ارتداد اور توہین رسالت · محمد اسرار
Irdaad aur Toheen-e-Risalat · Muhammad Israr
PDF 1

مقالہ نگار حضرات

فہرست مضامین

نمبر شمار موضوع صفحہ ۱ انتساب ۱۱ ۲ استدعاء مصنف ۱۲ ۳ تمہید ۱۳ باب اوّل : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع ترین شخصیت ۲۶ ۵ توہین رسالت اور بے حرمتی کے معنی ۲۷ ۶ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شخصیت ، ایک خوبصورت کامل مکمل مثالی نمونہ ۲۸ ۷ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں پر انکی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں ۲۸ ۸ مسلمانوں کو حکم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر ایک چیز سے زیادہ محبوب رکھیں ۲۹ ۹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے لیے مبعوث ہوئے تھے ۳۶ ۱۰ قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انبیاء کے حق میں قطعی فیصلہ کن گواہی ۳۹ ۱۱ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص عنایات ۴۰ ۱۲ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے "سات" خاص الخاص امتیازات و القاب عالیہ ۴۰ ۱۳ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ خاص تحفے ۴۲ ۱۴ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پشت پر کی چیزیں بھی اتنی ہی واضح نظر آتی تھیں جتنی کہ سامنے کی ۴۵ ۱۵ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اور ان کے پیغام کے تحفظ کے لیے وعدۂ خداوندی ۴۷

اور توہین رسالت" ۱۹۹۶ء بمطابق محرم الحرام ۱۴۱۷ھ ایوان عظیم الرحمٰن اسلامیات ۱۹۰ ۔ انار کلی لاہور ۔۲ ۷۲۴۳۹۹۶ - ۷۳ ۵۳ ۲۵۵

ملنے کے پتے

ادارہ اسلامیات ، ۱۹۰ ۔ انار کلی لاہور ۔ ۲ دارالاشاعت ، اُردو بازار کراچی ۔ ۱ بیت القرآن اُردو بازار ، کراچی ۔ ۱ مکتبہ دارالعلوم جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی ۱۴ ادارة المعارف ڈاک خانہ دارالعلوم کورنگی کراچی ۱۴ ادارة القرآن چوک لسبیلہ گارڈن ایسٹ کراچی ۳

PDF 2

azar, Karachi. 8/8 Cell: +92-321-3817119 pk@yahoo.com

مقالہ نگار حضرات

موضوع صفحہ

مسلمانوں کا فرض عین اور منصب اولین

خلاف ورزی ہے

باب دوم: قتل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کیلئے دشمنوں کی سازشیں ۵۸

مسلم شخصیتیں

نمبر شمار موضوع

باب سوم: توہین رسالت کے خلاف شرعی [...]

دلائل وشواہد، (الف) القرآن الکریم [...] (ب) اجماع امت (فقہاء و علماء [...]

باب سوم: (الف) توہین رسالت کے م[...]

PDF 3

مقالہ نگار حضرات

Bazar, Karachi. 8/8 Cell: +92-321-3817119 pk@yahoo.com

موضوع صفحہ پکارنے پر مسلمانوں کو تنبیہ ۲۸ اللہ علیہ وسلم پر صلوۃ و سلام بھیجتے رہیں ۲۹ وقار کا تحفظ، آپ کی رسالت کا دفاع ۵۰ توہین صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بے مثل محبت ۵۱ پر بھی ناراض کرنا فرمانِ خداوندی ہے ۵۳ اور صحابہ کرام کیلئے دشمنوں کی سازشیں ۵۸ ۵۸ ۵۹ ۶۰ ۶۱ ۶۱ ۶۳ ۶۴ ازی بازی و غداری ۶۷ مانیوں اور عقوبتوں کا نشانہ بنے ۶۸ اور والدہ رضی اللہ عنہم ۶۹ ۶۹

نمبر موضوع صفحہ ۳ حضرت الولید بن الولید ، سلمہ بن ہشام ۔ عیاش بن ابی ربیعہ ۶۹ ۴ بنو معمل کی ایک مسلمہ عورت ۷۰ ۵ حضرت مصعب بن عمیر ۷۰ ۶ حضرت عثمان بن مظعون ۷۰ ۷ حضرت عثمان بن عفان ۷۰ ۸ حضرت خباب بن الارت ۷۰ ۹ حضرت ابو فکیہہ رضی اللہ عنہ ۷۰ ۱۰ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ۷۰ ۱۱ حضرت سعید ابن زید رضی اللہ عنہ ۷۱ ۳۲ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور انکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیلئے صبر آزما دور ۷۱ ۳۳ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہیں ۷۲ باب سوم : توہین رسالت کے خلاف شریعت اسلامیہ کے بنیادی مراجع سے ۷۴ دلائل و شواہد، (الف) القرآن الکریم ، (ب) سنت نبویہ ، (ت) آثار صحابہ (ث) اجماع امت (فقہاء و علماء اسلام کے فتاویٰ) باب سوم: (الف) توہین رسالت کے خلاف قرآنی شہادت ۷۶ ۳۵ شاتمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اللہ کا فیصلہ ۷۶ ۳۶ سربراہانِ توہین رسالت، بے حرمتی و کفر کے لیے متعین سزا ۷۹ ۳۷ توہین رسالت کے مرتکب کافر تہمت تراشوں کی سزا ۸۱ ۳۸ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاتم کی سزا ۸۲ ۳۹ کافروں، مرتدوں اور منافقوں کا طویل سوہان روح ۸۴ ۴۰ توہین رسالت کے مجرموں، کافر بے حرمتوں اور مرتدوں کیلئے مقرر کردہ سزائیں ۸۴ ۴۱ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر جن لوگوں کو قتل کیا گیا انکی وجوہات اور قرآنی تصدیق ۸۷

PDF 4

مقالہ نگار حضرات

نمبر موضوع صفحہ ٤٢ مرتد قبیلے کے افراد ٨٧ ٤٣ ایسے لوگوں کے زمرے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے دردناک اور شرمناک موت مقرر کی ہے ٩٠ ٤٤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حقارت، ان کی تضحیک یا ان سے بدگوئی ٩١ کرنے والوں کے خلاف اللہ جل جلالہ کا فیصلہ ٤٥ مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت کے مجرموں، بے حرمت کافروں ٩٣ سے میل جول رکھیں۔ ٤٦ مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت کے مجرموں، کافروں، فاجروں ٩٤ اور ان کے مددگاروں اور حمایتیوں کو دوست بنائیں ٤٧ ازواج مطہرات کی توہین، بے حرمتی، تضحیک یا ان سے متعلق بدگوئی کرنیوالوں کی سزا ٩٦ ٤٨ ازواج مطہرات پر الزام تراشی کے جرم میں موت کی سزا ٩٧

باب سوم : ب : توہین رسالت کے خلاف سنت نبویہ سے شواہد ١٠٠

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، فیصلے اور عمل

٤٩ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی ذاتی انتقام نہیں لیا ١٠٠ ٥٠ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی احادیث ١٠٣ ٥١ شاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کافر بے حرمت کو ٹھکانے لگانیوالا اللہ اور ١٠٥ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معاون ہے۔ ٥٢ معاویہ بن مغیرہ کو موت کی سزا ١٠٦ ٥٣ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنانِ اسلام کے بارے میں فرمایا ”زندہ ١٠٧ چھوڑ دیئے جانے کی نسبت میں ان کو قتل ہوتا ہوا دیکھنا پسند کروں گا“ ٥٤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ابی بن خلف کو ہلاک کیا ١٠٨ ٥٥ مندرجہ ذیل توہین رسالت کے مجرم انسانی کتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ١٠٩

نمبر نے موت کی سزا دی ١ سلام بن ابوالحقیق ٢ ابو عفک ٣ صفوان بن امیہ ٤ انس بن زنیم الدیلی ٥ حارث بن ہشام اور ٦ ابو سفیان بن حرب ٥٦ توہین رسالت کے مجرم سر ٥٧ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طلحہ بن عبید اللہ کو بھیجا ٥٨ حضرت ابو عامر الاشعری او ٥٩ توہین رسالت کے جرم میں ع ٦٠ حضرت زبیر بن عوام اور حض ٦١ الیسیر بن رزام اور اس کے ٦٢ توہین رسالت کے مرتکب ٦٣ خالد بن سفیان الہذلی کو ٦٤ شاتم رسول اللہ صلی اللہ ع ٦٥ اسلام کو مسخ کرنے اور اس بارے میں رسول اللہ ص ٦٦ فتح مکہ کے روز پندرہ شا موت کی سزا سنائی .

azar, Karachi. 878 Cell: +92-321-3817119 pk@yahoo.com

PDF 5

مقالہ نگار حضرات

وع صفحہ ۸۷ نے دردناک اور شرمناک موت مقرر کی ہے ۹۰ ان کی تضحیک یا ان سے بدگوئی ۹۱ فیصلہ الت کے مجرموں ، بے حرمت کافروں ۹۳ الت کے مجرموں، کافروں، مجرموں ۹۴ عبرت بنائیں ین سے متعلق بدگوئی کرنیوالوں کی سزا ۹۶ موت کی سزا ۹۷ ہویہ سے شواہد ۱۰۰ اقوال، فیصلے اور عمل انتقام نہیں لیا ۱۰۰ ۱۰۳ حرمت کو ٹھکانے لگا نیوالا اللہ اور ۱۰۵ ۱۰۶ کے بارے میں فرمایا "زندہ ۱۰۷ اور دیکھنا پسند کروں گا" ت کو ہلاک کیا ۱۰۸ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۰۹

نمبر موضوع صفحہ نے موت کی سزادی ۱ سلام بن ابوالحقیق ۱۰۹ ۲ ابو عفک ۱۱۰ ۳ صفوان بن امیہ ۱۱۱ ۴ انس بن زنیم الدیلی ۱۱۲ ۵ حارث بن ہشام اور زبیر بن ابوامیہ کے معاملے ۱۱۳ ۶ ابوسفیان بن حرب ۱۱۴ ۵۶ توہین رسالت کے مجرم سرداران مکہ کا انجام بد ۱۱۶ ۵۷ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کو زندہ جلانے کے لیے حضرت ۱۱۷ طلحہ بن عبیداللہ کو بھیجا ۵۸ حضرت ابو عامر الاشعری اور زید بن حارثہ کے کارنامے ۱۱۸ ۵۹ توہین رسالت کے جرم میں ملوث عورتیں موت کے گھاٹ اتار دی گئیں ۱۱۹ ۶۰ حضرت زبیر بن عوام اور حضرت خالد کے کارنامے ۱۲۲ ۶۱ الیسیر بن رزام اور اس کے ساتھی موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ۱۲۲ ۶۲ توہین رسالت کے مرتکب مجرم کے قاتل کے لیے انعام ۱۲۳ ۶۳ خالد بن سفیان الہذلی کو سزائے موت ۱۲۴ ۶۴ شاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الحارث کی معذرت خواہی اور توبہ نامنظور ۱۲۶ ۶۵ اسلام کو مسخ کرنے اور اس کی غلط تصویر پیش کرنیوالے نام نہاد مسلمانوں کے ۱۲۷ بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان عام ۶۶ فتح مکہ کے روز پندرہ شاتمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ نے ۱۲۹ موت کی سزا سنائی

azar, Karachi. 8/8 Cell: +92-321-3817119 pkr@yahoo.com

PDF 6

مقالہ نگار حضرات

azar, Karachi. 878 Cell: +92-321-3817119 pk@yahoo.com

موضوع ۶۷ توہین رسالت کے جرم کے مرتکب شعراء جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۳۱ نے موت کی سزا سنائی۔ ۱ کعب بن اشرف ۱۳۲ ۲ کعب بن زہیر ۱۳۵ ۳ عبداللہ بن زبعری ۱۳۷ ۴ ابو سفیان بن الحارث بن عبدالمطلب وعبداللہ بن ابوامیہ ۱۳۷ ۵ الحویرث بن نقیض ۱۳۸ ۶ عبداللہ بن ابی سرح ۱۳۹ ۷ عبداللہ بن خطل اور اس کی دو مغنیہ لڑکیاں ۱۴۰ ۸ مقیاس بن صبابہ ۱۴۲ ۹ عکرمہ بن ابی جہل ۱۴۲ ۱۰ ہبار بن الاسود کا معاملہ ۱۴۳ ۱۱ سارہ کا معاملہ ۱۴۴ ۱۲ النضر بن الحارث اور عقبہ بن معیط کا انجام ۱۴۵ ۱۳ عصمہ بنت مروان ۱۴۶ ۱۴ ہندہ بنت عتبہ زوجہ ابوسفیان ۱۴۷ ۶۸ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”غیر عادل“ کا الزام دینے والے کی سزا ۱۴۸ ۶۹ توہین رسالت کے مرتکب کفار ۱۴۹ ۷۰ ابولہب اور اس کی بیوی ام جمیل اور امیہ بن خلف کا انجام ۱۵۰ ۷۱ یہود مدینہ ۱۵۲ ۷۲ بنو قریظہ کا انجام ۱۵۵

موضوع ۷۳ توہین رسالت کے مجرم ساب کا قتل عمو ۷۴ ابوجہل کا انجام

باب سوم: ت، توہین رسالت کے خلاف صحا

اور فیصلے

۷۶ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ اول ۷۷ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ۷۸ حضرت عمرو بن العاص اور عرفہ بن ۷۹ حضرت عبداللہ بن عمر بن الخطاب کا ۸۰ حضرت خالد بن ولید کا فیصلہ ۸۱ حضرت سعد بن معاذ کا فیصلہ ۸۲ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا فیصلہ

باب سوم: ث، توہین رسالت کے خلاف علما

۸۴ حضرت امام مالک اور مالکی فضلاء کا فی ۸۵ حضرت امام ابوحنیفہ اور دیگر حنفی ع ۸۶ حضرت امام شافعی اور دیگر شافعی ۸۷ حضرت امام احمد اور دوسرے حنبلی ۸۸ زیدیہ اور امامیہ علماء کا فتویٰ ۸۹ القاضی عیاض کا فتویٰ ۹۰ القاضی ابو محمد بن نصر کا فتویٰ ۹۱ حضرت ابوعبداللہ کا فتویٰ ۹۲ حضرت احمد بن ابوسلیمان اور ح

PDF 7

یں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۴۱

نمبر موضوع صفحہ

٧٣ توہین رسالت کے مجرم باپ کا قتل مومن بیٹے کے ہاتھوں ۱۵۷ ٧۴ ابوجہل کا انجام ۱۵۷

باب سوم : ت ، توہین رسالت کے خلاف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فتاویٰ

اور فیصلے ۱۶۰

وعبیداللہ بن ابوامیہ ٧۶ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ اول کا فیصلہ ۱۶۰ ٧٧ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ۱۶۳ ٧٨ حضرت عمرو بن العاص اور غرفہ بن الحارث الکندی کے فیصلے ۱۶۶ ٧٩ حضرت عبداللہ بن عمر بن الخطاب کا فیصلہ ۱۶۶ گالیاں ٨٠ حضرت خالد بن ولید کا فیصلہ ۱۶۷ ٨١ حضرت سعد بن معاذ کا فیصلہ ۱۶۷ ٨٢ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا فیصلہ ۱۶۷

باب سوم : ث ، توہین رسالت کے خلاف مشاہیر فقہاء و علماء اسلام کے فتاویٰ ۱۶۹

احکام ٨۴ حضرت امام مالک اور مالکی فضلاء کا فیصلہ ۱۶۹ ٨۵ حضرت امام ابوحنیفہ اور دیگر حنفی علماء کا فیصلہ ۱۷۲ دشنام دینے والے کی سزا ۱۴۸ ٨۶ حضرت امام شافعی اور دیگر شافعی علماء کا فیصلہ ۱۷۳ ٨٧ حضرت امام احمد اور دوسرے حنبلی علماء کا فتویٰ ۱۷۵ ٨٨ زیدیہ اور امامیہ علماء کا فتویٰ ۱۷۵ مخالف کا انجام ٨٩ القاضی عیاض کا فتویٰ ۱۷۶ ٩٠ القاضی ابو محمد بن نصر کا فتویٰ ۱۷۷ ٩١ حضرت ابو عبداللہ کا فتویٰ ۱۷۷ ٩٢ حضرت احمد بن ابوسلیمان اور حضرت ابو عثمان بن الحداد کا فتویٰ ۱۷۷

مقالہ نگار حضرات

azar, Karachi. 8/8 Cell: +92-321-3817119 1 pk@yahoo.com

PDF 8

chi. + 92-321-3817119 oo.com

موضوع صفحہ 93 حضرت ابوالموہب العسکری اور حضرت ابو علی البتار کا فتویٰ 178 94 حضرت خرقی کا فیصلہ 178 95 حضرت عثمان بن کنعان کا فتویٰ 178 96 حضرت ابراہیم بن حسین بن خالد الفقیہہ کا فتویٰ 178 97 حضرت عبداللہ بن عبدالحکم اور حضرت اصبغ کا فتویٰ 179 98 القاضی الشریف ابوعلی بن موسیٰ اور ابو عبداللہ السمری کا فتویٰ 179 99 حضرت ابوسلیمن الخطابی کا فتویٰ 179 100 ابوبکر ابن منذر کا فتویٰ 180 101 حضرت حسن البصری اور حضرت اللیث بن سعد کا فتویٰ 180 102 حضرت ابن نجیم اور حضرت ابن عقیل کا فتویٰ 180 103 القیروان کے فقہاء کا فتویٰ 181 104 اندلس کے فقہاء کا فتویٰ 181 105 حضرت ابو محمد بن زید کا فتویٰ 182 106 حضرت ابوالحسن القابسی کا فتویٰ 182 107 القاضی ابویعلیٰ کا فتویٰ 182 108 حضرت امام تقی الدین ابن تیمیہؒ کا فتویٰ 183 109 ڈاکٹر محمد الفضیلت کا فتویٰ 184 110 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹے بیانات منسوب کرنیوالے کی سزا 184 111 مسلمانوں کو اجازت نہیں کہ وہ شاتمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی 185 معافی قبول کریں 112 اسلامی شریعت مخلص مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ شاتمان 186

نمبر 113 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل 114 مسلمانوں کی جان و مال رسو پر قربان باب چہارم: ارتداد کا معنی ومف 116 شریعت اسلامی کا ارتداد 117 اللہ تعالیٰ نے مرتدین اور 118 تائب نہ ہونیوالے مرتد اس درد ناک عذاب اور غض 119 ارتداد کی سزا 120 باغی مرتدین کے لیے معافی 121 قیامت کے دن مرتد کا اع 122 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وس 123 سنتِ رسول اللہ صلی اللہ ع 124 مختلف صحابہؓ رسول اللہ ص 125 یومِ فتح مکہ پر رسول اللہ صلی سُنائی 126 مسیلمہ بن کذاب کے پیغام صحابہؓ رسول اللہ صلی الل 127 خلیفہ اول حضرت ابوبکر 128 حضرت ابوبکر صدیق رضی 129 خلیفہ دوم حضرت عمر بن

PDF 9

ضوع ت ابوعلی البتار کا فتویٰ ۱۷۸ ۱۷۸ ۱۷۸ ۱۷۸ قیبہ کا فتویٰ ۱۷۹ اصبغ کا فتویٰ ۱۷۹ و عبداللہ استمری کا فتویٰ ۱۷۹ ۱۸۰ ۱۸۰ بن سعید کا فتویٰ ۱۸۰ فتویٰ ۱۸۱ ۱۸۱ ۱۸۲ ۱۸۲ ۱۸۲ ۱۸۳ ۱۸۴ تے بیانات منسوب کرنیکی سزا ۱۸۴ ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ۱۸۵ کرتی ہے کہ وہ شاتمان ۱۸۶

نمبر موضوع صفحہ ۱۱۳ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مرتدوں کا صفایا کریں ۱۱۴ مسلمانوں کی جان و مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقار و ناموس پر قربان ۱۸۷

باب چہارم : ارتداد کا معنی و مطلب

۱۱۶ شریعت اسلامی کا ارتداد کے خلاف فتویٰ ۱۹۱ ۱۱۷ اللہ تعالیٰ نے مرتدین اور غیر مسلموں کی ایک جیسی مذمت کی ہے ۱۹۲ ۱۱۸ تائب نہ ہونیوالے مرتد اس دنیا میں سزائے موت اور آخرت میں ۱۹۲ دردناک عذاب اور غضب الٰہی کا نشانہ ہوں گے ۱۱۹ ارتداد کی سزا ۱۹۴ ۱۲۰ باغی مرتدین کے لیے معافی نہیں ۱۹۸ ۱۲۱ قیامت کے دن مرتد کا الم و کرب ۱۹۹ ۱۲۲ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام کی قرآنی تصدیق ۲۰۰ ۱۲۳ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور فتاویٰ صحابہؓ سے شواہد ۲۰۱ ۱۲۴ مختلف صحابہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث ۲۰۱ ۱۲۵ یوم فتح مکہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مرتدوں کو موت کی سزا ۲۰۵ سنائی ۱۲۶ مسیلمہ بن کذاب کے پیغامبروں کو تنبیہ ۲۰۵ صحابہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے ۲۰۷ ۱۲۷ خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ۲۰۷ ۱۲۸ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور کے مرتد ۲۰۷ ۱۲۹ خلیفۂ دوم حضرت عمر بن الخطاب کا فیصلہ ۲۰۸

صفحہ 11

موضوع صفحہ

کا سر قلم کیا ۲۲۳

Bazar, Karachi. 8/8 Cell: +92-321-3817119 1 pkyahoo.com

انتساب

اپنی منور شمع حیات شمع رسالت
رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے معمور
" اللھم زِد "
صفحہ ۱۱

مقالہ نگار حضرات

انتساب

ش م ع ا ن م ا س ر ا ر م د ن ی

یہ اپنی منور شمع حیات شمع اسرار کے نام جن کا دل بے پایاں محبتِ رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے معمور ہے ۔ مزید میری دعا ہے :

" اَللّٰھُمَّ زِدْ فَزِدْ "

محمد اسرار مدنی

صفحہ ۲۰۹ ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۳ ۲۱۴ ۲۱۶ قابل ہے ۲۱۹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۲۲۳

صفحہ ۱۳

مقالہ نگار حضرات

Bazar, Karachi. 18/8 Cell: +92-321-3817119 m_pk@yahoo.com

استدعائے مصنفؒ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله الهادي المولى النصير فنعم الهادي ونعم المولى ونعم النصير والصلوة والسلام على سيدنا ونبينا خاتم النبيين وعلى آله وصحبه وإني أسأل الله الكريم المنان مستشفعا اليه ، بمحمد المصطفى المجتبى وآله وصحبه الذين احبّوه وعزّروه ونصروه وأفنوا شاتمہ واعداءہ ان يَجْعَلَ همتي وقصدى فى تأليف هذا الكتاب موجبا لغفرانه ومؤدّيا الى رضوانه محمد اسرار مدنی

"تمام تر تعریف اور شکر اس ہادی ، مولیٰ اور نصیر کیلئے ہے جو بہترین ہدایت دینے والا ، بہترین مالک اور بہترین مدد کرنے والا ہے ۔ اور ہمارے آقا و نبی ، نبیوں کے سلسلے کے قطعی آخری نبی پر اور ان کے آل واصحاب پر درود و سلام ۔ سفارش کے لیے التجا کرتے ہوئے محمد مصطفیٰ و مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ان کے آل و اصحابؓ سے جنہوں نے ان سے محبت کی ، ان کی عزت و توقیر کی ، ان کی مدد کی اور ان کے شاتم اور اعداء کو فنا کیا ۔ میں اللہ کریم و منان سے سوالی ہوں کہ اس کتاب کی تالیف میں میرے قصد و ارادہ کو اپنی مغفرت اور رضا کا باعث و موجب بنائے ۔

رَسُولُ اللّٰہِ اَعْظَمُھُمْ حُقُوقًا حقوقِ رسولِ خدا سب سے فائق
وَحَقُّ اللّٰہِ فِیْ حَقِّ الرَّسُولِ حقوقِ نبی میں ہی حقِ خدا ہے

بسم اللہ الرحمن الرحی

تمہید

ہر ایک معاشرہ قوانین کے زیرِ نگی الہامی ہوں یا انسان ساختہ یہ ایک م ہے کہ ہر ایک معاشرہ میں زندگی کے قدرتی امر ہے کہ ایک بلا قانون معا بلاشک جب ہم کسی بلا قانون معاشر مطلب ایسے معاشرے سے ہوتا ہے نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ کوئی معاشرہ ای ہو ۔ بے لگام آزادی صرف جنگل م کے انضباط و حفاظت کے لیے قو وہ سب معاشرے جو انسانی تمد کے تحت ہیں جو جرائم پیشہ عناصر مہیا کرتے ہیں ۔ مزید یہ کہ معاشرے کرے اور عموماً پر امن نظام کو تب جاتا ہے کہ معاشرے کے جزو اعظ اس کے ڈھیلے ڈھالے قوانین

صفحہ ۱۳

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمہید

ہر ایک معاشرہ قوانین کے زیر حکمرانی ہوتا ہے۔ اُن قوانین کے مآخذ الہامی ہوں یا انسان ساختہ یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہر ایک معاشرہ میں زندگی کے انضباط کے لیے قوانین لازمی ہیں۔ قدرتی امر ہے کہ ایک بلا قانون معاشرہ تہذیب یافتہ معاشرہ نہیں ہوسکتا۔ بلاشک جب ہم کسی بلا قانون معاشرے کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو ہمارا مطلب ایسے معاشرے سے ہوتا ہے جس میں عدم امن و امان ہو۔ اس سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ کوئی معاشرہ ایسا نہیں جو اپنے آپ کو یکسر آزاد سمجھتا ہو۔ بے لگام آزادی صرف جنگل میں پائی جاتی ہے۔ معاشروں کو زندگی کے انضباط و حفاظت کے لیے قوانین کی ضرورت ہوتی ہے۔

وہ سب معاشرے جو انسانی زندگی اور وقار کی قدر کرتے ہیں ایسے قوانین کے تحت ہیں جو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اپنے اپنے شہریوں کو حفاظت مہیا کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ معاشرے کا کوئی ایسا فرد جو قانون کی نافرمانی کرے اور عمداً پُرامن نظام کو تہ و بالا کرے اُسے اس لیے گرفتار کر لیا جاتا ہے کہ معاشرے کے جزوِ اعظم کی زندگی اور صحت قائم رہے، برعکس اس کے ڈھیلے ڈھالے قوانین جرم اور مجرموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں

صفحہ ۱۴

اور معاشرے میں عدم امن وامان پیدا کرتے ہیں ۔

شریعت اسلامی نے مسلم معاشرے کے لیے عین متعین اور مؤثر قوانین خلاف معاشرہ ، عناصر کے لیے وضع کر دیئے ہیں ۔ نہ صرف یہ شریعت صحت مند طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ اِس نے ایسے جرائم کے لیے سخت سزائیں تجویز کر رکھی ہیں جیسے کہ بے حرمتی ، ارتداد ، زنا کاری ، قتل ، منافقت ، جاسوسی ، چوری وغیرہ وغیرہ ۔ اسلام میں ہر چیز کے بے راہ رویانہ طرزِ عمل اور شر پسندی کو روکنے کے لیے واضح قواعد وضوابط موجود ہیں ۔ اسلامی شریعت کسی ایسے طرزِ عمل اختیار کرنے والوں کی طرف نرم رویہ اختیار نہیں کرتی جن کے قبیح اور کینہ پرورانہ عمل سے پوری امتِ مسلمہ کے وقار وعزت پر داغ آئے ۔

اسلام میں سب قوانین کا منبع الہامی ہے ۔ یہ قوانین نبیوں کے ایک طویل سلسلے کے ذریعے بنی نوع انسان کو وحی کیے گئے ۔ سب انسانوں کے خالق اللہ جل شانہٗ نے خود اِن نبیوں کا انتخاب کیا ۔ اُن کو حقِ مطلق اور ہدایت اُلوہی کے عظیم تبلیغی فرض کی تعمیل کے لیے مبعوث کیا گیا کہ وہ اپنی اپنی قوم کو تلقین وتعلیم دے کر ضلالت سے نکال لائیں اور صراطِ مستقیم پر لے آئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانانِ عالم کا ایمان ہے کہ اللہ کے سب نبی قابلِ تعظیم ہیں ۔ سب ہی نبیوں کا فرضِ منصبی یہ تھا کہ وہ بنی نوع انسان کے لیے فلاح کا باعث بنیں ۔ چونکہ یہ کام اللہ کی جانب سے تھا ، یہ قابلِ عمل تھا اور اب بھی فطرت کے ساتھ قابلِ عمل چلا آرہا ہے ۔

اللہ کے آخری نبی ، محمد ﷺ بھی ، جو کُل اِنس وجن کیلئے ایک عظیم کائناتی پیغام لے کر تشریف لائے ، سب کے لیے قابلِ تعظیم ہیں ۔ کوئی ایسا قول وفعل سرزد نہیں ہونا چاہئے جس سے اُن کو خفیف ترین

اذیت نہ پہنچے یا اُن سے گستاخی مطہرات جو مسلمانانِ عالم کی امہات خود اللہ جل شانہٗ نے حضرت کی عظمت کی بناء پر عظیم ترین انبیا اور اس کے ملائکہ نبی کی عزت و تکری آگے چل کر مسلمانوں پر بھی فرض عائ پر اور متبعین پر ہمیشہ کے لیے صلوٰۃ کے یہ احکام اُن کے عین حیات تا قیامت نافذ رہیں گے ۔ اس کی و عظیم شخصیت مسلمانوں کے رگ و رہیں گے ۔

قرآن کریم مسلمانوں پر یہ فرض عا کو اپنی جان اور عزیز و اقارب سے زیا مطہرات کو اپنی حقیقی ماؤں سے زیادہ علم اور وفاداری ولگن میں بے مثل تھے سے مسلمانوں کی بعد میں آنے والی نسلوں سنگ بنیاد ہیں مسلمانوں کو تلقین کی گ کی ہر کوشش کی مزاحمت کریں ۔ ایسے چاہتے چاہے اس کوشش میں مسلما پڑے تو جان تک حاضر کر دینی پڑے اور ان کے پیغام کی مدافعت کی جا سید الشہداء حسینؓ کی بے حرمتی کا مر

مقالہ نگار حضرات

Bazar, Karachi. 118/8 Cell : +92-321-3817119 h_pk@yahoo.com

صفحہ ۱۵

ایمان پیدا کرتے ہیں ۔ لم معاشرے کے لیے عین متعین اور موثر قوانین یے وضع کر دیتے ہیں ۔ نہ صرف یہ شریعت نمائی کرتی ہے بلکہ اس نے ایسے جرائم کے لیے ا جیسے کہ بے حرمتی ، ارتداد ، زنا کاری ، قتل ، وغیرہ وغیرہ ۔ اسلام میں ہر چیز کے بے راہ روکنے کے لیے واضح قواعد و ضوابط موجود ے طرزِ عمل اختیار کرنے والوں کی طرف نرم رویہ ور کینہ پرورانہ عمل سے پوری امتِ مسلمہ کے

ا منبع الہامی ہے ۔ یہ قوانین نبیوں کے ایک ع انسان کو وحی کیے گئے ۔ سب انسانوں کے بیوں کا انتخاب کیا ۔ اُن کو حقِ مطلق اور ہدایت مل کے لیے مبعوث کیا گیا کہ وہ اپنی اپنی قوم کو ے نکال لائیں اور صراطِ مستقیم پر لے آئیں ۔ ایمان ہے کہ اللہ کے سب نبی قابلِ تعظیم بھی یہ تھا کہ کہ وہ بنی نوع انسان کے لیے کام اللہ کی جانب سے تھا ، یہ قابلِ عمل تھا ابلِ عمل چلا آ رہا ہے ۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ، جو مکمل انس وجن کیلئے تشریف لائے ، سب کے لیے قابلِ تعظیم ہیں ۔ نا چاہتے جس سے اُن کو خفیف ترین

اذیت و گزند پہنچے یا اُن سے گستاخی کے مترادف ہو ۔ اسی طرح ، اُنکی ازواج مطہرات جو مسلمانانِ عالم کی امہات ہیں ، اسی طرح کی تعظیم کی مستحق ہیں ۔ خود اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے مقصدِ بعثت کی عظمت کی بناء پر عظیم ترین انبیاء و رسل قرار دیا ۔ یہ قرآنی حکم کہ ”اللہ اور اس کے ملائکہ نبی کی عزت و تکریم کرتے اور صلوٰۃ و سلام بھیجتے ہیں “ آگے چل کر مسلمانوں پر بھی فرض عائد کرتا ہے کہ وہ نبی پر اور اُن کے اہل بیت پر اور متبعین پر ہمیشہ کے لیے صلوٰۃ و سلام بھیجتے رہیں ۔ اسلامی شریعت کے یہ احکام اُن کے حین حیات ہی میں نہیں بلکہ آج بھی اور تا قیامت نافذ رہیں گے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کی تعلیمات ، اعمال اور عظیم شخصیت مسلمانوں کے رگ و پے میں زندہ ہیں اور یوم محشر تک زندہ رہیں گے ۔

قرآن کریم مسلمانوں پر یہ فرض عائد کرتا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان اور عزیز و اقارب سے زیادہ عزیز رکھیں ۔ اسی طرح ان کی ازواج مطہرات کو اپنی حقیقی ماؤں سے زیادہ قابلِ تکریم جانیں ۔ ان کے صحابہ بھی دیانت علم اور وفاداری و لگن میں بے مثل تھے ۔ مختلف مسائل پر ان کا اجماع اسی وجہ سے مسلمانوں کی بعد میں آنے والی نسلوں پر واجب الاتباع ہے ۔ یہ عقائد اسلام کا سنگِ بنیاد ہیں مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ ان عقائد میں سرنگ لگانے کی ہر کوشش کی مزاحمت کریں ۔ ایسے لوگوں کے ساتھ نہایت سختی سے نپٹنا چاہیے چاہے اس کوشش میں مسلمانوں کو اپنی ہر چیز ، دولت اور ضرورت پڑے تو جان تک حاضر کر دینی پڑے تاکہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیغام کی مدافعت کی جائے ۔ مطلب یہ ہوا کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حرمتی کا مرتکب ہوتا ہے وہ پوری امتِ مسلمہ کی بے عزتی

مقالہ نگار حضرات

صفحہ ١٦

کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایسا شخص اللہ کے دین یعنی اسلام کا مذاق اڑاتا ہے۔ اور اللہ جل سبحانہٗ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے۔ وہ مسلمانانِ عالم کو نہ صرف مجروح کرتا ہے بلکہ ان کے وجود کو دھمکی دیتا ہے۔

لامحالہ، اس سے تمام مسلمانوں میں بڑی بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ اُمت مسلمہ میں ایسے شاتم کا پیدا کیا ہوا اضطراب بہت تکالیف و خونریزی کو جنم دیتا ہے۔ اس کی موجودہ زمانے کی مثال سلمان رشدی کا فتنہ ہے۔ جو ۱۹۸۸۔۸۹ء میں ظاہر ہوا۔ اس کی ایک جہت کا مشاہدہ وفاداری کے جذبات سے بھرپور مسلمانوں کے اس مظاہرے میں ہوا جو پاک و ہند میں رشدی کے زہر آلود قلم سے برانگیختہ ہوئے۔ لیکن وائے افسوس، کہ بشمول ان کے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، عمالِ حکومت نے ان پر بلا امتیاز و دریغ گولی چلائی جس سے بے گناہ خون بہا۔ لیکن ایسے قتل سے مسلمانوں کے غم و غصّہ میں اور اضافہ ہوتا ہے اور شاتم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ان کا ارادہ اور مضبوط ہوتا ہے۔ اسی بناء پر اس کو جو اس فتنے کی جڑ ہے اور جسے ”انسانیت کا کافر کتا“ کہنا بجا ہوگا، دُنیا میں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ایسے شخص کو قابو کرکے اس کے ساتھ صحیح صحیح انصاف کرے یہی حقائق تھے جن کی روشنی میں امام خمینی مرحوم نے اپنا فتویٰ صادر فرمایا تھا۔ یہ فتویٰ تب بھی جائز تھا، اب بھی ہے اور ابد تک جائز رہے گا کیونکہ اس کی اصل اسلامی شریعت پر مبنی ہے۔ اس نکتے اور مسئلے پر اسلام کے مختلف فقہی مکاتب میں قطعاً کوئی اختلافِ رائے نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج مطہرات سے گستاخی کی ایک اور ایک ہی سزا ہے اور وہ ہے سزائے موت۔ معاشرے کی حفاظت کے لیے اور بھی جرم ہیں جیسے غداری، سازش، قتل وغیرہ جن کے لیے سزائے

صفحہ ۱۷

موت مقرر ہے۔ الہامی پیش آگاہیوں اور تنبیہ و انذار کی شروع سے ہی یہ خاصیت رہی ہے کہ اس دنیا میں حیوان صفت کافر انسانوں کو سزا دی جائے اور انھیں خبردار کیا جائے کہ آخرت میں ان کے لیے زیادہ درد ناک عذاب ہوگا۔

تاریخ سے ظاہر ہے کہ کافر و بے حرمت افراد، گروہ یا قومیں مصنوعی امن اور خوش حالی کے مزے تھوڑی مدت کے لیے لیتی رہی ہیں لیکن تھوڑے عرصے میں ہی وہ قدرتی آفات یا اندرونی کشمکش، سرکشی یا بغاوت سے تباہ و برباد ہوگئیں۔ مندرجہ ذیل مثالیں یہ اجاگر کرنے کے لیے کافی ہوں گی :-

ہاتھوں ہر ایک معرکے میں مکمل شکست ہوئی۔

جلد ہی بعد عظیم سلطنت فارس ریزہ ریزہ ہوگئی ۔

ٹھہر سکی ۔

اور پوری طرح ختم ہوگئی ۔

ایشیا، اسپین وغیرہ ) مسلمان افواج کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔

متبرک مقامات بھی تھے، مسلمانوں کے زیر آجانے کے بعد یورپ کی عیسائی اقوام مسلمانوں کو چیلنج کرنے پر آمادہ نہ ہوسکی ۔

صفحہ ۱۸

کی ایک ایک انچ زمین سے ان کو نکال دیا گیا اور ان کو اسلام کے دو شیروں، عماد الدین زنگی اور نور الدین زنگی کے ہاتھوں عبرتناک شکستیں ہوئیں۔ جب نور الدین کا انتقال ہو گیا تو صلاح الدین نے صلیبیوں کو مزید شکستیں دیں۔ ان کو پورے فلسطین سے پوری طرح نکال باہر کر دیا گیا اور ایک لمبے عرصے تک عیسائی امیدیں خاک میں ملی رہیں۔

مسلمانوں سے ، پرخاش رکھتی ہیں ۔ ایران کی اسلامی انقلابی قوتوں اور افغانستان میں مجاہدین کے ہاتھوں بے آبرو اور شکست خوردہ ہو چکی ہیں۔ خدائی مداخلت نے انکی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ مثلاً جب اپریل ۱۹۸۰ء میں امریکہ نے نام نہاد یرغمالیوں کو آزاد کرانے کی کوشش کی تو اس کا فوجی منصوبہ مضحکہ خیز رہا ۔ جب سوویت یونین نے مجاہدین کی افواج اسلامی کو شکست دینے کی کوشش کی تو وہ افغانستان میں گویا ایک دلدل میں گرفتار ہو گیا اور محض اپنی عزت مشکل بچاسکنے کے بعد وہاں سے واپس ہوا۔

گمنامی کی طرف بھٹک جا رہے ہیں ۔ کمیونزم جس کا دعویٰ تھا کہ وہ "سب کے لیے وافر" اشیائے زندگی مہیا کرے گا، محض بقا کے لیے بھی کافی رزق مہیا نہ کر سکا۔ اس نے باوقار انسانوں کو کھینچ کر خوف، غربت، نکبت اور بے آبروئی کے عمیق غار میں ڈال دیا ۔ اب اشتراکیت کی پوری عمارت

ہی دھڑام سے نیـ کو بھی لے بیٹھی ہے۔ " آپ کی دریافتـ معاشرہ انسانی ز بھی زیادہ دور ا ہو سکتی۔

برعکس اس کے ، اسلام، اور ہمدردی کے جذبات کـ پُر امن زندگی کے لیے ساریـ کے لیے فلاح ، امن وامانـ کا واحد مرجع اسلام ہے۔

خلاف مذہب رویہـ اور ان کے پیغام کے لیے نفرین جُرم کی روک تھام کـ ہے ۔ خلاف مذہب اور ایک نظریہ یہودی اور عیسا کے مطابق بھی بے حرمتی فـ چرچ تک ہی محدود ہےـ قابل معافی نہیں ہے اور سے ظاہر ہوتا ہے ، مستوجب سزائے موت " اور وہ جو خدا بـ

Bazar, Karachi. 4878 Cell :+92-321-3817119 1 pk@yahoo.com

مقالات، گزارشات

صفحہ ١٩

ہی دھڑام سے زمین پر آرہی ہے اور ساتھ ہی اپنے قائدین کو بھی لے بیٹھی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے بھی، جس کا نعرہ ”آپ کی کمائی آپ کی“ ہے، عوام کا استحصال کیا اور معاشرۂ انسانی میں تفریق و تقسیم پیدا کی۔ اس کی موت بھی زیادہ دُور اور اشتراکیت سے زیادہ مختلف نہیں ہوسکتی۔

برعکس اس کے، اسلام، انسانی قلوب میں اخوت، محبت، انس، رحم دلی، اور ہمدردی کے جذبات کی پرورش کرتا ہے۔ یہ خوش حال، پُروقار اور پُرامن زندگی کے لیے ساری آسائشیں مہیا کرتا ہے اور ساری انسانیت کے لیے فلاح، امن و امان اور شادمانی کا متلاشی ہے۔ عین یہی وجہ ہے کہ بنی آدم کا واحد مرجع اسلام ہے۔

خلاف مذہب رویّہ اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور ان کے پیغام کے لیے بدزبانی بدترین قسم کی بے حرمتی و کفر ہے۔ اس قابلِ نفرین جُرم کی روک تھام کے لیے شریعتِ اسلامی سخت اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ خلاف مذہب اور بے حرمت افراد کے سلسلے میں، بے حرمتی کے لیے محض ایک نظر یہودی اور عیسائی فتووں پر ڈال لینی کافی ہے۔ انگریزی ضابطۂ تعزیرات کے مطابق بھی بے حرمتی و کلماتِ کفرگوئی جُرم ہے اگرچہ اس کا اطلاق اینگلیکن چرچ تک ہی محدود ہے۔ یہودی اور عیسائی قوانین کی رُو سے جُرم بے حرمتی قابلِ معافی نہیں ہے اور اس کی سزا موت ہے۔ جیسے کہ ذیل میں درج اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے، عیسائی کلیسا اور یہودی مذہب کے خلاف کوئی بھی عمل مستوجب سزائے موت جُرم سمجھا جاتا تھا: ”اور وہ جو خدا کے نام کی بے حرمتی کرتا ہے اسے یقیناً موت دے دینی

صفحہ 20

چاہئے اور پورے مجمع پر لازم ہے کہ وہ اس کو سنگسار کرے ۔"

(Le. 24:16).

جو تمہارے پاس نزدیک رہ رہے ہوں ان کا مکمل قلع قمع ______ تمہیں یہ خیال بھی نہیں کرنا چاہئے کہ کسی بھی سانس لینے والی چیز کو بچاؤ ۔"

(Deu. 20.16).

"ان کے لیے جو تم سے دور فاصلے پر رہ رہے ہوں یہ ہے کہ ان کے ہر مرد ذات کو تلوار کی دھار سے کاٹو؛ مگر عورتیں اور چھوٹے بچے اور مویشی اور وہ سب کچھ جو شہر میں ہے ، وہاں کی پوری لوٹ تم پر ضروری ہے کہ اپنے قبضے میں لے لو ۔ اور تم پر لازم ہے کہ تم اپنے دشمنوں کا مال غنیمت کھاؤ جو خداوند ، تمہارے خدا نے تمہیں دیا ہے ۔"

(Deu. 20:13-14)

ملاحظہ ہو جناب یوسف علی کی تفسیر قرآن نوٹ نمبر ۳۷۳۰ ، ۳۷۴۳ متعلقہ سورہ ۳۳: آیت ۲۶ ۔

- - - -

ملکہ میری کے (جسے عرف عام میں خونی میری کہتے تھے) عہد حکومت میں ۱۵۵۵ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے باتفاق رائے خلاف پوپ سب قوانین کو منسوخ کرتے ہوئے پوپ کے نائب سفیر کو ملک میں آنے دیا ۔ اس نے بے حرمتی اور بدعت کے خلاف سخت اقدامات کی خاطر اہل کلیسا کو اختیارات دینے کی منظوری بھی دے دی تھی ۔ ۱۵۵۶ء میں کینٹربری کا اسقف اعظم اور دوسرے اسقف اکٹھے ہو کر کام میں جٹ گئے ۔ چنانچہ ۱۵۵۵ء سے ۱۵۵۸ء

صفحہ ۲۱

ہے کہ وہ اس کو سنگ سار کرے “

(Le. 24:16).

رہے ہوں ان کا مکمل قلع قمع ـــــــ ہئے کہ کسی بھی سانس لینے والی چیز کو

(Deu. 20. 16).

پہلے رہ رہے ہوں یہ ہے کہ ان تار سے کاٹو؛ مگر عورتیں اور چھوٹے جو شہر میں ہے، وہاں کی پوری لوٹ میں لے لو ۔ اور تم پر لازم ہے کہ تم جو خداوند ، تمہارے خدا نے تمہیں

(Deu. 20:13-14)

حظ ہو جناب یوسف علی کی تفسیر قرآن ف نمبر ۴-۳۷، ۴۰-۴۷ متعلقہ سورہ ۳۳: ۲۶ ۔

نہیں میری کہتے تھے ) عہد حکومت میں اتفاق رائے خلافِ پوپ سب قوانین سفیر کو ملک میں آنے دیا۔ اس نے اقدامات کی خاطر اہل کلیسا کو اختیارات لو میں کینٹربری کا اسقفِ اعظم اور مٹ گئے ۔ چنانچہ ۱۵۵۵ء سے ۱۵۵۸ء

کے دوران میں تقریباً تین سو مردوزن کو بدعت اور بے حرمتی کے مرتکب ہونے کی بناء پر کھمبے پر زندہ جلا دیا گیا ۔

(Ebr. 8:489).

علاوہ ازیں بادشاہ کی ذات ، اس کے افسران اور حکومت کے خلاف غداری میں مجرم ثابت ہونے والوں کے لیے سزائے موت مقرر کی گئی ۔ بادشاہ کی ذات کے ساتھ غداری کو سزائے موت کی مستوجب پہلی بار ایلفریڈ اعظم کے دور میں ٹھہرایا گیا ۔ چوری اور سمندری قزاقی جیسے بڑے جرائم کے لیے بھی یہی سزا معمولی بن گئی ۔ نارمنوں کی فتح کے بعد چوروں کو پھانسی دی جاتی تھی ۔

(Ebr. 19:756).

”غداری کا جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزا دیئے جانے کی جگہ تک عموماً برف گاڑی میں لے جایا جاتا تھا ۔ وہاں اسے زندہ حالت میں سولی کی مچان پر پرو دیا جاتا ، اس کے ٹکڑے پارچے کیے جاتے، اور اس کا پیٹ چاک کرکے انتڑیاں نکال دی جاتیں ۔ تب اس کا سر تن سے جُدا کیا جاتا اور لاش کی مزید کاٹ پیٹ کی جاتی ۔ انگلستان اور آئرستان میں جن کو اس قسمت سے دوچار ہونا پڑا، وہ بہت سے کیتھولک تھے کیونکہ ان کے مذہب کو قانوناً غداری و بغاوت قرار دیا گیا تھا ۔ ہنری سوم اور ایڈورڈ اول کے عہدِ حکومت میں وافر شواہد موجود ہیں کہ سب سے زیادہ عام سزا بدعقیدگی اور بغاوت کے لیے موت تھی ۔“

مولانا عبد الماجد دریا آبادی کی تفسیر القرآن جلد اول صفحہ ۴۲۶ ۔ مطبوعہ اکیڈمی آف اسلامک ریسرچ اینڈ پبلیکیشنز، لکھنؤ ۱۹۸۱ء

ابھی حال ہی کی بات ہے جب یورپ کے دنیاوی قوانین کے تحت میں بے حرمتی

Bazar, Karachi. 18/8 Cell: +92-321-3817119 pk@yahoo.com

صفحہ ۲۳

مقالہ نگار حضرات

Bazar, Karachi. 878 Cell +92-321-3817119 n_pk@yahoo.com

قابل استغاثہ جرم تھا جس کی سزائے موت دی جاسکتی تھی۔ اسکاٹ لینڈ کے قانون کے اصلی مسودے کے مطابق بے حرمتی کی سزا موت تھی۔ فرانس میں بھی اس کی سزا مختلف شکلوں میں موت ہی تھی یعنی زندہ جلانا، قطع اعضاء، عذاب رسانی یا سیدھی سادی پھانسی۔

(Ebr. IV, p 44. IED).

