبات منانے کا فیصلہ کیا۔ ان تقریبات کو شایان شان طریقہ سے منانے کے لئے سائلان اور ربوہ کے دیگر شہریوں نے نئے ملبوسات زیب تن کرنے، بچوں میں مٹھائیاں بانٹنے، محتاجوں کو کھانا کھلانے اور بغرض اجلاس جمع ہونے کا پروگرام بنایا تاکہ جلسہ عام میں احمدیہ جماعت کی ۱۰۰ سالہ تاریخ کے اہم واقعات پر روشنی ڈالی جائے۔ مزید التجا کی گئی کہ اگر کوئی احمدی اپنی برادری کی بھلائی و خیرخواہی کے جذبہ کے تحت بانی جماعت احمدیہ اور ان کے جانشینوں کے مقام و مرتبہ کے بارے میں یا افریقہ اور دوسرے ممالک میں ان کی تبلیغی مساعی کے بارے میں اپنے بچوں کو کچھ بتاتے تو ممکن ہے اس سے بعض متشدد اور متعصب لوگوں کے جذبات مجروح ہوں۔ گذارش کی گئی کہ قادیانیوں کو (جو خود کو احمدی کہتے ہیں) صد سالہ سالگرہ منانے سے روکنے کا کوئی قانونی جواز نہیں، ایسا کرنا ان کا بنیادی اور فطری حق ہے۔ کیونکہ یہ موقع ان کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم میں کہیں مذکور نہیں کہ اس کے یقین کے مطابق اگر احمدیوں نے حسب پروگرام ربوہ میں صد سالہ جشن کی تقریبات منعقد کیں تو شہر میں نقص امن یا فرقہ وارانہ فسادات کے پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہے۔
- ۳۔ درخواست میں جو دیگر موقف اختیار کئے گئے وہ یہ ہیں کہ ربوہ کی غالب اکثریت احمدیوں
پر مشتمل ہے‘ وہ گاہ بگاہ ایک دوسرے کی خوشی و غمی میں شریک ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے دفعہ ۱۴۴ ض ف کے تحت جو کارروائی کی گئی‘ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مذکورہ بالا دلیل کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا کہ اس موقع پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو چاہئے تھا کہ احمدیوں کو جشن منانے سے باز رہنے کی ہدایت کرنے کے بجائے دوسروں کو خبردار کرتا کہ وہ ان تقریبات میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں‘ کیونکہ احمدیوں کو کسی ایسی سرگرمی سے نہیں روکا جاسکتا‘ جس کی ممانعت قانون میں نہ کی گئی ہو‘ مزید عرض کیا گیا کہ صوبائی حکومت کو یہ حکم جاری کرنے کی بجائے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو یہ ہدایت کرنی چاہئے تھی کہ ان متشدد عناصر کو‘ جو پاکستان میں احمدیوں کا وجود تک برداشت کرنے کو تیار نہیں‘ اور انہیں مرتد کہتے ہیں‘ احمدیوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے سے باز رکھا جائے اور ان کی تقریبات میں مخل ہونے سے روکا جائے۔ یہ گذارش بھی کی گئی کہ شہریوں کے حقوق کو محض اس بنا پر پامال کرنا قرین انصاف نہیں کہ چند متشدد یا بااثر افراد کی طرف سے گڑبڑ کا اندیشہ ہے۔ مزید عرض کیا گیا کہ احمدی ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کو نیز سال بھر کے دوران وقتاً فوقتاً جمع ہوکر جلسے کرنا چاہتے تھے جن میں اظہار تشکر کی خصوصی دعائیں کرنا‘ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات اور نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا‘ جن سے گذشتہ صدی کے دوران انہیں نوازا گیا۔ بچوں اور نوجوانوں کو احمدیت کی راہ میں ان کے آباؤ اجداد کے ایثار و قربانی اور اس سلسلے میں ان پر عائد کی گئی پابندیوں اور نوجوانوں کو ان کے فرائض سے آگاہ کرنا مقصود تھا۔
- ۴۔ زور دے کر یہ بات کہی گئی کہ ایسے جلسے منعقد کرنا اور دیگر افعال انجام دینا‘ جن کا
پروگرام بنایا گیا تھا‘ احمدیہ برادری کے ہر رکن کا آئینی حق ہے۔ اس لئے حکومت کو ان کے انعقاد کو یقینی اور محفوظ بنانا چاہئے تھا۔ اس حق سے کسی کو اس بنا پر محروم نہیں کیا جاسکتا تھا کہ بعض اشخاص نے احتجاج و مزاحمت کی دھمکی دی تھی۔ فاضل وکیل نے دلیل پیش کی کہ اگرچہ ۲۱ مارچ ۱۹۸۹ء کا حکم ۲۵ مارچ ۱۹۸۹ء کو زائد المیعاد ہوگیا اور اس حقیقت کے باوجود کہ اس میں توسیع نہیں کی گئی ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ربوہ نے غیر قانونی طور پر ۲۵ مارچ ۸۹ء کا حکم جاری کر دیا‘ جس میں متنازعہ فیہ ہدایات درج تھیں۔
سائلان نے قادیانی گروپ‘ لاہوری گروپ اور احمدیوں کی غیر اسلامی سرگرمیوں پر (پابندی اور ممانعت) کے آرڈیننس ۱۹۸۴ء (۱۹۸۴ء کا ۲۰ واں) کے احکام کے تحت مجموعہ تعزیرات پاکستان میں داخل کی گئی نئی دفعہ ۲۹۸۔ سی کی وجہ جواز کو بھی اس بنا پر چیلنج کیا کہ اس سے دستور پاکستان کے آرٹیکل نمبر ۲۰ میں دئے گئے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ مذکورہ آرٹیکل کے تحت ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کا حق دیا گیا ہے‘
بہر حال بحث کے دوران فاضل وکیل نے اس نکتہ پر یہ کہتے ہوئے زور نہیں دیا کہ یہ مسئلہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ اور وہ اس کا فیصلہ ہونے تک انتظار کرنے کو تیار ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ سائلان کی طرف سے پیش ہونے والے تینوں وکلاء قادیانیوں کے عقیدہ کی ”تبلیغ کے حق“ پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ انہوں نے اپنے استدلال اور موقف کو مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق تک محدود مقید رکھا۔
۵۔ مقدمہ کے قانونی پہلوؤں پر دلائل پیش کرتے ہوئے مسٹر سی۔ اے ۔ رحمان نے گزارش کی۔ کہ قادیانیوں پر زیادہ سے زیادہ یہ پابندی لگائی جاسکتی تھی کہ وہ دوسرے لوگوں سے اپنے عقیدہ کی تبلیغ نہ کریں، لیکن انہیں عام جلسوں میں رسول اکرمؐ کی حیات طیبہ اور دوسرے مذہبی موضوعات پر تقاریر کرنے سے نہیں روکا جاسکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا ان تقاریر میں قادیانی جو حوالے دیتے ان کی تعبیر و تشریح ان کی کتب میں مذکور نقطہ نظر کے مطابق کی جاتی۔ حقیقت میں نہ تو پبلک تقاریب منعقد کرنی تھیں، نہ جلوس نکالے جانے تھے، نہ کوئی پمفلٹ تقسیم ہونے تھے، نہ ہی بینرز لگانے کا پروگرام بنایا گیا تھا۔ اس استدلال کی بناء پر انہوں نے عرض کیا کہ مذکورہ بالا طریقے سے ویسی تقریبات کے انعقاد کو روکا نہیں جاسکتا تھا کیونکہ دستور کے آرٹیکل ۱۹۔۱۹اور ۲۰ کے تحت ہر شہری اور برادری کو اس حق کی ضمانت دی گئی ہے۔ کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر سکتا ہے۔ نیز اپنی برادری کے بچوں یا افراد میں اپنے عقیدہ یا افکار کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید عرض کیا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم میں جو متنازعہ فیہ ہدایات درج تھیں انہیں ایک ایک کر کے پرکھا جائے یا اجتماعی طور پر جائزہ لیا جائے۔ ان سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان ہدایات کے ذریعے جو مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی وہ بھی بنیادی حقوق سے متصادم تھا، اگرچہ جشن کا سال گزر گیا ہے۔ تاہم ان کی درخواست غیر موثر نہیں ہوتی کیونکہ اس میں جس حق کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ روزمرہ کے معمولات میں سے ہے اور اگر مذہب کی پیروی نیز اس پر عمل کرنے کے حق کی وسعت اور اس کی حدود کا تعین کر دیا جائے تو یہ چیز احمدیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے شہریوں کو بھی درست لائحہ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دے گی۔
۶۔ فاضل وکیل نے مزید عرض کیا کہ جن امور کی شکایت کی گئی ہے۔ اگرچہ ان امور کی عام جلسہ اور عام مقامات پر انجام دہی کے حق سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاہم ان میں سے کوئی ایک کام بھی جائے عام پر کرنے کا پروگرام نہیں تھا۔ انہوں نے وضاحت سے بتایا کہ نہ تو کوئی ایسا پروگرام بنایا گیا تھا، نہ ہی ایسی تقاریر کرنے کا ارادہ تھا جن سے ملکی قانون کی خلاف ورزی ہوتی۔ اندریں حالات ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا یہ کہنا مسلمانوں کی توہین کرنا ہے کہ ان تقریبات کے
انعقاد پر مسلمان احتجاج اور برہمی کا اظہار کرتے یا اس سے امن عامہ میں خلل پڑتا۔ اگر مذکورہ بالا امور کی بجا آوری کے موقع پر، جو بصورت دیگر قانوناً درست تھے، نقص امن کا اندیشہ تھا تو اس اندیشہ کو دور کرنے کی تدابیر اختیار کرنی چاہئے تھیں نہ کہ قادیانیوں کو ان سے باز رہنے کی ہدایت کی جاتی۔ اپنے استدلال کی حمایت میں انہوں نے رامناد ضامن دیواستھانم تحصیلدار بنام کیدار میرا امبالم (اے آئی آر ۱۹۳۲ مدراس ۲۹۴) متعلق بہ سری کانت آئیر (اے آئی آر ۱۹۳۷ مدراس ۳۱۱) نیز مسماۃ جتووہ بیگم راج بنام ایمپرر (اے آئی آر ۱۹۳۹ سندھ ۴۷) کا حوالہ دیا۔
- ۷۔ آگے بڑھنے سے پیشتر ایک درخواست (دیوانی متفرق درخواست نمبر ۷۷۵۳ بابت ۱۹۸۹)
پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہو گا جو فریق مقدمہ بنائے جانے کی خاطر مولانا منظور احمد چنیوٹی کی طرف سے داخل کی گئی تھی تاکہ عدالت کے سامنے مسلمانوں کا نقطہ نظر بھی پیش کیا جاسکے کیونکہ دنیا کے مسلمان آنحضرتؐ کی قطعی اور غیر مشروط ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مرزا غلام احمد بانی جماعت احمدیہ‘ ایک مرتد و مکار شخص تھا۔ درخواست گزار نے گذارش کی کہ وہ اس مقدمہ کا ایک لازمی فریق ہے کیونکہ اس نے بین الاقوامی ختم نبوت مشن کے عہدیدار کی حیثیت سے احمدیوں کی متذکرہ بالا سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے‘ جن سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی خلاف ورزی کا خدشہ اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے بھڑکنے کا امکان تھا، مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندہ مندوبین کی معیت میں حکومت پنجاب سے رابطہ قائم کیا۔ قادیانی جشن کے پروگرام کی بابت اپنی گہری تشویش و اضطراب سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ان تقریبات پر فوراً پابندی لگائی جائے‘ ورنہ ملک گیر سطح پر شدید ہنگامے شروع ہو جائیں گے یہ کہ حکومت پنجاب نے ان کے مطالبہ پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے سالگرہ کی تقریبات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ درخواست ۱۸ دسمبر ۱۹۸۹ء کو زیر سماعت آئی۔ اس موقع پر سائلان کے فاضل وکلاء نے تجویز کیا کہ درخواست دہندہ کو اس سلسلہ میں بیان حلفی داخل کرنا چاہئے۔ اور یہ کہ فریق مقدمہ بنائے جانے کی درخواست پر اصل درخواست کے ساتھ غور کر لیا جائے۔ درخواست دہندہ کو بیان حلفی داخل کرنے کی اجازت دے دی گئی اور اس کی درخواست معہ اصل پٹیشن کی سماعت کے لئے تاریخ سماعت مقرر کر دی گئی۔
- ۸۔ فریق مقدمہ بنائے جانے کی ایسی ہی درخواست عبدالناصر گل نامی شخص کی طرف سے
دی گئی تھی جو عیسائیت سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ اس استدلال پر مبنی تھی کہ عیسائیت کے خلاف مرزا غلام احمد کی تقاریر اور اس کا لٹریچر تمام عیسائیوں کے نزدیک قابل مذمت اور نفرت انگیز
ہے۔ درخواست دہندہ کے فاضل وکیل نے وضاحت سے بتایا کہ ان تقریبات کی مسلمہ غرض و غایت جماعت احمدیہ کی ۱۰۰ سالہ تاریخ کا اعادہ کرنا تھا، جس میں جماعت کی تحریروں اور ادب سے حوالے لازماً دئے جاتے جن میں حضرت عیسیٰؑ اور عیسائیت کی بابت انتہائی قابل اعتراض اور توہین آمیز ریمارکس شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرزا غلام احمد نے مسیح موعود (وہ مسیح جن کی دوبارہ آمد کی بشارت دی گئی ہے) ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے پیرو اسے مسیح موعود مانتے ہیں۔ اس لئے عیسائیوں کے عقائد اور حضرت عیسیٰؑ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے ایسے لغو دعویٰ کی تردید و تکذیب ضروری تھی۔ ان کی تحریروں میں حضرت عیسیٰؑ کے خلاف ملامت آمیز مواد نیز ان کے جلسوں اور تقریبات میں متوقع حملے عیسائی برادری کے غیظ و غضب کا موجب بنتے۔ اس سے احمدیوں اور عیسائیوں کے مابین دشمنی و نفرت میں اضافہ ہوتا اور نقص امن کی سنگین صور تحال پیدا ہوجاتی۔
- ۹۔ سائلان کے فاضل وکلا نے ہر دو درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا
کہ ان دونوں درخواستوں کو مزید دلائل سنے بغیر خارج کردیا جائے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس نکتہ پر اس وقت زور دیا گیا جب فاضل وکلا میں سے ایک اپنے دلائل مکمل کرچکے تھے اور فاضل ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کا آغاز ہوچکا تھا۔ اس درخواست کو ۳ مئی ۱۹۸۹ء کو صادر کردہ حکم کی رو سے نمٹایا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ :۔۔
”اس مرحلہ پر فاضل وکیل سی اے رحمان نے بتایا کہ فریق مقدمہ بنائے جانے کی درخواست (سی ایم ۸۹ / ۷ ، ۵۳) کا تصفیہ معاملہ کی مزید سماعت کرنے سے پہلے کردیا جائے۔ یاد رہے کہ پٹیشن کی حمایت میں وہ اپنے دلائل پہلے ہی مکمل کرچکے ہیں۔ مسٹر مبشر لطیف احمد نے اپنے دلائل ختم کرلئے ہیں۔ اب مسئول الیہ اور درخواست گزار کو جواب دینا ہے“۔
علاوہ بریں ۱۸ دسمبر ۱۹۸۸ء کے حکم میں کہا تھا کہ :۔ ”درخواست دہندہ نے فریق مقدمہ بنائے جانے کی یہ درخواست مسئول الیہ کی حیثیت سے دی ہے۔ اس کی ایک نقل سائلان کے فاضل وکیل کو فراہم کردی گئی ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ درخواست دہندہ کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں بیان حلفی داخل کرے، نیز یہ کہ اس کی درخواست کی سماعت پٹیشن کے ساتھ کی جائے۔ درخواست گزار کے فاضل وکیل نے تجویز سے اتفاق کیا کہ تحریری بیان داخل ہو لینے دیا جائے اور اس درخواست نیز اصل پٹیشن پر دلائل کا آغاز ۲۷ جنوری ۱۹۹۰ء سے کیا جائے۔
اندریں حالات اس مرحلہ پر فریق مقدمہ بنائے جانے کی درخواست پیش کرنا دراصل کارروائی کو طول دینے کا ایک حربہ ہے جس سے پٹیشن میں اٹھایا گیا اصل معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ پس اس معاملہ کا فیصلہ اصل پٹیشن کے ساتھ کیا جائے گا جیسا کہ خود فاضل وکیل
