فتاویٰ ختم نبوّت
جلد دوم
مُرَتِّب
مولانا مفتی سعید احمد جلال پوری
رئیس دارالافتاء ختم نبوت کراچی
تَحْقِيق وتَخْرِيج
مولانا عزیز الرحمٰن ثانی مولانا عبد الرزاق مجاہد الحاج رانا محمد طفیل جاوید
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ، ملتان • فون: 514122
بسم الله الرحمن الرحیم
نام کتاب : فتاویٰ ختم نبوت جلد دوم جمع و ترتیب : حضرت مولانا مفتی سعید احمد جلال پوری طبع اول : ستمبر ۲۰۰۵ء صفحات : ۵۱۲ قیمت : ۲۵۰ روپے ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون نمبر: 061-4514122 فیکس: 4542277 لائبریری: 4583486 سٹاکسٹ : مکتبہ لدھیانوی مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی فون نمبر: 021-2780337 فیکس: 021-2780340
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
انتساب!
یہ کتاب ستمبر میں شائع ہو رہی ہے۔ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ پاکستان میں ان فتاویٰ جات کو قانون کا درجہ دلوانے کے لئے ’’شہدائے ختم نبوت‘‘ کا بہت بڑا حصہ ہے۔ سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت سے لے کر امت مسلمہ کے ہر اس شہید کے نام اس کتاب کو منسوب کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جان تک رحمت دو عالمﷺ کی وصف خاص و طرۂ امتیاز ختم نبوت کے تحفظ کے لئے قربان کر کے ابدی حیات حاصل کی۔
مرتب!
بسم الله الرحمن الرحيم!
الحمدلله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفیٰ ، اما بعد!
محض اللہ رب العزت کے فضل وکرم، احسان وتوفیق، عنایت ورحمت سے فتاویٰ ختم نبوت کی دوسری جلد پیش خدمت ہے۔ پہلی جلد میں تقریباً تیس متداول فتاویٰ جات سے قادیانیت کے خلاف ہزاروں فتاویٰ کو جمع کیا گیا تھا۔ اس جلد ثانی میں ان رسائل کو جمع کر دیا گیا ہے جو مختلف اوقات میں قادیانیت کے خلاف فتاویٰ جات رسائل کی شکل میں شائع ہوتے رہے۔ اللہ رب العزت اپنے فضل وکرم کی بارش نازل فرمائیں ان حضرات کی ارواح طیبہ پر جنہوں نے قادیانیت کے خلاف فتویٰ کے میدان کو سر کیا۔ اس جلد میں چھوٹے بڑے ۲۱ رسائل شامل ہیں۔ ہم نے تاریخ ترتیب فتویٰ یا تاریخ اشاعت کو سامنے رکھ کر ”اسلامی تقویم تاریخ“ کی کتاب کے مطابق (تقریباً) ترتیب قائم کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سہو ونسیان سے درگزر فرمائیں۔ جو رسائل اس جلد میں شامل ہیں ان کی تفصیل یہ ہے:
نام کتاب مصنف اشاعت تاریخ ہجری تاریخ عیسوی
فتاویٰ قادریہ مولانا محمد قادریؒ ۱۳۰۱ھ ۱۸۸۳ء رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین مولانا غلام دستگیر قصوریؒ صفر ۱۳۰۲ھ نومبر ۱۸۸۴ء ﴿فتاویٰ علمائے پنجاب و ہندوستان بحق مرزا غلام احمد ساکن قادیان﴾ مولانا محمد حسین بٹالویؒ ۱۳۰۷/۸ھ ۱۸۹۰ء ﴿فتویٰ تکفیر منکر عروج جسمی ونُزول عیسیٰ علیہ السلام﴾ مولانا قاضی عبیداللہؒ ۱۳۱۱ھ ۱۸۹۳ء درّہ زاہدیہ! بر فرقہ احمدیہ مولانا قاضی محمد زاہد الحسینیؒ جمادی الثانی ۱۳۲۱ھ اگست ۱۹۰۳ء قہر یزدانی بر دجال قادیانی حافظ سید پیر ظہور شاہ قادریؒ رجب ۱۳۳۰ھ جون ۱۹۱۲ء ﴿القول الصحیح في مکائد المسیح!﴾ مولانا محمد سہولؒ دیوبند صفر ۱۳۳۱ھ جنوری ۱۹۱۳ء فتویٰ تکفیر قادیان کتب خانہ اعزازیہ دیوبند رجب ۱۳۳۶ھ اپریل ۱۹۱۸ء ﴿استنکاف المسلمین عن مخالطۃ المرزائیین!﴾ انجمن حفظ المسلمین امرتسر ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ اگست ۱۹۲۰ء
مرزائی کا جنازہ اور مسلمان مولانا احمد سعید گوجرانوالہ جمادی الاول ۱۳۸۶ھ اگست ۱۹۶۶ء ﴿مرزائی کا جنازہ اور اس کے نہ پڑھنے کا حکم﴾ حافظ عبدالحقؒ سیالکوٹ شوال ۱۳۵۳ھ جنوری ۱۹۳۵ء ﴿عرب وعجم کے دیوبندی بریلوی اہلحدیث اور شیعہ علماء کا متفقہ فتویٰ﴾ اہلیان علاقہ مانسہرہ ۱۳۸۲ھ ۱۹۶۲ء ﴿علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ قادیانیوں کی طرح لاہوری مرزائی بھی کافر ہیں﴾ اراکین مسجد ووگنگ انگلینڈ ۱۳۹۳ھ ۱۹۷۳ء ﴿القاديانية في نظر علماء الامة الاسلامية!﴾ علمائے حرمین وشام رجب ۱۳۹۳ھ جولائی ۱۹۷۳ء ﴿قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ اسلامی عدل وانصاف کے عین مطابق ہے﴾ مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ ۸ شعبان ۱۳۹۴ھ ۲۸ اگست ۱۹۷۴ء ﴿استفسارات حول الطائفة القاديانية!﴾ مجمع فقہ الاسلامی جدہ ربیع الثانی ۱۴۰۶ھ ۱۹۸۶ء ﴿مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانیوں کو دفن کرنا جائز نہیں﴾ مولانا عبداللہ کلاں رجب ۱۴۰۶ھ اپریل ۱۹۸۶ء فتویٰ حیات مسیح علیہ السلام مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ صفر ۱۴۱۵ھ اگست ۱۹۹۴ء علمی وتحقیقی فتویٰ مولانا عبیداللہ عفیف ۱۴۲۰/۲۱ھ ۲۰۰۰ء فتویٰ شریعت غرا (۱/۲) انجمن اہل حدیث وزیرآباد اسلام میں مرتد کی شرعی حیثیت مولانا محمد مراد صاحب مدظلہ
ان کے علاوہ مزید رسائل ایسے بھی ہیں جو قادیانی کفریات کی شرعی حیثیت متعین کرنے کے نقطہ سے لکھے گئے ۔ انہیں ہم انشاء اللہ العزیز! فتاویٰ ختم نبوت کی تیسری جلد میں شائع کریں گے۔ یوں قادیانی فتنہ سے متعلق امت مسلمہ کی فتاویٰ جات کی تمام جدوجہد ان تین جلدوں میں جمع ہو جائے گی۔ حق تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اس سعی کو بھی اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین ۔ بحرمۃ النبی الامی الکریم!
فقیر اللہ وسایا ۲۸ اگست ۲۰۰۵ء
بسم الله الرحمن الرحيم!
فہرست رسائل مشمولہ فتاویٰ ختم نبوت جلد دوم!
- ☆ ...... انتساب ۳
- ☆ ...... پیش لفظ ۴/۵
- ☆ ...... فہرست ٦
- ۱ ...... فتاویٰ قادریہ ۷
- ۲ ...... رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین ۲۱
- ۳ ...... فتاویٰ علمائے پنجاب و ہندوستان بحق مرزا غلام احمد ساکن قادیان ۹۳
- ۴ ...... فتویٰ تکفیر منکر عروج جسمی ونزول عیسیٰ علیہ السلام ۱۷۷
- ۵ ...... درّہ زاہدیہ! ۲۲۱
- ٦ ...... قہر یزدانی بر دجال قادیانی ۲۳۳
- ۷ ...... القول الصحيح في مكائد المسيح! ۲۶۱
- ۸ ...... فتویٰ تکفیر قادیان ۲۸۷
- ۹ ...... استنكاف المسلمين عن مخالطة المرزائيين! ۳۰۳
- ۱۰ ...... مرزائی کا جنازہ اور مسلمان ۳۳۳
- ۱۱ ...... مرزائی کا جنازہ اور اس کے نہ پڑھنے کا حکم ۳۵۳
- ۱۲ ...... عرب وعجم کے دیوبندی بریلوی اہل حدیث اور شیعہ علمائے کرام کا متفقہ فتویٰ ۳۵۷
- ۱۳ ...... علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ! قادیانیوں کی طرح لاہوری مرزائی بھی کافر ہیں ۳۶۵
- ۱۴ ...... القاديانية في نظر علماء الامة الاسلامية! ۳۷۳
- ۱۵ ...... قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ (اسلامی عدل وانصاف کے عین مطابق ہے) ۳۸۵
- ۱٦ ...... استفسارات حول الطائفة القاديانية! ۴۰۱
- ۱۷ ...... مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانیوں کو دفن کرنا جائز نہیں ۴۱۵
- ۱۸ ...... فتویٰ حیات مسیح علیہ السلام ۴۲۱
- ۱۹ ...... علمی و تحقیقی فتویٰ ۴۷۵
- ۲۰ ...... فتوی شریعت غرّا (۱/۱) ۴۸۳
- ۲۱ ...... اسلام میں مرتد کی شرعی حیثیت ۵۰۳
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اقتباس از
فتاویٰ قادریہ
ص ۲۶ تا ۴۷
از
حضرت مولانا محمد لدھیانویؒ
تعارف
فتاویٰ قادریہ سے اقتباس
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ، امابعد!
مرزا غلام احمد قادیانی نے ابتداء میں جب پر پرزے نکالے اور سواد اعظم اہل سنت کی شاہراہ سے علیحدہ قدم مارا تو وہ اپنی جنم بھومی قادیان سے لدھیانہ آیا اور وہاں آ کر اس نے اپنے کفریہ عقائد کا اپنے مخصوص حلقہ میں پرچار شروع کیا تو اس وقت سب سے پہلے قادیانی کفر کے سامنے اللہ تعالیٰ نے علمائے لدھیانہ کو سد سکندری کے طور پر کھڑا کر دیا۔ تب اوائل ١٣٠١ھ (مطابق ١٨٨٣ء) میں لدھیانہ کے حضرت مولانا عبدالقادر لدھیانویؒ کے صاحبزادگان حضرت مولانا محمد لدھیانویؒ حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ حضرت مولانا عبدالعزیز لدھیانویؒ نے فتنہ قادیانیت کے خلاف معرکہ حق قائم کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو غیر متوقع طور پر ان حضرات کی للکار نے ایسا زچ کیا کہ مرزا قادیانی بدحواسی سے بدزبانی تک جا پہنچا۔ اس معرکہ ١٣٠١ھ کی تفصیل حضرت مولانا محمد لدھیانویؒ نے ”فتاویٰ قادریہ“ اشاعت اول ربیع الاول ١٣١٩ھ مطابق جون ١٩٠١ء میں قلمبند کی ہے۔ جو فتاویٰ قادریہ کے ٢٦ سے ۴۷ تک بیس صفحات پر مشتمل ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کے روبرو اس کے کفر کی حقیقت الم نشرح کرنے کی پہلی کامیاب کوشش ہے۔ اس لئے اس کتاب میں سب سے پہلے رسالہ کے طور پر شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
قارئین کرام! خوشی محسوس کریں گے کہ ”جماعتی سطح“ پر سب سے پہلے قادیانی فتنہ کو ناکوں چنے چبوانے کی سعادت اللہ تعالیٰ نے ”مجلس احرار اسلام ہند“ کو نصیب کی۔ جس کے سربراہ اسی خاندان علمائے لدھیانہ کے چشم و چراغ، ان کی روایات کے امین، ہمارے مخدوم و مطاع حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ تھے۔ جنہوں نے اپنی جماعتی و خاندانی ذمہ داری کو ایسے نبھایا کہ اس پر دنیا عش عش کر اٹھی۔ حق تعالیٰ اس عظیم خاندان کی باقیات کو تازیست قادیانی فتنہ کے تعاقب کے لئے پاک و ہند میں مزید در مزید اعلائے کلمۃ الحق کی توفیق رفیق فرمائیں۔ یاد رہے کہ احتساب قادیانیت کی جلد دہم میں سب سے پہلا تکفیری فتویٰ کے حوالہ سے ایک رسالہ کے ابتدائی تعارف میں چند گزارشات کی تھیں۔ لیکن ہجری و عیسوی تاریخوں کی تقویم میں سہو ہوا جس پر فاضل بھائی حضرت مولانا حبیب الرحمٰن ثانی لدھیانوی نے متنبہ کیا۔ جس کا اعتراف سہو کے ساتھ شکریہ لازم ہے۔
فقیر اللہ وسایا ٢٦ اگست ٢٠٠٥ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قادیانی اپنا ایمان قائم کر کے اس بارے میں گفتگو شروع کرتا تو فوراً اس کو جواب میں ہم یہ رسالہ پیش کرتے حسبی اللہ و نعم الوکیل نعم المولی و نعم النصیر وھی ھذا.
بعد الحمد والصلوٰۃ محمد بن مولانا مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی ہیچ خدمت اہل اسلام کے عرض کرتا ہے کہ غلام احمد قادیانی کی تکفیر بباعث کلمات کفریہ کے اوّل ۱۳۰۱ ہجری میں ہمارے ہی خاندان سے شروع ہوئی اس وقت اکثر لوگ ہمارے مخالف رہے بعد میں رفتہ رفتہ کل اہل علم نے قادیانی کے ضال مضل ہونے پر اتفاق کیا حتیٰ کہ علماء حرمین شریفین نے بھی قادیانی پر دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ تحریر کر دیا جیسا کہ رسائل مولانا مولوی غلام دستگیر صاحب میں تفصیل وار موجود ہے اگرچہ ان فتوؤں سے لوگوں کو بہت ہدایت ہوئی لیکن بعض بعض کور باطنوں کو اس آفتاب ہدایت مآب سے کچھ فائدہ حاصل نہ ہوا۔ شعر
کہ خضر از آب حیواں تشنہ می آرد سکندر
یعنی جو کفریات اس کے صاف صاف آیات قطعیات کے مخالف ہیں ان پر ان کے ایمان کی بنیاد ہے جیسا کہ رسالہ ازالۃ الاوہام میں عیسیٰ ؑ کو یوسف نجار کا بیٹا لکھا ہے اور جو خدا تعالیٰ جل شانہ نے ان کے معجزے مثل احیاء اموات اور مادر زاد نابینوں کو بینا کرنا اور جانور مٹی سے بنا کر خدا کے حکم سے جاندار بنا دینا وغیرہ وغیرہ جن کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے ان سب کو اس قادیانی نے مشرکانہ خیال لکھ کر منکر قرآن ہو کر اپنا کفر ظاہر کر کے زمرہ مرتدین میں داخل ہوا اکثر مباحثات میں قادیانی اس امر پر زور دیتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ فوت ہو چکے ہیں اور ان کے فوت ہونے کا ثبوت آیات قرآنیہ میں موجود ہے اگرچہ اس کا جواب علماء اسلام دندان شکن اپنی اپنی تصانیفوں میں دے چکے ہیں لیکن ہماری طرف سے بھی اس امر کا جواب دینا نہایت ضروری معلوم ہوتا ہے لہٰذا اس عاجز نے اس کا جواب لکھنا شروع کیا اور نام اس کا کشف الغطا عن ابصار من ضل وغویٰ رکھا حسبی الله و نعم الوكيل و نعم المولىٰ و نعم الکفیل اور ترتیب دیا گیا یہ رسالہ اوپر مقدمہ اور مقصد اور خاتمہ کے مقدمہ میں اصطلاحات علم اصول کی بیان کی جاتی ہیں جو واسطے استنباط احکام کے معلوم ہونا ان کا نہایت ضروری ہے۔ ظاہر اس کلام کو کہتے ہیں جس کا مطلب الفاظ سے صاف صاف ظاہر ہو۔ قال فی المنار الظاھر اسم الکلام ظھر المراد بہ للسامع بصیغۃ نص وہ جس کے واسطے کلام چلائی گئی ھو النص ماسیق الکلام لاجلہ کذافی نور الانوار مثال ان دونوں کی یہ آیت ہے۔ احل الله البيع و حرم الربوٰ یعنی حلال کیا اللہ تعالیٰ نے بیع کو اور حرام کیا سود کو یہ آیت بیع کے حلال اور سود کے حرام ہونے پر بطور ظاہر کے دلالت کر رہی ہے بیع اور سود میں جو فرق اس آیت سے شارع کو مقصود ہے اس پر دلالت اس کی بطور نص کے ہے اور حکم ظاہر اور نص کا یہ ہے کہ جو ان دونوں سے ثابت ہو اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ قال فی نور الانوار و حکمھا وجوب العلم
بالذی ظهر منهما على سبيل القطع واليقين يعنی ان دونوں سے جو احکام ثابت ہوں وہ قطعی اور یقینی ہوتے ہیں مفسر وہ ہے جو اپنی مراد پر ایسا واضح ہو کہ کسی تاویل کی اس میں گنجائش نہ ہو قال فی المنار المفسر ما ازداد وضوحا علی النص على وجه لا یبقی معه احتمال التاویل ببیان الشارع و حکمه وجوب العمل به یعنی ظاہر اور نص اگرچہ قطعی ہیں لیکن احتمال تاویل کو مانع نہیں یعنی اگر کوئی دلیل قطعی اس امر پر دلالت کرے کہ یہاں ظاہری معنی حقیقی مراد نہیں بلکہ مجازی مراد ہیں تو اس وقت ظاہری معنی ظاہر اور نص میں مراد نہیں لیے جائیں گے اور مفسر میں ایسے احتمال کو گنجائش نہیں کیونکہ شارع کے بیان کرنے سے اس کی اصلی مراد معلوم ہو گئی جیسا کہ آیت وقاتلو المشرکین کافة میں لفظ کافة کا واسطے بیان کرنے اس امر کے زیادہ کیا گیا ہے کہ تا احتمال اس امر کا باقی نہ رہے کہ شاید مشرکین سے بعض مشرک مراد ہوں کل مراد نہ ہوں اور حکم مفسر کا یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ ساتھ احتمال منسوخ ہو جانے کے یعنی اس کے منسوخ کرنے کے واسطے شارع حکم لگا سکتا ہے قال فی نور الانوار و حکمه وجوب العمل به علی احتمال النسخ اى فی زمان النبی لا فیما بعده فکل القرآن محکم لا یحتمل النسخ اور محکم اس کا نام ہے جس کا مفہوم قابل نسخ وتبدیل نہ ہو۔ قال فی المنار المحکم ما احکم المراد به عن احتمال النسخ والتبدل اور حکم اس کا یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے اور کسی احتمال کو اس میں گنجائش نہیں قال فی المنار و حکمه وجوب العمل به من غیر احتمال کقوله تعالی ان الله بکل شیء علیم یعنی تحقیق اللہ تعالیٰ ہر شے کو جانتا ہے یہ مضمون قابل نسخ وتبدیل نہیں اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ ہر شے کا علم ہے خفی وہ ہے جس کی مراد بغیر غور کرنے کے معلوم نہ ہو۔ قال فی المنار الخفی فما خفی مراده بعارض لاینال الا بالطلب جیسا کہ آیت السارق والسارقة فاقطعوا ایدیھما کی ظاہر ہے چور کے حق میں اور خفی ہے طرار یعنی کیسہ بر کے حق میں چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم اس آیت سے بلا غور کرنے کے فوراً معلوم ہو جاتا ہے لیکن طرار کے ہاتھ کاٹنے کا حکم اس آیت سے بعد غور کے مفہوم ہوتا ہے کہ طرار کی چوری معمولی چوریوں سے بڑھ کر ہے اس واسطے اس کا ہاتھ ضرور کاٹنا چاہیے اور حکم اس کا یہ ہے کہ اس میں غور کر کے معلوم کرے کہ اس کے خفی ہونے کا کیا سبب ہے تا کہ اس کی مراد معلوم ہو۔ قال فی المنار و حکمه النظر فیه لیعلم ان الخفاء لمزیته او نقصان ليظهر المراد به اور مشکل اس کا نام ہے جو اپنے جیسوں میں داخل ہو کر مشتبہ ہو جائے حکم اس کا یہ ہے اس کی مراد پر حق ہونے کا اعتقاد کرنا پھر متوجہ ہو کر غور اور تامل کرنا یہاں تک کہ اس کی مراد ظاہر ہو جائے۔ قال فی نور الانوار والمشکل فهو الداخل فی اشکاله و حکمه اعتقاد الحقية فیما هو المراد ثم الاقبال علی الطلب والتامل فیه الی ان یتبین المراد جیسا کہ آیت فاتو حرثکم انی شئتم میں لفظ انی کا مشتبہ ہو گیا کیونکہ اس لفظ کے دو معنی ہیں ایک معنی اس کے من این یعنی کسی مکان سے اور دوسرے معنی اس کے کیف یعنی کسی طرح جب غور اور تامل کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس آیت میں کیف کے معنوں میں مستعمل ہے کیونکہ لفظ حرث جو زراعت کے معنوں میں ہے وہ اسی معنی کو معین کرتا ہے اور مجمل وہ ہے جس میں معانی کے ازدحام سے مراد اس کی ایسے مشتبہ ہو جائے کہ اس کی عبارت میں فکر کرنے سے اشتباہ رفع نہ ہو بلکہ اجمال کرنے والے سے اس کی تفسیر معلوم کرنے کی حاجت پڑے اور حکم اس کا اس کی مراد کو برحق اعتقاد کرنا اور توقف کرنا یہاں تک کہ ظاہر ہو ساتھ بیان کرنے اجمال کنندہ کے قال فی نور الانوار اما المجمل فما ازدحمت فیه المعانی واشتبه المراد به اشتباهاً لا یدرک بنفس العبارة بل بالرجوع الى الاستفسار ثم الطلب ثم التامل و حکمه
اعتقاد الحقیة فيما هو المراد والتوقف فيه الى ان يتبين ببيان المجمل کالصلوٰة والزکوٰة یعنی لفظ صلوٰة وزکوٰة کا آیت اقيمو الصلوٰة واتوا الزکوٰة میں مجمل تھا کیونکہ معنی صلوٰة کے لغت عرب میں دعا کے ہیں اور معلوم نہ ہوا کہ کونسی دعا یہاں مراد ہے پس استفسار کرنے سے آنحضرت ﷺ نے بیان کر دیا اور اس کو ادا کر کے ہم کو معلوم کرا دیا کہ یہاں قیام رکوع سجود والی دعا مراد ہے۔ اسی طرح زکوٰة کے معنی لغت میں بڑھنے کے ہیں اور یہاں یہ مراد نہیں بعد استفسار کرنے کے آنحضرت ﷺ نے بیان فرما دیا کہ اس کے معنی چالیسواں حصہ مال کا بعد ایک سال کے ادا کرنا ہے اور متشابہ وہ ہے جس کی مراد کا معلوم ہونا قبل روز قیامت ممکن نہ ہوا اور حکم اس کا یہ ہے کہ اپنے اعتقاد میں جو اس سے شارع نے مراد رکھا ہے حق جاننا قبل معلوم ہونے اس مراد کے جیسا کہ حروف مقطعات جو سورتوں کے اوائل میں ہیں مثل الم وغیرہ کے قال فی نور الانوار المتشابه فهو اسم لما انقطع رجاء معرفة المراد منه ولا يرجى دركه اصلا کالمقطعات فی اوائل السور مثل الم حم۔ ظہور کے مراتب میں محکم کا درجہ سب سے اعلیٰ ہے مفسر کا درجہ نص سے اور نص کا ظاہر سے اعلیٰ ہے پس سب سے محکم کا درجہ اعلیٰ اور ظاہر کا سب سے ادنیٰ ہوا۔ اور خفا میں سب سے زیادہ خفی متشابہ ہے اور مجمل مشکل سے اور مشکل خفی سے زیادہ ہے پس متشابہ کا درجہ خفا میں اعلیٰ ہوا اور خفی کا سب سے ادنیٰ۔ بوقت تعارض جس کا مرتبہ ظہور میں اعلیٰ ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا اور جس کا مرتبہ خفا میں کم ہوگا وہ اس پر جس میں خفا زیادہ ہے غالب ہوگا جیسا کہ تفصیل اس کی نور الانوار وغیرہ کتب اصول میں مذکور ہے مقصد اس میں عیسیٰ ؑ کی زندگی اور آخر زمانہ میں نازل ہونے کا بیان ہے دلائل شرعیہ قرآن اور حدیث اور اجماع اور قیاس ہیں آیات قرآنیہ کا درجہ سب سے بڑھ کر ہے بعد اس کے حدیث ہے بعد ازاں اجماع ہے اگر تینوں میں سے کوئی موجود نہ ہو تو قیاس مجتہد سے دلیل پکڑی جاتی ہے چونکہ اس مقصد کے اثبات کے واسطے قرآن اور احادیث اور اجماع موجود ہیں قیاسی دلائل سے ثابت کرنا ضرور نہیں لہٰذا ترتیب وار دلائل ثلثہ کو واسطے اثبات اس مقصد کے بیان کرتا ہوں حسبی الله نعم الوكيل نعم المولیٰ و نعم النصير قال الله تعالیٰ و قولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شک منه ومالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيماً ترجمہ: اس کا با محاورہ موضح القرآن سے معہ بعض فوائد کے نقل کیا جاتا ہے اور لعنت کی ہم نے اہل کتاب پر اور بسبب کہنے ان کے کہ تحقیق ہم نے مار ڈالا مسیح عیسیٰ بیٹے مریم کے کو پیغمبر اللہ کو اور نہیں مارا اس کو اور نہ سولی دی اس کو لیکن شبہ ڈالا گیا واسطے ان کے اور تحقیق جو لوگ کہ اختلاف کیا انھوں نے بیچ اس کے البتہ بیچ شک کے ہیں اس سے نہیں واسطے ان کے ساتھ اس کے کچھ علم مگر پیروی کرنا گمان کا اور نہ مارا اس کو بہ یقین بلکہ اٹھا لیا اس کو اللہ نے طرف اپنی اور ہے اللہ غالب حکمت والا۔ فائدہ۔ یہود کہتے ہیں کہ ہم نے مارا عیسیٰ کو۔ اللہ نے فرمایا اس کو ہرگز نہیں مارا۔ خدا تعالیٰ نے اس کی ایک صورت ان کو بنا دی اس کو سولی چڑھایا پھر فرمایا کہ نصاریٰ بھی اوّل سے یہی کہتے ہیں کہ مسیح کو مارا نہیں وہ زندہ ہے لیکن تحقیق نہیں سمجھتے کئی باتیں کہتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بدن کو مارا ان کی روح اللہ کے پاس چڑھ گئی بعض کہتے ہیں مارا تھا پھر تین روز میں زندہ ہو کر بدن سمیت چڑھ گئے ہر طرح وہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس کو بہ یقین مارا سو یہ خبر اللہ ہی کو ہے اس نے بتایا اس کی صورت کو مارا اور ان کے پکڑتے وقت نصاریٰ سرک گئے تھے اور یہود ابھی نہ پہنچے تھے اس دن کی خبر نہ ان کو نہ ان کو تمام ہوئی عبارت موضح القرآن کی بقدر حاجت چونکہ اس آیت کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ
عیسیٰ ؑ کو مقتول یا مصلوب گمان کر کے ان کا فوت ہونا قرار دیتے ہیں بالکل غلطی پر ہیں اگرچہ شروع اس آیت کا واسطے مضمون مذکورہ کے بموجب قاعدہ اصول نص قطعی الدلالتہ تھا لیکن تاکیداً بار بار بیان کرنا شارع کا اس مضمون کو اور اخیر میں آپ کا اٹھا لینا جتا کر کل احتمالات کا سلسلہ یک لخت کاٹ ڈالا پس یہ آیت بموجب قاعدہ اصول قسم مفسر میں داخل ہوئی البتہ لفظ بل رفعہ اللہ میں کسی قدر اجمال تھا سو احادیث میں یہ مضمون تفصیلاً آنحضرت ﷺ نے بیان فرما کر اس کا اجمال دور کر دیا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا قیامت کے نزدیک آپ آسمان سے نزول فرمائیں گے جیسا کہ صحیح بخاری اور اس کی شرح وغیرہ سے بجنسہ نقل کیا جائے گا۔ خلاصہ مطلب اس کلام کا یہ ہے کہ اس آیت سے زندہ اٹھا لینا آپ کا اسی جسم عنصری کے ساتھ قطعی طور پر ثابت ہے اور اس میں کسی احتمال کو گنجائش نہیں پس یہ آیت واسطے ثبوت مضمون مذکور کے آیت اقیموا الصلوٰۃ سے جو واسطے فرضیت نماز کے وارد ہے یقینی ہونے میں بدرجہا عالی ہے کیونکہ یہ آیت اصل میں مجمل تھی نماز کا ثبوت اس سے قبل بیان کرنے آنحضرت ﷺ کے نہیں ہو سکتا تھا اور آیت وما قتلوہ آہ واسطے مضمون مذکور کے نص اور مفسر ہے خود بخود یہ آیت واسطے ثبوت زندگی عیسیٰ ؑ کے کافی اور وافی ہے جو شخص نماز کی فرضیت سے انکار کرے اس پر اہل اسلام کفر کا فتویٰ دیتے ہیں۔ پس جو شخص زندگی عیسیٰ ؑ کا منکر ہو اس پر فتویٰ کفر کا دینا نہایت ضروری ہوا کیونکہ یہ آیت نماز کی آیت سے یقینی ہونے میں بہت عالی مرتبہ پر ہے۔ کما مر غیر مرۃ پس جو شخص نماز کے منکر کو کافر قرار دے اور عیسیٰ ؑ کی زندگی کے منکر کو ایماندار اعتقاد کرے پرلے درجہ کا ضال اور مضل ہے جب خدا تعالیٰ نے زندگی عیسیٰ ؑ کی یقینی طور پر بیان فرمائی اب بعد میں آپ کے انتقال ہونے کا حال بیان فرمایا۔ وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ و یوم القیامۃ یکون علیھم شھیداً. اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے پہلی موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہوگا اس پر گواہ یعنی اہل کتاب آپ کو زندہ دیکھ کر ایمان لائیں گے اور ان کے کل شبہے رفع ہو جائیں گے بعد اس کے آپ انتقال فرمائیں گے جیسا کہ ابو ہریرہؓ نے آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے۔ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا واقرأ وان شئتم وان من اھل الکتاب الایہ رواہ الشیخان ”اگرچہ آیت میں اجمالاً بیان تھا لیکن آنحضرت ﷺ کے بیان کرنے سے صاف ظاہر ہو گیا کہ آپ آخری زمانہ میں ضرور نزول فرمائیں گے یعنی جیسا کہ نماز کے واسطے آیۃ اقیمو الصلوٰۃ اور زکواۃ کے بارے میں و اتوالزکوٰۃ وارد ہے ان دونوں آیتوں میں حکم نماز اور زکوٰۃ کا اجمالاً مذکور ہے اوقات اور عدد رکعات وغیرہ جو نماز میں ضروری ہیں کسی ایک کا بھی ذکر نہیں اسی طرح جو زکوٰۃ واجب ہونے کی شرائط اور اسباب شرعاً ضروری ہیں اس آیت میں ان میں سے ایک بھی مذکور نہیں فقط آنحضرت ﷺ کے بیان کرنے سے سب حال معلوم ہوا اسی طرح اگرچہ اس آیت میں ایمان لانا اہل کتاب کا حضرت عیسیٰ ؑ پر بیان ہے نزول وغیرہ امور کا حال حضور ﷺ کے بیان کرنے سے معلوم ہوا پس جیسا کہ آیت اقیمو الصلوٰۃ و آیت و آتو الزکوٰۃ واسطے فرضیت نماز اور زکوٰۃ کے قطعیات سے ہے ان کے انکار سے کفر لازم آتا ہے۔ اسی طرح یہ آیت بھی عیسیٰ ؑ کی زندگی پر قطعی طور پر دلالت کر رہی ہے۔ فان قلت لا یستقیم ھذا الاستدلال الا ان یکون الضمیران راجعین الی عیسیٰ علیہ السلام لان البیضاوی زیف ھذا الاحتمال ورجح عود ضمیر موتہ الی اھل الکتاب مؤیدا بقرأۃ ابی ابن کعب قبل موتھم و تبعہ مصنف المطھری حیث قال قلت نزول عیسی قبل یوم القیامۃ حق وان یھلک فی زمانہ الملل
كلها الا الاسلام حق ثابت بالصحاح من الاحاديث المرفوعته ليكن كونه مستفاد امن هذه الآيته و تاويل الآية بار جاع الضمير الثانى الى عيسى عليه السلام ممنوع وكيف يصح هذا التاويل مع ان كلمته ان من اهل الكتاب شامل لموجودين فى زمن النبى ﷺ البتته سواء كان هذا بحكم خاصا بهم او لا فان حقيقته الكلام للحال ولا وجه لان يراد به فريق من اهل الكتاب يوجدون حين نزول عيسى عليه السلام فالتاويل الصحيح هوا رجاع الضمير الثانى الى اهل الكتاب ويوئده قرأة ابي بن كعب انتهى قلت قولهما باطل لكونه مخالفا لما عليه الجمهور من المحققين كصاحب المدارك والامام الرازى وشراح البخارى وغيرهم قال فى المدارك الضميران لعيسى عليه السلام ليؤمنن لعيسى قبل موت عيسى وهم اهل الكتاب الذين يكونون فى زمان نزول عيسى روى انه ينزل من السماء فى آخر الزمان فلا يبقى احد من اهل الكتاب الا ليؤمنن به حتى تكون الملته واحدة وهى ملته الاسلام و بمثله فى التفسير الكبير وغيره من التفاسير و شروح البخارى وغيرها من كتب الحديث و تمسكهما بقرأة ابي بن كعب اوهن من نسج العنكبوت لان قرأة ابي بن كعب ليست بمتواترة ولا متضادة فالعمل عليهما واجب كما صرح الا صوليون فى قوله تعالى حتى يطهرن بقرأتى التشديد والتخفيف بوجوب الغسل للحائض لجواز الوطى انقطع دمه فى مادون العشرة عملا بقرأة التشديد و عدم وجوبه انقطع بعد تمام العشرة عملا بقرأة التخفيف وههنا ايضاً كذلك فان ايمانهم قبل موت عيسى عليه السلام فى زمن نزوله لا يمكن الا قبل موتهم لان مابعد الموت لم يبق احد مكلفا بل لم يبق اهلا للايمان قبيل الموت وقت معائنته ملائكة العذاب كما بين فى موضعه واما قول صاحب المظهرى لاوجه لان يراد من لفظ اهل الكتاب فريق يوجدون آه ظاهر الفساد لان الاضافة واللام تكونان للعهد مالم تقم القرينته على خلافه وههنا ايضاً للعهد للذين يوجدون فى زمن نزول عيسى عليه السلام ولم تقم قرينة على خلافه بل القرائن قائمته على هذا العهد سنذكرها عن قريب انشاء الله تعالى الا ترى ان ماذكر فى المدارك من لفظ الحديث فلا يبقى احد من اهل الكتاب آه لا يمكن ان يراد به غير الذين يوجدون فى زمان نزول عيسى عليه السلام و كذا من لفظ الخطاب الذى هو موضوع للحاضر اريد به الذين يوجدون فى آخر الزمان قطعا هو قوله عليه الصلاة والسلام ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم الحديث وبالجملة القول بعدم كون نزول عيسى عليه السلام مستفاد امن هذه الآيته بعدادعاء عقلية نزوله فى آخر الزمان مستدلا بالاحاديث الصحاح كما مر من صاحب المظهرى ليس على ما ينبغى لان الاحاديث كلها وحى من الله عزوجل لقوله تعالى وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى فالواجب علينا ان نعتقد انها مطابقته للقران سيما اذا ظهر لنا وجه المطابقته بغته مع كونها موئدة باقوال الصحابته الذين شاهد والوحى وكانوا معصومين فى تبليغ الشرائع كما هو فيما نحن فيه فالتمسك بها واجبته و علينا ان نذكر الوجوه التى تدل على ان الضمير الثانى راجع الى عيسى عليه السلام الوجه الاول انه يلزم على تقدير ارجاع الضمير الثانى الى اهل الكتاب الانتشباء فى الضمائر وهو قادح للبلاغته فاختياره فى الكلام القديم فريته بلا مريته ولذالم يذهب اليه اكثرهم قال بدر الدين العيني في
شرح البخارى روى عن طريق ابى رجاء عن الحسن قال قبل موت عيسى عليه السلام والله وانه لحی ولكن اذا انزل آمنوا به اجمعون وذهب اليه اكثر اهل العلم انتهى و الوجه الثانى ان السياق والسباق كلاهما يرجحان ان الضمير الثانى راجع الى عيسى عليه السلام لاول الكلام لما الخبر الى ان عيسى عليه السلام حى فمقتضى المقام ان يذكر موته و ذلك لا يستقيم الا بارجاع الضمير الثانى الى عيسى عليه السلام والوجه الثالث ان على هذا التقدير تكون هذه الآية دليلا آخر على منكرى حياته فان ايمان اهل الكتاب لما كان منوطا بحيوته استحال ان يموت قبله والوجه الرابع انه اذا اريد من الضمير الثانى اهل الكتاب لا يكون افادة بل اعادة لان قوله تعالى ليؤمنن دال على انهم وقت الايمان يكونون احياء لان الحيوة من لوازم الايمان والشئى اذا ثبت ثبت بلوازمه فاثبات حيوتهم ثانيا بهذ الضمير لا يكون الا اعادة بخلاف ما اذا اريد منه عيسى عليه السلام فانه حينئذ يكون افادة قطعا لان مفاده وهو كون عيسى عليه السلام حيا فى وقت ايمانهم به لم يكن معلوما من قبل ومن المعلوم ان حمل الكلام البليغ سيما الكلام المعجز على الافادة اولى لا سيما الافادة التى ازداد بها اعجاز القرآن لكونه الاعلى نزوله من السماء لان الموت لا تكون الا فى الارض لقوله تعالى وفيها نعيدكم وذلك يستلزم نزوله من السماء يعنى كما ان الآية السابقة دلت على كونه مرفوعا الى السماء كذلك هذه الاية دلت على موته فى الارض بعد نزوله وهو من المغيبات الخارجة عن طوق البشر الدالة على اعجاز القرآن بابلغ وجه والوجه الخامس انه يلزم على تقدير ارجاع الضمير الى اهل الكتاب ان كل احد منهم يومن لعيسى عليه السلام قبل موتهم وهو خلاف الظاهر والتاويل بان المراد انهم يومنون وقت معاينة العذاب قبيل الموت وان لم يطلع عليه احد من جلسائه لا طائل تحته لانه لم تقم به حجته عليهم بل لهم ان يقولوا لو كان القرآن من كلام الله لم يتخلف لانه يستلزم الكذب فى كلامه تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا بخلاف ما اذا ريد به عيسى عليه السلام فان الآية حينئذ تصير حجته لنا بعد ما كانت حجته علينا قال العلامة بدر الدين العينى فى شرحه للبخارى والحكمة فى نزول عيسى عليه السلام الرد على اهل الكتاب فى زعمهم الباطل انهم قتلوه و صلبوه فبين الله تعالى كذبهم انتهى۔“ خلاصہ مطلب اس عبارت کا یہ ہے کہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ تفسیر بیضاوی اور تفسیر مظہری میں ضمیر قبل موتہ سے اہل کتاب کا فقط مراد لینا صحیح قرار دیا ہے اور اس کی تائید میں قرآۃ ابی بن کعب جو قبل موتہم کے لفظ کے ساتھ مروی ہے پیش کی ہے اور نیز صاحب مظہری نے لفظ اہل کتاب سے آخری زمانہ کے یہود نصاریٰ کا مراد لینا بے وجہ ٹھہرایا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قول ان کا بالکل بے اصل ہے اسی واسطے اکثر اہل علم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مراد لینا صحیح قرار دیا ہے اور قرآۃ ابی بن کعب جو قبل موتہم کے لفظ سے مروی ہے قبل موتہ کے مخالف نہیں ہے کتب اصول میں لکھا ہے جہاں دو قرأتیں باہم مخالف نہ ہوں دونوں پر عمل کرنا لازم ہے جیسا کہ لفظ یتطھرن میں دو قرأتیں تخفیف اور تشدید کے ساتھ مروی ہیں دونوں پر عمل کر کے علماء نے یہ حکم جاری کیا ہے کہ تخفیف کی قرأۃ سے وہ عورت مراد لی جائے جس کا حیض بعد دس روز کے بند ہوا ہے اس سے مجامعت کرنی شوہر کو اسی وقت درست ہے عورت کا غسل کرنا شرط نہیں ہے اور تشدید کی قرأۃ سے وہ عورت مراد لی گئی ہے جو قبل گزرنے دس روز کے حیض اس کا بند ہو گیا ہو تو ایسی عورت جب
تک غسل نہ کر لے اس سے مجامعت کرنی شوہر کو درست نہیں۔ اسی طرح یہاں بھی دونوں قرأتوں پر عمل ہو سکتا ہے یعنی قبل موتہ زندگی عیسیٰ ؑ کی اور قبل موتہم سے اہل کتاب کا زندہ ہونا مراد لینا درست ہے۔ یعنی جب عیسیٰ ؑ آسمان سے آخر زمانہ میں نزول فرمائیں گے جو اس وقت اہل کتاب بقید حیات ہوں گے آپ کو زندہ دیکھ کر آپ پر ایمان لائیں گے جیسا کہ احادیث صحاح سے اس امر کا حق ہونا خود صاحب مظہری نے بڑی شد و مد سے بیان کیا ہے پس اہل کتاب کا مراد لینا ضمیر ثانی سے بوجوہات ذیل بالکل بے محل ہے۔ وجہ اوّل یہ ہے کہ ضمیر بہ سے عیسیٰ ؑ کا اور ضمیر قبل موتہ سے اہل کتاب مراد لینے سے ضمیروں میں انتشار لازم آتا ہے اور یہ امر اہل بلاغت کے نزدیک مذموم و قبیح ہے پس کلام الہٰی میں ایسے احتمال کا جاری کرنا نہایت بے جا ہے وجہ دوم یہ ہے کہ جب آیت کا سباق اور سیاق آپ کی زندگی و انتقال کے بیان میں ہے پس موت کا ذکر غیر کی طرف راجع کرنا خلاف عقل و نقل ہے۔ وجہ سوم یہ ہے کہ عیسیٰ ؑ کے مراد لینے سے دوسری دلیل واسطے رد منکرین حیوۃ کے قائم ہوتی ہے یعنی جب تک کل اہل کتاب ان پر ایمان نہیں لائیں گے وہ فوت نہ ہوں گے۔ وجہ چہارم یہ ہے کہ ایمان لانے والے کا زندہ ہونا امر لازمی ہے کیونکہ مرنے کے بعد تو کوئی شخص مکلف نہیں رہتا پس زندہ ہونا اہل کتاب کا وقت ایمان کے لفظ ایمان سے جو لیؤمنن میں مذکور ہے ثابت ہو گیا قبل موتہ کی ضمیر سے دوبارہ ثابت کرنا بے فائدہ ہے البتہ عیسیٰ ؑ پر ایمان لانے میں آپ کا زندہ ہونا واسطے ایمان لانے والوں کے شرط نہیں یعنی جیسا اور انبیاء پر ایمان لانے میں ان کا زندہ ہونا ضرور نہیں۔ اسی طرح آپ پر ایمان لانا بعد ممات کے بھی ہو سکتا تھا چونکہ یہ واقعہ وقت نزول عیسیٰ ؑ زمانہ آئندہ میں بقید حیات آپ کے ہونے والا تھا خدا تعالیٰ نے بطور پیشین گوئی کے قرآن شریف میں بیان فرما دیا اور وہ بلا ارجاع ضمیر ثانی طرف عیسیٰ ؑ نہیں بن سکتا اسی واسطے جمہور کا یہی مذہب ہے کہ ضمیر ثانی سے مراد عیسیٰ ؑ ہیں جیسا کہ گزر چکا بیان اس کا پہلے اور اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ عیسیٰ ؑ جو بموجب آیت پہلی کے آسمان پر زندہ ہیں پس انتقال کرنا آپ کا جو اس آیت دوسری سے ثابت ہوتا ہے بعد نزول کے ہوگا کیونکہ ہرگز دفن ہونا زمین میں بموجب فرمانے پروردگار کے وفیها نعیدکم بدون نزول کے ممکن نہیں۔ پس یہ دونوں آیتوں سے پورا واقعہ جو احادیث صحاح میں مذکور ہے۔ ثابت ہوا۔ وجہ پنجم یہ ہے کہ بر تقدیر مراد لینے اہل کتاب کے یہ اعتراض پڑتا ہے کہ اگر ہر اہل کتاب کا وقت مرنے کے ایمان لانا عیسیٰ ؑ پر پایا جاتا تو یہ امر نہایت شہرت پکڑتا اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ہر اہل کتاب وقت مرنے کے خفیہ طور پر ایمان لاتا ہے کسی کو اس کے ایمان کی خبر تک نہیں ہوتی لاطائل اور خلاف ظاہر ہے اور بر تقدیر مراد لینے عیسیٰ ؑ کے یہ آیت واسطے رد منکرین حیوۃ کے دلیل قاطع ہے یعنی جب عیسیٰ ؑ آخری زمانہ میں اہل کتاب کو زندہ معلوم ہوں گے اس وقت ان کے سب شبہ رفع ہو جائیں گے یقینی طور پر ان کو یہ امر ثابت ہو جائے گا کہ جو حال عیسیٰ ؑ کا اہل اسلام بیان کرتے تھے وہی ٹھیک نکلا ہمارا کہنا سراسر جھوٹ تھا۔ فان قلت ان قوله تعالى انی متوفیک و رافعك الی يدل على ان الرفع كان بعد موته معارضا لقوله تعالى وما قتلوه آه وقاعدة التساقط فى المعارضه مشهورة فانهدم استدلالكم بقوله تعالى وما قتلوه آه قلت اولا ان المعارضه لا تتصور فى كلام الشارع لانها دليل الجهل كما صرح به صاحب التوضیح لكنها توجد فى الاحکام بالنسبة الینا نجهلنا بالتاريخ و يحمل ذلك فى الحقيقته على النسخ كما بين فى الاصول واما فى الاخبار كما فيما نحن فيه فلا يمكن ان يوجد فى كلام احد فضلا عن كلام الشارع لان النسخ اللازم
فالمعارضة لا يتصور فى الاخبار او تحقق المحكى عنه فى زمانه لا بد صدق الخبر ولا يمكن ارتفاعه بالنسخ ولو حملنا التعارض بمعنى التخالف فنقول لا تعارض لان كون التوفى بمعنى الموت او مساويا له لم يثبت دون خرط القتاد بل هو مشترك بين استيفاء الحق والقبض وهما من لوازمه العامة لان كون الاستيفاء عاما ظاهر و كذا القبض لوجوده فى النوم ايضاً فى قوله تعالى الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها فيمسك التى قضى عليها الموت و يرسل الاخرى الى اجل مسمى و فى قوله تعالى وهو الذى يتوفكم باليل و يعلم ما جرحتم بالنهار ثم يبعثكم فيه ليقضى اجل مسمى فان التوفى استعمل فى الاية الاولى للقبض الذى يعقبه الموت او المنام و فى الثانية للنوم خاصة فثبت كون التوفى عاما من الموت وذلك ما اردناه ولان آية القتل مفسر فى اثبات الحياة كما مرت آية التوفى وان كان مشتركا ليكن قوله تعالى و رافعك الى و قوله عليه السلام ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم الحديث كما مر يشعر الى ان التوفى بمعنى القبض الذى لا يعقبه الموت كما لا يخفى و كون التوفى محلا للموت لا يجدى ايضاً لان التوفى بسبب الاشتراك و احتمال كونه بعد نزوله مشكل والمشكل لا يعارض المفسر الذى هو آية القتل لان المفسر مقدم على المشترك بمراتب كما مر فى المقدمة والتعارض لا يكون الا بين الادلة المساوية فى الدرجة كما بين فى موضعه فان قلت احتمال كون التوفى فى آخر الزمان بعد الرفع يبطله تقديم ذكره قبل الرفع قلت عطف الرفع على التوفى بالواو لا يدل على كونه مؤخرا عنه فى الوجود ايضاً لان الواو ليست للترتيب كما فى قوله تعالى واوحينا الى ابراهيم و اسمعيل و اسحق و يعقوب والاسباط و عيسى و ايوب و يونس و هارون و سليمان الاية فان سليمان ذكر بعطف الواو بعد عيسى فى مرتبة خامسة و من المعلوم ان سليمان مقدم عليه بزمان كثير و لهذا ذهب المفسرون الى ان فى بعض الفاظ القرآن تقديم و تاخير و عدوا لفظ التوفى والرفع المذكورين فى هذه الاية منه كما صرح السيوطى فى الاتقان حيث قال و اخرج عن قتادة فى قوله انى متوفيك و رافعك الى قال هذا من المقدم والمؤخر انى رافعك الى و متوفيك انتهى وبه يرتفع التدافع و يحصل الموافقة بين الايتين ولو فرض التعارض بينهما فليس السبيل الا الرجوع الى الاحاديث كما بين فى الاصول والاحاديث تنادى باعلى نداء ان عيسى بن مريم عليه السلام حى ينزل فى آخر الزمان الى الارض و لنذكر نبذاً منها ما يشفى العليل و يروى الغليل روى البخارى عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ والذى نفسى بيده ليوشكن ان ينزل فيكم عيسى بن مريم حكما عدلا يكسر الصليب و يقتل الخنزير و يضع الجزية و يفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة واقرأوا ان شئتم و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته و يوم القيامة يكون عليهم شهيدا وعن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ كيف انتم اذ انزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم رواه البخارى قال الطيبي اى يامكم عيسى حال كونه فى دينكم قيل يعكر عليه قوله فى حديث مسلم فيقال له صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة لهذه الامة قال ابن الجوزى لو تقدم عيسى عليه السلام اماما
اوقع فى النفس اشکالا و لقیل اتراه تقدم نائبا او مبتدعا شرعاً فصلى ماموما لئلا يتدنس وجه قوله ﷺ لانبی بعدی و ذکر فی کیفیته نزوله انه ینزل و علیه ثوبان ممصران رواه احمد عن ابی هریرة مرفوعا والمصر مافیه صفره خفيفه وفي كتاب الفتن لابی نعيم ينزل عندالقنطرة البيضاء على باب دمشق اكثر فى تحمله عمامته واضعايديه على منكبى ملكين عليه ريطان اذا طاطا راسه يقطر منه كالجمان فاتيه اليهود فيقولون نحن اصحابک فیقول کذبتم وانصاری کذلک انما اصحابی المهاجرون بقية اصحاب الملحمة فيجد خليفتهم يصلى بهم فيتاخر فيقول له صل فقد رضی الله عنك فانى بعثت وزيرا ولم ابعث اميرا وعن كعب يحاصر الدجال المومنين ببيت المقدس فیصیبهم جوع شدید حتی یا کلوا اوتار قسیهم فبیناهم کذالک اذا سمعوا صوتا فى الغلس فاذا عيسى عليه السلام وتقام الصلوة فيرجع امام المسلمين فيقول عيسى عليه السلام تقدم فلک اقیمت الصلوة فيصلى لهم ذلك الرجل تلك الصلوة ثم يكون عيسى الامام بعد و ليس فى ايامه امام ولا قاض ولا مفت وقد قبض الله العلم و خلى الناس عنه فينزل وقد علم بامر الله في السماء ما يحتاج اليه من علم هذه شريعته للحكم بين الناس والعمل به وروى ابونعیم فی کتاب الفتن فی مدة اقامته وله عن ابی هريرة يقيم بها اربعين سنة ورواه احمد و ابوداؤد باسناد صحيح من طريق عبدالرحمن بن آدم عن ابي هريرة مرفوعا مثله وعن كعب مكث اربعين سنة منها عشر حجج يبشر المؤمنين بدرجاتهم فى الجنة وعن يزيدبن حبيب يتزوج امراة من الازد ليعلم الناس انه ليس باله وقیل يتزوج ويولدله ويمكث خمسا و اربعين سنة ويدفن مع النبی ﷺ فی قبره وقیل يدفن فی الارض المقدسة ولما كان نزوله من السماء امراً يقيناً عند اهل السنة ادخلوه في العقائد واجمعوا على انه ينزل لامحالة و فى العقائد النسفى وشرحه وما اخبر به النبی عليه الصلوة والسلام من اشراط الساعة من خروج الدجال و دابة الارض وياجوج وماجوج و نزول عیسی علیه السلام من السماء وطلوع الشمس من مغربها فهو حق لانها امور ممكنة اخبر بها الصادق قال حذيفة بن اسيد الغفارى طلع النبى ﷺ ونحن نتذاکر فقال ماتذکرون قلنا نذكر الساعة قال انها لن تقوم حتى تروا قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال والدابة و طلوع الشمس من مغربها و نزول عیسی علیه السلام ویاجوج وماجوج و ثلثة خسوف خسف بالمشرق و خسف بالمغرب و خسف بجزيرة العرب و آخر ذلک نار تخرج من الیمن تطرد الناس الى محشرهم والاحاديث الصحاح في هذه كثيرة جدا و قد روی فی تفاصیلها و كيفيتها فليطلب من كتب التفسير والسير والتاريخ انتهى.“ خلاصه مطلب اس عبارت کا یہ ہے کہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ آیت انی متوفیک و رافعک الی دلالت کر رہی ہے کہ اٹھانا خدا تعالیٰ کا عیسیٰ ؑ کو اپنی طرف بعد توفی کی جو بمعنی موت کے ہے پس ثابت ہوا اس آیت سے برخلاف آیت وما قتلوہ مذکورہ بالا کے فوت ہونا عیسیٰ ؑ کا تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیات قرآنی میں اصلی مخالفت نہیں ہے بلکہ ہماری سمجھ میں فرق ہونے سے مخالفت پیدا ہوتی ہے خصوصاً جو آیات کسی امر کی خبر دے رہی ہیں انھیں مخالفت کا ہونا ممکن نہیں کیونکہ اس سے کلام الٰہی میں کذب لازم آتا ہے اہل علم پر لازم ہے کہ ایسے مقام میں سوچ سمجھ کر وہ تاویل کرے جو کسی احکام قطعی کے برخلاف نہ ہو اسی طرح اگر اس مقام میں بنظرِ غور
خیال کیا جائے تو بالکل مخالفت کا نام تک باقی نہیں رہتا کیونکہ بنا اس مخالفت کی اس امر پر ہے کہ معنی توفی کے ہر مقام میں موت کے ہیں حالانکہ یہ امر غلط ہے بلکہ معنی اس کے قبض اور استیفاء حق کے ہیں جو بغیر موت پائے جاتے ہیں جیسا کہ آیت اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضی علیھا الموت و یرسل الاخری الی اجل مسمی، ”اللہ قبض کر لیتا ہے جانوں کو نزدیک موت ان کی کے اور جو نہیں موئے قبض کرتا ہے ان کو بیچ نیند ان کی کے پس بند کر رکھتا ہے جس کو کہ مقرر کی ہے اوپر اس کے موت اور بھیج دیتا ہے اوروں کو ایک وقت مقرر تک فائدہ اس آیت میں توفی بمعنی قبض کے مستعمل ہے خواہ وہ قبض موت کے واسطے ہو یا نیند کے واسطے اور دوسری آیت میں توفی صرف نیند کے بارے میں مستعمل ہے۔ قال اللہ تعالیٰ وھو الذی یتوفکم بالیل ویعلم ماجرحتم بالنھار ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمی ”اور وہ جو قبض کرتا ہے تم کو بیچ رات کے اور جانتا ہے جو کماتے ہو بیچ دن کے پھر اٹھاتا ہے تم کو بیچ اس کے تا کہ پورا کیا جائے وقت معین فائدہ ثابت ہوا ان دونوں آیتوں سے کہ توفی کے معنی موت کے نہیں ہیں بلکہ قبض کے ہیں۔ پس اس بنا پر آیت انی متوفیک الخ کے معنی آیت وما قتلوہ کے بالکل موافق ہو گئے یعنی میں تجھ کو اپنے قبضے میں کر کے اپنی طرف اٹھا لوں گا اگر بالفرض ان دونوں آیتوں میں تعارض صوری قرار دیا جائے تو اس کے واسطے احادیث کی طرف رجوع کرنا لازم آتا ہے یعنی جس آیت کو حدیث تائید دے اسی پر عمل کرنا لازم آتا ہے۔ سو اس امر پر احادیث پکار پکار کر بیان کر رہی ہیں کہ عیسیٰ ؑ آخر زمانہ میں آسمان سے نزول فرما کر انتقال فرماویں گے اسی مقام پر چند احادیث بطور اختصار کے بیان کی جاتی ہیں۔ روی البخاری عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم عیسیٰ بن مریم حکما عدلا یکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ و یفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیر من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابوھریرۃ و اقرأوا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ۔ یعنی امام بخاری نے ابوہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جو جان میری اس کے ہاتھ میں ہے نزدیک ہے کہ نازل ہوں گے تم میں عیسیٰ بیٹے مریم علیہما السلام منصف عدل کرنے والے توڑ دیں گے صلیب نصاریٰ کی اور قتل کریں گے خنزیر کو اور ان کے زمانہ میں کافروں سے جزیہ لے کر ان کو امان دینے کا حکم نہیں رہے گا بلکہ جو شخص ایمان قبول نہیں کرے گا اس کو قتل کیا جائے گا یعنی کوئی کافر ان کے زمانہ میں رعیت بن کر زندہ نہیں رہ سکے گا اور مال اس وقت بہت ہو جائے گا یہاں تک کہ مال کو کوئی قبول نہ کرے گا ایک سجدہ اس وقت میں سب جہان سے بہتر ہوگا پھر پڑھا ابوہریرہؓ نے اس حدیث کی تائید میں یہ آیت وان من اھل الکتاب الخ یعنی اگر تم کو اس مضمون میں شک ہے تو اس آیت سے اپنے شک کو رفع کرو کیونکہ اس کا مضمون بھی اسی حدیث کے موافق ہے اور حدیث میں وارد ہے کہ جب عیسیٰ ؑ نزول فرمائیں گے نماز میں امام تمھارے میں سے ہوگا یعنی عیسیٰ ؑ مقتدی ہو کر نماز ادا کریں گے تاکہ کسی کو یہ گمان نہ ہو کہ یہ اپنی نئی شریعت جاری کریں گے اور نزول آپ کا دمشق میں ہوگا قوم یہود آپ کے پاس آ کر کہیں گے کہ ہم آپ کے اصحاب ہیں آپ فرمائیں گے کہ تم جھوٹے ہو اور اسی طرح نصاریٰ کو کہا جائے گا فرماویں گے کہ اصحاب میرے وہ ہیں جو مہاجرین مکہ سے باقی رہے ہیں۔ پس پائیں گے ان کے خلیفہ کو جو ان کو نماز پڑھا رہا ہوگا آپ کو دیکھ کر وہ پیچھے کو ہو جائے گا آپ فرماویں گے تو ہی نماز پڑھا تحقیق خدا تعالیٰ تیرے سے راضی ہے مجھ کو خدا تعالیٰ نے وزیر کر کے بھیجا ہے نہ امیر کر کے اور ٹھہرنا آپ کا بعد
نزول کے زمین پر بقید حیات چالیس برس تک رہنا روایت کیا گیا ہے اور نکاح کریں گے تاکہ معلوم ہو لوگوں کو کہ یہ خدا نہیں ہیں اور اولاد بھی ہوگی اور دفن کئے جائیں گے پیغمبر خدا ﷺ کی قبر میں یہ سب عینی شرح بخاری میں مذکور ہے چونکہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے یقیناً ثابت ہے اسی واسطے کتب عقائد میں درج کیا گیا ہے تاکہ ہر شخص اپنے عقیدے میں اس امر کو یقینی خیال کر کے ایمان لائے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آسمان سے نزول فرمائیں گے عقائد نسفی جو بڑی معتبر کتاب عقائد کی ہے لکھا ہے کہ جو کچھ آنحضرت ﷺ نے قیامت کی نشانیاں بیان کی ہیں دجال کا آنا اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اور طلوع آفتاب مغرب کی طرف سے سب حق ہے کیونکہ مخبر صادق علیہ السلام نے ان کی خبر دی ہے حذیفہ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ آئے اور ہم باتیں کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا باتیں کرتے ہو ہم نے عرض کیا ہم قیامت کے آنے کا ذکر کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت ہرگز نہیں آئے گی جب تک دس نشانیاں نہیں ہولیں گی پھر ذکر کیا دجال اور دابۃ الارض اور طلوع آفتاب کا مغرب سے اور نزول فرمانا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اور یاجوج ماجوج کا آنا اور تین خسوف ایک مشرق میں اور دوسرا مغرب اور تیسرا جزیرے عرب میں اور نشانیوں کے بعد آگ نکلے گی یمن سے ہانکے گی لوگوں کو میدان محشر کی طرف اس بیان میں احادیث صحیحہ کثرت سے ہیں۔ بڑی بڑی کتابوں میں یہ امور تفصیل وار بیان ہیں پس جب بموجب تحقیق بالا حیات اور نزول آپ کا آیات اور احادیث اور اجماع سے ثابت ہوا منکر ان امور کا بیشک کافر ہوگا۔ خلاصہ غرض ہماری اس تحریر سے یہ نہیں کہ قادیانی مسئلہ مذکورہ سے منکر ہونے کے باعث ہی کافر ہے بلکہ غرض ہماری تحقیق حق ہے کہ اگر قادیانی میں اور کوئی وجہ ارتداد کی نہ ہوتی تو بھی اس مسئلہ کے انکار سے اس پر کفر عائد ہو سکتا ہے لیکن اس کا مرتد ہونا اور کئی وجوہ سے ثابت ہے چند وجوہ بطور اختصار بیان کی جاتی ہیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱) میں اس مرتد نے لکھا ہے کہ ”تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار تھیں۔“ اور ازالہ اوہام میں لکھا ہے کہ ”مسیح بن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ نجاری کا کام کرتے رہے ہیں۔“
(ازالہ ص ۳۰۴ خزائن ج ۳ ص ۲۵۵)
یہ سب کفر ہے خدا تعالیٰ اپنے کلام پاک میں بیان فرماتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو بلا باپ پیدا کیا یہ مرتد ان کا باپ یوسف نجار بیان کرتا ہے اور جو معجزے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے بیان فرمائے ہیں ان کو ازالۃ الاوہام میں مرزا نے لکھا ہے کہ ”وہ شعبدہ بازی کے قسم سے ہیں اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔“ (ازالہ اوہام ص ۳۰۲ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴) اس کلام کے کفر ہونے میں کوئی شبہ نہیں خدا تعالیٰ نے وہ معجزات برخلاف عادت واسطے ایمان لانے لوگوں کے عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر ظاہر کئے ان کو یہ مرتد عمل مسمریزم اور بے سود بتاتا ہے۔ ازالۃ الاوہام میں لکھا ہے کہ علماء نے سورۃ الزلزال کے معنی نہیں سمجھے۔ (ازالہ ص ۱۲۸ خزائن ج ۳ ص ۱۶۶) توضیح مرام میں اس نے لکھا ہے۔ جبرئیل علیہ السلام کبھی زمین پر نہیں آئے نہ آتے ہیں۔ (ص ۶۸ مرزا خزائن ص ۸۶) (ملخصاً صفحہ ۶۸۔۷۰۔۸۵ ازالہ خزائن ج ۳ ص ۸۶) لکھتا ہے انبیاء علیہم السلام جھوٹے ہوتے ہیں۔ (ازالۃ الاوہام ۲۲۸، ۶۲۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۹) حضرت محمد ﷺ کی وحی بھی غلط نکلی۔ (ازالۃ الاوہام ص ۶۸۸ خزائن ج ۳ ص ۴۷۱) حضرت رسول اکرم ﷺ کو ابن مریم اور دجال، یاجوج ماجوج دابۃ الارض کی خبر نہیں دی۔ (ازالۃ الاوہام ص ۶۹۱ خزائن ج ۳ ص ۴۷۳) براہین احمدیہ خدا کا کلام ہے۔ (ازالۃ الاوہام ص ۵۳۳ خزائن ج ۳ ص ۳۸۶) قرآن شریف میں جو معجزے ہیں وہ مسمریزم ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ۷۲۸ تا ۷۵۳ خزائن ج ۳ ص ۴۹۰ تا ۵۰۶) قرآن شریف میں انا انزلناہ قریبا من القادیان موجود
ہے۔ (ازالۃ الاوہام ص ۷۶، ۷۷ خزائن ج ۳ ص ۱۴۰) مکہ مدینہ قادیان تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ (ازالۃ الاوہام ص ۷۶، ۷۷ خزائن ج ۳ ص ۱۴۰) حضرت رسول اکرم خاتم النبیین والمرسلین نہیں ہیں ۔ (ازالۃ الاوہام ص ۴۲۲ خزائن ص ۳۲۱) قیامت نہیں ہوگی تقدیر کوئی چیز نہیں ہے۔ (صفحہ دوم ٹائیٹل پیج ازالۃ اوہام) آفتاب مغرب سے نہیں نکلے گا۔ (ازالۃ الاوہام ص ۵۱۵ خزائن ج ۳ ص ۳۷۶) عذاب قبر نہیں ہے۔ (ازالۃ الاوہام ص ۴۱۵ خزائن ج ۳ ص ۳۱۶) تناسخ صحیح ہے۔ (ست بچن ص ۸۴ خزائن ج ۱۰ ص ۲۰۹) ایسے ایسے اس کے کلمات بے شمار ہیں جن کا کفر ہونا علماء اسلام پر کیا بلکہ عوام پر بھی ظاہر ہے اور جو شخص اعتراض کرے کہ قادیانی اہل قبلہ ہے اسکو کافر کہنا درست نہیں اور نیز جس شخص میں ایک کم سو وجہ کفر کی ہو اور ایک وجہ اسلام کی ہو اس کو بھی کافر قرار دینا شرعاً منع ہے تو اس کا جواب یہ ہے اہل قبلہ کو کافر کہنا اسوقت تک درست نہیں جب تک اس میں کوئی وجہ کفر کی یقینی موجود نہ ہو مثلاً اگر کوئی رافضی نماز روزہ کا پابند ہو کر اصل پیغمبری حضرت علی کا حق گمان کرے تو اس کے کفر میں کس کو کلام ہے اور سو وجہ کفر کے مسئلہ کے یہ معنی ہیں کہ اگر کسی شخص نے ایسا کلمہ کہا کہ جس کے ایک کم سو معنی کفر کی طرف عائد ہوتے ہیں اور بموجب ایک معنی کے وہ لفظ کفر کا نہیں ہے تو ایسی صورت میں مفتی کو لازم ہے کہ بلا تحقیق اس پر فتویٰ کفر کا جاری نہ کرے جیسا کہ ایک شخص کو کسی نے نماز کے واسطے تاکیداً کہا اس نے نماز سے انکار کیا تو انکار اس کا نماز کو برا جان کر یا نماز کے فرض ہونے کا منکر ہو کر یا نماز کا پڑھنا اس کے نزدیک حقیر لوگوں کا کام ہے وغیرہ وغیرہ جن کا مرجع کفر کی طرف ہے تو بیشک وہ شخص کافر ہے اگر غرض اس کی اس انکار سے صرف یہی ہے کہ میں نماز کو تیرے کہے سے نہیں ادا کروں گا تو اس صورت میں یہ انکار کفر نہیں ہے ایسی صورتوں میں مفتی کو لازم ہے کہ بلا تحقیق فتویٰ کفر کا نہ دے اور جو امر یقیناً کفر کا کسی میں پایا جائے جیسا کہ بتوں کو سجدہ کرنا پیغمبروں کی اہانت کرنی اس کے کافر ہونے میں کسی کو کلام نہیں اگر چہ نماز روزہ کا پابند ہو ملا علی قاریؒ نے ان دونوں امروں کو شرح فقہ اکبر میں وضاحت کے ساتھ لکھا ہے پہلے فتویٰ میں جو مولانا مولوی رشید احمدؒ کے جواب میں لکھا گیا ہے اس میں ملا علی قاریؒ کی عبارت درج ہے ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس فرقہ کو راہ ہدایت پر لائے ورنہ ان کے شر سے عوام اہل اسلام کو بچائے۔ وما توفیقی الا بالله اخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام علی سيد المرسلين و علی اله واصحابه اجمعين.
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین (عربی)
تحقیقات دستگیریہ فی رد ہفوات براہینیہ (اردو)
از
حضرت مولانا غلام دستگیر قصوریؒ
بسم الله الرحمن الرحیم!
تعارف!
مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ کی اشاعت کے لئے اشتہار شائع کئے۔ پھر براہین احمدیہ ۱۸۸۰ء تا ۱۸۸۴ء میں چار حصے شائع کئے۔ صفر ۱۳۰۲ھ (دسمبر ۱۸۸۳ء) میں قصور کے عالم دین حضرت مولانا غلام دستگیر قصوری نے براہین احمدیہ ۳ حصص اور اشتہار پڑھ کر اردو میں ایک رسالہ ”تحقیقات دستگیریہ فی رد ہفوات براہینیہ“ تحریر کیا اور اس کی نقل مرزا قادیانی کو بھیج کر اس سے توبہ کا تقاضہ کیا۔ مرزا قادیانی نے چپ سادھ لی تو مولانا قصوریؒ نے مولانا احمد بخش امرتسریؒ مولانا نواب الدین امرتسریؒ مولانا غلام محمدؒ امام شاہی مسجد لاہورؒ حافظ نور احمدؒ امام مسجد انارکلی لاہورؒ مولانا نور احمدؒ ساکن کھائی کوٹلی ضلع جہلمؒ مولانا مفتی محمد عبداللہ ٹونکی سے اس رسالہ پر تقریظات تحریر کرائیں۔ جس میں مرزا قادیانی کا مدعی نبوت‘ مدعی الہام ایسے دعاوی کو مبرہن کیا گیا اور اس کے عقائد کو اسلام اور اہل اسلام کے منافی قرار دیا گیا۔ علمائے کرام کے فتویٰ جات اور شرعی آراء آجانے کے بعد مولانا غلام دستگیر قصوری نے مرزا قادیانی کو پھر دعوت اسلام دی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسے بھی نظر انداز کر دیا۔ تو مولانا نے شوال ۱۳۰۳ھ جولائی ۱۸۸۶ء میں تحقیقات دستگیریہ کا عربی میں ترجمہ کیا اور اس کا نام ”رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین“ تجویز کیا۔ علمائے کرام کے فتوے‘ مرزا قادیانی کی کتاب براہین کے متعلقہ حصے‘ اشتہار پر مشتمل دستاویزات تیار کر کے حرمین شریفین کے آئمہ ومفتیان سے فتوے طلب کئے۔ ۱۳۰۵ھ (۱۸۸۸ء) میں فتویٰ جات حرمین سے موصول ہوگئے۔ وہ فتاویٰ جات لے کر آپ امرتسر گئے۔ بعض رؤسا اور اسلامی درد رکھنے والے مؤثر حضرات کے ذریعہ مرزا قادیانی سے رابطہ کیا کہ اب بھی وقت ہے کہ آپ توبہ کر کے مسلمان ہونے کا اعلان کردیں۔ بعض رؤسا نے پھر مرزا قادیانی کو مباحثہ و مناظرہ کے لئے بلایا لیکن وہ انکاری رہا۔ ایک بار موسم گرما کی تعطیلات میں مرزا قادیانی نے لاہور آنے کا وعدہ کیا۔ مولانا غلام دستگیرؒ وعدہ کے مطابق لاہور دس دن قیام پذیر رہے۔ لیکن مرزا قادیانی نہ آیا۔ ابتداء میں جب مولانا محمد حسین بٹالویؒ مرزا قادیانی کے متعلق مثبت رائے رکھتے تھے ان سے مباحثہ کے لئے مولانا قصوریؒ نے طرح ڈالی۔ مولانا محمد حسینؒ نے بند کمرہ میں گفتگو کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ لیکن مولانا غلام دستگیرؒ نے کہا کہ علماء کی موجودگی میں مرزا قادیانی کے الہامات پر گفتگو ہوگی۔ مولانا بٹالویؒ اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ ایک بار مرزا قادیانی کو امرتسر کے ایک رئیس کے ذریعہ مباحثہ کے لئے طلب کیا تو مرزا قادیانی نے کہا کہ میری باتیں تصوف کی ہیں۔ صوفیاء کرام شریک مجلس ہوں۔ مولانا نے قبول کرلیا کہ صوفیاء کرام کے خاندانی تین علماء کو بلالیں۔ لیکن مرزا قادیانی پھر طرح دے گیا۔ اس کاروائی کے درمیان صفر ۱۳۰۲ھ سے رمضان المبارک ۱۳۰۸ھ (دسمبر ۱۸۸۳ء تا اپریل ۱۸۹۱ء) تک مرزا قادیانی کی متعدد کتب ورسائل بھی سامنے آگئے۔ مرزا قادیانی کے متعلق نرم گوشہ رکھنے والے اس کے سخت مخالف ہوگئے۔ خود حضرت مولانا محمد حسین بٹالویؒ مرزا قادیانی کی موافقت ترک کر کے اس کے سخت مخالف ہوگئے۔ ۱۸۹۱ء میں مرزا قادیانی کی تین کتابیں توضیح المرام‘ فتح اسلام‘ ازالہ اوہام شائع ہونے پر مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے تلافی مافات کی۔ اس کتاب میں مولانا قصوریؒ نے مولانا بٹالویؒ کی مرزا قادیانی کی تائید پر سخت تنقید بھی کی ۔ کتاب مرتب ہونے‘ فتویٰ آجانے کے بعد مولانا قصوریؒ مرزا قادیانی کو توبہ کے لئے مباحثہ‘ مناظرہ‘ مباہلہ کے لئے بلاتے اور دعوت اسلام دیتے رہے۔ مایوس ہونے پر ۱۳۱۲ھ ۱۸۹۶ء میں کتاب شائع کردی۔
فقیر اللہ وسایا ! ۲۶ اگست ۲۰۰۵ء
الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ و علی الہ و صحبہ ..................... اما بعد فان مرزا غلام احمد القادیانی الفنجابی من العلماء الغیر المقلدین الف کتابا با للغة الهندیة فی اظہار حقیقة الاسلام لفرق غیر الاسلامیة وسماہ بالبراہین الاحمدیة علی حقیقة کتاب اللہ القرآن والنبوة المحمدیة وطبع حصہ الاربع فی امر تسر وادعی فی الحصة الثالثة منہ ان الہام الکمل من الاولیاء یکون مفیدا للقطع و الیقین وعدہ مرادفا لوحی الرسالة باتفاق السواد الاعظم من العلماء کما ان اصل عبارتہ الهندیة ہی علماء اسلام وحی کو خواہ وحی رسالت ہو یا کسی دوسرے مومن پر وحی الہام نازل ہو الہام ہی تعبیر کرتے ہیں جبکہ سواد اعظم علما کالہام کو وحی کا مترادف قرار دینے میں متفق ہے ص ۲۲۱ خلاصہ کلام یہ ہے کہ الہام یقینی اور قطعی ایک واقعی صداقت ہے جس کا وجود افراد امت محمدیہ میں ثابت ہے ۔ (ص ۲۳۳) ثم اعلنت فی الاشتہار المطبوع عشرین الفا انہ الف ہذا الکتاب بالہام اللہ تعالیٰ وبامرہ لغرض اصلاح الدین و تجدیدہ ولاظہار صدق دین الاسلام بصدق الہاماتہ والخوارق و کراماتہ والاخبار عن المغیبات والاسرار اللدنیة والکشوف الصادقات والادعیة المستجابات التی اشہد علیہ الم ..................... کتابہ البراہین یقیناً و ان کمالاتہ بشدة مشابہة بکمالات مسیح بن مریم و انموذج الخواص من الرسل والانبیاء ولہ فضیلة علی اکثر اکابر الاولیاء الماضین ببرکة متابعة سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم واتباع اثارہ موجب للنجاة والسعادة والبرکة و مخالفتہ سبب
حمد وصلوۃ وسلام! کے بعد واضح ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی جو علماء غیر مقلدین سے ہے غیر اسلامی فرقوں پر دین اسلام کی حقیقت کے ظاہر کرنے کی غرض سے اردو زبان میں ایک کتاب تالیف کی اور اس کا نام ’’براہین احمدیہ علی حقیقت کتاب اللہ القرآن والنبوۃ والمحمدیہ ،، رکھا اور چاروں حصے اس کے شہر امرتسر میں چھپوائے اور اس کے تیسرے حصے میں دعویٰ کیا کہ کامل ولیوں کا الہام قطع اور یقین کا مفید ہوتا ہے اور باتفاق سواد اعظم علماء کے وحی رسالت کا مترادف ہے۔ چنانچہ اصلی عبارت اس کی رسالہ عربیہ میں منقول ہے۔ پھر بیس ہزار قطعہ اشتہار کا بدین مضمون چھپوا کر شائع کیا کہ ’’کتاب براہین احمدیہ‘‘ جس کو خدا کی طرف سے مؤلف (مرزا قادیانی) نے ملہم ومامور ہوکر بغرض اصلاح وتجدید دین تالیف کیا ہے اور اس نے ..................... اپنے الہامات وخوارق وکرامات واخبار غیبیہ واسرار لدنیہ وکشوف صادق ودعائیں مستجابہ کے راست ہونے سے دین اسلام کی راستی وصدق ظاہر کیا ہے اور ان خوارق وغیرہ پر آریہ وغیرہ شاہد ہیں۔ جس کا ذکر تفصیل وار کتاب براہین احمدیہ میں درج ہے اور مصنف کو علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے بشدت مشابہ ہیں اور اس کو خواص انبیاء ورسل کا نمونہ بنا کر برکت متابعت آنحضرت ﷺ کے بہت سے اکابر اولیاء وما تقدم پر فضیلت دی گئی ہے اور مصنف کے قدم پر چلنا موجب نجات وسعادت وبرکت ہے اور اس کی مخالفت سبب بعد وحرمان کا ہے (یعنی حق تعالیٰ کی رحمت سے ) ثبوت اور دلائل اس کے براہین احمدیہ کے چاروں حصص مطبوعہ کے پڑھنے سے جو ۳۷ جزو ہے ظاہر ہوتے ہیں (اور ادنیٰ قیمت اس کی پچیس روپیہ مقرر ہے) پھر اسی اشتہار میں درج ہے کہ اور اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اتمام حجت ہے۔ جس کا خدا تعالیٰ کے روبرو اس کو جواب دینا پڑے
البعد و الحرمان يعنى من رحمة الرحمن و دلائل هذه الدعاوى تظهر بتلاوة كتابه البراهين الذى طبع خمس و ثلثون جزءا منه یعنى الحصص الاربعة التى ادنى قيمتها خمس و عشرون ربية ثم قال وان احد من الناس لا يحضر عندنا لحل عقده بصدق طلبه و قلبه بعد هذا الاشتهار فاتممنا الحجة عليه هو عند الله مسئول عنه هذه ترجمة عبارات ذلک الاشتهار و کتب فى اخره المشتہر خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ملک پنجاب مطبوعه رياض هند پریس امرتسر پنجاب انتهى فبسبب هذا الترغيب اشترى كتابه كثير من الناس و شاع و اشتهر فى اكناف البنجاب و الهند شيوعاً كثيراً وهو ادعى فى ذلک الکتاب انه يلهم عليه ايات القرآن كثيرة ومتواترة من الله تعالى والعبارات العربية ايضا كما صرح به فى ص ۴۸۵ و صرح بان اکثر ایات فضائل الانبياء انزلت علیه مخاطبة الله تعالى بها و هو المراد منها و غالب الهاماته مما يراجع مايوحى اليه غاية تعتد التى ترشح منها وصوله الى درجة الانبياء والمرسلين بل يفوقهم و يلزم ترقيه فى بعض ماانزل اليه من النبيين فنعوذ منه برب العلمين كما سنذكر نبذ امن ههنا هدية للناظرين ونردها ابتغاء لمرضات ملك يوم الدين وارضاء لجناب سيد المرسلين صلوات الله عليه و عليهم اجمعين اما نموزج القسم الاول من الالهامات التى يزعمها مولف البراهين الهامات كاملة و مثل وحى الرسالة قيل يا احمد بارک الله فیک ما رمیت اذ رمیت ولکن الله رمى لتنذر قوما ما
گا۔ الخ المشتہر مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ملک پنجاب مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر پنجاب اشتہار ملخص
(مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۲۳ تا ۲۵)
پس اس اشتہار کی ترغیب کے سبب صدہا اہلِ اسلام نے اس کی کتاب خریدی۔ چنانچہ پنجاب و ہندوستان و غیر ہما میں وہ کتاب بہت مشہور ہوئی۔ اس کے تیسرے چوتھے حصہ میں مصنف نے دعویٰ کیا ہے کہ بہت سی آیات قرآنی و عبارات عربیہ اس پر الہام ہوتی ہیں۔ جیسا کہ صفحہ ۴۸۵ خزائن ج ۱ ص ۵۷۷ میں لکھا ہے۔ اور یہ بھی صاف دعویٰ کیا ہے کہ اکثر آیات فضائل انبیاء اس پر نازل ہوتی ہیں۔ اور ان آیات سے اللہ تعالیٰ نے اس کو مخاطب کیا ہے۔ اور ان خطابات سے وہی مراد ہے۔ اور اکثر الہامی باتیں بلکہ سب کی سب جو اس پر وحی ہوتی ہے۔ پرلے درجہ کی اس کی تعریف ہے۔ جس سے نبیوں کے مرتبہ کو اس کا پہنچ جانا نکلتا ہے۔ بلکہ بعض ملہمات سے اس کی انبیاء سے ترقی اور تعلی سمجھ میں آتی ہے۔ والعیاذ باللہ من ذالک!
جیسا کہ دونوں قسم کے ملہمات کا ہم نمونہ ناظرین کے ملاحظہ کے واسطے ذکر کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اور جناب رسول خدا ﷺ کے راضی کرنے کی نیت سے ہم ان کا رد لکھتے ہیں۔ پہلے قسم کے الہامات کا نمونہ جس کو براہین احمدیہ کا مؤلف (مرزا قادیانی) کامل الہام اور وحی رسالت کی مانند جانتا ہے یہ ہے ان آیات اور عربی فقرات کا ترجمہ
۱.......اے احمد! اللہ نے تجھ میں برکت دی۔ ۲.......تم نے کنکر نہیں پھینکے۔ جب پھینکے تھے۔ لیکن خدا نے پھینکے تھے۔ ۳.......تو ڈراوے ان لوگوں کو جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے۔ ۴.......اور تا کہ ظاہر ہو گنہگاروں کا راستہ۔ ۵.......تو کہہ دے میں مامور ہوں اور اول ایمان لاتا ہوں ان الہاموں پر۔ ۶.......تو کہہ حق آگیا اور جھوٹ نابود ہوا۔ جھوٹ نابود ہی ہونے والا ہے۔ ۷.......تو کہہ اگر میں افتراء کرتا ہوں یعنی خدا پر پس مجھ پر گناہ ہے۔ ۸.......اور تو اپنے رب کی نعمت سے
انذر اباؤهم ولتستبين سبيل المجرمين قل انی امرت وانا اول المومنين قل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا قل ان افتريته فعلی اجرامی وما انت بنعمة ربک بمجنون قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله ص ۳۳۸ و ۲۳) انا كفيناك المستهزئين و قل اعملوا علی مکانتکم انی عام فسوف تعلمون يريدون ان يطفوا نور الله بافواههم والله متم نوره ولو کره الكافرون اذا جاء قصر الله والفتح هذا تاویل رویای من قبل قد جعلها ربی حقا ص ۲۴۰ قل الله ثم ذرهم فی خوضهم ملعبون ولن ترضی عنک الیهود ولا النصارى و قل رب ادخلنی مدخل صدق انا فتحنا لک فتحا مبینا و وجدک ضالا فہدی ص ۲۴۱ قلنا يا نار کونی بردا وسلاما علی ابراهيم يايها المدثر قم فانذر فربک فکبر و امر بالمعروف و انه عن المنکر ص ۳۴۲) ثم قال فی صفحة ۴۸۶) نزک علی هذا الالهامات بی رکت یا احمد وکان تبارک الله فیک حقافیک و فی ص ۴۸۹ اخمنی بمنزلة توحیدی و تفردے وقال فی ترجمة ان الله تعالیٰ قال له هذا وقال المولوى فیض الحمن الهارنفوری احد مشاهیه علماء الهند ان مولف البراهین ادعی ان منکره منکر التوحيد انتهیٰ فی ص ۴۹۱ اخباجاء نة الله والفتح و تمت كلمة ربك هذا الذى كنتم به تستعجلوک و قال فی ترجمة خدخلنی الله تعالیٰ بانداذ ایجی المدد دفتر الله تعالیٰ و یتم کلام ربک يخاطب الكفار بهذا الخطاب ای هذا الذى کنتم به تستعجلون بترجمة کلامه فی ص ۴۹۳ ادعی انه الهم اليه دنی فتدلى فكان قاب قوسين او ادنى وفى ص ۴۹۶ صرح بانه خولجب هذه الفقرات يا ادم اسكن انت وزوجک بختیه یا مریم اسکن انت و زوجک الجنة یا احمد اسکن
دیوانہ نہیں۔ ۹ ۔۔۔۔تو کہہ دے اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو ۔ خدا تم سے محبت کرے گا ۔ (براہین احمدیہ ص ۲۳۸‘ ۲۳۹ خزائن ج ۱ ص ۲۶۳‘۲۶۴) سے یہ نو الہام منقول ہوئے ہیں۔
پھر ص ۲۴۰ خزائن ج ۱ ص ۲۶۵ میں یہ پانچ الہام درج ہیں۔ جن کا ترجمہ یہ ہے:
- ۱۰...... ہم مسخری کرنے والوں سے تیری لئے کافی ہیں۔ ۱۱.......اور تو کہہ دے تم اپنی جگہ عمل کرو میں بھی عمل کرتا
ہوں۔ جلد تم معلوم کر لوگے ۔ ۱۲.......وہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے۔ اگر چہ کافر نہ پسند کریں ۔ ۱۳....... جب آ گئی نصرت اور فتح خدا کی ۔ ۱۴....... یہ میری پہلی خواب کی تاویل ہے جس کو خدا نے سچ کر دیا ہے۔
پھر ص ۲۴۱ خزائن ج ۱ ص ۲۶۶ میں یہ پانچ الہام لکھے ہیں:
- ۱۵....... تو خدا کا نام لے۔ پھر ان کو چھوڑ دے ان کو اپنی بک بک میں کھیلا کریں ۔ ۱۶.......اور ہرگز نہ راضی ہوں
تجھ سے یہود اور نصاریٰ ۔ اور تو کہہ خداوندا مجھے راستی کی جگہ داخل کر ۔ ۱۸.......ہم نے تیری فتح کر دی ہے ۔ ظاہر فتح ۔
- ۱۹.......اور تجھے گمراہ پا کر راستہ دکھلایا ۔
پھر ص ۲۴۲ خزائن ج ۱ ص ۲۶۷ میں یہ تین الہام ہیں:
- ۲۰....... ہم نے کہا اے آگ تو ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا ابراہیم پر ۔ ۲۱.......اے لحاف پوش کھڑا ہو جا اور ڈرا
اپنے رب کی تکبیر کہہ ۔ ۲۲.......اور نیکی کا حکم کر اور گناہ سے روک ۔
انت و زوجک الجنة نفخت فيک من لدنى روح الصدق وقال فى ترجمتها ان المراد من ادم و مریم و احمد نفسه و من الزوج رفقائه و من الجنة وسائل النجاة انتهی ثم قال فی ص ۵۰۳ انه الهم اليه انک علی صراط مستقیم فاصدع بما تؤمر و اعرض عن الجاهلين و فى ص ۵۰۴ تاللّه لقد ارسلنا الی امم من قبلک فزين لهم الشيطان وقال فى ترجمة ان المراد من كاف الخطاب نفسه والمراد من المرسلين اولياء الامة انتهى و فى هذه الصفحة ادعى انه الهم اليه سبحان الذی اسرٰى بعبده لیلاً و فی صفحة ۵۰۶ صرح بانه الهم اليه و اذا سألک عبادی عنی فانی قریب الاية وما ارسلنٰك الا رحمة للعلمين وفى ص ۵۱۰ لعلک باخع نفسك الا يكونوا مومنين ولا تخاطبنى فى الذين ظلموا انهم مغرقون يا ابراهيم اعرض عن هذا انه عبد غير صالح انما انت مذكر و ما انت عليهم بمسيطر وادعى فى ترجمة هذه الملهمات ان المخاطب بهذه الايات نفسه انتهى بل و صرح ادعى انه الهم اليه يا احمد فاضت رحمتى على شفتيك انا اعطيناك الكوثر فصل لربک و ضعنا عنک وزرک الذی انقض ظهرک ورفعنا لک ذکرک و صرح بان هذه الایات انزلت عليه مثل السابقات ثم قال فی ص ۵۵۶ انه الهم اليه یا عیسٰی انی متوفیک ورافعک الی وجاعل الذين يتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة وادعى بعد ترجمة هذه الاية انه هو المراد من لفظ عيسى ايضاً و ايضاً فى ص ۵۵۶ قل عندى شهادة من الله فهل انتم مومنون وادعى فى ترجمة هذا الالهام ان المراد من الشهادة من الله هى التاييدات الالهية والاطلاع على المعارف والحقائق
پھر ص ۲۸۶ خزائن ج ۱ ص ۵۷۹ پر کہا ہے کہ مجھ پر یہ الہام بھی نازل ہوئے ہیں:
- ۲۳...... اے احمد ! تجھ کو خداوند کریم نے برکت دی جو تیرا حق تھا۔
پھر ص ۲۸۹ خزائن ج ۱ ص ۵۸۱ پر کہا ہے کہ:
- ۲۴....... تو مجھ سے میری توحید اور تفرید کے مرتبہ میں ہے۔
مولانا فیض الحسن مرحوم سہارنپوری نے اپنے عربی اخبار شفاء الصدور میں لکھا ہے کہ مؤلف براہین (مرزا قادیانی) نے اس الہام میں دعویٰ کیا ہے کہ میرا منکر خدا کی توحید کا منکر ہے۔
پھر براہین احمدیہ ص ۴۹۱ خزائن ص ۵۸۴ میں یہ الہام لکھا ہے کہ:
- ۲۵...... ”جب خدا کی مدد آگئی اور فتح اور تیرے رب کی بات پوری ہوگئی۔ یہ وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی
کرتے تھے“ اور ان فقرات آیات کا ترجمہ براہین کے ص ۴۹۱ کی سطر ۱۸ و ۱۹ میں یوں لکھا ہے کہ: ”جب مدد اور فتح الٰہی آئے گی اور تیرے رب کی بات پوری ہو جائے گی تو کفار اس خطاب کے لائق ٹھہریں گے کہ یہ وہی بات ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے“ انتہیٰ بلفظہ!
پھر براہین احمدیہ ص ۴۹۳ خزائن ص ۵۸۶ میں اپنے لئے یہ الہام لکھا ہے:
- ۲۶...... ”دنیٰ فتدلیٰ“ پھر نزدیک ہوا اور لٹک آیا ”فكان قاب قوسين او ادنٰی“ پس ہوا قدر
دو کمانوں کا یا اس سے بہت نزدیک۔“
پھر ص ۴۹۶ خزائن ص ۵۹۰ میں اپنے لئے ان الہامات کا دعویٰ کیا ہے کہ:
الالهية والاسرار الغيبية والاعلام على الوقائع الاتية قبل وقوعها واجابة الادعية والالهام في الالسنة المختلفة له فان كل هذه شهادة الله فى حقه فتجب على المومنين قبوله و تصديقه انتهی بترجمة كلامه و فى ص ۵۶۱ و ۵۶۲) قل جاء كم نور من الله فلا تكفروا وان كنتم مومنين و عنی ان ملهماته نور من الله ففي انكارها زوال الايمان انتهى وايضا في هذين الصفحتين ففهمناها سليمان فاتخذوا من مقام ابراهیم مصلى و عنى بسلیمان و ابراهیم فی هذين الايتين نفسه كما صرح بان الله تعالى امر الناس باتباع اثر قدم ابراهیم یعنی مؤلف البراهين لان الطريقه المحمدية في هذه الايام اشتبه على اكثر الناس و بعضهم يتبعون محض الظاهر مثل العوام وبعضهم مالوا الى عبادة المخلوق مثل المشركين فعليهم ان يعلموا الطريقة الحقة منه) اى من مؤلف البراهين و يتخذوه سبيلا من ترجمة كلامه و اخر کتابه ملخص مرامه فظهر من هذه سبع و اربعين الايات القرانية والفقرات العربية التي ادعى صاحب البراهين انها الهمت عليه و اوحیت الیه ان هذا المدعى اثبت لوازم الرسالة و جزءا من النبوة لنفسه لانه يقر اولا بخلاف اهل السنة ان الهام الاولياء و وحی الرسالة مترادفان و الالهام يكون قطعيا و ايقن ثانياً بان المضامين التي تجب تبلیغها انزلت عليه وهو مامور بالانذار و الابشار للناس بان من كان يحب الله فليتبعه يحببه الله وان قبول ملهماته فرض عليهم و انكارها منهی عنه فمن لم يومن به فكان من الكافرين كما هو مفاد الالهام الاربع والاربعين و الخامس والاربعين اعنى قل عندی شهادة من الله فهل انتم مومنون و قل جاء كم نور من الله فلا تكفروا ان كنتم مومنين وما معنى الرسالة والنبوة الا الاتصاف بهذه الفضيلة العظيمة وما مفاد
- ۲۷..... ”اے آدم ! تو اپنی زوجہ سمیت بہشت میں رہ ۔ اے احمد ! تو اپنی زوجہ کے ساتھ بہشت میں مکان پکڑ۔
پھر مراد اس کی یوں لکھتا ہے ۔ اے آدم اے مریم اے احمد تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہو جاؤ ۔‘ انتہیٰ بلفظہ !
پھر ص ۵۰۳ خزائن ص ۵۹۹ میں اپنے لئے یہ الہام درج کئے ہیں :
- ۲۸..... ”بے شک تو صراط مستقیم پر ہے۔ ۲۹..... خدا کے حکم کو ظاہر پہنچا اور جاہلوں سے روگردانی کر ۔“
پھر ص ۵۰۴ خزائن ص ۶۰۰ میں آیت کا الہام لکھا ہے اور ترجمہ اس کا خود کیا ہے :
- ۳۰..... ” ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے کہ ہم نے تجھ سے پہلے امت محمدیہ میں کئی اولیاء کامل بھیجے ۔ پر شیطان نے
ان کی توابع کی راہ کو بگاڑ دیا ..... الخ ۔“ انتہیٰ بلفظہ !
اب ظاہر ہے کہ کاف خطاب جو آنحضرت ﷺ کی طرف راجع تھا۔ اس براہین والے نے اپنا نفس مراد رکھا ہے اور رسولوں سے اولیاء امت ارادہ کئے ہیں۔ اور اسی صفحہ میں اپنے لئے آیت کا الہام بھی لکھا ہے جس کا ترجمہ یہ کرتا ہے کہ :
- ۳۱..... ”پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو رات کے وقت میں سفر کرایا۔ یعنی ضلالت اور گمراہی کے
زمانہ میں جو رات سے مشابہ ہے ۔ مقامات معرفت اور یقین تک لدنی طور سے پہنچایا ۔“ بلفظہ ۔
پھر صفحہ نمبر ۵۰۶ خزائن ص ۶۰۳ میں ان دونوں آیتوں کا اپنی طرف الہام ہونا ظاہر کرتا ہے۔ جن کا ترجمہ خود یہ
الشركة بالانبياء فى خصائصهم الا اتشرف بهذه المزية الكريمة على انفراد نفسه من الخطابات التي خاطب بها الله سبحانه في القرآن المبين انبيائه من سيد المرسلين و سائر النبيين صلوة الله عليهم اجمعين فليس هذا الا الحادا في آيات الله بله والتحريف المعنوى لكلام الله صريحا فان قيل انه يعد نفسه من تابعي الرسول الكريم عليه الصلوة والتسليم ويثبت هذه الفضائل لنفسه ببركة تلك المتابعة بالظلية كما صرح به فى الاشتهار المذكور نقلناه فيما سبق و ايضاً اقر فى عدة مواضع من كتابه انه مورد حديث علماء امتى كانبياء بنى اسرائيل فكيف يظن في حقه انه يثبت لذاته شرف النبوة الا ترى انه يدعى تفضيله على الاولياء وما قال قط انه من الانبياء قلت من المعلوم ان صاحب البراهين الف كتابه فى مقابلة النصارى واليهود و غيرهما من عبدة الاصنام ليظهر عليهم صداقت الدين الاسلام فما ذكر فيه من انه منعوت بنعوت الانبياء فى ايات القرآن و موصوف بخصائص الرسل على لسان الفرقان و نزلت عليه الايات ............ فلا فائدة في هذه الحكايات لان من لم يومن بالقرآن فكيف يصدق هذا البيان و يعده من عظيم الشان فعلم ان غرضه الاصلى من هذا اظهاره على المسلمين بانه افضل الاولياء و نموذج الانبياء و ان قاديانه مهبط الوحى كالبيت العتيق والله تعالى امر الناس بان يقصدوه من كل فج عميق وكم من يحضره بعد هذا الاشتهار المبين فيسئل يوم القيمة اسرع الحاسبين كما مر نقله وامثال هذه الدعاوى ما صدرت من اكابر الصحابة سيما الخلفاء الراشدين واهل البيت والتابعين الذين هم افضل الامة باليقين فهل هذا الا
لکھتا ہے کہ: ۳۲...... ”اور جب تجھ سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو میں نزدیک ہوں دعا کرنے والے کے۔ دعا قبول کرتا ہوں۔“ ۳۳...... ”اور میں نے تجھے اس لئے بھیجا ہے تاکہ سب لوگوں کے لئے رحمت کا سامان پیش کروں۔“ انتہاء بلفظہ۔
پھر صفحہ ۵۱۰ خزائن ص ۶۰۸ میں چند آیات قرآنی اپنے حق میں نازل کر کے ان کا خود ترجمہ یوں لکھتا ہے: ۳۴...... ”کیا تو اسی غم میں اپنے تئیں ہلاک کردے گا کہ یہ لوگ کیوں نہیں ایمان لاتے ۔۳۵...... اور ان لوگوں کے بارے میں جو ظالم ہیں میرے ساتھ مخاطبت مت کر۔ وہ غرق کئے جائیں گے۔۳۶...... اے ابراہیم اس سے کنارا کر۔ یہ صالح آدمی نہیں۔ ۳۷...... تو صرف نصیحت دہندہ ہے۔ ۳۸...... اور نہ تو ان پر نگہبان ہے۔ چند آیات جو بطور الہام القاء ہوئی ہیں بعض خاص لوگوں کے حق میں ہیں۔ یعنی مراد غرق کئے گئے اور غیر صالح سے بعض خاص لوگ ہیں۔“
پھر صفحہ ۵۱۷ خزائن ص ۶۱۷ میں بعض آیات قرآنی کا اپنے لئے نازل ہونا قرار دے کر ترجمہ ان کا یوں لکھا ہے: ۳۹...... ”اے احمد ! تیرے لبوں پر رحمت جاری ہوئی۔ ۴۰...... ہم نے تجھ کو معارف کثیرہ عطا فرمائے ہیں۔ ۴۱...... اس کے شکر میں نماز پڑھ اور قربانی دے۔ ۴۲...... اور ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا۔ جو تیری کمر توڑ دے اور تیرے ذکر کو اونچا کر دیا ہے۔“ انتہاء بلفظہ !
پھر صفحہ ۵۵۶ خزائن ص ۶۶۴ میں ایک آیت اپنے لئے وارد کر کے صفحہ ۵۵۷ خزائن ص ۶۶۴ میں اس کا یوں ترجمہ کیا ہے:
اثبات مساواۃ صاحب البراھین بالانبیاء والمرسلین وان لم یقل بلسانہ انہ من المرسلین خوفا من بلویٰ المسلمین نکوز تراب اھلم قاصدع بحاتش ھروا عرض عن الجاھلین لعلک باخع نفسک ان لایکونوا مؤمنین اقل انی امرت وانا اولالمؤمنین۔ قل جاء کم نور من اللّٰہ فلا تکفرو ان کنتم مؤمنین و معھذا قد صرح فی ذٰلک الاشتھار انفوزج الانبیاء والرسل کما نقل سابقاً من اشتھارہ والظاھران نموذج الشیئ یکون عین ذلک الشیئ لانہ معرب نموتہ و یقال فی الفارسیہ مشتی نموند خروار یعنی ان قلیل من البر مثلا نموذج الکر فثبت من ھذا الدعویٰ کون صاحب البراھین من الرسل والانبیاء باقدارہ فی اشتھارہ فلیس ھذا الا المثیلۃ لا الظلیۃ وایضاً قال ص ۵۰) من براھینہ انہ الہم الیہ ھذہ افقرۃ جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء و فسرھا بان منصب الارشاد والھدایۃ و کون مورد وحی الالھیۃ بکون فی الاصل حلۃ الانبیاء و یحصل لغیرھم بالطریق المستعاب انتھی فتحقق بتصریحہ ان ورود الوحی من اللّٰہ تعالیٰ من خواص الانبیاء فلما اثبت ھذہ الخاصۃ لنفسہ فقد اثبت النبوۃ لھا بوصفہ واما قولہ و ھذہ الحلۃ یستعار لغیرھم فباطل لان منصبیت و دود وحی الرسالۃ لا یحصل بغیر الرسل والانبیاء والھام لا ولیاء لایکون تراد فابوحی الرسالۃ فانہ یکون محفوظا بحفاظۃ الملائکۃ بحیث یحصل منہ الاطلاع الذی لا یجری فیہ الالتباس والاشتباہ قطعا ولا یکون فیما حتمال الخطاء اصلاً فمن ثم یحب علی المکلفین قبولہ والایمان بہ ومن انکرہ فقل کفر بخلاف الھار الاولیاء فانہ وانکان بحصل منہ العلم ...... حقائق الذات والصفات او الوقائع الکونیۃ ولکن لا یرتفع منہ الالتباس والاشتباہ بجمیع الوجوہ یبقی اخماک الخطاء فیہ ولھذا لا
- ۲۳....... ’’اے عیسیٰ! میں تجھے کامل اجر بخشوں گا۔ یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ اور تیرے تابعین
کوان پر جو منکر ہیں قیامت تک فائق رکھوں گا۔ اس جگہ عیسیٰ کے نام سے بھی عاجز مراد ہے‘‘۔ انتہاء ملخصا۔
نیز صفحہ ۵۵۵ میں فقرہ عربیہ کا الہام لکھ کر اس کا ترجمہ صفحہ ۵۵۶ خزائن ص ۶۶۳ میں یوں کرتا ہے کہ:
- ۴۴....... ’’میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ پس کیا تم ایمان نہیں لاتے۔ یعنی خدا تعالیٰ کا تائیدات کرنا اور اسرار
غیبیہ پر مطلع فرمانا اور پیش از وقوع پوشیدہ خبریں بتلانا اور دعاؤں کو قبول کرنا اور مختلف زبانوں میں الہام دینا اور معارف اور حقائق الہیہ سے اطلاع بخشنا یہ سب خدا کی شہادت ہے۔ جس کو قبول کرنا ایمان داروں کا فرض ہے‘‘۔ انتہاء بلفظہ!
پھر صفحہ ۵۶۱ میں آیت قرآنی اپنے لئے نازل کر کے ترجمہ اس کا صفحہ نمبر ۵۶۲ خزائن ص ۶۷۰ میں یوں لکھتا ہے کہ:
- ۴۵....... ’’کہہ خدا کی طرف سے نور اترا ہے۔ سو تم اگر مومن ہو تو انکار مت کرو‘‘ انتہاء بلفظہ!
پھر صفحہ ۵۶۱ خزائن ص ۶۷۰ میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حق کی آیات اپنے لئے نازل کر کے صفحہ ۵۶۲ خزائن ص ۶۷۰ میں تصریح کرتا ہے کہ مراد ان سے میں ہوں۔ چنانچہ اصل عبارت اس کی یہ ہے کہ:
- ۴۶....... ’’وہ نشان سلیمان کو سمجھائے یعنی اس عاجز کو۔ ۴۷....... سو تم ابراہیم کے نقش قدم پر چلو۔ یعنی
رسول کریم کا یہ طریقہ حقہ کہ جو حال کے زمانہ میں اکثر لوگوں پر مشتبہ ہو گیا ہے اور بعض یہودیوں کی طرح صرف ظواہر پرست اور بعض مشرکوں کی طرح مخلوق پرستی تک پہنچ گئے ہیں یہ طریقہ خداوند کریم کے اس عاجز بندہ سے دریافت کرلیں اور اس پر چلیں‘‘۔ انتہاء بلفظہ!
بتحقیق التکلیف العام علیہ کما صرح بہ فی تفسیر فتح العزیز وغیرہ تحت قولہ تعالیٰ عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصداً علی ماھو اعتقاد اھل السنۃ والجماعۃ ومنشاء غلط صاحب البراھین و غیرہ من غیر المقلدین فی جعل الالھام حجۃ قطعیۃ مثل الرسالۃ قصۃ الھام خضر مع موسی و واقعۃ الھام ام موسی علی نبینا و علیھم السلام بالقائہ فی الیم کما ھو منصوص القرآن الکریم وقولہ ان خضر لم یکن نبیا کما فی ص ۵۴۸) من کتابہ السقیم جھل عظیم لتصریح علماء العقائد و غیرھم بان خضر کان نبیاً عند الجمھور من العلماء الربانیین والقرآن ینطق باختلاف حال و مال وحی موسی والھام امہ فان ام موسی مع کونھا الملھمۃ من اللّٰہ تعالیٰ بسلامۃ ولدھا وردہ الیھا کما قال عز من قائل فاذا خفت علیہ فالقیہ فی الیم ولا تخافی ولا تحزنی انا رادوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین لم تکن مطمئنۃ علی ذلک الالھام والا لما کانت حالتھا مثل الحالۃ المنصوصۃ فی کلام الملک العلام کما قال تعالیٰ واصبح فؤاد ام موسی فارغاً ان کادت لتبدی بہ لولا ان ربطنا علی قلبھا لتکون من المؤمنین وان سیدنا موسی کان مطمئنا و موقنا بوحیہ تعالیٰ لا تخاف درکا ولا تخشی فمن ثم لما تحیر اصحاب موسی وقالوا وقت رویۃ قوم فرعون کما اخبر عنھم اللّٰہ تعالیٰ انا لمدرکون قال فی جوابھم ما حکاہ اللّٰہ سبحانہ کلا ان معی ربی سیھدین فاتضح الفرق بینھما بالیقین بشھادۃ القرآن المبین فالقول بترادفھما باطل عند المسلمین واما حدیث علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل لا اصل لہ
یہ خاتمہ اس کی کتاب یعنی چوتھے حصے کا ہے۔ پس ان سنتالیس الہامات سے جو اکثر آیات قرآنی اور بعض فقرات عربیہ ہیں جن کو مؤلف براہین احمدیہ نے اپنے لئے الہام اور وحی قرار دیا ہے۔ بخوبی ظاہر ہے کہ اس شخص نے لوازم رسالت اور خواص نبوت اپنے لئے ثابت کئے ہیں۔ چنانچہ انبیاء سے اپنا مراد ہونا اور اپنی تصدیق کو ایمان اور اپنے انکار کو کفر سے تعبیر کرنا وغیرہ ذالک جو ان الہامات سے صراحتاً ظاہر ہے۔ کیونکہ اول اس نے برخلاف اہل سنت اس پر یقین کیا ہے کہ اولیاء کا الہام اور وحی رسالت دونوں ایک معنے رکھتے ہیں۔ اور الہام بھی قطعی ویقینی ہوتا ہے۔ پھر اس نے بڑے استحکام سے ثابت کیا ہے کہ جو مضامین اس پر نازل ہوتے ہیں ان کی تبلیغ واجب ہے۔ اور وہ ڈرانے خوشخبری سنانے پر مامور ہے کہ جس نے خدا کا دوست بننا ہو اس کی متابعت کرے۔ خدا اس سے محبت کرے گا۔ اور یہ کہ اس کے ملہمات کا قبول کرنا لوگوں پر فرض ہے اور ان کا انکار منع ہے۔ پس جو اس (مرزا قادیانی) پر ایمان لایا وہ مومن ہے اور جس نے اس کا انکار کیا وہ کافروں سے ہے۔
جیسا کہ ۴۴ اور ۴۵ویں الہام کے ترجمہ اردو میں اس نے خود تصریح کی ہے اور رسالت ونبوت کے معنی یہی ہیں کہ ایسی فضیلت عظمیٰ حاصل ہو اور نبیوں کے ساتھ شرکت کا مطلب یہ ہے کہ ایسے بڑے رتبہ پر مشرف ہو۔ علاوہ ازیں جن خطابات سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سرور عالم ﷺ اور دوسرے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مخاطب کیا ہے۔ صاحب براہین اب ان خطابات سے اپنے نفس کو مراد رکھتا ہے تو یہ صراحتاً الحاد فی الآیات نہیں تو اور کیا ہے؟ اور قرآن شریف کی تحریف معنوی میں کون سا دقیقہ فروگزار چھوڑا ہے۔ اگر کسی کو شبہ گزرے کہ مؤلف براہین کا اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا تابع جانتا ہے اور اپنے لئے ان فضائل عظیمہ کا حاصل ہونا آپ ﷺ کی متابعت سے بطور ظلیت مانتا ہے۔ جیسا کہ اس
كما قاله الدمامينى والزركشى والعسقلانى كذا فى المصنوع فى احاديث الموضوع لمولانا القارى عليه رحمة البارى و دعوى صاحب البراهين باتباع سيد المرسلين صلوات الله عليه و آله و عترته اجمعين مع انه بمحض اللسان وما صدر من الجنان كما يشعر به مجلد كتابه و سيجيء فى معرض البيان لا ينافي النبوة والرسالة لانه قال في ص ٩٩ من كتابه ان المسيح كان تابعاً و خادماً لدين نبی کامل و عظيم الشان يعنى موسى وكان انجيله فرع التورية انتهى ترجمه فكما زعم صاحب البراهين ان المسيح مع متابعة موسى على نبينا و عليهما السلام كان نبيا فكذلك يعد نفسه موصوفاً بخصائص الرسالة والنبوة مع ادعاء الاتباع و ايضا الانبياء وان كانوا يتفاضلون فيما بينهم لقوله تعالى تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض الاية لكن يستوون فى الايمان بهم كما قال تعالى لا نفرق بين احد من رسله الاية فبالجملة ادعاء مساواة صاحب البراهين بالنبيين يعلم باليقين لمن تدبر و تعمق فى ترهاته المندرجة فى البراهين الاترى انه ادعى فى ص ٥١١) بنزول اية قل انما انا بشر مثلكم يوحى الى انما الهكم اله واحد فى حقه وقال فى ص ٢٣٢) انه الهم اليه واتل عليهم ما اوحى اليك من ربك انتهى فهذا صريح مقابلة صاحب البراهين بافضل النبيين صلوات الله وسلامه عليه و عليهم اجمعين فالحاصل ان مؤلف البراهين وان كان لا يدعى بلسانه انه نبی و رسول خوفا من تكفير المؤمنين لكنه ما ترک خاصة من خواص الرسل والنبيين الا وقد اثبتها لنفسه باليقين فمثله كمثل احمد خان نيچرى علی گڑھی فانه هدم شعائر نے اشتہار منقولہ بالا میں تصریح کی ہے اور نیز کئی جگہ براہین میں اقرار کرتا ہے کہ وہ مورد حدیث ”علماء امتی کا انبیاء بنی اسرائیل .“ کا ہے تو اس حالت میں کیونکر متصور ہو کہ وہ رسالت اور نبوت کو اپنے لئے ثابت کرتا ہے؟۔ دیکھو وہ اپنی فضیلت اولیاء پر ثابت کر رہا ہے اور یہ اس نے ہرگز نہیں کہا کہ میں انبیاء سے ہوں تو اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ صریح ثابت ہے کہ مؤلف براہین نے اپنی کتاب نصاریٰ اور یہود اور بت پرستوں کے مقابلہ میں واسطے ظاہر کرنے حقیقت دین اسلام کے تالیف کی ہے۔ تو اس کتاب میں یہ درج کرنا کہ میں نبیوں کی صفتوں سے جو قرآن میں مذکور ہیں موصوف ہوں اور آیات قرآنی جن میں رسولوں کے خواص مسطور ہیں۔ مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔ ان کا مورد میں ہوں۔ کیا فائدہ رکھتا ہے؟۔ کیونکہ جن کو قرآن پر ایمان ہی نہیں وہ ان باتوں پر کیونکر تصدیق کریں گے اور مؤلف براہین کی عظمت شان پر ایمان لائیں گے۔
پس معلوم ہوا کہ اصلی غرض براہین والے کی ان الہامات کے بیان اور وحی کے ادعاء سے مسلمانوں سے باور کرانا ہے کہ میں سب ولیوں سے افضل ہوں اور نبیوں کا نمونہ ہوں اور اس کے قادیان میں مکہ معظمہ کی طرح وحی اترتی ہے اور اب خدا کا حکم ہے کہ سب لوگ قریب و بعید ہر طرف سے قادیان میں آئیں اور ہدایت پائیں اور جو نہ حاضر ہوگا خدا تعالیٰ اس سے حساب لے گا۔ جیسا کہ اشتہار سے نقل اس کی اوپر منقول ہوچکی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسے دعوے اکابر صحابہ کرام خصوصاً خلفائے راشدین و امامان اہل بیت و تابعین سے جو افضل ہیں ساری امت سے صادر نہیں ہوئے۔ پس صاحب براہین کے یہ دعوے صریح مساوات کا اظہار ہے انبیاء و مرسلین سے۔ اگرچہ وہ اہل اسلام کے بلوے کے خوف سے صاف اقرار نہیں کرتا کہ میں رسول ہوں۔ لیکن یہ تو اس پر نازل ہورہا ہے: ”قل انی امرت وانا
الاسلام تبديلا واحل كبائر الدين تحليلا كما يشهد عليه تفسيره الهدية للقران و اخباره التهذيب للانسان والفقير الراقم لهذا التسطير وقد قفيته بعون الملك النصير في رساله مستقلة مسماة بالجواهر المضية في رد عقائد النيجرية فالحمد لله القدير فالنيجرى مع ذالك التمسخ لاحكام الشرع المتين والخلاف مع جميع العلماء المتقين يزعم انه من خواص الاولياء والصلحين ومن اجل مويدى الدين فكذلك حال صاحب البراهين عند العلماء الراسخين كما قال في حقه المولوى فيض الحسن سهارنفورى فى اشتهار شفاء الصدور فانما صاحب البراهين كمثل اى مثل احمد خان النيجرى يعنى فى اختلال الدين الاسلام و تضليل الخواص والعوام واما ادعائه بانه اعطى علماً يفضله على اكابر الاولياء فباطل ايضا مثل دعوى النموذجية للانبياء باطل لان فضيلة الصحابة والتابعين على سائر الامة المرحومة ثابتة بالقرآن المبين و الاحاديث الصحيحة عند المحدثين كما حقق في موضعه و باقى حال فضيلة هذا المدعى سنبينه فيما بعد باعلام الحق المبين هذا ومن عجائب ملهمات صاحب البراهين ماذكره (في ص ۳۹۷) من انه اوحى اليه انا انزلناه قريباً من القاديان وبالحق انزلناه وبالحق نزل صدق الله ورسوله وكان امر الله مفعولا و فسرها بما ترجمتها هذه قال تعالى انا انزلنا هذه الخوارق والامور المعجزة والالهام المملو من المعارف والحقائق قريبا من القاديان وبالضرورة الحقة انزلناه وبالضرورة الحقة نزل وما اخبره الله ورسوله ظهر صدقه في وقته وما شاء الله فهو كائن لا محالة فهذه الفقرة الاخيرة (اى صدق الله ورسوله الخ) مشيرة الى النبى صلى الله عليه وسلم قد اشار بلفظ نفسى فى الحديث المذكور فى السطور (اى فى الصفحة المارة) انت اول المؤمنين ، فاصدع بما تؤمر واعرض عن الجاهلين ، لعلك باخع نفسك ان لا يكونوا مؤمنين . قل جاءكم نور من الله فلا تكفروا ان كنتم مؤمنين ، ”جن کا ترجمہ اوپر لکھا گیا ہے۔
پس یہ دعویٰ نبوت نہیں تو اور کیا ہے؟ ۔ مع ہٰذا اس نے اشتہار میں صراحتاً لکھا ہے کہ میں انبیاء ورسل کا نمونہ ہوں۔ جس کی نقل اوپر ہو چکی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ نمونہ شے کا عین وہ شے ہوتا ہے جیسا کہ فارسی کی مثل مشہور ہے۔ مشتے نمونہ از خروارے۔ یعنی گیہوں کے انبار سے ۔ مثلاً ایک مٹھی اس کا نمونہ ہے تو اس اقرار و اشتہار سے ثابت ہے کہ صاحب براہین (مرزا قادیانی) اپنے آپ کو انبیاء و مرسلین ہی جانتا ہے۔ پس صاف یہ ثابت ہے کہ نہ ظلیت اور نیز اس نے براہین کے صفحہ ۵۰۴ خزائن ص ۶۰۱ میں یہ فقرہ اپنا الہام لکھا ہے: ”جری الله فی حلل الا نبياء ، “ اور اس کا ترجمہ اور تفسیر یوں کرتا ہے کہ اس فقرہ الہامی کے یہ معنی ہیں کہ: ”منصب ارشاد و ہدایت اور مورد وحی الٰہی ہونے کا دراصل حلہ انبیاء ہیں اور ان کے غیر کو بطور مستعار ملتا ہے اور یہ حلہ انبیاء امت محمدیہ کے بعض افراد کو بغرض تکمیل ناقصین عطا ہوتا ہے ۔“ انتھی بقدر الحاجة!
پس براہین والے کی خود تصریح سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی وحی کا مورد ہونا نبیوں کا خاصہ ہے تو اس کو اپنے لئے ثابت کرنا نبوت کا اثبات ہے اور یہ کہنا کہ غیر انبیاء کو بطور مستعار یہ حلہ ملتا ہے باطل ہے۔ کیونکہ منصب ورود وحی رسالت غیر انبیاء کو ہرگز نہیں ملتا اور ولیوں کے الہام وحی رسالت سے مترادف نہیں۔ اس لئے کہ وحی رسالت ملائکہ کی حفاظت سے محفوظ ہوتی ہے اور اس کی اطلاع میں ہرگز کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہوتا اور نہ اس میں احتمال خطا کا ہوتا ہے۔ اس واسطے
السابقة (وفى الحديث لوكان الايمان معلقا بالثريا لناله) والله تعالى اشار اليّ فى الاية التي ادرجتها في الحصة الثالثة و تلك الاشارة فى هذه الاية هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله فهذه الاية اخبار بالغيب فى حق المسيح بحسب جسمانيته وسياحته وسياسته الملكية فالغلبة الكاملة الموعودة لدين الاسلام تتم اذا جاء المسيح عليه السلام مرة ثانية فينشر دين الاسلام فى جميع الافاق والاقطار ولكنى اظهرت بانى فى غربتى وانكسارى و توكلى وايثارى واياتى وانوارى نموذج المسيح فى جيئته الاولى و فطرتى و فطرة المسيح متشابهتان تشابها تاما كاننا نصفان من جوهر واحد او ثمرتان من شجرة والاتحاد بيننا بحد لا تكاد تمتاز فى النظر الكشفى والمشابهة الظاهرية بيننا ثابتة ايضا بان المسيح تابع و خادم لدين نبى كامل عظيم الشان يعنى موسى و انجيله فرع لتوراة وهذا العاجز ايضا من احقر خدام سيد الرسل وافضل الانبياء فان كان اسمه حامداً فهو احمد وان كان محموداً فهو محمد صلى الله عليه وسلم فلثبوت المشابهة التامة لى بالمسيح اشركنى الله تعالى فى الاخبار بالغيب عن المسيح من ابتداء الامر يعنى ان المسيح مصداق الاية بحسب الظاهر وبالطور الجسمانى وهذا العاجز مورد تلک الاية ومحلها على طبق المعنى الروحانى فغلبة دين الاسلام باقامة الحجج القاطعة والبراهين الساطعة مقدرة بوسيلتى سواء كانت فى حيوتى او بعد مماتى انتهى ص ۴۹۸ و ۴۹۹ يقول العبد الضعيف ان الانزال والتنزيل فى اصطلاح القران مستعمل فى الكتب السماوية والمنزلة من الله مکلفین پر اس کا قبول واجب ہے۔ جس نے اس کو مانا وہ مومن ہے جس نے اس کا انکار کیا وہ کافر ہے۔ برخلاف الہام اولیاء کے کیونکہ الہام سے اگرچہ بعض حقائق ذات وصفات الٰہی کا علم حاصل ہوتا ہے۔ یا بعض وقائع دنیا کا بھی یقین ہوجاتا ہے ۔ مگر بجميع الوجوہ شک وشبہ سے خالی نہیں ہوتا اور احتمال خطا اس میں باقی رہتا ہے۔ اسی لئے لوگوں پر اس کا ماننا لازم نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ تفسیر فتح العزیز میں آیت ”عالم الغیب ‘‘ کے نیچے اس پر تصریح ہے اور یہ بھی اعتقاد اہل سنت ہے۔
لہٰذا نبیوں کے اخبار غیب پر ایمان واجب ہے اور کاہن و نجومی وغیرہ جو غیب کی خبر دیں۔ اس کی تصدیق کفر ہے اور علیٰ ہذا مدعی الہام جو بعد الانبیاء اپنے الہامات کی خبر دے۔ اس کی تصدیق بھی ناجائز ہے۔ جیسا کہ ملا علی قاریؒ نے فقہ اکبر کی شرح کی ملحقات میں تصریح کی ہے۔ اکابر اہل سنت کا اتفاق تو اسی پر ہے اور غیر مقلدین اور ان کا امام صاحب براہین جو الہام اولیاء کو حجت قطعی وحی رسالت کی طرح بتاتے ہیں۔ ان کی غلطی کا منشاء حضرت خضر کے الہام کا ذکر اور واقعہ الہام ام موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم السلام ہے۔ جو منصوص قرآنی ہے۔ جیسا کہ براہین کے صفحہ ۵۴۶ خزائن ج ۲ ص ۲۵۴ میں لکھا ہے۔ اور نیز : ” خضر جن کے نزدیک نبی نہ تھا۔“ انتہاء۔ یہ اس شخص کا جہل عظیم ہے۔ کیونکہ علمائے عقائد حقہ وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام جمہور علماء کے نزدیک نبی ہیں اور قرآن مجید صاف ناطق ہے۔ اختلاف حال و مال وحی موسیٰ اور الہام مادر موسیٰ کے ۔ کیونکہ ہرچند ان کو الہام منجانب اللہ تعالیٰ ہوا تھا کہ اپنے فرزند کو دریا میں ڈال دے۔ وہ سلامتی سے تیرے پاس آجائے گا۔
تعالٰی الی رسلہ کما قال تعالٰی فی ابتداء سورۃ البقرۃ والذین یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک الایۃ وایضاً فی ابتداء سورۃ ال عمران نزل علیک الکتب بالحق مصدقا لما بین یدیہ بان اللہ تعالٰی قال فی حقھا انزلناہ قریبا من القادیان فوصفھا بالایات القرآنیۃ التی انزلت فی وصف القران الکریم اعنی بالحق انزلناہ و بالحق نزل تصریح بان ملھماتہ مثل الفرقان العظیم ثم فی ترجمۃ لفظ الحق الواقع فی الموضعین بالضرورۃ الحقۃ تنصیص بان اللہ تعالٰی وجب علیہ انزال ھذہ الملھمات وھذا مخالف لعقیدۃ اھل السنت لتصریحھم بان اللہ سبحانہ لا یجب علیہ شئ کما فی شرح الفقہ الاکبر و شرح العقائد للنسفی و غیرھما و ایضا فی ھذا الکلام اشارۃ الی ان الدین فقد عن اکناف العالم واطراف الدنیا عرباً عجماً فلھذا اختار اللہ تعالٰی المقام القادیانی لانزال الملھمات کما صرح بہ فی اخر الحصۃ الرابعۃ من کتابہ بان الدین اشتبہ علی الاکثر والبعض صاروا کالیھود والبعض کالمشرکین فارشد الناس بھذا الارشاد فاتخذوا من مقام ابراھیم مصلی کما مر علی الصدر من ص ۵۶۱ و ۵۶۲ مع تصریح صاحب البراھین بان المراد من ابراھیم نفسہ والناس مامورون باتباعہ فلا خفاء فی ان جعل قریۃ قادیان مثل ام القری فی نزول الوحی کما قال تعالٰی و کذلک اوحینا الیک قرانا عربیا لتنذر ام القری ومن حولھا الایۃ و الحال انہ لاحاجۃ الی نزول شئ بعد تنزیل القران المجید للمومنین لانہ ھدی للمتقین والشرع المجید کاف للامۃ المرحومۃ الی یوم الدین فالقول بان اللہ عزوجل انزل الملھمات والمعارف علی القادیانی للضرورۃ الحقۃ افتراء علی رب العلمین ومن الادلۃ الدالۃ علیہ انہ صرح فی ترجمۃ ھذا الکلام
چنانچہ قرآن مجید میں فرمان ہے کہ جب تو موسیٰ کے معاملے میں خائف ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور خوف وغم نہ کرنا۔ ہم تیری طرف اس کو لٹا دیں گے اور اس کو رسول بنا دیں گے۔ یہ ترجمہ ہے آیات کا، تو اس الہام پر مادر موسیٰ کو خود بھی اطمینان نہیں ہوا تھا۔ ورنہ اس کی ایسی حالت نہ ہوتی۔ جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے: ”واصبح فواد ام موسیٰ فارغاً . ‘‘ یعنی اور ہو گیا دل ماں موسیٰ کا خالی صبر سے ۔ تحقیق نزدیک تھا کہ البتہ ظاہر کر دے اس کو اگر باندھ نہ رکھتے ہم اوپر دل اس کے، تاکہ ہو ایمان والوں میں سے، اور بے شک حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام اس وحی میں مطمئن تھے کہ: ’’ لا تخاف درکا ولا تخشی ‘‘ یعنی فرعونیوں کے پکڑ لینے سے مت ڈر۔ اسی لئے جب آپ کے اصحاب متحیر ہوئے اور قوم فرعون کے لشکر کو دیکھ کر بولے ۔ جیسا کہ قرآن میں خبر دی گئی ہے کہ بے شک پکڑے گئے۔ تب حضرت موسیٰ کے جواب کو قرآن نے یوں حکایت کیا کہ ہرگز نہیں پکڑے جاتے میرے ساتھی ۔ میرا رب ہے مجھے راستہ دکھا دے گا۔
پس بشہادت قرآن مبین وحی رسالت یا الہام اولیاء میں فرق آسمان وزمین پیدا ہو گیا اور جو ان دونوں کو ایک ہی جانتا ہے وہ بالکل باطل پر ہے۔ بالیقین اور حدیث : ’’علماء امتی کا انبیاء بنی اسرائیل ‘‘ بے اصل ہے۔ چنانچہ دمیری اور زرکشی اور عسقلانی تینوں نے کہا ہے ۔ علامہ قاری نے رسالہ المصنوع فی احادیث الموضوع میں اس پر تصریح کی ہے ۔ مطبوعہ لاہور کے ص ۱۶ سطر ۱۹ میں دیکھو ۔ رہا دعویٰ صاحب براہین کہ میں تابع ہوں آنحضرت ﷺ کی شریعت کا ۔ سو ہر چند یہ دعویٰ محض زبانی ہے دل میں نہیں ۔ جیسا کہ اس کی کتاب اس پر شاہد ہے اور عنقریب اس کا بیان
بارجاع ضمیر انزلناہ ....... الی المرجع المؤنث اے الخوارق والامور المعجبۃ بتاویل الجماعۃ ولا شک ان ضمیر الواحد المذکورہ مرجع الی الجمع فالکلام الصحیح علی ھذا التفسیر انا نزلنا ھا فاسناد ھذا الکلام الغلط والالهام المحبط الی اللہ سبحانہ کذب بالیقین ثم انزل ایات القران المنزل علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم مما لا طائل تحتہ وھو تحصیل الحاصل فان قیل قال اللہ تعالیٰ لقد انزلنا الیکم کتابا فیہ ذکرکم افلا تعقلون وایضا ولقد انزلنا الیکم ایٰت مبینت الایۃ فثبت ان القران انزل الی المسلمین فلم لا یجوز ان ینزل الحق ادق وغیرھا بتنزل ایات القران وغیره علی صاحب البراھین قلت القران العظیم ما نزل الا علی الرسول الکریم لکن بما کان مشتملا علی الاحکام التی امر بتبلیغھا النبی صلی اللہ علیہ وسلم الی المؤمنین بل الی کافۃ الناس وغیرھا اجمعین مع ان یقال مجازاً انہ انزل الیھم وھو کما قال تعالیٰ وانزلنا الیک الذکر لتبین الیھم و لعلھم یتفکرون علی ان اسناد نزول القران المبین الی المؤمنین وقت نزولہ الی سید المرسلین صلی اللہ علیہ وعلی اخوانہ و عترتہ اجمعین مع القطع بانہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین و کتابہ و دینہ ناسخ الکتب والادیان الی یوم الدین لا یستلزم ان یکون صاحب البراھین منزلا مستقلا فی ھذا الحین ویقال لہ انا انزلناہ قریبا من القادیان فما ھذا الا بهتان وھذیان واما ادعاء صاحب البراھین بان اللہ تعالیٰ اخبر بوجودہ فی القران وکذا النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الحدیث صحیح العنوان فباطل قطعا لان المشار الیہ من ذلک الحدیث المذکور فیما سبق الامام الاعظم والھمام الاقدم رضی اللہ کما صرح بہ غیر واحد من المحدثین و الفقھاء بالاتفاق و بینت طرفا منہ فی رسالتی
ہوگا۔ تاہم دعویٰ اتباع فنا فی النبوت ورسالت سے نہیں ہے۔ کیونکہ براہین کے صفحہ ۴۹۹‘ خزائن ص ۵۹۴ میں ہے کہ: ”مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا۔ اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے۔“ انتہاء!
پس جیسا کہ بموجب زعم براہین والے کے اتباع اور خادمیت حضرت موسیٰ نے حضرت مسیح کی نبوت میں کچھ خلل اندازی نہیں کی۔ ویسا ہی یہ شخص باوجود اتباع آنحضرت ﷺ کے اپنے آپ کو خصائص نبوت ورسالت سے موصوف کر رہا ہے اور نیز انبیاء اگرچہ بحسب مراتب وقرب عنداللہ ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں۔
چنانچہ تیسرے پارہ کا ابتدائے آیت کا یہ ترجمہ ہے کہ وہ رسول ہم نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے مگر مومن بہ ہونے میں سب انبیاء برابر ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں مؤمنین سے حکایت فرمائی ہے کہ ہم نہیں فرق کرتے ہیں۔ یعنی ایمان لانے میں رسولوں کے درمیان ۔ اِسی لئے غور کرنے والا عالم جب ملہمات صاحب براہین میں تدبر اور تأمل فرماتا ہے تو یقیناً معلوم کر جاتا ہے کہ براہین والے نے صاف دعویٰ برابری کا انبیاء سے کیا ہے۔ دیکھو براہین احمدیہ ص ۵۱۱‘ خزائن ص ۶۱۱ میں آیت :”قل انما انا بشر ۔ “ کو اپنے حق میں نازل کر کے صفحہ ۵۱۲‘ خزائن ص ۶۱۲ میں اس کا ترجمہ یوں لکھتا ہے: ”پھر فرمایا ہے کہ میں صرف تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں۔ مجھ کو یہ وحی ہوتی ہے کہ بجز اللہ تعالیٰ کے اور کوئی تمہارا معبود نہیں۔ وہی اکیلا معبود ہے۔ جس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرنا نہیں چاہئے۔“ انتہاء بلفظہ
اور براہین کے ص ۴۲۲‘ خزائن ص ۲۶۷ میں آیت : ”واتل علیھم ۔ “ کو اپنے حق میں نازل کر لیا ہے۔ جس کا
توضيح الدلائل و عمدة البيان فى اعلان شوكت النعمان رداً على اهل الطغيان من غير المقلدين فى هذا الزمان و كذا ايته هو الذى ارسل رسوله الاية ليست فى حق المسيح و صاحب البراهين بل هى فى شان امام الانبياء و سيّد المرسلين باليقين باتفاق جميع المفسرين لشهادة القران المبين الا يرى اخر هذه الاية قول الله سبحانه وكفى بالله شهيداً محمد رسول الله وقد قال محى السنة فى تفسيره تحت هذه الاية يعنى قوله تعالى محمد رسول الله تم الكلام ههنا قال ابن عباس شهد له بالرسالة ثم قال مبتدياً والذين معه انتهى فالقول بان هذه الاية فى حق غير النبى صلى الله عليه وسلم مخالف للقرآن ومنافى لبيان جميع مفسيرى الفرقان ليت شعرى ما اجهل هذا القائل فى ادعائه بان هذه الاية اخبار عن الغيب فى حق المسيح فلا اصل و فى حقه معنى وما يشعر بان هذا الخبر بصيغة الماضى فكيف يراد به الاستقبال فنعوذ بالله من هذه التحريفات فى الايات البينات لما اراد بنفسه من لفظ رسوله الواقع فى هذه الاية مصرح بشركته مع المسيح فى انواره واياته و غير ذلك من ابتداء الامر ثبت انه يدعى برسالته وما يبالى من اطلاق كلمة رسول الله على نفسه ولو مع غيره فهذا صريح ضلاله واما تصريحه بان الغلبة الموعودة (اى فى هذه الاية) تظهر بوسيلة المسيح فعلى القول القوى لجمهور المفسيرين باطل لان هذه الغلبة حصلت بظهور نبينا حبيب الله العلمين صلى الله عليه وعلى عترته اجمعين و اتمام النعمة عليه كما فى القران المبين اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى الاية لما فى التفسير الكبير و غيره و يقول الفقير
ترجمہ یہ ہے اور پڑھ ان پر جو وحی کی جاتی ہے تیری طرف تیرے رب سے ۔‘‘ پس یہ صریح مقابلہ ہے صاحب براہین کا سید المرسلین ﷺ سے ۔ الغرض براہین کا مؤلف ہر چند اپنی زبان سے صریح دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نبی ہوں ۔ تا کہ اہل اسلام خواص وعوام بلوے نہ کردیں ۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ کوئی خاصہ خواص انبیاء سے باقی نہیں چھوڑا ۔ جس کو اس نے اپنے لئے ثابت نہ کر لیا ہو ۔ بلاشبہ اس کی مثال علی گڑھ والے نیچری کی ہے جس طرح اس نے اسلام کے فرائض کو اٹھا دیا اور کبیرہ گناہوں کو حلال بنا دیا ۔ جس پر اس کی تفسیر قرآن اور اخبار تہذیب الاخلاق شاہد ہے اور فقیر راقم الحروف كان الله له نے اس کے ہفوات کے رد میں ایک رسالہ مستقلہ جس کا نام ”جواہر مضیہ رد نیچریہ“ ہے شائع کیا ہے ۔ فالحمدلله على ذالك!
پس یہ نیچری باوصف تنسیخ اپنے آپ کو خواص اولیاء اور دین کے تائید کرنے والوں سے جان رہا ہے ۔ ایسا ہی حال ہے صاحب براہین کا علماء راسخین کی نظروں میں ۔ چنانچہ مولانا فیض الحسن مرحوم سہارنپوری نے اپنے اخبار شفاء الصدور میں صاف لکھ دیا ہے کہ مرزا قادیانی مثل علی گڑھی نیچری کے ہے ۔ یعنی اختلال دین اسلام واضلال خواص وعوام میں رہا۔ یہ ادعا براہین والے کا کہ میں اکثر اکابر اولیاء ما تقدم سے افضل ہوں ۔ سو یہ بھی مثل دعویٰ نمونہ انبیاء کے سراسر باطل ہے ۔ کیونکہ صحابہ اور تابعین کی فضیلت ساری امت پر بحکم قرآن شریف اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہے ۔ جیسا کہ دینی کتابوں میں مرقوم ہے اور باقی حال فضیلت اس مدعی کا آئندہ ظاہر ہو جائے گا۔ اس تحریر کو یاد رکھ کر سنئے کہ عجائب ملہمات مرزا قادیانی سے وہ بھی ہیں جوص ۲۹۸ خزائن ص ۵۹۳ میں انا انزلناه قريباً من القادیان ۔ لکھ کر اس کا ترجمہ خود یوں
الراقم ای غلبة تقابل فتح مكة التى نكست رقاب الجبابر من وقعتها الى يوم ذلک الفتح واى ظهور الدين توازى تطهير اول بيت وضع للناس من الارجاس والادناس واما يقول الضعيف بان هذه البعثة تحصل وقت نزول المسيح من السماء فلا يلزم منه ان هذه الاية بشارة فى حق المسيح لا غيره وان المراد من قوله تعالى ارسل رسوله عين النبى الامى صلى الله عليه وسلم بل المراد منه ان المسيح على نبينا و عليه السلام لما ينزل من السماء يكون تابعاً للشرع المحمدى و يؤيد هذا الدين فهو ايضا فرع غرس سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وصحبه اجمعين قال مولانا القارى فى شرح الفقه الاكبر فيجتمع عيسى بالمهدى على نبينا و عليهما السلام وقد اقيمت الصلوة فيشير المهدى لعيسى بالتقدم فيمتنع معللاً بان هذه الصلوة اقيمت لک فانت اولى بان تكون الامام فى هذا المقام و يظهر ابهة لنبينا عليه السلام كما اشار صلى الله عليه وسلم الى هذا المعنى بقوله لو كان موسى حيا لما وسعه الا اتباعى و قد بينت وجه ذلک عند قوله تعالى واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتب و حكمة ثم جاء کم رسول الاية فى شرح الشفاء و غيره انتهى وما افاده مولانا القارى عليه رحمة البارى هو المذكور فى خلاصة التفاسير فالحاصل ان تلک الاية الشريفة انما هى فى حق النبى صلى الله عليه وسلم بحكم القران فدعوى صاحب البراهين بديهية البطلان واما قوله ولكنى فى الايات والانوار و غير ذلک نموذج المسيح فى حياته الاولى و فطرتى و فطرة المسيح متشابهان تشابها تاما كاننا نصفان من جوهرة او ثمرتان من شجرة انتهى فيشعر بدعوى مساواته بالمسيح على ما هو مفاد لفظ نموذج و فقرة كاننا نصفان من جوهرة
کرتا ہے کہ یعنی ہم نے (یعنی خدا فرماتا ہے) ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام کو پر از معارف وحقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔ اور ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے۔ اور بضرورت حقہ اترا ہے۔ خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا۔‘‘ نیز اس کا دعویٰ کہ ’’ یہ آخری فقرات اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کے لئے حضرت نبی کریم ﷺ اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اشارہ فرما چکے ہیں۔ (یعنی ص ۲۹۷ خزائن ص ۵۹۳ میں حدیث :’’لو كان الايمان معلقا بالثريا لناله . ‘‘ کا اشارہ (مرزا قادیانی کی طرف ہے۔ ) اور خدا تعالیٰ اپنے کلام مقدس میں اشارہ فرما چکا ہے۔ چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم کے الہامات میں درج ہو چکا ہے اور فرقانی اشارہ اس آیت میں ہے:’’ھو الذی ارسل رسولہ . ‘‘ (یعنی خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس سچے دین کو سب دینوں پر غالب کر دے۔) یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کی رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی مشابہ واقع ہوئی ہے۔ گویا ایک جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک درخت کے دو پھل ہیں۔ اور بحدے اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری
الخ فى الاتقان فى علوم القران قال حازم و انما تستعمل اى كان حيث يقوى الشبه حتى يكاد الرائى يشك فى ان المشبه به هو المشبه وغيره ولذلک قالت بلقيس اى كما اخبر الله سبحانه به كانه هو انتهى و صاحب البراهين فى هذا القول كاذب البته اما اولاً فلان دعوى المساواة بالانبياء باطل لما تقرر من عقيدة اهل السنة بان الولى لا يبلغ درجة النبى كما فى شرح الفقه الاكبر و شرح العقائد للنسفى وغيرهما واما ثانياً فلان المسيح على نبينا و عليه السلام كان من آياته ان يبرء الاكمه والابرص ويحى الموتى باذن الله واذا قال من انصارى الى الله قال الحواريون نحن انصار الله كما هو منصوص القران الكريم وهذا القائل ماظهر شئ من هذه الخوارق منه وما امن به احد من النصارى والهنود الذين صنف كتابه فى مقابلتهم سيما النصرانى الذى طبع ثلث حصص كتابه فى مطبعه مع انه تضرع الى الله سبحانه بخلوص قلبه وكمال تضرعه و ابتهاله لايمان جميع النصارى خصوصاً وطبع هذا الدعاء منذسنتين ونصف سنة فى اخر اشتهاره الذى مر النقل منه فيما قبل والدعاء هذا اللهم اهد للمستعدين من جميع الاقوام سيما الحكام من النصارى فانهم برحمهم واحسانهم الينا و امتنانهم علينا بلبلونا بلبالاً لنتضرع بخلوص القلب و خضوع الباطن لخير دنياهم و دينهم و نسئل الله تعالى خير هم فى الدنيا والاخرة اللهم اهدهم وايدهم بروح منک و اجعل لهم حظا كثيرا فى دينک و اجذبهم بحولک وقوتک ليومنوا بكتابک و رسولک و يدخلوا فى دين الله افواجا امين ثم امين والحمد لله رب العلمين المشتهر مرزا غلام احمد
طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے۔ اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔ اگر وہ حامد ہے تو یہ احمد ہے اور اگر وہ محمود ہیں تو یہ محمد ہے۔ سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے۔ یعنی حضرت مسیح پیشگوئی متذکرہ بالا کے ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔ یعنی روحانی طور پر دین اسلام کا غلبہ جو حجج قاطعہ اور براہین ساطعہ پر موقوف ہے۔ اس عاجز کے ذریعہ سے مقدر ہے۔ گو اس کی زندگی میں یا بعد وفات ہو۔“ انتہاء بلفظہ !
(ص ۲۹۸ ۲۹۹ خزائن ص ۵۹۳ ۵۹۴)
فقیر کان الله له کہتا ہے کہ انزال اور تنزیل قرآن کی اصطلاح میں آسمانی کتابوں کے اتارنے میں مستعمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسولوں پر نازل کی گئی ہیں۔ جیسا کہ ابتدائے سورۃ بقرہ میں قرآن اور اس سے پہلے آسمانی کتابوں کے اترنے کو انزال کے لفظ سے ادا فرمایا ہے۔ پھر سورۃ آل عمران میں قرآن مجید کے اتارنے کو تنزیل اور انزال اور انجیل توریت کے بھیجنے کو انزال کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور علیٰ ہذا القیاس بہت سی آیات قرآنیہ سے ایسا ہی ثابت ہے۔ پس جب براہین والے نے اپنے ملہمات کو :”انا انزلناہ“ سے تعبیر کیا اور بعد ازاں آیت: ”وبالحق انزلناہ ۔ “ سے جو صرف قرآن مجید کی صفت تھی اپنی ملہمات کی صفت قرار دیا تو یہ تصریح ہے اس پر کہ وہ اپنی ملہمات کو مثل قرآن جانتا ہے۔ پھر لفظ حق جو دونوں جگہ قرآن کی راستی کے بیان میں تھا اس کو ضرورت حقہ سے ترجمہ کرنا اللہ سبحانہ
القادیانی فہذا الدعاء الذی دعا بکل خضوع قلبہ و ھلوع باطنہ نسئل اللہ تعالیٰ ان یجذبھم بحولہ وقوتہ لیدخلوا فی دین اللہ افواجا فما امن رجل واحد من النصاری علی یدہ الی الان فضلاً عن ان یؤمنوا جمیعا و یدخلوا فی دین اللہ افواجا لظھر عدم المشابھۃ بین ویان صاحب البراھین فی الایات والانوار وغیر ذلک و کذلک لیست المشابھۃ بینھما فی الفطرۃ لان المسیح و لد بغیر اب من نفخۃ روح رسول کریم کما یشھد بہ القران والحدیث و اجماع الامۃ وصاحب البراھین و لد من نطفۃ غلام مرتضی القادیانی الحکیم کما یعلم الانام من الخواص والعوام بل صرح ھو فی کتابہ ان والدہ ھذا اید الحکام وقت بلوی عساکرھم فی سوالف الایام فکیف یشبہ من خلق من مآء مھین بمن قال اللہ سبحانہ فی شانہ و جعلناھا و ابنھا ایۃ للمسلمین وقولہ والمشابھۃ الظاھریۃ بیننا ثابتۃ ایضا بان المسیح تابع لدین موسی وانجیلہ فرعا لتوریۃ وہذا العاجز الی صاحب البراھین من احقر خادمی سیّد المسلمین صلی اللہ علیہ وسلم الخ ھذا ایضاً باطل بالیقین اما اوّلاً فلان المسیح ما کان تابعا لدین موسی بل کان من اولی العزم من الرسل ای صاحب بشریعۃ مستقلۃ وانجیلہ ما کان فرعا التوریۃ بل الانجیل ینسخ التوریۃ فی بعض الاحکام کما سنبین دلیلہ من کلام الملک العلام قال عز من قائل فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل قال ابن کثیر رضی اللہ عنھما اولوالعزم ذو والحزم وقال الضحاک ذو والجھد والصبر قال ابن عباس وقتادۃ ھم نوح ابراھیم وموسی و عیسیٰ اصحاب شرائع فھم مع محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم الہ وسلم خمسۃ قلت ذکر ھم اللہ علی التخصیص فی قولہ واذا اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک وتعالیٰ پر ان ملہمات کا انزال واجب ٹھہرانا ہے۔ حالانکہ یہ مخالفت صریح ہے عقائد اہل سنت سے۔ کہ شرح فقہ اکبر و شرح عقائد نسفی و غیرہما جمیع کتب عقائد میں درج ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کچھ بھی واجب نہیں ہے اور نیز اس کلام سے اشارہ ہے اس پر کہ دین ساری دنیا سے کیا عرب کیا عجم گم ہوگیا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مقام قادیان کو انزال ملہمات کے واسطے اختیار فرمایا۔ چنانچہ چوتھے حصے کتاب کے اخیر اس نے تصریح کی ہے کہ طریقہ حقہ جو حال کے زمانہ میں اکثر لوگوں پر مشتبہ ہو گیا ہے اور بعض یہودیوں کی طرح صرف ظواہر پرست اور بعض مشرکوں کی طرح مخلوق پرستی تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ طریقہ خداوند کریم کے اس عاجز بندہ سے دریافت کرلیں اور اس پر چلیں۔
اور اس سے اوپر لکھتا ہے کہ : ”فاتخذو من مقام ابراہیم مصلیٰ . “ میں مجھ کو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم بنایا ہے اور ساری خلقت کو میری اتباع کے واسطے فرمایا ہے۔ جیسا کہ اوپر ص ۵۶۲، ۵۶۱ خزائن ص ۶۶۹ ، ۶۷۰ سے منقول ہو چکا ہے۔ پس بے شک اس نے اپنے قادیان کو مکہ معظمہ کی مثال نزول وحی میں بتایا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آنحضرتﷺ کو ارشاد ہوا تھا: ”وکذالک اوحینا“ یعنی اور ایسا ہی وحی بھیجی ہم نے تیری طرف قرآن عربی تا کہ تو ڈرائے مکہ والوں کو جو اس کے گردا گرد ہیں اور اصل قرآن مجید کے نزول کے بعد کسی چیز کے نزول کی کچھ بھی حاجت نہیں ہے۔ کیونکہ متقیوں کے لئے ہدایت ہے اور شرع محمدی میں قیامت تک امت مرحومہ کے واسطے کفایت ہے۔ پس یہ ادّعا کہ حق تعالیٰ نے ضرورت حقہ کے واسطے قادیان پر معارف والہامات نازل کئے ہیں۔ حق سبحانہ پر محض افتراء اور بالکل تقول فی دین اللہ ہے اور اس
ومن نوح وابراهيم و موسى و عيسى ابن مريم و فى قوله تعالى شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا والذى اوحينا اليك وما وصينا بهابراهيم و موسى و عيسى قاله البغوى فى معالم التنزيل وهكذا فى عامة التفاسير وفى شرح الفقه الاكبر لمولانا القارى عليه و على المفسرين رحمة البارى وقولهم تعالى انا انزلنا التوراة فيها هدى و نور يحكم بها النبيون الذين اسلموا للذين هادوا والرب نيون والاحبار بما استحفظوا من كتب الله وكانوا عليه شهداء فلا تخشوا الناس و اخشون ولا تشتروا بايتى ثمنا قليلا ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الكافرون وقوله تعالى بعد هذه الاية باية واحدة وقفينا على اثارهم بعيسى ابن مريم مصدقا لما بين يديه من التورية واتينه الانجيل فيه هدى ونور و مصدقا لما بين يديه من التورية و هدى و موعظة للمتقين وليحكم اهل الانجيل بما انزل الله فيه ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الفسقون فثبت من هاتين الايتين ان الشريعة الموسوية والعيسوية شريعتان مستقلتان ومن قال ان الانجيل فرع التورة يكذب القران و قولهم تعالى حكاية عن عيسى على نبينا و عليه صلوة والسلام ومصدقا لما بين يدى من التورية ولاحل لكم بعض الذى حرم عليكم اى فى شريعة موسى من الشحوم واليك ولحوم الابل والعمل فى السبت وهو يدل على ان شرعه كان ناسخا لشرع موسى قاله القاضى بيضاوى فى تفسيره و هكذا فى المدارك والجلالين والبغوى و غيرها فتحقق من القران المبين تكذيب صاحب البراهين فى الحمد لله رب العلمين واما ثانيا فلان قول صاحب البراهين بانه من احقر خادمى سيد
افتراء کی دلیلوں سے یہ بھی کہ مؤلف براہین نے اس کے ترجمہ میں انزلناہ کی ضمیر مذکر کو مرجع مونث کی طرف راجع کیا ہے۔ یعنی مرجع اس کا خوارق اور امور معجبہ بتاویل جماعت قرار دیا ہے اور اس میں شک نہیں کہ واحد مذکر کی ضمیر جمع کی طرف راجع نہیں ہوسکتی۔ پس ان معنوں سے صحیح کلام یوں تھا۔ انا انزلناھا تو ایسی غلط صریح کلام کو خدائے سبحانہ کی جانب منسوب کرنا تیرا بہتان نہیں تو اور کیا ہے؟ ۔ پھر قرآنی آیات جو آنحضرت ﷺ پر صد ہا سال سے نازل ہو چکی ہیں اب ان کے اتارنے میں کیا فائدہ ہے؟ ۔ بلکہ لاطائل اور تحصیل حاصل ہے۔ اس جگہ اگر کسی کو شبہ گزرے کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو مخاطب کر کے فرمایا ہے ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے جس میں تمہارا ذکر ہے۔ پس تم کیوں نہیں سمجھتے اور یہ بھی فرمایا اور بے شک ہم نے اتاریں تمہاری طرف آیتیں جس سے ثابت ہوا کہ قرآن مسلمانوں کی طرف اتارا گیا ہے تو کیا مانع ہے۔ اگر خوارق وغیرہ بہ توسل آیات قرآنی براہین والے پر نازل ہوں؟ ۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ قرآن عظیم صرف رسول کریم ﷺ پر ہی اترا ہے۔ لیکن جبکہ قرآن میں ایسے احکام بھی بہ کثرت ہیں جن کی تبلیغ کے لئے آپ ﷺ مامور تھے۔
خواہ مومنین کو خواہ جمیع بنی آدم کو تو اس نظر سے مجازاً یوں بھی کہنا صحیح ہو گیا کہ قرآن لوگوں کی طرف اتارا گیا ہے۔ اور اصل میں معاملہ یہی ہے جو ارشاد ہوا ہے: ’’ وانزلنا اليك الذكر ،، یعنی اور ہم نے تیری طرف نصیحت اتاری ہے تا کہ تو لوگوں سے بیان کر دے اور وہ فکر کریں۔ علاوہ ازیں وقت نزول قرآن کے مومنین کی طرف قرآن کا نزول کی اسناد باوصف اس یقین کے کہ آنحضرت ﷺ کے اب تیرہ سو برس کے بعد صاحب براہین آیات قرآنی کا منزل علیہ بن جائے اور
الرسل صلی الله عليهم اجمعين صريح البطلان لانه يدعى مساواته في كمالاته و ينسب خصوصاته المنصوصة به صلی الله عليه وسلم الى غيره فكيف لا و ان هذا المدعى صرف عنه صلى الله عليه وسلم فضيلة الرسالة المشهود بها من الله تعالى في اية هو الذي ارسل رسوله الاية واثبت تلک الفضیلة اولا في حق المسيح لعله لتاليف قلوب حكام هذا الديار واظهار لمحبته معهم لجلب المنافع و دفع المضار وثانياً لنفسه ليظنه الجهال رئيس الاولياء و نموذج الانبياء و ليغبنهم غبنا فاحشا باشتراء كتابه بالثمن الغالي ليحصل اليه الدراهم والدينار زائد العدد والانحصار فانه دال على حب الدنيا كما لا يخفے عند اولی الابصار و سنبين هذا الامر بزيادة الاظهار فثبت من النقولات السابقة واللاحقة ان مؤلف البراهين محرف لايات القران المبين فليس له مشابهة ولا مماثلة باحد من المومنين المخلصين فضلاً من التفضيل على الاولياء الكاملين و كونه نموذج الانبياء والمرسلين فنعوذ من هذه الدعاوى الباطلة برب العلمين ولا يخفے ان تحريفه القرآن ليس منحصرا في التحريف المعنوی بل حرف كثيرا من الآيات تحریفا لفظیا ايضاً الا ترى فی ملهماته المزبورة اعلاه انه حرف ایته قل انى امرت ان اکون اوّل من اسلم وايته تبت الیک وانا اوّل المؤمنین ورکب منهما اية ثالثة هذه قل انى امرت و انا اوّل المؤمنین وبدل ایته انه عمل غیر صالح وزاد في اوّل ایته ما انت بنعمة ربك بمجنون حرف الواو و كتب الحاء بدل الهاء في اية وزهق الباطل وغير واو واتخذوا من مقام ابراهیم مصلے بالفاء وترک فقرة و مطهرک من الذین کفروا من بین اية يا عيسى انى متوفیک ورافعک الایة کما نقلناه من صفحة ۵۵۶ و کذلک فی اس کے حق میں راست آئے انا انزلناه قریباً من القادیان ۔ پس یقیناً یہ بہتان اور ہذیان ہی ہے اور یہ ادعا براہین والے کا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر قرآن مجید میں دی ہے اور ایسا ہی آنحضرتﷺ نے حدیث میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ بھی بالکل باطل ہے۔ کیونکہ اس حدیث صحیح کا مشار الیہ امام اعظمؒ ہے۔ جیسا کہ بہت سے محدثین اور فقہاء نے اس پر تصریح کی ہے جس کا شمہ فقیر نے رسالہ ”تصریح ابحاث فریدکوٹ“ اور رسالہ ”عمدۃ البیان فی اعلان مناقب النعمان“ میں بیان کیا ہے اور ایسا ہی آیت: ”هو الذی ارسل رسوله، “ نہ حضرت مسیح کے حق میں پیشین گوئی ہے اور نہ براہین والے کی طرف اس میں اشارہ ہے۔ بلکہ بالیقین باتفاق جمیع مفسرین بل بشہادت قرآن مبین سید المرسلینﷺ وعترتہ اجمعین کے حق میں نازل ہے۔ دیکھو اس کے اخیر:”وکفی بالله شهیدا، “ کے ساتھ ہی محمد رسول اللہﷺ قرآن شریف میں مرقوم ومرسوم ہے۔ اور محی السنۃ اپنی تفسیر میں تصریح کرتا ہے کہ محمد رسول اللہﷺ پر کلام ختم ہوتی ہے۔ یعنی جس رسول کے بھیجنے کی حق سبحانہ نے خبر دی ہے وہ محمد رسول اللہﷺ ہے۔ حضرت ابن عباسؓ حبر امت اور اعلم بتفسیر قرآن سے یہ روایت ہے پھر:”والذین معہ، “ دوسری کلام شروع ہوئی۔ یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر معالم التنزیل کا۔ پس اس آیت کو آنحضرتﷺ کے سوا کسی دوسرے کے حق میں وارد کرنا قرآن مجید اور تفسیروں کے صریح مخالف ہونا ہے۔
افسوس اس شخص کی سخت نادانی پر جو اس آیت کو بطور جسمانی حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں اور بطور روحانی اپنے لئے پیشین گوئی بنا رہا ہے اور اتنا بھی نہیں جانتا کہ اس کی ابتداء میں لفظ ماضی ہے جس سے صریح ثابت ہے کہ وہ
ص ۵۱۹ من کتاب سندک تلک الفقرة من هذه الاية وهكذا الحال في كثير من الايات عما يظهر بالتامل على الفاظ القران المبين ولهذا جعل القران حصين و ذلک کثير جداً في ملهماته ولا يذهب علیک انه من سهو قلم الناسخ ان مولفه صريح في ص ۵۱۶ من کتابه انه طبع هذا الكتاب بتصحيحه و تنقيحه و مع ذلک ترجم ذلک الايات المحرفت حسب تحريفه هذا وقد قال انه الهم اليس وما كان اللّٰه ليعذبهم وانت فيهم وما كان اللّٰه ليعذبهم وهم يستغفرون ص ۵۱۴) وفى القران بعد ما كان اللّٰه الثانى كلمة معذبهم فحرفها بلفظة ليعذبهم وقال ص ۵۵۵) انه انزل عليه اية وكذلك مننا على يوسف لتصرف عنه السوء والفحشاء ثم صرح في اخر ترجمتها ان المراد ههنا من يوسف نفسه فحرف اية وكذلک مكما ليوسف بقول و کذلک مننا على يوسف ومن غرائب ملهماته المحرفة والمبدلة لايات القران ماانزله في وصف نفسه و كتابه في ص ۴۹۷ و ۴۹۸) وهی هذه ان الذين كفروا وصدوا عن سبيل اللّٰه رد عليهم رجل من قادس شكر اللّٰه سعيه عنى فى ترجمة هذ الالهام زعم نجل من فارس نفسه لا يدعى كونه من اولاد قارس فسمی نفسه فارسی الاصل و جعل اللّٰه سبحانه شاکره ثم كتب هذا الالهام کتاب و برکات عميمة لكتابه البراهين انتهى و کتب بعده هذا الالهام ولو كان الايمان معلقا بالثريا لناله و صرح فى ترجمته ان المراد من هذا الحديث نفسه و بعده هذا الالهام يكاد زينه يغنى و لم تمسه نار و ترجم هذه الاية واوردها فى وصف كتابه و کتب بعدها هذا الهام ام يقولون نحن جميع منتصر سيهزم الجمع و
رسول ﷺ بھیجا گیا ہے تو اس سے آئندہ میں رسول کا آنا مراد رکھنا قرآن مجید کی تحریف ہے۔ اور پھر اس آیت میں جو لفظ رسول کا ہے تو اس سے اپنے نفس کی مراد رکھنی اور حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ اپنی شرکت ابتدائی ثابت کرنی یہ دعوٰی رسالت کا نہیں تو اور کیا ہے؟ اور اس آیت کے غلبہ موعود کو بوسیلہ حضرت مسیح ظہور میں آنے کا دعوٰی کرنا بموجب قول جمہور مفسرین کے باطل ہے۔ کیونکہ یہ غلبہ سرور عالم ﷺ کے ظہور پرنور سے حاصل ہو گیا اور آپ ﷺ پر نعمت الٰہی تمام ہو چکی۔ جیسا کہ آیت: ”الیوم اکملت ٠“ اس پر شاہد ہے۔ چنانچہ تفسیر کبیر وغیرہ میں اس پر تصریح ہے اور فقیر راقم الحروف کہتا ہے کہ فتح مکہ سے بڑھ کر جو کسی بشر کو نصیب نہیں ہوئی ہے کون سا غلبہ دین اسلام کا ہوگا؟۔ اور بیت اللہ کو بتوں کی پلیدیوں سے پاک کرنے سے کون سا ظہور دین متین مقابل ہو سکے گا؟۔ اور دوسرا قول ضعیف کہ غلبہ وقت نزول حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان سے ہوگا۔ اس پر ہرگز دلیل نہیں بن سکتا کہ یہ آیت حضرت مسیح علیہ السلام وغیرہ کے حق میں پیشگوئی ہے اور ”رسولہ“ سے آنحضرت ﷺ کے سوا کوئی اور مراد ہے۔ حاشاوکلا! بلکہ مراد اس قول ضعیف سے یہ ہے کہ حضرت مسیح علٰی نبینا وعلیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو شرع محمدی کے تابع ہوکر دین اسلام کی تائید کریں گے۔ تو یہ بھی سرور عالم ﷺ کے ہی غلبہ کی فرع ہوئی۔ ملا علی قاری علیہ الرحمہ فقہ اکبر کی شرح میں لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح حضرت مہدی سے جب اتر کر ملاقاتی ہوں گے تو نماز کی تکبیر ہو چکی ہوگی۔ حضرت مہدی ان کو امامت کے لئے اشارہ کریں گے۔ تب حضرت مسیح امامت نہ کریں گے۔ بایں عذر کہ یہ تکبیر آپ کے لئے ہوئی ہے۔ آپ کی امامت اولیٰ ہے۔ تب حضرت مسیح مقتدی ہوں گے۔ تا کہ ان کی متابعت سرور عالم ﷺ : ”اخوانه وعترته وسلم٠“ سے ظاہر ہو جائے۔ جیسا کہ آپ ﷺ
يولون الدبر و ان يرو اية يعرضوا و يقولوا سحر مستمر و استيقنتها انفسهم وقالوا لات حين مناص فبما رحمة من الله لنت عليهم ولوكنت فظا غليظ القلب . لا نفضوا من حولک ولو ان القرآن سيربه الجبال انتهی و صرح فی ترجمة هذه الايات انها فی بیان ان المخالفين يعجزون عن جواب ذلک الكتاب وانطبقت على هذه الايات في حق القوم الذين خيالهم و حالهم هكذا يعنى انهم مع روية الايات والخوارق ينكرونها باللسان و يتيقنون بالجنان ولعل الناس ياتون بعدهم على صفتهم هذه ترجمة عبارته ملخصة فيقول العبد الضعيف انه حرف ههنا تحريفا لفظياً كثيراً و بهت بهتانا كبيراً لان الحديث الصحيح المتفق عليه الفاظه لوكان الايمان معلقا بالثريا لتناوله رجال اورجل من فارس فزاد فى اوله الواو وبدل لتناوله بلفظ لناله و حذف فاعله براسه وهذا غير جائز ثم حرف لفظة زيتها الواقعة فی القرآن بكلمة زيته لرعاية المرجع المذكور وهو كتابه و حرف اية فنادوا لات حین مناص بقوله وقالوا لات حين مناص فى تبديل الواو بالفاء ونادوا بقالوا و حذف واو ولات فی ثلث مواضع من کتابه احدها فی هذا المقام و فی ص ۴۹۰ و ۴۹۷ و تبدل ايضاً بحسب هذا التحريف و بدل اية ولوان قرآناً سيرت به الجبال بقوله ولو ان القران سيربه الجبال بازدياد اللام على قرانا و حذف تاء سيرت ومعهذا ابدل ترتيب ايات سورة القمر اعنی كتب ايتين من اخر هذه السورة و هما ام يقولون نحن جميع منتصر سيهزم الجمع ويولون الدبر فی ابتداء الالهام و سطر اية ابتداء تلك السورة بعدهما و ترجم على هذا التركيب فهذا تبديل في ترتيب ايات سورة واحدة و قد قرر في الشرع ان ترتيب ايات السور توقيفى بامر الشارع بدلالة الاحاديث
نے حدیث : ’’ لوکان موسی حیاً ‘‘ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یعنی اب اگر موسیٰ زندہ ہوتا تو اس کو بجز میرے متابعت کے کوئی اور چارہ نہ ہوتا۔ پھر ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ اس اتباع کی وجہ سے ہم نے شرح شفاء وغیرہ میں آیت: ’’ واذ اخذ الله میثاق النبیین ۰ ‘‘ کے نیچے بیان کی ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا۔ اور ایسا ہی عامہ تفاسیر میں درج ہے کہ آنحضرت ﷺ متبوع جمیع انبیاء ہیں۔ بلکہ مواہب لدنیہ ودیگر کتب سیر میں تصریح ہے کہ آپ ﷺ نبی الانبیاء ہیں۔ الغرض آیت: ” ھوالذی ارسل رسوله “ سرور عالم ﷺ کے حق میں ہے۔ کوئی دوسرا اس کا مورد نہیں ہے۔ براہین والے کا دعویٰ سراپا باطل اور جھوٹ ہے۔ پھر یہ دعویٰ اس کا کہ میں آیات و انوار و توکل وایثار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہوں اور فطرت میں باہم نہایت مشابہ گویا ایک جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک درخت کے دو پھل : ’’ کمامر نقله على الصدر ‘‘ سو یہ دعویٰ بھی مساوات کا ہے۔ مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام سے۔ جیسا کہ نمونہ کا لفظ اور گویا کلمہ تشبیہ کا مفاد ہے تفسیر اتقان میں منقول ہے کہ گویا یعنی ترجمہ كأن کا وہاں مستعمل ہوتا ہے جہاں بہت قوی مشابہت ہو۔ یہاں تک کہ دیکھنے والا مشبہ اور مشبہ بہ میں فرق نہ کر سکے اس لئے بلقیس کے قول سے اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ گویا یہ تخت وہی ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت اتقان کا۔
اب فقیر کہتا ہے کہ براہین والا اس دعویٰ میں بے شک کاذب ہے۔ اولاً اس لئے کہ حضرت مسیح تو مادر زاد اندھے، کوڑھی کو تندرست اور مردہ کو بحکم خدا زندہ کر دیتے تھے اور جب انہوں نے کہا کہ تائید دین میں میرا کون مددگار ہے؟
الصحيحة واجماع الامة الاسلامية كما عقد العلامة السيوطى فصلا مستقلا فى بيان هذه المسئلة فى تفسيره الاتقان فى علوم القران بالبسط الوسيع و ذكرها مبسوط المحدث الدهلوى فى شرحيه المشكوة المصابيح و نص صاحب تفسير فتح العزيز فى ابتداء سورة البقرة بعد تحقيق هذه المسئلة على حرمة مخالفة هذا الترتيب و كونها بدعة شنيعة من شاء الاطلاع على اصل العبارات لتكميل الاعتبار فلينظر فى هذه الاسفار فتبين ان هذه الالهامات المحرفة لايات القران البين والمبدل ترتيبها المتين والجاعلة القران عضين ليست من القاء رب العلمين بل هى تسويلات نفسانية و تلبيسات شيطانية عند الحق واليقين فكيف تقبل هذه التحريفات و التبديلات وغيرها ان كانت من عند غير الله فلاشك فى حرمتها وكونها بدعة شنيعة واما اذا كانت من عند الله كما يدعيه صاحب البراهين فلا جناح عليه والله يفعل ما يشاء و يحكم ما يريد اقول قال الله فى سورة الانعام ولا مبدل لكلمت الله وايضاً فيها و تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلمته اى لا احد يبدل شيئا منها بما هو اصدق واعدل او لا احد يقدر ان يحرفها تحريفا شائعا ذائعاً كما فعل بالتورة او لا نبى وكتاب بعدها ينسخها و يبدل احكامها قاله القاضى بيضاوى وغيره من المفسرين وقال تعالى و انه لكتاب عزيز كثير النفع عديم النظير او منيع لا يتاتى ابطاله و تحريفه. لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه من جهة من الجهات تنزيل من حكيم حميد يحمده كل مخلوق كذافى انوار التنزيل و غيره فعلم من القران ان الله تعالى لم يشاء تبديل القران بل اتمه بالصدق
تو حواری بول اٹھے کہ ہم خدا کے دین کے مددگار ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں مکرر ارشاد ہے اور براہین والے نے اب تک کوئی ایسا خارق نہیں دکھلایا۔ اور نہ نصرانی وہنود سے کسی نے اس پر ایمان قبول کیا ہے۔ بلکہ وہ نصرانی جس کے مطبع میں اس نے تین حصے اپنی کتاب چھپوائی ہے وہ بھی مسلمان نہ ہوا اور اس کی مدد میں اس نے مصروفیت نہ کی۔ باوصفیکہ براہین والے نے کمال تضرع اور خلوص قلب سے جمیع نصاریٰ کے ایمان کے واسطے دعائیں مانگی ہیں اور وہ دعا اخیر میں اس اشتہار کے مدت اڑھائی برس سے چھپ کر شائع ہوئی ہے۔ وھو ھذا ! بالاخر اس اشتہار کو اس دعا پر ختم کیا جاتا ہے۔ ’’اے خداوند کریم تمام قوموں کے مستعد دلوں کو ہدایت بخش۔ بالخصوص قوم انگریز جن کی شائستہ اور مہذب اور با رحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ معاملات سے ممنون کر کے اس بات کے لئے دلی جوش بخشا ہے کہ ہم ان کی دنیا و دین کے لئے دلی جوش سے بہبودی و سلامتی چاہیں۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے ان کی دنیاوی اور اخروی بھلائی کا سوال کرتے ہیں۔ بارخدایا ان کو ہدایت کر اور اپنی روح سے ان کی تائید کر اور ان کو اپنے دین میں وافر حصہ دے اور ان کو اپنی طاقت اور قوت سے اپنی طرف کھینچ تا کہ تیری کتاب اور تیرے رسول علیہ السلام پر ایمان لائیں اور فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہوں۔ آمین ثم آمین والحمدللہ رب العالمین!‘‘ المشتہر مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور‘ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۲۵
پس یہ دعا جو بکمال حضور باطن براہین والے نے نصاریٰ کی قوم کے واسطے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قوت اور طاقت سے ان کو دین اسلام میں کھینچے اور وہ فوج در فوج مسلمان ہوں۔ اس رسالہ کی تالیف تک ان میں سے مرزا قادیانی کے ہاتھ پر کوئی بھی ایمان نہیں لایا۔ چہ جائیکہ سب انگریز ایمان لاتے اور فوج در فوج مسلمان ہوتے۔ پس صریح ثابت ہوا کہ براہین
والعدل و يحفظه من التحريف والتبديل ونظمه و رتبه فى اعلى درجات من البلاغة والفصاحة وغيرهما فلا يتصور كلام احسن منه بالنظم والترتيب و غيرهما و لا يمكن تحريفه و تبديله لا من جهة نبي و كتاب من الله تعالى لانه خلاف الوعد والله لا يخلف الميعاد ولا من جهة غيرهما فتحقق ان هذه الملهمات المحرفة والمبدلة لايات القران المبين ليست من الله المعين بل من نفسانية صاحب البراهين ومن شيطانه الذى هو له قرين فنعوذ بالله من الالحاد فى ايات الفرقان المتين قال عز من قائل ان الذين يلحدون يميلون عن الاستقامة فى اياتنا بالطعن والتحريف والتاويل الباطل والاشتباه فيها لا يخفون علينا فنجازيهم على الحادهم فمن يلقى فى النار خير ام من ياتى يوم القيمة اعملوا ماشئتم تهديد شديد انه بما تعملون بصير وعيد بالمجازاة كذافى انوار التنزيل و مدارك التنزيل و غيرهما وقال تعالى و من اظلم ممن افترى على الله كذبا اوقال اوحى الى ولم يوح اليه شئ الاية وقوله تعالى ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا بان اسند اليه مالم ينزله او نفى عنه ما انزله اولئك يعرضون على ربهم فى الموقف بان يحبسوا او تعرض اعمالهم و يقول الاشهاد من الملائكة و النبين او من يواليهم هولاء الذين كذبو على ربهم الا لعنة الله على الظلمين تهويل عظيم مما يحيق بهم بظلمهم بالكذب على الله كذافى انوار التنزيل و غيره ومن اقسام الكذب على الله الغلط فى نقل العلم والدعاوى الكاذبة والحكم فى الدين بمقتضى العقل يعنى خلاف الشرع والادعاء بالكشف او القرب من الله تعالى قاله الشيخ عبدالقادر الدهلوى فى ترجمة المسماة بموضح القران قال على القارى عليه رحمة البارى فى شرح الفقه الاكبر وهولاء الذين
والے کو حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام اور علیٰ ہذا القیاس فطرتی مشابہت کا دعویٰ بھی جھوٹ ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام تو بن باپ روح کے پھونکنے سے پیدا ہوئے تھے جس پر قرآن مجید شاہد ہے اور براہین والا حکیم غلام مرتضیٰ قادیانی کے نطفہ سے پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ اس نے خود والد کے ایام بلوہ میں حکام وقت کی امداد کا تذکرہ لکھا ہے۔
(براہین حصہ سوم ص الف، خزائن ص ۱۳۸)
پس کیوں کر مشابہ ہو وہ شخص جس کی خلقت ماء مہین سے ہو۔ اس ذات پاک سے جس کو اللہ تعالیٰ آیت للعالمین فرمائے؟ اور یہ جو براہین والے نے اپنی مشابہت کی دلیل میں حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام سے یوں لکھا ہے کہ وہ تابع دین موسوی تھے اور ان کی انجیل توریت کی شرح تھی اور میں احقر خادمین سید المرسلین سے ہوں۔ سو یہ بھی بالیقین باطل ہے۔ اولاً اس لئے کہ حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام جناب موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کے تابع دین نہ تھے۔ بلکہ وہ تو اولو العزم رسولوں سے تھے جن کی شریعت مستقلہ ہوتی ہے اور آپ کی انجیل توریت کی فرع نہ تھی۔ بلکہ انجیل بعض احکام توریت کی ناسخ ہے۔ پہلے دعویٰ کی دلیل یہ ہے جو اخیر سورہ احقاف میں ارشاد ہے کہ: ”صبر کر جیسے اولو العزم رسولوں نے صبر کیا“۔ حضرت ابن عباسؓ اولو العزم کے معنی صاحب حزم لکھتے ہیں اور ضحاک نے صاحب جدوجہد لکھ کر پھر دونوں اولو العزم کے شمار میں حضرت نوح و ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم السلام چاروں اصحاب شرائع کا ذکر کر کے پانچویں آنحضرت ﷺ کو شامل ان کے جانتے ہیں۔ پھر صاحب معالم کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص کر کے اس آیت میں پانچوں
يفعلون هذه الافعال الخارجة عن الكتاب والسنة انواع نوع منهم اهل تلبيس وكذب و خداع الذين يظهر احدهم طاعة الجن له او يدعى الحال من اهل المحال كالمشائخ النصابين و الفقراء الكذابين والطرقية المكارين فهولاء يستحقون العقوبة البليغة التى تردعهم وامثالهم عن الكذب والتلبيس وقد يكون فى هؤلاء من يستحق القتل كمن يدعى النبوة بمثل هذه الخزعبلات او يطلب تغير شئ من الشريعة و نعوذ بالله من ذلك انتهى و ليعلم ههنا ان صاحب البراهين كتب فى ص ۵۲۰ و ۵۲۱ قصة الهامه بانى ذهبت يوما الى المولوى محمد حسين البتالوى للبحث معه فى مسئلة اختلافية بترغيب بعض الناس فلما سمعت تقريره اعلمته غير قابل الاعتراض و البحث معه لانه فاذا جن على الليل الهمنى الله بالمخاطبة بهذه الكلمات الهک رضی عن فعلک هذا) مشيرا الى ترک البحث مع ذلك المولوى وهو يعطيک بركة كثيرة الى ان السلاطين ياخذون البركه من ثيابک ثم رائت فى الكشف هولاء السلاطين راكبى خيولهم فى ذلك الحين انتهى بترجمة كلامه فهذا المولوى الممدوح بنهاية درجه الكمال و سبب حصول البركة من الله ذى الجلال لصاحب البراهين هو الذى رئيس غير المقلدين و تلميذ المولوى نذير حسين الدهلوى وقد كان هذا المولوى محمد حسين فى ابتدا الامر بحث بالمكابرة مع المقلدين و يعدهم من المشركين و يسمى تقليد ائمة المجتهدين شركا و كفرا كما طبع فى هذا الباب اشتهارات و اخبارات و غيرها فلما رد اقواله بجهد العلماء المقلدين اعانهم
کا ذکر کیا ہے۔ جو سورۃ احزاب کے ابتداء میں ہے اور اس کا ترجمہ یہ ہے کہ : ”اور یاد کر جب ہم نے نبیوں سے ان کا عہد لیا اور تجھ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ اور عیسیٰ مریم کے بیٹے ۔“ اور اس آیت سورۃ شوریٰ کی ابتداء میں بھی ان پانچوں کا ذکر ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ : ”راہ ڈالدی تم کو دین میں وہی جو کچھ دی تھی نوح کو اور جو حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور وہ جو کچھ دیا ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ اور عیسیٰ کو ۔“ یہ بغوی نے تفسیر معالم التنزیل میں لکھا ہے اور ایسا ہی لکھا ہے۔
اب دوسرے دعوے کی دلیل سنو کہ سورۃ مائدہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ : ”ہم نے اتاری توریت اس میں ہدایت اور روشنی اس پر حکم کرتے پیغمبر جو فرمانبردار تھے۔ یہود کو اور درویش اور عالم اس واسطے کہ نگہبان ٹھہرائے اللہ کی کتاب پر اور اس کی خبرداری پر تھے۔ سو تم نہ ڈرو لوگوں سے اور مجھ سے ڈرو اور مت خریدو میری آیتوں پر مول تھوڑا اور جو حکم نہ کرے اللہ کے اتارنے پر۔ سو وہی لوگ ہیں منکر۔“ پھر ایک آیت بعد اس کے شرع عیسوی کی بابت ارشاد ہے جس کا ترجمہ یہ ہے : ”اور پچھاڑی میں بھیجا ہم نے انہیں کے قدموں پر عیسیٰ مریم کا بیٹا سچ بتاتا توریت کو جو آگے سے تھی اور اس کو دی ہم نے انجیل جس میں ہدایت اور روشنی اور سچا کرتی اپنی اگلی توریت کو اور راہ بتاتی اور نصیحت ڈر والوں کو اور چاہیے کہ حکم کریں انجیل والے اس پر جو اللہ نے اتارا اس میں اور جو کوئی حکم نہ کرے اللہ کے اتارے پر سو وہی لوگ ہیں بے حکم ۔“ اب دونوں قرآنی آیتوں سے صاف ثابت ہے کہ شریعت موسوی و عیسوی دونوں علیحدہ علیحدہ شریعتیں ہیں جو انجیل کو توریت کی فرع بتاتا ہے قرآن مجید اس کو جھٹلاتا ہے۔
پھر سورۃ آل عمران میں حضرت مسیح سے حکایت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے : ”اور سچ بتاتا ہوں توریت کو جو مجھ سے
الله المعين رجع من تلک الشدة قليلاً و عاد من ذلک الجدال ذليلا و الان يشهر اهل الحرمين ظالمين باتباع استاذه نذیر حسین بسبب حبس استاذه فی مکة المحمیة سنة ۱۳۰۱ من السنین المجرية يشکو عنهم عند حكام هذه الديار من النصرانيين كما يظهر من هامش رسالة المسماة باشاعة السنة نمبر ۹ جلد ۷ ص ۲۵۶) وغيرها والله خير الناصرين والحافظين والعاقبة للمتقين فهذا محمد حسين يصف الكتاب البراهين اداء لشكر مؤلفه في رسائله المجرية على راس الشهور المسماة باشاعة السنة و بالغ في وصفه كثيراً كبيراً الى ان قال يجب على جميع المؤمنين من الشيعة و اهل السنة والمقلدين واهل الحديث ان يشتروا الكتاب البراهين باوفى قيمة (وهى خمس و عشرون ربیة) و يقرؤن فى شكر حصوله هذا البيت الفارسی بجمادی چند دادم جان خریدم+ بحمد الله عجب ارزان خریدم + و دعا الله سبحانه بان يشرفه و جميع المسلمين بفيوض هذا الكتاب المستطاب كما في ص ۳۲۸ نمبر ۱۱ جلد ۷ من اشاعة السنة شهر ذی العقدة و ذى الحج سنة ۱۳۰۲ وفى هذه الرسائل اید کلام صاحب البراهين بتاویلات عدة و تسويلات كاسدة حاصلها ان ايات القران اذا انزلت فى خطاب نبينا او سائر الانبياء سميت قرانا و اذا خاطب بها الله تعالى غير الانبياء مثل صاحب البراهين لم تسم قرانا و ان كانت بعينها ايات القران و غرضه من هذا الهذيان ان يخلص صاحب البراهين من تحريف القران و الحاد ايات الفرقان ثم صرح بالتصريح التام بهذا المطلب الفاسد النظام فى صفحات ۲۶۳ و ۲۶۴ و ۲۶۵ و ۲۶۶ من رسائله المسطورة فالعبد الضعيف بتائيد العليم اللطيف ينقل اقواله بترجمة عبارة الهندية فى العربية مع ابطالها بايات القران
پہلے کی ہے اور اسی واسطے کہ حلال کر دوں تم کو بعض چیز جو حرام تھی تم پر ۔‘ یعنی شریعت موسوی میں جو چربی اور مچھلی اور ان کا گوشت اور شنبہ کے دن میں کام کاج کرنا حرام تھا۔ اس کو شرع عیسوی نے حلال کر دیا ۔ یہ آیت دلیل ہے اس پر کہ شرع عیسوی ناسخ شرع موسوی ہے۔ یہ تفسیر بیضاوی کی عبارت کا ترجمہ ہے اور تفسیر مدارک و جلالین و معالم و غیرہا میں بھی ایسا ہی تحریر ہے۔ پس قرآن مجید سے بخوبی تکذیب براہین والے کی ہو گئی ۔ ثانیاً براہین والے کا یہ دعویٰ کہ میں آنحضرت ﷺ کے احقر خادمین سے ہوں سراسر باطل ہے۔ کیونکہ وہ آپ ﷺ کے کمالات میں اپنی مساوات کر رہا ہے اور آپ ﷺ کی خصوصیات کو جو منصوص قرآن ہیں ۔ آپ ﷺ کے غیر کی طرف منسوب کرتا ہے۔ دیکھو فضیلت رسالت جو اللہ تعالیٰ نے آیت :”ھوالذی ارسل رسولہ ۔“ میں آپ ﷺ کے لئے ہی ثابت فرمائی ہے۔ براہین والے نے اولاً اس کو حضرت مسیح کے حق میں متحقق کیا ہے۔ شاید تالیف قلوب حکام وقت اور ان سے اظہار محبت کے واسطے ایسا کیا ہوگا ؟ ۔ ثانیاً اس رسالت کو اپنے لئے ثابت کر لیا کہ روحانی اور باطنی طور سے مورد اس آیت کا خود بن بیٹھا ۔ تاکہ عوام اہل اسلام اس کو رئیس اولیاء اور نمونہ انبیاء جان کر اس کی کتاب کو گراں قیمت سے خریدیں اور غبن فاحش میں پڑیں اور اس کو بہت سے دراہم و دینار حاصل ہوں۔ پس سارا مدار دینار پر ہے۔ جیسا کہ دانشمندوں پر مخفی نہیں اور ہم اس امر کو زیادہ تر وضاحت سے ثابت کر دیں گے۔ الحاصل اگلی پچھلی تحریروں سے متحقق ہے کہ براہین والا قرآن مجید کی آیات میں تحریف معنوی کر رہا ہے اور اس کو کسی پکے مومن سے بھی مشابہت نہیں چہ جائیکہ ولیوں پر اس کو
والحديث والاجماع حسبنا الله و نعم الوكيل وهو الهادى الى سواء السبيل قوله تسمية الكلام الواحد فى الوقت الواحد بسبب اختلاف المخاطب والمتكلم قرآنا و غير قرآن لا يستبعد عند اهل العلم ولا يرده اعتراض عليه اقول اولا التكلم فى كلام واحد فى زمان واحد لان المتكلم الاول اذا تكلم بكلام بمجرد تكلم ينقضى ذلك الزمان فكيف يتصور تكلم المتكلم الاخر بذلك الكلام فى ذلك الزمان وكذلك محال باعتبار اختلاف المخاطب عند اهل العلم من الاعيان والثاني وان سلمنا اختلاف المتكلم والمخاطب فى الكلام الواحد فى الزمان الواحد فتسمية الكلام الواحد فى الوقت للواحد قرآنا و غیر قرآن غير ممكن لان اثبات الشئ و نفيه فى الوقت الواحد غير جائز عقلاً و الثالث ان القرآن قرآن من الازل الى الابد فلا يجوز ان يقال له غير قرآن شرعا فان الله تعالى سمى الآيات البينات قرآنا كما قال عز من قائل قرآنا عربياً غير ذى عوج الآية فمن سمى تلك الايات بعينها غير قرآن فقد خالفه الفرقان قوله والكلام يختلف اسمه دائما باختلاف المخاطب او المتكلم مع كونه بعينه فالكلام الواحد اذا اضيف تكلمه الى الله مثلاً فهو الكلام الرحمانى واذا اضيف تكلمه الى الشيطان او فرعون فهو الكلام الشيطانى او الفرعونى مثاله هذا الكلام المنقول من ابليس فى القرآن انا خير منه خلقتني من نار وخلقته من طين والكلام الثانى نقل من فرعون وهو انا ربكم الاعلى فان اعتبرنا ان هذين الكلامين قالهما ابليس و فرعون فى لسانهما فيقال لهما الكلام الشيطانى والكلام الفرعوني انتهى وقال فى هامش هذه الصفحة اذا جعل انا
فضیلت ہو اور نبیوں کا نمونہ بن سکے تو اس کے ایسے دعوؤں سے پناہ بخدا ! ولا یزال ، اور یہ بھی مخفی نہ رہے کہ اس شخص نے قرآن مجید میں صرف تحریف معنوی ہی نہیں کی ۔ بلکہ بہت سی آیات قرآنی میں تحریف لفظی بھی کر دی ہے۔ (جاری ہے!) دیکھو اوپر کے ملہمات میں آیت : ” قل انی امرت ان اكون اول من اسلم . “ اور آیت : ” اليك وانا اول المؤمنين . “ ان دونوں کو توڑ پھوڑ کر یہ آیت تیسری بنالی کہ : ” قل انی امرت وانا اول المومنین “ اور آیت : ” انه عمل غير صالح . “ کو : ” انه عبد غیر صالح . “ سے بدل دیا ہے۔ اور آیت : ” ما انت بنعمت ربك بمجنون . “ کے ابتداء میں حرف واؤ بڑھا دیا ہے۔ اور : ” زھق الباطل . “ بہاءِ ہوّز کو زحق الباطل بحاءِ حطّی نازل کر لیا ہے اور ” واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى . “ کی واو کو فا سے تبدیل کر دیا ہے اور آیت : ” ياعیسی انی متوفيك “ کے درمیان سے : ” ومطهرك من الذين كفروا “ کو ساقط کر دیا ہے۔ جیسا کہ یہ آیت ص ۵۵۶ خزائن ص ۶۶۵ سے اوپر منقول ہو گئی ہے اور ایسا ہی اس آیت کو ص ۵۱۹ خزائن ص ۶۲۰ میں جو اپنے لئے نازل ہونا لکھا ہے تو وہاں بھی اس کے درمیان سے یہی فقرہ اڑا دیا ہے اور علیٰ ہذا بہت سی آیات قرآنی میں لفظی تحریف بھی کر دی ہے۔ جس کو حافظ قرآن تأمل سے معلوم کر سکتا ہے۔ پھر باوصف اس تحریف کے آیات قرآنی کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ اور یہ تو اس کے ملہمات میں اس کثرت سے ہے جس کا شمار دشوار ہے۔ یہاں پر یہ خیال نہ کیا جائے کہ تحریف آیات کاتب کی غلطی سے ہوگئی ۔ کیونکہ براہین والے نے اپنی تصحیح سے وہ کتاب چھپوائی ہے۔ جیسا کہ ص ۵۱۶ خزائن ص ۶۱۵ میں اس پر تصریح کرتا ہے اور نیز ان آیات کا ترجمہ موافق اس تحریف ہی کے کیا ہے۔ اس کو یاد رکھ کر آگے سنئے کہ ص ۵۱۴ خزائن ص ۶۱۳ ، ۶۱۴ میں آیت :
ربكم الاعلى كلام فرعون فى اى لسان قيل له لايسمى قرانا انتهى اقول الكلام لا يختلف باختلاف المتكلم فان الكلام كلام من قاله اولاً لا یری ان من قرء الحمد لله رب العلمين وقل هو الله احد فلا يقال انما كلام هذا القارى بل يقول كل مؤمن هاتان ايتان من كلام البارى ومن قال انما الاعمال بالنيات فيقال انما هو حديث الرسول عليه الصلوۃ ومن قال قفا نبک من ذكرى حبيب و منزل + فيقال هذا المصرع من شعر امرء القيس كذا فى شرح الفقه الاكبر لمولانا القارى عليه رحمۃ البارى ثم اضافة ايات القران العظيم الى غير الله الكريم وجعلها كلام الشيطان الرجيم و فرعون الزنيم ليست من داب المؤمن الحكيم بل يقول المؤمن فى مقابلة هذا المقال سبحانه هذا بهتان عظيم لان ما فى الدفتين من الحمد لله رب العلمين الى من الجنة والناس ليس الا كلام رب يسلم وقد كتب فى اللوح المحفوظ قبل خلق الارض والسماء والارواح وانما انزل هذا جبرائیل علی الرسول الرؤف الرحيم عليهما الصلوۃ والتسليم كما قال تعالى بل هو قران مجيد فى لوح محفوظ قال فى تفسير فتح العزيز بل هو قصة القران القديم التی كتب قبل وقوعها فى لوح محفوظ من الشياطين والجن والانس واخرج البغوی فى المعالم باسنادہ عن ابن عباس رضی الله عنهما قال اللوح لوح من ذرۃ بيضاء طوله مابين السماء والارض وعرضه مابين المشرق الى المغرب و حافتاه اله رواليا قوت وفتاه ياقوتۃ حمراء و قلمه نور و كتاب معقود بالعرش و اصله فى حجر ملک انتهى كذا فى المدارك و الجلالين وغيرهما لكن اخرج هذا الحديث فى الاتقان عن الطبرانی عن ابن عباس مرفوعاً بتفاوت يسير وايضا قال تعالى لا تحرک به ای بالقران لسانک لتعجل بہ ”وماكان الله ليعذبهم وانت فيهم وماكان الله ليعذبهم وهم يستغفرون “ کو جو اپنے حق میں نازل ہونا لکھا ہے تو اس میں دوسرے ”وماكان الله “ کے پیچھے سے جو لفظ معذبهم قرآن مجید میں ہے اس کو ليعذبهم سے بدل دیا ہے۔ پھر ص ۵۵۵ خزائن ص ۶۶۱ میں جو آیت: ”وكذالك مننـا عـلـی یـوسـف لنصرف عنه السوء والفحشاء“ کو اپنے حق میں نازل لکھ کر اخیر اس کے ترجمہ کے لکھتا ہے کہ اس جگہ یوسف کے لفظ سے یہی عاجز مراد ہے۔ انتہاء بلفظہ اور اس آیت میں لفظ مکنا کو مننا سے تحریف کر دیا ہے اور اسی محرف لفظ کا ترجمہ کیا ہے کہ ہم نے یوسف پر احسان کیا۔ انتہاء بلفظہ !
پھر ص ۴۸۷’۴۸۴ خزائن ص ۵۹۱’۵۹۲ میں جو اپنی وصف اور اپنی کتاب کی تعریف میں یہ آیت نازل کی ہے کہ: ”أن الذين كفروا وصدوا عن سبيل الله رد عليهم رجل من فارس شكر الله سعيه “ تو علنا وہ تحریف قرآن کے اس ترجمہ میں اپنے لئے اللہ تعالیٰ کو شاکر یعنی اپنا شکر گزار لکھ دیا ہے۔ اور بعد ازاں یہ الہام لکھا ہے ولی کی کتاب علی کی تلوار کی طرح ہے۔ یعنی مخالف کو نیست و نابود کرنے والی ہے۔ اور یہ ایک پیشگوئی ہے کہ جو کتاب کی تاثیرات عظیم اور برکات عمیم پر دلالت کرتی ہے۔ پھر بعد اس کے فرمایا: ”اگر ایمان ثریا سے لٹکتا ہوتا یعنی زمین سے بالکل اٹھ جاتا تب بھی شخص مقدم الذکر یعنی ”فارسی الاصل“ اس کو پالیتا ۔“ انتہاء بلفظہ !
پھر آیت : ”یکاد زیتہ “ کو اپنی کتاب کی تعریف میں وارد کر کے ترجمہ یوں لکھتا ہے کہ: ”عنقریب ہے کہ
بالقرآن و كان علیه السلام یاخذ فی القراء ۃ قبل فراغ جبریل كراھة ان ینفلت منه ثم علل النھی عن العجلة بقوله ان علینا جمعه فی صدرك و قرانه واثبات قراء ۃ فی لسانك والقرآن القراء ۃ و نحوه ولا تعجل بالقرآن من قبل ان یقضى الیك وحیه فاذا قراناه اى قرأہ علیك جبرائیل فجعل قرائتہ تعالى فاتبع قرانه اى قراء تہ ثم ان علینا بیانه اذا اشكل علیك شئ من معانیه قاله فی مدارك التنزیل وھكذا فی عامة التفاسیر ثم اوّل آیات نزلت علیه صلى الله علیه وسلم من القرآن بالاجماع قوله تعالى اقرء باسم ربك الذى خلق الى مالم یعلم وقال فی تفسیر فتح العزیز انه صلى الله علیه وسلم تجرد من ....... للغسل وقام على شط الماء اذا ناداہ جبرئیل من الھواء ان یا محمد فنظر صلى الله علیه وسلم الى العلے ولم یبصر احدا فناداہ ثلث مرات وھو صلى الله علیه وسلم ینظر الى الیمین و الشمال فاذا شخص نورانى مثل الشمس و على راسه تاج من نور و لبس حلة خضراء على صورة انسان جاء الیه صلى الله علیه وسلم وقال له اقرء و فی بعض الروایات ان جبریل جاء بقطعة حریر اخضر ومكتوب فیھا شئ فراء صلى الله علیه وسلم تلك القطعة وقال اقرء فقال صلى الله علیه وسلم انا لا اعرف صورة الحروف وما انا بقارئ الحدیث وقال مولانا القاری فی شرح الفقه الاكبر فی الملحقات ومنھا ما ذكره شارح عقیدة الطحاویة عن الشیخ حافظ الدین النسفے فی المنار ان القرآن اسم النظم والمعنى جمیعا و كذا قال غیره من اھل الاصول وما ینسب الى ابی حنیفة رضی الله عنه ان من قرء فی الصلوۃ بالفارسیة اجزأہ فقد رجع عنه وقال لا یجوز مع
اس کا تیل خود بخود روشن ہو جائے۔‘‘ اگر چہ انتہاء بلفظہ! پھر یہ آیت سورۃ قمر وسورۃ ص وسورۃ آل عمران وسورۃ رعد اپنے اور اپنی کتاب کے حق میں نازل کر کے ان کا ترجمہ یوں تحریر کیا ہے کہ: ”کیا کہتے ہیں کہ ہم ایک قوی جماعت ہیں جو جواب دینے پر قادر ہیں۔ عنقریب یہ ساری جماعت بھاگ جائے گی اور یہ پیٹھ پھیر لیں گے اور جب یہ لوگ کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ایک معمولی اور قدیم سحر ہے۔ حالانکہ ان کے دل ان نشانوں پر یقین کر گئے ہیں اور دلوں میں انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اب گریز کی جگہ نہیں اور یہ خدا کی رحمت ہے کہ تو ان پر نرم ہوا اور اگر تو سخت دل ہوتا تو یہ لوگ تیرے نزدیک نہ آتے اور تجھ سے الگ ہو جاتے۔ اگر چہ قرآنی معجزات ایسے دیکھتے جن سے پہاڑ جنبش میں آ جاتے۔ یہ آیات ان بعض لوگوں کے حق میں بطور الہام القاء ہوئیں جن کا ایسا ہی خیال اور حال تھا اور شاید ایسے ہی اور لوگ بھی نکل آئیں۔‘‘ انتہاء بلفظہ!
(براہین ص ۴۹۸ خزائن ص ۵۹۲)
اب فقیر کاتب الحروف کان اللہ لہ کہتا ہے کہ ان میں براہین والے نے تحریف لفظی بھی بدرجہ کمال کی ہے اور بہتان عظیم کو اسی میں شامل کر دیا ہے۔ کیونکہ حدیث صحیح متفق علیہ کے الفاظ یہ ہیں: ”لوكان الایمان معلقاً بالثریا لتنا لہ رجال اور جل من فارس“ پس اسی حدیث کے ابتداء میں براہین والے نے حرف واؤ زائد کر دیا ہے اور لتنا ولہ کو لتنالہ سے بدل دیا ہے اور اس کے فاعل کو بالکل حذف کیا ہے جو محض ناروا ہے۔ پھر قرآن مجید کے لفظ زیتھا کو کلمہ زیتہ سے تحریف کیا ہے۔ تا کہ کتاب مرجع مذکر کی رعایت رہے اور آیت: ”فنادوا لات حین مناص“ کو ”وقالوا لات حین مناص“ بنا کر تین تحریف کر دی ہیں۔ یعنی فا کی جگہ واؤ لکھ دی ہے۔ اور نادوا کو قالوا سے بدلا
القرآن بغیر العربیة وقال لو قرء بغیر العربیة فأما ان یکون مجنونا فیداوی او زندیقا فیقتل لان الله تعالی تکلم بهذه اللغة والاعجاز حصل بنظمه و معناه انتهی فثبت بالقرآن والحديث و تصریح علماء عقائد اهل السنة ان هذه الآیات البینات المعجزة انزلت علی رسول الله صلی الله علیه وسلم بهذه الحروف والکلمات کانت مکتوبة فی اللوح المحفوظ هذا وقد قال الامام الاعظم فی الفقه الاکبر والقاری فی شرحه و ماذکره الله تعالی فی القرآن ای المنزل والفرقان المکمل عن موسی و غیره من الانبیاء علیهم السلام ای اخبار عنهم حکایة عنهم و عن فرعون و ابلیس ای و نحوهما من الاعداء والاشقیاء فان ذلک ای ماذکر من النوعین کلا علی مافی نفسه جمیعه کلام الله تعالی ای القدیم اخبارا عنهم ای وفق ما قد کتب الکلمات الدالة علیه فی اللوح المحفوظ قبل خلق السماء والارض فلوح بکلام حادث عند سمعه من موسی و عیسی و غیرهما من الانبیاء ومن فرعون و ابلیس وهامان و قارون و سائر الاعداء حاشا لا فرق بین الاخبار من الله تعالی عن اخبارهم واحوالهم و اسرارهم کسورة تبت و القتال و نحو هما و بین اظهار الله تعالی من صفات شانه و افعاله و خلق حضرته کایة الکرسی و سورة الاخلاص و اشباههما و بین الآیات الافاقیه والانفسیه فی کون کلها منها کلامه و صفته لا الانفسیة و مجمل الکلام قوله علی مافی نسخته کلام الله تعالی ای بالنسبة الیه غیر مخلوق ای ولاحادث وکلام موسی علی نبینا و علیه السلام ولوکان مسموعا منه ای وان کلهم غیره من المخلوقین ای سائر الانبیاء والمرسلین والملائکة المقربین مخلوق کونهم مخلوقین والقرآن کلام الله تعالی ای بالحقیقة کما قال الطحاوی الخ
ہے اور لات کے سر سے واؤ حذف کر دی ہے۔ پھر اس کو تین جگہ اسی تحریف سے لکھا ہے۔ ایک تو یہ مقام دوسرا ص ۴۹۰ کی سطر ۱۸ خزائن ص ۵۸۳ میں تیسرا ص ۴۹۷ کی سطر ۱۳ خزائن ص ۵۹۳ میں اور ان تینوں ہی جگہ میں بموجب اس تحریف کے ترجمہ کیا ہے۔ پھر آیت : ”ولو ان قرآناً سیّرت به الجبال“ کو : ”ولوان القرآن سیّرت به الجبال“ بنا کر قرآن پر الف لام بڑھا دیا ہے اور سیّرت کی تا کو حذف کر دیا ہے اور مع ہذا سورۃ قمر کی آیات میں ترتیب بدل دی ہے۔ کیا معنی کہ دو آیت اخیر سورۃ یعنی : ”ام یقولون“ سے ”الدبر“ تک ابتداء میں لکھ دی ہیں اور آیت ابتداء سورۃ قمر یعنی : ”وان یروا آیة“ کو ان کے اخیر میں تحریر کر دیا ہے اور اسی ترتیب پر ترجمہ کیا ہے۔ پس یہ ایک سورۃ کی آیات میں تبدیل ترتیب ہے اور شرع میں مقرر ہے کہ ہر سورۃ کی آیات میں ترتیب بامر شارع توقیفی ہے۔ بدلیل احادیث صحیحہ واجماع امت مرحومہ چنانچہ علامہ سیوطیؒ نے تفسیر اتقان میں اس مسئلہ کے بیان میں ایک مستقل باب بسط مناسب کے ساتھ ذکر کیا ہے اور شیخ محدث دہلویؒ نے بھی فارسی اور عربی دونوں شرح مشکوٰۃ میں اس امر کو تفصیل وار لکھا ہے اور مولانا شاہ عبدالعزیزؒ نے بھی تفسیر فتح العزیز کے ابتداء سورۃ بقرہ میں اس مسئلہ کی تحقیق کے بعد ترتیب آیات کی مخالفت کو حرام اور بدعت شنیعہ کہا ہے جس نے اصل عبارات دیکھنی ہوں تو ان کتابوں میں دیکھے۔ الغرض یہ الہامات جن میں آیات قرآنی کی تحریف اور نیز آیات کی ترتیب کی تبدیل اور نیز ان کا پارہ پارہ کرنا شائع ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز القاء نہیں ہیں اور بالیقین تلبیس ابلیس اور مکائد نفس خبیث سے ہیں۔ اعاذنا اللہ و جمیع المسلمین عن ذالك !
لله تعالى لا بالمجاز كما قال غيره وما كان مجازاً يصح نفيه وههنا لا يصح الشرع اذا ورد باطلاقه فيما يجب اعتقاده لا يصح نفيه بل قد كذب هؤلاء كمتكلمهم فانه حادث مثلهم اذ النعت تابع لمنعوته وانما يقال المنظوم العبرانى الذى هو التورة والمنظوم العربى الذى هو القران كلامه سبحانه لان كلماتهما واياتهما ادلة كلامه و علامات مرامه ولان مبدء نظمهما من الله تعالى الا ترى انك اذ قرء ت حديثا من الاحاديث ولم تدلس بقولك بل تقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لان مبدء نظم ذلك القول من الرسول عليه الصلوة والسلام و منه قوله تعالى افتطمعون ان يومنوا لكم و قد كان فريق منهم يسمعون كلام الله و قوله عز و جل و ان احد من المشركين استجارك فاجره حتى يسمع كلام الله ثم ابلغه مامنه انتهى وفى المشكوة عن نعمان بن بشير قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله تعالى كتب كتابا قبل ان يخلق السموات و الارض بالفى عام انزل منه ايتين ختم بهما سورة البقرة رواه الدارمى والترمذى و عن ابى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله تعالى قرء طه و يس قبل ان يخلق السموات والارض بالف عام الحديث رواه الدارمى انتهى بقدر الحاجة فلما تبين من القران والحديث و عقائد اهل السنة ان ايات القران باجمعها انما هى كلام الله تعالى لا كلام غيره من المخلوقين فما فيه من قصص الانبياء واقوال الاصدقاء واحوال الاعداء و مقال الاشقياء انما هى كلام الله تعالى قالها الله سبحانه اخباراً عنهم قبل خلقهم و وجودهم فى دار الفناء فقول هذا المبتدع انما هو ضلال مبين
اس جگہ پر اگر کوئی اعتراض کرے کہ یہ تحریف اور تبدیل وغیرہ اگر کسی بندے کی طرف سے ہو تو اس کی حرمت وغیرہ میں کیا شک ہے؟۔ لیکن جب خدائے کریم کی طرف سے ایسا ہو رہا ہے جیسا کہ براہین والے کا دعویٰ ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے سو کرے تو اس کا جواب یوں ہے۔ باری تعالیٰ کا فرمان ہے: ”ولا مبدل لكلمات الله“ اور ”تمت كلمة ربك“ ارشاد ہے۔ یعنی قرآن مجید کی آیات کو جو راست تر اور اعدل ہیں کوئی نہیں بدل سکتا۔ یا کوئی قادر نہیں کہ آیات قرآنی الٹ پلٹ کر دے۔ جیسا کہ توریت میں واقع ہوا ہے۔ یعنی کہ تحریف نے تاثیر کر دی اور کسی نے اس امت سے تعاقب نہ کیا۔ یا قرآن سے پیچھے نہ کوئی کتاب ہوگی جو اس کو نسخ کر سکے۔ اور اس کے احکام تبدیل کرے۔ یہ ترجمہ عبارت تفسیر بیضاوی وغیرہ کا ہے اور یہ بھی قرآن کا فرمان ہے کہ بے شک قرآن کتاب عزیز ہے یعنی بہت منفعت والی بے نظیر یا محکم جس کا ابطال اور تحریف غیر ممکن ہے۔ باطل کسی طرف سے اس کو شامل نہیں ہو سکتا۔ اس حکیم نے اتاری ہے جس کی ساری مخلوقات حمد کرتی ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر بیضاوی و معالم التنزیل کا۔ پس ایسی آیات قرآنی سے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور خواہش نہیں کہ آیات قرآن کی تبدیل ہو۔ بلکہ اس نے قرآن مجید کو راستی اور عدل سے پورا کر دیا ہے اور تحریف و تبدیل سے محفوظ رکھا ہے اور اس کی نظم اور ترتیب اعلیٰ درجے فصاحت و بلاغت پر مشتمل ہے۔ پس کوئی کلام کلام الٰہی سے نظم اور ترتیب کی رو سے احسن متصور نہیں اور اس کی تبدیل و تحریف بھی غیر ممکن ہے۔ نہ کسی نبی کی طرف سے اور نہ خدا تعالیٰ کی کسی کتاب سے۔ کیونکہ یہ خلاف وعدہ ہے باری تعالیٰ کا اور باری تعالیٰ وعدہ کا خلاف ہرگز نہیں کرتا ہے۔ پس محقق ہوا کہ یہ الہامات قرآن کی تحریف و تبدیل کرنے
اشاعۃ النسبة بان آیۃ انا خیر منه خلقتنی من نار و خلقته من طین کلام شیطانی وآیۃ انا ربکم الاعلی کلام فرعون یو لیست بقران انکار بمئات آیات الفرقان وجعل جمیع قصص القرآن و حکایات الفرقان من کلام المخلوق نعوذ بالله من ھذا منطوق قال مولانا القاری فی المنح الازھر شرح الفقہ الاکبر تحت قول الامام الھمام وکلام الله تعالیٰ غیر مخلوق بل قدیم بالذات قال الطحاوی فمن سمعہ فزعم انہ کلام البشر فقد کفر و قد ذمہ الله واوعدہ بسقر حیث قال الله تعالیٰ سأصلیہ سقر فلما اوعدہ الله بسقر لمن قال ان ھذا الا قول البشر علمنا و ایقنا انہ قول خالق البشر والا یشبہ قول البشر انتھی وایضا فی ذلک الکتاب فان قیل قال الله تعالیٰ انہ لقول رسول کریم وھذا یدل علی ان الرسول احدثہ اما جبریل او محمد صلی الله علیہ وسلم فقیل ذکر الرسول یشعر انہ مبلغ عن مرسلہ لانہ لم یقل انہ قول ملک او نبی فعلم انہ بلغہ عمن ارسلہ بہ لا انہ انشآءہ من جھۃ نفسہ و ایضا فالرسول فی احدی الآیتین جبریل و فی اخریٰ محمد صلی الله علیہ وسلم فاضافتہ الیٰ کل منھما تبین ان الاضافۃ للتبلیغ اذ لو احدث احدھما امتنع ان یحدثہ الآخر و ایضا فان الله تعالیٰ قد کفر من جعلہ قول البشر فمن جعلہ قول محمد صلی الله علیہ وسلم بمعنی انہ انشآءہ فقد کفر و لا فرق بین ان یقول انہ قول بشر او جن او ملک اذ الکلام کلام من قالہ مبتدئاً لا من قالہ مبلغاً انتھی و انعم ما قیل گرچہ قرآن از لب پیغمبر ست + ھر کہ گوید حق نگفت او کافرست + فان لم یطمئن قلب صاحب الاستفتاء بھذہ النقول لانھا من زبر العلماء المقلدین و لعل قولھم عندہ لیس بمقبول
والے حق سبحانہ کی جانب سے نہیں ہیں۔ بلکہ نفسانیت صاحب براہین یا اس کے شیطان قرین کی طرف سے ہیں۔ ایسے الحاد فی القرآن سے پناہ بخدا! لایزال سورۃ فصلت میں ارشاد ہے: ’’ان الذین یلحدون ‘‘ یعنی جو لوگ استقامت سے برطرف ہو کر ہماری آیتوں میں طعن اور تحریف اور تاویل وغیرہ سے پیش آئے وہ ہم پر پوشیدہ نہیں۔ یعنی ان کو اس الحاد کا بدلہ دیں گے۔ کیا پس جو شخص آگ میں ڈالا جائے وہ اچھا ہے یا جو قیامت کے دن امن سے آئے جو چاہو کر لو۔ یہ تہدید شدید ہے۔ بے شک خدا تمہارے عملوں کو دیکھ رہا ہے۔ یعنی ان کی سزا دے گا۔ یہ بیضاوی و مدارک وغیرہما کی عبارت کا ترجمہ ہے۔ اور قرآن مجید کی سورۃ انعام میں ارشاد ہے: ’’و من اظلم ممن افتریٰ ‘‘ یعنی اور اس سے ظالم کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ یہ کہے مجھ کو وحی آئی اور اس کو وحی کچھ نہیں آئی اور سورۃ ھود میں یوں فرمان ہے۔ جس کا ترجمہ اور مراد یہ ہے کہ: ’’کون بہت ظالم ہے خدا پر جھوٹا افتراء کرنے والے سے۔‘‘ یعنی جس نے کسی اور کی بات کو اللہ کی اتاری بنادیا یا اللہ کی اتاری کا انکار کیا وہ لوگ رو برو آئیں گے اپنے رب کے۔ یعنی قیامت کے دن روبرو کھڑے کئے جائیں گے یا ان کے اعمال پیش کئے جائیں گے اور کہیں گے گواہی دینے والے یعنی فرشتوں اور نبیوں اور اعضاء سے بھی۔ جنہوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر سن لو پھٹکار ہے اللہ کی بے انصاف لوگوں پر۔ یہ عظیم دہشت دینا ہے ان کے ظلم پر جو خدا پر جھوٹ باندھا۔ یہ ترجمہ ہے بیضاوی وغیرہ تفاسیر کی عبارتوں کا اور شاہ عبدالقادر دہلویؒ اس کے فائدہ میں لکھتے ہیں کہ: ’’خدا پر جھوٹ بولنا کئی طرح ہے۔ علم میں غلط نقل کرنی یا خواب بنا لینا یا عقل سے حکم کرنا دین کی بات
فاقول نقل هو ايضاً من شرح الفقه الاكبر فی ص ۲۹۲ و ۲۹۳ و ۲۹۴ من اشاعة السنة وايضا نقل فيها بصفحه ۳۱۳ من مولانا شاہ عبدالعزیز الدهلوی بوصف کثیر فی حقه و معهذا انقل هذا المطلب بعينه من صغار غير المقلدين ليكون اقطع حجة و ادل دليل و يعلم انه اى صاحب الاشعة عند قومه ايضا ضل عن سواء السبيل قال فى هيچ مقبول من شرائع الرسول الذى صححه و امر بطبعه فى بلدة بھوپال المولوی صدیق حسن القنوجی ثم البھوپالی احد مشاهیر علماء غير المقلدين مانصه القرآن الکریم کلام الله تعالیٰ منه بدء واليه يعود و لفظه ومعناه كلاماً من الله تعالیٰ ليس جبرئیل الا ناقله وما محمد صلى الله عليه وسلم الا مبلغه وما قرء منه الخلق و يقرؤن كل کلام الله تعالیٰ کلم الله سبحانه به و سمع منه جبرئیل صدقاً او انزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم يقينا من قال انه کلام ملک او بشر فمسکنه سقر انتهى بترجمة عبارة الفارسية وهذه الرسالة تالیف الولد الاکبر مولوی صدیق حسن ابھوپالی وما نقل منه هو فی ص ۵ المطبوع فی مطبع بھوپال فما ذا بعد الحق الا الضلال قوله فان اعتبرنا ان هذا الکلامین بعينيهما في ضمن حکاية ابلیس و فرعون وجدا فى كلام الله فیسميان كلاماً رحمانياً و جزاً من القرآن اقول لا حاجة لاعتبار مُعتبر فى جعل اية انا خير منه الاية و ايت انا ربكم الاعلىٰ من الكلام الرحمانی و جزء من القرآن المبین بل هما فى الحقيقة والاصل كلام الله سبحانه قالهما الله تعالیٰ و كتبهما فى اللوح قبل خلق ابلیس و فرعون بالاف سنين كما مر سنده من القرآن المبین و احادیث سید المرسلين و
ہیں یعنی شریعت کے مخالف یا دعویٰ کرنا کشف رکھتا ہوں یا اللہ کا مقرب ہوں ۔‘ انتہاء بلفظہ !
ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کے مخالف کام کرنے والے لوگ بہت قسم کے ہیں۔ ایک قسم ان میں سے فریبی اور جھوٹے اور مکار ہیں جن میں سے کوئی دعویٰ جن کے قید کر لینے کا کرتا ہے یا مدعی حالت کا ہوتا۔ جیسے جھوٹے مشائخ اور فقراء۔ پس یہ لوگ سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ جیسے ایسے لوگ جھوٹ اور فریب سے بعض باتیں اور بعضے ان لوگوں سے مستحق قتل ہیں۔ جو فریب دکھا کر دعویٰ نبوت کا کرتا ہے یا شریعت کے بدلانے کے در پے ہوتا ہے اور مانند اس کے یہاں تک ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا۔ اور یہ بھی معلوم ہو کہ براہین والے نے ص ۵۲۰، ۵۲۱ خزائن ص ۶۲۱، ۶۲۲ میں اپنے الہام کا قصہ یوں لکھا ہے کہ : ”۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء میں ایک عجیب الہام اردو میں ہوا تھا جس کی تقریب یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی جو کسی زمانہ میں اس عاجز (مرزا قادیانی) کے ہم مکتب بھی تھے جب نئے نئے مولوی ہو کر بٹالہ میں آئے اور بٹالیوں کو ان کے خیالات گراں گزرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کرنے کے لئے اس ناچیز کو بہت مجبور کیا۔ چنانچہ اس کے کہنے کہانے سے یہ عاجز شام کے وقت اس کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو مع ان کے والد کے مسجد میں پایا۔ پھر خلاصہ یہ کہ اس احقر نے مولوی صاحب موصوف کی اس وقت تقریر سن کر معلوم کر لیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابل اعتراض ہو۔ اس لئے خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا۔ رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اسی ترک بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا۔ یہاں
معتقدات العلماء الربانيين فجعل هذا الكلام العربى المعجز العظيم الشان كلام ابليس و فرعون ثم اعتبار النقل منهما فى القران ليس الا الهذيان والبهتان ابعد الله عزوجل من هذه العقيدة والقول بها جميع اهل الايمان و ليعلم ان هذه الاقوال التى مبناها على اختلاف المتكلم قالها صاحب الاشعة فى تمهيد تاييد صاحب البراهين و قدح فى حماة دينه بشهادة الشرع المتين والان انقل اقواله التى مدارها على اختلاف المخاطب و هى فى الاصل امداد محبه ارادها بادلة الدين المتين بمدد الملك المعين قوله و كذلك يختلف الكلام بسبب اختلاف المخاطب اقول قد مر الكلام فيه ايضاً قد صرح علماء الفنون ان الكلام اما خبر او انشاء وما اعتبروا فى مفهوميهما هذا الاختلاف فليت شعرى من اى ماخذ اخذ هذا المبتدع ذلك القول بخلاف الاسلاف قوله والكلام للذى قاله الله تعالى فى خطاب رسوله و اندرج فى كتاب معروف يقرءه المسلمون فذلك يسمى قرانا اقول الخطاب فى الكلام انما يكون بصيغة الحاضر قال فى تلخيص المفتاح مثال الالتفات من التكلم الى الخطاب ومالى لا اعبد الذى الاية ومثال الالتفات من الخطاب الى الغيبة حتى اذا كنتم فى الفلك الاية ومثال الالتفات من الغيبة الى الخطاب ملك يوم الدين اياك نعبد انتهى فاذا تمهد هذا فليعلم ان حد القران الذى عرفه صاحب الاشعة غير جامع لخروج الاف ايات القران بحسب هذا التعريف من الفرقان لا نه صلى الله عليه وسلم ليس مخاطبا بجميع ايات القران والقران كله ليس خطابا لسيد الانس والجان عليه صلوات الرحمن بل ايات الخطاب مثل و علمك ما لم تكن تعلم الاية وقل ان كنتم تحبون الله الاية وانا فتحنا لك فتحا مبينا
تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ پھر بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔ انتہیٰ بلفظہ!
اور یہ مولوی محمد حسین شاگرد مولوی نذیر حسین دہلوی کے ہیں جو غیر مقلدوں کے رئیس اور ابتداء میں مقلدین سے سخت مکابرہ سے پیش آکر ان کو مشرک جانتے تھے اور آئمہ مجتہدین دین کی تقلید کو شرک و کفر مانتے تھے۔ چنانچہ اس بارہ میں رسالے و اشتہار چھپواتے رہے۔ پھر جب علماء مقلدین نے ان کے خیالات کی بواقعی تردید کی تو اس شدت مجادلہ سے کسی قدر لوٹے اور جب ان کے استاذ مولوی نذیر حسین دہلوی بسبب ظاہر ہونے ان کی سخت مخالفت شرع کے واقعہ ۱۳۰۱ ہجری مکہ معظمہ میں قید ہوئے تو اپنے استاذ کی نصرت کے واسطے یہ مولوی محمد حسین اہل حرمین محترمین کو ظالم مشہور کرنے لگے اور حکام وقت اس دیار کے پاس ان کا شکوہ شکایت کرنی شروع کردی جیسا کہ رسالہ اشاعۃ السنۃ نمبر ۹ جلد ۷ کے ص ۲۵۶ وغیرہا سے ظاہر ہے۔ پس ان مولوی محمد حسین صاحب نے بھی گویا صاحب براہین کی تعریف کے شکریہ میں اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں ان کی اور ان کی براہین کی کمال تعریف کرنی شروع کر کے اخیر میں یہ لکھ دیا ہے۔ مؤلف براہین احمدیہ نے یہ منادیٰ اکثر زمین پر دی ہے کہ جس شخص کو اسلام کی حقانیت میں شک ہو وہ ہمارے پاس آئے اور اس کی صداقت ہمارے الہامات و خوارق سے بچشم خود دیکھے۔ پھر کیا اس احسان کے بدلے مسلمانوں پر یہ حق نہیں ہے کہ فی کس نہ سہی فی گھر ایک ایک نسخہ کتاب اس کی ادنیٰ قیمت دے کر خرید کریں اور اس پر یہ شعر پڑھیں:
یغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر و انا اعطینک الکوثر و امثالها حصه قليلة من القران و خوطب غیره صلی اللہ علیہ وسلم كنبي اسرائيل و مومنی هذه الامة والكفار والجن وغيرهم فی ايات كثيرة و كثيرة من الايات ليس فيها خطاب لا حدا صلاً فعلى هذا التفسير خرج هذا المقدارا الكثير من القران عن كونه الفرقان فيا اسفى على هذا المويد لصاحب البراهين فانه فى وده و شکر وصفه یخرج الاف ایات القران من کلام رب العلمین فکفر به منتقماً العظمة لله يقول العوام الامثال باتهم علماء الدین وهو سيمى رسالته باشاعة السنة و يزعم نفسه من اکابر المصنفین و يشتم صاحب البراهين الكاملين المكملين والحال انهما مع جميع غير المقلدين يحبون المال حباً جماً ولتحصيل الدنيا من الحرام والحلال من المحتالين كما يبيعون حق تصانی فرسائلهم بكثير من الدراهم الدنا نیرو یجمعون بنحو هذا الوجه المال الكثير وهذا صاحب الاشعة حجم رسائله في تمامها اربع و عشرون جزاء و فی ثمنه تكفی ربیة او ربيان وهو ياخذ من النوابين والرؤسا ثلثون ربيه ومن دونهم من الاغنياء خمس عشر ربية ومن المتوسطين فی المال سبع ونصف ربية ومن المقلين ثلث و ثلث ربع ربية و ذلک صاحب البراهین ضخم كتابه المطبوع ثلث و ثلثون جزاء الذی قیمته فی السوق اثنان او ثلث ربية وهو قرر اقل قيمة خمس و عشرون ربية واعلى قيمة مائة ربية ومن اشترى كتابه فبالغ فی وصفه وانكان رافضيا او كان من عبدة الاصنام و من لم يشتره فغلا فی توهینه و ذمه غلواً حتى شبهه بقارون وجعله من عبدة الدنيا و انكان
بحمداللہ! عجب ارزان خریدم
انتہاء حاشیہ میں ادنیٰ قیمت ۲۵ روپے درج ہیں۔ جیسا کہ ص ۲۴۸ نمبر ۱۱ جلد ۷ اشاعۃ السنہ ذی قعدہ و ذی الحجہ ۱۳۰۱ھ اور محرم ۱۳۰۲ھ سے یہ عبارت منقول ہوئی ہے اور ان رسائل میں صاحب اشاعۃ السنہ نے براہین والے کے کلام کی تاویلات فاسدہ سے بہت ہی تائید کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیات قرآنی جب آنحضرتﷺ یا دوسرے انبیاء علیہم السلام کے خطاب میں نازل ہوئی تھیں تو ان کا نام قرآن تھا اور جب انہیں بعینہ آیات سے اللہ نے غیر انبیاء کو مثل صاحب براہین کے مخاطب فرمایا تو اس کا نام قرآن نہیں رکھا جاتا اور غرض اس ہذیان سے صاحب براہین کو تحریف قرآن اور الحاد آیات فرقان سے بچانا ہے۔ پھر صاف صاف اس قبیح مضمون کو اشاعۃ السنہ مذکورہ بالا کے ص ۲۶۳‘ ۲۶۴‘ ۲۶۵‘ ۲۶۶ میں لکھا ہے جس کے قول کو فقیر راقم الحروف نقل کر کے قرآن وحدیث واجماع کی سند سے تردید کرتا ہے۔ تاکہ قرآن مبین اور دین متین کی تائید سے کوئی دقیقہ فروگزار نہ رہے۔ ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم!
”اور ایک ہی کلام کو ایک ہی وقت میں مخاطب یا متکلم کے لحاظ سے قرآن اور غیر قرآن کہنا اہل علم کے نزدیک مستبعد اور محل اعتراض نہیں ہے۔“ انتہاء بلفظہ! فقیر کہتا ہے کہ اس پر تین اعتراض وارد ہیں۔ پہلا یہ کہ مخاطب یا متکلم کا اختلاف ایک ہی کلام میں ایک ہی وقت میں غیر متصور ہے۔ اس لئے کہ پہلے متکلم نے جب کچھ کلام کی تو صرف اس کے بولنے سے وہ وقت گزر گیا پھر دوسرے متکلم کا اسی کلام کو اسی وقت بولنا کیونکر متصور ہوا؟۔ اور ایسا ہی حال ہے
من رؤساء اهل الاسلام كما يظهر من مطالعة كتابه لاولى الافهام ايضاً و اذا انعم عليه من خير حصول المال الكثير فرح فرحا شديد او اذا اخبر بانه المال القليل فحزن حزنا كبيرا بما فى ص ۵۲۲ ۵۲۱ من كتابه فليس ذلك الا المدار على حب هذا الدار و غاية الجهد فى جمع الدراهم والدينار فاعتبروا يا اولى الابصار والله سبحانه اعلم بالظواهر والاسرار و ملخص الكلام فى هذا المقام ان التعريف الجامع المانع للقرآن المكرم والفرقان المعظم ماذكره علماء الاسلام سيما الامام الاعظم والهمام المفخم على ما فى الفقه الاكبر و شرحه والقرآن منزل بالتشديد اى نزل منجما على رسول الله صلى الله عليه وسلم اى فى ثلثة و عشرين عاما وهو فى الصحف من جنسه وفى نسخة فى المصاحف مكتوب اى مزبور و مسطور و فيه ايماء الى ان مابين الدفتين كلام الله على ما هو المشهور انتهى و فى مقام اخر من ذلك الكتاب والقرآن فى المصاحف مكتوب فى القلوب محفوظ وعلى الالسن مقرو و على النبى صلى الله عليه و سلم منزل بالتخفيف والتشديد وهو الاولى لنزوله مدرجا و مكررا والمعنى انه نزل عليه عليه السلام بواسطة الحروف المفردات والمركبات فى الحالات المختلفة انتهى فانظروا يا اولى الالباب الى هذا الرجل العجاب الذى لا يميز بين التنزيل والخطاب و يقول لايات القرآن انها كلام فرعون والشيطان اللعين ومعهذا يدعى انه يظهر اغلاط المجتهدين ويؤيد الدين المتين فليس ذلك الا الرعونة والجهل المركب يقينا قوله وذلك الكلام اى المسمى بالقرآن ان قاله تعالى فى خطاب غير النبى وفى كتاب متقدم من التورة والانجيل و غيرهما ادنى الهام ولى فلايسمى قرآنا وان كان باعتبار اختلاف مخاطب کے جیسا کہ اہل علم پر ظاہر ہے۔ دوسرا یہ کہ اختلاف متکلم یا مخاطب کا کلام واحد (وقت واحد) میں اگر مانا جائے تو ایک ہی کلام کا ایک ہی وقت میں قرآن اور غیر قرآن نام رکھنا غیر ممکن ہے۔ اس لئے کہ اثبات شے اور پھر نفی اس کی ایک ہی وقت میں عقلاً نا جائز ہے۔ تیسرا یہ کہ قرآن مجید ازل سے ابد تک قرآن ہے۔ پس اس کو غیر قرآن کہنا شرعاً ناروا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آیات فرقانی کا نام قرآن رکھا ہے۔ جیسا کہ سورۃ زمر میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی طرف اشارہ فرما کے قرآن عربی اس کا نام رکھا۔ پس جس نے ان آیات بعینہا کو غیر قرآن کہا بے شک قرآن کا مخالف ہوا۔
قوله! کبھی ایک کلام جبکہ اس کا متکلم مثلاً خدائے تعالیٰ ٹھہرایا جائے کلام رحمانی کہلاتا ہے۔ کبھی وہی کلام جبکہ اس کا متکلم شیطان یا فرعون ٹھہرایا جائے۔ شیطانی یا فرعونی کلام کہلاتا ہے۔ اس کی تمثیل میں ہم دو کلام قرآن سے پیش کرتے ہیں۔ قرآن میں ایک کلام ابلیس سے منقول ہے : ”انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقته من طین“ اور ایک یہ کلام فرعون سے : ”انا ربکم الاعلٰی“ ان دونوں کو اگر یوں خیال کریں کہ یہ ابلیس و فرعون کی کہی ہوئی ہیں خواہ کسی زبان میں انہوں نے کہی ہوں۔ تو یہ کلام شیطانی و فرعونی کہلاتے ہیں۔ انتہاء بلفظہ! ذرا اسی صفحہ کے حاشیہ میں درج ہے: ”انا ربکم الاعلیٰ“ جبکہ کلام فرعون ٹھہرایا جائے۔ خواہ وہ کسی زبان میں ہو قرآن نہیں کہلاتا۔ انتہاء بلفظہ ! فقیر کہتا ہے کہ متکلم کے اختلاف سے کلام مختلف نہیں ہوتی ہے۔ کیونکہ کلام اس کی کہلاتی ہے جس نے اول بولی ہو۔ دیکھو جو
ذلك اى ما الهم من القران بعينه او فوراً ففى هذا الكلام اغلوطات كثيرة و يكفى باظهار ما نحن فيه وهو هذا قد مر الكلام فى ان الخطاب لا دخل له فى كون ايات القران قرانا انما القران ما انزل عليه و اوحى الله صلى الله عليه ومن كلامه تعالى والقران كان قرانا قبل التنزيل و يكون قرانا بعد الانزال الى يوم القيمة وان الهمت اية من القران على احد من الاولياء فلا يخرجها عن كونها اية من القران بل القران فرقان من الازل الى الابد معناه هو الكلام النفسى القديم و نظمه ايضاً من الله الكريم النفسى القديم ونظمه ايضاً من الله الكريم وقد سماه الله سبحانه بالقران الحكيم فكيف يتصور ان يكون القران غير قران و تقرر فى عقائد اهل السنة انه لا تغير على صفاته كما لا تغير على ذاته تبارك و تعالى و ايضاً فى نهج مقبول الذى لغير المقلدين اصل الاصول ما نصه ولا يجرى التغير على ذاته ولا على صفاته ص ١٠ س ١٦١) انتهى بترجمة ثم العجب ان صاحب البراهين يسمى ما يدعى القائه اليه من القران ايات قرانيت كما نقله من ص ۴۸۵ و ۴۹۸) وهذا صاحب الاشاعة بل الشناعة يلغو بانها غير قران و ليست بفرقان ويتفوه فى حق الايات البينات انها كلمات شيطانية و فرعونية وليت شعرى بان هذا الرجل ان لم يبال عن غضب الرحمن بسوء الادب فى حق القران فلا يعلم ان هذا توجيه القول بما لا يرضى به صاحبه فنعوذ بالله المعين من هذا الجهل المبين ربنا افتح بيننا و بين قومنا بالحق و انت خير الفاتحين اما ما قال صاحب الاشاعة فى ص ۳۰۴ ان الهامات صاحب البراهين ليست من الشيطان اللعين مستدلا باية انما يامركم بالسوء
شخص: ”الحمد للہ رب العالمين‘‘ اور ’’قل هو الله احد‘‘ پڑھے گا تو یہ نہ کہا جائے گا کہ یہ اس کی کلام ہے۔ بلکہ ہر مومن یہی کہے گا کہ یہ دونوں آیتیں باری تعالیٰ کی کلام ہے اور جو: ”انما الاعمال بالنيات‘‘ کہے گا تو یہی کہا جائے گا کہ یہ سرور عالم ﷺ کی حدیث ہے۔ اور جو : ’’قفا نبک من ذكرى حبيب ومنزلها‘‘ زباں پر لائے گا تو کہیں گے کہ یہ مصرع امرءالقیس کے شعر کا ہے جیسا کہ ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں یہ لکھا ہے۔ پس قرآن مجید کی آیات کو غیر خدا کی طرف منسوب کرنا اور کلام شیطانی وفرعونی کہنا علم والے مومن کا کام نہیں۔ بلکہ سچا مومن اس کے مقابلہ میں یوں کہے گا کہ خدا پاک ہے یہ سخت بہتان ہے۔ کیونکہ جو کچھ قرآن شریف میں الحمد للہ سے والناس تک ہے وہ حق تعالیٰ کی ہی کلام ہے اور زمین و آسمان اور ارواح کے پیدا ہونے سے پہلے سے لوح محفوظ میں لکھی گئی تھی جس کو جبرائیل امین نے آنحضرت ﷺ پر اتارا ہے۔ جیسا کہ خود قرآن مجید میں سورۃ بروج کی اخیر ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ”بلکہ وہ قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں لکھا ہوا،“ تفسیر فتح العزیز میں لکھتے ہیں ۔ بلکہ وہ قصہ قرآن قدیم کا ایسا ہے جو اس کے وقوع سے پہلے لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے جس پر شیطانوں اور جنوں اور آدمیوں کو دسترس نہیں ہے۔ امام بغوی نے تفسیر معالم میں اسناد کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ لوح محفوظ ایک تختی ہے سفید موتی سی جس کی لمبائی آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور چوڑائی اس کی مشرق سے مغرب تک کی ہے اور کنارے اس کے موتی اور یاقوت کے ہیں اور دفتیں اس کے سرخ یاقوت کے ہیں۔ نور کی قلم سے اس میں قرآن لکھا ہے۔ اوپر سے عرش مجید سے لگی ہے اور نیچے سے فرشتہ کی گود میں ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر فتح العزیز کا اور مدارک وجلالین وغیرہما میں بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن امام سیوطیؒ
والفحشاء وایۃ الشيطان يعدكم الفقر و الفحشاء لان تلک الالہامات غیر مشتملۃ علی السوء والفحشاء فاقول و بحول اللّٰہ النصیر اصول قد مر فی الصدر ان صاحب البراھین قد ارتکب الکذب علی اللّٰہ الکریم والتحریف المعنوی واللفظی فی ایات القران العظیم و تزکیۃ النفس الی حد یترقی بہ الی درجۃ الانبیاء علیھم الصلوۃ والثناء فھذا اسوء سوء وافحش الفحشاء وان لم یبصرہ من علی عینہ غشاء و علی قلبہ عماء نعم یعمی بصر من یخرج من سواد الاعظم شینہ و فی ذلک الکتاب مدحہ و زینہ فذلک و یدرجہ فی الکاملین المکملین بادعاء الھام رب العلمین لاظھار کمال حالہ وقال علی غیر المقلدین ومن دونھم من الجاھلین و یوید ھذا اقوالہ الباطلۃ بغیۃ اھانۃ القران المبین فالله خیر حافظا و ھو ارحم الرحمین بقی ھھنا شئ وھو ان صاحب الاشاعۃ قال فی ص ۲۵۹) انہ ان اشتبہ علی احد من لفظ النزول فی الھام صاحب البراھین بانا انزلناہ قریبا من القادیان وبالحق انزلنہ و بالحق نزل بنزول القران او وحی الرسالۃ فدفعہ ان ھذا اللفظ لیس مخصوصاً بنزول وحی الرسالۃ او القران بل یستعمل بمعنی الانعام واعطاء کما فی قولہ تعالٰی وانزل لکم من الانعام ثمانیۃ ازواج ای اعطی لکم فکذالک حملوا الھام المفتری لصاحب القادیان محمولا للنزول فلا یشتبہ بنزول القران و وحی الایات اقول ھذا باطل بوجوہ احدھما ان صاحب البراھین الذی انزل الیہ انا انزلناہ لما ترجم لفظ الانزال والنزول بالمعنی الحقیقی لھما وقد نقل ھذہ الترجمۃ صاحب اشاعۃ السنۃ فی ھذہ الصفحۃ فی السطر الثامن منہ فتاویل علی خلاف مراد المنزل علیہ لیس الا توجیہ القائل بما لا یرضی قائلہ و ثانیھا ان انزال المعارف والالھام المعطوف
نے تفسیر اتقان میں بسند طبرانی حضرت ابن عباسؓ سے اس حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے۔ تھوڑے سے تفاوت کے ساتھ اور نیز حق تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یا محمدﷺ قرآن کے ساتھ اپنی زبان مت ہلا۔ تا کہ جلدی سے اسے یاد کرلے اور تھے آنحضرت علیہ السلام کہ شروع کرتے تھے پڑھنا آیات قرآن کا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی فراغت سے پہلے اس لئے کہ کچھ بھول نہ جائے۔ پس آپﷺ کو کہا گیا کہ مت ہلا اپنی زبان کو وحی کے پڑھنے میں۔ جب تک جبرائیل پڑھتا رہے۔ تا کہ تو جلدی سے اسے یاد کرلے اور کچھ فروگذاشت نہ ہو جائے۔ پھر اس جلدی سے روکنے کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ بے شک ہمارا ذمہ ہے قرآن کا جمع کرنا۔ تیرے سینہ میں اور اس کا یاد کرانا تیری زبان پر اور مت جلدی کر قرآن کے پڑھنے میں اس کی وحی کے ختم ہونے سے پہلے۔ پس جب ہم پڑھیں قرآن کو یعنی جبرائیل تجھ پر پڑھے تو اس کے پڑھنے کی متابعت کر پھر ہمارے ذمہ ہے اس کا بیان کرنا جب تجھ پر اس کے معنی میں کچھ مشکل پڑ جائے یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر مدارک کا اور اکثر تفاسیر میں ایسا ہی ہے۔ پھر پہلی آیت جو آپﷺ پر نازل ہوئی قرآن مجید سے وہ بالاتفاق ابتداء سورۃ علق کا ہے۔ مالم یعلم تک تفسیر فتح العزیز میں ہے کہ آنحضرت علیہ السلام ایک دن غسل کے واسطے غار حراء سے باہر تشریف لاکر پانی کے کنارے پر کھڑے ہوئے کہ جبرائیل امین علیہ السلام نے ہوا سے پکارا کہ یا محمدﷺ پس آنحضرتﷺ نے اوپر کو دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا۔ پس تین مرتبہ آپﷺ کو پکارا اور آپﷺ دائیں بائیں دیکھ رہے تھے کہ ایک سورج کی طرح نورانی شخص آدمی کی شکل میں دیکھا جس کے سر پر نور کا تاج ہے اور سبز ریشمی پوشاک پہنی ہوئی
بایة و بالحق انزلنا و بالحق نزل التى ليست هى الا فى بيان انزال القرآن و نزوله ينكر هذا التاويل و يبطل بالف لسان و ثالثها ان لفظ الانزال فى اية وانزل لكم من الانعام الآية محمول على معناه الحقيقى عند اكثر المفسرين بان الله تعالى انزل الانعام من الجنة لادم ابى النبيين صلوات الله عليهم اجمعين كما فى المدارك والكبير والنسا بورى والخازن والحسينى واللباب و غيرها ايقو فسروهابان الانعام لا تعيش الابالنبات والنبات لا تقوم الا بالماء وقد انزل الماء فكانه انزله كذافى المدارك والمعالم والكبير والنيسابورى وابى السعود والبيضاوى و غيرها فعلى هذين القولين لا يجوز تفسير الانزال فى الآية الشريفة اى و انزل لكم من الانعام لانه بالعطاء وجمهور المفسرين فسروا النزول فى الآية الشريفة بالخلق فالاية مثل اية والانعام خلقها لكم و مثل انا خلقنا لهم مما عملت ايدينا انعاماً زعم بعض المفسرين بان انزال الانعام غير ظاهر المراد فعبر به بالعطاء فلا يلزم منه ان يفسر انزال القرآن و نزوله بالعطاء لانه لا يصار الى المجاز الاعند تعذر الحقيقة فقياسه على انزال الانعام قياس مع الفارق فالحاصل ان صاحب الاشاعة فى الحقيقة بصدد شناعة صاحب البراهين فانه يمده فى الاضلال و يمده فى الضلال المهين و ما علينا الا البلاغ المبين والله سبحانه هو الموفق والمعين واما ما قال صاحب الاشعة فى توجيه الهام يامريم اسكن انت و زوجک الجنة ان صاحب البراهين شبه بمريم لمناسبة روحانية بينهما وهى ان مريم كما حملت بلا زوج کذالک صاحب البراهين بغير تربية الشيخ الكامل والولى المكمل صار موردا للوحى ہے ۔ آپ ﷺ کے پاس آکر کہا کہ پڑھ اور بعض روایتوں میں ہے کہ جبرائیل امین علی نبینا وعلیہ السلام نے سبز دیبائی کے قطعہ میں کچھ لکھا ہوا آپ ﷺ کو دیا اور کہا کہ پڑھو آپ ﷺ نے اس کو دیکھ کر فرمایا مجھے حرفوں کی شناس نہیں اور ان پڑھ ہوں ۔ اخیر حدیث تک یہ ترجمہ ہے۔ عبارت تفسیر عزیزی کا ۔ اور ملاعلی قاریؒ شرح فقہ اکبر کے ملحقات میں لکھتے ہیں کہ شارح عقیدہ طحاویہ نے شیخ حافظ الدین نسفی کی منار سے ذکر کیا ہے کہ قرآن نام ہے نظم اور معنی دونوں کا اور ایسا ہی دوسرے اصول والوں نے کہا ہے اور امام اعظمؒ کی طرف جو منسوب کرتے ہیں کہ جس نے نماز میں قرآن کا ترجمہ فارسی پڑھا تو روا ہے تو آپ کا اس سے رجوع ثابت ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ہے کہ باوجود قدرت عربی کے غیر عربی روا نہیں ہے اور یہ بھی آپ نے کہا ہے کہ جو شخص بغیر عربی کے قرأت پڑھتا ہے یا تو وہ دیوانہ ہے معالجہ کیا جائے یا زندیق ہے قتل کیا جائے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے عربی میں کلام کی ہے اور معجزہ ہونا قرآن کا نظم اور معنی دونوں سے حاصل ہے ۔ یہ ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا۔ پس قرآن وحدیث اور کتب عقائد اہل سنت سے متحقق ہوا کہ تمام عربی آیات جن کا نام قرآن ہے وہ آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی ہیں اور انہیں حروف وکلمات سے لوح محفوظ میں لکھی ہوئی تھیں۔ حضرت امام اعظمؒ فقہ اکبر میں اور علامہ قاریؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء علی نبینا ء علیہم السلام سے بطور اخبار یا حکایت کے جو ذکر کیا۔ اور فرعون وشیطان وغیرھما سے بھی جو بیان کیا ہے بے شک یہ دونوں قسم سب کے سب اللہ تعالیٰ کی کلام قدیم ہیں جو ان سے خبر دی گئی ہے۔ یعنی موافق اس کے جو کلمات معانی پر دلالت کرنے والی لوح محفوظ میں لکھے گئے ہیں ۔ آسمان وزمین اور ارواح کے پیدا کرنے سے پہلے کی ۔ نہ یہ کہ حضرت موسیٰ وعیسیٰ وغیرھما
لهامات غيبية ومهبطا لعلوم لدنية بمحض ربوبية من الغيب وادنى مثال هذا التشبيه شعر نظامی ضمیرم نہ زن بلکہ آن شرزہ شیرم کہ مریم صفت بکر آبستن است انتهى فباطل لان اركان التشبيه اربعة المشبه به و وجه الشبه واداة التشبيه لفظا اوتقديراً كما فى المطول وغيره فى فقرة يامريم الخ بدون ذكر المشبه كيف يتصور التشبيه بل خوطب صاحب البراهين بيا ادم و يا عيسى و يامريم و بغير هم من اسماء الانبياء فمن المحال ان يكون الشخص الواحد ابا واما و ابنا واما الربوبية الغيبية فلا يفيض تحريف القران و دعوى المساواة بالانبياء وغيره مما من الامور الخارجة عن الشرع بالايقان فما ذلك الا الطغيان والعصيان والتعدى عن حدود الرحمن ولما حصل الفراغ من بيان بعض الهامات القسم الاول وما يتعلق بها من جواب تاويلات مريده فلنذكر شيئا من القسم الثانى وهى التى تفهم منها تفضيل صاحب البراهين على الانبياء والمرسلين صلوات الله تعالى و سلام عليهم اجمعين فنموذجها هذا كتب صاحب البراهين فى ص ۵۲۲ كان الله تعالى الهم اليه بحمد ک الله من عرشه نحمده و نصلی و فى ص ۵۰۳ يحمدک الله و يمشى اليك ترجم هذا بان الله سبحانه قال له يحمدك الله و يمشى اليك شيئا استهزاء و رياء انتهى يقول الفقير كان له الحمد لايكون الا بعد الاحسان كما فى التفسير الكبير و النيسابورى و فتح العزيز وغيرها و فى مجمع البحار ج والحمد راس الشكر متضمن اظهار النعمة ولانه اعم فهو شكر و زيادة انتهى فى ردالمختار على الدر المختار فى تعريف الحمد و عرفا فعل ينبئ عن تعظيم المنعم بسبب انعامه الى قوله الى قوله والحمد حيث اطلق ينصرف الى العرفى لما قال السيد فى حواشى المطالع انتهى انبیاء علی نبینا وعلیہم السلام سے اور فرعون و شیطان اور دوسرے کفار سے سن کر اللہ تعالیٰ نے ان سے نقل کی ہے۔
پس اب کچھ فرق نہیں ہے درمیان خبر دینے حق تعالیٰ کے ان کے اخبار واحوال واسرار سے جیسا کہ سورۃ ” تبت يدا“ وآیت قتال وغیرھما میں ہے اور نہ درمیان ظاہر فرمانے باری تعالیٰ کے اپنی صفات وافعال وخلق مصنوعات میں جیسا کہ آیت الکرسی سورۃ اخلاص وغیرھما میں ہے اور نہ درمیان آیات افاقیہ اور انفسيہ کے۔ کہ یہ سب کے سب باری تعالیٰ کی کلام ہے اور اس کی صفت پاک، حاصل الکلام کلام اللہ شریف حادث نہیں غیر مخلوق ہے اور موسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام کی کلام اگرچہ حق تعالیٰ کے ساتھ ہو اور ایسا ہی کلام دوسرے انبیاء ومرسلین صلواۃ اللہ علیہم اجمعین وملائکہ مقربین کی مخلوق ہے جو ان کی پیدائش کے بعد حادث ہوئی اور قرآن حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی کلام ہے نہ مجازاً اور اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرح قدیم ہے۔ مخلوق کی کلام کی طرح نہیں۔ کیونکہ ان کی ذات اور کلام دونوں حادث ہیں۔ اس لئے کہ صفت موصوف کے تابع ہوتی ہے اور یوں ہی کہا جائے گا کہ نظم عبرانی جو توریت ہے اور نظم عربی جو قرآن ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کلام ہے۔ اس لئے کہ ان کے کلمات وآیات کلام الہی کی دلیلیں اور علامات ہیں اور اس لئے کہ ان کی نظم کا ابتداء اللہ تعالیٰ سے ہی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب کوئی حدیث حدیثوں سے پڑھو گے تو یہی کہو گے کہ یہ جو میں نے پڑھا ہے اور ذکر کیا ہے میری کلام نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی کلام ہے۔ کیونکہ ابتداء اس کلام کی نظم کا رسول اکرم ﷺ ہی سے ہوا تھا اور اسی قبیل سے ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے آیت: ”افتطمعون ان یؤمنوا لکم “ اور آیت :”وان
فمن المحال ان يحمد الله احدا من مخلوقات ومعهذا لم يوجد فى القران ولا فى الحديث الصحيح التصريح بما حاصله يحمد الله خليله محمدا او احدا من الانبياء صلى الله عليه وسلم بل قال تعالى لجميع عباده قولوا الحمد لله رب العلمين فكيف يتصور ان يقول الله سبحانه فى حق صاحب البراهين يحمدک الله من عرشه الا اى يفضلك على جميع عباده الصالحين و الشهداء والصديقين والانبياء والمرسلين صلوات الله تعالى عليهم اجمعين ليت شعرى ما انعام صاحب البراهين على الله رب العلمين حتى استحق به حمد محمود الحامدين هل هذا الا بهتان عظيم نشاء من غاية الكبر والحمق والغرور وغاية الكذب والزور على ان ركاكة هذا الكلام المنسوب الى الله العلام ليس بمخفى على علماء العلوم وما جاء فى القرآن المجيد من لفظ الحميد فى وصفه تعالى فقد قرن بالغنى و العزيز وغيرهما ليدل على انه عز وجل محمود لا حامد وكما فى التفاسير والتراجم وان فرض ان الحميد بمعنى الحامد فهو سبحانه حامد لذاته و صفاته و فى مجمع البحار فيه الحميد تعالى المحمود على كل حال انتهى وما نطق القران بانه تعالى شاكر و شكور فالمراد منه انه تعالى يجازى القليل من العمل بالكثير من الثواب كما فى عامة التفاسير وقال محى السنة فى المعالم والشكر من الله تعالى ان يعطى فوق ما يستحق انتهى و فى المجمع انه شكور تعالى من يزكو عنده العمل القليل فيضاعف جزاءه فشكره لعباده مغفرته لهم انتهى و فى القاموس الشكر من الله تعالى المجازاة والثناء الجميل انتهى والفرق بين الحمد والمدح ان الثناء الجميل
احد من المشركين“ میں آیت قرآن مجید کو کلام اللہ فرمایا ہے یہ ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا‘ اور مشکوۃ میں سنن دارمی و جامع ترمذی سے بروایت نعمان بن بشیرؓ لایا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش سے دو ہزار برس پہلے ایک کتاب لکھوائی جس میں سے دو آیتیں خاتمہ سورۃ بقرہ کی نازل فرمائیں اور سنن دارمی سے بروایت ابو ہریرہؓ لایا ہے کہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین کی پیدائش سے ایک ہزار برس پہلے سورۃ طہٰ و یٰسین کی تلاوت فرمائی تھی۔ یہ ترجمہ ہے مشکوۃ کی حدیثوں کا۔ اب قرآن مجید اور حدیث اور عقائد اہل سنت کی کتابوں سے بخوبی ظاہر ہو گیا کہ قرآن مجید کی ساری آیتیں اللہ تعالیٰ کی ہی کلام ہے ۔کسی مخلوق کی کلام کو اس میں دخل نہیں ہے اور جو کچھ اس میں نبیوں کے قصے اور صدیقوں کی باتیں اور کافروں کے حالات اور بدبختوں کے مقالات ہیں وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی ہی کلام ہے جو اس پاک ذات نے ان لوگوں کے پیدا ہونے سے پہلے بموجب اپنے علم ازلی کے ان سے خبر دی ہے۔
پس صاحب رسالہ اشاعۃ السنہ کا یہ قول کہ آیت: ”انا خير منه“ کلام شیطانی ہے اور آیت:”انا ربکم الا علٰی “کلام فرعونی ہے اور قرآن نہیں کہلا تا جیسا کہ اشاعۃ السنہ سے اوپر منقول ہو چکا ہے۔ قرآن مجید کی صدھا آیات کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟ اور جمیع قصص قرآنی اور حکایات فرقانی کو کلام مخلوق بنا دینا نہیں تو اور کیا ہے؟ ”اعاذنا الله سبحانه و جميع المسلمين عن ذالك“ ملاعلی قاریؒ امام اعظمؒ کی فقہ اکبر کے اس قول کے نیچے کہ کلام اللہ شریف غیر مخلوق ہے لکھتے ہیں کہ کلام اللہ بالذات قدیم ہے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں کہ جس نے قرآن مجید کو سن کر خیال کیا کہ یہ آدمی
بين وثم من البين ان النبى صلى الله عليه و سلم عرج وارتقى الى الله سبحانه ليلة المعراج كما فى القران والحديث وههنا يمشى و ينزل بالله سبحانه الى صاحب القاديان فسبحان الذى ليس كمثله شئ ثم فى ص ۵۵۸) ادعى صاحب البراهين بانه الهم اليه هذا الالهام الم نشرح لك صدرك الم نجعل لك سهولة فى كل امر بيت الفكر وبيت الذكر ومن دخله كان امنا و صرح فى ترجمة ان الله اعطانى بيت الفكر و بيت الذكر والمراد من بيت الفكر علو بيتى الذى اشتغلت فيها بتاليف البراهين و اشتغل والمراد من بيت الذكر المسجد الذى بنيت فى جنب تلك العلو و وصف الله ذلك المسجد بالفقرة الاخيرة اى ومن دخله كا ن امنا انتهى بترجمة عبارته يقول الفقير كان الله له ان هذه الاية اى ومن دخله الخ الاية نزلت فى شان بيت الله المبارک كما قال تعالى اوّل بيت وضع للناس للذى ببكة مباركا وهدى للعلمين فيه ايات بینت مقام ابراهيم ومن دخله كان امنا وما مدح الله الكريم مسجد النبى صلى الله عليه وسلم ولا المسجد الاقصى الذى هو قبلة الانبياء بهذا النعت العظيم المختص بالبيت الكريم فادعاء صاحب البراهين بان هذه الاية انزلها الله سبحانه عليه ففى وصف مسجده اقرار بفضله عليهما ظهر من هنا شئ وهو ان صاحب البراهين اشتهر فى ابتداء كتابه انه يملك العقار وغيرها التى قيمتها عشر الاف ربية وادعى انه صاحب الالهام والمخاطبة الالهية فمع هذا القرب الاتم والعلو المعظم ماحج الى اليوم بيت الله المكرم لان الحج. لتحصيل تكفير الخطيات وامن يوم المجازات وهذا ان الامران حاصلان له فان الله تعالى قال له اعمل ماشئت فانى قد غفرت لك ص ۵۲۰) والامن المطلوب قد حصل لمسجده
کی کلام ہے تو ضرور وہ کافر ہوا۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت فرمائی ہے اور اس کو عذاب دوزخ سے ڈرایا ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا اور یہ بھی اسی کتاب میں ہے اگر کوئی اعتراض کرے کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن رسول کریم کی بات ہے۔ اس نے دلالت کی کہ قرآن رسول کریم کی کلام جبرائیل یا محمد ﷺ کی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ رسول بتا رہا ہے کہ اس نے قرآن کو اپنے بھیجنے والے سے پہنچایا ہے۔ اس لئے یوں نہیں فرمایا کہ یہ کلام فرشتہ یا نبی کی ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ رسول نے اپنے بھیجنے والے یعنی حق تعالیٰ سے پہنچایا نہ یہ کہ اس نے اپنی ذات سے یہ کلام پیدا کی ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ مراد رسول سے ایک آیت میں جبرائیل ہے اور دوسری آیت میں محمد ﷺ ہیں۔ پس دونوں کی طرف سے اس کلام کی نسبت کرنے سے ظاہر ہو گیا کہ یہ نسبت صرف پہنچانے کے واسطے ہے۔ کیونکہ ایک شخص نے جس کلام کو پیدا کیا ہو تو منع ہے کہ دوسرا اس کو پیدا کر سکے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ بے شک حق تعالیٰ نے قرآن کو آدمی کی کلام بنانے والے کی تکفیر کی ہے۔
پس جس نے قرآن کو آنحضرت ﷺ کی کلام بنایا کہ آپ ﷺ نے از خود یہ کلام بنائی ہے تو وہ کافر ہوا۔ اور اس میں کچھ فرق نہیں کہ قرآن کو آدمی کی یا جن کی یا فرشتہ کی کلام کہے۔ (یعنی ان تینوں صورتوں میں سزا اس کی دوزخ ہے ) اس لئے کہ کلام اس کی ہوتی ہے جس نے اول کہی ہو۔ نہ اس کی جس نے پیغام پہنچایا ہو۔ ( یہ ترجمہ ہے عبارت فقہ اکبر کا۔ کیا خوش کہا ہے کہنے والے نے کہ:
مسجده وهو مع الخير امامه و بانيه و سبق من ص ۵۶۲) ان الدين المقياس اثبت على جميع الانام والله تعالى امر الناس بان ياخذو الطريقة الحقة من صاحب القاديان انتهى فما الحاجت الى اداء الحج بل يحسب ادعائه قاديانته اليوم مكة المعظمة فنعوذ بالله من شرار البريئة فالانبياء و سيد المرسلين كانوا يحجون ويطوفون البيت و لم يحج من يمشى اليه و يحمده رب البيت ثم قال فى ص ۵۰۶) انه الهمه الله سبحانه اليه هذا الكلام انت معى وانا معك خلقت لك ليادونها يا انت منى بمنزلت لا يعلمها الخلق انتهى يقول الفقير كان الله له قال الله تعالى وما محمد رسول الاية وايضاً محمد رسول الله الاية فعلم منزلت حبيب الرحمن من القرآن صلى الله عليه واله قدر عزه و كماله و لنعم ماقيل بمبلغ العلم فيه انه بشر و انه خير خلق الله كلهم فيعلم هذه المنزلة الخلق و يشهدون انه رسول الخلق و يدعى صاحب البراهين انه يقول الحق فى شانه انت منى بمنزلت لا يعلمها الخلق فثبت من ظاهر هذا الكلام فضيلة عليه و على سائر النبين صلوات الله و سلامه عليهم اجمعين وهو كاذب فيه باليقين ثم كتب صاحب البراهين فى ضمیمة اخبار رياض الهند المجرية فى بلدة امر تسر ۱ غرة مارچ سنه ۱۸۸۶ء المطبوعة فى بلدة هوشيار بور ان الله تعالى قال فى حقه انت منى وانا منك ص ۱۴۸ ص ۴ من كالم الثانى وقال تعالى فى حق انى للبشر ومظهر الاول والاخر مظهر الحق والعلا كان الله نزل من السماء ص ۱۴۷ من كالم الثانى يقول الفقير كان الله له الالهام الاول هو فقرة الحديث الصحيح المتفق عليه قال صلى
ہر کہ گوید حق نہ گفتہ او کافر است
ان معتبر سندوں سے اگر صاحب اشاعۃ السنہ کی تسلی نہ ہو کہ یہ علماء مقلدین کے حوالہ ہیں۔ شاید ان کو پسند نہ ہوں تو اولاً اس کا جواب یہ ہے کہ شرح فقہ اکبر سے اسی اشاعۃ السنہ کے ص ۲۹۲، ۲۹۳، ۲۹۴ میں بھی سند لی ہے اور نیز ص ۳۱۴، اشاعۃ السنہ میں بھی حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کی کمال تعریف کر کے ان سے سند لی ہے۔ اور ثانیاً یہ جواب ہے کہ علماء غیر مقلدین بھی اسی اعتقاد پر ہیں جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ جیسا کہ سنداً ان کی بھی بعض کتابوں سے منقول ہوتا ہے۔ تا کہ ظاہر ہو کہ اشاعۃ السنہ والا نے اپنی قوم سے بھی سخت مخالفت کی ہے ”نہج مقبول من شرائع الرسول“ جو تالیف ہے بڑے بیٹا مولوی صدیق حسن بھوپالی کی اور خود مولوی مسطور نے اس کی تصحیح کر کے بھوپال میں چھپوائی ہے اور یہ باپ بیٹا مشاہیر علماء غیر مقلدین سے ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کلام ہے۔ اسی سے ابتداء ہوئی اور اسی کی طرف رجوع ہوگا اور قرآن کے لفظ اور معنی دونوں اللہ تعالیٰ سے ہیں جبرائیل امین صرف ناقل ہیں آنحضرتﷺ فقط پہنچانے والے ہیں اور جتنا لوگوں نے قرآن مجید پڑھا اور پڑھیں گے وہ تمام اللہ تعالیٰ کی کلام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ کلام فرمائی اور بے شک حضرت جبرائیل نے ان سے سنی اور بالیقین آنحضرتﷺ پر اتاری جو کوئی کہے کہ وہ کلام فرشتہ کی یا آدمی کی ہے تو اس کا مکان دوزخ ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت فارسی نہج مقبول کا، اور یہ عبارت اس کے ص ۵ میں ہے۔ قولہ یعنی اشاعۃ السنہ میں لکھا ہے اور اگر بعینہٖ ان دونوں کی نسبت یہ خیال کریں کہ بہ ضمن حکایت ابلیس و فرعون یہ کلام خدا میں پائی گئی ہیں تو
الله عليه وسلم لعلى انت منى وانا منك اى انت متصل بى فى النسب و للصهر والسابقة والمحتد و غيرها كذافى القسطلانى والكرمانى شرحى البخارى يعنى فى الاخوة والقرب وكمال الاتصال والاتحاد كذا فى المرقات واشعة اللمعات شرحى المشكوة وقال الكرمانى ومن هذه تسمى اتصالية انتهى فعلم منه ان صدور هذا الكلام بين القريبين من النسب والصهر وغيرهما صحيح لاشك فيه واما الله المنعوت بنعت لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد والموصوف بصفة انه لا يتصل بشئ ولا يتحد و لا يشبه مع شئ كما صرح به علماء العقائد فكيف يقول الله سبحانه لاحد من عباده انت منى وانا منك حاشاه فتحقق ان هذا بهتان بهته صاحب البراهين لغرض اثبات فضيلته على الانبياء والمرسلين صلوات الله عليهم اجمعين واما الالهام الثانى فهو ايضاً كذب محض و بهتان عظيم لان المشابهة المعبرة بلفظة كان اشد مشابهة من غيرها كما هو من الاتقان فلما اشتبه وان صاحب البراهين اشد مشابهة به سبحانه و تعالى عما يقول الظلمون علواً كبيرا فوالله فى اعلى العلى معنى يعادل الاله لا اشتباه فسبحان من تنزه عما يصفه الملحدون و نعوذ بالله من غضبه و عقابه و شر عباده ومن همزات الشياطين وان يحضرون وليكن هذا اخر ابحاث المسماة برجم الشياطين بدفع غلوطات البراهين والحمد لله رب العلمين وصلى الله تعالى على خير خلقه و حبيبه محمد و عترته كلما ذكره الذاكرون وكلما غفل عن ذكره الغافلون و بعد ختم هذه الرسالة يعرض المشتاق الى وفور كرم الخلاق القصورے كان الله له لساداتنا وموالينا حضرات علماء الحرمين الشريفين زادهم الله الكريم حرمة وكرامة فى الدارين و عزة و شرافة فى الدارين
یہ کلام رحمانی اور جزو قرآن کہلاتے ہیں۔ انتہاء بلفظہ ! فقیر کہتا ہے کہ آیت : ”انا خير منه“ اور آیت: ”اناربکم الاعلیٰ “ کو اللہ تعالیٰ کی کلام اور جزو قرآن بنانے میں کسی کے خیال کرنے کی کیا حاجت؟۔ یہ دونوں آیتیں فی الحقیقت اور دراصل حق تعالیٰ کی کلام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو فرمایا ہے اور شیطان فرعون کے پیدا ہونے سے ہزار ہا برس پہلے حق تعالیٰ نے ان کو لوح محفوظ میں لکھوایا جیسا کہ قرآن وحدیث وعقائد اہل سنت سے اوپر مبرہن ہو چکا ہے۔
پس اس کلام عربی معجز نظام کو شیطان وفرعون کی کلام بنانا اور قرآن میں ان سے نقل کا اعتبار و خیال کرنا محض ہذیان اور بہتان ہے۔ خدائے سبحانہ وتعالیٰ جمیع اہل ایمان کو اس اعتقاد و خیال سے بچائے اور عاقبت بخیر فرمائے۔ واضح رہے کہ یہ اقوال صاحب اشاعۃ السنہ کے جن کا بنائے اختلاف متکلم پر ہے صاحب براہین احمدیہ کی تائید کی تمہید میں تھے جس میں صاحب اشاعۃ السنہ نے اس کی محبت میں اپنا ایمان قربان کر دیا جیسا کہ شرعاً محقق ہو چکا ہے۔ اب فقیر کاتب الحروف اس کے وہ اقوال جو اصل تائید صاحب براہین میں ہیں جن کا مدار اختلاف مخاطب پر ہے نقل کر کے ادلہ شرعیہ سے ان کی تردید لکھتا ہے۔ واللہ ھو المعین!