انگلستان میں یہ باقاعدہ وضع کردہ قوانین اور رواجی قوانین، دونوں کی رُو سے جرم ہے۔

(Ebr. III, p 763)

اس کتاب کا مقصد مسلمانوں اور دوسرے طالبانِ حق کو اسلامی شریعت میں توہین رسالت وارتداد کے متعلق آگاہ کرنا ہے۔ توہین رسالت وارتداد کے متعلق اسلامی شریعت کے فتویٰ کے صحیح اور مناسب فہم و ادراک میں مدد دینے کی خاطر میں نے اصلی اسلامی مآخذ سے مواد مہیا کیا ہے۔

اسلامی شریعت میں شامل ہیں، قرآنِ کریم، سُنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہؓ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، تابعین اور تبع تابعین کے عمل اور فیصلے، اسلام کے عظیم مجتہدین کا متفقہ اجماع اور ائمہ، ماہرینِ قانون، محدثین، مفسرین قرآن اور راشد مسلم علماء وفضلاء کے فتاویٰ اور فیصلے ۔ اسلامی شریعت سب کے لیے بہترین قاضی اور آخری مقتدرہ ہے۔ اس کتاب میں دیا ہوا سب کا سب مواد جو اس موضوع کی موافقت میں ہے شریعت کے مندرجہ بالا مآخذ میں سے لیا گیا ہے۔ یہ ثبوت و شہادت ہر عربی داں کے لیے موجود ہے۔ اسے فلسفیانہ دلائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے سادہ اور سیدھے سادھے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ہر ایک قاری کے لیے آسانی سے قابلِ فہم ہو۔

اگر مجموعی طور پر اسلامی شریعت نے شاتموں اور مرتدوں کے لیے موت کی سزا مقرر کی ہے اور صحابہؓ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے شاتم کی موت کے فتوے کے برعکس کسی مخالف کی کوئی تحریر و دستاویز موجود نہیں ہے نہ ہی

کوئی تحریر یا دستاویز بعد میں آنے والی نسلوں ہے کہ انھوں نے اس فتوے کو تبدیل کر نام نہاد مسلموں کی آراء کی طرف کوئی توجہ ہیں یا اس کے بارے میں معذرت خواہ کی جو بھی وجوہات ہوں، اسلامی شریعت مسلمانوں یا ان کے غیر مسلم آقاؤں کی پسند اس کتاب کے چار حصے ہیں۔ پہلا رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شا کی متقاضی ہے، اس کو۔ رسول صلی اللہ کی تعظیم کے اظہار کا مسلمانوں کو حکم دیا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے سا اسلام کی اساس کے ہی خلاف حملہ سمجھا جا طرف سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل میں مبتلا کرنے اور ان کا قتل عام کر کے پورے دور میں، بالخصوص مکہ مکرمہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہؓ ان کی جان لینے کے لیے متعدد حملے ہوئے اور قتل کیا گیا۔ اس حصے میں بعض واقع و بے حرمتی کے پورے مسئلے کو اس کے بے حرمتی کے متعلق شریعت اسلامی ک کتاب کا آخری حصہ ارتداد کے بارے جو غیر مسلم اتفاقیہ اس کتاب

صفحہ ۲۳

کوئی تحریر یا دستاویز بعد میں آنے والی نسلوں کے علماء وفضلاء کی ایسی موجود ہے کہ انھوں نے اس فتوے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہو، تو ہمیں ایسے نام نہاد مسلموں کی آراء کی طرف کوئی توجہ نہیں کرنی چاہئے جو اسلام سے ناواقف ہیں یا اس کے بارے میں معذرت خواہ ہیں ۔ اس معذرت خواہانہ رویے کی جو بھی وجوہات ہوں ، اسلامی شریعت اپنی جگہ پر قائم ہے اور اسے ایسے مسلمانوں یا ان کے غیر مسلم آقاؤں کی پسند و ناپسند کے زیر نہیں لایا جاسکتا ۔

اس کتاب کے چار حصے ہیں ۔ پہلا حصہ بیان کرتا ہے اللہ کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شخصیت کو اور مسلمانوں سے یہ جس بات کی متقاضی ہے ، اس کو ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حب نہایت درجے کی تعظیم کے اظہار کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے ، اس کا سمجھ لینا بہت اہم ہے ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے رتبے کو کم کرنے کی کسی جانب سے کوئی کوشش اسلام کی اساس کے ہی خلاف حملہ سمجھا جاتا ہے ۔ دوسرے حصے میں کافروں کی طرف سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے اور صحابہ کرام کو اذیت و تعذیب میں مبتلا کرنے اور ان کا قتل عام کرنے کی تفصیلات درج ہیں ۔ اپنی بعثت کے پورے دور میں ، بالخصوص مکہ مکرمہ کے تیرہ سال کے دوران میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہؓ نے شدید مصائب برداشت کیے ۔ ان کی جان لینے کے لیے متعدد حملے ہوئے اور بہت سے صحابہ کو اذیتیں دی گئیں اور قتل کیا گیا ۔ اس حصے میں بعض واردات کا بالتفصیل ذکر کیا گیا ہے تاکہ کفر گوئی و بے حرمتی کے پورے مسئلے کو اس کے صحیح تناظر میں رکھا جاسکے ۔ تیسرے حصے میں بے حرمتی کے متعلق شریعت اسلامی کے اصلی مآخذ سے شواہد جمع کر دئیے گئے ہیں کتاب کا آخری حصہ ارتداد کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر پیش کرتا ہے ۔ جو غیر مسلم اتفاقیہ اس کتاب کا مطالعہ کریں ، انھیں یہ اسلامی شریعت

صفحہ ۲۴

کے نظریاتی اور عملی دونوں پہلوؤں کو بہتر طور پر سراہنے میں مددگار ہوگی ۔ جہاں تک ایسے لوگوں کا تعلق ہے جو اپنے سابقہ مزعومات سے چمٹے رہنے اور حقائق سے انکار کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں ، تو ان کے لیے اسلامی فتوے سے آگاہ ہونا ہی کافی ہے ۔ اللہ سُبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے : "مُردہ اور گونگے اپنی گمراہیوں سے بچائے نہیں جا سکتے۔ سچے مسلم صرف وہی ہیں جو سنتے ہیں ، ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے ہیں" الرّوم ۳۰ : ۵۲ ، ۵۳

اس کتاب کی تالیف کی تحریک مجھے خالصتاً محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ان کے اہل بیت کرام ، صحابۂ عظام ، ان کے سب متبعین کی محبت اور بنی نوع انسان کی فلاح کے جذبے سے ہوئی ۔ میرا نام کے مسلمانوں اور ان کے کفر گو ڈرپوک رہبروں یا خود ساختہ طاقتور دشمنانِ اسلام سے کوئی واسطہ نہیں جو اس کوشش میں میری مخالفت کریں گے ۔ اللہ تعالےٰ اپنے قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں : "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلّم کہہ دیجئے ، مطلق سچائی تمہارے خداوند (اللہ) کی جانب سے ہے اس لیے جو چاہتے ہیں وہ اس مطلق سچائی پر یقین کریں اور جو اس کو مسترد کرنا چاہتے ہیں ، اس پر ایمان نہ لائیں۔ بلا شبہ ہم نے ظالموں کے لیے دوزخ کی آگ تیار کی ہوئی ہے" ــــــ سوره کہف ۱۸ : ۲۹

ایک اور آیت میں اللہ تعالےٰ فرمایا ہے : "اور وہ جو ہدایت پاتے ہیں اپنے ہی فائدے کے لیے ایسا کرتے ہیں اور اپنی جانوں کی فلاح کے لیے ۔ اور وہ جو گمراہ ہو جاتے ہیں ، اپنے ہی نقصان کی خاطر ایسا کرتے ہیں اور اپنی ہی جانوں کی

صفحہ ۲۵

تباہی کی خاطر " سورۂ یونس ۱۰ : ۱۰۸

ہر ایک مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ اللہ کی رضا سے اسلام کی پوری پوری سچائی بالآخر جملہ انسانیت پر غالب آکر رہے گی ۔

میں یہ کتاب اپنی چہیتی شمع حیات شمع خانم اسرار کی نذر کرتا ہوں جس کا میں بہت مرہون منت ہوں ۔ موضوع کی فوری تعمیل طلبی کی وجہ سے برابر ایک سال تک مجھے شب و روز کام میں مصروف رہنا پڑا جسے انھوں نے خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالے اسے اپنے عظیم ترین رسول، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور زیادہ گہری محبت ، عزت اور تعظیم کی رشد و ہدایت سے نوازے ۔

ڈاکٹر محمد اسرار مدنی ٹورانٹو، اونٹاریو، کینیڈا ذوالحجہ ۱۴۱۱ھ، جون ۱۹۹۱ء

صفحہ ۲۶

مقالہ نگار حضرات

Bazar, Karachi. 18/8 Cell: +92-321-3817119 n pk@yahoo.com

باب اوّل

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی

ارفع ترین شخصیت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے مثل انسان تھے۔ تاریخ میں ان سے بڑی شخصیت موجود نہیں۔ وہ خود اور ان کا مقصد بعثت اللہ کی طرف سے رشد و ہدایت یافتہ تھے اور اسی کے حفظ وامان میں تھے۔ انھیں کُل بنی نوع انسان کے ہادی کے طور پر مبعوث کیا گیا تھا۔ قدرتی امر ہے کہ اُن کی شخصیت بھی تمام انسانیت کے لیے ایک نمونہ تھی۔ لیکن اس عظیم ترین انسان کی شخصیت پر ایک نظر ڈالنے سے پہلے آئیے پہلے ہم اسلامی نقطۂ نظر سے توہین رسالت و کفر گوئی کے معنی کا بغور مطالعہ کریں۔

توہین رسالت اور بے حرمتی کے معنی :

اسلامی شرع کے تحت "بے حرمتی و کفر گوئی" کی اصطلاح کا اطلاق خاص اعمال ، کلمات یا تحریرات پر ہوتا ہے۔ اِس زمرے میں مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک یا سب کے سب آتے ہیں :

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحریر میں یا زبان سے گالی دینا یا ان کی بے عزتی کرنا، اُن کے یا ان کے اہل بیت کے بارے میں

تحقیری یا ذلت آمیز کلمات ک وعزت پر بد زبانی کر کے حملہ کر آتے تو بُرا منہ بنانا ، ان کے رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اظہار کرنا ، رسول اللہ صلی پر الزام یا تہمت لگانا اور ان کے صلی اللہ علیہ وسلم کو رسوا کرنا ، رسول ال کسی طور نہ ماننا ، سنتِ نبویہ سے ا شان میں گستاخی کرنا ، حقوق اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم درج بالا میں سے کسی ایک کا بھی ا اور بے حرمتی" کے ذیل میں آتا ہے شریعتِ اسلامی کی نظر میں یہ یہ ضروری ہے کہ پہلے اس بات کو کی کس اعلیٰ ترین درجے کی تحریم و تعظیم حیثیت کی حامل ہے اور رسول اللہ کا حملہ اسلام کی بنیاد ہی پر حملے کے ان کے اہل بیت کی بے عزتی ، محض نہیں ۔۔۔ جو وہ بلاشک ہیں ۔۔۔ سے قرآن میں منع فرمایا ہے ۔ حقیقت بہت سی ایسی آیات نازل فرمائی شخصیت کی تصدیق کرتی ہیں ۔ اس

صفحہ ۲۷

تحقیری یا ذلت آمیز کلمات کہنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقار وعزت پر بد زبانی کر کے حملہ کرنا ، ان کو بدنام کرنا یا جب ان کا نام آئے تو بُرا منہ بنانا ، ان کے لیے ، ان کے اہل بیت ، ان کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مسلمانوں کے لیے عداوت یا نفرت کا اظہار کرنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت پر الزام یا تہمت لگانا اور ان کے بارے میں بدخبریں اُڑانا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسوا کرنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائرہ اختیار یا فیصلہ کو کسی طور نہ ماننا ، سنتِ نبویہ سے انکار کرنا ، اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا، حقوق اللہ اور حقوقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے انکار کرنا یا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کرنا “

درج بالا میں سے کسی ایک کا بھی مرتکب ہونا شرع اسلامی میں ”توہین رسالت اور بے حرمتی “ کے ذیل میں آتا ہے ۔

شریعت اسلامی کی نظر میں یہ جُرم کتنا سنگین ہے ، اس بات کو سمجھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ پہلے اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کس اعلیٰ ترین درجے کی تحریم و تعظیم کرتے ہیں ۔ یہ تعظیم اسلامی تعلیمات میں مرکزی حیثیت کی حامل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک کردار پر کسی قسم کا حملہ اسلام کی بنیاد ہی پر حملے کے برابر ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کی بے عزتی ، محض مجرمانہ اور مسلمانوں کے لیے گہرے گھاؤ ہی نہیں —— جو وہ بلاشک ہیں —— بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خاص طور پر اس سے قرآن میں منع فرمایا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کتاب کریم میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی ایسی آیات نازل فرمائی ہیں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ ترین شخصیت کی تصدیق کرتی ہیں ۔ اس لیے لازم آتا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیمات

مقالہ نگار حضرات

صفحہ 28

مقالہ نگار حضرات

Bazar, Karachi. 18/8 Cell +92-321-3817119 n.pk@yahoo.com

کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر نظر ڈالی جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شخصیت، ایک خوبصورت کامل مکمل

مثالی نمونہ :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شخصیت اور اُن کی سنت کو تمام انسانوں کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بہترین مثال اور خوبصورت ترین نمونۂ عمل و مکمل حق و ہدایت ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيْرًا : "

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت تمہارے لیے کامل نمونہ ہے تاکہ زندگی کے ہر ہر پہلو میں تم اس کی پیروی کرو۔ یہ طریقِ عمل کے لیے ایک خوبصورت مثال اور زندگی کی بہترین روش اور ایک انسانِ کامل کا شریف ترین کردار ہے۔ یہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والوں کے لیے بہترین اساس ہے ۔"

سورة الاحزاب ۳۳ : آیت ۲۱

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق

رکھتے ہیں :

کثیر تعداد میں اللہ تعالیٰ نے قرآنی احکام نازل فرمائے ہیں جن میں مسلمانوں کو حکم فرمایا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو اپنے سے بالا تر رکھیں۔ ان کو یہ بھی تاکید ہے کہ زندگی کے نازک لمحوں میں رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑیں۔ ان کو وسلّم انسانیت کے بے حرمت کتو کی ذات اور ان کے پیغام کے خلاف ہیں، ایک ہو کر تن کر کھڑے ہو جا اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل ب کے شدائد و مصائب سہنے کے لی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہی "اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ "مومنوں پر لازم ہے کہ وہ ر بہت زیادہ قریب اور عز کی طرح ہیں : سورة ال "مَا كَانَ.... اَنْ يُّخَلِّفُوْا عَنْ رَّ لوگوں کے لیے صحیح اور منا کی جنگ یا امن دونوں حال زندگیوں کو ان کی زندگی پر

مسلمانوں کو حکم ہے رسول ا

محبوب رکھیں :

در حقیقت قرآن مسلمانوں کو کو اللہ، اس کے رسول صلی اللہ ان کے عزیز و اقارب، دنیاوی جائدادیں، بلند عمارتیں اور وی

صفحہ ۲۹

علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑیں ۔ ان کو یہ حکم ہے کہ ”شاتمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسَلَّمَ انسانیت کے بے حرمت کتوں“ کے خلاف جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور ان کے پیغام کے خلاف بدزبانی کرتے ہیں یا ان میں سرنگ لگاتے ہیں ، ایک ہو کر تن کر کھڑے ہو جائیں مسلمانوں کو مزید یہ حکم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے ہر قسم کے شدائد و مصائب سہنے کے لیے تیار رہیں جن میں ہدیہ جان کی پیش کش بھی شامل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

” اَلنَّبِيُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗ اُمَّهٰتُهُمْ “

”مومنوں پر لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے آپ سے بہت زیادہ قریب اور عزیز جانیں اور ازواجِ رسول اللہ انکی اپنی ماؤں کی طرح ہیں“

سورة الاحزاب ۳۳ : آیت ۶

”مَا كَانَ .... اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ “

”لوگوں کے لیے صحیح اور مناسب نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ یا امن دونوں حالتوں میں حکم عدولی یا نافرمانی کریں نا ہی اپنی زندگیوں کو ان کی زندگی پر ترجیح دیں “

سورة التوبہ ۹ : ۱۲۰

مسلمانوں کو حکم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر ایک چیز سے زیادہ

محبوب رکھیں :

در حقیقت قرآن مسلمانوں کو چیلنج دیتا ہے ، جب ارشاد ہوتا ہے کہ اگر مسلمانوں کو اللہ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ پیارے ان کے عزیز و اقارب ، دنیاوی رشتے ، آسائشیں ، منافع اور مسرتیں ، دولت ، جائدادیں ، بلند عمارتیں اور وسیع رہائش گاہیں ، ہیں تو وہ اس کے غضب کو

صفحہ ۳۰

دعوت دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت یا دنیاوی مال و اسباب میں سے انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اللہ کی رحمت کا مستحق بننے کے لیے ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، تکریم اور عزت لازم آتی ہے چاہے اس میں انھیں اپنا باقی سب کچھ قربان کرنا پڑے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَا اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَأْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ط وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ط " اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مسلمانوں سے کہہ دیجیے : اگر تم کو والدین ، اولاد ، بھائی ، بیویاں ، رشتہ داروں ، دوست اور ہم کاروں ، اپنے کماتے ہوئے اموال ، اپنی تجارت جس میں زیاں کا تمہیں خدشہ ہے اور اپنی رہائش گاہیں جن میں تم آرام وسکون سے رہتے ہو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے راستے میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو تا آنکہ اللہ اپنا آخری فیصلہ صادر فرمائے (یعنی یہاں اور آخرت میں عذاب الیم) اور اللہ بدقماشوں اور باغیوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا "

سورة التوبه ۹ : آیت ۲۴

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : " وَ الَّذِىْ نَفْسِىْ بِيَدِهٖ لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى اَكُوْنَ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ وَّالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ "

صفحہ ۳۱

”میں اس اللہ کی قسم کھاتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے: کوئی بھی شخص سچا مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے اپنے بچوں ، والدین ، رشتہ داروں ، دوستوں اور اس کے قریبی لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں “

(تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہوں : ۱۔ مختصر تفسیر ابن کثیر جلد دوم، صفحات ۱۳۲، ۱۳۱ دارالقرآن الکریم ، بیروت ۱۹۶۳ء ۲۔ بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ) ۔

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے ۔ انھوں نے کہا : ”کسی کو بھی ایمان کی شیرینی (مسرت) حاصل نہیں ہوگی جب تک اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز نہیں ہو جاتے “ یہ روایت بھی ہے کہ ایک روز حضرت عمر بن الخطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : ”یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ مجھے میری اپنی ذات کے علاوہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ”اے عمر ! یہ کافی نہیں ۔ لازم ہے کہ تم مجھے اپنے آپ سے زیادہ عزیز رکھو ۔ کوئی بھی سچا مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کی اپنی ذات سے زیادہ محبوب نہ ہوں “ حضرت عمر نے تب کہا : ”یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ، میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں

صفحہ ۳۲

کہ آپ بلاشبہ مجھے میری ذات سے زیادہ محبوب ہیں “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خوش ہوئے اور انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ انھوں نے اب نکتہ سمجھ لیا ہے اور اس کے بعد اوپر درج شدہ حدیث کا اعادہ کیا۔

(بخاری، مسلم، ابوداود، مختصر تفسیر ابن کثیر جلد۲: صفحات ۱۳۰ تا ۱۳۱)

مسلمان مورخوں نے لکھا ہے کہ انھوں نے دنیا بھر میں کہیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان نہیں دیکھا۔ اسی طرح تاریخ کوئی ایک بھی ایسی مثال کسی ایسے شخص کی پیدا نہیں کر سکی جو دوسروں سے اتنی محبت سے ملتا اور جس نے اپنے ماننے والوں میں اتنی محبت اور تعظیم کا جذبہ ابھارا ہو ۔

جناب یوسف علی مندرجہ بالا آیت کے نوٹ میں لکھتے ہیں : ”اس محبت کا مؤثر طور پر مظاہرہ ان مومنوں کی مثال سے ہوا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے مکہ کے گھروں کے آرام و آسائش کو چھوڑ کر مدینہ میں جلا وطن ہوئے ،جنھوں نے اپنی تجارت اور جائداد چھوڑیں ، اللہ کی راہ میں جہاد و قتال کیا۔ بعض اوقات اپنے ہی عزیز و اقارب کے یا اپنے ہی قبیلے کے خلاف جو اسلام کے دشمن تھے “

اس کی یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کے لیے ایسی غیر معمولی محبت اور انس کا اظہار کیا۔ یہ کسی دنیاوی مفاد کے لیے نہیں تھی جسکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بھی پیش نہیں کر سکتے تھے۔ یہ اس لیے تھی کہ اللہ کی طرف سے اس کا حکم تھا۔ اس نکتے کے ثبوت کے لیے چند مثالیں درج ذیل ہیں جو مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ”اسلام اور دنیا“ (مطبوعہ کویت) کے صفحات ۶۶ تا ۶۸ سے لی گئی ہیں۔

صفحہ ۳۳

پر دست درازی کی۔ عتبہ بن ربیعہ نے بالخصوص انھیں اتنی شدت سے پیٹا کہ ان کا چہرہ سوج گیا اور ان کو پہچاننا مشکل ہو گیا۔ انھیں بے ہوشی کی حالت میں گھر لے جایا گیا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان کی محبت اتنی شدید تھی کہ ہوش میں آتے ہی پہلی بات جو انھوں نے پوچھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت تھی۔ ان کی نگہداشت کرنے والوں نے ایک ایسے شخص کے لیے جو ان کی رائے میں اس تکلیف و مصیبت کا ذمہ دار تھا ، اتنی فکرمندی ظاہر کرنے پر ، ان کو بُرا بھلا بھی کہا لیکن وہ برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت دریافت کرتے ہی رہے۔ جب ان کی والدہ کھانا لائیں تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت کی خبر ملنے تک کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔ اُمّ جمیل یعنی حضرت عمر بن الخطاب کی بہن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملنے آئیں۔ انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخیر و عافیت ہیں اور دار ابن ارقم میں ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کر دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جانے تک کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے۔ انھوں نے رات کی تاریکی کا انتظار کیا۔ جب ان کے باہر جانے میں کوئی خوف نہیں رہا ۔ تب انکی والدہ اور امّ جمیل اُنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائیں۔ جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کر لی اور ان کو تسلی

صفحہ ۳۴

ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گزند نہیں پہنچی تو انھوں نے کچھ کھایا پیا۔“

(ابن کثیر جلد ۲، صفحہ ۳۰)

علیہ وسلم شدید طور پر زخمی ہو گئے ہیں تو ایک عورت جس کا اپنا بھائی والد اور خاوند اسی روز شہید ہو چکے تھے، اپنے غم کو بھول کر میدانِ جنگ کی طرف یہ چیخ پکار کرتی ہوئی آئی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس حال میں ہیں ؟“ لوگوں نے اسے یقین دلایا کہ وہ اللہ کے فضل سے بخیر ہیں لیکن جب تک اس نے بہ چشمِ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ لیا، اس کی تسلی نہ ہوئی۔ جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور اس نے دیکھ لیا کہ وہ بخیر و عافیت ہیں، تو کہنے لگی: ”یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم، اگر آپ سلامت ہیں تو کوئی بھی مصیبت، مصیبت نہیں ۔“

(ابن اسحاق)

اللہ علیہ وسلم کی زندگی خطرے میں تھی۔ حضرت ابو دجانہ نے جو اسلام کے ایک بہادر سپاہی تھے، بلا تامل اپنی پشت سامنے کر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ڈھال ثابت ہو۔ تیر ان کے گوشت کے پار اتر گئے لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی خاطر اپنی جان قربان کر دی ۔“

(زاد المعاد جلد ۲، صفحہ ۱۳۰)

ہوئے۔ حضرت مالک الخدری نے ان کے زخموں کو چوس کر

صفحہ ۳۵

صاف کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ کہا کہ وہ خون تھوک دیں لیکن انھوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ بخدا ! میں اسے زمین پر نہیں تھوکوں گا۔ میرے لیے یہ ناممکن ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خون زمین پر تھوکوں "

(زاد المعاد جلد ۲، صفحہ ۱۳۶)

تھے شدید زخمی ہوئے ۔ انھیں کم و بیش ستر زخم آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں تلاش کرنے کے لیے اُن کے پاس زید بن ثابت کو بھیجا ۔ زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچانے کے لیے سعد رضی اللہ عنہ کے پاس جلد ہی پہنچ گئے ۔ پیغام وصول کرنے پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری تسلیمات پہنچانا اور کہنا کہ میں جنت کی بادِ شیریں کی خوشبو سونگھ سکتا ہوں ۔ میری قوم انصار کو بتانا کہ اگر ان میں سے ایک کے بھی زندہ ہونے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حادثہ پیش آیا تو وہ اللہ کے غضب سے نہیں بچ سکیں گے ۔ ان الفاظ کے ساتھ ان کی روح پرواز کر گئی "

(زاد المعاد جلد ۲ ، صفحہ ۱۳۴)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عمیق محبت اور وافر تعظیم عروہ کے اس بیان سے بھی نمایاں ہوتی ہے جو اس نے اپنے قریشی بھائیوں کے سامنے سنہ ۶ھ میں صلح نامہ حدیبیہ پر دستخط کرنے کے بعد واپسی پر دیا۔

صفحہ ۳۶

عروہ نے کہا : میں نے بہت سے بادشاہ دیکھے ہیں۔ میں قیصر، خسرو اور نجاشی کے درباروں میں گیا ہوں۔ میں قسم کھا سکتا ہوں کہ جتنی تعظیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کرتے ہیں اس سے زیادہ میں نے کسی بادشاہ کی رعایا کو کرتے نہیں دیکھا۔ بخدا ! جب وہ کوئی حکم کرتے ہیں تو سب اس کی بجا آوری کے لیے لپکتے ہیں ، جب وہ وضو کرتے ہیں تو سب ان کے استعمال شدہ پانی پر ٹوٹ پڑتے ہیں ، جب وہ بولتے ہیں تو ان پر خاموشی مسلط ہو جاتی ہے ، وہ ان کی اِس حد درجہ تعظیم کرتے ہیں کہ انکے پورے چہرہ مبارک کی زیارت کے لیے ان کے سامنے اپنی آنکھیں اٹھانے کی جرات نہیں کرتے ۔

(زاد المعاد جلد ۴ صفحہ ۱۲۵)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کیلئے مبعوث ہوئے تھے :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی قوموں کے لیے مخصوص مقصد کے لیے بھیجے گئے تھے۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو فرعونِ مصر کی غلامی سے چھڑانے آئے اور حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کو جنسی بے راہ روی سے ہٹانے ، حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم کو حکمرانی کے دور میں گناہِ استبداد سے آزاد کرنے آئے ، حضرت عاد علیہ السلام اپنی قوم کو گھمنڈ اور اجداد پرستی سے دُور رکھنے آئے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی گم کردہ راہ بھیڑوں کی حفاظت کے لیے مبعوث ہوئے ۔ لیکن سب سے آخری و عظیم ترین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے کامل و اکمل دین کیساتھ تمام انسانوں کی فلاح کے لیے تشریف لائے ۔ مکمل ومطلق سچائی کا ان کا پیغام

صفحہ ۳۷

کسی ایک ہی خاندان، یا قبیلے یا ایک ہی نسل، قوم یا قوموں کے گروہ کے لیے نہیں تھا۔ یہ تمام بنی نوع انسان کے لیے تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

" قُلْ يَاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّي رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا "

(سورۃ الاعراف ۷ : ۱۵۸)

”اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) تمام بنی نوع انسان سے کہہ دیں : ”میں اللہ کا نبی ہوں جو تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں ۔“

ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

يَاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَيْرًا لَّكُمْ۔

(سورۃ النسآء ۴ : ۱۷۰)

” اے بنی آدم ! اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تمھارے پاس مکمل ، کامل اور مطلق سچائی لے کر آیا۔ اس لیے اس پر اور اس پر ایمان لاؤ یہی تمھارے لیے سب سے بہتر ہے ۔“

اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا ہے :

" وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَنَذِيْرًا "

(سورۃ السبآء ۳۴ : ۲۸)

”اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ، ہم نے تمھیں پوری نوع انسانی کے حاکم کے طور پر بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے اس لیے تمام قانون کے دائرے میں رہنے والے لوگوں کو خوشخبری سنا دو ، اور گناہگاروں، بدقماشوں اور مفسدوں کو تنبیہ کر دو ۔“

ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

تَبٰرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِہٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا

(سورۃ الفرقان ۲۵ : ۱)

صفحہ ۳۸

”اس کی برکات، انعامات اور عنایات کی مزید فراوانی ہو اور اس کی جلالت و علو شان کا ذکر ہر دم ہو جس ذات نے اپنے بندے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) پر آخری فرقان (القرآن) نازل فرمایا کہ صداقت و ضلالت میں امتیاز ہو تاکہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سب کے لیے نمونۂ کامل اور ہمہ مقتدر ہوں“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ”میں تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں“ (الشفاء جلد اوّل صفحہ ۱)

تاریخ اس پر شاہد ہے کہ : ”اسلام کے اولین سفیر جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف ملکوں کے حکمرانوں، بادشاہوں، ریاستوں کے سرداروں، شہنشاہوں کے پاس پیغامِ اسلام دے کر بھیجا، تاریخ میں بے مثل ہیں۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ روزِ اوّل سے ہی اسلام پوری انسانیت کے لیے تھا۔ حضرت دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ کو ہرقل قیصرِ روم کے پاس بھیجا گیا۔ حضرت عبداللہ بن حذیفہ کو ایران کے کسریٰ کے پاس، حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کو سکندریہ کے مقوقس کی طرف، حضرت عمرو بن امیہ کو نجاشی شاہ حبش کی طرف، حضرت شجاع بن وہب الاسدی کو حارث بن ابو شمر الغسانی، ملک شام کی طرف اور حضرت صلت بن عمرو کو یمن کے سرداروں کی طرف“

(بحوالہ سلیمان ندوی، محمد نبی کامل مطبوعہ :

اکادمی آف اسلامک ریسرچ اینڈ پبلیکیشنز

لکھنؤ، بھارت ۱۹۷۷ء

صفحات ۹۸/۹۹) ۔

قیامت کے دن رسول اللہ صلی

میں قطعی فیصلہ کن گواہی :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام نبیوں بنایا گیا ہے۔ جزا و سزا کے دن وہ ان سب کا ارشاد ہے : ”وَيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا ”اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیروکاروں کے حق میں ( شاہد صادق اور آخری تصدیق روایت ہے کہ یوم حشر اللہ تعالیٰ سب ”کیا تم نے میرا پیغام لوگوں تک وہ جواب دیں گے : ”جی ! ہمارے مالک !“ لیکن انکی امتیں اپنے اپنے نبی کے اس کریں گی : ”ہمارے مالک ! ہمارے پا نہیں آیا ۔“ تب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ ”ہمارے مالک ! انبیائے کا پیغام اپنی اپنی امت کو پہنچا آخر میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ

Bazar, Karachi. 1878 Cell: +92-321-3817119 n.pk@yahoo.com

مقالہ نگار حضرات

صفحہ ٣٩

قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انبیاء کے حق

میں قطعی فیصلہ کن گواہی :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء سابق پر مختار آخر اور ان کا سردار بنایا گیا ہے۔ جزا و سزا کے دن وہ ان کے حق میں شاہد صادق ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

” وَيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا “

(سورۃ البقرۃ ۲ : ۱۴۳)

” اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انبیائے سابقین کے حق میں اور ان کے پیروکاروں کے حق میں (اے مسلمانو!) تمہارے فیصلے کے شاہد صادق اور آخری تصدیق ہوں گے “

روایت ہے کہ یوم حشر اللہ تعالیٰ سب انبیاء سے دریافت فرمائیں گے : ” کیا تم نے میرا پیغام لوگوں تک پہنچایا ہے ؟ “

وہ جواب دیں گے : ” جی ! ہمارے مالک ! “

لیکن انکی امتیں اپنے اپنے نبی کے اس بیان سے یہ اعلان کرتے ہوئے اختلاف کریں گی : ” ہمارے مالک ! ہمارے پاس کوئی بھی تلقین کرنے یا خبر کرنے نہیں آیا ۔“

تب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لوگ سامنے آکر کہیں گے : ” ہمارے مالک ! انبیاء نے سچ کہا ہے۔ بلاشبہ انھوں نے آپ کا پیغام اپنی اپنی امت کو پہنچایا ۔“

آخر میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطور مختار آخر ان کی گواہی

صفحہ ۴۰

مقالہ نگار حضرا

Bazar, Karachi. 18/8 Cell: +92-321-3817119 m.pk@yahoo.com

کی تصدیق فرمائیں گے ۔ (الشفاء، جلد اوّل، عبدالتواب اکیڈمی ملتان، پاکستان صفحہ ۱۶ قاہرہ کے ۱۹۵۰ء کی طبع کی نقل )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص عنایات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سات خاص الخاص امتیازات القابِ عالیہ

يٰاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا (۱) وَّ مُبَشِّرًا (۲) وَّ نَذِيْرًا (۳) (۴۵) وَّ دَاعِيًا (۴) اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا (۵) (۴۶)

(سورة الاحزاب آیت ۴۵۔۴۶)

وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً (۶) لِّلْعٰلَمِيْنَ

(سورة الانبياء آیت ۱۰۷)

وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ (۷) النَّبِيّٖنَ

(سورة الاحزاب ۴۰)

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سات خاص الخاص امتیازات والقابِ عالیہ سے سرفراز فرمایا۔ ان کو بطور شَاهِدًا، مُبَشِّرًا، نَذِيْرًا، دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ سِرَاجًا مُّنِيْرًا، رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ، خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ، مبعوث فرمایا ۔

انسانوں کی طرف اللہ کی جانب سے حقِ مطلق کا سچا گواہ بنا کر بھیجا گیا تا کہ وہ اللہ کے حضور انسان کے اعتقادات ، افعال واعمال اور خدا کے پیغمبروں کی آمد اور پیغام سننے کی کیفیت کی گواہی دیں ۔

خوشخبری لائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاملِ پیغامِ عظیم یعنی قرآن تھے جس میں شرعی حدود کے اندر رہنے والے لوگوں کے لیے اس دنیا اور عقبیٰ میں اچھی خوشحالی اور پُر امن زندگی کی کلّی امید اور خوشخبری ہے ۔

وقف ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منکرینِ ایمان اور اسلام

کی طرف توجہ نہ دینے والو گیا تھا ۔

وہ صرف اور صرف اللہ کی کو اللہ کے راستے پر چلنے کی علیہ وسلم اللہ کے آخری دعی ہے تمام انسانوں کے لیے

مماثل ، جس کے سامنے اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام جنھیں ہر طرف نورِ ایمانی

تمام مومن زن و مرد اور رحمۃ مبعوث کیا گیا ۔

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر میں تشریف لائے ۔ شک یا بحث کا معاملہ نہیں علیم وحکیم ہے ۔ دنیا بھر مصالحت کرے گی نہ کر سکتی کے خاتم النبیین ہونے کی پر شک کا شائبہ تک ڈالے

صفحہ ۴۱

جلد اول ۔ عبد التواب اکیڈمی ملتان ، پاکستان صفحہ ۱۶ (۱۹۵۷ء کی طبع کی نقل) کے لیے اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص عنایات مات خاص الخاص امتیازات فی القاب عالیہ (۴) (۳) (۲) دًا مُّبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا (۴۵) وَدَاعِيًا (۴۶) (سورۃ الاحزاب آیت: ۴۵) ین (سورۃ الانبیاء آیت : ۱۰۷) ین (سورۃ الاحزاب ۴۰) نبی رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاص الخاص امتیازات اور شَاهِدًا ، مُّبَشِّرًا ، نَذِيْرًا ، دَاعِيًا إِلَى اللّٰهِ ن خاتم النَّبِيِّين ، مبعوث فرمایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام سے حتمی مطلق کا سچا گواہ بنا کر بھیجا کے اعتقادات ، افعال و اعمال ام سننے کی کیفیت کی گواہی دیں ۔ میں رہنے والے لوگوں کے لیے لہ علیہ وسلم حامل پیغام عظیم یعنی ر رہنے والے لوگوں کے لیے زندگی کی کلی امتیاز اور خوشخبری ہے ۔ لایا وہ جو اللہ کی خدمت کیلئے صلحہ کو منکرین ایمان اور اسلام

مقالہ نگار حضرات

کی طرف توجہ نہ دینے والوں کی طرف بطور ایک ڈرانیوالے کے بھی بھیجا گیا تھا ۔

کہ صرف اور صرف اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا اور انسانوں کو اللہ کے راستے پر چلنے کی طرف رہبری کرتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری دین یعنی اسلام کی طرف جو اکیلا راہ نجات ہے تمام انسانوں کے لیے رہنمائی کر آتے ۔

مماثل ، جس کے سامنے باقی سب روشنیاں ماند پڑ جاتی ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لیے ایک چراغ درخشاں تھے ۔ جنھیں ہر طرف نور ایمانی پھیلانے کے لیے بھیجا گیا ۔

تمام مومن زن و مرد اور کائنات کی باقی سب مخلوق کے لیے بطور رحمۃ مبعوث کیا گیا ۔

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کے ایک طویل سلسلے کے بالکل آخر میں تشریف لائے ۔ ان کے بعد قطعاً کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ یہ شک یا بحث کا معاملہ نہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا آخری فیصلہ ہے وہ علیم و حکیم ہے ۔ دنیا بھر میں امت مسلمہ ہرگز کسی ایسی تحریک سے مصالحت کرے گی نہ کر سکتی ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کو بحث کا موضوع بناتی یا کسی طرح بھی اس پر شک کا شائبہ تک ڈالتی ہے ۔

Bazar, Karachi. 18/8 Cell: +92-321-3817119 n_pk@yahoo.com

صفحہ ۴۲

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

” خُتِمَ بِیَ النَّبِیُّونَ “

”نبیوں کی لمبی قطار ختم ہو گئی ہے۔ کسی قسم کا کوئی اور رسول اور نبی میرے بعد مبعوث نہیں ہو گا ۔“

(الشفاء جلد اول ، صفحہ ۱۰۱)

” اَنَا مُحَمَّدُ النَّبِیُّ الْاُمِّیُّ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ “

”میں محمد نبی اُمی (روایتی تعلیم و تدریس سے مبرا) ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“

(الشفاء جلد اول ، صفحہ ۱۰۱)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا :

” اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ وَخَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَاِنَّ اٰدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنِهِ “

”میں اللہ کا عبد ہوں اور سب نبیوں سے آخری اور نبیوں کی مہر اور یہ مرتبہ مجھے اس وقت دیا گیا تھا جب آدم کو پیدا نہیں کیا گیا تھا ۔“

(الشفاء جلد اوّل ، صفحہ ۱۰۲)

اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ خاص تحفے :

حضرت وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

”اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جو کچھ میں نے تمہیں عطا کیا ہے تم سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کیا“

(سورۃ ۱۰۸ : آیت ۱)

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ

صفحہ ۴۳

لیے پاک بنایا۔ جُعِلَتِ الْاَرْضُ طَهُورًا لَّكَ وَ لِأُمَّتِكَ

غَفَرْتُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَ مَا تَأَخَّرَ

خَبَأْتُ لَكَ شَفَاعَتَكَ

بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "شبِ معراج میں ایک دریا کے پاس پہنچا، یہ ایک پانی کی ندی تھی جس کے دونوں کناروں پر مجوف موتیوں کے گنبد تھے ۔ میں نے فرشتے سے پوچھا : اے جبریل ! یہ کیا ہے ؟ اور انھوں نے جواب دیا : یہ دریائے کوثر ہے ۔"

حضرت انسؓ بن مالک سے ہی دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "الکوثر جنت الفردوس میں ایک دریا ہے ۔ میری امت ایک ایک کر کے یومِ حشر کو اس دریا پر آئے گی اور اس میں سے پانی پیئے گی۔ پینے کے لیے اس میں اتنے پیالے ہوں گے جتنے آسمان پر ستارے ۔"

حضرت انسؓ بن مالک نے کہا : "جب شبِ معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت جبریل علیہ السلام آسمانِ اوّل پر پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دریا دیکھا اور اس کے پاس موتیوں ، ہیروں اور سونے کا

صفحہ ۴۴

بنا ہوا ایک محل تھا۔ پانی میں مشک کی خوشبو تھی۔ انھوں نے فرشتہ جبریل سے پوچھا : یہ کیا ہے ؟، فرشتے نے جواب دیا : یہ دریائے الکوثر ہے جسے آپ کے رب نے آپ کے لیے محفوظ کر رکھا ہے“

(حوالے : مختصر تاریخ ابن کثیر جلد ۳ ، صفحات ۶۸۲ ۔ ۶۸۳ ۔ (۲) بخاری مسلم

ابوداؤد ، نسائی ، ترمذی ، ابن ماجہ ، مشکوٰۃ ، ابن جریر )

حضرت مسروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریائے الکوثر کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے جواب دیا :

”الکوثر فردوس کے وسط میں صاف پانی کا دریا ہے جس کے دونوں کناروں پر موتیوں، سونے، مختلف اقسام کے نیلم، یاقوت اور سنبل کے محلات اور قلعے بنے ہوئے ہیں۔ اس کی خوشبو عین مشک کی طرح ہے ۔ اس کے اندر کے سنگ ریزے، موتی ، مختلف اقسام کے نگینے اور ہیرے ہیں “ (حوالہ : مختصر ابن کثیر جلد ۳، صفحہ ۶۸۳)۔

جاتا ہے کہ زمین و آسمان میں پکارا اور دیکھا جائے۔ روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے کہا :

”جب میں پیدا کیا گیا تو میں نے اپنا سر اٹھایا اور اللہ کے عرشِ عظیم پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ لکھا ہوا پایا ۔ میں نے اِسے فردوس کے دوسرے حصوں میں بھی دیکھا ۔ مجھے احساس ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور انسانوں میں سب سے عظیم ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی : مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ! وہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) تمہاری اولاد میں سب سے آخری پیغمبر ہیں اور اسی کی وجہ سے میں نے تمہیں پیدا

صفحہ ۲۵

کیا ہے ۔"

(الشفا جلد اوّل ، صفحہ ۱۰۴)

"میں نے روئے زمین تمہارے (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اور تمہاری امت کے لیے طاہر و مطہر قرار دے دی ہے تاکہ وہ زندگی بسر کریں اور اپنی فرض عبادت کو وقت پر ادا کریں ۔"

"میں نے تمہاری ماضی اور مستقبل کی تمام لغزشیں معاف کر دیں ۔ پوری مخلوقات میں سے تم ہی ایک ایسے ہو جسے برکت اور معافی دے دی گئی ہے ۔ تم سے پہلے کسی نبی پر یہ عنایتِ خاص نہیں ہوئی ۔"

ہے ۔ تم سے پہلے کسی نبی کو یہ حق عطا نہیں کیا گیا ۔"

(الشفا جلد اوّل ، صفحات ۱۰۰-۱۰۱)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پشت پر کی چیزیں بھی اتنی ہی واضح نظر

آتی تھیں جتنی کہ سامنے کی :

ان پانچ عطیاتِ ربانی کے علاوہ ، اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک جسمانی صفت بھی عطا فرمائی ۔ جو اشیاء ان کی پشت پر ہوتیں وہ بھی انھیں اتنی ہی صاف صاف دکھائی دیتیں جتنی کہ سامنے کی ۔ اس لیے زندگی بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شے یا تاریکی نے پریشان نہیں کیا ۔ حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ نے کہا :

"جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ان کی پشت پر کی چیزیں انھیں اتنی ہی صاف دکھائی دیتیں جیسے

صفحہ ۴۷

کہ سامنے کی“

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں اپنی پشت پر بھی اتنا ہی صاف صاف دیکھتا ہوں جتنا کہ اپنے سامنے“

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی روایت کی ہے : ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں بھی اسی قدر صاف صاف دیکھتے تھے جتنا کہ دن کی روشنی میں“

(الشفا، جلد اول، صفحہ ۴۲)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اور ان کے پیغام کے تحفظ

کیلئے وعدہ خداوندی :

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مقصد بعثت کی تبلیغ شروع فرمائی تو مکہ کے بہت سے باشندے ان کے جانی دشمن بن گئے۔ انھیں لاتعداد خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی جان لینے کی بار بار کوششیں کی گئیں۔ دشمنانِ اسلام انھیں اور ان کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قصہ پاک کرنے پر تلے ہوئے تھے تاکہ اسلام کو اوائل عمری میں ہی تباہ و برباد کر دیں کیونکہ ان کی نظر میں یہ ان کے نظامِ جاہلیت کے لیے ایک چیلنج تھا۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدائی تحفظ کی ضرورت تھی جو انھیں عطا کر دیا گیا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین دلا دیا کہ ان کی ذات ، ان کا پیغام اور کارِ مقصود لوگوں کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ اور مقصدِ حیات تکمیل پائے گا۔ یوں رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر نکلنے اور اپنے پیغام

صفحہ ۴۷

کا اعلان کرنے کا حکم ہوا تا کہ ان کا مقصد حیات پورا ہو ۔ انھیں تحفظ کے لیے اللہ پر بھروسہ کرنا تھا اور لوگوں کے افکار اور دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرنی تھی۔ ان کے ذاتی تحفظ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

” وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ط “

(سورة المائدة ۵ : ۶۷)

” اور اللہ یقیناً تمھیں لوگوں سے تحفظ فراہم کرے گا “

اس تدبیر ربانی کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قتل کی کوششوں کے خلاف حفاظت فرمائی گئی ۔ یہ وعدہ پورا کیا گیا کیونکہ ہمیں علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر پائی اور اپنی جان بستر پر جاں آفریں کے سپرد کی اس زمین پر ان کے آخری لمحات میں ان کے اہل بیت ان کے پاس موجود تھے۔ خدائی پیغام کی تبلیغ کے دوران ، ان کو اپنی زندگی کے خلاف کئی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں وہ عرصہ بھی شامل ہے جو انھوں نے دشمنان اسلام کے خلاف جنگوں میں گزارا۔ لیکن سبحانہ و تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم)

اس کے علاوہ اور بھی احکام قرآنی ہیں جن میں قرآن کریم یعنی پیغام الٰہی کی گمشدگی ، پراگندگی اور تحریف کے خلاف تحفظ کا وعدہ فرمایا گیا ۔ یہ وعدہ بھی پورا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

” لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ط إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ج “

(سورۃ القیٰمۃ ۷۵ : ۱۶-۱۷)

(اے محمد !صلی اللہ علیہ وسلم) وحی مکمل ہونے سے پہلے قرآن کے ساتھ اپنی زبان جلدی میں مت ہلاؤ۔ اس کو تمھارے دل میں محفوظ کرنے کا اور تمھیں یہ بتانے کا کہ اسے تلاوت کیسے کرنا ہے ، فرض اور ذمہ داری ہماری ہے “

اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ بھی ہے :

صفحہ ۴۸

" إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ "

(سورۃ الحجر ۱۵ : ۹)

" بلاشبہ ، ہم نے پیغام (یاد دہانی) نازل کیا اور ہم اس کے محافظ ہیں اور ہم یقیناً اس کے بگاڑ کے خلاف اس کی حفاظت کریں گے ۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نام سے پکارنے پر مسلمانوں کو تنبیہ :

تعظیم کی نشانی کے طور پر مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی کہ وہ جیسے ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ویسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نام سے نہ بلائیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

" لَا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا "

(سورۃ النور ۲۴ : ۶۳)

" اے مسلمانو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح مت پکارو یا خطاب کرو جیسے کہ تم ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہو "

اس کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو "یا محمد" یا "یا احمد" یا "یا ابا القاسم" کہہ کے ہرگز نہیں بلانا چاہئے بلکہ مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تعظیم کی موزوں اصطلاحات جن کا قرآن میں ذکر ہے ، استعمال کرنی چاہئیں ۔ ان میں سے چند ایک یہ ہیں : "یا نبی اللہ" یا "رسول اللہ" "یا مزمل" "یا مدثر" "یا رحمۃ للعالمین" ۔ یہ وہ القاب ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خود خالق نے استعمال کیے ہیں ۔ بخلاف اس کے باقی سب انبیاء اللہ کو ان کے اپنے ناموں سے پکارا جاتا ہے : "یا آدم" ، "یا نوح" ، "یا ابراہیم" "یا موسیٰ" ، "یا داؤد" "یا عیسٰی بن مریم" ۔

صفحہ ۴۹

مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوت و سلام

بھیجتے رہیں :

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کر دیا ہے کہ جب بھی کوئی مرد یا عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے یا سنے تو آپ پر درود و سلام بھیجے ۔ تحریر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے بعد عربی کے کلمات 'صلی اللہ علیہ وسلم' ضرور آنے چاہئیں ۔ اللہ جل جلالہ نے اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم ترین انسانیت تخلیق کیا اور قابل تعظیم اور بابرکت بنایا ۔ فرشتے بھی دائماً ان پر صلوات و سلام بھیجتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں :

اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا

(سورة الاحزاب ۳۳ : ۵۶)

”حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ و سلام بھیجتے ہیں اے مومنو! تم بھی اللہ کا درود اور سلام اس پر بھیجا کرو“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

”رَوَی مُسْلِمٌ وَّاَبُوْدَاوٗدَ وَالتِّرْمِذِيُّ عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا“

”جو مجھ پر ایک بار درود و سلام بھیجتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر اس وجہ سے دس بار برکات و سلام بھیجتا ہے“

(مختصر تفسیر ابن کثیر جلد ۳ : صفحہ ۱۱۲

امام مسلم ، ابوداؤد اور ترمذی سے روایت )

صفحہ ۵۰

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و وقار کا تحفظ ، آپکی رسالت کا

دفاع مسلمانوں کا فرض عین اور منصب اولین :

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں پر عموماً اور مسلمانوں پر خصوصاً فرض عائد کر دیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کریں اور قول و فعل سے ان کی تعظیم کریں ۔ لفظاً یا فعلاً ایسی کوئی حرکت نہیں کرنی چاہئے جس سے ذرہ برابر بھی بے تعظیمی ہو ۔ ان پر لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام بنی نوع انسان میں سے عظیم ترین گردانیں اور زمان ومکان میں سب سے اعلیٰ مقام پر رکھیں ۔ اللہ عَمَّ نوالہٗ کا ارشاد ہے :

الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴾

(سورة الاعراف ۷ : ۱۵۷)

بُكْرَةً وَّ أَصِيْلًا ﴾

(سورة الفتح ۴۸ : ۹)

قرآن کریم کی ان دو آیات میں تین فعل استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ ہیں نَصْرٌ ، وَقْرٌ اور عَزْرٌ جن کے معنی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنا، تعظیم کرنا ، سب سے اعلیٰ قرار دینا، عظیم سمجھنا اور گرداننا ، اعلیٰ تکریم سے پیش آنا ، ان کی عظمت کی بڑائی کرنا اور اس پر فخر کرنا ، تعریف کرنا ، اعلیٰ مقام سمجھنا ، انتہائی ادب کرنا کہ ان کا پیغام دور و نزدیک پھیلے اور ان کی ہر بات میں مدد کرنا ۔ قوت اور قلم اور زبان سے ان کے وقار اور عزت کی محافظت کرنا ۔

پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی بڑی تعظیم کرتے ہیں ، انکی عظمت

صفحہ ۵۱

پر فخر کرتے ہیں ، ان کو سب سے اعلیٰ و ارفع جانتے ہیں ، انکے پیغام کو مضبوط و طاقتور بننے میں مدد کرتے ہیں اور ان کے وقار وعزت کی قول و فعل سے حفاظت کرتے ہیں (ضرورت پڑنے پر جنگ بھی کرتے ہیں) اور ساتھ ہی ساتھ حق مطلق کے درخشاں مظہر کی پیروی کرتے ہیں جو ان پر نازل ہوا (القرآن) تو وہ یقیناً اس دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں گے “

لانا تم پر لازم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعظیم کرنا اور ان کی عظمت پر فخر کرنا اور دوسروں پر ان کو فوقیت دینا، تمہارا فرض ہے۔ ان کے پیغام کو مضبوط، تنومند اور طاقتور بننے میں مدد کرو اور ان کے وقار اور عزت کی تلوار اور زبان سے حفاظت کرو “

یہی وجہ ہے کہ اسلام ہر طرح کی رسوائی ، تہمت یا بد زبانی کی نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ ان کے ذمہ داروں کو سخت سزا کے قابل بھی قرار دیتا ہے۔ ہر بے اخلاق انسان جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بد زبانی کرتا ہے یا بے ادبی کا کسی طور پر مظاہرہ کرتا ہے ، بدترین جرم کا مرتکب ہوتا ہے جس کی سزا موت ہے۔ مسلمانوں پر اس حالت میں یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ایسے ” انسانیت کے کافر کتے “ کو یہ سزا دیں ۔

اللہ عزوجل کی اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے بے مثل محبت

اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کا رتبہ یہ کہہ کر بلند و اعلیٰ کیا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور جو ان کی پیروی

صفحہ ۵۲

کرتے ہیں وہ اللہ کی پیروی کرتے ہیں۔ جو اپنے اللہ سے محبت میں مخلص ہیں ان کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنی چاہئے۔ اللہ کا فرمان ہے :

"مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰهَ " (سورۃ النسآء ۴ : ۸۰)

"جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور پیروی کرتے ہیں وہ اللہ کی فرمانبرداری اور پیروی کرتے ہیں "

"قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ "

(سورۃ آل عمران ۳ : ۳۱)

"اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم ، لوگوں سے کہہ دیجئے : اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو تمہیں میری فرمانبرداری اور متابعت کرنی ہوگی ، تب اللہ تم سے محبت کرے گا "

"يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا آمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ "

(سورۃ النساء ۴ : ۱۳۶)

"اے ایمان کے دعویدارو ! اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان راسخ رکھو "

اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اپنے نام کے ساتھ ذکر کے لیے انتخاب کیا۔ حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ انھوں نے فرمایا :

"حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا : اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا اور آپ کا مالک آپ سے دریافت فرماتا ہے : کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے آپ کو درجہ اعلیٰ عطا کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : اللہ اور اس کا فرستادہ فرشتہ بہتر جانتے ہیں ، تب اللہ نے فرمایا : جب بھی میرے نام کا

صفحہ ۵۳

ذکر آتا ہے یا اس کی تلاوت ہوتی ہے تو تمھارے نام کا بھی میرے نام کے ساتھ ذکر ہوتا ہے اور تلاوت کی جاتی ہے ۔ (الشفاء جلد اول

صفحہ ۱۲ ، مختصر ابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۶۵۲ ، صفوۃ التفاسیر جلد ۳ صفحہ ۵۷۵)

اذان اور اقامہ ، اسلام کی امتیازی نشانیاں ہیں ۔ ان میں اللہ کے نام کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی آتا ہے ۔ مثلاً اذان اور اقامہ دونوں میں ہم کہتے ہیں :

"اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمداً رسول الله"

الصلوٰۃ المکتوبہ یعنی فرض نمازیں جو ارکان اسلام میں سے ایک ہیں تب تک مکمل ہی نہیں ہوتیں جب تک اللہ کے نام کے ساتھ تشہد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہ پڑھا جائے ۔

اسی طرح کلمۂ شہادت پڑھتے ہیں جو رکن و بنیاد اسلام ہے، کسی فرد کو مسلمان نہیں سمجھا جاتا جب تک، عورت ہو یا مرد، یہ شہادت نہ دے کہ اللہ صرف ایک ہے ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں (نبیوں کے سلسلے کے آخری اور حتمی) لا اله الا الله محمد رسول الله

تمام مسلمان ، ان کے علماء ، خطباء ، ائمہ ، مبلغین اور مصنفین ، اس باعث پابند فرض ہیں کہ وہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کریں اور ان پر صلوات و سلام بھیجیں اور ادبی کاوشوں کی تمہیدوں میں "صلی اللہ علیہ وسلم" تحریر کریں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی طور پر بھی ناراض کرنا فرمان خداوندی

کی خلاف ورزی ہے :

مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ کسی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض یا

صفحہ ۵۴

زچ نہ کریں۔ ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات سے نکاح بھی منع ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

" وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَلَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا
اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا "

(سورة الاحزاب ۳۳ : ۵۳)

" اے مسلمانو ! تمہیں کوئی حق نہیں (یعنی تمہیں اجازت نہیں) کہ رسول اللہ ﷺ کو ناراض کرو یا گالی دو ۔ یہ بھی کہ انکے بعد ان کی ازواج سے نکاح کرنا تمہیں منع ہے ۔ بلاشبہ اللہ کی نگاہ میں یہ بات بہت بڑا اور ہولناک جرم ہے "

یہ کسی طرح مناسب نہیں تھا کہ ان کی بیوائیں ، اپنے پر وقار مقام اور رسول اکرم ﷺ کی عزت ، دونوں کی خاطر ، ان کے بعد کسی اور کی منکوحہ ہوں ۔ مسلمانوں کو یہ حکم بھی دیا گیا تھا کہ پہلے اجازت حاصل کیے بغیر ان کے گھر میں داخل نہ ہوں نہ ہی اتنی دیر وہاں ٹھہرے رہیں کہ ان کی ناراضگی کا موجب ہو (جب کبھی ان کو رسول اللہ ﷺ نے کھانے پر بلایا ہو) ۔ اللہ سبحانہٗ کا ارشاد ہے :

" یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ
اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا
فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ
كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ ۫"

(سورة الاحزاب ۳۳ : ۵۳)

" اے مومنو ! رسول اللہ ﷺ کے گھر میں داخل نہ ہو تا آنکہ تمہیں کھانے کے لیے داخل ہونے کی اجازت دی جائے ۔ جب تمہیں دعوت دی جائے تو وقت مقررہ پر داخل ہو (نہ جلدی

مقالہ نگاران

نہ دیر سے) اور جیسے اور مباحثے میں مت کو پسند نہیں ہے " مسلمانوں کو یہ بھی حکم تھا کہ سے رُو در رُو بات نہ کریں

" وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ
ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْ

" اور جب تم ، اے سے کوئی چیز یا بات پوچھو ۔ یہ تمہارے مسلمانوں کے لیے یہ فرمان ہوں تو آوازیں بلند نہ کر

" یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
وَ رَسُوْلِهٖ وَ
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
صَوْتِ النَّبِیِّ
بَعْضِكُمْ لِبَعْ
لَا تَشْعُرُوْنَ

حضرت ابن عباس رضی ان دو آیات کی تفہیم یہ

ar, Karachi. Cell: +92-321-3817119 ok@yahoo.com

صفحہ ۵۵

مقالہ نگار حضرات

ar, Karachi.