نے تجویز کیا ہے، مسئول الیہان اور دوسرے اپنے دلائل شروع کر سکتے ہیں"۔
- ۱۰۔ جہاں تک درخواست گزاروں کے بطور مسئول الیہان فریق مقدمہ بنائے جانے کا تعلق
ہے۔ یہ بات قابل غور ہے۔ ابتداء میں فاضل وکیل کو جیسا کہ محسوس ہوتا ہے، درخواست کی سماعت پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ انہوں نے خود ہی تجویز پیش کی تھی کہ درخواست گزار کو پہلے تحریری بیان داخل کرنے کا موقع دیا جائے۔ درخواست گزار نے عام مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے قادیانیوں کے خیالات کی مخالفت اور صد سالہ جشن کی تقریبات پر زبردست احتجاج کیا تھا۔ جس کی بنا پر صوبائی حکومت نے ان تقریبات پر پابندی عائد کردی تھی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے زیر بحث امتناعی احکام جاری کئے تھے۔ درخواست گزار کا موقف یہ تھا کہ سماعت کے دوران ان کا موجود ہونا ضروری ہے تاکہ وہ یہ ثابت کرسکے کہ اندرون ملک قادیانیوں کا عام اجتماعات میں مذہبی موضوعات پر قادیانیت کے پردہ میں تبلیغ کرنا از روئے قانون ممنوع اور جرم ہے۔ عیسائی درخواست گزار کے فاضل وکیل نے بھی ایسا ہی موقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قادیانیوں کی طرف سے مذہبی موضوعات پر بحث مباحثہ اندیشہ نقص امن پر منتج ہوتا کیونکہ ان کے افکار و تعلیمات نہ صرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں کے بھی مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے والی ثابت ہوتیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ صد سالہ سالگرہ کا سال گزر جانے کے باوجود اس درخواست پر اس لئے زور دیا جارہا ہے کہ ان کے افکار و خیالات کی تبلیغ کے لئے مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کے حق کا تعین کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ ایسا کرنا ممبران جماعت احمدیہ کے روزمرہ معمولات کا ایک حصہ ہے اور اس میں شک نہیں کہ روزمرہ معمولات کا حصہ ہونے کی بنا پر اس کا تعلق مسلمانوں، عیسائیوں اور دوسرے تمام شہریوں سے ہے۔ اس لئے وہ اس پٹیشن کے خلاف سنے جانے کے حقدار ہیں۔ چنانچہ دونوں درخواستیں برائے سماعت منظور کی جاتی ہیں اور درخواست گزاروں کو بطور مسئول الیہ مقدمہ کا فریق بنانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس طرح یہ دونوں درخواستیں نمٹادی گئیں۔
- ۱۱۔ اب دوسری درخواست کو لیتے ہیں۔ سی ایم ۲۰۵۱/۸۴ اس وقت داخل کی گئی جب سائلان
کے فاضل وکیل مسٹر سی۔ اے۔ رحمان نے اپنے دلائل مکمل کرلئے تھے۔ اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کے فاضل وکیل مسٹر اسماعیل قریشی نیز فاضل ایڈووکیٹ جنرل فریق مخالف کے وکیل کے پیش کردہ مباحث کے جواب میں کچھ معروضات پیش کرچکے تھے۔ فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے بحث شروع کرنے سے پہلے ایک فہرست داخل کی جو ظاہر کرتی تھی کہ وہ مرزا غلام احمد کے افکار کو کس کس موضوع کے تحت زیر بحث لائیں گے جیسا کہ وہ خیالات مرزا صاحب کی کتابوں میں موجود ہیں۔ جنہیں صد سالہ جشن کی تقریبات میں دہرایا جانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرزا
صاحب اور ان کے حواریوں کی یہ تحریریں جن کی نشاندہی عدالت میں پیش کردہ درخواست میں کی گئی ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی محسوسات کو مشتعل و مجروح کرنے والی ہیں جو روز اول سے ان افکار و نگارشات کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں۔ گذشتہ ۱۰۰ برسوں کے دوران انہوں نے مرزا صاحب کے کذب و افترا کو طشت از بام کرنے کے لئے قدم قدم پر قربانیاں دی ہیں۔ عام اجتماعات میں ایسے افکار کا تذکرہ و اعادہ نہ صرف ارتکاب جرم کے مترادف ہوتا بلکہ مسلمانوں میں وسیع پیمانہ پر شدید غم و غصہ کو ابھارنے کا سبب بنتا۔ اور اس سے نقص امن کو خطرہ لاحق ہونا ناگزیر ہو جاتا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جشن کی تقریبات منعقد کرنے‘ جماعت احمدیہ کی تاریخ کو دہرانے‘ مرزا صاحب کے مقام و حیثیت کو اجاگر کرنے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے سے امن و امان کی صورتحال پر جو اثرات مرتب ہوتے انہیں تاریخی پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔ جس میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا دستوری فیصلہ بھی شامل ہے۔ تاہم فاضل ایڈووکیٹ جنرل یا دوسرے وکلاء کی طرف سے مذکورہ بالا موضوعات کو زیر بحث لانے سے قبل ہی سائلان نے اس امر کی درخواست پیش کر دی کہ پٹیشن میں محض ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے اور یہ استدعا کی گئی ہے کہ ۲۵ مارچ ۱۹۸۹ء کے حکم کو کالعدم ٹھہراتے ہوئے مسئول الیہان کو ہدایت کی جائے کہ وہ سائلان کے بنیادی حق کے استعمال میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ لیکن ۸ مئی ۱۹۹۱ء کو اپنے دلائل کے دوران فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے اعتقادی اختلافات اور مذہبی مباحث چھیڑ دئے۔ اپنی گذارشات میں جب انہوں نے سائلان کے ساتھ بعض عقائد منسوب کئے تو انہوں نے ان عقائد کو غلط فہمی پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ درخواست کی تائید میں ایک حلفیہ بیان داخل کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ قانونی مسائل کے تصفیہ میں عقیدہ و مسلک کی بات کرنا سراسر غیر متعلقہ اور خارج از بحث معاملہ ہے کیونکہ مذہبی بحث و مناظرہ کے لئے عدالت ہذا موزوں فورم نہیں ہے۔ رٹ پٹیشن میں کسی مذہبی عقیدہ کا فیصلہ یا اس کی بابت اعلان کرنے کی استدعا نہیں کی گئی‘ نہ ہی عدالت کو اس بارے میں اختیار حاصل ہے۔ یہاں فریق مخالف نے سائلان کے عقیدہ کی بابت غلط فہمی اور لاعلمی پر مبنی غلط دعوے کئے ہیں۔ اس سے جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت و عداوت پھیلنے کا امکان ہے۔ عدالت میں جن الزامات کی تکرار کی گئی‘ وہ قومی اخبارات میں شائع کر دئے گئے اور ان کی زبردست تشہیر دیکھنے میں آئی جس میں ان کے عقیدہ کو توہین آمیز طریقہ سے غلط رنگ میں پیش کیا گیا‘ مسئول الیہان عدالت ہذا کو احمدیہ برادری کی ذلت و رسوائی کا سامان بہم پہنچانے اور ان کے خلاف بغض و نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس موقف کی بنیاد پر استدعا کی گئی کہ بحث کو صرف قانونی مسائل تک
محدود و مقید کیا جائے اور اس امر کی ہدایت جاری کی جائے کہ پریس میں طرفین کی درست‘ یکساں اور مساوی کوریج کو یقینی بنایا جائے۔ اس درخواست پر مسٹر مبشر لطیف احمد نے دلائل پیش کئے۔ انہوں نے گذارش کی کہ اس درخواست کا فیصلہ فاضل ایڈووکیٹ جنرل اور مسئول الیہان کے وکلاء کو دلائل شروع کرنے کی اجازت دینے سے پہلے کر دیا جائے۔
فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے دلائل میں قادیانی برادری کی ان تصنیفات کی نشاندہی کی‘ جن کے حوالے سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ان کتابوں میں درج افکار و نظریات کا کھلے بندوں پرچار کرنے کی اجازت دے دی جاتی تو وہ تعزیرات پاکستان اور قانون کے تحت ارتکاب جرم کے مترادف ہوتی اور یہ چیز مسلمانوں کی بھاری اکثریت والے ملک میں ان کے مذہبی جذبات کو برا نگیختہ کرنے کا موجب ہوتی اور فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دیتی‘ انہوں نے مزید کہا کہ عائد کردہ پابندی خود ان کے اپنے مفاد میں ہے‘ کیونکہ پبلک میں ان کے رویہ و عمل کا نتیجہ باہمی تصادم کی صورت میں نکلتا‘ جس سے خود ان کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی۔ انہوں نے وضاحت سے بتایا۔ سائلان اپنی پٹیشن میں خود کہہ چکے ہیں کہ ان اجتماعات میں مذہبی موضوعات بشمول رسول اکرمؐ کی سیرت پاک اور مرزا صاحب کے حالات زندگی کے بارے میں تقاریر ہونا تھیں‘ اب وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اعتقادی اختلافات اور مذہبی مباحث پر گفتگو کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی جماعت احمدیہ اور اس کے حواریوں کی تعلیمات و تحریروں کی اشتعال انگیزی کو عریاں کرنا اعتقادی اختلافات کو چھیڑنا نہیں‘ بلکہ اس تباہ کن تاثر کو اجاگر کرنا مقصود تھا جو ان افکار و تعلیمات کے پرچار سے امن عامہ کی صورتحال پر مرتب ہوئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ایسا کر کے وہ مذہبی عقیدہ سے متعلق سوالات حل کرانا چاہتے ہیں‘ حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے اراکین اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ ان کا مذہب اچھا ہے یا برا‘ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں‘ تاہم جب وہ اپنے عقیدہ پر اس طرح عمل کرنا چاہیں جو دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے یا ان کے مذہبی جذبات کو برا نگیختہ کرے‘ تو خواہ وہ ہوں یا کوئی اور‘ ملکی قانون کی نظر میں جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس لیئے ان کی کتابوں کے ان مذہبی موضوعات سے عدالت کو آگاہ کرنا میرا حق ہے جو مذہبی نقطہ نظر انتہائی حساس نوعیت کے ہیں اور ان کی نشر و اشاعت ارتکاب جرم کے مترادف ہے۔ اور زیر دفعہ ۱۴۴ احتیاطی تدابیر بروئے کار لانے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔
- ۲۔ سائلان کی رٹ میں جو اعتراض کیا گیا اسے ان وجوہات کی بنا پر مسترد کر دیا گیا۔۔۔
جنہیں بعد ازاں قلمبند کیا جائے گا۔ فریقین کے فاضل وکلاء کو بتایا گیا کہ وہ یہ بات ثابت کرنے کے لئے مرزا صاحب اور اس کے حواریوں کی تعلیمات و افکار کے حوالے دے سکتے ہیں جیسا
کہ وہ ان کی اصل تصانیف میں موجود ہیں کہ آیا وہ تحریریں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے والی ہیں یا نہیں؟ نیز وہ زیر دفعہ ۱۴۴ کاروائی اور حکومت پنجاب کی طرف سے صد سالہ تقریبات پر لگائی گئی پابندی کا جواز فراہم کرتی ہیں یا نہیں؟ مذکورہ بالا حکم کی وجوہات ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔
۱۳۔ سائلان کے فاضل وکیل مسٹر مبشر لطیف احمد نے اس دلیل کی تائید میں مجموعہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ ۹ کے حوالے سے کہا کہ عدالتیں مذہب سے متعلق تنازعات یا ایسے سوال کا فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں کہ آیا کسی شخص کا مذہب اچھا ہے یا برا؟ نہ ہی انہیں اعتقادی اختلافات یا مذہبی مباحث کو نمٹانے کا اختیار حاصل ہے۔ جبکہ یہاں احمدیہ جماعت کی طرف سے مذہب کی تبلیغ کرنے کے حق کے بارے میں کوئی دعوے زیر بحث نہیں، نہ ہی اس کا فیصلہ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ دلیل جس انداز میں پیش کی گئی ہے اس سے معاملہ کی وہ صورتحال سامنے نہیں آتی جیسی کہ رٹ میں ظاہر کی گئی ہے یا عدالت کے روبرو سوال اٹھایا گیا ہے۔
دراصل یہ درخواست اصل مسئلہ کو نگاہوں سے اوجھل کرنے کا ایک حربہ ہے۔ سائلان کا کیس یہ ہے کہ ان اجتماعات میں منجملہ دیگر امور کے، رسول اکرمؐ کی سیرت پاک و ارشادات اور ان کے بارے میں مذہبی موضوعات پر اظہار خیال کیا جانا تھا۔ انہوں نے سوال کیا۔ ایسے مباحث پر خواہ انہیں احمدی نقطہ نظر سے کیوں نہ پیش کیا جاتا، کیسے پابندی لگائی جاسکتی ہے؟ فاضل وکیل کے مطابق ان تقریبات میں تمام کام قانون کے دائرہ میں کئے جانے تھے۔ مسئول الیہان کے بقول ان ہر دو دلائل کے بطلان کے لئے بانی جماعت احمدیہ کی اصل، مستند اور معروف و مسلمہ کتابوں میں درج افکار و تعلیمات کا حوالہ دینا ضروری تھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ وہ محض چند متشدد لوگ تھے جن کی طرف سے ناموافق ردعمل کا اظہار کیا جاتا یا امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ احمدیہ مذہب کی پوری تاریخ اور برصغیر کے مسلمانوں کی طرف سے اس کی جو شدید مخالفت کی گئی، وہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ محض مٹھی بھر متعصب آدمی نہیں جو ان کی مزاحمت پر کمربستہ ہیں بلکہ عامتہ المسلمین قادیانیوں کے افکار و نظریات کو اپنے مذہب اور مذہبی جذبات کی توہین کرنے والا سمجھتے ہیں۔ ان کی کتابوں سے حوالے دینے کا مقصد یہ تھا کہ ان پہلوؤں کو نمایاں کیا جائے اور اوپر نقل کردہ دونوں دلیلوں کا توڑ کیا جائے۔ اس سے یہ ثابت کرنا ہرگز مطلوب نہیں کہ سائلان کا مذہب اچھا ہے یا برا، یا یہ کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی یا اس پر عمل کرنے کے مجاز نہیں، نہ ہی اعتقادی اختلافات کا حل تلاش کرنے کی غرض سے مذہبی بحث چھیڑنا مقصود تھا۔ قادیانیوں کے ساتھ مذہبی بحث و مناظرہ میں پڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ مرزا صاحب نے جس قسم کے مذہب کی تلقین و تبلیغ کی اور قادیانی جس مذہب کے
