بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قانون توہین رسالت پر
21 اعتراضات کے جوابات
محمد
Dar-ul-Andlus
قاری محمد یعقوب شیخ
گریجویٹ کنگ سعود یونیورسٹی الریاض
دارالاندلس
o 4- لیک روڈ چوبرجی لاہور o 6- غزنی سٹریٹ نزد حرمین مارکیٹ اردو بازار لاہور
Ph: 042-37150890 Fax: 042-37150889
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
تحریک حرمت رسول و تحریک ناموس رسالتﷺ کی کامیابیاں
بحمد اللہ! اللہ تعالیٰ نے تحریک حرمت رسول ﷺ کو گزشتہ پانچ سالوں کی جدوجہد کے بعد کامیابی عطا فرمائی......امریکہ اور یورپ کے لوگوں کو احساس ہوا اور انھوں نے کہا ہمارے لوگوں نے خاکے بنائے اور اسلامی جماعتوں کو ہمارے خلاف جدوجہد کا موقع ملا، لہٰذا اس سلسلے کو بند کرنا چاہیے، یوں اہل مغرب کا مذموم سلسلہ فی الحال رک گیا ہے۔...... دوسری طرف پاکستان کے اندر اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے یوں نوازا کہ آسیہ ملعونہ جس کو توہین رسالت کیس میں موت کی سزا ہوئی، اسے امریکہ، پوپ اور یورپ نے باہر لے جانے کی کوشش کی، مگر مسلمانان پاکستان کے ردعمل کی وجہ سے وہ نہ جاسکی۔ مزید برآں! C-295 کے قانون کو تبدیل نہ کرنے کا اعلان وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں کیا۔ تحریک حرمت رسول اور تحریک ناموس رسالت ﷺ کی یہ کامیابیاں ہیں۔
تحریک حرمت رسول ﷺ نے جہاں ملک بھر میں دعوتی اور احتجاجی پروگرام کیے وہاں تحریر کی دنیا میں بھی بھر پور کردار ادا کیا......اسی کردار کے تحت قاری محمد یعقوب شیخ ؒ نے زیر نظر کتابچہ ان اعتراضات کے جواب میں مرتب کیا جو اعتراضات منکرین حدیث اور نام نہاد روشن خیالوں کی طرف سے پیش کیے جارہے تھے۔ میں نے اس کتابچے کو پڑھا بھی اور شیخ صاحب کو مشورے بھی دیے۔ یوں یہ ایسی تحریر بن گئی، جو جامع بھی ہے اور دندان شکن جواب بھی۔ شیخ صاحب چیف کوارڈینیٹر تحریک حرمت رسول ﷺ کی حیثیت سے میرے ساتھ ہیں، خطابت کے ساتھ ساتھ تحریر کے میدان میں بھی کوشاں ہیں۔ اللہ ان کی اس کاوش کو قبول عام عطا فرمائے اور ان کے پہلے کتابچے ”گستاخ رسول کی سزا حدیث رسول ﷺ کی روشنی میں“ کی طرح یہ بھی ہزاروں کی تعداد میں تقسیم ہو کر حرمت حضور نبی کریم ﷺ کا دفاع کرے۔ آمین یا رب العالمین!
امیر حمزہ کنوینر تحریک حرمت رسولﷺ پاکستان
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
حرف آغاز
رسول اللہ ﷺ کی عزت و تعظیم اور ادب و احترام کرنا ہر انسان (مسلمان و کافر) کے لیے لازمی و ضروری ہے۔ آپ ﷺ کی توہین عالمی، آفاقی نا قابل معافی جرم ہے، جس کا ارتکاب اہل یورپ نے بار بار کیا ہے، بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کو ہلا شیری دی کہ وہ اس مذموم مہم کا حصہ بنیں اور حقیقت یہ ہے کہ توہین رسالت کے مجرموں کو پناہ دینے اور تحفظ فراہم کرنے میں اہل مغرب نے کوئی کمی اور کسر باقی نہیں رکھی۔
امریکہ و برطانیہ گستاخوں کی آرام گاہ بلکہ عیاش گاہ ہے۔ سابقہ گستاخوں کی طرح ملعونہ آسیہ مسیح نے اپنا مستقبل مغرب سے وابستہ کرتے ہوئے حضرت محمد کریم ﷺ کی شان میں نازیبا الفاظ بولے اور بے ہودہ کلمات کہے، جرم ثابت ہونے پر عدالت نے اسے سزائے موت کی سزا سنائی تو وہ گورنر سلمان تاثیر کا سہارا لے کر جب ملک سے باہر بھاگنے لگی تو محبان رسول اور تحریک حرمت رسول ﷺ متحرک ہو گئے، تحریک ناموس رسالت ﷺ وجود میں آئی، چاروں مسالک، درجنوں جماعتیں میدان میں اتر آئیں، سب نے یہی مطالبہ پیش کیا کہ اس مجرمہ ملزمہ کو ملک سے باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔
ملعونہ آسیہ تو بیرون ملک جانے سے روک دی گئی، مگر ! قانون توہین رسالت C-295 پر حملے شروع ہو گئے۔ کسی نے اس کو کالا قانون، کسی نے ظالمانہ اور حقوق انسانی کے خلاف قرار دیا۔
الیکٹرانک میڈیا پر نام نہاد، کم علم دانشوروں اور تجزیہ نگاروں نے قانونِ رسالت کے خلاف اعتراضات پیدا کر کے لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرنے کی کوشش کی۔
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
ان اعتراضات کو پروفیسر ڈاکٹر محمد امین صاحب نے یکجا کر کے اس کی ایک کاپی خود مجھے عنایت کی اور ان اعتراضات کو اپنے ماہنامہ ’’البرہان‘‘ لاہور میں شائع بھی کیا۔
اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق سے ایک ایک اعتراض کا جواب میں نے کتاب وسنت، اجماع امت اور آئین و قانون کی روشنی میں دیا ہے۔
ان جوابات کو محترم جناب مولانا امیر حمزہ صاحب کنوینئر تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان۔
محترم الشیخ مولانا مبشر احمد ربانی صاحب، مفتی جماعۃ الدعوۃ پاکستان۔
محترم جناب جسٹس (ر) میاں نذیر اختر صاحب نے بغور پڑھا، مفید مشورے دیے، اصلاح کی اور تحسین فرمائی۔
ان تینوں شخصیات کی حرمت رسول ﷺ اور ناموس مصطفیٰ ﷺ کے حوالے سے گراں قدر تحریری و تقریری، روشن و مدلل اور تاریخ ساز خدمات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان شخصیات کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی کوششوں کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین !
اس کتابچہ کی تیاری اور اس کو حسن طباعت سے آراستہ کرنے پر میں مدیر دارالاندلس، محترم الشیخ جاوید الحسن صدیقی صاحب، عزیزم حافظ سعید الرحمن، برادرم ضیاء الرحمن اور محمد شفیق کا بے حد شکر گزار ہوں جنھوں نے بھر پور توجہ اور محنت سے کام کیا۔
اللہ تعالیٰ اس تحریر کو لوگوں کے لیے تفہیم اور میرے لیے نجات کا ذریعہ بنا دے۔ آمین !
