EMPIRE CALENDAR
قادیانی مذہب کے عقائد وعزائم، انگریز کی حمایت اور
جہاد کی ممانعت پر مبنی ناقابل تردید اور ہوش رُبا عکسی شہادتیں
قادیانیت
برطانوی
سامراج
کا
خودکاشتہ
پودا
CHC
Tents of all kinds
and for all
CLIMATES
Flags of all Nations
YACHT FLAGS
Banners & Flags with Arms
HOUSE FLAGS
ON HIRE
TEMPORARY ROOMS
FOR DINNERS,
BALLS, RECEPTIONS &c
Fitted up complete
GARDEN & CAMP
FURNITURE
WAGGON CLOTHS
TARPAULINS
Sacks & Ropes
THE PATENT
SHAKESPEARE COT
OR PORTABLE CHAIR BED
for Travellers or
Home use
FOLDING COTS
& HAMMOCKS
TENTS AND OUTFIT FOR AFRICA.
محمد متین خالد
BENJAMIN EDGINGTON Lim.td 2. DUKE ST LONDON BRIDGE. LONDON. S.E.
بسم الله الرحمن الرحیم
قادیانیت
برطانوی سامراج کا خودکاشتہ پودا
چیلنج
”قادیانیت، برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا“
یہ کتاب، اپنے اندر قادیانی مذہب کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی، اس کے بیٹوں، اس کے نام نہاد خلیفوں اور دیگر اہم قادیانیوں کی انگریز کی حمایت، جہاد کی ممانعت اور دل آزار کفریہ عبارتوں کی عکسی نقول لیے ہوئے ہے۔ قادیانی جرائم کے یہ ثبوت اتنے واضح ہیں کہ دنیا کی کسی بھی عدالت میں، ان عکسی دستاویزات کی صداقت کو چیلنج کرنا، کسی بھی قادیانی کے لیے ممکن نہیں ہے۔ میں اس کتاب میں درج تمام حوالوں اور عکسی نقول کے مصدقہ ہونے کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ سمیت دنیا کے تمام قادیانیوں (بشمول لاہوری گروپ اور دوسرے 10 قادیانی فرقوں) کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر اس کتاب میں موجود، کوئی بھی عکس غیر حقیقی ہو، یا میری طرف سے کسی بھی نوع کی ترمیم ہوئی ہو، کسی قسم کا اضافہ کیا گیا ہو، یا ایک بھی خانہ ساز حوالہ پایا جائے تو میں اس کے لیے ہر قسم کی سزا پانے کے لیے تیار ہوں! بصورت دیگر انہیں ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر آخرت کی فکر کرتے ہوئے اسلام کی آغوش میں آ جانا چاہیے۔
ہے کسی قادیانی میں اخلاقی جرأت جو میرے اس چیلنج کو قبول کرے؟
محمد متین خالد
قادیانیت
برطانوی سامراج کا خودکاشتہ پودا
قادیانی مذہب کے عقائد و عزائم، انگریز کی حمایت اور جہاد کی ممانعت پر مبنی ناقابلِ تردید اور ہوش رُبا عکسی شہادتیں
محمد متین خالد
علم و عرفان پبلشرز الحمد مارکیٹ 40- اردو بازار، لاہور، فون: 37352332-37232336
جملہ حقوق محفوظ
نام کتاب قادیانیت برطانوی سامراج کا خودکاشتہ پودا مصنف محمد متین خالد ناشر علم و عرفان پبلشرز مطبع جوہر رحمانیہ پرنٹرز، لاہور سرورق فضیل کیانی کمپوزنگ تاج کمپوزنگ سنٹر، لاہور سن اشاعت 2013ء قیمت 600/- روپے
علم و عرفان پبلشرز
الحمد مارکیٹ 40-اردو بازار، لاہور، فون: 37352332-37232336
انتساب
محکمہ پولیس سے ہزار شکایات کے باوجود کوئی ذی شعور اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہاں نیک اور اچھی شہرت کے قابل افسران کی کمی نہیں۔ ایسے ہی نیک بختوں میں میرے ایک ممدوح بھی شامل ہیں جو اعلیٰ کلیدی عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ملنساری اور انکساری میں یکتائے عصر ہیں۔ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ان کی بے پناہ عقیدت و احترام ایک ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسلام اور پاکستان سے والہانہ محبت ان کے رگ و ریشہ میں رچی بسی ہے۔ قادیانیت اور دیگر اسلام دشمن فتنوں سے ان کی بیزاری بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لیکن اس موقع پر بھی وہ آئین، قانون اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ ہر نئی کتاب خریدنے اور پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق ہے۔ میں اکثر انہیں از راہ مذاق کہتا ہوں کہ جب جنت میں فرشتے آپ سے آپ کی خواہش پوچھیں گے تو آپ بے ساختہ کہہ اٹھیں گے کہ میرے حصے کی حوروں کو ایک وسیع و عریض لائبریری کی شکل دے دی جائے تاکہ میں ہمہ وقت یہاں ”کتابوں“ کے جھرمٹ میں بیٹھا رہوں۔ شہرت اور خودنمائی سے کوسوں دور بھاگتے بلکہ اسے ”بستہ ب“ کا بدمعاش سمجھتے ہیں، تبھی تو مجھے اپنا نام نہ لکھنے کی درخواست کی۔ میں اس کتاب کا انتساب اپنے شفیق محسن کے نام کرتے ہوئے انتہائی دلی خوشی و مسرت محسوس کر رہا ہوں۔
کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے
ترتیب عنوانات
- چیلنج 2
- انتساب 5
- توجہ فرمائیں 19
- فہرست ٹائٹل کتب 21
- قادیانیت، برطانوی سامراج کا خودکاشتہ پودا ڈاکٹر عبدالقدیر خان 25
- انگشت بدنداں کر دینے والی کتاب جبار مرزا 26
- فتنہ قادیانیت، عالمی استعمار کا آلہ کار راجہ ظفر الحق 29
- قادیانی طلسم ہوشربا کی چند جھلکیاں شفیق مرزا 31
- نفیر قلم محمد متین خالد 39
- شکریہ 43
قادیانیت
برطانوی سامراج کا خودکاشتہ پودا
49
- جہاد کی اہمیت 49
- جہاد.......... قرآن مجید کی روشنی میں 50
- جہاد.......... احادیث مبارکہ کی روشنی میں 51
- REPORT OF MISSIONARY FATHERS 55
- اپنا تعارف 68
- خاندانی خدمات 69
- قدیم خیر خواہ اور دلی جانثار خاندان 70
- قدیم خدمت گزار خاندان 70
- والد کی خدمات 71
- میرا باپ، بھائی اور میں 72
- والد کی وفات پر اللہ تعالیٰ کی تعزیت 73
- مرزا قادیانی کا والد بے نمازی 74
- دلی جوش میں باپ بڑا یا بیٹا؟ 74
- روح کے جوش سے 75
- قادیانی بزرگوں کا کارنامہ 75
- بزرگوں سے زیادہ خدمات 75
- خودکاشتہ پودا.......... مرزا قادیانی کا اہم اعتراف 76
- ہم اور ہماری اولاد پر فرض 77
- کیریکٹر سرٹیفکیٹ 77
- ممانعت جہاد کی کتابیں، جوش اور استقامت کی بے نظیر کارگزاری 81
- 16 سالہ لاجواب سروس 84
- 20 سالہ بے نظیر خدمات 85
- 50 سالہ جانفشانیاں 85
- 60 سالہ بلا معاوضہ خدمات 86
- پچاس الماریاں 86
- صدہا کتابیں 88
- بیسیوں کتابیں 88
- پچاس ہزار کتابیں، رسائل اور اشتہارات 88
- مجھے فخر ہے! 89
- 6 زبانوں میں انگریز کی شکر گزاری 91
- خدا تعالیٰ سے عہد 93
- مرزا قادیانی کا قلم...... حضرت علیؓ کی تلوار؟ 94
- مرزا قادیانی کا قلم رسول اللہ ﷺ کی تلواروں کے برابر؟ 94
- قلمی اسلحہ 94
- 16 برس سے...... حق واجب ٹھہرالیا 95
- 17 برس سے...... سرکار انگریزی کی خدمت 96
- 18 برس سے...... کتابوں کی تالیف میں مشغول 97
- 19 برس سے...... اپنا وقت بسر کیا 97
- 20 برس تک...... تعلیم، اطاعت، گورنمنٹ انگریزی 98
- 22 برس سے...... اپنے ذمہ فرض کر رکھا ہے 98
- 26 برس سے...... تقریری اور تحریری خدمات 99
- 60 سال تک....... 99
- ہر وقت 100
- ہر وقت یہی چاہتا ہوں! 100
- انگریز کے خلاف کبھی کوئی لفظ نہیں کہا 101
- عمر کا اکثر حصہ 101
- سلطنت برطانیہ...... نعمت الہی، نعمت عظمیٰ 101
- گورنمنٹ برطانیہ........... ابر رحمت 102
- سلطنت برطانیہ........... باران رحمت 104
- انگریزی سلطنت، ایک رحمت اور برکت 105
- گورنمنٹ انگریزی کا زمانہ....... روحانی اور جسمانی برکات کا مجموعہ 105
- برٹش گورنمنٹ میں آسمان، زمین سے نزدیک ہو گیا 105
- سرکار انگریزی پھل دار درخت کی طرح ہے 106
- راحت کا جام 106
- اسلام کو دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت سے ملی 110
- حدیثوں سے انگریز سلطنت کی تعریف ثابت ہوتی ہے 110
- حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ سے بڑھ کر 111
- انگریزی گورنمنٹ بمقابلہ رومی گورنمنٹ 111
- دل، جان اور رگ و ریشہ میں شکر 112
- رگ و ریشہ میں شکر گزاری 112
- خدا کی پسند 112
- گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور اطاعت کا 60 سالہ درس 113
- سچی خیر خواہی 114
- سخت جاہل، نادان اور نالائق مسلمان 115
- گورنمنٹ کی وفاداری 115
- لعنت 117
- مرزا قادیانی، حرزِ سلطنت 117
- گورنمنٹ برطانیہ کے لیے پناہ اور تعویذ 118
- اللہ کی قسم!!! 118
- اعتقاد اور یقین 119
- ملکہ وکٹوریہ کی حکومت کے سائے میں 120
- سلطنتِ برطانیہ...... امن و راحت کی پناہ گاہ 120
- تلوار 120
- قادیانی تلوار 121
- خدا کا شکر 121
- ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض ہے جیسا کہ خدا کا 122
- اپنا کام...... نہ مکہ میں، نہ مدینہ میں 122
- سکون، نہ مکہ میں، نہ مدینہ میں 124
- مکہ و مدینہ والے میرے لیے درندوں کی طرح ہیں 125
- مکہ معظمہ سے لندن بہتر! (نعوذ باللہ) 125
- قادیانی فیصلہ...... مسلمانوں سے علیحدگی 126
- نیا فرقہ 128
- فرقہ احمدیہ 129
- قادیانیت فرقہ جدیدہ 130
- برٹش گورنمنٹ کا وفادار اور جانثار نیا فرقہ 130
- ایک نیا فرقہ 130
- قادیانی فرقے کا امتیازی نشان 132
- مرزا قادیانی کی تعلیمات سے انسان کھسرا بن جاتا ہے 132
- خصی جماعت 132
- قادیانیت، ڈاکٹر شنکر داس کی نظر میں 133
- قادیانی بیعت کی شرط 135
- گورنمنٹ انگریزی واجب التعظیم اور واجب الاطاعت 136
- قادیانی جماعت کے لیے ضروری نصیحت 136
- قادیانی اصول، ہدایتیں اور تعلیم 137
- قادیانی جماعت یاد رکھے 137
- قادیانی مذہب اور عقیدہ 137
- انگریز کی مخالفت: جماعت سے علیحدہ، بیعت سے خارج 138
- ہر قادیانی کا عقیدہ 138
- حق بات کو ظاہر کرنا ہمارا فرض ہے 140
- ہمارا فرض 141
- قادیانی جماعت...... انگریز کی وفادار فوج 141
- انگریز کی نمک پروردہ جماعت 141
- مسلمانوں کی جاسوسی 141
- قابل توجہ گورنمنٹ از طرف مہتمم کاروبار تجویز تعطیل جمعہ 142
- پُر اسرار منی آرڈر 144
- سچا مخبر 145
- جمعہ کے خطبات میں انگریز کا شکریہ 146
- انگریز کے لیے چندہ 147
- انگریز کی فتوحات، مرزا قادیانی کی فتوحات 148
- شہنشاہ معظم کی سلور جوبلی اور قادیانی جماعت 151
- تنگ ظرف لوگ 153
- مذہبی آزادی؟؟؟ 153
- طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو 155
- میرا مدعا 155
- طمانچہ 156
- قادیانی حکمت عملی؟؟؟ 156
- وہ نبی بھی کیسا نبی ہے؟ 158
- قادیانی عہد 159
- اشتعال انگیزی کی تلقین 160
- خون کا آخری قطرہ 160
- گالیاں دینے والوں کو مٹا ڈالو 160
- گورنمنٹ انگریزی کا رزق مقسوم 161
- چور، قزاق اور حرامی کون؟ 161
- حرامی اور بدکار کون؟ 162
- بندوق کا جہاد؟ 162
- میں سچ سچ کہتا ہوں 163
- میں ایک حکم لے کر آیا ہوں 164
- ملکہ وکٹوریہ کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا 165
- خلیفہ جو جنگ کا حکم نہ دے 165
- دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ 165
- دین کے لیے لڑنا حرام ہے 168
- خدا تعالیٰ کا الہام؟ 169
- جہاد، خدا کے حکم سے بند 170
- جہاد ختم 170
- مرزا قادیانی کو مسیح اور مہدی ماننے کا نتیجہ؟ 171
- میں اسلام کی حفاظت کے لیے آیا ہوں؟ 172
- میرا مذہب ....... اسلام کے دو حصے 172
- مرزا قادیانی کی تعلیم ...... نوح کی کشتی 172
- اولی الامر سے مراد ............ انگریز حکمران 173
- رسول دنیا میں مطیع ہو کر نہیں آتا 175
- باادب گذارش! 175
- ملکہ معظمہ کا واسطہ 176
- ستارۂ قیصرہ 176
- اللہ کی روح میرے اندر بولتی ہے 188
- اے قیصرہ و ملکہ معظمہ! 189
- مبارک ، مبارک ، مبارک !! 191
- مبارک ہو 192
- اے موحدہ صدیقہ، تجھے آسمان سے بھی مبارک باد 192
- مہربانی کے مینہ سے پرورش 193
- ملکہ وکٹوریہ کے عدل کی کشش 194
- نور کو نور اپنی طرف کھینچتا ہے 194
- یا اللہ انگریزوں کے چہرے آخرت میں بھی نورانی اور منور فرما! 195
- خدا تعالیٰ برطانوی حکومت کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے! 195
- اللہ انگریز حکومت کو تکلیف (عذاب) میں نہ ڈالے گا 196
- یاجوج ماجوج، انگریز کے لیے دعا 196
- ہم دعا کرتے ہیں! 197
- دعا اور اُمید 197
- ہمارے پاس شکریہ کے الفاظ نہیں 199
- عزت کے خطاب کا سوال ہے بابا! 199
- یا اللہ! ملکہ معظمہ کے دل میں الہام کر 200
- قیصر ہند کی طرف سے شکریہ 200
- ملکہ وکٹوریہ، مرزا قادیانی کے گھر میں 201
- گورنر جنرل 201
- انگریز فرشتہ 201
- انگریزی الہامات 202
- مرزا قادیانی کی جانشینی میں انگریز کی دلچسپی! 203
- قلم کی طاقت کمزور ثابت ہوئی 203
- مرزا قادیانی کی تحریریں پڑھ کر شرم آتی ہے 204
- گورنمنٹ کی پٹھو جماعت 205
- قادیانی جماعت...... انگریزوں کی ایجنٹ 205
- پرانا اعتراض 206
- تمام سچے احمدی 206
- سرکاری نوکری کے لیے قادیانی ہونا ضروری ہے 207
- قادیانی ملازمین کو ترقیاں 207
- قادیانی رنگروٹ 208
- قادیانیت اور انگریز......... یک جان دو قالب 211
- احسان کا بدلہ 212
- جماعت کو نصیحت 213
- ہر احمدی کا فرض 213
- قادیانی حکومت کی پلاننگ 214
- مرزا قادیانی کی حفاظت 214
- جھوٹا کون؟ 215
- با ادب گزارش! 217
- قابل توجہ گورنمنٹ 218
- سلطنت برطانیہ کے زوال کا الہام 222
- اپنی وحی پر یقین 224
- خدا کا حکم اور رسول کا فرض 224
- حق بیان کرنے سے ڈرنا نہیں چاہیے 224
- مشرک کون؟ 224
- قرآن سے دوسرے درجہ پر 225
- تائید الٰہی سے لکھے گئے رسائل 225
- میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی روح بولتی ہے 225
- خدا کا کلام 226
- خزائن مدفونہ 226
- شجاعت 226
- مرزا قادیانی کی اپنی جماعت کو نصیحت 227
- کوئی اندر سے تعلیم دیتا ہے 227
- علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت 231
- شیخ او لرد فرنگی را مرید 233
- آں ز ایراں بود وایں ہندی نژاد 236
- کہ از تیغ و سپر بیگانہ سازد مرد غازی را !! 237
- نبوت 239
- مہدی برحق 239
- امامت 239
- جہاد 240
- درس غلامی 241
- نکتہ توحید 241
- یہودی وزیر اعظم اور سنت نبوی ﷺ 244
- ملکہ کا کتا اور قادیانی تعزیت! 245
پاکستان کے خلاف قادیانی سازشیں 247
- علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت 248
- قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور قادیانی 249
- باؤنڈری کمیشن میں قادیانیوں کا مؤقف 252
- اقتدار حاصل کرنے کے قادیانی ارادے 255
- ریاست کے اندر ریاست 257
- چناب نگر سے ناجائز اسلحہ کی برآمدگی 264
- قادیانی عدالتی نظام 267
- فرقہ وارانہ فسادات 272
- شہید ملت لیاقت علی خاں کے قتل کا راز 273
- 1965ء کی پاک بھارت جنگ 275
- مشرقی پاکستان کی علیحدگی 276
- کلیدی عہدوں پر فائز قادیانی افسران کی باغیانہ سرگرمیاں 277
- غدار پاکستان 279
- منصور اعجاز 285
- شاہ فیصلؒ کی شہادت پر قادیانیوں کا ردعمل 286
- امریکہ کی طرف سے قادیانیوں کی اعلانیہ حمایت 287
- اسرائیل میں قادیانی 288
- تصویریں بولتی ہیں 295
- دہشت گرد کون؟ 297
عکسی شہادتیں 299
- مجھے ضرور پڑھیے !!! 301
- مناظرہ کی کتاب 301
- زبانی تبلیغ نہیں بلکہ تحریر پیش کرنی چاہیے 301
- غور و فکر کرنے کی نصیحت 301
- مسخ شدہ لوگوں کی علامت 302
- تعصب 302
- جہاں سے نکلے تھے............ 302
توجہ فرمائیں!
- اس کتاب کے شروع میں قادیانی مذہب کے عقائد وعزائم ، انگریز کی حمایت اور جہاد
کی ممانعت پر مبنی تحریروں کو نمبر شمار لگا کر ایک خاص ترتیب سے درج کیا گیا ہے۔
- پھر کتاب کے آخر میں اسی ترتیب کے ساتھ اصل قادیانی کتب کے عکس دے
دیے گئے ہیں۔ مثلاً حوالہ نمبر 14 کا عکسی ثبوت، کتاب کے آخر میں حوالہ نمبر 14 کے تحت فراہم کر دیا گیا ہے۔
- اصل قادیانی کتابوں کے ٹائٹل کا عکس ہر حوالہ کے ساتھ بار بار دینے کے بجائے
صرف ایک دفعہ دیا گیا ہے، اس کے لیے دیکھیے صفحہ نمبر 21 تا 23
- اہم معترضہ قادیانی تحریروں کو نمایاں کرنے کے لیے ان کے گرد موٹی آؤٹ لائن
لگا دی گئی ہے۔
- قادیانی کتب سے پورے صفحے کا عکس دینے سے قادیانیوں کا یہ اعتراض بھی ختم
ہو جاتا ہے کہ ان کی گستاخانہ اور متنازع فیہ عبارات سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کی جاتی ہیں۔
- قادیانی کتابوں یا حوالوں کی عکسی نقول کے مصدقہ یا غیر مصدقہ ہونے کے سلسلہ میں
حق کے متلاشی کسی قادیانی کو اگر معمولی سا بھی شک وشبہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ فوری طور پر چناب نگر (ربوہ) کی مرکزی ”خلافت لائبریری“ میں جا کر تمام حوالہ جات کو سیاق و سباق کے ساتھ چیک کرے اور پھر اس تحریر کے غلط یا درست ہونے کا فیصلہ بغیر کسی تعصب کے اپنے ضمیر سے لے۔ ان شاء اللہ، وہ صحیح فیصلہ پر پہنچے گا۔
- قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اس کتاب میں موجود قابل اعتراض، دل آزار
اور توہین آمیز قادیانی عبارات پڑھتے وقت کثرت سے استغفار کریں۔ شکریہ!
فہرست ٹائٹل کتب
نام کتاب صفحہ نمبر
- تذکرہ مجموعہ وحی والہامات (مرزا قادیانی) 303
- مکتوبات احمد جلد اوّل (مرزا قادیانی) 304
- مکتوبات احمد جلد دوم (مرزا قادیانی) 305
- ملفوظات جلد اوّل (مرزا قادیانی) 306
- ملفوظات جلد دوم (مرزا قادیانی) 307
- ملفوظات جلد چہارم (مرزا قادیانی) 308
- ملفوظات جلد پنجم (مرزا قادیانی) 309
- مجموعہ اشتہارات جلد اوّل (مرزا قادیانی) 310
- مجموعہ اشتہارات جلد دوم (مرزا قادیانی) 311
- سیرت المہدی جلد دوم (مرزا بشیر احمد ایم اے) 312
- سیرت المہدی جلد سوم (مرزا بشیر احمد ایم اے) 313
- انجام آتھم (مرزا قادیانی) 314
- براہین احمدیہ (چہار حصص) (مرزا قادیانی) 315
- ازالہ اوہام (مرزا قادیانی) 316
- کشتی نوح (مرزا قادیانی) 317
- اربعین (مرزا قادیانی) 318
- براہین احمدیہ حصہ پنجم (مرزا قادیانی) 319
- نور الحق (مرزا قادیانی) 320
- چشمہ معرفت (مرزا قادیانی) 321
- حقیقت الوحی (مرزا قادیانی) 322
- آئینہ کمالات اسلام (مرزا قادیانی) 323
- ضرورۃ الامام (مرزا قادیانی) 324
- خطبہ الہامیہ (مرزا قادیانی) 325
- تحفہ گولڑویہ (مرزا قادیانی) 326
- شہادۃ القرآن (مرزا قادیانی) 327
- نزول المسیح (مرزا قادیانی) 328
- سراج منیر (مرزا قادیانی) 329
- کشف الغطاء (مرزا قادیانی) 330
- تریاق القلوب (مرزا قادیانی) 331
- البلاغ (مرزا قادیانی) 332
- کتاب البریہ (مرزا قادیانی) 333
- سر الخلافہ (مرزا قادیانی) 334
- ستارہ قیصرہ (مرزا قادیانی) 335
- لیکچر لاہور (مرزا قادیانی) 336
- لیکچر لدھیانہ (مرزا قادیانی) 337
- احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ (مرزا قادیانی) 338
- تحفہ قیصریہ (مرزا قادیانی) 339
- رسالہ معیار المذاہب (مرزا قادیانی) 340
- آریہ دھرم (مرزا قادیانی) 341
- گورنمنٹ انگریزی اور جہاد (مرزا قادیانی) 342
- لجۃ النور (مرزا قادیانی) 343
- انوار خلافت، انوار العلوم جلد 3، (مرزا بشیر الدین محمود) 344
- تحفۃ الملوک، انوار العلوم جلد 2، (مرزا بشیر الدین محمود) 345
- جماعت احمدیہ کا حکومت وقت کی اطاعت کے بارے میں صحیح
موقف، انوار العلوم جلد 2، (مرزا بشیر الدین محمود) 346
- برکات خلافت، انوار العلوم جلد 2 (مرزا بشیر الدین محمود) 347
- عسل مصفی (مرزا خدا بخش قادیانی) 348
- حیات احمد (یعقوب علی عرفانی قادیانی) 349
قادیانیت...... برطانوی سامراج کا خودکاشتہ پودا
جناب محمد متین خالد کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ ہمارے ملک کا بہت ہی قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی درجنوں کتابیں تاریخ اسلام کے سینے پر تا ابد زندہ رہیں گی۔ زیر نظر کتاب ”قادیانیت، برطانوی سامراج کا خودکاشتہ پودا“ جناب متین خالد کی بہت ہی محنت طلب تحقیق ہے۔ وہ بے لاگ محقق ہیں، مصنف، مبصر اور خطیب بھی۔ حب رسول ﷺ کی دولت سے مالامال ہیں۔ ”رد قادیانیت“ کے لیے جیسے رب تعالیٰ نے انہیں خاص طور پر منتخب کر لیا ہے۔ مجھے ان کی ثابت قدمی پر رشک آتا ہے۔
ایک مسلمان اور محمد ﷺ کا امتی ہونے کے ناطے میری تمام تر ہمدردیاں اور نیک تمنائیں جناب متین خالد کے مشن کے ساتھ ہیں۔ ”قادیانیت، برطانوی سامراج کا خودکاشتہ پودا“ دراصل ایک آئینہ ہے جس میں گستاخ رسول اپنا آپ دیکھیں تو منہ چھپانے کو جگہ نہ ملے!!