پیروکار اور وفادار ہیں۔ رسول اکرمؐ کے زمانہ سے لے کر اب تک تمام ممالک کے مسلمان اسے اسلام کے اساسی نکات کے خلاف گستاخانہ توہین آمیز‘ اشتعال انگیز‘ گمراہ کن اور بے ادبی پر مبنی سمجھتے آئے ہیں۔ وہ تمام مسلمان جو اسلام اور ختم نبوت کے مابین قائم رشتہ و تعلق میں کسی مداخلت کے روادار نہیں‘ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے سخت برگشتہ ہیں اور اسے یکسر مسترد کرتے ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک غیر قادیانی یا غیر احمدی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی علیحدہ امت بنالی ہے جو امت مسلمہ کا حصہ نہیں‘ یہ چیز خود ان کے طرز عمل اور عقائد سے ثابت ہے‘ وہ خود کو مسلمانوں کے نعم البدل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور مسلمانوں کو اپنی ملت سے خارج گردانتے ہیں۔ احمدی لوگ حکومت برطانیہ کے زیر سایہ خود کو مسلمان ظاہر کرسکتے تھے‘ اب ایسا نہیں کرسکتے۔ کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک مرزا غلام احمد امت مسلمہ میں انتشار و تفریق پیدا کر کے انگریزوں کے مفادات کے لئے کام کرتا رہا تھا۔ امت مسلمہ کے اتحاد و یک جہتی کے متعلق اسلامی معاشرہ کے عظیم اصحاب فضل و کمال کی آراء کا نچوڑ یہ ہے کہ ”یہ امت محض عقیدہ ختم نبوت کی بدولت انتشار سے محفوظ ہے“۔ انہوں نے مزید کہا۔ اگر کسی قوم کی یک جہتی کو خطرہ لاحق ہوجائے تو اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ جاتا کہ وہ انتشار و تفریق پیدا کرنے والی قوتوں کے خلاف اپنا دفاع کرے اور حفاظت خود اختیاری کا طریقہ اس کے سوا اور کونسا ہوسکتا ہے کہ متنازعہ تحریروں اور ایسے شخص کے دعاویٰ کی تردید و تکذیب کی جائے جسے مورث قوم ایک مذہبی زمانہ ساز اور عیار سمجھتی ہے؟ کیا ایسی صورت میں اس مورث قوم کو جس کی یک جہتی معرض خطر میں پڑ چکی ہو‘ تحمل و رواداری کی تلقین کرنا اور باغی گروپ کو بلاخوف و خطر اپنا پروپیگنڈہ جاری رکھنے کی اجازت دینا قرین انصاف ہوسکتا ہے؟ جبکہ وہ پروپیگنڈہ مورث قوم کے نزدیک انتہائی غلیظ و بیہودہ ہو“۔
(Thoughts and Reflections of Iqbal P-263)
مسلمانوں اور احمدیوں کے مابین کوئی نقطہ اشتراک نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ نبوت و رسالت رسول اکرمؐ پر ختم ہوگئی‘ اس کے برعکس احمدی مرزا صاحب کو نیا نبی مانتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ احمدی زیر اعتراض افکار یا استدلال کی جو وضاحت پیش کرتے ہیں کہ ان افکار کی تعبیر و تشریح ایک مخصوص طریقہ سے کی جانی چاہئے۔ اور انہیں ایک خاص زاویہ نظر سے دیکھا جانا چاہئے تاکہ انہیں اسلامی احکام کے موافق بنایا جاسکے۔ ان کی گہرائی میں اترنے کی ضرورت نہیں۔ ایسا کیا جائے تو اعتقادی اختلافات کو ہوا دینے کا الزام لگ جاتا ہے۔ دوسرے ان وضاحتوں‘ جوازات اور عبارات کو امت مسلمہ کب کا مسترد کرچکی
ہے۔ پس اس دعویٰ میں کوئی وزن نہیں کہ ان افکار و خیالات سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس لگنے کا کوئی احتمال نہیں۔ یہ استدلال کہ اگر کسی شخص یا جماعت اشخاص کا عقیدہ زیر بحث ہو تو اس عقیدہ کی بابت مذکورہ بالا شخص یا اشخاص کے اختیار کردہ موقف یا پوزیشن کو اس گروپ میں مروجہ مفہوم کے حوالہ سے اس کی تصدیق کرنا لازم ہوتا ہے اور یہ کہ انفرادی مخصوص خیال یا رائے کو اس شخص یا اشخاص کے موقف یا نقطہ نظر کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ بیان کی حد تک تو بڑا اچھا لگتا ہے تاہم یہ استدلال زیر بحث صورتحال پر منطبق نہیں ہوتا کیونکہ مسئلہ کسی خیال یا عقیدہ کو ذاتی طور پر اپنانے کا نہیں‘ بلکہ اس کی علانیہ تبلیغ و پرچار کرنے یا ایسے طریقہ سے اس کی پیروی کرنے کا ہے۔ جس میں تشہیر و اشاعت کو نمایاں دخل ہو‘ علاوہ ازیں ان عبارات و افکار کی جو وضاحتیں اور جواز پیش کیا جاتا ہے۔ مسئول الیہ حکام ان پر نہیں جاتے‘ وہ واقعاتی پوزیشن کو ہی تسلیم کرتے ہیں۔ اگر ان کی رائے میں معقول وجوہ موجود ہوں تو وہ متعلقہ قانون کے احکام (دفعہ ۱۴۴ ض ف) کے تحت کارروائی کر گزرتے ہیں۔ یاد رہے اس مرحلہ پر سائلان کے فاضل وکیل نے کتابوں کی فوٹو سٹیٹ نقول پیش کرنے پر یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ جن کتابوں سے یہ اقتباسات لئے گئے ہیں۔ وہ کتابیں پیش کی جانی چاہئے تھیں۔ جب مسئول الیہان نے اصل کتابیں پیش کردیں تو فاضل وکیل سے کہا گیا اگر وہ چاہیں تو ایسی کتب کی ایک فہرست دے دیں جنہیں اقتباسات کے سلسلہ میں وہ دیکھنا چاہتے ہیں‘ نہ کبھی وہ فہرست داخل کی گئی نہ ہی زبانی طور پر ایسی اغلاط و عبارات کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے برعکس مسٹر مجیب الرحمٰن جنہوں نے اس پہلو پر مقدمہ کی پیروی کی‘ یہ ذمہ داری سائلان پر ڈال دی‘ انہوں نے خود کو اس کے پیش کرنے کا پابند نہیں سمجھا۔
۱۴۔ سائلان کے فاضل وکلاء نے مجموعہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ ۹ کا جو حوالہ دیا ہے‘ وہ غیر متعلق اور بے محل ہے۔ یہ دفعہ دیوانی عدالتوں کے اس عمومی اختیار سماعت سے بحث کرتی ہے جس کے تحت وہ دیوانی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔ اس کے اختتام پر جو ”تشریح“ درج ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ایسے مقدمات جن میں مذہبی رسوم یا تقریبات سے متعلق مسائل شامل ہوں‘ محض دیوانی نوعیت کے مقدمے نہیں ہوتے‘ جب تک ان سوالات سے کوئی مالکانہ حق یا حصول منصب کا حق پیوستہ نہ ہو۔ عدالت کے سامنے ایسا کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ یہ ایسی رٹ پٹیشن ہے جو دستور کے آرٹیکل ۱۹۹ کے تحت عدالت ہذا کو حاصل غیر معمولی آئینی اختیار سماعت سے داد رسی کی خواہاں ہے۔ اس رٹ میں دستور میں شامل بنیادی حقوق کے حوالہ سے وہ احکام و ہدایات جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے اس میں کسی مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق سے مدد لی گئی جبکہ مذہب اور افکار و خیالات کی تبلیغ کرنے
کے حق سے مدد نہیں مانگی گئی، نہ ہی اس پر زور دیا گیا۔ بلکہ قصداً اپنے دلائل اس حد تک محدود رکھے۔ اس سیاق و سباق میں مسئول الیہان نے ان دلائل کا جواب دینے کی ضرورت محسوس کی اور یہ ثابت کرنا چاہا کہ اگرچہ یہاں تبلیغ مذہب کا حق زیر بحث نہیں، تاہم جو موقف اختیار کیا گیا، جو دلائل پیش کئے گئے اور جس داد رسی کی استدعا کی گئی، اگر وہ عطا کر دی جاتی تو اس کا نتیجہ لازماً یہ نکلتا کہ قادیانی مذہب اور زیر اعتراض افکار و نظریات کی اعلانیہ یا پوشیدہ بے خوف و خطر تبلیغ یقینی بن جاتی۔ پس جو سوالات اٹھائے گئے ہیں، ان پر کسی دیوانی عدالت میں زیر دفعہ ضابطہ دیوانی زور نہیں دیا جا رہا ہے۔ اس مرحلے پر یہ واضح کرنا مناسب ہو گا کہ سائلان کے فاضل وکلاء نے عرض کیا تھا کہ زیر بحث مسئلہ صد سالہ جشن کا سال گزر جانے کے باوجود ایک جیتا جاگتا مسئلہ ہے۔ اگر ان کے حسب پروگرام تقریبات منانے کا مطالبہ مان لیا جائے اور عدالت کی طرف سے اس بارے میں حکم صادر کر دیا جائے تو وہ ان تقریبات کو اب بھی منعقد کر سکتے ہیں۔ اس لئے عدالت کو مذکورہ بالا سیاق و سباق میں اٹھائے گئے سوالات کا تجزیہ کرنا پڑا۔ فاضل وکلا کو مکمل آزادی دی گئی کہ وہ جتنی دیر چاہیں دعاوی اور دلائل پیش کریں۔ بشرطیکہ وہ مذکورہ سیاق و سباق سے متعلقہ ہوں، ان سے باہر نہ ہوں۔ البتہ ان افکار و خیالات اور وضاحتوں کے اخلاقی پہلو کی بابت جو ان زیر بحث افکار کے جواز کو ثابت کرنے کی غرض سے کئے گئے، ان کی اجازت نہیں دی گئی۔ کیونکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور صوبائی حکومت کو ان جوازات کے بارے میں جاننے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ وضاحت کہ پچھلی پوری صدی کے دوران مسلمانوں نے مرزا صاحب کے عقائد اور تعلیمات کو غلط سمجھا یا انہیں غلط معنے پہنائے اور اب ان کی تصحیح کی جاسکتی ہے۔ معاملہ کی موجودہ صورتحال کے سیاق و سباق میں غیر متعلقہ ہے۔ یہاں یہ بتانا مناسب ہو گا کہ یہ ساری وضاحتیں اور جواز معہ زیر اعتراض افکار مجیب الرحمن بنام وفاق پاکستان (پی ایل ڈی ۱۹۸۵ء ایف ایس سی ۸) نامی مقدمہ میں پیش کی جاچکی ہیں۔ جن پر وفاقی شرعی عدالت نے ان پر پوری طرح غور و خوض کیا اور اپنے فیصلہ میں ان کی بابت اپنی رائے کا اظہار کیا۔ یہ فیصل شدہ اور مسلمہ معاملہ ہے۔ عدالت ہذا بھی اسے تسلیم کرنے کی پابند ہے۔ مذکورہ بالا عدالت نے اپنے فیصلہ کے صفحہ ۸۲ پر درج ذیل رائے کا اظہار کیا تھا:-
”پس یہ بات شک و شبہ کے ادنیٰ شائبہ کے بغیر ثابت ہو چکی ہے۔ جیسا کہ سر ظفر اللہ خان نے کہا تھا:- ”یا تو پاکستان میں رہنے والی اکثریت کے لوگ کافر ہیں یا پھر قادیانی کافر ہیں“۔ جس کے معنے یہ ہوئے کہ یہ دونوں ملتیں ایک نہیں ہوسکتیں اور مسلمان و قادیانی ایک امت کے فرد نہیں بن سکتے۔ دونوں کے مابین کوئی نقطہ اشتراک و اتحاد نہیں، کیونکہ مسلمان ختم نبوت
پر غیر مشروط ایمان رکھتے ہیں جبکہ قادیانی اس کے قائل نہیں‘ وہ مسلمانوں کے برعکس مرزا صاحب کو ایک نیا نبی مانتے ہیں........
اس سے ظاہر ہوا کہ یہ دونوں ایک ہی امت سے تعلق نہیں رکھتے۔ اس سوال کو حل نہیں کیا گیا کہ دونوں گروہوں میں سے کونسا اصل مسلمان ہے۔ کیونکہ برطانوی ہند میں اس کا فیصلہ کرنے کے لئے کوئی فورم موجود نہیں تھا۔ تاہم ایک اسلامی ریاست میں جہاں اس مسئلہ کو طے کرنے والے ادارے موجود ہیں‘ اسے حل کرنے میں کوئی دشواری نہیں۔ مجلس دستور ساز کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت بھی اسے حل کرنے کی قانوناً مجاز ہے۔"
پس ثابت ہوا کہ مسلمان اور احمدی دو الگ اور جداگانہ وجود ہیں۔ جماعت احمدیہ اور اس کے بانی کی کتب سے حوالے پیش کرنا اور دونوں علیحدہ و جداگانہ ملتوں میں امتیاز و تفریق کے لئے بلکہ زیر بحث احکام و ہدایات جاری کرنے کی ضرورت جواز کو ثابت کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر متفرق درخواست (سی۔ایم۔۴۸۹۔۲۰۴۹) خارج کی جاتی ہے۔
۱۵۔ اب اس متنازعہ فیہ مسئلہ پٹیشن کے متنازعہ معاملہ کو میرٹ پر جانچنے کا مرحلہ آگیا ہے سائلان نے اپنی رٹ میں حسب ذیل کو چیلنج کیا ہے یعنی:
- ۱۔۔ صوبائی حکومت کی طرف سے ۲۰ مارچ ۸۹ء کو صادر کردہ حکم جس کی رو سے صد سالہ جشن
کی ان تقریبات پر پابندی لگائی گئی جن کا اعلان اور تشہیر احمدیہ برادری کی مقامی تنظیم کے عہدیداران نے کی تھی۔
- ۲۔۔ جھنگ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے مورخہ ۲۱ مارچ ۱۹۸۹ء کو زیر دفعہ ۱۴۴ جاری
کردہ حکم اور
- ۳۔۔ ربوہ کے ریزیڈنٹ مجسٹریٹ کی طرف سے ۲۵ مارچ ۱۹۸۹ء کو جاری کیا گیا حکم: مذکورہ بالا
احکام کو منجملہ دیگر امور کے‘ ان وجوہات کی بناء پر چیلنج کیا گیا تھا کہ عائد کردہ پابندی آئین کے آرٹیکل ۲۰ میں ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے بنیادی حق کی ضمانت دی گئی ہے‘ یہ پابندی اس حق کو پامال کرتی ہے نیز ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ نے زیر دفعہ ۱۴۴ جو حکم جاری کیا تھا وہ خلاف قانون ناجائز‘ بے موقع اور دخل در معقولات کے مترادف ہے۔
چونکہ رٹ میں اصل حملہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ و ریزیڈنٹ مجسٹریٹ کے احکام پر کیا گیا تھا اس لئے بغرض حوالہ اور استفادہ دونوں حکم ذیل میں نقل کئے جاتے ہیں۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ۲۱ مارچ ۸۹ء کو جو حکم جاری کیا اس میں کہا گیا تھا۔
”چونکہ مجھ پر واضح اور عیاں کیا گیا ہے کہ ضلع جھنگ کے قادیانی ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کو قادیانیت کے صد سالہ جشن کی تقریبات منعقد کرنے والے ہیں‘ جس کے لئے انہوں نے
عمارتوں پر چراغاں، مکانوں کی سجاوٹ، آرائشی دروازوں کی تیاری، جلوسوں کا اہتمام، جلسوں کے انعقاد، پمفلٹوں کی تقسیم، دیواروں پر پوسٹروں کی چسپائی، مٹھائیوں کی تقسیم خصوصی کھانوں کا انتظام، بیجوں، جھنڈیوں اور جھنڈوں کی نمائش وغیرہ کا بندوبست کر لیا ہے۔ مسلمانوں کی طرف سے اس پر شدید اعتراضات و احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اس سے عام لوگوں کے امن و امان اور سکون و اطمینان میں خلل پڑنے کا قوی امکان ہے جس سے انسانی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور چونکہ حکومت پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے مورخہ ۲۰ مارچ ۸۹ء کو ٹیلی فون پر پیغام نمبر ۲ آئی۔ ایچ۔ ایس پی ایل ۸۸۔ ۱۱ کے ذریعے ان تقریبات پر پورے پنجاب میں پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اور چونکہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ سی میں کہا گیا ہے کہ قادیانی گروپ کا کوئی شخص جو خود کو اعلانیہ یا بصورت مسلمان ظاہر کرے، کہلائے یا اپنا مذہب اسلام بتائے، اپنے مذہب کی دوسروں میں تبلیغ کرے، یا انہیں زبانی یا تحریری طور پر اسے قبول کرنے کی دعوت دے، یا کوئی اور طریقہ، خواہ کوئی بھی ہو، بروئے کار لائے جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل ہوتے ہوں، وہ موجب تعزیر ہو گا۔
اور چونکہ میری رائے میں نیز حکومت پنجاب کے فیصلہ اور مجموعہ تعزیرات پاکستان کے احکام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ فوری روک تھام مناسب ہو گی اور دفعہ ۱۴۴ کے تحت کارروائی کی معقول وجوہ موجود ہیں اور ذیل میں درج کی گئی ہدایات انسانی جان و مال کو لاحق خطرہ نیز امن عامہ اور سکون و اطمینان میں پڑنے والے خلل کی روک تھام کے لئے ضروری ہیں۔ اس لئے اب میں چوہدری محمد سلیم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ ضابطہ فوجداری ۱۸۹۸ء کی دفعہ ۱۴۴ کے تحت حاصل شدہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ضلع جھنگ میں بسنے والے قادیانیوں کو مندرجہ ذیل سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کرتا ہوں۔
- (i) عمارتوں اور احاطوں پر چراغاں
- (ii) آرائشی گیٹ لگانا۔
- (iii) جلوسوں اور جلسوں کا انعقاد۔
- (iv) لاؤڈ سپیکر یا میگا فون کا استعمال۔
- (v) نعرے بازی۔
- (vi) بیجوں، جھنڈوں اور جھنڈیوں کی نمائش۔
- (vii) پمفلٹوں کی تقسیم، دیواروں پر پوسٹروں کی چسپائی نیز دیواروں پر اشتہاروں کی لکھائی۔
- (viii) مٹھائیوں اور اشیائے خورد و نوش کی تقسیم۔
- (ix) کوئی اور سرگرمی جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل یا