قاری محمد یعقوب شیخ چیف کوآرڈینیٹر تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان 0321-2035100
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات
اور ان کے جوابات
(پہلا اعتراض) گستاخ رسول کی سزا کا ذکر قرآن مجید میں نہیں؟
(جواب) رسول اللہ کی گستاخی کرنا، آپ کو تکلیف دینا، آپ کی اہانت کرنا کفر ہے اور یہ کام فتنہ و فساد کا ذریعہ اور لعنت کا سبب ہے۔ گستاخ رسول کی سزا قتل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ إِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا ﴾
[ الأحزاب : ٥٧ ]
”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے نہایت رسوا کن عذاب ہے۔“
کیونکہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب و تنقیص اور کفر و اہانت کر کے اللہ تعالیٰ کو ایذا دیتے اور رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ اس لیے یہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کی سزا قتل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ مَلْعُوْنِيْنَ ۛ أَيْنَمَا ثُقِفُوْا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا ﴾
[ الأحزاب : ٦١ ]
”ان پر پھٹکار برسائی گئی، جہاں بھی مل جائیں پکڑے جائیں اور خوب ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔“
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
ایسے گستاخ اور لعنتی لوگوں کی تائید و مدد بالکل نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ان کے لیے کوئی نرم گوشہ رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ أُولٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ۖ وَمَنْ يَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ نَصِيرًا ﴾
[ النساء : ٥٢ ]
”یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور جسے اللہ تعالیٰ لعنت کر دے، تو اس کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔“ جو مددگار بننے کی کوشش کرے وہ خود بھی ملعون اور مستوجب سزا ہے۔
گستاخی کرنے والے غیر مسلم (ذمی) کی سزا:
رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرنے والا مسلمان ہو یا غیر مسلم اس کی سزا سزائے موت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَ إِنْ نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ ﴾
[ التوبة : ١٢ ]
”اگر یہ لوگ عہد و پیمان کے بعد بھی اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمھارے دین میں طعنہ زنی کریں تو تم بھی ان کے (اماموں) سرداروں سے جنگ کرو ان کی قسمیں کوئی چیز نہیں، ممکن ہے کہ اس طرح وہ بھی باز آ جائیں۔“ بدعہدی اور دین میں طعن کرنے کی وجہ سے انھیں قتل کیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کی گستاخی و بے ادبی ”طعن فی الدین“ ہے اور ایسا کرنے والا کفر کا امام، لیڈر اور سردار ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ” فَتَبَیَّنَ أَنَّ كُلَّ طَاعِنٍ فِي الدِّيْنِ فَهُوَ إِمَامٌ فِي الْكُفْرِ فَإِذَا طَعَنَ الذِّمِّيُّ فِي الدِّيْنِ فَهُوَ إِمَامٌ فِي الْكُفْرِ فَيَجِبُ قِتَالُهُ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى : ﴿ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
الْكُفْرِ ﴾ [ الصارم المسلول : ٢٢ ]
”پس یہ بات ثابت ہوئی کہ دین میں ہر طعن کرنے والا کفر کا سردار ہے۔ جب کوئی غیر مسلم دین میں طعن کرے گا تو کفر کا امام ٹھہرے گا، پس اس کا قتل لازمی طور پر ہوگا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی روشنی میں ﴿ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ ﴾ کفر کے پیشواؤں سے لڑائی کرو۔“
﴿دوسرا اعتراض﴾ نبی کریم ﷺ سراپا شفقت و رحمت تھے، آپ ﷺ نے اپنے دشمنوں کو معاف کر دیا، کبھی سزا نہیں دی تو ہمیں بھی معاف کر دینا چاہیے۔
﴿جواب﴾ نبی کریم ﷺ اپنے حقوق کو خود تو معاف کر سکتے ہیں لیکن کسی دوسرے کو کیا حق حاصل ہے کہ نبی مکرم ﷺ کا حق معاف کرتا پھرے۔ آپ کے وصال کے ساتھ ہی معافی کا حق ساقط ہو گیا۔ صدر ہو یا وزیر اعظم یا کوئی اور کسی کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ معافی دے۔ تعجب ہے کہ گستاخی رسول اللہ ﷺ کی ہوتی ہے اور معافی دینے کے لیے کوئی دوسرا کھڑا ہو جاتا ہے۔ کیا رسول اللہ ﷺ نے امت کے کسی شخص، قوم یا ادارے کو یہ اختیار دیا تھا کہ میرے گستاخ کو تم معافی دے دینا؟ بالکل نہیں۔ یہ بات بھی درست نہیں کہ آپ ﷺ کے گستاخ دشمن کو کبھی کوئی سزا نہیں ملی، بلکہ آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں گستاخوں کو قتل کی سزا دی گئی ہے۔
سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں : ”فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کے سر پر ’خود‘ تھا، جس وقت آپ نے ’خود‘ اتارا تو ایک شخص نے آ کر خبر دی کہ ابن خطل (گستاخ رسول) کعبۃ اللہ کے پردوں سے لٹک رہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ((اُقْتُلُوْهُ)) ”اس کو قتل کر دو۔“
[ بخاری، العمرة، باب دخول الحرم و مكة بغير احرام : ١٨٤٦ ـ بخاری،
الجہاد و السير، باب قتل الأسير و قتل الصبر ٣٠٤٤ ـ بخاری، المغازى، باب
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
أين ركز النبي الراية يوم الفتح : ٤٢٨٦ ]
توہین رسالت اتنا سنگین جرم ہے کہ ایسے مجرم کو حرم میں بھی پناہ نہیں مل سکتی۔ آپ ﷺ نے گستاخوں کے خلاف اعلان جنگ و قتال تو مکی دور میں طواف کعبہ کے دوران کر دیا تھا۔
« أَتَسْمَعُوْنَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَمَا وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ »
”اے قریش کے لوگو ! کیا تم سنتے نہیں۔ اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے ! میں تمھیں ذبح کرنے کے لیے آیا ہوں ۔“
[ مسند أحمد : ٦١٠ ، ج : ١١، ح : ٧٠٣٦۔ دلائل النبوة : ٢٧٦/٢۔ تعلیق التغليق على صحيح البخاری، ص : ٨٨، ج : ٤ ]
اعلان مکہ کا نفاذ مدینہ کے میدانوں میں ہوا، چشم فلک نے دیکھا کہ بدر کے میدان مقتل میں گستاخ کی گردنیں کٹ گئیں اور ان کی لاشوں کو بدر کے بدبودار کنویں میں پھینک دیا گیا۔ گستاخوں کو فرضیت جہاد سے قبل چھوڑا گیا اور ان سے درگزر کیا گیا ، مگر ! جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرضیت جہاد کا حکم آ گیا تو پھر صرف ان کی سرکوبی ہی کی گئی ہے، معافی نہیں دی گئی :
﴿ وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْ بَعْدِ إِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا ۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۚ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰى يَأْتِيَ اللّٰهُ بِأَمْرِهِ ۙ إِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴾ [ البقرة : ١٠٩ ]
”اور اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہو جانے کے محض حسد وبغض کی بنا پر تمھیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، آپ بھی معاف کر دو اور چھوڑو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم لائے، یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔“
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
جب اللہ تعالیٰ نے حکم جاری کر دیا اور قتال کرنے، تلوار اٹھانے کی اجازت مل گئی تو پھر مغرور گردنیں اور گستاخ سر قلم کر دیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرٌ ﴾
[ الحج : ٣٩ ]
”جن (مسلمانوں) سے (کافر) جنگ کر رہے ہیں انھیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ ان کی مدد پر قادر ہے۔“
تیسرا اعتراض کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں جس میں آپ ﷺ نے امت کو حکم دیا ہو کہ جو میری گستاخی کرے اسے قتل کر دو۔