آپ جوں جوں اس کتاب کو پڑھتے جائیں گے، قادیانیت کا مکروہ چہرہ آپ پر کھلتا چلا جائے گا۔ یہ انگریز کا وہ خودکاشتہ پودا ہے جس نے شروع دن سے ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی انتہائی کوششیں کی تھیں مگر وہ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام رہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا، پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔
جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور حکومت 1974ء میں انہیں قومی اسمبلی سے اقلیت قرار دیا تھا اور جنرل محمد ضیاء الحق نے 1984ء میں اپنے ایمان افروز فیصلوں سے ان کی سرگرمیاں بہت حد تک محدود کر دی تھیں مگر یہ فتنہ آج بھی زخمی سانپ کی طرح پھن کھول رہا ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ جناب محمد متین خالد کی طرح اپنی پوری ایمانی قوت کے ساتھ ناموس رسالت ﷺ کی پاسداری کے لیے پہرے پر کھڑے رہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان اسلام آباد
انگشت بدنداں کر دینے والی کتاب
محمد متین خالد صاحب جیسے دیدہ ور قوموں میں کبھی کبھی پیدا ہوتے ہیں، جو اپنے عمل صالح سے زندگی کو جنت کر لیتے ہیں اور تاریخ جنہیں اپنے کشادہ دامن میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتی ہے۔ وہ اقبال کے ایسے مرد مومن ہیں جو ایک عمر سے رزم حق و باطل میں ایمان آفرین فولادی قوت کے ساتھ راہ حق پر ایستادہ ہیں۔ تحفظ ناموس رسالت کے خارزاروں میں اترنا جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے، مگر جناب متین خالد گزشتہ تین عشروں سے ”رد قادیانیت“ کے محاذ پر ملحدوں، مرتدوں اور زندیقوں سے نبردآزما ہیں۔
ناموس رسالت ﷺ کی پاسداری ان کا جزو ایمان ہے، وہ عقیدۂ ختم نبوت کا معتبر حوالہ ہیں، مورخ کے لیے ان کے ذکر کے بغیر ”تحفظ ختم نبوت“ کی تاریخ مکمل کرنا ممکن ہی نہیں۔ پچاس کے قریب کتابیں اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں وہ پمفلٹس تحریر فرما چکے ہیں، ان کی خطابت بھی دلآویز اور تحریر بھی دل میں اُتر جانے والی ہے، انہوں نے برسوں میں صدیوں کا کام کر ڈالا ہے، وہ محقق بھی ہیں اور مورخ بھی۔ برصغیر میں ”رد قادیانیت“ پر اب تک بے تحاشہ کام ہو چکا ہے مگر چند ایک کو چھوڑ کر تقریباً سب نے اپنے حصے کے کام کی بجائے اپنے دھڑلے کا کام کیا ہے۔ بہت ساروں نے تو ہوش کی بجائے جوش کو وطیرہ بنایا ہے لیکن جناب متین خالد کے قلم میں جوش و ولولے کی فراوانی کے باوجود اُن کا شمار اسلام کے ہوش مند قلمکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں جبر اور تشدد کی بجائے منطق اور دلیل کو معیار بنایا ہے، وہ تضحیک کے مقابلے میں تحقیق پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسے متوازن محقق ہیں جو تحقیق میں ”میرٹ“ کو مقدم رکھے ہوئے ہیں، اُن کی تبلیغ کا انداز ہو بہو صوفیوں جیسا ہے ان کا شیریں گفتار ہونا ان کے صوفی ہونے کی دلیل ہے، اُن کے لہجے کی
مٹھاس ہی انہیں اپنے ہم عصروں میں معتبر کرتی ہے۔ کشادہ دلی اور احساس مروت اُن کا اضافی وصف ہے، ان کی تحریروں کا صوفیانہ آہنگ اور دل میں گھر کر جانے والا اسلوب قاری کو انکا گرویدہ کرتا چلا جاتا ہے، مثلاً اُن کی ایک کتاب ہے۔
”احمدی دوستو، تمہیں اسلام بلاتا ہے“ ملاحظہ فرمائیں، کس قدر محبت، عجز، انکسار، انسیت، لجاجت اور قند آفرینی ہے، اس طرح کی مدبھری دعوت پر جو کوئی ”راہ گم کردہ“ واپس لوٹتا ہے تو وہ پھر پورے کا پورا اسلام میں داخل ہو جاتا ہے، اور یہی عین اسلام ہے۔ اخلاق کی سرفرازی اور کردار کی بلندی ہی پیغمبرانہ طریقہ تبلیغ ہے، اسلام دنیا میں کہیں بھی تلوار کے زور پر نہیں پھیلا۔ اگر ایسا ہوتا تو برصغیر کی بات ہی کی جائے تو آج یہ سارا خطہ مسلمان ہو چکا ہوتا کیونکہ یہاں صدیوں مسلمانوں کی حکومتیں رہی ہیں۔ اس خطے میں اسلام کی اشاعت تو صوفیائے کرام کی محنتوں اور محبتوں کا ثمر ہے۔ اسلام میں تلوار تو صرف دین حق کی حفاظت کے لیے اٹھانے کا حکم ہے، جسے جہاد اکبر کہا گیا ہے جو ہر بالغ اور باشعور مسلمان پر فرض ہے، اسی فرض کی بجا آوری میں جناب متین خالد قلمی اور فکری جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
متین خالد صاحب کے اجداد کا پیشہ سپاہ گری تھا۔ ان کے والد فوج میں تھے جنہوں نے اپنی ساری عمر وطن کی سرحدوں کی حفاظت میں گزار دی اور جناب متین خالد دین مبین کی سرحدوں پر برسوں سے پہرہ دے رہے ہیں۔ میری نگاہ ہمیشہ سے کمال کے ساتھ ساتھ صاحب کمال پر بھی مرکوز رہی ہے، اسی لیے زیر نظر کتاب ”قادیانیت، برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا“ پر بات کرنے سے پہلے تمہیدی طور جناب متین خالد کی شخصیت پر چند کلمات کہنے کی کوشش کی ہے، کیونکہ میں جناب متین خالد کا قاری بھی ہوں اور عقیدت مند بھی۔
”قادیانیت، برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا“ بہت ہی انگشت بدنداں کر دینے والی کتاب ہے، جس میں متین خالد صاحب نے بڑی عرق ریزی اور جانفشانی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی ہی کتابوں، تحریروں اور ”فرمودات“ سے ثابت کیا ہے کہ قادیانیت انگریز کا بویا ہوا فتنہ ہے جس کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ انگریز سرکار کی خوشامد قادیانیوں کا مقصد حیات شروع سے تھا اور آج بھی ہے، کتاب کو کسی قسم کے ابہام اور شک و شبہ سے محفوظ بنانے اور وسوسوں سے پاک کرنے کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کے چھوٹے چھوٹے ندامت آمیز اقتباسات کے عکسی ثبوت بھی اس میں شامل کر دیئے
گئے ہیں جن میں:
- سلطنت برطانیہ امن وراحت کی پناہ گاہ !!
- جہاد ختم !!
- دین کے لیے لڑنا حرام ہے !!
- مکہ معظمہ سے لندن بہتر !!
- سکون نہ مکہ میں نہ مدینہ میں !!
- سرکار انگریز پھل دار درخت کی طرح ہے !!
- گورنمنٹ انگریز کا زمانہ .............. روحانی اور جسمانی برکات کا مجموعہ’’ وغیرہ وغیرہ۔
درج بالا خرافات سے اندازہ کرنا مشکل نہیں رہا کہ قادیانی ٹولہ مذہبی تو سرے سے تھا ہی نہیں لیکن ان کا سیاست جیسے مقدس علم وعمل سے بھی کوئی سابقہ نہیں ہے۔ یہ محض درباریوں، خوشامدیوں، بھانڈوں، بے یقینوں، لا دینوں اور اٹھائی گیروں کا ”راہ گم کردہ“ ایک ایسا گروہ ہے جس کا کوئی مذہب ومسلک یا دین دھرم نہیں ہے۔ رب تعالیٰ اس فتنے سے امت مسلمہ کو محفوظ و مامون رکھے !! آمین !!
جبار مرزا اسلام آباد
Email: jabbarmirza92@gmail.com Face Book: Jabbar Mirza
فتنہ قادیانیت، عالمی استعمار کا آلہ کار
دنیا سمٹ کر گلوبل ویلیج ہونے کے ساتھ سپیشلائزیشن کے دور میں داخل ہو چکی ہے، ہر موضوع اور ہر شعبے کا سپیشلسٹ موجود ہے۔ جناب محمد متین خالد ”رد قادیانیت“ کے سپیشلسٹ ہیں، پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا پڑھا لکھا شخص ہو جو متین خالد صاحب کے نام سے آگاہ نہ ہو، وہ 100 کے قریب پمفلٹس، کتابچوں اور کتابوں کے مولف و مصنف ہیں۔ ”رد قادیانیت“ ان کا پسندیدہ ترین موضوع ہے۔
”قادیانیت، برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا“ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جناب متین خالد ثبوت اور دلائل سے ”قادیانیت“ کا رد کرتے ہیں۔ ”ثبوت حاضر ہیں“ چار جلدوں پر مشتمل ان کی بہت ہی ضخیم دستاویز ہے، بیسوں اور کتابیں بھی ان کے جذبہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی گواہ ہیں۔ زیر نظر کتاب میں متین خالد صاحب نے مرزا غلام احمد کی تحریروں سے ثابت کیا ہے کہ وہ انگریزی استعمار کا لگایا ہوا پودا ہے، جا بجا کتاب میں ایسے حوالے موجود ہیں مثلاً ”ازالہ اوہام صفحہ 132 روحانی خزائن جلد 3 کے صفحہ 166 پر مرزا غلام احمد لکھتے ہیں: ”ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہو گیا ہے کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں“ اس کتاب کی مناسبت سے مجھے مرزا غلام احمد کا وہ خط یاد آ رہا ہے جو 24 فروری 1898ء میں میر قاسم علی قادیانی نے تبلیغ رسالت کی جلد ہشتم میں شامل کیا تھا۔ اس خط میں غلام احمد نے تسلیم کیا تھا کہ وہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے نام ایک درخواست میں لکھا کہ ”اگرچہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لیے کی ہے، عنایت خاص کا مستحق ہوں۔ گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے
ہمیشہ حکام نے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں، اس ”خود کاشتہ پودہ“ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط، تحقیق اور توجہ سے اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں“
مرزا غلام احمد کی یہ ابتدائی دنوں کی انگریز سرکار سے خط و کتابت ہے، آگے چل کے انہوں نے جو گل کھلائے، وہ متین خالد صاحب کی زیر نظر کتاب میں جا بجا موجود ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قادیانیت مذہبی نہیں، استعمار کی آلہ کار ہے۔
راجہ ظفر الحق
سابق وفاقی وزیر مذہبی امور و اطلاعات و نشریات سیکرٹری جنرل موتمر عالم اسلامی
قادیانی طلسم ہوشربا کی چند جھلکیاں
28 مئی 2010ء کو جب پاکستان بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں یوم تکبیر منا رہا تھا، عین اس روز لاہور میں دو قادیانی عبادت گاہوں پر دہشت گردوں کا اچانک حملہ بے حد افسوسناک اور وطن عزیز کے امیج کو قوموں کی برادری میں داغدار کرنے کی ایک ایسی کوشش تھی جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات، بابائے قوم محمد علی جناحؒ کے ارشادات اور آئین ملکی کے مطابق تفاوت مذہب و ملت اور رنگ و نسل کے ہر امتیاز کے بغیر تمام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اسے یہ فریضہ پوری قوت سے ادا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہئے کہ اس بارے میں دو آراء ہو ہی نہیں سکتیں۔ لیکن اس سانحہ کی آڑ میں قادیانیوں نے اپنی تجوریوں کے منہ کھول کر اخبارات و جرائد میں قومی اسمبلی میں گیارہ روز کی طویل آزادانہ بحث کے بعد کی جانے والی آئینی ترامیم کے خلاف مکروہ پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کر کے انہیں دستور پاکستان ہی سے نکال باہر کرنے کی جو سعی مذموم شروع کر دی اور اس کام کو آگے بڑھانے کے لئے نام نہاد لبرل ترقی پسند دانشوروں اور امریکی اشیرواد سے چلنے والی اباحیت پسند این جی اوز کو اپنے ساتھ ملا کر نہ صرف اپنے حق میں مظاہرے کرانے کا اہتمام کیا بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان غلاماں کے مرجھائے ہوئے ایک فرد کو خضاب و غازہ سے مرصع کر کے ٹی وی چینلوں سے جس انداز میں پاکستانی عوام سے خطاب کرنے کا موقع فراہم کیا اور انہوں نے جس طرح اپنے آبائی عقائد کو چھپاتے ہوئے اپنی امت کو ”مسلمان“ ثابت کرنے کے لئے تلبیس سے کام لیا، اس سے گوبیلز تو کیا، اس کے آباؤ اجداد کی روحیں بھی شرمسار ہو کر رہ گئیں اور ہر پاکستانی مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ کہیں یہ سارا ڈرامہ بھی قادیانی مفادات کو تقویت دینے کے لئے ہی تو سٹیج نہیں کیا گیا تھا کیونکہ اسے جس طریقے سے قادیانیت کی تبلیغ کے لئے
استعمال کیا گیا، اس سے تو یوں لگتا تھا جیسے قادیانیوں کو اس بات کا کھلا لائسنس دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ارتدادی سرگرمیوں کو از سرنو تیز کر کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو اس زور سے اپنے حق میں استعمال کریں کہ اس سیلاب بلا خیز میں سب کچھ بہہ کر رہ جائے۔ زرداری حکومت کی دینی حسیات سے محرومی کی وجہ سے اگر کسی قادیانی ذہن میں یہ خناسیت موجود ہے کہ وہ اس نادر موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے تو اسے فی الفور اس سے نجات حاصل کر لینی چاہئے کیونکہ پاکستان میں بسنے والے مٹھی بھر سیکولر عناصر ہی کیا امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور بھارت سب مل کر بھی آئین پاکستان سے یہ ترامیم ختم نہیں کرا سکتے کیونکہ انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ اگر اس نے ایسی کوئی ناپاک جسارت کی تو پھر چناب نگر کے دوزخی مقبرے میں قادیانیت کی گلی سڑی ہڈیاں بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔ لیکن اگر فرض محال کے طور پر مان بھی لیا جائے کہ وہ ایسا کرنے میں کبھی کامیاب ہو سکتے ہیں تو پھر بھی ان کے امت مسلمہ میں شامل ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں کیونکہ قرآن حکیم دو ٹوک الفاظ میں حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی، دین اسلام کو آخری دین اور قرآن مجید کو آخری کتاب قرار دے چکا ہے۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی امت اس کے اضغاث و احلام کو جمع کر کے اور انہیں مجموعہ وحی و الہامات شمار کر کے ”تذکرہ“ کے نام سے خواہ کتنی بھی کتابیں شائع کر ڈالے، وہ ایسی ہزار کوششوں کے باوجود اسے زمرہ انبیاء میں شامل نہیں کر سکتی کیونکہ جب قرآن مجید نہایت واضح الفاظ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبین قرار دے چکا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زبان فیض ترجمان سے بنفس نفیس لا نبی بعدی کہہ کر اس کی یہ تشریح کر چکے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں تو پھر کسی ظلی بروزی، غیر تشریعی یا ایک پہلو سے امتی اور ایک پہلو سے نبی ہونے کے کسی دعویدار کی کوئی گنجائش ہی موجود نہیں اور جو کوئی بھی اپنی مسخ شدہ ذہنیت کے تحت ان اصطلاحات سے مسلمانوں کو فریب دے کر انہیں مدینے کی روح پرور فضاؤں سے نکال کر چناب نگر کی بنجر، ویران اور شور زدہ زمین کے سپرد کرنا چاہتا ہے، اسے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر مسلمانوں نے اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب کی ”نبوت“ کو پرکاہ کی حیثیت نہیں دی تو وہ مسیلمہ کادیان سے بھی اس سے مختلف سلوک نہیں کرے گی۔ قادیانی خود یہ سوچ لیں کہ اگر امریکہ و برطانیہ کی تمام تر حمایت کے باوجود وہ پاکستان اور جنوبی افریقہ میں ریاستی و عدالتی سطح پر غیر مسلم قرار پا جانے کے بعد انڈونیشیا، ملائشیا
اور بنگلہ دیش میں بھی اسی حشر سے دوچار ہونے والے ہیں تو پھر انہیں خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ جو پودا اپنی جنم بھومی سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے، کسی دوسری زمین پر اس کا پھولنا پھلنا تو درکنار، پھوٹنے کا مرحلہ بھی نہیں آتا۔ اس لئے کہ جعلسازی بہرحال جعلسازی ہوتی ہے اور اس کی حقیقت ایک نہ ایک روز ضرور کھل کر رہتی ہے۔
قادیانیت کے لئے اپنے ذہنوں میں نرم گوشہ رکھنے والوں کو یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ اگر فوج اور پولیس کی جعلی وردی پہن کر اپنے آپ کو ان اداروں سے منسوب کرنے والا ریاستی عتاب سے نہیں بچ سکتا تو ظلی بروزی اور غیر تشریعی نبوت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو صف انبیاء میں کھڑا کرنے والا غضب الٰہی سے کیسے بچ سکتا ہے؟
مجھے اس بات سے آگاہی ہے کہ بعض متصوفین نے مبشرات پر مشتمل خوابوں اور رویا و کشوف کو نبوت غیر تشریعی سے تعبیر کیا ہے لیکن وہ اس اصطلاح کو ولایت کے معنوں میں ہی استعمال کرتے رہے ہیں اور کبھی اسے نبوت کے مقام تک نہیں لائے لیکن مرزا غلام احمد اور اس کے پیروکاروں نے اسے جس طرح نبوت کی ایک قسم بنا کر پیش کیا ہے، اس کی کوئی مثال اہل تصوف تو کیا، ان کی طرف منسوب کی جانے والی شطحیات تک میں موجود نہیں اور خود بانی قادیانیت نے اپنی کتاب ”نور الحق“ میں اسے انہی معنوں میں استعمال کیا ہے لیکن جب ذیابیطس اور مراق ایسے عوارض نے گھیر کر اس پر خبط عظمت کی ایک ایسی کیفیت طاری کر دی کہ وہ اپنے آپ کو ”لک خطاب العزۃ“ کے تحت اعزازی طور پر نبی کے لقب سے سرفراز کئے جانے سے آگے بڑھ کر میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں، کے نعرے لگانے لگا اور اس کے مریدوں نے نعوذ باللہ اس کی آمد کو محمد رسول اللہ کی آمد ثانی سے تشبیہ دینے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہ کی اور وہ اسلام کے دو بنیادی عقائد ختم نبوت اور جہاد دونوں کا انکار کر کے الہامی بنیادوں پر اہل فرنگ کی غلامی کو آزادی پر ترجیح دینے پر فخر کرنے لگا تو اس پر حریت پسند مسلمان اس سے صرف یہی کہہ سکتے تھے
ندا کیا آ رہی ہے آسماں سے
کہ آزادی کا اک لمحہ ہے بہتر
غلامی کی حیات جاوداں سے
لیکن وہ اپنی خوئے غلامی میں اس قدر پختہ تھا کہ 1857ء کی جنگ آزادی کو غدر، مفسدہ اور انگریز سے برسر پیکار مجاہدین کو حرام زادہ تک لکھتے ہوئے بھی کوئی عار اس کے قلب و ذہن کے قریب تک پھٹکنے کی جرات نہیں کرتی تھی۔ اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ جو شخص
ان کی شاہی میں، میں پاتا ہوں رفاہ روزگار
کا ورد کرتے ہوئے تحفہ قیصریہ اور ستارہ قیصرہ ایسے ”قصیدے“ لکھ کر اہل فرنگ کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے اور ان کے لیے رحمدل اور مہربان حکومت کے الفاظ استعمال کرنے میں کوئی باک محسوس نہ کرتا ہو اور ان کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے جہاد کو منسوخ اور حرام قرار دے کر اپنے آپ کو غیر تشریعی نہیں بلکہ باقاعدہ صاحب شریعت انبیا کی صف میں شامل کرنے کی ناپاک جدوجہد کرنے میں مصروف ہو، اس کے بارے میں یہ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ انگریز کی غلامی سے سرتابی کی جرات کر کے عوام کو آزادی کا درس دے گا؟ قرآنِ کریم کے فرمان کے مطابق تو نبی کا بنیادی کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کے ذہنوں کو جکڑ کر رکھنے والے تمام طوق و سلاسل کو توڑ کر انہیں آزادی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ لیکن قادیان کا یہ نام نہاد نبی بڑا عجیب ہے کہ وہ لوگوں کو آزادی کی جانب دعوت دینے کی بجائے ان کو غلامی کی تلقین کرنے میں عافیت محسوس کر رہا ہے۔ اس نوع کے غلام ابن غلام قومی آزادی کی تحریکوں کے لیے جتنا بڑا خطرہ ہیں، ان کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ سب ظاہر و باہر ہے۔
ہمارے بعض سیکولر کالم نگار کہتے ہیں کہ 1965ء کی جنگ میں تو قادیانی جرنیلوں نے بڑی قربانی دی تھیں اور اختر ملک نے اکھنور تک پہنچ کر بہت بڑا معرکہ سر کر لیا تھا۔ تاریخ سے ناواقف ان لکھاریوں کو اس بات کا علم نہیں کہ ایوب خاں اور ذوالفقار علی بھٹو دونوں کو اپنے دام ہمرنگ زمیں پھنسا کر کشمیر میں مداخلت کار بھجوانے پر آمادہ کرنے والے بھی قادیانی ہی تھے اور اپنے ”متنبی“ کی تعلیمات سے بھی ان کے انحراف کرنے کا سبب یہی تھا کہ وہ سب مرزا غلام احمد کے ایک ”کشف“ کو پورا کرنے کے لئے کشمیر کی گلی سے ہو کر قادیان جانے کی تمنا اپنے دل میں بسائے بیٹھے تھے اور اس جنگ کا ہی یہ ثمر تھا کہ پاکستان اپنی ترقی کی منزل سے 50 برس پیچھے چلا گیا اور آج قادیانی نہ صرف اسرائیل میں اپنا مشن چلا رہے ہیں بلکہ
بھارت میں بھی نئی دہلی کے حکمرانوں سے نت نئی مراعات لے رہے ہیں لیکن افغانستان، کشمیر اور فلسطین تینوں جگہوں پر چلنے والی قومی آزادی کی تحریکوں کے وہ مخالف ہیں اور مسئلہ کشمیر اور فلسطین دونوں کو الجھانے میں انہوں نے جو کردار ادا کیا ہے، اس کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ میاں افتخار الدین نے اسمبلی کے فلور پر اپنے تاریخی خطاب میں کہا تھا کہ ظفر اللہ خاں نے اپنی بے معنی اور طویل تر تقریروں سے مسئلہ فلسطین کو الجھا کر رکھ دیا اور یہی بات برنگ دگر کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ ظفر اللہ خاں نے مسئلہ فلسطین کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کمی نہیں کی، اسے کرنا بھی یہی کچھ تھا کیونکہ جو شخص قومی آزادی کی لذت سے ہی آشنا نہیں، وہ آزادی اور جہاد کی قدر و قیمت کیا جانے۔ اسی پس منظر میں یاد آیا کہ ایک دفعہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں ایک فلسطینی نوجوان سے میری اس موضوع پر بات ہو رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم اپنے ملک میں قادیانیوں کو کس نظر سے دیکھتے ہو تو اس نے کہا کہ ہم قومی آزادی کے ان دشمنوں کو یہودیوں سے بدتر سمجھتے ہیں کہ وہ کھلے دشمن ہیں اور یہ چھپے منافق، جو مشرق اوسط میں آتے ہی اس لئے ہیں کہ جاسوسی کر کے اپنے آقایان ولی نعمت کا حق نمک ادا کر سکیں اور وہ یہ فریضہ اپنی مذہبی ذمہ داری سمجھ کر ادا کرتے ہیں، اس لئے ان پر اعتبار کرنا ممکن نہیں۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم ایک مرتبہ جب امریکہ کے دورے پر گئے تو امریکی حکام سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کے دوران سی آئی اے کے ذمہ داران نے ان کے سامنے ایسے ایسے انکشافات کئے کہ جنرل مرحوم انگشت بدنداں ہو کر رہ گئے۔ واپس آ کر انہوں نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ سب کچھ ڈاکٹر عبدالسلام کا کیا دھرا تھا جنہوں نے ڈایا گرام تک امریکہ کے حوالے کر دیئے تھے۔ جس پر اسے فوری طور پر چلتا کر دیا گیا تو اس نے اٹلی میں ایک جدید سائنسی ادارہ بنا کر اس میں دھڑا دھڑ قادیانیوں کو بھرتی کر لیا تاکہ وہ داشتہ آید بکار کے طور پر آئندہ کی ضروریات کے کام آئیں۔
سیاسی، سفارتی اور مذہبی محاذ پر قادیانیوں کی یہ قلابازیاں مسلسل جاری ہیں اور مرزا غلام احمد کی ”تدریجی نبوت“ سے لے کر اب تک اس کی مثالیں جگہ جگہ بکھری نظر آتی ہیں۔ بہت کم قادیانیوں کو اس بات کا علم ہے کہ مرزا ناصر احمد نے ایک بار ترنگ میں آکر منڈی بہاء الدین کی قادیانی عبادت گاہ میں یہ ویاکھیان بھی دے دیا تھا کہ آخری زمانے میں جس نے آنا تھا، وہ مرزا غلام احمد کی صورت میں آ چکا ہے اور اب اس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