قوله ! ”ایسا ہی اختلاف مخاطب کے ساتھ اختلاف کلام کو سمجھنا چاہئے۔“ انتہاء بلفظہ ! فقیر کہتا ہے کہ ایک نقص اس پر اوپر لکھا گیا ہے دوم علماء بدیع ومعانی وغیرہم نے تصریح کی ہے کہ کلام یا خبر ہے یا انشاء اور ان دونوں کے معنی میں کسی نے اختلاف مخاطب کا کچھ بھی اعتبار نہیں کیا نہ معلوم کہ اس نئے مولوی نے یہ اقسام کلام کہاں سے نکالی ہیں۔
بأنى عثرت فى الصفر المظفر سنة ١٣٠٢ من هجرة سيد المرسلين صلوات الله و سلامه عليه و على سائر الانبياء اجمعين على اشتهار صاحب البراهين الذى هو قيل فى ابتداء هذا التحرير و اشتهر بطبعه عشرين الفاً فى اقطار الارض غايت التشهير فلما رأيت فيما ان مشتهره ادعى بتاليف كتابه بامره والهامه تعالى ووصف بنفسه فيه باوصاف يتعدى بها حدود الله عزوجل كرهت ذالك وما طب نفسى عما هنالك ثم رائت كتابه لكشف حقيقة الحال بالكمال فوجدت الهاماته مخالفة للشرع الشريف بتحريف كلام الله اللطيف و غير ذلك مما صرحته فى هذه الاوراق بعون الملك الخلاق فكتبت الى مؤلف البراهين بنية اداء حق اخوة الاسلام ان يرجع من هذه الدعاوى الكاذبة المرام و يطبع كتابه ببيان ردالاديان الباطلة النظام فما جابنى بذلك وماتاب عما هنالك فذكرت بعد ذلك فى بعض مجالس تذكير المسلمين ان الهامات كتابه حرفت و بدلت كلام رب العلمين و شارك من سفه نفسه فى فضائل النبيين جعل القرآن عضين فطلب منى مويده صاحب الاشاعة الخلوة للكلام فى امر الالهام فلعلمى بان صاحب البراهين و مؤلف الاشاعة و وصف احدهما للاخر فى الكتاب و اظهر الثانى حقيقة الاول فى رسائله عند الاصحاب و بهذه المواصفة والممادحة امن بحقية صاحب البراهين اكثر العلماء و جميع العوام من غير المقلدين و بعض العلماء و كثير العوام من المقلدين وصار قاديانه مرجعا لخواص و العوام مثل بيت الحرام مارضيت بالمساهلة فى الحق بل طلبت البحث معه لاظهار الحق بمحضره من العلماء والاذكيا فها
قوله! ”جو کلام خدائے تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کے خطاب میں فرمایا ہے اور وہ ایک کتاب معروف میں درج ہو کر مسلمانوں میں پڑھا جاتا ہے۔ وہ قرآن کہلاتا ہے۔“ انتہاء بلفظہ!
فقیر کہتا ہے کہ خطاب کلام میں بصیغہ حاضر ہوتا ہے۔ تلخیص المفتاح مطول کے متن میں لکھا ہے کہ تکلم سے خطاب کی طرف آیت : ”ومالی لا اعبدالذی“ میں اور خطاب سے غیبت کی طرف آیت : ”حتیٰ اذا کنتم“ فی ” الفلک“ میں اور غیبت سے خطاب کی طرف آیت : ”ملک یوم الدین ، ایاک نعبد“ میں التفات ہے۔ یہ ترجمہ ہے اس عبارت عربی کا جس سے ثابت ہوا کہ خطاب مخاطب کر کے بات کرنے کا نام ہے۔
پس معلوم رہے کہ یہ تحریف قرآن مجید کی جو صاحب اشاعۃ السنہ نے بیان کی ہے اس سے ہزار ہا آیات قرآن کی قرآن ہونے سے خارج ہوگئیں۔ اس لئے کہ آنحضرتﷺ قرآن مجید کی تمام آیات سے مخاطب نہیں ہیں۔ یعنی سارے قرآن مجید میں آپﷺ کو خطاب نہیں کیا گیا۔ بلکہ وہ آیتیں جن میں آپﷺ کو خطاب ہوا ہے مثل اور علم دیا آپﷺ کو اس کا جو آپﷺ کو معلوم نہ تھا اور کہہ دے یا محمدﷺ اگر تم خدا سے محبت کرنی چاہتے ہو تو میری پیروی کرو اور یہ بے شک ہم نے تجھے فتح ظاہر کر دی تا کہ خدا آپﷺ کی اگلی پچھلی تقصیریں معاف کرے اور بے شک ہم نے بخشا آپﷺ کو کوثر یہ ترجمہ ہے آیات خطاب کا اور ایسی آیات خطاب تھوڑا سا حصہ ہیں قرآن مجید کا اور نیز غیر آنحضرتﷺ کے قرآن شریف کی بہت سی آیات میں مخاطب ہیں جیسا کہ بنی اسرائیل اور اس امت مرحومہ کے مومن اور کفار اور جن و غیر ہم اور نیز صد ہا آیات قرآنی ایسی ہیں جن میں کسی کو خطاب نہیں کیا گیا۔ پس اس
قبل صاحب الاشاعة هذا للدعا بل ما اجابنی فی هذا الدعا فبعد ذلک فی شهر الجمادی الاخری اعلنت بطبع الاشتهار ان اکثر الهامات صاحب البراهین مخالفة لاصول الدین الاسلام فانی اطلب عنه ومن مؤیداه صاحب الاشاعة المناظرة فی مجلس العلماء الاعلام حتی یظهر الحق ولا یختل عقائد الخواص والعوام فما اجابا بذلک ایضاً ثم کتبت فی شهر رمضان المبارک رسالة هندیة لرد هفواتهما نصرة الدین و عرضتها علی علماء الپنجاب والهند فوافقونی فی اعتبار مخالفة صاحبی البراهین والاشاعة الشرع المتین فبعد ذلک قال لی بعض رؤساء بلدة امرت اسر بان المصلحة فی المناظرة لاظهار الحق اولا و باشتهار ما ظهر من الحق ثانیاً فقبلته و قلت انی سعیت لهذا الامر منذ ثمانیة عشر شهراً لکن لا یقبله صاحب البراهین فقال لی انی اسعی للمناظرة و کتب الی صاحب البراهین ثم کتب الی ذلک الیاس ان صاحب البراهین یقول فی کتابی تصوف فانا اطرح بعضه بین العلماء الصوفیة و سمی ثلثة رجال فقبلتهم طلبت منه ان یجمع معهم العلماء الثلثة الا خرین و یعین الیوم للمناظرة عند القوم فما اجابانی الی الان وما انطبعت تلک الرسالة الهندیة الی هذا الزمان رجاء ان تتزین بتصحیح حضرات علماء الحرمین المحترمین لیظهر نهایة اعتمادها عند المسلمین و ینسد اختلال الدین المتین و یرجع الی الحق بعض العلماء من المقلدین المصدقین لصاحب البراهین فترجمتها فی العربیة فی شهر شوال ۱۳۰۳ وما فعلت ما ذکرت الا حمایة للقرآن المبین و رعایة لحقوق حضرات الانبیاء والمرسلین صلوة الله و سلامه علیهم اجمعین و صیانة لعقائد المسلمین و ارسلها الی جنابکم المحیی لمراسم الدین و المعاذ والملجاء للمؤمنین
تفسیر کی رو سے صدہا آیات قرآن مجید ہونے سے خارج ہوگئیں۔ مرزا قادیانی کے اس مؤید پر سخت افسوس ہے جس نے تقاضائے محبت اور ان کی نکمی دوستی میں ہزارہا آیات قرآنی کو کلام اللہ شریف سے نکال دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی اس کا منتقم کافی ہے۔ سبحان اللہ ! عوام اہل اسلام ایسے لوگوں کو علماء دین سے جانتے ہیں اور وہ اپنے رسالہ کا نام اشاعۃ السنہ مشہور کر کے آپ کو اکابر مصنفین سے اور صاحب براہین احمدیہ کو کاملین مکملین سے مانتے ہیں اور فی الاصل یہ دونوں صاحب سارے غیر مقلدین کی طرح دنیا کی سخت محبت میں گرفتار ہیں اور مال حرام وحلال کے جمع کرنے کی کوشش میں سرشار ہیں ۔ چنانچہ اپنے رسالوں کے حق تصنیف بیچ کر بہت سے روپے جمع کر لیتے ہیں اور خود رسالہ اشاعۃ السنہ جو سال تمام میں چوبیس جزو ہوتا ہے ایک یا دوروپیہ اس کی قیمت میں عمدہ منفعت ہے اور صاحب اشاعۃ السنہ نوابوں سے تین روپیہ سالانہ اور دوسرے غنیوں سے پندرہ روپیہ اور متوسط گزارہ والوں سے سات روپیہ اور کم وسعت والوں سے تین روپے بارہ آنہ سالانہ لیتے ہیں اور براہین احمدیہ جو تینتیس جز کی کتاب ہے ۔ بازاری قیمت دویا تین روپے رکھتی ہے ۔ مرزا قادیانی نے ادنیٰ قیمت اس کی پچیس روپیہ اور اعلیٰ قیمت ایک سو روپیہ تک مقرر کی ہے جو اس کی کتاب خرید ے خواہ وہ رافضی ہو یا بت پرست ہی ہو ان کی بہت مبالغہ اور غلو سے تعریف کرتا ہے اور جو اس کی کتاب کوئی نہ خریدے۔ اگرچہ نواب مسلمان ہی ہو۔ اس کی پرلے درجہ کی توہین کر کے قارون سے اس کو تشبیہ دیتا اور دنیا پرستوں سے بنا دیتا ہے۔ جیسا کہ اس کی کتاب کے پہلے اور دوسرے اور چوتھے حصہ کے ابتدائی اوراق ملاحظہ کرنے سے یہ
مع الكتاب البراهين ورسالة الاشاعة المشتملة على وصفه تاويل اقواله ومع اشتهار صاحب البراهين لطلب التوجه من حضرتكم الى ملاحظه هذه الرسالة وتوافق النقل بالاصل وان كان ما كتبة حقا موافقا بالكتاب والسنة واجماع الامة قرنوها بتصحيحكم الشريف وماكان فيها من الخطاء والسهو فاصلحوها باصلاحكم اللطيف وبينوا بالبيان الشافى والشرح الكافى طلباً للاجر الوافى حكم صاحبى البراهين والاشاعة معتقد بهما وحكم كتابيهما شريعة و طريقة حتى يطمئن المسلمون و يرجعون الى الحق كلهم اجمعون فجزاكم الله الشكور خير الجزا فى الدنيا والعقبى وسلمكم وابقاكم لتائيد دينه سيد الانبياء عليهم الصلوة والثنا وزادكم الله تعالى بسطة فى العلم والجسم لاحقاق الحق وابطال الباطل عند الكرام وعليكم مدار الاسلام الى يوم القيام والسلام خير الختام مع الاكرام و رزقنا الله المجيب الدعوات لقاءكم وبقاؤكم الموصلة الى السعادات العظيمة والبركات الكبرى بالامن والامان والسلامة والاسلام والحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على مظهر جماله ونوره وكماله واله وصحبه بقدر جوده و نواله عدد جميع معلومات العليم العلام تَمَّتِ الرَّسَالَةُ وشرعت التقاريظ۔ تقریظ حضرت سید العلما و سید الاتقیا مولانا مولوی محمد رحمة الله الهندى المهاجر الذى اعزه حضرت سلطان الروم بتجويز شيخ الاسلام فى الروم بخطاب پایه حرمین شریفین و كتب له فى منشور بالقاب عالية۔ بسم الله الرحمن الرحيم۔ اما بعد فانى سمعت هذه الرسالة من اولها الى اخرها فوجدتها صحيحة العبارة والمضمون والنقول التى
حال معلوم ہو جاتا ہے اور نیز جب بہت سے روپیہ آنے کا اس کو الہام ہوتا ہے تو کمال ہی خوشحال ہوتا ہے اور جب معلوم ہو کہ وہ تھوڑا سا روپیہ ہے تو سخت غم کا پامال ہوتا ہے۔ جیسا کہ براہین کے ص ۵۲۲ سے ۵۲۴‘ خزائن ص ۶۲۵‘ ۶۲۶ تک کے مطالعہ کرنے سے ظاہر ہے۔
پس یہ سارا مدار دنیا کی سخت محبت اور روپیہ پیسہ جمع کرنے پر ہے جس کو دانشمند بخوبی جانتے ہیں اور پورا علم حق تعالیٰ کو ہے۔ الحاصل قرآن مجید کی جامع مانع تعریف وہ ہے جو علماء اسلام کی کتابوں میں درج ہے۔ چنانچہ حضرت امام اعظمؒ کی فقہ اکبر اور ملا علی قاری کی شرح میں لکھا ہے قرآن مجید حضرت ﷺ پر تئیس برس کی مدت میں آیت آیت اتارا گیا ہے اور مصحفوں میں لکھا ہوا ہے۔ یعنی جو دفتین میں مکتوب ہے وہ سب کلام اللہ ہے پر دوسری جگہ فقہ اکبر اور اس کی شرح میں لکھتا ہے کہ قرآن مجید مصحفوں میں لکھا ہوا اور دلوں میں یاد اور زبانوں پر پڑھا گیا اور آنحضرت ﷺ پر بالتدریج اتارا گیا ہے۔ بواسطۂ حروف‘ مفردات و مرکبات مختلف حالتوں میں یہ ترجمہ ہے عبارت عربی کا۔ اب دانشمند لوگ اس نہایت عجیب و غریب آدمی کو دیکھیں جو تنزیل اور خطاب میں امتیاز نہیں رکھتا اور قرآن مجید کی آیات کو فرعون و شیطان کی کلام بنا دیتا ہے اور اس مایہ علمی پر اس کو یہ ادّعا ہے کہ مجتہدین دین غلطی پر تھے اور میں دین متین کی تائید کر رہا ہوں۔
پس یقیناً یہ رعونت اور جہل مرکب کا شعبہ ہے پھر اشاعۃ السنہ میں لکھتے ہیں۔ قولہ ! ”وہی کلام (یعنی جس کا نام قرآن ہے) اگر کسی غیر نبی کے خطاب میں اور پہلے توریت انجیل
نقلها حضرت مؤلف هذه الرسالة جزاه الله خيرا مطابقة للاصل وقد سمعت قبل هذا ايضاً من الثقات المعتبرين حال صاحب البراهين الاحمدية فهو عندى خارج من دائرة الاسلام لايجوز لاحد اطاعته وجزى الله مؤلف هذه الرسالة عسى ان ينجو بمطالعتها كثير من الناس من ان يتبعوا صاحب البراهين الاحمدية عصمنا الله و جميع المسلمين من اغواء الشياطين ومكرهم و خديعتهم وانا الفقير الراجي هبة الله ابن خليل الرحمن غفر الله لهما ولجميع المسلمين اجمعين.
تقریظ حضرت مفتی مکہ المکرمہ الاحناف
الحمد لمن هو به حقيق و منه استمداد العون والتوفيق الحمد لله الذى تنزهت ذاته العلية عن الغفلة و النسيان وتقدست اسماءه و صفاته عن ان يعتريها زوال او نقصان و جعل العلماء فى كل عصر و زمان قائمين بحفظ الشريعة و قواهم على اظهار الحق واخماد الباطل بلا مداهنة شنيعة واجزلهم بذلك اجراً وافراً وخيرات عديده حيث بينوا ما هو صواب وما هو خطاء كسراب بقيعة والصلوة والسلام على سيدنا محمد نبيه الذى جمع فيه مولاه الفضل جميعه و على اله و اصحابه و التابعين لهم بالشريعة المطهرة امابعد فقد اطلعت على هذه الرسالة الشريفة والنقول اللطيفة فرايتها هى التى تقر بها العينان وان غلام احمد القاديانى قد هوى به الشيطان فى اودية الهلاك والخسران فجزى الله جامع هذه الرسالة خير الجزاء و اجزل ثوابه واحسن يوم القيامة مابنا ومابه امين و صلى الله تعالى على سيدنا محمد و على اله و صحبه اجمعين يرقمه خادم الشريعة راجى اللطف الخفى محمد صالح ابن المرحوم صديق كمال الحنفى مفتى مكة المكرمة الا كان الله لهما حامياً
وغیرہ میں یا کسی ولی کے الہام میں خدا نے فرمایا ہے تو وہ قرآن نہیں کہلاتا۔ گو حقیقت میں وہ بعینہ وہی کلام ہے جو قرآن میں پایا جاتا ہے۔‘‘ انتہی بلفظہ ! فقیر کہتا ہے کہ اس عبارت میں ہر چند بہت سی غلطیاں ہیں مگر جن کا بیان یہاں پر ضروری ہے وہ یہ ہیں اوپر لکھا گیا ہے کہ قرآن مجید کی آیات کو قرآن بنانے میں خطاب کو کوئی دخل نہیں۔ قرآن وہ ہے جو سرورِ عالم ﷺ پر اتارا گیا اور آپ ﷺ کی طرف کلامِ الٰہی سے وحی ہوا۔ اور قرآن اس اترنے سے پہلے بھی قرآن تھا اور اس سے پیچھے بھی قیامت تک قرآن ہی کہلاتا ہے اور کسی ولی پر کوئی آیت قرآن کی الہام ہو جائے تو وہ قرآن سے خارج نہیں ہوتی ہے بلکہ قرآن مجید ازل سے ابد تک قرآن ہی ہے۔ معنی اس کے کلام نفسی قدیم ہے اور اس کی نظم بھی حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور بے شک خدائے پاک نے اس کا نام قرآن حکیم رکھا ہے۔ پس غیرممکن ہے کہ قرآن غیر قرآن بن جائے اور عقائد اہل سنت میں مقرر ہو چکا ہے کہ حق سبحانہ کی صفات پر کبھی تغیر نہیں آتا ہے۔ جیسا کہ اس کی ذات پر بدلنا نہیں ہے اور خود غیرمقلدین کی نہجِ مقبول میں ہے و بر ذات وصفات الٰہی تغیر نمی رود ص ۱۱۰ س ۱۶ میں دیکھو۔ پر تعجب یہ ہے کہ خود صاحب براہین جس جس آیت قرآنی کی اپنی طرف الہام ہونے کا مدعی ہے۔ ان کا آیات قرآنی ہی نام رکھتا ہے۔ جیسا کہ اوپر براہین کے ص ۴۸۵‘ ۴۹۸‘ خزائن ص ۵۷۷‘ ۵۹۲ سے منقول ہو چکا ہے اور یہ صاحب اشاعۃ السنہ اس کی تائید میں قرآن کو غیرقرآن اور بعض آیات قرآنی کلمات فرعونی و شیطانی بنا رہا ہے۔ خدا جانے یہ شخص اگر قرآن کی بے ادبی میں غضب الٰہی سے پروا نہیں رکھتا تو اتنا بھی نہیں جانتا کہ خلاف مرضی قائل کے اس کے
مصلیاً مسلماً تقريظ حضرت شيخ العلماء مفتى الشافعية بمكة الحمية الحمد لله الذى يسر بهذا الذين من يقوم بحقه من خفض كل زنديق ضال مضل وردى وقمع نصر كل عالم هاد مهتد واعانه و رفعه و بعد فقد نظردی فيما نسب لغلام احمد القاديانى الفنجابی فان صح مانسب اليه عنه كان من الضالين المضلين ومن الزيادقة للحدين ومثله فيمادكر محمد حسين المؤيدله برسالة المسلماه باشاعة السقة فكل منهما يجب على ولى الامروفقه الله لما يحبه و يرضه ان يعزرهما التعزير البليغ الذي يحصل يردعهما و ردع امثالهما واما ما الفاء الامام الفاضل والهمام الكامل الشيخ محمد ابو عبدالرحمن غلام دستگير الهاشمي الحنفى القصورى فى بيان ضلال المذكورين و ابطال اقوالهما وسماه برجم الشياطين بردا غلوطات البراهين فتالیفه المذكور هو الحق الذي لاشك فيه فجزلهم الله عن الاسلام والمسلمين الجزاء الجميل و احله فى القلوب المحل الجليل والله سبحانه و تعالى اعلم قاله بقمه و رقمه بقلمه المرتجى من ربه كمالا يقبل محمد سعيد بن محمد بابصيل مفتى الشافعية بحكمة غفر الله له ولوالديه والجميع المسلمين تقريظ حضرت مفتى الماكية بمكة الحمية الحمدلله رب العلمين رب زدنی علما اللهم هداية للضواب من يهدى الله فلا مضل له ومن يضل فلا هادي له اما صاحب هذا المقال فقد انغمس فى بحر الخواطر الشياطية والهواجس النفسانية فما اكذبه واشقاه حيث ادعى ما ادعاه من الدجل المنصوص عليه يكون فى اخر الزمان دجالون كذابون ياتونكم من الاحاديث بما لم تسمعوا انتم ولا اباؤكم الحديث واما
قول کی توجیہ کررہا ہے۔ الٰہی ایسی نادانی سے پناہ دے۔ ہمارے اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر۔ پھر اشاعۃ السنہ کے ص ۳۰۴ میں جو لکھا ہے کہ:
قوله ! ”شیطان بجز برائی گمراہی کے اور کچھ القا نہیں کرتا ہے اور ان الہامات میں سراسر ہدایت تعلیم کی گئی ہے۔ گمراہی کی کوئی بات ان میں مانی نہیں گئی پھر یہ القاء شیطانی کیوں کر ہوسکتا ہے“ ......... الخ ! انتہا بلفظہ !
فقیر کہتا ہے کہ اوپر متحقق ہوچکا ہے کہ مرزا قادیانی نے براہین کے الہامات میں حق تعالیٰ پر افتراء کیا ہے اور قرآن مجید کی آیات میں لفظی معنوی تحریف کی ہے اور اپنی خودستائی یہاں تک بیان کی ہے کہ انبیاء سے برابری کردی ہے تو یہ سب برائیوں سے بڑھ کر برائی اور سخت بے حیائی ہے جس کو دیدہ حق بیں اور دل حقیقت گزیں عطاء نہ ہو تو وہ ان باتوں کو کب دیکھتا ہے اور کیوں پروا کرے ان باتوں کی جو خود سوادِ اعظم سے نکل جائے اور صاحب براہین احمدیہ اس کی کمال مدح کرے۔ یہاں تک کہ بادّعاء الہام رب العالمین اس کو کاملین مکملین میں داخل کردے اور غیر مقلدین و غیرہم کو اس کے کمال حال و مآل پر آگاہی بخشے تو یہ صاحب اشاعۃ السنہ اس کے اقوال باطلہ کو نہایت اہانت قرآن کریم سے کیوں نہ تائید کرے۔ خدا ہی اپنے دین کا حافظ ہورہا یہ کہ اشاعۃ السنہ کے ص ۲۵۹ میں تحریر ہے عربی فقرہ انا انزلناہ قریباً من القادیان !
قوله ! ”وبالحق انزلناہ وبالحق نزل“ اس میں کسی کو لفظ نزول سے نزول قرآن یا وحی رسالت کا شبہ گزرے تو اس کو یوں دفع کر سکتا ہے کہ یہ لفظ (نزول) وحی رسالت یا قرآن سے مخصوص نہیں
المؤيد له بالرسالة المسماة باشاعة السنة فهو اشقى منه لقوله تعالى ولاتعاونوا على الاثم والعدون الاية فكل منهما يجب على ولى الامر تعزيرهما التعزير البليغ واما ما الفه الفاضل العلامة الشيخ محمد ابو عبدالرحمن غلام دستگیر الهاشمى الحنفى القصورى فى بيان ضلال المذكورين وابطال اقوالهما فقد اجاد فيه بما ذكره من الحث البليغ على اتباع الدين الحق القويم والله اعلم اللهم لا تجعلنا ممن اتبع هواه و سلک طریق الشیطان فاغواه وحسن له سؤ المقال فارداه امین بجاه الامين كتبه راجى عفو ربه واهب العطية محمد ابن المرحوم الشيخ حسين مفتى المالكية
ببلد الله المحمية مصليا و مسلما تقريظ حضرة مفتى الحنابلة بمكة المعظمة الحمد لله الذي انزل على عبده الكتاب الصادق فى قيله القائل فيه وان هذا صراطى مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله والصلوة والسلام على سيدنا محمد نبيه و حبيبه و خليله و على اله و اصحابه وانصاره وتابعى سبيله اما بعد فقد اطلعت على هذه الرسالة الشريفة المشتملة على النقول الصحيحة الصريحة المنيفة فرايتها محكمة مؤيدة شافية كافية مفيدة تقر بها اعين الموحدين اهل السنة والجماعة و تعمى بها اعين المعتزلة والخوارج و الملحدين والمبتدعة المارقين من الدين كما يمرق السهم من الرمية كما اخبر بذلك خير البرية وهى التى اظهرت زيغ احمد القادياني وانه مسيلمة الكذاب الثاني واظهرت تلبيسه الشيطاني فجزى الله مؤلفها عن المسلمين خيراً كثيراً واجراً جزيلاً جميلاً كبيراً و صلى الله على سيّدنا محمد خاتم النبيين والمرسلين و على اله و صحبه اجمعين امر برقمه الحقير خلف بن ابراهيم خادم افتاء الحنابلة بمكة المشرفة حامداً
ہے بلکہ یہ لفظ بخشش وعطا کے معنوں میں بھی آیا ہے۔ چنانچہ آیت زمر میں فرمایا ہے خدا نے تمہارے لئے آٹھ جوڑی مواشی اتاری ۔ یعنی عطا فرمائی ہیں۔ پس ایسا ہی عطاء الہام معارف صاحب قادیان کے نزول سے تعبیر فرمایا ہے۔‘ انتہاء بلفظہ!
فقیر کہتا ہے کہ یہ تاویل کئی وجہ سے باطل ہے۔ پہلی وجہ یہ کہ خود صاحب براہین نے اس الہام کے بیان میں لفظ نزول کا اتارنے سے تینوں جگہ میں ترجمہ کیا ہے اور صاحب اشاعۃ السنہ نے اسی ص ۲۵۹ کی آٹھویں سطر میں اس کو نقل کیا ہے تو اب برخلاف مراد قائل اس کے قول کی تاویل کرنی سراسر بے جا ہے۔ دوسری وجہ قادیان کے فریب انزال معارف والہام کو جب آیت ”وبالحق انزلناہ وبالحق نزل“ سے جو صرف قرآن مجید کے اتارنے اور اترنے کے بیان میں ہے۔ ملا کر لکھا ہے تو یہ طرز کلام اور مقتضائے مقام اس تاویل کو ہزار زبان باطل کر رہا ہے۔ تیسری وجہ آیت ”وانزل لکم من الانعام“ میں لفظ انزال بھی اکثر مفسرین کے نزدیک اپنے حقیقی معنوں یعنی اتارنے میں مستعمل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ السلام کے ساتھ بہشتوں سے یہ مواشی اتارے تھے۔ جیسا کہ تفسیر مدارک و تفسیر کبیر و نیشاپوری و خازن و حسینی و لباب وغیرھا میں درج ہیں اور نیز انہیں تفاسیر میں ہے کہ مواشی کی زندگی نباتات سے ہے اور نباتات کا قوام پانی سے ہے اور پانی آسمان سے اتارا جاتا ہے۔ پس گویا مواشی بھی آسمان سے اتارے گئے۔ علاوہ مذکورہ بالا تفاسیر کے تفسیر ابوسعود و بیضاوی میں بھی ایسا لکھا ہے۔ پس ان دونوں
حامداً مصلياً مسلماً تقريظ حضرت مفتى الحنفية فى المدينة النبوية على صاحبها الصلوة السرمدية بسم الله الرحمن الرحيم اسال الله سبحانه المولى الكريم ذالجلال التوفيق والاعانة فى الفعل والقول الحمد لله الواحد الفرد الصمد المنزه عن الشريك والولد الذى بعث الرسل الكرام بالحجج الواضحة والايات البينات وايدهم بالارهاصات الخارقة والمعجزات الباهرة على خاتم انبيائه و سيد اصفيائه كتابا معجزا مبينا القائل فيه جل شانه اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى و رضيت لكم الاسلام دينا هاديا الى الصراط المستقيم والمنهاج القويم كتاب لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد والصلوة الدائمة والسلام التام على النبى الداعى الى سبيل النجاح والاستقامة المنبئ عن كل كذاب و مبير الى يوم القيمة القائل فيما رواه مسلم عن ابى هريرة رضى الله عنه يكون فى اخر الزمان دجالون كذابون ياتونكم من الاحاديث بما لم تسمعوا انتم ولا آبائكم فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم وله فيما رواه مسلم عن ابى هريرة رضى الله عنه من دعا الى هدى كان له من الاجر مثل اجور من تبعه لا ينقص ذلك من اجورهم شيئاً ومن دعا الى ضلالة كان عليه من الاثم مثل اثام من تبعه لا ينقص ذلك من اثامهم شيئا والقائل فيما رواه احمد والنسائى والدارمى عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه خط لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم خطا ثم قال هذا سبيل الله ثم خط خطوطا عن يمينه وعن شماله و قال هذه سبل على كل سبيل منها شيطان يدعو اليه وقرأ وان هذا صراطى مستقيما فاتبعوه
وجہوں میں انزال کے معنی عطا کے نہ ہوئے اور جمہور مفسرین نے آیات شریفہ کے معنی یوں کئے ہیں کہ خدا نے تمہارے لئے مواشی پیدا کئے تو یہ آیت مثل آیت سورۃ النمل اور سورۃ یٰسین کے ہوئی جن میں مواشی کے پیدا کرنے کا ذکر ہے تو ان معنوں کی رو سے بھی انزال کو عطا پر حمل کرنا ناروا ٹھہرا اور یہ جو کسی مفسر نے اس آیت میں مواشی کے اتارنے کو غیر ظاہر المراد خیال کر کے عطا کے معنی بھی لئے تو اس سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ قرآن مجید کے اتارنے اور اترنے کو عطا کے ساتھ تفسیر کیا جائے ۔ کیونکہ بوقت متعذر ہونے حقیقت کے مجاز کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پس ”وبالحق انزلناه“ کو انزال انعام پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔
الغرض صاحب اشاعۃ السنۃ صاحب براہین کی تائید نہیں کر رہا بلکہ اس کی ضلال و اضلال کو بڑھا کر در پے اس کی توہین کے ہے۔ بر رسولاں بلاغ باشد و بس اور وہ
قوله ! جو صاحب اشاعۃ السنۃ نے ”يا مريم اسكن انت وزوجك الجنة ، “ کی تاویل ص ۲۸۰ میں لکھا ہے صاحب براہین کو روحانی مناسبت کے سبب مریم سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جیسے حضرت مریم علیہا السلام بلا شوہر حاملہ ہوئی ہیں ایسے ہی مؤلف براہین بلا تربیت وصحبت کسی پیر و فقیر ولی مرشد کے ربوبیت غیبی سے تربیت پا کر مورد الہامات غیبیہ و علوم لدنیہ ہوئے ہیں۔ اس تشبیہ کی ایک ادنیٰ مثال نظامی کا یہ شعر ہے:
كه مريم صفت بكر و آبستن ست
انتہاء بلفظہ! بقدر الحاجة!
الآية والقائل فيما رواه احمد وابن ماجة عن انس رضی الله عنه اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ فی النار والدلائل فيما رواه احمد عن معاذبن جبل رضی الله تعالى عنه ان الشيطان ذئب الانسان كذئب الغنم ياخذ الشاة القاصية والناحية واياكم والشعاب وعليكم بالجماعة والعامة والقائل فيما رواه ذلك في الموطا عن مالك بن انس تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما كتاب الله وسنة رسوله والقائل فيما رواه مسلم عن محمود بن لبيد رضی الله عنه ايلعب بكتاب الله وانا بين اظهركم والقائل فيما رواه ابو يعلى عن ابی هریرة رضی الله عنه ان احبكم الى واقربكم منى الذين يلحقنى على العهد الذی فارقتنى علیه و القائل فیما رواه البيهقي في الشعب عن جابر لتهوكن كما تهوكت اليهود والنصارى لقد جئتكم بها بيضاء نقية لو كان موسى حيا ما وسعه الا اتباعی والقائل فيما اتفق عليه الشيخان ورواه ابو داؤد والترمذى عن عائشة من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد والقائل فيما رواه احمد و مسلم والاربعة عن ابی سعید من راى منكم منكراً فليغيره بيده فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وذلك اضعف الايمان و على اله واصحابه نجوم الحق وعترته واحزابه هداة الخلق اما بعد فقد سرحت طرف الطرف في جنات طروس هذا التاليف الشائق و ارتعت سفينة الفكر الفاتر فی اريض روض سطور هذا المصنف الفائق فوجدته متكفلاً للرد بالادلة القاطعة المزهقة لباطل هذا المارق من الدين الشقى الخب اللئيم كافيا تزييف اقواله الباعثة لاضلال كل ذی فهم سقیم فلقد اجاد حتى بلغ غاية المرمى والمرام من الاجاده وافاد اثابه الله الاجر الجزيل واناله الحسنی وزياده و صلى الله على سيدنا محمد النبي الامى واله و صحبه و
فقیر کہتا ہے کہ یہ تاویل باطل ہے کہ ارکان تشبیہ چار ہیں۔ مشبہ، مشبہ بہ، وجہ شبہ، حرف تشبیہ لفظی ہو یا تقریری جیسا کہ مطول وغیرہ میں ہے۔ اب ظاہر ہے کہ فقرہ: ”یا مریم اسکن ........... الخ “ میں مشبہ کا تو ذکر ہے نہیں تشبیہ کیونکر پائی گئی؟ بلکہ صاحب براہین کا ادّعا ہے کہ اس کو یا آدم یا عیسیٰ یا مریم وغیرھم اسماء انبیاء سے خطاب ہورہے ہیں۔ پس صریح محال ہے کہ ایک ہی شخص باپ بیٹا بھائی سب کچھ بن جائے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ جس کو فیضانِ الٰہی ہو وہ قرآن میں تحریف کرے اور انبیاء سے برابری کا دعویٰ کرے اور وغیرہ امور سخت مخالف شرع عمل میں لائے۔ پس یقیناً صاحب براہین حدود شرعیہ سے نکل کر طغیان اور عصیان کے پرلے درجے تک پہنچا ہے۔ یہاں تک پہلی قسم کے الہامات مع جواب تاویلات صاحب اشاعۃ السنہ کے ذکر سے فراغت حاصل ہوئی ہے۔
اب دوسری قسم کے الہامات کا یعنی جن میں صاحب براہین نے انبیاء پر اپنی فضیلت جتائی ہے بطور نمونہ ذکر کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ براہین کے ص ۲۴۰، خزائن ص ۲۶۶ میں عربی الہام حمد کا دعویٰ کر کے اس کا ترجمہ یہ لکھا ہے کہ : ” خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔“ انتہاء بلفظہ !
فقیر كان الله له کہتا ہے کہ ” حمد “ احسان کے بعد ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ تفسیر کبیر و نیشاپوری و فتح العزیز وغیرھا میں درج ہے اور مجمع البحار میں حدیث لکھی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ حمد شکر کا سر ہے۔ اس لئے کہ اس
بقلم نمقه الفقير الى عفو ربه القدير عثمان بن عبدالسلام داغستانی مفتی المدينة المنورة الحنفى عفى عنه ذیقعده ۱۳۰۴ھ تقریظ حضرت مفتی الشافعية في المدينة المنورة ووكيله المدرس بالحرم الشریف النبوی بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الذى ارسل رسوله محمداً بالهدى ودین الحق وانزل عليه الكتاب معجزة باهرة واية مستمرة على تعاقب العصور دالة على كمال الصدق وجعله خاتم النبيين و سيّد المرسلين و رحمة للعلمين و عم بعثته الى الثقلين الى يوم الدين و نسخ شرعه جميع الشرائع الماضية و شرعه لا ينسخ و حكمه لا يفسخ و سد بانتقاله صلى الله عليه وسلم الى الرفيق الاعلى باب الرسالة والنبوة الى اخر الزمان فليس لاحد بعده الا اتباع شريعته الغرا ذات النور و البرهان صلى الله عليه وسلم وعلى اله واصحابه ائمة الهدى و مصابيح الدجى والتابعين لهم باحسان ما كر الجديدان اما بعد فاننا قد تاملنا هذه الرسالة فوجدناها واضحة الدلالة براهينها قاطعة لرقاب شبه الملحدين وانوارها ساطعة ماحية لظلمات وساوس الشياطين قد اتت بالقول الفصل الذى ليس بالهزل واوضحت طريق الحق و منهاج الصدق واشتملت على النصوص الموافقة لما هو معلوم من الدين بالضرورة وفضحت تلبيسات احمد القادیانی ومما لاريب ان احمد المذکور لیس احمد الا عند اخدانه الشياطين بل هو احد كذابين يسمى اذم عند اهل الايمان واليقين وان ما اتى به من الاباطيل فهو ضلال مبين والوحى الذى ادعاه وحى الشياطين لا وحى الانبياء والمرسلين وعند التامل فى زخرفه و ضلاله تجده مصداق قوله
میں نعت کا اظہار ہے اور عام تر ہے۔ پس حمد میں شکر سے زیادتی ہے۔ انتہاء اور ردالمختار میں ہے کہ عرفاً حمد وہ فعل ہے جو منعم کے انعام دینے کی تعظیم سے خبردار کرے۔ الی قولہ اور حمد جہاں مطلق ہو تو عرف ہی مراد ہوتی ہے۔ سید شریف نے حواشی مطالع میں یہ لکھا ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت ردالمختار کا ۔ پس محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کی حمد کرے۔ اس لئے کہ منعم حقیقی تو حق تعالیٰ ہی ہے اور باوصف اس کے قرآن اور صحیح احادیث میں کہیں بھی صراحۃً نہیں آیا کہ حق تعالیٰ اپنے حبیب محمد ﷺ یا کسی اور نبی کی انبیاء میں سے حمد کر رہا ہو۔ بلکہ حق تعالیٰ نے سب خواص و عوام کو ارشاد کیا ہے کہ تم سب کہو : ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ پس کیونکر متصور ہو کہ باری تعالیٰ مرزا قادیانی کی عرش سے حمد کر رہا ہے؟ ۔ یعنی اس کو سب اپنے مقبول بندوں پر جن میں انبیاء بھی داخل ہیں فضیلت دے رہا ہے ۔ خدا جانے صاحب براہین نے رب العالمین پر کونسا انعام کیا ہے جس کے بدلے وہ سب کے محمود کی حمد کا مستحق ٹھہر گیا ہے؟ ۔ یہ نرا بہتان عظیم نہایت تکبر اور حمق و رعونت اور جھوٹ و فریب سے پیدا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اس فقرہ الہامیہ عربیہ کی رکاکت لفظی علماء اسلام سے مخفی نہیں ہے اور قرآن مجید میں جو لفظ حمید کا باری تعالیٰ کی صفت میں واقع ہوا ہے تو وہ لفظ غنی و عزیز وغیرہما کے نزدیک کیا گیا ہے تا کہ دلالت کرے کہ حق تعالیٰ حمد کیا گیا ہے نہ حمد کرنے والا ۔ جیسا کہ مشہور تفاسیر اور ترجموں میں درج ہے ۔ اور اگر فرض کریں کہ حمید بمعنی حامد ہے تو وہ سبحانہ اپنی ذات و صفات کا حمد کرنے والا ہے ۔ مجمع البحار میں نہایہ سے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو حمید ہے تو وہ ہر حال محمود ہے ۔ انتہاء ! اور قرآن میں جو حق تعالیٰ کا شاکر و مشکور ہونا مذکور ہے تو اس سے بھی یہی مراد ہے کہ باری تعالیٰ تھوڑے عمل پر بہت ثواب عطا فرماتا
تعالی کذلک وجعلنا لکل نبی عدوا شیاطین الانس والجن یوحی بعضهم الی بعض زخرف القول غروراً ولو شاء ربک مافعلوه فذرهم وما یفترون ولتصغے الیه فئدة الذین لا یؤمنون بالاخر ولیرضوه ولیقترفوا ماهم مقترفون الی قوله لا مبد لکلمات الله وهو السمیع العلیم وفى الحقیقة شانه کشان مسیلمة الکذاب ذی الضلال والارتیاب هل هو اضل کیدا من ابلیس فی التدریس والتلبیس لان مکر ابلیس قد ظهر وانذر الله بنی آدم کیده و حذره وهذا قد لبس الباطل بصورة الحق وموه الکذب والافتراء على الله فی تمثال الصدق فاراح الله منه البلاد والعباد بتدمیره و محو مآثره فی الارض من الفساد فوجب علی کل مؤمن التمسک بما دل علیه مضمون هذه الرسالة والتجنب من مزخرفات براهین احمد القادیانی وافتراه من السفاحة والضلالة وصلی الله علی سیدنا محمد خاتم النبیین المنزل علیه الکتاب المبین المحفوظ من القاءات الشیاطین و علی آله و صحبه وسلم اجمعین والله اعلم بالصواب امر برقمه السید اسمعیل البرزنجی مفتی الشافعیة بالمدینة المنورة وکیل مفتی الشاعفة المدرس بالحرم الشریف النبوی السید احمد البرزنجی
تقریظ حضرت مدرس المسجد النبوی علی صاحبه السلام السرمدی بسم الله الرحمن الرحیم والحمد لله الذی خلق جمیع عبیده لاجل معرفته وتوحیده و لیفرقوا بین وجود هم و وجوده و یعلموا مزیة انعامه و جوده احمده ان اقام لنا الدین واوضح طریقه للمهتدین واشکره ان ارسل الینا رسولاً ختم به النبوة والرسالة و حتم به ابواب الشبه والضلال اید بالمعجزات الباهرات والایات البینات و نسخ بشریعة جمیع الشرائع والاحکام و جعلها باقیة الی یوم البعث والمآب وانزل علیه
ہے جیسا کہ اکثر تفاسیر میں لکھا ہے اور محی السنہ معالم میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ہے کہ استحقاق سے زائد عطا کرتا ہے۔ انتہاء! اور مجمع البحار میں ہے کہ حق تعالیٰ شکور وہ ہے جو تھوڑے عمل کو بڑھا کر مضاعف بدلا دیتا ہے۔ پس اس کا شکر بندوں کا بخشنا ہے۔ انتہاء! اور قاموس میں ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے شکر بدلہ دینا اور ثناء نیک کرنا ہے۔ انتہاء! اور حمد و مدح یعنی ثناء جمیل میں فرق ظاہر ہے۔ پھر بہت ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ شب معراج میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں خود حاضر ہوئے تھے۔ جیسا کہ قرآن وحدیث میں آیا ہے اور یہاں حق تعالیٰ مرزا قادیانی کے پاس خود چل کر آ رہا ہے۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کی صفت لیس کمثلہ شئی وارد ہے۔ پھر براہین کے ص ۵۵۸‘ خزائن ص ۶۶۶ پر الہام عربی درج ہے جس میں مرزا قادیانی کے بیت الفکر اور بیت الذکر کے حق میں : ”ومن دخله کان آمنا “ واقع ہوا ہے۔ جس کا ترجمہ انہوں نے خود کیا ہے۔ ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولا۔ ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی کہ تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر عطا کیا۔ بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور : ”ومن دخله کان آمنا “ اس مسجد کی صفت بیان فرمائی ہے۔“ انتہاء بلفظہ !
فقیر کہتا ہے کہ آیت : ”ومن دخله کان آمنا “ قرآن شریف میں بیت اللہ شریف کے ہی حق میں
الذكر الحكيم والصراط المستقيم والنور المبين والحبل المتين وتكفل جل و علا بحفظه على ممر السنين من تغير المبطلين والحاد الملحدين صلى الله عليه وعلى اله واصحابه الذين من اقتدى بهم فبهداهم اقتدى ومن حاد عن طريقهم فقد جار واعتدى و بعد فلما اجلت طرف الطرف في فيافي هذه الرسالة الغرا المشتملة على الحث البالغ على اقتفاء الدين الحق والانتداب اليه والولوع به والاغراء وكان ذلك فى حال استعجال مع غاية من كثرة الاشتغال و هجوم البلبال على البال الفيت انوار التحقيق عليها لائحة ودلائل ابنية محكمة واضحة كافلة لما هو معلوم بالضرورة من الدين كافلة برد شبه الملحدين المضلين فافتضح به عوار هذا الدعى الزنديق المدعو باحمد القاديانى حفيد ابى مرة الذى ناف على جده ابليس فى الضلال والاغواء بالف مرة فاثاب الله مؤلفها الثواب الجزيل حيث حمى حمى هذا الدين المتين بابطال ما لبسه المبير الكذاب من البراهين و ادخل به الشك على قلوب جهلة العوام والمغفلين فيجب على كل مؤمن يؤمن بالله و يصدق بكتبه و رسله ان يعتقد و يجزم بان ما رد به صاحب هذه الرسالة هو الحق الموافق لقواعد الايمان وان ما قاله صاحب البراهين الاحمدية والاشاعة زور و بهتان فما ذا بعد الحق الا الضلال ومن يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه و هو فى الاخرة من الخاسرين ان ربك هو يعلم من يضل عن سبيله وهو اعلم بالمهتدين قد جائكم بصائر من ربكم فمن ابصر فلنفسه و من عمى فعليها بصرنا الله والمسلمين بطريق الاستقامة والهداية و جنبنا اجمعين طرق الضلالة والغواية انه على مايشا قدير
وارد ہے۔ مسجد نبوی ﷺ کے اور نہ مسجد اقصیٰ (جس کی تعریف سورۃ بنی اسرائیل کے ابتداء میں ہے اور وہ قبلہ انبیاء ہے) کے حق میں وارد ہے۔ پس یہ ادّعا صاحب براہین کا کہ اس کی خانگی مسجد کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے: ”و من دخلہ کان آمنا“ نازل کیا ہے۔ یہاں اپنی مسجد کو ان دونوں مسجدوں پر فضیلت دی ہے۔ ان مناقب سے ایک اور امر ظاہر ہو گیا اور وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ابتداء براہین احمدیہ کے اشتہار میں درج کیا ہے کہ ان کی جائیداد دس ہزار روپیہ کی ہے۔ پھر ادّعا کیا ہے کہ ہم کو ایک الہام ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے مخاطبت یعنی ہمکلامی کا منصب حاصل ہے۔ پس با وجود اس کے اب تک وہ حج کو نہیں گئے۔ اس لئے کہ حج گناہ کے بخشوانے اور قیامت کے امن کے واسطے ہے اور یہ دونوں مرزا قادیانی کو حاصل ہیں۔ کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جو جی چاہے سو کر بے شک ہم نے تجھے بخش چھوڑا ہے جیسا کہ براہین کے ص ۵۶۰ خزائن ص ۶۶۸ میں درج ہے اور امن تو ان کی مسجد کے نمازیوں کو حاصل ہے۔ مرزا قادیانی تو خود اس کے امام اور بانی ہیں اور نیز اوپر براہین کے ص اخیر ۵۶۲ خزائن ص ۶۷۰ سے منقول ہو چکا ہے کہ: ”دین اسلام سب پر مشتبہ ہو گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے سب کو حکم کیا ہے کہ طریقہ حقہ مرزا قادیانی سے حاصل کریں۔“ انتھیٰ ملخصاً!
پس اب بحسب اقرار ان کے قادیان خود مکہ معظمہ ہو گئی اور ان کو حج کرنے کی کیا حاجت رہی؟۔ اس شرارت سے پناہ بخدا۔ جمیع انبیاء اور سید المرسلین ﷺ بیت اللہ کا حج اور طواف کرتے گئے۔ البتہ جس کے پاس رب البیت خود تشریف لائے اور اس کی حمد کرے تو وہ حج کو کیوں جائے؟۔ پھر براہین ص ۵۶۰ خزائن ص ۶۶۸
بالاجابة جدير و صلى الله على سيدنا و مولانا محمد القائل من يهده الله فلامضل له ومن يضلل فلاهادي وعلى اله و صحبه التابعين له و علينا معهم رحمة للعالمين قاله بفمه ورقمه بقلمه العبد الاحقر محمد على بن طاهر العتر الحسينى الحنفى المدنى خادم العلم والحديث بالمسجد الشريف النبوى وذلك فى اليوم الحادى والعشرين من ذى القعدة الحرام سنة اربع بعد الثلثمائة والالف
تقريظ احد مشاهير علماء بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الذى انزل الفرقان على سيد الانس والجان و اخمد به الباطل والشرك والطغيان والصلوة والسلام على رسوله محمد واله و صحبه والتابعين لهم باحسان مد الدهور والازمان و بعد قد طالعت بعض هفوات غلام احمد مقيم القاديان فى كتابه البراهين الاحمدية و فى الاعلان فوجدته من تلبيسات الشيطان و ليس من الهامات الرحمن بل ماذلك الا بهتان و هذيان فمن اتبعه عد من اهل الخسران وهذه الرسالة حررت ايضاً فى لطائف ردها فاطمئن بها الجنان فعسى ان ينجو بها كثير من الاخوان من اهل السنة والجماعة و غيرهم بفضل الكريم المنان فجزى الله المؤلف الفتنى الحنفى عفى الله عنه و عن والديه واحسن اليهما و اليه.
میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فقرات عربی مرزا قادیانی کو الہام کی ہیں جن کا ترجمہ وہ خود یوں کرتے ہیں کہ : ”تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ تیرے لئے میں نے رات دن پیدا کیا ۔ تو مجھ سے وہ منزلت رکھتا ہے جس کی لوگوں کو خبر نہیں ۔“ انتہاء بلفظہ!
فقیر کہتا ہے کہ قرآن میں فرمان ہے کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔ پس آنحضرت ﷺ کا رتبہ قرآن مجید سے لوگوں کو معلوم ہو گیا ۔ اور سب مسلمان شاہد ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور ساری خدائی سے افضل ۔ اور صاحب براہین کا ادّعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرزا قادیانی کی منزلت کی لوگوں کو خبر نہیں۔ پس اس کلام سے مرزا قادیانی کی جمیع انبیاء پر فضیلت کا ثابت کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟ ۔ اور یقیناً ان دعوؤں میں صاحب براہین کاذب ہے۔ پھر مرزا قادیانی ضمیمہ اخبار ریاض ہند مجریہ امرتسر یکم مارچ ۱۸۸۶ء مطبوعہ ہوشیار پور میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا ہے کہ : ”انت منی وانا منك “ ص ۱۴۸ سطر ۴ کالم ۶‘ تذکرہ ص ۴۲۲ اور ان کے بیٹے کے حق میں جس کی بشارت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اول آخر کے ظاہر کرنے والا حق اور بلندی کو ظاہر کرنے والا كأن الله نزل من السماء ص ۱۴۷ سطر ۱۴ کالم ۶‘ تذکرہ ص ۱۳۹؛ انتہاء!
فقیر كان الله له کہتا ہے کہ پہلا الہام صحیح حدیث کا ایک فقرہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے اپنے عم زاد بھائی حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے حق میں فرمایا تھا : ”انت منی وانا منك “ یعنی تو نسب اور پیوند سسرال اور ابتداء
ایمان ومحبت وغیرھا میں مجھ سے متصل ہے۔ جیسا کہ قسطلانی اور کرمانی دونوں شرح بخاری میں درج ہے۔ یعنی فیما میں میری اور تیری برادری اور قرابت اور اتحاد اور کمال اتصال ہے۔ جیسا کہ مرقات اور لمعات دونوں شرح مشکوٰۃ میں لکھا ہے اور کرمانی شرح بخاری میں ہے کہ اس من کو اتصالیہ کہتے ہیں۔ انتہاء ! مترجماً
پس یہ یقین ثابت ہوا کہ ایسی کلام دو قریبیوں میں جن کو نسبتاً واخوۃً وغیر ہما اتصال ہو واقع ہوئی۔ لیکن خدائے تبارک وتعالیٰ جس کا نہ کوئی ولد ہے نہ کوئی والد اور نہ اس کا کوئی کفو اور جس کی یہ صفت ہے کہ کسی سے متصل نہیں ہوتا اور نہ کسی سے متحد ہوتا ہے نہ کسی سے مشابہ ہے۔ جیسا کہ عقائد کی کتابوں میں اس پر تصریح ہے۔ ہرگز متصور نہیں کہ وہ پاک ذات کسی کو فرمائے : ”انت منی وانا منک“ یعنی تو مجھ سے متصل ہے اور میں تجھ سے متصل ہوں۔ پس بالیقین یہ صاحب براہین نے انبیاء اور مرسلین پر اپنی فضیلت ثابت کرنے کو حق تعالیٰ پر یہ بہتان باندھا ہے اور دوسرا الہام جس میں اس کے زعمی بیٹے کو : ”کأَنّ الله نزل من السماء“ کہا ہے وہ بھی صرف افتراء اور بہتان ہی ہے۔ اس لئے کہ جو مشابہت لفظ کأَنّ سے بیان کی جاتی ہے وہ نہایت سخت مشابہہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ تفسیر اتقان سے اوپر بیان کیا گیا ہے۔ پس جب مرزا قادیانی کا بیٹا حق تعالیٰ سے بہت ہی مشابہ ٹھہرا اور وہ پاک ظالموں کی باتوں سے برتر ہے تو خود مرزا قادیانی بہت ہی اونچا چڑھ گئے۔ معاذ اللہ ! حق تعالیٰ کے برابر ہو گئے اور دراصل حق سبحانہ ملحدوں کی باتوں سے پاک اور منزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب اور برے بندوں کی شرارت اور شیطانوں کی ایذاء اور حاضری سے پناہ بخدا۔ یہاں پر ختم ہوا یہ رسالہ جس کا نام ”رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین“ ہے اور جمیع حمدیں خاص خدائے پروردگار جہانوں کے واسطے ہیں اور درود ہو اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوقات کے برگزیدہ اور اس کے حبیب محمدﷺ اور اس کی آل واہل بیت واصحاب پر جب تک اس کو یاد کرنے والے یاد کریں اور جب تک غافل اس کی یاد سے غفلت کریں اور بعد ختم۔ اس رسالہ کے اللہ تعالیٰ کے وافر کرم کا مشتاق محمد ابو عبد الرحمن فقیر غلام دستگیر ہاشمی حنفی قصوری اللہ تعالیٰ اس کی مدد میں ہو۔
مرزا قادیانی کے تعاقب میں مساعی
حضرات علماء حرمین شریفین کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ فقیر نے صفر ۱۳۰۲ ہجری میں صاحب براہین کا وہ اشتہار دیکھا جس کا ذکر ابتداء اس رسالہ میں درج ہوا ہے اور اس کو مشتہر ( مرزا قادیانی ) نے بیس ہزار قطعہ چھپوا کر دور دراز ملکوں میں شائع کیا ہے۔ جب فقیر نے اس میں دیکھا کہ مرزا قادیانی نے کتاب براہین احمدیہ کا بنانا اللہ تعالیٰ کے حکم اور الہام سے دعویٰ کیا ہے اور اپنی تعریفوں میں حدود الٰہی سے تجاوز کر گیا ہے۔ ان باتوں سے دل بہت ناخوش ہوا۔ پھر اس کی کتاب براہین احمدیہ دیکھی تو تیسرے چوتھے حصہ کے حاشیہ در حاشیہ میں جو اس نے اپنے الہامات درج کئے ہیں وہ اکثر مخالف شرع پائے اور آیات قرآن کی تحریف لفظی و معنوی وغیرہ قباحتیں جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے ان میں دیکھیں تو حق برادری اسلام کے ادا کرنے کے واسطے مرزا قادیانی کو لکھا کہ ان مخالف شرع باتوں سے باز آؤ اور غیر دین والوں کے مقابلہ میں کتاب لکھو چھپواؤ فروخت کرو کچھ مضائقہ نہیں تو اس کو نہ مانا اور تائب نہ
ہوئے بعد ازاں فقیر نے بعض مجالس وعظ میں ذکر کیا کہ مرزا قادیانی کے الہامات میں قرآن مجید کی تحریف ہو گئی ہے اور انہوں نے انبیاء کی برابری کے مدعی ہو کر قرآن شریف کو پارہ پارہ بھی کر دیا۔ اس پر ان کے مؤید مؤلف رسالہ اشاعۃ السنہ نے خلوت میں درباب الہامات مرزا کے فقیر سے مناظرہ کرنا چاہا۔ جب کہ فقیر کو معلوم تھا کہ صاحب براہین اور مؤلف اشاعۃ السنہ باہم ایک دوسرے کے کمال ثناء خواں ہیں اور اپنی تالیفات میں ایک دوسرے کی حقانیت کو کما حقہ ظاہر کیا ہے۔ اس پر اکثر علماء اور سب عوام مقلدین سے اور بعض علماء اور عوام غیر مقلدین کے صاحب براہین کی حقیقت کو مان گئے ہیں۔ اور قادیان مثل بیت اللہ کے مرجع انام ہو گئی ہے تو فقیر نے خلوت میں مناظرہ کو پسند نہ کیا بلکہ علماء دین کے روبرو گفتگو واسطے کہا تو اس کے قبول سے درگزر صاحب اشاعۃ السنہ نے کیا۔ اس کا جواب تک نہ دیا تو بعد ازاں فقیر نے جمادی الاولیٰ سنہ رواں میں بذریعہ اشتہار اعلان کیا کہ صاحب براہین کے اکثر الہامات اصول دین اسلام کے مخالف ہیں۔ اس پر فقیر مرزا قادیانی اور ان کے مؤید اشاعۃ السنہ سے علماء اسلام کے روبرو یہ کلام کرنے کا خواستگار ہے تاکہ حق ظاہر ہو جائے اور خواص عوام اہل اسلام کے عقائد میں خلل نہ آئے تو اس کا جواب بھی ان کی طرف سے کچھ نہ ملا۔ پھر فقیر نے اسی سال کے رمضان المبارک میں صاحب براہین کے الہامات اور صاحب اشاعۃ السنہ کی تاویلات کے رد میں اردو میں رسالہ لکھ کر کئی علماء ہندوستان و پنجاب کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے بھی اس بارہ میں کہ صاحب براہین و اشاعۃ السنہ دونوں مخالفت شرع کر رہے ہیں۔ فقیر سے موافقت فرمائی۔ امرتسر کے علماء کی تصدیق کے بعد وہاں کے ایک رئیس نے فقیر سے کہا کہ مصلحت یہ ہے کہ آپ اول مرزا قادیانی سے اظہار حق کے لئے مناظرہ کرو۔ پھر جو حق ظاہر ہو اس کو اشتہار دو۔ اس کو فقیر نے قبول کیا اور ان سے کہا کہ ڈیڑھ سال اس انتظار میں بسر کیا ہے کہ مرزا قادیانی مناظرہ کو قبول نہیں کرتے۔ اس رئیس نے جواب دیا کہ ہم اس میں ساعی ہو کر مرزا قادیانی کو لکھتے ہیں۔ پھر چند ماہ کے بعد ان کا خط فقیر کے نام آیا کہ صاحب براہین لکھتے ہیں کہ میری کتاب میں تصوف ہے۔ تین علماء صوفیہ کے نام لکھے کہ ان کے روبرو مناظرہ کرنا چاہتا ہوں۔ فقیر نے اس کے جواب میں اس امر کو مان لیا اور لکھا کہ تین خاندانی علماء ہوں جو وہ لاہور سے ان کے ساتھ شامل کر کے تاریخ مناظرہ متعین کرو اور فقیر کو اطلاع دو کہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو جاؤں۔
علمائے حرمین شریفین سے فتویٰ
پس اب تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا اور نہ وہ رسالہ شائع ہوا۔ اب اس امید پر فقیر نے شوال ۱۳۰۳ھ میں اس رسالہ کو عربی میں ترجمہ کیا کہ حضرات علماء حرمین محترمین کی تصحیح سے بھی مزین ہو جائے تاکہ اہل اسلام کے نزدیک نہایت معتمد ٹھہرے اور بعض علماء مقلدین جو صاحب براہین کے مصدق ہیں وہ بھی حق کی طرف رجوع کریں اور فقیر نے یہ جو کچھ کیا ہے صرف قرآن مجید کی حمایت اور حقوق انبیاء و مرسلین صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین کی رعایت اور عقائد مسلمین کی صیانت کے لئے کیا ہے۔ اب اس رسالہ عربیہ مع چاروں حصہ مجلد براہین احمدیہ اور رسالہ اشاعۃ السنہ کی جس میں مرزا قادیانی کی تعریف اور ان کے اقوال کی تاویلیں ہیں مع دونوں اشتہار
صاحب براہین کے جن میں بیٹے کی پیشین گوئی اور اپنی تعریف درج کی ہے آپ صاحبوں کی خدمت مبارک میں بھیج کر ملتجی ہوں کہ آپ اس عربی رسالہ کو ملاحظہ فرمائیں اور اس کے حوالوں کی اصل کے ساتھ مطابقت کرا کر فقیر کی تحریر کو قرآن وحدیث واجماع امت سے موافق پائیں تو اس کی تصحیح فرمائیں اور اگر اس میں کوئی خطا ء وسہو ہو تو اس کی اصلاح کریں اور بیان شافی و شرح کافی سے اجر وافی حاصل فرمانے کی نیت سے صاحب براہین اور اس کے مؤید اور ان کے معتقدین کا حکم اور ان کی کتابوں کے پڑھنے کا حکم ظاہر کریں کہ شریعت وطریقت میں ان کا کیا حال ہے؟ ۔ تاکہ اہل اسلام کو اطمینان ہو اور سب کا حق کی طرف میلان ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا اور عاقبت میں جزائے خیر عطا فرمائے اور دین متین کی تائید کے لئے آپ کو سلامت با عز و کرامت رکھے اور آپ کے علم اور جسم میں بسطت بخشے ۔ احقاق حق اور ابطال باطل میں قیامت تک اہل علم حرمین محترمین پر ہی مدار ہے ۔ خدائے مجیب الدعوات ہمیں آپ کی زیارت امن وامان و سلامت و اسلام سے نصیب کرے کہ یہ سعادت عظمیٰ اور برکات کبریٰ کی طرف پہنچانے والی بات ہے۔ سب حمد پروردگار عالمین کے واسطے خاص ہے۔ اور درود و سلام اس کے مظہر جمال اور نور کمال پر اور اس کی آل واصحاب پر ہو مقدار اس کی بخشش کے اور بے شمار معلومات عالم الغیب والشہادت کے یہ رسالہ تمام ہوا۔ اور تقریظین شروع ۔
مولانا مولوی مہاجر حاجی محمد رحمت اللہ صاحبؒ کی تقریظ
مولانا مولوی مہاجر حاجی محمدؒ جن کو حضرت سلطان روم نے بصوابدید شیخ الاسلام روم خطاب پاشا حرمین شریفین عطا کیا اور فرمان شاہی میں اقضی قضات المسلمین واولی ولات الموحدین وارث علوم سیدالمرسلین وغیرہا القاب سے ملقب فرمایا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! حمد اور صلوٰۃ کے بعد بے شک میں نے اس رسالہ کو اول سے آخر تک سنا۔ اس کی عبارت اور مضمون دونوں صحیح پائے ۔ حضرت مؤلف اس رسالہ نے خدا اس کو اچھا بدلہ دے جو نقلیں درج کی ہیں وہ سب اصل کے مطابق ہیں ۔ میں نے اس سے پہلے بھی معتبروں کی زبانی مرزا قادیانی کا حال سنا ہے ۔ سو وہ میرے نزدیک دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ اس کی فرمانبرداری کسی کو جائز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کے بنانے والوں کو نیک بدلہ دے ۔ امید ہے کہ اس کے مطالعہ سے بہت لوگ صاحب براہین احمدیہ کی پیروی سے بچ جائیں گے ۔ ہم کو اور سب مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ شیطانوں کے اغوا و مکر و فریب سے محفوظ رکھے ۔ میں فقیر ! خدا کی رحمت کا امیدوار رحمت اللہ بن خلیل الرحمٰن ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اور سب مومنوں کو بخشے ۔ آمین! دستخط ومہر محمد رحمت اللہ !
حنفیوں کے مفتی مکہ معظمہ کی تقریظ
سب حمد اس کے لئے جو اس کے لائق ہے اور اسی سے میں توفیق کی استمداد کرتا ہوں ۔ سب تعریف اس خدا
کی ہے جس کی بلند ذات غفلت اور نسیان سے پاک ہے اور اس کے نام اور صفتیں زوال اور نقصان کے لائق ہونے سے پاک ہیں اور اس نے ہر زمانہ میں ایسے علماء پیدا کئے ہیں جو شرع شریف کی محافظت پر قائم ہیں اور ان کو حق کے ظاہر کرنے اور باطل کے نابود کرنے پر طاقت دی ہے کہ کچھ سستی نہیں کرتے اور اس پر ان کو بہت ثواب اور بہت نیکیاں دی ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے صواب اور خطاء فاحش کو بیان کر دیا اور درود وسلام ہمارے سردار پر ہوں جن کا نام نامی محمدﷺ ہے جن میں حق تعالیٰ نے سب فضیلتیں جمع کی ہیں اور ان کی آل واصحاب پر جن کے نفس خدائے تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔ بعد اس کے بے شک میں مطلع ہوا اس بزرگ رسالے اور لطیف حوالوں پر۔ پس میں نے دیکھا ان کو ایسی عمدہ جن کے دیکھنے سے آنکھیں سرد ہوتی ہیں اور بے شک شیطان نے غلام احمد قادیانی کو ہلاکت اور نقصان کی وادیوں میں گرا دیا ہے۔ پس حق تعالیٰ اس رسالے کے مؤلف کو جزائے خیر عطا کرے اور اس کو زیادہ اجر دے اور قیامت کے دن ہم کو اور اس کو اچھا مکان عطا کرے۔ آمین ! اور حق تعالیٰ ہمارے سردار محمدﷺ اور اس کی آل واصحاب سب پر درود بھیجے ۔ اس تحریر کے لکھنے کا حکم کیا شریعت کے خادم الطاف الٰہی کے امیدوار محمد صالح بن مرحوم صدیق کمال حنفی نے جو ان دنوں میں مکہ مکرمہ کا مفتی ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں کی مدد میں ہو۔ دستخط محمد صالح کمال !
حضرت شیخ العلماء کی جو شافعیوں کے مکہ معظمہ میں مفتی ہیں تقریظ
سب تعریفیں اس خدا کو ہیں جس نے اس دینِ اسلام کے خلل و زلل بد مذہبوں گمراہوں کے دور کرنے کے لئے مجدد پیدا کئے ہیں۔ جو بد مذہبوں گمراہ کنندوں کی سرکوبی کرتے رہے ہیں۔ اور جس نے ہر عالم راہنما سیدھی راہ کے چلنے والے کی مدد کی ہے۔ بعد اس کے بے شک میں نے دیکھا ان باتوں کو جو غلام احمد قادیانی پنجابی کی طرف منسوب ہیں۔ پس اگر اس نے یہ کہی ہیں تو وہ گمراہوں گمراہ کنندوں و سخت بد مذہبوں سے ہے اور ایسا ہی محمد حسین ہے جس نے رسالہ اشاعۃ السنہ میں اس کی تائید کی ہے۔ پس حاکم اسلام پر اللہ تعالیٰ اس کو نیک توفیق دے۔ واجب ہے کہ ان دونوں کو ایسی سخت تعزیر دی جائے جس سے یہ اور ان کے ہم مشرب ایسی باتوں سے باز آویں اور جو رسالہ امام فاضل بزرگ کامل شیخ محمد ابو عبدالرحمن غلام دستگیر ہاشمی حنفی قصوری نے ان دونوں کی گمراہی کے بیان اور ان کے رد میں لکھا اور اس کا نام ”رجم الشیاطین بر اغلوطات براہین“ رکھا ہے۔ وہ ایسا حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے اس کو نیک بدلہ دے اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کا اعتبار بڑھائے اور خدا بہت دانا ہے۔ یہ تحریر اپنی زبان سے کہی اور اپنے قلم سے لکھی۔ اللہ تعالیٰ سے کمال کامیابی کے امیدوار محمد سعید بن محمد بابصیل نے جو مکہ معظمہ میں شافعیوں کا مفتی ہے۔ خدا اس کو اور اس کے والدین و جمیع مومنین کو بخشے۔ دستخط محمد سعید بابصیل !
مالکیوں کے مفتی مکہ معظمہ کی تقریظ
سب تعریفیں پروردگار عالم کو خاص ہیں۔ خداوندا مجھے علم دے اور سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی کر جس کو خدا راہنمائی کرے کوئی اسے گمراہ نہیں کر سکتا اور جس کو وہ گمراہ کرے اس کی راہنمائی کوئی نہیں کر سکتا۔ لیکن ایسی باتیں
کرنے والا بے شک شیطانی خطر اور وساوس نفسانی کے دریاؤں میں ڈوب گیا ہے۔ اس کے جھوٹ اور بدبختی سے تعجب ہے۔ اس لئے کہ مدعی ہوا ہے اس بغاوت کا جو حدیث میں آیا ہے کہ آخر زمانہ میں سخت جھوٹے دجال ہوں گے۔ تم سے ایسی باتیں کریں گے جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہ سنی ہوں گی اور رسالہ اشاعۃ السنہ نے جس نے اس کی تائید کی ہے وہ سخت بدبخت ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ گناہ اور عدوان پر مدد نہ کرو۔ پس حاکم اسلام پر واجب ہے کہ ان دونوں کو سخت تعزیر کرے اور وہ رسالہ جو فاضل علامہ شیخ محمد ابو عبدالرحمن غلام دستگیر ہاشمی حنفی قصوری نے ان دونوں کی گمراہی کے بیان اور ان کی باتوں کی تردید میں لکھا ہے۔ بے شک اس میں بہت درست لکھا ہے۔ اس لئے کہ سچے دین کی اتباع کی جانب بہت عمدہ ترغیب ذکر کی ہے۔ خدا بہت دانا ہے۔ بار خدایا ہم کو ہوائے نفس کے پیچھے چلنے والوں اور شیطان کی راہ میں گمراہ ہونے والوں اور بری باتوں کو اچھا جان کر ہلاک ہونے والوں سے نہ کر۔ آمین بجاہ سید المرسلین ! یہ تحریر اللہ تعالیٰ کی بخشش کے امیدوار محمد بن شیخ حسین مرحوم نے لکھے ہیں جو مکہ معظمہ میں مالکیوں کا مفتی ہے۔ دستخط محمد بن حسین مفتی مالکیہ !
مکہ معظمہ کے حنبلیوں کے مفتی صاحب کی تقریظ
سب تعریف اس خدا کی ہے جس نے اپنے خاص بندے پر قرآن مجید اتارا جو اپنی بات میں سچا ہے جس میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے اور یہ میرا راہ سیدھا ہے۔ اس کی پیروی کرو اور بہت راستوں کی پیروی نہ کرو جو تمہیں اس کے راہ سے جدا کر دیں گے اور درود و سلام ہمارے سردار محمدﷺ پر جو خدا کا نبی اور دوست وخلیل ہے اور اس کی آل واصحاب و مددگاروں پر۔ پھر بعد ازاں بے شک میں نے اس بزرگ رسالہ کا مطالعہ کیا جو صحیح صاف محکم روایات پر مشتمل ہے۔ پس میں نے اس رسالہ کو بروئے دلائل محکم مضبوط شافی کافی فائدہ رساں دیکھا جس کے پڑھنے سے موحدین اہل سنت و جماعت کی آنکھیں خنک ہوتی ہیں اور معتزلہ و خارجیوں و بدمذہبوں و بدعتیوں کی آنکھیں اندھی ہوتی ہیں۔ وہ بد مذہب جو دین سے یوں نکلتے ہیں جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔ اور یہ مبارک رسالہ جس نے غلام احمد قادیانی کی کجی کو ظاہر کیا اور بے شک یہ قادیانی مسیلمہ کذاب ثانی ہے اور نیز اس کے مؤید کے دھوکے ظاہر کئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ اس کے لکھنے والے کو اہل اسلام کی طرف سے بہت نیک بدلہ دے۔ اور بہت سا اجر عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ ہمارے سردار محمدﷺ نبیوں اور رسولوں کے ختم کرنے والے پر رحمت پہنچا اور اس کی آل و اصحاب سب پر۔ اس تحریر کے لکھنے کا عاجز خلف بن ابراہیم نے جو مکہ شریف میں حنبلیوں کے فتویٰ دینے کا بالفعل خادم ہے۔ حکم کیا۔
مدینہ منورہ میں جو حضرت حنفیوں کے مفتی ہیں ان کی تقریظ
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! حمد و درود و سلام ادا کرتے ہوئے میں خدائے پاک مولیٰ کریم قادر سے اپنے ہر کام اور ہر بات میں توفیق و مدد کا سائل ہوں۔ سب تعریف خدائے یگانہ بے نیاز شریک اور اولاد سے پاک کے لئے خاص ہے جس نے بزرگ رسولوں کو روشن دلیلوں اور ظاہر نشانیوں سے بھیجا ہے اور ان کی قبل از نبوت خوارق اور معجزات
سے تائید کی ہے۔ اپنے خاتم الانبیاء اور سید الاصفیاء پر جس نے قرآن معجز بیان اتارا ہے اور اس جل وعلیٰ نے اس میں فرمایا ہے کہ آج میں نے پورا کیا تمہارے لئے دین اور تم پر اپنی نعمت تمام کی اور اسلام تمہارے لئے دین پسند کیا۔ وہ کتاب جو سیدھی راہ کی طرف راہنما ہے اور ہر اچھا کام فرماتی ہے۔ جھوٹ اس کے آگے پیچھے سے نہیں آتا۔ دانا ستودہ کی اتاری ہوئی ہے اور دائمی درود اور سلام نبی پر ہو جو خلاصی اور سیدھی راہ کی طرف بلانے والا ہے اور قیامت تک ہر جھوٹے اور ہلاک کرنے والے کا حال بتلانے والا ہے جس کی حدیث صحیح مسلم میں ابوہریرہؓ سے ہے کہ آخر زمانہ میں دجال سخت جھوٹے ہوں گے۔ تم سے ایسی باتیں کریں گے جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہ سنی ہوں گی۔ پس ان سے ڈرو تم کو گمراہ نہ کریں اور فتنہ میں نہ ڈالیں اور نیز صحیح مسلم میں ابوہریرہؓ سے ہے کہ جو کوئی ہدایت کی طرف بلائے گا تو اس کے جمیع پیروؤں کا ثواب اس کو دیا جائے گا اور ان کے ثواب سے بھی کچھ کم نہ ہوگا۔ اور جو کوئی گمراہی کی طرف بلائے گا تو اس کو یہی سب پیروؤں کا گناہ اس پر ہوگا اور ان کے بھی گناہ سے کچھ کم نہ کیا جائے گا۔ اور نیز امام احمد و نسائی و دارمی نے عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک خط کھینچ کر فرمایا کہ یہ خدا کا راہ ہے۔ پھر اس کے دائیں بائیں اور خط کھینچے اور فرمایا کہ ان راستوں سے ہر راہ پر شیطان ہے جو اس کی طرف بلاتا ہے اور یہ آیت پڑھی: ”ھــــذا صراطى المستقيم فاتبعوه“ اور بے شک یہ میرا سیدھا راہ ہے۔ اس کی پیروی کرنا۔ آخر آیت تک اور ابن ماجہ نے حضرت انسؓ سے حدیث لکھی کہ بڑی جماعت کی پیروی کرنا بے شک جو اس سے نکلا دوزخ میں پڑا اور نیز امام احمد نے معاذ بن جبلؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے۔ بکریوں کے بھیڑیے کی طرح الگ ہونے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے۔ پراگندہ نہ ہونا اس سے بچنا اور جماعت سے ملنا اور نیز یہ حدیث امام مالک کے مؤطا میں مالک بن انسؓ سے روایت ہے کہ میں تم لوگوں میں دو کام چھوڑتا ہوں۔ جب تک ان کو پکڑے رہو گے گمراہ نہ ہوگے۔ قرآن مجید اور حدیث اور نیز صحیح مسلم میں محمود ابن لبیدؓ سے حدیث آئی ہے کہ قرآن سے کھیل کئے جاتے ہیں اور میں موجود ہوں اور نیز ابویعلیٰ نے ابوذرؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ میرا بہت پیارا اور نزدیک تر وہ ہے جو مجھ سے ملے۔ اس عہد پر میں نے اسے چھوڑا ہے اور نیز بیہقیؒ کی شعب الایمان میں جابرؓ سے حدیث ہے کہ تم اسلام میں حیران ہوتے ہو۔ جیسے یہود و نصاریٰ متحیر ہیں تمہارے لئے شرع روشن پاکیزہ لایا ہوں۔ اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو میری ہی پیروی کرتے اور نیز حدیث متفق علیہ اور سنن ابوداؤد اور جامع ترمذی کی حضرت عائشہؓ سے ہے کہ جس نے ہماری شریعت کے برخلاف کوئی کام نکالا وہ مردود ہے اور نیز امام احمد و مسلم اور چاروں نے ابوسعیدؓ سے حدیث لکھی ہے کہ جو کوئی تم سے برا کام دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اگر یہ طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے۔ اگر یہ طاقت نہ ہو تو اس کو اپنے دل سے اور یہ بہت ضعیف ایمان ہے۔ اور درود آپ ﷺ کی آل واصحاب پر ہو جو سیدھے راہ کے ستارے ہیں اور آپ ﷺ کے عزیز واقارب و جماعت پر جو خلقت کے رہنما ہیں۔ بعد ازاں بے شک میں نے اس پیارے رسالہ کے کاغذات کے باغوں میں ان کے اصیل گھوڑوں کو چرایا اور اس عمدہ تالیف کی سطروں کے گلزاروں کی پاکیزہ زمین میں اپنی سست فکر کے اونٹ کو دوڑایا۔ پس میں نے اس کو یقینی دلیلوں سے تردید کا ذمہ دار پایا جس نے اس دین سے نکلنے والے بدبخت ناکس فریبی (مرزا قادیانی)
کے جھوٹ کو نابود کر دیا۔ اس کی باتوں کے جو ہر ناقص عقل کے گمراہ کرنے کا سبب ہیں ۔ کھوٹ ظاہر کرنے میں یہ رسالہ کافی ہے۔ پس بے شک اس کے مؤلف نے اچھا لکھا۔
یہاں تک کہ نہایت نشانہ اور مقصود عمدگی کو پہنچا اور فائدہ پہنچایا۔ خدا اس کو بہت ثواب اور بہشت اور اپنا دیدار عطا کرے اور اللہ تعالیٰ کا ہمارے سردار پیغمبر محمدﷺ اور اس کی آل و اصحاب پر درود و سلام پہنچے۔ اس تحریر کو پروردگار کی بخشش کے محتاج عثمان بن عبدالسلام داغستانی جو مدینہ منورہ میں حنفی مفتی ہیں لکھا۔ خدا اس کو بخشے۔ مورخہ ۵ ذیقعدہ ۱۳۰۴ھ/ دستخط عثمان بن عبدالسلام داغستانی !
مدینہ منورہ کے مفتی شافعیہ اور ان کے وکیل مدرس حرم شریف نبوی کی تقریظ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ! سب تعریف اس خدا کی ہے جس نے اپنے رسول محمدﷺ کو ہدایت اور دین کے ساتھ بھیجا اور ان پر ایسا قرآن اتارا جو رحمن کا معجزہ ہے اور ہمیشہ کے لئے نشان ہدیٰ اور راستہ کی دلیل ہے اور آپﷺ کو نبیوں کا ختم کرنے والا اور رسولوں کا سردار اور جہانوں کی رحمت بنایا اور آپﷺ کی نبوت کو قیامت تک جن اور آدمیوں کے لئے عام کیا اور ان کی شرع نے تو سب دینوں کو منسوخ کیا اور ان کی شرع اور حکم منسوخ نہیں ہوتا اور آپﷺ کے درگاہ الٰہی میں پہنچنے سے قیامت تک پیغمبری کا دروازہ بند ہو گیا۔ پس آپﷺ کے پیچھے آپﷺ کی روشن اور مضبوط شرع کی ہی پیروی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپﷺ پر اور آپﷺ کی آل و اصحاب پر جو ہدایت کے امام اور تاریکی کے چراغ ہیں اور ان کے پیروں پر درود بھیجے جب تک دنیا قائم ہے۔ بعد ازاں ہم دونوں نے اس رسالہ میں خوب تامل کیا تو اس کو مقصود پر روشن دلیل پایا۔ اس کی دلیلیں بدمذہبوں کے شبہوں کی گرہیں کاٹ دیتی ہیں اور اس کے نور شیطانوں کے دھوکوں کے اندھیروں کو نابود کر دیتی ہیں۔ اس نے بہت عمدہ فیصلہ کیا اور حق کا راستہ ظاہر کر دیا۔ اور یہ رسالہ صراحۃً دین کی یقینی دلیلوں پر شامل ہے اور غلام احمد قادیانی کے فریبوں اور جھوٹ کو اس نے رسوا کر دیا ہے۔ اور بے شک یہ قادیانی اپنے شیطان بھائیوں کے نزدیک احمد یعنی قابل تعریف ہے اور اہل ایمان و یقین کے نزدیک یہ اذم یعنی لائق بہت مذمت کے ہے اور بے شک اس کی بیہودہ باتیں ظاہر گمراہی ہے اور جس الہام کا یہ مدعی ہے وہ شیطانوں کی وحی ہے۔ نبیوں اور رسولوں کی وحی نہیں ہے اور جب تو اس کی بناوٹ اور گمراہی میں تأمل کرے گا تو اس آیت کا مصداق پائے گا جس کا ترجمہ یہ ہے اور اسی طرح کئے ہیں ہم نے ہر نبی کے دشمن شیطان آدمی اور جن سکھاتے ہیں ایک دوسرے کو ملمع باتیں فریب کی اور اگر تیرا رب چاہتا تو یہ کام نہ کرتے۔ سو چھوڑ دے وہ جانے اور ان کا جھوٹ اور کہ جھکیں اس کی طرف دل ان کے جو ایمان نہیں لائے آخرت پر۔ اور اسے پسند کریں اور تاکہ مرتکب ہو جائیں ان امور کے جن کے وہ مرتکب ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ کوئی بدلنے والا نہیں اس کے کلام کو اور وہی ہے سننے والا جاننے والا اور دراصل یہ قادیانی مسیلمہ کذاب کی طرح گمراہی اور شک میں ہے بلکہ یہ قادیانی شیطان سے بھی اس کا مکر و فریب بہت مضر ہے۔ اس لئے کہ شیطان کا معاملہ ظاہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو اس کے فریب سے ڈرایا ہے اور یہ قادیانی اس نے جھوٹ کو سچ بنا دکھایا ہے اور اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھ رہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اس کی
ہلاکت سے شہروں اور بندوں کو فساد سے راحت دے۔ پس ہر مومن پر واجب ہے کہ اس رسالہ کے مضمون سے تمسک کرے اور قادیانی کی براہین احمدیہ کے بناوٹوں سے بچیں اور اس کے افتراء سے جو کمینگی اور گمراہی ہے اور اللہ تعالیٰ ہمارے سردار محمد خاتم النبیین ﷺ پر درود بھیجے جس پر قرآن مبین شیطانوں کی وسواسوں سے محفوظ اتارا گیا ہے اور اس کی آل واصحاب پر اور سلام سب پر۔ اس تحریر کے لکھنے کا سید جعفر بن سید اسماعیل برزنجی مدینہ منورہ میں شافعیوں کے مفتی نے حکم کیا ہے اور وکیل مفتی شافعیوں کے جو حرم شریف نبوی میں مدرس ہے۔ سید احمد برزنجی اس نے بھی تحریر کی ہے۔ دستخط سید جعفر البرزنجی! سید احمد البرزنجی!
مدینہ منورہ کے حضرت مدرس مسجد نبوی کی تقریظ
بسم الله الرحمن الرحیم! سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے سارے اپنے بندوں کو اپنی پہچان اور توحید کے لئے پیدا کیا ہے اور تاکہ وہی سب اپنے وجود اور خدا کے وجود میں فرق کریں اور اس کے انعام وبخشش کو جانیں۔ میں اس کی حمد کرتا ہوں اس پر کہ ہمارے لئے اس نے دین کے نشان قائم کئے اور ہدایت پانے والوں کے لئے اس کا راہ روشن کیا اور میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں اس پر کہ ہماری طرف ایسا نبی بھیجا جس پر پیغمبری ختم کی اور شبہات وگمراہی کے دروازے اس کے ساتھ بند کئے روشن معجزوں سے اس کی مدد کی اور اس کے دین سے سب دین اور حکم منسوخ کئے اور اس کی شرع کو قیامت تک باقی رکھا اور اس پر ایسا قرآن اتارا جو عمدہ نصیحت اور سیدھا راہ ظاہر کرنے والا نور اور محکم عہد ہے اور خود حق تعالیٰ ہمیشہ کے لئے اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے کہ جھوٹے اس کو بدل نہ سکیں گے اور دین سے پھرنے والے اس میں کجی نہ کر سکیں گے۔ یعنی دیندار لوگ ان کی تردید کر کے ظاہر کر دیں گے۔ سو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر رحمت کرے اور آپ ﷺ کی آل واصحاب پر بھی جس نے ان کی پیروی کی خود آپ ﷺ کی پیروی کی اور جو ان کی راہ سے پھرے بے شک اس نے ظلم کیا اور حد سے گزرا۔ بعد ازاں جب میں نے اپنی آنکھوں سے اصیل گھوڑوں کو ایسے روشن رسالے کے میدانوں میں جولان دیا جو سچے دین کی پیروی پر عمدہ برانگیخت پر مشتمل ہے اور اس کی طرف بلا رہا اور حرص دلا رہا اور اس پر ترغیب دے رہا ہے اور یہ دیکھنا اس کا جلدی کی حالت میں تھا با وصف از حد کثرت اشغال اور دل پر ہجوم غموں کے حال میں تو اس رسالہ پر میں نے تحقیق کی تو انوار ظاہر پائے اور اس کی دلیلیں روشن مضبوط ظاہر پائیں۔ یہ رسالہ دین کی یقینی باتوں کو جمع کرنے والا ہے۔ بے دینوں گمراہ کرنے والوں کی شبہوں کی تردید کا ذمہ دار ہے۔ اس بد مذہب جھوٹے دعویٰ کرنے والے کے عیب کو رسوا کرنے والا ہے جس کا نام غلام احمد قادیانی ہے شیطان کا پوتا جو گمراہی اور بد راہ کرنے میں اپنے دادے شیطان سے ہزار درجہ بڑھ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کے بنانے والے کو عمدہ ثواب دے۔ اس لئے کہ دین اسلام کی حدوں کی محافظت کی ہے۔ سخت جھوٹے گمراہ کنندے کی فریبیوں کو براہین سے باطل کر کے جس سے اس نے عوام جاہلوں اور غافلوں کے دلوں میں شک داخل کر دیئے تھے۔ پس ہر مسلمان پر جو خدا پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی کتابوں ورسولوں کو سچا جانتا ہے واجب ہے کہ یہ اعتقاد اور یقین کرے کہ صاحب اس رسالہ نے جو رد لکھا ہے وہی سچ اور موافق قواعد ایمان کے ہے اور بے شک جو
براہین احمدیہ والے اور اشاعۃ السنہ والے نے کہا ہے وہ نرا جھوٹ اور بہتان ہے۔ پس سچ کے پیچھے گمراہی ہی ہوتی ہے اور جو مسلمان کے سوا دین اختیار کرے گا وہ ہرگز قبول نہ ہوگا اور وہ شخص قیامت میں نقصان والوں سے ہوگا۔ تیرا رب راستہ بھولنے والوں کو جانتا ہے اور ہدایت پانے والوں کو بھی جانتا ہے۔ بے شک تمہارے رب کی طرف سے نصیحتیں آئی ہیں جس نے دیکھا اپنا فائدہ کیا اور جو اندھا ان سے ہوا اپنا نقصان کیا۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اور سب مسلمانوں کو سیدھے اور ہدایت کے راستہ پر قائم رکھے اور ہم سب کو گمراہی کے راستوں سے بچائے۔ وہ ہر شے پر قادر ہے اور دعا قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمارے سردار اور آقا محمد ﷺ پر رحمت کرے جس نے فرمایا ہے کہ جس کو خدا راہ دکھائے کوئی اس کو بد راہ کرنے والا نہیں اور جس کو گمراہ کرے کوئی اس کا راہنما نہیں اور اس کی آل و اصحاب اور تابعین اور ہم سب پر رحمت کرے۔ آمین! یہ تحریر اپنی زبان سے کہی اور قلم سے لکھی ہے۔ عاجز بندے محمد علی بن طاہر وتری حسینی حنفی مدنی نے جو مسجد شریف مدینہ منورہ میں علم دین و حدیث کا مدرس ہے۔ مورخہ ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۰۴ ہجری میں! دستخط: محمد علی السید بن طاہر السید الوتری!
پٹنہ کے مشہور علماء سے ایک عالم کی تقریظ
بسم اللہ الرحمن الرحیم! سب تعریف اس خدا کے لئے ہے جس نے قرآن مجید آدمیوں اور جنوں کے سردار پر اتارا اور اس سے جھوٹ اور شرک اور سرکشی کو نابود کیا اور درود و سلام اس کے پیغمبر محمد ﷺ پر اور اس کی آل واصحاب اور نیکی سے ان کے پیروں پر ہمیشہ ہو۔ بعد ازاں میں نے غلام احمد قادیانی کی براہین احمدیہ واشتہار سے اس کی بعض لغزشوں کا مطالعہ کیا۔ پس ان کو شیطانی بناوٹوں سے پایا۔ وہ رحمانی الہام نہیں ہیں بلکہ نرا بہتان اور بیہودہ گوئی ہے۔ پس جس نے اس کی پیروی کی وہ نقصان والوں سے ہے اور اس رسالہ کی عمدہ تردیدات کو بھی میں نے دیکھا ہے۔ پس ان سے دل کو آرام آیا۔ امید ہے کہ اس کے مطالعہ سے بہت برادران اہل سنت و غیرھم اللہ تعالیٰ کے فضل سے نجات پالیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کے مؤلف کو اونچی بہشت بدلہ دے۔ اس تحریر کو عاجز محمد بن عبدالقادر باشہ پٹنہ کے باشندے حنفی نے لکھا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کے والدین کو بخشے اور ان سب سے احسان کرے۔ فقط ۔ دستخط! محمد ابن عبد القادر باشہ!
تمام ہوئی تقریظات حضرات علماء حرمین محترمین کی
واضح رہے کہ فقیر کاتب الحروف نے اول جو اردو میں رسالہ بنام تحقیقات دستگیریہ فی رد ہفوات براہین لکھ کر مشاہیر علماء پنجاب وغیرہ کو ملاحظہ کرایا تھا جس پر ان حضرات نے تقاریظ لکھیں تھیں۔ ہر چند پھر اس کے اکثر مضامین کو لباس عربی پہنا کر حرمین شریفین بھیجا گیا تھا جو وہاں کے مفتیان عظام و مدرسان کرام و غیرھم کی تصدیق و تعریف سے مزین ہوا جو اوپر تحریر ہو چکی ہیں اور یہ امر موجب اس کے زیادہ اعتبار و اسناد کا ہوا۔ مگر تاہم ان تقاریظ علماء پنجاب وغیرہ کا بھی یہاں پر درج کر دینا مناسب نظر آیا اور وہ یہ ہیں۔ چونکہ اختتام اس رسالہ کا شہر امرتسر میں ہوا تھا۔ اس لئے اول
ان کے مشاہیر علماء نے اس کو ملاحظہ کر کے تقریظات لکھی تھیں جو پہلے درج ہوتی ہیں۔
مولوی غلام رسول امام مسجد میاں محمد جانؒ رئیس امرتسر کی تقریظ
باسمه العلی الاعلیٰ والصلوة علیٰ نبیه المصطفیٰ وآله المجتبیٰ مخفی نہ رہے کہ اس احقر نے نسخہ متبرکہ کی تحقیقات دستگیر یہ جو ہفوات صاحب براہین احمدیہ کے رد میں تالیف حضرت بلند ہمت شریف النسب عالی حسب جناب مولانا مولوی غلام دستگیر صاحب کا ہے حرف بحرف ابتداء سے آخر تک مطالعہ کیا نسخہ شریفہ مذکورہ کو مطابق مذہب اہل سنت و جماعت کے پایا اور جناب مولوی صاحب موصوف نے جو الہامات اس کتاب میں براہین احمدیہ سے نقل کئے ہیں وہ بعینہ میں نے براہین احمدیہ میں درج پائے ہیں۔ مجھے ظن غالب ہے کہ مصنف براہین احمدیہ مرض مالیخولیا میں گرفتار ہیں۔ اسی سبب سے صورت متخیلہ موہومہ کو امور مدونہ الہامیہ قرار دینے میں لاچار ہیں۔ ورنہ باوجود سلامت عقل وحواس اور باوجود ادعاء اسلام ایسے الہامات واہیہ کے مدعی نہ ہوتے۔ اللهم اكرمنا بزیور العلم ونوّر قلوبنا بنور العلم هذا وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمین۔ رقمه احقر العباد اليه الغنى غلام رسول الحنفی بقلم خود !
مولوی احمد بخش صاحب مدرس مدرسۃ المسلمین امرتسر کی تقریظ
باسمه سبحانه وتعالیٰ بعدہ ! ایں کس رسالہ ہذا را از اول تا آخر بلفظہ دیدہ موارد واعتراضات را از براہین ہم مشاہدہ نمود فی الحقیقت بعض مزخرفاتش را بطور نمونہ جواب دادہ آمد تابفحوائے قیاس کن زگلستان من بھار مرا اباطیل باقیہ برآں قیاس نمودہ شود خداوند کریم مولانا مصنف را (کہ ہمیشہ کمر ہمت بحمایت دین بستہ دارند در استیصال خلاف مخالفین بمساعی جمیلہ خود ، مشکور اسلامیان اند و چرا نباشد کہ کمالات حسبی ونسبی ضمیمہ خوبیهای کسبی و وہبی از حق سبحانہ دارند) جزائے خیر دہدکہ در چنیں وقت کہ باغربت اسلام ہمقرانست ایں چنیں احسان بر زمرہ اہل سنت گذاشتہ اند ، فقط حررہ ، ابوعبیداللہ احمد بخش عفاء اللہ عنہ وابقاہ بالیمن بقلم خود!
مولوی نورالدین مدرس مدرسۃ المسلمین امرتسر کی تقریظ
جو کچھ مولوی صاحبان مولوی غلام رسول اور مولوی احمد بخش صاحب نے رسالہ ہذا کے بارہ میں تحریر فرمایا ہے وہ عین صواب ہے اور اس سے میرا اتفاق رائے ہے۔ فی الواقع رسالہ ہذا جمیع متبعین سنت کے لئے وساوس شیطانی وہواجس نفسانی کے خطرات سے محفوظ رکھنے کی سپر قوی ہے اور سبحانہ تعالیٰ جناب مولوی صاحب مؤلف رسالہ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ حررہ عبداللہ المسکین نورالدین عفی عنہ بقلم خود!
مولوی غلام محمد امام مسجد شاہی لاہور کی تقریظ مع امام جامع مسجد انارکلی
ظاهراً اقوال الهاميه مؤلف براهین احمديه مع تاويلات فاسده صاحب اشاعة السنه مخالف عقائد اهل السنة والجماعة وغير مستند ست اهل اسلام را لازم که از اتباع ایں چنیں اشخاص ومطالعه این چنیں الهامات واهیات برکنار باشد واین تحقیقات و تردید الهامات مستند اند بكتب مقبوله اهل السنة الحق احق ان يتبع ، فقير غلام محمد بگی والا عفى عنه بكرمه و منه بقلم خود اصاب من اجاب فقیر نور احمد امام مسجد انارکلی بقلم خود !
مولوی نور احمد صاحب ساکن کھائی کوٹلی ضلع جہلم کی تقریظ
الہامات صاحب براہین احمدیہ و تاویلات صاحب اشاعۃ السنہ بالکل مخالف شرع اند ومضمون و عبارات رسالہ شریفہ ہذا صحیح بلکہ اصح و ہدایت کنندہ گمراہان براہ حق جزاہ اللہ سبحانہ مولف خیرالجزاء۔ فقیر نور احمد ساکن کھائی کوٹلی ضلع جہلم بقلم خود!
مولانا مفتی حافظ محمد عبد اللہ ٹونکی مدرس اعلیٰ مدرسہ یونیورسٹی لاہور کی تقریظ
الحمد لوليه والصلوٰة والسلام على نبيه محمد و آله و صحبه اما بعد ! نحیف نے اس رسالہ کو اکثر مقاموں سے دیکھا۔ جن میں حضرت مؤلف نے صاحب براہین اور ان کے اعوان کو معقول الزام دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت مؤلف کو اس حسن کوشش کی جزائے خیر دے۔ حضرت مؤلف سلمہ اللہ تعالیٰ نے مؤلف براہین احمدیہ پر مدعی نبوت ہونے کا بھی الزام لگایا ہے۔ میری رائے میں یہ الزام بھی صحیح اور درست ہے۔ اس لئے کہ قطعی اور یقینی طریق سے من جانب اللہ ایسے مضامین کا منزل علیہ ہونا جن کی تبلیغ ضروری ہو عرف شرع میں خواص رسالت یا نبوت سے ہے اور مؤلف براہین کو اس منصب کے حصول کا دعویٰ ہے۔ پس اس کے مدعی ہونے میں کیا اشتباہ ہے؟۔ پہلے مقدمے کا ثبوت یہ ہے کہ رسالت کے مفہوم لغوی اور ان آیات واحادیث میں غور کرنے سے جن میں انبیاء علیہم السلام کے اوصاف اور حالات بیان ہوئے ہیں بخوبی معلوم ہوتا ہے اور دوسرا مقدمہ یوں ثابت ہے کہ مؤلف براہین کو من جانب اللہ قطعی اور یقینی طریق سے اپنے منزل علیہ ہونے کا تو صریح دعویٰ ہی ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ مضامین علی العموم واجب التبلیغ بھی ہیں۔ اس پر یہ الہامی فقرے (مصنوعی ) شاہد ہیں: ”واتل عليهم............ ما اوحی اليك من ربك ............ قل انما انا بشر مثلكم يوحى الى انما الهكم اله واحد.............. قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله ............ قل عندی شهادة من الله فهل انتم مومنون “ اس پچھلے فقرے ( مصنوعی ) کی تشریح میں مؤلف براہین نے لکھا ہے کہ: ”میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ پس کیا تم ایمان نہیں لائے یعنی خدائے تعالیٰ کی تائیدات کرنا اور اسرار غیبیہ پر مطلع فرمانا اور پیش از وقوع پوشیدہ
خبریں بتلانا اور دعاؤں کو قبول کرنا اور مختلف زبانوں میں الہام دینا اور معارف اور حقائق الہیہ سے اطلاع بخشنا۔ یہ سب خدا کی شہادت ہے۔ جس کو قبول کرنا ایمانداروں کا فرض ہے۔‘‘ انتہاء! اس بیان میں مؤلف براہین نے اور لوگوں پر بھی اپنے الہامات کے حجت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے کہ اگر ان کا الہام اوروں پر حجت نہ ہو تو ان کو قبول کرنا ایمانداروں پر فرض کیوں ہو۔ کیا غیر حجت کا بھی قبول کرنا ایمانداروں کا فرض ہوتا ہے؟۔ اس بیان سے مدعی نبوت ہونے کے الزام کی پہلی دلیل تمام ہوئی۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ مؤلف براہین نے اپنے بنائے ہوئے الہامی فقرے جری اللہ فی حلل الانبیاء کی تشریح میں لکھا ہے کہ: ’’اس فقرہ الہامی کے یہ معنی ہیں کہ منصب ارشاد و ہدایت اور مورد وحی الہی ہونے کا دراصل حلہ انبیاء ہے اور ان کے غیر کو بطور مستعار ملتا ہے۔‘‘ انتہاء! اس لئے کہ جب منصب ارشاد و ہدایت اور مورد وحی الہی ہونا حلہ انبیاء ہوا تو جو شخص اپنے سے اس منصب شریف کے حصول کا مدعی ہو اس کے مدعی نبوت ہونے میں کیا کلام ہے۔ رہا یہ فقرہ کہ غیر نبی کو بطور مستعار ملتا ہے۔ اس کا مطلب کما حقہ ذہن نشین نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ غیر نبی کو کسی دوسرے نبی کی اتباع کے ذریعے سے یہ منصب حاصل ہوتا ہے اور نبی کو بلا توسط اتباع دوسرے کے یا یہ کہ نبی بعد حصول منصب مذکور دوسرے نبی کا تابع نہیں رہتا اور غیر نبی بعد حصول منصب مذکور بھی کسی نبی کا تابع رہتا ہے تو یہ تفریق غلط ہے۔ اس لئے کہ نبی کے نبی ہونے میں نبوت سے پہلے یا نبوت سے بعد دوسرے نبی کا تابع نہ ہونا لغت یا شرع سے مفہوم نہیں ہوتا بلکہ بہت سے انبیاء بنی اسرائیل علیہم السلام موسوی شریعت کے تابع تھے اور خود جناب رسول مقبول علیہ السلام کو جا بجا اتباع ابراہیم علیہ السلام کا ارشاد ہوتا ہے بلکہ مؤلف براہین تو عیسیٰ علیہ السلام کو بھی موسوی شریعت کا خادم اور تابع قرار دیتے ہیں اور جو یہ غرض ہے کہ نبی سے یہ منصب مسلوب نہیں ہو سکتا اور غیر نبی سے مسلوب ہو سکتا ہے۔ پس یہ تفریق بھی غلط ہے۔ اس لئے کہ نبوت کی حقیقت میں یہ شرط بھی لغتاً یا شرعاً مفہوم نہیں ہوتی بلکہ بعض آیاتوں سے مفہوم ہوتا ہے کہ خود انبیاء علیہم السلام سے بھی اس منصب شریف کا مسلوب ہو سکتا مقدر جناب ایزدی ہے۔ گو اس امر کا وقوع نہیں ہوتا: ”اللّٰه اعلم حیث یجعل رسالتہ“ اور جو یہ عرض ہے کہ غیر نبی وحی کی تصدیق یا اس پر عمل کرنے میں شریعت پر عرض کرنے کا محتاج ہے اور نبی کو اس عرض کی حاجت نہیں تو اس سے کیا لازم آیا کہ غیر نبی کے وحی یا الہام قطعی اور یقینی نہ ہو۔ اولاً اس لئے کہ شریعت کا اس لئے اتباع ضروری ہے کہ وہ من جانب اللہ ہے جس کا من جانب اللہ ہونا بھی بالواسطہ معلوم ہوتا ہے اور جب اس غیر نبی کو بھی اپنی وحی کے من جانب اللہ ہونے کا بلا توسط ظاہری قطعی اور یقینی طریق سے انکشاف تام ہو گیا تو اب اس کو اپنی وحی کی تصدیق یا اس پر عمل کرنے میں عرض شریعت کی حاجت کیا ہے؟۔ ثانیاً اس لئے کہ احکام شرعیہ کا جزو اعظم احادیث صحیحہ ظنی الثبوت اور آیات قرآنیہ ظنی الدلالۃ سے ثابت ہوا ہے۔ پس چاہئے کہ بالخصوص ان احکام پر عرض کرنے کے ملہم غیر نبی کو اصلاً ضرورت نہ ہو کیا یقینی الثبوت الدلالۃ کا عملاً یا اعتقاداً تسلیم کرنا کسی ظنی الثبوت یا ظنی الدلالۃ کی شہادت پر موقوف ہو سکتا ہے بلکہ اور صورت عرض پر تقدیر تخالف اس حدیث صحیح اور اس آیت کے مدلول ظاہری کو ملہم غیر نبی کے حق میں ترک کرنا ضروری ہو۔ اس لئے کہ یقینی الثبوت والدلالۃ کے مقابل میں ظنی الثبوت یا
ظنی الدلالۃ کو کوئی عاقل تسلیم نہیں کر سکتا۔ اس مقام میں یہ کہنا کہ یہ الہام قطعی شریعت کے مخالف ہوتا ہی نہیں غلط ہے۔ اس لئے کہ الہام قطعی کا واقع نہ ہونا تو بے شک مسلم ہے۔ لیکن مذکورہ بالا احادیث سے جن کے موضوع اور خلاف واقع ہونے کا بھی احتمال ہے الہام قطعی کا مخالف نہ ہو سکنا غیر مسلم ومن یدعی فعلیہ البیان اور جو مذکورۃ الصدر فقرہ سے یہ غرض ہے ہی کہ نبی کو اپنے الہام کے فہم مطلب میں اشتباہ اور التباس نہیں ہوتا۔ برخلاف غیر نبی کے کہ اس کو اپنی وحی کے فہم مضمون میں اشتباہ اور التباس رہتا ہے تو یہ توجیہہ بھی غلط ہے۔ اس لئے کہ جب اس وحی کے معانی خود منزل علیہ پر مشتبہ ہوئے تو اس الہام کے الہام ہدایت یا الہام ضلالت ہونے میں اس کو کیا امتیاز ہو اور اس کے من جانب اللہ ہونے کا کیونکر یقین کیا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذکورہ بالا فقرہ نبی اور غیر نبی میں واقعی اور حقیقی امتیاز نہیں پیدا کرتا۔ صرف عوام کی لغزش کھا جانے کے لئے بڑھا دیا گیا ہے اور اس لئے صریح لفظ نبی یا رسول کے اطلاق سے ہی مؤلف نے کس قدر احتیاط کی ہے۔ ورنہ خواص نبوت یا رسالت کے اپنے لئے ثابت کرنے میں میری رائے میں کوئی فروگذاشت نہیں کی ہے۔ هذا ما يخطر بالبال والله اعلم بحقيقة الحال رقمه العبد الضعيف المفتی محمد عبدالله عفاء اللہ عنہ المدرس الاول بالمدرسۃ العالیۃ فی لاھور!
گزارش مؤلف
باسمہ سبحانہ ! اس فتویٰ حرمین محترمین زادہما اللہ تعالیٰ حرمتہ سے جمیع اہل اسلام خاص و عام پر بخوبی روشن ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کی براہین احمدیہ والی بلند پروازیوں نے ہی ان کو بشہادت مفتیان عرب وعجم دائرہ اسلام سے خارج کر دیا ہے۔ وہ ہرگز الہام ربانی کے مورد نہیں۔ یقیناً القائے شیطان کے مصدر ہیں۔ ہر چند فقیر مؤلف كان الله له نے ابتدائے ۱۳۰۲ھ سے اولاً بذریعہ خط و کتابت ثانیاً بوسیلہ اشتہارات بہت کوشش کی کہ مرزا قادیانی مناظرہ سے تحقیق حق کر کے اسلام میں رخنہ اندازی سے باز آجائیں۔ مولوی محمد حسین بٹالوی کی تائید پر غرہ نہ ہو جائیں۔ مگر بقضائے الٰہی موثر نہ ہوا۔ تب فقیر نے رسالہ مرقومہ بالا ۱۳۰۳ھ میں حرمین شریفین میں بھیج کر فتویٰ لیا۔ ۱۳۰۵ ہجری میں جب یہ فتویٰ آیا تب راقم نے امرتسر جا کر مرزا قادیانی کے دوستوں کو دکھلایا اور ان کی معرفت مرزا قادیانی کو بلوایا کہ وہ بچشم خود اس کو ملاحظہ کر کے تائب ہو جائیں تو اس کو شائع نہ کیا جائے گا۔ اس پر مرزا قادیانی نہ آئے۔ فقیر نے بنظر خیر خواہی اسلام اس کے شائع کرنے میں تاخیر کی شاید مرزا قادیانی روبراہ ہو جائیں۔ پھر مرزا قادیانی نے جب ضروری اشتہار ۲۶ مارچ ۱۸۹۱ء مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۲۰۲ میں اپنے مثیل مسیح ہونے کے دعوٰی میں کئی علماء دین سے مباحثہ کے واسطے ان کے نام درج کئے اور اخیر میں فقیر کا نام بھی تحریر کیا تو اس کے جواب میں فقیر نے رمضان المبارک ۱۳۰۸ھ میں دو ورقہ اشتہار شائع کر کے مختصر حال اس فتویٰ کا اور اپنی مستعدی مناظرہ کے لئے ظاہر کی اور ادّعائے مثیل مسیح کو بھی باطل کیا۔ ان کی طرف سے اس کا جواب نہ آیا بعد ازاں رمضان شریف ۱۳۱۰ ہجری میں حافظ محمد یوسف ضلع دار نے مرزا قادیانی یا ان کے نائب سے مناظرہ کے واسطے تحریک کی فقیر نے تحریر کر دی کہ میں حاضر ہوں۔ تاریخ مقررہ پر نہ مرزا قادیانی آیا نہ کوئی نائب ان کا مختار نامہ لے کر آیا۔ برعکس مولوی محمد احسن امروہی
نے فقیر کے فرار کا اشتہار بنام اتمام الحجۃ شائع کر دیا۔ اس کے جواب میں ایک مدرس مدرسہ قصور نے اولاً اس کی تبکیت میں اشتہار شائع کیا۔ ثانیاً فقیر نے ۱۳۱۱ہجری میں دوسرا اشتہار چھپوادیا۔ جس کا حاصل یہ تھا کہ مرزا قادیانی کی پہلی رخنہ اندازی اسلام کے علاوہ جس پر حرمین مکرمین زادہما اللہ تعظیماً سے ان کے بارہ میں فتویٰ آچکا ہے جو انہوں نے دعویٰ مخترعہ مسیحیت میں رسالہ فتح اسلام وتوضیح المرام ازالہ اوہام شائع کئے ہیں ان میں نبوت ورسالت کا کھلا کھلا دعویٰ کر دیا ہے۔ جس سے مولوی محمد حسین بٹالوی جیسے ان کے مؤید اور ثناخواں بھی ان کے سخت مخالف ہو کر واشگاف اور صاف صاف ان کی تکفیر کر رہے ہیں اور مرزا قادیانی اور محمد احسن امروہی جیسے ان کے مریدوں کو ذرہ بھی غیرت نہیں کہ مجمع علماء میں اپنی بریت ظاہر دکھائیں۔ صرف دھوکہ بازیوں سے کام چلا رہے ہیں۔ ان کی طرف سے جب اس کا جواب بھی کچھ نہ ملا تو فقیر نے اخیر صفر ۱۳۱۱ہجری میں اور اشتہار جاری کیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اب مرزا قادیانی کے راہِ راست پر آنے سے مایوس ہو کر وہ فتویٰ حرمین شریفین شائع کیا جاتا ہے جس سے مرزا قادیانی کی ضلالت وبطالت ظاہر ہو جائے گی اور نیز ان کے پچھلے رسالوں کے نمبر صفحہ کے حوالوں سے درج کیا گیا۔ چنانچہ ص۱۸ توضیح المرام خزائن ج۳ ص۲۰ اور صفحہ ۱۹۲‘ ۵۱۹‘ ۶۷۸‘ ۶۷۹‘ ۷۹۷‘ رسالہ ازالہ اوہام‘ خزائن ج۳ ص۱۹۳‘ ۱۹۶‘ ۴۶۴‘ ۵۱۵ سے صاف صاف ان کا دعویٰ نبوت ورسالت متحقق ہے۔ پھر حضرت مسیح علیہ السلام کی اکثر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعض پیش گوئیوں کو غلط لکھا ہے ۷‘ ۸صفحہ ازالہ‘ خزائن ج۳ ص۱۰۶ میں دیکھو اور حضرت مسیح وسلیمان کے معجزوں کو شعبدہ بازی اور بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے درج کئے ہیں۔ اسی ازالہ کے ص۳۰۲‘ خزائن ج۳ ص۲۵۴ میں دیکھو اور چارسو نبی کو جھوٹا لکھ دیا اور ان کی وحی میں دخل شیطان ثابت کیا ہے۔ اسی ازالہ اوہام کے ص۶۲۷ سے ۶۲۹‘ خزائن ج۳ ص۴۳۹ تک دیکھو اور حضرت مسیح کی وفات کے ادّعا میں قرآن مجید کی آیتوں میں تحریف کر کے کمال دھوکہ دہی کی ہے۔ جدول مندرجہ صفحہ ۳۳۰ سے ۳۳۲ میں اسی ازالہ‘ خزائن ج۳ ص۲۶۸‘ ۲۶۹ کو دیکھو۔ اس اشتہار پر بھی نہ خود مدعی مسیحیت کو‘ نہ ان کے کسی مرید کو غیرت دامن گیر ہوئی کہ محض علماء میں اپنی بریت کرتے یا اس کا جواب شافی دیتے۔ سچ ہے: الحیاء من الایمان ! پھر ربیع آخر ۱۳۱۱ہجری میں جو مرزا قادیانی اپنے جدید سسرال کے ہاں چھاؤنی فیروز پور میں آئے تو کئی مسلمانوں نے ان سے دعویٰ مسیحیت کا ثبوت طلب کیا۔ اس پر مرزا قادیانی نے مختصر تقریر کے بعد جواب دیا کہ کسی عالم کو ہمارے پاس لے آؤ ہم ان کی تسلی کردیں گے۔ پھر جلدی سے قادیان کو سدھارے۔ دوسری مرتبہ ۱۲ جمادی الاولیٰ ۱۳۱۱ھ کو جب وہاں آئے تو فقیر کو وہاں کے بعض اہل اسلام نے تحقیق حق کے لئے بلایا۔ فقیر نے وہاں جا کر ان کی مذکورہ بالا تصانیف سے ان کا دعویٰ نبوت توہین انبیاء وغیرہما سب کو دکھلایا۔ چنانچہ ان کے سمجھ میں آیا۔ اس پر انہوں نے مرزا قادیانی سے فقیر کے ساتھ تقریر کرنے کی درخواست کی جس پر جواب ملا ہم کو الہام ہوا ہے کہ مولویوں سے مباحثہ نہ کریں تب لوگوں نے کہا کہ آپ کے کہنے سے ہم نے بلوایا تھا۔ آخر بعد تکرار بسیار مرزا قادیانی نے بذات خود مناظرہ سے اور اپنے شاگرد و مرید حکیم نورالدین ومحمد احسن امروہی سے بھی درمیان میں بیٹھ کر مباحثہ کرنے سے انکار کیا۔ اس پر چھاؤنی فیروز پور کے پچیس معتبر اہل اسلام کی شہادت سے مطبع صدائے فیروز میں
اشتہار شائع ہوا کہ واقعی مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں اور انبیاء کرام کے توہین کنندہ اور جواب دینے سے صریح گریز ہے۔ اس پر جب ان کے سخت مخلص حافظ محمد یوسف مذکور کو یہ شکست فاش ناگوار معلوم ہوئی تو پھر وہاں جا کر دوسری مرتبہ مرزا قادیانی کو مناظرہ میں شامل ہونے کے لئے آمادہ کیا اور امرتسر سے بنام مولوی محمد احسن امروہی اشتہار جاری کیا کہ مکفرین مرزا قادیانی دسمبر کی تعطیلوں میں لاہور میں آ کر مناظرہ کریں۔ میں مشتہر یا حکیم نورالدین قادیانی مناظرہ کریں گے۔ اس پر فقیر نے مرزا قادیانی سے اقرار تحریری شمول جلسہ مناظرہ بذریعہ خط رجسٹری لے کر دو روز قبل از تاریخ مقررہ وارد لاہور ہو کر دس دن برابر لاہور میں رہا۔ مرزا قادیانی آئے نہ دونوں مناظر حاضر پائے۔ حکیم فضل الدین و برہان الدین مناظرہ کو آئے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ مرزا قادیانی کا مختار نامہ لے آئیں۔ فقیر حاضر ہے۔ پھر آج تک ان کی طرف سے صدائے برنخاست!
اب اللہ تعالیٰ سے سرخرو ہونے کو یہ رسالہ شائع کیا گیا ہے۔ عنقریب اس کا دوسرا حصہ فتح اسلام و توضیح مرام و ازالۃ الاوہام کی بعض سخت قباحتوں کی تردید جن کا ذکر اوپر گزرا ہے شائع ہوگا۔ وما توفيقى الا بالله عليه توكلت واليه انيب ........... المرقوم ۱۸ صفر ۱۳۱۲ھ
نوٹ : مولانا غلام دستگیر قصوری نے صفر ۱۳۰۲ھ میں یہ رسالہ تصنیف کیا اور مرزا قادیانی کو اس کی نقل بھجوائی۔ شوال ۱۳۰۳ھ میں اس کا عربی ترجمہ کر کے حرمین شریفین سے تقریظات منگوائیں اردو رسالہ کا نام ”تحقیقات دستگیریہ فی رد ہفوات براہینیہ“ اور عربی رسالہ کا نام ”رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین“ تجویز کیا۔ ۱۳۰۵ھ میں عرب کے علماء سے تصدیقی فتاوے حاصل ہوئے۔ مصنف نے اردو عربی رسالہ اور عرب و عجم کے علماء کے تصدیقی فتویٰ جات مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کو دکھائے۔ اور امرتسر جاکر خود مرزا قادیانی کو اس کے دوستوں کے ذریعہ طلب کیا کہ وہ خود آ کر ان فتویٰ جات کو دیکھ کر توبہ کرلے۔ مرزا قادیانی نے اس زمانہ میں مباہلہ کے لئے علماء کو چیلنج دیا تو مولانا نے دو دفعہ پمفلٹ شائع کر کے مرزا قادیانی کو پھر رمضان المبارک ۱۳۰۸ھ میں دعوت دی کہ وہ اسلام قبول کرلے۔ رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ میں مرزا قادیانی کے اسلام لانے سے مایوس ہو کر ان فتویٰ جات کو شائع کرنے کا اعلان کیا۔
بالآخر ۱۸ صفر ۱۳۱۲ھ کو یہ عربی اردو فتویٰ شائع فرمایا۔ مصنف کی کمال دیانت واضح ہو کہ ۹ سال تک متواتر مرزا غلام احمد قادیانی کو قبول اسلام کرنے کے لئے آمادہ کرتے رہے۔ اس دوران میں مولانا محمد حسین بٹالوی نے مرزا قادیانی کی تائید سے دستکش ہو کر مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف فتویٰ شائع کر دیا تھا تو حضرت مولانا نے اپنے رسالہ کے حاشیہ پر یہ نوٹ لگا کر دنیا و آخرت کی سرخروئی حاصل فرمائی:
نوٹ : چونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مرزا قادیانی کی تائید چھوڑ دی ہے بلکہ اس کی تکذیب پر کمر باندھا ہے تو اب رسالہ رجم الشیاطین میں جو بٹالوی صاحب کی تردید تھی اس سے وہ بری الذمہ ہو گئے ہیں۔ خدا کے کلام آیات قرآنی کو کلام غیر خدا بتانے کی بھی خود انہوں نے تردید کر دی ہے۔ فالحمدلله! وهو الهادی (منہ عفی عنہ! ایڈیشن اول ص ۷۰)
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
فتویٰ علمائے پنجاب وہندوستان
بحق
مرزا غلام احمد ساکن قادیان
از
حضرت مولانا محمد حسین بٹالویؒ
﷽
تعارف
مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے سوال نامہ مرتب کر کے متحدہ ہندوستان کے علماء کرام سے فتویٰ حاصل کیا۔ اور پھر اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ ج ۱۳ شمارہ ۴، ۵، ۶، ۷، ۱۱، ۱۲ میں شائع کیا۔ سن اشاعت ۱۳۰۷-۸ھ۔ مطابق ۱۸۹۰ء ہے۔ بعد میں ادارہ سلفیہ لاہور نے ”پاک و ہند کے علماء اسلام کا اولین متفقہ فیصلہ“ کے نام سے محرم ۱۴۰۷ھ مطابق ستمبر ۱۹۸۶ء میں کتابی شکل میں شائع کیا۔ جو پیشِ خدمت ہے۔ (مرتب)
فتوے علماء پنجاب و ہندوستان
بحق
مرزا غلام احمد ساکن قادیان
سوال ...... علمائے دین وحماۃ شرع رسول امین، مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے حواریوں اور ہم مشربوں کے حق میں کیا فرماتے ہیں؟ جن کے عقائد و مقالات یہ ہیں جو ان کی تصنیفات وتحریرات سے نقل کیے جاتے ہیں اور مزید تحقیق و تصدیق کی غرض سے ان کی اصل تصنیفات وتحریرات بھی شاملِ ۱ سوال ہیں۔ ۱....... ملائکہ ستاروں ۲ کی ارواح ہیں۔ وہ ستاروں کے لیے جان کا حکم رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ ان ستاروں سے کبھی جدا نہیں ہوتے۔
۱ جہاں سائل خود پہنچا وہاں اصل تصنیفات قادیانی اور ان کے حواریوں کو ساتھ لے گیا۔ اور ان مضامین کو اصل تصنیفات میں دکھا دیا، بعض جگہ ان سوالات کو بذریعہ ڈاک بھیجا تو وہاں بھی اصل تصنیفات قادیانی کو بھیجا گیا۔ جن علماء کے پاس اصل تصانیف نہیں پہنچیں وہ اس شرط سے مطالبہ کریں کہ بعد ملاحظہ ان کو واپس کریں گے تو ان کے پاس اصل تصنیفات ارسال ہوں گی۔
۲ یہ عقائد از نمبر اول لغایت ہفتم آپ کے رسالہ توضیح مرام میں موجود ہیں جو بہ ترتیب رسالہ نہ بہ ترتیب عقائد مندرجہ سوال نقل کیے جاتے ہیں۔ مرزا نے لکھا ہے کہ ”اگر یہ استفسار ہو کہ جس خاصیت اور قوتِ روحانی میں یہ عاجز اور مسیح بن مریم مشابہت رکھتے ہیں وہ کیا شے ہے اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک مجموعی خاصیت ہے جو ہم دونوں کے روحانی قوائے میں ایک خاص طور پر رکھی گئی ہے۔ جس کے سلسلہ کی ایک طرف نیچے کو اور ایک طرف اوپر کو جاتی ہے۔ نیچے کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی دلسوزی اور غمخواری خلق اللہ ہے جو داعی الی اللہ اور اس کے مستعد شاگردوں میں ایک نہایت مضبوط تعلق اور جوڑ بخش کر نورانی قوت کو جو داعی الی اللہ کے نفس پاک میں موجود ہے ان تمام سرسبز شاخوں میں پھیلاتی ہے۔ اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت قوائے ایمان سے ملی ہوئی ہے۔ جو اوّل بندہ کے دل میں بارادۂ الٰہی پیدا ہو کر رب قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر ان (بقیہ حاشیہ آئندہ)
- ۲...... جبرائیل جس کا سورج سے تعلق ہے وہ بذات خود اور حقیقۃً زمین پر نہیں اترتا اس کا نزول جو شرع میں وارد
ہے اس سے اس کی تاثیر کا نزول مراد ہے اور جو صورت جبرائیل وغیرہ فرشتوں کی انبیاء دیکھتے تھے۔ وہ جبرائیل وغیرہ کی عکسی تصویر تھی جو انبیاء کے خیال میں متمثل ہو جاتی تھی جیسے آئینہ میں دیکھنے والے کی صورت متمثل ہو جاتی ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) دونوں محبتوں کے ملنے سے جو درحقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہیں ایک مستحکم رشتہ اور شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الٰہی محبت کی چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کو پکڑ لیتی ہے ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام روح القدس ہے۔ سو اس درجہ کے انسان کی روحانی پیدائش اس وقت سے سمجھی جاتی ہے جب کہ خدا تعالیٰ اپنے ارادۂ خاص سے اس میں اس طور کی محبت پیدا کر دیتا ہے اور اس مرتبے کی محبت میں بطور استعارہ یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت سے بھری ہوئی روح اس انسانی روح کو جو بارادۂ الٰہی اب محبت سے بھر گئی ہے۔ ایک نیا تولد بخشتی ہے۔ اسی وجہ سے اس محبت کی بھری ہوئی روح کو خدا تعالیٰ کی روح سے جو نافخ المحبۃ ہے استعارہ کے طور پر ابنیت کا علاقہ ہوتا ہے اور چونکہ روح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے بطور ابن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے جو اس درجہ محبت کے لیے ضروری ہے جس کو ناپاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر سمجھ لیا ہے۔‘‘
(توضیح المرام ص ۲۱۔۲۲ خزائن ج ۳ ص ۶۱۔۶۲)
مرزا نے لکھا ہے ”اور یہ کیفیت جو ایک آتش فروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑے پیدا ہو جاتی ہے اس کو روح امین کے نام سے بولتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر ایک غبار سے خالی ہے اور اس کا نام شدید القویٰ بھی ہے۔ کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جن سے قوی تر وحی متصور نہیں اور اس کا نام ذوالافق الاعلیٰ بھی ہے کیونکہ یہ وحی الٰہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے۔“
(توضیح المرام ص ۲۵ خزائن ج ۳ ص ۶۲)
اور مرزا نے لکھا ہے ”مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیّت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ۲۷ خزائن ج ۳ ص ۶۳)
مرزا نے لکھا ہے ”اس جگہ اس بات کا بیان کرنا بھی بے موقع نہ ہوگا کہ جو کچھ ہم نے روح القدس اور روح الامین وغیرہ کی تعبیر کی ہے۔ یہ درحقیقت ان عقائد سے جو اہل اسلام ملائک کی نسبت رکھتے ہیں منافی نہیں ہے کیونکہ محققین اہل اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں اور یہ خیال بہ بداہت عقل باطل بھی ہے....... مثلاً فرشتہ ملک الموت جو ایک سیکنڈ میں ہزارہا لوگوں کی جانیں نکالتا ہے۔ جو مختلف بلاد وامصار میں ایک دوسرے سے ہزاروں کوسوں کے فاصلے پر رہتے ہیں اگر ہر ایک کے لیے اس بات کا محتاج ہو کہ اول پیروں سے چل کر اس کے ملک اور شہر اور گھر میں جائے اور پھر اتنی مشقت کے بعد جان نکالنے کا اس کو موقع ملے تو ایک سیکنڈ کیا اتنی بڑی کارگزاری کے لیے تو کئی مہینوں کی مہلت بھی کافی نہیں ہو سکتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص انسانوں کی طرح حرکت کر کے ایک طرفۃ العین میں یا اس سے کم عرصہ میں تمام جہان گھوم کر چلا آئے ہرگز نہیں۔“ (توضیح المرام ص ۲۹ خزائن ج ۳ ص ۶۶۔۶۷) مرزا نے لکھا ہے ”پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اس کی گرمی اور روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر ایک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا نہایت سیدھے اور موحدانہ طریق سے ملائک اللہ کا ان کو لقب دیں درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے نظام میں مستقر اور قرار گیر ہے...... جیسے ہمارے اجسام اور ہماری تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیاروں کا اثر ہے۔ ایسا ہی ہمارے دل اور دماغ اور تمام روحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہماری مختلف استعدادوں کے موافق اپنا اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ۳۲ تا ۳۴ خزائن ج ۳ ص ۶۷۔۶۸)
مرزا نے لکھا ہے۔ ”اگر ان نفوس طیبہ کا ان ستاروں سے الگ ہونا فرض کر لیا جائے تو پھر ان کے تمام قوٰی میں فرق پڑ جائے گا۔ انھیں نفوس کے پوشیدہ ہاتھ کے زور سے تمام ستارے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں اور جیسے خدا تعالیٰ تمام عالم کے لیے بطور جان کے ہے ایسا ہی (مگر اس جگہ تشبیہ کامل مراد نہیں) وہ نفوس نورانیہ کواکب اور سیارات کے لیے جان کا حکم رکھتے ہیں اور ان کے جدا ہو جانے سے ان کی حالت وجودیہ میں بکلی فساد راہ پا جانا لازمی وضروری امر ہے اور آج تک کسی نے اس امر میں اختلاف نہیں کیا کہ جس قدر آسمانوں میں سیارات اور کواکب پائے جاتے ہیں وہ کائنات الارض کی تکمیل و تربیت کے لیے ہمیشہ کام میں مشغول ہیں...... تمام نباتات و جمادات اور حیوانات، پر آسمانی کواکب کا دن رات اثر پڑ رہا ہے۔“
(توضیح المرام ص ۳۸ خزائن ج ۳ ص ۷۰، ۷۱)
مرزا نے لکھا ہے۔ ”قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہ سیارات اور کواکب اپنے اپنے قالبوں کے (باقی حاشیہ آئندہ)
- ۳...... ملک الموت بھی بذات خود زمین پر اُتر کر قبض ارواح نہیں کرتا بلکہ اس کی تاثیر سے قبض ارواح ہوتا ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ ) متعلق ایک ایک روح رکھتے ہیں جن کو نفوس کواکب سے بھی نامزد کر سکتے ہیں اور جیسے کواکب اور سیاروں میں باعتبار ان کے قالبوں کے طرح طرح کے خواص پائے جاتے ہیں۔ جو زمین کی ہر ایک چیز پر حسب استعداد اثر ڈال رہے ہیں۔ ایسا ہی ان کے نفوس نورانیہ میں بھی انواع اقسام کے خواص ہیں جو باذنِ حکیم مطلق کائنات الارض کے باطن پر اپنا اثر ڈالتے ہیں اور یہی نفوس نورانیہ کامل بندوں پر بشکل جسمانی متشکل ہو کر ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اور بشری صورت سے متمثل ہو کر دکھائی دیتے ہیں۔‘‘
(توضیح مرام ص ۴۰ خزائن ج ۳ ص ۷۱، ۷۲)
مرزا نے لکھا ہے۔ ’’جس قدر ارواح و اجسام اپنے کمالاتِ مطلوبہ تک پہنچتے ہیں ان سب پر تاثیرات سماویہ کام کر رہی ہیں اور کبھی ایک ہی فرشتہ مختلف طور کی استعدادوں پر مختلف طور کے اثر ڈالتا ہے۔ مثلاً جبرائیل جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیّر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کو کئی قسم کی خدمات سپرد ہیں انہی خدمات کے موافق جو اس کے نیر سے لیے جاتے ہیں سو وہ فرشتہ اگرچہ ہر ایک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے جو وحیِ الٰہی سے مشرف کیا گیا ہو (نزول کی اصل کیفیت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے نہ واقعی طور پر یاد رکھنی چاہیے) لیکن اس کے نزول کی تاثیرات کا دائرہ مختلف استعدادوں اور مختلف ظروف کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی، بڑی بڑی شکلوں پر منقسم ہو جاتا ہے۔‘‘
(توضیح مرام ص ۶۷، ۶۸ خزائن ج ۳ ص ۸۶)
مرزا نے لکھا ہے۔ ’’اس وقت میں کہ جب انسان بوجہ اقترانِ متمکن روح القدس کی نالی کے قریب اپنے تئیں رکھ دیتا ہے۔ معاً اس نالی میں سے فیض وحی اس کے اندر گر جاتا ہے یا یوں کہو کہ اس وقت جبرائیل اپنا نورانی سایہ اس مستعد دل میں ڈال کر ایک عکسی تصویر اپنی اس کے اندر لکھ دیتا ہے تب جیسے اس فرشتے کا جو آسمان پر مستقر ہے جبریل نام ہے اس عکسی تصویر کا نام بھی جبریل ہی ہو جاتا ہے۔ یا مثلاً اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے تو عکسی تصویر کا نام بھی روح القدس ہی رکھا جاتا ہے۔ سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینہ قلب میں نمودار ہو جاتا ہے۔ مثلاً جب تم نہایت مصفّٰی آئینہ اپنے منہ کے سامنے رکھ دو گے تو موافق دائرہ اور مقدار اس آئینہ کے تمہاری شکل کا عکس بلا توقف اس میں پڑے گا یہ نہیں کہ تمہارا منہ اور تمہارا سر گردن سے ٹوٹ کر اور الگ ہو کر آئینہ میں رکھ دیا جائے گا۔ بلکہ اس جگہ رہے گا جہاں رہنا چاہیے۔ صرف اس کا عکس پڑے گا بلکہ جیسی جیسی وسعت آئینہ قلب کی ہوگی اسی مقدار کے موافق اثر پڑے گا....... مثلاً اگر تم اپنا چہرہ آرسی کے شیشہ میں دیکھنا چاہو کہ جو ایک چھوٹا سا شیشہ ایک قسم کی انگشتری میں لگا ہوتا ہے۔ تو اگرچہ اس میں بھی تمام چہرہ نظر آئے گا مگر ہر ایک عضو اپنی اصلی مقدار سے نہایت چھوٹا ہو کر نظر آئے گا لیکن اگر تم اپنے چہرہ کو ایک بڑے آئینہ میں دیکھنا چاہو جو تمہاری شکل کے پورے انعکاس کے لیے کافی ہے تو تمہارے تمام نقوش اور اعضا چہرے کے اپنے اصلی مقدار پر نظر آجائیں گے۔‘‘
(توضیح مرام ص ۷۰ خزائن ج ۳ ص ۸۷، ۸۸)
مرزا نے لکھا ہے۔ ’’جب جبرائیلی نور خدا تعالیٰ کی کشش اور تحریک اور نفحہ نورانیہ سے جنبش میں آ جاتا ہے تو معاً اس کی ایک عکسی تصویر جس کو روح القدس کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہیے۔ محبّ صادق کے دل میں منقش ہو جاتی ہے اور اس کی محبت صادقہ کا ایک عرض لازم ٹھہر جاتی ہے۔ تب یہ قوت خدا تعالیٰ کی آواز سننے کے لیے کان کا فائدہ بخشتی ہے اور اس کے عجائبات کے دیکھنے کے لیے آنکھوں کے قائم مقام ہو جاتی ہے اور اس کے الہامات زبان پر جاری ہونے کے لیے ایک ایسی محرّک حرارت کا کام دیتی ہے جو زبان کے پٹھے کو زور کے ساتھ الہامی خط پر چلاتی ہے۔‘‘
(توضیح مرام ص ۷۹ خزائن ج ۳ ص ۹۲)
اور مرزا نے لکھا ہے ’’اس جگہ میں ان لوگوں کا وہم بھی دور کرنا چاہتا ہوں جو ان شکوک اور شبہات میں مبتلا ہیں جو اولیاء اور انبیاء کے الہامات اور مکاشفات کو دوسرے لوگوں کی نسبت کیا خصوصیت ہو سکتی ہے کیونکہ اگر نبیوں اور ولیوں پر امور غیبیہ کھلتے ہیں تو دوسرے لوگوں پر بھی کبھی کبھی کھل جاتے ہیں بلکہ بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آ جاتی ہیں اور بعض پرلے درجے کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں۔ پس جب کہ ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے تئیں نبی یا کسی اور خاص درجے کے آدمی تصور کرتے ہیں۔ ایسے ایسے بدچلن آدمی بھی شریک ہیں جو بدچلنیوں اور بدمعاشیوں میں چھٹے ہوئے اور شہرۂ آفاق ہیں تو نبیوں اور ولیوں کی کیا فضیلت باقی رہی سو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ در حقیقت یہ سوال جس قدر اپنی اصل کیفیت رکھتا ہے وہ سب درست اور صحیح ہے اور جبریلی نور کا چھیا لیسواں حصہ تمام جہان میں پھیلا ہوا ہے جس سے کوئی فاسق اور فاجر اور پرلے درجہ کا بدکار بھی باہر نہیں بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آ چکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاحشہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے۔ جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے۔ (بقیہ حاشیہ آئندہ)
- ۴...... دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے نجوم کی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔
- ۵...... روح القدس، روح الامین، شدید القویٰ، ذوالافق الاعلیٰ، جن کا ذکر شرع میں وارد ہے وہ انسان ہی کی ایک
صفت ہے جو خدا کی محبت اور اس کے محبوب انسان کی محبت کے باہم ملنے سے متولد ہوتی ہے۔
- ۶...... ان دونوں محبتوں اور ان کے متولد نتیجہ (روح القدس) کا مجموعہ پاک تثلیث ہے۔
- ۷...... آپ (مرزا) کو اور حضرت مسیح بن مریم کو استعارہ کے طور پر ابن اللہ کہہ سکتے ہیں۔
- ۸...... آپ ایک معنی سے نبی ہیں، کیونکہ آپ محدث ہیں، جن سے خدا تعالیٰ باتیں کرتا ہے اور محدث بھی ایک معنی
سے نبی ہوتا ہے۔ ختم نبوت کا جو قرآن میں ذکر ہے تو اس سے ایسی نبوت مراد ہے جو حامل وحی شریعت اور جمیع اقسام وحی کی جامع ہو نہ مطلق نبوت۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بسر و آشنا بہ بر کا مصداق ہوتی ہے کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ جبریلی نور جو آفتاب کی طرح جو اس کا ہیڈکوارٹر ہے۔ تمام معمورۂ عالم پر حسب استعداد ان پر اثر ڈال رہا ہے اور کوئی نفس بشر دنیا میں ایسا نہیں کہ بالکل تاریک ہو، کم سے کم ایک ذرہ سی محبت وطن اصلی اور محبوب اصلی کی ادنیٰ سی ادنیٰ سرشت میں بھی ہے اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ تمام بنی آدم پر یہاں تک کہ ان کے مجانین پر بھی کسی قدر جبریل کا اثر ہوتا اور فی الواقع ہے بھی۔‘‘
(توضیح مرام ص ۸۴ خزائن ج ۳ ص ۹۴،۹۵)
ان عبارات سے جیسے عقائد مرزائی کی از نمبر (۱) لغایت (۷) تصدیق ہوئی ویسی ہی یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مرزا کے نزدیک نبوت اور وحی کی وہی حقیقت ہے جو نیچریوں اور برہم سماج والوں نے بیان کی ہے کہ نبوت ایک نیچرل امر ہے جس سے کوئی فرد خالی نہیں ہے، یہاں تک کہ ناچنے والی کسبی (رنڈی) بھی اس سے محروم نہیں اور وحی لانے والا فرشتہ باہر سے نہیں آتا بلکہ صاحب وحی کے دل و دماغ ہی سے وہ پیدا ہوتا ہے اور جبریل یا روح القدس اسی کی ایک صفت کا نام ہے۔ و علی ھذا القیاس۔
۱؎ مرزا نے لکھا ہے۔ ’’اس جگہ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثیل بھی نبی چاہیے کیونکہ مسیح نبی تھا تو اس کا اول جواب تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لیے ہمارے سید و مولا نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہوگا اور اس سے زیادہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرے گا کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا امام ہوں۔ ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لیے محدث ہوکر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ گو اس کے لیے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے۔ اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہوکر آتا ہے۔ اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوتی ہے اس پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لیے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے مگر اس بات کو بحضور دل یاد رکھنا چاہیے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لیے سلسلہ جاری رہے گا۔ نبوت تامہ نہیں بلکہ جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے جو انسان کامل کی اقتداء سے ملتی ہے جو جامع جمیع کمالات نبوت تامہ ہے یعنی ذات ستودہ صفات حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ ﷺ فاعلم ارشدک اللہ تعالیٰ ان النبی محدث والمحدث نبی باعتبار حصول نوع من انواع النبوۃ وقد قال رسول اللہ ﷺ لم یبق من النبوۃ الا المبشرات ای لم یبق من انواع النبوۃ الا نوع واحد وھی المبشرات من اقسام الرؤیا الصادقۃ والمکاشفات الصحیحۃ والوحی الذی ینزل علی خواص الاولیاء والنور الذی یتجلی علی قلوب قوم موقن فانظر ایھا الناقد البصیر الفھیم ایفھم من
(بقیہ حاشیہ آئندہ)
- ۹.......آنے والے مسیح ابن مریم جن کی بشارت حدیثوں میں وارد ہے اور اہل اسلام کو ان کا انتظار تھا وہ آپ ہی
ہیں ۔ لےنہ عیسیٰ بن مریم اسرائیلی نبی۔ کیونکہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور بعد اس کے وہ فوت ہو کر بہشت میں داخل ہو گیا ہے لہٰذا اب وہ دنیا میں نہیں آ سکتا۔
- ۱۰.......آنے والے مسیح کے جو صفات احادیث میں وارد ہیں کہ وہ ابن مریم ہوگا۔ اور وہ دمشق کے منارہ شرقی کے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ) هذا سدباب النبوة على وجهه كلی بل الحديث يدل على ان النبوة التامة الحاملة لوحى الشريعة قد انقطعت ولكن النبوة التى ليس فيها الا المبشرات فهى باقية الى يوم القيامة...... واما النبوة (۱) التى تامة كاملة جامعة لجميع كمالات الوحى فقد امنا بانقطاعها من يوم نزل فيه ماكان محمدا ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين “ (توضیح مرام ص ۱۷ تا ۲۰ خزائن ج ۳ ص ۵۹ تا ۶۱ ) اب اور اس سے بڑھ کر سنیے۔ مرزا اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں۔ ”ہاں یہ بھی سچ ہے کہ آنے والے مسیح کو نبی کر کے ہی بیان کیا گیا ہے۔ مگر اس کو امتی کر کے بھی تو بیان کیا گیا ہے...... اب ان تمام اشارات سے صاف ظاہر ہے کہ واقعی اور حقیقی طور پر نبوت تامہ کے صفت سے متصف نہیں ہوگا۔ ہاں نبوت ناقصہ اس میں پائی جائے گی جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کہلاتی ہے اور نبوت تامہ کی شانوں میں سے ایک شان اپنے اندر رکھتی ہے۔ سو یہ بات کہ اس کو امتی بھی کہا اور نبی بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں شانیں امتیت اور نبوت اس میں پائی جائیں گی جیسا کہ محدث میں ان دونوں شانوں کا پایا جانا ضروری ہے لیکن صاحب نبوت تامہ تو صرف ایک شان نبوت ہی رکھتا ہے۔ غرض محدثیت دونوں رنگوں سے رنگین ہوتی ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں بھی اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔“ (ازالہ اوہام ص ۵۳۲ خزائن ج ۳ ص ۳۸۶) اس عبارت میں تو مرزا نے اپنے آپ کو کھلا نبی کہہ دیا ہے۔
اب اس نے بڑھ کر سنیے رسالہ ازالہ آپ نے چھپوایا تو اسی کے سرورق پر صاف لکھوا دیا ہے ”از تصانیف مرسل یزدانی مرزا غلام احمد قادیانی“ (ازالہ اوہام ٹائیٹل خزائن ج ۳ ص ۱۰۱) اس میں تو آپ نے رسالت کا بھی دعویٰ کیا ہے اور یہ بتا دیا کہ آپ خدا کے رسول بھی ہیں۔ اس صورت میں آپ کا ”شعر من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب۔“ (ازالہ اوہام ص ۷۸ خزائن ج ۳ ص ۱۸۵) منقول ہے دعویٰ رسالت سے انکار کرنا صرف مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہے درحقیقت آپ کو رسالت کا بھی دعویٰ ہے شاید چند مدت کے بعد کسی کتاب آسمانی کا بھی ادعا ہو۔ اس سے بھی اور بڑھ کر سنیے ازالہ کے صفحہ ۶۷۳ خزائن ج ۳ ص ۴۶۳ میں اپنے رسول مبشر بزبان حضرت عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور صاف لکھ دیا ہے کہ قرآن کی آیت و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد میں آپ ہی کی بشارت مراد ہے نہ محمد رسول ﷺ اللہ کی۔“ اصل عبارات ازالہ آگے منقول ہوگی۔
لے مرزا نے لکھا ہے۔ ”سجدات بجا لاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آباء گزر گئے اور بے شمار روحیں اس کے شوق ہی میں سفر کر گئیں۔ وہ وقت تم نے پا لیا...... میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لیے بھیجا گیا تادین کو تازہ طور پر دلوں میں تازہ کر دیا جائے۔“
(فتح اسلام ص ۹،۱۰ خزائن ج ۳ ص ۱۰،۹)
اور مرزا نے لکھا ہے ”مسیح جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو۔“
(فتح اسلام ص ۱۵ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۱۰)
اور اس کے صفحہ ۲۵ میں لکھا ہے۔ ”بلکہ ایک دفعہ اس کو اپنے زعم میں صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ مگر چونکہ ہڈی نہیں توڑی گئی تھی اس لیے وہ ایک خوش اعتقاد اور نیک آدمی کی حمایت سے بچ گیا اور بقیہ ایام زندگی بسر کر کے آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔“ (فتح اسلام ص ۲۵ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۱۰) اور مرزا نے رسالہ ازالہ صفحہ ۳۸ خزائن ج ۳ ص ۱۲۲ میں مسیح کا سولی پر چڑھایا جانا اس تفصیل و تشریح سے بیان کیا ہے جو سید احمد خاں کی جلد چہارم کے صفحہ ۴۱ میں موجود ہے۔
- (۱) ان دونوں مقام میں آپ کی عربی دانی ثابت ہوتی ہے۔ پہلی جگہ ”ھذا“ معرفۃ کی صفت جملہ نکرہ (سدباب النبوۃ) لائے
ہیں اور اگر یہ جملہ صلہ ہے تو اس کا موصول (الذی) ندارد ہے۔ دوسری جگہ صلہ موصول کا صدر ندارد ہے۔ حق عبارت یہ تھا ”واما النبوۃ التی ھی تامۃ“ جس شخص کا عربیت میں یہ مبلغ علم ہوگا وہ قرآن و حدیث سے کیا استخراج دقائق و معارف کرے گا۔ اگر کہو کہ الہا م و علم لدنی اس کا مددگار ہوگا تو کہا جائے گا کہ وہ الہام علم لدنی صحت الفاظ میں کیوں اس کا مددگار نہ ہوا اور ایسی فاش غلطیوں سے اس کو کیوں نہ بچا سکا۔
پاس نزول کرے گا اور وہ دو زرد کپڑے پہنے ہوئے ہوگا۔ اور وہ دجال یک چشم کو ہلاک کرے گا۔ اور وہ صلیب کو توڑے گا۔ اور وہ خنازیر کو قتل کرے گا اور اس کے وقت میں مال کثرت سے ہوگا وہ لوگوں کو مال کی طرف بلائے گا تو کوئی قبول نہ کرے گا۔ کافر اس کی خوشبو سے مر جائے گا اور اس کے وقت میں یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ ان میں بعض صفات صحیح نہیں اور جن احادیث میں ان کا ذکر ہے وہ موضوع ۱؎ ہیں اور بہ فرضِ صحت کل یہ صفات سب کی سب بحسب تاویل و تفصیل ذیل آپ میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً اس کے ابن مریم ہونے سے یہ مراد ہے کہ وہ ابن مریم کی خاصیت ۲؎ پر اور اس کا مثیل ہوگا اور اس کے نزول سے روحانی نزول مراد ہے اور دمشق کے شرقی
۱؎ ”موضوعیت احادیث“ بعض صفات مسیح کا دعویٰ آپ کی تصنیفات کتب میں بہت جگہ پایا جاتا ہے۔ مرزا لکھتے ہیں ”خیال مذکور (یعنی حضرت مسیح کا زندہ آسمان پر موجود ہونا) جو کچھ عرصہ سے مسلمانوں میں پھیل گیا ہے۔ صریح طور پر ہماری کتابوں میں اس کا نام و نشان نہیں بلکہ احادیث نبویہ کی غلط فہمی کا ایک غلط نتیجہ ہے۔ جس کے ساتھ کئی بے جا حاشیے لگا دیے ہیں اور بے اصل موضوعات سے ان کو رونق دی گئی ہے۔“ (توضیح مرام ص ۱۰ خزائن ج ۳ ص ۵۶) اور ازالہ اوہام میں لکھا ہے۔ ”اور اس مقام میں زیادہ تر تعجب کی یہ جگہ ہے کہ امام مسلم صاحب تو یہ لکھتے ہیں کہ دجال معہود کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا مگر یہ دجال تو انھیں کی حدیث کی رو سے مشرف باسلام ہوگیا۔“ پھر مسلم صاحب لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دجال معہود بادل کی طرح جس کے پیچھے ہوا ہوتی ہے مشرق مغرب میں پھیل جائے گا۔ مگر یہ دجال جب مکہ سے مدینہ کی طرف گیا تو ابو سعید سے کچھ زیادہ نہیں چل سکا جیسا کہ مسلم کی حدیث سے ظاہر ہے ایسا ہی کسی نے اس کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوا نہیں دیکھا .... اگر یہ حدیث صحیح ہے کہ دجال کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوا ہوگا تو پھر اوائل دنوں میں ابن صیاد کی نسبت خود آنحضرت ﷺ کیوں شک اور تردد میں رہے اور کیوں یہ فرمایا (۱) کہ شاید یہی دجال معہود ہو اور یا شاید کوئی اور ہو۔ گمان کیا جاتا ہے کہ شاید اس وقت تک ک ف ر اس کی پیشانی پر نہیں ہوگا۔ میں سخت متعجب اور حیران ہوں کہ اگر سچ مچ دجال معہود آخری زمانہ میں پیدا ہونا تھا یعنی اس زمانہ میں کہ جب مسیح بن مریم ہی آسمان سے اتریں تو پھر قبل از وقت یہ شکوک اور شبہات پیدا ہی کیوں ہوئے اور زیادہ تر عجیب یہ کہ ابن صیاد نے کوئی ایسا کام بھی نہیں دکھایا کہ جو دجال معہود کی نشانیوں میں سے سمجھا جاتا ہے۔ یعنی یہ کہ بہشت اور دوزخ کا ساتھ ہونا اور خزانوں کا پیچھے پیچھے چلنا اور مردوں کا زندہ کرنا اور اپنے حکم سے مینہ برسانا اور کھیتوں کو اگانا اور ستر باع کے گدھے پر سوار ہونا۔ اب بڑی مشکلات درپیش آتی ہیں کہ اگر ہم بخاری اور مسلم کی ان حدیثوں کو صحیح سمجھیں جو دجال کو آخری زمانہ میں اتار رہی ہیں تو یہ حدیثیں ان کی موضوع ٹھہرتی ہیں اور اگر ان حدیثوں کو صحیح قرار دیں تو پھر ان کا موضوع ہونا ماننا پڑتا ہے۔ اگر یہ متعارض اور متناقض حدیثیں صحیحین میں نہ ہوتیں صرف دوسری صحاح میں ہوتیں تو شاید ہم ان دونوں کتابوں کی زیادہ تر پاس خاطر کر کے ان دوسری حدیثوں کو موضوع قرار دیتے۔ مگر اب مشکل تو یہ آ پڑی ہے کہ انھیں دونوں کتابوں میں یہ دونوں قسموں کی حدیثیں موجود ہیں۔ اب ہم جب ان دونوں قسم کی حدیثوں پر نظر ڈال کر گرداب حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ کس کو صحیح سمجھیں اور کس کو غیر صحیح۔ تب عقل خداداد ہم کو یہ طریق فیصلہ کا بتاتی ہے کہ جن احادیث پر عقل اور شرع کا کچھ اعتراض نہیں انھیں کو صحیح سمجھنا چاہیے۔“
(ازالہ اوہام ص ۲۲۴ تا ۲۲۷ خزائن ج ۳ ص ۲۱۲ تا ۲۱۴)
۲؎ مرزا نے لکھا ہے ”اور وہ مثیل مسیح قوت اور طبع اور خاصیت مسیح ابن مریم کی پا کر اس زمانہ کی مانند اور اسی مدت کے قریب قریب جو کلیم اوّل کے زمانہ سے مسیح بن مریم کے زمانہ تک تھی یعنی چودھویں صدی میں آسمان سے اترا اور وہ اترنا روحانی طور پر تھا جیسا کہ مکمل لوگوں کا صعود کے بعد خلق اللہ کی اصلاح کے لیے نزول ہوتا ہے۔“ (فتح اسلام ص ۱۱ خزائن ج ۳ ص ۸) مرزا کا ایک حواری اپنے رسالے قولِ فصیح کے صفحہ ۲ میں کہتا ہے۔ ”وہ اسی زمین پر چلتا پھرتا ہے مگر ظاہر محدود نگاہوں کے نزدیک حقیقت میں وہ معمورۂ عالم سے باہر آسمانوں پر مقیم ہے۔ وہ زمین کی آنکھ میں چارپائی پر بستر بچھائے سوتا ہے مگر اس کی پاک روح پورے اٹھارہ سال کا (۲) دورہ آسمانوں کا کر آتی ہے۔“
- (۱) آنحضرت ﷺ نے یہ کہیں نہیں فرمایا یہ قادیانی کا محض افتراء ہے۔
- (۲) جیسا کہ عام اہلِ اسلام کا آنحضرت ﷺ کی نسبت معراج کی رات اس دورہ کرنے کا اعتقاد ہے۔
منارہ سے قادیان کی مسجد کا منارۂ ۱ مراد ہے جو دمشق کی جانب مشرق میں واقع ہوا ہے اور زرد کپڑوں سے مراد یہ ہے کہ اس کی حالت صحت ۲ اچھی نہ ہوگی (جو آپ میں موجود ہے کہ ہمیشہ بیمار رہتے ہیں)
اور دجال سے دنیا پرست ایک چشم جو دین کی آنکھیں نہیں رکھتے ۳ مراد ہیں اور ان کے قتل سے ان کا حجت و دلیل سے مغلوب کرنا جو آپ کر رہے ہیں۔ یا دجال سے بااقبال قومیں (یعنی انگریز وغیرہ) مراد ہیں اور اس کے گدھے سے ریل گاڑی مراد ہے۔ سو ان لوگوں کو آپ دلائل سے مغلوب کر رہے ہیں۔
اور صلیب توڑنے سے اعتقادِ صلیبی کو پاش پاش کرنا مراد ہے۔ ۴ جو آپ کر رہے ہیں نہ ہاتھ یا ہتھوڑہ سے صلیب کو توڑنا اور خنازیر سے خنزیر صفت ۵ انسان مراد ہیں اور ان کے قتل سے ان کا مغلوب کرنا جو آپ کر رہے ہیں۔ نہ ظاہری خنزیروں کا جنگلوں میں شکار کرتے پھرنا جو کسی نبی کی شان نہیں ہے۔
۱؎ مرزا نے ازالہ اوہام میں لکھا ہے۔ ”ایک مرتبہ میں نے اس مسجد کی تاریخ جس کے ساتھ میرا مکان ملحق ہے الہامی طور پر معلوم کرنی چاہی تو مجھے الہام ہوا۔ مبارک و مبارک و کل امر مبارک یجعل فیہ یہ وہی مسجد ہے جس کی نسبت میں اپنے رسالہ میں لکھ چکا ہوں کہ میرا مکان اس قصبہ کی شرقی طرف آبادی کے آخری کنارے پر واقع ہے۔ اس مسجد کے قریب اور اس شرقی منارہ کے نیچے جیسا کہ ہمارے سید ومولیٰ ﷺ کی پیشگوئی کا مفہوم ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔“
(ازالہ اوہام ص ۱۸۵ خزائن ج ۳ ص ۱۹۰)
اور ازالہ میں ہے :
چوں خود ز مشرق است تجلّی نَیّرَم
اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ (۱) کجاست تا بنہ پایہ منبرم
(ازالہ اوہام ص ۱۵۸ خزائن ج ۳ ص ۱۸۰)
۲؎ ازالہ اوہام میں لکھا ہے۔ ”اور پھر فرمایا کہ جس وقت وہ اترے گا اس وقت اس کی زرد پوشاک ہوگی یعنی زرد رنگ کے دو کپڑے اس نے پہنے ہوئے ہوں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اس کی صحت کی حالت اچھی نہیں ہوگی۔“
(ازالہ اوہام ص ۲۱۹ خزائن ج ۳ ص ۲۰۹)
۳؎ فتح الاسلام میں لکھا ہے۔ ”اور ہر یک حق پوش دجال دنیا پرست یک چشم جو دین کی آنکھ نہیں رکھتا حجتِ قاطعہ کی تلوار سے قتل کیا جائے گا۔“ (فتح الاسلام ص ۱۴ خزائن ج ۳ ص ۱۰) اور مرزا لکھتے ہیں۔ ”مگر ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد بااقبال قومیں ہوں اور گدھا ان کا یہی ریل ہو جو مشرق اور مغرب کے ملکوں میں ہزارہا کوسوں تک چلتے دیکھتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ۱۴۶ خزائن ج ۳ ص ۱۷۴)
۴ و ۵؎ فتح الاسلام میں لکھا ہے۔ ”اور اسی فطرتی مشابہت کی وجہ سے مسیح کے نام پر یہ عاجز بھیجا گیا تا صلیبی اعتقاد کو پاش پاش کر دیا جائے سو میں صلیب کے توڑنے اور خنزیروں کو قتل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔“ (فتح الاسلام ص ۱۷ خزائن ج ۳ ص ۱۱) اور توضیح مرام میں کہتا ہے کہ ”صلیب کے توڑنے سے مراد کوئی ظاہری جنگ نہیں بلکہ روحانی طور پر صلیبی مذہب کا توڑ دینا اور اس کا بطلان ثابت کر کے دکھا دینا مراد ہے ..... اور خنزیروں سے مراد وہ لوگ ہیں جن میں خنزیروں کی عادتیں ہیں وہ زورِ حجت اور دلیل سے مغلوب کیے جائیں گے اور دلائلِ بیّنہ کی تلوار انھیں قتل کرے گی نہ یہ کہ ایک پاک نبی جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کرتا پھرے گا۔“
(توضیح مرام ص ۱۳ خزائن ج ۳ ص ۵۷)
(۱) اس کلمہ سے جو حضرت عیسیٰ کی توہین مفہوم ہوتی ہے وہ علماء اہل افتاء کی توجہ کے لائق ہے کیونکہ منبر سے مراد مرتبہ ہے نہ لکڑی یا پتھر کا منبر، اس لیے کہ یہ منبر آپ نہیں رکھتے اور نہ کبھی اس پر بیٹھنا ان کو آج تک نصیب ہوا ہے۔ لہٰذا اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ کہاں یعنی کیا رتبہ رکھتا ہے؟ کہ وہ میرے منبر یعنی رتبہ کو پہنچ سکے۔
اور مال کے بہت ہو جانے اور کسی کے اس مال کو قبول نہ کرنے سے ١؎ یہ مراد ہے جو آپ سے ہو رہا ہے کہ آپ مخالفین اسلام کو مقابلہ اسلام پر اشتہار کے ذریعہ سے روپیہ دینے کا وعدہ کر رہے ہیں اور کوئی شخص وہ روپیہ نہیں لیتا اور نہ اس کا مقابلہ کرتا ہے یہ ہی مقابلہ سے عاجز ٢؎ آنا کفار کی موت ہے جو آنے والے مسیح کے خوشبو کے لیے لازمی صفت ٹھہرائی گئی ہے اور وہ آپ (مرزا) میں موجود ہے اور یاجوج ماجوج سے انگریز ٣؎ اور روس مراد ہیں جو آپ کے وقت میں موجود ہیں۔ اور آنے والے مسیح کی بعض صفات ایسی بیان ہوئی ہیں کہ وہ حضرت مسیح بن مریم اسرائیلی نبی میں پائی نہیں جاتیں۔ وہ صرف آپ ہی میں متحقق ہیں جس سے یقین ہوتا ہے کہ وہ آنے والے مسیح آپ ہیں نہ عیسیٰ ابن مریم اسرائیلی نبی۔
مثلاً (١)...... اس کا گندم رنگ ہونا اور اس کے بالوں کا سیدھا ہونا جو آپ ہی ٤؎ میں پایا جاتا ہے کیونکہ حضرت مسیح بن مریم تو سرخ رنگ کے تھے اور ان کے گھنگر والے بال تھے۔ (٢)...... آنے والے مسیح کو احادیث میں ایک مرد، مسلمان، مسلمانوں کا امام آنحضرت ﷺ کی امت بتایا گیا ہے جو آپ ہی میں پایا جاتا ہے۔
١؎ یہ دونوں مرادیں ایک خاص اور نئے حواری محمد احسن امروہی ملازم ریاست بھوپال نے آپ کی ”روح القدس“ سے ”فیض“ پا کر اور قدر قادیانی سے مستفیض ہو کر بیان کی ہیں۔ چنانچہ اس کے رسالہ اعلام الناس حصہ اول ص ۵۵ میں ہے۔ ”چھٹی صفت اس کی یہ ہے کہ لوگوں کو مال کی طرف بلائے گا اور کوئی قبول نہ کرے گا۔ پڑھو اس حدیث کو لَیَدْعُوَنَّ إِلَى الْمَالِ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ تم سمجھے اس کے کیا معنی ہیں ایک معنی یہ بھی ہیں جو ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔ اس مسیح وقت نے اول تو دس ہزار روپیہ کا اشتہار مندرجہ براہین احمدیہ تمام دنیا کے اطراف میں مشتہر کیا ہے اور ثانیاً پانچ سو روپے کا اشتہار مندرجہ کل الجواہر شائع کیا ہے اور ثالثاً ہر ایک پادری کلاں کو دو سو روپیہ ماہوار دینے کا وعدہ فرماتے ہیں۔“ اور اس کتاب کے ص ۵۹ میں کہا ہے۔ ”نوایں نشان اس کا یہ ہے کہ کوئی مخالف اس کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا۔ ہر چند کہ اشتہار دیے جاتے ہیں کہ اگر تم کو شک ہو مقابلے کے لیے آؤ لیکن کوئی مخالف مقابلے پر نہیں آتا اس کے مقابلے سے ہر مخالف پر موت ہی آ جاتی ہے۔ صدق رسولہ الکریم فلا یحل لکافر یجد من ریح نفسہ الا مات و نفسہ ینتھی حیث ینتھی طرفہ رواہ مسلم.“
٣؎ یہ مراد پہلے تو آپ نے مسیح موعود بننے سے پیشتر ایک حواری حکیم نور الدین جمونوی بھیروی کے ذریعہ سے اس کے رسائل ”فصل الخطاب“ و ”تصدیق براہین احمدیہ“ میں مشتہر کرائے اور اس سے گویا آپ نے مسیح موعود بننے کی پٹڑی جمائی تھی۔ پھر جب دیکھا کہ یہ مراد ان کے حواریوں میں تسلیم کی گئی ہے اور اس سے ان کو وحشت نہیں ہوئی تو خود اس مراد کا اظہار کر دیا اور اپنی کتاب ازالہ میں لکھ رہا ہے۔ ”ان دونوں قوموں سے مراد انگریز و روس ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۰۸ خزائن ج ۳ ص ۳۷۳)
٤؎ توضیح مرام میں مرزا نے لکھا ہے۔ ”خاتم المرسلین نے مسیح اول اور مسیح ثانی میں مابہ الامتیاز قائم کرنے کے لیے صرف یہی نہیں فرمایا کہ مسیح ثانی ایک مرد مسلمان ہوگا اور شریعت قرآنی کے موافق عمل کرے گا اور مسلمانوں کی طرح صوم وصلوٰۃ وغیرہ احکام فرقانی کا پابند ہوگا اور مسلمانوں میں پیدا ہوگا اور ان کا امام ہوگا اور کوئی جداگانہ دین نہ لائے گا اور کسی جداگانہ نبوت کا دعویٰ نہیں کرے گا بلکہ یہ بھی ظاہر فرمایا ہے کہ مسیح اول اور مسیح ثانی کے حلیہ میں بھی فرق بیّن ہوگا۔ چنانچہ مسیح اول کا حلیہ جو آنحضرت ﷺ کو معراج کی رات میں نظر آیا وہ یہ ہے کہ درمیانہ قد اور سرخ رنگ گھونگریالے بال اور سینہ کشادہ ہے دیکھو صحیح بخاری صفحہ ۴۸۹ لیکن اسی کتاب میں مسیح ثانی کا حلیہ جناب ممدوح نے یہ فرمایا ہے کہ ”وہ گندم گون ہے اور اس کے بال گھونگریالے نہیں ہیں اور کانوں تک لٹکتے ہیں۔ اب ہم سوچتے ہیں کہ کیا یہ دونوں ممیز علامتیں جو مسیح اول اور ثانی میں آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی کافی طور پر یقین نہیں دلاتیں کہ مسیح اول اور ہے اور مسیح ثانی اور۔ ان دونوں کو ابن مریم کے نام سے پکارنا ایک لطیف استعارہ ہے جو باعتبار مشابہت طبع اور روحانی خاصیت کے استعمال کیا گیا ہے یہ ظاہر ہے کہ اندرونی خاصیت کی مشابہت کی رو سے دو نیک آدمی ایک ہی نام کے مستحق ہو سکتے ہیں۔“
(توضیح مرام ص ۱۶، ۱۷ خزائن ج ۳ ص ۵۸، ۵۹)
اور اپنے کتاب ازالہ میں لکھا ہے۔
(بقیہ حاشیہ آئندہ)
- (۳)...... آنے والے مسیح کا نسب حدیث میں فارسی الاصل ۱؎ بیان ہوا ہے جو صرف آپ میں پایا جاتا ہے نہ مسیح بن مریم میں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ)
حیف است گر دیدہ نہ بینند منظرم
رنگم چو گندم است و بمو فرق بین است
ز انساں کہ آمدست در اخبار سرورم
ایں مقدم نہ جائے شکوکست والتباس
سید جدا کند ز مسیحائے احمرم“
(ازالہ اوہام ص ۱۵۷ خزائن ج ۳ ص ۱۸۰)
مرزا نے توضیح مرام میں لکھا ہے۔ ”اس بارہ میں نہایت صاف اور واضح حدیث نبوی وہ ہے جو امام محمد اسمعیل بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے لکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم و امامکم منکم یعنی اس دن تمہارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں اترے گا وہ کون ہے وہ تمہارا ہی ایک امام ہوگا جو تم ہی میں سے پیدا ہوگا پس اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے صاف فرما دیا کہ ابن مریم سے یہ مت خیال کرو کہ سچ مچ مسیح ابن مریم ہی اتر آئے گا بلکہ یہ نام استعارہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے ورنہ درحقیقت وہ تم میں سے تمہاری ہی قوم میں سے تمہارا ایک امام ہوگا جو ابن مریم کی سیرت پر پیدا کیا جائے گا۔“
اور مرزا نے ازالہ میں کہا ہے کہ ”آنحضرت ﷺ لفظ ابن مریم کی تصریح میں فرماتے ہیں کہ وہ ایک تمہارا امام ہوگا جو تم میں سے ہی ہوگا اور تم سے ہی پیدا ہوگا۔ گویا آنحضرت ﷺ نے اس وہم کو رفع کرنے کے لیے جو ابن مریم کے لفظ سے دلوں میں گزر سکتا تھا مابعد کے لفظوں میں بطور تشریح فرمایا کہ اس کو سچ مچ ابن مریم ہی نہ سمجھ لو بل ھو امامکم منکم“ (ازالہ اوہام ص ۴۴ خزائن ج ۳ ص ۱۴۲) اور اسی ازالہ میں اس حدیث کا ترجمہ بایں الفاظ کیا ہے۔ ”تمہارا اس دن کیا حال ہوگا جس دن ابن مریم تم میں نازل ہوگا اور تم جانتے ہو کہ ابن مریم کون ہے وہ تمہارا ہی ایک امام ہوگا اور تم میں سے ہی (اے امتی لوگو) پیدا ہوگا۔“ (ازالہ اوہام ص ۲۰۱ خزائن ج ۳ ص ۱۹۸) ان احادیث میں جو تصرف آپ نے کیا ہے اور ان کے معانی کے بیان میں جس افتراء سے کام لیا ہے اس کا بیان جواب کے ضمن میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
۱؎ مرزا نے لکھا ہے ”تب فارس کی اصل میں سے ایک ایمان کی تعلیم دینے والا پیدا ہوگا۔ اگر ایمان ثریا میں معلق ہوتا تو وہ اسے اس جگہ سے بھی پالیتا۔“
(فتح اسلام ص ۱۴ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۱۰)
آپ کا اپنے تئیں اس حدیث کا مصداق ٹھہرانا اور فارسی الاصل قرار دینا اور اس کے ساتھ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرنا۔ صاف بتاتا ہے کہ آنے والے مسیح کا آپ کے نزدیک فارسی الاصل ہونا آنحضرت ﷺ کی زبان سے بیان ہوا ہے ایسا ہی آپ کے بھوپالی حواری نے آپ کے کلام سے سمجھا۔ چنانچہ اپنے رسالہ اعلام الناس ج اوّل ص ۵۴ میں کہا ہے ”نسب اس کا صحیح مسلم وغیرہ میں یہ لکھا ہے لو کان العلم معلقا بالثریا لنالہ رجل من ابناء فارس۔ ایک مرد مسلمان ہوگا اور شریعت قرآنی کے موافق عمل کرے گا اور مسلمانوں کی طرح صوم وصلوٰۃ وغیرہ احکام فرقانی کا پابند ہوگا اور مسلمانوں میں پیدا ہوگا اور ان کا امام ہوگا اور کوئی جداگانہ دین نہ لائے گا اور کسی جداگانہ نبوت کا دعویٰ نہیں کرے گا یہ سب صفات اس مسیح الزمان میں موجود ہیں۔“
مرزا نے لکھا ہے ”جب ہم ان دوسری حدیثوں کو دیکھتے ہیں جو دجال معہود کے ظاہر ہونے کا وقت اس دنیا کا آخری زمانہ بتلاتی ہیں تو وہ سراسر ایسے مضامین سے بھری ہوئی معلوم ہوتی ہیں کہ جو نہ عندالعقل درست وصحیح ٹھہر سکتی ہیں اور نہ عند الشرع اسلامی توحید کے موافق ہیں۔ چنانچہ ہم نے قسم ثانی کے ظہور دجال کی نسبت ایک لمبی حدیث مسلم کی لکھ کر معہ اس کے ترجمہ کے ناظرین کے سامنے رکھ دی ہے۔ ناظرین خود پڑھ کر سوچ سکتے ہیں کہ کہاں تک یہ اوصاف جو دجال معہود کی نسبت لکھے ہیں۔ عقل اور شرع کے مخالف پڑے ہوئے ہیں۔ یہ بات بہت صاف اور روشن ہے کہ اگر ہم اس دمشقی حدیث کو اس کے ظاہری معنوں پر حمل کر کے اس کو صحیح اور فرمودۂ خدا اور رسول مان لیں تو ہمیں اس بات پر ایمان لانا ہوگا کہ فی الحقیقت دجال کو ایک (بقیہ حاشیہ آئندہ)
- ۱۱...... دجال موعود کے حق میں جو احادیث میں آیا ہے کہ وہ مردہ کو زندہ کرے گا اور اس کے ساتھ بہشت اور دوزخ
ہوگا وغیرہ وغیرہ یہ مشرکانہ اعتقاد ہے اور توحید قرآنی کے مخالف۔
- ۱۲...... حضرت مسیح کی نسبت مسلمانوں کا یہ اعتقاد کہ وہ ۱؎ زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے ہیں اور اب تک وہاں زندہ
موجود ہیں اور وہ اپنی دنیاوی زندگی میں مردوں کو زندہ کرتے اور مادر زاد اندھوں کو اور کوڑھی کو اچھا کرتے اور مٹی سے جانور کی شکل بناتے تو وہ پرند بن جاتا احمقانہ اور مشرکانہ ۲؎ اعتقاد ہے اور درحقیقت حضرت مسیح کی صرف روح
(بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ) قسم کی قوت خدائی دی جائے گی اور زمین و آسمان اس کا کہا مانیں گے اور خدا تعالیٰ کی طرح فقط اس کے ارادہ سے سب کچھ ہوتا جائے گا۔ بارش کو کہے گا ’’ہو‘‘ تو ہو جائے گی۔ بادلوں کو حکم دے گا کہ فلاں ملک کی طرف چلے جاؤ تو فی الفور چلے جائیں گے۔ زمین کے بخارات اس کے حکم سے آسمان کی طرف اٹھیں گے اور زمین کو کیسی ہی کلر و شور ہو فقط اس کے اشارہ سے عمدہ اور اول درجہ کی زراعت پیدا کرے گی غرض جیسا کہ خدا تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ اِنَّمَا اَمْرُهٗ اِذَا اَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ. اسی طرح وہ بھی کن فیکون سے سب کچھ کر دکھائے گا، مارنا، زندہ کرنا اس کے اختیار میں ہوگا۔ بہشت اور دوزخ اس کے ساتھ ہوں گے۔ غرض زمین و آسمان دونوں اس کی مٹھی میں آ جائیں گے اور ایک عرصہ تک جو چالیس برس یا چالیس دن ہیں بخوبی خدائی کا کام چلائے گا اور الوہیت کے تمام اختیار و اقتدار اس سے ظاہر ہوں گے۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہ مضمون جو اس حدیث کے ظاہر لفظوں سے نکلتا ہے اس موحدانہ تعلیم کے موافق و مطابق ہے جو قرآن شریف ہمیں دیتا ہے۔ کیا صدہا آیات قرآن ہمیشہ کے لیے یہ فیصلہ ناطق نہیں سناتیں کہ کسی زمانہ میں بھی خدائی کے اختیارات انسان ہالکۃ الذات باطلۃ الحقیقت کو حاصل نہیں ہو سکتے۔ کیا یہ مضمون اگر ظاہر پر حمل کیا جائے تو قرآنی توحید پر ایک سیاہ دھبہ نہیں لگاتا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ۲۲۸، ۲۲۹ خزائن ج ۳ ص ۲۱۴، ۲۱۵) اور ازالہ اوہام میں اس خیال کے شریک ہونے پر ایک نظیر نقل کر کے لکھتے ہیں۔ ’’سوچنا چاہیے کہ یہ کتنا بڑا شرک ہے کچھ انتہا بھی ہے۔ افسوس کہ ان لوگوں کے دلوں پر کیسے پردے پڑ گئے کہ انھوں نے استعارات کو حقیقت پر حمل کر کے ایک طوفان شرک کا برپا کر دیا ہے اور باوجود قرائنِ قویہ کے ان استعارات کو قبول کرنا نہ چاہا جن کی حمایت میں قرآن کریم شمشیر برہنہ توحید کی لے کر کھڑا ہے۔‘‘
(ازالہ ص ۲۳۱ خزائن ج ۳ ص ۲۱۶)
- ۱؎ اشتہار ۲۰ مئی ۱۸۹۱ء میں آپ نے حضرت مسیح کی زندگی کے اعتقاد کو شرک کا ستون قرار دیا اور یہ لکھا ہے کہ ہمارے
گذشتہ علماء نے اس طرف نہیں خیال کیا اور یہ اعتقاد مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں نے برخلاف کتاب اللہ کے ٹھہرا لیا ہے اس میں فرماتے ہیں۔
’’لیکن افسوس کہ ہمارے گزشتہ علماء نے عیسائیوں کے مقابل پر کبھی اس طرف توجہ نہ کی حالانکہ اس ایک ہی بحث میں تمام بحثوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے...... عیسائی مذہب کا ستون جس کی پناہ میں انگلستان اور جرمن اور فرانس اور امریکہ اور روس وغیرہ کے عیسائی۔ ربنا المسیح پکار رہے ہیں۔ صرف ایک یہی بات ہے اور وہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے مسلمانوں اور عیسائیوں نے برخلاف کتاب الٰہی یہ خیال کر لیا ہے کہ مسیح آسمان پر مدت دراز سے بقید حیات چلا آتا ہے اور کچھ شک نہیں کہ اگر یہ ستون ٹوٹ جائے تو اس خیالِ باطل کے دور ہو جانے سے صفحہ دنیا یکلخت مخلوق پرستی سے پاک ہو جائے اور تمام یورپ اور ایشیا اور امریکہ ایک ہی مذہب توحید میں داخل ہو کر بھائیوں کی طرح زندگی بسر کریں لیکن میں نے حال کے مسلمان مولویوں کو خوب آزما لیا ہے وہ اس ستون کے ٹوٹ جانے سے سخت ناراض ہیں اور در پردہ مخلوق پرستی کے مؤید ہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۲۲۳)
- ۲؎ اور ازالہ میں مرزا نے لکھا ہے۔ ’’انجیل کو پڑھ کر دیکھ لو کہ یہی اعتراض ہمیشہ مسیح پر رہا کہ اس نے کوئی معجزہ تو دکھایا ہی
نہیں یہ کیسا مسیح ہے کیونکہ ایسا مردہ تو کوئی زندہ نہ ہوا کہ وہ بولتا اور اس جہان کا سب حال سناتا اور اپنے وارثوں کو نصیحت کرتا کہ میں تو دوزخ سے آیا ہوں تم جلد ایمان لے آؤ۔ اگر مسیح صاف طور پر یہودیوں کے باپ دادے زندہ کر کے دکھا دیتا اور ان سے گواہی دلواتا تو بھلا کس کو انکار کی مجال تھی غرض پیغمبروں نے نشان تو دکھائے مگر پھر بھی بے ایمانوں سے مخفی رہے۔ ایسا ہی یہ عاجز بھی خالی نہیں آیا بلکہ مردوں کے زندہ ہونے کے لیے بہت سا آبِ حیات خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو بھی دیا ہے۔ بے شک جو شخص اس میں سے پیئے گا زندہ ہو جائے گا۔ بلاشبہ میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر میرے کلام سے مردے زندہ نہ ہوں اور اندھے آنکھیں نہ کھولیں اور مجذوم صاف نہ ہوں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ۴۲۱، ۴۲۲ خزائن ج ۳ ص ۳۳۴، ۳۳۵) ازالہ میں ہے۔ (بقیہ حاشیہ آئندہ)
آسمان پر اٹھائی گئی ہے جیسا کہ اور انبیاء کی۔ اور ان کے مردوں کو زندہ کرنے اور اندھے کوڑھی کو اچھا کرنے سے گمراہوں کو ہدایت کرنا مراد ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ) ”بعض لوگ موحدین کے فرقہ میں سے بحوالہ آیت قرآنی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام ابن مریم انواع و اقسام کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر زندہ کر دیا کرتے تھے چنانچہ اس بنا پر اس عاجز پر اعتراض کیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے تو پھر آپ بھی کوئی مٹی کا پرندہ بنا کر پھر اس کو زندہ کر کے دکھلائیے...... ان تمام اوہام باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جس میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہیں اور ان کے یہ معنی کرنا کہ گویا خدا تعالیٰ نے اپنے ارادہ اور اذن سے حضرت عیسیٰ کو صفات خالقیت میں شریک کر رکھا تھا صریح الحاد اور سخت بے ایمانی ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ اپنی صفات خاصہ الوہیت بھی دوسروں کو دے سکتا ہے تو اس سے اس کی خدائی باطل ہوتی ہے۔“ (ازالہ ص ۲۹۶ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۱) مرزا نے لکھا ہے۔ ”اب جاننا چاہیے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا، تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے وہ لوگ جو فرعون کے وقت میں مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے جو سانپ بنا کر دکھلا دیتے تھے اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلا دیتے تھے۔ وہ حضرت مسیح کے وقت میں عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے ان کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لیے تھے جیسا کہ قرآن کریم بھی اس بات کا شاہد ہے سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام در حقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“ (ازالہ ص ۳۰۲، ۳۰۳ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴، ۲۵۵) مرزا نے لکھا ہے۔ ”ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آ سکیں کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہو ڈال سکتی ہے تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہوتے ہیں جو زندوں سے صادر ہوا کرتے ہیں۔“ (ازالہ ص ۳۰۵ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۵، ۲۵۶) اور مرزا نے لکھا ہے۔ ”مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ایسا جانور جو مٹی یا لکڑی وغیرہ سے بنایا جائے اور عمل الترب سے اپنے روح کی گرمی اس کو پہنچائی جائے وہ درحقیقت زندہ نہیں ہوتا بلکہ بدستور بے جان اور جماد ہوتا ہے۔ صرف عامل کی روح کی گرمی بارود کی طرح اس کو جنبش میں لاتی ہے۔“
(ازالہ ص ۳۰۶ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۶)
ازالہ میں مرزا نے لکھا ہے ”بہر حال مسیح کی یہ تربی کاروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے جس پر ہمارے نبی ﷺ نے قدم مارا ہے اور حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کے فطرت میں مرکوز تھی باذن وحکم الٰہی اختیار کیا تھا ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔ واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لیے اپنی دلی و دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے وہ اپنی ان روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتے ہیں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے ...... حضرت مسیح کے عمل الترب سے وہ مردے جو زندہ ہوتے تھے یعنی وہ قریب الموت آدمی جو گویا نئے سرے سے زندہ ہو جاتے تھے وہ بلا توقف چند منٹ (بقیہ حاشیہ آئندہ)
- (۱۳)...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یا آنحضرت ﷺ کا اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر جانا قانون قدرت (یعنی نیچر)
کے برخلاف ہے اور خدا تعالیٰ کا ایسے خوارق دنیا میں دکھانا اپنی حکمت اور ایمان بالغیب کو تلف کرتا ہے۔
- (۱۴)...... لیلۃ القدر سے جس کا ذکر قرآن میں ہے رات مراد نہیں بلکہ وہ زمانہ مراد ہے جو بوجہ ظلمت رات کا
ہم رنگ ہے اور نبی یا اس کے قائم مقام مجدد کے گزر جانے سے ایک ہزار مہینہ کے بعد آتا ہے۔
- (۱۵)...... آیات ذکر سجدہ آدم میں باوا آدم کی طرف سجدہ کرنا مراد نہیں بلکہ ملائکہ کا خدمت انسان کامل بجا لانا۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) میں مرجاتے تھے کیونکہ بذریعہ عمل الترب روح کی گرمی اور زندگی صرف عارضی طور پر ان میں پیدا ہو جاتی تھی۔‘‘
(ازالہ ص ۳۰۹ تا ۳۱۱ خزائن ج ۳ ص ۲۵۷ تا ۲۵۹)
اور ازالہ میں ہے۔ ’’غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ اعتقاد ہے کہ مسیح مٹی کے پرند بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انھیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا، نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا...... بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی رہتی تھی۔‘‘
(ازالہ ص ۳۲۲ خزائن ج ۳ ص ۲۶۳)
۱ توضیح میں لکھتے ہیں ’’کفار مکہ نے ہمارے سید ومولیٰ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ سے مانگا تھا کہ آسمان پر ہمارے رو برو چڑھیں اور وہ رو برو ہی اتریں اور انھیں جواب ملا تھا۔ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّی یعنی خدا تعالیٰ کی حکیمانہ شان اس سے پاک ہے کہ ایسے کھلے کھلے خوارق اس دارالابتلا میں دکھائے اور ایمان بالغیب کی حکمت کو تلف کرے۔ اب میں کہتا ہوں کہ جو امر آنحضرت ﷺ کے لیے جو افضل الانبیاء تھے جائز نہیں اور سنت اللہ سے باہر سمجھا گیا وہ حضرت مسیح کے لیے کیونکر جائز ہو سکتا ہے۔‘‘
(توضیح مرام ص ۹، ۱۰ خزائن ج ۳ ص ۵۵)
اور لکھتے ہیں۔ ’’قانون قدرت بھی اسی کو چاہتا ہے اور اسی کو مانتا ہے۔‘‘
(توضیح مرام ص ۶ خزائن ص ۵۲)
اور ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں۔ ’’ماسوائے اس کے اور کئی طریق سے ان پرانے خیالات پر سخت سخت اعتراض عقل کے وارد ہوتے ہیں جن سے مخلصی حاصل کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی...... از انجملہ ایک یہ اعتراض کہ نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کر رہا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرہ زمہریر تک پہنچ سکے بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کر چکی ہیں کہ بعض بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اس طبقہ کی ہوا ایسی مضر صحت معلوم ہوتی ہے کہ جس میں زندہ رہنا ممکن نہیں پس اس جسم کا کرہ ماہتاب یا کرہ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے...... اس جگہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اگر جسم خاکی کا آسمان پر جانا محالات میں سے ہے تو پھر آنحضرت ﷺ معراج اس جسم کے ساتھ کیونکر جائز ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ۴۷ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۱۲۶) اور اس کتاب میں ہے۔ ’’پھر مسیح کے بارے میں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا طبعی اور فلسفی لوگ اس خیال پر نہیں ہنسیں گے کہ جب کہ تیس چالیس ہزار فٹ تک زمین سے اوپر کی طرف جانا موت کا موجب ہے تو حضرت مسیح اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان تک کیونکر پہنچ گئے۔‘‘
(ازالہ ص ۱۴۶، ۱۴۷ خزائن ج ۳ ص ۱۷۴، ۱۷۵)
۲ مرزا فتح الاسلام میں لکھتے ہیں۔ ’’تم سمجھتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے۔ لیلۃ القدر اس ظلماتی زمانہ کا نام ہے جس کی ظلمت کمال کی حد تک پہنچ جاتی ہے اس لیے وہ زمانہ بالتبع تقاضا کرتا ہے کہ ایک نور نازل ہو جو اس ظلمت کو دور کرے۔ اس زمانہ کا نام بطور استعارہ کے لیلۃ القدر کہا گیا ہے مگر درحقیقت یہ رات نہیں ہے۔ یہ زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہم رنگ ہے۔‘‘
(فتح الاسلام ص ۵۴ خزائن ج ۳ ص ۳۲)
۳ توضیح مرام میں لکھا ہے۔ ’’کہ جاننا چاہیے کہ یہ سجدہ کا حکم اس وقت سے متعلق نہیں ہے کہ جب حضرت آدم پیدا کیے گئے بلکہ یہ علیحدہ ملائکہ کو حکم کیا گیا کہ جب کوئی انسان اپنی حقیقی انسانیت کے مرتبہ تک پہنچے اور اعتدال انسانی اس کو حاصل ہو جائے اور خدائے تعالیٰ کی روح اس میں سکونت اختیار کرے تو تم اس کامل کے آگے سجدہ میں گرا کرو یعنی آسمانی انوار کے ساتھ اس پر اترو اور اس پر صلوٰۃ بھیجو سو یہ قدیم قانون کی طرف اشارہ ہے جو خدائے تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ ہمیشہ جاری رکھتا ہے۔‘‘
(توضیح مرام ص ۴۹ خزائن ج ۳ ص ۷۶)
- (۱۶)…… صحیحین (صحیح بخاری و مسلم) کی احادیث سب کی سب صحیح نہیں بلکہ بعض ان میں غیر صحیح و موضوع بھی ہیں۔
- (۱۷)…… آپ اپنے کشف والہام کے ذریعہ سے صحیح بخاری وصحیح مسلم کی احادیث کو موضوع ٹھہرا ۱؎ سکتے ہیں ۔
- (۱۸)…… حدیث صحیح کی (بخاری ومسلم کی کیوں نہ ہو) یہ شان و وقعت نہیں کہ وہ قرآن کریم کی مفسر و مبین ۲؎ ہو
سکے اور قصص و اخبار و واقعات ماضیہ کے بیان میں بیان قرآن پر زیادتی طے کر سکے۔
- (۱۹)…… نصوص قرآن و حدیث کو ان کے ظاہری معانی سے پھیرنا اور اس سے استعارات مراد ٹھہرانا جائز ہے۔ ۴؎
بلکہ مغز شریعت ہے جو مجدد وقت کا کام ہے اور وہ ظاہری علوم سے نہیں ہو سکتا۔
- (۲۰)…… جو شخص آپ کو (قادیانی صاحب کو) بایں کمالات مسیحائیت و مجددیت نہ مانے گا وہ ہلاک ہوگا اور آگ
میں ڈالا جائے گا اور جس نے آپ کو مانا وہ ناجی ہوا۔ ۳؎
- ۱ مباحثہ لودھیانہ کی تحریر نمبری ۲ میں آپ فرماتے ہیں۔ ”اب جب کہ یہ حال ہے کہ کوئی حدیث بخاری یا مسلم کی بذریعہ کشف
کے موضوع ٹھہر سکتی ہے تو پھر کیوں کر ہم ایسی حدیثوں کو ہم پایہ قرآن کریم جان لیں گے ۔ ہاں ظنی طور پر بخاری ومسلم کی حدیثیں بڑے اہتمام سے لکھی گئی ہیں اور غالباً اکثر ان میں صحیح ہوں گی۔ لیکن کیونکر ہم حلف اٹھا سکتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ساری حدیثیں صحیح ہیں۔“
(الحق مباحثہ لودھیانہ ص ۱۳ خزائن ج ۳ ص ۱۵)
- ۲ مباحثہ لودھیانہ کی تحریر نمبری ۷ میں آپ فرماتے ہیں وہ (یعنی قرآن) اپنے مقاصد کی آپ تفسیر فرماتا ہے اور اس
کی بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہیں یہ نہیں کہ وہ اپنی تفسیر میں حدیثوں کا محتاج ہے۔“
(ایضاً اشعۃ السنۃ ص نمبر ۵ جلد ۱۴ (ع۔ ح)
- ۳ یہ بات آپ کی آخری تحریر مباحثہ لودھیانہ میں جا بجا پائی جاتی ہے جس کی تفصیل نقل مباحثہ میں ہے۔
- ۴ یہ عقیدہ آپ کے مذہب جدید کا اصل اصول ہے آپ اسی اصول سے ہر ایک آیت ہر ایک حدیث میں تاویل وتحریف
کرتے ہیں۔ فتح اسلام میں آپ لکھتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ ہمیشہ استعاروں سے کام لیتا ہے اور طبع اور خاصیت اور استعداد کے لحاظ سے ایک کا نام دوسرے پر وارد کر دیتا ہے۔“
(فتح اسلام ص ۱۵ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۱۱)
اور توضیح مرام میں حدیث قتل خنازیر اور قطع صلیب اور زر جزیہ کی تاویل اور تحریف کر کے آپ لکھتے ہیں۔ ”یہ سب استعارے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے فہم دیا گیا۔ وہ نہ صرف آسانی سے بلکہ ایک قسم کی ذوق سے ان کو سمجھ جائیں گے ایسے عمدہ اور بلیغ مجازی کلمات کو حقیقت پر اتارنا گویا ایک خوبصورت معشوق کا ایک بدشکل خاکہ کھینچنا ہے۔ بلاغت کا تمام مدار استعارات لطیفہ پر ہوتا ہے اسی وجہ سے خدائے تعالیٰ کے کلام نے بھی جو ابلغ الکلام ہے۔ جس قدر استعاروں کو استعمال کیا ہے اور کسی کے کلام میں یہ طرز لطیف نہیں ہے۔“ (توضیح مرام ص ۱۴ خزائن ج ۳ ص ۵۸) اور فتح الاسلام میں آپ لکھتے ہیں۔ ”صرف رسمی اور ظاہری طور پر قرآن شریف کے تراجم پھیلانا یا فقط کتب دینیہ اور احادیث نبویہ کو اردو یا فارسی میں ترجمہ کر کے رواج دینا...... یہ ایسے امور نہیں ہیں جن کو کامل اور واقعی طور پر تجدید دین کہا جائے...... ایسی ظاہری اور بے مغز خدمتیں ہر ایک با علم آدمی کر سکتا ہے اور ہمیشہ جاری ہیں۔ ان کو مجددیت سے کچھ علاقہ نہیں ۔“ (فتح اسلام ص ۸ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۶، ۷) اور اسی کتاب میں لکھا ہے۔ ”پس کمال افسوس کی جگہ ہے کہ جس قدر تم رسمی باتوں اور رسمی علوم کی اشاعت کے لیے جوش رکھتے اور اس کے عشر عشیر بھی آسمانی سلسلہ کی طرف تمہارا خیال نہیں۔“
(فتح اسلام ص ۷۱ خزائن ج ۳ ص ۳۲)
- ۱ فتح اسلام میں لکھتے ہیں۔ ”اس نے (یعنی خدا نے) اس سلسلہ کے قائم کرنے کے وقت مجھے فرمایا کہ زمین میں طوفانِ
ضلالت برپا ہے تو اس طوفان کے وقت میں یہ کشتی تیار کر جو شخص اس کشتی میں سوار ہوگا وہ غرق ہونے سے نجات پا جائے گا اور جو انکار میں رہے گا اس کے لیے موت درپیش ہے۔“
(فتح اسلام ص ۴۲ خزائن ج ۳ ص ۲۴، ۲۵)
- ۲ اور اسی کتاب میں فرماتے ہیں۔ ”اس زمانہ میں حصن حصین میں ہوں جو مجھ میں داخل ہوتا ہے وہ چوروں اور قزاقوں اور
درندوں سے اپنی جان بچائے گا مگر جو شخص میری دیواروں سے دور رہنا چاہتا ہے ہر طرف سے اس کو موت درپیش ہے اور اس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی۔“
(فتح اسلام ص ۵۶ خزائن ج ۳ ص ۳۴)
- ۳ اسی کتاب میں لکھتے ہیں۔ ”بلکہ بعض خشک ٹہنیوں کی طرح نظر آتے ہیں جن کو میرا خداوند جو میرا متولی ہے مجھ سے کاٹ
کر جلنے والی لکڑیوں میں پھینک دے گا۔“
(فتح اسلام ص ۶۷ خزائن ج ۳ ص ۴۰)
یہ قادیانی اور اس کے حواریوں اور ہم مشربوں کے عقائد و مقالات کی چند تمثیلات ہیں بطور مشتے نمونہ خروار و اندکے از بسیار، کیونکہ مزید تفصیل کی اس مقام میں گنجائش نہیں۔
اب ان کے طریق عملی کو جس میں وہ عقائد و مقالات مذکورہ بالا کی تائید کرتے ہیں اور اس سے وہ بزعم خود اصول و مسائل اسلام کی بیخ کنی کر رہے ہیں بیان کیا جاتا ہے۔
عقائد و مقالات مذکورہ کی تائید و ترویج کی غرض سے وہ احادیث صحیحہ کو بلا تردد رد کرتے ہیں اور غیر صحیح و موضوع قرار دیتے ہیں اور کئی احادیث و آثار و اقوال از خود وضع کر کے آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب اور علمائے اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں اور آیات و احادیث نبویہ ﷺ کی (جن کو مجبوراً صحیح مانتے ہیں) ایسی تاویل اور تحریف کرتے ہیں کہ اس میں نیچریوں اور باطنیوں کو بھی انھوں نے مات کیا ہے۔
ان کے اس عمل کی تمثیلات و شواہد ان کی عبارات منقولہ سابق میں موجود ہیں اور علاوہ براں چند تمثیلات و شواہد ذیل میں ذکر کیے جاتے ہیں۔
- (۱)...... آپ نے احادیث متضمنہ ذکر دجال موعود کو غیر صحیح و موضوع بنانے کی غرض سے آنحضرت ﷺ پر یہ افتراء
کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہمیں اس کے (یعنی ابن صیاد کے) حال میں ابھی تک اشتباہ ہے (یہ فقرہ بقلم جلی آپ کے رسالہ (ازالہ کے صفحہ ۲۲۵ خزائن ج ۳ ص ۲۱۲، ۲۱۳) میں بعینہ موجود ہے اور مباحثہ لدھیانہ کی تحریر نمبر ۴ (مباحثہ لدھیانہ ص ۲۶ خزائن ج ۴ ص ۲۸) میں آپ نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں اپنی امت پر ابن صیاد کے دجال معہود ہونے کی نسبت ڈرتا ہوں (یہ بھی آپ ہی کے الفاظ ہیں) حالانکہ کسی حدیث صحیح یا ضعیف میں یہ قول آنحضرت ﷺ سے منقول نہیں اور جب آپ سے مباحثہ لدھیانہ میں آنحضرت ﷺ سے اس قول کے مروی ہونے کا ثبوت طلب کیا گیا تو آپ نے جابر بن عبداللہ کا یہ قول کہ آنحضرت ﷺ ابن صیاد کے دجال ہونے سے ڈرتے رہے جو شرح السنہ میں مروی ہے اور وہ آنحضرت ﷺ کا قول نہیں ہے، پیش کیا اور آخر مباحثہ تک آنحضرت ﷺ سے اس قول کا ثبوت نہ دیا۔
- (۲)...... اس حدیث کو موضوع ٹھہرانے کی غرض سے آپ نے ایک حدیث کو وضع کیا اور اس میں صحابہ پر افتراء کیا
اور طرفہ یہ ہے کہ اس حدیث کو صحیح مسلم میں موجود بتایا۔ چنانچہ مباحثہ لدھیانہ کی تحریر نمبر ۴ (مباحثہ الحق لدھیانہ ص ۲۶ خزائن ج ۴ ص ۲۸) میں آپ نے لکھا ہے کہ ایک اور حدیث مسلم میں ہے جس میں لکھا ہے کہ صحابہ کا اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ دجال معہود ابن صیاد ہی ہے۔
حالانکہ صحیح مسلم میں اس حدیث کا نام و نشان نہیں جس میں اجماع صحابہ کا ذکر ہو یا اشارہ ہو۔ مباحثہ لدھیانہ میں آپ سے اس حدیث اور اجماع کی سند پوچھی گئی تو آپ نے حضرت ابو سعید خدریؓ کے اس قول کی کہ ابن صیاد نے ان کے پاس شکایت کی کہ لوگ اس کو دجال معہود سمجھتے ہیں۔ نشان دہی کی۔ جس میں نہ اس اجماع کا صریح ذکر پایا جاتا ہے نہ اس کی طرف وہاں کوئی اشارہ ہے صرف غیر معین لوگوں کا ابن صیاد کو دجال کہنا مفہوم ہوتا ہے جس کے مقابلہ میں بہت سے صحابہ کا جن میں خود ابو سعید خدریؓ داخل ہیں ابن صیاد کو دجال موعود نہ سمجھنا بلکہ اور شخص کو دجال موعود سمجھنا اسی کتاب صحیح مسلم کی احادیث سے ثابت ہے۔
- (۳)...... صحیح مسلم کی اس حدیث کو (جس میں حضرت مسیح کا دمشق کے قریب اترنا بیان ہوا ہے) موضوع قرار
دینے کی غرض سے آپ نے ایک افتراء بعض علماء امت پر کیا اور (ازالہ کے صفحہ ۲۱۸ خزائن ج ۳ ص ۲۰۹) میں لکھا ہے
کہ ”بعض علماء کہتے ہیں کہ حضرت مسیح نہ بیت المقدس میں اترے گا اور نہ دمشق میں بلکہ وہ مسلمانوں کے لشکر گاہ میں اترے گا جہاں حضرت مہدی ہوں گے۔“ حالانکہ علماء اسلام سے ایسا کوئی معلوم نہیں ہوا جس نے یہ بات کہی ہو کہ حضرت مسیح نہ بیت المقدس میں اترے گا اور نہ دمشق میں بلکہ علمائے اسلام نے ان سبھی مقامات کو ایک مقام قرار دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ حضرت مسیح بیت المقدس میں اتریں گے۔
ابن ماجہ کے حاشیہ میں لکھا ہے۔ قال الحافظ ابن کثیر وقد ورد فی بعض الاحادیث ان عیسی علیہ السلام ینزل ببیت المقدس وفی روایة بالاردن وفی روایة بمعسکر المسلمین فالله اعلم قلت حدیث النزول ببیت المقدس عند المصنف وهو عندی ارجح ولا ینافی سائر الروایات لان بیت المقدس هو شرقی دمشق وهو معسکر المسلمین اذ ذاک والاردن اسم الکورة کذا فی الصحاح و بیت المقدس داخل له فاتفقت الروایات فان لم یکن فی بیت المقدس الان منارة بیضاء فلا بد ان تحدث قبل نزوله.
(حاشیہ ابن ماجہ ص ۲۹۷ باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم)
بیت المقدس دمشق سے مشرق میں ہے وہیں مسلمانوں کا لشکر ہوگا اور وہ اُردن ہی کے علاقہ میں ہوگا۔ اسی جگہ خدا تعالیٰ منارہ سفید بنا دے گا۔“ (ملخص)
لودھیانہ کے مباحثہ میں آپ سے اس قول ”بعض علماء“ کا ثبوت طلب کیا گیا تو آپ نے ایسا جواب دیا جس سے آپ کے اس افتراء کا اور یقین ہوا۔
- (۴)...... اس حدیث صحیح مسلم اور دیگر احادیث نزولِ حضرت مسیح علیہ السلام میں تحریف و تاویل کرنے کی غرض سے ایک
افتراء مرزا نے آنحضرت ﷺ پر یہ کیا اور کہا ہے کہ ”آنحضرت ﷺ نے اس حدیث کی نسبت جس میں دجال کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور اس میں (اس کو ابن قطن کے مشابہ کہا) صاف اور صریح طور پر فرما دیا ہے کہ یہ میرا ایک مکاشفہ یا ایک خواب ہے۔“ (ازالہ ص ۲۶۰ خزائن ج ۳ ص ۲۰۲) اور کہا ہے کہ ”آنحضرت ﷺ صاف اور صریح طور پر فرماتے ہیں کہ میرا یہ ایک کشف یا خواب ہے۔“
(ازالہ ص ۲۷۰ خزائن ج ۳ ص ۲۰۲)
اور کہا ہے ”آنحضرت ﷺ خود اس بات کا اقرار فرماتے ہیں کہ ’یہ سب بیانات میرے مکاشفات میں سے ہیں‘۔“ (ازالہ ص ۲۳۲ خزائن ج ۳ ص ۲۱۶) حالانکہ کسی حدیث میں آنحضرت ﷺ سے یہ اقوال مروی نہیں۔ حدیث میں آنحضرت ﷺ کا دجال کو طواف کرتے دیکھنا اور ابن قطن سے تشبیہ دینا مروی ہے اس کو تسلیم کر لیا جائے کہ وہ ایک خواب یا کشف کا واقعہ ہے تو کوئی شخص (جس کو دین سے تعلق ہو اور کذب سے احتراز) اس کو آنحضرت ﷺ کا قول اور صاف و صریح اقرار نہیں ٹھہرا سکتا۔
اس افتراء سے آپ کی غرض (جس کو مرزا نے ازالہ کے صفحہ ۲۳۲ میں ظاہر کیا ہے) یہ ہے کہ اسی پر حدیث دمشقی وغیرہ کو قیاس کریں اور ان کو بھی ایک خواب یا مکاشفہ قرار دے کر تعبیر اور تاویل کا محتاج بنا دیں اور ان کے ظاہری معنی سے ان کو پھیر سکیں۔ جو کمال جرأت و محض افتراء ہے۔
- (۵)..... ان احادیث نزولِ حضرت مسیح علیہ السلام میں تحریف اور تاویل کی غرض سے آپ نے اس حدیث کے ترجمہ
میں جس میں یہ بیان ہے کہ عنقریب ابن مریم حاکم عادل ہو کر نزول کریں گے آنحضرت ﷺ پر ایک سوال و جواب کا افتراء کیا۔ اور ازالہ میں آنحضرت ﷺ سے نقل کیا ہے۔ ”تمہارا اس دن کیا حال ہوگا جس دن ابن مریم تم میں نازل ہوگا اور تم جانتے ہو کہ ابن مریم کون ہے وہ تمہارا ہی امام ہوگا اور تم ہی میں سے (اے امتی لوگو) پیدا
ہوگا“۔ (ازالہ ص ۲۰۱ خزائن ج ۳ ص ۱۹۸) اور (ازالہ کے صفحہ ۲۹۱ خزائن ج ۳ ص ۴۲۹) میں لفظ ”بل ھو“ اپنے مجوزہ جواب میں از خود ملا کر وضع لفظ حدیث کا بھی ارتکاب کیا اور لکھ دیا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس کو سچ مچ ابن مریم ہی نہ سمجھ لو ”بل ھو“ امامکم منکم حالانکہ اس حدیث کے کسی طریق میں آنحضرت ﷺ سے یہ سوال و جواب منقول نہیں ہے۔ اور نہ لفظ ”بل ھو“ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ سے مروی ہے۔ اس سوال و جواب کے افتراء سے آپ کا مقصود یہ ہے کہ جو ظاہر حدیث سے مفہوم ہوتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ آئیں گے تو اس وقت مسلمانوں کا امام موجود ہوگا۔ (جس سے عام اہل اسلام کے اعتقاد میں حضرت امام مہدی مراد ہیں) اور وہ آپ کے خیال اور دعوؤں کی جڑ کاٹ رہا ہے کیونکہ اس وقت امام مہدی موجود نہیں تو آپ مسیح موعود کیونکر بن سکتے ہیں؟ اس کا جواب ادا ہو۔ یہ سوچ کر آپ نے چاہا کہ چلو امام مہدی بھی ہم خود ہی بن جائیں اور حدیث کے یہ معنی گھڑ لیں کہ جو مسیح آئے گا وہی امام مہدی ہوگا۔ اور یہ سوال و جواب بنایا اور جواب میں لفظ ”بل ھو“ بڑھایا اور رسول اللہ ﷺ پر افتراء کیا مگر یہ نہ سوچا کہ دوسری حدیث صحیح مسلم میں صاف آیا ہے۔ عن جابر بن عبداللہ یقول سمعت النبی ﷺ یقول لاتزال طائفة من امتی یقاتلون علی الحق ظاهرین الی یوم القیمة قال فینزل عیسی ابن مریم ﷺ فیقول امیرهم تعال صل لنا فیقول لا ان بعضکم علی بعض امراء تکرمة الله هذه الامة.
(صحیح مسلم ج ۱ ص ۸۷)
کتاب الایمان، باب نزول عیسی حاکماً بشریعة نبینا۔ ”عیسیٰ بن مریم ﷺ اتر آئیں گے تو ان کا (یعنی مسلمانوں کا) امیر (یعنی امام) ان کو کہے گا کہ آپ آئیں نماز پڑھائیں وہ (اس امام کو) یہ جواب دیں گے نہیں۔ امیر (یعنی امام) تم ہی میں سے ہونا چاہیے۔ یہ کہنا اس امت محمدیہ کے اعزاز و اکرام کے لیے ہوگا جو خدا کی طرف سے اس کو حاصل ہے۔“
اس قسم کی تاویلات و تحریفات اور رد نصوص و وضع احادیث و اقوال آپ کے طریق عملی میں اور بھی بکثرت پائی جاتی ہیں اور آپ کی تصنیفات کے صدہا صفحات میں موجود ہیں ان چند امثلہ و عقائد و مقالات و طریق عملی میرزا قادیانی کو پیش کر کے علمائے اسلام سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آیا وہ ان عقائد و مقالات وطریق عملی میں اسلام خصوصاً مذہب اہل سنت کا پابند و پیرو ہے۔ یا اس سے خارج، بشق اوّل علمائے ربانی نصوص کتاب وسنت واقوال سلف امت اہل قرون ثلثہ اس کی تائید میں نقل کریں۔ قرونِ ثلثہ کے مابعد کے علماء یا صوفیوں کے اقوال بلا دلیل کتاب اللہ وسنت معرض نقل میں نہ لائیں وبشق ثانی وہ علمائے ربانی یہ فرمائیں کہ ان عقائد و مقالات اور طریق عملی خصوصاً اس کے دعویٰ نبوت و اشاعت اکاذیب و وضع احادیث کاذبہ وردِ احادیث صحیحہ و تحریف معانی نصوص کی نظر سے اس کو مجملہ ان تیس دجالوں کے جن کے خارج ہونے کی آنحضرت ﷺ نے خبر دی ہے ایک دجال اور اس کے ان عقائد و خیالات وطریق عملی میں اس کے پیروان وہم مشربوں کو ذریاتِ دجال کہہ سکتے ہیں یا نہیں اور ایسے عقائد و مقالات و طریق عملی کے ساتھ کوئی شخص شرعاً وعقلاً ولی اور ملہم و محدث و مجدد ہو سکتا ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب...... ان عقائد و مقالات اور اس طریق عملی میں مرزا قادیانی پابندی اسلام خصوصاً مذہب اہل سنت سے خارج ہے کیونکہ یہ عقائد و مقالات وطریق عملی اسلامی وسنی نہیں بلکہ ازاں جملہ بعض عقائد و مقالات یونانی فلاسفہ کے ہیں۔ بعض ہندوؤں پیروان وید کے بعض نیچریوں کے بعض نصاریٰ کے بعض اہل بدعت و ضلالت کے
اور اس کا طریق عملی ملحدین باطنیہ ۱؎ وغیرہ اہل ضلال کا طریق ہے۔ اور اس کے دعوائے نبوت اور اشاعت اکاذیب اور اس ملحدانہ طریق کی نظر سے یقیناً اس کو ان تیس دجالوں میں سے جن کی خبر حدیث میں وارد ہے ایک دجال کہہ سکتے ہیں اور اس کے پیروان و ہم مشربوں کو ذریاتِ دجال۔ یہ لوگ دجال نہ ہوں تو پھر احادیث نبویہ ﷺ کا جن میں تیس دجالوں کذابوں کی خبر دی گئی ہے کوئی مصداق نہیں ہو سکتا اور اس اعتقاد وعمل کے ساتھ کوئی شخص شرعاً وعقلاً ولی وملہم ومحدث نہیں ہو سکتا۔ اس عمل واعتقاد کا شخص خدا کا ملہم ومخاطب ہو تو انبیاء وملہمین سابقین کا الہام بے اعتبار ہو جاتا ہے اس اجمال کی تفصیل بطور تمثیل ذیل میں معروض ہے۔
قادیانی کا کواکب و سیارات وافلاک کے لیے نفوس وارواح تجویز کرنا یونانیوں کے فلاسفہ اشراقیین و ہندوان پیروان وید کا مذہب ہے (چنانچہ قادیانی اس امر کا توضیح المرام ص ۳۳ خزائن ج ۳ ص ۶۸ میں خود معترف ہوا ہے) اسلام نے یہ اعتقاد مسلمانوں کو نہیں سکھایا۔ اور قرآن وحدیث میں جو اسلام کے اصل اصول ہیں اس کا کہیں ذکر پایا نہیں گیا اور جو بعض متاخرین صوفیہ نے بہ تقلید فلاسفہ یا اپنے مشاہدہ ومکاشفہ سے ان ارواح کو تسلیم کیا ہے وہ مذہب اسلام نہیں ہو سکتا کیونکہ کتاب وسنت میں اس اعتقاد کا ثبوت پایا نہیں جاتا اور ان صوفیوں نے خود بھی اس اعتقاد کو اعتقاد یا مذہب اسلام قرار نہیں دیا۔ صرف اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے۔ لہٰذا ان صوفیوں کا مکاشفہ سے وجود ان ارواحوں کو تسلیم کرنا اس اعتقاد کو داخل اسلام نہیں بنا سکتا اور اگر کوئی ناواقف اس مذہب واعتقاد کو جزو اسلام قرار دے تو وہ بحکم حدیث من احدث فی امرنا ھذا مالیس فیہ فھو ردّ (یعنی جو شخص ہمارے دین میں وہ عمل یا اعتقاد از خود پیدا کرے جو بحکم قرآن وحدیث اس میں سے نہ ہو تو وہ لائق رد ہے قابل قبول نہیں ہے) قادیانی کے اس خیال کا ابطال ان نصوص و اقوال سے بھی ہوگا جو اس کے اقوال آئندہ کے ابطال کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
اور قادیانی کا نفوس فلکیہ وارواح کواکب کو ملائکہ کہنا بھی ان فلاسفہ کا احداث ہے۔ جو فلسفہ کے ساتھ اسلام کے قائل ہیں انھوں نے فلسفہ کو اسلام سے ملایا ہے اور تن زیب میں گاڑھے کا پیوند لگانا چاہا ہے۔ کتاب اللہ وسنت میں کہیں اس مذہب کا ثبوت پایا نہیں جاتا۔
امام رازی نے تفسیر کبیر میں ملائکہ کے متعلق لوگوں کے مذاہب بیان کیے ہیں تو ان میں فلاسفہ کا یہ مذہب بیان کیا ہے کہ وہ ارواح کواکب ہیں چنانچہ فرمایا ہے۔ ثانیہما قول الفلاسفة وھی انھا جواھر قائمة
۱؎ باطنیہ ایک ملحد فرقہ کا نام ہے جس کی تاویلات کی چند تمثیلات بیان کی جاتی ہیں جن سے ناظرین کو یقین ہو کہ مرزا غلام احمد اور اس کے اتباع کی تاویلات اسی قسم کی تاویلات ہیں۔ اور سب کا طریق ایک ہے۔ ملاحدہ سبعیہ کا یہ مذہب ہے کہ وضو سے امام وقت کی دوستی مراد ہے اور زکوٰۃ سے تزکیہ نفس اور کعبہ ذات نبی ﷺ۔ اور صفا مروہ سے جناب امامین حسن حسین علیہما السلام اور احتلام سے افشائے اسرار امام وقت۔ اور غسل سے امام وقت کے جناب میں دوبارہ عہد و بیعت کرنا اور جنت سے جسم کو آسائش و آرام دینا اور دوزخ سے تکلیفات اٹھانا وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح ملاحدہ باطنیہ کی یہ رائے ہے کہ روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، خلفائے ثلاثہ کے من گھڑت احکام ہیں اور روزہ رمضان خاص، بدعت عمری ہے۔ ملاحدہ منصوریہ کہتے ہیں کہ جنت سے امام وقت اور دوزخ سے اس کے دشمن مراد ہیں۔ جیسے ابوبکرؓ وعمرؓ وغیرہ وغیرہ جناب شاہ عبدالعزیز دہلوی علیہ الرحمۃ اپنے تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں کہ ”مطیع باللہ عباسی کے عہد میں ان فرقوں کو بایں عقل وشعور نہایت غلبہ اور کمال تسلط حاصل تھا جس کے بعد انھوں نے ایک عالم کو گمراہ کیا۔ دانشمندوں کو ایک قسم کی عبرت حاصل ہونے کا مقام ہے۔“
بانفسها وليست بمتحيزة البتة وانها بالماهية مخالفة لانواع النفوس الناطقة البشرية وانها اكمل قوة منها واكثر علما منها و انها للنفوس البشرية جارية مجرى الشمس بالنسبة الى الضوء ثم ان هذه الجواهر على قسمين منها ماهی بالنسبة الى اجرام الافلاک والكواكب كنفوسنا الناطقة بالنسبة الى ابداننا ومنها ماهی لا على شئ من تدبير الافلاک بل هي مستغرقة في معرفة الله ومحبة مشتغلة بطاعته وهذا القسم من الملائكة هم المقربون و نسبتهم الى الملائكة الذين يدبرون السموت كنسبة اولئک المدبرين الى نفوسنا الناطقة فهذان القسمان قد اتفقت الفلاسفة على اثباتهما ومنهم من اثبت نوعا اخر من الملائكة وهي الملائكة الارضية المدبرة لاحوال هذا العالم السفلى ثم ان المدبرات لهذا العالم ان كانت خيرة فهم الملائكة وان كانت شريرة فهو الشياطين۔
(تفسیر کبیر ج ۱ ص ۱۶۰، ۱۶۱ زیر آیت و اذ قال ربک للملائكة)
”دوسرا فلاسفہ کا قول ہے کہ ملائکہ جواہر یعنی بذات خود قائم ہیں مگر وہ کسی چیز (مکان) میں جاگزیں نہیں ہوتے اور ان کی حقیقت انسانی نفوس کی حقیقت سے مخالف ہے وہ ان سے قویٰ تر اور علم میں بڑھ کر ہیں۔ ان کو انسانی نفوس سے وہ نسبت ہے جو روشنی کو سورج سے نسبت ہے۔ پھر یہ جواہر دو قسم کے ہیں۔ بعضے ایسے ہیں جن کو افلاک و کواکب سے وہ نسبت ہے جو ہمارے نفوس ناطقہ کو ہمارے بدنوں سے ہے اور بعض ایسے ہیں جن کو اجسامِ فلکیہ کی تدبیر سے کوئی تعلق نہیں ہے (یعنی وہ اس کے مدبر نہیں) بلکہ وہ اللہ کی معرفت اور محبت میں مستغرق اور اس کے حکم کی بجا آوری میں مشغول ہیں۔ اس قسم کے ملائکہ مقربین کہلاتے ہیں۔ ان کے ملائکہ مدبرین افلاک کو ہمارے نفوس ناطقہ سے نسبت ہے ان دونوں قسموں کے ماننے پر فلاسفہ کا اتفاق ہے بعض فلاسفہ ایک اور قسم ملائکہ کو بھی مانتے ہیں وہ زمین کے ملائکہ ہیں جن کو عالم سفلی کی تدبیر سے تعلق ہے۔ پھر یہ (عالم سفلی کے مدبر) اگر اچھے ہیں تو وہ ملائکہ کہلاتے ہیں اور اگر برے ہیں تو شیاطین ہیں ۔“
اور قادیانی کا جملہ حوادث و کائنات عالم کو ستاروں کی تاثیر سمجھنا بھی فلاسفہ اور نجومیوں اور ہندوؤں اور مجوسیوں اور وثنویہ اور بت پرستوں کا مذہب ہے۔ ہندوان قائلین وید کا قائل تاثیر ہونا تو قادیانی نے خود (توضیح مرام ص ۳۳ خزائن ج ۳ ص ۶۷) میں بیان کیا ہے۔ بت پرست اور مجوس وثنویہ کا قائل ہونا امام رازی کی تفسیر سے نقل کیا جاتا ہے۔ امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں۔ وثانيها قول طوائف من عبدة الاوثان وهو ان الملائكة هى الحقيقة فى هذه الكواكب الموصوفة بالاسعاد والانحاس فانها بزعمهم احياء ناطقة وان المسعدات منها ملائكة الرحمة والمنحسات ملائكة العذاب و ثالثها قول معظم المجوس والثنوية وهو ان هذا العالم مركب من اصلين ازليين وهما النور والظلمة وهما فى الحقيقة جوهران شفافان مختاران قادران متضادا النفس والصورة مختلفا الفعل والتدبير فجوهر النور فاضل خير نقى طيب الريح كريم النفس يسرُّ ولا يضر وينفع ولا يمنع ويحيى ولا يبلى وجوهر الظلمة على ضد ذلک ثم ان جوهر النور لم يزل يولد الاولياء وهم الملائكة لا على سبيل التناکح بل على سبيل تولد الحكمة من الحكيم والضوء من المضئ وجوهر الظلمة لم يزل يولد الاعداء وهم الشياطين على سبيل تولد السفه من السفيه لا على سبيل التناکح۔
(تفسیر کبیر ج ۱ ص ۱۶۰ زیر و اذ قال ربک للملائكة)
”دوسرا قول کئی بت پرست جماعتوں کا ہے وہ یہ کہ ملائکہ درحقیقت یہ ستارے ہیں جو سعد اور نحس
کہلاتے ہیں۔ ان کے اعتقاد میں یہ ستارے زندہ ہیں اور گویا ہیں اور ان میں جو سعد (نیک) ہیں وہ رحمت کے ملائکہ کہلاتے ہیں اور جو نحس ہیں وہ عذاب کے فرشتے۔ تیسرا قول اکثر مجوس اور ثنویہ کا ہے (جو عالم کے دو خالق مانتے ہیں) وہ کہتے ہیں عالم درحقیقت دو اصول (مادہ) سے مرکب ہے جو ہمیشہ سے چلے آتے ہیں۔ ان میں ایک نور ہے دوسرا اندھیرا اور وہ حقیقت میں جو ہر شفاف ہیں خود مختار قادر جنس وصورت میں باہم مختلف فعل و تدبیر میں جداگانہ۔ سو نور کا جوہر بہتر اور سنہرا اور سخی ہے خوش کرتا ہے ضرر نہیں پہنچاتا۔ نفع دیتا ہے فائدہ کو نہیں روکتا۔ زندہ کرتا ہے مارتا اور بوسیدہ نہیں کرتا۔ اندھیرے کا جوہر اس کے مخالف ہے پھر نور کے جوہر سے ہمیشہ دوست پیدا ہوتے ہیں جیسے حکیم سے حکمت پیدا ہوتی ہے اور روشن چیز سے روشنی اور وہ ملائکہ کہلاتے ہیں اور اندھیرے کے جوہر سے دشمن پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے احمق سے حماقت پیدا ہوتی ہے اور وہ شیاطین کہلاتے ہیں۔‘‘
قادیانی نے بڑی جرات کی ہے کہ ان باتوں کو قرآن سے ثابت بتایا ہے۔ اس جرات میں قادیانی نے خدا پر افتراء کیا ہے۔ کسی آیۃ قرآن میں یہ ارشاد نہیں ہوا کہ کواکب و سیارات کے لیے ارواح ہیں اور کائنات الارض کے وجود میں مؤثر ہیں اور وہی ملائکہ ہیں جو انبیاء وغیرہ ملہمین کی روحانی تربیت کر رہے ہیں اور نہ آنحضرت ﷺ نے کہیں یہ ارشاد فرمایا ہے اور اعتقاد تاثیر کواکب کو تو قرآن شریف سے اشارۃً اور آنحضرت ﷺ نے صراحتاً ناشکری و کفر قرار دیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے تجعلون رزقکم انکم تکذبون (الواقعہ۸۲) (کیا تمہاری یہی شکر گزاری ہے کہ تم خدا کو جھٹلاتے ہو) جو بارش ہوتی ہے تو یہ کہتے ہو کہ فلاں ستارہ کی تاثیر سے ہوئی ہے۔
صحیحین میں آنحضرت ﷺ سے ابوہریرہؓ نے روایت کیا ہے۔ عن زید بن خالد الجہنی انه صلی لنا رسول اللہ ﷺ صلوۃ الصبح بالحدیبیۃ علی اثر سماء کانت من اللیلۃ فلما انصرف النبی ﷺ اقبل علی الناس فقال هل تدرون ماذا قال ربکم قالوا اللہ ورسولہ اعلم قال قال اصبح من عبادی مؤمن بی و کافر فاما من قال مطرنا بفضل اللہ ورحمته فذلک مؤمن بی و کافر بالکواکب واما من قال ممطرنا بنوء کذا و کذا فذلک کافر بی و مؤمن بالکوکب. (بخاری ج ۱ ص ۱۴۱ کتاب الاستسقاء باب
قول اللہ و تجعلون رزقکم انکم تکذبون) (مسلم ج ۱ ص ۵۹ باب بیان الکفر من قال ممطرنا بنوء للفظہ)
”مقام حدیبیہ میں آنحضرت ﷺ نے بارش کے بعد صبح کی نماز پڑھائی تو اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ آیا تم جانتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے۔ اصحاب بولے کہ اللہ اور اللہ کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں کوئی مجھ پر ایمان لاتا ہے اور کوئی کافر ہوتا ہے، سو جو یہ کہے کہ ہم پر خدا کے فضل و رحمت سے بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستاروں سے منکر اور جو یہ کہے کہ فلاں ستارہ کے فلاں مقام پر پہنچنے کے سبب بارش ہوئی ہے تو وہ ستاروں پر ایمان لاتا ہے اور مجھ سے کافر ہے۔‘‘
صحیح مسلم کی ایک حدیث میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے۔ عن ابن عباس قال مطر الناس علی عہد رسول اللہ ﷺ فقال النبی ﷺ اصبح من الناس شاکر و منهم کافر قالوا هذه رحمۃ اللہ وقال بعضهم لقد صدق نوع کذا و کذا قال فنزلت هذه الایۃ فلا اقسم بمواقع النجوم حتی بلغ اتجعلون رزقکم انکم تکذبون. (مسلم ص ۵۹ ج ۱ باب ایضاً)
”آنحضرت ﷺ کے وقت میں بارش ہوئی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں
سے کوئی شاکر ہے کوئی کافر ۔ شاکر کہتے ہیں یہ بارش خدا کی رحمت ہے بعض کافر کہتے ہیں کہ فلاں فلاں ستارہ کا غروب سچا نکلا جو بارش ہوئی اس پر آیت اتری ۔“
امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں ۔ اما معنى الحديث فاختلف العلماء في كفر من قال مطرنا بنوء كذا على قولين احدهما هو كفر بالله تعالى سالب لاصل الايمان مخرج من ملة الاسلام قالوا وهذا فى من قال ذلك معتقداً ان الكواكب فاعل منشئ للمطر كما كان بعض اهل الجاهلية يزعم ومن اعتقد هذا فلاشك في كفره و هذا القول الذي ذهب اليه جماهير العلماء والشافعى منهم وهو ظاهر الحديث قالوا وعلى هذا لوقال مطرنا بنوء كذا معتقدا انه من الله وبرحمته وان النوء ميقات له و علامة اعتبار بالعادة فكانه قال مطرنا فى وقت كذا فهذا لا يكفر واختلفوا فى كراهته والاظهر كراهته لكنها كراهة تنزيهة و سبب الكراهة انها كلمة مترددة بين الكفر و غيره فيساء الظن بصاحبها ولانها شعار الجاهلية ومن سلك مسلكهم والقول الثانى فى اصل تاويل الحديث ان المراد كفر نعمة الله تعالى لاقتصاره على اضافة الغيث الى الكواكب وهذا فيمن لا يعتقد تدبير الكواكب.
(شرح مسلم ص ۵۹ باب ایضاً)
”جو یہ کہے کہ فلاں ستارہ کے سبب بارش ہوئی اس کے کفر کی تفسیر میں علماء کے دو قول ہیں اوّل یہ کہ یہ خدا کے ساتھ کفر ہے ایمان کو دور کرنے والا اسلام کے دائرہ سے نکالنے والا یہ قول اس شخص کے حق میں ہے جو اعتقاد رکھے کہ ستارہ بارش کا فاعل اور مدبر ہے۔ اس کی تاثیر سے بارش ہوتی ہے جیسا کہ جاہلیت میں خیال کیا جاتا تھا۔ دوسرا قول یہ کہ اس سے کفران نعمت یعنی (ناشکری) مراد ہے یہ قول اس شخص کے حق میں ہے جو ستارہ کو مدبر و مؤثر نہ سمجھے یعنی صرف علامت ظہور تاثیر خداوندی خیال کرے۔ (ملخص)
فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے ۔ وكانوا فى الجاهلية يظنون ان نزل الغيث بواسطة النوء اما بصنعه على زعمهم واما بعلامته فابطل الشرع قولهم وجعله كفراً فان اعتقد قائل ذلك ان النوء صنعا في ذلك فكفره كفر تشريك وان اعتقد ان ذلك من قبيل التجربة فليس بشرك لكن يجوز اطلاق الكفر عليه واراده ..... كفر النعمة لانه لم يقع فى شئ من طرق الحديث بين الكفر والشكر واسطة فيحمل الكفر فيه على المعنيين لتناول الامرين.
(فتح الباری ص ۴۳۳ ج ۲ باب قول اللہ تعالیٰ و تجعلون رزقكم انكم تكذبون الخ)
”ایام جاہلیت میں یہ اعتقاد تھا کہ بارش ستاروں کے فعل سے یا ان کی (مقررہ) علامت سے ہوتی ہے۔ سو شارع نے ان دونوں خیالوں کو باطل کیا اور کفر ٹھہرایا سو اگر یہ اعتقاد ہو کہ فعل ستارہ کا اس میں دخل ہے تو یہ مشرکانہ کفر ہے اور اگر صرف یہ اعتقاد ہو کہ تجربہ کی رو سے ہے تو یہ شرک نہیں مگر اس کو کفر بمعنی ناشکری ؎۱ کہہ سکتے ہیں۔“
ان احادیث سے بہ شہادت اقوال علماء صاف ثابت ہے کہ ستاروں کو بارش میں مؤثر و سبب وجود سمجھنے کو آنحضرت ﷺ نے کفر قرار دیا ہے۔ اس کو کفر ملت سمجھیں خواہ کفر نعمت اب اور حوادث و کائنات میں تاثیر نجوم کے اعتقاد کا کفر ہونا ثابت کیا جاتا ہے۔
؎۱ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے تجربہ کو لازم و واجب الاثر سمجھا۔
ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ سے منقول ہے۔ عن ابن عباس قال قال رسول الله ﷺ من اقتبس علما من النجوم اقتبس شعبة من السحر زاد مازاد ابودائود واحمد وابن ماجه.
(مشکوٰۃ ۳۹۳ باب الكهانة)
”آپ ﷺ نے فرمایا جس نے علم نجوم سے کچھ حاصل کیا اس نے سحر کا ایک شعبہ حاصل کیا جس قدر اس میں زیادتی کرے گا سحر میں زیادتی کرے گا۔“
ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا۔ عن ابن عباس قال قال رسول الله ﷺ من اقتبس باباً من علم النجوم لغير ما ذكر الله فقد اقتبس شعبة من السحر المنجم كاهن والكاهن ساحر والساحر کافر رواہ رزین.
(مشکوٰۃ ص ۳۹۴ باب الكهانة)
”جس نے علم نجوم کا کوئی باب (حصہ) حاصل کیا یعنی اس کی تاثیرات و فوائد کا علم سیکھا بجز ان فوائد کے جو خدا تعالیٰ نے بیان کیے ہیں (چنانچہ قتادہؒ کی روایت میں ان کی تفسیر عنقریب آتی ہے) اس نے سحر کا ایک شعبہ حاصل کیا اور نجومی (اس علم کو حاصل کرنے والا اور اس کا معتقد) کاہن ہے اور کاہن ساحر ہے اور ساحر کافر ہے۔“
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدثؒ دہلوی نے کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں فرمایا ہے۔ واما الانواء والنجوم فلا يبعد ان يكون لهما حقيقة ما فان الشرع انما اتى بالنهى عن الاشتغال به لا نفى الحقيقة البتة وانما توارث السلف الصالح ترك الاشتغال به وذم المستضلين وعدم القبول بتلك التاثيرات لا القول بالعدم اصلا...... ولكن الناس جميعا توغلوا فى هذا العلم توغلا شديدا حتى صار مظنة لكفر الله وعدم الايمان به فعسى ان لا يقول صاحب توغل هذا العلم مطرنا بفضل الله ورحمته من صميم قلبه بل يقول مطرنا بنوء كذا وكذا فيكون صادا عن تحققه بالايمان الذى هو الاصل فى النجاة واما النجوم فانه لا يضر جهله اذ الله مدبر للعالم على حسب حكمة علمه احداً ولم يعلم فلذلك وجب فى الملة ان يخمل ذكره وينهى من تعلم و يجهر بان من اقتبس علما من النجوم اقتبس شعبة من السحر زاد مازاد و مثل ذلك مثل التوراة والانجيل شدد النبى ﷺ على من اراد ان ينظر فيهما لكونهما محرفة ومظنة لعدم الانقياد للقرآن العظيم ولذلك نهى عنه هذا ما ادى اليه رائینا و تفحصنا فان ثبت من السنة ما يدل على خلاف ذلك فالامر على ما فى السنة.
(حجۃ اللہ البالغہ ج ۲ ص ۱۹۵ مبحث فی اللباس والزینۃ ونحوها)
”حقیقتِ نجوم کو ممکن تسلیم کرنے اور ان کی تاثیرات کو غیر مستعبد ماننے کے ساتھ علم نجوم سے شغل ترک کرنا اور اس شغل والے کو برا سمجھنا اور نجوم کی تاثیرات کا قائل و معتقد نہ ہونا سلف صالحین سے متوارث چلا آتا ہے اور اس علم میں توغل مظنہ کفر ہے اور پیغمبر صاحب ملت کا یہ فرض تھا کہ اس کے ذکر کو مٹا دے اور اس کے سیکھنے سے لوگوں کو روک دے اور پکار کر یہ کہہ دے کہ جو شخص اس علم سے کچھ حاصل کرتا ہے وہ سحر کا ایک شعبہ حاصل کرتا ہے۔“
شاہ صاحب کا کلام اس باب میں ایک نص قطعی ہے کہ شریعت اور اسلام میں نجوم کی تاثیرات کے اعتقاد سے منع کیا گیا ہے۔ گو نفس الامر میں خدا تعالیٰ نے ان میں تاثیرات رکھے ہوں اور وہ واقعی ہوں و غیر مستعبد ہوں۔
اور صحیح بخاری میں حکم نجوم کے بیان میں ایک باب منعقد کر کے اس میں قتادہؒ سے نقل کیا۔ باب فی النجوم وقال قتادة ولقد زينا السماء الدنيا بمصابيح خلق هذه النجوم لثلث جعلها زينة للسماء و رجوما للشياطين وعلامات يهتدى بها فمن تاول فيها بغير ذلك اخطا واضاع نصيبه و تكلف مالا
علم له به (بخارى ج ۱ ص ۴۵۴) وفى رواية زرين عن قتادة...... تكلف ما لا يعنيه وما لا علم له به وما عجز عن علمه الانبياء والملائكة وعن الربيع مثله وزادو الله ما جعل الله فى نجم حيوة احد ولا رزقه ولا موته وانما يفترون على الله الكذب ويتعللون بالنجوم.
(مشكوة ص ۴۲۰ باب الكهانة فصل ۳)
وصله عبد بن حميد من طريق شيبان عنه به وزاد فى اخره وان ناساً جهلة بامر الله قد احدثوا فى هذه النجوم كهانة من غرس بنجم كذا كان كذا ومن سافر بنجم كذا كان كذا والعمری ما من النجوم نجم الا ويولد به الطويل والقصير والاحمر والابيض والحسن والدميم وما علم هذه النجوم وهذه الدابة وهذا الطائر شئ من هذا الغيب انتهى. وبهذه الزياده تظهر مناسبة ايراد المصنف ما اورده من تفسير الاشياء التى ذكرها من القرآن وان كان ذكر بعضها وقع استطرادا والله اعلم قال الداؤدى قول قتادة فى النجوم حسن الا قوله اخطأ واضاع نفسه فانه قصر فى ذلك بل قائل ذلك كافر انتهى ولم يتعين الكفر فى حق من قال ذلك وانما يكفر من نسب الاختراع اليها واما من جعلها علامة على حدوث امر فى الارض فلا.
(فتح البارى ص ۲۱۱ ج ۶ باب فى النجوم وقال قتادة الخ)
”یہ ستارے تین (فوائد) کے لیے پیدا کیے گئے ہیں (۱)...... خدا تعالیٰ نے ان کو آسمانوں کے لیے زینت بنایا ہے۔ (۲)...... ان سے شیاطین کو جو آسمانوں پر احکام سننے کو چڑھتے ہیں۔ مارا جاتا ہے۔ (۳)...... وہ علامات ہیں (جن کے سمت سے جنگلوں اور دریاؤں میں راستہ پہچانا جاتا ہے) پھر جو شخص ان ستاروں سے اور اغراض و فوائد کا ہونا بیان کرے تو وہ خطا کار ہے اور اپنا حصہ (فہم قرآن سے) ضائع کرتا ہے اور اس علم کے لیے تکلف کرتا ہے جس کا علم اس کے لیے ممکن نہیں۔ رزین کی روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ شخص اس امر کے جاننے کے لیے تکلف کرتا ہے جس کے جاننے سے انبیاء و ملائکہ بھی عاجز ہیں۔ ایسا ہی ربیع بن زیاد سے رزین نے نقل کیا ہے۔ اس نے اس پر یہ بھی بڑھایا ہے کہ بخدا خدا تعالیٰ نے کسی ستارہ کو نہ کسی کی زندگانی کا سبب بنایا ہے نہ موت کا نہ رزق کا نجومی جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ ستاروں کو علل (اسباب مؤثرہ بناتے ہیں۔ فتح الباری میں لکھا ہے کہ اس قول قتادہ کی سند عبد بن حمید نے بیان کی ہے اور اس کے آخر میں یہ بڑھا دیا ہے کہ خدا کے حکم یا شان سے جاہل لوگوں نے ستاروں میں یہ باتیں از خود نکالی ہیں کہ فلاں ستارہ کے وقت درخت لگا دے تو یہ ہوگا۔ فلاں ستارے کے وقت سفر کرے تو ایسا ہوگا اور ہر ایک ستارہ کی تاثیر سے کوئی دراز قامت پیدا ہوتا ہے کوئی پست قامت، کوئی سرخ کوئی سفید، کوئی خوبصورت کوئی بدصورت اور ستاروں اور چوپایوں اور جانوروں کے یہ علوم علم غیب سے نہیں ہے۔ داؤدی نے کہا ہے قتادہ کا یہ قول اچھا ہے۔ مگر اس اعتقاد و قول جاہلیت کو صرف خطا کہنا اس کی کوتاہی ہے ایسے اعتقاد والا شخص کافر ہے (صاحب فتح الباری کہتے ہیں) صرف اسی کہنے پر کفر کا حکم نہیں ہو سکتا کافر اسی کو کہا جاتا ہے جو ستاروں کو مخترع (یعنی موجد و موثر کہے) اور جو یہ سمجھے کہ یہ ستارے زمین میں خدا تعالیٰ کی قدرت و تاثیرات کے ظاہر ہونے کی علامات ہیں تو وہ کافر نہیں ہے۔“
اور یہ بات ظاہر ہے کہ پرانے فلسفی اور قادیانی ان کواکب کو صرف علامات نہیں سمجھتے بلکہ ان کو مؤثر جانتے ہیں اور ان کی تاثیرات کے قائل ہیں لہٰذا ان کا اعتقاد وہی اعتقاد ہے جس کو عبارات مذکورہ میں حقیقی کفر کہا گیا ہے۔
اور اگر کوئی کہے کہ مرزا قادیانی تو مدعی اسلام ہے وہ خدا تعالیٰ کو عالم کا خالق و موجد جانتا ہے ستاروں کا
خالق وموجد بھی خدا تعالیٰ ہی کو سمجھتا ہے۔ لہٰذا اس کا ستاروں کی تاثیر کا قائل ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ تاثیر ستاروں کو خدا تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے پھر ان کی تاثیر کا اعتقاد کفر کیونکر ہوا؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ پرانے فلسفی اور نجومی بھی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ستاروں کا خالق خدائے تعالیٰ ہے اور اسی نے ستاروں میں یہ تاثیرات پیدا کر دی ہیں ایسا کوئی فلسفی یا نجومی (بجز دہریہ کے) نہیں جو ستاروں کو خدا کی مخلوق نہ سمجھتا ہو یا ان کی تاثیر کو خدا کی مخلوق نہ جانتا ہو باایں ہمہ وہ اس تاثیر کے اعتقاد کے سبب کافر سمجھے گئے ہیں تو قادیانی کو کیونکر نہ سمجھا جائے۔
اس اعتقاد تاثیر کو باوجود اس اعتراف کے کہ وہ تاثیر خدا کی طرف سے ہے اور اس کی مخلوق ہے کفر ٹھہرانے کی عقلی وجہ اور اس کا سر یہ ہے کہ جو لوگ اس تاثیر کے قائل ہیں وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ تاثیر ستاروں کے لیے ایسی لازمی ہے کہ اس تاثیر کا ستاروں سے جدا ہونا محال ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس تاثیر کو پیدا تو کر دیا مگر وہ اب اس تاثیر کے معدوم کرنے پر قادر نہیں رہا اور اپنے مقررہ قانون کو وہ معزول بادشاہ کی مانند بدل نہیں سکتا اس امر کا فلاسفہ نہ صرف تاثیرات نجوم کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں بلکہ جملہ اسباب و مسببات عالم کی نسبت وہ یہی اعتقاد رکھتے ہیں اور اسباب ومسببات میں تلازم کو وہ واجب اور عدم تلازم کو محال جانتے ہیں اور اس کو قانونِ قدرت (یا انگریزی والے لاز آف نیچر) کہتے ہیں اور اس کی تبدیل اور تغیر سے خدا تعالیٰ کو عاجز و غیر قادر جانتے ہیں اور اس کے کفر ہونے میں اہل اسلام کو کیا شک ہے۔
اہل اسلام خدا تعالیٰ کو فاعل، بااختیار و متصرف و مدبر عالم جانتے ہیں اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ جو آثار اسباب عالم سے ظاہر ہوتے ہیں وہ خدا ہی کی تاثیر سے ہیں اور اسی کی قدرت و اختیار میں ہیں وہ چاہتا ہے تو ان سے ان آثار کا ظہور ہوتا ہے۔ اور اگر وہ چاہتا ہے تو ان سے ان آثار کا عکس ظاہر کرتا ہے۔ وہ پانی سے آگ کا کام لیتا ہے اور آگ سے پانی کا کام۔ الغرض اہلِ اسلام کے نزدیک موثر خدا تعالیٰ ہے اسباب عالم اس کی تاثیر کے ظہور کے محل ہیں۔
اس بیان سے ثابت ہوا کہ تاثیرات نجوم جس کے قرآن سے ثابت ہونے کا قادیانی مدعی ہے۔ قرآن سے ثابت نہیں بلکہ قرآن اور حدیث اور علمائے اسلام نے اس کو کفر قرار دیا ہے۔ کفر حقیقی ملت سے خارج کرنے والا ہو خواہ کفران نعمت اور اعتقاد تاثیر صرف فلاسفہ اور نجومیوں اور ہندوؤں کا مذہب ہے اور قادیانی اس اعتقاد میں انھیں کا پیرو اور مقلد ہے نہ پیرو اسلام۔ اور قادیانی کا حضرت جبریل و ملک الموت کے زمین پر آنے کو محال جاننا بھی اسی فلسفیوں اور نیچریوں کے اصول پر مبنی ہے جس کا کفر ہونا ابھی بیان ہوا ہے اور جبریل وغیرہ ملائکہ کے صور محسوسہ کو جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام دیکھتے ان کی خیالی صورت وعکسی تصویر قرار دینا بھی بعینہ نیچریوں کی تجویز ہے جو سرسید احمد خاں صاحب کی تفسیر میں بیان ہوئی علمائے اسلام کے نزدیک احادیث نزول و روئت جبریل میں یہ تاویل کرنا معانی نصوص میں تحریف کرنا ہے جو ملحدین باطنیہ کا شیوہ ہے۔
شرح عقائد نسفی ص ۱۶۶ مبحث النصوص (مکتبہ خیر کثیر کراچی) میں لکھا ہے۔ والنصوص من الكتاب والسنة تحمل على ظواهرها مالم يصرف عنها دليل قطعى والعدول عنها اى عن الظواهر الى معان يدعيها اهل الباطن وهم الملاحدة وسمو الباطنية لادعائهم ان النصوص ليست على ظواهرها بل لها معان باطنية لايعرفها الا المعلم وقصدهم بذالك نفى الشريعة بالكلية الحاد اى ميل وعدول عن الاسلام و اتصال واتصاف بالكفر لكونه تكذيباً للنبى عليه السلام فيما علم مجيئه به
بالضرورة واما ماذهب اليه بعض المحققين من ان النصوص مصروفة على ظواهرها ومع ذلک فيها اشارات خفيفة الى دقائق تنكشف على ارباب السلوک يمكن التطبيق بينها و بين الظواهر المرادة فهو من كمال الايمان و محض العرفان.