جواب رسول اللہ ﷺ نے اپنی گستاخی کرنے والے کو قتل کرنے کا صرف حکم ہی نہیں دیا بلکہ اس کے قتل کو پسند بھی فرمایا ہے۔
کعب بن اشرف یہودی سردار جو گستاخ رسول تھا، اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتا تھا، آپ ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا :
” مَنْ لِّكَعْبِ بْنِ الْاَشْرَفِ ؟ فَاِنَّهٗ قَدْ اٰذَى اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ “ فَقَامَ مُحَمَّدُ ابْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ : ” يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ اَتُحِبُّ اَنْ اَقْتُلَهٗ “ فَقَالَ : ”نَعَمْ ...... فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ “ قَالَ : ” دُوْنَكُمْ فَاقْتُلُوْهُ، ثُمَّ اَتَوُا النَّبِيَّ ﷺ فَاَخْبَرُوْهُ “
”کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا؟ وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دے رہا ہے۔“ اس پر محمد بن مسلمہ انصاری ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ اجازت دینا پسند فرمائیں گے کہ میں اسے قتل کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ مجھ کو یہ پسند ہے (لمبی حدیث ہے مختصر یہ کہ)
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
پھر جب محمد بن مسلمہ نے اسے ( کعب بن اشرف گستاخ رسول کو ) اچھی طرح قابو میں کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ، چنانچہ انھوں نے اسے قتل کر دیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس واقعہ کی اطلاع کر دی۔
[ بخاری، کتاب المغازی، باب قتل کعب بن الأشرف : ٤٠٣٧ ]
اس حدیث میں آپ ﷺ نے گستاخ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے قتل کو پسند بھی فرمایا ہے یہ روایت حدیث کی اس کتاب میں ہے جس کی صحت وثقاہت پر پوری امت متفق ہے : ” أَصَحُّ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللّٰهِ الْبُخَارِيُّ “ ” کتاب اللہ (قرآن مجید ) کے بعد صحیح ترین کتاب بخاری ہے ۔ “
اس حدیث سے پہلے ابن خطل والی روایت آپ نے پڑھ لی ہے۔ علاوہ ازیں ابو رافع یہودی جو گستاخی کا ارتکاب کرتا تھا اور کفار کا مددگار بھی تھا، اس کے قتل کے لیے آپ ﷺ نے عبد اللہ بن عتیک ؓ کی سربراہی میں انصاری جوانوں کا دستہ روانہ کیا، امیر کارواں نے اسے قتل کر دیا۔
یہ واقعہ بھی بخاری، کتاب الجہاد اور کتاب المغازی، حدیث نمبر : ٣٠٢٢ اور ٤٠٣٨ میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں بہت سی دیگر احادیث سے واضح ہے کہ توہین رسالت کی سزا سزائے موت ہے۔
چوتھا اعتراض فقہاء اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ یہ حد ہے اور اس جرم کی سزا صرف موت ہے تو اسے تعزیر سمجھ کر کم سزا کیوں نہیں دی جاسکتی؟
جواب امت مسلمہ کے تمام ادوار میں اس بات پر اجماع رہا ہے اور قیامت تک رہے گا کہ محمد کریم ﷺ کی بے ادبی و گستاخی کرنے والا، آپ ﷺ پر سب وشتم کرنے اور اہانت و تنقیص کا ارتکاب کرنے والا نہ صرف کافر ہے بلکہ اس کا قتل امت پر واجب ہے۔
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
امام ابو بکر بن المنذر اس کے متعلق فرماتے ہیں :
" أَجْمَعَ عَوَامُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ ﷺ يُقْتَلُ وَ مِمَّنْ قَالَ ذَلِكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَ اللَّيْثُ وَ أَحْمَدُ وَ إِسْحَقُ، وَهُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ وَهُوَ مُقْتَضَى قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ “
[ الصارم المسلول - رد المحتار : ٢٣٢/٤ ]
”تمام اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ کو سب وشتم کیا وہ قتل کیا جائے گا۔ جن ائمہ کرام نے یہ فتویٰ صادر فرمایا ہے ان میں امام مالک، امام لیث، امام احمد اور امام اسحاق شامل ہیں۔ یہی امام شافعی کا مذہب اور یہی سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کا فیصلہ ہے۔“
سیدنا ابو بکر صدیق ؓ ایک شخص پر بہت زیادہ ناراض ہوئے تو سیدنا ابو برزہ اسلمی ؓ نے کہا اے خلیفۂ رسول ! اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن مار ڈالوں ؟...... تو آپ ؓ نے فرمایا :
(( لَا وَاللَّهِ ! مَا كَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ ))
[ أبو داؤد، الحدود، باب الحكم فيمن سب النبي ﷺ : ٤٣٦٣ - نسائي، تحريم
الدم، باب ذكر اختلاف على الأعمش : ٤٠٨٢ ]
”نہیں اللہ کی قسم ! محمد ( رسول اللہ ) ﷺ کے بعد کسی بشر کو یہ مقام حاصل نہیں۔“
امام ابن سحنون مالکی کہتے ہیں :
" أَجْمَعَ الْمُسْلِمُوْنَ أَنَّ شَاتِمَهُ كَافِرٌ وَ حُكْمُهُ الْقَتْلُ وَ مَنْ شَكَّ فِي عَذَابِهِ وَ كُفْرِهِ كَفَرَ “ [ رد المحتار : ٢٣٢/٤ ]
”مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والا کافر
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
ہے اور اس کے متعلق قتل کا حکم ہے (یعنی اس کو قتل کیا جائے گا)۔ جو اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے گا وہ خود بھی کافر ہے۔“
امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں : " أَجْمَعَ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَى أَنَّ مَنْ سَبَّ اللَّهَ أَوْ سَبَّ رَسُوْلَهُ ﷺ أَوْ دَفَعَ شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ قَتَلَ نَبِيًّا مِنْ أَنْبِيَّاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَنَّهُ كَافِرٌ بِذَلِكَ وَ إِنْ كَانَ مُقِرًّا بِكُلِّ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ “ [ الصارم المسلول : ٤٠٣ ] ”اس بات پر امت کا اجماع ہے جس کسی شخص نے اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول ﷺ کو گالی دی یا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کسی چیز کا انکار کیا، یا اللہ کے انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کو قتل کیا تو ایسا کرنے کے سبب وہ کافر ہو گیا، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تمام آسمانی کتابوں کا اقرار ہی کیوں نہ کرتا ہو۔“
اسی طرح امام ابو سلیمان الخطابی ، امام ابو بکر جصاص ، امام ابن ہمام حنفی ، امام ابن عتاب مالکی ، علامہ اسماعیل حقی اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہم نے سزا قتل قرار دی ہے۔
امام ابن عابدین رحمہ اللہ نے پوری بحث کا خلاصہ کچھ یوں بیان فرمایا ہے : " وَالْحَاصِلُ أَنَّهُ لَا شَكَّ وَلَا شُبْهَةَ فِى كُفْرِ شَاتِمِ النَّبِيِّ ﷺ وَ فِي اسْتِبَاحَةِ قَتْلِهِ وَهُوَ الْمَنْقُوْلُ عَنِ الْأَئِمَّةِ الْأَرْبَعَةِ “
[ رد المحتار : ٢٣٨/٤ ]
”حاصل کلام یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کے کفر اور اس کے مستحق قتل ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ چاروں ائمہ کرام سے یہی منقول ہے۔“
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
نیز یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ گستاخ رسول ﷺ کی سزا کا تعلق تعزیرات سے نہیں حدود سے ہے۔ گستاخان رسول کی سزا کے حوالے سے احادیث کتاب الجہاد، کتاب المغازی، کتاب الحدود میں ملتی ہیں۔
جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف جہاد، غزوات اور قتال کرنا ہے اور ان پر وہی حد نافذ کرنی ہے جو عہد رسالت، ادوارِ خلافت اور ہر دور کی اسلامی حکومت میں ہوتی رہی ہے اور وہ سزائے موت ہے، اس میں کمی کرنے یا معاف کرنے کا اختیار کسی کو نہیں، کیونکہ یہ ”منزل من السماء“ ہے۔ کبھی ایسے مجرموں کے بارے میں کم تر سزائے قید کا حکم نہیں دیا گیا۔