8 Cell : +92-321-3817119

pk@yahoo.com

ازواج مطہرات سے نکاح بھی منع ہے۔ اللہ تعالیٰ ؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَلَآ اَنْ تَنْكِحُوْٓا اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمًا

(سورة الاحزاب ۳۳ : ۵۳)

حق نہیں (یعنی تمہیں اجازت نہیں) کہ کو ناراض کرو یا گالی دو ۔ یہ بھی کہ انکے نکاح کرنا تمہیں منع ہے ۔ بلاشبہ اللہ کی نگاہ ہولناک جرم ہے “

کی بیوائیں ، اپنے پروقار مقام اور رسول اکرم ا کی خاطر ، ان کے بعد کسی اور کی منکوحہ ہوں ۔ پہلے اجازت حاصل کیے بغیر ان کے گھر میں داخل نہ رہیں کہ ان کی ناراضگی کا موجب ہو (جب صلی نے کھانے پر بلایا ہو) ۔ اللہ سبحانہٗ کا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ نٰهُ ط وَلٰكِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا مُسْتَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ ط اِنَّ ذٰلِكُمْ

يَّسْتَحْيٖ ج (سورة الاحزاب ۳۳ : ۵۳)

صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھر میں داخل نہ ہو تا صل ہونے کی اجازت دی جائے ۔ بوقتِ مقررہ پر داخل ہو (نہ جلدی

نہ دیر سے) اور جیسے ہی تم نے کھانا کھا لیا ، منتشر ہو جاؤ اور گپ بازی اور مباحثے میں مت لگ جاؤ ۔ ایسا رویہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں ہے “

مسلمانوں کو یہ بھی حکم تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے رُوبرو بات نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَاسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ ط ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَقُلُوْبِهِنَّ ط “

(سورة الاحزاب ۳۳ : ۵۳)

”اور جب تم ، اے مسلمانو ! ازواجِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز یا بات پوچھ رہے ہوتے ہو تو پردے کے پیچھے سے پوچھو ۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی صفائی کی طرف لے جائیگا“

مسلمانوں کے لیے یہ فرمان بھی تھا کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہوں تو آوازیں بلند نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ط اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ O يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ

لَا تَشْعُرُوْنَ O “ (سورة الحجرات ۴۹ : ۱ ، ۲)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہٗ اور البیضاوی اور دوسرے مفسرینِ قرآن ان دو آیات کی تفہیم یوں بیان کرتے ہیں ۔

صفحہ ۵۶

اپنی آواز بلند نہ کریں ۔

نہ کریں ۔

مت دیں

نہ چلیں ۔

بات نہ کریں ۔

نہ ہو جائے کوئی بھی معاملہ آخری طور پر طے نہ کریں ۔

علیہ وسلم سے پہلے کھانا شروع نہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ طرزِ عمل اختیار نہیں کیا تو آپ کے نیک اعمال اور اچھے افعال اللہ تعالےٰ کی نگاہ میں قدر و قیمت کھودیں گے ۔ اللہ تعالےٰ سے ڈریں کیونکہ وہ ہر چیز کو سننے اور جاننے والا ہے ۔

ابن کثیر نے بیان کیا ہے : " ہمیں بتایا گیا ہے حضرت عمر بن الخطاب نے مسجد نبوی میں دو آدمیوں کو بلند آواز سے بات کرتے ہوئے سنا تو انھوں نے اندر آکر ان سے پوچھا کہ آیا ان کو معلوم ہے کہ وہ کہاں ہیں (کیا ان کو معلوم

صفحہ ۵۷

ہے کہ وہ کس کے حضور میں ہیں ) اور مزید ان سے یہ دریافت کیا : آپ کہاں کے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا کہ وہ طائف کے ہیں ، جس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : اگر آپ اس شہر (مدینہ) کے ہوتے تو میں نے آپ کا سر قلم کر دیا ہوتا، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اتنی بلند آواز میں باتیں کر رہے تھے ۔"

(مختصر تفسیر ابن کثیر جلد ۴ صفحہ ۳۸۹)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی تعظیم کے مستحق تھے ۔ اس کا اطلاق ان کی حیاتِ مبارکہ میں ہی نہیں تھا بلکہ ان کی حیاتِ ارضی کے لیے بھی تھا اور اسی طرح ابد تک رہے گا ۔ قدرتی امر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب دنیا میں نہیں ہیں اور ان کے سامنے بآواز بلند بولنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا لیکن دنیا سے ان کی جسمانی غیر حاضری کی وجہ سے ان کی اور ان کے اہل بیت کی تعظیم میں کمی واقع نہیں ہوتی ۔ اس بات کو سمجھ لینا بہت اہم ہے کیونکہ یہ منصوبہ ربانی کا ایک حصہ ہے ، اپنے دین کے تحفظ و بقا کے لیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالمیت و دیانت ، عزت اور وقار ، ان کے پیغام کی تبلیغ کے لیے لابدی ہے ۔

صفحہ ۵۸

مقالہ نگار حضرات

ar, Karachi. 78 Cell: +92-321-3817119 pk@yahoo.com

باب دوم

قتل رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کیلئے

دشمنوں کی سازشیں

دشمنوں کے بیہودہ منصوبے :

اپنی تبلیغی زندگی کے پورے دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سختیوں اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے منصوبے ان کو جسمانی طور پر ختم کر دینے کی خاطر بنائے گئے تھے کیونکہ دشمنان اسلام ایک طرف تو مسلمانوں کی قلیل سی جماعت کو اسلام ترک کر دینے پر راغب کر لینے میں ناکام رہے تھے اور دوسری طرف ان کا خیال تھا کہ نور اسلام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل سے بجھایا جاسکے گا۔ لیکن ان کے تمام منصوبے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے بنائی ہوئی تدبیر تحفظ ربانی کے سامنے نامراد و مایوس رہے ۔ اللہ تعالےٰ کا ارشاد ہے :

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ ۖ وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۝

(سورة المآئِدَة ۵ : ۱۱)

"اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جب دشمن نے تمہیں قتل کرنے یا گزند

پہنچانے کے لیے اپنے ہاتھ تھـ اللہ نے ان کے ہاتھ تم سے رو کے لیے ان کو بے سکت بنا دیا قرآن کریم کی یہ آیت اس واقعے کا حو نے روایت کیا :

”کچھ یہودیوں نے رسول اللہ صلـ رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی ایک جماعـ کو بجھا سکیں۔ چنانچہ انھوں نے کے کھانے کی دعوت دی لیکن علیہ وسلم کو ان کے منصوبہ بد کا لے گئے۔“ (مختصر تفسیر ابن کثیر جلد

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صـ بڑی تعداد میں تھیں۔ ان میں سے چنـ تاکہ قاری کو اسلام کی ابتداء، تبلیـ سے واقفیت ہوجائے۔ جنھوں نے گئے، ان کو معاف کر دیا گیا۔ دوسـ بدلنے میں ناکام رہے، بعد میں منـ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لیے یکسر مٹا دینے کے لیے اپنا ایڑی چـ

قبیلۂ بنو نضیر کا منصوبۂ بد :

حضرت انس بن مالک ؓ

صفحہ ۵۹

پہنچانے کے لیے اپنے ہاتھ تمھارے خلاف بڑھانے کا فیصلہ کر لیا تو اللہ نے ان کے ہاتھ تم سے روک لیے ۔ اپنا منصوبہ عمل میں لے آنے کے لیے ان کو بے سکت بنا دیا گیا “

قرآن کریم کی یہ آیت اس واقعے کا حوالہ دیتی ہے جسے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے روایت کیا : ”کچھ یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے متعدد صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تا کہ نور اسلام کو بجھا سکیں۔ چنانچہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے کھانے کی دعوت دی لیکن اللہ کے فضل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے منصوبۂ بد کا علم ہو گیا اور وہ وہاں تشریف نہ لے گئے “

(مختصر تفسیر ابن کثیر جلد اوّل صفحہ ۴۹۰)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لیے دشمنوں کی سازشیں بڑی تعداد میں تھیں۔ ان میں سے چند ایک اور اُن کا پسِ منظر درج کیے جاتے ہیں تاکہ قاری کو اسلام کی ابتدا، تبلیغ اور توسیع کے ارد گرد پھیلے ہوئے حالات سے واقفیت ہو جائے۔ جنھوں نے معافی مانگ لی اور صدقِ دل سے بدل گئے، ان کو معاف کر دیا گیا۔ دوسرے کئی جو توبہ کرنے میں یا اپنے عزائمِ بد کو بدلنے میں ناکام رہے، بعد میں منظر سے مٹا دیے گئے۔ اگر اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لیے تدبیر الٰہی نہ ہوتی تو دشمنوں نے تو دونوں کو یکسر مٹا دینے کے لیے اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔

قبیلۃ النضیر کا منصوبۂ بد :

حضرت انس بن مالکؓ نے روایت کی ہے :

صفحہ ٦٠

” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دینے کے لیے التنعیم سے اسّی آدمی مدینہ آئے۔ انھوں نے نمازِ فجر کے دوران میں اپنی مکروہ سازش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی، لیکن اللہ جل شانہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بد ارادوں سے آگاہ فرما دیا ۔ چنانچہ ان کو گرفتار کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصاف کیلئے لایا گیا ۔ “

(الشفاء جلد اوّل صفحہ ۶۴)

فضالہ بن عمیر کی ناکام سازش :

ابن ہشام نے تحریر کیا ہے : ” فضالہ بن عمیر بن الملوح اللیثی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ فتح مکہ کے سال ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طوافِ کعبہ میں مصروف تھے ۔ فضالہ اپنا منصوبہ بد عمل میں لانے کے لیے آیا لیکن اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے منصوبے کے متعلق وحی فرمادی ۔ جیسے ہی فضالہ نزدیک آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کے ارادۂ بد کے بارے میں پوچھا ۔ وہ بھونچکا رہ گیا ، سوال سے گریز کیا اور جھوٹ بولتے ہوئے کہنے لگا کہ وہ وہاں صرف طواف کے لیے آیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور کہا : اے فضالہ ! اللہ سے معافی مانگو ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضالہ کی چھاتی پر ہاتھ رکھا اور اس کو تسکین دی ۔ شرمندہ ہو کر فضالہ نے اپنا منصوبہ ترک کر دیا اور تائب ہوا ۔ وہ کہا کرتا تھا : جیسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری چھاتی پر سے ہاتھ ہٹایا ، تو

صفحہ ۶۱

اللہ کی مخلوقات میں سے ان سے زیادہ محبوب مجھے کوئی نہ رہا ۔“

(سیرت ابن ہشام جلد ۲، صفحہ ۸۷۴

مطبوعہ دارالاعتماد العربی للطباعہ قاہرہ ۱۹۷۰ء )

عمیر بن وہب کا منصوبہ بد :

ابن ہشام نے تحریر کیا ہے : ”عمیر بن وہب مکہ کی معزز شخصیتوں میں سے اور قریش کا سردار تھا۔ جنگ بدر کے بعد اس نے اپنی تلوار لی اِسے زہر میں بجھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتقام لینے کے لیے مدینہ کی طرف روانہ ہوا ۔ جیسے ہی وہ مدینہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو مسلمانوں نے اُسے قابو کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو لے آئے ۔ اس کا جرم ثابت ہو گیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا ۔ اس سے عمیر اتنا متاثر ہوا کہ وہ مسلمان ہوگیا اور اسلام کی اچھی طرح خدمت گزاری کے لیے بہت سال زندہ رہا ۔“

(سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۵۵۵)

ابوجہل کا منصوبہ بد :

ابن ہشام نے تحریر کیا ہے : ”ایک روز ابوجہل مکہ والوں کو خطاب کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بڑے سنگین الزام لگا رہا تھا جن کے نتیجے میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم کر دینے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ اس نے کہا : میں نے ایک بھاری پتھر لینے کا فیصلہ کر لیا ہے

صفحہ ۶۲

مقالہ نگار حضرات

r Karachi. g Cell: +92-321-3817119 yahoo.com

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا ۔ کل جب وہ نماز کے لیے آئیں گے تو میں اس سے ان کی کھوپڑی پاش پاش کر دوں گا۔ لوگوں نے جواب دیا کہ وہ اس منصوبے کی تائید کرتے ہیں اور جو کچھ بھی ہو ، اول سے لے کر آخری آدمی تک اس کا ساتھ دیں گے۔

دوسری صبح ، ابو جہل نے پتھر اٹھایا اور کعبے کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا۔ جیسے کہ امید تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے جبکہ قریش تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گئے ۔ دکھاوا تو ان کا یہ تھا کہ وہ اپنے معمولات میں مصروف ہیں لیکن درحقیقت وہ اس فعل کو دیکھنے کے لیے انتظار کر رہے تھے کہ ابو جہل کیا کرے گا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو ابو جہل نے پتھر اٹھایا اور ان کی طرف گیا ۔ لیکن جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پہنچا تو اچانک وہ خوف زدہ ہو گیا جیسے کہ اس نے کوئی غیر معمولی منظر دیکھا ہو ۔ وہ خوف سے کانپتے ہوئے واپس مڑا اور اس نے پتھر پھینک دیا ۔ تب ابو جہل قریش کے مجمع کی طرف بھاگا جنہوں نے واقعات کی اس اچانک تبدیلی کی جستجو میں اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ۔ اس نے بتایا کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پہنچا تو ایک سانڈ کہیں سے نمودار ہوا اور اس کا راستہ روک لیا ۔ اس نے قسم کھائی کہ اس نے اس سے قبل کسی سانڈ کا ایسا سر ، کاندھے اور دانت کی طرح کی کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اسے چبا جائے گا ۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو

انھوں نے جواب دیا کہ ج میں آتے تھے اور اگر ابو پوری طرح تباہ و برباد ک

سراقہ بن مالک کا منص

”جب رسول اللہ صلی تھے تو مشرک سرداروں اونٹوں کے انعام کا اعل سوار ہو کر رسول اللہ ص نزدیک پہنچا تو حضرت ا کو آواز دیتے ہوئے کہ ہوئے کہ ہوتے ، یک پُر اعتماد رہے کہ اللہ ا زہر آلود تیر رسول الل ایک آواز سنائی دی : انھیں

سراقہ نے اس کی طرف صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کے گھوڑے نے گئیں اور وہ زمین خائفہ اسے رسول الل

صفحہ ۶۳

انھوں نے جواب دیا کہ حضرت جبرئیل علیہ السّلام سانڈ کے روپ میں آتے تھے اور اگر ابو جہل اور نزدیک آتا تو فرشتے نے اسے پوری طرح تباہ و برباد کر دیا ہوتا ۔“

(سیرت ابن ہشام ۔ جلد اوّل ، صفحہ ۱۹۴)

سراقہ بن مالک کا منصوبہ بد :

” جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے تو مشرک سرداران مکہ نے ان کی گرفتاری یا قتل کے عوض ایک اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا ۔ سراقہ بن مالک بن جعشم گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعاقب میں چل نکلا ۔ جب نزدیک پہنچا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دیتے ہوئے کہا : یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم گرفتار ہوتے کہ ہوتے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل پر سکون اور پُر اعتماد رہے کہ اللہ ان کی حفاظت فرمائے گا ۔ جب سراقہ نے اپنا زہر آلود تیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چھوڑا تو اُسے ایک آواز سنائی دی جو کہہ رہی تھی :

” انھیں کوئی چوٹ یا نقصان نہ پہنچاؤ ،

سراقہ نے اس کی طرف بالکل دھیان نہیں دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنے زہر آلود تیر چھوڑتا رہا ۔ اس پر اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور اس کی ٹانگیں زمین میں دھنس گئیں اور وہ زمین پر آ رہا ۔ سراقہ کو احساس ہو گیا کہ کوئی قوت مخالفہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے منصوبے پر عمل

صفحہ ۶۴

کرنے سے منع کر رہی ہے ۔ وہ دہشت زدہ ہو گیا اور قبل اس کے کہ مزید مصیبت سے اس کا سابقہ ہو ، اس نے واپسی کا فیصلہ کر لیا ۔ لیکن اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی پُراسرار (ربانی) تحفظ سے سرفراز ہیں ، سراقہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے حفظ و امان کی ایک تحریری درخواست کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطیبِ خاطر یہ تحریر اماں اسے دیدی ۔ اس وثیقے کی عطا کردہ امان کے تحت وہ مکہ واپس آگیا ۔ اس نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ۔

(محمد - آیڈیل نبی ۔ سلیمان ندوی ، صفحہ ۱۴۳)

(قرآن کی پیش گوئیاں

عامر بن طفیل کا منصوبہ بد :

"عامر بن طفیل اور اربد بن قیس اپنے اپنے قبیلوں کے سردار تھے ۔ عامر کے قبیلے والوں نے اسے اسلام قبول کر لینے کا مشورہ دیا کیونکہ اور بہت سے کر چکے تھے لیکن عامر بضد رہا ۔ اس کا کہنا تھا : اللہ کی قسم ! میں لوگوں کو مسلمان ہونے سے منع کرنے کے لیے ان کے تعاقب سے کبھی بھی باز نہ آؤں گا تاآنکہ پورا عرب میری پیروی کرے اور تم ہو کہ مجھے قبیلہ قریش کے اِس نوجوان (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے نقشِ قدم پر چلنے کا مشورہ دیتے ہو ؟ ، تب اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی قسم کھائی ۔ ایک روز عامر نے اپنے دوست اربد بن قیس سے کہا : اِس آدمی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے خلاصی حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ آؤ

صفحہ ۶۵

چلیں اور یہ کام کر آئیں ، عامر نے ایک منصوبہ بنایا ۔ اپنے دوست کو سمجھایا کہ عامر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گفتگو میں مصروف رکھے گا جس دوران میں وہ (اربد) تلوار سے ان کے سر پر وار کریگا۔

جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقی ہوئے تو عامر نے پوچھا کہ کیا وہ ان سے تخلیہ میں بات کر سکتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا یہ کہتے ہوئے کہ یہ صرف اسی صورت میں ممکن تھا کہ عامر مسلمان ہو جائے کیونکہ یہ رعایت خاص صرف مسلمانوں کو دی جاتی ہے ۔ اس کے باوجود عامر اپنی بات منوانے کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گفتگو میں الجھائے رکھنے کی کوشش میں رہا تاکہ اپنے دوست کو متفقہ منصوبہ عمل میں لانے کے قابل بنا سکے ۔ لیکن اربد نے کوئی اقدام ہی نہ کیا اور منصوبہ ناکام رہا۔ مایوسی کے عالم میں، عامر نے جاتے جاتے غصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے دھمکی دی : قسم اللہ کی ! میں تمہارے خلاف تمام سوار اور پیادے جمع کر لاؤں گا اور تمہاری نبوت کی سب نشانیاں مٹا دوں گا ۔

راستے میں وہ اربد پر غیض و غضب کی حالت میں تھا۔ عامر شعلے برساتے ہوئے کہہ رہا تھا : لعنت ہو تم پر ، اربد ! تم نے متفقہ منصوبے پر عمل کیوں نہ کیا ؟ اربد نے عامر کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اور پھر جواز پیش کیا کہ جب بھی اس نے کوشش کی ، اسے صرف عامر کا چہرہ ہی نظر آیا۔ بوکھلائے ہوئے اور بدحواس اربد نے عامر سے سوال کیا : کیا مجھے تمہارے سر پر تلوار سے وار کرنا تھا؟‘ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عامر کے بد زبان سلوک سے بیحد

صفحہ ٦٦

برداشتہ تھے اور اللہ سے دعا کرتے تھے کہ وہ عامر کو سزادے اور برباد کردے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شریر آدمی سے اللہ کی پناہ مانگی اور اس دشمنِ دین سے دنیا کو خلاصی دلانے کے لیے اللہ القوی سے استدعا کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا فوری طور پر قبول ہوئی۔ واپسی پر عامر کو طاعون نے آلیا اور وہ بدنامی میں مرا جب کہ اربد کو آسمانی بجلی نے غارت کردیا۔" (سیرت ابن ہشام۔ جلد دوم۔ صفحہ ٩٩١)

عامر بن مالک کی کھلم کھلا غداری و دغابازی :

ابن ہشام نے لکھا ہے : "ایک شخص ابو براء عامر بن مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے میں ملنے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ ابو براء نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر وہ اپنے چند صحابہ ؓ کو نجد بھیجیں اور وہ وہاں دعوتِ اسلام دیں تو بڑی امید ہے کہ لوگ اسلام قبول کرلیں گے۔ ابو براء کی درخواست منظور کرلی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب غور و خوض کے بعد چالیس مبلغوں کا انتخاب کرکے انھیں نجد بھیجا۔ وہ مدینہ سے روانہ ہوکر راستے میں ایک جگہ جس کا نام ’بئر معونہ‘ تھا، ٹھہرے تاکہ دعوت کے مقصدِ عظیم کے لیے تیاری کریں۔ انھوں نے پہلے ہی اپنے ایک ساتھی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے ساتھ عامر کے پاس روانہ کردیا۔ اس دشمنِ اسلام نے جس نے مسلمانوں کو نجد میں

بُلا کر پہلے ہی ان کے واسطے علیہ وسلم کا خط تک دیکھنے پھر اس نے بنو سلیم، عصیّہ مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا حملہ کرکے ان سب کو شہید

عامر بن مالک نہ صرف مرتد ہو بے گناہ مسلمانوں کا خون کیا ۔

عضل اور القارہ کے قب

"معرکہ احد کے بعد عضل رسول اللہ صلی اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں مہربانی فرماکر اپنے چند صح پاس ہمیں اسلام اور اس رسول اللہ صلی اللہ علیہ ان کے ساتھ چھ صحابہ کرام جب وہ الرجیع جہاں کنواں تھا، پہنچے، انھوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں قتل ہوگئے اور تین کی کے ہاتھ فروخت کرنے

مقالہ نگار حضرات

r Karachi y Cell +92-321-3817119 x: yahoo.com

PDF 67

دعا کرتے تھے کہ وہ عامر کو سزائے اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شریر اور اس دشمنِ دین سے دنیا کو خلاصی ا سے استدعا کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ قبول ہوئی ۔ واپسی پر عامر کو طاعون نے جب کہ اربد کو آسمانی بجلی نے غارت

(جلد دوم ۔ صفحہ ۹۹۱)

داری و دغا بازی :

مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام و جرار نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نجد بھیجیں اور بڑی امید ہے کہ لوگ اسلام قبول ت منظور کر لی گئی اور رسول اللہ غرض کے بعد چالیس مبلغوں کا وہ مدینہ سے روانہ ہو کر راستے تھا، ٹھہرے تاکہ دعوت کے انھوں نے پہلے ہی اپنے ایک م کے خط کے ساتھ عامر کے ام نے جس نے مسلمانوں کو نجد میں

بلا کر پہلے ہی ان کے واسطے پھندا تیار کر رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط تک دیکھنے سے پہلے ہی اس کو فی الفور قتل کر دیا۔ پھر اس نے بنو سلیم ، عُصَیّہ ، رِعل اور ذکوان کے چند قبائلیوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا۔ ان ہتھیار بند قبیلوں نے مسلمانوں پر حملہ کر کے ان سب کو شہید کر دیا ۔

(سیرت ابن ہشام جلد دوم ۔ صفحہ ۷۷ ۔ ۷۸)

عامر بن مالک نہ صرف مرتد ہو گیا بلکہ اس نے دغا و غداری سے بہت سے بے گناہ مسلمانوں کا خون کیا ۔

عضل اور القارہ کے قبائلیوں کی دغابازی و غداری :

”معرکۂ احد کے بعد عضل اور القارہ کے لوگوں کا ایک ٹولہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے بہت سے اسلام قبول کر چکے ہیں ۔ مہربانی فرما کر اپنے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہمارے پاس ہمیں اسلام اور اسلام کی مزید تعلیمات کے لیے بھیجیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست قبول کر لی اور ان کے ساتھ چھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھیج دئیے ۔ جب وہ الرجیع جہاں حجاز کے شمال حصے میں قبیلۂ ہُذَیل کا کنواں تھا، پہنچے، انھوں نے مسلمانوں سے غداری کی اور ہذیل کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملہ کیا۔ تین مسلمان معلم تو موقع پر ہی قتل ہو گئے اور تین کی مشکیں کس کر انھیں مکہ میں دشمنانِ اسلام کے ہاتھ فروخت کرنے کے لیے لے گئے ۔ راستے میں ایک مسلم قیدی

st: Karachi r Cell : +92-321-3817119 s::yahoo.com

مقاله نگار حضرات

صفحہ ۶۸

کو ان مرتدوں نے سنگ سار کر دیا جب کہ آخری دو کو مکہ میں فروخت کر دیا ۔ بعد میں کفار نے مکہ میں ایک اور کو قتل کر دیا جب کہ آخری کو پھانسی پر چڑھا دیا ۔ جب اسے دشمنانِ اسلام پھانسی کے تختے پر باندھ رہے تھے تو اس نے درج ذیل دعا کی :

یا اللہ ! ہم نے آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام
پہنچا دیا ہے ۔ اس لیے جو کچھ انھوں نے ہمارے ساتھ
کیا ہے ، ان کو اطلاع پہنچا دے ،

پھر اس نے دشمنانِ اسلام پر یہ کہتے ہوئے بددعا کی :

یا اللہ ! ان کو ایک ایک کر کے گن لے اور ایک ایک
کر کے غارت کر ۔ ان میں سے کسی کو بھی بچنے نہ دے ۔

(سیرت ابن ہشام ۔ جلد دوم ۔ صفحات ۶۶۷ - ۶۶۹)

اس طرح کی تھی غداری و دغابازی دشمنانِ اسلام کی اور وہ شدائد جو اولین مسلمانوں نے برداشت کیے ۔

اوائلِ اسلام میں کفار کے ظلم وستم ، ایذا رسانیوں اور عقوبتوں کی

نشانہ چند مسلم شخصیتیں

اوائلِ اسلام میں جو کوئی بھی اسلام قبول کرتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرتا ، محفوظ نہیں تھا ۔ مسلمانوں پر برابر حملے ہوتے رہتے ، ان کو قتل کیا جاتا ، قید میں ڈالا جاتا ، پیٹا جاتا ، کھانے پانی سے محروم کیا جاتا اور جلتی ہوئی صحرائی ریت پر لیٹنے پر مجبور کر کے عذاب دیا جاتا ۔ اس تمام جور و جبر کے باوجود ان کا اللہ پر ایمان ذرّہ برابر لغزش نہ کھاتا ۔ وہ ثابت قدم رہے اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ اللہ کی پناہ میں تھے اور اس وجہ سے قطع نظر اس کے کہ

صفحہ ۶۹

وہ تعذیب سے جاں بر ہو جاتے یا اسے سہتے ہوئے ختم ہو جاتے، ان کی جزا اللہ کے ہاتھ میں تھی۔ ان کے لیے اہم بات یہ تھی کہ ان پر حق کا انکشاف ہو چکا تھا۔ جو اذیت و عذاب مسلمانوں نے سہے ان کی چند مثالیں نیچے دی جا رہی ہیں :

رکھ کر جلتی ہوئی ریت پر جبراً لٹا دیا جاتا تھا۔ بیشتر اوقات ان کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹا جاتا اور ان کو شدید اذیت دی جاتی، ان پر ستم ڈھانے والے ان سے تقاضا کرتے کہ وہ دینِ اسلام سے منکر ہو جائیں لیکن حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اعلانِ توحید میں ثابت قدم رہے۔ دشمنانِ اسلام ان کی درد کی چیخوں پر ان کا ٹھٹھا اڑاتے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ سخت ترین آزمائش اُسی وقت ختم ہوئی جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو ایک بہت بڑی رقم دے کر آزاد کروایا۔

سے اذیت اور عذاب دیا گیا کیونکہ انھوں نے اسلام ترک کر دینے سے انکار کر دیا۔ اس تعذیب کی وجہ سے ان کے والدین اللہ کو پیارے ہو گئے۔

کو اغوا کر لیا گیا، مارا پیٹا گیا، اذیتیں دی گئیں اور دھمکایا گیا کہ اگر وہ اسلام ترک نہیں کریں گے تو ان کو جان سے مار دیا جائے گا۔ لیکن ان کے ایمان میں ذرہ سی بھی لغزش نہیں ہوئی۔

صفحہ ۷۰

گئی اور عذاب سے دوچار کی گئی۔ جب اس کا ستم گار تھک ہار گیا تو تبھی جاکر اس نے ظلم و ستم بند کیا۔

مکہ میں دشمنان اسلام نے کڑی تکلیفیں اور عذاب پہنچایا۔ وہ پہلی ہجرت حبشہ تک بیڑیوں میں جکڑے رہے ۔

ایک آنکھ ضائع ہو گئی ۔

نے رسے سے باندھا۔ ان کو بار بار یاد دلایا جاتا : کیا تم نے ایک نئے مذہب کی خاطر اپنے اجداد کا مذہب ترک کر دیا ہے ؟ اللہ کی قسم ! جب تک تم اس نئے مذہب سے قطع تعلق نہیں کرو گے تمہیں رہا نہیں کیا جائے گا ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جواب ہوتا : اللہ کی قسم ! میں اسے کبھی بھی ترک نہیں کروں گا ۔

دیا جایا کرتا تھا تا آنکہ کوئلے ان کے نیچے ٹھنڈے ہو جاتے بعض دفعہ انہیں بھڑکتی ہوئی آگ کے اوپر گھسیٹا جاتا تھا۔

بعض اوقات ان کی چھاتی پر ایک بہت بڑا پتھر رکھا جاتا کہ ان کی زبان بے قابو ہو کر باہر نکل آتی ۔

صفحہ ٧١

لپیٹ دیا اور جبراً دھوئیں میں سانس لینے پر مجبور کیا۔

طرح پیٹا جاتا کہ وہ اپنی زندگی کے اخیر تک اس درد کو نہ بھول سکے؛

ابو جہل توہینِ رسالت کا مرتکب بدکردار، انسانی کتا، خاندانِ قریش کا ممتاز شخص تھا جو مکہ کے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف اکساتا تھا۔ جب بھی وہ سنتا کہ معاشرے کی کوئی اعلیٰ مقام ہستی مسلمان ہوگئی تو وہ اس کی سرزنش کرتا اور اسے مجمع عام میں یہ کہتے ہوئے بے عزت کرتا : تم نے اپنے باپ کا مذہب چھوڑ دیا ہے جو تم سے بہتر تھا۔ تم پر بیوقوف ہونے کا ٹھپّہ لگ جائے گا اور تمہاری شہرت غارت ہوجائے گی! اگر کوئی عام آدمی ہوتا تو ابو جہل اسے خود مارتا پیٹتا اور اس کی بے عزتی کرتا اور دوسروں کو بھی اس کے خلاف اکساتا۔

معاشرے کے کمزور افراد پر تاریخی طور پر جبراً اور سختیاں کیجاتی رہی ہیں۔ طاقتوروں نے نہتّے لوگوں پر غصّہ اتارنے کیلئے ہمیشہ بہانے تلاش کیے ہیں۔ اسلام کے اوائل کے دوران مکی معاشرہ اس سے مختلف نہیں تھا۔ غریبوں اور کمزوروں کو جو اسلام قبول کرتے عام طور پر پیٹا جاتا تاکہ ان کو ترک اسلام پر مجبور کیا جاسکے۔

(١۔ سیرت ابن ہشام جلد اوّل صفحہ ۳۷۰ ، ۳۷۱، ۲۱۱۔

۲۔ طبقات ابن سعد جلد دوم صفحہ ۸۲ ، جلد سوم صفحہ ۱۱۷

۳۔ استیعاب ۔ جلد اوّل ۔ صفحہ ۲۸۸

۴۔ محمدؐ رسول اللہ ۔ ابوالحسن ندوی صفحہ ۱۱۳-۱۱۵)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیلئے

صبر آزما دور :

اس تمام جور و جبر کے باوجود ، اوائل میں مسلمانوں کو بدلہ لینے یا تند و تیز

صفحہ ۷۲

جوابی اقدام کے خلاف نصیحت و مشورہ دیا گیا۔ ان کو حکم دیا گیا کہ وہ صبر سے کام لیں اور ہاتھ روکے رکھیں۔ حضرت سعد بن عبیدہ نے کہا ہے : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ ہمیشہ بہت صبر سے کام لیتے جب کہ دشمن ان کو تنگ کرتے، چوٹ لگاتے یا گالی نکالتے، شروع میں اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ وہ صبر کریں" اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : "فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهِ ۗ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"

(سورة البقرة ١٠٩:٢)

"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانو ! اپنے دشمنوں کو معاف کر دو اور ان کی اپنے خلاف بری حرکات کو نظر انداز کر دو حتیٰ کہ اللہ کا حکم نازل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز پر قادر ہے"

عین یہی وجہ ہے کہ ابتدائی ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دشمنان اسلام کے خلاف نہایت صبر سے کام لیتے اور اسی بات کی تلقین اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے کرتے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں جنگ آزمائی کا اختیار دے دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر میں معرکہ آراء ہوئے تو اللہ نے دشمنوں کی قوت تباہ کر دی جب کافروں کے سردار اور قریش کے شرفا قتل ہوئے۔ بہت سے کافر و بے حرمت قید ہوئے اور مدینہ لائے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح یاب میدانِ معرکہ سے کامران لوٹے۔ اسلام فاتح نے مدینہ میں نئے دور کا آغاز کیا ۔ (بخاری : کتاب الادب صفحہ ٩١٦)

اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہیں :

جب مشرکین و دیگر دشمنانِ اسلام کا استہزا اور جور و ستم بہت بڑھتا اور اس سے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت عبد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ ترین آیات ایسے ہی موقعوں پر "ایک دفعہ رسول اللہ کے پاس سے گزرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ رسول اللہ صلی اللہ عل ہوئے لیکن اللہ تعال بھری وحی نازل فرمائی " وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَّا

"اے محمد ! صلی اللہ گیا ، ان کو گالیاں دی ٹھٹھا کرنے والوں کے ہی بنے ۔ وہ اپنے ہی باوجود کفار کے گستاخانہ رویہ ان تک اللہ کا پیغام پہنچا الزام لگاتے اور سب طر تبلیغ دین الہی کی تکمیل میں اس وقت کے پانچ ق اپنے قبیلوں میں نہایت

مقالہ نگار حضرات

n Karachi. ... 8 Cell: +92-321-3817119 ...k@yahoo.com

PDF 73

یت و مشورہ دیا گیا۔ ان کو حکم دیا گیا کہ وہ صبر سے یں۔ حضرت سعد بن عبادہ نے کہا ہے : مکہ فتح اور ان کے صحابہ ہمیشہ بہت صبر تے ان کو تنگ کرتے ، چوٹ لگاتے یا گالی ر تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ وہ صبر کریں “

يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ

(البقرة ٢ : ١٠٩)

صلح اور مسلمانو ! اپنے دشمنوں کو معاف کی بری حرکات کو نظر انداز کر دو حتی کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز پر قادر ہے “ ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمنان کام لیتے اور اسی بات کی تلقین اپنے صحابہ کرتے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں جنگ ا اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر میں معرکہ آراء وہ کر دی جب کافروں کے سردار اور قریش لو بے حرمت قید ہوئے اور مدینہ لائے ان معرکہ سے کامران لوٹے ۔ اسلام فاتح

ندی : کتاب الادب صفحه 914)

سلم کو تشفی دیتے ہیں :

مذاق اور جو ر وستم بہت بڑھتا اور اس سے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دل برداشتہ ہوتے ، تو ایسے مواقع پر اللہ اپنے عبد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی و تشفی دیتے ۔ قرآن کی چند خوبصورت ترین آیات ایسے ہی موقعوں پر نازل ہوئی ہیں۔ ابن ہشام نے لکھا ہے :

”ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدزبانوں کے ایک ٹولے کے پاس سے گزرے۔ جنھوں نے اپنی روایتی بد اخلاقی کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینی اور بے عزت کرنا شروع کر دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نہایت دل برداشتہ ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ سے متعلق ان پر ایک تشفی بھری وحی نازل فرمائی “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

" وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ “

(سورة الانعام ٦ : ١٠)

”اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پہلے بھی انبیاء کا مذاق اڑایا گیا ، ان کو گالیاں دی گئیں اور ان کو بے عزت کیا گیا لیکن ان پر ٹھٹھا کرنے والوں کے مفسدانہ فعل ان کے اپنے لیے شر کا باعث ہی بنے ۔ وہ اپنے ہی شکار کرنے والے تیروں کا شکار بنے “

باوجود کفار کے گستاخانہ رویے اور سلوک کے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ان تک اللہ کا پیغام پہنچانے میں ثابت قدم رہے ۔ کفار ان پر جھوٹا ہونے کا الزام لگاتے اور سب طرح کی گستاخانہ تہمتیں تراشتے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ دین الہی کی تکمیل میں ہمہ تن مصروف رہے ۔

اس وقت کے پانچ توہین رسالت کے مجرم زندیق و مرتد انسانی کتے جو اپنے قبیلوں اپنے قبیلوں میں نہایت وقیع اور معزز تھے ۔

مقالہ نگار حضرات

Karachi. Cell: +92-321-3817119 k_r_yahoo.com

صفحہ ۷۴

معروف تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی گستاخیوں اور استہزا کی وجہ سے اس کے حق میں بددعا کی تھی: یا اللہ ! اس کو اندھا کر دے اور اسے اس کے بیٹے سے محروم کر دے۔

جب یہ پانچوں کافر و بے حرمت اپنی بدسلوکی سے باز نہ آئے اور اس پر بضد رہے اور برابر رسول اللہ ﷺ کی بے عزتی کرتے اور مذاق اڑاتے رہے تو درج ذیل آیت رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی :

” إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ “

(سورة الحجر ۱۵: ۹۵)

”اے محمد ! (ﷺ) ہم یقیناً تمہارا مذاق اڑانے والوں کے خلاف تمہاری حفاظت کریں گے اور ہم ہی اس بات کے لیے کافی ہیں کہ ان کو ایک نہ بھولنے والا سبق سکھلائیں۔“

”ایک روز جب یہ پانچوں طواف کعبہ کر رہے تھے تو حضرت جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے سامنے وارد ہوکر ان کے پہلو میں کھڑے ہو گئے۔ طواف ختم کرنے کے بعد، ایک ایک کرکے یہ پانچوں ، فرشتے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے۔ پہلے الاسود بن عبدالمطلب آیا ۔ جبریل علیہ السلام نے اس کے چہرے پر ایک سبز پتہ پھینکا ۔ وہ فی الفور اندھا ہوگیا

صفحہ ۷۵

پھر الاسود بن عبد یغوث آیا ۔ جبریل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا جو پھولنے لگا ۔ اس سے اس کی موت واقع ہو گئی پھر الولید آیا۔ فرشتے نے اس کے ٹخنے پر ایک پرانے داغ کی طرف اشارہ کیا اور زخم پھر سے بہت خراب ہو گیا جس سے اس کو موت لاحق ہوئی ۔ جب العاص پاس سے گزرا تو جبریل علیہ السلام نے اس کے پاؤں کی طرف اشارہ کیا اور اسے طائف کے سفر پر روانہ کر دیا ۔ وہاں ، جب وہ اپنے گدھے کو باندھ رہا تھا تو اس کے پاؤں میں ایک کانٹا گھس گیا جس سے بعد میں وہ مر گیا ۔ آخر میں جب الحارث پاس سے گذرا تو فرشتے نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا جس میں فی الفور پیپ بھرنی شروع ہو گئی جس سے اس کو موت آگئی ۔

(سیرت ابن ہشام ، جلد اوّل صفحات ۲۷۷-۲۷۸)

یوں توہین رسالت کے مجرموں ، کافروں اور بے حرمت انسانی کتوں کو ناقابل فراموش سبق سکھانے کا اللہ کا وعدہ پورا ہوا۔

صفحہ ۷۶

مقالہ نگاران

n Karachi y Cell : +92-321-3817119 k : @yahoo.com

باب سوم : الف

توہینِ رسالت کے خلاف شریعتِ اسلامیہ کے

بنیادی مراجع (الف) قرآن کریم (ب) سُنتِ نبویّہ

(ت) آثارِ صحابہ (ث) اجماعِ اُمّت کے دلائل وشواہد

توہینِ رسالت کے خلاف قرآنی شہادت :

قرآنِ کریم وہ خدائی معیار ہے جو سازشیوں اور بدزبانوں کو تباہ کرتا اور ان کے دلوں میں خوف طاری کرتا ہے۔ یہ سچے مومنوں کو بہادر اور ثابت قدم بھی بناتا ہے۔ یہ دشمنوں کے ہاتھوں توہین اور استہزا کے خلاف مومنوں کی روحوں کی مدافعت اور تحفظ کرتا ہے۔ قرآن انھیں دشمنوں کی ریشہ دوانیوں سے کہیں اوپر اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز کرتا ہے۔

شاتمانِ رسول ﷺ کے خلاف اللہ کا فیصلہ :

قرآنِ کریم میں ان لوگوں کے خلاف جو رسول اللہ ﷺ کو رنجیدہ کرتے یا ان کے لائے ہوئے اللہ کے پیغامِ حق کا مذاق اڑاتے ہیں، ایک معیاری فیصلہِ خدا ہے۔ درحقیقت ، اسلام اللہ جلّ جلالہٗ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے دغا باز دشمنوں کی دیدہ دلیری اور تکبّر کے لیے

کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ لازمی فتنہ کا قلع قمع کیا جائے۔ اللہ ا تباہی وبربادی کی منظوری دے طریقے ہیں لیکن بعض صورتوں می قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے مص مکمل طور پر نیست و نابود کر دیں « فَاضْرِبُوْا فَوْقَ بَنَانٍ ذٰلِكَ بِا يُشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُ اس آیت میں الفاظ «شَاقُّ معنیٰ ہے : ” اللہ کے دین ، اسلا کے قوانین کی مخالفت اللہ اور اسلامی شریع رسول اللہ ﷺ ع اس پیغامِ حق کو ترک کی طرف سے لائے ان کی نبوت کا انکار ان کے پیروکاروں اللہ کی شریعت اور تفرقہ میں تفریق پیـ

صفحہ ۷۷

کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا ۔ لازمی ہے کہ ان کا سر نیچا کیا جائے اور ان کے فساد و فتنہ کا قلع قمع کیا جائے ۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کی مکمل تباہی و بربادی کی منظوری دے رکھی ہے ۔ دشمنانِ اسلام کو ختم کرنے کے کئی طریقے ہیں لیکن بعض صورتوں میں جنگ، قتل یا سر قلم کرنے کی سزا ضروری ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم فرمایا ہے کہ دشمنوں کو قتل کریں اور مکمل طور پر نیست و نابود کر دیں ۔

” فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ ۚ وَ مَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ “

(سورة الانفال ۸ : ۱۳)

اس آیت میں الفاظ ”شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ“ استعمال کیے گئے ہیں جن کا معنی ہے :

”اللہ کے دین، اسلام کی مخالفت کرنا یا اسے ترک کرنا اور اللہ کے قوانین کی مخالفت ۔

اللہ اور اسلامی شریعت کا مخالف دشمن بن جانا ۔

رسول اللہ ﷺ کو ایذا و الم پہنچانا ۔

اس پیغام حق کو ترک کر دینا جو رسول اللہ ﷺ ، اللہ کی طرف سے لائے ۔

ان کی نبوت کا انکاری ہونا ۔

ان کے پیروکاروں میں نااتفاقی کے بیج بونا ۔

اللہ کی شریعت اور رسول اللہ ﷺ کی اس کی کی ہوئی تشریح میں تفریق پیدا کرنا ۔

صفحہ ٧٨

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کے لیے موجب تکلیف ہونا ۔

ان کی شریعت کے خلاف معاندانہ عمل کرنا ۔

اسلام اور مسلمانوں کا دشمن بن جانا اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شرع کا غیر اسلامی طریقوں میں ترجمہ کرنا یا ان کے حصے بخرے کرنا ۔

ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے سخت سزا تیار کر رکھی ہے ۔

درج بالا آیات کی تشریح :

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

"اے مسلمانو ! اپنے دشمنوں کے سروں ، ہاتھوں اور بازوؤں پر ضرب لگاؤ اور ان کے پہلوؤں کو کاٹ کر الگ کر دو ۔ یہ حکم تمھیں اس وجہ سے دیا گیا ہے کیونکہ ان کافروں نے اللہ کے دین اسلام اور اس کے قوانین کی مخالفت کی اور اسے ترک کر دیا ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچائی اور ان سے گستاخی کی کوشش کی ۔ اور جو کوئی بھی اللہ کے دین اور اس کے قوانین کی مخالفت کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا رسانی کرتا ہے تو اس کی سزا یہ ہے اور یقیناً اللہ اپنے انتقام اور عذاب میں بے حد شدید ہے ۔"

(مختصر تفسیر ابن کثیر جلد دوم صفحہ ۹۱)

اس سے مشابہ فرمان خدا کا اعلان دوسری آیات میں بھی ہے :

" لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ ط ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَ رَسُولَهُ ، وَمَنْ يُّشَاقِ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ

صفحہ ۷۹

شَدِيْدُ الْعِقَابِ ۝

(سورة الحشر ۵۹ : ۴، ۳)

”وہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیغام کے دشمن تھے اور وہ جنہوں نے عملاً ان کے پیغام کی مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ اس پیغام کے دشمنوں کی مدد و معاونت کی اور وہ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغاوت کی۔ اس دنیا میں غارت کر کے اور آخرت میں شعلہ ریز آگ میں پھینک دینے سے ایسوں کو اللہ تعالیٰ نے سخت سزا دی“

اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دغا باز دشمنوں کے بارے میں جن کو مسلمانوں نے ناقابل فراموش سبق سکھایا تھا، یہ قرآنی احکام بالکل واضح ہیں۔ ان ہی پر عمل کرتے ہوئے، جب اگر اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی وقت بھی حملہ کیا جائے، تو مسلمانوں پر فرض کی اشد پابندی ہے کہ وہ بھی یہی کچھ کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

” وقال صلّی اللہ علیہ وسلم : اِنّی لَمْ اُبْعَثْ لِاُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللہِ اِنَّمَا بُعِثْتُ بِضَرْبِ الرِّقَابِ اَیِّ الْاَعْنَاقِ وشَدِّ الْوَثَاقِ “

” میں اللہ کے عذاب کے ساتھ لوگوں کو عذاب دینے کے لیے رسول بنا کر نہیں بھیجا گیا (یعنی آگ سے) لیکن میں بے حرمتوں باغیوں اور کافروں کی گردنیں قلم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں “

سربراہانِ توہینِ رسالت، بے حرمتی و کفر کے لیے متعیّن سزا :

جب کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے اعتبار و مشکوک ٹھہرانے کی کوشش کی، ان کے ساتھ کیے ہوئے عہد ناموں کا پاس نہ کیا اور ان کو

صفحہ ۸۰

اور ان کے پیروکاروں کو قتل کرنے کی سازش تک کی اور مدینہ سے اسی طرح بزور طاقت نکال دینے کی کوشش کی جیسے کہ مکہ سے نکال دیا گیا تھا تو ایک فرمانِ الٰہی جاری ہوا ۔ مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ وہ کافروں کے خلاف لڑیں۔ اس کا اطلاق یوں تو سب کفار پر ہوتا تھا لیکن یہ ان کے سرداروں کے لیے مخصوص تھا جو لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور پیغام حق کے خلاف انگیختہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

" طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْکُفْرِ اِنَّهُمْ لَا اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ O "

(سورۃ التوبہ ۹ : ۱۲)

”اگر وہ تمہارے دین میں گستاخی کرتے یا اسے گالی دیتے ہیں تو انھیں فی الفور فنا کر دو کیونکہ وہ بے حرمتی اور کفر کے سرغنے اور سردار ہیں ۔ ان کی مزید معافیاں اور توبہ قبول نہیں کی جائیں گی ۔“

اس آیت میں لفظ ’طعن‘ کا معنی ہے گالی دینا ، بد زبانی کرنا ، طعنہ دینا ۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کے پیغام کو گالی دینا یا رسوا کرنا بدترین قسم کے کفر و بے حرمتی کے فعل ہیں ۔ تمام وحی کے ذریعے نازل شدہ مذاہب کے مطابق کفر و بے حرمتی کی سزا موت ہے ۔ (دیکھیں ”تمہید“ کتاب)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے :

" قَالَ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم : اُغْزُوْا جَمِيْعًا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَقَاتِلُوْا مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ لَا تَغُلُّوْا وَلَا تَغْدِرُوْا وَلَا تُمَثِّلُوْا وَلَا تَقْتُلُوْا وَلِيْدًا فَهٰذَا عَهْدُ اللّٰهِ وَسِيْرَةُ نَبِيِّهِ فِيْكُمْ "

” مسلمانو ! اللہ کی راہ میں جہاد تمہارا فرض ہے اور ان کفرگویوں کو قتل کر دو جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے ۔ بے وفائی مت کرو نہ ہی