اس زمانے میں منڈی بہاء الدین میں مقیم قادیانی مربی مجھ سے خاصی کھلی ڈلی گفتگو کر لیتے تھے۔ کہنے لگے کہ اس موقع پر میرے دل میں فوراً یہ خیال آیا کہ ”حضرت صاحب“ سے کہوں کہ اگر یہی کچھ کرنا تھا اور نبوت کو ”حضرت مسیح موعود“ پر ہی ختم کرنا تھا تو پھر ”اجرائے نبوت“ کا پنگا لینے کی ضرورت تھی نہ خاتم النبین کے معنی آخری نبی کی بجائے نبیوں کی مہر کر کے نبوت کی ٹکسال کھولنے کا کوئی فائدہ۔ لیکن میں اپنی گزارہ الاؤنس والی ملازمت کے چلے جانے کے خوف سے دبک کر بیٹھا رہا کہ اس عمر میں کوئی دوسری ملازمت مل سکتی ہے نہ نئے تعلقات ہی بنائے جاسکتے ہیں لیکن یہی بات دوسرے کئی حاضرین کے لئے بھی تعجب کا باعث بنی اور انہوں نے وہاں پر موجود ”مورکھ احمدیت“ مولوی دوست محمد شاہد کو آڑے ہاتھوں لیا جو اس ناگہانی صورتحال سے بڑی مشکل سے جان چھڑا کر بھاگے۔ اس قسم کے مضحکہ خیز تماشوں سے قادیانی امت کی پوری تاریخ بھری پڑی ہے لیکن اس کے باوجود وہ سوچنے سمجھنے کے لئے تیار نہیں اور نحن علی ملۃ آباءنا کی پرانی روش پر پوری ہٹ دھرمی سے قائم رہ کر اپنے ”پیدائشی احمدی“ ہونے پر فخر کرتے رہتے ہیں حالانکہ کوئی شخص خواہ پیدائشی طور پر ذہنی توازن سے محروم ہو یا اس کے بعد اس حالت کو جا پہنچے تو یہ دونوں کیفیتیں کسی طرح موجب افتخار نہیں ہوسکتیں۔ ان تاویلات نے قادیانیوں کے ذہنوں کی برین واشنگ کر کے انہیں کس طرح کونوا قردۃ خاسئین کی صف میں لا کھڑا کیا ہے، اس کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معراج جسمانی کو تو خلاف عقل قرار دیتے ہوئے اسے ایک خواب، رویا اور کشف سمجھتے ہیں لیکن مرزا غلام احمد کے سرخی کے چھینٹوں والے ”کشف“ کو حقیقی خیال کرتے ہیں اور اس اجمال کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ مرزا غلام احمد نے خوابیدگی کی حالت میں یہ منظر دیکھا کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور کوئی فائل دستخطوں کے لئے پیش کر رہا ہے جس پر ذات باری نے اپنے دستخط کرنے کے لئے قلم اٹھا کر اسے سرخ روشنائی سے بھری ہوئی دوات میں ڈبویا تو اس کی نب پر بہت زیادہ مواد لگ گیا جو چھڑکا گیا تو اس کے چھینٹے عالم بیداری میں بھی مرزا غلام احمد کی چادر پر پڑے ہوئے تھے۔ بعد میں یہ چادر اس کے ایک ”صحابی“ عبداللہ سنوری نے لے لی جو آج بھی قادیانی امت نے سنبھال کر رکھی ہوئی ہے اور کوئی قادیانی یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معراج مبارک اگر
بقول ان کے ایک خواب تھا تو خواب پر تو کوئی احمق بھی اعتراض نہیں کر سکتا، زبان و بیان کے ماہر اکابرین قریش جن میں سے ہر فرد انسان ہونے کے ناتے خواب دیکھتا تھا، وہ اس پر کیسے معترض ہو سکتے تھے؟ اعتراض تو وہ کسی غیر معمولی اور خارق عادت واقعہ پر ہی کر سکتے تھے۔ پیغمبر گردوں رکاب ﷺ کے اس معجزاتی سفر کو قادیانی ماننے کے لئے تیار نہیں مگر مرزا غلام احمد کے سرخی کے چھینٹوں والے خواب کو حقیقت پر محمول کرنے کو وہ نہ صرف ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں بلکہ انہیں اس میں کوئی بات خلاف عقل بھی نظر نہیں آتی ۔ مرزا غلام احمد نے اپنی پہلی بیگم حرمت بی بی کی بے حرمتی کرنے کے بعد اسے ایک معلقہ کی طرح چھوڑ دینے کے بعد اپنے ہی خاندان کی ایک رشتہ دار لڑکی محمدی بیگم سے نکاح کے لئے جتنی جدوجہد کی، جس قدر آہیں بھریں، جس قدر پیشگوئیاں کیں اور اس آسمانی نکاح کو زمین پر وقوع پذیر کرنے کے لئے جو کچھ کیا، وہ اس شخص کی اخلاقی حالت، نفسیات اور سماجی شعور پر ایک افسوسناک تبصرہ ہے لیکن ان ساری کوششوں کے باوجود وہ مرزا غلام احمد کے ہاتھ نہ آسکی اور قادیانی امت کے ناظر اصلاح و ارشاد قاضی نذیر آنجہانی کو مجبوراً اس کی یہ تاویل کرنا پڑی کہ یہ حضرت صاحب کی اجتہادی غلطی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کے بارے میں مرزا غلام احمد وہی عقیدہ رکھتا تھا جو جمہور مسلمانوں کا ہے اور اس کا اظہار اس نے اپنی متعدد کتب میں اتنے زور اور تواتر سے کیا ہے کہ اس کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ لیکن پھر جب مرزا غلام احمد کے دل میں خود ”منصب نبوت“ پر براجمان ہونے کی خواہش انگڑائیاں لینے لگی اور حقیقۃ الوحی میں ایک سو سے زائد دس روپے کی آمد کے بارے میں ہونے والے ”الہامات“ نے ان کی معاش کو بھی خاصا مضبوط کر دیا تو پھر انہوں نے فوراً اپنا پینترا بدل کر وفات مسیح کا اعلان کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ میں کیا کروں خدا کی طرف سے بارش کی طرح نازل ہونے والی وحی نے مجھے اپنے پرانے موقف پر قائم نہیں رہنے دیا اور اب قادیانی اجرائے نبوت سے بھی کہیں زیادہ، وفات مسیح کا راگ الاپ رہے ہیں کہ اگر اصل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی امت مسلمہ کے معتقدات میں ایک مرکزی حیثیت کی حامل رہے گی تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی کو مثیل مسیح بنانے کے لیے نہ قادیان کا جعلی منارۃ المسیح کام دے گا اور نہ ہی قادیان دمشق بن سکے گا۔ آخر قادیانی کب تک یہ اجتہادی غلطیاں کرتے چلے جائیں گے۔ میں نے تو ان چند سطور میں
قادیانی طلسم ہوشربا کی چند جھلکیاں آپ کو دکھائی ہیں۔ تاہم اگر آپ ان بھول بھلیوں کی ذرا تفصیل سے سیر کرنا چاہتے ہیں تو برادر عزیز محمد متین خالد کی کتاب ”قادیانیت، برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا“ کا مطالعہ کریں اور مرزا غلام احمد کی کتابوں کے متعلقہ حوالہ جات کی عکسی تصاویر کے ساتھ دیکھیں۔ محمد متین خالد نے اپنی تحقیقی کتاب میں اس حوالے سے اتنا کچھ اکٹھا کر دیا ہے کہ میں بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے تن تنہا وہ کام کر دکھایا ہے جو مالی وسائل پر اجارہ داری رکھنے والے اداروں اور جماعتوں کو کرنا چاہئے تھا لیکن شائد تقدیر کا چلن یہی ہے کہ وہ افراد ہی سے کام لیتی اور پھر جماعتیں اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
شفیق مرزا
لاہور
Email: shafiqmirza@live.com
نفیر قلم
اس بات میں ذرا سا بھی شک و شبہ نہیں کہ قادیانی مذہب موجودہ دور کے فتنوں کا سرخیل ہے۔ دجل و کذب اور تاویل وحیلہ میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ اگر اس بات میں کوئی ابہام ہو تو آپ قادیانی مذہب کا بالاستیعاب مطالعہ کرلیں۔ آپ خود بخود اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ پورا قادیانی لٹریچر الحاد وضلالت اور فسق و اباحت سے بھرا پڑا ہے۔ ایسے شر انگیز، گمراہ کن اور سوقیانہ عقائد و نظریات صرف کسی تخریبی اور عقربی گروہ کے ہی ہو سکتے ہیں۔ قادیانی نبوت کی غرض وغایت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ مسلمانوں کو ان کے اصل مرکز سے برگشتہ کر دیا جائے اور یہی قادیانی مذہب کی ایجاد کا اصل مقصد ہے۔ قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی بڑے فخریہ انداز سے اپنی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ وہ برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انگریز کی غلامی کو موجب رحمت، اس کی اطاعت کو اسلام کا حصہ، اس کی حکومت کو نعمت الٰہی، اس کے زمانے کو روحانی برکات کا مجموعہ، اس سے وفاداری کو حرز جان، اس سے جنگ کرنے والوں کو بدکار اور حرامی، اس کے سایۂ حکومت کو خدا تعالیٰ کی پناہ اور اس کے وجود کو مکہ اور مدینہ سے افضل قرار دیتا ہے۔
امت مسلمہ کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی ہیں۔ وہ آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور قرب قیامت دوبارہ اس دنیا میں آسمان سے نازل ہوں گے۔ مرزا قادیانی نے کئی دوسرے دعاوی کے ساتھ ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ وہی مسیح ہے جس کے دوبارہ دنیا میں آنے کا وعدہ قرآن وحدیث میں کیا گیا ہے۔ پوچھا گیا کہ آپ کیسے وہی مسیح ہیں؟ وہ تو ابن مریم ہیں جنہوں نے آنا ہے اور آپ ابن چراغ بی بی ہیں۔ جواب میں مرزا قادیانی نے کہا کہ وہ فوت ہو گئے ہیں، ان کی جگہ میں آ گیا ہوں۔ بس یہی وہ نظریہ ہے جس پر قادیانی معتقدات کی بوسیدہ عمارت کھڑی ہے۔
یوں تو ہر قادیانی اپنی بے مثل خباثت کے لحاظ سے پورے باون گز کا ہوتا ہے لیکن بحث و مباحثہ کے دوران وہ اس سے کہیں زیادہ ثابت ہوتا ہے۔ اس کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنی گفتگو یا بحث کا آغاز ”وفات مسیح علیہ السلام“ کے موضوع سے کرے۔ دراصل یہ ایک ایسا ٹیکنیکل موضوع ہے کہ ایک عام اور سادہ لوح مسلمان قرآن وحدیث سے لاعلمی اور ناقص مطالعہ کی بنا پر اس حوالے سے زیادہ مدلل گفتگو نہیں کر سکتا۔ جبکہ ایک عام قادیانی کی بھی اس خاص موضوع پر بھر پور تیاری ہوتی ہے اور یوں وہ ایک عامی مسلمان پر نفسیاتی فتح بزعم خود حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس کسی بھی قادیانی سے گفتگو، بحث یا مناظرہ کے شروع میں اگر یہ کہہ دیا جائے آج ”مرزا قادیانی کی شخصیت و کردار“ پر بات ہوگی تو یقین جانیے قادیانی مربیوں کے اوسان خطا اور ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں بلکہ بعض تو اس قدر طیش میں آجاتے ہیں کہ گویا گالی سے ان کی تواضع کر دی گئی ہے۔ قادیانی مربی کبھی اس موضوع پر بات کرنے کے لیے رضامند نہیں ہوتے بلکہ صاف انکار کر دیتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ قادیانیوں کو تنہائی میں بیٹھ کر اس اہم نکتہ پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ طرفہ لطیفہ ہے کہ آنجہانی مرزا قادیانی دعویٰ تو کرے نبوت ورسالت کا لیکن بحث کی جائے حیات و وفات مسیح علیہ السلام پر۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ حیات مسیح سے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت ورسالت کا کیا تعلق ہے؟
قادیانی جماعت اپنے ماننے والوں کو تاویلات کے گورکھ دھندے، روحانی تعبیرات کے زینہ پیچاں اور خود ساختہ الہامات، رؤیا و کشوف کے دام میں الجھا کر بھٹکانے کا فریضہ، وظیفہ سمجھ کر ادا کر رہی ہے۔ قادیانی نوجوانوں کی اکثریت اپنے مذہب قادیانیت کو محض وراثت میں وصول کرنے کے سبب اسے سینے سے لگائے ہوئے پھر رہی ہے۔ انہیں سرے سے معلوم ہی نہیں کہ قادیانیت فی الحقیقت ہے کیا؟ نہ انہوں نے کبھی معروضی پیمانوں کو معیار مان کر اپنے آبائی نظریاتی اثاثے کے بودے پن پر غور کیا ہے۔ بقول شخصے: ”باپ دادا نے کچے انگور کھائے اور اولاد کے دانت کھٹے کیے ۔“ میں پورے دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر قادیانی تمام تر تعصبات اور نفرتوں کو بھلا کر انتہائی غیر جانبداری سے مرزا قادیانی کی تمام کتابوں کو نہایت تدبر اور عمیق نظری سے پڑھیں تو ان شاء اللہ! وہ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ وفات مسیح کا مسئلہ محض ایک ڈھونگ ہے جو ممانعت جہاد کے سلسلہ میں انگریز کی شہ پر رچایا گیا۔ خود مرزا
قادیانی اپنی عمر کے 52 سال تک اس عقیدے کی تبلیغ و اشاعت کرتا رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں، قرب قیامت دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ ان کی آمد سے پوری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بقول خود مذکورہ عقیدہ قرآن و حدیث سے لیا اور جب وفات مسیح کا شوشہ چھوڑا تو کہا، مجھے خاص الہام ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ ایک اور موقع پر انگریز حکومت کو خوش کرنے کے لیے اس نے کہا کہ مجھے وحی و الہام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ اب جہاد ختم ہوگیا ہے۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ سیاسی محاذ پر قادیانیت برٹش گٹھ جوڑ کے قادیانی عقیدہ کو اصل حقائق کی روشنی میں مکمل طور پر آشکار کیا جائے۔ زیر نظر کتاب اسی بنیادی موضوع پر محیط ہے۔ میں نے اپنے تئیں یہ کتاب نہایت عرق ریزی اور محنت شاقہ سے تیار کی ہے جو نا قابل تردید دلائل و براہین، چشم کشا انکشافات، حیرت انگیز حوالہ جات اور عبرت آموز حقائق کے لحاظ سے اپنی جامعیت و نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ میں نے اس دشوار ترین موضوع کو نہایت آسان اور سلیس انداز میں اس طرح پیش کیا ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ایک عام طالب علم بھی اس موضوع پر کما حقہ معلومات حاصل کر کے قادیانی اعتراضات اور شبہات کا منہ توڑ جواب دے سکے گا۔ (انشاء اللہ)! اہل علم حضرات سے گذارش ہے کہ کتاب کو خوب سے خوب تر بنانے کے لیے اپنی قیمتی آراء ضرور ارسال کریں۔ شکریہ!
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد متین خالد لاہور Email: mateenkh@gmail.com
شکریہ !!!
- اسلام اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ایٹمی
سائنسدان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا جنہوں نے اس کتاب پر اپنے تاثرات کا اظہار کر کے کتاب کے علمی اور تحقیقی مرتبہ میں بے پناہ اضافہ کیا۔
- حق گوئی و بے باکی کے نقیب، معروف صحافی، کالم نگار اور دانشور محترم جبار مرزا کا
جنہوں نے اس کتاب پر باطل شکن تقریظ لکھ کر کتاب کو چار چاند لگا دیئے۔
- سفیر محبت مجاہد ختم نبوت جناب راجہ ظفر الحق کا جنہوں نے کتاب پر اپنے گرانقدر
خیالات کا اظہار فرما کر قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔
- ”انسائیکلوپیڈیا آف قادیانیکا“ جناب شفیق مرزا کا جنہوں نے اس کتاب پر مبسوط
دیباچہ لکھ کر میری حوصلہ افزائی کی۔
- شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ کا جنہوں نے حوالہ جات کے
سلسلہ میں مکمل رہنمائی کی۔
- پیکر محبت و اخلاص جناب عبدالرؤف (اسلام آباد) کا جنہوں نے نہایت باریک
بینی سے اس کتاب کا مسودہ پڑھا اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔
- وکیل ختم نبوت جناب محمد آصف بھلی (سیالکوٹ)، محترم پروفیسر محمد اقبال جاوید
(گوجرانوالہ)، پروفیسر جناب جمیل احمد عدیل، جناب محمد احمد ترازی، جناب عقیل انجم، جناب محمد ضیاء الحق نقشبندی، جناب محمد ہاشم جاوید اور جناب شہزاد یونس کا جنہوں نے ہر مرحلہ میں بے حد تعاون کیا۔
اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کی محبتوں کا سایہ ہمیشہ مجھ پر قائم رکھے۔ آمین!
چاہت کے وہ لفظ اور ہر لفظ میں دعا
محمد متین خالد
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَائِكُمْ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيْرًا. لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِيْنَ. اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ. وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ. اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.
حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین انسان وہ ہے جو کسی مسلمان کے عیوب کو تلاش کرے اور اس کی نیکیوں کو فراموش کردے۔“
پھول بغیر کانٹے کے نہیں ہوتا۔ آپ کتنا ہی نیک کام کیوں نہ کریں، نکتہ چین اپنی نیش زنی سے باز نہیں آتے۔ کسی کے عیب تلاش کرنے والے کی مثال اُس مکھی جیسی ہے جو سارا خوبصورت جسم چھوڑ کر صرف زخم پر ہی بیٹھتی ہے۔ چاند کو دیکھ کر کتے بھونکا کرتے ہیں اور بھونک بھونک کر یونہی اپنے آپ کو تھکا دیتے ہیں۔ حسد کا کوئی علاج نہیں۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول زریں ہے: ”بارش کا قطرہ سیپ اور سانپ دونوں کے منہ میں گرتا ہے۔ سیپ اس قطرے کو موتی بنا دیتا ہے جبکہ سانپ اسے زہر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ جیسا کسی کا ظرف، ویسی اس کی تخلیق۔“ مزید ارشاد فرمایا: ”حاسد کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ جب تم خوش ہوتے ہو تو وہ افسردہ ہو جاتا ہے۔“
وہ شمع کیا بجھے، جسے روشن خدا کرے
قادیانیّت
برطانوی سامراج کا خُودکاشتہ پُودا
اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین اسلام کی بقا کے لیے اپنی جسمانی طاقت و توانائی کو راہ خدا میں بے دریغ صرف کرنا شریعت کی اصطلاح میں جہاد کہلاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر لڑائی میں مال و زر کا حصول، قوت و شوکت کی نمود، سامان حرب کی نمائش، شجاعت و مردانگی کا اظہار، سلطنت و حکومت کی توسیع، شہرت و ناموری کا شوق، لشکر کشی کا غلغلہ یا دوسروں کو زیر کرنے کا جنون پیش نظر ہو، تو پھر یہ جہاد نہیں ہوگا بلکہ جنگ ہو گی جو دینی نقطہ نگاہ سے بے مقصد ہے۔ اسلام میں وہ لڑائی معرکہ حق و باطل اور جنگ و قتال، جہاد ہے جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی خوشنودی کے لیے لڑی جائے۔ مدعا اور مقصد فقط دین اسلام کی سربلندی ہو۔ ایسی لڑائی دنیاوی، نفسانی اور شیطانی خواہشات و اغراض سے یکسر پاک ہو۔ اس راہ میں لڑنے والے کا صرف ایک ہی نصب العین، ایک ہی جذبہ، ایک ہی شوق اور ایک ہی ولولہ ہو کہ اس کا مالک حقیقی اس سے راضی ہو جائے۔ بقول علامہ اقبالؒ
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
ایمان کے بعد اہم ترین فرض، دشمنان اسلام کے خلاف جہاد ہے۔ جہاد، بنیادی قانون خداوندی، دین اسلام کا اہم ستون اور مقدس دینی فریضہ ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کی بقا کا دارو مدار اسی پر ہے۔ عقیدہ جہاد کو اسلام میں بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ جہاد کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ کفر اور اسلام میں تمیز کرتا ہے۔ جہاد ہی ایسا عمل ہے جو دین کی ترویج و ترقی اور سربلندی کا باعث بنتا ہے۔ حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جہاد تمام عبادتوں سے افضل عبادت ہے۔ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے کافروں سے جہاد کے لیے خود تلوار اٹھائی، زرہ بکتر زیب تن کی، جہاد کے لیے سفر کی صعوبتیں
برداشت کیں۔ آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے خندقیں کھودیں، اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اس راستہ میں پتھر اور تیر کھائے، غزوہ احد میں دانت مبارک شہید کروایا، کئی غزوات میں آپ ﷺ زخمی ہوئے اور اپنا مقدس خون قربان کیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سالہ قیام میں 26 غزوات میں بطور کمانڈر انچیف شرکت فرمائی اور 56 سرایا (مہمات) اپنی نگرانی میں روانہ فرمائیں۔ اس طرح دس سالہ مدنی زندگی میں کفار کے خلاف 82 جنگیں لڑی گئیں۔ ان جنگوں میں بڑے بڑے صحابہ کرامؓ شہادت کی لازوال دولت سے ہمکنار ہوئے۔ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حقیقی اور پیارے چچا حضرت امیر حمزہؓ جنگ احد میں شہید ہوئے اور سید الشہداء کے لقب سے سرفراز ہوئے۔ اسلامی جنگوں میں جہاں حضرت معاذؓ ایسے کم عمر بچوں نے حصہ لیا، وہاں ان جنگوں میں عورتوں (صحابیاتؓ) نے بھی گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ ہر مسلمان کو سختی سے یہ حکم ہے کہ وہ کفار کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو کر لڑے اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوئی کمزوری نہ دکھائے۔ اسلام کی سربلندی کے لیے طاغوتی قوتوں کے خلاف جہاد عین فرض ہے۔ اس راستہ میں اگر موت آ جائے تو آدمی شہید کہلواتا ہے اور شہید زندہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:
ترجمہ: ”اور نہ کہا کرو انہیں جو قتل کیے جاتے ہیں اللہ کی راہ میں کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم (اسے) سمجھ نہیں سکتے۔‘‘
(البقرہ:154)
قرآن مجید کی 21 سورتوں کی 485 آیات مبارکہ جہاد کی فرضیت، اہمیت، فضیلت اور اس سے متعلقہ اہم موضوعات کو واضح اجاگر کرتی ہیں۔ صفحات کی کمی کے پیش نظر صرف چند آیات مبارکہ کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
- ”(مسلمانو!) تم پر قتال فرض کر دیا گیا ہے۔ وہ تمہیں (طبعاً) ناگوار تو ہوگا، مگر عجب
نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو۔ اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لیے مضر ہو۔ اور (ان باتوں کو) اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے۔‘‘
(البقرہ:216)
- ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اللہ کا قرب ڈھونڈو اور اللہ کی راہ میں جہاد
کیا کرو، امید ہے کہ تم کامیاب ہو جاؤ گے۔‘‘
(المائدہ:35)
- ”مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر (پکا) ایمان لائیں، پھر شک و
شبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے رہیں۔ (اپنے دعویٰ ایمان میں) یہی سچے اور راست گو ہیں۔‘‘
(الحجرات: 15)
- ”پس جو لوگ آخرت کو خریدنا اور اس کے بدل میں دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے
ہیں، ان کو چاہیے کہ اللہ کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ کرے پھر شہید ہو جائے یا غلبہ پائے، ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے۔‘‘
(النساء: 74)
- ”اور ان کافروں سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین (اسلام)
پورے کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔‘‘
(الانفال: 39)
- ”نکلو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی
جانوں سے، اگر تم جانتے ہو تو یہی تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘
(التوبہ: 41)
جہاد کی فرضیت اور اہمیت کے بارے میں حضور نبی الملاحم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی چند احادیث مبارکہ پیش ہیں:
- حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص فقط اس لیے لڑے تاکہ اللہ کے نام کا بول بالا
رہے بس وہی جہاد ہے۔‘‘
(مسلم)
- حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی
خاطر اللہ کے حکم کے مطابق قتال کرتا رہے گا، یہ لوگ اپنے دشمنوں پر چھائے رہیں گے، جس کسی نے ان کی مخالفت کی۔ وہ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی راہ پر قائم ہوں گے۔‘‘
(صحیح مسلم)
- ایک صحابیؓ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! سب سے افضل
ہجرت کون سی ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین ہجرت جہاد کی ہجرت ہے۔ صحابیؓ نے پوچھا کہ جہاد کیا چیز ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد یہ ہے کہ تم بوقت مقابلہ کفار سے لڑو اور اس راستے میں نہ خیانت کرو اور نہ بزدلی دکھاؤ۔‘‘
(کنزالعمال)
- حضرت ابو ہریرہؓ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”جنت میں سو درجے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔ دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان ہے۔
(بخاری)
(اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لیے کتنا بلند مقام مہیا کیا ہے)!
- حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں دوست رکھتا ہوں اس بات کو کہ اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں۔“ (بخاری ومسلم)
- حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”یہ دین قائم رہے گا۔ اس حالت میں کہ مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے لیے جنگ کرتی رہے گی حتیٰ کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔“ (مسلم)
- حضرت سہیل بن حنیفؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے خلوص دل کے ساتھ شہادت کی درخواست کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے شہید کے مرتبہ تک پہنچا دیتا ہے خواہ وہ اپنے بستر پر ہی کیوں نہ فوت ہوا ہو۔“ (مسلم)
- حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو
شخص مر جائے اور اس نے کبھی جہاد نہیں کیا اور نہ اس سلسلہ میں کبھی خواہش کا اظہار کیا تو وہ نفاق (منافقت) کے ایک پہلو پر مرتا ہے۔“ (مسلم)
- حضرت انسؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکوں کے خلاف جہاد کرو۔ اپنے مالوں کے ساتھ، اپنی جانوں کے ساتھ، اپنی زبانوں کے ساتھ۔“ (ابوداؤد، نسائی)
- حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جنت
کے دروازے تلوار کے سائے کے تلے ہیں۔“ (مسلم)
- حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ”میری امت کی دو جماعتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے آزاد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پہلی وہ جماعت ہے جو ہندوستان سے جنگ کرے گی اور دوسری وہ جماعت جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے (دوبارہ نزول ہونے کے بعد دجال سے لڑائی میں ان کے) ساتھ ہو گی۔“ (جمع الفوائد)
- حضور نبی الملاحم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”جس نے خطرے کے موقعہ پر مجاہدین
کی پاسبانی کی، اس کی یہ رات شب قدر سے بہتر ہے“۔ (حاکم)
- حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے: ”خدا تعالیٰ کو دو قطرے اور دو نشانات
بہت ہی زیادہ پسند ہیں۔ ایک آنسو کا وہ قطرہ جو خدا کے خوف سے نکلے اور دوسرے خون کا وہ قطرہ جو جہاد میں کسی زخم سے ٹپکے۔ ایک وہ نشان جو فرائض کے ادا کرنے کے باعث جسم کے کسی حصہ پر پڑ جائے اور دوسرے وہ نشان جو اللہ کے راستے میں جہاد کی وجہ سے کسی جگہ واقع ہو جائے“۔ (ترمذی)
- حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: ”شہید فی سبیل اللہ کو شہادت کے وقت صرف
اتنی تکلیف محسوس ہوتی ہے جیسے کسی چیونٹی نے کاٹ لیا“۔ (ترمذی)
بہادروں کے پنجہ ہائے تیغ زن عجیب ہے
یہ جسم ہائے خوں چکاں و بے کفن عجیب ہیں
مجاہد و شہید کے یہ بانکپن عجیب ہیں
حیات گر حیات ہے تو موت بھی حیات ہے
1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزی استعمار اپنے تمام مظالم، جبر و استبداد کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کے جذبہ جہاد کے سامنے سپر انداز ہو گیا تھا۔ انگریزوں کی پریشانی کا اندازہ ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر (W.W.Hunter) کی کتاب ”ہندوستانی مسلمان“ (The Indian Musalmans) سے لگایا جا سکتا ہے۔
30 مئی 1871ء کو وائسرائے لارڈ میو نے جو کہ ڈزرائیلی حکومت کا آئرش سیکرٹری تھا، ایک مقامی سول ملازم ڈبلیو۔ ڈبلیو۔ ہنٹر کو اس سلگتے مسئلہ پر ایک رپورٹ تیار کرنے کو کہا: ”کیا مسلمان برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کے لیے اپنے ایمان کی وجہ سے مجبور ہیں؟“ ہنٹر کو حقیقت حال تک رسائی کے لیے تمام خفیہ سرکاری دستاویزات کی جانچ پڑتال کی اجازت دے دی گئی۔ ہنٹر نے 1871ء میں ”ہندوستانی مسلمان۔ کیا وہ اپنے ایمان کی وجہ سے شعوری طور پر ملکہ کے خلاف بغاوت کے لیے مجبور ہیں؟“ کے عنوان سے اپنی رپورٹ شائع کی۔ اس نے اسلامی تعلیمات خصوصاً جہادی تصور، نزول مسیح و مہدی کے نظریات وغیرہ پر بحث کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا:
”مسلمانوں کی موجودہ نسل اپنے معتقدات کی رو سے موجودہ صورتحال (جیسی کہ
ہے) کو قبول کرنے کی پابند ہے، مگر قانون (قرآن) اور پیغمبروں (کے تصورات) کو دونوں طریقوں سے یعنی وفاداری اور بغاوت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان ہندوستان میں برطانوی راج کے لیے پہلے بھی خطرہ رہے ہیں اور آج بھی ہیں اور اس دعوٰی کی کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ یہ باغی اڈہ (شمال مغربی سرحد) جس کی پشت پناہی مغربی اطراف کے مسلمانوں کے جتھے کر رہے ہیں، کسی کی رہنمائی میں وہ قوت حاصل کرے گا جو ایشیائی قوموں کو اکٹھا اور قابو کر کے ایک وسیع محاربہ Crescentado کی شکل دے دے۔“
(The Indian Musalmans by W.W.Hunter)
اس کے علاوہ وہ مزید لکھتا ہے: ”ہماری مسلمان رعایا سے کسی بھی پُرجوش وفاداری کی توقع رکھنا عبث ہے۔ تمام قرآن مسلمانوں کے بطور فاتح نہ کہ مفتوح کے طور پر تصورات سے لبریز ہے۔ مسلمانان ہند ہندوستان میں برطانوی راج کے لیے ہمیشہ کا خطرہ ہو سکتے ہیں۔“
(The Indian Musalmans by W.W.Hunter)
سابق برطانوی وزیر اعظم ولیم ایورٹ گلیڈ سٹون William Ewart) (Gladstone نے اپنے ہاتھ میں قرآن مجید لہرا کر برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:
”جب تک یہ قرآن مسلمانوں کے ہاتھوں یا ان کے قلوب و اذہان میں موجود رہے گا، اس کے تصور جہاد کی وجہ سے یورپ، اسلامی مشرق پر اولاً تو اپنا غلبہ و تسلط قائم نہیں کرسکتا اور اگر قائم کر لے تو وہ اسے برقرار رکھنے میں زیادہ دیر تک کامیاب نہیں رہ سکتا۔ حتیٰ کہ خود یورپ کا اپنا وجود بھی اسلام کی جانب سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔“
(اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یورپی سازشیں از علامہ جلال العالم)
اس سے پہلے انگلستان گورنمنٹ نے 1869ء کے اوائل میں برٹش پارلیمنٹ کے ممبروں، برطانوی اخبارات کے ایڈیٹروں اور چرچ آف انگلینڈ کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد سرولیم کی زیر قیادت ہندوستان میں بھیجا تا کہ اس بات کا کھوج لگایا جا سکے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو کس طرح رام کیا جا سکتا ہے؟ ہندوستانی عوام اور بالخصوص مسلمانوں میں، وفاداری کیونکر پیدا کی جاسکتی ہے؟ برطانوی وفد ایک سال ہندوستان میں رہا اور حالات کا جائزہ لیا۔
اسی سال وائٹ ہال لندن میں اس وفد کا اجلاس ہوا، جس میں ہندوستانی مشنریز کے اہم پادری بھی تھے۔ کمیشن کے سربراہ سر ولیم نے بتایا:
- "مذہبی نقطہ نظر سے مسلمان کسی دوسری قوم کی حکومت کے زیر سایہ نہیں رہ سکتے۔
ایسے حالات میں وہ جہاد کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ جوش کسی وقت بھی انھیں ہمارے خلاف ابھار سکتا ہے۔"
اس وفد نے "The Arrival of British Empire in India" (ہندوستان میں برطانوی سلطنت کی آمد) کے عنوان سے دو رپورٹیں لکھیں، جس میں انھوں نے لکھا: "ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی اور مذہبی پیشواؤں کی اندھا دھند پیروکار ہے۔ اگر کوئی ایسا شخص مل جائے جو الہامی سند پیش کرے تو ایسے شخص کو حکومت کی سر پرستی میں پروان چڑھا کر اس سے برطانوی مفادات کے لیے مفید کام لیا جا سکتا ہے۔" انگلستانی وفد کی رپورٹ ملاحظہ کیجیے:
REPORT OF MISSIONARY FATHERS
"Majority of the population of the country blindly follow their "Peers" their spiritual leaders. If at this stage, we succeed in finding out someone who would be ready to declare himself a Zilli Nabi (apostolic prophet) then the large number of people shall rally round him. But for this purpose, it is very difficult to persuade some one from the Muslim masses. If this problem is solved, the prophethood of such a person can flourish under the patronage of the Government. We have already overpowered the native governments mainly pursuing a policy of seeking help from the traitors. That was a different stage, for at that time, the traitors were from the military point of view. But now when we have sway over every nook of the country and there is peace and order every where we ought to undertake measures which might create internal unrest among the country."
(Extract from the Printed Report. India Office Library, London)
ترجمہ: ”ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے پیروں اور روحانی رہنماؤں کی اندھی تقلید کرتی ہے۔ اگر اس موقع پر ہمیں کوئی ایسا شخص مل جائے، جو ظلی نبوت (حواری نبی) کا اعلان کر کے، اپنے گرد پیروکاروں کو اکٹھا کرے لیکن اس مقصد کے لیے اس کو عوام کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا، اس شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھا کر برطانوی حکومت کے لیے مفید کام لیا جا سکتا ہے۔ ہم نے مقامی حکومتوں کو پہلے ہی ایسی ہدایات دی ہوئی ہیں کہ غداروں سے معاونت حاصل کی جائے، اس وقت مسلح غداری ہوئی تھی اور صورت حال اور تھی، اب جبکہ ہم نے ملک کے طول وعرض پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور ملک میں ہر جگہ امن وامان ہے، ہمیں ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو ملک میں اندرونی شورش پیدا کریں۔“ (مطبوعہ رپورٹ سے ایک اقتباس: انڈیا آفس لائبریری، لندن)
رپورٹ کو مدنظر رکھ کر تاج برطانیہ کے حکم پر ایسے موزوں اور باعتبار شخص کی تلاش شروع ہوئی، جو برطانوی حکومت کے استحکام اور عملداری کے تحفظات میں الہامات کا ڈھونگ رچا سکے، جس کے نزدیک تاج برطانیہ کے مراسلات، وحی کا درجہ رکھتے ہوں، جو ملکہ معظمہ کے لیے رطب اللسان ہو، برطانوی حکومت کی قصیدہ گوئی اور مدح سرائی جس کی نبوت کا دیباچہ ہو۔ برطانوی شہ دماغوں نے ہندوستان میں ایسے شخص کے انتخاب کے لیے ہدایات جاری کیں۔ پنجاب کے گورنر نے اس کام کی ڈیوٹی ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے ذمہ لگائی۔ چنانچہ ”برطانوی معیار“ کے مطابق نبی کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ آخر کار قرعہ فال قادیان ضلع گورداسپور کے رہائشی مرزا غلام احمد قادیانی کے نام نکلا۔
- □ ”برطانوی ہند کی سنٹرل انٹیلی جنس کی روایت کے مطابق ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے
چار اشخاص کو انٹرویو کے لیے طلب کیا۔ ان میں سے مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کے لیے نامزد کیے گئے۔“ (تحریک ختم نبوت از آغا شورش کاشمیری)
آنجہانی مرزا قادیانی 1864ء سے 1868ء تک سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں 15 روپے ماہوار پر عرضی نویس رہا۔ (سیرت المہدی جلد اوّل، صفحہ 39، روایت نمبر 49، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- □ ”ہر ایک شخص جو میرے اس زمانہ کا واقف ہے جبکہ میں اپنے والد صاحب کے زیر سایہ
زندگی بسر کرتا تھا، وہ گواہی دے سکتا ہے کہ مرزا صاحب کے وقت میں کوئی مجھے جانتا بھی نہیں تھا۔"
(نزول المسیح صفحہ 119 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 496 از مرزا قادیانی)
- ”ہزار ہا لوگ جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں درحقیقت میں اس مردہ کی طرح تھا جو قبر
میں صد ہا سال سے مدفون ہو اور کوئی نہ جانتا ہو کہ یہ کس کی قبر ہے۔
(حقیقت الوحی تتمہ صفحہ 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 461 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی متنبّی سے نبوت تک کیسے پہنچا؟ اس مختصر مگر دلچسپ کہانی کو جناب ابو مدثر اپنے الفاظ میں یوں لکھتے ہیں:
”مرزا غلام احمد قادیانی کی ابتدائی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے معمولی سی دینی تعلیم حاصل کی۔ آپ کے والد نے سکھوں کے عہد میں چھن جانے والی جاگیروں کی بازیابی کے لیے مقدمات قائم کر رکھے تھے اور انگریز کے تعاون سے ان پر دوبارہ قابض ہونے کی فکر میں 1864ء میں آپ نے انگریز سے مل ملا کر آپ کو سیالکوٹ کی کچہری میں اہلمد (منشی) کی ملازمت دلوا دی۔ اس دوران آپ نے یورپی مشنریوں اور بعض انگریز افسران سے تعلقات پیدا کیے اور مذہبی مباحث کی آڑ میں باہمی میل جول کو بڑھایا۔
1868ء کے لگ بھگ سیالکوٹ میں ایک عرب محمد صالح وارد ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس حرمین شریفین کے بعض مفتیان کرام کا ایک فتویٰ تھا، جس میں ہندوستان کو دارالحرب ثابت کیا گیا تھا۔ انگریز کے مخبروں نے آپ کو اعتماد میں لے کر گرفتار کرا دیا۔ آپ پر دو الزامات عائد کیے گئے۔ ایک امیگریشن ایکٹ کی خلاف ورزی اور دوسرے برطانوی حکومت کے خلاف جاسوسی کرنا تھا۔ سیالکوٹ کچہری کے یہودی ڈپٹی کمشنر پارکنسن (Parkinson) نے تفتیش کا آغاز کیا۔ وہ ان تمام لوگوں کو گرفتار کرنا چاہتا تھا، جن سے نو وارد عرب کا رابطہ تھا۔
دوران تفتیش ایک ایسے آدمی کی ضرورت پڑی، جو عربی کے مترجم کے طور پر کام کر سکے۔
(مجدد اعظم صفحہ 42 از ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری قادیانی) یہ خدمت مرزا غلام احمد قادیانی نے ادا کی اور عرب دشمن اور برطانیہ نوازی کی وہ مثال پیش کی کہ پارکنسن آپ کا گرویدہ ہو گیا۔
ایک اور واقعہ جسے مرزا قادیانی کی زندگی میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے، وہ پادری بٹلر ایم ۔ اے کی لندن واپسی ہے۔ یہ پادری برطانوی انٹیلی جنس کا ایک اہم رکن تھا اور
مبلغ کے روپ میں کام کر رہا تھا۔ مرزا صاحب نے مذہبی بحث کی آڑ میں ان سے طویل ملاقاتیں کیں اور برطانوی راج کے قیام کے لیے اپنی ہر قسم کی خدمات پیش کیں۔ 1868ء میں بٹلر ولایت جانے سے پہلے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ خفیہ بات چیت ہوئی اور معاملات کو حتمی صورت دی گئی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے مرزا محمود اپنی تصنیف ”سیرت مسیح موعود“ میں لکھتے ہیں:
- ”ریورنڈ بٹلر ایم۔ اے، جو سیالکوٹ مشن میں کام کرتے تھے اور جن سے حضرت
مرزا صاحب کے بہت سے مباحثات ہوتے رہتے تھے، جب ولایت واپس جانے لگے تو خود کچہری میں آپ کے پاس ملنے کے لیے چلے آئے اور جب ڈپٹی کمشنر صاحب نے پوچھا، کس طرح تشریف لائے تو ریورنڈ مذکور نے کہا، صرف مرزا صاحب کی ملاقات کے لیے! اور جہاں آپ بیٹھے تھے، وہیں سیدھے چلے گئے اور کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلے گئے۔“
(سیرت مسیح موعود از مرزا بشیر الدین محمود صفحہ 12)
ایک خطبے میں مرزا محمود نے اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
- ”اس وقت پادریوں کا بہت رعب تھا لیکن جب سیالکوٹ کا انچارج مشنری
ولایت جانے لگا تو حضرت صاحب کو ملنے کے لیے خود کچہری آیا۔ ڈپٹی کمشنر اسے دیکھ کر اس کے استقبال کے لیے آیا اور دریافت کیا کہ آپ کس طرح تشریف لائے۔ کوئی کام ہو تو ارشاد فرمائیں مگر اس نے کہا، میں صرف آپ کے اس منشی سے ملنے آیا ہوں۔ یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ آپ کے مخالف بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ ایک ایسا جوہر ہے جو قابل قدر ہے۔“
(روزنامہ ”الفضل“ قادیان، 24 اپریل 1934ء)
اسی سال 1868ء میں مرزا قادیانی بغیر کسی معقول ظاہری وجہ کے اہلمد کی نوکری سے استعفیٰ دے کر قادیان چلا گیا اور تصنیف و تالیف کے کام میں لگ گیا۔“
(قادیان سے اسرائیل تک از ابو مدثرہ)
عالمی تحریک صہیونیت، برطانوی سیاست میں یہودیوں کا دخل، خصوصاً ان کا وزرائے اعظم کے عہدے تک پہنچنا، اسلامیان عالم کی سیاسی و معاشی زبوں حالی، ہندوستانی مسلمانوں کی حصول آزادی کے لیے جدوجہد اور انگریز کے سیاسی اور مذہبی تخریب کاری کے لیے خطرناک عزائم، جو علی الترتیب ہنٹر رپورٹ اور مشنری فادرز رپورٹ سے عیاں ہیں اور
سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک غدار خاندان کے فرد مرزا غلام احمد قادیانی کا یہودی افسروں اور جاسوس مشنری اداروں کے سربراہوں سے روابط اور ان کا لارڈ کرزن کی شہ اور ہنٹر کی اشیر باد پر نوکری چھوڑ کر نام نہاد اصلاحی تحریک کا آغاز کرنا...... یہ سب واقعات اس عظیم سیاسی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو مذہبی روپ دھار کر ”احمدیت“ کی صورت میں منظر عام پر آئی۔
قادیانیت ایک ایسی جارحیت پسند سیاسی تحریک ہے جس نے اپنے مخصوص سیاسی عزائم پر مذہبیت کا پردہ ڈال رکھا ہے۔ اسلام اور پاکستان کے خلاف جتنی تحریکیں کام کر رہی ہیں، ان میں قادیانی تحریک سب سے زیادہ منظم اور فعال ہے۔ مجددیت، محدثیت، ظلی، بروزی، تشریعی اور غیر تشریعی نبوت، وفات مسیح، الہامات، پیش گوئیاں وغیرہ پر مشتمل ایک پر پیچ اور پراسرار نظام کی آڑ میں اس تحریک کا خدوخال نمایاں نہیں ہوتا۔ اس تحریک کے مذہبی بہروپ کے پس پردہ دراصل وہی روح کام کر رہی ہے جو بالعموم زیر زمین کام کرنے والی خطرناک تحریکوں میں ہوتی ہے۔
بقول آغا شورش کاشمیری ”اس معلوم حقیقت کے بعد کہ عالمی استعمار باقی ماندہ پاکستان کے حصے بخرے کرنے پر تلا ہوا ہے۔ سوال ہے وہ کونسی جماعت ہے جو اس سطح پر عالمی استعمار کی آلہ کار ہے۔ ظاہر ہے وہ کوئی ایسی جماعت ہی ہو سکتی ہے جس کی تاریخی خصوصیت پر عالمی استعمار کو بھروسہ ہو اور وہ ہیں احمدی ...... قادیانی۔
جب کبھی قادیانی اُمت کا احتساب کیا گیا، گو اس احتساب کی عمر بہت تھوڑی ہے لیکن خود قادیانی مذہب کی عمر بھی زیادہ نہیں۔ مرزا قادیانی نے 1891ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر 1901ء میں اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا۔ گویا 1973ء میں اس کی نبوت کے 83 سال ہوتے ہیں، تو اس امت نے اپنے اقلیت ہونے کی پناہ لی اور واویلا کیا کہ اسے سوادِ اعظم ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستان میں برطانوی عملداری تک تو قادیانی اپنے لیے کوئی خطرہ محسوس نہ کرتے تھے۔ اُنہیں مرزا قادیانی کے الہام کی رو سے اپنے خود کاشتہ پودا ہونے کا احساس تھا اور وہ جانتے تھے کہ جس استعمار نے اُنہیں پیدا کیا، وہی ان کا محافظ و پشتیبان ہے۔ پاکستان بنا تو وہ کوئی اہم اقلیت نہ تھے، اہم عنصر ضرور تھے۔ انہوں نے اولاً ہندوستان میں رہنے کی بہتیری کوشش کی۔ ریڈ کلف کو اپنا الگ میمورنڈم دیا۔ جب اس طرح بات نہ بنی تو وہ قادیان میں تین سو تیرہ درویشوں کو چھوڑ کر پاکستان آگئے۔ پاکستان میں سر ظفر اللہ خاں کی
وزارت خارجہ ان کے لیے ایک سہارا ہو گئی............ ”قادیانی“ مذہب کی پناہ لیتے لیکن سیاست کا ناٹک کھیلتے ہیں۔ جب کوئی ان کے سیاسی عزائم کا محاسبہ کرتا ہے تو وہ مذہب کے حصار میں بیٹھ کر ”ہم اقلیت ہیں“ کا ناد بجا دیتے اور عالمی ضمیر کو معاونت کے لیے پکارتے ہیں جس سے حقائق نا آشنا دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستان کے ”جنونی مسلمان“ گویا اپنی ایک چھوٹی سی اقلیت کو کچل دینا چاہتے ہیں۔ مرزائی امت کے شاطرین حد درجہ عیار ہیں، کوئی شخص اس پر غور نہیں کرتا کہ جب قادیانی ایک مذہبی اُمت بن کر اپنے سیاسی اقتدار کے لیے سعی و سازش کرتے ہیں تو وہ انہی بنیادوں پر اُس امت کے افراد کو اپنے محاسبہ کا حق کیوں نہیں دیتے جس امت میں نقب لگا کر انہوں نے اپنی جماعت بنائی ہے؟ عجیب بات ہے کہ قادیانی امت کا مذہبی محاسبہ کیا جائے تو وہ سیاسی پناہ تلاش کرتے ہیں، سیاسی محاسبہ کریں تو وہ مذہبی اقلیت ہونے کا تحفظ چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ یہ مذاق ناروا ہے کہ ایک ایسی جماعت جو اس کے وجود کو قطع کر کے تیار ہوئی ہے، وہ اصل وجود کو اپنے اعضاء و جوارح کی حفاظت کا حق دینا نہیں چاہتی اور جو عارضہ ان کو قادیانی سرطان کی شکل میں مار دینا چاہتا ہے، اس کے علاج سے روکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں سے اپنے الگ ہونے کا اعلان سب سے پہلے خود قادیانیوں نے کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے کافر قرار دیئے گئے۔ اُن کے بچوں، عورتوں، معصوموں اور بوڑھوں کا جنازہ پڑھنے سے روک دیا گیا۔ انہیں زانیہ عورتوں کی اولاد، کتیوں کے بچے اور ولد الزنا تک کہا گیا۔ مسلمانوں نے تو اس سے بہت دیر بعد محاسبہ شروع کیا اور انہیں اپنے سے خارج قرار دیا....... جب مرزائی خود مسلمانوں سے الگ اُمت کہلاتے ہیں تو پھر انہیں مسلمانوں میں شامل رہنے پر اس وقت اصرار کیوں ہوتا ہے جب مسلمان ان کے الگ کر دینے کا مطالبہ کرتے اور انہیں اقلیت قرار دیتے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ قادیانی مذہبی اور معاشرتی طور پر عقیدۃً مسلمانوں سے الگ رہتے لیکن سیاسۃً ان کا پنڈ نہیں چھوڑتے۔ اس کی واحد وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس طرح وہ مسلمانوں کے حقوق و مناصب پر ہاتھ صاف کرتے اور ان کی ریاست پر حکمران ہونا چاہتے ہیں یا پھر انہیں مٹا کر اپنا سیاسی نقشہ مرتب کرنے کی جدوجہد میں ہیں۔
ایک خطرناک صورت حال جو ہمارے ہاں پیدا ہو چکی ہے، یہ ہے کہ ہمارے
مغرب زدہ طبقے نے جس کے متعلق علامہ اقبالؒ نے سید سلیمان ندوی کو لکھا تھا کہ میں ڈکٹیٹر بن جاؤں تو سب سے پہلے اس طبقہ کو ہلاک کردوں۔ ابھی تک نہ قادیانی مذہب کو سمجھنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ وہ خود مذہب سے بیگانہ ہو رہا ہے اور نہ وہ قادیانی اُمت کے سیاسی عزائم کی مضرتوں سے آگاہ ہے۔ وہ یہی سمجھتا ہے کہ ایک چھوٹی سی اقلیت کو مسلمانوں کے کٹ ملا تنگ کر رہے ہیں۔ وہ ان کی چٹکی داڑھی دیکھ کر اور ان کے تبلیغی اداروں کی روداد سُن کر انہیں مسلمان سمجھتا ہے، کیونکہ اُس کے اپنے ظاہری و باطنی وجود سے اسلام خارج ہو چکا ہے۔
ان لوگوں سے بجا طور پر سوال کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان ایک وحدت کا نام ہیں اور یہ وحدت ختم نبوت کے تصور سے اُستوار ہوتی ہے۔ اگر کوئی اس وحدت کو توڑتا ہے اور ختم نبوت کی مرکزیت کو ظلی و بروزی کی آڑ میں اپنی طرف منتقل کرنا چاہتا ہے تو کیا اُس کا وجود خطرناک نہیں، باغی کون ہے؟ وہ یا محاسب؟ کیا اپنی قومی سرحدوں کی حفاظت کرنا جرم ہے یا مذہبی جارحیت؟ بعض لوگ رواداری کا سبق دیتے ہیں، لیکن وہ رواداری کے معنی نہیں جانتے۔ اگر رواداری کے معنی غیرت، حمیت، عقیدے، مسلک اور اپنے شخصی یا اجتماعی وجود سے دستبردار ہوجانے کے ہیں تو یہ معانی کہاں ہیں اور کس تحریک، داعی، پیغمبر اور نظام نے بتلائے ہیں۔ قادیانیوں کے باب میں مسلمانوں کا معاملہ ذاتی نہیں، اجتماعی ہے اور اس کے عناصر اربعہ میں غیرت و حمیت، عقیدہ و مسلک شامل ہیں۔“ (عجمی اسرائیل از آغا شورش کاشمیریؒ)
بقول ڈاکٹر وحید عشرت ”قادیانیت ایک عفریت ہے اور جھوٹ کی گود میں پرورش پانے والا کفر و الحاد کا ایک ناجائز بچہ ہے جو انگریزوں اور یہودیوں نے امت مسلمہ کے وجود کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لیے جنم دیا۔ کفر ہمیشہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے برگشتہ رہا ہے اور اس نے مسلمانوں میں سے اس روح کو ختم کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا ہے۔ قادیانیت کی صورت میں ایک فاسق اور فاجر شخص کو پیغمبری کا لبادہ پہنا کر مسلمانوں کے اندر برگ حشیش کی طرح کاشت کرنا تھا۔ اس قادیانی بچھڑے کو انگریز سامری نے برصغیر میں اپنے دورِ اقتدار میں پالا پوسا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام تحریریں انگریز کی مداحی اور اپنے فسق فجور کے اعتراف سے عبارت ہیں۔ وہ پیغمبر اور نبی بن تو گیا لیکن ایک شریف انسان کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔ مرزا غلام احمد قادیانی سارقِ ختم نبوت ہے، گستاخِ رسول ہے، اپنی نبوت میں جھوٹا ہے اور تاریخ کا سبق یہ ہے کہ مسیلمہ کذاب سے لیکر قادیانی کذاب تک کسی
مدعی نبوت کو مسلمانوں میں سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ نصیب نہیں ہوا۔“
(ختم نبوت اور عقیدہ اقبالؒ از عبدالمجید خاں ساجد)
جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی برٹش حکومت کا خود کاشتہ پودا تھا۔ انگریز نے اپنے نظریہ ضرورت کے تحت قادیانی تحریک کو پروان چڑھایا۔ جناب مرتضیٰ احمد میکش رقمطراز ہیں:
”قادیانیت، برطانیہ کی استعماری سیاست کا ایک خود کاشتہ پودا ہے یعنی ایک ایسی سیاسی تحریک ہے جو انگریزوں کے مقبوضہ ہندوستان میں ایک ایسی مذہبی جماعت پیدا کرنے کے لیے شروع کی گئی جو سرکار برطانیہ کی وفاداری کو اپنا جزو ایمان سمجھے، غیر اسلامی حکومت یا غیر مسلم حکمرانوں کے استیلا کو جائز قرار دے اور ایک ایسے ملک کو شرعی اصطلاح میں دارالحرب سمجھنے سے عقیدہ کا ابطال کرے جس پر کوئی غیر مسلم قوم اپنی طاقت و قوت کے بل پر قابض ہو گئی ہو۔ انگریز حکمرانوں کی قہاریت اور جباریت کو مسلمان از روئے عقیدہ دینی، اپنے حق میں اللہ کا بھیجا ہوا عذاب سمجھتے تھے اور ان کی رضا کارانہ اطاعت کو گناہ متصور کرتے تھے۔ انگریز حکمران، مسلمانوں کے اس جذبے اور عقیدے سے پوری طرح آگاہ تھے۔ لہٰذا انھوں نے اس سر زمین میں ایک ایسا ”پیغمبر“ کھڑا کر دیا جو انگریزوں کو اولی الامر منکم کے تحت میں لا کر ان کی اطاعت کو مذہبباً فرض قرار دینے لگا اور ان کے پاس ہندوستان کو دارالحرب سمجھنے والے مسلمانوں کی مخبری کرنے لگا۔ جس طرح باغبان اپنے خود کاشتہ پودے کی حفاظت و آبیاری میں بڑے اہتمام سے کام لیتا ہے، اسی طرح سرکار انگریزی نے مرزائیت کو فروغ دینے کے لیے مرزائی جماعت کی پرورش کرنا اپنی سیاسی مصلحتوں کے لیے ضروری سمجھا اور اس فرقہ کے پیروؤں سے مخبری، جاسوسی اور حکومت کے ساتھ جذبہ وفاداری کی نشر و اشاعت کا کام لیتی رہی۔“ (پاکستان میں مرزائیت از مرتضیٰ خاں میکش)
مرزا قادیانی کا انگریزوں کا ٹاؤٹ ہونا اور جہاد کی مخالفت کرنا ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ قادیانی مذہب میں انگریزوں کی اطاعت جزو ایمان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فتنہ کی پرورش اور حفاظت، انگریز نے خود کی اور انہیں ہر طرح کی مراعات سے نوازا اور انہیں مسلمانوں کے غیظ و غضب سے بچایا۔ آج بھی اس مذہب کے ماننے والوں کی ہمدردیاں یہود و نصاریٰ کے ساتھ ہیں اور ان کی ہمدردیاں قادیانیوں کے ساتھ ہیں۔ دونوں کا مقصد اسلامی تعلیم اور یک جہتی کو تار تار کرنا ہے۔ یہود و نصاریٰ اور قادیانیوں کا باہمی گٹھ جوڑ ”الکفر
ملۃ واحدہ“ کی بہترین مثال ہے۔
اسلامی عقائد میں یہ عقیدہ تواتر کے ساتھ منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ قرآن وحدیث میں ان کی کئی ایک نشانیاں بیان ہوئی ہیں۔ ان نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد پر دین اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔ کوئی شخص کافر نہ رہے گا اور جہاد ختم ہو جائے گا۔
حضور نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے:
- حدثنا اسحق قال اخبرنا يعقوب بن ابراهيم قال حدثنا ابى صالح عن
ابى شهاب ان سعيد بن المسيب سمع ابوهريره ؓ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلا فيكسر الصليب و يقتل الخنزير و يضع الحرب ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها. ثم يقول ابى هريرة ؓ فاقرؤا ان شئتم و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته. (بخاری و مسلم)
(ترجمہ) حضرت ابوہریرہؓ روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ یقیناً ابن مریم تمہارے درمیان حاکم عادل ہو کر اتریں گے، پس صلیب توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، اور جنگ ختم کردیں گے، مال کی اس قدر کثرت ہو جائے گی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ دنیا اور دنیا بھر کے سب مال ومتاع سے ایک سجدہ (قدر و قیمت کے لحاظ سے) اچھا معلوم ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے تھے کہ اگر تم نزول عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل اس ارشادِ نبوی کے ساتھ قرآن سے چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: ”ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتہ“ کیونکہ اس میں صاف طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جتنے اہل کتاب ہیں، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔
اس حدیث کا سہارا لیتے ہوئے آنجہانی مرزا قادیانی نے انگریز کی شہ پر اپنے عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ میرے آنے سے جہاد کی فرضیت ختم ہوگئی ہے۔ حالانکہ حدیث مبارکہ میں ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کا ذکر ہے جبکہ مرزا قادیانی ابن چراغ بی بی ہے۔ ابن مریم سے ابن چراغ بی بی مراد لینا قادیانی تاویلات کی ادنیٰ مثال ہے۔
مرزا قادیانی نے کہا:
- ”میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام
پاک کتابوں میں پیشگوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔“
(تحفہ گولڑویہ (ضمیمہ) صفحہ 118 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 295 از مرزا قادیانی)
- ”میں بھی خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نبیوں
نے وعدہ دیا ہے اور میری نسبت اور میرے زمانہ کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے۔“ (دافع البلاء صفحہ 22 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 238 از مرزا قادیانی)
- ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کرنا لعنتیوں کا کام
ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 526 طبع جدید از مرزا قادیانی)
- ”اب سے زمینی جہاد بند ہو گیا ہے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا جیسا کہ حدیثوں میں
پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لیے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لیے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے، وہ خدا اور اس کے رسول کا، نافرمان ہے۔ صحیح بخاری کو کھولو اور اس حدیث کو پڑھو کہ جو مسیح موعود کے حق میں ہے یعنی یضع الحرب جس کے یہ معنے ہیں کہ جب مسیح آئے گا تو جہادی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سو مسیح آ چکا اور یہی ہے جو تم سے بول رہا ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 408 طبع جدید از مرزا قادیانی)
اس کے علاوہ آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل حوالہ جات نہایت قابل غور ہیں۔
- ”میرے پاس آئیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ
اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا...... اس جگہ آئیل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے، اس لیے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 103، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 106 از مرزا قادیانی)
- ”میں خدا تعالیٰ کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس
پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 150، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 154 از مرزا قادیانی)
- ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 447، طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور
تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر 3 صفحہ 36، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 426 از مرزا قادیانی)
- ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء صفحہ 11، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 231 از مرزا قادیانی)
- ”جس طرح فرعون کے پاس رسول بھیجا گیا تھا وہی الفاظ ہم کو بھی الہام ہوئے
ہیں کہ تو بھی ایک رسول ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا گیا تھا۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 17، طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہرحال جب
تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے، قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لیے نشان ہے“۔
(دافع البلاء صفحہ 14، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 230 از مرزا قادیانی)
- ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے
مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 387، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 503 از مرزا قادیانی)
- ”وقل یاایھا الناس انی رسول اللّٰہ الیکم جمیعاً.“
اور کہہ دو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔
(تذکرہ مجموعہ وحی مقدس والہامات صفحہ 292، طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
- ”انا ارسلنا الیکم رسولاً شاهداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا.“
”ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے، اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف
بھیجا گیا تھا۔“
(حقیقتہ الوحی صفحہ 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 105 از مرزا قادیانی)
- ”یٰس. انک لمن المرسلین.“
اے سردار تو خدا کا مرسل ہے۔
(حقیقتہ الوحی صفحہ 107 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 110 از مرزا قادیانی)
- ”مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا
مصداق ہے کہ ”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ.“
(اعجاز احمدی صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 113 از مرزا قادیانی)
- ”پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ
والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی)
- ”میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب
ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔“
(حقیقت الوحی صفحہ 521، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521 از مرزا قادیانی)
- ”اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور نبی کریم ﷺ میں
کوئی دُوئی (فرق) باقی نہیں کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں جیسا کہ خود مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ صار وجودی وجودہ (دیکھو خطبہ الہامیہ صفحہ 171) اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضرت نبی کریم نے فرمایا کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) میری قبر میں دفن کیا جائے گا جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں یعنی مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم ﷺ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا تا کہ اشاعت اسلام کا کام پورا کرے اور ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ کے فرمان کے مطابق تمام ادیان باطلہ پر اتمام حجت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچا دے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے آخرین منہم لما یلحقوا بہم میں فرمایا تھا۔“
(کلمتہ الفصل صفحہ 104، 105، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ❑ ”ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی
کریم ﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی و ماریٰ اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے، پس مسیح موعود خود محمد ﷺ رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد ﷺ رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ❑ ”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی
تجدید ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے۔ واصنع الفلک باعیننا و وحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیہم یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں، وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو، خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدارِ نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“
(اربعین نمبر 4، صفحہ 93 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 435 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس
شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لیے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔“ (اربعین نمبر 14 صفحہ 100، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 442 از مرزا قادیانی)
منم محمد ﷺ و احمد ﷺ کہ مجتبیٰ باشد
ترجمہ: ”میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا یعنی موسیٰ ہوں، میں محمد ﷺ ہوں، میں احمد مجتبیٰ ہوں۔“ (تریاق القلوب صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 134 از مرزا قادیانی)
- ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر۔“
(اربعین نمبر 4 صفحہ 19، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 454 از مرزا قادیانی)
- ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں
جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 220 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 220 از مرزا قادیانی)
- ”میں خدا تعالیٰ کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس
پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 150، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 154 از مرزا قادیانی)
گفتنی اجمال ہے، ناگفتنی تفصیل ہے
کاسہ لیسی کا عصارہ، مخبری کا زہر ناب
ان سیاسی مغبچوں کے خون میں تحلیل ہے
اپنا تعارف
- (1) ”چونکہ میں جس کا نام غلام احمد اور باپ کا نام مرزا غلام مرتضیٰ ہے، قادیان
ضلع گورداسپور پنجاب کا رہنے والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں جو پنجاب کے اکثر مقامات میں پایا جاتا ہے۔ اور نیز ہندوستان کے اکثر اضلاع اور حیدرآباد اور بمبئی اور مدراس اور ملک عرب اور شام اور بخارا میں بھی میری جماعت کے لوگ موجود ہیں۔ لہٰذا میں قرین مصلحت سمجھتا ہوں کہ یہ مختصر رسالہ اس غرض سے لکھوں کہ اس محسن گورنمنٹ کے اعلیٰ افسر میرے حالات اور میری جماعت کے خیالات سے واقفیت پیدا کر لیں۔“
(کشف الغطاء صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 179 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 350 پر)
- (2) ”سب سے پہلے یہ دعا ہے کہ خدائے قادر مطلق اس ہماری عالی جاہ قیصرہ ہند کی عمر
میں بہت بہت برکت بخشے اور اقبال اور جاہ وجلال میں ترقی دے اور عزیزوں اور فرزندوں کی عافیت سے آنکھ ٹھنڈی رکھے۔ اس کے بعد اس عریضہ کے لکھنے والا جس کا نام مرزا غلام احمد قادیانی ہے جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان نام میں رہتا ہے جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ ستر میل مشرق اور شمال کے گوشہ میں واقع اور گورداسپورہ کے ضلع میں ہے۔............. میں حضور عالی حضرت جناب قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں یہ چند الفاظ بیان کرنے کے لیے جرات کرتا ہوں کہ میں پنجاب کے ایک معزز خاندان مغلیہ میں سے ہوں اور سکھوں کے زمانہ سے پہلے میرے بزرگ ایک خود مختار ریاست کے والی تھے۔“
(ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 111 تا 113 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 351 تا 353 پر)
خاندانی خدمات
- (3) ”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا
والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا، جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے، اور 1857ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں، مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں، ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ اور جب تموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔“
(کتاب البریہ صفحہ 3 تا 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 4 تا 6 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 354 تا 356 پر)
کیا نبوت و رسالت کے دعویدار کو ایسی ”خدمات“ پر فخر کرنا زیب دیتا ہے؟
قدیم خیر خواہ اور دلی جان نثار خاندان
- (4) ”ہماری یہ محسن گورنمنٹ ہر ایک طبقہ اور درجہ کے انسانوں بلکہ غریب سے غریب
اور عاجز سے عاجز خدا کے بندوں کی ہمدردی کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ اس ملک کے پرندوں اور چرندوں اور بے زبان مویشیوں کے بچاؤ کے لیے بھی اس کے عدل گستر قوانین موجود ہیں۔ اور ہر ایک قوم اور فرقہ کو مساوی آنکھ سے دیکھ کر ان کی حق رسی میں مشغول ہے تو اس انصاف اور دادگستری اور عدل پسندی کی خصلت پر نظر کر کے یہ عاجز بھی اپنی ایک تکلیف کے رفع کے لیے حضور گورنمنٹ عالیہ میں یہ عاجزانہ عریضہ پیش کرتا ہے اور پہلے اس سے کہ اصل مقصود کو ظاہر کیا جائے، اس محسن اور قدر شناس گورنمنٹ کی خدمت میں اس قدر بیان کرنا بے محل نہ ہوگا کہ یہ عاجز گورنمنٹ کے اس قدیم خیر خواہ خاندان میں سے ہے جس کی خیر خواہی کا گورنمنٹ کے عالی مرتبہ حکام نے اعتراف کیا ہے اور اپنی چٹھیوں سے گواہی دی ہے کہ وہ خاندان ابتدائی انگریزی عملداری سے آج تک خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ میں برابر سرگرم رہا ہے۔ میرے والد مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ اس محسن گورنمنٹ کے ایسے مشہور خیر خواہ اور دلی جان نثار تھے کہ وہ تمام حکام جو اُن کے وقت میں اس ضلع میں آئے، سب کے سب اس بات کے گواہ ہیں کہ انہوں نے میرے والد موصوف کو ضرورت کے وقتوں میں گورنمنٹ کی خدمت کرنے میں کیسا پایا۔ اور اس بات کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے 1857ء کے مفسدہ کے وقت اپنی تھوڑی حیثیت کے ساتھ پچاس گھوڑے معہ پچاس نوجوانوں کے اس محسن گورنمنٹ کی امداد کے لیے دیئے اور ہر وقت امداد اور خدمت کے لیے کمر بستہ رہے یہاں تک کہ اس دنیا سے گذر گئے۔ والد مرحوم گورنمنٹ عالیہ کی نظر میں ایک معزز اور ہر دلعزیز رئیس تھے جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی۔“
(تریاق القلوب صفحہ 359 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 487، 488 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 357، 358 پر)
قدیم خدمت گزار خاندان
- (5) ”اور گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں کہ ہم قدیم سے اُس کی خدمت کرنے
والے اور اُس کے ناصح اور خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم حاضر ہوتے رہے ہیں۔ اور میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں ہماری خدمات نمایاں ہیں اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ کبھی ان خدمات کو بھلا دے گی۔ اور میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ ابن مرزا عطا محمد رئیس قادیان اس گورنمنٹ کے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے تھا اور اس کے نزدیک صاحب مرتبہ تھا اور صدر نشین بالین عزت سمجھا گیا تھا اور یہ گورنمنٹ اس کو خوب پہچانتی تھی اور ہم پر کبھی کوئی بدگمانی نہیں ہوئی بلکہ ہمارا اخلاص تمام لوگوں کی نظروں میں ثابت ہو گیا اور حکام پر کھل گیا۔ اور سرکار انگریزی اپنے ان حکام سے دریافت کر لیوے جو ہماری طرف آئے اور ہم میں رہے اور ہم نے ان کی آنکھوں کے سامنے کیسی زندگی بسر کی اور کس طرح ہم ہر ایک خدمت میں سبقت کرنے والوں کے گروہ میں رہے۔‘‘
(نور الحق صفحہ 36، 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 36، 37 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 359، 360 پر)
مرزا غلام احمد قادیانی ہر لحاظ سے انگریز حکومت کی خدمت اور برطانوی مفادات کے تحفظ کے لیے موزوں اور قابل اعتماد شخص تھا کیونکہ اس کا خاندان شروع ہی سے برطانوی سامراج کی خدمت اور کاسہ لیسی میں مشہور تھا۔ مرزا قادیانی کے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کے خلاف 50 گھوڑے مع سواروں کے انگریزوں کی مدد کے لیے دیے تھے، جبکہ مرزا قادیانی کا بھائی مرزا غلام قادر معروف سفاک اور ظالم جنرل نکلسن کی فوج میں شامل رہا تھا اور اس نے مسلمانوں کے خون میں ہاتھ رنگے تھے۔ انگریزوں کی وفاداری اور تابع فرمانی میں مرزا قادیانی اعتراف کرتا ہے:
والد کی خدمات
- (6) ’’میرا باپ مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک نیک نام رئیس تھا اور گورنمنٹ کے
اعلیٰ افسروں نے پرزور تحریروں کے ساتھ لکھا کہ وہ اس گورنمنٹ کا سچا مخلص اور وفادار ہے۔ اور میرے والد صاحب کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور ہمیشہ اعلیٰ حکام عزت کی نگاہ سے
ان کو دیکھتے تھے اور اخلاق کریمانہ کی وجہ سے حکام ضلع اور قسمت کبھی کبھی ان کے مکان پر ملاقات کے لیے بھی آتے تھے کیونکہ انگریزی افسروں کی نظر میں وہ ایک وفادار رئیس تھے۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ ان کی اس خدمت کو کبھی نہیں بھولے گی کہ انہوں نے 1857ء کے ایک نازک وقت میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس سوار اپنے عزیزوں اور دوستوں میں سے مہیا کر کے گورنمنٹ کی امداد کے لیے دیئے تھے۔ چنانچہ ان سواروں میں سے کئی عزیزوں نے ہندوستان میں مردانہ وار لڑائی مفسدوں سے کر کے اپنی جانیں دیں۔ اور میرا بھائی مرزا غلام قادر مرحوم تموں کے پتن کی لڑائی میں شریک تھا اور بڑی جاں فشانی سے مدد دی۔ غرض اسی طرح میرے ان بزرگوں نے اپنے خون سے، اپنے مال سے، اپنی جان، اپنی متواتر خدمتوں سے، اپنی وفاداری کو گورنمنٹ کی نظر میں ثابت کیا۔ سو انہیں خدمات کی وجہ سے میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ ہمارے خاندان کو معمولی رعایا میں سے نہیں سمجھے گی اور اس کے اس حق کو کبھی ضائع نہیں کرے گی جو بڑے فتنے کے وقت میں ثابت ہو چکا ہے۔“
(کشف الغطاء صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 180 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 361 پر)
میرا باپ، بھائی اور میں
- (7) ”اور میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا، یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ
گیا اور سفر آخرت کا وقت آ گیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا اور عندالضرورت خدمتیں بجا لاتا رہا، یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غمخواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پا گیا تب ان خصلتوں میں اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا جس کا نام مرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی
عنایات ایسی ہی اس کے شامل حال ہو گئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی اور ان کے زمانہ کو یاد کیا۔“
(نور الحق حصہ اول صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 37، 38 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 362، 363 پر)
والد کی وفات پر اللہ تعالیٰ کی تعزیت
- (8) ”میں اس بات کو فراموش نہیں کروں گا کہ میرے والد صاحب کی وفات کے وقت
خدا تعالیٰ نے میری عزاپرسی کی اور میرے والد کی وفات کی قسم کھائی جیسا کہ آسمان کی قسم کھائی۔ جن لوگوں میں شیطانی روح جوش زن ہے وہ تعجب کریں گے کہ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدا کسی کو اس قدر عظمت دے کہ اس کے والد کی وفات کو ایک عظیم الشان صدمہ قرار دے کر اس کی قسم کھاوے۔ مگر میں پھر دوبارہ خدائے عزوجل کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعہ حق ہے اور وہ خدا ہی تھا جس نے عزاپرسی کے طور پر مجھے خبر دی اور کہا کہ والسماء والطارق اور اسی کے موافق ظہور میں آیا۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 219 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 219 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 364 پر)
حیرت زدہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام سے ان کے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کی رحلت پر عزاپرسی نہ کی اور اگر کی ہوتی تو ضرور احادیث نبویہ میں اس کا ذکر ہوتا۔ اسی طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس ان کے والد مکرم حضرت اسحاق علیہ السلام کے حادثہ انتقال پر تعزیت نہ فرمائی اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے ان کے پدر بزرگوار حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے وصال پر کوئی عزاپرسی نہ کی۔ اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس ان کے والد مکرم حضرت داؤد علیہ السلام کے سانحہ ارتحال پر تعزیت نہ کی حالانکہ یہ تمام باپ بیٹے انبیا و مرسلین تھے لیکن عزاداری کی تو انگریزوں کے ٹاؤٹ غلام مرتضیٰ کے انتقال پر کی، جو نبی تھا نہ صدیق، مہاجر تھا نہ شہید، زاہد تھا نہ عارف، عالم تھا نہ حافظ، غرض کچھ بھی نہ تھا۔ البتہ مرزا غلام مرتضیٰ میں دو ”خصوصیات“ ایسی پائی جاتی
تھیں جو کسی نبی میں گزری ہیں اور نہ کسی صدیق، شہید، عارف اور ولی میں۔ ان میں سے پہلی خصوصیت یہ تھی کہ وہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کا والد تھا۔ دوسری یہ کہ وہ بے نمازی تھا۔ موخر الذکر خصوصیت کے متعلق مرزا بشیر احمد، ایم۔اے ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتا ہے:
مرزا قادیانی کا والد بے نمازی
(9) ”بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ایک بغدادی مولوی آیا۔ دادا صاحب نے اس کی بڑی خاطر و مدارات کی۔ اس مولوی نے دادا صاحب سے کہا مرزا صاحب آپ نماز نہیں پڑھتے؟ دادا صاحب نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاں بیشک میری غلطی ہے۔ مولوی صاحب نے پھر بار بار اصرار کے ساتھ کہا اور ہر دفعہ دادا صاحب یہی کہتے گئے کہ میرا قصور ہے۔ آخر مولوی نے کہا آپ نماز نہیں پڑھتے، اللہ آپ کو دوزخ میں ڈال دے گا۔ اس پر دادا صاحب کو جوش آگیا اور کہا ”تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے کہاں ڈالے گا۔ میں اللہ تعالیٰ پر ایسا بدظن نہیں ہوں، میری امید وسیع ہے۔ خدا فرماتا ہے لا تقنطوا من رحمۃ اللہ تم مایوس ہوگے، میں مایوس نہیں ہوں۔ اتنی بے اعتقادی میں تو نہیں کرتا۔“ پھر کہا ”اس وقت میری عمر 75 سال کی ہے۔ آج تک خدا نے میری پیٹھ نہیں لگنے دی ہے تو کیا اب وہ مجھے دوزخ میں ڈال دے گا۔“