﴿پانچواں اعتراض﴾ جب بعض فقہاء اس کے قائل ہیں کہ ایسے مجرم کی توبہ قبول کی جاسکتی ہے اور اس کو معاف کیا جا سکتا ہے تو ہم معاف کیوں نہیں کر دیتے ؟
﴿جواب﴾ قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ گستاخ رسول کی سزا قتل ہے۔ اگر بعض فقہاء کی یہ رائے ہے تو ان کا اجتہاد کتاب و سنت اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ فقہائے کرام کے تین حصے یا اس سے بھی زیادہ کا اجماع اس بات پر ہے کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے اور اس کی توبہ کسی صورت قبول نہیں۔ جو فقہاء توبہ کی قبولیت کے قائل ہیں، تو وہ بھی اس حد تک کہ اگر گرفتاری سے قبل اور مقدمہ کے اندراج سے پہلے وہ توبہ کر لے تو قبول ہو گی ورنہ نہیں۔
عدل و انصاف کی بات یہ ہے کہ اہانت و تنقیص، بے ادبی و گستاخی کرنے والے کو نہ معافی دی جائے گی اور نہ ہی اس کی توبہ قبول کی جائے گی بلکہ اس کو قتل کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں قرآن و سنت اور اجماع امت کے فیصلے کو مقدم رکھا جائے گا۔ امام مالک فرماتے ہیں :
” مَنْ سَبَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ أَوْ شَتَمَهُ أَوْ عَابَهُ أَوْ تَنَقَّصَهُ قُتِلَ مُسْلِمًا
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
كَانَ أَوْ كَافِرًا وَلَا يُسْتَتَابُ “
[ الشفاء : ٩٣٧/٢ ]
”جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی یا عیب لگایا یا آپ کی تنقیص کی تو وہ قتل کیا جائے گا وہ مسلمان ہے یا کافر اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ امام مالک کے علاوہ امام احمد بن حنبل، امام ابن تیمیہ، امام ابن ہمام، امام ابوبکر المنذر، قاضی ابو یعلیٰ وغیرہم شامل ہیں۔“
کسی عدالت، قاضی، ادارے اور شخصیت کو معافی کا حق حاصل نہیں۔ تعجب ہے! ہم لوگ اپنے حقوق چھوڑتے نہیں اور رسول اللہ ﷺ کا حق معاف کرنے کے لیے تیار و ہوشیار ہیں۔
- ﴿چھٹا اعتراض﴾ کیا صریح سب وشتم کرنے والے اور ایسے شخص میں فرق کیا جائے گا
جس کے منہ سے دوران مناقشہ حالت غضب میں کوئی ایسا لفظ نکل گیا ہو جو آپ ﷺ کی جلالت شان کے مطابق نہ ہو۔ بالفاظ دیگر توہین کی تعریف کیا ہے؟
﴿جواب﴾ توہین کی تعریف: کسی قول وفعل سے حضرت محمد ﷺ کو تکلیف دینا، ایذا پہنچانا، جس طرح مشرکین مکہ اور کفار عرب نے آپ ﷺ کو گالیاں دی، تنقیص کی، مجنوں، کاہن، جادوگر اور شاعر کہا اور آپ ﷺ پر پتھر برسائے، حالت نماز میں اوجھڑی ڈالی، دندان مبارک شہید کیے، چہرۂ انور زخمی کیا، تالیاں بجائیں، اور تمسخر کیا۔ ہر وہ قول وعمل جس سے آپ ﷺ کی تعظیم وتوقیر، عزت واحترام میں فرق آئے، وہ اذیت و اہانت، گستاخی اور تکلیف کے زمرہ میں آتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک آیت مبارکہ بطور مثال پیش خدمت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے گستاخوں کی خباثت کو بے نقاب کیا ہے۔
﴿وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ ﴾
[ التوبة : ٦١ ]
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
”اور ان میں سے بعض نبی کریم ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں (بدکلامی کرتے ہیں) اور وہ کہتے ہیں وہ ہر کسی کی بات کو کان دھر کر سن لیتا ہے۔“ یعنی کانوں کا کچا ہے، نعوذ باللہ یہ سب ”يُؤْذُونَ النَّبِيَّ“ اور ”يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ“ کے معنی میں ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی گستاخی و بے ادبی کوئی ایک مرتبہ کرے یا بار بار، حالت غضب میں کرے یا غم و خوشی میں، دوران مناقشہ و مباحثہ کرے یا تقریر و تحریر سے، ایسا کرنے والا ملعون اور قابل گردن زدنی ہے۔ ہر حالت میں زبان احتیاط سے کھولنی چاہیے۔
ساتواں اعتراض کیا ایک ایسے آدمی میں جو آپ ﷺ کی توہین کا عادی ہو اس پر مصر ہو اور اس کے صدور کے بعد معافی نہ مانگے اور ایک دوسرا شخص جو عادی نہیں محض بحث و مناقشہ کے دوران حالت اشتعال میں اس کے منہ سے کوئی ایسا کلمہ نکل جائے جو آپ ﷺ کی جلالت شان کے منافی ہو اور وہ صدور کے بعد معافی مانگے اور دوبارہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کرے، کیا ان دونوں کی سزا میں فرق ہوگا یا نہیں؟
جواب ان دونوں میں کوئی فرق نہیں، دونوں واجب القتل ہیں، ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور جرم کسی صورت معاف نہیں ہوگا، کیونکہ یہ حق رسول اللہ ﷺ کا ہے، امتی اس کو معاف نہیں کر سکتا۔ جو شخص حالت اشتعال میں بیان دیتا ہے وہ «فساد فی الارض» کا داعی ہے۔ حالت اشتعال میں گستاخی و بے ادبی کرنے کے لیے اس کو رسول اکرم ﷺ کی ذات اقدس نظر آئی ہے؟ جو پوری انسانیت و بشریت کے محسن و مربی ہیں۔ پوپ اور پادریوں نے بھی مشتعل ہو کر رسول اللہ ﷺ اور کلام اللہ (قرآن مجید) کے خلاف خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے بدزبانی کی ہے، بلکہ دنیائے کفر کو دعوت دی ہے کہ وہ اس کام کو تیز کریں۔
آٹھواں اعتراض کیا اس جرم میں مسلم اور غیر مسلم میں فرق کیا جائے گا؟ کیونکہ کسی مسلمان سے مستبعد ہے کہ وہ جناب محمد ﷺ کی توہین کرے اور اس پر اصرار کرے۔
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
جواب) قرآن وسنت اور اجماع امت کے فیصلے کی روشنی میں دونوں میں کوئی فرق نہیں دونوں کی سزا قتل ہے۔ یہاں گستاخی کرنے والے کی مالی و مذہبی حیثیت کو نہیں، بلکہ جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام و ادب کو مقدم و ملحوظ رکھا جائے گا۔ گستاخی کرنے والا جو بھی ہو اس کی سزا یہی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کسی بھی مسلمان سے یہ بعید ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے۔ ایسا ہوا ضرور ہے، مگر یہ بات یاد رہے کہ کرنے والا مرتد اور بے دین ہو جاتا ہے مسلمان رہتا ہی نہیں۔ جس طرح ابن خطل کا واقعہ اس سے قبل گزر چکا ہے کہ اس نے گستاخی کی، بے دین ہوا اور واجب القتل ٹھہرا۔
نواں اعتراض ) کیا یہ قانون پچھلے چودہ سو سال سے امت میں موجود ہے اور اس پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے؟ اس پر عمل درآمد کی نوعیت کیا رہی ہے؟ کیا معاملہ عدالت میں جاتا تھا یا جب مسلمان کے سامنے توہین کا واقعہ ہوا ہو وہ اسے قتل کرنے کا حق دار ہوتا تھا، کیا ایسے قاتل پر عدالت میں کبھی مقدمہ چلا ہے؟ کیا اس قانون کے غلط استعمال کا مسئلہ کبھی قاضی کے پاس گیا ہے؟
جواب ) یہ قانون اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس کا نفاذ دور نبوت صلی اللہ علیہ وسلم، دور صحابہ، اور خلافت اسلامیہ میں رہا ہے۔ علاوہ ازیں ہر اسلامی حکومت نے اس کو نافذ کیا ہے، اس پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔ گستاخان رسول کے کیس عدالت میں جاتے تھے، سماعت ہوتی تھی، دلائل و شواہد کی روشنی میں فیصلہ سنایا جاتا تھا اور گستاخ کو قتل کی سزا دی جاتی تھی۔
جہاں تک بات ہے گستاخ کو خود قتل کرنے کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ مبارکہ میں ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں کہ گستاخ کو قتل پہلے کیا گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع بعد میں ملی ہے۔ بطور مثال :
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات
- ① عمیر بن امیہ نے اپنی بہن
پاس آ کر انھوں خبر دی ”کیوں؟ جواب دیا۔ (( دیتی تھی۔ ((وَأَهْدَرَ دَمَهَا الايمان، باب حب الرسول
- ② نابینا صحابی رضی اللہ عنہ نے ام ولد
قتل کیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس (لونڈی) کا خون رائـ النبی : ٤٣٦١ ۔ نسائی :
- ③ ایک یہودی عورت رسول
الفاظ بولتی تھی۔ ایک صحابی اللَّهِ دَمَهَا )) ”تو رسول الحدود، باب الحكم ہیں اس کی سند بخاری اور یہ تینوں واقعات ایسے ہیں کی عدالت میں بعد میں آیا قرار دیا ہے۔