مجروح کرے۔ یہ حکم فوری طور پر نافذ ہو گا اور دو ماہ تک موثر رہے گا۔
اس حکم کی میعاد ختم ہو جانے کے باوجود ہر کام جو کیا جائے، ہر قدم جو اٹھایا جائے، ہر فعل جو انجام دیا جائے، ہر فرض یا ذمہ داری جو عائد کی جائے، تعزیر یا سزا یا زیر التوا تفتیش، تحقیقات یا کارروائی، تفویض کردہ اختیارات سماعت یا اختیارات، درجہ اول کے مجسٹریٹوں کی عدالت میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہونے والی تازہ کارروائی اور اس حکم کی تنقید کے دوران ارتکاب کردہ جرائم پر دی گئی سزا جاری رہے گی یا شروع رہے گی اور یہ تصور کیا جائے گا گویا یہ حکم زائد المیعاد نہیں ہوا۔ اس حکم کی ڈھول بجا کر، سرکاری جریدہ میں شائع کر کے ضلع کی عدالتوں، ایس پی جھنگ، اسسٹنٹ کمشنر، تحصیل دار کے دفاتر، میونسپل اور ٹاؤن کمیٹی نیز ضلع کے تمام تھانوں میں نوٹس بورڈز پر چسپاں کر کے وسیع پیمانہ پر تشہیر کی جائے گی۔
”آج مورخہ ۲۱ مارچ ۱۹۸۹ء کو میرے دستخطوں اور عدالت کی مہر کے ساتھ جاری کیا گیا۔“
- ۱۶۔۔ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ربوہ نے ۲۱ مارچ کو حسب ذیل حکم جاری کیا تھا
”ابھی ابھی اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ نے بذریعہ ٹیلی فون اطلاع دی ہے کہ نوٹیفکیشن نمبر ۱۹۰۵ مورخہ ۲۱ مارچ ۱۹۸۹ء میں مزید توسیع کر دی گئی ہے اور یہ پابندی تاحکم ثانی جاری رہے گی۔ نیز انہوں نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ ناظر امور عامہ صدر عمومی جماعت احمدیہ ربوہ اور دیگر اکابرین کو اس ضمن میں مطلع کیا جاوے اور انہیں ہدایت کی جائے کہ وہ ہر قسمی دروازے، بینرز، چراغاں کے متعلق بجلی کی تاروں، وغیرہ کو اتار دیں اور اس امر کی تسلی کریں کہ دیواروں پر مزید عبارت ہرگز نہ لکھی جاوے۔
مورخہ ۸۹-۳-۲۵
ان احکامات کے اجرا کا واقعاتی پس منظر یہ تھا کہ صد سالہ جشن کی تقریبات کی بابت اعلان احمدیہ جماعت کی مقامی تنظیم کے عہدیداروں کی طرف سے اخباروں میں کیا جا چکا تھا۔ احمدیوں کے بارے میں سال ۱۹۸۹ء کے دوران جو قانونی پوزیشن بتائی گئی، وہ یہ تھی کہ ۱۹۷۴ء کی دستوری ترمیم کے ذریعے انہیں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے اور اس حقیقت کے باوجود کہ اگرچہ احمدی زبانی طور پر یہ اقرار کرتے ہیں کہ ملک کا دستور دوسرے شہریوں کی طرح ان کے لئے بھی واجب التعمیل ہے۔ تاہم وہ خود کو مسلمان کہلانے، اپنے مذہب کو اسلام ظاہر کرنے اور ان القابات کو جو خالصتاً رسول اکرم، اہل بیتؓ اور صحابہ کرامؓ کے لئے مخصوص ہیں مرزا صاحب اور اس کے خاندان کے افراد کے لئے استعمال پر اصرار کرتے ہیں۔ اس لئے ۱۹۸۴ء میں احمدیوں کو وہ کچھ کہلانے سے، جو کچھ وہ نہیں ہیں۔ باز رکھنے کے لئے آرڈیننس نمبر ۲۰ نافذ کیا گیا۔ انہیں اس امر کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے امت مسلمہ
کو دھوکہ دے سکیں۔ آئینی ترمیم پر عملدرآمد کے لئے مخصوص القابات کے استعمال پر پابندی کا حکم بھی جاری کیا گیا تاکہ قادیانی خود کو واضح طور پر یا کنایۃ "مسلمان ظاہر نہ کر سکیں مزید بر آں مجیب الرحمان (سپرا) کے مقدمہ میں وفاقی شرعی عدالت یہ قرار دے چکی ہے کہ "دستور کا آرٹیکل ۲۶۰ (۳) قادیانیوں کو آئین و قانون کی اغراض کے لئے غیر مسلم قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل ۲۰ میں پاکستان کے شہریوں کے منجملہ دیگر امور‘ یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ یہ آرٹیکل آئین کے دیگر مشمولات کے تابع ہے۔ حقیقت میں یہ چیز مسٹر مجیب الرحمان نے خود بھی تسلیم کی تھی۔ اس آرٹیکل کو آرٹیکل ۲۶۰ (۳) کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو اس سے یہ مطلب بنتا ہے کہ "قادیانی اس امر کا اقرار کرنے کے مجاز ہیں کہ وہ اللہ کی وحدانیت اور مرزا صاحب کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ تاہم اپنے کو مسلمان یا اپنے دین کو اسلام ظاہر نہیں کر سکتے۔" دستوری فیصلہ اور ۱۹۸۴ء کے آرڈیننس نمبر ۲۰ کے ذریعے پابندی کے نفاذ کی وجوہات مجیب الرحمان سپرا کے مقدمہ میں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے : مرزا صاحب کی طرف سے ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود‘ مہدی یا نبی یا رسول اکرمؐ کا بروز ہونے کا جو دعویٰ کیا گیا اس نے عامتہ المسلمین علمائے کرام اور ارباب علم و دانش میں ہمیشہ کے لئے یکساں دشمنی‘ غم و غصہ‘ ملامت اور اظہار ناراضگی پیدا کر دیا۔"
(سیرۃ المہدی --- جلد اول - ص -- ۹۰ --- ۸۶)
جلد دوم ص --- ۸۷‘ ۴۶۳ اور جلد سوم ۹۴
خود اس کی زندگی میں مسلمانوں میں بار بار جنم لینے والے انتہائی اشتعال کی یہ ایک جھلک ہے۔ پاکستان کی تخلیق کے بعد ۱۹۵۳ء میں لاہور میں مارشل لاء کا نفاذ‘ منیر کمیٹی کی تشکیل اور ۱۹۷۴ء کی دستوری ترمیم سب کے سب مسلمانوں کے زبردست احتجاج‘ جھنجلاہٹ‘ کشیدگی اور کراہت و بیزاری کے آئینہ دار ہیں۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ سی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی ممانعت کرتی ہے اور اس معاملہ میں مسلمانوں کی اس بے چینی‘ اضطراب اور غم و غصہ کا روشن ثبوت پیش کرتی ہے جسے بالاخر آرڈیننس کے ذریعے ممنوع قرار دیا گیا۔" مزید برآں رپورٹ کے صفحہ نمبر ۱۰۰ پر کہا گیا ہے۔
"قادیانیوں نے امت مسلمہ کے افراد میں بڑی حد تک پنجاب میں تھوڑی بہت کامیابی اس سٹرٹیجی کے تحت حاصل کی کہ خود کو مسلمان اور اپنے مذہب کو اصل اسلام ظاہر کیا اور دوسروں کو یقین دلایا کہ احمد ازم ( قادیانیت) کو قبول کرنے کا مطلب اسلام کو ترک کرنا یا اسلام سے کفر کی طرف مراجعت نہیں‘ انہوں نے لوگوں کو بہکایا کہ اگر وہ بہتر مسلمان بننا چاہتے ہیں تو احمدیت کے سایہ عاطفت میں آ جائیں۔ اسی غرض کے لئے حسب معمول انہوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کی دکھتی رگ یعنی فرقہ بندی سے بیزاری اور علماء کی مذہبی معاملات میں
سخت گیری و انتہا پسندی پر ہاتھ رکھا اور انہیں مرزائیت جسے وہ اسلام میں روشن خیالی کی علمبردار کہتے تھے، کی نام نہاد آغوش عافیت کی طرف لانے کی تگ و دو کی۔ ان کی یہ سٹرٹیجی اس گندم نما جو فروش تاجر سے ملتی جلتی تھی جو کسی مشہور و معروف فرم کا نام لے کر اپنا گھٹیا مال فروخت کرتا ہو۔ ان کی حکمت عملی ایک حد تک کامیاب رہی۔ اگر قادیانی یہ بات تسلیم کرلیں کہ ان کی تبلیغ اسلام کے لئے نہیں، ایک دوسرے مذہب کے لئے ہے تو مسلمانوں میں جاہل اور غافل لوگ بھی اپنی متاع ایمان کو بے ایمانی سے بدلنے پر ہرگز آمادہ نہ ہوں۔ بلکہ اس سے قادیانیت کے سحر میں اسیر قادیانی بھی اس سے چھٹکارا پانے کی فکر کرنے لگیں۔
دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ قادیانیوں نے خود کو مسلمان ظاہر کر کے ہر مسلمان کو، جس سے ان کی مڈھ بھیڑ ہوتی۔ اپنے مذہب کی دعوت دینے کی کوشش کی۔ وہ مرزا صاحب کو نبی کہہ کر ان کے جذبات مجروح کرتے، کیونکہ ہر مسلمان رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہے اس لئے یہ بات ان کے غم و غصہ کو بھڑکانے کا سبب بنتی اور نفرت میں اضافہ کرتی۔ اس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ مرزا صاحب کے دعویٰ مسیح موعود اور مہدی پر بڑی برہمی و خفگی کا اظہار کیا جاتا۔ یہ محض زبانی دعویٰ نہیں، قادیانیت کی تاریخ بلکہ خود مرزا صاحب کی تصانیف سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے نہ صرف علماء کی طرف سے بلکہ عامۃ المسلمین کی طرف سے بھی زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔"
۱۷۔۔۔ اس لئے متنازعہ حکم کو مذکورہ بالا تاریخی و قانونی تناظر میں پرکھنا چاہئے۔ اس رٹ میں جس حق پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے وہ مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کا حق ہے جس کی ضمانت دستور کے آرٹیکل ۲۰ میں دی گئی ہے۔ تاہم یہ حق دستور کے دیگر مشمولات، قانون، مصلحت عامہ اور اخلاق کے تابع ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا احمدیوں کی تقریبات کا انعقاد ”مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق“ کی تعبیر و توضیح میں آتا ہے یا نہیں؟ آیا قانون ایسی تقریبات کی ممانعت کرتا ہے؟ آیا ایسے حالات موجود ہیں جو امن عامہ قائم رکھنے کے لئے ایسی تقریبات پر پابندی کا تقاضا کرتے ہوں؟ ان سوالات کا جواب جاننے کے لئے اس طریق کار کو سمجھنا ضروری ہے جس طریقے سے ان تقریبات کا انعقاد عمل میں آنا تھا۔
یہ بات قابل غور ہے کہ رٹ میں جو موقف اختیار کیا گیا وہ یہ تھا : ”قادیانی تحریک کی سو سالہ تقریبات کو اعلانیہ طور سے منانا اور پوری صدی کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کا تذکرہ کرنا احمدیوں کا آئینی و قانونی حق ہے۔“ جبکہ دلائل کے دوران ان کے وکلاء کا کہنا یہ تھا ”اگرچہ عام جلسے کرنا اور مذہبی موضوعات بشمول سیرت نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) جس میں مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کا ذکر یقیناً شامل ہے، پر تقاریر کرنا ان کا حق ہے۔ تاہم اس کے لئے نہ تو کوئی پروگرام وضع کیا گیا تھا نہ ہی ایسی تقاریر کرنا ان کا ارادہ تھا جس سے ملکی قانون کی خلاف
ورزی ہوتی۔ ” بظاہر یہ موقف تعزیرات پاکستان کی زیر دفعہ ۲۹۸ ۔ اے‘ ۲۹۸۔ بی اور ۲۹۸ ۔ سی کو سامنے رکھتے ہوئے اختیار کیا گیا۔ حالانکہ اس کی تردید جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع کردہ پمفلٹوں‘ جاری کردہ اشتہارات اور جماعت کے ترجمان روزنامہ ”الفضل“ میں شائع شدہ رپورٹوں اور خبروں سے ہوتی ہے۔ مسٹر سی اے رحمان ایڈووکیٹ نے بڑے وثوق سے یہ بات کہی کہ تقریبات کے تحت جلسہ ہائے عام منعقد کرنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ نہ کوئی آرائشی گیٹ بنائے گئے تھے جھنڈیوں‘ بیجوں اور پھریروں کی نمائش کا کوئی ارادہ نہیں تھا جلوس نکالنے کا بھی کوئی منصوبہ زیر غور نہیں تھا۔ جبکہ ۲۶؍ مارچ ۱۹۸۹ء کے ”الفضل“ نے اس کے بالکل برعکس کہانی شائع کر کے ڈھول کا پول کھول دیا۔ ”اخبار“ نے لکھا تھا۔ ”حکومتی احکامات کی تعمیل میں کوئی آرائشی گیٹ نہیں بنایا گیا حالانکہ پچاس سے زائد آرائشی دروازے بنائے جانے تھے۔ نہ کہیں کوئی چیز آویزاں کی گئی جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں بینر لگانے کا منصوبہ تھا۔ ربوہ میں منگائی گئی پولیس نے ۲۴ احمدی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ ان میں سے چار کو دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کے الزام میں اور بقیہ ۲۰ کو دفعہ ۲۹۸۔ سی ت پ نیز دفعہ ۱۸۸ ض ف کی مشترکہ خلاف ورزی کے الزام میں پکڑا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پٹاخے چلائے‘ نعرے لگائے سینوں پر بیج سجائے اور محلوں پر پہرہ دیا۔ چار لڑکوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں جن پر <Hundred Years of Truth> (سچائی کے سو سال) لکھا ہوا تھا۔ اس جشن کی تیاری کا انتظام اس انداز میں کیا گیا تھا کہ اگر اسے آزادی سے منانے دیا جائے تو دنیا کی تاریخ میں یہ ایک منفرد جشن ہوتا۔ “
۔۱۸۔۔ فاضل ایڈووکیٹ جنرل کے پیش کردہ مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت احمدیہ نے یہ جشن کھلے بندوں منانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس سلسلہ میں جو پروگرام بنایا گیا اس میں بانی جماعت اور اس کے رفقاء کی تعلیمات و افکار کا اعلانیہ پرچار اور ایسے بینرز کی نمائش شامل تھی جن پر طرح طرح کے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر نعرہ تھا۔ <Hundred Years of Truth> (سچائی کے سو برس) یہ نعرہ ان ٹی شرٹس پر بھی لکھا ہوا تھا جو سالگرہ کے لئے بطور خاص سلوائی گئی تھیں۔ بحث کے دوران سائلان کے فاضل وکلاء نے دعویٰ سے کہا کہ ان تقریبات میں احمدیہ کمیونٹی کے ارکان اور ان کے دوستوں نے خصوصی دعوت ناموں کے ذریعے شریک ہونا تھا۔ واقعاتی لحاظ سے ان کا یہ موقف قرین صداقت نہیں تھا۔ پس ایڈووکیٹ جنرل یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ صوبائی حکومت اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے امن وامان کے مسئلہ اور نقص امن کے اندیشہ کو اس کے صحیح واقعاتی اور قانونی تناظر میں جانچا اس لئے اس عدالت کو بھی متنازعہ حکم کا جائزہ اس تناظر میں لینا ہو گا کہ سالگرہ کی تقریبات پبلک میٹنگز کی شکل میں منعقد ہونی تھیں۔ جس میں صرف اراکین جماعت اور ان کے دوست
ی شرکت نہ کرتے بلکہ بہت سے دوسرے لوگ بھی غیر ارادی طور پر ان اجتماعات میں شریک ہو جاتے۔۔۔ سائلوں کے فاضل وکلاء کی دوسری دلیل یہ تھی کہ نہ تو کوئی پروگرام تیار کیا گیا تھا نہ ہی کسی ایسی تقریر کا ارادہ کیا گیا تھا جس سے ملکی قانون پامال ہوتا۔ ان کے بقول گذشتہ صدی (۱۸۸۹ء تا ۱۹۸۹ء) کے واقعات کو دہرانے بانی جماعت اور اس کے رفقاء کے خیالات و افکار، جیسا کہ ان کی تالیفات میں مذکور ہیں کا اعادہ کرنے سے ملک کے کسی قانون کی پامالی کا خطرہ نہیں تھا۔ ان مقاصد کے لئے منعقد ہونے والے جشن پر پابندی لگانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اس کے برعکس مسئول الیہان کا کہنا ہے کہ پیش نظر مقاصد حاصل کرنے کے لئے جو پروگرام بنایا گیا تھا اسے عملی جامہ پہنانے سے نہ صرف امن و امان کا سنگین مسئلہ کھڑا ہو جاتا، جیسا کہ حکومت اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے قیاس کیا۔ بلکہ وہ سب کچھ خلاف اور زیر دفعہ ۲۹۸ سی ت پ ارتکاب جرم کے مترادف بھی ہوتا۔ اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا حکم مورخہ ۸۹۔ ۳۔ ۲۳ جسے رٹ میں متنازعہ کہا گیا ہے درست تھا۔