صفحہ ۸۱

اپنے فرائض سے غفلت برتو ۔ اسلام کے مقصدِ اعلیٰ کے لیے جہاد میں ثابت قدم رہو ۔ اور جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے مت کرو ۔ نا ہی بچوں کو قتل کرو ۔ تمہارے درمیان یہی اللہ کا قانون اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے “۔

(سیرۃ ابن ہشام ۔ جلد دوم صفحہ ۱۰۴۸) ۔

توہینِ رسالت کے مرتکب کافر تہمت تراشوں کی سزا :

رسوا کن خبریں ، غلط افواہیں ، شک و شبہات پھیلانا جو مسلمانوں کو درد و الم سے دوچار کر سکتے ہیں یا مومنوں میں تفرقہ پیدا کر سکتے ہیں اور رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کے اہلِ بیت کے بارے میں الفاظِ بد منہ سے نکالنا جن سے ان کے کردار یا شہرت پر حرف آئے ، اللہ کے نزدیک بہت سنگین معاملات ہیں ۔ ایسے لوگ نہایت المناک قسم کے جرم کے مرتکب ہیں اور انکی سزا موت ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے :

"اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ ط وَاللّٰهُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔"

(سورۃ النور ۲۴ : ۱۹)

"جو مسلمانوں میں جھوٹی افواہیں عمداً پھیلاتے ہیں یا شک و شبہ پیدا کرتے ہیں ان کے لیے دردناک اور افسوسناک عذاب مقدر ہے (یعنی اس دنیا میں مسلسل مصیبت کے بعد شدّت بھری موت) اور آخرت میں دوزخ کی آگ ۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔"

صفحہ ۸۲

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاتم کی سزا :

اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں :

......... اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا ۝ "

(سورۃ الاحزاب ۳۳ : ۵۳)

الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا ۝ "

(سورۃ الاحزاب ۳۳ : ۵۷)

(سورۃ التوبہ ۹ : ۶۱)

ان آیات میں لفظ 'اَذَاء' کا مطلب ہے تنگ کرنا ، چوٹ یا زخم لگانا ، گالی دینا ، بے عزتی کرنا ، دست درازی کرنا یا تہمت تراشی یا نازیبا فعل یا رویّے سے بدسلوکی کرنا یا کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ۔

کرے یا گالی دے ۔ اللہ کی نگاہ میں ایسا کوئی بھی فعل بہت بڑا اور خوفناک جرم ہے ۔ (سورۃ الاحزاب ۳۳ : ۵۳)

کو گالی دیتے یا بے عزت کرتے ہیں اس دنیا میں موت کی سزا پانے سے اللہ کی طرف سے ملعون ٹھہرتے ہیں اور آخرت میں شعلہ زن آتشِ دوزخ میں گھسیٹے جاتے ہیں ۔ اللہ نے ان کے لیے بڑی

صفحہ ٨٣

خوفناک اور رسوا کن سزا تیار کر رکھی ہے۔ (سورۃ الاحزاب ۳۳ : ۵۷)۔

پہنچاتے ہیں، ان کے لیے اس دنیا اور آخرت میں دردناک اور خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے “ (سورۃ التوبۃ ٩ : ٦١)۔

یہ قرآنی احکام اس بات کا وافر ثبوت ہیں کہ شاتم اور تہمت زنِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کی سزا دی جانی چاہئے اور اسے موت کے گھاٹ اتار دینا چاہئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود نہ صرف اس قسم کی سزا کی تصدیق و توثیق کرتے تھے بلکہ بعض صورتوں میں انھوں نے خود ایسے کافر و بے حرمت افراد کی گردن مارنے کا حکم دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعب بن اشرف سے گلو خلاصی چاہتے تھے جو ان کا جانی دشمن اور شاتم تھا تو انھوں نے کہا :

” مَنْ لِكَعْبِ ابْنِ اَشْرَفَ فَاِنَّهُ قَدْ اٰذَی اللّٰہَ وَرَسُوْلَهُ “

” کعب بن اشرف کو ختم کرنے کا ذمہ کون لے گا کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچائی ہے “

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع کو موت کی سزا سنائی تو حضرت ابو البراء رضی اللہ عنہ نے کہا :

” كَانَ اَبُوْرَافِعٍ يُؤْذِی رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُعِيْنُ عَلَيْهِ “

” ابو رافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچاتا تھا اور گالی دیتا تھا

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ بن ابی محیط کے قتل کا حکم دیا تو فرمایا :

” بِكُفْرِكَ وَافْتِرَائِكَ عَلَی رَسُوْلِ اللّٰهِ “

” کفر اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف افترا پردازی کی وجہ سے میں تجھ کو قتل کیے جانے کا حکم کرتا ہوں “

(الشفاء جلد دوم ۔ صفحات ۱۹۴ ، ۱۹۵)

صفحہ ۸۴

کافروں، مرتدوں اور منافقوں کا طویل سوہان روح :

قرآن کریم نے اسلام کے خلاف کافرانہ حرکتوں، کفر، بے حرمتی، شر اور غداری پر مصر افراد کے لیے سخت اور طویل سوہان روح کا اعلان کیا ہوا ہے :

” سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ “

(سورۃ التوبہ ۹ : ۱۰۱)

”پہلے ہم انھیں دو مرتبہ عذاب دیں گے قبل اس کے کہ ان کو آخری فیصلے کے لیے لایا جائے ۔ پہلے تو وہ دنیا میں عرصہ دراز کے لیے عظیم روحانی اذیت سہیں گے۔ پھر ان کو تند و تیز اور ہولناک موت آئے گی۔ اس کے بعد قبروں میں یا عالم برزخ میں درد ناک عذاب ہوگا۔ اور آخر میں وہ آخرت میں عظیم اور تا ابد رہنے والے عذاب کی طرف لے جائے جائیں گے۔“ (خدا مسلمانوں کو اس عذاب الیم سے محفوظ رکھے)

توہین رسالت کے مجرموں، کافر بے حرمتوں اور مرتدوں کیلئے مقرر

چار قسم کی سزائیں :

قرآن کریم نے توہین رسالت کے مجرموں، کافروں اور مرتدوں کے لیے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلسل برسر جنگ رہنے والوں کے لیے چار قسم کی سزائیں مقرر کی ہیں۔ حالات کے مطابق ان میں سے کوئی ایک بھی دی جاسکتی ہے ۔

صفحہ ۸۵

مِّنْ خِلَافٍ

جائے ۔ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِى الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْا اَوْ يُصَلَّبُوْا اَوْ تُقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِى الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِى الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ (۳۳) ؛

"يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ" کا معنی ہے : وہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرتے ہیں ، وہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ قوانین کے خلاف بغاوت کرتے اور انھیں خاطر میں نہیں لاتے ، وہ جو اللہ کے دین کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتے ہیں اور اس کے محبوب آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھی ، وہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دشمنی اور نفرت کا اظہار کرتے ، ان کے لیے بد کلامی کرتے انھیں رنج ، ان کو رنج و الم پہنچاتے اور کسی بھی وجہ سے اسلام ترک کرتے ہیں ۔ ان کے لیے المناک موت ہے ۔"

"وَيَسْعَوْنَ فِى الْاَرْضِ فَسَادًا" کا مطلب ہے : وہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا امت مسلمہ کے خلاف ابتری فساد ، غداری ، انگیخت اور بغاوت کا موجب بنتے ہیں اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں یا مسلمانوں کی دولت اور

صفحہ ۸۶

ملکیت چراتے یا لوٹتے ہیں، زنا کاری اور حرام کاری کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کو گالی دیتے ہیں سچے قول و فعل کے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کے لیے تند و تیز موت کی سزا مقرر ہے “

ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِى الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِى الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ۵

اس کا بھی اسی طرح کا مطلب ہے۔ تشدد کی موت یا سخت عذاب ان کے لیے مقرر کر دینے کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو اس دنیا میں بے عزت و بے آبرو کرتا ہے اور اس نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے جو عقبے میں ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہوگی “

آیت کی تشریح :

”جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے یا ان کے اہل بیت یا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو گالی دیتے ہیں ان کے لیے سخت سزا ہے۔ یہی سزا ان کے لیے بھی ہے جو کسی بھی وجہ سے اسلام ترک کرتے ہیں، ابتری یا فساد پھیلاتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغاوت بھڑکاتے ہیں۔ صورت حالات کے مطابق درج ذیل میں سے کوئی سی بھی سزا دی جا سکتی ہے : گردن زنی یا پھانسی۔ ایک دوسرے کے مخالف سمت کے ہاتھ پاؤں کاٹنا، یا جلاوطنی۔ یہ رسوائی اور بے عزتی ان کے لیے اس دنیا میں ہے۔ اگلے جہان میں المناک سزا ان کی منتظر ہے“

(سورۃ المائدہ ۵ : ۳۳)

صفحہ ۸۷

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر جن لوگوں کو قتل کیا گیا اس کی

وجوہات اور قرآنی تصدیق :

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم طبعاً نرم اور غور و فکر کرنے والے انسان تھے۔ اپنے ذاتی معاملات میں سب کے ساتھ شرافت اور مہربانی کا برتاؤ کرتے تھے۔ لیکن جب اسلام کے تحفظ کا معاملہ درپیش ہوتا تو وہ سخت اصول پسند تھے۔ ذیل میں چند ایسے واقعات درج ہیں جو ایسے حالات پر زیادہ روشنی ڈالتے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتدوں اور توہین رسالت کے مجرموں کے خلاف سخت سزاؤں کا حکم دیا۔

مرتد قبیلے کے افراد :

باجل کے قیس کبتہ ، بحرین کے عکل یا عرینہ قبیلہ کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی غرض سے مدینہ آئی اور اس نے اسلام قبول کر لیا ۔ انھوں نے وہیں ٹھیرنے کا فیصلہ کر لیا اور مسجد نبی میں اصحاب صفہ کے ساتھ شامل ہو گئے لیکن مدینہ کی آب و ہوا انھیں راس نہ آئی اور وہ بیمار پڑ گئے ۔ ان کی تلیاں بڑھ گئیں اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شکایت کا اظہار کرتے ہوئے دودھ مانگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا۔ وہ الجثہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کی نگہداشت کرتے تھے۔ اس جماعت کو دوا کے طور پر اونٹ کا دودھ اور پیشاب پینے کی ہدایت کی۔ جماعت مدینہ سے روانہ ہو کر الجثہ پہنچی اور وہاں ہدایت کے مطابق دودھ اور پیشاب کا مرکب پیا ۔ جلد ہی ان کی صحت بحال ہو گئی اور ان کے سوجے ہوئے پیٹ

صفحہ ۸۸

اپنی جگہ پر آگئے۔ صحت بحال ہونے پر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلہ بان حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کر کے ان کو شہید کر دیا۔ پھر ان کی آنکھوں میں کانٹے چبھو چبھو کر ان کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ انھوں نے سارے کے سارے اونٹ بھی چرا لیے۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کا علم ہوا تو انھوں نے حضرت کرز بن جابر کی سرکردگی میں ایک جماعت ان کو گرفتار کرنے کے لیے بھیجی مسلمانوں نے جلد ہی ان کو جالیا اور مرتدوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گرم لوہا لائے جانے کے لیے کہا اور مجرموں کی آنکھوں کو اسی طرح داغا جس طرح انھوں نے حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں میں کانٹے گاڑے تھے۔ پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور ان کو الحرا میں پھینک دیا گیا تا آنکہ ان کو موت آگئی ۔ [ ۱۔ بخاری: باب القسمت ، ۲۔ مختصر تفسیر ابن کثیر، جلد اول صفحات ۵۱۰ ۔ ۵۱۱ ، ۳۔ تفسیر جلالین صفحہ ۱۴۲ ، ۴۔ مواہب الجلیل علی بیضاوی صفحہ ۱۴۲ ، ۵۔ سیرۃ ابن ہشام جلد چہارم صفحہ ۱۰۵۵ ، ۶۔ ابوداؤد ، کتاب الحدود ۔ باب المحاربہ صفحہ ۶۰۰ ]

ایک اور بیان کے مطابق یہ تحریر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ عرینہ کے مرتدوں کے ہاتھ پاؤں کاٹے اور ان کو چھوڑ دیا گیا کہ وہ خون بہنے سے ہلاک ہوگئے ۔

[ ۱۔ نسائی ۔ کتاب المحاربہ ، ۲۔ تفسیر الثعلبی جلد اوّل صفحات ۴۵۹ - ۴۶۰ ، ۳۔ مسلم باب حکم المحاربین والمرتدین ]

یہ واقعہ سورہ مائدہ کے اس قرآنی فرمان [آیت ۳۳] کی وحی کی بڑی وجہ تھا جس میں اللہ تعالےٰ نے ایسے لوگوں کے لیے قوانین وضع فرمائے۔ انھوں نے نہ صرف اونٹ چرائے ، حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اذیت دی اور

صفحہ ۸۹

شہید کیا بلکہ مرتد ہو گئے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔

جو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرتے ہیں ایسے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن اور توہین رسالت کے مرتکب سمجھے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایک شاتم کے بارے میں فرمایا :

"اس بے حرمت کافر ، میرے دشمن کو موت کے گھاٹ اتارنے میں میری کون مدد کرے گا "

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں :

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد کیا : اللہ جل جلالہ نے فرمایا : جس کسی نے میرے بندے (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف دشمنی اور نفرت کا اظہار کیا تو گویا اس نے میرے خلاف جنگ کی"

حضرت معاذ بن جبل نے کہا :

"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا : جو اللہ کے اچھے بندے اور دوستوں کے خلاف دشمنی اور نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی طرف مخاصمانہ رویہ رکھتے ہیں ، وہ اللہ کے خلاف جنگ آزمائی کرتے ہیں"

[مختصر تفسیر ابن کثیر جلد اول صفحہ ۹۳] ۔

اسلام کی رُو سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا بہت بڑا جرم اور کبیرہ گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اس سے انسانوں کے مابین خلفشار، شر و فساد ، نفرت اور عداوت پیدا ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے شاتم، نبوت کے متبرک

صفحہ ۹۰

ادارے کا جو اسلام کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے ، جانی دشمن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاتم رسول ﷺ کو محارب ، مفسد، بد عہد اور بے شرم سمجھا جاتا ہے، جس کی قرآن کی رو سے سزا، دردناک اور شرمناک موت ہے۔ صحابہؓ رسول ﷺ، مسلم فقہاء کی بعد میں آنے والی نسلوں، قانون دانوں، علماء اور محدثین کا اس بات پر اجماع ہے کہ شاتم رسول ﷺ کوئی شخص بھی ہو چاہے وہ یہودی ہو یا عیسائی، مرتد ہو یا کافر، منکر ہو یا مشرک اللہ کے اس قانون کی زد میں آتا ہے اور مقرر کردہ سزا سے نہیں بچ سکتا جیسا کہ قرآن کریم کی سورۃ مائدہ کی آیت ۳۳ میں درج ہے۔

ایسے لوگوں کے زمرے جن کیلئے اللہ تعالیٰ نے دردناک اور شرمناک

موت مقرر کی ہے :

اسلام کے مخاصم ہوں)۔

اس زمرے میں وہ بھی شامل ہیں جو بے حرمتی کے فعل کے مرتکب ہوئے ہیں، معاشرے میں ہیجان یا خوف کا باعث بنتے ہیں ، ملک میں بغاوت کو ہوا دیتے ہیں، اور اسلام ، رسول اللہ ﷺ اور امت مسلمہ کے خلاف غداری کرتے ہیں۔

اگر ان تین زمروں میں آنے والے لوگ اپنے شرانگیز رویے کو صحیح کرنے میں ناکام ہوتے یا اس کا انکار کرتے ہیں یا حقیقی اور مخلصانہ توبہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے شدت بھری موت کی سزا مقرر کر دی

صفحہ ۹۱

ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

" لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِي الْمَدِيْنَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِيْهَآ اِلَّا قَلِيْلًا ۙ مَّلْعُوْنِيْنَ ۚ اَيْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا ۖ سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا "

(سورۃ الاحزاب ۳۳ : ۶۰ تا ۶۲)

" اگر منافق، بے حرمت کفر گو، مرتد، دغاباز، زنا کار اور غیر منکوحہ عورتوں کے ساتھ بدکار اپنے مریض دلوں کے ساتھ اور وہ جو خوف اور جھوٹی افواہیں پھیلاتے اور روئے ارض پر بغاوت پھیلاتے ہیں اپنے شر انگیز رویے سے باز نہیں آتے یا سچی اور مخلص توبہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں قبل اس کے کہ ان کے جرائم ظاہر ہو جائیں، تو وہی وہ ملعون ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی برکات سے محروم کر دیا ہے۔ اے مومنو! جہاں کہیں بھی وہ ملیں، انھیں گرفتار کرو اور بلا رحم کھائے ان کو ہلاک کر دو۔ لوگوں کے لیے ہمیشہ کے لیے اللہ کا قانون یہی رہا ہے، ماضی میں، حال میں اور مستقبل میں آنے والوں کے لیے۔ اور اللہ تعالیٰ کے قوانین مستقل ہیں۔ "

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حقارت، ان کی تضحیک یا اُن سے

بدگوئی کرنیوالوں کے خلاف اللہ جل جلالہٗ کا فیصلہ :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے یا ان سے بد زبانی کرنیوالے صرف مکہ تک ہی محدود نہیں تھے جہاں کہ مسلمان کمزور تھے بلکہ مدینہ میں بھی

صفحہ ۹۲

مشرکین، کفار اور منافقین کی گستاخیاں جاری رہیں باوجود یکہ تب تک مسلمان نسبتاً طاقتور اور بہتر طور پر منظم ہو چکے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوک کے لیے تشریف لے جارہے تھے تو کچھ منافقوں نے پاس سے گزرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کہتے ہوئے تضحیک کی :

”یہ شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) روم فتح کرنا چاہتا ہے۔ حقیقت کے اور اس کے خوابوں کے مابین تفاوت کا تصور تو کریں “

ان کی منافقت کا پردہ چاک کرنے کے لیے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ ۝ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ ط اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ ۝

(سورة التوبۃ ۹ : ۶۵ ، ۶۶)

”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اس گروہ سے کہہ دیجئے : اے منافقو! تم اللہ ، اس کی نازل کردہ وحی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھٹھا، ان کی تضحیک اور توہین کر چکے ہو۔ اب لاحاصل بہانے مت بناؤ۔ بلاشبہ، تم اسلام سے منحرف ہو گئے اور پہلے جن باتوں پر تمہارا ایمان تھا، اُن سے اٹھ گیا اور تم بے حرمت کفر گو اور کافر ہو گئے ہو۔“

اس وحی کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مذاق اڑانے والے منافقوں کو بلایا اور جو کچھ انھوں نے کہا تھا، اس کا اعتراف کرنے کے لیے کہا لیکن انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بول دیا اور منکر ہو گئے کہ کچھ بھی کہا تھا۔ لیکن ان کی شدید سرزنش کی گئی اور ان کے

صفحہ ۹۳

کفر و ارتداد کا پردہ چاک کیا گیا ۔ قرآنی اعلان میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت کر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانا ، تضحیک کرنا یا ان کا یا ان کے پیغام کا استہزاء ، کفر کے برابر ہیں جو ان کے مرتکب ہونے والوں کو کافر یا مرتد بنا دیتے ہیں ۔ دنیا اور آخرت میں ایسے سب لوگ ذلیل قرار دیئے گئے ہیں ۔

مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت کے مجرموں ،

بے حرمت کافروں سے میل جول رکھیں :

اگر مسلمان دیکھیں ، سنیں یا پڑھیں کہ قرآن کریم کا تمسخر اڑایا جارہا ہے ، ذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی جارہی ہے یا نشانۂ مذاق بنایا جارہا ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ ایسی حرکتوں کے خلاف ردّعمل کریں ، ان پر لازم ہے کہ وہ اس کے خلاف احتجاج کریں اور غم و غصے کا مظاہرہ کریں اور ساتھ ہی ساتھ ایسے اہل محفل سے دوستی کے سب بندھن منقطع کر لیں ۔ ایسا کرنے میں ناکامی کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان بھی ان جیسے ہوگئے ہیں ۔ اور چونکہ دونوں کا جرم ایک ہے ، اس کی سزا بھی ایک ہی ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

"وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُکْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ ۤ اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ ؕ "

(سورة النسآء ۴ : ۱۴۰)

" اور بلاشک فرمان ربانی کتاب میں تم پر نازل ہوچکا ہے (یعنی القرآن کی سورة الانعام آیت ۶۸ میں) کہ جب تم سن پاؤ کہ اللہ کی وحی (یعنی قرآن) سے کفر کیا جارہا ہے یا بعض تضحیک کرنیوالے

صفحہ ۹۴

اور کفر ہو اس کا مذاق اڑا رہے ہیں، تو ان کے پاس مت بیٹھو ، اپنے غصے کا اظہار کرو اور ان کی محفل میں شامل نہ رہو ورنہ یقیناً تم بھی ان ہی جیسے ہو جاؤ گے ۔“

(قرۃ العین علیٰ تفسیر الجلالین صفحہ ۱۷۳)

مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت کے مجرموں ، کافروں ، بے حرمتوں اور ان کے مددگاروں اور حمایتیوں کو دوست بنائیں :

اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا ہے :

حَادَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ ط ﴾

(سورۃ الْمُجَادَلَة ۵۸ : ۲۲)

(سورۃ الْمُجَادَلَة ۵۸ : ۲۰)

لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيْهَا ط ذٰلِكَ الْخِزْىُ الْعَظِيْمُ ۝ ﴾

(سورۃ التوبۃ ۹ : ۶۳)

ان آیات میں فعل حَادَّ يُحَادُّ کا مطلب ہے دشمن ہونا ، درد دینا ، مسلسل چوٹ لگانا یا تہمت تراشی یا نازیبا رویے سے زخم پہنچاتے رہنا ، مخالفت کرنا یا دشمنی دکھانا ، رنجیدہ کرنا ، بدسلوکی کرنا ، بدزبانی کرنا یا بے حرمتی کرنا ۔

صفحہ ۹۵

رکھتے ہوئے بھی ایسے لوگوں سے محبت یا دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں اور پیکر کفر بن گئے ہیں چاہے وہ ان کے اپنے والد، بیٹے، بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔“

کے لیے عداوت رکھتے ہیں وہ اس دنیا میں اور اگلی میں بھی ذلیل ترین انسانوں میں سے ہوں گے۔“

کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دشمنی و عداوت کا اظہار کرتے ہیں یا مسلسل ان کو ایذا دیتے یا زخم لگاتے ہیں، آتش دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے اور یہ ان کے لیے ایک بہت بڑی ذلت اور رسوائی ہوگی۔“

ان آیات کے نزول کے وقت حالات یہ تھے کہ صحابہؓ رسول رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے یا تو اپنے چند عزیزوں کو قتل کر دیا تھا یا قتل کرنے کی قسم اٹھا رکھی تھی کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی تھیں یا کھلی دشمنی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اسی طور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ الجراح کو معرکہ بدر میں قتل کر دیا تھا۔ وہ اسلام کا پکا دشمن تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تند و تیز گالیاں دیا کرتا تھا۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کر دیا تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت تراشی کیا کرتا تھا اور گالیاں دیا کرتا تھا۔ معرکہ بدر کے دوران میں، حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہ بن حارثؓ نے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو جو سب کے

صفحہ ۹۶

سب دشمنانِ اسلام اور شاتمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چن چن کر قتل کر دیا تھا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جو بعد میں اسلام کے خلیفہ اول بنے ، اپنے حقیقی بیٹے کو قتل کر دینے کا حلف اٹھا رکھا تھا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بد زبانی کیا کرتا تھا۔ اسی طرح ، عبداللہ بن ابی بدنام زمانہ منافق اور شاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے اپنے بیٹے نے موت کی سزا سنارکھی تھی ۔

قرآن کے یہ احکام بتاتے ہیں کہ نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاتم ، دشمن اور الزام دھرنے والے ہی کافر و بے حرمت ہیں بلکہ ان کے مددگار اور دوست بھی وہی کچھ سمجھے جاتے ہیں ۔ ایسے سب کے سب کی برسرعام تحقیر کرنی چاہئے اور اس کے بعد ان کو دردناک موت کا سامنا کرنا چاہئے ۔ کیا یہاں مسلمانوں کو آگاہ نہیں کیا گیا ہے کہ کفر گو اور ان کے دوست اور مددگار تباہ و برباد ہونے چاہئیں ؟ ۔

ازواج مطہرات کی توہین ، بے حرمتی ، تضحیک یا ان سے متعلق

بدگوئی کرنیوالوں کی سزا :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا جو مسلمانوں کی مائیں ہیں ہر ایک پر تعظیم کا حق ہے اور اپنی حقیقی ماؤں سے بڑھ کر ان کی عزت و تعظیم کرنا مسلمانوں کا فرض ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

النَّبِيُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهُ اُمَّهٰتُهُمْ ط

(سورة الاحزاب ۳۳ : ۶)

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنوں کے ہاں ان کی اپنی ذات سے بہت زیادہ قریب وعزیز ہونا چاہئے اور ازواج نبی صلی اللہ علیہ وسلم

صفحہ ۹۷

ان کی اپنی ماؤں کی طرح ہیں “ اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے : ” وَلَا اَنْ تَنْكِحُوْا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ اَبَدًا ط “

(سورۃ الاحزاب ۳۳ : ۵۳)

” اے مومنو ! تمہیں اجازت نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو کیونکہ وہ تمہاری مائیں ہیں “

تمام فقہائے اسلام کا متفقہ اجماع ہے کہ جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، ام المومنین کو یا ان کی دوسری ازواج کو گالی دیتا ہے ، وہ کافر اور بے حرمت ہوتا ہے اور اس کی سزا موت ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا شخص اس قرآنی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے جس میں مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کسی وقت بھی یہ خوفناک جرم نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ “

(سورۃ النور ۲۴ : ۱۷)

” اے مسلمانو ! اللہ تمہیں تلقین کرتا ہے کہ تم یہ جرم کبھی بھی نہ کرو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کو گالی دینے کا) اگر تمہارے دلوں میں ایمان کا ایک شرارہ بھی موجود ہے “

ازواج مطہرات پر الزام تراشی کے جرم میں موت کی سزا :

ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت پر الزام دھرتا ، بے سروپا باتیں ان سے منسوب کرتا اور ان کے جذبات کو مجروح کرتا ۔

صفحہ ۹۸

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بلاکر دریافت کیا : "تم میں سے کون ہے جو اس کفر گو سے جو میرے اہل بیت پر الزام لگا کر مجھے اذیت پہنچاتا ہے، مجھے نجات دلائے ؟"

حضرت سعد بن معاذ کھڑے ہو گئے اور کہا : "اے رسول اللہ ، صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہ کام کروں گا " چنانچہ انھوں نے اس آدمی کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔

[احکام الردہ والمرتدین ۔ ڈاکٹر جبر محمود الفضیلت

مطبوعہ الدار العربیہ ، عمّان ، اردن ۔ صفحہ ۱۷۵]

حضرت ابن عباسؓ نے کہا : "اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی بکنے والے کو موت کی سزا دینی چاہئے اور گردن مار دینی چاہئے ۔ ایسے شخص کی معافی قبول کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے "

[ السیف الصارم ۔ صفحہ ۵۷۱ ]

حضرت الصلت القاضی نے کہا : "ایک روز میں طبرستان میں داعی اسلام الحسن بن زید کے پاس تھا ۔ ان کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے حضرت عائشہؓ کو گالی دی ۔ یہ سن کر الحسن بن زید نے اپنے ملازم کو آواز دی اور اسے اس کفر گو کی گردن مارنے کا حکم دیا ۔ حکم فی الفور بجا لایا گیا "

[ السیف الصارم ۔ صفحات ۵۷۱-۵۷۲ ]

حضرت اسمعیل بن اسحاق نے کہا : "کوئی شخص جو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، زوجۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت رسول اللہ

صفحہ ٩٩

صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے، قتل کر دیا جانا چاہئے “

[ السیف الصارم : صفحہ ۵۷۱ ]

حضرت ابو بکر بن زیاد نیشاپوری نے کہا : ” میں نے قاسم بن محمد کو حضرت اسمعیل بن اسحاق سے یہ کہتے سنا: ایک آدمی جو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیا کرتا تھا ، اس کو المامون نے قتل کر دیا “

[ السیف الصارم : صفحہ ۵۷۱ ]

محمد بن زید نے بیان کیا کہ ان سے ملاقات کے لیے ایک شخص عراق سے آیا اور اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو گالی دی۔ محمد بن زید کھڑے ہو گئے ، ایک موٹی چھڑی ہاتھ میں لی اور اس شخص کے سر پر دے ماری جس سے وہ فوراً مر گیا ۔ پھر انھوں نے کہا : ” یہ اسی سزا کا مستحق تھا “

[ السیف الصارم : صفحہ ۵۷۲ ]

یہ قرآنی احکام اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی فضلاء کے اجماع کے شواہد اس حقیقت کو پوری طرح ثابت کرتے ہیں کہ ازواج رسولؐ نہایت اعلیٰ وقار ، اعلیٰ مقام اور معزز ہیں اور عام عورتوں کی طرح کی نہیں سمجھی جا سکتیں ۔ تمام امت مسلمہ کا وقار ان کی ماؤں یعنی ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقار پر منحصر ہے ۔ بایں وجہ ان کی عزت و ناموس کی حفاظت بھی مسلمانوں کا فرض ہے ۔

صفحہ ١٠٠

باب سوم : ب

توہینِ رسالت کے خلاف سُنّتِ نبویّہؐ سے شواہد

رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے اقوال، فیصلے اور عمل

رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی ذاتی انتقام نہیں لیا :

رسول اللہ ﷺ ایک پُر امن ، رحمدل اور ہمدرد انسان تھے ۔ درحقیقت ، وہ دنیا میں امن اور رحمت کے نمونے کے طور پر تشریف لائے ۔ وہ ایسے تمام افعال سے سختی سے گریز کرتے جن کو جبر سمجھا جاتا اور دوسروں کو بھی یہی ہدایت فرماتے ، ان کی سیرت پر ایک نظر ڈالنے سے یہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ذاتی انتقام لینے کی غرض سے انھوں نے کبھی بھی کسی کو ضرب تک نہیں لگائی نہ جان سے مارا۔ لیکن، اسی کے ساتھ ساتھ ، انھوں نے کبھی بھی منکروں اور اللہ اور رسول ﷺ کے دشمنوں کی کفر گوئی ، ارتداد اور تضحیک کو برداشت نہیں کیا ۔

رسول اللہ ﷺ ہمیشہ ایسوں کو اس دنیا میں سزا یعنی دردناک انجام اور اگلی دنیا میں اذیت ناک عذاب سے خبردار کرتے رہے ۔ ڈھیل یقیناً لوگوں کو یہ متضاد معلوم ہوسکتا ہے لیکن ایسی بات نہیں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت مہربان ، ہمدرد اور سخی انسان تھے ۔ وہ اُن کو ذاتی رنجش و نقصان پہنچانے والوں کو معاف فرما دیتے بلکہ ان کے لیے دعا بھی کرتے ۔ لیکن جب

صفحہ ١٠١

دین اسلام کا معاملہ درپیش ہوتا، تو وہ بہت سخت تھے۔ اس وقت دوسروں کی بے راہ روی سے درگزر کرنے کا سوال نہ ہوتا تھا کیونکہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی جارہی تھی۔ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دشمنی کا اظہار کرتے اور اس لیے دین خدا میں رکاوٹ پیدا کرتے ، وہ کسی طور معاف نہیں کیے جاسکتے تھے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : " مَا خُيِّرَ رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين قطّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا ما لم يكن اثماً فان كان اثماً كان ابعد الناس منه وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه الّا ان تُنتهك حرمة الله فينتقم لله بها "

(البخاری : کتاب الادب

مسلم : کتاب الفضائل)

" جب کبھی ان کو دو چیزوں میں سے ایک کو انتخاب کرنے کا اختیار دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ بہترین کا انتخاب کیا بشرطیکہ اسلامی نقطۂ نظر سے اس میں کوئی خرابی نہیں پائی۔ وہ کبھی بھی کسی غلط یا گناہ آمیز بات کے نزدیک نہیں گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے کبھی انتقام نہیں لیا۔ وہ اس وقت ہی عمل پیرا ہوتے جب اللہ کا دین (اسلام) ، اس کی شریعت یا حدود کا تمسخر اڑایا گیا یا ان کی خلاف ورزی کی گئی۔ انھوں نے ہمیشہ اللہ اور اس کے دین کی خاطر ہی سزا کا حکم دیا ۔"

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک اور روایت ہے : " عن عائشه رضى الله عنها إِنَّهَا قَالت : ما ضرب رسول الله

صفحہ ١٠٢

صلی اللہ علیہ وسلم شيئاً قط بيده ولا امراةً ولا خادماً الا ان يجاهد في سبيل الله وَمَا نيل منه شئ قط فينتقم من صاحبه الا ان ينتهك شيئاً من محارم الله فينتقم لله عزوجل “

(مسلم شریف)

”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا ۔ نہ کسی عورت کو اور نہ ہی کسی خادم کو ۔ سوائے اس وقت جب وہ اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہوتے ۔ انھوں نے کبھی انتقام نہیں لیا جب تک کہ اللہ کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حلال کر لیا گیا ۔ تب وہ اللہ عزوجل کی خاطر ایسے فاسقوں کو سزا دیتے تھے “

(مسلم شریف ۔ کتاب الفضائل)

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مزید ایک اور روایت ہے : ” قالت عائشہ رضی اللہ عنہا : كان خُلقه القرآن يرضاهُ بِرضَاهُ ويسخط بسخطه “

” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کامل نمونہ قرآن کریم تھا۔ ان کی مسرت ، خوشی اور غصّہ تمام تر اللہ کی رضا اور ناراضگی پر منحصر ہوتا تھا “

(الشفاء : جلد اول ، صفحہ ۵۷)

حضرت ابو قلابہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ” والله ما قتل رسول الله صلى الله عليه وسلم احداً قط إلا في ثلاث خصال : (۱) رجل قتل بجریر نفسه ، (۲) او رجل زنى بعد احصان (۳) او رجل حارب الله ورسوله وارتد عن الاسلام “

(بخاری شریف : باب القسامہ)

” اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو ہلاک نہیں

صفحہ ١٠٣

کیا ماسوائے تین میں سے ایک وجہ کے :

ہو گیا ہو اور اسلام سے منحرف ہو گیا ہو یعنی مرتد ہو گیا ہو ۔"

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی احادیث :

حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

” جس کسی نے مجھے گالی دی ، اس کو قتل کر دو “

[ الشفاء : الجزء الثانی ۔ جلد دوم : صفحہ ۲۰۵ ۔

السیف الصارم ۔ جلد دوم : ۱۹۴

احکام الردّۃ والمرتدین : صفحہ ۲۱۷ ] ۔

” جس کسی نے اللہ کے انبیاء میں سے کسی کو بھی گالی دی ، تمہارا فرض ہے کہ اس کو قتل کر دو اور جو کوئی اس کے صحابہ کو گالی دے اس کو سخت سزا دو “ (اسے کوڑے لگانے چاہئیں)

[ الشفاء ۔ جلد دوم : صفحہ ۱۹۴ ۔

احکام الردّۃ والمرتدین صفحہ ۲۳۶

فیض القدیر ۔ جلد ششم : صفحہ ۱۴۷ ]

حضرت عروہ بن محمد نے حضرت بلقینی سے روایت کی ہے کہ :

صفحہ ۱۰۴

”ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بدزبانی کیا کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا : تم میں سے کون میرے اس دشمن سے خلاصی دلائے گا ؟۔ حضرت خالد بن ولید نے کھڑے ہو کر کہا : یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ، میں اس کا کام تمام کروں گا ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور انھیں اس حکم کی بجا آوری کے لیے بھیجا اور وہ یہ حکم بجا لائے ۔“

[ ابن حزم المحلی ۔ جلد دوم : صفحہ ۴۰۹

احکام الردہ والمرتدین ، صفحہ ۲۱۶ ]

یہ بھی روایت ہے کہ ایک عورت کی گالیاں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ”مَنْ يَّكْفِيْنِیْ عَدَاوَتِیْ ؟“ ”مجھے میرے دشمن سے کون نجات دلائے گا ؟“ حضرت خالد بن ولید نے ذمہ داری قبول کی اور اسے قتل کر دیا۔

[ الشفاء جلد دوم : صفحہ ۱۹۵ ]

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تو آپ نے فرمایا : ”مَنْ لِّیْ بِھَا ؟ کون ہے جو اس کافرہ عورت کو میرے حکم کی بجا آوری میں قتل کردے ۔ صحابہ میں سے ایک نے ذمہ داری لے لی اور اس عورت کو قتل کر دیا ۔“

[ الشفاء جلد دوم : صفحہ ۱۹۵ ]

صفحہ ۱۰۵

شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافر بے حرمت کو ٹھکانے لگانے والا اللہ

اور رسول اللہ کا معاون ہے :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : " شاتم رسول ، کفر گو بے حرمت شخص کو قتل کرنے والا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معاون و مددگار ہے ۔"

" صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کبھی بھی کسی شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلا نہیں چھوڑتے تھے ۔ جیسے ہی وہ سنتے کہ کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے عزتی کر رہا ہے یا ان سے بدزبانی کر رہا ہے تو وہ اس کا کام تمام کر دیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اس بات کا اختیار عطا کرتے ۔ چند ایک کے بارے میں تو وہ اس قدر خوش ہوئے کہ انھوں نے ایسے شخص کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معاون ہونے کا اعلان کر دیا ۔"

[ السیف الصارم : صفحہ ۱۴۵ - ۱۴۶ ]

حضرت حسن بن عطیہ کہتے ہیں : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہم پر ایک مسلم فوج روانہ کی ۔ جب میدان کارزار میں مسلمانوں سے دشمنوں کا آمنا سامنا ہوا تو ایک آدمی آگے بڑھا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی بکنی شروع کر دی ایک مسلمان لپک کر صف میں سے باہر آیا اور اس کو یہ کہتے ہوئے منع کرنے کی کوشش کی :

میں فلاں ابن فلاں ہوں ، میرا باپ فلاں ابن فلاں ہے
اور میری ماں فلاں بنت فلاں ۔ اگر تم چاہتے ہو تو مجھے
صفحہ ١٠٦

میرے باپ اور میری ماں کو گالی دے لو لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا بند کر دو ۔ جب دشمن باز نہ آیا تو مسلمان فوجی نے تنبیہ پر توجہ نہ دینے کی صورت میں اسے جان سے مار دینے کی دھمکی دی ۔ جب اس نے زبان درازی جاری رکھی تو مسلمان نے دشمن کی صف چیرتے ہوئے اس کفر گو پر تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا۔ مسلمان عسکری کی اس شجاعت مندانہ کارگزاری کے بارے میں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کتنا حیرتناک ہے یہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی “

[السیف الصارم : صفحہ ۱۴۶]

یہ واقعہ الاموی نے اپنی مغازی اور ابو اسحاق الفرازی نے بھی اپنی کتاب میں بیان کیا ہے ۔

معاویہ بن مغیرہ کو موت کی سزا :

معاویہ بن مغیرہ ، ایک دشمن اسلام ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ اس نے معرکہ بدر میں حصہ لیا جہاں وہ قیدی ہوا اور مدینہ لایا گیا۔ ایک دفعہ جب وہاں پہنچ گیا تو اس نے حلف اٹھایا کہ وہ اس کے بعد کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی نہیں دے گا یا اسلام کے خلاف دشمنانہ کارروائیوں میں حصہ لے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا اور وہ واپس مکہ چلا گیا لیکن جیسے ہی یہ کافر جنگجو جوان مکہ پہنچا ، اس نے اپنا حلف توڑ دیا اور پھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بدزبانی کرنے لگا۔ اور دشمنان اسلام کے ساتھ مل گیا ۔ اتفاق ایسا ہوا کہ وہ پھر قید ہوا اور

صفحہ ۱۰۷

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے ایک بار اور معافی طلب کی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے، اس کی بات ردّ کردی : " ایک سچا مسلمان ایک ہی سانپ سے دو بار کبھی بھی نہیں ڈسا جاتا اے معاویہ بن مغیرہ ! تم کبھی بھی مکہ نہیں جاسکو گے کہ کہو : میں نے محمدؐ کو دو بار دھوکہ دیا ہے ۔ خوب غور سے سنو! ایک سچا مسلمان دو بار نہیں ڈسا جا سکتا، اے زبیر! اے عاصم ! اس کا سر قلم کردو۔" اور اس حکم کی فوری تعمیل ہوئی ۔

[بخاری شریف ۔ جلد : صفحہ ۹۰۵ ،

سیرت ۔ ابن ہشام ۔ جلد دوم صفحات ۶۱۷ - ۶۱۸ ]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنانِ اسلام کے بارے میں فرمایا : " زندہ چھوڑ دئیے جانے کی نسبت میں ان کو قتل ہوتا ہوا دیکھنا پسند کروں گا "

جب مسلمانوں نے جنگ بدر کی طرف پیش قدمی کی کہ کفار مکہ کا سامنا کریں تو یہ واضح ہو گیا کہ وہ تعداد میں نسبتاً بہت کم تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جو اپنے خیمے میں دعا میں مصروف تھے اور اللہ تعالیٰ سے فتح کی استدعا کر رہے تھے ، ایک مٹھی کنکروں کی اٹھائی اور انھیں دشمنوں کیطرف پھینکا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حملے کا حکم فرمایا ۔ دشمن کو بُری طرح شکست ہوئی ۔ جب مشرکین مسلمانوں کے ہاتھوں قتل

صفحہ ۱۰۸

ہو رہے تھے تو سعد بن معاذ خیمہ رسول کے دروازے پر کھڑے پہرہ دے رہے تھے تاکہ دشمن پلٹ کر ان پر حملہ نہ کر دیں جو کچھ مسلمان کر رہے تھے وہ انھیں پسند نہ آیا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو انھوں نے فرمایا : "اے سعد! یہ ایک موقع ہے جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دشمن پر حملہ کرنے اور جنگ لڑنے اور ایک ناقابل فراموش سبق سکھانے کا ، مہیا کیا ہے ۔ میں دشمنوں کو زندہ دیکھنے کی نسبت مقتول دیکھنا زیادہ پسند کروں گا"

[سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ ۴۸۵]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ابی بن خلف کو ہلاک کیا :

یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی ذاتی وجوہ کی بنا پر انتقام نہیں لیا ۔ جب کبھی انھوں نے کوئی عمل کیا تو وہ صرف اور محض اللہ اور دین اسلام کی خاطر تھا۔ معرکہ احد کے دوران میں ایک مشرک ، ابی بن خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل ہوا اور اس نے ان کو ختم کرنے کی کوشش کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی مدافعت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اس لیے انھوں نے ابی بن خلف پر وار کر کے اس کا خاتمہ کر دیا ۔ یہ واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے :

"اسلام کا ایک جانی دشمن ، ابی بن خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے عزتی اور تضحیک کیا کرتا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر وہ کہا کرتا تھا : 'اے محمد !(صلی اللہ علیہ وسلم) میں اپنے گھوڑے عیض کو ہر روز خوب کھلاتا پلاتا ہوں تاکہ ایک روز میں اس پر سوار ہو کر تمہیں قتل کروں' "

صفحہ ۱۰۹

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب ہوتا : "تم ایسا ہرگز نہیں پاؤ گے ۔ ہاں ! انشاء اللہ میں تمہیں ٹھکانے لگاؤں گا ۔"

معرکہ احد کے دوران میں جب اپنے چند صحابہؓ سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبل احد پر چڑھے تو ابی بن خلف نے انھیں جا لیا اور کہنے لگا : "اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر اب تم مجھ سے اپنی جان بچا لو تو میں اسے اپنی موت سمجھوں گا ۔"

صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ آیا ان میں سے کوئی ایک حملہ آور ہو لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے تعرض نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ جب وہ اور قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حارث بن الصمہ کا نیزہ لے کر اس پر وار کیا ۔ دشمن اسلام ابی بن خلف گھوڑے سے گر گیا اور واصل بہ جہنم ہوا ۔

(سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۸۴)

مندرجہ ذیل توہین رسالت کے مجرم انسانی کتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے موت کی سزا دی :

سلام بن ابوالحقیق :

سلام بن ابوالحقیق، ابو رافع کے طور پر معروف تھا ۔ وہ حجاز میں خیبر کے مقام پر ایک خوشحال اور مشہور تاجر تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زبان بد استعمال کرتا اور ان کا ٹھٹھا اڑاتا ۔ اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موت کی سزا سنائی اور مسلمانوں کی ایک جماعت کو اس کا کام تمام کرنے کے لیے بھیجا ۔ عبداللہ بن عتیق اس کے سربراہ مقرر کیے گئے ۔

صفحہ ۱۱۰

اس میں عبداللہ بن انیس بھی شامل تھے۔ یہ لوگ خیبر میں رات کے وقت پہنچے اور اس کے قلعے میں داخل ہوئے جہاں انھوں نے ابو رافع اور اس کے خاندان کو سوتے ہوئے پایا۔ اپنی تلوار کا استعمال کرتے ہوئے عبداللہ بن انیس نے اس کا پیٹ چاک کیا اور اس کو ختم کر دیا۔ قلعے سے باہر آتے ہوئے عبداللہ بن عتیق سیڑھی پر سے گر گئے اور ان کی ٹانگ میں چوٹ آئی لیکن ان کو اطمینان تھا کہ وہ اللہ کے حکم (ابو رافع کے قتل) کی تعمیل کر چکے ہیں۔ مدینہ پہنچ کر انھوں نے پورا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کیا۔ آپ کو اس خبر سے بہت خوشی ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خوش گوار کیفیت میں فرمایا : "اے عبداللہ بن عتیق ! اپنی ٹانگ پھیلاؤ" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ملا اور یہ ایسے شفایاب ہوگئی جیسے کہ اس پر کبھی کوئی چوٹ ہی نہیں آئی تھی۔

[۱۔ بخاری ، ۲۔ سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحات ۴۷۱ ۔ ۴۷۲ ،

۳۔ کتاب الجہاد کتاب المغازی صفحات ۵۷۷ ۔ ۵۷۸ ،

۴۔ السیف الصارم صفحات ۱۴۷ ۔ ۱۴۸ ] ۔

ابو عفک :

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی تو ابو عفک ۱۲۰ سال کا بوڑھا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شدید دشمنی کا اظہار کیا تھا اور لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا تھا۔ بدر کی فتح عظیم کے بعد اس نے عداوت میں اور تندی و تیزی پیدا کی اور نظمیں لکھنی شروع کر دیں جن میں غلیظ اور گستاخانہ زبان استعمال کی ۔ جب اسلام کے پکے دشمن الحارث بن سوید بن صامت کو موت کی سزا دی گئی تو

صفحہ 111

ابوعفک نے ایک نظم لکھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گالیاں بھری اور ہتک آمیز زبان استعمال کی، نیز اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اور ٹھٹھا اڑایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظم سنی تو کہا :

"تم میں سے کون اس غلیظ بدکردار آدمی کو ختم کرے گا ؟"

سالم بن عمیر نے اپنی خدمات پیش کیں۔ وہ ابوعفک کے پاس گیا جب وہ سو رہا تھا اور اس کے جگر میں تلوار اتنے زور سے بھونکی کہ بستر کے پار نکل گئی۔ ابوعفک چیخا، اس کے آدمی لپک کر آئے بھی لیکن اس کو بچانے کے لیے بہت دیر ہو چکی تھی ۔ [سیرت ابن ہشام : جلد دوم صفحہ ۱۰۵۱،

السیف الصارم ۔ صفحہ ۱۰۳ ]

صفوان بن امیہ :

اپنے قبیلے کا سردار ، صفوان بن امیہ ، اسلام کا انتہائی شدید ترین دشمن تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے عزتی کرنے ، انھیں جسمانی گزند پہنچانے اور ذہنی اذیت دینے کا وہ کبھی بھی موقع ہاتھ سے نہیں چھوڑتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قابل سزائے موت قرار دیا۔ جیسے ہی اسے سزائے موت کا علم ہوا اور اُسے یقین ہو گیا کہ اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا، تو وہ جدہ بھاگ گیا۔ وہاں یا تو وہ خودکشی کرنا چاہتا تھا یا بذریعہ سمندری جہاز یمن فرار ہو جانا۔ عمیر بن وہب ، جو پہلے صفوان کا گماشتہ رہ چکا تھا، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کرنے کے لیے اجرت بھی دی گئی تھی لیکن تب تک وہ اسلام قبول کر چکا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور صفوان بن امیہ کی حالت زار بیان کی ۔ اس نے بتایا کہ صفوان فرار ہو چکا ہے اور سمندر میں کود کر خودکشی کرنا چاہتا ہے ۔ عمیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پرانے آجر کی

صفحہ ۱۱۲

جان بخشی کی درخواست کی ۔ پھر عمیر فی الفور صفوان کے تعاقب میں روانہ ہو گیا ، اسے جالیا اور اس سے خودکشی نہ کرنے کی منت سماجت کی ۔ اس نے صفوان کو یہ بھی بتایا :

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے زیادہ نیک ، پاک اور رحمدل ہیں اور بہترین خلائق ہیں ، تمہیں معاف فرما دیا ہے اور تمہاری جان بخشی فرما دی ہے ۔"

تب صفوان کی مسلمہ بیوی ، فاختہ بنت الولید اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور لے کر آئی جہاں اس نے اسلام قبول کیا اور باقی ماندہ زندگی میں اس کی وفاداری کے ساتھ خدمت انجام دی ۔

[سیرت ابن ہشام صفحہ ۵۵۵]

انس بن زنیم الدّیلی :

یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شاتم تھا ۔ ایک دفعہ بنو خزاعہ کے ایک نوجوان نے اسے ایسا کرتے سنا تو اس کے سر پر وار کیا ۔ انس نے اپنے قبیلے کے پاس جا کر اپنا زخم دکھایا اور ان سے ہمدردی اور مدد کا طالب ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خطرناک صورت حال سے آگاہ کیا گیا جو انس کے گستاخانہ اور بدزبانی کے رویے سے پیدا ہوئی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ انس کو قانون کے سپرد کر کے قتل کر دیا جائے ۔ انس کے خلاف اس فیصلے کے اعلان سے صورت حال بدل گئی مگر فیصلے کی تعمیل سے قبل حضرت نوفل بن معاویہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور درخواست کی کہ انس کی معذرت خواہی اور توبہ قبول کی جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معذرت قبول کرلی اور انس کو معافی مل گئی ۔ (سیرت ابن ہشام جلد دوئم صفحہ ۸۷۹)

صفحہ ۱۱۳

السیف الصارم صفحہ ۱۰۴، احکام الردہ ۔ صفحات ۱۰۵ ۔ ۱۰۶) ۔

حارث بن ہشام اور زبیر بن ابوامیہ کے معاملے :

حارث بن ہشام اور زبیر بن ابو امیہ، جو قبیلہ مخزوم کے تھے اور حضرت اُمّ ہانی بنت ابو طالب زوجہ ہبیرہ بن ابو وہب المخزومی کے بہنوئی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں اور اسلام کے انتہائی شدید دشمن تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے لیے موت کی سزا سنائی ۔سزا کے اعلان کے فوراً بعد حضرت علی بن ابی طالب نے حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کی غرض سے ان کی تلاش میں نکلے۔ حضرت اُمّ ہانی روایت کرتی ہیں :

”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا کا اعلان فرمایا، تو میرے دونوں بہنوئی تعمیل سزا کے خوف سے میرے گھر آئے ۔میرا بھائی علی ابن ابی طالب اللہ کی قسم کھاتا ہوا میرے گھر میں داخل ہوا کہ وہ ان دونوں کو قتل کر دے گا ۔ میں نے نہایت مشکل سے اس کو روکا ۔تب میں نے ان دونوں کو اپنے گھر میں تالا بند کیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے گئی ۔انھوں نے میری پذیرائی کی اور میری آمد کی غرض دریافت کی ۔جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دو بہنوئیوں کی سزائے قتل اور اپنے بھائی کے ان کے خلاف اقدام کا قصہ سنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے امّ ہانی ! جسے تم پناہ دو ، اسے ہم پناہ دیتے ہیں اور وہ جنھیں تم بچانا چاہتی ہو وہ محفوظ اور بحفاظت ہیں ۔اپنے گھر واپس جاؤ۔ علیؓ انھیں قتل نہیں کریں گے “ (سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۸۶۹)