نوٹ ! میں نے اپنے رسالہ یہ تینوں واقعات تفصیل سے
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
- ① عمیر بن امیہ نے اپنی بہن کو قتل کر دیا جو آپ ﷺ کی گستاخ تھی، پھر آپ ﷺ کے
پاس آ کر انھیں خبر دی کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : ”کیوں؟ جواب دیا۔ (( إِنَّهَا تُؤْذِيْ فِيْكَ )) یہ مجھے آپ ﷺ کے متعلق اذیت دیتی تھی : (( وَأَهْدَرَ دَمَهَا )) آپ ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دیا ۔“ [ بخاری،
الايمان، باب حب الرسول من الايمان : ١٤ ]
- ② نابینا صحابی ؓ نے ام ولد (اپنی لونڈی) جس سے اس کی اولاد بھی تھی کو اس وجہ سے
قتل کیا کہ وہ آپ ﷺ کو گالیاں دیتی تھی اور اس نے آپ ﷺ کو وجہ قتل بھی بتا دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (( أَلَا اشْهَدُوا إِنَّ دَمَهَا هَدَرٌ )) ”خبردار! گواہ ہو جاؤ! اس (لونڈی) کا خون رائیگاں ہے۔“ [ أبوداؤد، الحدود، باب الحكم فيمن سب
النبى : ٤٣٦١ ۔ نسائى تحريم الدم، باب الحكم فيمن سب النبى : ٤٠٧٥ ]
- ③ ایک یہودی عورت رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرتی تھی۔ آپ کو گالیاں دیتی اور نازیبا
الفاظ بولتی تھی۔ ایک صحابی ؓ نے اس کا گلہ دبا کر اسے مار ڈالا : (( فَأَبْطَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ دَمَهَا )) ”تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون ضائع قرار دیا۔“ [ أبو داؤد،
الحدود، باب الحكم فيمن سب النبى : ٤٣٦٢۔ علامہ ناصر الدین البانی کہتے
ہیں اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر حسن ہے۔ ارواء الغلیل ٥ / ٩١ ]
یہ تینوں واقعات ایسے ہیں کہ گستاخان رسول کو قتل پہلے کیا گیا ہے اور مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں بعد میں آیا ہے تو آپ ﷺ نے ان تینوں کے خون کو ضائع اور رائیگاں قرار دیا ہے۔
نوٹ! میں نے اپنے رسالہ ”گستاخ رسول کی سزا حدیث رسول ﷺ کی روشنی میں“ یہ تینوں واقعات تفصیل کے ساتھ قلم بند کر دیے ہیں۔
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
جہاں تک اس قانون کے غلط استعمال کی بات ہے تو غلط استعمال بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں یہ نبی کریم ﷺ کی ناموس کا مسئلہ ہے وہاں انسانی جان کا بھی، غلط فہمی کی بنیاد پر یا جھوٹی گواہی پیش کر کے کسی کی جان لینا آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق حرام ہے۔
کسی سے ذاتی رنجش یا شخصی لڑائی ہو جائے تو اس پر الزام داغ دینا کہ یہ گستاخ رسول ہے، اسی طرح اگر کسی سے مسلکی اختلاف ہے تو انتقاماً اس کے متعلق عام کر دینا کہ یہ گستاخ رسول ہے بالکل غلط ہے۔ اسی طرح ذاتی یا مسلکی جھگڑوں میں رسول اکرم ﷺ کی ذات مبارک کو بیچ میں لانا اور آپ کا اسم گرامی استعمال کرنا بھی گستاخی ہے۔ جس طرح گستاخ کے خلاف اس قانون کا سختی سے استعمال ضروری ہے وہاں غلط استعمال سے دوری بھی ضروری ہے۔ آئین پاکستان میں 194 شق اس کے غلط استعمال کے سدباب کے لیے ہے۔ اگر کسی شخص کی جھوٹی گواہی کی وجہ سے کسی کو عمر قید یا سزائے موت ہوتی ہے۔ بعد میں یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ گواہ نے جھوٹ بولا ہے تو اس جھوٹے گواہ کو سزا کے طور پر عمر قید اور سزائے موت دی جائے گی۔
(دسواں اعتراض) کیا ہر مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر کوئی اس کے سامنے توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو وہ اسے قتل کر دے؟
(جواب) اسلامی نظام اور قانون کے تحت ہر مسلمان کو حق حاصل ہے کہ توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کو قتل کر دے یا اسے پکڑ کر حاکم یا عدالت کے سامنے لائے۔ رسول اللہ ﷺ کا احترام پوری انسانیت پر لازم ہے، خواہ کوئی آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لایا ہے یا نہیں لایا۔ کسی کو بے ادبی و گستاخی، اہانت و تحقیر کی اجازت نہیں۔ امت مسلمہ کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ آپ کے حق اور حرمت کے لیے ہر
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
باطل کو مٹا دے اور اپنا سب کچھ رسول اکرم ﷺ کی حرمت و ناموس پر قربان کر دے۔ عدلیہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ گستاخان رسول کا بروقت نوٹس لے، دلائل و شواہد کی روشنی میں فیصلہ صادر کرے اور حکومت وقت سزا نافذ کرے۔ غیرت ایمانی کی وجہ سے کوئی مسلمان کسی گستاخ کو قتل کر دے تو قاتل سے نہ دیت کا مطالبہ ہوگا اور نہ ہی قصاص لیا جائے گا۔
گیارھواں اعتراض پہلی امتوں میں بھی کیا توہین انبیاء کی سزا موت تھی؟
جواب جی ہاں! پہلی امتوں میں بھی گستاخ رسول کی سزا موت تھی۔ یہاں بائبل کی چند آیات پیش خدمت ہیں جن کے مطالعہ سے معلوم ہو جائے گا کہ سابقہ امتوں میں گستاخ کی سزا موت ہے۔ (شریعت کی جو بات وہ تجھ کو سکھلائیں اور جیسا فیصلہ تجھ کو بتلائیں اسی کے مطابق کرنا اور جو کچھ فتویٰ وہ دیں اس سے داہنے یا بائیں نہ مڑنا، اور اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے کہ اس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کے لیے کھڑا رہتا ہے یا اس قاضی کا کہا نہ سنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے اور تو اسرائیل میں سے ایسی برائی کو دور کر دینا اور سب لوگ سن کر ڈر جائیں اور پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں گے)۔ بائبل باب استثناء ص۱۸۳۔ ناشر بائبل سوسائٹی، انارکلی، لاہور
بنی اسرائیل کے انبیاء کو کاہن کہا جاتا تھا۔ اس کی توہین و نافرمانی کی سزا قتل قرار دی گئی ہے اور اس سزا کا فائدہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ لوگ ڈر کی وجہ سے توہین نہیں کریں گے۔ آسمانی کتب اور صحائف کو ماننے والی قوموں نے جہاں جہاں حکمرانی کی ہے، وہاں توہین رسالت کی سزا سزائے موت دی گئی ہے۔
یہودیوں کے ہاں تالمودی قانون کی رو سے فقط پیغمبران بنو اسرائیل اور تورات کی
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
بے حرمتی کی سزا موت ہے۔ اسی قانون پر انحصار کرتے ہوئے اہل کلیسا نے توہین مسیح علیہ السلام کے لیے اسی سزا کو منتخب کیا۔
اسی طرح قبل از اسلام شہنشاہ جسٹینین رومی نے جب عیسائیت کو قبول کیا تو موسوی قانون کو کالعدم کر کے صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا موت مقرر کی۔ اس وقت سے یورپ کی تمام سلطنتوں میں قانون بن گیا۔ بعد میں اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا۔
لیکن اس وقت انبیاء کی توہین میں یہود و نصاریٰ آگے آگے ہیں، پوری دنیا کو انھوں نے اس کام پر لگایا ہوا ہے۔ انھوں نے اپنے انبیاء کی توہین اور نافرمانی کی یہاں تک کہ ان کو قتل بھی کیا۔ یہی گستاخانہ رویہ ان کا نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ہے۔
”قَاتَلَهُمُ اللّٰهُ“ اللہ تعالیٰ ان کو تباہ و برباد کرے۔ آمین
﴿بارھواں اعتراض﴾ کیا یہ صحیح ہے کہ یہ قانون ضیاء الحق جیسے فوجی آمر کے دور میں بنایا گیا تھا؟ اور اس سے پہلے یہ پاکستان اور برصغیر کے قانونی ڈھانچے میں موجود نہ تھا؟ کیا وجہ ہے یہ قانون پہلے موجود نہ تھا بعد میں بنایا گیا ہے؟
﴿جواب﴾ یہ ایک پروپیگنڈہ ہے کہ قانون توہین رسالت (295-C) فوجی آمر ضیاء الحق نے بنایا تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ قانون اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور ان کو پھنسانے کے لیے وجود میں لایا گیا ہے جبکہ دونوں باتیں خلاف حقیقت ہیں۔ اس قانون کو نہ کسی فوجی آمر نے بنایا ہے اور نہ ہی کسی سویلین جابر نے، یہ قانون رب العزت کا نازل کردہ ہے، جس کا نفاذ عہد رسالت، دور خلافت سے ہو رہا ہے اور جہاں کہیں مسلمانوں کو اقتدار حاصل رہا ہے وہاں گستاخان رسول کو سزائے موت دی گئی ہے۔