فاضل ایڈووکیٹ جنرل نیز مسئول الیہان کے فاضل وکلاء نے گذارش کی کہ جس قسم کے جلسوں کا اعلان مشتہر کیا گیا تھا وہ بھی مسلمہ مقاصد کے لئے خواہ وہ سو سالہ جشن کی تقریبات کی شکل میں ہوتا یا بصورت دیگر امن عامہ کے لئے سخت خطرناک ثابت ہوتا۔ مزید عرض کیا گیا، اگرچہ یہاں قادیانی مذہب کی تبلیغ کرنے کے حق پر زیادہ زور نہیں دیا جا رہا بلکہ ایسے جلسے منعقد کرنے کا ذکر ہو رہا ہے جن میں مرزا صاحب کے حالات زندگی اور مقام و منزلت نیز گذشتہ ۱۰۰ سالوں کے دوران حاصل ہونے والی کامرانیوں کا تذکرہ کیا جاتا۔ جس کی غرض و غایت قادیانیت کی تلقین، تبلیغ اور تشہیر پرچار کے سوا کچھ نہ ہوتی۔ اس کے معنے یہ ہوئے کہ ایک طرف خلاف قانون فعل کا ارتکاب عمل میں آتا، دوسری طرف مسلمانوں نیز عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی جاتی۔ تقریبات کے اس پہلو کو نمایاں کرنے کی غرض سے مرزا صاحب اور اس کے جانشینوں کی تعلیمات و افکار کو درج ذیل عنوانات کے تحت نقل کیا گیا تھا۔
- ۱۔ مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت اور فضیلت میں خود رسالت مآب آنحضرتؐ سے سبقت لے
جانے کا خبط۔
- ۲۔ خداوند تعالیٰ کی شان میں گستاخانہ کلمات۔
- ۳۔ حضرت عیسیٰ روح اللہ کے بارے میں غلیظ اور توہین آمیز عبارات۔
- ۴۔ اہل بیت اطہار (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی شان میں بے ادبی و گستاخی پر مبنی
ریمارکس۔
- ۵۔ امت مسلمہ کو گروہ منافقین اور قادیانیوں سے جداگانہ ملت ظاہر کرنے والی تحریریں نیز
مسلمانوں کے مستند علماء کے بارے میں ہفوات۔
۲۰۔۔۔ مسلمانوں کے متعلق مرزائیوں کی کتابوں میں مذکورہ متنازعہ آراء، افکار اور نظریات و تعلیمات جو بحث کے دوران پڑھ کر سنائی گئیں۔ انہیں یہاں درج کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے کیونکہ ان کا نقل کرنا مزید احتجاج و ہنگامہ آرائی کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا۔ سائلان کے فاضل وکیل مسٹر مبشر لطیف احمد نے موقف اختیار کیا کہ عدالتی کارروائی کو اخبارات میں رپورٹ کرنے سے وہ تاریخیں جن تاریخوں پر مذکورہ موضوعات زیر بحث آتے تھے احمدیوں کے خلاف نفرت و عداوت کے بھڑکنے کا امکان ہے۔ جب کہ مسٹر مجیب الرحمان ایڈووکیٹ کا استدلال یہ تھا کہ مذکورہ بالا عنوانات کے تحت جو مواد پیش کیا گیا، وہ تازہ ترین کتابوں سے اخذ کردہ نہیں ہے پچھلی ایک صدی کے دوران یہ کتابیں بار بار چھپی ہیں۔ اگر وہ مواد پچھلے عرصہ میں اشتعال انگیز نہیں تھا تو سوسالہ جشن کے موقع پر اسے اشتعال انگیز کیوں سمجھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ۱۹۸۳ء تک جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسے ربوہ میں منعقد ہوتے رہے، حکومت لوگوں کی سہولت کے لئے سپیشل ٹرینیں چلاتی رہی، کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور قادیانی مذہب کبھی امن عامہ میں خلل کا موجب نہیں بنا تو جشن کی تقریبات منانے سے کون سی قیامت آجاتی۔
ہمارے خیال میں فاضل وکیل کا یہ استدلال قادیانی مذہب اور مرزا صاحب کی نبوت کے خلاف مسلمانوں کے غیظ و غضب اور ان کی شدید مخالفت و مزاحمت سے لاعلمی کا نتیجہ ہے مرزا صاحب نے اپنے مخالفین کے بارے میں جو انتہائی ناشائستہ اور گندی زبان میں تحریریں لکھی، مشتے از خروارے کے طور پر ان سے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ مرزا صاحب نے پہلے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور خود کو مسیح موعود کی صورت میں حضرت عیسیٰ کا بدل ثابت کرنے کی کوشش کی۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ مسیح موعود ابن مریم کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اس نے دعویٰ سے کہا : ”خدا نے براہین احمدیہ“ (مرزا صاحب کی تالیف جو ان پر نازل ہونے والے الہام و انکشافات پر مشتمل ہے) کی تیسری جلد میں میرا نام میری ( مریم) رکھا عرصہ دو سال تک مریم کی طرح تنہائی کی حالت میں میری پرورش کی گئی اور میری تربیت زنانہ خلوت میں ہوئی۔ پھر عیسیٰ کی روح بھی پھونکی گئی بالکل اسی طرح جیسے یہ روح حضرت مریم کے نفس میں پھونکی گئی تھی۔ اسی طرح مجازی معنوں میں مجھے بھی حاملہ سمجھا گیا، کئی ماہ کی مدت (جو ۱۰ ماہ سے زیادہ نہیں تھی) کے گزرنے پر براہین احمدیہ کی چوتھی جلد میں شامل الہام کے ذریعے مجھے مریم کے بطن سے جدا کر کے عیسیٰ بنایا گیا۔ یوں میں عیسیٰ ابن مریم بنا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے براہین احمدیہ کے زمانہ نزول کے دوران اس مخفی راز سے مطلع نہیں
کیا۔"
(کشتی نوح، مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۹ص۔ ۵۰)
۲۱۔۔۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا مرزا صاحب نے اپنی نگارشات میں حضرت عیسیٰ کے متعلق انتہائی توہین آمیز، لعنت ملامت پر مبنی اور اشتعال انگیز باتیں لکھی ہیں۔ اگرچہ کسی مستند کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ (نعوذ باللہ) حضرت عیسیٰ بد زبان اور فحش گو یا شہوت پرست تھے لیکن مرزا صاحب کے قلم سے اللہ کے اس برگزیدہ، مقدس اور معصوم نبی کے بارے میں ایسے ایسے ناپاک خباثت پر مبنی اور بے ادبی و گستاخی کے حامل جھوٹے کلمات نکلے اور اس نے بار بار روح اللہ پر ایسے گھناؤنے الزام لگائے کہ الامان و الحفیظ ان میں سے بعض ذیل میں نقل کئے جاتے ہیں۔ ”عیسیٰ میں فحش گوئی کی عادت تھی اور وہ اکثر گندی زبان استعمال کرتے تھے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۱ص۔۔۔۔۲۸۹)
”مسیح کے کردار کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ عیسیٰ ایک شرابی ایک پیٹو شخص تھے، نہ وہ کبائر سے پرہیز کرتے تھے نہ ہی حقیقی متقی و پارسا تھے۔ وہ سچائی کے متلاشی بھی نہ تھے۔ حقیقت میں وہ ایک مغرور، انا پرست اور الوہیت کے جھوٹے دعویدار تھے۔“ (نور القرآن مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۹ ص ۳۸۷)
”الکحل شراب کے استعمال نے اہل یورپ کو جو زبردست اخلاقی و معاشرتی نقصان پہنچایا اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ خود عیسیٰ الکحل استعمال کرتے تھے، شاید کسی بیماری کے باعث یا پرانی عادت کے ہاتھوں مجبور ہو کر۔“ (کشتی نوح۔۔۔ مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۹ص ۷۱)
”عیسیٰ خود کو ایک پارسا شخص کے طور پر پیش نہیں کر سکے کیونکہ لوگ جانتے تھے کہ وہ ایک پیٹو اور شرابی شخص تھے۔“ (ست بچن۔۔ روحانی خزائن جلد ۱۰ص ۲۹۶)
۲۲۔ مرزا صاحب نے خدا کے اس محبوب نبی کا مذاق اڑانے اور ان کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے میں بائبل کو بھی مات کر دیا مثال کے طور پر اس کی درج ذیل عبارتیں ملاحظہ کیجئے۔
عیسیٰ میں طوائفوں کے لئے زبردست رغبت اور اشتیاق پایا جاتا تھا۔ شاید ان کے ساتھ آبائی تعلق اس کا سبب ہو، وگرنہ کوئی پارسا اور نیکو کار شخص کسی نوجوان فاحشہ کو یہ اجازت ہرگز نہیں دے سکتا کہ وہ اپنے ناپاک ہاتھوں سے اس کی مالش کرے اور بدکاری کی کمائی سے خریدی گئی خوشبو (روغن) سے اس کے سر پر مساج کرے اور اپنے بالوں سے اس کے پاؤں کو صاف کرے۔ سمجھدار آدمی خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ کس قسم کے کردار کے حامل تھے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم۔ مشمولہ روحانی خزائن۔ جلد نمبر ۱۱ ص ۲۹۱)
”ایک حسین طوائف ان کے اس قدر قریب بیٹھی ہوتی تھی کہ جیسے ان سے بغل گیر ہو رہی ہو۔ بعض اوقات وہ خوشبودار تیل سے ان کے سر میں مساج کرتی۔۔ بالوں سے ان کے پیر رگڑتی۔ بعض اوقات اپنی سیاہ زلفیں ان کے قدموں پر ڈال دیتی۔ کبھی ان کی گود میں بیٹھ کر کھیلنے لگتی۔ ایسی صورت میں جناب مسیح ترنگ میں آجاتے کوئی اعتراض کرے تو اس پر لعن طعن کی جاتی نوجوانی کے بعد وہ شراب کے رسیا اور مجرد ہوتے ہوئے بھی ایک خوبصورت طوائف کو اپنے پاس لٹائے رکھتے تھے وہ اپنے ہاتھوں سے اس کے جسم کو چھوتی کیا یہ کسی پارسا شخص کا طرز عمل ہو سکتا ہے؟ اور اس بات کا کیا ثبوت یا شہادت موجود ہے کہ بازاری عورت کے یوں مس کرنے سے عیسیٰ اشتعال میں نہیں آتے ہوں گے۔ افسوس ہے نگاہیں اس عورت کے تن سے پار کرنے کے بعد جنسی تسکین کے لئے انہیں بیوی میسر نہیں تھی۔ اس بدبخت چنچل و شوخ حسینہ کو چھونے کے بعد کیا جانے ان کی کیا حالت ہوتی ہو گی۔ شہوانی جذبات یقیناً مشتعل ہوتے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ اتنی سی بات کہنے کے لئے بھی اپنی زبان کو جنبش نہیں دیتے تھے کہ ”اے فاحشہ مجھ سے دور ہو جا۔“ بائبل سے یہ بات بخوبی ثابت ہے کہ وہ عورت طوائفوں میں سے ایک تھی جو بدکاری و فحاشی کے لئے پورے شہر میں بدنام تھی۔“
(نور القرآن۔ مشمولہ روحانی خزائن۔ جلد نمبر ۹ ص ۔۔۴۴۹)
- ۲۳۔۔۔ مرزا صاحب کی محولہ بالا روایت کے برعکس بائبل میں یہ داستان اس طرح بیان کی گئی
ہے :
”اور فریسیوں میں سے ایک نے اس سے کہا کہ وہ اس کے گھر کھانا کھائے۔ وہ فریسی کے گھر پہنچا اور کھانے پر بیٹھ گیا اور دیکھو! شہر کی ایک عورت جو کہ گناہ گار تھی جب یہ پتہ چلا کہ عیسیٰ ایک فریسی کے ہاں کھانا کھا رہے ہیں تو وہ سنگ جراحت کے بکس میں روغن لائی اور روتی ہوئی ان کے قدموں میں کھڑی ہو گئی اور ان کے پاؤں کو اپنے آنسوؤں سے دھونے لگی۔ پھر اپنی زلفوں سے ان کے پاؤں صاف کئے۔ انہیں بوسہ دیا اور پاؤں پر روغن سے مساج کرنے لگی۔ جب فریسی نے جس نے اسے مدعو کیا تھا۔ یہ منظر دیکھا تو وہ اپنے دل میں سوچنے لگا۔ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو اسے معلوم ہونا چاہئے تھا کہ یہ عورت کون ہے اور کیسی ہے جو اسے چھو رہی ہے کیونکہ وہ بدکار ہے۔ (اس کی بات سن کر) عیسیٰ نے جواب میں کہا سائمن مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔ وہ بولا! آقا فرمائیے عیسیٰ نے کہا ایک ساہوکار تھا اس سے دو آدمیوں نے قرض لے رکھا تھا۔ ایک نے ۵۰۰ پنس اور دوسرے نے ۵۰ پنس۔ دونوں قلاش تھے اور ان کے پاس ادائیگی کے لئے کچھ بھی نہ تھا ساہوکار نے بڑی فراخدلی سے دونوں کا قرض معاف
کر دیا۔ تم بتاؤ ان دونوں میں سے اسے کون زیادہ پیار کرے گا؟ سائمن نے جواب دیا۔ ”جس کا زیادہ قرضہ معاف کیا گیا“ تب عیسیٰ نے کہا تم نے صحیح اندازہ لگایا ہے پھر وہ اسی عورت کی طرف پلٹے اور سائمن سے فرمایا۔ ”تم نے اس عورت کو دیکھا ہے؟ میں تمہارے گھر میں داخل ہوا تو تم نے ہاتھ پاؤں ’دھونے کے لئے مجھے پانی تک نہیں دیا جبکہ اس نے اپنے بالوں سے میرے پیر صاف کئے‘ تم تو مجھ سے بغل گیر نہیں ہوتے لیکن یہ عورت‘ جب سے میں گھر میں داخل ہوا ہوں میرے پاؤں چومنے سے باز نہیں آتی۔ تم نے میرے سر میں سادہ تیل نہیں لگایا جب کہ اس نے خوشبودار روغن سے مالش کی ہے۔ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں اس کے گناہ زیادہ تھے‘ معاف کر دیئے گئے ہیں‘ اس لئے وہ مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہے۔ جس کے تھوڑے گناہ معاف کئے گئے ہیں وہ کم محبت کرتا ہے۔“ جو لوگ ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھے تھے‘ آپس میں کہنے لگے ”یہ کون ہے جو گناہ بھی معاف کر دیتا ہے؟“ عیسیٰ نے اس عورت سے کہا۔ ”تمہارے ایمان نے تمہیں بچا لیا ہے اب تم امن سے رہو۔“
(The New Testatment St. Luke Ch. 7'36-50)
پروٹسٹنٹ مذہب کی کتاب مقدس ”گوسپل“ میں اس روایت کی اس طرح تصدیق کی گئی ہے۔ ”پھر میری نے ایک پاؤنڈ سپاٹک نارڈ (انتہائی قیمتی) روغن لیا اس سے عیسیٰ کے پیروں کی مالش کی ان کے پاؤں اپنے سر کے بالوں سے صاف کئے۔ اس کا گھر روغن کی خوشبو سے مہکنے لگا۔ پھر ان کے حواریوں میں سے ایک سائمن کا بیٹا جو داس اسکریوٹا بولا‘ اسے کس چیز نے گمراہ کر دیا۔ یہ روغن ۳۰۰ پینس میں فروخت کر کے وہ رقم غریبوں میں کیوں نہ بانٹ دی گئی؟ اس لئے نہیں کہ اسے غریبوں کا فکر نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ چور ہے۔“ ان کے پاس ایک تھیلا تھا اور وہ چراتا تھا‘ اس میں جو ڈالا جاتا تھا‘ اس پر عیسیٰ بولے‘ ”اسے اس کے حال پر چھوڑ دو‘ میری تدفین کے روز یہ تیل اس کے ساتھ ہو گا۔ کیونکہ میں ہمیشہ غریبوں کے ساتھ رہا ہوں‘ لیکن تم میرے ساتھ نہیں رہے۔“
(The New Testament St. john ch.12'3-8)
اور متی کی انجیل میں یہی واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے۔ ”آگے یہ کہ عیسیٰ بیتھانی میں سائمن کوڑھی کے گھر میں تھے۔ ان کے پاس ایک خاتون آئی اس کے ہاتھ میں سنگ جراحت کا ایک بکس تھا جس میں انتہائی مہنگا روغن تھا۔ اس نے وہ روغن اس کے سر میں ڈالا‘ اور وہ دستر خوان پر بیٹھ گئے‘ جب ان کے حواریوں نے یہ منظر دیکھا تو وہ بڑے برہم ہوئے اور کہنے لگے۔ ”اس ضیاع کا کیا مقصد ہے؟ کیونکہ یہ روغن خاصی قیمت پر فروخت ہو سکتا تھا اور وہ رقم مفلسوں میں بانٹی جا سکتی تھی عیسیٰ ان کا مطلب سمجھ گئے اور بولے‘ ”اے خاتون تو نے اتنی
تکلیف کیوں کی؟ تو نے میرے ساتھ نیکی کی ہے لیکن میں ہمیشہ تیرے پاس نہیں رہوں گا۔ چونکہ تو نے میرے سر میں تیل ڈالا ہے‘ یہ تو نے میری تدفین والے دن کے لئے کیا ہے۔ یقیناً میں تم سے کہتا ہوں‘ میری یہ عقیدت مند جہاں کہیں بھی ہو گی دنیا بھر میں اس کا چرچا کرے گی۔ میں بھی یہی کہوں گا کہ اس عورت نے ایسا کیا تھا۔ پھر عیسیٰ نے اس عورت کی یادگار کے بارے میں انکشاف کیا۔
(The New Testament St. Mathew. Ch, 26-6-13)
۲۴۔۔۔ اس مسخ شدہ روایت کا دقتِ نظر سے مطالعہ کیا جائے تو اس میں بہت سی درپردہ تعریضات اور جھوٹے الزامات شامل ہیں۔ مثال کے طور پر :
گویا وہ ان سے بغل گیر ہو رہی تھی.......
وہ ان کی آغوش میں کھیل رہی تھی........
جناب عیسیٰ کسی ترنگ میں بیٹھے ہوئے تھے...