صفحہ ۱۱۴

Karachi. Cell : 92-321-3817119 yahoo.com

ابو سفیان بن حرب :

ابو سفیان بن حرب مکہ میں خاندان قریش کا بڑا ممتاز شخص تھا ۔ اسلام اور مسلمانوں کی نفرت نے اس کو اس قدر اندھا کر دیا کہ اس نے اسلام کے لیے اپنی دشمنی ، جنگ بدر ، احد اور خندق میں مشرکین کا سربراہ بن کر جاری رکھی ۔ اس کی وجہ سے بہت سے مسلمان شہید ہوئے اور کئی مرتبہ اس نے اسلام کو تباہ کرنے اور رسول اکرم ﷺ کو فنا کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کی ۔ حضرت محمد ﷺ نے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :

” مکہ میں ابو سفیان ہمیشہ میرے بارے میں تحقیر آمیز لہجے میں بات کرتا ہے اور میرے احساسات کو مجروح کرتا ہے “

رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کر دیئے جانے کا حکم دیا اور عمرو بن امیہ الضمری اور جبار بن صخر الانصاری کو اس کا قصہ پاک کرنے کے لیے مکہ روانہ کیا ۔ اسلام کے یہ دو بطل جب مکہ پہنچے تو اندھیرا چھانے کو تھا ۔ اس وجہ سے وہ پہلے طواف کعبہ کے لیے گئے اور ابو سفیان کی تلاش شروع کرنے سے پہلے دو رکعت نماز ادا کی ۔ عمرو بن امیہ کا بیان ہے :

” جب ہم مکہ کی گلیوں میں گھوم رہے تھے تو ایک آدمی نے مجھے دیکھ کر پہچان لیا اور چیخ کر بولا : یہ عمرو بن امیہ ہے ۔ بخدا ! تم کسی برے ارادے سے ہی آئے ہو ۔ خطرہ محسوس کرتے ہوئے ، ہم تیزی کے ساتھ مکہ سے نکل آئے اور ایک پہاڑی پر تیزی کیساتھ چڑھ گئے ، اہل مکہ ہمارے تعاقب میں آئے مگر ہمیں پا نہ سکے ۔ ہم رات کے لیے ایک غار میں چھپ گئے جس کے لیے ہم نے غار کے دہانے پر کچھ پتھر ڈھیر کر دیئے ۔ صبح ہوئی تو ہم ابو سفیان کی تلاش میں پھر سے نکلے لیکن

گھوڑے پر سوار ایک قـ میں چاقو چلا دیا جسکی و کی توجہ اسکی طرف ہو لوگوں نے اسکے ارد وہ اسوقت تک مر جن سے ہم بلا ارادہ جگہ سے جلد نکل چلے بن امیہ نے بیان راستے میں میں نے اچانک بنو الد ہوا ۔ گفتگو کے بنو بکر سے تھا ۔ ہوا کہ وہ اسلا کا اظہار بڑے دشمنی کا یقین ہو وہ سو گیا تو میں بالکل اندھا کر تاآنکہ قریش بـ رسول اللہ صلی تھا ۔ میں نے کیا ۔ پس میں نے ہتھیار ڈ

صفحہ ۱۱۵

گھوڑے پر سوار ایک قریشی کے ساتھ لڑائی میں الجھ گئے ۔ میں نے اسکی چھاتی میں چاقو چلا دیا جسکی وجہ سے اس نے چیخ پکار شروع کر دیا پھر گھوڑوں کی توجہ اسکی طرف ہو گئی۔ اس وجہ سے میں بھاگ کر پہاڑی میں چھپ گیا لوگوں نے اسکے ارد گرد جمع ہو کر پوچھا کہ کس نے اسکے چھرا بھونکا ہے لیکن وہ اسوقت تک مرچکا تھا۔ ان مسائل اور الجھنوں کا ادراک کرتے ہوئے جن سے ہم بلا ارادہ دوچار ہورہے تھے، میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس جگہ سے جلد نکل چلیں، اس لیے تاریکی ہوتے ہی ہم مدینہ کیلئے چل پڑے ۔ عمرو بن امیہ نے بیان جاری رکھتے ہوئے کہا : مدینہ واپس جاتے ہوئے راستے میں میں نے دجناں کے قریب ایک غار میں پناہ لی ۔ وہاں پر اچانک بنو الدیل کا ایک کانا آدمی ایک میمنا لیے کہیں سے آ وارد ہوا۔ گفتگو کے دوران میں مجھے معلوم ہوا کہ میری طرح وہ بھی قبیلہ بنو بکر سے تھا۔ بعد میں جب اس نے گانا شروع کیا تو مجھ پر ظاہر ہوا کہ وہ اسلام کے بہت ہی خلاف تھا ۔ اس نے اپنے احساسات کا اظہار بڑے واضح الفاظ میں کیا۔ ایک دفعہ اب جبکہ مجھے اس کی دشمنی کا یقین ہو گیا تو میں نے اسے سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا۔ جب وہ سو گیا تو میں نے اس کی صحیح آنکھ میں سے اپنا تیر پار کر دیا۔ اس کو بالکل اندھا کر دیا۔ پھر میں تیز رفتاری سے غار سے مدینہ کی جانب نکلا تا آنکہ قریش کے دو آدمیوں سے ملاقات ہوئی جنھیں مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کی مدینہ میں جاسوسی کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ میں نے ان سے ہتھیار ڈال دینے کے لیے کہا لیکن انھوں نے انکار کیا۔ پس میں نے ان میں سے ایک کو تیر مار کر ہلاک کر دیا ۔ تب دوسرے نے ہتھیار ڈال دیئے۔ میں نے اسے مضبوطی سے باندھ لیا اور اپنے

صفحہ ۱۱۶

ساتھ مدینہ لے آیا“ (سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۱۰۴۹) ۔

توہین رسالت کے مجرم سرداران مکہ کا انجام بد :

حضرت عبداللہ بن مسعود کا بیان ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے تو قبیلہ قریش کے چند افراد نے ان کی ہنسی اڑائی اور تحقیر کی۔ عقبہ بن ابی معیط ایک ذبح شدہ اونٹنی کا رحم اٹھا لایا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے تو اسے ان کی پشت پر پھینک دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر سجدے سے نہ اٹھایا حتیٰ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لے آئیں۔ انھوں نے رحم کو حضور کی پشت پر سے اٹھایا اور اس غلیظ فعل کے ذمہ دار شخص کو سخت سست کہا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی کہ وہ ان کو سزا دے جو ان کی بے عزتی کر رہے تھے اور شرمناک حرکتیں کرتے تھے۔ انھوں نے کہا :

”اے اللہ ! ان کافر سردارانِ قریش سے نمٹ لے اور ان سب کو تباہ و برباد کر دے یعنی ابوجہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، عقبہ بن ابی معیط ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف یا ایک اور روایت کے مطابق ابی بن خلف کو “

عبداللہ بن مسعود نے مزید بیان کیا ہے : ”میں نے دیکھا کہ قریش کے یہ تمام کافر سردار معرکۂ بدر میں قتل ہوئے اور ماسوائے امیہ یا ابی کی لاش کے باقی سب کی لاشیں ایک کنویں میں پھینک دی گئیں ۔ امیہ یا ابی کی لاش کے پہلے ٹکڑے کیے گئے اور پھر کنویں میں پھینکی گئی ۔ (بخاری ۔ جلد اول صفحات ۵۴۴، ۵۴۳، مسلم ۔ جلد دوم ۔ صفحہ ۱۰۸) ۔

صفحہ ۱۱۷

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کو زندہ جلانے کے لیے

حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو بھیجا :

توہین رسالت کے مجرم کفر گو بد بخت منافقوں کی ایک جماعت یہودی سُوَیلم کے گھر میں یہ بحث کرنے کے لیے جمع ہوئی کہ تبوک کی مہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے کی کس طرح حوصلہ شکنی کی جائے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سازش کے بارے میں سنا تو انھوں نے حضرت طلحہؓ کو اور ایک جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کو طلب کیا اور ان کو حکم دیا کہ وہ سُوَیلم کے گھر کو اور اس میں جمع تمام کفر گو منافقوں کو جلا دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کی گئی۔ جیسے ہی گھر کو آگ لگائی گئی ، کچھ منافقوں نے مکان کی چھت پر سے اپنے آپ کو نیچے گرایا اور زخمی ہوئے جبکہ دوسرے بچ نکلے۔ بعد میں دشمن کو زندہ جلانے کا حکم منسوخ کر دیا گیا لیکن موت کی سزا قائم رہی۔

(سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۹۴۴)۔

حضرت محمد بن حمزہ الاسلمی سے روایت کی جاتی ہے : ” رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فوج کی ایک جماعت کا سردار مقرر فرمایا ۔ آپ نے مجھے کچھ حکم اور ہدایات دیں۔ ان میں سے ایک ہدایت یہ تھی کہ اگر فلاں فلاں افراد پائے جائیں تو وہ زندہ جلا دیئے جائیں۔ لیکن ہماری مہم پر روانہ ہونے سے قبل، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے واپس طلب فرمایا اور کہا کہ اگر وہ افراد مل جائیں تو ان کو قتل کر دیا جائے ، جلایا نہ جائے کیونکہ کوئی بھی آگ کے ساتھ عذاب دینے کا مجاز نہیں سوائے اللہ رب النار کے “

(ابو داؤد ۔ کتاب الجہاد صفحات ۳۶۲-۳۶۳)۔

صفحہ ۱۱۸

حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے۔ انھوں نے کہا: "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو کفر گو دشمنانِ اسلام ہبار بن اسود اور نافع بن عبد کے خلاف اپنے حکم کی تعمیل کے لیے بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اگر تم ان دونوں کو پاؤ تو دونوں کو جلا کر ختم کردو" جب ہم روانہ ہونے کے لیے تیار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں واپس بلایا اور کہا: "میں نے تمہیں ان افراد کے جلا دینے کا حکم دیا ہے لیکن اس کی تمہیں اجازت نہیں ہے۔ یہ سزائے الٰہی ہے۔ اس لیے اگر تم ان کو پاؤ تو فوراً قتل کر دو لیکن ان کو جلاؤ نہیں"

[بخاری ۔ باب لا یعذب بعذاب اللہ، جلد اول صفحہ ۴۲۳

ابوداؤد ۔ کتاب الجہاد ۔

سیرت ۔ ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۹۴۴ ]

حضرت ابو عامر الاشعری اور زید بن حارثہ کے کارنامے:

یوم اوطاس میں حضرت ابو عامر الاشعری دس آدمیوں سے ملے جو سب کے سب بھائی تھے۔ وہ اپنے توہین رسالت جیسے کریہہ جرم کیلئے معروف تھے۔ انھوں نے حضرت ابو عامر پر حملے شروع کر دیئے لیکن وہ بہادری سے لڑے اور نو کو قتل کر دیا۔ جب وہ آخری فرد سے برسرِ پیکار ہوئے اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد کی اس طرح دعا کی : "اے اللہ! میری اس آخری دشمن کے خلاف بھی ایسی مدد فرما جیسے باقی نو کے خلاف فرمائی"

صفحہ ۱۱۹

ابو عامر کی دعا سن کر آخری زندہ بھائی زور سے بولا : ” اے اللہ ! میرے خلاف تصدیق مت کر “

یہ سن کر ابو عامر نے اس کو جانے دیا۔ بعد میں وہ مسلمان ہوگیا اور اس نے اسلام کی خوب خدمت کی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھا کرتے تو فرماتے : ” یہ ابو عامر کے خلاف کشمکش میں سے باقی ماندہ ہے کہ اسلام کی پاک تحریک کی خدمت گزاری کرے “

(سیرت - ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۹۰۴)

” حضرت زید بن حارثہ کو ایک جمعیت کے ساتھ بنی فزارہ کے خلاف بھیجا گیا۔ یہ بنی نوع انسان کے وہ کافر تھے جو اسلام کے خلاف مسلسل دشمنی دکھاتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاتم تھے ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ وادی القریٰ میں نبرد آزما ہوئے اور ان میں سے بہت سوں کو ختم کر ڈالا۔ باقی زخمی ہوئے یا قیدی ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فیصلے کے لیے لائے گئے “

(سیرت - ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۱۰۳۴)

توہین رسالت کے جرم میں ملوث عورتیں موت کے گھاٹ

اتار دی گئیں :

عرب میں توہین رسالت کے مرتکب کفر و بدگوئی کرنے والے مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ چند عورتیں طاقت ور سرداران قریش کی منکوحہ تھیں اور اس لیے ایسے ماحول کی پروردہ تھیں جہاں انھوں نے محسوس کیا کہ ان کی مراعات یافتہ حیثیت کو اسلام سے خطرہ ہے ۔ کچھ اور گانے والی لڑکیاں تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی

صفحہ ۱۲۰

کو گالیاں دیا کرتی تھیں ۔ ایک اور زمرے میں وہ عورتیں تھیں جن کو اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت نے اندھا کر رکھا تھا ۔

حضرت ابن عباس سے روایت کی جاتی ہے :

”ایک نابینا مرد کی شادی ایک کنیز سے ہوئی تھی ۔ وہ جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بات کرتی تو بدزبانی کرتی ۔ اس کے خاوند نے منع کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا ۔ سرزنش بھی اس کے گستاخانہ اور بے حرمتی کے رویے سے اسے باز نہ کر سکی ۔ ایک رات جب اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بدکلامی شروع کی تو اس کے نابینا خاوند نے اسے چاقو مار مار کر ہلاک کر دیا ۔ اس کے پاس پڑے ہوئے بچے پر بھی خون لتھڑ گیا ۔ صبح کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے لوگوں کو اپنے پاس جمع ہونے کے لیے کہا ۔ پھر آپ نے بآواز بلند کہا :

”خدا کی قسم ! جس شخص نے یہ کام کیا ہے میں اس سے درخواست کرتا ہوں ۔ مجھے پورا اختیار ہے کہ میں اس سے کھڑا ہو جانے کے لیے کہوں “

دوسرے لوگوں کے کندھوں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا اور خوف سے لرزاں نابینا اٹھا اور سب کے سامنے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے ، چلا گیا ۔

اس نے کہا :

”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس عورت کو قتل کیا ہے ۔ وہ آپ کو گالیاں دیا کرتی تھی ۔ میں نے اپنی بہترین کوشش کر دیکھی لیکن وہ سنتی ہی نہیں تھی ۔ میں نے اس کی سرزنش بھی کی

صفحہ ۱۲۱

لیکن وہ اپنی بدعادت ترک نہیں کرتی تھی۔ اس کے بطن سے میرے موتیوں جیسے دو بیٹے ہیں ۔ وہ میری محبوبہ ساتھی تھی لیکن گئی رات حسب معمول اس نے آپ کو گالیاں بکنی شروع کر دیں ۔ اس باعث میں نے اس کو قتل کر دیا “

نابینا کی سرگزشت سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : اے (حاضرین مجمع!) گواہ رہو کہ اس کا خون بہانا لازم تھا اور اس کے لیے کوئی بدلہ یا انتقام نہیں ۔“

حضرت شعبی سے روایت ہے : ”ایک نابینا مرد ایک یہودیہ کے گھر بسیرا کیا کرتا تھا ۔ وہ ہمیشہ اسے کھانا مہیا کرتی ۔ وہ مہمان نواز تھی اور نابینا پر ترس کھاتی تھی لیکن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بد زبانی بھی کیا کرتی تھی۔ ایک رات جب وہ اپنے معمول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکنے میں مصروف تھی تو نابینا اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکا۔ اس نے یہودیہ کا گلا گھونٹ دیا ۔ صبح جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو انھوں نے دریافت فرمایا کہ یہ کام کس نے کیا ہے نابینا سامنے پیش ہوا اور پورا ماجرا سنایا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیہ کے نازیبا رویے کا علم ہوا تو آپ نے اس قتل کو جائز قرار دیا ۔“

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ”مدینہ منورہ میں ایک یہودیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتی تھی، اور آپ کی عظیم شخصیت کیخلاف بدزبانی بھی کرتی تھی، ایک غیرتمند مسلم نے اسکا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعہ کی تحقیق کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکے خون بہا کو جائز قرار دیا ۔ اس واقعہ کو ابو داؤد، نسائی اور ابن بطہ نے بھی روایت کیا ہے ۔“

صفحہ ۱۲۲

حضرت زبیر بن عوام اور حضرت خالدؓ کے کارنامے :

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : "ایک مشرک کو جو عادتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے عزتی کرتا اور انھیں گالیاں دیتا رہتا تھا، موت کا سزاوار ٹھیرایا گیا ۔ آپؐ نے ایک بار اپنے صحابہؓ سے پوچھا : میری خاطر اس آدمی کو کون ٹھکانے لگائیگا ؟"

حضرت زبیر بن عوامؓ نے کھڑے ہو کر کہا : "اے رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ کام کروں گا " وہ تعمیلِ حکم کے لیے چلے گئے ۔ جب وہ کافر کتا ہلاک ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مشرک کی تمام مملوکہ اشیاء حضرت زبیرؓ کو دے دیں ۔

حضرت عبدالرزاق نے بیان کیا : "ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتا تھا ۔ ایک روز حضور نے اپنے صحابہ سے پوچھا : دشمن کو تم میں سے کون موت کے گھاٹ اتارے گا ؟ "

حضرت خالد نے کھڑے ہو کر کہا : "اے اللہ کے رسول ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ کام میں کروں گا " تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس حکم کی تعمیل کیلئے روانہ کیا اور وہ کامیاب ہوئے ۔

(السیف الصارم صفحہ ۱۴۵، احکام الردہ و مرتدین صفحہ ۲۱۶) ۔

الُیَسَیرْ بن رزام اور اس کے ساتھی موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے :

خیبر کا ایک مشہور یہودی ، الیُسَیرْ ، اسلام کا سخت ترین دشمن اور شاتمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھا ۔ اس نے بنو غطفان کی ایک کثیر فوج مدینہ پر حملے کے لیے جمع کر رکھی تھی ۔ جیسے ہی اطلاع مدینہ پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے

صفحہ ۱۲۳

چند صحابہؓ کو الیُسَیر کے پاس اس کی خدمات حاصل کرنے کے لیے بھیجا۔ ان میں عبداللہ بن رواحہؓ اور عبداللہ بن اُنیسؓ بھی شامل تھے۔ انھوں نے الیُسَیر کو پیغام پہنچایا کہ اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آجائے تو اسے عزت و تکریم کے ساتھ خوش آمدید کہا جائے گا اور اس کی خدمات اسلام کے لیے فائدہ مند ہوں گی۔ الیُسَیر اس پر رضامند ہوگیا اور اپنے ساتھ دوستوں کی ایک تعداد بھی لے آیا۔ وہ عبداللہ بن اُنیس کے ساتھ اونٹ پر سوار ہوا۔ جب وہ خیبر سے چھ میل دور، مقام قرقرہ پر پہنچے تو الیُسَیر نے نیت بدل لی۔ جب اس نے اپنی تلوار عبداللہ بن اُنیس پر وار کرنے کیلئے نکالی تو باقی مسلمانوں نے اس کی اصلی نیت بھانپ لی۔ وہ الیُسَیر پر ٹوٹ پڑے اور اسے اور اس کے سب کفار ساتھیوں کو، ماسوائے ایک کے جو بھاگ نکلا، قتل کردیا۔ اِس مقابلے میں عبداللہ بن اُنیس زخمی ہوئے۔ جب وہ مدینہ واپس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن عبداللہ بن اُنیس کے زخموں پر ملا جو معجزانہ طور پر بھر گئے ۔

(سیرت ابن ہشام ۔ جلد دوم صفحہ ۱۰۳۷)

توہین رسالت کے مرتکب مجرم کے قاتل کیلئے انعام :

اپنے قبیلے کا مشہور آدمی، رفاعہ بن قیس الجشمی، اسلام کے بدترین دشمنوں میں سے تھا۔ وہ اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدزبانی کیا کرتا۔ اس کی اس سے بھی تسلی نہیں ہوتی تھی۔ اپنی اندھی نفرت پر قابو نہ پاسکا تو بنو جشم کے کثیر تعداد خیل لے کر وہ مقام غابہ کے پاس خیمہ زن ہوا تاکہ مزید لوگوں کو جمع کرلے اور انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغاوت پر بھڑکائے۔ اس کا اصلی مقصد مدینہ پر حملہ کرنا تھا۔ یہ خبر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی تو انھوں نے ابن ابی حدردؓ نیز دو اور مسلمانوں کو طلب کیا کہ وہ جائیں اور

صفحہ ۱۲۴

رفاعہ کا کام تمام کر دیں یا اسے آپ کے پاس پکڑ لائیں۔ ابن ابی ہدرد نے بیان کیا :

" ہم رفاعہ کی لشکر گاہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں شام کو پہنچے ۔ جب ہم نے اسکے خیمہ کا احاطہ کر لیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جب وہ مجھے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے سنیں اور لشکر گاہ کیطرف بھاگتے ہوئے دیکھیں تو وہ بھی ایسا ہی کریں ۔ ہم دشمن پر دفعتاً حملہ کا منصوبہ بنا رہے تھے ۔ اچانک ان کا سردار ، رفاعہ ، خیمے میں سے تلوار لہراتا ہوا نکلا ۔ اس کے حامیوں نے اسے اکیلا نہ جانے کے لیے بہت روکا۔ انھیں ڈر تھا کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے لیکن وہ تنبیہ کو خاطر میں نہ لایا۔ جیسے ہی وہ میرے بہت قریب سے گزرا میں نے ایک تیر چلایا جو اس کے دل کے پار نکل گیا اور اسے ہلاک کر دیا ۔ میں نے لپک کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا ۔ میں لشکر کی طرف اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے بھاگا ۔ حسب ہدایت میرے دو ساتھیوں نے بھی ویسا ہی کیا ۔ اس سے لشکری اتنے خائف ہوئے کہ وہ اپنے بیوی بچوں سمیت فرار ہوگئے میں رفاعہ کا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا ۔ اسلام کی خاطر میری کارگزاری سے وہ اتنے خوش ہوئے کہ انھوں نے مجھے بطور انعام ۱۳ اونٹ عطا فرمائے "

[سیرت ۔ ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۱۰۴۵]

خالد بن سفیان الہذلی کو سزائے موت :

خالد بن سفیان الہذلی اسلام کا بدترین دشمن تھا ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیا کرتا اور لوگوں کو ان کے خلاف اکساتا ۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مہم چلانے کے لیے نخلہ یا بقول دوسروں کے عرینہ جانے کے لیے

صفحہ ۱۲۵

روانہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن انیس کو خالد الہذلی کا قصہ تمام کرنے کے لیے مامور فرمایا ۔ عبداللہ بن انیس بیان کرتے ہیں : ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور کہا کہ انھوں نے خالد بن سفیان الہذلی کے نخلہ میں ایک لشکر جمع کر کے حملہ کرنے کی خبر سنی ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں جا کر اس کو ختم کر دوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حلیہ بتانے کی درخواست کی ۔ انھوں نے فرمایا : اگر تم اس کو دیکھ پاؤ گے تو وہ تمہیں شیطان کی یاد دلائے گا ۔ مزید یہ کہ وہ ہر وقت کانپتا رہتا ہے ۔“

ایک تلوار سے لیس ہو کر میں اس کی تلاش میں نکلا ۔ جب میں نے اس کو دیکھا تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا اس لیے میں نے پہلے عصر کی نماز ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ نماز ختم کرنے کے بعد جب میں نے اسے دیکھا تو ہوبہو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ویسے کانپ رہا تھا ۔ اس کے ارد گرد خواتین کا ایک پڑاؤ تھا جب اس نے مجھے دیکھا تو مجھ سے پوچھا کہ میں کون ہوں جس کے جواب میں ، اپنی اصلی شناخت چھپاتے ہوئے میں نے کہا کہ میں ایک عرب ہوں جس نے سنا ہے کہ خالد الہذلی ایک فوج جمع کر رہا ہے ایک ایسے شخص کے خلاف جو اپنے آپکو اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہونے کا اعلان کر چکا ہے ۔ میں ایسی فوج میں شامل ہونے کے لیے آیا ہوں ۔ اس نے جواب دیا کہ فی الواقع وہ ایک ایسی فوج جمع کر رہا ہے میں کچھ دیر اس کے ساتھ چلتا پھرتا رہا اور جیسے ہی موقع ملا ، میں نے تلوار سے وار کر کے اس کو موت سے ہمکنار کر دیا ۔ اپنے مامور مقصد کی تکمیل کے بعد میں نے تیزی سے راہِ فرار اختیار کی جب کہ اس کی عورتیں اس کی لاش پر بین کر رہی تھیں ۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں واپس ہوا ، انھوں نے مجھے دیکھ کر کہا :

صفحہ ۱۲۶

”عبداللہ جس نے اپنے مقصد مامور کی تکمیل کی ، زندہ باد !“

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے اسے موت کی نیند سلا دیا ہے

جس کے جواب میں آپ نے فرمایا :

”تم فی الواقع سچ کہہ رہے ہو “

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے گھر لے گئے اور مجھے ایک چھڑی عطا کی۔

آپ نے مجھ سے فرمایا کہ میں ہمیشہ اپنے پاس رکھوں اور ارشاد فرمایا :

”میرے اور تمہارے درمیان ، روز جزا یہ ایک نشانی ہوگی “

پس عبداللہ نے چھڑی کو تلوار کے ساتھ باندھ لیا اور یہ ان کے آخری دم تک ان کے پاس رہی ۔ یہ ان کے ساتھ قبر میں دفن کی گئی “

[سیرت ابن ہشام ۔ جلد دوم صفحات ۳۷ ، ۱۰۳۶]

شاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الحارث کی معذرت خواہی اور توبہ

نامنظور :

الحارث بن سُوَید بن صامت ایک منافق تھا ۔ وہ بھی اسلام کا سخت ترین دشمن تھا ۔ وہ معرکہ احد میں مسلمانوں کے ساتھ گیا لیکن جب معرکہ شروع ہوا تو اس نے دو مسلمانوں پر حملہ کرکے ان کو شہید کر دیا ۔ اس کے بعد وہ فرار ہوکر دشمن کی جمعیت سے جا ملا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ بن الخطاب کو موقع ملنے پر الحارث کو ٹھکانے کا حکم دیا لیکن وہ بچ نکلا ، بعد میں الحارث نے اظہار ندامت کیا اور معافی چاہی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قبول نہ کیا ۔ الحارث کے بارے میں ، تب اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی :

”كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ وَشَهِدُوْا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَاءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ ط وَاللَّهُ لَا يَهْدِي ـــــ

صفحہ ۱۲۷

الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ۝ (ال عمران ۳ : ۸۶) ”اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جو اسلام سے منحرف ہو گئے ہیں اور جس بات پر پہلے ایمان رکھتے تھے اس سے کفر کرنے لگے ہیں حالانکہ انھوں نے پہلے شہادت دی اور تصدیق کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مطلق سچائی کے ساتھ مبعوث کیے گئے اور ان کو صاف صاف نشانیاں اور ثبوت دیئے گئے ؟ اللہ کبھی بھی بُرے، بدکردار اور ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔“

ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے ۔ دفعتاً مدینہ کی دیواروں میں سے ایک سے الحارث، سرخ رنگے ہوئے دو ملبوسات پہنے ہوئے نمودار ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فی الفور حضرت عثمان بن عفان کو حکم دیا کہ اس کافر اور مرتد کا خاتمہ کر دیں چنانچہ حکم کی تعمیل کی گئی ۔

[سیرت ۔ ابن ہشام جلد دوم صفحات ۶۰۵ ۔

اسلام کو مسخ کرنے اور اس کی غلط تصویر پیش کرنیوالے نام نہاد مسلمانوں

کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان عام :

مسلمان جو شریعتِ اسلامی کے اصولوں کو مسخ کرتے یا اسلام کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی وجہ سے ہو ، چاہے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے یا دشمنان اسلام کو ، چاہے دنیاوی فوائد حاصل کرنے کے لیے یا اپنے آپ کو بطور مسلمانوں کے لیڈروں کے اپنی اہمیت جتلانے کے لیے، وہ درحقیقت اسلام کے دشمن ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حتمی فیصلے کے مطابق سچے مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کا کلی طور پر خاتمہ کر دیں ۔ صحیح بخاری میں حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت ابو سعید الخدری سے مروی ہے ۔ انھوں نے فرمایا کہ

صفحہ ۱۲۸

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : « قال صلی اللہ علیہ وسلم : یاتی فی اخر الزمان قومٌ حدثآء الاسنان ، سفھآء الاحلام ، یقولون من قول خیر البریة ، یمرقون من الاسلام کما یمرقُ السھم من الرمیة لا یجاوز ایمانھم من حناجرھم فاینما لقیتموھم فاقتلوھم فان فی قتلھم اجراً لمن قتلھم یوم القیامة »

(البخاری : باب قتال الخوارج والملحدین)

”جب یہ دنیا ختم ہونے کے نزدیک ہوگی تو کند ذہن اور بے وقوف نوجوان (نام نہاد مسلمان) اسلام کے نمائندوں کے طور پر ظاہر ہوں گے ۔ اپنے بے بنیاد مقاصد کے حصول کی خاطر اپنے گم کردہ راہ دعاوی کے ثبوت میں وہ قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بات کریں گے لیکن وہ اسلام سے اتنے ہی بدراہ ہوں گے جتنا کہ کمان سے چلایا ہوا تیر ۔ ان کے ایقان و عقائد ان کے حلق سے نیچے نہیں اتریں گے ۔ وہ صحیح مسلمان کبھی بھی نہیں ہوں گے کیوں کہ ان کا مقصد مسلّم امت میں فتنہ پھیلانا اور اسلامی شریعت کو بگاڑنا ہے ۔ وہ یہود و نصاریٰ کو جن کے درمیان وہ رہ رہے ہیں ، خوش کرنا چاہتے ہیں ، اس لیے ! اے مسلمانو! جہاں کہیں بھی تم ان کو پاؤ یا دیکھو تو ان کو ہلاک کر دو اور جہنم رسید کر دو کیونکہ جو کوئی بھی ان کو ہلاک کرتا ہے ، یومِ حساب بہت بڑا اجر پائے گا ۔“

نسائی میں حضرت ابو بُرزہ سے روایت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب یہ دنیا ختم ہونے کے قریب آئے گی ، مسلمانوں میں سے ایک ٹولہ

صفحہ ۱۲۹

ظاہر ہوگا۔ وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن یہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ سچے اسلام سے اتنے ہی گم راہ ہوں گے جتنا کہ کمان سے خطا کھایا ہوا تیر ۔ ایسے لوگ سب زمانوں اور وقتوں میں ظاہر ہوں گے لیکن ان کا آخری ٹولہ دجال کے ساتھ ظاہر ہوگا ۔ جب اور جہاں بھی ان کو پاؤ ہلاک کردو کیونکہ وہ انسانوں اور حیوانوں میں سے بدترین خلائق ہیں ۔ (نسائی)

حضرت قتادہ نے روایت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

"اے مسلمانو! اس طرح کے لوگوں (نام نہاد مسلمانوں) سے خبردار رہو کیونکہ ایسے لوگ میری امت میں ظاہر ہوں گے، وہ قرآن کی تلاوت کریں گے مگر ان کی تلاوت ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گی۔ اس لیے جب بھی وہ ظاہر ہوں، ان کو قتل کردو! یہ الفاظ تین بار دہرائے"

(تفسیر العلی القدیر ۔ جلد دوم صفحہ ۴۳۴،

احکام الردۃ والمرتدین صفحہ ۱۷۷، ۲۱۹،

مختصر تفسیر ابن کثیر جلد دوم صفحہ ۱۴۹) ۔

فتح مکہ کے روز پندرہ شاتمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ نے

موت کی سزا سنائی :

عرب کے طاقتور سرداروں، مکہ کے مشہور معززوں، مدینہ کے مغرور اور متکبر یہودیوں اور منافقوں نے اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی پوری پوری کوششیں کر دیکھیں لیکن بالآخر وہ ناکام رہے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقار اور ناموس کو مجروح کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ انھوں نے

صفحہ ۱۳۰

آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے جن سے ان کے پاؤں سے خون بہا، آپ کے خون کے در پے ہوئے ، مدینے کی دیواروں پر ہلہ بولا ، مسلمانوں کو جلتی ریت پر لیٹنے پر مجبور کیا اور ان کے جسموں کو گرم لوہے سے داغا ۔ بالفعل انھوں نے اسلام کو ملیا میٹ کرنے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو نقصان و تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ۔ ان دشمنوں میں سے بہت سے مختلف معرکوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ۔ لیکن کئی دوسرے ، جن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سزائے موت سنا رکھی تھی ، زندہ تھے اور آپ کے خلاف ، انکار ، عداوت اور نفرت کی باقاعدہ مہم جاری رکھے ہوئے تھے ۔

وہ انسانی شرافت اور مہذب رویّے کی تمام حدود پھلانگ چکے تھے ۔

فتح مکہ کے روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ماسوائے دس یا پندرہ توہینِ رسالت و بے حرمتی کے مرتکب مرد و زن کے ، باقی سب کے لیے عام معافی و امن کا اعلان فرما چکے تھے ۔ ان دس پندرہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سزائے موت سنا چکے تھے اور آپ نے اعلان فرما دیا تھا کہ یہ افراد چاہے غلافِ کعبہ کے پیچھے چھپے ہوئے پائے جائیں ، ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ، جنھیں سزائے موت سنائی گئی ، وہ تھے :

فتح مکہ کے روز جن کو قتل کی تعداد پندرہ تک بیان ذکر کیا ہے ۔ ابن ہشام میں مختلف تفصیلات ہیں

(ابو داؤد

سیرت

بخاری

نسائی

طبری

ال

ا

توہین رسالت کے

نے موت کی سزا دوسرے دشم کارآمد حربہ ۔ یعنی کے سزاوار قرار پا

صفحہ ۱۳۱

فتح مکہ کے روز جن کو رسول اللہ (صلعم) نے موت کا سزا وار ٹھہرایا ان کی تعداد پندرہ تک پہنچتی ہے ۔ سیرت نگاروں نے عام طور پر دس ناموں کا ذکر کیا ہے ۔ ابن ہشام نے صرف آٹھ گنائے ہیں ۔ بخاری ، ابو داؤد اور زرقانی میں مختلف تفصیلات لکھی ہیں ۔

(ابو داؤد ۔ باب : الاسیر یقتل ولا یعرض علیہ الاسلام صفحہ ۳۶۵ ،

سیرت ۔ ابن ہشام ۔ جلد دوم ۔ صفحات ۸۶۷ ، ۸۶۹ ، ۸۷۴ ، ۸۷۵ ،

بخاری ۔ باب : قتل الاسیر جلد اول صفحہ ۴۲۷ ،

نسائی ۔ باب : الحکم فی المرتد ۔ جلد دوم صفحہ ۱۶۹ ،

طبری ۔ جلد سوم صفحہ ۱۴۴ ،

الاصابہ ۔ جلد دوم صفحہ ۱۸۷ ،

السیف الصارم ۔ صفحات ۱۰۸ ، ۱۱۴ ، ۱۳۲ ، ۱۳۶ ، اور ۱۳۳ تا ۱۳۵ ) ۔

توہین رسالت کے جرم کے مرتکب شعرا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے موت کی سزا سنائی :

دوسرے دشمنان اسلام کے علاوہ ، عرب کے مشہور شاعر ، جن کا سب سے کارآمد حربہ ۔ یعنی ان کی زبان ، زہر ناک گالی پانی کی طرح انڈیلا کرتی تھی ، موت کے سزاوار قرار دیئے گئے ۔ ان میں سے مندرجہ ذیل نام قابل ذکر ہیں :

صفحہ ۱۳۲

کعب بن اشرف :

کعب بن اشرف مدینہ کا ممتاز اور بااثر یہودی شاعر تھا۔ وہ اسلام کا جانی دشمن بھی تھا۔ جب اس نے سنا کہ بدر میں قریش کو شکست ہوئی اور عربوں کے بہت سے اشراف لڑائی میں مارے گئے تو مکہ میں قریش سے جا ملا۔ اس نے اپنی شاعری میں رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینی اور بے عزتی کرنی شروع کر دی۔ ساتھ ہی اس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بھی تند و تیز غلیظ زبان میں حملے شروع کر دیئے۔ کچھ وقت مکہ میں گزارنے کے بعد وہ مدینہ واپس آیا۔ یہاں بھی اس نے جذبات بھڑکانے والی شاعری کی جس میں مسلمان مستورات کے بارے میں گستاخانہ

صفحہ ۱۳۳

الفاظ استعمال کئے نیز اللہ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا شروع کردیا۔ پہلے تو، اللہ کی طرف سے وحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ وہ صبر سے کام لیں اور انتقام کی نہ سوچیں۔ اللہ نے فرمایا :

" وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ اُوتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ اَشْرَكُوْا اَذًى كَثِيْرًا وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ہ "

(سورۃ ال عمران ۳ : ۱۸۶ )

اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) جن پر تم سے پہلے کتاب نازل کی گئی (یہودی اور عیسائی) ان سے یقیناً بہت کچھ سنو گے جو تمہیں رنج اور تکلیف پہنچائے گا اور مشرکوں سے بھی ۔ لیکن اگر تم صبر سے کام لو اور اپنے تقویٰ کو برقرار رکھو اور بدی کے خلاف اپنی حفاظت کرو تو یہ بلاشبہ محکم، با عزم اور ثابت قدم اعمال کے طریقوں میں سے ایک ہے ۔"

جب کعب بن اشرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے پر قائم رہا اور اس نے ہر ممکن طریقے سے آپ اور آپ کے صحابہ کو نقصان اور دکھ پہنچانے کی کوشش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو راستے سے ہٹا دینے کا فیصلہ کیا ۔ انھوں نے اپنے صحابہ کو بلا کر سوال کیا :

"مسلمانو ! تم میں سے کون ہے جو اس دشمنِ خدا ، کعب بن اشرف کی ، جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی و بے حرمتی کر کے اس کے غضب کو للکارا ہے ، گردن مار کر میرے حکم کی تعمیل کرے گا"

یہ سن کر محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور کہا :

" اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، انشاء اللہ، میں آپ کا حکم بجا لاؤں گا"

صفحہ ۱۳۴

میں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کا سر تن سے جدا کرنے کو تیار ہوں “ آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا :

” اے محمد بن مسلمہ ! اگر یہ کرسکو تو کر گزرو اور اس سے خلاصی حاصل کرو ۔ تم آزاد ہو کہ جو بھی چاہو حربہ اختیار کر لو تاکہ اس کو فنا کر سکو ۔ الحرب خدعہ : لڑائی دھوکہ ہے یعنی دشمن کو دھوکہ دے کر مارنا جائز ہے ۔ “

اس کے بعد ، وہ کعب کے رضاعی بھائی نائلہ اور چند ایک اور صحابہ کے ساتھ اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے روانہ ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہم قدم مدینہ کے قبرستان بقیع الغرقد تک گئے ۔ وہاں ان کو خدا حافظ کہتے ہوئے یہ دعا دی :

” بنام خدا جاؤ ۔ اے اللہ ! ان کی مدد فرما اور مجھے اشرف کے بیٹے سے نجات دلا “

وہ چاندنی رات تھی مسلمانوں کی جماعت پیدل چلتی رہی حتی کہ وہ کعب کے مکان پر پہنچ گئی ۔ ابو نائلہ نے اپنے رضاعی بھائی کو آواز دی ۔ بھائی کی آواز سن کر کعب باہر آیا ۔ ابو نائلہ نے پوچھا کہ چونکہ رات اتنی حسین تھی آیا وہ سیر کے لیے باہر جانا پسند کرے گا ۔ کعب رضامند ہو گیا ۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ سیر کرتے اور باتیں کرتے گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد ، ایک مناسب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نائلہ نے اپنے ساتھیوں سے کعب بن اشرف کو مارنے کے لیے کہا ۔ محمد بن مسلمہ نے بیان کیا :

” میں نے اپنا خنجر اس کے پیٹ کے نچلے حصے میں پیوست کر دیا پھر اس پر وزن ڈالا حتی کہ وہ اس کے عضو تناسل میں اتر گیا ۔ دشمن خدا اور رسول ، یعنی کعب ، گر گیا ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر

صفحہ ۱۳۵

کرنے کے لیے رات جانے سے پہلے مدینہ واپس آئے ۔ ہم نے باہر سے ہی ان کو سلام کیا ۔ ہماری آواز سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خوش آمدید کہنے کے لیے مسجد کے دروازے تک ہی تشریف لے آئے ۔ تب ہم نے آپ کو اطلاع دی کہ ان کے حکم کی کامیابی کے ساتھ تعمیل کر دی گئی ہے اور کعب بن اشرف کا کام تمام کر دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ہمارا ایک ساتھی زخمی بھی ہو گیا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے زخم کو شفا بخشنے کے لیے اس پر اپنا لعاب دہن لگایا۔ پھر ہم اپنے اپنے گھروں کو واپس آگئے ۔"

[ بخاری ۔ کتاب المغازی

مسلم ۔ کتاب الجہاد

ابو داؤد ، کتاب الجہاد صفحہ ۳۸۲

سیرت ابن ہشام ۔ جلد اول صفحات ۵۷۴ تا ۵۷۹

السیف الصارم ۔ صفحات ۷۰ تا ۹۰

احکام الردہ والمرتدین ۔ صفحہ ۷۰

زاد المعاد ۔ جلد دوم صفحہ ۳۴۸ ] ۔

کعب بن زہیر :

دو بھائی ، کعب بن زہیر اور بُجَیر بن زہیر عرب کے دو نہایت ممتاز شاعر تھے۔ جب پیغام اسلام سرزمین عرب اور سرحد پار میں پھیلنے لگا تو بُجَیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے مدینہ حاضر ہوا۔ تب اپنے بھائی کعب سے مشورہ کیے یا بتائے بغیر بُجَیر مسلمان ہو گیا۔ جب خبر کعب کو پہنچی تو وہ بہت پریشان ہوا۔ اس

صفحہ ۱۳۶

نے فی الفور ایک ہجو لکھی ۔ ایک نظم جس میں اس نے اپنے بھائی پر تنقید اور رسول اللہ ﷺ کی ہجو اور مذمت کی ۔ جب بجیر نے نظم سنی تو اس نے آپ کو اطلاع دینا اپنا فرض سمجھا ۔ نظم سننے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے کعب کے لیے سزائے موت کا حکم جاری کیا ۔ اس سے بجیر نہایت خوف زدہ ہو گیا اور اس نے اپنے بھائی کو پیغام بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی ہجو یا بے ادبی کرنے والوں کے لیے احکام سزائے موت جاری کیے ہیں ۔ دوسرے ، مثلاً ابن زبعری اور ہبیرہ بن ابو وہب فرار ہو چکے ہیں ۔ بجیر نے اپنے بھائی کو مشورہ دیا کہ یا تو وہ اپنے جرم سے تائب ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے کیونکہ آپ کسی تائب ہونے والے کو نہیں مارتے ہیں یا پھر وہ کسی محفوظ جگہ میں فرار ہو جائے ۔

یہ پیغام وصول کرنے پر کعب نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کا فیصلہ کیا تاکہ مخلص اور حقیقی توبہ کر کے رسول اللہ ﷺ سے معافی اور پناہ چاہے ۔ ایک دوست کی معیت میں بھیس بدل کر وہ مدینہ پہنچا ۔ جب وہ مسجد نبوی میں داخل ہوا تو ابھی صبح صادق تھی اور رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز فجر ادا فرما رہے تھے ۔ نماز کے بعد ، کعب رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے ، پوچھنے لگا : یا رسول اللہ ﷺ ! اگر کعب تائب ہو جائے اور آپ سے پناہ چاہے تو کیا آپ اس کی آرزو پوری کریں گے ؟۔

رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ وہ محفوظ ہو جائے گا ۔ اس پر کعب نے اپنا چہرہ بے نقاب کیا اور کہا :

اے رسول خدا ! (ﷺ) یہ ہے وہ جگہ جہاں وہ آپ کی پناہ چاہتا ہے ۔ میں کعب بن زہیر ہوں ۔

یہ سننا تھا کہ ایک صحابی کعب پر لپکا اور رسول اللہ ﷺ سے اجازت

صفحہ ۱۳۷

چاہی کہ وہ دشمن کا سر تن سے جدا کر دے لیکن آپ نے اسے روک دیا۔ انھوں نے صحابی سے کہا کہ کعب نے توبہ کر لی ہے اور اپنے ماضی سے پوری طرح کٹ گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اس کی عفو خواہی قبول کر لی اور اس کو تحفظ بھی عطا فرمایا۔ اس سے ایک اچھی نظم سننے کے بعد آپ نے اسے اپنی بردہ بھی عطا فرمائی اور سو اونٹ بطور تحفہ دیئے ۔

(سیرت ۔ ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۹۳۶

السیف الصارم صفحات ۱۴۲ تا ۱۴۵ ) ۔

عبداللہ بن زبعری :

مکہ کا مشہور شاعر ، ابن زبعری ، جو رسول اللہ ﷺ اور اسلام کا بدترین دشمن تھا ، آپ کی شان میں اور مکہ کے مسلمان شاعروں کے بارے میں بد کلامی کیا کرتا تھا۔ حضرت سعید بن المسیب بیان فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کی سزا کا حکم فرمایا ۔ یہ سن کر وہ نجران بھاگ گیا ۔ بعد میں وہ مکہ واپس آکر تائب ہوا۔ اس نے بہ تمام اخلاص رسول اللہ ﷺ سے معافی مانگی۔ اس کے بعد اس نے ایک صالح مسلمان کی طرح زندگی گزاری۔

(سیرت ۔ ابن ہشام جلد دوم صفحات ۸۷۵ - ۸۷۶

السیف الصارم صفحات ۱۴۳ تا ۱۴۵ ) ۔

ابوسفیان بن الحارث بن عبد المطلب اور عبد اللہ بن ابوامیہ :

اول الذکر رسول اللہ ﷺ کے چچیرے بھائی اور ثانی الذکر ان کے بہنوئی تھے۔ دونوں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کو گالی دیا کرتے اور ان کو تکلیف پہنچاتے

صفحہ ۱۳۸

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام جاری فرمائے کہ ان دونوں کفر بکنے والوں کو ختم کر دیا جائے ۔ یہ جان کر ان دونوں نے آپ سے معافی حاصل کرنے کی ، ان سے ملاقات کرنے اور توبہ کرنے کی انتہائی کوشش کی ۔ ایک دفعہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اور مدینہ کے راستے میں مقام نیق العقیب میں تھے تو دونوں نے آپ سے ملاقات کی کوشش کی ۔ حضرت ام سلمیٰ نے ان کی سفارش کی اور آپ سے ان کے بارے میں بات کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

” مجھے اب ان کی ضرورت ہی نہیں ، جہاں تک میرے چچیرے بھائی کا تعلق ہے تو اس نے گالیاں دے کر میری ناموس کو ٹھیس پہنچائی اور مجروح کیا جب کہ میرے پھوپھی / خالہ زاد اور میرے بہنوئی نے مکہ میں میرے بارے میں بے عزت کرنے والی باتیں کیں ۔“

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف سے انکار کی اطلاع پہنچی تو انھوں نے قسم کھائی کہ وہ یا تو ان سے ملاقات کر کے رہیں گے یا ملک بھر میں آوارہ پھرتے رہیں گے تاآنکہ بھوک اور پیاس سے مر جائیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو ان پر رحم کھا کر ملاقات کی اجازت دی ۔ دونوں نے معافی مانگی اور ماضی کے غلط اعمال سے توبہ کی ۔ آپ نے اسے قبول کر لیا ۔ دونوں نے اسلام قبول کیا اور بقیہ حیات اچھے مسلمان کی طرح گزاری ۔ ابو سفیان بن الحارث کا انتقال حضرت عمرؓ کی خلافت کے دوران میں ہوا اور عبداللہ بن ابو امیہ طائف میں قتل ہوا ۔

(سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۸۶۰

السیف الصارم صفحات ۱۳۷ تا ۱۳۹)۔

الحویرث بن نقیض :

یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتا اور ان کا دل تنگ کیا

صفحہ ۱۳۹

کرتا ۔ ایک بار ، عباس بن عبد المطلب مکہ سے مدینہ جارہے تھے۔ حضرت فاطمہؓ اور حضرت ام کلثومؓ ، دختران نبی ﷺ، اونٹ پر سوار ہو کر انکے ساتھ ہو گئیں تاکہ مدینہ جاکر اپنے والد مکرم ﷺ سے ملیں ۔ الحویرث نے اونٹ کو اس طرح ایڑھ لگائی کہ اس نے دونوں کو نیچے گرا دیا اور وہ زخمی ہوگئیں۔

رسول اللہ ﷺ نے اسے موت کی سزا سنائی ۔ فتح مکہ کے روز الحویرث نے اپنے آپکو مکان میں بند کر لیا ۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی بجا آوری کیلئے حضرت علیؓ بن ابی طالب اس کی تلاش میں تھے ۔ ان کو بتایا گیا کہ وہ گھر پہ نہیں ہے تھوڑی ہی دیر کے بعد اس نے مکان سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن حضرت علیؓ نے اسے دیکھ لیا اور اس کا کام تمام کر دیا ۔

(سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۸۶۸ ۔

السیف الصارم صفحہ ۱۳۹

الواقدی ۔ موسیٰ بن عقبہ کے مغازی)۔

عبد اللہ بن ابی سرح :

یہ رسول اللہ ﷺ کا صحابی تھا لیکن تھوڑے عرصے کے بعد مرتد ہوگیا اور آپ کے بارے میں کفر گوئی کرنے لگا ۔ اس نے ذات نبی کو گالیاں دیں اور ان پر کاذب ہونے کا الزام لگایا ۔ فتح مکہ کے روز رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ جو کوئی بھی عبد اللہ بن ابی سرح کو ڈھونڈ پائے ، اسے قتل کر دے چاہے وہ غلاف کعبہ کے پاس ہی کیوں نہ ملے ۔ لیکن اس نے اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان بن عفانؓ (بعد میں ہونیوالے خلیفہ سوم) کے پاس پناہ لے لی ۔ جب رسول اللہ ﷺ نے عامۃ الناس کو اپنے گرد جمع ہونے کی دعوت دی تاکہ ان سے بیعت لے سکیں تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن ابی سرح کو لا کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کر دیا اور عرض گزار ہوئے ۔

صفحہ ۱۴۰

”یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مہربانی فرما کر عبداللہ بن ابی سرح کو معاف فرمادیں اور اس سے حلف بیعت لے لیں“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ انکار فرمایا لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ آپ نے بیعت لے لی۔ جب عبداللہ بن ابی سرح چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی، اس بے حرمت کلمات کفر بکنے والے کو اس وقت تہ تیغ نہ کرنے پر جب آپ اس کو معاف کرنے سے انکار کر رہے تھے اور بیعت لینے سے پس و پیش کر رہے تھے، سرزنش کی۔ صحابہؓ نے جواب دیا :

”اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! جو کچھ آپ کے دل میں تھا، اس کا ہمیں علم نہیں تھا۔ آپ نے ہمیں آنکھ کے اشارے سے جتا کیوں نہ دیا؟“

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا :

”نبی کے لیے دغاباز آنکھوں کا مالک ہونا مناسب نہیں“

[ ابوداؤد : باب الاسیر یقتل ۔ صفحہ ۳۶۵ ،

نسائی : باب الحکم فی المرتد ۔ جلد دوم صفحہ ۱۶۹ ،

سیرت ابن ہشام ۔ جلد دوم صفحات ۸۲۷ تا ۸۲۹ اور

السیف الصارم ۔ صفحات ۱۰۸ تا ۱۲۶ اور ۱۳۲ تا ۱۳۵

تفصیلات الواقدی میں ملاحظہ ہوں : طبقات محمد بن سعد

مغازی ، محمد بن عمر ، طبری اور الاصابہ ]۔

عبداللہ بن خطل اور اس کی دو مغنیہ لڑکیاں :

عبداللہ بن خطل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کرنے پر مامور کیا۔ ایک دفعہ فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران میں