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 231 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 365 پر)
دلی جوش میں باپ بڑا یا بیٹا؟
(10) ”میں اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکتا کہ اس گورنمنٹ محسنہ انگریزی کی خیر خواہی اور ہمدردی میں مجھے زیادتی ہے یا میرے والد مرحوم کو۔ بیس برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جان نثار ہو جائیں اور جہاد اور خونی مہدی کے انتظار وغیرہ
بیہودہ خیالات سے جو قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتے ، دست بردار ہو جائیں۔“
(اشتہار ، حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست نمبر 218 بتاریخ 27 دسمبر 1899ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم، صفحہ 355 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 366 پر)
روح کے جوش سے
- (11) ”میرا باپ اور میرا بھائی اور خود میں بھی رُوح کے جوش سے اس بات میں مصروف
رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو دلوں میں جمادیں۔“
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 191 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 367 پر)
قادیانی بزرگوں کا کارنامہ
- (12) ”الم يفكر اننا ذرية اباء افنوا اعمارهم فى خدمات هذه الدولة۔“
ترجمہ: ”کیا گورنمنٹ اتنا غور نہیں کرتی کہ ہم انہی بزرگوں کی اولاد ہیں۔ جنھوں نے اپنی عمریں حکومت برطانیہ کی خدمت میں صرف کردیں۔“
(انجام آتھم صفحہ 283 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 283 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 368 پر)
- □ ”ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح
مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے۔“
(شہادۃ القرآن تتمہ گورنمنٹ کی توجہ کے لائق صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)
بزرگوں سے زیادہ خدمات
- (13) ”میں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریزی کی ایک ایسی خدمت میں مشغول
ہوں کہ درحقیقت وہ ایک ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے
بزرگوں سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ میں نے بیسیوں کتابیں عربی اور فارسی اور اُردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلادِ اسلام میں پہنچائی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسی جماعت تیار ہوتی جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لیے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے لیے دلی جان نثار۔“
(اشتہار، عریضہ بحالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی نمبر 168 بتاریخ 22 مارچ 1897ء مندرجہ مجموعہ
اشتہارات جلد دوم صفحہ 66، 67 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 369، 370 پر)
مرزا قادیانی کی نفسیات کا مطالعہ، اگر اس کے خاندان کے کردار کے پس منظر میں کیا جائے تو بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ عالمی سامراج کا آلہ کار اور ان کی شخصی یادگار تھا۔
خودکاشتہ پودا...... مرزا قادیانی کا اہم اعتراف
- (14) ”سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے
ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں، اس خودکاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولتمدار کی پوری عنایات اور خصوصی توجہ کی درخواست کریں تا ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لیے دلیری نہ کر سکے۔“
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 198 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 371 پر) مرزا قادیانی کیسا ”نبی“ ہے جو کافروں کی منتیں کر رہا ہے کہ وہ اس کا اور اس کی جماعت کا خیال رکھیں۔ نبی باطل حکومتوں کی مخالفت کرتے تھے یا ان سے رحم کی بھیک مانگتے تھے؟ مندرجہ بالا تحریر کے بعد مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کے مختلف شہروں میں مقیم 316 سرکردہ افراد کے نام لکھے جو اس کے مرید تھے اور حکومت سے درخواست کی کہ وہ ان کا خاص خیال رکھے۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ آنجہانی مرزا قادیانی نے اس اشتہار میں اپنی جماعت کو انگریز کا ”خود کاشتہ پودا“ کہا ہے۔ اسی لیے اس اشتہار کے آخر میں اپنی جماعت کے لوگوں کے نام لکھے۔ اگر اپنے خاندان کو خود کاشتہ پودا کہتا تو اپنے خاندان کے افراد کے نام لکھتا۔ چنانچہ اس نے اپنے مریدوں کے نام لکھ کر ثابت کیا کہ وہ اور اس کی جماعت انگریز کی ”خود کاشتہ پودا“ ہے۔
سترہ سال سے یہ غم ہی مرا ناشتہ ہے
سوکھ جائے نہ کہیں میری نبوت کا درخت
یہ وہ پودا ہے جو سرکار کا خود کاشتہ ہے
ہم اور ہماری اولاد پر فرض
- (15) ”ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے
ہمیشہ شکر گزار رہیں۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 132 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 166 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 372 پر)
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے
کریکٹر سرٹیفکیٹ
قارئین کرام! مرزا قادیانی کے خاندان کی انگریز حکومت نے وفاداری کے
اعتراف میں برٹش حکومت نے انہیں کئی ایک تعریفی خطوط لکھے۔ ان خطوط کی نقول درج ذیل حوالہ کے عکسی ثبوت میں ضرور ملاحظہ کریں۔
- (16) ”سر لیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں
میرے والد صاحب اور میرے بھائی مرزا غلام قادر کا ذکر کیا ہے اور میں ذیل میں ان چٹھیات حکام بالا دست کو درج کرتا ہوں جن میں میرے والد صاحب اور میرے بھائی کی خدمات کا کچھ ذکر ہے۔
(1)
Translation of Certificate of J. M. Wilson
To, Mirza Ghulam Murtaza Khan Chief of Qadian
I have persued your application reminding me of your and your family's past services and rights. I am well aware that since the introduction of the British Govt, you and your family have certainly remained devoted faithful and steady subjects and that your rights are really worthy of regard. In every respect you may rest assured and satisfied that the British Govt will never forget your family's rights and services which will receive due consideration when a favourable apportunity offers itself. You must continue to be faithful and devoted subjects as in it lies the satisfaction of the Govt, and welfare. 11.6.1849. Lahore.
نقل مراسلہ (ولسن صاحب) نمبر 353
تہور پناہ شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان حفظہ عریضہ شما مشعر بر یاد دہانی خدمات و حقوق خود و خاندان خود بملاحظہ حضور ایں جانب در آمد۔ ما خوب میدانیم کہ بلا شک شما و خاندان شما از ابتدائے دخل و حکومت سرکار انگریزی جاں نثار وفاکیش ثابت قدم ماندہ اید و حقوق شما در اصل قابل قدر اند۔ بہر نہج تسلی و تشفی دا
رسید۔ سرکار انگریزی حقوق و خدمات خاندان شما را ہرگز فراموش نہ خواہد کرد۔ بموقعہ مناسب بر حقوق و خدمات شما غور و توجہ کردہ خواہد شد۔ باید کہ ہمیشہ ہوا خواہ و جاں نثار سرکار انگریزی بمانند۔ کہ دریں امر خوشنودی سرکار و بہبودی شما متصور است۔
فقط: المرقوم 11 جون 1849ء مقام لاہور انارکلی (نقل)
جناب مرزا غلام مرتضیٰ خان صاحب رئیس قادیان
(ترجمہ اردو): ”میں نے تمہاری درخواست کا بغور جائزہ لیا ہے جس نے مجھے تمہاری اور تمہارے خاندان کی ماضی کی خدمات اور حقوق یاد دلا دیئے ہیں۔ مجھے بخوبی علم ہے کہ برطانوی حکومت کے قیام سے لے کر تم اور تمہارا خاندان یقیناً مخلص، وفادار اور ثابت قدم رعایا رہے ہو اور تمہارے حقوق واقعی قابل لحاظ ہیں۔ تمہیں ہر لحاظ سے پر امید اور مطمئن رہنا چاہیے کہ حکومت برطانیہ تمہارے خاندانی حقوق اور خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور جب بھی کوئی سازگار موقع آیا، ان کا خیال کیا جائے گا۔ تم ہمیشہ سرکار انگریزی کا ہوا خواہ اور جانثار رہو کیونکہ اسی میں سرکار کی خوشنودی اور تمہاری بہبود ہے۔“
بتاریخ: 11 جون، 1849ء
(2)
Translation of Mr. Robert Casts Certificate
To, Mirza Ghulam Murtaza Khan Chief of Qadian
As you randered great help in enlisting sowars and supplying horses to Govt in the mutiny of 1857 and maintained loyalty since its beginning up to date and thereby gained the favour of Govt. A Khilat worth Rs. 200/- is presented to you in recognition of good services and as a reward for your loyalty.
Moreover in accordance with the wishes of Chief
Commissioner a conveyed in his No. 576. Dt. 10th August 1858. this parwana is addressed to you as a token of satisfaction of Govt. for your fidelity and repute.
نقل مراسلہ رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان بعافیت باشند۔
از آنجا کہ ہنگام مفسدہ ہندوستان وقوعہ 1857ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواہی و مدد دہی سرکار دولتمدار انگلشیہ در باب نگہداشت سواران و بہم رسانی اسپاں بخوبی بمنصۂ ظہور پہنچی۔ اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا۔ لہٰذا بصلہ دے اس خیر خواہی اور خیر سگالی کے خلعت مبلغ دوصد روپیہ کا سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشا چٹھی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبری 576 مورخہ 10 اگست 1858ء پروانہ ہذا باظہار خوشنودی سرکار و نیک نامی و وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے۔ مرقومہ: تاریخ 20 ستمبر 1858ء
(3)
Translation of Sir Robert Egerton Financial Commr's: Murasala dt. 29 June 1876. My dear firend Ghulam Qadir,
I have persued your letter of the 2nd instant and deeply regret the death of your father Mirza Ghulam Murtaza who was a great well wisher and faithful Chief of Govt.
In consideration of your family services will esteem you with the same respect as that bestowed on your loyal father. I will keep in mind the restoration and welfare of your family when a favourable opportunity occurs.
نقل مراسلہ فنانشل کمشنر پنجاب
مشفق مہربان دوستان مرزا غلام قادر رئیس قادیان حفظہٗ
آپ کا خط دو ماہ حال کا لکھا ہوا حضور ایں جانب میں گزرا۔
مرزا غلام مرتضیٰ صاحب آپ کے والد کی وفات سے ہم کو بہت افسوس ہوا۔ مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریزی کا اچھا خیر خواہ اور وفادار رئیس تھا۔
ہم آپ کی خاندانی لحاظ سے اسی طرح عزت کریں گے جس طرح تمھارے باپ وفادار کی، کی جاتی تھی۔ ہم کو کسی اچھے موقعے کے نکلنے پر تمھارے خاندان کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہے گا۔
المرقوم 29 جون 1876ء راقم سر رابرٹ ایجرٹن صاحب بہادر فنانشل کمشنر پنجاب‘‘
(کشف الغطاء صفحہ 4 تا 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 180 تا 185 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 373 تا 378 پر)
مستقل جاں میں ہے جس کی شعلہ زن جوش جہاد
جو رہا ہے عمر بھر زندانی زلف فرنگ
جس کو انگریزوں نے دی رہ رہ کے اس جذبے کی داد
ممانعت جہاد کی کتابیں ، جوش اور استقامت کی بے نظیر کارگزاری
- (17) ”پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم
سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد و تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں، ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لیے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں۔ اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لیے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزارہا روپیہ خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلادِ شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔ کیا اس قدر بڑی
کارروائی اور اس قدر دور دراز مدت تک ایسے انسان سے ممکن ہے جو دل میں بغاوت کا ارادہ رکھتا ہو؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظِ امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لیے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے، پوری استقامت سے کام لیا، کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں، کوئی نظیر ہے؟ اگر میں نے یہ اشاعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیر خواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب اور بلادِ شام اور روم وغیرہ بلادِ اسلامیہ میں شائع کرنے سے کس انعام کی توقع تھی؟ یہ سلسلہ ایک دو دن کا نہیں بلکہ برابر سترہ سال کا ہے اور اپنی کتابوں اور رسالوں کے جن مقامات میں، میں نے یہ تحریریں لکھی ہیں، ان کتابوں کے نام معہ ان کے نمبر صفحوں کے یہ ہیں، جن میں سرکار انگریزی کی خیر خواہی اور اطاعت کا ذکر ہے:۔‘‘
نمبر نام کتاب تاریخ طبع نمبر صفحہ 1 براہین احمدیہ حصہ سوم 1882ء الف سے ب تک (شروع کتاب) 2 براہین احمدیہ حصہ چہارم 1884ء الف سے د تک ایضاً 3 آریہ دھرم (نوٹس) دربارہ توسیع 22 ستمبر 1895ء 57 سے 64 تک آخر دفعہ 298 کتاب 4 التماس شامل آریہ دھرم ایضاً 22 ستمبر 1895ء 1 سے 4 تک آخر کتاب 5 درخواست شامل آریہ دھرم ایضاً 22 ستمبر 1895ء 69 سے 72 تک آخر کتاب 6 خط دربارہ توسیع دفعہ 298 21 اکتوبر 1895ء 1 سے 8 تک 7 آئینہ کمالات اسلام فروری 1893ء 17 سے 20 تک اور 511 سے 528 تک
8 نور الحق حصہ اول (اعلان) 1311ھ 23 سے 54 تک
9 شہادۃ القرآن (گورنمنٹ کی توجہ 22 ستمبر 1893ء الف سے ع تک آخر کے لائق) کتاب
10 نور الحق حصہ دوم 1311ھ 49 سے 50 تک
11 سر الخلافہ 1312ھ 71 سے 73 تک
12 اتمام الحجہ 1311ھ 25 سے 27 تک
13 حمامۃ البشریٰ 1311ھ 39 سے 42 تک
14 تحفہ قیصریہ 25 مئی 1897ء تمام کتاب
15 ست بچن نومبر 1895ء 153 سے 154 تک
16 انجام آتھم جنوری 1897ء 283 سے 284 تک آخر کتاب
17 سراج منیر مئی 1897ء صفحہ 74
18 تکمیل تبلیغ مع شرائط بیعت 12 جنوری 1889ء صفحہ 4 حاشیہ اور صفحہ 6 شرط چہارم
19 اشتہار قابل توجہ گورنمنٹ اور عام 27 فروری 1895ء تمام اشتہار یکطرفہ اطلاع کے لیے
20 اشتہار دربارہ سفیر سلطان روم 24 مئی 1897ء 1 سے 3 تک
21 اشتہار جلسہ احباب بر جشن جوبلی 23 جون 1897ء 1 سے 4 تک بمقام قادیان
22 اشتہار جلسہ شکریہ جشن جوبلی 7 جون 1897ء تمام اشتہار یک ورق حضرت قیصرہ دام ظلہا
23 اشتہار متعلق بزرگ 25 جون 1897ء صفحہ 10
24 اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ معہ ترجمہ 10 دسمبر 1894ء تمام اشتہار 1 سے 7 تک انگریزی
(کتاب البریہ صفحہ 5 تا 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 6 تا 9 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 379 تا 382 پر)
16 سالہ لاجواب سروس
(18) ”میرے اس دعویٰ پر کہ میں گورنمنٹ برطانیہ کا سچا خیر خواہ ہوں، دو ایسے شاہد ہیں کہ اگر سول ملٹری جیسا لاکھ پرچہ بھی ان کے مقابلہ پر کھڑا ہو، تب بھی وہ دروغگو ثابت ہوگا۔ (اوّل) یہ کہ علاوہ اپنے والد مرحوم کی خدمت کے، میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔
دوسری یہ کہ میں نے کئی کتابیں عربی فارسی تالیف کر کے غیر ملکوں میں بھیجی ہیں جن میں برابر یہی تاکید اور یہی مضمون ہے۔ پس اگر کوئی کوتاہ اندیش یہ خیال کرے کہ سولہ برس کی کارروائی میری کسی نفاق پر مبنی ہے تو اس بات کا اس کے پاس کیا جواب ہے کہ جو کتابیں عربی فارسی، روم اور شام اور مصر اور مکہ اور مدینہ وغیرہ ممالک میں بھیجی گئیں اور ان میں نہایت تاکید سے گورنمنٹ انگریزی کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں، وہ کارروائی کیونکر نفاق پر محمول ہو سکتی ہے۔ کیا ان ملکوں کے باشندوں سے بجز کافر کہنے کے کسی اور انعام کی توقع تھی؟ کیا سول ملٹری گزٹ کے پاس کسی ایسی خیر خواہ گورنمنٹ کی کوئی اور بھی نظیر ہے؟ اگر ہے تو پیش کریں۔ لیکن میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ جس قدر میں نے کارروائی گورنمنٹ کی خیر خواہی کے لیے کی ہے، اس کی نظیر نہیں ملے گی۔“
(اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ نمبر 129 بتاریخ 10 دسمبر 1894ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل
صفحہ 462 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 383 پر)
20 سالہ بے نظیر خدمات
(19) ”یہ گورنمنٹ ہمارے مال اور خون اور عزت کی محافظ ہے اور اس کے مبارک قدم سے ہم جلتے ہوئے تنور میں سے نکالے گئے ہیں۔ یہ کتابیں ہیں جو میں نے اس ملک اور عرب اور شام اور فارس اور مصر وغیرہ ممالک میں شائع کی ہیں۔ چنانچہ شام کے ملک کے بعض عیسائی فاضلوں نے بھی میری کتابوں کے شائع ہونے کی گواہی دی ہے اور میری بعض کتابوں کا ذکر کیا ہے۔ اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرأت سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بیس سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کر سکتا۔“
(اشتہار حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست نمبر 218 بتاریخ 27 دسمبر 1899ء مندرجہ
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 355 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 384 پر)
50 سالہ جانفشانیاں
(20) ”میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں مدعا یہ ہے کہ اگرچہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لیے کی ہیں، عنایت خاص کا مستحق ہوں، لیکن یہ سب امور گورنمنٹ عالیہ کی توجہات پر چھوڑ کر بالفعل ضروری استغاثہ یہ ہے کہ مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے کہ بعض حاسد بداندیش جو بوجہ اختلاف عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کے دشمن ہیں، میری نسبت اور میرے دوستوں کی نسبت خلاف واقعہ امور گورنمنٹ کے معزز حکام تک پہنچاتے ہیں۔ اس لیے اندیشہ ہے کہ اُن کی ہر روز کی مفتریانہ کارروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو کر وہ تمام جانفشانیاں پچاس سالہ میرے والد مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ اور میرے حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی جن کا تذکرہ سرکاری چٹھیات اور سرلیپل گریفن کی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور نیز میری قلم کی وہ خدمات جو میرے اٹھارہ سال کی تالیفات سے ظاہر ہیں، سب کی سب ضائع اور
برباد نہ جائیں اور خدانخواستہ سرکار انگریزی اپنے ایک قدیم وفادار اور خیر خواہ خاندان کی نسبت کوئی تکدر خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔‘‘
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 197 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 385 پر)
60 سالہ بلا معاوضہ خدمات
(21) ’’دوسرا امر قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں، اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں....... اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہو گئی۔ اور میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیا گیا مگر با ایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں۔‘‘
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 191,190 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 386، 387 پر)
پچاس الماریاں
(22) ’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے
اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں، ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155، 156 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 388، 389 پر)
تا نہ بخشد ”انگریز“ بخشندہ
مرزا قادیانی کی تقریباً 100 کے قریب کتب ہیں جس میں اپنی ذات اور اپنے آبا و اجداد کی تعریف میں تقریباً نصف سے زیادہ صفحات سیاہ کر دیے ہیں اور بقیہ 1/4 حصہ میں گورنمنٹ برطانیہ کی تعریف، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بازاری آوازے، توہین انبیائے کرام، شعائر اسلامی کی اہانت، بزرگان دین کے اقوال میں تحریف، مخالفین کو گالیاں، غیر مذاہب پر غیر شریفانہ حملے اور اپنی نام نہاد وحی و الہامات پر خرچ کیے۔ مرزا قادیانی کی ان تمام تصانیف کے لیے ایک عام الماری کا 1/4 حصہ کافی ہے۔ مگر ”سلطان القلم“ کا دعویٰ ہے کہ اس نے انگریز کی اطاعت اور ممانعت جہاد کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اس سے 50 الماریاں بھر سکتی ہیں۔ ہمارا دنیا کے تمام قادیانیوں کو چیلنج ہے کہ وہ ہمیں مرزا قادیانی کی پچاس الماریوں پر مشتمل کتابوں کی فہرست فراہم کریں، ہم انہیں منہ بولا انعام دیں گے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ قیامت تک کوئی قادیانی ہمارا یہ چیلنج قبول کرنے کی جرأت نہ کر سکے گا۔ مرزا قادیانی کے اس جھوٹ کو ثابت کرنا کسی قادیانی کے بس میں نہیں۔ قادیانیوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے!
اور گواہ اس پر ہیں مرزا کی پچاس الماریاں
صدہا کتابیں
(23) ”میں نے صدہا کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب اور مصر اور بلاد شام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کیں ہیں۔ کیا آپ نے بھی ان ملکوں میں کوئی ایسی کتاب شائع کی۔ باوجود اس کے میری یہ خواہش نہیں کہ اس خدمت گزاری کی گورنمنٹ کو اطلاع کروں یا اس سے کچھ صلہ مانگوں جو انصاف کی رُو سے اعتقاد تھا، وہ ظاہر کر دیا۔“
(اشتہار انما الاعمال بالنیات نمبر 139 بتاریخ 21 اکتوبر 1895ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 518 (حاشیہ) طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 390 پر)
بیسیوں کتابیں
(24) ”میں نے بیسیوں کتابیں عربی اور فارسی اور اُردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔“
(اشتہار، عریضہ بحالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی نمبر 168 بتاریخ 22 مارچ 1897ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 66 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 391 پر)
پچاس ہزار کتابیں، رسائل اور اشتہارات
(25) ”مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی، وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کیے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے۔“
(ستارہ قیصرہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 114 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 392 پر)
مرزا قادیانی کے جھوٹ اور مبالغہ آرائی کو ملاحظہ کیجیے کہ اس نے اپنے ایک اشتہار مطبوعہ 21 اکتوبر 1895ء میں دعویٰ کیا کہ اس نے انگریز کی حمایت اور جہاد کی ممانعت کے سلسلہ میں صد ہا کتابیں تحریر کیں۔ تقریباً ڈیڑھ سال کے بعد اپنے ایک اور اشتہار مطبوعہ 22 مارچ 1897ء میں دعویٰ کیا کہ اس نے اس سلسلہ میں بیسیوں کتابیں تحریر کی ہیں۔ پھر 2 سال 5 ماہ کے قلیل عرصہ کے بعد ستارہ قیصرہ کے نام سے ملکہ وکٹوریہ کے نام ایک خط میں دعویٰ کیا کہ اس نے اس سلسلہ میں پچاس ہزار کتابیں تحریر کیں۔ مزید براں یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے اس سلسلہ میں 50 ہزار کے قریب اشتہار شائع کیے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے اشتہارات کی کل تعداد صرف 292 ہے۔ مذکورہ حقیقت سے صاحبان علم و دانش، مرزا قادیانی کی مبالغہ آرائی اور انگریز پرستی کا باآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب حافظ محمد اقبال رنگونی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
”یہاں مرزا قادیانی کے الفاظ ”ہم مسلمانوں کی محسن ہے“ غور طلب ہے۔ یہ احسانات کیا مرزا غلام احمد کے باپ دادا پر ہوئے تھے یا خود قادیانیت ان احسانات کے نیچے پل رہی تھی اور کیا یہ پچاس الماریاں پچھلے احسانات کے اقرار میں بھری جارہی تھیں یا قادیانیت کی حمایت و حفاظت کے لیے یہ سرکار برٹش کو نئی رشوت دی جارہی ہے۔ ”ہم مسلمانوں“ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی کے عقیدے کے لوگ ہیں، دوسرے مسلمان نہیں۔ دوسرے مسلمان جن حالات سے دو چار تھے، وہ بھی اہل خبر سے مخفی نہیں۔ پھر عام مسلمانوں کو تو مرزا قادیانی مسلمان تسلیم ہی نہیں کرتا۔“ (خود کاشتہ پودا کی حقیقت از حافظ محمد اقبال رنگونی)
مجھے فخر ہے!