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
بدقسمتی سے جب ملک وارض اور فکر ونظر پر انگریز کا قبضہ ہوا تو انھوں نے اس قانون (توہین رسالت) کو 1860ء میں سلطنت مغلیہ کے بعد ختم کر دیا، پھر جب ہندوؤں نے آپ ﷺ کی گستاخی و بے ادبی کی اور حضرت محمد ﷺ کی ناموس پر حملے شروع کر دیے تو مسلمانوں کے احتجاج اور مولانا محمد علی جوہر کی تحریک پر ایک معمولی دفعہ A-295 کو تعزیرات ہند میں شامل کیا گیا۔ جس میں توہین مذہب کی سزا 2 سال تک قید یا جرمانہ مقرر ہوئی۔
اس کے بعد ایک طویل نتیجہ خیز جدوجہد کا آغاز 1983ء میں ہوا۔ جب مشتاق راج ایڈووکیٹ نامی شخص نے ”آفاقی اشتمالیت“ (Heavenly communism) کتاب لکھی، جس میں اس نے اللہ کا تمسخر، مذہب کا مذاق، انبیاء کے بارے میں گھٹیا اور نازیبا الفاظ استعمال کیے اور نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی جسارت کی تو ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس نے علماء سے شاتم رسول کے خلاف فتویٰ لیا اور اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس کا نوٹس لیا، لیکن ضیاء حکومت نے اسے قابل توجہ نہ سمجھا، تو فیڈرل شریعت کورٹ میں ضیاء الحق اور چاروں صوبوں کے گورنرز کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا۔ جس کے مدعی سابق جج جناب جسٹس چوہدری محمد صدیق (والد خلیل الرحمٰن رمدے) تھے۔ حکومت کی طرف خلیل الرحمٰن رمدے جو اس وقت ایڈووکیٹ جنرل تھے پیش ہوئے۔ عدالت میں مدعی باپ اور مدعا علیہ بیٹا پیش ہوئے لیکن دونوں کا موقف ایک ہی تھا۔ پاکستان کے تمام ایڈووکیٹ جنرلز کی تائید بھی شامل تھی، چنانچہ شرعی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اس کے بعد C-295 اسمبلی میں متفقہ طور پر پاس ہوا کسی کو مخالفت کی جرأت نہ ہوئی۔ سزا عمر قید یا سزائے موت مقرر ہوئی، لیکن علماء اس فیصلے پر مطمئن نہ تھے۔ فیصلے کو دوبارہ چیلنج کر دیا گیا۔ علماء کا موقف تھا سزا ایک مقرر اور ثابت شدہ حد ہے۔ اس میں کمی
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
یا اضافے کا اختیار کسی کو نہیں۔ یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے، چنانچہ 1987ء میں سماعت ہوئی۔ تمام مسالک کے علماء، خلیل الرحمٰن رمدے، جسٹس میاں محمد اجمل، مولانا محمد متین ہاشمی اور ریاض الحسن نوری مشیر وفاقی شرعی عدالت نے عدالت میں بڑے مضبوط اور مؤثر دلائل دیے کہ عمر قید کی سزا اسلامی احکام کے منافی ہے۔ سندھ حکومت نے بھی اس فیصلے کو تسلیم کیا۔ علامہ طاہر القادری کا موقف تھا کہ سزا کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہے یعنی اسے فی الفور قتل کیا جائے۔ چنانچہ سزائے موت کے حق میں فیصلہ ہوا۔ حکومت وقت کو 30 اپریل 1991ء تک مہلت دی گئی۔ حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی۔ وزیر اعظم نواز شریف کو پیغام بھیجوایا گیا کہ اپیل واپس لی جائے۔ اس نے برسرعام اعلان کیا کہ اسے اپیل کا قطعی علم نہ تھا۔ ورنہ یہ غلطی نہ ہوتی، اگر اس سے زیادہ سخت سزا ہوسکتی ہے تو وہ دیتے۔
چنانچہ اس طرح یہ قانون پاس ہوا۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد یہ معاملہ عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آ گیا۔ جس کے لیے جناب محمد اسماعیل قریشی صاحب سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے مرکزی کردار ادا کیا۔
یہ ساری کوشش و کاوش اس قانون کی بحالی اور نفاذ کے لیے کی گئی جو من جانب اللہ ہے کسی انسان کا بنایا ہوا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے ﴿قُتِلُوْا تَقْتِيْلًا﴾ گستاخ رسول کی سزا موت ہی ہے۔
یہی قانون چودہ سو سال سے امت مسلمہ میں موجود ہے اور قیامت تک یہی رہے گا، جو اقلیتوں کے لیے نہیں تمام گستاخوں کے لیے ہے۔
﴿تیرھواں اعتراض﴾ یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے اور اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق کے چارٹر کے بھی خلاف ہے جس پر پاکستان نے دستخط کیے ہیں۔
﴿جواب﴾ پوری انسانیت کو پیدا کرنے والا، اس کا رب اور رزاق اللہ تعالیٰ ہے، اسی نے
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
انسانیت کی رشد و ہدایت کا قانون اپنے حبیب اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا ہے، جس میں حقوق انسانیت کے پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا اور کسی ایک انسان کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا خواہ اس کا تعلق کسی بھی دین و مذہب سے ہے۔ یا وہ کسی بھی حیثیت کا حامل ہے۔
بنیادی انسانی حقوق میں پہلا حق سردار آدمیت محسن انسانیت جناب محمد ﷺ کا ہے، پوری انسانیت اس بات کی پابند ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کا اکرام و احترام کرے، آپ ﷺ کی عزت و توقیر بجا لائے۔
اگر کوئی شخص آپ ﷺ کی بے توقیری، بے عزتی، اہانت و گستاخی کرتا ہے تو اس کا یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے اور یہ اتنا سنگین جرم ہے کہ عرش سے لے کر فرش تک اس کی معافی نہیں۔ مجرم کو اس کے جرم کی سزا نہ دینا حقوق انسانی پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ اگر یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجرموں، گستاخوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے، وہ جس کی چاہیں پگڑی اچھالیں اور جب چاہیں دوسروں کی عزت سے کھیلیں۔
رسول کریم ﷺ کی عزت و ناموس کا معاملہ بڑا ہی حساس ہے، جو آپ ﷺ کے خلاف بولے گا، لکھے گا وہ بنیادی انسانی حقوق اور قانون الہی کا باغی اور مجرم اعظم تصور ہو گا۔ جہاں تک بات ہے اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق کے چارٹر کی، تو 1948ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کے منشور کا اعلان کیا تھا کہ وہ ہر انسان کو آزادی سے زندہ رہنے کا حق حاصل ہوگا اور کسی پر ظلم و تشدد کو روا نہیں رکھا جاسکے گا اور نہ اس کی عزت نفس کو مجروح کیا جائے گا اور نہ کسی کے مذہبی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت کی جا سکے گی۔
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
اگر گستاخئ رسول کو آزادی اظہار رائے سے تعبیر کیا جائے جس طرح اہل یورپ، یہود و ہنود اور عیسائی کر رہے ہیں تو یہ عدل و انصاف نہ ہوگا، یہ ظلم و تشدد ہے، عزت نفس اور مسلمانوں کے بنیادی عقائد پر حملہ ہے، جو اقوام متحدہ کے ظاہری اعلان کے خلاف ہے۔
آج تک اقوام متحدہ نے رسول کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے لیے کیا کردار ادا کیا ہے؟ جبکہ ان کے منشور میں یہ بات شامل ہے کہ کسی کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے۔
جن اداروں، صحافیوں، حکومتوں، پوپ، پادریوں، TV چینلز نے حضرت محمد ﷺ کی گستاخی کی ہے کیا اس سے رسول مکرم ﷺ کی عزت نفس اور مسلمانوں کے عقائد و جذبات کو مجروح نہیں کیا گیا؟
پوپ اور چرچ کی حرمت کا قانون بنانے اور اس پر عمل درآمد کروانے والے، قانون توہین رسالت پر کس منہ سے اعتراض کرتے ہیں؟
یہ قانون یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے لیے نہیں، بلکہ تمام گستاخان رسول کے لیے ہے، اس قانون پر وہی انگلیاں اٹھائیں گے جو آپ ﷺ کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان خونخوار، خطرناک حملہ آوروں کے سامنے اقوام متحدہ، اس کے اعلانات اور منشورات کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ ہی وہ اس کو تسلیم کرتے ہیں۔