صفحہ ۱۴۱

اس نے اپنے ملازم سے کھانا پکانے کو کہا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے ملازم سے دوبارہ کھانا مانگا لیکن ملازم جو مسلمان تھا کھانا نہ لا سکا۔ اس پر عبداللہ بن خطل نے وار کر کے اس کو قتل کر دیا۔ پھر وہ مرتد ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حرمتی کرنی شروع کر دی۔ اس کے پاس دو لڑکیاں بھی تھیں جن کے نام فرتنی اور قریبہ یا ارنب تھے۔ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہجویہ گانے گانے کی تربیت دی گئی تھی۔ عبداللہ بن خطل نے ان کی مزید تحقیر آمیز اور گستاخانہ گانے گانے کی حوصلہ افزائی کی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن خطل اور اس کی گائیکہ لڑکیوں کو موت کی سزا سنائی۔ حضرت سعید بن الحارث اور حضرت برزۃ الاسلمی یا عمار بن یاسر نے اس حکم کی تعمیل کی اور عبداللہ بن خطل کو صحن کعبہ میں ختم کر دیا۔

حضرت زہری نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی ہے۔ انھوں نے فرمایا : "ایک روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سالِ فتح مکہ کے دوران میں سر پر خود پہنے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر سے خود اتارا تو ایک آدمی نے آ کر ان سے کہا کہ عبداللہ بن خطل غلاف کعبہ تھامے کھڑا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فی الفور اس کی گردن مار دینے کا حکم دیا جس کی تعمیل ہوئی۔ عبداللہ بن خطل کعبہ کے پاس مارا گیا۔ جہاں تک اس کی دو گائیکہ لڑکیوں کا تعلق ہے تو قریبہ یا ارنب نامی تو ماری گئی اور دوسری جسکا نام فرتنی تھا مفرور رہی حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی معذرت خواہی اور توبہ قبول کر کے اس کو امان دی" [بخاری : باب قتل الاسیر جلد اوّل صفحہ ۴۲۷ ، ابوداؤد :

صفحہ ۱۴۲

کتاب الاستیعاب ،

سیرت ۔ ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۸۶۸ ،

السیف الصارم صفحات ۱۴۲ - ۱۴۳ ،

تفصیلات کے لیے دیکھیں: عینی ، الواقدی ، مغازی قریشی ، مغازی ابن عقبہ

مغازی الاموی ] ۔

مقیاس بن صبابہ :

مقیاس مسلمان تھا ۔ اس کا بھائی اتفاقیہ ایک مسلمان کے ہاتھوں مارا گیا لیکن اس نے بدلہ لیتے ہوئے اپنے بھائی کے قاتل کو قتل کر دیا ۔ اس کے بعد وہ مرتد ہو کر مکہ فرار ہو گیا اور دشمنانِ اسلام سے مل گیا ۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تند و تیز طعن و تشنیع کے حملوں کی مہم شروع کی جس کے نتیجے میں آپ نے اس کو موت کا سزاوار ٹھہرا کر اس حکم کے جلد از جلد تعمیل ہونے کے لیے کہا ۔ حضرت نمیلہ بن عبداللہ نے جو مقیاس کے اپنے ہی قبیلے کے تھے ، آپ کے حکم کی بجا آوری کی اور مرتد کو قتل کر دیا ۔

[ سیرت ۔ ابن ہشام ۔ جلد دوم صفحہ ۸۶۸

السیف الصارم صفحہ ۱۰۹ ]

عکرمہ بن ابی جہل :

عکرمہ ، ابوجہل کا بیٹا ، اسلام کا سخت دشمن ، مکہ کی ممتاز شخصیت تھا ۔ وہ اپنے بدنام خلائق والد ابوجہل کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اسلام اور اللہ کے عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو نقصان پہنچانے اور تباہ و برباد کرنے کی کوشش میں مصروف ہو گیا ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے عزتی کرتا اور انھیں تکلیف

صفحہ ۱۴۳

پہنچاتا ۔ وہ کئی موقعوں پر مسلمانوں سے جنگ آزما ہوا ۔ عکرمہ اور اس کے باپ دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت شداید میں مبتلا کیا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عکرمہ کو کیفر کردار تک پہنچانے کا حکم دیا تو وہ یمن فرار ہوگیا ۔ اس کی مسلمہ بیوی ، اُمّ حکیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے امان کی درخواست کی جو آپ نے دے دی ۔ وہ یمن گئی اور اپنے خاوند کو لاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ۔ عکرمہ نے اسلام قبول کرلیا اور اپنی بقیہ زندگی اس کی وفاداری سے خدمت کی ۔

[ سیرت ابن ہشام ۔ جلد دوم صفحات ۸۶۸ اور ۸۷۵ ۔

السیف الصارم ۔ صفحہ ۱۲۲ ] ۔

ہبار بن الاسود کا معاملہ :

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں بڑی تعداد میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب وہ لوگ جو آپ کو گالی گلوچ کرتے اور آپ کو ذاتی تکالیف و شداید سے دوچار کرتے ، مخلصانہ توبہ کرنے پر معاف کردیئے گئے ۔ ہبار بن الاسود کا معاملہ بالخصوص اس بات کو نمایاں کرتا ہے ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہا دشمن تھا ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کو بڑی ہی غلیظ زبان میں گالیاں دیا کرتا ۔ ہبار ہی اس حادثے کا ذمہ دار تھا جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی عزیز بیٹی حضرت زینب کا اسقاط ہوگیا جس سے وہ نسبتاً کم عمری میں ہی جاں بحق ہوگئیں ۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب حضرت زینب اپنے والد ماجد کے پاس واپس مدینہ تشریف لا رہی تھیں اور ہبار نے ان کے سواری کے اونٹ کو ایڑ لگائی جس سے وہ گرگئیں ۔ وہ اتنی شدید زخمی ہوگئیں کہ اپنی وفات تک اس سے شفایاب نہ ہوسکیں ۔

صفحہ ۱۴۴

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی گردن زنی کا حکم سنایا۔ حکم سنتے ہی وہ اس نے ایران فرار ہونے کا فیصلہ کر لیا لیکن جانے سے پیشتر وہ اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ اس نے معافی مانگی ، اپنے قبیح فعل سے توبہ کی اور کہا :

” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میں ایران چلا جانا چاہتا تھا لیکن آپ کے رحمدل اور عفو پرور مزاج کو جانتے ہوئے میں معافی مانگنے کے لیے آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں، مجھ پہ عنایت فرمائیں اور معافی دے دیں “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی معذرت خواہی قبول کر لی ۔ یہ ایک ایسی صورت تھی جہاں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انکی نہایت عزیز بیٹی کے باعث گہرا درد و رنج میں مبتلا کیا تھا لیکن اس کے صدق دل سے تائب ہونے کے بعد اسے معافی دے دی گئی ۔

دو مغنیہ عورتوں کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سزائے موت سنائی ۔ وہ آپ کے بارے میں ہجویہ گانے گا کر ان کے لیے بدزبانی کیا کرتی تھیں لیکن سزا کی تعمیل سے پہلے انھوں نے معافی مانگ لی اور توبہ کر لی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تب ان کو معافی دے دی اور وہ اسلام لے آئیں ۔

[ صحیح بخاری : لَا أُعَذِّبُ بِعَذَابِ اللّٰهِ جلد اول صفحہ ۴۲۳ ، سنن ابوداؤد : باب الاسیر یقتل صفحہ ۳۶۵ مزید تفصیلات کیلئے دیکھیں : سیرت حلبی ، زادالمعاد ، فتح الباری ] ۔

سارہ کا معاملہ :

ابن ہشام نے بیان کیا ہے :

صفحہ ۱۴۵

"سارہ بنو عبدالمطلب کی آزاد کردہ کنیز تھی۔ جب اس نے مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بڑی ہتک آمیز بدکلامی شروع کر دی تو آپ نے اس کو ختم کر دینے کا حکم صادر فرمایا۔ لیکن حکم کی تعمیل سے پہلے ہی سارہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قلب صمیم سے معافی مانگی اور پُرخلوص توبہ کی۔ توبہ قبول ہوئی اور اس کو معاف کر دیا گیا۔ وہ خلیفہ دوم حضرت عمر بن الخطاب کے دور تک زندہ رہی ۔ ایک روز ایک فوجی سوار نے اس پر سوئے اتفاق سے اپنی سواری چڑھا دی اور وہ جاں بحق ہو گئی ۔"

[سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحات ۸۶۸ - ۸۶۹

السیف الصارم صفحات ۱۲۵ - ۱۲۶ ] ۔

النضر بن الحارث اور عقبہ بن ابی معیط کا انجام :

جنگ بدر میں بہت سے کافر قیدی ہوئے۔ ان میں قریش کے یہ دو خاص الخاص شیاطین بھی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیچڑ اچھالتے اور تہمت تراشی کیا کرتے تھے۔ مدینہ واپس جاتے ہوئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام الصفراء پر پہنچے تو آپ نے ان دونوں کی گردن زنی کا حکم فرمایا۔ حضرت علیؓ نے حکم بجا لایا اور النضر بن الحارث کا سر تن سے جدا کیا۔ عقبہ بن ابی معیط کو حضرت عاصمؓ بن ثابت نے واصل جہنم کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی لاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : " تم کتنے قبیح اور غلیظ تھے۔ خدا کی قسم ! میں نے تم سے زیادہ کفر گو انسان نہیں دیکھا۔ آج میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے تمہیں موت دے کر تمہاری کافرانہ کرتوتوں سے مجھے

صفحہ ۱۴۷

آزاد کیا ۔ (سیرت ابن ہشام - جلد اول - صفحہ ۴۷۱ اور ۱۹۵ ،

السیف الصارم - صفحہ ۱۴۲ - کتاب الردہ والمرتدین ) ۔

عصماء بنت مروان :

جب عفک اپنے موت کے انجام کو پہنچا تو عصمہ بنت مروان نے مسلم معاشرے میں تفرقہ پیدا کرنے کی خاطر منافقانہ کردار ادا کیا ۔ اپنی ایک نظم میں اس نے نبی اکرم ﷺ کی تضحیک اور بے حرمتی کی ۔ اسے اسلام اور اس کے پیروکاروں سے سخت نفرت تھی ۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اس کا کلام سنا تو فی الفور اپنے صحابہ سے اس مروان کی ناخلف بیٹی سے چھٹکارا حاصل کرنے کو کہا ۔ عمیر بن عدی الخطمی عصمہ کے اپنے ہی قبیلے کا ایک نو مسلم ، رسول اللہ ﷺ کا فرمان سن کر ، عصمہ کے گھر گیا اور اسی رات اس کا کام تمام کر دیا ۔ دوسری صبح اس نے آپ کو تعمیل حکم کی اطلاع دی ۔ رسول اللہ ﷺ بہت خوش ہوئے اور اس کو خوشخبری سنائی کہ اس نے اللہ اور رسول اللہ کی مدد کی ہے ۔ مزید یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ میں عمیر کی ان الفاظ میں تعریف کی : " اگر ایسا شخص دیکھنا چاہتے ہو جس نے اللہ اور رسول اللہ کی مدد و معاونت کی ہو تو عمیر کو دیکھ لو ۔ " جب عصمہ انجام کو پہنچی تو اس کے قبیلے والوں میں بڑا ہیجان و اضطراب ہوا ۔ اس لیے عمیر اپنے قبیلے میں گئے اور ان سے خطاب کیا : " اے بنی خطمہ ! میں نے عصمہ بنت مروان کو قتل کیا ہے ۔ اگر بدلے کی سوچ رہے ہو تو میرے ساتھ لڑائی کے لیے تیار ہو جاؤ ۔ " اس سے بنو خطمہ کو بڑا دھچکا لگا ۔ ان کو احساس ہو گیا کہ ان کے قبیلے میں بھی اسلام نے قوت و طاقت حاصل کر لی ہے ۔ پھر تمام کے تمام قبیلے نے جب اسلام

کے وقار و عظمت کو دیکھا تو اسے

ہندہ بنت عتبہ زوجہ ابو سفی

اپنے خاوند ابو سفیان بن ح علیہ وسلم کی اشد ترین دشمن اور ﷺ کے لیے زبا دیتی ۔ ہندہ نے معرکۂ بدر میں اور مسلمانوں کے خلاف تادیبی اُحد میں اس نے مسلمان شہداء ﷺ کے چچا حضر اور چبا لیا ۔ ان کے جسم کے ا ہوتے ۔ اس کے اس ہولنا کی بناء پر رسول اللہ ﷺ کرام جوش و جذبے سے کرتے رہے ۔

فتح مکہ کے بعد رسو مکے کے شہریوں کا ایک ا باری باری ایک کر کے ق

Karachi Cell: +92-321-3817119 yahoo.com

صفحہ ۱۴۷

جلد اول ۔ صفحہ ۴۷۱ اور ۱۹۵ ، صفحہ ۱۴۲۔ کتاب الردۃ والمرتدین ) ۔

قام کو پہنچا تو عصمہ بنت مروان نے مسلم معاشرے دار ادا کیا ۔ اپنی ایک نظم میں اس نے نبی اکرم تی کی ۔ اسے اسلام اور اس کے پیروکاروں صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کلام سنا تو فی الفور ختی سے چھٹکارا حاصل کرنے کو کہا ۔ عمیر بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سن کر یہ عزم کر لیا ۔ دوسری صبح اس نے آپ کو تعمیل حکم سن کر بہت خوش ہوئے اور اس کو نبی اللہ کی مدد کی ہے ۔ مزید یہ کہ رسول اللہ کی ان الفاظ میں تعریف کی : تو نے اللہ اور رسول اللہ کی مدد

الوں میں بڑا ہیجان و اضطراب ہوا ۔ سے خطاب کیا : بنت مروان کو قتل کیا ہے ۔ اگر ساتھ لڑائی کے لیے تیار ہو جاؤ یا احساس ہو گیا کہ ان کے قبیلے میں بھی اسلام عصمہ کے تمام قبیلے نے جب اسلام

کے وقار و عظمت کو دیکھا تو اسے قبول کر لیا ۔

(سیرت ۔ ابن ہشام ، جلد دوم ، صفحہ ۱۰۵۲ ،

السیف الصارم ۔ صفحہ ۹۴

مزید ملاحظہ ہو : الواقدی ، طبقات محمد بن سعد

اور الاموال ۔ ابو عبید ) ۔

ہندہ بنت عتبہ زوجہ ابوسفیان :

اپنے خاوند ابوسفیان بن حرب کی طرح ہندہ بنت عتبہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اشد ترین دشمن اور ان کی شخصیت کی شاتم تھی ۔ وہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زبانِ بد استعمال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی ۔ ہندہ نے معرکۂ بدر میں حصہ لیا اور قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف تادمِ آخر لڑتے رہنے کے لیے جوش دلاتی رہی ۔ معرکۂ اُحد میں اس نے مسلمان شہداء کے کان اور ناک کاٹ لیے ۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ کاٹ کر الگ کر لیا اور چبا لیا ۔ ان کے جسم کے اس حد تک ٹکڑے کیے کہ حضور نہایت رنجیدہ ہوتے ۔ اس کے اس ہولناک اور انتہائی قابلِ نفرین کردار اور بدزبان رویے کی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موت کا سزاوار قرار دیا ۔ اسی کے فوراً بعد سے صحابۂ کرام جوش و جذبے سے منتظر رہے اور اس کافرہ کو قتل کرنے کی انتہائی کوشش کرتے رہے ۔

فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہِ صفا پر تشریف لے گئے جہاں مکے کے شہریوں کا ایک انبوہِ کثیر اسلام کے دامن میں آنے کے لیے جمع تھا ۔ باری باری ایک کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت

Karachi Call : 92-321-3817119 yahoo.com

صفحہ ۱۴۸

کرنے کے لیے آگے بڑھتا۔ مردوں کے بعد عورتیں بیعت کی غرض سے آگے آئیں ان میں غیض احد ، ہندہ بنت مروان بھی تھی جس نے معرکہ احد میں حضرت حمزہؓ کے ساتھ اپنے فعل شنیع کی وجہ سے بھیس بدل رکھا تھا۔ جب اس نے اپنا نقاب الٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا تو اس سے پوچھا:

”کیا تم ہندہ بنت مروان ہو ؟“

اس نے جواب دیا :

”یا نبی اللہ ! جی ! میں ہی ہوں ۔ جو کچھ بیت چکا اس کے لیے مجھے معاف فرمادیں ۔ میں یہاں تائب ہونے اور اسلام قبول کرنے آئی ہوں ۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو معاف فرما دیا اور اس کی معذرت خواہی قبول فرمالی تب وہ مسلمہ بن گئی ۔

[ابو داؤد : باب الاسیر یقتل صفحہ ۳۶۵

زاد المعاد : جلد اول صفحہ ۴۲۵

محمد الرسول اللہ ۔ سلیمان ندوی ۳۲۸

ابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۶۰۳ ] ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”غیر عادل“ کا الزام دینے والے کی سزا :

حضرت سعید بن یحییٰ نے اپنے مغازی میں حضرت شعبی سے روایت کی ہے:

”جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو العنبر کی دولت ایک جگہ جمع کی اور لوگوں کو اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے بلایا ۔ تقسیم کے اختتام پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم میں انصاف و عدل نہ کرنے کا الزام لگایا ۔ نبی اکرم نے فرمایا : اگر میں عادل نہیں ہوں تو اور کون ہوگا ؟“

صفحہ ۱۴۹

Karachi Cell : + 92-321-3817119 yahoo.com

۱۴۸

کے بعد عورتیں بیعت کی غرض سے آگے آئیں ان بھی تھی جس نے معرکۂ احد میں حضرت حمزہؓ کا بھیس بدل رکھا تھا۔ جب اس نے اپنا علیہ وسلم) نے اسے پہچان لیا تو اس سے پوچھا: ”؟“

جو کچھ بیت چکا اس کے لیے مجھے
تائب ہونے اور اسلام قبول کرنے

معاف فرما دیا اور اس کی معذرت خواہی

(المغازی : باب الاسیر یقتل صفحہ ۴۶۵

المعاد : جلد اول صفحہ ۴۲۵

الرسول اللہ ۔ سلیمان ندوی ۳۲۸

کثیر جلد ۳ صفحہ ۶۰۳ ] ۔

عادل“ کا الزام دینے والے کی سزا : ذی میں حضرت شعبی سے روایت کی ہے: صلی اللہ علیہ وسلم) نے بنو العرنی کی اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ کرنے کا الزام لگایا ۔ نبی اکرم اور کون ہوگا ؟“

جب وہ مجمع سے چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو بلا کر حکم دیا کہ وہ جا کر اس آدمی کی گردن مار دیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نا انصافی کا قصور وار اور ملزم ٹھہرایا تھا ۔“

[سعید ۔ المغازی ۔ کتاب الردہ والمرتدین ] ۔

توہین رسالت کے مرتکب کفار :

بے حرمتی کا ارتکاب کرنے والوں کا مقصد ہی مسلمانوں کے لیے شر اور برائی ہے ۔ وہ اسلام کے خلاف درپردہ اور ظاہرہ منصوبے بناتے اور سازشیں کرتے ہیں ۔ مسلمانوں میں کرب اور تفرقہ پھیلانے کے لیے وہ افواہیں اڑاتے ہیں ۔ وہ اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی نہایت درجہ قابلِ احترام ازواج یعنی امہات المومنین کے بارے میں شر انگیز الفاظ منہ سے نکالتے ہیں ۔ اس طرح ان کی بغاوت ، بے حرمتی اور کفر کی سزا یا تو اللہ کی نازل کردہ قدرتی آفات کے ذریعے ملتی ہے یا مسلمانوں کے ہاتھوں سے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَنْ يُصِيبَكُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا فَتَرَبَّصُوْا إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُوْنَ O

( سورة التوبة ٩ : ٥٢ )

”اے اسلام اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنو ! انتظار کرو ) اللہ تمہیں یا تو اپنے قدرتی طریقوں (قدرتی تباہی یا بربادی) سے سزا دے گا یا مسلمانوں کے ہاتھوں جو تمہاری گردنیں یا تو میدانِ جنگ میں کاٹیں گے یا کہیں بھی اور جہاں تم پائے جاؤ “

صفحہ ۱۵۰

ابولہب اور اس کی بیوی اُمّ جمیل اور اُمیّہ بن خلف کا انجام :

مکہ کے سردارانِ کفر گو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ تضحیک بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ آپ کا نام عَمْداً بگاڑ کر وہ انھیں ”مُذَمَّم“ (نکما اور باعثِ شرم) کہتے ۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ سے ارشاد فرمایا :

”کیا تمہیں قریش کی ان یاوہ گوئیوں سے حیرت نہیں ہوتی جن کا رُخ اللہ جلّ شانہٗ مجھ سے موڑتا رہتا ہے؟ وہ مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں اور میرے نام کی مجھے ”مُذَمَّم“ کہہ کر ہجو کرتے ہیں حالانکہ میں مُحمّد (قابلِ تعریف) ہوں ۔“

تب قریش کی بدکاریوں کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت و نفرت کرنے والوں کے بارے میں وحی نازل ہوئی۔ ان کے بہت سے سردار معرکۂ بدر میں مارے گئے۔ بدر کے ایک ہفتہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب بھی برباد ہوا ۔ وہ اسلام کے پکے دشمنوں میں سے ایک تھا۔ اس نے آپ کو نقصان پہنچانے اور بے عزت کرنے کے لیے اپنے بس کی ہر ایک کوشش کی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار ساکنانِ مکہ کو دعوتِ اسلام دی تو اس قابلِ نفرین مخلوق نے ایک بھاری پتھر اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دے مارا۔

ابولہب کو ایک مہلک مرض یعنی طاعون نے آلیا ۔ عربوں کے رواج کے مطابق ایسے شخص کو گھر میں رہائش رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ سو اسے مکہ سے باہر لے جایا گیا جہاں اسے تنہا بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا کہ ہولے ہولے دیر سے آنیوالی دردناک موت مرجائے ۔ جب وہ مرا تو اس کی لاش کئی روز تک جلادینے والی

صفحہ ۱۵۱

تپش میں گلتی سڑتی ، بے پرسانِ حال پڑی رہی اور اس میں سے سخت مکروہ بدبو نکل کر دور تک پھیلتی رہی ۔ سڑاند ناقابل برداشت ہوگئی تو لوگوں نے بالآخر ایک گڑھا کھودا لیکن چھونے کا تو ذکر ہی کیا کوئی بھی اس کی سڑی ہوئی لاش کے پاس تک جانے کو تیار نہیں تھا ۔ اسے لمبے بانسوں کی مدد سے دھکیل دھکیل کر گڑھے میں پھینکا گیا اور سڑاند کو کم کرنے کے لیے بڑی عجلت سے ریت اور پتھروں سے ڈھانپا گیا ۔ یہ تھا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کا شرمناک مگر ٹھیک ٹھیک انجام ۔

ابولہب کی بیوی ام جمیل جو حرب بن امیہ کی بیٹی اور ابوسفیان کی بہن تھی ، ایک نہایت ظالم عورت تھی ۔ اس نے ایسے بہت سے فعل کئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ذہنی الم اور تکلیف جسمانی کا باعث بنے ۔ وہ اس راستے میں کانٹے پھینک دیا کرتی جس پر رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلا کرتے تھے ۔ ایک بار جب وہ پتھر اٹھائے لیے جا رہی تھی تو اس نے کہا کہ اگر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے تو وہ ان پتھروں سے ان کے روئے مبارک کو پاش پاش کر دے گی ۔ بعد ازاں اس نے ایک مختصر سی نظم گائی جس میں آپ کے لیے بد کلامی کی، لیکن اس کے تھوڑی دیر بعد ہی وہ اپنے بد انجام کو پہنچی ۔ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ایک رسی سے اس کی گردن کے گرد حلقے سے گلا گھٹنے سے اس کی موت بالکل اسی انداز سے واقع ہوئی جیسے کہ وحی نے پیشگوئی کی تھی ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

" تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ وَّتَبَّ ۝ مَآ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَمَا كَسَبَ ۝ سَيَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ۝ وَّامْرَاَتُهٗ ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ۝ فِيْ جِيْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ ۝ "

(سورۃ لہب ۱۱۱)

صفحہ ۱۵۲

”ابو لہب یقیناً نیست و نابود ہوگا ۔ اس کی ثروت اور اس کے دنیاوی نفعے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے کیونکہ اس کی ہر چیز ضائع ہو جائے گی ۔ وہ دوزخ کی شعلہ زن آگ میں جلایا اور پاش پاش کر دیا جائے گا ۔ اس کی بیوی ، ایندھن اٹھانے والی ، کھجور کے پتوں کے ریشے کا بٹا ہوا رسہ اس کی گردن کے گرد ، غلامی ، ذلت اور موت کا رسہ اس دنیا میں اور دوزخ کی آگ آخرت میں ۔ اسے یقیناً عذاب دہ موت کی ذلت تک لٹکایا جائے گا اور آخرت میں شعلہ ریز آگ میں جلایا جائے گا ۔“

یہ وحی بطور ایک تنبیہ عام نازل ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کسی ظلم یا گستاخی کے مرتکب کے لیے بالآخر بربادی مقسوم ہے۔ اس سورۃ کی تمہید میں اپنے قرآن کے ترجمے میں یوسف علی نے لکھا ہے :

”جو شخص پاک اخیار کے خلاف غیض و غضب کا اظہار کرتا ہے خود ہی اپنے غیض و غضب میں جل جاتا ہے ۔ اس کے ہاتھ ، جو اس کے اعمال کے اوزار ہوتے ہیں ، تباہ ہو جاتے ہیں اور وہ خود اپنے آپ کو سزا دیتا ہے ۔ مال و مرتبہ جس پر اسے غرور تھا ، اس کے کام نہیں آئیں گے ۔ عورتیں جن کی ساخت زیادہ شریفانہ جذبوں سے ہوئی ، اگر وہ بے راہ ہو جائیں ، تو اس کی ناپاک غیض و غضبناکی میں تیز تر ایندھن جھونک دیں گی جن سے ان کا اپنا ہی زیاں ہو گا کیونکہ وہ تعذیب کے رسے کو اپنے ہی گلے کے گرد بل دیں گی ۔ یہ عام تجربہ ہے کہ لوگ جن ذرائع سے دوسروں کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں ، خود ان ہی سے ملیامیٹ ہوتے ہیں ۔“

ایک اور شخص جس کا قرآن کریم میں حوالہ آیا ہے وہ امیہ بن خلف ہے۔ اسلام

صفحہ ۱۵۳

کے اولین ایام میں وہ اس کے شدید ترین دشمنوں میں سے ایک تھا۔ وہ مکہ کا ایک متمول آدمی تھا۔ جب کبھی بھی اس کی نگاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑتی تو وہ ان کو بہتان تراش (ہمزہ) اور چغل خور (لمزہ) پکار کر گالیوں کی بوچھاڑ کر دیتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ ہمزہ نازل فرمائی :

وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ ۙ ۝ الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ ۙ ۝ يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗٓ اَخْلَدَهٗ ۚ ۝ كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ ۖ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ ؕ نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ ۙ الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ ؕ اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ ۙ فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ ۝

(سورہ ہمزہ ۱ - ۹)

”ہر ایک تہمت تراش اور چغل خور پر عظیم آفت اور تباہی آ کر رہے گی چاہے تہمت لفظوں کی شکل میں ہو چاہے عملوں کی یا توہینوں اور کنایوں کی شکل میں ۔ یہی حال اس شخص کا ہو گا جو دولت کے انبار لگا لیتا ہے اور ضرورت مندوں کو اس میں سے حصہ نہیں دیتا یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کی ثروت اسے لافانی بنا دے گی۔ ہرگز نہیں! ایسا شخص اللہ کی جلتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔“

(سیرت ۔ ابن ہشام ۔ جلد اوّل صفحات ۲۳۸،۲۳۷)

ہر ایک افترا پرداز اور چغل خور پر سخت مصیبت اور تباہی آئے گی۔ چاہے بہتان تراشی قولاً ہو یا فعلاً ، بد کلامی ہو یا رمزوں میں ۔ یہی حال مال کے ڈھیر جمع کرنے والوں کا ہو گا جو اس میں حاجت مندوں کا حصہ نہیں نکالتے یہ خیال کرتے ہوئے کہ اس کا مال و دولت اسے زندہ جاوید رکھے گا۔ ہرگز نہیں! ایسا شخص اللہ جل شانہ کی بھڑکائی ہوئی آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

(سیرت ۔ ابن ہشام جلد اوّل صفحات ۲۳۷ - ۲۳۸)

صفحہ ۱۵۴

یہودِ مدینہ :

معرکہ بدر میں اسلام اور مسلمانوں کی عظیم فتح کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور یہودیوں کو حکم دیا کہ وہ بنو قینقاع کے بازار میں جمع ہوں۔ وہاں آپ نے یہود کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی قبل اس کے کہ موقع ان کے ہاتھوں سے نکل جائے اور ان کا بھی وہی حشر ہو جو قریش کا ہوا، یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور کہا کہ معرکہ بدر میں ان کی فتح ایسے ناتجربہ کار لوگوں پر تھی جو لڑنا نہیں جانتے۔ اگر مسلمانوں کو یہودیوں سے جنگ کرنا پڑتی تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ یہودی کس کس کل کے لوگ ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو یہود کا یہ تکبر پسند نہ آیا۔ وحیِ ربانی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ان کے کافرانہ و متکبرانہ رویے کا بالکل ٹھیک جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا :

قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ

(سورۃ آل عمران ۳ : ۱۲)

”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! ان بے حرمت کلمات کفر کہنے والوں کو بتا دو : بہت جلد تم پر غلبہ پا لیا جائے گا اور تمہیں دوزخ میں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا جو ایک بُری جگہ ہے، یعنی وہ ذلیل ہوں گے اور اس دنیا میں بلا دریغ قتل کیے جائیں گے اور آخرت میں دوزخ میں پھینکے جائیں گے“

اس وحی الٰہی کے بعد جس میں اللہ نے یہودیوں کو شرم دلائی اور ملعون ٹھہرایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر اللہ کا پیغام

صفحہ ۱۵۵

پہنچانے ، یہود کو دعوتِ اسلام دینے اور انھیں کلی امن وامان کا یقین دلانے گئے لیکن یہودی اپنی ضد پر اڑے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننے کی بجائے تکبّر و غرور سے ان کی دعوت کو ٹھکرادیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار اپنی دعوتِ اسلام کو دہرایا مگر ہر بار ان کو وہی جواب ملا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تنبیہ کی کہ زمین کے مالک اللہ اور اس کے رسول ہیں اور وہ یہودیوں کو مقدس سرزمین سے جلاوطن کرنا چاہتے ہیں ۔ تاہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو موقع دیا کہ وہ اپنا مال و متاع فروخت کرلیں اور ابھی وقت ہیکہ نکل جائیں۔

بعد میں بہت سوں کو جلاوطن کر دیا گیا جبکہ دوسروں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت دغا بازی و غداری کی بنا پر تہ تیغ کر دیا گیا ۔ اس طرح وحی الہی کی پیشین گوئی پوری ہوئی ۔

[ابن ہشام ۔ جلد دوم ۔ صفحات ۴۷ تا ۴۹ اور ۱۹۰ تا ۱۹۱

مختصر تاریخ ابن کثیر ۔ جلد اول صفحہ ۲۶۸

یہ واقعہ بخاری، مسلم اور ابوداؤد نے بھی تحریر کیا ہے]۔

بنو قریظہ کا انجام :

مدینہ کے یہودی قبیلہ بنو قریظہ نے جس کے افراد، اوّل تا آخر، اسلام کے بدترین اور پکے دشمن تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میثاقِ امن کیا لیکن اس میثاق کی شرائط پر پابند رہنے میں ناکام رہے ۔ انھوں نے غلط فہمی کی بناء پر یقین کر لیا کہ دشمنانِ اسلام کی دس ہزار فوج جس کے آخری حملے سے پہلے غزوۂ خندق کے دوران میں مدینہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا، اسلام اور مسلمانوں کو کچل کر رکھ دے گی ۔ یہ فرض کرکے کہ اسلام اور مسلمان نیست و نابود ہو جائیں گے نیز اپنی نفرتِ اسلام سے حوصلہ پاکر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے میثاق کو رد کر دیا اور ان کے دشمنوں سے مل گئے ۔ بنو قریظہ نے اس

صفحہ ۱۵۶

کھلی غداری کے علاوہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیں اور ان کی بے عزتی بھی کی۔ انھوں نے پیغام اسلام کو رد کر دیا اور اس کے نیز مسلمانوں کے خلاف سازش کی۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کی ناموس اور بے داغ کردار پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔

ایک مرتبہ تو خود رسول اللہ ﷺ نے یہود کی گالیاں سنیں۔ ان کو گہرا رنج ہوا۔ حضور نے ان سے کہا : ” او کم بختو بدبختو ! کیا خود اللہ نے تم کو شرم نہیں دلائی اور تم پر لعنت نہیں بھیجی ؟ “ [ بحوالہ سورۃ مائدہ آیت ۶۰ جس میں اللہ نے یہودیوں کے ایک باغی ٹولے پر لعنت کی ] ۔

ان کی غداری اور نقضِ میثاق کی وجہ سے یہود مدینہ کو ناقابل فراموش سبق سکھایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے چار سو یہودی گرفتار کر لیے اور ان کو موت کی نیند سلانے کا حکم فرمایا۔ ان میں دو بھائی بھی تھے حُوَیِّصَہ ، جو تب تک غیر مسلم ہی تھا اور مُحَیِّصَہ ، جو مسلمان ہو چکا تھا۔ اوّل الذکر نے کعب بن یہودا کو قتل کرنے پر مُحَیِّصَہ کی لعنت ملامت کی ۔ یہ نہ صرف بنو قریظہ کا ایک اہم فرد تھا بلکہ خود ان کے اپنے خاندان کی مالی مدد کیا کرتا تھا۔ مُحَیِّصَہ نے جواب دیا کہ اگر وہ شخص واحد یعنی رسول اللہ ﷺ ، حُوَیِّصَہ کے قتل کا حکم فرماتے تو وہ بڑی خوش دلی سے اس کی بھی تعمیل کرتا ۔ اس جواب نے حُوَیِّصَہ کو بڑا حیران و پریشان کر دیا۔ رات بھر وہ اپنے بھائی کی بات پر غور کرتا رہا۔ رات بھر اس نے نیند کے لیے ایک جھپکی بھی نہ لی۔ صبح ہونے تک اس کو یقین ہو چکا تھا کہ فی الواقع اسلام ہی سچا مذہب تھا اور محمد ﷺ اللہ کے رسول تھے۔ تب حُوَیِّصَہ بھی مسلمان ہو گیا۔

[ ابو داؤد ۔ صفحات ۴۲۲ تا ۴۲۳

سیرت ۔ ابن ہشام صفحات ۵۷۰ - ۵۷۱ ] ۔

صفحہ ۱۵۷

توہین رسالت کے مجرم باپ کا قتل مومن بیٹے کے ہاتھوں :

حضرت سفیان الثوری نے مالک بن نمیر سے روایت کی جس نے بیان کیا : کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنے باپ کو مشرکوں کی مجلس میں آپ کو گالی دیتے اور آپ کے لیے بدزبانی کرتے ہوئے سنا ۔ میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور اس کو نیزہ مار کر ہلاک کر دیا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بے حرمتی کرنے والے باپ کی ہلاکت کی منظوری دی ۔

[ السیف الصارم ، صفحہ ۲۴۱ اور حدیث ابواسحٰق فزاری ۔ الفزاری نے بھی اسکو روایت کیا ہے ] ۔

ابوجہل کا انجام :

ابوجہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت جانی دشمن تھا ۔ وہ اسلام سے نفرت کرنے اور مسلمانوں کی تضحیک کرنے میں پیش پیش رہتا ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی اذیت ، شدید درد اور ذہنی رنج پہنچانے والوں کا سرخیل تھا ۔ یہ ابوجہل ہی تھا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غلاظت پھینکنے کا ناقابل یقین امتیاز حاصل تھا ۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنیکی سازش بھی کی ۔ اس نے جنگ بدر میں بھی شرکت کی جس میں وہ ہلاک ہوا ۔ دو انصاری بھائیوں معوذ اور معاذ نے اس شریر النفس انسان کو ختم کر دینے کی قسم کھا رکھی تھی ۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں :

” یوم بدر کو میں مسلمان سپاہیوں کی صف میں کھڑا تھا ۔ میں بہت ہی چوکس تھا اور دائیں بائیں اچھی طرح نگاہ رکھ کر دونوں اطراف کو محفوظ رکھے ہوئے تھا ۔ دفعتاً انصار کے دو نوجوان میرے دائیں

صفحہ ۱۵۸

بائیں کھڑے ہوئے ۔ مجھے تمنا ہوئی کہ کاش میں ان جیسا نوجوان ہوتا ۔ اچانک ایک نے پوچھا : چچا جان ! آپ جانتے ہیں ابو جہل کونسا ہے ؟ ، میں نے جواب تو اثبات میں دیا لیکن مجھے جستجو تھی کہ یہ اسے کیوں تلاش کر رہے ہیں ۔ میں نے دریافت کیا تو ایک نے مجھے بتایا کہ ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور ان کی شان میں گستاخی کی ، اس لیے اللہ سبحانہ سے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ اگر وہ ابو جہل کو دیکھ پائے تو وہ اسے کسی طور جانے نہ دے گا تا آنکہ یا تو وہ اس کو ہلاک کر دے یا پھر اس عمل میں خود ختم ہو جائے

میں نے نوجوان کے نیک عزائم کو سراہا ۔ دوسرے نے بھی اسی ارادے کی قسم کھائی ۔ تھوڑی ہی دیر بعد مجھے ابو جہل نظر آگیا اور میں نے اس کی طرف اشارہ کر کے ان دونوں کو بتا دیا ۔ وہ دونوں اس کی جانب لپکے ، اپنی تلواروں سے اس پر وار کئے ، اسے زمین پر گرایا اور اس کو ہلاک کر دیا ۔ بعد ازاں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تیز قدموں سے گئے اور آپ کو خوشخبری سنائی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا کہ ان میں سے کس نے ابو جہل کو ہلاک کیا ہے تو دونوں نے بیک آواز کہا کہ میں نے ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ آیا انھوں نے اپنی تلواروں کو خون آلودہ کرنے کے بعد آپس میں ملا تھا ؟ جب دونوں لڑکوں نے جواب نفی میں دیا تو آپ نے انکی تلواروں کا معائنہ کیا اور کہا کہ دونوں کو ابو جہل کے ہلاک کرنے کا شرف حاصل ہے ۔ اسکے بعد ابو جہل کی مملوکہ چیزیں ان دونوں نوجوانوں کو دیدی گئیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ان دونوں کے لیے بڑی تکریم و فخر کا باعث تھا ۔ وہ اس کے بعد میدان کارزار میں چلے گئے اور بہادری

صفحہ ۱۵۹

کے مزید کارنامے سرانجام دیئے ۔

یہ بھی روایت ہے کہ معرکہ بدر کے بعد جس میں ابو جہل سمیت بہت سے سرداران قریش ہلاک ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو ابو جہل کی لاش تلاش کرنے کے لیے کہا۔ انھوں نے حکم کی تعمیل کی اور لاشوں کے ڈھیر کے نیچے اس کی لاش کو پڑا پایا، لیکن وہ ابھی زندہ تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس سے پوچھا کہ آیا وہ ابو جہل ہے جس پر اس نے جواب دیا کہ اگر کوئی انسان اپنوں کے ہاتھوں ہی قتل ہو تو اس میں فخر کی کوئی بات نہیں۔ ابو جہل نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود کو سخت جسمانی اذیت دی تھی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی ظرف صحابی نے ابو جہل کی گردن پر پاؤں رکھ کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا اور سر کو لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیا۔

[بخاری : باب غزوۃ بدر

مسلم : کتاب الجہاد

سیرت ابن ہشام جلد اوّل صفحات ۳۶۳ ۔ ۳۶۴

الطبری ۔ جلد دوم ۔ صفحہ ۱۵۵

السیف الصارم ۔ صفحہ ۱۵۹

سیرت النبیؐ شبلی نعمانی ۔ ترجمہ فضل الرحمٰن صفحہ ۲۹۴]۔

صفحہ ۱۶۰

باب سوم : ت

توہینِ رسالت کے خلاف صحابہ رسول اللہ ﷺ کی

فتاویٰ و فیصلے

اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا نہایت اہم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد کفر گوئی و بے حرمتی کی سزا ختم نہیں ہو گئی ، فی الواقع، اس دنیا سے ان کی رحلت نے اللہ جل جلالہ کے احکام کے نفاذ کو اور زیادہ اہم بنادیا کیونکہ رسول اللہ ﷺ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو معافی دینے کیلئے موجود نہیں ہیں۔ چونکہ یہ جرم نبوت کے ادارے کے خلاف اور اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے کیا جاتا تھا، اس لیے مجرموں کو سزا دینا ضروری تھا۔ بایں وجہ صحابہ رسول اللہ ﷺ ، تابعین اور دیگر علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے کی سزا موت ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ اور بعد ازاں آنے والی نسلوں کے علماء کے اس سلسلے میں فیصلے درج ذیل کیے جاتے ہیں ۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ اول کا فیصلہ :

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مہاجر بن ابی امیہ ، یمامہ کا والی تھا۔ اس کے پاس دو گائکہ لڑکیوں کا معاملہ پیش ہوا جن میں سے

صفحہ ۱۶۱

ایک نے اپنے کچھ گانوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکی تھیں متعلقہ ناظم یمن مہاجر بن ابی امیہ نے حکم سنایا کہ اس کے ہاتھ قطع اور دانت اکھاڑ دیئے جائیں۔ اس حکم کی فوری تعمیل ہوئی۔ جب مدینہ میں یہ خبر خلیفہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انھوں نے والی کو لکھا کہ اگر اُن کی یعنی خلیفہ کی رائے لی جاتی تو وہ مجرمہ کو سزائے موت دیتے۔

[ السیف الصارم - صفحہ ۱۴۴ ]

[ التیمی کی الردہ والفتوح بھی ملاحظہ ہو ]

حضرت ابو برزہ سے بیان کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا :

" میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کو ایک آدمی پر غصہ آگیا اور انھوں نے اسے سخت سُست کہا۔ میں نے ان سے اس شخص کا سر قلم کرنے کی اجازت چاہی۔ یہ سن کر ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا وہ کھڑے ہو گئے اور اندر چلے گئے۔ پھر مجھے اندر طلب کر کے مجھ سے پوچھا کہ میں نے ابھی کیا کہا تھا۔ جب میں نے اس بات کا اعادہ کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا آیا میں واقعی ان کا حکم بجالاتا ؟ جب میں نے جواب اثبات میں دیا تو خلیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ! اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ قتل صرف شاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جائز ہے ان کے بعد کے کسی اور شخص کے لیے نہیں "

[ ابوداؤد - نسائی ]

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

" ایک روز حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک مدرسہ یہود میں تشریف لے گئے جہاں ان کے ایک ربانوی عالم فنحاص بن عازوراء سبق پڑھایا کرتے تھے۔ فنحاص سے ملاقات ہونے پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : فنحاص ! اللہ سے ڈرو اور اسلام

صفحہ ۱۶۲

قبول کر لو۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہیں یقیناً علم ہے کہ محمد صلّی اللّہ علیہ وسلم اللّہ کے رسول ہیں جو اللّہ کی جانب سے حق مطلق لائے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو تم اپنی کتاب ربانی میں بھی پاتے ہو ۔ فنحاص کا جواب تھا کہ ہم یہودیوں کو اللّہ اور اس کے رسول صلّی اللّہ علیہ وسلم کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اللّہ کو ان کی ضرورت تھی ۔ اس کے بعد فنحاص نے رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلم کے حق میں بد زبانی کی ۔ حضرت ابو بکرؓ اتنے طیش میں آئے کہ انھوں نے فنحاص کے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا اگر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان میثاق نہ ہوتا تو وہ اس کا سَر اڑا دیتے ۔ فنحاص جلدی جلدی رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور شکایت کی ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے حضرت ابو بکرؓ سے واقعہ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اس کی یہ کہتے ہوئے تصدیق کی کہ فنحاص نے اللّہ اور اس کے رسول صلّی اللّہ علیہ وسلم کو گالی دی تھی ، اس کی وجہ سے ان کو اتنا غصّہ آیا کہ وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور فنحاص کے منہ پر تھپڑ مار دیا ۔ نبی صلّی اللّہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل پر صاد کیا ۔ تھوڑی دیر بعد حضرت ابو بکرؓ کے حق میں ایک وحی بھی نازل ہوئی : " لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ " (آل عمران ۳ : ۱۸۱) بلاشبہ اللّہ نے ایسے لوگوں کا قول سنا جنھوں نے کہا : اللّہ مفلس اور نادار ہے اور ہم امیر اور دولت مند " [اسباب النزول ۔ واحدی صفحہ ۷۹ ۔ التفسیر الکبیر ۔ جلد ۹ صفحہ ۱۲۱ ۔ القرطبی ۔ جلد ۴ صفحہ ۲۹۴ ۔ الکشاف ۔ جلد اول صفحہ ۴۳۴ ۔ مختصر تفسیر ابن کثیر جلد اوّل صفحہ ۲۴۲ ۔ صفوۃ التفاسیر جلد اول صفحہ ۲۴۸ ] ۔

صفحہ ۱۶۳

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا فیصلہ :

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے : ”بشر نامی منافق کا ایک یہودی سے کوئی جھگڑا تھا۔ وہ اس کو فیصلے کے لیے یہودی سردار کعب بن اشرف کے پاس لے جانا چاہتا تھا جو کہ دشمنِ اسلام تھا اور جسے قرآن نے ”طاغوت“ کا نام دیا تھا لیکن یہودی معاملے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا جنھوں نے معاملہ کو سن کر یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ مگر منافق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو مسترد کر دیا اور آپ کے پاس سے جانے کے بعد آپکی شان میں بدکلامی کی ۔ منافق نے یہودی سے پھر رجوع کیا اور تجویز کیا کہ قضیّے کو حضرت عمرؓ بن الخطاب کے پاس پیش کرتے ہیں ۔ ان کا فیصلہ دونوں پر لازم ہوگا۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور معاملہ ان کے سامنے پیش کیا۔ یہودی نے یہ بھی بیان کر دیا کہ وہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاچکے ہیں جنھوں نے اس کے حق میں فیصلہ کیا تھا لیکن بشر نے اس کو مسترد کر دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ دونوں ثالثی کے لیے ان کے پاس آئے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بشر سے پوچھا کہ آیا جو کچھ یہودی نے کہا وہ صحیح ہے۔ جب منافق بشر نے اپنے اس بے حرمتی کے فعل کی تصدیق کی تو حضرت عمرؓ نے انھیں انتظار کرنے کو کہا کہ وہ گھر کے اندر سے کوئی چیز لے آئیں ۔ وہ تلوار لے کر واپس آئے اور بشر کا سر یہ کہتے ہوئے قلم کر دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو رد کرنیوالوں

صفحہ ۱۶۴

کے ساتھ معاملہ طے کرنے کا صرف ایک یہی طریقہ ہے۔ اس کے بعد اس واقعہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ وحی نازل ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ ؕ وَيُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا ۝

(سورۃ النساء ۴ : ۶۰)

”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جو اعلان کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں جو تم پر نازل ہوا اور ان پر جو تم سے پہلے تھے ۔ وہ جھگڑے میں طاغوت کو اپنا منصف ٹھہرانا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ ان کو حکم ہے کہ اسے ردّ کر دیں لیکن شیطان کی خواہش ہے کہ ان کو صحیح راستے سے گمراہ کر دے ۔ جب ان سے کہا جاتا ہے ، اللہ کے نازل کردہ کلام اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب آؤ ، تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے زچ ہوکر اپنے منہ پھیر لیں گے “

حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلہ اور اس پر تعمیل کی تصدیق کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : ” عمر رضی اللہ عنہ نے حق مطلق اور کذب کے درمیان واضح فرق کیا ہے “ اس دن سے حضرت عمرؓ کا لقب ’الفاروق‘ ہو گیا ۔

[ الکشاف، القرطبی، السیف الصارم ۱۹۵ تا ۱۹۷

صفوۃ التفاسیر ۔ جلد اوّل صفحہ ۲۸۵ ] ۔

صفحہ ١٦٥

حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

”رسول اللہ ﷺ کا ایک شاتم حضرت عمر بن الخطاب کے پاس حاضر کیا گیا۔ اس بے حرمتی کرنے والے شخص کو انھوں نے فوراً گردن مارنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد انھوں نے حکم نامہ جاری کیا کہ جو کوئی بھی رسول اللہ ﷺ یا کسی اور نبی اللہ کو گالی دے، اس کی گردن فی الفور اڑا دی جائے“

[السيف الصارم صفحات ١٩٥-١٩٦ - مزید دیکھیں مسائل الحرب]

یہ بھی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ اپنے صحابہؓ کی ایک جماعت کے ساتھ صاف بن صیاد ، دشمن اسلام اور شاتم رسول ﷺ سے ملنے گئے ۔ حضرت عمر بن الخطابؓ بھی اس جماعت میں تھے ۔ دوران گفتگو صاف بن صیاد نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بدزبانی کی تو عمرؓ نے یہ کہہ کر اس کی سرزنش کی :

”اے کفر گو کتے ! تمہیں اپنے بداخلاقانہ رویے اور بدزبانی پر شرم آنی چاہئے ۔ اس کی وجہ سے تم پر اللہ کا غضب ٹوٹ سکتا ہے“

جب حضرت عمرؓ نے یہ سنا تو رسول اللہ ﷺ سے اس کا سر قلم کر دینے کی اجازت چاہی ۔

[بخاری ۔ کتاب الادب جلد دوم ، صفحہ ٩١١] ۔

حضرت ابو سمیعہ بن ربیعی نے روایت کی ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب روم (قسطنطنیہ) تشریف لائے اور رومیوں کو یقین دلایا کہ اگر وہ امان کے معاہدے کی خلاف ورزی نہ کریں تو محفوظ رہیں گے ۔ وہ دین اسلام کے تقدس سے نہ کھیلیں نہ ہی شریعت کی شقوں پر اعتراض کریں ۔ اگر کوئی خلاف ورزی کرے گا تو اس کو فی الفور موت کی سزا دے کر ختم کر دیا جائے گا ۔ حضرت حرب نے کہا کہ یہ بیان اس وقت دیا گیا جب بہت سے صحابہؓ موجود تھے ۔ اس کی سب نے تصدیق

صفحہ ۱۶۶

کی اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کا اعتراض مآخذ میں تحریر کیا ہوا ہو۔ مندرجہ بالا سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ہمیشہ سے ہی صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کفر گو بے حرمتی کرنے والے انسانیت کے کتوں کے لیے مقرر کردہ سزا یعنی سزائے موت کے بارے میں کلی اتفاق رائے رہا ہے۔ [السیف الصارم ۔ صفحہ ۱۹۷]۔

حضرت عمرو بن العاص اور عرفہ بن الحارث الکندی کے فیصلے :

ان دونوں قریبی صحابیانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؐ کے متعلق بد زبانی کے بارے میں مندرجہ ذیل رائے کا اظہار کیا :

”اگر اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عداوت کا اظہار کرتے ہیں اور انھیں گالی دیتے یا ان کے پیغام کا مذاق اڑاتے ہیں تو بلا تامل موت کی سزا سنا کر اس پر تعمیل کر دینی چاہئے“

[السیف الصارم ۔ صفحہ ۱۹۸]

حضرت عبداللہ ابن عمر بن الخطاب کا بیان :

حضرت ہشام نے روایت کی :

”ایک مرتبہ ایک عیسائی راہب حضرت ابن عمرؓ کے پاس سے گزرا، کسی نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ راہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے اور انکے بارے میں زبان درازی کیا کرتا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا اگر میں نے خود راہب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتے ہوئے سنا ہوتا تو یقیناً اس کو قتل کر دیا ہوتا“

[السیف الصارم ۔ صفحہ ۱۹۷ ۔ ۱۹۹]۔

صفحہ ۱۶۷

حضرت خالد بن ولید کا فیصلہ :

حضرت عروہ بن محمد نے بلقین کے ایک شخص سے روایت کی جس نے کہا : ”جب ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بد زبانی کی تو حضرت خالد بن ولید نے اس کو قتل کر دیا“