”قرآن و حدیث کے نصوص (یعنی صاف عبارتوں) سے ان کے ظاہری معانی مراد لیے جائیں گے جب تک کوئی قطعی دلیل ان معانی سے نہ پھیرے۔ اور ظاہری معانی سے ایسے معانی کی طرف عدول کرنا جس کے اہل باطن مدعی ہیں اسلام سے عدول کرنا اور ملحد بننا ہے۔ باطنیہ ملحد لوگ ہیں اس کو باطنیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ عبارات واضح قرآن کی نسبت یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے ظاہری معنی مراد نہیں بلکہ باطنی معنی مراد ہیں جن کو ان کا معلم سکھلاتا ہے۔ ان کا مقصود اس اصول سے یہ ہے کہ احکام شریعت باطل و بے کار ہو جائیں۔ اس امر کو کفر و الحاد اس لیے کہا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے احکام و ارشادات کے جو بطور ہدایت آنحضرت ﷺ سے ثابت ہیں تکذیب پائی جاتی ہے۔ ہاں جو بعض اہل تحقیق قائل ہیں کہ نصوص قرآن اور حدیث کے ظاہری معانی تو مراد ہیں ہی اور باوجود اس کے ان نصوص میں بعض مخفی اشارات بھی پائے جاتے ہیں اور وہ اہل سلوک پر کھلتے ہیں اور وہ معانی ظاہری معانی سے مطابق ہو سکتے ہیں سو وہ کمال ایمان اور عرفان کی بات ہے۔“
ایسا ہی شرح فقہ اکبر وغیرہ کتب عقائد میں ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قادیانی اور ان کے حواریوں کی تاویلات اس قسم سے نہیں ہیں کہ وہ معانی ظاہریہ کو بھی تسلیم کرتے ہوں اور مع ہٰذا اس کے اسرار و معانی لطیفہ بیان کرتے ہوں وہ تو معانی ظاہری کی نفی کرتے ہیں اور صاف کہہ چکے کہ نزول جبریل سے حقیقۃً نزول مراد نہیں ہے اور جبریل کا اپنے ہیڈ کوارٹر آفتاب سے جدا ہونا نظام شمسی میں فساد پیدا کرتا ہے اور ملک الموت کا بذات خود زمین پر آنا ناممکن ہے۔ و علیٰ ھذا القیاس انھیں اصول مسلمہ اہل اسلام کی شہادت سے قادیانی اور ان کے گروہ کی وہ تاویلات جو درباب نزولِ حضرت مسیح ؑ و معجزات مسیح و خروج دجال و یاجوج و ماجوج و لیلۃ القدر و وجود آدم وغیرہ میں وہ کرتے ہیں نصوص کی تحریف و الحاد ہے اور ان سب امور کو اہل اسلام انھیں معانی سے تسلیم کرتے ہیں جو ان کے ظاہری معانی ہیں۔
امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں۔ قال القاضی رحمہ الله تعالیٰ نزول عیسٰی علیہ السلام وقتله الدجال حق و صحیح عند اهل السنة للاحادیث الصحیحة فى ذلک ولیس فى العقل ولا فى الشرع مايبطله فوجب اثباته و انکر ذلک بعض المعتزلة والجهمية ومن وافقهم وزعموا ان هذه الاحادیث مردودة بقوله تعالیٰ و خاتم النبیین و بقوله ﷺ لانبى بعدى و باجماع المسلمين انه لانبى بعد نبینا ﷺ وان شریعته مؤبدة الى یوم القیمة لاتنسخ وهذا الاستدلال فاسد لانه ليس المراد بنزول عيسٰى عليه السلام انه ینزل نبیا بشرع ينسخ شرعنا ولا فى هذه الاحاديث ولا فى غیرها شئ من هذا بل صحت هذه الاحاديث هنا وما سبق فى كتاب الايمان و غیرها انه ینزل حكما مقسطا یحکم بشرعنا و یحیى من امور شرعنا ما هجره الناس انتهى.
(شرح نووی ص ۴۰۳ ج ۲ باب ذکر الدجال)
”حضرت عیسٰی ؑ کا نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا اہل سنت کے نزدیک حق اور صحیح ہے کیونکہ احادیث صحیحہ اس باب میں موجود ہیں اور عقل و شرع میں ایسی کوئی دلیل وارد نہیں ہے جو اس نزول کو باطل کرے۔ لہٰذا اس
کا ثابت رکھنا (یعنی تسلیم کرنا) واجب ہے۔ معتزلہ اور بعض جہمیہ اور ان کے ہم مشرب اس کے منکر ہیں ان کا یہ خیال ہے کہ وہ احادیث جن میں نزول مسیح کا ذکر ہے اس آیت کے مخالف ہیں جس میں آنحضرت ﷺ کو نبیوں کا خاتم کہا گیا ہے اور اس قول نبوی کے مخالف ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور مسلمانوں کے اس اجماع کے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور آپ ﷺ کی شریعت قیامت تک منسوخ نہ ہوگی مگر ان کا ان دلائل سے استدلال ایک فاسد استدلال ہے۔ کسی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے نبی ہو کر آئیں گے جو آنحضرت ﷺ کی شریعت کو منسوخ کریں گے۔ یہ بات نہ ان احادیث نزول میں ہے نہ اور کسی حدیث میں بلکہ کتاب الایمان میں گزر چکا ہے کہ وہ حاکم عادل ہو کر آئیں گے۔ ہماری ہی شریعت پر عمل کریں گے اور اس شریعت کے ان امور کو زندہ کریں گے جن کو لوگوں نے چھوڑ رکھا ہوگا۔‘‘
اور اس کے جلد اوّل میں لکھا ہے۔ فالصواب ما قدمناه وهو انه لا یقبلها ولا یقبل من الکفار الا الاسلام ومن بذل منهم الجزیة لم یکف عنه بها بل لا یقبل الا الاسلام فعلی هذا قد یقال هذا خلاف ما هو حکم الشرع الیوم فان الکتابی اذا بذل الجزیة وجب قبولها ولم یجز قتله ولا اکراهه علی الاسلام وجوابه ان هذا الحکم لیس مستمرا الی یوم القیمة بل هو مقید بما قبل نزول عیسیٰ علیه السلام و اخبر النبی ﷺ فی هذه الاحادیث الصحیحة بنسخه ولیس عیسیٰ علیه السلام هو الناسخ بل نبینا ﷺ هو المبین للنسخ فان عیسیٰ علیه السلام یحکم بشرعنا فدل علی ان الامتناع من قبول الجزیة فی ذلک الوقت هو شرع نبینا محمد ﷺ۔
(شرح مسلم نووی ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسیٰ بن مریم)
’’ٹھیک بات وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجز اسلام کچھ (جزیہ وغیرہ) قبول نہ کریں گے اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ ہماری آج کے دن کی شریعت کے مخالف ہے کیونکہ اس وقت کتابی سے جزیہ قبول کرنا واجب ہے اور اس کو قتل کرنا یا اسلام پر مجبور کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حکم قیامت تک نہیں رہے گا بلکہ وہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے پہلے زمانہ تک رہے گا۔ اس حکم کا بوقت نزول مسیح منسوخ ہو جانا آنحضرت ﷺ نے ان احادیث سے ظاہر کر دیا ہے تو اس حکم کے ناسخ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ ٹھہرے بلکہ آنحضرت ﷺ ناسخ ہوئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت اس حکم کے نسخ کے مبین ہوں گے وہ آنحضرت ﷺ کے اس حکم سے جزیہ موقوف کریں گے اس سے ثابت ہوا کہ اس وقت جزیہ نہ قبول کرنا آنحضرت ﷺ کے حکم سے ہوگا۔ نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حکم سے۔‘‘
اور اس کے جلد دوم میں فرمایا ہے۔ قال القاضی هذه الاحادیث التی ذکرها مسلم وغیره فی قصة الدجال حجة لمذهب اهل الحق فی صحة وجوده وانه شخص بعینه ابتلی الله به عباده و اقدره علی اشیاء من مقدورات الله تعالیٰ من احیاء الموتی الذی یقتله ومن ظهوره زهرة الدنیا والخصب معه و جنته و ناره ونهریه واتباع کنوز الارض له وامره السماء ان تمطر فتمطر والارض ان تنبت فتنبت فیقع کل ذلک بقدرة الله تعالیٰ و مشیته ثم یعجزه الله تعالیٰ بعد ذلک فلا یقدر علی قتل ذلک الرجل ولا غیره و یبطل امره و یقتله عیسیٰ علیه السلام و یثبت الله الذین آمنوا هذا مذهب اهل السنة وجمیع المحدثین والفقهاء والنظار خلافاً لمن انکره وابطل امره من الخوارج والجهمیة وبعض المعتزلة وخلافا للجبائی المعتزلی و موافقیه من الجهمیة وغیرهم فی
انه صحيح الوجود لكن الذى يدعى مخارف و خيالات لاحقائق لها وزعموا انه لو كان حقا لم يوق بمعجزات الانبياء صلوات الله وسلامه عليهم و هذا غلط من جميعهم لانه لم يدع النبوة فيكون مامعه كالتصديق له وانما يدعى الالهية وهم فى نفس دعواه مكذب لها بصورة حاله و وجود دلائل الحدوث فيه و نقص صورته و عجزه عن ازالة لعور الذى فى عينه وعن ازالة الشاهد بكفره المكتوب بين عينيه ولهذه الدلائل وغيرها لايغتر به الا رعاع من الناس لسد الحاجة والفاقة رغبة فى سد الرمق وتقية وخوفا من اذاه لان فتنته عظيمة جد اتدهش العقول و تحير الالباب مع سرعة مروره فى الارض ولا يمكث بحيث يتامل الضعفاء حاله و دلائل الحدوث فيه والنقص فيصدقه من يصدقه فى هذه الحالة ولهذا حذرت الانبياء صلوات الله وسلامه عليهم اجمعين من فتنته و نبهوا على نقصه و دلائل ابطاله واما اهل التوفيق فلا يغترون به و يخدعون بما معه لما ذكرناه من الدلائل المكذبة له مع ماسبق لهم من العلم بحاله ولهذا يقول له الذى يقتله ثم يحييه ما ازددت فيك الا بصيرة.
(نووی شرح مسلم ص ۳۹۹ جلد۲ باب ذکر الدجال)
”قاضی عیاض نے کہا ہے ان احادیث میں جن کو مسلم نے قصہ دجال میں ذکر کیا ہے اہل حق کے مذہب کی دلیل پائی جاتی ہے کہ دجال کا ہونا صحیح ہے اور وہ ایک ایسا شخص ہے جس کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ مسلمانوں کا امتحان کرے گا اور اس کو ایسی چیزوں پر قدرت دے گا جو خدا کی قدرت میں داخل ہیں جیسے مردہ کو (جس کو وہ مارے گا) زندہ کرنا اور دنیا کی زینت اور فراخی اور بہشت اور آگ اور نہروں کا اس کے ساتھ ہونا اور زمین کے خزانوں کا اس کے تابع ہونا اور اس کے کہنے سے آسمان سے مینہ برسنا اور زمین کا اگانا یہ سب کچھ خدا کی قدرت اور ارادہ سے ہوگا۔ پھر خدا تعالیٰ اس کو عاجز کردے گا تو وہ کسی کے مارنے پر قادر نہ ہوگا اور اس کا حال بگڑ جائے گا اور حضرت عیسیٰ ؑ اس کو قتل کریں گے اور خدا تعالیٰ ایمان لانے والوں کو اس امتحان میں ثابت قدم رکھے گا۔ یہی اہل سنت اور تمام محدثین وفقہاء اور اہل اجتہاد کا مذہب ہے۔ خوارج، بعض معتزلہ اور جبائی اور اس کے ہم خیال جہمیہ اس کے مخالف ہیں وہ اس کے ہونے کو تو مانتے ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ جو وہ کرے گا یا دکھائے گا وہ صرف خیالات ہوں گے ان کی حقیقت کوئی نہ ہوگی وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ امور واقعی ہوں تو پھر معجزات انبیاء کا اعتبار نہیں رہتا مگر یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ وہ یہ کرشمات دکھانے کے وقت نبوت کا دعویٰ نہ کرے گا تا کہ ان امور سے اس کے اس دعویٰ کی تصدیق ہو اور وہ معجزات انبیاء کے مشابہ ہو کر نبوت میں شبہ و شک ڈال سکیں بلکہ وہ ان خوارق کے وقت الوہیت کا دعویٰ جھوٹا کرے گا جو خود بخود باطل ہوگا اور دجال کا ظاہری اور اس کے مخلوق ہونے کے دلائل اور اس کی صورت کا عیب اور اس کا اس عیب کو دور کرنے سے اور اپنی پیشانی سے علامت کفر (لفظ کافر) کو مٹانے سے عاجز رہنا اس کو جھٹلائے گا۔
اس میں ان دلائل عجز و حدوث کے موجود ہونے کی وجہ سے اس کے خوارق سے کوئی دھوکا نہ کھائے گا بجز عامی لوگوں کے جو بھوک کے سبب یا اس کے ڈر کے مارے اس کو مان لیں گے کیونکہ اس کا فتنہ مدہوش و حیران کردے گا اور اس کا زمین پر جلدی سے پھر جانا ان کو اس کے حال کو سوچنے کا موقع نہ دے گا۔ اسی وجہ سے انبیاء نے اس کے فتنہ سے لوگوں کو ڈرایا ہے اور اس کے نقص و عجز پر آگاہ کر دیا اور جن لوگوں کو خدا تعالیٰ توفیق دے گا وہ اس سے دھوکہ نہ کھائیں گے اور جو خوارق اس سے صادر ہوں گے وہ ان سے اس کے فریب میں نہ آئیں گے
کیونکہ وہ اس کے کذب اور عجز کے دلائل جانتے ہوں گے اور وہ اس کے حال سے واقف ہوں گے۔ اسی وجہ سے جس شخص کو وہ قتل کر کے جلا دے گا وہ اس کو صاف کہے گا کہ تیرے اس فعل سے میرا یقین بڑھ گیا ہے۔“
اور ایسا ہی تمام کتب حدیث کے متون وشروح میں حضرت مسیح بن مریم ؑ کا نزول اور دجال و یاجوج و ماجوج کا خروج ظاہری معنی سے تسلیم و بیان کیا گیا ہے اور ان امور کو ایسا یقینی سمجھا گیا ہے کہ ان کو اہل سنت کے اعتقادات میں داخل کیا گیا ہے۔
حضرت امام الائمہ امام اعظم علیہ الرحمتہ نے فقہ اکبر میں اور ملا علی قاریؒ نے اس کی شرح میں فرمایا ہے۔ وخروج الدجال وياجوج وماجوج كما قال تعالى حتى اذا فتحت ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون. وطلوع الشمس من مغربها كما قال تعالى يوم يأتى بعض آيات ربك لاينفع نفسا ايمانها لم تكن آمنت من قبل او كسبت فى ايمانها خيرا....... ونزول عيسى من السماء قال الله تعالى انه لعلم للساعة وقال و ان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته اى قبل موت عيسى عليه السلام بعد نزوله عند قيام الساعة فيصير الملل واحدة وهى ملة الاسلام الحنيفية وفى نسخة قدم طلوع الشمس على البقية و على كل تقديره قالوا او المطلق الجميعة والافترتيب القضية ان المهدى يظهر اولا فى الحرمين الشريفين ثم يأتى بيت المقدس فياتى الدجال و يحصره فى ذالك الحال فينزل عيسى عليه السلام من المنارة الشرقية فى دمشق الشام و يجئ الى قتال الدجال فيقتله بضربة فى الحال فانه يذوب كالملح فى الماء عند نزول عيسى عليه السلام من السماء فيجتمع عليه السلام بالمهدى وقد اقيمت الصلوة فيشير المهدى لعيسى عليه السلام بالتقدم فيمتنع معللا بان هذه الصلوة اقيمت لك فانت اولى بان تكون الامام فى هذا المقام و يقتدى به ليظهر متابعة لنبينا ﷺ كما اشار الى هذا المعنى ﷺ بقوله لو كان موسى حيا لما وسعه الا اتباعى و قد بينت وجه ذلك عند قوله تعالى واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتب و حكمة ثم جاء كم رسول الاية. فى شرح الشفاء وغيره وقد ورد انه يبقى فى الارض اربعين سنة ثم يموت و يصلى عليه المسلمون و يدفنون على مارواه الطيالسى فى مسنده،وروى غيره انه يدفن بين النبى ﷺ والصديق وروى انه يدفن بعد الشيخين فهنيئا للشيخين حيث اكتنفا بالنبيين وفى رواية انه يمكث سبع سنين قيل وهى الاصح والمراد باربعين فى الرواية الاولى مدة مكثه و بعده فانه رفع وله ثلث وثلثون سنة....... حق كاين اى ثابت و امر قديم.
(شرح فقہ اکبر ص ۱۴۶، ۱۴۷)
”دجال اور یاجوج و ماجوج کا نکلنا جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے کہ وہ ہر بلندی سے دوڑیں گے اور آفتاب کا جانب مغرب سے طلوع کرنا جس کا اس آیت میں ذکر ہے کہ جس وقت خدا کی بعض نشانیاں آئیں گی اس دن کسی کو جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہوگا اس کا ایمان نفع نہ دے گا اور حضرت عیسیٰ کا آسمان سے نازل ہونا چنانچہ قرآن میں ارشاد ہے کہ وہ (یعنی حضرت عیسیٰ ؑ) قیامت کی ایک نشانی یا اس کے علم و شناخت کی دلیل ہیں اور ارشاد ہے کہ اہل کتاب سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو حضرت عیسیٰ ؑ پر ان کی موت سے پہلے یعنی قیامت کے قریب ایمان نہ لائے گا اور اس وقت سبھی دین اور ملت ایک دین (اسلام) ہو جائے گا۔ یہ سب امور حق اور ثابت ہیں۔ فقہ اکبر کے بعض نسخوں میں آفتاب کے مغرب سے نکلنے کا ذکر باقی امور سے پہلے ہوا ہے۔ اس
صورت میں واؤ حرف عطف مطلق جمعیت کے لیے ہوا اور ترتیب امور مذکورہ کی اس طرح پر ہوگی کہ اوّل امام مہدی حرمین میں ظاہر ہوں گے۔ پھر وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔ اس وقت دجال آئے گا اور اس کا محاصرہ کر لے گا۔ پھر عیسیٰ ؑ دمشق کے مشرقی منارہ کے پاس آسمان سے اتریں گے اور دجال کے قتل کی طرف متوجہ ہو کر ایک ہی وار سے اس کو مار ڈالیں گے۔ وہ ان کے اترنے کے وقت نمک کی طرح پگھلنے لگے گا (مگر اس کی جان انھیں کے ہاتھ سے نکلے گی) پھر حضرت عیسیٰ اور مہدی ایک جگہ جمع ہوں گے اور نماز کے لیے تکبیر ہوگی تو حضرت مہدی حضرت عیسیٰ کی طرف نماز پڑھانے کے لیے اشارہ کریں گے وہ اس سے انکار کریں گے یہ کہہ کر کہ آپ ہی کی امامت کے لیے یہ تکبیر ہوئی ہے۔ لہٰذا آپ ہی اس کے مستحق ہیں اور آپ ان کے مقتدی بن جائیں گے تاکہ معلوم ہو کہ وہ آنحضرت ﷺ کے تابعین میں سے ہیں۔ چنانچہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا کہ اگر حضرت موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری پیروی سے چارہ نہ ہوتا۔ اس کی وجہ اس قولِ خداوندی کی شرح میں بیان ہوئی ہے جس میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے یہ عہد لیا تھا کہ تمھارے پاس میرا رسول (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ) آئے تو تم پر اس کا ماننا اور مدد کرنا ضروری ہوگا۔ شفا کی شرح وغیرہ میں مذکور ہے کہ حضرت مسیح زمین میں چالیس برس رہیں گے اور پھر فوت ہوں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور ان کو دفن کریں گے۔ یہ ابوداؤد طیالسی کی مسند میں روایت ہے اوروں کی روایت میں ہے کہ آپ آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک اور حضرت صدیق اکبرؓ کی قبر کے بیچ میں دفن کیے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ شیخین (صدیق اکبرؓ اور فاروقؓ) کی قبر کے بعد دفن کیے جائیں گے۔ اس صورت میں شیخین کے لیے مژدہ ہے کہ شیخین دو نبیوں (آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح ؑ) کے بیچ میں مدفون ہوں گے۔ بعض کا قول ہے کہ وہ زمین میں سات سال رہیں گے اور یہی صحیح ترین اقوال سے ہے اور چالیس سال ٹھہرنے کی روایت سے بھی یہی مراد ہے کہ وہ بعد نزول سات برس رہیں گے کیونکہ ازاں جملہ تینتیس برس انھوں نے آسمان پر جانے سے پہلے دنیا میں بسر کیے اور جب وہ اٹھائے گئے تھے تو ان کی تینتیس سال کی عمر تھی۔“
اور شرح عقائد نسفی میں ہے۔ وما اخبر بہ النبی علیہ السلام من اشراط الساعۃ ای من علاماتھا من خروج الدجال و دابۃ الارض ویاجوج وماجوج ونزول عیسیٰ من السماء وطلوع الشمس من مغربھا فھو حق لانھا امور ممکنۃ اخبربھا الصادق قال حذیفۃ بن اسید الغفاریؓ طلع النبی ﷺ علینا و نحن نتذاکر فقال ماتذکرون قلنا نذکر الساعۃ قال انھا لن تقوم حتی تروا قبلھا عشر ایات فذکر الدخان والدجال والدابۃ و طلوع الشمس من مغربھا و نزول عیسیٰ بن مریم و خروج یاجوج و ماجوج و ثلثۃ خسوف الخ.
(شرح عقائد ص ۱۷۳، مکتبہ خیر کثیر کراچی)
”آنحضرت ﷺ نے جو علامات قیامت (یعنی اس سے پہلے آنے والی چیزوں) کی خبر دی ہے یعنی دجال اور یاجوج و ماجوج کا نکلنا اور حضرت عیسیٰ ؑ کا آسمان سے نازل ہونا اور آفتاب کا مغرب سے طلوع کرنا (وغیرہ وغیرہ) وہ حق (واقع ہونے والے) ہیں کیونکہ یہ ایسے امور ہیں جو ممکن الوقوع ہیں اور مخبر صادق (آنحضرت ﷺ) نے ان کے وقوع کی خبر دی ہے۔ حذیفہ بن اسید غفاریؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ایک دن تشریف لائے تو ہم کچھ مذاکرہ کر رہے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم کیا ذکر کر رہے ہو ہم نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت نہ ہوگی جب تک تم دس نشان اس سے پہلے نہ دیکھ لوگے۔
پھر آپ ﷺ نے دخان، دجال، دابۃ الارض، طلوع آفتاب از جانب مغرب، نزول حضرت مسیح، خروج یاجوج و ماجوج اور زمین کا خسوف اور یمن سے نکلنے والی آگ کا ذکر فرمایا۔‘‘
یہ حدیث حذیفہ بن اسیدؓ کی جس کا شرح عقائد میں حوالہ دیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم ج۲ ص ۳۹۳) میں مروی ہے اور صحاح میں ایسی بہت سی احادیث موجود ہیں جن میں قادیانی اور اس کے حواریوں کی تاویلات مذکورہ کی گنجائش ہی نہیں ہے۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عنوان سے ایک باب منعقد کرکے اس میں ایک حدیث نقل کی ہے جس کا یہ مضمون ہے۔ قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلا فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ و یفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرا من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابوھریرۃ واقرؤا ان شئتم وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَکُوْنُ عَلَيْهِمْ شَھِيْدًا. (بخاری ج ۱ ص ۴۹۰ واللفظ لہ، مسلم ج ۱ ص ۸۷)
”عنقریب حضرت ابن مریم حاکم عادل اتریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ موقوف کریں گے۔ وغیرہ وغیرہ اس حدیث کے آخر میں راوی حدیث ابوہریرہؓ کا یہ قول منقول ہے کہ چاہو تو (اس حدیث کی تصدیق کے لیے) یہ آیت پڑھ لو جس میں ارشاد ہے کہ اہل کتاب سے ایسا کوئی نہ ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے۔‘‘
اور اس میں بالاتفاق اہل اسلام و گروہ مسیحائی میرزائی (بہ) کے ضمیر سے حضرت عیسیٰ مراد ہیں اگرچہ (موتہ) کے ضمیر سے مراد میں اختلاف ہے۔ اس سے بلا نزاع و بے اختلاف ثابت ہے کہ اس حدیث میں راوی ابوہریرہؓ اور اس کے مخرجین امام بخاریؒ و مسلمؒ کے نزدیک حضرت عیسیٰ ابن مریم ہی کا نزول مراد ہے نہ کسی اور نام کے عیسیٰ یا مثالی مسیح کا۔
امام نووی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں۔ قولہ ثم یقول ابوھریرۃؓ اقرؤا ان شئتم وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ففیہ دلالۃ ظاھرۃ علی ان مذھب ابی ھریرۃؓ فی الایۃ ان الضمیر فی موتہ یعود علی عیسیٰ علیہ السلام .
(شرح مسلم نووی ص ۸۷ ج ۱)
”ابوہریرہؓ کے اس قول سے کہ چاہو تو یہ قول خداوندی پڑھ لو۔ وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ صاف سمجھا جاتا ہے کہ ابوہریرہؓ کا اس آیت میں یہی مذہب تھا کہ اس میں لفظ موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔‘‘
اور صحیح مسلم کی مشہور حدیث دمشقی میں جس آنے والے مسیح کا ذکر ہے اس کے نام کے ساتھ جا بجا نبی اللہ کا لفظ وارد ہے ایک جگہ پر فیحصر نبی اللہ ایک جگہ ثم یھبط نبی اللہ دو جگہ ہے فیرغب نبی اللہ چنانچہ ارشاد ہے۔ یحصر نبی اللہ عیسیٰ علیہ السلام و اصحابہ حتی یکون راس الثور لاحدھم خیرا من مائۃ دینار لاحدکم الیوم فیرغب نبی اللہ عیسیٰ واصحابہ فیرسل اللہ علیھم النغف فی رقابھم. فیصبحون فرسی کموت نفس واحدۃ ثم یھبط نبی اللہ عیسیٰ علیہ السلام و اصحابہ الی الارض فلا یجدون فی الارض موضع شبرا لاملأہ زھمھم و نتنھم فیرغب نبی اللہ عیسیٰ علیہ السلام و اصحابہ.
(صحیح مسلم ج۲ ص ۴۰۱، ۴۰۲ باب ذکر الدجال)
”خدا کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھ والے (یاجوج ماجوج) کے محاصرہ میں آجائیں گے اس وقت گائے کی سری (کھانے کے لیے) سو دینار سے ان کو بہتر معلوم ہوگی۔ پھر خدا کے نبی عیسیٰ اور آپ کے ساتھ والے خدا کی جناب میں رغبت (دعا) کریں گے تو خدا تعالیٰ یاجوج ماجوج کی گردنوں میں پھوڑا پیدا کر دے گا پھر وہ سب کے سب ایسے مر جائیں گے جیسے ایک جان مرتی ہے۔ پھر خدا کے نبی عیسیٰ پہاڑ سے اتر آئیں گے اور اپنے ساتھ والوں کو بلائیں گے تو زمین پر بالشت بھر ایسی جگہ نہ پائیں گے جو ان کی نعشوں اور بدبوؤں سے بھری نہ ہوگی۔ پھر خدا کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھ والے خدا سے دعا مانگیں گے۔“
یہ الفاظ بھی صاف شاہد و ناطق ہیں کہ جس مسیح کے نزول کا اس حدیث میں ذکر ہے وہ اللہ کا نبی ہوگا نہ کوئی اور نام کا عیسیٰ یا مثالی مسیح۔
اور سنن ابوداؤد میں آنے والے مسیح کا ذکر ہوا ہے تو اس میں بھی آنے والے مسیح کو پہلے نبی کہا ہے پھر اس کے نزول کا ذکر فرمایا ہے چنانچہ ابوہریرہؓ سے روایت ہے۔ عن ابی هریرة عن النبی ﷺ انه قال لیس بینی و بینه نبی یعنی عیسیٰ علیه السلام وانه نازل.
(ابوداؤد ج ۲ ص ۱۳۵ باب خروج الدجال)
”آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھ میں اور اس میں (یعنی عیسیٰ علیہ السلام میں) کوئی نبی نہ ہوگا اور وہ اترنے والے ہیں۔“
اس سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا مسیح نبی ہے نہ کوئی نام کا یا مثالی مسیح۔
اس قسم کی روایات ۱؎ کتب حدیث میں اور بہت ہیں جن میں گروہ قادیانی کی سابق تاویلات کا دخل نہیں ہے۔ ہاں ان احادیث کو آپ برملا موضوع قرار دیں یا اس میں یہ نئی تاویل کریں کہ آنے والے مسیح کو جو نبی کہا گیا ہے تو اس سے قادیانی نبی مراد ہے کیونکہ وہ محدث ہے اور محدث بھی ایک قسم کا نبی ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس نبی سے محدث مراد ہوتا تو آنحضرت ﷺ اس کی نفی نہ کرتے اور نہ فرماتے کہ میرے اور اس کے مابین کوئی نبی نہیں کیونکہ محدث تو آنحضرت ﷺ اور آنے والے مسیح کے درمیان بہت ہو چکے ہیں۔
لیلۃ القدر اور سجود آدم کے ظاہری معانی پر محمول ہونے میں جو اقوال علمائے اسلام ہیں ان کی نقل کی اس مقام میں ضرورت نہیں ہے وہ تمام لوگوں میں معروف و مشہور ہیں۔
اس بیان سے ثابت ہوا کہ ان احادیث نزول حضرت مسیح علیہ السلام و خروج دجال و یاجوج و ماجوج میں قادیانی اور اس کے اتباع کی تاویل ملحدانہ تحریف ہے اور تمام اہل اسلام میں جو ان احادیث کو صحیح مانتے ہیں ان کے وہی معنی مراد ہونا مسلم ہے جو ظاہر الفاظ سے مفہوم ہوتے ہیں۔ قادیانی نے جو اس تاویل و تحریف کو تجدید دین و مغز شریعت قرار دیا ہے۔ یہ اس کے الحاد پر ایک اور دلیل ہے تجدید دین یہ نہیں ہے کہ عقائد و مسائل اسلام کے ایسے معانی کیے جائیں جو نہ صحابہؓ کے خیال میں آئے ہوں نہ تابعینؒ کے اور نہ ظاہر الفاظ نصوص سے سمجھ میں آتے ہوں اور نہ قرونِ ثلثہ ۲؎ میں تسلیم کیے گئے ہوں۔ ایسے معانی کا بیان تو احداث کہلاتا ہے بلکہ تجدید کے معنی یہ ہیں کہ جو اصول و مسائل (عقائد و اعمال) ادلّہ شرعیہ سے ثابت ہوں اور قرونِ ثلثہ میں تسلیم کیے گئے ہوں مگر لوگوں کی غفلت یا ناواقفی سے متروک و مہجور ہو گئے ہوں ان کو ازسرنو زندہ کر کے رواج دیا جائے اس پر دلیل یہ ہے کہ تجدید دین کا
۱؎ ابن ماجہ ص ۲۹۹ باب فتنۃ الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم میں ایک حدیث ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہلے تجھے دنیا میں بھیجوں گا۔ پھر میں اتروں گا اور دجال کو قتل کروں گا۔
۲؎ یعنی زمانہ صحابہ کرامؓ، عہد تابعینؒ اور عہد تبع تابعینؒ (ع۔ ح)
حکم وارد ہے اور احداث سے ممانعت آچکی ہے ان دونوں کو باہم متوافق کرنے سے صاف ثابت ہے کہ تجدید دین اسی صورت سے مطلوب شارع ہے جس میں احداث نہ پایا جائے۔ اور قادیانی کا یہ کہنا کہ تجدید دین ظاہری علوم سے نہیں ہو سکتی یہ اس کے الحاد پر ایک اور دلیل ہے تجدید احیاء و ترویج اصول و مسائل اسلام کا نام ہے، تو ظاہری علوم اسلام اور علوم مسائل اسلامیہ کے بغیر ممکن نہیں ہے الحادات اور باطنیہ خیالات کی اشاعت تجدید ہوتی تو وہ ظاہری علوم کے بغیر بھی ممکن تھی۔
قادیانی اور اس کے اتباع نے جو آنے والے مسیح کی بعض ایسی صفات بیان کی ہیں جو ان کے زعم میں حضرت مسیح ؑ میں نہیں پائی جاتیں صرف قادیانی میں پائی جاتی ہیں۔ ان کے بیان میں انھوں نے کذب و تدلیس سے خوب کام لیا ہے اور اس سے اپنا دجال ہونا ثابت کر دکھایا ہے۔ آنے والے مسیح کی نسبت یہ کہیں بیان نہ ہوا تھا کہ وہ فارسی الاصل ہوگا اور نہ یہ ثابت ہے کہ مغل لوگ (جن میں قادیانی صاحب ہیں) فارسی الاصل ہیں۔ ایسا ہی کسی حدیث میں یہ تصریح نہیں ہے کہ آنے والا مسیح صرف ایک مسلمان امتی ہوگا اور نبی نہ ہوگا یہ بات صرف قادیانی اور اس کے حواریوں کی من گھڑت ہے جس کو انھوں نے آنحضرت ﷺ پر ایک سوال و جواب وضع کر کے اس سے نکالا ہے۔ جس کا بیان صورت مسئولہ میں کافی ہو چکا ہے۔
آنحضرت ﷺ نے تو متعدد حدیثوں میں آنے والے مسیح کو نبی قرار دیا ہے جیسے منقول ہوا۔ آنے والے مسیح کے بالوں کا سیدھا ہونا اور رنگ کا گندم گوں ہونا جو انھوں نے بیان کیا ہے یہ حضرت مسیح بن مریم میں پایا جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے مسیح بن مریم کا بھی حلیہ بیان کیا ہے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ وارانى اللیل عند الكعبة فى المنام فاذا رجل ادم كاحسن ماترى من ادم الرجال تضرب لمته بين منكبيه رجل الشعر يقطر راسه ماء واضعاً يديه على منكبی رجلين وهو يطوف بالبيت فقلت من هذا فقالوا هذا المسيح بن مریم.
(صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۸۹ باب واذکر فی الکتاب مریم)
”میں نے (خواب میں) ایک خوبصورت شخص گندم رنگ سیدھے بال والے کو دیکھا تو پوچھا کہ یہ کون ہے تو جواب ملا کہ یہ مسیح بن مریم ہے۔“
ہاں مجاہد کی حدیث میں حضرت ابن عمرؓ سے یہ بھی بخاری (ایضاً) میں ہے۔ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو سرخ رنگ و جعد دیکھا۔ اس حدیث کی دستاویز سے قادیانی اور اس کے حواریوں نے یہ افتراء کیا ہے کہ عیسیٰ یا مسیح بن مریم دو ہیں ایک حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل جن کو سرخ اور جعد کہا گیا ہے دوسرا آنے والا عیسیٰ یا مسیح بن مریم جس کو گندم رنگ اور سیدھے بالوں والا کہا گیا ہے اور وہ آپ (قادیانی) ہیں۔ مگر یہ نہ سوچا کہ یہ لفظی اختلاف یوں رفع ہو سکتا ہے اور علمائے اسلام نے رفع کر دیا ہے کہ درحقیقت حضرت عیسیٰ گندم رنگ و سیدھے بال والے تھے۔ ایک روایت میں جو ان کو سرخ رنگ اور جعد کہا گیا ہے تو اس سے یہ مراد ہے کہ ان کا گندمی رنگ مائل بہ سرخی تھا اور جعودت آپ کے جسم میں تھی نہ بالوں میں۔
حافظ ابن حجر نے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں فرمایا ہے کہ سالم کی روایت میں ہے۔ ووقع فی رواية سالم الأتية فى نعت عيسى انه ادم سبط الشعر وفى الحديث الذى قبل فى انه عيسى انه جعد و الجعد ضده السبط فيمكن ان يجمع بينهما بانه سبط الشعر و وصفه بالجعودة فى جسمه
لا فى شعره والمراد بذلك اجتماعه و اكتنازه وهذا الاختلاف نظير الاختلاف فى كونه ادم او احمر والاحمر عند العرب الشديد البياض مع الحمرة والادم الاسمر ويمكن الجمع بين الوصفين بانه احمر لونه بسبب كالتعب وهو فى الاصل السمر وقد وافق ابو هريرة على ان عيسى احمر.
(فتح الباری ج ۶ ص ۳۵۰ باب واذکر فی الکتاب مریم)
’’آنحضرت ﷺ نے حضرت مسیح کو سیدھے بال والا کہا ہے اور اس سے پہلی حدیث میں آیا ہے کہ وہ جعد تھے جو اس کی ضد ہے مگر ان دونوں روایتوں میں یوں موافقت ہو سکتی ہے کہ آپ کے بال تو سیدھے تھے مگر جعد ہونے کا جو ذکر ہے تو اس سے یہ مراد ہے کہ آپ کا بدن جعد یعنی کسا ہوا اور مضبوط تھا یہ اختلاف ایسا ہے جیسا کہ آپ کی رنگت کی نسبت اختلاف ہوا ہے وہ گندم رنگ تھے یا سرخ رنگ جس سے یہ مراد ہو سکتی ہے وہ تھے تو گندم رنگ مگر کسی سبب سے وہ رنگ سرخ ہو گیا تھا۔‘‘
عبدالرحمٰن بن آدم کی روایت میں ہے۔ وفى رواية عبدالرحمن بن ادم عن ابى هريرة فى نعت عيسى انه مربوع الى الحمرة والبياض.
(فتح الباری ص ۳۵۰ ج ۶ باب واذکر فی الکتاب مریم)
’’ان کے رنگ میں سرخی و سپیدی دونوں موجود تھیں۔‘‘
کرمانی نے شرح بخاری میں کہا ہے۔ ويجوز ان يأول ويجمع بينهما بانه ليس احمر صرافا بل هو مائل الى الادمة.
(حاشیہ بخاری ج ۱ ص ۴۸۹ حاشیہ نمبر ۱۳)
’’حضرت عیسیٰ کو سرخ و گندم رنگ کہنا یوں جمع ہو سکتا ہے کہ وہ صرف سرخ نہ تھے بلکہ سرخ رنگ مائل بگندم گونی تھے۔‘‘
اس اختلاف کی نظیر حضرت موسیٰ کی نعت میں دو متضاد صفتوں جسیم اور خفیف کا ورود ہے جس کو باہم یوں متوافق کیا گیا ہے۔ لامانع ان يكون مع كونه خفيف اللحم جسيما بالنسبة لطوله ولو كان غير طويل لاجتمع لحمه وكان جسيما.
(فتح الباری ص ۳۵۰ جلد ۶ باب ایضاً)
’’وہ بلحاظ طول قامت جسیم تھے وہ چھوٹے قد کے ہوتے تو بھاری معلوم ہوتے۔‘‘
اس اختلاف سے کوئی یہ نہیں نکالتا کہ حضرت موسیٰ دو تھے ایک جسیم دوسرے خفیف۔
اس کی دوسری نظیر خود آنحضرت ﷺ کی نعت و حلیہ میں یہ اختلاف لفظی ہے کہ ایک حدیث میں آپ ﷺ کو ابیض (گورے رنگ والا) کہا گیا ہے۔ چنانچہ بخاری میں آنحضرت ﷺ کی نعت میں ابوطالب کا شعر منقول ہے جس میں آپ ﷺ کو ابیض کہا گیا ہے۔
ثمال اليتامى عصمة للارامل
(بخاری ص ۱۳۷ ج ۱ باب سوال الناس الامام الاستسقاء اذا قحطوا)
اور شمائل ترمذی میں ہے۔ كان رسول الله ﷺ ابيض كانما صيغ من فضة.
(شمائل ص ۲)
كان رسول الله ﷺ ربعة...... اسمر اللون.
(شمائل ترمذی ص ۱)
كان رسول الله ﷺ مربوعا.
(شمائل ترمذی ص ۳)
لم يكن بالجعد القطط ولا بالسبط كان جعدا رجلا.
(شمائل ترمذی ص ۱)
کہ آپ ایسے گورے تھے کہ گویا چاندی سے بنائے گئے اور دوسری روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ
گندم رنگ تھے۔ چنانچہ شمائل ترمذی میں موجود ہے۔ اس اختلاف کو یوں ہی متوافق کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ سفید رنگ تھے مگر مائل بسرخی جس سے گندم گونی پیدا ہو گئی تھی۔ چنانچہ اور روایت میں صرح آ چکا ہے۔ ایسا ہی آپ ﷺ کے بالوں کو سیدھا بھی کہا گیا ہے۔ چنانچہ شمائل میں ہے اور یہ بھی آیا ہے کہ آپ سیدھے بال والے نہ تھے جس کو یوں ہی باہم متوافق کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے بال نہ بہت سیدھے تھے اور نہ بہت گھونگھر والے بلکہ ایسے سیدھے تھے کہ ان میں کسی قدر شکن پڑتی تھی۔ مگر اس اختلاف رنگ اور موئے نبوی سے بھی کسی نے یہ نہیں نکالا کہ جناب رسول اللہ ﷺ دو تھے۔ ایک گورے رنگ کے دوسرے گندمی رنگ یا ایک سیدھے بال والے دوسرے کسی قدر شکن دار بال والے۔ پس اس قسم کے لفظی اختلاف سے حضرت مسیح کیونکر دو مسیح ہو سکتے ہیں؟ قادیانی نے بڑا غضب ڈھایا ہے کہ حضرت مسیح کے حلیہ کے لفظی اختلاف کے سبب ایک مسیح کو دو مسیح (ایک سرخ رنگ گھونگھر والے بال کا دوسرا گندم گون سیدھے بال والا) بنا دیا اور یہ بھی نہ سوچا کہ صرف گندم گوں ہونے سے کوئی شخص مسیح نہیں ہو جاتا جہاں تک کہ بقیہ صفات مسیح اس میں نہ ہوں۔ گندم گون ہزاروں مسلمان بلکہ مذاہب غیر کے اشخاص موجود ہیں پھر کیا وہ صرف رنگت سے مسیح ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
اتباع قادیانی سے کوئی شخص منصف و طالب حق ہو تو صرف اس ایک مغالطہ کی نظر سے اس کو دجال سمجھے اور اس کے اتباع سے دست بردار ہو جائے۔
اور قادیانی کی تجویز ”پاک تثلیث“ نصف عیسائیت ہے۔ عیسائی لوگ باپ بیٹے اور روح القدس کے مجموعہ کو تثلیث قرار دیتے ہیں۔ قادیانی صاحب خدا کی محبت (باپ) اور بندۂ محبوب کی محبت (ماں) اور ان دونوں سے متولد روح القدس کے مجموعہ کو تثلیث قرار دیتے ہیں۔ لوگوں کو عیسائی بنانے میں صرف ایک آنچ کی کسر رہ گئی ہے کہ اس تثلیث کے ساتھ توحید کو بھی ملا دیں اور ان تینوں کو ایک خدا کہہ دیں جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں۔ یہ بات آپ اس وقت نہیں کہتے تو آئندہ سال کہیں گے اور لوگوں کو پورا عیسائی بنائیں گے۔ آپ کا یہ ارادہ نہ ہوتا تو حرف تثلیث آپ کی تحریر میں نہ آتا اور نہ اس کو پاک کہا جاتا۔
قادیانی کا بطور استعارہ ابن اللہ کہلانے کو تجویز کرنا پوری عیسائیت ہے۔ نحن ابناء الله و احباءه (المائدہ ۱۸) بائبل سے ثابت ہے کہ عیسائیوں نے بھی استعارہ کے طور پر خدا کے پیارے و مطیع بندوں کو ابن اللہ کہا ہے اور قرآن میں ان کے اس قول کی حکایت کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ نیز اسی کی طرف مشعر ہے مگر یہی استعارہ ان لوگوں کے مشرک ہو جانے اور مخلوق کو حقیقۃً خدا کا بیٹا قرار دینے کا موجب ہوا تو قرآن و اسلام آیا اور اس محاورہ کو اٹھایا اور بیٹے بیٹی کی نسبت سے (استعارہ کے طور پر کیوں نہ ہو) خدا تعالیٰ کی پاکی کا اظہار فرمایا۔ اب قادیانی صاحب پھر اس محاورہ کو مسلمانوں میں قائم کرنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی فکر میں ہیں۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ.
اور قادیانی کا محدث ہونے کا دعویٰ کرنا اور اس ذریعہ سے ایک قسم کا نبی کہلانا اور ختم نبوت کو نبوت کلی و تشریعی سے مخصوص کرنا اور نبوت جزئی کے دروازہ کو مفتوح کہنا ان نصوص قرآن و حدیث سے انکار ہے جو مطلق نبوت کو ختم کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی آیت وخاتم النبیین اپنے اطلاق و عموم کے ساتھ آنحضرت ﷺ پر مطلق نبوت کو ختم کرتی اور صاف بتاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایسا کوئی شخص نہ ہوگا جس پر لفظ نبی کا اطلاق ہو سکے اور آنحضرت ﷺ نے اپنے اس کلام کے اطلاق و عموم کے ساتھ بھی مطلق نبوت کو ختم کیا ہے اور خصوصیت کے
ساتھ محدثین سابقین اور محدث امت محمدیہ حضرت عمر فاروقؓ کا نبی نہ ہونا ظاہر فرما دیا ہے۔
ایک حدیث میں آپ نے فرمایا ہے چنانچہ صحیح بخاری میں آیا ہے۔ عن النبی ﷺ قال کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی و سیکون خلفاء۔
(بخاری ج ۱ ص ۴۹۱ باب ماذکر عن بنی اسرائیل)
”بنی اسرائیل کی سرداری انبیاء کرتے جب کوئی نبی ان میں فوت ہو جاتا تو اس کا جانشین بھی دوسرا نبی ہوتا مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا صرف خلفاء ہوں گے۔“
ابوداؤد کی حدیث میں آپ ﷺ سے منقول ہے کہ میری امت میں تیس شخص ایسے جھوٹے ہوں گے جو نبوّت کا دعویٰ کریں گے حالانکہ میں نبیوں کا خاتم ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ہاں میری امت میں ایک جماعت حق پر قائم رہے گی جن کو ان کا مخالف ضرر نہ پہنچائے گا۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلٰثُوْنَ کُلُّهُمْ یَزْعُمُ اَنَّهُ نَبِیٌّ وَّ اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔
(ابوداؤد ج ۲ ص ۱۲۷ کتاب ذکر الفتن و دلائلها)
ان ارشادات نبویہ کے جملہ لانبی بعدی میں لفظ نبی نکرہ ہے جو نفی لا کے نیچے داخل ہے اور وہ مفید عموم و استغراق ہے اور یہ بتاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایسا کوئی نہ ہوگا جس پر لفظ نبی بولا جا سکے۔ اب خصوصیت کے ساتھ محدث کا نبی نہ ہونا آپ ﷺ کے کلام سے ثابت کیا جاتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں آیا ہے۔ قال النبی ﷺ لقد کان فیما کان قبلکم من الامم ناس محدثون فان یک فی امتی احد فانہ عمرؓ۔ قال النبی ﷺ قد کان فیمن قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء فان یک فی امتی منہم احد فعمر قال ابن عباس من نبی ولا محدث۔
(بخاری ج ۱ ص ۵۲۱ باب مناقب عمر بن الخطابؓ)
”تم سے پہلے امتوں میں محدث ہوتے تھے۔ اس امت میں محدث ہے تو وہ عمر فاروقؓ ہے۔ یہ بھی آپ سے ان کتابوں میں منقول ہے کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوتے تھے جو نبی نہ ہوتے اور وہ خدا سے یا ملائکہ سے ہم کلام (مخاطب) ہوتے۔ میری امت میں ایسا کوئی ہے تو عمرؓ ہے۔“
ابن عباسؓ کی روایت میں آیت وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ میں لفظ نبی کے بعد یہ لفظ وَلَا مُحَدَّثٍ بھی پڑھا گیا ہے اور صحیح مسلم میں لفظ محدث کی تفسیر ملہم سے ہوئی ہے۔
یہ اقوالِ نبوی صاف وصریح ناطق ہیں کہ پہلی امتوں کے محدث باوجودیکہ وہ خدا تعالیٰ یا ملائکہ کے ہم کلام ومخاطب ہوتے تھے نبی نہ کہلاتے تھے۔ اب خاص محدث امت محمدیہ حضرت فاروق ؓ کا نبی نہ ہونا آپ کے کلام سے ثابت کیا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے چنانچہ ترمذی کی روایت میں آیا ہے۔ لو کان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطاب (ترمذی ج ۲ ص ۲۰۹ باب مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب) میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت فاروق ؓ ہوتے۔ جس سے ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ نبی نہیں تھے اور اس لفظ کا اطلاق ان پر نہیں ہو سکتا باوجودیکہ حدیث مذکورہ بالا میں ان کا محدث ہونا بیان ہو چکا ہے اور جبکہ آیۃ قرآن کی عموم و اطلاق سے اور ارشادات نبویہ کی عموم وخصوص دونوں سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں جس پر لفظ نبی کا اطلاق ہو سکے اور محدثین سابقین اور اس امت کے تسلیم شدہ محدث نبی نہ کہلا سکے اور قرآن و حدیث نے اس امر کا قطعی فیصلہ کر دیا ہے۔ تو پھر قادیانی کا یہ دعویٰ کرنا کہ محدث ایک قسم کا نبی ہوتا ہے۔ و بناءً علیہ وہ خود ایک قسم کا
یہی ہے ان نصوص صریحہ کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟ قادیانی کا ختم نبوت کو نبوت تشریعی اور کلی سے مخصوص کرنا اور اپنے آپ کو محدث قرار دے کر اپنے لیے جزئی نبوت اور ایک نوع نبوت کو تجویز کرنا اور ایک قسم کا نبی کہلانا صاف مشعر ہے کہ وہ اپنے آپ کو انبیائے بنی اسرائیل کی مانند (جو نئی شریعت نہ لاتے بلکہ پیروی شریعت سابق کی کرتے اور نبی کہلاتے) نبی سمجھتا ہے۔ یہی امر اس کے قصیدۃ الہامیہ کے اشعار ذیل سے جو ازالہ میں منقول ہیں سمجھ میں آتا ہے ؎
گر بشنوم نگویمش آں را کجا برم
(ازالہ ص ۱۶۲ خزائن ج ۳ ص ۱۸۱)
پیغام اوست چوں نفس روح پرورم
(ازالہ ص ۱۶۶ خزائن ج ۳ ص ۱۸۲)
ہاں ملہم ہستم و ز خداوند منذرم
(ازالہ ص ۱۷۸ خزائن ج ۳ ص ۱۸۵)
یہ ابیات صاف پکار رہے ہیں کہ آپ نبی ہیں، صاحب وحی ہیں، منذر ہیں، پیغمبر ہیں سب کچھ ہیں صرف کسر ہے تو اتنی ہے کہ آپ کوئی نئی کتاب نہیں لائے بلکہ انبیاء بنی اسرائیل کی طرح پہلی کتاب کے تابع ہیں اور اس میں عموم و خصوص نصوص قرآنیہ و نبویہ مذکورہ بالا سے صاف انکار ہے اور یہ دعویٰ نبوت و تکذیب نصوص قادیانی کے دجال و کذاب ہونے پر بڑی روشن و قوی دلیل ہے۔
ایسے ہی کاذب مدعی نبوت کو آنحضرت ﷺ نے دجال فرمایا ہے۔ چنانچہ حدیث مذکور ابی داؤد میں صاف تصریح ہے اور صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ابو ہریرہؓ سے منقول ہے لاتقوم الساعۃ حتی یبعث دجالون کذابون قریباً ۱ من ثلثین کلہم یزعم انہ رسولہ اللہ. (بخاری ج ۱ ص ۵۰۹ باب علامات النبوۃ فی الاسلام، مسلم ج ۲ ص ۳۹۷ کتاب الفتن واشراط الساعۃ)
۱ ؎ ہر چند ان ابیات میں آپ نے رسول ہونے کی نفی کی ہے۔ مگر سر ورق ازالہ اوہام پر اپنے حق میں لفظ مرسل یزدانی لکھوا کر چھپوا دیا ہے۔ جس سے صاف ثابت ہے کہ درحقیقت آپ کو رسالت کا بھی دعویٰ ہے اور ان ابیات کی نفی صرف دھوکا دہی ہے۔ اسپر ایک روشن اور قطعی دلیل یہ ہے کہ آپ نے ازالہ میں اپنا رسول مبشر بزبان حضرت مسیح ہونا آپ نے بزعم خود قرآن سے ثابت کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے ”اس سلسلہ کا خاتم باعتبار نسبت تامہ وہ مسیح عیسیٰ بن مریم ہے جو اس امت کے لوگوں میں سے بحکم ربی مسیحی صفات سے رنگین ہو گیا ہے اور فرمان جعلناک المسیح ابن مریم نے اس کو درحقیقت وہی بنا دیا ہے وکان اللہ علی کل شیء قدیر اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے۔ وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔ اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے۔ ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد. مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد (خود بدولت) جو اپنے اندر حقیقت عیسوی رکھتا ہے بھیجا گیا ہے۔“ (ازالہ ص ۶۷۳ خزائن ج ۳ ص ۴۶۳) اور جس فرمان کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ ازالہ میں آپ نے بیان کیا اور فرمایا ہے۔ ”اس عاجز کا نام مسیح بن مریم رکھ دیا اور اپنے الہام میں فرما دیا۔ جعلناک المسیح ابن مریم.“ (ازالہ ص ۶۷۴ خزائن ج ۳ ص ۴۰۹) یہ عبارت صاف ناطق ہے کہ آپ اپنے آپ کو شہادت قرآن رسول سمجھتے ہیں۔ پھر اس بیت میں اپنی رسالت سے انکار مسلمانوں کو دھوکہ دینے اور الزام دعویٰ رسالت سے بچنے کے سوا کیا معنی رکھتا ہے؟
”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ تقریباً تیس دجال کذاب پیدا نہ ہوں گے جو دعویٰ کریں گے کہ ہم اللہ کے رسول ہیں۔“
صحیح مسلم میں یہ بھی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ قال رسول اللہ ﷺ يكون فی اخر الزمان دجالون كذابون ياتونكم من الاحاديث بما لم تسمعوا انتم ولا أباء كم فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم.
(مسلم ص ۱۰ ج ۱ باب النهى عن الرواية عن الضعفاء الاحتياط فى تحملها)
”آخر زمانہ میں ایسے دجال کذاب پیدا ہوں گے جو تم کو ایسی باتیں سنائیں گے جن کو تم نے نہ سنا ہوگا اور نہ تمھارے باپوں نے۔ ان سے بچتے رہنا وہ تم کو گمراہ نہ کردیں اور کسی بلا میں نہ ڈال دیں۔“
امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا ہے۔ قال ثعلب كل كذاب فهو دجال و قيل الدجال المموه يقال دجال فلان اذا موہ ودجل الحق بباطلہ اذا غطاہ.
(شرح مسلم ص ۱۰ جلد ۱ باب ایضاً)
”ثعلب نے کہا جو جھوٹا ہو وہ دجال ہے۔ بعض نے کہا دجال وہ ہے جو باطل پر حق کا ملمع چڑھائے یا حق کو باطل سے ڈھانک دے۔“
فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے۔ قد ظهر مصداق ذلك فى آخر زمن النبي ﷺ فخرج مسيلمة باليمامة واسود العنسي باليمن ثم خرج فى خلافة ابي بكر طليحة بن خويلد فى بنى اسد بن خزيمة وسجاح التميمية فى بنى تميم...... وقتل الاسود قبل ان يموت النبي ﷺ وقتل المسيلمة فى خلافة ابی بکر. وتاب طليحة ومات على الاسلام على الصحيح فى خلافة عمر و نقل ان السجاح ايضاً تابت واخبار هؤلاء مشهورة عند الاخباريين ثم كان اول من خرج منهم المختار بن ابی عبيد الثقفى غلب على الكوفة فى اول خلافة بن زبير. فاظهر محبت اهل البيت ودعا الناس الى طلب قتلة الحسين فتبعهم فقتل كثير ممن باشر ذلک او اعان عليه فاحبه الناس ثم انه زين له الشيطان ان ادعى النبوة و زعم ان جبرائيل ياتيه. فروی ابوداؤد الطيالسي باسناد صحيح عن رفاعة بن شداد قال كنت ابطن شئ بالمختار فدخلت عليه يوما فقال دخلت وقد قام جبرئيل قبل من هذا الکرسی. وروى يعقوب بن سفيان باسناد حسن عن الشعبي ان الاحنف بن قيس اراه کتاب المختار اليه يذكر انه نبى وروى ابوداؤد. فى السنن من طريق ابراهيم النخعی قال قلت لعبيدة بن عمرو اترى المختار منهم قال اما انه من الرؤس وقتل المختار سنة بضع وستين و منهم الحارث الكذاب خرج فى خلافة عبدالملک بن مروان فقتل و خرج فى خلافة بنى العباس جماعة.
(فتح الباری ج ۶ ص ۴۵۴، ۴۵۵ باب علامة النبوة فى الاسلام)
”اس حدیث کا صدق آنحضرت ﷺ ہی کے آخر زمانہ میں ظاہر ہو چکا ہے۔ یمامہ میں مسیلمہ کذاب ایسا نکلا۔ یمن میں اسود عنسی۔ پھر حضرت ابوبکرؓ کی خلافت میں طلیحہ اور سجاح نکلے۔ اسود تو آنحضرت ﷺ کی رحلت سے پہلے مارا گیا اور مسیلمہ خلافت ابوبکرؓ میں اور طلیحہ تائب ہوا اور اسلام کی حالت میں مرا اور سجاح بھی تائب ہوئی۔ ان کے حالات اہل تاریخ جانتے ہیں۔ ان سب کے بعد پھر مختار بن عبید نکلا۔ اس نے ابن زبیر کی شروع خلافت میں کوفہ پر غلبہ پایا۔ سو پہلے تو اس نے محبت اہل بیت کا اظہار کیا اور اس کی طرف لوگوں کو بلایا پھر یہ دعویٰ کیا کہ میرے پاس جبرائیل آتے ہیں۔ چنانچہ ابو داؤد طیالسی نے رفاعہ سے نقل کیا ہے کہ میں ایک دن مختار کے
پاس گیا تو وہ بولا کہ ابھی اس کرسی سے جبرائیل اٹھ کر گئے ہیں۔ یعقوب بن سفیان نے شعبی سے نقل کیا ہے کہ احنف ابن قیس نے ان کو مختار کا ایک خط دکھایا جس میں اس نے اپنی نبوت کا ذکر کیا تھا۔ ابوداؤد نے سنن میں عبیدہ بن عمرو سے نقل کیا ہے کہ مختار ان مدعیان نبوت کا سردار تھا۔ یہ مختار ۶۰ ھ میں مارا گیا اور من جملہ ان کے حارث کذاب ہے جو خلافت عبدالملک بن مروان میں نکلا اور مارا گیا۔‘‘
غلام احمد قادیانی کا یہ بھی حال سنا گیا ہے کہ وہ اپنے مریدوں میں بیٹھ کر دعویٰ کیا کرتا ہے کہ جبریل میرے سامنے کھڑے ١؎ رہیں جو کچھ مجھ سے کہتے ہیں میں وہی لوگوں کو سناتا ہوں۔
اس الزام کے جواب میں شاید قادیانی یا اس کے حواری یہ دو عذر پیش کریں۔ اوّل! یہ کہ ہر چند اِنہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اس نبوت کا دوسرا نام محدثیت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی نبوت کے دعوے سے محدثیت کا دعویٰ مراد ہے نہ حقیقۃً اور معنیً نبی ہونے کا دعویٰ، پس اس پر زیادہ سے زیادہ الزام قائم ہوتا ہے تو یہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنے حق میں لفظ نبی کا اطلاق کیا اور اس میں الفاظ نصوص مذکورہ کا خلاف کیا نہ یہ الزام کہ وہ حقیقۃً نبوت کا مدعی ہے۔
عذر دوم! یہ کہ ان احادیث میں ان لوگوں کو دجال و کذاب کہا گیا ہے جو نبوت انبیاء کے مقابلہ میں نبوت کا دعویٰ کریں اور مستقل نبی کہلاویں جیسے مسیلمہ کذاب اور اسود وغیرہ سے وقوع میں آیا ہے اور قادیانی تو نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں کرتے بلکہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کے ساتھ دعویٰ نبوت کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ ان احادیث کے مصداق نہیں ہو سکتے اور نہ دجال کذاب کہلانے کے مستحق ہیں۔ ان دونوں عذر سے پہلے عذر کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ قادیانی نے یہ بات کہہ دی ہے کہ جس نبوت کا اس کو دعویٰ ہے اس کا دروازہ قیامت تک کھلا رہے گا۔ اس کا دوسرا نام محدثیت ہے اور اسی محدثیت کے معنی سے نبوت کا وہ مدعی ہے مگر ساتھ اس کے اس نے محدثیت کے معنی ایسے بیان کیے ہیں اور اس کی حقیقت کی ایسی تشریح کر دی ہے کہ اس سے بجز نبوت اور کچھ مراد نہیں ہو سکتا۔
اس کی عبارت توضیح مرام میں منقول ہے صاف تصریح ہے کہ محدث جزئی طور پر ایک نبی ہی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر کھولے جاتے ہیں اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔ الخ قال ان النبی محدث والمحدث نبی باعتبار حصول نوع من انواع النبوة۔‘‘ (توضیح مرام ص ۱۸، ۱۹ خزائن ج ۳ ص ۶۰، ۶۱) جس سے صاف اور قطعی طور پر ثابت ہے کہ مرزا کے نزدیک محدث کے وہی معنی اور اس کی وہی حقیقت ہے جو نبی کے معنی اور حقیقت ہے اور محدث اور نبی آپ کے نزدیک صدق و تحقق میں مساوی ہیں۔ یا نبی عام ہے اور محدث ایک نوع خاص اور اس سے یقینی نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ نے صرف لفظی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور اس میں صرف لفظی غلطی کا ارتکاب نہیں فرمایا بلکہ آپ حقیقتاً نبوت کو اپنی ذات شریف میں متحقق سمجھتے ہیں اور حقیقۃً اور معنیً نبی ہونے کے مدعی ہیں اور عبارت منقولہ سابقہ میں آپ کا مرسل رسول کہلانا بھی اس کا مؤید ہے۔
١؎ جبرائیل کے سامنے کھڑے ہونے سے آپ کی مراد یہ ہے کہ جبرائیل کی علمی تصویر کھڑی ہے نہ ذات جبرائیل کیونکہ آنحضرت ﷺ پر نزول جبرائیل سے وہ عکسی تصویر مراد لیتے ہیں یا شاید اپنے تئیں جبرائیل کا بذات خود آنا جائز رکھتے ہوں مگر یہ آپ کے اس اصول کے برخلاف ہے کہ جبرائیل اپنے ہیڈکوارٹر سے جدا نہیں ہوتے۔
دوسرے عذر کا جواب یہ ہے کہ نبوت جس کے مدعی کو آنحضرت ﷺ نے دجال کہا ہے نبوت مستقلہ سے مخصوص نہیں یہ تخصیص نہ احادیث مذکورہ میں وارد ہے اور نہ اور کہیں اس کا وجود ہے۔ اور اطلاق نصوص مذکورہ سے صاف ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت غیر مستقلہ کا مدعی بھی ویسا ہی دجال و کذاب ہے جیسا کہ مدعی نبوت مستقلہ اور ابوداؤد کی حدیث مذکورہ اپنے سیاق وصراحت سے بتا رہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایسے نبی بھی نہ ہوں گے جیسے بنی اسرائیل میں ہوتے تھے جو نئی شریعت لاتے بلکہ پچھلی شریعت کی پیروی کرتے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ایسے ہی نبیوں کو ذکر فرما کر اپنے بعد نبی آنے کی نفی کی ہے۔
اس حدیث کا سیاق اور احادیث سابقہ کا اطلاق صاف بتا رہا ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے اور نبی کہلائے گو دعوائے استقلال نبوت نہ کرے، بلکہ پیروی خاتم النبیین ﷺ کا مدعی ہو وہ دجال و کذاب ہے اور احادیث مذکورہ کا مصداق۔ قادیانی صاحب ان احادیث کے اطلاق و سیاق میں بلا دلیل تخصیص کریں گے اور نبی غیر مستقل کہلا کر ان احادیث کے مضمون سے اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار دیں گے تو یہ ان کے دجال ہونے پر ایک اور دلیل قائم ہوگی۔
علاوہ بریں قادیانی کا یہ دعویٰ اتباع آنحضرت ﷺ اور عدم استقلال دعویٰ رسالت بھی چند روز تک ہی معلوم ہوتا ہے۔ جب آپ کا یہ دعویٰ نبوت تتبعی غیر استقلالی آپ کے مریدوں میں بلا خلاف مانا گیا تو دعویٰ نبوت مستقلہ بھی آپ سے بعید نہیں ہے۔ جیسا کہ مختار سے وقوع میں آیا تھا۔ چنانچہ فتح الباری کی عبارت میں گزرا اور ایسا ہی دجال موعود سے وقوع میں آئے گا۔ چنانچہ طبرانی کی روایت میں ہے۔ واما الذی یدعیه فانه یخرج اولاً فیدعی الایمان والصلاح ثم یدعی النبوة ثم یدعی الالهیة کما اخرج الطبرانی من طریق سلیمان ابن شهاب قال نزل علی عبدالله ابن المعتم و كان صحابياً فحدثنی عن النبی ﷺ انه قال الدجال ليس فيه خفاء یحیی من قبل المشرق فیدعوا الی الدین فیتبع ویظهر فلا یزال حتی یقدم الكوفة فيظهر الدين والعمل به فیتبع ويحث على ذلك ثم يدعى انه نبى فيفزع من ذلك كل ذى لب و يفارقه فيمكث بعد ذلك فيقول انا الله فتغشى عينه و تقطع اذنه و يكتب بين عينيه كافر.
(فتح الباری ج ۱۳ ص ۷۹ باب ذکر الدجال)
”دجال پہلے لوگوں کو دین اسلام کی طرف بلائے گا جب لوگ اس کے اس دعوے کے سبب پیرو ہو جائیں گے اور کوفہ وغیرہ میں اس کا تسلط اور تغلب ہو جائے گا تو وہ پھر دعوائے نبوت کرے گا جس سے عقلمند لوگ گھبرائیں گے اور اس سے جدا ہوں گے پھر وہ دعوائے خدائی کرے گا اس وقت اس کی آنکھ پر جھلی پیدا ہوگی یعنی وہ کانا ہوگا اور اس کی پیشانی پر لفظ کافر لکھا جائے گا۔“
ایسا ہی قادیانی سے ڈر لگتا ہے کہ اب تو اس کو دعوائے نبوت تتبعی ہے۔ پھر دعوائے نبوت مستقلہ ہوگا۔ پھر دعوائے الوہیت، یہ گمان آپ کے حق میں بلا برہان نہیں ہے۔ آپ کے سابق حالات اس گمان پر روشن دلائل ہیں۔
زمانہ تالیف براہین احمدیہ میں آپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جو پیشین گوئی غلبہ دین اسلام حضرت مسیح ؑ کے حق میں وارد ہے۔ حضرت مسیح اس کے ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں اور ہم (خود بدولت) روحانی اور معقولی طور پر اس کے مصداق ہیں اور فرمایا کہ ”جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا اس پیشین گوئی میں وعدہ کیا گیا ہے وہ غلبہ حضرت مسیح ؑ کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب آپ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تب
آپ کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع اقطار عالم میں پھیل جائے گا۔“
(دیکھو براہین احمدیہ ص ۴۹۸ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳)
یہ بات آپ کی مسلمانوں میں مانی گئی تو آپ اب یہ فرما رہے ہیں کہ مسیح گئے گزرے اور مر گئے۔ اب وہ دنیا میں نہیں آ سکتے اور جو پیشینگوئیاں مسیح کے حق میں وارد ہیں وہ سر بسر آپ کے حق میں ہیں اور آپ ہی ان کے مصداق ہیں۔ پس اگر ایسا ہی چند روز کے بعد دعوائے نبوت مستقلہ بلکہ الوہیت کاملہ آپ سے ظہور پائے تو کون سے تعجب کا محل ہے۔
اس دعوائے نبوت مستقلہ کرنے کا زمانہ آئندہ میں آپ کی نسبت کوئی گمان نہ کرے تو وہی نبوت تبعی اور جزئی (جس کے اب آپ بر ملا مدعی ہیں ) آپ کے دجال ہونے کے لیے کافی دلیل ہے۔ نصوص مذکورہ صاف فیصلہ کرتے ہیں کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد دعوائے نبوت کرے (محدث ہی کیوں نہ کہلاتا ہو ) وہ دجال و کذاب ہے۔
اس میں بھی کسی کو اشتباہ رہے تو اس کی فہمائش کے لیے صحیح مسلم کی دوسری حدیث اس کے دجال ہونے پر کافی دلیل ہے۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے صحابہؓ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ جو شخص ان کو ایسی باتیں (یعنی دین کے متعلق ) سنا دے جو ان کے بزرگوں سے نہ پہنچی ہوں تو وہ دجال ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قادیانی اصول دین اور مسائل اعتقادیہ میں ایسی باتیں کہتا اور قرآن و حدیث کے ایسے معنی بیان کرتا ہے جو آنحضرت ﷺ کے اصحاب کبار کے خواب میں بھی نہ آئے تھے اور نبوت ختم شدہ کو نبوت کلی اور تشریعی سے مخصوص کرنا اور نبوت جزئی و غیر تشریعی کو اپنے لیے تجویز کرنا اسی قسم سے ہے پھر اس کے دجال و کذاب ہونے میں کیا شک ہے۔
قادیانی نے جو اپنے عقیدہ کفریہ بدعیہ پر حدیث مبشرات سے استدلال کیا ہے وہ اس کے عقیدہ کا مثبت نہیں ہو سکتا بلکہ اس کی بے علمی و نافہمی پر ایک روشن دلیل ہے۔ اس حدیث میں مبشرات یعنی مؤمنوں کے سچے خوابوں کو نبوت کا ایک جزء ۱؎ قرار دیا ہے نہ ایک نوع نبوت یا جزئی نبوت اور یہ ظاہر ہے اور ادنیٰ اہل علم کو معلوم ہے کہ جزء اور ہے جزئی اور، کسی چیز کی جزء پر اس کے کل کا حقیقۃً اطلاق نہیں ہو سکتا اور جزئی پر کلی کا اطلاق حقیقۃً ہوتا ہے۔ جزئی میں کلی کا پورا تحقق ہوتا ہے۔ ایسا ہی نوع میں جنس مع فصل پوری پائی جاتی ہے بلکہ خارج اور نفس الامر میں جزئی ہی موجود اور اپنی کلیات کا کل ہوتی ہے اور کلیات اس کے اجزاء ہوتے ہیں اور یہ امور جزء میں پائے نہیں جاتے نہ ان میں کل کا پورا تحقق ہوتا ہے۔ نہ وہ کل کا کل ہوتی ہے لہذا کوئی عقلمند جزء کو جزئی یا کلی کا ایک نوع نہیں کہہ سکتا۔ مثلاً حقیقت انسان کی جزء حیوان کو کوئی شخص انسان نہیں کہہ سکتا اور نہ اس کو جزئی انسان یا ایک نوع انسان قرار دے سکتا ہے (۲)..... کوئی شخص صرف شکر یا سرکہ کو سکنجبین نہیں کہہ سکتا اور نہ ان اجزاء کو سکنجبین کا ایک قسم قرار دے سکتا ہے۔ قادیانی نے اپنی بے علمی اور نافہمی سے اس بات کو نہیں سمجھا اور جزء نبوت کو نوع نبوت اور نبوت جزئی قرار دیا ہے اور انکار نصوص ختم نبوت کا ارتکاب کیا۔ ریاست بھوپال کا ملازم محمد احسن امروہی جو قادیانی کو علوم و حقائق کا دریائے ناپیدا کنار سمجھتا اور اپنے رسالہ اعلام میں اس کے حق میں لکھ چکا ہے۔ ولا ینتہی بحرہ الذی لاساحل لہ وہ اس بات کو غور سے سمجھے اور اب بھی اس کو بے علم سمجھ کر اس کے
۱؎ چنانچہ بخاری ج ۲ ص ۱۰۳۵ الرؤیا الصالحۃ کی حدیث مرفوع میں آیا ہے کہ مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ نبیوں کے خواب وحی ہیں یعنی وحی نبوت کا ایک نوع ۔ آنحضرت ﷺ کا یہ فرق کرنا اور مؤمنوں کے خواب کو جزء نبوت اور نبیوں کے خواب کو وحی (یعنی نوع وحی نبوت ) قرار دینا صاف مشعر ہے کہ مؤمنوں کے خواب نبوت نہیں ہیں بلکہ وہ جزء نبوت ہیں۔ قادیانیو! سمجھو! سمجھ نہ ہو تو کسی اہل علم سے دریافت کرو۔
اتباع سے ہاتھ اٹھائے ورنہ تھوڑے دنوں کے بعد وہ سخت پچھتائے گا اور آخر اس کی اتباع سے دست بردار ہو جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ
اور قادیانی کا حضرت عیسیٰ مسیح کا سولی پر چڑھایا جانا تجویز کرنا نص قرآن وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ سے انکار ہے اور اس میں آپ نے نیچریوں کی تقلید کی ہے جو عیسائیوں کے مقلد ہیں۔ تفسیر نیچری ۱؎ نکالو اور اس امر کی تصدیق کرلو۔
ایسا ہی قادیانی کا حضرت مسیح کے معجزات سے بتاویل انکار کرنا قرآن کا انکار کرنا ہے اور ان کی تاویلات میں نیچریوں کا اتباع ہے۔ اس بات میں قادیانی کا قانون قدرت سے استشہاد کرنا بھی اسی اعتقاد نیچریت کو ظاہر کرنا ہے۔ انسان کا تجربہ اور مشاہدہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا قانون نہیں ہو سکتا اور اس کی قدرت انسان کے تجربہ و مشاہدہ میں محدود نہیں ہو سکتی۔ اس بات کا قادیانی خود پہلے مقرر ہو چکا ہے اور اپنی کتاب میں اپنے تجربہ کو قانون قدرت خداوندی قرار دینے کو کفر و بے ادبی و بے ایمانی کہہ چکا ہے۔“
(سرمہ چشم آریہ ص ۷، خزائن ج ۲ ص ۶۵)
اور قادیانی کا بعض احادیث صحیحین کو موضوع کہنا بدعت و ضلالت ہے اور ان تمام اہل اسلام کے مخالف جو احادیث صحیحین کو مانتے ہیں۔ حجۃ اللہ بالغہ میں ہے۔ اَمَّا الصحيحان فقد اتفق المحدثون على ان جميع مافيها من المتصل المرفوع صحيح بالقطع و انهما متواتران الى مصنفيهما و انه كل من يهون امرهما فهو مبتدع يتبع غير سبيل المؤمنين.
(حجۃ اللہ البالغہ ج ۱ ص ۱۳۴ باب طبقات کتب الحدیث)
”صحیحین کی مرفوع و متصل حدیثوں کے صحیح ہونے اور ان کتب کے مؤلفوں تک بتواتر پہنچ جانے پر محدثوں کا اتفاق ہو چکا ہے اور اس امر پر ان کا اتفاق ہے کہ جو شخص ان کی شان کی توہین کرے وہ بدعتی ہے۔ مؤمنوں کی راہ کے مخالف راہ کا پیرو۔“
اور قادیانی کا کشف کے ذریعہ سے حدیث صحیح بخاری کو موضوع قرار دینا اور بھی گمراہی ہے۔ غیر نبی کا کشف و الہام حجت شرعی نہیں ہے چنانچہ (شرح عقائد نسفی میں ص ۲۲) ہے۔ والالهام المفسر بالقاء معنى فى القلب بطريق الفيض ليس من اسباب المعرفة بصحة الشئ عند اهل الحق.
”الہام جس کی تفسیر یہ ہے کسی کے دل میں بطور فیض کچھ القاء ہو۔ اہل حق (یعنی اہل سنت) کے نزدیک حقیقت اشیاء کے علم و معرفت کا وسیلہ نہیں ہے۔“
ایسا ہی تلویح وغیرہ کتب اصول میں ہے تو پھر وہ ایک حجت شرعی (یعنی حدیث صحیح) کا مبطل کیونکر ہو سکتا ہے۔ وہ خود اپنی صحت و قبولیت میں توافق قرآن و حدیث کا محتاج ہے۔
اور قادیانی کا حدیث کو مفسر قرآن نہ ماننا ضلالت اور اہل بدعت کی علامت ہے۔ اہل سنت میں مسلم ہے کہ حدیث قرآن کی تفسیر ہے اور اس کے اجمال کی مبین۔
(سنن دارمی ج ۱ ص ۱۴۴ میں باب السنۃ ۲؎ قاضیۃ علی کتاب اللہ) عقد کیا ہے اور اس میں ایک حدیث مرفوع نقل کی ہے۔ پھر بعینہٖ یہ قول امام یحییٰ ابن کثیر سے نقل کیا ہے اور (دارمی ج ۱ ص ۱۴۹ باب التورع عن الجواب فیما لیس
۱؎ سرسید احمد خان کی تفسیر جو خود کو نیچر کا متبع کہتے تھے جس کی وجہ ان کو نیچری کہا جاتا تھا۔ ۲؎ یعنی حدیث قرآن مجید کی مختلف وجوہات کا فیصلہ کرنے والی ہے۔
فی کتاب السنۃ) میں حضرت عمرؓ سے نقل کیا ہے۔ عن عمر ابن الخطابؓ قال انہ سیأتی ناس یجادلونکم بشبھات القرآن فخذوھم بالسنن فان اصحاب السنن اعلم بکتاب اللّٰہ۔
”لوگ قرآن کی متشابہ آیات یعنی جن کی کئی وجوہ سے تفسیر ہو سکتی ہو تمھارے سامنے پیش کریں گے۔ تم ان کو احادیث نبویہ سے پکڑنا کیونکہ قرآن کو بہتر جاننے والے اہل حدیث ہیں۔“
اور امام شعرانی نے میزان میں کہا ہے۔ اجتمعت الامۃ علی ان السنۃ قاضیۃ علی کتاب اللّٰہ۔
”امت محمدیہ کا اس پر اتفاق ہے۔ سنت کتاب اللّٰہ کی وجوہ مختلف کا فیصلہ کرنے والی ہے۔“
اور قادیانی کا اپنے اتباع کو مدار نجات ٹھہرانا اور اس سے انکار کو موجب ہلاکت کہنا بھی سخت گمراہی ہے اور اس میں بھی اس کا اپنے حق میں در پردہ نبوت کا دعویٰ ہے کیونکہ یہ دعویٰ صرف انبیاء علیہم السلام کو پہنچتا ہے جو سوء خاتمہ سے مامون ہیں۔ دوسروں کو ولی کیوں نہ ہوں اپنی نجات و حسن خاتمہ کا یقین نہیں ہے تو وہ دوسروں کو نجات کا یقین کیونکر دلا سکتے ہیں؟
صحیح بخاری میں اکابر صحابہؓ سے مروی ہے کہ وہ اپنے اوپر نفاق کا ڈر رکھتے تھے چنانچہ ابن ابی ملیکہؒ سے روایت ہے۔ قال ابن ابی ملیکۃ ادرکت ثلثین من اصحاب النبیﷺ کلھم یخاف النفاق علی نفسہ۔
(صحیح بخاری ج ۱ ص ۱۳ باب خوف المؤمن ان یحبط عملہ)
”انھوں نے کہا میں نے تیس اصحاب نبوی کو پایا یعنی دیکھا وہ سب کے سب اپنے حق میں نفاق کا ڈر رکھتے تھے۔“
اور مشکوٰۃ میں حضرت عثمانؓ سے مروی ہے کہ آپ مقبرہ میں جاتے تو اتنا روتے کہ آپ کی ڈاڑھی تر ہو جاتی۔ اسی نظر سے علمائے اسلام نے کہا ہے کہ ایمان بین الرجاء والخوف چاہیے۔ شرح عقائد میں ہے۔ ”والامن من اللّٰہ تعالیٰ کفر لانہ لا یأمن مکر اللّٰہ الا القوم الخاسرون۔“
(شرح عقائد ص ۱۶۹ مکتبہ خیر کثیر)
”خدا کے مواخذہ سے بے خوف ہو جانا کفر ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے۔ خدا تعالیٰ سے وہی لوگ بے ڈر ہوتے ہیں جو خسارہ میں ہیں۔“
اور اس میں ہے۔ لا یبلغ الولی درجۃ الانبیاء لان الانبیاء معصومون مامونون من سوء الخاتمۃ۔
(شرح عقائد ص ۱۶۴)
”ولی انبیاء کے درجے کو نہیں پہنچتے کیونکہ انبیاء خاتمہ برا ہونے سے با امن ہوتے ہیں۔“
اور شرح فقہ اکبر میں ہے۔ ورسول اللّٰہﷺ مات علی الایمان و لیس ھذا النسخۃ فی اصل شارح تصدر لھذا المیدان لکونہ ظاھراً فی معرض البیان ولا یحتاج ذکرہ لعلوہ فی ھذا الشان ولعل مرام الامام علی تقدیر صحۃ ورود ھذا الکلام انہﷺ من حیث کونہ نبیاً من الانبیاء وھم کلھم معصومون عن الکفر فی الابتداء والانٹھاء نعتقد انہ مات علی الایمان و اما غیرہ من الاولیاء والعلماء والاصفیاء بالاعیان ولا نجزم بموتھم علی الایمان و ان ظھر منھم خوارق العادات وکمال الحالات وجمال انواع الطاعات فان مبنی امرہ علی الایمان وھو مستور علی افراد الانسان ولھذا کانت العشرۃ المبشرۃ وامثالھم خائفین من انقلاب احوالھم وسوء اعمالھم فی مآلھم۔
(شرح فقہ اکبر ص ۱۳۱ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱۳۳۸ھ)
”آنحضرت ﷺ کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے۔ اس مسئلہ کا بیان اہم مقام میں اس امر کے اظہار کی غرض سے ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ چونکہ نبی ہیں اور نبی سب کے سب ابتداء عمر سے انتہاء تک کفر سے محفوظ ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے۔ ان کے سوا اور ولیوں کے ایمان پر خاتمہ ہونے کا ہم یقین نہیں کر سکتے اگرچہ ان سے کرامات و کمال حالات اور انواع طاعات ظاہر ہوں کیونکہ یہ یقین تب ہو جبکہ ان کا ایمان یقیناً ثابت ہو۔ اور یہ ایمان لوگوں پر مخفی رہتا ہے۔ اسی وجہ سے عشرہ مبشرہ اور ان کے امثال اصحاب سوء خاتمہ سے ڈرتے رہے۔“
اور جب اکابر اولیاء کو یہ دعویٰ نہیں پہنچتا تو مرزا قادیانی کو (جو عقائد اور اقوال مذکورہ کی نظر سے دائرہ اسلام اور سنن سے خارج ہے اور اس اعتقاد و اقوال کے ساتھ اس کا ولی ہونا ممکن نہیں ہے) یہ دعویٰ کب زیبا ہے۔
اور قادیانی کا یہ کہنا کہ اعتقاد حیات مسیح علیہ السلام شرک کا ستون ہے۔ ان تمام صحابہؓ و تابعین و تبع تابعین ائمہ مجتہدینؒ اور آنحضرت ﷺ کے وقت سے اس وقت تک کے عام مسلمین کو جو حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ سمجھتے ہیں اور قیامت سے پہلے ان کے نزول کے معتقد ہیں مشرک بنانا ہے اور یہ امر جیسا کفر ہے محتاج بیان نہیں ہے۔
اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ جو کچھ ہم نے سوال سائل کے جواب میں کہا اور قادیانی کے حق میں فتویٰ دیا وہ صحیح ہے۔ کتاب و سنت و اقوال علماء امت اس کی صحت پر شاہد ہیں۔ اب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے دجال، کذاب سے احتراز اختیار کریں اور اس سے وہ دینی معاملات نہ کریں جو اہلِ اسلام میں باہم ہونے چاہئیں نہ اس کی صحبت اختیار کریں اور نہ اس کو ابتداء سلام کریں اور نہ اس کو دعوت مسنون میں بلائیں اور نہ اس کی دعوت قبول کریں اور نہ اس کے پیچھے اقتداء کریں اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں۔ اگر انھیں اعتقادات و اقوال پر یہ رحلت کرے۔ واللہ الموفق للعمل والقبول۔ الراقم العاجز سید محمد نذیر حسین جواب صحیح ہے۔......حسبنا اللہ بس...... حفیظ اللہ
تصدیق علماء دہلی و آگرہ و عرب و حیدرآباد و بنگال وغیرہ بلاد
لاریب فی ان القادیانی الغبی الغوی ابتدع بدعة ضلالة وابرز فی تحریراته سفاهة و جهالة وزاد فی قلبه و عقیدته مرضا و ضلالة قد حرف عن مواضعه الکلم والنصوص وانکر ماهو من ضروریات الدین فهو و امثاله من سرقة الدین واللصوص انی لا اشک ان هذا من الدجالین الکذابین والشیاطین الملاعین تاب اللہ علیه او ابتلاه بالعذاب المهین. امین یارب العالمین. محمد عبدالجبار عمرپوری مدرس آگرہ سکول
”اس میں شک نہیں کہ قادیانی کج رو۔ بلید نے، بدعت ضلالت نکالی ہے اور اپنی تحریرات میں حماقت ظاہر کی ہے اپنے حال اور اعتقاد میں بیماری بڑھا لی ہے۔ کلمات شارع اور نصوص کی تحریف کی ہے اور ان باتوں کا جو دین سے بداہتاً ثابت ہیں انکار کیا ہے۔ وہ اور اس جیسے لوگ دین کے چور ہیں اور وہ دجالین، کذابین اور ملعون شیاطین سے ہیں۔ خدا اس کو توبہ کی توفیق دے یا ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا کرے۔“
لا شک فی ان من اعتقد مابین فی جواب المجیبین الذین صرحوا مطالب ذلک المعتقد فهو ملحد لان ذالک المعتقد منکر اکثر ظواہر الشرع و حکم مثل المنکر ممالا یخفی. کتبہ احمد حسن دہلوی پلیڈر حیدرآباد دکن
”اس میں شک نہیں کہ جو شخص ان باتوں پر اعتقاد رکھے جو فتوے میں مذکور ہیں۔ وہ ملحد ہے کیونکہ ایسا اعتقاد رکھنے والا اکثر اعتقادات ظاہر شریعت کا منکر ہے اور اس کا حکم مخفی نہیں ہے۔“
طريقة هذا الدجال طريقة ضالة يشهد على ردها النصوص وقد اصاب من اجاب، عفى الله عنه. اسحاق بن عبدالرحمن عربی
”اس دجال کا طریق گمراہی کا طریق ہے اس کا نصوص کو رد کرنا اس پر گواہ ہے۔ اس کے حق میں جو جواب لکھا ہے وہ درست ہے۔“
الجواب صحيح (جواب صحیح ہے) محمد بن حسن بن احمد عربی
کل الجواب صحيح لاريب فيه من انكر فهو ملحد زنديق. ابوعبدالمنان محمد عبدالرحمن
”جواب سب کا سب صحیح ہے اس میں کوئی شک نہیں جو اس کے مضامین کا منکر ہے وہ ملحد اور چھپا مرتد ہے۔“
الحق لا يتجاوز عما في هذه الاوراق فماذا بعد الحق الا الضلال. سید محمد ابوالحسن ۱۳۰۵۔ سید محمد عبدالسلام
”حق اس بیان سے متجاوز نہیں جو ان اوراق میں ہے پھر حق چھوڑ کر بجز باطل کیا ہوگا۔“
هذا حكم صحيح لاريب فيه. سید احمد شاہ پوری
من اعتقد ما في السوال لاريب فيه انه مضل وضال وکذاب مفسد دجال ليس في ردته و زندقة وکفره مقال قاتله الله المتعال.
حرره الراجی رحمة الله ابو عبداللہ محمد فقیر الله الکٹھوی الشاہ پوری
”جس کا یہ اعتقاد ہو جو سوال میں مندرج ہے اس کی نسبت کوئی شک نہیں کہ وہ خود گمراہ ہے اوروں کو گمراہ کرنے والا۔ کذاب ہے دین میں فساد ڈالنے والا۔ اس کے چھپے مرتد ہونے اور کفر میں کوئی گفتگو نہیں۔ خدا اس کو ہلاک کرے۔“
اقول بتوفيق الله الوهاب انه لاريب في صحة هذا الجواب وانه لاشك في كفر مرزا الکذاب. محمد یوسف
”میں خدا وہاب کی توفیق سے کہتا ہوں کہ اس جواب کی صحت میں کوئی شک نہیں اور نہ اس کذاب قادیانی کے کفر میں شک ہے۔“
جس شخص کے ایسے عقائد اور اقوال ہوں اس کے کفر میں کچھ شبہ نہیں۔ قادر علی عفی عنہ
حضرت استاذنا وشیخنا وشیخ الاسلام مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی ادام اللہ برکاتہٗ نے جو کچھ زیب رقم فرمایا ہے مجھے اس سے دلی اتفاق ہے۔ محمد حسین بٹالوی
جواب صحیح اور درست ہے جواب صحیح اور درست ہے جواب صحیح اور درست ہے عبدالکریم محمد کرامت اللہ محمد یحییٰ ابوالحسنات
جواب صحیح اور درست ہے جواب صحیح اور درست ہے جواب صحیح اور درست ہے محمد الطاف حسین عفی عنہ محمد زکریا عفی عنہ ابوالفضل محمد عبدالرحمٰن
جواب صحیح اور درست ہے جواب صحیح اور درست ہے جواب صحیح اور درست ہے ابوالفضل محمد نصیر الدین ابومحمد عبدالعزیز محمد بنیامین خاں
جواب صحیح اور درست ہے جواب صحیح اور درست ہے خادم العلماء محمد عیسیٰ ابو محمد ثابت علی
افادالمجیب واجاد۔ مجیب نے اس جواب سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اور جواب کھرا دیا۔ ابواسماعیل یوسف خانپوری
اصاب المجیب۔ ”جواب دینے والے نے درست کہا ہے۔“ محمد سراج الدین
الجواب صحیح والمجیب نجیح. ”جواب صحیح ہے اور مجیب رستگار۔“ محمد
مرزا قادیانی کی بعض تصنیف فقیر کی نظر سے گزر چکی تھی۔ فی الحال یہ سوال و جواب سنا گیا۔ بیشک مرزا قادیانی اہل اسلام سے خارج ہے اور سخت ملحد اور ایک دجال دجالون مخبر عنہا سے ہے اور پیرو اس کے گمراہ ہیں۔ فقط فقیر مسعود دہلوی
سجادہ نشین نقشبندیہ خلیفہ امام علی شاہ مرحوم، رہتک، پنجاب
الجواب صحیح. ”یہ جواب صحیح ہے۔“ حبیب احمد
من اعتقد ما فى السوال لاشک انه الدجال. جس کا یہ اعتقاد ہو جو سوال میں ہے۔ وہ بلاشک دجال ہے۔ فتح محمد فتحپوری مدرس دھلی
و من کان اعتقاده مخالفاً لاهل السنة والجماعة فهو بلا ریب خارج عنه سیما من کان اعتقاده مما هو فى هذا السوال مرقوم فهو قطعاً زندیق و مرتد. محمد امان اللہ
”جس شخص کا اعتقاد اہل سنت و جماعت سے خارج ہو وہ بلا ریب ان کی جماعت سے خارج ہے اور خاص کر جس شخص کا یہ اعتقاد ہو جو سوال میں مرقوم ہے وہ قطعا پکا کافر و مرتد ہے۔“ ان کان کذا فکذا. حررۂ عبدالقادر
اگر قادیانی نے ایسا کہا ہے جو سوال میں ہے تو اس کا بھی حکم ہے جو جواب میں ہے کہ وہ دجال و کذاب ہے اور پابندی اسلام سے خارج ہے۔
الجواب صحیح والمجیب نجیح. ”جواب صحیح ہے اور مجیب رستگار۔“ محمد عثمان
حقیقت میں ایسا شخص مجملہ ان دجالوں کے ایک دجال مگر بڑا بھاری دجال بلکہ اس کا عم و خال ہے۔ اس زمانہ کی کیا خصوصیت ہے۔ اسی ملک پنجاب میں کہ جہاں کا ہیولی بڑا قابل ہے۔ لوگوں کی سادہ لوحی اس بات کی مقتضی رہتی ہے کہ کوئی نئی صورت پہنائی جائے۔ مذہب بیکوک بھی محمد حسین نے فرخ سیر کے عہد میں جاری کیا تھا اور نبوت و ولایت میں ایک مرتبہ مانا اور ایک کتاب بھی گھڑی جس کے سینکڑوں پڑھے لکھے سادہ لوح بھی معتقد ہو گئے تھے۔ ہنود میں بھی آریہ مذہب پنجاب والوں نے جلد قبول کیا۔
سب باتوں سے قطع نظر کیجئے کہ ان احادیث کی تاویل اور آیات کی تاویل جو وہ کرتے ہیں محض جاہلانہ جکڑ بندی ہے جیسا کہ دہری اور عام جہلاء کیا کرتے ہیں مگر جب یہ تاویلات صحیح مان لی جائیں کہ مسیح ابن مریم سے یہ مراد اور قتل خنزیر سے یہ الخ تو پھر میاں قادیانی کو کیا ترجیح ہے کہ وہ مسیح موعود مانا جائے جس کو نہ علم ہے نہ فضل نہ
خاندان نبوت سے ہے۔ اگر مسیحائی کا ایسا ہی بازار گرم ہے تو اور اچھے اچھے شخص اس کے مستحق ہیں مگر معاذ اللہ ان کو اس روٹی کمانے کے دھندے سے کیا کام، خدا کی پناہ کہ وہ ایمان ضائع کر کے مریدوں کے ہاں کا حلوہ پوری اڑائیں۔ اگر یہی آزادی اور الحاد کا دریا پنجاب میں موج زن رہے گا تو کوئی شبہ نہیں کہ امروز فردا میں کوئی نبوت ۱ کا مدعی بھی کھڑا ہو جائے گا اور اس کے بعد کوئی موٹا تازہ دولت والا خدائی کا دعویٰ کر بیٹھے گا اور قطعاً سینکڑوں پنجابی سادہ لوح ان کے بھی مرید ہو جائیں گے۔ معاذ اللہ اس جہل و خرافات کا کیا ٹھکانا ہے۔ اللہ قادیانی کو ہدایت نصیب کرے۔
ابومحمد عبدالحق (مولف تفسیر حقانی)
علمائے کانپور وعلی گڑھ وغیرہ
جس شخص کے یہ اعتقاد اور مقالات ہیں جو سوال میں مذکور ہوئے۔ وہ بے شک دائرہ اسلام سے خارج اور ملحد و زندیق ہے۔ نعوذ بالله من شرورہ. محمد لطف اللہ محمد عثمان
لما ثبت ان القادیانی ینکر وجود الملائکۃ علی وجہ جاءنا بہ النبی ﷺ و ینکر نزول جبرائیل علیہ السلام و یقول ان الملائکۃ عبارۃ من ارواح السیارات والنفوس الفلکیۃ و یقول ان لیلۃ القدر عبارۃ عن الزمان الظلمانی الذی ینقطع فیہ البرکات السماویۃ و یقول نزول عیسیٰ ابن مریم و رفعہ الی السماء بجسدہ العنصری من المستحیلات و من الاباطیل و یقول ان المراد بختم النبوۃ ھو ختم تشریع جدید لاختم مطلق النبوۃ و یقول ان سلسلۃ مطلق النبوۃ جاریۃ غیر منقطعۃ بعد نبینا ﷺ الی یوم القیامۃ و یقول ان المسیح الموعود فی الشریعۃ المحمدیۃ لیس ھو عیسی ابن مریم الذی فات بل الموعود مثیلہ وھو انا الذی انزلنی اللہ فی القادیان وانا الذی نطقت بہ السنۃ والقران و یقول المراد بالدجال الذی نطقت بہ السنۃ منکری عقیدتی و یقول ان ظواھر النصوص مصروفۃ عن ظواھرھا و ان اللہ تعالیٰ لم یزل یبین مرادہ بالاستعارات و الکنایات و مثل ذلک من الا باطیل الخرافات اعاذنا اللہ من کل ذلک فلا شبھۃ عندی فی کفرہ فھو کافر متعنت معاند للشریعۃ المحمدیۃ یرید ابطالھا سوّد اللّہ وجھہ. محمد اسماعیل
”چونکہ یہ امر ثابت ہو چکا ہے کہ قادیانی وجود ملائکہ کا جو آنحضرت ﷺ نے بیان کیا ہے منکر ہے اور نزولِ جبرئیل کا منکر ہے اور اس امر کا قائل ہے کہ ملائکہ ستاروں کی ارواح اور نفوس فلکیہ ہیں اور وہ قائل ہے کہ لیلۃ القدر سے وہ تاریک زمانہ مراد ہے جس میں برکاتِ آسمانی منقطع ہو جاتے ہیں اور وہ قائل ہے کہ حضرت عیسیٰ کا اپنے جسم سے آسمان پر جانا اور نازل ہونا محال ہے اور وہ قائل ہے کہ ختم نبوت سے نئی شریعت والی نبوت کا ختم ہونا مراد ہے نہ مطلق نبوت کا ختم ہونا اور وہ قائل ہے کہ مطلق نبوت کا سلسلہ آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک جاری ہے اور وہ قائل ہے کہ جس مسیح کے آنے کا شریعت محمدی میں وعدہ دیا گیا ہے۔ اس سے عیسیٰ ابن مریم مراد نہیں جو فوت ہو چکا ہے بلکہ اس کا مثیل قادیانی مراد ہے جس کو خدا نے قادیان میں اتارا ہے اور قائل ہے کہ دجال سے اس کے منکر مراد ہیں اور قائل ہے کہ قرآن وحدیث ظاہر معانی سے پھیرا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ اپنی مراد کو ہمیشہ استعاروں میں بیان کیا کرتا ہے ایسے ہی اور خرافات باطلہ اس سے ثابت ہو چکے ہیں۔ لہٰذا میرے نزدیک اس
۱ مولوی عبدالحق صاحب نے اس عبارت کو لکھنے کے وقت تک قادیانی کے وہ رسائل توضیح مرام و ازالہ اوہام نہ دیکھے تھے جن میں قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ (مرتب)
کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے۔ وہ کافر ہے بدکردار، شریعت محمدیہ کا مخالف اس کو باطل کرنا چاہتا ہے۔ خدا اس کا منہ کالا کرے۔“
ما اتی به المجيب فهو حق حقيق بالقبول ولا ريب فى ان القاديانى جاحد لاصول الشريعة الغراء المحمدية ومن جاحدها فلا ريب فى كفره اللهم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا ووفقنا لاجتنابه وانا العبد الكئيب المستغفر للذنوب، محمد ايوب الكولوى صانه الله عن الذنب الجلى والخفى. محمد ایوب ساکن کول
”جو کچھ مجیب نے بیان کیا ہے وہ حق ہے اور قبول کے لائق ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ قادیانی شریعت محمدیہ ﷺ کے اصول کا منکر ہے اور جو ان کا منکر ہو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ اے خدا تو ہمیں حق کو حق کر کے دکھا اور اس کی پیروی نصیب کر اور باطل کو باطل کر کے دکھا اور اس سے اجتناب کی توفیق دے۔
علمائے بنارس و اعظم گڑھ وغیرہ
ہم نے رسالہ فتح اسلام اور توضیح المرام وغیرہ جو مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے چھپے ہیں دیکھے اور ان میں وہ مقالات اور عقائد جو فتوے میں نقل کیے ہیں پائے۔ ہمارے نزدیک ان عقائد کا معتقد اور ان مقالات کا قائل احاطہ اسلام سے خارج ہے اور دجال کذاب ہے۔ حکیم محمد حسین بنارسی
مجھ کو بھی مولوی حافظ حکیم محمد حسین کی تحریر سے اتفاق ہے۔ محمد عبدالرحمٰن عفی عنہ (امام مسجد جامع الحدیث بنارس)
الجواب صحيح. محمد عبدالمجید
الجواب صحيح. حیات محمد عفی عنہ
جس شخص کا ایسا عقیدہ ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ واللہ اعلم فقیر محمد عبدالقادر
جناب مولوی حافظ حکیم محمد حسین صاحب کی تحریر سے مجھ کو اتفاق ہے۔ واللہ اعلم بالصواب. عبدالغفور ولی اللہ
بے شک ان عقائد کا معتقد دجال و کاذب ہے۔ شہید الدین احمد بنارسی
علمائے ارہ و غازی پور و مہد انواں وغیرہ
مجھے اس جواب کے ساتھ پورا اتفاق ہے بے شک مرزا کے خیال کا آدمی احاطہ اسلام سے خارج ہے۔ واللہ اعلم۔ ابوالخیر محمد ضمیر الحق الاروی
الجواب صحيح. ”جواب درست ہے“ جواب باصواب ہے۔ الفتامین محمد اسماعیل
ہم نے جہاں تک اقوالِ مرزا قادیانی کے دیکھے اور سنے ان اقوال کے رو سے قادیانی احاطہ اسلام سے خارج ہے۔ وصیت علی
میں اس کے ساتھ پورا متفق ہوں۔ ابو محمد ابراہیم (بانی مدرسہ احمدیہ)
وائے گر در پس امروز بود فردائے
اس جواب سے مجھے اتفاق ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ عبدالغفار
میں نے ان اوراق کو اوّل سے آخر تک پڑھا اور مرزا کے عقائد و مقالات کو اس کی اصل تصانیف میں
بھی دیکھا۔ میری رائے میں وہ ضرور ان عقائد و مقالات کی نظر سے دجال و کذاب ہے اور پابندئ اسلام و اہل سنت سے خارج ہے۔ کتبہ محمد عبداللہ غازی پوری میں بھی اس جواب کے ساتھ پورا اتفاق کرتا ہوں۔ ابو عبدالودود ادریس
علمائے رحیم آباد ضلع دربھنگہ ترہت
الحمد للّٰه القاهر فوق العباد والحافظ لدينه عن شرور الكذابين اهل الفساد وهو الذى فطر الانام على فطرة الاسلام و جبلهم على الملة الحنفية السمحة البيضاء وهو ذوالجلال والاكرام ثم ضلوا و تهودوا و تنصروا والحدوا فى آياته فبعث فيهم رسولا منهم بمعجزاته فاسس قواعد الشرع والاركان واوضح لهم سبل السلام باوضح البيان فرزقوا به السلوك على مناهج الهداية و فازوا باتباعه معارج السعادة ثم ارتد من ارتد عن دينه و افترى على الله كذبا و كذب على رسوله فكانوا لجهنم حطبا فاتى الله بقوم اذلة على المؤمنين واعزة على الكفرين فنصرو الحق وحاربوهم و جادلوهم فكب المفترون على مناخرهم خاسرين منهم الذين حرفوا الكلم عن مواضعه من بعد ماتحقق فوفق الله من عباده الناصرين المنصورين على الحق لتشويش مسالكهم و خرم نطاقهم فاستاصلوا بنيانهم وما اسرع محوا عن صفحات الدهر اباطيلهم وما تنفسوا الم ترالى الذى يدعى انه المسيح الموعود نزوله وماتفوه من المفتريات التى يابى الله عنها ورسوله كيف اجترى على ذلک وتبوء مقعده من النار والنصوص فى الباب واضحة ليس فيها من الاسرار فان الاحاديث الواردة فى نزول المسيح بعضها لبعض مفسرة فقتل الانسان ما اكفره اولا يرى ان فى بعض الاخبار قد ورد لفظ المسيح وفى بعضها عيسى ابن مريم وفى بعضها ابن مريم فقط وفى بعضها عيسى نبى الله وفى بعضها جملة وامامكم منكم وقعت حالا فلوكان اطلق المسيح على سبيل الاستعارة فلا معنى لهذه القيود والتصريحات يا للعجب، من اجتراء شرار الخلق الذى يضل الناس فى حلية اهل الصلاح والدلق فللّٰه در من شمر عن ساق جده فى ابطال مزخرفاته و شيد مبرزه لا زالة ترهاته فانه اتى بشيء عجيب لايدركه الا المدرب اللبيب وجاهده مجاهدة اللسان و شوش مسلكه بالقلم والبيان وقعد له كل مرصد حتى احجره و انهزم عدو الله وهرب عن كل مشهد جزاه الله عنا وعن سائر المسلمين خير الجزاء وافاض عليه البركات بكرة و عشيا. و انا العبد المفتقر عبدالعزيز
”سب تعریفوں کا خدا تعالیٰ مستحق ہے جو تمام بندوں پر غالب ہے اور اپنے دین کا اہل فساد کی شرارتوں سے محافظ ۔ وہ جس نے لوگوں کو فطرت اسلام پر پیدا کیا اور دین یکسو ۔ آسان ، روشن (اسلام) ان کی جبلت میں رکھا ۔ پھر وہ اپنی فطرت کو چھوڑ کر یہودی نصرانی اور ملحد بن گئے تو خدا تعالیٰ نے ان ہی میں سے ایک رسول معجزوں کے ساتھ ان میں بھیجا۔ اس رسول نے شرع کے قواعد اور ارکان بنا دیے اور سلامتی کے راستے خوب واضح کر دیے جس کی برکت سے لوگ ہدایت کی راہ چلنے لگے اور آپ کی پیروی سے وہ سعادت کو پہنچے۔ پھر بعض لوگ دین سے پھر گئے اور خدا پر جھوٹ باندھنے لگے اور رسول خدا پر افترا کر کے دوزخ کا ایندھن بنے تو خدا نے ایسے لوگوں کو پیدا
کیا جو مومنوں کے آگے جھک جانے والے اور کافروں پر غالب آنے والے تھے۔ وہ حق کے مددگار ہوئے اور ان مرتدوں مفتریوں سے لڑے اور جھگڑے۔ وہ مفتری اوندھے کر کے ناک کے بل گرائے گئے اور خسارہ میں پڑے۔ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہوئے جو خدا کے کلام کی اس کے ٹھکانے (معانی) سے تحریف کرتے ہیں۔ بعد اس کے کہ وہ کلام ان معانی میں ثابت ومتحقق ہو چکا تھا، سو خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں سے ایسے لوگوں کو جو حق کے مددگار اور خدا کی طرف سے حق پر مدد دیے گئے ہیں۔ ان محرفین کی باتوں کو پراگندہ کرنے اور ان کی کمر بند توڑنے کی توفیق دی۔ پس ان حقانیوں نے ان کی بیخ و بنیاد اکھاڑ دی اور صفحہ روزگار سے ان کی باطل باتیں مٹا دیں۔ ان محرفین میں سے تم نے اس شخص کو جو مسیح موعود ہونے کا مدعی ہے نہیں دیکھا اور اس کی جھوٹی باتوں کو جن سے خدا اور اس کے رسول اپنے کلام میں انکاری ہیں نہیں سنا، اس نے اس افتراء پر کیونکر جرات کی اور اپنے لیے آگ میں جگہ بنائی۔ مسیح موعود کے باب میں جو نصوص اور احادیث وارد ہیں تو وہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے حق میں روشن بیان ہیں۔ جن میں کوئی پوشیدگی نہیں ہے۔
احادیث جو اس باب میں وارد ہیں وہ ایک دوسری کی تفسیر کر رہی ہیں۔ انسان (مدعی مسیحیت) ہلاک ہو وہ کیا ناشکر ہے (جو ان احادیث میں تحریف کرتا ہے) وہ یہ نہیں دیکھتا کہ بعض احادیث میں لفظ مسیح وارد ہے بعض میں عیسیٰ بن مریم، بعض میں ابن مریم، بعض میں عیسیٰ نبی اللہ، بعض میں یہ جملہ وارد ہیں کہ حضرت مسیح ایسے حال میں آئیں گے کہ اس وقت تمہارا امام موجود ہوگا۔ سو اگر مسیح موعود سے یہی قادیانی بطور استعارہ مراد ہو تو پھر ان قیدوں اور بیانات احادیث کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ اس بدترین خلائق کی دلیری سے تعجب ہے کہ یہ فقرا اور اہل صلاح کا لباس پہن کر مخلوقات کو گمراہ کر رہا ہے۔ جو شخص اس کی ملمع سازیوں کے لیے پنڈلی کھول کر اور کمر کس کر کوشش کر رہا ہے اس کی یہ نیکی خدا ہی کے لیے ہے وہ اس کے جواب میں ایسی عجیب بات لایا ہے کہ اس کی خوبی کو بجز ماہر دانشمند کوئی جان نہیں سکتا۔ وہ اس سے زبانی جہاد کر رہا ہے اور قلم و بیان سے اس کی باتوں کو پراگندہ کرتا ہے اور ہر ایک گھات میں اس کے مقابلہ کے لیے جما ہوا ہے۔ یہاں تک کہ اس کو مسلمانوں سے الگ کیا اور خدا کا دشمن ہر ایک میدان سے بھاگ گیا۔ خدا تعالیٰ ایسے شخص کو ہم سب مسلمانوں کی طرف سے جزا خیر دے اور صبح و شام اس پر اپنی برکات نازل کرے۔“
ھکذا قول فیہ واعتقادی وبہ ثقتی و علیہ اعتمادی.
”یہی قادیانی کے حق میں میرا قول واعتقاد ہے اور اسی پر میرا وثوق و اعتماد ہے۔“ عبدالرحیم رحیم آبادی
علمائے بھوپال و عرب وغیرہ
اسلام خصوصاً مذہب اہل سنت میں یہ عقائد و مقالات داخل نہیں ہیں۔ مرزا قادیانی ان عقائد و مقالات کی نظر سے مانند وجودیہ وغیرہ اہل بدعت کے دجالین کذابین میں داخل ہے اور مرزا کے ان عقائد و مقالات میں پیروان وہم مشربوں کو ذریات دجال کہہ سکتے ہیں اور ایسے عقائد و مقالات کے ساتھ کوئی شخص شرعاً اور عقلاً ولی اور ملہم ومحدث ومجدد نہیں ہو سکتا۔ دلیل اس کی حدیث ابو ہریرہؓ ہے۔ قال رسول اللہ ﷺ یکون فی اخر الزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا اباء کم فایاکم وایاھم لا یضلونکم ولا یفتنونکم.
(رواہ مسلم)
”آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ آخر زمانہ میں دجال و کذاب پیدا ہوں گے جو تم کو ایسی باتیں کہیں
گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی نہ تمھارے بزرگوں نے۔ ان سے بچے رہنا وہ تم کو گمراہ نہ کر دیں اور بہکا نہ دیں۔“
(مولانا) محمد بشیر سھوانی۱ ؎
مجھ کو مولوی محمد بشیر صاحب کی تحریر سے اتفاق ہے بے شک یہ لوگ ایسے ہی ہیں جیسا مولوی صاحب موصوف نے تحریر فرمایا ہے۔ واللہ اعلم۔ مولانا سلامت اللہ جیراجپوری
طريقة الكذاب الدجال مرزا قادیانی طريقة اهل الضلال لاشک في ذلک ومن شک في ضلاله فهو مثله وقد حررت في رسالة رد ما افتراه جازاه الله بما هو اهله. علامه شيخ حسين بن محسن الانصاری عربی یمانی.
”کذاب دجال و مرزا قادیانی کا طریق گمراہوں کا طریق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے اور جو اس کے گمراہ ہونے میں شک کرے وہ ویسا ہی گمراہ ہے۔ میں نے اس کے مفتریات (جھوٹی باتوں) کے رد میں ایک رسالہ لکھا ہے خدا اس کو اس کے مفتریات کی سزا دے۔“
علمائے لودھیانہ وغیرہ
هذا الجواب مقرون بالصدق والصواب. (مشتاق احمد) ”یہ جواب راستی اور درستی سے ملا ہوا ہے۔“ الجواب حق والحق يعلوا ولا یعلی. ”یہ جواب حق ہے اور حق غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔“
حررۂ نور محمد
الجواب صحیح. ”جواب صحیح ہے۔“ عبدالقادر
الجواب صحیح. ”جواب صحیح ہے۔“ قربان علی لکھنوی
قد صح الجواب. تحقیق جواب صحیح ہے۔ محمد حسن رئیس و سرگروه اهلحدیث لودهیانه
المجیب مصیب. ”مجیب راستی کو پہنچنے والا ہے۔“ نور الدین خان
علمائے امرتسر، سوجانپور وغیرہ
ماقاله القاديانی خلاف ماقاله اهل الاسلام. ”جو کچھ قادیانی نے کہا ہے وہ اہل اسلام کے مخالف ہے۔“
غلام مصطفیٰ
اس میں کچھ شک نہیں کہ معتقدات مرزا قادیانی کے برخلاف معتقدات اہل اسلام کے ہیں۔ اللہ جل شانہٗ مسلمانوں کو ان کی تسلیم سے محفوظ رکھے۔ عبداللہ مفتی۔ غلام رسول مفتی
معتقدات مرزا قادیانی خلاف طریقہ اہل اسلام ہیں۔
انا الراجی رحمة الله غلام الله قصوری
عقائد مرزا باطلةٌ واقاویله عاطلةٌ. ”مرزا (قادیانی) کے عقائد باطل ہیں اور ان کے اقوال بے کار ہیں۔“
احقر العباد غلام رسول امام مسجد میاں محمد جان مرحوم
ماقاله المرزا فهو مخالف لمذهب اهل السنة والجماعة. ”مرزا (قادیانی) نے جو کہا ہے وہ اہل سنت و جماعت کے مخالف ہے۔ غلام محی الدین
۱ ؎ حضرت میاں صاحب کے شاگرد تھے اور حضرت سید نواب صدیق حسن خاں صاحب کے ہاں قیام رکھتے تھے۔ آپ کی تصنیف ”الحق الصریح فی حیات المسیح“ ہے جو مناظرہ تحریری مرزا قادیانی سے ہوا تھا۔
بے شک جس شخص کے ایسے اعتقاد ہوں وہ کافر بلکہ اکفر ہے۔
محمد ادریس ابو محمد محمد اسمعیل جنجھانوی
ماقال مرزا فى اقواله فهو باطل عند اهل الاسلام. ”ان اقوال میں جو مرزا نے کہا ہے اہل اسلام کے نزدیک باطل ہے۔
فقیر حشمت علی
اس کی (یعنی مرزا قادیانی کی) عبارات جو مجھ کو دکھائی گئی ہیں ان کا ظاہری مفہوم خلاف عقائد اہل سنۃ جماعت معلوم ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص صرف ان ظاہری عبارات کا لحاظ کر کے عقیدہ رکھے گا تو وہ خطا کار مخالف اہل سنت جماعت کا ہے۔
ابو عبید احمد اللہ
جواہر خاندان حضرت مولوی عبداللہ صاحبؒ غزنوی
رب سدد لسانی واسلل سخيمة قلبي واجر قلمى بما تحب و ترضى. لاريب فيه ان مدعى الامور المذكورة فى السوال مخالف رسول رب العالمين يتبع غير سبيل المؤمنين ومن يشاقق الرسول من بعد ماتبين له الهدى و يتبع غير سبيل المومنين نوله ما تولّی و نصله جهنم و ساءت مصيرا. متبع فى الاسلام طريقة الجاهلية ومن يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه وهو فى الاخرة من الخسرين. من الذين قال فيهم رسول اللہ ﷺ يكون فى اخر الزمان دجالون كذابون ياتونكم من الاحاديث بما لم تسمعوا انتم ولا اباءكم فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم رواه مسلم. قال على القارى فى شرح الفقه الاكبر ودعوى النبوة بعد نبينا ﷺ كفر بالاجماع و افراخه مخانيث الهنود والنصارىٰ اكثرهم فمن اضلهم الله على علم فمن يهديهم بعد الله اسال الله الهدى لى ولهم وسائر المسلمين اللهم اهدنا لما اختلف فيه من الحق باذنک انک تهدى من تشاء الى صراط مستقيم.
عبدالجبار ابن شیخ عبداللہ الغزنوی
”اے پروردگار میری زبان کو سیدھا رکھ اور میرے دل کا کینہ کھینچ لے اور میری قلم کو اس بات سے جاری کر جو تو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے۔“
”اس میں شک نہیں کہ ان امور کا مدعی جو سوال میں مذکور ہیں رسول خدا کا مخالف ہے، اس راہ کا پیرو جو مومنوں کی راہ نہیں اور (خدا تعالیٰ فرماتا ہے) جو شخص رسول خدا کی مخالفت کرے۔ بعد اس کے کہ اس کو ہدایت معلوم ہو چکی ہو اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر اور راہ پر چلے ہم اس کو ادھر ہی پھیر دیتے ہیں، جدھر وہ پھرتا ہے اور اس کو آگ میں داخل کریں گے اور وہ بری پھرنے کی جگہ ہے۔ اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا تین شخصوں سے خدا بہت ناخوش ہے۔ ایک وہ جو اسلام میں رہ کر کافروں کا طریق اختیار کرتا ہے اور (خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے) جو شخص بجز اسلام کوئی اور دین اختیار کرتا ہے اس سے وہ دین قبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں ٹوٹا پانے والوں میں ہوگا (یعنی) ان لوگوں میں سے جن کے حق میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اخیر زمانہ میں دجال کذاب پیدا ہوں گے وہ تمھیں ایسی باتیں سنائیں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی نہ تمھارے بزرگوں نے۔ ان سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ وہ تم کو گمراہ نہ کر دیں اور بہکا نہ دیں۔ یہ مسلم کی روایت ہے۔ ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاتفاق کفر ہے۔ اس (قادیانی) کے چوزے (اتباع) ہنود اور نصاریٰ کے مخنث ہیں۔ بہتیرے ان میں ایسے ہیں کہ خدا نے ان کو باوجود عالم ہونے کے گمراہ کر رکھا ہے۔ خدا کے سوا ان
کو کون ہدایت کرے۔ میں خدا سے ان کے لیے اور اپنے لیے اور باقی مسلمانوں کے لیے ہدایت کا سوال کرتا ہوں۔ اے خدا تو ہم کو اپنی مرضی سے حق کی راہ دکھا جس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ تو جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔“
قولی فی صاحب قادیانی ماقاله شیخ الاسلام ابن تیمیۃ حيث قال کما ان خيرالناس الانبیاء فشر الناس من تشبه بهم من الکذابین وادعی انه منهم وليس منهم فخير الناس بعدهم العلماء والشهداء والصدیقون والمخلصون وشر الناس من تشبه بهم يوهم انه منهم وليس منهم وفی لفظ الحدیث فهؤلاء اذل خلق الله تسعربهم النار یوم القيمة عياذا بالله. احمد بن عبدالله الغزنوی
”قادیانی کے حق میں میرا وہ قول ہے جو شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کا قول ہے جیسے تمام لوگوں سے بہتر انبیاء علیہم السلام ہیں ویسے ہی تمام لوگوں سے بدتر وہ جھوٹے لوگ ہیں جو نبی نہ ہوں اور نبیوں سے مشابہ بن کر نبی ہونے کا دعویٰ کریں۔ نبیوں کے بعد بہتر وہ لوگ ہیں جو علماء اور شہید اور صدیق اور بااخلاص ہوں پس جو ان سے مشابہ بن بیٹھیں اور یہ جتائیں کہ ہم ان ہی میں سے ہیں اور واقعہ میں ایسے نہ ہوں وہ بدترین خلائق ہیں۔ یہ ابن تیمیہؒ کا قول ہے اور حدیث میں آیا ہے وہ لوگ تمام خلائق سے ذلیل تر ہیں ان کو آگ میں جھونکا جائے گا خدا اس سے بچائے۔“
الحمد لله اما بعد فيقول الراجي الملتجئ الى رحمت ربه القوى ابو محمد عبدالصمد الغزنوى ان غلام احمد القادياني الغوى الغبي صاحب العقيدة الفاسدة والرأى الكاسد ضال مضل زنديق بل هو اضل من شيطانه الذى لعب به وان مات علىٰ ذلک فلا يصلى عليه ولا يدفن فى مقابر المسلمين لان لايتأذى به اهل القبور. عبدالصمد
”سب تعریف خدا کے لیے ہے اس کے بعد امیدوار اور ملتجی رحمت رب قوی عبدالصمد غزنوی کہتا ہے کہ غلام احمد قادیانی کج رو و بلید جس کا عقیدہ فاسد ہے اور رائے کھوٹی گمراہ ہے۔ لوگوں کو گمراہ کرنے والا چھپا مرتد ہے بلکہ وہ اپنے اس شیطان سے زیادہ گمراہ ہے جو اس سے کھیل رہا ہے۔ یہ شخص اسی اعتقاد پر مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ یہ مسلمانوں کی قبروں میں دفن کیا جائے تاکہ وہ اہل قبور اس سے ایذا نہ پائیں۔“
لاريب ان المرزا القادياني دجال كذاب زنديق باطنى قرمطى وانه من الذين قال فيهم رسول الله ﷺ سيخرج فى امتى اقوام تتجارى بهم تلک الاهواء كما يتجادى الكلب بصاحبه لايبقى منه عرق ولا مفصل الا دخله وانه من الذين قال فيهم رسول الله ﷺ ان بين يدى الساعة كذابين فاحذروهم. ابوادریس عبدالغفور بن محمد بن عبداللہ الغزنوی
”اس میں شک نہیں کہ قادیانی ایک دجال ہے بڑا جھوٹا چھپا مرتد۔ باطنی قرمطی۔ اور وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے حق میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔ میری امت میں سے ایسے لوگ نکلیں گے جن میں نفسانی خواہشیں (بدعات) ایسا اثر کر جائیں گی جیسا دیوانہ کتا اس شخص میں اثر کرتا ہے جس کو وہ کاٹتا ہے کہ اس کی کوئی رگ یا جوڑ اس اثر سے نہیں بچتا اور وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے حق میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے کذاب پیدا ہوں گے ان سے بچو۔“
الحمد لله رب العلمين الرحمن الرحيم. ملک يوم الدين. اياک نعبد و اياک نستعين.
أهدنا الصراط المستقيم. صراط الذين انعمت عليهم غيرالمغضوب عليهم ولاالضالين. آمين. اللهم صل على محمد و اله و بارک و سلم. یہ مسئول عنہ شخص اپنی ابتدائی حالت میں اچھا معلوم ہوتا تھا۔ دین کی نصرت میں ساعی اللہ تعالیٰ اس کا مددگار تھا۔ دن بدن فیوضع ۱ لہ القبول فی الارض کا مصداق بنتا جاتا تھا لیکن اس سے اس نعمت کی قدر دانی نہ ہوئی۔ نفس پروری و زمانہ سازی شروع کی۔ زمانہ کے رنگ کو دیکھ کر اس کے موافق کتاب و سنت میں تحریف و الحاد و یہودیت اختیار کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل کیا۔ فیوضع لہ البغضاء فی الارض ۲ کا مصداق بن گیا۔ قال الله تعالیٰ فى امثاله واتل عليهم نبأ الذی آتيناه آياتنا فانسلخ منها فاتبعه الشيطان فكان من الغوين. ولو شئنا لرفعناه بها ولكنه اخلد الى الارض واتبع هواه الاية اللهم انى اعوذبک من الحور بعد الكور. يا مصرف القلوب صرف قلوبنا و قلوبهم على طاعتك. آمين وصل الله على النبى واله واصحابه وسلم. عبدالواحد بن عبدالله الغزنوی
الحمد لله نحمده و نستعينه و نساله الهدى وصلى الله على محمد واله، المسئول عنه عندی مطفئ لنور الله والله متم نوره ولو كره الكفرون. محرف للكتاب و السنة و تحريفه اشد من تحريف اليهود والنصارىٰ و مخالف لجميع المسلمين و خالع لربقة الاسلام من عنقه وان مات على ذلك فيقدم قومه يوم القيمة فاوردهم النار و بئس الورد المورود واتبعوا فى هذه لعنة و يوم القيمة يردون الى اشد العذاب رب اعوذبک من درک الشقاء وسوء القضاء النجا النجا. عبدالرحیم بن عبدالله الغزنوی
”اللہ کے لیے سب تعریف ہے۔ ہم اس کا شکر کرتے ہیں اور اس سے مدد چاہتے ہیں اور اس سے ہدایت کا سوال کرتے ہیں۔ جس شخص کے حال سے اس فتوے میں سوال و جواب ہے وہ میرے خیال میں خدا کے نور (اسلام) کو بجھانا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے۔ اگرچہ کافر اس سے ناخوش ہوں۔ وہ کتاب اللہ وسنت میں تحریف کرنے والا ہے۔ اس کی تحریف یہود و نصاریٰ کی تحریف سے سخت تر ہے اور وہ سبھی مسلمانوں کا مخالف ہے اور وہ اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکالنے والا ہے۔ یہ اسی اعتقاد پر مرا تو قیامت کے دن اپنی پیرو قوم کے آگے آگے ہوگا اور ان کو آگ میں وارد کرے گا۔ وہ آگ بری جائے ورود ہے۔ ان سب (اتباع ومتبوع) پر دنیا میں لعنت پڑتی ہے اور قیامت کے دن یہ سخت عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے۔ اے خدا میں تیری پناہ چاہتا ہوں بدبختی کے پکڑنے اور بری قضا سے۔ لوگو اپنا آپ بچاؤ۔ نجات کو لازم پکڑو۔“
لا شک ان مرزا کافر ومرتد زنديق ضال مضل ملحد دجال وسواس خناس فمن شک فی مقالتی ھذا فلیباھلنی.
يباهلنى فى انه ليس كافر
عبدالحق سنہ غزنوی
- ۱ زمین میں اس کے لیے قبولیت کا حکم ہوتا ہے۔
- ۲ زمین میں اس کے لیے دشمنی کا حکم ہوتا ہے۔
- ۳ ان پر اس شخص (بلعم بن باعوراء) کی خبر پڑھ دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں (ان کا علم) عطا کیں۔ پھر وہ ان سے (یعنی
ان کے عمل واعتقاد سے) نکل گیا۔ پس وہ بہکنے والوں سے ہو گیا۔ ہم چاہتے تو ان آیات کے ساتھ اس کو بلند کرتے۔ مگر وہ زمین پر پڑا رہا اور اپنے ہوائے نفس کا پیرو ہوا۔
”اس میں شک نہیں کہ مرزا (قادیانی) کافر ہے۔ چھپا مرتد ہے۔ گمراہ ہے گمراہ کنندہ، ملحد ہے، دجال ہے، وسوسہ ڈالنے والا، ڈال کر پیچھے ہٹ جانے والا، جس کو میری اس گفتگو میں شک ہو وہ اس پر مجھ سے مباہلہ کر لے۔ میں مرزا کو کافر جانتا ہوں کوئی مجھ سے اس امر میں مباہلہ کرنا چاہے تو کر لے۔“
مشاہیر علمائے لاہور
عقائد و اقوال مندرجہ سوال در کتب معتبر اہل اسلام ندیدم و نشنیدم، اہل اسلام را باید کہ ازیں عقائد و اقوال احتراز واجب دانند و اتباع شریعت حقہ نمایند، و معتقد ایں عقائد را از اہل اہواء و ضلال باید دانست۔
١ غلام محمد بگوی بقلم خود
ادعاء النبوة بعد نبينا ﷺ کفر صريح مخالف للقرآن۔
العبد فقیر نور احمد امام مسجد انار کلی لاہور۔ غلام احمد مدرس مدرسہ نکودر وارد حال لاہور
”آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا (جیسا کہ قادیانی نے کیا ہے) کفر صریح ہے اور قرآن کے مخالف۔“
الحمد للہ رب العالمين والصلوة على سيد الانبياء والمرسلين و اله اجمعين اما بعد فلما رايت الناس مختلفين فى امر مؤلف توضيح المرام والبراهين حتى وجدت بعضهم معتقدا بكماله و مصدقا المقاله و قليل ماهو واكثرهم حاكماً بفساده وجازما بالحاده وجهت ركاب النظر ومطية الفكر الى ساحة كلامه لاظفر على المأرب واظهر على المطالب فاذا هو منكر الخوارق وجاحد كمالات اكرم الخلائق و محرف النصوص عن معانيها و مخرج الكلمات الحقة من مواضعها و منكر صفات الملئكة بل انفسها لان مايطلق عليه الاسم شئ ليس له حظ من مصداقيه حقائقها فصرت من ارتداده على اليقين و وصل الحاده عندى الى حق اليقين فمن ياتيه مصدقا فهو من الضالين ومن فر عن قربه فهو من الآمنين اعاذنا الله من شره و شر احزابه الى يوم الدين.
العبد غلام احمد مدرس مدرسہ نعمانیہ
”بعد حمد وصلوٰۃ۔ جب میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ مؤلف توضیح مرام و براہین احمدیہ کی نسبت مختلف خیال رکھتے ہیں۔ بعضے اس کے معتقد کمال اور مصدق مقال ہیں۔ مگر وہ بہت ہی کم ہیں اور اکثر اس کو مفسد سمجھتے ہیں اور اس کے ملحد ہونے کا یقین رکھتے ہیں۔ تو میں نے اپنے مرکب نظر اور سواری فکر کو اس کے میدان کلام میں دوڑایا تاکہ اس کے مطالب و خیالات پر مجھے اطلاع ہو۔ سو میں نے اس کو معجزات و کرامات اور کمالات انبیاء علیہم السلام کا منکر پایا اور معنی قرآن و حدیث کا محرف اور کلمات شرعیہ کو اپنے ٹھکانے سے نکالنے والا، صفات بلکہ حقیقت ملائکہ کا منکر، پس مجھے یقین ہو گیا کہ وہ مرتد ہے اور یقیناً ملحد، جو اس کا مصدق و مؤید ہو وہ بھی گمراہ ہے اور جو اس کے قریب سے بھاگے وہی امن میں ہے۔ خدا ہم سب مسلمانوں کو اس کے اور اس کے اتباع کے شر سے بچائے۔ آمین ثم آمین۔
نحمده و نصلى على رسوله سيد المرسلين و خاتم النبيين و آله وصحبه اجمعين و بعد فقد رأيت الاقوال المذكورة فى هذا الافتاء لغلام احمد الكادياني ووجدتها يقيناً فى كتبه المطبوعة الشايعة ايضاً فاقول انها مصادمة للشريعة المحمدية الغراء ومنافية للملة الحنفية البيضاء
١ یہ مولوی صاحب مسجد بادشاہی لاہور کے امام اور تمام حنفیان شہر لاہور کے مقتداء ہیں۔
مما افيض علينا من جماعة الصحابة والتابعين و وصل الينا عن ائمة المسلمين من الفقهاء والمحدثين فلا شک فی ان من يصدق الاقوال المذكورة ويسلمها كائنا من كان و اين ما كان فهو خارج عن حوزة الاسلام والايمان ومارق عن اتباع الحديث والقرآن هذا والله عزيز ذو انتقام فى يوم الفصل والخصام. العبد محمد عبداللہ ٹونکی مدرسہ عالیہ پنجاب یونیورسٹی
”میں نے قادیانی کے ان اقوال کو جو اس فتوے میں ہیں دیکھا اور اصل تصانیف قادیانی میں بھی ان کو ملاحظہ کیا۔ وہ اقوالِ شریعت محمدیہ ﷺ اور تمام مسلمانوں کے مخالف ہیں جو ان اقوال کا مصدق ہے جو کوئی ہو اور جہاں کہیں ہو وہ احاطۂ اسلام سے خارج ہے اور اتباعِ قرآن و حدیث سے باہر۔
لاريب فى ان ما يقوله المرزا خلاف ما قاله رسول الله صلى الله عليه وسلم وان ما جاء به السحر ان الله سيبطله ان الله لا يصلح عمل المفسدين و يحق الله الحق بكلماته ولو كره المجرمون. فقیر الی اللہ محمد عفا اللہ عنہ
”اس میں شک نہیں کہ جو قادیانی نے بات بنائی ہے وہ فرمودۂ آنحضرت ﷺ کے مخالف ہے جو کچھ وہ لایا ہے سحر ۱؎ کی قسم سے ہے۔ خدا اس کو باطل کرے گا اور حق کو اپنے کلمات سے ثابت کرے گا۔ اگرچہ مجرم ناخوش ہوں۔“
رسالہ فتح الاسلام وتوضیح المرام و ازالہ اوہام مولفہ مرزا غلام احمد قادیانی میں جو یہ اعتقاد و مسائل درج ہیں کہ مسیح موعود میں ہوں۔ ملائک بذاتِ خود اپنے وجود سے زمین پر نہیں آتے۔ انبیاء پر نہیں اترتے۔ صرف ان کی تاثیر نازل ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو معراج جسم مبارک کے ساتھ نہیں ہوا۔ عیسیٰ مردہ کو باذن اللہ زندہ نہیں کرتے تھے۔ جانور کو زندہ نہیں کرتے تھے۔ موسیٰ ؑ کا عصا سانپ حقیقی نہیں بنا تھا۔ ابراہیم ؑ نے چار جانور کو (جن کا قرآن شریف میں بیان ہے) زندہ نہیں کیا بلکہ یہ از قبیل عملِ مسمریزم تھے۔ علیٰ ہذا القیاس اور ایسے ایسے اعتقاد و مسائل نصوصِ کتاب اللہ و احادیث صحیحہ رسول اللہ ﷺ کے اور سبیلِ سلفِ صالحین مومنین کے مخالف ہیں۔ لہٰذا یہ عقائد و مسائل باطل ہیں اور ایسے عقائد والا اس آیت شریف کا مصداق ہے۔ ومن ۲؎ یشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى و يتبع غير سبيل المومنين نوله ما تولى ونصله جهنم و ساءت مصيرا. جن لوگوں کو ان عقائد کی طرف میلان ہو گیا ہے۔ ان کو لازم ہے ان عقائد کو پیش کر کے اور علماءِ فضلاء سے نہ صرف دوچار سے بلکہ صدہا سے اخروی نجات کی غرض سے اور طالبِ راہِ حق بن کر ان سے شبہات کا حل کرائیں۔ یا ان کتب کے جواب غور سے دیکھیں اور پرانی اور قدیمی تحقیقات کو بلا دلائل یقینیہ و اتفاقیہ نہ چھوڑیں۔ فقط وما علینا الا البلاغ۔ الراقم خاکسار رحیم بخش مصنف سلسلہ تعلیم الاسلام
علماء و سجادہ نشینان بٹالہ ضلع گورداسپور
لاریب مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی مخالفِ قواعدِ اسلام وغیرہ مطابق کلامِ برکت التیام جناب خیر الانام ہیں۔ اس کے ہزلیاتِ باطلہ ولغویات لاطائلہ پر نظر کرنا تو ایک بڑا بھاری ثبوت اس کے ضال ومضل ہونے کا ہے۔ صرف عیسیٰ موعود کے قادیان میں (جو وسطِ ملک پنجاب میں ایک گاؤں ہے) ظہور پکڑنے کا دعویٰ
۱؎ سحر اس لیے کہا ہے کہ اس کا حواریوں پر جادو کا سا اثر ہوا ہے۔ وہ صم بکم عمی ہو کر اس کو بے سمجھے سوچے مان گئے ہیں۔ ۲؎ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے جو شخص ہدایت ظاہر ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور اس راہ پر چلے جو مومنوں کی راہ نہ ہو۔ اس کو ہم ادھر ہی پھیریں گے۔ جدھر وہ پھرتا ہے اور اس کو دوزخ میں داخل کریں گے وہ بہت بری پھرنے کی جگہ ہے۔
کرنا ہر ایک مسلم جو تھوڑی سی نسبت بھی علوم دینیہ سے رکھتا ہو بے خفا ہے کہ کس قدر مضامین احادیث صحیحہ اور روایات قویہ کے برخلاف ہے۔ حضرات علماء اولی الاعتناء مجیبین مصیبین نے شکر اللہ سعیہم جس قدر اس کی نار شرارت کے اطفا میں آب جہد مشکور وسعی موفور اراضی قلوب المومنین پر ڈالا ہے۔ بغایت درجہ شایان ثنا و قابل مرحبا ہے۔ اگر ان حضرات کی ہمت علیا ایسی ہی گرم رہی اور مضل مذکور کی کتب پُر فتور کا حرف بحرف رد ہو گیا تو بہت عمدہ اعانت دینی و مدد اسلامی کی صورت آئینہ وقت میں جلوہ گر ہوگی۔ موفق حقیقی کی طرف سے یہ حسن توفیق ہمارے علمائے حق کو وقتاً فوقتاً ہمہ ایام وساعات بر جمیع اوقات وانات ہوتی رہے اور اس آیت شریفہ کا مصداق ظہور پذیر ہو جائے۔ جاء الحق و زھق الباطل.
مجھے اپنے بعضے بھائیوں پر سخت افسوس ہے کہ جو مرزا مذکور کی کتب کو اچھی طرح سے مطالعہ کرتے ہیں۔ بالخصوص توضیح المرام، فتح الاسلام، ازالہ اوہام کہ جس میں صاف طور پر عقائد مخالف شریعت غرا و ملت بیضاء مندرج ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کو مسلمان اہل ایمان سمجھ کر اس کی دوستی ومحبت کا دم بھرتے ہیں، حالانکہ ایسے عقائد رکھنے والا شخص بے ریب و شک زمرۂ اہل اسلام سے خارج و بفرقہ کفار مندرج ہوتا ہے۔ ہادیٔ مطلق ہم کو اور ہمارے بھائیوں کو ایسے اشخاص کی صحبت سے اور ان کی کتب کے مطالعہ سے مامون ومصئون فرمائے۔ آمین یا ہادی المضلین بحرمت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔
حررہ فقیر سید ظہور الحسین عفی عنہ سجادہ نشین خاندان عالیہ قادریہ فاضلیہ واقعہ بٹالہ شریف
جواب المجیب صحیح لانہ من اعتقد بتلک العقائد فقد ضل ضلالاً بعیدا. ’’جواب صحیح ہے جو شخص ان عقائد کا معتقد ہو وہ دور بھول گیا۔‘‘ حررہ مسکین المساکین امام الدین بٹالوی
ماکتب فی ھذا الکتب صحیح بلاریب و تمویہ. ’’جو اس فتوے میں لکھا ہوا ہے وہ بلاشک ولمع سازی صحیح ہے۔‘‘ حررہ سید محمد صادق ولد مولوی گل علی شاہ مبرور مغفور
المسطور حق لاریب فیہ...... ’’اس میں جو لکھا گیا ہے وہ صحیح ہے۔‘‘ العبد محمد ابراہیم امام مسجد جامع بٹالہ
ماحررہ فی ھذا الورق صحیح...... ’’جو اس ورق میں لکھا گیا ہے صحیح ہے۔‘‘ (یہ مولوی صاحب مولوی محمد صادق (قادیانی) کے بھائی ہیں) العبد ابو الحسن محمد حسین عفی عنہ
ذلک الکتاب لاریب فیہ المجیب مصیب. ’’اس فتوے میں کوئی شک نہیں ہے مجیب نے ٹھیک جواب دیا ہے۔‘‘ حررہ محمد فخر الدین گجراتی وارد بٹالہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حامداً و مصلیاً و مسلماً. اما بعد فی الواقع یہ عقائد محدثہ مخترعہ موضوعہ مرزا قادیانی کے مخالف عقائد حقہ جمہور اہل اسلام ہیں۔ پس ہر مسلمان متدین پر لازم ہے کہ ان کا ابطال جہاں تک ہو سکے کرے ہاتھ سے یا زبان سے اور دل سے فقط برا جاننا تو ضعف ایمان پر دال ہے۔ جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے۔ عن طارق بن شھاب قال اول من بدء بالخطبة یوم العید قبل الصلوۃ مروان فقام الیہ رجل فقال الصلوۃ قبل الخطبة فقال قدترک ماھنالک فقال ابوسعید اما ھذا فقد قضٰی ماعلیہ سمعت رسول اللہ ﷺ یقول من رای منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ و ذلک اضعف الایمان.
(رواہ مسلم ج ۱ ص ۵۱ باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان و ان الایمان یزید و ینقص)
واضح رہے کہ قطع نظر ان جمیع عقائد باطلہ کے جن کی تردید اصل فتوے میں مندرج ہے۔ صرف بعض
مجملاً ذکر کر کے ابطال کیا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ جمہور اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے اور دمشق کے منارۂ شرقی پر فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر تشریف لائیں گے اور دجال کو (کہ ان سے پیشتر خروج کر چکا ہوگا) قتل فرمائیں گے اور نیز حضرت مہدی علیہ السلام بھی اس وقت ظاہر ہو چکے ہوں گے۔ یہ بیان احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ و یفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرا من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابوہریرۃ فاقرؤا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ.
(بخاری ج ۱ ص ۴۹۰ باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسیٰ بن مریم)
اس حدیث میں گویا ابو ہریرہؓ نے تفسیر آیت کی فرما دی کہ جس سے ان کا دنیا میں پھر آنا اور فوت ہونا ثابت ہوتا ہے۔ وعنہ قال قال رسول اللہ ﷺ واللہ لینزلن ابن مریم حکماً عادلاً فیکسرن الصلیب و یقتلن الخنزیر و لیضعن الجزیۃ و لیترکن القلاص فلا یسعیٰ علیھا و لتذھبن الشحناء والتباغض و التحاسد ولیدعون الی المال فلا یقبلہ احد. (رواہ مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسیٰ بن مریم) فی روایۃ لھما کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم انتھی (ایضاً) ان ہر دو حدیثوں میں صاف طور پر آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ ابن مریم علیہ السلام جب اتریں گے تو صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر قتل کریں گے اور یہ سب امور اپنے حقیقی معنی پر محمول ہیں جیسا کہ علمائے اہل اسلام نے اس کی تصریح فرمادی ہے۔
(امام نووی شرح مسلم ج ۱ ص ۸۷) میں فرماتے ہیں۔ معناہ یکسرہ حقیقۃ ویبطل ماتزعمہ النصاریٰ من تعظیمہ وفیہ دلیل علی تغییر١؎ المنکرات والات الباطل وقتل الخنزیر٢؎ من ھذا القبیل وفیہ دلیل المختار فی مذھبنا و مذھب الجمھور انا اذا وجدنا الخنزیر فی دارالکفر او غیرھا و تمکنا من قتلہ قتلناہ اور مرزا قادیانی نے اپنے تئیں مثیل مسیح قرار دیا ہے اور ابن مریم علیہ السلام کے حقیقی نزول سے انکار کیا ہے اور کہیں انکار احادیث اور کہیں تاویلات باطلہ کو اختیار کیا ہے۔ چنانچہ صلیب کے توڑنے سے یہ مقصود رکھا ہے کہ وہ اظہار حرمت صلیب کریں گے جس کو میں کر رہا ہوں۔
مگر راقم حیران ہے کہ ”حرمت“ صرف مرزا کی ہے یا کہ قدیم زمانہ اہل اسلام سے مشہور و معروف ہے اوّل تو بدیہی البطلان ہے۔ پس ثانی متعین ہے اور ان کی تاویل باطل ہے۔ فہو المطلوب اور قتل خنزیر سے بھی یہ معنی لیا ہے کہ اس کی حرمت کا اظہار ہے اور ظاہری معنی پر یہ اعتراض واہی کیا ہے کہ کیا وہ شکار کھیلتے پھریں گے حالانکہ محاورہ اہل زبان میں شائع ہے کہ بادشاہ نے فلاں کو قتل کیا۔ اور اس سے مقصود صرف یہی نہیں ہوتا کہ بادشاہ اپنے ہاتھ سے قتل کا مرتکب ہوا ہے بلکہ جلاد کا قتل کرنا بھی منسوب الی السلطان سمجھا جاتا ہے اور یہاں پر مباشرت بنفسہ میں بھی کوئی محذور نہیں ہے۔ علیٰ ہٰذا کفار سے جزیہ قبول نہ فرمائیں گے۔ بلکہ صرف اسلام ہی مقبول ہوگا
١؎ اس کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ مروان نے نماز عید سے پہلے خطبہ پڑھا تو ایک شخص نے اس پر اعتراض کیا۔ جس پر ابوسعید خدریؓ نے فرمایا کہ اس نے آنحضرت ﷺ کی اس حدیث پر عمل کیا کہ جو بری بات دیکھے وہ اس کو ہٹا دے۔ ہاتھ سے نہ طاقت ہو تو زبان سے۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے برا جانے اور یہ ادنیٰ درجہ ایمان ہے۔
٢؎ اس کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ قتل خنزیر سے حقیقۃً خنزیر کو قتل کرنا مراد ہے۔
اور یہ امور ان سے بطور تنسیخ شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام واقع نہ ہوں گے کیونکہ نبی مستقل نہ ہوں گے بلکہ تابع شریعت محمدیہ ﷺ ہوں گے۔ اور آنحضرت ﷺ ناسخ اور مبین احکام مذکورہ ہیں کیونکہ آپ نے بطور پیشینگوئی کے پہلے ہی سے فرما دیا۔ جس سے یہ پایا جاتا ہے کہ احکام موجودہ ان کے آنے تک ہیں۔ پھر تبدیل ہو جائیں گے۔ چنانچہ امام نووی شرح مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول مسیح بن مریم میں فرماتے ہیں۔ فعلی ھذا قدیقال ہذا خلاف ماھو حکم الشرع الیوم فان الکتابی اذا بذل الجزیۃ وجبت قبولھا ولم یجز قتلہ ولا اکراہ علی الاسلام وجوابہ ان ہذا الحکم لیس بمستمر الی یوم القیمۃ بل ھو مقید بما قبل نزول عیسیٰ علیہ السلام وقد اخبرنا النبی ﷺ فی ھذہ الاحادیث الصحیحۃ بنسخہ ولیس عیسیٰ ﷺ ھو الناسخ بل نبینا صلی اللہ علیہ وسلم ھو المبین للنسخ فان عیسیٰ علیہ السلام یحکم بشرعنا فدل علی ان الامتناع من قبول الجزیۃ فی ذلک الوقت ھو شرع نبینا محمد ﷺ انتھی۔ اور مال کی کثرت ہونا بھی بڑی علامت فرمائی ہے کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا بعض حواری مرزا قادیانی اس کی تصدیق یوں فرماتے ہیں کہ وہ بھی بہت مال لوگوں کو دیتے ہیں۔ یعنی بذریعہ اشتہارات وعدہ انعام کا دیتے ہیں اور کوئی قبول نہیں کرتا سُبْحَانَ اللّٰہ کیا تاویل واہی ہے اور کیسا خیال محال ہے کیونکہ کثرتِ مال و عدم قبول کی تشریح صاف طور پر آپ نے فرما دی ہے کہ کثرت کا یہ حال ہوگا کہ اونٹنی جوان بیکار پڑی پھرے گی کوئی متوجہ اس کی طرف نہ ہوگا۔ اور نیز دنیا سے نفرت اور عبادت میں لذت ہوگی کہ اس وقت ایک سجدہ دُنْیَا وَمَا فِیْھَا سے بہتر ہوگا۔ بھلا آج کل یہ معاملہ ہے بلکہ خلاف اس کے سب کی توجہ تام دنیا ہی کی طرف ہے۔ حتیٰ کہ عموماً ایک پیسہ سجدہ سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اِلَّا مَاشَآءَ اللّٰہ بلکہ خود مرزا قادیانی نے یہ دنیائے دوں کے کمانے کا ذریعہ نکالا ہوا ہے۔ عیاں را چہ بیاں۔ اور یہ علامت بھی بہت بڑی فرمائی کہ اس وقت لوگوں میں باہمی بغض، عداوت، حسد سب جاتا رہے گا۔ بخلاف آج کل کے کہ زمین آسمان کا فرق ہے۔ عموماً یہ امور ایسے شائع ہیں کہ اس کا انکار بدیہی البطلان ہے ۔
چونکہ مرزا قادیانی سے ان امور صریحہ کی کوئی تاویل نہ بن سکی ادھر رخ بھی نہ کیا اور حدیث دمشق میں دربارہ نزول ابن مریمؑ چار جگہ نبی اللہ کا لفظ آیا ہے اور نبی کا اطلاق مخالف آیت خاتم النبیین نہیں اس لیے کہ یہ اطلاق باعتبار ماکان کے ہے اور محاورہ میں شائع ہے۔ کما لایخفی علی اللبیب پس اعتراض مخالف غلط صریح ہے اور فرشتوں کے پروں پر اترنا دمشق کے منارۂ شرقی پر صحیح مسلم میں موجود ہے اور یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ وہ دنیا میں آکر نکاح کریں گے۔ اولاد ہوگی اور وہ فوت ہوں گے۔ اور آنحضرت ﷺ کے روضہ منورہ میں مدفون ہوں گے جیسا کہ مشکوٰۃ میں ہے۔ عن عبد اللّٰہ بن عمرو قال قال رسول اللّٰہﷺ ینزل عیسیٰ بن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسا و اربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا و عیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر۔ (رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفاء کذا فی المشکوٰۃ ص ۳۸۰ باب نزول عیسی علیہ السلام) اور ظاہر ہے کہ علامہ بن جوزی محدث کو رد احادیث موضوعہ کے بارہ میں کس قدر مبالغہ تھا۔ پھر یہ حدیث جس کو وہ خود روایت کرتے ہیں صحیح ہے اور مرزا قادیانی کا ان سب نصوص صریحہ سے انکار یا تاویل لا طائل کرنا صریح البطلان ہے۔ اور لفظ امامکم منکم کے یہ معنی لینا کہ آنے والا جو ہوگا تو وہ تمھیں میں سے ہوگا۔ حقیقۃً ابن مریمؑ نہیں ہوں گے خیال محض ہے اس لیے کہ امامکم منکم کی
تفسیر دوسری جگہ آ گئی ہے کہ وہ مہدی ؑ ہوں گے جو ان کے بھی امام بنیں گے۔ وعن جابر قال قال رسول اللہ ﷺ لاتزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى یوم القيمة قال فينزل عیسى ابن مریم فیقول امیرهم تعال صل لنا فیقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة.
(رواہ مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام)
بعض روایات میں جو آیا ہے کہ وہ امام بنیں گے تو اس سے یہ مراد ہے کہ وہ کتاب اللہ کی اجراء و تعمیل میں امام ہوں گے۔ الفاظ حدیث یہ ہیں فامکم بکتاب اللہ.
(دیکھو مسلم صفحہ ۸۷ جلد ۱)
الغرض مرزا قادیانی کو اپنے تئیں مثیل مسیح سمجھنا اور لوگوں کو اس کی دعوت کرنا بالکل خلاف عقائد اہل اسلام ہے۔
علیٰ ہٰذا دجال کے بارہ میں احادیث صحیحہ موجود ہیں۔ چنانچہ (مسلم ج ۲ ص ۴۰۰ باب ذکر الدجال) میں ہے۔ وان الدجال ممسوح العين عليها ظفرة غليظة مكتوب بين عينيه كافر يقرأ كل مؤمن كاتب و غیر كاتب. ”اس کی آنکھ مٹائی گئی ہوگی۔ اس پر ایک گاڑھا ناخنہ ہوگا۔ دونوں آنکھوں کے مابین لفظ کافر لکھا ہوگا جس کو خواندہ و ناخواندہ پڑھ لے گا۔“
اب یہ صریح علامت ہے کہ ان حروف کو ان پڑھ بھی پڑھ لے گا اور یہ بھی آیا ہے کہ عیسیٰ ؑ اس کو باب لُد پر قتل فرمائیں گے اور یہ بھی اس کی علامت ہے کہ چالیس روز تک رہے گا۔ پہلا دن سال کے برابر۔ دوسرا مہینہ کے برابر۔ تیسرا جمعہ کے برابر ہوگا اور باقی دن اور دنوں کے برابر ہوں گے۔
چنانچہ یہ بھی اس میں ہے۔ قلنا يارسول الله ﷺ وما لبثه فى الارض قال اربعون يومًا يوم كسنة و يوم كشهر و يوم كجمعة وسائر ايامه كا يامكم قلنا يارسول الله ﷺ فذالك اليوم الذى كسنة اتكفينا فيه صلوة يوم قال لا اقدروا له قدره.
(مسلم ج ۲ ص ۴۰۱ باب ذکر الدجال)
”ہم نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ کتنا عرصہ زمین میں ٹھہرے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا چالیس دن۔ جن میں ایک دن سال بھر کا ہوگا۔ ایک مہینہ کا۔ ایک ہفتہ کا اور باقی اور دنوں جیسے۔ ہم نے عرض کیا کہ اس سال بھر والے دن میں کیا ایک ہی وقت نماز کافی ہوگی۔ فرمایا نہیں۔ وقت نماز کا اندازہ کرنا ہوگا۔“
اور پھر یاجوج و ماجوج کا نکلنا اور ان کے عجیب حالات اور ان سب کا مرض وباء عام سے مرنا اور عیسیٰ ؑ کا کوہ طور سے اترنا وغیرہ وغیرہ سب صحیح مسلم میں موجود ہے۔
اب مرزا قادیانی کا دجال سے مراد با اقبال قومیں لینا کس قدر مخالفت و تحریف احادیث صحیحہ ہے۔ کیا بااقبال قومیں اس وقت موجود نہ تھیں؟
غرضیکہ باب تاویل میں مرزا قادیانی نیچریوں سے بڑھ گئے ہیں اور جس طرح احادیث موضوعہ کو صحیح بیان کرنا کذب علی الرسول ﷺ ہے۔ اسی طرح احادیث صحیحہ کا انکار یا تاویل باطل کذب علی الرسول ﷺ ہیں۔ اور حدیث صحیح میں ہے۔ من کذب علی متعمداً فلیتبؤ مقعده من النار. (مسلم ج ۱ ص ۷ باب تغلیظ الکذب علی رسول اللہ ﷺ)
الغرض یہ عقائد مرزا قادیانی کے باطل مخالف عقائد اہل اسلام ہیں اور خلاف اجماع امت ہیں۔ اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے ويتبع غیر سبيل المومنین نوله ماتولّٰی و نصله جهنم و ساءت مصيرا اور امت محمدیہ ہرگز گمراہی پر مجتمع نہیں ہو سکتی بلکہ جو ان سے خارج ہو، مستحق نار ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ترمذی میں ہے۔
عن ١؎ ابن عمر قال قال رسول الله ﷺ ان الله لا يجمع امتى اوقال امة محمد ﷺ على الضلالة ويد الله على الجماعة ومن شذ شذ فى النار. (ترمذی ج ۲ ص ۳۹ باب فى لزوم الجماعة) و عن ٢؎ ابن عمر قال قال رسول الله ﷺ اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذشذ فى النار. (رواہ ابن ماجة من حديث انس كذافی المشكوة ص ۳۰ باب الاعتصام بالكتاب والسنة) عن ٣؎ ابى ذر قال قال رسول الله ﷺ من فارق الجماعة شبرا فقد خلع ربقة الاسلام من عنقه. (رواہ احمد و ابو داؤد كذا فى المشكوة) اور یہ بھی حدیث صحیح میں وارد ہے کہ قیامت سے پہلے تیس دجال کذاب پیدا ہوں گے اور سب کے سب رسالت کا دعویٰ کریں گے۔ سو یہ دعویٰ بھی مرزا قادیانی کی کلام میں پایا جاتا ہے۔ قال الامام النووى فى ٤؎ شرح المسلم وقد وجد من هؤلاء خلق كثيرون فى الاعصار واهلكهم الله تعالى و اقلع اثارهم وكذلك يفعل بمن بقى منهم. اور مزید یہ کہ باوجود ان عقائد باطلہ کی اشاعت کے یہ دعویٰ بھی فرماتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں مسلمانوں کے سے عقیدے رکھتا ہوں حالانکہ ؎
جب ان کی تالیفات پکار پکار کر اس دعوے کی تکذیب کر رہے ہیں پھر کیونکر مردِ عاقل دام میں آئے۔ اب میں خداوند کریم سے اس دعا پر کلام کو ختم کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کو انھیں عقائد حقہ پر جن پر اجماع امت ہے پھر عود کرنے کی توفیق عنایت کرے اور نیز ان کے متبعین کو امور حقہ پر لائے ورنہ سوء عاقبت کا اندیشہ ہے۔ وما علينا الا البلاغ واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين و الصلوة والسلام على رسوله خير خلقه محمد خاتم النبيين و آله و اصحابه اجمعين.
كتبه خادم العلماء کمترین راجی رحمة ربه القوى.
احمد على عفا الله عنه بٹالوی مدرس مدرسہ اسلامیہ بٹالہ
علمائے شہر پٹیالہ ریاست
ہم نے مرزا قادیانی کے رسائل توضیح و فتح، ازالہ، نہایت غور سے دیکھے۔ قادیانی کے عقائد مخترعہ بے شک و بلا شبہ قرآن و حدیث کی تعلیم اور صحابہ کرام وسلف صالح کے عقائد سے مخالف ہیں۔ ایسا شخص بے شک دائرہ اسلام سے خارج اور حدیث کا پورا پورا مصداق ہے۔
مولوی محمد اسحاق واعظ و مفتی شہر پٹیالہ و پروفیسر عربی مہندر کالج پٹیالہ
مولوی حافظ غلام مرتضیٰ پروفیسر فارسی مہندر کالج پٹیالہ
کرامت اللہ مولوی فاضل
مولوی غلام محمد عفی عنہ
هذا الجواب صحيح و حق صريح والحق احق ان يتبع.
حشمت ٥؎ الله سنورى.
- ١؎ بڑی جماعت کے پیچھے لگو جو اس سے نکلا وہ آگ میں پڑا۔
- ٢؎ جو ایک بالشت جماعت سے الگ ہوا اس نے اسلام کا پٹا گردن سے نکال دیا۔
- ٣؎ ایسے لوگ پچھلے زمانوں میں بہت پائے گئے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہلاک کیا۔ ایسا خدا تعالیٰ آئندہ آنے والوں سے کرے گا۔
- ٤؎ امت محمدی کا گمراہی پر اتفاق و اجماع نہ ہوگا اور جو جماعت سے نکلا وہ آگ میں پڑا۔
- ٥؎ مولوی حشمت اللہ صاحب سنوری وہ ہیں جن کی ازالہ میں خاص مریدوں کی فہرست میں تعریف فرمائی ہے۔ ان کو اپنا ہم
رنگ بھی لکھا ہے اور دعائے خیر بھی دی ہے۔ دیکھو صفحہ ۸۰۱ ازالہ۔
”جواب درست ہے۔ خداوند کریم قادیانی اور اس کے مقلدین کو راہ راست کی ہدایت فرمائے۔“
مجھ کو جملہ علمائے اسلام سے اتفاق ہے۔ مولوی طالب علی لاہوری مقیم پٹیالہ
جو شخص ملائکہ کو نفوس فلکیہ اور سلسلہ نبوت کو خواہ تامہ ہو خواہ ناقصہ قیامت تک جاری سمجھے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ (مولوی) حافظ عظیم بخش سکنہ بنگہ ضلع ہوشیار پور مقیم پٹیالہ (یہ صاحب بھی مرزا کے حواری تھے)
مجھے مولوی محمد اسحاق صاحب کی تحریر سے اتفاق ہوا۔ العبد فقیر عبدالعزیز محدث رئیس موضع کُوم ضلع لدھیانہ
چونکہ مرزا غلام احمد کے عقائد مندرجہ فتویٰ سراسر خلاف عقائد اہل اسلام اہل سنت و جماعت ہیں لہذا مجھ کو بھی سب علمائے دین کے ساتھ اتفاق ہے۔ (مولوی حافظ) سید محمد عنایت علی
الجواب صحیح ...... ”یہ جواب صحیح ہے۔“ خادم امام الدین حسین پروفیسر عربی و فارسی اورینٹل ڈیپارٹمنٹ مہندر کالج پٹیالہ
مرزا کی تحریریں جملہ اہل اسلام خصوصاً عقائد اہل سنت والجماعت کے خلاف ہیں۔ ایسا شخص ہرگز ملہم اور مجدد نہیں ہو سکتا۔ العبد خاکسار محمد عبداللہ عفا اللہ عنہ
علمائے لکھو کے ضلع فیروز پور جو پنجاب میں فقہ و حدیث کے
ممتاز اور نام آور علماء ہیں اور صاحب برکات و الہامات مشہور ہیں۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ فاطر السموات والارض جاعل الملائکۃ رسلاً اولی اجنحۃ مثنی و ثلث ورباع ط یزید فی الخلق مایشاء ان اللہ علی کل شیء قدیر والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الامین محمد المبعوث فی الامیین بجوامع الکلم والکلام المبین و علیٰ الہ واصحابہ اجمعین ومن تبعھم الی یوم الدین۔ اما بعد۔ جو عقائد کفریہ مرزا قادیانی کے سوال میں مرقوم ہیں۔ ہر ایک کفر مذکور اس کے کافر مرتد ہونے کے لیے کافی و وافی ہے۔ معاذ اللہ اس کا مذہب ہے کہ میرے الہام قطعی مثل کتاب اللہ کے ہیں۔ جیسا کہ یہ اس نے بعضے اشتہاروں میں صاف صریح لکھا ہے۔ لہٰذا وہ احادیث صحیحہ صریحہ کے مقابلے میں مرتدانہ کلام کرتا ہے۔ اور کھلم کھلا کافر ہوا جاتا ہے۔
اب یہاں یہ مسئلہ حقہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر حدیث صحیح مرفوع جس کو علمائے حدیث نے بالتحقیق صحیح ثابت کیا ہے واجب القبول والعمل بالاجماع ہے۔ اس کا منکر مکذب اپنی رائے سے موضوع و باطل کہنے والا کافر و مرتد ہے۔ اس میں بہانہ قول امام کا یا کشف والہام کا یا عقل نافرجام کا کچھ کام نہیں آتا۔ اگر حدیث متواتر ہے تو منکر کافر قطعی ہے ورنہ ظنی کافر ہے۔ پس میری تحقیق میں یہ ملحد قادیانی اشد المرتدین عجیب کافر و منافق لاثانی ہے۔ اس لیے اس نے ازالہ کے صفحہ ۲۹۷ میں سب اہل اسلام کو جو صحابہ سے لے کر اب تک ہیں ملحد صریح اور سخت بے ایمان بنا دیا ہے۔ عیسٰی ؑ کے معجزوں پر ایمان لانے کی وجہ سے اور اس کی پوچ تاویلیں قابل التفات نہیں اور نہ لائق اعتبار ہیں بلکہ فی الحقیقت تاویلیں نہیں صاف تمسخر منافقانہ اور استہزاء کافرانہ ہے۔ مثلاً دعوائے الہام اس کا کہ میں عیسٰی ؑ کے نزول موعود کا مصداق ہوں استعارے کے طور پر سراسر باطل و مردود ہے۔ کیونکہ استعارہ مجاز کا قسم ہے اور مجاز میں قرینہ مانعہ ارادۂ معنی موضوع لہ سے ہونا ضرور ہے۔ اور یہاں کوئی قرینہ مانعہ ارادۂ معنی حقیقی سے نہیں ہے جو وجود مبارک عیسٰی ؑ کا بتمامہ ہے۔ والمجاز مفرد و مرکب اما المفرد فھی الکلمۃ
المستعملة فى غير ما وضعت له فى اصطلاح به التخاطب على وجه يصح مع قرينة عدم ارادته اى ارادة الموضوع له (مختصر معانى مع متنه تلخيص المفتاح) والاستعارة تفارق الكذب بوجهين بالبناء على التاويل ونصب القرينة على خلاف الظاهر فى الاستعارة لما عرفت انه لابد للمجاز من قرينة مانعة عن ارادة الموضوع له (مختصر معانى مع متنه) اور ملحد صاحب نے کوئی قرینہ مانعہ معنی حقیقی سے الفاظ نبویہ ﷺ میں قرار نہیں دیا اور اپنے الہام ضد اسلام پر ایمان لاکر خلاف تفسیر صحیح کا و کفر حدیث متواتر کا اختیار کیا۔ معاذ اللہ، فی تفسیر ابن کثیر و قوله سبحانه و تعالی و انه لعلم للساعة ط تقدم تفسير ابن اسحاق ان المراد من ذلك مابعث به عيسى عليه الصلوة والسلام من احياء الموتى و ابراء الاكمه والا برص و غير ذلک من الاسقام وفى هذا نظر و ابعد منه ماحكاه قتادة عن الحسن البصرى و سعيد بن جبير وان الضمير فى وانه عائد على القران بل الصحيح انه عائد على عيسى عليه الصلوة والسلام فان السياق فى ذكره ثم المراد بذالک نزوله قبل يوم القيمة كما قال تبارك و تعالى وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته اى قبل موت عيسى عليه الصلوة والسلام ثم يوم القيمة يكون عليهم شهيدا ط ويؤيد هذا المعنى القرأة الاخرى وانه لعلم للساعة ط اى امارة و دليل على وقوع الساعة قال مجاهد وانه لعلم للساعة ط اى آية للساعة خروج عيسى بن مريم عليه الصلوة والسلام قبل يوم القيمة وهكذا روى عن ابى هريرة وابن عباس و ابى العالية و ابى مالک و عكرمة والحسن وقتادة والضحاک وغيرهم وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله ﷺ انه اخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيمة اماما عادلا وحكما مقسطا انتهى.
(تفسیر ابن کثیر ج ۷ ص ۲۳۱ زیر آیت و انه لعلم للساعة)
”اس کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے۔ اس قول خداوندی کی ”وانه لعلم للساعة“ تفسیر ابن اسحاق سے مذکور ہو چکی ہے کہ اس سے حضرت عیسیٰ ؑ کے معجزات مراد ہیں جیسے مردہ کو زندہ کرنا اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرنا، مگر یہ محل اعتراض ہے۔ اس سے بعید تر وہ تفسیر ہے جو قتادہ سے منقول ہے کہ اس سے قرآن مراد ہے۔ اس کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے قیامت کے پہلے حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول مراد ہے۔ چنانچہ دوسری آیت میں ارشاد ہے کہ جو اہل کتاب ہیں وہ حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔ اور وہ حضرت قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔ اس معنی کی مؤید دوسری قرأت اِنَّهُ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَةِ ہے۔ یعنی قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ کا نکلنا قیامت کی علامت ہے۔ چنانچہ ابو ہریرہؓ وابن عباسؓ اور ابو عالیہؓ ابو مالکؓ، عکرمہؓ، حسنؒ، قتادہؓ، ضحاکؒ وغیرہ سے مروی ہے اور آنحضرت ﷺ سے متواتر حدیثیں اس باب میں آ چکی ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ قیامت سے پہلے امام عادل ہو کر آئیں گے ۔“
جب تک یہ دعویٰ الہام کا اس نے نہیں کیا تھا۔ اس کا اعتقاد بھی اس مسئلہ میں موافق اہل اسلام کے تھا جیسا کہ (براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۸، ۴۹۹ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳) میں مرقوم ہے۔ پس ظاہر ہے کہ قرآن و حدیث کی حقیقت پر ایمان لانے سے الہام ہی اس کو مانع ہوا۔ جیسا کہ اس نے خود آپ تصریح کی ہے۔ صفحہ اوّل توضیح مرام میں ۔” میرے اس رائے کے شائع ہونے کے بعد جس پر میں بینات الہام سے قائم کیا گیا ہوں، تو الہام ہی قرینہ مجاز کا اس کے زعم میں ثابت ہوتا ہے اور کوئی قرینہ عقلی نقلی اہل اسلام کے طور پر نہیں ہے۔ پس لازم آئے گا کہ
قرینہ مجاز کا تیرہ سو برس بعد آنحضرت ﷺ کے قائم ہوا اور آپ کی کلام ناتمام کو تمام کیا۔ اور مفید مطلب واقعی کے بنانا ورنہ پہلی وہ کلام مفید خلاف مطلب کے تھی۔ فصاحت بلاغت کجا بلکہ ضلالت در ضلالت تھی۔ یہ تمسخر منافقانہ اور استہزاء نہیں تو کیا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ ذلک جزاء ھم جھنم بما کفروا و اتخذوا ایتی ورسلی ھزوا (کہف ۱۰۶) اور یہ امر آنحضرت ﷺ کی کمال فصاحت و بلاغت کو داغ لگانے کے لیے کمال شیطنت ہے اور آپ کی فصاحت بلاغت جس طرح موافق و مخالف کے نزدیک مشہور ہے اسی طرح حدیث صحیح میں بھی ثابت و مذکور ہے۔ بعثت ۱؎ بجوامع الکلم (مسلم ج ۱ ص ۱۹۹ کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ) فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم. (رواہ مسلم ایضاً) سید المرسلین صلوت اللہ و سلامہ علیہ و علیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین. و فی الحدیث متفق علیہ ایضاً. ان رسول اللہ ﷺ لم یکن یسرد ۲؎ الحدیث کسردکم کان یحدث حدیثاً لوعدہ عادلا حصاہ کما فی (المشکوۃ ص ۵۱۹ باب اخلاقہ ﷺ فی صحیح البخاری ج ۱ ص ۵۰۳ باب صفۃ النبی ﷺ) کان النبی ﷺ اذا تکلم بکلمۃ اعادھا ثلثاً حتیٰ تفھم عنہ کما فی (کتاب العلم من المشکوۃ ص ۳۳ وفی صحیح مسلم فی خطبۃ النبی ﷺ) امابعد فان خیر الحدیث کتاب اللہ و خیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم. پس یہ صاف ظاہر ہے کہ ان احادیث صحیحہ مذکورہ سے آنحضرت ﷺ تقریر تعلیم و افہام تفہیم میں سب انبیاء علیہم السلام پر فوقیت رکھتے تھے تو پھر آپ ﷺ کی کلام کے مقابلے میں محدثین ملہمین کی عبارات الہامات کی کیا حقیقت رہی۔ چہ جائیکہ الہامات اس محدث فی الدین مرتد بالیقین کے، معاذ اللہ۔
اور اللہ تعالیٰ نے داؤد ؑ کے حق میں فرمایا ہے۔ واتینہ الحکمۃ و فصل الخطاب (ص ۲۰) قال ابن عباسؓ بیان الکلام کما فی المعالم یعنی عطا کی ہم نے داؤد کو دانائی اور کھلی بات کرنی جس کو ہر ایک بلا تکلف سمجھے۔ پس حضرت ہمارے محمد ﷺ بالاولیٰ اس کمال میں اعلیٰ و اولیٰ ہیں۔ لقولہ علیہ السلام فضلت علی الانبیاء الخ وقولہ علیہ السلام خیر الھدی ھدی محمد ﷺ. مختصر معانی میں ہے۔ وفصل الخطاب. ای الخطاب المفصول البین الذی یتبینہ کل من یخاطب بہ ولا یلتبس علیہ وھذا فی المطول کفر اعظم کادیانی علماء مفسرین و محدثین جو ظاہر علم تفسیر و حدیث کا ہمیشہ پڑھتے پڑھاتے رہے ہیں۔ یہ بے مغز خدمتیں ہیں اور یہ تمام خدا تعالیٰ کے نزدیک استخوان فروشی ہے اس سے بڑھ کر نہیں (دیکھو فتح اسلام صفحہ ۸) قال اللہ تعالیٰ ولئن سألتھم لیقولن انما کنا نخوض و نلعب قل ابا اللہ وآیتہ و رسولہ کنتم تستھزؤن لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم (توبہ ۶۵) جو کوئی دین کی باتوں میں ٹھٹھا کرے اگر چہ دل سے منکر نہ ہو وہ کافر ہوا۔ نہیں تو البتہ منافق ہوا۔ دین کی بات میں ظاہر و باطن با ادب رہنا ضروری ہے۔ (تفسیر موضح القرآن ص ۲۵۵) اللہ اکبر دین کی بے ادبی سے آدمی کافر و منافق ہو جاتا ہے اگرچہ اعتقاداً نہ ہو۔ معاذ اللہ، اگر اعتقاداً ہو جیسا کہ اس ملحد نے علم دین کی اہانت کی ہے تو پھر کفر و نفاق اس کے میں کیا شک ہے۔ انواع بارک اللہ رحمہ اللہ میں لکھا ہے ؎
۱؎ اس عبارت کا خلاصہ ترجمہ آنحضرت کی فصاحت و بلاغت اور کلمات جامعہ کہنے کا بیان ہے۔ ۲؎ السرد جودۃ سیاق الحدیث. ۱۲ ق
یا کرے اہانت شرع دی اوہ بھی کافر ہو
اور عیسیٰ علیہ السلام کو اس ملحد نے بتقلید نصاریٰ صلیب پر چڑھا دیا ہے اور کفر و انکار نص قرآنی کا کیا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ وَمَا صَلَبُوْهُ اور عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا لکھا ہے۔ یہ بھی کفر صریح ہے۔ قرآن و حدیث کا صاف انکار ہے اور فرشتوں کے عروج و نزول کا انکار۔ بہت نصوص قرآنیہ اور احادیث صحیحہ صریحہ کا صاف انکار و کفر صریح ہے اور یہ مستلزم ہے۔ اس کفر اعظم کو، کہ قرآن شریف اللہ کی کلام نہیں بلکہ ان ھذا الا قول البشر ہے۔ کیونکہ فی الخارج نہ کوئی جبریل آیا نہ آنحضرت ﷺ کو اس نے کچھ پڑھایا نہ خدا نے جبریل کو فی الواقع اپنی کلام پیغام دے کر زمین پر بھیجا نہ اتارا۔
پس قرآن بشر کی کلام ہوئی پیغمبر ﷺ کے خیال میں خدا تعالیٰ نے پیدا کی فی الخارج خود نہیں فرمائی۔ نہ جبریل کو پڑھائی اور سلف صالح کا یہ مشہور مسئلہ تھا کہ من قال ان القران مخلوق فهو کافر۔
اور خروج یاجوج ماجوج کا انکار بھی کفر صریح ہے اور خروج دجال و مسیح (یعنی قادیانی) کذاب کا انکار اور دعوائے رسول مرسل نبی اللہ ہونے کا اور احمد مبشر بالقرآن ہونے کا بھی کفر صریح ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کو ابن اللہ ماننا۔ اس ملحد کی نصرانیت ہے اور اپنی ذات کو ابن اللہ کا لقب دینا یہودیت ؎۲ اور یہ جو موحدین ان کفریات صریحہ کو برحق مانتے ہیں وہ بھی کافر مرتد ہیں اور جو خود برحق نہیں جانتے مگر مرزا سے محبت دل و جان سے کرتے ہیں اور اس پر بزرگ کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ ہرگز اس کے کفریات صریحہ مذکورہ پر غیرت ایمانی کو راہ دل میں نہیں دیتے ان میں بھی رائی کے دانے برابر ایمان نہیں۔
عن ابن مسعودؓ قال قال رسول الله ﷺ مامن نبى بعثه الله فى امته قبلى الاكان له فى امته حواريون و اصحاب ياخذون بسنته و يقتدون بامره ثم انها تخلف من بعدهم خلوف يقولون مالا يفعلون و يفعلون مالا يؤمرون فمن جاهدهم بيده فهو مؤمن ومن جاهدهم بلسانه فهو مؤمن ومن جاهدهم بقلبه فهو مؤمن وليس وراء ذلك من الايمان حبة خردل.
(رواہ مسلم ج ۱ ص ۵۲ باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان وان الایمان یزید)
’’حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو نبی گزرا ہے اس کے حواری اور اصحاب گزر چکے ہیں جو اس کی سنت و طریق کو لیتے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے جو وہ بات کہتے خود نہ کرتے وہ کام کرتے جس کے مامور نہ ہوتے جو ان سے ہاتھ کے ساتھ مقابلہ کرے وہ مومن ہے جو زبان کے ساتھ مقابلہ کرے وہ مومن ہے جو دل سے ان کا مخالف ہو وہ مومن ہے۔ اس کے بعد (یعنی اگر دل میں بھی ان کی مخالفت نہ ہو) تو دانہ رائی کے برابر ایمان نہیں ہے۔‘‘
اور جو اس ملحد کو اپنے مکانوں میں جگہ دیتے ہیں اور اس کی مدد میں سرگرم رہتے ہیں وہ اس حدیث شریف کا مصداق ہیں۔ لَعَنَ الله من اوٰى محدثا.
(رواہ مسلم ج ۲ ص ۱۶۰ باب تحریم الذبح لغیر اللہ ولعن فاعله)
۱؎ یہ پنجابی زبان کا شعر ہے اس کا ترجمہ اردو میں یہ ہے کہ جو شخص علم یا علمائے دین یا شرع کی اہانت کرے وہ کافر ہو جاتا ہے۔
۲؎ ان کا یہ قول تھا نحن ابناء اللہ و احباؤہ یعنی ہم خدا کے بیٹے اور دوست ہیں۔
یعنی خدا کی لعنت ہے اس پر جو بدعتی ملحد محدث فی الدین کو جگہ دیتا ہے۔ رد نیچری ۱؎ میں لکھا ہے۔
اس وچہ شک نہ شبہ کوئی ہے صاف ایمانوں دینوں
جویں انکار فرشتیاں یا انکار جناں شیطاناں
یا تھوڑے بیاج حلال پچھانے یا منکر اسماناں
یا معجزہ یا ندا منکر ہووے من تاویلاں خاماں
یا کہے قرآن کلام محمد کافر بوجہ کلاماں
یا آکھے حضرت عیسیٰ تائیں ہے یوسف دا جایا
وچہ قرآن جو قصہ مریم جوٹھا سفنہ آیا
یا آکھے عیسیٰ سولی چڑھیا منے قول نصارٰی
بک آیت دا منکر کافر جوں کر سب دا مارا
اور تاویلیں ملحدانہ اس ملحد کی استہزاء و تمسخر ہے۔ خدا رسول ﷺ کا۔ ان سب کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ کو سمجھانا نہیں آتا اور میرے الہام بینات ہیں۔ اگر اس کے الہاموں کی ایسی تاویلیں کہی جائیں تو مرزا اور مرزائی ضرور تمسخر سمجھیں گے۔
مثلاً الہام انا جعلناک المسیح ابن مریم۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۵۱ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
میں معنی ۲؎ مسیح کذاب ہیں۔ اور یہی معنیٰ باتحقیق مراد ہیں اور ابن مریم لطیف استعارہ ہے کہ اس ملحد کی والدہ مومنہ تھی اور یہ ملحد مسلمانوں کی نسل سے قطع ہو گیا۔ اور الطف استعارہ یہ ہے کہ مسیح سے مراد وزن فعیل کا ہے جو بمعنی مفعول ہے۔ کما ۳؎ فی الہام المجذوب الجمونی حدثنی بہ عبدالغفور قال حدثنی بہ عبدالواحد قال عبدالغفور حدثہ بہ المجذوب بنفسہ اور میں نے فکر کیا ساتویں تاریخ ماہ رجب حال میں بعد نماز فرض عشاء کے، کہ مرزائیوں کے حق میں رسول اللہ ﷺ کی پیروی کیا ہے الہام ہوا۔ اولئک ھم الکفرون حقا۔ ۴؎ ھکذا
- ۱ ردنیچری مولانا محمد بن بارک اللہ کی تصنیف ایک پنجابی نظم کا رسالہ ہے۔ اس کے اشعار منقولہ بالا کا مطلب، تھوڑی سود کو حلال
جاننا، یا معجزات کا انکار کرنا، یا قرآن کو آنحضرت ﷺ کا کلام قرار دینا۔ یا حضرت عیسیٰ ؑ کو یوسف نجار کا بیٹا کہنا یا حضرت مریم کے قصہ رویت جبریل و بشارت فرزند کو ایک خواب قرار دینا یا حضرت عیسیٰ ؑ کی نسبت یہ کہنا کہ وہ صلیب پر چڑھائے گئے تھے وغیرہ۔
- ۲ قاموس میں مسیح کے معنی کذاب بھی لکھے ہیں۔ منہ۔
- ۳ یعنی جیسا کہ جموں کے مجذوب کا الہام شہادت دیتا ہے۔ جو مجھ سے عبدالغفور بن محمد بن عبداللہ غزنوی نے بیان کیا۔ اس
کو عبدالواحد داماد حکیم نور الدین نے بتایا۔ انھوں نے خود اس مجذوب سے سنا۔ یہ مجذوب وہ شخص ہے جس کا ذکر قادیانی نے آسمانی فیصلہ کے صفحہ ۱۶ سطر ۱۴ میں کیا ہے۔ اس مجذوب کو حکیم نور الدین جموں سے قادیان میں جلسہ قرآت فیصلہ آسمانی پر لے گیا۔ وہاں پر مجذوب صاحب نے خواب دیکھا یا ان کو کشف ہوا کہ قادیانی کی ڈیوڑھی میں ایک سفید گھوڑی ہے پھر وہ گدھی بن گئی۔ جس پر کسی نے کہا کہ نور الدین گدھی کی خدمت کر رہا ہے۔ مجذوب صاحب بعارضہ برص یا جذام بیمار ہیں۔ قادیان میں ان کو حکیم نور الدین اس امید پر لے گیا تھا کہ وہاں ان کو شفا ہو گی۔ وہ وہاں سے واپس آئے تو ان کی بیماری اور بڑھ گئی۔ آگے وہ چلتے پھرتے تھے۔ اب اپنے سے معذور ہو گئے ہیں۔ یہ بات خاکسار نے مولوی غلام حسن صاحب امام اہل حدیث سیالکوٹ سے سنی ہے۔ (ایڈیٹر)
- ۴ یہ لوگ پکے کافر ہیں۔
اتطبیق الهامه بالقرآن والحدیث ۱؎ وھکذا تطبیقه بالھامی ۲؎ اللّٰھم رب جبرائیل و میکائیل و اسرافیل فاطر السمٰوات والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیه یختلفون اھدنی لما اختلف فیه من الحق باذنک انت تھدی من تشاء الی صراط مستقیم۔ ان ملحدوں کے حق میں مجھ کو یہ بہت الہام ہوا ہے۔ ان یقولون الا کذبا۔ نہیں کہتے مگر جھوٹ۔
حررہ العبد الضعیف عبدالرحمٰن المدعوا بمحی الدین من مقام لکھو کے فی جواب سوال عافاہ اللّٰہ و ایای فی الدارین۔ المولوی محمد حسین
الجواب صحیح۔ الملتجی الی اللّٰہ محمد بن مخدومی بارک اللّٰہ مرحوم ساکن لکھو کے ضلع فیروز پور پنجاب مصنف تفسیر محمدی و انوار محمدی وغیرہ ”یہ جواب صحیح ہے ۔“
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم
مرزا قادیانی کو یہ عاجز پہلے اچھا سمجھتا تھا۔ جب وہ تائید اسلام میں مصروف تھا۔ جب سے اس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور نبوت کا مدعی ہوا ہے۔ تب سے میں اس کو ملحد و دجال و کذاب سمجھتا ہوں۔
حررہ خادم القوم محمد حسن بن مولانا حافظ محمد بن بارک اللّٰہ مرحوم ساکن لکھو کے ضلع فیروز پور پنجاب
دستخط و مواہیر علمائے تحریر پشاور
یجب علی کافۃ المسلمین طراً و علی قاطبۃ المؤمنین جمعًا ان یحکموا علیه بالکفر والالحاد و یجتنبوا عنه بالغیظ والعناد اذلا شک فی کفره و کفر اتباعه و اشیاعه لانه دجالٌ کذابٌ مرتاب فی الامر الیقینی وساعٍ فی الارض بالفساد ھو مؤوِّل للنصوص القرآنیة علٰی ماھو متمناہ والمحکمات الفرقانیة علٰی ماھو مبتغاہ لافشاء الزور والارتداد یذھب تارۃ الی المذھب السوفسطایة و اخری الی ھواجسات الشیطانیة قد انکر القواطع القطعیة والشریعة الحقة الحقیقة کل ذلک باغواء الشیطان کتب علیه انه من تولاہ فانه یضله و یھدیه الی عذاب السعیر۔ اعوذ باللّٰه من شرہ ومن شر احبارہ و انصارہ ونتوکل علیه انه ھوالسمیع البصیر۔
العبد خادم الفقھاء والمحدثین سید اکبر شاہ حنفی قادری پشاوری
”تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ قادیانی پر کفر والحاد کا حکم لگا دیں اور اس سے کنارہ کش ہوں ۔ اس کے اور اس کے پیروان کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ یہ دجال و کذاب ہے یقینی امر میں شک لانے والا ۔ زمین میں فساد پھیلانے والا ۔ آیات قرآن کو اپنی خواہش کے موافق ۔ اصل معنی سے پھیرنے والا ۔ یہ کبھی سوفسطائی مذہب اختیار کرتا ہے کبھی شیطانی خطرات پر چلتا ہے ۔ احکام و اخبار قطعیہ کا منکر ہے۔ شیطان کے بہکانے میں آیا ہوا ہے جس پر یہ حکم ہو چکا ہے کہ جو شخص اس کو دوست بنائے گا اس کو وہ گمراہ کر دے گا اور جہنم کی راہ چلائے گا ۔ اس کے اور اس کے حواریوں کے شر سے خدا کی پناہ ہے۔“
۱؎ اس کے الہام کی قرآن وحدیث سے یوں ہی موافقت ہو سکتی ہے۔ جو یہاں ہوئی ہے کہ مسیح سے مرزا کا کاذب ہونا اور قادیانی کا گدھی کے صورت میں دکھائی دینا۔
۲؎ اسی طور اس کا الہام ہمارے اس الہام سے کہ وہ پکے کافر ہیں مطابق ہو سکتا ہے۔
نحن نتبع ما نقح الفحول من العلماء والسالکین بطریق الشریعة والانصاف و نحکم بکفره واضلاله. حرره قاضی احمد پشاوری ہم قادیانی کے باب میں اس حکم کے پیرو ہیں جو علماء نے تحقیق کر کے اس پر لگایا ہے ہم اس کو کافر و گمراہ کنندہ جانتے ہیں۔‘‘
افرایت من اتخذ الهه هواه واضله الله علی علم و ختم علی سمعه و قلبه و جعل علی بصره غشاوة فمن یهدیه من بعد الله افلا تذکرون اه اولئک الذین اشتروا الضلالة بالهدی والعذاب بالمغفرة فما اصبرهم علی النار ذلک بان الله نزل الکتاب بالحق وان الذین اختلفوا فی الکتب لفی شقاق بعید. العبد فقیر نور محمد مدرس مسجد قائم علی خان پشاوری ’’یہ شخص ان آیات کا مصداق ہے جن میں ارشاد ہے۔ تو نے اس کو بھی دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کو علم کے ساتھ گمراہ رکھا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے۔ اور آنکھ پر پردہ ہے اب اس کو خدا کے سوا کون ہدایت کرے۔ کیا تم پند پذیر نہیں ہوتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو خریدا اور بخشش کے بدلے عذاب کو۔ یہ کیسے آگ پر صابر ہیں؟ یہ اس لیے ہوا کہ خدا تعالیٰ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری اور جن لوگوں نے اس میں اختلاف ڈالا۔ وہ اس کے خلاف میں دور جا پڑے۔‘‘
الحمد لله اولاً اخراً والصلوة علی نبیه محمد ظاهراً و باطناً و علی اله و اصحابه طراً و جمعاً اما بعد فیا ایها الاخوان المؤمنون اذا حکم ببقاء الایمان ان نزول عیسیٰ بن مریم علیه السلام من السماء بعد ظهور المهدی الموعود حق وما قتل عیسیٰ من ایدی الکفار وما صلب بل رفعه الله الی السماء و نزوله علامة للساعة و یقتل الدجال الاعور من یده وهذه الامور کلها ثابتة بالایت الناطقة والاحادیث القاطعة فکیف من ادعی بانی انا المسیح عیسیٰ حاشا و کلا لیس هو کما یدعی بل هو من احد الدجالین الکذابین وادعاوہ باطل محض مشتمل علی انکاره من النصوص القطعیة والبراهین الیقینیة ولقدزین الشیطان له عداوة الانبیاء فمن کان عدوا للّٰه و ملئکة ورسله و جبریل و میکائیل فان الله عدو للکافرین و صار مصداق هذه الایة فمن اظلم ممن کذب علی الله وکذب بالصدق اذجاء ہ لیس فی جهنم مثوی للکافرین. فمن کان هکذا فهو ضال مضل یضل الناس عن سواء الطریق فاجتنبوا منه ومن احباره و انصاره لعلکم تفلحون من شره. حرره الفقیر الحقیر حافظ عبدالحکیم قادری پشاوری ’’بھائی مومنو! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے ظہور مہدی علیہ السلام کے بعد اترنا حق ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام صلیب پر نہیں چڑھائے گئے اور نہ مارے گئے بلکہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں۔ ان کا قیامت سے پہلے اترنا قیامت کی علامت ہے۔ وہ دجال کو قتل کریں گے۔ یہ سب امور بحکم آیات ناطقہ اور احادیث قاطعہ ہونے والے ہیں۔ پھر جو شخص اب دعویٰ کرتا ہے کہ میں مسیح ہوں وہ مسیح نہیں ہے بلکہ دجال ہے اور اس کا دعویٰ بحکم آیات و احادیث باطل ہے۔ شیطان نے اس کو نبیوں کی دشمنی اچھی کر دکھائی ہے اور جو نبیوں کا دشمن ہو۔ خدا اس کا دشمن ہے۔ وہ اس آیت کا مصداق ہے جس میں یہ بیان ہے کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر افترا کرے اور حق کو (جب اس کے پاس آ چکا ہو) جھٹلائے۔ کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے۔‘‘
ما اجاب العلماء الكرام فهو احق بالصواب والجواب. الراقم فقير سيد محمد واعظ مسجد گنج خلف الصدق رئيس العلماء حافظ محمد عظیم مرحوم ”جو جواب علماء نے دیا ہے وہ درست ہے۔“
الحمد للّٰه رب العالمين و الصلوٰة والسلام على رسوله محمد خاتم النبيين و على اله و صحبه اجمعين اما بعد فلا يخفى على كافة المسلمين المؤمنين بجميع ما جاء به الرسول الامين من الشرع المبين ان نزول عيسىٰ بن مريم الصديقة المعهود فى اشراط الساعة حق ثابت بالكتاب والسنة الصحيحة الصريحة قال عز من قائل وانه لعلم للساعة. اخرج الحاكم عن ابن عباس هو خروج عيسىٰ كذافى الاكليل فى معانى التنزيل وقرئ ابن عباس لعلم بفتحتين بمعنى العلامة واخرج البخارى و مسلم و ابوداؤد والترمذى عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً مقسطاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير و يضع الجزية و يفيض المال حتى لا يقبله احد ثم يقول ابوهريرة اقروا ان شئتم وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته والمعنى ما من احد من اهل الكتاب ادرك ذلك الوقت الا امن بعيسىٰ عند نزوله من السماء و صحح هذا القول الطبرى كذافى تفسير الخازن وقال عطاء عن ابن عباس اذا نزل عيسىٰ الى الارض لا يبقى يهودى ولا نصرانى الا امن به وشهد انه روح الله وكلمة وعبده و نبيه كذافى التفسير الوسيط للامام الواحدى واخرج الامام احمد فى مسنده عن عائشة قالت قال رسول الله ﷺ يخرج الدجال فينزل عيسىٰ ابن مريم فيقتله ثم يمكث عيسىٰ فى الارض اربعين سنة اماما عادلاً مقسطاً. و فى حديث مسلم عن النواس بن سمعان ذكر رسول الله ﷺ الدجال ذات غداة الى ان قال ثم يأتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايديهم شىء من اموالهم ويمر بالخربة فيقول لها اخرجى كنوزك فتتبعه كنوزها كيعاسيب النخل ثم يدعوا رجلا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه و يضحك بينما هو كذلك اذ بعث الله المسيح بن مريم عليه السلام فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق واضعا كفيه على اجنحة ملكين فيطلبه حتى يدركه بباب لُدّ فيقتله الحديث والحاصل ان نزول عيسىٰ ابن مريم الموعود فى زمن الاستقبال انما يكون بعد خروج الدجال والاحاديث فيه كثيرة يطول ذكرها بالاستيفاء وهو الآن حى في السماء و هذا قول اهل الحق المحول عليه لقوله تعالىٰ وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه ط اى الى السماء قاله الحسن البصرى كمافى تفسير الامام الواحدى و ينزل عند قرب الساعة كهلاً.
رسالته ثلاثين شهراً ثم رفعه الله اليه كذافى تفسير الخازن قالوا وما وصل الى سن الكهولة ففيه اشارة الى نزوله من السماء كذافى تفسير جامع البيان فاخبر الله تعالىٰ يرفعه اليه حيا بعدما وعده وقال ياعيسىٰ انى متوفيك ورافعك الى والمراد هنا توفى النوم و عليه الاكثرون كما فى جامع البيان ومثله قوله تعالىٰ وهو الذى يتوفكم بالليل و يعلم ماجرحتم بالنهار والاية فالتوفى اعم من الاماتة ويدل عليه قوله الله تعالىٰ يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها
فيمسك التى قضى عليها الموت و يرسل الاخرى الى اجل مسمى ان فى ذلك لآيت لقوم يتفكرون ط فمن تفكر فى قوله تعالى حكاية عن قول عيسى عليه السلام يوم القيمة فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم الأية علم انه لم يرد به الاماتة بشهادة الايات السابقة والاحاديث الصريحة المذكورة وبالجملة ان الله تعالى لم يذكر فى هذه الأيت الا توفى عيسى ابن مريم ولم يذكر فى القرآن انه اماته قبل التوفى والرفع او بعده فى السماء بل النصوص ناطقة بانه حيى ينزل عند اقتراب الساعة فمن انكر نزول عيسى ابن مريم الصديقة مدعيًا انه مات فى الحقيقة ثم جعل هذا الانكار تمهيداً لاثبات دعوى المسيحية الجديدة وادعاء المماثلة العيسوية فى وصف النبوة واختار مسلك الملاحدة والباطنية وصرف النصوص الواردة فى نزول عيسى بن مريم نبى بنى اسرائيل بضرب من التمحل الباطل وفاسد التاويل الى معان توافق بغية هواه وهذيان يطابق هفوة مدعاه و حرف الكلم عن مواضعه و وضع الكلام الحق فى غير موقعه فادعى النبوة الشرعية وانكر الاحكام المحكمة القطعية فهو كافر ملحد كذاب لايخفى الحاده وكفره وكذبه على اولى العلم فى هذا الباب فان سيدنا محمداً ﷺ خاتم النبيين بنص القرآن المبين وقال القاضى عياض فى كتاب الشفاء فى حقوق المصطفى من ادعى نبوة احد بعد نبينا عليه الصلوة والسلام او ادعى النبوة لنفسه او جوز اكتسابها والبلوغ بصفاء القلب الى مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذلك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة الى ان قال فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبى ﷺ لانه اخبر انه ﷺ خاتم النبيين ولا نبى بعده و اخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين و اجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه هو المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شك فى كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا اجماعا و سمعا وكذلك وقع الاجماع على تكفير كل من دافع نص الكتاب او خص حديثا مجمعا على نقله مقطوعا به مجمعا على حمله على ظاهره انتهى كلامه ملخصاً وقال الامام الصابونى فى الكفاية التى صنفها فى عقائد اهل السنة والجماعة مالفظه العدول عن ظواهر النصوص من غير ضرورة الحاد محض انتهى قال الله تعالى ان الذين يلحدون فى ايتنا الا يخفون علينا افمن يلقى فى النار خير ام من يأتى امنا يوم القيمة اعملوا ماشئتم انه بما تعملون بصير . والله سبحانه و تعالى وعد بحفظ كتابه المبين من تحريف الملاحدة المضلين فقال انا نحن نزلنا الذكر و انا له لحافظون فاقام العلماء الصالحين على ابطال تاويل الملحدين فدونوا علم الكتاب والسنة الذى هو اساس الاحكام الشريعة الاصلية والفرعية فى الكتب المبسوط المضبوطة المشهورة التى تداولها اهل السنة والجماعة فى الاعصار الماضية الى الآن وعنه عليه السلام لايزال يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتاويل الجاهلين والملحد الذى ذكرنا سابقا ليس نظير عيسى ابن مريم الصديقة بل مثيل الاسود العنسى ومسيلمة اليمانى فى دعوى النبوة داخل فى سلسلة الكذابين الذين اخبر عن خروجهم النبى الصادق الامين فقال ﷺ لاتقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريبا من ثلثين كلهم يزعم انه رسول الله اخرجه مسلم وغيره فثبت بهذا التفصيل وواضح الدليل ان الملحد المسطور
علی الوصف المذکور دجال کذاب استحوذ علیہ الشیطان فحملہ علی ذلک الھذیان والطغیان وھو المفسد الساعی فی افساد عقائد المؤمنین وایقاع التشویش فی صدور عوام المسلمین وعندی ان ترک المباحثة مع الملحد المسطور اولی ولا مالاة قولہ الزائغ احری بل الواجب لتنفیر العوام تشھیر فساد عقائدہ بین الانام واللہ در من قال بالشعر ولن یصلح العطار ما افسدہ الدھر حفظ اللہ المؤمنین من شرہ و ضرہ ومن مکرہ بقدرتہ ثم العجب العجاب من بعض اولی الالباب وجمع من اھل العلم فی الباب کیف اغتروا باقوال الملحد البطال و تنزلوا الی مدارک الجھال فامنوا باباطیل ذلک الضال زاعمین انہ صادق وموحد ذوحلم، لابل ھو مارق و ملحد لئیم، اتخذ الھہ ھواہ واضلہ اللہ علی علم و اعجب من ھذا انھم یزعمون انفسھم کحواری المسیح عیسی ابن مریم الصدیقة کلا بل ھم انصار المسیح الدجال الاعور فی الحقیقة فاوردوا کثیراً من العوام کالانعام فی ورطة الضلالة و افسدوا علیھم عقائد ھم القدیمة الحقة فما ربحوا فی ھذہ البضاعة و التجارة الا الھلکة والخسارة ایة خسارة خسارة الدنیا والاخرة فان لم ینتھوا عن تلک الاقاویل التی یلقی علیھم العزازیل فعسی اللہ ان یسلط علیھم النقاد فیفحمھم ای یسکتھم او من لفظ یقبحھم و یرمیھم بالکساد ویشیع اخبار فضحھم فی جمیع البلاد فتتفق علی تضلیلھم و تسفیھھم السنة جمیع اھل الرشاد ولا یبقی لکیدھم تاثیر ولا لمکرھم مجالس وعند اللہ مکرھم و ان کان مکرھم لتزول منہ الجبال و عما قلیل لیصبحن نادمین و لتعلمن نباۂ بعد حین.
حررہ الفقیر محمد ایوب الحنفی الپشاوری خادم الفقہ والحدیث والتفسیر
’’حمد وصلوت کے بعد۔ مومنوں کو معلوم ہو کہ علامات قیامت میں جو حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول شمار کیا گیا ہے وہ حق ہے۔ کتاب وسنت سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ علم قیامت ہے۔ ابن عباسؓ نے فرمایا ہے اس سے حضرت عیسیٰ ؑ کا تشریف لانا مراد ہے۔ ایسا ہی تفسیر اکلیل میں ہے۔ ایک قرأت میں علم کی جگہ عَلَم بفتح ہے جس کے معنی علامت ہے۔ بخاری وغیرہ نے ابوہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ عنقریب حضرت عیسیٰ ؑ حاکم عادل ہو کر آئیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ موقوف کریں گے۔ مال کی ایسی کثرت ہوگی کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا۔ پھر حضرت ابوہریرہؓ نے کہا کہ چاہو تو (اس کی تصدیق میں) یہ آیت پڑھو۔ وان من اهل الکتب الایہ۔ جس سے یہ مراد ہے کہ جو اہل کتاب حضرت عیسیٰ ؑ کا وہ وقت پائے گا۔ وہ ان پر ایمان لے آئے گا۔ اسی قول کو تفسیر آیت میں طبری نے صحیح کہا ہے۔ چنانچہ تفسیر خازن میں ہے حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب عیسیٰ ؑ زمین پر اتریں گے تب کوئی یہودی ونصرانی ایسا نہ ہوگا جو یہ شہادت نہ دے گا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ ایسا ہی تفسیر وسیط میں ہے۔ امام احمد نے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے ۔ دجال نکلے گا، پھر عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے اور اس کو قتل کریں گے۔ پھر وہ زمین میں چالیس برس رہیں گے۔ امام عادل اور حاکم منصف ہو کر۔ اور صحیح مسلم میں نواس بن سمعانؓ سے حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دن دجال کا ذکر کیا تو فرمایا کہ وہ ایک قوم کو اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی بات کو رد کریں گے تو تہی دست ہو جائیں گے پھر وہ کھنڈروں پر گزرے گا۔ ان کو کہے گا کہ اپنے خزانے نکال دو تو وہ اپنے خزانے نکال دیں گے جیسے شہد کی مکھیاں نکلتی ہیں۔ پھر وہ ایک آدمی کو بلا کر دو ٹکڑے کر دے گا پھر اس کو بلائے گا تو وہ چمکتے چہرہ اور ہنستے منہ
سے آئے گا۔ ایسی حالت میں حضرت مسیح ؑ کو خدا بھیجے گا۔ وہ دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے پاس فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے اور دجال کو دروازہ لد کے پاس پا کر قتل کریں گے۔ الحاصل حضرت عیسیٰ ؑ کا دجال کے بعد نزول فرمانا زمانہ آئندہ میں ہوگا اور اس وقت تو وہ زندہ آسمان پر موجود ہیں اور یہی اہل حق کا قول ہے جس پر اعتماد ہے۔ اس پر یہ قول خداوندی کہ یہودیوں نے یقیناً اس کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے دلیل ہے۔ اپنی طرف اٹھانے سے آسمان پر اٹھانا مراد ہے۔ چنانچہ حسن بصری نے کہا ہے ایسا ہی واحدی کی تفسیر میں ہے اور اس پر یہ قول خداوندی کہ ”حضرت عیسیٰ ؑ گہوارہ میں اور سن کہولت میں (یکساں) کلام کریں گے۔“ بھی دلیل ہے ابن عباسؓ نے فرمایا ہے کہ جب وہ رسول ہوئے تو تیس برس کے تھے۔ پھر بعد رسالت وہ تیس مہینے ٹھہرے۔ پھر خدا تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا۔ ایسا ہی تفسیر خازن میں ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ سن کہولت کو نہ پہنچے تھے کہ اٹھائے گئے۔ لہٰذا اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ وہ آسمان سے اتریں گے (تاکہ سن کہولت میں ان کا کلام کرنا پایا جائے) ایسا ہی تفسیر جامع البیان میں ہے۔ خدا تعالیٰ نے ان کو زندہ اٹھانے کی اپنے اس وعدہ کے بعد خبر دی ہے جو ان کو دیا گیا تھا کہ اے عیسیٰ میں تجھے قبض کرنے والا اور اٹھانے والا ہوں۔ اس آیت میں لفظ توفی سے نیند مراد ہے چنانچہ اکثر علماء کا قول ہے۔ ایسا ہی جامع البیان میں ہے۔ اس کی نظیر وہ قول خداوندی ہے جس میں ارشاد ہے کہ خدا تم کو رات کے وقت توفی کرتا ہے۔ توفی موت کے سوا اور صورتوں سے بھی ہو سکتی ہے۔ اس پر وہ آیت شاہد ہے جس میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ جانوں کو موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جو نہیں مرتے ان کو نیند میں۔
جو شخص اس قول خداوندی میں جس میں حضرت عیسیٰ ؑ کو اٹھانے کا وعدہ دیا گیا ہے تامل کرے گا۔ وہ جان لے گا کہ اس سے موت دینا مراد نہیں چنانچہ آیات و حدیث اس پر شاہد ہیں۔ بالجملہ ان آیات میں حضرت عیسیٰ کے توفی بمعنی قبض کا ذکر ہے۔ نہ یہ کہ خدا نے ان کو مار دیا ہے اور نصوص صحیحہ ناطق ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔ پھر جو شخص ان کو مردہ سمجھتا ہے اور ان کے نزول کا منکر ہے اور اس سے وہ اپنے مسیح ہونے کی پٹڑی جماتا ہے اور تاویل و تحریف آیات و احادیث متعلقہ نزول مسیح میں مسلک ملاحدہ باطنیہ کا اختیار کرتا ہے اور اپنی نبوت کا مدعی ہو بیٹھتا ہے۔ وہ کافر و ملحد و کذاب ہے۔ اس کے الحاد و کفر و کذب میں کوئی شک نہیں۔ قاضی عیاض نے شفا میں کہا ہے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا مدعی ہو اور اپنی کمائی اور صفائی قلب کے ذریعہ سے حصول نبوت کو جائز رکھے یا نزول وحی کا مدعی ہو۔ گو مدعی نبوت نہ ہو وہ کافر ہے۔ آنحضرت ﷺ کو جھوٹا سمجھنے والا۔ آنحضرت ﷺ نے فرما دیا ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور خدا تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اور اس پر امت کا اتفاق ہے کہ ان آیات و احادیث کے ظاہری معنی مراد ہیں ۔ نہ کوئی تاویلی معنی۔ ایسے لوگوں کے کفر پر اجماع ہے۔ ایسا ہی ان لوگوں کے کفر پر جو نص کتاب اللہ کو دفع کریں۔ یا کسی ایسی حدیث میں جو اتفاقاً صحیح اور ظاہری معنی پر یقیناً محمول ہو۔ کوئی تخصیص نکالیں۔
امام صابونی نے کفایہ میں کہا ہے کہ ”ظاہر معنی آیات و احادیث سے بلا ضرورت عدول کرنا، الحاد ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ہم پر وہ لوگ مخفی نہیں جو ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں۔ کیا جو شخص آگ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا جو باامن قیامت کے دن حاضر ہو۔ خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب کی محافظت کا خود وعدہ کر لیا ہے۔ لہٰذا اس نے ایسے علماء کو پیدا کر دیا ہے جو ان ملحدوں کی تحریف سے دین کو بچاتے چلے آئے ہیں۔
یہ ملحد قادیانی حضرت مسیح کا مثیل و نظیر نہیں بلکہ اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب کا نظیر ہے اور ان کذابین کے سلسلہ میں داخل جن کی آنحضرت ﷺ نے خبر دی ہے۔
اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ ملحد مذکور دجال ہے۔ شیطان اس پر مسلط ہے جو اس سے یہ بکواس کرا رہا ہے۔ وہ مفسد ہے مسلمانوں میں فساد پھیلا رہا ہے۔ میرے نزدیک ایسے ملحد سے مباحثہ ترک کر کے عام مسلمانوں کو اس کے عقائد باطلہ کے فساد سے مطلع کر کے متنفر کرنا چاہیے۔ بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض اہل علم اس ملحد بطال کے اقوال سے دھوکا کھا بیٹھے ہیں اور خود جاہل بن گئے اور اس گمراہ کے باطل خیالات کو حق اور اس کو اہل علم سمجھنے لگ گئے ہیں اور خود اس کے حواری بن بیٹھے ہیں۔ وہ مسیح دجال کے مددگار ہیں۔ وہ اس سے باز نہ آئیں گے تو خدا ان پر بھی ایسے لوگوں کو مسلط کرے گا جو ان کے کھوٹ و فساد کو ظاہر و مشتہر کریں گے۔ پھر وہ سخت نادم ہوں گے۔
ما قال اعلمنا و مدققنا فهو عين الصواب لا شک فى نزول عيسى وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها يدل عليه سياق النظم و سباقه ومن معتقدى ان نزول عيسى حق ثابت بالادلة القاطعة من الايات والاحاديث واجماع الامة فمن انكر فانكاره من الادلة المذكورة فهو معرض عن طريق الرشاد و مروج سبيل الالحاد. كتبه فقير مسعود خلف مفتی برکت اللہ مرحوم
”جو ہم سے بڑھ کر عالم اور مدقق نے کہا ہے وہ عین صواب ہے۔ اس میں شک نہیں کہ عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے۔ آیۃ لعلم للساعۃ کا بیان اور سیاق اس پر دلیل ہے۔ میرا یہی اعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول یقینی دلائل آیات و احادیث اور اجماع امت سے ثابت ہے پس جو اس کا منکر ہے۔ وہ رشد کے طریق سے منہ پھیرتا ہے اور الحاد کے طریق کو رواج دے رہا ہے۔“
اللھم انی اعوذبک من فتنۃ المسیح الدجال۔ بہت افسوس بحال مرزا قادیانی آتا ہے۔ اغلب یقین ہے کہ ابلیس لعین نے ان کو بہکایا ہے۔ یہ عقائد و کلمات ان کے جو انھوں نے توضیح مرام و ازالہ اوہام میں تحریر کیے ہیں کفر ہیں اور قائل اس کا کافر ہے۔ جو جناب مولانا ابوفضل رومی مولوی سید نذیر حسین صاحب و مولانا جناب ابوسعید صاحب نے فتویٰ دیا ہے وہ حق ہے واللہ الموفق بالصواب۔ العبد قاضی عبدالقادر پشاوری
جو فتویٰ کہ علمائے ہندوستان و پنجاب نے درحق غلام احمد قادیانی دیا ہے وہ صحیح ہے اور معتقد اعتقاد توضیح المرام کافر ہے۔
جواب صحیح ہے جواب صحیح ہے جواب صحیح ہے العبد ملا محمد بشیر سوات ملا محمد منیر ملا اللہ داد بنیر بٹگرام جواب صحیح ہے جواب صحیح ہے جواب صحیح ہے ملا معز الدین خٹکی تپہ ہشت نگر ملا وجیہ الدین ملا اسمعیل اوڈی گرام سوات جواب صحیح ہے جواب صحیح ہے جواب صحیح ہے ملا بشیر محمد قاضی عبدالخالق باجوڑ ملا فصیح الدین یوسف زئی
قائل و معتقد وفات مسیح و نہ آمدن وے بایں دنیا بقرب قیامت و مقتول گردیدن وے وغیرہ امور کہ در فتویٰ نامہ علمائے ہندوستان و پنجاب درج اند، اگر غلام احمد قادیانی ایں کلمات گفتہ باشد یا اعتقاد وے بریں باشد وے بموجب شرع شریف کافر مطلق است و اعوان وے اگر ایں اعتقاد داشتہ باشند کافر اند۔
معتقد ما فى هذا السوال فى العقائد والبيان قد استهوته الشياطين فى الارض حيران له اصحاب يدعونه الى الهدى ائتنا. فماياتى اليهم موقنا. ومنشأ اعتقاده الفاسد انه ماميز بين الهام الرحمن. ووسوسة الشيطان وبين خواطر الروح و هوى النفس والطغيان، وترك ماوجب عليه من تطبيق الخيالات والخطرات بالقرآن والسنة واجماع الامة المرحومة. فالواجب عليه ان يتوب. فانه وقع فى اكبر الكبائر من الذنوب. العبد رحمت الله عفا الله
”عقائد مذکورہ سوال کے معتقد کو شیاطین نے زمین میں بہکا رکھا ہے۔ وہ حیران ہے لوگ اس کو ہدایت کی طرف بلاتے ہیں مگر وہ نہیں آتا۔ اس کے فساد و اعتقاد کا منشا یہ ہے کہ وہ الہام رحمانی اور وسوسہ شیطانی میں تمیز نہیں کرتا اور اپنے خطرات و خیالات کو قرآن و حدیث و اجماع پر عرض کرنا چھوڑ بیٹھا ہے۔ اس پر واجب ہے کہ توبہ کرے وہ بڑے گناہ میں جا پڑا ہے۔“
علمائے راولپنڈی و ہزارہـــــ
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين. لاريب ان العقائد المذكورة فى السوال كفر و نفاق و زندقة والحاد واحداث و ضلال فان لم يكن صاحبها كافراً و ملحدا وزنديقاً و منافقاً فليس فى الارض كفر و الحاد زندقة فلعنة الله على من اسس الضلال وغير الدين وحرّف النصوص واسأ الظن بالله وبانبيائه وشرعه و قال اوحى الىّ ولم يوح اليه شيئ و على اعوانه وانصاره السفهاء الاذلين ولا شك فى كونه من الدجاجلة عصمنا الله تعالى من كيده و اضلاله امين.
كتبه عبدالاحد ابن القاضی محمد حسن خانپوری عفا الله عنهما
”اس میں شک نہیں کہ عقائد مذکورہ سوال کفر و الحاد اور چھپا ارتداد و نفاق ہے۔ اس پر خدا کی لعنت ہو جس نے گمراہی کی بنیاد ڈالی ہے اور خدا و رسول ﷺ اور شرع پر بدگمانی کی اور یہ کہا ہے کہ میری طرف وحی ہوتی ہے اور واقعہ میں نہیں ہوتی ایسے ہی اس کے انصار مددگاروں پر جو بے عقل و ذلیل ہیں۔ بے شک وہ دجال ہیں۔ خداوند کریم ان کے مکر و گمراہی سے بچائے۔“
الحمد لله رب العالمين والصلوة على رسوله محمد و اله و صحبه اجمعين. اما بعد فيقول احقر عباد الباری محمد الخانفورى ان ماقال شيخنا السيد نذیر حسین و برکتنا المولوى عبدالجبار الغزنوی سلمهما الله تعالى فى الدارين وغيرهما من العلماء الكرام فى حق الكادياني فهو حق و صواب لا شك انه من الدجاجلة اعاذنا الله من هذه العقيدة الفاسدة امين.
حرره محمد بن محمد حسن خانفوری عفی عنه
”جو کچھ ہمارے شیخ مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب اور ہمارے برکت مولوی عبدالجبار صاحب وغیرہ علمائے کرام نے قادیانی کے حق میں کہا ہے وہ حق ہے اور بے شک قادیانی دجالوں میں سے ہے۔“
الحمد لله والصلوة والسلام على رسوله الذی بعث بالحق ليظهره على الدين كله امابعد فيقول احقر العباد محمد بن سالم المكراني ان ماقال العلماء فى تكفير مرزا الكاديانى فهو حق و صواب ولا شك ان من مات بهذه العقائد الفاسدة ولم يتب فهو فى نار جھنم خالدًا فيها. اللهم
اعذنا من هذه العقيدة الباطلة، الحق يعلوا ولا يعلى عليه. فقیر محمد بن سالم المکرانی عفی عنہ ”جو کچھ علماء نے تکفیر قادیانی کے باب میں کہا ہے وہ حق ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جو شخص ایسے عقائد فاسدہ پر بلا توبہ مرے وہ جہنم میں رہے گا۔“
نحمده و نصلی علی رسوله الكريم. اما بعد فما قال العلماء في تکفير ميرزا کادیانی فهو صحيح و كفره ثابت و عقائده مخالف الكتاب والسنة. وقوله انا مثيل المسيح و عيسى ابن مريم مات فدعواه باطل وهو دجال كذاب خارج عن الاسلام لقوله ﷺ سيكون فى امتى كذابون كلهم يزعم انه نبي الله وانا خاتم النبيين لانبی بعدی. العبد تاج دین گجراتی پنجابی ”علماء نے جو کچھ تکفیر قادیانی کے باب میں کہا ہے وہ صحیح ہے اور اس کا کفر ثابت اور اس کے عقائد کتاب و سنت کے مخالف ہیں۔ اس کا یہ کہنا کہ میں مسیح عیسیٰ ؑ بن مریم کا مثیل ہوں، ایک باطل دعویٰ ہے اور وہ دجال و کذاب ہے۔ اسلام سے خارج۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔ میری امت میں کذاب پیدا ہوں گے جو دعوائے نبوت کریں گے اور میں نبیوں کا خاتم ہوں ۔“
ماقال العلماء المحققون فی الكادیانی حق وصواب. ”جو علمائے محققین نے قادیانی کے حق میں کہا ہے وہ حق ہے۔ نیاز آگین قاضی محسن الدین عفی عنہ میں نے یہ فتویٰ اول سے آخر تک بنظر غور دیکھا اور اس سے پہلے اس شخص کے مسائل فتح اسلام اور توضیح مرام اور ازالۃ اوہام وغیرہ بھی دیکھے اور اس کے بعض مریدوں ۔ نیم ملا خطرہ ایمان سے مباحثہ کا بھی اتفاق پڑا اور خود مرزا سے بھی الہام کے بارہ میں بالمشافہ ایک سوال کیا تھا جس کے جواب میں وہ مبہوت رہ گیا تھا۔ غرض میں ان کے مذہب اتباع ہواء سے پورا واقف ہوں۔ حضرت مجیب نے ان کے حق میں جو کچھ فرمایا ہے وہ سب صحیح اور بجا ہے۔ بلکہ یہ گمراہ فرقہ اس سے بھی زیادہ کے مستحق ہیں۔ ارحم الراحمین ان کو توبہ نصیب کرے اور اپنی مخلوق کو ان کے شر سے بچائے اور ان کا رد کرنے والوں کی مدد کرے۔ ہدایت اللہ امام مسجد موحدین صدر پنڈی
ان هذه العقائد الاخيرة التي ذكرت في رسائل الكادیانی باطلة زائغة مضلة فانها مخالفة للكتاب والسنة واجماع الامة و معارضة للاخبار و الآثار الصحيحة والاقوال المرضية و مباينة لاهل السنة والجماعة و موافقة لاهل البدع والهوى واهل الكتب من اليهود و النصارى واهل الالحاد والزنادقة والهنود والفلاسفة ياللعجب ان قائلها ينكر خوارق الملائكة والانبياء والاولياء يدعى هو من نفسه صدورها و يختار علمه و فهمه على علمهم و فهمهم وهذا ضلال صريح و غواء قبيح. اللَّهم تب عليه ان تاب عنها و اهلكه ان بقى عليها و طغی و اعذنا منها كما جعلنا من المهتدين واحفظنا عن مكر الماكرين. امين ثم امین برحمتک یاارحم الراحمین.
حافظ عبدالهادی اعاذه الله من الاعادی شاہ پوری ثم پنڈی ”قادیانی کے یہ آخری عقائد جو اس کے رسائل میں مذکور ہیں باطل ہیں۔ کتاب و سنت و اجماع امت کے مخالف ہیں۔ احادیث و آثار صحیحہ کے معارض، اقوال پسندیدہ اہلسنت سے مبائن، اہل بدعت، یہود، نصاریٰ ملحدوں نیز مرتدوں، ہندوؤں، فلسفیوں کے موافق ہیں۔ تعجب ہے کہ قادیانی ملائکہ اور انبیاء و اولیاء کی خوارق کا منکر ہے اور خود ان امور کا مدعی اور اپنے علم و فہم کو ان کے علم و فہم سے بہتر سمجھتا ہے۔ یہ صریح گمراہی اور جہل ہے۔
خداوند اس کو توبہ نصیب کر یا ہلاک کرے۔
علمائے جہلم و قرب و جوار آں
بندہ کو بسبب استماع اخبارات و حالات حسنہ مرزا قادیانی کے جو علی العموم واصل ہوئی تھی حسن ظن بلیغ تھا اور اس کو زمرۂ صالحین میں شمار کرتا تھا اور اب تک اس کی تصنیفات دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا چونکہ یہ فتویٰ دیکھا اور مرزا کے معتقدات سے اطلاع ہوئی تو حسن ظن مرتفع ہوا۔
مرزا اگر فی الواقع عقائد محررہ فتویٰ کا معتقد ہے تو بلاشک وہ ارتداد و الحاد میں داخل اور مستحق وعید ولا تصل علی احد منهم مات ابداً ولا تقم علی قبرہ کا ہے۔ والله اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ العبد احمد الدین دریالوی علاقہ جالپ تحصیل پنڈ دادن خان ضلع جہلم حال وارد جہلم۔
سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم. ان کان عقائدہ ھکذا فجمیع ما حررہ العلماء فی حقہ صحیح۔ ابو عبدالبصیر میر حمزہ ہزاروی
”مرزا قادیانی کا یہی اعتقاد ہے تو جو کچھ علماء نے اس کے حق میں لکھا ہے صحیح ہے۔“
الحمد لله العزيز الرحيم والصلوۃ علی نبیہ الکریم و علی آلہ و اصحابہ المشيعين للدين القويم۔ امابعد. بندہ زمانہ ملاقات سے مدت تک مرزا کی کمال دیانتداری اور اونچے درجے کی پرہیزگاری اور داعی الی اللہ ہونے کا بہ نہایت جاں نثاری صمیم قلب سے معتقد تھا اور اس کو زمرۂ غمخواران خلق اللہ سے سمجھتا تھا اور ابتداء میں ایسی باتیں سن کر کہتا تھا کہ سبحان ھذا بہتان عظیم لیکن چونکہ مدت سے مشہور ہو رہا ہے کہ وہ بذریعہ تحریرات مطبوعہ مشتہرہ کے ایسی باتوں کا معتقد و مدعی ہے جو مولوی ابو سعید محمد حسین مہتمم اشاعۃ السنہ بٹالوی صاحب کے سوال میں بحوالہ تحریرات مذکورہ درج ہیں۔ اور وہ تحریرات آج تک مجھ کو باوجود سعی و جستجو کے میسر نہیں ہوئیں تاکہ میں ان کے مطالعہ سے حسب استعداد اپنی کے، دجالیت و کذابیت و اسلام کے دائرہ سے خارج ہونے یا حقانیت و رہبانیت و صداقت و اشاعت اسلام مرزا کی ایسی یقینی اور قطعی سند حاصل کرتا اور پھر استفتا پر لکھتا کہ اس کو عالم الغیب الشہادۃ کی حضور میں پیش کر سکتا اور فرمان ایزد سبحان کا بھی بے تحقیق لکھنے اور کہنے اور کرنے سے شدت سے منع کرتا ہے کہ ولا تقف ما لیس لک بہ علم ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسئولا اور ایضاً الیوم نختم علی الخ اور نبی الرحمت نے فرمایا ہے کہ الشاھد یری مالا یری الغائب اور غائب پر حکم لگانے سے روکا ہے اور سوال میں بھی بحوالہ تحریرات مرزائی مسطور ہے کہ وہ ایسی باتوں کا معتقد و مدعی ہے۔ لہٰذا نہ مطلقاً بلکہ مقیداً لکھا جاتا ہے کہ اگر مرزا ایسے اعتقادات کا معتقد و مدعی ہے جو سوال میں درج ہے تو بے شک وہ انھیں فتوؤں کا مستوجب و مستحق ہے جو علمائے ربانیین نے اس کے حق میں لگائے ہیں اور عیاذ باللہ کہ کسی کے حق میں تقلیداً اور سمعاً کوئی فتویٰ دوں اور لکھوں۔ اعوذ بالله من شرور نفسی ومن سیئات اعمالی اللھم ات نفسی تقوھا وزکھا فانک خیر من زکھا امین یا ارحم الراحمین۔
العبد ؎۱ برہان الدین جہلمی
؎۱ مولوی برہان الدین صاحب کی نسبت گجرات و پشاور کے میرزائی عیسائیوں نے یہ مشہور کر دیا تھا کہ انھوں نے اپنی شہادت سے جو اس فتوے پر لکھی ہے رجوع کر لیا ہے۔ جو بات مولوی برہان الدین صاحب کو پہنچی تو انھوں نے بذریعہ خاص مراسلت ہم کو اس سے اطلاع دی اور یہ بھی لکھا کہ میں اب تک اس اپنی شہادت پر قائم ہوں۔ مرزائی عیسائی اس پر بولیں گے تو ہم مولوی صاحب کا خط چھاپ دیں گے۔
اگر عقائد مرزا کے اسی طرح پر ہیں جو اس میں تحریر ہیں تو جواب یہی ہے جو فتوے میں تحریر ہے۔
فیض احمد جھلمی
هذا الجواب صحيح وما قال مرزا باطل عند اهل السنة والجماعت.
احقر العباد فقیر محمد ایڈیٹر سراج الاخبار جهلم
”یہ جواب صحیح ہے اور جو مرزا نے کہا ہے وہ اہلِ سنت کے نزدیک باطل ہے۔
یہ عقیدہ مخالف عقیدہ اہل سنت و جماعت کے ہے۔ عبدالودود سلطان محمود عفى عنه جهلمی
علمائے گجرات وحوالی آں
جو عقائد معہ دلائل مرزا قادیانی کے اس فتوے میں درج ہیں وہ تمام اہل حق کے خلاف ہیں۔ اہل حق تو یہ کہتے ہیں ۔ النصوص تُحْمَلُ على ظواهرها والعدول الى معان يدعيها اهل الباطل الحاد. قال الله تعالى ان الذين يلحدون فى ايتنا لايخفون علينا. عبدالرحمن ساكن موضع دينه ضلع گجرات من كان اعتقاده مخالفاً للسنة والجماعة فهو مبتدع متبع غير سبيل المؤمنين اعاذنا الله و اخواننا المسلمين من اباطيله الكاذبة و معتقداته الباطلة. العبد فضل الدین گجراتی ”جس شخص کا اعتقاد اہل سنت جماعت کے مخالف ہے وہ بدعتی ہے مومنوں کی راہ کے سوا۔ اور راہ چلنے والا ۔ خدا اس کے جھوٹے عقائد سے مسلمانوں کو بچائے۔“
عقائد میرزا غلام احمد الكاديانى من الاعتزال. والفلسفة والذين سموا باهل السنة والجماعة من وقت بدء النزاع بين فرق المسلمين بمراحل منه كل حزب بمالديه فرحون عهدى مافى الفاظى من غير تبذير والا تقتير. ابوالفیض محمد حسن حنفی از بھین تحصیل چکوال ضلع جھلم ”قادیانی کے عقائد معتزلہ اور فلسفہ کے عقائد ہیں۔ جو لوگ اہل سنت کہلاتے ہیں وہ ان عقائد سے کوسوں دور ہیں۔ میری یہی رائے ہے جس میں نہ کمی ہے نہ زیادتی۔“
علمائے سیالکوٹ
الحمد لله وكفى و سلام على عباده الذى اصطفى و على اله اهل التقى امابعد اس عاجز کو سیّدنا مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب کی تحریر سے اس سوال کے جواب میں کلی اتفاق ہے۔ واللّٰه اعلم و علمه اتم. ابوعبدالله عبید الله معروف بمولوی غلام حسن
علمائے وزیر آباد
الحمد لاهله والصلوة على اَهلها. امابعد فقد طالعت مرة بعد اخرى. كتب الكاديانى و رسائله فوجدتها مملؤة بالكفر والالحاد والكذب على الله ورسوله و الطعن على اهل الحق فانه يسلم امراً مرة وينكره اخرى. طريقته طريقة اهل الالحاد والفساد. ومذهبه مذهب اهل الزيغ والعناد. هو دجال من الدجاجلة الذين اخبر عنهم المخبر الصادق و متبع غير سبيل المؤمنين و متمسک بدلائل الملحدین و خداع للمسلمين. من طالع كتبه و وازنها بالكتاب والسنة فلا يخفى عليه ما قلنا اعاذنا الله و جميع المسلمين من عقيدته الباطلة وطريقته الكاسدة وارشدنا الى طريق الصواب الذى اختاره لعباده لعباده الذين هم اولو الفضل واولو الالباب. حافظ عبدالمنان
”بعد حمد وصلوٰۃ۔ میں نے قادیانی کی کتابوں کا بارہا مطالعہ کیا تو ان کو کفر و الحاد سے اور خدا و رسول پر افتراء سے پُر پایا۔ وہ کہیں کسی امر کو تسلیم کرتا ہے کبھی اس سے انکاری ہوتا ہے۔ اس کا طریق اہل الحاد و فساد کا طریق ہے اور اس کا مذہب کجی اور عناد والوں کا مذہب ہے۔ وہ ان دجالوں میں سے (جن کے آنے کی آنحضرت ﷺ نے خبر دی ہے) ایک دجال ہے اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر اور راہ چلنے والا اور ملحدین کے دلائل سے تمسک کرنے والا۔ مسلمانوں کو دھوکا دینے والا جو شخص اس کی کتابوں کو دیکھ کر قرآن و حدیث سے ان کا مقابلہ کر لے گا اس پر ہمارا یہ بیان مخفی نہ رہے گا۔ خدا مسلمانوں کو اس کے عقیدۂ باطلہ سے بچائے اور طریق صواب پر چلنے کی ہدایت کرے۔“
احمدک یامن له الحمد واصلی علی من علیه الصلوة اما بعد فقد نظرت فی رسائل القادیانی نظر الانصاف و سمعت مقالاته فوجدتها داعیة الی الاعتساف وهو رجل قبیح، قبح الله وجهه ووجه اتباعه مادام علی هذا المنهاج. او تاب الله علیه و علی اتباعه ان رجع عن هذا الاعوجاج. العبد المسکین فقیر جلال الدین.
”بعد حمد وصلوٰۃ۔ میں نے قادیانی کے رسائل کو غور سے دیکھا اور اس کے مقالات کو سنا تو ان کو بے انصافی اور زیادتی کی طرف داعی پایا۔ خدا اس کا اور اس کے اتباع کا جب تک وہ اس طریق پر رہیں منہ برا کرے یا ان کو توبہ کی توفیق دے۔“
فقد طالعت هذا السوال والجواب. بالتامل والصواب فوجدته حقا قویا وجوابا صحیحا و فصل الخطاب ولا ریب ان القادیانی ضال مضل مفتر علی الله ورسوله و مبتغ فی الاسلام طریقة الجاهلیة و مطلب بذالک العروض الدنیویة و مسود وجهه بفعله القبیح صب علیه ربه سوط العذاب او یهدیه الی سبیل اولی الابصار واولی الالباب. حرره محمد عبدالقادر سخانوی
”میں نے ان سوال و جواب کو تامل سے دیکھا تو اس جواب کو حق و قوی اور پختہ حکم پایا۔ اس میں شک نہیں کہ قادیانی گمراہ ہے۔ لوگوں کو گمراہ کرنے والا۔ خدا و رسول پر افتراء کرنے والا۔ اسلام میں رہ کر کافروں کا طریق چاہنے والا اور اس ذریعہ سے دنیا کمانے والا۔ اس کا منہ کالا ہو اور اس پر عذاب نازل ہو یا ہدایت نصیب ہو۔“
الحمد لله رب العالمین وبه ثقتی والصلوة والسلام علی امام وبه اقتدائی. امابعد فقد نظرت فی السوال والجواب و تدبرت فیه فوجدته مطابقا للحق وموافقا للغرض الصحیح الذی ارشدنا الیه الله ورسوله فصاحب هذا الهفوات التی مندرجة فی السوال زندیق شریر مخالف لملة الاسلام. حفظنا الله جمیع المسلمین عن مزخرفاته. العبد محمد محی الدین نظام آبادی
”میں نے سوال و جواب کو دیکھا۔ جواب کو حق پایا ان باتوں کا جو سوال میں مذکور ہیں۔ قائل پکا مرتد ہے۔ اسلام کا مخالف۔“
قولی فی القادیانی کقول شیخی حافظ عبدالمنان فی حقه.
المسکین محمد شاہ دین سوہدروی
”قادیانی کے حق میں وہی میرا قول ہے جو میرے شیخ حافظ محمد عبدالمنان صاحب کا قول ہے۔“
بحکم نصوص شارع مضامین تالیفات مرزا کی ضلالت سے مبرہن ہے۔ خصوصاً اس کا ادعاء نبوت، جس
صورت میں مراد مرزا لفظ محدث سے نبی ہے۔ چنانچہ رو برو کا ذکر ہے۔ تو انکار لفظ نبی سے کیا فائدہ اور استدلال منع اطلاق محدث بحدیث لقد كان لكم فيما قبلكم من الامم محدثون فان يك فى امتى فانه عمر متفق علیہ سے باقاعدہ مسلمہ اصول عدم شرط مستلزم عدم مشروط نفی محدثیت بھی بنظر اہل انصاف صحیح ہے۔ پھر جو اعتراض نزول عیسیٰ بن مریم نبی اللہ بنی اسرائیل پر (ويحصر نبى الله عيسى عليه السلام و اصحابه حتى يكون راس الثور لاحدهم خيراً من مائة دينار لاحدكم اليوم فيرغب نبى الله عيسى و اصحابه فيرسل الله الحديث عن ابي هريرة عن النبى ﷺ انه قال ليس بينى و بينه (عيسى عليه السلام) نبى وانه نازل) (ابوداؤد ص ۱۳۸) وارد ہے وہی اعتراض بعینہ نبوت مرزائی و امتیت پر وارد ہے۔ کس طور وہ ایک جہت سے نبی ہی ہوسکتا ہے اور ایک جہت سے امتی۔ پس جو جواب دفع اس اعتراض میں مرزائی رکھتے ہیں وہ جواب معتقد نزول (عیسیٰ بن مریم) نبی اللہ بنی اسرائیل کی طرف سے سمجھ لیں۔ عائذ باللہ.
عبداللہ پسروری، عبدالعظیم پسروری، عبدالکریم پسروری
ما قولہم در کفر مرزا غلام احمد قادیانی۔ الجواب جس کو شریعت محمدی کافر فرمائے میرے نزدیک بھی کافر ہے۔ جو ایک رکن اسلام سے انکار کرے اس کے کفر میں کیا شک۔ حافظ محمد گوہر ؎۱ نوکھسوی
علمائے کپور تھلہ وغیرہ
حامداً و مصلیاً. گزارش ہے کہ احقر الناس کو قادیانی صاحب کی نسبت ان کے ابتدائی امر میں بہت کچھ حسن ظن تھا۔ پھر چند وجوہ ذیل سے زائل ہوا۔
- ۱...... فتح، توضیح، ازالہ کے مطالعہ سے ان میں بہت سے مضمون کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ اور طریق سلف صالحہ
کے خلاف دیکھنے میں آئے اور کہیں نصوص قرآنیہ اور سنیہ سے استشہاد بھی کیا تو بطور تاویل القول بما لا يرضى به قائله فرقہ ناجیہ اہل سنت و جماعت کے بکلی خلاف۔
- ۲...... قادیانی صاحب کے کشف حال کی بابت شیخنا و مرشدنا شیخ الاسلام مفتی شریعت ہادی طریقت حضرت مولانا شاہ
رشید احمد صاحب گنگوہی ابد اللہ فیوضھم کی جناب میں درخواست کی کہ باطنی طور پر ملاحظہ فرما کر ارشاد فرما دیں۔ حضرت مرشدنا نے اپنا مکاشفہ تحریر فرمایا کہ اس کا حال مختار ثقفی کا سا بتلایا گیا ہے۔
- ۳...... عاجز نے دو دفعہ استخارہ کیا۔ پہلی دفعہ قادیانی صاحب کی مسجد کو ایسی صورت پر دیکھا کہ اس کا منہ شمال کی
طرف اور پشت جنوب کی طرف ہے جس میں نماز پڑھنے سے جنوب کی سمت سجدہ ہوتا ہے۔ دوسری دفعہ قادیانی صاحب بذات خود ایسی صورت میں دکھائی دیے کہ سرو قامت گندم گون وجیہہ اور سفید پوش ہیں لیکن موئے بروت حد مسنونہ سے بہت بڑھے ہوئے گویا کسی سکھ کی مونچھیں ہیں۔
میرے ایک دوست میاں گلاب خان افغان ساکن کپور تھلہ حال وارد سلطان پور نے بھی استخارہ کیا تو خواب میں ایک ناپاک اور موذی جانور دکھائی دیا جس کا نام لینا میں تہذیب کے خلاف سمجھتا ہوں۔
- ۴...... علمائے ظاہر کے علاوہ اہل کشف و شہود بھی ان کے مفترانہ خیالات کے سخت مخالف ہیں اور فرماتے ہیں۔ من
لا شيخ له فشيخه شيطان کے موافق بے شیخ طریقت پر چلنے سے شیطان کے قابو میں آ گئے ہیں اور اس کے
۱؎ یہ وہ شخص ہے جس نے سیالکوٹ میں بمکان حسام الدین رو برو مولوی محمد احسن امروہی بیعت مرزا کی کی تھی۔ اب اپنی بیعت سے انکاری ہو کر مستعفی ہے۔
وساوس کو الہامات سمجھتے ہیں۔ عیاذاً باللہ۔ چونکہ ان کی باتیں ایسی ہیں کہ ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے کبھی نہیں سنیں اس لیے بلاشبہ حدیث قال رسول الله ﷺ يكون فى اخر الزمان دجالون كذابون ياتونكم من الاحاديث بما لا تسمعوا انتم ولا أبائكم فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم۔ (رواہ مسلم ج ۱ ص ۹ النهي عن الرواية عن الضعفاء والاحتياط فى تحملها) کے مصداق ہیں۔ سرورق ازالہ پر ”مرسل یزدانی“ اور سرورق (فیصلہ آسمانی خزائن ج ۴ ص ۳۰۹ پر تعريضاً ياحسرة على العباد ماياتيهم من رسول الا کانوا به يستهزؤن) اور (ازالہ صفحہ ۲۷۳ خزائن ج ۳ ص ۴۶۳) میں آیہ مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد سے اپنا مبشر بہ ہونا اور رسالہ (الحق مباحثہ لدھیانہ کے صفحہ ۸ نوٹ) ایڈیشن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لکھنا اور فتح اسلام کی یہ عبارت کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ اسے نہیں مانتا جس نے مجھے بھیجا۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن سے قادیانی صاحب کا مدعی نبوت اور رسالت ہونا صاف ظاہر ہے۔ اس لیے وہ حدیث ان رسول الله ﷺ قال لاتقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله ﷺ (بخاری ۱ ص ۵۰۹ باب علامات النبوة فى الاسلام ، مسلم ج ۲ ص ۳۹۷ باب فی قوله ﷺ ان بين يدى الساعة كذابين قريباً من ثلاثین) متفق علیہ کے موافق ان تیس میں سے ایک ہے۔ (صفحہ ۱۸۔۱۹ خزائن ج ۳ ص ۶۰ توضیح) میں محدث ہونے کے پیرایہ میں اپنا نبی ہونا صاف بتلا دیا ہے۔ ایک جگہ یہ بھی لکھ دیا ہے۔ ان النبی محدث والمحدث نبی اس لیے حدیث قال النبی ﷺ انه سيكون في امتی کذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبی و انا خاتم النبیین لانبی بعدی (ترمذی ج ۲ ص ۴۵) کے حصہ دار ہیں۔ مجھے ان کی حالت پر سخت افسوس ہے اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی توفیق بخشے اور اپنی صراط مستقیم پر لائے۔ ورنہ اہل اسلام کو شر فتنہ سے بچائے۔ اللهم اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين۔ امين۔ احقر العباد بنده محمد اشرف علی سلطانپوری
مرزا قادیانی کی بعض تصانیف خاکسار کی نظر سے گزریں۔ واقعی بعض عقائد مرزا مذکور کے خلاف کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کے ہیں۔ لاریب ایسے عقائد والا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ گزشتہ سال میں میں بیت اللہ شریف کو گیا تھا۔ وہاں پر میں نے بعض عقائد مرزا مذکور کے بیان کیے۔ علمائے مکہ و مدینہ نے یہی فرمایا کہ ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ حدیث عن ۱؎ عمر ابن الخطاب قال انه سیاتی ناس يجادلونكم بشبهات القرآن فخذوهم بالسنن فان اصحاب السنن اعلم بكتاب الله۔ امام الدین کپور تھلی
من اعتقد موافقا للكاديانى فهو مردود لان اعتقاده المستنبط من تصانيفه خلاف القرآن والحديث و اجماع الصحابة والتابعين والمجتهدين وعلماء اهل الحق من امة سيد المرسلين و خاتم النبيين۔ بل الظاهر من تصانيفه انكار المعجزات المصرحة فى كتاب الله المجيد والله يهدى من يشاء الى سبيل الرشاد۔ عبدالقادر بیگو وال ریاست کپورتھلہ
”جو شخص قادیانی کے موافق اعتقاد رکھتا ہے وہ مردود ہے کیونکہ قادیانی کا اعتقاد جو اس کی تصانیف سے ثابت ہے۔ قرآن و احادیث و اجماع صحابہ و تابعین و مجتہدین وغیرہ علمائے اہل حق کے مخالف ہے۔ اس کی تصنیف میں معجزات مذکورہ قرآن کا صاف انکار پایا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ جسے چاہے ہدایت کرے۔“
۱؎ حضرت عمرؓ سے حدیث ہے کہ لوگ تمہارے پاس قرآن کے مشتبہ اور ذی الوجوہ باتیں پیش کریں گے ان کو احادیث سے پکڑو۔ حدیث والے قرآن کو خوب جانتے ہیں۔
المجیب مصیب ۔ "مجیب نے ٹھیک کہا ہے۔" غلام محمد مدرس مدرسہ فارسی کالج اندھیر کپور تھلہ
علمائے دیوبند، سہارن پور وغیرہ
حامدا و مصلیا۔ عقائد مندرجہ سوال مخالف کتاب اللہ و معارض سنت رسول اللہ و مناقض اجماع امت ہیں اور تاویلات مذکورہ از قبیل تحریفات و تکذیبات ہیں۔ اگر اس قسم کی بیہودہ اور لغو تاویلوں کا باب کھولا جائے تو اسلام کا کوئی مسئلہ اعتقادی یا عملی ثابت نہ ہو اور تمام دین درہم برہم ہو جائے اور محدثیت اور ملہمیت محض تزئین نفس اور تسویل شیطان ہے۔ مخترع ان عقائد کا ضال و مضل بلکہ دجاجلہ کا راس رئیس ہے اور اس کے متبع ۔ حق تعالیٰ اپنے دین کی ایسے بے دینوں سے حفظ و حمایت فرما دے اور ان کو رجوع کی توفیق دے۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز ۔
حررہ خلیل احمد مدرس دوم مدرسه عربی دیوبند
حامدًا الله العلى الاعلى و مصليًا و مسلمًا على رسوله سيدنا محمد سيد الورىٰ والہ و اصحابه نجوم الهدىٰ من اقتدىٰ بهم اهتدىٰ ومن اخطأ طريقهم غوىٰ وتردىٰ و بعد فان ما اعتقده القادياني و اتباعه الحاد بلا مراء وابطال للشريعة المستقيمة البيضاء ليس له فيه شاهد من الكتاب وسنة النبى المستطاب والله تعالیٰ اعلم و علمه احكم. كتب عزيز الرحمن دیوبندی
’’بعد حمد وصلوٰۃ ۔ قادیانی اور اس کے پیرو جو اعتقاد رکھتے ہیں۔ وہ بلاشک الحاد ہے اور شریعت کا ابطال ہے۔ اس اعتقاد پر کتاب وسنت کی شہادت پائی نہیں جاتی۔‘‘
الامور المنسوبة الى المرزا هدانا الله واياه لاشک انها منابذة بنصوص الله ومردود باجماع المسلمين و جملة هذه الاقوال معتزلة عن الطريق عن الطريق المستقيم اى اعتزال لايجترء عليها الا جاهل غوى ولا يعتقد عليها الا ضال شقی والله سبحانه ولى الارشاد واعلم بحال العباد.