ایک حسین طوائف ان کے سامنے لیٹی ہوتی ہے ..... ان کے بدن کو مس کر رہی ہے عیسیٰ شہوانی اشتعال میں ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ۔
ان لغویات و خرافات کا اضافہ اس خیال سے کیا گیا ہے تاکہ عیسیٰ علیہ السلام کو بدنام کیا جائے۔ حالانکہ تعصب پر مبنی بائبل میں شامل ایسی حکایتوں میں بھی حضرت عیسیٰ روح اللہ کو اس رنگ میں کہیں پیش نہیں کیا گیا۔ اصل کہانی یوں ہے کہ کوئی بدکار عورت چیختی چلاتی ہوئی حضرت عیسیٰ کی خدمت میں حاضر ہوئی تاکہ اسے اس کے گناہوں کی معافی مل جائے اور حضرت عیسیٰ نے اسے بشارت دی تھی کہ ”تمہارے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں ۔“
۲۵۔۔۔ اسی پر بس نہیں مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ کی تعلیمات کو بھی نشانہ تحقیر و تضحیک بنایا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا محولہ بالا اسلوبِ بیان اور نقطہ نظر قرآن حکیم میں مذکور حضرت عیسیٰ کے مقام و مرتبہ اور ان کی شان و منزلت کے بالکل الٹ ہے پورا قرآن ( مسلمانوں کی مقدس کتاب) کسی ایسے بیان سے قطعاً پاک ہے جو حضرت عیسیٰ کو کسی بھی طور منفی انداز میں پیش کرے یا ان کی تنقیص کا پہلو نکلتا ہو۔ اس کے برعکس سارا قرآن ان کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہے اور انہیں اللہ کے پانچ جلیل القدر اور اولوالعزم پیغمبروں میں شمار کرتا ہے۔ سورۃ آل عمران کی یہ آیت ملاحظہ فرمائیے:
”اے نبی“ کہو کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں‘ اس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے‘ ان تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو حضرت ابراہیم‘ اسماعیل‘ اسحاق‘ یعقوب اور اولاد یعقوب پر نازل ہوئی تھیں اور ان ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰ‘ عیسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں۔
ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے تابع فرمان (مسلم) ہیں۔" (آل عمران ۸۴)
قرآن حکیم حضرت عیسیٰ ان کی والدہ ماجدہ اور ان کے خاندان کی شان میں یوں مدح سرا ہے۔
”اللہ نے آدم اور نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر (اپنی) رسالت کے لئے منتخب کر لیا تھا۔ یہ سب ایک ہی سلسلہ کے لوگ تھے جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔"
وہ اس وقت سن رہا تھا جب عمران کی عورت اس سے کہہ رہی تھی۔ ”اے میرے پروردگار میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے، تیری نذر کرتی ہوں۔ وہ تیرے ہی کام کے لئے وقف ہو گا۔ میری اس پیش کش کو قبول فرما لے تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔"
پھر جب اس کے ہاں اس بچی نے جنم لیا تو اس نے کہا ”میرے مالک! میرے ہاں تو بچی پیدا ہو گئی ہے" حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا، اللہ کو اس کی خبر تھی، اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ خیر میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے شر سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔"
آخر کار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول کر لیا، اسے بڑی اچھی لڑکی بنا کر اٹھایا اور زکریا کو اس کا سرپرست بنا دیا۔ زکریا جب کبھی محراب میں اس کے پاس جاتا تو وہاں کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔ پوچھتا مریم یہ تیرے پاس کہاں سے آیا ہے؟ وہ جواب دیتی ”اللہ کے ہاں سے اللہ جسے چاہتا ہے بے حد و حساب رزق دیتا ہے۔" (آل عمران ۳۷ - ۳۳)
اس سے آگے ارشاد ہوتا ہے:
”اور یاد کرو پھر وہ وقت آیا جب فرشتوں نے آ کر مریم سے کہا۔ ”اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تجھے تمام دنیاوی عورتوں پر ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لئے چن لیا ہے۔ اے مریم! اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ، اس کے آگے سر بسجود ہو اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ تو بھی جھک جا۔" (آل عمران ۔۔۔۔ ۴۳
- ۴۲)
قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ ولادت کو بھی پر عظمت و توقیر انداز میں بیان کیا ہے۔ چنانچہ اسی سورہ میں ذرا آگے چل کر فرمایا گیا ہے:
”اور (یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا ”اے مریم! اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی بشارت دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح (عیسیٰ ابن مریم) ہو گا۔ وہ دنیا و آخرت میں معزز ہو گا۔ اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا۔
(وہ) لوگوں سے گہوارہ میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور وہ نیک
صالح ہو گا۔“
(آل عمران ۔۔۔ ۴۷ ۔ ۴۵)
اسی طرح سورہ مریم میں جناب روح اللہ کی پیدائش کے واقعہ کو اس دل نشین انداز میں بیان کیا گیا ہے
”اور (اے نبی) اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو‘ جب کہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب گوشہ نشیں ہو گئی تھی اور پردہ ڈال کر ان سے چھپ بیٹھی تھی ایسے میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح (فرشتہ) کو بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا۔ مریم یکایک بول اٹھی کہ ”اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے خدائے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں۔“ اس نے کہا ”میں تیرے رب کا فرستادہ ہوں اور اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔“ مریم بولی میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا جب کہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں۔“ فرشتہ نے کہا ایسا ہی ہو گا تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لئے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لئے کریں گے کہ اس لڑکے کو لوگوں کے لئے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت‘ اور یہ کام ہو کر رہے گا۔
مریم کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لئے ایک دور کے مقام پر چلی گئی۔ پھر زچگی کی تکلیف نے اسے ایک درخت کے نیچے پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگی۔ ”کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔“ فرشتہ نے پائنتی سے اس کو پکار کر کہا۔ ”غم نہ کر تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے اور تو ذرا اس درخت کے تنے کو ہلا تیرے اوپر تر و تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی‘ پس تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر‘ پھر اگر تجھے کوئی آدمی نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لئے روزہ کی نذر مانی ہے‘ اس لئے میں آج کسی سے نہیں بولوں گی۔“
پھر وہ اس بچہ کو لئے ہوئے اپنی قوم میں آئی۔ لوگ کہنے لگے اے مریم یہ تو تو نے بڑا پاپ کر ڈالا ہے‘ اے ہارون کی بہن نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی۔ مریم نے بچے کی طرف اشارہ کر دیا۔ لوگوں نے کہا ”ہم اس سے کیا بات کریں‘ جو گہوارہ میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے۔“ (اس پر) بچہ بول اٹھا ”میں اللہ کا بندہ ہوں‘ اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا اور بابرکت کیا‘ جہاں بھی میں رہوں اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ ہوں‘ اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا اور مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا۔ سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا‘ اور جب کہ میں مروں اور جبکہ میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں۔“
(مریم ۔۔۔۔ ۳۳ ۔ ۱۶)
۲۶۔۔ علاوہ بریں مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے قائدین یا لوگوں کی تحقیر و تضحیک کرنے سے منع فرمایا گیا ہے تاکہ دوسروں کو ان کے پیشواؤں کی توہین و تذلیل کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ یہ درست ہے کہ مسلمان اور عیسائی علماء دین کے مابین بعض پہلوؤں پر دیانتدارانہ اختلافات موجود ہیں۔ تاہم یہ اختلافات ایک دوسرے کے مذہب یا پیغمبر کی تنقیص و بے حرمتی کی بنیاد یا جواز نہیں بن سکتے۔ رسول اکرمؐ سے مروی ہے ابوہریرہؓ کہتے ہیں: ”آپؐ نے فرمایا: دنیا و آخرت میں مجھے عیسیٰ سے زیادہ قربت ہے۔ کیونکہ تمام انبیاء آپس میں علاتی بھائی ہیں۔ یعنی کہ سب کی مائیں مختلف ہیں لیکن دین سب کا ایک ہے۔“ (صحیح مسلم، جلد، کتاب الفضائل) اردو ترجمہ رئیس احمد جعفری جلد دوم ص ۔۔ ۳۸۰
۲۷۔۔ مرزا صاحب کی یہی تحریریں اور افکار و خیالات تھے جن کی بناء پر مسلمانوں نیز عیسائیوں نے ان کے دعویٰ نبوت اور مسیح موعود ہونے کے ادعا کی مخالفت کی خود مرزا صاحب کی زندگی میں‘ پھر اس کی وفات کے بعد اور قیام پاکستان کے بعد بھی ایسے واقعات ظہور پذیر ہوئے جب عوامی احتجاج ۱۹۵۳ء لاہور میں مارشل لاء کے نفاذ کا سبب بنا اور ۱۹۷۴ء میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ایک ٹرین پر مرزائیوں کے حملہ کے نتیجہ میں ملک گیر ہنگامے پھوٹ پڑے۔ مرزا غلام احمد نے اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں اپنے خلاف مسلمانوں کے عمومی غم و غصہ کا ذکر اس طرح کیا ہے۔ ”یہ میرا دعویٰ ہے جس پر لوگ (غیر احمدی مسلمان) میرے ساتھ جھگڑتے ہیں اور مجھے مرتد سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بڑا شور مچایا اور اس آدمی کی قدر نہ جانی جس پر اللہ کی طرف سے الہام ہوتا ہے۔ انہوں نے مجھے غدار‘ جھوٹا‘ مکار اور مرتد کہا اگر انہیں حکمرانوں کے تیرو تفنگ کا ڈر نہ ہوتا تو مجھے کبھی کا جان سے مار ڈالتے۔“ ۔
ان نگارشات کی اشتعال انگیز نوعیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ بعض دوسری عبارتوں میں مرزا صاحب کے ایسے خیالات شامل ہیں جو امت مسلمہ کے افکار و خیالات کے عین مطابق ہیں۔ مسٹر مجیب الرحمٰن کا ایسی تحریروں پر بھروسہ کرنا نامناسب ہے‘ اسے ظاہر کرنے کے لئے صرف ایک خاص مثال نقل کی جاتی ہے۔ اور اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ جو مدعا علیہان کے فاضل وکلاء کے اس موقف کی تردید کرتی ہے کہ تاریخ کو دہرانا اور مخصوص خیالات کا اعادہ زیر دفعہ ۲۹۸۔ سی ارتکاب جرم کے مترادف نہیں۔
۲۸۔۔ نوجوانوں کی ٹی شرٹس یا بیجز یا آرائشی گیٹوں پر لکھے ہوئے نعرہ ”سچائی کے سو سال“ کو لیجئے اس سے کیا سمجھانا اور ذہن نشین کرانا مقصود ہے؟ احمدیہ جماعت کی صد سالہ تقریبات کے پس منظر میں اس نعرہ پر غور کیا جائے تو اس سے یہ پیغام پہنچانا مطلوب ہے کہ مرزا غلام احمد نے نبوت کا جو دعویٰ کیا وہ درست ہے‘ مرزائیوں کا یہ عقیدہ کہ اصل میں امت مسلمہ انہی پر
مشتمل ہے، درست ہے، دوسرے لوگ جو مرزاغلام احمد کو نبی یا مسیح موعود نہیں مانتے وہ رافضی و بدعتی ہیں تم بھاری اکثریت والے دستوری فیصلہ آ جانے کے باوجود رافضی ہو۔" فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے بجا طور پر کہا کہ اگر پابندی کا یہ حکم جاری نہ کیا جاتا تو اس قسم کی اشتعال انگیزی امن و امان کی سنگین صورت حال پیدا کر دیتی۔ ان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ممنوعہ افعال کو انفرادی طور پر لیا جائے تو وہ قابل نفرت و مکروہ، دلآزاری کرنے والے اور ضرر رساں نہیں لگتے۔ مثلاً آرائشی دروازے لگانا، جھنڈے لہرانا، عمارت پر چراغاں کرنا، غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلانا، یا کسی شخص کا نئے کپڑے زیب تن کرنا، نہ ہی وہ دوسروں کے لئے موجب تکلیف و باعث آزار بنتا ہے۔ ان افعال کو کئے گئے اعلانات، مطلوبہ مقاصد ان سے جو پیغام پہنچانا مقصود ہے اور ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے رد عمل کے پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔ ان افعال کو تاریخی تناظر میں لیا جائے تو ایک اقلیتی جماعت کی طرف سے انہیں خالی از خطر اور بے ضرر قرار نہیں دیا جاسکتا جو اپنے ماضی کی یاد منانا اور اپنے بانی و مؤسس نیز قائدین کی مدح و ثناء کرنا چاہتی ہو۔ بہر حال اس طرح کے اعلانیہ اظہار و اعلانات کسی خاص مذہب کی پیروی کرنے اور اس پر عمل کرنے کے حق کے ذیل میں کیسے آ سکتے ہیں؟ یہ استدلال کہ ان افعال کی انجام دہی قانوناً "جائز ہے اس لئے جائز کاموں کی انجام دہی پر زیر دفعہ ۱۴۴ ض ف، محض اس لئے پابندی عائد نہیں کی جا سکتی کہ ایک شخص کی طرف سے کسی کام کو قانون کے مطابق کرنا دوسرے کی طرف سے خلاف قانون کام کرنے کا سبب نہ بن جائے اور یہ کہ احتیاطی تدابیر ایسے شخص یا مجموعہ اشخاص کے خلاف عمل میں لائی جاتی ہیں جن کی طرف سے خلاف قانون کام کئے جانے کا اندیشہ ہو، اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
۲۹۔۔ سائلان کے فاضل وکلاء نے مذکورہ بالا دلائل پیش کرتے ہوئے فرض کر لیا کہ یہ افعال جن کے کرنے پر پابندی لگائی گئی یا سالگرہ کی تقریبات جیسا کہ ان کے انعقاد کا منصوبہ بنایا گیا ہے، بے ضرر غیر دلآزار، غیر مضر بلکہ قانوناً "جائز تھے، یہ مفروضہ درست نہیں۔ یہ فرض کرنا کہ کسی قسم کی نفرت و بیزاری پیدا نہ کرنے یا مزاحمت اور بے چینی و اضطراب کو نہ بھڑکانے کا پختہ عزم کر لیا گیا تھا اس کے باوجود یہ رد عمل کہ ان تقریبات کا صحیح طور سے ادراک کر لیا گیا تھا۔ مفاد عامہ کے تحت زیر اعتراض احکام کے جاری کرنے کا معقول جواز فراہم کرتا ہے۔ فاضل وکلاء نے جس اصول پر انحصار کیا، وہ بیٹی بنام گلباٹکس (1882 9.Q. B.D. 308) میں طے پایا تھا۔ اس کے حقائق یہ تھے کہ مکتی فوج (Salvation Army) کے ممبران گلیوں میں سے مارچ کرتے ہوئے گزرنے پر مصر تھے جبکہ اسامی فوج اس کے زبردست خلاف تھی اور مجسٹریٹ نے بھی یہ حکم جاری کر دیا تھا کہ انہیں گلیوں میں سے نہیں گزرنا چاہئے۔ ڈویژنل کورٹ نے قرار