[ السیف الصارم ۔ صفحہ ۱۹۸ ] ۔

حضرت سعد بن معاذ کا بیان :

یہود عرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استہزاء کرتے اور اپنے مخصوص انداز میں ان سے ٹھٹھا کرتے ۔ جب حضرت سعد بن معاذ نے ان کے الفاظ سنے اور ان کے معنی سمجھے تو ان سے کہا : ”اے دشمنانِ خدا ! تم پر اللہ کی لعنت ہو ۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں استعمال کردہ یہ الفاظ تم میں سے کسی سے سنوں ، تو میں اس کا سر اڑا دوں گا “ [ صفوۃ التفاسیر جلد اول صفحہ ۸۷

السیف الصارم صفحہ ۲۳۳ ] ۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز کا فیصلہ :

حضرت خالد نے روایت کی ہے : ”جب ایک شخص نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو گالی دی اور اُن سے بد کلامی کی تو انھوں نے فوری طور پر ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں اعلان تھا کہ صرف اسی شخص کا قتل جائز ہو گا جس نے

صفحہ ۱۶۸

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حرمتی کی ہو ۔ تاہم اس سزا کا اطلاق کسی ایسے شخص پر نہیں ہو گا جس نے کسی کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اہانت کی ہو ۔ اس لیے جس شخص نے خلیفہ کو گالی دی یا اس کی توہین کی ہو اس کو موت کی سزا نہیں دی جائے گی حالانکہ خلیفہ اپنی قلمرو کا سب سے بڑی مقتدر ہستی ہے ۔ ایسے مجرم کا فیصلہ اسلامی عدالت کرے گی یا مسلمان قاضیوں پر مشتمل ایک جماعت جو سزا کی نوعیت کا فیصلہ کرے گی “ [ السیف الصارم صفحہ ۱۹۹ ] ۔

صفحہ ۱۶۹

باب سوم : ث

توہینِ رسالت کے خلاف مشاہیر فقہاء و علماءِ اسلام

کے فتاویٰ

اسلام کے مختلف مکاتب فکر کے مسلمانوں میں ایسے شخص کی سزا کے بارے میں جو اللہ کا مذاق اڑائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اور ان کی اہانت کرے ، قطعاً کوئی اختلاف رائے نہیں ہے ۔ ایسے شخص کی مومن ہو یا کافر ، سزا موت ہے ۔ پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے کافروں اور مرتدوں سے چاہے وہ دنیا میں جہاں کہیں بھی پائے جائیں ، جنگ کریں اور انھیں سزا دیں ۔

[ السیف الصارم صفحہ ۲۱۰ ]

حضرت امام مالک اور مالکی فضلاء کا فیصلہ :

حضرت ابو مصعب اور حضرت ابن ابی اویس نے بیان کیا :

" ہم نے امام مالکؒ کو کہتے سنا : کوئی بھی شخص ، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے ، بُرا بھلا کہے ، الزام دے یا بے حرمت کرے ، اس کو سزائے موت دی جانی چاہئے اور مار دینا چاہئے ۔ ایسے شخص کی عفو طلبی یا توبہ قابلِ قبول نہیں ۔

[ السیف الصارم صفحہ ۳۰۷ ۔ الشفاء جلد ۲ صفحہ ۱۹۰ ] ۔

صفحہ ١٧٠

حضرت الخطابی نے روایت کی کہ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : "کوئی بھی شخص ، چاہے وہ یہودی ہو یا عیسائی ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے، قتل کر دیا جانا چاہئے ۔"

[السیف الصارم، صفحہ ۳۹] ۔

حضرت محمد بن عبدالحکم نے بیان کیا : "حضرت امام مالک کے مصاحبوں نے ہمیں بتایا کہ کوئی شخص جو کسی بھی اللہ کے نبی کو بشمول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم گالی دیتا ہے، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر ، لازماً قتل کر دیا جانا چاہئے ۔ ایسے شخص کی معافی اور توبہ قبول نہیں کی جائیں ۔"

[السیف الصارم ، صفحہ ۳۰] ۔

حضرت مطرف نے حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی جنھوں نے کہا : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاتم کا سر اڑا دینا چاہئے اور اس کی معافی قبول نہیں کرنی چاہئے ۔"

[السیف الصارم ، صفحات ۵۵۱،۵۴۸،۳۰۷] ۔

حضرت ابن وہب اور حضرت الاشہب نے حضرت امام مالک سے روایت کی ہے جنھوں نے فرمایا : "ہر شخص ، مسلمان ہو یا کافر ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زبانِ بد استعمال کرتا ہے، ایسی باتیں کہہ کر جیسے کہ حضور کا لباس گندہ ہے ، یا بالواسطہ وبلا واسطہ ان کی ذات کی توہین کرتا ہے ۔ اس کو موت کی سزا دے کر قتل کر دینا چاہئے ۔"

[الشفاء جلد دوم صفحہ ۱۹۱ ۔

السیف الصارم صفحہ ۵۲۸ ] ۔

صفحہ ١٧١

achi. yahoo.com +92-321-3817119

مدینہ کے ساکنوں نے امام مالکؒ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : ہر وہ شخص چاہے مسلمان ہو چاہے کافر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا یا ان سے گستاخی کرتا ہے یا ان کی طرف شرمناک فعل منسوب کرتا ہے یا بلاواسطہ و بالواسطہ ان کی ذات میں رخنہ اندازی کرتا ہے ، اسے ، اس کی معذرت خواہی یا توبہ کی طرف توجہ کیے بغیر ، تہ تیغ کر دینا چاہئے ۔

[السیف الصارم صفحہ ۵۲۸]

حضرت قاضی عیاض نے کہا : ”سب سے مشہور مالکی فقہاء کی رائے ہے کہ شاتم رسول کو موت کی سزا سنا کر قتل کر دیا جانا چاہئے اور اس کی معافی کی درخواست یا توبہ قبول نہیں کی جانی چاہئے ۔

[السیف الصارم صفحہ ۵۲۹]

حضرت ابن قاسم نے کہا : ”ہر وہ شخص ، مسلمان ہو یا غیر مسلم ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا یا ان کے لیے بدکلامی کرتا ہے ، یا ان پر کسی گناہ کا الزام دھرتا ہے یا ان کی طرف کسی شرمناک اور باعث ننگ فعل کو منسوب کرتا ہے ، وہ زندیق ہے ۔ اس کو موت کی سزا سنانی چاہئے اور اس کی تعمیل ہونی چاہئے ۔

[السیف الصارم ۔ صفحہ ۵۲۸] ۔

مالکی فضلاء اور امام مالکؒ کے سوانح نگاروں نے مزید بیان کیا ہے کہ خلیفہ رشید نے ان سے کسی شاتم رسول کے بارے میں پوچھا ۔ امام مالکؒ نے جواب دیا : ”اے امیر المومنین ! ایسی امت میں کوئی وقار وعزت باقی نہیں رہتی جس کے نبی کو سبّ وشتم کیا جائے ۔ اس وجہ سے اس قابل نفرین جرم کے مرتکب کو سخت سزا سنانی چاہئے اور فوری طور پر قتل کر دیا

صفحہ ۱۷۲

achi t +92-321-3817119 hoo.com

جانا چاہئے۔ اگر کوئی شخص صحابۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا ان کے بارے میں بدکلامی کرے ، تو اس کو کوڑے لگانے چاہئیں ۔"

[ الشفاء جلد دوم صفحہ ۱۹۱ ، المواہب الجلیل جلد ۶ صفحہ ۲۸۵-۲۸۶

احکام المرتدہ والمرتدین صفحہ ۲۱۱ ۔ حاشیہ کفایہ الطالب الربانی

جلد دوم صفحات ۳۵۲-۳۵۳ ۔ الخرشی جلد ۷ صفحات ۷۰ ، ۷۳

الشرح الصغیر علی اقرب المسالک ۔ جلد ۴ صفحہ ۴۳۵ ۔

السیف الصارم صفحہ ۳۰۷ ] ۔

مالکی فضلاء میں ایک حضرت محمد بن سحنون کا بیان ہے : "مسلمان علماء کے متفقہ فیصلے کے مطابق، شاتم رسول، کفر کا مرتکب ہے اور کافر ہے۔ چونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو موت کی سزا دی ہے۔ اس لیے اسے موت کی نیند سلا دینا چاہئے۔ جن کو اس کی کفر گوئی، کفر یا سزائے موت کے بارے میں شک ہو وہ بھی کافر ہے"

[الشفاء ۔ جلد دوم، صفحہ ۲۷۲ ، السیف الصارم صفحہ ۵۱۴ ] ۔

حضرت امام ابو حنیفہؒ اور دیگر حنفی علماء کا فتویٰ :

حضرت امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا : "ہر شخص جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا بیہودہ گوئی کرے یا ان کی طرف جھوٹ منسوب کرے ، مرتد قرار دیا جائے گا جس کا خون بہا دینا چاہئے ۔"

[ السیف الصارم صفحہ ۵۲۹ ۔

الشفاء جلد دوم صفحات ۱۸۹ - ۲۰۵

حضرت اللیث، حضرت اسحا تمام علماء کا فتویٰ ہے : "جو شخص رسول اللہ سے توبہ کرتا ہے یا نہیں

حضرت امام شافعیؒ او حضرت امام شافعیؒ "کوئی شخص جو رسول ہے جس سے ان کی تو اس کا خون بہانے کی ] بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص کے بارے میں امام شخص کافر ہے اور بے حر انھوں نے یہ آیتِ قرآنی پ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ لَا تَعْتَذِرُوْا "اے محمد صلی اللہ اللہ اور اس اڑا چکے اور توب کرو۔ تم بے حرم

صفحہ ۱۷۳

حضرت اللیث ، حضرت اسحاق، حضرت ثورؒ ، حضرت الاوزاعی اور کوفے کے باقی تمام علماء کا فتویٰ ہے : ”جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے چاہے اپنے جرم سے توبہ کرتا ہے یا نہیں ، اسے موت کی سزا دے کر قتل کر دیا جانا چاہیئے“

[احکام الردۃ والمرتدین صفحات ۲۱۰-۲۱۱] ۔

حضرت امام شافعیؒ اور دیگر شافعی علماء کا فتویٰ :

حضرت امام شافعیؒ کا قول ہے : ”کوئی شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی طور پر بھی گالی دیتا ہے جس سے ان کی توہین ظاہر ہو ، کافر متصور ہو گا اور مسلمانوں کو اس کا خون بہانے کی اجازت ہے“

[حاشیۃ البجوری جلد دوم ، صفحہ ۲۶۵ ۔ احسن المطالب جلد ۴ صفحہ ۱۱۶]

بیان کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ قرآن کریم کی آیات کے استہزاء کے مرتکب ایک شخص کے بارے میں امام شافعیؒ سے دریافت کیا گیا۔ ان کا جواب تھا کہ ایسا شخص کافر ہے اور بے حرمتی کا مرتکب ۔ اس بناء پر اس کا قتل واجب ہے ۔ پھر انھوں نے یہ آیت قرآنی تلاوت کی :

قُلْ اَبِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَ رَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِءُوْنَ
۝۶۵ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ ۔

” (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) منافقوں کے اس گروہ سے کہہ دو کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی وحی کا مذاق اڑا چکے اور توہین کر چکے ہو ۔ اب بے کار بہانہ سازی مت کرو ۔ تم صریح کفر بک کر کافر ہو چکے ہو اور اس کا اعلان

صفحہ ۱۷۴

کر چکے ہو“ [ سورۃ التوبہ ۹ : ۶۵، ۶۶ ۔ السیف الصارم صفحہ ۵۱۵ ] ۔

حضرت ابوبکر الفارسی الشافعی نے بیان کیا : ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اور تابعین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی کی سزا موت ہے۔ اس کی تعمیل فی الفور ہونی چاہئے اور کسی بھی باعث، اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے “ [ السیف الصارم صفحہ ۳۰۸ ۔ الشفاء جلد دوم صفحہ ۴۷۴ احکام الردۃ والمرتدین صفحہ ۲۱۱ ] ۔

حضرت ابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم الحنظلی، الملقب بہ ابن رَاھویہ ، اسلام کے عظیم فقہاء و ائمہ میں سے ایک ۔ جن کو حضرت امام شافعیؒ کے برابر کے درجے کا گردانا جاتا ہے۔ ان کا فیصلہ : ” پوری امتِ مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کوئی شخص جو اللہ کی تضحیک کرتا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے، اور قرآنِ کریم کے کسی حصے یا آیات کو ترک کر دیتا ہے، بے حرمتی اور کفر گوئی کا مجرم ہے اور کافر ہو جاتا ہے چاہے وہ اسلام اور قرآن پر ایمان ہی کیوں نہ رکھتا ہو “

[ السیف الصارم صفحہ ۵۱۳ ۔ مزید ملاحظہ ہو مغنی المحتاج الی معرفۃ معانی الفاظ المنہاج ۔ جلد ۴ صفحہ ۱۳۵ ہامش تحفۃ المحتاج بشرح المنہاج جلد ۹ صفحات ۸۷، ۸۸ حاشیۃ البجوری : جلد دوم صفحہ ۲۶۵ ۔ شرح المنہاج جلد ۴ صفحہ ۳۹۹ حاشیۃ الشروانی ۔ جلد ۹ ۔ صفحہ ۸۷ ۔ السیف الصارم صفحہ ۳۸۰ الشفاء جلد دوم صفحہ ۴۸۴ ۔ احکام الردۃ والمرتدین صفحہ ۲۱۱ ] ۔

صفحہ ۱۷۵

حضرت امام احمدؒ اور دوسرے حنبلی علماء کا فتویٰ :

حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا قول ہے : ”کوئی شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کو گالی دیتا یا ان کے بارے میں یاوہ گوئی کرتا ہے، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم موت کا سزاوار ہونا چاہئے اور مار دیا جانا چاہئے اس کی معافی طلبی قبول نہیں کی جاسکتی۔“

[السیف الصارم۔ صفحات ۲۹۷، ۵۲۷]۔

حضرت قاضی ابوالحسینؒ نے فرمایا : ”کوئی شخص، مسلم یا غیر مسلم، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے سزاوار موت قرار دیا جانا چاہئے۔ اس کی معذرت خواہی قبول نہیں کی جاسکتی۔“

[السیف الصارم صفحہ ۲۹۷]۔

حضرت عبداللہؒ کا کہنا ہے : ”میں نے اپنے والد صاحب سے بے حرمتی کرنے والے شخص کے بارے میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی بکتا ہے، سوال کیا انھوں نے جواب دیا : ایسے بے حرمت کفر گو کی سزا موت ہے اور اس کی تعمیل فی الفور ہونی چاہئے۔ اس کی معذرت اور توبہ قبول نہیں کی جاسکتی۔“

[السیف الصارم۔ صفحہ ۲۹۶]۔

زیدیہ اور امامیہ علماء کا فتویٰ :

جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ان کے اہل بیت یا اماموں میں سے کسی کو بھی گالی دیتا ہے، سزائے موت کا مستحق ہے اور کوئی بھی شخص جسے موقع ملے موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے ۔

صفحہ ۱۷۶

اگر کوئی مرد یا عورت نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کہتا ہے : ”مجھے محمد ﷺ کی نبوت کے بارے میں پورا یقین نہیں ہے“ چاہے وہ یہ الفاظ مذاق میں کہے یا جھوٹ بولتے ہوئے ، اس کی گردن فوراً مار دی جانی چاہئے ۔

شاتمان رسول ﷺ کو متفقہ طور پر کافر ، کفر گو بے حرمت اور مرتد قرار دیا گیا ہے جن کی سزا موت ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے :

مَنْ سَبَّنِیْ فَاقْتُلُوْہُ

”جس نے بھی مجھے گالی دی اسے قتل کر دو “

[ شرائع الاسلام فی الفقہ الاسلامی الجعفری صفحہ ۲۵۱ ]

القاضی عیاض کا فتویٰ :

”کوئی شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے یا ان پر کسی عیب کا اتہام لگاتا ہے یا اُن کی طرف کسی شرمناک یا ذلیل فعل کو منسوب کرتا ہے یا ان کے اہل بیت پر الزام لگاتا ہے ، ان کے پیغام کی تضحیک کرتا ہے ، ان کی شخصیت میں رخنہ لگانے کی کوشش کرتا ہے یا ان کے لیے عداوت و نفرت کا اظہار کرتا ہے ۔ وہ کفر کا مرتکب ہے اور قتل کر دیا جانا چاہئے “

مزید یہ کہ انھوں نے مسلم امہ کے اجماع کا اعلان کرتے ہوئے کہا :

”پوری امت مسلمہ کی رائے ہے کہ شاتم رسول کو موت کی سزا دی جانی چاہئے اور اس کا سر قلم کر دیا جانا چاہئے “

[ الشفاء ۔ جلد دوم ۔ صفحہ ۴۷۴ ۔ السیف الصارم صفحہ ۵۲۸ ]

صفحہ ۱۷۷

القاضی ابو محمد بن نصر کا فتویٰ :

" اجماع امتِ مسلمہ کے مطابق ، کوئی شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی طرح سے بھی ناراض کر کے غصہ دلاتا ہے یا مجروح کرتا یا گالی دیتا ہے ، موت کی نیند سلا دینا چاہئے ۔"

[الشفاء جلد دوم، صفحہ ۱۹۶] ۔

حضرت ابو عبد اللہ کا فتویٰ :

حضرت جعفر بن محمد نے کہا : "میں نے ابو عبد اللہ کو ایک یہودی کے بارے میں پوچھتے ہوئے سنا جو ایک مؤذن کے پاس سے گزرا اور مؤذن کے بارے میں رائے زنی کی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ اس بات کی تصدیق کر چکنے کے بعد کہ اس یہودی نے فی الواقع یہ الفاظ منہ سے بولے تھے ، حضرت ابو عبد اللہ نے مندرجہ ذیل فتویٰ دیا : وہ یہودی جس نے مؤذن پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ، کفر گوئی کا مرتکب ہے ۔ اسے موت کی سزا دی جانی چاہئے ، اس فتوے کی فوری تعمیل کی گئی ۔"

[السیف الصارم ۔ صفحہ ۲۴۴] ۔

حضرت احمد بن ابو سلیمان اور حضرت ابو عثمان بن الحداد کا فتویٰ :

"کوئی شخص جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کی بیخ کنی ، ایسے بیانات سے کرتا ہے جیسے کہ : نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم حبشی تھے ، سزاوار موت قرار دیا جانا اور قتل کر دیا جانا چاہئے ۔"

[الشفاء جلد دوم صفحات ۱۹۱ اور ۳۶] ۔

صفحہ ۱۷۸

حضرت ابوالموہیب العسکری اور حضرت ابو علی البتار کا فتویٰ :

” اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط کاریوں کا الزام لگانے یا ان کو گالی دینے کی سزا موت ہے ۔ اسلام میں اس کے لیے عفو طلبی قبول نہیں کی جاتی “

[ السیف الصارم صفحات ۲۹۸ - ۲۹۹

مزید ملاحظہ ہو ابو علی البتار کی الخصال والاقسام ] ۔

حضرت خرقی کا فیصلہ :

” کوئی شخص ، مسلمان ہو کہ غیر مسلم ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ کو گالی دیتا ہے یا ان پر افعالِ بد کا الزام لگاتا ہے ، اس کی گردن مار دینی چاہئے “

[ السیف الصارم صفحہ ۲۹۷ ] ۔

حضرت عثمان بن کنعان کا فتویٰ :

” کوئی شخص ، یہودی ہو ، عیسائی ہو یا مسلمان ، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شاتم ہے اس کا سر قلم کر دینا چاہئے یا اسے پھانسی پر لٹکا دینا چاہئے یا جلا کر مار دینا چاہئے ۔ امام وقت کو سزا کا طریق انتخاب کرنے کا اختیار ہے ۔ ایسے مرد یا عورت کی توبہ قبول نہیں کی جاتی “

[ الشفاء ۔ جلد دوم ۔ صفحات ۱۹۰ ، ۲۳۲ ] ۔

حضرت ابراہیم بن حسین بن خالد الفقیہ کا فتویٰ :

” شاتمِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حکمِ مرتد اور کافر ہے ۔ جس کی موت کی سزا کی تعمیل فوری ہونی چاہئے جیسے کہ حضرت

صفحہ ۱۷۹

خالد بن ولید نے کیا جب انھوں نے مالک بن نویرہ کا جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تھی، سر قلم کر کے، کیا“

[الشفاء ۔ جلد دوم ۔ صفحہ ۱۹۰ ] ۔

حضرت عبداللہ بن عبدالحکم اور حضرت اصبغ کا فتویٰ :

” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاتم کو، مسلمان ہو یا کافر، جو یہ جرم کھلے بندوں یا چوری چھپے کرتا ہے ۔ معافی مانگنے یا توبہ کرنے کا موقع دیئے بغیر فی الفور جان سے مار دینا چاہئے“

[الشفاء جلد دوم صفحات ۱۹۰ - ۱۹۱] ۔

القاضی الشریف ابو علی بن موسیٰ اور ابو عبداللہ السمری کا فتویٰ :

”کوئی بھی شخص چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے، اس کو گردن زد کر دینا چاہئے ۔ غیر مسلم کا مسلم ہو جانا یا ایسے شخص کا مسلمان ہو جانا موت کی سزا سے نرمی کا باعث نہیں بن سکتا “

[السیف الصارم صفحات ۲۹۹ ، ۳۰۲

القاضی الشریف کی الارشاد بھی ملاحظہ ہو ] ۔

حضرت ابوسلیمان الخطابی کا فتویٰ :

” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاتم کو لازماً قتل کر دیا جانا چاہئے مجھے کسی ایسے اسلامی عالم کا پتہ نہیں جس نے کبھی اس شرمناک جرم کے مرتکب کے موت کی سزا سے اختلاف کیا ہو “

[السیف الصارم ۔ الشفاء جلد دوم صفحہ ۱۹۰ ] ۔

صفحہ ۱۸۰

ابوبکر ابن مُنذر کا فتویٰ :

" اصحاب علم کا اتفاق رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے کی سزا موت ہے۔ نیز ہمیں کسی ایسے اسلامی فاضل یا کسی امام کا علم نہیں جس نے کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کے شاتم کو دی جانے والی سزا سے اختلاف کیا ہو ۔

[ السیف الصارم ۔ الشفاء جلد دوم ۲۷۲

احکام الردہ والمرتدین ] ۔

حضرت حسن بصری اور حضرت اللیث بن سعد کا فتویٰ :

" رسول اللہ ﷺ کے شاتم کو زندیق کی طرح سمجھا جائے گا جس کی سزا موت ہے۔ اس کو بلا تاخیر سزا دے دینی چاہئے۔ اسلامی شرع میں اس کی عذر خواہی کا کوئی وزن نہیں ۔

[ السیف الصارم ۔ صفحہ ۲۱۰ ] ۔

حضرت ابن نجیم اور ابن عقیل :

" کوئی شخص جو رسول اللہ ﷺ کی طرف عداوت و نفرت کا مظاہرہ کرتا ہے اور پھر حضور کو گالی دیتا یا ان کو الزام دیتا ہے، تو وہ مرتد اور کفر گو بن جاتا ہے ۔ اس کی سزا موت ہے اور اس کی معافی طلبی یا توبہ قابل قبول نہیں ہے ۔

[ السیف الصارم ۔ صفحہ ۲۹۸ ۔ البحر الرائق ۔

ابن نجیم جلد ۵ صفحہ ۲۳۵ ] ۔

صفحہ ۱۸۱

القیروان کے فقہاء کا فتویٰ :

ابراہیم الفزاری ایک بڑا شاعر تھا ۔ وہ علوم و معارف کی مختلف شاخوں کا ماہر و متبحر تھا ۔ وہ القاضی ابو العباس بن طالب کا مصاحب اور گہرا دوست تھا ۔ لیکن جب اس نے اپنی تحریروں اور شاعری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی اور ان کی بے حرمتی کی تو حضرت القاضی یحییٰ بن عمیر اور قیروان کے دیگر فقہاء نے اس کو موت کی سزا سنائی ۔ اس کی گردن اڑا دی گئی جس کے بعد اس کی لاش کئی روز تک برسر عام لٹکائی گئی تاکہ دوسرے عبرت حاصل کریں اور تنبیہ پائیں ۔ روایت ہے کہ جب اس کا جسم بلند کیا گیا تو چوب خود بھی قبلہ کی جانب سے مڑ گئی ۔ پھر ایک کتا کہیں سے نمودار ہوا اور اس نے لاش میں سے رستے ہوئے خون کو چاٹنا شروع کر دیا ۔ جنھوں نے یہ نظارہ دیکھا انھوں نے فوری اور بے اختیار اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا ۔ حضرت القاضی یحییٰ بن عمیر نے کہا : ” سچے مسلمان کا خون اتنا مقدس ہوتا ہے کہ کوئی کتا اسے کبھی بھی نہیں چاٹے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فی الواقع کلمہ حق کہا تھا : لَا يَلَغُ الْكَلْبُ فِي دَمِ مُسْلِمٍ کوئی کتا کسی سچے مسلمان کا خون کبھی بھی نہیں چاٹے گا ۔“

[ الشفاء جلد دوم صفحہ ۱۹۲ ] -

اندلس کے فقہاء کا فتویٰ :

” ابن حاتم الطلیطلی نام کے ایک آدمی نے لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کی بے حرمتی کی اور ان کی پاکیزگی کے بارے میں حقارت آمیز لہجہ اختیار کیا ۔ اندلس کے

صفحہ ۱۸۲

تمام علماء و فقہاء کے متفقہ فتوے سے اسے موت کی سزا دی گئی "

[ الشفاء ۔ جلد دوم ۔ صفحہ ۱۹۲ ] ۔

حضرت ابو محمد بن زید کا فتویٰ :

" اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دوسرے لوگوں کے سامنے توہین آمیز رائے زنی کرتا ہے اور ان کی شخصیت کا مرتبہ کم کرتا ہے تو اس پر موت کی سزا واجب ہوگی اور اسے ختم کر دیا جائے گا ۔ ایسے شخص کی معافی یا توبہ قبول نہیں کی جاتی ۔ ایسے کفر گو اور کاذب شخص پر اللہ کی لعنت "

[ الشفاء ۔ جلد دوم ۔ صفحہ ۱۹۱ ] ۔

حضرت ابوالحسن القابسی کا فتویٰ :

" جو شخص یہ بھی کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو طالب کے مسکین یتیم تھے ، اس کی گردن مار دینی چاہئے "

[ الشفاء ۔ جلد دوم ۔ صفحہ ۱۹۱ ] ۔

القاضی ابو یعلیٰ کا فتویٰ :

" شاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو اہم حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے : اللہ کا حق ــــــ اور بندے کا حق نبوت ، قرآن یا دین اسلام پر حملہ اللہ کے حق کی خلاف ورزی

صفحہ ۱۸۳

سمجھا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات یا شخصیت پر حملہ انسان کے حق پر حملہ متصور ہوگا۔

رسول اللہ ﷺ کے حق میں بدزبانی ایسا شدید نفرت انگیز فعل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اللہ کے آخری رسول ﷺ کی شخصیت ، دونوں کی ہتک کرتی ہے ۔ اس لیے ایسا جرم سزائے موت کا متقاضی ہے ۔ ایسے جرم کے مرتکب کو زندہ رہنے اور آزاد آدمی کی طرح چلنے پھرنے کا حق نہیں ہو سکتا ۔ اس کی معافی طلبی یا اس کے حالات کے بارے میں اظہار ہمدردی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس کو فی الفور فنا کے گھاٹ اتار دینا چاہیے ۔“

[ السیف الصارم ، صفحہ ۴۴۴ ] ۔

حضرت امام تقی الدین ابن تیمیہ کا فتویٰ :

”اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کو گالی دے اور پھر توبہ کرے تو اس کی توبہ کسی کام کی نہیں ، جیسے کسی زانی ، چور یا کسی ایسے شخص کی توبہ جو کسی پاک دامن عورت پر بدکاری میں ملوث ہونے کا الزام لگائے ۔ ایسے اشخاص کو اپنے اعمال بد کی سزا بھگتنی چاہیے اسی طرح ، شاتم رسول اللہ ﷺ کو بھی اپنے قابل نفرین جرم کی سزا بھگتنی ہی چاہیے ۔ اس کو موت کی سزا دے دینی چاہیے اور اس کی معافی طلبی کی طرف کوئی توجہ نہیں دینی چاہیے ۔ کسی غیر مسلم کی تبدیلی مذہب جو جرم کے ارتکاب کے بعد اسلام قبول کرتا ہے ، اسے سزا سے نہیں بچا سکتی “

[ ملاحظہ ہو المغنی مع الشرح الکبیر ، جلد ۱۰، صفحہ ۱۱۳ ]

صفحہ ۱۸۴

الشرح الکبیر ۔ جلد اوّل ۔ صفحہ ۷۵ ، الانساب ۔ جلد ۱۰ ۔ صفحات ۳۳۶ - ۳۳۷ ، منتہی الارادات ۔ جلد دوّم ، صفحہ ۵۰۰ ، کشف القناع ۔ جلد ۶ ۔ صفحہ ۱۶۸ ، مطالب النہیٰ ۔ جلد ۶ ۔ صفحہ ۲۷۹ ، السیف الصارم ۔ صفحہ ۴۴۴ ، احکام الرّدۃ والمرتدین صفحات ۲۱۱ - ۲۱۴ ] ۔

ڈاکٹر محمد الفضیلت کا فتویٰ :

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شاتم کفر گو اور مرتد ہے جس کا خون بہانا لازم ہے۔ اس کی دولت اور جائداد ضبط کرلینی چاہئے۔ اگر وہ عورت یا مرد باخلاص توبہ کرے تو یہ کام اللہ کا ہے کہ وہ اسے معاف فرمائے یا نہ ۔ لیکن اسلامی شریعت ایسے شخص کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور اس کو لازماً موت کی سزا ملنی چاہئے ۔“

[احکام الرّدۃ والمرتدین ۔ صفحہ ۲۷۸] ۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی طرف جھوٹے بیانات منسوب کرنیکی سزا

حضرت بریدہ سے روایت ہے۔ انھوں نے کہا : ”قبیلہ بنو لیث مدینہ سے دو میل کے فاصلے پر مکین تھا ۔ اسلام کی آمد سے پہلے اس قبیلے کی عورت سے عشق کرنے والے ایک شخص نے اس کا رشتہ مانگا لیکن قبیلے والوں نے انکار کر دیا ۔ بہت سے سال گزرنے کے بعد اس نے ایک ترکیب سوچی ، ایک خاص وردی

صفحہ ۱۸۵

زیب تن کر کے وہ قبیلے میں گیا اور ان سے کہا کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ وردی عطا کی ہے اور ان کے معاملات کا والی مقرر کیا ہے۔ لوگوں پر اس طرح کا تاثر ڈال کر وہ اپنی محبوبہ کے گھر گیا۔

قبیلے والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجا کہ آیا فی الواقع اسے ان کا والی مقرر کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس عدوّ اللہ کی وجہ سے بہت پریشان ہوئے جس نے ان کی طرف ایک جھوٹ منسوب کیا تھا۔ ایک آدمی کو بھیجا گیا کہ اگر مل جائے تو اس کاذب کو جان سے مار دے ۔ بصورت دیگر اس کے جسم کو آگ سے جلا دیا جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مامور شخص کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی اس شخص کو سانپ نے ڈس لیا تھا اور وہ مرچکا تھا۔ تب حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس کی لاش کو جلا دیا گیا ۔

یہ بھی روایت ہے کہ جب ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک جھوٹ منسوب کیا تو حضور نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو اسے قتل کرنے کے لیے بھیجا ۔ [ تفصیلات کے لیے دیکھیں الکامل لابن الاثیر ،

احکام الردۃ والمرتدین صفحہ ۱۷ ] ۔

مسلمانوں کو اجازت نہیں کہ وہ شاتمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی

معافی قبول کریں :

شاتمانِ رسول کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی سزا سنائی ۔ ان احکام کی ہمیشہ تعمیل ہوتی اور کفر گو ، کیفر کردار کو پہنچے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کے صحابہؓ ، ان کے تابعین ، فقہاء ، محدثین ، ائمہ

صفحہ ۱۸۶

اور علمائے اسلام ۔ سب کے سب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ سنت پر عمل کیا۔ انھوں نے کبھی بھی کسی ایسے نوع انسان کے کفر گو کتے کو فنا کے گھاٹ اتارنے میں تامل نہ کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے کی جرأت کی کیونکہ ان کو پختہ یقین تھا کہ ایسا شخص موت کا ہی سزاوار ہے۔ انھوں نے کبھی بھی کسی شاتم کی معافی یا توبہ قبول نہیں کی۔ اس لیے مسلمانوں کا نہ صرف یہ حق ہی ہے بلکہ ان کا فرض بھی ہے کہ وہ بے حرمتی کے ارتکاب کے خلاف متحد رہیں چاہے یہ ارتکاب افراد، جماعتوں، تنظیموں، قوموں، طاقتوں یا حکومتوں نے کیا ہو یا ایسے بے حرمتی کے فعل کرنے والوں کی حمایت و مدد کرنے والوں نے۔ مسلمانوں پر لازم آتا ہے کہ وہ ایسے بدکرداروں کو سخت سزا دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ اپنے جرموں کی سزا بھگتیں۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اسلامی شریعت کی رو سے یہ قابل نفرین جرم معاف نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمان کسی بھی معافی کی درخواست یا توبہ کو قبول نہیں کر سکتے کیونکہ معافی قبول کرنے کا حق صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہے جن کے وقار اور ناموس کو مجروح کیا گیا۔ اور چونکہ جسمانی لحاظ سے وہ اس دنیا میں موجود نہیں ہیں کہ معافی دے دیں یا کافر کی معافی کی استدعا، یا توبہ قبول فرمالیں اس لیے مسلمانوں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے سوائے اس کے کہ اسلامی شریعت کے فتوے کا نفاذ کریں جو یہی ہے کہ بے حرمتی کرنے والے کفر گو شخص کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔

[السیف الصارم ۔ صفحہ ۴۳۱] ۔

اسلامی شریعت مخلص مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ

شاتمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مرتدوں کا صفایا کریں :

الترمذی میں حضرت ابی امامہ سے روایت ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں

صفحہ ۱۸۷

نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا :

”بے حرمتی کرنے والے کافر اور مرتد دنیا بھر کے مقتولین میں سے بدترین ہیں۔ اگر ان کے ہاتھوں کوئی مسلمان مارا جائے تو وہ رتبے میں بہترین میں سے شمار ہو گا “

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیات تلاوت فرمائیں :

يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ . وَ أَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ .

”اس روز (روزِ قیامت) بہت سے چہرے اللہ کے نورِ جلالی سے منور ہو جائیں گے ۔ ان کی بشاشت ان کے چہروں سے عیاں ہوگی اور بہت سے دوسرے چہرے سیاہ کر دیئے جائیں گے اور کالے نظر آئیں گے ۔ وہ جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ان کو بتایا جائے گا: تمہاری کفر گوئی اور تمہارے ارتداد کی بناء پر تمہارے چہرے کالے کر دیئے گئے ہیں تاکہ تم اپنے اعمالِ بد کی سزا اور عذاب چکھتے رہو۔ اور وہ جن کے چہرے منور ہیں وہ اللہ کی رحمت سے ڈھکے جائیں گے ۔ جس کے مزے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اڑائیں گے“

[سورۃ آل عمران ۳ : ۱۰۶ - ۱۰۷ ، احکام الردۃ والمرتدین ] ۔

مسلمانوں کی جان و مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقار و ناموس پر قربان :

اللہ جل جلالہ کا حکم ہے کہ مسلمان اپنی جانوں سمیت تمام تر ملکیتیں صرف

صفحہ ۱۸۸

کر دیں اور اللہ کی راہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی خاطر مسلسل جدوجہد کرتے رہیں۔ ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو اللہ کی طاقت و قوت ان کے خلاف عمل پیرا ہو جائے گی۔ یہ مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی ، عمومی تنبیہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : " إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا "

(سورۃ التوبہ ۴۰:۹)

٭ اگر تم ایسے وقت میں اس (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مدد نہیں کرتے جب اس کی زندگی ، وقار اور عزت خطرے میں ہو اور جب بے حرمت کافروں نے اسے مکہ سے نکال باہر کیا ہو، پھر بھی اللہ نے اس کی مدد کی اپنی ناقابل مشاہدہ قوت کے ساتھ جو طاقت کہ ناقابل مزاحمت ہے ۔“

ایک ایسے وقت میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کو خطرہ ہو، ان کی شخصیت کے متعلق ہرزہ زبانی کی جارہی ہو اور ان کے پیغام کو مسترد و قابل ملامت ٹھہرایا جارہا ہو ، مسلمانوں کو حکم ہے کہ اسلام کی خاطر اٹھ کھڑے ہوں۔ اس حکم کا اطلاق برابر اس وقت بھی ہو گا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلبیت کی بے حرمتی کی جارہی ہو یا ان کے صحابہؓ کی تضحیک کی جارہی ہو اور ان کو تکلیف و تعذیب میں مبتلا کیا جارہا ہو۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ مومن اٹھ کھڑے ہوں اور بے حرمتی و ارتداد کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہو جائیں جس میں اسلام کی خاطر اپنی دنیاوی دولت خرچ کر دیں اور مصائب بھی برداشت کریں۔ اسلامی شریعت کے مطابق ، جب کبھی کوئی مسلم رہنما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت کی خاطر دعوت عام کا اعلان کرے ، تو اس پر لبیک کہنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے ۔ خوش قسمت ہیں وہ جو اس دعوت پر فی الفور لبیک

صفحہ ۱۸۹

کہتے ہیں جب کہ وہ جو اس کی طرف توجہ نہیں دیتے بالآخر خسارے میں رہتے ہیں جہاں تک منافقوں کا تعلق ہے تو وہ نہ صرف اس دعوت پر کان ہی نہیں دھرتے بلکہ اس کو رد بھی کر دیتے ہیں ۔ ان پر ۔ یہاں اور آخرت دونوں میں اللہ کا غضب ٹوٹے گا ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے :

" اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا ۙ وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوْهُ شَيْئًا ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۝ "

(سورة التوبۃ ۹ : ۳۹) ۔

" اگر تم نفر میں کوتاہی برتتے ہو ، ارتداد اور کفر کے خلاف قتال کے لیے اسلام کی پکار پر لبیک کہنے میں ناکام رہتے ہو ، تو اللہ تمہیں درد ناک عذاب کی سزا دے گا ۔ اس طرح تمہیں غارت کر کے وہ تمہاری جگہ دوسروں سے پُر کر دے گا جو تم سے زیادہ مطیع فرمان ہوں گے اور اس دعوت پر لبیک کہنے کے لیے تیار بر تیار ۔ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو کوئی بھی نقصان کبھی بھی نہیں پہنچا سکو گے اور اللہ کو سب چیزوں پر مکمل اختیار و قوت حاصل ہے ۔ "

" اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ؕ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۝ "

(سورة التوبۃ ۹ : ۴۱)

" (اے مسلمانو !) ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے لیس ہو کر ، پیدل یا سواری پر آگے بڑھو ۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم معمولی طور پر ہتھیار بند ہو یا خوب اچھی طرح لیس "

" اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے ۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو ۔ "

صفحہ ١٩٠

”تمہارا فرض ہے کہ تم اللہ کی بلند و برتر راہ میں اپنے مال و دولت کے علاوہ اپنی جانوں کے ساتھ سخت کوشی اور مخلصی سے جہاد کرو۔ اگر تم اس بات کا ادراک کر لو تو یہ تمہارے لیے بہترین عمل ہے“

( سورة الصف ٦١ : ١١ )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

”عن انس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : جاهدوا المشركين بايديكم والسنتكم واموالكم - (النسائی)

”اے مسلمانو (!) کافروں کے خلاف اپنے ہاتھوں ، اپنے لفظوں اور اپنی دولت کے ساتھ سخت اور مخلصانہ کوشش اور جہاد کرو“

(نسائی : كتاب الجهاد) ۔

اس طرح سے اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت مسلمانوں کے مذہبی فریضے ہیں جن کے خلاف کوئی بہانہ سازی نہیں چل سکتی ۔

صفحہ ۱۹۱

باب چہارم

ارتداد کا معنی و مطلب

اسلامی شریعت کی رُو سے کئی ایسے فعل ہیں جن پر ارتداد کی اصطلاح کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔ خلاصہ مندرجہ ذیل ہے :

”اسلام کو چھوڑ بیٹھنا یا ترک کر دینا — اسلام کے کسی بنیادی اور اصولی عقیدے کو رد کر دینا — اسلام کی مطلق سچائی سے جھوٹ کی پہلے والی حالت پر واپس چلے جانا یا کسی اور مذہب کو قبول کر لینا — اسلام سے کفر میں واپس چلے جانا — اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے بغاوت کرنا — اسلام کے کسی قانون کے نفاذ کے خلاف قولاً یا فعلاً ناپسندیدگی کا اظہار کرنا — خود نبوت کا دعویٰ کرنا یا اللہ کے آخری رسول محمد ﷺ کے بعد کسی کاذب نبی پر ایمان لانا — کسی ایسے فعل میں ملوّث ہونا یا ایسے الفاظ منہ سے نکالنا جو کفر کی طرف لے جائیں “

ارتداد کے اوپر درج شدہ معنوں کے مطابق یہ واضح ہے کہ سب کفر گو ، بے حرمتی کرنے والے ، مذاق اڑانے والے ، یہودی ، عیسائی ، ان کے دوست مددگار ، ہمدرد ، مشرک ، ملحد ، نیم دل مسلمان ، توحید الٰہی اور اس کی ربوبیت مطلقہ اور اس کے تمام انبیاء جن کا سلسلہ نبی محمد ﷺ پر ختم ہوتا ہے ، کے منکر ، سب کے سب کافر اور مرتد ہیں ۔ [قرۃ العینین علیٰ تفسیر الجلالین ۔ صفحہ ۳۶۰] ۔

صفحہ ۱۹۲

شریعت اسلامی کا ارتداد کے خلاف فتویٰ :

قرآن کریم کے ، سنتِ رسول اللہ ﷺ کے ، صحابہؓ کے ، تابعین کے اور دیگر فقہاء و علماء اسلام کے اجماع کے مطابق ، جو شخص اسلام کو ترک کر دیتا ہے وہ مرتد ہو جاتا ہے۔ ارتداد کی سزا موت ہے لیکن وہ شخص اگر خلوص دل سے توبہ کرلے ، تو اس کی سزائے موت ختم کی جاسکتی ہے اور اسے معاف کیا جاسکتا ہے

اللہ تعالیٰ نے مرتدین اور غیر مسلموں کی ایک جیسی مذمت کی ہے :

اللہ تعالیٰ نے مسلموں اور غیر مسلموں کو تنبیہ کی ہے کہ اسلام کے حق مطلق سے بے راہ نہ ہوں ۔ وہ کسی دوسرے نام نہاد مذہب کی طرف نہ جھکیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو نقصان ان کا ہی ہو گا اور ان کے نیک اعمال وافعال اکارت جائینگے کیونکہ ان کا مستقل ٹھکانا دوزخ کی آگ ہو گی۔ مزید یہ کہ اگر مسلمان اسلام کو ترک کر دیں گے تو ان کو نیست ونابود کر دیا جائے گا اور ان کی بجائے سچے مسلمان لائے جائیں گے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کریں گے اور اسلام کی مقدس تحریک کے لیے جدوجہد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَمَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ۝

(سورة اٰل عمران ۳ : ۸۵)

”وہ جو دینِ اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی طرف میلان رکھنے یا اختیار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ ان کی طرف سے کبھی بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کی یہاں بھی آزمائش ہو گی اور سزائے موت کا سامنا ہو گا اور آخرت میں وہ نقصان میں رہیں گے کیونکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے

صفحہ ۱۹۳

نار جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے “

اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے : وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ٥

(سورۃ البقرۃ ۲ : ۲۱۷)

”تم میں سے جو کوئی بھی اسلام ترک کر دیتا ہے اور اپنے ایمان سے انحراف کی حالت کفر میں ہی مر جاتا ہے تو اس کے اچھے اعمال بالکل نفی ہوجائینگے ایسے لوگوں کے لیے آتش دوزخ ان کی مستقل رہائش گاہ ہو گی “

اللہ تعالیٰ کا مزید فرمان ہے : يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَأْتِى اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّوْنَهٗ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ ۖ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَاۤئِمٍ ؕ

(سورۃ المائدہ ۵ : ۵۴)

”اے مومنو ! اگر تم میں سے بعض لوگ دین اسلام ترک کر دیتے اور اس سے منحرف ہو جاتے ہیں تو اللہ ان کو غارت کر دے گا اور دوسری قوم لے آئے گا جن سے وہ محبت کرے گا کیونکہ وہ اس سے محبت کریں گے ۔ ایسے لوگ سچے مومنوں سے نرمی اور مہربانی برتیں گے ۔ اور کفر بکنے والوں ، ایمان کو رد کرنے والوں اور کافروں پر سختی کرینگے وہ اسلام کی راہ میں جہاد کے لیے ہمیشہ تیار رہیں گے اور کسی بیوقوف شخص کی کسی طرح کی تنقید ، الزام یا ملامت سے خائف

صفحہ ۱۹۴

نہیں ہوں گے ۔ تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہوں :

[ حاشیۃ الدسوقی ۔ جلد ۴ مواہب الجلیل ۔ جلد ۶ حاشیۃ العدوی ۔ جلد ۲ المجموع نووی ۔ جلد ۱۸ نہایۃ المحتاج ۔ جلد ۷ الأم ۔ شافعی ۔ جلد ۶ المغنی ۔ ابن قدامہ ۔ جلد ۹ کشف القناع ۔ جلد ۶ المحلیٰ ۔ جلد ۱۱ احکام الردۃ والمرتدین ] ۔

تائب نہ ہونے والے مرتد اس دنیا میں سزائے موت اور آخرت

میں درد ناک عذاب اور غضب الہی کا نشانہ ہوں گے :

منافقین مدینہ رسول اللہ ﷺ کو در پردہ گالیاں دیتے اور اللہ کی وحی کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کر کے اسلام اور مسلمانوں پر تنقید کرتے تھے ۔ جب چند صحابہؓ نے یہ سنا تو رسول اللہ ﷺ کو یہ اطلاع دی ۔ آپ نے منافقین کو اس معاملے کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے بلایا لیکن انھوں نے اس بات سے صاف انکار کر دیا اور اللہ کی قسم کھائی کہ انھوں نے کوئی ایسی بات منہ سے نہیں نکالی ۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے جلد ہی ان کی منافقت ، ارتداد اور اسلام کے خلاف سازش کو بے نقاب کر دیا اور انھیں تلقین کی کہ وہ سچی توبہ

صفحہ ۱۹۵

کریں یا سنگین نتائج اور المناک سزا کا اس دنیا میں اور آتش دوزخ کا آخرت میں سامنا کریں۔ اللہ کا ارشاد ہوا :

يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا ۚ وَ مَا نَقَمُوْا اِلَّا اَنْ اَغْنٰهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ ۚ فَاِنْ يَّتُوْبُوْا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ ۙ وَ اِنْ يَّتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِيْمًا فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ ۚ وَ مَا لَهُمْ فِي الْاَرْضِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ ۝

(سورۃ التوبہ ۹ : ۷۴) ۔

”وہ (مرتد) اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کو حقیقت پر مبنی ہونے سے انکار کرتے ہوئے اللہ کی قسم کھاتے ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف کلمہ کفر کہا اور ایمان لانے کے بعد اسلام سے کفر کیا۔ انھوں نے رسول خدا ﷺ کے خلاف سازش کی جب وہ تبوک سے واپس آرہے تھے لیکن وہ ان کو قتل کر دینے کی سازش میں ناکام رہے۔ اس کھلی دغابازی اور بغاوت کے باوجود ان کا گناہ معاف کیا جا سکتا ہے اگر وہ حقیقی اور مخلصانہ توبہ کرلیں۔ یہ ان کے لیے بہترین ہوگا۔ لیکن اگر وہ توبہ نہیں کرتے اور اپنی بدراہیوں اور بداعمالیوں کی طرف واپس لوٹتے ہیں تو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ ان کو درد ناک اور غمناک عذاب کی سزا دے گا (یعنی شدید موت) اور آخرت میں سخت اذیت (یعنی بھڑکتی ہوئی آتش دوزخ) اور وہ روئے ارض پر بلا حفاظت و معاونت چھوڑ دیئے جائیں گے “

صفحہ 196

اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ بھی ہے :

كَيْفَ يَهْدِى اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ وَشَهِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ ط وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ۝ اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ۝ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ ۝ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ۝

” وہ لوگ جو اسلام سے منحرف ہو گئے اور ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ، وہ مرتد ٹھہرے ، اللہ کی طرف انکو کیونکر ہدایت آئے گی ؟ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اللہ کی ہدایت سے محروم کیے جائیں گے کیونکہ اللہ بددین اور مرتدوں کی رہنمائی نہیں کرتا ۔ وہ کیسے اللہ کے فضل اور مغفرت کی توقع رکھتے ہیں ؟ ایسے مرتدوں کی سزا اللہ کا ابدی غضب ، اس کے ملائکہ اور تمام مومنوں کی طرف سے لعنت ہے ۔ آتش دوزخ ان کا مستقل ٹھکانا ہوگا ۔ ان کی سزا کبھی ختم نہیں ہوگی جب تک کہ وہ ان میں سے نہیں ہوجاتے جو بعد میں بصدق دل توبہ کر لیتے ہیں اور متقی بن جاتے ہیں ۔ ایسوں کے لیے اس عذاب سے استثناء ہوگی کیونکہ اللہ ہمیشہ بخشنے والا اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے “

سورة آل عمران ۳ : ۸۶ تا ۸۹

[ السيف الصارم صفحات ۳۱۰ تا ۳۱۳ ] -

ارتداد کی سزا :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بہت سے قبائل نے اسلام

صفحہ ۱۹۷

ترک کر دیا اور مرتد ہو گئے۔ حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) خلیفہ اول نے ان کے خلاف مسلم افواج بھیجیں تاکہ اسلام کے خلاف ان کی بغاوت کچل دی جائے۔ حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے اپنی کارروائی کے حق میں مندرجہ ذیل قرآنی آیت سے مدد حاصل کی ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَد تُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۔

(سورة التوبة ٩ : ۵)

اس آیت میں لفظ ’مشرکین‘ کا مطلب ہے سب کافر، مشرک اور مرتد جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے پیغام سے برسر پیکار ہیں اسلامی شرع ایسے لوگوں کے لیے ابدالآباد تک قابل اطلاق رہے گی۔ "اے مسلمانو! جہاں کہیں بھی کافروں، مشرکوں اور مرتدوں کو پاؤ، ان کو ختم کر دو، گرفتار کر لو یا قیدی بنا لو، گھیرے میں لے لو اور ہر کمین گاہ میں ان کے لیے گھات لگا کر بیٹھو۔"

لیکن یہاں بھی مرتدوں کے لیے توبہ اور معافی کی گنجائش ہے۔ اگر وہ توبہ کرلیں تو اسے قبول کر لیا جائے گا اور معافی دے دی جائے گی۔ مگر توبہ میں اس کا مخلص ہونا لازمی ہے جس کا اندازہ اس کے اعمال سے کیا جائے گا جیسے کہ باقاعدگی سے نماز قائم کرنے اور مستحق مسلمانوں کو اپنی دولت میں سے حصّہ دینے سے ۔ یہ فرمانِ خدا کے آخری حصّے سے بالکل واضح ہے ۔

فَإِن تَابُوا وَ أَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝

(سورة التوبة ٩ : ۵)

"اگر وہ (کافر، مشرک اور مرتد) توبہ کر لیتے، باقاعدہ نماز پڑھتے اور

صفحہ ۱۹۸

باقاعدہ طور پر اپنی دولت میں سے ضرورت مند مسلمانوں کو دیتے ہیں تو ان کی معافی کی درخواست قبول کر لو اور ان کی آزادی ان کے لیے آسان بنا دو ۔ بلاشک، اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے ۔“

[مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو: تفسیرالکبیر، رازی کی اور تفسیر ابن کثیر]۔

باغی مرتدین کے لیے معافی نہیں :