العبد محمود ديوبندی معروف بمولوی محمد حسن صاحب
جن مسائل کو قادیانی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ان کو بلاشک نصوص قرآن و حدیث رد کر رہی ہیں اور وہ باجماع مسلمین مردود ہیں۔ راہ راست سے ایسے برکنار ہیں کہ کوئی شخص بجز جاہل اور گمراہ کے ان پر جرأت نہیں کر سکتا اور ان کا معتقد نہیں ہو سکتا۔‘‘
یہ جواب صحیح ہے مرزا غلام احمد قادیانی بوجہ ان تاویلات فاسدہ اور ہفوات باطلہ کے منجملہ دجالون، کذابون خارج از طریقہ اہل سنت و داخل زمرۂ اہل اہوا ہے اور اس کے اتباع بھی مثل اس کی ہیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔ العبد رشید احمد گنگوہی
الحمد لله وحده والصلوٰة والسلام على من لانبى بعده و بعد فاقول وانى على بينة من ربى ان من كانت اعتقاداته كما ذكرت فى السوال فهو من اهل الاهواء والضلال. وليس هو من ابن مريم عليهما السلام فى شئ ولكنه مثيل للمسيح الدجال وهل يجترئ رجل فى قلبه مثقال ذرة من ايمان. على ان يضع الاحاديث عن مرتبة التواتر و يرفع تاويلاته الباطلة الى ان ينكر بسببه الاحاديث وياول القرآن. اين هو من قوله تبارک و تعالیٰ و يكلم الناس فى المهد و كهلا فقد تكلم عيسى ابن مريم عليهما السلام فى المهد و متى تكلم كهلا. فكيف يرتاب فى كلامه و نزوله من امن بما انزل الله على رسوله. فيا للعجب. كيف جوز مثل هذه الكنايات والاستعارات الباطلة فى
الاحادیث والایات. فهلا جعل اباطیله الملهمة من الاستعارات. ونجا من مثل هذه المفتریات وامن بما انزل الله من البینات. هدانا الله الصراط السوی و وقانا شر من کل غبی و غوی. حرره عبدالرحمن عفی عنه
’’حمد وصلوٰۃ کے بعد۔ جس شخص کے اعتقاد ایسے ہوں جو سوال میں ہیں وہ اہل ہوا و گمراہ ہے ابن مریم سے اس کا کوئی تعلق نہیں وہ تو مسیح دجال کا مثیل ونظیر ہے۔ جس کے دل میں ذرا بھی ایمان ہے اس سے کبھی جرأت نہیں ہوسکتی کہ حدیث کو تفسیر قرآن ہونے کے مرتبہ سے نیچے گرائے اور اپنی اقاویل باطلہ کو اس قدر اونچا کرے کہ ان اقوال کے سبب احادیث کا انکار کرے اور قرآن کی تاویل کرے۔ وہ اس قولِ خداوندی کے ملاحظہ سے کہاں چلا گیا۔ جس میں ارشاد ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ سن کہولت میں کلام کریں گے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے زمین میں رہ کر کہولت میں کب کلام کیا ہے۔ پھر وہ حضرت عیسیٰ ؑ کے آنے میں کیوں شک کرتا ہے۔ وہ آئیں تب ہی تو سن کہولت میں کلام کریں گے۔ تعجب ہے کہ وہ ان آیات واحادیث میں استعارات باطلہ تجویز کرتا ہے۔ اپنے باطل الہامات میں ایسے استعارہ تجویز کیوں نہیں کرتا۔ تاکہ اس کو ان مفتریات سے نجات ہو اور آیاتِ بینات خدا پر ایمان حاصل ہو۔‘‘
ما افاده المصیب اللبیب اعنی مولانا المولوی عبدالرحمن فهو حق لاریب فیه. العبد محمود حسن عفی عنه
’’جو مولوی عبدالرحمان صاحب نے فرمایا ہے حق ہے۔‘‘ ما افاده مولانا مولوی محمد عبدالرحمن فهو حق لایرتاب فیه. حرره محمد حسن عفی عنه
’’مولوی عبدالرحمن صاحب نے جو فرمایا ہے حق ہے اس میں شک نہیں۔‘‘ بے شک یہ عقائد کفر کے ہیں اور معتقد ان کا کافر ہے۔ احقر بشیر احمد
قد اصاب من اجاب. ’’مصیب ہوا جس نے جواب دیا۔‘‘ حرره محمد جان علی عفی عنه
مرزا قادیانی کے عقائد شریعت نبوی سے بالکل برخلاف ہیں اور اکثر عقائد انھوں نے اپنے تراش و خراش سے ایجاد کیے ہیں جو نہ کسی دین منزل کے موافق اور نہ کسی ضابطہ عقلی کے تحت میں داخل ہیں اور بعض عقائد ان کے یونانی جاہلوں کے قواعد اور اصول پر مبنی ہیں۔ جو عوام الناس کو اس سے احتراز کرنا۔ واجب اور ضروریات دین سے ہے۔ چنانچہ عالمگیر میں مسطور ہے۔ ومن ۱؎ العلوم المذمومة علوم الفلاسفة فانه لايجوز قرأته لمن لم يكن متبحرا فى العلم وسائر الحجج عليهم وحل شبهاتهم والخروج عن اشكالاتهم ونیز مرزا قادیانی اس آیت کریمہ کے مصداق میں داخل ہے۔ مثلهم ۲؎ كمثل الذى استوقد نارا فلما اضاءت ماحوله ذهب الله بنورهم وتركهم فى ظلمتٍ لا يبصرون. (بقرہ ۱۷) نقلہ محمد گل بے نظیر
۱؎ برے علوم سے فلاسفہ کے علوم ہیں۔ جو شخص علوم دین سے اور ان دلائل سے جو فلاسفہ کے مقابلہ میں قائم کی گئی ہے خوب واقف نہ ہو اور ان کے شبہ دور نہ کرسکے اس کو فلسفہ پڑھنا حلال نہیں۔
۲؎ ان کی ایسی مثال ہے جیسے کسی نے آگ جلائی۔ پھر جب اس نے اس کے ارد گرد روشنی کی تو خدا ان کا نور لے گیا اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ وہ نہیں دیکھتے۔
ہذا ہو الحق والحق حقیق بالاتباع. ”یہی حق ہے اور حق اتباع کے لائق ہے۔ العبد مسکین محمد اسمعیل بیگ
مرزا قادیانی تفسیر بالرائے کرنے والا من جملہ ان دجالون کاذبین کے ہے کہ جن کی نسبت رسول اللہ ﷺ نے پیش گوئی فرمائی ہے۔ محمد حسن مراد آبادی
مرزا غلام احمد کے بہت سے اقوال عقائد اسلام کے خلاف ہیں۔ مثلاً وہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے منکر ہیں۔ حالانکہ یہ مضمون احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور ان میں مجاز اور استعارے کی کوئی ضرورت نہیں اور بلا ضرورت مجاز ماننا ضلالت کا دروازہ کھولنا ہے۔ علاوہ اس کے بعض روایتیں ایسی بھی ہیں جو استعارے کو رد کرتی ہیں۔ علاوہ اس کے انھوں نے ازالہ اوہام میں ایسی تقریر کی ہے جس سے متبادر یہی ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کے معجزات کے منکر ہیں۔ چنانچہ ازالہ اوہام کے حصہ اول میں صفحہ ۴۷۱ کی عبارت اس کی شاہد ہے۔ قرآن میں جو مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے یہ کہا تھا کہ میں مٹی کے جانور بناتا ہوں اور ان میں پھونکتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے اڑنے لگتے ہیں۔ اس کی تاویل مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ کی کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ مدت تک نجاری کا کام کیا تھا اور وہ کچھ ایسی کلیں سیکھ گئے تھے جن کے ذریعہ سے جانور اڑاتے تھے جیسے آج کل کے صناع انگریز بنا لیتے ہیں اور حضرت عیسیٰ ؑ جو مردہ کو زندہ کرتے تھے۔ وہ مسمریزم کا عمل تھا جو آج کل انگریزوں میں بھی ہے۔ ان اقوال میں حضرت عیسیٰ ؑ کے معجزوں کا بھی انکار ہوا اور یوسف نجار کو حضرت عیسیٰ ؑ کا باپ بھی بنا دیا۔ اس قسم کے اقوال ان کتابوں میں بہت سے ہیں جو درحقیقت بدعت ہیں۔ بعض کفر کے مرتبہ تک بھی پہنچے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ راقم محمد احتشام الدین مراد آبادی
علمائے ضلع پٹنہ عظیم آباد
الحمد للہ وکفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفی و بعد یقول العبد الفقیر ابوالطیب محمد المدعو بشمس الحق العظیم آبادی عفا اللہ عنہ سیاتہ و تجاوز عنہ انی تشرفت بمطالعۃ ہذہ الرسالۃ التی حررہا شیخ الاسلام والمسلمین المحدث المفسر الفقیہ مسند الوقت شیخنا العلامۃ السید محمد نذیر حسین الدہلوی ادام اللہ تعالیٰ برکاتہ علینا و جعلہ اللہ ممن یوتی اجرہ مرتین فی رد ہفوات الکادیانی الکاذب المفتری الضال المضل فوجدتہا مطابقۃ للحق وما ذا بعد الحق الا الضلال ولاریب ان الکادیانی سلک مسلک الالحاد وحرف الکلم والنصوص الظاہرۃ عن مواضعہ و تفوہ بما تقشعر منہ الجلود وبما لم یجتر بہ الا غیر اہل الاسلام اعاذنا اللہ تعالیٰ والمسلمین من شرورہ و نفثہ و نفخہ و رضی اللہ تعالیٰ عن شیخنا العلامۃ حیث ذب عن الاسلام وانتصر لہ ثم جزی اللہ الفاضلین الاکملین مولانا ابا سعید محمد حسین اللاہوری ومولانا محمد بشیر السہوانی کیف قابلا للمناظرۃ بذلک المفتری الکذاب واظہرا الحق واسکتا الکادیانی الغبی والغوی فلم یستطع ان یقوم لرد الجواب بل فر مثل فرار حمر الوحش فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبہم فتنۃ او یصیبہم عذاب الیم واللہ اعلم۔ العبد ابو طیب محمد شمس الحق
”بعد حمد وصلوٰۃ۔ ابو طیب شمس الحق کہتا ہے کہ مجھے اس رسالہ (فتویٰ) کے مطالعہ کا شرف حاصل ہوا۔
جس کو ہمارے شیخ و شیخ الاسلام والمسلمین مولانا سید نذیر حسین صاحب دام فیوضہ نے تحریر کیا ہے۔ اس کو میں نے حق کے مطابق پایا۔ پھر حق کے سوا بجز گمراہی کیا متصور ہے۔ اس میں شک نہیں کہ قادیانی نے مذہب الحاد اختیار کیا ہے اور نصوص کتاب و سنت کو اپنی جگہ سے پھیرا ہے اور وہ باتیں بولا ہے جس پر کوئی مسلمان بجز اقوام غیر جرأت نہیں کر سکتا۔ خدا اس کے شر اور وساوس اور جادو سے مسلمانوں کو بچائے اور خداوند تعالیٰ ہمارے شیخ سے راضی ہو جنھوں نے اسلام سے حملہ مخالفین کی مدافعت کی اور اس کی مدد کی۔ پھر خدا تعالیٰ مولوی ابوسعید اور مولوی محمد بشیر صاحب کو جزائے خیر دے کہ انھوں نے اس مفتریٰ کذاب سے مقابلہ کیا اور حق کو ظاہر۔ اور اس کو لاجواب کر دیا۔ اس کو جواب کی طاقت نہیں۔ نبی تو ان کے مقابلہ سے جنگلی گدھوں کی طرح بھاگ ہی گیا۔
الحمد للّٰه فقد خاب و خسر من افتریٰ علی اللّٰه کذباً و بھت وانقلب صاغراً و ذلک بان اللّٰه مولی الذین اٰمنوا وان الکافرین لا مولیٰ لہم۔ حرره نور احمد العظیم آبادی
’’جس نے خدا پر افترا کیا وہ ٹوٹے میں پڑا اور ذلیل ہو کر پھرا۔ یہ اس لیے کہ خدا مومنوں کا مولیٰ و مددگار ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں۔‘‘
ما اجاب به السيد العلامة المحدث الدهلوى هو احق بالقبول. حرره محمد اشرف على عظيم آبادى
’’جو جواب علامہ سید محدث دہلوی نے دیا ہے۔ وہ لائق قبول ہے۔‘‘
الجواب صحيح ...... ’’جواب صحیح ہے۔‘‘ محمد عبداللطيف
الجواب صحيح والراى نجيح. جواب صحیح ہے اور رائے موجب رستگاری۔ العبد علی نعمت ساکن پھلواری ضلع پٹنہ
علمائے کانپور ولکھنؤ
ایسے عقائد کا معتقد دائرہ اسلام سے خارج اور مقالات اس کے مخالف سنت و کتاب ہیں۔ اعاذنا اللّٰه و سائر المسلمین من شر مکائدہ۔ کتبہ محمد احمد حسن عفی عنہ مدرس مدرسہ عالیہ اسلامیہ
ھو العلیم ۔ الحمد للّٰه الذی ھو رب البریۃ والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ ذی الاخلاق السنیۃ واہلہ و صحبہ اولی الفضل الشامخ والرتب العلیۃ و تابعیہم و تبعہم من الائمۃ المجتہدین المشیدین لبنیان القواعد الشرعیۃ امابعد فیاایہا الناس وفقکم اللّٰه لما یحب و یرضیٰ اعلموا ان ما تفوہ بہ الکادیانی الغوی من الجہالۃ والسفاہۃ مخالف لما ھو ثابت عند اھل السنۃ والجماعۃ من الآیات الالہیۃ والاحادیث النبویۃ وھو اضل من شیطانہ الذی لعب بہ بلا امتراء مادام متحرفاً عن الطریقۃ الحنیفیۃ السمحہ البیضاء کیف لا وھو ینکر وجود الملائکۃ علیٰ وجہ اخبر بہ عن خیر البریۃ و یقول ان المراد بختم النبوۃ ھو ختم تشریع جدید لا ختم مطلق النبوۃ فللّٰه در المجیب المصیب حیث صرف ہمتہ العلیا و بذل جہدہ بالنھج الاوفیٰ جزاہ اللّٰه تعالیٰ خیر جزاء وان لیس للانسان الا ماسعیٰ۔
حرره العبد الضعیف المشتاق الی رحمۃ ربہ القوی محمد صدیق دیوبندے عفی عنہ ہو الملہم للصدق والصواب
’’حمد وصلوٰۃ کے بعد جان لو کہ قادیانی نے جو بکواس کی ہے وہ ان عقائد اہل سنت کے جو آیات و احادیث سے ثابت ہیں، مخالف ہے۔ وہ اپنے اس شیطان سے بھی جو اس سے کھیل رہا ہے زیادہ تر گمراہ ہے۔
کیوں نہ ہو جس حالت میں کہ وہ اس وجود ملائکہ سے۔ جس کی آنحضرت ﷺ نے خبر دی ہے منکر ہے۔ ختم مطلق نبوت کا قائل نہیں۔ صرف تشریعی نبوت کو ختم بتاتا ہے۔ جس مجیب و مصیب نے اس کے جواب میں ہمت عالی مصروف کی ہے۔ اس کا اجر خدا ہی پر ہے۔
الاكاذيب التى نقلت فى السوال لاشك انها خيالات باطلة وظنون فاسدة كظنون اهل الجنون و قائلها الكاديانى قمين بان يقال له انه لمجنون. مقالاته الكاذبة دالة على انها من قبيل هذيانات المبرسمين والمرسمين. وهو لفقدان البصيرة لا يقدر على التمييز بين الغث والسمين. اقاويله الاباطيل تدل على ان حين صدورها وقد سلبت عنه حواسه صين من غضب الواحد القهار من هو فى الاسلام عوامه و خواصه. هفواته مما لا يخفى مخالفتها لما اتى به الرسول الامين. من حضرة فاطر السموات والارضين عليه و على اله الصلوة والتسليمات من رب العالمين. فلا مرية انه خارج عن دائرة ملة الاسلام وانه فى ضلال مبين وللّٰه درّ من اجاب و افاد فانه قد اصاب واجاد. واللّٰه سبحانه اعلم و علمه اتم واحكم. حرره العبد الخامل محمد عادل عامله اللّٰه تعالى بفضله الشامل
”جو عقائد قادیانی کے سوال میں منقول ہیں۔ وہ بلاشک باطل خیالات ہیں۔ جیسے اہل جنون کے ظنون اس کے قائل۔ قادیانی کو مجنون کہنا مناسب ہے۔ اس کی جھوٹی باتیں بتا رہی ہیں کہ وہ از قسم ہذیان برسام ۱؎ اور سرسام والوں سے ہیں اور وہ بے بصیرت ہونے کے سبب دبلے اور موٹے یعنی قوی و ضعیف میں تمیز نہیں کر سکتا۔ اس کے اقوال بتا رہے ہیں کہ وہ یہ باتیں کہتے وقت حواس باختہ ہو گیا تھا۔ خدا اپنے غضب سے خواص و عوام اہل اسلام کو (جو اس کے دام میں آگئے ہیں) بچالے۔ اس کی بکواس اس دین کے برخلاف ہے جو رسول امین خدا کی طرف سے لائے ہیں۔ وہ بلاشک دائرہ اسلام سے خارج اور کھلی گمراہی میں ہے۔ جس نے اس کی نسبت یہ جواب لکھا ہے اس نے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اور راہ صواب بتایا۔ اس کی نیکی خدا ہی کے لیے ہے۔“
هو العليم لا شك ان هفوات الكاديانى و لغوياته مخالفة لعقائد جمهور الاسلام وتوهماته كانياب الاغوال و اضغاث الاحلام هداه اللّٰه الكريم الى صراط المستقيم و حفظ المسلمين عن كيده ومكائد الشياطين. حرره محمد عبدالغفار لکهنوی
”اس میں شک نہیں کہ قادیانی کی بکواس اور لغویات عقائد جمہور اسلام کے مخالف ہیں اور اس کے توہمات ایسے ہیں جیسے غول بیابانی کے دانت ہیں اور پریشان خواب خدا اس کو راہ مستقیم کی ہدایت کرے اور مسلمانوں کو اس کے اور دیگر شیاطین کے مکروں سے بچائے۔
لاريب فى ان المعتقد بهذه الاعتقادات المنقول بتلك المقالات هادم لاساس الكتاب و مراغم للسنة التى هى فصل الخطاب و مصادم لاجماع المسلمين الذى هو حجة شرعية بلا ارتياب كما فصله المجيب جزاه اللّٰه خيرا ولم يلحق به ضيرا و نسئل اللّٰه تعالى العفو والعافية فى الدنيا والاخرة امين ثم امين. كتبه محمد اشرف على
”اس میں شک نہیں کہ ان عقائد کا معتقد اور ان باتوں کا قائل کتاب اللہ کی بنیاد کو بزعم خود ڈھانے والا ہے اور سنت کو خاک میں ملانے والا۔ اجماع مسلمانوں کا مقابلہ کرنے والا۔ چنانچہ مجیب نے بہ تفصیل بیان کیا۔ خدا اس کو جزائے خیر دے اور ضرر سے بچائے۔“
۱؎ سرسام مشہور مرض ہے ایسا ہی برسام دماغی مرض ہے جس سے مریض بکواس کرتا ہے۔
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
فتاویٰ تکفیر منکر عروج جسمی
ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام
از
حضرت مولانا قاضی عبید اللہ ؒ
مدرسہ محمدی مدراس
بسم الله الرحمن الرحیم
جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا
تعارف
یہ فتویٰ پہلی دفعہ ۱۳۱۱ھ میں طبع ہوا۔ اب ۱۴۲۶ھ ہے۔ ایک سو پندرہ سال بعد اسے تحقیق و تخریج کے ساتھ دوبارہ شائع کرنے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کرے کم ہے۔ فالحمد للہ اولاً وآخراً۔ (مرتب)
فتویٰ تکفیر منکر عروج جسمی و نزول عیسیٰ علیہ السلام
مولانا مولوی قاضی عبید اللہ صاحب دامت برکاتہم و بندہ عاصی سید محمد محی الدین غفر اللہ ذنوبہ
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمد لله رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسوله محمد وآله
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص یہ اعتقاد کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات ہوکر زمین میں ان کا دفن ہو چکا اور اس جسم سے ان کا آسمان پر جانا لغو خیال ہے (ازالہ اوہام ص ۴۷ خزائن ج ۳ ص ۱۲۶) اور کہتا ہے کہ ”اب تک زندہ رہنا ان کا تسلیم کر لیں تو کچھ شک نہیں کہ اتنی مدت کے گزرنے پر پیر فرتوت ہو گئے ہوں گے اور ہرگز لائق نہیں ہوں گے کہ کوئی خدمت دینی ادا کر سکیں۔“ (ازالہ اوہام ص ۵۰ خزائن ج ۳ ص ۱۲۷) آسمان سے ان کے نزول کرنے کا انکار کرتا ہے اور احادیث صحیحہ میں مسیح ؑ کے لیے جو نزول وارد ہوا ہے اس کے لیے دعویٰ کرتا ہے کہ ”وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔“ (ازالہ ص ۳۹ ج ۳ ص ۱۲۲) اور کہتا ہے کہ ”جنھوں نے اس عاجز کا مسیح موعود ہونا مان لیا ہے۔ وہ لوگ ہر ایک خطرے کی حالت سے محفوظ اور معصوم ہیں اور کئی طرح کے ثواب، اور اجر اور قوت ایمانی کے وہ مستحق ٹھہر گئے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ۱۷۹ خزائن ج ۳ ص ۱۸۶) اور نبوت و وحی کا دعویٰ کرتا ہے چنانچہ لکھا ہے کہ ”مسیح موعود جو آنے والا ہے اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا یعنی خدا تعالیٰ سے وحی پانے والا لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے۔ سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ۷۰۱ خزائن ج ۳ ص ۴۷۸) اور لکھا ہے ”مطلق نبوت ختم نہیں ہوئی نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے بلکہ جزئی طور وحی اور نبوت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔“
(رسالہ توضیح مرام ص ۱۸-۱۹ خزائن ج ۳ ص ۶۰)
اور لکھا ہے ”یہ عاجز محدث ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔“
(توضیح مرام ص ۱۹ خزائن ج ۳ ص ۶۰)
اور کہتا ہے کہ ”میں نبی بھی ہوں امتی بھی۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۳۳ خزائن ج ۳ ص ۳۸۶)
اور آیت و مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد میں اپنے طرف ہی اشارہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ۶۷۳ خزائن ج ۳ ص ۴۶۳) اور آیت ھو الذی ارسل رسوله بالھدی و دین الحق لیظهره علی الدین کله درحقیقت اپنے ہی زمانہ سے متعلق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ۶۷۵ خزائن ج ۳ ص ۴۶۴) اور کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا بعد کہتا ہے کہ اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔
(ازالہ اوہام ص ۴۷ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۱۲۶)
اور کہتا ہے کہ اسلام کو غلطیوں اور الحاقات بیجا سے منزہ کر کے وہ تعلیم جو روح و راستی سے بھری ہوئی ہے خلق اللہ کے سامنے رکھنا خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے۔
(ازالہ اوہام ص ۵۹ خزائن ج ۳ ص ۱۳۲)
اور لکھا ہے کہ ”خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو آدم صفی اللہ کا مثیل قرار دیا اور پھر مثیل نوح قرار دیا اور پھر مثیل یوسف علیہ السلام قرار دیا اور پھر مثیل حضرت داؤد بیان فرمایا اور پھر مثیل موسیٰ کر کے بھی اس عاجز کو پکارا پھر اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کو مثیل ابراہیم بھی کہا اور پھر آخر مثیل محمد بھی ٹھہرانے کی یہاں تک نوبت پہنچی کہ بار بار یا احمد کے خطاب سے مخاطب کر کے ظلی طور پر وہی سید الانبیاء و امام الاصفیا حضرت مقدس محمد مصطفیٰ ﷺ قرار دیا گیا، لیکن دوسری جگہ کہتا ہے کہ ”حضرت مسیح اور آپ (یعنی شخص مذکور) کے ناطہ سے کہ کشفی طور پر مروی ہوئی ہے۔ ”اس نے خدا کی محبت کو اپنے طرف کھینچ لیا ہے ان دونوں محبتوں کے ملنے سے تیسری چیز پیدا ہوئی جس کا نام روح القدس ہے اور اس کو بطور استعارہ کے ان دونوں محبتوں کا بیٹا کہنا چاہیے اور یہ پاک تثلیث ہے۔“
(توضیح مرام ص۲۲ خزائن ج۳ ص۶۲)
اور کہتا ہے کہ ”مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔“ (یعنی ابن اللہ کہہ سکتے ہیں)
(توضیح مرام ص۲۷ خزائن ج۳ ص۶۴)
اور قرآن شریف کے آیتوں کی تفسیر صحابہ و تابعین و جمہور مفسرین کے برخلاف اپنی رائے سے کرتا ہے اور صحابہ اور تابعین سے اس کی جو تفسیر وارد ہوئی ہے اس کو کہتا ہے یہ سراسر غلط تفسیر ہے۔ (ازالہ اوہام ص۱۳۹ خزائن ج۳ ص۱۶۷) اور کہتا ہے کہ جبرئیل امین جو انبیاء کو دکھائی دیتا ہے وہ بذات خود زمین پر نہیں اترتا اور اپنے ہیڈ کوارٹر (یعنی صدر مقام) نہایت روشن نیّر سے جدا نہیں ہوتا ہے بلکہ صرف اس کی تاثیر نازل ہوتی ہے اور اس کی عکس سے تصویر ان کے دل میں (یعنی انبیاء کے دل میں) منقوش ہو جاتی ہے۔ (ملخص توضیح مرام ص۶۸۔۷۰۔۸۵ خزائن ج۳ ص۸۶، ۹۵) اور کہتا ہے ”لیلۃ القدر سے رات مراد نہیں بلکہ وہ زمانہ مراد ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہمرنگ ہے اور وہ نبی یا اس کے قائم مقام مجدد کے گزر جانے سے ایک ہزار مہینے کے بعد آتا ہے۔“ (فتح اسلام ص۴۵ ملخص خزائن ج۳ ص۳۲) اور کہتا ہے کہ ”آخری زمانہ میں دجال کا آنا سراسر غلط ہے۔“ (ازالہ اوہام ص۲۲۰ خزائن ج۳ ص۲۲۰) اور انبیاء کے معجزوں کا انکار کرتا ہے ان کو مسمریزی طریق سے بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص۳۰۵ خزائن ج۳ ص۲۵۶) عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات جو قرآن شریف میں واقع ہیں یعنی مٹی سے پرندہ بنا کر اس میں دم پھونکنا اور اندھے اور کوڑھی کو چنگا کرنا مردہ انسان کو زندہ کرنا ان سب کا انکار کرتا ہے اور وہ سب مسمریزم کے طریق پر ہونے کا قائل ہے۔ (ازالہ اوہام ص۳۰۵ خزائن ج۳ ص۲۵۶) لکھا ہے ”اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے اتنی طاقت رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“ (ازالہ ص۳۰۹ حاشیہ خزائن ج۳ ص۲۵۸) اور پھر لکھتا ہے کہ یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انھیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ (ازالہ اوہام ص۳۲۲ خزائن ج۳ ص۲۶۳ حاشیہ) اور عیسیٰ علیہ السلام کا باپ یوسف نجار ہونے کا قائل ہے۔ (ازالہ اوہام ص۳۰۳ خزائن ج۳ ص۲۵۴) اور عیسیٰ علیہ السلام کا خنزیر کو قتل کرنا جو احادیث صحیحہ میں وارد ہوا ہے اس کے حقیقی معنی خنزیر کا شکار کھیلتے پھریں گے زعم کر کے اس پر تمسخر و استہزا کرتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص۴۲ خزائن ج۳ ص۱۳۲) اور ازواج مطہرات میں کونسی بی بی کا پہلے انتقال ہوا جو آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی اس کے بارہ میں کہتا ہے کہ اس پیشگوئی کی اصل حقیقت آنحضرت ﷺ کو بھی معلوم نہیں تھی۔ (ازالہ اوہام ص۴۰۷ خزائن ج۳ ص۳۱۲) اور کہتا ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشگوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں اور کہتا ہے کہ امور اخباریہ کشفیہ میں اجتہادی غلطی انبیاء سے بھی ہو
جاتی ہے۔ (ازالہ اوہام ص ۷۱ خزائن ج ۳ ص ۱۰۶) اور کہتا ہے جب کہ پیشگوئیوں کے سمجھنے کے بارے میں خود انبیاء سے امکان غلطی ہے تو پھر امت کا کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے۔ (ازالہ اوہام ص ۱۴۱ خزائن ج ۳ ص ۱۷۲) اور شیطانی دخل انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جانے کا دعویٰ کر کے اس کی سند میں موجودہ توریت سے جھوٹا یہ قصہ لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارہ میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور اس کی توجیہ اپنے طرف سے یہ بیان کرتا ہے کہ دراصل وہ الہام ایک ناپاک روح کی طرف سے تھا۔ نوری فرشتہ کی طرف سے نہیں تھا اور ان نبیوں نے دھوکا کھا کر ربانی سمجھ لیا تھا۔
(ازالہ اوہام ص ۶۲۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۹)
اور کہتا ہے کہ یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے کہ ”انا انزلناہ قریبا من القادیان و بالحق انزلناہ و بالحق نزل و کان وعد اللہ مفعولا“ اس کے بعد لکھا ہے کہ پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ دوسرے علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔ اس کے بعد لکھتا ہے کہ کشفی طور سے رویا میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلناہ قریبا من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انھوں نے کہا یہ دیکھو لکھا ہوا۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے۔ (ازالہ اوہام ص ۷۷ خزائن ج ۳ ص ۱۴۰)
الغرض اس کے ایسے اقوال بہت ہیں بخوف تطویل نہیں لکھے گئے پس ایسے شخص کا اور اس کے تابعداروں کا اور اس کے اقوال کی تصدیق کرنے والوں کا کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا۔ السائل: حاجی سید محمد محی الدین
الجواب ....... حامداً لّلہ وحدہ و مصلیا و مسلما علی رسولہ سیدنا محمد الذی لانبی بعدہ۔ ایسا اعتقادی شخص بشرط ثبوت عقل و عدم جنون، بیشک کافر و مرتد و زندیق ہے اور جس نے اس کی تابعداری یا تصدیق کی وہ بھی مرتد ہے کیونکہ عیسیٰ ؑ کا اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر جانا اور وہاں زندہ رہنا پھر اخیر زمانہ میں اتر آنا اور امام مہدی کے ساتھ نماز پڑھنا اور دجال نکلے جو الوہیت کا دعویٰ کرے گا اس کو قتل کرنا، ان امور سے ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہیں اور اس میں شک کرنا کفر و ارتداد ہے اور یہی عقیدہ اہل سنت ہے۔ اس میں کسی ایک اہل سنت کو خلاف نہیں پھر عیسیٰ ؑ مر گئے اور ان کا جسم شریف زمین پر رہ گیا اور فقط ان کی روح آسمان پر گئی زعم کرنا نصاریٰ کا عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں جو بل رفعہ اللہ الیہ اور فرمایا و رافعک الی سو وہ نص قطعی ہے عیسیٰ ؑ اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر جانے میں اور جو فرمایا وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ اور فرمایا وانہ لعلم للساعۃ اس میں دلیل ظاہر ہے ان کے نزول پر۔ اور اس مضمون کے بہت سی احادیث صحیحہ بھی آئی ہیں جو حد تواتر کو پہنچی ہیں۔ ہم بخوف تطویل چند احادیث لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس کے نصیب میں ہدایت ہے اس کو کافی ہیں۔
امام المحدثین محمد بن اسمعیل البخاری نے اپنی صحیح کے باب نزول عیسیٰ بن مریم ﷺ میں ابی ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ و یفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرا من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرۃ واقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا
ليؤمنن به قبل موته و يوم القيامة يكون عليهم شهيدا. (بخاری ج ۱ ص ۴۹۰ باب نزول عیسیٰ بن مریم) یعنی قسم ہے اس کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے البتہ عنقریب مریم کا بیٹا حاکم عادل ہو کے تم میں اترے گا سو صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ اٹھا دے گا اور مال بہت ہوگا کہ کوئی اس کو قبول نہیں کرے گا یہاں تک کہ ایک سجدہ کرنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ملنے سے بہتر ہوگا بعد ابو ہریرہؓ نے کہا اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھو وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته و يوم القيمة يكون عليهم شهيدا“ اس حدیث کو مسلم نے بھی اپنی صحیح میں روایت کی ہے اور امام بغوی نے بھی شرح السنہ میں اس حدیث کو روایت کر کے کہا هذا حديث متفق علی صحته. حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں قبل موتہ کے ضمیر کا مرجع عیسیٰ ہے یعنی اہل کتاب کا کوئی شخص نہیں مگر ایمان عیسیٰ پر لائے گا عیسیٰ کے مرنے کے پہلے یعنی عیسیٰ علیہ السلام اخیر زمانے میں جب آسمان پر سے اتریں گے تو اہل کتاب سے کوئی شخص باقی نہ رہے گا مگر عیسیٰ پر ایمان لائے گا اور وان من اهل الكتاب کا لفظ اگرچہ عموم پر دلالت کرتا ہے لیکن اس عموم سے وہی اہل کتاب مراد ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھیں گے اور ان کے زمانے کو پائیں گے۔ اس آیت میں دوسری توجیہ بھی آئی ہے لیکن مفسروں کی ایک جماعت نے اسی کو جو ابو ہریرہؓ سے مروی ہوتی ہے اختیار کیا ہے اور امام ابو جعفر طبریؒ نے اسی قول کو ترجیح دی اور یہی قول قتادہ اور حسن بصری اور عطا وغیرہ کا بھی ہے۔ ابن عباسؓ سے بھی ایک روایت ہے جو اسی کو تائید کرتی ہے چنانچہ عنقریب مذکور ہوگی۔
بخاری اور مسلم ابی ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا كيف انتم اذا انزل ابن مريم فيكم و امامكم منكم. (بخاری ج ۱ ص ۴۹۰ باب نزول عیسیٰ بن مریم) یعنی تم کیسے ہو گے جبکہ مریم کا بیٹا تم میں اترے گا اور تمہارا امام تمھارے میں کا ہی ہوگا۔ اس حدیث کو امام احمد اور بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں روایت کیا ہے اور امام بغوی نے بھی شرح السنہ میں روایت کی ہے اور کہا هذا حديث متفق علی صحته علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث میں جو آیا ہے و امامكم منكم یعنی تمہارا امام تمھارے میں کا ہی ہوگا سو اس سے مراد امام مہدی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اترے بعد صبح کی نماز کو ان کے پیچھے اقتدا کریں گے چنانچہ اس مضمون کی احادیث بھی آئی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام نبی ہو کے امام مہدی کی اقتدا کرنا بعید نہیں کیونکہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی عبدالرحمن بن عوفؓ کے اور ابو بکر صدیقؓ کے پیچھے اقتداء فرمائی ہے۔
اور مسلم نے جابرؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة. (مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسیٰ) یعنی قیامت تک میری امت سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑائی کرتی غالب رہے گی پھر عیسیٰ بن مریم اتریں گے سو مومنوں کا امیر کہے گا آپ آئیے اور ہمارے ساتھ نماز پڑھیے۔ عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے ایسا نہیں تمھارے میں کا بعض تمھارے بعض پر امیر ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اس امت کے لیے یہ مکرمت ہے۔
اور مسلم نے نواس بن سمعانؓ سے روایت کی ہے قال ذكر رسول الله ﷺ الدجال ذات غداة فخفض فيه و رفع حتى ظنناه فى طائفة النخل فلما رحنا اليه عرف ذلك فينا فقال ماشانكم قلنا يارسول الله ذكرت الدجال غداةً فخفضت فيه و رفعت حتى ظنناه فى طائفة النخل فقال غير الدجال اخوفنى عليكم ان يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم و ان يخرج ولست فيكم فامرو
حجیج نفسه والله خليفتى على كل مسلم انه شاب قطط عينه طافية كانى اشبهه بعبد العزى بن قطن فمن ادركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف انه خارج خلة بين الشام و العراق فعاث يمينا و عاث شمالا ياعباد الله فاثبتوا قلنا يارسول الله وما لبثه فى الارض قال اربعون يوما، يوم كسنة و يوم كشهر و يوم كجمعة و سائر ايامه كايامكم قلنا يارسول الله فذلك اليوم الذى كسنة اتكفينا فيه صلوة يوم قال لا اقدروا له قدره قلنا يارسول الله وما اسراعه فى الارض قال كالغيث استدبرته الريح فياتى على القوم فيدعوهم فيومنون به و يستجيبون له فيامر السماء فتمطر والارض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم اطول ما كانت ذرى واسبغه ضروعا و امده خواصر ثم يأتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايديهم شئ من اموالهم و يمر بالخربة فيقول لها اخرجي كنوزك فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل ثم يدعو رجلاً ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل و يتهلل وجهه و يضحك فبينما هو كذلك اذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذا طأ طأ راسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان كا للؤلؤ فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه الا مات و نفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لدٍ فيقتله ثم ياتى عيسىٰ اليه قوم قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم و يحدثهم بدرجاتهم في الجنة فبينما هو كذلك اذ اوحى الله الى عيسىٰ عليه الصلوة والسلام انى قد اخرجت عبادًا لى لا يدان لاحدٍ بقتالهم فحرز عبادى الى الطور و يبعث الله ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون فيمر اوائلهم على بحيرة طبرية فيشربون مافيها و يمر آخرهم فيقولون لقد كان بهذه مرةً ماءً و يحصر نبى الله عيسىٰ عليه الصلوة والسلام و اصحابه حتى يكون راس الثور لاحدهم خيرا من مائة دينارٍ لاحدكم اليوم فيرغب نبى الله عيسىٰ عليه الصلوة والسلام و اصحابه فيرسل الله عليهم النغف فى رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدةٍ ثم يهبط نبى الله عيسى و اصحابه الى الارض فلا يجدون فى الارض موضع شبر الا ملاه زهمهم و نتنهم فيرغب نبى الله عيسىٰ و اصحابه الى الله فيرسل الله عليهم طيرا كاعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله ثم يرسل الله مطراً لا يكن منه بيت مدر ولا وبر فيغسل الارض حتى يتركها كالزلفة ثم يقال للارض انبتى ثمرتك وردّى بركتك فيومئذ تاكل العصابة من الرمانة و يستظلون بقحفها و يبارك فى الرسل حتى ان اللقحة من الابل لتكفى الفئام من الناس واللقحة من البقر لتكفى القبيلة من الناس و اللقحة من الغنم لتكفى الفخذ من الناس فبينما هم كذلك اذ بعث الله ريحا طيبة فتاخذهم تحت آباطهم فتقبض روح كل مومن و كل مسلم و يبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة.
(مسلم ج ۲ ص ۴۰۱ باب ذکر الدجال)
یعنی ایک دن صبح کو نبی ﷺ نے دجال کا حال ذکر کیا پھر اس میں اتارا اور چڑھایا یہاں تک ہم گمان کیے کہ وہ خرمے کے درختوں کے کسی بن میں ہے پھر ہم جب دو پہر کے بعد نبی ﷺ کے پاس گئے تو ہمارے میں اس کو پایا یعنی اس کا احوال سننے سے ہم پر جو خوف و دہشت ہوئی تھی اس کو سمجھ کر فرمایا تمہارا کیا حال ہے۔ ہم
کہے یا رسول اللہ ﷺ آپ نے صبح کو دجال کا ذکر فرمایا سو اس میں اتارا اور چڑھایا یہاں تک کہ وہ خرمے کے درختوں کے کسی بن میں ہے کر کے ہم کو گمان ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمھارے پر دجال کے غیر کا خوف مجھ کو زیادہ ہے اگر دجال نکلے اور میں تمھارے میں ہوں تو اس کا حجج میں ہوں۔ تم نہیں، یعنی دلیل کہنے والا اور اس کو جھٹلانے والا میں ہوں تم اس کو جھٹلانے کی احتیاج نہیں اگر وہ نکلے اور میں تمھارے میں نہ رہوں تو ہر شخص اپنے نفس کا آپ حجج ہے تم پر اور ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ میرا خلیفہ ہے یعنی تمہارا نگہبان اللہ ہے، مقرر دجال جوان ہے اس کے بال بہت اکڑے ہوئے ہیں اس کی آنکھ طافیہ ہے یعنی نکل آئی ہے اس کو میں عبدالعزی بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں یعنی دجال عبدالعزی سے مشابہ ہے تمھارے سے جو کوئی اس کو پائے گا تو سورۂ کہف کے شروع کی آیتیں پڑھے وہ شام و عراق کے درمیان میں کی راہ سے نکلے گا سو داہنے طرف اور بائیں طرف فساد کرے گا اے اللہ کے بندے تم ثابت رہو ہم کہے یا رسول اللہ وہ دجال زمین پر کتنے دن رہے گا حضرت نے فرمایا چالیس دن اس کا ایک دن ایک برس کے مانند ہے اور ایک دن ایک مہینے کے مانند اور ایک دن ایک جمعہ کے مانند یعنی ایک ہفتے کے ہے اور باقی کے دن تمھارے دنوں کے مانند ہیں، ہم کہے یا رسول اللہ وہ دن جو ایک برس کے اتنا ہوگا اس میں ایک دن کی نماز پڑھنا ہم کو کفایت کرے گا یا نہ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کفایت نہ کرے گا اندازہ کرو نماز کے واسطے ایک دن کا اندازہ۔ ہم کہے یا رسول اللہ اس کی جلدی زمین پر کیسی ہے حضرت نے فرمایا غیث کے مانند ہے یعنی مینہ کے مانند یا ابر کے مانند ہے کہ جس کے پیچھے ہوا ہے سو ایک قوم پاس آئے گا اور ان کو اپنی طرف دعوت کرے گا پھر وہ اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی دعوت قبول کریں گے تو آسمان کو حکم کرے گا سو مینہ برسے گا اور زمین کو حکم کرے گا سو اگے گی پھر ان قوم کے جانور جو صبح کو چرنے گئے تھے سو شام کو آئیں گے سو ان کے کوہان بہت بلند رہیں گے یعنی ان کے مواشی نہایت فربہ رہیں گے اور ان کے کاس بہت بھرے ہوئے رہیں گے ان کے پٹھے بہت ہی دراز رہیں گے پھر دجال دوسری قوم کے پاس آکے ان کو دعوت کرے گا وہ اس کی دعوت کو رد کریں گے تو ان کے پاس سے چلا جائے گا صبح کو دیکھے تو یہ لوگ قحط زدہ ہوں گے ان کے ہاتھ میں ان کا کچھ مال باقی نہ رہے گا دجال ویرانے پر گزرے گا اور اس کو کہے گا تیرے خزانہ کو نکال تو اس ویرانے کے خزانے اس کے پیچھے چلیں گے جیسے شہد کی مکھیوں کی ٹکڑی ہے۔ بعد دجال ایک شخص کو جو بھری جوانی میں ہے بلائے گا اور اس کو تلوار سے مار کے دو ٹکڑے کر کے تیر کے نشانے کے مقدار فاصلے سے ڈالے گا پھر اس جوان کو پکارے گا تو زندہ ہو کے آئے گا اس کا منہ چمکتا ہوا اور وہ ہنستا ہوا دجال اس ہی میں تھا کہ یکا یک اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو بھیجے گا سو سفید منارے پاس جو دمشق کے شرقی جانب میں ہے اتریں گے دو مہرودے ۱؎ پہنے ہوئے اور اپنے ہاتھوں کے نیچے دو فرشتوں کے بازوؤں پر دھرے ہوئے اپنے سر کو جھکائے تو سر سے پسینا ٹپکے گا اور جب سر کو اٹھائے تو عرق کے قطرے موتی کے دانوں کے مانند سر پر سے اتریں گے پس ممکن نہیں کسی کافر کو کہ ان کی سانس کی بھانپ لگے مگر یہ کہ مر جائے گا ان کی نگاہ جہاں تک جاتی ہے ان کا دم اتنی دور جائے گا پھر عیسیٰ ؑ دجال کو طلب کریں گے یہاں تک لدّ ۲؎ کے دروازہ پاس اس کو پاکے اس کو قتل کریں گے بعد عیسیٰ ؑ کے پاس ایک قوم آئے گی کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے دجال سے نگاہ رکھا تھا۔ سو ان کے منہ پوچھیں گے اور ان کو ان کے مرتبوں سے جو بہشت میں ہیں خبر دیں گے، ایسے میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ کی طرف وحی بھیجے گا کہ مقرر میں اپنے کئی بندوں کو نکال لایا کہ کسی کو ان سے جنگ
۱؎ مہرودہ دال مہملہ اور ذال معجمہ ہے۔ کپڑے کو کہتے ہیں۔ کہ جس کو ورس کے رنگ میں بعد زعفران کے رنگ میں رنگتے ہیں۔ ۲؎ لد لام کی ضم اور دال کی تشدید سے وہ شام میں ایک جگہ کا نام ہے۔
کرنے کی طاقت نہیں میرے بندوں کو یعنی مومنوں کو محافظت کرنے کے لیے کوہ طور پر جا پھر اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو نکالے گا پھر وہ ہر بلند وسخت زمین سے شتاب آئیں گے اور ان میں پیش رواں طبریہ کے بحیرے پر یعنی تالاب پر گزریں گے سو اس کا پانی سب پیئیں گے ان میں سے پیچھے آنے والے اس پر جب گزریں گے کہیں گے اس بحیرے میں کسی وقت پانی تھا۔ نبی اللہ عیسیٰ ؑ اور ان کے اصحاب محصور رہیں گے یہاں تک کہ آج تم میں سے کسی ایک کے پاس سو دینار ہونے سے ان میں سے کسی ایک کے پاس بیل کا سر ہونا بہتر ہوگا۔ پھر عیسیٰ ؑ اور ان کے اصحاب اللہ کے پاس یاجوج ماجوج ہلاک ہونے کے لیے دعا کریں گے تب اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں نغف یعنی کیڑوں کو بھیجے گا سو سب یکبارگی مرجائیں گے بعد نبی اللہ عیسیٰ اور ان کے اصحاب زمین پر اتریں گے سو زمین پر بالشت بھر کی جگہ نہ رہے گی مگر ان کی چربی اور بدبوئی سے بھر جائے گی۔ پھر نبی اللہ عیسیٰ اور ان کے اصحاب اللہ کے پاس التجا کریں گے تب اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں کی مانند پرندوں کو بھیجے گا سو ان کے لاشوں کو اٹھا کے اللہ تعالیٰ جہاں چاہا وہاں ڈالیں گے پھر اللہ تعالیٰ مینہ برسائے گا کہ جس مینہ کو مٹی کے گھر اور بال کے گھر مانع نہ ہوں گے اور ساری زمین کو ایسا دھوئے گا کہ آئینے کے مانند مصفا ہوگی پھر زمین کو کہا جائے گا اپنے پھلوں کو اگا اور اپنی برکت کو پھر لے آ۔ تب ایک انار ایک عصابہ یعنی ایک جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکوں سے سایہ بنائیں گے اور دودھ میں برکت ہوگی یہاں تک کہ اونٹ کے ایک لقحے ۱؎ کا دودھ ایک جماعت کو کفایت کرے گا اور گائے کے ایک لقحے کا دودھ ایک قبیلے کے لوگوں کو کافی ہوگا اور بکری کے ایک لقحے کا دودھ لوگوں کی ایک فخذ ۲؎ کو کفایت کرے گا لوگ اس ہی حال میں رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جب ان کے بغلوں کے نیچے لگے گی تو ہر مومن اور مسلم کی روح کو قبض کرے گی اور بد لوگ باقی رہیں گے گدھے جیسے تخالط ۳؎ ہوتے ہیں ویسے اختلاط کریں گے انھیں پر قیامت قائم ہوگی۔ اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
اور مسلم نے اپنی صحیح میں حذیفہ بن اسید الغفاریؓ سے روایت کی ہے قال اطلع النبی ﷺ علینا و نحن نتذاكر فقال ماتذكرون قالوا نذكر الساعة قال انها لن تقوم حتى تروا قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها و نزول عيسى بن مريم وياجوج وماجوج (مسلم ج ۲ ص ۳۹۳ کتاب الفتن) یعنی نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم کچھ تذکرے کر رہے تھے پھر آپ ﷺ نے فرمایا تم کیا تذکرہ کرتے ہو صحابہؓ نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کرتے تھے فرمایا قیامت نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اس کے آگے دس نشانیاں دیکھ لو پھر بیان فرمایا دخان اور دجال اور دابہ اور طلوع آفتاب کا اس کے مغرب سے اور نزول عیسیٰ بن مریم کا اور یاجوج اور ماجوج۔
ابن ماجہ نے اپنی سنن میں ابی امامۃ الباہلیؓ سے روایت کی ہے۔ قال خطبنا رسول الله ﷺ فكان اكثر خطبته حديثا حدثناه عن الدجال وحذرناه فكان من قوله ان قال انه لم تكن فتنة فی الارض منذ ذرء الله ذرية آدم اعظم من فتنة الدجال وان الله لم يبعث نبيا الا حذر امته الدجال و انا آخر الانبياء وانتم آخر الامم وهو خارج فيكم لا محالة وان يخرج وانا بين ظهرانيكم فانا حجيج لكل
۱؎ لقحہ اس جانور کو کہتے ہیں کہ جننے کو تھوڑے دن ہوئے ہوں۔ ۲؎ فخذ یعنی قرابتی لوگوں کی جماعت۔ ۳؎ یعنی لوگ علانیہ جماع کریں گے جیسے گدھے کرتے ہیں ان کو کسی بات کا لحاظ نہ رہے گا۔
مسلم و ان يخرج من بعدى فكل حجيج نفسه و الله خليفة على كل مسلم و انه يخرج من خلة بين الشام والعراق فيعيث يمينا و يعيث شمالا ياعباد الله فثبتوا فانى ساصفه لكم صفة لم يصفها اياه نبى قبلى انه يبدا فيقول انا نبى ولا نبى بعدے ثم يثنى فيقول انا ربكم ولا ترون ربكم حتى تموتوا وانه اعور و ان ربكم ليس باعور وانه مكتوب بين عينيه كافر يقرؤه كل مؤمن كاتب او غير كاتب و ان من فتنة ان معه جنة ونارًا فناره جنة و جنته نار فمن ابتلى بناره فليستغث بالله وليقرأ فواتح الكهف فتكون عليه بر دا وسلاما كما كانت النار على ابراهيم وان من فتنة ان يقول لاعرابى ارايت ان بعثت لك اباك امک اتشهد انی ربک فیقول نعم فيتمثل له شيطانان فى صورة ابيه وامه فيقولان يابنى اتبعه فانه ربک وان من فتنة ان يسلط على نفس وحدة فيقتلها بنشرها بالمنشار حتى يلقى شقتين ثم يقول انظروا الى عبدى هذا فانى ابعثه الآن ثم يزعم ان له ربا غيرى فيبعثه الله فيقول له الخبيث من ربک فیقول ربى الله وانت عدو الله انت الدجال والله ما كنت اشد بصيرة بک منى اليوم...... وان من فتنة ان يأمر السماء ان تمطر فتمطر و يامر الارض ان تنبت فتنبت وان من فتنة ان يمر بالحى فيكذبونه فلا تبقى لهم سائمة الا هلكت وان من فتنة ان يمر بالحى فيصدقونه فيامر السماء ان تمطر فتمطر و بالارض ان تنبت فتنبت حتى تروح مواشيهم من يومهم ذاك اسمن ماكانت وأعظمه وامده خواصر وادره ضروعا وان لايبقى شئ من الارض الا وطئه وظهر عليه الا مكة والمدينة لا ياتيهما من نقب من نقابهما الا لقيته الملائكة بالسيوف صلتة حتى ينزل عند الظريب الاحمر عند منقطع السبخة و ترجف المدينة باهلها ثلاث رجفات فلا يبقى منافق ولا منافقة الا خرج اليه فتنفى الخبث منها كما ينفى الكير خبث الحديد و يدعى ذلک اليوم يوم الخلاص فقالت ام شريک بنت ابی العكر يارسول الله فاين العرب يومئذ قال هم يومئذ قليل وجلهم ببيت المقدس امامهم رجل صالح فبينما امامهم قد تقدم يصلى بهم الصبح اذ نزل عليهم عيسى بن مريم عليه السلام للصبح فرجع ذلک الامام ينكص يمشى القهقرا ليتقدم عيسى عليه السلام يصلى بالناس فيضع عيسى يده بين كتفيه ثم يقول له تقدم فصل فانها لک اقیمت فیصلی بهم امامهم فاذا انصرفوا قال عيسى عليه السلام افتحوا الباب فيفتح ووراء ه الدجال معه سبعون الف يهودى كلهم ذوسيف محلى وساج فاذا نظر اليه الدجال ذاب كما يذوب الملح فى الماء و ينطلق هاربا فيقول عيسى عليه السلام ان لى فيک ضربة لن تسبقنی بها فيدركه عند باب اللد الشرقى فيقتله فيهزم الله اليهود ولا يبقى شئ مما خلق الله عزوجل يتوارى به يهودى الا انطق الله ذلک الشئ لا حجر ولا شجر ولا حايط ولا دابة الا الغرقدة فانها من شجرهم لا تنطق الا قال يا عبدالله المسلم هذا یهودی فتعال اقتلہ الحدیث (ابن ماجہ ص ۲۹۷، ۲۹۸ باب فتنۃ الدجال وخروج عیسی بن مریم) یعنی ایک بار رسول اللہ ﷺ نے خطبہ پڑھا سو اس میں اکثر باتیں دجال کے متعلق فرمایا اور ہم کو اس سے ڈرایا از جملہ یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آدم کی اولاد کو جب سے پیدا کیا ہے تب سے دجال کے فتنہ سے کوئی فتنہ بڑا زمین پر نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر اس نبی نے دجال سے ڈرایا۔ میں نبیوں کا آخر ہوں اور تم اخیر امت ہو۔ دجال ناگزیر تمھارے میں ہی نکلے گا پھر اگر وہ نکلے اور میں تمھارے میں موجود ہوں تو میں ہر مسلمان کی طرف حجیج ہوں یعنی دلیل گو ہوں اگر میرے بعد نکلا تو ہر آدمی اپنی دلیل آپ ہی کہے گا اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہوگا اور
وہ دجال ایک خلہ سے یعنی راہ کے جو شام و عراق کے درمیان ہے نکلے گا پھر داہنے اور بائیں طرف فساد کرتا پھرے گا اے اللہ کے بندو تم ثابت قدم رہو دجال کی صفت میں تم کو ایسی بیان کرتا ہوں کہ کوئی نبی میرے آگے اس کو بیان نہیں کیا۔ ابتداء میں تو دجال کہے گا میں نبی ہوں حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، بعد کہے گا میں تمہارا رب ہوں حال تو یہ ہے تم اپنے پروردگار کو تم مرنے تک نہیں دیکھیں گے اور وہ دجال کانا ہے اور تمہارا پروردگار کانا نہیں اور اس کے دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے جو مومن ہے اس کو پڑھے گا خواہ لکھنا پڑھنا جانے یا نہ جانے۔ اس کے فتنوں سے یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ بہشت اور دوزخ رہیں گے اس کی دوزخ بہشت ہے اور بہشت دوزخ ہے اس کی دوزخ کی بلا میں کوئی تمھارے میں کا پڑا تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور سورۂ کہف کے شروع کی آیتیں پڑھے تو وہ دوزخ اس پر ٹھنڈک اور سلامتی ہو جائے گی جیسے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ہوئی تھی۔ اس کے فتنوں سے یہ بھی ہے کہ اعرابی کو بولے گا تیرے ماں باپ کو اگر میں زندہ کروں تو آیا میں تیرا رب ہوں کر کے اقرار کرے گا وہ بولے گا بہتر پھر وہ شیطان اس کی ماں اور باپ کی صورتوں سے آئیں گے اور کہیں گے بیٹا تو اس کا تابعدار ہو جا کیونکہ وہ تیرا رب ہے۔ اس کے فتنوں سے یہ بھی ہے کہ ایک شخص پر مسلط ہو کے اس کو آرے سے کاٹ کے دو پھانک کرے گا بعد لوگ کو کہے گا دیکھو میرے اس بندے کو اب میں جلاتا ہوں وہ زندہ ہو کے بولے گا میرا رب تو نہیں دوسرا کوئی ہے پھر اس کو زندہ کر کے وہ خبیث کہے گا تیرا رب کون ہے، وہ شخص بولے گا میرا رب اللہ ہے اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے۔ تیرے حال سے واللہ مجھ کو آگے سے زیادہ اب یقین حاصل ہوا اس کے فتنوں سے یہ بھی ہے کہ آسمان کو حکم کیا تو مینہ برسائے گا زمین کو حکم کیا تو اگائے گی اس کے فتنوں سے یہ بھی ہے کہ کسی قبیلے پر گزرے گا اور وہ لوگ اس کی تکذیب کریں گے تو ان کے جانور جتنے ہیں اتنے سب مر جائیں گے اس کے فتنوں سے یہ بھی ہے کہ کسی قبیلے پر گزرا اور وہ لوگ اس پر ایمان لائے تو مینہ کو حکم کرے گا کہ ان پر برسے تو مینہ برسے گا زمین کو حکم کرے گا اگائے تو اگائے گی پھر اس ہی دن ان کے جانور نہایت فربہ اور پر شکم اور کاس دودھ سے بھرے ہوئے ہو جائیں گے اور تھوڑی سی زمین خالی نہ رہے گی جو اس کے پامال نہ ہو، مگر مکے اور مدینے میں نہ آئے گا ان کے راہوں پر فرشتے تلوار لیے ہوئے کھڑے ہوں گے اس کو دفع کریں گے پھر سرخ پہاڑ پاس جہان چوڑ کی زمین منقطع ہوتی ہے آ کے اترے گا مدینے کو تین بار زلزلہ ہوگا پھر کوئی منافق مرد یا عورت مدینے میں باقی نہ رہے گا مگر نکل کے دجال کے پاس چلا جائے گا۔ سو اس کی نجاست کو نکال دے گا جیسا کہ یعنی مس یا بھٹا لوہے کے گوہ کو نکالتا ہے اس دن کا نام یوم الخلاص ہے ام شریک بنت ابی العکر رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس دن عرب کہاں رہیں گے نبی ﷺ نے فرمایا وہ تھوڑے رہیں گے اور اکثر ان کے بیت المقدس میں رہیں گے ان کا امام ایک صالح مرد ہوگا سو ایک دن امام صبح کی نماز کے واسطے آگے بڑھا کہ اس میں عیسیٰ بن مریم اتریں گے وہ امام پچھلے پاؤں ہٹتا ہوا آئے گا تا عیسیٰ امامت کرے عیسیٰ اس کے دونوں شانوں میں اپنا ہاتھ رکھ کے کہیں گے اقامت تمھارے واسطے کہی گئی تم ہی امام ہو کے نماز پڑھو۔ پھر وہی صالح مرد امام ہو کے نماز پڑھے گا نماز سے جب فراغت پائے تو عیسیٰ کہیں گے دروازہ کھولو پھر دروازہ کھولے تو اس کے رو برو دجال رہے گا اور اس کے ساتھ ستر ہزار یہود رہیں گے ان کے پاس تلواریں آراستہ سونے کا کام کیے ہوئے رہیں گے اور ان پر سبز طیلسان رہیں گے دجال عیسیٰ کو دیکھتے ہی گھلجائے گا جیسا نمک پانی میں گھلتا ہے پھر وہاں سے بھاگے گا عیسیٰ کہیں گے میرے پاس تیرے واسطے ایک مار ہے تو اس سے نہ بچے گا پھر اس کا پیچھا کر کے لد کے دروازے کے پاس جو شرقی جہت میں ہے قتل کریں گے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ یہودیوں کو شکست دے گا اللہ تعالیٰ جس چیز کو
پیدا کیا ہے اس کے پاس یہود جا کے پوشیدہ ہونا چاہیں گے پتھر ہو یا درخت ، جانور ہو یا دیوار اللہ تعالیٰ اس مخلوق کو زبان دے گا وہ پکار اٹھے گا اے اللہ کے مسلمان بندے یہ یہودی ہے تو آ کے اس کو قتل کر مگر غرقد ۱ نہ بولے گا کیا واسطے وہ یہود کا جھاڑ ہے الحدیث ابن ماجہ ، نے اس حدیث کی آخر میں لکھا ہے سمعت ابا الحسن الطنافسی يقول سمعت عبدالرحمن المحار بي يقول ينبغي ان يدفع هذا الحديث الى المودّب حتى يعلمه الصبيان فى الكتاب (ابن ماجہ ص ۲۹۹) یعنی میں نے ابوالحسن طنافسی کو سنا وہ کہا میں نے عبدالرحمن المحاربی کو سنا کہتا تھا سزاوار ہے کہ اس حدیث کو مودب کو دے تا کہ مکتب خانہ میں بچوں کو سکھلائے اور ابوداؤد نے اپنی سنن کے باب ذکر خروج الدجال میں ابی ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ليس بينى وبينه يعنى عيسى عليه السلام نبى وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض بين ممصرتين كان راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الاسلام فيدق الصليب و يقتل الخنزير و يضع الجزية و يهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام و يهلك المسيح الدجال فيمكث فى الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون. (ابوداؤد ج ۲ ص ۱۳۵ باب ذکر الدجال) یعنی میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں اور مقرر وہ اتریں گے تم انھیں کو دیکھو تو پہچانو کہ وہ میانہ قد ہیں سرخ وسفید ان پر ممصر دو کپڑے رہیں گے یعنی تھوڑی زردی ملی ہوئی گویا ان کے سر کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہے اگرچہ پانی کی تراوت نہ پہنچے اور لڑائی کریں گے لوگوں سے اسلام لانے پر، پھر صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو مار ڈالیں گے اور جزیہ کو اٹھائیں گے اور ان کے زمانے میں سوائے اسلام کے دوسرے سب ملتوں کو اللہ تعالیٰ نابود کرے گا اور مسیح دجال کو ہلاک کرے گا پھر عیسیٰ چالیس برس زمین پر ٹھہرے رہیں گے بعد مریں گے پھر مسلمان ان پر نماز پڑھیں گے۔ امام احمد نے ابی ہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الانبياء اخوة العلات امهاتهم شتى و دينهم واحد وانى اولى الناس بعيسى بن مريم لانه لم يكن نبى بينى و بينه وانه نازل. فاذا ارايتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض عليه ثوبان ممصران كان راسه يقطر و ان لم يصبه بلل فيدق الصليب و يقتل الخنزير و يضع الجزية و يدعو الناس الى الاسلام ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام و يهلك الله فى زمانه المسيح الدجال ثم تقع الامانة على الارض حتى ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر و الذئاب مع الغنم و يلعب الصبيان بالحيات لا تضرهم فيمكث اربعين ثم يتوفى و يصلى عليه المسلمون.
(مسند احمد ج ۲ ص ۴۰۶)
یعنی انبیاء سوتیلے بھائی ہیں ان کے مائیں علیحدہ ہیں اور دین ان کا ایک ہی ہے اور لوگوں سے میں عیسیٰ بن مریم کے ساتھ اولیٰ ہوں یعنی احق اور نزدیک تر ہوں کیا واسطے میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور مقرر وہ اتریں گے تم ان کو دیکھو تو پہچانو کہ وہ میانہ قد ہیں سرخ وسفید ان پر ممصر دو کپڑے رہیں گے گویا ان کے سر کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہے اگرچہ پانی کی تراوت نہ پہنچے پھر صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو مار ہی ڈالیں گے اور جزیہ کو اٹھا دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی طرف بلوائیں گے ان کے زمانے میں سوائے اسلام کے دوسرے سب ملتوں کو اللہ تعالیٰ نابود کرے گا اور اللہ تعالیٰ مسیح الدجال کو ان کے زمانے میں ہلاک کرے گا پھر زمین پر امن ہو جائے گا باگ اونٹ کے ساتھ اور چیتا گائے کے ساتھ اور بھیڑیا بکری کے ساتھ مل کے چریں گے اور آدمی کے بچے سانپوں کے ساتھ مل کے کھیلیں گے تو سانپ ان کو ایذا نہ دیں گے سو عیسیٰ چالیس برس ٹھہرے رہیں گے بعد
۱ غرقد نام ہے ایک درخت کا۔ انار کے درخت سے قداً بڑا ہوتا ہے اس کو کانٹے رہتے ہیں۔
مریں گے مسلمان ان پر نماز پڑھیں گے اس حدیث کو حاکم نے بھی مستدرک میں روایت کی اس کا لفظ یہ ہے۔ ان روح الله عيسى نازل فيكم فاذا رايتموه فاعرفوه الحديث. امام احمد اور ابن ابی شیبہ اور سعید بن منصور اور بیہقی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ لقيت ليلة اسرى بی ابراهيم و موسى و عيسى عليهم السلام فتذاكروا امر الساعة فردوا امرهم الى ابراهيم فقال لا علم لى بها فردوا امرهم الى موسى فقال لا علم لى بها فردوا امرهم الى عيسى فقال اما وجبتها فلا يعلم بها احد الا الله وفيما عهد الى ربى عزوجل ان الدجال خارج و معى قضيبان فاذا رانى ذاب كما يذوب الرصاص فيهلكه الله اذا رانى حتى ان الحجر والشجر يقول يا مسلم ان تحتى كافرا فتعال فاقتله فيهلكهم الله.
(مسند احمد ج ۱ ص ۳۷۵)
یعنی ملاقات کیا میں نے شب معراج میں ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے پھر قیام قیامت کا مذاکرہ کیا کہ کب ہوگی سب اس سوال کو ابراہیم پر پیش کیے تو ابراہیم کہے مجھ کو اس کا علم نہیں پھر موسیٰ پر پیش کیے تو موسیٰ کہے مجھ کو اس کا علم نہیں پھر عیسیٰ پر پیش کیے تو کہے کہ قیامت کا عین وقت وقوع سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا لیکن میرا رب عزوجل نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ اور میرے ہاتھ میں دو چھڑی رہیں گے پس جب دجال مجھ کو دیکھے گا تو پگھلے گا جیسا سیسا پگھلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ دجال کو ہلاک کرے گا جب مجھ کو دیکھے گا یہاں تک کہ پتھر اور جھاڑ کہیں گے اے مسلمان مقرر میرے نیچے کافر ہے تو آ کے اس کو قتل کر پھر اللہ تعالیٰ ان سب کو ہلاک کرے گا اس حدیث کو ابن ماجہ نے اپنی سنن میں بھی روایت کی ہے اس میں ہے فذكر خروج الدجال قال فانزل فاقتله (سنن ابن ماجہ ص ۲۹۹) یعنی عیسیٰ ؑ نے دجال نکلنے کو ذکر کر کے فرمایا کہ میں اتر کے اس کو قتل کروں گا اور اس حدیث کو حاکم نے بھی اپنی مستدرک میں روایت کی ہے اس میں ہے فذكر من خروج الدجال فاهبط فاقتله یعنی عیسیٰ ؑ نے دجال کے نکلنے کو ذکر کر کے فرمایا کہ میں اتر کے اس کو قتل کروں گا حاکم نے کہا اس کی اسناد صحیح ہے اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دجال کو قتل کرنے وہی عیسیٰ ؑ آئیں گے جن پر انجیل نازل ہوئی اور اب آسمان پر موجود ہیں۔
اور سعید بن منصور اور نسائی اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء خرج الى اصحابه و فى البيت اثنا عشر رجلا من الحواريين يعنى فخرج عليهم من عين فى البيت وراسه يقطر ماء فقال ان منكم من يكفر بى اثنى عشر مرة بعد ان امن بى ثم قال ايكم يلقى عليه شبهى فيقتل مكانى فيكون معى فى درجتى فقام شاب من احدثهم سنا فقال له اجلس ثم اعاد عليهم ثم قام الشاب فقال اجلس ثم اعاد عليهم فقام الشاب فقال انا فقال انت ذاک فالقى عليه شبه عيسى و رفع عيسى من روزنة فى البيت الى السماء.
(ابن کثیر ج ۱ ص ۵۷۴ زیر آیت بل رفعہ اللہ الیہ سنن کبری للنسائی ج ۶ ص ۴۸۹ کتاب التفسیر باب ۳۹۰)
یعنی اللہ تعالیٰ جب عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لے جانے کا ارادہ کیا تو عیسیٰ اپنے اصحاب کے پاس آیا اور اس گھر میں عیسیٰ کے بارہ حواری تھے اس گھر میں ایک چشمہ تھا عیسیٰ اس میں سے نکل آئے ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپکتے تھے سو عیسیٰ ؑ نے ان کو فرمایا تمھارے میں ایک شخص میرے پر ایمان لایا سو بارہ دفعہ میرے سے کفر کرے گا بعد فرمایا تمھارے میں کون شخص چاہتا ہے کہ میرا شبیہ ہوئے اور میرے در عوض مارا جائے اور میرے ساتھ میرے درجہ میں رہے ان میں سے ایک کم عمر جوان تھا کھڑا ہوا اور بولا میں ہوتا ہوں
عیسیٰ ؑ نے اس کو کہا بیٹھ اور اس کو دوبارہ فرمایا وہی جوان اٹھ کے کہا میں حاضر ہوں عیسیٰ ؑ نے اس کو فرمایا بیٹھ اور پھر اس کلام کا اعادہ کیا پھر وہی جوان کھڑے ہو کے کہا میں ہوں، عیسیٰ ؑ نے فرمایا وہ تو ہی ہے پھر وہ شخص عیسیٰ ؑ کا ہم شکل بن گیا عیسیٰ ؑ گھر کے ایک جھروکے میں سے نکل کے آسمان پر چلے گئے۔ اور نسائی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ان رهطا من اليهود سبوه و امه فدعا عليهم فمسخهم الله قردة و خنازير فاجتمعت اليهود على قتله فاخبره الله تعالى بانه يرفعه الى السماء و يطهره من صحبة اليهود فقال لا صحابه ايكم يرضى ان يلقى الله شبهى فيقتل و يصلب و يدخل الجنة فقال رجل منهم انا فالقى الله عليه شبه فقتل و صلب.
(تفسیر النسفی الجزء الاول ص ۳۰۳)
یعنی ایک جماعت یہود نے عیسیٰ ؑ اور ان کی ماں کو گالیاں دی تب عیسیٰ ؑ نے ان پر بددعا کی سو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو مسخ کر کے بندر اور خنازیر بنا دیا پھر یہود عیسیٰ ؑ کے قتل پر جمع ہوئے سو اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ کو خبر دیا کہ ان کو آسمان پر لے جاتا ہوں اور یہود کی صحبت سے پاک کرتا ہوں پھر عیسیٰ ؑ اپنے اصحاب کو کہا تمھارے میں کون شخص راضی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو میرا شبیہ کرے سو قتل کیا جائے اور سولی دیا جائے اور جنت میں داخل ہو جائے پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا میں راضی ہوں سو اللہ تعالیٰ اس کو عیسیٰ کا شبیہ کیا پھر وہ قتل کیا گیا اور سولی دیا گیا۔
ابن ابی حاتم نے حسن سے روایت کی قال رسول اللہ ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت و انه راجع اليكم قبل يوم القيامة (تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۶۶) یعنی رسول اللہ ﷺ نے یہود کو فرمایا مقرر عیسیٰ نہیں مرے اور وہ، روز قیامت کے آگے تمہاری طرف لوٹنے والے ہیں۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ربیع سے روایت کی قال ان النصارى اتو النبى ﷺ فخاصموه فى عيسى بن مريم وقالوا له من ابوه وقالوا على الله الكذب والبهتان فقال لهم النبى ﷺ الستم تعلمون انه لا يكون ولد الا وهو يشبه اباه قالوا بلى قال الستم تعلمون ان ربنا حى لايموت وان عيسى يأتى عليه الفنا.
(ابن جریر ج ۳ ص ۱۶۳)
یعنی نبی ﷺ کے نزدیک نصاریٰ کی ایک جماعت آئی سو عیسیٰ بن مریم میں جھگڑنے لگی اور کہا ان کا باپ کون ہے اور اللہ تعالیٰ پر کذب و بہتان کہنے لگے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی لڑکا نہیں پیدا ہوتا مگر وہ اپنے باپ کے شبیہ ہوتا سو تم جانتے ہو یا نہیں کہا ہاں تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارا رب زندہ ہے نہ مرے گا اور عیسیٰ پر فنا آئے گی تو تم جانتے ہو یا نہیں۔ دیکھو اس حدیث میں عیسیٰ پر موت آئے گی کر کے فرمایا اور عیسیٰ فنا ہو گئے کر کے نہیں فرمایا۔
روایت ہے ابن عباسؓ سے كنا فى المسجد نتذاكر فضل الانبياء عليهم السلام فذكرنا نوحا عليه السلام بطول عبادته و ابراهيم عليه السلام بخلة وموسى عليه السلام بتكليم الله تعالى اياه و عيسى عليه السلام برفعه الى السماء وقلنا رسول الله ﷺ افضل منهم بعث الى الناس كافة و غفر له ما تقدم من ذنبه وما تاخر وهو خاتم الانبياء عليهم السلام فدخل علينا فقال فيم انتم فذكرنا له.
یعنی با یکدیگر ہم صحابہ مسجد میں انبیاء علیہم السلام کے فضل کو بیان کر رہے تھے سو نوح ؑ کا ذکر کیا، ان کی طول عبادت سے اور ابراہیم ؑ کا ان کی خلت سے اور موسیٰ ؑ کا اللہ تعالیٰ سے بات کرنے میں اور عیسیٰ ؑ کا اللہ تعالیٰ کا آسمان پر لے جانے میں اور ہم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سب انبیاء سے افضل ہیں کہ
آپ ﷺ کافہ ناس یعنی سب انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے ہیں اور آپ کے اگلے پچھلے گناہ مغفرت کیے گئے اور آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں پھر رسول اللہ ﷺ ہمارے نزدیک تشریف لائے سو فرمایا تم کیا ذکر کرتے تھے پس ہم نے عرض کیا۔
بزاز اور طبرانی نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ینزل عیسى بن مریم مصدقا لمحمد ﷺ و على ملته فیقتل الدجال ثم انما هو قیام الساعة (طبرانی کبیر ج ۷ ص ۲۲۱ حدیث نمبر ۶۹۱۹) یعنی اتریں گے عیسیٰ بن مریم، محمد ﷺ کی تصدیق کرتے ہوئے اور انھیں کی ملت پر، پھر قتل کریں گے دجال کو اس کے بعد کچھ نہیں پر یہ کہ قیامت قائم ہوگی۔ اور طبرانی معجم کبیر و اوسط میں اور بیہقی شعب الایمان میں عبداللہ بن مغفلؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یلبث الدجال فیکم ماشاء الله ثم ینزل عیسى بن مریم مصدقا بمحمد ﷺ و على ملته اماما مهدیا و حكما عدلا فیقتل الدجال.
(طبرانی اوسط ج ۳ ص ۲۷۷ حدیث ۳۵۸۰)
یعنی تمھارے میں دجال جب تک خدا چاہے ٹھہرا رہے گا اس کے بعد عیسیٰ بن مریم اتریں گے، محمد ﷺ کی تصدیق کرتے ہوئے اور انھیں کی ملت پر امام ہدایت پایا ہوا اور حاکم عادل۔ پھر دجال کو قتل کریں گے۔ حافظ السیوطی نے کہا کہ اس کی سند جید ہے اور ابن عساکر نے ابی ہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الا ان ابن مریم لیس بینی و بینه نبی ولا رسول الا انه خلیفتی فی امتی من بعدی. (ابن عساکر ج ۲۰ ص ۱۴۲)
یعنی پکی بات ہے کہ ابن مریم کے اور میرے درمیان نہ کوئی نبی اور نہ کوئی رسول ہے سنو میرے بعد میری امت پر مقرر وہ میرا خلیفہ ہے اور ابن عساکر نے ابی ہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیهبطن الله عیسى بن مریم حكما عدلا و اماما مقسطا فلیسلکن فج الروحاء حاجا او معتمرا او لیقفن على قبری لیسلمن علی ولاردن علیه (ایضاً) یعنی البتہ اتارے گا اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو حاکم عادل اور امام منصف کر کے پھر حج یا عمرہ کرتے ہوئے روحاء ۱؎ کی راہ میں چلیں گے اور البتہ میری قبر کے پاس کھڑے ہو کر مجھ کو سلام کریں گے اور البتہ میں ان کے سلام کا جواب دوں گا۔ اور ابوداؤد طیالسی نے ابی ہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یمكث عیسى علیه الصلوٰة والسلام فی الارض بعد ما ینزل اربعین سنة ثم یموت و یصلى علیه المسلمون و یدفنونه. (ابوداؤد ج ۴ ص ۲۷۳، ۲۷۴ حدیث نمبر ۴۶۶۴) یعنی عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اترنے کے بعد زمین پر چالیس سال رہیں گے اس کے بعد مریں گے اور مسلمان ان پر نماز پڑھیں گے اور دفن کریں گے۔ حکیم ابو عبداللہ الترمذی نے نوادر الاصول میں عبدالرحمٰن بن سمرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا والذی بعثنی بالحق لیجدن ابن مریم فی امتی خلفا من حواریه یعنی قسم ہے اس کی جس نے مجھ کو حق کے ساتھ بھیجا ابن مریم میری امت میں اپنے حواری کا بدل پائے گا یعنی عیسیٰ ؑ کو آسمان پر جانے کے قبل حواریان تھے سو ان کے عوض میری امت کے چند لوگ جو حواری کے مثل ہوں گے عیسیٰ ؑ کے نزدیک رہیں گے اور روایت کی ہے ابویعلیٰ نے ابی ہریرہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیدرکن رجال من امتی عیسى بن مریم علیه الصلوٰة والسلام و لیشهدن قتال الدجال یعنی البتہ پائیں گے میری امت سے چند لوگ عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اور البتہ حاضر ہو جائیں گے دجال کے قتال میں۔
۱؎ روحاء نام ہے ایک جگہ کا مدینے سے چھتیس میل پر، اسی راہ سے انبیاء حج کو جاتے تھے۔
المستدرک حاکم نے انسؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من ادرک منکم عیسی بن مریم فلیقرئہ منی السلام.
(درمنثور ص ۳۳۵ ج ۲۔ مستدرک ج ۴ ص ۵۵۷ حدیث نمبر ۸۶۷۹)
یعنی جو شخص تمھارے سے عیسیٰ بن مریم کو پائے گا تو چاہیے اس کو میرا سلام کہے۔ حاکم نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔ یاد رکھیے کہ نبی ﷺ اپنی امت کو عیسیٰ ؑ کو سلام پہنچانے کے باب میں وصیت فرمائی ہے پھر جو شخص عیسیٰ ؑ کو پائے گا تو اس کو ضرور ہے کہ سلام پہنچائے اور یہ خیال رکھنا کہ کوئی زندیق اپنے آپ کو عیسیٰ بن مریم ہو کر یہ دعویٰ کرے تو اس کو سلام نہیں پہنچانا بلکہ وہ عیسیٰ ؑ جو آسمان سے تشریف لائیں گے ان کو پہنچانا ہے۔
ابن ابی شیبہ اور امام احمد نے عائشہؓ سے روایت کی کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں روتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کس لیے روتی ہو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ نے دجال کا ذکر کیا اس لیے میں روئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ان یخرج الدجال و انا حی کفیتموہ وان یخرج بعدی فان ربکم لیس باعور انہ یخرج فی یہودیۃ اصبھان حتی یأتی المدینۃ فینزل ناحیتھا ولھا یومئذ سبعۃ ابواب علی کل نقب منھا ملکان فیخرج الیہ شرار اھلھا حتی یأتی الشام مدینۃ بفلسطین بباب لد فینزلہ عیسیٰ فیقتلہ و یمکث عیسیٰ فی الارض اربعین سنۃ اماما عدلا و حکما مقسطاً.
(مسند احمد ج ۶ ص ۷۵)
یعنی اگر دجال نکلے اور میں زندہ رہوں تو تم کو میں کافی ہوں اگر میرے بعد نکلا تو تم پہچانو کہ مقرر تمہارا پروردگار کانا نہیں۔ بیشک دجال اصبہان کے یہودیہ ۱؎ سے نکلے گا یہاں تک کہ مدینے کو آ کے اس کے ایک جانب میں اترے گا اس وقت مدینہ کو سات دروازے رہیں گے اس کے ہر راستے پر دو فرشتے رہیں گے مدینہ میں بدلوگ جو ہیں سب نکل کے دجال کے پاس جائیں گے بعد دجال فلسطین کے علاقہ میں شام کا شہر جو ہے وہاں جا کے لُد کے دروازہ کے پاس اترے گا پھر عیسیٰ بن مریم اتر کے اس کو قتل کریں گے اور عیسیٰ زمین پر چالیس برس تک امام عادل اور حکم مقسط ہو رہیں گے۔
ابن عساکر نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے ایک طویل حدیث روایت کی اس میں مذکور ہے۔ فبینما ھم کذلک اذ سمعوا صوتا من السماء ان ابشروا فقداتاکم الغوث فیقولون نزل عیسیٰ بن مریم فیستبشرون و یستبشربھم و یقولون صل یاروح اللّٰہ فیقول ان اللّٰہ اکرم ھذہ الامۃ فلا ینبغی لاحد ان یؤمھم الا منھم فیصلی امیرالمومنین بالناس و یصلی عیسیٰ خلفہ.
(ابن عساکر ج ۲ ص ۱۵۰)
یعنی لوگ اسی حالت میں یعنی سختی و مشقت میں رہیں گے دفعۃً آسمان سے آواز سنیں گے کہ اے لوگو خوش ہو جاؤ تمہارا فریاد رس آیا سو لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے عیسیٰ بن مریم اترے ہیں پھر لوگ خوش ہوں گے اور عیسیٰ ؑ بھی لوگوں سے خوش ہوں گے اور لوگ عیسیٰ ؑ کو کہیں گے، یا روح اللہ نماز پڑھایئے تو عیسیٰ ؑ فرمائیں گے مقرر اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بزرگی دی ہے سو ان کے سوا دوسرے کسی کو ان کی امامت کرنا سزاوار نہیں پھر مومنون کا امیر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھے گا اور عیسیٰ ؑ اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ الحدیث۔
۱؎ یہودیہ نام ہے ایک قریہ کا اصبہان کے علاقہ میں۔
ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن عمروؓ سے روایت کی قال ينزل المسيح بن مريم فاذا راه الدجال ذاب كما تذوب الشحمة فيقتل الدجال و تفرق عنه اليهود فيقتلون حتى ان الحجر يقول يا عبدالله للمسلم هذا يهودى تعال فاقتله .
(مصنف ابن ابی شیبہ ج ۸ ص ۶۵۳، ۶۵۴ حدیث نمبر ۴۰ کتاب الفتن باب واذكر في فتنة الدجال)
یعنی مسیح بن مریم اتریں گے پھر ان کو دجال دیکھے گا تو پگھلے گا جیسا چربی پگھلتی ہے پس عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے اور یہود متفرق ہو جائیں گے سو لوگ قتل کریں گے یہاں تک کہ مسلمان کو پتھر کہے گا اے اللہ کے بندہ یہ یہودی ہے سو تو آ کے اس کو قتل کر۔
اور نعیم نے عبداللہ بن مسعودؓ سے ایک طویل حدیث روایت کی اس میں مذکور ہے حتی ینزل علیہم عیسی بن مریم فيقاتلون معه الدجال یعنی یہاں تک کہ مومنوں پر عیسیٰ بن مریم اتریں گے سو مومنین ان کے ہمراہ دجال سے قتال کریں گے۔
ترمذی نے اپنی سنن میں مجمع بن جاریۃ الانصاریؓ سے روایت کی میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا فرماتے تھے یقتل ابن مریم الدجال بباب لد .
(ترمذی ج ۲ ص ۴۹ ابواب الفتن باب ماجاء فی قتل عیسیٰ ابن مریم الدجال)
یعنی ابن مریم لد کے دروازہ کے پاس دجال کو قتل کریں گے۔ اس حدیث کو امام احمد اور طبرانی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے اور ترمذی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور کہا اس باب میں عمران بن حصین اور نافع بن عتبہ اور ابو برزہ اور حذیفہ بن اسید اور ابو ہریرہ اور کیسان اور عثمان بن ابی العاص اور جابر اور ابو امامہ اور ابن مسعود اور عبداللہ بن عمرو اور سمرہ بن جندب اور نواس بن سمعان اور عمرو بن عوف اور حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث مروی ہیں۔
ابن جریر نے حذیفہ بن الیمانؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اول الايات الدجال و نزول عيسى (ابن جرير ج ۱۷ ص ۸۷) یعنی قیامت کے اول نشانیوں سے ہے دجال اور نازل ہونا عیسیٰ کا۔
ابن ابی شیبہ نے ابو ہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ لا تقوم الساعة حتى ينزل عيسى بن مريم حكما مقسطا واماما عادلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير و يضع الجزية و يفيض المال حتى لا يقبله احد .
(ج ۸ ص ۶۵۴ نمبر ۴۱ کتاب الفتن باب ماذكر فى فتنة الدجال)
یعنی قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم اتریں گے حکم مقسط اور امام عادل ہو کے پھر صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھائیں گے اور مال بہت ہوگا کہ کوئی اس کو قبول نہیں کرے گا۔
طبرانی اور حاکم اور ابن مردویہ نے واثلہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا تقوم الساعة حتى يكون عشر آيات خسف بالمشرق و خسف بالمغرب و خسف في جزيرة العرب والدجال و نزول عيسى و ياجوج وماجوج (مستدرک حاکم ج ۵ ص ۶۱۱ حدیث نمبر ۸۴۶۶ باب لا تقوم الساعة ) یعنی قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دس نشانیاں ہوں۔ خسف مشرق میں اور خسف مغرب میں اور خسف جزیرہ عرب میں اور دجال اور اترنا عیسیٰ کا اور یاجوج و ماجوج۔
طبرانی نے اوس بن اوسؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ينزل عيسى بن مريم عند المنارة البيضاء شرقى دمشق .
(طبرانی کبیر ج ۱ ص ۲۱۷ حدیث نمبر ۵۹۰)
یعنی اتریں گے عیسیٰ بن مریم سفید منارہ پاس جو دمشق کے شرقی جہت میں ہے۔
طبرانی نے نافع بن کیسان سے وہ اپنے والد کیسان سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ینزل عیسیٰ بن مریم عند المنارة البیضاء فی دمشق شرقی۔ (طبرانی کبیر ج ۱۹ ص ۱۹۶ حدیث ۴۴۰) یعنی اتریں گے عیسیٰ بن مریم ؑ دمشق کے مشرقی جہت میں۔
ابوداؤد و طیالسی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لم یسلط علی قتل الدجال الا عیسیٰ بن مریم۔
(ابوداؤد طیالسی ج ۳ ص ۲۴۱ حدیث نمبر ۲۶۲۶)
یعنی دجال پر کوئی مسلط نہ ہوگا مگر عیسیٰ بن مریم ؑ۔
اور ابوحفص الیاشی نے عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ینزل عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام فیتزوج ویولد لہ۔
(مشکوٰة ص ۴۸۰ باب نزول عیسیٰ ؑ )
یعنی عیسیٰ ؑ اتریں گے پھر نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی۔
اور طبرانی نے عبداللہ بن سلامؓ سے روایت کی ہے۔ قال یدفن عیسیٰ بن مریم مع رسول اللہ ﷺ و ابی بکر و عمر فیکون قبرہ رابعا (جامع المسانید والسنن ج ۸ ص ۶۹ ۔ ۷۰ حدیث نمبر ۵۲۲۹) یعنی رسول اللہ ﷺ اور ابی بکرؓ اور عمرؓ کے پاس عیسیٰ بن مریم ؑ مدفون ہوں گے عیسیٰ کی قبر چوتھی قبر ہوگی۔ اس حدیث کو بخاری نے اپنی تاریخ میں اور یحییٰ نے عبداللہ بن سلام سے روایت کی ہے اس کا لفظ یہ ہے۔ یدفن عیسیٰ بن مریم مع النبی ﷺ و صاحبیہ و یکون قبرہ الرابع۔ (مجمع الزوائد ج ۸ ص ۲۰۹ باب ذکر المسیح عیسیٰ بن مریم ؑ ) اور ترمذی نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ قال مکتوب فی التوراة صفة محمد ﷺ و عیسیٰ بن مریم یدفن معہ۔ (ترمذی ج ۲ ص ۲۰۲ ابواب المناقب) یعنی توریت میں محمد ﷺ کی صفت لکھی ہوئی ہے اور عیسیٰ بن مریم حضرت کے پاس مدفون ہوں گے۔ ترمذی نے کہا ابو مودود کہتا ہے کہ وہاں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ ابن النجار نے کہا اہل سیر کہتے ہیں کہ وہاں ایک قبر کی جگہ ہے سو سعید بن المسیب سے منقول ہے کہ اسی میں عیسیٰ بن مریم ؑ مدفون ہوں گے۔ امام احمد اپنی مسند میں اور حاکم مستدرک میں عثمان بن ابی العاصؓ سے ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں اس میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ و ینزل عیسیٰ بن مریم علیہ السلام عند صلوة الفجر فیقول لہ امیرہم یاروح اللہ تقدم صل فیقول ھذہ الامة امراء بعضہم علی بعض فیقدم امیرہم فیصلی فاذا قضی صلوتہ اخذ عیسیٰ حربتہ فیذھب نحو الدجال فاذا راہ الدجال ذاب کما یذوب الرصاص فیضع حربتہ بین ثندوتہ فیقتلہ و ینھزم اصحابہ فلیس یومئذ شئ یواری منہم احدا حتی ان الشجرة لتقول یا مؤمن ھذا کافر فاقتلہ (مستدرک حاکم ج ۵ ص ۶۷۵ کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ ؑ ) یعنی عیسیٰ بن مریم ؑ صبح کی نماز کے وقت اتریں گے لوگوں کا امیر عیسیٰ کو کہے گا یا روح اللہ آپ پڑھائیے نماز۔ عیسیٰ کہیں گے یہ امت بعض ان کے بعض پر امیر ہیں پھر وہ امیر مقدم ہو کے نماز پڑھائے گا نماز سے فراغت ہوتے ہی عیسیٰ اپنا حربہ لے کے دجال کی طرف جائیں گے۔ دجال ان کو دیکھ کے پگھلے جیسا سیسا پگھلتا ہے عیسیٰ اپنا حربہ دجال کے ثندوے پر یعنی پستان کے گوشت پر رکھ کے دجال کو قتل کریں گے اس کے ساتھ والے بھاگیں گے ان کو پناہ کے واسطے کچھ چیز نہ ملے گی یہاں تک کہ جھاڑ بولے گا اے مومن یہ کافر ہے یعنی یہاں کافر چھپا ہے تو اس کو قتل کر۔
ابو نعیم نے ابی سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ینزل عیسیٰ بن مریم
عليه السلام فيقول اميرهم المهدى تعال صل بنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء بكرامة الله هذه الامة.
(الحاوی للسیوطی ج ۲ ص ۶۴ ، مسند احمد ج ۳ ص ۳۸۴)
یعنی عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اتریں گے لوگوں کا امیر مہدی کہے گا آؤ ہمارے ساتھ نماز پڑھو عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے ایسا نہیں (یعنی میں امام ہو کے نماز نہیں ادا کروں گا) تمھارے بعض بعض پر امیر ہیں اللہ تعالیٰ سے اس امت کو بزرگی ہے۔
اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک طویل حدیث روایت کی ہے اس میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ فعند ذلک ینزل اخي عیسی بن مریم من السماء (ابن عساکر ج ۲۰ ص ۱۴۸، ۱۴۹) یعنی پھر اس وقت یعنی جبکہ دجال مسلط ہوگا اور مومنان بیت المقدس میں جمع ہوں گے تو میرے بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے اتریں گے الحدیث اس حدیث میں تصریح ہو چکی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔
ابو عمرو الدانی نے اپنی سنن میں حذیفہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ یلتفت المهدی وقد نزل عيسى ابن مريم كأنما يقطر من شعره الماء فيقول المهدى تقدم صل بالناس فيقول عيسى انما اقیمت الصلوة لک فیصلی خلف رجل من ولدى. (الحاوی للفتاویٰ ج ۲ ص ۸۱) یعنی مہدی پلٹ کے دیکھے تو عیسیٰ بن مریم اترے ہیں گویا کہ ان کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہے پھر مہدی کہیں گے آپ مقدم ہو اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھو تو عیسیٰ کہیں گے تمھارے ہی لیے نماز کی اقامت ہوئی پھر میری اولاد سے ایک شخص کے پیچھے عیسیٰ نماز پڑھیں گے۔
حاکم نے حریث بن مخشی سے روایت کی۔ ان عليا قتل صبيحة احدى و عشرين من رمضان سمعت الحسن بن على وهو يقول قتل ليلة انزل القرآن و ليلة اسرى بعيسى و ليلة قبض موسى (درمنثور ج ۲ ص ۳۶) یعنی علیؓ اکیسویں رمضان کی صبح کو شہید ہوئے سو میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو سنا فرماتے تھے کہ قتل کیے گئے اس شب میں جو قرآن نازل ہوا اور اس شب میں جو عیسیٰ علیہ السلام اسرا کیے گئے یعنی اللہ تعالیٰ ان کو لے گیا اور اس شب میں جو موسیٰ علیہ السلام وفات پائے۔
ابو نعیم نے کعب الاحبار سے روایت کی قال یحاصر الدجال المؤمنین ببیت المقدس فیصیبهم جوع شدید حتی یاکلوا اوتار قسیهم من الجوع فبینما هم علی ذلک اذ سمعوا صوتا فی الغلس فیقولون ان هذا لصوت رجل شبعان فینظرون فاذا بعیسی بن مریم و یقام الصلوة فیرجع امام المسلمین المهدی فیقول عیسی علیه السلام تقدم فلک اقیمت الصلوة فیصلی بهم تلک الصلوة ثم يكون عيسى اماما بعده یعنی دجال محاصرہ کرے گا مؤمنوں کو بیت المقدس میں پھر لوگوں کو سخت فاقہ کشی ہوگی یہاں تک بھوک سے اپنے کمان کی وتر یعنی چلہ جو پٹھے کا ہوتا ہے اس کو کھائیں گے اسی حالت میں رہیں گے دفعۃً آخر شب کی اندھیری میں آواز سنیں گے لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے یہ پیٹ بھرے آدمی کی آواز ہے پھر دیکھے تو یکا یک عیسیٰ بن مریم ہیں اور نماز کی اقامت کہی جائے گی پھر مہدی مسلمانوں کا امام پیچھے ہٹے گا تو عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے تم مقدم ہو تمھارے ہی لیے نماز کی اقامت ہوئی پھر مہدی لوگوں کے ساتھ نماز پڑھیں گے پھر اس کے بعد کے نمازوں میں عیسیٰ علیہ السلام امام ہوں گے۔
ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں ابن سیرین سے روایت کی ہے۔ قال المهدی من هذه الامة وهو
الذی یؤم عیسی بن مریم علیہ الصلوۃ والسلام (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۸ ص ۶۷۹ حدیث ۱۹۵ کتاب الفتن) یعنی مہدی اسی امت سے ہے اور وہی امامت کریں گے عیسی بن مریم علیہ الصلوۃ والسلام کی۔
ابن جریر نے بسند صحیح کعب سے روایت کی ہے۔ قال لما رای عیسی قلۃ من اتبعہ و کثرۃ من کذبہ شکی ذلک الی اللّٰہ فاوحی اللّٰہ الیہ انی متوفیک و رافعک الی وانی سابعثک علی الاعور الدجال فتقتلہ
(ابن جریر ج ۳ ص ۲۹۰ جز ثالث، الدر المنثور ج ۲ ص ۳۶)
یعنی جبکہ عیسیٰ ؑ نے اپنے تابعون کی کمی اور جھٹلانے والے لوگوں کی کثرت دیکھی تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی شکایت کی اللہ تعالیٰ نے وحی کیا کہ میں تجھ کو لینے والا ہوں اور اٹھا لینے والا ہوں اپنی طرف اور میں قریب اعور دجال کی طرف تجھ کو بھیجوں گا پھر تو اس کو قتل کرے گا۔
حاکم نے اپنی مستدرک ج ۳ ص ۳۲، ۳۳ حدیث نمبر ۳۲۶۰ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی وان من اھل الکتاب الا لیؤمن بہ قبل موتہ قال خروج عیسی بن مریم صلوات اللّٰہ علیہ یعنی قرآن شریف میں وان من اھل الکتاب الا لیؤمن بہ قبل موتہ جو ہے اس سے مراد عیسیٰ بن مریم کا خروج ہے حاکم کہا یہ حدیث صحیح ہے بخاری اور مسلم کی شرط پر اور ابن کثیر نے حسن بصری سے روایت کی وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موت عیسی واللّٰہ انہ لحی الآن عند اللّٰہ ولکن اذا نزل آمنوا بہ اجمعون۔ (تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۵۷۶) یعنی اہل کتاب کا کوئی شخص نہیں ۔ مگر عیسیٰ کے موت کے آگے ان پر ایمان لائے گا اور قسم ہے اللہ تعالیٰ کی مقرر عیسیٰ اس وقت زندہ ہیں اور لیکن جب اتریں گے تو سب ان پر ایمان لائیں گے۔
امام احمد اور ابن ابی حاتم اور طبرانی اور ابن مردویہ اور عبد بن حمید اور مسدد اور سعید بن منصور اور فریابی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وانہ لعلم للساعۃ قال خروج عیسی بن مریم علیہ السلام قبل یوم القیامۃ (مسند احمد ج ۱ ص ۳۱۸) یعنی قرآن شریف میں وانہ لعلم للساعۃ جو ہے اس سے مراد عیسیٰ بن مریم ؑ قیامت کے قبل خروج کرنا ہے۔
اور عبد بن حمید نے ابی ہریرۃؓ سے روایت کی وانہ لعلم للساعۃ قال خروج عیسیٰ یمکث فی الارض اربعین سنۃ تکون تلک الاربعین اربع سنین یحج و یعتمر۔ (تفسیر درمنثور ج ۶ ص ۲۰) یعنی وانہ لعلم للساعۃ سے مراد عیسیٰ ؑ کا نکلنا ہے وہ زمین پر چالیس سال رہیں گے وہ چالیس سال بمنزلہ چار سال کے ہوں گے حج اور عمرہ ادا کریں گے۔
اور عبد بن حمید اور ابن جریر نے حسن سے روایت کی ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ قال نزول عیسیٰ۔ (ابن جریر ج ۱۰ ص ۲۵، ۲۵، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۲۴۱ نمبر ۳۲۶۷) یعنی وانہ لعلم للساعۃ سے مراد عیسیٰ ؑ کا اترنا ہے۔
اور عبدالرزاق اور عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ سے روایت کی ۔ وانہ لعلم للساعۃ قال نزول عیسی علم للساعۃ و ناس یقولون القرآن علم للساعۃ۔
(ابن جریر طبری ج ۱۰ ص ۹۰، ۹۱ الجزء الخامس والعشرون، تفسیر درمنثور ج ۶ ص ۲۰)
ان سب احادیث و آثار صحیحہ سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ ؑ اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر گئے اور اب آسمان پر زندہ ہیں اور اخیر زمانے میں آسمان سے نازل ہو کے دجال اعور کو قتل کریں گے اور مراد دجال سے ایک معین شخص ہے جو اولاً نبوت کا دعویٰ کر کے اس کے بعد الوہیت کا دعویٰ کرے گا اور اقسام کے فتنے پھیلا دے گا
تب عیسیٰ ؑ آسمان سے سفید منارہ پاس جو دمشق کے شرقی جہت میں ہے اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے اس کے بعد یاجوج و ماجوج نکلیں گے سو اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ کی دعا سے ان کو ہلاک کرے گا۔ اس کے بعد کئی سال رہ کے عیسیٰ ؑ کی وفات ہوگی اور رسول اللہ ﷺ کے روضہ منور میں مدفون ہوں گے۔ پھر جو کوئی آپ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور شہر دمشق سے مراد قادیان اور دجال سے مراد پادریوں کی جماعت اور یاجوج و ماجوج سے مراد روس وانگریز کر کے کہتا ہے اور زعم کرتا ہے کہ اپنے کو خواب پڑا ہے کہ میں ہی روضہ مبارک میں دفن ہوں گا۔ سو وہ جھوٹا اور زندیق ہے۔ عیسیٰ ؑ آسمان سے نازل ہونے کے وقت جو امورات ہوں گے وہ بالتفصیل صراحۃً احادیث میں مذکور ہیں ان سے کوئی ایک امر اس زندیق میں نہیں پایا جاتا اس لیے احادیث صحیحہ کو حقیقی معنی سے پھیر کے اپنے زعم کے موافق غلط معنی کرتا ہے۔ امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے۔ قال القاضی ھذہ الاحادیث التی ذکرھا مسلم و غیرہ فی قصۃ الدجال حجة لمذھب اھل الحق فی صحة وجودہ وانہ شخص بعینہ ابتلی اللہ بہ عبادہ و اقدرہ علی اشیاء من مقدورات اللہ تعالیٰ من احیاء المیت الذی یقتلہ ومن ظھور زھرة الدنیا و الخصب معہ و جنة و نارہ ونھرہ و اتباع کنوز الارض لہ وامرہ السماء ان تمطر فتمطر والارض ان تنبت فتنبت فیقع کل ذلک بقدرة اللہ و مشیئتہ ثم یعجزہ اللہ تعالیٰ بعد ذلک فلا یقدر علی قتل ذلک الرجل ولا غیرہ و یبطل امرہ و یقتلہ عیسیٰ ؑ و یثبت اللہ الذین آمنوا ھذا مذھب اھل السنة وجمیع المحدثین و الفقھاء والنظار (نووی شرح مسلم ج ۲ ص ۳۹۹ باب ذکر الدجال) اور معلوم کریں کہ عیسیٰ ؑ دمشق کے سفید مینار کے پاس اتریں گے کہ جو احادیث صحیحہ میں آیا ہے سو اس پر کسی زندیق نے اعتراض کیا ہے کہ ان دنوں انگریزی اخبارات سے معلوم ہوا کہ شہر دمشق کی مسجد جل گئی پھر سفید منارہ باقی نہ رہا۔ یہ اعتراض جو احادیث صحیحہ پر کرتا ہے سو وہ قساوت قلبی سے ہے اب منارہ بیضا جل گیا اور موجود نہ رہا تو بھی اس سے کچھ خلل نہیں کیونکہ عیسیٰ ؑ آسمان سے اتریں گے قبل وہاں البتہ بنایا جاوے گا شیخ جلال الدین السیوطی نے مصباح الزجاجہ علی سنن ابن ماجہ میں لکھا ہے۔ قال حافظ ابن کثیر وقد جددت منارة فی زماننا و فی سنة احدی واربعین و سبعمایة من حجارۃ بیض ولعل ھذا یکون من دلائل النبوة الظاھرة حیث قیض اللہ بناء ھذہ المنارة لینزل عیسیٰ ابن مریم قلت ھو من دلائل النبوة بلا شک فانہ ﷺ اوحی الیہ بجمیع مایحدث بعدہ مما لم یکن فی زمنہ اس کے بعد کہا فان لم یکن فی بیت المقدس الان منارة بیضا فلا بد ان تحدث قبل نزولہ (سنن ابن ماجہ ج ۲ ص ۲۹۷ حاشیہ باب فتنۃ الدجال) اور ہم نے جو ذکر کیا اس ہی پر اہل سنت کا عقیدہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے۔ ثم انہ رفعہ الیہ وانہ باق حی وانہ سینزلہ قبل یوم القیامة کما دلت علیہ الاحادیث المتواترة التی سنوردھا ان شاء اللہ قریبا فیقتل المسیح الضلالة و یکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الجزیة یعنی لا یقبلھا من احد من اھل الادیان بل لا یقبل الا الاسلام او السیف۔
(تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۴۰۲، ۴۰۳ طبع بیروت لبنان)
امام ابو حنیفہؒ نے فقہ اکبر میں لکھا ہے۔ و خروج الدجال ویاجوج وماجوج و طلوع الشمس من مغربھا و نزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء و سائر علامات یوم القیمة علی ماوردت بہ الاخبار الصحیحة حق کائن۔
(فقہ اکبر ص ۵۴، ۵۵)
اور شیخ شہاب الدین السہروردی قدس سرہ نے ’’اعلام الہدی وعقیدۃ ارباب التقی‘‘ میں فرمایا ہے و
تعتقد ان عیسیٰ علیہ السلام ینزل وان الدجال یخرج والشمس تطلع من مغربھا کل ذلک حق لاشک فیہ اور امام کمال الدین محمد بن الہمام نے کتاب ”المسائرہ فی العقائد المنجیۃ فی الآخرہ“ میں لکھا ہے و اشراط الساعۃ من خروج الدجال و نزول عیسٰی علیہ السلام و خروج یاجوج و ماجوج و خروج الدابۃ و طلوع الشمس من مغربھا حق.
اور ”توضیح شرح المسائرہ“ میں ہے۔ و اشراط الساعۃ من خروج الدجال و نزول عیسٰی بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام من السماء و خروج یاجوج و ماجوج و خروج الدابۃ کما فی سورۃ النمل و فی جامع الترمذی عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ تخرج الدابۃ ومعھا خاتم سلیمان و عصٰی موسٰی فتجلو وجہ المومن و تحطم انف الکافر الحدیث و طلوع الشمس من مغربھا کل منھا حق وردت بھا النصوص الصحیحۃ الصریحۃ.
امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے۔ قال القاضی عیاض رحمہ اللہ تعالٰی نزول عیسٰی علیہ السلام و قتلہ الدجال حق و صحیح عند اھل السنۃ للاحادیث الصحیحۃ فی ذلک ولیس فی العقل ولا فی الشرع ما یبطلہ فوجب اثباتہ و انکر ذلک بعض المعتزلۃ والجھمیۃ ومن وافقھم و زعموا ان ھذہ الاحادیث مردودۃ بقولہ تعالٰی و خاتم النبیین و بقولہ ﷺ لانبی بعدی و باجماع المسلمین انہ لانبی بعد نبینا ﷺ وان شریعتہ مؤبدۃ الی یوم القیامۃ لا تنسخ و ھذا استدلال فاسد لانہ لیس المراد بنزول عیسٰی علیہ السلام انہ ینزل نبیا بشرع ینسخ شرعنا ولا فی ھذہ الاحادیث ولا فی غیرھا شئ من ھذا بل صحت ھذہ الاحادیث ھنا وما سبق فی کتاب الایمان و غیرھا انہ ینزل حکما مقسطا یحکم بشرعنا و یحیی من امور شرعنا ما ھجرہ الناس.
(نووی شرح مسلم ج ۲ ص ۲۰۳ باب ذکر الدجال)
اور امام عبداللہ النسفی نے ”عمدۃ العقائد“ میں لکھا ہے۔ و ما اخبر بہ النبی علیہ السلام من خروج الدجال و دابۃ الارض و یاجوج و ماجوج و نزول عیسٰی علیہ السلام و طلوع الشمس من مغربھا حق. اور علامہ تفتازانی نے شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے۔ و ما اخبر بہ النبی ﷺ من اشراط الساعۃ ای من علاماتھا من خروج الدجال و دابۃ الارض و یاجوج و ماجوج و نزول عیسٰی علیہ السلام من السماء و طلوع الشمس من مغربھا فھو حق لانھا امور ممکنۃ اخبر بھا الصادق.
(شرح عقائد نسفی ص ۱۷۳)
اور شیخ الاسلام احمد النفراوی المالکی نے ”الفواکہ الدوانی علٰی رسالۃ ابی زید القیروانی“ میں لکھا ہے للساعۃ اشراط وعلامات یجب الایمان بھا وھی علٰی قسمین کبری و صغرٰی فالکبری عشرۃ خمس متفق علیھا خروج الدجال و نزول عیسٰی بن مریم من السماء الثانیۃ و خروج الدابۃ و یاجوج و ماجوج و طلوع الشمس من مغربھا.
اور یہ بھی کہا الفائدۃ الثالثۃ فی نزول عیسٰی علیہ السلام الی الارض لان نزولہ حق ثابت بالکتاب والسنۃ و ذلک عند نزولہ من السمآء آخر الزمان و سئل الجلال السیوطی رحمہ اللہ تعالٰی عن حیاۃ عیسٰی علیہ السلام و مقرہ و طعامہ و شرابہ فقال فی السماء الثانیۃ لا یاکل ولا یشرب بل ھو ملازم للتسبیح کالملائکۃ و سبب رفعہ الی السماء ان الیھود کذبتہ و آذتہ وھمت
يقظة رفعه الله الى السماء و اجتمع بالمصطفى عليهما الصلوة والسلام ليلة الاسراء فى السماء الثانية و استمر فيها حتى ينزل آخر الزمان عند المنارة البيضاء شرقى دمشق واضعا يديه على اجنحة ملكين و يكون نزوله عند صلاة الصبح فيقول له امير الناس وهو المهدى تقدم ياروح الله . فصل بنا فيقول انكم معشر هذه الامة امراء بعضكم على بعض فصل بنا فيصلى بهم المهدى فاذا انصرف ياخذ عيسى حربة و يتبع الدجال فيقتله عند باب لد الشرقى و يحكم بشريعتنا .
یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر اترنا حق ہے کتاب وسنت سے ثابت ہے اور یہ حکم اخیر زمانہ میں ان کو آسمان سے اترتے وقت ہوگا کسی نے شیخ جلال الدین السیوطی کو عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کی رہنے کی جائے اور کھانے پینے سے سوال کیا تو آپ نے کہا عیسیٰ علیہ السلام دوسرے آسمان پر ہیں کچھ کھاتے پیتے نہیں بلکہ ملائکہ کے مانند ہمیشہ تسبیح کرتے ہیں اور ان کا آسمان پر جانے کا سبب یہ ہے کہ یہود نے آپ کو جھٹلایا اور ستایا اور قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور نبی ﷺ سے معراج کی رات دوسرے آسمان پر ملاقات ہوئی اور عیسیٰ علیہ السلام اسی میں ہمیشہ رہیں گے یہاں تک کہ اخیر زمانہ میں سفید منارے پاس جو دمشق کے شرقی جانب میں اتریں گے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پنکھوں پر دھرے ہوئے اور نماز صبح کے وقت اتریں گے پھر لوگوں کا امیر جو وہ مہدی ہے کہے گا یا روح اللہ آپ مقدم ہو کے اس میں نماز پڑھائیے۔ عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے تم اے گروہ اس امت کے بعضے بعضوں کے امیر ہیں تم ہمارے ساتھ نماز پڑھو پھر مہدی لوگ کے ساتھ نماز پڑھیں گے جب نماز سے پھریں گے تو عیسیٰ علیہ السلام اپنا حربہ لیں گے اور دجال کا پیچھا کریں گے پھر اس کو لد کے دروازہ شرقی پاس قتل کریں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ہماری شریعت کے موافق حکم فرمائیں گے۔“
اور شیخ جلال الدین السیوطی نے (اتمام الدرایہ شرح النقایہ) میں لکھا ہے۔ وان نزول عیسی بن مريم عليه السلام قرب الساعة و قتله الدجال حق.
اور علامہ المولیٰ محمد الافندی نے (الطريقة المحمدیہ) میں لکھا ہے۔ وما اخبره النبی ﷺ من اشراط الساعة من خروج دجال و دابة الارض وياجوج وماجوج و نزول عیسی علیه السلام من السماء و طلوع الشمس من مغربها نحو ذلك كله حق.
اور علامہ شیخ ضیاء الدین ابراہیم نے (شرح الارشاد والی الاعتقاد) میں لکھا ہے۔ نزول السيد المسیح عیسی بن مريم صلى الله على نبينا و عليه وسلم قرب الساعة بعد خروج المسيح الدجال وفى الصحيح ما من نبى الا انذر قومه المسيح الدجال وفى رواية الاعور الكذاب وانى انذركموه الحديث وفيه مامن بلد الا سيدخله الدجال غير مكة والمدينة فاذا اشتدت فتنته انزل الله المسيح بن مريم فنزوله و قتله الدجال ثابت فى الحديث الصحيح فذلك حق يجب الايمان به.
اور علامہ ابن الوردی نے (خریده العجائب) میں لکھا ہے۔ المسلمون لا يختلفون في نزول عيسى بن مريم آخر الزمان قد قيل في قوله تعالى و انه لعلم للساعة فلا تمترن بها انه نزول عیسی علیہ السلام.
اور شیخ الاسلام ابو عبد اللہ القرطبی نے (کتاب التذکرہ فی کشف احوال الموتی و امور الآخرہ) میں لکھا ہے۔ قال ابو الحسن محمد بن الحسین بن ابراهیم بن عاصم الآثرى السنجرى قد تواترت الاخبار
و استفاضت بكثرة رواتها عن محمد المصطفى والنبي المرتضى ﷺ بحق المهدى وانه من اهل بيته وانه سيملك سبع سنين و انه يملأ الارض عدلا و انه يخرج مع عيسى عليه السلام فيساعده على قتله الدجال بباب لد بارض فلسطين و انه يؤم لهذه الامة و عيسى عليه السلام يصلى خلفه فى طول من قصته و امره.
اور علامہ برزنجی نے (اشاعة فى اشراط الساعة) میں لکھا ہے۔ قد علمت ان احادیث وجود المهدى و خروجه آخر الزمان وانه من عترة رسول الله ﷺ من ولد فاطمة عليها السلام بلغت حد التواتر فلا معنى لانكارها ومن ثم ورد من كذب بالدجال فقد كفر ومن كذب بالمهدى فقد كفر رواه الاسكاف في فوايد الاخبار و ابو القاسم السهيلي في شرح السير له.
(اشراط الساعة ص ۲۲۶)
اور علامہ شیخ علی متقی نے (برھان فی علامة مهدی آخر الزمان) میں لکھا ہے۔ اخرج ابوبکر الاسكاف في فوايد الاخبار عن جابر بن عبدالله رضى الله عنهما قال قال رسول الله ﷺ من كذب بالدجال فقد كفر ومن كذب بالمهدى فقد كفر قال الشيخ ابن حجر الهيثمى اى كفر حقيقة كما هو المتبادر عن اللفظ اذ كان تكذيبه كتكذيبه بالسنة او الاستهزاء بها او الرغبة عنها فقد قال ائمتنا وغيرهم لو قال لانسان قص اظفارك فانه سنة فقال لا افعله وانكار سنة رغبة عنها كفر فكذا يقال بمثله.
اور شیخ جلال الدین السیوطی نے (اعلام بحکم عیسیٰ علیہ السلام) میں لکھا ہے۔ فیلزمک احد امرین اما نفی نزول عيسى عليه السلام او نفى النبوة عنه و كلاهما كفر.
(الحاوى للفتاوى ج ۲ ص ۱۶۶)
اور امام عبدالوہاب الشعرانی نے (كتاب اليواقيت والجواهر) میں لکھا ہے۔ فان قيل فما الدليل على نزول عيسى عليه السلام من القرآن فالجواب الدليل على نزوله قوله تعالى و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى حين ينزل و يجتمعون عليه و انكرت المعتزلة والفلاسفة واليهود و النصارى عروجه بجسده الى السماء وقال تعالى فى عيسى عليه السلام و انه لعلم للساعة قرى لعلم بفتح اللام والعين والضمير فى انه راجع الى عيسى عليه السلام لقوله تعالى و لما ضرب ابن مريم مثلا و معناه ان نزوله علامة القيامة وفى الحديث فى صفة الدجال فبينما هم فى الصلوة اذ بعث الله المسيح بن مريم فنزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق فى مهروذتان واضعًا كفيه على اجنحة ملكين ومهروذتان بالذال المعجمة والمهملة هما حلتان مصبوغتان بالورس فقد ثبت نزوله عليه السلام بالكتاب و السنة وزعمت النصارى ان ناسوته صلب ولاهوته رفع والحق انه رفع بجسده الى السماء والايمان بذلك واجب قال تعالى بل رفعه الله اليه قال ابو طاهر القزويني واعلم ان كيفية رفعه و نزوله و كيفية مكثه فى السماء الى ان ينزل من غير طعام ولا شراب مما يتقاصر عن دركه العقل ولا سبيل لنا الا ان نؤمن بذلك تسليما لسعة قدرة الله تعالى و اطال فى ذكر شبه الفلاسفة وغيرهم فى انكار الرفع فان قيل فما الجواب عن استغنائه عن الطعام والشراب مدة رفعه فان الله تعالى قال وما جعلناهم جسدا لا ياكلون الطعام فالجواب ان الطعام انما جعل قوتا لمن يعيش فى الارض لانه مسلط عليه الهواء الحار والبارد فيخل بدنه فاذا انحل عوضه الله تعالى
بالغذاء اجراء لعادته فى هذه الخطة الغبراء واما من رفعه الله تعالى الى السماء فانه يلطفه بقدرته و يغنيه عن الطعام و الشراب كما اغنى الملائكة عنهما فيكون حينئذ طعام التسبيح و شرابه التهليل كما قال ﷺ انى ابيت عند ربى يطعمنى و يسقينى و فى الحديث مرفوعا ان بين يدى الدجال ثلاث سنين سنة تمسك السماء منها ثلث قطرها والارض ثلث نباتها وفى السنة الثانية تمسك السماء ثلثى قطرها والارض ثلثى نباتها وفى السنة الثالثة تمسك السماء قطرها كلها والارض نباتها كلها فقالت له اسماء بنت يزيد يا رسول الله انا لنعجن عجيننا فما نخبزه حتى نجوع فكيف بالمؤمنين حينئذ فقال يجزيهم ما يجزى اهل السماء من التسبيح والتقديس قال الشيخ ابو طاهر وقد شاهدنا رجلا اسمه خليفة الخراط كان مقيما بابهر من بلاد المشرق مكث لا يطعم طعاما منذ ثلاث و عشرين سنة و كان يعبد الله ليلا و نهارا من غير ضعف فاذا علمت بذلك فلا يبعد ان يكون قوت عيسى عليه السلام التسبيح والتهليل والله اعلم بجميع ذلك.
(اليواقيت والجواهر ج ۲ ص ۱۴۶)
یعنی اگر کسی نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے پر قرآن شریف سے کیا دلیل ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے پر اللہ تعالیٰ کا قول دلیل ہے۔ وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته یعنی اور کوئی نہیں اہل کتاب سے مگر البتہ اس پر ایمان لائے گا اس کی موت کے آگے یعنی جبکہ عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور لوگ ان کے پیچھے پڑھیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسد سے آسمان پر جانے کو معتزلہ اور فلاسفہ اور یہود و نصاریٰ انکار کیے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں فرماتا ہے۔ وانه لعلم للساعة بعضوں کی قرأت لعلم ہے لام اور عین کی فتح سے اور انہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولما ضرب ابن مريم مثلاً اور اس کا معنی اس طور پر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا قیامت کی علامت ہے اور حدیث شریف میں دجال کی صفت میں آیا ہے کہ جس حال میں کہ لوگ نماز میں رہیں گے یکا یک اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو بھیجے گا پھر سفید منارہ پاس جو دمشق کے شرقی جانب ہے اتریں گے دو مہرودے پہنے ہوئے اور اپنے ہاتھوں کے پنجے دو فرشتوں کے کندھوں پر دھرے ہوئے پس عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا کتاب سنت سے ثابت ہو چکا اور نصاریٰ زعم کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا ناسوت یعنی جسم مصلوب ہوا اور ان کا لاہوت یعنی روح اٹھایا گیا اور حق بات وہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسد کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ بل رفعه الله اليه شیخ ابو طاہر قزوینی نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھائے جانا اور نزول کرنا اور نزول کیے تک بغیر کھانے اور پینے کے آسمان میں ٹھہرے رہنا ان امور سے ہے جن کے دریافت سے عقل قاصر ہے اور ہم کو اس میں کچھ راہ نہیں ملتی مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت وسيعہ کو مان لے کہ اس پر ہمیں ایمان لانا ہے۔ پھر شیخ ابو طاہر نے فلاسفہ وغیرہم جو عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا انکار کرتے ہیں ان کے شبھوں میں بیان طویل کیا ہے اگر کوئی کہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ایام رفع میں کھانے اور پینے سے کیوں بے نیاز ہوئے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وما جعلناهم جسدا لا ياكلون الطعام. (انبیاء ۸) تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص زمین پر گزران کرتا ہے اس ہی کے لیے طعام قوت ہوا ہے کیونکہ ان پر گرم و سرد ہوا مسلط رہنے سے بدن لاغر ہوتا ہے۔ پھر جب بدن لاغر ہو گیا تو اللہ تعالیٰ بطور عادت کے یہاں خطہ زمین میں غذا کو اس کا عوض کیا ہے اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ آسمان کی طرف اٹھا لیا ہے سو اس کو اپنی قدرت سے لطیف کرتا ہے اور
کھانے پینے سے بے پرواہ کرتا ہے جیسا کہ فرشتوں کو کھانے پینے سے مستغنی کیا پھر اس وقت عیسیٰ علیہ السلام کا کھانا تسبیح ہے اور پینا تہلیل جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انی ابیت عند ربی یطعمنی و یسقینی اور مرفوع حدیث میں آیا ہے کہ دجال نکلنے کے آگے تین سال آئیں گے ایک سال آسمان سے ثلث یعنی تہائی برسات اور زمین سے ثلث سرسبزی کی کشش ہوگی اور دوسرے سال آسمان سے دو ثلث برسات اور زمین سے دو ثلث سرسبزی کی کشش ہوگی اور تیسرے سال آسمان سے کل برسات اور زمین سے کل نبات کا امساک ہوگا۔ پس اسماء بنت زید نے عرض کی یا رسول اللہ ہم آٹا گوندتے ہیں سو روٹی تیار ہونے کے آگے ہم بھوکے ہو جاتے ہیں پھر اس روز مؤمنوں کا کیا حال ہوگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کو تسبیح و تقدیس کافی ہوگی جو آسمان والوں کو کفایت کرتی ہے۔ شیخ ابو طاہر نے کہا کہ ہم نے مشاہدہ کیا ایک شخص کو جس کا نام خلیفہ الخراط تھا اور ابہر میں مقیم تھا جو بلاد مشرق سے ہے۔ تیس برس تک کچھ نہ کھایا اور شب و روز بغیر ضعف کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا پس جب یہ معلوم ہوا تو کچھ بعید نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو قوت تسبیح و تہلیل رہے واللہ اعلم بجمیع ذلک۔
اور امام ابو اسحق احمد بن محمد الثعلبی نے کتاب (العرائس) میں لکھا ہے۔ ذکر نزول عیسیٰ علیه السلام من السماء في المرة الثانية في آخر الزمان قال الله تعالیٰ وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها الاية وقيل للحسين بن الفضل هل تجد نزول عیسیٰ علیه السلام فى القرآن قال نعم قوله وكهلا وهو لم یکن يكهل في الدنيا و انما معناه وكهلا بعد نزوله من السماء.
اور شیخ ابن حجر نے (شرح ہمزیہ) میں لکھا ہے۔ انهم اى اليهود حسدوا عیسیٰ علیہ السلام حتی زعموا انهم قتلوه و صلبوه ومادرى الملاعين انه شبه لهم مثله فقتلوه و نجاه منهم ثم رفعه الى السماء لينزل آخر الزمان حاكما بشريعة محمد ﷺ مصليا وراء المهدی اول نزوله ليعلم انه نزول تابعا لهذه الامة عاملا بشريعة.
اور شیخ الاسلام ابو عبداللہ فضل اللہ بن تاج الدین ابو سعید الحسن التور پشتی نے کتاب (المعتمد) میں لکھا ہے وبعد از ظہور دجال و افساد وی در زمین نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام از آسمان است و باحادیث درست از رسول اللہ ﷺ ثابت شدہ ست کہ عیسیٰ علیہ السلام در وقت اقتراب ساعت، از آسمان فرود آید زنده و دجال را بکشد و زمین از خبث و فساد و اتباع وی از اہل شرک خاصہ یہودان کہ دعوی کردہ اند کہ عیسیٰ علیہ السلام را کشتیم و صلب کردیم پاک کند
اور حافظ منادی نے (شرح جامع الصغیر) میں لکھا ہے۔ ینزل عیسیٰ بن مريم من السماء آخر الزمان وهو نبي رسول عند المنارة البيضاء.
(سراج منیر ج ۳ ص ۴۴۱)
اور علامہ شیخ علی العزیزی نے (سراج المنیر شرح الجامع الصغیر) میں لکھا ہے۔ ينزل عيسى ابن مريم من السماء آخر الزمان وهو نبي رسول عند المنارة البيضاء.
(سراج منیر ج ۳ ص ۴۴۱)
اور مولانا شاہ ولی اللہ نے (فوز الکبیر) میں لکھا ہے۔ و نیز از ضلالت ایشان یعنی نصاریٰ یکی آن است کہ جزم می کنند کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول شدہ است و فی الواقع در قصہ عیسیٰ اشتباہی واقع شدہ بود رفع بر آسمان را قتل گمان کردند و کابراً عن کابر ہمان غلط را روایت نمودند خدا تعالیٰ در قرآن شریف ازالہ شبہ فرمود کہ ما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم.
(فوز الکبیر ص ۱۹)
اور میرے والد امام العلما مولانا صبغۃ اللہ قاضی الملک بدر الدولہ مرحوم نے اپنے کسی فتوے میں لکھا
ہے۔ عروج جسمی بحق عیسیٰ ؑ را نیز واقع ۔ چنانچہ نص اذ قال الله یا عیسی انی متوفیک و رافعک الی الآیۃ ونص وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ الله الیہ (نساء ۱۵۸،۱۵۵) بران دال است وانکاران کفر وضلالت انتہی ۔ اور معلوم کریں کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں جو فرماتا ہے۔ وما قتلوہ یقینا بل رفعہ الله الیہ یعنی اور نہیں مارا اس کو یعنی عیسیٰ کو بیشک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور فرمایا یا عیسی انی متوفیک و رافعک الی سو اس رفع سے عیسیٰ ؑ کو ان کے جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھا لینا مراد ہے رفع روحی مراد نہیں اور جو کہا یعنی اپنی طرف اٹھا لیا وہ تعظیم کے لیے ہے اور اس سے مراد ایسی جگہ پر لے جانا جہاں اللہ تعالیٰ کے غیر کا حکم جاری نہیں ۔ وہ آسمان ہے اس پر قاطبۂ مفسرون کا اتفاق ہے ابن جریر اور ابن ابی حاتم حسن بصری سے روایت کیے ہیں ۔ فی الآیۃ قال رفعہ الله فھو عندہ فی السمآء۔
اور امام واحدی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔ بل رفعہ الله الیہ ای الموضع الذی لا یجری لاحد سوی الله فیہ حکم فکان رفعہ الی ذلک الموضع رفعا الیہ لانہ رفع عن ان یجری علیہ حکم احد من العباد یوکد ھذا ان الحسن قال بل رفعہ الله الیہ ای الی السماء کما قال ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی الله وکانت الہجرۃ الی المدینۃ اور بھی امام واحدی نے کہا۔ رافعک الی ای سمائی و محل کرامتی فجعل ذلک رفعا الیہ للتفخیم والتعظیم اور امام ابواللیث نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔ قال مقاتل بل رفعہ الله الی السمآء فی شھر رمضان اور امام عبداللہ بن احمد النسفی نے مدارک التنزیل میں لکھا ہے ۔ ورافعک الی ای سمائی مقر ملائکتی (ج ۱ ص ۱۲۳) اما متوفیک جو فرمایا اس سے کیا مراد ہے ۔ سو سلف اس میں اختلاف کرتے ہیں کیونکہ عرب کے محاورہ میں توفی کا لفظ متعدد معنوں پر مستعمل ہوتا ہے سو یہاں کونسا معنی ہے اس میں چند اقوال ہیں پہلا قول توفی کا معنی استوفی کا ہے۔ وہ مشتق ہے توفی حقہ و استوفاہ سے یعنی پورا کرنا اس سے مراد مستوفی اجلک ہے یعنی تیری عمر پوری کروں گا ، کافروں کے ہاتھ پر تجھ کو مرنے نہ دوں گا بلکہ تجھ کو آسمان پر بلواؤں گا عمر پوری ہونے کے بعد تیری موت آئے گی ۔ تفسیر بیضاوی میں ہے ۔ انی متوفیک ای مستوفی اجلک و مؤخرک الی اجلک المسمی عاصما ایاک من قتلھم۔
(انوار التنزیل ج ۱ ص ۱۴۰)
اور تفسیر کبیر میں ہے ای انی متمم عمرک فحینئذ اتوفیک فلا اترکھم حتی یقتلوک بل انا رافعک الی سمائی و مقربک ملایکتی و اصونک عن ان یتمکنوا من قتلک (تفسیر کبیر ج ۴ ص ۷۱ الجزء الثامن) اور تفسیر مدارک میں ہے ای مستوفی اجلک و معناہ انی عاصمک ان یقتلک الکفار و ممیتک حتف انفک لا قتلا بایدیھم۔ (تفسیر نسفی ج ۱ ص ۱۲۳) دوسرا قول توفی کا معنی قبض کرنا ہے اس سے مراد متوفیک من الارض ہے ۔ یعنی قابضک من الارض وہ مشتق ہے توفیت الشی سے یعنی اس چیز کو میں نے پورا لے لیا اس سے کچھ نہ چھوڑا اب معنی آیت کے یہ ہوں گے میں تجھ کو پورا یعنی تیرے روح اور جسد کے ساتھ زمین سے لے لوں گا اور کافروں کے ہاتھ پر مرنے نہ دوں گا یہ معنی حسن بصری اور مطر الوراق اور ابن جریج اور کلبی اور ابن جریر سے منقول ہے شیخ جلال الدین السیوطی نے تفسیر درمنثور میں لکھا ہے ۔ اخرج عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم عن الحسن قال متوفیک من الارض اور یہ بھی کہا و اخرج ابن جریر وابن ابی حاتم عن مطر الوراق فی الآیۃ قال متوفیک من الدنیا ولیس بموت اور بھی کہا ۔ واخرج ابن ابی حاتم
عن ابن جریج فی الآیۃ قال رفعہ ایاہ توفیۃ درمنثور ج ۲ ص ۳۶ اور تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے۔ و کذا قال ابن جریر توفیہ ھو رفعہ اور امام محی السنۃ البغوی نے معالم التنزیل میں لکھا ہے۔ واختلفوا فی معنی التوفی منھا قال الحسن والکلبی وابن جریج انی قابضک ورافعک من الدنیا الی من غیر موت بدنک یدل علیہ قولہ تعالیٰ فلما توفیتنی ای قبضتنی الی السماء و انا حی لان قومہ انما تنصروا بعد رفعہ لا بعد موتہ (معالم التنزیل ج ۱ ص ۱۶۲) اور علامہ شمس الدین الرملی نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے او قابضک من الارض ورافعک الی من غیر موت من قولھم توفیت الشئ واستوفیتہ اذا اخذتہ و قبضتہ تاما للرد علی النصاری حیث زعموا ان اللہ رفع روحہ دون جسدہ۔ تیسرا قول اس کا معنی ممیتک ہے اور اس میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی تجھ کو اٹھانے والا ہوں اور مارنے والا ہوں۔ یعنی اخیر زمانے میں۔ یہ قول ابن عباس اور قتادہ اور ضحاک کا ہے تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہما میں ہے۔ یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک مقدم و موخر یقول انی رافعک الی و مطھرک منجیک من الذین کفروا بک و جاعل الذین اتبعوک اتبعوا دینک فوق الذین کفروا بالحجۃ والنصرۃ الی یوم القیامۃ ثم متوفیک قابضک بعد النزول تفسیر ابن عباس ص ۶۳ اور شیخ جلال الدین السیوطی نے تفسیر درمنثور میں لکھا ہے۔ اخرج اسحق بن بشر و ابن عساکر من طریق جریر عن الضحاک عن ابن عباس فی قولہ انی متوفیک و رافعک یعنی رافعک ثم نتوفیک فی آخر الزمان (درمنثور ج ۲ ص ۳۶) اور بھی کہا اخرج ابن جریر و ابن منذر و ابن ابی حاتم من طریق علی عن ابن عباس فی قولہ انی متوفیک یقول انی ممیتک۔ (ایضاً) اس اثر ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بخاری نے بھی اپنی صحیح میں تعلیقاً روایت کیا ہے۔ اس سے مخالفین جو توہم کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام مر گئے اور آسمان پر فقط ان کی روح گئی سو وہ جہل ہے کمالین حاشیہ جلالین میں ہے۔ وفی البخاری قال ابن عباس متوفیک ای ممیتک معناہ فی وقت موتک بعد النزول من السماء و رافعک الآن اور شیخ جلال الدین السیوطی نے درمنثور میں لکھا ہے۔ واخرج ابن ابی حاتم عن قتادۃ انی متوفیک و رافعک الی قال ھذا من المقدم والموخر ای رافعک الی و متوفیک۔ (درمنثور ج ۲ ص ۳۶) اور شیخ جلال الدین السیوطی نے اتقان میں لکھا ہے الرابع والاربعون فی مقدم القران و موخر ھما قسمان الاول ما اشکل معناہ بحسب الظاھر فلما عرف انہ من باب التقدیم والتاخیر اتضح وھو جدیر ان یفرد بالتصنیف و قد تعرض السلف لذلک فی آیات فاخرج ابن ابی حاتم عن قتادۃ فی قولہ فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الحیوۃ الدنیا قال ھذا من تقادیم الکلام یقول لا تعجبک اموالھم ولا اولادھم فی الحیوۃ الدنیا انما یرید اللہ ان یعذبھم بھا فی الآخرۃ واخرج عنہ ایضا فی قولہ ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی قال ھذا من تقادیم الکلام یقول لولا کلمۃ واجل مسمی لکان لزامًا و اخرج عن مجاھد فی قولہ انزل علی عبدہ الکتاب ولم یجعل لہ عوجا قیما قال ھذا من التقدیم والتاخیر انزل علی عبدہ الکتاب قیما ولم یجعل لہ عوجا واخرج عن قتادۃ فی قولہ تعالیٰ انی متوفیک و رافعک الی قال ھذا من المقدم والموخر انی رافعک الی و متوفیک (الاتقان ج ۲ ص ۲۱) اور فقیہ ابواللیث السمرقندی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔ ففی الآیۃ تقدیم و تاخیر و معناہ انی رافعک من الدنیا الی السماء و متوفیک بعد ان تنزل من
السماء علی عہد الدجال یہاں سے معلوم ہوا کہ جس نے اس تقدیم و تاخیر کو تحریف کہا سو وہ ابن عباس وغیرہ سلف پر طعن کیا چوتھا قول متوفیک کا معنی ممیتک ہے یعنی میں مارنے والا ہوں اور رافعک میں واو جو آیا ہے ترتیب کا فائدہ تو نہیں بخشا آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ کے ساتھ یہ کام کرے گا لیکن کب کرے گا کیسا کرے گا آیت میں مذکور نہیں اس کا بیان دلیل پر موقوف ہے دلیل سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ زندہ ہیں احادیث سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ ؑ زمین پر آئیں گے دجال کو قتل کریں گے بعد ان کی وفات ہوگی امام فخر الدین الرازی نے تفسیر کبیر میں کہا۔ الوجه الرابع فی تاویل الآية ان الواو فی قوله متوفیک و رافعک لا یفید الترتیب فالآية تدل على انه تعالى يفعل به هذه الافعال فاما كيف يفعل و متى يفعل فالامر فيه موقوف على الدليل و قد ثبت بالدليل انه حى ورد الخبر عن النبي ﷺ فانه سينزل و يقتل الدجال ثم انه تعالى يتوفاه بعد ذلک (تفسیر کبیر ج ۴ ص ۷۱، ۷۲ جز ثامن) اور تفسیر مدارک میں ہے۔ او ممیتک فی وقتک بعد النزول من السماء و رافعک الآن اذا الواو لا یوجب الترتیب قال النبی ﷺ ینزل عيسى خليفة على امتى يدق الصليب و يقتل الخنازير ويلبث اربعين سنة و يتزوج ويولد ثم يتوفى (تفسیر النسفی ج ۱ ص ۱۲۵) پانچواں قول موت سے مراد نیند ہے عیسیٰ ؑ سوتے تھے اس ہی حالت میں ان کو آسمان پر لے گیا تا کہ ان کو کچھ خوف لاحق نہ ہو پھر آسمان پر گئے بعد بیدار ہوئے یہ قول ربیع بن انس کا ہے اور حسن بصری سے بھی ایک روایت ہے شیخ جلال الدین السیوطی نے درمنثور میں لکھا ہے۔ واخرج ابن جریر وابن ابی حاتم من وجه آخر عن الحسن فی قوله انی متوفیک یعنی وفاة المنام رفعه الله فی منام.
(درمنثور ج ۲ ص ۳۶)
اور امام محی السنۃ البغوی نے معالم التنزیل میں لکھا ہے۔ وقال الربيع بن انس المراد بالتوفی النوم وكان عيسى قد نام فرفعه الله نائما الى السماء معناها انی منیمک ورافعک الی كما قال الله تعالى وهو الذي يتوفاكم بالليل ای ممیتکم. (معالم التنزیل ج ۱ ص ۱۶۲) اور امام فخر الدین الرازی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے الثالث قال الربيع بن انس انه قال نومه حال مارفعه الى السماء قال تعالى الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها. (تفسیر کبیر ج ۴ ص ۷۱ جز ثامن) اور تفسیر ابن کثیر میں ہے۔ وقال الاکثرون المراد بالوفاة هنا النوم كما قال الله تعالى وهو الذى يتوفاكم بالليل الآية وقال الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها الآية وكان رسول الله ﷺ يقول اذا قام من النوم الحمد لله الذى احيانا بعد ما اماتنا. (تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۳۹) اور علامہ شمس الدین الرملی نے کہا۔ متوفیک نايما ومنه قوله تعالى الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها فجعل النوم وفاة وانما رفعه نائما لئلا يلحقه خوف اور تفسیر مدارک میں ہے او متوفی نفسک بالنوم ورافعک وانت نایم حق لایلحقک خوف و تستيقظ وانت فى السماء آمن مقرب انتهى. (تفسیر النسفی ج ۱ ص ۱۲۵)
یہاں سے معلوم ہوا کہ مخالفین جو زعم کرتے ہیں کہ ربیع بن انس بھی واقعہ موت حضرت مسیح کے قائل ہیں سو وہ باطل ہے۔ چھٹا قول اس کا معنی مرنے کا ہے یعنی میں تجھ کو مارتا ہوں اور تیرے دشمنوں کو تجھ پر مسلط نہیں کرتا پھر عیسیٰ ؑ مر گئے بعد تین ساعت یا تین روز یا سات ساعت کے بعد زندہ ہو کر آسمان پر گئے۔ یعنی روح وجسم کے ساتھ آسمان پر گئے علماء اس قول کو ضعیف کہتے ہیں بلکہ محمد بن اسحق وغیرہ اس کو نصاریٰ کا قول کہہ کر تصریح کیے
ہیں اور معالم میں وہب سے نقل کیا ہے۔ توفی اللہ عیسیٰ ثلاث ساعات من النہار ثم احیاہ و رفعہ اللہ الیہ وقال محمد بن اسحق ان النصاریٰ یزعمون ان اللہ توفاہ سبع ساعات من النہار ثم احیاہ و رفعہ الیہ.
(معالم التنزیل ج ۱ ص ۱۶۲)
اور تفسیر ابن کثیر میں ہے قال ابن اسحق والنصاریٰ یزعمون ان اللہ توفاہ سبع ساعات ثم احیاہ قال اسحق بن بشیر عن ادریس عن وہب اماتہ اللہ ثلاثۃ ایام ثم بعثہ ثم رفعہ (تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۳۹، انوار التنزیل ج ۱ ص ۴۰) اور تفسیر بیضاوی اور تفسیر ابی سعود میں ہے۔ وقیل اماتہ اللہ سبع ساعات ثم رفعہ الی السماء والیہ ذہبت النصاریٰ (تفسیر ابو سعود ج ۱ ص ۴۳) یہاں سے معلوم ہوا کہ وہب سے یہی منقول ہے کہ عیسیٰ ؑ مر کے پھر زندہ ہو کے اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر گئے اور ابن اسحٰق اس کو نصاریٰ کا قول ہے کر کے لکھا ہے پھر مخالفان نے عیسیٰ ؑ مرنے کے فقط رفع روح ہونے کی نسبت وہب اور ابن اسحٰق کے طرف جو کیے ہیں وہ باطل ہے اور جانیے کہ یہاں متوفیک کے معنی میں سلف اختلاف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سب اہل سنت کا اتفاق ہے کہ عیسیٰ ؑ اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر گئے اس میں کسی اہل سنت کو خلاف نہیں ہاں اختلاف اس میں کیے ہیں کہ بغیر مرے کے زندہ آسمان پر گئے یا مر کے چند ساعت کے بعد زندہ ہو کے اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر گئے۔ سو جمہور مفسرین پہلے قول کو اختیار کیے ہیں اور ثانی قول جو وہب سے منقول ہے وہ ضعیف ہے لکھے ہیں۔ علماء کہتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ رہنے سے ہمارے نبی کریم ﷺ پر ان کی فضیلت لازم نہیں آتی کیونکہ جب آپ ﷺ سے دین کی تکمیل ہو چکی تو آپ ﷺ کو یہاں رہنے سے وصال الٰہی ہونا بہتر ہے اور بھی عیسیٰ ؑ محمد ﷺ کی اور آپ ﷺ کی امت کی صفت انجیل میں دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اپنے کو زندہ رکھے تاکہ نبی کریم ﷺ کو دیکھے اور آپ کی امت میں رہنے کا شرف حاصل کرے سو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کیا اور اخیر زمانے میں شریعتِ مصطفوی کو ان سے تائید بخشے گا اس صورت میں نبی کریم ﷺ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اس کے سوائے نبی کریم ﷺ شبِ معراج میں اس سے زیادہ ترقی فرمائے۔ علامہ قسطلانی نے مواہب الدنیہ میں لکھا ہے۔ واماما اعطیہ عیسی علیہ السلام ایضا من رفعہ الی السماء فقد اعطی نبینا ﷺ ذلک لیلة المعراج وزاد فی الترقی الی الدرجات و سماع المناجات والخلوة فی الحضرة المقدسة بالمشاھدة اور محمد ﷺ جس زمین پر مدفون ہوئے سو اس کا رتبہ عرش سے بھی بڑھ کے ہے اور مدینہ منورہ مہبط برکات و کمالات ہے جس سے امت کو انواع خیرات و منافع حاصل ہوتے ہیں۔ امام تقی الدین السبکی نے کہا قبر شریف پر کمالات اس قدر نازل ہوتے ہیں کہ ان کے ادراک سے عقول قاصر ہیں پھر وہ جانے کیونکر افضل نہ ہو۔ الشیخ الامام احمد بن محمد العباسی تحفۃ السائل میں لکھا ہے۔ سیدنا عیسی علیہ السلام یذوق الموت فی آخر الزمان لانہ قرأ الانجیل و رای صفة محمد ﷺ فتمنی ان یراہ فدعا اللہ تعالیٰ ان یرزقہ الحیاة الی ان یخرج محمد ﷺ فاستجاب اللہ دعاءہ فراہ لیلة المعراج ولما رای فی الانجیل فضل امة محمد ﷺ تمنی ان یکون من امة فدعا اللہ تعالیٰ فاستجاب دعاءہ و وعدہ ان یخرج فی ھذہ الامة فی آخر الزمان وفی ھذا فضل محمد ﷺ اور ولی ملا کمال پاشا نے رسالہ ”فی افضلیة محمد ﷺ“ میں لکھا ہے واما احتجاج المخالف علی تفضیل عیسی علیہ السلام علی نبینا علیہ السلام بانہ فی السماء وفی زمرة الاحیاء
فالجواب عنه ان كونه عليه السلام ميتا بعد تكميل النفس و اكماله الدين انفع من كونه حيًا اما فى حقه فظاهر فان تعلق النفس بالبدن لمصلحة التكميل فبعد فراغها عن تلک المصلحة حقها ان يقطع علاقة البدن و يرجع الى اصلها وما يليق بشانها من التجرد واما فى حق الامة فلما فيه من الرحمة على ما افصح عنه عليه السلام بقوله اذا اراد الله رحمة امة من عباده قبض نبيها قبلها فجعله لها فرطا وسلفا بين يديها ثم ان فى كونه عليه السلام مدفونا فى الارض غير مرفوع الى السماء نفعا آخر للامة حيث صارت روضته المقدسة مهبطا للبركات و مصعدًا للدعوات و موطنا للاجتماعات على الطاعات الى غير ذلک من انواع الخيرات ثم ان كون عيسى عليه السلام فى زمرة الاحياء لمصلحة احياء دينه عليه السلام فى آخر الزمان بدلالة انه ينزل من السماء و يكون خليفة له عليه السلام فالشرف من الوجه المذكور مرجع جله الى نبينا عليه الصلوة والسلام فما ذكر المخالف فى معرض الاحتجاج لنا لا علينا، اور عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو ہمارے نبی کریم ﷺ کی شریعت پر حکم کریں گے اور نبی کریم ﷺ کی امت میں رہیں گے اس پر علماء کا اجماع ہے اور ان کو امت میں رہ کر نبی کریم ﷺ کی شریعت پر حکم کرنا ان کی نبوت ورسالت کو منافی نہیں بلکہ ان کی نبوت ورسالت علی حالہ باقی ہے اور ان کی نبوت باقی رہنا نبی ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کو منافی نہیں کیونکہ وہ نبی ﷺ کے تابع اور امتی ہوں گے۔ حافظ ابن حجر مکی نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے۔ الذی نص عليه العلماء بل اجمعوا عليه انه يحكم بشريعة محمد ﷺ و على ملة وفى رواية سندها جيد مصدقا بمحمد و على ملته اماما مهديا و حكما عدلا اور بھی کہا وعیسی نبی كريم باق على نبوة ورسالة لا كما زعمه من لا يعتد به انه واحد من هذه الامة لان كونه واحدا منهم يحكم بشريعتهم لاينافى بقاءه على نبوة ورسالة (الفتاوى الحديثیہ ص ۱۵۴، ۱۵۵ طبع مصطفیٰ البابی) اور امام خطابی نے معالم السنن میں حدیث ان عیسیٰ علیہ السلام یقتل الخنزیر کی شرح میں لکھا ہے۔ فيه دليل على وجوب قتل الخنازير و بيان ان اعيانها نجسة و ذلک لان عيسى عليه الصلوة والسلام انما يقتل الخنزير على حكم شريعة نبينا ﷺ لان نزوله انما يكون آخر الزمان و شريعة الاسلام باقية اور امام بغوی نے شرح السنۃ میں لکھا ہے۔ لان عيسى عليه السلام انما يقتلها اى الخنازير على حكم شرع الاسلام (شرح السنۃ ج ۷ ص ۳۵۵) اور الامام القرطبی نے کتاب التذکرہ میں لکھا ہے۔ لا يجوز ان يتوهم ان عيسى عليه السلام ينزل نبيا بشريعة متجددة غير شريعة نبينا محمد ﷺ بل اذا نزل يكون يومئذ من اتباع محمد ﷺ كما اخبر ﷺ حيث قال لعمر لو كان موسى حيا ما وسعه الا اتباعی اور حافظ جلال الدین السیوطی نے کتاب الاعلام بحکم عیسیٰ علیہ السلام میں لکھا ہے انه يحكم بشرع نبينا لا بشرعه كما نص على ذلک العلماء ووردت به الاحاديث وانعقد عليه الاجماع. (الحاوی للفتاویٰ ج ۲ ص ۱۵۵) اور بھی کہا کہ امام سبکی وغیرہ ایک جماعت علماء نے کہا ہے۔ ان عيسى عليه السلام مع بقائه على نبوة معدود من امة النبى ﷺ و هو حى مؤمنا و مصدقا وكان اجتماعه به مرات فى غير ليلة الاسراء....... اور بھی کہا۔ قد رايت فى عبارة السبكى فى تصنيف له ما نصه انما يحكم عيسى بشريعة نبينا ﷺ بالقرآن والسنة وحينئذ فيترجح ان اخذه للسنة من النبى ﷺ بطريق المشافهة من غير واسطة وقد عده بعض المحدثين فى جملة الصحابة هو والخضر والياس قال الذهبى فى تجريده الصحابة
عیسٰی بن مریم علیہ السلام نبی و صحابی فانہ رای النبی ﷺ فھو آخر الصحابۃ موتا (ایضاً ص ۱۶۱) اور علامہ تفتازانی نے شرح المقاصد میں لکھا ہے۔ فان قیل الیس عیسٰی علیہ السلام حیا بعد نبینا رفع الی السماء و سینزل الی الدنیا قلنا بلی ولکنہ علی شریعۃ نبینا لا یسعہ الا اتباعہ علی ما قال علیہ السلام فی حق موسی علیہ السلام انہ لو کان حیا لما وسعہ الا اتباعی فیصبح انہ خاتم الانبیاء علیھم السلام بمعنی انہ لا یبعث بعد منی۔
(شرح المقاصد ج ۳ ص ۳۰۵، ۳۰۶ المبحث الخامس بعثۃ علیہ السلام الی الناس کافۃ)
اور شیخ شہاب الدین الاسدی نے (الاقوال النافعۃ فی حل فریدۃ الجامعۃ) میں لکھا ہے۔ فلا نبی بعدہ یقینا للنص والاجماع فحینئذ فعیسٰی ﷺ الوارد فی الحدیث نزولہ آخر الزمان بشرعنا المحمدی ای لا بشرعہ اور ملا جلال الدوانی نے اپنے عقیدہ میں لکھا ہے۔ واما نزول عیسٰی علیہ السلام ومتابعتہ بشریعۃ (ای شریعۃ محمد ﷺ) فھو مایؤکد کونہ خاتم النبیین اور شیخ عبدالحق دہلوی نے ترجمہ مشکوٰۃ میں لکھا ہے۔ تحقیق ثابت شدہ است باحادیث صحیحہ آنکہ عیسٰی ؑ فرود می آید از آسمان بزمین و می باشد تابع دین محمد را ﷺ وحکم می کند بشریعت آنحضرت، اور مولانا عبدالرحمٰن جامی نے اپنے عقیدہ میں لکھا ہے ؎
کند از آسمان مسیح نزول
پیرو شرع و دین او باشد
تابع اصل و فرع او باشد
دین ہمیں شرع و دین او داند
ہمہ کس را بدین او خواند
اور امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ نے اپنے مکتوب ۲۰۹ جلد اول میں لکھا ہے چوں حضرت عیسٰی علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نزول خواہد فرمود و متابعت شریعت خاتم الرسل علیہا الصلوٰۃ والسلام خواہد نمود از مقام خود عروج فرمودہ بہ تبعیت بمقام حقیقت محمدی خواہد رسید وتقویت دین اوعلیہا الصلوٰۃ والتحیات خواہد نمود۔
(مکتوبات امام ربانی ومجدد الف ثانی ص ۳۳۲، ۳۳۳ مکتوب نمبر ۲۰۹ ج اول)
اور مکتوب ۲۳۹ میں لکھا ہے۔ و پیغمبران اولوالعزم آرزوی متابعت او (یعنی محمد ﷺ) می نمایند ولوکان موسٰی حیا فی زمنہ ما وسعہ الا اتباعہ وقصہ نزول روح اللہ و متابعتہ حبیب اللہ معلومہ مشہورۃ (ایضاً ص ۴۰۸) اور بھی مکتوب ۶۲ جلد دوم میں لکھا ہے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات فرستادہائے حق اند جلشانہ بسوی خلق تا ایشان را بحق دعوت کنند تعالیٰ و از ضلالت براہ ارند ہر کہ دعوت ایشان را قبول کند او را بہ بہشت بشارت دہند و ہر کہ انکار نماید بعذاب دوزخ تہدید کنند ہر چہ ایشان از حق تبلیغ نمودہ اند و اعلام فرمودہ اند ہمہ حق است و صدق کہ شائبہ تخلف ندارد و خاتم انبیاء محمد رسول اللہ است ﷺ و دین او ناسخ ادیان سابق است و کتاب او بہترین کتب، مقدم ست و شریعت او را ناسخی نخواہد بود بلکہ تاقیام قیامت خواہد ماند و عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ نزول خواہد نمود عمل بشریعت او خواہد کرد و بعنوان امت او خواہد بود۔ اور بھی کہا و علامات قیامت کہ مخبر صادق علیہ و آلہ الصلوٰۃ والتسلیمات از ان خبر دادہ است حق است و احتمال تخلف ندارد و طلوع آفتاب از جانب مغرب برخلاف عادت و ظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان و نزول حضرت روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام و خروج دجال وظہور یاجوج و ماجوج و خروج دابۃ الارض و دخانی
کہ از آسمان پیدا شود و تمام مردم را فرو گیرد و عذاب درد ناک کند مردم از اضطراب گویند ای پروردگار من این عذاب را از ما دور کن کہ ما ایمان می آریم و آخر علامات آتش است کہ از عدن خیزد و جماعتی از نادانی گمان کنند شخصی را کہ دعویٰ مہدویت نمودہ بود از اہل ہند مہدی موعود بودہ است پس بزعم اینان مہدی گذشتہ است وفوت شدہ و نشان می دہند کہ قبرش در فراہ است در احادیث صحاح کہ بحد شہرت بلکہ بحد تواتر معنی ۔ رسیدہ اند تکذیب این طایفہ است چہ آن سرور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام مہدی را علامات فرمودہ است کہ در حق آن شخص کہ معتقد ایشانست آنعلامات مفقود اند در احادیث نبوی آمدہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام کہ مہدی موعود بیرون آید و برسر وی پارۂ ابر بود دران ابر فرشتہ باشد کہ ندا کند کہ ایں شخص مہدی است او را متابعت کنید وفرمودہ علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام کہ تمام زمین را مالک شدند چارکس، دوکس از مومنان و دوکس از کافران ذوالقرنین وسلیمان از مومنان ونمرود و بخت نصر از کافران مالک خواہد شد ایں زمین را شخص پنجم از اہل بیت من یعنی مہدی وفرمودہ علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام دنیا نرود تا آنکہ بعث کند خدا تعالیٰ مردیرا از اہل بیت من کہ نام او موافق نام من بود و نام پدر او موافق نام پدر من باشد پس پر سازد زمین را بہ داد و عدل چنانچہ پر شدہ بود بجور و ظلم و در حدیث آمدہ است کہ اصحاب کہف اعوان حضرت مہدی خواہند بود و حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام در زمان وی نزول خواہد کرد و او موافقت خواہد کرد با حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام در قتال دجال و در زمان ظہور سلطنت او در چار دہم شہر رمضان کسوف شمس خواہد شد و در اول آن ماہ خسوف قمر برخلاف عادت زمان برخلاف حساب منجمان بنظر انصاف باید دید کہ ایں علامات در ان شخص میت بودہ است یا نہ، وعلامات دیگر بسیار است کہ مخبر صادق فرمودہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام شیخ ابن حجر رسالہ نوشتہ است در علامات مہدی منتظر کہ بدویست علامات می کشد نہایت جہل است کہ با وجود وضوح امر مہدی موعود جمعی در ضلالت مانند ہداہم اللہ سبحانہ سواء الصراط۔
(مکتوب امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوب نمبر ۶۷ ص ۱۸۸، ۱۸۹ تا ۱۹۱ ج ۲)
اور مکتوب ۶۷ جلد ثالث میں لکھا ہے اول انبیاء حضرت آدم است علی نبینا وعلیہ وعلیہم الصلوٰۃ والتحیات و آخر ایشان و خاتم نبوت شان حضرت محمد رسول اللہ است علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والتسلیمات بجمیع انبیاء ایمان باید آورد وعلیہم الصلوات والتسلیمات و ہمہ را معصوم و راست گو باید دانست عدم ایمان بیکی ازین بزرگواران مستلزم عدم ایمان است بجمیع ایشان علیہم الصلوات والتسلیمات چہ کلمہ ایشان متفق است و اصول دین شان واحد وحضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوات والسلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات۔ (مکتوب ۶۷ ج ۲ حصہ ششم ص ۳۰۴، ۳۰۵) یہاں سے معلوم ہوا کہ کسی زندیق نے مصنوعی مسیح کے ثبوت پر امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ پیشین گوئی ٹھہرا کر کے کہا ہے سو وہ امام ربانی پر افترا ہے اور جو عبارت کہ امام ربانی کی طرف منسوب کی اس میں تحریف ہے امام ربانی قدس سرہ عقیدۂ اہل سنت کے موافق وہی حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر سے اتر آنے کے قائل ہیں جن پر انجیل نازل ہوئی۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مخالفین، عیسیٰ ؑ کے مر جانے اور رفع مع الجسد والروح کے انکار پر معراج کی حدیث سے جو دلیل لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر حضرت مسیح کا رفع مع الجسد والروح ہوتا تو کیوں حضرت مسیح فوت شدہ نبیوں کی جماعت میں معراج کی شب دیکھے جاتے اور ان کی زندگی فوت شدہ نبیوں کی زندگی کے ہم رنگ ہوتی ۔ سو یہ استدلال باطل ہے کیونکہ علماء تصریح کر چکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ معراج کی شب انبیاء کو جو دیکھے سو با
ان کے ارواح شکل لے کے آئے یا اللہ تعالیٰ حضرت ﷺ کی تعظیم واسطے ان کے جسموں کو قبروں سے نکال آسمان پر لے گیا مگر عیسیٰ ؑ کہ وہ اپنے جسم سے موجود تھے۔ علامہ زرقانی نے شرح مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے۔ وقد اختلف في رؤية نبينا ﷺ هؤلاء الانبياء عليهم السلام فحمله بعضهم على رؤية ارواحهم الا عيسى لما ثبت انه رفع بجسده. (شرح مواہب اللدنیہ ج ۶ ص ۷۲) اور وہ شخص عیسیٰ ؑ کے زندہ رہنے کا انکار کرتا جو لکھتا ہے کہ اب تک زندہ رہنا ان کا تسلیم کرلیں تو کچھ شک نہیں کہ اتنی مدت کے گزرنے پر پیر فرتوت ہو گئے ہوں گے اور اس کام کے ہرگز لائق نہیں ہوں گے کہ کوئی خدمت دینی ادا کرسکیں۔ اس میں عیسیٰ ؑ کے حق میں ایسے استخفاف و حقارت کے الفاظ جو ذکر کیا وہ بھی بالاجماع کفر و ارتداد ہے یہ زندیق جانتا نہیں کہ خدا تعالیٰ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو ایسی طاقت دی کہ اور بشر کو وہ میسر نہیں اور ان میں جن کی عمر دراز کی ان سے دینی کاموں میں کچھ فتور نہیں ہوا جیسا آدم و نوح علیہما الصلوٰۃ والسلام جن کی عمر ہزار سال کی ہوئی پھر جب عیسیٰ ؑ کو بے غذائی وغیرہ صفت ملکی عنایت ہوئی تو ان پر ضعف و پیری کہاں سے آتی، دیکھو فرشتوں کو کہ باوجود عمر دراز رہنے کے ضعف و فتور نہیں ہے۔ قاضی عیاض شفاء میں اور ملا علی القاری اس کی شرح میں لکھتے ہیں۔ او استخف ای احتقر واستهزا به او باحد من الانبياء او ازری ای عاب عليهم اى جميعهم او بعضهم او اذاهم او قتل نبيا او حاربه فهو كافر باجماع من علماء المسلمين (شرح الشفاء ج ۲ ص ۵۱۴ طبع بیروت) اور ابن حجر مکی نے (اعلام بقواطع الاسلام) میں منجملہ کفریات میں لکھا ہے۔ او قال استخفافا النبى طويل الاظفار خلق الثياب جايع البطن ۔ اور جو دعویٰ کرتا ہے کہ مسیح موعود میں ہی ہوں اور کہتا ہے (کہ جنھوں نے اس عاجز کا مسیح موعود ہونا مان لیا وہ لوگ ہر خطرہ کی حالت سے محفوظ اور معصوم ہیں) وہ بھی کفر ہے کیونکہ اس کا مسیح موعود ہونا مان لینے میں عیسیٰ ؑ کے نزول کا انکار ہے وہ کفر ہے جیسا کہ اوپر گزرا اور اس جھوٹے مدعی کو نبی تصور کرتا ہے وہ بھی کفر ہے تمہید ابی شکور میں ہے۔ من انكر نبيا فانه يكفر ولو اقر لاحد بالنبوة ومن لم يكن نبيا فانه يكفر ايضا اور جو نبوت وحی کا دعویٰ کرتا ہے وہ بھی کفر و ارتداد ہے تمہید ابی شکور میں لکھا ہے۔ ومن ادعى النبوة فى زماننا يصير كافرا ومن طلب منه المعجزة فانه يصير كافرا لانه شک فی النص فيجب الاعتقاد بانه ما كانت لاحد شركة فى النبوة مع محمد ﷺ اور ابن حجر مکی نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے۔ من اعتقد وحيا من بعد محمد ﷺ كان كافرا باجماع المسلمين. اور علامہ قسطلانی نے مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے۔ وقد اخبر الله تعالىٰ فى كتابه و رسوله فى السنة المتواترة عنه انه لا نبی بعده ليعلموا ان كل من ادعٰی هذا المقام بعده فهو كذاب افاک دجال ضال مضل ولو تخرق و شعبد واتى بانواع السحر والطلاسم والنيرنجيات فكلها محال و ضلالة عند اولی الالباب ولا يقدح فى هذا نزول عيسىٰ عليه السلام لانه اذا نزل كان على دين نبينا ﷺ ومنهاجه مع ان المراد انه آخر من نبىٰ قال ابن حبان من ذهب الى ان النبوة مكتسبة لا تنقطع او الى ان الولى افضل من النبى فهو زنديق يجب قتله والله تعالىٰ اعلم.
(مواہب اللدنیہ ج ۶ ص ۱۸۷ ۱۸۸)
اور علامہ شمس الدین التفتازانی نے (شرح عمدۃ العقاید) میں لکھا ہے۔ ثبت بالدلیل اختتام الرسالة عليه الصلوٰة والسلام و انسداد بابها بعده فلوا دعى احد بعده انه نبى لا يطالب بالبرهان بل يردوا دعواه باول الوهلة الا اذا اريد بمطالبة البرهان اظهار عجزه اذ من المعلوم انه لا يتمكن من اقامة
الدليل فينهتك ستره و يفتضح في دعواه.
اور آیة و مبشرا برسول يأتي من بعدى اسمه احمد کا اپنے طرف ہی اشارہ ہونے کا اور آپ اس کا مصداق ہونے کا جو دعویٰ کرتا ہے وہ بھی کفر و ارتداد ہے کیونکہ یہ آیت بالاجماع محمد ﷺ کی شان میں نازل ہے جو عیسیٰ ؑ نے بشارت دی کہ اپنے بعد ایک رسول آئیں گے ان کا نام احمد ﷺ اور سرور عالم ﷺ کے اسمائے مبارک میں احمد دوسرا نام ہے جو اہل سموات کے نزدیک اس ہی نام سے مشہور ہیں۔ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہٗ نے اپنے مکتوب ۹۴ جلد ثالث میں لکھا ہے واحمد اسم دوم آں سرور است علیہ الصلوٰة والسلام کہ در اہل سموات بآں اسم معروف است چنانچہ گفتہ اند اینجا تواند بود کہ حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰة والسلام کہ از اہل سموات گشته است بشارة قدوم آن سرور را باسم احمد دادہ است۔ (مکتوب امام ربانی حصہ ششم ج ۲ ص ۴۹۲) جب کسی زندیق نے اس کو اپنے طرف اشارہ ہے کر کے کہا، تو محمد ﷺ کی صفت کو جو بالاجماع ثابت ہے جھٹلایا، وہ کفر ہے۔ ابن حجر مکی نے (کتاب الزواجر میں) لکھا ہے ان کل صفة اجمعوا على ثبوتها له ﷺ يكون انكارها کفرا اور خود رسول ہونے کا دعویٰ ہوا وہ بھی کفر ہے جیسا کہ سابق گزرا۔ اور نص قرآن کو جو یہاں یقیناً ظاہر پر محمول ہے پھیرا۔ کفر ہے شرح عقیدہ یافعی میں ہے۔ وقد نص العلماء رضی الله عنهم على تكفير كل من دافع الكتاب العزيز او حديثا مجمعا على نقله مقطوعا به مجمعا على حمله على ظاهره اور تمہید ابی شکور میں ہے۔ والاصل في هذا ان من تكلم بكلمة او اعتقد بشئ يكون خلاف النص او ما يقوم مقام النص كالسنة الظاهرة الثابتة واجماع الامة فانه يوجب الكفر اور آیت هوالذی ارسل رسوله بالهدی و دین الحق ليظهره علی الدین كله ولوکره المشرکون (الصف ٩) کو اپنے ہی زمانہ سے متعلق ہونے کا دعویٰ جو کرتا ہے وہ بھی کفر و ارتداد ہے کیونکہ یہ آیت بالاجماع ہمارے نبی کریم محمد ﷺ کے وصف میں نازل ہوئی اس کی معنی یہ ہے اسی نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت کے اور دین حق کے تا اس کو غالب کرے ہر دین پر اور اگرچہ برا مانیں مشرک علامہ قسطلانی نے مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے۔ وهذه الاية مشتملة على كل وصف جمیل له ہاں اختلاف اس میں کرتے ہیں کہ ظہور سے کیا مراد ہے سو اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ ظہور سے مراد رسول اللہ ﷺ کو نصرت و غلبہ دینا اور بعضوں نے کہا ظہور سے مراد سوائے اسلام کے کوئی دین باقی نہ رہنا اور وہ عیسیٰ ؑ کے نزول کے وقت ہوگا۔ تفسیر ابن عطیہ میں ہے۔ هو الذی ارسل رسوله بالهدى الاية تعظيم لامرہ ﷺ واعلام بانه يظهره على جميع الاديان ورای بعضهم ان لفظ يظهره يقتضى محو غیره به فان هذا الخبر يظهر للوجود عند نزول عيسى فانه لايبقى في وقته دین غیر الاسلام پھر جو بے دین کہ اس کو اپنے ہی زمانہ سے متعلق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس میں ایک صورت ان دو سے نظر نہ آتی ہے یا نبی کریم ﷺ کی صفت کو جھٹلانا یا خود مسیح موعود ہونا وہ دونوں کفر ہیں۔ اما نبی کریم ﷺ کا معراج جسم مبارک کے ساتھ ہونے کا انکار کر کے جو کہتا ہے (کہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا اور اس قسم کے کشفوں میں خود صاحب تجربہ ہے) وہ بھی کفر ہے کیونکہ محمد ﷺ کا معراج جسم مبارک اور روح شریف کے ساتھ سموات کے اوپر الی ماشاء اللہ ہونا اور وہ نبی کریم ﷺ کی خصوصیت سے ہونا اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے، ان کا انکار کر کے وہ کشفی ہونا اور اپنے کو بھی تجربہ ہے یعنی خود اسے بھی ہوتا ہے بیان کر کے اظہار کرنا کفر و ارتداد ہے۔ علماء اگرچہ سماوات پر تشریف لے جانے کے منکر کو مبتدع اور ضال ومضل کہتے ہیں اور اس کے کفر میں اختلاف کیے ہیں لیکن بیت المقدس تک
تشریف لے جانے کے منکر کی تکفیر میں اتفاق کیے ہیں۔ قاضی عیاض شفا میں اور ملا علی القاری اس کی شرح میں لکھتے ہیں۔ والحق من هذا والصحيح ان شاء الله تعالى استثناء للتبرك بمنزلة والله تعالى اعلم انه اسراء بالجسد والروح فى القصة كلها و عليه اى و على هذا تدل الاية و صحيح الاخبار اى مجموعهما على جميعها غاية ان دلالة الاية على الاسراء من المسجد الحرام الى المسجد الاقصٰى نص قاطع يكون جاحده كافرا او منافقا و دلالة الاحاديث على اسرائه الى السماء و سدرة المنتهى و مقام قاب قوسين او ادنى ظنية منكره يكون مبتدعا فاسقا.
(شرح شفاء ج ۱ ص ۴۱۱)
اور علامہ تفتازانی نے شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے۔ والمعراج لرسول الله ﷺ فى اليقظة بشخصه الى السماء ثم الى ماشاء الله تعالى من العلى حق اى ثابت بالخبر المشهور حتى ان منكره يكون مبتدعا انتهى.
(شرح عقائد نسفیہ ص ۱۴۳ مکتبہ خیر کثیر کراچی)
اور فتاویٰ حمادیہ میں لکھا ہے۔ وكل ماثبت بالخبر الواحد واتفق الفقهاء على صحة ذلك واجتمع على قبوله من غير تأويل فانه يكون من شرايط الايمان كعذاب القبر والصراط والميزان والشفاعة والمعراج الى السماء و مثل هذا بالخبر الواحد ولكن الفقهاء والصحابة رضى الله عنهم اتفقت على صحة ذلك وقبولها فحل محل الاجماع فانه يوجب الايمان به ثم من انكر ذلك هل يصير كافرا ام لا قال بعضهم يصير كافر او قال بعضهم لا يصير كافرا اور علامہ قسطلانی نے مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے وبالجملة حديث الاسراء اجمع عليه المسلمون و اعرض عنه الزنادقة الملحدون يريدون ليطفؤا نور الله بافواههم والله متم نوره ولو كره الكافرون.
(مواہب اللدنیہ ج ۶ ص ۱۴)
اور ابن حجر مکی نے منح المکیہ شرح ہمزیہ میں لکھا ہے۔ وقصة الاسراء والمعراج من اشهر المعجزات واظهر البراهين والبينات ومن ثم قال بعض المفسرين انها افضل من ليلة القدر لكن بالنسبة له ﷺ لانه اوتى فيها ما لا يحيط به الحد ولذا كان الاسراء بالجسم فى اليقظة من خصايص نبينا محمد ﷺ انتهی. وہ جو عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ مافقد جسد رسول الله ﷺ سو علماء کہتے ہیں کہ وہ حدیث ثابت نہیں بلکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مذہب موافق جمہور کے تھا کہ معراج روح اور جسم شریف کے ساتھ تھا۔ قاضی عیاض شفا میں اور ملا علی القاری اس کی شرح میں لکھتے ہیں۔ وهو دليل قول عائشة اى مذهب المختار لها.
(شرح شفاء ج ۱ ص ۴۱۰)
اور بھی لکھتے ہیں۔ وايضا فليس حديث عائشة رضى الله عنها اى مافقدت جسده بالثابت اى عند ائمة الحديث لقادح فى سنده عنها در
(شرح شفاء ج ۱ ص ۴۲۱)
صورت ثبوت اس میں معراج روح مع الجسد کا انکار نہیں۔ تفتازانی نے شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے۔ والمعنی مافقد جسده عن الروح بل كان مع روحه وكان المعراج للروح والجسد جميعًا.
(شرح عقائد نسفی ص ۱۴۳)
اور یہ بھی معلوم کریں کہ ہمارے نبی کریم محمد ﷺ کا جسم مبارک اللہ تعالیٰ نے نور سے بنایا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو کثائف جسمانیہ سے پاک کر کے خالص نور کیا تھا اس لیے آپ جب دھوپ یا چاندنی میں گزرتے تو سایہ نہیں پڑتا تھا سو ایسے پاک منور مقدس جسم کو یہ زندیق نے کثیف کے لفظ سے تعبیر کیا ہے سو معاذ اللہ کیسی قساوت قلبی ہے۔ ابن حجر مکی نے شرح ہمزیہ میں لکھا ہے۔ انه ﷺ كان اذا مشى فى الشمس والقمر لايظهرله ظل لانه لا يظهر الا للكثيف وهو ﷺ قد خلصه الله من سائر الكثايف الجسمانية وصيره نورا
صرفا لا يظهر له ظل اصلا خرقا للعادة كما خرقت له فى شق صدره و قلبه مرارا ولم يتالم بذلك. اور وہ جو کہتا ہے (کہ اسلام کو غلطیوں اور الحاقات بیجا سے منزہ کر کے وہ تعلیم جو روح و راستی سے بھری ہوئی ہے خلق اللہ کے سامنے رکھنا خدائے تعالیٰ نے اپنے سپرد کیا ہے۔ یہ بھی کفر ہے کیونکہ آپ جو کفریات شریعت غرا کے مخالف بکتا ہے اس کو خدا تعالیٰ اپنے سپرد کیا ہے کر کے اللہ تعالیٰ پر افترا کرتا ہے۔ وہ کفر ہے۔ قال الله تعالى وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللهِ كَذِبًا (الانعام ۲۱) اور خطیب شربینی نے تفسیر سراج المنیر میں لکھا ہے۔ قال العلماء وقد دخل فى حكم هذه الآية كل من افترى على الله كذبا فى ذلك الزمان و بعده اور ابن حجر مکی نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے كل حقيقة ردتها الشريعة زندقة اور زواجر میں لکھا ہے ۔ ولا ريب ان تعمد الكذب على الله ورسوله فى تحليل حرام او تحريم حلال كفر محض.
اور مرزا سید الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کا اور دوسرے انبیاء کا مثیل ہونے کا جو دعوے کرتا ہے وہ بھی کفر ہے کیونکہ جمیع وجوہ سے مساوی رہنے والے کو مثیل کہتے ہیں۔ تحفۃ المرید میں لکھا ہے۔ الشبه والشبيه بمعنى كالحب والحبيب و ذلك المعنى هو المساوى فى اغلب الوجوه والنظير هو المساوى ولو فى بعض الوجوه والمثيل هو المساوى فى جميع الوجوه پھر جب آپ مثیل ہو کر کے کہا تو بجمیع وجوہ سرور عالم ﷺ اور دوسرے انبیاء کا مساوی ہونے کا ادعا ہوا وہ کفر و ردت ہے ”غایۃ تلخیص المراد من فتاویٰ ابن زیاد“ میں لکھا ہے۔ رجل قال فى حقه و راس على بن عمر الشاذلى الذى ما مثله الا النبى ﷺ اجريت عليه احكام الردة فيستتاب فان تاب والا قتل بردته لفعله هذا الشنيع من تشبيه سيدالكونين صلوات الله وسلامه عليه بغيره كيف وقد قال فى الشفاء فى ابى نواس انه كفر او قارب بتشبيه محمد الامين بالنبی و ھذا اعظم منه اور مخالفوں نے جواز مثیل پر حدیث علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل سے جو استدلال کیا ہے سو وہ باطل ہے کیونکہ محدثین کہتے ہیں کہ اس حدیث کی اصل نہیں۔ ملا علی القاری نے رسالہ موضوعات میں لکھا ہے۔ قال الدميرى والعسقلانى والزركشى لا اصل له. (موضوعات کبیر ص ۳۸) بتقدیر ثبوت اس میں کاف تشبیہ لائے، علماء کی فضیلت بیان فرمائی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی شخص اپنے کو مثیل انبیاء قرار دے اور وہ جو کہتا ہے (کہ حضرت مسیح ؑ اور خود کے دل میں جو قوی محبت ہے اس نے خدا کی محبت کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے ان دونوں محبتوں کے ملنے سے تیسری چیز پیدا ہوئی جس کا نام روح القدس ہے اس کو بطور استعارہ کے ان دونوں محبتوں کا بیٹا کہنا چاہیے اور یہ پاک تثلیث ہے) یہ بھی کفر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور ابطال تثلیث پر عقائد اسلام کی بنا ہے پھر یہ شخص اپنی اور خدا کی محبت ملنے سے روح القدس پیدا ہوا اس کو بطور استعارہ ان دونوں محبتوں کا بیٹا اور یہ پاک تثلیث ہے کر کے تثلیث کا جو زعم کرتا ہے سو وہ کفر ہے۔
اور وہ جو کہتا ہے (کہ مسیح کا اور اپنا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں یعنی ابن اللہ کہہ سکتے ہیں) یہ بھی کفر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں نصاریٰ مسیح کو اور یہود عزیر کو ابن اللہ کہنے پر ان کی سخت مذمت کی اور ان پر لعنت کیا اور متعدد مقاموں میں ابنیت سے اپنی ذات کو تنزیہ کیا پھر حقیقی طور پر ہو یا مجازاً و استعارۃً اس کی ذات سے ابنیت کی نسبت لگانا شرعاً کفر ٹھہرا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ ابْنُ اللهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللهِ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِؤُنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا قَاتَلَهُمُ اللهُ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ. (توبہ ۳۰) یعنی اور کہا یہود نے عزیر بیٹا اللہ کا ہے اور کہا نصاری نے مسیح
بیٹا اللہ کا ہے یہ باتیں کہتے ہیں اپنے منہ سے مشابہ ہوتے ہیں بات سے ان لوگوں کے کہ کافر ہوئے پہلے اس سے مار ان کو اللہ، کہاں سے پھرے جاتے ہیں۔ اور بھی فرماتا ہے۔ وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمُوتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا. (مریم ۸۸-۸۹-۹۰) یعنی اور کہا انھوں نے پکڑی ہے اللہ نے اولاد البتہ تحقیق لائے تم ایک چیز بھاری یعنی بھاری گناہ نزدیک ہیں آسمان کہ پھٹ جائیں اس سے اور پھٹ جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ کانپ کر اس سے کہ دعویٰ کیا انھوں نے واسطے اللہ کے اولاد کا، اور نہیں لائق واسطے رحمن کے یہ کہ پکڑے اولاد اور بیضاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔ واعلم ان السبب فى هذه الضلالة ان ارباب الشرايع المقدمة كانوا يطلقون الاب على الله تعالى باعتبار انه لمسبب الاول حتى قالوا ان الاب هو الرب الاصغر والله سبحانه تعالى هو الرب الاكبر ثم ظنت الجهلة منهم ان المرادبه معنى الولادة فاعتقد واذ لك تقلیدا ولذلك كفر قائله و منع منه مطلقا جسما لمادة الفساد اور علامہ عبدالحکیم السیالکوٹی نے حاشیہ بیضاوی میں لکھا ہے۔ قوله ومنع منه مطلقا اى سواء قصد معنی منه مجاز یا او معنی حقيقيا اور علامہ شیخ زادہ نے حاشیہ بیضاوی میں لکھا ہے۔ واذ ثبت هذا فنقول اذا لم يجز حقيقة الولادة فلا يجوز التسمية بطريق المجاز لان الاطلاق على سبيله التجوز انما يصح اذا كان الاطلاق على سبيله الحقيقة متصورا لان الاطلاق المجازى هو التشبيه بحذف اداة التشبيه والتشبيه انما يتصور اذا كان المشبه به متصورا و اذا لم يتصور ان يكون له تعالى ولد حقيقة لا يجوز التسمية بطريق المجاز اور خطیب شربینی نے سراج المنیر میں لکھا ہے۔ وما ينبغى للرحمن ان يتخذوا لدا اى ما يليق به اتخاذ الولدلان ذالك محال اما الولادة المعروفة فلا مقالة فى امتناعها واما التبنى فان الولدلا بدو ان يكون شبيها بالوالد ولا شبيه لله تعالى لان اتخاذ الولد انما يكون لاغراض اما من سرور او استعانه او ذكر جميل وكل ذلك لا يصح في حق الله تعالى.
اور وہ جو قرآن شریف کی آیتوں کی تفسیر صحابہ و تابعین و جمہور مفسرین کے برخلاف اپنی رائے سے کرتا ہے اور صحابہ و تابعین سے اس کی جو تفسیر وارد ہوئی ہے اس کو سراسر غلط ہے کر کے کہتا ہے وہ بھی کفر ہے کیونکہ قرآن کی تفسیر نبی کریم ﷺ اور صحابہ و تابعین سے جو منقول ہے اس کو اختیار کرنا واجب ہے۔ شیخ جلال الدین السیوطی نے اتقان میں لکھا ہے۔ يجب ان يكون اعتماده على النقل من النبيﷺ وعن اصحابه او من عاصر هم پھر جب اس کو سراسر غلط ہے کر کے اپنی رائے سے تفسیر کی تو نص قرآن کا جو معنی ہے اس کو پھیرا اور وہ کفر ہوا قاضی عیاض شفا میں اور ملا علی القاری اس کی شرح میں لکھتے ہیں۔ وكذالك وقع الاجماع على تكفير كل من دافع نص الكتاب القديم و حمله على خلاف ماوردبه معنى القويم.
(شرح الشفاء للقاضی عیاض ج ۲ ص ۵۱۶)
اور وہ جو کہتا ہے (کہ جبرئیل امین جو انبیاء کو دکھائی دیتا ہے وہ بذات خود زمین پر نہیں اترتا اور اپنے ہیڈ کواٹر نہایت روشن نیر سے جدا نہیں ہوتا ہے بلکہ صرف اس کی تاثیر نازل ہوتی ہے اور اس کی عکس سے تصویر ان کے دل میں منقوش ہو جاتی ہے) یہ بھی کفر ہے امام عبداللہ النسفی نے (عمدة العقائد) میں لکھا ہے۔ ولو جاز استبعاد صعود النبي لجاز استبعاد نزول الملك وهو يؤدى الى انكار النبوة اور علامہ شمس الدین
المکساری نے اس کی شرح میں لکھا ہے۔ ”هذا اشارة الى فساد دليل من ذهب الى انه اى المعراج في المنام تقريره ان محمدا ﷺ من جنس البشر لقوله تعالى قل انما انا بشر مثلكم ومن هو من جنس البشر يمتنع صعوده الى السماء لانا نعلم بالضرورة ان الجسم يمتنع صعوده الى الهواء العالى والجواب انه لو صح استبعاد صعود شخص من البشر الى الهواء العالى لصح استبعاد نزول الجسم الهوائى الى الارض لكن التالى باطل لانه يؤدى الى انكار نزول الملك وهو كفر لاتفاق الانبياء والرسل عليهم السلام عليه و بداهة امتناع الصعود ممنوعة بل هو ممكن والله تعالى قادر على جميع الممكنات فكانت الشبهة زايلة“ اور علامہ قسطلانی نے مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے۔ روية عليه الصلوة والسلام لجبرئيل هى اصل الايمان لايتم الايمان الا باعتقادها ومن انكرها كفر قطعا. (مواہب اللدنیہ ج۶ ص۲۲۱) اور وہ جو کہتا ہے کہ لیلۃ القدر سے رات مراد نہیں بلکہ وہ زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہم رنگ اور وہ نبی یا اس کے قائم مقام مجدد کے گزر جانے سے ایک ہزار مہینے کے بعد آتا ہے) یہ بھی کفر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے لیلة القدر خير من الف شهر یعنی شب قدر بہتر ہے ہزار مہینوں سے سو اس سے مراد رات ہے کہ یہ احادیث متواترہ اور اجماع سے ثابت ہو چکا پھر اس کا انکار کر کے نص قرآن کو اس کے ظاہر معنی سے بغیر دلیل قطعی کے پھیرا وہ کفر ہے۔ قاضی عیاض نے شفا میں لکھا ہے فانه اذا جوز على جميع الامة الوهم والغلط فيما نقلوه من ذلك واجمعوا انه قول الرسول عليه الصلوة والسلام وفعله و تفسير مراد الله به ادخل الاسترابة في جميع الشريعة اذ هم الناقلون لها وللقران وانحلت عرى الدين بالمرة ومن قال هذا كافر اور علامہ تفتازانی نے شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے۔ والنصوص من الكتاب والسنة تحمل على ظواهرها مالم يصرف عنها دليل قطعى كما فى الايات التى تشعر ظواهرها بالجهة والجسمية ونحو ذلك والعدول عنها اى عن الظواهر الى معان تدعيها اهل الباطن وهم الملاحدة وسموا بالباطنية لادعائهم ان النصوص ليست على ظواهرها بل لها معان باطنة لا يعرفها الا المعلم و قصدهم بذلك نفى الشريعة بالكلية الحاد اى ميل و عدول عن الاسلام واتصال والصاق بكفر بكونه تكذيبا للنبى ﷺ فيما علم مجيئه به بالضرورة .
(شرح عقائد النسفی مکتبہ خیریہ ص۱۶۶)
رہا انبیاء علیہم السلام کے معجزوں کا جو انکار کرتا ہے اور ان کو مسمریزم کے طریق سے بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آنے کا دعویٰ کرتا ہے اور عیسیٰ ؑ کے معجزات کو جو قرآن شریف میں وارد ہیں ان کا انکار کرتا ہے اور اس کو مشرکانہ خیال کہتا ہے اور ان کو مسمریزم کے طریق پر ہونے کا قائل ہے وہ بھی کفر ہے۔ علامہ شروانی نے حاشیہ تفسیر بیضاوی میں لکھا ہے۔ ان من كفر برسول واحد و بمعجزة واحدة فانه لا يمكنه الايمان باحد من الرسل.
اور وہ جو کہتا ہے (کہ اگر میں اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو ان اعجوبہ نمايوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا) یہ بھی کفر ہے کیونکہ یہ مرتد باوجود اس قساوت قلبی کے اس عمل مسمریزم کو آپ مکروہ جانتا ہے اور اس کو عیسیٰ ؑ کی طرف نسبت کیا جو یقیناً کفر ہے۔ اس کے سوائے ان اعجوبہ نمايوں میں عیسیٰ ؑ سے کم نہ رہتا کہہ کے جو کہتا ہے اس سے عیسیٰ ؑ سے مساوات یا تفوق ہونے کا دعویٰ ہوا وہ بھی کفر ہے اور باتفاق فقہاء کسی ولی کو بھی نبی کے رتبہ کو پہنچا کر کے اعتقاد کرنا کفر ہے چہ جائیکہ یہ زندیق آپ عیسیٰ ؑ سے مساوی ہونے کا
یا فایق ہونے کا دعویٰ کرے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں لکھا ہے۔ فالنبی افضل من الولی وهو امر مقطوع به عقلا و نقلا والصائر الی خلافه کافر لانه امر معلوم من الشرع بالضرورة اور ابن حجر مکی نے اپنے فتاوے میں لکھا ہے۔ ان من اعتقد ان الولی یبلغ مرتبة النبی علیه الصلاة والسلام فقد کفر۔
اما عیسیٰ ؑ کا باپ یوسف نجار ہونے کا جو زعم کرتا ہے وہ بھی کفر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بغیر باپ کے عیسیٰ ؑ کو پیدا کیا سو قرآن شریف میں فرماتا ہے پھر یہ شخص جب عیسیٰ ؑ کا باپ یوسف نجار ہونے کا زعم کیا سو قرآن کی تکذیب کی وہ کفر و ردت ہے کما مر۔
اور وہ جو عیسیٰ ؑ خنزیر کو قتل کریں گے کہ کے جو احادیث صحیحہ وارد ہوئے ہیں سو اس سے مراد قتل کرنے کا حکم کرنا ہے حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں لکھا ہے۔ ویقتل الخنزیر ای یامر باعدامه مبالغة فی تحریم اکله وفیه توبیخ عظیم للنصاری الذین یدعون انهم علی طریقة عیسیٰ ثم یستحلون اکل الخنزیر ویبالغون فی نجسة پھر اس سے یہ زندیق ایک غلط معنی کر کے جو زعم کرتا ہے کہ آپ کہا سو معنی مراد نہ ہو تو اس کا حقیقی معنی شکار کھیلتے پھرنا ہوگا پھر اس پر استہزا کرتا ہے سو شریعت کا استہزا ہے وہ کفر ہے علامہ تفتازانی نے شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے۔ والاستهزاء علی الشریعة کفر لان ذلک من امارات التکذیب۔
(شرح عقائد نسفی مبحث الاستحلال الکفر ص ١٦٧)
اما وہ جو کہتا ہے (کہ آنحضرت ﷺ ازواج مطہرات میں کونسی بی بی کا پہلے انتقال ہوگا سو جو پیشگوئی فرمائی تھی اس پیشگوئی کی اصل حقیقت آنحضرت ﷺ کو بھی معلوم نہ تھی) سو یہ بھی کفر ہے پہلے ہم عوام کی اطلاع کے لیے وہ حدیث دکھلا کے بعد اس کا حکم لکھتے ہیں۔ معلوم کریں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک روز نبی ﷺ ازواج مطہرات کو فرماتے تمھارے میں جس کے ہاتھ دراز ہیں وہ میرے سے اول ملے گی نبی ﷺ کی وفات ہوئی بعد سب بی بیاں اپنے ہاتھ ماپ کر دیکھے تو بی بی سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ سب سے دراز تھے جب زینب کی وفات ہوئی تو سمجھے ہاتھ دراز ہونے سے مراد سخاوت تھی کہ زینب بڑے ہاتھ کی بی بی تھی صدقہ بہت دیا کرتی تھی۔ اس حدیث سے نبی کریم ﷺ کو اس پیشگوئی کی اصل حقیقت معلوم نہ تھی کا مفہوم نہیں ہوتا بلکہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات نے ہاتھ بڑا رہنے سے اس کی ظاہری معنی مراد لے کر کے ابتداء سمجھے پھر جب بی بی زینب رضی اللہ عنہا کی وفات اول ہوئی تب معلوم کیا کہ نبی کریم ﷺ ہاتھ بڑا رہنے سے اس کے مجازی معنی ارادہ فرمائے۔ شیخ جلال الدین السیوطی نے زہرابی میں لکھا ہے۔ قال القرطبی معناه فهمنا ابتداء ظاهره فلما ماتت زینب علمنا انه لم یردد بالید العضو وبالطول طولها بل اراد العطاء وکثرتها فالید ھنا استعارة للصدقة والطول ترشیح لها اور یہ اعتقاد رکھنا ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو علوم اولین و آخرین اور علم ماکان وما یکون کا عطا فرمایا تھا اور آئندہ جو جو واقعات ہونے والے ہیں ان سب کی وحی کر چکا تھا اور نبی کریم ﷺ جو کچھ فرماتے تھے سو وہ بے قصد کے بغیر جاننے کے آپ ﷺ کی زبان مبارک سے نہیں نکل جاتا تھا بلکہ جو کچھ کہہ فرماتے تھے سو وہ حقیقت الحق سے تھا شیخ جلال الدین السیوطی نے ”مصباح الزجاجہ حاشیہ سنن ابن ماجہ“ میں لکھا ہے۔ فانه ﷺ اوحی الیه بجمیع ما یحدث بعده مما لم یکن فی زمنه۔ (سنن ابن ماجہ حاشیہ ٥ ص ٢٩٧) اور ابن حجر مکی نے شرح الہمزیہ میں لکھا ہے۔ وسع علمه ﷺ علوم الاولین الانس والملائکة والجن لان اللہ تعالی اطلعه علی العالم فعلم علم الاولین والآخرین ماکان ومایکون کما
فهو حسبك فى ذلك القران الذى اوتيه ﷺ و مثله معه كما صح عنه وقد قال تعالى مافرطنا فى الكتاب من شئ و يلزم من احاطته ﷺ بالعلوم القرانية ومثلها الذى اوتيه ايضا انه ﷺ احاط بعلوم الاولين والاخرين و ان علومهم مندرجة و منغمرة فى علومه ﷺ اور علامہ زرقانی نے شرح المواہب اللدنیہ میں لکھا ہے۔ قال الامام الغزالی لا يظن ان تقرير النبى ﷺ يجرى على لسانه كيف اتفق بل لا ينطق الا بحقيقة الحق. پھر جو شخص کہ اس مذکور پیشگوئی کی اصل حقیقت آنحضرت ﷺ کو بھی معلوم نہ تھی کر کے نبی کریم ﷺ کی طرف بے علمی کی نسبت کرتا ہے وہ کافر ہے ابن حجر مکی نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے۔ ولاشک ان من اعتقد ان ابن سريج او اجل منه علم علما حقا و جهله النبى ﷺ كان كافرا مهدر الدم لانه مرتد عن الاسلام. اما وہ جو کہتا ہے ( کہ جس قدر حضرت مسیح کے پیشگویان غلط نکلیں اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں اور امور اخبار یہ کشفیہ میں اجتہادی غلطی انبیاء سے بھی ہو جاتی ہے ) یہ بھی کفر ہے کیونکہ نبی کو غلطی کی طرف نسبت کرنا اور انبیاء سے پیشگوئی میں غلطی ہو جاتی ہے کر کے اعتقاد رکھنا کفر ہے۔ شرح عقیدۂ یافعی میں ہے۔ و كذا يكفر من دان بالوحدانية وصحة النبوة و نبوة نبينا محمد ﷺ و لكن جوّز على الانبياء الكذب فيما اتوا به ادعى فى ذلك المصلحة بزعمهم اولم يدعها اور امام علامہ ابو عبداللہ محمد بن یوسف السنوسی نے اپنے عقیدہ میں فرمایا۔ اما الرسل عليهم الصلوة والسلام فيجب فى حقهم الصدق والامانة وتبليغ ما امروا بابلاغه للخلق و يستحيل فى حقهم عليهم الصلوة والسلام اضداد هذه الصفات وهى الكذب والخيانة بفعل شئ مما نهى عنه نهى تحريم او كراهة اور بھی کہا فلا يرتاب فى صدقهم عليهم الصلوة والسلام الا من طبع الله على قلبه والعياذ بالله تعالى.
اما وہ جو کہتا ہے ( کہ جبکہ پیشگوئیوں کے سمجھنے کے بارے میں خود انبیاء سے امکان غلطی ہے تو پھر امت کا کورا نہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے ) یہ بھی کفر ہے کیونکہ اس میں انبیاء سے پیشگوئیوں کے سمجھنے میں امکان غلطی ہے کر کے جو اعتقاد رکھا وہ کفر ہے اس کے سوائے امت کی تضلیل کی وہ بھی کفر ہے۔ شرح عقیدۂ یافعی میں ہے۔ وكذلك نقطع بتكفير كل قايل قال قولا يتوصل به الى تضليل الامة اور ابن حجر مکی نے اعلام میں لکھا ہے۔ ان كل مافيه تضليل الامة يكون كفر.
اما انبیاء اور رسولوں کے وحی میں شیطانی دخل ہو جانے کا دعویٰ کر کے جو کہتا ہے (کہ چار سو نبی جھوٹے نکلے اور دراصل وہ ایک ناپاک روح کی طرف سے تھا نوری فرشتہ کی طرف سے نہیں تھا اور ان نبیوں نے دھوکا کھا کر ربانی سمجھ لیا تھا ) یہ بھی کفر ہے کیونکہ شیطان فرشتہ کی صورت میں آ کے نبیوں کو دھوکا دینا صحیح نہیں پھر ویسا اعتقاد رکھا اس کے سوائے انبیاء کو جھوٹے نکلے کر کے اعتقاد کیا وہ کفر ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ اور علامہ قسطلانی نے مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے۔ و كذلک لا يصح ان يتصور له الشيطان فى صورة الملك و يلبس عليها لا فى اول الرسالة ولا بعدها بل لا يشك النبى ان ماياتيه من الله هو الملك ورسوله حقيقة اما بعلم ضرورى يخلقه الله او ببرهان يظهر لديه.
اما وہ جو کہتا ہے (کہ یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے کہ انا انزلناہ قریبا من القادیان اور واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں ہے ) یہ بھی کفر ہے کیونکہ قرآن شریف میں لفظ قادیان جو موجود نہیں ہے سو اس کو ہے کر کے اعتقاد رکھا جو لفظ قرآن شریف میں بالاجماع نہیں ہے اس کو ہے کر کے اعتقاد رکھنا کفر ہے۔ قاضی
عیاض نے شفا میں لکھا ہے۔ قد اجمع المسلمون ان القران المتلو فى جميع اقطار الارض المكتوب فى المصاحف بايدى المسلمين مما جمعه الدفتان من اول الحمد لله رب العالمين الى آخر قل اعوذ برب الناس انه كلام الله ووحيه المنزل على نبيه محمد ﷺ وان جميع مافيه حق وان من نقص منه حرفا قاصدا لذلك او بدله بحرف آخر مكانه او زاد فيه حرفا مما لم يشتمل عليه المصحف الذى وقع عليه الاجماع واجمع على انه ليس من القران عامدا لكل هذا انه كافر.
(الشفاء قاضی عیاض ص ۲۶۳ طبع مصطفی البابی)
اب ہم اہل اسلام کو معلوم کراتے ہیں کہ جو شخص کہ ایسے دعوے کرتا ہے سو وہ نہ نبی ہے کیونکہ نبوت ہمارے نبی کریم خاتم الانبیاء والمرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو چکی اور نہ مسیح موعود ہے کیونکہ مسیح موعود عیسی بن مریم ؑ ہیں جن پر انجیل نازل ہوئی تھی اور اب آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہو کے شریعت مصطفوی ﷺ پر حکم فرمائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور نہ کوئی اولیاء اللہ سے ہے کیونکہ اولیاء اللہ اس قسم کے شیطانی دعوے نہیں کرتے جس سے شریعت مصطفوی ہدم ہو اگرچہ منصور حلاج وغیرہ بعض اولیاء اللہ سے مثل انا الحق وغیرہ کلمے صادر ہوئے سو اس پر انھوں کسی کو دعویٰ نہیں کیے بلکہ وہ بیخودی میں ہوتا تھا جو شہود حق تعالیٰ ان پر غالب ہو کے اپنے سے غائب ہو جاتے تھے اور بے ساختہ ان کی زبان سے نکل آتے تھے اور وہ اقوال قابل تاویل رہتے تھے اس لیے محققین ان کو معذور رکھے ہیں بلکہ یہ شخص جو کفریات کا زعم کرتا ہے سو اس کے اقوال کسی قسم سے تاویل پذیر نہیں پھر وہ متعدد وجوہ سے شرع شریف کے رو سے مرتد و زندیق و کافر ہے اور مصداق ہمارے نبی کریم محمد ﷺ کی پیشین گوئی کے کہ لاتقوم الساعة حتى تخرج ثلاثون كذابا وفى رواية دجالا كلهم يزعم انه رسول الله (فتح الباری ج ۶ ص ۴۵۴) ان دجالوں میں سے ایک دجال ہے پھر جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر و مرتد ہے اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت حرام ہوتی ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو وطی کرے گا سو وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد پیدا ہوگی وہ ولدالزنا ہوں گے قال فی التنوير والكنز وارتداد احدهما فسخ فى الحال اور بزازیہ میں ہے۔ ولو ارتد والعياذ بالله تحرم امراته و يجدد النكاح بعد اسلامه والمولود بينهما قبل تجديد النكاح بالوطى بعد التكلم بكلمة الكفر ولد زنا اور مفتاح السعادت میں ہے۔ ويكون وطيه مع امراته زنا والولد منهما فى هذه الحالة ولد الزنا وان اتى بكلمتى الشهادة بطريق العادة. اور مرتد بغیر توبہ کے مر گیا تو اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھنا اور اس کو مقابر اہل اسلام میں دفن نہیں کرنا بلکہ بغیر غسل وکفن کے کتے کے مانند گڑھے میں ڈال دینا ہے۔ اشباہ والنظائر میں ہے۔ واذا مات او قتل على ردته لم يدفن فى مقابر المسلمين ولاهل ملة فانما يلقى فى حفرة كالكلب انتهی. اور بحر الرائق میں ہے۔ اما المرتد فلا يغسل ولا يكفن فانما يلقى فى حفره كالكلب. (الاشباه والنظائر ص ۱۰۱ کتاب السیر) چونکہ طالبان حق کی آگہی منظور ہے اس لیے بطور اجمال کے اتنے ہی پر اکتفا کر کے ختم کلام کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس کے نصیب میں توفیق لکھا اس کو کافی ہے۔ وما علينا الا البلاغ المبين وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين و صلى الله على خاتم الانبياء والمرسلين سیدنا و مولانا محمد و اله و صحبه وسلم. مرقوم ۳۰ شعبان ۱۳۱۱ ہجری كتبه عبيد الله بن صبغة الله قاضى الملك بدر الدوله كان الله لهما هذا الجواب صحيح
بلا ارتیاب جزى الله المجيب عنا خير الجزاء الى يوم الحساب ...... احمد على عفا الله عنه
يهدى من يشاء و يضل من يشاء
باعث تحریر ایں مقال و موجب تفصیل ایں اجمال انکہ شخصے قادیانی از نواحی پنجاب خروج کردہ عوام کالانعام را در دام ضلالت انداختہ و خود را مثیل حضرت عیسیٰ بلکہ مسیح موعود شمردہ، دعوےٰ نبوت و رسالت میدارد کہ مرسل خداوند تعالیٰ ام و اشارہ آیت و مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد بطرف خود است و مصداق آیت هو الذی ارسل رسوله بالهدی و دین الحق لیظهره علی الدین کله (الصف ۹) خود را می پندارد و میگوید کہ برخود الہام شدہ کہ انا انزلناه قریبا من القادیان و بالحق انزلناه و بالحق نزل حالانکہ و بالحق آن آیت قرآن مجید است کہ مرجع آن بسوی قرآن است نہ در شان ایں خبیث، بلکہ عبارت بالائے مہمل بآن منضم ساختہ و چوں آنحضرت ﷺ بنص قطعی خاتم النبیین بودند ولا نبی بعدہ در احادیث واقع شدہ وہم نزول فرشتہ و اظہار معجزات وغیرہ امور از لوازم رسالت بودہ است و نیز عیسیٰ ؑ ابرص و اکمہ را تندرست می ساخت و احیای مردگاں می کرد کہ بنص صریح ثابت است و خدائی تعالیٰ او را ببالائے آسمان زندہ برد و در آخر زمان بر منارۂ بیت المقدس نزول خواہد کرد و خروج دجال و قتل او دجال را و امامت مہدی و اقتدای عیسیٰ ؑ و غیر ذلک امور کہ باحادیث متواترہ بہ ثبوت پیوستہ و علمائے امت بران اتفاق کردہ اند ایں ہمہ امور قادح نبوت او بودہ اند پس چارہ ندید بجز انکار ایں ہمہ امور صریحہ قاطعہ از انکہ ختم نبوت بہ آنحضرت ﷺ شدہ و ہیچ معجزہ مثل مسیح از و بظہور نہ پیوستہ ونہ طاقت آن میدارد ونہ دجال خروج کردہ است کہ جنگ از و واقع شود ونہ او از مسجد دمشق فرود شدہ وہم احادیثیکہ اہل سنّت بران استناد و حجت می آرند آنرا بمعنے غلط و دروغ برائے نمایش جہلا پرداختہ و آیاتے را کہ در حق عیسیٰ ؑ دارند وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته. (نساء ۱۵۹) وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم. (نساء ۱۵۸) و یا عيسى انی متوفيك و رافعك الی (آل عمران ۵۵) وغیر ذالک بہ تفسیر و تعبیر دروغ و کذب می پردازد کہ مخالف اقوال سلف است کہ صحابہ و تابعین اند و میگوید روحش پرواز گشتہ و جسدش در زیر زمین مدفون گشتہ و ایں بعینہ اعتقاد یہود و فرقۂ النصاری بودہ پس کسیکہ آنچنین اعتقاد دارد و پیش علمائے حقانی کافر و مرتد است و حکم ارتداد برو جاری میشود و انکہ خود را مثیل مسیح میشمرد و بیشک او مثیل مسیح الدجال است کہ مخبر صادق بآن خبر دادہ كما رواه الشيخان عن ابی هريرة عن النبی ﷺ قال لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريبا من ثلثين كلهم يزعم انه رسول الله.
(مسلم ج ۳ ص ۳۹۷ باب کتاب الفتن)
پس برحکام اسلام و مسلمین و قضاة و مفتیین لازم است کہ بدفع ایں شریر پردازند و آیۂ فیض پیراہ ان الذين فتنوا المؤمنين والمؤمنات ثم لم يتوبوا فلهم عذاب جهنم ولهم عذاب الحريق را نصب العین داشتہ فتنۂ عظیم ایں کس را کہ در میان اہل اسلام انداختہ است دور سازند وما علينا والله اعلم بالصواب واليه المرجع والمآب کتبہ محمد سعید مفتی مجلس عدالت عالیہ حیدر آباد دکن کان اللہ لہ۔
ما استدل عليه بالآيات الصريحة الجلية والاحاديث الشهيرة القوية والنقول المعتمدة السنية احرى بالقبول واليق بالعمل فالازم على الرجل المسئول عنه و اتباعه ان يتوبوا عن سوء اقوالهم و اعتقاداتهم و بالله التوفيق.
كتبه محمود بن صبغة الله كان الله لهما
الجواب صحیح : ہذہ الفتویٰ صحیحۃ بلا ارتیاب کتبہ سید الجواب صحیح : سید محمد علی قادری عفی عنہ ۔ شاہ محمد عفا اللہ عنہ ۔ کتبہ سید عظمت پیران قادری للہ ۔ ہذا الجواب صحیح رد المجیب المصیب اصاب من اجاب ہذا الجواب صحیح احمد محی الدین ۔ میر حیدر علی ۔ کتبہ محمد عبدالقادر عفی عنہ ۔ یہ جواب مطابق مذہب حق کے ہوا الجواب صحیح، الجواب صحیح ہے۔ غلام محی الدین عفی عنہ ۔ علی موسیٰ رضا عفی عنہ ۔ بلا ارتیاب ابوالحسین شہاب الدین احمد ۔ صحیح الجواب الجواب، محمد سلیم قدرت الناصری نشان مہر ۔ نحن نتبع علی ما قال علمائنا جزی اللہ عنا المجیب الفاضل والشیخ الکامل خیر الجزاء کتبہ محمد غوث کان اللہ لہ ۔
**
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
درّہ زاہدیّہ!
بر فرقہ احمدیہ
از
حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینی ؒ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حقیقت حال!
ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
عام مسلمانوں کو یہ بات پوری طرح معلوم ہے کہ اسلام کو جتنا نقصان پہنچانے کی کوشش قادیانی اور احمدی جماعت نے کی ہے اتنی شاید ہی کسی اور جماعت نے کی ہو اور یہ لوگ اپنے اس باطل ارادے میں کچھ حد تک کامیاب ہوئے۔ جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے مذہبی احکام سے پوری واقفیت نہیں رکھتے اور یہ ان کو دھوکہ دے کر اپنا مطلب پورا کر لیتے ہیں۔ مسلمان ان کی ظاہری شکل وصورت، اقوال وافعال پر اعتبار کر لیتے ہیں۔ جس سے ان کو نقصان عظیم اٹھانا پڑتا ہے۔ انہی دھوکہ بازیوں کی ایک چال یہ بھی ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو اپنی لڑکیاں نکاح میں دینا کفر اور بہت بڑا جرم سمجھتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کی لڑکیوں کو نکاح میں لانے کے لیے طرح طرح کے حیلے تلاش کرتے ہیں۔ جس سے غرض مسلمانوں کی بے عزتی اور اپنا جال پھیلانا ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ایک واقعہ دوالمیال ضلع جہلم میں بھی پیش آیا ہے۔ یہ جگہ اس تمام علاقہ میں احمدیوں کا مرکز ہے۔ یہاں پر ان کی تعداد بہ نسبت دیگر مقامات کے زیادہ ہے۔ اور ان کے تعلقات مسلمانوں سے بہت ہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کی لڑکیاں نکاح میں لانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ ادھر مسلمانوں کو کہہ دیا کہ ہم مسلمان ہیں۔ اُدھر احمدیوں کو اپنا عہد نامہ لکھ کر دے دیتے ہیں تاکہ جب تک برسر روزگار نہ ہوئے کام چلاتے رہیں۔ مسلمان ان کے اس ظاہری بیان سے مطمئن ہو جاتے ہیں (جیسا کہ ان کی شریعت کا حکم ہے) مگر بعد میں ان کو ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔ ایسا ہی واقعہ ہوا کہ مسمی مسعود احمد سکنہ موضع مذکور نے سنی لڑکی سے نکاح کیا اور احمدیوں کو عہد نامہ لکھ دیا۔ جس کی اصلی عبارت درج کی جاتی ہے۔
’’میں جب ملازم ہو گیا تو احمدی ہو جاؤں گا اور سسرال کا رشتہ توڑ دوں گا۔ اور قادیان شریف سے شادی کرلوں گا اگر میں احمدی نہ ہوا۔ تو کافر کافر کافر اسی وقت سے ہو جاؤں گا ۔‘‘ اس عہد نامے کی تحریر کا مقصد تو آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ ادھر مسلمان لڑکی جو اس کے نکاح میں ہے وہ بھی نہ جائے اور ادھر احمدیت کا بھی پورا پورا اعتبار باقی رہے۔ اتفاقاً یہ عہد نامہ اس کی بیوی کو مل گیا۔ اس نے جب یہ حالات معلوم کیے تو اپنے رشتہ داروں کے مشورہ کے موجب قانونی اور شرعی دونوں کاروائیاں اس خاوند کے خلاف کیں۔ سرکار انگریزی نے اس کو فسخ نکاح کی ڈگری دے دی۔ اور اس طرح شریعت اسلامیہ نے اس کو فسخ نکاح کا حکم دیا۔ ان دونوں فیصلوں کے بعد اس کی بیوی نے دوسرے مسلمان مرد سے نکاح کر لیا۔ اسی شہر دوالمیال میں مولانا حاجی حافظ سید لال شاہ صاحب خلیفہ حضرت غوث زمان میرٹھی ہیں۔ آپ نے جو اسلامی خدمات انجام دیں وہ اظہر من الشمس ہیں۔ خصوصاً شیعہ
اور مرزائی فرقوں کے خلاف آپ نے نہایت ہی استقلال اور جوانمردی سے مقابلہ کیا۔ اور اسی جہاد فی سبیل اللہ کا نتیجہ ہے کہ باوجود کئی کوششوں اور تدابیر کے اس علاقہ میں قادیانیت ترقی نہ کرسکی اور دوالمیال میں بھی مسلمانوں کی کافی تعداد بحمد اللہ موجود ہے۔ یہ صرف آپ کے وجود مسعود کا فیض ہے۔ احمدی ہمیشہ اس تاک میں رہتے تھے کہ کوئی ایسا معاملہ پیش آئے کہ نہ تو مقابل ہوں اور نہ مدعی ہوں اور جناب شاہ صاحب کو ذلت پہنچے مگر ؎
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
- (۲) ..... ادھر اس لڑکی کا حقیقی بھائی نور الٰہی جس نے بذات خود اس کے فسخ نکاح کی کوشش کی۔ مقدمات کی پیروی
بھی اسی نے کی۔ اور دیوبند وغیرہ مقامات سے فتاویٰ طلب کرنے میں یہی انسان درپیش رہا۔ اس کی خواہش یہ تھی کہ میری بہن میری مرضی کے مطابق شادی کرے۔ مگر والدہ اور دوسرے بھائی اور لڑکی کی مرضی دوسری جگہ پر ہو گئی۔ جس پر اس کے بھائی نور الٰہی نے اس معاملہ کو خراب کرنا چاہا۔ ہمارے اس بیان کی شہادت موضع تترال کے دو معتبر گواہ ہیں جن کا یہ بیان حلفیہ ہے۔ جو نور الٰہی نے ان سے بیان کیا تھا۔
- (۳) ...... جناب شاہ صاحب کے حقیقی بھانجے رفیع الدین شاہ صاحب ہیں جو آپ کے شاگرد بھی ہیں۔ وہ ذاتی
عداوت کی وجہ سے شاہ صاحب کے خلاف موقعہ کی تلاش میں تھے۔ ان تینوں رقیبوں کو موقعہ مل گیا اور خوب دل کھول کر ان کی مخالفت میں ڈٹ گئے۔ علمائے کرام کے پاس دوڑے مگر کوئی مسلمان جس کو رسول کریم ﷺ سے محبت ہو۔ کب احمدی نوازی کر سکتا ہے۔ سب علمائے کرام نے ان کو منہ توڑ جواب دیا۔ مگر جویندہ یابندہ ہے۔ ان کو ایک مولوی صاحب مل گئے۔ جن کا نام نامی کرم الٰہی ہے۔ آپ منڈی بہاؤ الدین کے ہائی سکول میں ٹیچر ہیں۔ انھوں نے ایک دوسرے مولوی صاحب سے جو نکاح خوانوں کے گرد آور ہیں۔ فتویٰ حاصل کیا کہ یہ عہد نامہ قسم ہے (اس کا اقرار ان کی طرف سے ایک عام مجمع میں انسپکٹر پولیس کے سامنے ہوا) مولوی صاحب نے تمام علمائے اسلام کی مخالفت کا بار عظیم بلا سوچ سمجھ کے سر پر اٹھایا یہ دعویٰ کیا کہ یہ نکاح از روئے شریعت فسخ نہیں ہوا۔ چونکہ ہمارے پاس دنیائے اسلام کے بزرگ ترین علمائے کرام کے فیصلے موجود تھے۔ اس لیے ہم کو تو کسی قسم کی تحقیق کی ضرورت نہ تھی لیکن مخالفوں نے یہ شور مچایا کہ ہم مولوی صاحب کو لائیں گے جو اس نکاح کو توڑ کر لڑکی ہمارے حوالہ کر دیں گے۔ اس لیے ہم نے مسلمانوں کے زیادہ اطمینان کے لیے جناب مولانا الحاج القاضی محمد زاہد الحسینی زید مجدہم کو جلسہ میں تشریف لانے کی دعوت دی۔ آپ نے اس کام کو فی سبیل اللہ سمجھ کر ہماری دعوت کو قبول فرمایا اور ۲۹ جون (۱۹۴۰ء) کو تشریف لائے۔
مختصر کیفیت مناظرہ
یکم جولائی (۱۹۴۰ء) تاریخ مناظرہ مقرر تھی۔ مخالفین کے مولوی صاحب کا انتظار رہا۔ آپ بمشکل تمام تقریباً گیارہ بجے دوالمیال تشریف لائے چونکہ اس معاملہ کی اصلی کیفیت جناب آغا صاحب انسپکٹر پولیس کو معلوم تھی۔ اس لیے انھوں نے فریقین سے اپنے اپنے دلائل طلب کیے۔ ہماری طرف سے تمام دلائل اور فتاویٰ پیش کیے گئے۔ جن کو فریق مخالف کے رکن اعلیٰ شاہ رفیع الدین صاحب نے اپنے قلم سے لکھ کر دیوبند و دیگر مقامات سے منگوایا تھا۔ اور اس کا اقرار تمام مجمع کے سامنے انھوں نے کیا، مخالفین کے استفتاء کی عبارات بالکل بدلی ہوئی تھیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل اور کار آمد فتویٰ موجود نہ تھا۔ انسپکٹر صاحب نے پوری حقیقت معلوم کر لی۔ آخر
مناظرہ چار بجے سے شروع کر دیا گیا۔ تمام مسلمان اس مسجد میں جمع ہوئے جس میں سوائے اہل اسلام کے اور کسی کا دخل نہ تھا۔ اس میں صرف اللہ کی عبادت اور اس کے سچے رسول کی اطاعت کی جاتی تھی۔ مگر مخالف پارٹی نے ”کند ہم جنس با ہم جنس پرواز“ پر عمل کیا اور اس مسجد میں جا پہنچے کہ جہاں احمدیوں کا کافی قبضہ ہے اور وہ اسی مسجد میں خدا کے سچے رسول کے حکم کو ٹھکرا کر بناوٹی رسول کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ شاید مسلمان اس مسجد میں نہ آئیں گے۔ مگر ہم اس حقیقت کو روشن کرنے کے لیے وہاں چلے گئے اور توحید خداوندی اور رسالت خاتم الانبیاء کے نعرے لگاتے ہوئے اسی مسجد میں جہاں قادیانی مولوی صاحب کو گھیرے ہوئے بیٹھے تھے۔ مناظرہ شروع کر دیا گیا۔ موضوع مناظرہ یہ تھا کہ عہد کنندہ اسی وقت سے خارج از اسلام ہوا یا نہ؟ ہمارے فاضل محترم نے اپنی خداداد قابلیت اور نور ایمان کو واضح و ثابت کر دیا کہ عہد کنندہ اسی وقت سے خارج از اسلام ہو گیا۔ فریق مخالف نے یہ دعویٰ کیا کہ الفاظ مذکورہ قسم ہیں۔ جن سے کفارہ ادا کر کے نہ طلاق ہوتی ہے اور نہ کفر لازم آتا ہے، مگر مولانا حسینی نے اس موضوع کو اس طرح صاف کر دیا کہ تمام مسلمانوں کے ذہن نشین ہوا اور حق باطل پر غالب آیا۔ فریق مخالف کے مولوی صاحب کی جو حالت میدان مناظرہ میں ہوئی۔ اس کو مختصراً درج کیا جاتا ہے۔
- (١)...... مولوی صاحب جب اثبات مدعیٰ کے لیے کھڑے ہوئے تو اتنی ہیبت آئی کہ بسم اللہ نہ پڑھ سکی قاضی
صاحب نے رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی کل امرذی بال لم یبدم ببسم اللہ فھو ابتر پڑھ کر بسم اللہ نہ پڑھنے کی وجہ طلب کی آخر لاجواب ہو کر غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے بہ آواز بلند بسم اللہ پڑھی یہ پہلی ہار تھی۔
- (٢)...... شرح وقایہ کے متعلق بتلایا کہ یہ مولوی عبدالحئی صاحبؒ کی تصنیف ہے۔
- (٣)...... تسلیم کر لیا کہ ارادۂ کفر سے کافر ہو جاتا ہے۔
- (۴)...... مان لیا کہ احمدی کافر ہیں۔
- (۵)...... فقہ حنفی کی مشہور کتاب جامع الفصولین کا نام جامع الفصول بتلایا۔
- (۶)...... تعلیق الکفر بامر اور تعلیق الامر بکفر کا فرق نہ بتلا سکے۔
حقیقت میں مناظرہ ہی کیا تھا ایسے فاضل نوجوان محقق مفتی علامہ کے مقابلہ میں بچوں کا ٹیچر کیا تاب لا سکتا ہے۔ مخالفین کو سخت ندامت اور رسوائی ہوئی۔ اگرچہ یہ مسئلہ صاف تھا۔ مگر ہم نے اس خیال سے کہ تمام مسلمانوں کو ان کے فتنہ سے آگاہ کیا جائے تاکہ کوئی مسلمان اپنی لڑکی ان کو نکاح میں نہ دے۔ جناب قاضی صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ آپ اس عنوان پر جامع مانع ایک رسالہ تحریر فرمائیں۔ الحمد للہ! کہ آپ نے ہماری التجا کو قبول فرما کر اپنے علمی انداز میں رسالہ تحریر فرمایا۔ یہ جو کچھ میں نے عرض کیا لفظ بہ لفظ درست ہے۔ وَاللّٰهُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ فقط (عبدالحق شاہ)
مسئلہ ارتداد کی مختصر کیفیت
ایک مسلمان کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ وہ کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو مگر تاہم اس کو مسلمانی صفت سے موصوف سمجھا جاتا ہے۔ کوئی گناہ کرنے سے اس کا ایمان زائل نہیں ہوتا۔ مگر ارتداد ایک ایسا جرم ہے کہ جس کے کرنے سے وہ اسلام سے بالکل نکل جاتا ہے اور اس کی مغفرت ہرگز نہیں ہو سکتی۔ وہ کسی مسلمان کا دائرہ اسلام سے نکل جانا ہے جس کو مرتد کہتے ہیں۔ یعنی جب کوئی مسلمان اسلام سے نکل جانے کا ارادہ کرتا ہے۔ وہ اسی وقت اسلام سے نکل جاتا ہے اور اس کا وجود اس حد تک نجس ہو جاتا ہے کہ اسلامی شریعت میں اس کی سزا قتل ہے۔
یعنی اگر مسلمان بادشاہ ہو تو ایسے انسان کو جو اپنے مقدس اور برتر مذہب کو چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کر لیا ہو۔ قتل کرنے کا حکم ہے اور اس کی عورت اس سے جدا ہو جائے گی۔ اس کے سب کام برباد اور ضائع ہوں گے اور وہ ایسا ہو گیا کہ اس نے کوئی نیکی کی ہی نہ تھی۔ قرآن کریم میں یہ احکام مفصل طریقہ پر موجود ہیں۔ مرتد کی بہت سی اقسام ہیں جس کی مشہور اقسام درج ذیل ہیں۔
(۱)...... زمانہ قریب یا بعید میں کفر کا ارادہ کرے۔ (۲)...... اپنے مذہب میں شک کرے۔ (۳)...... اپنے کافر ہونے کو کسی شرط پر دل میں خیال رکھے۔ (۴)...... زبان سے کافر ہونے کو کسی کام پر مشروط اور موقوف رکھے۔ (ارشاد العباد ص ۴) میں یہ مفصلاً موجود ہے (لاہوری اور قادیانی) یہ دو مشہور فرقے ہیں۔ لاہوری مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد مانتے ہیں۔ اور قادیانی اس کو نبی مانتے ہیں۔ قادیانی تو اس لیے کافر ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد مرزا کو نبی تسلیم کرتے ہیں اور لاہوری اس لیے کافر ہیں کہ وہ ایک کافر انسان کو مجدد مانتے ہیں، جس کو مسلمان ماننا بھی کفر ہے بہر حال تمام دنیا کے مسلمانوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ مرزائی خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی وہ اسی طرح کافر ہیں جس طرح یہودی، عیسائی، آریہ، مجوسی کافر ہیں۔ لہٰذا جو شخص اسلام کو چھوڑ کر احمدی ہوا۔ وہ اسی طرح مرتد ہے جیسا کہ اسلام کو ترک کر کے عیسائی ہوا۔ زیرا کہ کفر تمام ایک ہی ملت ہے۔ الکفر ملۃ واحدۃ (شامی) خصوصاً احمدی تو مسلمانوں کو بہت ہی برا کہتے ہیں۔
مسلمانوں کے متعلق احمدیوں کا حکم
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کچھ حالات ان کے احکام کے درج کر دوں جو مرزائیوں، احمدیوں کی طرف سے مسلمانوں کے متعلق صادر ہوتے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگانا درست ہو جائے کہ کسی احمدی کو لڑکی دینا سخت بے غیرتی، بے ایمانی بلکہ خلاف انسانیت کام ہے۔
(۱)...... ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا) کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے خواہ انھوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ۳۵)
(۲)...... ”جو شخص غیر احمدیوں کو رشتہ دیتا ہے۔ وہ یقیناً مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کوئی غیر احمدی ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر تم سے اچھے ہیں کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔“
(ملائکۃ اللہ ص ۴۶)
(۳)...... ”غیر احمدی تو حضرت مسیح ؑ کے منکر ہوئے۔ اس لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔ ایسے سوال کرنے والے سے میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہ درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔“
(انوار خلافت ص ۹۱)
ان بیانات سے ظاہر ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی امت کا مرتبہ اس ملعون قوم کے ہاں صرف کافر، عیسائی، ہندو جیسا ہے۔ اور ان کے نابالغ بچے بھی کافر ہیں۔ تو لعنت ہے اس انسان پر جو مسلمان کہلا کر احمدیوں سے نکاح کرے اور نکاح کو جائز سمجھے۔ وہ دراصل زنا کو حلال کہتا ہے۔
اصلی مقصد کی تفصیل
چونکہ ہمارا اصل مدعا تو یہ تھا کہ مسمی مسعود احمد نے جب کفر کا ارادہ کر لیا وہ اسی وقت سے کافر ہو گیا۔
لہٰذا اب ہم ضروری تمہید بیان کرنے کے بعد اصل مسئلہ پر بحث کرتے ہیں۔
ارادہ کفر کا حکم چونکہ اسلام ایک نہایت ہی مقدس اور اعلیٰ مذہب ہے۔ اس لیے اگر ایک انسان کسی وجہ سے یا بلاوجہ اس کو چھوڑنے کا ارادہ کرے تو وہ اسی وقت سے کافر ہو جائے گا۔ زیرا کہ اس نے اسلام جیسی نعمت عظمیٰ کو ایک ہلکا سا کام سمجھا اور یہی کفر کی اصلی علت ہے۔ (شامی جلد ۳ ص ۳۹۳) میں ہے کہ کفر کی اصلی وجہ تو جھٹلانا یا ہلکا سمجھنا ہے۔ ان مناط التکفیر ھو التکذیب او الاستخفاف، لہٰذا وہ انسان اسی وقت سے کافر ہو جائے گا۔ یہ مسئلہ تمام کتب اسلامیہ میں موجود ہے۔ مثلاً حدیث پاک کی مشہور کتاب (مشکوٰۃ شریف کی مستند شرح مظاہر حق جلد سوم ص ۲۷۱) میں ہے۔ فقہ اسلامی کی مشہور کتاب (خلاصۃ الفتاویٰ جلد نمبر ۴ ص ۳۸۲) میں ہے۔ اذا عزم الکفر ولو بعد مائۃ سنۃ یکفر فی الحالہ (ترجمہ) جس نے کافر ہونے کا ارادہ کیا اگرچہ سو برس کے بعد وہ فی الحال کافر ہو گیا۔
میں بوجہ رسالہ کے مختصر ہونے کے ان کتابوں کے نام معہ جلد و صفحہ کے نیچے درج کرتا ہوں۔ جس کا جی چاہے ان کو دیکھ لے۔ احقر کے پاس سب کتابیں موجود ہیں۔
- (۱)...... فتاویٰ عالمگیری المعروف بہ فتاویٰ ہندیہ جلد دوم ص ۸۸۹۔
- (۲)...... ردالمحتار المعروف شامی جلد سوم ص ۶۵۔
- (۳)...... غایۃ الاوطار شرح درمختار جلد دوم ص ۵۱۴۔
- (۴)...... بحرالرائق شرح کنز الدقائق جلد پنجم ص ۱۲۳۔
- (۵)...... طحطاوی شرح درمختار جلد دوم ص ۲۷۷۔
- (۶)...... سیر الفقیہ ص ۱۴۴۔
- (۷)...... جامع الفصولین جلد دوم ص ۳۱۴۔
- (۸)...... دستور القضاۃ ص ۱۳۱۔
- (۹)...... مالا بدمنہ فارسی ص ۱۷۴
- (۱۰)...... عقائد الاسلام ص ۲۵۴۔
ان کتابوں کے سوا دیگر تمام اسلامی کتابوں میں یہ مسئلہ صاف طریقہ پر موجود ہے کہ جو شخص کافر ہونے کا ارادہ کرے وہ اسی وقت سے کافر ہو جاتا ہے اور اس کی عورت اس پر طلاق ہو جاتی ہے۔
کلمات کفر کہنے کا حکم چونکہ اسلام اور کفر بلکہ تمام امور طلاق، نکاح، بیع، شراء، اطاعت، نافرمانی وغیرہا امور کا تعلق صرف زبان ہی سے ہے۔ اس کی وجہ سے انسان مسلمان بھی ہوتا ہے اور اسی سے کافر بھی ہوتا ہے جس پر دلیل لانے کی ضرورت نہیں۔ لہٰذا اگر ایک انسان نے کفر کا کلمہ زبان سے بکا تو وہ کافر ہو جائے گا اور اس پر کفر کے تمام احکام نافذ کر دیے جائیں گے۔ (جامع الفصولین جلد دوم ص ۲۹۷) میں ہے۔
"ومن کفر بلسانہ طائعاً و قلبہ مطمئن بالایمان کفر ولا ینفعہ مافی قلبہ اذ الکافر انما یعرف بنطقہ فلما نطق بکفر کفر عندنا و عند اللہ تعالیٰ۔"
ترجمہ: "اور جو بلا کسی جبر کے زبان سے کفر بکے اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو۔ تو کافر ہو جائے گا۔ اسے دل کی بات نفع نہ دے گی۔ زیرا کہ کافر تو زبان ہی سے پہچانا جاتا ہے۔ پس اگر کفر سے بولا تو ہمارے اور اللہ کے ہاں کافر ہے۔"
اعتراضات
اگرچہ اتنی مفصل اور مدلل بحث کے بعد کسی مسلمان کو اس امر میں شک نہیں ہو سکتا کہ کفر کا کلمہ کہنے سے اور ارادہ کفر کرنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ خواہ صرف زبان سے کلمہ کفر کہے یا مدت کے بعد کافر ہونے کا ارادہ کرے۔ مگر وہ انسان جو ضدی اور متعصب ہو وہ اس کے خلاف صدا بلند کرتا ہے۔ چونکہ ہم کو صرف تحقیق حق مقصود ہے۔ اس لیے ہم ان اعتراضات کو بھی تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ جو اس مسئلہ پر وارد ہو سکتے ہیں اور پھر ان کے دندان شکن جواب ذکر کرتے ہیں۔ تاکہ مسلمانوں کو زیادہ واقفیت ہو اور مخالفین کو اپنی نا قابلیت کا پتہ چل جائے۔ وہ اعتراضات یہ ہیں۔
- (۱)...... یہ مشہور اور مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب ایک انسان میں ایک کم سو کام ایسے ہوں جن سے کفر لازم آتا ہو اور
صرف ایک کام اسلام کا ہو تو وہ مسلمان ہی رہے گا۔ اس کے کفر سے احتراز لازم ہے۔
- (۲)...... جو عبارات نقل کی گئی ہیں۔ یہ صرف ایک قول ہے۔ علماء کا فتویٰ اس پر نہیں ہے۔
- (۳)...... زبان سے اگر کفر کا کلمہ کہے۔ مگر جب دل میں اسلام ہے تو وہ مسلمان ہی رہے گا۔
- (۴)...... اگر واقعی انسان کفریہ کلمات کہنے سے کافر ہو جاتا ہے تو اس کو تجدید اسلام کے بعد تجدید نکاح کافی ہے۔
- (۵)...... فسخ نکاح کے لیے قاضی اسلام کی قضاء شرط ہے۔
- (۶)...... عہد نامہ مذکورہ میں یہ الفاظ کہ ”اگر میں احمدی نہ ہوا تو کافر ہو جاؤں گا ۔“
یہ الفاظ قسم ہیں اور قسم میں کفارہ دے دینا کافی ہے۔ کفر لازم نہیں آتا۔
یہ وہ مشہور اعتراضات ہیں جو کم علمی یا ضد کی وجہ سے اس مسئلہ پر وارد ہو سکتے ہیں۔ ان کے جوابات بھی تفصیل وار ملاحظہ فرمائیں۔
جوابات
- (۱)...... اس جواب کو سمجھنے کے لیے ایک تمہید کا سمجھنا ضروری ہے وہ یہ کہ علامات کفر اور کفریہ کام اور چیز ہے اور
کلمات کفر کا کہنا یہ شئے دیگر ہے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ ایک شخص شراب پیتا ہے۔ زنا کرتا ہے، جوا کھیلتا ہے، بے نماز ہے، زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، جھوٹ بولتا ہے وغیر ہا کئی ایسے امور کرتا ہے۔ جو کفر کی علامات ہیں۔ مگر وہ اسلام کے خلاف زبان سے حرف تک نہیں نکالتا بلکہ اسلام کو سچا مذہب جانتا ہے۔ اور برے کام کو برا ہی سمجھتا ہے۔ تو ایسے شخص کو کافر نہ کہا جائے گا بلکہ مسلمان ہی رہے گا۔ اس کے برخلاف ایک دوسرا انسان ہے جو نماز پڑھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے، ڈاڑھی رکھتا ہے، قرآن کریم پڑھتا ہے، مگر وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی اور انسان کو بھی نبی مانتا ہے۔ یا زنا یا شراب وغیر ہما اور حرام کو حلال جانتا ہے۔ تو ان صورتوں میں وہ اسی وقت کافر ہو جائے گا اسی کو لزوم کفر اور التزام کفر کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لزوم کفر کی صورت پہلی اور التزام کفر کی دوسری صورت ہے۔ بہر حال جب ایک انسان نے اپنی زبان سے کفر کا کلمہ کہا تو وہ کافر ہو جائے گا۔ اگر چہ اس کی نیت نہ ہو۔ الا اذا صرح بارادة موجب الکفر فلا ینفعہ التاویل حینئذ (شامی جلد ۳ ص ۲۹۳) مگر جب اس نے کفر کو واجب کرنے والے ارادہ کو ظاہر کیا تو اب تاویل نفع نہ دے گی (ترجمہ) اسی طرح بحر الرائق شرح کنز الدقائق و فتاویٰ عالمگیری جلد دوم ص ۳۰۳ وغیر ہما میں ہے۔
- (۲)....... یہ مسئلہ تمام علمائے کرام کے ہاں متفق علیہا ہے۔ آج تک کسی عالم دین محقق نے اس میں اختلاف نہیں کیا
بلکہ آج بھی تمام علماء اسلام اسی پر حکم دے رہے ہیں۔ من تکلم بكلمة الكفر هازلاً او لا عبا كفر عند الكل ( شامی جلد سوم ص ۳۹۳ اور خلاصۃ الفتاویٰ جلد چہارم ص ۳۸۳ اور کتاب مطالب السنیہ ص ۶۸) وغیر ہا کتب اسلام میں یہ مسئلہ مصرحاً موجود ہے۔
- (۳)......صرف قول ہی پر سب کاموں کا دار و مدار ہے کفر، ایمان، نکاح، طلاق وغیر ہا تمام امور موقوف ہیں۔
اعتقاد میں ان کا کوئی دخل نہیں جو انسان کفر کا کلمہ منہ سے نکالتا ہے۔ وہ اسی وقت کافر ہو جاتا ہے۔ اس سے نیت وغیر ہا کا سوال نہ کیا جائے گا اگر وہ اپنے ارادے اور نیت کے متعلق یہ کہہ دے کہ میری نیت تو کافر ہونے کی نہ تھی۔ لیکن اس کا ہرگز اعتبار نہ ہوگا۔ قاضی اس بات کو نہ مانے گا اور اس پر حکم کفر دے دے گا۔ یہ مسئلہ بھی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ علامہ (شامی جلد سوم ص ۳۹۳) میں فرماتے ہیں۔
والحاصل ان من تکلم بکلمة الکفر هازلاً او لاعبا کفر عندالکل ولا اعتبار باعتقاده.
(جامع الفصولین جلد دوم ص ۲۹۷) اذا اراد ان یتکلم بکلمة مباحة فجرى علی لسانه کلمة الکفر خطاء بلا قصد لا یصدقہ القاضی.
(شامی ج ۳ ص ۳۹۹)
حاصل یہ کہ جو شخص ہازلاً یا لاعباً کلمہ کفر کہے وہ سب علماء کے نزدیک کافر ہو جاتا ہے اور اس کے اعتقاد کا اعتبار نہیں۔ اور (کتاب المطالب السنیۃ ص ۶۸ و عالمگیری) وغیر ہما میں ہے جب کسی نے ایک مباح بات کرنے کا ارادہ کیا تو اس کی زبان پر غلطی سے کفر کا کلمہ جاری ہو گیا۔ قاضی اس کو سچا نہ سمجھے گا۔
الغرض اسی زبان سے انسان کہاں جا پہنچتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی زبان کو محفوظ رکھے۔ استاذ کامل علامہ دمیاطی نے بطور نصیحت کے ارشاد فرمایا ہے کہ و بالجملة فباب المكفرات واسع جداً فليتأمل الانسان فما يريد ان يقوله قبل قوله ولا يطلق لسانه فى الكلام فانه، من اكبر اعدائه.
(نہایت الامل ص ۳۷۳)
- (۴)...... واقعی یہ درست ہے کہ اگر مرتد اسلام لائے تو وہ دوبارہ نکاح اس عورت سے کر سکتا ہے مگر اس میں ایک
ضروری شرط ہے۔ وہ یہ کہ اگر اس عورت کی رضاء ہو تو دوبارہ نکاح کر سکتا ہے ورنہ اس عورت کی رضا مندی نہ ہونے پر اس سے دوبارہ نکاح جائز نہیں اور اس کو مجبور نہ کیا جائے بلکہ جہاں اس عورت کی مرضی ہو نکاح کر سکتی۔ (خلاصۃ الفتاویٰ جلد چہارم ص ۳۸۳) میں ہے۔
ولا تجبر المرأة علی ان ترجع الیه حتى یتزوجها (ترجمہ) اور عورت کو اس لیے مجبور نہ کیا جائے کہ اس کے ساتھ نکاح کرے۔
اسی طرح (جامع الفصولین جلد دوم ص ۳۱۷ اور شامی جلد نمبر ۳ ص ۴۱۴ و اشباہ والنظائر ص ۲۶۲) وغیر ہا کتابوں میں مفصلاً موجود ہے۔
- (۵)...... چونکہ اسلام کو ترک کر دینا ایک بہت ہی بڑا جرم ہے۔ لہٰذا اس کے بعد اس کی عورت اس پر فوراً حرام ہو
جاتی ہے۔ اس میں قاضی کی قضاء کی ہرگز ضرورت نہیں۔ بلا قاضی کے بھی جدا ہو جائیں گے۔
منها ان الردة احد الزوجين توجب البينونة بينهما في الحال بدون قضاء القاضی خاوند بیوی میں اس کے مرتد ہونے پر فی الحال جدائی واجب ہو جاتی ہے۔ اس میں قضاء قاضی کی ضرورت نہیں۔
(خلاصۃ الفتاویٰ جلد چہارم ص ۳۸۳ اور جامع الفصولین جلد دوم ص ۳۱۷)
(۶)...... یہ اعتراض مخالفین کے پاس سب سے بڑا ہتھیار تھا۔ ان کے مولوی صاحب نے اسی کو بار بار پیش کیا کہ یہ قسم ہے۔ اور قسم کا کفارہ دے دینا کافی ہے۔ لہٰذا میں اس کو ذرا تفصیل سے بیان کرتا ہوں۔
پہلا جواب...... اس جواب کو سمجھنے سے پہلے ایک تمہید کا جاننا ضروری ہے کہ یہاں تین باتیں ہیں۔ ایک تعلیق الامر بکفر دوسرا تعلیق الکفر بامر تیسرا تعلیق الکفر بکفر پہلی کلام کا مطلب یہ کہ ایک آدمی اپنے کسی کام کو کفر پر معلق کر دے مثلاً اس نے کہا میں ضرور کوہاٹ جاؤں گا اگر نہ گیا تو کافر ہوں گا۔ اس میں اس نے اپنے کوہاٹ جانے کو کفر پر معلق اور مشروط کر دیا ہے۔ ظاہر ہے ایسے کلام کرنے والا کا مدعا صرف اپنے بیان کی پختگی بیان کرنا ہوتا ہے کہ میں کوہاٹ ضرور جاؤں گا۔ دوسری کلام کا مطلب یہ کہ ایک آدمی اپنے کافر ہونے کو کسی کام پر معلق اور مشروط رکھے۔ مثلاً اس نے کہا اگر کل بارش ہوئی تو میں کافر ہو جاؤں گا۔ یا جیسا کہ مسعود احمد نے کہا جب میں ملازم ہوا تو احمدی ہو جاؤں گا ان کلاموں میں مقصود تو کافر ہونا ہے۔ مگر فی الحال نہیں۔ اس نے کافر ہونے کو ایک شرط پر موقوف کر دیا ہے۔ ایسی صورت میں وہ اسی وقت کافر ہو جائے گا۔ خواہ وہ کام ہو یا نہ ہو۔ لہٰذا مسمی مسعود کی یہ کلام اسی قسم سے ہے وہ اسی وقت کافر ہو گیا۔ ان كان كذا كفرت كفر فی تلک الساعة (ترجمہ) اگر یہ کام ہوا تو میں کافر ہو جاؤں گا اسی وقت کافر ہو جائے گا۔ کتاب (سیر الفقیہ ص۱۴۲ اور جامع الفصولین جلد دوم) وغیرہا میں موجود ہے۔
تیسری کلام کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے کافر ہونے کو کفر پر معلق کرے۔ مثلاً مسعود احمد نے کہا کہ میں اگر احمدی نہ ہوا تو کافر ہو جاؤں گا۔ اس کلام میں اس نے اپنے کافر ہونے کا ارادہ کیا۔ اس طرح اس کی تاکید کی اور اپنے ارادہ کو پختہ کر دیا کہ اگر وہ احمدی نہ ہوتا تو کافر ہوگا یعنی ضرور کافر ہوگا۔ ہرگز وہ احمدیت کو نہ چھوڑے گا۔ یہ اس عہد نامے کی دوسری جزو ہے جو مسمی مسعود احمد نے لکھا ہے پس اگر وہ احمدی ہوا تب بھی کافر اور اگر احمدی نہ ہوا تب کافر ہوا بالکل صاف مطلب ہے۔ یہ عہد نامہ درحقیقت اس کے کفر کی سند ہے۔ قسم وغیرہ ہرگز نہیں۔
دوسرا جواب...... اگر اس عہد نامہ کا پہلا حصہ دیکھا جائے تو معاملہ بالکل صاف ہے کہ اس نے عہد کیا ”جب میں ملازم ہوا تو احمدی ہو جاؤں گا ۔“ اس میں صاف طور کفر کا ارادہ موجود ہے۔ یہ قسم وغیرہ نہیں۔ اسی وجہ سے مخالفین کے مولوی صاحب نے بھی اس کو ہاتھ نہیں لگایا حالانکہ تمام کلاموں کو جب تک اول سے آخر تک نہ دیکھا جائے گا۔ معنی معلوم نہ ہو سکے گا۔ مولوی صاحب نے آخری جزو کو لیا جو ہمارا عین مدعا تھا۔ بہرحال یہ کلام چونکہ ارادہ کفر پر دلالت کرتی ہے۔ لہٰذا اسی وقت کافر ہو گیا۔
تیسرا جواب...... یہ آخر جملہ قسم نہیں ہو سکتا۔ زیرا کہ قسم کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ قسم اٹھانے والا مسلمان ہو۔ اگر کافر نے قسم اٹھائی تو لغو اور باطل ہو جائے گی جب مسعود نے یہ کہا کہ میں جب ملازم ہوا کافر ہو جاؤں گا۔ اس کلام کے کہنے سے وہ اسی وقت کافر ہو گیا۔ اب اگر تھوڑی دیر کے لیے اس کی آخری کلام کو قسم مان بھی لیا جائے تو وہ لغو اور باطل ہو جائے گی۔ زیرا کہ وہ تو کافر ہو چکا ہے اور کافر کی قسم مقبول نہیں۔ قسم اٹھانے والے کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔ و شرطها الاسلام قسم کی شرط اسلام ہے۔
(درمختار ص ۲۵۶)
جب وہ قسم ہی نہیں ہوئی تو اب کفارہ وغیرہ کا کیا ذکر ہے۔ اسی طرح (شرح وقایہ ص ۱۵۱) میں ہے۔
لا كفارة فی حلف كافر (ترجمہ) کافر کی قسم میں کفارہ نہیں ہوتا۔ مطلب یہ نکلا کہ اسلام قسم کے لیے ابتداءً اور بقاءً دونوں حالتوں میں شرط ہے۔ فالاسلام شرط انعقادھا و بقائھا (شامی جلد۳ ص ۴۷) جب وہ مسعود مسلمان
ہی نہ رہا تو اب قسم وغیرہ باطل اور لغو ہو گئی اور وہ پہلی ہی کلام سے کافر ہو گیا۔ اس کی عورت اس پر طلاق ہو گئی۔
ضروری مسئلہ...... چونکہ ماں باپ کی نافرمانی اور ان کی بے عزتی کرنا اپنے استاذ کی مخالفت کرنا آج کل بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ یہاں اس کتاب میں ان کے متعلق ضروری احکام درج کیے جائیں۔ جیسا کہ ضرورت واقع ہے۔ قرآن کریم نے ماں باپ کی اطاعت کو تاکیداً فرمایا ہے۔ اسی طرح جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی ماں کی عزت اور اطاعت کو نہایت ہی شدت سے لازم دیا۔
- (۱)...... ایک شخص نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ والدین کا اولاد پر کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا وہ
تیرے لیے جنت بھی ہیں اور دوزخ بھی۔ (۲)...... حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جسے میں بہت دوست رکھتا تھا اور میرے والد حضرت عمرؓ اس سے ناراض تھے انھوں نے مجھے اس کو طلاق دینے کے لیے کہا اور میں نے انکار کر دیا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر یہ واقعہ بیان کیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو۔
- (۳)...... ماں باپ کے فرمانبردار کے لیے جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اور نافرمان کے لیے دو دروازے
دوزخ کے کھل جاتے ہیں۔ اگر چہ وہ اس پر ظلم کریں۔ کتب اسلام میں صاف موجود ہے۔ ماں باپ یا ان میں سے ایک کا نافرمان ہونا بہت بڑا گناہ ہے۔ اس کا کوئی عمل مقبول نہیں۔ اسی سے استاذ کے نافرمان کا حکم بھی معلوم ہو گیا۔ زیرا کہ استاذ کا مرتبہ تو والد کے مرتبہ سے زیادہ ہے (دُرر غرر) ایسے شخص کے متعلق شریعت اسلام کا حکم یہ ہے کہ وہ فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی ہے۔ جس کا پھر دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ یہ مسئلہ کتاب الزواجر اور شامی میں موجود ہے بلکہ بعض نے تو عاق کے متعلق یہ حکم دیا ہے کہ اس کا یہ گناہ اتنا بڑا ہے کہ توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتا۔ جیسا کہ فتاویٰ برہنہ میں موجود ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو ایسے آدمیوں کے متعلق غور سے کام لینا چاہیے۔
الاستفتا بحضراۃ العلماء
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء اسلام اور مفتیان دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مسمی مسعود احمد نے اپنے ایک معاہدہ میں تحریر کیا ہے کہ اگر میں برسر روزگار ہو گیا تو میں قادیانی مذہب اختیار کر لوں گا اگر وہ مذہب اختیار نہ کروں تو میں کافر کافر کافر۔ اور اب مسعود برسر روزگار ہے۔ کیا اس صورت میں مسعود کی منکوحہ جو بوقت معاہدہ منکوحہ تھی۔ پر کچھ اثر پڑتا ہے یا نکاح بحالہ قائم ہے۔ بینوا توجروا.
الجواب...... قادیانی مذہب باجماع علماء امت کفر ہے اور کفر کے متعلق یہ کہنا کہ اگر فلاں کام ہو گیا تو میں کفر اختیار کر لوں گا۔ اس کلمہ سے کہنے والا اسی وقت کافر ہو جاتا ہے۔ خواہ وہ کام ہو یا نہ۔ اور اس مذہب کو اختیار کرے یا نہ کرے۔ لما فی القنیہ باب مایکفر بہ الانسان من کتاب السیر ان کان کذا کفرت، کفر فی تلک الساعۃ ولو قال وعنی اصیر کافرا لوقال اعتدنی کافرا او انا کافر کفرُ.
(ص۱۴۴)
اور جبکہ کہنے والا کافر ہو گیا۔ تو اس کا نکاح فسخ ہو گیا۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
ضروری نوٹ...... یہ فتویٰ فریق مخالف نے منگوایا ہے جو تترال سے بھیجا گیا ہے۔ جس میں اس فریق کے معاون جماعت رہتی ہے۔ جناب شاہ رفیع الدین صاحب نے تمام مجمع میں اس امر کا اعتراف کیا کہ یہ فتویٰ میں
نے خود منگوایا ہے۔ اور مسعود احمد کے عہد نامہ کو میں نے خود دیکھا ہے جو بالکل اس استفتاء سے ملتا جلتا ہے۔ اے مسلمانو! اس سے زیادہ ہماری صداقت کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ مخالف خود اس نکاح کو توڑانے کے اصلی مباشر تھے اور اب ضد کی وجہ سے مقابلہ کرتے ہیں۔ خدا ان کو ہدایت بخشے۔
مولانا محمد یوسف صاحب مدرسہ مولانا الحاج الحافظ محمد کفایت اللہ مولانا الحاج مفتی محمد شفیع صاحب مفتی امینیہ دہلی صاحب مفتی اعظم دہلی دارالعلوم دیوبند
(علمائے صوبہ سرحد)
مولانا عبدالعزیز صاحب۔ فاضل مولانا سید عبداللہ شاہ صاحب مدیر مولانا سید مبارک شاہ صاحب دیوبند اخبار ”الفلاح“ گیلانی۔ فاضل دیوبند مولانا سید حبیب شاہ صاحب مولانا سید محمد ایوب صاحب مدرس پشاور بنوری۔ فاضل دیوبند
(علمائے ضلع جہلم)
مولانا احمد دین صاحب سکنہ جسپال مولانا مولوی مفتی عطا محمد صاحب مولانا الحاج الحافظ السید لال شاہ ساکن رتہ صاحب دوالمیال مولانا غلام ربانی صاحب مدرس اعلیٰ مولانا ابوالفضل کرم الدین صاحب ڈلوال سابق مدرس میرہ شریف بھین
(علمائے ضلع کیمبل پور)
مولانا مولوی میاں شاہ صاحب غور مولانا الحاج نصیر الدین صاحب غور مولانا الحاج قطب الدین صاحب غشتی غشتی غور غشتی مولانا محمد یوسف صاحب جلالیہ مولانا عبداللہ جان صاحب جلالیہ مولانا الشیخ سعد الدین صاحب جلالیہ مولانا عبدالحق صاحب سابق صدر مولانا محمد ایوب شاہ صاحب (فاضل مولانا خدا بخش صاحب سجادہ نشین مدرس بھیرہ دیوبند) حضرو مولانا محمد غوث صاحب دریا مولانا الحاج محمد حضرت الدین مولانا سید محبوب شاہ صاحب کالو صاحب مبلغ اسلام جنوبی افریقہ مولانا الشیخ القاضی محمد غلام ربانی مولانا قاضی عبدالشکور صاحب سامان مولانا حافظ محمد امین صاحب فاضل صاحب شمس آباد دیوبند مولانا عبدالدیان صاحب دامان مولانا حافظ احمد حسن صاحب حمیلہ مولانا محمد عمر صاحب شمس آباد مولانا نور محمد صاحب چھاچھی کیمبل مولانا علم الدین صاحب (فاضل مولانا عبدالرحمان صاحب دامان پور دیوبند)
مولانا حبیب الرحمان صاحب مدظلہ مولانا عبدالعزیز صاحب (فاضل مولانا محمد عمر صاحب کامل پور دیوبند) مولانا نور محمد صاحب مدظلہ مولانا غلام مصطفیٰ صاحب فاضل مولانا قاضی انوارالحق صاحب بی۔ دیوبند اے منشی فاضل مفتی ریاست مانگرول سیئہ کار خلائق قاضی محمد زاہد الحسینی غفرلہ
یہ حکم مذکورہ دراصل تمام علمائے اسلام کا ہے صرف انہی علماء کرام کا نہیں جن کے اسماء گرامی ہم نے درج کیے ہیں۔ مگر جلدی کی وجہ سے صرف انہی علماء سے دستخط لیے گئے ہیں۔ علماء حقانی کی اتنی زیادہ تعداد کے بعد ہر ایک انسان کو یہ بات بخوبی معلوم ہو گئی کہ یہ مسئلہ بالکل درست ہے اور مسمی مسعود احمد اسی وقت سے خارج از اسلام ہو گیا۔ اس کی عورت اس سے جدا ہو گئی جہاں وہ چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ یہ قسم ہرگز نہیں جیسا کہ مخالف نے سمجھا کیونکہ یہ ایک ناممکن بات ہے کہ تمام علماء کرام ایک غلط مسئلہ بیان کریں اور ایک بچوں کا ٹیچر اس کو درست سمجھے۔ ضدی انسان کو اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی طاقت نہیں منوا سکتی۔ من یضللہ فلا ھادی لہ۔
آخری عرض
اتنی تفصیل اور اس قدر علمائے اسلام کے حکم سے یہ بات بخوبی واضح ہو گئی کہ مسمی مسعود احمد اسلام سے خارج ہو گیا اور اس کی عورت اس سے جدا ہو گئی۔ اور جو دوسری جگہ نکاح کیا بالکل حلال ہے۔ اب اگر کوئی انسان اس مسئلہ کو نہ مانے اور اس کو کافر نہ سمجھے تو وہ خود کافر ہو جائے گا۔ مسلمانوں کو اس سے تمام تعلقات ہٹا لینے ضروری ہیں۔ نہ اس کے پیچھے نماز درست ہے۔ جب تک توبہ نہ کرے اور تجدید اسلام نہ کرے۔
”الاجماع علی کفر من لم یکفر احدًا من الیهود والنصارٰی وکل من فارق دین المسلمین او وقف فی تکفیرهم او شک وهٰکذا نکفر من دان بغیر ملة المسلمین او وقف فیهم او مذهبهم وان اظهر مع ذالک الاسلام“ (ترجمہ) ”ایسے آدمی کے کافر ہونے پر سب کا اتفاق ہے جو یہود اور نصارٰی کو یا ایسے شخص کو جو مسلمانوں کے دین سے الگ ہو جائے کافر نہ سمجھے یا ان کے کفر میں توقف اور شک کرے۔ اس لیے ہم ان لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ جو مسلمانوں کے دین کے سوا کسی اور طریقہ پر چلتے ہیں یا اس کو جو ایسے لوگوں کے بارے میں توقف کرے یا ان کے مذہب کو صحیح جانے اگرچہ وہ اسلام کا بھی مدعی ہو۔“
(شفاء شریف جلد دوم ص ۲۷۶ و ۲۷۱ ومنہاج جلد دوم ص ۵۰۲ وقواطع الاسلام ص ۴۱)
میرے عزیز مسلمان بھائیو! تم کو لازم ہے کہ اپنے دین اسلام اور سچے رسول کی محبت کا ذرا تو خیال کرو۔ ایسے مرتدوں کا ہرگز ساتھ نہ دو۔ ورنہ دنیا اور آخرت میں ذلت اور رسوائی اٹھانی پڑے گی۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے اور میرے والدین و جملہ مسلمانوں کے گناہ بخش کر حبّ رسول علیہ السلام عطا فرما دے۔ آمین بجاہ سید المرسلین۔ وما علینا الا البلاغ۔ عبدہ العاصی القاضی محمد زاہد الحسینی غفرلہ مدرسہ محمدیہ شمس آباد ضلع اٹک۔
(۲، جمادی الثانی ۱۳۶۰ھ)
اَنا خاتَمُ النَّبِيّيْن لَا نَبِىَّ بَعْدِى
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
قہر یزدانی بر جان دجال قادیانی
یعنی
١... فتاویٰ عظیمیه من علماء الحنفیه!
٢... عدم جواز نکاح مرزائی بامسلمه سنیه!
٣... عدم جواز صلوٰۃ جنازہ قادیانیه!
شائع کردہ
واعظ اسلام حضرت پیر سید ظہور شاہ قادریؒ
جلال پور جٹاں ضلع گجرات
بسم الله الرحمن الرحيم
- مضمون رسالہ اوّل:...... مرزا قادیانی کی طرف سے دعویٰ نبوت و توہینات انبیاء علیہم السلام و
مرزا قادیانی کے عقائد انہی کی تصنیفات سے بحوالہ صفحات کتاب صراحۃً لکھا گیا ہے۔
- دوم:...... اگر کوئی مسلمان اپنی لڑکی کا نکاح کسی مرزائی سے کر دے اور بعد میں معلوم ہو کہ یہ
شخص مرزائی ہے کیا یہ نکاح عندالشرع جائز ہے یا ناجائز اور پھر اس لڑکی کا نکاح ثانی بلا طلاق مرزائی دوسرا مسلمان کر سکتا ہے؟
- سوم:...... جو شخص اس فتوے کے دیکھنے کے بعد کسی مرزائی کا جنازہ پڑھے یا پڑھائے اس
کے واسطے شرعاً کیا حکم ہے۔ تجدید نکاح کرے یا نہ؟
فقیر حافظ سید پیر ظہور شاہ قادری واعظ الاسلام جلالپور جٹاں ضلع گجرات پنجاب
نحمده و نصلى على رسوله الكريم
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ اِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِىْ اُمَّتِىْ لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِىْ بِالْمُشْرِكِيْنَ وَ حَتّٰى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِى الْاَوْثَانَ وَاَنَّهُ سَيَكُوْنُ فِىْ اُمَّتِىْ كَذَّابُوْنَ ثَلٰثُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ اَنَّهُ نَبِيُّ اللّٰهِ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِىْ وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ اُمَّتِىْ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِيْنَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتّٰى يَأْتِيَ اَمْرُ اللّٰهِ.
(ابو داؤد کتاب الفتن حدیث نمبر ۴۲۵۲ طبع المکتبۃ المکیۃ جدہ ج ۵ ص ۱۱۳،۱۱۲، و فی الترمذی کتاب الفتن باب ماجاء فی الھرج والعبادۃ
فیہ ج ۳ ص ۲۲۹ حدیث نمبر ۲۲۰۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
’’روایت ہے ثوبانؓ سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس وقت رکھی جاتی تلوار میری امت میں نہیں اٹھائی جائے گی تلوار قبل اس سے قیامت تک اور نہیں قائم ہوگی قیامت یہاں تک کہ ملیں گے کتنے ایک قبیلہ میری امت سے ساتھ مشرکوں کے اور نہیں قائم ہوگی قیامت یہاں تک کہ پوجیں گے کتنے ایک قبیلہ میری امت سے بتوں کو اور تحقیق شان یہ ہے کہ ہوں گے میری امت میں سے جھوٹے وہ تیس ہوں گے۔ سب گمان کریں گے وہ نبی خدا کے ہیں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ نہیں کوئی نبی پیچھے میرے اور ہمیشہ ایک جماعت امت میری سے ثابت رہے گی حق پر اور غالب نہیں ضرر پہنچا سکے گا ان کو وہ شخص کہ مخالفت کرے ان کی یہاں تک کہ آئے حکم خدا کا۔
بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْهُدٰی وَالصَّلٰوۃُ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ الْمُصْطَفٰی وَ عَلٰی اٰلِهِ الْمُجْتَبٰی وَ اَصْحَابِهِ الْمُقْتَدٰی. اما بعد!