- (26) ”یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اُردو فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام
کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے
متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا، اشاعت کر دی گئی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا اور میں اس قدر خدمت کر کے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں۔ اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا کیونکہ مجھے اس بات کا اقرار ہے کہ اس بابرکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے ایک لوہے کے جلتے ہوئے تنور سے نجات پائی ہے۔ اس لیے میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی ! اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکہ کو دیرگاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ۔ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔‘‘
(ستارہ قیصرہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 114، از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 393 پر)
معروف محقق جناب بشیر احمد اپنی کتاب ’’تحریک احمدیت‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’مرزا غلام احمد قادیانی برطانوی نوآباد کاروں کے ساتھ وفاداری کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ انہوں نے 20 جون 1897ء کو قادیان میں اپنی مربیہ اور کفیلہ اعظم ملکہ وکٹوریہ کی پچھترویں جوبلی کے لیے ایک خاص تقریب کا اہتمام کیا۔ قادیانی زعماء نے چھ زبانوں میں تقریریں کیں اور راج کی برکات پر روشنی ڈالی۔ ملکہ کی درازی عمر اور ہندوستان میں اس کے شاندار راج کی خوشحالی اور استقلال کی دعائیں مانگی گئیں۔ قصبے کے غریب لوگوں میں کھانا تقسیم کیا گیا جبکہ تمام گھروں، گلیوں اور مسجدوں میں چراغاں کیا گیا۔ 20 جون کو وائسرائے ہند لارڈ ایلگن کو مبارکباد کا تار بھجوایا گیا۔ اس مبارک موقع کی مناسبت سے ڈپٹی کمشنر کے ذریعے ملکہ وکٹوریہ کو کتاب تحفہ قیصریہ کا ایک خوبصورت مجلد نسخہ بھجوایا گیا۔ وائسرائے ہند اور پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر کو بھی کتاب کے نسخے بھجوائے گئے۔ ملکہ عالیہ کو ارسال کردہ نسخے میں انہوں نے بڑے ہی عاجزانہ طریقے سے ایک مختصر حاشیے میں اپنے گھرانے کی ان سیاسی خدمات کا تذکرہ کیا جو 1857ء اور اس کے بعد کے دور سے لے کر اس وقت تک جب
انہوں نے سلطنت کی خاطر اپنے عظیم کام کا بیڑہ اٹھایا تھا، سرانجام دی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی خدمات گنوائیں اور اپنے آپ کو برطانوی سلطنت کے حد درجہ وفادار، خیر خواہ اور ذلیل خوشامدی کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے بڑی شدت سے ملکہ کی طرف سے جواب کا انتظار کیا اور جب ملکہ نے یہ تحفہ قبول کرلیا تو آپ کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا اور ملکہ کے اس احسان عظیم پر آپ نے اس کا بے تحاشا شکر ادا کیا۔ ملکہ وکٹوریہ کی پچھترویں جوبلی کا دن ہندوستان میں برطانوی نوآبادکاروں کے لیے نفرت کی ایک لہر لے کر آیا۔ اسی دن شام کو دو یورپیوں مسٹر رینڈ جو کہ ہندوستانی افسر شاہی سے تعلق رکھتا تھا اور لیفٹیننٹ ایئرسٹ کو ایک سرکاری محل کے استقبالیہ سے واپس آتے ہوئے راستے میں ایک ہندو برہمن نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ یہ ایک سیاسی نوعیت کا قتل تھا اور ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف غم وغصہ کا حد درجہ اظہار۔ 22 جنوری 1901ء کو ملکہ وکٹوریہ نے وفات پائی۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی مربیہ ملکہ عالیہ معظمہ کی وفات پر بڑے رنجیدہ ہوئے اور آپ نے برطانوی حکومت کو مندرجہ ذیل برقی تار ارسال کیا۔
”میں اور میرے پیروکار اس گہرے غم کا اظہار کرتے ہیں جو ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی وفات کے باعث بہت بڑے نقصان کی شکل میں برطانوی سلطنت کو پہنچا ہے۔“
(انڈیا آفس لائبریری لندن میں یہ خط موجود ہے دیکھیں حکومت ہند محکمہ داخلہ کی جانب سے لارڈ جارج فرانسس ہیملٹن معتمد برائے داخلہ ہندوستان نمبر 24 بتاریخ 1901-3-7، مرزا غلام احمد قادیانی کی بٹالہ سے برقی تار بتاریخ 24 جنوری 1901ء) (تحریک احمدیت از بشیر احمد صفحہ 72)
6 زبانوں میں انگریز کی شکرگزاری
(27) ”وہ تقریر جو دُعا اور شکر گزاری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند میں سُنائی گئی جس پر لوگوں نے بڑی خوشی سے آمین کے نعرے مارے، وہ چھ زبانوں میں بیان کی گئی تا ہمارے پنجاب کے ملک میں جس قدر مسلمان کسی زبان میں دسترس رکھتے ہیں، اُن تمام زبانوں سے شکر ادا ہو۔ اُن میں سے ایک اُردو میں تقریر تھی جو شکر اور دُعا پر مشتمل تھی جو عام جلسہ میں سُنائی گئی اور پھر عربی اور فارسی اور انگریزی اور پنجابی اور پشتو میں تقریریں قلمبند ہو کر پڑھی گئیں۔ اُردو
میں اس لیے کہ وہ عدالت کی بولی اور شاہی تجویز کے موافق دفتروں میں رواج یافتہ ہے اور عربی میں اس لیے کہ وہ خدا کی بولی ہے جس سے دُنیا کی تمام زبانیں نکلیں اور جو اُمّ الالسنہ اور دنیا کی تمام زبانوں کی ماں ہے جس میں خدا کی آخری کتاب قرآن شریف خلقت کی ہدایت کے لیے آیا۔ اور فارسی میں اس لیے کہ وہ گذشتہ اسلامی بادشاہوں کی یادگار ہے۔ جنہوں نے اس ملک میں قریباً سات سو برس تک فرمانروائی کی۔ اور انگریزی میں اس لیے کہ وہ ہماری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور اس کے معزز ارکان کی زبان ہے جس کے عدل اور احسان کے ہم شکر گزار ہیں۔ اور پنجابی میں اس لیے کہ وہ ہماری مادری زبان ہے جس میں شکر کرنا واجب ہے اور پشتو میں اس لیے کہ وہ ہماری زبان اور فارسی زبان میں ایک برزخ اور سرحدی اقبال کا نشان ہے۔
اسی تقریب پر ایک کتاب شکر گزاری جناب قیصرہ ہند کے لیے تالیف کر کے اور چھاپ کر اُس کا نام تحفہ قیصریہ رکھا گیا اور چند جلدیں اس کی نہایت خوبصورت مجلد کرا کے اُن میں سے ایک حضرت قیصرہ کے حضور میں بھیجنے کے لیے بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر بھیجی گئی اور ایک کتاب بحضور وائسرائے گورنر جنرل کشور ہند روانہ ہوئی اور ایک بحضور جناب نواب لیفٹیننٹ گورنر پنجاب بھیج دی گئی ۔‘‘
(اشتہار، جلسہ احباب، برتقریب جشن جوبلی بغرض دعا و شکر گزاری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند
دام ظلہا نمبر 178 بتاریخ 23 جون 1897ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 114، 115
طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 394، 395 پر)
مرزا قادیانی اور اس کے جانشینوں کی مستند تحریروں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انہیں امت مسلمہ کے ماضی سے کوئی عقیدت ہے نہ اس کے حال سے کوئی دلچسپی ۔ مستقبل کی تو بات ہی نہ کیجیے۔ ہماری اور ان کی امنگوں میں کوئی یکسانیت ہے نہ یکجہتی ۔ ملت اسلامیہ کے دشمنوں کو وہ اپنا مربی اور سرپرست سمجھتے رہے۔ جس انگریز نے برصغیر میں اسلامی اقتدار کا چراغ گل کیا، ہماری تہذیبی قدروں کو روندا لاکھوں بے گناہ مسلمانوں اور علمائے کرام کو قتل کیا‘ کیا کسی مسلمان کے دل میں ان دشمنان اسلام کے لیے خیر سگالی کے جذبات پائے جاسکتے ہیں؟ لیکن افسوس ہے کہ مرزا قادیانی ان کے تعلق‘ مدح سرائی‘ دعائیں‘ خیر سگالی کے جذبات اور ان کے پنجہ استبداد کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل تقریری اور تحریری
کوششیں کرتا رہا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
- ❑ يايها الذين امنوا لا تتخذوا اليهود والنصارى اولياء بعضهم
اولياء بعض ط و من يتولهم منكم فانه منهم ط ان الله لا يهدى القوم الظلمين O
(المائدہ: 51)
ترجمہ: ”اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو شخص انہیں اپنا دوست بنائے گا تو وہ انہی میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔“
اس قرآنی تعلیم کے برعکس یہود و نصاریٰ سے دوستی، ان کی پرجوش حمایت اور جہاد کی ممانعت کے سلسلہ میں مرزا قادیانی کی بے شمار تحریروں میں سے صرف چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے اور غور کریں کہ وہ اسلام دشمنی میں کس طرح اپنی خدمات کے لیے ان کی ایک نگاہ التفات کے لیے بے تاب تھا۔
؎ وہاں قرآن اترا ہے، یہاں انگریز اترے ہیں
خدا تعالیٰ سے عہد
- (28) ”میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا بلکہ میں ان (والد غلام مرتضیٰ) کی
وفات کے بعد اللہ جل شانہ کی طرف جھک گیا اور ان میں جا ملا جنھوں نے دنیا کا تعلق توڑ دیا اور میرے رب نے اپنی طرف مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے نکال کر اپنی مقدس جگہ میں لے آیا اور مجھے اس نے دیا جو کچھ دیا اور مجھے ملہموں اور محدثوں میں سے کر دیا۔ سو میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے بجز اس کے کہ عمدہ گھوڑے قلموں کے مجھ کو عطا کیے گئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دیے گئے اور وہ نور مجھ کو عطا ہوا جو مجھے لغزش سے بچاتا اور راست روی کے آثار مجھ پر ظاہر کرتا ہے۔ پس اس الٰہی اور آسمانی دولت نے مجھے غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں میں داخل کیا۔ سو میں نے
چاہا کہ اس مال کے ساتھ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کروں۔ اگرچہ میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو نہیں اور نہ میں مالدار ہوں۔ سو میں اس کی مدد کے لیے اپنے قلم اور ہاتھ سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔“
(نورالحق حصہ اوّل صفحہ 28، 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 38، 39 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 396، 397 پر)
ہنس کے بولی آپ ہی کی دلربا سالی ہوں میں
آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ یہ زمانہ جنگ و جدل کا نہیں بلکہ قلم کا ہے۔ نیز اب تلوار کی نہیں بلکہ قلم کی ضرورت ہے۔ اس کا قلم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلوار ہے۔ ایک اور موقع پر اس نے دعویٰ کیا کہ اس کا قلم حضور نبی کریم ﷺ کی تلواروں کے برابر ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
مرزا قادیانی کا قلم...... حضرت علیؓ کی تلوار؟
- (29) ”اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سُلطان القلم اور میرے قلم کو ذوالفقار علی
فرمایا۔ اس میں یہی سر ہے کہ زمانہ جنگ وجدل کا نہیں ہے، بلکہ قلم کا زمانہ ہے۔“
(ملفوظات جلد اول، صفحہ 151، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 398 پر)
مرزا قادیانی کا قلم...... رسول اللہ ﷺ کی تلواروں کے برابر؟
- (30) ”اس وقت ہمارے قلم رسول اللہ ﷺ کی تلواروں کے برابر ہیں۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 114 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 399 پر)
قلمی اسلحہ
- (31) ”اس وقت جو ضرورت ہے، وہ یقیناً سمجھ لو، سیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ ہمارے
مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کئے ہیں اور مختلف سائنسوں اور مکائد کی رُو سے اللہ تعالیٰ کے سچے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے۔ اس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدان کارزار میں اُتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ بھی دکھلاؤں۔ میں کب اس میدان کے قابل ہو سکتا تھا۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اُس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 38، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 400 پر)
مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا بلند و بانگ دعوؤں کی روشنی میں آئیے! دیکھتے ہیں کہ اس کے قلم نے دین اسلام کی سربلندی اور اسلام دشمن باطل قوتوں کی سرکوبی کے سلسلہ میں اپنی کیا جولانیاں دکھائیں، کس دینی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کیا، کتنے مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کیا؟
بنائے آگ سے اس نے دو صد ہزار ابلیس
16 برس سے...... حق واجب ٹھہرا لیا
(32) ”میں ایک گوشہ نشین آدمی تھا جس کی دنیوی طریق پر زندگی نہیں تھی اور نہ اس کے کامل اسباب مہیا تھے۔ تاہم میں نے برابر 16 برس سے یہ اپنے پر حق واجب ٹھہرا لیا کہ اپنی قوم کو اس گورنمنٹ کی خیر خواہی کی طرف بلاؤں اور ان کو سچی اطاعت کی طرف ترغیب دوں۔ چنانچہ میں نے اس مقصد کی انجام دہی کے لیے اپنی ہر یک تالیف میں یہ لکھنا شروع کیا کہ اس گورنمنٹ کے ساتھ کسی طرح مسلمانوں کو جہاد درست نہیں۔ اور نہ صرف اس قدر بلکہ بار بار اس بات پر زور دیا کہ چونکہ گورنمنٹ برطانیہ، برٹش انڈیا کی رعایا کی محسن ہے، اس لیے مسلمانانِ ہند پر لازم ہے کہ نہ صرف اتنا ہی کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے مقابل پر بدارادوں سے رُکیں بلکہ اپنی سچی شکر گزاری اور ہمدردی کے نمونے بھی گورنمنٹ کو دکھلاویں۔“
(اشتہار، لائق توجہ گورنمنٹ نمبر 129 بتاریخ 10 دسمبر 1894ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل
صفحہ 459، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 401 پر)
- ❑ ”علاوہ اپنے والد مرحوم کی خدمت کے، میں سولہ برس سے برابر اپنی
تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔“
(اشتہار، لائق توجہ گورنمنٹ نمبر 129 بتاریخ 10 دسمبر 1894ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل
صفحہ 462 طبع جدید از مرزا قادیانی)
- ❑ ”میں اپنی جماعت کے لوگوں کو، جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود
ہیں، جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے، نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں، جو قریباً سولہ برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں، یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں۔“
(اشتہار، اپنی تمام جماعت کے لیے ضروری نصیحت نمبر 287 بتاریخ 7 مئی 1907ء مندرجہ
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 708 طبع جدید از مرزا قادیانی)
17 برس سے............ سرکار انگریزی کی خدمت
- (33) ”میں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریزی کی ایک ایسی خدمت میں مشغول
ہوں کہ درحقیقت وہ ایک ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے بزرگوں سے زیادہ ہے۔“
(اشتہار، عریضہ بحالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی نمبر 168 بتاریخ 22 مارچ 1897ء مندرجہ مجموعہ
اشتہارات جلد دوم صفحہ 66 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 402 پر)
- ❑ ”میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کیے ہیں، صاف ظاہر
ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل و جان خیر خواہ ہوں“
(کتاب البریہ صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 10 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم سترہ
برس سے سرکار انگریزی کی امداد و تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں، ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لیے
لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت موثر تقریریں لکھیں.......... پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لیے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے، پوری استقامت سے کام لیا، کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں، کوئی نظیر ہے؟.......... یہ سلسلہ ایک دو دن کا نہیں بلکہ برابر سترہ سال کا ہے۔“
(کتاب البریہ صفحہ 5، 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 6، 8 از مرزا قادیانی)
18 برس سے.......... کتابوں کی تالیف میں مشغول
(34) ”میں اٹھارہ برس سے ایسی کتابوں کی تالیف میں مشغول ہوں کہ جو مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلیشیہ کی محبت اور اطاعت کی طرف مائل کر رہے ہیں۔“
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات طبع جدید جلد دوم صفحہ 191 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 403 پر)
- ❑ ”اور نیز میری قلم کی وہ خدمات جو میرے اٹھارہ سال کی تالیفات سے
ظاہر ہیں، سب کی سب ضائع اور برباد نہ جائیں اور خدانخواستہ سرکار انگریزی اپنے ایک قدیم وفادار اور خیر خواہ خاندان کی نسبت کوئی تکدر خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔“
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 197 طبع جدید از مرزا قادیانی)
19 برس سے...... اپنا وقت بسر کیا
(35) ”یہ تو میرے باپ اور میرے بھائی کا حال ہے اور چونکہ میری زندگی فقیرانہ اور درویشانہ طور پر ہے، اس لیے میں ایسے درویشانہ طرز سے گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی اور امداد میں مشغول رہا ہوں۔ قریباً انیس برس سے ایسی کتابوں کے شائع کرنے میں، میں نے اپنا وقت بسر کیا ہے جن میں یہ ذکر ہے کہ مسلمانوں کو سچے دل سے اس گورنمنٹ کی خدمت کرنی چاہیے اور اپنی فرمانبرداری اور وفاداری کو دوسری قوموں سے بڑھ کر دکھلانا چاہیے اور
میں نے اسی غرض سے بعض کتابیں عربی زبان میں لکھیں، اور بعض فارسی زبان میں اور ان کو دور دور ملکوں تک شائع کیا۔ اور ان سب میں مسلمانوں کو بار بار تاکید کی اور معقول وجوہ سے ان کو اس طرف جھکایا کہ وہ گورنمنٹ کی اطاعت بدل و جان اختیار کریں۔“
(کشف الغطاء صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 185 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 404 پر)
20 برس تک ......... تعلیم اطاعتِ گورنمنٹ انگریزی
(36) ”میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا، اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا۔“
(تریاق القلوب صفحہ 28، مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 156 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 405 پر)
- ”بیس برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی
اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیرخواہ اور دلی جان نثار ہو جائیں۔“
(اشتہار، حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست نمبر 218 بتاریخ 27 دسمبر 1899ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم، صفحہ 355 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرأت سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بست
سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کرسکتا۔“
(تریاق القلوب صفحہ 361 تا 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 489 تا 491 از مرزا قادیانی)
22 برس سے...... اپنے ذمہ فرض کر رکھا ہے
(37) ”میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلادِ عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں کیونکہ اس کتاب کے صفحہ 152 میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں
جہاد کی ممانعت ہو، اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔“
(اشتہار، المنار نمبر 246 بتاریخ 18 نومبر 1901ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 533
طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 406 پر)
- ”ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا
کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا اور میں اس قدر خدمت کر کے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں۔“
(ستارہ قیصرہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 114، از مرزا قادیانی)
- ”اس ملک برٹش انڈیا میں یہ عقیدہ اکثر مسلمانوں کا بہت کچھ اصلاح پذیر ہو گیا ہے۔
اور ہزار ہا مسلمانوں کے دل میری بائیس تئیس سال کی کوششوں سے صاف ہو گئے ہیں۔“
(ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی)
26 برس سے........... تقریری اور تحریری خدمات
(38) ”چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں میں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں سے اور کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں جن سے بغاوت کی بو آتی ہے۔ بلکہ مجھے شک ہوتا ہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائے گا۔ اس لیے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے، نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں جو قریباً 26 برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے۔“
(اشتہار، اپنی تمام جماعت کے لیے ضروری نصیحت نمبر 287 بتاریخ 7 مئی 1907ء مندرجہ مجموعہ
اشتہارات طبع جدید جلد دوم صفحہ 708 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 407 پر)
60 سال تک.............
(39) ”دوسرا امر قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ
برس کی عمر تک پہنچا ہوں، اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیرخواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں۔‘‘
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 190 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 408 پر)
ہر وقت
(40) ’’ہماری قلم جو ہر یک وقت اس گورنمنٹ عالیہ کی مدح وثنا میں چل رہی ہے، اس قانون کے پاس ہونے سے اپنی گورنمنٹ کو دوسروں پر ترجیح دینے کے لیے ایک ایسا وسیع مضمون پائے گی جو آفتاب کی طرح چمکے گا۔‘‘
(اشتہار، نوٹس بنام آریہ صاحبان نمبر 134 بتاریخ 22 ستمبر 1895ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات
جلد اوّل، صفحہ 484، طبع جدید از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 409 پر)
ہر وقت یہی چاہتا ہوں!