اسلامی شریعت کے مطابق ، ترکِ اسلام یعنی مرتد ہو جانا اور بعد ازاں اسلام کے خلاف دشمنانہ سرگرمیوں میں تیزی دکھانا سزاوار موت جرم سمجھا جاتا ہے۔ ایسے جرم کے مرتکب کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ جب کچھ افراد اسلام سے منہ موڑ گئے ، تو وحیِ ربانی نے ان کی سرزنش کی اور ان کے ارتداد کا پردہ چاک کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

" لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ "

(سورۃ التوبۃ ۹ : ۶۶)۔

"اے مرتدو ! لاحاصل بہانے مت بناؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم اسلام سے پھر گئے ہو اور ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے ہو ۔"

بعد ازاں ان کو باغی اور شریرالنفس کافر قرار دیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ ۚ وَأُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّآلُّونَ O

(سورة آل عمران ۳ : ۹۰)

" بلاشبہ وہ جو اسلام سے پھر گئے اور ایمان لے آنے کے بعد کافر ہو گئے اور اسلام کے خلاف اپنی دشمنانہ حرکتوں میں متشدد ہو گئے، سخت سزا (موت) دیئے جائیں گے ۔ ان کی توبہ قبول نہیں کی جائیگی۔

صفحہ ١٩٩

جو گمراہ ہو گئے ہیں ان کے لیے توبہ کیونکر قبول ہو سکتی ہے ؟“

اللہ تعالیٰ کا مزید ارشاد ہے :

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيْلًا ؕ

(سورۃ النساء ۴ : ۱۳۷)

” بلاشبہ وہ جو ایمان لائے اور پھر اسلام سے کفر کر کے منحرف ہوئے ، پھر ایمان لائے اور پھر کافر ہوئے اور اسلام کے خلاف معاندانہ سرگرمیوں میں شدید تر ہوئے ، انھیں اللہ کبھی بھی معاف نہیں فرمائے گا نہ ہی ان کی سیدھے راستے پر رہنمائی فرمائے گا ۔ وہ اللہ کے فضل اور مغفرت سے محروم ہو گئے ہیں اور اس کے غضب کے نشانے ہیں ۔“

اس کی مزید تشریح حضرت عمر بن الخطاب اور حضرت علی بن ابی طالب نے ان الفاظ میں کی :

” باغی مرتد کی توبہ اللہ کبھی بھی قبول نہیں کرے گا کیونکہ اس نے چار بار کفر کیا اور اسلام کے خلاف اپنی سرگرمی تیز کی ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ صدق دل سے توبہ نہیں کر رہا بلکہ اللہ سے محض مذاق کر رہا ہے ۔“

[سرخسی ۔ المبسوط ۔ جلد ۱۰ ۔ صفحہ ۹۹ ،

احکام الرّدہ والْمُرتدین ۔ صفحہ ۲۷۶] ۔

قیامت کے دن مرتد کا الم و کرب :

ارتداد ، اللہ سبحانہ و تعالے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف غداری اور بغاوت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مرتد کے لیے کم بختی ، بے عزتی، درد اور الم کا باعث بنتا ہے اور اسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نور درخشاں سے

صفحہ ۲۰۰

ہٹا دیتی ہے۔ روز حشر اس کا چہرہ سیاہ ہو گا ۔ اللہ جل جلالہ کا ارشاد ہے :

فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ ۚ اَكَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ
اِيۡمَانِكُمۡ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ

- (سورة آل عمران ۳ : ۱۰۶) ۔

”قیامت کے روز وہ جن کے چہرے ذلت وخواری سے سیاہ کر دیئے جائیں گے ۔ ان کو بتایا جائے گا : تم اسلام پر ایمان لانے کے بعد اس سے منحرف ہو گئے تھے۔ اب اسلام سے منحرف ہونے اور اللہ کے اور اس کے آخری رسول ﷺ کے منکر ہونے کا عذاب چکھو“

رسول اللہ ﷺ کے اقدام کی قرآنی تصدیق :

عرینہ کے لوگ مدینہ آئے اور اسلام قبول کرلیا۔ بعد میں وہ اسلام سے پھر گئے۔ ایک مسلمان راعی کا قتل کردیا اور اللہ کے رسول ﷺ کے خلاف بغاوت کردی۔ آپ نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا۔ وہ گرفتار ہوئے اور آپ کے سامنے پیش کیے گئے۔ معاملہ کی تفتیش کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کو سزائے موت سنائی ۔ اس حکم پر فوری عمل درآمد ہوا اور مندرجہ ذیل وحی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام کی تصدیق کی ۔ فرمان خدا ہے :

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيۡنَ يُحَارِبُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَسۡعَوۡنَ
فِى الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ يُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ يُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ
اَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ يُنۡفَوۡا مِنَ
الۡاَرۡضِ ؕ ذٰلِكَ لَهُمۡ خِزۡىٌ فِى الدُّنۡيَا وَلَهُمۡ فِى
الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۝

(سورة المائدہ ۵ : ۳۳)

صفحہ ۲۰۱

"ایسے لوگوں کی سزا، جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے عائد کردہ قوانین سے لاپرواہی برتتے ہیں، دین اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے خلاف دشمنی اور نفرت کا اظہار کرتے ہیں، ان کو گالی دیتے اور ذہنی پریشانی میں مبتلا کرتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور زمین پر امت مسلمہ کے خلاف ابتری، شر و فساد اور بغاوت کا باعث بنتے ہیں، قتل یا پھانسی ہے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں یا ان کو ملک بدر کر دیا جائے۔ یہ ذلت و خواری ان کے لیے اس دنیا میں ہے اور آخرت میں بھاری سزا انکی منتظر ہے"

[ملاحظہ ہو : تفسیر الجلالین ، قرۃ العینین علیٰ تفسیر الجلالین صفحہ ۱۴۲

ابو داؤد ۔ کتاب الحدود ۔ باب ما جاء فی المحاربہ صفحہ ۶۰۰

السیف الصارم ۔ صفحات ۳۷۰ - ۳۸۸ ]

سُنّتِ رسول اللہ ﷺ اور فتاویٰ صحابہؓ سے شواہد

مختلف صحابہؓ رسول اللہ ﷺ سے مروی احادیث

حضرت ابن عباسؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی، آپ نے فرمایا:

" مَنْ بَدَّلَ دِیْنَهُ فَاقْتُلُوْهُ "

"جس (مسلمان) نے اپنا دین تبدیل کیا، اس کو قتل کر دو"

حضرت ابن عباسؓ نے ہی مختلف ذرائع سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ

صفحہ ۲۰۲

نے فرمایا : " مَنْ خَالَفَ دِينَهُ دِينَ الْإِسْلَامِ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ " "جس کسی نے اپنے دین ، دینِ اسلام کی مخالفت کی ، اس کی گردن اڑا دو ۔"

حضرت زید بن اسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا: "مَنْ غَيَّرَ دِينَهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ " "جس کسی نے اپنا دین (اسلام) تبدیل کیا تو اس کی گردن اڑا دو ۔"

[ بخاری : باب - حکم فی المرتد والمرتدہ نسائی : باب - الحکم فی المرتد مؤطا امام مالک : باب - توبۃ المرتد نیل الاوطار : باب - القضاء فی من ارتد عن الاسلام جلد ۸ صفحہ ۴ شرح نیل الاوطار - جلد ۷ صفحہ ۲۱۹ فتح القدیر - جلد ۴ - صفحہ ۳۸۴ فتح الباری - جلد ۱۲ - صفحہ ۲۲۶ احکام الردہ والمرتدین صفحات ۲۶۸ اور ۲۷۱ الشفاء - جلد دوم - صفحہ ۲۴۶ ابن ماجہ : باب - ابواب الحدود صفحہ ۱۸۲ السیف الصارم - صفحہ ۳۰

حضرت عبداللہ بن مسعود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جن کا فرمان ہے : " قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يحل دم امرئ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ ان لا اله الا الله وانى رسول الله الا باحدى ثلاث النفس(۱) بالنفس ۔ والثيب الزانى(۲) والمفارق لدينه التارك الجماعة(۳) ۔

صفحہ ۲۰۳

" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، کسی مسلمان کا خون جو اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور اللہ کے آخری رسول ہونے کی گواہی دیتا ہے سوائے تین میں سے ایک وجہ کے کبھی بھی بہایا نہیں جا سکتا :

پوری طرح یا جزواً ترک کر کے علیحدگی اختیار کر لیتا ہے ۔

[ بخاری : کتاب الدیات ۔ جلد ۲ ۔ صفحہ ۱۰۱۶

مسلم : باب ۔ مایباح بہ دم المسلم ۔ جلد ۲ ۔ صفحہ ۵۹

ابن ماجہ : باب ۔ ابواب الحدود ۔ صفحہ ۱۸۲

نسائی : باب ۔ ما یحل بہ دم المسلم ۔ جلد ۲ ۔ صفحہ ۱۶۴

قرۃ العینین علی تفسیر الجلالین صفحہ ۲۶۸

السیف الصارم : صفحہ ۳۱۰

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يحل دم امرئ مسلم يشهد ان لا اله الا الله وان محمداً رسول الله الا في (۱) احدى ثلاث : رجل زنى بعد احصان فانه يرجم ورجل (۲) خرج محارباً باللّه ورسوله فانه يقتل او يُصلَبُ او ينفى (۳) من الارض أو يقتل نفساً فيقتل بها "

" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس مسلمان نے اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی شہادت دی ، اس کا خون تین

صفحہ ۲۰۴

میں سے ایک وجہ کی بنا کے علاوہ کبھی بھی بہایا نہیں جا سکتا :

کر دیئے جائیں ۔

کو گالی دے اور اسلام سے منحرف ہو جائے اسے قتل کر دینا چاہئے پھانسی دے دینی چاہئے یا ملک بدر کر دینا چاہئے ۔"

[مسلم - باب: ما يباح بہ دم المسلم

ابوداؤد - باب: کتاب الحدود

نسائی - باب: ما يحل بہ دم المسلم

السیف الصارم : صفحہ ۳۱۰ ]۔

حضرت ابو قلابہ نے کہا : " فواللہ ما قتل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احداً قط فی ثلثٍ خصالٍ : رجل قتل بجريرة نفسہ (۱) فقتل او رجل زنیٰ بعد احصانٍ او رجل حارب اللہ ورسولہ وارتدّ عن الاسلام۔

" خدا کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے ان تین سے ایک وجہ کی بناء پر کبھی کسی کو قتل نہیں کیا :

اعلان کیا ہو اور مسلمان ہو جانے کے بعد اسلام ترک کیا ہو اور مرتد ہو گیا ہو؛

[بخاری - باب: القسامہ - جلد دوم صفحہ ۱۰۱۹ ]

صفحہ ۲۰۵

یوم فتح مکہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مرتدوں کو موت کی

سزا سنائی :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم فتح مکہ کو امان عام کا اعلان فرمایا تھا ماسوائے چند بے حرمت مرتدوں اور بدعہد غداروں کے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ غلاف کعبہ کے پاس بھی پائے جائیں تو ان کو قتل کر دینا چاہئے ۔ ان میں تین مرتد تھے ۔ عبداللہ بن ابی سرح ، عبداللہ بن خطل اور مقیاس بن صبابہ ۔ ان میں سے دو کو تو ہلاک کر دیا گیا لیکن تیسرے یعنی عبداللہ بن ابی سرح نے حضرت عثمان بن عفان کے گھر میں پناہ لے لی جنہوں نے بعد میں اس کی سفارش کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادلِ نخواستہ اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے آزاد کر دیا ۔ تفصیلات گزشتہ متعلقہ صفحات پر ملاحظہ ہو ۔

مسیلمہ بن کذاب کے پیغمبروں کو تنبیہ :

مسیلمہ بن کذاب ، خدا کی اس پر لعنت ہو اور غضب ٹوٹے، جھوٹا، جعلساز اور منہ بولا کاذب رسول تھا ۔ اس نے اپنے دو پیروکار ، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے جھوٹے دعویٰ نبوت کا پیغام دے کر بھیجے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نمائندوں سے ان کے عقیدے کے بارے میں دریافت کیا ۔ جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ مسیلمہ الکذاب کی نبوت پر اعتقاد رکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عن نعیم الاشجعی قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

صفحہ ۲۰۶

يقول لهما حين قرأ كتاب مسيلمه ، ما تقولان انتما قال نقول كما قال : قال اما والله لولا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقكما

ابوداؤد : كتاب الجهاد

نعیم الاشجعی سے روایت کی گئی ، انھوں نے کہا : ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیلمہ کا خط پڑھنے کے بعد ان دونوں (ایلچیوں) سے کہتے سُنا : ”میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں اگر ایسا نہ ہوتا کہ کسی کا پیغام لانے والے کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں نے تمہارے سر قلم کر دیئے ہوتے کیونکہ تم نے اسلام سے غداری کی اور اسے ترک کر دیا اور مرتد ہو گئے“

[ ابو داؤد ۔ کتاب الجہاد ۔ صفحہ ۳۸۰ ۔ باب فی الرّسل ] ۔

صفحہ ۲۰۷

صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے

خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ :

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو برزہ سے کہا : ”ابوبکر کے پاس کسی کو قتل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ماسوائے تین وجوہات کے جن کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ارتداد، شادی شدہ شخص کی زنا کاری اور کسی کا ناحق قتل“

[ابوداؤد ۔ احکام الردۃ والمرتدین ۔ صفحہ ۲۱۵ ]

بیان کیا جاتا ہے کہ جب ایک عورت نے اسلام ترک کیا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس کو ختم کر دیئے جانے کا حکم دیا ۔

[نیل الاوطار ۔ جلد ۷ ، صفحہ ۲۱۷ ]

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور کے مرتد :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مختلف قبائل کے مسلمانوں کے ایک گروہ نے اسلام ترک کر دیا اور کئی مقامی جھوٹے نبیوں کے پیروکار بن

صفحہ ۲۰۸

گئے ۔ جب ان مرتدوں نے فتنہ پھیلایا اور اسلامی خلافت کے خلاف ہتھیار اٹھالیے تو ان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا گیا ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارتداد کو کچلنے کے لیے فوج کے کئی دستے بھیجے ۔ پہلے حضرت خالدؓ بن ولید کو حکم دیا گیا کہ بنو اسد کے باغی قبیلے اور ان کے جھوٹے نبی طلیحہ کو نیست و نابود کر دیں اس کا انتظام حضرت خالدؓ بن ولید نے طلیحہ اور اس کے پیروکاروں کو شکست فاش دے کر ، کر دیا ۔ چونکہ مسیلمہ الکذاب کی پشت پر مدد کے لیے یمامہ کا طاقتور ترین اور کٹر قبیلہ بنو حنیفہ تھا ، حضرت عکرمہ بن ابو جہل اور شرجیل بن حسنہ کے زیر کمان دو دستے اس کے خلاف بھیجے گئے ۔ حضرت عکرمہ نے جلد بازی سے کام لیا اور شرجیل کے زیر کمان دستے کی آمد کا انتظار کئے بغیر مسیلمہ پر حملہ کیا ۔ ان کی کوشش کا انجام مسلمانوں کی شکست تھی ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تب خالدؓ بن ولید کو فوری حکم دیا کہ وہ یمامہ پر اپنی فوج کیساتھ حملہ آور ہوں اور جملہ افواج کی پوری کمان سنبھالیں ۔ اگرچہ مسلمانوں کو جانی نقصان بہت بھاری ہوا پھر بھی حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی افواج نے بنو حنیفہ کی فوجوں کا بالکل صفایا کر دیا ۔ مسیلمہ الکذاب سمیت اکیس ہزار مرتد مارے گئے ۔

لینڈ مارک آف جہاد ۔ لفٹنٹ کرنل ایم ۔ ایم قریشی

مطبوعہ شیخ محمد اشرف ، لاہور پاکستان ۱۹۹۱ء صفحات ۴۶-۴۷]

خلیفہ دوم حضرت عمرؓ بن الخطاب کا فیصلہ :

حضرت عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری نے بیان کیا ہے : "حضرت عمرؓ بن الخطاب کے پاس والی یمن حضرت ابو موسیٰ الاشعری کی جانب سے ایک آدمی آیا۔ حضرت عمرؓ نے اس سے اہل یمن کے حالات دریافت کیے ۔ تسلی بخش روداد سننے کے بعد خلیفہ دومؓ

صفحہ ۲۰۹

نے مزید دریافت کیا : اس دور دراز علاقے کی کوئی اور قابل بیان خبر؟ اس آدمی نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر مندرجہ ذیل کہانی بیان کی : ایک آدمی نے اسلام ترک کر دیا اور مرتد ہو گیا ۔ ہم نے اس کو پکڑ لیا اور اس کی گردن اڑا دی “

حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے دریافت کیا : ”آپ لوگوں نے اسے تین دن تک قید میں کیوں نہ رکھا ، اسے کھانا مہیا کرتے اور توبہ کرنے کے لیے کہتے ۔ عین ممکن ہے کہ وہ توبہ کر لیتا اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا اگر جب بھی وہ انکار کرتا تب اس کی گردن مارنا آپ لوگوں کے لیے مناسب ہوتا “

تاہم حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے ان کی کوتاہی کے لیے اللہ سے عفو کی دعا فرمائی : ” اے اللہ ! جو کچھ ہوا ، میری غیر حاضری اور میری رضامندی کے بغیر ہوا ۔ اب جو میرے علم میں آگیا ہے تو مجھے اس سے کوئی خوشی یا آسودگی خاطر نہیں ہوتی ہے “

[مؤطا امام مالک ۔ باب القضیٰ فی من ارتد عن الاسلام صفحہ ۴۳۸ ،

نیل الاوتار ۔ جلد ۸ ، صفحہ ۳ ، الردۃ والمرتدین صفحہ ۶۶ ] ۔

خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ بن عفان کا فیصلہ :

حضرت عبداللہ بن عتبہ سے منسوب یہ بیان کیا جاتا ہے : ”عراقیوں کا ایک ٹولہ جو اسلام سے منحرف ہو گئے تھے ، گرفتار کر کے حضرت ابن مسعود کے سامنے پیش کیے گئے ۔ انھوں نے حضرت عثمانؓ بن عفان کو خط لکھ کر ان کا فیصلہ مانگا ۔ خلیفہ نے جواب دیا :

صفحہ ۲۱۰

ان کو اسلام کے حقِ مطلق کی دعوت دی جانی چاہئے اور توبہ کرنے کے لیے کہنا چاہئے ۔ اگر وہ تائب ہو جائیں تو انھیں آزاد کر دیں، اگر انکار کریں تو ان کو قتل کر دیں ۔ حضرت عثمانؓ کا فیصلہ ملنے پر حضرت ابن مسعودؓ نے اس پر عمل کیا ۔ جنھوں نے توبہ کر لی ان کو آزاد کر دیا گیا ۔ باقی سب کی گردن مار دی گئی “

[ حضرت امام احمد نے یہ واقعہ بیان کیا ۔

السیف الصارم - صفحہ ۳۲۱ ] ۔

حضرت سلیمان بن موسیٰ نے بیان کیا کہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے ان کو ایک مرتد کے بارے میں اطلاع دی : ” ایک آدمی اسلام سے منحرف ہو گیا اور مکمل طور پر دین سے انکاری ہو گیا ۔ حضرت عثمانؓ نے اسے تین مرتبہ اسلام کی دعوت دی لیکن اس نے انکار ہی کیا ۔ اس پر انھوں نے اس کی گردن اڑانے کا حکم دیا جس پر فوری عمل ہوا “

[ احکام الردہ والمرتدین ۔ صفحہ ۲۷۰ ] ۔

خلیفہٴ چہارم حضرت علیؓ ابن ابی طالب کا فیصلہ :

حضرت علیؓ بن ابی طالب نے بکر بن وائل کے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا جس نے اسلام ترک کر کے عیسائیت قبول کی تھی ۔ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے اُسے تائب ہونے کے لیے کہا اور ایک مہینے کی مہلت غور و فکر کے لیے دی ۔ وہ آدمی تائب نہ ہوا تو حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے اس کو سزاوارِ موت قرار دیا، چنانچہ اسے ختم کر دیا گیا “

[ السیف الصارم صفحہ ۳۲۱ ] ۔

صفحہ ۲۱۱

حضرت عبداللہ بن عباس کا فیصلہ :

حضرت عکرمہ بن ابی جہل نے بیان کیا : "چند مرتدوں کو حضرت علی ابن ابی طالب کے سامنے پیش کیا گیا انھوں نے اسے جلا کر مروا ڈالا ۔ جب یہ خبر ابن عباس تک پہنچی تو انھوں نے کہا : اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو میں ان کو نہ جلاتا کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : اللہ جس چیز کے ساتھ عذاب دیتا ہے کسی کو اس کے ساتھ عذاب یا سزا نہ دو، (یعنی آگ کا عذاب) تاہم میں ان کو قتل ضرور کر دیتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: باغیان اور تارکین اسلام کو قتل کر دو۔"

[بخاری ۔ کتاب استتابة المعاندین والمرتدین

ابو داؤد ۔ کتاب الحدود ]۔

حضرت عبداللہ بن عباس نے یہ بھی بیان کیا ہے : "دس سے زائد آدمیوں کا ایک ٹولہ مرتد ہو گیا اور مکہ میں دشمنان اسلام سے جا ملا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رنج پہنچانے کی خاطر انھوں نے اپنی دشمنانہ سرگرمیاں تیز کر دیں ۔ ان میں سے بعض نے جیسے کہ الحارث بن سُوید الانصاری نے آپ کے سامنے توبہ کر لی جسے آپ نے قبول کر لیا ۔ بعد میں الحارث نے اسلام کی خوب خدمت کی لیکن دوسروں نے جنھوں نے توبہ نہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو موت کا سزاوار قرار دیا ۔

صفحہ ۲۱۲

اس سزا کی وحی ربانی کے ذریعے منظوری اور تصدیق ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

" كَيْفَ يَهْدِى اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ وَشَهِدُوْا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَاءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ ط وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ o اُولٰٓئِكَ جَزَآءُهُمْ اَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ o خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ج لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ o "

"وہ لوگ جو پہلے ایمان لائے اور پھر کافر ہوئے اور اسلام سے منحرف ہو گئے بعد اس کے کہ انھوں نے یہ گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ حقِ مطلق کے ساتھ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ، ان کے پیغام اور ان کی نبوت کے بارے میں صاف صاف ثبوت اور شواہد ان کے پاس آئے۔ تو پھر اللہ ان کو کیونکر ہدایت دے گا ؟ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اللہ کی ہدایت سے محروم کر دیئے جائیں گے کیونکہ اللہ بد ، شریر اور باغی مرتدوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ اللہ کے آخری پیغام سے دشمنی اور بغاوت کی وجہ سے انھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے رحم ، رحمت اور معافی کا ہر ایک موقع کھو دیا ہے ۔ ان کی سزا اللہ ، اس کے ملائکہ اور تمام مومنوں کی طرف سے مسلسل غیض و غضب اور لعنت ہے ۔ ان کا مستقل ٹھکانا آتشِ دوزخ ہوگی اور ان کے لیے اس میں کسی طرح کی کوتاہی و کمی نہیں ہوگی ۔" [آل عمران ۳ : ۸۶، ۸۷، ۸۸ - رازی التفسیر الکبیر، جلد ۷ ، صفحہ ۱۲۶ ۔ ابن کثیر ، مختصر تفسیر ، جلد اول صفحہ ۲۹۷ ۔ حاشیہ البخاری جلد دوم ، صفحہ ۱۰۲۲ (مطبوعہ دیوبند ۱۹۸۶ء) ۔ السیف الصارم ، صفحات ۳۱۰ - ۳۱۳ ] ۔

صفحہ ۲۱۳

حضرت معاذؓ بن جبل کا فیصلہ :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ الاشعری کو یمن کا والی مقرر کیا تو وہ اپنا فرض منصبی سنبھالنے کے لیے فوراً مدینہ سے چل کھڑے ہوئے۔ کچھ عرصے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذؓ بن جبل کو بھی یمن روانہ کیا۔ حضرت ابو موسیٰ الاشعری نے ان کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور اپنے دو تکیے ان کی عزت داری کے لیے نیچے رکھ کر انھیں تشریف رکھنے اور آرام فرمانے کے لیے کہا۔ بیٹھنے سے پہلے حضرت معاذؓ کی نظر ہتھکڑیوں سے جکڑے ہوئے ایک آدمی کی طرف گئی ۔ دریافت کرنے پر حضرت ابو موسیٰ نے ان کو بتایا کہ وہ ایک یہودی تھا جس نے اسلام قبول کیا اور بعد میں منحرف ہو گیا اس لیے سزا کے طور پر اسے ہتھکڑیاں لگائی گئی ہیں ۔ حضرت معاذؓ نے کہا کہ چونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتد کے لیے قتل کی سزا کا حکم دیا ہے ، جب تک اس کی گردن اڑائی نہیں جاتی وہ نہیں بیٹھیں گے ۔ حضرت ابو موسیٰ الاشعری نے انھیں کئی بار بیٹھنے اور آرام فرمانے کے لیے کہا لیکن حضرت معاذؓ نے اصرار کیا کہ جب تک اس مرتد کو موت کی سزا نہیں دی جاتی وہ کچھ نہیں کریں گے ۔ بالآخر مرتد کو موت کی نیند سلا دیا گیا ۔

[ ابو داؤد ۔ باب کتاب الجہاد

بخاری ۔ باب کتاب استتابۃ المعاندین والمرتدین

بعث ابو موسیٰ ومعاذ الی الیمن - صفحہ ۶۶۲

نیل الاوطار ۔ جلد ۸ صفحہ ۴

احکام الردّۃ والمرتدین ۔ صفحہ ۲۶۷ ] ۔

حضرت معاذؓ بن جبل نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں

صفحہ ۲۱۴

یمن بھیجا تو آپ کی ہدایات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ کوئی شخص مرد یا عورت جو مرتد ہوجائے ، پہلے اسے اسلام کی طرف مراجعت کی دعوت دینی چاہئے اور توبہ کرنے کا موقع بھی دیا جانا چاہئے ۔ اگر وہ خلوص دل سے توبہ کرلے تو اسے قبول کر لینا چاہئے ، بصورت دیگر اس مرد یا عورت کا سر قلم کر دینا چاہئے ۔

[ نیل الاوطار ۔ جلد ۷ ، صفحہ ۲۱۹ ، الردہ والمرتدین صفحہ ۲۸۷ ] ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی کہ ایک عورت نے اسلام سے انحراف کیا اور مرتدہ ہو گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اُسے واپس اسلام کی طرف دعوت دی جانی چاہئے اور توبہ کا موقع فراہم کرنا چاہئے ، اگر وہ ایسا کرے تو اس کو آزاد چھوڑ دینا چاہئے ورنہ اس کا خاتمہ کر دینا ہو گا ۔

[ السیف الصارم ۔ صفحات ۳۱۹ ، ۳۲۰ ۔ احکام الردہ والمرتدین صفحہ ۲۸۷ ] ۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت بنام اُمّ رومان اسلام سے پھر گیا اور مرتدہ ہو گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ دعوت اسلام دینے اور توبہ کرنے کے لیے کہے جانے کا حکم دیا ۔ اگر وہ انکار کرے، تو اس کو ختم کر دیا جائے ۔

[ دار قطنی ۔ المجموعہ شرح المہذب ۔ جلد ۱۸ ، صفحہ ۸

السیف الصارم صفحہ ۳۱۹ ۔ احکام الردہ والمرتدین صفحات ۲۶۵ ] ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود کا فیصلہ :

حضرت حارثہ بن مضرب نے بیان کیا کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آئے اور انھیں بنو حنیفہ کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے بتایا : " ایک روز میں بنو حنیفہ کی مسجد کے پاس سے گزرا ۔ میں نے انھیں مسیلمہ بن کذاب کے بارے میں باتیں کرتے اور اس پر ایمان کا اظہار کرتے ہوئے پایا ۔ عبداللہ بن مسعود نے کچھ آدمی انھیں گرفتار کرنے

صفحہ ۲۱۵

کے لیے بھیجے ۔ وہ ان کے رُوبرو پیش کئے گئے ۔ انھوں نے (ابن مسعودؓ نے) ان کو توبہ کرنے کے لیے کہا ۔ سوائے ایک شخص ، ابن نواحہ کے ، سب نے توبہ کر لی ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اس سے کہا کہ انھوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے کہتے ہوئے سنا : اگر یہ نہ ہوتا کہ تم پیغامبر آئے تھے (چاہے جھوٹے ، جعلی اور خود ساختہ نبی کے ہی) تو میں نے پہلے تمہارا سر اڑا دیا ہوتا ۔ لیکن آج تم پیغامبر نہیں ہو“ تب عبداللہ بن مسعودؓ نے حضرت قریظہ بن کعب الانصاری کو اس کا سر قلم کرنے کا حکم دیا ۔ اس کے بعد پورے شہر میں اعلان کر دیا گیا کہ چوک بازار میں نواحہ کا سر اڑایا جائے گا اور جو تعمیل سزا دیکھنا چاہتے ہوں وہاں آجائیں ۔ پھر عامۃ الناس کے سامنے ابن نواحہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا “

[ابوداؤد کتاب الجہاد ۔ باب فی الرسل صفحہ ۳۸۰]

اسی واقعے کی حضرت ابو معین السعدی نے بھی ان الفاظ میں روایت کی : ” ایک روز میں صبح صبح بنو حنیفہ کی مسجد کے پاس سے گزرا ۔ میں نے لوگوں کو باتیں کرتے سنا ۔ وہ سب کے سب مسیلمہ کذاب کی نبوت پر ایمان رکھتے تھے ۔ میں پھرتی سے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس گیا اور ان کو اس بات کی اطلاع دی ۔ انھوں نے فی الفور انھیں گرفتار کرنے کے لیے ایک جماعت کو بھیجا ۔ وہ ان کے روبرو پیش کیئے گئے جس پر انھوں نے ان سے توبہ کرنے کے لیے کہا ۔ سب کے سب تائب ہو گئے اور ماسوائے ایک کے آزاد کر دیئے گئے یعنی عبداللہ بن نواحہ کے جس نے انکار کیا اور قتل کر دیا گیا “

[ السیف الصارم صفحہ ۳۲۴ ] ۔

حضرت ظبیان بن عمارہ نے بتایا کہ ایک مرتد حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے سامنے

صفحہ ۲۱۶

لایا گیا۔ انھوں نے اس سے کہا :

"جب تجھے پہلی بار یہیں میرے سامنے پیش کیا گیا تھا تو مجھے یقین تھا کہ تم تب تک توبہ کر چکے تھے لیکن اب بات سمجھ میں آئی ہے کہ تم نے ایسا نہیں کیا ۔ فی الواقع تم اسلام سے پوری طرح منحرف ہو چکے ہو ۔"

تب انھوں نے اس کو سزائے موت کا حکم دیا جس پر فی الفور عمل ہوا ۔

[ابن قدامہ ۔ المغنی ۔ جلد ۹ صفحہ ۱۷

کشف القناع ۔ جلد ۶ صفحہ ۱۱۷

احکام ردّہ والمرتدین ۔ صفحہ ۲۷۵ ] ۔

حضرت ابوموسیٰ الاشعریؓ کا فیصلہ :

حضرت الشعبی نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی جنھوں نے بیان کیا :

"حضرت ابو موسیٰ الاشعری نے جہینہ کذّاب کو اور اس کے لوگوں کو قتل کر دیا ۔ (جہینہ اور اس کے پیرو اسلام سے پھر گئے تھے اور مرتد ہو گئے تھے) ۔

[ ابن حزم ۔ المحلی ۔ جلد ۱۱ صفحہ ۱۱۹ ۔ احکام الردّہ والمرتدین صفحہ ۲۷۱ ]

ارتداد کیخلاف اجماع امت کا فیصلہ :

سنی اور شیعہ دونوں مکاتب کے فقہائے عظام و ائمہ کرام کا اجماع ہے کہ ارتداد کی سزا موت ہے ۔ ان میں مندرجہ ذیل اسماء شامل ہیں ۔

صفحہ 217

امام النخعی (۹) حضرت امام ابن حزم (۱۰) حضرت امام محمد باقر (۱۱) حضرت امام جعفر الصادق (۱۲) حضرت امام ابن شہاب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔

اہل سنت کے فقہاء اور ائمہ کا قول ہے کہ ارتداد کی سزا موت ہے لیکن سزا پر عمل درآمد سے پہلے مرتد کو تائب ہونے کا موقع دیا جانا چاہئے ۔ زیدیہ اور امامیہ مکاتب کے فقہاء و ائمہ کا قول ہے کہ اگر کوئی پیدائشی مسلمان مرتد ہو جائے تو اس مرد یا عورت کے لیے توبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ایسے شخص کو لازماً قتل کر دینا چاہئے جو شخص اسلام قبول کرے اور پھر مرتد ہو جائے تو اس مرد یا عورت کو توبہ کا موقع دینا چاہئے ۔

حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر الصادق کا قول ہے : "اگر کوئی شخص اسلام سے مرتد ہو جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ کلام پر ایمان نہ رکھے یا آپ کی شخصیت میں رخنہ اندازی کرے یا آپ کی نبوت کا انکار کرے یا آپ پر جھوٹ بولنے کا اتہام لگائے تو دوسرے جو اس کفر اور ارتداد کو سنیں ایسے مجرم شخص کو جتنی جلدی وہ اس قابل ہوں ، جان سے مار دینے کے لیے پابند فرض ہیں ۔ ایسے کافر کا نکاح کالعدم ہو جاتا ہے اور اس کا مال و متاع اس کے وارثوں میں تقسیم ہو جاتا ہے ۔ اس کی بیوہ کو عدت کے دن گزارنے ہوں گے (یعنی دوبارہ شادی سے پہلے نوے دن کا وقفہ) امام حاضر پر لازم ہے کہ وہ ایسے شخص کو اگلے جہان بھیجے اور اس کی عفو طلبی قبول نہ کرے ۔"

[ ملاحظہ ہو : (۱) فتح القدیر جلد ۴ ۔ (۲) المبسوط جلد ۱۰۔ (۳) البحر الرائق جلد ۵ ۔

(۴) الخرشی جلد ۸ ۔ (۵) المغنی جلد ۹۔ (۶) المغنی مع شرح الکبیر جلد ۱۰۔ (۷) حاشیہ

الدسوقی جلد ۴ ۔ (۸) الشرح الصغیر علیٰ اقرب المسالک ۔ (۹) المجموع للنووی جلد ۱۸۔

صفحہ ۲۱۸

(۱۰) مغنی المحتاج جلد ۷ ۔ (۱۱) حاشیۃ البجوری جلد ۲ ۔ (۱۲) کشاف القناع جلد ۶ ۔ (۱۳)

المحلی ابن حزم ۔ جلد ۱۱ ۔ (۱۴) اللمع الدمشقیۃ ۔ (۱۵) احکام الردۃ والمرتدین ] ۔

میں اللہ کا اس پر شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اس کتاب کے لکھنے اور اس کے مواد کو جمع کرنے میں میری راہبری فرمائی اور حقائق کو مجھ پر منکشف کیا اور ان کے سمجھنے کی مجھے صلاحیت دی ۔

اور میں اپنے آقا و سردار حضرت محمد رسول اللہ و خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے آل و اصحاب پر سب پر بہت بہت صلوٰۃ و سلام بھیجتا ہوں ۔

وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ

صفحہ ۲۱۹

تتمہ

شاتم رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم واجب القتل ہے

اس سے قبل از رُوئے کتاب وسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو حقوق امت مسلمہ پر واجب ہیں بیان ہو چکے ہیں۔ جس قدر آپ کی توقیر و عزت ہے اسی کے موافق اللہ تعالیٰ نے آپ کی ایذارسانی کو قرآن کریم میں حرام قرار دیا ہے اور اس کے مرتکب پر لعنت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ایذاء کو اپنی ایذاء سے تعبیر کیا ہے، سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۵۳ ۔ ۵۷، سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۶۱ سے واضح ہے کہ آپ کی ایذا رسانی حرام ہے اور اس کا مرتکب ملعون ومردود ہے ۔

اس طرح کی لعنت کا مستحق وہی شخص قرار دیا جاتا ہے جو زندیق ہو، کافر ہو، مرتد ہو منافق ہو، زانی ہو یا امنِ عامّہ کو ختم کرنیوالا فسادی ہو یا شاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہو جیسا کہ سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۶۶، ۷۴ میں ارشاد ہے :

"قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ" "وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ"

جو کچھ تم نے یا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے جا باتیں کی ہیں وہ کفر کی ہیں اور تم اور وہ مرتد اور زندیق ہو چکے ہو ۔

دنیا میں اگر اللہ تعالیٰ کسی کو ملعون قرار دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ وہ واجب القتل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۶۱ میں فرمایا کہ منافقین، زانی اور جھوٹے فسادی لوگ ملعون ہیں۔ اگر وہ اپنی حرکاتِ قبیحہ اور اعمال بد سے فوراً نہیں رکتے تو جہاں کہیں بھی پائے جائیں انھیں پکڑ لیا جائے اور قتل کر دیا جائے ۔ سورۃ الذاریات کی آیت نمبر ۱۰ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

صفحہ ۲۲۰

"قُتِلَ الْخَرَّاصُوْنَ " جھوٹے اور فسادی لوگ قتل کئے جائیں ۔ ان کے قتل کو لعنت دُنیویہ سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۳۳ میں ارشاد ہے : "ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا " یہ قتل کی سزا ان کے لیے لعنت دُنیویہ اور رسوائے زمانہ ہے ۔ قرآن کریم میں کبھی قتل بہ معنی لعنت کے بھی آیا ہے جیسا کہ سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۳۰ میں ارشاد ہے : "قَاتَلَهُمُ اللّٰهُ " ان کی بے راہ روی پر اللہ کی ان پر لعنت ہو ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ساری امتِ مسلمہ کا اس پر اجماع و اتفاق ہے کہ جو شخص آپ کی شان میں گستاخی یا بے ادبی کرے یا آپ کو بُرا کہے یا گالی دے یا آپ کو ایذاء و تکلیف پہنچائے یا آپ پر طنز کرے یا آپ پر عیب لگائے یا آپ کی شان میں بیہودہ کلام کرے یا آپکی ازواج مطہرات پر کیچڑ اچھالے ، وہ شاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ، زندیق ہے اور توہین رسالت کا مرتکب انسانی کتا ہے اسے قتل کیا جائے گا ۔ اس سلسلے میں حضرت سلیمان خطابی کا قول نقل کرچکا ہوں انھوں نے کہا کہ میں "تمام علماء اسلام اور فقہائے دین اور مفتیانِ کرام میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو شاتمِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا قائل نہ ہو یا اس سلسلے میں اس نے اختلاف کیا ہو "

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک جتنے بھی فتویٰ دینے والے علما ء فقہاء و ائمہ کرام گزرے ہیں سب کا اس پر اتفاق واجماع ہے کہ ایسے شاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندیق شخص کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی ۔ اس سلسلے میں فقہاء و ائمہ کرام کے فتاوے درج کرچکا ہوں کہ شاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہے وہ مسلمان ہو یا یہودی یا عیسائی یا مشرک یا کافر اس کو قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔ ایسے زندیق کو بطور حد شرعی قتل کیا جائے گا نہ کہ بطور کفر گوئی کے۔ اس سے

صفحہ ۲۲۱

توبہ کا اظہار یا اپنے قول سے رجوع اس کے حق میں مفید نہیں ہوگا۔ جرم کے ثابت ہونے کے بعد یہ توبہ کرے یا اپنے قول سے رجوع کرے، حد تو بہر حال اس پر نافذ ہوگی کیونکہ توبہ کرنے سے حدود شرعیہ ساقط نہیں ہوتیں۔ البتہ اس کی توبہ اس کے اور اللہ کے درمیان کے معاملات میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سبّ وشتم کا معاملہ بہت اہم ہے ، اللہ کے یہاں اس کو انتہائی بھیانک ، خطرناک اور کریہہ ترین جرم سمجھا گیا ہے، سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۵۳ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

" إِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا "

ایذائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے یہاں انتہائی بھیانک اور خطرناک جرم ہے ۔

اس میں اختلاف کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی حق ہے اور آپ کی وجہ سے آپ کی امت کا بھی حق ہے اور حقوق توبہ سے ساقط نہیں ہوتے ہیں ۔

جو شخص ایسے زندیق شخص کے کافر اور مستحق عذاب اور واجب القتل ہونے میں شک کرتا ہے وہ بھی خود کافر ہے ۔ محمد بن سحنون کے حوالے سے میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ ” تمام علماء امت کا اس پر اجماع ہے کہ توہینِ رسالت کا مرتکب مجرم زندیق اور مستوجب وعید عذاب اور واجب القتل ہے۔ جو شخص ایسے زندیق انسانی کُتّے کے کافر اور مستحق عذاب اور واجب القتل ہونے میں شک وشبہ کرے وہ خود کافر، زندیق اور واجب القتل ہے ۔ اب احادیث کی طرف آئیے :

جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

” جو مجھ کو گالی دے یا بُرا کہے اس کو مار ڈالو “

صفحہ ۲۲۲

تمام ایذا رسان، توہین رسالت کے مجرموں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کے وارنٹس جاری کئے۔ ان کو جہنم رسید کرنے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو انفرادی اور اجتماعی طور پر روانہ کیا، ان کی کامیابی کے لیے دُعائیں کیں، ان کو انعامات سے نوازا ان کو انصار اللہ ورسولہٖ کے جیسے عظیم لقب سے نوازا۔ ان واقعات کو میں نے تفصیل کے ساتھ باب سوم کی فصل ”ب“ میں درج کیا ہے جہاں پر آپ شاتمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کے مرتکب انسانی کتوں کی سزائے موت کے دربارِ رسالت سے جاری شدہ وارنٹس کی، ان کے قتل کیے جانے کی، ان کے قاتل صحابہ کرام کو تقسیمِ انعامات کی، ان کو القاب عالیہ سے نوازا جانے کی تفصیل پائیں گے۔ اسی باب کے فصل ”ت“ اور ”ث“ میں آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم علماء اور فقہائے اسلام کے فیصلے اور فتاویٰ اور ان کے جاری کردہ احکام کی تفصیل درج ہے۔ عقلِ سلیم اور قیاس صحیح کا بھی تقاضا یہی ہے کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا توہین کرے وہ ایسا زندیق ہے کہ جس کا قلب و دماغ مفلوج و بیمار ہے، جس کے باطن میں خبث و کفر چھپا ہوا ہے اور جو دشمنِ انسانیت ہے اس کی گردن زدنی سلیم الطبع امن پسند انسانوں کے لیے باعثِ امن و سلامتی ہے۔

صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ سیدنا وحبیبنا مُحمّدٍ وَاٰلہٖ واصحابہٖ اجمعین برحمتک یا ارحم الرّٰحمین ۔

تَمَّـــــــــــــــــــــــــت بِالْخَـــــــــــــــــــــــــــــيْر

حجاز میں سعودی

شاتم

ایک سعودی شہری وسلّم کی شان میں گستاخی صوبہ کے ریگستانی قصبہ میں عبدالکریم ملاح کا سر تلوار وزارتِ داخلہ کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شا سرکاری ریڈیو او ہے کہ یہ محض کفر نہیں بلکہ بیان میں بتایا گیا کو محض ایک دھوکہ اور جادوگر تھے اور بدرو

روزنامہ قومی آواز ۔ ہو

chi. : +92-321-3817119 hoo.com

صفحہ ٢٢٣

حجاز میں سعودی حکومت نے ایک دریدہ دہن

شاتمِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر قلم کیا

ایک سعودی شہری کا خداوند تعالیٰ ، قرآن پاک ، پیغمبر حضرت محمّد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے جرم میں سر قلم کر دیا گیا ۔ وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق شرقیہ صوبہ کے ریگستانی قصبہ میں قاطف کے نزدیک طوبیٰ مسجد سے ملحقہ احاطے میں کل صادق عبدالکریم ملاح کا سر تلوار کے ایک ہی وار سے قلم کر دیا گیا ۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق ملاح پر خداوند تعالیٰ ، قرآن پاک اور پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے کا جرم ثابت ہو گیا تھا ۔

سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر ٹیلی کاسٹ کئے گئے وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ محض کفر نہیں بلکہ ایسا گستاخانہ جرم بھی ہے جس کا مرتکب موت کی سزا کا مستحق ہے ۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ گستاخ ملاح نے رسولِ خدا کو دروغ گو اور دین اسلام کو محض ایک دھوکہ اور گمراہی قرار دیا تھا ۔ اس شخص نے یہ بھی کہا تھا کہ رسولِ خدا ایک جادوگر تھے اور بدروحیں ان کے قبضہ میں تھیں ۔

(ظہران ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء اے۔ پی)

ملاحظہ ہو

روزنامہ قومی آواز ۔ ہفتہ ۵ ستمبر ۱۹۹۲ء ، ۶ ربیع الاول ۱۴۱۳ھ دہلی ، انڈیا

بالخیر

PDF 224

تعارف مترجم

جناب مقبول الٰہی صاحب عالمگیر راولپنڈی شروع میں گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم رہے اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے تاریخ اور اسلامیات میں ڈبل ایم۔اے کیا اور بعد ازاں حکومت پاکستان کے شعبہ انکم ٹیکس میں کمشنر انکم ٹیکس اور سی۔بی۔آر کے عہدوں پر فائز رہتے ہوئے ۱۹۷۹ء میں گورنمنٹ سروس سے ریٹائرڈ ہوئے۔

جناب مقبول الٰہی صاحب کو عربی، اردو، فارسی، پنجابی اور انگلش زبانوں اور ان کے ادب سے ہمیشہ گہرا لگاؤ رہا ہے۔ آپ نے جناب اقبال صاحب کی مشہور مثنویوں "اسرارِ خودی" ، "مسافر" ، کا فارسی سے منظوم انگریزی میں بہترین ترجمہ کیا ہے جو طبع ہوچکا ہے۔ آپ نے پنجابی شاعروں مثلاً "سلطان باہو" اور "بابا فرید" کی ادبیات اور دوہوں کو کلاسیکی پنجابی سے منظوم انگریزی میں ڈھالا ہے۔ آپ نے جناب مولوی احسان الٰہی قمر صاحب کی عربی کتاب "القادیانیہ" کا انگریزی نثر میں ترجمہ کیا ہے۔ آپکے انگریزی مضامین "الدعوۃ" میں زینتِ اوراق بنتے رہتے ہیں اور خراج تحسین حاصل کرچکے ہیں، آپ متلون المزاج ہونے کے باعث مختلف زبانوں میں نظم و نثر کا شوق بھی رکھتے ہیں اور آپ کا کلام مختلف رسائل میں زینتِ اوراق بنتا رہتا ہے۔

اب آپ نے ناسازی طبع کے باوجود انتہائی لگن کے ساتھ ڈاکٹر محمد اسرامدنی کی انگلش کتاب کی آسان اور سلیس اردو میں ترجمہ کیا ہے جو استفادہ کیلئے قارئین کے ہاتھوں میں موجود اس ترجمہ کا ہر ہر کلمہ اور حرف جناب مقبول الٰہی صاحب کی محبتِ رسول اعظم ﷺ پر گواہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

تعارف مصنف

جناب ڈاکٹر محمد اسرار مدنی حالیہ مقیم کینیڈا روایتی اور جدید تعلیم کا منبع و مرقع ہیں۔ انھو نے حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی، ایشیا کی مشہور اسلامک یونیورسٹی "دارالعلوم دیوبند" الہند سے نصاب مکمل کرنے پر انھو نے فاضل اور تجوید القرآن کی اسناد حاصل کیں ۔

ہائر سیکنڈری بھوپال اور دلی کالج سے بی۔اے کورسپونڈنس کے بعد حجاز مقدس کیلئے روانہ ہوئے جہاں پر انھو نے مدینہ یونیورسٹی سے امتیاز کیسا تھ اول درجہ حاصل کرکے "الاجازۃ العالیہ" کی ڈگری حاصل کی۔

برطانیہ میں سکاٹ لینڈ کی مشہور گلاسگو یونیورسٹی سے "قدیم عربی شاعری" کے موضوع پر پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری امتیاز کیسا تھ حاصل کی۔ جناب ڈاکٹر مدنی "ونڈسر اسلامک مرکز" ، کینیڈا میں بطور ڈائریکٹر خدمات سرانجام دینے کے لیے ۱۹۷۹ء میں تشریف لائے، دو سال بعد انکو نارتھ امریکی یونیورسٹی میں عربی اور مطالعاتِ اسلامیہ کے لکچرار کے عہدہ پر فائز کیا گیا۔ ۱۹۸۳ء سے ۱۹۸۶ء تک آپ رابطہ العالم الاسلامی کیطرف سے کینیڈا میں بطور "داعیہ" خدمات سرانجام دیتے رہے۔ آجکل ڈاکٹر محمد اسرار مدنی صاحب قرآن وسنت کے خادم ہونیکی حیثیت سے ٹورنٹو کینیڈا میں اپنے قائم کردہ "مجمع البحوث الاسلامیہ" کے ڈائریکٹر ہیں اور متعدد اسلامی موضوعات پر ریسرچ، تحقیقات اور تصنیفات میں مصروف ہیں۔ عربی زبان اور اسکے ادب پر انکو گہری دسترس حاصل ہے۔ آپکی انگلش میں حالیہ تصنیف جس کا یہ اردو ترجمہ استفادہ کیلئے قارئین کے ہاتھوں میں موجود ہے اسکے علاوہ دو لکھی گئی دیگر کتابیں انشااللہ طبع کیلئے تیار ہیں۔

صفحہ ۲

مقالہ نگار حضرات:

نام کتاب ــــــــــــــــــــــــــــــــ ”ارتداد اور توہین رسالت“ طباعت اوّل ــــــــــــــــــــــــــــــــ جون ۱۹۹۵ء بمطابق محرم الحرام ۱۴۱۶ھ باہتمام ــــــــــــــــــــــــــــــــ اشرف برادران سلمہم الرحمن ناشر ــــــــــــــــــــــــــــــــ ادارہ اسلامیات ۱۹۰۔ انارکلی لاہور ۲ فون: ۷۲۴۳۹۹۱ ۔ ۷۳۵۳۲۵۵

ملنے کے پتے

ادارہ اسلامیات ۱۹۰۔ انارکلی لاہور ۲ دارالاشاعت، اُردو بازار، کراچی ۱ بیت القرآن اُردو بازار، کراچی ۱ مکتبہ دارالعلوم جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی ۱۴ ادارہ المعارف ڈاک خانہ دارالعلوم کورنگی کراچی ۱۴ ادارہ القرآن چوک لسبیلہ گارڈن ایسٹ کراچی

فہرست

نمبر شمار موضوع ۱ انتساب ۲ استدعاء مصنف ۳ تمہید باب اوّل : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی از ۵ توہین رسالت اور بے حرمتی کے معنی ۶ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شخص ۷ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں پر ۸ مسلمانوں کو حکم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ ۹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری انس ۱۰ قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ ۱۱ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے الل ۱۲ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ”سات“ ۱۳ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ صلی ۱۴ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر سمجھنے کی ۱۵ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظ وعدہ خداوندی

Bazar, Karachi. 1878 Cell: +92-321-3817119 pi.pk@yahoo.com

PDF 226

مقالہ نگار حضرات:

تصحیح شدہ جدید ایڈیشن بامکمل اور خوبصورت اردو ترجمہ

اسلامی شریعت کی رُو سے

ارتداد اور توہینِ رسالت ﷺ

VERDICT OF ISLAMIC LAW ON BLASPHEMY & APOSTASY

تالیف جناب ڈاکٹر محمد اسرار مدنی

ترجمہ جناب مقبول الٰہی

ناشر ادارہ اسلامیات ۱۹۰ - انارکلی لاہور ، پاکستان

فون : ۷۲۲۳۹۹۱ - ۷۳۵۳۲۵۵

PDF 227

تصحیح شدہ جدید ایڈیشن

کا مکمل اور خوبصورت اُردو ترجمہ

صلی اللہ علیہ وسلم

ارتداد اور توہین رسالت

اسلامی شریعت کی رُوسے

VERDICT OF ISLAMIC LAW

ON

BLASPHEMY

& APOSTASY

تالیف

جناب ڈاکٹر محمد اسرار مدنی

ترجمہ

جناب مقبول الٰہی

ادارہ اسلامیات ۱۹۰-انارکلی

لاہور ۲ پاکستان

فون: ۷۲۲۳۹۹۱ - ۷۳۵۳۲۵۵