احقر العباد خادم العلماء فقیر حافظ سید پیر ظہور شاہ قادری واعظ الاسلام جلالپور جٹاں ضلع گجرات پنجاب۔ برادرانِ اسلام کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ لاہوری مرزائی جماعت کی طرف سے ایک دو ورقہ اشتہار شائع ہوا ہے جس میں ۲۲ اشخاص نے (جن کے نام آگے درج کیے جائیں گے) حلف اٹھا کر بیان کیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبی و رسول ہونے کا ہرگز نہ تھا مسلمان ہماری قسمیہ شہادت پر اعتبار کریں اور مرزا قادیانی کو مدعی رسالت نہ سمجھیں اور نہ ان کو بہ سبب دعوے نبوت و رسالت کافر و خارج از اسلام سمجھیں۔ جن اشخاص نے ان کو سمجھا ہے غلو کیا ہے اور علمائے اسلام نے الزام لگا کر ان کی تکفیر کی ہے۔ غلط ہے حقیقت میں وہ نبوت و رسالت کے مدعی نہ تھے بلکہ محدثیت اور مجددیت کا دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کی اطلاع کے لیے مرزا قادیانی کی طرف سے دعویٰ نبوت و رسالت و توہینات انبیاء و عقائد و الہامات و تحریرات پیش کی جاتی ہیں جس سے صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی رسالت و نبوت کے مدعی تھے خاتم الانبیاء ﷺ کو خاتم نبوت نہ جانتے تھے اس لیے مسلمان نہ تھے بلکہ جو ہم عقائد مرزا غلام احمد کے ہے کلہم کافر و خارج از دائرہ اسلام ہیں۔ اگر فقیر کے کہنے پر رنج پیدا ہو جائے تو علماء صاحبان سے بطور استفتاء تصفیہ کر کے ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے مریدوں کی بابت
سوال...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور عیسیٰ ابن مریم سے بڑھ کر ہوں جو کوئی مج مجھ پر ایمان نہ لائے گا وہ کافر ہے۔ خدا میری نسبت کہتا ہے تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں تو میرے واسطے ایسا ہے جیسا کہ میری اولاد جس سے تو راضی اس سے میں راضی۔ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ خدا عرش پر تیری حمد کرتا ہے۔ خدا نے مجھے قادیان میں اپنا سچا رسول کر کے بھیجا ہے اور خدا نے مجھ کو کرشن بھی کہا ہے معجزہ کوئی شے نہیں محض مسمریزم اور شعبدہ بازی ہے آیا اس قسم کے عقائد والے کو کافر کہا جائے یا نہ اس کی امامت و بیعت اور دوستی و سلام علیک اس سے اور اس کے مریدوں سے جائز ہے یا نہیں بینو بالتفصیل جزاكم اللّٰه الرب الجلیل.
الجواب...... بسم الله الرحمن الرحيم. الحمد للّٰه والصلوۃ والسلام علی رسوله الكريم. اما بعد! پس مخفی نہ رہے کہ عقائد مذکورہ کے ماسوا ملحد قادیانی کے اور بہت سے عقائد کفریہ ہیں۔ جن میں بعض کا بطور مشت نمونہ از خروارے کلمہ فضل رحمانی سے ذکر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں۔ ازالہ اوہام میں لکھا ہے عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے تھے۔
(ازالہ ص ۳۰۳ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴)
حضرت یسوع مسیح کی نسبت لکھا ہے شریر مکار کے پیچھے چلنے والا جھوٹا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹)
اس میں لکھا ہے کہ ”آپ کی تین دادیاں نانیاں زنا کار تھیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱ حاشیہ ) انبیاء علیہم السلام جھوٹے ہوتے ہیں۔ (ازالہ ص ۶۲۸ تا ۶۲۹ ) حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ کی وحی بھی غلط نکلی تھی۔ (ازالہ ص ۶۸۸ تا ۶۸۹ ) حضرت جبرائیل علیہ السلام کسی نبی کے پاس زمین پر نہیں آئے۔ (توضیح مرام ص ۶۸ تا ۷۰) قرآن شریف میں جو معجزات ہیں وہ سب مسمریزم ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ۷۴۸ تا ۷۵۰ ) دجال پادری ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ۷۲۲ خزائن ج ۳ ص ۴۸۸ ) اور کوئی دجال نہیں آئے گا۔ (ازالہ ص ۴۹۵، ۴۹۶ خزائن ج ۳ ص ۳۶۵، ۳۶۶) دجال کا گدھا ریل ہے اور کوئی گدھا نہیں۔ (ازالہ اوہام ص ۴۸۵ خزائن ج ۳ ص ۴۷۰) یاجوج ماجوج انگریز ہیں اور اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ (ازالہ ص ۵۰۲، ۵۰۸ ) دخان کچھ نہیں غلط خیال ہے۔ (ازالہ ص ۵۱۳ خزائن ج ۳ ص ۳۷۶) آفتاب مغرب سے کوئی نہیں نکلے گا۔ (ازالہ ص ۵۱۵ خزائن ج ۳ ص ۳۷۶) دابۃ الارض۔ علماء ہوں گے اور کچھ نہیں حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ کو ابن مریم اور دجال اور اس کے گدھے اور یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض کی حقیقت معلوم نہ تھی۔
(ازالہ ص ۶۹۲ خزائن ج ۳ ص ۴۷۳)
مرزا کی طرف سے دعویٰ نبوت
(۱)...... الہام قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ”یعنی کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو میری تابعداری کرو بلفظہ (براہین احمدیہ ص ۳۴۶ خزائن ج ۱ ص ۲۶۶) (۲)...... مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت جناب مرزا غلام احمد قادیانی بلفظہ ابتدا (ٹائٹل پیج) (ازالہ اوہام خزائن ج ۳ ص ۱۰۱) (۳)...... خدا نے مجھے آدم صفی اللہ کہا اور مثل نوح کہا مثیل یوسف کہا مثیل داؤد کہا پھر مثیل موسیٰ کہا پھر مثیل ابراہیم پھر بار بار احمد کے خطاب سے مجھے پکارا بلفظہ (ازالہ ص ۲۵۳ خزائن ج ۳ ص ۲۲۷) (۴)...... پس واضح ہو کہ وہ مسیح موعود جن کا آنا انجیل اور احادیث صحیحہ کی رو سے ضروری طور پر قرار پا چکا تھا وہ تو اپنے وقت پر اپنی نشانیوں کے ساتھ آ گیا اور آج وہ وعدہ پورا ہو گیا جو خدا تعالیٰ کی مقدس پیشگوئیوں میں پہلے سے کیا گیا تھا۔ (ازالہ ص ۴۱۳، ۴۱۴ خزائن ج ۳ ص ۳۱۵) (۵)...... چونکہ مسیح میں مماثلت ہے اس لیے اس عاجز کا نام بھی آدم کہا اور مسیح بھی (ازالہ ص ۴۵۶ خزائن ج ۳ ص ۳۴۳) (۶)...... ”خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔“
(ازالہ ص ۵۳۳ خزائن ج ۳ ص ۳۸۶)
فائدہ! اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کی مؤلفہ براہین احمدیہ خدا کی کلام ہے۔ (۷)...... احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں اسی کی طرف یہ اشارہ ہے۔ مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد (ازالہ ص ۶۷۳ خزائن ج ۳ ص ۴۶۳) (۸)...... اور یہ آیت کہ ھوا الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ درحقیقت اسی مسیح بن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے (ازالہ ص ۶۷۵ خزائن ج ۳ ص ۴۶۴) (۹)...... وہ آدم اور ابن مریم یہی عاجز ہے کیونکہ اول تو ایسا دعویٰ اس عاجز سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا اور اس عاجز کا یہ دعویٰ دس برس سے شائع ہو رہا ہے۔
(ازالہ ص ۶۹۵ خزائن ج ۳ ص ۴۷۷)
(۱۰)...... حضرت اقدس امام مہدی و مسیح موعود مرزا غلام احمد رسالہ آریہ دھرم مؤلفہ مرزا ص ۶۵۔ (۱۱)...... ان کو کہو کہ تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میرے پیچھے ہو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔ (انجام آتھم ص ۵۲ تا ۵۶ خزائن ج ۱۱ ایضاً) (۱۲)...... اے احمد تمہارا نام پورا ہو جائے گا قبل اس کے جو میرا نام پورا ہو۔ (انجام آتھم ص ۵۲
خزائن ج ۱۱ ایضاً) (۱۳)...... تو ہمارے پانی میں سے ہے۔ (انجام آتھم ص ۵۳ ج ۱۱ ص ایضاً) (۱۴)...... پاک ہے وہ جس نے اپنے بندے کو رات میں سیر کرائے ۔ (انجام آتھم ص ۵۳ ج ۱۱ ص ایضاً) (۱۵)...... نبیوں کا چاند مرزا قادیانی آئے گا۔ (انجام آتھم ص ۵۸ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً) (۱۶)...... ما ارسلناک الا رحمۃ للعلمین. تجھ کو تمام جہان کی رحمت کے واسطے بھیجا۔
(انجام آتھم ص ۷۸ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
(۱۷)...... انی مرسلک الی قوم المفسدین علی صراط مستقیم یعنی تجھ کو قوم مفسدین کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ (انجام آتھم ص ۷۹ ج ۱۱ ص ایضاً) (۱۸)...... يٰسین والقرآن الحکیم انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم ”یعنی اے سردار تو خدا کا مرسل ہے راہِ راست پر۔ (حقیقتہ الوحی ص ۱۰۷ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۷) (۱۹)...... قل انما انا بشر منکم یوحی الی انما الٰہکم الٰہ واحد یعنی اے نبی ان سے کہہ دے کہ میں تمہاری طرح انسان ہوں۔ میری طرف وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔
(دیکھو حقیقتہ الوحی ص ۱۰۱ خزائن ج ۲۲ ص ۸۳)
(۲۰)...... قل یا ایھا الناس ان رسول اللہ الیکم جمیعا یعنی اے مرزا تو تمام لوگوں کو کہہ دے کہ میں اللہ کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں۔ (اخبار الاخیار مصنفہ مرزا قادیانی ص ۳) یہی فرمان الٰہی ہیں جنھوں نے حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ کو کامل رسول بنایا جب وہی الفاظ مرزا قادیانی کو خدا نے فرمائے تو وہ کیوں کامل نبی و رسول نہیں یا یوں کہو کہ مرزا قادیانی نے خدا پر افترا کیا ہے۔ کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت و رسالت نہیں کیا کیا انھوں نے یہ کتابیں پر خرافات اپنی آنکھ سے نہیں دیکھیں یا جان بوجھ کر چشم پوشی کر کے مخلوق خدا کو چاہ ضلالت میں ڈبونا چاہتے ہیں اور فریب دہی واسطے چند ایک شعر مرزا قادیانی کے جو انھوں نے قبل از دعوے لکھے تھے۔ لکھ کر مسلمانوں کو مغالطہ دیتے ہیں خصوصاً لاہوری مرزائی جماعت نے بھی یہی شعر پیش کر کے حلف اٹھائی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبی و رسول ہونے کا ہرگز نہ تھا ؎
آں رسولے کش محمد ہست نام دامنِ پاکش بدست مادام
ہست او خیر الرسل خیر الانام ہر نبوت را برو شد اختتام
مشتہرین کے نام یہ ہیں...... محمد علی ایم اے پریذیڈنٹ انجمن اشاعت اسلام لاہور...... ابو یوسف مبارک علی سیالکوٹ...... جمال الدین بی اے انسپکٹر سکولز جموں...... سید عبدالجبار شاہ سابق بادشاہ سوات...... شیخ نیاز احمد میونسپل کمشنر وزیر آباد...... شیخ نور احمد بی اے پلیڈر ایبٹ آباد...... محمد یحیٰی دیپ گراں ضلع ہزارہ...... محمد یمین داتہ ضلع ہزارہ...... یعقوب بیگ ایل ایم فزیشن اینڈ سرجن لاہور...... سید محمد احسن امروہی...... کمال الدین بی اے ایل ایل بی مسلم مشنری...... خان صاحب غلام رسول ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس فیروز پور...... محمد جان مرچنٹ وزیر آباد...... شیر محمد بی اے پرنسپل اسسٹنٹ ریونیو ممبر جموں...... شیخ مولا بخش پروپرائٹر فلور ملز لائلپور...... محمد عجب خاں تحصیلدار نوشہرہ...... بشارت احمد ایل ایم ایس کرنال...... عبدالرحمٰن ای اے سی گوجرانوالہ...... صاحبزادہ سیف الرحمٰن پشاور...... عزیز بخش سپرنٹنڈنٹ ضلع ڈیرہ غازی خاں۔
چونکہ یہ ایک عظیم الشان مغالطہ ہے جو قسم کھا کر ان اصحاب نے لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ سچے مسلمان تھے اور ان تمام عقائد پر قائم تھے جو اہلسنت والجماعت کے عقائد ہیں۔ (۱)...... آپ
آنحضرت ﷺ کو آخری نبی یقین کرتے تھے اور آپ کے بعد دعوٰی نبوت کرنے والے کو کاذب و کافر یقین کرتے تھے۔ (۲)...... آپ نے نبوت و رسالت کا ہرگز دعویٰ نہیں کیا محدثیت اور مجددیت کا دعویٰ کیا ہے۔ ناظرین آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ کس قدر دروغ بے فروغ ہے جو ان اصحاب نے قسم اٹھا کر لوگوں کو دیا ہے۔ نبوت و رسالت کے متعلق ان کی کتابوں سے بہت کچھ ثبوت دیا گیا اب معلوم کرنا چاہیے کہ مرزا قادیانی نبی و رسول تو ایک طرف مسلمان بھی ہیں کہ نہیں۔ جواب! مرزا قادیانی ہرگز مسلمان نہ تھے وہ خود لکھتے ہیں۔ پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ الخ۔
(تتمہ حقیقتہ الوحی ص ۸۵ خزائن ج ۲۲ ص ۵۲۱)
اور سیالکوٹ والے لیکچر میں فرماتے ہیں کہ حقیقت روحانی کی رو سے میں کرشن ہوں جو ہندو مذہب کے بڑے اوتاروں سے ایک اوتار تھا الخ جب مرزا قادیانی کا اپنا اقرار ہے کہ میں آریہ ہوں بلکہ آریوں کا بادشاہ ہوں تو پھر مسلمان ہرگز نہ رہے کیونکہ آریہ لوگ تناسخ کے قائل اور قیامت کے منکر ہیں اور کرشن جی مہاراج کا بھی یہی مذہب تھا چنانچہ وہ گیتا میں لکھتے ہیں ؎
بانواع قالب دروں آردش
تنہائے معہود در میروند
بجسم سگ و خوک در میروند
جس کا مطلب یہ کہ اعمال سزا و جزا اسی دنیا میں بذریعہ اواگون (تناسخ) ملتی ہے۔ یوم الاخرت کوئی نہیں۔ (دیکھو گیتا مترجمہ فیضی ص ۱۴۶) پھر کرشن جی ارجن کو فرماتے ہیں ہم سب گذشتہ جنموں میں بھی پیدا ہوئے تھے اور اگلے جنموں میں بھی پیدا ہوں گے جس طرح انسانی زندگی میں لڑکپن جوانی بڑھاپا ہوا کرتا ہے اسی طرح انسان بھی مختلف قالب قبول کرتا ہے اور پھر اس قالب کو چھوڑ دیتا ہے۔ (دیکھو گیتا شلوک ۱۲ و ۱۳ ادہائے ۲ مترجمہ دوارکا پرشاد افق) پھر کرشن جی فرماتے ہیں جس طرح انسان پوشاک بدلتا ہے اسی طرح آتما بھی ایک قالب سے دوسرے قالب کو قبول کرتی ہے۔ (اشلوک ۲۲ ادہائے ۲) ناظرین یا تو مرزا قادیانی کا کرشن ہونا غلط ہے یا مسلمان ہونا غلط ہے کیونکہ کوئی شخص مسلمان اور آریہ دونوں مذاہب کا متبع نہیں ہوسکتا کیا کسی مجدد اور مسلمان اہلسنت والجماعت کے ایسے عقائد ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں اس طرح تو کفر و اسلام میں کچھ فرق نہ رہا اگر مرزا قادیانی رسول خدا ﷺ کو سچے خاتم النبیین جانتے تو مذکورہ بالا الہامات سے دست بردار ہوتے۔
سوال....... مرزا قادیانی پر الزام لگائے جاتے ہیں کہ انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ میں خدا ہوں مجھے کن فیکون کا اختیار دیا گیا۔ میں خدا کا رسول ہوں صاحب شریعت بھی ہوں وغیرہ وغیرہ یہ محض آپ پر افترا ہے۔ الخ۔
جواب....... مرزا قادیانی کے الہامات سے ان کا دعوٰی نبوت و رسالت ثابت ہے اگر ان کی تحریریں نہ دکھائی تو ہم جھوٹے اور اگر آپ نے قسمیں کھا کر مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہا ہے تو آپ سے خدا سمجھے۔ آپ کہتے ہیں کہ وہ رسول نہ تھے حالانکہ وہ افضل الرسل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ فرمائیے یہ ان کا شعر ہے کہ نہیں۔
داد آں جام را مرا بہ تمام
یعنی جو نعمت نبوت و رسالت کا جام ہر ایک نبی کو دیا گیا ہے وہ تمام جام مجھ اکیلے کو دیا گیا ہے حضرت آدم سے حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ تک جس قدر نبی ہوئے ان سب کی نعمت کا جام جب مرزا قادیانی کو دیا گیا تو وہ سب سے افضل ہوئے یا نہیں۔ مرزا قادیانی کا مندرجہ ذیل شعر ملاحظہ ہو جس میں وہ آنحضرت ﷺ پر خصوصیت سے اپنی فضیلت کا فخر کرتے ہیں ؎
غسا القمران المشرقان اتنکر
یعنی محمد ﷺ کے واسطے تو صرف چاند کو گہن لگا تھا اور میرے واسطے چاند اور سورج دونوں کو گہن ہوا اب تو کیا انکار کرے گا۔ (اعجاز احمدی ص ۷۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۳) مرزا قادیانی کا یہ شعر پڑھو اور نور عقل سے دیکھو کہ کس قدر دروغ گو ہے اور دھوکا دہندہ وہ شخص ہے جو مسلمانوں کو فریب میں لانے کے لیے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ ما مسلمانیم از لطف خدا مصطفےٰ ما را امام و پیشوا۔ (سراج منیر ص ۹۳ خزائن ج ۱۲ ص ۹۴) کیا امام اور پیشوا کی بھی عزت ہوا کرتی ہے جو مرزا قادیانی نے کی کہ محمد کے واسطے ایک نشان ظاہر ہوا تو میرے واسطے دو نشان ظاہر ہوئے! مگر مسلمان بجز کچھ افسوس نہیں کیونکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب البریہ پر لکھا ہے کہ میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی اللہ تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی و شیرنی اور حرکت و سکون سب اسی کا ہو گیا اور اسی حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ (کتاب البریہ ص ۱۰۳ خزائن ص ۱۰۳) مرزائی صاحبان فرمائیے! کہ جب مرزا قادیانی خالق زمین و آسمان اور خالق انسان ہیں تو بیشک محمد الرسول اللہ ﷺ سے بڑھ گئے کیونکہ محمد الرسول اللہ ﷺ نے باوجود افضل الرسل اور خاتم النبیین ہونے کے کہیں اپنا کشف نہیں لکھا اور نہ خالق زمین و آسمان بنے وہ تو توحید ہی بتلاتے رہے۔ اشھد ان محمد عبدہٗ و رسولہ فرماتے رہے مرزائی صاحبان آپ نے ناحق جھوٹی قسم کھائی ہے کہ مرزا قادیانی پر کن فیکون کے اختیارات کا جھوٹا الزام ہے۔ (دیکھو الہام مرزا قادیانی حقیقۃ الوحی ص ۱۰۵ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۸) انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون۔ اے مرزا اب تیرا مرتبہ یہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے تو صرف کہہ دے کہ ہو جا وہ چیز ہو جائے گی۔
(اخبار بدر ۲۳ فروری ۱۹۰۵ء)
مرزائی صاحبان فرمائیے کہ یہ مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ نہیں اگر الہام ہے تو آپ کا کہنا غلط ہے وگرنہ مرزا قادیانی کے احکام پر عمل بے سود ہے۔ نیز اسی طرح مرزا قادیانی کا بابو الٰہی بخش کی نسبت یہ الہام ہے۔ یریدون ان یروطمک یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے الخ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۴۳ خزائن ج ۲۲ ص ۵۸۱) مسلمانو! الہام کی یہ تشریح مرزا قادیانی کی اپنی ہی لکھی
ہوئی ہے۔ اس سے یہ امورات ثابت ہوتے ہیں۔ (۱) ...... خدا تعالیٰ جلشانہ بچے جناتا ہے۔ (۲) ...... مرزا قادیانی کے حیض سے اطفال اللہ پیدا ہوتے ہیں۔ (۳) ...... مرزا قادیانی خدا کی بیوی ہے جس کے حیض سے طفل اللہ پیدا ہوتے ہیں۔ اب ہر ایک مسلمان خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ جس مذہب میں ایسے ایسے لغو مسائل ہوں وہ مذہب ذریعہ نجات ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ لہٰذا لاہوری مرزائی جماعت کے اراکین نے جو لکھا ہے کہ مرزا قادیانی پر یہ جھوٹے الزام ہیں اہل اسلام کو بتائے کہ یہ کتابیں مرزا قادیانی کی تصنیف ہیں یا نہیں اگر مرزا قادیانی کی کتابوں میں یہ ذخیرہ خرافات ہے۔ تو پھر مسلمان سچے اور اگر مرزا قادیانی کی کتابوں میں ایسا نہ ہو تو آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ ہم پر نالش کر کے بذریعہ عدالت جھوٹ سچ ثابت کر لیں اگر مرزا قادیانی کو اپنے دعوے میں آپ سچا یقین کرتے ہیں اور آپ کا ایمان ہے کہ مرزا قادیانی خدا کے فرمان کے مطابق الہام پاتے تھے اور مرسل من اللہ تھے تو گویا اللہ تعالیٰ کے حکم سے انھوں نے وہ وہ باطل مسائل اسلام میں داخل کیے جن کی قرآن شریف اور حدیث نبوی تردید کرتی ہے۔ مثلاً ابن اللہ کا مسئلہ عیسائیوں کا۔ مسیح کا صلیب پر چڑھایا جانا جو کفارہ عیسائیوں کی بنیاد ہے الوہیت مسیح کا مسئلہ، آریوں اور ہندوؤں کے اوتار کا مسئلہ، حلول ذات باری کا مسئلہ جیسا کشف میں لکھا کہ خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا تجسم خدا کا مسئلہ، الغرض ہمہ قسم باطل مسائل داخل اسلام کر کے خود کرشن جی کا روپ دھارا اور آریوں کے بادشاہ بنے باوجود اسلام میں ایسی خرابیاں ڈالنے کے مجدد دین محمدی کا دعویٰ ؎ بریں عقل ودانش بباید گریست۔ ہاں اگر لاہوری جماعت کو معلوم ہو گیا ہے کہ مرزا قادیانی نبوت و رسالت کے دعویٰ میں سچے نہ تھے اور آیات قرآنی کو اپنے پر دوبارہ نازل شدہ سمجھنے میں حق پر نہ تھے تو بسم اللہ اعلان کیجئے کہ ہم مرزا قادیانی کے خلاف قرآن و حدیث کشوف و الہامات کو منجانب اللہ نہیں سمجھتے اور مسلمانوں کی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر سمجھتے ہیں جیسا کہ ابن حجر مکی کا فتویٰ ہے۔ من اعتقد وحیا من بعد محمد کان کافرا باجماع المسلمین یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص دعویٰ کرے کہ مجھ کو وحی ہوتی ہے وہ تمام مسلمانوں کے نزدیک کافر ہے اور مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ سچا خدا وہ ہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا۔ (دافع البلاء ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱) اور ملاں علی قاری شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں۔ دعوی النبوت بعد نبیناﷺ کفر باجماع (شرح فقہ اکبر مطبوعہ گلزار محمدی لاہور ص ۱۹۱) یعنی ہمارے نبی (محمدﷺ) کے بعد نبوت کا دعویٰ بالا جماع کفر ہے۔ نظیریں موجود ہیں مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ کے حالات دیکھ لو اور یہ کفر کا فتویٰ حضرت محمد ﷺ کے حکم سے باتفاق صحابہ کرام صادر ہوا تھا اور تیرہ سو برس تک اسی پر عمل چلا آیا ہے کہ جب کسی امتی محمد رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا (چاہے اپنی نبوت کا نام ظلی بروزی اشتراکی مختاری تبعی نبی استعاری وغیرہ وغیرہ ہی رکھا ہو) کافر اور خارج از اسلام سمجھا گیا گو نمازیں پڑھتا ہو، روزے رکھتا ہو اور خود کو مسلمان کلمہ گو بھی کہتا ہو مرزا قادیانی اور مرزائی لاہوری جماعت کی یہ دلیل بالکل غلط ہے کہ علماء اسلام نے جو مرزا قادیانی پر کفر کے فتویٰ لگائے لہٰذا وہ خود کافر ہو گئے۔ اجی جناب جب نظیر موجود ہے کہ مدعی نبوت اور اس کے تابعداروں کو آنحضرت ﷺ اور صحابہ کبار نے کافر کہا تو پھر مسلمان مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کو کافر کہتے ہیں۔ بالکل حق بجانب ہیں اگر مسیلمہ کذاب بھی مرزا قادیانی والی دلیل پیش کرتا کہ میں کلمہ گو ہوں۔ لہٰذا جو مجھ کو کافر کہتا ہے وہ خود کافر ہے تو کیا یہ دلیل درست ہوتی؟ ہرگز نہیں تو پھر مرزا اور مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ان جیسے کلمہ گو کو کافر کہنے والا خود کافر ہوتا ہے غلط ہے کیونکہ کلمہ گو تب تک ہی کلمہ گو ہے جب تک خود مدعی نبوت نہ ہو جب خود مدعی نبوت ہوا تو بمعہ متبعین خارج از اسلام ہوا۔ آپ
مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دیں۔ (۱)...... مرزا قادیانی آپ کے اعتقاد میں سچے صاحب وحی تھے یعنی ان کی وحی توریت وانجیل وفرقان کی مانند تھی جن کا منکر جہنمی ہو۔ (۲)...... جو جو الہام مرزا قادیانی کو ہوئے آپ انھیں خدا تعالیٰ کی طرف سے یقین کرتے ہیں۔ (۳)...... مرزا قادیانی کے الہاموں کو وساوس شیطانی سے پاک یقین کرتے ہو۔ (۴)...... مرزا قادیانی کے کشوف منجانب اللہ اور سچے تھے۔ (۵)...... شیطانی الہامات اور شیطانی کشوف کی کیا علامات ہیں۔ (۶)...... مرزا قادیانی نے جو (حقیقۃ الوحی ص ۲۱۱ خزائن ج ۲۲ ص ۲۲۰) پر لکھا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا قرآن شریف پر الخ۔ کیا آپ کا بھی یہی ایمان ہے۔ (۷)...... اگر مرزا قادیانی کے عقائد علماء اہل سنت والجماعت والے تھے اور آپ کے بھی ہیں تو پھر مسلمانوں کے ساتھ مل کر نمازیں کیوں نہیں پڑھتے۔ جواب کتاب وسنت نبوی سے دیا جائے کیونکہ آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مرزا قادیانی اہلسنت و جماعت تھے توجہ طلب نہایت ضروری برادران اسلام کو اطلاع ہو کہ وہ اس ٹھوکر سے بچیں اور لاہوری مرزائی جماعت کی گندم نمائی وجو فروشی سے پرہیز کریں۔ اشاعت اسلام کا صرف بہانہ ہے جب ان کو مرزا قادیانی کا حکم ہے کہ جس ملک میں جاؤ پہلے میری تبلیغ کرو اگر وہ لوگ میری تصدیق کریں تو ان کے ساتھ نمازیں پڑھو ورنہ اپنی نماز الگ پڑھو۔
(دیکھو فتاویٰ احمدیہ نہج المصلیٰ ص ۲۸۴)
سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ کا امام حضور (مرزا قادیانی) کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں مرزا قادیانی نے جواب میں فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر وگرنہ اس کے پیچھے نماز ضائع نہ کرو اور اگر خاموش رہے نہ تصدیق کرے نہ تکذیب تو بھی منافق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ جب مرزائیوں کو اپنے مرشد کا حکم ہے اور فرض ہے کہ وہ مرزائی عقائد کی تبلیغ کریں تو پھر مسلمانوں کی کس قدر حماقت ہوگی کہ وہ خود چندہ دے کر مرزائیت کی تبلیغ کرائیں اور اسلام کی جڑ کھوکھلی کریں کیونکہ اگر عیسائی مرزائی ہوگا تو اس کو مرزا قادیانی کے الہام انت منی بمنزلۃ ولدی پر ایمان لانا فرض ہوگا تو اس صورت میں وہ بجائے ایک ابن اللہ (مسیح) دو ابن اللہ (مسیح و مرزا) کا قائل ہوگا یعنی ایک ابن اللہ حضرت عیسیٰ اور دوسرا مرزا قادیانی پس کوئی مسلمان مرزائی کو تبلیغ اسلام کے لیے ہرگز چندہ نہ دے جب تک اس بات کا فیصلہ نہ ہو لے کہ کس اسلام کی تبلیغ مرزائی کریں گے؟ کیا لاہوری مرزائی جماعت تحریری اقرار دیتی ہے کہ وہ مرزائیت کی تبلیغ نہ کرے گی جب تک وہ تحریری اقرار اور ہمارے اس ٹریکٹ کا تشفی بخش جواب نہ دیں ہرگز مسلمان ان کو چندہ نہ دیں۔ ورنہ غضب الٰہی کے مورد ہوں گے...... والسلام...... اصغر علی روحی (پروفیسر اسلامیہ کالج و پریذیڈنٹ انجمن تائید اسلام لاہور...... سید احمد علی شاہ پروفیسر اسلامیہ کالج و امام مسجد شاہی لاہور...... محمد یار امام مسجد سنہری لاہور...... قاضی فضل میراں بی اے بی ٹی اسلامیہ کالج لاہور...... محمد الدین بی اے فیلو پنجاب یونیورسٹی...... صدر الدین ایم اے پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور...... نور بخش ایم اے ناظم التعلیم انجمن نعمانیہ لاہور...... نجم الدین پروفیسر عربی اورینٹل کالج لاہور...... احمد علی شیرانوالہ دروازہ لاہور...... حاجی شمس الدین لاہور...... مفتی عبدالقادر مدرس مدرسہ غوثیہ تکیہ سادھواں لاہور...... عبدالواحد امام مسجد چینیاں والی لاہور...... فضل الدین مصحح مطبع دین محمدی سٹیم پریس لاہور...... ابو محمد احمد امام مسجد صوفی لاہور...... محمد حسین (شمس العلماء) پروفیسر مشن کالج لاہور...... محمد باقر پروفیسر مشن کالج لاہور...... حبیب اللہ منشی فاضل کشمیری بازار لاہور...... ایم اے ضیاء الدین پروفیسر ٹریننگ کالج لاہور...... ایم اے فضل حق پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور...... مولوی کرم بخش میونسپل کمشنر لاہور...... یہ چند ایک سطور میں انکی
المکرم حامی دین قاطع البدعت پیر بخش صاحب پنشنر پوسٹماسٹر آنریری سیکرٹری انجمن تائید اسلام لاہور ...... کے رسالہ سے نقل کی ہیں۔ توہینات انبیاء (۱)....... میں سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا ہرگز نہ مرے گا۔ (ازالہ اوہام ص ۲ خزائن ج ۳ ص ۱۰۴) (۲)....... جس قدر حضرت مسیح کی پیشگوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہیں نکلیں۔ (ازالہ اوہام ص ۷ خزائن ج ۳ ص ۱۰۶) (۳)....... حضرت موسیٰ کی پیشگوئیاں اسی صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں جس صورت پر حضرت موسیٰ نے اپنے دل میں امیدیں باندھی تھیں، غایۃ مافی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیشگوئیاں زیادہ غلط نکلیں۔ (ازالہ ص ۸ خزائن ج ۳ ص ۱۰۶) (۴)....... سیر معراج (حضرت ﷺ) اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ (بر حاشیہ ازالہ ص ۴۷ خزائن ج ۳ ص ۱۲۶) (۵)....... یہ حضرت مسیح کا معجزہ (پرندے بنا کر اس میں پھونک مار کر اڑانا، حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح عقلی تھا تاریخ سے ثابت ہے ان دنوں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیال جھکے ہوتے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے ہیں۔ دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔ (ازالہ ص ۳۰۲ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴) چڑیاں کا معجزہ حضرت مسیح کا اور ان کا بولنا اور ہلنا اور دم ہلانا یہ عقلی معجزہ اپنے دادے سلیمان کی طرح ہے۔ (ملخصاً ازالہ ص ۳۰۴) (۶)....... حضرت مسیح بن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتا ہے۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ (ازالہ ص ۳۰۷ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۶) (۷)....... یہ جو میں نے مسمریزم کے طریق کا نام عمل الترب رکھا ہے جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے یہ الہامی نام ہے۔ (ازالہ ص ۳۱۲ خزائن ج ۳ ص ۲۵۸،۲۵۹) (۸)....... چار نبیوں کی غلط پیشگوئی نکلی۔ (ازالہ ص ۶۲۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۹) (۹)....... جو پہلے اماموں کو معلوم نہیں ہوا تھا وہ ہم نے معلوم کر لیا۔ (ازالہ ص ۶۸۳) (۱۰)....... حضرت رسول خدا کے الہام و وحی غلط نکلیں تھیں۔ (ازالہ ص ۶۸۸،۶۸۹ خزائن ج ۳ ص ۴۷۱) (۱۱)....... اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے منکشف نہ ہوئی ہو۔ الخ۔ (ازالہ ص ۶۹۱ خزائن ج ۳ ص ۴۷۴) (۱۲)....... سورہ بقر میں ایک قتل کا ذکر گائے کا علم مسمریزم تھا۔ (ازالہ ص ۷۴۸، ۷۴۹ خزائن ج ۳ ص ۵۰۳) (۱۳)....... حضرت ابراہیم کا چار پرندوں کے معجزہ کا ذکر جو قرآن میں ہے وہ بھی ان کا مسمریزم کا عمل تھا۔ (ازالہ ص ۷۵۱، ۷۵۲ خزائن ج ۳ ص ۵۰۶) (۱۴)....... مریم کا بیٹا کوشلیا (کوشلیا راجہ رام چندر کی ماں کا نام تھا) کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔
(انجام آتھم ص ۴۱ خزائن ج ۱۱ ص ۴۱)
عقائد مرزا قادیانی (۱)....... ہمارا خدا عاجی (ہاتھی کا دانت) ہے۔ (براہین احمدیہ ص ۵۵۶) (۲)....... حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک الخ (ازالہ ص ۳۰۲ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴) (۳)....... نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرہ زمہریر تک بھی پہنچے پس اس جسم کا کرہ ماہتاب و آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے۔ (ازالہ ص ۴۷ خزائن ص ۱۲۶ حاشیہ) (۴)....... سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔ (ازالہ ص ۴۷ ایضاً) (۵)....... قرآن شریف جس بلند آواز سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی کہے مثلاً زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے۔ (ازالہ ص ۲۵، ۲۶ خزائن ج ۳ ص ۱۱۵) (۶)....... قرآن شریف نے ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت
کے سخت الفاظ بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں۔ استعمال کی ہیں۔ (ازالہ ص ۲۷ خزائن ج ۳ ص ۱۱۶) (۷)...... قرآن شریف میں جو معجزات ہیں وہ سب مسمریزم ہیں۔ (ازالہ ص ۷۴۸، ۷۵۰، ۷۵۲، ۷۵۳ خزائن ج ۳ ص ۱۰۴) (۸)...... قرآن شریف میں انا انزلنہ قریباً من القادیان (ازالہ ص ۷۶، ۷۷ خزائن ج ۳ ص ۱۳۹) (۹)...... اگر عذر ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوتی ہے اس پر مہر لگ چکی ہے میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے بلکہ جزوی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لیے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔ (توضیح مرام ص ۱۹ خزائن ج ۳ ص ۶۰) (۱۰)...... امام مہدی کا آنا بالکل غلط ہے۔ (ازالہ ص ۵۱۸ خزائن ج ۳ ص ۳۷۸) (۱۱)...... پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ مسیح دجال جس کے آنے کی انتظاری تھی یہی پادریوں کا گروہ ہے الخ (ازالہ ص ۴۹۴، ۴۹۵ خزائن ج ۳ ص ۳۶۵) (۱۲)...... وہ گدھا دجال کا اپنا بنایا ہوا ہوگا پھر اگر وہ ریل نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ (ازالہ ص ۶۸۵ خزائن ج ۳ ص ۴۷۰) (۱۳)...... یاجوج ماجوج سے دو قومیں انگریز اور روس مراد ہیں اور کچھ نہیں۔ (ازالہ ص ۵۰۲، ۵۰۸ خزائن ج ۳ ص ۶۷۳، ۶۸۶) (۱۴)...... دابۃ الارض وہ علماء اور واعظ ہوں گے جو آسمانی قوت اپنے میں نہیں رکھتے آخری زمانہ میں ان کی کثرت ہوگی۔ (ازالہ ص ۵۱۰ خزائن ج ۳ ص ۳۷۳) (۱۵)...... دخان سے مراد قحط عظیم شدید ہے۔ (ازالہ ص ۵۱۳ خزائن ج ۳ ص ۳۷۵) (۱۶)...... مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی آفتاب سے منور کیے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔ (ازالہ ص ۵۱۵ خزائن ج ۳ ص ۳۷۷) (۱۷)...... کسی قبر میں سانپ اور بچھو دکھاؤ ۔ (ازالہ ص ۱۵ خزائن ج ۳ ص ۶۱۵) حکیم الامت مولوی نور دین صاحب فرماتے ہیں یہ تو بالکل غلط ہے کہ ہمارا اور غیر احمدیوں کا کوئی فروعی اختلاف ہے اور غیر احمدی مرزا قادیانی کی رسالت کے منکر ہیں اس لیے فروعی اختلاف نہیں مرزا غلام احمد قادیانی کی تقریر کا خلاصہ ص ۲۳۔ (۱۸)...... جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ خدا رسول کو بھی نہیں مانتا اور باوجود صد ہا نشان کے مفتری ٹھہراتا ہے وہ مومن کیونکر ٹھہر سکتا ہے۔ مرزا بشیر الدین نے اس مضمون کو اپنے باپ کی (کتاب حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳، ۱۶۴ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۷، ۱۶۸) سے نقل کیا ہے۔ (۱۹)...... ایک شخص مرزا کو جھوٹا بھی نہیں کہتا اور منکر بھی اور دل سے سچا بھی جانتا ہے اگر بیعت نہیں کرتا وہ بھی کافر ہے۔ (دیکھو ص ۱۴)
الجواب....... یہ عقائد ایسے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک مستقل طور پر مرزا ملحد کی تکفیر کے لیے کافی ہے کیونکہ ان میں یا توہین انبیاء علیہم السلام ہے یا ادعائے نبوت یا رد نصوص اور یہ سب کفر ہے پس مرزا قادیانی کے ملحد مرتد کافر دجال ہونے میں کوئی شک نہیں بلکہ قادیانی کا کفر تو ایسا ہے جس میں کسی بھی اہل اسلام عالم یا غیر عالم کو کوئی شک و شبہ اور تردد نہیں ہے مومن کا دل ایسے عقائد سے بھی اس کے کفر کی شہادت دے دیتا ہے۔ فقط واللہ اعلم حررہ العاجز یوسف عفی عنہ از بھکیلے والا
الجواب....... بلاشبہ مرزا قادیانی بوجوہ کثیرہ قطعاً یقیناً کافر مرتد ہے ایسا کہ جو اس کے اقوال پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے خود کافر مرتد ہے از انجملہ کفر اول اپنے (رسالہ ازالۃ الاوہام ص ۶۷۳ خزائن ج ۳ ص ۴۶۳) پر لکھا ہے میں احمد ہوں۔ جو آیت مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد میں مراد ہے آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا مسیح زمانی عیسیٰ ابن مریم روح اللہ علیہما الصلوٰۃ والسلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ مجھے اللہ عزوجل نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے تورات کی تصدیق اور اس رسول کی خوشخبری سناتا ہوں جو میرے بعد تشریف لانے والا ہے جن کا نام پاک احمد ہے۔ ازالہ کے قول مذکور ملعون میں صراحۃً ادعا ہوا کہ وہ رسول پاک جن کی جلوہ
افروزی کا مژدہ حضرت مسیح لائے معاذ اللہ مرزا قادیانی ہے کفر دوم! دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰ پر لکھا ہے۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ کفر سوم! اعجاز احمدی کے ص ۱۳ پر صاف لکھ دیا ہے کہ یہود عیسیٰ کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب دینے سے حیران ہیں بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی رہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلیلیں قائم ہیں۔ یہاں عیسیٰ کے ساتھ قرآن عظیم پر ہی تہمت جڑ دی کہ وہ ایسی باطل بات بتا رہا ہے جس کے ابطال پر متعدد دلائل قائم ہیں۔ کفر چہارم ! دافع البلاء مطبوعہ ریاض ہند ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱ پر لکھا ہے سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا سچا رسول بھیجا۔ کفر پنجم! (ازالہ ص ۳۱۰ حاشیہ خزائن ص ۲۵۷،۲۵۸) پر اور توحید اور دینی استقامت میں کم درجہ پر بلکہ قریب ناکام رہے۔ لعنة الله علی اعداء انبیاء الله وصلی الله تعالیٰ علیہ و بارک و سلم ہر نبی کی تحقیر مطلقاً کفر قطعی ہے چہ جائیکہ نبی مرسل کی تحقیر کہ مسمریزم کے سبب نور باطن اور توحید اور دینی استقامت میں کم درجہ پر بلکہ قریب ناکام رہے۔ لعنة الله علی الکاذبین الکافرین اور اس قسم کے صدہا کفر اس کے رسائل میں بھرے ہیں۔ بالجملہ مرزا قادیانی کافر مرتد ہے اس کے اور اس کے متبعین کے پیچھے نماز محض باطل و مردود ہے جیسے کسی یہودی کی امامت اور ان کے ساتھ مواکلت مشاربت اور مجالست سب ناجائز و حرام ہے۔ حدیث شریف لا تواکلوہم ولا تشاربوہم ولا تجالسوهم نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ نہ پانی پیو نہ ان کے پاس بیٹھو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار. (ھود آیت ۱۱۳) ظالموں کی طرف نہ جھکو ایسا نہ ہو کہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوئے واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد عبدالرحمن البہاری عفی عنہ۔ الجواب صحیح: محمد عبدالمجید سنبھلی عفی عنہ جواب صحیح ہے کریم بخش عفی عنہ سنبھلی۔
صحیح الجواب عبدہ المذنب احمد رضا صحیح الجواب عبدہ المذنب ظفر الدین جواب درست ہے عبد الوحید مدرس عفی عنہ بریلوی۔ عفی عنہ بریلوی۔ اول نعمانیہ امرتسر۔ صحیح الجواب بندہ فتح الدین از عبدہ المصطفیٰ ظفر الدین احمد ابو الفیض غلام محمد سنی حنفی قادری ہوشیار پور سنی حنفی قادری رضوی، بریلوی محمدی سنی حنفی بہاری، بریلوی نواب مرزا عبدالغنی جواب ٹھیک ہے۔ الجواب صحیح خادم ہٰذا الجواب صحیح سید علی عفی عنہ القادری الجواب صحیح احقر الزمن محمد حسن مدرسہ العلماء بندہ امام الدین کپور تھلوی الجالندھری نعمانیہ امرتسر قولنا بہ ھٰذا الحکم ثابت فقیر سعد اللہ جوابات مذکورہ بالا مطابق اہل سنت ہٰذا الجواب صحیح لا شک فی محمد رشید شاہ ولائتی ساکن سوات بنیر ملک والجماعت ہیں۔ احقر الزمن خاکسار الرحمٰن عفی عنہ ماتحت اخون صاحب سوات۔ سید حسن عفی عنہ مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور ہٰذا الجواب صحیح محمد اشرف مدرس الجواب صحیح لا شک فیہ مسکین علم مدرسہ نعمانیہ لاہور الدین لاہور
لقد اصاب من اجاب حررہ الفقیر المفتی ولی محمد جالندھری۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے اعتقادات مذکورہ اور اعتقادات کفریہ نقل کر کے علمائے ہندوستان پنجاب کی خدمت
میں پیش کیے گئے۔ سب نے بالاتفاق اس کو دائرہ اسلام سے خارج کیا اس کے ساتھ اسلامی معاملات مثل ملاقات و سلام وکلام کرنے سے منع کر دیا ہے اور قریب قریب ان ہر سہ رسائل میں دوسو علماء کی مہریں ودستخط ثبت ہیں۔
نمقہ ابو سعید محمد حسین بٹالوی حنفی اہلحدیث
ان عقائد کا معتقد کافر ہے حررہ محمد واحد نور رامپوری
الجواب صحیح ابو المحامد محمد شبلی جیراجپوری مدرس دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو۔
بیشک مرزا قادیانی کے عقائد واقوال حد کفر تک پہنچ گئے ہیں اس لیے اس کے کفر میں کوئی شک نہیں محمد کفایت اللہ عفی عنہ مدرسہ امینیہ دہلی۔
جو شخص خدا کے متعلق اس قسم کے عقائد رکھے جو سوال میں درج ہیں یا مدعی رسالت ہو اگر وہ مجنون نہیں تو کافر ہے حررہ ابو الفضل محمد حفیظ اللہ دارالعلوم لکھنو۔
مرزا قادیانی اصول اسلامی کا منکر ہے اور ملحد اس کی امامت بیعت اور محبت بالکل ناجائز ہے۔ رقمہ احقر العباد عبد الصمد مرید احمد میانوالی
الجواب صحیح سید علی زینی عفی عنہ مدرس مدرستہ العلوم دارالندوہ لکھنو۔
الجواب صحیح محمد قاسم عفی عنہ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی
ایسا شخص بیشک دائرہ اسلام سے خارج ہے حبیب احمد مدرس مدرسہ فتح پوری دہلی۔
جواب صحیح ہے محمد عبد الغنی عفی عنہ مدرس مدرسہ فتح پوری دہلی۔
الجواب صحیح سید انظار حسین عفی عنہ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی۔
الجواب صحیح محمد کرامت اللہ دہلی۔
جواب صحیح ہے ابو محمد عبد الحق دہلوی۔
جواب صحیح ہے محمد آمین مدرس مدرسہ امینیہ دہلی۔
الجواب صحیح محمد لطیف اللہ از علی گڑھ۔
قادیانی نص قطعی کا منکر ہے اور جو نصوص قطعیہ سے منکر ہوتا ہے وہ کافر ہے پس قادیانی دعاوی مذکورہ کا مدعی ہے تو وہ بیشک کافر ہے حررہ امانت اللہ علی گڑھ۔
مرزا قادیانی اور اس کے پیرو یہ سب کے سب کافر ہیں نصیر الدین خاں۔ غلام مصطفےٰ، ابراہیم، محمد سلطان احمد خان، محمد رضا خان۔
مرزا قادیانی اور اس کے معتقد اور مرید اور دوست مثل مسیلمہ کے کافر ہیں حررہ عین الہدیٰ عفی عنہ قادری از کلکتہ۔
جواب درست ہے عبد اللہ خان مدرس مدرسہ اسلامیہ شہر میرٹھ
الجواب صحیح احمد جی علاقہ چھچھ موضع پانڈک
الجواب صحیح سید حافظ محمد حسین واعظ ساڈھورہ ضلع انبالہ
بیشک جو آدمی امور قطعیہ کا منکر ہے وہ کافر ہے قرآن شریف معجزہ کا منکر ہے اس کا انکار کفر ہے اور ایسے آدمی کی بیعت بھی کفر ہے اور مسلمان جاننا درست نہیں حررہ احمد علی عفی عنہ مدرس مدرسہ اسلامیہ اندر کوٹ میرٹھ
قادیانی خنزیر مسیلمہ کذاب قادیان میں رہتا ہے مفتری زندیق مردود کافر نائب ابلیس لعنت اللہ علیہ زندیق کی توبہ قبول نہیں۔ شریعت محمدیہ میں واجب القتل ہے جمال الدین از ریاست کشمیر ضلع شہر مظفر آباد
ایسا دعویٰ کرنے والا کافر ہے اور اس کے مرید اور معتقد جو ایسے مدعی مفتری کو اس کے اقاویل فاسدہ اور دعاوی باطلہ میں سچا جانتے ہیں اور راضی ہیں وہ بھی کافر ہیں اس لیے کہ الرضاء بالکفر کفر حررہ محمد عبد الغفار خان رامپوری
الجواب صحیح فضل احمد ضلع پشاور علاقہ خاکسار مولوی محمد کفایت اللہ مرزا غلام احمد دائرہ اسلام سے خارج مردان تحصیل صوابی۔ صاحب کے جواب سے اتفاق کرتا ہے محمد اسحاق لدھیانوی ہے کتبہ مشتاق احمد مدرس گورنمنٹ سکول دہلی
بیشک الفاظ مذکورہ مسطورہ فتویٰ کفر جو شخص کسی پیغمبر کی نبوت کا انکار ذالک الکتب لا ریب فیہ محمد کے ہیں اور قائل ان کا کافر ہے اگر کرے یا حضرت ﷺ کے خاتم معز اللہ خاں رامپوری۔ احمد سعید مرزا مذکور سے یہ الفاظ تقریراً یا تحریراً النبیین ہونے کا انکار کرے وہ کافر رامپوری ثابت ہیں تو بس کافر ہے راقم فقیر ہے عبدالسلام پانی پتی۔ امانت علی از نکودریہ۔
قد صح الجواب محمد امانت اللہ الجواب صحیح محمد ضیاء اللہ خان صحیح الجواب محمد کفایت اللہ رامپوری۔ رامپوری۔ سہارنپوری المجیب مصیب حافظ محمد شہاب الدین الجواب صحیح فضل احمد رائے پور الجواب صحیح والقول نجیح والمذنب لدھیانوی گوجراں۔ ابوالرجال غلام محمد ہوشیار پوری اصاب من اجاب محمد ابراہیم وکیل رایتہ فوجدتہ صحیحاً نبی بخش حکیم رسول الجواب صحیح عنایت الٰہی سہارنپوری اسلام لاہور نگری۔ مہتمم مدرسہ عربیہ سہارنپور۔ الجواب صحیح محمد بخش عفی عنہ سہرائے۔ الجواب صحیح صدیق احمد انبیٹھوی۔ الجواب صحیح احقر الرحمٰن گل محمد خان مدرس مدرسہ عالیہ دیوبند۔
صحیح الجواب عبدہ محمد مدرس مدرسہ الجواب غلام رسول عفی عنہ مدرس الجواب صحیح عزیز الرحمٰن مفتی مدرسہ اسلامیہ دیوبند۔ مدرسہ عربیہ دیوبند۔ عالیہ عربیہ دیوبند۔ اصاب المجیب محمد حسن عفی عنہ مدرس الجواب صحیح بندہ محمود مدرس اول الجواب صحیح قادر بخش عفی عنہ جامع مدرسہ دیوبند۔ مدرسہ عالیہ دیوبند۔ مسجد سہارنپور۔ الجواب صحیح بندہ عبدالمجید۔ الجواب صحیح علی اکبر المجیب صادق محمد یعقوب المجیب مصیب ۔ عبدالخالق الجواب صحیح نور اللہ خان الجواب صحیح محمد فتح علی شاہ الجواب صحیح فقیر غلام رسول مدرسہ حمیدیہ لاہور۔
الجواب صحیح احمد علی شاہ اجمیری ہٰذا ہو الحق جمال الدین کوٹھالوی المجیب مصیب احمد علی عفی عنہ بٹالوی جواب درست ہے سلطان احمد گنجوی جواب درست ہے احمد علی عفی عنہ الجواب صحیح محمد عظمیٰ متوطن گکھڑ۔ سہارنپوری جواب صحیح ہے فقیر غلام اللہ قصوری۔ جواب صحیح ہے محمد اشرف علی عفی عنہ ما اجاب بہ المجیب فھو فیہ مصیب غلام بھون ہندوستان احمد امرتسری
ایڈیٹر اہل فقہ من قال سوا سب نبی کفر ہے اور دعویٰ نبوت کفر ذالک کذالک فقیر فتح محمد عفی ذالک قد قال محالا حررہ ابو الہاشم ہے نبی سے اپنے آپ کو افضل سمجھنے عنہ محبوب عالم عفی عنہ توکلی سیدوی ضلع والا کافر ہے ابوبکر علی احمد محمود اللہ شاہ گجرات۔ بدایونی عفی عنہ
الجواب صحیح شیر محمد عفی عنہ لاریب فی ما کتب رحیم بخش الجواب صحیح ابو عبدالجبار محمد جمال جالندھری۔ امرتسری۔ جواب صحیح ہے عبدالکریم مجددی الجواب صحیح فقیر محمد باقر نقشبندی الجواب صحیح لاریب فیہ محمد رحیم اللہ ساکن ٹنڈہ محمد خاں ضلع حیدر آباد مدرس مشن کالج لاہور۔ دہلی۔ سندھ۔
الجواب صحیح محمد وصیت علی مدرس ھذا ھو الحق خادم حسن مدرس مدرسہ الجواب صحیح عزیز احمد مدرس مدرسہ مدرسہ مولوی عبدالرب صاحب مرحوم مولوی عبدالرب صاحب دہلی۔ حسین بخش دہلی دہلی۔
المجیب مصیب محمد اسلم مدرس مدرسہ الجواب صحیح عبدالرحمن مدرس مدرسہ الجواب صحیح بندہ ضیاء الحق عفی عنہ بارہ ہندو راؤ دہلی۔ مولوی عبدالرب صاحب دہلی۔ الجواب صحیح محمد پردل دہلی الجواب صحیح ولی محمد کرنالوی جواب درست ہے عبدالصمد مدرس مدرسہ دیوبند
الاجوبۃ صحیح مقبول حسن عفی عنہ جواب صحیح ہے محمد اسحاق عفی عنہ لقد اجاب من اصاب مشتاق احمد مدرس سیوم مدرسہ جامع العلوم کانپور مدرس مدرسہ جامع العلوم کانپور۔ اول مدرس فیض عام کانپور جو کلمات سوال میں مذکور ہیں ہر ایک مرزا غلام احمد کے خیالات اور عقائد بیشک یہ شخص اسی طرح کا کافر ہے کلمہ کا مرتکب اشد کافر ہے العاجز اکثر ایسے ہیں جن سے فتویٰ کفر جیسا کہ مولوی محمد عثمان صاحب دام عبدالمنان وزیر آبادی۔ عائد ہوتا ہے یوسف علی عفا اللہ عنہ ظلہم نے تحریر فرمایا ہے فقط میرٹھی خیر نگری۔ ابوالرفعت محمد سخاوت اللہ خاں مدرس سیوم مدرسہ عین العلوم شاہجہانپور
تمام علماء نے اس کے کافر ہونے پر میری نظر سے مرزا کی کتابیں گزریں مرزا قادیانی کی کتابوں میں بہت اتفاق کر لیا ہے کوئی گنجائش تاویل کی ان میں صراحتہ عقائد کفریہ مرقوم سے کفریات موجود ہیں جو نصوص نہیں لہٰذا اس کی بیعت اور اس کی ہیں۔ لہٰذا میں باعتبار ان کتابوں کے قطعیہ کے خلاف ہیں۔ لہٰذا وہ دائرہ پیرو سے مجالست و مواکلت قطعی حرام مرزا قادیانی کو کافر سمجھتا ہوں غلام اسلام سے خارج ہے عبدالکریم عفی ناجائز ہے ابوالمعظم سید محمد اعظم محی الدین امام جامع مسجد عنہ از ہندوستان محمد حسین عفی عنہ۔ شاہجہانپوری شاہجہانپوری۔
جواب صحیح ہے محمد عبداللہ ناظم دینیات الجواب صحیح محمد فیض اللہ عفی عنہ ملتانی۔ الجواب صحیح محمود عفی عنہ ملتانی مدرسۃ العلوم علی گڑھ
بیشک ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقط محمد عبد الخالق عفی عنہ مدرس مدرسہ عین العلوم شاہجہانپور
جو شخص توہین کسی نبی کی انبیاء علیہم السلام سے کرے وہ مردود اور کافر ہے یعنی ایسا کافر ہے کہ اس کی توبہ میں اختلاف ہے تو اس کا کفر اور کفار کے کفر سے زائد ہے۔ العیاذ باللہ فقط محمد عثمان عفی عنہ مدرس اوّل مدرسہ عین العلوم شاہجہانپور
وجدته صحیحاً صریحاً مسکین عبداللہ شاہ مولوی پلٹن نمبر ۶۹ سیالکوٹی ثم گجراتی مہر دار الافتاء مدرسہ اہل سنت و جماعت معروف بنام نامی منظر الاسلام بریلوی
مرزا غلام احمد قادیانی یقیناً کافر ہے اس کی تکفیر میں ذرا بھی شک نہیں ہے احقر کو اس کی کتب تمامیہ دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا ہے اس سے اور اس کی متبعین سے اسلامی طریقہ سے ملنا جلنا ناجائز ہے واللہ اعلم بالصواب محمد اعزاز علی بریلوی۔
مرزا قادیانی جو عیسیٰ مسیح ہونے کا مدعی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کلمات شنیعہ لکھنے والا وغیرہ سراسر کاذب اور مفتری انتہا درجہ کا بے دین ہے مرتد ملحد خبیث النفس اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کی اتباع کرنے والا بھی اسلام سے خارج ہرگز امامت کے لائق نہیں۔ عبد الجبار عمر پوری دہلی کشن گنج
مرزا قادیانی ان عقائد باطلہ کے رو سے بلاریب کافر ظاہر ہے قرآنی اور اجماعی امر ہے کہ دنیا میں پہلا کافر ابلیس لعین ہے اور اس کا کفر نص کی بنا پر ہے اور وجوہ بھی تکفیر مرزائیں کے آیات و احادیث سے بکثرت ملتی ہیں۔ مرزائیوں سے ارتباط اسلامی نصوص آیات و احادیث سے ممنوع ہے جملہ تکالیف شرعیہ و ارشادات اسلامیہ ان سے کیا معنی رکھتے ہیں بلکہ جو شخص ان کی تکفیر میں تامل کرے اس پر بھی مخافت کفر ہے اور یہ پہلا زینہ دخول فی المرزائیت ہے۔ حررہ محمد عبد الحق الملتانی عفی عنہ۔
کچھ شک نہیں کہ مرزا قادیانی ایک دہریہ معلوم ہوتا ہے مفتری علی اللہ ہے اس کے الہامات سے معلوم ہوا کہ اسے خدا پر ایمان نہیں کیونکہ خدا پر ایمان رکھنے والا اس قسم کے افترا نہیں کیا کرتا اس لیے میرا یقین ہے کہ مرزا قادیانی جو کچھ کرتا ہے سب دنیا سازی کے لیے کرتا ہے پس اس کی امامت جائز نہیں ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری چونکہ شخص مذکور اپنے کو سچا رسول کہتا ہے اور رسالت کا ختم ہو جانا آنحضرت ﷺ پر نصوص قطعیہ یقینیہ سے ثابت ہے جو حد تواتر میں داخل ہے اس لیے وہ شخص بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے پس امامت یا بیعت و دوستی سلام کلام اس سے اور اس کے مریدوں سے جائز نہ ہوگا واللہ اعلم احقر محمد رشید مدرس دوم مدرسہ جامع العلوم کانپور
شخصیکہ مدعی رسالت باشد منکر نص قطعی است ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین و در کفر منکر قطعیات اختلاف نیست در حق چنیں کساں بیعت و محبت چہ معنی دارد الرقیم غلام احمد مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور
بمقتضائے کوائف مندرجہ بیان سائل ہر ایک جواب مطابق سوال صحیح و درست ہے اور ہر ایک جواب کی تائید میں ادلہ قطعیہ موئید ہیں اور کتب شرعیہ مملوءہ احقر العباد الی اللہ الصمد ابو الرجا غلام محمد ہوشیار پوری
حق تعالیٰ شانہ نے رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے چنانچہ ارشاد ہے۔ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین اور نیز باجماع امت ثابت ہے کہ انبیاء و رسل افضل الخلق ہیں۔ لہٰذا جو شخص اپنے لیے رسالت کا مدعی ہے اور عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ سے اپنے آپ کو افضل جانتا ہے وہ کتاب اللہ کا مکذب ہے۔ دائرہ اسلام
سے خارج ہے اس کی اور اس کے اتباع کی امامت اور بیعت و محبت ناجائز اور حرام ہے ایسے شخص سے اور اس کے اذناب سے سلام کلام ترک کرنا چاہیے۔ حررہ خلیل احمد سہارنپوری
شخص مدعی حال نبوت و رسالت کا ہے اور یہ کفر ہے اس کے دعویٰ کا ہر ایک کلمہ کئی کئی کفریات پر مشتمل ہے۔ پس شریعت غرا میں قائل ان کلمات اور دعاوی کا مثل فرعون دجال مسیلمہ کذاب کے ہے اسی کے ساتھ بیعت وغیرہ سلام و کلام شرع میں کفر ہے۔ کتبہ محمد محی الدین صدیقی اکٹھی عفی عنہ مدرس نصرۃ الحق حنفیہ امرتسر
مرزا قادیانی کے عقائد اس حد تک یقیناً پہنچ گئے ہیں کہ دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا حکم عائد ہو جائے دعویٰ نبوت اس کے اور اس کے مریدوں کی تصنیفات میں بصراحت موجود ہے انبیاء علیہم السلام پر اپنی فضیلت اور انبیاء علیہم السلام کی شان میں ہتک اور استخفاف سے ان کی کتابیں و اشتہار و رسالے مملو ہیں معجزات و خوارق عادت کی دور از کار تاویلیں نصوص قطعیہ کی تحریف معنوی ان کا ادنیٰ کرشمہ ہے لہٰذا اس کے کافر ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں اور ان کی بیعت حرام ہے اور امامت ہرگز جائز نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ الراجی الی اللہ محمد کفایت اللہ شاہجہانپوری
بلا ریب و شک مرزائی لوگ مرتد اور کافرین ہیں ایسے ظالموں سے احتراز کرنا قرآن شریف اور حدیث نبوی سے ثابت ہے جیسا کہ ارشاد خوش بنیاد جناب باری تعالیٰ کا ہے۔ فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین. حررہ فقیر حافظ سید پیر ظہور شاہ قادری قریشی الہاشمی جلالپوری
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فتویٰ نمبر دوم
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ.
اس شخص کی نسبت جو مرزا غلام احمد قادیانی کا مرید نہ ہونے کے باوجود اس کو مسلمان جانتا ہے۔
سوال...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس شخص کے بارے میں جو کہتا ہے کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کا مرید تو نہیں ہوں اور نہ اس کے اعتقادیہ مسائل میں شامل ہوں لیکن اس کو مسلمان جانتا ہوں کیا ایسے شخص کی بیعت اور امامت درست ہے اور شرعاً اس کو کیا کہنا چاہیے بینوا بالتفصیل جزاکم اللہ الرب جلیل۔
الجواب...... جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد کفریہ کے معلوم ہونے کے باوجود اس کو کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہے ایسے شخص اکثر وہی دیکھے گئے ہیں جو منافق اور کافر ہیں یعنی دراصل مرزائی ہوتے ہیں لیکن ظاہر داری کے طور پر کہتے ہیں کہ ہم مرزا کو مسلمان جانتے ہیں یا اس پر ہم کفر کا فتویٰ نہیں دیتے یا ہم اس کو اچھا تو نہیں جانتے لیکن کافر بھی نہیں کہتے دراصل یہ سب کارروائی منافقانہ ہے۔ کوئی مصلحت مدنظر رکھ کر ظاہر نہیں ہوتے فی الحقیقت پکے مرزائی ہوتے ہیں۔ یاد رکھو مسلمان کی شان سے بہت بعید ہے کہ ایسے کافر کی تکفیر میں توقف یا تردد کرے۔ الحاصل مرزا اور اس کے سب مرید اور باوجود مرزا کی کفریات کے معلوم ہونے کے اس کے کفر میں توقف کرنے والے سب کے سب کافر ہیں۔ توہین انبیاء علیہم السلام ادعائے نبوت رد نصوص ایسا کفر ہے جس میں اہل سنت میں سے کسی کا بھی اختلاف نہیں، اس واسطے دلائل لکھنے کی کچھ ضرورت نہیں۔ فقط اللہ اعلم حررہ العاجز یوسف عفی عنہ از بگھیلے والہ
الجواب جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال پر مطلع ہو کر اس کو کافر نہ جانے وہ خود کافر مرتد ہے بلکہ
جو شخص اس کے کافر ہونے میں شک و تردد کرے وہ بھی کافر مستحق عذاب عظیم ہے۔ شفا شریف میں ہے۔ یکفر من لم يكفر من دان بغير ملة المسلمين من الملل اووقف فيهم او شک۔ (شفا ج ۲ ص ۲۴۴) یعنی ہم ہر اس شخص کو کافر کہتے ہیں جو کافر کو کافر نہ کہے اس کی تکفیر میں توقف یا شک و تردد رکھے۔ بحر و غرر و مجمع الانھر و درمختار و فتاویٰ خیریہ و بزازیہ وغیرہ میں ہے۔ من شک فی کفره و عذابه فقد کفر یعنی جو شخص اس کے کفر و عذاب میں شک کرے یقیناً خود کافر ہے واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ محمد عبدالرحمن البہاری عفی عنہ۔
صحیح الجواب احمد رضا عفی عنہ۔ الجواب صحیح محمد عبدالمجید سنبلی عفی الجواب عبدہ ظفر الدین بریلوی حنفی عنہ۔ صحیح قادری رضوی عبدالان المصطفےٰ ظفر الدین احمد الجواب صحیح والمجیب مصیب احقر زمن جواب صحیح ہے سید حسن عفی عنہ مدرس بریلوی سردار الافتاء مدرسہ اہل سنت محمد حسن مدرس مدرسہ نعمانیہ امرتسر۔ مدرسہ نعمانیہ لاہور۔ و جماعت بریلوی نظر الاسلام۔ جواب صحیح ہے کریم بخش سنبلی عفی الجواب صحیح عبدالوحید مدرس اول ھذا الجواب صحیح محمد اشرف مدرس عنہ۔ مدرسہ نعمانیہ امرتسر۔ نعمانیہ لاہور۔ قولنا بہ ھذا الحکم ثابت فقیر سعد اللہ ھذا الجواب صحیح محمد لطف اللہ علی گڑھ۔ جواب صحیح ہے بندہ امام الدین شاہ ساکن سوات کپور تھلوی۔ ہذا الجواب صحیح سید علی جالندھری لقد اصاب من اجاب حررہ الفقیر الجواب صحیح بندہ فتح الدین ہوشیار المفتی ولی محمد جالندھری۔ پوری ھذا الجواب صحیح لاشک فیہ محمد رشید الجواب صحیح لاشک فیہ علم الدین الجواب صحیح سید علی زینی مدرس الرحمن۔ لاہوری۔ دارالعلوم ندوۃ لکھنو۔ الجواب صحیح والمجیب مصیب ابو العماد بہتر یہی ہے کہ ایسے شخص کے پیچھے نبیرہ حضرت محی الدین مسکین عبداللہ شاہ محمد شبلی عفی عنہ جیرانپوری مدرس نماز نہ پڑھیں۔ حررہ محمد امانت اللہ مولوی پلٹن نمبر ۹۹ سیالکوٹی ثم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو علی گڑھ۔ گجراتی۔ ھذا الجواب صحیح ابو سعید محمد عبدالخالق اصاب من اجاب محمد عبدالعزیز صحیح الجواب عبدالخالق لکھنوی۔ لکھنوی لکھنوی۔ الجواب صحیح ولی محمد کرنالوی صحیح الجواب محمد قاسم عبدالقیوم اصاب من اجاب محمد برکت اللہ الانصاری لکھنوی۔ لکھنوی۔ الجواب صحیح محمد عبد الہادی الانصاری صحیح الجواب محمد عبداللہ لکھنوی۔ ایسا شخص فاسق ہے محمد عبدالغنی مدرس لکھنوی۔ مدرسہ فتح پوری دہلی۔ الجواب صحیح بندہ محمد قاسم مدرس مدرسہ الجواب صحیح محمد کرامت اللہ دہلوی۔ الجواب صحیح والمجیب صحیح بندہ محمد آمین آمینیہ دہلی مدرس مدرسہ آمینیہ دہلی۔ الجواب صحیح محمد ذاکر بگوی عفی عنہ من اصاب فقد اجابہ غلام رسول الجواب صحیح ابو محمد احمد عفی عنہ چکوال لاہوری۔ ملتانی۔ لاہوری۔
جو شخص غلام احمد قادیانی کو باوجود دعاوی کے اہل اسلام جانے یا اپنے دعوے میں صادق سمجھے وہ اسلام اور دین محمدی سے خارج ہے الراقم عبدالجبار امرتسری۔
جو شخص مرزا کے عقائد معلوم کر کے اس کو کافر و خارج دائرہ اسلام نہ جانے وہ بھی اسی کا پیرو ہے ابو محمد سعید محمد حسین بٹالوی
اگر غلام احمد کے عقائد کو یہ عقائد کفریہ جانتا ہے اور پھر ان سے راضی و خوش ہے تو یہ بھی کافر ہے لان الرضا بالكفر کتبہ محمد کفایت اللہ شاہ جہانپوری مدرس مدرسہ امینیہ دہلی ۔
الجواب صحیح نور احمد امرتسری
اصاب من اجاب سید حسین مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور
الجواب صحیح محمد عبدالحق دہلوی
الجواب صحیح عبدالعزیز ساکن قلعہ صہبا سنگھ
ایسا شخص منافق ہے ایسے شخص کے خلف اقتداء درست نہیں غلام دین امرتسری۔
الجواب صحیح حکیم ابوتراب محمد عبدالحق امرتسری۔
الجواب صحیح سید شاہ حیدر آبادی
جو شخص اس کو حق جانتا ہے وہ بھی صراط مستقیم دین قویم سے منحرف ہے سید احمد
قادیانی ایسا شخص کافر اور مرتد ہے ابو یوسف امرتسری
الجواب صحیح محمد اسحاق لودھیانوی
اس کے عقیدے میں فرق ہے اس کی امامت اور بیعت جائز نہیں۔ الراقم عبدالسلام پانی پتی
الجواب صحیح عبداللطیف سہارنپوری۔
الجواب صحیح ثابت علی سہارنپوری۔
الجواب صحیح محمد کفایت اللہ سہارنپوری۔
الجواب صحیح والقول متنجح غلام محمد ہوشیار پوری۔
الجواب صحیح حافظ محمد شہاب الدین لودھیانوی
الجواب صحیح محمد ابراہیم وکیل اسلام لاہور
رئیتہ فوجدہ صحیحاً نبی بخش حکیم رسول نگری
اصاب من اجاب فضل احمد رائے پور گجراں۔
الجواب صحیح محمد رکن الدین نقشبندی ساکن الور
اجاب بہ المجیب وھو مصیب غلام احمد امرتسری
جواب صحیح ہے خادم شریعت ابوالہاشم محبوب عالم سیدے ضلع گجرات۔
الجواب صحیح فتح محمد صحیح
الجواب شیر محمد
الجواب صحیح فقیر غلام رسول مدرسہ حمیدیہ لاہور۔
الجواب صحیح فقیر غلام اللہ قصوری۔
الجواب صحیح فتح محمد
الجواب صحیح احمد علی شاہ اجمیری
ھذا ھوالحق جمال الدین کٹیالوی
الجواب صحیح سلطان احمد گجوی ضلع گجرات
الجواب صحیح محمد عظیم متوطن لکھڑ
جواب درست ہے احمد علی عفی عنہ مدرس مدرسہ اسلامیہ میرٹھ۔
المجیب مصیب احمد علی بٹالوی۔
الجواب صحیح عنایت علی سہارنپوری۔
الجواب صحیح صدیق احمد دھونوی
الجواب صحیح محمد بخش سمزائی۔
الجواب صحیح احقر گل محمد خاں مدرس الجواب صحیح سید محمد مدرس مدرسہ عربیہ الجواب صحیح غلام اسعد مدرس مدرسہ مدرسہ عربیہ دیوبند۔ دیوبند۔ عربیہ دیوبند۔
الجواب صحیح عزیز الرحمن مفتی حنفی اصاب المجیب محمد حسن مدرسہ دیوبند۔ الجواب صحیح بندہ محمود عفی عنہ اول مدرسہ عالیہ دیوبند مدرس مدرسہ دیوبند۔
الجواب صحیح قادر بخش مہتمم جامع مسجد الجواب صحیح بندہ عبدالمجید عفی عنہ۔ الجواب صحیح علی اکبر عفی عنہ سہارنپور۔
الجواب صحیح ابوالجبار محمد جلال المجیب صادق عبدالخالق۔ الجواب صحیح رحیم بخش جالندھری الدین امرتسری۔
الجواب صحیح بندہ عبدالصمد عفی عنہ الجواب صحیح عبدالکریم ساکن ٹنڈہ محمد جواب صحیح ہے محمد یعقوب دیوبند۔ مدرس مدرسہ دیوبند۔ خاں ضلع حیدرآباد سندھ۔
الجواب صحیح والمجیب مصیب حبیب الجواب صحیح محمد وصیت علی مدرس ھذا ھوالحق خادم حسین عفی عنہ مدرس المرسلین مدرس اول مدرسہ حسین بخش مدرسہ مولوی عبدالرب دہلی۔ مدرسہ مولوی عبدالرب دہلی۔ دہلی۔
الجواب صحیح محمد ناظر حسن صدر مدرس الجواب صحیح محمد عزیز احمد عفی عنہ مدرس المجیب مصیب محمد احکم عفی عنہ مدرس عربیہ فتح پوری دہلی۔ مدرسہ حسین بخش دہلی مدرسہ بارہ ہندو رائے دہلی۔
الجواب صحیح بندہ ضیاء الحق عفی عنہ الجواب صحیح حبیب احمد مدرس مدرسہ الجواب صحیح ولی محمد کرنالوی دہلی۔ فتح پوری۔
ایسے صریح منکر کو مسلمان سمجھنا تو گویا جو شخص مرزا کے عقائد سے ناواقف جو ایسے مدعی کو اس کے اقاویل کاذبہ خود مسلمانی سے خارج ہونا ہے۔ ہو کر مسلمان لکھتا ہے تو وہ بھی اسلام اور دعاوی باطلہ میں سچا جانتا ہے اور ابوالمعظم سید محمد اعظم مفتی حنفی شاہ سے خارج ہے۔ ہرگز امامت کے راضی ہے وہ بھی کافر ہے اس لیے جہانپوری لائق نہیں۔ عبدالجبار عمر پوری دہلی کہ الرضاء بالکفر کفر محمد عبدالغفار کشن گنج خان رامپوری۔
الجواب صحیح محمد سلامت الہدیٰ جواب صحیح ہے احمد سعید رامپوری۔ الجواب صحیح محمد ضیاء اللہ خاں رامپوری رامپوری۔
ذالک الکتاب لا ریب فیہ محمد الجواب صحیح عبداللہ خان مدرس مدرسہ جواب صحیح ہے محمد عبداللہ علی گڑھ۔ معز اللہ خاں رامپوری۔ اسلامیہ میرٹھ
مرزا اور اس کے اتباع کی مثل میرے جو ایسے اعتقاد والے کو مسلمان ایسے آدمی کی بیعت ہی کفر ہے اور نزدیک اسلامی فریق میں ایسا کافر کوئی جانے وہ شخص بھی کافر ہے جمال مسلمان جاننا درست نہیں احمد علی عفی نہیں العاجز عبدالمنان وزیر آبادی الدین ریاست کشمیر۔ عنہ
الجواب صحیح سید محمد حسین واعظ الجواب صحیح احمد جی علاقہ چھچھ۔ الجواب صحیح محمود عفی عنہ ملتانی۔ ساڈھورہ الجواب صحیح محمد فیض اللہ ملتانی عفی عنہ
مرزا کو یہ شخص اگر بنا بر جہالت کے مسلمان سمجھتا ہے تو معذور سمجھا جائے گا۔ اگر باوجود اس کے ایسے دعوے کفریہ اور عقائد باطلہ کے اس کو محض کلمہ گوئی کے مسلمان جانتا ہے تو خود اس کے اسلام پر خطرہ ہے۔ اس کو پہلے تعلیم کافی دی جائے اگر نہ سمجھے پھر اس کی امامت اور بیعت کو بالکل چھوڑ دیا جائے۔ حررہ عبدالحق الملتانی
جو شخص مرزا قادیانی کے حق میں باوجود ان ہفوات کے کہ وہ اپنے آپ کو عیسیٰ بن مریم علیہم السلام پر تفضیل دیتا ہے اور دعویٰ رسالت کرتا ہے حسن ظن رکھتا ہو اور اس کو مسلمان کہتا ہو تو وہ شخص خود دائرہ اسلام سے خارج ہے ایسے شخص کی امامت اور بیعت شرعاً ہرگز جائز نہیں ہے اور اہل اسلام کو اس سے اجتناب لازم ہے۔ حررہ محمد خدا بخش عفی عنہ پشاوری
جو شخص مرزا غلام احمد کے عقائد مخالف کو اچھا جانے اس کے پیچھے نماز درست نہیں اور نہ اس سے کسی کو بیعت کرنا جائز ہے۔ ابو یوسف علی میرٹھی
بمقتضائے کوائف مندرجہ بیان سائل ہر ایک جواب مطابق سوال صحیح و درست ہے اور ہر ایک جواب کی تائید کے ادلہ قطعیہ موید ہیں۔ اور کتب شرعیہ اسکی مملوکہ۔ کتبہ احقر عبدالصمد ابو الوفا غلام محمد ہوشیارپوری
شخص مذکور اگر مرزا کے کفریہ معتقدات پر اطلاع حاصل کرنے کے بعد اس کی تکفیر کرے تو فبہا ورنہ وہ بھی قادیانی کے ساتھ کفر میں ہم رشتہ ہے اس کی بیعت اور امامت جائز نہ ہوگی۔ حررہ خلیل احمد
ایسا شخص ساتر حق ہے اور باطن میں معتقد قادیانی کا ہے ایسے امام کی بیعت وغیرہ سے کنارہ کشی واجب ہے۔ الراقم محمد محی الدین الصدیقی الحنفی امرتسری
کسیکہ قائل جواز اقتدا خلف مرزا و اتباع او باشد مخطی و ناواقف از اصول دین است زیرا کہ صحت نماز بدوں ایمان صورت نمے بندد و بطلان نماز امام موجب بطلان نماز مقتدی است کما لا یخفی علی من له مسکہ بالدین و بیعت چنین ناواقف برین قیاس باید کرد۔ غلام احمد مدرس مدرسہ نعمانیہ
مرزا اور اس کے ہم عقیدہ لوگوں کو اچھا جاننے والا جماعت اسلام سے جدا ہے ایسے شخص سے بیعت کرنا حرام اور اس کو امام بنانا ناجائز ہے۔ مشتاق احمد حنفی مدرس گورنمنٹ سکول دہلی
ایسا شخص جاہل ہے کفر اور اسلام میں تمیز نہیں رکھتا اس کی امامت اور بیعت قبول نہیں ہے یا واقف متعصب ہے اس کو توبہ کرنی چاہیے ورنہ یہ تعصب بے محل مخل امامت و ارشاد ہوگا۔ حررہ ابو الحامد محمد عبدالحمید عفی عنہ حنفی القادری الانصاری النظامی لکھنوی
جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو مسلمان جانے گو اس کے طریقے پر نہ ہو یا مرید نہ ہو مگر وہ ایسا ہے جیسا کہ شمر اور ابن زیاد اور یزید اور ابن ملجم کو مسلمان جانتا ہے اور جاننے والا بھی منافق اور خارجی ہے۔ حررہ عین الہدیٰ شاہ قادری از کلکتہ
ایسا شخص جاہل ہے اس کو سمجھانا چاہیے اور اگر وہ اپنی غلطی پر مصر ہو اور ہٹ دھرمی کرے تو اس کی امامت سے بچنا چاہیے اور بیعت ایسے شخص سے نہ کی جائے یہ شخص بدعتی ہے۔ حررہ واحد نور رامپوری
جو ایسے شخص کو مسلمان سمجھتا ہے وہ یا جاہل ہے یا بدعقیدہ بیعت اور امامت ایسے شخص کی درست نہیں۔ کتبہ ابوالفضل محمد حفیظ اللہ مدرس دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
مَنْ سَبَّ الشَّيْخَيْنِ أَوْ طَعَنَ فِيْهِمَا فَقَدْ كَفَرَ لَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ بَلْ يُقْتَلُ (درمختار ج ۳ ص ۳۲۱) چہ جائیکہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات با برکات پر طعن کرنے والا اور دعویٰ نبوت کرنے والا اشد کافر ہے جیسا کہ خداوند کریم
اپنی وحدانیت میں لاشریک ہے ویسا ہی محمد رسول اللہ ﷺ اس کے بندوں میں یکتا اور بے نظیر ہیں۔ تراب اقدام اہل اللہ فقیر ابو میر محمد امیر اللہ قریشی الہاشمی جلالپور جٹاں بقلم خود
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده و نصلى على رسوله الكريم
سوال...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ مرزائی لوگ جو مرزا غلام احمد قادیانی کے سب عقائد کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی رسالت کے قائل ہیں اور اس کو مسیح موعود مانتے ہیں۔ اس واسطے علمائے عرب و عجم نے مرزائیوں پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے اگر کوئی مسلمان اپنی دختر کا نکاح کسی مرزائی سے کر دے بعد میں اس کو معلوم ہو کہ یہ شخص مرزائی ہے آیا یہ نکاح عندالشرع جائز ہوگا یا ناجائز اور یہ شخص اپنی لڑکی کا نکاح ثانی بلائے طلاق مرزائی زوج کے کسی مسلمان سے کر سکتا ہے یا نہیں۔ بینوا بالتفصيل جزاكم الله الرب الجليل.
الجواب...... مرزائی مرد سے سنیہ عورت کا نکاح نہیں ہوتا بلا طلاق سنیہ کا باپ اس کا نکاح کسی سنی سے کر سکتا ہے بلکہ فرض ہے کہ اس لڑکی کو اس مرزائی سے فوراً جدا کرے کہ اس کی صحبت اس کے ساتھ خالص زنا ہے بالکل وہی حکم ہے جو کوئی شخص اپنی دختر کسی ہندو کے گھر بلا نکاح بھیج دے بلکہ اس سے سخت تر کہ وہاں حرام کو حرام کی ہی مد میں رکھا اور یہاں نکاح پڑھا کر معاذ اللہ اسی حلال کے پیرایہ میں لایا گیا اس سے فوراً علیحدہ کر لینا فرض ہے پھر جس سنی سے چاہے نکاح ممکن ہے۔ ردالمحتار میں ہے۔ قولہ حَرُمَ نِكَاحُ الْوَثَنِيَّةِ وَفِي شَرْحِ الْوَجِيزِ وَكُلُّ مَذْهَبٍ يُكْفَرُ بِهِ مُعْتَقِدُهُ (ردالمحتار ص ۳۱۳،۳۱۴) درمختار میں ہے وَيَبْطُلُ مِنْهُ اِتِّفَاقًا مَا يَعْتَمِدُ الْمِلَّةَ وَهِيَ خَمْسُ النِّكَاحُ وَالذَّبِيْحَةُ الخ (درمختار ج ۲ ص ۳۱۳،۳۱۴) یہاں تک اصل حکم شرعی کا بیان تھا شرعاً یہ صورت جائز ہے اور ازدواج مکرر سے پاک کہ پہلا نکاح ہی نہ تھا۔ مگر قانون رائج میں جو امر جرم ہے شرعاً اپنی جان و مال اور آبرو کی حفاظت کے لیے اس سے بھی بچنے کا حکم ہے قانون کا حال وکلا جانتے ہیں اگر از روئے قانون بھی یہ صورت داخل جرم نہ ہو یا قانون حکم فتویٰ کو تسلیم کر کے اس کا جرح نہ ہونا قبول کر لے تو حرج نہیں ورنہ ان سے دور رہا جائے۔ ہاں دختر کو جسے جائز طریقہ سے ممکن ہو جدا کرنا سخت فرض اہم ہے اگرچہ دوسری جگہ نکاح نہ ہوسکے۔
الجواب صحیح بلا قیل و قال والمجیب صحیح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر احمد واللہ اعلم وعلمہ اتم کتبہ عبد السمیع مصیب بعون اللہ المتعال الفقیر محمد رضا خاں عفی عنہ بریلوی۔ نواب مرزا عفی عنہ سنی حنفی بریلوی۔ ضیاء الدین
الجواب صحیح محمد شجاعت علی (صاب صحیح الجواب والمجیب مصیب ومثاب الجواب صحیح والرائے نجیح حررہ محمد من اجاب نمقہ محمد علی رضا عفی عنہ محمد عبد الماجد عفی عنہ مہتمم مدرسہ شمسیہ عبد المقتدر القادری البدایونی عفی رام پوری بدایوں۔ عنہ خادم المدرستہ القادریہ۔
الحکم کذلک محمد معز اللہ خاں مدرس الجواب صحیح محمد شرافت اللہ رام احقر العباد سید شہاب الدین مدرسہ عالیہ رام پور پوری۔ جالندھری بقلم خود۔
الجواب صحیح خوجہ امام الدین صدیقی من اجاب اصاب محمد گلاب خان رام الجواب صحیح والقول قوی حررہ المسکین مدرسہ پشاوری عفی عنہ۔ پوری احقر العباد فدوی علی بخش گنہ پنڈ۔
الجواب صحیح والمجیب نجیح پیر حافظ سید ظہور شاہ قریشی الہاشمی جلالپوری عفی عنہ۔
الجواب صحیح وصواب المجیب مصیب و مثاب محمد یونس عفی عنہ
بما زبرہ المجیب اصاب فیما اجاب الراجی الی غفران الحق نور الحق عفی عنہ پشاور مانسہری مولداً
ھذا الجواب ھو الصواب وموافق کما فی الکتاب محمد عبدالحکیم صورتی پشاوری عفی عنہ سند یافتہ مدرسہ عالیہ ریاست رام پور۔
المجیب مصیب حررہ الاثیم مفتی عبدالرحیم خلف الوحید المفتی عبدالحمید المرقوم غفرلہ القیوم الساکن فی بلدہ پشاور۔
الجواب صحیح حقیق بالقبول محمد میر عالم پشاوری ہزاروی اول مدرس عربی انجمن حمایت اسلام۔
الجواب صواب ومثاب عبدالوہاب عفی عنہ پشاوری
الجواب صحیح نور الحسن مہتمم مدرسہ جامع العلوم کانپور۔
جواب درست احمد علی مدرس مدرسہ عربیہ میرٹھ اندر کوٹ۔
الجواب صحیح محمد قمر الدین عفی عنہ رامپوری
ذلک کذالک سردار احمد مجددی رامپوری
المجیب مصیب حررہ احمد علی عفی عنہ لاہوری۔
الجواب صحیح محمد نور الحسن عفی عنہ مدرس مدرسہ جامع العلوم کانپور۔
الجواب صحیح خان زمان عفی عنہ مدرس سیوم جامع العلوم کانپور۔
المجیب ہو المصیب محمد یار لاہوری
المجیب ہو المصیب ابوالحسن حقانی خلف الرشید مولانا وابینا مولوی ابو محمد عبدالحق دہلوی
اصاب من اجاب احقر دوست محمد جالندھری بقلم خود۔
ھذا الجواب مطابق للحق غلام محمد عفی عنہ مدہوری نمبردار چک نمبر ۱۲۵۵ ضلع لاہور۔
الجواب صحیح محمد عبدالسلام ٹوہانوی حصار
ذلک کذلک فقیر سید عبدالرسول عفی عنہ جالندھری
اگر مذکورہ بالا مرزائی مرزا کو رسول مانتا ہو تو یقیناً کافر ہے اور کافر سے مسلمان عورت کا نکاح ناجائز ہے راقم فیض الحسن نعمانیہ لاہور۔
بیشک مرزائی حکم مرتد میں ہیں اور ان سے مسلمہ عورت کا نکاح ناجائز ہے فقط رشید الرحمان رامپوری حال وارد جالندھر۔
اصاب المجیب العلام بندہ اصغر حسین عفی عنہ۔
الجواب صحیح محمد سہول عفی عنہ مدرس دیوبند۔
الجواب صحیح بشیر احمد عفی عنہ دیوبند۔
الجواب صحیح خاکسار سردار احمد عفی عنہ دیوبند۔
الجواب صحیح محمد ریحان حسین عفی عنہ
الجواب صحیح احقر الزمن گل محمد خان مدرس مدرسہ عالیہ دیوبند
جواب صحیح ہے حبیب الرحمن منچن آباد۔
بسملة و حمدلة و صلاة و سلاماً الامر کذالک۔
خادم الشعراء والاطبا والعلماء محمد ہادی رضا خان رئیس لکھنوی خلف حکیم مولوی محمد حسین رضا خاں صاحب مرحوم
الجواب صحیح علمائے کرام نے بیشک مرزا پر کفر کا فتویٰ دیا ہے اور کافر ہونے کی حالت میں جو امور جواب میں تحریر فرمائے ہیں صحیح اور درست ہیں۔ واللہ اعلم احمد علی مدرس مدرسہ جامع العلوم کانپور
بیشک مرزائی سے سنیہ عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا اگر کوئی کر دے تو بلا طلاق مرزائی زوج کے نکاح ثانی
کے مسلمان سے کر سکتا ہے کیونکہ پہلا نکاح نکاح ہی نہ تھا۔ حکیم مولوی عبدالرزاق راہوں بقلم محمد اسحاق راہوں جو لوگ مرزا کے نبی ہونے کے قائل ہیں وہ بیشک نص صریح قرآنی اور حدیث رسالت پناہی کے منکر ہیں۔ قال الله تعالى و تبارک فی القرآن المجید و فرقان المجید المشتمل بالوعد والوعید ما کان محمد ابا احدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النبیین وقال ﷺ لا نبی بعدی محمد منور علی عفی عنہ رامپوری
(رواہ الترمذی ج ۲ ص ۲۰۹)
نحمدہ و نصلى على رسوله الكريم چونکہ مرزائی فرقہ رسول کریم علیہ التحیة والتسلیم کو خاتم النبیین نہیں مانتا بلکہ ان کا ایمان ہے کہ مرزا قادیانی ہی آخر الزمان نبی ہے اور ایسا ہی اس کو مسیح موعود اور کرشن وغیرہ مانتے ہیں اور نیز جمہور کے خلاف انھوں نے قرآن مجید کے معنی کیے ہیں اس واسطے یہ لوگ مسلمان نہیں تصور کیے جاتے چونکہ وہ خود ہمیں کافر جانتے ہیں اس واسطے ایسے اشخاص سے مسلمان لڑکی کا نکاح ناجائز ہے۔ نیاز مند نبی بخش حکیم رسول نگری
الجواب اس میں شک نہیں کہ مرزا کے عقائد کفر تک پہنچے ہوئے ہیں پس اس کا پیرو جس کے عقائد مثل مرزا کے کفریہ ہیں اور تاویل ممکن نہیں مسلمہ سنیہ عورت کو اس سے نکاح نہ کرنا چاہیے اور اگر کیا تو وہ نکاح نہیں ہوا واللہ تعالیٰ اعلم ہے۔ کتبہ عزیز الرحمٰن عفی عنہ مدرسہ عربیہ دیوبند ۲۲ رجب المرجب ۱۳۳۰ء
الجواب چونکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں ان کے بعد جو مدعی نبوت ہوگا کافر ہے تقدیر صحت دعویٰ نبوت مرزا کے ان کے ساتھ معاملہ کفار رکھنا چاہیے لہٰذا نکاح عورت مسلمان کا کافر اور مرزائی سے حرام ہوگا۔ فقط راقم محمد عبدالعزیز عفی عنہ مدرسہ نعمانیہ لاہور
الجواب صحیح و صواب والمجیب مصیب و مثاب وَيُؤَيِّدُهُ ما حَقَّقَهُ الفاضل البريلوى في رسالته المسماة بازالة العار في حجر الكريم عن كلاب النار و كذا ما في رد الرفضة ونزهة الارواح في احكام النكاح فى بحث الكفر و فى زاد المعاد فى هدى خيرالعباد وللعلامة ابن القيم فى بحث الكفو لان نكاح المسلمة باالكافر والكافرة بالمسلم لا ينعقد اصلا والمسلمة بالمبتدع موقوف و للاولياء حق الاعتراض فان تركها فبها والا فالفسخ للقاضى اوالحكم كما في بهجة المشتاق فى احكام الطلاق فى بحث الفسخ والله اعلم و علمه اتم واحكم حرره فقیر محمد یونس عفی عنہ قادری حنفی کشمیری مولدا پشاوری نزیلا بقلمہ ۔ ترجمہ جواب صحیح اور درست ہے جیسا کہ تائید کرتا ہے اس کی وہ جو تحقیق کیا ہے فاضل بریلوی نے رسالہ مسمی ازالۃ العار فی حجر الکریم عن کلاب النار میں اور جیسے کہ ردالرفضۃ اور نزہۃ الارواح میں ہے نکاح کے حکموں میں بحث کفو میں اور زاد المعاد فی ہدیٰ خیر العباد للعلامہ ابن قیم میں ہے بحث کفو میں کیونکہ نکاح مسلمان عورت کا کافر مرد کے ساتھ اور کافر عورت کا مسلمان مرد کے ساتھ ہرگز منعقد نہیں ہوتا اور مسلمان عورت کا نکاح بدعتی مرد کے ساتھ موقوف ہوتا ہے۔ اگر وہ بدعت سے توبہ نہ کرے تو عورت کے ولیوں کو اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے۔ پس اگر وہ بدعتی خاوند ولیوں کے اعتراض پر اس کو چھوڑ دے تو بہتر ورنہ قاضی کے حکم سے ٹوٹ جائے گا جیسا کہ بہجتہ المشتاق احکام بحث فسخ میں ہے۔ واللہ اعلم الخ
الجواب مرزا کے پیرو جو کہ اس کی نبوت کے قائل ہیں اور اس کے عقائد کے معتقد وہ بیشک کافر ہیں دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مسلمہ عورت کا نکاح مرزائی سے منعقد نہیں ہوتا بعد علم اس امر کے کہ زوج مرزائی ہے
زوجہ کا والد اپنی دختر کا نکاح بلا طلاق دوسری جگہ کر سکتا ہے چونکہ پہلا نکاح کوئی چیز نہ تھا قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔ وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ وَلَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ اُوْلٰٓئِكَ يَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَاللّٰهُ يَدْعُوْا اِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ وَ يُبَيِّنُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ (بقرہ آیت ۲۲۱) فتح القدیر میں ہے۔ وَيَدْخُلُ فِيْ عَبَدَةِ الاوْثَان عَبَدَةُ الشَّمْسِ والنجوم وفي شرح الوجيز و كل مذهب يكفر به مُعْتَقِدُهُ لِاَنَّ اِسْمَ الْمُشْرِكِ يَتَنَاوَلُهُمْ جَمِيْعًا ۔ (فتح القدیر ج ۳ ص ۱۳۷) مرزائی بقول صریح حکم فقہ مرتد ہیں اور مرتد کا نکاح باطل ہوتا ہے بعد گزرنے عدت کے وہ عورت جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ کما ھو مصرح فی کتب الفقہ رقیمہ۔ العبد الاثیم محمد ابراہیم الحنفی القادری عفی عنہ المدرس بالمدرسة الشمسية بجامع بلده بدایوں
جو کچھ کہ حضرت قبلہ محدث ارشد فقیہ اوحد صاحب تصانیف کثیرہ جناب مولانا مولوی وصی احمد صاحب قبلہ مشہور محدث سورتی دام فیضہ القوی وعم مدظلہ الی یوم الابد الابدی نے تحریر فرمایا ہے وہ بالکل صحیح ہے اور حضرت مجیب مدظلہ الاقدس اپنے جواب میں صحیح ہیں۔ فقط حررہ عبدالاحد مدرس مدرسة الحدیث پیلی بھیت
الجواب وهو ملہم الصدق والصواب بیشک بلا تردد کر سکتا ہے کہ مرزائی سے نکاح باطل محض زنائے خالص ہے کہ وہ مرتد ہے اور مرتد کا نکاح کسی قسم کی عورت کے ساتھ نہیں ہو سکتا طلاق کی حاجت نکاح میں ہوتی ہے نہ کہ زنا میں فتاویٰ عالمگیری میں ہے۔ وَلَا يَجُوْزُ لِلْمُرْتَدِّ اَنْ يَّتَزَوَّجَ مُرْتَدَّةً وَّلَا مُسْلِمَةً وَّلَا كَافِرَةً اَصْلِيَّةً (عالم گیری ج ۲ ص ۲۸۲) وَالله اعلم و علمه اتم واحكم.
فقط حررہ الفقیر القادری وصی احمد عفی عنہ مدرسۃ الحدیث الدایرۃ فی پیلی بھیت
ای عزیز با تمیز آگاہ اور ہوشیار ہو جو شخص جناب رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات کے ساتھ دعویٰ ہمسری کا کرے وہ بیشک مرتد اور کافر ہے اس کے ساتھ کھانا اور پینا اور سلام علیک کرنا ناجائز اور ممنوع ہے خیال کرنے کی جا ہے طریقۃ المسلمین میں ہے۔ فَجَعَلَهُ عَبْدًا كَامِلاً بحيث لا شريك له في العبوديت وكما لها كما انه لا شريك للرب في الربوبيت و خواصها خلاصہ کلام اور مطلب مراد یہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ جلشانہ کا شریک الوہیت اور ربوبیت میں نہیں ہے اسی طرح جناب محمد رسول اللہ ﷺ کا نظیر اور سہیم عبودیت میں نہیں ہے جیسا کہ شاعر نے کیا خوش لہجہ میں کہا ہے۔
جہاں میں گر نظیر انکا دگر ہو تو میں جانوں
خاکپائے اہل اللہ فقیر میر محمد امیر اللہ عفی عنہ مولانا قریشی الہاشمی جلالپور جٹاں بقلم خود
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمده و نصلی علیٰ رسوله الکریم
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین ایسے شخص کے حق میں ایک مسجد کا امام ہو اور مدعی علم ہو ایک مرزائی مر گیا پہلے اس کا جنازہ مرزائیوں نے کیا اور دوبارہ امام مذکور جو اہل سنت والجماعت ہے اس نے جنازہ کیا۔ تکفیر مرزا اور اس کے پیروان کا وہ عالم ہے کہ کل علمائے عرب و عجم تکفیر مرزا پر مواہیر ثبت کر چکے ہیں۔ امام مصلی جنازہ اس فتوٰی کو دیکھ چکا ہے دیدہ و دانستہ جو ایسا کام کرے اس کا شرعاً کیا حکم ہے بینوا توجروا.
الجواب........ مرزا غلام احمد قادیانی علانیہ نزول وحی، نبوت اور رسالت کے مدعی ہیں اور ان کے مرید اور مقلد ان کے ان سب دعاوی کو تسلیم کرتے ہیں اس لحاظ سے ان کا اور ان کے مریدوں کا خارج از دائرہ اسلام ہونا مسلم الثبوت مسئلہ ہے۔ امام ابوالفضل قاضی عیاض (کتاب الشفاء ج ۲ ص ۲۴۶، ۲۴۷ باب مقالات کفر) تعریف حقوق المصطفیٰ میں فرماتے ہیں۔ وكذالك من ادعى نبوة احد مع نبينا عليه الصلوة والسلام كاصحاب مسيلمة والاسود العنسى و بعده كالعيسيوية من اليهود القائلين تخصیص رسالته الى العرب وكالجزمية القائلين بتواتر الرسل وكاكثر الروافضة القائلين بمشاركة على فى الرسالة للنبى ﷺ وبعده وكذالك كل امام عند هؤلاء يقوم مقامه فى النبوة والحجة وكالبزيغية والبيانية منهم القائلين بنبوة بزیغ وبيان اومن ادعى النبوة لنفسه او جوز اكتسابها والبلوغ بصفا القلب الى مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذالك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة وانه يصعد الى السماء و يدخل الجنة و ياكل من ثمرتها و يعانق الحور العين فهولاء كلهم كفار مكذبون للنبى ﷺ لانه اخبر انه خاتم النبيين لانبى بعده واخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين و انه ارسل الى كافة الناس واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهوم المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شك فى كفر هولاء الطوائف كلها قطعًا اجماعًا و سمعًا.
(ج ۲ ص ۵۱۹)
ترجمہ: اور ایسا ہی جو شخص کہ دعویٰ کرے کسی ایک کی نبوت کا ہمارے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ یعنی ان کی موجودگی میں جیسا کہ مسیلمہ کذاب کے پیرو اور اسود عنسی کے تھے اور ایسے ہی جو دعویٰ کرے پیچھے ان کے مانند عیسویہ کے یہودیوں سے جو کہ محمد ﷺ کی نبوت کو عرب کے ساتھ خاص کرتے ہیں اور مانند جزمیہ کے جو تواتر رسل کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول ہمیشہ آتے رہیں گے اور مانند بعضوں کے جو کہتے ہیں کہ علی کرم اللہ وجہ محمد ﷺ کے ساتھ نبوت میں شریک تھے اور ان کے پیچھے بھی نبی تھے اور ایسے ہی ان کا ہر امام ان کے نزدیک نبوت اور حجت میں محمد ﷺ کا قائم مقام ہے اور مانند بزیغیہ اور بیانیہ کے جو ان سے بزیغ اور بیان کی نبوت کے قائل ہیں یا وہ شخص جو اپنی ذات کے واسطے نبوت کا دعویٰ کرے یا نبوت کے حاصل کرنے اور صفائی قلب کے ساتھ نبوت کے مرتبہ پر پہنچنے کو جائز کہتا ہو مانند فلسفیوں اور گمراہ صوفیوں کی اور ایسا ہی وہ شخص جو دعویٰ کرے کہ اس کی طرف وحی کی جاتی ہے اور اگرچہ نبوت کا دعویٰ نہ کرے اور دعویٰ کرے کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے اور جنت کے میوے کھاتا ہے اور حوروں سے بغل گیر ہوتا ہے پس یہ سب کافر ہیں۔ نبی ﷺ کے جھٹلانے والے اس لیے کہ انھوں نے خبر دی ہے کہ وہ نبیوں کے سلسلہ کے ختم کرنے والے ہیں ان کے پیچھے کوئی نبی نہیں ہوگا اور خبر دی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور تحقیق وہ تمام خلقت کی طرف بھیجے گئے ہیں اور اجماع کیا امت نے اس بات پر کہ اس کلام کے ظاہری معنی ہی مراد ہیں بغیر کسی تاویل اور تخصیص کے پس ان ایسے مدعیوں کے کفر میں قطعاً اور اجماع اور سمع کے طور پر کوئی شک نہیں ہے۔ ان حالات میں مرزا غلام احمد کے مریدوں کو پیش امام بنانا ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا ہرگز درست نہیں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ولا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره انهم كفروا بالله ورسوله وماتوا وهم فاسقون. ترجمہ: اور نہ نماز پڑھ کسی ایک پر ان میں سے جو مرے کبھی بھی اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہو کے دعا کرے تحقیق انھوں نے کفر کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ اور وہ کفر کی حالت میں مر گئے پس جس شخص نے دیدہ و دانستہ مرزائی کے جنازہ کی نماز پڑھی ہے اس شخص کو علانیہ توبہ کرنی چاہیے اور مناسب ہے کہ
وہ اپنے تجدید نکاح کرے اور حسب طاقت آدمیوں کو کھانا کھلائے اور اگر وہ شخص علانیہ توبہ نہ کرے تو اہل سنت والجماعت کو اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنی چاہیے ایسے منافق کے پیچھے نماز درست نہیں ہوتی ہٰذا واللہ اعلم بالصواب کتبہ عبدالمذنب محمد عبداللہ ٹونکی از لاہور عفی عنہ۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیرو نصوص قطعیہ کے منکر ہیں پس جو شخص نص قطعی کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ کافر کے واسطے بخشش مانگنی گناہ ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِ الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ. ترجمہ: (اے پیغمبر) تم ان کے حق میں مغفرت کی دعا کرو یا ان کے حق میں مغفرت کی دعا نہ کرو (ان کے لیے یکساں ہے) اگر تم ستر دفعہ بھی مغفرت کی دعا کرو گے تو خدا ہرگز ان کی مغفرت نہیں کرے گا یہ ان کے اس فعل کی سزا ہے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ (ایسے) سرکش لوگوں کو (توفیق) ہدایت نہیں دیا کرتا۔ حررہ فقیر حافظ سید پیر ظہور شاہ قادری جلالپوری۔
سوال...... مرزائی کا جنازہ پڑھنا کیا ہے۔ الجواب...... کفر ہے کافر کو مثل مسلمان کہنا جیسا کہ مسلمان کو کافر کہنا جنازہ کی دعا میں یہ لفظ آتے ہیں۔ اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَاَحْيِهِ عَلَى الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْاِيْمَانِ یعنی ہم میں سے جس کو زندہ رکھتا ہے اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو مارنا ہے اس کو ایمان پر مار اس نے میت کو اپنے زمرہ اسلام میں شامل کیا اور آپ میت کے ساتھ شامل ہوا یہ اقرار عدم امتیاز کا ہے درمیان کافر اور مسلمان کے اور جو کافر اور مسلمان کو برابر سمجھے وہ بے ایمان ہے حدیث کا فتویٰ ہے کہ جو کسی قوم سے مل کر کھائے اور مل بیٹھے اور اس کا دل ویسا ہی ہو جاتا ہے اور وہ ملعون ہو جاتا ہے۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ لَمَّا وَقَعَتْ بَنُوْ اِسْرَائِيْلَ فِي الْمَعَاصِيْ فَنَهَتْهُمْ عُلَمَاءُ هُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوْا فَجَالَسُوْا فِيْ مَجَالِسِهِمْ وَاَكَلُوْهُمْ وَشَارَبُوْهُمْ فَضَرَبَ اللّٰهُ قُلُوْبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَلَعَنَهُمْ عَلٰى لِسَانِ دَاوُدَ وَ عِيْسَى بْنِ مَرْيَمَ.
(مسند احمد مطبع بیروت حدیث نمبر ۳۷۱۳ ج ۶ ص ۲۵۱، ۲۵۰)
یعنی جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے تو ان کے علما نے ان کو منع کیا باز نہ آئے۔ وہی علماء ان کے ساتھ مل بیٹھے اور مل کے کھایا پیا تو اللہ تعالیٰ نے سب کے دل یکساں سیاہ کر دیے اور داؤد اور عیسیٰ علی نبینا وعلیہما السلام کی زبان پر ان کو ملعون بنایا۔ فقیر غلام قادر بھیروی از لاہور
قد صح الجواب المجیب المصیب احقر الجواب صحیح بندہ عبدالسلام عفی عنہ ھذا الجواب صحیح والمجیب محمد یار عفی عنہ محمد باقر عفی عنہ نقشبندی مجددی ٹوہانوی مولد دیوبندی۔ لاہور امام مسجد سنہری۔ لاہوری۔
الجواب صحیح والمجیب نجیح محمد حسن عفی المجیب مصیب محمد عمر خان عفی اللہ عنہ الجواب صحیح محمد عالم دوم مدرس مدرسہ عنہ اول مدرس مدرسہ حمیدیہ لاہور۔ لاہور۔ حمیدیہ لاہور ذلک کذلک محمد حسین عفی عنہ الجواب صحیح غلام رسول مدرس مدرسہ الجواب صحیح ابوسعید محمد حسین بٹالوی۔ لاہوری۔ حمیدیہ لاہور۔ الجواب صحیح محمد یونس عفی عنہ کشمیری الجواب صحیح حررہ الراجی بارگاہ حق نور المجیب مصیب محمد سخاوت اللہ مدرس مولداً پشاوری الخ۔ الحق مانسہرا۔ مدرسہ عین العلوم۔
الجواب صحیح نور الحسن عفی عنہ نائب هذا الجواب اصح والحق الصریح الجواب صحیح بالقول محمد میر عالم عفی عنہ مہتمم مدرسہ جامع العلوم کانپور۔ عبدالحکیم صواتی مولد پشاوری سند ہزاروی حال انجمن حمایت اسلام یافتہ مدرسہ عالیہ رام پور ریاست۔ پشاور۔ هذا الجواب مطابق للحق غلام محمد الجواب صحیح خان زمان مدرس سوم الجواب صحیح محمد نور الحسن مدرس مدرسہ مدنپوری مدرسہ جامع العلوم کانپور۔ جامع العلوم کانپور صحیح الجواب عاجز عبدی سر عفی عنہ الجواب صحیح بنده سلطان حسن غفرلہ الجواب صحیح ابوالحسن حقانی ابن مولوی مدرس مدرسہ عین العلوم شاہجہانپور۔ ابو محمد عبدالحق دہلوی قادیانی کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ الجواب امام کو مناسب نہ تھا کہ اس الجواب صحیح وصواب والمجیب مصیب و ابو محمود محمد رمضان عفی عنہ کی نماز پڑھتا اگر امام توبہ نہ کرے تو مثاب ليس الشأن الا هذا الجواب لودھیانوی۔ اس کو عہدہ امامت سے معزول کرنا واللہ اعلم بالصواب عبد الوہاب الجواب صحیح مشتاق احمد مدرس دہلی چاہیے ابو محمد عبدالحق دہلوی، پشاوری۔
هو الموفق صحت نماز جنازہ کی شرائط میں سے ایک شرط اسلام میت بھی ہے کما صرح بہ الفقہاء الکرام اگر کوئی شخص قطعاً اسلام سے خارج ہو جائے وہ جس گروہ کا ہو دیدہ و دانستہ اس کے جنازہ کی نماز پڑھنا ناجائز اور ایسی ناجائز نماز پڑھنے والا گناہگار ہوگا ورنہ نہ۔ واللہ اعلم بالصواب وعنده ام الکتاب حررہ محمد عبدالحمید
الجواب مصاب امام مذکور اگر معتقد کفر غلام احمد قادیانی کا نہیں تو بلا شبہ ادائے صلوۃ جنازہ پیروان اس کے کافر ہو گیا اس لیے کہ غلام احمد مذکور قطعاً کافر ہے اس نے کلام اللہ کو محرف کر دیا ہے اور تحریف کتاب اللہ کا کفر ہے اور ایضاً اللہ جل شانہ قرآن میں فرماتا ہے۔ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ. العبد الاثیم مفتی عبدالرحیم خلف الرشید مفتی عبدالحمید پشاوری
صورت مذکورہ میں امام مذکور سخت مداہنت اور جرم عظیم کا مرتکب ہے اور اس لیے فاسق ہے توبہ کرنا لازم ہے اگر توبہ نہ کرے تو زجراً مسلمان اس سے اسلامی تعلقات ترک کر دیں۔ محمد کفایت اللہ عفی عنہ صدر مدرس امینیہ دہلی
الجواب چونکہ نماز جنازہ میں دعائے مغفرت للمیت ہوتی ہے اور یہ مسئلہ ہے کہ دعائے مغفرت للکافر کفر ہے علمائے کرام فتویٰ کفر مرزا اور اس کے متبعین پر دے چکے ہیں بنابریں مصلی صلوۃ جنازہ للقادیانی بغیر توبہ جدید مسلمان نہ ہوگا۔ عبد الرؤف مدرس مدرسہ اسلامیہ عین العلم شاہجہان پوری عفی عنہ
الجواب جبکہ اس امام نے بعد علم اس بات کے کہ وہ میت ہم عقیدہ و ہم مذہب مرزا غلام احمد قادیانی کا ہے اس میت کے عقائد حد کفر قطعی تک پہنچے ہوئے تھے اور میت کا تائب ہونا اس کو نہ معلوم ہوا ہو اس نے نماز جنازہ پڑھادی تو اس کے حق میں دعائے مغفرت للکافر کا حکم عائد ہوگا۔ بعض علماء نے دعائے مغفرت للکافر پر حکم کفر دیا ہے اور بعض نے احتیاط کی ہے بہر حال یہ فعل اجماعاً حرام ہے اگر اس کو حلال سمجھے گا تو سب کے نزدیک حکم کفر عائد ہوگا۔ درمختار میں ہے۔ وَالْحَقُّ حُرْمَةُ الدُّعَاءِ بِالْمَغْفِرَةِ لِلْكَافِرِ ردالمختار میں ہے۔ رُدَّ عَلَى الْإِمَامِ الْوَافِي وَمَنْ تَبِعَهُ حَيْثُ قَالَ إِنَّ الدُّعَاءَ بِالْمَغْفِرَةِ لِلْكَافِرِ كُفْراً الخ (درمختار ج ۲ ص ۳۱۳، ۳۱۴) علماء محققین فرماتے ہیں کہ جس مسئلہ میں علماء آپس میں کفر اور عدم کفر میں مختلف ہوں تو احتیاط عدم تکفیر میں ہے ہاں ایسے شخص کو توبہ اور تجدید ایمان و نکاح کا حکم دیا گیا ہے اور وہ جب تک توبہ نہ کرے مسلمانوں کو اس سے اجتناب اور اس کی اقتدا سے پرہیز کرنا چاہیے۔ فقیر حافظ محمد بخش عفی عنہ قادری مدرس مدرسہ محمدیہ بدایوں
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
القول الصحیح فی مکائد المسیح!
حضرت مولانا محمد سہولؒ دیوبند
بسم الله الرحمن الرحیم!
مرزا غلام احمد ساکن قادیان ضلع گورداسپور جو اپنے کو عیسیٰ موعود اور مہدی آخرالزمان کہتا تھا اور جملہ احادیث بابت نزول عیسیٰ علیہ السلام اور ظہور مہدیؒ اور قتل دجال وغیرہا کی تحریف وتاویل وانکار کرتا تھا اس کے متعلق امور مذکورہ ذیل دریافت طلب ہیں۔ موافق مذہب سنی حنفی جواب سے مطلع فرمایا جائے۔
- (١).......مرزا غلام احمد قادیانی مذکور اور اس کے معتقدین اہل سنت والجماعت میں داخل ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو
کافر ہیں یا مسلمان۔
- (٢).......ان لوگوں کے ساتھ اسلامی معاملہ درست ہے یا نہیں۔
- (٣).......ان لوگوں کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔
- (٤).......ان لوگوں کو نماز پڑھنے اور دیگر احکام مذہبی ادا کرنے کے لئے اہل سنت والجماعت اپنی مسجدوں میں
آنے دیں یا نہیں۔
- (٥).......ان لوگوں کو قادیانی کہنا درست ہے یا نہیں۔
الجواب(١).......مرزا غلام احمد ساکن پنجاب ضلع گورداسپور قصبہ قادیان اور اس کے جملہ معتقدین زمرہ اہل سنت والجماعت اور احاطۂ اسلام سے یقیناً خارج ہیں۔ مرزاغلام احمد کے اقوال وعقائد ایسے ہیں کہ ان سے واقف ہو کر کوئی مسلمان ان لوگوں کے احاطۂ اسلام سے خارج ہونے میں تردد نہ کرے۔ چند اقوال مرزا قادیانی مذکور کی تصانیف سے نقل کرتا ہوں۔ ”فاخر جنی الله من حجرتی وعرفنی فی الناس وانکارہ من شہرتی وجعلنی خلیفۃ آخر الزمان وامام ہذا الا وان وکلمنی بکلمات نذکر شیئا منہا فی ہذا المقام ونومن بہا کما نومن بکتب الله خالق الانام.“ (الاستفتاء ص٦٢ خزائن ج٢٢ص٧٠٥) کے تحت میں بزعم خود اپنے خدا کے کلام کو نقل کرتا ہے۔ اس میں سے چند عبارت درج ذیل ہیں:
انما امرک اذا ارادت شیئا ان تقول لہ کن فیکون ، (الاستفتاء ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٤)....... ”انا نبشرک بغلام مظہر الحق والعلی کان الله نزل من السماء ،“ (الاستفتاء ص ٨٥ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٢)....... ”انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی....... انت منی بمنزلۃ ولدی ،“ (الاستفتاء ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٩)....... ”قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الہکم الہ واحد ،“ (الاستفتاء ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٨)....... ”وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین ،“ (الاستفتاء ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٨)....... ”قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله ،“ (الاستفتاء ایضاً)....... ”لا تخف انی لا یخاف لدی المرسلون ،“ (الاستفتاء ص ٨٣ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٠)....... ”انا فتحنالک فتحاً مبیناً لیغفرلک الله ماتقدم من ذنبک
وماتأخر . “ ( الاستفتاء ص ۸۵ خزائن ج ۲۲ ص ۷۱۱) ...... ” لولاك لما خلقت الافلاك “ . ( الاستفتاء ص ۸۵ خزائن ج ۲۲ ص ۷۱۲) ...... ”اراد الله ان يبعثك مقاماً محموداً . “ ( الاستفتاء ص ۸۶ خزائن ج ۲۲ ص ۷۱۳) ...... ”انك لمن المرسلين على صراط مستقيم . “ ( الاستفتاء ص ۸۷ خزائن ج ۲۲ ص ۷۱۵) ......!
ترجمہ : بس تیرا فرمان جب تو ارادہ کرے کسی چیز کا یہی ہے کہ اس کو فرما دے ہو جا پس وہ ہو جاتی ہے۔ ہم تجھ کو بشارت دیتے ہیں کہ ایک لڑکے کی جو حق اور علا کا مظہر ہو گا اور ایسا ہو گا گویا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے اتر آیا تو میرے لئے بمنزلہ توحید وتفرید کے ہے تو بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔ کہہ دے میں بھی تم جیسا ایک بشر ہی ہوں میری جانب وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود یکتا ہے اور ہم نے تجھ کو دنیا جہاں کے لوگوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ کہہ دے اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ سے تو میری راہ چلو کہ اللہ تم سے محبت کرے۔ ڈر مت۔ ڈرا نہیں کرتے میرے حضور میں پیغمبر۔ بے شک ہم نے تجھ کو فتح دی کھلم کھلی فتح تا کہ اللہ تجھ کو معاف کر دے جو آگے ہو چکے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے۔ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو نہ پیدا کرتا۔ اللہ نے ارادہ کیا ہے کہ تجھ کو کھڑا کرے گا مقام محمود میں ۔ بے شک تو پیغمبروں میں ہے سیدھے راستہ پر۔
(مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ ہفوات ہیں جن کو وہ اپنی زندگی بھر الہامات اور وحی سے تعبیر کرتا رہا۔ اور دجالی فتنہ سے بے خبر لوگ اس پر ایمان لاتے رہے۔)
دافع البلاء میں ہے کہ : ” خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“ (دافع البلاء ص ۱۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۰)....... ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“ (دافع البلاء ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱) ....... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنے تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“ (دافع البلاء ص ۱۳ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۳)....... ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو ....... اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“ (دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰)....... ”اينك منم که حسب بشارات آمدم ....... عیسیٰ کجاست تابنهد پابمنبرم “
(ازالہ اوہام ص ۱۵۸ روحانی خزائن ج ۳ ص ۱۸۰)
”مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی ۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہیں رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص ۴ خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۰)
”ریویو ج اول نمبر ۶ ص ۲۵۷ میں مذکور ہے کہ : ” خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنے تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“ پھر ریویو ص ۲۷۸ میں لکھا ہے کہ : ”مجھے قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے ہاتھ میں
میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں وہ ہرگز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ پر ظاہر ہورہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ۱۴۸ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۲)
’’اوائل میں میرا بھی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدائے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ۱۴۹ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۳)
’’اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں۔ کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔‘ وھٰذا تحدیث نعمۃ اللّٰہ ولا فخر !
(حقیقت الوحی ص ۱۵۳ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۷)
پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخر زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ۱۵۵ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۹)
’’صرف دعویٰ یہ ہے کہ ایک پہلو سے میں امتی ہوں اور ایک پہلو سے آنحضرت ﷺ کے فیضِ نبوت کی وجہ سے نبی ہوں اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ سے بکثرت شرف مکالمہ مخاطبہ پاتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ جیسا مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے اگر چہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الٰہی سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کیا جائے وہ نبی کہلاتا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ۳۹۰ خزائن ج ۲۲ ص ۴۰۶)
چند سطروں کے بعد لکھتا ہے کہ: ’’اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ ومخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب (آج تک جس قدر اولیاء ابدال اور اقطاب جس میں حضرت غوث اعظم وغیرہ تمام اکابر بلکہ صحابہ بھی داخل ہیں۔۔۔۔۔ اعزاز علی ) اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ۳۹۱ خزائن ج ۲۲ ص ۴۰۶)
’’صرف میں یہی جواب نہیں دوں گا کہ میں معجزہ دکھلا سکتا ہوں۔ بلکہ خدا کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے
نہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھلائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۳۶ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۴)
’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ۲۱۱‘ خزائن ج ۲۲ ص ۲۲۰)
’’اس میں شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں۔ مگر تاہم جزئی طور پر ایک نبی ہی ہے۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔‘‘
(توضیح المرام ص ۱۸‘ خزائن ج ۳ ص ۶۰)
حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات کی بابت مرزا قادیانی حسب ذیل اپنا خیال ظاہر کرتا ہے کہ: ’’کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور پر ایسے طریق پر اطلاع دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے۔ یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ ۲۲ برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام بقیہ حاشیہ ص ۳۰۳‘ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴)
’’کچھ تعجب نہیں کہ کہنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ کل کے ذریعہ بعض چڑیاں پرواز بھی کرتی ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ۳۰۴ حاشیہ‘ خزائن ج ۳ ص ۲۵۵)
’’ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمیریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کی موافق کر دکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہیں ڈال
سکتے ہیں۔ تب جماد سے بعض حرکات صادر ہوتی ہیں جو زندوں سے صادر ہوا کرتی ہیں۔“
(ازالۃ اوہام حصہ اول ص ۳۰۵ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۵‘۲۵۶)
”اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔ گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے۔ کیونکہ الیسع کی لاش نے بھی وہ معجزہ دکھایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا۔ مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہوسکیں۔ یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے بہر حال مسیح کی یہ تربی کاروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل اس قدر کے لائق نہیں جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
(ازالۃ اوہام حصہ اول ص ۳۰۹ خزائن ج ۳ ص ۲۵۷)
”واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی اور دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے۔ وہ اپنی ان روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارہ میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔“
(ازالۃ اوہام حصہ اول ص ۳۱۰ خزائن ج ۳ ص ۲۵۸)
مرزا قادیانی احادیث نبویہ کے متعلق اپنا خیال یوں ظاہر کرتا ہے کہ:
”ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں۔ بلکہ قرآن اور وہ وحی جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کی معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ۳۰ خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۰)
مرزا قادیانی اپنے کو ہی حکم کہتا ہے جو حدیث بخاری شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بابت حكماً وعدلاً وارد ہے اور حکم کی بابت مرزا قادیانی یہ عقیدہ ظاہر کرتا ہے کہ:
”ہم بادب عرض کرتے ہیں کہ پھر وہ حکم کا لفظ جو مسیح موعود کی نسبت صحیح بخاری میں آیا ہے اس کے ذرا معنی تو کریں۔ ہم تو اب تک یہی سمجھتے ہیں کہ حکم اس کو کہتے ہیں کہ اختلاف رفع کرنے کے لئے اس کا حکم قبول کیا جائے اور اس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے۔“
(اعجاز احمدی ص ۲۹ خزائن ج ۱۹ ص ۱۳۹)
”خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے
علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھب کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کرے۔‘‘
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ۱۰ خزائن ج ۱۷ ص ۵۱)
نیز احادیث کے متعلق مرزا قادیانی کے حسب ذیل اقوال ہیں:
هل النقل شئی بعد ایحاء ربنا!..........اور خدا کی وحی کے بعد نقل کی کیا حقیقت ہے۔ فای حدیث بعدہ نتخیر!..........پس ہم خدا تعالیٰ کی وحی کے بعد کس حدیث کو مان لیں۔ وقد مزق الاخبار کل ممزق!..........اور حدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں۔ فکل بما ھو عندہ یستبشر!..........اور ہر ایک گروہ اپنی حدیثوں سے خوش ہورہا ہے۔ اخذنا من الحی الذی لیس مثلہ!..........ہم نے اس سے لیا کہ وہ حی قیوم اور وحدہ لاشریک ہے۔ وانتم عن الموتی رویتم ففکروا!..........اور تم لوگ مردوں سے روایت کرتے ہو۔ رأینا وانتم تذکرون رواتکم!..........ہم نے دیکھ لیا اور تم اپنے راویوں کا ذکر کرتے ہو۔ وھل من نقول عند عین تبصر!..........اور کیا قصے دیکھنے کے مقابل پر کچھ چیز ہیں۔
(اعجاز احمدی ص ۵۶، ۵۷ خزائن ج ۱۹ ص ۱۶۸، ۱۸۱)
تنبیہ: یہ ترجمہ مرزا قادیانی علیہ ماعلیہ کا خود کیا ہوا ہے۔ (محمد اعزاز علی)
صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ کی بابت لکھا ہے کہ:
وقالوا علی الحسین فضل نفسہ!..........اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسنؓ اور حسینؓ سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ اقول نعم واللہ ربی سیظہر!..........میں کہتا ہوں کہ ہاں میرا خدا عنقریب ظاہر کرے گا۔
(اعجاز احمدی ص ۵۳ خزائن ج ۱۹ ص ۱۶۴)
وشتان مابینی وبین حسینکم!..........اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ فانی أؤید کل آن وانصر!..........کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ واما حسین فاذکروا دشت کربلا!..........مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ الی ھذہ الایام تبکون فانظروا!..........اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو۔
(اعجاز احمدی ص ۶۹ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۱)
وواللہ لیست فیہ منی زیادۃ!..........اور بخدا اسے مجھ سے کچھ زیادت نہیں۔ وعندی شہادات من اللہ فانظروا!..........اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں۔ پس تم دیکھ لو۔ وانی قتیل الحب لکن حسینکم!..........اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارے حسین۔ قتیل العدی فالفرق اجلی واظہر!..........دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔
(اعجاز احمدی ص ۸۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۹۳)
’’جیسا کہ ابو ہریرہؓ جو غبی تھا اور درایت اچھا نہیں رکھتا تھا۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ۱۸ خزائن ج ۱۹ ص ۱۲۷)
حضرت ابوہریرہؓ جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں جن کو ہر مسلمان جانتا ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ ان کی نسبت قابل غور ہیں۔ غالباً اب تو مرزا قادیانی کو بھی معلوم ہوگیا ہوگا۔ (محمد اعزاز علی)
”حق بات یہ ہے کہ ابن مسعود ایک معمولی انسان تھا۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ۵۹۶‘ خزائن ج ۳ ص ۴۲۲)
رسول اللہ ﷺ کی معراج شریف کے متعلق مرزا قادیانی حسب ذیل اپنا اعتقاد ظاہر کرتا ہے کہ: ”سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔ جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہئے۔“ چند سطروں کے بعد کہتا ہے کہ: ”اس قسم کے کشفوں میں خود مولف صاحب کا تجربہ ہے۔“
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ۴۷‘ حاشیہ خزائن
(آنحضرت ﷺ کی معراج مرزا قادیانی کی معراج کے برابر ہے؟۔)
ج ۳ ص ۱۲۶)
مرزا قادیانی رسول اللہ ﷺ کی بابت حسب ذیل گستاخانہ کلمہ لکھتا ہے کہ: ”اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کی ستر باع کے گدھے کی کیفیت کھولی ہوئی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کماہی ہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور امور متشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے اجمالی طور پر سمجھا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں ہے۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ۶۹۱‘ خزائن ج ۳ ص ۴۷۳)
مرزا قادیانی اپنے نہ ماننے والوں کی بابت حسب ذیل حکم دیتا ہے: ”ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے۔ پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے اور میرے دعویٰ پر وہ اطلاع پا چکا ہے وہ قابل مواخذہ ہوگا۔ کیونکہ خدا کے فرستادوں سے دانستہ منہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہو۔ اس گناہ کا دادخواہ میں نہیں ہوں۔ بلکہ ایک ہی ہے جس کی تائید کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔ یعنی حضرت ﷺ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ میرا نہیں۔ بلکہ اس کا نافرمان ہے جس نے میرے آنے کی پیشین گوئی کی۔ ایسا ہی عقیدہ میرا آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے بارہ میں بھی یہی ہے کہ جس شخص کو آنحضرت ﷺ کی دعوت پہنچ گئی ہے اور وہ آپ کی بعثت سے مطلع ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک آنحضرت ﷺ کی رسالت کے بارہ میں اس پر اتمام حجت ہو چکا ہے۔ وہ اگر کفر پر مر گیا تو ہمیشہ کی جہنم کا سزاوار ہوگا۔ کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام ہی سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ وہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا۔“
چند سطروں کے بعد لکھتا ہے کہ: ”اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۷۹‘ ۱۷۸‘ خزائن ج ۲۲ ص ۱۸۵‘ ۱۸۴)
”اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے جس کی بناء ظاہر پر ہے۔ اس کا نام بھی کافر رکھا ہے اور ہم بھی باتباع شریعت کافر کے نام ہی سے پکارتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت: ”لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا.“ قابل مواخذہ نہ ہوگا۔ ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم
اس کی نسبت نجات کا حکم دیں۔ اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ ہمیں اس میں دخل نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۸۰‘ خزائن ج ۲۲ ص ۱۸۶)
مرزا قادیانی اپنے ایک مرید کے سوال کے جواب میں لکھتا ہے۔ سوال معہ جواب نقل کرتا ہوں:
”سوال: حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں۔ صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔ لیکن عبدالحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔ یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔ الجواب: یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والوں کو دو قسم کا انسان ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۶۳‘ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۷)
”پس یاد رکھو کہ جیسا مجھے خدا نے اطلاع دی ہے کہ تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ ”امامکم منکم“ یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا۔ اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔ جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک حال میں مجھے حکم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے۔ مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا ہے اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔ پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں۔ کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔“
(اربعین نمبر ۳ ص ۲۸‘ حاشیہ خزائن ج ۱۷ ص ۴۱۷)
”سب سے پہلے میں وہ عبارت درج کرتا ہوں جو حضرت صاحب نے الہام کی بنا پر لکھی ہے اور جس کا کوئی قادیانی انکار نہیں کر سکتا۔ یہ اس خط میں درج ہے جو آپ نے عبدالحکیم کے جواب میں لکھا ہے۔ وہ ہٰذا۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ ہزار ہا آدمی جو میری جماعت میں شامل نہیں کیا راست بازوں سے خالی ہیں تو ایسا ہی آپ کو یہ خیال کر لینا چاہئے کہ وہ ہزار ہا یہود و نصاریٰ جو اسلام نہیں لائے وہ راست بازوں سے خالی نہیں۔ بہر حال جب کہ خدا نے مجھے ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“
چند سطروں کے بعد عبارت مذکورہ بالا کی شرح مرزا محمود مذکور الصدر یوں کرتا ہے کہ:
”اب اس عبارت سے مفصلہ ذیل باتیں نکلتی ہیں۔ اول تو یہ ہے کہ حضرت صاحب کو اس بات کا الہام ہوا ہے کہ جس کو آپ کی دعوت پہنچی اور اس نے آپ کو قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس الزام کے نیچے وہی
لوگ نہیں ہیں کہ جنہوں نے تکفیر میں جدوجہد کی ہے۔ بلکہ ہر ایک شخص جس نے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔ اور تیسرے یہ کہ وہ خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے اور سزا کے مستحق ہے۔ رسالہ تشحیذ الاذہان نمبر ۴ ج ۶ ص ۱۳۵ بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء میں یہ عبارت موجود ہے۔ میں ایک اور حوالہ درج کرتا ہوں جس میں آپ نے اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے مگر مزید اطمینان کے لئے ابھی بیعت میں توقف کرتا ہے کافر ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ آپ ضمیمہ براہین احمدیہ میں صفحہ ۱۷۸ میں اس سوال کے جواب میں کہ چونکہ حضرت کی اب تک کوئی ایسی تاثیر روشن طور پر ظہور میں نہیں آئی ہے اور وہ تین لاکھ آدمی کا حضرت کے سلسلہ میں داخل ہونا گویا دریا میں ایک قطرہ ہے۔ پس اگر تاثیر مبین کے ظہور تک کوئی بغیر انکار کے داخل سلسلہ ہونے میں توقف اور تاخیر کرے تو یہ جائز ہوگا یا نہیں۔ فرماتے ہیں کہ توقف اور تاخیر بھی ایک قسم انکار کی ہے۔ اب ہر ایک دانا اور عقلمند انسان دیکھ سکتا ہے کہ سائل نے اپنے سوال میں کس قدر شرائط لگائی ہیں کہ ایک شخص آپ کو جھوٹا بھی نہیں مانتا اور آپ کا انکار بھی نہیں کرتا اور محض اطمینان کے لئے بیعت میں توقف کرتا ہے تو اس کی نسبت کیا فتویٰ ہے۔ جس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں کہ اس کا بھی وہی حال ہے جو منکر کا حال ہے اور منکر کا حال اوپر کے فتوے میں جو حقیقت الوحی سے نقل کیا گیا ہے درج ہے۔ یعنی اسے کافر قرار دیا گیا ہے اور وہی درجہ دیا گیا ہے جو اس شخص کو دیا گیا جو آپ کو کافر کہتا ہے۔ پس نہ صرف اس کو جو آپ کو کافر تو نہیں کہتا مگر آپ کے دعوے کو نہیں مانتا۔ کافر قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ وہ بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا۔ لیکن ابھی بیعت میں اسے توقف ہے۔ کافر قرار دیا گیا۔ پس سوچنے کا مقام ہے کہ حضرت صاحب نے اس معاملہ میں کس قدر تشدد سے کام لیا ہے اور عقل بھی چاہتی ہے۔ کیونکہ اگر ایک ہندو رسول اللہﷺ کو سچا مانے اور دل میں اقرار بھی کرے اور ظاہر طور سے انکار بھی نہ کرے۔ ہاں بعض واقعات کی وجہ سے ابھی کھلم کھلا اسلام لانے سے پرہیز کرے تو ہم اسے بھی مسلمان کبھی بھی نہیں سمجھتے اور شریعت اسلام کبھی اس کے ساتھ ناتے رشتے کو جائز نہیں رکھتی۔ یعنی اس کے ساتھ کسی مسلمان عورت کو بیاہ دینے کی اجازت نہیں دیتی۔ پس اسی طرح غیر قادیانی کا حال ہے۔ جو حضرت کو دل میں سچا بھی جانتا ہے۔ لیکن ابھی بیعت کرنے میں متردد ہے۔‘‘
(رسالہ تشحیذ الاذہان نمبر ۴ ج ۶ ص ۱۴۰، ۱۴۱ بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء)
اسی تشحیذ الاذہان ص ۱۲۲ میں ہے: ”جب تبت اور سوئیزرلینڈ کے باشندے رسول اللہﷺ کے نہ ماننے پر کافر ہیں تو ہندوستان کے باشندے مسیح موعود کے نہ ماننے سے کیونکر مومن ٹھہر سکتے ہیں۔‘‘
(تشحیذ الاذہان نمبر ۴ ج ۶ ص ۱۲۲ بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء)
”جب حضرت کی مخالفت کے باوجود انسان مسلمان کا مسلمان رہتا ہے تو پھر آپ کی بعثت کا فائدہ ہی کیا ہو ۔‘‘
(ایضاً) واضح ہو کہ رسالہ تشحیذ الاذہان مذکورہ حکیم نورالدین خلیفہ مرزا غلام احمد قادیانی مذکور کی اجازت سے چھپا ہے۔ اس کا ذکر اسی رسالہ میں موجود ہے جس کا جی چاہے دیکھ لے۔
اقوال مذکورہ بالا سے مفصلہ ذیل دعوے بخوبی ظاہر ہیں:
دعویٰ الوہیت، دعویٰ نبوت ورسالت ۔ اپنی ذات کو موجب تخلیق عالم کہنا۔ رحمۃ للعالمین کا وصف اپنے لئے
ثابت کرنا۔ دعویٰ معصومیت۔ مقام محمود کا اپنے کو مستحق جاننا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم نبی سے اپنے کو تمام شان میں افضل کہنا۔ دشنام دہی نبی۔ تذلیل و تحقیر نبی۔ انکار معجزہ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اظہار معجزہ میں نجار اور مسمریزم داں قرار دینا۔ اکثر انبیاء علیہم السلام سے اپنے معجزات کو زیادہ سمجھنا۔ اپنے الہام اور بزعم خود اپنی وحی کو قرآن مجید کی مثل قطعی اور یقینی سمجھنا۔ تحقیر احادیث نبویہ۔ احادیث کے ردوقبول میں خود مختار ہونا۔ اپنی ادعائی وحی کے مقابلہ میں احادیث نبویہﷺ کو معاذ اللہ ردی کی طرح پھینک دینا۔ سب صحابہؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ وحضرت عمرؓ وحضرت عثمانؓ وحضرت علیؓ وحضرت فاطمہؓ وحضرت امام حسنؓ وحضرت امام حسینؓ ودیگر جمیع اصحاب وازواج واہل بیت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین وجمیع ائمہ مجتہدینؒ امام ابوحنیفہؒ وامام مالکؒ وامام شافعیؒ وامام احمدؒ وامام بخاریؒ وغیرہم وجمیع فقہاء ومحدثین ومفسرین امت محمدیہﷺ وجمیع ائمہ طریقت غوث الاعظم حضرت جیلانیؒ وحضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ وحضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندیؒ وحضرت شیخ شہاب الدین سہروردیؒ وغیرہم وجمیع ابدال واقطاب واولیاء اللہ واخیار امت محمدیہﷺ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے اپنے کو افضل سمجھنا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے باپ ثابت کرنا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کہنا۔ اپنے غیر معتقد کو کافر کہنا۔ خواہ مکفر ہو یا مکذب، متردد ہو یا خاموش اور خالی الذہن بلکہ جو شخص دل میں معتقد ہو اور زبان سے انکار بھی نہ کرتا ہو صرف بیعت میں کسی مصلحت سے تاخیر کرتا ہے اس کو بھی دائرہ اسلام سے خارج سمجھنا۔ سوائے کل اہل اسلام سے بکلی قطع تعلق صریح وشدید حکم دینا۔ اپنے غیر معتقدین کے پیچھے نماز پڑھنے کو حرام قطعی کہنا وغیرہ وغیرہ اس قسم کے اقوال مرزا قادیانی کی تمام تصانیف میں بکثرت موجود ہیں۔
جس شخص کے ایسے عقائد واقوال ہوں:
- ۱.......اس کے خارج احاطہ اہل سنت والجماعت اور احاطہ اسلام سے ہونے میں کسی مسلمان کو خواہ جاہل ہو یا عالم تردد نہیں ہو سکتا۔ لہذا مرزا قادیانی اور اس کے جملہ معتقدین درجہ بدرجہ مرتد، زندیق، ملحد، کافر اور فرقہ ضالہ میں یقیناً داخل ہیں۔
- ۲.......معتقدین مرزا قادیانی مذکور کے ساتھ کوئی اسلامی معاملہ شرعاً ہرگز درست نہیں ہے۔ مسلمانوں کو ضروری اور لازم ہے کہ مرزائیوں کو نہ اسلامی سلام کریں اور نہ ان سے رشتہ قرابت رکھیں۔ نہ ان کا ذبیحہ کھائیں۔ نہ ان سے محبت اور نہ الفت رکھیں اور نہ ان کو اپنے اسلامی مجمعوں میں شریک ہونے دیں اور نہ ان کی مجلسوں میں اہل اسلام شریک ہوں۔ جس طرح سے یہود نصاریٰ ہندو سے اہل اسلام مذہباً علیحدہ رہتے ہیں۔ اس سے زیادہ مرزائیوں سے الگ رہیں۔ جس طرح سے بول وبراز سانپ اور بچھو سے پرہیز کیا جاتا ہے اس سے زیادہ مرزائیوں سے پرہیز کرنا شرعاً ضروری اور لازمی ہے۔
- ۳.......کسی مرزائی کے پیچھے نماز ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ مرزائیوں کے پیچھے نماز پڑھنا ایسا ہے جیسا یہود ونصاریٰ اور ہندوؤں کے پیچھے۔
- ۴.......مرزائیوں کو نماز پڑھنے یا دیگر مذہبی احکام ادا کرنے کے لئے اہل سنت والجماعت اور اہل اسلام اپنی مسجدوں میں ہرگز نہ آنے دیں۔ مرزائیوں کو مسلمانوں کی مسجد میں اپنی عبادت کرنے کی اجازت دینی ایسا ہی ہے جیسے
ہندوؤں کو مسجد میں پوجا کرنے اور یہود و نصاریٰ کو فرائض مذہبی ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔
مذکورہ بالا اقوال کفریہ کے ملاحظہ کے بعد کالشمس فی نصف النہار ظاہر ہو گیا کہ مرزائیوں کی تکفیر میں اب نہ کسی قسم کی تاویل کی گنجائش ہے نہ کوئی صورت ان سے اسلامی اور مذہبی تعلقات باقی رکھنے کی اور بھی وجہ ہے کہ ان کو مسجد میں نہ آنے دینے کا شرعاً حکم ہے: ”ومن اظلم من منع مساجد الله ان يذكر فيها اسمه ٠“ سے شاید کسی کو یہ شبہ ہو کہ مرزائیوں کو مسجدوں میں نہ آنے دینے کا حکم اس کے مخالف معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اول تو تفسیر کی کتابوں پر نظر ڈالی جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس بحث خاص سے اس کو زیادہ تعلق نہیں۔ تفسیر مدارک ج ۱ ص ۵۵ تحت قولہ: ”ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان يذكر فيها اسمه ٠“ میں مذکور ہے: ”والسبب فيه طرح النصارى فى بيت المقدس الاذى ومنعهم الناس ان يصلوا فيه او منع المشركين رسول الله ﷺ ان يدخل المسجد الحرام عام الحديبيه ٠“ یعنی اس آیت کی شان نزول میں دو سبب بیان کئے جاتے ہیں۔ یا تو یہ کہ عیسائی دوسرے لوگوں کو بیت المقدس میں نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔ یا یہ کہ عام حدیبیہ میں سرور کونین علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مسجد حرام سے روکا گیا تھا۔ تو چونکہ مسلمان مساجد سے روکے جاتے تھے اس آیت نے اس کو منع فرمایا اور یہاں اس کا بالکل عکس ہے۔ یعنی ان لوگوں کو مساجد میں عبادت کرنے سے روکتے ہیں جو کہ کافر ہیں۔ علاوہ اس کے یہ بھی قابل غور ہے کہ اس آیت کو اپنے عموم کامل پر رکھنا بھی صحیح ہے یا نہیں۔ کیونکہ ایک طرف تو منع عام ہے جس میں یہود و نصاریٰ، آتش پرست، بت پرست، پاک اور ناپاک سب ہی داخل ہیں۔ نہ کسی مذہب کی تخصیص نہ کسی شخص کی خصوصیت۔ اس کے بعد: ”ان يذكر فيها اسمه ٠“ موجود ہے جس میں ذکر مطلق ہے تو اگر سیاق سے قطع نظر کر کے اس آیت کا عموم علیٰ حالہ رکھا بھی جائے تو معنے یہ ہوئے جاتے ہیں کہ کوئی شخص ہندو ہو یا آریہ، عیسائی ہو یا یہودی، جنب ہو یا طاہر مسجد میں ذکر خدا سے نہ روکا جائے۔ خواہ وہ سنکھ بجا کر رام رام کرے یا گھنٹہ بجا کر سری کرشن جی کی مورتی رکھ کر پوجا کرے یا سیتا جی کی۔ خدا کو عیسٰی کا باپ کہہ کر یا عزیر کا۔ سرسری نظر میں بھی یہ معنے ایسے ہیں کہ ان کا بطلان محتاج دلیل نہیں۔ اس لئے یہ منقح ہو ہی گیا کہ اس آیت کے معنے ایسے عام نہیں ہو سکتے۔ جس میں کفار بھی داخل ہو جائیں۔ ورنہ پھر وجہ تخصیص کی کیا ہو سکتی ہے اور کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ عیسائی اور یہود تو ہماری مسجدوں میں اپنے طور سے عبادت نہ کرنے پائیں۔ مگر مرزائی جو یقیناً مرتد ہیں (والمرتد اشد من الکافر) مستحق ہیں کہ ہماری مسجدوں میں عبادت کر سکیں۔ علاوہ ازیں دوسری آیت پر بھی غور کرنا چاہئے۔
ایک جگہ فرمایا جاتا ہے کہ: ”ماكان للمشركين ان يعمروا مساجد الله شاهدين على انفسهم بالكفر ٠ توبه ۱۸“ (صاحب معالم التنزیل ج ۲ ص ۷۰) اس کے تحت فرماتے ہیں کہ: ”فمن كان كافراً بالله فليس من شانه ان يعمرها٠“ یعنی جو شخص کافر ہو اس کو مسجدوں میں عبادت کا حق ہرگز حاصل نہیں۔ شاهدين على انفسهم بالكفر ! تو ایسی کھلی ہوئی دلالت کر رہا ہے کہ جس میں کوئی صورت ہی گنجائش کی نہیں۔ دوسری اور آیت صراحتاً حکم دیتی ہے کہ مسجد میں غیر مسلم لوگوں کو عبادت کا حق ہرگز حاصل نہیں ہے۔ وہ یہ ہے: ”انما يعمروا مساجد الله من آمن بالله واليوم الاخر ٠“ ﴿مساجد کو بجز مومنین کے اور کوئی شخص آباد نہیں کر سکتا۔﴾ اب کونسا شبہ باقی رہ
سکتا ہے کہ غیر مسلم مسجد کے بالکل مستحق نہیں۔ احادیث میں مستقل طور سے اس شبہ کا ازالہ موجود ہے۔
طبرانی نے اوسط میں حضرت انسؓ سے روایت کی ہے: ”قد سمعت رسول الله ﷺ ان عمار بيوت الله هم اهل الله عز وجل، طبرانی اوسط ج ۲ ص ۵۸ حديث نمبر ۲۵۰۲ باب من اسمه ابراهيم .“ ٭ مساجد کے آباد کرنے والے صرف مسلمان ہی ہو سکتے ہیں ٭ اس سے جس طرح مساجد میں عبادت کرنے والوں کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مساجد میں عبادت کرنے کا حق صرف مسلمانوں ہی کو حاصل ہے اور یہ بات محتاج اعادہ نہیں کہ مرزائی کسی صورت سے مسلمان کہلائے جانے کے مستحق نہیں۔ روایات حدیث کا اگر تفحص کیا جائے تو اس مضمون کی احادیث بکثرت ملیں گی جن سے اس حدیث سے زیادہ تصریح کے ساتھ ثابت ہوگا کہ غیر مسلم لوگوں کو مسجد میں عبادت کرنے کا حق بالکل حاصل نہیں۔ لیکن غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوجائے گا کہ یہ کلیہ بھی قابل تسلیم نہیں ہے کہ مساجد سے کسی مسلمان کو روکنا منع ہے۔ اس واسطے کہ فقہ کی روایات احادیث کتب میں اس کلیہ کا خلاف صریح موجود ہے۔
مثلاً ایک حدیث کا مضمون ہے کہ: ”من اكل هذه الشجرة يعنى الثوم فلا يقربن مسجدنا . بخاری ج ۱ ص ۱۱۸ باب ماجاء فی الثوم “ یعنی لہسن کھا کر مسجد میں نہ آنا چاہئے۔ دوسری روایت میں بایں الفاظ مروی ہے: ”عن عمر بن الخطاب لقد رائيت رسول الله ﷺ اذا وجد ريحهما (البصل والثوم) من الرجل في المسجد امر به فاخرج الى البقيع . مسلم ص ۲۱۰ ج ۱ باب نهى من اكل الثوم او بصلاً ...... نسائی ص ۷۳ ج ۱ باب من يمنع من المسجد ابن ماجه ص ۷۱ باب من اكل الثوم فلا يقربن المسجد . “
خلاصہ اس روایت کا یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کسی ایسے شخص کو موجود دیکھتے ہیں جو لہسن یا پیاز کھا کر آیا ہو تو اس کو مسجد سے نکلوا دیتے تھے۔ جب خود سرور کونین علیہ الصلوٰۃ والسلام کے امر سے بعض صحابہ ان باتوں پر بھی نکال دیئے جاتے تھے تو اس بناء پر جو لوگ نہ صحابہ نہ تابعین نہ تبع تابعین نہ مسلمان بلکہ یقیناً مرتد ہیں وہ کس طرح نہ نکال دیئے جائیں۔ فقہ کی روایات دیکھی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان بھی مسجد سے نکال دیئے جاسکتے ہیں۔ شامی میں ہے:
”قال الامام العينى فى شرحه على صحيح البخارى قلت علة النهى اذى الملائكة واذى المسلمين ولا يختص بمسجده عليه الصلوة والسلام بل الكل سواء لرواية مساجد نابالجمع ويلحق بما نص عليه فى الحديث كل ماله رائحة كريهة ماكولاً او غيره وانما خص الثوم هنا بالذكر وغيره ايضاً بالبصل والكراث لكثرة اكلهم لها وكذالك الحق بعضهم بذالك من بفيه بخراً وبه جرح له رائحة وكذا القصاب والسماك والمجذوم والابرص اولى بالالحاق باب احكام المسجد ص ٤٤٤ “ اسی کے دوسرے صفحہ پر ہے: ”قال فى القنية وكذا لاهل المحلة ان يمنعوا من ليس منهم عن الصلوة فيه اذا ضاق بهم المسجد . “
احادیث مذکورہ اور روایات مسطورہ سے بخوبی واضح ہو گیا کہ بعض امور کی بنا پر مسلمان متقی کو بھی مسجد سے روک سکتے ہیں۔ چہ جائیکہ کافر۔ جب یہ کلیہ ہر مسلمان کو مسجد میں نماز پڑھنے کا حق حاصل ہے غلط ہوا تو یہ کہنا کہ ہر شخص کو مسجد میں عبادت کا حق حاصل ہے کس قدر صریح غلطی ہے۔
- ۵...... مرزا غلام احمد قادیانی چونکہ قصبہ قادیان ضلع گورداسپور احاطہ پنجاب کا باشندہ تھا۔ اس لئے اس کے
معتقدین کو قادیانی کہا جاتا ہے۔ وہ لوگ اپنی جماعت کو احمدیہ جماعت کہتے ہیں۔ مگر اہل اسلام مرزائی اور قادیانی کہتے ہیں۔ اگر اہل سنت والجماعت فرقہ غلامیہ کہیں تو مناسب ہے اور اگر ان لوگوں کو جماعت شیطانیہ ابلیسیہ کہا جائے تو شرعاً درست ہے۔ محمد المدعو باسہول غفرلہ مدرس دارالعلوم دیوبند ۱۲ صفر ۱۳۳۱ھ روز سہ شنبہ
( کل جوابات صحیح ہیں ) مرزا علیہ ما یستحقہ کے عقائد واقوال کا امور کفریہ ہونا ایسا بدیہی مضمون ہے کہ جس کا انکار کوئی منصف فہم نہیں کر سکتا۔ جن کی تفصیل جواب میں موجود ہے۔ بندہ محمود عفی عنہ دیوبند صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند واقعی مرزا اور اس کے متبعین کے کفر والحاد میں کچھ تردد و شک نہیں۔ ان کی تکفیر علمائے حقانی پر ضروری ہے۔ تا کہ عوام ان کے مکائد سے محفوظ رہیں۔ تمام اہل اسلام پر یہ بات ضروری ہے کہ ان سے بالکل مجتنب رہیں۔ نہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں اور نہ ان کو اپنی مساجد میں داخل ہونے دیں اور نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں اور نہ ان کو مقابر میں دفن کریں۔ غرض تمام امور میں ان سے علیحدہ رہیں۔ بندہ محمد حسن عفی عنہ مدرس مدرسہ عربی اسلامی دیوبند!
(الاجوبة كلها صحيحة ).......... شبیر احمد عفا اللہ عنہ۔ دارالعلوم دیوبند
بے شک مرزا قادیانی علیہ ما علیہ نے اپنی جانب سے دین متین کے ہدم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور علانیہ ضروریات و قطعیات شریعت محمدیہ کا جحود اور انکار کیا ہے۔ ایسے شخص کے کفر میں اگر تردد کیا جائے تو کفر اور اسلام میں امتیاز باقی نہ رہے۔واللہ متم نورہ ولوکرہ الکافرون! محمد انور شاہ کشمیری عفا اللہ عنہ مدرس دارالعلوم دیوبند!
(الاجوبة كلها صحيحة) مرزا کی تحریرات سے ادعائے نبوت ظاہر ہے۔ مسیلمہ وغیرہ نے یہ دعوے بھونڈے طور سے کئے تھے۔ مرزا نے ایچ پیچ سے وہی فتنہ پیدا کیا ہے۔ لیکن یہاں نئے سانچے میں ڈھلتا ہے۔ دین فروشی کی بہت سی صورتیں ہیں۔ کوئی کسی کا تابع ہو کر دین سے پھرا۔ مرزا نے ایک نیا طریق نکالا اور خود نبی بنے۔ ارتداد کیا مگر پردہ سے مگر بالآ خر چھپ نہ سکا۔ ہندوستان میں اور بھی مدعی نبوت ہوئے مگر مرزا نے سب کو مات کیا۔ علیہ ما علیہ۔ خاکسار سراج احمد رشیدی عفی عنہ خادم دارالعلوم دیوبند!
جوابات بالکل حق ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جملہ معتقدین قطعی کافر و مرتد ہیں۔ اہل اسلام کو ان سے جملہ مراسم اسلامی کو ترک کرنا چاہئے۔ اس پر مرتدین کے جملہ احکام جاری ہونے چاہئیں۔ بندہ مرتضیٰ حسن عفی عنہ مدرس مدرسہ عربیہ دیوبند ضلع سہارنپور!
الاجوبة كلها صحيحة!.......... احقر الزماں گل محمد خان مدرس مدرسہ عالیہ عربیہ دیوبند!
هذا الجواب صحيح!.......... نور حسن شاہ اٹکی
ذالك حق صريح فماذالك بعد الحق الاالضلال! احقر محمد احسان اللہ خان عفی عنہ دارالعلوم دیوبند نجیب آباد مسکنا۔
الجواب حق صحیح ۔.....................عبدالرحمن پورینوی الجواب صحیح ۔.....................نصیر الدین کوہانی عفی عنہ الجواب صحیح من شك فيه فقد خطاء !.....................محمد ادریس غفرلہ سکروڈی ضلع سہارنپور جواب درست ہے۔.....................عبدالسمیع مدرس مدرسہ دیوبند الجواب صحیح ۔.....................احمد امین عفی عنہ جوابات کل حق وصحیح ہیں۔.....................احقر محمد علی اظہر عفی عنہ بلیاوی جوابات حق وصحیح ہیں۔.....................بندہ عزیز الرحمٰن عفی عنہ مفتی مدرسہ اسلامیہ دارالعلوم دیوبند ۱۲ صفر ۱۳۳۱ھ جوابات حق وصحیح ہیں۔.....................محمد ابراہیم عفی عنہ بلیاوی مدرس دارالعلوم دیوبند الاجوبة كلها صحيحة !.....................باز محمد موطن ڈیرہ اسماعیل خان من قال سوا ذالك قد قال محالًا!.....................محمد ادریس کملائی الجواب صحیح ۔.....................بندہ عزیز الرحمٰن نظام پورے الجوابات صحيحة فماذابعد الحق الاالضلال !.....................محمد شفیق پنجابی الجواب صحیح ۔.....................احقر محمد رئیس الحق بہاری عفی عنہ عظیم آبادی الجواب صواب ۔.....................بندہ نسیم الدین میمن سنگی
جوابات حق و صحیح ہیں۔ ایسے شخص کے کفر و الحاد میں کیا تامل ہو سکتا ہے جس کو خدا کافر کہے۔ اس کا کفر کیونکر نہ تسلیم کیا جائے اور مسلمان اس سے پھر کیونکر تعلق و مراسم اسلامی باقی رکھنے جائز تسلیم کریں گے۔ خدا ایسے شخص کے اثر بد سے ہر مسلمان کو محفوظ مامون رکھے کہ جو نہ خود ہی خراب ہو بلکہ سینکڑوں بنی نوع انسان کو اپنے ساتھ لے کر ڈوبا ہو۔ مسلمانوں کو اس کے معتقدین و ہوا خواہوں سے پرہیز کرنا سخت ضروری اور لازمی ہے۔ جب ان کے ساتھ مراسم قائم کرنے ایسے ہیں جیسے اور ہندوؤں کے ساتھ تو بالکل ان کو اس کا مصداق سمجھنا چاہئے: ’’ان الذين كفروا لوان لهم مافى الارض جميعا ومثله معه ليفتدوبه من عذاب يوم القيامة ماتقبل منهم ولهم عذاب اليم ٠ يريدون ان يخرجوا من النار وماهم بخارجين منها ولهم عذاب مقيم ٠ المائده ۳۷‘‘..................... احقر الزمن بندہ سید حسن عفی عنہ حسینی چاند پوری مدرس دارالعلوم دیوبند !
الاجوبة كلها صحيحة بلامریہ ۔ فی الواقع مرزا اور ان کے معتقدین ایسے ہی ہیں۔ ان سے پرہیز کرنا ضروری امر ہے۔.....................احقر الزمن نبیہ حسن !
بے شک مرزا غلام احمد کافر اور مرتد ہے۔ مسلمانوں کو اس سے اور اس کے تمام معتقدین سے ہر طرح پرہیز کرنا
چاہئے۔ وہ اور اس کے معتقد گمراہ اور دوزخی ہیں۔ مرزا وہ شخص ہے جس نے مسلمانوں میں اختلاف کی ایسی زبردست دیوار قائم کر دی کہ مسلمانوں کی ترقی نہ ہو سکے اور ان کا شیرازہ منتشر ہو گیا۔ مرزا مرتد ہے اور اس کے معتقدین بھی مرتد ہیں اور مرتد اور مرتدہ کا نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزائی سب ایسے ہیں جن کا نکاح صحیح نہیں ہوا ۔...... ....... کتبہ احمد حسن غفر لہ ذو المنن متوطن کیرانہ مدرس دار العلوم دیوبند
لاریب مرزا غلام احمد کافر ہے۔ اس کے سارے متبعین گمراہ اور جہنمی ہیں۔ ان سے کسی قسم کا اسلامی برتاؤ کرنا جائز نہیں۔ اس کی چکنی چپڑی باتوں یا لچھے دار تحریروں میں جو لوگ گرفتار ہو گئے ان کے حال سے سمجھداروں کو عبرت حاصل کرنی زیبا ہے۔ بعض ان لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو لکھے پڑھے کہلائے جاتے ہیں۔ ان کی حالت دیکھ کر قلب الانسان بین اصبعی الرحمن ! کی پوری تصدیق کرنا پڑتی ہے۔ ایسے دلائل قاطعہ کے ہوتے ہوئے جب لوگوں نے مرزا مذکور کو نبی کہنے میں تامل نہ کیا تو اس میں کیا شبہ ہو سکتا ہے کہ دجال کو خدا کہنے میں بھی ایسے ہی لوگ سبقت کریں گے۔ لہذا یہی نہیں کہ مرزا مذکور کے جمیع متبعین سے اسلامی طریقہ کی شرعاً حرمت ثابت ہے۔ بلکہ ان کی حالت کو دیکھ کر خداوند عالم سے التجا کرنی ضروری ہے کہ وہ سارے مسلمانوں کا انجام بخیر کرے اور ایسے قعر ضلالت میں گرنے سے بچائے ۔ آمین ۔ ...... ....... خادم الطلب محمد اعزاز علی بریلوی غفر لہ مدرس مدرسہ اسلامیہ عربیہ دیوبند
مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر اور ارتداد میں ذرا شک و شبہ نہیں ۔ تمام مسلمانوں کو اس کے معتقدین اور خلفاء اور اس کی تمام تصانیف اور تحریرات سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ ورنہ سخت مضرت پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس سے مسلمانوں کو سخت مضرت پہنچی ہے۔.......... فقط! محمد شفیع بڈھانوی
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے تمام متبعین بے شک مرتد کہے جانے کے قابل ہیں۔ پس جو احکام مرتد کے ہیں وہ بلا شبہ ان پر جاری کئے جائیں گے۔ یعنی حاکم اسلام جبر کرے گا اگر اپنے اقوال و عقائد سے وہ تائب ہوگئے تو فبہا ۔ ورنہ بادشاہ اسلام پر ضروری ہے کہ انہیں سخت سزا دے اور ان کے ذبیحہ یا شکار کا کھانا یا معاملات مناکحت و قرابت بھی جائز نہیں اور علیٰ ہذا کسی معاملہ میں ان کی شہادت بھی لینی جائز نہیں اور اگر وہ مرجائے یا دوسری صورت پیش آئے تو مسلمان وارث اس کے اسلام کے زمانہ کا وارث ہو سکتا ہے اور ارتداد کے زمانہ کا نہیں ۔ والله اعلم بالصواب ! ......... کتبہ محمد عبد الماجد منگوے
اصاب المجیب .......... قاضی محمد غلام یحییٰ عفی عنہ متوطن عیسیٰ خیل ضلع میاں والی ۔ ( پنجاب )
هذه الاجوبة المذكورة صحيحة لاشك فيها ! ......... عبد الوہاب ضلع کوہاٹ ۔
الامر هكذا !......... علی صغیر غفر لہ اعظم گڑھی ۔
كل واحد من الاجوبة صحيح حق صريح لاريب فيه ! ...... بنده محمد اسماعیل عفا اللہ عنہ بارہ بنکی ۔
لاشك فى كفرهم وارتداد هم ومرقوا من الدين كما يمرق السهم من الرمية لادعائهم خلاف المنصوص القاطعة التي هي قطعية الثبوت والدلالة ! ......... العبد محمد جان الغزالی الروی ۔
الجواب حق ۔ ......... محمد منیر چانگائی الجواب ھو الصحیحۃ ! ......... بندہ یحییٰ در بھنگوی اقوال المرزاء القادیان و من تبعہ کافر بالا قوال المذکورۃ ! ......... محمد قربان بخاری الجواب صحیح ۔ ......... محمد رضا غفرلہ منی پورے الجواب صحیح ۔ ......... بندہ اسماعیل نواکھالی ثم الدولت پوری المجیب مصیب ۔ ......... طفیل احمد شیرکوٹی الجواب صحیح ۔ ......... محمد ابراہیم عفی عنہ بر دوانے الجواب صحیح ۔ ......... محمد عبیداللہ سیالکوٹی مولوی فاضل الجواب صحیح المجیب نجیح ۔ ......... بندہ غلام رسول ملتانی عفی عنہ الجواب صحیح ۔ ......... بندہ عبدالحکیم نواکھالی الجواب صحیح ۔ ......... محمد ابراہیم ضلع میاں والی خاص چکڑالہ الجواب حق صریح ۔ ......... بندہ عزیز اللہ عفی عنہ نواکھالوی الجواب صحیح ۔ ......... نذیر حسین امروہوی الجواب صحیح ۔ ......... محمد رمضان ضلع شاہ پور
فرقہ قادیانی میں ادعای نبوت ومسیحیت علانیہ طور سے کیا گیا ہے جو صریح نصوص کے مخالف ہے ۔ صریح نص جیسے آیت خاتم النبیین اور حدیث صحیح انا خاتم النبیین لا نبی بعدی موجود ہے اور نزول عیسیٰ علیہ السلام بھی صریح حدیث مسلم شریف وغیرہ سے ثابت ہے۔ ان نصوص میں تاویل کرنے والا ضال ومضل ہے اور جو شخص صریح نصوص کا منکر ہو وہ کافر ہے۔ ......... منصور علی عفی عنہ (مصنف فتح المبین )
الجوابات حق لافیھا شک ! ......... سید شریف ہزاروی الجواب حق ۔ ......... سعادت علی عفی عنہ نگینوی الجواب ھو الصحیح ۔ ......... محمد عبداللہ عفی عنہ بنوی الجواب الصواب ۔ ......... محمد بہرام ہزاروی الاجوبۃ صحیحۃ ۔ ......... محمد خالد البصری العربی قد اصاب من اجاب ۔ ......... احقر العلماء سلطان محمود ساکن کوٹھیالہ شیخان ضلع گجرات المجیب مصیب لاریب فیہ ۔ ......... غلام مصطفیٰ راولپنڈی الجواب صحیح ۔ ......... عیسیٰ خان پشاوری الاجوبۃ کلھا صحیحۃ ۔ ......... احقر محمد صدیق عفی عنہ شاہ پوری
الجواب صحیح۔................ محمد امیر احمد مظفر نگری عفی عنہ
الامر هكذا۔.................. محمد احمد اعظم گڑھی
الجواب صحیح۔................ محمد عبدالحفیظ در بھنگوی
الجواب صحیح۔................ حامد اللہ ملتانی
الجواب صحیح۔................ محمد عبدالمجید بریبانی
لقد اصاب من اجاب ۔.............. ابوالفضل محمد عبدالرحمن غفرلہ ولوالدیہ در بھنگوی
الاجوبة كلها صحيحة ۔............... محمد عتیق اللہ غفرلہ مظفر پوری
الجواب صحيح لاشك فيه ۔.............. محمد عبدالحی میمن سکی عفی عنہ
الجواب صحیح۔................ بندہ نور محمد میانوالی (پنجاب)
من ادعى بهذه الدعاوى الباطلة فقد استحق الكفر بلاريب والجوابات المندرجة كلها صحيحة عندى۔............... عبدالحمید پشاوری بقلم خود
المجيب مصيب ۔ مرزا غلام احمد کی تکفیر میں جہاں تک سختی کی جائے کم ہے۔ اس نے شریعت غراء کے قطعی الثبوت عقائد کو بدل ڈالا ۔ انبیاء وصحابہ کی توہین وتحقیر کی ۔ وكفى بذالك كفراً وارتداداً ۔.................. ..............شبیر احمد عثمانی غفرلہ مدرس مدرسہ دیوبند
لاشك في كفر هذا الدجال ومن تبعه ۔....... محمد امتیاز احمد غفرلہ مدرس اول مدرسہ سعیدیہ شاہجہان پور
الجواب حق البتة ۔.......................امید علی غفرلہ مدرس دوم مدرسہ سعیدیہ جامع مسجد شاہجہان پور
هذه الاجوبة صحيحة ۔.................. عبدالمجید شاہجہان پوری
الاجوبة كلها صحيحة ۔................... فقیر محمد عبدالحمید پھانوی
صح الجواب ۔................... عبدالخالق عفی عنہ مدرس مدرسہ عین العلم شاہجہان پوری
واقعی مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جملہ متبعین دائرہ اسلام سے یقیناً خارج ہیں ۔ جناب رسالت مآب ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کی نسبت مخبر صادق علیہ السلام نے خبر دی ہے۔ آپ کے تشریف فرما ہونے کا وقت ہنوز نہیں آیا۔ قطع نظر دیگر ملفوظات کفریہ کے ایسے شخص اور اس کے متبعین کو خارج عن الاسلام ہونے کے لئے صرف یہی دو دعوے کافی ہیں ۔ جو صراحتاً نصوص شرعیہ کے خلاف ہیں ۔ فقط۔.................. ............کتبہ عبدالرؤف عفی اللہ عنہ مدرس اول مدرسہ عین العلم شاہجہان پوری
بلاشبہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کے عقائد اہل سنت والجماعت کے عقائد سے خارج ہیں اور منجر بکفر اور ان کے ساتھ خلط ملط بلا ضرورت شرعیہ نہ چاہئے اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنی چاہئے ۔ فقط۔.................. ............. محمد ریاست علی عفی عنہ شاہجہان پوری
مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی مشتہرہ کے بعد اس کے اور نیز اس کے معتقدین کے کفر و ارتداد میں کسی مسلمان کو تردد نہ کرنا چاہئے۔ دجالان ماضیہ کا وہ سرغنہ اور پیش رو ہے۔ عامله الله بما يستحقه ۔........................ ........................کتبہ عبد الحکیم الامرتسری (مولوی فاضل منشی فاضل )
مرزا قادیانی کے عقائد مستحدثہ باطلہ جو اس کی تحریرات وتالیفات میں میری نظر سے گزرے وہ خلاف اصول شرعیہ نقلیہ ہیں۔ واقعی مورد حدیث سیاتی من امتی دجالون كذابون الحديث كما رواه السنن ہے۔ پس ایسے عقائد باطلہ کے پیروں ومعتقدین سے اجتناب ضروری ہے۔ ان کے پیچھے نماز ہرگز نہ پڑھنی چاہئے ۔ کیونکہ وہ اہم ضروریات اسلام سے منکر ہیں ۔............ حررہ محمد آفاق لدھیانوی بیدہ
الجواب صحیح............ ولی اللہ لدھیانوی
الجواب صحیح............ عبدالواحد بقلم خود
الجواب صحیح............ بندہ عبدالرشید عفی عنہ لدھیانوی حنفی
الجواب صحیح وصواب............ بندہ محمد موسیٰ مدرس مدرسہ اسلامیہ لدھیانہ
الجواب صحیح............ مسکین نظام الدین لدھیانوی
المجيب مصيب ۔ مرزا قادیانی کے کفر اور الحاد میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے۔ اس کا قرآن شریف شاہد ہے۔ فقط !............ بقلم نظام اللہ عفی عنہ
جب مرزا قادیانی کسی زمانہ میں لدھیانہ جناب شہزادہ والا گوہر صاحب کے مکان میں بطور کرایہ کے قیام کرتے تھے میں نے خود مرزا قادیانی سے پوچھا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بموجب حدیث شریف قرب قیامت میں دوبارہ دنیا پر تشریف لائیں گے یا نہیں ۔ مرزا قادیانی نے میرے اور چند صاحبان اہل مجلس کے روبرو تین دفعہ انکار کیا ۔ میں نے روبرو اسی وقت اپنی زبان سے کہہ دیا کہ آپ کو میں ضرور کفر پر جانتا ہوں ۔ جملہ علماء کے دربارہ کفر کے فتوے کی تصدیق کرتا ہوں۔ پھر ہم اتنا کہہ کر ان کے مکان سے چلے آئے ۔...... العبد میاں جی رحمت اللہ امام مسجد جٹاں محلہ ڈھیولواں بقلم خود ۔
الجواب صحیح............ حبیب الرحمن لدھیانوی
اجاب واصاب ۔............ عبدالغفار عفی عنہ رام پوری
هذا هو الجواب لانه ادعى النبوة بعد ختم النبيين ومن ادعا فهو دجال كذاب كما ورد فى الحديث فثبت كفره بلا تردد فلا يجوز معهم المناكحة والمشاركة فى الصلوة وغيرها من امور الدين والله اعلم بالصواب!......... حررہ محمد یوسف عفی عنہ مہتمم و مدرس مدرسہ انوار العلوم ریاست رام پور
مرزا قادیانی علیہ ماعلیہ کے عقائد واقوال اور اس کے متبعین کے احوال سے بخوبی ظاہر ہے کہ انہوں نے ملت بیضاء و شریعت غراء کی تحریف میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ بلکہ عقائد قطعیہ ومسائل مجمع علیہا سے صراحتاً انکار کیا اور جو شخص ضروریات دین کا منکر اور اس کے خلاف کا مدعی ہو بلا ریب کافر ہے۔ علمائے کرام نے اس کی تکفیر کی تصریح فرمائی ۔ کما
ھو مصرح فی الکتب المعتبرۃ جملہ اہل اسلام کو چاہئے کہ مرزا قادیانی کو مع اتباع اس کے اسلام سے خارج سمجھیں اور ان کے ساتھ مناکحت اور موالات کو حرام اور خلاف شریعت جانیں۔ ھذا الجواب والموافق للسنۃ والکتاب! فقط:...... .........حررہ سید دیانت حسین غفرلہ مدرس مدرسہ انوار العلوم رام پور۔
بے شک مرزا قادیانی کے بہت سے دعاوی اور بکثرت ایسے اقوال موجود ہیں جو حد کفر تک پہنچاتے ہیں۔ جیسا کہ ان کی کتابوں پر نظر رکھنے والوں سے پوشیدہ نہیں۔ واللہ اعلم !......محمد کفایت اللہ عفا عنہ مولاہ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی ۔
محمد قاسم ۔........................ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی ضیاء الحق ۔........................ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی مہر مدرسہ امینیہ دہلی انتظار حسین ۔........................ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی محمد امین ۔........................ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی محمد عبدالغفور ۔........................ دارالافتاء مدرسہ امینیہ اسلامیہ دہلی المجیب مصیب ۔........................ محمد عبد المنان مدرس مدرسہ فتح پوری الجواب صحیح ۔........................ سیف الرحمٰن عفی عنہ مدرس مدرسہ فتح پوری دہلی المجیب مصیب ۔........................ محمد عالم مدرس مدرسہ فتح پوری دہلی المجیب مصیب ۔........................ قطب الدین مدرس مدرسہ فتح پوری دہلی اصاب من اجاب ھوالمصوب ۔......... محمد پردل صدر مدرس مدرسہ اسلامیہ نعمانیہ دہلی
سوال خمسہ کے جواب میں مجیب مصیب نے جس قدر عبارتیں کتب مرزا قادیانی سے نقل کی ہیں وہ قطعاً سراسر ہذیانات ہیں۔ ان کو دیکھ کر یہ یقین ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی منجملہ ان کذابین کے ہے جو دجال موعود سے پہلے دعاۃ دجال بن کر نکلیں گے۔ اس پر شہادت یہ ہے کہ خود مسیح موعود بن بیٹھا۔ لیکن یہ نہ سوچا کہ کجا مسیح دجال کجا مسیح رسول ذوالجلال ۔ هل یستوی الظلمات والنور! اس کو مسیح بن کر مسلمانوں کو یہ دھوکہ دینا تھا کہ واقعات مسیح علیہ وعلیٰ نبینا الصلوٰۃ والسلام اور دجال کو بھول جائیں اور اس کا یہ شیطانی کید اور دجلانہ مکر چل جائے جو کچھ بارگاہ صمدیت میں کفریات بکے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام وحضرت امام حسین وصحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور احادیث نبویہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ کے متعلق دریدہ دہنی اور سفاکی کی ہے۔ اس کو دیکھتے مجیب مصیب کے حق میں نہایت خلوص قلب سے یہ جملہ دعائیہ بے اختیار زبان قلم سے نکلتا ہے کہ جزاہ عنی وعن جمیع المفتین!......... کتبہ ابوالفضل محمد حفیظ اللہ عفی عنہ مدرس اعلیٰ مدرسہ ڈھاکہ ۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد واقوال حسب نقل مجیب صاحب کچھ ایسے واقع ہوئے ہیں کہ ان کو دیکھتے چپ رہا نہیں جاتا ہے۔ مجیب پراز حمیت نے تیغ قلم سے جو کچھ کام لیا ہے محض بتقاضائے حمیت اسلام ہے۔ واللہ ینصر الدین ومن ینصر الدین!..................حررہ محمد صمصام الدین المدرس فی مدرسۃ ڈھاکہ ۔
بسملة وحمدلة الحمد لاهله والصلوة لاهلها جواب المجيب مثاب ويقال جاء الحق وزهق الباطل وويل للقادياني الغلماني بالقول القائل الا انهم هم الكفرة الفجرة ولكن لايشعرون بالعقائد الفاسدة الفاسقة بئسما اخترعوا واهتلكوابه انفسهم ان يكفروا بما انزل الله وبما اخبر به رسول الله ﷺ الا انهم هم المصداق لقول رسول الله ﷺ يكون فى آخر الزمان دجالون كذابون ياتونكم من الاحاديث بما لم تسمعوا انتم ولا آباؤكم فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم رواه مسلم ص ٤ باب النهى عن الروايه عن الضعفاء والاحتياط فى تحملها مطبوعه كتاب ص ١٠ مقدمه مسلم ج ١ وعن عبدالله بن عمرو ابن العاص قال ان فى البحر شياطين مسجونة اوثقها سليمان بن داؤد يوشك ان تخرج فتقرأ على الناس قرآناً (وما هو بقرآن بل تغربه عوام الانسان) رواه مسلم حرره العاصى ابو محمود عبدالرحمن السنديپى مولداً ومسكناً الديوبندى تلمذاً، المدرس الاعلى فى المدرسة الحمادية دهاكه!
مجیب نے مرزا غلام احمد قادیانی کے جو عقائد واقوال نقل کئے ہیں اگر حقیقت میں اس کے عقائد ایسے ہی تھے تو اس کے احاطہ سنت والجماعت و اسلام سے خارج ہونے میں کسی کو کچھ شک وتردد نہیں ہو سکتا اور مسلمانوں کو اس کے معتقدین اور تحریرات سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ واللہ اعلم! ............ کتبہ محمد عبدالرحمن عفی عنہ مدرس مدرسہ ڈھا کہ ۔
نعم الاجوبه صحيحة والقادياني المذكور استحق الكفر ودعاويه باطلة بلاريب! حرره ابوجعفر اخترالدين المدرس فى مدرسة دهاكه ـ
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد واقوال کے بارہ میں مجیب صاحب نے جو عبارتیں تحریر کی ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قادیانی مذکور بلا ریب دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مسلمانوں کو اس کے تمام متبعین اور تصانیف سے ہر طرح پر ہیز کرنا لازم ہے۔ ......... حررہ محمد عبدالغنی عفی عنہ مدرس مدرسہ ڈھا کہ ۔
الجواب صحیح ................... عبدالجبار قاضی کولوتولہ کلکتہ ۔
جوابات صحیح ہیں۔ اس لئے کہ اہل سنت میں داخل ہونے سے تو خود مرزا قادیانی کو انکار ہے۔ سنت کی بابت تو ان کا یہ خیال ہے کہ: ھل النقل شئی بعد ایحاء ربنا . فای حدیث بعده نتخیر ! جماعت سے ان کا یہ خطاب: اخذنا من الحی الذی لیس مثله . وانتم عن الموتی رویتم ففكروا . اعجاز احمدی ص ٦٥ خزائن ج ١٩ ص ١٦٩ ! اب رہا ان کا مسلمان ہونا یا نہ ہونا۔ البتہ مسلمان ہونے کا وہ دعوے کرتے ہیں اور مسلمان ہی ہونے کا نہیں۔ بلکہ نبی ہونے کا اور نبی سے بڑھ کر دعویٰ ہے مگر اس دعوے میں وہ متردد ہیں کبھی اپنے کو مجدد کبھی خلیفہ کبھی امام کبھی کرشن کبھی نبی اور کبھی مثیل نبی کہتے ہیں اور جو اپنی نبوت کے دعوے میں متردد ہو وہ کاذب ہے اور نبی کا ذب یقینی کا فر ہے۔ واللہ اعلم ! .............. ابوالبرکات عبدالرؤف عفی عنہ داناپوری ۔
مرزا غلام احمد متوفی کے بعض حواریین نے ایک اشتہار برائے اتمام حجۃ ہم مدرسین مدرسہ عالیہ کلکتہ کے نام بھی
کچھ پہلے بھیجا تھا۔ جس میں مرزا قادیانی کے دعوے مسیحیت ونبوۃ ورسالت کی تصریح تھی اور چونکہ ان دعاوٰی کا ماننا منجملہ ضروریات اسلام وایمان ظاہر کیا گیا تھا جس سے صاف ظاہر تھا کہ نبوت ورسالت مستقلہ کا مرزا قادیانی مدعی تھا۔ لہذا اس کا اور اس کے جمیع امت کا، امت محمدی سے خارج ہونا یقینی معلوم ہوگیا تھا اور فاضل مجیب کے پر زور اور مدلل تحریر نے تو بالکل اس متنبی مردود اور اس کے مومنین کی بے ایمانی کو اظہر من الشمس کر دیا ہے۔ فجزاكم الله خيرالجزاء! ................. ................. الراقم محمد یحیٰ سہسرامی مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ۔
الاجوبة صحيحة ، العقائد التي قد صرح بها المرزا في كتبه غير عقائد الاسلامية لا شك فيها انها من الكفريات فلاريب في كفر معتقديها ، والله اعلم! ................. خادم القوم المدعو بعبدالاحد عفا عنه (دربھنگوی)
ولله درالمجيب المصيب فقداتی بجوابات صحيحة بلاريب وشك! ..... ................. محمد عمر مدرس اول انجمن حمایت اسلام مونگیر۔
الجواب صحیح۔ ................. محمد یعسوب ندوی
الجواب صحیح۔ ................. محمد عبدالشکور عفی عنہ گورکھپوری ساکن مونگیر
جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا! ............. ابوالرضوان محمد عبدالرحمٰن ہیڈ مولوی ضلع اسکول مونگیر۔
المجیب مصیب۔ ............. ابوالمعالی بندہ محمد محبوب علی عفی عنہ مدرس دوم ضلع اسکول مونگیر۔
۸۶؎ مرزا قادیانی کے اقوال مذکورہ رسالہ بعضے بدعت قبیحہ شنیعہ اور بعضے کفر ہیں جو سب کا یا کفریات کا معتقد ہو اس پر حکم کفر کا کیا جائے گا جو بدعیات کا معتقد ہو وہ مبتدع ضال ہے اور دونوں حالتوں میں اہل حق کو ان سے تجنب لازم ہے۔ جیسا کہ رسالہ میں تفصیل مرقوم ہے۔ ............. اشرف علی تھانوی ۵ جمادی الاولیٰ ۱۳۱۹ھ!
الجواب صحیح۔ ............. بندہ محمد ضرغام الدین عفی عنہ مدرس مدرسہ احمدیہ فیض آباد۔
رسالہ ہذا کے صفحہ اول میں جو استفتاء مرقوم ہے اس کا جواب مجیب مصیب نے جس قدر بھی ارقام فرمایا ہے بلاشبہ وہ کل صحیح ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ نے جس قدر کفر وزندقہ، ارتداد و الحاد کا جال روئے زمین پر پھیلایا اس کی نظیر گزشتہ صدیوں میں کم ملے گی۔ عن ابی ھریرةؓ عن النبی ﷺ قال لاتقوم الساعة حتی تقتتل فئتان فتكون بينهما مقتلة عظيمة دعوهما واحدة ولاتقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريبا من ثلثين كلهم يزعم انه رسول الله ، رواه البخاری ج ۳ ص ۱۱۱۳ فى باب علامات النبوة فى الاسلام حديث نمبر ۳۶۰۹ نسخه مروجه ج ۱ ص ۵۰۹ وفى غيره بطريق كثيرة ومثله فى صحيح المسلم ج ۲ ص ۳۹۰ كتاب الفتن وشرائط الساعة وروى الدار قطنی عن ابن مسعودؓ قال قال رسول الله ﷺ ان الله عزوجل اختارلی اصحابا فجعلهم
اصحابی واصهاری وانصاری وسيجى من بعدهم قوم ينقصوهم ويسبوهم فان ادركتموهم فلا تناكحوهم ولا تواكلوهم ولا تشاربوهم ولا تصلوا معهم ولا تصلوا عليهم ٠ انتهی! پس مرزا قادیانی معہ اپنے تمام معتقدین کے یقیناً دائرہ اسلام سے خارج ہے اور ان سب کے کفر و ارتداد میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے۔ لہذا جملہ اہل اسلام پر فرض ہے کہ ان سب کے ساتھ وہی برتاؤ و معاملہ اعتقاداً وعملاً کریں اور رکھیں جو کافر اور مرتد کے متعلق منصوص ومذکور ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ فقیر ابوالطاہر ظہور احمد پنچوی کان اللہ تعالیٰ لہ مدرس جماعت سنیئیر مدرسہ عالیہ ہگلی۔
الاجوبة كلها صحيحة والعبارات المنقولة من كتبهم على كفر القاديانى وارتداد اتبا عه وجنوده صريحة والله تعالى سبحانه اعلم ٠ حرره الراجى عفو ربه الكريم المدعو بمحمد سليم عفى الله عنه صدر المدرسين فى المدرسة الهاشمية الواقعة فى مسجد زكريا بمبئى!
ایسے عقائد کے معتقد اور اس کے اتباع کے کفر و ارتداد میں کچھ شک وشبہ نہیں۔ مسلمانوں کو ان سے احتراز کرنا لازم ہے۔ فقط ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتبہ: دین محمد عفی عنہ خادم مدرسہ ہاشمیہ واقع مسجد زکریا بمبئی۔
ولله درالمجيب اللبيب على ما اثبت من العقائد الباطلة لتابعى المسيح الفنجابى! وانا المسكين مهرالدين الخطيب الكورچوى مدرس المدرسة النظامية عفاالله عنه بمبئى!
لاشك ان المرزائين منحرفون عن الطريق المستقيم! احقرالعبيد عبدالحميد بھوپالى سنديافته مدرّسه عاليه ديوبند صدر المدرسين للمدرسة النظاميه حفظها الله!
باسمه سبحانه تعالى شانه ٠ حمداً لمن جعل لنا شعائر ديننا الحنيف ذرائع قوية الى سبيل الحق والهدى ونصلى ونسلم على هادى البر والاحسان ٠ افضل الاساتذة الروحانية واكمل المعجزات الباهرة فى الورى وعلى آله وصحبه الاخيار ذوى البركات والمغانم الرشد كما يتمنى اما بعد ما اثبته العلماء الكرام من عبارات الضال المضل عن الصراط المستقيم مرزا غلام احمد قاديانى فهو دال على انحرافه عن الملة البيضاء التى قال الله سبحانه وتعالى فى شانها ان الدين عندالله الاسلام وبتقدير صحة هذه العبارات بانها من معتقدات المسيح الفنجابى فلا شك فى ارتداده عن الطريق الحق والله سبحانه وتعالى يحفظنا وجميع المسلمين من مكائد هذه الفرقة الطاغية بحرمة سيد البرية عليه افضل الصلوة واتم التحية وانا العبد الراجى عفو ربه ذى العرش المتين محمد سيف الدين عفاالله عنه رب العالمين خادم المدرسة النظاميتالواقعة فى البمبائى!
ماكتب المجيب اللبيب فهو فيه مثاب ومصيب! كتبه : القاضى غلام احمد التهائى
المدرس فى المسجد الجامع فى بلدة بمبئى ! الجواب صحيح كتبه العبد محمد عبد المنعم واعظ وخطيب المسجد الجامعه بمبئى !
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین سب کے سب بے ایمان اور بددین ہیں۔ کیونکہ اس کے اقوال مستلزم کفر ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب! ........... محمد ریاست حسین عفی عنہ رائے بریلی مہتمم مدرسہ رحمانیہ آلہ آباد۔
بے شک اقوال مرزا کے کفر والحاد کو پہنچتے ہیں۔ کسی سمجھدار کو ان پر کفر و الحاد کے کسی لزوم میں تامل نہیں ہو سکتا۔ واللہ اعلم بالصواب! ........... محمد دین احمد جعفری آلہ آبادی کان اللہ لہ !
جوابات صحیح ہیں۔ ........... ولی محمد آلہ آبادی مدرس مدرسہ سبحانیہ آلہ آباد۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال کفر والحاد کے ہیں۔ لہٰذا اس کے ارتداد میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ ........... ........... ابو سعید سید محمد عبد الحمید مدرس مدرسہ سبحانیہ شہر آلہ آباد۔
لله در المجيب لاريب ان القادياني واتباعه اخوان الشياطين لاشك فى تكفيرهم اولئك اصحاب النار هم فيها خالدون ٠ لاتجوز الصلوة خلفهم بل يجب على المسلمين اخراجهم عن المساجد كتبه ابوالمكارم محمدعبدالرحمن المتخلص بقيس المدرس فى المدرسة السبحانيه آله آباد !
لقد اصاب من اجاب! ........... سید محمد اعظم گڑھی کولیاوی مدرسہ اسلامیہ۔
صح الجواب بلا ارتياب والله اعلم بالصواب! ....... محمد حسین منڈاوری آلہ آبادی مدرسہ اسلامیہ۔
جوابات صحیح ہیں۔ ........... عبد المعبود مدرس مدرسہ اسلامیہ الہ آباد۔
لقد درينا بما ترشح بقلم المجيب معتمداً وواثقاً على ما اخذ المصيب نمقه السيد نذيرا حمد وفق له الخير مدرسه اسلاميه اله آباد۔
الجواب صحیح ۔ ........... برکت اللہ الہ آبادی مدرسہ اسلامیہ۔
لاريب فى تكفير القادياني والحادهم وهم من الخاسرين والضالين لعنة الله عليهم اجمعين حرره محمدمتين اعظم گڑھی کولیاوی تلمیذ مولانا حكيم سيد نذير أحمد صاحب سكندر پورى بلياوی مدرس اعلىٰ مدرسه اسلاميه اله آباد!
صح الجواب واليه المرجع والمآب ! ........... محمد عبدالمجید خان آلہ آبادی مدرسہ اسلامیہ۔
لاشك فى كفر القاديانى واتباعه من شك في كفرهم وعذابهم فقد كفر ولهم عذاب اليم ! محمدرضا خان آله آبادی مدرسه اسلاميه!
الجواب صحیح............ کتبہ عبد الغفور مظفر پوری موضع بھرونڈی وارد حال الہ آباد مدرسہ اسلامیہ۔
لاشک ان القادیانی واتباعه كفرة!............ حرره المفتقر الی الصمد مسیح الدین
عفاعنہ یحییٰ پوری الہ آباد!
مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر اور ارتداد میں کچھ شک اور شبہ نہیں ہے۔ اس کے تمام معتقدین اور خلفاء سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ مرزا قادیانی مذکور کی تصانیف سے صاف طور پر دعوے نبوت معلوم ہوتا ہے کہ جو صریح حدیث لا نبی بعدی کے خلاف ہے اور نیز اس کی تصانیف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صریح تحقیر ثابت ہوتی ہے اور تحقیر انبیائے کرام علیہم السلام کفر ہے۔ پس بناء علیہ اس کی اور اس کے معتقدین کے کافر اور مرتد ہونے میں کچھ شک اور شبہ نہیں ہے۔ فقط !....... ............احقر الزمن محمود حسن سہسوانی مدرس اول مدرسہ شاہی مسجد واقع شہر مراد آباد۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا کلام سراسر کفر اور الحاد سے بھرا ہوا ہے۔ جا بجا دعوے نبوت اور انبیائے سابقین کی تحقیر اور ختم نبوت کا انکار نصوص قطعیہ کی تحریف وتبدیل و غیر ذالک من الکفریات سے مملو ہے۔ جس سے اس کا کفر وارتداد کالشمس فی رابعۃ النہار ظاہر ہے۔ وہ اور اس کے تمام ہم خیال کافر اور مرتد ملعون ہیں۔ ان سے ترک معاملات لازم اور واجب ہے۔ ان کو مسلمان سمجھنا اپنے کفر کا اقرار کرنا ہے۔ فقط! فخر الدین احمد غفر لہ مدرس دوم مدرسہ شاہی مسجد مراد آباد۔
مرزا قادیانی مذکور اور اس کے تمام مرید ہم خیال اور ہم عقیدہ کافر ومرتد ہیں۔ مرزا قادیانی کی تحریر سے توہین حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام وعلیٰ نبینا ظاہر ہوتی ہے اور توہین ادنیٰ نبی بھی کفر ہے۔ چہ جائیکہ اولوالعزم رسول کی توہین۔ عیاذ باللہ! علاوہ بریں دیگر عقائد باطلہ مثلاً زعم نبوت اس کے اور اس کے جملہ اتباع کے کفر کی بین دلیل ہیں۔ ان کے کفر میں کچھ شک نہیں ۔............ بندہ ولایت احمد عفی عنہ سنبھلی مدرس مدرسہ شاہی مسجد مراد آباد۔
بے شک مرزا غلام احمد قادیانی علیہ کے اقوال سے اس کی صاف ردت ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے جس قدر اقوال مذکورہ ہیں نصوص قطعیہ قرآنی و احادیث کے بالکل مخالف ہیں۔ ان اقوال کا معتقد منکر قرآن واحادیث کا ہے اور ان ہر دو کا یا ایک کا منکر قطعی کافر ہے اور چونکہ عقائد قادیانی و عقائد ایمانی کا اجتماع مثل آب و آتش کے وعلیٰ ہذا اہل اسلام وقادیانین کا۔ لہٰذا نہایت ضروری ہے کہ ان میں باہم بالکل انقطاع ہونا چاہئے۔ خصوصاً مزاوجت اور صلوٰۃ کہ ان ہر دو میں بالکلیہ کوشش کر کے مفارقت و قطع تعلق کرنا چاہئے۔ اہل اسلام کو ہرگز ہرگز اپنی دختر نہ دینا چاہئے ۔ ونیز اہل اسلام کو اپنی مساجد میں ان کو ہرگز داخلہ کی اجازت نہ دینا چاہئے اور جن اصحاب کو مساجد میں داخلہ کی اجازت ہو ان اصحاب کو ممانعت کر کے ان کے مرض متعدی سے اپنی مطہر مساجد کو صاف کرنا چاہئے ۔ ونیز اہل اسلام ان اصحاب سے بوجہ اپنی لاعلمی کے اس وقت تک موانست کرتے رہے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ مفارقت اختیار کر کے بمقتضائے للصحبۃ تاثیر جو کچھ اس مرض متعدی کا اثر پیدا ہوا ہو اس کا استغفار کے ساتھ علاج کرنا چاہئے۔ فقط:......
..................... وما علینا الا البلاغ ! رضوان علی عفی عنہ مدرس مدرسۃ الغرباء واقع مسجد شاہی مراد آباد۔
فی الواقع اس مہمل عقیدہ والا شخص قطعاً کافر ہے۔.......... خادم العلماء والاطباء کبیر الدین عفی عنہ مراد آباد۔
جوابات صحیح ہیں۔................ احقر علی نظر غفرلہ۔
لاریب مدعی نبوت خصوصاً اہل اسلام سے بوجہ صریح تخالف و تحریف نصوص قطعیہ و احادیث نبویہ ﷺ کے کافر و مرتد ہے اور علیٰ ہذا اسی حکم میں اس کے امتی بھی ہیں۔ ان سے اجتناب و ترک تعلقات اہم و ضروری ہے۔.......... ..................... راقم بندہ ابوالمظفر عبدالرشید غفرلہ بلند شہری۔
الجوابات صحیح۔........... احمد حسن غفرلہ مدرس دینیات مدرسہ ہیوٹ مسلم ہائی سکول مراد آباد۔
الجوابات صحیح۔........... ابو حامد محمد نصر اللہ عفی عنہ مراد آباد۔
جو عقائد فاسدہ کہ اس رسالہ میں درج ہیں۔ اس کے قائل اور معتقد سے بیزار ہوں اور دونوں کو دائرہ اسلام سے خارج جانتا ہوں اور ایسا شخص پورا اس حدیث کا مصداق ہے کہ جس کی پیشین گوئی مخبر صادق ﷺ نے فرمائی تھی: ’’عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ یکون فی آخر الزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آباؤکم فایاکم و ایاھم لا یضلونکم ولا یفتنونکم ۰ مسلم ص ۱۰ ج ۱ مقدمہ‘‘ روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ سے کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے ہوں گے آخر زمانہ میں فریب دینے والے جھوٹے لائیں گے تمہارے پاس حدیثیں کہ نہیں سنیں تم نے اور نہ تمہارے باپوں نے۔ پس بچو تم ان سے اور بچاؤ ان کو آپ سے۔ نہ گمراہ کریں وہ تم کو اور نہ فتنہ میں ڈالیں تم کو۔ پس مسلمانوں کو لازم ہے کہ ایسے بد دینوں کی صحبت اور خلط ملط سے بچیں اور ان سے ہم کلام نہ ہوں اور نہ ان کی کتابیں دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کید قادیانی اور اس کے متبعین سے بچائیں۔ بجاہ النبی وآلہ واصحابہ ﷺ!................. فرخ بیگ عفی عنہ مراد آبادی۔
کسی شخص کے کفر کا فتویٰ دینا کچھ آسان امر نہیں مگر جو شخص نصوص متواترہ قطعی الدلالۃ کا منکر ہو اس کے کفر کو مسلمانوں پر ظاہر کرنا حاملان شرع اسلام کا فرض قطعی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو خدا کے نزدیک ان سے بڑھ کر شاید ہی کوئی ملعون ثابت ہو۔ اسی مجبوری کی وجہ سے مرزا غلام احمد ساکن قادیان ضلع گورداسپور پنجاب کے کفر کا فتوے دیا جاتا ہے۔ میں نے خود اس سے سنا ہے کہ وہ بار بار تاکید سے کہتا تھا کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ مجھ پر نزول وحی اسی طرح ہوتا ہے جیسے دیگر انبیاء پر۔ اس کے بعد مجھے اس کے کفر میں کوئی تامل نہ رہا۔ واللہ اعلم !........... ....... میر عبدالکریم قرشی العلوی ساکن ضلع ہزارہ فقیہ اول ندوہ لکھنؤ سابق صدر مدرس مدرسہ محبوبیہ حیدر آباد دکن۔ Wait, I will fix the last line.
....... میر عبدالکریم قرشی العلوی ساکن ضلع ہزارہ فقیہ اول ندوہ لکھنؤ سابق صدر مدرس مدرسہ محبوبیہ حیدر آباد دکن۔ Wait, let me check the image text one last time. It says: ....... میر عبدالکریم قرشی العلوی ساکن ضلع ہزارہ فقیہ اول ندوہ لکھنؤ سابق صدر مدرس مدرسہ محبوبیہ حیدر آباد دکن۔
I will just rewrite the entire last line correctly. Here is the final output.
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
فتویٰ تکفیر قادیان
شائع کردہ!
کتب خانہ اعزازیہ دیوبند
نوٹ: بعد میں اس رسالہ کو حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
نے ’’فسخ نکاح مرزائیاں‘‘ کے نام سے بھی شائع کیا تھا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
ناظرین آپ کو معلوم ہے کہ پنجاب میں مرزائی جماعت نے ایک نئی نبوت کی بنیاد ڈال کر اہل اسلام میں نہ صرف اختلاف پیدا کر دیا ہے ۔ بلکہ لین دین‘ عقائد‘ اصول اور عبادت و معاملات میں بھی زمین آسمان کا فرق پڑ گیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آغاز مسیحیت میں کئی رنگ بدلے۔ سب سے پہلے اپنے کو صوفی منش ظاہر کیا‘ پھر مجدد بنے‘ پھر حکم‘ پھر نذیر۔ اس کے بعد مسیح ہونے کے مدعی ہوئے‘ پھر کرشن اوتار اور سب سے آخر میں نبوت کا دعویٰ شائع کیا اور بہت جلد دنیا سے رخصت ہوئے ۔ مرزا قادیانی ابتداء دعاوی میں نرمی سے کام لیتے رہے۔ جب جماعت کثیر ہوگئی تو غیر احمدیوں کو کافر قرار دیا اور ان سے عبادات و معاملات میں الگ رہنے کا حکم دیا۔ بہر حال مرزا قادیانی نے دنیا کے تمام کمالات کا مظہر اپنی ذات کو قرار دیا۔
مرزا قادیانی کے گدی کے جانشین
جب مرزا قادیانی مرے تو حکیم نورالدین نے حضرت ابوبکرؓ کا منصب سنبھالا۔ پھر جب وہ مرے تو حضرت عمرؓ کا زمانہ مرزا محمود دکھا رہے ہیں۔ مرزا محمود نے ہر چند اپنے ذاتی اسلام کی اشاعت میں کوشش کی مگر بجائے یگانگت کے مرزائی جماعت میں بیگانگت پیدا ہوگئی ۔ مسٹر محمد علی نے لاہور میں بیعت (پیری‘ مریدی) کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مولوی احمد حسن امروہی قادیان سے الگ ہو کر لاہوری جماعت میں شامل ہوگئے۔ گوجرانوالہ میں ظہیر الدین اروپی نے الگ جماعت قائم کر لی اور عبداللہ تیماپوری الگ بیعت لے رہا ہے۔ یہ چار مذاہب شاید اسلامی چار مذاہب کا نقشہ ہوں ۔ مگر حضرات! اسلامی چار مذاہب تو ایک دوسرے کو حق پر سمجھتے ہیں۔ مرزائیوں میں تو باہمی کفر واسلام کا فرق ہے۔ لاہوری جماعت قادیانی جماعت کو مشرک بتاتی ہے۔ کیونکہ اس نے مرزا قادیانی کے مشرکانہ الہام کو صحیح تسلیم کیا اور قادیانی لاہوریوں کو مرتد یقین کرتے ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے مرزا قادیانی کے طریق مشرب سے انحراف کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ: ’’میرے بعد یوسف آئے گا۔ بس اس سے یوں ہی سمجھ لو کہ وہ خدا ہی اترا ہے۔‘‘ ظہیر اروپی کو مرزا قادیانی کی صحیح جانشینی کا دعویٰ ہے اور مرزا محمود کو غاصب اور ظالم قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ قادیان کی طرف منہ کر کے عبادت کرنا افضل ہے۔ کیونکہ وہ مکہ ہے جہاں ایک رسول نے جنم لیا تھا۔ عبد تیماپوری کا دعویٰ ہے کہ اسے وہ انکشاف ہوا ہے کہ مرزا قادیانی کو بھی نصیب نہیں ہوا۔ اس کو اپنے بازو سے الہام ہوتا ہے اور اپنی کتاب تفسیر آسمانی میں حضرت آدم علیہ السلام کو حضرت حوا سے خلاف فطرت انسانی ملوث ہونے کا الزام لگاتا ہے۔ وزیرآباد کے پاس ہی سمبڑیال ایک گاؤں ہے۔ وہاں کے ایک مرزائی محمد سعید نامی کو یہ خبط سوجھا ہے کہ مرزا قادیانی نے تجدید اسلام کو شروع کیا تھا۔ مگر اخیر تک نہ پہنچا سکے۔
خدا تعالیٰ نے مجھے ’’قمر الانبیاء‘‘ بنا کر مبعوث کیا ہے۔ اس کے یہ عقائد ہیں کہ:
’’شراب جائز ہے۔ اپنی رشتہ داری میں نکاح ناجائز ہے۔ حضرت مسیح یوسف نجار کے بیٹے تھے۔ ختنہ ناجائز ہے۔ وغیرہ وغیرہ!‘‘ بہرحال ان مرزائی چار جماعتوں کا اس پر اتفاق ہے کہ مسیح موعود مرزا قادیانی ہی تھے اور ان کا کلام وحی من اللہ ہے۔ اس کے مقابل اہل اسلام ان دونوں امور کے منکر ہیں۔ صرف منکر ہی نہیں ۔ بلکہ مرزا قادیانی کو شروع سے آخر تک کافر و مرتد قرار دیتے ہیں اور لین دین معاملات اور عبادات میں ان سے الگ ہیں ۔ اب مرزائی اور غیر مرزائی میں کفر واسلام کا فرق ہے۔ نہ ان کی ان کے ہاں شادی ہو سکتی ہے۔ نہ ان کی ان کے ہاں کفن‘ دفن‘ نماز‘ زکوٰۃ‘ جنازہ بھی
الگ الگ ہے۔ بالجملہ ایک استفتاء جس کے متعدد (بلکہ اس سے بھی زیادہ) جوابات مختلف حضرات علمائے اسلام کی جانب سے دیئے گئے ہیں۔ ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم میں اور مرزائیوں میں اصولی فرق ہے فروعی اختلاف نہیں اور ایسے بعید اختلافات کے ہوتے ہوئے ہم انہیں اسلام میں داخل نہیں سمجھ سکتے۔ کوئی عقلمند اتنا کہے بغیر نہیں رہ سکتا اور امید ہے کہ مرزائی بھی ہمیں یقین دلائیں گے کہ آج سے تیرہ سو سال پہلے مرزائی اعتقادیات کا نام و نشان کہاں تھا۔ انہوں نے اسلام کی پرانی چار دیواری کو مسمار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ ناظرین خود فیصلہ کرلیں گے کہ مرزائیوں نے اسلامی عمارت کو کس طرح مسمار کر دیا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
سوال (استفتاء)
بخدمت شریف جناب علمائے اسلام سلمکم اللہ الی یوم القیام ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ومفتیان شرع متین اس امر میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال مندرجہ ذیل ہیں:
- ۱...... آیت :”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ کا مصداق میں ہوں۔
(ازالۃ اوہام طبع اول ص ۶۷۳، خزائن ج ۳ ص ۴۶۳)
- ۲...... مسیح موعود ( جن کے آنے کی خبر احادیث میں آئی ہے ) میں ہوں۔
(ازالۃ اوہام طبع اول ص ۶۶۵، خزائن ج ۳ ص ۴۵۹)
- ۳...... میں مہدی مسعود اور بعض نبیوں سے افضل ہوں۔
(معیار الاختیار ص ۱۱، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۸)
- ۴...... ان قدمی ھذہ علی منارۃ ختم علیہ کل رفعۃ میرا قدم اس منارہ پر ہے جہاں کل بلندیاں ختم ہوچکی ہیں ۔
(خطبہ الہامیہ ص ۷۰، خزائن ج ۱۶ ص ایضاً)
- ۵...... لا تقیسونی باحد ولا احدا بی میرے مقابل کسی کو پیش نہ کرو۔
(خطبہ الہامیہ ص ۴۲، خزائن ج ۱۶ ص ایضاً)
- ۶...... میں مسلمانوں کے لئے مسیح مہدی اور ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں۔
(لیکچر سیالکوٹ ص ۳۳، خزائن ج ۲۰ ص ۲۲۸)
- ۷...... میں امام حسین (علیہ السلام) سے افضل ہوں۔
(دافع البلاء ص ۱۳، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۲)
- ۸...... وانی قتیل الحب لکن حسینکم........... قتیل العداء فالفرق اجلی واظہر
(میں عشق کا مقتول ہوں مگر تمہارا حسین دشمن کا مقتول ہے فرق بالکل ظاہر ہے۔)
(اعجاز احمدی ص ۸۱، خزائن ج ۱۹ ص ۱۹۳)
- ۹...... یسوع مسیح کی تین دادیاں اور تین نانیاں زنا کار تھیں ۔ معاذ اللہ !
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۷، خزائن ج ۱۱ حاشیہ ص ۲۹۱)
- ۱۰...... یسوع مسیح کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔ (معاذ اللہ )
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵، خزائن ج ۱۱ حاشیہ ص ۲۸۹)
- ۱۱...... یسوع مسیح کے معجزات مسمریزم تھے۔ اس کے پاس بجز دھوکہ کے اور کچھ نہ تھا۔
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۷، خزائن ج ۱۱ حاشیہ ص ۲۹۱)
- ۱۲...... میں نبی ہوں اس امت میں۔ نبی کا نام میرے لئے مخصوص ہے۔
(حقیقت الوحی ص ۳۹۱، خزائن ج ۲۲ ص ۴۰۶، ۴۰۷)
- ۱۳...... مجھے الہام ہوا ہے۔ (یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً) (لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا
رسول ہو کر آیا ہوں )
(حقیقت الوحی ص ۳۹۱، خزائن ج ۲۲ ص ۴۰۷، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۰)
- ۱۴...... میرا منکر کافر ہے۔
(حقیقت الوحی ص ۱۶۳، خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۷)
- ۱۵...... میرے منکروں بلکہ متاملوں کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔
(فتاویٰ احمدیہ جلد اول ص ۱۸)
- ۱۶...... مجھے خدا نے کہا ہے۔ (اسمع ولدی) (اے میرے بیٹے سن!)
(البشریٰ ص ۴۹ حصہ اول)
- ۱۷...... لولاك لما خلقت الا فلاك (اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمان پیدا نہ کرتا)
(حقیقت الوحی ص ۹۹‘ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۲)
- ۱۸...... میرا الہام ہے وما ينطق عن الهوای یعنی میں بلا وحی نہیں بولتا۔
(اربعین نمبر ۳ ص ۳۶‘ خزائن ج ۱۷ ص ۴۲۶)
- ۱۹...... مجھے خدا نے کہا ہے و ما ارسلناك الا رحمة اللعلمين یعنی خدا نے تجھے رحمت بنا کر بھیجا۔
(حقیقت الوحی ص ۸۲‘ خزائن ج ۲۲ ص ۸۵)
- ۲۰...... مجھے خدا نے کہا انك لمن المرسلين (خدا کہتا ہے کہ تو بلا شبہ رسول ہے۔)
(حقیقت الوحی ص ۱۰۷‘ خزائن ج ۲۲ ص ۱۱۰)
- ۲۱...... اتانی مالم يعط احد من العالمين ۔ خدا نے مجھے وہ عزت دی جو کسی کو نہیں دی گئی۔
(حقیقت الوحی ص ۱۰۷‘ خزائن ج ۲۲ ص ۱۱۰)
- ۲۲...... الله معك يقوم اينما قمت (خدا تیرے ساتھ ہوگا جہاں کہیں تو رہے۔)
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۷‘ خزائن ج ۱۱ حاشیہ ص ۳۰۱)
- ۲۳...... انا اعطينك الكوثر خدا نے مجھے حوض کوثر دیا ہے۔
(انجام آتھم ص ۵۸‘ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
- ۲۴...... (رایت) فی المنام عين الله تيقنت انى هو فخلقت السموات والارض (میں نے اپنے آپ
کو بعینہ خدا دیکھا اور میں یقیناً کہتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے زمین آسمان بنائے۔)
(آئینہ کمالات ص ۵۶۴‘ ۵۶۵‘ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
- ۲۵...... میرے مرید کسی غیر مرید سے لڑکی نہ بیاہا کریں۔
(فتاویٰ احمدیہ جلد دوم ص ۷)
جو شخص مرزا قادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو اس کے ساتھ کسی مسلمان کا رشتہ زوجیت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور تصدیق بعد نکاح موجب افتراق ہے یا نہیں؟۔
الجواب: (۱) فتویٰ از ریاست بھوپال
مندرجہ سوال ہذا میں متعدد ایسے اقوال ہیں جن کے کلمہ کفر ہونے میں تاویل بھی نہیں ہوسکتی۔ لہذا جس شخص کے عقائد ایسے ہوں وہ بوجہ مخالفت اسلام کے جماعت اسلام سے جدا ہے اور مسلمان مرد و عورت کا نکاح ایسے خارج عن الاسلام سے درست نہیں۔ مہر دستخط محمد یحییٰ عفا اللہ عنہ مفتی بھوپال‘ ۳ رجب ۱۳۳۶ھ
(۲) از ریاست رامپور
جو شخص مرزائے قادیانی کے اقوال مذکور میں تصدیق کرے وہ اعلیٰ درجہ کا ملحد اور کافر ہے۔ ایسے شخص کے یہاں نکاح کرنا مطلقاً حرام ہے۔ اور اگر کوئی شخص بعد نکاح اقوال مذکورہ میں مرزائے قادیانی کی تصدیق کرے گا تو اس سے افتراق لازم ہوگا۔ دستخط ظہور الحسن محلہ پہلوار۔ ”ذالك كذالك .“ مظفر علی خان مقبرہ عالیہ ...... ”الامر كما حرره مولانا السيد ظهور الحسن “ انصار حسین عفی عنہ ...... ”فان القول ماقالت حذام . “ ذوالفقار حسین عفی عنہ ...... ”الامر كذالك .“ فقیر سید تاثیر حسین عفی عنہ۔
(۳) از ریاست حیدرآباد
یہاں کے جوابات کی بجائے کتاب افادۃ الافہام بجواب ازالۃ الاوہام مصنفہ جناب مولانا مولوی محمد انوار اللہ خاں مرحوم ناظم امور مذہبیہ کا مطالعہ کر لینا کافی ہوگا۔
(۴) از دارالعلوم دیوبند ضلع سہارنپور (سنی)
اقوال مذکورہ کا کفر و ارتداد ہونا ظاہر ہے۔ پس وہ شخص جو ایسا کہتا اور عقیدہ رکھتا ہے اور جو اس کی پیروی اور تصدیق کرنے والے ہیں۔ وہ کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اہل اسلام کو ان سے مناکحت درست نہیں اور ان کے ساتھ نکاح منعقد نہ ہوگا۔ اگر کوئی مسلمان نکاح کے بعد مصدق قادیانی کا ہو جائے تو وہ فوراً مرتد ہو جائے گا اور نکاح اس کا فسخ ہو جائے گا اور تفریق لازم ہوگی۔ (مہر و دستخط عزیز الرحمان عفی عنہ مفتی مدرسہ دیوبند ۱۲ رجب ۱۳۳۶ھ)
الجواب صحیح، گل محمد خاں مدرس مدرسہ عربیہ دیوبند ...... الجواب صحیح، غلام رسول عفی عنہ ...... الجواب صحیح، الحسن عفی عنہ ...... الجواب صحیح، محمد رسول خان عفی عنہ ...... الجواب صحیح، فقیر اصغر حسین عفی عنہ ...... اصاب المجیب، محمد اعزاز علی عفی عنہ ...... الجواب صحیح، محمد ادریس عفی عنہ ...... الجواب صحیح، احمد امین عفی عنہ ...... الجواب صواب، محمد تفضل حسین عفی عنہ ...... الجواب صواب، عبدالوحید عفی عنہ۔
(۵) از تھانہ بھون ضلع سہارنپور (سنی)
جو مسلمان ایسے عقائد اختیار کرے جن میں بعضے یقینی کفر ہیں۔ بحکم مرتد ہے اور مرتد کا نکاح مسلمان عورت سے اور اسی طرح مرتدہ کا نکاح مسلمان مرد سے صحیح نہیں۔ اور نکاح ہو جانے کے بعد اگر عقائد کفریہ اختیار کر لے تو نکاح فسخ ہو جائے گا۔ (دستخط اشرف علی عفی عنہ حکیم الامتہ مصنف تصانیف کثیرہ ۱۳۳۶ھ)
(۶) مدرسہ عربیہ مظاہر العلوم سہارنپور (سنی)
سوال مذکور الصدر میں اکثر ایسے امور ذکر کئے گئے ہیں جو مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ناجائز اور موجب کفر و ارتداد قائل ہیں۔ پس جو شخص ایسا عقیدہ رکھتا ہو اور ان اقوال کا مصدق ہو تو اس کے کفر میں کچھ کلام نہیں۔ وہ شرعاً مرتد ہوگا جس کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جو پہلے سے اہل اسلام تھا بعد نکاح کے قادیانی عقائد کا ہو گیا۔ اس کا نکاح فوراً شرعاً باطل ہو جائے گا۔ قضاء قاضی اور حکم حاکم کی بھی شرعاً اس میں ضرورت نہیں: ”ارتداد احدهما (الزوجين) فسخ عاجل بلا قضاء (شامی جلد ۲ ص ٤٢٥) لا يجوز له ان تزوج مسلمة الخ ويحرم ذبيحته وصيده بالكلب والبازي والرمى .“ حررہ عنایت الٰہی مہتمم مدرسہ مظاہر العلوم ۱۹ اپریل ۱۹۱۸ء
(عالمگیریہ ص ۸۷۷)
الجواب صحیح، خلیل احمد ...... الجواب صحیح، ثابت علی ...... الجواب صحیح، عبدالرحمٰن ...... الجواب صحیح، عبداللطیف ...... الجواب صحیح بلا ارتیاب، عبدالوحید سنبھلی ...... قد اصاب من اجاب، ممتاز میرٹھی ...... الجواب صحیح، منظور احمد ...... ھذا ھو الحق، محمد ادریس ...... الجواب صحیح، عبدالقوی ...... الجواب الحق، محمد فاضل ...... الجواب صحیح، بدر عالم میرٹھی
......جواب المجیب صحیح، علم الدین حصاری......المجیب مصیب، غلام حبیب پشاوری......ھذا الجواب حق، عبدالکریم نوگانوی......ھذا جواب صحیح، فصیح الدین سہارنپوری......جواب المجیب صحیح، محمد روشن الدین محمد پوری......الجواب صحیح، نور محمد......الجواب صحیح، دلیل الرحمٰن......الجواب صحیح، محمد بلوچستانی......الجواب حق، ظریف احمد مظفر نگری...... للہ درالمجیب، محمد حبیب اللہ (عفی عنہ)
(۷) رائے پور ضلع سہارنپور (سنی)
جو شخص مسلمان ہو کر ان اقوال عقائد کا معتقد ہو وہ بلا تردد مرتد ہے۔ اس سے کوئی اسلامی معاملہ کرنا اور رشتہ ناطہ کرنا جائز نہیں اور جو ان کے عقائد تسلیم کر کے مرتد ہو جائے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہے۔ حررہ نور محمد لدھیانوی مقیم رائے پور!
الجواب صحیح، عبد القادر شاہ پوری......الجواب صحیح، مقبول سبحانی کشمیری......مصدق، عبد الرحیم رائے پوری ......مصدق، خدا بخش فیروزی، مجھے اتفاق ہے، محمد سراج الحق......جواب درست ہے، محمد صادق شاہ پوری......ھذا الجواب صحیح، احمد شاہ امام مسجد بھٹ......الجواب صحیح، اللہ بخش بہاول نگر ۔
(۸) از شہر کلکتہ (سنی)
ان باتوں کا ماننے والا اقسام کفر و شرک کا معجون مرکب ہے۔ پس ایسی حالت میں ان سے عقد مناکحت و مواخاۃ بالکل جائز نہیں اور یہ سب عقائد باعث ارتداد و موجب تفریق نکاح ماسبق ہیں۔ واللہ اعلم! کتبہ عبدالنور مدرس اولیٰ مدرسہ دارالہدیٰ کلکتہ۔
......الجواب صحیح، افاض الدین......الجواب صحیح، ابوالحسن محمد عباس......مہر، عبدالنور......الجواب صحیح، محمد سلیمان مدرس مدرسہ دارالکتاب و السنۃ......الجواب صحیح، شمس العلماء مفتی محمد عبداللہ صدر مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ......الجواب صحیح، احمد سعید انصاری سہارنپوری حال وارد کلکتہ......الجواب موافق الکتاب والسنۃ، عبدالرحیم......الجواب صحیح، محمد یحییٰ ......الجواب صحیح، محمد اکرم خان سیکرٹری انجمن علماء بنگالہ ایڈیٹر اخبار محمدی کلکتہ......الجواب صحیح، محمد یحییٰ مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ ......لاریب فی صحۃ الجواب، محمد مظہر علی......لاریب فی الجواب، عبدالصمد اسلام آبادی مدرس......لاریب فی الجواب، صفی اللہ شمس العلماء مدرس......الجواب صحیح، عبدالواحد مدرس دوم مدرسہ دارالہدیٰ......الجواب صحیح، محمد زبیر ......الجواب صحیح، ضیاء الرحمٰن از کلکتہ کولوٹولہ نمبر ۶ مسجد اہل حدیث ۲۴ رجب ۱۳۲۶ھ
(۹) از شہر بنارس (سنی)
مرزا قادیانی مسائل اعتقادیہ منصوصہ کا منکر ہے۔ لہٰذا اس عقیدہ رکھنے والے کے ساتھ عقد مناکحت و استقرار نکاح ہرگز نہیں ہو سکتا اور تصدیق (مرزا قادیانی) بعد نکاح موجب افتراق و فسخ نکاح ہوگا۔ کتبہ محمد ابوالقاسم البنارسی مدرسہ عربیہ محلہ سعید نگر بنارس ۱۰ جمادی الاخری ۱۳۲۶ھ میں بھی اس تحریر کے موافق ہوں، محمد شیر خان مدرس کان الله له...... ما کتب صحیح، حکیم محمد حسین خان......الجواب صحیح، محمد عبداللہ مدرس کانپوری......الجواب صحیح، محمد حیات احمد......جواب صحیح ہے، حکیم عبدالمجید عفی عنہ۔
(۱۰) شہر آره (سنی)
اقوال مندرجہ سوال مرزا قادیانی کا حد کفر تک پہنچنا ظاہر ہے۔ بلکہ اس کے بعض اقوال سے شرک ثابت ہوتا ہے اور مشرکین کے حق میں وارد ہے: ”ولا تنكحو المشركين حتى يؤمنوا ، الاية “ اور مرزا کے منکر رسالت ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ بلکہ وہ خود مدعی نبوت والوہیت ہے۔ (اعاذنا اللہ منہ) پس جو لوگ ان اقوال کے قائل و مصدق و معتقد ہیں۔ ہرگز وہ مومن نہیں ہیں۔ ان کے ساتھ مخالطت ومجالست و مناکحت جائز نہیں: ” قال تعالى ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار ای لا تميلوا اليهم بمودة ومخالطة ومجالسة ومناكحة ومداهنة ورضى باعمالكم فتصيبكم النار كما صرح به المفسرون المحققون من المتقدمين منهم والمتأخرين رضوان الله عليهم اجمعين . “ بالجملہ قادیانیوں کے ساتھ کسی مسلمہ کا نکاح ہرگز جائز نہیں اور اگر نکاح ہو گیا تو تفریق کرا دینی چاہیے اور اگر کوئی مسلمان قادیانی ہو گیا تو اس کا نکاح بلا طلاق فسخ ہو گیا۔ اس کی عورت کسی مسلمان صالح سے نکاح کر سکتی ہے: واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو طاہر البهاری عفا عنہ الباری المدرس الاول فی المدرسة الاحمدیة! قد صح الجواب محمد طاہر ابن حضرت مولانا ابو طاہر دام فیضہ ...... قد اصاب من اجاب محمد مجیب الرحمٰن دربھنگوی ۔
(۱۱) بدایوں (سنی)
مرزائیوں سے رشتہ زوجیت قائم کرنا حرام ہے۔ اگر لاعلمی سے ایسا ہو گیا تو شرعاً نکاح ہی نہ ہوا۔ کیونکہ مسلمان عورت کا نکاح کافر کے ساتھ قطعاً حرام ہے۔ (هکذا فی کتب الفقه) اگر بعد نکاح کوئی مسلمان باغوائے شیطان عقائد کفریہ مرزائیہ کا معتقد ہو گیا تو اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور اگر عورت معتقد ہو گئی تو اس کا نکاح قائم نہ رہے گا۔ مثل مرتدین کے ہو جائے گا۔ مہر، محمد ابراہیم قادری بدایونی ...... مہر، محمد قدیر الحسن حنفی قادری ...... الجواب صحیح، محمد حافظ الحسن مدرس مدرسہ محمدیہ ...... الجواب صواب، احمد الدین مدرس مدرسہ شمس العلوم ...... ذالك كذالك شمس الدین قادری فرید پوری ...... مہر، محمد عبدالحمید ...... الجواب صحیح، حسین احمد ، واحد حسین مدرس مدرسہ اسلامیہ، عبدالرحیم قادری، محمد عبد الماجد منظور حق مہتمم مدرسہ شمس العلوم، فضل الرحمان ولایتی، عبدالستار عفی عنہ۔
(۱۲) شہر امروہہ (سنی)
مرزا کافر مرتد ملعون خارج از اسلام ہے اور ایک ہے ان تیس میں جن کی خبر آنحضرت ﷺ نے دی ہے کہ میرے بعد تیس دجال کذاب پیدا ہوں گے جو اپنے نبوت باطلہ کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور جو شخص غلام احمد قادیانی کا ہم عقیدہ ہے وہ بھی کافر ہے۔ مسلمان عورت اور مردوں کا نکاح ان مرتدین کے رجال ونساء سے
ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ اگر نکاح پہلے ہوچکا تھا پھر زوجین میں سے کسی ایک نے ان کفریات کا ارتکاب کیا تو فوراً ہی نکاح ٹوٹ گیا۔ زن وشوہر کا جو تعلق ورشتہ تھا وہ منقطع ہوگیا۔ اب اگر صحبت ہوگی تو زنا ہوگا اور اولاد حرامی ! حرره العبد المسکین محمد عماد الدین سنبہلی السنی الحنفی القادری!
بے شک ایسے کفری قول کرنے والا اور ایسا عقیدہ رکھنے والا اسلام سے خارج ہے اور مرتد اور اس کا مسلمانوں سے نکاح جائز نہیں۔ محمد ابو البرکات سید احمد الوری سلمه الله القوی !
(۱۳) از آگرہ (اکبر آباد) و بلند شہر (سنی)
الف....... جو ان اقوال کفریہ کا مصدق ہے وہ کافر ہے۔ اس کے ساتھ مسلم غیر مصدق کا رشتہ زوجیت جائز نہیں۔ اور زوجین میں سے کسی ایک کا بعد نکاح ان اقوال کی تصدیق کرنا موجب افتراق ہے۔ فقط محمد حمام امام مسجد جامع آگرہ۔
ب....... ان اقوال کے قائل اور معتقد کے ساتھ نکاح مطلق جائز نہیں اور ایسا نکاح موجب افتراق ہے۔ سید عبد اللطیف مدرس عالیہ جامع آگرہ۔
ج....... قادیانی مرتد ہے اور قادیانیوں کے ساتھ نکاح مطلقاً جائز نہیں اور اگر کوئی مسلمان مرد یا عورت مرتد ہوجائے اس کا نکاح فسخ ہوگا۔ (انتہی مختصراً فقط) حرره العبد الراجی رحمۃ ربہ القوی ابو محمد دیدار علی الرضوی الحنفی المفتی فی جامعہ اکبر آباد۔
د....... عقائد مندرجہ سوال رکھنے والا قطعاً کافر ہے۔ عورت اس کے نکاح سے باہر ہے۔ اہل اسلام کو چاہئے کہ احکام و معاملات میں ان سے احتراز رکھیں۔ ہکذا فی کتب الاسلام ! خادم الطلبا محمد مبارک حسین محمودی صدر مدرس مدرسہ قاسم العلوم ضلع بلند شہر۔
(۱۴) از مراد آباد (سنی)
غلام احمد قادیانی کے کفریات بدیہی ہیں کہ جن پر استدلال کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لئے اس کے تابعین سے رشتہ اخوت سلسلہ مناکحت، تعلق محبت، ربط ضبط، شرعاً قطعی حرام ہے۔ ہرگز ہرگز ان اسلامی روپ کے کافروں سے مومنین کو کوئی دینی تعلق نہ رکھنا چاہئے۔ ان سے نکاح زنا ہوگا جو دین و دنیا میں وبال و نکال ہے۔ خادم العلماء والفقراء غلام احمد حنفی قادری مراد آبادی ۱۸ رجب ۱۳۲۶ھ
(۱۵) شہر لکھنو ( از حضرات شیعہ )
(نوٹ) حضرات شیعہ کے فتوے اس لئے معدودے چند ہیں کہ ان میں سوائے مجتہد کے کوئی دوسرا فتویٰ نہیں دے سکتا اور مجتہد کا فتویٰ تمام افراد شیعہ کو ماننا پڑتا ہے:
الف....... الجواب ومن الله التوفیق عقد مسلم یا مسلمہ قادیانی یا قادیانیہ سے جائز نہیں۔ اور اگر کوئی
مسلم یا مسلمہ خدانخواستہ قادیانی مذہب اختیار کرے تو نکاح اس کا باطل ہو جائے گا ۔ واللہ العاصم ! ناصر علی عفی عنہ بقلمہ ۔
ب...... باسمہ سبحانہ، جو شخص ان اقوال کا قائل اور ان معتقدات کا معتقد ہو۔ اس کا عقد ان مسلمین ومسلمات سے اور علی الخصوص مومنین وشیعیان اثنا عشرہ سے جو کہ ان معتقدات باطلہ کے قائل ومعتقد نہیں ہیں ۔ حرام وباطل ہے اور تصدیق ان عقائد کے بعد عقد بھی موجب افتراق و بطلان عقد ہے۔ حررہ السید آقا حسن!
ج...... باسمہ سبحانہ، جو شخص ان تمام امور مندرجہ استفتاء کا معتقد ہو۔ وہ کافر ہے۔ اس کے ساتھ زن مسلمہ کا عقد ناجائز و باطل ہے۔ اور جس زن مسلمہ کا شوہر بعد الاسلام ان عقائد کا معتقد ہو جائے۔ اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا۔ بلکہ جمیع احکام کفر وارتداد ایسے اعتقاد والے جاری ہو جائیں گے۔ واللہ یعلم ! سید نجم الحسن عفی عنہ بقلمہ !
(۱۶) شہر لکھنؤ ندوۃ العلماء (سنی)
جو شخص ان اقوال مندرجہ استفتاء کا مصدق ہو۔ اس کے ساتھ مسلمہ غیر مصدقہ کا رشتہ زوجیت کرنا ہرگز جائز نہیں اور جو شخص کہ نکاح کے بعد ان اقوال کا مصدق ہوا اس کی یہ تصدیق ضرور موجب افتراق ہے۔ قال تعالیٰ: ”فان علمتموهن مؤمنات فلا ترجعو هن إلى الكفار لاهن حل لهم ولاهم يحلون لهن . “ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ اگر تم یقیناً معلوم کر لو کہ عورتیں مسلمان ہیں تو کبھی کفار کو واپس نہ دو۔ نہ یہ (عورتیں) ان کیلئے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لئے حلال ہیں۔ واللہ اعلم ! کتبہ محمد عبداللہ ۱۱ جمادی الاخریٰ ۳۶ھ
جو ان اقوال کا معتقد اور مصدق ہے وہ ہرگز مسلمان نہیں ہے اور نکاح وغیرہ ایسے لوگوں سے ناجائز ہے۔
حررہ الراجی رحمۃ ربہ القوی ابوالحماد محمد شبلی المدرس فی دارالعلوم لندوۃ العلماء عفی عنہ!
مذکورہ بالا جوابات بالکل صحیح ہیں، عبدالودود عفی عنہ مدرس دارالعلوم۔
ان اقوال مذکورہ استفتاء کا جو شخص قائل ہو وہ کافر ہے اور اسلام سے خارج ہے۔ مناکحت وغیرہ اس سے جائز نہیں۔ امیر علی عفا اللہ عنہ مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء۔
معتقدان اعتقادات کا مسلمان نہیں ہے۔ لہذا کسی مسلمہ کا نکاح ان سے جائز نہیں اور اگر نکاح کیا گیا ہو وہ عدم محض سمجھا جائے گا اور تفریق واجب ہوگی۔ حیدر شاہ فقیہ دوم دارالعلوم ندوۃ العلماء۔
واقعی بعض از معتقدات مذکورہ کفر است و معتقد را بسر حد کفر رساند و کفر کہ بعد ایمان ارتداد است و بامرتد ومرتدہ نکاح ایماندار درست نیست ۔ (واللہ اعلم بالصواب ! حررہ الراجی الی رحمۃ ربہ الباری محمد عبدالهادی الانصاری حفيد العلامة ملامبين شارح السلم والمسلم اسکنہ اللہ فی اعلیٰ علیین)
میں نے ایک عرصہ تک مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات و دعاوی کی تحقیق کی۔ دوران تحقیق میں اس امر کا خاص لحاظ رکھا کہ ذرہ بھر نفسانیت کا دخل نہ ہو۔ لیکن خدا اس کا بہتر شاہد ہے کہ جس قدر میں تحقیق کرتا گیا۔ اسی قدر میرا یہ
اعتقاد پختہ ہوتا گیا کہ جولوگ مرزا قادیانی کی تکفیر کرتے ہیں۔ یقیناً وہ حق پر ہیں۔ پس ایسی صورت میں مرزائیوں سے مناکحت وغیرہ ہرگز جائز نہیں۔ اگر نکاح ہو چکا ہے تو تفریق ضروری ہے۔ حررہ ابوالھدی فتح الله اله آباد کان الله له حال مدرس اول انجمن اصلاح المسلمین لکھنؤ !
(۱۷) از شہر دہلی (سنی)
الف ........ فرقہ قادیانی قطعاً منکر آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ اور اجماع امت کا ہے۔ اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ان سے مناکحت یقیناً ناجائز اور باطل ہے۔ حکیم ابراہیم مفتی دہلوی مدرسہ حسینیہ ۔
ب ........ مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ اقوال مندرجہ سوال اکثر میرے دیکھے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی اقوال ایسے ہیں جو ایک مسلمان کو مرتد بنا دینے کیلئے کافی ہیں۔ پس مرزا قادیانی اور جو شخص ان کا ان کلمات کفریہ کا مصدق ہو سب کافر ہیں۔ تعجب ہے کہ مرزائی تو غیر احمدی کا جنازہ بھی حرام بتائیں اور غیر احمدی ان کے ساتھ رشتے ناطے کریں۔ آخر غیرت بھی کوئی چیز ہے۔ حررہ محمد کفایت اللہ غفرلہ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی !
ج ........ جو شخص مرزائے قادیاں کا ان اقوال مذکورہ میں مصدق ہو اس کے ساتھ مسلم غیر مصدق کا رشتہ مناکحت کرنا ہرگز جائز نہیں اور تصدیق کے بعد موجب افتراق ہے۔ حرره السيد ابوالحسن عفى عنه، الجواب صحيح ، احمد سلمه الصمد مدرس مدرسه مسجد حاجی علی جان مرحوم دہلی ٠ مآ أجاب المجيب فهو حق حرى أن يعمل به، حرره ابومحمد عبيدالله مدرس مدرسه دارالهدی کشنگنج دہلی ٠
مرزائی بوجہ اپنے کفر کے اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے مسلمان رشتہ داری، مناکحت و مجالست کریں اور نہ ایسے لوگوں میں مسلمان عورت کا نکاح ہوسکتا ہے۔ حرہ الراجی رحمۃ المنان عبد الرحمن مدرسہ دارالھدی !
د ....... مرزا غلام احمد قادیانی کافر ہے اور جتنے اس کے (اقوال مندرجہ سوال میں) معتقد ہیں سب کافر ومرتد ہیں۔ ان کے نکاح میں مسلمہ عورتیں دینا جائز نہیں۔ مسلمانو ! بچو اور اپنے بھائیوں کو ان سے بچاؤ۔ حررہ احمد اللہ مدرس مسجد حاجی علی جان دہلی ۔ الجواب صحیح، عبدالستار کانپوری نزیل دہلی مفتی مدرسہ دارالکتب والسنہ ـــــ ۱۰ جمادی الثانی ۱۳۳۶ھ ۔ عبدالعزیز عفی عنہ، عبدالرحمن عفی عنہ، عبدالسلام خلف مولوی عبدالرحمن، ابوتراب عبدالوہاب عفی عنہ، نذرالنجیب ابوزبیر محمد یونس پرتاپ گڑہی مدرسہ علی جان !
(۱۸) ہوشیار پور (سنی)
مرزائے قادیانی کے دعویٰ کاذبہ کی جو تصدیق کرتا ہے۔ اس کا رشتہ ونکاح کسی مسلمان سے ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ اور جو شخص اس کے عقائد باطلہ کی تصدیق بعد عقد زوجیت کرے تو اس کی یہ تصدیق موجب تفریق اور باعث فسخ نکاح ہے۔ خادم اراکین انتظامیہ ندوۃ العلماء غلام محمد ہوشیار پوری ۔ هذا هو الجواب الحق ! كتبه مولوی احمد علی عفی عنہ نور محلے !
(۱۹) لودھیانہ (سنی)
الف....... ایسے عقائد مذکور کا شخص کافر بلکہ اکفر۔ ان سے رشتہ لینا دینا درست نہیں۔ کتبہ العبدہ العاجز علی محمد عفا عنہ مدرس مدرسہ حسینیہ لدھیانہ
ب....... چونکہ یہ شخص نصوص قطعیہ کا منکر ہے اور یہ کفر و ارتداد ہے۔ اس لئے ایسے کافر و مرتد سے نکاح منعقد نہیں ہوتا اور اگر قبل از ارتداد نکاح ہوا تو ارتداد سے فسخ ہو جاتا ہے۔ حررہ رحمت علی مدرس مدرسہ غزنویہ محلہ دھولیوال ! الجواب صحیح محمد عبداللہ عفی عنہ مدرس مدرسہ غزنویہ نور محمد از شہر لودھیانہ عاجز حافظ محمد الدین مہتمم مدرسہ بستان الاسلام لدھیانہ محلہ صوفیاں
(۲۰) لاہور (سنی و شیعہ صاحبان)
الف....... چونکہ مرزائے قادیانی اور اس کے پیروؤں کا کفر منجانب علمائے ہند و پنجاب قطعی ہے۔ لہٰذا ان کے ساتھ کسی مسلمہ عورت کا نکاح جائز نہیں اور بروقت ظہور مرزائیت نکاح فسخ ہو جائے گا۔ نور بخش (ایم اے) ناظم انجمن نعمانیہ لاہور !
ب....... صورت مرقومہ میں جس قدر عقائد بیان کئے گئے ہیں از روئے قرآن وحدیث کے وہ سب باطل اور کفر ہیں۔ بلکہ بعض تو حد شرک تک پہنچے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں ان عقائد کا مدعی جس طرح دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کے مرید اور معتقد بھی چونکہ لازماً اس حکم میں داخل ہیں۔ لہٰذا ان سے بہرطور معاشرت کرنا اور ان کو معابد و مساجد میں آنے دینا، ان پر نماز جنازہ پڑھنا، ان سے رشتہ و ناطہ کرنا شرعاً سب ناجائز اور فعل حرام اور معصیت عظیم ہے۔ خاص کر ان کو لڑکی کا رشتہ دینے کی ممانعت تو نہایت ہی مؤکد اور اہم ہے (لان المرأۃ تاخذ من دین بعلھا) کیونکہ عورت اپنے خاوند سے دین حاصل کرتی ہے۔ اس لئے کہ عورت ضعیف العقل ہونے کے سبب شوہر کے دین کو اختیار کر لیتی ہے ’’اعاذنا الله وجميع المؤمنين من النفس الامارة بالسوء والضلالة بعد الهدى (وهو العالم) من مبارك حويلی (لاہور) رقمه خادم الشريعة المطهره على الحائری بقلمه
(۲۱) شہر پشاور معہ مضافات (سنی)
عقائد مرقومہ کا معتقد اور مصدق یقیناً اسلام سے خارج ہے اور کسی مسلمان عورت کا نکاح ایسے شخص سے جائز نہیں اور تصدیق بعد از نکاح موجب افتراق ہے۔ تمام کتب فقہ میں ہے (وارتداد احدہما فسخ فی الحال) کہ بیوی میاں سے کسی کا مرتد ہونا نکاح فوراً فسخ کرتا ہے۔ حررہ محمد عبدالرحمن ہزاروی الجواب صحیح بندہ محمود شہر پشاور ۔ عبدالواحد از پشاور، عبدالرحمن بقلم خود مفتی عبدالرحیم پشاوری، محمد خان پوری، محمد رمضان پشاوری، مولوی عبدالکریم پشاوری، حافظ عبداللہ نقشبندی۔
(۲۲) راولپنڈی معہ مضافات (سنی)
جو الفاظ مرزا غلام احمد کے استفتاء میں ذکر ہوئے یہ تمام کفریہ ہیں۔ پس عورت مسلمان کا نکاح مرزائی کے ساتھ ہرگز جائز نہیں اور اگر پہلے وہ مسلمان تھا اور پیچھے وہ مرزائی ہو گیا اور عورت مسلمان ہے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ کتبہ عبدالاحد خانپوری از راولپنڈی۔
الجواب صحیح، عبداللہ عفا عنہ از مدرسہ سنیہ راولپنڈی‘ سید اکبر علی شاہ متصل جامع مسجد‘ محمد کیچ مکرانی مقیم شہر راولپنڈی‘ محمد مجید امام راولپنڈی‘ محمد عصام الدین مدرس مدرسہ احیاء العلوم راولپنڈی‘ عبدالرحمن بن مولوی ہدایت اللہ صاحب مرحوم امام مسجد اہل حدیث صدر‘ پیر فقیر شاہ از راولپنڈی۔
(۲۳) شہر ملتان معہ مضافات (سنی)
بلا ارتیاب یہ تمام اعتقادات صریح کفر و الحاد ہیں۔ قائل و معتقد ان کا خود بھی کافر ہے اور جو شخص اس کو باوجود ان اعتقادات کے مسلم یا مجدد یا نبی یا رسول مانے وہ بھی کافر اور مرتد ہے اور بحکم آیت: ” لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ .“ مناکحت مسلمہ بمرزائی و بالعکس نہ ابتداءً صحیح ہے نہ بقاءً۔ یعنی رشتہ مناکحت ہو سکتا ہے اور نہ قائم رہ سکتا۔ اسی طرح حقوق ارث سے بھی حرمان ہو جاتا ہے۔ حررہ ابومحمد عبدالحق ملتانی۔
الجواب صحیح‘ احقر العباد ابو عبید خدا بخش ملتانی عفی عنہ‘ خاکسار محمد عفی عنہ از ملتان
(۲۴) ضلع جہلم (سنی)
مرزائے قادیانی کے یہ دعاوی اور اسی قسم کے دوسرے دعاوی کفر و شرک تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کا الہام ہے کہ: (الارض والسماء معك كما هو معي . تذكره ص ۶۵ طبع سوم ) زمین آسمان جیسے خدا کے ماتحت ہیں ایسے مرزا کے بھی ماتحت ہیں۔ ایک اور الہام ہے کہ: ( يتم اسمك ولا يتم اسمي . تذكره ص ۵۱ طبع سوم ) خدا کہتا ہے کہ میرا نام تو ناقص رہے گا۔ مگر تیرا نام ضرور کامل ہو جائے گا۔ پہلے دعوے میں شرک جلی اور دوسرے میں وہ غرور دکھایا ہے کہ کسی فرعون نے بھی نہیں دکھایا۔ اس لئے جو ان اقوال کا مصدق ہو وہ بلاشبہ کافر و مشرک ہے اور کسی مسلم کو جائز نہیں کہ کسی مشرک سے تعلق زوجیت قائم رکھے اور رشتہ زوجیت قائم ہونے کے بعد ایسے عقائد کا مصدق ہونا موجب افتراق ہے۔ علاوہ ازیں مرزا (محمود) نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جو اس کی نبوت کا کلمہ نہیں پڑھتا۔ خواہ وہ مرزا کا مکفر نہ بھی ہو وہ کافر ہے اور اہل اسلام کو کافر کہنے والا خود کافر ہوتا ہے۔ پھر مرزا نے توہین انبیاء میں کچھ کمی نہیں چھوڑی: (لولاك لما خلقت الافلاك . حقيقت الوحی ص ۹۹‘ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۲) کے دعوے میں آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکت پر سخت حملہ کیا ہے اور اپنے آپ کو علت تکوین عالم بتاتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا۔ (پھر طرفہ یہ کہ دعویٰ غلامی ہے۔) انتہیٰ مختصراً حررہ محمد کرم الدین از بھین ضلع جہلم تحصیل چکوال‘ نور حسین از بادشاہانی‘ محمد فیض الحسن مولوی فاضل بھین ضلع جہلم۔
(۲۵) ضلع سیالکوٹ (سنی)
الف....... مرزا قادیانی کے عقائد کفریہ ہیں اور جو ایسے مذہب کا مصدق ہے۔ اس کے ساتھ رشتہ زوجیت کرنا ہرگز جائز نہیں۔ بلکہ تصدیق بعد از نکاح موجب افتراق ہے: (من بلفظ كفر يكفر واما كل من ضحك عليه او استحسنه او يرضى به يكفر (قواطع الاسلام) من حسّن كلام اهل الاهواء وقال معنوی او كلام له معنى صحيح ان كان ذالك كفر من القائل كفر المحسّن (البحر الرائق) ايما رجل سب رسول الله ﷺ او كذبه او عابه او تنقصه فقد كفر باالله و بانت منه امرته (كتاب الخراج للامام ابی یوسف) ابو یوسف محمد شریف عفی عنہ کوٹلی لوہاراں مغربی ضلع سیالکوٹ۔
ب....... مرزا کے عقائد کفریہ کا جو مصدق ہو وہ بھی کافر ہے۔ لقولہ تعالیٰ: ” ومن يتولهم منكم فانه منهم “ امام اعظم ابو حنیفہؒ کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور مقام استدلال پر علامت نبوت کیلئے کچھ مہلت مانگی تھی تو آپ نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جو شخص اس سے نبوت کی علامت طلب کرے گا۔ وہ کافر ہوگا۔ کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کے اس فرمان کا مکذب قرار دیا جائے گا کہ: (لا نبى بعدى) میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (الخیرات الحسان لابن حجر المکی) پس مرزا کے مصدق سے رشتہ زوجیت جائز نہیں کوئی کرے بھی تو کالعدم ہوگا۔ حررہ ابوالیاس محمد امام الدین قادری کوٹلی لوہاراں مغربی۔
ج ....... ایسا شخص کافر ہے اور کافر سے نکاح درست نہیں جامع الفصولین وفتاویٰ ہندیہ میں ہے: ” قال انا رسول الله او قال بالفارسية من پیغمبرم یریدبه من پیغامبر م يكفر“ علامہ یوسف اردبیلی شافعی کتاب الانوار میں لکھتے ہیں کہ: ”من ادعى النبوة في زماننا او صدق مدعيا لها او اعتقد نبيا فى زمانه او قبله من لم يكن نبيا كفر ،“ جو شخص ہمارے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے یا یہ اعتقاد رکھے کہ آپ کے زمانہ میں یا آپ سے پہلے وہ شخص نبی تھا کہ جس کی نبوت کا ثبوت نہیں وہ کافر ہوگا۔ رقــــمـــــه ابو عبدالقادر محمد عبدالله امام مسجد جامع کوٹلی مذکور ‘ سید میر حسن از کوٹلی لوہاراں الفقير السيد فتح علی شاہ حنفی قادری از کھر دٹہ سیداں ضلع سیالکوٹ۔
(۲۶) ضلع ہوشیار پور (سنی)
جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کا ذبہ کی تصدیق کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اہل اسلام کے ساتھ ایسے شخص کا تعلق زوجیت جائز نہیں اور ازدواج کے بعد اس کے دعاوی کی تصدیق موجب فرقت ہے۔ حررہ نور الحسن جہلمی مدرس مدرسہ خالقیہ کوٹ عبد الخالق‘ الجواب صحیح‘ اللہ بخش پٹیالوی مدرس عربی مدرسہ خالقیہ‘ محمد فاضل گجراتی مدرس مدرسہ خالقیہ‘ عبدالحمید جسری از کوٹ عبدالخالق۔
(۲۷) ضلع گورداسپور (سنی)
عورت اگر مرزائی عقیدہ کی ہو تو نکاح نہیں ہوگا۔ چہ جائیکہ مرد اس عقیدہ کا ہو۔ اگر بعد انعقاد نکاح یہ اعتقاد احد
الزوجین کا ہو جائے تو نکاح باطل ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب! بندہ عبدالحق دنیا نگری مورخہ ۲۰ جمادی الثانیہ ۱۳۳۶ھ۔
(۲۸) ضلع گجرات پنجاب (سنی)
مرزا قادیانی کے مصدق سے اہل اسلام کا باہمی رابطہ ازدواج ہرگز درست نہیں۔ فقہاء نے بعض بدعات بھی مکفرہ فرمائی ہیں۔ بھلا یہ تو صاف کفریات ہیں۔ واللہ الهادی ! حررہ العبد الاواہ الشیخ عبداللہ عفی عنہ از ملکہ الجواب صحیح بندہ عبیداللہ از ملکہ۔
(۲۹) ضلع گوجرانوالہ (سنی)
- الف....... جو لوگ اعتقادات مذکورہ میں مرزا قادیانی کے معتقد و مصدق ہیں۔ ان سے علاقہ زوجیت ہرگز نہ
کرنا چاہئے۔ حررہ حافظ محمد الدین مدرس مسجد حافظ عبدالمنان مرحوم۔
- ب....... بے شک جن لوگوں کا ایسا عقیدہ ہے ان کے ساتھ مخالطت اور مناکحت جائز نہیں۔ حررہ
عبداللہ المعروف بہ غلام نبی از سوہدرہ الجواب صحیح محی الدین نظام آبادی عفی عنہ‘ عمر الدین معلم وزیر آباد مسجد برنے والی۔ خاکسار عبدالغنی!
- ج....... بے شک مرزا کے کفر میں کوئی شبہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کا شریک ثابت کرتا ہے۔ اس
لئے مرزائیوں سے مناکحت ناجائز ہے۔ حررہ احمد علی بن مولوی غلام حسن از چک بھٹی۔
(۳۰) شہر امرتسر (سنی)
- (۱)....... مدعیان نبوت ورسالت کے ارتداد وکفر میں کوئی اہل ایمان وعلم متردد نہیں ہو سکتا۔ اس قسم کے
لوگوں سے رشتہ و ناطہ کرنا بالکل حرام ہے اور اگر بیوی یا میاں اب مرزائی ہو جائے تو نکاح واجب الفسخ ہے اور مقننین اہل اسلام کا فرض ہے کہ گورنمنٹ سے ایسے قانون کے نفاذ کی اپیل کریں تا کہ ہمارے مذہب اور ضمیر کے خلاف کوئی ایسا فیصلہ نہ ہو سکے کہ جس سے ہمارے حقوق تلف ہوں۔ کیونکہ مرزائی بجائے خود رہے جو مرزائیوں کو مسلمان تصور کرے وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ ختم رسالت وغیرہ بدیہیات دین کو غیر ضروری خیال کرتے ہیں۔ بلکہ دراصل منکر ہیں۔ حررہ ابوالحسن غلام المصطفیٰ الحنفی القاسمی الامرتسری عفااللہ عنہ!