یورپ ہو یا امریکہ اقوام متحدہ کو ایک لونڈی، نوکرانی سے زیادہ اہمیت ہی نہیں دیتے، یہی وجہ ہے کہ عراق و افغانستان میں جب خون کی ہولی کھیلی گئی، گولہ و بارود کی بارش کی گئی، لاکھوں انسانوں کا قتل عام ہوا، لوگ بے گھر ہوئے، زخمی اور معذور ہوئے تو کیا یہ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی نہیں تھی؟ یہ حقوق انسانی پر شب خون نہیں تھا؟ یہ ظلم و تشدد نہیں تو کیا پیار و محبت تھا؟ نہ کسی ملک کی سرحد کا خیال رکھا گیا نہ وہاں کے باسی اور باشندوں کے جان و مال کا لحاظ کیا گیا۔ شہروں کے شہر، علاقوں کے علاقے صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے، قرآن جلا دیے گئے، مساجد منہدم کر دی گئی، ائمہ مساجد کو تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا، یہ کسی
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں تو اور کیا ہے؟ اس سب کچھ پر اقوام متحدہ ایک وفادار، بے زباں لونڈی کی طرح خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتا رہا اور یہی اس کی حیثیت ہے۔
پاکستان نے انسانیت کے قتل عام اور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے لیے دستخط نہیں کیے اور نہ ہی ان چیزوں کا پابند ہونے کی ضرورت ہے، حقوق انسانی کے چارٹر کا تو اقوام متحدہ نے ایک ڈرامہ رچایا ہے، جو دنیا نے دیکھ لیا ہے۔
حقیقی اور اصلی چارٹر تو وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں پیش فرمایا ہے جس کی نظیر و تمثیل دنیا میں نہیں۔ جس میں امیر و غریب، سفید و سیاہ، آزاد و غلام کو یکساں حقوق میسر ہیں، جس میں مال و جان اور عزت کے تحفظ کی ضمانت ہے اور ان تینوں چیزوں کو حرمت والے دن، (یوم عرفہ) حرمت والے مہینے (ذوالحجہ) اور حرمت والے شہر (مکہ المکرمہ) سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ تاریخی اور روشن چارٹر آج بھی موجود و محفوظ ہے، جو پوری دنیا کے لیے مشعل راہ ہے۔
چودھواں اعتراض موجودہ قانون کی سزا (یعنی عمر قید یا سزائے موت) بطور حد ہے یا تعزیر، اگر یہ جرم بطور حد ثابت نہ ہو تو تعزیراً کیا سزا دی جائے گی؟
جواب موجودہ قانون میں گستاخ کی سزا سزائے موت ہے، عمر قید نہیں۔ اس کا تعلق حد سے ہے، تعزیرات میں لانا بے مقصد مفروضہ ہے جس کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ بات کتاب و سنت، اجماع امت اور آئین و قانون سے ثابت ہوچکی ہے کہ گستاخ کی سزا موت ہے۔
پندرھواں اعتراض اس طرح کے جرائم کو مسلمان معاف کیوں نہیں کر دیتے اور اس معاملے میں صرف نظر سے کام کیوں نہیں لیتے، کیونکہ یہ ضروری تو نہیں کہ اس طرح
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
کا ہر معاملہ عدالت ہی میں جائے جبکہ شریعت نفاذ حدود کی حریص نہیں، آپ ﷺ سے نفاذ حدود سے اعراض ثابت ہے اور آپ ﷺ کا حکم ہے کہ شبہات سے حدود کو ٹالو، لہٰذا آج کے مسلمان کا یہ رویہ صحیح نہیں ہے کہ اس طرح کا ہر معاملہ ضرور عدالت میں جانا چاہیے اور اس کو ضرور سزا ملنی چاہیے۔
جواب جرم ثابت ہو جانے کے بعد مجرم کو معاف کرنا خود بہت بڑا جرم ہے، اس طرح چھوٹ اور معافی دینے سے جرائم میں اضافہ ہوگا، جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔ شرفاء کی عزت اور جان و مال غیر محفوظ ہونگے۔ معاشرے میں جو بگاڑ فتنہ و فساد تیزی سے پھیل رہا ہے یہ صرف نظر کا نتیجہ ہے، آج صرف نظر ایک کلچر بن چکا ہے، جس پر خوب عمل بھی ہو رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ تباہی و بربادی اور ہلاکت کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهِ أَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْءِ وَأَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍ بَئِيْسٍ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ ﴾ [الأعراف : 165]
”پس جب وہ بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو اس بری عادت سے منع کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو زیادتی کرتے تھے سخت عذاب میں پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وہ بے حکمی کیا کرتے تھے۔“
سابقہ قوموں کا مؤاخذہ اور پکڑ صرف نظر کی وجہ سے ہوئی۔
معاملات کو عدالت میں لے جانے اور حدود اللہ کو نافذ کرنے سے خیر و بھلائی کو فروغ ملتا ہے اور شر کا خاتمہ ہوتا ہے۔ شریعت اگر قوانین کے نفاذ کی حریص نہ ہوتی تو حدود کا وجود بھی نہ ہوتا۔
جہاں تک بات ہے:
(( اِدْرَءُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُهَاتِ ))
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
”شبہات سے حدود کو ٹالو۔“
اول تو یہ روایت صحیح نہیں ہے، دیکھیے : نصب الرأیۃ : ۳۳۳/۳۔ کنز : ۱۲۹۵۷۔ تلخیص الحبیر : ۵۱۰/۴، ۷۵۵/۱۔ ارواء الغلیل : ۲۳۱/۷۔
دوم : اس سے مراد یہ کہ ملزم کو شک کا فائدہ دیا جا سکتا ہے۔ یادر ہے کہ واضح اور ثابت شدہ کیس میں حد کا اطلاق و نفاذ ہوگا۔
لہٰذا حدود اللہ میں ٹال مٹول کسی صورت کسی شکل میں بھی جائز اور درست نہیں، جس نے گستاخیٔ رسول کا ارتکاب کیا اس کو سزا ضرور ملنی چاہیے، عدالت سزا نہیں دے گی تو لوگ قانون پر خود عمل درآمد شروع کر دیں گے۔ جو لوگ جرم کی سزا کے قائل نہیں وہ درحقیقت جرائم پیشہ لوگوں کے سرپرست ہیں۔
﴿سولہواں اعتراض﴾ اگر ایک مسلمان کسی غیر مسلم ملک میں رہ رہا ہو اور کوئی غیر مسلم اس کے سامنے توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ کیا اس شخص کو قتل کر دینا چاہیے؟
﴿جواب﴾ اسلامی حکومتوں کی عدالتوں نے گستاخان رسول کو سزائے موت دی ہے، جہاں کہیں اسلامی حکومت نہیں تھی وہاں حضرت محمد ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کی گئی تو محبان رسول ﷺ، فدائیان حرمت رسول ﷺ نے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر مسلم حکومتوں کے قوانین کی پروا کیے بغیر گستاخوں کا سر تن سے جدا کرتے ہوئے محبت رسول ﷺ میں قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا اور کچھ تختہ دار پر اس انداز سے چڑھے کہ شہادت ان کا مقدر بن گئی۔
غیر مسلم گستاخ کی سزا قتل ہے خواہ وہ کسی مسلم ملک میں ہو یا غیر مسلم ملک میں۔
﴿سترہواں اعتراض﴾ اس قانون سے پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے اور یہ الزام لگایا جا رہا
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
ہے کہ پاکستانی مسلمان انتہا پسند اور دہشت گرد ہیں، اس کا توڑ کیا ہے؟
جواب کسی ایک گستاخ رسول کے لیے سزائے موت کا اعلان ہو جائے تو اس سے پاکستان بدنام ہوتا ہے؟ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق و افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور اسرائیل و انڈیا نے فلسطین و کشمیر میں نسلیں مٹا ڈالیں تو ان کے اس اقدام سے کیا ان کی نیک نامی ہوئی ہے؟ جب کوئی شخص رسول اکرم ﷺ کی گستاخی کرے گا تو اس کے خلاف انتہائی اقدام کیا جائے گا، یہ انتہائی اقدام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو پسند ہے، مسلمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پسند کو انتہا کی حد تک پسند کرتے ہیں۔ یہ دہشت گردی نہیں، بلکہ فساد فی الارض کو مٹانے کے مترادف ہے۔
جہاں تک بات ہے پاکستانیوں کی کہ وہ دہشت گرد ہیں تو یہ الزام صرف پاکستانی مسلمانوں پر نہیں بلکہ پوری دنیائے اسلام پر ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے کلام قرآن پاک اور آپ ﷺ کی ذات اقدس پر بھی یہی الزام لگایا جا رہا ہے، اسی لیے عالم کفر نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی ہیں اور پادری نے قرآن کو سزا دینے کی بات کی ہے کہ قرآن مجید کو جلا دیا جائے، اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں، غرق کر دیا جائے یا فائرنگ سکواڈ کے سپرد کر دیا جائے۔ (نعوذ باللہ)