دیا کہ کسی شخص کو ایسا فعل قانون کے مطابق کرنے پر سزا نہیں دی جاسکتی خواہ اسے معلوم ہو کہ اس کا ویسا کرنا دوسرے شخص کو خلاف قانون کام کے انجام دینے پر اکسانے کا سبب بن سکتا ہے، مجرمانہ مواخذہ کی تقسیم میں یہ فیصلہ صحیح لگتا ہے، تاہم کسی مقدمہ میں اس کی پیروی نہیں کی گئی۔ پولیس کے ریاستی اختیارات کے استعمال سے متعلق مقدمات میں، جو امن عامہ کے قیام سے تعلق رکھتے ہوں، اس اصول کے اطلاق میں ردو بدل کیا گیا ہے۔ چنانچہ ہمفریز بنام کونر (17-1864-IR, CLR.I) جس میں ایک پولیس مین کے خلاف مار پیٹ کی شکایت کی گئی تھی۔ آئرلینڈ کی عدالت نے قرار دیا کہ کانسٹیبل مدعی کے کپڑوں پر سے نارنجی سوسن کے پھول کو ہٹانے کا مجاز تھا کیونکہ ایک ہجوم کے درمیان نقص امن کو روکنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو گیا تھا وہاں اس علامت نے عناد پیدا کر دیا تھا۔ (دیکھئے جی پی ولسن کی کتاب) (Admn.Law Cases and Materials in Const. And) کا صفحہ نمبر ۶۳۳ اسی طرح اوکے بنام ہاروے میں ایک مجسٹریٹ کو ایک قانونی جلسہ کو منتشر کرنے کا مجاز ٹھہرایا گیا کیونکہ وہ یہ فرض کرنے کی کافی وجوہ رکھتا تھا کہ جلسہ کے مخالفین آئرستان کی سیاسی انجمن کے لوگ تشدد اور طاقت سے کام لیں گے اور امن کی بحالی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ (دیکھئے ولسن کیسز ص ۶۹۵) یہاں ضمناً یہ ذکر کرنا مناسب ہو گا کہ قادیانیوں کی طرف سے ایسے جھنڈوں کی نمائش جن پر کلمہ طیبہ کڑھا ہوا یا لکھا ہوا ہو، بے محل ہیں۔ ایسی صورتوں میں بھی جہاں الفاظ یا طرز عمل اشتعال انگیز یا توہین آمیز ہو، قیام امن و امان کے لئے پولیس کی طاقت استعمال کی جاسکتی ہے۔ وائز بنام ڈننگ 167 - I.K.B - 1902) کا حوالہ بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس نالش میں ایک پروٹسٹنٹ مبلغ کو اس کی طرف سے رومن کیتھولک مذہب پر بار بار حملوں کے بعد لیور پول کے علاقہ میں قیام امن کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا اور امن میں خلل پڑ گیا تھا قرار دیا گیا کہ حقائق کی رو سے مجسٹریٹ اس امر کا مجاز تھا کہ کیتھولک فرقہ کی طرف سے معاندانہ جواب کو وائز کے توہین آمیز رویہ کے قدرتی نتیجہ پر محمول کرتا۔
۳۰۔۔ اب ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا کلمہ طیبہ والے بینرز کی نمائش توہین آمیز اور دلآزار ہے یا نہیں۔ فاضل ایڈووکیٹ جنرل اور مسئول الیہان کے فاضل وکلاء کے مطابق ” محمد رسول اللہ“ کے الفاظ سے قادیانی مرزا غلام احمد مراد لیتے ہیں اور اس کی طرف نسبت کرتے ہیں کیونکہ مرزا صاحب نے اپنے ”محمد رسول اللہ“ ہونے کا دعویٰ بھی کیا اور اس کے پیروکار اسے ایسا ہی مانتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جب قادیانی جھنڈے لہراتے ہیں یا اپنے سینوں پر بیج سجاتے ہیں تو وہ رسول اکرمؐ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ اپنے اس ادعا کی حمایت میں ”کلمۃ الفضل“ سمیت بشیر الدین محمود مرزا کی کتابوں کے حوالے پیش کئے جس
میں لکھا ہے کہ : "پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پڑتی۔" ”ایک غلطی کا ازالہ“ نامی کتاب کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے صفحات ۴‘ ۵‘ ۷‘ ۱۱ اور ۱۶ پر درج ذیل عبارتیں موجود ہیں ص۔۔ ۴ "اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی ص ۔۔ ۵ اس کے معنے یہ ہیں کہ محمد کی نبوت آخر مجھ ہی کو ملی۔ غرض میری نبوت و رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے‘ ص۔۔۷ کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔ ص۔۔ ۱۱ چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ یعنی میں جب کہ بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ ۱۶ اور اسی بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا پس نبوت و رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی‘ علیہ الصلوٰۃ والسلام۔" مسئول الیہان کے فاضل وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ مذکورہ مفہوم اور عقیدہ کے ساتھ کلمہ طیبہ والے جھنڈوں کا لہرانا یا بیجوں کا لگانا تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ سی کے تحت جرم کے مترادف ہے۔
۳۱۔۔ اس مرحلہ پر سائل مرزا خورشید احمد کی طرف سے داخل کردہ بیان حلفی کا حوالہ دینا مناسب ہو گا اس کے پیراگراف نمبر ۴‘ ۵ میں کہا گیا ہے ۴۔۔۔ یہ کہ اقرار کنندہ صدق دل سے اقرار کرتا ہے کہ جب وہ کلمہ طیبہ پڑھتا ہے تو ”محمد رسول اللہ“ کے الفاظ سے غیر مشروط طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مراد لیتا ہے۔ ۵۔۔۔ یہ کہ اقرار کنندہ صدق دل کے ساتھ اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ الفاظ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے وہ مرزا غلام احمد مراد لیتا ہے۔ ایسا جھوٹا‘ غلط اور بے خبری پر مبنی ہے۔ اقرار کنندہ صدق دل سے ایسے کنایہ کی تردید کرتا ہے جو اس کے اور تمام احمدیوں کے عقائد کے برعکس ہو۔"
حلفیہ بیان میں اختیار کردہ مذکورہ موقف کے پیش نظر مسٹر مجیب الرحمان سے مرزا غلام احمد قادیانی کی حیثیت و مرتبہ اور ان تحریروں کے بارے میں جن میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ مرزا خورشید احمد اور احمدیہ جماعت کے دیگر ممبران کے عقیدہ کی بابت پوچھا گیا نیز دریافت کیا گیا آیا جب کوئی شخص قادیانی مذہب اختیار کرتا ہے تو اسے محض کلمہ طیبہ پڑھنا پڑتا ہے یا
کچھ اور چیز بھی پڑھنی، قبول کرنی اور اس پر ایمان لانا ہوتا ہے؟ جواب دیا گیا کہ قادیانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قطعی اور آخری نبوت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد مہدی اور مسیح موعود تھے۔ مزید کہا گیا فریق مخالف نے جس چیز پر اعتراض کیا ہے بانی جماعت احمدیہ اپنی کتابوں "ازالہ اوہام" ص ۔ ۔ ۴۷۳ ، ۴۷۴ "کشتی نوح" روحانی خزائن جلد نمبر ۷ ص ۔ ۔ ۷۶ جلد نمبر ۸ ص ۔ ۔ ۲۵۲ نیز جلد نمبر ۱۳ ، ص ۳۴۳ اور روحانی خزائن کی جلد نمبر ۲۳ ص ۔ ۔ ۔ ۴۵۹ میں شامل "پیغام صلح" میں اس کی کھول کر وضاحت کر چکے ہیں۔ مسٹر مجیب الرحمان کے بقول مرزا غلام احمد نے محولہ بالا پیغام اپنی وفات سے ایک روز پیشتر یعنی ۲۵ مئی ۱۹۰۸ کو لکھا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ "ایک غلطی کا ازالہ" "آئینہ کمالات" اور "تبلیغ رسالت" میں جو کچھ لکھا گیا ہے اسے "ظل" اور "بروز" کے تصور کے تحت سمجھنے کی ضرورت ہے جو کہ روحانی مشابہت و مماثلت اور معرفت کا تصور ہے اور اس تصور کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے دوبارہ جسمانی ظہور اور دوبارہ حلول کا نظریہ وابستہ نہیں۔
- ۲۳۔۔ سب سے اہم بات جسے مسٹر مجیب الرحمان نے بڑی آسانی سے نظر انداز کر دیا اور اس
کی تردید نہیں کی وہ یہ تھی کہ جو کوئی قادیانیت میں داخل ہوتا ہے اسے یہ ماننا پڑتا ہے کہ مرزا غلام احمد کی نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی موروثی نبوت ہے یہ کہ مرزا غلام احمد آنحضرتؐ کا صحیح ظل یا بروز ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا کہ قادیانیت اختیار کرتے وقت جس فارم پر دستخط کرنا ہوتے ہیں، اس میں مرزا غلام احمد کو نبی اور مسیح موعود مہدی ماننا پڑتا ہے۔ فارم میں استعمال کردہ الفاظ منجملہ دیگر امور، حسب ذیل ہیں:۔
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین یقین کروں گا، کروں گی اور حضرت مسیح موعود کے سب دعاوی پر ایمان رکھوں گا، رکھوں گی ۔" مسلمانوں نے رسول اکرمؐ کے بعد ہر زمانہ میں وقتاً فوقتاً نبوت کے جھوٹے دعویداروں کو مسترد کیا ہے۔ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کو بھی مسلمانوں کے تمام فرقوں نے جھٹلایا ہے، جہاں تک مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کا تعلق ہے اس پر مجیب الرحمان (میرا) کے مقدمہ میں بڑی شرح و بسط سے بحث ہو چکی ہے۔ جس میں اس رائے کا اظہار کیا گیا تھا۔
یہ بات قابل غور ہے کہ اس قول کے نتائج کہ مرزا صاحب بذات خود محمد اور احمد تھے ( یہ دونوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہیں ) خاصے دور رس نکلتے ہیں مرزا صاحب کے خلفاء، رسول اکرمؐ کے خلفاء بن گئے۔ مسلمان جو کلمہ پڑھتے ہیں ان کے معنے ہیں۔ "اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے رسول ہیں۔" مرزا صاحب کو محمد مان لیا جائے تو جب بھی اور جہاں بھی لفظ محمد پڑھا یا ادا کیا جائے گا، اس سے مراد مرزا
صاحب ہی ہوں گے۔"
۳۳۔۔۔ سائلان کے فاضل وکلاء کا یہ موقف کہ ”ظل“ اور ”بروز“ کے تصور سے کسی طور بھی دوبارہ جسمانی ظہور یا حلول کا تصور وابستہ نہیں‘ خود مرزا صاحب اور ان کے شاگرد عبدالقادر محمود کے ظاہر کردہ خیالات کے بالکل برعکس لگتا ہے اس پہلو پر رپورٹ کے صفحہ ۷۴ پر درج ذیل بحث کی گئی ہے۔ ”اب خود تصور کا تجزیہ کرنا مناسب ہو گا۔ ڈاکٹر عبدالقادر محمود کی کتاب ”الفلسفۃ الصوفیاء فی الاسلام“ (ص ۵ تا ۱۱) میں وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ الفاظ ”ظل“ اور ”بروزی“ ہندوؤں کے حلول یا تناسخ کے تصور سے بہت حد تک ملتے جلتے ہیں۔
مرزا صاحب نے خود تسلیم کیا ہے کہ بروز کے معنی اوتار (خدا یا دیوتا کا جسمانی روپ میں ظہور) کے ہیں۔ اپنے سیالکوٹ والے لیکچر مورخہ ۲ نومبر ۱۹۰۴ء ص ۔۔۔ ۲۳ میں انہوں نے کہا : واضح ہو کہ خدا کی طرف سے میرا ظہور صرف مسلمانوں کی اصلاح کے لئے نہیں۔ بلکہ تینوں اقوام‘ مسلم‘ ہندو اور عیسائی کی اصلاح مطلوب ہے۔ چونکہ خدا نے مجھے مسلمانوں اور نصاریٰ کے لئے مسیح موعود بنا کر بھیجا‘ اس لئے میں ہندوؤں کے لئے اوتار اور راجہ کرشن‘ جیسا کہ مجھ پر واضح کیا گیا ہے‘ ایک مکمل انسان تھے۔ وہ اپنے وقت کے اوتار یا نبی تھے۔ اللہ کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اپنا بروز یعنی اوتار پیدا کرے گا۔“ ”ضمیمہ رسالہ جہاد“ (مطبوعہ ۱۹۰۰ء میں انہوں نے لکھا ”خدا نے مجھے عیسیٰ کے اوتار کی حیثیت سے بھیجا اسی طرح اس نے میرا نام احمد اور محمد رکھا اور میری عادات‘ اخلاق اور اطوار حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جیسے بنائے مجھے ان کے چوغہ میں ملبوس کرنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اوتار بنایا تاکہ میں توحید کا پرچار اور اشاعت کر سکوں۔ پس اس مفہوم میں میں عیسیٰ ہوں‘ محمد ہوں اور مہدی بھی اور اظہار کا یہی وہ اسلوب ہے جو اسلام میں اصطلاحاً ”بروز کہلاتا ہے“ ص ۔۔۔ ۷۶
پس ظاہر ہوا کہ مرزا صاحب اوتار اور بروز ایک دوسرے کے ہم معنی سمجھتے تھے۔ ” اصل شریعت میں حلول یا تناسخ کا کوئی تصور نہیں البتہ ایسی اصطلاحات ہیں جو ان تصورات پر یقین کرنے والوں مثلاً مزدک اور لامان کی بدولت وجود میں آئیں۔ اسی طرح اسلام میں ظلیت کے تصور کے لئے کوئی جگہ نہیں۔“ (خاتم النبیین از مولانا انور شاہ کشمیری‘ ص ۔۔ ۲۱۰)
مولانا محمد یوسف بنوری نے موقف الامتہ الاسلامیہ میں اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا : مذاہب کے تقابلی مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظلیت اور بروز کا سارا تصور سراسر ہندووانہ تصور ہے۔ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں‘ حضرت عبدالقادر بغدادی (متوفی ۴۲۹ھ) نے بھی فرمایا ہے کہ حلول کی حمایت کرنے والا تصور جھوٹا اور بے ہودہ ہے۔“ ( اصول الدین ص ۔۔ ۷۲) حضرت مجدد الف ثانیؒ بھی جن کے ملفوظات پر مرزا صاحب یقین
رکھتے تھے، نبوت میں ظل کے منکر ہیں، اپنے مکتوب نمبر ۴۶ میں انہوں نے فرمایا ”نبوت اللہ کی قہریت پر دلالت کرتی ہے۔ جس میں ظلیت کا کوئی شائبہ یا شک و شبہ نہیں۔“
۳۴۔۔۔ تیسرا پہلو جس کی نشان دہی مسئول الیہان نے کی وہ یہ تھا کہ قادیانی مذہب میں داخل ہونے والے شخص سے بیعت کی شکل میں جن دستاویزات پر دستخط کرائے جاتے ہیں، وہ بھی دھوکے کی ٹٹی اور مکر و فریب کا جال ہے جو مسلمانوں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے اور پھانسنے کے لئے بچھایا جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اسلام کو اپنے مذہب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور مرزا صاحب کو اسلام کے نئے نبی کے روپ میں دکھایا جاتا ہے واضح رہے کہ بیعت کے فارم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد الفاظ ”خاتم النبیین“ کے استعمال سے مسلمہ طور پر یہ مراد نہیں کہ حضرت محمدؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، بلکہ اس کے برعکس اس شخص کو مرزا غلام احمد کے جملہ دعاوی پر ایمان لانا ہوتا ہے جس میں اس کا دعویٰ نبوت بھی شامل ہے۔ مسلمانوں کے مطابق رسول اکرمؐ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں ہو گا اور نہ ہی ہو سکتا ہے کیونکہ رسول اکرم نے واشگاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ ”لانبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا) اور لفظ خاتم النبیین کے معنے یہ ہیں کہ آخری مہر لگا دی گئی ہے اب کسی نئے نبی کے آنے کا کوئی سوال نہیں۔ اس کے برخلاف مرزا غلام احمد ”ایک غلطی کا ازالہ“ نامی کتاب میں رقمطراز ہے ”اگرچہ نبوت کی مہر نہیں ٹوٹے گی تاہم اس امر کا امکان ہے کہ اس دنیا میں بروزی طریقے سے کوئی نیا نبی آجائے۔ صرف ایک بار نہیں بلکہ ہزار بار، اور وہ اپنی نبوت و کاملیت کا اظہار کرے۔“
۳۵۔۔۔ واضح ہو کہ ۱۸۹۱ء کی مطبوعہ ”ازالہ اوہام“ ۱۸۹۳ء کی ”کرامت صادقین“ (مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۷) اور ۱۸۹۹ء کی ”ایام صلح“ (مشمولہ روحانی خزائن جلد ۱۴) میں جو کچھ لکھا گیا اس سے مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کی صحیح تصویر اجاگر نہیں ہوتی اس لئے اس سلسلہ میں مرزا صاحب کی متعلقہ کتابیں وہ ہیں جو ۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۸ء تک لکھی گئیں اور ایک غلطی کا ازالہ“ اس سلسلے کی بنیادی تحریر ہے اس سیاق و سباق میں یہ وضاحت کرنا مناسب ہو گا کہ ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کی لکھی ہوئی ”پیغام صلح“ (شمولہ روحانی خزائن جلد ۲۳) بھی متعلقہ اور اس سلسلے میں کار آمد نہیں ہے کیونکہ اس پیغام کے مخاطب ہندو تھے مسلمان نہیں، اور مرزا صاحب کو نبی تسلیم کرنے کا سوال اسی صورت میں پیدا ہوتا جب کہ ہندوؤں نے حضرت محمدؐ کی نبوت کو تسلیم کیا ہوتا مرزا صاحب کے مخصوص دعوے کے پیش نظر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ احمدی مرزا صاحب کو حضرت محمدؐ کا بدل مانتے ہیں۔
اس لئے جھنڈوں پر لکھے ہوئے اور بیجوں پر تحریر شدہ الفاظ ”محمد رسول اللہ“ کا استعمال ہر احمدی کی اپنی ذمہ داری ہے کیونکہ ایسا کرنا رسول اکرمؐ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ ایسا فعل دفعہ ۲۹۵۔ سی ت پ کے دائرہ میں آتا ہے۔