- (۲)....... مرزا غلام احمد قادیانی کی تالیفات اس کے کفر پر معتبر گواہ (شاہد عدل ) ہیں جن کے سامنے اس کا
ایمان بالکل ثابت نہیں ہو سکتا۔ بالخصوص کشتی نوح ضمیمہ انجام آتھم اور دافع البلاء کو دیکھنے والا اس کے کفر میں کبھی شک نہیں کر سکتا۔ پس جو لوگ اسے نبی مانتے ہیں ان سے محبت‘ دوستی‘ رابطہ رشتہ پیدا کرنا یا قائم رکھنا جائز نہیں: ”لقولہ تعالیٰ لا تتخذوا الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ولقولہ تعالیٰ لایتخذ المؤمنون الکفرین اولیا، من دون المؤمنین ومن یفعل ذالک فلیس من اللہ فی شیئی“ امام ومتولی مسجد کوچہ ستی امرتسر۔
- (۳)....... مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر
ہے۔ (دیکھو شرح فقہ اکبر ملاعلی قاری) لہذا جماعت مرزائیہ خارج از اسلام ہے۔ سب مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت اس پر حرام ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو صحبت کرے گا وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد کہ پیدا ہوتی ہے ولد الزنا ہوگی اور مرتد جب بغیر توبہ کے مر جائے تو اس پر جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے۔ بلکہ مانند کتے کے بغیر غسل وکفن کے گڑھے میں ڈالا جائے۔ (ملاحظہ ہو کتاب الاشباہ والنظائر ) : ”اللهم توفنا مسلمين والحقنا بالصالحين ولا تجعلنا من المرزائيين ، “ حررہ عبد الغفور الغزنوی عفا اللہ عنہ الجواب صحیح محمد حسین۔
- (۴)....... مرزا قادیانی کا فتنہ اسلام میں آفات کبریٰ سے ہے۔ اس کا کفر علماء ربانیین نے قدیماً
وحدیثاً ثابت کیا ہوا ہے۔ اہل اسلام کے اس باب میں کئی کتب ورسائل واشتہارات موجود ہیں اور وہ اسی عقیدہ کفریہ پر مر گیا ہے۔ اب بھی جو کوئی اس کو نبی جانے اور اسی طرح کا عقیدہ رکھے وہ بھی بلا ریب بموجب شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیہ کافر ہے اور مومنہ سنیہ سے اس کا نکاح فسخ ہے اور مومنہ سنیہ کا نکاح مرزائی سے باندھنا حرام ہے اور یہ نکاح باطل ہے : ”قال اللہ عز وجل : ’لاهن حل لهم ولا هم يحلون لهن ، “ الآية هذا فقط والله اعلم ! ابو اسحاق نیک محمد عفی عنہ مدرس مدرسہ غزنویہ تقویۃ الاسلام امرت سر۔
- (۵)....... بندہ کو مضامین بالا مذکورہ میں اتفاق ہے۔ واقعی مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد باطلہ دائرہ اسلام
سے اس کو خارج کرتے ہیں۔ فقط محمد تاج الدین مدرس بی این ہائی سکول امرتسری۔
- (۶)....... مرزا غلام احمد قادیانی نے علی الاعلان دعویٰ نبوت کیا اور دیگر انبیاء کی توہین کی۔ بعض کو گالیاں دیں
اور مذکورۃ الصدر سارے دعوے بھی کئے۔ جن کی بنا پر وہ خود کافر ہو کر مرا۔ اس کے ماننے والے بھی کافر۔ ان سے ہر قسم کا قطع تعلق کر لیا جائے ۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری۔
- (۷)....... اقوال مذکورہ اکثر کفریہ ہیں جن کی تاویل سے بھی مخلصی کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ لہذا ان اقوال کا
ماننے والا اور مصدق اس قابل ہرگز نہیں کہ اس کے ساتھ رشتہ زوجیت پیدا کیا جائے اور اگر نکاح پہلے ہو چکا ہے تو افتراق ضروری ہے۔ مسکین سلطان محمد بقلم خود جواب صحیح ہے سلام الدین عفا اللہ عنہ۔
- (۸)....... الجواب! جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال مذکورہ بالا کا مصدق ہے اور ان کو صحیح مانتا ہے وہ
شرعاً کافر ومرتد ہے۔ اور کافر ومرتد کا نکاح عورت مسلمہ سے ہرگز جائز نہیں اور اگر بعد از نکاح ناکح مرزائی ہو گیا تو فوراً نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ لہذا اعلان کرنا چاہئے کہ کوئی شخص مسلمان مرزائیوں سے زوجیت کا تعلق پیدا نہ کرے۔ حکیم ابوتراب محمد عبد الحق الجواب صحیح ابوالفقر محمد شمس الحق امرتسر۔
- (۹)....... جو شخص مرزا قادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو۔ اس کے ساتھ مسلم غیر مصدقہ کا رشتہ زوجیت کرنا
جائز نہیں۔ محمد داؤد غزنوی امرتسری۔
- (۱۰)....... الجواب! قادیانی مدعی نبوت نے جو کچھ خارج از اسلام عقائد پھیلائے ہیں وہ صاف صاف اس
کے کافر ہونے پر بین ثبوت ہیں اور جس قدر اس نے اہل اسلام سے اظہار نفرت کیا ہے۔ اسی قدر ہم بھی اس کے ہم عقیدہ اور مریدوں سے نفرت کریں تو ہمارے مذہبی احساس کا نتیجہ ہوگا۔ اس لئے جملہ اہل اسلام کو ضروری ہے کہ ان سے قطع تعلق کریں اور بالخصوص مناکحت اور کفن دفن سے ضرور اجتناب کریں۔ نور احمد عفی عنہ پسروری ثم امرتسری ۲۵ شوال ۱۳۳۸ھ الجواب صحیح‘ غلام محمد مولوی فاضل منشی فاضل اول مدرس دینیات اسلامیہ ہائی سکول امرتسر الجواب صحیح‘ محمد نور عالم‘ مولوی فاضل منشی فاضل مدرس عربی اسلامیہ ہائی سکول امرتسر۔
- (۱۱)...... میری مدتوں کی تحقیق میں اچھی طرح سے ثابت ہو چکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کافر قطعی اور
کذاب یقینی ہے اور جولوگ دیدہ دانستہ اس کے تابعدار اور اس کے مذہب کے پابند ہیں۔ ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ پس مسلمہ عورت کے ساتھ مرزائی مرد کا نکاح فسخ ہے: (لا هن حل لهم ولا هم يحلون لهن . ) بلا طلاق اور جگہ نکاح جائز ہے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن نہ ہونے دیں۔ ایسے کافر ہیں کہ پہلے زمانوں میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ والعلم عنداللہ! محمد علی عفا اللہ عنہ واعظ ۲۷ شوال ۱۳۳۸ھ
- (۱۲)...... بحکم حدیث شریف: ”زوجوا من ترضون دینہ“ مرزائی سے محمدی خاتون کا نکاح نہ ہونا
چاہئے اور اگر ہو جائے تو فسخ کرا لینا چاہئے۔ ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری۔
(۳۱) فتح گڑھ چوڑیاں ضلع گورداسپور (سنی)
اما بعد! (۱)...... فنقول ان المرزا ادعی وفات المسیح (۲)...... القول بحيوة المسيح شرك (۳)...... الجنة والنار لا حقيقة لهما (٤)...... الله جسم غير متناه (٥)...... النصوص ليست علی ظواهرها (٦)...... فوقية نفسه علی رسولنا صلی الله علیه وسلم علما (۷)...... النبوة لنفسه (۸)...... دوامها بعد ختم الرسالة (۹)...... تحصيل النبوة بالاكتساب (۱۰)...... التمثل بعیسیٰ بل بجميع الانبياء (۱۱)...... فضيلة نفسه علی المسيح (۱۲)...... الاجراء الوحى (۱۳)...... ضرورة الايمان به (١٤)...... المجالسة بالله (١٥)...... المجانسة به (١٦)...... کونه زوجة لله (۱۷)...... ولد الله (۱۸)......كونه قيم الله فى كائناته (۱۹)...... واتحاد ذاته بذات الله (۲۰)...... شرکه فی صفته الخلق وقدرته . فهذه عشرون امرا كله کفر يخالف الاسلام بل وتصديق المرزائیہ من الكفر اذ کفی منها الرجل في کفره واحد فكيف اذا اجتمعت جميعها في قائلها الاقوال ذلك وحدہ بل صرح بكفره من الائمۃ المتقدمین القاضی عياض فى الشفاء وملا علی القاری فی شرح الفقه الاکبر وابن حجر وآخرون في مصنفاتهم . “
(ملخصاً) عبدالحی بن مولانا عثمان عفا اللہ عنہ ۱۴ ذیقعدہ ۱۳۳۸ھ ولا یجوز لاهل الاسلام ان یعاملو المرزائیہ فی امر دينها كان او غير دين‘ انا العاجز محمد فاضل بن المولوی محمد اعظم مرحوم فتح گڑھی۔
مرزائیوں سے نکاح ہی درست نہیں۔ چہ جائیکہ افتراق کی حاجت ہو۔ محمد عبداللہ فتح گڑھی
تمت هذه الفتاوی فالمرجو من المسلمين ان يعملوا بها!
انا خاتم النبیین لانبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
استنکاف المسلمین عن مخالطة المرزائیین!
یعنی
مرزائیوں سے ترک موالات
شائع کردہ!
انجمن حفظ المسلمین امرتسر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عن ابی سعید و مالک بن انس مرفوعا (یخرج) قوم یحسنون القیل و یسیئون الفعل یقرء وان القران ولا یجاوز تراقیہم یمرقون من الدین مروق السہم من الرمیۃ.
(رواہ ابوداؤد صحیحہ)
حضرت ابو سعید اور مالک بن انسؓ سے مرفوع حدیث مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایک ایسی قوم پیدا ہوگی جو بہت اچھی اچھی باتیں کرے گی مگر کام بہت برے کرے گی۔ قرآن پڑھے گی مگر اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اسلام اور (اسلامی ہمدردی) سے اس طرح باہر نکل جاوے گی جیسا شکار (کے جسم) سے تیر نکل جاتا ہے۔
استنکاف المسلمین
عن
مخالطۃ المرزائین
یعنی مرزائیوں سے ترک موالات
جس میں قرار پایا ہے کہ حسب فتاویٰ علمائے کرام (سنی و شیعہ) مرزائیوں سے میل جول اور شادی غمی میں شریک ہونا منع ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزائی جماعت کے عقائد اہل اسلام کے خلاف ہیں۔ وفات مسیح کا مسئلہ ثابت نہیں کر سکتے۔ حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں نہیں اور یہ کہ مرزائی اور ایران کے بابی مذہب کے پیرو ہمارے نزدیک یکساں ہیں اور یہ کہ جو شخص مرزا غلام احمد کی نسبت حسن ظن رکھے یا اس کے کفر کا اظہار نہ کرے وہ بھی مرزائی فرقہ میں داخل ہے نہ اس کی امامت جائز ہے اور نہ جنازہ۔
چار ضروری سوال و جواب
(ماخوذ از رسالہ تائید الاسلام لاہور ۲۰ جولائی ۱۹۴۰ء)
سوال...... کیا مرزائیوں کا یہ کہنا درست ہے کہ حضرت مسیح کی قبر محلہ خانیار سرینگر کشمیر میں موجود ہے؟ جواب...... مرزا قادیانی پہلے کہتے تھے کہ مسیح کی قبر گلیل یا شام میں ہے اب کہتے ہیں کہ ایک نئی انجیل کی رو سے مسیح کی قبر کشمیر میں قرار پائی ہے کچھ عرصہ کے بعد کچھ عجب نہیں کہ مسیح کی قبر قادیاں میں قرار پا جائے بہرحال مرزائیوں کا یہ خیال چند وجوہ سے غلط ہے۔ اوّل یہ کہ محلہ خانیار میں جو قبر ہے وہ کسی مسلمان بزرگ کی ہے کیونکہ وہ قبلہ رخ ہے ورنہ اس کا رخ بیت المقدس کو ہوتا۔ دوم یہ کہ حضرت مسیح کا کشمیر میں بقول مرزا قادیانی ۸۷ سال تک رہنا اور کسی ایک کا بھی عیسائی مذہب قبول نہ کرنا ناممکن ہے۔ سوم یہ کہ کسی دلیل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کٹھن راستے سے کشمیر میں آئے جس قدر ایسے حوالے دیے جاتے ہیں وہ یا تو جھوٹی انجیلوں کے ہیں کہ جنہیں خود اہل انجیل عیسائی بھی تسلیم نہیں کرتے اور یا مشتبہ عبارتوں سے امکانی طور پر ثابت کیا جاتا ہے۔ چہارم یہ کہ کسی جغرافیہ دان یا کسی عیسائی سلطنت نے اس کی تصدیق نہیں کی یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کو اپنے نبی کی قبر کی خبر نہ ہو۔ پنجم یہ کہ خود کشمیری روسائے عظام علمائے کرام کی تحریریں اس خیال کی سخت تردید کر رہی ہیں۔ جناب مفتی حسام الدین صاحب مفتی اعظم کشمیر لکھتے ہیں کہ اسلام سے پہلے ہندو مذہب کے سوا کشمیر میں یہودی اور عیسائی مذہب کا نام ونشان تک نہیں ملتا اور نہ کوئی ملکی تاریخ ثبوت دیتی ہے اور نہ ہی کسی فرد بشر کی زبانی معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر میں عیسائیت بھی تھی اور محلہ خانیار میں ایک مسلمان بزرگ کی قبر ہے اور جن کا یہ خیال ہے کہ یہ حضرت مسیح کی قبر ہے محض جھوٹ بالکل لغو اور بے بنیاد ہے۔ ہاں بعض تواریخ میں لکھا ہے کہ اس بزرگ کا نام یوز آصف تھا شاید مرزائیوں نے اسے بگاڑ کر یسوع سمجھ لیا ہو اور یہ غلط ہے کیونکہ تاریخ اعظم کشمیر و کتاب یوز آصف و بلوہر حکیم اور کتاب اکمال الدین عربی ص ۳۸۸ میں صاف لکھا ہے کہ یہ یوز آصف راجہ جلسیر کا زاہد تارک الدنیا لڑکا تھا حکیم بلوہر لنکا سے اسے مذہبی تعلیم دینے آیا تھا تکمیل تعلیم کے بعد ایک دفعہ وہ نصف شب کو غیر ملک کو چلا گیا اور یاد الہی میں مصروف رہا پھر اپنے وطن مالوف (سلاہت) کو واپس آیا۔ اور چند ایام وہاں ٹھہرا پھر ہمیشہ کے لیے اہل وطن کو خیر باد کہہ کر کشمیر آ گیا اور وہیں مرا۔ اس امر کی تصدیق کئی ایک معتبر اشخاص نے بھی کی ہے جیسے مولوی صدر الدین صاحب، قاضی محمد سعد الدین صاحب، مولوی عماد الدین صاحب، قاضی محمد شریف صاحب سید حسن شاہ صاحب از کشمیر وغیرہ۔
سوال...... کیا مرزائی کا جنازہ پڑھنا جائز ہے؟ جواب...... نہیں کیونکہ مرزائی ہمارے نزدیک کافر ہیں اور جنازہ مسلمان کا ہوتا ہے۔
(مولوی غلام قادر مرحوم بھیروی)
سوال...... جو اہلسنت مرزائی کا جنازہ پڑھے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب....... اس سے علانیہ توبہ لینی چاہیے کیونکہ قرآن شریف میں ہے۔ لا تصل على احد منهم مات ابداً (توبہ ۸۴) (کتبہ مفتی محمد عبداللہ ٹونکی لاہور حال وارد کلکتہ )
سوال....... جو مرزا غلام احمد قادیانی کو مسلمان جانے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب....... مرزا انبیاء کی توہین کرتا ہے نصوص قطعیہ کا منکر ہے۔ مدعی نبوت ہے اس لیے اس کے کفر میں کسی کو شک نہیں ہو سکتا اب جو شخص شک کرے گا وہ یا تو در پردہ مرزائی ہوگا یا منافق۔
استنکاف جميع المسلمين
عن المخالطة
بالمرزائية المسيحين
الحمد لاهله والصلوة على اهلها
ناظرین! آپ کو معلوم ہے کہ پنجاب میں مرزائی جماعت نے ایک نئی نبوت کی بنیاد ڈال کر اہل اسلام کو بظاہر دو مختلف فرقوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف سنی شیعہ کے ساتھ ان کا اختلاف رائے پیدا ہو گیا ہے بلکہ لین دین، عقائد، اصول اور عبادات و معاملات میں بھی زمین و آسمان کا فرق پڑ گیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آغاز مسیحیت میں کئی رنگ بدلے۔ سب سے پہلے اپنے آپ کو صوفی منش ظاہر کیا۔ پھر مجدد بنے۔ پھر حکم، پھر نذیر، اس کے بعد مسیح ہونے کے مدعی ہوئے۔ پھر کرشن اوتار اور سب کے اخیر نبوت کا دعویٰ شائع کیا اور بہت جلد دنیا سے رخصت ہوئے۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اہل اسلام کے سامنے صرف مسیح موعود ہونے کا دعویٰ پیش کیا تھا جسے باخبر اور دقیقہ شناس اہل اسلام نے بڑے زور و شور سے ردّ کیا۔ مگر در حقیقت ان کا صرف ایک ہی دعویٰ نہ تھا۔ بلکہ ان کی کتاب ”آئینہ کمالات“ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حسب عقیدہ فلاسفہ یونان آپ کے متعدد دعوے تھے اور آپ اس امر کے معتقد تھے کہ حضرت آدم ؑ سے لے کر جناب رسالت مآب حضرت خاتم المرسلین ﷺ کے بابرکت عہد تک سلسلۂ نبوت کا ایک دور ختم ہوا جس میں تمام انبیاء و رسل صلوات اللہ علیہم اجمعین اپنی جسمانی حالت میں دنیا میں آ کر اپنے اپنے مقررہ وقت پر تبلیغ رسالت کرتے رہے آنحضرت ﷺ کے بعد دوسرا دور شروع ہوا جس میں پھر وہی انبیاء اور رسول روحانی طور پر وقتاً فوقتاً فرداً فرداً تشریف لا کر امت محمدیہ کو مذہبی غلطیوں سے بچا کر راہ راست پر لاتے رہے۔ یہی بروز انبیاء کا معنی ہے جو ظہور مہدویت کے مترادف ثابت ہوتا ہے۔ گویا ہر ایک صدی کا مجدد کسی نہ کسی نبی یا رسول کا مظہر رہا۔ اب چونکہ پنجاب میں نئی روشنی نے اسلام میں بہت سی رخنہ اندازیاں ڈال دیں۔ اور مجموعی طور پر تمام اسلامی دنیا میں وہ نقص پیدا ہو گئے تھے کہ جو گذشتہ انبیاء کے اپنے اپنے زمانہ میں ایک ایک ہو کر پیدا ہوئے تھے۔ اور انبیاء فرداً فرداً مبعوث ہو کر ان نقائص کو رفع کرتے رہے اس لیے چودھویں صدی کے آغاز میں یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ آنحضرت ﷺ کے ماتحت خدمت گذار ہونے کی حیثیت میں وہ تمام پاک روحیں مرزا غلام احمد قادیانی میں ظاہر ہو کر مسیح موعود کی صورت اختیار کریں۔ اب ثابت ہوا کہ مسیح موعود وہ مسیح نہیں ہے کہ جس کی نسبت سنی شیعہ کا متفقہ اعتقاد ہے کہ وہ بجسدہ العنصری آسمان پر زندہ اٹھایا گیا اور پھر آسمان سے اترے گا بلکہ یہ مسیح محمدی ہے جو اس مسیح ناصری سے (معاذ اللہ) بہتر ہے اور یہ مسیح در حقیقت تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ہے۔ پھر مرزا قادیانی اپنی کتاب
نزول المسیح میں لکھتے ہیں کہ اسی بنا پر خدا تعالیٰ نے مجھے ان تمام نبیوں کے نام سے پکارا جو حضرت آدمؑ سے تا ایندم مبعوث ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو کمالات مسیح محمدی میں ظہور پذیر ہوئے ہیں آج تک کسی میں نہ ظاہر ہوئے اور نہ ظاہر ہونے کی امید ہو سکتی ہے۔ مرزا قادیانی نے اسی اصول پر اپنے عقیدت مندوں میں تمام وہ اپنے شطحیات درست اور مطابقِ واقع کر دکھلائے جو اہل سنت اور شیعہ کے نزدیک کفریات کی حد سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ دنیا کے موجودہ مذاہب پر نظر ڈالنے والے اس نکتہ خیال تک بخوبی پہنچ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ بھی کیا ہے زیادہ تر مرزا محمد علی باب کی تعلیم سے حاصل کیا ہے اگر چہ مہدی جونپوری یا سرسید کی تقلید بھی کی ہے) اس نے ہی اپنی کتابوں میں روح اور روحانی کا لفظ کثرت سے استعمال کیا تھا اور بتایا کہ نبی مظہر الٰہی ہوا کرتا ہے جو وہ بولتا یا کہتا ہے وہ خدا کا فعل یا قول ہوتا ہے۔ نہ فرشتہ کی ضرورت اور نہ وحی کا تحقق اور نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ قیامت تک کھلا رہے گا۔ ختم رسالت کا بھی منکر تھا اور زمانہ حال کے مطابق نئی شریعت کا مدعی تھا۔ چنانچہ قرآن مجید کو منسوخ قرار دے کر اپنی طرف سے ایک الہامی کتاب (ایقان) کا دعویدار ہوا۔ شروع شروع میں مغلوب رہا۔ پھر زور پکڑا۔ سلطنت نے کچھ توجہ نہ کی۔ اس کی جانباز معتقد قرۃ العین عورت نے اس کا ہاتھ بٹایا اور جب اس کے قریبی رشتہ دار اور اساتذہ مزاحم ہوئے تو اپنے ہمرازوں کے ہاتھ انھیں قتل کرا دیا۔ پھر قرۃ العین کا فتنہ ایران میں یہاں تک بڑھتا گیا کہ جہاں وہ تبلیغ کے لیے جاتی اپنے مخالفین پر تلوار چلانے کا حکم دیتی۔ آخر الامر سلطنت نے تنگ آ کر اسے اور اس کے پیر محمد علی کو قتل کرا دیا۔ مگر مرتے مرتے اپنی جماعت میں یہ عقیدہ مستحکم کر گیا کہ جو بابی مذہب میں داخل نہیں وہ کافر ہے۔ بعینہٖ یہی چال مرزا قادیانی بھی چلے۔ آغاز دعویٰ میں نرمی سے کام لیتے رہے۔ جب جماعت کثیر التعداد ہو گئی تو غیر احمدیوں کو (خواہ سنی تھے یا شیعہ) کافر قرار دیا اور ان سے عبادات اور معاملات میں الگ رہنے کا حکم دیا اس سے بڑھ کر مرزا محمد علی کے ساتھ اور کیا مشابہت ہو سکتی ہے کہ جیسے اس نے حدیث (انا مدینۃ العلم وعلی بابہا) (مجمع الزوائد طبع بیروت ج ۹ ص ۱۱۷ باب فی علم) میں تصرف کر کے خود ہی علی اور خود ہی باب العلم بن بیٹھا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے آیہ (يَأْتِيْ مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ اَحْمَدُ) (الصف ۶) کے ماتحت خواہ مخواہ داخل ہونے کے بعد غلام کا لفظ اُڑا کر مجسم احمد بن کر دکھلا دیا۔ اسی طرح دونوں کی تعلیم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دونوں ایک ہی اصول کے پابند تھے بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ جس قدر آج تک مدعی مہدویت گزرے ہیں سب کا نصب العین ایک ہی رہا ہے اور بستان مذاہب اور کتاب الملل والنحل جن کی نظروں سے گزری ہیں ان سے پوشیدہ نہیں کہ آج سے پہلے کئی مہدی گزر چکے ہیں جن میں سے سلطان جلال الدین اکبر کا نام خصوصیت سے لیا جا سکتا ہے کہ جس نے دین الٰہی کی بنیاد رکھی تھی لیکن دعویٰ مسیحیت میں مرزا محمد علی بابی اور مرزا غلام احمد قادیانی اپنی نظیر نہیں رکھتے۔ ایرانی مسیح اور پنجابی مسیح کا گو دعویٰ متحد ہے مگر فرق اتنا ہے کہ ایرانی مسیح شیعہ مذہب میں پیدا ہوا اور پنجابی مسیح اہلسنّت کا ایک فرد تھا۔ پھر وہ ایرانی مسیح ایک سید مہدی کا قائل ہوا جو اس سے پہلے دس سال مدعی مہدویت بن کر مر گیا اور پنجابی مسیح کل دعویٰ کا خود ذمہ دار بنا۔ ایرانی مسیح کا مرنا ہی تھا کہ پنجابی مسیح اس سے بڑھ کر چار قدم آگے بڑھا اور روایاتِ مذہبی کو توڑ توڑ کر ایسا سیدھا کیا جو ایرانی مسیح کے خواب و خیال تک بھی نہیں آتا تھا۔ بہرحال مرزا قادیانی نے دنیا کے تمام کمالات کا مظہر اپنی ذات کو قرار دیا اور جب خود سب کچھ بن بیٹھے تو جن جن پیغمبروں اور بزرگوں کے الگ الگ مشہور اور متبرک مقامات تھے یہ ضرور تھا کہ مرزا قادیانی کا مسکن اور مولد بھی ان سے موسوم ہوتا اس لیے مرزا قادیانی نے قادیاں کی نسبت حسب ذیل دعویٰ شائع کیے۔
اوّل یہ کہ ...... قادیاں قادیاں نہیں کیونکہ قدعہ جو ظہور مہدی کا مسکن ہے قادیاں سے ملتا جلتا ہے۔ بڑی کوشش اور زرکثیر خرچ کرنے سے سرکاری کاغذات میں کاف کو قاف سے تبدیل کرایا۔ حالانکہ یہ ایک ادبی غلطی تھی کیونکہ کادی کیوڑے کو کہتے ہیں یہاں کیوڑہ فروش ارائیوں کی آبادی ہوگی جیسے بٹالہ میں کادی قوم کے افراد موجود ہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ قادیاں قاضیان تھا۔ ان کے باپ دادا قاضی تھے۔ مگر یہ تحقیق دو طرح سے مخدوش ہے اوّل یہ کہ مسیحیت پیدا کرنے میں اسے کچھ دخل نہیں۔ دوم یہ کہ اس وقت اس قصبہ کا نام قاضیاں والا چاہیے تھا نہ قاضیان مگر مرزا قادیانی کے اس خیال سے ممکن ہوسکتا ہے کہ کادی (کیوڑہ فروش) کی جمع کادیان ہوگی نہ کہ قاضی کی۔
دوم یہ کہ ...... قادیاں دارالامان ہے کیونکہ جب لولاک لما خلقت الا فلاک کا مصداق (معاذ اللہ) مرزا وہاں موجود ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کو دارالامان یعنی مکہ نہ کہا جائے۔ مرزا قادیانی نے اس دعویٰ میں جناب خاتم المرسلین کا مظہر ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے اور مَنْ دَخَلَهُ كَانَ اٰمِنًا کے تحت میں قادیاں کو داخل کیا۔
سوم یہ کہ ...... وہ مدینۃ النبی ہے کیوں؟ جب (معاذ اللہ) مرزا قادیانی نبی ہیں تو قادیاں کو مدینۃ النبی کہنے میں کیا مضائقہ ہے۔ قادیاں ہی مکہ ہے اور قادیاں ہی مدینہ منورہ۔ آپ نے اس سے بھی ختم رسالت کا مظہر بن کر دکھایا ہے۔
چہارم یہ کہ ...... قادیاں میں جنتہ البقیع ہے کیونکہ جب اس کو مدینہ منورہ کا خطاب دیا گیا تو جس جگہ ایسے نبی کا مقبرہ ہوگا۔ کس لیے وہ جنتہ البقیع نہیں ہوسکتا۔
پنجم یہ کہ ...... مسجد حرام قادیاں میں ہے درحقیقت یہ وہ مسجد ہے جو بیت اللہ شریف کے ارد گرد موجود ہے لیکن جب قادیاں بروزی طور پر مکہ بن گیا تو اس کی مسجد کو مسجد حرام بننے میں کیا دقت ہے؟
ششم یہ کہ ...... مسجد اقصیٰ بھی یہاں موجود ہے۔ جب قادیاں میں مسیح پیدا ہوا اور مسیح کا معبد مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) تھا۔ اس لیے قادیاں کی دوسری مسجد مسجد اقصیٰ ہوئی۔
ہفتم یہ کہ ...... قادیاں ہی منارہ بیضاء شرقی دمشق ہے کیونکہ منارہ نور کی جگہ ہوتی ہے اور یہاں نبوت کا نور ظاہر ہوا اور دمشق ایک معزز خاندان ہوسکتا ہے۔ مرزائی خاندان ایشیائی اقوام میں بزرگ ترین قوم ہے اس لیے دمشق سے مراد خاص شہر نہیں۔ مرزا قادیانی یہاں بھی ادبی غلطی کر گئے ہیں آج کل منارہ لائٹ ہاؤس کو کہتے ہیں اور آپ نے وہاں منارۃ المسیح قائم کرتے ہوئے لائٹ کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ اور اہل اسلام میں سب سے بڑھ کر قوم سادات تسلیم کی گئی ہے۔ مرزائی اور مغلوں کو ان کے مقابلہ میں کچھ وقعت نہیں دی جاتی۔
ہشتم یہ کہ ...... وہ مہدی آباد ہے کیونکہ یہاں مہدی پیدا ہوا تھا۔ جو کچھ دنوں بعد خود بخود بے اختیار مسیح بنا اور پھر کرشن اوتار کا پیراہن بدل کر اس جہان سے رخصت ہوا۔ لیکن ناظرین! پنجاب کے دوسرے علاقوں میں بھی بعض دیہات کا نام مہدی آباد پایا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ وہاں بھی ایسے مہدی پیدا ہو کر مر چکے ہوں۔
نہم یہ کہ ...... وہ باب لد ہے۔ لدھیانہ اسی سمت میں واقع ہے۔ اور یہ لدھیانہ کا دروازہ ہے جہاں حضرت مسیح کا نزول ہوگا۔ یہ تاویل ایسی گھڑی ہے کہ جیسے کسی نے کہا تھا کہ ”صوم وصلوٰۃ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں دو
معزز آدمی تھے حضور ﷺ نے ان کے سامنے توقیر کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہوا تھا۔ مگر بعد میں لوگوں نے نماز روزہ گھڑ لیا۔‘‘ غرضیکہ اس قسم کی بے سروپا تاویلیں کی ہیں کہ جن کا کچھ ٹھکانہ نہیں۔
مذکورۃ الصدر وجوہات سے وہاں کے باشندے کچھ مشرکین میں داخل ہوئے اور کچھ مہاجرین و انصار میں۔ مرزا قادیانی مرے تو حکیم نور الدین نے حضرت ابوبکر کا منصب سنبھالا۔ پھر جب وہ مرے تو آج کل حضرت عمر کا زمانہ مرزا محمود قادیانی دکھا رہے ہیں۔ اور مرسل یزدانی کا خطاب حاصل کر رہے ہیں کچھ عرصہ کے بعد آپ بھی مدعی نبوت ہونے کو ہیں۔ مرزا محمود قادیانی نے ہر چند اپنی ذاتی اسلام کی اشاعت میں کوشش کی مگر بجائے یگانگت کے مرزائی جماعت میں بیگانگت پیدا ہوگئی۔ مسٹر محمد علی نے لاہور میں بیعت (پیری مریدی) کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مولوی احسن امروہی قادیاں سے الگ ہو کر لاہوری جماعت میں شامل ہو گئے۔ گوجرانوالہ میں ظہیر الدین اروپی نے الگ جماعت قائم کر لی اور عبداللہ تیماپوری الگ بیعت لے رہا ہے۔ یہ چار مذاہب شائد اسلامی چار مذاہب کا نقشہ ہوں۔ مگر حضرات! اسلامی چار مذہب ایک دوسرے کو حق پر سمجھتے ہیں مگر مرزائیوں ہونے میں تو باہمی کفر و اسلام کا فرق ہے۔ لاہوری جماعت قادیانی جماعت کو مشرک بتاتی ہے کیونکہ اس نے مرزا قادیانی کے مشرکانہ الہام کو صحیح تسلیم کیا ہے اور قادیانی لاہوریوں کو مرتد یقین کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے مرزا قادیانی کے طریق مشرب سے انحراف کیا ہے اور ان کو نبی تسلیم نہیں کیا۔ ظہیر الدین اروپی خدائی مظہر کا مدعی ہے اس کا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ ”میرے بعد یوسف آئے گا بس اسے یوں ہی سمجھ لو کہ وہ خدا ہی اترا ہے۔ اسے مرزا قادیانی کی صحیح جانشینی کا دعویٰ ہے اور مرزا محمود کو غاصب اور ظالم قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ قادیاں کی طرف منہ کر کے عبادت کرنا افضل ہے کیونکہ وہ مکہ ہے جہاں ایک رسول نے جنم لیا تھا۔ عبداللہ تیماپوری کا دعویٰ ہے کہ اسے وہ انکشاف ہوا ہے کہ مرزا قادیانی کو بھی نصیب نہیں ہوا۔ اس کو اپنے بازو سے الہام ہوتا ہے اور اپنی کتاب تفسیر آسمانی میں حضرت آدم علیہ السلام کو حضرت حوا سے خلاف فطرت انسانی سے ملوث ہونے کا الزام لگاتا ہے۔ وزیر آباد کے پاس ہی سمبڑیال ایک گاؤں ہے وہاں کے ایک (محمد سعید نامی) مرزائی کو یہ خبط سوجھا ہے کہ مرزا نے تجدید اسلام کو شروع کیا تھا۔ مگر اخیر تک نہ پہنچا سکے۔ خدا تعالیٰ نے مجھے قمر الانبیاء بنا کر مبعوث کیا ہے اس کے یہ عقائد ہیں۔ شراب جائز ہے، اپنی رشتہ داری میں نکاح ناجائز ہے، حضرت مسیح یوسف نجار کے بیٹے تھے، ختنہ ناجائز ہے وغیرہ وغیرہ۔
بہر حال ان مرزائی چار جماعتوں کا اس پر اتفاق ہے کہ مسیح موعود مرزا قادیانی ہی تھے اور ان کا کلام وحی من اللہ ہے اس کے مقابل اہل اسلام کی جماعتیں ان دونوں امور کی منکر ہیں۔ صرف منکر ہی نہیں بلکہ مرزا قادیانی کو شروع سے اخیر تک کافر اور مرتد قرار دیتی ہیں اور لین دین معاملات اور عبادات میں ان سے الگ رہی ہیں۔ اور آج کل مرزا محمود کے زمانہ میں وہ بھی اہل اسلام سے الگ ہو گئے ہیں۔ سنی شیعہ، تمام مرزائی جماعتوں کو مرتد خارج از اسلام یقین کرتے ہیں اور مرزائی جماعتیں سنی شیعہ کو کافر یہود و نصاریٰ اہل کتاب کے مساوی جانتے ہیں۔ اب مرزائی اور غیر مرزائی میں کفر و اسلام کا فرق ہے۔ نہ ان کی ان کے ہاں شادی ہو سکتی ہے اور نہ ان کی ان کے ہاں کفن دفن، نماز، زکوٰۃ، جنازہ بھی الگ الگ ہے اور یہ امر بالکل روز روشن کی طرح ظاہر ہے اس میں کسی قسم کا خفا نہیں۔ مگر باوجودیکہ اہل سنت شروع سے ہی الگ رہے ہیں آج کل ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ اہلسنت کی لڑکیاں جبراً مرزائی جماعت کے عقد نکاح میں دی جاتی ہیں۔ یہ صاف ان کی حق تلفی ہے۔ اہلسنت اور
شیعہ اسلام میں قدیمی دو فرقے چلے آئے ہیں اور مرزائی جماعت آج ہم سے الگ ہوتی ہے اور اپنے لیے الگ نبی مانتی ہے مگر یہ ظلم ہے کہ گورنمنٹ کے نزدیک وہ تو اسلام میں داخل شمار کیے جاتے ہیں اور ہم (سنی و شیعہ) اہل کتاب یہود اور نصاریٰ تصور ہونے لگے ہیں۔ ہم ان کی لڑکی سے سرکاری طور پر نکاح نہیں کر سکتے اور وہ اہلسنت کی لڑکی سے باقاعدہ نکاح کر سکتے ہیں۔ جب گورنمنٹ مذہبی معاملات میں اپنے قواعد کی رو سے دخل اندازی نہیں کرتی تو کیا وجہ ہے کہ مردم شماری کے قانون سے مرزائی جماعت کو ہم میں شامل کیا جاتا ہے۔ جب ایک ہندو یا سکھ اپنے مذہبی عقائد چھوڑنے سے قانوناً اپنی قوم اور مذہب سے الگ کر دیا جاتا ہے سخت حیرت ہے کہ اہل اسلام میں جب ایک جماعت ایک نئے نبی کی پیرو بن جاتی ہے تو کیوں اس کو قدیمی اسلام سے خارج تصور نہیں کیا جاتا؟ بلکہ کفر و جماعت کو اصل قرار دے کر قدیم الاصول مسلمانوں کو خارج از اسلام قرار دیا جاتا ہے اس لیے ہم گورنمنٹ کی خدمت میں استدعا کرتے ہیں کہ اوّلاً جب وہ ہم سے متنفر ہیں اور ہم ان سے متنفر ہیں تو کس لیے ان کے ساتھ باہمی نکاح و طلاق کا سلسلہ قائم رکھا جاتا ہے؟ اور ثانیاً جب اہلسنت قدیمی مسلمان ہیں اور مرزائی جماعت کل پیدا ہوئی ہے تو ہمارے حقوق کی پاسداری کیوں نہیں کی جاتی؟ کیونکہ وہ ہم سے خارج ہوئے ہیں نہ کہ ہم ان سے اور انھوں نے نیا نبی تسلیم کیا ہے نہ کہ ہم نے۔
شائد یہ خیال ہوگا کہ مرزائی اور غیر مرزائی میں فروعی اختلاف ہے اس لیے درحقیقت دونو فریق ایک دوسرے کے نزدیک اسلام میں داخل ہیں۔ یا کم از کم گورنمنٹ کے نزدیک ان میں کچھ فرق نہیں۔ اس لیے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ فریقین میں اصولی اختلاف ہے نہ فروعی اور ایک دوسرے کو خارج از مذہب ہی نہیں سمجھتے بلکہ خارج از اسلام یقین کرتے ہیں۔ ذیل میں چند امور پیش کیے جاتے ہیں۔ جن سے یہ امر بالکل صاف اور مدلل ہو جاتا ہے کہ قادیانی اور غیر مرزائی (فریقین) میں اعتقادی اور اصولی اختلاف ہے جس کا انجام کفر و اسلام کا فرق قرار پاتا ہے۔
اوّل ...... (وفات مسیح) اس کے متعلق سنی شیعہ دونوں متفق الاعتقاد ہیں کہ وفات مسیح کی کوئی اصلیت نہیں تیرہ سو سال سے تمام فرق اسلامیہ میں یہ مسئلہ تسلیم ہو چکا ہے روایات میں صاف بیان ہے کہ ان عیسیٰ لم یمت انہ راجع الیکم.
(تفسیر طبری ج ۳ ص ۲۸۹ تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۴۶۶ زیر آیت یعیسیٰ انی متوفیک رافعک الیٰ)
والذی نفس ابی القاسم (محمد) بیدہ لینزلن عیسیٰ بن مریم.
(مجمع الزوائد ج ۸ ص ۲۱۴ باب ذکر الانبیاءﷺ)
عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت عدم موت کا ذکر ہے موت کا ثبوت مذکور نہیں۔ مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت مسیح مرگئے۔ یہودیوں نے صلیب پر چڑھایا تھا۔ مگر وہاں سے بچ کر کشمیر سری نگر میں آ کر مرے۔ قرآن شریف میں توفی کا لفظ مذکور ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ آیات قرآنیہ کے خلاف ہے اور صرف وہمیات پر مبنی ہے۔ صاف لکھا ہے کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ مری نگر میں اگر مسیح کی قبر ہے تو عیسائی سلطنتوں کو کیوں یقین نہیں دلایا جاتا۔ بھلا یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ ایک نبی کی قوم برسر ترقی ہو اور ابھی تک اپنے نبی کی قبر سے بھی ناواقف رہی ہو۔ باقی رہا توفی کا لفظ سو وہ موت کا مرادف نہیں۔ اسی طرح کے اور بھی مرزا قادیانی نے استدلال پیش کیے ہیں کہ جن میں حضرت مسیح کی نسبت صریح موت کا لفظ پیش نہیں کر سکے اور نہ آئندہ مرزائی جماعت پیش کر سکے گی۔ ادھر ادھر کے وہی استدلال پیش کیے ہیں کہ جن کی اسلام میں کچھ وقعت نہیں۔
وفات مسیح پر مرزائیوں نے تقریباً تیس آیتیں پیش کی ہیں کہ جن میں سے کچھ تو ایسی ہیں کہ جن سے عام انسانی فطرت کے متعلق کوئی حکم ثابت کیا جاتا ہے خصوصیت کا کوئی ذکر نہیں۔ جیسے کھانا پینا۔ نطفہ سے پیدا ہونا۔ زمین پر مرنا جینا وغیرہ سو جیسے حضرت مسیح اپنی ولادت میں ایک نشان قدرت بن کر دنیا میں آئے اور عام قانون قدرت سے مستثنیٰ ہیں اسی طرح کچھ بعید نہیں کہ اس جہان سے رخصت ہوتے ہوئے بھی کسی انوکھی صورت سے اٹھا لیے گئے ہوں۔ جیسے وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللہ (باء ۵۴) سے ثابت ہوتا ہے ورنہ صلیب سے زندہ اتارا جانا اور کشمیر میں جا کر مرنا اور پھر کسی مخالف کو خبر تک نہ ہونا، ایک تو شان نبوت اور منصب تبلیغ کے خلاف ہے۔ پھر اس میں نشان قدرت اور مقابلہ کی کارگزاری نہیں پائی جاتی کہ جس کا مدعی خود قرآن ہے۔ ان کے ہاں بعض دلائل ایسے ہیں کہ جن سے ضمنی طور پر وفات مسیح ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جیسے آیۃ التخاطب، آیت الوفاۃ آج کل آیت تخاطب پر بڑا زور دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا جواب نہیں ہو سکتا۔ دراصل یہ دلیل ایسی کمزور ثابت ہوئی ہے کہ آج تک اس کے پاؤں ایک سطح پر قائم ہی نہیں رہے۔ شروع شروع میں جب عیسائیوں نے اسلام پر یہ اعتراض کیا تھا کہ انجیل حضرت مسیح کو مصلوب قرار دیتی ہے اور قرآن غیر مصلوب بتاتا ہے اب یہ انجیل کا مصداق کیسے ہوا؟ تو محمد احسن امروہی قادیانی نے جواب شائع کیا تھا کہ ہمارے مفسر آج تک غلطی پر قائم رہے ہیں۔ قرآن حضرت مسیح کو غیر مصلوب اس مفہوم سے قرار دیتا ہے کہ ان کی صلب کی ہڈی توڑ کر ان کو مردہ نہیں کیا گیا بلکہ انجیل کے مطابق قرآن بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر کھینچے گئے ہیں۔ چند سطور کے بعد آپ لکھتے ہیں کہ لما توفیتنی اور متوفیک دونوں لفظ وفات پر صراحۃً دلالت کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے یہی دونوں دلائل اپنی کتابوں میں پیش کر دیے مگر جب اہل اسلام کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ متوفی میں ماضی کا زمانہ کہاں ہے؟ واؤ میں ترتیب کیسے؟ توفیت میں زمان ماضی کا مذکور کہاں؟ یہ تو قیامت کو سوال ہوگا۔ اور حضرت مسیح جواب دیں گے اور اس سے پہلے حضرت مسیح کی وفات ہو چکی ہوگی تو مرزا قادیانی نے خود یا احسن قادیانی کے ایماء سے اس دلیل کا اور رخ تبدیل کیا۔ وہ یہ کہ کنت انت الرقیب علیہم (المائدۃ ۱۱۷) میں نفی علم کرتے ہیں دوبارہ آئیں گے تو نفی علم کیسے کر سکیں گے؟ مگر اس کا جواب یوں دیا گیا کہ نفی رقابت اور شے ہے اور نفی علم اور شے۔ یہ ضروری نہیں کہ جو کسی چیز کا ذمہ دار نہ ہو وہ اس چیز کو جانتا بھی نہیں۔ پھر جب رقابت اور علم کو لازم ملزوم قرار دے کر دلیل پیش کی گئی تو یوں جواب دیا گیا کہ ان میں مساوات کا تلازم نہیں بلکہ عام خاص ہیں۔ غرضیکہ اس دلیل کا یہ پہلو بھی بودا نکلا پھر کنت علیہم شہیدا (المائدۃ ۱۱۷) کا جزو منشاء استدلال قائم کیا گیا کہ یہاں علم کا صاف انکار ہے۔ اگر اتریں گے تو وجود تثلیث سے اپنی لاعلمی کیوں ظاہر کریں گے لیکن اس کا جواب دو طرح سے دیا گیا ہے ایک الزامی دوسرا تحقیقی۔ الزامی پہلو یہ تھا کہ اس سے پہلے ایک لاعلمی کی آیت ہے کہ جس میں صاف مذکور ہے کہ (یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا) (المائدۃ ۱۰۹) ”خدا تعالیٰ انبیاء سے سوال کرے گا کہ تمہاری قبولیت کیسے ہوئی؟ تو وہ کہیں گے کہ ہمیں معلوم نہیں۔“ اب جس جگہ صراحۃً تمام انبیاء اپنی خاص ڈیوٹی سے لاعلمی ظاہر کرتے ہیں تو حضرت مسیح اگر ضمناً لاعلمی ظاہر کریں گے تو کون سی بڑی بات ہوگی۔ اور تحقیقی پہلو یہ تھا کہ شہید اور عالم یا معائن آپس میں مرادف نہیں۔ ورنہ امت محمدیہ کو شہداء علی الناس کا خطاب کیسے عطا ہو سکتا ہے۔ مان لیا کہ امت محمدیہ کو علم بطریق مشاہدہ نہ سہی بطریق اخبار یا انباء عن اللہ تعالیٰ ہوگا۔ مگر حضرت مسیح بھی اسی طریق سے مخبر من اللہ ہو کر عالم اشاعت عقیدۂ تثلیث ہوں گے نہ ذاتی مشاہدہ سے ان کو علم ہوگا اور اپنے
چشم دید حالات سے انھیں کچھ خبر ہوگی۔ خود مرزا قادیانی کا بیان ہے کہ ستاسی سال تک کشمیر میں رہے۔ اب بتاؤ کنت علیہم شہیدا کیسے صادق آتا ہے؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ شہادت خواہ کسی معنی میں مراد ہو وہ آپ کی تمام عمر کے ایام کو محیط نہیں ہوتی۔ یہ جواب دیکھ کر اس دلیل کے اور بھی پاؤں اکھڑے۔ پھر سارے لفظ چھوڑ کر مادمت فیھم استدلال میں پیش کیا گیا۔ جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ حضرت مسیح اپنا علم مشاہدہ اپنی مدت العمر میں منحصر کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مادمت فیھم کے علاوہ کنت علیہم شہیدا کا وجود نہیں۔ اس کا جواب صاف ظاہر ہے کہ مادام المسیح فی المسلمین کا زمانہ بیشک اس میں مذکور نہیں اور ہم بھی یہی کہتے۔ مادمت فیھم میں مادام المسیح فی بنی اسرائیل مراد ہے۔ مگر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ کے ذکر کرنے سے دوسرے زمانہ کی نفی نہیں ہو سکتی جب تک ذکر میں حرف حصر بیان نہ کیا جائے اور حرف حصر میں بھی یہ شرط ہے کہ نفی عن الغیر پر مشتمل ہو۔ ورنہ معمولی ذکر یا سرسری حصر مفید مطلب نہیں ہو سکتا۔ وہ کون عقل کا دشمن ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ حضورﷺ کے سوا معاذ اللہ کوئی اور نبی نہیں ہوا۔ اب جب سارے استدلال کے پہلو نکمے ثابت ہوئے ہیں تو پھر وہی توفی کا سہارا لیتے ہوئے یہ دلیل یوں پیش کی جاتی ہے کہ عقیدہ تثلیث آنحضرتﷺ کے زمانہ میں بھی موجود تھا ظاہر ہے کہ توفی سے پہلے نہ تھا بلکہ بعد میں پیدا ہوا ہے۔ جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ توفی اور عقیدہ تثلیث میں تقدم و تاخر زمانی ہے۔ اب اس زمانہ میں بلکہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں بھی وجود عقیدہ تثلیث تسلیم کیا گیا ہے تو توفی کے ماننے سے کیوں انکار کیا جاتا ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ ہم بھی یوں ہی کہتے ہیں کہ توفی پہلے ہوئی اور وجود عقیدہ تثلیث بعد میں ہوا۔ مگر توفی کے معنی میں ذرا سا اشتباہ ہے۔ کیا توفی بمعنی موت ہے؟ کیا جس طرح مرزائی توفی بمعنی موت اس آیت میں لیتے ہیں اسی طرز پر کسی امام یا مجتہد یا کسی مستند عالم باعمل نے لیے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ وفات مسیح کا قول یہود و نصاریٰ اور معتزلہ نے کیا ہے۔ اہلسنت میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں مگر قابل توضیح یہ امر ہے کہ کیا وفات مسیح اب بھی ہے؟ اس وقت بھی حضرت مسیح مردہ ہیں؟ یا تھوڑی دیر مر کر حسب روایت انجیل زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گئے ہیں؟ یہ سب احتمال ہیں۔ پہلے دونوں احتمال اہل اسلام میں سے کسی نے معتبر نہیں سمجھے۔ ہاں تیسرے احتمال کے بعض لوگ قائل ہیں مگر وہ پہلے دو احتمالوں کے قائل نہیں۔ مرزا قادیانی نے توفی پر خود یا کسی کے مشورہ سے ایک حاشیہ لگایا ہے کہ اس کا فاعل اللہ اور مفعول انسان ہو تو موت کے معنی میں صریح ہے۔ ورنہ وہ وصولیت یا قبض مطلق کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس حاشیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی توفی کا لفظ نص علی الموت نہیں۔ ورنہ شرائط لگانا بے فائدہ تھا۔ شرائط کا وجود صاف ظاہر کرتا ہے کہ مرزا قادیانی توفی کے لفظ کو مشتبہ المعانی سمجھتے ہیں کہ جس کے بعض جگہ کچھ معنی ہیں اور کسی جگہ کچھ۔ ورنہ ایزادی شرائط کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ مگر با ایں ہمہ جب آیت النوم (یتوفی الانفس) (زمر۴۲) پیش کی جاتی ہے تو قبض روح ناقص کی تاویل کر لیتے ہیں۔ یہ تاویل بھی توفی کے مشتبہ الدلالۃ پر خود کافی دلیل ہے۔ مگر جب ہم توفی میں قبض بالاستیعاب وغیرہ یا واو بغیر ترتیب پیش کرتے ہیں تو صاف کہا جاتا ہے کہ یہ "قرآن وحدیث کے مخالف ہے اور لغت بھی اس کی تائید نہیں کرتی۔" مگر حیرت ہے کہ مرزا قادیانی کا توفی کو قیود سے مقید کرنا اور آیت النوم میں اپنے شرائط کی موجودگی میں انعامی روپیہ دینے سے گریز کرنا صاف زبردستی اور تحکم نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ کونسی لغت ہے کہ جس میں مرزائی قیود مذکور ہیں؟ وہ کونسی کتاب ہے کہ جس میں توفی کا لفظ باوجود اتنی قیود کے صریح الدلالۃ علی الموت لکھا ہے؟
خلاصہ یہ ہے کہ ان کی بھاری دلیل آیت متخاطب تھی کہ جس کا خاکہ آپ کے سامنے کھینچا جا چکا ہے۔
اب رہا احادیث سے استدلال سو اس کی نسبت مرزائیوں کا عام خیال ہے کہ سوائے چند احادیث کے کہ جن کی تصدیق مرزا قادیانی نے کی ہے باقی تمام غیر معتبر ہیں۔ کچھ قصہ کہانیاں ہیں اور کچھ بناوٹی باتیں۔ بہرحال دونوں قسم کی احادیث معتبر نہیں۔ ہاں الزامی طور پر احادیث سے بھی استدلال کیا کرتے ہیں چنانچہ ان کی طرف سے پہلی حدیث یوں بیان کی جاتی ہے کہ الیواقیت والجواہر میں یوں ہے کہ (لوکان موسی و عیسی حیين) (الیواقیت والجواہر ج ۲ ص ۲۲،۲۱) ”اگر موسیٰ و عیسیٰ زندہ ہوتے۔“ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اب زندہ نہیں ہیں۔ جواباً پیش کیا جاتا ہے کہ غیر مستند حدیث کیوں پیش کی جاتی ہے؟ اس کا راوی کون ہے؟ احادیث مستندہ صحیحہ کے خلاف ایک منکر حدیث کو پیش کرنا کونسا اسلام ہے؟ الیواقیت والجواہر نے فتوحات کا حوالہ دیا ہے اور فتوحات میں صرف لوکان موسی حیا مذکور ہے تصحیح نقل کون کرے گا؟ اس حدیث پر اس قدر سوال پیش کیے گئے ہیں کہ کوئی انتہا نہیں مگر مرزائیوں کی طرف سے ایک بھی جواب نہیں۔ دوسری حدیث کا مضمون یوں ہے کہ ”عیسیٰ ؑ ایک سو بیس سال کی عمر پا کر مر چکے ہیں اور یہ کہ نبی اپنے بھائی متقدم الرسالہ نبی کی نصف عمر پاتا ہے۔ جیسے کہ حضور ﷺ نے تقریباً ساٹھ سال عمر پائی ہے۔ مگر یہ حدیث بھی موضوع ہے۔ کسی مستند کتاب میں صحیح روایت سے نقل نہیں ہوئی۔ اگر صحیح مانا جائے تو مرزا قادیانی کی عمر تیس سال کی ماننی پڑتی ہے کیونکہ انھوں نے بھی نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یا ان کی نبوت مشکوک ہے۔ علاوہ بریں جب دوسرے انبیاء کی عمروں پر یہ حدیث منطبق کی جاتی ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصلیت کچھ نہیں۔ تیسری حدیث ذکر الوفاۃ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات میں جب تک شک پیدا ہوا تھا۔ تو قد خلت من قبله الرسل (ال عمران ۱۴۴) سے وفات محمدیہ پر استدلال کیا گیا تھا سو اس کا جواب بھی یوں ہی دیا جاتا ہے کہ اوّلاً اس حدیث میں صاف مات محمد کا لفظ موجود ہے ثانیاً خلت من قبله الرسل خلو عہد رسالت انبیاء ثابت ہوتا ہے کہ جس سے موت انبیاء کی طرف بطریق کنایۃً ذہن منتقل ہوسکتا ہے اس میں موت کی صراحت نہیں۔ ورنہ قد خلت سنۃ الاولین میں ماتت سنۃ الاولین کہنا پڑے گا۔ جو صریح عقل و نقل کے خلاف ہے ثالثاً الرسل میں جملہ رسل بحیثیت مجموعی مراد ہیں۔ افرادی جماعت مراد نہیں۔ ورنہ اس کے بعد کلھم اجمعین کا لفظ بھی شامل ہوتا۔ اب بحالت مشتبہ تمام انبیاء کی موت ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔ ہمیں خوف ہے کہ ایسے عموم سے احکام یا اخبار کے مثبت کہیں یہ نہ کہہ دیں کہ انسان از قسم نباتات ہے جاندار نہیں کیونکہ انبتکم من الارض نباتا (نوح ۱۷) قرآن میں موجود ہے۔ اور یہ بھی نہ کہہ دیں کہ تمام انسان دوزخی ہیں کیونکہ قرآن شریف میں صاف صراحۃً مذکور ہے۔ لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین (سجدہ ۱۳) خدا تعالیٰ ایسے مجتہدین سے پناہ بخشے کہ جن کا مبلغ علم صرف خطابات مرزا ہوں یا توہمات نفسانیہ یا حدیث النفس۔
چوتھی حدیث میں بیان کیا جاتا ہے کہ جب حضور ﷺ قیامت کے روز اصیحابی اصیحابی پکاریں گے تو جواب ملے گا کہ جو کچھ انھوں نے آپ کے بعد میں کیا آپ نہیں جانتے۔ پھر حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں بھی وہی عذر پیش کروں گا جو حضرت مسیح پیش کریں گے کہ کنت علیھم شھیدا الایۃ طریق استدلال یوں بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی توفی کو مسیحی توفی سے تشبیہ دی ہے مگر جب محمدی توفی بمعنی موت ہے تو مسیحی توفی بھی بمعنی موت ہوگی اور ہماری طرف سے یوں کہا جا سکتا ہے کہ حرف تشبیہ کہاں؟ وجہ شبہ کیا چیز ہے؟ کما کا لفظ قول کے درمیان مذکور ہے توفی کے درمیان کیسے مذکور ہوا ہے؟ علاوہ بریں جبکہ توفی بمعنی رفع جسمانی بھی مراد لے کر معنیٰ
صحیح ہو سکتے ہیں تو خواہ مخواہ کیا ضرورت ہے کہ توفی سے وفات مسیح مراد لیں؟ پانچویں حدیث میں حضرت امام حسن کا خطبہ پیش کیا جاتا ہے کہ ’’حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ ۲۷ رمضان کو شہید ہوئے۔ یہ وہ رات ہے کہ جس میں حضرت مسیح کی روح قبض ہوئی۔‘‘ اب اس پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں جب تک ان کا جواب نہ دیا جائے یہ قابل استدلال نہیں ہوسکتی۔ کیا تاریخی عبارتیں احادیث صحیحہ کا مقابلہ کرسکتی ہیں؟ کیا اس عبارت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح اب بھی مردہ ہیں؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ شائد راوی کا مذہب اناجیل کے مطابق حضرت مسیح کے چند گھنٹے تک موت کا ہو۔ کیا کوئی صحیح روایت واقعہ صلیب کے خلاف نہیں کہ جس میں موت کی نفی ہو؟ کیا واقعہ صلیب رات کو ہوا تھا؟ اسم موصول سے بیان کرنا مخاطب کے علم کا ثبوت دیتا ہے۔ مگر تعجب ہے کہ حضرت مسیح کی وفات ۲۷ رمضان شریف کی رات کو نہ کسی اسلامی تاریخ نے بیان کی ہے اور نہ عیسائی تاریخیں اس کی تائید کرتی ہیں۔ کیا ہر ایک روایت کو صحیح تسلیم کرنا خصوصاً روایات صحیحہ کے مقابلہ میں خارج از تدین نہیں؟
دوم....... (مسیح کی نوعیت) اسلام میں مسیح شخص واحد کا نام ہے مگر مرزا قادیانی کے نزدیک مسیح دو ہیں ایک مسیح ناصری جو یسوع کے نام سے مشہور ہے۔ دوم مسیح محمدی جس کے خود دعویدار ہیں۔ دلیل یوں ہے کہ روایات میں مسیح کے دو حلیے بیان ہوئے ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ مختلف اوقات میں مشتبہ وضع قطع دو مختلف اور جزوی فرق سے بیان ہو سکتی ہے ورنہ حضرت موسیٰؑ بھی دو ہوں گے۔
سوم....... (مسیح کی عصمت) اہل اسلام میں آپ کی عصمت میں اتفاق ہے۔ مگر مرزائی جماعت آپ پر مسمریزم اور جھوٹ وغیرہ کا الزام لگاتی ہے۔ پھر طرفہ یہ کہ یہ الزام خدا کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ (شرم)
چہارم....... ہمارے نزدیک مسیح بن مریم الگ ہیں اور امام مہدی کا ظہور الگ۔ مگر مرزائیوں نے دونوں کو ایک تسلیم کیا ہے دلیل یہ ہے کہ لا مھدی الا عیسیٰ مگر ہم کہتے ہیں کہ بعد تسلیم صحت حدیث کے بموجب قرب زمانہ مراد ہے کیونکہ دوسری روایات میں تصریح ہے کہ مہدی کا زمانہ دس سال پہلے ہوگا۔
پنجم....... (بروز مسیح) مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ مسیح میں دوسرے نبیوں کی روحیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ مگر اسلام میں یہ عقیدہ مردود ہے کیونکہ بروز اور تناسخ آپس میں تقریباً مترادف ہیں بلکہ یہ ہندوؤں کا عقیدہ ہے اس لیے قابل تسلیم نہیں ہو سکتا۔
ششم....... مرزا قادیانی کے نزدیک تمام انبیاء کے نام ایک قسم کی ڈگریاں تصور کی گئی ہیں اور جب ظاہری علوم میں ایک شخص واحد مختلف اور بیشمار ڈگریاں حاصل کرسکتا ہے تو نبوت کے میدان میں ایک غلام احمد ترقی پا کر مختلف ڈگریاں کیوں نہ حاصل کر سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کا پہلا قدم تصوف پر ہے اور آخری قدم کرشن اوتار پر۔ درمیان میں کبھی مہدی، مریم، ابراہیم، داؤد، سلیمان بنتے ہیں اور کبھی غلام احمد نبی اور خادم سلسلۂ نبوت۔ پھر کبھی رنگت بدلتے ہیں تو پکار اٹھتے ہیں کہ ؎
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰)
لیکن اہل اسلام کے نزدیک یہ سب کچھ خرافات میں داخل ہے۔ اس کی تائید نہ قرآن سے ملتی ہے اور
نہ حدیث سے بلکہ یہ تو ہم صرف غیر متشرع صوفیاء کی شطحیات سے ملتا جلتا ہے جس سے خود صوفی بھی دست بردار ہوئے ہیں۔
ہفتم...... (ختم رسالت) مرزا قادیانی کے نزدیک ختم رسالت کے صرف یہی معنی ہیں کہ جیسے ایک افسر کے پاس مہر ہوتی ہے اسی طرح یہ بھی ہے جس قدر نبی آئیں گے ان کی منظوری اور ماتحتی سے آئیں گے جب تک مہر محمدی (وہ بھی خیالی) ان پر نہ ہوگی۔ وہ امتی نبی نہیں بن سکیں گے۔ اہل اسلام کے نزدیک یہ عقیدہ بالکل خلاف عقل ونقل ہے۔ ختم کے لفظ میں جو تصرف کیا ہے وہ صرف پنجابی محاورات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا ہے۔ پنجاب میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فلاں کے پاس ذیلداری یا نمبرداری کی مہر ہے یعنی وہ افسر ہے اور اہل موضع اس کے ماتحت ہیں۔ مگر یہ پنجابی محاورہ عرب کے الفاظ میں داخل کرنا محض لاعلمی اور جہالت ہے عرب کے محاورے میں خاتم کل شئی اخرہ (بحر المحیط ج ۲ ص ۳۱۴ مطبع بیروت) کے لکھے ہیں یعنی آخری جزو کو کہتے ہیں اور یہی مفہوم چودہ سو سال سے تسلیم کیا گیا ہے نئے نئے تخیلات کے معانی قابل وثوق نہیں۔
ہشتم...... (امکان نبوت) مرزا قادیانی کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد دوسرے نبیوں کا آنا ممکن بلکہ ضروری ہے استدلال میں لفظ و آخرین منھم پیش کیا جاتا ہے اور کبھی یہ حدیث پیش کرتے ہیں۔ لو کان ابراھیم حیا لکان نبیا (روح المعانی ج ۸ ص ۳۱) مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے اور اگر تسلیم کر لی جائے تو چونکہ جملہ شرطیہ ہے اس لیے اس کے اطراف (شرط و جزا) سے کوئی حکم پیدا نہیں ہو سکتا۔ اور آیت پیش کردہ میں منھم کا قرینہ مرزا قادیانی کے خلاف ثابت ہے علاوہ ازیں اہلسنت میں یہ قاعدہ مسلم ہے کہ جو حکم صریح نصوص قطعیہ کے برخلاف استنباط کیا جائے وہ مردود ہوتا ہے۔ جب خاتم النبیین اور لا نبی بعدی، لو کان بعدی نبی لکان عمر (ترمذی ج ۲ ص ۲۰۹) وغیرہ جیسے الفاظ صریح موجود ہیں تو مرزا قادیانی کی دماغ سوزی کب اور کہاں تک تسلیم ہو سکتی ہے۔ لفظ بعد میں بعدیہ متصلہ لینا مرزائیوں کو کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ کیونکہ بعدیت متصلہ کے معنی بھی تیرہ سو سال کہیں سے ثابت نہیں ہوئے جس پر وہ اتنا اتراتے پھرتے ہیں۔
نہم...... (بروز) ہمارے نزدیک بروز عقائد اسلام میں کہیں تسلیم نہیں کیا گیا۔ ہم اس کو تناسخ کے مساوی سمجھتے ہیں۔ جیسے تناسخ کا مسئلہ اہل اسلام میں مردہ ہے ایسے بروز کی آڑ بھی دام تزویر سے کہیں دور نہیں۔ ممکن ہے کہ مرزا قادیانی نے کرشن اوتار بننے کے لیے یہ مسئلہ ہندوؤں سے حاصل کیا ہو۔ مگر افسوس کہ ہندو ایک بھی معتقد نہ ہوا۔
دہم..... (منصب نبوت) اہل اسلام کے نزدیک منصب نبوت صرف خدا داد نعمت ہے کسی کے اداب اور اخلاق کو اس میں دخل نہیں۔ اگرچہ حکمت الٰہی ہمیشہ سے منصب نبوت عطا کرنے میں بظاہر اعمال وافعال کو علت تامہ ظاہر کرتی رہی ہے مگر درحقیقت یہ علت تامہ نہیں۔ فلاسفہ یونان کے نزدیک (کہ مرزا قادیانی جن کے دلدادہ ہیں) تخلی عن الرذائل وتجلی بالفضائل تحصیل منصب نبوت کے لیے علت تامہ ہے۔ اسی بنا پر فلاسفہ یونان کسی نبی کے ماتحت نہیں رہے۔ مرزا قادیانی کے نزدیک یہ امر مسلم ہے کہ انسان آہستہ آہستہ ترقی کے مرتبہ رسالت تک پہنچ سکتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اھدنا الصراط المستقیم میں منصب نبوت مراد ہے اور حقیقۃ الوحی میں صراحۃً بیان کیا ہے کہ اسلام نے ہمارے سامنے ایک ایسا پاکیزہ کورس پیش کیا ہے کہ جس پر کاربند رہنے سے ہر ایک انسان منصب نبوت تک پہنچ سکتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک منصب نبوت کسبی ہے اور اسلام
میں وہبی اور محض فضل ربی ہے۔ دلائل کے لیے ہزاروں آیات پیش کی جاسکتی ہیں۔
یازدہم ...... (وجود مجدد) اہل اسلام میں مجدد کے یہ معنی ہیں کہ اہل اسلام میں مرور زمان اور دواعی ضلالت کے بروقت موجود ہونے سے جو جو اصول اسلام میں یا فروعات میں اگر کچھ شدت و ضعف یا اولویت و ادونیت اور کمیت و کیفیت کا فرق آ گیا ہو تو مجدد آ کر رفع کرے۔ جس کی نسبت ہر صدی کے اخیر پر آنے کی خبر دی گئی ہے۔ اب اس میں اختلاف ہے کہ ہر ایک صدی کے اخیر پر یا شروع پر کون کون مجدد ہو گزرے ہیں۔ اہلسنت والجماعت کا یہ فیصلہ ہے کہ مجدد سے مراد جماعت علماء ہے جو ہر ایک صدی میں لوگوں کو راہ راست کی طرف بلاتی رہتی ہے۔ مجدد کی شخصیت غیر متعین ہے یہی وجہ ہے کہ اہل اسلام کے ہر ایک مذہب نے اپنے اپنے مجدد الگ شمار کیے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ مجدد خود مدعی بھی ہو کر اشاعت کرے۔ مگر مرزا قادیانی کے نزدیک مجدد کے افراد شخصیہ گزرے ہیں۔ افراد کلیہ نہیں اسی واسطے عام طور پر ہم پر سوال کیا کرتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی مجدد نہیں تو اس صدی کا امام اور مجدد کون ہے؟ اگر چہ ہم اس کے جواب میں کہہ سکتے ہیں (کہ زمانہ حال میں بہت سے ایسے علماء نامور موجود ہیں کہ جن کے عقیدت مند ان کو مجدد کہتے ہیں اور تھوڑی دیر ہی گزری ہے کہ مولانا محمد قاسم مرحوم اور مولانا رحمت اللہ مرحوم مہاجر مکی اپنے وقت کے مجدد کہے جاسکتے ہیں۔ جن کے خوشہ چین مناظرین اہل اسلام عموماً اور مرزا قادیانی خصوصاً ثابت ہوئے ہیں مگر تاہم یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ زمانہ حال میں علماء نامور تجدید دین میں کوشاں ہیں۔ شاید مرزا قادیانی کے نزدیک شائد تجدید کے یہ معنی ہوں کہ اہل اسلام کے متفقہ قدیمی اور مسلمہ اصول کی بیخ و بن نکال کر ان کی بجائے نئے تخیلات اور نئے عقائد اور اصول قائم کیے جائیں اور ان کا نام اصلی اسلام رکھا جائے۔ سو اگر یہی معنی ہیں تو ہمیں مجبوراً تسلیم کرنا پڑے گا کہ بیشک مرزا قادیانی سے پہلے مرزا محمد علی ایرانی مجدد ہو گزرے ہیں اور پھر خود مرزا قادیانی ان کے جانشین اور نعم البدل ثابت ہوئے ہیں۔
دوازدہم ...... (وجود امام وقت) مرزا قادیانی کے نزدیک امام سے مراد خود ان کی ذات ہے یا وہ شخص مراد ہو سکتا ہے جو مدعی مہدویت یا مسیحیت ہو یا کم از کم اس کا قائم مقام ہو۔ مگر اہل اسلام کے نزدیک سلطان وقت مراد ہے انتظامی امور میں جو اس کی اطاعت نہ کرے گا وہ حرام موت مرے گا۔
سیزدہم ...... (آیات قرآنی) ہمارے نزدیک سب سے بڑھ کر آیات قرآنی ہیں۔ مرزائیوں اور خود مرزا قادیانی کے نزدیک الہامات مرزا آیات قرآنی سے بڑھ کر ہیں۔ آیات متشابہات اور آیات محکمات کے الفاظ ہمارے نزدیک غیر قرآن میں اطلاق نہیں ہو سکتے مگر مرزا قادیانی اپنے الہامات میں بھی یہ دونوں لفظ اطلاق کر لیتے ہیں۔
چہاردہم ...... اہل اسلام میں آیات قرآنی کا اصل مطلب وہی معتبر ہے جو صحابہ اور ائمہ کے اقوال اور آنحضرت ﷺ کی احادیث سے تائید پائے ہوئے ہو۔ اپنے من گھڑت خیالات کے مسائل کی اسلام میں کوئی وقعت نہیں۔ مگر مرزائی صاحبان سب سے بڑھ کر وہ مطلب معتبر سمجھتے ہیں جو مرزا قادیانی نے اختراع کیا ہے یا جو ان کے عقیدت مندوں نے بعد میں دماغ سوزی کی ہے۔ پھر وہ طریق معتبر ہے کہ جس کی تائید کسی عیسائی مورخ یا انجیل اور تورات وغیرہ سے ہو چنانچہ ان کی تمام تفاسیر کے ورق جا بجا احادیث کی بجائے انجیل و تورات وغیرہ کی عبارتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔
پانز دہم ...... یہ کہ ان کے ہاں اہل اسلام کے مسلمہ قصص (معراج جسمانی ، اصحاب کہف ، جثہ آدم ، قصہ بقر، ناقہ صالح ، ذبح عظیم ، شق قمر وغیرہ ) تمام جھوٹے ہیں کیونکہ عیسائیوں نے ایسے امور سچے تسلیم نہیں کیے۔
بالجملہ یہ مختصر پندرہ امور پیش کیے گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم میں اور مرزائیوں میں اصولی فرق ہے صرف فروعی نہیں اور ایسے دور دراز کے اختلافات کے ہوتے ہوئے ہم انھیں اسلام میں داخل نہیں سمجھتے کیونکہ ان کی کوئی بات اہل اسلام کے ائمہ اور صحابہ میں سے کسی ایک کے موافق نہیں جو مسائل انھوں نے اپنے دستور العمل بنائے ہیں، ان میں سے کچھ فلسفہ قدیم پر مبنی ہیں اور کچھ تخیلات جدید کا مجموعہ ہے۔ ہر ایک عقلمند اتنا کہے بغیر نہیں رہ سکتا اور امید ہے کہ خود مرزائی بھی ہمیں یقین دلائیں گے کہ آج سے تیرہ سو سال پہلے مرزائی اعتقادیات کا نام و نشان تک نہ تھا۔ انھوں نے اسلام کی پرانی چار دیواری کو مسمار کر کے ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانی تجویز کی ہے۔ ان کی اس نئی بنیاد پر شروع سے ہی اہل اسلام کی طرف سے رد و قدح ہوتا رہا۔ مگر اس قوم نے ہمت نہ ہاری۔ مرزا قادیانی پر مختلف عنوانات سے اہل اسلام کی طرف سے تکفیر جاری ہوتی رہی (کبھی نبوت کے دعویدار ہونے سے اور کبھی مسیح موعود بننے سے اور کبھی نصوص قطعیہ کے انکار کرنے سے) اور اہل اسلام کو جو جو ضرورتیں اور مجبوریاں پیش آتی رہیں ان کے رفع کرنے کے واسطے مختلف کوششیں اور فتاوے عمل میں آئے۔ لیکن اس وقت چونکہ اہل اسلام کو حکام کی طرف سے یہ دقت پیش آئی کہ اہلسنت والجماعت کی لڑکی جبراً مرزائی جماعت کے سپرد کر دی جاتی ہے اور ہمیں غیر مسلم اور ان کو مسلم قرار دیا جاتا ہے اور خواہ مخواہ ہماری حق تلفی کی جاتی ہے اس لیے اب مرزائی جماعت کی نسبت اس قسم کے فتاوے علمائے سنی شیعہ سے حاصل کیے گئے ہیں کہ جن میں مرزا قادیانی کی تکفیر کے ضمن میں مذکورہ بالا مسئلہ کا پورا تصفیہ ہو گیا ہے۔
پیشتر اس کے کہ ہم ان فتوؤں کی مختصر نقلیں درج کریں ہم یہ ظاہر کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس حق تلفی کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنے میں ہم دونوں فریق (سنی شیعہ ) متفق ہیں اور ذرہ بھر بھی اختلاف نہیں۔ نیز یہ کہ جس قدر اسلامی ریاستیں یا اسلامی انجمنیں یا مدارس مذہبی امور اسلام میں اپنا دخل دینا فرض منصبی سمجھتی ہیں۔ اس پر ان سب نے بھی اتفاق کر لیا ہے۔ چنانچہ وہ فتاوے ملکی تقسیم کے لحاظ سے پنجاب و ہندوستان کے چیدہ چیدہ اور معتبر مقامات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترتیب وار درج کیے جاتے ہیں۔ ناظرین دیکھ کر خود فیصلہ کر لیں کہ مرزائیوں نے اسلامی عمارت کو کس طرح مسمار کر دیا ہے۔ انجمن حفظ المسلمین کی طرف سے اس مسئلہ میں جو سوال چھپوا کر اہل علم کی خدمت میں روانہ کیا گیا تھا۔ وہ ذیل میں درج ہے جس کے نیچے سب کے جوابات علی حسب المدارج درج کیے جاتے ہیں۔
استفتاء
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین و مفتیان شرع مبین اس امر میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال مندرجہ ذیل ہیں۔
- اول ...... آیۃ مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد کا مصداق میں ہوں۔
(ازالہ اوہام طبع اول ص ۶۷۳ خزائن ج ۳ ص ۴۶۳)
- دوم ...... مسیح موعود (جن کے آنے کی خبر احادیث میں آئی ہے) میں ہوں۔
(ازالہ اوہام طبع اول ص ۶۶۵ خزائن ج ۳ ص ۴۵۹)
- سوم ....... میں مہدی مسعود اور بعض نبیوں سے افضل ہوں ۔
(معیار الاخیار ص ۱۱ ملفوظات ج ۳ ص ۲۷۸)
- چہارم ....... ان قدمی علی منارۃ ختم علیا کل رفعۃ (میرا قدم اس بنیاد پر ہے جہاں کل بلندیاں ختم
ہو چکی ہیں)
(خطبہ الہامیہ ص ۷۰ خزائن ج ۱۶ ص ۷۰)
- پنجم ....... لا تقيسونى باحد ولا احدابى ۔ میرے مقابل کسی کو پیش نہ کرو۔
(خطبہ الہامیہ ص ۵۲ خزائن ج ۱۶ ص ۵۲)
- ششم ....... میں مسلمانوں کے لیے مسیح مہدی اور ہندوؤں کے لیے کرشن ہوں ۔
(لیکچر سیالکوٹ ص ۳۳ خزائن ج ۲۰ ص ۲۲۸)
- ہفتم ....... میں امام حسین سے افضل ہوں ۔
(دافع البلاء ص ۱۳ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۳)
- ہشتم ....... وانی قتیل الحب لکن حسینکم . قتیل اعدی فالفرق اجلى واظہر . ” میں عشق کا
مقتول ہوں مگر تمہارا حسین دشمن کا مقتول ہے فرق بالکل ظاہر ہے ۔“
(اعجاز احمدی ص ۸۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۹۳)
- نہم ....... ” یسوع مسیح کی تین دادیاں اور تین نانیاں زنا کار تھیں ۔ (معاذ اللہ)
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
- دہم ....... یسوع مسیح کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی ۔ (معاذ اللہ)
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹)
- یاز دہم ....... یسوع مسیح کے معجزات مسمریزم تھے اس کے پاس بجز دھوکہ کے اور کچھ نہ تھا۔
(ازالہ ص ۳۲۲ ، ۳۰۳ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴ تا ۲۶۳ ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
- دواز دہم ....... میں نبی ہوں ۔ اس امت میں نبی کا نام میرے لیے مخصوص ہے ۔
(حقیقۃ الوحی ص ۳۹۱ خزائن ج ۲۲ ص ۴۰۶)
- سیز دہم ....... مجھے الہام ہوا ہے ۔ قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا. (لوگو ! میں تم سب
کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں ۔
(تذکرہ ص ۳۵۲)
- چہار دہم ....... میرا منکر کافر ہے ۔
(حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۷)
- پانز دہم ....... میرے منکروں بلکہ متاملوں کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں ۔
(فتاویٰ احمدیہ ج ۱ ص ۲۷۶)
- (۱۶)....... مجھے خدا نے کہا ہے اسمع ولدی (اے میرے بیٹے سن !)
(البشریٰ ج ۱ ص ۴۹۰)
- (۱۷)....... لولاک لما خلقت الافلاک (اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمان پیدا نہ کرتا ۔
(حقیقۃ الوحی ص ۹۹ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۳)
- (۱۸)....... میرا الہام ہے ۔ وما ینطق عن الھوی یعنی میں بلا وحی نہیں بولتا ۔
(اربعین نمبر ۳ ص ۳۶ خزائن ج ۱۷ ص ۴۲۶)
- (۱۹)....... مجھے خدا نے کہا ہے ۔ وما ارسلناک الا رحمۃ اللعالمین (یعنی خدا نے تجھے رحمت بنا کر بھیجا)
(حقیقۃ الوحی ص ۸۲ خزائن ج ۲۲ ص ۸۵)
- (۲۰)....... مجھے خدا نے کہا ۔ انک لمن المرسلین (خدا کہتا ہے کہ تو بلا شک رسول ہے )
(حقیقۃ الوحی ص ۱۰۷ خزائن ج ۲۲ ص ۱۱۰)
- (۲۱)....... اتانی مالم یؤتی احد من العالمین (خدا نے مجھے وہ عزت دی جو کسی کو نہیں دی گئی )
(حقیقۃ الوحی ص ۱۰۷ خزائن ج ۲۲ ص ۱۱۰)
- (۲۲)....... ان اللہ معک ان اللہ یقوم اینما قمت (خدا تیرے ساتھ ہوگا جہاں کہیں تو رہے )
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۱ خزائن ج ۱۱ ص ۳۰۱ حاشیہ )
- (۲۳)...... انا اعطیناک الکوثر (خدا نے مجھے حوض کوثر دیا ہے)
(انجام آتھم ص ۵۸ خزائن ج ۱۱ ص ۵۸)
- (۲۴)...... رایته فی المنام عین الله و تیقنت اننی ھو فخلقت السموت والارض. میں نے اپنے آپ کو
بعینہ خدا دیکھا اور میں یقیناً کہتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے زمین آسمان بنائے۔
(آئینہ کمالات ص ۵۶۴، ۵۶۵ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
- (۲۵)...... میرے مرید کسی غیر مرید سے لڑکی نہ بیاہا کریں۔
(نہج المصلیٰ فتاویٰ احمدیہ ج ۲ ص ۷)
جو شخص مرزا قادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو۔ اس کے ساتھ مسلم غیر مصدقہ کا رشتہ زوجیت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور تصدیق بعد نکاح موجب افتراق ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا.
الجواب
(۱) سنی از ریاست بھوپال
مندرجہ سوال ہذا میں متعدد ایسے اقوال ہیں جن کے کلمہ کفر ہونے میں تاویل بھی نہیں ہوسکتی لہٰذا جس شخص کے عقائد ایسے ہوں وہ بوجہ مخالفت اسلام کے جماعت اسلام سے جدا ہے اور مسلمان مرد و عورت کا نکاح ایسے خارج عن الاسلام سے درست نہیں۔ ۳ رجب ۱۳۳۶ھ۔ مہر و دستخط:۔ محمد یحییٰ عفا اللہ عنہ مفتی بھوپال
(۲) از ریاست رام پور (خلد اللہ ملکہا)
جو شخص کہ مرزائے قادیانی کے اقوال مذکورہ میں تصدیق کرے وہ اعلیٰ درجہ کا ملحد اور کافر ہے۔ ایسے شخص کے یہاں نکاح کرنا مطلقاً حرام ہے۔ اور اگر کوئی شخص بعد نکاح اقوال مذکورہ میں مرزائے قادیانی کی تصدیق کرے گا تو اس سے افتراق لازم ہوگا۔ دستخط:۔ ظہور الحسن محلہ پھلوار
ذلک کذالک۔ مظفر علی خاں مقبرہ عالیہ۔ الامر کما حررہ مولانا السید ظہور الحسن۔ انصار حسین عفی عنہ۔ فان القول ما قالت حذام۔ ذوالفقار حسین عفی عنہ۔ الامر کذالک۔ فقیر سید تاثیر حسین
(۳) از ریاست حیدر آباد (خلد اللہ ملکہا)
(یہاں کے جوابات کی بجائے کتاب افادۃ الافہام بجواب ازالۃ الاوہام مصنفہ جناب مولانا مولوی محمد انوار اللہ خان صاحب مرحوم ناظم امور مذہبیہ کا مطالعہ کر لینا کافی ہوگا۔
(۴) از مدرسہ عالیہ دیوبند ضلع سہارنپور (سنی)
اقوال مذکورہ کا کفر و ارتداد ہونا ظاہر ہے۔ پس وہ شخص جو ایسا کہتا اور عقیدہ رکھتا ہے اور جو اس کی پیروی اور تصدیق کرنے والے ہیں وہ کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اہل اسلام کو ان سے مناکحت درست نہیں اور ان کے ساتھ نکاح منعقد نہ ہوگا۔ اگر کوئی مسلمان نکاح کے بعد مصدق قادیانی کا ہو جائے تو وہ فوراً مرتد ہو جائے گا اور نکاح اس کا فسخ ہو جائے گا اور تفریق لازم ہوگی۔
مہر و دستخط: عزیز الرحمن عفی عنہ مفتی مدرسہ دیوبند ۱۲ رجب ۱۳۳۶ھ
الجواب صحیح گل محمد خان مدرس مدرسہ الجواب صحیح غلام رسول عفی عنہ۔ الجواب صواب الحسن عفی عنہ۔ عربیہ دیوبند۔ الجواب صواب عبدالوحید عفی عنہ۔ الجواب صحیح محمد رسول خان عفی عنہ۔ الجواب صحیح فقیر اصغر حسین عفی عنہ۔ الجواب صحیح محمد اعزاز علی عفی عنہ۔
اصاب المجیب محمد ادریس عفی عنہ۔ الجواب صحیح احمد امین عفی عنہ۔ الجواب صواب محمد تفضل حسین عفی عنہ۔
(۵) از تھانہ بھون ضلع سہارنپور (سنی)
جو مسلمان ایسے عقائد اختیار کر لے جن میں بعضے یقینی کفر ہیں بحکم مرتد ہے اور مرتد کا نکاح مسلمان عورت سے اور اسی طرح مرتدہ کا نکاح مسلمان مرد سے صحیح نہیں اور نکاح ہو جانے کے بعد اگر عقائد کفریہ اختیار کر لے تو نکاح فسخ ہو جائے گا۔ دستخط اشرف علی عفی عنہ (حکیم الامت مصنف تصانیف کثیرہ) ۱۳۴۶ھ
(۶) مدرسہ عربیہ مظاہر العلوم سہارنپور (سنی)
سوال مذکور الصدر میں اکثر ایسے امور ذکر کیے گئے ہیں جو مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ناجائز اور موجب کفر و ارتداد قائل ہیں۔ پس جو شخص ایسا عقیدہ رکھتا ہو اور ان اقوال کا مصدق ہو تو اس کے کفر میں کچھ کلام نہیں۔ وہ شرعاً مرتد ہوگا۔ جس کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جو پہلے سے اہل اسلام تھا۔ بعد نکاح کے قادیانی عقائد کا ہو گیا۔ اس کا نکاح فوراً شرعاً باطل ہو جائے گا۔ قضاء قاضی اور حکم حاکم کی بھی شرعاً اس میں ضرورت نہیں ارتداد احدهما (الزوجین) فسخ عاجل بلا قضاء (شامی جلد ثانی ص ۴۲۵) لا یجوز له ان یتزوج مسلمة الخ و یحرم ذبیحة وصیده بالکلب والبازی والرمی۔
(عالمگیریہ ج ۲ ص ۲۵۵)
حررہ عنایت الٰہی مہتمم مدرسہ مظاہر العلوم ۹ اپریل ۱۸ء
الجواب صحیح خلیل احمد۔ صحیح ثابت علی۔ الجواب صحیح عبدالرحمان۔ الجواب صحیح عبداللطیف۔ الجواب صحیح بلا ارتیاب عبدالوحید سنبھلی۔ قد اصاب من اجاب ممتاز میرٹھی۔ الجواب صحیح منظور احمد۔ ھذا ھو الحق محمد ادریس۔ الجواب صحیح عبدالقوی۔ الجواب حق محمد فاضل۔ الجواب صحیح بدر عالم میرٹھی۔ جواب المجیب صحیح علم الدین حصاری۔ الجواب مصیب غلام حبیب پشاوری۔ ھذا الجواب حق عبدالکریم نوگانوی۔ ھذا الجواب صحیح فصیح الدین سہارنپوری۔ جواب المجیب اصح محمد روشن الدین الجواب صحیح نور محمد۔ الجواب صحیح دلیل الرحمان۔ محمد پوری۔ الجواب صحیح محمد بلوچستانی۔ الجواب حق ظریف احمد مظفر نگری۔ للہ در المجیب محمد حبیب اللہ عفی عنہم
(۷) رائے پور ضلع سہارنپور (سنی)
جو شخص مسلمان ہو کر ان اقوال اور عقائد کا معتقد ہو وہ بلا تردد مرتد ہے۔ اس سے کوئی اسلامی معاملہ کرنا اور رشتہ ناطہ کرنا جائز نہیں اور جو ان کے عقائد تسلیم کر کے مرتد ہو جائے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہے۔
حررہ نور محمد لدھیانوی مقیم رائے پور
الجواب صحیح عبدالقادر شاہ رائے پوری۔ الجواب صحیح مقبول سبحانی کشمیری۔ مصدق عبدالرحیم رائے پوری۔ مصدق خدا بخش فیروز پوری۔ مجھے اتفاق ہے محمد سراج الحق۔ جواب درست ہے محمد صادق شاہ پوری۔ ھذا الجواب صحیح احمد شاہ امام جامع الجواب صحیح آلہ بخش از بہاول نگر۔ مسجد بھٹ۔
(۸) از شہر کلکتہ (سنی)
ان باتوں کا ماننے والا اقسام کفر و شرک کا معجون مرکب ہے۔ پس ایسی حالت میں ان سے عقد مناکحت ومواخاۃ بالکل جائز نہیں اور یہ سب عقائد باعث ارتداد وموجب تفریق نکاح بنتی ہیں۔ واللہ اعلم کتبہ عبدالنور مدرس اول مدرسہ دارالہدیٰ کلکتہ
الجواب صحیح افاض الدین۔ الجواب صحیح ابوالحسن محمد عباس۔ مہر عبدالنور۔ الجواب صحیح محمد سلیمان مدرس مدرسہ الجواب صحیح شمس العلماء مفتی محمد الجواب صحیح احمد سعید انصاری دارالکتاب والسنۃ۔ عبداللہ صدر مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ۔ سہارنپوری حالوارد کلکتہ۔ الجواب موافق الکتاب والسنۃ الجواب صحیح محمد یحییٰ۔ الجواب صحیح محمد اکرم خاں سیکرٹری عبدالرحیم۔ انجمن علمائے بنگالہ۔ ایڈیٹر اخبار محمدی کلکتہ۔ الجواب صحیح محمد یحییٰ مدرس مدرسہ عالیہ لا ریب فی صحۃ الجواب محمد مظہر علی۔ کلکتہ۔ لاریب فی الجواب عبدالصمد اسلام آبادی الجواب صحیح عبدالواحد مدرس دوم الجواب صحیح محمد زبیر۔ مدرس صفی اللہ شمس العلماء مدرس۔ مدرسہ دارالہدیٰ۔ الجواب صحیح ضیاء الرحمان از کلکتہ کولوتولہ نمبر ۲ مسجد اہلحدیث ۲۴ رجب ۳۶ھ۔
(۹) از شہر بنارس (سنی)
مرزا مسائل اعتقادیہ منصوصہ کا منکر ہے لہٰذا اس عقیدہ رکھنے والے کے ساتھ عقد مناکحت و استقرار نکاح ہرگز نہیں ہو سکتا اور تصدیق (مرزا) بعد نکاح موجب افتراق و فسخ نکاح ہوگا۔ کتبہ محمد ابوالقاسم البنارسی مدرسہ عربیہ محلہ سعید نگر بنارس ۱۰ جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
میں بھی اس تحریر کے موافق ہوں محمد ماکتب صحیح حکیم محمد حسین خاں۔ الجواب صحیح محمد عبداللہ مدرس شیر خاں مدرس کان اللہ لہ۔ کانپوری۔ الجواب صحیح محمد حیات احمد۔ جواب صحیح ہے حکیم عبدالمجید عفی عنہ
(۱۰) شہر آرہ (سنی)
اقوال مندرجہ سوال مرزا قادیانی کا حد کفر تک پہنچنا ظاہر ہے۔ بلکہ اس کے بعض اقوال سے شرک ثابت ہوتا ہے اور مشرکین میں وارد ہے۔ ولا تنکحو المشرکین حتی یؤمنوا الایۃ اور مرزا کے منکر رسالت ہونے میں کوئی کلام نہیں بلکہ وہ خود مدعی نبوت والوہیت ہے۔ (اعاذنا اللہ منہ) پس جو لوگ ان اقوال کے قائل و مصدق و معتقد ہیں ہرگز وہ مومن نہیں ہیں۔ ان کے ساتھ مخالطت و مجالست و مناکحت قطعاً جائز نہیں۔ قال تعالیٰ ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ای لا تمیلوا الیھم بمودۃ و مخالطۃ و مجالسۃ و مناکحۃ و مداھنۃ و رضی باعمالکم فتصیبکم النار کما صرح بہ المفسرون المحققون من المتقدمین منھم والمتاخرین رضوان اللہ علیھم اجمعین بالجملہ قادیانیوں کے ساتھ کسی مسلمہ کا نکاح ہرگز جائز نہیں اور اگر نکاح ہو گیا تو تفریق کرا دینی چاہیے اور اگر کوئی مسلمان قادیانی ہو گیا تو اس کا نکاح بلا طلاق فسخ ہو گیا اس کی عورت کسی مسلمان صالح سے نکاح کر سکتی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ ابو طاہر البہاری عفا عنہ عفا عنہ الباری المدرس الاول فی المدرسة الاحمدیہ قد صح الجواب محمد طاہر ابن حضرت مولانا ابو طاہر دام فیضکم ۔ قد اصاب من اجاب محمد مجیب الرحمان در بھنگوی۔
(۱۱) بدایون (سنی)
مرزائیوں سے رشتہ زوجیت قائم کرنا حرام ہے۔ اگر لاعلمی سے ایسا ہو گیا تو شرعاً نکاح ہی نہ ہوا کیونکہ مسلمان عورت کا نکاح کافر کے ساتھ قطعاً حرام ہے۔ (ھکذا فی کتب الفقہ) اور اگر بعد نکاح کوئی مسلمان باغوائے شیطان عقائد کفریہ مرزائیہ کا معتقد ہو گیا تو اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور اگر عورت معتقد ہو گئی تو اس کا نکاح قائم نہ رہے گا۔ حکم مثل مرتدین کے ہو جائے گا۔
مہر محمد ابراہیم قادری بدایونی۔ مہر محمد قدیر الحسن حنفی قادری۔ الجواب صحیح محمد حافظ الحسن مدرس مدرسہ محمدیہ۔ الجواب صواب احمد الدین مدرسہ شمس ذلک کذا لک شمس الدین قادری مہر محمد عبدالحمید۔ حسین احمد۔ واحد العلوم۔ فرید پوری۔ حسین مدرس مدرسہ اسلامیہ فضل الرحمان ولایتی۔ عبدالرحیم قادری عبدالستار عفی عنہ۔ محمد عبد الماجد منظور حق مہتمم مدرسہ شمس العلوم۔
(۱۲) شہر الور، و سنبھل (سنی)
مرزا کافر مرتد ملعون خارج از اسلام ہے اور ایک ہے ان تیس میں کا جن کی خبر آنحضرت ﷺ نے دی ہے کہ میرے بعد تیس دجال کذاب پیدا ہوں گے جو اپنی نبوت باطلہ کا دعویٰ کریں گے حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور جو شخص غلام احمد قادیانی کا ہم عقیدہ ہے۔ وہ بھی کافر ہے۔ مسلمان عورت اور مردوں کا نکاح ان مرتدین کے رجال ونسا سے ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ اگر نکاح پہلے ہو چکا تھا۔ پھر زوجین میں سے کسی ایک نے ان کفریات کا ارتکاب کیا تو فوراً ہی نکاح ٹوٹ گیا۔ زن وشوہر کا جو تعلق و رشتہ تھا وہ منقطع ہو گیا۔ اب اگر صحبت ہوگی تو زنا ہوگا اور اولاد حرامی۔ حررہ العبد المسکین محمد عماد الدین السنبھلی السنی الحنفی القادری
بے شک ایسے کفری قول کرنے والا اور ایسا عقیدہ رکھنے والا اسلام سے خارج ہے اور مرتد اور اس کا نکاح مسلمانوں سے جائز نہیں۔ محمد ابوالبرکات سید احمد النوری سلمہ اللہ القوی
(۱۳) از آگرہ (اکبر آباد) و بلند شہر (سنی)
(الف)...... جو ان اقوال کفریہ کا مصدق ہے وہ کافر ہے۔ اس کے ساتھ مسلم غیر مصدق کا رشتہ زوجیت جائز نہیں اور زوجین میں سے کسی ایک کا بعد نکاح ان اقوال کی تصدیق کرنا۔ موجب افتراق ہے۔ فقط محمد مختار امام مسجد جامع آگرہ
(ب)...... ان اقوال کے قائل اور معتقد کے ساتھ نکاح مطلق جائز نہیں ہے اور ایسا نکاح موجب افتراق ہے۔ سید عبداللطیف مدرس مدرسہ عالیہ جامع مسجد آگرہ
(ج)...... قادیانی مرتد ہے اور قادیانیوں کے ساتھ نکاح مطلقاً جائز نہیں۔ اور اگر کوئی مسلمان مرد یا عورت مرتد ہو
جائے تو ان کا نکاح فسخ ہو گا۔ انتہیٰ مختصراً فقط حرره العبد الراجی رحمۃ ربہ القوی ابو محمد محمد دیدار علی الرضوی الحنفی المفتی فی جامع اکبر آباد
- (د)........ عقائد مندرجہ سوال رکھنے والا قطعاً کافر ہے۔ عورت اس کے نکاح سے باہر ہے۔ اہل اسلام کو چاہیے کہ
احکام و معاملات میں ان سے احتراز رکھیں۔ ھکذا فی کتب الاسلام خادم الطلبا محمد مبارک حسین محمودی صدر مدرس مدرسہ قاسم العلوم ضلع بلند شہر
(۱۴) از مراد آباد (سنی)
غلام احمد قادیانی کے کفریات بدیہی ہیں کہ جن پر استدلال کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لیے اس کے تابعین سے رشتہ اخوت، سلسلہ مناکحت، تعلق صحبت، ربط، ضبط، شرعاً قطعی حرام ہے۔ ہرگز ہرگز ان اسلامی روپ کے کافروں سے مومنین کو کوئی دینی تعلق نہ رکھنا چاہیے۔ ان سے نکاح زنا ہوگا۔ جو دین و دنیا میں وبال و نکال ہے۔ خادم العلماء والفقراء غلام احمد حنفی قادری مراد آبادی ۱۸ رجب ۳۶ھ۔
(۱۵) شہر لکھنؤ (از حضرات شیعہ)
- (نوٹ)........ حضرات شیعہ کے فتوے اس لیے معدودے چند ہیں کہ انھیں سوائے مجتہد کے کوئی دوسرا فتویٰ نہیں
دے سکتا۔ اور مجتہد کا فتویٰ تمام افراد شیعہ کو ماننا پڑتا ہے۔
- (الف)........ الجواب ومن اللہ التوفیق۔ عقد مسلم یا مسلمہ قادیانی یا قادیانیہ سے جائز نہیں اور اگر کوئی مسلم یا مسلمہ
خدانخواستہ قادیانی مذہب اختیار کرے تو نکاح اس کا باطل ہو جائے گا۔ واللہ العاصم۔ ناصر علی
- (ب)........ باسمہ سبحانہ۔ جو شخص ان اقوال کا قائل اور ان معتقدات کا معتقد ہو اس کا عقد ان مسلمین ومسلمات سے
اور علیٰ الخصوص مومنین وشیعیان اثنا عشر سے جو کہ ان معتقدات باطلہ کے قائل و معتقد نہیں ہیں حرام و باطل ہے اور تصدیق ان عقائد کے بعد عقد بھی موجب افتراق و بطلان عقد ہے۔ حرره السید اقا حسن
- (ج)........ باسمہ سبحانہ۔ جو شخص ان تمام امور مندرجہ استفتاء کا معتقد ہو۔ وہ کافر ہے۔ اس کے ساتھ زن مسلمہ کا عقد
ناجائز و باطل ہے اور جس زن مسلمہ کا شوہر بعد الاسلام ان عقائد کا معتقد ہو جائے۔ اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا بلکہ جمیع احکام کفر و ارتداد ایسے اعتقاد والے پر جاری ہو جائیں گے۔ واللہ اعلم۔ سید محمد الحسن عفی عنہ بقلم
(۱۶) شہر لکھنؤ۔ ندوۃ العلماء (سنی)
جو شخص ان اقوال مندرجہ استفتاء کا مصدق ہو۔ اس کے ساتھ مسلمہ غیر مصدقہ کا رشتہ زوجیت کرنا ہرگز جائز نہیں اور جو شخص کہ نکاح کے بعد ان اقوال کا مصدق اس کی یہ تصدیق ضرور موجب افتراق ہے۔ قال تعالیٰ فان علمتموهن مومنات فلا ترجعوهن الی الکفار لا هن حل لهم ولا هم يحلون لهن خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ اگر تم یقیناً معلوم کر لو کہ عورتیں مسلمان ہیں تو کبھی کفار کو واپس نہ دو۔ نہ یہ (عورتیں) ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہیں۔ واللہ اعلم کتبہ محمد عبداللہ ۱۱ جمادی الاخری ۳۶ھ
جو ان اقوال کا معتقد اور مصدق ہے وہ ہرگز مسلمان نہیں ہے اور نکاح وغیرہ ایسے لوگوں سے ناجائز ہے۔ حرره الراجی رحمۃ ربہ القوی ابو العماد محمد شبلی المدرس فی دار العلوم ندوۃ العلماء عفی عنہ مذکورہ بالا جوابات بالکل صحیح ہیں۔ عبدالودود عفی عنہ مدرس دار العلوم
ان اقوال مذکورہ استفتاء کا جو شخص قائل ہو وہ کافر ہے اور اسلام سے خارج ہے مناکحت وغیرہ اس سے جائز نہیں۔ امیر علی عفا اللہ عنہ مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء صدر مدرس
معتقد ان اعتقادات کا مسلمان نہیں ہے۔ لہٰذا کسی مسلمہ کا نکاح ان سے جائز نہیں اور اگر نکاح کیا گیا ہو وہ عدم محض سمجھا جائے گا اور تفریق واجب ہوئی۔ حیدر شاہ، فقیہ دوم دارالعلوم، ندوۃ العلماء
واقعی بعض از معتقدات مذکورہ کفر است و معتقد را بسر حد کفر رساند و کفر کہ بعد ایمان ارتداد است و با مرتد و مرتدہ نکاح ایماندار درست نیست واللہ اعلم بالصواب۔
حرره الراجی الی رحمۃ ربہ الباری محمد عبدالهادی الانصاری حفيد العلامة ملا مبين شارح السلم والمسلم اسکنه الله في اعلى عليين.
میں نے ایک عرصہ تک مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات و دعاوی کی تحقیق کی۔ دوران تحقیق میں اس امر کا خاص لحاظ رکھا کہ ذرہ بھر نفسانیت کا دخل نہ ہو لیکن خدا اس کا بہتر شاہد ہے کہ جس قدر میں تحقیق کرتا گیا۔ اسی قدر میرا یہ اعتقاد پختہ ہوتا گیا کہ جولوگ مرزا قادیانی کی تکفیر کرتے ہیں۔ یقیناً وہ حق پر ہیں۔ پس ایسی صورت میں مرزائیوں سے مناکحت وغیرہ ہرگز جائز نہیں۔ اگر نکاح ہو چکا ہے تو تفریق ضروری ہے۔ حررہ ابو الہدی فتح اللہ الہ آباد کان اللہ لہ حال مدرس اول انجمن اصلاح المسلمین لکھنؤ
(۱۷) از شہر دہلی (دارالخلافہ پنجاب) (سنی)
(الف)...... فرقہ قادیانی قطعاً منکر آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ اور اجماع امت کا ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ان سے مناکحت یقیناً ناجائز اور باطل ہے۔ حکیم ابراہیم مفتی دہلوی مدرسہ حسینیہ
(ب)...... مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ اقوال مندرجہ سوال اکثر میرے دیکھے ہوئے ہیں ان کے علاوہ اور بھی اقوال ایسے ہیں جو ایک مسلمان کو مرتد بنا دینے کے لیے کافی ہیں۔ پس مرزا قادیانی اور جو شخص ان کا ان کلمات کفریہ کا مصدق ہو سب کافر ہیں۔ تعجب ہے کہ مرزائی تو غیر احمدی کا جنازہ بھی حرام بتائیں اور غیر احمدی ان کے ساتھ رشتے ناطے کریں۔ آخر غیرت بھی کوئی چیز ہے۔ حررہ محمد کفایت اللہ غفر لہ مدرس و مفتی مدرسہ امینیہ دہلی
(ج)...... جو شخص مرزائے قادیاں کا ان اقوال مذکورہ میں مصدق ہو اس کے ساتھ مسلم غیر مصدق کا رشتہ مناکحت کرنا ہرگز جائز نہیں اور تصدیق کے بعد موجب افتراق ہے۔ حرره السيد ابوالحسن عفى عنه۔ الجواب صحيح۔ احمد سلمه الصمد مدرس مدرسه مسجد حاجی علی جان مرحوم دہلی ما اجاب المجيب فهو حق حرى ان يعمل به۔ حررہ ابو محمد عبدالله مدرس مدرسه دارالهدى کشن گنج دہلی
مرزائی بوجہ اپنے کفر کے اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے مسلمان رشتہ داری، مناکحت ومواکلت ومجالست کریں اور نہ ایسے لوگوں میں مسلمان عورت کا نکاح ہو سکتا ہے۔ حررہ الراجی عبدالرحمٰن مدرسہ دارالہدیٰ
(د)...... مرزا غلام احمد قادیانی کافر ہے اور جتنے اس کے (اقوال مندرجہ سوال ہیں) معتقد ہیں۔ سب کافر و مرتد ہیں۔ ان کے نکاح میں مسلمہ عورتیں دینا جائز نہیں۔ مسلمانو! بچو اور اپنے بھائیوں کو ان سے بچاؤ۔ حررہ احمد اللہ مدرس مسجد حاجی علی جان دہلی
الجواب صحیح۔ عبدالستار کلانوری نزیل دہلی مفتی مدرسہ دارالکتب والسنۃ ۱۰ جمادی الثانی ۳۶ھ۔
عبدالعزیز عفی عنہ۔ عبدالرحمان عفی عنہ۔ عبدالسلام خلف مولوی عبدالرحمان۔
ابو زید محمد یونس پرتاب گڑھی۔ للہ در المجیب۔ ابو تراب عبدالوہاب عفی عنہ۔ مدرسہ علی جان مرحوم
(۱۸) ہوشیار پور (سنی)
مرزائے قادیانی کے دعویٰ کاذبہ کی جو تصدیق کرتا ہے اس کا رشتہ و نکاح کسی مسلمان سے ہرگز ہرگز جائز نہیں اور جو شخص اس کے عقائد باطلہ کی تصدیق بعد عقد زوجیت کرے تو اس کی یہ تصدیق موجب تفریق اور باعث فسخ نکاح ہے۔ خادم اراکین انتظامیہ ندوۃ العلماء غلام محمد ہوشیار پوری۔ ھذا ھو الجواب الحق. کتبہ مولوی احمد علی عفی عنہ نور محلی.
(۱۹) لودھیانہ (سنی)
(الف)...... ایسے عقائد مذکور کا شخص کافر ہے بلکہ اکفر۔ ان سے رشتہ لینا دینا درست نہیں ہے۔ کتبہ العبد العاجز علی محمد عفا عنہ مدرس مدرسہ حسینیہ لدھیانہ.
(ب)...... چونکہ یہ شخص نصوص قطعیہ کا منکر ہے اور یہ کفر و ارتداد ہے۔ اس لیے ایسے کافر و مرتد سے نکاح منعقد نہیں ہوتا اور اگر قبل از ارتداد نکاح ہوا تو ارتداد سے فسخ ہو جاتا ہے۔
حررہ رحمت العلی مدرس مدرسہ غزنویہ محلہ دھولیوال الجواب صحیح محمد عبداللہ عفی عنہ مدرس مدرسہ غزنویہ۔ نور محمد از شہر لودھیانہ عاجز حافظ محمد الدین مہتمم مدرسہ بستان الاسلام لدھیانہ محلہ صوفیاں
(۲۰) لاہور (سنی و شیعہ صاحبان)
(الف)...... چونکہ مرزائے قادیانی اور اس کے پیروؤں کا کفر منجانب علمائے ہند و پنجاب قطعی ہے۔ لہٰذا ان کے ساتھ کسی مسلمہ عورت کا نکاح جائز نہیں اور بروقت ظہور مرزائیت نکاح فسخ ہو جائے گا۔ العبد نور بخش (ایم اے) ناظم انجمن نعمانیہ لاہور
(ب)...... صورت مرقومہ میں جس قدر عقائد بیان کیے گئے ہیں از روئے قرآن و حدیث کے وہ سب باطل اور کفر ہیں۔ بلکہ بعض تو حد شرک تک پہنچے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں ان عقائد کا مدعی جس طرح دائرہ اسلام سے خارج ہے اس کے مرید اور معتقد بھی چونکہ لازماً اس حکم میں داخل ہیں۔ لہٰذا ان سے مخالطت و معاشرت کرنا اور ان کو معابد و مساجد میں آنے دینا، ان پر نماز جنازہ پڑھنا، ان سے رشتہ و ناطہ کرنا شرعاً سب ناجائز اور فعل حرام۔ معصیت عظیم ہے۔ خاص کر ان کو لڑکی کا رشتہ دینے کی ممانعت تو نہایت ہی موکد اور اہم ہے۔ (لان المرءۃ تاخذ من دین بعلھا) کیونکہ عورت اپنے خاوند سے دین حاصل کرتی ہے اس لیے کہ عورت ضعیف العقل ہونے کے سبب شوہر کے دین کو اختیار کر لیتی ہے۔ اعاذنا اللہ و جمیع المؤمنین من النفس الامارۃ بالسوء والضلالۃ بعد الھدیٰ (وھو العالم) من مبارک حویلی (لاھور) خادم الشریعۃ المطھرہ علی الحائری بقلمہ.
(۲۱) شہر پشاور معہ مضافات (سنی)
عقائد مرقومہ کا معتقد اور مصدق یقیناً اسلام سے خارج ہے اور کسی مسلمان عورت کا نکاح ایسے شخص سے جائز نہیں اور تصدیق بعد از نکاح موجب افتراق ہے تمام کتب فقہ میں ہے (وارتداد احدھما فسخ فی
الخ) کہ بیوی میاں میں سے کسی کا مرتد ہونا نکاح فوراً فسخ کرتا ہے۔ حررہ محمد عبدالرحمن ہزاروی الجواب صحیح بندہ محمود شہر پشاور۔ عبدالواحد از پشاور۔ عبدالرحمان بقلم خود۔ مفتی عبدالرحیم پشاوری۔ محمد خان پوری۔ محمد رمضان پشاوری۔ مولوی عبدالکریم پشاوری۔ حافظ عبداللہ نقشبندی۔
(۲۲) راولپنڈی معہ مضافات (سنی)
جو الفاظ مرزا غلام احمد قادیانی کے استفتاء میں ذکر ہوئے یہ تمام کفریہ ہیں۔ پس عورت مسلمان کا نکاح مرزائی کے ساتھ ہرگز جائز نہیں اور اگر پہلے وہ مسلمان تھا اور پیچھے وہ مرزائی ہو گیا اور عورت مسلمان ہے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ کتبہ عبدالاحد خانپوری از راولپنڈی
محمد مجید امام الجمعہ راولپنڈی۔ سید اکبر علی شاہ متصل جامع مسجد۔ محمد کیچ مکرانی مقیم شہر راولپنڈی۔ الجواب صحیح عبداللہ عفا عنہ از مدرسہ محمد عصام الدین مدرس مدرسہ احیاء عبدالرحمان بن مولوی ہدایت اللہ سنیہ راولپنڈی۔ العلوم راولپنڈی۔ صاحب مرحوم امام مسجد اہلحدیث صدر پیر فقیر شاہ از راولپنڈی
(۲۳) شہر ملتان معہ مضافات (سنی)
بلا ارتیاب یہ تمام اعتقادات صریح کفر و الحاد ہیں۔ قائل ومعتقد ان کا خود بھی کافر ہے اور جو شخص اس کو باوجود ان اعتقادات کے مسلم یا مجدد یا نبی یا رسول مانے وہ بھی کافر اور مرتد ہے۔ اور بحکم آیت لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ مناکحت مسلمہ بمرزائی و بالعکس نہ ابتداءً صحیح ہے نہ بقاءً یعنی نہ رشتہ مناکحت ہو سکتا ہے اور نہ قائم رہ سکتا ہے اسی طرح حقوق ارث سے بھی حرمان ہو جاتا ہے۔ حررہ ابو محمد عبدالحق ملتانی
الجواب صحیح احقر العباد ابو عبید خدا بخش ملتانی عفی عنہ۔ خاکسار محمد عفی عنہ از ملتان۔
(۲۴) ضلع جہلم (سنی)
باسمہ سبحانہ۔ مرزائے قادیانی کے یہ دعاوی اور اسی قسم کے دوسرے دعاوی کفر و شرک تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کا الہام ہے کہ (الارض والسماء معک کما ھو معی) زمین آسمان جیسے خدا کے ماتحت ہیں ایسے مرزا کے بھی ماتحت ہیں ایک اور الہام ہے کہ (یتم اسمک ولایتم اسمی) خدا کہتا ہے کہ میرا نام تو ناقص رہے گا مگر تیرا نام ضرور کامل ہو جائے گا۔ پہلے دعویٰ میں شرک جلی ہے اور دوسرے میں وہ غرور دکھایا ہے کہ کسی فرعون نے بھی نہیں دکھایا۔ اس لیے جو ان اقوال کا مصدق ہو وہ بلاشبہ کافر ومشرک ہے اور کسی مسلم کو جائز نہیں کہ کسی مشرک سے تعلق زوجیت قائم رکھے اور رشتہ زوجیت قائم ہونے کے بعد ایسے عقائد کا مصدق ہونا موجب افتراق ہے۔ علاوہ ازیں مرزا نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جو اس کی نبوت کا کلمہ نہیں پڑھتا خواہ وہ مرزا کا مکفر نہ بھی ہو وہ کافر ہے اور اہل اسلام کو کافر کہنے والا خود کافر ہوتا ہے۔ پھر مرزا نے توہین انبیاء میں کچھ کمی نہیں چھوڑی لولاک لما خلقت الافلاک کے دعویٰ میں آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات پر سخت حملہ کیا ہے اور اپنے آپ کو علت تکوین عالم بتاتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا (پھر طرفہ یہ کہ دعویٰ غلامی ہے) انتہی مختصراً۔
حررہ محمد کرم الدین از بھین ضلع جہلم تحصیل چکوال
الجواب صحیح ۔ نورحسین از بادشاہانی ۔ محمد فیض الحسن مولوی فاضل بھیں ضلع جہلم
(۲۵) ضلع سیالکوٹ (سنی)
- (الف)........ مرزا کے عقائد کفر ہیں اور جو ایسے مذہب کا مصدق ہے اس کے ساتھ رشتہ زوجیت کرنا ہرگز جائز نہیں بلکہ تصدیق بعد از نکاح موجب افتراق ہے۔ من تلفظ بلفظ كفر كفر كذالك كل من ضحك عليه او استحسنه او يرضی به يكفر (قواطع الاسلام) من حسن كلام اهل الهزل وقال معنوی او كلام له معنى صحيح ان كان ذلك كفرا من القائل كفر المحسن (البحر الرائق) ايما رجل سب رسول الله ﷺ او كذبه او عابه او تنقصه فقد كفر بالله و بانت منه امرءته (کتاب الخراج للامام ابی یوسف)
ابو یوسف محمد شریف عفی عنہ کوٹلی لوہاراں مغربی ضلع سیالکوٹ
- (ب)........ مرزا کے عقائد کفریہ کا جو مصدق ہو وہ بھی کافر ہے لقولہ تعالی ومن يتولهم منكم فانه منهم. امام اعظم ابو حنیفہؒ کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور مقام استدلال پر علامت نبوت کے لیے کچھ مہلت مانگی تھی تو آپ نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جو شخص اس سے نبوت کی علامت طلب کرے گا۔ وہ کافر ہوگا کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کے اس فرمان کا مکذب قرار دیا جائے گا کہ (لانبی بعدی) میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (الخیرات الحسان لابن حجر المکی) پس مرزا کے مصدق سے رشتہ زوجیت جائز نہیں۔ کوئی کرے بھی تو کالعدم ہوگا۔
حررہ ابو الیاس محمد امام الدین قادری کوٹلی لوہاراں مغربی
- (ج)........ ایسا شخص کافر ہے اور کافر سے نکاح درست نہیں۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے۔ قال انا رسول الله او قال بالفارسية من پیغمبرم یرید به من پیغمبرم یکفر علامہ یوسف اردبیلی شافعی کتاب الانوار میں لکھتے ہیں کہ من ادعى النبوة فى زماننا او صدق مدعيا لها او اعتقد نبيا فى زمانه ﷺ او قبله من لم يكن نبيا كفرا جو شخص ہمارے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے یا یہ اعتقاد رکھے کہ آپ کے زمانہ میں یا آپ سے پہلے وہ شخص نبی تھا کہ جس کی نبوت کا ثبوت نہیں وہ کافر ہوگا۔ فقیر ابو عبد القادر محمد عبد اللہ امام مسجد جامع کوٹلی مذکور۔ الجواب صحیح سید میر حسن عفی عنہ کوٹلی لوہاراں۔ الفقیر السید فتح علی شاہ حنفی قادری از کھرونہ سیدان ضلع سیالکوٹ۔
(۲۶) ضلع ہوشیار پور (سنی)
جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کاذبہ کی تصدیق کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اہل اسلام کے ساتھ ایسے شخص کا تعلق زوجیت جائز نہیں اور ازدواج کے بعد اس کے دعاوی کی تصدیق موجب فرقت ہے۔ حررہ نور الحسن جہلمی مدرس مدرسہ خلقیہ کوٹ عبد الخالق۔ الجواب صحیح اللہ بخش پٹیالوی مدرس عربی مدرسہ خلقیہ محمد فاضل گجراتی مدرس مدرسہ خلقیہ۔ عبد الحمید جسری از کوٹ عبد الخالق۔
(۲۷) ضلع گورداسپور (سنی)
عورت اگر مرزائی عقیدہ کی ہو تو نکاح نہیں ہوگا۔ چہ جائیکہ مرد اس عقیدہ کا ہو۔ اگر بعد انعقاد نکاح یہ اعتقاد احد الزوجین کا ہو جائے تو نکاح باطل ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حررہ بندہ عبدالحق دینا نگری
مورخہ ۲۰ جمادی الثانیہ ۳۶ھ
(٢٨) ضلع گجرات پنجاب (سنی)
مرزا کے مصدق سے اہل اسلام کا باہمی رابطہ ازدواج ہرگز درست نہیں۔ فقہاء نے بعض بدعات بھی مکفرہ فرمائی ہیں۔ بھلا یہ تو صاف کفریات ہیں۔ واللہ الہادی حررہ العبد الاواہ الشیخ عبداللہ عفی عنہ از ملکہ الجواب صحیح بندہ عبیداللہ از ملکہ
(٢٩) ضلع گوجرانوالہ (سنی)
- (الف)...... جو لوگ اعتقادات مذکورہ میں مرزا کے معتقد و مصدق ہیں ان سے علاقہ زوجیت ہرگز نہ کرنا چاہیے۔
حررہ حافظ محمد الدین مدرس مسجد حافظ عبدالمنان مرحوم
- (ب)...... بیشک جن لوگوں کا ایسا عقیدہ ہے ان کے ساتھ مخالطت اور مناکحت جائز نہیں۔
حررہ عبداللہ المعروف بغلام نبی از سوہدرہ
الجواب صحیح محی الدین نظام آبادی عفی عنہ۔ عمر الدین معلم از وزیر آباد مسجد بوہڑ والی۔ خاکسار عبدالغنی۔
- (ج)...... بیشک مرزا کے کفر میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کا شریک ثابت کرتا ہے۔ اس لیے مرزائیوں
سے مناکحت ناجائز ہے۔ حررہ احمد علی بن مولوی غلام حسن از چک بھٹی
(٣٠) شہر امرت سر (سنی)
- (١)...... مدعیان نبوت و رسالت کے ارتداد و کفر میں کوئی اہل ایمان و علم متردد نہیں ہو سکتا۔ اس قسم کے لوگوں سے
رشتہ و ناطہ کرنا بالکل حرام ہے اور اگر بیوی یا میاں اب مرزائی ہو جائے تو نکاح واجب الفسخ ہے اور مقننین اہل اسلام کا فرض ہے کہ گورنمنٹ سے ایسے قانون کے نفاذ کی اپیل کریں تا کہ ہمارے مذہب اور ضمیر کے خلاف کوئی ایسا فیصلہ نہ ہو سکے کہ جس سے ہمارے حقوق تلف ہوں کیونکہ مرزائی بجائے خود رہے جو مرزائیوں کو مسلمان تصور کرے وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ ختم رسالت وغیرہ بدیہیات دین کو غیر ضروری خیال کرتے ہیں بلکہ دراصل منکر ہیں۔ حررہ ابوالحسن غلام المصطفیٰ انکھی القاسمی الامرتسری عفا اللہ عنہ
- (٢)...... مرزا غلام احمد قادیانی کی تالیفات اس کے کفر پر معتبر گواہ (شاہد عدل) ہیں جن کے سامنے اس کا ایمان
بالکل ثابت نہیں ہو سکتا۔ بالخصوص کشتی نوح ضمیمہ انجام آتھم اور دافع البلاء کو دیکھنے والا اس کے کفر میں کبھی شک نہیں کر سکتا۔ پس جو لوگ اسے نبی مانتے ہیں ان سے محبت، دوستی، رابطہ رشتہ پیدا کرنا یا قائم رکھنا جائز نہیں۔ لقولہ تعالیٰ لا تتخذوا الکفرین اولیاء من دون المؤمنین. و لقولہ تعالیٰ لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شئ. حررہ محمد جمال امام ومتولی مسجد کوچہ ستی امرت سر
- (٣)...... مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔ (دیکھو
شرح فقہ اکبر ملا علی قاریؒ) لہٰذا جماعت مرزائیہ مرتد خارج از اسلام ہے۔ سب مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت اس پر حرام ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو صحبت کرے گا وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد کہ پیدا ہوتی ہے ولد الزنا ہو گی اور مرتد جب بغیر توبہ کے مر جائے تو اس پر جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے۔ بلکہ مانند کتے کے بغیر غسل و کفن کے گڑھے میں ڈالا جائے۔ (ملاحظہ ہو کتاب اشباہ والنظائر) اللهم توفنا مسلمین والحقنا بالصالحین ولا تجعلنا من المرزائیین.
حررہ عبدالغفور الغزنوی عفا اللہ عنہ. الجواب صحیح محمد حسین مدرس مدرسہ سلفیہ غزنویہ.
(۴)...... مرزا قادیانی کا فتنہ اسلام میں آفات کبریٰ سے ہے۔ اس کا کفر علماء ربانیین نے قدیماً وحدیثاً ثابت کیا ہوا ہے۔ اہل اسلام کے اس باب میں کئی کتب و رسائل و اشتہارات موجود ہیں اور وہ اسی عقیدہ کفریہ پر مر گیا ہے۔ اب بھی جو کوئی اس کو نبی جانے اور اسی طرح کا عقیدہ رکھے وہ بھی بلا ریب بموجب شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا افضل الصلوٰۃ کافر ہے اور مومنہ سنیہ سے اس کا نکاح فسخ ہے اور مومنہ سنیہ کا نکاح مرزائی سے باندھنا حرام ہے اور یہ نکاح باطل ہے۔ قال اللہ عزوجل لاہن حل لہم ولاہم یحلون لہن الآیۃ ھذا فقط واللہ اعلم
(ابو اسحاق نیک محمد عفی عنہ مدرس مدرسہ غزنویہ تقویۃ الاسلام امرت سر۔
(۵)...... بندہ کو مضامین بالا مذکورہ میں اتفاق ہے۔ واقعی مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد باطلہ دائرہ اسلام سے اس کو خارج کرتے ہیں۔ فقط محمد تاج الدین مدرس بی این ہائی سکول امرت سر
(۶)...... مرزا غلام احمد قادیانی نے علی الاعلان دعویٰ نبوت کیا۔ اور دیگر انبیاء کی توہین کی بعض کو گالیاں دیں اور مذکورۃ الصدر سارے دعویٰ بھی کیے جن کی بنا پر وہ خود کافر ہو کر مرا۔ اس کے ماننے والے بھی کافر۔ ان سے ہر قسم کا قطع تعلق کر لیا جائے۔
(سید عطاء اللہ بخاری)
(۷)...... اقوال مذکورہ میں اکثر کفریہ ہیں جن کی تاویل سے بھی مخلصی کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ لہٰذا ان اقوال کا ماننے والا اور مصدق اس قابل ہرگز نہیں کہ اس کے ساتھ رشتہ زوجیت پیدا کیا جائے اور اگر نکاح پہلے ہو چکا ہے تو افتراق ضروری ہے۔ مسکین سلطان محمد بقلم خود جواب صحیح ہے۔ سلام الدین عفا اللہ عنہ
(۸)...... الجواب۔ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال مذکورہ بالا کا مصدق ہے اور ان کو صحیح مانتا ہے وہ شرعاً کافر و مرتد ہے اور کافر و مرتد کا نکاح عورت مسلمہ سے ہرگز جائز نہیں اور اگر بعد از نکاح تابع مرزائی ہو گیا تو فوراً نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اعلان کرنا چاہیے کہ کوئی شخص مسلمان، مرزائیوں سے زوجیت کا تعلق پیدا نہ کرے۔ حکیم ابو تراب محمد عبدالحق ۔ الجواب صحیح ابو الفتح محمد شمس الحق
(۹)...... جو شخص مرزا قادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو۔ اس کے ساتھ مسلم غیر مصدقہ کا رشتہ زوجیت کرنا جائز نہیں۔
(محمد داؤد غزنوی)
(۱۰)....... الجواب قادیانی مدعی نبوت نے جو کچھ خارج از اسلام عقائد پھیلائے ہیں وہ صاف صاف اس کے کافر ہونے پر بین ثبوت ہیں اور جس قدر اس نے اہل اسلام سے اظہار نفرت کیا ہے۔ اسی قدر ہم بھی اس کے ہم عقیدہ اور مریدوں سے نفرت کریں تو ہمارے مذہبی احساس کا نتیجہ ہوگا۔ اس لیے جملہ اہل اسلام کو ضروری ہے کہ ان سے قطع تعلق کریں اور بالخصوص مناکحت اور کفن دفن سے ضرور اجتناب کریں۔ نور احمد عفی عنہ پسروری ثم امرت سری۔ ۲۵ شوال ۱۳۳۸ھ۔ الجواب صحیح غلام محمد مولوی فاضل منشی فاضل اوّل مدرس دینیات اسلامیہ ہائی سکول امرت سر۔ الجواب صحیح محمد نور عالم ۔ مولوی فاضل منشی فاضل مدرس عربی اسلامیہ ہائی سکول امرت سر۔
(۱۱)...... میری مدتوں کی تحقیق میں اچھی طرح سے ثابت ہو چکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کافر قطعی اور کذاب یقینی ہے اور جو لوگ دیدہ دانستہ اس کے تابعدار اور اس کے مذہب کے پابند ہیں ان کے کفر میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے پس مسلمہ عورت کے ساتھ مرزائی مرد کا نکاح فسخ ہے۔ (لاہن حل لہم ولاہم یحلون لہن) بلا طلاق اور جگہ نکاح جائز ہے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن نہ ہونے دیں ایسے کافر ہیں کہ پہلے زمانوں میں ان
کی نظیر نہیں ملتی۔ والعلم عنداللہ محمد علی عفا اللہ عنہ ۲۷ شوال ۱۳۳۸ھ
(۱۲)...... بحکم حدیث شریف زوجوا من ترضون دینه مرزائی سے محمدی خاتون کا نکاح نہ ہونا چاہیے اور اگر ہو جائے تو فسخ کرا لینا چاہیے۔ (ابو الوفاء ثناء اللہ)
(۳۱) فتح گڑھ چوڑیاں ضلع گورداسپور (سنی)
قال المرزا ما تعريبه و تلخيصه كنت اعتقد ان المسيح فى قبل الوحى بانه قد مات فثبت به ان القول بحيوته من الشرك والكشف على ان الجنة والنار لذات والآم روحانية وان ربنا اى (ناب الفيل) وهو قيوم و وجود له من الايدى والاقدام والجوارح والقوى مالا يدركه مدرک و ركب له من الاعصاب والعروق مالا يحيط به محيط بها تتم ارادته فى العالم هذه الاعضاء والعروق هى المسماة بالعالم. وان الاخبار بنزول المسيح واشراط الساعة ليست على ظواهرها ولها معان كانت مخزونة لم يطلع عليها احد الى يومنا هذا بل ولم ينكشف لمحمد ﷺ الامور الخمسة الدجال دوابته ودابة الارض وابن مريم وياجوج ماجوج فنزل الوحى بان دابة الارض علماء هذ الزمان وياجوج ماجوج اقوام اوروبا الدجال علماء البرطانيه ودابتها مركب الدخان وابن مريم انا فى تحصيل صفاته الذاتيه ولما جرت سنة الله ببعث الانبياء اذ غلبت داعية الشر لم يكن بد من نبى فى هذه الايام وقد كان الله وعد انه يبعث فى امته محمد نبيا كابراهيم اذا تفرقت على فرق كثيرة فلن ينجو الا من تبعه. فسمانى الله اسماء الانبياء من آدم الى محمد ﷺ ومن قبل كنت احسب ان المسيح نبى غير انى ادنى منه فى مرتبته و كنت اذ ظهر لى فضلى ما احسبه انها فضيلة جزوية ولكن لما اخذت تنزل على من الوحى الامطار الموصلة الدر فلم يدعنى الله عليه فاعطيت منه النبوة وانما اعطيتها اذ فنيت فانى فى اتباع محمد ﷺ فنبوتى لا تنافى ختم الرسالة. والذى نفسى بيده انه هو سمانى مسيحا موعود او جعلنى نبيا صدقنى بالآيات فانا آخر الخلفاء على قدم عيسى وما كان لمومن ان يكفر بى فانه كفر بكتاب الله ولا يفلح الكافر حيث اتى. ولم يختص احد باسم النبوة سواى حتى فى هذا الزمان فما اوحى الى فهو منزه عن الخطاء والنسيان فيا ايها المسلمون ما اعلمكم فهو ملاك النجاة من النار و أعلموا انه ما يخالفنى من الاحاديث رميته كمز جاة من البضاعة فلما آمنت بما اوحى الى كما آمنت بالقرآن اعتقدته قطعيا فكيف يرى ان آمن باحاديث ظنية او موضوعة تخالفه و فضلنى الله على المسيح الناصرى والله لو كان المسيح اليوم لما ظهر له من الآيات ماظهرت لى بل ولم يظهرها الله لنبى قبلى مثل ما اظهرها لى ما خلا محمدا ﷺ بل انما ظهرت له ثلث آلاف و ظهرت لى ثلثهماية آلاف ولم يخل منها شهر فلما ثبت عند الله وعند جميع المرسلين ان المسيح الموعود فى هذا. الزمان افضل من المسيح الناصرى فلم يشق على الناس افضل كنفسى عليه اذ كان المسيح يعتاد الكذب و يشرب الخمر و من جداته بغايا و يحيى افضل منه اذ لم يكن يشرب الخمر ولولم استنكف عن عمل الصلب لما زادنى المسيح فى المعجزات وقد غلط اربعماية نبى فى اخبار هم بالغيب لكن لم يغلط احدمنهم ماغلط المسيح فيه. وقال لى الله لولاك لما خلقت الافلاك وكم من سرير قد تسفل و سريرک فوق
السرر كلها وانت من مائنا وهم من فشل وانت منى بمنزلة اولادى وانت منی وانا منک وفضلنی الله بخسف القمرين وفضل محمد ﷺ بخسف القمر و مرة جعلنی الله امرأة اظهر عليها قوة الرجولية فيريدون ان يرو مرة جالست الله وكتبت انا بيدى من الواقعات والحوادث كيف اريدها وقبله الله و كتب التصديق بقلمه و فتطاير رشحات بقلمه على خادمی ولما غلب على الالوهية خلقت السماء والارض و خلقت آدم. انتهى ما قال وله مثله هفوات لا تحصى وما ذكرنا فيه كفاية لما نريد ان نقول.
فنقول ان المرزا ادعى فيما ذكرنا وفاة المسيح، القول بحيوة المسيح شرك، الجنة والنار لا حقيقة لهما، الله جسم غير متناه، النصوص ليست على ظواهرها، فوقية نفسه على رسولنا ﷺ علماً، النبوة لنفسه، دوامها بعد ختم الرسالة، تحصيل النبوة بالاكتساب، التمثل بعيسى بل بجميع الانبياء، فضيلة نفسه على المسيح، الازراء، الوحى، ضرورة الايمان به، المجالسة بالله، المجانسة به، كونه زوجة الله، ولدا الله، كونه قيم الله في كائناته، واتحاد ذاته بذات الله، شركته فى صفة الخلق و قدرته فهذه عشرون امراً كله كفر يخالف الاسلام بل و تصديق المرزا فيه من الكفر وكفى منها للرجل فى كفره واحد فكيف اذا اجتمعت جميعاً في قائلها لا اقول ذلك وحدى بل صرح بكفره من الائمة المتقدمين القاضى عياض في الشفاء والملا على القارى فى شرح الفقه الاكبر وابن حجر وآخرون فى مصنفاتهم، و نحن نذكر نبذة مما قالوا قال على القارى، دعوى النبوة بعد نبينا كفر بالاجماع قال ابن حجر فى فتاوى من اعتقد وحياً بعد محمد رسول الله ﷺ كان كافراً باجماع المسلمين. قال الشيخ الاكبر فى الفتوحات اسم النبي زال بعد محمد ﷺ قال القاضي عياض من ادعى نبوة احد مع نبينا ﷺ او بعده كالعيسوية من اليهود القائلين بتخصيص رسالته الى العرب وكالخرمية القائلين بتواتر الرسل وكالبربغية والبيانية منهم القائلين بنبوة بزيغ وبيان واشباه هولا واو من ادعى النبوة لنفسه او جوز اكتسابها والبلوغ بصفاء القلب الى مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذلك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة وانه يصعد الى السماء او يدخل الجنة و ياكل من اثمارها و يعانق الحور العين فهو كافر وكلهم مكذبون للنبي ﷺ لانه اخبر انه ﷺ خاتم النبيين وانه لانبى بعده واخبر عن الله انه خاتم النبيين و انه ارسل كافة للناس و اجتمعت الامة على حمل هذا الكلام على الظاهر وان مفهوم المراد به دون تاويل و تخصيص فلاشك فى كفر هولاء الطوائف كلها قطعاً اجماعاً سمعاً ومن اعتقد ان الله جسم او المسيح او بعض من يلقاه فى الطريق فليس بعارف به فهو كافر و كذلك من ادعى مجالسة الله والعروج اليه و مكالمته و حلوله فى الاشخاص او استخف بمحمد ﷺ او باحد من الانبياء او آذاهم او قتل نبياً او حاربه او زرى بالانبياء فهو كافر باجماع المسلمين و كك من جوز على الانبياء الكذب فيما اتوا به وادعى فى ذلك المصلحة او لم يدعها فهو كافر بالاجماع و كذلك من قال ان المراد بالجنة والنار والحشر والنشر والثواب والعقاب معانى غير ظاهرة وانها لذات روحانية ومعانى باطنة وكك تقطع بتكفير كل قائل قولاً يتوصل به الى تضليل الامة او
تكفير جميع الصحابة وقال محمد من تنباء يستتاب اسر ذلك او اعلنه وهو كالمرتد قاله سحنون وغيره.
فان قيل ان لكلام المرزا تاويلات كالصوفية قلنا من قال بكلمة الكفر من الصوفية كفر و استتيب او رجع مما قال على ان للتاويل مجالا لمن آمن بنبوته ومن لا يحسن الظن به فيكفره قطعا وان قيل ان المرزائية من اهل القبلة قلنا انهم انكروا نصوصا قطعية عند جميع المسلمين و اولوها لم يقل به احد من الائمة فلا ريب فى كفرهم وان كانوا من أهل القبلة ونحن لم نكفرهم مالم ياتوا بصريح الكفر ولم يخالفوا القطعيات الاترى الى قوله عليه السلام لا يقبل الله لصاحب بدعة صوما ولا صلوة ولا حجا ولا عمرة ولا جهادًا ولا صرفا ولا عدلا يخرج من الاسلام كما تخرج الشعرة من العجين. يخرج فى آخر الزمان قوم يقولون من خير قول الناس يقرؤن القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الاسلام كما يمرق السهم من الرمية وعن ابي سعيد ومالك بن انس مرفوعًا قوم يحسنون القيل و يسيؤن الفعل فثبت ان المرزائية وان كانوا من اهل القبلة كفار لانهم انكروا بديهيات الاسلام و مسلماته قال على القارى فى شرح الفقه الاكبر ثم اعلم ان المراد باهل القبلة الذين اتفقوا على ماهو من ضروريات الدين كحدوث العالم فمن واظب طول عمره على الطاعات مع اعتقاد قدم العالم او نسى الحشر لايكون من اهل القبلة.
فلما ثبت كفر المرزائية و شركهم لم يكونوا كفوا للمسلمين فلا يجوز التناكح بهم لقوله تعالى و لا تنكحوا المشركات حتى يؤمن ولامة مؤمنة خير من مشركة ولو اعجبتكم ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا و لعبد مؤمن خير من مشرك ولو اعجبكم اولئك يدعون الى النار والله يدعوا الى الجنة والمغفرة باذنه فان علمتموهن مؤمنات فلا ترجعوهن الى الكفار لاهن حل لهم ولاهم يحلون لهن ولا تمسكوا بعصم الكوافر.
رقمه عبدالحى عفا الله عنه ۴ ذیقعده ۱۳۳۸ھ ولا يجوز لاهل الاسلام ان يعاملوا المرزائية فى امر دينيًا كان او غير ديني انا العاجز محمد فاضل بن المولوى محمد اعظم مرحوم فتح گڑھی. مرزائیوں سے نکاح ہی درست نہیں چہ جائیکہ اختلاط محمد عبداللہ فتح گڑھی۔
تمت هذه الفتاوى فالمرجو من المسلمين ان يعملوا بها اوائل ذى الحجة ۱۳۳۸ هجرية مقدسة
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائی کا جنازہ اور مسلمان
ایک لمحہ فکریہ
از
حضرت مولانا احمد سعید گوجرانوالہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد للہ و کفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفے خصوصاً علی خاتم الانبیاء سیدنا و شفیعنا محمد والہ و اصحابہ اجمعین۔
برادران اسلام! تمام مسلمان خواہ وہ کسی مکتب فکر اور کسی بھی نظریہ سیاست سے تعلق رکھتے ہوں اس بات کو بخوبی جانتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ کائنات کا خالق و مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے سچا یقینی مذہب اور دین صرف اسلام ہی ہے۔ اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامِ اس کے سوا تمام مذاہب اور ادیان باطل غلط اور بے بنیاد ہیں۔ اس دین اسلام کی شمع روشن کرنے والے اور جن و انس کو راہِ راست بتانے والے ہادی حضرت نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول نبی برحق رحمت اللعالمین ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے حضرت آدم ؑ سے لے کر حضور خاتم النبیین ﷺ کے مبارک زمانہ تک مختلف اوقات میں انبیاء و رسول مبعوث فرمائے سب سے آخری حضور نبی کریم ﷺ کو ختم نبوت کا مبارک تاج عطا فرما کر نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم و بند کر دیا اس پر سب مسلمانوں کا ایمان ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی دور و زمانہ میں کسی قسم کا کوئی نبی و رسول نہیں ہو سکتا۔ نہ حقیقی نبی اور نہ ہی عکسی ظلی و بروزی وغیرہ جیسا کہ متعدد آیات قرآنی میں اس کا ذکر ہے۔
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًاo (احزاب ۴۰) ”حضرت محمد ﷺ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں (یعنی تمام نبیوں سے آخر میں آنے والے ہیں)“
یہ بات فیصلہ کن ہے کہ حضور ﷺ کی نبوت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمام ممالک اور اقوام عالم جن و انس کے لیے ہے۔
اِنَّمَا اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍo (رعد ۷) ”بے شک آپ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں اور ہر ایک قوم کی رہنمائی کرنے والے ہیں۔“
اسی طرح اللہ تعالیٰ سورہ اعراف میں آپ کی نبوت عام کا اعلان فرماتے ہیں۔
قُلْ يٰاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا. (اعراف ۱۵۸) ”اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔“
اور احادیث صحیحہ میں نبی کریم ﷺ کے صاف ارشادات موجود ہیں جو قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔
”خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّوْنَ“ میرے اوپر اللہ تعالیٰ نے نبوۃ کا سلسلہ ہی ختم کر دیا۔
”اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ.“ میں نبیوں کے آخر میں آنے والا ہوں میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اور نہ ہی کسی قسم کی نبوت کسی کو مل سکتی ہے بلکہ آپ کی نبوت ابدی ہمیشہ کے لیے قائم و دائم ہر زمانہ
، یکساں مساوی ہے۔ تمام دنیا کے مسلمانوں کا یہ اجتماعی و اتفاقی فیصلہ کن عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد میں کسی زمانہ میں کسی قسم کی نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے تو وہ از روئے قرآن و سنت اور اجماع امت ن کافر مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ حضور ﷺ کی مبارک زندگی میں جب مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی بدبختوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تو صحابہ کرامؓ نے ان پر ارتداد اور کفر کا قطعی حکم لگایا اور ان کی سرکوبی کی۔ اس ، بعد وقت بوقت ایسے خبیث بد باطن قسم کے انسان نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتے رہے اور ساتھ ساتھ ان کی سرکوبی ہوتی رہی۔ پھر جب برصغیر پاک و ہند میں مرزائے قادیانی نے انگریز کے زیر سایہ اور اس کے حکم (خود کاشتہ پودا ہونے) سے دعویٰ نبوت کیا تو علماء امت نے ابتداءً دہلی میں جون ۱۸۹۱ء کے اجتماع عظیم میں اور پھر تمام دنیا کے مسلمانوں نے بالاتفاق اس کے مرتد اور کافر ہونے کا فتویٰ دیا۔ اور مرزا کو کسی قسم کا پیشوا ماننے والے کو بھی اسی طرح مرتد و کافر کہا اور مسلمانوں کو ہمیشہ لگا تار اس کی گمراہی سے بچانے کے لیے پوری جدوجہد اور کوشش کی۔ اس ملک کے باشندے اس جدوجہد سے بخوبی واقف ہیں ۵۳ء کی ”تحریک ختم نبوت“ اور لاہور کا مارشل لاء جنرل اعظم خان کا فدایانِ ختم نبوت پر فائرنگ اور مسلمانوں کا بخوشی جامِ شہادت نوش کرنا پھر منیر انکوائری رپورٹ اس کا ایک بین ثبوت اور سرکاری شہادت ہے تمام دنیا کے مسلمانوں کا یہ اتفاقی عقیدہ ہے کہ مرزائے قادیاں کو کسی قسم کا پیشوا ماننے والے مرزائی قطعاً مسلمان نہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے کسی گروہ و فرقہ میں شمار ہو سکتے ہیں۔ ان کا مذہب ان کا فرقہ اسلام اور مسلمانوں سے بالکل جدا ہے۔ ان کا نکاح، جنازہ، مرگ و خوشی مسلمانوں سے الگ ہیں۔ کوئی مرزائی اپنی لڑکی کسی مسلمان کے نکاح میں نہیں دیتا اور نہ کسی مسلمان کو کسی مرزائی سے نکاح جائز ہے۔ اگر خاوند بیوی میں سے کوئی العیاذ باللہ مرزائی ہو جائے تو اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مرزائی کا جنازہ پڑھے یا اس کے لیے دعا مغفرت کرے اور اس کی قبر پر جائے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا صاف ارشاد موجود ہے کہ کافر مشرک اور منافق کے لیے استغفار کرنا اور اس پر نماز جنازہ پڑھنا قطعاً حرام ہے۔
وَلَا تُصَلِّ عَلَى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ ط اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَمَاتُوْا وَهُمْ فَاسِقُوْنَ o (توبہ ۸۴) ”اے نبی ﷺ اور نماز جنازہ نہ پڑھیں ان میں سے کسی پر جو مر جائے کبھی بھی اور نہ کھڑے ہوں اس کی قبر پر وہ منکر (کفر کرنے والے) ہوئے اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور وہ مر گئے نافرمان۔“
اللہ تعالیٰ مزید دوبارہ حضور نبی کریم ﷺ اور تمام ایمان والوں کو خطاب فرما کر منع کر رہے ہیں۔
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْا كَانُوْا اُوْلِي قُرْبٰى مِنْ بَعْدِمَا تَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحَابُ الْجَحِيْمِ. (توبہ ۱۱۳) ”لائق نہیں نبی ﷺ کو اور مسلمانوں کو کہ بخشش چاہیں (اللہ سے) مشرکوں کے لیے اور اگرچہ وہ ہوں قرابت والے جبکہ صاف ظاہر ہو چکا ان پر کہ وہ ہیں دوزخ والے۔“
اور مرزائی تو کافر مرتد ہیں۔ مرتد کا درجہ مشرک اور منافق سے زیادہ بدتر ہے۔ ان پر نماز جنازہ پڑھنا اور دعا مغفرت کرنا اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم ﷺ کی صریح نافرمانی اور بغاوت ہے۔
مرزائی مسلمانوں سے بالکل الگ ہیں یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے حق میں ان سے زیادہ خطرناک گروہ کوئی نہیں۔ ان کی سازشوں کا جال بیرونِ ملک تک پھیلا ہوا ہے۔ صرف ایک تازہ واقعہ کی طرف آپ کو توجہ دلائی جاتی ہے کہ مرزائیوں نے تمام ممالکِ اسلامیہ کے دشمن اسرائیل (یہودی) جیسے
مکار خبیث ملک میں اپنی تبلیغی مشنری وہاں کے عرب مسلمانوں کو مرتد کرنے کے لیے قائم کر رکھی ہے، جبکہ حکومت پاکستان اور اکثر اسلامی ممالک کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں۔
”گوجرانوالہ کی میونسپل کمیٹی کے ذمہ دار مسلمان افسران سے“
جس طرح مسلمانوں کو مرزائیوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں اسی طرح مرزائیوں کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی از روئے شریعت جائز نہیں ان کا قبرستان بھی عیسائیوں، یہودیوں کی طرح بالکل الگ ہونا چاہیے۔ مسلمانان گوجرانوالہ کے لیے یہ بات کس قدر شرمناک ہے کہ ان کے قدیم قبرستان میں ان کے اموات کے ساتھ ساتھ مرزائی بھی دفن کیے جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں میونسپل کمیٹی کے مسلمان ممبران ارباب بست و کشاد افسران اور ذمہ دار حضرات کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات احساسات اور مذہبی عقیدہ کا لحاظ کرتے ہوئے مسلمانوں کے قبرستان سے الگ اور جدا مرزائیوں کے لیے قبرستان متعین اور مقرر کریں۔ مرزائیوں کو مسلم قبرستان میں دفن ہونے کی ہرگز اجازت نہ دیں اور قانوناً ان کو روک دیں کیونکہ اس سے دین و مذہب کی روح مجروح ہوتی ہے اور عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھنے والے مسلمانوں کے دل زخمی ہوتے ہیں۔ افسران بااختیار کی اس چشم پوشی کی وجہ سے مرزائی بعض سادہ لوح مسلمانوں کو یہ دھوکہ دے دیتے ہیں کہ جب ہمارا قبرستان ایک ہے تو ہم سب مسلمان ہیں تو وہ مسلمان ان کے جنازہ میں بھی شریک ہو جاتے ہیں اس کی تمام ذمہ داری میونسپل کمیٹی کے بااختیار حضرات پر ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ میونسپل کمیٹی کے افسران اور ذمہ دار حضرات اپنے اسلامی جذبات کے پیش نظر قریبی اجلاس میں اس مسئلہ پر غور و فکر فرما کر ہماری اس گذارش کو منظور کر کے اسلام اور مسلمانوں پر احسان عظیم اور ایک بہترین مثال قائم کریں گے۔
قادیانیوں کے نزدیک تمام دنیا کے مسلمان کافر ہیں
یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مرزائی مسلمانوں کو اپنے عقیدہ کے مطابق مسلمان نہیں سمجھتے بلکہ ہر وہ انسان جو مرزا آنجہانی کی نبوت کا قائل نہ ہو اس کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج یقین کرتے ہیں۔ مندرجہ ذیل حوالجات بطور نمونہ ملاحظہ کریں۔
- ۱...... ”مجھے خدا کا الہام ہے جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا
اور رسول (مرزا غلام احمد قادیانی) کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(اشتہار معیار الاخیار مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۵)
- ۲...... ”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا
کا امین، اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ۶۲ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
- ۳...... ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں
کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(مکتوب بنام ڈاکٹر عبدالحکیم تذکرہ ص ۶۰۷)
- ۴...... ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے۔ مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے
مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۱۰)
۵....... ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی (مرزائے قادیاں) کے منکر ہیں، یہ دین کا معاملہ ہے اور اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ص ۹۰)
۶....... ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوتے خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔ (آئینہ صداقت ص ۳۵)
۷....... ”پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمھارے اوپر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو ۔“
(اربعین ص ۲۸ حاشیہ نمبر ۳ خزائن ج ۱۷ ص ۴۱۷)
”قادیانی مذہب میں مسلمان کو مرحوم کہنا اور معصوم بچے تک کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں“
۸....... ”سوال:۔ کیا کسی شخص کی وفات پر جو سلسلہ احمدیہ میں شامل نہ ہو یہ کہنا جائز ہے کہ خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے اور مغفرت کرے۔“
جواب:۔ غیر احمدیوں (مسلمانوں) کا کفر بینات سے ثابت ہے اور کفار کے لیے دعائے مغفرت کرنا جائز نہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ۷ فروری ۱۹۲۱ء جلد ۸ نمبر ۵۹)
۹....... ”ایک صاحب نے عرض کیا کہ غیر مبائع (لاہوری پارٹی کے مرزائی) کہتے ہیں کہ غیر احمدی کے بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو معصوم ہوتا ہے اور کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ بچہ جوان ہو کر احمدی ہوتا۔ اس کے متعلق (میاں بشیر الدین محمود احمد خلیفہ قادیان) نے فرمایا جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا۔“
(ڈائری مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ۲۳ اکتوبر ۱۹۲۲ء ج ۱۰ نمبر ۳۲ ص ۶)
۱۰....... ”غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے اس لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں۔ میں سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندو اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔“
(انوار خلافت ص ۹۳)
مرزائی مذہب میں مسلمانوں کو لڑکیاں دینا حرام ہیں
۱۱....... ”حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔“
(برکات خلافت ص ۷۵ از مرزا محمود قادیانی)
۱۲....... ”غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے وہ نکاح جائز ہی نہیں۔“
(برکات خلافت ص ۷۳ از مرزا محمود قادیانی)
۱۳....... ”جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا کوئی غیر احمدیوں میں سے ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو، مگر وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو ۔“
(ملائکۃ اللہ ص ۴۶ از مرزا محمود قادیانی)
دو قسم کے تعلقات
- ۱۳...... ”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا ان کے جنازے پڑھنے
سے روکا گیا ہے...... جو کام ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی، دوسرے دنیوی، دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے۔ تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۶۹ از مرزا بشیر احمد پسر مرزا آنجہانی)
مقام عبرت
مذکورہ بالا حوالہ جات کو بار بار پڑھیں اور غور و فکر کریں کہ مسلمانوں کی نسبت جب مرزا آنجہانی اور اس کے تمام ماننے والوں کے یہ بد عقائد اور نظریات ہیں تو اب مرزائی ایک مستقل اور مسلمانوں سے الگ امت (فرقہ) نہیں تو اور کیا ہیں۔ بنا بریں ان کو مسلمان سمجھنا ان سے تعلقات بحال رکھنا میل جول مسلمانوں کی طرح برت برتاؤ کرنا ان کی غمی و خوشی میں شریک ہونا ان کے مردوں کا جنازہ پڑھنا انتہائی بے غیرتی اور گمراہی ہے جس مسلمان کو اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ سے صحیح محبت و عقیدت ہے اس کی غیرت ایمانی مرزائیوں سے کسی قسم کے تعلق کو قطعاً نہیں برداشت کر سکتی۔ مسلمانوں کے لیے یہ مقام عبرت اور لمحہ فکریہ ہے ایمان و محبت رسول ﷺ کا امتحان ہے۔ کل قیامت کے دن تم سے ضرور پرسش ہوگی جواب کے لیے تیار رہو وہاں کسی کی رشتہ داری برادری اور دوستی کام نہیں آئے گی بلکہ صحیح ایمان سچی محبت ختم نبوت کا صحیح عقیدہ اور درست اسلام کے مطابق اعمال صالحہ کام آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو صراط مستقیم اور اسلام کے سچے عقیدہ پر ثابت قدم رکھے۔
قائد اعظم کا جنازہ اور سر ظفر اللہ قادیانی
پاکستان کے بانی اور گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کا جب انتقال ہوا تو تمام ملک غم و سوگ میں ماتم کدہ بنا ہوا تھا اور دور دور سے مسلمان جوق در جوق اپنے محبوب رہنما کے جنازہ کے لیے کراچی پہنچ رہے تھے جب نماز جنازہ شروع ہوا تو سر ظفر اللہ قادیانی جو اس وقت پاکستان کا وزیر خارجہ اور ملازم تھا۔ صفوں سے الگ ہو کر عیسائیوں میں بیٹھ گیا اور جنازہ کی نماز نہ پڑھی اور نہ ہی جنازہ میں شریک ہوا۔ اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب ہزاروی ڈسٹرکٹ خطیب ہزارہ، ایبٹ آباد نے جب ظفر اللہ سے سوال کیا کہ تم نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا تو ظفر اللہ قادیانی نے صاف جواب دیا کہ مولانا آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان ملازم یا مسلمان حکومت کا کافر ملازم سمجھیں۔
یہ واقعہ اور بیان مسلمانوں کی غیرت اسلامیہ کے لیے ایک کھلا چیلنج اور دعوت فکر ہے کہ مرزائی تو مسلمانوں کے ایک معصوم بچے کا جنازہ نہ پڑھیں اور معصوم بچے کا جنازہ پڑھنا حرام سمجھیں اور ان کا بڑے سے بڑا مشہور آدمی کسی مشہور مسلمان اور خاص کر پاکستان کے بانی گورنر جنرل کا جنازہ بھی نہ پڑھے اور عیسائیوں کی طرح جنازہ کی صفوں سے الگ ہو کر بیٹھ جائے اور جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے جنازہ کیوں نہیں پڑھا تو صاف جواب دے کہ کافر اور مسلمان ایک دوسرے کا جنازہ نہیں پڑھتے۔ مگر یہاں مسلمان ہیں کہ محض برادری اور دوستانہ کی وجہ سے مرزائی کا جنازہ پڑھتے ہیں اور ان کو شرم نہیں آتی، مگر یہ شرم اور صد افسوس کا مقام ہے۔
گوجرانوالہ میں ایک ناخوشگوار واقعہ
گوجرانوالہ کے محلہ باغبانپورہ میں ایک مشہور مرزائی میت کے جنازہ میں بدقسمتی سے کئی مسلمان بھی محض برادری سسٹم کے لحاظ و ملاحظہ کی وجہ سے شریک ہو گئے اور سب سے زیادہ غم انگیز قابل صد افسوس بات یہ ہوئی کہ ایک مولوی صاحب نے مرزائیوں کی اجازت سے مسلمانوں کو الگ نماز جنازہ پڑھایا جب کہ مرزائی پہلے خود جنازہ پڑھ چکے تھے جب اس کا چرچا شہر میں ہوا تو عوام اور خواص میں سخت ہیجان پیدا ہوا۔ چنانچہ مختلف مکاتب فکر کے علماء سے فتویٰ دریافت کیا گیا تو ہر ایک عالم نے الگ الگ فتویٰ لکھا۔ ان تمام جوابات کا قدر مشترک درج ذیل ہے۔
از روئے شریعت مرزائی مرتد، کافر، دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہیں۔ اور ان کو مسلمان سمجھنا کفر ہے، ان کا جنازہ جائز سمجھ کر پڑھنے پڑھانے والے عمداً یہ جانتے ہوئے کہ یہ میت مرزائی ہے تو وہ سب لوگ میت کی طرح کافر مرتد ہو گئے ان کو تجدید اسلام اور تجدید نکاح کرنا چاہیے توبہ استغفار کریں اور آئندہ کے لیے عہد کریں کہ کبھی ایسی حرکت نہ کریں گے۔ البتہ وہ لوگ جو اتفاقاً شریک ہوئے اور بالکل بے خبر تھے ان کو میت کے حال کا علم نہیں تھا وہ صرف توبہ استغفار کریں اور آئندہ کے لیے محتاط رہیں۔ چنانچہ اس مختصر سے پمفلٹ میں ان تمام علماء کے فتاویٰ درج کر دیے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اس سے پوری آگاہی ہو اور آئندہ اس قسم کی غلطی کے ارتکاب سے محتاط رہیں۔
فتویٰ اَلْاِسْتِفْتَاء : کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین کہ (۱)...... ایک مولوی صاحب باوجود علم و یقین کے ہوتے ہوئے کہ یہ میت مرزائی کی ہے عمداً نماز جنازہ پڑھائے اور اس کے لیے دعا مغفرت کرے۔ (۲)...... اس امام کے پیچھے مسلمان مقتدی باوجود میت کو مرزائی یقین کرتے ہوئے نماز جنازہ پڑھیں اور دعا مغفرت کریں ان کا کیا حکم ہے کیا یہ مسلمان رہے یا نہ اور ان کا پہلا نکاح باقی رہا یا نکاح ٹوٹ گیا، نکاح ثانی ہونا چاہیے۔ بینوا توجروا.
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جوابات
۱......محقق العصر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا جواب
الحمد للّٰہ و کفی و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفےٰ خصوصاً علیٰ سیّد الرسل والانبیاء الذی لا رسول بعدہ ولا نبی ومن ادعیٰ فقد شقی وھوی۔
اما بعد! دینی طور سے دنیا میں بڑے بڑے فتنے رونما ہوئے ہیں جن کے قلع قمع کرنے کے لیے علماء امت اور صلحاء ملت نے اپنی استطاعت کے مطابق کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور باطل پرستوں کے شکوک و شبہات کو دلائل و براہین کے بے خطا ہتھیاروں سے چکنا چور کر کے رکھ دیا اور فضائے آسمانی میں ان کی دھجیاں بکھیر دیں اور ان کے بخیئے ایسے ادھیڑے کہ دنیا بھر کے رفو گر بھی ان کو ملا نہ سکے، ان فتنوں میں سے اس دور کا ایک عظیم فتنہ قادیانیت ہے جس کے بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی تھے جن کے کفر پر تمام علماء اسلام متفق اور یک زبان ہیں۔
مرزا آنجہانی کی تکفیر کے تین اصول ہیں
- (۱)...... حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کا انکار اور ختم نبوت کے مسلم معنی میں بے جا تاویل اور اپنی مصنوعی
اور خود ساختہ نبوت کے لیے چور دروازہ کی گنجائش۔
- (۲)...... حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور ان کے نزول کا انکار اور اس کی دور از کار اور لایعنی تاویلات۔
- (۳)...... حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین۔
یہ تین اصول ہیں جن کی وجہ سے علماء ملت نے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکاروں کی تکفیر کی ہے اور اس میں وہ سو فیصدی حق بجانب ہیں اور اس میں ایک رتی بھر شک و شبہ کی مطلقاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اصل اوّل...... مرزا قادیانی نے کھلے لفظوں میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے، چند حوالے ملاحظہ ہوں۔
- ۱...... ”حق یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل
اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص۲ خزائن ج۱۸ ص۲۰۶)
- ۲...... ”مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی
قرآن شریف اور دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے اوپر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(روحانی خزائن جلد۲۲ ص۲۲۰، حقیقۃ الوحی ص۲۱۱)
- ۳...... الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف
سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔
(روحانی خزائن ج۱۱ حاشیہ انجام آتھم ص۶۲)
- ۴...... اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور میرا
نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے
نشانات ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔
(روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۵۰۳، تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۶۸)
- ۵....... خدا وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔
(روحانی خزائن ج ۱۷، ص اربعین نمبر ۳ ص ۳۶)
- ۶....... اور اگر کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ کہ ہر مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بلا دلیل ہے خدا
نے افترا کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا پس اس تعریف کی وجہ سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی مثلاً یہ الہام قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَهُمْ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔
(روحانی خزائن ج ۱۷ ص اربعین نمبر ۴ ص ۶)
اس عبارت سے صاف طور پر یہ بات ثابت ہو گئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تشریعی نبوت کا بھی تھا اس لیے ان کے اتباع و اذناب کی یہ تاویل کہ وہ غیر تشریعی نبی تھے سراسر باطل ہے اور اسی طرح ظلی اور بروزی کا دعویٰ بھی قطعاً مردود ہے کیونکہ سایہ ذی سایہ کے تابع ہوتا ہے اگر اصل اور ذی سایہ مثلاً تین دفعہ اٹھتا بیٹھتا اور حرکت کرتا ہے تو سایہ بھی اتنی دفعہ اٹھے بیٹھے گا اور حرکت کرے گا یہ نہیں کہ ذی سایہ تو تین دفعہ حرکت کرے اور سایہ دس دفعہ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے تحفہ گولڑویہ ص ۴۰ خزائن ج ۱۷ ص ۱۵۳ میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معجزات کی تعیین تین ہزار لکھی ہے اور اپنے معجزات اور نشانات کی تعداد دس لاکھ بتلائی ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۵۶ خزائن ج ۲۱ ص ۷۲) گویا سایہ ذی سایہ اور اصل سے بڑھ گیا۔ نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات.
ان صریح حوالوں سے یہ ثابت ہو گیا کہ مرزا غلام احمد تشریعی اور غیر تشریعی دونوں نبوتوں کا اپنے لیے مدعی تھا حالانکہ قرآن کریم کی نصوص قطعیہ کے علاوہ احادیث متواترہ اور اجماع قطعی اس امر پر دال ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص نبوت و رسالت کا دعویٰ کرے اس کا دعویٰ یقیناً مردود ہے۔ قرآن کریم کے اس مضمون کو ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی اجمالاً یا تفصیلاً جانتا ہے۔
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ وَکَانَ اللّٰهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا (احزاب ۴۰) ”حضرت محمد ﷺ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں اور لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو بخوبی جانتا ہے۔“
اور حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ
قال رسول الله صلی الله علیه وسلم ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولانبی وقال ھذا حدیث صحیح غریب. (ترمذی ج ۲ ص ۵۳ باب الرؤیا) ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ رسالت (تشریعی نبوت) اور نبوت (غیر تشریعی نبوت) دونوں بند ہو چکی ہیں سو میرے بعد نہ تو کوئی شرعی نبی آ سکتا ہے اور نہ غیر شرعی۔“
اور ایک روایت میں یہ الفاظ وارد ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ
لانه لانبی بعدی ولا رسول.
(مستدرک ج ۵ ص ۵۵۷ باب لا یبقی من النبوة الا الرؤیا الصالحة)
”کہ میرے بعد نہ تو غیر شرعی نبی آ سکتا ہے اور نہ شرعی۔“
حضرت ملا علی القاریؒ فرماتے ہیں کہ
ودعوى النبوة بعد نبينا ﷺ كفر بالاجماع.
(شرح فقہ اکبر ص ۲۰۲ طبع مجتبائی)
”آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔“
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت ملنے کا مدعی ہو تو وہ کافر ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ سے پہلے نبوت مل چکی ہے اس لیے ان کے تشریف لانے سے ختم نبوت پر کوئی زد نہیں پڑتی چنانچہ علامہ الشہاب الخفاجیؒ لکھتے ہیں کہ
لانبي بعدى اى لاينباء احد بعد نبوتى. (خفاجی شرح شفا ج ۳ ص ۳۹۳) یعنی لا نبی بعدی کا مطلب یہ ہے کہ میری نبوت کے بعد کسی کو نبوت مل نہیں سکتی۔
سراج الامت حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کا فتویٰ
حضرت امام ابو حنیفہؒ کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور ایک شخص (الہلوانیؒ ) نے کہا کہ میں جا کر اس سے کوئی نشانی اور معجزہ طلب کرتا ہوں تاکہ اس کا صدق و کذب عیاں ہو اس پر حضرت امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ
من طلب منه علامة فقد كفر لقول النبى ﷺ لانبى بعدى.
(مناقب صدر الائمہ المکیؒ ج ۱ ص ۱۶۱ طبع دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن)
”جو شخص اس سے علامت طلب کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا کیونکہ آنحضرت ﷺ نے صاف فرما دیا ہے کہ میرے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔“
غرضیکہ ختم نبوت کا مسئلہ اس قدر واضح ایسا روشن اور اتنا بے غبار ہے کہ اس میں تامل کرنا بھی خالص کفر ہے۔
حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہٗ کا عقیدہ
چنانچہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند قدس سرہٗ لکھتے ہیں کہ
اپنا دین و ایمان ہے بعد رسول اللہ ﷺ کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تامل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔
(مناظرہ عجیبہ ص ۱۰۳ مطبوعہ سہارن پور)
اصل دوئم ...... مرزا آنجہانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا دعویٰ اور ان کے زمین پر نزول کا صاف الفاظ میں انکار کیا ہے جو بجائے خود کفر ہے، چند عبارات ملاحظہ ہوں۔
- ۱...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کو رفع جسمانی ٹھہرانا سراسر ہٹ دھرمی اور حماقت ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۴۳ خزائن ج ۲۱ ص ۵۵)
- ۲...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وفات پانا کوئی مشتبہ امر نہ تھا۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۲۳ خزائن ج ۲۲ ص ۴۵۶)
- ۳...... فمن سوء الادب ان يقال ان عيسىٰ علیہ السلام مامات وان هو الا شرك عظيم. (الاستفتاء ص ۳۹ خزائن ج
۲۲ ص ۶۶۰) ”یہ بے ادبی کی بات ہے کہ یوں کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی اور ان کی وفات کا اقرار نہ کرنا بہت بڑا شرک ہے۔
- ۴...... ”اور ایک بڑا بھاری معجزہ میرا یہ ہے کہ میں نے حسّی طور پر اور بدیہی ثبوتوں کے ذریعہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
وفات کو ثابت کر دیا ہے اور ان کی جائے وفات اور قبر کا پتہ دے دیا ہے۔“ (تریاق القلوب ص ۹ خزائن ج ۱۵ ص ۱۴۵)
- ۵....... اما صعود عیسیٰ علیہ السلام ونزولہ فہو امر یکذبہ العقل وکتاب اللہ القرآن ۔ (الاستفتاء ص ۲ خزائن ج ۲۲
ص ۶۲۲) ”بہر حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کا معاملہ تو عقل اور اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم اس کی تکذیب کرتی ہے۔“
- ۶....... واللہ قد کنت اعلم من ایام مدیدۃ اننی جعلت المسیح بن مریم وانی نازل فی منزلہ ولکنی
اخفیہ نظراً الی تاویلہ ۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ۵۵۱ خزائن ج ۵ ص ایضاً) ”بخدا میں کافی عرصہ سے جانتا تھا کہ بلاشک میں مسیح بن مریم بنا دیا گیا ہوں لیکن میں اسے چھپاتا رہا اس کی تاویل کی طرف نظر کرتے ہوئے۔“
- ۷....... خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے مجھے قسم
ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو جو کام میں کر سکتا ہوں وہ وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہوئے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۴۸ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۲)
- ۸....... ”پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی
وجہ سے افضل قرار دیا ہو تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۵۵ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۹)
ان تمام عبارات سے یہ امر واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ان کے رفع الی السماء اور پھر نزول کا صاف انکار کیا ہے اور خود مسیح علیہ السلام بننے بلکہ ان سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا ہے معاذ اللہ۔ حالانکہ نصوص قطعیہ صریحہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ان کی حیات اور پھر نزول ثابت ہے۔
قرآن کریم کا یہ حکم کس مسلمان سے مخفی ہے۔
بَلْ رَفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ ۔ (النساء ۱۵۸) ”بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔“
حضرت امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ
رفع عیسیٰ علیہ السلام الی السماء ثابت بھذہ الایۃ ۔ (تفسیر کبیر ج ۱۱ ص ۱۰۳ زیر آیت بل رفعہ اللہ الیہ)
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء اس آیت کریمہ سے ثابت ہے۔“
حضرت عبداللہ بن عباسؓ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ
لما اراد اللہ ان یرفع عیسیٰ الی السماء خرج الی اصحابہ وقال ابن کثیر وھذا اسناد (صحیح ج ۲ ص ۳۹۸ زیر آیت بل رفعہ اللہ الیہ) ”جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے صحابہ کی طرف نکلے۔ اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے۔ اور امام اہل السنت ابوالحسن الاشعریؒ فرماتے ہیں کہ
واجمعت الامۃ علی ان اللہ عزوجل رفع عیسیٰ الی السماء ۔
(کتاب الدیانۃ عن اصول الدیانۃ ص ۵۳ ذکر الاستواء علی العرش)
”تمام امت اس بات پر متفق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھا لیا ہے۔“
علامہ ابوحیان اندلسیؒ لکھتے ہیں۔
واجمعت الامۃ علی ان عیسیٰ علیہ السلام حی فی السماء و ینزل الی الارض ۔ (تفسیر نہر الماد ج ۲ ص ۴۷۳) ”تمام امت کا اس امر پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور زمین پر نازل ہوں گے۔“
علامہ ابن عطیہؒ فرماتے ہیں کہ واجمعت الامة على ما تضمنه الحديث المتواتر من ان عيسىٰ ؑ حى فى السماء و انه ينزل فى آخر الزمان. ( بحر محیط ج ۲ ص ۵۶۷ زیر آیت مکروا ومکر اللہ ) ”حدیث متواتر کے پیش نظر تمام امت اس بات پر متفق ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ ہیں اور آخری زمانہ میں نازل ہوں گے ۔“
علامہ سفارینیؒ فرماتے ہیں کہ فقد اجمعت الامة على نزوله ولم يخالف فيه احد من اهل الشريعة . ( شرح عقيدة السفاريني ج ۲ ص ۹۰ ) ” بیشک ساری امت حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول پر متفق ہے اور اہل اسلام میں سے کوئی شخص اس کا مخالف نہیں ہے۔
علامہ ابن حزمؒ المتوفی ۴۵۶ھ لکھتے ہیں کہ واما من قال ان الله عزوجل هو فلان لانسان بعينه او ان الله تعالى يحل فى جسم من اجسام خلقه او ان بعد محمد صلى الله عليه وسلم نبياً غير عيسى بن مريم فانه لا يختلف اثنان فى تكفيره لصحة قيام الحجة بكل هذا على كل احد . (الفصل والنحل ج ۲ ص ۲۶۹ ) ”جو شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص کے روپ میں ہے یا یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کسی مخلوق کے جسم میں حلول کرتا ہے یا یہ کہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد بجز حضرت عیسیٰ ؑ کے کوئی اور نبی آ سکتا ہے تو (اہل اسلام میں) دو آدمی بھی اس کے کفر میں مختلف نہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی حجت ہر ایک پر قائم ہو چکی ہے۔ اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔
الا ان عيسى بن مريم ؑ سينزل (محلی ج ۱ ص ۹۴ توحید ) ”ہاں مگر عیسیٰ ؑ ضرور نازل ہوں گے ۔“
اور خود مرزا قادیانی نے جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا تو صاف لکھا ہے کہ ” یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح بن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیشگوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے۔..... تواتر کا درجہ اس کو حاصل ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۵۷ خزائن ج ۳ ص ۴۰۰)
گویا مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور آمد کو تسلیم کر کے اپنے سابق فتویٰ کے رُو سے ہٹ دھرم، احمق، بے ادب اور بڑا مشرک بھی رہے۔ نہ معلوم وہی احمق اور بڑا مشرک مسیح موعود کیسے بن گیا؟ اور اس کو نبوت کیونکر مل گئی؟ کیا مشرک کو بھی نبوت مل سکتی ہے؟ اور حضرت عیسیٰ ؑ کا یہ نزول آسمان سے ہوگا۔
چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ سے صحیح سند کے ساتھ یہ روایت مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کیف انتم اذا نزل ابن مريم من السماء فيكم وامامكم منكم . ( كتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص ۴۲۴ باب انی متوفیک ورافعک الی ) ” تم کیسی اچھی حالت میں ہو گے جب کہ تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام (مہدی۔ علیہ السلام) تم میں سے ہوگا۔ اور ان کی ایک روایت میں یوں آتا ہے کہ
ثم ينزل عيسى بن مريم عليهما السلام من السماء فيوم الناس (الحديث) (مجمع الزوائد ج ۷ ص ۳۵۲ باب ماجاء فی الدجال ) ” پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام آسمان سے نازل ہوں گے سو لوگوں کو امامت کرائیں گے ۔“
اور حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ فعند ذلك ينزل اخي عيسى
ابن مریم من السماء (الحدیث) (کنز العمال ج ۱۴ ص ۶۱۹ حدیث ۳۹۷۲۶ باب نزول عیسیٰ ؑ ) ”تو اس وقت میرے بھائی حضرت عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے۔“
اور حضرت ابوہریرہؓ کی ایک روایت میں اس طرح آتا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یمکث عیسیٰ ؑ فی الارض بعد ما ینزل اربعین سنة ثم یموت و یصلی علیہ المسلمون و یدفنونہ (مسند طیالسی ج ۴ ص ۲۷۴۔۲۷۳) ”حضرت عیسیٰ ؑ زمین پر نازل ہونے کے بعد چالیس سال قیام فرمائیں گے اس کے بعد ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھائیں گے اور ان کو دفن کریں گے۔“ اور حضرت عیسیٰ ؑ آنحضرت ﷺ کے روضہ اقدس کے اندر دفن کیے جائیں گے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمروؓ کی روایت میں یہ جملہ بھی مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ثم یموت فیدفن معی فی قبری (مشکوٰۃ ج ۲ ص ۴۸۰ باب قصة اصیاد) ”پھر ان کی وفات ہوگی اور میرے مقبرہ اور روضہ میں میری قبر مبارک کے ساتھ ہی وہ دفن کیے جائیں گے۔“
اور خود مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
الا یعلمون ان المسیح ینزل من السماء بجمیع علومہ و لا یأخذ شیئا من الارض مالھم لا یشعرون۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ۴۰۹ خزائن ج ۵ ص ایضاً) ”کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان سے اپنے تمام علوم کے ساتھ نازل ہوں گے اور زمین سے کوئی شے (علم) حاصل نہ کریں گے یہ لوگ کیوں نہیں سمجھتے؟“
اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ حجج الکرامة ص ۴۱۸ میں ابن واطیل وغیرہ سے روایت لکھی ہے کہ حضرت مسیح عصر کے وقت (صحیح روایت میں فجر کا وقت ہے (مستدرک ج ۴ ص ۴۷۸) صفدر) آسمان پر سے نازل ہوگا۔
(تحفہ گولڑویہ ص ۱۸۴ خزائن ج ۱۷ ص)
اور ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ
مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔ (ازالہ اوہام ص ۸۱ خزائن ج ۳ ص ۱۴۲) ہمارے پاس مسلم شریف کے جو نسخے ہیں ان میں آسمان کا لفظ موجود نہیں ہے لیکن مرزا قادیانی کے نسخہ میں آسمان کا لفظ ضرور موجود ہوگا، اور آسمان پر اٹھائے جانے کا مرزا قادیانی کو بھی اقرار ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
”اس لیے وہ ایک خوش اعتقاد اور نیک آدمی کی حمایت سے بچ گیا اور بقیہ ایام زندگی بسر کر کے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔“
(فتح الاسلام حاشیہ ص ۲۵ خزائن ج ۳ ص ۱۵)
غرضیکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات ان کا رفع الی السماء اور پھر ان کا آسمان سے نزول قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے اور اس کا انکار اور تاویل سراسر کفر ہے۔
اصل سوم ...... حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعظیم توقیر اور ان کا ادب و احترام ایمان کی بنیادی شرط ہے اور ان کی توہین و تحقیر اور بے ادبی خالص کفر ہے جس میں ادنیٰ برابر شک نہیں ہے قرآن و حدیث اور اجماع امت کے واضح دلائل اس پر موجود ہیں اور یہ ایک ایسی واضح اور روشن حقیقت ہے کہ اس کے اثبات کے لیے دلائل اور براہین کا ذکر کرنا غیر ضروری ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کا ارتکاب کر کے اپنے کفر پر مہر تصدیق ثبت کی اور آتش دوزخ مول خریدی ہے، صرف بطور نمونہ چند عبارات ملاحظہ کریں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
- ۱...... ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۰)
- ۲...... ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار، کسبی عورتیں تھیں جن
کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
- ۳...... ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی
پرہیز گار انسان ایک کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اسکے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
- ۴...... ”ہائے کس کے سامنے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تین پیشگوئیاں صاف طور پر
جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کرے۔
(اعجاز احمدی ص ۱۴ خزائن ج ۱۹ ص ۱۲۱)
- ۵...... یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی..... آپ کو کسی قدر
جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی..... آپ کو گالیاں دینی اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹)
حضرت یوسف علیہ السلام کی توہین
”پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز (غلام احمد قادیانی) اسرائیلی یوسف علیہ السلام سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا مگر یوسف بن یعقوب علیہما السلام قید میں ڈالا گیا۔“
(براہین حصہ پنجم ص ۷۶ خزائن ج ۲۱ ص ۹۹)
آنحضرت ﷺ کی توہین
- ۱...... ”چنانچہ ہمارے نبی ﷺ کی تمام استغفار اسی بناء پر ہے کہ آپ بہت ڈرتے تھے کہ جو خدمت مجھے سپرد کی گئی
ہے یعنی تبلیغ کی خدمت اور خدا کی راہ میں جانفشانی کی خدمت اس کو جیسا کہ اس کا حق تھا میں ادا نہیں کر سکا۔“
(حاشیہ ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص ۱۰۶ خزائن ج ۲۱ ص ۲۶۹)
- ۲...... اس وقت ہمارے قلم رسول اللہ ﷺ کی تلواروں کے برابر ہیں۔
(ملفوظات احمدیہ ج ۱ ص ۴۳۶ طبع لاہور)
اور مرزا آنجہانی کے یہ اشعار تو زبان زد خلائق ہیں۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰)
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد
(نزول مسیح ص ۶ خزائن ج ۱۵ ص ۱۴۴)
الحاصل کہاں تک ان خرافات کو نقل کیا جائے ، مرزا آنجہانی کی بیشتر کتابیں ایسی خرافات سے بھری پڑی
ہیں اندریں حالات ان کو یا ان کے اتباع کو مسلمان سمجھنا قرآن و حدیث اور امت مسلمہ کے اجماع کا قطعاً انکار ہے اور ان کے ساتھ مذہبی امور میں مسلمانوں کا سا سلوک اور برتاؤ کرنا اور ان میں سے کسی کا یہ جانتے ہوئے کہ وہ قادیانی ہے) جنازہ پڑھنا پڑھانا حرام ہے اور بجز اس کے اس کی اور کیا صورت ہو سکتی ہے کہ ان کو مسلمان سمجھا گیا ہے اور ان کو مسلمان سمجھنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور ایسے شخص کو جو قادیانیوں کو مسلمان سمجھے تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرنا شرعاً ضروری ہے اور ایمانی غیرت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قادیانیوں کے جنازہ میں مسلمانوں کو ہرگز شرکت نہیں کرنی چاہیے۔ مرزا آنجہانی کے ذیل کے حوالوں کی موجودگی میں بھلا کسی مسلمان کا ضمیر کس طرح اس کو گوارا کر سکتا ہے کہ ان کا جنازہ پڑھے۔ مرزا آنجہانی کا فتویٰ ملاحظہ ہو۔
- ۱...... ”پس یاد رکھو کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمھارے اوپر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا
متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو ۔“
(اربعین نمبر ۳ ص ۲۸ حاشیہ خزائن ج ۱۷ ص ۴۱۷)
- ۲...... سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں؟
فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے اور نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔
(طبع المجتبیٰ مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج ۱ ص ۸۴)
مسلمانوں کو اپنے ایمان پر مضبوط رہنا چاہیے اور ایمانی غیرت کو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے علماء گوجرانوالہ نے بروقت حق اور صحیح فتویٰ دیا ہے اللہ تعالیٰ اہل حق کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین۔ واللہ اعلم بالصواب و علمہ اتم و احکم.
احقر الناس ابو الزاہد محمد سرفراز، خطیب جامع گکھڑ و مدرس مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ ۲۴ ربیع الاوّل ۱۳۸۶ھ۔ ۴ جولائی ۱۹۶۶ء
حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان صاحب سواتی
باسمہ سبحانہ و تعالیٰ
علماء امت اور جملہ مسلمانانِ عالم اور تمام طبقاتِ امت کے نزدیک مرزائے قادیانی کو نبی یا مجدد ماننے والے مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لہٰذا کسی مرتد کا جنازہ پڑھنا یا اس کے لیے دعا و استغفار کرنا قرآن و سنت اور اجماع امت سے حرام ہے اور دیدہ و دانستہ ایسا کرنے والا شخص خود کافر دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ لہٰذا تجدید اسلام اور نکاح ضروری ہے۔
علماء نے جو فتاویٰ صادر کیے ہیں۔ صحیح اور درست ہیں۔ واللہ اعلم
احقر عبد الحمید سواتی خطیب جامع مسجد نور و مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم نزد گھنٹہ گھر گوجرانوالہ
استاذ العلماء حضرت مولانا قاضی شمس الدین کا جواب
الجواب ...... قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ولا تصل علی احد منھم مات ابداً ولا تقم علی قبرہ لہذا یہ جنازہ پڑھانے والے سب اس نہی صریح کے خلاف مرتکب ہوئے اور انھوں نے حدود شرعیہ سے تجاوز کیا جو امام ہے اسے امامت سے علیحدہ کر دیا جائے اور جو عوام ہیں، ان سے ترک موالات کر دی جائے اب رہا تجدید نکاح کا معاملہ اس کے متعلق فیصلہ شرعی یہ ہے کہ اگر انھوں نے یہ جنازہ جائز اور حلال سمجھ کر پڑھایا ہے اور کسی اشتباہ میں مبتلا نہیں ہوئے تو پھر ان کے نکاح ٹوٹ گئے اور توبہ کے بعد تجدید نکاح ضروری ہے۔ ورنہ حرام کاری میں مبتلا رہیں گے اور اگر کوئی اشتباہ تھا جس کی بنا پر انھوں نے پڑھا تو پھر بھی تجدید نکاح بہتر ہے اور جب توبہ کر لیں تو پھر ان سے برتاؤ بھی کر سکتے ہیں اور وہ امامت بھی کرا سکتے ہیں کہ التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهُ وَمَنْ تَابَ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِ. العبد شمس الدین عفی عنہ ناظم جامعہ صدیقیہ گوجرانوالہ ۳/۶/۶۶
حضرت مولانا محمد چراغ مہتمم مدرسہ عربیہ گوجرانوالہ کا جواب
”جواب درست ہے۔“ محمد چراغ مہتمم مدرسہ عربیہ
حضرت مولانا محمد اسمعیل جامع مسجد اہلحدیث گوجرانوالہ
مرزا غلام احمد اور اس کے متعلق علماء امت نے صراحۃً تکفیر فرمائی ہے خود قادیانی بھی دوسرے مسلمانوں کو کافر سمجھتے اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے پھر ایک مسلمان امام نے معلوم نہیں یہ جرأت کیوں کی اندریں حالات امام مذکور امامت کے قابل نہیں اگر اسے اپنے فعل پر اصرار ہو تو یقیناً مرتد او ہے اسے توبہ کر کے ایمان کی تجدید کرنا چاہیے۔ عامۃ المسلمین کو ایسے فعل سے توبہ اور استغفار کرنا چاہیے۔
(محمد اسمعیل کان اللہ لہ مسجد اہلحدیث گوجرانوالہ ۲۶/۴/۶۶)
حضرت مولانا عبد القیوم مدرسہ نصرۃ العلوم
الحمد للہ وحدہ والصلوۃ علی من لا نبی بعدہ اما بعد۔ سارے دین اسلام کا دار و مدار کلمہ کے دو جزوں پر ہے پہلی جز ہے۔ لا إله إلا الله دوسری جز محمد رسول اللہ پہلی جز میں توحید خالص ہے کہ جو کام بھی کرنا ہے وہ صرف خداوند قدوس کے لیے ہوگا اور دوسری جز میں حضور اکرم ﷺ کی رسالت کا اقرار ہے کہ ہر کام کی شکل وصورت وہی ہوگی جو آنحضرت ﷺ نے بتائی ہے خداوند تعالیٰ کی ذات وصفات اگر کوئی شخص مانتا ہے مگر اس طریقہ سے نہیں مانتا جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے بتایا ہے تو ایسا خدا کا ماننا بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر نہیں معلوم ہوا کہ تمام دین کا مدار کلمہ کے دوسرے جز محمد رسول اللہ پر ہے اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات بدل جائے تو تمام دین بدل جائے گا۔
مرزا غلام احمد قادیانی ایک غلطی کے ازالہ میں لکھتا ہے کہ محمد رسول الله والذین معه اشداء الخ ”اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد بھی رکھا گیا اور رسول اللہ بھی اب جو لوگ مرزا کو مانیں گے تو ضرور اس کو محمد رسول اللہ تسلیم کریں گے۔“ (معاذ اللہ) کیونکہ وہ کہتا ہے کہ مجھے خدا نے محمد رسول اللہ کہا ہے۔ اس کے بعد بھی مرزائیوں کے کلمہ کے بدلنے میں کوئی شک وشبہ باقی رہ جاتا ہے۔ اب مرزائی احکام اسلام قرآن کی تلاوت اس لیے کریں گے کہ ان کو مرزا رسول قادیانی نے کہا ہے اور مسلمان اعمال صالحہ اس لیے کریں گے کہ ان کو حضرت محمد رسول
اللہ ﷺ مکی مدنی ہاشمی نے ارشاد فرمایا ہے۔ اس کے بعد مرزائیوں اور مسلمانوں کے درمیان ایک مکمل حد فاصل علیحدگی اور جدائی خود بخود قائم ہو جاتی ہے اور دو امتوں کے دو مذہب الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ مرزائیوں کا دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہونا اظہر من الشمس ہے۔ پھر بھی کوئی امام کسی مرزائی کا قادیانی ہو یا لاہوری نماز جنازہ عمداً پڑھائے اور مسلمان مقتدی جنازہ عمداً پڑھیں تو اس امام اور ان مقتدیوں کے کفر میں کیا شک رہ جاتا ہے ان تمام جنازہ پڑھنے پڑھانے والوں کو نئے سرے سے مسلمان ہونا چاہیے اور نکاح میں بھی تجدید کرانی چاہیے۔ (احقر العباد عبدالقیوم صدر مجلس احرار اسلام گوجرانوالہ)
حضرت مولانا عزیز الرحمٰن نائب مفتی جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد لاہور
الجواب مبسملاً و محامداً و مصلیاً و مسلماً۔ اس مولوی صاحب اور مسلمانوں نے اگر اس مرزائی کو کافر سمجھ کر جنازہ پڑھا ہے تو انھوں نے ایک امر حرام کا ارتکاب کیا ہے جو کفر ہے کیونکہ کافر کا جنازہ پڑھنا اور اس کے حق میں دعاء مغفرت کرنا حرام ہے گناہ ہے۔ عینی بخاری ج ۴ ص ۲۱۵ ولا تصل علی احد منھم مات ابداً الخ وذکر عن الطبری انہ یجب ترک الصلوۃ علی معلن الکفر و مسرہ بھذا قال۔ ثم فرض علی جمیع الامۃ ان لا یدعو المشرک ولا یستغفرلہ اذا ماتوا علی شرکھم الخ تاوقت توبہ نہ کرے امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔
چونکہ مرزائی عقائد نصوص شرعیہ قطعیہ کے خلاف ہیں اس لیے ان عقائد والا قطعاً کافر ہے۔ ان عقائد والے کو کافر نہ سمجھنا بلکہ مسلمان سمجھنا گویا کہ ان عقائد کو صحیح اور اسلام کے موافق سمجھنا ہے۔ لہٰذا اگر انھوں نے اس مرزائی میت کو مسلمان سمجھ کر جنازہ پڑھا ہے تو یہ سب کے سب کافر ہو گئے۔ اسلام سے خارج ہو گئے۔ نہ ان کا نکاح باقی رہا اور نہ ان کو امام بنانا صحیح ہے۔ واللہ اعلم کتبہ عزیز الرحمٰن نائب مفتی جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد لاہور ۲۳ ربیع الاوّل ۸۶ھ
حضرت مولانا محمد سعید مسجد لانگریاں گوجرانوالہ
مرزا قادیانی اور اس کے متبعین از روئے شرع مرتد اور کافر ہیں اور میں کہتا ہوں کہ مرزائی کا جنازہ پڑھنے پڑھانے والے بھی کافر اور مرتد ہیں۔ لہٰذا ان کو توبہ اور تجدید ایمان اور نکاح دوبارہ کرنا فرض ہے۔ (محمد سعید خطیب جامع مسجد گلی لانگریانوالی گوجرانوالہ)
حضرت مولانا قاضی عبدالسلام مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ
الجواب...... چونکہ کافر کا نماز جنازہ نصوص قطعی الثبوت والمعنی سے ممنوع ہے اور قادیانی عقیدہ والے باجماع الامت از روئے کتاب اللہ والسنۃ کافر ہیں۔ لہٰذا قادیانی مذہب والے کا جنازہ پڑھنا ممنوع حرام و کفر ہے اور محرمات قطعیہ جو قبیح بعینہ ہوں اس کا حلال سمجھنا ارتداد و کفر ہے اور خروج ہے دائرہ اسلام سے اور کافر نہ قابل امامت ہے اور نہ نکاح سابق بحال رہ سکتا ہے اور غیر امام (مقتدیوں) کا بھی یہی حال ہے جو محرمات مذکورہ کو حلال سمجھے۔ لہٰذا تجدید نکاح و ایمان عندالتوبہ ضروری ہے۔ قاضی عبدالسلام مدرسہ انوار العلوم جامع مسجد گوجرانوالہ
حضرت مولانا مفتی محمد خلیل مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ
الجواب....... نحمده و نصلی علی رسوله الکریم و علی اله و اصحابه اجمعین۔ جن لوگوں نے مرزائی میت کا جنازہ پڑھایا ہے۔ انھوں نے سخت ترین جرم کا ارتکاب کیا ہے جو کفر ہے ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے تا آنکہ توبہ کریں اور تجدید ایمان کریں اور نکاح کی بھی تجدید کریں اور عام لوگوں کے سامنے معافی مانگیں اور ناک سے لکیریں نکالیں، منہ کالا کر کے گدھے پر چڑھا کر پھرایا جائے۔ واللہ اعلم
(محمد خلیل مدرسہ اشرف العلوم باغبانپورہ گوجرانوالہ۔ ۱۵ ربیع الثانی ۸۶ھ)
مولانا مفتی بشیر حسین جامع مسجد محلہ قبرستان گوجرانوالہ
الجواب....... وهو الموفق للصواب۔ صورت مسئولہ میں تمام مکاتب فکر علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تمام مرزائی جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ماننے والے ہیں دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور مرتد ہیں ایسے آدمیوں کے لیے نہ نماز جنازہ ہے اور نہ دعا مغفرت ہے۔ جب قرآن مجید کی نصوص قطعیات میں منافقین اور مشرکین کے لیے دعاء مغفرت نہیں ہے۔ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْا اُوْلِيْ قُرْبٰى الخ منافقین کے لیے اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے، اے نبی اگر تو ان کے لیے ستر مرتبہ بھی دعائے مغفرت کرے گا اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ مرتد کا درجہ مشرک اور منافق سے زیادہ ہے ان پر نماز جنازہ پڑھنا اور دعائے مغفرت کرنا اللہ تعالیٰ اور حضور ﷺ کی صریح نافرمانی ہے۔ بلکہ بغاوت ہے جن مسلمانوں نے اور امام صاحب نے عمداً نماز جنازہ پڑھی ہے وہ اپنے ایمان کی فکر کریں تجدید ایمان کی کریں اور اپنے نکاح بھی از سر نو پڑھائیں۔ ایسا امام امامت کے فرائض کا اہل نہیں ہے۔ اس کو معزول کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی امام ایسے کام کی جسارت نہ کرے۔ هذا ما عندی والله اعلم بالصواب۔
مفتی بشیر حسین فاضل دیوبند
خطیب جامع مسجد محلہ قبرستان گوجرانوالہ ۳/۶/۶۶
مولانا محمد صادق زینۃ المساجد محلہ روڈا گوجرانوالہ
الجواب....... مرزائی چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار اور اس کو نبی و مجدد مان کر اس کی طرح ختم نبوت کے منکر اور توہین شان رسالت کے مرتکب ہیں۔ اس لیے علماء عرب و عجم کے فتویٰ کی رو سے کافر و دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور جو شخص انھیں ختم نبوت کا منکر و مرزائی جاننے کے باوجود انھیں مسلمان سمجھے اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرے وہ بھی ان کی طرح کافر و دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لہٰذا بصورت مسئولہ جس مولوی نے مرزائی کو مسلمان ہو کر اس کا جنازہ پڑھایا اور اس کے لیے دعائے مغفرت کی ہے مسلمانوں کے لیے اس کو امام بنانا اور اپنی مسجد میں رکھنا ہرگز جائز نہیں۔ اس کے پیچھے نماز محض باطل ہے۔
- (۲)...... جس امام اور اس کے مقتدی نے مرزائی کو مسلمان سمجھ کر اس کا جنازہ پڑھا اور اس کے لیے دعاء مغفرت کی
ان کا نہ اسلام رہا نہ نکاح۔ ان پر فرض ہے کہ نئے سرے سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوں۔ صدق دل سے توبہ کریں اور ان کا نکاح دوبارہ پڑھیں۔ ورنہ مسلمان ان سے قطع تعلق کریں۔ واللہ ورسولہ اعلم
ابوداؤد محمد صادق غفرلہ
زینۃ المساجد گوجرانوالہ
مولانا احسان الحق مسجد حاجی مہتاب دین گوجرانوالہ
غلام احمد قادیانی اور اس کو نبی یا مجدد ماننے والے سب کے سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور مرتدین ہیں۔ انھیں مسلمان جاننا یا مرنے کے بعد دعا مغفرت کرنا نماز جنازہ پڑھنا یا پڑھانا کفر و ارتداد ہے ایسوں پر تجدید اسلام وتجدید نکاح لازم وضروری ہے۔ ورنہ اہل اسلام پر فرض ہے کہ ان سے قطع تعلق کریں۔
حضرت مجیب مسئول کا جواب بالکل درست ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم
ابو شعیب محمد احسان الحق قادری رضوی غفرلہ
جامعہ رضویہ منظر الاسلام مسجد حاجی مہتاب دین گوجرانوالہ
غلطی کا اقرار اور توبہ
علماء کرام کے فتویٰ کے بعد جنازہ پڑھنے والے مسلمانوں نے اپنے جرم کا احساس کیا اور بعض نے مسجدوں اور عام مجمع میں اپنی غلطی کا اقرار اور توبہ کی کلمہ شہادت پڑھ کر نئے سرے سے اسلام و ایمان کی تجدید کی اور اپنے اپنے نکاح بھی دوبارہ پڑھوائے چنانچہ مولوی گل حسن شاہ صاحب بریلوی امام و خطیب مسجد حنیفہ باغبان پورہ نے اپنی غلطی کا اقرار کرتے ہوئے بعد از نماز مسجد کے عام مجمع میں سب لوگوں کے سامنے توبہ کی کلمہ پڑھ کر تجدید ایمان کیا اور اسی مجمع عام میں اپنا نکاح بھی دوبارہ پڑھوایا اور اسی مجلس میں ایک توبہ نامہ (بدست حاجی صوفی عبدالعزیز صاحب) پیش کیا۔ جس کو پڑھ کر مولوی صاحب مذکور نے دستخط کیے جو درج ذیل ہے۔
مولوی صاحب کا توبہ نامہ
میں مولوی گل حسن شاہ امام وخطیب جامع مسجد باغبان پورہ گوجرانوالہ اقرار کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی تمام امت مسلمہ کے نزدیک کافر دائرہ اسلام سے خارج ہے اور جو اس کو نبی یا کسی قسم کا پیشوا تسلیم کرے وہ بھی کافر دائرہ اسلام سے خارج ہے چونکہ میں نے ایک مرزائی میت کا نماز جنازہ پڑھا پڑھایا جو صریح غلطی کی ہے جس سے میرا اسلام وایمان جاتا رہا۔ اب اس عام مجمع میں رو برو ان مسلمانوں کے توبہ وتجدید ایمان کرتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں، ان کے بعد کسی قسم کی نبوت نہیں ہو سکتی جو اقرار کرے گا کافر ہوگا اور رو برو گواہان کے اپنے نکاح کی بھی تجدید کرتے ہوئے پوری توبہ کر رہا ہوں تاکہ احکام اسلام کی پوری پابندی نصیب ہو جائے۔ خداوند کریم مجھے استقامت نصیب فرمائے اور دین اسلام پر قائم رکھے۔ آمین
دستخط: گل حسن شاہ بقلم خود
گواہ (۱) صوفی عبدالعزیز (۲) چودھری غلام محمد کشمیری وغیرہ
اسلامیان پاکستان سے اپیل
حضرات! ملک کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ آئین اسلام اور دین قیم کے ساتھ جو برتاؤ ہو رہا ہے وہ کسی باشعور سے مخفی و پوشیدہ نہیں۔ الحاد و بے دینی فسق و فجور کا دور دورہ ہے فحاشی بے حیائی عام ہے۔ اسلام اور آئین اسلام کی برسرعام توہین کی جا رہی ہے، ملک میں اسلامی کلچر ثقافت کے نام پر رقص و سرود ننگے ناچ اور ڈانس کیے جاتے ہیں، خاندانی منصوبہ بندی اور عائلی قوانین جیسے صریح خلاف اسلام قوانین قرآن وسنت کے
مقابلہ میں مسلمانوں پر جبراً مسلط کیے گئے ہیں۔ ایک طرف حج پر پابندی ہے تو دوسری طرف اور اوقاف کے نام سے مساجد پر قبضہ علماء کرام پر ناجائز پابندیاں زبان بندی اور ان کو برطرف کیا جا رہا ہے ادھر زکوٰۃ کی مقرر کردہ اسلامی شرح میں تبدیلی کی جا رہی ہے اور زکوٰۃ کو حکومتی ٹیکس کا نام دیا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ مظلوم اسلام کے نام پر ہو رہا ہے۔ عہد حاضر کے گمراہ زکوٰۃ، حج، نماز اور روزے کی شرعی حیثیت اور اہمیت کو نگاہوں سے اوجھل کرنے میں مصروف ہیں الغرض ترمیم و تنسیخ کا ملک گیر سلسلہ شروع ہے۔
دینی اقدار کو مسخ کرنے اور مٹانے کی کوششیں پورے زور سے ہو رہی ہیں اور آپ میں سے اکثر حضرات یہ سب کچھ دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی اس کے مقابلہ کے لیے میدان عمل میں آنے سے تامل کر رہے ہیں، آپ کی حمیت دینی سے توقع رکھتے ہوئے اپیل کرتا ہوں کہ آپ دین اور صرف دین اسلام کی سربلندی آئین اسلام کے نفاذ، توحید باری تعالیٰ اور عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کے لیے تمام دین پسند جماعتوں اور علماء حق کا ساتھ دیں اور خصوصیت سے علماء حق کی جماعت ”جمعیت علماء اسلام پاکستان“ سے پورا پورا تعاون کریں جو پاکستان میں دینی اقدار کی بحالی اور اسلامی آئین کے نفاذ کے لیے کوشش کر رہی ہے اور یہی اس کا مقصد وحید ہے۔ ہمارے اسلاف کرام جس طرح مساجد مدرسوں اور خانقاہوں کے منتظم خدمت گزار تھے اسی طرح وہ میدان جہاد کے شہسوار بھی تھے۔ اگر وہ دارالعلوم دیوبند کے منتظم اور مدرس ہیں تو شاملی کے میدان جہاد میں مجاہد و سپاہی بھی ہیں اگر وہ خانقاہ امدادیہ کے بانی گوشہ نشین ہیں تو شاملی کے میدان جہاد میں بذات خود مسلمان فوج کے جرنیل و سپہ سالار بھی ہیں، اگر ایک طرف وہ دارالعلوم دیوبند اور مسجد نبوی کے شیخ الحدیث ہیں تو ساتھ ہی وہ جزیرہ مالٹا (کالے پانی) میں قید فرنگ اور ہندوستان کی جنگ آزادی کے قائد بھی ہیں۔ خداوند قدوس ہم کو دین کی حفاظت کرنے والے بزرگان اسلاف کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
اس مختصر رسالہ میں انتہائی اختصار کے ساتھ چند معروضات پیش کر دی ہیں اور یہ ناچیز کوشش آپ حضرات کے سامنے ہے کہاں تک اس میں کامیابی ہوئی اس کا اندازہ آپ ہی لگا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کی خدمت اور رضاء کے لیے قبول فرمائے، آمین فقط و اخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین، و صلی اللہ تعالیٰ علی رسول خیر خلقہ محمد والہ و اصحابہ اجمعین
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مرزائی کا جنازہ اور اس کے نہ پڑھنے کا فتویٰ
ناشر!
حافظ عبدالحق سیال کوٹ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
استفتاء
الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین ، امابعد!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ہادیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی جس کے دعویٰ نبوت اور جھوٹے الہامات و خرافات سے علمائے دین بخوبی واقف ہیں۔ اس کا ایک مخلص مرید جو شرک فی الرسالت کے علاوہ انبیاء علیہم السلام اور خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ مریم صدیقہ کی شان میں اور ان کے علاوہ علمائے اسلام کی شان میں گستاخیاں کر کے ان سب کی توہین اور بے ادبی کیا کرتا تھا۔ لیکن جب وہ بغیر توبہ کے فوت ہو گیا تو مسلمانوں اور خصوصاً آئمہ مساجد میں سے ایک مسجد کے امام نے مرزا مذکور کے اس مرید کو خود غسل و کفن دے کر اس کا نماز جنازہ پڑھ دیا ہے۔ کیا اب حنفی اور اہل حدیث مسلمان اس امام مذکور کی اقتداء میں نماز باجماعت ادا کر سکتے ہیں اور اس کو اپنا امام و مقتداء تسلیم کر کے اس کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کر سکتے ہیں یا نہیں؟۔ اور اگر نفی میں جواب ہے تو جو مسلمان اس امام مذکور کی اقتداء میں نماز ادا کرے گا اور اس کے ساتھ تعاون کرے گا۔ اس مسلمان کے ساتھ باقی مسلمانوں کو کیا سلوک کرنا چاہئے؟۔ بینوا توجروا!
۱......عبدالحق امام مسجد یتیم شاہ محلہ اٹاری سیالکوٹ بقلم خود ۔۲......مستری ولی محمد جنرل سیکرٹری مجلس احرار محلہ میانہ پورہ سیالکوٹ بقلم خود ۔۳......جعفر علی جنرل سیکرٹری مجلس احرار سیالکوٹ بقلم خود ۔۴......عبدالرحیم گاہندی پریذیڈنٹ انجمن فدایان اسلام و نائب صدر مجلس احرار اسلام سیالکوٹ بقلم خود ۔۵......حکیم محمد عبداللطیف انجمن اصلاح المسلمین، نائب صدر مجلس احرار سیالکوٹ ۔۶......محمد الدین ولد پیرو حجام محلہ اٹاری سیالکوٹ ۔۷......محمد الدین ولد فضل دین شیخ محلہ کھٹیکاں شہر سیالکوٹ بقلم خود ۔۸......محمد حسین محلہ شاہ کاکولی رنگ پورہ سیالکوٹ بقلم خود ۔۹......مہر ہیرا ولد فدا ارائیں محلہ اٹاری سیالکوٹ ۔۱۰......مہر بڈھا ولد فضل الدین ارائیں محلہ اٹاری سیالکوٹ ۔۱۱......سائیں گہدو تکیہ یتیم شاہ محلہ اٹاری سیالکوٹ ۔۱۲......مہر علم الدین ولد کریم بخش آرائیں محلہ اٹاری سیالکوٹ ۔۱۳......مستری امام الدین ولد بلندا محلہ اٹاری سیالکوٹ ۔۱۴......مہر چراغ الدین ولد فضل الدین آرائیں محلہ اٹاری سیالکوٹ
الجواب ! حامداً ومصلیاً! مرنے والا چونکہ حالت کفر میں مرا ہے۔ اس لئے اس پر نماز و دعا شرعاً ناجائز و حرام ہے۔ ماکان للنبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین! سے صریح ممانعت ہے۔ عملاً ایسا کرنے والا سخت گنہگار ہے۔ جب تک تائب نہ ہو اس کی اقتداء میں مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے احتراز لازم ہے۔ یہ قوم فروشی اور ایمان ریزی کی بین دلیل ہے ۔ ایسے قوم فروش انسانوں سے تعاون بھی نہ کرنا چاہئے ۔ فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین . انعام ۶۸! اور: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان . مائدہ ۲! میں ایسے ہی مجرموں کی سزا ہے۔ واللہ اعلم وعلم اتم واحکم ! ...... محمد علی کاندھلویؒ مدرس مدرسہ فلاح دین و دنیا سیالکوٹ ۱۸ فروری ۱۹۳۵ء
الجواب صحیح! ........ حافظ سید نور شاہ بمہر خود۔ جواب صحیح! ........ محمد ابراہیم میر بقلم خود۔ الجواب صحیح! ........ محمد عبدالحنان بقلم خود عفی عنہ۔
الجواب وبالله التوفیق ! مرزا قادیانی کا دعویٰ باطل اور باطل کی مریدی کرنے والا بھی باطل ہے۔ اس کا ایمان بھی باطل، باطل کا غسل کفن و تجہیز تکفین کرنے والا اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالتا ہے اور تمام اہل سنت کا مذہب اس حدیث کے مطابق ہے کہ: ”لانبی بعدی“ نبی علیہ السلام کے بعد کوئی ماں ایسا بیٹا نہ جنے گی جو حضور علیہ السلام کے بعد نبی ہو سکے۔ مرزا قادیانی نے اس حدیث کے خلاف اپنے آپ کو دعویدار نبوت کا ثابت کیا۔ پس ایسے آدمی کے مرید کو ایک سنی مسلمان ہرگز غسل نہیں دے سکتا اور ایسا کرنے والا ایک مومنین کی جماعت میں اگر توبہ نہ کرے تو اس کی اقتداء اہل سنت ہرگز نہیں کر سکتے۔ فقط! ........ محی الدین امام مسجد شیخاں محلہ کھٹیکاں سیالکوٹ۔
باسمہ سبحانہ! مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے نص قرآنی: خاتم النبیین! کا برملا انکار کرتے ہوئے جمہور کے نزدیک صریح کفر کا ارتکاب کیا ہے اور اس نے متعدد ایسی احادیث صحیحہ کی تکذیب کی ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے باب نبوت کو مفتاح خاتمی سے تا نفخ صور اسرافیلی مقفل کر دیا ہے اور قصر نبوت ورسالت میں خشت آخرین ثبت فرما کر تعمیر کو تا قیامت اکمل کر دیا ہے۔ پس اگر متوفی مقر نبوت مرزا قادیانی تھا تو بے شبہ وہ بھی مرتد اور کافر ہوا۔ ایسے مرتد کا غاسل طائفہ مومنین میں توبہ کرے۔ ورنہ اس کی اقتداء سے مسلمان بالضرور مجتنب رہیں۔ ........ حکیم محمد صادق، صادق الرقم ۷ ذیقعدہ ۱۳۵۳ھ
الجواب صحیح! ........ عبدہ غلام مصطفیٰ عفی عنہ خطیب مسجد گھماراں محلہ دھارووال سیالکوٹ الجواب صحیح! ........ محمد علی خطیب امام مسجد پٹھاناں عفی عنہ موری دروازہ سیالکوٹ الجواب صحیح! ........ محمد یوسف خطیب محلہ خراسیاں سیالکوٹ الجواب صحیح! ........ امام الدین رائے پوری خطیب جامع مسجد صدر بازار سیالکوٹ
باسمہ سبحانہ! واقعی مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے باتفاق علمائے اہل سنت والجماعت بوجہ دعویٰ نبوت وتوہین انبیاء علیہم السلام دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جو شخص ان کی نماز جنازہ پڑھے وہ بھی ملحد بے دین گمراہ ہے۔ جب تک توبہ نہ کرے مسلمانوں کو اس کے ساتھ کسی قسم کا برتاؤ وغیرہ نہیں چاہئے۔ ! ........ ابومحمود محمد مسعود الازہری ضلع سیالکوٹ
جواب صحیح ہے ! ........ المسکین الی اللہ فتح علی شاہ چشتی از کھرونٹہ سیداں
واقعی مرزائیوں کے دفن کفن اور جنازہ میں شامل ہونا اپنے آپ کو ایمان سے خارج کرنا ہے۔ کیونکہ وہ صریح قرآن وحدیث کے مخالف ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی شان میں وہ تمام آیتیں پیش کیں ہیں جو نبی اکرمﷺ کی شان میں ہیں اور قرآن کریم کا فیصلہ ہے کہ: ” فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ الکذب وھو یدعی الی الاسلام واللہ لا یھدی القوم الظالمین . الصف ۷“ پس مرزا قادیانی کو اللہ تعالیٰ نے خود ظالم واظلم کا فتویٰ دیا ہوا ہے اور ظالموں کی نسبت صاف فرمایا کہ: ”ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار . ھود ۱۱۳ “ یعنی ظالموں سے میل
جول نہ کرو۔ ورنہ تم بھی جہنمی ہو جاؤ گے۔ لہٰذا جو شخص مسلمان ہو کر مرزائی کے کفن دفن اور جنازہ میں شریک ہوتا ہے وہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اس کی امامت اور اس کے ساتھ میل جول کرنا اور مسلمانوں کا برتاؤ کرنا قطعاً ناجائز ہے۔ فقط: واللہ اعلم! ......... حررہ بندہ ذو المن ابو یوسف نور الحسن عفا اللہ عنہ خطیب جامع مسجد کلاں تحصیل بازار سیالکوٹ۔
الجواب ھو الموفق للصواب ! مرزا غلام احمد قادیانی اصل دین منصوص علیہ متفق علیہ ختم نبوت کا جاحد و منکر ہے اور نیز وہ متعدد دعاوی کفریہ کا مرتکب ہے۔ اس لئے وہ اور اس کے تمام پیروکار جمیع کفار سے اشنع و اقبح اکفر ہیں۔ تمام اہل علم واہل اسلام اور جملہ مذاہب اسلام نے ان کو اور جو ان کو کافر نہ سمجھے کافر قرار دیا ہے۔ ایسوں کا تجہیز و تکفین کرنے والا دو حالت سے خالی نہ ہوگا۔ یا حلال سمجھ کر کرے گا۔ یا حرام سمجھ کر کرے گا۔ صورت اولیٰ میں کافر ہے اور اس کے اعمال سابقہ سب حبط ہو گئے اور اس کا نکاح فسخ ہو گیا ہے۔ توبہ صریحہ ظاہرہ اور تجدید اسلام ونکاح لازم۔ ورنہ سب اولاد حرام کی ہوگی۔ دائماً ابداً جہنمی ہوگا۔ صورت ثانیہ میں پرلے درجے کا فاسق ہے۔ اشباہ والنظائر کا فتویٰ ہے کہ فاسق کو امام بنانا ناجائز ہے اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ اللہ واحدہ لاشریک فرماتا ہے کہ: ”من یتولھم منکم فانہ منھم ٬ المائدہ ٥١“ تم میں سے جو ان سے دوستی وموالات کرے گا وہ انہیں کا ہی ہوگا۔ اور فرماتا ہے کہ: ”ولا تصل علیٰ احد منھم مات ابداً ولا تقم علیٰ قبرہ ٬ توبہ ٨٤“ ان میں سے جو مر جائے۔ اس کا نماز جنازہ مت پڑھے اور اس کی قبر پر مت کھڑے ہو۔ اس مضمون کی آیات واحادیث بکثرت ہیں۔ بخوف طوالت ان پر ہی اکتفاء کی جاتی ہے! ......... کتبہ محمد عبدالغنی عفا عنہ مہتمم جامعہ حنفیہ واقعہ کالج روڈ سیالکوٹ ١٩/اپریل ١٩٣٥ء
ہم نے جہاں تک اقوال مرزا قادیانی کے دیکھے اور سنے ان اقوال کی رو سے قادیانی احاطہ اسلام سے خارج ہے جو مسلمان ہو اور مولوی کہلائے اور ان کا جنازہ پڑھائے وہ بھی احاطہ اسلام سے خارج ہے! ......... خاکسار سید محمد نور اللہ خطیب جامع مسجد قصاباں محلہ کشمیری سیالکوٹ
توبہ نامہ ! بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ! منکہ قاضی حبیب اللہ ولد قاضی عطاء اللہ صاحب امام مسجد موچیاں محلہ بوہڑ خانہ شہر سیالکوٹ کا ہوں۔ مظہر نے پچھلے دنوں مسمی محمد الدین مرزائی فوت شدہ کو غسل دیا اور اس کا جنازہ پڑھا۔ یہ مظہر کا فعل عام مسلمانان کے نزدیک ایک بڑا شرعی جرم تھا۔ جس کے ارتکاب کے سبب عام مسلمانوں نے مجھ سے عدم تعاون کرلیا۔ لہٰذا مظہر اپنے اس برے فعل سے پشیمان ہو کر مجلس عام مسلمانان میں تائب ہوتا ہوا تجدید اسلام کرتا ہے اور آئندہ اقرار کرتا ہوں کہ ایسے برے فعل کا کبھی مرتکب نہ ہوں گا اور جو کچھ میرے اس قصور کے متعلق تعزیر شرعی بروئے شرع محمدی ہوگی اس کی ادائیگی میں مجھے کسی قسم کا کوئی عذر نہ ہوگا اور میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کو جیسا کہ مسلمان کافر سمجھتے ہیں کافر سمجھتا رہوں گا! ......... العبد بقلم خود حبیب اللہ احقر العباد الراجی الیٰ اللہ المدعو حبیب اللہ!
گواہان حاضرین مجلس: ... ١غلام یاسین ولد غلام حسین قوم قریشی سکنہ سیالکوٹ محلہ اٹاری۔ ٢عبد الغفور ولد عبد الصمد بٹ محلہ اٹاری سیالکوٹ۔ ٣ محمد الدین ولد کرم الہٰی ارائیں محلہ اٹاری سیالکوٹ۔ ٤میاں عبد الحق امام مسجد یتیم شاہ سیالکوٹ۔ ٥میاں محمد علی امام مسجد پٹھاناں سیالکوٹ۔ ٦اللہ دتا ولد مولا داد بافندہ محلہ اٹاری سیالکوٹ۔ ٧عمر خاں بقلم خود۔
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِیْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
عرب وعجم کے دیوبندی بریلوی اہل حدیث
اور شیعہ علمائے کرام کا متفقہ فتویٰ
اہلیان علاقہ مانسہرہ ضلع مانسہرہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
سوال نمبر ۱...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ضلع ہزارہ تحصیل مانسہرہ میں ایک گاؤں کے رہنے والے ایک صاحب اثر شخص نے اپنی لڑکی ایک قادیانی مرزائی کو یہ کہہ کر نکاح کر کے دے دی کہ یہ لڑکا مرزائیت سے توبہ کر کے مسلمان ہو چکا ہے۔ چنانچہ ساری برادری کو اس کی توبہ کا ذکر کر کے بوقت شادی بٹھالیا اور دعوت ولیمہ میں بھی شریک کر لیا۔ اس ہنگامی صورت حال کے بعد خود اس لڑکے سے پوچھا گیا اور اسے مسلمان ہونے کی مبارک باد دی گئی تو اس نے غصہ میں آکر کہا کہ بیوی کی خاطر اپنا مذہب چھوڑنا (گالی دے کر کہا کہ ) بڑے ایسے ویسوں کا کام ہے۔ میں نے اپنا مذہب ہرگز نہیں چھوڑا ۔ آیا از روئے شریعت مطہرہ یہ نکاح ہوا یا نہیں۔ بینوا توجروا!
سوال نمبر ۲...... انہی بااثر صاحب نے پھر اپنے ایک لڑکے کی منگنی بھی مذکورہ لڑکے کے بڑے بھائی مرزائی عقیدے والے کی لڑکی سے اعلانیہ کی ہے۔ کچھ دنوں تک شادی ہونے والی ہے۔ اس کے متعلق واضح فرمائیں کہ اس شادی میں برادری کے اہل سنت والجماعت عقیدہ رکھنے والے مسلمان از روئے شریعت پاک شریک ہو سکتے ہیں یا کہ نہیں۔ بینوا وتوجروا!
سوال نمبر ۳...... انہی بااثر صاحب کے زیر اثر اس گاؤں کی جامع مسجد کے سابق امام وخطیب کا تعلق بھی مرزائیوں سے ہے۔ اس نے صاف کہا ہے کہ میں مرزائیوں کو کافر نہیں کہتا۔ کسی کی مرضی ہو میرے پیچھے نماز پڑھے۔ نہ ہو۔ نہ پڑھے۔ کسی کے ڈر سے اپنے تعلقات ان سے قطع کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ چنانچہ اپنے اس عقیدے کا مظاہرہ عملی طور پر اس نے اس طرح سے کیا ہے کہ شہر داتہ میں رہنے والے ایک قادیانی مبلغ کے خالص قادیانی عقیدے والے لڑکے کی شادی میں یہ امام صاحب مذکور اپنے کنبے کے سارے افراد سمیت شریک ہوئے اور اس شادی میں ضرورت سے زیادہ خوشی کا مظاہرہ بھی کیا۔ نیز اپنے حقیقی بھائی کو اس مذکور قادیانی لڑکے کا شادی والا دوست بھی بنا دیا۔ اسی پر بس نہیں ۔ بلکہ سنا ہے کہ یہی امام صاحب اپنی حقیقی بھانجی کا رشتہ اس قادیانی لڑکے کے بڑے بھائی قادیانی مرزائی کو اور اس کی حقیقی بھانجی جو مرزائی کی لڑکی ہے کا رشتہ اپنے حقیقی بھانجے کے لئے کرنے کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں۔ بات چیت تقریباً ہو چکی ہے۔ شاید معمولی سی کسر رہ گئی ہو ۔ رضائے الٰہی کے لئے اس مسئلہ کو وضاحت سے بیان فرمائیں کہ آیا یہ شخص مسلمانوں کی نماز پنجگانہ کا امام۔ نیز مسلمانوں کی نماز جنازہ کا امام بن سکتا ہے یا نہیں۔ نیز خطبہ جمعہ ونکاح کے لئے بھی کسی اور شخص کا مستقل طور پر انتظام کرنا چاہئے کہ نہیں۔ بینوا وتوجروا!
۱؎ چنانچہ اسی مسجد میں مدرسہ تجوید القرآن کے اساتذہ کرام کو خطیب صاحب کی اس مرزائیت نوازی پر اعتراض کرنے کی بناء پر اس صاحب اثر شخص نے پہلے ان کو ذلت آمیز الفاظ میں سخت سست کہا۔ پھر انہیں مدرسہ سے جواب دے کر تعلیم قرآن کے ہرے بھرے باغ کو اجاڑنا اس لئے پسند کر لیا کہ خطیب صاحب کی دل شکنی کیوں کی گئی۔ وہ اساتذہ کرام آج بھی بہت دور نہیں بلکہ مانسہرہ لوہار بانڈہ میں قیام پذیر ہیں۔ (مزید پوری کہانی صرف انہی کی زبانی)
سوال نمبر ۴...... نیز انہی بااثر صاحب اور خطیب صاحب کی اس خطرناک مرزائیت نواز بلکہ مرزائیت ساز پالیسی کی وجہ سے شہر کے اکثر عوام مرد و زن کو مرزائیوں کے کافر یا مسلمان ہونے کا کوئی علم ہی نہیں رہا۔ بلکہ ان دونوں نے مرزائیوں سے رشتوں کے لین دین والے اپنے خطرناک طرز عمل سے مرزائی اور مسلمانوں کے امتیاز کو اس حد تک ختم کر دیا ہے کہ اس گاؤں کے عوام مرد و زن مرزائیوں کے کفر و ارتداد سے بالکل بے خبر ہوتے جارہے ہیں۔ بلکہ ان ہی دونوں کے نقش قدم پر چل کر دوسرے مسلمانوں نے بھی مرزائیوں سے رشتے کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ چنانچہ ابھی چند روز ہوئے کہ ایک واقعہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح مرزائی میت کی نماز جنازہ اور دعا میں شریک ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ اس لئے راہ للہ یہ مسئلہ روشن فرمائیں کہ آیا مرزائی قادیانی ہوں یا لاہوری۔ دائرہ اسلام سے خارج ہیں یا کہ نہیں۔ ان سے نکاح اور ان کی نماز جنازہ اور دعا میں شریک ہونا از روئے دین حق و شریعت مطہرہ درست ہے یا نہیں۔ نیز قادیانی یا لاہوری مرزائی کا ذبح کردہ جانور حلال ہے یا حرام۔ بینوا و توجروا!
سوال نمبر ۵...... ہماری آخری دردمندانہ گزارش ہے کہ یہ دونوں مذکورہ بالا شخص۔ نمبر ۱..... بااثر صاحب جو وقتاً فوقتاً علمائے کرام کو برا بھلا کہتے ہوئے کہ یہ مولوی مرزائیوں کو کافر کہہ کر پھوٹ ڈالتے ہیں اور اپنے موجودہ طرز عمل کی تعریف و تحسین کرتے اور اپنے طرز عمل پر فخر کرتے ہوئے اسے محبوب و مرغوب سمجھتے ہیں۔ نمبر ۲..... امام و خطیب صاحب نے اللہ کے گھر جامع مسجد مذکور میں مرزائیوں کو کافر نہ کہنے کا اقرار اور ان سے تعلق جاری رکھنے کا اصرار کیا ہے اور اس پر قائم ہیں۔ چنانچہ مرزائیوں کی شادی میں اپنے طرز عمل کو واضح بھی کر دیا ہے۔ یہ دو شخص جن کی خطرناک مرزائیت نواز و مرزائیت ساز پالیسی کی وجہ سے اس وقت سارے کا سارا گاؤں کفر و ارتداد کی لپیٹ میں ہے۔ از روئے شرع متین و دین مبین اور قرآن و حدیث و مذہب حنفیہ کی معتبر کتابوں سے ان دونوں کا حکم بھی بیان فرمائیں کہ جب تک یہ اعلانیہ توبہ نہ کریں۔ عوام مسلمانوں کو ان سے کیسا تعلق رکھنا چاہئے۔ بینوا و توجروا!
ان سوالات کا جواب از روئے قرآن و حدیث و کتب معتبرہ و حنفیہ وضاحت سے بیان فرما کر عنداللہ ماجور ہوں اور اس گاؤں کے بے بس مسلمانوں کے ایمان کو ارتداد والی خطرناک لعنت سے بچانے میں امداد فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا و آخرت میں اجر عظیم عطا فرمائیں اور علمائے کرام کے وجود کو تا بقیامت سلامت با کرامت رکھے اور کفر و ارتداد کے لئے تباہی کا باعث بنائے۔ آمین! و آخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمين والصلوٰة والسلام علىٰ سيد المرسلين وآله واصحابه اجمعين!
الجواب:
مرزا غلام احمد قادیانی کا کافر ہونا اور مرتد ہونا اور ان کے اقوال و کلمات غیر محصورہ کا غیر محتمل للتاویل ہونا اظہر من الشمس ہو چکا ہے۔ اس لئے جمہور علمائے امت کے نزدیک وہ کافر و مرتد ہے اور اس طرح وہ لوگ جو اس کو باوجود ان اقوال و عقائد کے معلوم ہونے کے مسلمان سمجھیں خواہ نبی کہیں یا مسیح یا جو کچھ بھی کہیں کافر و مرتد ہیں۔ اگر اس کی مفصل
مدلل تحقیق کرنا ہو تو مستقل رسائل مثل (۱) اشد العذاب ۔ (۲) القول الصحیح فی مکائد المسیح (۳) مطبوعہ فتاویٰ علمائے ہند در بارہ تکفیر قادیانی۔ جس میں ہر ضلع اور صوبے کے علماء کے سینکڑوں دستخط ہیں ملاحظہ فرما۔ جائیں۔ اس لئے قادیانیوں و مرزائیوں سے عام مسلمانوں کا اختلاط اور ان کی باتیں سننا‘ جلسوں میں ان کو شریک کرنا یا خود ان کے جلسوں میں شریک ہونا یا شادی غمی اور کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا یا ان کے شریک ہونا یا نماز جنازہ میں ان کے شریک ہونا یا شریک کرنا سخت گناہ ہے اور مناکحت قطعا حرام ہے اور جو نکاح پڑھ بھی دیا جائے تو نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ بلکہ اگر بعد انعقاد نکاح مرزائی یا قادیانی ہو جائے تو نکاح فوراً فسخ ہو جاتا ہے۔
- ۱....... نکاح منعقد ہی نہیں ہوا۔ اگر ہوا بھی تھا تو اس لڑکے کے اس کہنے سے کہ میں نے اپنا مذہب ہرگز
نہیں چھوڑا۔ فوراً فسخ ہو گیا۔
- ۲....... اس شادی میں برادری اور اہل سنت والجماعت عقیدہ رکھنے والے مسلمانوں کو ہرگز شریک ہونا
جائز نہیں۔ اگر شریک ہوئے تو سخت گنہگار ہوں گے۔
- ۳....... صورت مذکورہ میں جامع مسجد کا امام و خطیب بھی خارج از اسلام ہے۔ لہذا وہ مسلمانوں کی نماز
پنجگانہ‘ جمعہ‘ عیدین اور نماز جنازہ کا امام نہیں ہو سکتا۔ اس کے پیچھے مسلمانوں کا نماز پڑھنا جائز نہیں۔ اگر پڑھ لی تو نماز نہ ہوگی۔ اعادہ نماز کا واجب ہوگا۔ خطبہ جمعہ اور نکاح اس سے نہ پڑھوایا جائے۔ امام اور نکاح خواں کسی دوسرے شخص کو مقرر کیا جائے۔
- ۴....... مرزائیوں کے دونوں فرقے قادیانی اور لاہوری اتنی بات پر متفق ہیں کہ وہ (مرزا قادیانی) اعلیٰ
درجے کا مسلمان بلکہ مجدد ومحدث اور مسیح موعود تھا۔ اور ظاہر ہے کہ کسی کافر و مرتد کے متعلق بعد اس کے عقائد معلوم ہو جانے کے ایسا عقیدہ رکھنا خود کفر و ارتداد ہے۔ اس لئے بلاشبہ دونوں فرقے کافر و مرتد ہیں۔ اور اب تو لاہوری تحریف قرآن اور ضروریات دین کا خاص طور سے بیڑا اٹھانے سے اپنے کفر و ارتداد میں مرزا قادیانی کے تابع ہو جانے سے مستغنی ہو کر خود بالذات ارتداد کے علمبردار ہیں۔ ان سے نکاح یا ان کے نماز جنازہ میں شریک ہونا جائز نہیں۔ سخت گناہ ہے۔
- ۵....... عام مسلمانوں کو ان سے بالکل تعلقات منقطع کر لینے چاہئیں۔ فقط: واللہ اعلم.......!
احقر العباد محمد صابر‘ نائب مفتی دارالعلوم کراچی نمبر ۱‘ ٹانک واڑہ ۹/۱/۱۳۸۳/ الجواب صحیح............ بندہ محمد شفیع عفی اللہ عنہ‘ ۹/۱/۱۳۸۳/ جواب صحیح اور درست ہے............ بندہ محمد حیات ۱۲/۱/۱۳۸۳/ فاتح قادیان! المجیب مصیب............ عبد الحق عفی عنہ مہتمم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پشاور جواب صحیح اور درست ہے............ سید گل بادشاہ غفر لہ مردان امیر جمعیت علمائے اسلام سرحد حضرت مولانا لال حسین اخترؒ صدر المبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘ علمائے پاک و ہند کے علاوہ پاکستان کے
فاضل جج صاحبان بھی ان پر مہر تصدیق ثبت کر چکے ہیں۔ کیمبل پور اور راولپنڈی کا فیصلہ ملاحظہ فرمایا جائے ۔احقر منظور احمد عفا اللہ عنہ صدر مدرس جامعہ عربیہ چنیوٹ ۱۱/۶/۱۹۶۳
مجھے داتا کے ایک امام نے خط لکھا کہ میں اور پیر صاحب مسلمان ہیں۔ لوگ جھوٹا پروپیگنڈہ ہمارے متعلق کرتے ہیں۔ جس پر میں نے خوشی ظاہر کی اور کہا بلکہ جواب لکھا کہ لوگوں کے کہنے سے آپ مرزائی نہیں ہو سکتے۔ لیکن جو واقعات اس استفتاء میں بتائے گئے ہیں وہ خطرناک ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسلمان کہنے والا کافر ہے۔ جو شخص اس کو مسلمان کہے یا قادیانی یا لاہوریٰ مرزائیوں سے رشتے کرے وہ کیسے مسلمان ہو سکتا ہے؟ ۔ ایسے آدمی کو امام بنانا حرام ہے۔ اس کے پیچھے نماز پڑھنی ناجائز ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کراچی کا فتویٰ بالکل صحیح ہے۔.......فقط !غلام غوث ساکن بٹہ ہزارہ حال لاہور بقلم خود۔
المجيب هو المصيب.............ناچیز عبداللطیف غفرلہ خطیب ومہتمم مدرسہ تعلیم الاسلام جامع مسجد گنبدوالی جہلم ۲۲ ربیع الاول ۱۳۸۳ھ/۱۲ اگست ۱۹۶۳ء
مفتی اعظم مصر کا فتویٰ
”ولذا افتينا بكفر طائفة القاديانية اتباع المفتون غلام أحمد القادياني الزاعم هو واتباعه انه نبى يوحى اليه وانه لا تجوز مناكحتهم ولا دفنهم فى مقابر المسلمين٠“ ﴿اسی لئے ہم (علمائے حق) نے مرزا غلام احمد قادیانی کی متبع تمام جماعت کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے اور اس کی طرف وحی کی جاتی ہے اور ہم یہ بھی فتویٰ دیتے ہیں کہ نہ ان سے رشتہ ناطہ کیا جائے اور نہ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے ۔ صفوۃ البیان لبیان القرآن نمبر ۱۸۶﴾
علمائے مصر کے اس فتویٰ کے بعد حکومت شام اور مصر نے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کی املاک ضبط کرلیں ۔
الجواب صحيح و المجيب مصيب.............محمد عرفان عفی عنہ از ڈبانگری المجيب المصيب.............محمد عبداللہ خالد عفی عنہ خطیب جامع مسجد مانسہرہ المجيب مصيب.............عبدالحئی بقلم خود امام مسجد محلہ تاڑی مانسہرہ
الجواب:
- ۱....... مرزائی قادیانی ہو یا لاہوریٰ دونوں اسلام سے خارج ہیں اور مرتد ہیں۔
- ۲....... جو شخص ہر دو فرقہ کو مسلمان تصور کرے۔ وہ بھی اسلام سے خارج ہے۔
- ۳....... جو شخص ہر دو فرقہ کو رشتہ دیوے یا لیوے۔ (بشرط کہ وہ مرزا قادیانی کے کفر کا اقرار کرے اور
مرزائیت سے توبہ کرے تو ایسا شخص باعث عزت وفخر ہے اور اس کو ثواب ملے گا۔) اس نے بسبب رشتہ کے ارتداد سے نکال کر اسلام میں داخل کیا۔
- ۴...... اگر بالثبوت ہونے کے ہر دو فرقہ کو رشتہ دیوے یا کرلے وہ بھی ہر دو فرقہ سے ہوگا۔
- ۵...... اگر امام مسجد کا تعلق مرزائیوں سے اس حیثیت سے ہے کہ وہ ان کو مسلمان تصور کرتا ہے تو وہ امام بھی
مسلمان نہیں رہتا۔ واللہ اعلم بالصواب...... محمد اسحق عفی عنہ خطیب جامع مسجد ایبٹ آباد
جواب بالا بالکل صحیح ہے
- ۱...... ہر مسلمان کو اسلام اور کفر میں امتیاز کرنا ضروری ہے۔ کسی کافر کے لئے دعا نماز جنازہ گناہ ہے۔ ان
سے کسی مسلمان کا نکاح مرد ہو یا عورت حرام کاری ہے۔ وہ نکاح نہیں ہوسکتا۔
- ۲...... ایسے کافروں کو مسلمان سمجھنا اسلام کی توہین ہے۔ کیونکہ ان کی کفریہ باتوں کو اسلام قرار دینا ہے۔
- ۳...... لوگوں کی یہ مصلحت اندیشی کہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہئے۔ اس لئے ہم ان کو اسلام
سے خارج نہیں قرار دینا چاہتے سخت دھوکہ ہے۔ یہ مسلمان کی تعداد میں اضافہ نہیں۔ غیر مسلمان کو اسلام کی تعداد میں داخل کرنا ہے اور مسلمانوں کو ان کے میل جول سے غیر مسلم بنانے کی سبیل کرنا ہے۔ جو خود مسلمانوں کی تعداد میں روز بروز کمی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔
- ۴...... یہ عذر لنگ بھی غلط ہے کہ مسلمانوں میں تفریق پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایسا عذر ہے جیسے حضور ﷺ اور
تمام انبیاء کی تشریف آوری کے وقت کفار نے پیش کیا تھا کہ تفریق پیدا ہو جائے گی کہ کچھ مسلمان ہوں گے کچھ نہیں۔ تو جس طرح وہاں حق کے اتباع کے لئے ان سے الگ ہونا ضروری تھا یہاں بھی حق کے اتباع کے لئے اپنے رسول اور دین کی توہین سے بچنے کے لئے اپنے کو ان سے الگ اور ان کو اپنے سے الگ الگ کرنا ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا تو آپ نے خود تمام اسلام کی جڑوں پر کلہاڑی چلا دی اور اس غلط طریقہ کو اسلام قرار دے کر اسلام کو تباہ کردیا ہے۔ یہ امر ایک اسلام دشمنی ہے۔ گو شیطان نے بہکا کر اسلام دوستی کا عنوان رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو مسلمان نام کے غیر مسلموں بلکہ دشمنان اسلام سے محفوظ رکھیں۔ واللہ ولی التوفیق!...... جمیل احمد تھانوی مفتی جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد لاہور ۱۶ صفر ۱۳۸۳ھ
الجواب وهو الموفق للصواب!
- ۱...... صورت مسئولہ میں جبکہ اس قادیانی لڑکے سے دریافت کیا گیا اور اسے مسلمان ہونے کی مبارک
باد دی گئی تو اس نے صاف لفظوں میں انکار کر دیا کہ میں نے اپنا مذہب نہیں چھوڑا تو اس صورت میں یہ نکاح نہیں ہوا۔ کیونکہ قادیانی مرزائی مرتد ہے اور مرتد کا نکاح تو کسی مرتدہ عورت سے ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی مسلمان عورت سے۔ شریعت اسلامیہ نے مرتد کا کوئی دین تسلیم نہیں کیا۔ (ردالمحتار ج ۳ ص ۳۴۲ کتاب المرتدین) اور جو لوگ نکاح میں شریک ہوئے۔
اگر انہوں نے پیر صاحب کے کہنے پر سمجھ لیا کہ اس لڑکے نے توبہ کر لی ہے اور اپنا مذہب چھوڑ دیا ہے۔ اس صورت میں تو وہ گنہگار نہیں اور وہ جانتے تھے کہ اس نے اپنے مذہب سے توبہ نہیں کی اور وہ مرزائی ہے۔ یہ بات سمجھتے ہوئے پھر اس کو مسلمان تصور کیا۔ اس صورت میں یہ لوگ کافر ہو گئے۔ ان پر لازم ہے کہ تجدید اسلام و نکاح کریں اور توبہ کریں اور اگر اس کو کافر مرزائی ہی سمجھتے ہوئے نکاح میں شرکت کی اور دنیاوی رورعایت کو مدنظر رکھا۔ اس صورت میں وہ لوگ سخت گنہگار ہیں۔ ان پر لازم و واجب ہے کہ توبہ واستغفار کریں اور بااثر صاحب کے لئے بھی یہی حکم ہے جس کی تینوں صورتیں بیان کر دی گئی ہیں اور ان کے احکام بھی بیان کر دیئے گئے ہیں۔
- ۲....... اگر بااثر صاحب نے اپنے لڑکے کی منگنی مرزائیوں کے ہاں کی ہے اور وہ انہیں مسلمان سمجھتا ہے۔ اس صورت میں وہ کافر ہو گیا۔ اس پر تجدید اسلام و نکاح لازم ہے۔ کیونکہ کافر کو مسلمان ماننا کفر ہے۔ (درمختار) اور اگر دنیاوی لالچ میں پھنس کر کر رہا ہے تو سخت گنہگار و مستحق عذاب نار ہے۔ اس کو توبہ واستغفار کرنا چاہئے اور اپنے لڑکے کی شادی مرزائیوں کے ہاں کرنے سے باز آنا چاہئے اور اس شادی میں برادری کے اہل سنت والجماعت کے لوگوں کو ہرگز شریک نہیں ہونا چاہئے اور پھر اگر یہ لوگ شریک ہوں تو اگر مرزائیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں تو اس صورت میں وہ کافر ہو گئے۔ ان پر تجدید اسلام و نکاح لازم ہے اور اگر انہیں کافر ہی سمجھتے ہیں۔ پھر لالچ اور رورعایت کی وجہ سے شامل ہوں گے تو سخت عذاب اخروی کے مستحق ہوں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: ”ولا ترکنوا الی الذین ظلموا ، ھود ۱۱۳“ ﴿جن لوگوں نے گناہ کئے ہیں ان سے میل جول مت رکھو۔﴾ لہٰذا ایسے شخص اگر پہلی صورت میں تجدید اسلام و نکاح اور دوسری صورت میں توبہ واستغفار نہ کریں تو مرزائیوں کو مسلمان سمجھنے کی صورت میں ان سے سلام کلام رشتہ ناطہ بالکل قطع کر دینا چاہئے اور اگر اعلانیہ توبہ کئے بغیر مر جائیں تو ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ ہی ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے اور جو لوگ مرزائیوں کو مسلمان تو نہیں سمجھتے تھے۔ پھر وہ شادی میں شرکت کریں اور اس کے بعد وہ توبہ واستغفار نہ کریں۔ ان سے بھی سلام و کلام اور رشتے ناطے بند کئے جائیں۔ حتیٰ کہ توبہ واستغفار کریں۔
- ۳....... سابق امام مسجد کا یہ کہنا کہ مرزائیوں کو میں کافر نہیں کہتا۔ اس کا یہ قول بھی کفر ہے۔ مکہ و مدینہ زاداللہ شرفاً و تعظیماً کے علمائے کرام کا متفقہ فتویٰ کتاب حسام الحرمین میں ہے کہ جو شخص مرزا قادیانی کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ یعنی اس کے کفر پر مطلع ہونے کے بعد من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ! اور اس مبلغ قادیانی کے لڑکے کی شادی میں مولوی سابق امام مسجد کا اپنے سارے خاندان کو شامل کرایا، کافروں سے موالات (دوستی) کرنے کی زبردست دلیل ہے۔ اور نیز اپنی حقیقی بھانجی کا رشتہ قادیانی مرزائی سے اور قادیانی مرزائی کی سگی بھانجی کا رشتہ اپنے حقیقی بھائی سے کرنا چاہتا ہے۔ اس کا یہ ارادہ بالکل شریعت مطہرہ کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہ مولوی سابق امام صاحب مسلمانوں کی نماز پنجگانہ اور نماز جنازہ کا امام نہیں بن سکتا۔ کیونکہ کافر و فاسق ہے اور اس کو مسلمانوں کی نکاح خوانی کے لئے بھی نہ بلایا جائے۔ مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں۔
(ملخص ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول ص ۴۴)
۴....... مرزائی قادیانی ہو یا لاہوری ہر دو کافر ہیں۔ کیونکہ قادیانی تو اس (مرزا قادیانی) کو نبی مانتے ہیں اور لاہوری مرزائی اس کو مجدد اور مسلمان مانتے ہیں۔ حالانکہ وہ اپنے دعوئی نبوت اور دیگر عقائد کفریہ کی وجہ سے کافر و مرتد ہے اور جو شخص اس کے عقائد پر مطلع ہو کر اس کو نبی یا مجدد اور مسلمان مانے وہ شخص بھی کافر ہے۔ لہذا لاہوری مرزائی بھی کافر ہیں۔ لہذا ان سے بیاہ شادی کرنا اور ان کی نماز جنازہ اور دعا میں شریک ہونا از روئے شریعت مطہرہ ہرگز جائز نہیں۔ نبی علیہ السلام نے بدعقیدہ لوگوں کے حق میں فرمایا: ”ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معهم .“ ﴿ان پر نماز جنازہ مت پڑھو اور ان کے ساتھ مل کر نماز مت پڑھو۔﴾ اور مرزائی کی میت مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کی جائے اور جو لوگ شریعت مطہرہ کی خلاف ورزی کر کے ان کے نکاح اور جنازہ میں اگر ان کو مسلمان سمجھ کر شریک ہوں تو اس صورت میں شرکت کرنے والے کافر ہوگئے اور ان کے نکاح ٹوٹ گئے۔ ان کو تجدید اسلام و نکاح کرنا چاہئے اور اگر ان کو کافر ہی جانتے ہوئے ان معاملات میں ان کی شرکت کریں۔ اس صورت میں وہ سخت گنہگار ہیں۔ ان سے بھی سلام و کلام بند کیا جائے۔ مرزائی خواہ قادیانی ہو یا لاہوری ان کا ذبیحہ بھی حرام ہے۔ کیونکہ مرتد کا ذبح کردہ جانور مردار ہے۔ ...... احقر العباد مولوی محمد رمضان نائب مفتی و فاضل دارالعلوم حزب الاحناف لاہور مورخہ ۲۳ جون ۱۹۶۳ء
ذالك كذالك وانى مصدق لذلك! ......... فقیر قادری ابوالبرکات سید احمد غفرلہ ناظم و مفتی دارالعلوم مرکزی انجمن حزب الاحناف لاہور
الجواب هو الجواب ! ........... فقیر قادری محمد اعجاز الرضوی عفی عنہ مہتمم مرکزی دارالعلوم جامعہ گنج بخش لاہور
الجواب وهو الموفق للصواب ! مرزائی لوگ چونکہ قطعاً مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ اس لئے ان سے نکاح وغیرہ کرنا، ان سے میل جول، سلام و کلام، رشتہ داری کے تعلقات رکھنا حرام قطعی ہے۔ جو شخص دانستہ ان سے یہ تعلقات نکاح وغیرہ قائم کرے گا وہ بھی اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ بندہ کو جواب مذکورہ سے لفظ بہ لفظ اتفاق ہے۔ واللہ اعلم ! ......... حررہ العبد الضعیف محمد سعید احمد عفی عنہ مفتی جامعہ نعمانیہ ٹکسالی گیٹ لاہور پاکستان ۹ جولائی ۱۹۶۳ء
بسم الله الرحمن الرحیم ! علمائے کرام کے جوابات بالکل صحیح اور درست ہیں۔ مرزائیوں کو کافر نہ سمجھنا بھی کفر ہے ! ......... حافظ عبد القادر روپڑی جامع مسجد قدس لاہور ۔ ۱۰ستمبر ۱۹۶۳ء
مرزائی قادیانی ہوں یا لاہوری۔ ان کو مسلمان سمجھنے والے سب کافر ہیں۔ ان سے رشتہ ناطہ کرنے والے سب انہی کے حکم میں ہیں۔ قرآن میں ہے انكم اذاً مثلهم! ......... عبدالله امرتسری روپڑی!
مذہب شیعہ اثنا عشری کی رو سے نکاح طرفین میں اسلام شرط ہے۔ ختم نبوت کا منکر مسلمان نہیں۔ غیر مشروع عقد کا ممہد و موجد عادل نہیں رہ سکتا اور امام جماعت میں مذہب شیعہ اثنا عشری کی رو سے عدالت شرط ہے۔ غیر مسلم سے میل جول جس سے مسلمانوں کے اسلام میں ضعف واقع ہو شرعاً جائز قرار نہیں دیا جا سکتا ! ......... اختر عباس نجفی مدرس جامع منتظر لاہور محمد علی رضوی مدرس مدرسہ امامیہ دارالتجوید پاکستان!
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ
قادیانیوں کی طرح لاہوری مرزائی بھی کافر ہیں
اراکین مسجد وو کنگ انگلینڈ
بسم الله الرحمن الرحيم!
مسجد ووکنگ کی مختصر تاریخ
یہ مسجد تقریباً ۱۸۸۶ء میں بیگم شاہ جہاں والی بھوپال ریاست کے زرکثیر عطیے سے ایک انگریز ڈاکٹر لائٹر ریٹائرڈ پرنسپل اورنٹیل کالج لاہور نے بنوائی تھی اور اس کے ساتھ رہائشی مکانات بھی تعمیر کرا دیئے گئے تھے۔ مگر بدقسمتی سے ۱۹۱۲ء میں مرزا کمال الدین لاہوری مرزائی نے چند دوسرے مرزائیوں کی ہمراہی میں اس مسجد پر غاصبانہ قبضہ کر لیا اور جو امام اہل سنت والجماعت کا یہاں تعینات تھا اس کو زبردستی نکال باہر کیا۔ پولیس وغیرہ آئی مگر داد رسی نہ ہوسکی۔ کیونکہ انگریز کے ہی تو یہ پروردہ تھے۔ ہند و پاک کی آزادی کے بعد مسجد ہذا کا انتظام وانصرام سفارت خانہ پاکستان کے تحت چلا گیا۔ مگر عملی طور پر مرزائی اس پر قابض رہے اور اپنے باطل فرقے کی نشر واشاعت اور تبلیغ کرتے رہے اور ان کی طرف سے ہی یہاں امام متعین رہا۔ اور طرہ یہ کہ ایک اچھی خاصی رقم پاکستان سے زرمبادلہ کی شکل میں حاصل کر کے اس کے مصرف میں لائی جاتی رہی۔
۱۹۶۴ء میں جب مسلمانوں کی تعداد اس شہر میں بڑھنی شروع ہوئی تو اس وقت کے مرزائی امام محمد طفیل نے عجیب و غریب ہتھکنڈے مسلمانوں کو اس شہر سے بھگانے کے لئے استعمال کئے۔ سرکاری دفاتر میں رپورٹیں کیں کہ یہ گندے رہتے ہیں۔ ایک مکان میں زیادہ تعداد میں رہائش پذیر ہیں۔ اس طرح محکمہ حفظان صحت کے چھاپے پڑے۔ مگر یہ ملعون کامیاب نہ ہوسکا۔ اسکے بعد دوسرا امام بشیر احمد مصری کو مرزائیوں نے اس منصب پر مامور کیا۔ ادھر علمائے حق مثلاً حضرت مولانا لال حسین اختر صاحب مرحوم اور علامہ خالد محمود صاحب جیسے علماء حق اہل السنّت والجماعت بھی میدان عمل میں اترے اور اس فرقہ باطلہ کی خوب خبر لی اور مسلمانوں میں مسئلہ ختم نبوت کی تڑپ پیدا کی اور توجہ دلائی کہ یہ مسجد درحقیقت صحیح العقیدہ مسلمانوں کی میراث ہے اور مرزائیوں نے اس پر اپنی جعلسازی اور سازشوں کی وجہ سے قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ تحریک آخر ایک دن رنگ لائی اور مسجد ہذا مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی۔ مگر طے یہ ہوا کہ ان کو مسلمانوں نے امامت کے فرائض پر مامور کیا۔ لیکن پھر مسجد سفارت خانہ پاکستان کی مداخلت سے عجیب و غریب کیفیات کا شکار ہوگئی اور سفارت خانہ کی طرف سے ایک کلرک بنام خواجہ قمر الدین صاحب جس کا تعلق حیدرآباد دکن (انڈیا) سے ہے بطور امام مقرر کیا گیا اور کہا گیا یہ عارضی امام ہے۔ بعد میں ایک مستند عالم دین کی تقرری عمل میں لائی جائے گی جو کہ آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہوسکی۔ یہ امام انتہائی درجہ کا نااہل، فرقہ باز اور مسجد کی لائبریری کو اس نے جماعت اسلامی یعنی مودودی جماعت کی نشر واشاعت کا اڈہ بنا رکھا۔ مسجد کا دیگر انتظام وانصرام
انتہائی نا گفتہ بہ ہے۔ سٹرک اپنی زبوں حالی کا رونا رو رہی ہے۔ بچوں کی دینی تعلیم و تدریس کا انتظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ نیز اس امام کا میل جول لاہوری مرزائیوں کے ساتھ ہے اور اس نے چند دن ہوئے ایک نئی مذموم حرکت کا ارتکاب کیا ہے جو انتہائی دلخراش اور مسلمانوں کے لئے یقیناً ناقابل برداشت ہے۔
اس کے متعلق حضرات علمائے کرام و مفتیانِ شرع متین کی طرف رجوع کیا گیا اور ان کی خدمت میں ایک استفتاء پیش کرتے ہوئے شرعی فتویٰ کی استدعا کی گئی۔ ہم جانتے ہیں کہ اس واقعہ کو سن کر مسلمانانِ عالم اضطراب محسوس فرمائیں گے ۔ اور شاید یہ واقعہ ان کے دلوں پر نمک پاشی کا کام کرے۔ لیکن چونکہ ہم ممبران و اراکین مسجد ووُکنگ اپنے مسلمان بھائیوں کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ لہذا ان چند سطور کو مع فتاویٰ شائع کرنے پر مجبور ہیں۔ تاکہ مسلمان کم از کم اپنی نمازیں تو نہ خراب کریں۔ و مـــــا عـــــلـــــيـــــنـــــا الا الـــــبـــــلاغ ، وما توفیقی الا باللہ! اراکین مسجد ووُکنگ انگلینڈ ۸/۹/۷۳
استفتاء ......!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے کہ کل مورخہ ۸ ستمبر ۱۹۷۳ء بوقت ساڑھے چار بجے دن سابق امام ووُکنگ مسجد محمد طفیل متعلقہ مرزائی فرقہ لاہوری کی ساس کا جنازہ مسجد ہٰذا میں لایا گیا اور یہاں کے سرکاری امام نے محمد طفیل کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی ۔ جبکہ چند معززین نے اس حرکت کا محاسبہ کیا تو خواجہ قمر الدین سرکاری امام ووُکنگ مسجد نے یہ دلیل پیش کی کہ میں نے اس لئے جنازہ میں شرکت کی ہے۔ کیونکہ مرزا محمد طفیل بسا اوقات میرے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتے ہیں اور دوسری دلیل یہ پیش کی کہ میں لاہوری مرزائیوں کو کافر نہیں سمجھتا۔ کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مجدد تسلیم کرتے ہیں اور ہم کو کافر نہیں کہتے۔ لہٰذا آپ مہربانی فرما کر قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے شخص کے متعلق شرعی فتویٰ سے کما حقہ مطلع فرمائیں۔
یعنی شاہدوں کے دستخط مندرجہ ذیل ہیں:
دستخط: صابر حسین ............... محمد شریف ............... عبدالرحمن ............... ملک احمد خان ...............