اہل کفر کے اس جھوٹے الزام اور اس کی بنیاد پر کیے جانے والے تمام تر اقدام کو آپ کس نگاہ سے دیکھیں گے؟ انھوں نے تو پورے دین اسلام کو اپنی چرب زبانی کی لپیٹ میں لے لیا ہے، نہ کلام اللہ کو چھوڑا اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کو معاف کیا۔
نبی کریم ﷺ کی حرمت کا دفاع کرنا اور گستاخ کو موت کی سزا دینا اگر دہشت گردی ہے تو یہی قانون بشمول سیدنا عیسیٰ ؑ اور تمام انبیاء کی حرمت و ناموس کے لیے ہے، جو
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
بھی ان کی گستاخی کرے گا سزائے موت پائے گا، یہ سزا بائبل میں موجود ہے، اس اعتبار سے یہود و نصاریٰ بھی انتہا پسند اور دہشت گرد ٹھہرے۔
رہی بات اس جملے کی کہ (اس کا توڑ کیا ہے؟) اللہ تعالیٰ نے اس کا توڑ یہ بتایا ہے کہ:
﴿فَقَاتِلُوا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾
[ التوبۃ : ۱۲ ]
”کفر کے سرداروں سے قتال کرو۔“
جب تک گستاخوں کے سر تن سے جدا نہیں ہوں گے، ان کے ظالم امام اور نظام نہیں مٹیں گے، ان کے ملک نہیں ٹوٹیں گے، مسئلہ جوں کا توں رہے گا، دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ ملتا رہے گا، اس کا حل اس میں ہے کہ ان کو مکمل طور پر توڑ دیا جائے اور اسلامی قوانین کی مکمل پاس داری کی جائے۔
﴿اٹھارواں اعتراض﴾ کیا اس طرح کا قانون دوسرے مسلمان ممالک میں موجود ہے اور وہاں اس پر عمل درآمد ہوتا ہے؟
جواب یہ قانون قرآن وسنت میں موجود ہے، جس جس ملک میں اسلامی قوانین کا نفاذ ہے، وہاں اس قانون پر عمل درآمد ہو رہا ہے، اگر کسی اسلامی ملک میں کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے اور اس کو اسلامی سزا سزائے موت نہیں دی جاتی تو وہ حکومت اللہ تعالیٰ کے ہاں خود جواب دہ ہے۔
﴿انیسواں اعتراض﴾ مسلمان اس معاملے میں اتنے جذباتی کیوں ہیں کہ وہ ایسے آدمی کو خود قتل کر دیتے ہیں؟ وہ اسے عدالت میں کیوں نہیں لے جاتے کہ جرم ثابت ہونے پر عدالت اسے سزا دے؟
جواب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کافر اتنے گستاخ کیوں ہیں؟ بے ادب و بدتمیز، نافرمان و باغی کس لیے ہیں؟ کہ جس شخصیت کی عزت و تعظیم رب العالمین کرتے ہیں اور جن کا احترام آسمانی کتابوں میں موجود ہے، یہ لوگ اس آفاقی و آسمانی فیصلے
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
کو تسلیم کرتے ہوئے اس ہستی کا احترام کیوں نہیں کرتے؟
جب بے ادبی و گستاخی کا ارتکاب ہوتا ہے تو مسلمان اپنے ایمانی جذبات کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتقام لیتا ہے، جو اس کا اسلامی حق ہے۔
اعتراض نمبر 15 میں یہ بات لائی گئی ہے کہ یہ ضروری تو نہیں کہ اس طرح کا ہر معاملہ عدالت ہی میں جائے اور اعتراض 19 میں یہ مسئلہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اسے عدالت میں کیوں نہیں لے جاتے کہ جرم ثابت ہونے پر عدالت اسے سزا دے، ان دونوں اعتراضات میں تضاد پایا جاتا ہے، جو خود ایک بہت بڑا اعتراض ہے۔
اس سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ عدالتیں خود فیصلہ کرتے ہوئے سزا دیں یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ جب عدالتیں اپنا فریضہ ادا نہیں کریں گی، مجرموں کو سزا نہیں دیں گی سستی اور غفلت سے کام لیں گی، تو اس کا مطلب پھر یہ ہوگا کہ عدلیہ نے عوام کو خود موقع فراہم کر دیا کہ وہ گستاخ رسول کو قتل کر دے تو اس کا یہ اقدام غلط نہ ہوگا، کیونکہ گستاخ رسول کو سزا تو ہر صورت ملنی چاہیے۔
﴿بیسواں اعتراض﴾ نچلی عدالتیں اتنی سخت سزائیں کیوں دیتی ہیں جن کی توثیق اعلیٰ عدالتیں نہیں کرتیں؟
﴿جواب﴾ گستاخ رسول کے لیے موت کی سزا، بالکل سخت نہیں، یہ فطرت کے عین مطابق ہے، بلکہ گستاخی کرنا، سنگین ترین گناہ اور سخت ترین جرم ہے۔
کتاب وسنت اور آئین وقانون میں اس سے بڑی سزا نہیں ہے، اگر ہوتی تو گستاخ رسول اس کا بھی مستحق ٹھہرتا۔
قانون توہین رسالت گستاخوں اور بے ادبوں کے لیے ہے، با ادب لوگوں اور معاشروں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، جس نے اہانت وتحقیر نہیں کرنی وہ اس سزا سے نہ ڈرے۔ رہی بات اعلیٰ عدالتوں کی اگر وہ ماتحت عدالتوں کے بعض فیصلوں کی توثیق
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
نہیں کرتیں، مزید چھان بین کرتی اور تحقیق و تبین سے کام لیتی ہیں تو اس کا فائدہ لوگوں کو ہوتا ہے عدالت کو نہیں، یہ تمام عدالتیں، سیشن کورٹ، ہائی کورٹ سپریم کورٹ، ایک ہی محکمہ کے چھوٹے بڑے مراحل ہیں، کیس بڑی عدالت میں ہو یا چھوٹی عدالت میں محکمہ ایک ہی رہتا ہے۔
جہاں تک سزاؤں کی سختی کی بات ہے، تو ہر جرم کی سزا متعین و مقرر ہے اور یہ جرم کے سدباب اور رکاوٹ کے لیے اور معاشرے کی اصلاح اور تطہیر و تزکیہ کے لیے ہے اگر سزاؤں کا نفاذ نہیں ہو گا تو معاشرے میں بدامنی اور فساد پیدا ہو گا، اسلام نے جو بھی سزا مقرر کی ہے وہ جرم سے زیادہ نہیں ہے۔
اکیسواں اعتراض پاکستان میں آج تک توہین رسالت کے مرتکب کسی شخص کو سزائے موت کیوں نہیں ہوئی؟ مطلب یہ کہ جب قانون موجود ہے تو اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا؟ آج تک پاکستان میں کسی چور کا ہاتھ اور کسی ڈاکو کا پاؤں نہیں کاٹا گیا اور کوئی زانی سنگسار نہیں ہوا، جب کہ حدود کا قانون موجود ہے اور ان جرائم کا روزانہ ارتکاب ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے۔
جواب توہین رسالت کے مجرم کو سزا نہ ملنے کی وجہ سے توہین کا دائرہ وسیع اور گستاخوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فیصلہ تو صادر ہو جاتا ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا، عمل درآمد نہ ہونے کا ایک سبب تو ایمانی کمزوری اور دوسرا اغیار کا ڈر اور خوف ہے۔ مغرب سے ملنے والے قرضے کی بندش کا ڈر، مراعات کے چھن جانے، کرسی اور اقتدار کے چلے جانے کا خوف، یہ تمام تر خوف دل سے نکال کر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے حدود اللہ کا نفاذ کرنے کی ضرورت ہے، جب تک قانون توہین رسالت پر عمل درآمد نہیں ہو گا اس وقت تک بدامنی بے چینی برقرار رہے گی جو ملک و ملت اور معاشرے کے لیے بہتر نہیں۔
قانون توہین رسالت پر اکیس اعتراضات اور ان کے جوابات
چور کا ہاتھ نہ کاٹنے اور زانی کو سنگسار نہ کرنے کے برے ثمرات اور خوف ناک نتائج ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، دن بدن چوری چکاری، زنا و بدکاری میں اضافہ ہو رہا ہے، نہ کسی کا مال محفوظ ہے اور نہ عزت و جان، چادر و چاردیواری کا تقدس بھی باقی نہیں رہا۔ مسلمان دوسرے مسلمان کے حقوق پر ڈاکا ڈال رہا ہے جو خلاف شریعت ہے، سیدنا ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے، صحابہ کرامؓ نے آپﷺ سے سوال کیا:
(( أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِهِ وَ يَدِهِ ))
[ بخاری، الإيمان، باب أي الإسلام أفضل : ١١ ]
”اے اللہ کے رسول ! کون سا مسلمان افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“
مسلمان ہاتھ اور زبان کا غلط استعمال نہ کریں۔ لیکن حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مال و جان، عزت و آبرو، چادر و چاردیواری کا تحفظ کرے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب مجرموں پر حدود اللہ کو نافذ کرتے ہوئے ان کو سزائیں دی جائیں گی۔
اگر یہ اقدام نہ اٹھایا گیا تو پھر ظلم و جبر، چوری چکاری اور بدکاری کا بازار گرم رہے گا اور گستاخان رسول بے لگام ہو کر سرکشیاں کرتے نظر آئیں گے۔ حکومت ابتدا ہی سے سزائیں نافذ کرتی تو جرائم کے پھیلاؤ کی یہ کیفیت نہ ہوتی اور ہمارا ملک و معاشرہ آج مثالی نظر آتا۔
Composed By:0321-4638539
قانون توہینِ رسالت پر
21 اعتراضات اور ان کے جوابات
محمد صلی اللہ علیہ وسلم
دارالاندلس Dar-ul-Andlus
قاری محمد یعقوب شیخ گولڈ میڈلسٹ کنگ سعود یونیورسٹی الریاض