۳۶۔ مزید برآں ایسے بینرز اور بیجوں کی نمائش غالب اکثریت کی حامل مسلم آبادی کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا موجب بنتی۔ یہ چیز سالگرہ کی تقریبات پر پابندی لگانے کا دوسرا جواز فراہم کرتی ہے۔ کیونکہ اس سے امن عامہ میں خلل پڑنے کا زبردست خدشہ تھا۔ یاد رہے کہ صرف مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق کا دعویٰ تو کیا گیا لیکن سائلان کے فاضل وکلاء یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ ان تقریبات کے کھلے بندوں انعقاد اور جس طریقے سے انہیں منانے کا پروگرام بنایا گیا اس پر پابندی لگانے سے قادیانی مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق کی کس طرح خلاف ورزی ہوتی یا اس میں کمی واقع ہو گئی؟ ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں کی طرح قادیانی بدستور اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر رہے ہیں اور مکمل مذہبی آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں خود کو مسلمان ظاہر کر کے اور شریعت اسلامیہ یا کلمہ طیبہ کو جو کہ اسلام کے اساسی ارکان میں سے ایک ہے استعمال کر کے وہ اپنے رویہ سے خود مشکل صورت حال پیدا کر دیتے ہیں۔ اگر قادیانی دستوری فیصلہ کو قبول کر لیں اور خود کو مسلمانوں سے ایک علیحدہ اور جداگانہ برادری سمجھنے لگیں جیسا کہ ان کا اپنا دعویٰ ہے تو کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا نہ ہو، ان کا خود کو مسلمانوں کا بدل ظاہر کرنا اور عامتہ المسلمین کو اسلام کے دائرہ سے خارج کرنا مسلمانوں کے لئے کسی طرح قابل قبول اور قابل برداشت نہیں۔ ملک اور دستور سے ان کی وفاداری اور ان کا جداگانہ وجود ان کی سلامتی و بھلائی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے چاہے وہ کوئی سا مذہب اختیار کریں، لیکن وہ مسلمانوں کے دین کو ناپاک کرنے پر کیوں مصر ہیں۔ اگر مسلمان اپنے مذہب کو ہر قسم کی آمیزش سے پاک و خالص رکھنے کے لئے کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو اس پر قادیانی کیوں سیخ پا ہوتے ہیں اور اسے مسئلہ کیوں بنا لیتے ہیں۔
۳۷۔ دفعہ ۱۴۴ ض ف کی رو سے حاصل شدہ اختیار نیز ریاست کی پولیس قوت کو ایسے مقصد کے لئے جائز طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جو پبلک کی بھلائی یا لوگوں کے مفاد میں ضروری نظر آئے۔ یہاں سائنٹالوجی مسلک کے ممبران کے دو مقدمات کا حوالہ دینا مناسب ہو گا؟ دیگر بنام وزیر داخلہ (149 .Ch - 2 - 1969) میں نوٹ کیا گیا کہ سائنٹالوجی کے محرکین کے نزدیک یہ ایک مذہب ہے۔ اس کی ابتدا امریکہ سے ہوئی اس کا مسلک اور عقیدہ اس کی تعلیمات اور اعمال سسیکس (انگلینڈ) میں ایک کالج کے طلبہ کو پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ کالج ایک امریکی
کارپوریشن کی ملکیت ہے جس کا نام چرچ آف سائنس ٹولوجی آف کیلی فورنیا ہے۔ سائلان شمڈت اور جوزف فرشنی امریکہ کے شہری تھے اور ان کے پاس داخلہ کے لئے محدود مدت کے اجازت نامے تھے۔ میعاد ختم ہو گئی اور وزیر داخلہ نے توسیع کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ حکومت کا نقطہ نظریہ تھا کہ :
”سائنس ٹولوجی جعلی فلاسوفیکل مسلک ہے جو اس ملک میں چند برس پہلے امریکیوں کی طرف سے متعارف کرایا گیا اور اس کا عالمی ہیڈ کوارٹر ایسٹ گرنسٹیڈ میں ہے۔ اس کے بانی مسٹر رون ہبارڈ نے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی ذہنی صحت کی تنظیم ہے۔ حکومت دستیاب جملہ شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد مطمئن ہے کہ سائنس ٹولوجی معاشرتی لحاظ سے ضرر رساں ہے۔ یہ ممبران خاندان کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے اور جو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں ان سے گندے اور رسوا کن محرکات منسوب کر دیتی ہے۔ اس کے تحکمانہ اصول اور اعمال ان لوگوں کی شخصیت اور بھلائی کے لئے باعث تشویش ہیں جو اسے چھوڑ چکے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے طریقے ان لوگوں کی صحت کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں جو انہیں اختیار کرتے ہیں۔ ایسی شہادتیں ملی ہیں کہ اب بچوں کو اس کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ لارڈ ڈیننگ ماسٹر آف رولز نے اپنے فیصلہ میں اس دلیل کو نمٹاتے ہوئے کہ وزیر داخلہ نے اپنے اختیارات استرداد اور ایک مذہبی فرقہ کی جس پر از روئے قانون پابندی نہیں لگائی گئی، بے حرمتی کرنے کی غرض سے استعمال کئے تھے، لکھا :
”میرے خیال میں وزیر اس امر کا مجاز ہے کہ اپنے اختیارات کسی ایسے مقصد کے لئے کام میں لائے جو اس کے نزدیک پبلک کی بھلائی اور اس ملک کے لوگوں کے مفاد میں ہو۔ یہ سوچنے کی معمولی سی وجہ بھی موجود نہیں کہ وزیر داخلہ نے اس معاملہ میں اپنے اختیارات کو غلط مقصد کے لئے استعمال کیا یا بدنیتی سے کام لیا۔ وزیر کے مقصد کو اس بیان میں واضح طور سے ظاہر کر دیا گیا تھا جو اس نے دارالعوام میں دیا۔ اس نے سوچا کہ ان لوگوں یعنی سائنس ٹولوجسٹس کے اعمال ہمارے معاشرہ کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں اور یہ بات اس ملک کے مفاد میں نہیں کہ سائنس ٹولوجی کے غیر ملکی طلبہ کو اس کی تعلیم حاصل کرنے یا نئے طلبہ کو داخلہ لینے کی اجازت دی جائے۔ وہ مقصد سراسر جائز تھا۔ وزیر داخلہ نے اپنے اختیارات اس ملک کے عام آدمی کے مفاد میں استعمال کئے اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس کے درست ہونے کی بابت کسی شک و شبہ میں پڑیں“۔
۳۸۔۔ اس طرح اجازت میں توسیع سے انکار کے حکم کی توثیق کر دی گئی۔ ہاؤس آف لارڈز نے اپیل کے لئے داخل کی گئی درخواست خارج کر دی (رپورٹ کے ص ۷-۷۷۴ پر درج نوٹ
ملاحظہ کیجئے) یوں آزادانہ نقل و حرکت کے حق کو مفاد عامہ کے تابع کر دیا گیا۔ اسی اصول کو یورپ کی عدالت ہائے انصاف نے
(1975. / Ch. 398) Van Duyn Vs. Home Office.
مقدمہ پر لاگو کیا۔ اس مقدمہ میں معاہدہ روم میں شامل ایک دفعہ، جس کی رو سے شہریوں کو کمیونٹی کے نو ملکوں میں آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت دی گئی تھی۔ مصلحت عامہ کی وجوہات کے تابع کر دیا گیا تھا۔ مس وان ڈوئن نے ہوائی اڈہ پر پہنچ کر اعلان کیا کہ وہ کالج آف سائنس ٹولوجی میں سیکرٹری کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرنے آئی ہے۔ اسے یہ کہتے ہوئے داخلہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا کہ کسی شخص کو چرچ آف سائنس ٹولوجی کی ملازمت میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے برطانیہ میں داخل ہونے کی اجازت دینا ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس انکار کو چیلنج کر دیا گیا اور معاملہ لکسمبرگ کی یورپین کورٹ آف جسٹس کو بھیج دیا گیا، جہاں اس انکار کو بحال رکھا گیا۔
۳۹۔۔ اسی طرح مصلحت عامہ کے اسباب اور عام آدمی کی بھلائی اور مفاد سالگرہ تقریبات پر پابندی لگانے کی از روئے قانون جائز بنیاد فراہم کرتا ہے جیسا کہ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ بات پہلے ہی واضح کی جا چکی ہے کہ عام لوگ یعنی امت مسلمہ احمدیوں کی سرگرمیوں اور ان کے مذہب کی تبلیغ کی مزاحمت و مخالفت کرتی ہے تاکہ ان کے مذہب کا اصل دھارا پاک صاف اور غلاظت سے محفوظ رہے اور امت کی یکجہتی بھی برقرار رہے۔ ایسا کرنے سے قادیانیوں کے ان کے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق پر نہ کوئی زد پڑتی ہے نہ اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
۴۰۔۔ مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر اس پٹیشن کو کسی استحقاق کے بغیر قرار دیتے ہوئے خارج کیا جاتا ہے مقدمہ کے اخراجات دونوں فریق خود برداشت کریں گے۔
مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۹۱ء کو سنایا گیا۔ اس موقع پر مسٹر مجیب الرحمان ایڈووکیٹ حاضر تھے۔
دستخط
(جج)
ترجمہ = مجاہد لاہوری
رد قادیانیت پر معلومات افزا، ایمان پرور، جہاد آفرین اور حقائق افروز
کتب
- قادیانی مذہب پروفیسر الیاس برنی ۵۰/۰ روپے
- فتنہ مسیلمہ کذاب قومی اسمبلی میں علماء کی بحث ۲۰/۰ "
- ماہنامہ قومی ڈائجسٹ کا قادیانیت نمبر ۱۵/۰ "
- خاتم النبیین السید محمد شاہ کشمیری ۱۶/۰ "
- التصریح (عربی) " ۲۰/۰ "
- سوانح پاک مولانا محمد علی جالندھری ڈاکٹر غفاری ۲۵/۰ "
- تحریک ختم نبوت آغا شورش کاشمیری ۳/۰ "
- اسلام اور قادیانیت مولانا عبد الغنی ۲/۰ "
- قادیانی کیوں مسلمان نہیں؟ مولانا محمد منظور نعمانی ۱/۵۰ روپے
- ہدیۃ المہدیین (عربی) مولانا مفتی محمد شفیع ۴/۰ "
- مرزائی نامہ مولانا مرتضیٰ خاں میکش ۸/۰ "
- کلمہ فضل رحمانی " ۲۵/۰ "
- شہادت القرآن میر ابراہیم سیالکوٹی ۲/۰ "
- حیاتِ مسیح رائے کمال ۵/۰ "
- احتساب قادیانیت مولانا لال حسین اختر ۴/۰ "
- ایمان پرور یادیں (حصہ دوم) مولانا اللہ وسایا ۴/۰ "
- حضرت مسیح، مرزا قادیانی کی نظر میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۲/۰ "
- ختم نبوت اور بزرگانِ اُمت " ۲/۰ "
- مرزا قادیانی کی آسمانی بیویاں مولانا عبدالرحیم اشعر ۲/۰ "
- نزول مسیح علیہ السلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی ۲/۰ "
- قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین " ۲/۰ "
- المہدی والمسیح " ۱/۰ "
- الہامی گرگٹ " ۲/۰ "
- قادیانی جنازہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی ۴/۰ روپے
- شناخت " ۱/۰ "
- مرزا قادیانی بحکم خود " ۱/۰ "
- قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے مابین فرق " ۱/۰ "
- قادیانی مُردہ " ۱/۰ "
- مرزائی اور تعمیر مسجد " ۲/۰ "
- قادیانیوں کو دعوتِ اسلام " ۱/۰ "
- مرزا طاہر کے مباہلہ کے جواب میں " ۲/۰ "
- غدارِ پاکستان (ڈاکٹر عبدالسلام) " ۱/۰ "
- امتناعِ قادیانی آرڈینینس " ۲/۰ "
- عیار گرگٹ عبدالرحمٰن یعقوب باوا ۱/۰ "
- ایمان پرور یادیں مولانا اللہ وسایا ۲/۰ "
- قادیانیت کا سیاسی تجزیہ صاحبزادہ طارق محمود ۴/۰ "
- قادیانی عقائد پر ایک نظر مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری ۲/۰ "
- قادیانی عقائد و عزائم مولانا تاج محمود ۲/۰ "
- عشقِ خاتم النبیینؐ طاہر رزاق ۱/۰ "
- ضیاء الحق کو قتل کس نے کیا؟ عبدالمجید رحمانی ۴/۰ "
- عاشقانِ مصطفیٰؐ! بتاؤ کہاں ہیں؟ " ۱/۰ "
- چہرۂ قادیانیت " ۱/۰ "
- آستین کے سانپ " ۱/۰ "
- قرآن مجید میں ردو بدل قادیانیوں کی بھیانک سازش ۱/۰ "
- مجرمِ اسلام طاہر رزاق ۱/۰ "
- ہم ختم نبوت کا کام کیسے کریں " ۱/۰ "
مجلس چونکہ ایک تبلیغی ادارہ ہے اس لیے کتابوں پر صرف لاگت وصول کی جاتی ہے۔ اس لیے کمیشن نہیں دیا جائے گا۔ ڈاک خرچ بذمہ خریدار ہوگا۔ ۲ روپے کے کتابچے کے لیے آپ ۲ روپے کے ڈاک ٹکٹ بھیج سکتے ہیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان پاکستان
تحریک ختم نبوت
1974
ترتیب وتحقیق:
مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوة
حضوری باغ روڈ ملتان ☎ 40978
قادیانیت
ہماری نظر میں
صد سالہ فتنہ قادیانیت کے بارے میں مشاہیر ملت، علمائے امت، مشائخ عظام، قائدین قوم، ارباب اقتدار، پارلیمنٹیرین حضرات، جسٹس صاحبان، شعرائے کرام، معروف سیاست دانوں، نامور صحافیوں، قابل قدر دانشوروں، مزدور رہنماؤں، مشہور ادیبوں، قائدین طلبہ، معتبر وکلاء، نمائندہ غیر مسلم شخصیات، سابق قادیانیوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد کے فکر انگیز، مبنی بر حقائق، ایمان افروز اور ولولہ انگیز مشاہدات و تاثرات اور حیرت انگیز و ہوش ربا انکشافات پر مبنی مستند تاریخی و تحقیقی دستاویز جو پوری ملت اسلامیہ کی آواز ہے۔
ترتیب و تحقیق
محمد متین خالد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان ☎ 40978
مشرق
میں داخلہ کا فیصلہ برقرار رکھا
Qadianis
LHC dismisses Qadyanis' writ for centenary celebrations
By our Staff Correspondent LAHORE: The Lahore High Court on Tuesday held that the activities whole dimensions challenging the Islamic
لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ
قادیانیوں کو صد سالہ جشن منانے سے روک دیا گیا
آرائشی دروازے اور روشنیاں ہٹا دی جائیں ، ایسی کارروائی نہ کی جائے جس سے دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے ، قادیانیت کی تبلیغ اسلام اور آئین سے بغاوت ہے ، قادیانیوں کی سرگرمیاں امن عامہ کے منافی ہیں ، ان کی اشاعت قادیانیوں کی سلامتی اور بقاء کی ضامن ہوتی
قادیانیوں کا صد سالہ جشن تبلیغ کا حصہ ہے، لاہور ہائیکورٹ
DAWN
Wednesday, September 18, 1991
Ban on Qadyanis' centenary just: LHC
LAHORE, Sept 17: The Lahore High Court on Tuesday held that... petition filed by... Mirza Khurshid Ahmed and... was heard early this year... guments had been reserved announced on Tuesday... guments advanced by the... ion and the ban on their centenary celebrations was violative of this freedom. It was argued that in the centenary celebrations, the community planned to hold illuminations and offer special thanks-giving prayers to express their gratitude to God almighty for bounties and favours which they have been...
The Frontier Post
روزنامہ جنگ
قادیانیوں کے 100 سالہ جشن پر پابندی جائز ہے : ہائیکورٹ کا فیصلہ
مسلمان اور عوام قادیانیوں کی سرگرمیوں اور ان کے عقیدے کی اشاعت کیخلاف مزاحمت کرتے ہیں ، اگر مسلمانوں کا عقیدہ پاک اور خالص رہے گا تو مسلمانوں کی ساکھ پختہ ہو گی
LHC rejects writ for rituals
Qadianis can't hold century celebrations
Celebration not in public interest
The Nation
WEDNESDAY, SEPTEMBER 18, 1991
قادیانیوں کو جشن کی اجازت نہیں دی گئی ، دروازے اور شامیانے ہٹا دیئے گئے
لاہور ہائی کورٹ نے قادیانیوں کے صد سالہ جشن منانے پر پابندی جائز قرار دے دی
قادیانیوں کی سرگرمیاں امن عامہ کے منافی ہیں، آزادی دین جیسی انہوں نے اپنے عمل سے شکل و صورت نکال رکھی ہے
قادیانیوں کے جشن صد سالہ پر پابندی قانون ، اسلام ، شریعت ، اخلاق اور ملکی قانون کے دلائل قرار دی گئی
پاکستان
8 ربیع الاول 1412ھ - 18 ستمبر 1991ء
لاہور ہائی کورٹ نے قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر پابندی کے حکم کو جائز قرار دے دیا
قادیانیوں کی سرگرمیوں سے ملکی سلامتی کو خطرہ ہے ، دین کی جو شکل قادیانیوں نے بنا رکھی ہے وہ مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث ہے
THE NEWS
LHC dismisses Qadianis petition
By our Staff Reporter LAHORE: The Lahore High Court...
Ban on celebrations of Ahmadis justified: LHC
By Our Staff Reporter LAHORE: The Lahore High Court
قادیانیوں کو صد سالہ جشن منانے سے روک دیا گیا
حکومت پنجاب کے فیصلے کے خلاف دائر شدہ اپیلیں خارج ، سرگرمیاں امن عامہ کے منافی قرار
قادیانیوں نے حق و صداقت کے خلاف جو مہم چلا رکھی ہے وہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتی ہے ، عدالت عالیہ کا فیصلہ
THE PAKISTAN TIMES
Lahore, Wednesday, Rabi-ul-Awwal 8, 1412 A.H., September 18, 1991
قادیانیوں کی سرگرمیاں ملکی سلامتی کے منافی ہیں، ہائیکورٹ
بعد ازاں عدالت نے ایک رٹ خارج کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کیا