حضرت مولانا قاضی مظہر حسین فاضل دیوبند امیر خدام اہل السنّت والجماعت
خلیفہ مجاز حضرت سید حسین احمد مدنی صاحبؒ کا جواب
کتاب اللہ، احادیث رسول اللہ ﷺ اور تعامل خلفائے راشدین حضرت ابو بکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ فاروق، حضرت عثمانؓ ذوالنورین اور حضرت علی المرتضیٰؓ اور اصحاب رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں امت محمدیہ کے تمام علمائے کرام کا یہ اجماعی فیصلہ ہے کہ نبی کریم رحمت للعالمین خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ یعنی حضور
اکرمﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا اور اگر اس آخری امت میں سے کوئی شخص نبوت ورسالت کا دعویٰ کرے تو وہ کافر مرتد دجال اور کذاب ہے۔ اسی بناء پر ملت اسلامیہ کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی بوجہ دعویٰ نبوت کے خارج از اسلام اور کافر ہے اور اس کو نبی یا مجدد ماننے والے بھی قطعی کافر ہیں اور مسئلہ ختم نبوت اسلام کا ایسا بنیادی عقیدہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے آئین میں بھی اس کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔ چنانچہ صدر اور وزیر اعظم پاکستان کے حلف نامہ کی عبارت حسب ذیل ہے:
”میں قسم کھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور خدا پر میرا یقین کامل ہے اور اس کی کتاب قرآن پاک پر جو کہ آخری کتاب ہے آخری نبی محمدﷺ پر (جن پر خدا کی رحمت ہو) جن کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا۔ قیامت کے دن پر۔ رسول کی سنت وحدیث پر۔ قرآن کے احکام پر۔“
(آئین پاکستان‘ تیسرا شیڈول حلف صدر دفعہ ۴۲)
سوال نامہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ووکنگ مسجد کا امام خواجہ قمر الدین لاہوری مرزائیوں کو اس وجہ سے کافر نہیں کہتا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ بلکہ مجدد مانتے ہیں اور اسی بناء پر ہی اس نے ایک لاہوری مرزائی محمد طفیل کی اقتداء میں ایک مرزائی عورت کا جنازہ بھی پڑھ لیا ہے۔ لیکن خواجہ قمر الدین مذکور کی یہ تاویل صحیح نہیں۔ کیونکہ جب شریعت کی رو سے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی قطعی کافر ہے تو جس شخص کو شرعاً کافر ماننا ضروری ہے۔ اس کو ولی اور مجدد ماننے کا کیا جواز ہوسکتا ہے؟۔ کیا کوئی کافر بھی مجدد ہوسکتا ہے؟۔ علاوہ ازیں یہ بھی ملحوظ رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں لاہوری پارٹی کا بانی مولوی محمد علی لاہوری‘ مرزا قادیانی کو نبی ہی مانتا رہا ہے اور اس کی تحریرات سے یہی ثابت ہے۔ مثلاً محمد علی لاہوری نے لکھا ہے کہ:
”ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانے میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا تھا وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج۳ نمبر ۱۱ ص ۴۱۱)
دراصل قادیانی مرزائیوں کی طرح لاہوری مرزائی بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے مشن کو ہی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ دونوں کی دعوت مرزا قادیانی کی شخصیت کی طرف ہے۔ ان دونوں پارٹیوں کا مقصد یہی ہے کہ العیاذ باللہ ناواقف مسلمان مرزا قادیانی کے پیروکار بن جائیں۔ خواجہ قمر الدین نے لاہوری مرزائی محمد طفیل کی اقتداء میں نماز جنازہ پڑھ کے حضور خاتم النبیین ﷺ کے ساتھ غداری کی ہے۔ اب وہ مسلمانوں کی امامت کا مستحق نہیں رہا۔ اس کے پیچھے مسلمانان اہل السنّت والجماعت کی نماز صحیح نہیں۔ اس کو امام نماز بنانا حرام ہے۔ ایسے شخص کو فوراً معزول کر کے کسی صحیح العقیدہ سنّی عالم کو امام بنانا چاہئے۔ لاہوری مرزائی کے پیچھے نماز جنازہ پڑھنے کے بعد جن مسلمانوں نے غلط فہمی سے اس کی
اقتداء میں نمازیں پڑھی ہیں۔ ان پر ان نمازوں کی قضا لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل السنّت والجماعت کو ہر فتنہ سے محفوظ رکھیں۔ آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ !خادم اہل السنّت الاحقر مظہر حسین غفرلہٗ خطیب مدنی جامع مسجد چکوال امیر تحریک خدام اہل السنّت والجماعت صوبہ پنجاب (پاکستان) ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۹۳ھ ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۳ء
شیخ الحدیث حضرت مولانا علامہ محمد سرفراز خان صفدر کا جواب
الجواب ھوالمصوب! لاہوری مرزائی بھی اسی طرح کافر ہیں جس طرح قادیانی کافر ہیں اور ان کے کافر ہونے کے کئی وجوہ ہیں۔
- ۱...... کہنے کو تو یہ گروہ مرزا قادیانی کو مجدد کہتا اور مانتا ہے۔ مگر محمد علی لاہوری نے مرزا قادیانی کو نبی بھی کہا
اور تسلیم کیا ہے۔ اس کے چند حوالے ملاحظہ ہوں:
- الف...... ’’ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا
گیا تھا وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ج ۳ ش ۱۱ ص ۴۱۱)
- ب...... ’’اس آخری زمانہ کے لئے تجدید دین کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ عظیم الشان
ضلالت کے وقت میں جو اخیر زمانہ میں ظہور میں آنے والی ہے۔ اپنے ایک نبی کو دنیا کی اصلاح کے لئے مامور کرے گا اور اس کا نام مسیح موعود ہوگا۔ سو ایسا ہی ہوا۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ج ۵ نمبر ۶ ص ۲۱۴)
- ج...... ’’ہر ایک نبی نے جو خدا کی طرف سے آیا ہے دو باتوں پر زور دیا ہے۔ اول یہ کہ لوگ خدا پر ایمان
لائیں اور دوسرا یہ کہ اس کی نبوت کو اور اس کے من جانب اللہ ہونے کو تسلیم کریں۔ بعینہٖ اس قدیم سنت الٰہی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو بھی مبعوث فرمایا۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ج ۴ نمبر ۱۲ ص ۴۶۵)
ان صاف اور صریح عبارات سے معلوم ہوا کہ لاہوری پارٹی کا سربراہ اور سراسر گمراہ محمد علی بھی قادیانی کو (معاذ اللہ تعالیٰ) نبی تسلیم کرتا ہے اور ختم نبوت کے ایک بنیادی عقیدہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے وہ کافر ہے اور اس پر امت کا اجماع اور اتفاق ہے۔ مودودی صاحب اور ان کی جماعت کے سامنے یہ صاف اور صریح حوالے پیش کر دینے چاہئیں۔ اگر سمجھنے کے بعد وہ لاہوری مرزائیوں کو کافر نہ کہیں تو وہ بھی پکے کافر ہیں۔ لاشک فیہ ولا ارتیاب!
- ۲...... ’’محمد علی لاہوری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا قائل ہے۔‘‘
(تفسیر بیان القرآن ج ۱
ص ۲۲۵ محمد علی لاہوری)
اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات کا انکار بالاجماع کفر ہے۔
- ......۳...... حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا نصوص قطعیہ اور اجماع امت سے ثابت
ہے ۔ مگر محمد علی لاہوری لکھتا ہے کہ حضرت مسیح کی بن باپ پیدائش اسلامی عقائد میں نہیں۔ عیسائیت کا اصول ہے۔ (تفسیر بیان القرآن ج ۱ ص ۲۱۳) اور اسی صفحہ پر تصریح کرتا ہے کہ: ”حضرت مریم علیہ السلام کے ساتھ یوسف (نجار!) کا تعلق زوجیت کا تھا ۔“ اور یہ اس کے کافر ہونے کی ایک مستقل وجہ ہے۔
- ......۴...... ”محمد علی لاہوری دوزخ کے دوام کا قائل نہیں۔“ (ملاحظہ ہو تفسیر بیان القرآن ج ۱ ص ۲۶۸)
حالانکہ قرآن کریم کی نصوص قطعیہ اور احادیث متواترہ اور اجماع امت سے دوزخ کا خلود اور دوام ثابت ہے اور اس کا انکار کرنا کفر ہے۔
- ......۵...... محمد علی لاہوری حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اسی طرح دوسرے تمام پیغمبروں کے معجزات کی جو قرآن
کریم میں صراحت سے مذکور ہیں تاویل کرتا ہے جو خالص تحریف ہے اور نصوص قطعیہ کی یہ تاویل بجائے خود کفر ہے۔
اس کے علاوہ اور بھی کئی وجوہ ہیں والعاقل تکفیہ الاشارہ ! جب لاہوری مرزائیوں کے یہ نظریات ہیں تو امت میں کون بدبخت ان کو مسلمان سمجھے گا؟۔ مودودیوں کے سامنے یہ حوالے پیش کر دیئے جائیں۔ اگر وہ ان کو سمجھ اور جان کر بھی لاہوری مرزائیوں کی تکفیر نہیں کرتے تو یقیناً وہ بھی کافر ہیں۔
جب لاہوری مرزائی کافر ہیں تو ان کا جنازہ کیونکر درست ہو سکتا ہے اور ان کے ایسے عقائد پر اطلاع پانے کے بعد بھی ان کو مسلمان سمجھنے والا اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والا یقیناً کافر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ! احقر ابو الزاہد محمد سرفراز خطیب جامع مسجد گکھڑ صدر مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ ۲۶ شعبان ۱۳۹۳ھ ۲۵ ستمبر ۱۹۷۴ء
حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ کا جواب
مبسملا محمدلا ومصلیا ومسلما! تمام اہل حق علمائے پاک و ہند کا متفقہ فتویٰ ہے کہ مدعی نبوت اور اس کو سچا سمجھنے والے خواہ نبی نہ کہیں سچا قرار دیں۔ بزرگ، نیک یا مجدد وغیرہ مانیں ۔ سب کافر ہیں، مرتد ہیں اور ظاہر ہے کہ نیک بزرگ سمجھنا سچا کہنا ہے اور مدعی نبوت اور تمام انبیاء کی تحقیر کرنے والے کو سچا قرار دینا خود نبوت و توہین انبیاء کو سچا قرار دینا کفر ہے۔ اب ان لوگوں کے عقیدے اور نظریات ایسے نہیں رہے کہ کسی سے چھپے ہوئے ہوں ۔ یا کسی کو شبہ بھی ہو سکے ۔ ان سے مسلمانوں کا سا کوئی معاملہ درست نہیں۔ ان سے میل جول بھی کفر پھیلانے کی مدد ہو کر گناہ ہے۔
اسلام کے بعد مرتد ہونے والا کفر عظیم کے ساتھ توہین اسلام کا بھی علی الاعلان مرتکب ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا درجہ دوسرے اصلی کافروں سے بھی بدتر ہے۔ نہ ان کا ذبح کیا ہوا حلال، نہ ان کے کسی مرد عورت کا نکاح ان سے درست، نہ
کسی مسلمان سے میراث کا حق نہ جنازہ میں شرکت جائز ۔ منافق لوگ بھی مسلمانوں کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر اللہ نے ان کو کافر ہی قرار دیا ہے۔ اس لئے تاویلیں کرنے والے خود غلطی پر ہیں۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ ولا تصل علیٰ احد منهم مات ابدا ولاتقم على قبره ۰ انهم كفروا بالله ورسوله وماتوا وهم فاسقون ! ﴿اور مت نماز پڑھو تم ان میں کسی پر جو مر جائے کبھی بھی اور نہ کھڑے رہو اس کی قبر پر بے شک ان لوگوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور اطاعت خدا سے نکلتے ہوئے مرے ہیں۔ توبہ۸۴﴾
ایسے صاف حکم کے بعد یہ تاویل کہ وہ میرے پیچھے نماز پڑھ لیتا تھا بالکل غلط ہے۔ منافقین بھی حضورﷺ کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے اور دھوکہ دینے کے لئے بہت سی اسلامی باتیں بگھار لیتے تھے۔ تو کیا وہ مسلمان شمار ہو سکتے ہیں ............ الخ۔ جمیل احمد تھانوی مفتی جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن لاہور ۲۶ شعبان ۱۳۹۳ھ
حضرت مولانا حافظ محمد الیاسؒ جامع مسجد پٹولیاں کا جواب
بلاشک وشبہ مدعی نبوت کو مجدد یا مسلمان سمجھنے والا کافر و مرتد ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا سلوک روا رکھنا کسی صورت جائز نہیں ہے جو امام مسجد لاہوری مرزائیوں کو کافر نہیں سمجھتا اس کے پیچھے ہرگز نماز درست نہیں ہے۔ اس کو منصب امامت سے الگ کرنا ضروری ہے۔ هذا ماعندیٰ والله اعلم بالصواب! احقر خادم اہل سنت محمد الیاس غفرلہ مدرسہ رشیدیہ چوک لوہاری منڈی لاہور ۵ رمضان المبارک ۱۳۹۳ھ
حضرت مولانا محمد حسین نعیمیؒ دارالعلوم نعیمیہ لاہور کا جواب
الـجـواب هـو الـمـوفـق للـصـواب! مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا جو اس کی ۱۹۰۱ء سے لے کر ۱۹۰۸ء تک کی تصانیف سے ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں توہین آمیز کلمات کہے۔ اپنے آپ کو کئی انبیاء سے افضل قرار دیا۔ قرآن کریم کی تحریف معنوی کی۔ یہ تمام امور کھلے کھلے کفر ہیں۔ ایسے شخص کو مسلمان ماننا بھی کفر ہے۔ چہ جائیکہ اس کو مجدد یا محدث مانا جائے۔ اس لئے تمام اہل اسلام کے نزدیک مرزا قادیانی کے تمام متبعین کافر ہیں۔ خواہ لاہوری ہوں یا غیر لاہوری اور مرزا قادیانی کے متبعین کی تکفیر نہ کرنا بھی کفر ہے۔ اس لئے صورت مسئولہ میں امام مذکور کو جب تک مرزا قادیانی اور اس کے تمام متبعین کا کفر تسلیم نہ کرے اس وقت تک وہ خود کفر سے باہر نہیں ہے۔ نہ اس کا ایمان صحیح رہا نہ نکاح نہ اس کی اقتداء میں نمازیں صحیح ہوں گی۔ تاوقتیکہ وہ اس عقیدہ کفریہ سے برات کا اظہار کرے۔ الجواب هو الموفق للصواب! محمد حسین صاحب نعیمی جامعہ نعیمیہ لاہور غلام رسول سعیدی مدرس جامعہ نعیمیہ لاہور ۲۴ ستمبر ۱۹۷۳ء مطابق ۲۵ شعبان ۱۳۹۳ھ
الجواب صحیح ۔ محمد عبدالقادر صاحب آزاد خطیب شاہی جامع مسجد لاہور
حضرت مولانا سمیع الحق صاحب مدرس دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پشاور
محترم المقام زید مجدکم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ جواباً عرض ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی بوجہ اپنے دعاوی باطلہ کے قرآن وسنت کی نصوص قطعیہ اور اجماع امت کے بموجب قطعی کافر ہے اور مرتد ہے اور انہی وجوہات کی وجہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کے ایسے معتقدات کو اپنانے والے یا اس کا اتباع کرنے والے یا اس کی تصدیق وتائید یا تاویل کرنے والے بھی قطعی کافر مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ متنبیٰ کذاب قادیانی کے مرنے کے بعد اس کے متبعین کی ایک جماعت نے جو لاہوری جماعت کہلاتی ہے مرزا قادیانی کے واضح اور قطعی دعاویٰ (نبوت تشریعی و غیر تشریعی بلکہ سارے انبیائے کرام بشمول حضور خاتم النبیین ﷺ پر اپنی فضیلت، انبیاء کی توہین وغیرہ) کے باوجود اس کی تکفیر کرنے کے بجائے جو ہر مسلمان کا لازمی عقیدہ ہونا چاہئے اسے مصلح، مجدد اور مسیح موعود کہنا شروع کر دیا۔ نفاق فریب اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی یہ روش جان بوجھ کر اختیار کی گئی اور اسی بناء پر مرزا قادیانی کے کفریات اور خرافات پر مبنی دعوؤں کی تاویل وتوجیہہ شروع کی۔ مگر برصغیر کے محقق علماء خصوصاً علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور دیگر حضرات نے اس فریب ونفاق کا پردہ قطعی دلائل سے چاک کیا اور لاہوریوں کی تکفیر میں ”اکفار الملحدین فی ضروریات الدین“ نام سے مستقل کتاب لکھی۔ جس میں واضح کیا کہ قطعی یقینی اور متواتر معتقدات اور ضروریات دین میں تاویل وتحریف اور انکار و گریز قطعی کفر ہے۔ گو ایسا کرنے والا اپنے آپ کو مسلمان کہے اور مسلمانوں کی ساری عبادات نماز وغیرہ میں شرکت کیوں نہ کرے۔
الغرض مسلمانوں کے لئے مرزائیوں کا لاہوری فرقہ دوسرے فرقہ قادیانی جماعت سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے کہ عام مسلمان انہیں نمازوں وغیرہ میں شرکت کرتے دیکھ کر ان کے دام فریب میں آجاتے ہیں۔ الحاصل لاہوری مرزائی بھی قطعی کافر ہیں۔ لاہوری مرزائی کا کسی مسلمان کے پیچھے نماز پڑھنا اس کے مسلمان ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا اور اب تو قادیانی فرقہ (جماعت ربوہ) نے بھی مسلمانوں کو دھوکہ اور فریب دینے کی خاطر اپنے متبعین کو مسلمانوں کے ساتھ نماز وغیرہ پڑھنے کی اجازت از راہ تقیہ دیدی ہے۔ کیا اس طرح نماز پڑھنے سے وہ بھی مسلمان کہلا سکیں گے؟۔
لاہوری مرزائی امام کی اقتداء میں مذکورہ شخص نے اگر غلط فہمی اور لاعلمی کی وجہ سے نماز پڑھی تو اسے نادم اور تائب ہو کر اپنے موقف سے رجوع کرنا چاہئے اور اگر اب بھی وہ لاہوری مرزائیوں کے بارہ میں اپنی سابقہ رائے پر قائم اور مصر ہے تو ایسے شخص کو منصب امامت سے ہٹانا اور معزول کرانا ضروری ہے۔ واللہ اعلم۔ سمیع الحق مدرس دارالعلوم الحقانیہ مدیر ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ضلع پشاور (پاکستان) ۱۱ رمضان المبارک ۱۳۹۳ھ/ فتویٰ ۴۶۸۴ ھ
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
القاديانية فى نظر علماء الامة الاسلامية!
از
علمائے حرمین وشام
القاديانية
فى نظر علماء الامة الاسلامية
وفتوى علماء الحرمين الشريفين وغيرهم من علماء الامة
الاسلامية بكفر الفرقة الضالة المسماة بـ ”القاديانية“
بسم الله الرحمن الرحيم الجواب من رئيس الاشراف الدينى بالمسجد الحرام والجواب من علماء الحرمين الشريفين و توقيعاتهم والجواب من علماء دمشق وديار الشام المحروسة.
تمهيد
الاستفتاء
الحمد لله الذى انزل القرآن الكريم خاتم الكتب السماوية، وجعل دين سيدنا محمد خاتم الاديان الالهية كل ذلك بالآيات القرآنية والاحاديث النبويه. ثم باجماع الامة المحمدية فختم الكتب (السماوية) بالقرآن الكريم، و ختم النبوة والرسالة بسيدنا محمد الرسول العظيم فاشهد ان لا اله الا الله وحده واشهد ان سيدنا محمداً عبده و رسوله من لا نبى بعده...... صلى الله عليه وعلى آله وصحبه و بارک و سلم الى يوم الدين.
اما بعد...... فان من اعظم الفتن فى آخر هذه العهود الاسلامية الفتنة القاديانية المرزائية التي قام بها رئيس اهل الضلال الميرزا غلام احمد القاديانى الهندى، فادعى دعاوى من المجددية والمهدوية والمسيحية حتى انتهى الى دعوى النبوة وفضل نفسه على سائر الانبياء و فضل معجزاته على معجزات سيدنا محمد ﷺ واهان سيدنا المسيح عليه السلام، بما تنشق منه الاكباد والقلوب...... واعلن بنسخ الجهاد مع الكفار وحج البيت الحرام...... و حرّف عدة من آيات التنزيل العزيز واولها بوجوده......
واثنى ثناء بديعاً على الحكومة البريطانية وجعلها ظل الله فى الارض واتبع البابية والبهائية فى تحريف آيات القرآن و ادعاء نزول الوحى و نزول الملک عليه وكانت الحكومة البريطانية قد تعهدت هذه الحركة بالحماية والرعاية والتائيد حتى تحقق للجميع ان غلام احمد القاديانى و حركته انما هى تحرر بريطانى ووليد سياستها الفاجرة الكافرة تلبيسا على المسلمين.
فقام علماء الاسلام فى بلاد الهند للقضاء عليها و ابداء كفر هذا المدعى المتنبئ الكاذب القاديانى ، و كشفوا دور بريطانيا فى اتخاذ وسيلة للقضاء على دين الاسلام و ادخال هذه الاكاذيب الفاجرة فى صميم قلبها واخذوا يردون عليها منذ ستين عاماً و اكثر فى مؤلفات ورسائل و مجلات و صحف ومحافل...... وصرحوا بان اتباع هذا المتنبئ مرتدون عن دين الاسلام و ان حكم الاسلام فيهم القتل...... ولم يختلف من علماء الاسلام فى بلاد الهند وباكستان والافغان عن الحكم بكفره و ارتداده و بكفر كل من اعتنق مذهبه.
والحكومة البريطانية لها تدابير دقيقة فى ترسيخ هذه الفتنة و تائيدها وادخالها الى البلاد العربية والاسلامية بشتى الوسائل باسماء المهندسين والاطباء والمستخدمين وانه لمن الثابت ان القاديانيين انما هم جواسيس و عمالاً لبريطانيا واسرائيل وقد سمحت لهم اسرائيل تقديرا لخدماتهم تحقيقا لاهدافها الخبيثة فى تشويه معالم الاسلام، سمحت لهم بفتح مركز ضخم فى الاراضى العربية المحتلة وسهلت امامهم كل الامور لمزاولة نشاطهم الهدام ضد القضية الاسلامية......
فكان من اللازم فى مثل هذه الظروف ان ينتبه زعماء المسلمين و ملوك العرب و علماء البلاد العربية ان ينتبهوا لعواقب هذه الفرقة الضالة المرتدة وما لها صلة بعدو الاسلام والمسلمين طاغية بريطانيا...... فبدأنا باخذ فتاوى علماء الحرمين الشريفين وعلماء البلاد العربية، لكى نظهر ان كفر هذه الفئة المارقة عن دين الاسلام كلمة اتفاق واجماع فى الامة المحمدية والملة الاسلامية لم يتخلف احد ممن وقف على عقائده...... فقد حان لنا ان نقدم الاستفتاء ات عن علماء الحرمين الشريفين وغيرهم و اجوبتهم و فتاواهم فى ذلك، لكى يتم حجة اللّٰه رب العالمين على الاغمار والغافلين، واللّٰه سبحانه هو الموفق لكل خير و سعادة وهو متولى بامره عليه توكلنا واليه : ننيب ولا حول ولا قوة الا باللّٰه العلى العظيم.
”مجلس تحفظ ختم النبوة فى ملتان پاکستان“
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوى الشيخ عبدالله بن حميد
الرئيس العام للاشراف الديني بالمسجد الحرام المكة المكرمة
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على اشرف المرسلين و خاتم النبيين سيدنا محمد و علی آله و صحبه اجمعين والتابعين الى يوم الدين.
اما بعد. فيا علماء الامة المحمدية افذاذ الامة الاسلامية خصوصا منكم اعلام البلاد العربية، و بالاخص علماء الحرمين الشريفين والملكة السعودية: ما حكم الاسلام والشريعة الاسلامية فى رجل ظهر فى بلاد الهند فى بقعة تسمى قاديان وهى فى بلاد مقاطعة البنجاب الهندية اليوم؟ ادعى اولا انه المهدى ثم انه مثيل المسيح الموعود ثم ادعى النبوة الغير التشريعية ثم ادعى انه يوحى اليه بالامر والنهي وان وحيه كوحى سائر الانبياء معصوم من الخطاء والغلط وان من أنكر وحيه فهو ملعون ومن أنكر من اتباعه واقتدائه فهو جهنمي وان بيعتى كسفينة نوح (أى من ركبها نجا) وادعى ان الجهاد مع الكفار منسوخ، وتاوّل فى خاتم النبيين تاويلات تجحد الفكر الصحيح والعلم الصحيح كل ذلك فى ظل الحكومة البريطانية وفى حمايتها واعلن فى كتبه ان بريطانيا ظل الله فى العالم و ان طاعتها مفترضة واعلن ان كل من لا يؤمن بنبوته فهو كافر ومن ذرية البغايا ولا ينكح احد من اتباعه بنته، نعم ينكح منهم كاهل الكتاب، يجوز بالكتابية نكاح المسلم. ثم ادعى ان المسيح ابن مريم قتل وصلب ولكنه لم يمت بالصلب و بقى حيا وفر الى كشمير وهناك مات و دفن، و جاء فى حق سيدنا المسيح ابن مريم بطامات تشق الاكباد من اهانة ولعن وانه ابن يوسف النجار وما الى ذلك من كفريات وهذيانات، وانه قد اوحى اليه: (محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم)...... هذا فى حقى وقد سمانى الله محمداً فى هذا الوحى.
وقال: لا يصلى احد من اتباعى الاحمدية صلاة خلف غير الاحمدى لان هؤلاء الغير الاحمديين لم يؤمنون بالنبوة اى بنبوتى وقال ان معجزات محمد ﷺ بلغت الى ثلاثة الاف معجزة و معجزاتى بلغت الى مليون.
وقال انى اخاف الكفر على من يأتى مكة والمدينة، الى كم تسترضعون ثديى مكة والمدينة وقد انجمد اللبن فيهما. فمن لم يأت قاديان يقطع عن الاسلام صلته وان من خالفنى كان من خنازير الفلاة والصحراء وان نسائهم احط من الكلاب والكلبات، ويدعى ان اكثر حياته انقضت فى نصرة الحكومة البريطانية وانه قد الف فى منع الجهاد واطاعة الحكومة البريطانية كتبا
رسائل ومجلات و جرائد لوجمعت لملأت خمسين دولابا...... وقد ارسلت كمية منها الى بلاد العرب و مصر والشام وبلاد الافغان و كابل و قال: الى متى انتم وراء تلك الروايات و الخرافات فى حق المهدى والمسيح الذين يسفكان الدماء التى تفرى قلوب المسلمين بالجهاد الفت ذلك لتمحو عن قلوب هؤلاء الحمقاء تلك الآثار.
وهذه الافكار والمعتقدات كالنموذج والمثال من جملة ما ادعاه من الاباطيل، وهذه الاقاويل فى كتبه التالية:
(۱) البراهين الاحمدية (۲) حقيقة الوحى (۳) نزول المسيح (۴) الاربعين (۵) ايك غلطی كا ازالة (۶) آئينه كمالات (۷) آئينه صداقت (۸) انوار خلافت (۹) ملائكة الله (۱۰) كلمة الفصل ج ۱ رقم ۴. ص ۱۶۹) من تاليف ابنه بشير احمد (۱۱) مكتوبات احمدية (۱۲) ضميمة انجام آتھم وغيرها من التاليف وسمی اتباعه الاحمدية حيث ان اسمه كان المرزا غلام احمد، والمسلمون يسمونهم المرزائية او القاديانية...... ثم بعد موته اذنابه افترقت فرقتين فرقة تسمى بالقاديانية او المرزائية يعتقدون انه نبى و فرقة اخرى تسمى باللاهورية تدعى انه مجدد ولكن مع هذا يعتقدون انه افضل من سائر الانبياء غير سيدنا الرسول ﷺ فمع كونه مجددا يزعمونه افضل من كل نبى ورسول غير رسولنا ﷺ.
فيا علماء الاسلام ماذا حكم هذا المدعى وحكم اتباعه فى الاسلام...... وقد اشتد الخطر اليوم فى بلاد المسلمين و خصوصا فى بلاد افريقيا الشرقية والغربية للاعتناق بهذا المذهب حيث يصرف وراء ابلاغ هذه الدعوة فى النشأة الجديدة وفى جيل الجديد فى تلك البلاد ملايين الجنيهات والدولارات وان سيطرتها فى البلاد اعادة لمجد بريطانية الزائل ومكر عظيم للاسلام والمسلمين و تفصيل ذلك يطول.......
فافتونا ماجورين والله سبحانه و تعالى يجزل لكم الاجر بصيانة سياج الاسلام و يبقيكم ذخرا للمسلمين.
والسلام عليكم و رحمة الله وبركاته.......
المستفتى: احد علماء مجلس تحفظ ختم النبوة فى پاكستان
(۱)
فتویٰ علمائے حرم
الجواب
وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته. وبعد: القاديانيه فرقة ضالة لهم مذهب خبيث و معتقد فاسد خرجوا به عن دائرة المسلمين وهدى سيد المرسلين باعترافهم الصريح بان ليس هناك من شئ يجمع بينهم و بين المسلمين، فربهم كما زعموا غير رب المسلمين واسلامهم غير اسلامهم، و قرآنهم غير قرآنهم، و صلاتهم غير صلاتهم، و صومهم غير صومهم، قاتلهم الله انى يؤفكون فغلبت عليهم الشقاوة والجهل والتعصب والخذلان الى هذا المقوله الشنعاء والاعتقاد
الفاسد، و معلوم انه ليس لاحد ان يضع للناس عقيدة ولا عبادة من عنده بل عليه ان يتبع ولا يبتدع ويقتدى ولا يبتدى فان الله سبحانه و تعالى بعث محمدا ﷺ بالهدى و دين الحق فعلم العباد جميع ما يحتاجون اليه فى دينهم من العبادات والاعتقادات فاقام الحجة وانار السبيل وقال: تركتكم على الحجة البيضاء ليلها كنهارها لا يزيغ عنها بعدى الا هالك. ويقول صلوات الله و سلامه عليه: من احدث فى امرنا هذا ماليس منه فهو رد، لقد حرص الاستعمار على تكوين القاديانية وايجادها ونصرة اهلها ومدهم بالاموال الطائلة والمناصب العالية و حمو دعوتهم وايدوا طريقتهم فشنوا الحرب على الاسلام والمسلمين وادعوا الاستقلال الكلى بالدين والنبوة والاعتقاد فلم يرضوا بالله ربا ولا بالاسلام دينا ولا بمحمد ﷺ نبيا و تجراوا على الله سبحانه و تعالى بكلام ساقط سخيف لا يقدر المرء ان ينطق به لولا الحاجة الى بيان ماهم عليه من كفر و ضلال تكاد السموات يتفطرن منه و تنشق الارض و تخر الجبال هدا...... فزعموا ان الله يصوم ويصلى وينام و يصحو و يكتب...... و يوقع و يصيب و يخطى و يجامع ويولد. تعالى الله عما يقول الجاحدون الظالمون علوا كبيرا.
ومثل قول زعيمهم: انا رأيت فى الكشف بانى قدمت اوراقا كثيرة الى الله تعالى ليوقع عليها و يصدق الطلبات التى اقترحتها فرايت ان الله وقع على الاوراق بحبر احمر و كان عندى وقت الكشف رجل من مريدى يقال له عبدالله ثم نفض الرب القلم و سقطت من قطرات الحبر الاحمر على اثوابى و اثواب مريدى عبدالله ولما انتهى الكشف رايت بالفعل ان اثوابى و اثواب عبدالله لطخت بهذه الحمرة مع انه لم يكن عندنا شئ من اللون الاحمر.
ويقول بعضهم: ان المسيح الموعود (اى الغلام) بين مرة حالة فقال: انه رأى نفسه كان امرأة وان الله اظهر فيه قوته الرجولية.
كما انتقصوا مقام الرسالة فيدعى زعيمهم: ان معجزاته تفوق معجزات سيد الاولين والاخرين صاحب المقام المحمود والحوض المورود والشفاعة العظمى و ينكرون ختم الرسالة و يكذبون القرآن و يتاولونه بتاويلات باطلة فاسدة. فيجب على جميع المسلمين وخاصة العلماء والحكام مجاهدة هذه الفرقة الضالة بالحجة والبيان والسيف والسنان حتى تهتك استارهم و تفضح احوالهم و ينكشف للناس فساد معتقداتهم لانهم باعوا ضمائرهم و حاربوا الاسلام وايدوا المستعمرين واظهروا لهم الطاعة والولاء والاخلاص والمودة. وقد الف العلماء الكثير من الكتب فى الرد على مذهبهم و بيان كفرهم و فساد معتقداتهم. وبالجملة فمجرد تصور مذهبهم وما يدعون اليه كاف فى الرد عليهم وان القوم فى ضلال مبين. واعتقد ان كفرهم لا يشك فيه مسلم سبر حالهم و عرف مذهبهم. والله اعلم.
املاه الفقير الى الله عز شانه. عبدالله بن محمد بن حميد الرئيس العام للاشراف الدينى على المسجد الحرام
و كتبه من املائه صالح بن عبدالعزيز الغصن. وصلى الله على محمد و آله و صحبه وسلم.
(٢)
فتویٰ علمائے حرمین
بتوفیق الله سبحانه و هو الملهم للصواب
الجواب
ان هذا الرجل الذی ادعى هذه الدعاوى هی بینات مكشوفة على كفره البواح لا یشك فی كفره مؤمن عاقل و كیف بعالم فضلا عن محقق و ذلك لوجوه واضحة فی الشریعة المحمدية:
اما اولا: فعقيدة ختم النبوة وان سیدنا محمدا ﷺ خاتم النبيين و انه لا نبی بعده عقيدة مقطوعة فی الاسلام اصبح على هذه العقيدة مدار دین الاسلام فهى عقيدة اساسية من ضروریات الدین فانكارها كفر والتاویل فیها كفر كما حقق المسئلة الكلامية هذه الامام حجة الاسلام الغزالی فی كتابه: (فیصل التفرقة بین الاسلام والزندقة) وهو اول من افرد هذه المسالة بتالیف مستقل وآخر من حقق هذه المسالة بما لا مزید عليه امام العصر مولانا محمد انور شاه الكشميرى فی كتابه: (اكفار الملحدین فی ضروریات الدین) واستوفى فيه غرر النقول من اقدم العصور الى عهده. فالعقيدة قطعية واضحة ثابتة بالكتاب الكريم بدلالة قطعية ثم بالاحادیث المتواترة المقطوعة ثم باجماع الامة المحمدية قدیمها و حدیثها فی كل عصر وزمان فهى كلمة اتفاق واجماع لم یتخلف عنها احد من المسلمين.
واما ثانیا: فتاريخ الاسلام شاهد صدق على ان كل من تنبأ بعد نبینا ﷺ قاتلوه و قتلوه فاول من تنبأ مسيلمة الكذاب نبی اليمامة ثم الاسود العنسى نبی اليمن وهكذا كل من ظهر مدعیا للنبوة قتل بكفره الصريح.
واما ثالثا: فهذا المتنبئ المدعى الكاذب لم يترك مما يكفر الا واتى به. فالسید المسيح عيسى بن مریم عليه السلام بنص القرآن الكريم نبی معصوم وقد اهانه بما تفتتت القلوب والاكباد فهذا كفر. ثم انه رفع الى السماء و ینزل حیا من السماء على ما تواترت به الاحادیث النبوية الكريمة فالقول بموته وانه لا ینزل ابدا كفر. ثم ادعاء ان الدولة البریطانية ظل الله فی الارض كفر ثم نصرها و تاییدها كفر ثم ادعاء نسخ الجهاد كفر ثم اهانة مكة المكرمة وفيها الكعبة الالهية والقبلة الربانية واهانة المدينة وفيها حضرة سيدنا الرسول محمد ﷺ مدفون كفر، وما الى ذلك من الوجوه المذكورة كلها واضحة صریحة ادناها يكفى للحكم بانه كافر مرتد مباح الدم لو لم يكن فی عهد الحكومة البريطانية لما تخلفت حكومة اسلامية عن قتله. ولا شك ان اذنابه من القاديانية واللاهورية كلها كافرون. اما القائلون بكونه نبیا فظاهر. واما القائلون بكونه مجددا ایضا لا شك فی كفرهم حيث انه كافر مرتد ليس بمؤمن. فالقول بكون الكافر مجددا كفر فضلا عن ان هولاء یفضلونه على كل نبی غير نبينا ﷺ فهذا ایضا كفر صریح فلا ينجيهم
القول بالتحديد عن كفرهم. و بالجملة هذه الطائفة الملعونة كافرة مثل البابية والبهائية الفرقتين اللتين ظهرتا بايران. ومن جملة وجوه كفره انه يتلقف آيات القرآن و كلماته و يطبقها على نفسه ومنها انه يفضل معجزاته على معجزات نبينا ﷺ و حاشا لمثله ان يكون له معجزات الا ان يكون معجزات كفره وارتداده والحاده وزيغه و ضلاله و تسويلات شيطانه و نفسه و منها تكفيره كل من لم يؤمن بنبوته وانه جهنمى و منها قوله بان المهدى عليه السلام سفاك الدماء وان المسيح عليه السلام سفاك الدماء كله كفر وما الى ذلك من وجوه الكفر التى لو كان فى رجل شئ منها لكان كافرا فكيف بمن جمع من كفره طامات و طامات. وبالجملة فالقول بكفر هذا المدعى حكم شرعى و كذا القول بكفر اتباعه واذنابه نسال الله سبحانه السلامة من كل كفر والحاد وزيغ و ضلال و نساله التوفيق لكل هداية وارشاد وسداد و نرجو من علماء الاسلام فى اقطار الارض مشارقها ومغاربها ان ينبهوا الامة الاسلامية عن كيد هذه الفئة الملعونة ونحذر الحكومات الاسلامية و العربية والافريقية عن مكائد هذه الطائفة وعن تدخل افرادهم فى البلاد باسماء مختلفة وصيغ شتى باسم خدمة الاسلام. والله سبحانه ولى التوفيق والنعمة وبيده التسديد والمنة وهو حسبنا و نعم الوكيل ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم.
وانا العبد المفتقر الى رحمة الله. خادم العلم الشريف بمكة المكرمة بالمسجد الحرام حسن محمد المشاط
توقيعات علماء الحرمين
محمد بن علوى المالكى خادم العلم الشريف بالبلد الحرام قارى عبدالقادر مدرس تحفيظ القرآن الكريم قارى عباس مدرس تحفيظ القرآن الكريم محمود نذير الطرازى خادم العلم الشريف بالمسجد النبوى اسماعيل عثمان زين المدرس بالمسجد الحرام والمدرسة الصولتية عبدالله سعيد اللحجى المدرس بالمدرسة الصولتية والمسجد الحرام محمد على الصابونى المدرس بجامعة الملك عبدالعزيز كلية الشريعة والدراسات الاسلامية محمد امين المصرى مدرس كلية الشريعة بمكة المكرمة محمد نور بن سيف بن هلال المدرس بالمسجد الحرام ابراهيم داؤد قطانى المدرس بالمسجد الحرام المكى محمد خير الباكستانى المدرس بالمسجد الحرام المكى طه بن عبدالواسع البركاتى مراقب التدريس بالمسجد الحرام
(٣)
و فتویٰ آخری
ذلك حق صريح و كفر القاديانية لا خلاف فيه بين المسلمين فليحذرهم كل مسلم وقد افتيت بذلك مرارا. كتبه حسنين محمد مخلوف. مفتى الديار المصرية السابق و عضو جماعة كبار العلماء بالازهر و عضو المجلس التاسيسى للرابطة.
اعتقد ان هذا القاديانى يهودى لقيط جاسوس انجليزى حقير لا حظ له فى الدين فعليه لعنة اللّٰه و ملائكته و رسله والناس اجمعين و كل من يعتقد اسلامه بعد هذا الذى صرح به كتبه فضلا عن من اعتقد نبوته و هو كافر مرتد حلال الدم.
قال هذا بلسانه و كتبه و بقلمه من يوجد الان فى مهمة اسلامية فى ثلاثة عشر دولة من دول الشرق الاقصى: محمد المنتصر الكتاني الاستاذ بالجامعات السعودية بمكة المكرمة والمدينة المنورة والظهران والمدرس للتفسير والحديث فى الحرمين الشريفين كراتشى ١٩ جمادى الثانية ١٣٩٣هـ.
توقيع حضرة قاضى القضاة شمال نايجيريا و عضو رابطة العالم الاسلامى الشيخ ابوبكر محمود جومى.
توقيع الشيخ احمد عمر بالعيد المدرس بالمسجد الحرام محمد امين كتبى عفا اللّٰه عنه المدرس بالمسجد الحرام
(۴)
فتویٰ علمائے شام
بكفر الفرقة الضالة المضلة المسماة بالقاديانية
نحن علماء المسلمين بحلب اطلعنا على ما نشرته الفرقة الضالة المضلة المسماة بالقاديانية فى كتبها و فيما نشرته المجلات الاسلامية عنها، و عن عقائدها و عن زعيمها الخاسر و حامل لوائها المنكوس (المرزا غلام احمد) و دعواه انه المهدى المنتظر، ثم انه عيسى، ثم انه نبى مشرع اطلعنا فى هذا كله على كفر هذا الرجل، و ضلال ما جاء به.
وقد ظهر ان غرضه من ذلك تضليل المسلمين عن دينهم، و خدمة الاستعمار البغيض فى البلاد الاسلامية، صانها اللّٰه تعالى.
من اجل هذا نفتى المسلمين فى بقاع الارض بكفر هذا المدعى الكاذب، و كفر من يعتقد بشئ مما جاء به و يخالف الاسلام الحنيف، و كفر من يتبعه و يروج دعوته الضالة. و ننصح المسلمين فى بقاع الارض ان يلتفوا حول علماء هم العاملين، الاتقياء الناصحين ليعتصموا بكتاب ربهم عزوجل، و سنة نبيهم ﷺ و ليسلموا من النزعات والنزغات الضالة المضلة، والاهواء المفرقة.
ونسال اللّٰه تعالى للمسلمين هدى و رحمة و سلامة مصير فى ٢٣ من جمادى الاولى
۱۳۹۳ و ۱۹۷۳.۳.۲۲.
توقيعات
اسم الموقع وصفه محمد ابو الفتح البيانونى مدرس فى كلية الشريعة طاهر خير الله خطيب جامع الروضة احمد القلاش خطيب جامع الميدانى عبدالله خيرات مفتى جبل سمعان احمد عز الدين البيانونى خطيب جامع العثمانية محمد السلقينى مدرس فى محافظه حلب عبدالله علوان مدرس العلوم الشرعية فى الثانويات دكتور نور الدين استاذ التفسير والحديث فى كلية الشريعة محمد عوامة مدرس فى التعليم الشرعى الشيخ عبدالمجيد مدرس فى التعليم الشرعى الشيخ عبدالقادر عيسى مدرس و خطيب و امام جامع العادلية محمد الحجار مدرس و خطيب و امام جامع الزكى زهير الناصر مدرس فى جمعية التعليم الشرعى عبدالمجيد معاذ مدرس فى جمعية التعليم حامد غريب امام جامع المرعش و خطيب جامع محمد عبدالمحسن حداد مدرس الوعظ فى حلب محمد ناجى ابو صالح مدرس فى الجامع الاموى الكبير محمد اديب حسون مدرس و امام و خطيب
(۷)
فتوئ علمائے شام
الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على خاتم الانبياء والمرسلين محمد نبى الرحمة الذى انزل الله عليه القرآن العظيم و بعد فقد وصلنا صورة من الاستفتاء الموجه لعلماء المسلمين فى بلاد الاسلام من جمهرة من الاخوة المسلمين فى باكستان حول القاديانية و معتقداتها الباطلة.
وقد نظرنا فيما نسب الى هذه الفرقة من معتقدات باطلة و افكار شاذة زائغة، و قرأنا كثيرا مما كتب عنها، و بعد النظر فيها و محاكمتها وفق اصول العقيدة الاسلامية التى هى معلومة من الدين بالضرورة اصدرنا الفتوى التالية:
كل من اعتقد ان النبوة لم تختم بمحمد ﷺ وان جهاد الكفار منسوخ و ان المسيح قتل و صلب. وان احدا يملك حق التشريع على الله بعد خاتم النبيين و المرسلين او يملك نسخ احكام الاسلام و تبديلها فقد اعتقد عقائد تخالف عناصر اساسية من عناصر اركان الايمان المعلومة من الدين بالضرورة، وهو بذلك يخرج عن دائرة الملة الاسلامية التى كلف الله الناس جميعا بالايمان بها، و جعل من يجحدها او ينكر شيئا من اصولها المعلومة من الدين بالضرورة كافرا.
والله نسأل ان يسلمنا من الزيغ والضلالة، و يرينا الحق حقا و يرزقنا اتباعه، والباطل باطلا و يرزقنا اجتنابه، وان يهدى المفتونين بالباطل الى صراط الله المستقيم والاستمساك بدين الله الحق عقيدة و عملا، و صلى الله وسلم على خاتم انبيائه ورسله محمد و على آله و صحبه و من تبعهم باحسان الى يوم الدين.
دمشق فى غرة رجب سنة ١٣٩٣ هجرية اقر هذه الفتوى عدد من علماء الشام فى مجلس الشيخ منهم شيخ القراء الشيخ حسين خطاب حسن حبنكة الميدانى عنه بالامر منه ولده عبدالرحمن
شهد الله انه لا اله الا هو والملائكة واولو العلم قائما بالقسط لا اله الا هو العزيز الحكيم كتبه عثمان ١٣٩٣
خاتم النبیین ﷺ لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ
(اسلامی عدل وانصاف کے عین مطابق ہے)
از
حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
7 ستمبر 1974ء کو اس وقت کی حکومت نے قادیانیوں کے خلاف علماء اور عوام کے دباؤ سے مجبور ہو کر فیصلہ کیا۔ اس زمانہ میں محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز نے ایک استفتا مرتب فرمایا تھا اور اس کا جواب ارباب فتویٰ سے طلب فرمایا۔ اس سلسلہ میں یہ جواب تحریر کیا گیا تھا۔ حضرت مولانا کی کوششیں بار آور ہوئیں۔ لیکن .......... قادیانی ابھی تک خود کو اقلیت تسلیم نہیں کرتے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی ریشہ دوانیاں برابر جاری ہیں۔ کئی ایک علمائے کرام کو اغوا کیا گیا۔ جن کا حال ابھی تک معلوم نہیں۔ ساہیوال میں دو مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ سکھر میں دوران نماز ”منزل گاہ کی مسجد“ پر بم سے حملہ کیا گیا۔ جس سے بہت سے مسلمان شدید زخمی ہوئے اور دو مسلمان شہید ہوئے۔ لیکن آج اس کا علاج یہی ہے کہ قادیانیوں کو کافر حربی سمجھ کر ان سے مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ حضرت بنوری قدس اللہ سرہ العزیز نے اس جواب کو پسند فرمایا تھا۔ مولانا کے تبرکات میں اس کو فی الجملہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس لئے لائق مطالعہ ہے۔ (مرتب)
کیا فرماتے ہیں علماء دین متین وفقہم اللہ للصواب حسب ذیل مسئلہ میں کوئی شخص یا جماعت کسی مدعی نبوت کاذبہ پر ایمان لانے کی وجہ سے جو باتفاق امت دائرہ اسلام سے خارج ہو اور ان کا کفر یقینی اور شک و شبہ سے بالاتر ہو۔ اس کے علاوہ ان میں حسب ذیل وجوہ بھی موجود ہوں ۔
- 1...... وہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہوں اور تمام عالم اسلام اور ملت
اسلامیہ کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہوں۔
- ۲...... مسلمانوں کو جانی و مالی ہر طرح کی ایذا پہنچانے میں تا مقدور کوتاہی نہ کرتے ہوں۔
- ۳...... ان کی مادی قوت اور مالی وسائل میں روز افزوں ترقی کا تمام تر انحصار مسلمانوں کے استحصال پر ہو۔
اور وہ سیاسی و اقتصادی وسائل پر قابض ہونے کی کوششیں کر رہے ہوں۔
- ۴...... ان کی سیاسی وعسکری تنظیمیں موجود ہوں۔ اور ان کی زیر زمین سرگرمیاں تمام ملت اسلامیہ کے لئے
بین الاقوامی سطح پر عظیم خطرہ ہوں۔
- ۵...... دشمن اسلام بیرونی طاقتوں، یہودی اور مسیحی حکومتوں اور ہندوستان کی اسلام دشمن قوت سے ان
کے قوی روابط ہوں۔ الغرض مسلمانوں کے لئے دینی ،سیاسی، معاشی، اقتصادی اور معاشرتی اعتبار سے ان کا طرزعمل سنگین خطرات کا باعث ہو۔ بلکہ ان کی وجہ سے ایک اسلامی مملکت کو بغاوت وانقلاب کے خطرات تک لاحق ہوں۔
- ۶...... حکومت یا حکومت کی سطح پر یہ توقع نہ ہو کہ اس فتنہ سے ملک وملت کو بچانے کی کوئی تدبیر کی جائے گی
اور یہ امید نہ ہو کہ جس شرعی سزا کے وہ مستحق ہیں۔ وہ ان پر جاری ہوسکے گی۔ اندریں حالات بے بس مسلمانوں کو اس فتنہ کی روک تھام کیلئے کیا کرنا چاہئے؟۔اس سلسلہ میں شرعی طور پر ان پر کیا فریضہ عائد ہوتا ہے؟۔کیا ان حالات میں اس جماعت یا فرد کی بڑھتی ہوئی جارحیت پر قدغن لگانے کے لئے حسب ذیل امور کے جواز یا وجوب کی شرعاً کوئی صورت ہے کہ:
- الف...... امت اسلامیہ اس فرد یا جماعت کے ساتھ برادرانہ تعلقات منقطع کرے۔
- ب...... ان سے سلام وکلام، میل وجول، نشست وبرخاست، شادی وغمی میں شرکت نہ کی جائے۔ بلکہ
معاشرتی سطح پر ان سے مکمل طور پر قطع تعلق کرلیا جائے۔
- ج...... ان سے تجارت، لین دین اور خرید وفروخت کی جائے یا نہیں؟۔
- د...... ان کے کارخانوں اور فیکٹریوں سے مال خریدا جائے۔ یا ان کا مکمل اقتصادی مقاطعہ (بائیکاٹ)
کیا جائے۔
- ہ...... ان کی تعلیم گاہوں، ہوٹلوں، ریسٹورانوں میں جانا جائز ہے یا نہیں؟۔
- و...... ان سے رواداری برتی جائے یا نہیں؟۔
- ز...... ان کے کارخانوں اور فیکٹریوں کی مصنوعات استعمال کی جائیں یا نہیں؟۔غرض ان سے مکمل
بائیکاٹ یا مقاطعہ کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟۔ کیا تمام مسلمانوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ انہیں راہ راست پر لانے کے لئے ان کا بائیکاٹ کریں۔ جبکہ اس کے سوا اور کوئی چارہ اصلاح موجود نہ ہو؟۔
افتونا ماجورين . والله سبحانه يجزل لكم الاجر والثواب .
وهو المسئول الملهم للحق والصواب!
المستفتی!
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کراچی
الجواب واللہ الہادی للصواب!
بلاشبہ قرآن کریم کی وحی قطعی جناب رسول اللہ ﷺ کی احادیث متواترہ قطعیہ۔ اور امت محمدیہ کے قطعی اجماع سے ثابت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا مدعی کافر اور دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہے اور جو شخص اس مدعی نبوت کی تصدیق کرے اور اسے مقتداء و پیشوا مانے وہ بھی کافر اور مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کفر اور ارتداد کے ساتھ اگر اس میں وجوہ مذکور فی السؤال میں سے ایک وجہ بھی موجود ہو تو قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ اور فقہ اسلامی کے مطابق وہ اسلامی اخوت اور اسلامی ہمدردی کا ہرگز مستحق نہیں۔ مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کے ساتھ سلام و کلام، نشست و برخاست اور لین دین وغیرہ تمام تعلقات ختم کردیں۔ کوئی ایسا تعلق یا رابطہ اس سے قائم کرنا جس سے اس کی عزت واحترام کا پہلو نکلتا ہو۔ یا اس کو قوت و آسائش حاصل ہوتی ہو جائز نہیں۔ کفار محاربین اور اعداء اسلام سے ترک موالات کے بارے میں قرآن حکیم کی بے شمار آیات موجود ہیں۔ اسی طرح احادیث نبویہ اور فقہ میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
یہ واضح رہے کہ کفار محاربین جو مسلمانوں سے برسر پیکار ہوں۔ انہیں ایذا پہنچاتے ہوں۔ اسلامی اصلاحات کو مسخ کر کے اسلام کا مذاق اڑاتے ہوں اور مار آستین بن کر مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو منتشر کرنے کے درپے ہوں۔ اسلام ان کے ساتھ سخت سے سخت معاملہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ رواداری کی ان کافروں سے اجازت دی گئی ہے جو محارب اور موذی نہ ہوں۔ ورنہ کفار محاربین سے سخت معاملہ کرنے کا حکم ہے۔ علاوہ ازیں بسا اوقات اگر مسلمانوں سے کوئی قابل نفرت گناہ سرزد ہوجائے تو بطور تعزیر و تادیب ان کے ساتھ ترک تعلق اور سلام و کلام ونشست و برخاست ترک کرنے کا حکم شریعت مطہرہ اور سنت نبوی میں موجود ہے۔ چہ جائیکہ کفار محاربین کے ساتھ۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو اسلامی حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان فتنہ پرداز مرتدین پر ”من بدل دینہ فاقتلوہ“ کی شرعی تعزیر نافذ کر کے اس فتنہ کا قلع قمع کرے اور اسلام اور ملت اسلامیہ کو اس فتنہ کی یورش سے بچائے۔
چنانچہ رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدینؓ نے فتنہ پرداز موذیوں اور مرتدوں سے جو سلوک کیا وہ کسی سے مخفی نہیں اور بعد کے خلفاء اور سلاطین اسلام نے بھی کبھی اس فریضہ سے غفلت اور تساہل پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ لیکن اگر مسلمان حکومت اس قسم کے لوگوں کو سزا دینے میں کوتاہی کرے یا اس سے توقع نہ ہو تو خود مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے۔ تاکہ وہ بحیثیت جماعت اس قسم کی سزا کا فیصلہ کریں جو اس کے دائرہ اختیار میں ہو۔ الغرض ارتداد، محاربت، بغاوت، شرارت، نفاق، ایذاء، مسلمانوں کے ساتھ سازش، یہود و نصاریٰ و ہنود کے ساتھ ساز باز، ان سب وجوہ کے جمع ہوجانے سے بلاشبہ مذکورہ فی السوال فرد یا جماعت کے ساتھ مقاطعہ یا بائیکاٹ نہ صرف جائز ہے۔ بلکہ واجب ہے۔ اگر مسلمانوں کی جماعت بہیئت اجتماعی اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے مقاطعہ یا بائیکاٹ جیسے ہلکے سے اقدام سے بھی کوتاہی کرے گی تو
وہ عند اللہ مسئول ہوئی۔
یہ مقاطعہ یا بائیکاٹ ظلم نہیں بلکہ اسلامی عدل و انصاف کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کی محاربت اور ایذاء رسانی سے محفوظ کیا جائے۔ اور ان کی اجتماعیت کو ارتداد و نفاق کے دستبرد سے بچایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ خود ان محاربین کے لئے بھی اس میں یہ حکمت مضمر ہے کہ وہ اس سزا یا تادیب سے متاثر ہو کر اصلاح پذیر ہوں اور کفر و نفاق کو چھوڑ کر ایمان و اسلام قبول کریں۔ اس طرح آخرت کے عذاب اور ابدی جہنم سے ان کو نجات مل جائے۔ ورنہ اگر مسلمانوں کی ہئیت اجتماعیہ ان کے خلاف کوئی تادیبی اقدام نہ کرے تو وہ اپنی موجودہ حالت کو مستحسن سمجھ کر اس پر مصر رہیں گے۔ اور اس طرح ابدی عذاب کے مستحق ہوں گے۔
رسول اکرم ﷺ نے مدینہ پہنچ کر ابتداءً یہی طریقہ اختیار فرمایا تھا کہ کفار مکہ کے قافلوں پر حملہ کر کے ان کے اموال پر قبضہ کیا جائے۔ تاکہ مال اور ثروت سے ان کو جو طاقت اور شوکت حاصل ہے وہ ختم ہو جائے۔ جس کے بل بوتے پر وہ مسلمانوں کو ایذاء پہنچاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں اور مختلف سازشیں کرتے ہیں۔ قتلِ نفس اور جہاد بالسیف کے حکم سے پہلے مقاطعہ اور دشمنوں کو اقتصادی طور پر مفلوج کرنے کی یہ تدبیر اس لئے اختیار کی گئی تھی۔ تاکہ اس سے ان کی جنگی صلاحیت ختم ہو جائے اور وہ اسلام کے مقابلہ میں آ کر کفر کی موت نہ مریں۔ گویا اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ ان کے اموال پر قبضہ کر کے ان کی جانوں کو بچایا جائے۔ کیونکہ اموال پر قبضہ ان کی جان لینے سے زیادہ بہتر تھا۔
علاوہ ازیں اس تدبیر میں یہ حکمت و مصلحت بھی تھی کہ کفار مکہ کے لئے غور و فکر کا ایک اور موقع فراہم کیا جائے۔ تاکہ وہ ایمان کی نعمت سے سرفراز ہو کر ابدی نعمتوں کے مستحق بن سکیں اور عذاب اخروی سے نجات پا سکیں۔ لیکن جب اس تدبیر سے کفار و مشرکین کے عناد کی اصلاح نہ ہوئی تو ان کے شر و فساد سے زمین کو پاک کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے جہاد بالسیف کا حکم بھیج دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے قریش کے تجارتی قافلہ کے بجائے ان کی عسکری تنظیم سے مسلمانوں کا مقابلہ کرا دیا۔ رسول اکرم ﷺ کی ابتدائی تدبیر سے امت مسلمہ کو یہ ہدایت ضرور ملتی ہے کہ خاص قسم کے حالات میں جہاد بالسیف پر عمل نہ ہو سکے تو اس سے اقل درجہ کا اقدام یہ ہے کہ کفار محاربین سے نہ صرف اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے۔ بلکہ ان کے اموال پر قبضہ تک کیا جا سکتا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ عام مسلمان نہ تو جہاد بالسیف پر قادر ہیں نہ انہیں اموال پر قبضہ کی اجازت ہے۔ اندریں صورت ان کے اختیار میں جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ ان موذی کافروں سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر کے ان کو معاشرہ سے جدا کر دیا جائے۔
بدن انسانی کا جو حصہ اس درجہ سڑ گل جائے کہ اس کی وجہ سے تمام بدن کو نقصان کا خطرہ لاحق ہو اور جان خطرہ میں ہو تو اس ناسُور کو جسم سے پیوستہ رکھنا دانش مندی نہیں۔ بلکہ اسے کاٹ دینا ہی عین مصلحت و حکمت ہے۔ تمام عقلاء اور حکماء و اطباء کا اسی پر عمل و اتفاق ہے اور پھر جب یہ موذی کفار مسلمانوں کا خون چوس چوس کر پل رہے ہوں اور طاقتور بن کر مسلمانوں ہی کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش کر رہے ہوں تو ان سے خرید و فروخت اور لین دین میں مکمل مقاطعہ کرنا
اسلام اور ملت اسلامیہ کے وجود و بقاء کے لئے ایک ناگزیر ملی فریضہ بن جاتا ہے۔ آج بھی اس متمدن دنیا میں مقاطعہ یا اقتصادی ناکہ بندی کو ایک اہم دفاعی مورچہ سمجھا جاتا ہے اور اس کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر مسلمانوں کے لئے یہ کوئی سیاسی حربہ نہیں۔ بلکہ اسوہ نبی ، سنت رسول اور ایک مقدس مذہبی فریضہ ہے۔ اسلام کی غیرت ایک لمحہ کے لئے یہ برداشت نہیں کرتی کہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے دشمنوں سے کسی نوعیت کا کوئی تعلق اور رابطہ باقی رکھا جائے۔
اب ہم آیات قرآنیہ ، احادیث نبویہ اور فقہاء امت اسلامیہ کے وہ نقول پیش کرتے ہیں جن سے اس مقاطعہ کا حکم واضح ہوتا ہے۔
- .......١ ”واذا سمعتم آيات الله يكفر بها ويستهزاء بها فلا تقعدوا معهم ، سورة نساء
آیت ۱۴۰“ ترجمہ:....... ”اور جب سنو تم کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جارہا ہے تو ان کے ساتھ نشست و برخاست ترک کردو“
- .......٢ ”واذا رايت الذين يخوضون فى آياتنا فاعرض عنهم ، سورة انعام آيت
۶۸“ ترجمہ:....... ”اور جب تم دیکھو ان لوگوں کو جو مذاق اڑاتے ہیں ہماری آیتوں کا تو ان سے کنارہ کشی اختیار کرلو ۔“
اس آیت کے ذیل میں حافظ الحدیث امام ابوبکر الجصاص الرازی لکھتے ہیں کہ:
”وهذا يدل على ان علينا ترك مجالسة الملحدين وسائر الكفار لاظهارهم الكفر والشرك ومالا يجوز على الله تعالى اذا لم يمكن انكاره........... الخ“ ترجمہ:....... ”یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ہم (مسلمانوں) پر ضروری ہے کہ ملاحدہ اور سارے کافروں سے ان کے کفر و شرک اور اللہ تعالیٰ پر ناجائز باتیں کہنے کی روک نہ کرسکیں تو ان کے ساتھ نشست و برخاست ترک کردیں۔“
- .......٣ ”يا ايها الذين آمنوا لا تتخذوا اليهود والنصارى اولياء ، سوره مائده آيت
۵۱“ ترجمہ:....... ”اے ایمان والو تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست مت بناؤ۔“
امام ابوبکر الجصاص لکھتے ہیں کہ:
”وفى هذه الآية دلالة على ان الكافر لا يكون وليا للمسلمين لا فى التصرف ولا فى النصرة ، وتدل على وجوب البراءة عن الكفار والعداوة بهم ، لان الولاية ضد العداوة فاذا امرنا بمعادات اليهود والنصارى لكفرهم فغيرهم من الكفار بمنزلتهم والكفر ملة واحدة ، احكام القرآن ۲، ۴۴۴“ ترجمہ:....... ”اس آیت میں اس امر پر دلالت ہے کہ کافر مسلمانوں کا ولی (دوست) نہیں ہو سکتا۔ نہ تو معاملات میں اور نہ امداد و تعاون میں ۔ اور اس سے یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ کافروں سے برات اختیار کرنا اور ان سے عداوت رکھنا واجب ہے۔ کیونکہ ولایت عداوت کی ضد ہے اور جب ہم کو یہود و نصاریٰ سے ان کے کفر کی وجہ سے عداوت رکھنے کا حکم ہے۔ دوسرے کافر بھی انہی کے حکم میں ہیں سارے کافر ایک ہی ملت ہیں۔“
- ۴...... سورۃ ممتحنہ کا موضوع ہی کفار سے قطع تعلق کی تاکید ہے۔ اس سورۃ میں بہت سختی کے
ساتھ کفار کی دوستی اور تعلق سے ممانعت کی گئی ہے۔ اگر چہ رشتہ دار قرابت دار ہوں اور فرمایا کہ قیامت کے دن تمہارے یہ رشتے کام نہیں آئیں گے۔ اور یہ کہ جولوگ آئندہ کفار سے دوستی اور تعلق رکھیں گے وہ راہ حق سے بھٹکے ہوئے اور ظالم شمار ہوں گے۔
- ۵...... ” لا تجد قوماً یؤمنون باللّٰہ والیوم الآخر یوآدون من حاد اللّٰہ ورسولہ ولو
کانوا آبآءھم اوابناء ھم واخوانھم او عشیرتھم ٭ سورۃ مجادلہ آیت ۲۲“ ترجمہ:...... ” تم نہ پاؤ گے کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں۔ اللہ پر اور آخرت پر کہ دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے۔ خواہ ان کے باپ ہوں، بیٹے ہوں، بھائی ہوں یا خاندان والے ہوں ۔“
آگے چل کر اس آیت کریمہ میں ان مسلمانوں کو جو باوجود قرابت داری کے محارب کافروں سے دوستانہ تعلقات ختم کر دیتے ہیں۔ سچا مومن کہا گیا ہے۔ انہیں جنت اور رضوان الٰہی کی بشارت سنادی گئی ہے اور ان کو ” حزب اللہ“ کے لقب سے سرفراز فرمایا گیا ہے۔ جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ خدا اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی رکھنا کسی مومن کا کام نہیں ہو سکتا۔
بطور مثال ان چند آیات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ورنہ بے شمار آیات کریمہ اس مضمون کی موجود ہیں۔ اب چند احادیث نبویہ ﷺ ملاحظہ ہوں:
- ۱...... جامع ترمذی کی ایک حدیث میں سمرۃ بن جندب سے مروی ہے کہ حکم دیا گیا ہے کہ:
” مشرکوں اور کافروں کے ساتھ ایک جگہ سکونت بھی اختیار نہ کریں۔ ورنہ مسلمان بھی کافروں جیسے ہوں گے۔
(باب فی کراہيۃ المقام بین اظہر المشرکین ج۱ ص۱۹۴)
- ۲...... نیز ترمذی کی ایک حدیث میں جو جریر بن عبداللہ البجلیؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
کہ: ”انا و بری من کل مسلم یقیم بین اظہر المشرکین“ ترجمہ:......”یعنی آپ ﷺ نے اظہار برات فرمایا ہر اس مسلمان سے جو محارب کافروں میں سکونت پذیر ہو۔“ (حوالہ مذکورہ بالا)
- ۳...... صحیح بخاری کی ایک حدیث میں قبیلہ عکل اور عرنیہ کے آٹھ نو اشخاص کا ذکر ہے جو مرتد ہو گئے
تھے۔ ان کے گرفتار ہونے کے بعد حضور اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور ان کی آنکھوں میں گرم کر کے لوہے کی کیلیں پھیر دی جائیں اور ان کو مدینہ طیبہ کے کالے کالے پتھروں پر ڈال دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ یہ لوگ پانی مانگتے تھے۔ لیکن پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ ہیں: ” یستسقون فلا یسقون“ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ:” حتی ان احدھم یکدم بفیہ الارض “ ترجمہ: ...... ”وہ پیاس کے مارے زمین چاٹتے تھے۔ مگر انہیں پانی دینے کی اجازت نہ تھی۔“
امام نوویؒ اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ: ”ان المحارب المرتد لاحرمة له فى سقى الماء ولا غيره ، ويدل عليه ان من ليس معه ماء الا للطهارة ليس له ان يسقيه المرتد و يتيمم بل يستعمله ولومات المرتد عطشا ، فتح الباری ۱/۳۹۳“ ترجمہ:…… ”اس سے یہ معلوم ہوا کہ محارب مرتد کا پانی وغیرہ پلانے میں کوئی احترام نہیں۔ چنانچہ جس شخص کے پاس صرف وضو کے لئے پانی ہو تو اس کو اجازت نہیں ہے کہ پانی مرتد کو پلا کر تیمم کرے۔ بلکہ اس کے لئے حکم ہے کہ پانی مرتد کو نہ پلائے۔ اگر چہ وہ پیاس سے مرجائے۔ بلکہ وضو کرکے نماز پڑھے۔“
- ۴…… غزوہ تبوک میں تین کبار صحابہ، کعب بن مالکؓ، ہلال بن امیہؓ، واقفی بدری اور مرارہؓ بن ربیع، بدری
عمریؓ کو غزوہ میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے سخت سزا دی گئی۔ آسمانی فیصلہ ہوا کہ ان تینوں سے تعلقات ختم کرلئے جائیں۔ ان سے مکمل مقاطعہ کیا جائے۔ کوئی شخص ان سے سلام و کلام نہ کرے۔ حتیٰ کہ ان کی بیویوں کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ بھی ان سے علیحدہ ہوجائیں اور ان کے لئے کھانا بھی نہ پکائیں۔ یہ حضرات روتے روتے نڈھال ہو گئے اور حق تعالیٰ کی وسیع زمین ان پر تنگ ہو گئی۔ وحی قرآنی کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
”وعلى الثلاثة الذين خلفوا حتى اذا ضاقت عليهم الارض بما رحبت وضاقت عليهم انفسهم وظنوا ان لا ملجاء من الله الا اليه ، سورة توبه آیت ۱۱۸“ ترجمہ:…… ”اور ان تینوں پر بھی (توجہ فرمائی) جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہاں تک زمین ان پر باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہو گئی اور وہ خود اپنی جانوں سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی۔ بجز اسی کی طرف۔“
پورے پچاس دن تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور معافی ہوگئی۔
قاضی ابوبکر بن العربی لکھتے ہیں کہ:
”وفيه دليل على ان للامام ان يعاقب المذنب بتحريم كلامه على الناس ادباً له وعلى تحريم اهله عليه ، احکام القرآن لا بن العربی ۳/۱۱٤“ ترجمہ:…… ”اس قصہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ امام کو حق حاصل ہے کہ کسی گنہگار کی تادیب کے لئے لوگوں کو اس سے بول چال کی ممانعت کردے۔ اور اس کی بیوی کو بھی اس کے لئے ممنوع ٹھہرادے۔“
حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ:
”وفيه ترك السلام على من اذنب وجواز هجره اكثر من ثلاث ، “ ترجمہ:…… ”اس سے ثابت ہوا کہ گنہگار کو سلام نہ کیا جائے اور یہ کہ اس سے قطع تعلق تین روز سے زیادہ بھی جائز ہے۔“
بہر حال کعب بن مالک اور ان کے رفقاء کا یہ واقعہ قرآن کریم کی سورۃ توبہ میں مذکور ہے اور اس کی تفصیل صحیح بخاری، صحیح مسلم اور تمام صحاح ستہ میں موجود ہے۔
امام ابوداؤد نے اپنی کتاب سنن ابی داؤد میں کتاب السنۃ کے عنوان کے تحت متعدد ابواب قائم کئے ہیں۔
- الف...... باب مجانبة اهل الاهواء وبغضهم ! اہل اھواء، باطل پرستوں سے کنارہ کشی کرنے اور
بغض رکھنے کا بیان۔
- ب...... باب ترك السلام على اهل الاهواء! (اہل اہواء سے ترک سلام و کلام کا بیان )
سنن ابی داؤد میں حدیث ہے کہ عمار بن یاسر نے ”خلوق“ (زعفران) لگایا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کو سلام کا جواب نہیں دیا۔ غور فرمائیے کہ معمولی خلاف سنت بات پر جب یہ سزا دی گئی تو ایک مرتد موذی اور کافر محارب سے بات چیت سلام و کلام اور لین دین کی اجازت کب ہوسکتی ہے؟۔
امام خطابی ”معالم السنن ج ۴ ص ۲۹۶“ میں حدیث کعب کے سلسلے میں تصریح فرماتے ہیں کہ : ” مسلمانوں کے ساتھ بھی ترک تعلق اگر دین کی وجہ سے ہو تو بلاقید ایام کیا جاسکتا ہے۔ جب تک توبہ نہ کریں۔“
- ۵...... مسند احمد وسنن ابی داؤد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”القدرية مجوس هذه الامة، ان مرضوا فلا تعودوهم، وان ماتوا فلا تشهدوهم “ ترجمہ: ...... ”تقدیر کا انکار کرنے والے اس امت کے مجوسی ہیں۔ اگر بیمار ہوں تو عیادت نہ کرو اور اگر مر جائیں تو جنازہ پر نہ جاؤ۔“
- ۶...... ایک اور حدیث میں ہے کہ : ”لا تجالسوا اهل القدر ولا تفاتحوهم“
ترجمہ :...... ”منکرین تقدیر کے ساتھ نہ نشست و برخاست رکھو اور نہ ان سے گفتگو کرو۔“
بہر حال یہ تو حضرت نبی کریم ﷺ کے ارشادات ہیں۔ عہد نبوت کے بعد عہد خلافت راشدہ میں بھی اسی طرز عمل کا ثبوت ملتا ہے۔ مانعین زکوٰۃ کے ساتھ صدیق اکبر کا اعلان جہاد کرنا بخاری ومسلم میں موجود ہے۔ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی ، طلیحہ اسدی اور ان کے پیروؤں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا۔ اس سے حدیث وسیر کا معمولی طالب علم بھی واقف ہے۔ عہد فاروقی میں ایک شخص صبیغ عراقی قرآن کریم کی آیات کے ایسے معانی بیان کرنے لگا جن میں ھواء نفس کو دخل تھا۔ اور ان سے مسلمانوں کے عقائد میں تشکیک کا راستہ کھلتا تھا۔ یہ شخص فوج میں تھا جب عراق سے مصر گیا اور حضرت عمرو بن عاصؓ گورنر مصر کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے اس کو حضرت عمر فاروقؓ کے پاس مدینہ بھیجا اور صورت حال لکھی ۔ حضرت عمرؓ نے نہ اس کا موقف سنا نہ دلائل۔ اس سے بحث ومباحثہ میں وقت ضائع کئے بغیر اس کا ” علاج بالجرید “ ضروری سمجھا۔ فوراً کھجور کی تازہ ترین شاخیں منگوائیں اور اپنے ہاتھ سے اس کے سر پر بے تحاشا مارنے لگے اتنا مارا کہ خون بہنے لگا۔ وہ چیخ اٹھا کہ : ”اے امیر المومنین آپ مجھے قتل ہی کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی کیجئے۔ تلوار لے کر میرا قصہ پاک کر دیجئے اور اگر صرف میرے دماغ کا خناس نکالنا مقصود ہے تو آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ اب وہ بھوت نکل چکا ہے ۔ “ اس پر حضرت عمرؓ نے اسے چھوڑ دیا اور چند دن مدینہ رکھ کر واپس عراق بھیج دیا اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو لکھا کہ : ”ان لا يجالسه احد من المسلمين “ ترجمہ ...... : ” کوئی مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھے ۔ “
اس مقاطعہ سے اس شخص پر عرصہ حیات تنگ ہو گیا تو حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے حضرت عمرؓ کو لکھا کہ اس کی حالت ٹھیک ہو گئی ہے۔ تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اس کے پاس بیٹھنے کی اجازت دی۔
- ۷....... سنن کبری للبیہقی ج۹ ص۸۵ میں حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ: ”امرنی رسول الله صلی
الله عليه وسلم ان اغور ماء آبار بدر“ ترجمہ: ..... ”جنگ بدر میں رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ بدر کے کنوؤں کا پانی خشک کر دوں۔“
اور ایک روایت میں ہے کہ: ”ان يغور المياه كلها غير ماء واحد تلقي القوم عليه“ ترجمہ: ..... ” سوائے ایک کنوئیں کے جو بوقت جنگ ہمارے کام آئے گا باقی سب کنوئیں خشک کر دیئے جائیں۔“
- ۸....... صحیح بخاری ج۲ ص۱۰۲۳ میں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس چند بد دین زندیق لائے
گئے تو آپ نے انہیں آگ میں جلا دیا۔ حضرت ابن عباسؓ کو اس کی اطلاع پہنچی تو فرمایا: ”اگر میں ہوتا تو انہیں جلاتا نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی سزا مت دو۔ بلکہ میں انہیں قتل کرتا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:
- ”من بدل دينه فاقتلوه“ ترجمہ: ..... ”جو شخص مرتد ہو جائے اسے قتل کر دو۔“
- ۹....... صحیح بخاری ج۱ ص۴۲۳ میں صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال
کیا گیا کہ: ”رات کی تاریکی میں مشرکین پر حملہ ہوتا ہے تو عورتیں اور بچے بھی زد میں آ جاتے ہیں فرمایا وہ بھی انہی میں شامل ہیں۔“
اب فقہ کی چند تصریحات ملاحظہ ہوں:
- ۱....... علامہ دردیر مالکی شرح کبیر میں باغیوں کے احکام میں لکھتے ہیں کہ:
”وقطع الميرة والماء عنهم الا ان يكون فيهم نسوة وذراری ۴،۲۹۹“ ترجمہ: ..... ”ان کا کھانا پانی بند کر دیا جائے۔ الا یہ کہ ان میں عورتیں اور بچے ہوں۔
- ۲....... کوئی قاتل اگر حرم مکہ میں پناہ گزین ہو جائے۔ اس سلسلہ میں ابوبکر الجصاص لکھتے ہیں کہ:
”قال أبو حنيفة وابويوسف ومحمد وزفر والحسن بن زياد ، اذا قتل في غير الحرم ثم دخل الحرم لم يقتص منه مادام فيه ولكنه لا يبايع ولا يواكل الى ان يخرج من الحرم ، احكام القرآن ۲،۲۱ “ ترجمہ: ..... ”امام ابوحنیفہ، ابو یوسف، محمد، زفر اور حسن بن زیاد کا قول ہے کہ جب کوئی حرم سے باہر قتل کر کے حرم میں داخل ہو تو جب تک حرم میں ہے اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ مگر نہ اس کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کی جائے۔ نہ اس کو کھانا دیا جائے۔ یہاں تک کہ وہ حرم سے نکلنے پر مجبور ہو جائے۔
- ۳....... درمختار میں ہے کہ:
”وافتى الناصحى بوجوب قتل كل موذ وفى شرح الوهبانيه ويكون بالنفى عن البلد وبالهجوم على بيت المفسدين بالاخراج عن الدار وبهدمها “ ترجمہ:..... ”ناصحی نے فتویٰ دیا ہے کہ ہر موذی کا قتل واجب ہے اور ”شرح وہبانیہ“ میں ہے کہ تعزیر یوں بھی ہوسکتی ہے کہ شہر بدر کر دیا جائے اور ان کے مکان کا گھیراؤ کیا جائے ۔انہیں مکان سے نکال باہر کیا جائے اور مکان ڈھا دیا جائے ۔“
- ۴...... ابن عابدین الشامی درمختار ج ۳ ص ۲۷۲ میں لکھتے ہیں کہ:
”قال فى احكام السياسة وفى ”المنتقى“ واذا سمع فى داره صوت المزامير فادخل عليه لانه لما اسمع الصوت فقد اسقط حرمة الدار ، وفى حدود ”البزازية“ وغضب ”النهاية“ وجناية الدراية “ذكر صدر الشهيد عن اصحابنا انه يهدم البيت على من اعتاد الفسوق وانواع الفساد فى داره حتى لا باس بالهجوم على بيت المفسدين وهجم عمر على نائحة فى منزلها وضربها بالدرة حتى سقط خمارها، فقيل له فيه فقال لا حرمة لها بعد اشتغالها بالمحرم والتحقت بالاماء......... وعن عمر رضى الله عنه انه احرق بيت الخمار وعن الصفار الزاهد الامر بتخريب دار الفاسق“ ترجمہ :...... ” احکام السیاسۃ میں ”المنتقی“ سے نقل کیا ہے کہ جب کسی کے گھر سے گانے بجانے کی آواز سنائی دے تو اس میں داخل ہو جاؤ۔ کیونکہ جب اس نے یہ آواز سنائی تو اپنے گھر کی حرمت کو خود ساقط کر دیا ہے اور بزازیہ کے کتاب الحدود ونہایہ کے باب الغصب اور درایہ کے کتاب الجنایات میں لکھا ہے کہ صدر الشہید نے ہمارے اصحاب سے نقل کیا ہے کہ جو شخص فسق و بدکاری اور مختلف قسم کے فساد کا عادی ہو ایسے شخص پر اس کا مکان گرا دیا جائے۔ حتی کہ مفسدوں کے گھر میں گھس جانے میں بھی مضائقہ نہیں۔ حضرت عمرؓ ایک نوحہ گر عورت کے گھر میں گھس آئے اور اس کے ایسا درّہ مارا کہ اس کے سر سے چادر اتر گئی اور اپنے طرز عمل کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ حرام میں مشغول ہونے کے بعد اس کی کوئی حرمت نہیں رہی اور یہ لونڈیوں کی صف میں شامل ہو گئی ۔ حضرت عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے ایک شرابی کے مکان کو آگ لگا دی تھی۔ صفار زاہد کہتے ہیں کہ فاسق کا مکان گرا دینے کا حکم ہے۔“
- ۵...... ملا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوۃ ج ۳ ص ۱۰۷ باب التعزیر میں لکھتے ہیں کہ:
”وهذا تنصيص على ان الضرب تعزير يملكه الانسان وان لم يكن محتسبا وصرح فى ”المنتقى“ بذالك“ ترجمہ :...... ” اور یہ کہ اس امر کی تصریح ہے کہ مارنا ایسی تعزیر ہے جس کا انسان اختیار رکھتا ہے خواہ محتسب نہ ہو ”المنتقی“ میں اس کی تصریح کی گئی ۔“
یاد رہے کہ اس قسم کے مقاطعہ کا تعلق در حقیقت بغض فی اللہ سے ہے جس کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے احب الاعمال الى الله! فرمایا ہے (كما فى روايت ابى ذر فى كتاب السنة عند ابى داؤد) بغض فی اللہ کے ذیل میں امام غزالیؒ احیاء العلوم ج ۲ ص ۱۶۷ میں بطور کلیہ لکھتے ہیں کہ:
”الاول ، الكافر ، فالكافر ان كان محارباً فهو يستحق القتل والارقاق ، وليس بعد هذين اهانة ، الثانى المبتدع الذى يدعوا الى بدعته فان كانت البدعة بحيث يكفر بها فامره اشد من الذمى لانه لا يقر بجزية ولا يسامح بعقد ذمة ، وان كان ممن لا يكفر به فامره بينه وبين الله اخف من امر الكافر لا محالة ، ولكن الانكار عليه اشد منه على الكافر ، لان شر الكافر غير متعد فان المسلمين اعتقدوا كفره فلا يلتفتون الى قوله..................... الخ“
ترجمہ: ...... ”اوّل کافر ، پس کافر اگر حربی ہو تو اس بات کا مستحق ہے کہ قتل کیا جائے یا غلام بنالیا جائے اور یہ ذلت واہانت کی آخری حد ہے۔ دوم صاحب بدعت جو اپنی بدعت کی دعوت دیتا ہے۔ پس اگر بدعت حدِ کفر تک پہنچی ہوئی ہو تو اس کی حالت کافرِ ذمی سے بھی سخت تر ہے۔ کیونکہ نہ اس سے جزیہ لیا جاسکتا ہے اور نہ اس کو ذمی کی حیثیت دی جاسکتی ہے۔ اور اگر بدعت ایسی نہیں جس کی وجہ سے اس کو کافر قرار دیا جائے تو عنداللہ تو اس کا معاملہ کافر سے لا محالہ اخف (ہلکا) ہے۔ مگر کافر کی بہ نسبت اس پر نکیر زیادہ کی جائے گی۔ کیونکہ کافر کا شر متعدی نہیں۔ اس لئے کہ مسلمان کافر کو خبیث کافر سمجھتے ہیں۔ لہٰذا اس کے قول کو لائق التفات ہی نہیں سمجھیں گے............ الخ۔“
ردالمحتار ج ٣ ص ٢٩٨ میں قرامطہ کے بارے میں لکھا ہے کہ:
”نقل عن المذاهب الاربعة انه لا يحل اقرارهم فى ديار الإسلام بجزية ولا غيرها ، ولا تحل مناكحتهم ولا ذبائحهم ......................... والحاصل انهم يصدق عليهم اسم الزنديق والمنافق والملحد ، ولا يخفى ان اقرارهم بالشهادتين مع هذا الاعتقاد الخبيث لا يجعلهم فى حكم المرتد لعدم التصديق ولا يصح اسلام احدهم ظاهراً الا بشرط التبرى عن جميع ما يخالف دين الإسلام ، لانهم يدعون الاسلام ويقرؤن بالشهادتين وبعد الظفر بهم لا تقبل توبتهم اصلاً................ الخ“
ترجمہ: ...... ”مذاہب اربعہ سے منقول ہے کہ انہیں اسلامی ممالک میں ٹھہرانا جائز نہیں۔ نہ جزیہ لے کر نہ بغیر جزیہ کے۔ نہ ان سے شادی بیاہ جائز ہے۔ نہ ہی ان کا ذبیحہ حلال ہے۔........... حاصل یہ ہے کہ ان پر زندیق منافق اور ملحد کا مفہوم پوری طرح صادق آتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس خبیث عقیدہ کے باوجود ان کا کلمہ پڑھنا انہیں مرتد کا حکم نہیں دیتا۔ کیونکہ وہ تصدیق نہیں رکھتے اور ان کا ظاہری اسلام غیر معتبر ہے۔ جب تک کہ ان تمام امور سے جو دین اسلام کے خلاف ہیں ۔ برات کا اظہار نہ کریں۔ کیونکہ وہ اسلام کا دعویٰ اور شہادتین کا اقرار تو پہلے سے کرتے ہیں (مگر اس کے باوجود پکے بے ایمان اور کافر ہیں) اور ایسے لوگ گرفت میں آجائیں تو ان کی توبہ اصلاً قابلِ قبول نہیں۔“
فقہ حنفی کی معتبر کتاب معین الحکام بسلسلہ تعزیر ایک مستقل فصل میں لکھا ہے کہ:
”والتعزير لا يختص بفعل معين ولا قول معين ، فقد عزر رسول الله صلى الله
عليه وسلم الهجر وذالك فى حق الثلاثة الذين ذكرهم الله تعالى فى القرآن العظيم فهجروا خمسين يوما، لا يكلمهم احد، وقصتهم مشهورة فى الصحاح، وعزر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالنفى فامر باخراج المخنثين بالمدينة ونفاهم، وكذالك الصحابة من بعده، ونذكر من ذالك بعض ما وردت به السنة مما قال ببعضه اصحابنا، وبعضه خارج المذهب، فمنها امر عمر بهجر صبيغ الذى كان يسئال عن الذاريا وغيرها، ويامر الناس بالتفقه فى المشكلات من القرآن فضربه ضرباً وجيعاً ونفاه الى البصرة او الكوفة وامر بهجره، فكان لا يكلمه احد حتى تاب وكتب عامل البلدان عمر بن الخطاب رضى الله عنه يخبره بتوبته فاذن للناس فى كلامه، ومنها ان عمر رضى الله عنه حلق رأس نصير بن الحجاج ونفاه من المدينة لما شبهت النساء به فى الاشعار وخشي الفتنة، ومنها، ما فعله عليه الصلوة والسلام بالعرنيين، ومنها ان ابا بكر استشار الصحابة فى رجل ينكح كما تنكح المراة، فاشاروا بحرقه بالنار فكتب ابو بكر بذالك الى خالد بن الوليد، ثم حرقهم عبدالله بن الزبير فى خلافته، ثم حرقهم هشام بن عبد الملك، ومنها ان ابا بكر رضى الله عنه حرق جماعة من الردة، ومنها امره صلى الله عليه وسلم بكسر دنان الخمر وشق ظروفها، ومنها امره صلى الله عليه وسلم يوم خيبر بكسر القدور التى طبخ فيها لحم الحمر الاهلية، ثم استاذنوه فى غسلها، فاذن لهم فدل على جواز الامرين لان العقوبة بالكسر لم تكن واجبة، ومنها تحريق عمر المكان الذى يباع فيه الخمر، ومنها تحريق عمر قصر سعد بن ابى وقاص لما احتجب فيه عن الرعية وصار يحكم فى داره، ومنها مصادرة عمر عماله باخذ شطر اموالهم وقسمتها بينهم وبين المسلمين، ومنها انه ضرب الذى زور على نقش خاتمه واخذ شيئاً من بيت المال مائة، ثم ضربه فى اليوم الثانى مائة ثم ضربه فى اليوم الثالث مائة، وبه اخذ مالك لان مذهبه التعزير يزاد على الحد، ومنها ان عمر رضى الله عنه لما وجد مع السائل من الطعام فوق كفايته وهو يسئال، اخذ ما معه واطعمه ابل الصدقة، وغير ذالك مما يكثر تعداده وهذه قضايا صحيحة معروفة ............... الخ (ج٣ ص٧٥) ولا باس بان يبيع المسلمون من المشركين من الطعام والثياب وغير ذالك الا السلاح والكراع والسبى، سواء دخلوا اليهم بامان او بغير امان، لانهم يتقون بذالك على قتال المسلمين ولا يحل للمسلمين اكتساب سبب تقويتهم على قتال المسلمين، وهذا المعنى لا يوجد فى سائر الامتعة ثم هذا الحكم اذا لم يحاصروا حصناً من حصونهم فلا ينبغى لهم ان يبيعوا من اهل الحصن طعاماً ولا شراباً ولا سبباً يقويهم على المقام، لانهم ان ما حاصروهم
لينفد طعامهم وشرابهم، حتى يعطوا بأيديهم ويخرجوا على حكم الله. ففى بيع الطعام وغيره منهم اكتساب سبب تقويتهم على المقام فى حصنهم. بخلاف ما سبق فان اهل الحرب فى دارهم يتمكنون من اكتساب ما يتقوون به على المقام لا بطريق الشراء من المسلمين، واما اهل الحصن لا يتمكنون ذالك بعد ما احاط المسلمون بهم فلا يحل لاحد من المسلمين ان يبيعهم شيئا من ذالك، فمن فعله فعلم به الامام ادبه على ذالك لا رتكابه مالا يحل“
ترجمہ:......”اور تعزیر کسی معین فعل یا معین قول کے ساتھ مختص نہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان تین حضرات کو (جو غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے اور) جن کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں ذکر فرمایا ہے۔ مقاطعہ کی سزا دی تھی۔ چنانچہ پچاس دن تک ان سے مقاطعہ رہا۔ کوئی شخص ان سے بات تک نہیں کر سکتا تھا۔ ان کا مشہور قصہ صحاح ستہ میں موجود ہے۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے جلاوطنی کی سزا بھی دی۔ چنانچہ مخنثوں کو مدینہ سے نکالنے کا حکم دیا اور انہیں شہر بدر کر دیا۔ اسی طرح آپ ﷺ کے بعد صحابہ کرامؓ نے بھی مختلف تعزیرات جاری کیں۔ ہم ان میں سے بعض کو جو احادیث کی کتابوں میں وارد ہیں۔ یہاں ذکر کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض کے ہمارے اصحاب قائل ہیں اور بعض پر دیگر ائمہ نے عمل کیا۔ حضرت عمرؓ نے صبیغ نامی ایک شخص کو مقاطعہ کی سزا دی یہ شخص ”الذاریات“ وغیرہ کی تفسیر پوچھا کرتا تھا۔ اور لوگوں کو فہمائش کیا کرتا تھا کہ وہ مشکلات قرآن میں تفقہ پیدا کریں۔ حضرت عمرؓ نے اس کی سخت پٹائی کی۔ اور اسے بصرہ یا کوفہ جلاوطن کر دیا اور اس سے مقاطعہ کا حکم فرمایا۔ چنانچہ کوئی شخص اس سے بات ............ تک نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ تائب ہوا اور وہاں کے گورنر نے حضرت عمرؓ کو اس کے تائب ہونے کی خبر لکھ بھیجی۔ تب آپ نے لوگوں کو اجازت دی کہ اس سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے نصیر بن حجاج کا سر منڈوا کر اسے مدینہ سے نکال دیا تھا جب کہ عورتوں نے اشعار میں اس کی تشبیب شروع کر دی تھی اور فتنہ کا اندیشہ لاحق ہو گیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے قبیلہ عرنیہ کے افراد کو جو سزا دی (اس کا قصہ صحاح میں موجود ہے) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں جو بد فعلی کراتا تھا صحابہ سے مشورہ کیا۔ صحابہؓ نے مشورہ دیا کہ اسے آگ میں جلا دیا جائے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولیدؓ کو یہ حکم لکھ بھیجا۔ بعد ازاں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور ہشام بن عبدالملکؒ نے بھی اپنے اپنے دور خلافت میں اس قماش کے لوگوں کو آگ میں ڈالا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین کی ایک جماعت کو آگ میں جلایا۔ آنحضرت ﷺ نے شراب کے مٹکے توڑنے اور اس کے مشکیزے پھاڑ دینے کا حکم فرمایا۔ آنحضرت ﷺ نے خیبر کے دن ان ہانڈیوں کو توڑنے کا حکم فرمایا جن میں گدھوں کا گوشت پکایا گیا تھا۔ پھر صحابہ کرامؓ نے آپ ﷺ سے اجازت چاہی کہ انہیں دھو کر استعمال کر لیا جائے تو آپ ﷺ نے اجازت دیدی۔ یہ واقعہ دونوں باتوں کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ ہانڈیوں کو توڑ ڈالنے کی سزا واجب نہیں تھی۔ حضرت عمرؓ نے اس مکان کو جلا دینے کا حکم فرمایا جس میں شراب کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے جب رعیت سے الگ تھلگ اپنے گھر ہی میں فیصلہ کرنا شروع کیا
تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا مکان جلا ڈالا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کے مال کا ایک حصہ ضبط کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مہر پر جعلی مہر بنوالی تھی اور بیت المال سے کوئی چیز لے لی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سو درے لگائے۔ دوسرے دن پھر سو درے لگائے اور تیسرے دن بھی سو درے لگائے۔ امام مالکؒ نے اسی کو لیا ہے۔ چنانچہ ان کا مسلک ہے کہ تعزیر مقدار ”حد“ سے زائد بھی ہو سکتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب ایک سائل ایسا دیکھا جس کے پاس قدر کفایت سے زائد غلہ موجود تھا چھین کر صدقہ کے اونٹوں کو کھلا دیا۔ ان کے علاوہ اس نوعیت کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں اور صحیح اور معروف فیصلے ہیں۔ اور شرح سیر کبیر ج ۳ ص ۷۵ میں ہے۔ اور کوئی مضائقہ نہیں کہ مسلمان کافروں کے ہاتھ غلہ اور کپڑا وغیرہ فروخت کریں۔ مگر جنگی سامان اور گھوڑے اور قیدی فروخت کرنے کی اجازت نہیں۔ خواہ وہ امن لے کر ان کے پاس آئے ہوں یا بغیر امان کے۔ کیونکہ ان چیزوں کے ذریعہ مسلمانوں کے مقابلے میں ان کو جنگی قوت حاصل ہوگی۔ اور مسلمانوں کے لئے ایسی کوئی چیز حلال نہیں جو مسلمانوں کے مقابلہ میں کافروں کو تقویت پہنچانے کا سبب بنے اور یہ علت دیگر سامان میں نہیں پائی جاتی۔ پھر یہ حکم جب ہے جب کہ مسلمانوں نے ان کے کسی قلعہ کا محاصرہ نہ کیا ہوا ہو۔ لیکن جب انہوں نے ان کے کسی قلعہ کا محاصرہ کیا ہوا ہو تو ان کے لئے مناسب نہیں کہ اہل قلعہ کے ہاتھ غلہ یا پانی یا کوئی ایسی چیز فروخت کریں جو ان کے قلعہ بند رہنے میں ممد و معاون ثابت ہو۔ کیونکہ مسلمانوں نے ان کا محاصرہ اسی لئے تو کیا ہے کہ ان کا رسد اور پانی ختم ہو جائے۔ اور وہ اپنے کو مسلمانوں کے سپرد کردیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر باہر نکل آئیں۔ پس ان کے ہاتھ غلہ وغیرہ بیچنا۔ ان کے قلعہ بند رہنے میں تقویت کا موجب ہوگا۔ بخلاف گزشتہ بالا صورت کے کیونکہ اہل حرب اپنے ملک میں ایسی چیزیں حاصل کر سکتے ہیں جن کے ذریعہ وہاں قیام پذیر رہ سکیں۔ انہیں مسلمانوں سے خریدنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن جو کافر کہ قلعہ بند ہوں۔ اور مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا ہو وہ مسلمانوں کے کسی فرد سے ضروریات زندگی نہیں خرید سکتے۔ لہٰذا کسی بھی مسلمان کو حلال نہیں کہ ان کے ہاتھ کسی قسم کی کوئی چیز فروخت کرے۔ جو شخص ایسی حرکت کرے اور امام کو اس کا علم ہو جائے تو امام اسے تادیب اور سرزنش کرے۔ کیونکہ اس نے غیر حلال فعل کا ارتکاب کیا ہے۔
مذکورہ بالا نصوص اور فقہاء اسلام کی تصریحات سے حسب ذیل اصول و نتائج منقح ہو کر سامنے آجاتے ہیں:
- ۱...... کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے۔ وہ گمراہ
اور ظالم اور مستحق عذاب الیم ہے۔
- ۲...... جو کافر مسلمانوں کے دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات نشست
و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے۔
- ۳...... جو کافر مسلمانوں سے برسرپیکار ہوں۔ ان کے محلے میں ان کے ساتھ رہنا بھی ناجائز ہے۔
- ۴...... مرتد کو سخت سے سخت سزا دینا ضروری ہے۔ اس کی کوئی انسانی حرمت نہیں۔ یہاں تک کہ اگر پیاس
سے جان بلب ہو کر تڑپ رہا ہو تب بھی اسے پانی نہ پلایا جائے۔
- ۵...... جو کافر مرتد اور باغی مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہوں۔ ان سے خرید وفروخت
اور لین دین ناجائز ہے۔ جبکہ اس سے ان کو تقویت حاصل ہوتی ہو۔ بلکہ ان کی اقتصادی ناکہ بندی کر کے ان کی جارحانہ قوت کو مفلوج کر دینا واجب ہے۔
- ۶...... مفسدوں سے اقتصادی مقاطعہ کرنا ظلم نہیں۔ بلکہ شریعت اسلامیہ کا اہم ترین حکم اور اسوۂ رسول ﷺ
ہے۔
- ۷...... اقتصادی اور معاشرتی مقاطعہ کے علاوہ مرتدوں ، موذیوں اور مفسدوں کو یہ سزائیں بھی دی جاسکتی
ہیں ۔ قتل کرنا ، شہر بدر کرنا ، ان کے گھروں کو ویران کرنا ، ان پر ہجوم کرنا وغیرہ۔
- ۸...... اگر محارب کافروں اور مفسدوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کی عورتیں اور بچے بھی تبعاً
اس کی زد میں آجائیں تو اس کی پروا نہیں کی جائے گی ۔ ہاں! اصالتاً عورتوں اور بچوں پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔
- ۹...... ان لوگوں کے خلاف مذکورہ بالا اقدامات کرنا دراصل اسلامی حکومت کا فرض ہے۔ لیکن اگر حکومت
اس میں کوتاہی کرے تو خود مسلمان بھی ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو ان کے دائرہ اختیار کے اندر ہوں۔ مگر انہیں کسی ایسے اقدام کی اجازت نہیں۔ جس سے ملکی امن میں خلل و فساد کا اندیشہ ہو۔
- ۱۰...... مکمل مقاطعہ صرف کافروں اور مفسدوں سے ہی جائز نہیں۔ بلکہ کسی سنگین نوعیت کے معاملہ میں
ایک مسلمان کو بھی یہ سزا دی جاسکتی ہے۔
- ۱۱...... زندیق اور ملحد جو بظاہر اسلام کا کلمہ پڑھتا ہو مگر اندرونی طور پر خبیث عقائد رکھتا ہو اور غلط تاویلات
کے ذریعہ اسلامی نصوص کو اپنے عقائد خبیثہ پر چسپاں کرتا ہو۔ اس کی حالت کافر اور مرتد سے بھی بدتر ہے کہ کافر اور مرتد کی توبہ بالاتفاق قابل قبول ہے۔ مگر بقول شامی زندیق کا نہ اسلام معتبر ہے نہ کلمہ ۔ نہ اس کی توبہ قابل التفات ہے۔ الا یہ کہ وہ اپنے تمام عقائد خبیثہ سے برات کا اعلان کرے۔
ان اصول کی روشنی میں زیر بحث فرد یا جماعت کی حیثیت اور ان سے اقتصادی و معاشی ، اور معاشرتی و سیاسی مقاطعہ یا مکمل سوشل بائیکاٹ کا شرعی حکم بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم !
کتبہ: ولی حسن ٹونکی غفر اللہ لہ
دارالافتاء مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی !
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
استفسارات حول الطائفة القاديانية!
تقديم
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
بسم الله الرحمن الرحيم
استفسارات حول الطائفة القاديانية
مقدمة من
فضيلة القاضي محمد تقي العثماني
الى فضيلة العلامة المحقق الشيخ حبيب بلخوجه، حفظه الله تعالى ورعاه الامين العام لمجمع الفقه الاسلامي.
السلام عليكم و رحمة الله و بركاته:
فان الطائفة القاديانية، كما تعرفون، من الفرق الزائغة المنحرفة التى لا تألوا المسلمين خبالا. وقد صدرت من معظم البلاد الاسلامية فتاوى العلماء فى تكفيرهم، وفى الاخير أدخلت حکومت پاکستان تعديلا فى دستورها، قررت فيه أن هذه الطائفة من الأقليات غير المسلمة، و ذالك فى سنة ۱۹۷۴م، ثم اتبعته فى العام الماضى بقانون يمنعهم من استعمال المصطلحات الاسلامية، كالمسجد، و "الأذان" و "الخلفاء الراشدين" و "الصحابة" و "أمهات المومنين" وما الى ذالك، كما قررت رابطة العالم الاسلامى فى قرارها الصادر سنة ۱۹۷۴م أنها فرقة كافرة منحرفة.
وبعد هذا كله، فان هذه الطائفة قد رفعت الى المحكمة العالية بكيب تائون من جنوب افريقيا، قضية ضد المسلمين، أن المسلمين يحكمون عليهم بالكفر، و يمنعونهم من الصلاة فى مساجدهم وعن دفن موتاهم فى مقابرهم، و طلبوا من المحكمة أن يصدر حكما ينهى المسلمين عن كل ذالك و يقرر أنهم مسلمون.
وكانت المحكمة قد أصدرت فى مبدأ الأمر حكما على المسلمين بأن لا يمنعوا القاديانيين من دخول مساجدهم الى أن تبلغ القضية نهايتها، فرفع المسلمون طلبا الى المحكمة بالغاء هذا الحكم، وأن لا يمنع المسلمون من وضعهم السابق الى أن تبت المحكمة بالحكم فى القضية، فسافرنا من باكستان...... ونحن عشرة رجال...... الى جنوب أفريقيا، لنساعد اخواننا المسلمين هناك، والحمد لله الذى رزقنا النجاح فى هذه المرحلة الابتدائية وقد الغت المحكمة حكمها السابق.
سماع دلائل الفريقين، وكانت القاضية اذ ذاك امرأة نصرانية سمعت دلائلنا بكل عناية و اصغاء.
ثم رفع المسلمون طلبا آخر، أن الحكم بكفر القاديانيين ولا اسلامهم، انما هو أمر ديني بحت، لاينبغى لمحكمة علمانية ان يتدخل فيها، بعد ما أجمع سائر المسلمين فى بقاع الأرض أن
اتباع مرزا غلام أحمد كلهم خارجون عن ملة الاسلام، ولم يبق هذا الأمر بعد ذالك موضوع نقاش او جدال.
وان هذا الطلب رفع الى قاض يهودى، وانكم تعرفون أن القاديانيين لهم مركز في اسرائيل، ولهم مع اليهود صلات قوية، وزاد الضغط على الابالة أن هذا القاضى اليهودى يعد من فرقهم المبتدعة التى أخرجها الارتوركسيون عن دائرتهم، فبطبعه كان ميّالا الى مواساة القاديانيين، فحكم في جواب هذا الطلب خلاف المسلمين، وقال في حكمه: ان المحكمة العلمانية هى المصدر الوحيد الذى يستطيع أن يحكم في هذه المسئلة الدينية حكما لا يتأثر بعواطف العصبية المذهبية، فيجب عليها أن تتدخل في هذا الامر ويبت فيه برأى غير منحاز.
فاضطر المسلمون بعد هذا الحكم أن يعرضوا أمام المحكمة دلائل تكفير القاديانيين من الكتاب والسنة، واجماع الامة.
وقد طلب القاديانيون من المسلمين اثبات أن علماء المسلمين في جميع البلاد الاسلامية يعتبرون القاديانية كفرا، وذكروا للمحكمة انه ليس هناك في العالم الاسلامى مجلس يمثل علماء جميع الدول الاسلامية، حتى يقال: ان المسلمين أجمعوا على ذالك.
وفي هذا الصدد يحتاج المسلمون في هذه القضية الى فتوى من مجلس دولى للعلماء، يمثل جميع البلاد الإسلامية، ولاشك أن مجمع الفقه الاسلامى هو أعظم ما وجد حتى الآن من المجالس في هذا الشأن، فيريد المسلمون في جنوب أفريقيا أن يصدر المجمع فتوى يصرح بتكفير أتباع مرزا أحمد القاديانى، ليكون سندا لهم عند دعواهم الاجماع على ذالك.
وان هذه القضية ستشرع المحكمة في سماعها للخامس من شهر نوفمبر هذا العام، ونرجو انعقاد مجلس المجمع قبله، فمن المناسب جدا أن يصدر المجمع فتوى من قبل مجلسه العام في جلسته القادمة.
وانى، نظرا الى أهمية الموضوع، قد سودت هذه الفتوى، لتكون ورقة عمل لشعبة الافتاء أولا، وللمجلس ثانيا.
فالمرجو أن ترسلوا هذه الفتوى الى جميع الاخوة الأعضاء كورقة عمل للجلسة القادمة، وارجو أن الاخوة الاعضاء نظرا الى أهمية الموضوع، يسامحون عن عدم دخول هذا الموضوع في اللائحة التي أعدتها شعبة التخطيط.
وأرجو أيضا أن تخبرونى عن وصول هذه الرسالة، وادخال الموضوع في لائحة الجلسة القادمه.
والسلام عليكم و رحمة الله وبركاته (محمد تقی العثمانی)
استفتاء
الحمد للہ وکفی، وسلام علی عبادہ الذین اصطفی.
ان الطائفۃ القادیانیۃ التی تسمّی نفسہا "الأحمدیۃ" تتبع فی أمور دینہا رجلا اسمہ مرزا غلام احمد القادیانی، وان مرزا غلام أحمد القادیانی رجل ولد فی قادیان، قریۃ من قری الہند، وادعی انہ نبی مرسل من اللہ سبحانہ، و أنہ بروز لسیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ولذالک فأن نبوتہ لا تنافی کون رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین، ثم ان ہذا الرجل لم یکتف بادعاء النبوۃ، بل ادعی أنہ أفضل من سائر الانبیاء، السابقین، وأنہ ہو المسیح الموعود الذی أخبر النبی ﷺ بنزولہ فی آخر الزمان، وان کتاباتہ ملیئۃ بمثل ہذہ الدعاوی، وبإہانۃ عدۃ من الأنبیاء، علیہم السلام، وصحابۃ الرسول ﷺ وان عدۃ مقتبسات مترجمۃ من کتبہ مجموعۃ علی سبیل المثال فی ضمیمۃ "ألف" من ہذا الاستفتاء.
وان أتباع مرزا غلام أحمد القادیانی ینقسمون الی فرقتین:
- ١ ...... الفرقۃ القادیانیۃ: وہی التی تؤمن بنبوۃ مرزا غلام أحمد القادیانی، بکل معنی الکلمۃ، و تکفر
کل من لم یؤمن بنبوتہ، و تسمّی زوجتہ أم المؤمنین، وأتباعہ الذین بایعوا علی یدہ "صحابۃ و "خلفاء" و "الخلفاء الراشدین."
- ٢ ...... الفرقۃ اللاھوریۃ: وہی التی تؤمن بأن مرزا غلام أحمد القادیانی ہو المسیح الموعود وأنہ
المجدد للقرن الرابع عشر، وأن جمیع ما کتبہ فی مؤلفاتہ حق یجب اتباعہ وأنہ کان ینزل علیہ وحی یجب تصدیقہ و اتباعہ، وأن کل من یکذب مرزا غلام أحمد أو یکفرہ فہو کافر.
غیر أنہم یقولون: ان مرزا غلام أحمد لم یکن نبیا بمعناہ الحقیقی، وانما کانت نبوتہ ظلیۃ أو مجازیۃ، وکان وحیہ وحی ولایۃ، دون وحی نبوۃ، وأن مجرد عدم الایمان بمرزا غلام أحمد القادیانی لا یکفر الانسان، ولکن یکفرہ الاعتقاد بکذبہ، أو کفرہ.
وان کلتا الفرقتین من أتباع مرزا غلام أحمد القادیانی متفقتان فی أمور:
- ١ ...... ان مرزا غلام أحمد القادیانی ہو المسیح الموعود الذی أخبر النبی ﷺ بنزولہ فی آخر الزمان.
- ٢ ...... أنہ کان ینزل علیہ وحی یجب علی جمیع الناس تصدیقہ و اتباعہ.
- ٣ ...... أنہ کان ظلا و بروزا للنبی ﷺ نفسہ فی آخر الزمان.
- ٤ ...... أنہ کان محقا فی جمیع دعاویہ، وفی کل ما تکلم بہ، أو کتبہ فی مؤلفاتہ.
- ٥ ...... کل من کذبہ فی دعاویہ، أو کفرہ فہو کافر.
ولذالک اتفق علماء الہند و باکستان علی کفر مرزا غلام أحمد القادیانی، و کلتا الفرقتین من اتباعہ منذ نحو خمسین عاما، ووافقہم علی ذالک علماء البلاد الاسلامیۃ الأخری،
حتى صدر قرار من رابطة العالم الاسلامى فى مكة المكرمة سنة ١٩٧٤م بتكفيرهم باجماع ١٤٤ منظمة من المنظمات الاسلامية فى سائر بقاع الارض، ثم صدر فى باكستان تقنين دستورى أعلن بكفر كلتا الفرقتين من القاديانيين، وبذالك حكمت المحكمة العالية فى باكستان، وحدث مثل ذالك فى ماليزيا، وقد رد هولاء القاديانيون الان قضية ضد المسلمين فى المحكمة العالية من كيب ٹائون، جنوب أفريقا وطلبوا منها أن تعلن باسلامهم و بتخطئة من يكفرهم.
فنرجو من أصحاب الفضيلة أعضاء مجمع الفقه الاسلامى الاجابة عن الأسئلة التالية:
- ١...... هل يعد مرزا غلام أحمد القادياني بعد ادعاء نبوته من المسلمين أويحكم بكفره وبارتداده.
- ٢...... هل الفرقة القاديانية من أتباعه مسلمة، أو كافرة؟
- ٣...... هل الفرقة اللاهورية من أتباعه مسلمة، أو كافرة؟
- ٤...... هل يجوز لمحكمة علمانية أن تحكم باسلام رجل أو كفره؟ ولئن حكمت فى ذالك هل
ينفذ حكمها على المسلمين؟
وندعوا الله سبحانه أن يتقبل خدماتكم فى سبيل نشر الدعوة الاسلامية، يوفقكم لما فيه خير الاسلام والمسلمين. نظيم محمد رئيس مسلم جوڈيشنل کونسل
ضمیمہ الف
دعوى النبوة
- ١...... يقول فى ”دافع البلاء“ هو الاله الحق الذى أرسل رسوله فى قاديان. (١)
- ٢...... يقول فى ”نزول المسيح“ أنا رسول و نبى، أى أننى باعتبار الظلية الكاملة مرآة فيها انعكاس
كامل لصورة المحمدية والنبوة المحمدية. (٢)
- ٣...... وقال فى تتمة ”حقيقة الوحى“: ”والذي نفسي بيده أنه أرسلني وسمانى نبيا.“ (٣)
- ٤...... وقال فى ”ایک غلطی کا ازالہ“ ”ان زهاء مائة وخمسين بشارة من الله وجدتها صادقة الى
وقتنا هذا، فلما ذا أنكر اسمى نبيا و رسولا، وبما أن الله هو الذى سمانى بهذه الأسماء فلما ذا أردها، أولما ذا أخاف غيره؟“ (٤)
- ٥...... وقال فى هامش ”حقيقة الوحى“: ”ان الله تعالى جعلنى مظهرا لجميع الأنبياء، ونسب الى
أسمائهم، أنا آدم، أنا شيث، أنا نوح، أنا ابراهيم، أنا اسحاق، أنا اسماعيل، أنا يعقوب، أنا يوسف، أنا عيسى، أنا موسى، أنا داؤد، وأنا مظهر كامل لمحمد ﷺ أى أنا محمد و أحمد ظليا. (٥)
(١) ص ١١ . الطبعة الثالثة، قاديان ١٩٣٦م. (٢) فى الهامش (ص ٣) الطبعة الاولى، قاديان ١٩٠٩م. (٣) (ص ٢٨) طبعة قاديان سنة ١٩٣٤م. (٤) (ص ٨) طبعة قاديان سنة ١٩٠١م. (٥) (ص ٧٢) طبعة قاديان سنة ١٩٣٤م.
- ٦ ...... وقال في صحيفة "بدر": "دعواى أننى رسول ونبى." (١)
- ٧ ...... وقال في "نزول المسيح": "ان الأنبياء و ان كثروا الا أننى لست أقل منهم في المعرفة." (٢)
- ٨ ...... وكذالك كان اعتقادى أولاً: "أين أنا من المسيح ابن مريم؟ فانه نبى ومن المقربين فلو ظهر
أمر دل على فضلى اعتبرته فضيلة جزئية، ثم تتابع على الوحى كالمطر، فجعلنى أستقر على هذه العقيدة، و خاطبنى بالنبى صراحةً بحيث أننى نبى من ناحية ومن امته من ناحية أخرى...... و اؤمن بوحيه الطاهر كما أؤمن بجميع وحى الله الذى جاء قبلى وأنا مطيع لوحى الله تعالى، وما دام لم يأتنى منه علم كنت أقول كما قلت فى الأزل، ولما جاء منه علم قلت خلاف ذالك. (٣)
- ٩ ...... لاشك أن عقيدة المرزا المتنبى التى مات عليها: أنه نبى، وقد جاء ذالك فى الخطاب
الأخير الذى نشر فى يوم وفاته فى جريدة "أخبار عام" وصرح فيه مايلى: "أنا نبى بحكم الله ولو جحدته أكون آثما، واذ سمانى الله نبيا فكيف يمكن لى جحوده، وأنا على هذه العقيدة حتى أرحل من هذه الدنيا. (۴) كتب هذا الخطاب فى ٢٣ مايو ١٩٠٨ء نشر فى ٢٦ مايو ١٩٠٨ فى "أخبار عام" وفى ذالك اليوم مات المرزا المتنبى.
- ١٠ ...... أنا هو النبى خاتم الانبياء بروزيه بموجب آية: "وآخرين منهم لما يلحقوا بهم وسمانى الله
محمدا وأحمد، فى "براهين احمدية" قبل عشرين عاما، واعتبرنى وجود محمد ﷺ نفسه، ولذا لم يتزلزل ختم نبوة محمد ﷺ بنبوتى، ولأن الظل لا ينفصل عن أصله، ولأننى محمد ظليا، ولذا لم ينفك ختم النبوة، لأن نبوة محمد ﷺ لم تزل محدودة على محمد، أى بقى محمد ﷺ نبيا لاغير. أنه لما كنت محمدا ﷺ بروزيا، وانعكست الكمالات المحمدية مع النبوة المحمدية فى اللون البروزى فى مرآتى الظلية، فأى انسان منفرد ادعى النبوة على حياله. (٥)
- ١١ ...... يقول ابن المتنبى الأوسط...... مرزا بشير أحمد القاديانى: هذا النظرية بعض الناس أن
النبوة الظلية والبروزية من أدنى أنواع النبوة وانما هو خداع النفس ولا حقيقت له، لأنه لابد للنبوة الظلية أن يستغرق صاحبها فى اتباع النبى ﷺ حتى ينال درجة: "صرت أنا أنت وأنت أنا" وفى هذه الحالة يرى هو أن الكمالات المحمدية تنزل على نفسه فى صورتها العكسية، ثم يزداد هذا القرب حتى يلبس رداء النبوة المحمدية، و عندئذ يقال النبى الظلى، واذا كان الظل يقتضى أن يكون صورة كاملة لأصله و عليه اجماع جميع الأنبياء فما الاحمق الذى يرى نبوة المسيح الموعود الظلية من أدنى أنواع النبوة أن ينتبه و يفكر فى أمره لأنه هجم على شأن النبوة هى تاج سائر النبوات، ولا أفهم لما ذا يتعثر الناس فى نبوة المسيح الموعود؟ ولما ذا يراه الناس نبوة ناقصة؟ فانى أرى أنه كان نبيا ظليا لبروزه للنبى ﷺ ومكانة هذه النبوة الظلية العاليه.
(١) ٥ مارس ١٩٠٨م و "حقيقة النبوة" (١.......٢٧٢) ذيل رقم ٣.
(٢) (ص ٩٧) الطبعة الأولى، قاديان سنة ١٩٠٩م.
(٣) "حقيقة الوحى" (ص ١٤٩ و ١٥٠) طبعة قاديان سنة ١٩٣٤م.
(٤) "اخبار عام" ٢٦ مايو ١٩٠٨م و "حقيقة النبوة" (ص ٢٧١) لمرزا محمود و "مباحثة راولپنڈى" (ص ١٣٦)
(٥) (ايك غلطى كا ازاله ص ١٠ و ١١) طبع ربوة.
ومن الواضح أن الأنبياء فى العصور الماضية لم يكونوا يجمعون بالضرورة. كل الكمالات التى جمعت فى محمد ﷺ بل كل نبى كان يعطى من الكمالات حسب عمله و استعداده قلة وكثرة الا أن المسيح الموعود أعطى النبوة عند ما اكتسب جميع الكمالات المحمدية واستحق أن يقال: "النبى الظلى" فالنبوة الظلية لم تؤخر قدم المسيح الموعود بل قدمتها الى الامام الى أن أقامته جنبا الى جنب مع النبى ﷺ. (۱)
مسودة الجواب المقترح
عن
الاستفتاء القاديانيين
محمد تقى عثمانى. عضو القسم الشرعى لمحكمة العليا بپاكستان.
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله خاتم النبيين، و على من تبعهم باحسان الى يوم الدين.
- ۱ و ۲....... ان نصوص القرآن والسنة مطبقة على أن النبوة والرسالة قد انقطعت بعد بعثة النبى
الكريم سيدنا محمد ﷺ وأن كل من ادعى النبوة بعده ﷺ فهو كاذب خارج عن ملة الاسلام، وان هذه العقيدة من المبادئ الأساسية التى لاتقبل اى تاويل أو تخصيص، فانها ثابتة بنصوص القرآن الكريم الواضحة البينة المراد، والأحاديث النبوية المتواترة القطعية، يقول الله سبحانه و تعالى: "ماكان محمد أبا أحد من رجالكم، ولكن رسول الله و خاتم النبيين."
(الاحزاب ۴۰)
وهناك أحاديث متواترة أكثر من مائة تثبت هذه العقيدة القطعية، نذكر منها على سبيل المثال ما يلى:
- (الف)...... "عن أبى هريرةؓ أن رسول الله ﷺ قال: ان مثلى و مثل الأنبياء من قبلى كمثل رجل بنى
بيتا فأحسنه و أجمله الا موضع لبنة من زاوية، فجعل الناس يطوفون به و يعجبون له، ويقولون: هلا وضعت هذه اللبنة، وأنا خاتم النبيين." (۲)
- (ب)...... "عن أبى حازم قال قاعدت أبا هريرةؓ خمس سنين فسمعته يحدث عن النبى ﷺ قال:
كانت بنو أسرائيل تسوسهم الأنبياء، كلما هلك نبى خلفه نبى، وأنه لانبى بعدى، و سيكون خلفاء، قالوا: فما تأمرنا؟ قال: فوا بيعة الأول فالأول.
(المسلم ج ۲ ص ۲۴۸)
- (ج)...... "عن أبى هريرةؓ عن النبى ﷺ قال: لاتقوم الساعة حتى يقتل فئتان، فيكون بينهما مقتلة
عظيمة دعواهما واحدة، ولا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريبا من ثلاثين، كلهم يزعم أنه رسول الله.
(رواه البخارى و مسلم و أحمد)
وعلى أساس هذه النصوص القطعية قد اجتمعت الأمة الاسلامية على أن كل من ادعى
- (۱) "كلمة الفصل" و "ريويو آف ريليجنز" مارس و ابريل ۱۹۱۵م.
- (۲) رواه البخارى فى كتاب الانبياء.
النبوة والرسالة أو بأنه ينزل عليه وحى يجب اتباعه كحجة شرعية، فانه كافر خارج عن الملة. يقول القاضى عياض رحمه الله تعالى فى الشفاء.
(ص ٢٦٢ طبع الهند)
”لأنه أخبر أنه ﷺ خاتم النبيين، ولا نبى بعده و أخبر عن الله تعالى أنه خاتم النبيين، وأجمعت الأمة على حمل هذا الكلام على ظاهره أن مفهومه المراد به دون تأويل ولا تخصيص، ولا شك فى كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا اجماعا و سمعاً.“
يقول الشيخ على القارى فى شرح الفقه الأكبر ص ٢٠٢:
”ودعوى النبوة بعد نبينا ﷺ كفر بالاجماع.“
ولم تفرق هذه النصوص القطعية ولا الاجماع المنعقد على هذه العقيدة بين دعوى النبوة التشريعية و غير التشريعية، فكل منهما كفر، لا مجال له فى الاسلام.
وبما أن مرزا غلام أحمد القاديانى قد ادعى لنفسه النبوة والرسالة كما هو ظاهر من مقتبسات كتبه المذكورة فى ضميمة ”الف“ من الاستفتاء، فانه كافر خارج عن الاسلام، و أما ما تأوّل به من أن نبوته ظل لنبوة سيدنا محمد ﷺ فان هذا التأويل لا يفيد فى هذا الصدد شيئا وذالك لوجهين:
الأول: اننا قد ذكرنا أن عقيدة ختم النبوة لا تقبل أى تأويل أو تخصيص، ولذالك كما ظهر فى المسلمين من يدعى لنفسه النبوة، فان الامة الاسلامية عبر القرون لم تسئله ابداً عن تأويل يتأول به، ولا دليل يعتمد عليه، وانما حكمت بكفره و خروجه عن الاسلام بمجرد ادعائه النبوة، ولذالك قاتل الصحابة رضى الله عنهم مسيلمة الكذاب والأسود العنسى وطليحة بن خويلد المتنبئين الذين كان عندهم تأويل ما يدعونه من النبوة والرسالة.
والوجه الثانى: النبوة الظلية أو البروزية التى تأوّل بها المتنبئ القاديانى ليست فى زعمه نبوة دون نبوة الأنبياء الآخرين، وانما هى نبوة تفوق درجة على نبوة جميع أنبياء بنى اسرائيل فان هذه النبوة كما يزعمه المتنبئ القاديانى لا ينالها أحد من الناس، حتى يحوز جميع فضائل سيدنا محمد رسول الله ﷺ ويجمع بين جميع أوصاف كماله، بحيث يصبح ظهورا ثانيا لسيدنا محمد ﷺ نفسه، ولذالك ادعى هذا المتنبئ الكذاب فى كتابه ”ایک غلطی کا ازالہ“ (ص ١٠ و ١١)
”وسمانى الله محمدا و أحمد فى ”براهين أحمديه“ قبل عشرين عاما، و اعتبرنى وجود محمد ﷺ نفسه، ولذا لم يتزلزل ختم نبوة محمد صلى الله عليه وسلم بنبوتى، لأن الظل لا ينفصل عن أصله، ولأننى محمد ظليا، ولذا لم ينقض ختم النبوة، لأن نبوة محمد ﷺ لم تزل محدودة على محمد، أى بقى محمد ﷺ نبيا لا غير، أعنى لما كنت محمدا ﷺ بروزيا وانعكست الكمالات المحمدية مع النبوة المحمدية فى اللون البروزى فى مرآتى الظلية، فأى انسان منفرد ادعى النبوة على حياله؟“
ويقول ابنه مرزا بشير أحمد القاديانى فى كتابه ”كلمة الفصل“ وريويو آف ريليجنز مارس و أبريل ١٩١٥م:
”ومن الواضح أن الأنبياء، في العصور الماضية لم يكونوا يجمعون بالضرورة ... كل الكمالات التي جمعت في محمد ﷺ بل كل نبى كان يعطى من الكمالات حسب عمله و استعداده قلة وكثرة الا أن المسيح الموعود (يعنى ”مرزا غلام أحمد القادياني) اعطى النبوة عند ما اكتسب جميع الكمالات المحمدية، و استحق أن يقال له ”النبي الظلى“ فالنبوة الظلية لم تؤخر قدم المسيح الموعود (يعنى المتنبئ القاديانى) بل قدمتها الى الامام الى أن اقامته جنبا الى جنب مع النبى ﷺ.
ويقول ابنه و خليفته الثانى مرزا بشير الدين محمود:
”فالنبوة الظلية والبروزية ليست نبوة بسيطة، لأنها لو كانت كذالك لما قال المسيح الموعود (يعنى المتنبئ القاديانى) في أحد أنبياء بنى اسرائيل: أتركوا ذكر ابن مريم فغلام أحمد خير منه.
("القول الفصل“ ص ۱٦، مطبع ضياء الاسلام قاديان ۱۹۱۵م)
وصرح بذالك القاضى ظهور الحق أكمل، وكان مدير المجلة القاديانية ”ريويو آف ريليجنز“ في أبيات التي نشرت في صحيفة ”بدر“ ۲۵ اکتوبر ۱۹۱٦م:
”ان محمدا قد نزل فينا ثانيا، وهو أعلى شأنا من الأول، من كان يريد رؤية محمد، فلينظر غلام أحمد في قاديان.“
وقد أبان هذا الرجل نفسه في مجلة ”الفضل“ القاديانية المعروفة (۲۲ اغسطس ۱۹۱٦م) أنه عرض هذه الأبيات على مرزا غلام أحمد القاديانى، فأثنى عليه بقوله جزاك الله، و أخذها إلى بيته، وذكر هذا الرجل انه قد استلهم مفهوم هذه الأبيات من ’الخطبة الالهامية“ للقادياني التي قال فيها:
”ألحق روحانية عليه السلام في آخر الألف السادس...... أعنى في هذه الأيام...... أشد وأقوى وأكمل من تلك الأعوام، ولذالك لاتحتاج الى الحسام ولا الى حزب المحاربين، ولذالك اختار الله سبحانه المسيح الموعود (يعنى به القاديانى نفسه) عدة من المئات كعدة ليلة البدر من هجرة سيدنا خير الكائنات لتدل تلك العدة على مرتبة كمال تام من مراتب الترقيات، وهى أربع مائة بعد الألف من خاتم النبيين.
(الخطبة الالهامية ص ۴۷ طبع الجمعية الاحمدية لاهور)
فتبين من هذه المقتبسات أن النبوة الظلية، كما يزعمها القادياني وأتباعه، نوع من النبوة يفوق نبوة سائر أنبياء بنى اسرائيل، بل هو أقوى و أكمل من نبوة سيدنا محمد ﷺ والعياذ بالله العظيم. فادعائه مثل هذه النبوة كفر صريح لاشبهة في كونه منافيا للنصوص القطعية الدالة على انه لانبى بعد رسول الله ﷺ فثبت أن مرزا غلام احمد القاديانى وأتباعه القاديانيين خارجون عن ملة الاسلام دون أى شك و تردد.
- ٣...... لما ثبت ان مرزا غلام احمد القاديانى كافر خارج عن ملة الاسلام بسبب ادعائه النبوة، فان
كل من يصدقه في دعاويه و يعتبره اماما في الدين يجب اطاعته و اتباعه، فانه كافر أيضا، فضلا عن اعتباره المسيح الموعود والمهدى والمجدد، وبما أن الطائفة اللاهورية من أتباع مرزا غلام احمد
المتنبئ تعتبره المسيح الموعود والمهدى والمجدد، وأنه كان ينزل عليه وحى يجب اتباعه، فحكمها فى الخروج عن الاسلام كحكم الطائفة القاديانية سواء بسواء وان الدراسة الدقيقة لمعتقدات هذه الطائفة اللاهورية، تدل على أنه ليست هناك فرق أساسى بين معتقدات الطائفتين، وانما هو فرق لفظى انما نشأ لأسباب سياسية.
وتوضيح ذالك أنه لم يكن هناك أى فرق بين الطائفتين فى حياة مرزا غلام احمد لافى عهد خليفته الاول حكيم نور الدين، وكان جميع أتباع مرزا غلام احمد خلال هذه المدة الطويلة يلقبونه نبيا و رسولا، و بقى محمد على اللاهورى (رئيس الطائفة اللاهورية) برهة من الزمن رئيس تحرير لمجلة ريويو آف ريليجنز، ولم يزل فى كتاباته فى تلك المجلة يلقب مرزا غلام احمد نبيا و رسولا، و يعترف له بجميع صفات النبوة دون أى فرق بينه وبين أتباع مرزا الآخرين، فيقول مثلا:
”مهما يفسر المخالف، الا أننا قائلون: ان الله قادر على أن يخلق نبيا و يختار صديقا...... والذى بايعناه (اى المرزا) كان صادقا، وكان رسول الله المختار المقدس.“ (مجلة ”الفرقان“ يناير ١٩٣٢م نقلا عن جريدة ”الحكم“ ١١ جوليو ١٩٠٨م)
وقد نشرت صحيفة الجماعة اللاهورية ”بيغام صلح“ بيانا عن الجماعة اللاهورية كلها وهذا نصه.
”نحن نرى حضرة المسيح الموعود والمهدى المعهود نبى هذا العصر ورسوله و منقذه.“
ولكن عند ما توفى خليفته الاول حكيم نور الدين ، و اختار كثير من الناس مرزا بشير الدين خليفته الثانى، حدث هناك نزاع سياسى بين محمد على اللاهورى ومرزا بشير الدين محمود، وأعتزل محمد على اللاهورى عن الجماعة القاديانية، وأسس هناك جماعته، وأصدر من قبلها قرارا، وهذا نصه:
”انا نجيز اختيار مرزا بشير الدين محمود كأمير لمجرد أن يبايع غير الأحمديين باسم أحمد، و يدخله فى السلسلة الأحمدية، ولكن لانرى الحاجة الى أن يبايعه الأحمديون ثانيا....... وليس للأمير ان يتصرف فى حقوق رئيس الجمعية الأحمدية و امتيازاته التى منحها له حضرة المسيح الموعود، و اختاره لنفسه ثانيا.“ (الفرقان يناير ١٩٣٢م نقلا عن ”بيغام صلح“ ٢٤ مارس ١٩١٤م)
قد تبين من هذا القرار أن الجماعة اللاهورية لم يكن لها أى اعتراض على الجماعة القاديانية ولم يرم مرزا بشير الدين غير أهل للخلافة، وانما كان النزاع فى أن تفوض كل الاختيارات الى الجماعة اللاهورية لا الى الخليفة.
وبناء على هذا الخلاف السياسى لما بدأت الجماعة القاديانية تضطهد الجماعة اللاهورية فى مجالات الحياة، اضطرت الجماعة اللاهورية الى اكتساب عطف المسلمين، وبدأوا يقولون انهم لا يرون مرزا غلام أحمد نبيا، بل يعتبرونه المسيح الموعود والمهدى والمجدد من غير أن يعلن برجوعه من كتاباته السابقة.
والحق أن تقولهم هذا ليس الا حيلة لفظية، فان الجماعة اللاهورية تقصد من لفظ
المسيح الموعود والمهدى والمجدد، عين ما تقصده الجماعة القاديانية من لفظ "النبى الظلى" و" البروزى"، وهذا محمد على اللاهورى يقول فى كتابه، "النبوة فى الاسلام" وقد الفه بعد انفصال جماعته عن الجماعة القاديانية:
"ان المسيح الموعود فى كتاباته السابقة واللاحقة قرر أصلا واحدا، وهو أن باب النبوة مسدود، غير أن نوعا من النبوة يمكن الحصول عليه، ولا نقول: ان باب النبوة مفتوح، بل نقول: ان باب النبوة مسدود، غير أن ولا نقول: انه يمكن لشخص ان يصير نبيا، بل نقول: ان نوعا من النبوة يمكن الحصول عليه عن طريق اتباع النبى ﷺ وهو الذى سمى بالمبشرات فى مكان، وبالنبوة الجزئية فى مكان آخر، وبالمحدثية فى موضع، و بكثرة المكالمة فى موضع آخر، مهما تغيرت الأسماء، فقد تقررت علامته، وهى أنه يحصل باتباع الانسان الكامل محمد ﷺ وبالفناء فى الرسول وهو مستفاض من النبوة المحمدية، وهو نور المصباح النبوى، و ليس شيئا مستقلا بل هو ظل."
(النبوة فى الاسلام ص ١٥٨)
أليس هذا تلاعب بالالفاظ لبيان فلسفة الظل والبروز التى سبق ذكرها فى عبارات الجماعة القاديانية، فان كان الامر كذالك...... وهو كذالك...... فهل يبقى هناك فرق بين الجماعة القاديانية والجماعة اللاهورية؟ ثم ان هذا ليست عقيدة محمد على فحسب، بل هى عقيدة الجماعة اللاهورية كلها، فقد صرح مندوب الجماعة اللاهورية فى المناقشة التى جرت بين الفريقين فى راولبندى، وقد نشرها الفريقان على نفقتهما قائلا:
"ان حضرته...... المرزا...... ظل كامل من ظلال النبى ﷺ ولذالك سميت زوجته...... "بأم المومنين"...... وهذا ايضا مرتبة ظلية."
واعترف ايضا قائلا:
"ان حضرة المسيح الموعود ليس نبيا، غير ان نبوة محمد ﷺ انعكست عليه."
(مباحثة راولبندى ص ١٩٦)
وكل هذه العقائد يؤمن بها الجماعة اللاهورية حتى اليوم، وقد تبين من هذا أن الخلاف بين الجماعتين هو خلاف لفظى فقط، فالجماعة اللاهورية وان كانت تسمى المرزا بلقب "المسيح الموعود" و "المجدد" غير أنها تعنى من هذه الكلمات نفس المعنى الذى تعيبه الجماعة القاديانية من الفاظ "النبى الظلى" و "البروزى" و "النبى غير التشريعى" او "النبى من الامة."
ولا فرق بين الطائفتين من حيث أن كلتيهما تعتقد ان مرزا غلام احمد القاديانى المتنبئ كان ينزل عليه وحى يجب اتباعه على سائر الناس، وأن جميع ما كتبه او ادعاه فى كتاباته حق، يجب اطاعته على كل مسلم، بل يصرح محمد على اللاهورى، فى مقدمة كتابه "النبوة فى الاسلام" أن الطائفة اللاهورية أشد ايمانا بالمرزا غلام احمد بالنسبة الى الطائفة القاديانية. فيقول مخاطبا الطائفة القاديانية:
"انكم بجعله (اى المرزا) نبيا كاملا، لا تعترفون له برتبة أعلى مما نعترف به نحن، بجعل نبوته جزئيا، والحق أننا نؤمن بوجوب اتباع وحيه الى حد مساو لما تؤمنون، بل اننا نؤمن به عملا،
أكثر مما تؤمنون به .“
(النبوة فى الاسلام، ص ۲۳ طبع لاهور ۱۹۱۵م)
واما المسئلة الثانية التى تدعى الطائفة اللاهورية انها تمتاز فيها عن الطائفة القاديانية هى مسئلة تكفير المسلمين، فتدعى الطائفة اللاهورية أنها لا تكفر مسلما لا يؤمن بمرزا غلام احمد القاديانى، بينما الطائفة القاديانية تكفر جميع المسلمين الذين لا يؤمنون به.
والحقيقة انه لا فرق بين الطائفتين عملا من هذا الجهة ايضا، لأن الطائفة اللاهورية تقول: لا نكفر من لم يؤمن بمرزا، ولكن نكفر من ”كذبه“ او ”كفره“ وظاهر أن كل من لا يؤمن بمرزا غلام احمد فانه يكذبه فى دعاويه، ولا يوجد على وجه الارض من لا يؤمن بمرزا بعد علم بدعاويه ثم يزعمه صادقا ولا يكذبه، فهناك بين العارفين بمرزا غلام احمد قسمان لا ثالث لهما، اما المؤمنون به، واما المكذبون اياه، وكل من يكذب بمرزا غلام احمد فهو كافر عند الطائفة اللاهورية، فيقول محمد على اللاهورى فى كتابه ”رد تكفير اهل القبلة.“
”ان حضرة المسيح الموعود لم يعتبر انكاره أو انكار دعواه سببا للكفر وانما جعل سبب التكفير هو انه كفره مفتريا، فعاد عليه الكفر بناء على الحديث الذى يرد الكفر على المكفر اذا لم يكن هو كافرا.“
ويضيف الى ذالك قائلا: ”لأن المكفر والمكذب متساويان معنى، أى من يكفر المدعى...... المرزا...... ومن يكذبه متساويان معنى اى كلاهما يكفرانه فلذالك كلاهما داخلان فى الكفر فى ضوء هذا الحديث.“
(رد تكفير اهل القبلة ص ۲۹ و ۳۰ طبع ۱۹۲۶م)
ومن هذه الجهة فانه لا فرق بين الطائفتين من أتباع المرزا فى مسئلة التكفير أيضا. وبعد اثبات ما ذكرنا فانه يوجد فى الطائفة اللاهورية أسباب تالية يكفى كل واحد منها فى تكفيرهم.
- (۱)...... لقد ثبت قطعا أن مرزا غلام احمد ليس هو المسيح الذى وعد به عند قرب الساعة، وأن
الاعتراف بكونه ذالك المسيح الموعود تكذيب للقرآن الكريم، والسنة المتواتر واجماع الامة، ولما كانت الطائفة اللاهورية تؤمن بان المرزا هو المسيح الموعود فانها كافرة خارجة عن الاسلام.
- (۲)...... قد ثبت قطعا أن مرزا غلام احمد ادعى النبوة فى تقولاته وكتاباته، وأهان الأنبياء عليهم
السلام وفضل نفسه على جميع الانبياء فلا يبقى مسلما من اعتبره اماما فى دينه.
- (۳)...... سبق ان ذكرنا أن الجماعة اللاهورية تعتقد أن مرزا غلام أحمد ظل و بروز للنبى ﷺ
والعياذ بالله وان نبوة محمد ﷺ قد انعكست فيه، و بهذا الاعتبار يصح اطلاق النبوة عليه، وان هذه العقيدة لا تسعها دائرة الاسلام أبدا.
- (۴)...... وعلاوة على دعوى النبوة، فان مؤلفات مرزا غلام احمد مليئة بالكفريات الاخرى وان
الجماعة اللاهورية تؤمن بجميع هذه الكفريات و تعتبر كتب هذا المتنبئ حجة واجب الاطاعة، فتشارك مرزا غلام احمد القاديانى فى جميع كفرياته.
٤. السوال الرابع: ان كون رجلا مسلما أو كافرا يتوقف على عقائده و افكاره، وأن هذه المسئلة مسئلة عقيدية وكلامية بحتة، ولا يجوز أن يتدخل فيها رجل ليس له معرفة بعلوم القرآن والسنة، ولا يجوز ”لمحكمة علمانية“ أن تحكم فى هذه المسئلة الدينية الخالصة، ولاسيما بعد ما بت المسلمون فى مسئلة اسلام القاديانيين برأى انعقد الاجماع عليه، فلو حكم محكمة علمانية بحكم مضاد لما اجمعت عليه الأمة الاسلامية لن يقبل حكمها فى ذالك شرعا، وان رأيها فى ذالك لا توازى حبة خردل. والله سبحانه و تعالى اعلم وعلمه احكم و اتم. وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين.
قرارات الفتوى
الصادرة
عن الدورة الثانية لمجلس مجمع الفقه الاسلامى بجدة من ١٠-١٦ ربيع الثانى ١٤٠٦ه / ٢٢-٢٨ ديسمبر ١٩٨٥ء الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد خاتم النبيين وعلى آله وصحبه.
قرار رقم (٤)
بشان...... القاديانية
اما بعد:
فان مجلس مجمع الفقه الاسلامى المنبثق عن منظمة المؤتمر الاسلامى فى دورة انعقاد مؤتمره الثانى بجدة من ١٠-١٦ ربيع الثانى ١٤٠٦ه / ٢٢-٢٨ ديسمبر ١٩٨٥ء.
بعد ان نظر فى الاستفتاء المعروض عليه من ”مجلس الفقه الاسلامى فى كيبتاون بجنوب افريقيا، بشان الحكم فى كل من (القاديانية) والفئة المتفرعة عنها التى تدعى (اللاهورية) من حيث اعتبارهما فى عداد المسلمين او عدمه و بشان صلاحية غير المسلم للنظر فى مثل هذه القضية.
وفى ضوء ما قدم لاعضاء المجمع من أبحاث و مستندات فى هذا الموضوع عن (ميرزا غلام احمد القاديانى) الذى ظهر فى الهند فى القرن الماضى واليه تنسب نحلة القاديانية واللاهورية.
وبعد التأمل فيما ذكر من معلومات عن هاتين النحلتين وبعد التأكد من أن (ميرزا غلام احمد) قد ادعى انه نبى مرسل يوحى اليه و ثبت عنه هذا فى مؤلفاته التى ادعى ان بعضها وحى انزل عليه وظل طيلة حياته ينشر هذه الدعوى. و يطلب من الناس فى كتبه و اقواله الاعتقاد بنبوته ورسالته، كما ثبت عنه انكار كثير مما علم من الدين بالضرورة كالجهاد ضد الكفار واعداء المسلمين المستعمرين لبلاده.
وبعد ان اطلع المجمع (ايضاً) على ما صدر عن (المجمع الفقهى بمكة المكرمة) فى الموضوع نفسه.
قرر ما یلی:
- ۱ ...... ان ما ادعا (ميرزا غلام احمد) من النبوة والرسالة ونزول الوحى عليه انكار صريح لما ثبت
من الدين بالضرورة ثبوتا قطعيا يقينيا من ختم الرسالة والنبوة بسيدنا محمد ﷺ وانه لا ينزل وحى على أحد بعده وهذه الدعوى من (ميرزا غلام احمد) تجعله و سائر من يوافقونه عليها مرتدين خارجين عن الاسلام. واما (اللاهورية) فانهم كالقاديانية فى الحكم عليهم بالردة، بالرغم من وصفهم (ميرزا غلام احمد) بانه ظل و بروز لنبينا محمد ﷺ.
- ۲ ...... ليس لمحكمة غير اسلامية، او قاضى غير مسلم، أن يصدر الحكم بالاسلام او الردة، ولا سيما
فيما يخالف ما أجمعت عليه الامة الاسلامية من خلال مجامعها و علمائها، وذلك لان الحكم بالاسلام او الردة، لا يقبل الا اذا صدر عن مسلم عالم بكل ما يتحقق به الدخول فى الاسلام، أو الخروج منه بالردة، و مدرك لحقيقة الاسلام أو الكفر، و محيط بما ثبت فى الكتاب والسنة والاجماع. فحكم مثل هذه المحكمة مردود لعدم الاختصاص. والله اعلم.
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆....... اگر بہروپئے کے طور پر بھی کسی کو نبی بنانا تھا تو نقل مطابق
اصل تو ہوتی۔ شکل دیکھو، فہم دیکھو، فراست دیکھو مرزا غلام احمد قادیانی نبیوں کا مقابلہ کرتا ہے۔
- ☆....... ہماری غیرت کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک قادیانی
بھی زندہ نہ بچے۔ حکومت کو چاہئیے کہ پکڑ پکڑ کر ان خبیثوں کو ماردے۔
- ☆....... عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا فرض ہے۔ اس کا
انکار کفر ہے۔ اور اس کی تاویل کرنا زیغ وضلال اور کفر والحاد ہے۔
☆.......☆.......☆
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مسلمانوں کے قبرستان میں
قادیانیوں کو دفن کرنا جائز نہیں
حضرت مولانا عبداللہ کلام
بسم الله الرحمن الرحيم!
سوال ...... اگر کوئی امام کسی مرزائی کا جنازہ پڑھادے اور امام کو یہ علم بھی نہیں تھا کہ وہ مرزائی ہے۔ جب کہ محلے کے مسلمانوں کو معلوم تھا کہ یہ مرزائی ہے اور کفن دفن کا انتظام بھی محلے والے مسلمانوں نے کیا ہے اور مسلمانوں کے قبرستان میں اس کو دفنا دیا ہے۔ مسلمانوں کا مذکورہ مرزائی کے ساتھ یہ معاملہ کرنا کیسا ہے؟۔ نیز امام کے نماز جنازہ پڑھانے سے اس کا نکاح باقی ہے یا ٹوٹ گیا؟ اور اسی طرح سے ان مسلمانوں کا نکاح ( جنہوں نے اس کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی مرزائی کا علم ہونے کے باوجود ) باقی ہے یا ٹوٹ گیا ؟ ۔ براہ کرم دلائل سے جواب عنایت فرمائیں۔ مستفتی غوث بخش سکھر
الجواب باسمه تعالىٰ!
صورت مسئولہ میں اولاً یہ بات سمجھنی چاہئے کہ مرزائی باتفاق علمائے امت کافر محارب زندیق اور مرتد ہیں۔ ان کو کسی بھی اعتبار سے عزت اور شان کا مرتبہ نہیں دینا چاہئے اور اسلام کی غیرت ایک لمحہ کے لئے یہ برداشت نہیں کرتی کہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے دشمنوں سے کسی نوعیت کا کوئی تعلق اور رابطہ رکھا جائے۔ قرآن کریم میں ایسے لوگوں کے ساتھ کلیتاً قطع تعلق کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ مائدہ میں ارشاد ہے کہ:
”ياايها الذين آمنو لاتتخذوا اليهود والنصارىٰ أولياء بعضهم اولياء بعض ٠ ومن يتولهم منكم فانه منهم ٠ ان الله لايهدى القوم الظالمين ٠ مائده: ٥١“ ﴿اے ایمان والو! مت بناؤ یہود اور نصاریٰ کو دوست ۔ وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے اور جو کوئی تم میں سے دوستی کرے ان سے تو وہ انہی میں ہے۔ اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو۔﴾
اس آیت کے تحت امام ابو بکر جصاص رازیؒ تفسیر احکام القرآن میں لکھتے ہیں کہ:
”وفى هذه الآية دلالة على ان الكفار لا يكون ولياً للمسلمين لافى التصرف ولا فى النصرة وتدل على وجوب البرائة عن الكفار والعداوة بهم لان الولاية ضد العداوة فاذا امرنا بمعادات اليهود والنصارىٰ لكفرهم فغيرهم من الكفار بمنزلتهم والكفر ملة واحد ٠ ص٤٤٤ ج٢“ ﴿اس آیت میں اس امر پر دلالت ہے کہ کافر مسلمانوں کا ولی ( دوست ) نہیں ہو سکتا ۔ نہ تو معاملات میں اور نہ امداد وتعاون میں اور اس سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کافروں سے برأت اختیار کرنا اور اس سے عداوت رکھنا واجب ہے۔ کیونکہ ولایت عداوت کی ضد ہے اور جب ہم کو یہود ونصاریٰ سے ان کے کفر کی وجہ سے عداوت رکھنے کا حکم ہے تو دوسرے کافر بھی انہی کے حکم میں ہیں۔ کیونکہ سارے کافر ایک ہی ملت کے حکم میں ہیں ۔﴾
نیز دوسری جگہ سورۃ انعام میں حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے کہ:
”واذا رائيت الذين يخوضون فى آياتنا فاعرض عنهم حتىٰ يخوضوا فى حديث
غیرہ . واما ينسينك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين ، انعام ٦٨ “ ﴿اور جب تو دیکھے ان لوگوں کو کہ جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں تو ان سے کنارہ کر۔ یہاں تک کہ مشغول ہو جائیں کسی اور بات میں اور اگر بھلا دے تجھ کو شیطان تو مت بیٹھ یاد آ جانے کے بعد ظالموں کے ساتھ﴾
اس آیت کے ذیل میں امام ابوبکر جصاص رازیؒ رقمطراز ہیں کہ:
”وهذا يدل على ان علينا ترك مجالسة الملحدين وسائر الكفار عند اظهارهم الكفر والشرك وما لا يجوز على الله تعالىٰ اذا لم يمكنا انكاره ، ص ٢ ج ٣ “ ﴿یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ہم (مسلمانوں) پر ضروری ہے کہ ملاحدہ اور تمام کفار سے جب ان کے کفر و شرک اور اللہ تعالیٰ پر ناجائز باتیں کہنے کی روک تھام نہ کر سکیں تو ان کے ساتھ نشست و برخاست ترک کر دیں۔﴾
مندرجہ ذیل عبارات کی رو سے معلوم ہوا کہ قادیانیوں کے ساتھ مکمل قطع تعلق کرنا چاہئے۔ رہا یہ سوال کہ اگر کسی کا کوئی رشتہ دار قادیانی ہو اور وہ مرجائے تو اس کی تجہیز وتکفین کی کیا صورت ہوگی ؟ ۔ اور اسلامی نقطہ نظر سے ایسے شخص کے بارہ میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے ؟۔
چونکہ یہ سوال بہت سارے ذہنوں کی خلش کا ذریعہ ہے۔ اس لئے ذیل میں ہم مختصراً ان کو بیان کر دیتے ہیں:
اول...... اگر اس کافر مرتد قادیانی کے ہم مذہب موجود ہوں تو اس مردار کو انہی کے سپرد کر دیا جائے۔ اس صورت میں کسی مسلمان کو اس کی تجہیز و تکفین میں شرکت کرنا درست نہیں۔
دوم....... اگر اس کا کوئی ہم مذہب موجود نہیں تو ایسی مجبوری کی صورت میں ایسے شخص کو غسل اس طرح دیا جائے جیسے ایک ناپاک کپڑے کو دھویا جاتا ہے اور اسے ایک کپڑے میں لپیٹ دیا جائے ۔ مگر ان میں سے کسی کام میں بھی سنت کی رعایت نہ کی جائے۔ بلکہ یہ سارے کام سر سے بوجھ کو اتارنے کے لئے انجام دیئے جائیں۔ چنانچہ
درمختار علی ہامش ردالمحتار میں ہے کہ:
”فيغسله غسل الثوب النجس ويلفه في خرقة ، ص ٦٥٧ ج ١ “ ﴿اسے اس طرح (کراہت سے ) غسل دیا جائے جیسے ناپاک کپڑے کو دھویا جاتا ہے اور اسے کسی کپڑے میں لپیٹ دیا جائے۔﴾
اسی وجہ سے فقہاء نے لکھا ہے کہ مرتد کو مسنون طریقے سے غسل وکفن دینا ممنوع اور گناہ ہے۔ چنانچہ فتاوی خیریہ میں ہے کہ :
”فان راعی ما نصت العلماء عليه فى غسل المسلم وتكفينه ودفنه فقد ارتكب محظوراً بلاشك لانه ممنوع عنه شرعاً ، على هامش الفتاوى الحامدیہ ، مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ، فتاوی خیریہ ج ١ ص ٢٥ “ ﴿اگر کسی شخص نے کسی غیر مسلم کی تجہیز وتکفین اور دفن میں علماء کے ذکر کردہ ان امور مسنونہ کی رعایت کی جو مسلمانوں کے لئے ہیں تو وہ گناہ کا مرتکب ہوا۔ کیونکہ بلاشبہ ان تمام امور کی
رعایت کفار کے حق میں ممنوع ہے۔﴾
سوم...... جس طرح کافر کو سنت کے مطابق غسل وکفن دینا جائز نہیں۔ اسی طرح کسی کافر کی نماز جنازہ پڑھنا بھی جائز نہیں۔ جیسا کہ سورۃ توبہ میں ارشاد باری ہے کہ:
”ولاتصل على احد منهم مات ابداً ولاتقم على قبره ٠ انهم كفروا بالله ورسوله وماتوا وهم فاسقون ٠ توبه ٨٤“ ﴿اور نماز نہ پڑھو ان میں سے کسی پر جو مر جائے کبھی اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر وہ منکر ہوئے اللہ اور اس کے رسول سے اور وہ مر گئے نافرمان ۔﴾
اس آیت کے تحت امام جصاص رازی تفسیر احکام القرآن میں لکھتے ہیں کہ:
”وحظرها (اى الصلوة) على موتى الكفار...... الخ ٠ ص١٤٤ج٣“ ﴿اور اس میں کفار کے موتی پر جنازہ پڑھنے کی ممانعت ہے۔﴾
پس جن مسلمانوں نے مرزائی مرتد کا جنازہ پڑھا ہے۔ اگر وہ اس کے عقائد سے واقف تھے کہ یہ شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتا ہے۔ اس کی وحی پر ایمان رکھتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا منکر ہے۔ اس علم کے باوجود اگر انہوں نے اس کو مسلمان سمجھا اور مسلمان سمجھ کر اس کا جنازہ پڑھا تو ان تمام لوگوں کو جو جنازے میں شریک تھے اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے۔ کیونکہ ایک مرتد کے عقائد کو اسلام سمجھنا کفر ہے۔ اس لئے ان کا ایمان بھی جاتا رہا اور نکاح بھی باطل ہو گیا۔ ان میں سے کسی نے اگر حج کیا تھا تو اس پر دوبارہ حج کرنا بھی لازم ہے۔ چنانچہ بحر الرائق میں ہے کہ:
”والاصل ان من اعتقد الحرام حلالاً فان كان حراماً لغيره كمال الغير لايكفر وان كان لعينه فان كان دليلة قطعيا كفر والا فلا وقيل التفصيل فى العالم اما الجاهل فلا يفرق بين الحلال والحرام لعينه ولغيره وانما الفرق فى حقه انما كان قطعياً كفر به والا فلا يكفر اذا قال الخمرليس بحرام...... الخ ٠ ص١٢٢‘١٢٣ج٥ ٠ هكذافى ردالمختار ص٣١١ج٣ ٠ والهنديه ص٢٧٢ج٢“ ﴿(تکفیر کے باب میں ) قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جو شخص کسی حرام چیز کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو اور وہ شے فی نفسہ حرام نہیں (جیسے غیر کا مال ) تو اسے کافر نہیں کہا جائے گا اور اگر وہ چیز فی نفسہ حرام ہے تو اس کے حلال ماننے والے کو کافر کہا جائے گا۔ بشرطیکہ اس کی حرمت قطعی دلیل سے ثابت ہو (جیسے شراب‘ خنزیر وغیرہ ) ورنہ نہیں۔ حضرات علماء میں سے بعض کی رائے یہ ہے کہ یہ تفصیل اس شخص کے لئے ہے جو حرام بعینہ اور حرام لغیرہ کے فرق کو سمجھتا ہو۔ اس کے لئے اصول یہ ہے کہ اگر کسی امر قطعی کی حرمت کا انکار کرے تو کافر ہو جائے گا۔ ورنہ نہیں۔ جیسے اگر کوئی کہے کہ شراب حرام نہیں۔ تو اس کو کافر کہا جائے گا۔﴾
البتہ اگر امام صاحب کو میت کا مرزائی‘ کافر اور مرتد ہونا معلوم نہ تھا اور لاعلمی میں مسلمان سمجھ کر نماز جنازہ
پڑھادی تو ان کو تجدید ایمان وتجدید نکاح کی ضرورت نہ ہوگی۔ یہی حکم ہر شخص کا ہوگا جس نے لاعلمی میں اس جنازے میں شرکت کی۔ البتہ بے احتیاطی ہوئی۔ کیونکہ تحقیق نہیں کی گئی۔ اس لئے توبہ واستغفار کریں۔
چہارم ...... مسنون طریقے سے کافر کو دفن کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ بلکہ ایسے شخص کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا ہی جائز نہیں۔ چنانچہ درمختار علی ہامش ردالمحتار میں ہے کہ:
”واما المرتد فيلقى فى حفرة كالكلب هكذا فى الهندية ، ص ٢٠٧ ' ج ١ ص ١٦٠ ج ١“ ﴿اور (مرتد کی میت) کو کتے کی طرح ایک گڑھے میں پھینک دیا جائے۔﴾
مزید علامہ ابن عابدین شامی میں لکھتے ہیں کہ:
”ويكره ان يدخل الكافر فى قبر قريبه المسلم ليدفنه ، حواله مذكوره بالا“﴿کسی کافر کو اپنے قریبی رشتہ دار مسلمان کی قبر میں (دفن کرنے کی غرض سے ) اترنا بھی ممنوع ہے۔﴾
کفایہ شرح ہدایہ میں ہے کہ:
”لان الموضع الذى فيه الكافر ينزل فيه اللعن والسخط والمسلم يحتاج الى نزول الرحمة فى كل ساعة فينزه قبره من ذالك ، ص ٢٩٥ ج ٢“﴿چونکہ کافر کی قبر پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور لعنت برستی رہتی ہے اور مسلمانوں کو تو ہر لمحہ رحمت الٰہی کے نزول کی ضرورت ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے قبرستان کو ان کافروں کے دفن سے پاک رکھا جائے۔﴾
فتح القدیر میں بھی ہے کہ اگر کوئی مسلمان مر جائے اور اس کا قریبی رشتہ دار کافر ہو۔ پھر وہ کافر اپنے رشتہ دار کی میت کو لے کر قبر میں نہ اترے۔ بلکہ عام مسلمان یہ کام انجام دیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ:
”وينبغى ان لا يلى ذالك منه بل يفعله المسلمون ص ٢٩٥ ج ٢ هكذا فى الهندية ، ص ١٦٠ ج ١ والبحر الرائق ص ١٩١ ج ٢ وبدائع الصنائع ص ٣١٩ ج ١“﴿اور وہ (کافر) اس کے دفن کا متولیٰ نہیں بن سکتا۔ بلکہ اس کے بجائے عام مسلمان ہی اس کو دفن کریں۔﴾
اسی لئے فقہاء نے تصریح کی ہے کہ کافروں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہی نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ ان کو علیحدہ دفن کیا جائے گا۔ چنانچہ فتاویٰ خیریہ میں ہے کہ:
”وقال عقبة بن عامر و واثلة بن الاسقع يتخذ لها قبر على حدة وهو احوط ، فتاوى خيريه على هامش فتاوى حامديه ج ١ ص ٢٦“﴿عقبہ بن عامر اور واثلہ بن اسقع کہتے ہیں کہ ان کے دفن کی جگہ علیحدہ ہونی چاہئے۔﴾
ان عبارات سے واضح ہو جاتا ہے کہ کافر و مسلمان کا ایک ساتھ دفن کرنا قطعاً جائز نہیں ہے۔ اب صورت مسئولہ
میں چونکہ ایک کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے اور کافروں پر لعنت برستی ہے۔ جس سے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ جس کا ذکر مندرجہ بالا سطور میں آچکا ہے۔ اس لئے اس نعش کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکال دینا چاہئے۔
چنانچہ امام بخاریؒ نے اپنی جامع بخاری میں نبش قبور مشرکین کے متعلق ایک ترجمہ الباب قائم کیا ہے۔ اس کے تحت متعدد احادیث لائے ہیں۔ ملاحظہ ہو بخاری ص ۶۱‘ ج ۱۔ ان احادیث کے تحت فقیہ العصر حضرت امام ابو حنیفہؒ وقت حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی نور اللہ مرقدہ و برد مضجعہ رقمطراز ہیں:
”قوله نبش قبور المشركين اى دون غيرها من قبور الانبياء واتباعهم لمافى ذالك من الاهانة لهم بخلاف المشركين فانه لا حرمة لهم ، لامع الدرارى ص ۳۹۵ ج ۲“ ﴿مشرکین کی قبریں اکھاڑ دی جائیں۔ اس لئے کہ (اسلام میں) ان کا کوئی احترام نہیں۔ بخلاف انبیائے کرام اور ان کے متبعین کے کہ اس میں ان کی توہین ہے۔﴾
دوسری جگہ ارقام فرماتے ہیں:
”واما الكفرة فانه لا حرج فى نبش قبور هم اذلا حرج فى اهانتهم ، “ ﴿البتہ کفار کی قبریں اکھاڑنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ ان کی توہین کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔﴾
مزید آگے لکھتے ہیں کہ:
”وان كانت قبور المشركين فينبغى ان ينبش لانها محل العذاب ، ص ۳۹۶ ج ۲ “ ﴿اور اگر مشرکین کی قبریں ہوں تو ان کو اکھاڑ دینا چاہئے۔ کیونکہ وہ محل عذاب ہے۔﴾
اس طرح کی عبارات فتح الباری ص ۴۳۷ ج ۱‘ اور عمدہ القاری ص ۳۵۰ ج ۲ میں بھی مذکور ہیں۔ فقہ کی مشہور کتاب مراقی الفلاح میں ہے:
”واما اهل الحرب فلا بأس بنبشهم احتيج اليه ص ۳۷۱‘ هكذا فى عمدة الفقه ص ۵۳۶ ج ۳“ ﴿اگر ضرورت ہو تو حربی کفار کی قبریں اکھاڑ دی جائیں۔﴾
مندرجہ بالا تمام عبارات کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس مرزائی مرتد کی نعش کا مسلمانوں کے قبرستان سے نکالنا ضروری ہے۔
فقط: واللہ اعلم! کتبہ عبداللہ کلام عفی عنہ دارالافتاء جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی نمبر ۵ بشکریہ بینات کراچی اپریل ۱۹۸۶ء
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
فتویٰ حیات مسیح علیہ السلام
شائع کردہ!
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حیات حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے قیامت کے قریب
دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کے بارہ میں زعمائے ملت کے اہم
ترین فتوے جو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی مرحوم نے عرب و عجم
کے علماء کرام سے محنت شاقہ سے حاصل کیے اور اگست ۱۹۹۴ء میں
کتابی شکل میں ان کو شائع کیا۔ کتابی شکل میں شائع کرتے وقت اس
کا نام ”فتاویٰ حیات مسیح علیہ السلام“ رکھا گیا پیش خدمت ہے۔ اس
میں چودہ ملکوں کے ۲۹۱ علماء کرام کے فتویٰ جات ہیں۔ (مرتب)
وائس چانسلر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ، رئیس رئاسۃ البحوث العلمیہ والافتاء والدعوۃ والارشاد الریاض، ممبر مجلس شوریٰ سعودی عرب جناب فضیلت مآب الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز کا فتویٰ
۱...... حیات مسیح علیہ السلام کا منکر کافر ہے
الحمد لله رب العالمين والعاقبة للمتقين والصلوة والسلام على عبده و رسوله و خيرته من خلقه محمد بن عبدالله و على آله و صحبه و من سار سيرته واهتدى بهداه الى يوم الدين. اما بعد:. فقد وردنا سوال من باكستان بامضاء الاخ فى الله الشيخ منظور احمد رئيس الجامعة العربيه والناظم الاعلى للادارة المركزية للدعوة والارشاد جنيوت باكستان الغربية وهذا نص السوال.
السوال!
ماقول السادة العلماء الكرام فى حياة سيدنا عيسىٰ عليه السلام و رفعه الى السماء بجسده العنصرى الشريف، ثم نزوله من السماء الى الارض قرب يوم القيامة وان ذلك النزول من اشراط الساعة. وما حكم من انكر نزوله يوم القيامة وادعى انه صلب ولكنه لم يمت بذلك بل هاجر الى كشمير و عاش فيها طويلا ومات فيها بموت طبعى وانه لا ينزل قبل الساعة افتونا ماجورين. (انتهى)
سوال
ہمارے مخلص بھائی مولانا منظور احمد چنیوٹی پرنسپل جامعہ عربیہ و ناظم اعلیٰ ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ مغربی پاکستان کی طرف سے ہمیں ایک سوال پہنچا ہے جس کا اصل متن یہ ہے۔ علماء کرام کا کیا فتویٰ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور جسم مبارک کے ساتھ آسمان پر تشریف لے جانے اور قیامت کے قریب دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کے متعلق، نیز کیا آپ کا آسمان سے دنیا میں تشریف لانا واقعی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے؟ اور جو ان کے قیامت کے قریب نزول کا منکر ہو اس کا کیا حکم ہے، نیز جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر لٹکایا گیا تھا لیکن اس سے تو آپ کی موت واقع نہ ہوئی البتہ آپ وادی کشمیر کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے اور وہاں پر کافی زندگی گزاری اور وہیں اپنی طبعی موت سے وفات پا گئے اور یہ کہ اب وہ قیامت کے قریب آسمان سے نہیں اتریں گے ،ہمیں اس بارے میں فتویٰ عنایت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائیں۔
الجواب!
وباللّٰه المستعان و عليه التكلان ولاحول ولا قوة الا باللّٰه.
قد تظاهرت الادلة من الكتاب والسنة على ان سيدنا عیسی بن مريم عبده و رسوله قد رفع الى السماء بجسده الشريف و روحه وانه لم يمت ولم يقتل لم يصلب وانه ينزل فى آخر الزمان فيقتل الدجال، و يكسر الصليب و يقتل الخنزير و يضع الجزية ولا يقبل الا الاسلام. وثبت ان ذلك النزول من اشراط الساعة وقد اجمع علماء الاسلام الذين يعتد باقوالهم على ماذكرنا، و انما اختلفوا فى التوفى المذكور فى قول الله عزوجل اذ قال الله يا عيسى انى متوفیک و رافعک الی.
(آل عمران ۵۵)
على اقوال
احدها ان المراد بذلك وفاة الموت لانه الاظاهر من الاية بالنسبة الى من لم يتامل بقية الادلة ولان ذلك قد تكرر فى القرآن الكريم بهذا المعنى مثل قوله تعالى قل يتوفكم ملک الموت الذى و کل بکم. (سجدة ۱۱) و قوله سبحانه و تعالى.
ولو ترى اذ يتوفى الذين كفروا الملئكة (انفال ۵۰) و آيات اخرى قد ذكر فيها التوفى بمعنى الموت و على هذا المعنى يكون فى الايات تقديم و تاخير.
القول الثانی
معناه القبض، نقل ذلک ابن جرير فى تفسيره عن جماعة من السلف، و اختاره و رجحه على ماسواه و عليه فيكون معنى الاية انى قابضک من عالم الارض الى عالم السماء وانت حى و رافعک الی، ومن هذا المعنى قول العرب ”توفيت مالى من فلان اى قبضته كله وافيا.“
القول الثالث
ان المراد بذلک وفاة النوم لان النوم يسمى وفاة.
وقد دلت الادلة على عدم موت عليه السلام فوجب حمل الاية على وفاة النوم جمعا بين الادلة كقوله سبحانه.
وهو الذى يتوفكم باليل (انعام ۶۰) وقوله عزوجل.
الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها فيمسك التى قضى عليها الموت ويرسل الاخرى الى اجل مسمى.
(زمر ۴۲)
والقولان الاخيران ارجح من القول الاول، وبكل حال فالحق الذى دلت عليه الادلة البينة و تظاهرت عليه البراهين انه عليه الصلوة والسلام رفع الى السماء حيا وانه لم يمت بل لم يزل عليه السلام حيا فى السماء الى ان ينزل فى آخر الزمان و يقوم بادا المهمة التى اسندت اليه، المبينة فى الاحاديث الصحيحة الثابتة عن محمد رسول الله ﷺ ثم يموت بعد ذلك الموتة التى كتبها الله عليه ومن هنا يعلم ان تفسير التوفى بالموت قول ضعيف مرجوح.
واما من زعم انه قد قتل او صلب فصريح القرآن يرد قوله و يبطله و هكذا قول من قال انه لم يرفع الى السماء و انما هاجر الى كشمير و عاش بها طويلا ومات فيها بموت طبعى وانه لا ينزل
قبل الساعۃ و انما یاتی مثلہ فقولہ ظاھر البطلان بل ھو من اعظم الفریۃ علی اللہ والکذب علیہ و علی رسولہ ﷺ و ھکذا قول من قال انی آت واودی ھذہ المھمۃ کالقادیانی فقولہ من اوضح الکذب فان المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام لم ینزل الی وقتنا ھذا وسوف ینزل فی مستقبل الزمان کما اخبر بذلک رسول اللہ ﷺ و مما تقدم یعلم السائل و غیرہ ان من قال ان المسیح قد قتل او صلب او قال انہ ھاجر الی کشمیر ومات بھا موتا طبعیا ولم یرفع الی السماء او قال انہ آت او یاتی مثیلہ وانہ لیس ھناک مسیح ینزل من السماء فقد اعظم علی اللہ الفریۃ.
بل ھو مکذب للہ و رسولہ ﷺ ومن کذب اللہ ورسولہ فقد کفر.
والواجب ان یستتاب من قال مثل ھذہ الاقوال و ان توضح لہ الادلہ من الکتاب والسنۃ فان تاب و رجع الی الحق والا قتل کافرا.
والادلۃ علی ذلک کثیرۃ معلومۃ منھا قولہ سبحانہ فی شان عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام فی سورۃ النساء:
وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ط مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ج وما قتلوہ یقینا م بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیماً.
(نساء ۱۵۷)
ومنھا ما تواترت بہ الاحادیث عن رسول اللہ ﷺ منھا.
”انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ینزل فی اخر الزمان حکما مقسطا فیقتل مسیح الضلالۃ و یکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ ولا یقبل الا الاسلام.
وھی احادیث متواترۃ مقطوعۃ بصحتھا عن رسول اللہ ﷺ وقد اجمع علماء اسلام علی تلقیھا بالقبول والایمان بما دلت.
علیہ و ذکروا ذلک فی کتب العقائد، فمن انکرھا متعللا بانھا اخبار احاد لا تفید القطع او تاولھا علی ان المراد بذلک تمسک الناس فی آخر الزمان باخلاق المسیح علیہ السلام من الرحمۃ و العطف واخذ الناس بروح الشریعۃ و مقاصدھا ولبابھا. لا بظواھرھا فقولہ ظاھر البطلان، مخالف لما علیہ آئمۃ الاسلام بل ھو صریح فی رد النصوص الثابتۃ المتواترۃ و جنایۃ علی الشریعۃ الغراء.
وجراۃ شنیعہ علی الاسلام و اخبار المعصوم علیہ الصلوٰۃ والسلام و تحکیم للظن والھوی و خروج عن جادۃ الحق والھدی لا یقدم علیہ من لہ قدم راسخ فی علم الشریعۃ و ایمان صادق بمن جاء بھا و تعظیم لاحکامھا و نصوصھا، والقول بان احادیث المسیح اخبار احاد لا تفید القطع قول ظاھر الفساد لانھا احادیث کثیرۃ مخرجۃ فی الصحاح، والسنن، والمسانید، متنوعۃ الاسانید والطرق متعددۃ المخارج، وقد توفرت فیھا شروط التواتر، فکیف یجوز لمن لہ ادنی بصیرۃ فی الشریعۃ ان یقول باطراحھا و عدم الاعتماد علیھا ولو سلمنا انھا اخبار احاد فلیس کل الاخبار الاحاد لا تفید القطع بل الصحیح الذی علیہ اھل التحقیق من اھل العلم.
ان الاخبار الاحاد اذا تعددت طرقھا و استقامت اسانیدھا و سلمت من المعارض
المتواترة تفيد القطع، والاحاديث فى هذا الباب بهذا المعنى فانها احاديث مقطوعة بصحتها متعددة الطرق والمخارج و ليس فى الباب ما يعارضها فهى مفيدة للقطع، سواء قلنا انها متواترة او اخبار احاد، وبذلك يعلم السائل و غيره بطلان هذه الشبهة وانحراف قائلها عن جادة الحق والصواب واشنع من ذلك واعظم فى البطلان والجراءة على الله سبحانه و تعالى و على رسوله ﷺ قول من تاولها على غير مادلت عليه الادلة، فانه قد جمع بين تكذيب النصوص وابطالها و عدم الايمان بما دلت عليه السنة من نزول عيسى عليه السلام.
وحكمه بين الناس بالقسط و قتله الدجال و غير ذلك مما جاء فى الاحاديث وبين نسبه الرسول ﷺ الذى هو انصح الناس واعلمهم بشريعة الله الى التموية والتلبيس وارادة غير مايظهر من كلامه و تدل عليه الفاظه يجب ان ينزه عنه مقام رسول الله ﷺ وهذا القول يشبه قول الملاحدة الذين نسبوا الرسل عليهم الصلاة والسلام الى التخييل والتلبيس لمصلحة الجمهور وانهم ما ارادوا مما قالوا الحقيقة و قد رد عليهم اهل العلم والايمان و ابطلوا مقالتهم بواضح الحجة و ساطع البرهان فنعوذ بالله من زيغ القلوب والتباس الامور و معضلات الفتن و نزعات الشيطان.
ونساله عزوجل ان يعصمنا والمسلمين من طاعة الهوى والشيطان انه على كل شئ قدير. ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم و نرجو ان يكون فيما ذكرناه مقنع للسائل وايضاح الحق والحمد لله رب العالمين و صلى الله وسلم على عبده و رسوله محمد و آله واصحابه اجمعين.
(عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز وائس چانسلر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ)
اس اہم سوال کا جواب اللہ کے بھروسہ اور اس کے توکل پر شروع کیا جاتا ہے اس لیے کہ اس کی توفیق کے بغیر نہ تو کسی معصیت سے بچا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی کام کیا جاسکتا ہے۔
قرآن وحدیث سے اس چیز پر دلائل واضح ہوچکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور یہ کہ آپ اپنے جسم عنصری اور روح دونوں کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں، نیز یہ کہ آپ نے نہ وفات پائی ہے نہ ہی قتل کیے گئے ہیں، نہ ہی آپ کو سولی پر چڑھایا گیا ہے، بلکہ آپ آخری زمانہ میں اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے، جزیہ کو ختم کر دیں گے اور صرف مذہب اسلام کو ہی قبول کریں گے اور حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ کا آسمان سے نازل ہونا علامات قیامت میں سے ہے۔
اور جن علماء کے اقوال کا اعتبار کیا جاتا ہے جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے انھوں نے اس پر اجماع کیا ہے۔ البتہ لفظ ”توفی“ کے معنی میں اختلاف کیا گیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے اس قول میں مذکور ہے۔ ”جس وقت کہا اللہ نے اے عیسیٰ میں لے لوں گا تجھ کو“ اس کے متعلق چند اقوال ہیں۔
پہلا قول...... اس سے مراد ”موت“ ہے اس لیے کہ آیت کا ظاہری معنی یہی معلوم ہوتا ہے، یہ اس کے نزدیک ہے جس نے بقیہ دلائل میں غور نہ کیا ہو، اس لیے کہ قرآن کریم میں یہ لفظ اسی معنی میں کئی جگہ استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”تو کہہ قبض کر لیتا ہے تم کو فرشتہ موت کا جو تم پر مقرر ہے۔“ ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ”اگر تو
دیکھے جس وقت جان قبض کرتے ہیں کافروں کی فرشتے‘‘ ایسے ہی دیگر آیات ہیں ان میں توفی بمعنی موت ہی لیا گیا ہے، تو اس صورت میں آیات میں تقدیم و تاخیر ماننی ہوگی۔
دوسرا قول ”توفی“ کا معنی ”قبض“ کرنا ہے، ابن جریرؒ نے اپنی تفسیر میں سلف صالحین کی ایک جماعت سے یہی معنی نقل کیا ہے اور اسی قول کو پسند کرتے ہوئے اس کو تمام اقوال پر ترجیح دی ہے، اس صورت میں آیت کا معنی یہ بنا ”ضرور ضرور میں آپ کو قبض کر (کھینچ) لوں گا اپنی طرف، اور اسی قبیل سے عرب کا مقولہ ہے ”توفیت مالی من فلان“ کہ میں نے اس سے اپنا مال پورا پورا لے لیا کہ اس کے ذمہ اس مال میں سے کچھ بھی باقی نہ رہا۔
تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد نیند والی وفات ہے اس لیے کہ نیند کا نام بھی وفات رکھا جاتا ہے۔ اور چونکہ ابھی تک آپ کی وفات نہ ہونے پر دلائل بالکل واضح ہو چکے ہیں اس لیے آیت کو نیند والی وفات کے معنی پر محمول کرنا ضروری ہوگیا، تاکہ دلائل کے درمیان اتحاد و یگانگت پیدا ہو سکے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔
اور ”وہی ہے کہ قبضہ میں لے لیتا ہے تم کو رات میں“ ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
”اللہ کھینچ لیتا ہے جانیں جب وقت ہو ان کے مرنے کا، جو نہیں مریں ان کو کھینچ لیتا ہے ان کی نیند میں پھر رکھ چھوڑتا ہے جن پر مرنا ٹھہرا دیا ہے اور بھیج دیتا ہے اوروں کو ایک وعدہ مقرر تک۔“
اور آخری دونوں قول پہلے قول کی بہ نسبت زیادہ راجح ہیں، بہر صورت درست چیز جس پر واضح دلائل آشکارہ اور قائم ہو چکے ہیں وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آسمان پر زندہ اٹھائے گئے ہیں اور وہ مرے نہیں ہیں بلکہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام آسمان پر زندہ موجود ہیں، یہاں تک کہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام آخر زمانہ میں اتریں گے، اور حضور ﷺ سے ثابت شدہ احادیث صحیحہ ہیں جو فریضہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذمہ سونپا گیا ہے اس کو نبھائیں گے، اس کے بعد آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی طبعی موت سے وفات پائیں گے جو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے لکھی ہوئی ہے۔ یہاں سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ”توفی“ کا معنی موت سے کرنا مرجوح اور ضعیف قول ہے۔
اور جس نے یہ گمان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قتل کر دیا گیا ہے اور انھیں سولی پر چڑھا کر مار دیا گیا ہے، تو قرآن مجید کی واضح آیات اس کے قول کی تردید کرتی ہیں، اسی طرح جس نے یہ کہا کہ آپ کو آسمانوں پر نہیں اٹھایا گیا بلکہ وہ ہجرت کر کے کشمیر چلے گئے تھے اور وہیں کافی مدت گزارنے کے بعد اپنی طبعی موت سے وفات پاگئے ہیں اور یہ کہ آپ قیامت کے قریب نازل نہیں ہوں گے بلکہ آپ کا کوئی مثیل آئے گا تو اس کے قول کا بطلان بھی باطل ظاہر ہے اور یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا گیا ہے اور اس کے رسول ﷺ پر ایک جھوٹ کسا گیا ہے۔ اسی طرح جس نے یہ کہا کہ آنے والا میں ہی ہوں اور یہ فریضہ میں سرانجام دوں گا، جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا ہے تو اس کا قول بھی بالکل واضح طور پر باطل ہے اس لیے کہ حضرت مسیح ؑ ابھی نازل نہیں ہوئے اور آپ زمانہ مستقبل میں ضرور نازل ہوں گے۔ جیسا کہ اس حقیقت کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی ہے اور ہماری اس گذشتہ وضاحت سے سائل اور دوسرے احباب کو یہ بات بالکل کھل کر معلوم ہو چکی ہو گی کہ جس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عیسیٰ ؑ قتل کر دیے گئے ہیں، یا آپ سولی پر چڑھا دیے گئے ہیں یا یہ کہ آپ ہجرت کر کے کشمیر چلے گئے ہیں اور وہیں آپ اپنی طبعی موت سے وفات پا گئے ہیں اور آپ آسمانوں پر نہیں
اٹھائے گئے، یا جس نے کہا کہ مسیح تو آ چکے ہیں یا ان کا مثیل آئے گا اور یہ کہ ایسا کوئی مسیح نہیں ہے جو آسمان سے نازل ہو، تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا ہے۔
بلکہ وہ تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والا ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تکذیب کرے تو تحقیق وہ کافر ہو گیا۔
اور ضروری ہے کہ اس قسم کے دعویٰ کرنے والے سے توبہ کرائی جائے، اور اس پر کتاب وسنت سے دلائل واضح کیے جائیں۔ پس اگر وہ توبہ کرلے اور اپنے قول سے رجوع کر کے حق کی طرف آجائے تو بہتر ہے ورنہ اسے کافر گردانتے ہوئے قتل کر دیا جائے گا۔
باقی حیات عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر دلائل بکثرت موجود ہیں، ان میں سے چند ایک تحریر کیے جاتے ہیں۔ سورۃ نساء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ارشاد باری ہے:۔
”اور انھوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے، اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں، کچھ نہیں ان کو اس کی خبر، صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا۔ بیشک، بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔“
اسی طرح حضور ﷺ کی وہ احادیث جو تواتر کے ساتھ آپ سے ثابت ہیں، ان میں سے آپ ﷺ کا فرمان ہے۔
”کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آخر زمانہ میں عادل حاکم بن کر نازل ہوں گے۔ پس آپ مسیح دجال کو قتل کر دیں گے اور صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو مار دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور صرف مذہب اسلام ہی قبول کریں گے۔“
یہ متواتر احادیث ہیں اور ان کے رسول اللہ ﷺ کا صحیح کلام ہونے پر پختہ یقین کیا گیا ہے اور علمائے امت نے ان احادیث کے مفہومات کے قابل یقین ہونے اور ان کے اوپر ایمان لانے پر اجماع کیا ہے۔
پس جس نے یہ بہانہ بناتے ہوئے ان احادیث کا انکار کیا ہے کہ یہ احادیث خبر واحد کا درجہ رکھتی ہیں۔ جو یقین کا فائدہ نہیں دے دیتیں یا ان کی تاویل یہ کرے کہ ان سے مراد یہ ہے کہ لوگ آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شفقت اور نرم دلی والے اخلاق کو مضبوطی سے پکڑ لیں گے، اور ان پر عمل پیرا ہوں گے، اور لوگ شریعت کی روح اور اس کے اصل مقصود کو پالیں گے اور یہ کہے کہ ان کے ظاہری معنی پر اڑے رہنا درست نہیں، تو اس کا یہ قول بالکل باطل اور ائمہ دین کے مذہب کے کلیتہً خلاف ہے بلکہ یہ تو نصوص قطعیہ متواترہ جو اس ضمن میں وارد ہوئی ہیں ان کی کھلی تردید کی جسارت ہے اور صاف بے داغ شریعت کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔
اور اسلام اور نبی معصوم ﷺ کی احادیث کے خلاف ایک گھناؤنی قسم کی سازش ہے۔ یہ تو اپنے وہم اور خواہش نفس کے مطابق اپنی مرضی کا فیصلہ کرنا اور حق و ہدایت کے راستے سے نکلنا ہے اور جس شخص کو علم شریعت میں دسترس حاصل ہو اور اس کے لانے والے نبی ﷺ پر سچا ایمان ہو اور شریعت کی نصوص اور اس کے احکام کی تعظیم کرتا ہو تو وہ اس قسم کے دعوے کرنے کی جرات نہیں کر سکتا اور یہ کہنا کہ وہ احادیث جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق
نازل ہوئی ہیں وہ اخبار احاد کا درجہ رکھتی ہیں، یقین کا فائدہ نہیں دیتیں تو اس قول کا فساد بالکل ظاہر ہے، اس لیے کہ یہ متعدد احادیث ہیں جو صحاح ستہ، سنن اور مسانید میں موجود ہیں جو مختلف سندوں اور واسطوں سے آئی ہیں اور ان کے طرق بھی متعدد ہیں اور تواتر کی تمام شرطیں بھی ان میں موجود ہیں، تو جس آدمی کو شریعت کی تھوڑی سی بھی سمجھ بوجھ ہو وہ کبھی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان احادیث کو چھوڑ دیا جائے اور ان پر اعتماد نہ کیا جائے اور اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ اخبار احاد ہیں تو سب اخبار احاد ایسی نہیں ہوتیں کہ جو یقین کا فائدہ نہ دیتی ہوں بلکہ صحیح قول جس پر محققین اہل علم کا اتفاق ہے۔
وہ یہ ہے کہ اخبار احاد کے نقل کرنے کے راستے اگر متعدد ہوں اور ان کی سندیں بھی درست ہوں اور ان کی معارض احادیث بھی موجود نہ ہوں تو یہ خبریں یقین کا فائدہ دیتی ہیں، اور اس باب میں جو حدیثیں آئی ہیں وہ اسی معیار کے مطابق ہیں، اس لیے کہ یہ ایسی حدیثیں ہیں کہ ان کی صحت یقینی ہے اور ان کے مخارج اور راستے بھی ایک سے زائد ہیں اس باب میں ایسی کوئی حدیث نہیں ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو ثابت کرنے والی احادیث سے متصادم ہو تو یہ تمام احادیث یقین کا فائدہ دیتی ہیں۔ چاہے یہ متواتر ہوں یا خبر واحد، اس تحقیق سے سوال کرنے والے صاحب اور دوسرے لوگوں کے لیے بھی واضح ہو گیا کہ ان احادیث پر خبر واحد ہونے کی وجہ سے جو شبہ کیا جا رہا تھا وہ بالکل باطل ہے اور اس طرح کا دعویٰ کرنے والا حق اور صحیح راستے سے بھٹکا ہوا ہے۔
اور اس سے زیادہ گھناؤنی اور بری حرکت اس آدمی کی ہے جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جھوٹ باندھا اور قرآن و حدیث کی غلط تاویلیں کیں، اس لیے کہ اس نے ایک طرف تو ان دلائل کو جھٹلایا اور تردید کی اور دوسری طرف اس نے نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق وارد حدیثوں کو ماننے سے ہی انکار کر دیا جن میں آپ کے دوبارہ نازل ہونے اور لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے مطابق فیصلے کرنے، اور دجال کو قتل کرنے اور دیگر امور کی خبر دی گئی ہے اور ساتھ ہی اس نے حضور ﷺ کو جو سب سے بڑھ کر نصیحت کرنے والے اور شریعت کو زیادہ جاننے والے ہیں ملمع سازی کرنے اور واقعات کو خلط ملط کرنے کے ساتھ منسوب کیا ہے اور آپ ﷺ کے الفاظ سے جو واضح معانی معلوم ہوتے ہیں اور جن پر یہ الفاظ دلالت کرتے تھے ان کے علاوہ اور معانی مراد لیے ہیں اور یہ انتہائی قسم کا جھوٹ اور بہتان ہے اور ایسی دھوکہ بازی ہے کہ جس سے حضور ﷺ کے بلند مقام کو بچانا ضروری ہے اور یہ قول تو ان ملحدوں کے قول کے بالکل مشابہ ہے جنھوں نے صرف عوام کی مصلحتوں کی خاطر انبیاء علیہم السلام کو پاگل پن اور حقیقت چھپانے والوں کے ساتھ منسوب کیا، ان کا کلام حقیقت کی بالکل عکاسی نہیں کرتا، اہل علم اور ایمان والوں نے ان کی خوب تردید کی ہے ان کے اس مقولہ کو بڑے واضح اور روشن دلائل سے باطل کیا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں دلوں کے حق سے پھرنے سے اور مسائل پر شک میں پڑنے سے اور شیطان کے وسوسوں سے۔
اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو خواہشات اور شیطان کی پیروی کرنے سے محفوظ فرمائے، بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے اور ہمیں امید ہے کہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے سائل کی تشفی ہو گئی ہوگی اور حقیقت کی وضاحت بھی، تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں اللہ تعالیٰ رحمت نازل فرمائے اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ اور آپ کی آل اور تمام صحابہ پر۔
حرمین کے جید عالم دین علوی ابن عباس المالکی الحسنی کا فتویٰ
۲...... حیات مسیح علیہ السلام کا منکر مسلمان نہیں ہو سکتا
سوال...... اس بارے میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ انھیں آسمان پر جسد عنصری سمیت اٹھایا گیا ہے اور وہ قیامت کے قریب آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے، ان کا یہ نزول قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے اور ایسے شخص کا کیا حکم ہے جو قیامت کے قریب ان کے نزول کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ سولی پر چڑھائے گئے تھے مگر اس سے وہ فوت تو نہیں ہوئے ، بلکہ ہجرت کر کے کشمیر چلے گئے جہاں وہ طویل عرصہ زندہ رہ کر اپنی طبعی موت سے فوت ہوئے ، اب وہ قیامت کے قریب نازل نہیں ہوں گے بلکہ ان کا مثیل آئے گا، ان سوالات کا جواب مرحمت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
(المستفتی منظور احمد پرنسپل جامعہ عربیہ چنیوٹ مغربی پاکستان)
جواب....... الحمد لله اعلم بالصواب والصلوۃ والسلام على سيدنا محمد و على الآل والاصحاب والتابعين باحسان الى يوم الحساب۔
اما بعد! جمہور اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ یہ اعتقاد رکھنا شرعاً ضروری اور واجب ہے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ ہیں۔ وہ آخری زمانے میں نازل ہو کر شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا نفاذ کریں گے اور راہ حق میں جہاد کریں گے جیسا کہ یہ بات صادق ومصدوق حضرت محمد ﷺ سے با تواتر ثابت ہے۔
یہ عقیدہ رکھنا اس لیے واجب ہے کہ کتاب وسنت کے دلائل اس بات کی وضاحت کے لیے موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں جو ہر قسم کے شک وشبہات سے بالا ہے فرمایا ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا ہے اور نہ سولی دی ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا ہے (وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ) (نساء ۱۵۷) ”اور اس کو قتل نہیں کیا بیشک، بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف۔“
اور یہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہو کر عدل وانصاف پر مبنی نظام عدالت قائم فرمائیں گے۔ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ کا خاتمہ کر دیں گے اس وقت دولت اس کثرت سے ہوگی کہ اسے لینے والا کوئی نہ ملے گا۔
اس قسم کی دوسری تصریحات بھی احادیث سے ثابت ہیں، جن میں ان کی زندگی، نزول اور نزول کے بعد زمین میں قیام وغیرہ کی تفصیلات مذکور ہیں یہ احادیث درجہ تواتر تک پہنچ چکی ہیں، دوسری طرف کوئی ایسی صحیح حدیث موجود نہیں جس میں آپ کی موت کا ذکر ہو، اور جس میں آخری زمانہ میں نازل ہونے کے خلاف کوئی تصریح موجود ہو، جب قرآن مجید نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھایا گیا ہے، وہ قتل نہیں
ہوئے اور اللہ کے رسول ﷺ نے وضاحت سے فرما دیا کہ وہ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے اور غیر مبہم الفاظ میں نزول کے بعد کے مفصل حالات بیان کر دیے، اب ہر مسلمان پر لازم اور واجب ہے کہ وہ اس بات کو اپنا عقیدہ بنائے، اس میں شک کرنے والا اجماع امت کی رو سے کافر قرار پائے گا، کیونکہ یہ عقیدہ اب بلا اختلاف ضروریات دین میں شمار ہوتا ہے۔ اس بارے میں گمراہ اور جاہل لوگوں کے سارے اعتراضات بے بنیاد ہیں اہل علم کو ان بے بنیاد بے ہودہ باتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے صحیح مذہب پر قائم رہنا چاہیے۔
(ال عمران ۵۵)
یہ کہنا سراسر باطل ہے کہ آیت: انی متوفیک و رافعک الی. ”میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھالوں گا اپنی طرف۔“
کا مفہوم یہ ہے کہ پہلے وہ فوت ہوئے پھر موت کی حالت میں اٹھائے گئے۔ یہ مطلب و مفہوم علماء اہل سنت والجماعت کے خلاف ہے، اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ رفع اور آخری زمانہ میں زمین پر نزول کے بعد تجھے وفات دوں گا یا تیری عمر پوری ہونے پر وفات دوں گا اس صورت میں یہ ایک اطلاع ہوگی جس میں اللہ تعالیٰ نے
(ایضاً)
عیسیٰ ؑ کو بتایا ہے کہ یہودی آپ کو قتل نہیں کریں گے، جیسا کہ آیت: ومطهرک من الذین کفروا. ”اور پاک کردوں گا تجھ کو کافروں سے۔“
کے مفہوم سے ثابت ہوتا ہے، رسول ﷺ خدا کی نازل فرمودہ کلام کے شارح و ترجمان تھے، اللہ کا
(نحل ۴۴)
ارشاد ہے: لتبین للناس مانزل الیهم. ”کہ تو کھول دے لوگوں کے سامنے وہ چیز جو اتری ان کے واسطے۔“
آپ ﷺ نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو تشریح فرمائی ہے۔ اس میں آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے، راہ حق میں جہاد کریں گے، دجال کو قتل کریں گے اور شادی کریں گے ان کے ہاں اولاد بھی پیدا ہوگی وغیرہ۔
اس تفصیل سے ہر ایسے شک وشبہ کا ازالہ ہو جاتا ہے جو ان کی موت کے بارے میں کیا جاتا ہے۔ اس آیت کے اس مفہوم کی صحت کی اس سے بھی تقویت ہوتی ہے کہ آیت میں واؤ کا حرف استعمال ہوا ہے، جو در حقیقت مطلق جمع کے لیے ہوتا ہے نہ کہ ترتیب کے لیے جیسا کہ یہ آیت (واسجدی وارکعی) ”سجدہ کر اور رکوع کر“ میں ہے۔
کیونکہ رکوع سجود سے پہلے ہوتا ہے رہی یہ آیت: ”واذ قال الله یعیسى ابن مریم، انت قلت
(مائدہ ۱۱۶ تا ۱۱۹)
للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله. الى قوله ذلک الفوز العظیم.“ ”اور جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ مریم کے بیٹے تو نے کہا لوگوں کو کہ ٹھہرا لو مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود سوا اللہ کے۔“
اس حصہ کو اللہ کے قول ذلک الفوز العظیم تک پڑھو۔ جس میں عیسیٰ ؑ کا جواب اللہ کے اس قول میں مذکور ہے:
(مائدہ ۱۱۷)
فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شئى شهيد. پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو، تو ہی تھا خبر رکھنے والا ان کی اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔
تو اس میں توفی کا حقیقی معنی میں استعمال ہونے سے کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ عیسیٰ ؑ کو بھی نزول کے
بعد وفات آئے گی، اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کے سوا ہر چیز فنا ہو جائے گی، ہر نفس کو موت کا پیالہ پینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”کل نفس ذائقة الموت.“
(عنکبوت ۵۷)
”ہر جی کو چکھنی ہے موت۔“ درحقیقت یہ آیت قیامت کے اسی منظر کا بیان ہے جس میں عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بات کا اعتراف کریں گے کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے، میں اسی کا بندہ ہوں۔ نہ کہ شریک و سہیم، جیسا کہ عیسیٰ ؑ کے زمانہ کے گمراہ پجاریوں کا خیال تھا، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے وفات پا چکے ہیں، اور آیت ”واذ قال الله یعیسی ابن مریم“ مستقبل کے معنی میں استعمال ہوئی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قول: قال الله هذا یوم ینفع الصادقین صدقہم.
(مائدہ ۱۱۹)
”فرمایا اللہ نے یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ۔“
یہ بھی مستقبل کے لیے ہے نہ کہ ماضی کے لیے اور قرآن مجید کی آنے والی آیت: اتی امر الله۔ ”آ پہنچا حکم اللہ کا۔“
ماضی کے صیغے میں مستقبل کے مفہوم کی بہترین دلیل ہے، جیسا کہ تفسیر کے ائمہ ابن عباس اور امام سیوطی و غیرہما نے اس کی تصریح کی ہے، علاوہ ازیں قرآن مجید اور عربی زبان میں اس کی مثالیں بہ کثرت موجود ہیں، اس میں جیسا کہ فن نحو کے علماء کی تحقیق ہے کسی واقعہ یا بات کی تاکید مقصود ہوتی ہے، الجوہر المکنون کے مؤلف اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وقلبوا النکتة وافردوا
یہ بھی بڑا عجیب دعویٰ ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سولی دی گئی لیکن انھیں موت نہیں آئی، جب وہ بقیہ حیات رہے تو پھر سولی چہ معنی دارد؟
اس پر عربی زبان میں صلب کا لفظ نہیں بولا جاتا بلکہ بے فائدہ تعلیق کہا جاسکتا ہے، قرآن کی نص قطعی کی بناء پر عیسیٰ ؑ کے متعلق سولی دیے جانے کا عقیدہ رکھنا کفر ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وماقتلوہ وما صلبوہ.
(نساء ۱۵۷)
”اور انھوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا۔“ آپ کے ہجرت کر کے کشمیر جانے اور طبعی موت سے وفات پانے کا دعویٰ سرتاپا بے اصل و باطل ہے اس کی تاریخ کے کسی واقعہ سے کوئی تائید نہیں ہوتی، ایسے فاسد خیالات ایک گمراہ کن گروہ قادیانی کے عقائد باطلہ میں پائے جاتے ہیں، درحقیقت قادیانیت اسلام کے خلاف ایک بغاوت ہے، جس کی تائید و حمایت میں استعماری طاقت کا ہاتھ ہے۔
ان شاء اللہ یہ فتنہ جلد ہی اپنی ہلاکت و بربادی کو دیکھ لے گا اور اپنی موت آپ مر جائے گا۔ وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین۔
حررہ علوی ابن عباس مالکی
۳...... الشیخ ابوالیسیر عابدین مفتی اعظم جمہوریہ شام کا فتویٰ
الحمد لله وحده والصلوٰة والسلام على من لانبی بعده.
چونکہ فرقہ قادیانیہ سیدنا محمد ﷺ کو آخری نبی نہیں تسلیم کرتا۔ جس سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد خاتم النبیین کی مخالفت لازم آتی ہے۔ نیز دین اسلام کے بیشتر عقائد کا منکر ہے۔
لہٰذا جو شخص بھی ان کے عقائد اختیار کرے گا میں اس کے کفر کا فتویٰ دیتا ہوں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم مفتی اعظم جمہوریہ شام، دمشق
۴…… امام کعبہ فضیلۃ الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل کا مدلل فتویٰ
الحمد للّٰہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ خیر خلقہ محمد ﷺ.
وبعد فقد اطلعت علیٰ ما کتبہ العلماء الافاضل فی الرد و تکفیر من انکر نزول عیسیٰ بن مریم ولا شک انہ من انکر نزول عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام بعد ما علم ماورد فیہ من الاحادیث فانہ کافر، لانہ مکذب للّٰہ ورسولہ ومن کذب اللّٰہ ورسولہ فقد کفر. وقد اشتہرت ھذہ العقیدۃ التی ھی انکار نزول عیسیٰ علیہ السلام عند القادیانین الفرقۃ الضالۃ التی کفرت بما انزل علیٰ محمد حیث انہ من عقیدتھم انکار نزول عیسیٰ و زعمھم انہ مات ای موت حقیقی (طبعی) ولا شک ان ھذا کفر و ضلال.
وتکذیب لکتاب اللّٰہ، فاللّٰہ عزوجل یقول. وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم. (نساء ۱۵۷) ومن مذھب ھذہ الطائفۃ الذائعۃ ایضاً انکارھم ان محمداً خاتم النبیین وھذا ایضاً کفر، لانہ تکذیب لقولہ عزوجل. ماکان محمداً ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللّٰہ و خاتم النبیین. (احزاب ۴۰) حیث ان فضیلۃ الشیخ منظور احمد چنیوتی الباکستانی طلب منی المشارکۃ فی الکتابۃ فی ھذا الموضوع فقد اجبتہ بما اعتقدہ علیٰ سبیل الارشاد. نسالہ سبحانہ ان یعز الاسلام والمسلمین وان لایزیغ قلوبنا بعد اذ ھدانا.
حمد و ثناء کے بعد! تحقیق جید علماء کرام نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے نزول کے انکار کرنے والے کی تردید اور اس کے کفر کے متعلق جو کچھ لکھا ہے میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مسئلہ کے متعلق جتنی احادیث وارد ہوئی ہیں ان کے ہوتے ہوئے جو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کے نزول کا انکار کرے وہ بالکل پکا کافر ہے اس لیے کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی ہے اور جو خدا اور اس کے رسول کی تکذیب کا مرتکب ہو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ اور نزول عیسیٰ ؑ کے انکار کا عقیدہ قادیانی گمراہ فرقہ کے ہاں بہت مشہور ہو چکا ہے، اس فرقہ نے حضور ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کا انکار کیا ہے، کیونکہ منجملہ ان کے عقائد فاسدہ کے حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے انکار کا عقیدہ بھی ہے اور ان کا یہ بھی گمان ہے کہ عیسیٰ ؑ اپنی طبعی موت سے وفات پا چکے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تو بالکل کھلا کفر اور گمراہی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب کو جھٹلانا ہے اس لیے کہ اللہ عزوجل کا پاک ارشاد ہے:۔ ”اور انھوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا، لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے، اور اس گمراہ فرقے کے مذہب میں حضور ﷺ کی ختم نبوت کا انکار بھی شامل ہے یہ بھی کفر ہے اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد گرامی کی تکذیب ہے۔ محمد باپ نہیں کسی کا تمھارے مردوں میں سے لیکن رسول اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔“ چونکہ پاکستان کے مشہور عالم حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں بھی اس فتویٰ کی تحریر میں شرکت کروں لہٰذا میں نے اپنے عقیدہ کے مطابق خیر خواہی کے لیے جواب دے دیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمائے اور ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو پھر گمراہ نہ کر دے۔ (آمین)
وصلى الله على محمد و آله و صحبه اجمعين والحمد لله رب العالمين. (محمد بن عبدالله اسبيل) (امام الحرم المکی و رئيس المدرسين والمراقبين بالمسجد الحرام ۱۳۸۹/۱۰/۲۲ھ)
مذکورہ بالا فتویٰ کی تصدیق سعودی عرب کے مندرجہ ذیل حضرات نے بھی فرمائی۔
- ۴......محمد ناصر الدین الالبانی
- ۵......عمر محمد فلاتہ مدیر دارالحدیث، مدینہ منورہ
- ۶......محی الدین احمد شیخ التفسیر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ
- ۷......عبدالقادر بن شیبہ الحمد فاضل ازہر یونیورسٹی مصر۔ استاذ اسلامی یونیورسٹی، مدینہ منورہ و استاذ التفسیر واصول الفقہ مسجد نبوی شریف
- ۸......محمد ناظم الندوی استاذ اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ
- ۹......ابوبکر سکیتی مدینہ منورہ
- ۱۰......یوسف محمد سلفی استاذ دارالحدیث، و مسجد نبوی مدینہ منورہ
- ۱۱......محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنی، مدینہ منورہ
- ۱۲......عبدالکریم حوار پروفیسر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ
- ۱۳......عبدالغفور العباسی مہاجر مدنی، مدینہ منورہ
- ۱۴......محمد شریف استاذ اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ و استاذ مسجد نبوی شریف
- ۱۵......جواب درست ہے۔ حبیب اللہ (برائے) حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی
- ۱۶......قضاء کالج دمشق و مجلس علماء دمشق کے رکن
فضيلة الشيخ جناب محمد بدر الدين فلابلينی کا فتویٰ
الحمد لله والصلوة والسلام على سيدنا محمد رسول الله صلى الله عليه وعلى آله و اصحابه اجمعين ومن تبعهم باحسان الى يوم الدين.
وبعد فانى قد اطلعت على فتوى الشيخ عبدالعزيز بن باز، فوجدتها قد قررت الحق الصراح، والذى نومن به و نقرره فعلى المسلمين ان لايغتروا بما يفتريه اتباع الدجال القاديانى الذى حذر النبى ﷺ منه، ومن امثاله الذين يخرجون فى آخر الزمان و يدعون النبوة وهم كذابون دجالون.
وعقيدة المسلم الصحيحه إن سيدنا عيسى عليه و على نبينا افضل الصلوة والسلام لا يزال فى السماء مرفوعا. مكرماً لما ينزل بعد. فهذا الذى اقرره و نومن به والله يهدى الى سواء السبيل.
(خادم العلم الشريف محمد بدر الدين الفلابلينی استاذ قضاء دمشق کالج و رکن مجلس علماء دمشق)
(۸/ شعبان المعظم ۱۳۸۹ھ۔ الموافق ۲۰ تشرین الثانی ۱۹۶۹م)
حمد و ثنا کے بعد! میں نے فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز کے مفصل فتویٰ کا مطالعہ کیا، تو میں نے یہ ایسا فتویٰ پایا جس نے خالص حق کو ثابت کر دیا ہے اور یہ وہی عقیدہ ہے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں اور اسی کا اقرار بھی کرتے ہیں، اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ جس طرح قادیانی دجال کے پیروکاروں نے بہتان باندھنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس طرح کی بہتان بازی نہ کریں، اس طرح کے دجالوں سے بچ کر رہنے کا حکم حضور ﷺ نے فرمایا ہے جو دجال آخری زمانہ میں نکلیں گے اور نبوت کا دعویٰ کریں گے حالانکہ وہ کذاب اور بڑے جھوٹے ہوں گے۔
اور مسلمان کا اس بارے میں صحیح عقیدہ یہی ہونا چاہیے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ اٹھائے گئے ہیں اور عزت کے ساتھ آپ وہیں موجود ہیں۔ ابھی تک آپ دوبارہ نازل نہیں ہوئے پس اسی عقیدہ کا ہم اقرار کرتے ہیں اور اسی پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی سیدھا راستہ دکھانے والے ہیں۔
۱۷...... فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن بن ابی شعیب البرکاتی مراکشی کا فتویٰ
الحمد للہ لقد اطلعت علی ماکتبہ علماء الاسلام من الرد علی الطریقۃ القادیانیۃ وانی لا أید جمیع ماکتبہ العلماء فی رد ھذہ الدعوۃ المناقضۃ للکتاب والسنۃ و کل من کذب بنزول المسیح فی آخر الزمان و انہ سیحکم بشریعہ محمد ﷺ و کذب فی انہ ماقتل و لا صلب ولکن رفعہ اللہ الیہ فھو مرتد عن الاسلام.
(کتبہ عبدالرحمن بن ابی شعیب سامح اللہ)
(۱۲/ ذی القعدہ ۱۳۸۷ھ ، ۱۲ فروری سنہ ۱۹۶۸م)
الحمد للہ کہ قادیانی مذہب کے متعلق جو کچھ علماء اسلام نے لکھا ہے میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے اور میں علماء کرام کی ان تمام عبارات کی تائید کرتا ہوں جو انھوں نے مرزا قادیانی کی قرآن وسنت سے متصادم دعوت کے رد میں لکھی ہیں اور جو شخص حضرت عیسیٰ کے آخری زمانہ میں نزول اور شریعت محمدی کے مطابق آپ کے فیصلے کرنے کا انکار کرے یا قرآن کریم کی اس آیت پر یقین نہ رکھے جس میں فرمایا گیا ہے کہ عیسیٰ ؑ نہ قتل ہوئے ہیں نہ سولی پر چڑھائے گئے بلکہ اللہ نے اپنی طرف انھیں بلا لیا ہے، تو وہ مرتد اور اسلام سے خارج ہو گیا۔
۱۸...... فضیلۃ الشیخ مصطفیٰ کمال التازری رئیس الشؤون الدینیہ تونس کا فتویٰ
انی احمد اللہ علی ھذہ الجہود الموفقۃ التی یقوم بھا نخبۃ من ابناء باکستان لانکار المزاعم الباطلۃ و الاکاذیب التی تقوم بھا و تروجھا الفرقۃ القادیانیۃ بھذہ البلاد و بقیہ بلدان العالم الاسلامی اعانہم اللہ علی الاسلام.
(مصطفیٰ کمال التازری تونس)
پاکستان کے جید علماء نے قادیانی فرقہ کے کفریہ عقائد کی تردید کے لیے جو کامیاب کوششیں کی ہیں میں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں یہ فرقہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں اپنے غلط خیالات اور جھوٹے دعوے پھیلا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان علماء کرام کی اسلام کی حفاظت کے لیے کی جانے والی کوششوں میں مدد فرمائیں۔
۱۹...... فضیلۃ الشیخ یوسف السید ہاشم الرفاعی وزیر دولتہ الکویت کا فتویٰ
الجواب ھو ما قالہ فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز واخوانہ علماء الملۃ المخلصون.
(یوسف السید ہاشم الرفاعی وزیر دولۃ الکویت)
جو فتویٰ فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز اور ان کے رفقاء مخلص علماء نے دیا ہے وہی صحیح ہے۔
۲۰...... فضیلۃ الشیخ حسنین محمد مخلوف مفتی اعظم مصر وممبر مجلس تاسیسی رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کا فتویٰ
فضیلۃ الشیخ حسنین محمد مخلوف ازہر یونیورسٹی سے فراغت کے بعد اپنے ملک کے مناصب جلیلہ پر فائز ہوئے، جلالت شان کی بناء پر رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی مجلس تاسیسی کے رکن منتخب کیے گئے، آپ مکہ مکرمہ کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھے کہ اس دوران مؤلف کتاب ”فتویٰ حیات مسیح“، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ نے موصوف سے مندرجہ ذیل فتویٰ تحریر کرایا۔ جناب مخلوف نے فتویٰ تحریر کرنے سے پہلے خود اپنا مختصر تعارف بھی کرا دیا جو کہ الحمد
لنڈن کی تاریخ کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ ذیل میں موصوف کا تعارف اور فتوٰی کی عبارت نقل کی جاتی ہے۔
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على اشرف الانبياء والمرسلين و على آله و صحبه اجمعين و بعد.
مختصر ترجمة فضيلة الشيخ حسنين محمد مخلوف صاحب الفتاوى الشرعيه والفتوى بكفر القاديانية مولده و حياته العلميه هوالشيخ حسنين محمد حسنين مخلوف الحنفي الازهرى المولود فى يوم السبت ٦ مايو ١٨٨٠م بالقاهرة، و والده شيخ من شيوخ الازهر، فضيلة الشيخ محمد حسنين مخلوف العدوى، المالكى الازهرى، تلقى المترجم علومه بالازهر الشريف، بعد ان حفظ به القرآن الكريم وجوده فى الحادية عشر من عمره، ونال شهادة العالمية الازهريه بتفوق فى ١٩١٤م و عين قاضيا بالمحاكم الشرعية فى عام ١٩١٦م ما زال يرقى حتى عين رئيسا بمحكمة الاسكندريه الشرعيه فى عام ١٩٣١م، ثم رئيسا للتفتيش الشرعى فى عام ١٩٤٢م ثم عين نائبا للمحكمة العليا الشرعية فى عام ١٩٤٤م، ثم مفتيا للديار المصرية فى عام ١٩٤٥م وعين عضوا فى جماعة كبار العلماء عام ١٩٤٧م، وانتهت مدة خدمته ببلوغه الستين سنة فى ٥ مايو سنة ١٩٥٠م ثم اعيد للافتاء بعد سنه و نصف لمدة سنتين ثم.
بانتهائها ترك وظيفة الافتاء، واشتغل بالتدريس والتاليف ولازال كذلك للآن، وكان تعيينه بالافتاء فى المرة الاولى، والثانيه فى عهد الملك فاروق.
رأيه فى طائفة القاديانيه
كتب سماحة الاستاذ الشيخ حسنين مخلوف، مفتى الديار المصرية السابق، و عضو جماعة كبار العلماء بالازهر الشريف و عضو المجلس التاسيسى لرابطه العالم الاسلامى بمكة المكرمه و عضو مجمع البحوث الاسلاميه بالازهر الشريف فى فتاويه.
مانصه!
الطائفة القاديانية من الفرق الزائغة المنشقة عن الاسلام اسسها الميرزا غلام احمد فى القرن التاسع عشر فى الهند، وقد ذكر المترجم لحياته ان مما قاله انه قد اصيب فى شبابه بمرض هستيريا و نوبات عصبية عنيفة، وكان يتداوى من هذا المرض ببعض المشروبات المسكرة وقد زعم فى كتابه براهين احمديه انه مكلف من الله تعالى باصلاح الخلق على نهج المسيح عيسى ابن مريم عليه السلام وان له الهامات و مكاشفات وان من يحضر الى قاديان يرى الآيات السماويه الخوارق.
ودعا الجمعيات الاسلامية بالهند الى المناداة بفضل الانجليز.
وان الجهاد ضدهم حرام و انهم نعمة عظيمة على البشر من الله.
وقال انه نشر خمسين الف كتاب و رساله فى اعلان فضلهم وانهم منة على المسلمين،
وانه يجب طاعتهم بل صرح بانه من خدامهم.
وطلب منهم ان يعاملوا اسرته بالهند بالعطف والرعاية ماداموا من غرس الانجليز الى آخر هذه العبارات الدنيئة، و تدرج فى الدعوى الى ان زعم ان روح المسيح عليه السلام قد حلت
فيه وان ما يتحدث به هو كلام الله كالقرآن الكريم والتوراة. وان دمشق التي ينزل فيها المسيح عيسى عليه السلام فى آخر الزمان هى فى القاديان المكنى عنها بالمسجد الاقصى.
وهى الثالثة بعد مكة والمدينة ويسميها (الربوة) وان الحج اليها فريضة.
وانه مما قد اوحى الله اليه بما يربو على عشرة آلاف آية وان من يكذبه كافر، وقد شهد له القرآن بالنبوة وكذلك الرسول ﷺ وقد صرح بموت المسيح عيسى عليه السلام و دفنه فى كشمير و عين قبره فيها تلك هى عقيدته و عقيدة اتباعه الضالين المنحرفين.
ويقولون ان من لايدخل فى بيعته فهو كافر وكذلك امتنع ظفر الله خان (القاديانى وزير الخارجية من اتباعه عن الصلاة على جثمان محمد على جناح مؤسس باكستان) الكفر والضلال بل زعم انه مقدم على سائر الانبياء وان الله اوحى اليه بقوله.
ياقمر، ياشمس انت منى وانا منك.
انت منى وانا منك ظهورك ظهورى يحمدك الله من عرشه و يمشى اليك الى آخر اكاذيبه الصارخه و ضلالاته الفاحشة وقد فضحه شاعر الهند العظيم العلامة الدكتور محمد اقبال ورد على جواهر لال نهرو رئيس وزراء الهند الذى (كان) يعطف على القاديانية فى بلاده وفى باكستان لغلوهم فى مناهضة الاسلام والنبوة المحمديه و محاربتها.
وكذلك صديقنا العلامه السيد ابو الحسن على الندوى والعلامة السيد ابو الاعلى المودودى والاستاذ الاكبر الشيخ الخضر شيخ الازهر فى ثلاث رسائل صدرناها برسالة هامة فى تاريخ و تعاليم هذا المارق عن الاسلام هو و كل من يتبعه فى مزاعمه و ضلالاته، وقد اطلعنا على كتابه التبليغ ومافيه من كفر و ضلال و كذب على الله والانبياء.
وقد اطلعنا ايضا على مافى كتابه من تزلف ونفاق للانجليز و حكام الهند آن ذاك الى ابعد حد و لقد عرفنا كل المعرفة اخاسيسه و رذائله فى هذا الكتاب، ولما هلك الميرزا غلام احمد القاديانى فى ٢٦ مايو سنه ١٩٠٨م و خلفه صديقه الحميم هم فى الضلال.
(حکیم نور الدین صاحب تصدیق براہین احمدیہ)
فى دعاويه و مفترياته ثم توفى فى ١٣ مارس سنه ١٩١٤م و استخلف قبل موته (بشير الدين محمود) اكبر ابناء موسس الطائفة الضالة، وللقاديانيه فرع اللاهورى يتزعمه الضال محمد على صاحب ترجمة القرآن باللغه الانجليزيه وله مؤلفات كثيرة وهو يلقب غلام احمد بالمسيح الموعود وله الحاد فى ترجمة القرآن وهى ترجمة كاذبة ضالة، نحذر المسلمين منها عامة، فانها تحريف والحاد و كذب و تضليل وقد اعتمد عليها اعداء الاسلام من الطوائف المنشقة عن الاسلام و من المستشرقين و بعض المبشرين الكاذبين الجانين على الاسلام، ومن هذا يعلم كفر الطائفة القاديانية و كفر زعيمها الضال.
رأى القاديانى فى المسيح والفتوى الشرعية الاسلامية بكفر القاديانى.
لقد كتبت جريدة منبر الشرق بمصر ضمن مايأتى.
لقد استغلت الجماعة الاحمدية بالهند رأيا لاحد الشيوخ الازهريين زعم فيه وفاة المسيح عيسى عليه السلام فأذاعت ان علماء الازهر افتوا بالاجماع بموت المسيح عيسى عليه السلام يريدون بذلك تأييد الميرزا غلام احمد القاديانى بانه هوالمسيح المنتظر لان المسيح قد مات و حلت روحه فى غلام احمد ولما هال الامر علماء الاسلام طلبوا بيانا من مبعوث المؤتمر الاسلامى والازهر هناك فبادر بارساله اليهم و ترجموه الى الارديه ونشر فى صحف الهند الاسلامية وهو بالطبع يخالف راى ذلك الشيخ وجماعة المسلمين بالاجماع واحالت الجريدة علينا هذا السوال فكتبنا الجواب عليه.
بما ياتى بالحرف راجع فى فتاوانا ج ١ ص ٩٠ وما بعدها.
ان مما تظاهرت عليه ادلة العقل والنقل واجمعت عليه الرسالات السماوية ان الله تعالى واحد لا شريك له له الكمال والقدرة الشاملة والعلم المحيط والحكمة البالغة والتدبير المحكم لكل شئ خلقا وايجادا و بقاء وافناء ”له ما فى السموات والارض كل له قانتون، بديع السموات والارض.“
واذا قضى امراً فانما يقول له كن فيكون، ابتدع خلقه الاول من غير مادة وهى سنة خلقه الذى ابتدعه، وابتدع النوع الانسانى على غير مثال سبق بخلق آدم من المادة الطينية ثم خلق زوجته منه فكان خلق آدم من غير اب و ام.
اول سطر فى لوح الوجود الانسانى ناطق بكمال قدرة الخالق الاعظم وبدائع صنعه و كان فى السطر الثانى خلق عيسى ابن مريم من غير اب. خلقهما الله تعالى بيد قدرته و اوجدهما بكلمه ولا يتعاظم شئ على قدرته.
وابدع على غير مثال عالم الروح فخلق الارواح و نفخها فى الاجسام وهى من امره تعالى استاثر بايجادها و بعثها و تصريفها ولم يستطع اشد الناس جحودا للالهيات ان ينسب لانسان خلق روح و بعثها فى جسد و ترتب اثر الحياة عليها.
وانما ذلك لله وحده وقد خلق الله لكل جسد روحاً يتصل به عند تكوينه و ينفصل عنه عند موته اذا انقضى اجله المقدر له و تبقى بعد انفصاله طليقه فى عالمها الروحى تسبح حيث يشاء الله حتى يامرها الله يوم البعث والنشور يوم يبعث من فى القبور بالعودة الى جسدها الذى انشاه الله للنشاة الاخرى و مما لا خفاء فيه ان الانبياء احياء فى قبورهم حياة برزخية خاصة اقوى من حياة الشهداء وان ذلك لاينافى وجود ارواحهم فى السماء اذ ان الارواح فى عالمها لاتحدها الابعاد ولا تقيدها القيود، وقد لقى المصطفى ﷺ ارواح الانبياء فى بيت المقدس ليلة الاسراء. وصلى بالانبياء اماما بهم، ولقى موسى عليه السلام فى السماء ليلة المعراج بعد الصعود من بيت المقدس و تقاولا بما جاء فى الحديث الصحيح بشان فريضة الصلاة كما لقى غيره من الانبياء، وثبت ان المصطفى ﷺ يرد السلام ممن يسلم عليه وانه تعرض عليه اعمال امته.
ولا يمكن ان تنتقل اى روح فضلا عن ارواح الانبياء الى جسم آخر تحل فيه و تصرفه
كما يزعم القائلون بتناسخ الارواح وهم اضل الخلق عن الاسلام وغيره من الديانات السماوية وما رقون عن الشرائع،
فقول القادیانی ان روح المسیح عيسى عليه السلام حلت فيه باطل و زور فی القول و كفر صريح.
اما المسیح عيسى عليه السلام فالمجمع عليه عند المسلمين فى شانه ما دل عليه القرآن الكريم، انه لم يقتل ولم يصلب وانه رفع الى السماء بجسمه و روحه دون موت و انه لايزال حيا فى السماء حتى ياذن الله سبحانه و تعالى مما ياذن به أواخر الزمان وان الله كف عنه بنی اسرائیل حین دبروا قتله، ومن عادتهم قتل انبيائهم كما اخبر الله عنهم بذلك، فالقی شبهه على ذلک المنافق الذي دلهم عليه فكان جزاؤه القتل، وجزاء عيسى عليه السلام الاكرام بالرفع الى السماء.
(نساء ۱۵۷)
قال الله تعالى وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم.
(ايضاً)
وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه.
انى متوفیک (ای مستوفیک و قابضك الى بجسمک و روحک) و رافعک الی و
(آل عمران ۵۵)
مطهرک من الذین کفروا)
و رفع عيسى عليه السلام الى السماء كرفع محمد ﷺ الى السماء ليلة المعراج بروحه و جسده يقظة لامناما ولاغرابه فى ذلک فانها معجزات خارقة لاتوزن بموازين العادات ولاتقاس بمقاييسها وهی شان الخالق جل و علا بقدرته الباهرة على ان يحدث فى الجسم البشرى مايعده و يهيئه لهذه الرحلة السماويه.
ويحول ما يحيط به الى مايناسبه فى هذه الحالة كما حول النار المحرقة برداً وسلاماً على ابراهيم عليه السلام، وحول جبريل من الصورة الملكية الى الصورة البشرية فى لمح البصر حتى كان يلقى الرسول ﷺ الوحى فى صورة دحية الكلبى و حين التقى بابراهيم عليه السلام فى بيته ضيفا، مع الملائكة قبيل انزال العذاب بقوم لوط.
وما دام ذلک فى نطاق القدرة الالهية وقد وقع فعلا وجاء به المخبر الصادق، كما جاء بسائر معجزات الانبياء، عليهم السلام و خوارقهم التى لاتحيط بها العقول، فاى غرابة فى ذلک، لاجرم ان استغرابه او استبعاده انما ينشاء عن دخل فى الصدور و شک.
فى الاخبار و تحديد قدرة الله بقدرة البشر العاجزين، والا فمن آمن بقدرة الله على كل ممكن و آمن بالرسالات وان للرسل معجزات و ان المعجزات امور ممكنة فى ذاتها هينة جداً على خالقها خارقة لعادات البشر معجزة لهم وحدهم ايقن بان ذلک کل هین يسير على الخالق جل وعلا.
وغنى عن البيان ان شان عيسى عليه السلام من مبداء خلقه الى طور شبابه الى طور قيامه بالدعوة فى بنى اسرائيل الى طور عداوتهم له الى طور تدبيرهم اغتياله كان شانا عجيباً وكل ذلک كان ابتلاء لبنى اسرائيل و كان اللافتراء والكذب عليه و نسب اليه مالم يقله شان اعجب.
وحسبنا ماحكاه الله عنه و هو فى المهد قال انى عبدالله اتنى الکتب و جعلنى نبيا و
جعلنی مبارکاً این ماکنت (ای قدر لی ذلک فی علمہ) و اوصانی بالصلوۃ والزکوٰۃ مادمت حیاہ وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جباراً شقیاہ والسلم علیّ یوم ولدت و یوم اموت (ای بعد النزول من السماء آخر الزمان والحکم بشریعۃ الاسلام و کسر الصلیب و قتل الخنزیر) و یوم ابعث حیا فی الیوم الاخر) علیہ و علی نبینا افضل الصلوۃ والسلام. ھذا ما کتبناہ اذ ذاک و نشر فی الصحف والکتب تکذیبا للقادیانیۃ الضالۃ المارقۃ الکافرۃ و بیانا لخطاء ذلک الشیخ الازھری الذی ضل السبیل و نشر مانشرہ عن جھل او عناد واللہ ولی الصالحین. کتبہ حسنین محمد مخلوف (سابق مفتی اعظم مصر و ممبر جماعت کبار علماء مکۃ المکرمہ۔ مورخہ ۵ ربیع الاول ۱۳۹۴ھ )
شیخ حسنین محمد مخلوف کا تعارف، آپ کی پیدائش اور تعلیمی زندگی
آپ کا نام حسنین بن محمد حسنین مخلوف ہے آپ حنفی المسلک اور ازھر کے رہنے والے ہیں۔ آپ ۶ مئی ۱۸۹۰ء کو قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محمد حسنین مخلوف ازہر کے شیوخ میں سے تھے اور فقہ مالکی کے پیروکار عدوی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جناب حسنین مخلوف نے ازہر میں گیارہ سال کی عمر میں قرآن مجید با تجوید حفظ کرنے کے بعد تمام علوم وہیں حاصل کیے اور جامعہ ازہر کی شہادۃ العالمیہ ۱۹۱۴م میں اعلیٰ نمبروں کے ساتھ حاصل کی اور ۱۹۱۶م میں شرعی عدالت کے جج مقرر ہوئے۔ پھر آپ کی برابر ترقی ہوتی رہی یہاں تک ۱۹۳۱م میں آپ اسکندریہ کی شرعی عدالت کے چیف جسٹس مقرر ہو گئے۔ پھر ۱۹۳۲ء میں محکمہ سی آئی ڈی شرعی کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اس کے بعد پھر آپ ۱۹۴۲ء میں سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس مقرر ہو گئے۔ پھر ۱۹۴۵ء میں آپ مصر کے مفتی اعظم منتخب ہو گئے۔ پھر ۱۹۴۸م میں مجلس شیوخ کے ممبر مقرر ہوئے اور آپ کی مدت ملازمت ۶۰ سال کی عمر میں ۵ مئی ۱۹۵۰ء کو ختم ہو گئی۔
پھر ڈیڑھ سال بعد دوبارہ دو سال کے لیے دارالافتاء کا محکمہ آپ کے سپرد کر دیا گیا، دو سال گزرنے پر آپ نے افتاء کی ملازمت چھوڑ دی اور درس و تدریس اور کتب کی تالیف میں مشغول ہو گئے، یہ سلسلہ برابر اب تک جاری ہے افتاء کے شعبہ میں آپ کی تقرری دونوں مرتبہ صدر فاروق کے زمانہ میں ہوئی۔
قادیانی گروہ
فضیلۃ الشیخ مخلوف مفتی اعظم جمہوریہ مصر اور جامعہ ازہر کی مجلس شیوخ کے ممبر رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی مجلس تاسیسی کے رکن اور مجلس تحقیقات اسلامی ازہر یونیورسٹی کے ممبر نے اپنے فتویٰ میں قادیانی گروہ کے متعلق فرمایا۔
فتویٰ کی اصل عبارت یہ ہے:۔
”قادیانی فتنہ گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے، جو اسلام سے نکلا ہوا ہے۔ اس کی بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی نے انیسویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں رکھی تھی۔ مرزا قادیانی کے حالات لکھنے والے نے اس کی تاریخ بیان کی ہے، اس تفصیل میں یہ بھی درج ہے کہ مرزا قادیانی جوانی میں ہسٹیریا اور سخت اعصابی دردوں کا شکار ہو گیا تھا اور اس مرض کے علاج کے لیے بعض نشہ آور سیرپ استعمال کرتا تھا اس نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے طریقہ کے مطابق مخلوق کی اصلاح پر مامور ہے اور یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کو بہت سے الہامات اور مکاشفات ہوئے ہیں اور جو آدمی قادیان شہر میں حاضر ہو گا وہ
بہت سی آسمانی نشانیاں اور خارق عادت چیزیں پائے گا۔ بلکہ ہندوستان کی اسلامی تنظیموں کو دعوت دی کہ وہ استعمار کے فضل و کمال کا اعلان کریں۔ اور یہ کہ انگریز کے خلاف جہاد کرنا حرام ہے اور انگریز سرکار انسانیت کے لیے اللہ کی رحمت ہے۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ میں نے انگریز کی تعریف میں پچاس ہزار کتابیں اور رسالے تحریر کیے ہیں اور انگریز مسلمانوں پر احسان بن کر اترے ہیں اور ان کی اطاعت گزاری واجب ہے، بلکہ یہ اقرار کیا کہ وہ انگریزوں کا نوکر ہے۔ اور ان سے درخواست کی کہ ہندوستان میں اس کے خاندان کے ساتھ نرمی اور مہربانی والا معاملہ کیا جائے کیونکہ وہ ان کا خود کاشتہ پودا ہے۔ اسی طرح اور کمینگی کی عبارتیں موجود ہیں، پھر وہ اپنے دعویٰ میں ترقی کرتا گیا یہاں تک کہ اس نے دعویٰ کیا کہ مجھ میں مسیح موعود حضرت عیسیٰ ؑ کی روح حلول کرگئی ہے اور جو وہ گفتگو کرتا ہے وہ اللہ کا کلام ہے جیسا کہ قرآن کریم اور توراۃ ہے۔ اور یہ کہ وہ دمشق جس میں مسیح موعود حضرت عیسیٰ ؑ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے وہ قادیان ہے جسے قادیانیوں کے ہاں مسجد اقصیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور مکہ مدینہ کے بعد اس کا تیسرا مرتبہ ہے اس بستی کا نام ربوہ رکھا اور کہا کہ اس کا حج کرنا فرض کا درجہ رکھتا ہے۔
اور یہ دعویٰ کیا کہ اللہ نے اس کی طرف وحی کی ہے جو دس ہزار آیتوں سے بھی بڑھ جاتی ہے اور یہ کہ جو کوئی اس کی تکذیب کرے وہ کافر ہے اور قرآن نے اس کی نبوت کی گواہی دی ہے ایسے ہی حضور ﷺ نے بھی تصدیق کی ہے، اور حضرت مسیح عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی موت اور کشمیر میں آپ کے دفن ہونے کا بڑے زور دار الفاظ میں اظہار کیا ہے اور کشمیر میں آپ کی قبر کی نشاندہی بھی کر دی ہے۔ یہ ہے مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے گمراہ مرتدین پیروکاروں کا عقیدہ۔
اور کہتے ہیں جو مرزا قادیانی کی بیعت میں شامل نہیں ہوا وہ کافر ہے۔ ایسے ہی پاکستان کے قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے جو کہ مرزا قادیانی کا پیروکار تھا اس نے بانی پاکستان مسٹر محمد علی جناح کی میت پر جنازہ نہیں پڑھا تھا اس لیے کہ وہ قادیانی فرقہ کی تکفیر کرتا تھا، مرزا قادیانی نے انہی کفریہ اور گمراہ کن نظریات پر اکتفاء نہیں کیا۔ بلکہ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ تمام انبیاء پر فضیلت رکھتا ہے اور یہ کہ اللہ نے اس کو اپنے ان الفاظ میں وحی کی ہے۔
”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔ اللہ تیری تعریف عرش سے کرتے ہیں اور تیری طرف چل کر آتے ہیں۔ اسی طرح اس کے کھلے جھوٹ اور غلیظ ترین گمراہ توہمات ہیں اور شاعر مشرق فلاسفر علامہ محمد اقبالؒ نے مرزا کو خوب رسوا کیا اور ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی بھی خوب تردید کی ہے جو کہ قادیانی گروہ کے ساتھ اپنے ملک اور پاکستان میں بڑی دلچسپی لیتا تھا اس وجہ سے کہ یہ لوگ اسلام اور حضور ﷺ کی نبوت کے ساتھ ٹکر لیتے تھے اور ان کے مقابلے پر اترے ہوئے تھے۔“
اسی طرح ہمارے دوست علامہ سید ابوالحسن علی ندوی اور فاضل دوست جناب ابو الاعلیٰ مودودی اور امام
اکبر شیخ الخضر شیخ الازہر نے تین رسالے اس بارے میں تحریر فرمائے ہیں جو ہم نے دائرہ اسلام سے خارج مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی توہمات اور گمراہیوں کی پیروی کرنے والے گروہ کی تاریخ اور تعلیمات پر مبنی کتاب میں درج کر دیے ہیں۔ میں نے مرزا قادیانی کی کتاب ”تبلیغ“ جو کفر و ضلال اور اس کے رسولوں کی تکذیب سے بھری ہوئی ہے کا مطالعہ کیا۔
اور انگریز اور اس زمانہ کے ہندوستان کے حکمرانوں کا قرب حاصل کرنے کے لیے جو حیلے اور نفاق کے انتہائی خطرناک راستے اختیار کیے گئے۔ ان کا بھی مطالعہ کیا، اس کتاب میں مرزا قادیانی کی کمینگی اور رذیل خصلتیں خوب کھل کر سامنے آ گئیں، پھر جب آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مر گیا تو گمراہی میں شریک اس کا دوست کتاب تصدیق براہین احمد کا مصنف حکیم نور الدین، مرزا قادیانی کے دعویٰ اور بہتان تراشیوں میں اس کا خلیفہ بن گیا۔
پھر وہ ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء میں مر گیا موت سے پہلے اس نے قادیانیت کے شجرہ خبیثہ کی بنیاد رکھنے والے مرزا قادیانی کے پہلے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کو خلیفہ چنا۔ قادیانی فرقے کی ایک شاخ لاہوری کہلاتی ہے اس کا خود ساختہ سربراہ محمد علی ہوا جس نے قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اور اس کی متعدد تصانیف بھی ہیں۔ یہ مرزا غلام احمد کو صرف مسیح موعود کا لقب دیتا ہے۔ اس نے قرآن کے ترجمہ میں بہت سی ملحدانہ رائیں قائم کی ہیں بلکہ یہ غلط اور گمراہ کن ترجمہ ہے۔ ہم تمام مسلمانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ تو تحریف، کذب بیانی اور گمراہی کا مجموعہ ہے اور دین سے منحرف اسلام دشمن لوگوں نے ایسے ہی مستشرقین اور مذہب پر حملہ آور ہونے والے جھوٹے عیسائی مبشرین نے اس پر بھر پور اعتماد کیا ہے، ان مشترکہ خلاف اسلام کوششوں سے قادیانی گروہ اور اس کے گمراہ سردار کا کفر بالکل آشکارہ ہو گیا۔
مرزا قادیانی کی حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق رائے اور اس کے کفر کے متعلق صحیح اسلامی فتویٰ۔
مصر کے اخبار منبر الشرق نے کئی سال قبل ایک خبر شائع کی جس کا متن یہ ہے:-
احمدی جماعت جامعہ ازہر کے ایک شیخ کی رائے لینے میں کامیاب ہو گئی جس نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کا دعویٰ کیا، پھر یہ مشہور کر دیا کہ علماء ازہر نے حضرت عیسیٰ ؑ کی موت کا متفقہ فتویٰ دے دیا ہے، مقصد اس فتویٰ کے حصول سے مرزا قادیانی کے مسیح منتظر ہونے کے دعویٰ کی تائید کرنا تھا۔ اس لیے کہ ان کا دعویٰ ہے کہ مسیح ؑ فوت ہو گئے ہیں اور ان کی روح مرزا قادیانی میں حلول کر گئی ہے جب اس معاملہ نے علماء اسلام کو اضطراب میں ڈالا تو انھوں نے مؤتمر عالم اسلامی اور وہاں کے ازہر کے مندوب سے وضاحتی بیان طلب کیا انھوں نے جلد ہی اس کا جواب بھیج دیا چنانچہ علماء نے اس کا اردو ترجمہ کرا کے ہندوستان کے اسلامی رسالوں میں چھپوا دیا، یہ بیان بھی اس شیخ کی رائے اور امت کے اجماعی عقیدہ سے مختلف تھا اس لیے اخبار نے یہ سوال ہم سے کر دیا تو ہم نے اس کا جواب اس طرح لکھا۔
جو حرف بحرف نقل کیا جاتا ہے۔ ہمارے فتاویٰ کی جلد نمبر ۱ صفحہ نمبر ۹۰ اور بعد کے صفحات کا مطالعہ کیجئے۔
دلائل عقلی اور نقلی اس پر متفق ہیں اور کتب سماویہ کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہیں اور ان کا کوئی شریک نہیں ہے سارا کمال اور قدرت کاملہ بھی انھیں ہی حاصل ہے اور ہر چیز پر علم محیط اور اس کی تخلیق کی حکمت بالغہ اسے پیدا کرنے، نئے سرے سے ایجاد کرنے اسے اپنی مقررہ مدت تک باقی رکھنے اور وقت ختم ہونے پر اس کو فنا
کرنے کی ٹھوس تدبیر کے مالک ہیں۔ ”اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں سب اسی کے تابعدار ہیں ۔“ ”نیا پیدا کرنے والا ہے آسمان اور زمین کا اور جب حکم کرتا ہے کسی کام کو تو یہی فرماتا ہے اس کو ہو جا بس وہ ہو جاتا ہے ۔“ اللہ نے پہلی مرتبہ مخلوق کو بغیر مادہ کے پیدا فرمایا اور یہی اللہ کی پہلی مخلوق ہے جسے اس نے ایجاد کیا، اور بنی نوع انسان کو ایسی صورت میں پیدا کیا کہ جس کی پہلے کوئی مثال نہیں تھی اور یہ عجوبہ آدم ؑ کو مٹی کے اجزاء سے پیدا کرنے سے ہوا تو آدم ؑ کی تخلیق بغیر ماں باپ کے ہوئی پھر ان کی زوجہ حوا کو ان سے پیدا کیا۔
انسانی وجود کی لوح میں پہلی سطر یہ درج ہے کہ انسان کو خالق اعظم کی کمال قدرت اور عجائبات تخلیق سے گویائی ملی، اور دوسری سطر میں درج ہے کہ عیسیٰ بیٹے مریم کو بغیر باپ کے پیدا کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کو اپنی کمال قدرت سے پیدا فرمایا اور کلمہ کن سے انھیں کر دکھایا۔ اس لیے کہ اللہ خالق کی دسترس سے تو کوئی چیز باہر نہیں۔
اور عالم ارواح کو اچھوتے انداز میں وجود بخشا اور روحوں کو پیدا فرمایا اور انھیں جسموں میں پھونک دیا و روح تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے اس کو ایجاد کرنے، پھر دوبارہ اسے وجود دینے اور اس میں انقلاب پیدا کرنے اور جاری رکھنے کا سارا اختیار اللہ نے اپنے لیے خاص فرما رکھا ہے، خدا کی ذات اور صفات کا سخت ترین منکر بھی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ روح کے پیدا کرنے اور اس کے جسموں میں پھیلانے اور پھر اس پر زندگی کے آثار مرتب کرنے کا اختیار کسی انسان کے لیے ثابت کر سکے۔
بلکہ اس کا تو سارا کا سارا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہی حاصل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر جسم کے لیے ایک روح پیدا فرمائی ہے جو جسم کے ساتھ اس کی پیدائش کے وقت سے لگ جاتی ہے اور پھر جب اس کی مقرر شدہ زندگی ختم ہو جاتی ہے تو موت کے وقت وہ اس سے جدا ہو کر عالم ارواح میں آزاد ہو جاتی ہے اور اللہ کی مرضی کے مطابق جہاں چاہے وہ گھومتی رہتی ہے یہاں تک کہ حساب و کتاب کا دن آ جائے گا جبکہ تمام مرے ہوئے انسان اپنی قبروں سے اٹھا لیے جائیں گے تو جن جسموں کو اللہ نے دوبارہ زندہ کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے روح کو ان کی طرف لوٹ جانے کا حکم ہو جائے گا اور اس حقیقت میں تو شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ انبیاء علیہم السلام کو اپنی قبروں میں خاص قسم کی برزخی زندگی حاصل ہے جو کہ شہداء کی برزخی زندگی سے بھی زیادہ طاقت والی ہے اور یہ اعتقاد رکھنا روحوں کے آسمانوں میں موجود ہونے کے بالکل منافی نہیں ہے اس لیے کہ عالم ارواح میں روحوں کو نہ تو کسی دوری سے محدود کیا جا سکتا ہے نہ ہی کوئی قید انھیں کسی جگہ بند کر سکتی ہے یہ امر تو بالکل مسلم ہے کہ حضور ﷺ نے اسراء کی رات بیت المقدس میں انبیاء کی روحوں سے ملاقات کی ہے۔
اور آپ ﷺ نے سارے انبیاء کا امام بن کر بیت المقدس میں نماز پڑھائی پھر شب معراج میں ہی جب بیت المقدس سے آسمانوں کی طرف تشریف لے گئے تو موسیٰ ؑ سے وہاں آپ ﷺ کی ملاقات ہوئی اور نماز کی فرضیت کے متعلق گفتگو بھی ہوئی جس کا ذکر صحیح روایت میں موجود ہے۔ ایسے ہی اور انبیاء علیہم السلام سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور روایات حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ جو شخص حضور ﷺ پر سلام بھیجتا ہے تو آپ ﷺ اسے جواب دیتے ہیں اور امت کے اعمال آپ ﷺ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
باقی انبیاء علیہم السلام کی روحیں تو کجا کوئی روح بھی ایک جسم سے منتقل ہو کر دوسرے کے جسم میں نہیں آتی کہ اس میں حلول کر جائے اور اس میں اپنا تصرف کرنے لگے جیسا کہ روحوں کے تناسخ کے قائل لوگوں کا نظریہ
ہے ۔ یہ لوگ اسلام بلکہ تمام مذاہب سماویہ سے ہٹ کر بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے ہیں ۔ اسلام چھوڑ ، تمام مذاہب سے خارج ہو چکے ہیں ۔
تو مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ مسیح موعود حضرت عیسیٰ ؑ کی روح اس میں حلول کر گئی ہے بالکل باطل کذب بیانی اور واضح کفر ہے۔
باقی مسیح موعود حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق مسلمانوں کے ہاں تو بالکل اجماع ہے اور قرآن کریم کی آیات اس پر شاہد ہیں کہ آپ کو نہ تو قتل کیا گیا نہ ہی سولی پر چڑھایا گیا بلکہ انھیں اپنے جسم اور روح دونوں کے ساتھ موت سے پہلے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا ہے اور آپ زندہ ہیں زندہ رہیں گے یہاں تک کہ آخر زمانہ میں ان کے لیے اللہ نے جو دن مقدر فرمایا ہے وہ ہو جائے گا اور اللہ نے بنی اسرائیل کے شر کو آپ سے روکے رکھا جبکہ وہ آپ کے قتل کا پروگرام بنا چکے تھے اور بنی اسرائیل کی تو یہ پرانی عادت تھی کہ وہ انبیاء کو قتل کر دیتے تھے اللہ نے ان کی اس عادت قبیحہ کے متعلق خبر بھی دی ہے، تو جس منافق نے حضرت عیسیٰ ؑ کی مخبری کی تھی اللہ نے آپ کی شبیہ اس پر ڈال دی تھی اس کی سزا قتل تھی وہ تو سولی چڑھ گیا اور حضرت عیسیٰ ؑ کا پورا پورا احترام و اکرام کیا گیا اس طرح کہ آپ کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔ ”اور انھوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے ۔“
”اس کو قتل نہیں کیا بیشک، بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف۔“
”میں لے لوں گا تجھ کو (یعنی پورا پورا لے لوں گا اور اپنی طرف لوں گا آپ کو جسم اور روح دونوں کے ساتھ اور اٹھا لوں گا اپنی طرف اور پاک کر دوں گا تجھ کو کافروں سے۔“
اور عیسیٰ ؑ کا آسمان پر اٹھایا جانا ایسے ہی ممکن ہے جیسا کہ حضرت محمد ﷺ کو معراج کی رات جسم اور روح دونوں کے ساتھ حالت بیداری میں آسمان پر بلایا گیا تھا نہ کہ نیند میں اور یہ کوئی انہونی چیز نہیں ہے کیونکہ معجزات خارق عادت چیز ہوتے ہیں ان کا موازنہ نہ تو مادی پیمانوں سے کیا جا سکتا ہے نہ ہی مادی قوانین سے انھیں پرکھا جا سکتا ہے یہ تو کارساز جہاں کی اپنی کمال قدرت ہے کہ جسم میں آسمانی سفر کی صلاحیت پیدا کر دے۔
پھر اللہ تعالیٰ اس کے اردگرد کے ماحول کو اس ضرورت کے موافق بھی بنا دیتے ہیں جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے جلا دینے والی آگ کو ٹھنڈک اور آرام دہ چیز بنا دیا تھا اور جیسے ایک ہی لمحہ میں جبریل ؑ کے ملکی چہرے پر بشری لباس پہنا دیا کرتے ہیں چنانچہ حضور ﷺ کے پاس پیغام وحی لانے کے لیے آپ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں تشریف لاتے تھے، ایسے ہی جبریل امین قوم لوط پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لانے سے تھوڑی دیر پہلے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس اپنے ساتھیوں کے ہمراہ انسانی شکل میں مہمان بن کر آئے تھے۔
اور جب یہ سارے امور قدرت الٰہی کے دائرہ اختیار میں ہیں اور عملی طور پر یہ چیزیں واقع بھی ہو چکی ہیں اور ان کی خبر صادق و امین رسول نے دی ہے جیسا کہ دیگر انبیاء علیہم السلام سے ایسے معجزات رونما ہوئے ہیں جن کا عقل انسانی احاطہ نہیں کر سکتی تو پھر ان کے ماننے میں کون سی مشکل چیز مانع ہے۔ حقیقت بات یہ ہے کہ ان معجزات کو مشکل تصور کرنا یا ان کا بعید از عقل ہونا صرف اس وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو دل میں کچھ کجی ہوتی ہے۔
یا حضور ﷺ کی دی ہوئی خبروں میں شک کرنے سے اور اللہ کی طاقت کو عاجز انسانوں کی طاقت پر
قیاس کرنے سے ہوتا ہے، ورنہ جو شخص ہر ممکن چیز پر اللہ کی قدرت کا قائل ہو اور سلسلہ نبوت پر یقین رکھتا ہو اور انبیاء سے معجزات کے صادر ہونے اور فی الحقیقت ان کا ممکن ہونا تسلیم کرتا ہو تو وہ مان جائے گا کہ یہ چیزیں اللہ کے سامنے بالکل آسان ہیں اگر یہ خارق عادت ہیں تو صرف انسانی ذہن کے لیے ہیں اور یہ بھی مان جائے گا کہ یہ سب کام پروردگار عالم کے آگے نہایت معمولی ہیں۔
اور اس کا تو قصہ ہی نہ چھیڑیئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی عجیب و غریب پیدائش پھر آپ کا جوان ہونا پھر بنی اسرائیل میں پیغام رسالت لے کر پہنچنا پھر ان کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت پر اتر آنا یہیں پر بس نہیں بلکہ خفیہ طریقہ سے آپ کے قتل کرنے کا ناپاک منصوبہ بنانا (مگر خدا کا آپ کو ان تمام تدبیروں کے باوجود محفوظ رکھنا) واقعی عجیب امر ہے یہ تو بنی اسرائیل کا امتحان لینا تھا، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انہونی بات کہہ دینا اور جھوٹ کا ان کی طرف منسوب کرنا اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔
کیا آپ کی شان عجیب کے لیے وہ کافی نہیں ہے جو خود اللہ نے آپ کی زبانی نقل فرمایا ہے، ”وہ بولا میں بندہ ہوں اللہ کا مجھ کو اس نے کتاب دی ہے اور مجھ کو اس نے نبی کیا، اور بنایا مجھ کو برکت والا جس جگہ میں ہوں (یعنی یہ ہونے والی چیزیں اللہ نے اپنے علم میں میرے لیے مقدر کر دی تھیں) اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکوٰۃ کی جب تک میں رہوں زندہ، اور سلوک کرنے والا اپنی ماں سے اور نہیں بنایا مجھ کو زبردست بدبخت، اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں (یعنی آخر زمانہ میں آسمان سے نازل ہونے کے بعد اور شریعت اسلام کے مطابق فیصلہ کرنے صلیب توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے کے بعد) اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر (قیامت کے دن)“ اللہ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں۔ حضرت عیسیٰ اور ہمارے نبی علیہما الصلوٰۃ والسلام پر۔
یہ وہ ساری تفصیل ہے جو ہم نے اس وقت سلسلہ گمراہ مرتد کافر گروہ قادیانی کی تکذیب اور ازہری شیخ کی غلطی کی وضاحت کرنے کے لیے لکھا تھا جو اخباروں اور کتابوں میں شائع بھی ہوا تھا۔ اس گمراہ ازہری شیخ نے جو کچھ اپنی جہالت یا عناد کی وجہ سے لکھا سو لکھا لیکن ہم نے تو حقیقت حال بالکل واضح کر کے لکھ دی ہے۔
۲۱...... جواب درست ہے۔ اسرار بن عبدالمولیٰ تاشقندی
۲۲...... حضرت مولانا مفتی دین محمد خان ڈھاکہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کا فتویٰ
الجواب صحیح بلا ارتیاب! قال النبی ﷺ ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامہ.
(در منثور ص ۳۶ ج ۲)
واعلم ان اصحاب عیسیٰ علیہ السلام ہم تفرقوا ثلاث فرق، فقالت فرقۃ کان اللّٰہ تعالٰی فینا فصعد الی السماء وقالت فرقۃ اخریٰ کان فینا ابن اللّٰہ عز وجل ثم رفعہ اللّٰہ سبحانہ الیہ. وقالت فرقۃ اخریٰ منہم کان فینا عبداللّٰہ. ورسولہ ماشاء ثم رفعہ الیہ وھؤلاء ہم المسلمون فتظاہرت الکافرتان فرقتان علی المسلمۃ فقتلوہم فلم یزل الاسلام طامسا حتی ان بعث اللّٰہ محمداً ﷺ.
فالمسلمون یعتقدون ان عیسیٰ علیہ السلام مرفوع حیا الی السماء ثم راجع الینا قبل یوم القیامۃ ہذہ عقیدۃ اسلامیۃ اعتقد بہا المسلمون من اول الاسلام الی ان تقوم القیامۃ کما فی قولہ تعالٰی. ”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ (ال عمران ۵۵) ای رافعک الیّ و متوفیک کما
خرج ابن ابی حاتم عن قتادۃ
(روح المعانی)
وما ماجاء فی سورۃ النساء "وما قتلوہ وما صلبوہ الی آخر الایۃ."
(نساء۱۵۶)
الضمیر لعیسیٰ علیہ السلام کما ھو الظاھر.
ای ماقتلوہ قتلاً یقیناً بل رفعہ سبحانہ الیہ یقیناً ھذا ھو رد و انکار لقتلہ و اثبات لرفعہ علیہ السلام. ھذا ما ظہر لی. واللہ تعالیٰ اعلم
(مفتی دین محمد خان ڈھاکہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش))
جواب بلاشبہ درست ہے! حضورﷺ کا ارشاد ہے۔ ”تحقیق عیسیٰ ؑ فوت نہیں ہوئے اور بے شک قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔“
جان لیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق تین گروہ بن گئے ہیں۔ پہلا گروہ تو یہ کہتا ہے کہ :۔ خدا ہم میں رہتا تھا، پھر وہ آسمان کی طرف چڑھ گیا۔ دوسرے فرقہ نے کہا کہ :۔ ہم میں اللہ رب العزت کا بیٹا رہتا تھا، پھر اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔
تیسرے گروہ نے کہا کہ ہم میں تو اللہ کا بندہ اور رسول رہتا تھا۔
جتنا اللہ کو منظور تھا رہا، پھر اللہ نے اپنی طرف اوپر اٹھا لیا، یہی مسلمان فرقہ ہے پھر پہلے دونوں کافر گروہوں نے مسلمان فرقہ پر چڑھائی کر دی اور انھیں قتل کر دیا سو اسلام محو رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو مبعوث فرمایا۔
تو مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئے ہیں اور پھر ہماری طرف قیامت سے پہلے لوٹ کر آئیں گے ۔ یہی اسلامی عقیدہ ہے جس پر مسلمانوں نے اوّل دن سے آج تک ایمان قائم رکھا ہوا ہے اور قیامت قائم ہونے تک یہی عقیدہ رہے گا جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے۔
”اے عیسیٰ میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھا لوں گا اپنی طرف۔“ آیت میں تقدیم تاخیر ہے یعنی رافعک الیٰ و متوفیک کہ تجھ کو اٹھا لوں گا اور لے لوں گا، جیسا کہ ابن ابی حاتم نے قتادہ سے نقل کیا ہے۔
(بحوالہ روح المعانی)
باقی سورۃ نساء میں جو آیا ہے : ”اور انھوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا۔“
تو اس آیت میں ضمیر حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف لوٹتی ہے جیسا کہ آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے۔
معنی یہ ہے کہ انھوں نے بالکل قتل نہیں کیا بلکہ اللہ سبحانہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا ہے، تو یہ آیت جہاں حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل ہو جانے کے قول کی تردید کرتی ہے وہاں ان کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کو بھی ثابت کرتی ہے یہی کچھ مجھے اس بارے میں علم ہے۔
۲۳...... الجواب صحیح! جواب درست ہے۔ ولا شک ان نزول عیسیٰ بن مریم حق کائن و ثابت بالکتاب والسنۃ المتواترۃ واجماع الامۃ.
(بحمداللہ تعالیٰ۔ محمود احمد ظفر سیالکوٹی کان اللہ لہ)
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا نزول بالکل حق ہے اور قرآن مجید احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔
۲۴...... سیکرٹری اسلامک سنٹر چٹاگانگ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش)
ماکتبہ العلماء من اولہ کلہ حق، لاشک فیہ کما ثبت بالاحادیث الصحیحۃ فما ذا بعد
الحق الا الضلال.
(عبده محمد اسماعیل عفا اللہ عنہ)
(مہتمم مدرسہ مظاہر العلوم چرپنگائی چاٹگام ۲۷/ شوال المکرم ۱۳۸۵ھ)
اول سے علماء نے جو اس سلسلہ میں لکھا ہے وہ بالکل حق ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور حق کے ورے تو گمراہی ہی ہے۔
۲۵...... مفتی اعظم مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) مولانا فیض اللہ
مہتمم مدرسہ معین الاسلام آٹھ ہزاری چاٹگام کا فتویٰ
اقول بتوفیق اللہ تعالیٰ و تائیدہ ان المیرزا غلام احمد القادیانی و معتقدیہ کافرون مرتدون خارجون عن الاسلام یقیناً وہم منکرون لکثیر من ضروریات الدین کمسئلۃ ختم النبوۃ و حیاۃ عیسی بن مریم علیہما السلام و رفعہ الی السماء و نزولہ فی آخر الزمان و ظاہر ان منکر ضروریات الدین ولو کان بتاویل، کافر مرتد یقیناً فان ضروریات الدین لاتقبل التاویل کما ھو مجمع علیہ عند جمیع اھل الحق وایضاً قد صدرت منہ اھانۃ عیسی بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام المفضیۃ الی الکفر، واکبر منہ انہ ادعی النبوۃ بل ادعی التفوق علی سائر الانبیاء الکرام. حتی علی نبینا علیہ الصلوۃ والسلام کما لا يخفى علی من طالع کتبہ واللہ اعلم فقط.
(کتبہ فیض اللہ عفا اللہ عنہ)
(مفتی اعظم مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) ۲۵ شوال المکرم ۱۳۸۵ھ)
تحقیق مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے سب کافر مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ لوگ بہت سی ضروریات دین کے منکر ہیں جیسا کہ عقیدہ ختم نبوت حیاۃ عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اور آسمان کی طرف آپ کے رفع اور پھر آخر زمانہ میں آپ کے نزول کا مسئلہ ہے اور یہ تو بالکل ظاہر بات ہے کہ ضروریات دین کا منکر پکا کافر اور مرتد ہوتا ہے۔ چاہے اس کا انکار کسی تاویل کی وجہ سے ہی ہو، اس لیے کہ ضروریات دین میں تاویل قبول نہیں کی جاسکتی، جیسا کہ اہل حق کا اس پر اجماع ہے۔ اور مرزا قادیانی سے تو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی توہین بھی صادر ہوتی ہے جو کہ انسان کو کفر تک پہنچانے والی ہے اور اس سے بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام۔
حتی کہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ سے بھی بلند مرتبہ ہونے کا دعویٰ کیا اور جس نے مرزا قادیانی کی کتب کا مطالعہ کیا اس پر یہ امر بالکل مخفی نہیں ہے۔
۲۶...... مولانا محمد حامد نائب مہتمم مدرسہ معین الاسلام چاٹگام کا فتویٰ
قد تبین الرشد من الغی من ھذہ التصدیقات کالشمس فی کبد السماء فمن شک او تردد فقد ضل وغوی و اتباع ھوا.
(فقط محمد حامد غفرلہ)
(نائب مہتمم مدرسہ معین الاسلام آٹھ ہزاری چاٹگام ۲۶ شوال المکرم ۱۳۸۵ھ)
ان تصدیقات سے حق گمراہی سے بالکل کھل کر علیحدہ ہو چکا ہے جیسا کہ آسمان کے سینے پر سورج روشن ہوتا ہے پس جس نے شک یا تردد کیا وہ گمراہ ہو گیا اور راستے سے بھٹک گیا، اور اس نے اپنی خواہشات کی تابعداری کی۔
- ۲۷....... میں اس فتویٰ کی تصدیق کرتا ہوں۔
احقر الانام تاج الاسلام مہتمم جامعہ اسلامیہ برہمن باڑیہ بنگلہ دیش ۲۹ شوال ۱۳۸۵ھ
۲۸....... مولانا محمد الطاف الرحمٰن چاٹگام کا فتویٰ
الحمد لله والصلوة والسلام على نبيه الذى لا نبى بعده، اما بعد، فالاجوبه كلها صحيحة والفرقة القاديانية فرقة باطلة خارجة عن اهل السنة والجماعة و عن دائرة الاسلام.
(حررہ احقر الناس محمد الطاف الرحمٰن عفی عنہ)
حمد و ثناء کے بعد! تمام جوابات درست ہیں اور قادیانی فرقہ باطل فرقہ ہے یہ اہل سنت والجماعت اور دائرہ اسلام سے بھی خارج ہے۔
- ۲۹....... الجواب حق والحق احق ان يتبع وما ذا بعد الحق الا الضلال.
جواب بالکل درست اور حق ہے اور حق بات اس کے زیادہ لائق ہے کہ اس کی تابعداری کی جائے اور حق کے بعد تو پھر گمراہی ہی ہے۔ محمد عبدالعزیز دارالافتاء جامعہ قرآنیہ لال باغ، ڈھاکہ
- ۳۰....... جواب صحیح ہے۔
شمس الحق عفا اللہ عنہ جامعہ قرآنیہ عربیہ لال باغ ڈھاکہ
- ۳۱....... جواب درست ہے۔
احقر محمد ریاست علی غفر لہ مدرس رانا پنگ مدرسہ ضلع سلہٹ بنگلہ دیش
- ۳۲....... جواب صحیح ہے۔
محمد عبدالحکیم سلہٹی مدرس جامعہ قرآنیہ لال باغ، ڈھاکہ
- ۳۳....... جواب حق ہے۔
احقر محمد ادریس مدرس مدرسہ ڈھاکہ دکھن
- ۳۴....... جواب صحیح ہے۔
مہتمم مدرسہ امداد العلوم فرید آباد ڈھاکہ
۳۵....... مولانا محی الدین مفتی مدرسہ اشرف العلوم ڈھاکہ کا فتویٰ
اقول وبالله التوفيق. من انكر حياة عيسى عليه السلام و رفعه الى السماء ثم نزوله قرب قيام الساعة او ادعى انه افضل من عيسى عليه الصلوة والسلام او انكر ختم النبوة، و ادعى انه نبى بعد نبينا محمد ﷺ مستقلا كان او ظليا او بروزيا و انكر ما كان من ضروريات الدين فهو كافر و مرتد خارج عن الاسلام بنص الكتاب و تواتر السنه و اجماع الامة. والميرزا غلام احمد القاديانى متصف بتلك الاوصاف فهو كافر و مرتد و خارج عن دين الاسلام والمترددون فى كفره و متبعوه حكمه، فلعنه الله عليه والملائكة والناس اجمعين. والله تعالى اعلم.
كتبه عبدہ محی الدین غفر اللہ لہ مدرس مدرسہ اشرف العلوم بڑا کٹرہ، ڈھاکہ
جو حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور ان کے آسمان پر تشریف لے جانے پھر قیامت کے قریب ان کے دوبارہ تشریف لانے کا انکار کرے، یا وہ یہ دعویٰ کرے کہ وہ عیسیٰ ؑ سے افضل ہے یا وہ جو ختم نبوت کا انکار کرے، یا حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کر بیٹھے، چاہے اس کا دعویٰ مستقل نبی ہونے کا ہو یا ظلی یا بروزی نبی ہونے کا، یا وہ ضروریات دین کا انکار کر دے، پس وہ بنص قرآن احادیث متواترہ اور اجماع امت کی رو سے کافر مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی چونکہ ان سب چیزوں کا ارتکاب کیا ہے لہٰذا وہ بھی کافر مرتد اور دین اسلام
ے عاری ہے اور اس کے کفر میں شک کرنے والے اور اس کی اتباع کرنے والے بھی اسی کے حکم میں ہیں اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔ مرزا قادیانی پر۔
- ۳۶...... جواب صحیح ہے۔
احقر محمد صفی اللہ عفی عنہ صدر المدرسین مدرسہ امدادالعلوم فرید آباد ڈھاکہ ۴ جامع مسجد بہادر شاہ پارک، ڈھاکہ
- ۳۷...... جواب دینے والا حق کو پہنچا ہے۔
عبدالکریم غفرلہ خلیفہ خاص شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ امیر جمعیت علماء اسلام مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش)
- ۳۸...... مفتی صاحب نے درست فتویٰ دیا ہے۔
احقر شمس الدین غفرلہ ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے اسلام، مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش)
- ۳۹...... فتویٰ دینے والے نے درست جواب دیا ہے۔
احقر ابو محمود ہدایت حسین غفرلہ مدرس مدرسہ امدادالعلوم، ڈھاکہ
- ۴۰...... جواب صحیح ہے۔
محی الدین خان عفی عنہ ممتاز الحدیث، ممتاز الفقہاء مدرسہ عالیہ، مدیر ماہنامہ مدینہ ڈھاکہ، سیکرٹری سیرت کمیٹی ڈھاکہ جوائنٹ سیکرٹری مؤتمر عالم اسلامی مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش)
۴۱...... مولانا محمد ہارون ناظم ادارۃ المعارف ڈھاکہ کا فتویٰ
قد تواترت عقيدة حياة عيسى عليه الصلوة والسلام و رفعه الى السماء، ثم نزوله قرب الساعة فمن انكرها فقد انكر الامر المتواتر و قد كفر من غير ريب وشک.
(محمد ہارون فاضل مدرسہ ضمیریہ چاٹگام و جامعہ اشرفیہ، لاہور)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آسمان کی طرف آپ کے رفع پھر قیامت کے قریب آپ کے نزول کا عقیدہ بالکل متواتر ہے جس نے اس کا انکار کیا پس اس نے امر متواتر کا انکار کیا تو وہ بلاشک و شبہ کافر ہو گیا۔
- ۴۲...... جواب صحیح ہے۔
محمد عبدالجبار ناظم عمومی جمعیت علماء اسلام ڈھاکہ شہر
- ۴۳...... جواب صحیح ہے اور اس کا انکار کرنا بہت بڑا قبیح فعل ہے۔
محمد عبیدالحق پرنسپل عالیہ مدرسہ نواکھالی و ناظم جمعیت المدرسین، مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) ۲۳ فروری ۱۹۶۸م
- ۴۴...... جواب صحیح ہے اور فتویٰ دینے والا اپنی محنت میں کامیاب ہے۔
الاحقر ظفرالدین ناظم الجامعۃ الاسلامیہ، کانپور انڈیا ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۸۸ھ بمطابق ۸ مارچ ۱۹۶۸م
- ۴۵...... جواب صحیح ہے۔
عبدالرزاق نائب قاضی دارالقضاء ریاست بھوپال انڈیا ۲۸ ذی الحجہ ۱۳۸۸ھ
- ۴۶...... جواب صحیح ہے۔
اسعد المدنی ۱۷ محرم الحرام ۱۳۹۰ھ
علمائے بلوچستان کے فتویٰ جات
- ۴۷...... جواب صحیح ہے اور فتویٰ دینے والا کامیاب ہے۔
احقر غلام حیدر مہتمم مدرسہ عربیہ ناصرالعلوم لورالائی نائب امیر جمعیت علمائے اسلام لورالائی بلوچستان۔ ۱۵ رجب المرجب ۱۳۸۹ھ
- ۴۸...... جواب درست ہے۔
احقر قاضی عبدالعزیز بارنی قلات بلوچستان
- ۴۹...... جواب درست ہے۔
بندہ عوض محمد مہتمم مطلع العلوم کوئٹہ بلوچستان
- ۵۰...... جواب دینے والا حق کو پہنچا ہے۔
بندہ عبدالشکور خطیب جامع مسجد کوئٹہ، بلوچستان
علمائے پنجاب کے فتویٰ جات
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ خاتم الانبياء والمرسلين و علی آلہ و اصحابہ اجمعین۔ اما بعد! ۵۱...... راقم نے حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی، پرنسپل جامعہ عربیہ و ناظم اعلیٰ ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ (ضلع جھنگ) کے مرتب کردہ رسالہ وائس چانسلر مدینہ یونیورسٹی کا اہم ترین فتویٰ ”حیات عیسیٰ ؑ کا منکر کافر ہے ۔“ کا مطالعہ کیا، جس میں مرزا قادیانی اور مصر کے ایک ملحد شلتوت کا باطل نظریہ دلائل کے ساتھ رد کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جسد عنصری کے ساتھ آسمان کی طرف نہیں اٹھائے گئے اور یہ کہ اب وہ نازل نہ ہوں گے۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ )
قرآن کریم کی نصوص قطعیہ، احادیث متواترہ اور امت مسلمہ کے قطعی اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور تاہنوز وہ زندہ ہیں اور قیامت کے قریب نازل ہوں گے اور نزول کے بعد دجال لعین کو قتل کریں گے اور چالیس سال تک حکومت کر کے پھر وفات پائیں گے اور مدینہ طیبہ میں مسلمان ان کی تجہیز و تکفین کریں گے اور ان کو دفن کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے ۔ بل رفعه الله اليه.
(نساء ۱۵۷)
”بلکہ اللہ تعالیٰ نے (حضرت) عیسیٰ ؑ کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔“
دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے: وانه لعلم للساعة فلاتمترن بها.
(زخرف ۶۱)
”اور بے شک وہ (عیسیٰ ؑ ) قیامت کی نشانی اور علم ہیں سو ہرگز اس کے بارے میں شک نہ کرنا۔“
اور حضرت نواس بن سمعان کلابی کی طویل حدیث میں یہ بھی ہے کہ: آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اذ بعث الله المسيح بن مريم عليه فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق.
(مسلم ص ۴۰۰ تا ۴۰۱ ج ۲)
”جب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو بھیجیں گے تو وہ جامع مسجد دمشق کے سفید مشرقی مینار پر اتریں گے۔“
اور حضرت عیسیٰ ؑ کا یہ نزول آسمان سے ہوگا، چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے جس کی سند بالکل صحیح ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: كيف انتم اذا نزل ابن مريم (من السماء) فيكم امامكم منكم.
(بخاری ص ۴۹۰ ج ۱)
”تمہاری کیا ہی بھلی حالت ہوگی جبکہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام تم میں آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔“
یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے وقت تمہارا امام مہدی تم میں سے ہی ہوگا، اور پہلی نماز فجر کی حضرت عیسیٰ ؑ ان کی اقتداء ہی میں پڑھیں گے، جیسا کہ روایات سے ثابت ہے اور حضرت ابو ہریرہؓ کی ایک اور روایت میں یوں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ثم ينزل عيسى بن مريم من السماء.
(قرطبی ج ۱۶ ص ۱۰۶۔ مرقاۃ ج ۵ ص ۱۶۰ مطبوعہ مصر)
”پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔“
اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
فعند ذلک ینزل اخی عیسی بن مریم من السماء علی جبل افیق.
(کنزالعمال ج ۱۴ ص ۶۱۸)
”پس اس موقع پر میرے بھائی عیسیٰ بن مریم علیہما السلام آسمان سے افیق کی پہاڑی پر نازل ہوں گے۔“
ان تمام صحیح روایات سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان سے نازل ہوں گے۔ پہلے تو مرزا قادیانی کو بھی اس کا اقرار تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان سے نازل ہوں گے چنانچہ وہ لکھتا ہے:
”مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں یہ لفظ موجود ہیں کہ حضرت مسیح ؑ جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص ۸۱ خزائن ج ۳ ص ۱۴۲)
اور دوسرے مقام پر لکھتا ہے:
الا یعلمون ان المسیح ینزل من السماء بجمیع علومه لا یاخذ شیئا من الارض مالهم لا یشعرون.
(آئینہ کمالات اسلام ص ۴۰۹)
”کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ مسیح بن مریم علیہما السلام اپنے تمام علوم کے ساتھ آسمان سے نازل ہوں گے، اور زمین پر کوئی علم حاصل نہیں کریں گے، ان لوگوں کو کیا ہو گیا کہ نہیں سمجھتے۔“
حضرت ابوہریرة رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
یمکث عیسی علیه السلام فی الارض بعد ما ینزل اربعین سنه ثم یموت صلی علیه المسلمون و یدفنونه.
”حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہونے کے بعد زمین میں چالیس سال رہیں گے پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے اور ان کو دفن کریں گے، اور ان کی ایک روایت میں آتا ہے۔ ”ثم یتوفی فیصلی علیه المسلمون.“
(ابوداؤد ص ۱۳۵ ج ۲)
”جو ان کی وفات ہوگی پس مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔“
اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا۔ ”ثم یموت فیدفن معی فی قبری.“
(مشکوٰۃ کتاب الفتن ص ۴۸۰)
”پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات ہوگی سو وہ میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوں گے۔“
حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور رفع الی السماء پر متواتر حدیثیں دلالت کرتی ہیں، علامہ ابن عطیہ فرماتے ہیں: واجمعت الامه علی ما تضمنه الحدیث المتواتر من ان عیسی علیه السلام فی السماء حی وانه ینزل فی آخر الزمان.
”حدیث متواتر کے پیش نظر ساری امت کا اس پر اجماع اور اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ ہیں اور آخر زمانہ میں اتریں گے۔“ ان کے رفع الی السماء پر تمام امت مسلمہ کا اجماع واتفاق ہے، چنانچہ امام اہلسنت والجماعت ابوالحسن الاشعریؒ متوفی ۳۳۰ھ فرماتے ہیں:۔
واجمعت الامة علی ان الله عز وجل رفع عیسی علیه السلام الی السماء.
”امت کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا ہے۔“
اور خود مرزا قادیانی اس پیشگوئی کو متواتر اور درجہ اوّل کی پیشگوئی تسلیم کرتا ہے چنانچہ وہ لکھتا ہے:
”یہ امر پوشیدہ نہیں کہ مسیح بن مریم کے آنے کی پیشگوئی اول درجے کی پیشگوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ۵۵۷ خزائن ج ۳ ص ۴۰۰)
چونکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور رفع الی السماء اور پھر آسمان سے نزول تواتر سے ثابت ہے لہٰذا اس کا انکار کرنا کفر ہے، چنانچہ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ متوفی ۴۵۶ھ لکھتے ہیں:
واما من قال ان اللّٰہ عزوجل ھو فلان لانسان بعینہ او ان اللّٰہ یحل فی جسم من اجسام خلقہ او ان بعد محمد ﷺ نبیاً غیر عیسٰی بن مریم فانہ لا یختلف اثنان فی تکفیرہ لصحة قیام الحجة بکل ھذا علٰی کل احد۔
”بہر حال جو شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص (کے روپ میں) ہے یا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کے جسم میں حلول کرتا ہے، یا یہ کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد بجز حضرت عیسیٰ ؑ کے کوئی اور نبی آئے گا تو مسلمانوں میں سے کوئی دو شخص بھی اس کے کفر میں اختلاف نہیں رکھتے کیونکہ ان جملہ امور میں سے ہر ایک پر ہر کسی کے لیے حجت قائم ہو چکی ہے۔“
اس عبارت سے جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد کا عقیدہ معلوم ہوا اسی طرح ختم نبوت کا مسئلہ بھی واضح ہو چکا ہے۔
اور امام جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ لکھتے ہیں:
”اما نفی نزول عیسٰی علیہ السلام او نفی النبوة عنہ فکلاھما کفر۔“
”بہر حال حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول اور ان کی نبوت دونوں کا انکار کفر ہے۔“
ان صریح اور صحیح اور ٹھوس حوالوں کے پیش نظر یہ بات بالکل قطعی اور حتمی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور نزول کا انکار خالص کفر ہے، اس فتویٰ کی رو سے مرزا قادیانی ہو یا مصر کا شیخ شلتوت ہو یا خطۂ ارضی کا کوئی ملحد جو بھی اس عقیدہ کا منکر ہو وہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اتمام حجت کے بعد ایسے شخص کو مسلمان سمجھنے والا بھی کافر ہے۔
شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز وائس چانسلر مدینہ یونیورسٹی اور دیگر علمائے مصر کا یہ فتویٰ بر موقع بالکل سو فیصدی درست اور صحیح ہے، اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس صحیح عقیدہ پر قائم و دائم رکھے، اور اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے فاتح ربوہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب کو جنہوں نے اس فتویٰ کی نشر و اشاعت کی سعی فرمائی اور مسلمانوں کو ایک عظیم فتنہ سے بچانے کی کوشش کی ہے، اللہ تعالیٰ انہیں اور تمام مسلمانوں کو جملہ مصائب سے محفوظ رکھے اور راہِ راست پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ (آمین)
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علٰی خاتم الانبیاء والمرسلین وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین وحشرنا معہم یوم الدین۔ آمین
احقر الناس ابوالزاہد محمد سرفراز خطیب جامع مسجد گکھڑ وصدر المدرسین مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، ۲۹ رجب ۱۳۸۶ھ / ۱۴ نومبر ۱۹۶۶ء
- ۵۲...... جواب درست ہے اور فتویٰ دینے والے حق کو پہنچے ہیں۔ العبد شمس الدین استاذ الحدیث جامعہ صدیقیہ گوجرانوالہ
- ۵۳...... جواب درست ہے۔ مولوی عبدالقادر امام مسجد گوجرانوالہ
- ۵۴...... جواب درست ہے۔ مفتی بشیر حسین قادری نوشاہی فاضل دیو بند خطیب جامع مسجد گوجرانوالہ
- ۵۵...... جواب درست ہے۔ بشیر احمد مہتمم مدرسہ مظہر العلوم سلطانی (رجسٹرڈ) خانقاہ سلطان عبدالکریم رحمتہ اللہ علیہ
- ۵۶...... جواب صحیح ہے۔ احقر عبدالرحیم مہتمم مدرسہ عربیہ اسلامیہ، بوریوالہ
- ۵۷...... الجواب صواب بلا ارتیاب ولاشک ان مسیلمة الفنجاب حکمه حکم مسیلمة الکذاب لا فرق بینهما اصلا عند اولی الالباب و ان حياة سيدنا عيسى عليه السلام و رفعه الى السماء ثم نزوله من السماء الى الارض عند قرب الساعة مسئلة منصوصة بالكتاب والسنة المتواترة واجماع الامة من انكرها فقد کفر و ارتد عن الاسلام و حکمه حکم المرتد. والله اعلم.
(محمد ادریس کان اللہ لہ وکان ھو للہ جامعہ اشرفیہ لاہور)
جواب بلاشبہ درست ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مسیلمۂ پنجاب کا حکم بھی وہی ہے جو مسیلمہ کذاب کا ہے اور اہل عقل کے نزدیک تو ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ باقی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آپ کے آسمان پر اٹھائے جانے پھر قیامت کے قریب آسمان سے زمین پر تشریف لانے کا مسئلہ تو کتاب اللہ، متواتر احادیث اور اجماع امت سے ثابت ہے جو بھی اس کا انکار کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگا اور اس کا حکم مرتد والا حکم ہوگا۔
- ۵۸...... جواب صحیح ہے۔ جمیل احمد تھانوی رئیس دارالافتاء جامعہ اشرفیہ، لاہور
- ۵۹...... جس نے فتویٰ دیا وہ بالکل حق کو پہنچا ہے۔ محمد عبید اللہ مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور
- ۶۰...... جواب درست ہے۔ عبدالرحمٰن نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور
- ۶۱...... جواب درست ہے۔ حامد میاں مہتمم جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور
- ۶۲...... جس نے فتویٰ دیا ہے وہ بالکل حق کو پہنچا ہے۔ ظہور الحق استاد جامعہ مدنیہ لاہور
- ۶۳...... جواب درست ہے۔ عبدالحمید استاد جامعہ مدنیہ لاہور
- ۶۴...... جواب درست ہے۔ نذیر احمد استاد جامعہ مدنیہ لاہور
- ۶۵...... جواب صحیح ہے۔ احقر محمد کریم اللہ استاد جامعہ مدنیہ لاہور
- ۶۶...... جواب بالکل حق ہے۔ احقر عبیداللہ انور انجمن خدام الدین لاہور
- ۶۷...... جواب درست ہے۔ محمد اجمل خان خطیب جامعہ رحمانیہ قلعہ گوجر سنگھ وصدر تنظیم اہلسنت لاہور
- ۶۸...... جواب درست ہے۔ گلزار احمد مظاہری جامعہ علوم اسلامیہ لاہور ۱۳۸۵/۱۲/۲۹ھ
- ۶۹...... جواب بالکل حق ہے۔ سید احمد شاہ بخاری صدر المدرسین مدرسہ دارالہدیٰ چوکیرہ سرگودھا
- ۷۰...... جواب بالکل صحیح ہے اور حق بات اس کے لائق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ (علامہ) خالد محمود
ڈائریکٹر اسلامک اکیڈیمی مانچسٹر انگلینڈ
- ۷۱...... جواب بالکل درست ہے۔ محمود عفا اللہ عنہ
مفتی وصدر المدرسین مدرسہ قاسم العلوم ملتان ممبر قومی اسمبلی آف پاکستان وسابق وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد
- ۷۲...... جواب درست ہے۔ احقر مفتی محمد شفیع مہتمم مدرسہ سراج العلوم بلاک نمبر ۱ سرگودھا
- ۷۳...... جواب دینے والے نے بالکل صحیح فتویٰ دیا ہے۔ محمد امیر کان اللہ لہ مہتمم جامعہ ضیاء العلوم بلاک نمبر ۱۸ سرگودھا
- ۷۴...... جواب بلاشک و شبہ درست ہے۔ احقر الثقلین محمد حسین عفی عنہ آمین
سابق مدرس مدرسہ امینیہ اسلامیہ دہلی نزیل مدرسہ دارالہدٰی چوہڑہ سن مضافات سرگودھا
- ۷۵...... بلاشبہ جواب درست ہے۔ محمد امین صدر المدرسین دارالعلوم تعلیم الاسلام اترا نزد قائد آباد
- ۷۶...... جواب بالکل حق ہے۔ احقر الانام حمید اللہ
- ۷۷...... جواب درست ہے اور ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اس کی پیروی کریں۔ امین الحق خطیب جامع مسجد شیخوپورہ
- ۷۸...... بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی، رفع الی السماء بجسدہ اور پھر قرب قیامت میں نزول من السماء الی الارض نصوص قرآن مجید، احادیث متواترہ اور اجماع امت مسلمہ ثابت ہے اس لیے اس اجماعی مسئلے کا منکر اور خود حضرت مسیح علیہ السلام کی بجائے مسیح موعود بننے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ کے وائس چانسلر شیخ عبدالعزیز بن باز زید مجدہم نے اس مسئلہ کے بارے میں جو مفصل فتویٰ دیا ہے میں اس کی تائید و تصدیق کرتا ہوں۔ احقر سید سیاح الدین کاکاخیل، ۱۸ شوال ۱۳۸۴ھ
- ۷۹...... جواب درست ہے۔ خان محمد عفی عنہ خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف۔ میانوالی
- ۸۰...... جواب صحیح ہے۔ محمد امیر الدین مبلغ اسلام حویلی لکھا ضلع منٹگمری (ساہیوال)
- ۸۱...... جواب درست ہے۔ عبدالحمید لدھیانوی ٹوبہ ٹیک سنگھ ۵ ربیع الاول ۱۳۸۵ھ
- ۸۲...... جواب درست ہے۔ عبدالرحمٰن جامی خطیب محمدی جامع مسجد گوجرانوالہ، ۵ ربیع الاول ۱۳۸۵ھ
- ۸۳...... جواب درست ہے۔ قاری نذیر احمد مہتمم مدرسہ عربیہ اشرف المدارس رحیم یار خان
- ۸۴...... جواب درست ہے۔ احقر عبدالعزیز خطیب جامع مسجد زراعتی فارم منٹگمری
- ۸۵...... جواب درست ہے۔ احقر (قاری) محمد یوسف شورکوٹ شہر ضلع جھنگ
- ۸۶...... جواب درست ہے۔ عبدالواسع لدھیانوی
فاضل جامعہ اسلامیہ ڈابھیل، ضلع سورت انڈیا ناظم نشر و اشاعت دارالعلوم نعمانیہ رجسٹرڈ گوجرانوالہ، ۵ ربیع الاول ۱۳۸۵ھ
- ۸۷...... جواب درست ہے۔ عبدالصمد شورکوٹ ضلع جھنگ
- ۸۸...... تحقیق جواب دینے والا بالکل حق کو پہنچا ہے۔ محمد چراغ مہتمم مدرسہ عربیہ گوجرانوالہ
- ۸۹...... جواب بالکل حق ہے اور حق بات اس کے لائق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے۔ مجاہد الحسینی
سابق مدیر روزنامہ آزاد و نوائے پاکستان لاہور
- ۹۰...... فتویٰ درست ہے اور جواب دینے والا بالکل حق کو پہنچا ہے۔
انا عبدہ الضعیف غلام یاسین شاہ پوری، سرگودھا، ۳ شوال ۱۳۸۵ھ
- ۹۱...... نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم و بعد.
فان مسئلۃ حیاۃ سیدنا عیسٰی علٰی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام بجسدہ الشریف الی السماء من ضروریات الدین اجمعت علیھا الامۃ المحمدیۃ و انکرھا الملاحدۃ فانا نؤمن بھا و نتبراء من منکریھا ونحکم بان المنکر ملحد خارج عن دین الاسلام. جزی اللہ مولانا منظور احمد چنیوتی و شکر مساعیہ فی اشاعہ ھذہ المسئلۃ و تقبل عملہ فی رد الملاحدۃ القادیانین. فالمجیب مصیب والجواب صحیح واللہ اعلم و علمہ اتم.
(محتاج بندہ (مفتی) عبداللہ جامعہ خیر المدارس ملتان)
حیات عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے اپنے جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر تشریف لے
جانے کا مسئلہ ضروریات دین میں سے ہے اور اس پر تمام امت محمدیہ نے اجماع کیا ہے۔ مگر ملحدوں نے اس عقیدہ کا انکار کر دیا، ہم امت محمدیہ اس متفق علیہ مسئلہ پر ایمان لاتے ہیں اس کے انکار کرنے والے سے اپنی برائت ظاہر کرتے ہیں، اور یہ فیصلہ دیتے ہیں کہ اس عقیدہ کا منکر ملحد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائیں مولانا منظور احمد چنیوٹی کو، اس فتویٰ کے نشر کرنے پر اور ملحد قادیانیوں کی تردید کے لیے ان کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت بخشیں۔ (آمین) جواب دینے والا حق کو پہنچا ہے اور فتویٰ درست ہے۔
- ۹۲...... جواب درست ہے۔ بندہ عبدالستار مفتی جامعہ خیر المدارس ملتان
- ۹۳...... جواب درست ہے۔ محمد علی جالندھری امیر مجلس تحفظ ختم نبوت۔ ملتان
- ۹۴...... بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ فتویٰ بالکل سچ اور حقیقت کے مطابق ہے، حیات مسیح ؑ اور آپ کے رفع جسمانی اور نزول کا عقیدہ جزو ایمان ہے اس کا انکار صریح آیات اور احادیث متواترہ کا انکار ہے اور یہ انکار موجب کفر ہے، اس میں شک کرنا بھی کفر ہے میرے نزدیک تو یہی تحقیق ہے۔ وانا العبد الفقیر عبداللہ فیصل آباد
- ۹۵...... جواب دینے والا حق کو پہنچا ہے۔ محمد امین خطیب سنہری مسجد ماڈل ٹاؤن بی۔ لائلپور (فیصل آباد) ۳۰ رجب ۱۳۸۶ھ
- ۹۶...... جواب بالکل صحیح ہے اور حق کے بعد تو بھٹکنا ہی رہ جاتا ہے۔
خاکسار اسلاف عبدالعلیم جالندھری ناظم تعلیمات مدرسہ اشرف المدارس وصدر مجلس تحفظ ختم نبوت، فیصل آباد
- ۹۷...... جواب درست ہے۔ غلام محمد صدر المدرسین مدرسہ اشرف المدارس لائلپور
- ۹۸...... جواب صحیح ہے۔ فضل محمد مدرسہ عربیہ قاسم العلوم فقیر والی ضلع بہاولنگر ۳۰ رجب المرجب ۱۳۸۶ھ
- ۹۹...... جواب درست ہے۔ احقر لال حسین اختر صدر المبلغین مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت ملتان
- ۱۰۰...... حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور ان کا رفع الی السماء الجسد نصوص کتاب اللہ احادیث متواترہ اور اجماع
امت سے ثابت ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور رفع جسمانی کا منکر۔ کتاب اللہ، احادیث متواترہ اور اجماع امت کا منکر ہے، اس لیے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لاشئی غلام اللہ خطیب جامع مسجد راجہ بازار راولپنڈی
- ۱۰۱...... جواب صحیح ہے۔ عبدالشکور مدرس دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی
- ۱۰۲...... جواب دینے والا بالکل حق کو پہنچا ہے۔ عبدالمنان خطیب جامع مسجد صدر و مہتمم دارالعلوم حنفیہ عثمانیہ محلہ ورکشاپ، راولپنڈی
- ۱۰۳...... بسم اللہ الرحمن الرحیم
ان مسئله حياة عیسی بن مريم عليهما السلام و رفعه الى السماء ثم نزوله الى الارض مسئلة اجماعية و عقيدة ضرورية فى الاسلام لا يمكن لاحد ان يكون مؤمنا من غير ان يعتقد بحياة عيسى عليه السلام و رفعه الى السماء حياً فمن انكر هذه العقيدة الاجماعية التى هى من ضروريات الدين فقد خلع رقبه الاسلام من عنقه وصار مرتداً كافراً بلاشک و ارتياب فالجواب من المجيب المحترم حق و صواب. (وانا العبد الحقیر محمد مالک کاندھلوی خادم الحدیث بدارالعلوم الجامعہ الاشرفیہ لاہور) بیشک حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے پھر دوبارہ ان کے دنیا میں نزول فرمانے کا مسئلہ اجماعی ہے اور اسلام کا ضروری عقیدہ ہے، کسی کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ حیات عیسیٰ ؑ اور آپ کے زندہ آسمان پر تشریف لے جانے کا عقیدہ رکھے بغیر مسلمان کہلا سکے۔ پس جس نے اس اجماعی مسئلہ کا
انکار کیا جو کہ ضروریات دین میں سے ہے تو اس نے اپنی گردن سے اسلام کی پابندی کا طوق اتار دیا اور وہ بلاشک وشبہ کافر اور مرتد ہو گیا اور صاحب فتویٰ کا یہ جواب بالکل صحیح اور درست ہے۔
- ۱۰۴....... جواب درست ہے۔ محمد رسول خان جامعہ اشرفیہ، مسلم ٹاؤن، لاہور
- ۱۰۵....... جواب درست ہے۔ خطیب جامع مسجد مصری شاہ لاہور، ۲۹ ذی قعدہ ۱۳۸۴ھ
- ۱۰۶....... جواب درست ہے، اس لیے کہ آیت ما صلبوہ الخ سالبہ کلیہ ہے اور نص قرآنیہ کا ظاہر حضرت عیسیٰ ؑ کی
حیات پر ہی دلالت کرتا ہے۔ محمد صدر المدرسین جامعہ عربیہ رحیمیہ نیلا گنبد، لاہور
- ۱۰۷....... بعد الحمد والصلوٰۃ علماء اسلام نے حیات عیسیٰ ؑ کے منکر کو کافر و مرتد اور واجب القتل قرار دیا ہے، بیشک
عیسیٰ ؑ کی حیات آیات (قرآنیہ) احادیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اس کے منکر کا حکم مرتد کا حکم ہے۔ محمد الیاس جامع مسجد پٹولیاں لاہور
- ۱۰۸....... جواب دینے والی ہستی نے بالکل صحیح فتویٰ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں سلامت باکرامت رکھے۔ (آمین)
حررہ محمد عبد العلیم قاسمی، ۲۰ رجب ۱۳۸۵ھ
- ۱۰۹....... اقول بتوفیق اللہ و حسن توفیقہ عقیدۃ حیاۃ المسیح علیہ السلام و نزولہ قرب القیامۃ
مجمع علیھا عند جمھور المسلمین و ثابتۃ بالنصوص القطعیۃ، ومنکر ھا کافر ومرتد بلا شبھۃ والدلائل مبسوطۃ فی الکتب۔
(کتبہ حبیب الرحمٰن جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور ۵ صفر المظفر ۱۳۸۵ھ)
حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور قیامت کے قریب ان کے نزول کے عقیدہ پر جمہور مسلمانوں کا اجماع ہو چکا ہے اور یہ عقیدہ قطعی دلائل سے ثابت ہے۔ اس کا منکر بلاشک وشبہ کافر اور مرتد ہے، اس عقیدہ پر دلائل کتابوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کر دیے گئے۔
- ۱۱۰....... جواب درست ہے۔ نذیر احمد خطیب جامع مسجد بازار، لاہور
- ۱۱۱....... جواب درست ہے۔ غلام غوث ہزاروی ناظم اعلیٰ جمعیت علماء اسلام پاکستان، لاہور
- ۱۱۲....... جواب درست ہے۔ عبد العلی دیوبندی
- ۱۱۳....... جواب درست ہے۔ قاضی احسان احمد (شجاع آبادی) امام شاہی مسجد شجاع آباد، ۲۰ ذی القعدہ ۱۳۸۶ھ
- ۱۱۴....... قرآن مجید کی آیات اور احادیث مرفوعہ صحیحہ سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے۔ اس میں کسی قسم کا کوئی
اخفا نہیں ہے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ کلمۃ اللہ کا جسمانی و روحانی ہر دو اعتبار سے آسمان کی طرف رفع ثابت ہے اور پھر ان کا دوبارہ زمین کی طرف نزول یقیناً ثابت ہے جو شخص حیات عیسیٰ ؑ کا قائل نہیں وہ یقیناً گمراہ، ملحد، کافر بلکہ مرتد ہے اور اس بات کے کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر اس کو واجب القتل کہا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ جو جوابات ذکر کیے گئے ہیں وہ سب صحیح ہیں اور ان میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ جواب درست ہے اور جواب دینے والا حق کو پہنچا ہے۔ حافظ عبدالرشید جامعہ تقویۃ الاسلام شیش محل روڈ، لاہور، ۱۹۶۵/۸/۲۸ء
- ۱۱۵....... جواب صحیح ہے اور جواب دینے والا بالکل کامیاب ہے۔ محمد اسحاق مدرس دارالعلوم تقویۃ الاسلام، لاہور۔ ۱۹۶۵/۸/۲۸ء
- ۱۱۶....... حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور ان کا رفع جسمانی اور قرب قیامت میں ان کا آسمان سے نزول یہ سب متفق
علیہ امور ہیں۔ جمہور امت اس کی قائل ہے اسلام میں کسی سے اس کا خلاف مذکور نہیں، جن صریح ومتواتر دلائل و شواہد سے یہ عقیدہ ثابت ہے ان کی بنیاد پر اس کا انکار کرنے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ سعید الرحمٰن جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ، راولپنڈی
- ۱۱۷....... تمام جوابات درست ہیں۔ ابو احمد عبداللہ لدھیانوی ۵ ربیع الاول ۱۳۸۵ھ
- ۱۱۸....... مفتیان کرام نے جو فتویٰ دیا ہے وہ درست ہے۔ احقر عبدالعزیز مہتمم دارالعلوم فیض محمدی، فیصل آباد
- ۱۱۹....... بسم اللہ الرحمن الرحیم
من نظر بامعان فی کتب القادیانی علم بلا ریب وشک ان اکثر عقائدہ مخالفۃ لعقائد الاسلام موجبۃ لکفرہ منہا عقیدۃ وفاۃ عیسیٰ علیہ السلام واصاب من افتیٰ بکفرہ۔
(فاروق احمد سابق شیخ الحدیث جامعہ عباسیہ بہاول پور و سابق مفتی دارالعلوم دیوبند)
جس شخص نے بھی مرزا قادیانی کی کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اسے بلاشک وشبہ یہ معلوم ہو چکا ہے کہ مرزا کے اکثر عقائد اسلام کے خلاف ہیں جو کہ اس کے کفر کے موجب ہیں، اس کے کفریہ عقائد میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ بھی ہے جس نے بھی مرزا کے کفر کا فتویٰ دیا ہے اس نے درست کیا ہے۔
- ۱۲۰....... جواب درست ہے۔ احقر الی اللہ ۔ محمد عبدالقادر آزاد جنرل سیکرٹری اسلامی مشن پاکستان، بہاولپور
- ۱۲۱....... جواب صحیح ہے۔ غلام مصطفیٰ بہاولپور، ۲ ذوالحجہ ۱۳۸۴ھ
- ۱۲۲....... بسم اللہ الرحمن الرحیم
حیاۃ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ورفعہ الی السماء و نزولہ الی الارض قبل قیام القیامۃ ثابت بالکتاب والسنۃ و علیہ اجماع الامۃ فمن انکر بعد ذلک فہو کافر خارج عن الاسلام۔
(مقبول احمد جامعہ رشیدیہ ساہیوال)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آسمان کی طرف رفع پھر قیامت سے پہلے زمین کی طرف آپ کے نزول کا عقیدہ قرآن وسنت سے ثابت ہے اور اس پر امت کا اجماع ہو چکا ہے پس اس کے بعد بھی جو انکار کرے گا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
- ۱۲۳....... جواب دینے والے نے بالکل صحیح فتویٰ دیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب فقیر محسن الدین
بہاولپور، ممبر قومی اسمبلی ۱۹۶۶/۲/۲۲م
- ۱۲۴....... جواب درست ہے۔ محمد عبداللہ کان اللہ لہ مہتمم مدرسہ عربیہ دارالہدیٰ بھکر
- ۱۲۵....... جواب درست ہے۔ محمد عبدالعلیم مسجد شیخ لاہوری، جھنگ صدر
- ۱۲۶....... جواب درست دیا گیا ہے۔ محمد عبدالجلیل انصاری خادم العلوم مظاہر العلوم، کوٹ ادو
- ۱۲۷....... جواب دینے والے نے درست فتویٰ دیا ہے، حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے۔ جو
اس کا انکار کرے گا وہ کافر ہے۔ کتبہ العبد الضعیف حافظ غلام رسول۔ صدر المدرسین دارالعلوم نعیمیہ سرگودھا
- ۱۲۸....... جواب حق ہے اور حق کی تابعداری لازمی ہے۔ عبدہ محمد یوسف الحسینی امیر جمعیت علماء اسلام و خطیب جامع مسجد فیصل آباد
- ۱۲۹....... جواب درست ہے۔ محمد رمضان علوی خطیب مرکزی جامع مسجد محلہ گلشن آباد، راولپنڈی
- ۱۳۰....... جواب درست ہے۔ عبدالواحد خطیب جامع مسجد گوجرانوالہ ناظم جمعیت علماء اسلام، مغربی پاکستان
- ۱۳۱....... جواب درست ہے۔ مطیع الرسول خطیب مدنی مسجد گٹی، ضلع لائل پور
- ۱۳۲....... جواب درست ہے۔ محمد رمضان امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان ضلع میانوالی
- ۱۳۳....... یہی فتویٰ حق ہے اور حق زیادہ لائق ہے کہ اس کی تابعداری کی جائے۔
احقر الی اللہ رشید احمد ناظم مدرسہ فاروقیہ شجاع آباد
۱۳۴...... جواب دینے والا حق کو پہنچا ہے۔ حررہ ناچیز عبداللطیف غفرلہ جہلمی ناظم جمعیت علماء اسلام ۱۱ ربیع الاول ۱۳۸۵ھ
۱۳۵...... جواب بالکل حق ہے اور حق اس کے لائق ہے کہ اس کی تابعداری کی جائے۔ احقر فضل احمد مہتمم مدرسہ عثمانیہ تلہ گنگ، ۱۴ اگست
۱۳۶...... جواب بالکل صحیح ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی اور قرب قیامت میں نزول متواترات میں سے ہے، بلاشبہ اس کا منکر ملحد و زندیق ہے۔ فقط حررہ العبد الضعیف مولیٰ بخش، جامع مسجد جھاوریاں، سرگودھا
۱۳۷...... نائب رئیس الجامعہ الاسلامیہ مدینہ منورہ کے جواب سے مجھے اتفاق ہے۔ بندہ محمد یحییٰ عفی عنہ لدھیانوی خطیب جامع مسجد جناح کالونی، فیصل آباد ۱۳۸۵/۳/۲۵ھ
۱۳۸...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ کا منکر تین وجہ سے کافر ہے (کیونکہ) وہ تین (چیزوں) قرآن، احادیث اور اجماع امت کا منکر ہے، چودہ سو سال کے تمام اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور آخری زمانے میں تشریف لائیں گے۔ فقط محمد شفیع مہتمم مدرسہ سراج العلوم ۔ کبیر والا
۱۳۹...... جواب بالکل حق ہے۔ سید حبیب اللہ شاہ بنوری معلم اعلیٰ جامعہ اسلامیہ بہاولپور، یکم اپریل ۱۹۶۵م
۱۴۰...... جواب صحیح ہے۔ سید عنایت اللہ شاہ بخاری صدر جمعیت اشاعت التوحید والسنہ پاکستان گجرات ۲۷ مارچ ۱۹۶۶ء مطابق ۴ ذی الحجہ ۱۳۸۵ھ
۱۴۱...... جواب صحیح ہے۔ محمد حیات عفا اللہ عنہ، فاتح قادیان صدر مناظر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان
۱۴۲...... یہی فتویٰ حق ہے اور حق تابعداری کے زیادہ لائق ہے اور کیا رہ گیا سچ کے پیچھے مگر بھٹکنا۔ انا الاحقر الی اللہ محمد عبداللہ درخواستی غفرلہ ۵ ربیع الاول ۱۳۸۶ھ
۱۴۳...... جواب صحیح ہے۔ ابوالزاہد محمد اشرف ہمدانی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان فیصل آباد ۲۷ صفر المظفر ۱۳۸۶ھ
۱۴۴...... جواب درست ہے۔ عبدالحمید سواتی خادم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ ۱۸ ربیع الثانی ۱۳۸۶ھ
۱۴۵...... جواب درست ہے اور فتویٰ دینے والا بالکل حق کو پہنچا ہے۔ محمد امیر مدرس مدرسہ تبلیغ الاسلام میانوالی یکم شعبان ۱۳۸۶ھ
۱۴۶...... جواب بالکل درست ہے اور فتویٰ دینے والا حق کو پہنچا ہے۔ حبیب اللہ الفاروقی سیالکوٹ ۱۷ ربیع الثانی ۱۳۸۶ھ
۱۴۷...... جواب صحیح ہے۔ محمد علی الصدیقی کان اللہ لہ صدر المدرسین دارالعلوم الشہابیہ، سیالکوٹ
۱۴۸...... مذکورہ بالا علماء نے جو فتویٰ دیا ہے وہ بالکل حق ہے۔ اور حق اس کے لائق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ احقر سلیمان احمد مہتمم مدرسہ اظہار الحق ٹوبہ ٹیک سنگھ
۱۴۹...... جواب دینے والا حق کو پہنچا ہے۔ قاضی عصمت اللہ جامع مسجد قلعہ دیدار سنگھ
۱۵۰...... جواب صحیح ہے۔ ولی اللہ اٹی شریف تحصیل پھالیہ ضلع گجرات ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۸۶ھ
۱۵۱...... جواب صحیح ہے۔ سید نور الحسن شاہ بخاری خادم تنظیم اہلسنت پاکستان ملتان ۸ محرم الحرام ۱۳۸۷ھ
۱۵۲...... جواب صحیح ہے۔ محمد عبدالخالق سابق مدرس دارالعلوم دیوبند شیخ الحدیث و مہتمم دارالعلوم عید گاہ کبیر والہ، ملتان
۱۵۳...... جواب صحیح ہے۔ عبدالمجید مدرس دارالعلوم عید گاہ، کبیر والہ
۱۵۴...... جواب بالکل صحیح ہے۔ نظام الدین شاہ نائب مہتمم دارالعلوم عید گاہ، کبیر والہ
۱۵۵...... جواب درست ہے۔ ظہور الحق دارالعلوم عید گاہ، کبیر والہ
۱۵۶...... حیات عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کا رفع قرآن وحدیث کے دلائل سے اظہر من الشمس ہے اس لیے اس کا انکار
کرنے والا قرآن وسنت کا انکار کرنے والا ہے اس لیے وہ کافر اور منکر قرآن وسنت ہے۔ احقر گل محمد توحیدی گوجرانوالہ، یکم جون ۱۹۶۷ء
- ۱۵۷...... جواب صحیح ہے۔ محمد شریف بہاولپوری مرکزی مبلغ ختم نبوت، ملتان
- ۱۵۸...... جواب صحیح ہے۔ محمد فیروز خان مہتمم دارالعلوم المدنیہ، ڈسکہ، سیالکوٹ
- ۱۵۹...... جواب دینے والا حق کو پہنچا ہے۔ فاضل حبیب اللہ رشیدی مدیر جامعہ رشیدیہ، ساہیوال
- ۱۶۰...... جواب صحیح ہے۔ فقیر محمد عبد المالک
- ۱۶۱...... تمام جوابات صحیح ہیں۔ عبد اللہ رائے پوری مدرس جامعہ رشیدیہ ساہیوال
- ۱۶۲...... جواب صحیح ہے۔ محمد عبد الستار تونسوی صدر تنظیم اہلسنت والجماعت، ملتان
- ۱۶۳...... هذا حق والحق احق ان یقتدیٰ بہ والمنکر کافر لاشک فی ارتدادہ والمرتد اشد مقتا من الکافر.
(بشیر احمد نقشبندی قادری امیر جمعیت علماء اسلام پسرور ۲۷ ربیع الثانی ۱۳۸۷ھ)
حق یہی ہے اور اس کے لائق ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اور اس عقیدہ کا منکر کافر ہے اس کے مرتد ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے، اور مرتد کافر سے زیادہ سخت سزا کا مستحق ہے۔
- ۱۶۴...... جواب صحیح ہے۔ محمد امین مدرس دار العلوم حنفیہ عثمانیہ راولپنڈی
- ۱۶۵...... حیات عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کا عقیدہ نصوص قرآنیہ احادیث صحیحہ صریحہ اور اجماع امت سے
(ماسوا چند فلاسفہ و ملاحدہ کے) ثابت ہے جیسا کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے الفاظ سے ظاہر ہے: نزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء ...... حق. ’’کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول آسمان سے بالکل برحق ہے پس منکر اس عقیدہ اجماعیہ کا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(فقط محمد ابراہیم کیمبل پوری)
- ۱۶۶...... علمائے کرام کے جوابات کی میں تصدیق و تائید کرتا ہوں۔ محمد ضیاء القاسمی
ناظم اعلیٰ تنظیم اہلسنت پاکستان و مہتمم جامعہ قاسمیہ، فیصل آباد
- ۱۶۷...... جواب صحیح ہے۔ میاں نذیر احمد ایم۔اے
صدر آل پاکستان سٹوڈنٹس فیڈریشن (رجسٹرڈ) نائب صدر پاک بوائے آر فرینڈ شپ ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) کنوینر نیشنل ایجوکیشن ٹرسٹ مکان نمبر ۵ خضر سٹریٹ، چراغدین روڈ مزنگ لاہور
- ۱۶۸...... فتویٰ دینے والے کا جواب قرآن مجید اور حدیث شریف کے مطابق درست ہے۔ متقدمین اور جمہور علماء
کے نزدیک یہی فتویٰ درست ہے۔ پیر محمد عبدالمجید، سیال شریف حال وارد انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل راولپنڈی ۱۸ فروری ۱۹۶۸م
- ۱۶۹...... ذلک صواب بلا ارتیاب من شک او انکر فی نزول عیسی علیہ السلام عند قرب
الساعة فقد کفر و ارتد عن الاسلام. واللّٰہ اعلم و علمه اتم و احکم.
(حررہ مفتی نذیر حسین قاسمی، ضلع پونچھ، مظفر آباد آزاد کشمیر)
بلاشبہ یہ فتویٰ صحیح ہے اور جو اس میں شک کرے یا عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت کے قریب نازل ہونے کا انکار کرے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو کر مرتد ہو گیا۔
- ۱۷۰...... جواب صحیح ہے۔ احقر محمد عبد اللہ
لدھیانوی خادم مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی۔ ۵ و سابق ناظم نشر و اشاعت مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت ۳۰/ ۱/ ۱۳۸۹ھ
- ۱۷۱....... جواب صحیح ہے۔ نور الحق قریشی ایم۔اے۔ ایل، بی ایڈووکیٹ
ناظم اعلیٰ جمعیت علماء اسلام ملتان ۱۵/ رجب المرجب ۱۳۸۹ھ
- ۱۷۲....... جواب صحیح ہے۔ عبدالرحیم ناظم مدرسہ رحیمیہ تعلیم القرآن رجسٹرڈ شکر گڑھ، ضلع سیالکوٹ
- ۱۷۳....... جواب دینے والا حق کو پہنچا ہے۔ ابوالکلیم محمد خادم حسین شاہ چورہ شریف ضلع کیمبل پور (اٹک)
- ۱۷۴....... جواب بالکل درست ہے۔ فقیر لاثانی محمد جان عثمانی آستانہ سراج الاولیاء دریا خاں ۱۲ اگست ۱۹۶۹م
- ۱۷۵....... جواب صحیح ہے۔ احقر خدا بخش غفرلہ ننگ آستانہ حضرت مدنی رحمہ اللہ
- ۱۷۶....... جواب صحیح ہے اور فتویٰ دینے والا عنداللہ ماجور ہے۔ احقر العباد فقیر خورشید احمد
خلیفہ اکبر حضرت مدنی، مہتمم مدرسہ محمود العلوم عبدالحکیم ۳/ ۶/ ۱۹۷۱م
- ۱۷۷....... جواب صحیح ہے۔ محمد عبداللہ غفرلہ خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد
- ۱۷۸....... جواب دینے والے نے صحیح فتویٰ دیا ہے۔ ناچیز غلام حیدر خطیب جامع مسجد ہلال اسلام آباد۔ ۲۸ شوال المکرم ۱۳۸۹ھ
- ۱۷۹....... جواب دینے والا حق کو پہنچا ہے۔ محمد امین، خطیب جامع مسجد جڑانوالہ
- ۱۸۰....... جواب صحیح ہے۔ محمد صدیق ولی اللّٰہی خادم حکمت امام ولی اللہ، ۱۳ ذی قعدہ ۱۳۸۹ھ ۔ ۱۲ فروری ۱۹۷۰م
- ۱۸۱....... جواب بالکل حق ہے۔ قاری محمد امین خطیب جامع مسجد عید گاہ و امیر جمعیت علماء اسلام شیخوپورہ
- ۱۸۲....... جواب صحیح ہے۔ عبدالعزیز خلیفہ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ
سرگودھا ۲ جون ۱۹۷۰م
- ۱۸۳....... له الحمد و عليه الصلوٰۃ والسلام
استفتاء ہذا میں سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور ان کا آسمان پر جسد عنصری کے ساتھ رفع اور پھر ان کا قیامت کے قریب نزول وغیرہ کے متعلق سوال کیا گیا ہے کہ اسلام میں ان نظریات وعقائد کا کیا حکم ہے؟ اور جو شخص مذکورہ چیزوں کا انکار کرے اس کا اعتقاد حق ہے یا باطل؟ جواباً تحریر ہے کہ:۔
سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلقہ ان امور کے متعلق کتاب وسنت میں جو حکم ہے اس کو سلفاً وخلفاً۔ جمہور علماء کرام نے نصوص شرعیہ کی روشنی میں واضح کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اپنے دور کے برحق پیغمبر تھے۔ اس دور میں آنحضرت کے مخالفین نے آپ ؑ کو اذیت پہنچانے اور ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ جل شانہ نے آپ ؑ کو اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ اب وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال سے قتال کریں گے۔ آنحضرت کا نزول اشراط الساعۃ اور علامات قیامت میں سے ہے اور پھر اس کے بعد آپ ؑ اپنی طبعی موت کے ساتھ وفات پا کر جناب نبی کریم ﷺ کے روضہ اقدس میں دفن ہوں گے۔
اس اعتقاد پر کتاب وسنت سے علماء کرام نے دلائل مرتب کر دیے ہیں۔ اس مسئلہ کے اثبات میں برصغیر ہند میں خاص طور پر دو اہم کتابیں مدون ہوئی ہیں جو محدث کبیر حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ علیہ نے اپنے تلامذہ سے مرتب کروائی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب کا نام ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ اور دوسری کا نام ”عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام“ ہے۔ یہ کتابیں اس مسئلہ پر بہترین دلائل و براہین کا مجموعہ ہیں اور سلف صالحین کے اعتقاد کی بہترین ترجمان ہیں۔ ان دونوں کتابوں میں
مزید دلائل کی حاجت نہیں چھوڑی گئی وہ نہایت عمدہ اور مستند مواد پر مشتمل ہیں۔ اور عرب ممالک مصر وغیرہ میں جب بعض جدت پسند لوگوں نے حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آسمانی حیات اور ان کے قبل القیامت نزول کے انکار کا قول کیا تو ان کے جواب میں علامہ محمد زاہد بن حسن الکوثریؒ نے ایک مختصر مگر جامع رسالہ ”نظرة عابرة“ کے نام سے مرتب کر کے کتاب وسنت سے عمدہ دلائل مدون کر دیے اور جمہور اہل اسلام کے عقیدہ ہذا کو آشکارا کر دیا۔ مختصر یہ ہے کہ حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ جمہور اہل اسلام کے نزدیک نصوص قطعیہ کی روشنی میں نہایت ضروری ہے اور اس کا انکار کرنا گمراہی، ضلال اور زیغ عن الحق ہے۔ ناچیز محمد نافع عفا اللہ عنہ محمدی شریف، ضلع جھنگ، محرم الحرام ۱۴۱۵ھ
- ۱۸۴...... حدیث شریف بسند صحیح مجدد نویں صدی امام جلال الدین السیوطی درمنثور میں بروایت حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ نقل فرماتے ہیں:-
آگاہ رہو اے علمائے کرام انس بن مالک دس سالہ محمد عربی خاتم النبیین ﷺ کے شاگرد ہیں روایت کرتے ہیں:
ان عیسی لم یمت وانه راجع الیکم قبل یوم القیامة.
(ابن کثیر ص ۳۶۶ ج ۱)
”کہ عیسیٰ علیہ السلام بالکل فوت نہیں ہوئے بلکہ قیامت سے قبل وہ تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے ۔“ قاضی ابوبکر جصاص نے جو حنفیوں کے امام ہیں اپنی تفسیر پارہ نمبر ۲۲ میں بھی یہ روایت آنے والی آیت کے تحت نقل فرمائی ہے:
ان الله و ملئكته يصلون على النبى (الخ)
(احزاب ۵۶)
”اللہ اور اس کے ملائکہ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی اس پر درود و سلام بھیجو۔“
بندہ زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، مسئلہ حیات عیسیٰ بن مریم علیہما السلام برحق اور منکر حیات مسیح علیہ السلام دائرہ اسلام سے خارج ہے جو دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے وہ اعتقاداً اور عملاً عندالشرع بقول علامہ شامی کافر ہے، بندہ کا یہی عقیدہ ہے، سب جید علماء کرام نے حدیث بالا کو مرفوع قرار دیا ہے، دیکھو علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اور اس کے علاوہ فتاویٰ قاضی خان۔
اور متقدمین میں سے محمد بن اسعد (رحمۃ اللہ علیہ) م ۱۵۰ھ معلوم رہے کہ حدیث مرفوع ہے روایت کے اعتبار سے اور صحیح ہے کہ امام سیوطیؒ نے درمنثور کے مقدمہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں درمنثور میں کوئی ایسی حدیث درج نہیں کروں گا جو مرفوع اور صحیح نہ ہو۔ لہٰذا غلام احمد قادیانی نے حضرت پاک محمد ﷺ کی نبوت کے خلاف آغاز ہی انکار حیات مسیح علیہ السلام سے کیا اور یہ آغاز بھی کفر کی بناء پر کیا گیا۔
اس لیے بندہ کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو دجال، کذاب اور معنوی اعتقادی ہر قسم کا کافر کہا جا سکتا ہے۔ پس علمائے کرام مدینہ منورہ، مکہ معظمہ تا پاکستان سب کے فتاویٰ جات شرع محمدی کے مطابق ہیں۔ ناچیز یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ حیات مسیح علیہ السلام کا جو بھی منکر ہو کافر ہے۔ لہٰذا غلام احمد (قادیانی) مع جماعت کافر مطلق ہے۔ العبد الفقیر غلام رسول لالیاں ۱۳ فروری ۱۹۷۲ء
- ۱۸۵...... جواب صحیح ہے۔
محمد ایوب نجدی
- ۱۸۶...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات قرآن وحدیث اور اجماع سے ثابت ہے۔
- ۱...... قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللّٰہ الیہ. (نساء ۱۵۷) ”اس کو قتل نہیں کیا بیشک،
بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف۔“
اس آیت میں ”قتلوہ“ اور ”رفعہ“ کی دونوں مفعول کی ضمیریں عیسیٰ ؑ (جن کا لقب مسیح ہے) کی طرف لوٹی ہیں تو ظاہر ہوا کہ عیسیٰ بن مریم سے مراد جسم اور روح کا مجموعہ ہے اور یہ پورا کا پورا مجموعہ ہی زندہ ہے تو ثابت ہو گیا کہ عیسیٰ بن مریم ؑ زندہ ہیں، نیز اگر آپ وفات پاچکے ہوتے تو اللہ تعالیٰ پھر یوں فرماتے: ”بل اماتہ اللّٰہ کہ اللہ نے اسے موت دے دی ہے کیونکہ یہ عبارت مختصر تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی زبانی فرمایا:
ماقلت لہم الا ما امرتنی بہ. مادمت فیہم.
(مائدہ ۱۱۷)
”میں نے کچھ نہیں کہا ان کو مگر جو تو نے حکم کیا کہ بندگی کرو اللہ کی جو رب ہے میرا اور تمہارا اور میں ان سے خبردار تھا جب تک ان میں رہا۔“
ان کا مطلب یہ ہے کہ جب میں ان میں ٹھہرا رہا، پس اگر عیسیٰ بن مریم علیہما السلام فوت ہوچکے ہوتے تو ضروری تھا کہ اس کا جواب اس طرح ہوتا۔ ماقلت لہم الا ما امرتنی بہ مادمت حیا. ”کہ میں نے کچھ نہیں کہا ان کو مگر جو تو نے حکم دیا جب تک میں ان میں زندہ رہا۔“
کیونکہ عیسیٰ ؑ کا ان کے درمیان نہ رہنا آپ کی موت کو مستلزم نہیں ہے۔ تو ثابت ہو گیا کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ابھی تک فوت نہیں ہوئے بلکہ آپ زندہ ہیں اور حضور ﷺ نے فرمایا: ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلا.
(بخاری ص ۳۹۰ ج ۱)
”کہ عیسیٰ بن مریم ؑ تم میں عادل حاکم بن کر نازل ہوں گے۔“
یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ مردہ کا نزول اوپر سے نیچے نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وہ عادل اور فیصلہ کرنے والا ہو سکتا ہے، تو مسیح ؑ کی وفات کا قول باطل ہو گیا اور آپ کی حیات ثابت ہو گئی۔ ایسے ہی حضور ﷺ کا ارشاد ہے:
”ان المسیح بن مریم یمکث فی الارض بعد نزولہ من السماء اربعین سنۃ و یتزوج و یولد لہ.“
”کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام آسمان سے نزول کے بعد زمین میں چالیس سال تک زندہ رہیں گے پھر شادی کریں اور ان کے بچے بھی ہوں گے۔“
یہ دو بہت بڑی قطعی دلیلیں ہیں حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات پر اور آپ کی وفات کے قول کے باطل ہونے پر۔
نیز امت محمدیہ نے اس پر اجماع کیا ہے کہ روح اللہ عیسیٰ بن مریم ؑ آسمان کی طرف زندہ اٹھائے گئے ہیں اور مہدی معہود کے زمانہ میں نازل ہوں گے، اس اجماع کا انکار سوائے جھوٹے نبیوں اور غالی معتزلیوں کے کسی نے نہیں کیا۔ احقر العباد محمد ابراہیم خادم ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد۔ چنیوٹ
”ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فیتزوج، ویولد لہ، و یمکث خمس و اربعین سنۃ، ثم یموت فیدفن معی فی قبری، فاقوم انا، و عیسی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر.“
(مشکوٰۃ ص ۴۸۰)
”کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام دنیا میں تشریف لائیں گے پھر آپ شادی کریں گے اور آپکے بچے بھی
پیدا ہوں گے اور آپ پینتالیس سال تک زندہ رہیں گے پھر وفات پائیں گے اور میرے ساتھ میری قبر میں ہی دفن ہوں گے۔ میں اور عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام دونوں ایک قبر سے ابوبکرؓ و عمرؓ کے درمیان میں سے اٹھیں گے۔“ بروایت مشکوۃ بحوالہ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص ۲۴۰، (مترجم)
- ١٨٧...... الجواب بعون الوهاب، الاجوبة كلها صحيحة.
ولا شک فی ان حياة مسیح ابن مریم عليهما السلام ثابتة بالكتاب والسنة كما قال الله تعالى. ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته و يوم القيامة يكون عليهم شهيدا.“
(نساء ۱۵۹)
وقال صادق المصدوق ﷺ فى تفسير هذه الايه: والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا.
(بخاری ص ۳۹۰ ج ۱)
وقال ﷺ: ليهلن عيسى ابن مريم بفج الروحاء بالحج او العمرة او يثنينهما جميعا.
(مسلم ص ۴۰۸ ج ۱)
فمن انكر من هذه العقيدة الثابتة بالكتاب والسنه واجماع الامه فهو كافر بلا ريب و مرتد کائنا من کان.
ومن شک فی کفر القادیانی و کفر اتباعه فهو ايضا کافر.
تمام جوابات صحیح ہیں۔
اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی حیات قرآن مجید اور حدیث سے ثابت ہے۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے:
”اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سب عیسیٰ ؑ پر یقین لائیں گے اس کی موت سے قبل اور وہ قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔“
اور صادق ومصدوق نبی ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرمایا: ”کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے بہت قریب ہے کہ نازل ہوں گے تم میں ابن مریم (علیہما السلام) عادل حاکم بن کر۔
ایسے ہی حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ضرور ضرور عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) فج روحا سے حج یا عمرہ یا دونوں کا ملا کر احرام باندھیں گے۔“
پس جس نے بھی کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ ﷺ اور اجماع امت کے اس مسلمہ عقیدہ کا انکار کیا تو وہ بلاشک وشبہ کافر و مرتد ہے چاہے وہ کوئی ہو۔ اور جو مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
(حررہ حافظ عبدالقادر روپڑی جامع قدس چوک دالگراں لاہور)
- ١٨٨...... جواب درست ہے اور حق بات قبول کرنے کے زیادہ لائق ہوتی ہے۔ العبد المفتقر الی اللہ محمد شریف عفی عنہ
صدر المدرسین جامعہ سلفیہ فیصل آباد
- ١٨٩...... یہ فتویٰ اسی طرح ہے جیسے دیا گیا ہے۔ محمد یعقوب قریشی جامعہ سلفیہ فیصل آباد
- ١٩٠...... جواب درست ہے۔ بنیامین مدرس جامعہ سلفیہ فیصل آباد
- ١٩١...... جواب درست ہے۔ ابو حفص العثمانی ناظم جامعہ سلفیہ فیصل آباد
۲۰۱...... جواب درست ہے۔ عبدالرحمن بلتستانی استاذ جامعہ سلفیہ۔ فیصل آباد
۲۰۲...... مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت کے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی متعدد وجوہ ہیں۔ دعویٰ نبوت کرنا بجائے خود کفر صریح ہے، ٹھیک اس طرح جس طرح مرزا غلام احمد قادیانی دعوئے نبوت سے پہلے مدعی نبوت کو کافر اور ملت اسلامیہ سے خارج تصور کرتا تھا۔ اس کے علاوہ توہین انبیاء کرام علیہم السلام اور دوسرے متعدد وجوہ ان کے کافر ہونے کے لیے کافی ہیں، انہی وجوہ کفر میں سے مرزا غلام احمد کا حیات مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام سے انکار اور نزول مسیح ؑ کے عقیدہ میں تحریف بھی شامل ہے۔ اعاذنا الله من شر هذه الطائفة المارقة عن الاسلام و دمرها تدميرا. اللہ تعالیٰ ہمیں اس مرتد خارج از اسلام فرقہ کے شر سے بچائے اس کا ملیا میٹ کر دے۔ انا عبده عبدالرحیم اشرف کان الله له جامعہ تعلیمات اسلامیہ فیصل آباد
۲۰۳...... مسئلہ ختم نبوت، حیات مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام امت مسلمہ کا اجماعی مسئلہ ہے، کتاب وسنت میں یہ مسائل مرویہ شرح وبسط سے موجود ہیں، ایسے مسائل میں شک کرنے والا اجماعاً کافر ہے چہ جائیکہ منکر ہو، بلکہ خود مدعی ہو۔ ایسے آدمی کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہے۔ لہٰذا مدعی نبوت مرزا قادیانی کے کفر میں ذرہ برابر بھی شک باقی نہیں ہے۔ عبدالحق صدیقی ۔ جامع مسجد اہل حدیث ساہیوال
۲۰۴...... لكفر القاديانيين وجوه منها اهانة الانبياء و سب السلف ومنها انكار هذه العقيدة التي اجمعت عليها الامة المحمدية اعنى عقيدة نزول المسيح عليه السلام.
(حررہ محمد اسماعیل کان اللہ لہ گوجرانوالہ)
قادیانیوں کے کفر کی بہت ساری وجوہ ہیں۔ انہی میں سے انبیاء کی توہین کرنا اور سلف صالحین کو گالیاں دینا ہے۔ ان میں سے اس عقیدہ کا انکار کرنا بھی ہے جس پر امت محمدیہ نے اجماع کیا ہے یعنی نزول مسیح ؑ کا عقیدہ۔
۲۰۵...... بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سیدنا عیسیٰ ؑ قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا زندہ رہ کر فوت ہوں گے اور آنحضرت ﷺ کے روضۂ انور میں بقایا جگہ میں دفن ہوں گے۔ یہی عقیدہ کتاب وسنت سے ثابت ہے۔ تحریر کنندہ محمد حسین، شیخوپورہ
۲۰۶...... الذين ينكرون الاحاديث الصحيحة والآيات الصريحة فانهم كافرون بالاتفاق والاجوبة كلها صحيحة. جو لوگ احادیث صحیحہ اور آیات صریحہ کا انکار کرتے ہیں وہ بالاتفاق کافر ہیں اور تمام کے تمام جوابات درست اور صحیح ہیں۔
(محمد صدیق جامع مسجد اہل حدیث امین پور بازار فیصل آباد)
۲۰۷...... علامہ شیخ عبدالعزیز بن باز نے جو فرمایا ہے احقر راقم کو اس سے حرف بحرف اتفاق ہے۔ شیخ شلتوت وغیرہ حضرات کی شاید اس اہم امر کی طرف توجہ نہیں گئی کہ قرب قیامت کے وقت نزول حضرت عیسیٰ ؑ کے مسئلہ کا تعلق، رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئیوں میں سے ہے، رسول اکرم ﷺ کی رسالت کے ساتھ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اخبار ماضیہ میں آپ کی تصدیق ایمان بالنبوۃ کا ایک ضروری جزو ہے ایسے ہی اخبار آتیہ (پیش گوئیوں) کے اوپر ایمان بھی ایمان بالرسالۃ کا ایک جزو ہے، جب تک ان کو مانا نہیں جائے گا، ایمان بالرسالۃ صحیح
اور معتبر نہیں ہوگا اس اعتبار سے یہ مسئلہ ہرگز فرعی نہیں ہے (بلکہ یہ تو) اصول دین میں سے ہے۔ رہا اس کا ثبوت تو بقول علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اس میں انتیس احادیث وارد ہیں۔ ان کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
فهذه تسعة و عشرون حديثاً تنضم اليها احاديث اخر ذكر فيها نزول عيسى عليه السلام منها ماهو مذكور في احاديث الدجال ومنها ماهو مذكور في المنتظر و تنضم اليها ايضا الاثار الواردة عن الصحابة فلها حكم الرفع اذ لا مجال للاجتهاد فى ذلك و جميع ما ذكرناه بالغ حد التواتر والاحاديث الواردة في نزول عيسى عليه السلام متواترة، نقله نواب صدیق حسن خان.
”یہ انتیس حدیثیں ہیں، ان میں وہ احادیث بھی شامل کی جائیں گی جن میں حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کا ذکر ہے، ان میں سے بعض وہ حدیثیں ہیں جو دجال کے متعلق وارد ہوئی ہیں اور بعض وہ ہیں حضرت مہدی ؑ کے بارے میں آئی ہیں، ان کے ساتھ صحابہ کرام کے وہ اقوال بھی شامل کیے جائیں گے جو اس سلسلہ میں منقول ہیں ان کا حکم بھی مرفوع کا حکم ہوگا اس لیے کہ اس میں تو اجتہاد کی گنجائش ہی نہیں ہے اور جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے وہ تواتر کی حد کو پہنچا ہوا ہے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے متعلق وارد حدیثیں بھی متواتر ہیں ۔“
ایسے (قادیانی) حضرات علم کے مسکین تو خیر ہیں ہی، ادعائے عقل کے باوجود عقل کی مسکنت کا یہ حال ہے کہ حضرت مسیح ؑ کی قبر کو کشمیر میں قرار دیتے ہیں اور ثبوت میں مرزا قادیانی کی دجل آمیز تحریر پیش کرتے ہیں یعنی اس کذاب کو دلیل میں پیش کرتے ہیں جس نے سارا چکر ہی اس لیے چلایا، ان کی فکری لغزش کا یہ حال ہے کہ محدثین کی احادیث میں تو ٹیڑھ نکالتے ہیں اور مرزا قادیانی کی روایات کو برقرار رکھتے ہیں۔ انا للہ، بہر صورت شیخ کی تحقیق صحیح ہے۔ والله الموفق للصدق والصواب
محمد عطاء الله حنیف مكتبه السلفیہ لاہور یکم جمادی الاولی ١٣٨٥ھ
۲۰۸...... الحمد لله و كفى والصلواة والسلام على خاتم الانبياء محمد المصطفى و على آله المجتبى واصحابه الكرماء: امابعد
فان الفرقة الطاغية الباغية اللعينة اللاهية الواهية بل المرتدة المرزائيه التي تنكر الشعائر الاسلاميه والشرائع الدينيه من الجهاد في سبيل الله و ختم النبوة على خاتم النبيين صلى الله عليه و آله و اصحابه و سلم وحياة عيسى بن مريم على نبينا و عليهما الصلواة والسلام و تصغير الانبياء عليهم الصلواة والسلام و تفوقه على نبينا لما قصده حسب تقوله على جميع الانبياء عليهم الصلواة والسلام، واتفقت الامة قاطبة على تكفير من يقول مثل كلماته الواهيه الكفريه الخبيثه، بل اتفقت الامة المرحومة على تكفير من لم يكفر هذه الفئة الشنيعة. والله تعالى هو الهادى الى الصراط المستقيم. وانا عبده قمر الدین سیالوی سیال شریف ضلع سرگودھا یوم العرفہ ۱۳۸۹ھ
”سرکش مرزائی بیہودہ سیاہ کارناموں والی بد کار بلکہ مرتد جماعت جس نے اسلامی شعائر اور جہاد فی سبیل اللہ اور حضور ﷺ کی ختم نبوت حضرت عیسیٰ بن مریم علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام کی حیات کا انکار کیا۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کی تحقیر کی بلکہ اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے آپ ﷺ پر برتری کا دعویٰ کیا۔ جیسا کہ اس نے دیگر تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر جھوٹ باندھے، پوری امت نے اس جماعت جیسے کفریہ عقائد رکھنے والے اور اس جیسے جھوٹ اور کفریہ کلمات انبیاء علیہم السلام کی شان میں بکنے والے گروہ کے کفر پر اتفاق کیا ہے بلکہ
امت مرحومہ نے اس جیسے شنیع کفریہ عقائد رکھنے والے ٹولہ کو کافر نہ کہنے والے لوگوں کے کفر پر بھی اتفاق کیا ہے۔
- ۲۰۹...... حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی حیات اور قیامت کے قریب آپ کے نزول میں کوئی شک نہیں ہے۔
احقر مفتی غلام رسول غفرلہ دارالعلوم نعیمیہ کمپنی باغ سرگودھا۔
- ۲۱۰...... فقیر کی تحقیق میں قرآن وحدیث کے موافق حیات حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام صحیح و ثابت و
مبین ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسدی و سماوی اور ان کے آسمان سے قرب قیامت تشریف لانے کا منکر قرآن وحدیث کا مکذب ہے۔ مسلمانوں کا اس سے تعلق حرام ہے۔ واللہ اعلم محمد عمر اچھروی ۔ ۲۰ رجب المرجب ۱۳۸۵ھ
- ۲۱۱...... الحمد للہ الذی وفق عبادہ العلماء لحفظ دینہ، والصلوٰۃ والسلام علی حبیبہ المصطفیٰ
خاتم الانبیاء الذی امر امتہ واکدھم ان یبذلوا کل ما یحبونہ فی سبیل اقامۃ دینہ و علیٰ آلہ و اصحابہ و علماء ملتہ الی یوم الدین.
اما بعد! فقد اطلعت علی ما کتب افضل العلماء فی تکفیر غلام احمد القادیانی و ابطال ہفواتہ الشنیعۃ واشنعہا انکار عقیدۃ حیاۃ المسیح علیہ السلام و اتفق مع ہولاء الابرار اتفاقاً کاملاً و ہذا ہو الحق الابلج الصریح و خلافہ خروج من الملۃ الاسلامیۃ و وقانا اللہ تعالیٰ من شرور اعداء الدین و رزقنا اتباع الحق وہو الموفق. وہو الہادی الی سواء السبیل. حررہ محمد کرم شاہ چیئرمین ہلال کمیٹی۔ بھیرہ۔ سرگودھا
’’میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تکفیر کے متعلق علمائے کرام کے فتویٰ اور اس کے بے ہودہ گندے عقائد کے تردیدی دلائل کا مطالعہ کیا، اس کا قبیح ترین عقیدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے انکار کا عقیدہ ہے، میں ان علماء کرام کے فتویٰ کے ساتھ پورا اتفاق کرتا ہوں اور یہی صاف واضح روشن حق ہے اور اس کے خلاف عقیدہ رکھنا ملتِ اسلامیہ سے نکلنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کے دشمنوں کے شر سے محفوظ فرمائیں۔ وہی ہدایت کی توفیق دینے والے ہیں اور سیدھا راستہ دکھانے والے ہیں۔‘‘
- ۲۱۲...... بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حامداً و مصلیا و مسلماً.
من انکر حیاۃ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام و انکر رفعہ الی السماء مع جسدہ و روحہ علیہ الصلوٰۃ والسلام فقد ضل ضلالاً بعیداً و خسر خسرانا مبینا، فلا شک فی ان حیاتہ و رفعہ الی السماء ثم نزولہ الی الارض قبل یوم القیامۃ مما ثبت بالکتاب والسنۃ و اتفق علیہ جماہیر الامۃ من السلف والخلف، فما ذا بعد الحق الا الضلال، نسال اللہ تعالیٰ السلامۃ من فتنۃ المسیح الدجال. واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ اتم و احکم. وانا الفقیر السید احمد سعید الکاظمی الامروھوی غفرلہ۔ جامعہ انوار العلوم ملتان۔ ۲۵ ذی الحجہ ۱۳۸۴ھ
’’جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آپ کے اپنے جسد عنصری اور روح کے ساتھ آسمان کی طرف رفع کا انکار کرے وہ بہک کر دور جا پڑا اور وہ بڑے صریح نقصان میں ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آسمان کی طرف آپ کا رفع پھر قیامت کے قریب آپ کا نزول قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور متقدمین و متاخرین سب علماء نے اس پر اتفاق کیا ہے۔ پس حق کے بعد تو گمراہی ہی باقی رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مسیح دجال کے فتنہ سے محفوظ فرمائیں۔‘‘
- ۲۱۳...... یہ فتویٰ اسی طرح ہی ہے اور میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ العبد محمد حسین نعیمی ناظم الجامعہ النعیمیہ لاہور
۲۱۴...... جواب صحیح ہے۔ العبد المفتقر الی الله الصمد. فیض احمد عفی عنہ خادم دارالافتاء والتدریس جامعہ غوثیہ، گولڑہ شریف ۳-۷-۱۹۶۵م
۲۱۵....... جواب درست ہے۔ احقر محمد خلیل صدر المدرسین جامعہ قادریہ رحیم یار خان
۲۱۶....... الحمد لحضرة الجلاله والصلوة علی خاتم الرسالة. تمام تعریفیں رب ذوالجلال کے لیے ہیں اور درود وسلام ہوں نبی خاتم الرسالت پر۔ ان عقيدة حياة سيدنا المسيح عيسى بن مريم عليهما الصلوة والسلام و نزوله قبل الساعة مما اجمعت عليها الامة الاسلاميه اجماعاً قاطعاً من عهد الصحابة الى يومنا هذا نسلاً بعد نسلٍ و خلفا عن سلف لقد تواتر الآثار و النصوص فى نزول عيسى عليه السلام والقول بوفاته عليه السلام تلبيس فى القرآن و تحريف فى الاحاديث و خرق للاجماع. وافتراء ات المسيح الدجال القاديانى زعيم الكفر والالحاد فى ذلك الباب مما يمجه السمع و يستقبحه العقل. ويستنكره النقل ولا يعبا بهفواته فى الاخبار وهذيانه فى الدين، وتخليطه فى العقائد القاطعه. كان واجبا مستمرا، فلله در المجيب لقد اصاب واجاد فى الجواب و شكر الله مساعى ناشره الاستاذ الفاضل مولانا منظور احمد چنيوتى و سائر من قاموا بنصرة الدين القويم والذب عن حوزة الاسلام و حفظ بيضة الاسلام عن شرور هولاء الزنادقة والملاحدة. واللہ اعلم عبدالحق غفرلہ اکوڑہ خٹک، مغربی پاکستان
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور قیامت سے پہلے آپ کے نزول کا عقیدہ ان مسائل میں سے ہے جن پر صحابہ کرام کے دور کے پہلے دن سے لے کر آج تک قطعی اجماع چلا آ رہا ہے اور سلف صالحین سے لے کر آج کے دور تک نسل بہ نسل یہی عقیدہ چلا آیا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر احادیث اور دلائل قطعیہ تواتر کے ساتھ موجود ہیں، اور آپ کی وفات کا قول گھڑنا تو قرآن مجید کی حقیقت کو چھپانا اور احادیث میں تحریف کرنا ہے۔“
بلکہ یہ تو اجماع کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے۔ کافروں اور ملحدوں کے سردار کانے دجال مرزا قادیانی کی بہتان تراشیاں تو ایسی لچر ہیں کہ کان انھیں سننے سے گھبرائیں اور عقل اس کی بیہودگیوں سے نفرت کرے اور نقل ان سے کراہت کرے اس کے بکواسات کی روایت تو پر کاہ کی حیثیت نہیں رکھتی، اور اس کی یاوہ گوئیوں کے لیے دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے، قطعی دلائل میں گڑبڑ کرنا اس کی مستقل عادت تھی۔ اللہ تعالیٰ فتویٰ دینے والے کو جزائے خیر عطاء فرمائیں انھوں نے فتویٰ تحریر کرنے میں کمال ہی کر دیا ہے، اور اس فتویٰ کے نشر کرنے والے استاد محترم مولانا منظور احمد چنیوٹی اور جنھوں نے بھی اس سچے دین کی مدد کی ہے اور اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کی ہے ان سب کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائیں اور اسلام کے قیمتی جوہر کو ان زندیقوں اور ملحدوں کے فتنوں سے محفوظ فرمائیں۔“
۲۲۱....... جواب بالکل حق ہے اور حق بات زیادہ لائق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ انوار الدین غفرلہ رئیس دارالافتاء دارالعلوم اکوڑہ خٹک
۲۲۲....... الجواب مما نطق به الكتاب و بلغ الاحاديث فى بابه تواتراً معنويا، فهو من الاعتقادات الاسلاميه. احقر الانام عبدالغنی عفا اللہ عنہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک
جواب بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید نے بیان کیا ہے اور اس سلسلہ کی احادیث تواتر معنوی کے
درجے کو پہنچی ہوئی ہیں اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ اسلام کا بنیادی عقائد میں سے ہے۔
- ۲۲۳...... جواب درست ہے۔ احقر عبدالعلیم استاذ دارالعلوم حقانیہ
- ۲۲۴...... جواب بالکل صحیح اور درست ہے۔ محمد شفیع اللہ استاذ دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک
- ۲۲۵...... جواب درست ہے۔ محمد اسحاق ڈسٹرکٹ خطیب ایبٹ آباد ۳۰ اپریل ۱۹۶۵ء
- ۲۲۶...... بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
من عقائدنا القاطعۃ عقیدۃ حیاۃ سیدنا المسیح بن مریم کلمۃ اللہ و روحہ و نزولہ قبل یوم القیامۃ. واقوال الشقی غلام احمد القادیانی (ماولدت الام الھندیہ اشئم منہ) و تلبیسات بعض المستغربہ و المتنورین فی رفع المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام و نزولہ و حیاتہ مما لا توافق الدین ولا یتحملہ الاسلام. جزی اللہ ناشر الکتاب و مؤلفھا، اوید الجواب منشدا بابیات الامام محمد انور شاہ الکشمیری علیہ رحمہ اللہ فی (کتابہ) عقیدۃ الاسلام صدع الصدیع و صحیحہ بالوادی، لمن اھتدی من حاضر اوبادی، بالکادیانی ذلک الاخر الذی امسی زعیم الکفر والا الحاد ابان عن کفر ینوء بعصبتہ و یبوء بالاغلال والاصفاد واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم.
(سمیع الحق چیف ایڈیٹر ماہنامہ ”الحق“ ۲۳ ذیقعدہ ۱۳۸۵ھ)
”سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور قیامت سے قبل ان کے نزول کا عقیدہ ہمارے بنیادی ٹھوس عقائد میں سے ہے ۔“
”مرزا قادیانی (کہ اس جیسا منحوس بیٹا کسی ہندوستانی عورت نے نہ جنا ہوگا) کے اقوال اور مغربی تہذیب کے بعض دلدادوں اور روشن خیال لوگوں کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، رفع ، پھر آپ کے نزول کے متعلق جو جعلسازیاں ہیں وہ دین کے ساتھ بالکل مطابقت نہیں کھاتیں اور نہ ہی اسلام اس طرح کی تحریفوں کو برداشت کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس فتوٰی کے مؤلف اور ناشر کو جزائے خیر عطا فرمائیں، میں اس جواب کی تائید امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی کتاب عقیدۃ الاسلام کے ان اشعار سے کرتا ہوں۔ اعلان کرنے والے نے زور دار آواز دی جو گونج رہی ہے وادی میں ۔ ہر شہری اور دیہاتی کو جو ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ خبر دی کہ مرزا قادیانی یہ وہی آخری جھوٹا ہے۔ جو کفر اور بے دینی کا لیڈر بن چکا ہے۔ اور اس نے ایسا کفر بولا ہے کہ جو ایک مضبوط جماعت پر بھاری ہے اور لوٹتا ہے ہتھکڑیوں اور طوقوں کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ ہی سیدھے راستے کی ہدایت دیتے ہیں جسے چاہیں۔“
- ۲۲۷...... جواب صحیح ہے اس کی مخالفت کرنے والا رسوا ہوگا۔ احقر خلیل الرحمٰن مدرسہ سکندر پور ہری پور ہزارہ ڈویژن
- ۲۲۸...... جواب بالکل ٹھیک ہے اور کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ کے بالکل مطابق ہے۔
سراج الدین خطیب جامع مسجد مولانا صالح محمد صاحب مرحوم و نائب مہتمم دارالعلوم عربیہ نعمانیہ۔ ڈیرہ اسماعیل خان
- ۲۲۹...... جواب دینے والا بالکل حق کو پہنچا ہے۔ غلام حسین صدر المدرسین دارالعلوم نعمانیہ
- ۲۳۰...... جواب دینے والے نے درست فتویٰ دیا ہے۔ قاضی محمد اسرائیل صدر المدرسین مدرسہ دارالعلوم محمدیہ بالاکوٹ ہزارہ
- ۲۳۱...... جواب درست ہے۔ محمد عبداللہ خالد خطیب جامع مسجد مانسہرہ۔ ہزارہ
- ۲۳۲...... جواب دینے والے نے درست فتوٰی دیا ہے۔ عبدالحئی امام مسجد محلہ تاڑی مانسہرہ، ہزارہ
۲۳۳...... جواب بالکل حق ہے۔ محمد نعمان مانسہرہ۔ ہزارہ ۲۵ ربیع الاول ۱۳۸۵ھ
۲۳۴...... حياة عيسى بن مريم عليهما السلام و رفعه الى السماء و نزوله الى الارض عند قرب الساعة ثابت بالكتاب والسنة واجماع الامة كما فى شرح العقيدة و روح المعانى، فمن انكر فهو مكذب لله ولرسوله، ومرتد خارج عن الاسلام. هذا هو الصواب الذى لم يخالفه احد من المسلمين من عهد النبوة الى يومنا هذا. عبدالصمد شمس الحق افغانی
”حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کی حیات اور آپ کا رفع قیامت کے قریب آپ کا نزول کتاب اللہ سنت رسول اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ جیسا کہ شرح العقیدہ اور روح المعانی میں موجود ہے، تو جو اس عقیدہ کا انکار کرے گا وہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرنے والا ہوگا بلکہ وہ مرتد اور اسلام سے خارج ہوگا۔ یہی صحیح قول ہے اور حضور ﷺ کے زمانہ سے لے کر آج تک کسی مسلمان نے اس عقیدہ کی مخالفت نہیں کی۔“
۲۳۵...... جواب درست ہے اور فتویٰ دینے والا حق کو پہنچا ہے۔ مفتی محمد عبدالقیوم۔ پشاور
۲۳۶...... جواب درست ہے اور جواب دینے والا حق کو پہنچا ہے۔ فضل الرحمٰن سابق پروفیسر اسلامیہ کالج پشاور فاضل دیوبند۔ ۱۰ ذی القعدہ ۱۳۸۵ھ
۲۳۷...... جواب بالکل حق ہے۔ عبداللطیف مفتی دارالعلوم۔ سرحد
۲۳۸...... جواب بالکل حق ہے۔ عزیز الرحمٰن کان اللہ لہ امیر جمعیت علمائے اسلام ضلع پشاور
۲۳۹...... جواب صحیح ہے۔ پیر مبارک شاہ فاضل دیوبند۔ ناظم جمعیت علماء اسلام صوبہ سرحد
۲۴۰...... یہ فتویٰ اسی طرح ہی ہے۔ زین العابدین سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ پشاور
۲۴۱...... جواب قرآن مجید احادیث نبویہ اجماع امت اور ائمہ مجتہدین کے قول کے بالکل مطابق ہے جو اس میں شک کرے گا وہ کافر ہوگا۔ فضل اللہ صدر المدرسین و شیخ الحدیث مدرسہ ربانیہ ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۸۵ھ
۲۴۳...... ما اجاب به المجيب فهو حق و صواب، وما خالف منه فهو باطل صريح، والنصوص فى هذه المسئلة مذكورة فى القرآن و السنة و فصلها علماء الشريعة فى كتبهم و دواوينهم. ومسئلة حياة سيدنا عيسى عليه السلام و رفعه الى السماء بجسده العنصرى من المسائل المتواترة فى الشريعة فما كان حكمها فى الشريعة فهو حكم هذه المسئلة. واللہ اعلم محمد یوسف کان اللہ لہ ۹ ذی القعدہ ۱۳۸۵ھ۔
”مفتی صاحب کا فتویٰ بالکل درست ہے اور جس نے اس کی مخالفت کی ہے وہ بالکل جھوٹا ہے، باقی اس مسئلہ کے دلائل قرآن و سنت میں موجود ہیں۔ اور اہل شریعت نے اپنی کتابوں اور تصانیف میں ان کی خوب وضاحت کی ہے۔
”اور حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور اپنے جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر تشریف لے جانا شریعت کے متواتر مسائل میں سے ہے، پس جو حکم شریعت میں دیگر مسائل متواترہ کا ہے وہی حکم اس مسئلہ کا بھی ہے۔“
۲۴۴۔ جو جواب مفتی صاحب نے دیا ہے وہی حق ہے اور حق کی ہی تابعداری کرنی چاہیے۔ بادشاہ گل بخاری مہتمم جامعہ اسلامیہ اکوڑہ خٹک ۱۰ ذی القعدہ ۱۳۸۵ھ
۲۴۵...... جواب درست ہے۔ عبدالکریم غفرلہ مدرسہ نجم المدارس ڈیرہ اسماعیل خان
۲۴۶...... جواب صحیح ہے۔ غلام رسول عفا اللہ عنہ خلیفہ مجاز حضرت مولانا احمد علی لاہور۔ ڈیرہ اسماعیل خان
۲۴۷...... جواب صحیح ہے۔ محمد عبداللہ ۔ خادم عظیم ڈیرہ قبرستانی مسجد ۲۴۸...... جواب صحیح ہے۔ عبدالرؤف خادم الحدیث النبوی دارالعلوم چارسدہ ۲۴۹...... جواب صحیح ہے۔ محمد لطف اللہ سابق استاذ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی و خطیب جامع مسجد جہانگیر، ضلع مردان ۲۵۰...... جواب صحیح ہے۔ سید گل بادشاہ۔ امیر جمعیت علماء اسلام۔طورو ضلع مردان ۲۵۱...... جواب صحیح ہے۔ محمد ایوب جان بنوری پشاور ۲۵۲...... جواب صحیح ہے۔ احقر۔ اسلام الدین ناظم دارالعلوم تور ڈھیر صوابی۔ ضلع مردان
۲۵۳...... سئلت عن نزول عيسى عليه السلام قرب القيامة. ”مجھ سے حضرت عیسیٰ ؑ کے قیامت کے قریب نزول کے بارے میں پوچھا گیا۔“
فاقول نزول عيسى عليه السلام من موجبات الدين ومن الامور التى دلّ عليها القرآن والاحاديث الصحيحة. و على هذه العقيدة كان مشائخنا الذين كانوا من اعلام الدين مثل شيخ المشائخ مولانا حسين على والعلامة مولانا عبيدالله السندهى وما ينكر نزوله عليه السلام قرب القيامة واتيانه من السماء الا الجاهلون بالكتاب والسنة عصمنا الله سبحانه من هذه العقيدة.
احقر محمد طاہر دارالقرآن پنج پیر تحصیل صوابی ضلع مردان ۲۲ ربیع الاوّل
”تو میں نے جواب دیا کہ عیسیٰ ؑ کا نزول ضروریات دین میں سے ہے اور یہ ان امور میں سے ہے جن پر قرآن مجید اور احادیث صحیحہ دلالت کرتی ہیں۔ ہمارے مشائخ کرام جو علم دین کے پہاڑ تھے جیسے حضرت مولانا حسین علی، مولانا عبیداللہ سندھی ہیں ان سب کا بھی یہی عقیدہ تھا اور عیسیٰ ؑ کے قیامت کے قریب نزول کا انکار سوائے جاہلوں کے اور کوئی نہیں کرتا جو قرآن مجید اور علوم نبویہ کی نعمت سے محروم ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں آپ کے نزول کے انکار والے عقیدہ سے محفوظ فرمائیں۔“
نوٹ...... اس ضمن میں امام انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھی کی رائے پر بعض لوگوں کو شبہ ہوا تو ان کے شاگرد رشید شیخ التفسیر مولانا محمد طاہر نے ان الفاظ کے ساتھ تردید فرمائی۔
”حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول اور وفات کے بارے میں ”الہام الرحمٰن میں جو قول مولانا عبیداللہ رحمتہ اللہ علیہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ کاتب اور املاء والے کا خود ساختہ قول ہے، بندہ نے جو کافی عرصہ تک مولانا کے پاس مکہ معظمہ میں رہ کر تلمذ کیا ہے مولانا مرحوم حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے قائل تھے، البتہ وہ مسلمانوں پر افسوس اور حسرت کرتے تھے کہ مسلمانوں نے اس کو تکیہ بنا کر جدوجہد اور جہاد چھوڑ دیا ہے، اور مولانا کا خود نوشتہ رسالہ ”عبیدیہ“ بھی الہام الرحمٰن کی روایت کا رد کرتا ہے۔ بندہ نے کئی مجالس میں اور بارہا مولانا مرحوم سے نزول عیسیٰ ؑ کا امور دین سے ہونا سنا ہے۔“
۲۵۴...... بسم الله الرّحمٰن الرّحیم اصبح امر نزول سيدنا عيسى ابن مريم من السماء عقيدة مقطوعة بين الامة المحمدية بنص التنزيل العزيز ثم بضم الاحاديث المتواترة و اجماع الامة اصبحت دلالة القرآن قطعية على
النزول فالانکار والتردد والتاويل على ذلك موجب للكفر والالحاد، فكما ان قيام الساعة امر مقطوع فكذلك الاشراط المقطوعة قبلها الايمان بها واجب و بالجملة قد اتفقت الامة المحمدية سلفا و خلفا على عقيدة النزول والايمان بها واجب والانكار عنها كفر والتاويل في ضروريات الدين غير مسموع، بل يرادف الكفر كما صرح به علماء الامة المحققون في كل عصر . والله يهدی الی الحق . کتبہ محمد یوسف البنوری مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی ۵
”حضرت عیسیٰ بن مریمؑ کے آسمان سے نازل ہونے کا عقیدہ امت محمدیہ کے نزدیک بنص قرآنی قطعی اور یقینی عقیدہ بن چکا ہے۔ پھر احادیث متواترہ اور اجماع امت کے اس کے ساتھ مل جانے سے تو قرآن کی دلیل مسئلہ نزول پر اور بھی قطعی بن گئی ہے۔ پس اس کا انکار کرنا اور اس میں شک اور تردد کرنا یہ سب موجب کفر اور الحاد ہیں، جس طرح قیامت کا قائم ہونا یقینی امر ہے تو اس سے قبل اس کی سچی نشانیوں پر ایمان لانا بھی واجب ہے۔ بالجملہ امت محمدیہ کا سلف صالحین سے لے کر آج تک حضرت عیسیٰؑ کے نزول پر اتفاق چلا آیا ہے۔ اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور اس سے انکار کرنا کفر ہے اور ضروریات دین کے انکار کرنے کی اجازت بالکل نہیں دی جاسکتی، بلکہ یہ تو کفر کے مترادف ہے جیسا کہ امت کے محققین علماء نے ہر دور میں اس کی وضاحت کی ہے۔“
۲۵۴...... جواب درست ہے۔ ولی حسن ٹونکی رئیس دارالافتاء، مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی ۵ ۲۵۵...... جواب دینے والا بالکل حق کو پہنچا ہے۔ فضل محمد مدرسہ عربیہ اسلامیہ۔ کراچی ۵ ۲۵۶...... جواب درست ہے۔ محمد ادریس استاذ الحدیث مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی ۵ وصدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان ۲۵۷...... جواب دینے والا حق کو پہنچا ہے۔ عبدالجلیل مدرس مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی ۵ ۲۵۸...... جواب درست ہے۔ محمد بدیع الزمان استاد مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی ۲۵۹...... جواب درست ہے۔ مصباح اللہ شاہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی ۲۶۰...... بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اصاب المجيب العلام فللّه درّه حيث اوضح الحق ولم يترك للمنكرين والمؤولين حجة كيف وان حياة عيسى بن مريم عليهما السلام و نزوله فى آخر الزمان من ضروريات الدين الثابتة بنص الكتاب والسنة المتواترة كما اوضحته فى كتابى التصريح بما تواتر فى نزول المسيح. ومعلوم عند الكل ان انكار شئ من ضروريات الدين او تاويله خلاف ماثبت بالتواتر کفر بواح . والله سبحانه و تعالى اعلم. محمد شفیع دارالعلوم ۔ کراچی ۱۴ ربیع الاول ۱۳۸۵ھ۔
جواب دینے والے نے بالکل صحیح فتویٰ دیا ہے اللہ ان کی اس قابل قدر محنت کو قبول فرمائیں انھوں نے تو حق بالکل واضح کر دیا ہے اور اس عقیدہ کا انکار کرنے والے اور اس میں تاویلوں کا دروازہ کھولنے والوں کے لیے کوئی راہ فرار نہیں چھوڑی۔ اس عقیدہ سے انکار کیسے ہو سکتا ہے جبکہ حیات عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اور آپ کا آخر زمانہ میں نازل ہونا ضروریات دین میں سے ہے۔
جیسا کہ میں نے اسے اپنی کتاب التصریح بما تواتر فی نزول المسیح میں وضاحت سے بیان کر دیا ہے اور یہ مسئلہ تو سب کو معلوم ہے کہ ضروریات دین میں سے کسی ایک چیز کا انکار کرنا یا جو چیز تواتر سے ثابت ہو چکی اس
میں تاویل کرنا تو بالکل کھلم کھلا کفر ہے۔ باقی اللہ رب العزت بہتر جانتے ہیں۔‘‘
- ۲۶۱......سیدنا عیسیٰ ؑ کا رفع جسمانی اور قرب قیامت (میں) ان کا نزول قرآن مجید ، احادیث متواترہ اور اجماع
امت سے ثابت ہے اور یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے، جو اس اجماعی عقیدہ ثابت بالکتاب والسنۃ کا انکار کرے یا اس میں کسی قسم کی تاویل کرے گا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ العبد الاحقر عبدالرحمن کیمبل پوری استاذ دارالعلوم ٹنڈواللہ یار
- ۲۶۲...... بعد الحمد والصلوة ان کفر مسیلمة البنجاب متفق علیه بین العلماء و اولی الالباب و
حياة سيدنا عيسى بن مريم عليهما السلام فى السماء مجمع عليها بين الامة لاخلاف فيه لاحد من الائمة و كذا نزوله عليه السلام فى آخر الزمان ثابت بالكتاب والسنة و اجماع الامة، من انكره فقد کفر و یعذبه الله العذاب الاکبر. وانا العبد المفتقر الی رحمة ربه الصمد. ظفر احمد عثمانی تھانوی ۲۷ ذی القعدہ ۱۳۹۵ھ۔
’’حمد وصلوٰۃ کے بعد پنجاب کے مسیلمہ کذاب (مرزا قادیانی) کا کفر علماء اور اہل عقل کے نزدیک بالکل متفق علیہ ہے، اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے آسمان میں زندہ موجود ہونے پر امت کا اجماع ہے اس میں امت کے کسی فرد نے اختلاف نہیں کیا، ایسے ہی آخر زمانہ میں آپ کا نازل ہونا کتاب اللہ سنت رسول اور اجماع سے ثابت ہے، جو بھی اس عقیدہ کا انکار کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑا عذاب دیں گے۔ میں تو ہوں بے نیاز رب کا محتاج بندہ۔‘‘
- ۲۶۳...... جواب درست ہے۔ نور محمد غفرلہ مہتمم مدرسہ ہاشمیہ۔ سجاول۔ ضلع ٹھٹھہ (سندھ)
- ۲۶۴...... الجواب موافق لاجماع الامة والسنة والكتاب ان مسيلمة الفنجاب ملحد كافر بلا
ارتیاب انه قد اختلق فی الدین فریة و انکر ما اخبر به خیر البریة فحكمه حكم المرتدین بلا خلاف بین المسلمین۔ العبد الاحقر محمد وجیہہ غفرلہ صدر مفتی دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈو اللہ یار۔
’’جو جواب دیا گیا ہے وہ اجماع امت سنت مطہرہ اور کتاب اللہ کے بالکل موافق ہے اور مسیلمہ پنجاب دجال بلاشک وشبہ ملحد اور کافر ہے اس لیے کہ اس نے دین میں نئی چیزیں گھڑ کر داخل کر دی ہیں اور جس چیز کی خبر افضل البشر نے دی ہے اس کا انکار کر دیا ہے تو مسلمانوں کے نزدیک اس کا حکم مرتدین کا سا حکم ہے۔‘‘
- ۲۶۵...... جواب دینے والے نے درست فتویٰ دیا ہے۔ احتشام الحق تھانوی مہتمم دارالعلوم الاسلامیہ، ٹنڈواللہ یار
- ۲۶۶...... حامداً و مصلیا و بعد!
فلا شک فی ان متنبی قادیان المیرزا غلام احمد ومن آمن به كلهم خارجون عن الاسلام کفار مرتدون حكمهم كحكم مسيلمة الكذاب ومن تبعه. وحياة عيسى عليه السلام و نزوله فى آخر الزمان مما اتفق عليه الامة و شهد عليه التنزيل و جاءت به الاحاديث فمن انكر فقد كفر. كتبه الفقير الیہ تعالیٰ محمد عبدالرشید نعمانی کراچی۔ ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۸۲ھ۔
”حمد و درود کے بعد! اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیان کا جھوٹا نبی مرزا غلام احمد اور جو اس کے اوپر ایمان لائے ہیں وہ سب کے سب اسلام سے خارج ہیں وہ کافر اور مرتد ہیں۔ ان کا حکم مسیلمہ کذاب اور اس کے متبعین جیسا ہے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آخر زمانہ میں آپ کے نزول پر امت نے اتفاق کیا ہے اور اللہ کی کتاب اس پر شاہد ہے اور اس کے ثبوت میں بہت سی احادیث موجود ہیں پس جو اس عقیدہ کا انکار کرے گا وہ کافر ہے۔“
- ۲۶۷...... جواب صحیح ہے۔
تاج الدین بسمل نقشبندی مہتمم جامعہ نقشبندیہ معارف القرآن احرار نگر پڈعیدن ۲ ربیع الثانی ۱۳۸۹ھ
- ۲۶۸...... والحق ان الفرقة المعروفة بمرزائى منكرون للاجماع الثابت بالقرآن والحديث على
المسئلتين احداهما نزول عيسى عليه الصلوة والسلام واخراهما العقيدة بختم النبوة على سيدنا خير الرسل والبشر محمدﷺ فلهذا هم كافرون بالبداهة لاخفاء في كفرهم. احقر العباد امداد اللہ مفتی دار الہدیٰ ٹھیڑی ۲ ربیع الثانی ۱۳۸۹ھ۔
”صحیح قول یہ ہے کہ مرزائی فرقہ قرآن مجید اور حدیث کے دو اجماعی مسئلوں کا منکر ہے۔ پہلا مسئلہ نزول عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا۔ دوسرا مسئلہ نبیوں کے سردار سید البشر حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کا۔ لہٰذا یہ لوگ چونکہ دونوں عقیدوں کے منکر ہیں اس لیے یہ کھلے کافر ہیں ان کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے۔“
- ۲۶۹...... اس فتویٰ میں کوئی شک نہیں ہے۔ العبد الفقیر الی اللہ ابو اسد اللہ محمد امین مدرس جامعہ عربیہ دار الہدیٰ ٹھیڑی، خیرپور
- ۲۷۰...... جواب درست ہے۔ ابو محمد سلطان احمد میانوالی مدرس شعبہ تعلیم القرآن۔ مدرسہ دار السلام کراچی نمبر ۲۴/۳/۱۹۶۵م
- ۲۷۱...... جواب صحیح ہے۔
عزیز احمد مدرس دار الہدیٰ ٹھیڑی
- ۲۷۲...... جواب دینے والا بالکل حق کو پہنچا ہے۔
فضل اللہ مہتمم جامعہ دار الہدیٰ ٹھیڑی
- ۲۷۳...... جواب بالکل حق ہے۔
احقر عبد الکریم مدرسہ اشرفیہ سکھر ۱۳۸۹/۵/۱۲ھ
- ۲۷۴...... عقيدة حياة عيسى عليه و على نبينا (افضل) الصلوة والسلام ثابتة بالنصوص الصريحة
وبالاجماع فالمنكر كافر خارج عن الاسلام. نور محمد مہتمم مدرسہ دارالفیوض الہاشمیہ ٹھٹھہ ۱۱ رجب المرجب ۱۳۸۹ھ۔
حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ افضل صلوٰۃ والسلام کی حیات کا عقیدہ صریح نصوص اور اجماع سے ثابت ہے پس اس کا انکار کرنے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
- ۲۷۵...... جواب بلاشبہ درست ہے۔
کرم الدین کان اللہ لہ استاذ الحدیث دار الحدیث رحمانیہ کراچی
- ۲۷۶...... جواب درست ہے۔
ابو الفضل عبد المنان عفی عنہ شیخ الحدیث دار الحدیث رحمانیہ۔ کراچی
- ۲۷۷...... جواب درست ہے۔
(مولانا) ثناء اللہ مدرس دار الحدیث رحمانیہ کراچی
- ۲۷۸...... جواب درست ہے۔
عبد الرشید ندوی مدرس دار الحدیث رحمانیہ۔ کراچی
- ۲۷۹...... جواب درست ہے۔
عبد الرشید عبید الرحمن فاروقی استاذ التجوید والقراء ات دار الحدیث رحمانیہ
- ۲۸۰...... جواب درست ہے۔
محمد عقیل۔ استاذ کتب دار الحدیث رحمانیہ کراچی
- ۲۸۱...... جواب درست ہے۔
حاکم علی کان اللہ لہ سابق شیخ الحدیث دار الحدیث رحمانیہ کراچی
- ۲۸۲...... جواب بلاشک و شبہ درست ہے۔
احقر آفتاب احمد
۲۸۳...... جواب درست ہے۔ محمد جمشید عالم
۲۸۵...... بسم الله الرحمن الرحیم
نحمده و نصلی علی رسوله الکریم و خاتم النبیین علیه الصلوة والسلام پوری دنیائے اسلامی کے علمائے کرام اور مفتیان دین متین سب کا اتفاق ہے کہ حضور سید دو عالم ﷺ پر نبوت ختم ہو گئی ہے اور آپ خاتم الانبیاء بنائے گئے ہیں یعنی آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ قرآن پاک کا صاف ارشاد ہے۔ لکن رسول الله و خاتم النبیین.
(احزاب ۴۰)
”لیکن محمد ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“
پس جو شخص آپ کی خاتمیت کے بعد کسی کو نبی مانتا ہے خواہ بروزی نبی مانتا ہو یا کسی اور قسم کا نبی، وہ قطعاً کافر ہے اسی طرح یہ مسئلہ بھی متفق علیہ ہے کہ حضرت سیدنا عیسیٰ ؑ آسمان پر خدا کے حکم سے زندہ ہیں، قرآن کریم خود شہادت دیتا ہے۔
وما قتلوه یقیناً ه بل رفعه الله الیه.
(نساء ۱۵۷)
”اس کو قتل نہیں کیا بیشک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف۔“
پس جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ حضرت عیسیٰ ؑ انتقال فرما گئے ہیں وہ گمراہ اور کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ فقیر محمد عبدالحامد القادری البدایونی ۲۱۴...... پیر الٰہی بخش کالونی کراچی ۵۔
۲۸۶...... جواب درست ہے۔ مفتی غلام صابری خطیب مدینہ جامع مسجد ماڈل ٹاؤن کراچی ۲۷
۲۸۷...... جواب درست ہے۔ فقیر سید محمد عبداللہ قادری صدر انجمن امانت الاسلام ورکن جمعیت علماء پاکستان کراچی۔ ۳ شوال المعظم ۱۳۸۴ھ
۲۸۹...... جواب درست ہے۔ (مولانا) سیف الرحمٰن القادری پیش امام و صدر المدرسین جامع مسجد آرام باغ کراچی
۲۹۰...... جواب صحیح ہے۔ محمد انور مسجد باب السلام آرام باغ کراچی
۲۹۱...... علماء کرام نے سابقہ مذکورہ بالا جو فتویٰ دیا ہے وہ صحیح ہے۔ مولوی سیف الرحمٰن قادری امام جامع مسجد آرام باغ وصدر مدرس دارالعلوم مظہریہ آرام باغ کراچی
**
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
علمی و تحقیقی فتویٰ
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ عفیف لاہور
بسم الله الرحمن الرحيم!
غیر مسلموں کو اسلامی شعائر واصطلاحات کے استعمال کا حق نہیں!
سوال....... پاکستان میں عرصہ ۱۵ سال سے قومی اسمبلی کے فیصلے کے مطابق قادیانی غیر مسلم قرار دیئے جا چکے ہیں اور ۱۹۸۴ء میں قادیانیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں کو روکنے کے لئے آرڈیننس بھی نافذ ہو چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مرزائی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور کلمہ شریف کا استعمال کر رہے ہیں اور تمام شعائر اسلامی اور دوسری اسلامی اصطلاحیں مثلاً السلام علیکم، بسم اللہ، اذان، نماز، روزہ، حج، قربانی، علیہ السلام، رضی اللہ، امیر المومنین اور اپنی عبادت گاہ کا نام مسجد رکھنا وغیرہ کا کثرت سے استعمال کر رہے ہیں۔ کیا قرآن وسنت اور اسلامی لٹریچر کی روشنی میں کسی غیر مسلم کو ان اسلامی اصطلاحوں کے استعمال کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ جواب دے کر مشکور فرمائیں۔ سائل اللہ دتہ مجاہد نیاز بازار قصور!
الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی محمد خاتم النبیین والعاقبۃ للمتقین ولا عدوان
الا علی الظالمین، وبعد!
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب ! صورت مسئولہ الجواب میں واضح باشد کہ غیر مسلم قادیانی وغیرہ کو اسلامی اصطلاحوں کے استعمال کا شرعاً ہرگز ہرگز حق حاصل نہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ کتاب وسنت، اجماع امت اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی کے مرتکب اور مستوجب سزا ہیں۔ چنانچہ جب ابو عامر منافق کے کہنے پر مدینہ منورہ کے منافقین نے مسجد ضرار تعمیر کر ڈالی جس کی بنیاد محض ضد، کفر ونفاق، عداوت اسلام اور مخالفت خدا و رسول ﷺ پر رکھی گئی تھی جو بظاہر مسجد تھی مگر درحقیقت مسجد کی شکل میں اسلام دشمن کارستانیوں اور سازشوں کا مرکز تھی۔ تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور ان منافقین کے ناپاک عزائم اور اسلام دشمن اغراض پر مطلع کر کے مسجد ضرار کا پول کھول دیا۔ فرمایا:
’’اور جنہوں نے دکھ دینے کو اور اللہ سے کفر کرنے کو اور مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کو اور اس شخص (ابو عامر نصرانی منافق) کو پناہ دینے کی نیت سے جو خدا یعنی اس کے رسول ﷺ سے پہلے کئی دفعہ لڑ چکا ہے (ان ظالموں نے ایک) مسجد بنائی ہے۔ حلف اٹھا جائیں گے کہ ہمیں محض بھلائی کا خیال ہے اور اللہ خود گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں تو اس مسجد میں کبھی بھی کھڑا نہ ہو جیو۔‘‘
(سورة توبہ ۱۰۷،۱۰۸ ترجمہ شیخ الاسلام حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ)
اس آیت شریفہ میں اس مسجد کو مسجد ضرار قرار دینے کے اللہ تعالیٰ نے چار ناپاک مقاصد بیان فرمائے ہیں:
- ١....... ضرار یعنی قباء کے مخلص مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔ کیونکہ مسجد قباء کی وجہ سے انہیں ایک خاص
عزت حاصل ہو گئی تھی۔ جیسے فرمایا : ’’فیہ رجال یحبون ان یتطھرو، واللہ یحب المطھرین ، توبہ ۱۰۸‘‘
- ۲....... دوسرا ناپاک مقصد یہ کہ کفر ونفاق کی اشاعت اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لئے اڈا
قائم کرنا۔ اس عمارت کو مسجد ضرار قرار دینے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نیک کاموں کا نیک ہونا مقصد ونیت پر موقوف ہے۔ ورنہ مسجد بنانے جیسا نیک کام بھی کفر کی اشاعت اور اسلام کو نیچا دکھانے کے لئے ہو سکتا ہے۔ جیسے قادیانیوں کا اپنے مراکز کا نام بیت الذکر وغیرہ رکھنا۔
- ۳....... تیسرا ناپاک مقصد یہ کہ: وتفریقا بین المومنین ، توبہ ۱۰۷ ! مسلمانوں میں تفرقہ ڈالا
جائے۔ کیونکہ قباء کی تمام آبادی ایک ہی مسجد میں نماز پڑھتی تھی۔
- ۴....... چوتھے یہ کہ اللہ و رسول ﷺ کے باغی اور منافق ابو عامر نصرانی راہب کے لئے پناہ گاہ مہیا کرنا۔
تاکہ وہ یہاں بیٹھ کر مدینہ کے منافقوں کو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف پالیسی اور تراکیب سمجھائے۔ وغیرہ وغیرہ!
ان چاروں مقاصد پر سرسری نظر ڈالنے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ اسلام کے خلاف بغاوت اور عداوت ہی ہے۔ لہٰذا قادیانیوں کو یہ حق قطعاً حاصل نہیں کہ وہ اپنی عبادت گاہ کا نام مسجد رکھیں اور نہ ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ کا نقشہ اور طرزِ تعمیر ہماری مسجد کے مطابق تیار کریں کہ اس سے ہماری مساجد کی توہین اور مسلمانوں کو دھوکہ دینا مقصود ہے۔ کیونکہ مسجد من جملہ شعائر اسلام میں سے ایک شعار ہے۔ لہٰذا قادیانیوں کو اس کی اجازت دینا اس شعار کی واضح توہین اور استخفاف ہے۔ جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔
ارشاد خداوندی ہے کہ: ”جو لوگ اللہ پر اور پچھلے دن یعنی دوسری زندگی پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ اللہ اور رسول ﷺ کی محرمات کو حرام جانتے ہیں اور نہ دین حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ یعنی اہل کتاب۔ ان سب سے لڑو۔ جب تک وہ ماتحت ہو کر جزیہ دینا منظور نہ کریں۔“ (یعنی جب محکوم رعیت بن جائیں تو ان سے جہاد کرنا ترک کر دو۔) (توبہ ۲۹)
اس آیت کریمہ سے روزِ روشن کی طرح واضح ہوا کہ عیسائیوں یہودیوں مرزائیوں قادیانیوں لاہوریوں اور دوسرے کافروں کو اسلامی ریاست میں اپنے باطل مذہب کی کھلے بندوں پرچار کرنے کی اجازت نہیں۔ تا وقتیکہ وہ اسلام کی برتری تسلیم کر کے اس کی ماتحتی قبول کرتے ہوئے اپنی ماتحتی کا پورا پورا اعتراف کرتے ہوئے اور جزیہ دیتے ہوئے ذمی بن کر رہنا قبول نہ کر لیں، ان سے جہاد کیا جائے۔ ایسے میں قادیانیوں کو اسلامی طرز تعمیر کے مطابق مسجد بنانے کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے اور وہ اپنے عبادت خانہ کو مسجد کا نام کیونکر دے سکتے ہیں؟۔
حضرت امام ابن کثیر اپنی شہرہ آفاق کتاب تفسیر قرآن العظیم میں فرماتے ہیں کہ: حتی یعطوا الجزیة عن یدوہم صاغرون۔ توبہ ۲۹ ! کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں (غیر مسلم مسیحیوں، یہودیوں، قادیانیوں ) کو خوب ذلیل و رسوا اور حقیر جانو۔ ان کو معزز جاننا شرعاً جائز نہیں اور نہ ان کو مسلمانوں پر ترجیح دینا جائز ہے۔ کیونکہ یہ کمینے، حقیر اور بدنصیب لوگ ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ کی صحیح حدیث کے مطابق ان کو سلام کرنے میں پہل کرنا بھی جائز نہیں۔ بلکہ ان کو تنگ راستے سے گزرنے پر مجبور کرنا چاہئے۔
(تفسیر ابن کثیر زیر آیت بالا)
وہم صاغرون ! ایسا فصیح و بلیغ اور جامع جملہ ہے۔ گویا کوزے میں دریا بند کرنے کا مصداق ہے۔ یہ جملہ کیا ہے۔ گویا ذمی لوگوں یعنی غیر مسلم رعیت اور اقلیتوں کے لئے ایک ایسی جامع دستاویز ہے، جس میں ان کی عبادت اور پوجا
پاٹ کی حدود اور اس کا طریقہ کار‘ مذہبی آزادی اور ان کی تبلیغ کا دائرہ کار‘ عبادت خانوں کے نام‘ ان کی تعمیر وتجدید کے احکام‘ مذہبی تہوار‘ قربانی‘ لباس‘ خوشی اور غمی کے اظہار کی تمام حدود متعین کر دی گئی ہیں۔ اس دستاویز کی پوری پوری تفصیل آج بھی ان معاہدات میں موجود ہے جو خلفائے راشدین کے مثالی دور میں ان کے عمال اور سپہ سالاروں کے تحت اس دور کی غیر مسلم اقلیتوں‘ یہود و نصاریٰ اور مجوسیوں اور کفار سے طے پائے تھے۔ ان معاہدوں کی روشنی میں ہمارے قابل فخر فقہاء‘ محدثین‘ مفسرین‘ آئمہ مجتہدین اور اسلامی قوانین کے غواص علمائے اسلام نے درج ذیل قوانین مستنبط فرمائے ہیں۔
ذمی رعیت نیا عبادت خانہ تعمیر نہیں کر سکتی
- ۱...... قاضی ابو یوسفؒ تصریح فرماتے ہیں کہ: ”عیسائیوں کو نیا صومعہ اور گرجا گھر تعمیر کرنے کی اجازت
نہیں ہو گی۔ البتہ جو معاہدہ کے وقت گرجا موجود ہو گا۔ اس کو گرایا نہ جائے گا۔ نیا بیعہ اور کنیسہ گرا دیا جائے گا۔“ (کتاب الخراج لابی یوسف ص ۱۵۹ فصل الکنائس والبیع والصلبان)
- ۲...... امام ابو الحسن علی بن محمد الماوردیؒ (المتوفی ۴۵۰ھ) رقم فرماتے ہیں کہ: ”اہل ذمہ کے لئے یہ جائز
نہیں کہ وہ دارالاسلام میں نیا بیعہ یا کنیسہ تعمیر کریں۔ اس کی ان کو شرعاً اجازت نہیں۔ اگر وہ کوئی نیا بیعہ یا کنیسہ تعمیر کریں گے تو اس کو گرا دیا جائے گا۔“
(الاحکام السلطانیہ ص ۱۴۶)
- ۳...... امام ابو زکریا محی الدین یحییٰ بن شرف النووی شافعیؒ (المتوفی ۶۷۶ھ) تصریح فرماتے ہیں کہ:
”مسلمانوں کے شہروں میں ذمیوں کو کنائس‘ بیعے اور صومعے بنانے کی اجازت نہیں۔ کیونکہ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ جس شہر کو نئے سرے سے مسلمان آباد کریں۔ اس میں غیر مسلم اقلیتوں کو گرجا وغیرہ بنانے کا حق نہیں“۔
(شرح المہذب ج ۱۹ ص ۴۱۲ طبع دارالفکر)
- ۴...... قاضی ابو یعلیٰ حنبلیؒ (المتوفی ۴۵۸ھ) رقم فرماتے ہیں کہ: ”ولا یجوز ان یحدثوا فی دار
الاسلام بيعة وكنيسة فان احدثوها هدمت عليهم“ ”الاحکام السلطانیہ ص ۱۴۳ اس کا ترجمہ پہلے گزر چکا ہے۔
- ۵...... امام محمد بن قدامہؒ حنبلی لکھتے ہیں کہ: ”جزیرہ کے ذمیوں نے حضرت عبدالرحمن بن غنمؓ سے جو
معاہدہ کیا تھا۔ اس میں یہ شرط بھی تھی کہ آج کے بعد ہم اپنے شہر میں نہ تو کوئی کنیسہ تعمیر کریں گے اور نہ دیر اور نہ قلایہ اور نہ کسی راہب کے لئے نیا صومعہ بنائیں گے اور ان میں سے جو گر جائے گا۔ اس کو دوبارہ تعمیر نہیں کریں گے اور اس طرح جو گرجا وغیرہ مسلم آبادی میں ہو گا اس کو بھی دوبارہ نہیں بنائیں گے۔ ہم اپنے گرجاؤں کو مسلمانوں کے لئے دن رات کھلے رکھیں گے اور اسی طرح گزرنے والوں اور مسافروں کے لئے ان کے دروازے وسیع رکھیں گے۔ تاکہ وہ ان میں آرام کر سکیں۔ نہ ہم ان گرجاؤں اور اپنے گھروں میں کسی جاسوس کو ٹھہرائیں گے۔“
(المغنی لابن قدامہؒ ج ۹ ص ۲۸۲)
- ۶...... امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ: ”حضرت عمر فاروقؓ کے عامل حضرت عبدالرحمن بن غنمؓ سے جزیرہ
کے عیسائیوں نے از خود جو معاہدہ کیا تھا۔ اس میں یہ تھا کہ: ”ان شرطنا لك على انفسنا ان لا نحدث فی مدینتنا کنیسة ولا فیما حولها دیرا ولا قلاية ولا صومعة راهب ولا نجدد ماخرب من
كنائسنا۔ ”حقوق اہل الذمہ ج ۲ ص ۶۵۹‘ ۶۶۰‘ تحقیق الدکتور صبحی صالح !
ان آئمہ کرام اور ماہرین قوانین اسلام کی ان تصریحات سے ثابت ہوا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کو جبکہ وہ اہل کتاب بھی ہیں کسی مسلم ممالک میں نئے گرجے اور عبادت خانے تعمیر کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا اور جو گر جائے اس کی تجدید بھی جائز نہیں۔ جیسا کہ حضرت فاروق اعظمؓ نے فرمایا کہ : ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دارالاسلام میں گرجا وغیرہ بنانا جائز نہیں اور اسی طرح اگر پہلے کا بنا ہوا گرجا وغیرہ گر جائے تو اس کی تجدید بھی جائز نہیں۔“
(شرح المہذب ج ۱۹ ص ۴۱۳)
جب اہل کتاب عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے رسول اللہﷺ نے دارالاسلام میں گرجے اور صومعے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ حالانکہ وہ اہل کتاب ہیں تو پھر قادیانیوں مرتدوں اور کافروں کو دارالاسلام اور مسلمان ملک میں مسجد کے نام سے عبادت خانہ بنانے کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے اور وہ اپنے مذہبی مرکز کو مسجد کے نام سے کیونکر پکار سکتے ہیں؟۔
مسلمانوں کی طرح عید اور قربانی کی اجازت نہیں
- ۱...... ”ذمیوں یعنی عیسائیوں اور یہودیوں (اور آج کے قادیانیوں) کو منکر (خلاف اسلام کوئی کام)
اور عید منانے اور صلیب پہن کر بازار میں نکلنے سے روک دینا ہوگا۔“
(شرح المہذب ج ۱۹ ص ۴۱۱)
- ۲...... شوافع کا مذہب بھی یہی ہے کہ: ”غیر مسلم اقلیتوں کو کھلم کھلا شراب پینے‘ بازار میں خنزیر لے کر نکلنے‘
صلیب پہن کر بازار میں آنے اور عیدوں کے برملا منانے سے اور اپنے مردوں پر ماتم کرنے سے روک دیا جائے۔“
کیونکہ حضرت عبدالرحمن بن غنمؓ کے معاہدہ میں ان چیزوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ یادرہے کہ یہ وہ پابندی ہے جو حضرت فاروق اعظمؓ کی ہدایت کے مطابق لگائی گئی تھی۔ جیسا کہ ابن کثیر کی تفسیر ج ۲ ص ۱۱۷ طبع بیروت پر اس کی صراحت موجود ہے۔
(شرح المہذب ج ۱۹ ص ۴۱۱)
- ۳...... امام ابن قیمؒ لکھتے ہیں کہ: ”اس معاہدہ میں یہ بھی تھا کہ ہم ذمی لوگ بعوث (ان کی عید کا نام) کے
لئے کھلے میدان میں نہیں نکلیں گے۔ جیسے مسلمان عید قربان اور عید الفطر پڑھنے کے لئے کھلے میدان میں آتے ہیں۔ جس سے شوکت اسلام کا اظہار مقصود ہے۔“
(کتاب حقوق اہل الذمہ ج ۲ ص ۶۶۱)
- ۴...... امام نوویؒ لکھتے ہیں کہ: ”جزیرہ کے عیسائی ذمیوں نے یہ شرط بھی تسلیم کی تھی کہ ہم اپنی دونوں
عیدوں شعانین اور بعوث کو نہیں نکلیں گے۔“
(شرح المہذب ج ۱۹ ص ۴۱۰)
اللہ تعالیٰ‘ قرآن‘ دین اسلام اور رسول اللہﷺ کی گستاخی نہیں کریں گے
جزیرہ کے نصاریٰ نے اپنے عہد ذمہ میں پابندی بھی قبول کی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ‘ قرآن مجید‘ دین اسلام اور رسول اللہﷺ کے حق میں کوئی گستاخی یا توہین آمیز کلمہ اور استخفاف پر مبنی کوئی بات نہیں کریں گے۔ ورنہ ہمارے حقوق ازخود ختم متصور ہوں گے اور ہم سزا کے مستوجب ہوں گے۔“
- ......۱ امام ابوالحسن الماوردیؒ لکھتے ہیں کہ: ”وہ چھ شرطیں جن کی پابندی ہر ایک ذمی شخص خواہ وہ کوئی بھی
غیر مسلم ہو پر واجب ہے۔ ان میں پہلی شرط یہ ہے کہ وہ قرآن مجید پر طعن نہیں کرے گا۔ نہ اس میں تحریف کا دعویٰ۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب نہیں کرے گا اور نہ آپ ﷺ کے حق میں توہین آمیز کلمات کرے گا اور تیسری شرط یہ کہ وہ دین اسلام کی مذمت نہیں کرے گا اور نہ اس میں مین میکھ نکالے گا۔“
(الاحکام السلطانیہ ص ۱۴۵)
مرزائی قرآن میں تحریف کا دعویٰ تو نہیں کرتے۔ لیکن اس میں تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں جیسے وہ خاتم النبیین کی ایسی توجیہ و تاویل کرتے ہیں جو قرآن مجید کی بیسیوں نصوص و آیات اور اسی طرح احادیث رسول ﷺ، اقوال صحابہؓ اور اجماع امت کے سراسر خلاف ہے۔ اس سے بڑی تحریف اور کیا ہو سکتی ہے اور اسی طرح وہ رسول اللہ ﷺ کی توہین کے مرتکب ہیں کہ آپ ﷺ کا ایک وصف اور شرف خاتم النبیین ہونا ہے اور قادیانی آپ ﷺ کے اس وصف کا اپنے عقیدہ اور عمل کے ساتھ انکار کر رہے ہیں اور اس انکار کی نشر و اشاعت میں ان کا مالدار پریس، شبانہ روز سرگرم عمل ہے اور اجرائے نبوت کے مزعومہ عقیدہ کے اثبات کے لئے لٹریچر چھاپ کر پاکستان کے بے علم اور سادہ لوح مسلمانوں کو خصوصاً اور دنیا بھر کے نئے مسلمان ہونے والوں کو عموماً گمراہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ مگر تعجب ہے پاکستان کی حکومت رواداری اور مداہنت سے کام لے رہی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی ملک میں غیر مسلم اقلیتوں کو اپنے باطل مذاہب کی تبلیغ کی اجازت ہے؟۔
کیا غیر مسلم اقلیتوں کو اپنے مذاہب باطلہ کی تبلیغ کی اجازت ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلامی ملک میں کسی بھی غیر مسلم ذمی رعیت اور اقلیت کو اپنے مذہب اور عقیدہ کی پابندی کرنے کی تو اسلام اجازت دیتا ہے۔ مگر اس کی تبلیغ اور اشاعت کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔
- ......۱ امام ابوالحسن الماوردیؒ رقم فرماتے ہیں کہ: ”ذمیوں پر تیسری شرط جس کی پابندی ان پر لازم ہے۔
یہ ہے کہ وہ اپنے ناقوس کی آوازیں مسلمانوں کو نہیں سنائیں گے اور نہ با آواز بلند اپنی کسی کتاب کی تلاوت کریں گے اور نہ حضرت عزیر اور حضرت مسیح علیہما السلام کے بارے میں اپنے عقیدہ کا برملا اظہار کریں گے اور چوتھی شرط لازم یہ ہے کہ وہ اعلانیہ طور پر نہ شراب پئیں گے اور نہ بازاروں میں صلیب لٹکا کر نکلیں گے اور نہ بازاروں میں خنزیروں کو لے کر آئیں گے اور پانچویں لازمی شرط یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مردوں کو چپکے سے دفن کریں گے اور ان پر نہ تو آواز کے ساتھ واویلا کریں گے اور نہ نوحہ۔“
(الاحکام السلطانیہ ص ۱۴۵)
- ......۲ امام محی الدین یحییٰ بن شرف النوویؒ وضاحت فرماتے ہیں کہ: ”ذمیوں کو بازاروں میں شراب
اور خنزیر کی خرید و فروخت کا حق نہ ہوگا۔ ناقوس بجانے، تورات اور انجیل کی اعلانیہ تلاوت کرنے اور صلیب پہن کر بازاروں میں چلنے کا حق نہ ہوگا۔ نہ وہ اپنی عیدیں پڑھنے کے لئے کھلے میدان یا کسی گراؤنڈ میں جاسکیں گے اور نہ اپنے مردوں پر بلند آواز سے نوحہ کر سکیں گے۔ جیسا کہ حضرت عبدالرحمٰن بن غنمؒ نے حضرت فاروق اعظمؓ کے اس معاہدہ کے مندرجات کا حوالہ دیا ہے جو آپ نے شام کے نصاریٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ان میں ان تمام پابندیوں کی تفصیل موجود ہے۔“
(شرح المہذب ج ۱۹ ص ۴۱۲)
۳....... حضرت امام بن کثیرؒ تصریح فرماتے ہیں کہ :’’(۱) ہم اپنے گر جاؤں کے فلک بوس میناروں صلیب بلند نہیں کریں گے۔ (۲) ہم اپنی صلیبوں اور کتابوں کو مسلمانوں کے راستوں اور منڈیوں میں نہیں لائیں گے یعنی ان کے سر عام سٹال نہیں لگائیں گے۔ (۳) ہم اپنے گرجوں کے اندر بھی اونچی آواز سے ناقوس نہ بجائیں گے۔ (۴) ہم اپنے گرجوں کے اندر بھی اونچی آواز سے اپنی کتاب کی قراءۃ نہ کریں گے۔ (۵) اپنی عیدیں (شعانین اور بعوث) پڑھنے کے لئے کسی کھلے گراؤنڈ میں نہ نکلیں گے۔ (۶) ہم اپنے مردوں پر بلند آواز سے نہیں روئیں گے اور نہ اپنے مردوں کے ساتھ آگ لے کر چلیں گے۔ (۷) اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان کے قریب دفن نہیں کریں گے۔ اگر ہم ان تمام شرطوں کو جن کو ہم نے از خود اپنے لئے تجویز کیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک شرط کی خلاف ورزی کریں گے تو عہد ذمہ ختم ہوگا اور مسلمانوں کو ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہوگا جس طرح ان باغی کافروں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۲۷‘ بیروت زیر آیت حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوھم صاغرون)
۴...... امام ابن قیمؒ رقم فرماتے ہیں کہ :’’ ذمیوں نے حسب ذیل شرطیں قبول کرتے ہوئے ان پر دستخط کئے کہ: (۱) ہم اپنے گر جاؤں میں باآواز بلند ناقوس نہیں بجائیں گے۔ (۲) ان کے اوپر اونچی کر کے صلیب کھڑی نہیں کریں گے۔ (۳) ہم اپنے گر جاؤں کے اندر بھی بلند آواز کے ساتھ دعا نہ مانگیں گے۔ (۴) نہ ان کے اندر اونچی آواز کے ساتھ اپنی کتاب پڑھیں گے۔ (۵) مسلمانوں کے بازاروں میں صلیب نہیں نکالیں گے۔ (۶) عید کے لئے کھلے میدان میں نہیں جائیں گے۔ جیسے مسلمان اپنی عید الاضحیٰ اور عید الفطر کی ادائیگی کے لئے کھلے گراؤنڈ میں جاتے ہیں۔ (۷) کھلے عام شرک نہیں کریں گے۔ (۸) ہم اپنے دین کی کسی کو ترغیب نہیں دیں گے۔ (۹) اور نہ کسی کو اپنے دین کی دعوت دیں گے۔‘‘
(کتاب حقوق اہل الذمۃ ج ۲ ص ۶۵۹‘ ۶۶۰)
ان تصریحات کا خلاصہ یہ ہے کہ از روئے اسلام مسلم ممالک کے ذمیوں اور اقلیتوں کو اپنے باطل مذاہب کی تبلیغ واشاعت کی ہرگز اجازت نہیں۔ نہ تقریر میں اور نہ تحریر میں اور نہ مناظروں کے ذریعہ سے اور نہ مناقشوں کے ساتھ۔ غرضیکہ وہ اپنے مذہب کی کسی طرح اور کسی بھی انداز میں تبلیغ نہیں کر سکتے ۔ اگر کوئی مسلمان حکمران کسی وجہ سے اس کی اجازت دیتا ہے تو یہ اجازت کالعدم اور حکمران شرعاً مجرم ہوگا۔ کیونکہ اس میں اسلام کی حقانیت کو بٹہ لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ‘ رسول اللہ ﷺ اور کتاب اللہ قرآن مجید کی تکذیب لازم آتی ہے اور اسلام کی توہین اور سبکی ہوتی ہے۔
جب یہود و نصاریٰ کو مسلم ملک میں اپنے مذہب کی تبلیغ واشاعت‘ اپنے لٹریچر کو سر عام بازار میں لانے‘ صلیب لٹکا کر چلنے‘ گرجا کے منارے پر صلیب گاڑنے اور گرجا کے اندر بلند آواز سے دعا کرنے اور انجیل پڑھنے کی اجازت اور از سرنو گرجا تعمیر کرنے یا گرے ہوئے گرجا کی مرمت کرنے کی اجازت نہیں اور ان کو اپنے تہوار کھلے گراؤنڈ میں منانے کی اجازت نہیں۔ حالانکہ وہ اہل کتاب ہیں۔ یعنی کسی وقت وہ سچے دین و مذہب پر رہ چکے ہیں تو پھر سلطنت خداداد پاکستان میں قادیانیوں کو جو مرتدین کی اولاد اور شرعاً وقانوناً خارج از اسلام اور کافر ہیں۔ ان کو اپنے عبادت خانے تعمیر کرنے اور مساجد کے نام سے موسوم کرنے اور بلانے کی اجازت کیونکر ہو سکتی ہے؟۔ ان کو پاکستان میں ایک کذاب اور مفتری علی اللہ
(مرزا) کے باطل نظریات کی کھلے عام نشر و اشاعت اور تبلیغ و دعوت کی اجازت اسلام سے بغاوت اور رسول اللہ ﷺ کی سراسر توہین ہے۔ نہ جانے پاکستان کے حکمرانوں اور مسلمانوں کی غیرت کہاں سو چکی ہے؟ ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
ذمی لوگوں کو مسلمانوں کے ناموں جیسے نام رکھنے کی اجازت نہیں
ذمی لوگوں کو مسلم ملک میں نہ صرف اپنے دین اور مذہب کی تبلیغ و ترویج کی اجازت نہیں ۔ بلکہ ان کو مسلمانوں کے ناموں پر اپنے نام رکھنے حتیٰ کہ مسلمانوں کا سا لباس پہننے کی اجازت نہیں ۔ تاکہ اسلامی تشخص گڈمڈ نہ ہوجائے ۔ جیسا کہ اسلامی دفاتر میں اس کی وضاحت و صراحت موجود ہے۔
امام ابن کثیرؒ تصریح فرماتے ہیں کہ: ”شام کے نصاریٰ نے یہ شرطیں بھی قبول کی تھیں کہ: (۱) ہم اپنے بچوں کو قرآن نہیں پڑھائیں گے ۔ (۲) ہم اپنے شرکیہ کام کھلم کھلا نہیں کریں گے ۔ (۳) نہ اپنے شرک کی دعوت دیں گے۔ (۴) ہم اپنے کسی قرابت دار کو اسلام قبول کرنے سے منع نہیں کریں گے ۔ (۵) ہم مسلمانوں جیسا لباس بھی نہیں پہنیں گے۔ نہ مسلمانوں کی ٹوپی جیسی ٹوپی نہ عمامہ جیسا عمامہ اور نہ جوتے جیسا جوتا پہنیں گے۔ (۶) نہ ہم سر کے بالوں کی سیدھی مانگ نکالیں گے ۔ (۷) نہ ان کی زبان بولیں گے ۔ (۸) نہ ان کی کنیتوں جیسی کنیت رکھیں گے۔ (۹) نہ اپنی سواریوں پر زین سجائیں گے ۔ (۱۰) نہ تلوار لٹکائیں گے (یاد رہے کہ تلوار اس زمانہ میں مسلمانوں کا علامتی ہتھیار اور شعار (شناختی نشان) سمجھا جاتا تھا) ۔ (۱۱) نہ ہم اپنے گھروں میں اسلحہ رکھیں گے۔ (۱۲) نہ کسی قسم کا اسلحہ اٹھا کر چلیں گے ۔ (۱۳) نہ اپنی انگوٹھیوں پر عربی زبان میں کچھ نقش کریں گے ۔ اور آخر میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر ہم ان جملہ شرائط میں سے کسی ایک شرط کی خلاف ورزی کریں گے تو مستوجب سزا ہوں گے۔“
(تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۷، طبع بیروت آیت مذکورہ)
امام ماوردیؒ یہ بھی لکھتے ہیں کہ: ” پانچویں شرط لازمی یہ بھی ہے کہ ذمی لوگ اور کوئی اقلیت کسی مسلمان کو اس کے دین کے معاملہ میں کسی آزمائش اور فتنہ میں مبتلا کرنے کی ہرگز مجاز نہ ہو گی ۔ نہ دھونس کی صورت میں نہ مال کی تحریص کے ساتھ نہ رشتہ کی ترغیب کے ساتھ اور نہ کسی قسم کے لالچ کے ساتھ ۔ اگر وہ ایسا کرے گی تو قانون حرکت میں آکر اس کو کیفر و کردار تک پہنچا کر رہے گا۔“
(الاحکام السلطانیہ ص ۱۴۵)
خلاصۃ المرام! یہ کہ کسی غیر مسلم عیسائی یہودی مجوسی صابی ہندو سکھ پارسی بہائی بابی قادیانی لاہوری اور ربوی مرزائیوں کو شعائر اسلامی یعنی کلمہ توحید رسول قبلہ صلوٰۃ درود مسجد قربانی اور عید وغیرہ مقدس اصطلاحوں کو استعمال کرنے کی از روئے شرع اسلام قطعاً اجازت نہیں اور نہ ان مذکورہ باطل گروہوں اور خارج از اسلام فرقوں کو اپنے باطل عقائد و افکار اور اعمال اور رسومات کا برملا پرچار کرنے کی اجازت ہے اور نہ ان کو اپنے ان باطل اور خلاف اسلام عقائد و افکار اور اعمال و رسومات کی نشر و ترویج اور دعوت اور تبلیغ کی اجازت ہے اور مسلمان حکمران اور مسلم اکثریت پر شرعاً واجب ہے کہ وہ اپنے ملک میں بسنے والی غیر مسلم اقلیتوں کو ان شرائط کا پابند بنائے کہ یہ مسلمانوں کا شرعی فریضہ ہے۔ تفصیل آپ کے سامنے ہے۔ ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب!
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
فتوئ شریعت غرّا
(۲/۱)
شائع کردہ!
انجمن اہل حدیث وزیر آباد
فتویٰ شریعت غرا
نمبر اوّل
مرزا اور اس کے مریدوں کی بابت سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور عیسیٰ ابن مریم سے بڑھ کر ہوں جو کوئی مجھ پر ایمان نہ لائے گا وہ کافر ہے۔ خدا میری نسبت کہتا ہے کہ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں تو میرے واسطے ایسا ہے جیسا کہ میری اولاد جس سے تو راضی اس سے میں راضی۔ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ خدا عرش پر تیری حمد کرتا ہے خدا نے مجھ کو قادیان میں اپنا سچا رسول کر کے بھیجا ہے اور خدا نے مجھ کو کرشن بھی کہا ہے۔ معجزہ کوئی شے نہیں محض مسمریزم اور شعبدہ بازی ہے۔ آیا اس قسم کے عقائد والے شخص کو کافر کہا جائے یا نہ؟ اس کی امامت و بیعت اور دوستی و سلام علیک اس سے اور اس کے مریدوں سے جائز ہے یا نہیں۔ بینوا بالتفصیل جزا کم اللہ الرب الجلیل.
الجواب...... بسم اللہ الرحمٰن الرحیم. الحمد للّٰہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم. اما بعد! پس مخفی نہ رہے کہ عقائد مذکورہ کے ماسوا ملحد قادیانی کے اور بہت سے عقائد کفریہ ہیں۔ جن میں بعض کا بطور مُشتے نمونہ از خروارے ”کلمہ فضل رحمانی“ سے ذکر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں۔
(ازالہ اوہام ص ۳۰۳ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴) ”عیسیٰ ؑ یوسف نجار کے بیٹے تھے۔“ حضرت یسوع مسیح کی نسبت لکھا ہے۔ ”شریر، مکار، چور، شیطان کے پیچھے چلنے والا جھوٹا وغیرہ وغیرہ۔“
(دیکھو ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۵ تا ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹ تا ۲۹۱)
اور اسی جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ ”آپ کی تین دادیاں، نانیاں زنا کار تھیں۔“
(ازالہ ص ۶۲۸ تا ۶۲۹ خزائن ج ۳ ص ۲۳۹)
انبیاء علیہم السلام جھوٹے ہوتے ہیں۔
(ازالہ ۶۸۸ تا ۶۸۹ خزائن ج ۳ ص ۴۷۲)
حضرت محمد ﷺ کی وحی بھی غلط نکلی تھی۔ (توضیح مرام ۶۸ خزائن ج ۳ ص ۸۶) حضرت جبرئیل ؑ کسی نبی کے پاس زمین پر نہیں آئے۔ (صفحہ ۴۸۷ تا ۷۵۰ ازالہ اوہام خزائن ج ۳ ص ۵۰۴) قرآن مجید میں جو معجزات ہیں وہ سب مسمریزم ہیں۔ (صفحہ ۴۹۵ تا ۴۹۶ ازالہ خزائن ج ۳ ص ۳۶۵۔۳۶۶) دجال پادری ہیں اور کوئی دجال نہیں آئے گا۔ (صفحہ ۶۸۵ ازالہ خزائن ج ۳ ص ۴۷۰) دجال کا گدھا ریل ہے اور کوئی گدھا نہیں۔ (صفحہ ۵۰۲ تا ۵۰۸ ازالہ خزائن ج ۳ ص ۳۶۹) یاجوج ماجوج انگریز ہیں اور اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ (صفحہ ۵۱۳ ازالہ خزائن ج ۳ ص ۳۷۵) دُخان کچھ نہیں غلط خیال ہے۔ (صفحہ ۵۱۵ ازالہ خزائن ج ۳ ص ۳۷۶) آفتاب مغرب سے نہیں نکلے گا۔
دابۃ الارض علماء ہوں گے اور کچھ نہیں۔ (ازالہ ص ۵۱۰ خزائن ج ۳ ص ۳۷۳) حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو ابن مریم اور دجال اور اس کے گدھے اور یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض کی حقیقت معلوم نہ تھی۔
(ازالہ ص ۶۹۱ خزائن ج ۳ ص ۴۷۳)
مرزا کی طرف سے دعویٰ نبوت
- (۱)...... الہام (قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ) یعنی کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو میری
تابعداری کرو۔ (بلفظہ براہین احمدیہ ص ۲۴۰ خزائن ج ۱ ص ۲۶۶ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱)
- (۲)...... مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت جناب مرزا غلام احمد قادیانی۔ (ٹائیٹل پیج ازالہ اوہام خزائن ج ۳ ص ۱۰۱)
- (۳)...... خدا نے مجھے آدم صفی اللہ کہا اور مثل نوح کہا...... مثیل یوسف کہا...... مثیل داؤد کہا...... پھر مثیل موسیٰ
کہا...... پھر مثیل ابراہیم...... پھر بار بار احمد کے خطاب سے مجھے پکارا۔ (بلفظہ ازالہ اوہام ص ۲۵۳ خزائن ج ۳ ص ۲۲۷)
- (۴)...... پس واضح ہو کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا انجیل اور احادیث صحیحہ کی رو سے ضروری طور پر قرار پا چکا تھا تو وہ
اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آ گیا۔ اور آج وہ وعدہ پورا ہو گیا جو خدا تعالیٰ کی مقدس پیش گوئیوں میں پہلے سے کیا گیا تھا۔ (بلفظہ ازالہ ۴۱۳، ۴۱۴ خزائن ج ۳ ص ۳۱۵)
- (۵)...... چونکہ مسیح میں مماثلت ہے اس لیے عاجز کا نام بھی آدم کہا۔ اور مسیح بھی۔
(ازالہ صفحہ ۲۵۶ خزائن ج ۳ ص ۲۳۳)
- (۶)...... خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔۱؎
(ازالہ ص ۵۳۳ خزائن ج ۳ ص ۳۸۶)
- (۷)...... احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اس کی طرف یہ اشارہ ۲؎ ہے۔
مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۔ (ازالہ صفحہ ۶۷۳ خزائن ج ۳ ص ۴۶۳)
- (۸)...... اور یہ آیت کہ ھو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ) درحقیقت
اسی مسیح بن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے۔ (بلفظہ ازالہ ۶۷۵ خزائن ج ۳ ص ۴۶۴)
- (۹)...... وہ آدم اور ابن مریم یہی عاجز ہے کیونکہ اول تو ایسا دعویٰ اس عاجز سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا اور اس
عاجز کا یہ دعویٰ دس برس سے شائع ہو رہا ہے۔ (ازالہ صفحہ ۶۹۵ خزائن ج ۳ ص ۴۷۵)
- (۱۰)...... حضرت اقدس امام انام مہدی و مسیح موعود مرزا غلام احمد علیہ السلام (رسالہ آریہ دھرم صفحہ ۶۵)
- (۱۱)...... ان کو کہو کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میرے پیچھے ہو لو تو خدا بھی تم سے محبت کرے۔
(انجام آتھم صفحہ ۵۲ خزائن ج ۱۱ ص ۵۲)
- (۱۲)...... اے احمد تیرا نام پورا ہو جائے گا قبل اس کے جو میرا نام پورا ہو۔ (انجام آتھم صفحہ ۵۲ خزائن ایضاً)
- (۱۳)...... تو ہمارے پانی میں سے ہیں۔ (انجام صفحہ ۵۵ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
- (۱۴)...... پاک ہے وہ جس نے اپنے بندہ کو رات میں سیر کرائی۔ (انجام صفحہ ۵۳ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
- (۱۵)...... نبیوں کا چاند (مرزا قادیانی آئے گا) (انجام صفحہ ۵۸ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
- (۱۶)...... وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین ”تجھ کو تمام جہان کی رحمت کے واسطے بھیجا۔“
(انجام صفحہ ۸۸ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
۱؎ اس سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کی مؤلفہ براہین احمدیہ خدا کی کلام ہے۔ ۲؎ یہ مطلب ازالہ کی عبارت کا ہے۔
- (۱۷)...... انی مُرسلک الی قوم المفسدین ۔ یعنی ”تجھ کو قوم مفسدین کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔“
(آنجام آتھم صفحہ ۷۹ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
توہینات انبیاء علیہم السلام
- (۱)...... میں سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے ۔ جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا ہرگز
نہ مرے گا۔
(ازالہ اوہام صفحہ ۲ خزائن ج ۳ ص ۱۰۴)
- (۲)...... جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہیں نکلیں۔
(ازالہ ص ۷ خزائن ج ۳ ص ۱۰۶)
- (۳)...... حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئیاں بھی اس صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں جس صورت پر حضرت موسیٰ علیہ السلام
نے اپنے دل میں امید باندھی تھی ۔ غایۃ مافی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیش گوئیاں زیادہ غلط نکلیں۔
(بلفظہ ازالہ ص ۸ خزائن ج ۳ ص ۱۰۶)
- (۴)...... سیر معراج ( حضرت ﷺ ) اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔
(ازالہ ص ۴۷ خزائن ج ۳ ص ۱۲۶ حاشیہ)
- (۵)...... یہ حضرت مسیح کا معجزہ (پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر اُڑانا) حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح عقلی
تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے ۔ ان دنوں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیال جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے ہیں ۔ دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے ۔ (ازالہ ص ۳۰۲ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴) چڑیاں کا معجزہ حضرت مسیح کا اور ان کا بولنا اور ہلنا اور دم ہلانا یہ عقلی معجزہ اپنے دادے سلیمان کی طرح ہے۔
(ازالہ ص ۳۰۴ خزائن ج ۳ ص ۲۵۵)
- (۶)...... حضرت مسیح بن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل التراب (مسمریزم) میں کمال رکھتا ہے ......
اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا، تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔
(ازالہ ص ۳۰۸ خزائن ج ۳ ص ۲۵۷، ۲۵۸)
- (۷)...... یہ جو میں نے مسمریزی کے طریق کا نام عمل التراب کہا ہے جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق
رکھتے تھے ۔ یہ الہامی نام ہے۔
(ازالہ ص ۳۱۲ خزائن ج ۳ ص ۲۵۹)
- (۸)...... چار سو نبیوں کی غلط پیش گوئی نکلی ۔
(ازالہ ص ۶۲۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۹)
- (۹)...... جو پہلے اماموں کو معلوم نہیں ہوا تھا۔ وہ ہم نے معلوم کر لیا۔ (ازالہ ص ۶۸۳ )
- (۱۰)...... حضرت رسول خدا کے الہام و وحی غلط نکلی تھیں ۔
(ازالہ ص ۶۸۹، ۶۸۸ خزائن ج ۳ ص ۴۷۱)
- (۱۱)...... اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت ﷺ ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ
کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو۔
(ازالہ ص ۶۹۱ خزائن ج ۳ ص ۴۷۳)
- (۱۲)...... سورہ بقرہ میں ایک قتل کا ذکر گائے کا علم مسمریزم تھا۔
(ازالہ ص ۷۴۸ خزائن ج ۳ ص ۵۰۴)
- (۱۳)...... حضرت ابراہیم کے چار پرندوں کے معجزے کا جو ذکر قرآن مجید میں ہے وہ بھی ان کا مسمریزم کا عمل تھا۔
(ازالہ ص ۷۵۳ خزائن ج ۳ ص ۵۰۶)
- (۱۴)...... مریم کا بیٹا کشلیا ۱ کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔
(انجام آتھم ص ۴۱ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
عقائد مرزائے قادیانی
- (۱)...... ہمارا خدا عاجی ۲ ہے۔
(براہین احمدیہ ص ۵۵۶ خزائن ج ۱ ص ۶۶۳)
۱ کشلیا راجہ رام چندر کی ماں کا نام تھا۔ ۲ ہاتھی کا دانت۔
- (۲)...... حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک۔
(ازالہ ص ۳۰۲ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴)
- (۳)...... نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرہ
زمہریر تک بھی پہنچے ...... پس اس جسم کا کرہ ماہتاب و آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے۔
(ازالہ ص ۴۷ خزائن ج ۳ ص ۱۳۶)
- (۴)...... سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔
(ازالہ ص ۴۷ خزائن ج ۳ ص ۱۲۶ حاشیہ)
- (۵)...... قرآن شریف جس بلند آواز سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔ ایک غایت درجہ کا غبی اور
سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے۔
(ازالہ صفحہ ۲۵، ۲۶ خزائن ج ۳ ص ۱۱۵ حاشیہ)
- (۶)...... اس نے (قرآن شریف) ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں
معلوم ہوتی ہیں، استعمال کی ہیں۔
(ازالہ ص ۲۷ خزائن ج ۳ ص ۱۱۶)
- (۷)...... قرآن شریف میں جو معجزات ہیں وہ سب مسمریزم ہیں۔
(ازالہ صفحہ ۴۷۸، ۷۵۰، ۷۵۱، ۷۵۳ خزائن ج ۳ ص ۵۰۳ تا ۵۰۶)
- (۸)...... قرآن شریف میں انا انزلنا قریبا من القادیان۔
(ازالہ صفحہ ۷۶، ۷۷ خزائن ج ۳ ص ۱۴۰)
- (۹)...... ”اگر عذر ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوئی ہے اس پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا
ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے بلکہ جزوی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لیے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔“ ۱؎
(توضیح مرام ص ۱۸ خزائن ج ۳ ص ۶۰)
- (۱۰)...... ”امام مہدی کا آنا بالکل صحیح نہیں۔“
(ازالہ صفحہ ۵۱۸ خزائن ج ۳ ص ۳۷۸، ازالہ ص ۴۵۷ خزائن ج ۳ ص ۳۴۲)
- (۱۱)...... ”پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ مسیح دجال جس کے آنے کی انتظاری تھی۔ یہی پادریوں کا گروہ ہے۔“
(ازالہ صفحہ ۴۹۵، ۴۹۶ خزائن ج ۳ ص ۳۶۶ و انجام آتھم ص ۴۶، ۴۷، ۴۸ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
- (۱۲)...... ”وہ گدھا دجال کا اپنا بنایا ہوا ہوگا۔ پھر اگر وہ ریل نہیں ہے تو اور کیا ہے۔“
(ازالہ ص ۶۸۵ خزائن ج ۳ ص ۴۷۰)
- (۱۳)...... ”یاجوج ماجوج سے دو قومیں انگریز اور روس مراد ہیں اور کچھ نہیں۔“
(ازالہ صفحہ ۵۰۲ خزائن ج ۳ ص ۳۶۹)
- (۱۳)...... ”دابۃ الارض وہ علماء اور واعظین ہیں جو آسمانی قوت اپنے میں نہیں رکھتے۔ آخری زمانہ میں ان کی
کثرت ہوگی۔“
(ازالہ ص ۵۱۰ خزائن ج ۳ ص ۳۷۳)
- (۱۵)...... ”دخان سے مراد قحط عظیم و شدید ہے۔“
(ازالہ صفحہ ۵۱۳)
- (۱۶)...... ”مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی آفتاب سے منور کیے جائیں گے
اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔“
(ازالہ ص ۲۱۵ خزائن ج ۳ ص ۳۷۷)
- (۱۷)...... ”کسی قبر میں سانپ اور بچھو دکھاؤ۔“
(ازالہ ص ۲۱۵ خزائن ج ۳ ص ۳۱۷)
قادیانیوں کے حکیم الامت مولوی نور دین صاحب فرماتے ہیں۔
۱؎ گویا مرزا کے نزدیک حضرت رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین نہیں ہیں۔
”یہ تو بالکل غلط ہے کہ ہمارا اور غیر احمدیوں کا کوئی فروعی اختلاف ہے۔ میری سمجھ میں ان کے اور ہمارے درمیان ایک اصولی اختلاف ہے۔ اس کے بعد خلیفہ صاحب نے یہ بتایا ہے کہ چونکہ ایمان بالرسل ضروری ہے اور غیر احمدی مرزا قادیانی کی رسالت کے منکر ہیں اس لیے فروعی اختلاف نہیں۔“
(ملخص نہج المصلی مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ص ۲۷۵،۲۷۴)
- (۱)...... ”جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ خدا رسول کو بھی نہیں مانتا...... اور باوجود صد ہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ
مومن کیونکر ٹھہر سکتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۶۳، ۱۶۴ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۸)
- (۵)...... ایک شخص مرزا کو جھوٹا بھی نہیں کہتا اور منکر بھی نہیں اور دل سے سچا بھی جانتا ہے اور ”بیعت نہیں کرتا وہ بھی
کافر ہے۔“
(آئینہ صداقت ص ۳۵)
یہ عقائد ایسے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک مستقل طور پر مرزا ملحد کی تکفیر کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ ان میں یا توہین انبیاء علیہم السلام ہے یا ادعائے نبوت یا رد نصوص اور یہ سب کفر ہے۔ پس مرزا قادیانی کے ملحد، مرتد، کافر، دجال ہونے میں کوئی شک نہیں بلکہ قادیانی کا کفر تو ایسا ظاہر ہے جس میں کسی بھی اہل اسلام عالم یا غیر عالم کو کوئی شک وشبہ و تردد نہیں ہے۔ مومن کا دل ایسے عقائد سے بھی اس کے کفر کی شہادت دے دیتا ہے۔ فقط واللہ اعلم۔
حررہ العاجز یوسف عفی عنہ از بھکیلے والا
الجواب ...... بلاشبہ مرزا قادیانی بوجوہ کثیرہ قطعا یقینا کافر مرتد ہے۔ ایسا کہ جو اس کے اقوال پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے خود کافر مرتد ہے۔ ازاں جملہ کفر اول، اپنے رسالہ (ازالۃ الاوہام کے صفحہ ۲۷۳ خزائن ج ۳ ص ۴۶۳) پر لکھا ہے۔ میں احمد ہوں جو آیت مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد میں مراد ہے آیۃ کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا مسیح ربانی عیسیٰ ابن مریم روح اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ مجھے اللہ عزوجل نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ تورات کی تصدیق کرتا اور اس رسول کی خوشخبری سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لانے والا ہے جس کا نام پاک احمد ہے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ ازالہ کے قول مذکور ملعون میں صراحۃً ادعا ہوا کہ وہ رسول پاک جن کی جلوہ افروزی کا مژدہ حضرت مسیح لائے۔ معاذ اللہ مرزا قادیانی ہے۔
کفر دوم! (دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰) میں لکھا ہے ۔
”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“
کفر سوم! اعجاز احمدی میں مرزا نے صاف لکھ دیا ہے کہ ”یہود عیسیٰ کے معاملہ میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی بنے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ۱۳ خزائن ج ۱۹ ص ۱۲۰)
یہاں عیسیٰ کے ساتھ قرآن عظیم پر بھی تہمت جڑ دی کہ وہ ایسی باطل بات بتا رہا ہے۔ جس کے ابطال پر متعدد دلائل قائم ہیں۔ کفر چہارم! مرزا نے لکھا ہے۔ ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا سچا رسول بھیجا۔“ (دافع البلاء ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۱) کفر پنجم! ازالہ میں مرزا نے لکھا ہے ”اور مسیح علیہ السلام توحید اور دینی استقامت میں کم درجہ پر بلکہ قریب ناکام رہے۔“ (ازالہ ص ۳۱۰ خزائن ج ۳ ص ۲۵۸) لعنۃ اللہ علی اعداء انبیاء اللہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک و سلم۔ ہر نبی کی تنقیص مطلقاً کفر قطعی ہے۔ چہ جائیکہ نبی مرسل کی تحقیر کہ
مسمریزم کے سبب نور باطن اور توحید اور دینی استقامت میں کم درجہ پر بلکہ قریب ناکام رہے ۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین الکافرین اور اس قسم کے صدہا کفر اس کے رسائل میں بھرے ہیں۔ بالجملہ مرزا قادیانی کافر مرتد ہے۔ اس کے اور اس کے متبعین کے پیچھے نماز محض باطل و مردود ہے۔ جیسے کسی یہودی کی امامت اور ان کے ساتھ مواکلت، مشاربت اور مجالست سب ناجائز و حرام ، حدیث میں ہے۔ ”لاتوا کلوھم ولا تشاربوھم ولا تجالسوھم.“ نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، نہ پانی پیو، نہ ان کے ساتھ بیٹھو۔“ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار. (ھود ۱۱۳) ظالموں کی طرف نہ جھکو۔ ایسا نہ ہو کہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم، کتبہ محمد عبدالرحمٰن المہاری عفی عنہ
الجواب صحیح، صح الجواب، صح الجواب، محمد عبدالمجید سلیمی عفی عنہ عبدہ المذنب ظفر الدین عفی عنہ عبدہ المذنب احمد رضا عفی عنہ بریلوی بریلوی
صحیح الجواب۔ جواب درست ہے۔ جواب صحیح ہے۔ بندہ فتح الدین از ہوشیار پور سنی۔ عبدالوحید، مدرس اول نعمانیہ امرتسر کریم بخش عفی عنہ سنبھلی حنفی۔ قادری۔ رضوی
صحیح الجواب، صح الجواب، صحیح الجواب، ابوالفیض غلام محمد، سنی حنفی، قادری، ظفر الدین احمد بریلوی غفرلہ، سنی، عبدن المصطفےٰ، بریلوی، حنفی بہاری،
ھذا الجواب صحیح۔ جواب ٹھیک ہے۔ صحیح الجواب، سید علی عفی عنہ القادری، الجالندھری خادم العلماء بندہ امام الدین عبدالنبی نواب مرزا کپور تھلوی
الجواب صحیح، قولنا به هذا الحكم ثابت، وجدته صحيحاً مليحاً، مسکین عبداللہ شاہ مولوی احقر الزمن محمد حسن مدرس مدرسہ فقیر سعد اللہ شاہ ولایتی ساکن سوات پنشن نمبر ۱۹ سیالکوٹی ثم گجراتی شہر نعمانیہ امرتسر نبیرہ ملک ماتحت اخون صاحب سوات دارالافتاء مدرسہ اہل سنت و جماعت معروف بنام مفتی مظہر الاسلام بریلوی
الجواب صحیح، جوابات مذکورہ بالا مطابق اصول اھل ھذا الجواب صحیح، محمد اشرف مدرس لاشک فیہ. مسکین علم الدین سنت والجماعت ہیں۔ احقر الزمن مدرسہ نعمانیہ لاہور لاہوری خاکسار سید حسن عفی عنہ مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور
هذا الجواب صحيح، لاشک فیہ محمد رشید الرحمٰن عفی عنہ۔ لقد اجاب من اصاب حررہ الفقیر ، المفتی ولی محمد جالندھری
مرزا غلام احمد کے اعتقادات مذکورہ اور اعتقاداتِ کفریہ نقل کر کے علمائے ہندوستان پنجاب کی خدمت
میں پیش کیے گئے۔ سب نے بالاتفاق اس کو دائرہ اسلام سے خارج کیا۔ اس کے ساتھ اسلامی معاملات مثل ملاقات اور سلام و کلام کرنے سے منع کر دیا ہے اور قریب ڈیڑھ سو علماء کی مہریں اور دستخط اس فتوے پر ثبت ہیں۔ نمقہ ابوسعید محمد حسین بٹالوی حنفی اہلحدیث۔ جو شخص خدا کے متعلق اس قسم کے عقائد رکھے جو سوال میں درج ہیں یا مدعی رسالت ہو اگر وہ مجنون نہیں تو کافر ہے۔ حررہ ابوالفضل محمد حفیظ اللہ دارالعلوم لکھنؤ
الجواب صحیح۔ الجواب صحیح۔ ان عقائد کا معتقد کافر ہے۔ ابوالعماد محمد شبلی جیراجپوری مدرس سید علی زینی عفی عنہ مدرس مدرسہ حررہ محمد واحد نور رامپوری۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ العلوم دارالندوہ لکھنؤ۔
مرزا قادیانی اصول اسلامی کا منکر بے شک مرزا قادیانی کے عقائد و اقوال الجواب صحیح، ہے اور ملحد اس کی امامت بیعت اور حد کفر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس لیے اس محمد قاسم عفی عنہ مدرس مدرسہ امینیہ محبت بالکل ناجائز ہے۔ رقیمہ احقر کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ محمد کفایت دہلی۔ العباد اللہ الصمد مرید احمد میانوالی۔ اللہ عفی عنہ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی۔
ایسا شخص بے شک دائرۂ اسلام سے الجواب صحیح، جواب صحیح ہے۔ خارج ہے۔ محمد اسحاق (مفتی پٹیالہ) حبیب احمد مدرس مدرسہ فتح پوری محمد عبدالغنی عفی اللہ عنہ مدرس مدرسہ غلام مرتضیٰ پٹیالوی غلام محمد عفی عنہ۔ دہلی۔ فتح پوری دہلی۔
الجواب صحیح، الجواب صحیح، جواب صحیح ہے۔ سید انظار حسین عفی عنہ مدرس مدرسہ محمد کرامت اللہ دہلی۔ ابو محمد عبدالحق دہلوی۔ امینیہ دہلی۔
جواب صحیح ہے۔ الجواب صحیح الجواب صحیح، محمد امین مدرس مدرسہ امینیہ دہلی۔ محمد لطف اللہ از علی گڑھ۔ احمد جی علاقہ چھچھ موضع پانڈک۔
الجواب صحیح جواب درست ہے الجواب صحیح، سید حافظ محمد حسین واعظ ساڈھورہ ضلع عبداللہ خان مدرس مدرسہ اسلامیہ شہر فضل احمد ضلع پشاور تعلقہ مردان انبالہ۔ میرٹھ۔ تحصیل صوابی۔
قادیانی اس نص قطعی کا منکر ہے اور جو نصوص قطعیہ سے منکر ہوتا ہے کافر ہے۔ پس قادیانی اگر دعویٰ مذکورہ کا مدعی ہے، تو وہ بے شک کافر ہے۔ حررہ امانت اللہ عفی عنہ علی گڑھ
مرزا قادیانی اور اس کے پیرو یہ سب کے سب کافر ہیں۔ نصیر الدین خان غلام مصطفیٰ ابراہیم۔ محمد سلطان احمد خان، محمد رضا خان
مرزا قادیانی اور اس کے معتقد اور مرید اور دوست مثل مسیلمہ کے کافر ہیں۔ حررہ یمین الہدیٰ عفی عنہ شاہ قادری از کلکتہ۔
قادیانی خنزیر مسیلمہ کذاب قادیان پر ہزار لعنت۔ مفتری، زندیق، مردود، کافر نائب ابلیس لعنت اللہ علیہ زندیق کی توبہ قبول نہیں۔ شریعت محمدیہ میں واجب القتل ہے۔ جمال الدین از ریاست کشمیر ضلع شہر مظفر آباد
بے شک جو آدمی امور قطعیہ کا منکر ہے وہ کافر ہے۔ قرآن شریف معجزہ کا مثبت ہے اس کا انکار کفر ہے
اور ایسے آدمی کی بیعت بھی کفر ہے اور مسلمان جاننا درست نہیں۔ حررہ احمد علی عفی عنہ مدرس مدرسہ اسلامیہ اندرکوٹ میرٹھ
جو شخص کسی پیغمبر کی نبوت کا انکار کرے یا حضرت سرور عالم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا انکار کرے وہ کافر ہے۔
عبدالسلام پانی پتی
مرزا قادیانی کے عقائد اس حد تک یقیناً پہنچ گئے ہیں کہ دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا حکم عائد ہو جائے۔ دعوائے نبوت اس کے اور اس کے مریدوں کی تصنیفات میں بصراحت موجود ہے۔ انبیاء علیہ السلام پر اپنی فضیلت اور انبیاء علیہم السلام کی شان میں ہتک اور استخفاف سے ان کی کتابیں واشتہار ورسالے مملو ہیں۔ معجزات و خوارق عادت کی دور از کار تاویلیں ۔ نصوص قطعیہ کی تحریف معنوی ان کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ لہٰذا ان کے کافر ہونے میں شک وشبہ نہیں اور ان کی بیعت حرام ہے اور امامت ہرگز جائز نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
کتبہ الراجی الی اللہ محمد کفایت اللہ شاہجہان پوری
خاکسار مولوی محمد کفایت اللہ صاحب کے جواب سے اتفاق کرتا ہے۔
کتبہ مشتاق احمد مدرس گورنمنٹ سکول دہلی
بے شک الفاظ مذکورہ مسطورہ فتوے کفر کے ہیں اور قائل ان کا کافر ہے۔ اگر مرزا مذکور سے یہ الفاظ تقریراً یا تحریراً ثابت ہیں تو بس کافر ہے۔
راقم فقیر امانت علی از فلور
شخص مدعی حال نبوت و رسالت کا ہے اور یہ کفر ہے۔ اس کے دعوے کا ہر ایک کلمہ کئی کئی طرح کے کفریات پر مشتمل ہے۔ پس شریعت غرا میں قائل ان کلمات کا اور مدعی و عادی کا مثل فرعون دجال مسیلمہ کے ہے اس کے ساتھ بیعت وغیرہ سلام وکلام شرع میں کفر اور حرام ہے۔
کتبہ محمد محی الدین صدیقی لکھنوی عفی عنہ مدرس مدرسہ نصرۃ الحق حنیفہ امرتسر
ایسا دعویٰ کرنے والا کافر ہے اور اس کے مرید اور معتقد جو ایسے مدعی مفتری کو اس کے اقاویل کاذبہ اور دعاوی باطلہ میں سچا جانتے ہیں اور راضی ہیں وہ بھی کافر ہیں۔ اس لیے کہ الرضاء بالکفر کفر۔
حررہ محمد عبدالغفار خان رام پوری
حق تعالیٰ شانہ نے رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ہے ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین اور نیز باجماع امت ثابت ہے کہ انبیاء ورسل افضل الخلق ہیں۔ لہٰذا جو شخص اپنے لیے رسالت کا مدعی ہے اور عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ سے اپنے آپ کو افضل جانتا ہے۔ وہ کتاب اللہ کا مکذب دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ اس کی اور اس کے اتباع کی امامت اور بیعت ومحبت ناجائز اور حرام ہے۔
ایسے شخص سے اور اس کے اذناب سے سلام کلام ترک کرنا چاہیے۔
حررہ خلیل احمد سہارنپوری
بمقتضائے کوائف مندرجہ بیان سائل ہر ایک جواب مطابق سوال صحیح درست ہے۔ اور ہر ایک جواب کی تائید کے ادلہ قطعیہ مؤید ہیں۔ اور کتب شرعیہ مملو۔
کتبہ احقر العباد اللہ الصمد ابوالرجا غلام محمد ہوشیار پوری
شخصی که مدعی رسالت باشد منکر نص قطعی است ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین و در کفر منکر قطعیات اختلاف نیست و ہمراہ چنیں کسان بیعت ومحبت چہ معنی دارد
الراقم غلام احمد مدرس مدرسہ نعمانیہ۔ لاہور
جو شخص اقوال و عقائد مذکورۂ بسوال کا قائل و معتقد ہو، وہ انکار منصوصات قطعیہ کی وجہ سے کافر ہے اور کافر کی امامت و بیعت اور اس سے سبقت سلام تا تجدید اسلام قطعاً ناجائز ہے اس لیے کہ یہ سب چیزیں اسلام کی پختگی اور ایمان کی مضبوطی پر متفرع ہیں۔
الراقم ابو الحامد محمد عبدالحمید الحنفی القادری الانصاری لکھنوی
جواب درست ہے جواب درست ہے۔ الجواب صحیح سلطان احمد گنجوی احمد علی عفی عنہ سہارنپوری۔ محمد عظیم متوطن لکھنو۔ مرزا غلام احمد دائرہ اسلام سے خارج ذلک الکتاب لاریب فیہ. الجواب صحیح : ہے۔ محمد اسحاق لدھیانوی۔ محمد معز اللہ خان رامپوری۔ احمد سعید رامپوری۔ قد صح الجواب: الجواب صحیح الجواب صحیح محمد امانت اللہ رامپوری۔ محمد ضیاء اللہ خان رامپوری۔ عبداللطیف عفی عنہ سہارنپوری۔ صحیح الجواب المجیب مصیب الجواب صحیح ، محمد کفایت اللہ سہارنپوری۔ حافظ محمد شہاب الدین لدھیانوی۔ فضل احمد رائے پور گوجراں۔ الجواب صحیح اصاب من اجاب الجواب صحیح : نقول صحیح والمذہب ابو الرجا غلام محمد محمد ابراہیم وکیل اسلام۔ لاہور ، عنایت الٰہی سہارنپوری مہتمم مدرسہ ہوشیار پوری۔ رایته فوجدته صحیحًا نبی بخش عربیہ سہارنپور۔ حکیم رسول نگری۔ الجواب صحیح الجواب صحیح الجواب صحیح محمد بخش عفی عنہ سمراے۔ صدیق احمد انبہٹوی۔ احقر زمان گل محمد خان مدرس مدرسہ عالیہ دیوبند۔ صحیح الجواب الجواب صحیح الجواب صحیح عبدہ محمد مدرس مدرسہ اسلامیہ غلام رسول عفی عنہ مدرس مدرسہ عربیہ عزیز الرحمٰن مفتی مدرسہ عالیہ عربیہ دیوبند۔ دیوبند۔ دیوبند۔ الجواب صحیح الجواب صحیح الجواب صحیح قادر بخش عفی عنہ جامع مسجد سہارن بندہ عبدالمجید۔ علی اکبر المجیب صادق محمد یعقوب پور۔ المجیب مصیب عبدالخالق۔ الجواب صحیح الجواب صحیح الجواب صحیح نور اللہ خان۔ محمد فتح علی شاہ۔ فقیر غلام رسول مدرسہ حمیدیہ لاہور۔ الجواب صحیح جواب صحیح ہے۔ جواب صحیح ہے احمد علی شاہ اجمیری ھذا ھوالحق جمال فقیر غلام اللہ قصوری۔ محمد اشرف علی عفی عنہ ساکن بھون، الدین کوٹہوالوی المجیب مصیب احمد ہندوستان۔ علی عفی عنہ بٹالوی۔ ما اجاب به المجيب فهو فيه من قال سواء ذلک قد قال محالاً جواب درست ہے۔ مصیب حررہ ابوالہاشم محبوب عالم عفی عنہ عبدالصمد مدرس دیوبند ذالک غلام احمد امرتسری ایڈیٹر اہل فقہ۔ توکلی سیالوی ضلع گجرات۔ کذالک ، فقیر فتح محمد عفی عنہ سوہدرہ ضلع جالندھر۔
الجواب صحیح۔ شیر محمد عفی عنہ۔ لاریب فی ما کتب رحیم بخش جالندھری۔
الجواب صحیح ابو عبدالجبار محمد جمال امرتسری۔
جواب صحیح ہے عبدالکریم مجددی ساکن ٹنڈو محمد خان ضلع حیدرآباد سندھ۔
الجواب صحیح فقیر محمد باقر نقشبندی مدرس مشن کالج لاہور۔
الجواب صحیح لاریب فیہ محمد رحیم اللہ دہلی۔
الجواب صحیح والمجیب مصیب حبیب المرسلین مدرس مدرسہ حسین بخش دہلی۔
الجواب صحیح۔ محمد وصیت علی مدرس مدرسہ مولوی عبدالرب صاحب مرحوم دہلی۔
هذا هو الحق خادم حسین عفی عنہ مدرس مدرسہ مولوی عبدالرب صاحب۔
الجواب صحیح۔ عزیز احمد عفی عنہ مدرس مدرسہ حسین بخش دہلی۔
المجیب مصیب محمد احکم عفی عنہ مدرس مدرسہ باڑہ ہندو راؤ دہلی۔
الجواب صحیح۔ عبدالرحمن عفی عنہ مدرس مدرسہ مولوی عبدالرب صاحب دہلی۔
الجواب صحیح بندہ ضیاء الحق عفی عنہ۔
الجواب صحیح محمد پردل عفی عنہ دہلی۔
الجواب صحیح ولی محمد کرنالوی۔
الجواب صحیح محمد ذاکر بگوی عفی عنہ۔
من اجاب فقد اصاب۔ غلام رسول ملتانی۔
الجواب صحیح۔ ابو محمد احمد چکوالی۔
الجواب صحیح نور احمد عفی عنہ امرتسری۔
الجواب صحیح محمد عبدالخالق عفی عنہ لکھنوی۔
صحیح الجواب محمد قاسم عبدالقیوم الانصاری لکھنوی۔
الجواب صحیح محمد عبدالعزیز لکھنوی اصاب مَن اجاب۔ محمد برکت اللہ لکھنوی۔
اصاب من اجاب محمد عبدالهادی الانصاری لکھنوی۔
صحیح الجواب محمد عنایت اللہ عفی عنہ لکھنوی۔
اصاب من اجاب محمد عبدالمجید غفر اللہ الوحید لکھنوی۔
جواب صحیح ہے۔ محمد اسحاق عفی عنہ مدرس مدرسہ جامع العلوم کانپور۔
الاجوبۃ صحیحۃ مقبول حسن عفی عنہ مدرس سوم مدرسہ جامع العلوم کانپور۔
لقد اصاب من اجاب۔ مشتاق احمد اول مدرس فیض عام کانپور۔
جواب صحیح ہے۔ محمد عبداللہ ناظم دینیات مدرسہ دارالعلوم علی گڑھ۔
محمد حسین عفی عنہ از ہندوستان۔
الجواب صحیح محمود عفی عنہ ملتانی۔
الجواب صحیح محمد فیض اللہ عفی عنہ ملتانی۔
کتبہ المفتی محمد عبداللہ ٹونکی از لاہور۔
المجیب مصیب محمد عمر خان عفی عنہ۔
سب نبی کفر ہے اور دعوے نبوت کفر ہے۔ نبی سے اپنے آپ کو افضل سمجھنے والا کافر ہے۔ ابوبکر علی احمد محمود اللہ شاہ بدایونی عفی عنہ۔
کچھ شک نہیں کہ مرزا قادیانی ایک دہریہ معلوم ہوتا ہے۔ مفتری علی اللہ ہے اس کے الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے خدا پر بھی ایمان نہیں کیونکہ خدا پر ایمان رکھنے والا اس قسم کے افتراء نہیں کیا کرتا۔ اس لیے میرا یقین ہے کہ مرزا قادیانی جو کچھ کرتا ہے۔ سب دنیا سازی کے لیے کرتا ہے پس اس کی امامت جائز نہیں۔ ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری۔
چونکہ شخص مذکور اپنے کو سچا رسول کہتا ہے اور رسالت کا ختم ہو جانا آنحضرت ﷺ پر نصوص قطعیہ یقینیہ سے ثابت ہے جو حد تواتر میں داخل ہے۔ اس لیے وہ شخص بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ پس امامت یا بیعت و دوستی ۔ سلام و کلام اس سے اور اس کے مریدوں سے جائز نہ ہوگا۔ واللہ اعلم احقر محمد رشید مدرس دوم جامعہ جامع الکلام کانپور ۔
جو کلمات سوال میں مذکور ہیں ہر ایک کلمہ کا مرتکب اشد کافر ہے۔ العاجز عبدالمنان وزیر آبادی۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے خیالات اور اعتقادات اکثر ایسے ہیں ۔ جن سے فتویٰ کفر عائد ہوتا ہے۔ یوسف علی عفی عنہ میرٹھی خیر نگری ۔
تمام علماء نے اس کے کافر ہونے پر اتفاق کر لیا ہے۔ کوئی گنجائش تاویل کی نہیں۔ لہٰذا اس کے بیعت اور اس کے پیرو سے مجالست و مؤاکلت قطعی ناجائز ہے۔ ابوالعظم سید محمد اعظم شاہجہانپور۔
میری نظر سے مرزا کی کتابیں گزریں ان میں صراحۃً عقائد کفریہ مرقوم ہیں۔ لہٰذا میں باعتبار ان کتابوں کے مرزا قادیانی کو کافر سمجھتا ہوں ۔ غلام محی الدین امام جامع مسجد شاہجہان پور۔
مرزا قادیانی کی کتابوں میں بہت سے کفریات موجود ہیں جو نصوصِ قاطعہ کے خلاف ہیں لہٰذا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ عبد الکریم عفی عنہ از ہندوستان ۔
جو شخص توہین کسی نبی کی انبیاء علیہم السلام سے کرے وہ مردود اور کافر ہے۔ یعنی ایسا کافر کہ اس کی توبہ میں اختلاف ہے تو اس کا کفر اور کفار کے کفر سے زاید ہے۔ العیاذ باللہ فقط ، محمد عثمان عفی عنہ مدرس اوّل مدرسہ عین العلم شاہجہان پور۔
بے شک ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقط محمد عبدالخالق عفی عنہ مدرس دوم مدرسہ عین العلم شاہجہان پور۔
بے شک یہ شخص اسی طرح کا کافر ہے۔ جیسا کہ مولوی محمد عثمان صاحب دام ظلہم نے تحریر فرمایا ہے۔ فقط ابو الرفعت محمد سخاوت اللہ خان مدرس سوم مدرسہ عین العلم شاہجہان پور۔
مرزا غلام احمد قادیانی یقیناً کافر ہے۔ اس کے کفر میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ احقر کو اس کی کتب بتامہ دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا ہے۔ اس سے اور اس کے متبعین سے اسلامی طریقہ سے ملنا جلنا ناجائز ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب محمد اعزاز علی بریلوی۔
مرزا قادیانی جو عیسیٰ مسیح ہونے کا مدعی اور حضرت عیسیٰ ؑ کی نسبت کلمات شنیعہ لکھنے والا وغیرہ سراسر کاذب اور مفتری انتہاء درجہ کا بددین مرتد ملحد خبیث النفس اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کی اتباع کرنے والے بھی اسلام سے خارج ہرگز امامت کے لائق نہیں۔ عبدالجبار عمر پوری دہلی کشن گنج ۔
مرزا قادیانی ان عقائد باطلہ کی رو سے بلا ریب کافر مجاہر ہے۔ قرآنی اور اجماعی امر ہے کہ دنیا میں پہلا کافر ابلیس لعین ہے اور اس کا کفر نص کی بنا پر ہے اور وجوہ بھی تکفیر مرزائین کے آیات و احادیث سے بکثرت ملتی
ہیں۔ مرزائیوں سے ارتباط اسلامی نصوص آیات و احادیث سے ممنوع ہے۔ جملہ تکالیف شرعیہ وارشادات اسلامیہ و خطابات تشریعیہ امامت وغیرہ سب بعد الایمان ہیں۔ جب ان کا ایمان نہیں تو ایسے تعلقات اسلامیہ ان سے کیا معنی رکھتے ہیں بلکہ جو شخص ان کی تکفیر میں تامل کرے۔ اس پر بھی حکم کفر ہے۔ اور یہ پہلا زینہ دخول فی المرزائیت ہے۔ حررہ محمد عبدالحق الملتانی عفی عنہ۔
یہاں پر ایک فتویٰ مختصر کر کے علمائے کرام لاہور کا ایک مرزائی کا جنازہ پڑھنے کے بارہ میں درج کرتا ہوں
سوال ..... کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد کے امام اہل سنت والجماعت سے مرزائیوں کی تکفیر کے فتووں سے واقف ہو کر دیدہ دانستہ ایک مرزائی کے جنازہ کی نماز پڑھائی ہے۔ آیا ایسے شخص کے حق میں شرعاً کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب ...... مرزا غلام احمد قادیانی علانیہ نزول وحی نبوت اور رسالت کے مدعی ہیں۔ اس لحاظ سے ان کا اور ان کے مریدوں کا خارج از دائرہ اسلام ہونا مسلم الثبوت ہے (دیکھو امام ابوالفضل قاضی عیاض کتاب الشفا فی تعریف حقوق المصطفیٰ جلد ۲ ص ۵۱۹ اس کے اور اس کے مریدوں کے پیچھے اقتدا اور ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا ہرگز درست نہیں ہے۔ پس جس نے دیدہ دانستہ مرزائی کے جنازہ کی نماز پڑھی ہے اس کو علانیہ توبہ کرنی چاہیے اور مناسب ہے کہ وہ اپنا تجدید نکاح کرے اور حسب طاقت کھانا کھلائے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو اہل سنت والجماعت کو اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنا چاہیے۔ ایسے منافق کے پیچھے نماز درست نہیں ہوتی۔
ھذا الجواب صحیح ذلک کذالک الجواب صحیح والمجیب نجیح محمد یار عفی عنہ۔ محمد حسین عفی عنہ۔ محمد عالم مدرس دوم مدرسہ حمیدیہ لاہور۔
جواب صحیح المجیب مصیب قد صح الجواب غلام رسول چہارم مدرس مدرسہ ھذا احقر محمد باقر عفا اللہ عنہ۔ حسن عفی عنہ اول مدرس مدرسہ حمیدیہ لاہور۔ لاہور۔ فقیر غلام قادر بھیروی عفی عنہ از لاہور۔
الجواب صحیح ابوسعید محمد حسین بٹالوی ۔ فتوی اول ختم شد۔
بسم الله الرحمن الرحيم
فتویٰ شریعت غرّا
فتویٰ نمبر دوم
اس شخص کی نسبت جو مرزا غلام احمد قادیانی کا مرید
نہ ہونے کے باوجود اس کو مسلمان جانتا ہے
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس شخص کے بارے میں جو کہتا ہے کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کا مرید تو نہیں ہوں اور نہ اس کے اعتقادیہ مسائل میں شامل ہوں لیکن اس کو مسلمان جانتا ہوں۔ کیا ایسے شخص کی بیعت اور امامت درست ہے اور شرعاً اس کو کیا کہنا چاہیے۔ بینوا بالتفصيل جزاكم الله الرب الجليل.
الجواب ...... جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد کفریہ کے معلوم ہونے کے باوجود اس کو کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہے ایسے شخص اکثر وہی دیکھے گئے ہیں جو منافق اور کافر ہیں یعنی دراصل مرزائی ہوتے ہیں لیکن ظاہری طور پر کہتے ہیں کہ ہم مرزا کو مسلمان جانتے ہیں۔ یا اس پر ہم کفر کا فتویٰ نہیں دیتے یا اس کو اچھا تو نہیں جانتے لیکن کافر بھی نہیں کہتے۔ دراصل یہ سب کارروائی منافقانہ ہے۔ کوئی مصلحت مدنظر رکھ کر ظاہر نہیں ہوتے۔ فی الحقیقت پکے مرزائی ہوتے ہیں۔ یاد رکھو مسلمان کی شان سے بعید ہے کہ ایسے کافر کی تکفیر میں توقف یا تردد کرے۔ الحاصل مرزا اور اس کے سب مرید اور باوجود مرزا کی کفریات کے معلوم ہونے کے اس کے کفر میں توقف کرنے والے سب کے سب کافر ہیں۔ توہین انبیاء علیہم السلام ادعائے نبوت رد نصوص ایسا کفر ہے جس میں اہل سنت میں سے کسی کا بھی اختلاف نہیں۔ اس واسطے دلائل لکھنے کی کچھ ضرورت نہیں۔ فقط واللہ اعلم۔ حررہ العاجز یوسف عفی عنہ از بھکھیلے والا
الجواب ...... جو شخص مرزا غلام احمد کے اقوال پر مطلع ہو کر اس کو کافر نہ جانے وہ خود کافر مرتد ہے بلکہ جو شخص اس کے کافر ہونے میں شک وتردد کرے وہ بھی کافر مستحق عذاب عظیم ہے۔ شفاء شریف میں ہے "نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملة المسلمين من الملل او وقف فیهم او شک" (الشفاء ج ۲ ص ۲۴۷) یعنی ہم ہر اس شخص کو کافر کہتے ہیں جو کافر کو کافر نہ کہے یا اس کی تکفیر میں توقف یا شک وتردد رکھے ومجمع الانھار و در مختار وفتاویٰ خیریہ و بزازیہ وغیرہ میں ہے۔ من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر یعنی جو شخص اس کے کفر وعذاب میں شک کرے یقیناً خود کافر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم.
کتبہ محمد عبدالرحمن البہاری عفی عنہ
صحیح الجواب احمد رضا عفی عنہ۔
الجواب صحیح محمد عبدالمجید سنبھلی عفی عنہ۔
صح الجواب عبدہ ظفر الدین بریلوی سنی حنفی قادری رضوی عبید المصطفٰی۔
ظفر الدین احمد بریلوی الجواب صحیح جواب صحیح ہے۔ مہر دارالافتاء مدرسہ و جماعت بریلوی والمجیب مصیب احقر زمن محمد حسن سید حسن عفی عنہ مدرس مدرسہ نعمانیہ منظر الاسلام۔ مدرس مدرسہ نعمانیہ امرتسر۔ لاہور۔ جواب صحیح ہے الجواب صحیح ھذا الجواب صحیح کریم بخش سنبھلی عفی عنہ۔ عبدالوحید مدرس اول مدرسہ نعمانیہ محمد اشرف مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور۔ امرتسر۔ جواب صحیح ہے۔ ھذا الجواب صحیح لقد اصاب من اجاب بندہ امام الدین کپور تھلوی۔ سید علی جالندھری۔ حررہ الفقیر المفتی ولی محمد جالندھری۔ الجواب صحیح ھذا الجواب صحیح الجواب صحیح بندہ فتح الدین ہوشیار پوری۔ لاشک فیہ محمد رشید الرحمٰن۔ لاشک فیہ علم الدین لاہوری۔ الجواب صحیح الجواب اصح۔ ھذا الاجوبۃ صحیحۃ، سید علی زینی عفی عنہ مدرس دارالعلوم محمد لطف اللہ عفی عنہ از علی گڑھ۔ ابوسعید محمد عبد الخالق لکھنوی۔ ندوہ لکھنؤ۔ اصاب من اجاب، صح الجواب، الجواب صحیح، محمد عبدالعزیز لکھنوی عبدالخالق لکھنوی ولی محمد کرنالوی صح الجواب، اصاب من اجاب، اصاب من اجاب، محمد قاسم عبدالقیوم الانصاری لکھنوی محمد برکت اللہ لکھنوی محمد عبدالهادی الانصاری لکھنوی صح الجواب، ایسا شخص فاسق ہے۔ الجواب صحیح، محمد عبیداللہ لکھنوی محمد عبدالغنی مدرس مدرسہ فتح پوری، بندہ محمد قاسم مدرس مدرسہ امینیہ دہلی دہلی الجواب صحیح، الجواب صحیح، الجواب صحیح، انظار حسن مدرس مدرسہ امینیہ دہلی محمد کرامت اللہ دہلوی والمجیب نجیح۔ بندہ محمد امین مدرس مدرسہ امینیہ دہلی الجواب صحیح، الجواب صحیح: من اصاب فقد اجاب۔ محمد عبدالحق دہلوی محمد ذاکر بگوی عفی عنہ لاہوری۔ غلام رسول الملتانی عفی عنہ۔ الجواب صحیح: الجواب صحیح: اصاب من اجاب ابو محمد احمد عفی عنہ چکوالی، لاہور نور احمد عفی عنہ امرتسری۔ سید حسین مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور۔ الجواب صحیح ایسا شخص منافق ہے۔ الجواب صحیح: عبدالعزیز ساکن قلعہ میاں سنگھ۔ ایسے شخص کے خلف اقتداء درست حکیم ابوتراب محمد عبدالحق امرتسری۔ نہیں۔ سلام دین امرتسری۔ الجواب صحیح: جو شخص اس کو حق جانتا ہے وہ بھی صراط مستقیم ایسا شخص کافر اور مرتد ہے۔ سید شاہ حیدر آبادی۔ و دین قویم سے منحرف ہے۔ مرید احمد۔ ابو یوسف امرتسری
الجواب صحیح: محمد اسحاق لودھیانوی۔
الجواب صحیح: عبداللطیف سہارنپوری
الجواب : ثابت علی سہارنپوری
الجواب صحیح: محمد کفایت اللہ سہارنپوری
الجواب صحیح والقول نجیح: غلام محمد ہوشیار پوری
الجواب صحیح: حافظ محمد شہاب الدین لودھیانوی
الجواب صحیح: محمد ابراہیم وکیل اسلام، لاہور۔
رأیته فوجدته صحيحاً، نبی بخش حکیم رسول نگری۔
اصاب من اجاب، فضل احمد رائے پور گجراں۔
الجواب صحیح: محمد رکن الدین نقشبندی ساکن الور۔
ما اجاب به المجيب فهو مصيب، غلام احمد امرتسری۔
جواب صحیح ہے۔ خادم شریعت ابوالہاشم محبوب عالم سیدوی ضلع گجرات۔
الجواب صحیح فتح محمد۔
صح الجواب شیر محمد۔
الجواب صحیح فقیر غلام رسول مدرسہ حمیدیہ لاہور۔
الجواب صحیح فقیر غلام اللہ قصوری۔
الجواب صحیح فتح محمد۔
الجواب صحیح احمد علی شاہ اجمیری۔
هذا هو الحق جمال الدین کٹھیالوی۔
الجواب صحیح سلطان احمد گنجوی ضلع گجرات۔
الجواب صحیح محمد عظیم متوطن گکھڑ۔
المجيب مصيب۔ احمد علی بٹالوی۔
الجواب صحیح صدیق احمد ومومنوی۔
جواب درست ہے۔ احمد علی عفی عنہ مدرس مدرسہ اسلامیہ میرٹھ۔
الجواب صحیح: عنایت علی سہارنپوری۔
الجواب صحیح محمد بخش سہرانے۔
الجواب صحیح: احقر گل محمد خان مدرس مدرسہ عربیہ دیوبند۔
الجواب صحیح: سید محمد مدرس مدرسہ عربیہ دیوبند۔
الجواب صحیح غلام اسعد مدرسہ دیوبند۔
الجواب صحیح عزیز الرحمن مفتی حنفی مدرسہ عالیہ دیوبند۔
اصاب المجيب محمد حسن مدرسہ دیوبند۔
الجواب صحیح بندہ محمود عفی عنہ اول مدرس مدرسہ دیوبند۔
الجواب صحیح قادر بخش مہتمم جامع مسجد سہارنپور۔
الجواب صحیح بندہ عبدالمجید عفی عنہ۔
الجواب صحیح علی اکبر عفی عنہ المجيب صادق۔ عبدالخالق۔
الجواب صحیح نور اللہ خان۔
الجواب صحیح فتح علی شاہ المجيب مصيب عبدالرحمن۔
الجواب صحیح بندہ محمد اسحاق عفی عنہ۔
الجواب صحیح ابو عبدالجبار محمد جمال امرتسری۔
الجواب اصح الجواب صحیح الجواب صحیح عبدالکریم ساکن ٹنڈو محمد خان ضلع بندہ عبدالصمد عفی عنہ مدرس مدرسہ رحیم بخش جالندھری۔ حیدر آباد سندھ۔ دیوبند۔ الجواب صحیح الجواب اصح جواب صحیح ہے۔ والمجیب مصیب حبیب المرسلین مدرس محمد رحیم اللہ، دہلی۔ محمد یعقوب دیوبند۔ اول مدرسہ حسین بخش، دہلی۔ الجواب صحیح هذا هو الحق الجواب صواب محمد ناظر حسن صدر مدرس عربیہ فتح خادم حسن عفی عنہ مدرس مدرسہ مولوی محمد وصیت علی مدرس مدرسہ مولوی پوری، دہلی۔ عبدالرب صاحب دہلی۔ عبدالرب صاحب دہلوی...... الجواب صحیح المجیب مصیب الجواب صحیح بندہ ضیاء الحق عفی عنہ دہلی۔ محمد احکم عفی عنہ مدرس مدرسہ باڑہ محمد عزیز احمد عفی عنہ مدرس مدرسہ ہندو راؤ دہلی۔ حسین بخش دہلی۔ الجواب صحیح الجواب صحیح الجواب صحیح: عبداللہ خان مدرس مدرسہ اسلامیہ ولی محمد کرنالوی۔ ایسے آدمی کی بیعت حبیب احمد مدرس مدرسہ فتح پوری۔ میرٹھ۔ کفر ہے اور مسلمان جاننا درست نہیں۔ احمد علی عفی عنہ۔ الجواب صحیح: جواب صحیح ہے۔ ذلک الکتاب لاریب فیه احمد جی علاقہ کچو۔ محمد عبداللہ علی گڑھ۔ محمد معز اللہ خان رامپوری۔ الجواب صحیح الجواب صحیح: الجواب صحیح محمد فیض اللہ ملتانی عفی عنہ۔ محمود عفی عنہ ملتانی۔ سید محمد حسین واعظ ساڈھورہ۔
قولنا به هذا الحکم ثابت فقیر سعد اللہ شاہ ساکن سوات بنیرہ وجدته صحيحاً مليحاً مسکین عبداللہ شاہ مولوی پلٹن نمبر ۱۹ سیالکوٹی ثم گجراتی جو ایسے شخص کو مسلمان سمجھتا ہے وہ یا جاہل ہے یا بدعقیدہ۔ بیعت اور امامت ایسے شخص کی بھی درست نہیں۔ کتبہ ابوالفضل محمد حفیظ اللہ مدرس دارالعلوم ندوۃ العلماء الجواب صحیح والمجیب مصیب ابو العماد محمد شبلی عفی عنہ جی راجپوری مدرس دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ۔ ایسا شخص جاہل ہے اس کو سمجھانا چاہیے اور اگر وہ اپنی غلطی پر مصر ہو اور ہٹ دھرمی کرے تو اس کی امامت سے بچنا چاہیے اور بیعت ایسے شخص سے نہ کی جائے یہ شخص بدعتی ہے۔ حررہ واحد نور رامپوری بہتر یہی ہے کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ حررہ محمد امانت اللہ از علی گڑھ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو مسلمان جانے گو اس کے طریقہ پر نہ ہو یا مرید نہ ہو۔ مگر وہ ایسا ہے جیسا کہ شمر اور ابن زیاد اور یزید اور ابن ملجم کو مسلمان جانتا ہے اور جاننے والا بھی منافق اور خارجی ہے۔ حررہ عین الہدیٰ شاہ قادری از کلکتہ
ایسا شخص جاہل ہے کفر اور اسلام میں تمیز نہیں رکھتا اس کے امامت اور بیعت قبول نہیں ہے۔ یا واقف متعصب ہے۔ اس کو توبہ کرنی چاہیے ورنہ یہ تعصب بے محل مخل امامت و ارشاد ہوگا۔ حررہ ابوالحامد محمد عبدالحمید الحنفی القادری الانصاری النظامی لکھنوی
جو شخص مرزا کے عقائد معلوم کر کے اس کو کافر و خارج از اسلام نہ جانے وہ بھی اسی کا پیرو ہے۔ ابو محمد سعید محمد حسین بٹالوی
اگر غلام احمد کے عقائد کو یہ عقائد کفریہ جانتا ہے اور پھر ان سے راضی و خوش ہے۔ تو یہ کافر ہے۔ لان الرضا بالکفر کفر۔ محمد کفایت اللہ شاہجہانپوری مدرس مدرسہ امینیہ دہلی
مرزا اور اس کے ہم عقیدہ لوگوں کو اچھا جاننے والا جماعت اسلام سے جدا ہے۔ ایسے شخص سے بیعت کرنا حرام اور اس کو امام بنانا ناجائز ہے۔ مشتاق احمد حنفی مدرس گورنمنٹ سکول دہلی
کسیکہ قایل جواز اقتدا خلف مرزا و اتباع او باشد۔ مخطے و ناواقف از اصول دین است۔ زیرا کہ صحت نماز بدون ایمان صورت نمی بندد و بطلان نماز امام موجب بطلان نماز مقتدی است کما لا یخفی علی من لہ التمسک بالدین و بیعت چنیں ناواقف بریں قیاس باید کرد۔ غلام احمد مدرس مدرسہ نعمانیہ
جو شخص غلام احمد کو باوجود اس کے دعاوی کے اہل اسلام جانے یا اپنے دعوے میں صادق سمجھے وہ اسلام اور دین محمدی سے خارج ہے۔ الراقم عبدالجبار امرتسری
ایسا شخص ساتر حق ہے اور باطن میں معتقد قادیانی کا ہے ایسے امام کی بیعت وغیرہ سے کنارہ کشی واجب ہے۔ الراقم محمد محی الدین الصدیقی الحنفی امرتسری
اس کے عقیدے میں فرق ہے اس کی امامت اور بیعت جائز نہیں۔ الراقم عبدالسلام پانی پتی
شخص مذکور اگر مرزا کے کفریہ معتقدات پر اطلاع حاصل کرنے کے بعد اس کی تکفیر کرے تو فبہا ورنہ وہ بھی قادیانی کے ساتھ کفر میں ہم رشتہ ہیں۔ اس کی بیعت اور امامت جائز نہ ہوگی۔ حررہ خلیل احمد
بمقتضائے کوائف مندرجہ بیان سائل ہر ایک جواب مطابق سوال صحیح و درست ہے اور ہر ایک جواب کی تائید کے ادلہ قطعیہ مؤید ہیں اور کتب شرعیہ اسے مملو، کتبہ احقر عبدالصمد ابوالوفا غلام محمد ہوشیار پوری
جو ایسے مدعی کو اس کی اقاویل کاذبہ اور دعاوی باطلہ میں سچا جانتا ہے اور راضی ہے وہ بھی کافر ہے۔ اس لیے کہ الرضاء بالکفر کفر محمد عبدالغفار خان رامپوری
ایسے صریح منکر کو مسلمان سمجھنا تو گویا خود مسلمانی سے خارج ہونا ہے، ابوالمعظم سید محمد اعظم مفتی حنفی شاہجہانپور
جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد مخالف کو اچھا جانے اس کے پیچھے نماز درست نہیں اور نہ اس سے کسی کو بیعت کرنا جائز ہے۔ ابو یوسف علی میرٹھی
مرزا اور اس کے اتباع کی مثل میرے نزدیک اسلامی فرق میں ایسا کافر کوئی نہیں۔ العاجز عبدالمنان وزیر آبادی
جو ایسے اعتقاد والے کو مسلمان جانے وہ شخص بھی کافر ہے۔ جمال الدین ریاست کشمیر
جو شخص مرزا کے عقائد سے ناواقف ہو کر مسلمان کہتا ہے تو وہ بھی اسلام سے خارج ہے ہرگز امامت کے لائق نہیں۔ عبدالجبار عمر پوری دہلی کشن گنج
جو شخص مرزا قادیانی کے حق میں باوجود علم اس بات کے کہ وہ اپنے آپ کو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام پر تفضیل دیتا ہے اور دعویٰ رسالت کرتا ہے۔ حسن ظن رکھتا ہو اور اس کو مسلمان کہتا ہو۔ تو وہ شخص خود دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ایسے شخص کی امامت و بیعت شرعاً ہرگز جائز نہیں اور اہل اسلام کو اس سے اجتناب لازم ہے۔ حررہ محمد خدا بخش عفی عنہ پشاوری
مرزا کو یہ شخص اگر بنا بر جہالت کے مسلمان سمجھتا ہے تو معذور سمجھا جائے گا اور اگر باوجود اس کے ایسے دعاویٰ کفریہ اور اعتقادیہ باطلہ کے اس کو محض کلمہ گوئی پر مسلمان جانتا ہے تو خود اس کے اسلام پر خطرہ ہے اس کو پہلے تعلیم کافی دی جائے اگر نہ سمجھے پھر اس کی امامت اور بیعت کو بالکل چھوڑ دیا جائے۔ حررہ عبدالحق ملتانی
ضمیمہ رسالہ ھذا
منقول از روز نامہ پیسہ اخبار لاہور ۳۱ ستمبر ۱۹۰۶ء مرزا غلام احمد قادیانی تمام مسلمانان عالم کو کافر کہتے ہیں۔
آج میں نے پیسہ اخبار مورخہ ۱۴ اگست ۱۹۰۶ء کے صفحہ ۳ زیر ”مضمون خاص“ کو دیکھا جس میں درج ہے کہ ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب اسسٹنٹ سرجن لاہور مرزا قادیانی کا ایک خط بغرض اشاعت بھیجتے ہیں جس کا تذکرہ انجمن اسلامیہ لاہور میں تھا کہ مرزا قادیانی سوائے اپنے مریدوں کے باقی تمام مسلمانان عالم کو کافر کہتے ہیں۔ بذریعہ خط ان سے دریافت کرنا چاہیے کہ ضرور ان کا یہ عقیدہ یا قول ہے۔ ممکن ہے کہ یہ خط مرزا قادیانی کے اسی استفسار کا جواب ہو۔ وہ اصل خط بھی مرزا قادیانی کا اس اخبار میں درج کیا گیا ہے جس کے دیکھنے سے میں حیران ہوں کہ خداوند! کوئی جھوٹ کی انتہا ہوگی جو مدعی نبوت و رسالت کی طرف سے پبلک میں شائع ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کا اس ایچ پیچ سے لکھنا کہ مسلمان مولویوں نے مجھ کو کافر کہا اور کفر کے فتوے لکھے۔ چونکہ حدیث صحیح میں آتا ہے کہ جو مسلمان کو کافر کہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔ انھوں نے مجھ پر فتوے کفر کے لگائے اور وہ خود کافر ہو گئے اور ہماری طرف سے سبقت نہیں ہوئی۔ اگر کوئی کاغذ ہمارا لکھا ہوا ہو تو پیش کیا جائے اس لیے ہم ان مسلمانوں کو کافر کہنے کے واسطے مجبور ہوئے۔ ملخصاً
مرزا قادیانی کا ایسا لکھنا محض جھوٹ ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جب تمام مسلمانوں کے برخلاف اپنی نئی راہ نکالی اور اپنے عقائد مسلمانوں کے برخلاف کر لیے تب علمائے اسلام ہندوستان اور عرب نے مجبوراً مرزا قادیانی پر کفر کے فتوے دیے کہ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کافر اور مرتد ہے۔ عقائد مرزا قادیانی کے بہت سی کتب میں درج ہیں جس کی تفصیل نہیں۔ دو موٹے عقائد عام فہم یہ ہیں۔
- (الف)...... کہ مرزا قادیانی انبیاء علیہم السلام پر سخت یہودیانہ الزام لگا کر فحش ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں، توہین
کسی نبی کی ہو کفر ہے۔
- (ب)...... دعویٰ نبوت اور رسالت کا کرتے ہیں اور اپنے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ یہ دونوں عقائد صریح کفر ہے۔
مرزا قادیانی نے اپنی رسالت اور نبوت کے منکروں کو کافر کہا ہے اور عذاب دوزخ کے مستحق لکھا ہے اور دیگر مرزائیوں نے بھی مرزا قادیانی کے منکروں کو کافر لکھا ہے۔
- (۱)...... ”قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونى یحببكم الله ترجمہ! کہہ دے غلام احمد اگر تم خدا سے محبت کرنا
چاہتے ہو تو میری پیروی کرو تب تم سے خدا محبت کرے گا۔“
(براہین ص ۲۴۲ خزائن ج ۱ ص ۲۶۶)
(۲)...... الہام ”قل جاء کم نور من اللہ فلا تکفر وان کنتم مؤمنین۔“
(براہین احمدیہ حاشیہ نمبر۴ ص۵۶۲ خزائن ج۱ ص۶۷۰)
اے غلام احمد خدا کی طرف سے نور اترا ہے تم اگر مومن ہو تو انکار مت کرو۔ نتیجہ مرزا قادیانی کا منکر کافر ہے ۔ ۱۸۸۱ء
(۳)...... میں نبی ہوں۔ میرا انکار کرنے والا مستوجب سزا ہے۔ (ملخصاً توضیح مرام ص۱۸ خزائن ج۳ ص۶۰)
الہام...... قل یاایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعًا ای مرسل من اللہ (معیار الاخیار ص۳۰۲ مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۰) ترجمہ: کہہ دے (غلام احمد) کہ اے تمام دنیا کے لوگو فی الواقع میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ تم سب کے واسطے یعنی میں اللہ کا رسول ہوں۔ (۶)...... ان لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں جو زمین پر رہتے ہیں۔ خواہ وہ یورپ کے رہنے والے ہیں اور خواہ امریکہ کے، بلفظ مرزا کی تحریر اپنی جماعت کے لیے ص۴ ماہ نومبر ۱۸۹۹ء۔
(کافر کے پیچھے نماز پڑھنا قطعی حرام ہے)
میاں شمس الدین صاحب سیکرٹری انجمن حمایت اسلام کو مخاطب کر کے...... تم میرے منکر ہو۔ تمہاری دعائیں طاعون کے بارہ میں قبول نہیں ہوں گی کیونکہ تمھارے مناسب حال اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حکم دیا ہے۔ ”مادعاء الکافرین الا فی ضلال۔“ (دافع البلاء ص۱۱ خزائن ج۱۸ ص۲۳۲)
ترجمہ! کافروں کی دعا گمراہی میں ہے۔ (۱۰)...... الہام فاتقوا اللہ ایھا الفتیان واعرفونی واطیعونی ولا تموتوا بالعصیان (خطبہ الہامیہ ص۷۰ خزائن ج۱۶ ص ایضاً) ترجمہ! اے جوانو! خدا سے ڈرو اور مجھے پہچانو، اور میری پیروی کرو اور گناہ نافرمانی میں نہ مرو۔ (۱۲)...... وان انکاری حسرات علی الذین کفروا بی وان اقراری برکات للذین یترکون الحسد ویؤمنون (خطبہ الہامیہ ص۷۹ خزائن ج۱۶ ص ایضاً) ترجمہ! بلاشبہ میرا انکار ان لوگوں کے لیے حسرتیں ہیں جنھوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور بلاشبہ میرا اقرار ان لوگوں کے لیے برکتیں ہیں۔ جنھوں نے حسد کو چھوڑ دیا اور مجھ پر ایمان لے آئے۔ (۱۳)...... اس وقت بھی خدا کا رسول تمھارے درمیان ہے جو مدت سے تم کو ان عذابوں کے آنے کی خبر دے رہا ہے پس سوچو اور ایمان لاؤ تاکہ نجات پاؤ۔ اشتھار النداء من وحی من السماء ۲۱ اپریل ۱۹۰۵ء (مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۳۰ حاشیہ) نتیجہ (مرزا قادیانی پر ایمان لانے سے نجات ہے)
۲۶ دسمبر ۱۹۰۵ء کو عبد الکریم کی قبر سے تابوت نکالا گیا اور بہشتی مقبرہ قادیان میں پہنچایا گیا۔ دوبارہ جنازہ پڑھا اور سنگ مزار پر مرزا قادیانی نے یہ شعر لکھوایا :-
مسیحائی کا منکر شخص نزدیک اس کے کافر تھا
الہام...... قطع دابر القوم الذی لا یؤمنون. بلفظ اخبار بدر ۱۹ جنوری ۱۹۰۶ء (تذکرہ ص۵۸۹) ترجمہ! اس قوم کی جڑ کاٹ ڈالی گئی (جو مرزا قادیانی) پر ایمان نہ لائی۔
نوٹ...... جس شہر میں یہ فتویٰ پہنچے وہاں کے مسلمانوں کو لازم ہے کہ اسے اپنے ہاں طبع کرا کر لوگوں میں تقسیم کریں تا کہ وہ مرزا کے عقائد سے واقف ہو کر اس کے دھوکے سے بچیں اور اسلامی مجلسوں اور محفلوں میں پڑھ کر سنائیں اور سعادت دارین حاصل کریں۔
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
اسلام میں مرتد کی شرعی حیثیت
حضرت مولانا محمد مراد
بسم الله الرحمن الرحيم!
بسم الله الرحمن الرحيم ، حامداً ومصلياً ومسلماً ، اما بعد !
اصول دین میں سے کسی بھی اصل کے انکار سے کفر لازم آتا ہے۔ مثلاً توحید‘ رسالت‘ قیامت وغیرہ کا منکر اگر ابتداء کافر تھا تو اب بھی کافر رہے گا۔ لیکن پہلے مسلمان تھا بعد میں اصول دین کا انکار کیا تو مرتد کہلائے گا۔
ختم نبوت اصول دین میں شامل ہے۔ اس کا منکر مرتد ہے۔ یہ ایک واضح بات ہے۔ اسلامی فرقوں میں سے کوئی بھی اس میں اختلاف نہیں رکھتا۔ اس لئے جو شخص مسلمان تھا۔ بعد میں قادیانی یا لاہوری مرزائی عقیدہ اختیار کیا وہ اجماع امت اور دلائل قطعیہ سے مرتد ہے اور جو شخص کسی قادیانی یا مرزائی کے گھر پیدا ہوا وہ بھی مرتد ہے۔ فقہائے امت کا اس میں اجماع ہے۔ سلف صالحین میں سے کسی بھی فقیہ نے اس کے مرتد ہونے میں اختلاف نہیں کیا۔
ملکۃ العلماء علامہ کاسانی اپنی مشہور زمانہ کتاب بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۹ میں رقم طراز ہیں کہ: ”وان کان مولوداً فی الردة بان ارتد الزوجان ولا ولد لهما ثم ردتها حبلت المرأة من زوجها بعد ردتها وهما مرتدان على حالها فهذا بمنزلة ابويه حكم الردة . “ ﴿یعنی میاں بیوی دونوں مرتد ہوگئے اور ان کے ہاں اولاد نہ تھی۔ بعد میں بیوی اپنے خاوند سے حاملہ ہوئی اور دونوں مرتد رہے تو یہ بچہ ماں باپ کی طرح ہے۔ اس پر مرتد ہونے کا حکم لگے گا۔﴾
فقیہ امت علامہ ابن ہمام فتح القدیر ص ۳۲۷ ج ۵ پر لکھتے ہیں کہ: ”اما جبر الولد فلانه يتبع ابويه او احدهما فی الدین فیکون مسلماً باسلامهما ومرتداً بردتها فلما كان مرتداً بردتهما اجبركما يجبران ....... الخ . “ ﴿یعنی مرتد کی اولاد کو اسلام لانے پر اس لئے مجبور کیا جائے گا کہ وہ دین میں ماں باپ دونوں یا ایک کا تابع ہوتا ہے۔ پس دونوں کے مسلمان ہونے پر مسلمان کے حکم میں ہوگا اور دونوں کے مرتد ہونے کی صورت میں مرتد ہوگا۔ جس طرح مرتد ماں اور باپ کو اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا۔ اس طرح اولاد کو بھی مجبور کیا جائے گا۔﴾
صاحب ہدایہ علامہ مرغینانی ھدایۃ ج ۲ ص ۵۷۱ باب احکام المرتدین پر لکھتے ہیں کہ: ”واذا ارتد الرجل وامراته والعياذ بالله ولحقا بدار الحرب فحبلت المراة فى دار الحرب وولدت ولداً وولد لولدهما ولد فظهر عليهما جميعاً فالولدان فئ ..... الخ . “ ﴿یعنی مرد اور عورت العیاذ باللہ مرتد ہو کر دار الحرب فرار ہو گئے ہیں۔ دار الحرب میں عورت حاملہ ہوگئی اور بچہ جنا اور اولاد کو بھی اولاد ہو گئی۔ بعد میں ان سب پر غلبہ حاصل ہوا تو یہ بیٹے‘ پوتے‘ سارے مال غنیمت میں سے ہوں گے۔﴾
خلاصہ کلام یہ کہ بیٹے اور پوتے ساری اولاد کا ایک ہی حکم ہے۔
اگر کسی کو شبہ لگے کہ اولاد پر مرتد ہونے کا حکم صرف دارالحرب میں فرار ہو جانے کی صورت میں ہے۔ شاید دارالاسلام میں مرتد کو اگر اولاد ہو تو اس کا حکم مختلف ہوگا۔ اس شبہ کو رد کرتے ہوئے علامہ اکمل الدین محمد بن محمود البابرتی اپنی مایہ ناز کتاب العنایۃ شرح الہدایۃ ج ۵ ص ۳۲۷ پر فرماتے ہیں کہ:
"قيل ذكر دار الحرب وقع اتفاقا فانها اذا حبلت فى دارنا ثم لحقت به بدارالحرب فالجواب كذالك ولعله يشتمل على فائدة وهى ان العلوق متى كان فى دارالحرب كان ابعد عن الاسلام باعتبار الدار لكون الدار جهة فى الاستتباع فالجبر هناك يكون جبراً هنا بالطريق الاولى ...... الخ . ‘‘یعنی دارالحرب کی قید اتفاقی ورنہ دارالاسلام میں مرتدہ اگر حاملہ ہو جائے تب بھی یہی حکم رہے گا۔
شاید اس قید کا فائدہ یہ ہو کہ جب دارالحرب میں حمل ٹھہرے تو اسلام سے دور جا کر حمل ٹھہرا اور جب دارالاسلام میں حمل ٹھہرے گا تو دار کے لحاظ سے اسلام کے قریب حمل ٹھہرا۔ کیونکہ اولاد کا حکم ماں باپ والا لگانے میں دار بھی ایک سبب ہے تو جب وہاں حمل ٹھہرنے کی صورت میں بھی جبر ہوگا تو یہاں دارالاسلام میں حمل ٹھہرنے کی صورت میں بالطریق الاولٰی اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا۔
علامہ سعدی آفندی نے عنایۃ کے حاشیہ میں اس مسئلہ کی مزید وضاحت کی ہے۔ طوالت کے خوف سے چھوڑتا ہوں۔ فقہائے ملت حنفیہ بیضاء کی اتنی تصریحات کے بعد قادیانیوں کی اولاد کو اہل کتاب سے ماننا ایک ناقابل فہم بات ہے۔ اگرچہ اس مسئلہ پر مزید تحقیق و تدقیق کی ضرورت نہیں۔ مگر نورا علی نور! کے مصداق اہل کتاب کی تشریح بھی قانون اسلامی کے ماہرین کی روشنی میں بیان کرتا ہوں۔
علامہ ابن ہمام فتح القدیر ج ۳ ص ۱۳۵ پر لکھتے ہیں کہ : ” والكتابى من يؤمن بنبى ويقر بكتاب . ‘‘
یعنی اہل کتاب وہ ہیں جو نبی پر ایمان لائیں اور کتاب کا اقرار کریں۔
جیسے نصارٰی موسٰی علیہ السلام پر ایمان لاتے ہیں اور تورات وانجیل کا اقرار کرتے ہیں۔ صرف اپنے نبی کے بعد آنے والے نبی اور کتاب کا انکار کرتے ہیں۔ مثلاً یہودی موسٰی علیہ السلام کو مانتے ہیں اور تورات کو آسمانی کتاب کہتے ہیں۔ لیکن عیسٰی علیہ السلام اور انجیل کو نہیں مانتے جو موسٰی علیہ السلام و تورات کے بعد آئے ہیں۔ اسی طرح نصارٰی عیسٰی علیہ السلام اور انجیل کو مانتے ہیں مگر محمدﷺ اور قرآن مجید کو نہیں مانتے۔
خلاصہ کلام ! یہ کہ اہل کتاب ایسا ٹولہ جو سچے نبی اور سچی کتاب پر اپنے منحرف عقیدہ کے مطابق ایمان لاتے ہیں اور انبیاء سابقین اور کتاب سابقہ کو بھی مانتے ہیں۔ صرف بعد میں آنے والے سچے نبی اور سچی کتاب کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن قادیانیوں کی اولاد اس قانون پر پوری نہیں اترتی۔ کیونکہ وہ ایک جھوٹے شخص کو نبی مانتے ہیں اور جھوٹی عبارتوں کو آسمانی وحی سمجھتے ہیں۔ ایسے شخص کو اہل کتاب سے سمجھنا فہم کا قصور ہے۔ مثال کے طور پر نصارٰی کے نزدیک یہودی اہل
کتاب ہیں۔ کیونکہ نصاریٰ کے عقیدہ کے مطابق یہودی سچے نبی یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مانتے ہیں اور سچی کتاب تورات کو بھی مانتے ہیں۔ لیکن یہودیوں کے عقیدہ کے مطابق نصاریٰ اہل کتاب میں سے نہیں۔ کیونکہ یہودی عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل کو سچا ہی نہیں مانتے۔ یہ مثال محض شرط کو ذہن نشین کرانے کے لئے دی گئی ہے۔ ورنہ مماثلت من کل الوجوہ نہیں ہے۔ کیونکہ قادیانی نہ صرف ہمارے عقیدہ کے مطابق بلکہ فی الواقع ایک جھوٹے مدعی کو نبی مانتے ہیں۔
فتاویٰ کی مستند کتاب الدرالمختار ج ۲ ص ۴۱۴ کتاب النکاح میں نبی اور کتاب کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
" وصح نكاح كتابية وان كره تنزيها (مؤمنة بنبي) مرسل (ومقرة بكتاب) منزل......
الخ۔" اہل کتاب عورت کی تعریف کرتے ہوئے نبی کے ساتھ مرسل کی قید لگائی ہے۔ یعنی اہل کتاب ایسے شخص کو کہا جائے گا جو نبی مرسل یعنی خدا کے یہاں سے بھیجے ہوئے نبی کو مانتا ہو۔ جو شخص جھوٹے نبی کو مانتا ہو وہ نبی مرسل پر ایمان لانے والا نہیں کہلائے گا اور کتاب کے ساتھ منزل کی قید لگا کر وضاحت کر دی کہ غیر منزل یعنی جھوٹی کتاب کو ماننے والا اہل کتاب سے نہیں۔ ﴾
علامہ ابن ھمام جیسے فقیہ امت کی تعریف اور صاحب الدرالمختار کی تشریح کے بعد قادیانیوں کو اہل کتاب کا حکم لگانا فقہ اسلامی سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ علامہ شامی اپنی کتاب ردالمحتار ج ۲ ص ۴۱۴ میں (قوله مقرة بكتاب ) کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ:
" في النهر عن الزيلعي واعلم ان من اعتقد ديناً سماوياً وله كتاب منزل كصحف ابراهيم شيث وزبور داؤد فهو من اهل الكتاب فتجوز مناكحتهم واكل ذبائهم . " ﴿یعنی جو دین سماوی پر اعتقاد رکھتا ہو اور اس کو منزل کتاب بھی مانتا ہو۔ جیسے ابراہیم و شیث علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام کا زبور تو وہ اہل کتاب ہے۔ اس سے نکاح کرنا اور اس کا ذبیحہ کھانا حلال ہے۔ ﴾
دین کی سماوی قید لگا کر من گھڑت دین کو خارج کیا کہ جعلی دین والا آدمی اہل کتاب سے نہیں ہے۔ قادیانیوں کا دین سماوی نہیں بلکہ من گھڑت ہے اور قادیانیوں کا پیشوا جھوٹا مدعی نبوت ہے۔ ان سے اہل کتاب جیسا سلوک کرنا از روئے شرع حرام ہے۔ بلکہ ان سے مرتد جیسا سلوک کیا جائے گا۔ یہی قانون اسلامی کا صریح تقاضہ ہے۔ خلاصہ بحث یہ کہ اہل کتاب کے لئے دو شرط ہیں۔ ایک یہ کہ اہل کتاب وہ شخص ہے جو سچے نبی اور سچی کتاب سماویہ کو اپنے منحرف عقیدہ کے مطابق مانتا ہو۔ اگر جھوٹی کتاب کو وحی اور جھوٹے مدعی نبوت کو نبی مانتا ہو تو وہ اہل کتاب نہیں ہو سکتا۔ جیسے قادیانی۔ دوسری شرط یہ ہے کہ ہر آنے والی سچی امت اپنے سے پہلے والی سچی امت کو اہل کتاب کہہ سکتی ہے۔ لیکن بعد میں آنے والی سچے نبی اور سچی امت کو اہل کتاب نہیں کہہ سکتی۔ جیسے عیسائی یہودیوں کو اہل کتاب کہہ سکتے ہیں۔ یہودی عیسائیوں کو اہل کتاب نہیں کہہ سکتے اور امت محمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام عیسائیوں اور یہودیوں کو اہل کتاب کہہ سکتے ہیں۔ لیکن عیسائی
و یہودی مسلمانوں کو اہل کتاب نہیں کہہ سکتے ۔ اس قاعدہ کے مطابق قادیانی اگر بالفرض سچی امت ہوتے تب بھی اہل کتاب نہیں کہا جائے گا۔ وہ جھوٹے دجال کے متبع ہیں ۔ ان کو اہل کتاب کیسے کہا جاسکتا ہے۔ چونکہ قادیانی مرتد ہیں۔ اس لئے ان کو مسلمانوں کے ملک میں امن وامان کے ساتھ رہنے کی شرعاً اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر بالفرض خلاف توقع ذمی تصور کیا جائے تب بھی ذمہ قبول نہ کرنے کی صورت میں امن وامان کا معاہدہ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
علامہ ابن ہمام اپنی کتاب فتح القدیر ص ۳۰۳ ج ۵ پر تحریر کرتے ہیں کہ:”وقید بادائها لانه لو امتنع من قبولها نقض عهده...... الخ ، ”﴿یعنی جزیہ کی قبولیت سے انکار پر ذمیت کا معاہدہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ واجب القتل ہے۔﴾
چند سطر آگے مزید لکھتے ہیں کہ:”والذی عندی ان سبهﷺ او نسبة مالا ینبغی الی اللہ تعالیٰ ان کان مما لا یعتقدونه كنسبة الولد الی الله تعالى وتقدس عن ذالك اذا اظهره يقتل به...... الخ ، ”﴿یعنی حضورﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف نامناسب باتیں منسوب کرنے والا اگر ان باتوں کا برملا اظہار کرے گا تو اس کا معاہدہ ختم ہو جائے گا اور واجب القتل ہوگا۔ ﴾
مذکورہ بالا عبارت ذمیوں کے لئے دو شرائط بیان کرتی ہے۔ ایک یہ کہ ذمیت قبول کرے۔ اگر کوئی ذمیت قبول نہیں کرے گا تو اس کو واجب القتل سمجھا جائے گا۔ قادیانی اپنے آپ کو ذمی نہیں سمجھتے اور نہ قبول کرتے ہیں۔ بلکہ وہ آئین کے ایسے فقروں کو جس سے ان کا غیر مسلم ہونا ثابت ہوتا ہے۔ انکار کرتے ہیں۔ بلکہ طعن تشنیع اور طنز کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی اور اللہ تعالیٰ کے حق میں نامناسب باتیں نہ کہے۔ اگر کسی بھی ذمی نے ایسا کیا تو اس کا معاہدہ ختم ہو جائے گا اور واجب القتل ہوگا۔ قادیانی بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں نامناسب باتیں کہتے ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک خاص مرید قاضی یار محمد بی او ایل پلیڈر اپنے مرتبہ ٹریکٹ نمبر ۳۴ اسلامی قربانی صفحہ ۱۲ میں تحریر کرتا ہے کہ: ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود ( مرزا قادیانی ) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے کے لئے اشارہ کافی ہے...... الخ۔“
اب آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ اس سے زیادہ کوئی بیہودہ بات ہو سکتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جائے؟ اور یہ کتابیں جن میں بیہودہ باتیں لکھی ہوئی ہیں قادیانی جماعت کی طرف سے مسلسل چھپ رہی ہیں ۔ برملا اظہار ہے۔ نتیجہ کے طور پر قادیانیوں میں ذمیت کی دونوں شرائط مفقود ہیں اور وہ محارب اور واجب القتل ہے۔ اسلامی مملکت میں ان کے ساتھ ذمیوں والا سلوک کرنا از روئے شرع ناجائز ہے۔
دفاعی بحث: مرتد کی سزا قتل ہے۔ یہ قرآن وحدیث کا مطلق فیصلہ ہے۔ لیکن کچھ جدت پسند لوگ صدق دل سے اس کے قائل نہیں ہیں۔ کیونکہ ملحدین اور اباحیت پسند لوگوں کے مسلسل پروپیگنڈا سے متاثر ہو کر دین کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں اور اولیٰ حیثیت ان کے ہاں دنیا کی ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ دین کی وجہ سے کسی کو قتل کرنا مذہبی جنون ہے۔ لیکن یہ لوگ انسانی دنیا میں اپنی مصنوعی لکیریں (بین الاقوامی سرحدیں) کھینچ کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنتے ہیں۔ لکیر سے اس طرف کا انسان اپنے ہی ہم جنس انسان کو بلکہ بسا اوقات ہم مذہب اور ہم نسل انسان کو تباہ کرنے کے لئے کروڑوں اربوں روپے کے منصوبے بناتا ہے۔ لاکھوں کروڑوں انسانوں کی جانیں تلف ہو چکی ہیں اور مسلسل تلف ہو رہی ہیں۔ یہ روشن خیالی ہے؟۔ لیکن دین کے حکم کے مطابق کسی مرتد کو قتل کرنا تاریک خیالی اور جنون ہے۔ تف ہے اس روشن خیالی پر۔
انسانی دنیا کو مصنوعی خطوں میں تقسیم کر کے ہر خطہ کے ساتھ وفاداری فرض سے بڑھ کر قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ خطے نہ خدا کے بنائے ہوئے ہیں اور نہ رسول کے۔ لیکن اتنے اہم قرار دیئے گئے ہیں کہ اگر کسی کی وفاداری مشکوک ہو جائے تو دنیا کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہر جگہ واجب القتل ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص خدا کے بتائے ہوئے حدود کی خلاف ورزی کرے۔ بلکہ بغاوت کرے اور مرتد ہو جائے تو خدا اور رسول ﷺ کی وفاداری سے بغاوت (ارتداد) پر اسے قتل کرنے کی سزا دینا ملائیت ہے۔ (بریں عقل و ہمت بباید گریست)
دنیا کے بنائے ہوئے جعلی نظریوں کی وفاداری جان سے اہم ہے۔ مثلاً روس میں رہنے والا اگر کمیونزم سے منحرف ہو جائے تو واجب القتل قرار پاتا ہے۔ جیسا کہ روس میں کروڑوں جانوں کو باغی قرار دے کر تلف کیا گیا ہے اور چین میں سوشلزم کے خلاف عقیدہ رکھنے والا گردن زدنی ہے۔ چاہے وہ کتنا ہی جاہ و جلال کا مالک ہو۔ جیسے ماضی قریب میں چار کے ٹولہ کا حشر ہوا۔ کیا خدا کے نازل کردہ نظریہ کی اتنی بھی اہمیت نہیں کہ اس سے منحرف ہونے والے کو خالق حقیقی کے حکم پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
احکام اسلام میں مرتد کی شرعی حیثیت
روزنامہ امن کی ۱۸ اکتوبر والی اشاعت میں ”فتنہ ارتداد کا خاتمہ“ کے زیر عنوان ایک مضمون نظر سے گزرا۔ مضمون نگار نے مخصوص ترجیحات کے تحت قرآن وحدیث واجماع امت وفقہ آئمہ کے سراسر خلاف سادہ لوح قارئین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مرتد کی شرعی سزا قتل نہیں ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے مسیلمہ کذاب مرتد کے متعلق جو کچھ فرمایا۔ یا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی سربراہی میں صحابہ کرامؓ کا لشکر بھیج کر مسیلمہ کذاب کو مع متبعین جہنم رسید
کیا۔ سب کچھ مسیلمہ کذاب کی باغیانہ حرکتوں کی وجہ سے ہوا تھا۔ نہ کہ ارتداد کی وجہ سے۔ میں مسیلمہ کذاب کے انکار ختم نبوت اور حضورﷺ کی اظہار ناراضگی اور حضرت ابوبکر صدیق کی لشکر کشی کے اسباب پر بعد میں اظہار خیال کروں گا۔ سب سے پہلے ارتداد کی شرعی حیثیت قرآن وحدیث کی رو سے پیش کرنا چاہتا ہوں :
- ۱....... قرآن مجید نے بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کے ضمن میں موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں
گائے کے بچھڑے کی پوجا کا ذکر کرنے کے بعد اس جرم (ارتداد ) کی سزا بیان فرمائی ہے۔ ﴿اے میری قوم تم نے بچھڑے کی پوجا کر کے ظلم ( ایمان کے بعد ارتداد ) کیا ہے۔ اس لئے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اپنی جانوں کو قتل کرو۔ بقرہ ۵۴﴾
بنی اسرائیل کو جب موسیٰ علیہ السلام کی تربیت اور قیادت کے طفیل اللہ تعالیٰ نے ایمان اور آزادی کی دولت عطا فرمائی اور فرعون اپنے لشکر سمیت ڈوب مرا۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے دربار میں کوہ طور پر جا کر ملتجی ہوتا ہوں۔ تا کہ وہ تمہیں زندگی گزارنے کے لئے دستور العمل عطا فرمائے۔ موسیٰ علیہ السلام اپنی غیر موجودگی میں ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب بنا کر خود تشریف لے گئے۔ واپسی میں جب توراۃ لے کر پہنچے تو قوم دو فرقوں میں بٹ چکی تھی۔ ایک فرقہ سامری کے گمراہ کرنے پر بچھڑے کا پوجاری بن کر دولت ایمان کھو بیٹھا۔ لیکن ہارون علیہ السلام نے تحمل سے کام لیتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کی آمد تک دونوں فرقوں کو سنبھالے رکھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام تشریف لائے اور یہ صورت حال دیکھی تو بہت خفا ہوئے۔ پہلے تو اپنے بھائی پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ لیکن جب ہارون علیہ السلام نے اپنی صفائی پیش کی کہ میں نے آپ کی آمد تک مرتدین کو سزا دینے کے مسئلہ کو مؤخر کیا۔ تا کہ آپ خود صورت حال دیکھ لیں اور مجھے تفرقہ بازی کا ذمہ دار قرار نہ دیں۔ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اس مسئلہ ارتداد کا حل دریافت کیا۔ وحی الٰہی سے حکم پا کر قوم کو مخاطب ہوئے کہ اے میری قوم تم نے (ایمان کے بعد ) بچھڑے کی پوجا کر کے ( بہت بڑے ) ظلم (ارتداد) کا ارتکاب کیا ہے۔ اس لئے (اس جرم پر نادم ہو کر) اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو۔ (لیکن محض زبانی رجوع سے یہ جرم معاف نہیں ہو گا ) بلکہ اپنی جانوں کو ( اسلام پر ثابت رہنے والے مرتد بننے والوں کو جو کہ ایک ہی قوم ہونے کی وجہ سے اپنی جانوں کی مثل ہیں ) قتل کرو۔
خلاصہ کلام ! بنی اسرائیل پر کیسے کڑے اور بھاری احکام تھے۔ مثلاً کپڑا پلید ہو جائے تو دھونے سے پاک نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ کاٹنا پڑتا تھا اور مال غنیمت کھانا حرام تھا۔ بلکہ آگ سے جلایا جاتا تھا اور طیبات یعنی پاکیزہ ماکولات بھی ان پر حرام کر دی گئی تھیں۔ وغیرہ وغیرہ ! اسی طرح ان کے لئے ارتداد کی سزا بھی اتنی ہی بھاری تھی کہ باوجود تائب ہونے کے جرم معاف نہیں ہوتا تھا بلکہ سچے دل سے توبہ کرنے کے باوجود واجب القتل رہتے تھے۔ اس لئے موسیٰ علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے حکم پا کر بنی اسرائیل کو بتایا کہ توبہ کے بعد بھی تم ہی میں سے مومن مرتدوں کو قتل کریں۔ تب جرم معاف
ہوگا۔ امت مسلمہ پر اللہ تعالیٰ نے اور احسانات کے ساتھ یہ احسان بھی فرمایا کہ مرتد اگر سچے دل سے تائب ہو جائے تو جرم ارتداد معاف ہو جائے گا اور وہ شخص واجب القتل نہیں رہے گا۔ لیکن اگر اپنے مرتدانہ عقیدے پر مصر ہو تو وہ تین سے زیادہ مدت زندہ نہیں چھوڑا جا سکتا۔
امام بخاریؒ نے اپنی مایہ ناز صحیح البخاری میں جو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے بعد سب کتابوں سے زیادہ صحیح مانی جاتی ہے مستقل کتاب (Chapter) مرتد کے شرعی حکم پر جمع کئے ہیں اور ہر ایک کتاب میں متعدد ابواب قائم کر کے قرآنی آیات اور احادیث نبویہؐ نقل کی ہیں۔ اس مسئلہ پر دلائل کی کثرت کا اندازہ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ صرف ایک باب حکم المرتد والمرتدۃ میں چودہ آیات قرآنی جمع کی ہیں۔ صفحہ ۱۰۲۲ ج ۲ پوری صحیح بخاری میں کسی بھی مسئلہ پر اتنی آیات قرآن کہیں جمع نہیں کر سکے اور اپنے طرز کے موافق ان آیات کا خلاصہ حکم حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور امام محمد بن شہاب زہریؒ سے نقل کیا ہے کہ مرتد اور مرتدۃ قتل کئے جائیں گے۔
امام نوویؒ لکھتے ہیں کہ مرتد کا واجب القتل ہونا امت مسلمہ کا اجماعی مسئلہ ہے۔ اس حد تک کسی قسم کا اختلاف نہیں۔ اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ مرتد کی توبہ قبول کی جائے گی یا نہیں۔ اگر توبہ قبول کی جائے گی تو توبہ کا موقعہ دینا مستحب ہے یا واجب ہے۔ نیز اگر موقعہ دیا جائے تو کتنا وقت دیا جا سکتا ہے۔ اس میں بھی اختلاف ہے کہ عورت کو بھی مرد کی طرح ارتداد کی سزا میں قتل کر دیا جائے۔ یا ہمیشہ کے لئے جیل میں قید رکھا جائے۔ تا کہ یہ توبہ کر لے یا قید ہی میں مر جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ۔
ان چار جزوی تفصیلات میں فقہ حنفی نے بہت ہی آسان پہلو اختیار کیا ہے۔ یعنی مرتد کی توبہ قبول کی جائے گی۔ نیز اس کو سوچنے کا موقعہ دیا جائے گا۔ اگر شبہات ہیں تو ازالہ کیا جائے گا۔ یہ موقعہ تین دن ہوگا۔ نیز عورت مرتدہ کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ اس کو دائمی طور پر قید رکھا جائے گا۔ تا کہ یا توبہ کرے یا قید ہی میں مر جائے۔
امام بخاریؒ نے ص ۱۰۰۵ ج ۲ پر ایک مستقل کتاب المحاربين من اهل الكفر والردة کے عنوان سے بیان کیا ہے جس میں مرتد کی سزا کے استنباط کے لئے ایک آیت : ”انما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله . “ تحریر فرمائی ہے اور اس آیت کی تشریح میں ایک حدیث نبویؐ پیش کی ہے۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ کے پاس عکل اور عرینہ قبیلوں کے لوگ آئے اور اسلام کی صداقت سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گئے اور مسجد نبوی میں اصحاب صفہ کے ساتھ رہنے لگے۔ ان کو مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی اور جگر کی بیماری میں مبتلا ہو گئے۔ حضورﷺ نے ان کو ربذہ کے مقام پر جا کر ٹھہرنے کا مشورہ دیا۔ کیونکہ وہاں پر صدقہ کے اونٹوں کی چراگاہ تھی۔ (اور اونٹ کا دودھ جگر کی بیماری کے لئے مفید ہے۔) یہ جا کر وہاں مقیم ہو گئے اور دودھ پیا تو
درست ہو گئے ۔ بلکہ حدیث شریف کے الفاظ میں موٹے تازے بن گئے ۔ پھر بدقسمتی ان پر سوار ہوگئی اور مرتد ہو گئے اور چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ چرا کر لے گئے ۔ جب حضور ﷺ کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آنحضور ﷺ نے ان کے تعاقب میں مسلمانوں کا ایک دستہ بھیجا اور دوپہر سے پہلے حرہ میں گرفتار کر کے حضور ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے۔ حضور اکرم ﷺ نے گرم سلائیاں ان کی آنکھوں میں پھروائیں اور ہاتھ پاؤں کاٹنے کا حکم دیا اور ان کے زخموں کو خون بند کرنے کے لئے نہ داغا ۔ کیونکہ یہ اس زمانہ میں علاج تھا اور گرم پتھریلی زمین پر پھنکوایا ۔ حرہ میں پانی مانگتے رہے لیکن پانی نہ دیا گیا۔ حتی کہ تڑپ تڑپ کر مر گئے ۔
اس حدیث کے راوی حضرت انسؓ کے شاگرد جلیل القدر تابعی حضرت ابو قلابہ عبداللہ بن زید جرمیؒ اس انوکھی سزا کے وجوہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ’’هؤ لاء قوم سرقوا وقتلوا وكفروا بعد ايمانهم وحاربوالله ورسوله ، ‘‘ ﴿ یعنی ان لوگوں نے اونٹ چرائے اور چرواہوں کو قتل کیا اور ایمان کے بعد کفر (ارتداد) کے مرتکب ہوئے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ لڑائی کی ۔ ﴾
یعنی ان مجرمین کو عبرت ناک سزا کے وجوہ یہی تھے ۔ ان سب سے اہم وجہ ارتداد تھی ۔ کیونکہ چوری کی سزا قتل نہیں ہے اور قتل کے بدلہ میں محض قتل کیا جانا ہی کافی تھا ۔ نہ کہ ہاتھ پاؤں کاٹنا اور آنکھیں نکالنا وغیرہ ۔ باقی محاربہ بمعہ ڈاکہ زنی کا ارتکاب یہاں پر نہیں ہوا ۔ کیونکہ اونٹ لیجانے کو حضرت انسؓ اور ابو قلابہؒ چوری سے تعبیر کر رہے ہیں اور اونٹوں کے سوا دوسرا کوئی مال تھا ہی نہیں جس پر ڈاکہ ڈالا جائے اور عقلاً بھی یہ بات واضح ہے کہ چرواہے کو قتل کرنے کے بعد کوئی مزاحم ہی موجود نہیں تھا تو ڈاکہ کیسے لگے۔ ڈاکہ تو مزاحمت کر کے مال لے جانے کو کہتے ہیں ۔ نیز امام بخاریؒ نے پوری کتاب میں کہیں بھی ڈاکہ زنی یعنی قطع الطریق کا ذکر نہیں کیا ۔ بلکہ اس کے ابتدائی عنوان کتاب المحاربين من اهل الكفر والردة کہہ کر محاربة بمعنى کفر و ارتداد کیا ہے۔ آگے چل کر پہلے باب کا عنوان یوں ذکر کرتے ہیں ۔ باب لم يحسم النبي ﷺ المحاربين من اهل الردة حتى هلكوا ! مطلب یہ کہ نبی کریم ﷺ نے محاربین یعنی مرتدین کے زخموں کو خون بند کرنے کے لئے نہ داغا ۔ حتی کہ خون کے بہنے سے ہلاک ہو گئے ۔ دوسرے باب میں اس سے بھی زیادہ صراحت کرتے ہوئے المرتدوں، المحاربوں، کو صفت توضیحی کے طور پر بیان کرتے ہیں ۔ باب لم يسقى المرتدون المحاربون حتى ماتوا !
اتنی تصریحات کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ اس آیت میں مرتد کی سزا قتل بیان کی گئی ہے ۔ اس آیت سے حکومت کے باغی مراد لینا درست نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ چند افراد پر مشتمل ٹولہ تھا جس کو پکڑنے میں نہ دیر لگی نہ دشواری پیش آئی ۔ بلکہ پہلے ہی دن سورج چڑھنے سے قبل گرفتار کر کے مدینہ لائے
گئے ۔ گویا کہ بالکل مزاحمت نہیں ہوئی۔ منعة ! یعنی مزاحمت کے بغیر عملی بغاوت نہیں ہوئی۔ رہی اعتقاد ونظریاتی بغاوت وہ تو مرتد میں بطریق اتم موجود ہے کہ وہ اللہ اور رسول اور اسلامی حکومت کا دل سے مخالف ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر نظریاتی باغی اور کون ہوتا ہے؟۔
ان تصریحات سے واضح ہو گیا کہ آیت شریفہ میں محارب سے مراد مرتد ہے۔ یہ سزا مرتد کو (مثلہ ) یعنی شکل بگاڑنے کی ممانعت سے پہلے دی گئی ہے۔ بعد میں صرف تلوار سے قتل کرنے کی سزا دی جاتی رہی۔ جیسا کہ بہت ساری صحیح احادیث میں اس کا بار بار واضح طور پر ذکر آچکا ہے۔
بخاری ج ۲ کتاب الدیات ص ۱۰۱۹ پر یہی حدیث ذکر کرنے کے بعد حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ : ”قلت ای شئی اشد مما صنع هؤلاء ارتدوا عن الاسلام وقتلوا وسرقوا ، “ یعنی ان لوگوں (عکل وعرینہ والوں ) نے جو کچھ کیا اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے؟ ۔ انہوں نے ارتداد کا ارتکاب کیا، قتل کیا۔ چوری کی ۔
خلاصہ یہ کہ حضرت ابو قلابہ کے نزدیک ان لوگوں کے تین جرم تھے۔ یعنی ارتداد، قتل، چوری، ڈاکہ زنی اور بغاوت کا یہاں کوئی تذکرہ نہیں فرمارہے ہیں ۔ بلکہ محاربہ سے مراد ارتداد لے رہے ہیں ۔ اس حدیث کے اول میں اسی صفحہ پر زیادہ تصریح فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ :
” والله ماقتل رسول الله ﷺ احداً قط الا فى ثلث خصال رجل قتل بجريرة نفسه فقتل ، “ اور ”رجل زنى بعد احصان او رجل حارب الله ورسوله وارتد عن الاسلام ، “ یعنی خدا کی قسم رسول اللہ ﷺ نے تین جرائم کے سوا کبھی کسی مجرم کو قتل نہیں کیا۔ (۱)...... ایک جس آدمی نے قتل کیا ہو اسے اس کے قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ (۲)...... شادی شدہ محض زانی ۔ (۳)...... جس شخص نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے لڑائی مول لے لی ہو اور اسلام سے مرتد بن گیا ہو۔
رسول اللہ ﷺ کی ہدایت حضرت انسؓ کی روایت اور حضرت ابو قلابہ بن عبداللہ ابن زید جرمیؒ کی وضاحت اور امام بخاریؒ کی وضاحت سے یہ مسئلہ رابعۃ النہار کی طرح روشن ہو کر سامنے آیا کہ قرآن مجید کی آیت : ”انما جزاء الذین یحاربون الله ورسوله ، “ میں مرتد کی شرعی سزا بیان کی گئی ہے اور محارب سے مراد مرتد ہے۔ مفسرین حضرات اس آیت کریمہ کی تشریح میں دو جماعتوں پر مشتمل ہیں ۔
ایک یہ کہ آیت محض مرتد کی سزا کے لئے نازل ہوئی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس آیت کے مصداق مرتد اور ڈاکو دونوں ہیں اور اس آیت میں دونوں کا حکم بیان کیا ہوا ہے۔ لیکن کسی بھی مفسر نے اس سے مرتد کا حکم استنباط کرنے سے انکار نہیں کیا۔ یہی ہمارا مدعا ہے کہ اس آیت میں مرتد کا شرعی حکم بیان ہوا ہے۔ تمت بالخیر !