(41) ’’اس سے زیادہ اور کیا خیر خواہی ہوگی کہ میں سچے دل سے نہ منافقانہ طور پر اس گورنمنٹ کی نسبت بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا گناہ سمجھتا ہوں اور اس بات کو فرض جانتا ہوں کہ اس کی شکر گزاری کی جائے اور اس کی خدمت گزاری میں قصور نہ کریں اور اس کی اطاعت میں دریغ نہ کریں۔ ............ ہر وقت یہی چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں میں سچی محبت اس گورنمنٹ کی پیدا ہو۔ بیشک میں جیسا کہ میرے خدا نے میرے پر ظاہر کیا، صرف اسلام کو دنیا میں سچا مذہب سمجھتا ہوں، لیکن اسلام کی سچی پابندی اسی میں دیکھتا ہوں کہ ایسی گورنمنٹ جو درحقیقت محسن اور مسلمانوں کے خون اور آبرو کی محافظ ہے، اس کی سچی اطاعت کی جائے۔ میں گورنمنٹ سے ان باتوں کے ذریعہ سے کوئی انعام نہیں چاہتا۔ میں اُس سے درخواست نہیں کرتا کہ اس خیر خواہی کی پاداش میں میرا کوئی لڑکا معزز عہدہ پر ہو جائے۔ یہ میرا ایک عقیدہ ہے جو سچائی اور شکر گزاری کی پابندی سے رکھتا ہوں نہ کسی اور غرض
ے۔ میری رائے قدیم سے گورنمنٹ کی نسبت یہی ہے جو میں نے بیان کی ۔“
(اشتہار انما الاعمال بالنیات نمبر 139 بتاریخ 21 اکتوبر 1895ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات
جلد اوّل صفحہ 518 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 410 پر)
کہتے ہیں چوہے کی نظر ایک بالشت تک ہوتی ہے، اس سے آگے نہیں دیکھ سکتا۔ یہ بات مرزا قادیانی پر سوفیصد منطبق ہوتی ہے کہ اُسے انگریز حکومت کی چاپلوسی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔
انگریز کے خلاف کبھی کوئی لفظ نہیں کہا
- (42) ”میرے بیان میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہو گا جو کہ گورنمنٹ انگریزی کے برخلاف ہو
اور ہم اس گورنمنٹ کے شکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے اس سے امن اور آرام پایا ہے۔“
(پیغام صلح صفحہ 63، مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 484 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 411 پر)
عمر کا اکثر حصہ
- (43) ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے۔“
(تریاق القلوب صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 412 پر)
ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالم افکار
سلطنت برطانیہ ...... نعمت الٰہی ، نعمت عظمیٰ
- (44) ”بالآخر یہ بات بھی ظاہر کرنا ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ اگرچہ تمام
ہندوستان پر یہ حق واجب ہے کہ بنظر ان احسانات کے جو سلطنتِ انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامہ خلائق پر وارد ہیں۔ سلطنت ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور دیگر نعماء الٰہی کے، اس کا شکر بھی ادا کریں۔ لیکن پنجاب کے مسلمان
بڑے ناشکر گزار ہوں گے، اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے، نعمت عظمیٰ یقین نہ کریں۔“
(براہین احمدیہ جلد اول تا چہارم صفحہ 140 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 140 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 413 پر)
اور غور کیجیے کہ چودہ سو سال سے جس مسیح کی آمد کی خوش خبری مسلمانوں کے کانوں میں گونج رہی ہے، معاذ اللہ، کیا وہ ایسا ہی مسیح ہے کہ جو صلیب پرستوں اور اسلامی حکومتوں کے دشمنوں کا مداح و ثنا خواں ہو، ان کے شکر اور دعا میں مع اپنی تمام امت کے رطب اللسان ہو، اسلامی حکومتوں کے زوال پر چراغاں کرنے والا ہو، اور مسلمانوں کے قاتلوں کو مبارک باد کے تار دینے والا ہو۔ مسیح کا کام تو کفر کی حکومت کو ختم کرنا ہے، نہ کہ دشمنانِ اسلام کی تائید اور حمایت کرنا اور ان کی بقا اور ترقی کے لیے دل و جان سے دعا کرنا اور ان کے سایہ کو سایہ رحمت سمجھنا۔
گورنمنٹ برطانیہ............ ابر رحمت
(45) ”یہ بات قطعی اور فیصلہ شدہ ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ مسلمانان ہند کی محسن ہے کیونکہ سکھوں کے زمانہ میں ہمارے دین اور دُنیا دونوں پر مصیبتیں تھیں۔ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو دُور سے ابر رحمت کی طرح لایا اور ان مصیبتوں سے اس گورنمنٹ کے عہد دولت نے ایک دم میں ہمیں چھڑا دیا۔ پس اس گورنمنٹ کا شکر نہ کرنا بدذاتی ہے اور جو شخص ایسے احسانات دیکھ کر پھر نفاق سے زندگی بسر کرے اور سچے دل سے شکر گزار نہ ہو تو بلاشبہ کافر نعمت ہے۔ ہماری ایمانداری کا یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ ہم تہ دل سے اقرار کریں کہ درحقیقت یہ گورنمنٹ ہماری محسن ہے۔ ہم اس گورنمنٹ کے قدوم میمنت لزوم سے ہزاروں بلاؤں سے بچے اور ہمیں وہ آزادی ملی جس کے ذریعہ سے ہم دین اور دُنیا دونوں درست کر سکتے ہیں۔ پس اگر اب بھی ہم اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ نہ ہوں تو خدا تعالیٰ کے سامنے ناشکرے ٹھہریں گے۔ یہ وہ تمام باتیں ہیں جن کو مَیں نے مختلف کتابوں میں شائع کیا اور سولہ برس تک برابر میں اس خدمت کو بجا لاتا رہا۔“
(اشتہار، لائق توجہ گورنمنٹ نمبر 129 بتاریخ 10 دسمبر 1894ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل
صفحہ 460,459 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 414، 415 پر)
آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ سکھوں نے مسلمانوں پر بہت ظلم و تشدد کیا اور ان کے زمانہ میں بڑی مصیبتیں آئیں۔ صرف انگریز نے انہیں سکھوں کے جبر و استبداد سے بچایا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا خاندان ہمیشہ سکھوں کا خیرخواہ رہا اور ان کے سرکردہ افراد نے سکھوں کی فوج میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر کے ان کے شانہ بشانہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و تشدد کا بازار گرم رکھا۔ معروف محقق جناب بشیر احمد رقم طراز ہیں:
”احمدیہ تحریک کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کا تعلق پنجاب کے ایک مغل گھرانے سے تھا۔ سکھ حکمرانوں نے آپ کے پردادا مرزا گل محمد کو آبائی علاقے قادیان سے نکال دیا تھا۔ آپ نے اس وقت پنجاب کے حکمران راجہ رنجیت سنگھ کے ایک مخالف سردار فتح سنگھ کے دربار میں اپنے اہل وعیال سمیت پناہ لے لی۔ فتح سنگھ کے مرنے کے بعد رنجیت سنگھ نے اس کے علاقے بھی قبضہ میں لے لیے۔ مرزا غلام احمد کے باپ مرزا غلام مرتضیٰ اور ان کے چچا مرزا غلام محی الدین نے سکھ فوج میں شامل ہو کر سکھوں کے مظالم کے خلاف شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کی تحریک آزادی کچلنے میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ مرزا مرتضیٰ نے شمال مغربی ہند میں سید احمد شہید کے ساتھیوں اور ان کشمیری مسلمانوں کو شہید کیا جو سکھوں کے اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ رنجیت سنگھ نے کشمیر پر 1818ء میں اور پشاور پر 1823ء میں قبضہ کیا۔ 1834ء میں ان کی ”پیش بہا“ خدمات کے عوض رنجیت سنگھ نے قادیان میں ان کے پانچ گاؤں بحال کر دیئے۔ اگلے سال رنجیت سنگھ نے وفات پائی۔ اس کی وفات کے بعد مرکزی قوت کمزور پڑنے لگی اور انگریزوں کا اثر و نفوذ بڑھنے لگا۔ مرزا غلام مرتضیٰ نے انگریزوں کی طرفداری کی اور وہ سکھ دربار میں انگریزوں کے قابل اعتماد آلہ کار بن گئے۔ جب سکھوں کو اس بات کا علم ہو گیا تو انہوں نے انہیں اور ان کے بھائی مرزا غلام محی الدین کو قتل کرنے کی کوشش کی مگر یہ اپنے چھوٹے بھائی مرزا غلام حیدر کی مداخلت کے باعث بچ گئے ۔...........................
1857ء کی جنگ آزادی میں خدمات سرانجام دینے والے وفادار گھرانوں کی دستاویز تیار کرتے ہوئے ”پنجاب کے رؤسا“ نامی کتاب میں سرلیپل گریفن، مرزا غلام مرتضیٰ کی خدمات کے بارے میں مندرجہ ذیل خیالات پیش کرتا ہے۔
”نونہال سنگھ، شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دور دورے میں غلام مرتضیٰ ہمیشہ فوجی خدمت پر مامور رہا۔ 1841ء میں یہ جرنیل ونچورا کے ساتھ منڈی اور کلو کی طرف بھیجا گیا اور
1843ء میں ایک پیادہ فوج کا کمیدان بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ ہزارہ کے مفسدے میں اس نے کارہائے نمایاں کیے اور جب 1848ء کی بغاوت ہوئی تو یہ اپنی سرکار کا نمک حلال رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔ اس موقعہ پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں۔ جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج لیے دیوان مولراج کی امداد کے لیے ملتان کی طرف جا رہا تھا تو غلام محی الدین اور دوسرے جاگیرداران لنگر خان ساہیوال اور صاحب خان ٹوانہ نے مسلمانوں کو بھڑکایا اور مصر صاحب دیال کی فوج کے ساتھ باغیوں سے مقابلہ کیا اور ان کو شکست فاش دی۔ ان کو سوائے دریائے چناب کے کسی اور طرف بھاگنے کا راستہ نہ تھا۔ جہاں چھ سو سے زیادہ آدمی ڈوب کر مر گئے۔‘‘ ....................
سر ظفر اللہ بیان کرتے ہیں کہ مرزا غلام مرتضیٰ نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور کئی لڑائیوں میں اعزازات حاصل کیے۔ بعد ازاں انہوں نے اور ان کے بڑے بیٹے مرزا غلام قادر نے انگریزوں کے لیے قابلِ تعریف خدمات سرانجام دیں جن کو حکام نے باقاعدہ پسند کیا۔‘‘ (تحریکِ احمدیت از بشیر احمد)
سلطنت برطانیہ ............. بارانِ رحمت
- (46) ’’یہ بات بھی ظاہر کرنا ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ اگرچہ تمام ہندوستان پر
یہ حق واجب ہے کہ بنظر اُن احسانات کے کہ جو سلطنتِ انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامۂ خلائق پر وارد ہیں۔ سلطنتِ ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل اور نعماء الٰہی کے، اس کا شکر بھی ادا کریں۔ لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکرگزار ہوں گے اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے، نعمتِ عظمیٰ یقین نہ کریں۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ اس سلطنت سے پہلے وہ کس حالتِ پُر ملالت میں تھے اور پھر کیسے امن و امان میں آ گئے۔ پس فی الحقیقت یہ سلطنت ان کے لیے ایک آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے جس کے آنے سے سب تکلیفیں ان کی دور ہوئیں اور ہر ایک قسم کے ظلم اور تعدی سے نجات حاصل ہوئی اور ہر یک ناجائز روک اور مزاحمت سے آزادی میسر آئی۔ کوئی ایسا مانع نہیں کہ جو ہم کو نیک کام کرنے سے روک سکے یا ہماری آسائش میں خلل ڈال سکے۔ پس حقیقت میں خداوند کریم و رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لیے
ایک باران رحمت بھیجا ہے جس سے پودہ اسلام کا پھر اس ملک پنجاب میں سرسبز ہوتا جاتا ہے اور جس کے فوائد کا اقرار حقیقت میں خدا کے احسانوں کا اقرار ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ اول تا چہارم صفحہ 140، مندرجہ روحانی خزائن جلد 1، صفحہ 140 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 416 پر)
انگریزی سلطنت، ایک رحمت اور برکت
(47) ’’سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کیے جانے سے بچے ہوئے ہو۔ ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ سو انگریزی سلطنت تمہارے لیے ایک رحمت ہے، تمہارے لیے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہاری وہ سپر ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو۔‘‘
(اشتہار، اپنی تمام جماعت کے لیے ضروری نصیحت نمبر 287 بتاریخ 7 مئی 1907ء مندرجہ مجموعہ
اشتہارات جلد دوم صفحہ 709 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 417 پر)
گورنمنٹ انگریزی کا زمانہ...... روحانی اور جسمانی برکات کا مجموعہ
(48) ’’بعد اس کے گورنمنٹ انگریزی کا زمانہ آیا۔ یہ زمانہ نہایت پُر امن ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم خالصہ قوم کی عملداری کے دنوں کو امن عامہ اور آسائش کے لحاظ سے انگریزی عملداری کی راتوں سے بھی برابر قرار دیں تو یہ بھی ایک ظلم اور خلاف واقعہ ہوگا۔ یہ زمانہ روحانی اور جسمانی برکات کا مجموعہ ہے۔ اور آنے والی برکتیں اس کی ابتدائی بہار سے ظاہر ہیں۔‘‘
(لیکچر لاہور صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 20 صفحہ 176، از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 418 پر)
برٹش گورنمنٹ میں آسمان، زمین سے نزدیک ہو گیا
(49) ’’گورنمنٹ کو یہ فخر ہونا چاہئے کہ اس ملک میں اور اس کے زمانہ بادشاہت میں خدا
اپنے بعض بندوں سے وہ تعلق پیدا کر رہا ہے کہ جو قصوں اور کہانیوں کے طور پر کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ اس ملک پر یہ رحمت ہے کہ آسمان زمین سے نزدیک ہو گیا ہے۔ ورنہ دوسرے ملکوں میں اس کی نظیر نہیں!“
(سراج منیر صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12، صفحہ 23، از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 419 پر)
سرکار انگریزی پھل دار درخت کی طرح ہے
- (50) ’’سرکار انگریزی اس درخت کی طرح ہے جو پھلوں سے لدا ہوا ہو۔ اور ہر ایک شخص
جو میوہ چینی کے قواعد کی رعایت سے اس درخت کی طرف ہاتھ لمبا کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی پھل اس کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ ہماری بہت سی مرادیں ہیں جن کا مرجع اور مدار خدائے تعالیٰ نے اس گورنمنٹ کو بنا دیا ہے۔ اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ رفتہ رفتہ وہ ساری مرادیں اس مہربان گورنمنٹ سے ہمیں حاصل ہوں ۔‘‘
(اشتہار، جمعہ کی تعطیل نمبر 147 بتاریخ یکم جنوری 1896ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل
صفحہ 548 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 420 پر)
راحت کا جام
- (51) ’’بیشک ہم اس سلطنت برطانیہ کے زیر سایہ پوری آزادی سے زندگی بسر کر رہے
ہیں اور اس حکومت کی مہربانی سے ہمارے اموال، ہماری جانیں، ہماری ملت اور ہماری عزتیں ظالموں کے ہاتھوں سے محفوظ ہیں۔ پس ہم پر واجب ہے کہ ہم اس کی مہربانی کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ اس نے ہم کو اپنی عمدہ خصال کی وجہ سے راحت کا جام پلایا ہے، تہ دل سے اس کا شکریہ ادا کریں اور ہم پر یہ بھی واجب ہے کہ ہم اس کے دشمنوں (مسلمانوں) کو تلواروں کی چمک دکھائیں اور اس کے خلاف نہیں بلکہ اس کی خاطر اپنے غصہ کی آگ کو بھڑکائیں ۔‘‘
(اشتہار، دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ، مسیح موعود کی طرف سے نمبر 225 بتاریخ 7 جون 1900ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 417 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 421 پر)
1857ء میں مرزا قادیانی کوئی ناسمجھ طفل نہیں بلکہ بھرپور جوان تھا اور 1857ء میں
انگریزوں نے اپنی کامیابی کے بعد مسلمانوں سے کیا سلوک کیا؟ ان سے جہاد آزادی کا کیا انتقام لیا؟ اس سے وہ ناواقف نہیں ہو سکتا تھا۔ جس حکومت کو مرزا قادیانی ”خدا کی رحمت“ قرار دیتا تھا، اس کے ماتحت مسلمانوں کی حالت زار کلیجہ تھام کر سنیے:
1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی کامیابی کے بعد مسلمان ہونا جرم بن گیا تھا۔ فوج کو یہ اجازت دے دی گئی تھی کہ تین دن تک دہلی میں ماورائے قانون و اخلاقیات ہر قسم کا کام کیا جاسکتا ہے۔ حکومت برطانیہ نے اس شہر کے باشندوں کی عزت و آبرو، مال و دولت کو ہر بھوکے فوجی بھیڑیے کے لیے کھول دیا۔ بس پھر کیا تھا، فوج دندناتی پھر رہی تھی۔ کوئی قانون نہ تھا۔ سکھوں اور انگریزوں نے مل کر وہ دہشت گردی مچائی کہ اللہ کی پناہ۔ تہذیب وتمدن کے ان علمبرداروں نے تہذیب انسانی کو برہنہ کر دیا۔ شرافت کا منہ نوچ لیا۔ حیا کے نقاب کو تار تار کر دیا۔ پردہ پوش خواتین کو گھروں سے نکال کر بالوں سے پکڑ کر عریاں گھسیٹے ہوئے گورے ٹامیوں کے کیمپوں میں پہنچا دیا گیا۔ جس مسلمان کو دیکھا اس کو غدار سمجھ کر سولی پر چڑھا دیا یا توپ دم کر دیا۔ انبالہ سے دہلی تک کوئی درخت ایسا نہ تھا جس پر کسی مسلمان کی لاش نہ لٹکتی ہو۔ آسمان بار بار حیرت سے اس منظر کو دیکھ رہا تھا کہ جب سے اسے پروردگار عالم نے تخلیق کیا تھا، اس کی نگاہ نے آج تک سفاکی اور درندگی کے یہ نمونے نہیں دیکھے تھے۔ ان نظاروں کو دیکھ کر ظہیر دہلوی نے کہا تھا:
مورخین کے مطابق: چاندنی چوک دہلی میں سولی نصب کر دی گئی۔ انگریز فوجی شہر میں گھومتے تھے اور عورتوں اور بچوں کو پکڑ کر یہاں لے آتے تھے۔ ہزاروں بے قصور مسلمانوں کو انگریزوں نے مار ڈالا۔ ان کے بدنوں کو سنگینوں سے چھیدا جاتا تھا۔ مسلمانوں کو ننگا کر کے اور زمین سے باندھ کر سر سے پاؤں تک جلتے ہوئے تانبہ کے ٹکڑوں سے بری طرح داغ دیا جاتا اور انہیں سور کی کھالوں میں سی دیا جاتا۔ ہزاروں مسجدوں کو مسمار کر کے انہیں سکھوں کی بیرکیں بنا دیا گیا جہاں سکھ سور پکا کر انگریزوں کی دعوت کرتے اور پھر وہ مقدس اور باعصمت مسلمان خواتین جن پر کبھی سورج کی نگاہ نہ پڑی تھی، گھروں سے نکال کر لایا جاتا اور انہیں برہنہ کر کے شراب پینے اور رقص کرنے پر مجبور کیا جاتا۔ ان کے انکار پر زبردستی ان سے شیطانی ہوس پوری کر کے بعد ازاں انہیں اذیتیں دے دے کر موت کی ابدی نیند سلا دیا جاتا۔
ہزاروں مسلمان عورتوں نے فوج کے خوف سے کنوؤں میں چھلانگ لگا دی، یہاں تک کہ پانی میں ڈوب گئیں۔ جب زندہ عورتوں کو کنوؤں سے نکالنا چاہا تو انہوں نے کہا ہمیں گولیوں سے مار ڈالو، نکالو نہیں، ہم شریف گھروں کی بہو بیٹیاں ہیں۔ ہماری عزت خراب نہ کرو۔ بعض مسلمانوں نے اپنی عورتوں کو قتل کر کے خودکشی کر لی۔
جہاں جیتی ہوئی ہر چیز جینے کو ترستی ہے
بقول حضرت مولانا محمد اقبال رنگونی: ”سقوط دہلی کے بعد مسلمانوں پر جو گزری ہے وہ تاریخ میں محفوظ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ دور دیکھا ہے۔ وہ اس وقت بچہ نہ تھا کہ اسے کچھ بھی معلوم نہ ہو اور اس کے بعد گزرنے والا ہر دن ہندوستان کے باشندوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے قیامت کا منظر بنا ہوا تھا اور قدم قدم پر ہوش ربا اور روح فرسا واقعات رونما ہو رہے تھے اور یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جا رہا تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا اسی غلامی اور جبر و تسلط کے دور سے تعلق ہے۔ یہ زیادتی اور ناانصافی کا زمانہ ہے مگر ایک مدعی نبوت اس دور غلامی کو رحمت و برکت کا زمانہ بتاتا ہے اور ظالموں و جابروں کے قصیدے اور نغمے گا گا کر ملت اسلامیہ کو ان کا غلام رہنے کی تعلیم و تاکید کرتا ہے۔“
13 اپریل 1919ء کو بیساکھی کے روز جلیانوالہ باغ کے احتجاجی جلسہ میں جنرل ڈائر نے نہتے لوگوں پر انگریز سپاہیوں کے کئی دستوں کے ساتھ دھاوا بول دیا۔ جلیانوالہ باغ کو فوج نے چاروں طرف سے گھیر لیا اور بغیر کسی انتباہ کے پُرامن عوام پر اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ نوجوان گولیاں کھا کھا کر گرتے تھے اور ان کی جگہ اور نوجوان آ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جلیانوالہ باغ میں خون انسانی کی ندیاں بہنے لگیں۔ زخمی تڑپتے اور کراہتے ہوئے نظر آنے لگے، جو لوگ اس آتش بازی سے جاں بچانے کے لیے بھاگے، وہ جلیانوالہ باغ کے کنوئیں میں گر کر جاں بحق ہو گئے۔ جلیانوالہ باغ میں ہر طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں اور کنواں لاشوں سے اٹ گیا تھا۔ ڈائر نے جس وحشت و بربریت کا مظاہرہ کیا، اس نے 1857ء کے میجر ہڈسن اور کرنل نیل کے ظلم وستم کی داستان خونچکاں کی یاد تازہ کر دی۔ میجر ہڈسن وہ خونخوار بھیڑیا تھا جس نے مغل شہزادوں کے سر کاٹ کر ان کا چلو بھر خون پیا تھا اور ان شہزادوں کے سروں کو ایک طشت میں لگا کر ہندوستان کے
آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کی خدمت میں پیش کیا تھا اور کرنل نیل وہ شیطان صفت بدطینت وحشی درندہ تھا جس نے 1857ء میں مسلم خواتین کو بے لباس کر کے ان کے بیٹوں اور بھائیوں کو ان سے برا بھلا کرنے پر مجبور کیا تھا اور جب ان مجاہدوں نے انکار کیا تو انھیں بڑی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ بعد ازاں ان شریف زادیوں کو وحشی ٹامیوں کے حوالے کر دیا گیا اور پھر جو ہوا سو ہوا حتیٰ کہ وہ ہمیشہ کی نیند سو گئیں۔
کہیں کہیں سے سنائے ہیں ہم نے افسانے
اگر مرزا قادیانی ان ستم رانیوں اور وحشت و بربریت کے باوجود انگریزی سلطنت کو ”رحمت خداوندی“ سمجھتا تھا تو پھر بیچارے چنگیز اور ہلاکو تو خواہ مخواہ میں بدنام ہیں۔ وہ تو انگریز کے مقابلے میں رحمت کے بہت بڑے فرشتے تھے کیونکہ انھوں نے کبھی شریف زادیوں کو ننگا کر کے ان کے لواحقین کو ان سے بدکاری کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا حالانکہ وہ کورے وحشی تھے اور ”مہذب“ انگریز کے مقابلے میں تہذیب و تمدن جیسی کوئی چیز ان کے پاس سے نہ گزری تھی۔ کٹے ہوئے سروں کے مینار، انسانی خون کی بہتی ہوئی ندیاں، کراہتے ہوئے زخمیوں کا تڑپنا، بے بس عورتوں کی چیخ و پکار اور جلے ہوئے شہروں کی اُڑتی ہوئی راکھ، چنگیز اور ہلاکو کی فوجوں کے دل پسند مناظر تھے لیکن ان کی قتل و غارت کی ساری تاریخ میں ایک واقعہ بھی نہیں جہاں انھوں نے بے بس عورتوں کو برہنہ کر کے ان کے لواحقین کو ان سے فعل بد کرنے پر مجبور کیا ہو لیکن یہ ننگ انسانیت، طغرائے امتیاز صرف اس سلطنت کو حاصل ہوا جو مرزا قادیانی کی نگاہ میں ”رحمت خداوندی“ تھی اور جس کے وہ عمر بھر قصیدے پڑھتا رہا۔ اگر یہ رحمت تھی تو پتہ نہیں لعنت کس کو کہتے ہیں؟
دنیا کی سب سے بڑی مکار، ظالم، اسلام دشمن، حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی عزت و ناموس پر ہر روز نئی یورش کرنے والی اور مسلمانوں کے خون سے صدیوں ہولی کھیلنے والی انگریز حکومت کو، ٹھیک اس وقت جب اس کے ہاتھ ہندوستان کے ہزاروں علما اور مجاہدین حریت کے خون سے رنگین تھے اور اس لمحے جب یہ حکومت اسلام کو صفحہ ہستی سے نابود اور ملت اسلامیہ کے وجود کو ختم کرنے کے لیے پوری مسلم دنیا پر حملہ آور تھی، مرزا قادیانی کہتا ہے:
اسلام کو دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت سے ملی!
(52) ”ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔ تم چاہو، دل میں مجھے کچھ کہو، گالیاں نکالو، یا پہلے کی طرح کافر کا فتویٰ لکھو۔ مگر میرا اصول یہی ہے کہ ایسی سلطنت سے دل میں بغاوت کے خیالات رکھنا یا ایسے خیال جن سے بغاوت کا احتمال ہوسکے، سخت بدذاتی اور خدا تعالیٰ کا گناہ ہے۔“
(تریاق القلوب صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 156 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 422 پر)
حدیثوں سے انگریز سلطنت کی تعریف ثابت ہوتی ہے!
(53) ”یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح حکم ہو کر آئے گا اور وہ اسلام کے تمام فرقوں پر حاکم عام ہوگا۔ جس کا ترجمہ انگریزی میں گورنر جنرل ہے۔ سو یہ گورنری اُس کی زمین کی نہیں ہوگی۔ بلکہ ضرور ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرح غربت اور خاکساری سے آوے، سو ایسا ہی وہ ظاہر ہوا۔ تا وہ سب باتیں پوری ہوں جو صحیح بخاری میں ہیں کہ یضع الحرب یعنی وہ مذہبی جنگوں کو موقوف کر دے گا اور اس کا زمانہ امن اور صلح کاری ہوگا۔ جیسا کہ یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے زمانہ میں شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے اور سانپوں سے بچے کھیلیں گے۔ اور بھیڑیئے اپنے حملوں سے باز آئیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایک ایسی سلطنت کے زیر سایہ پیدا ہوگا جس کا کام انصاف اور عدل گستری ہوگا۔ سو اِن حدیثوں سے صریح اور کھلے طور پر انگریزی سلطنت کی تعریف ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ مسیح اِسی سلطنت کے ماتحت پیدا ہوا ہے اور یہی سلطنت ہے جو اپنے انصاف سے سانپوں کو بچوں کے ساتھ ایک جگہ جمع کر رہی ہے اور ایسا امن ہے کہ کوئی کسی پر ظلم نہیں کر سکتا۔ اس لیے مجھے جو میں مسیح موعود ہوں، زمین کی بادشاہت سے کچھ تعلق نہیں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 16، 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 144، 145 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 423، 424 پر)
کیا مسیح موعود کے دعویدار مرزا قادیانی کے زمانہ میں یہ سب نشانیاں پوری ہوئیں کہ اس کے زمانہ میں شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے رہے، سانپوں سے بچے کھیلتے
رہے اور بھیڑیے اپنے حملوں سے باز آگئے؟ احادیث نبوی ﷺ سے انگریز سلطنت کی تعریف ثابت کرنا ایک ملحد کا ہی کام ہوسکتا ہے۔ (العیاذ باللہ)
حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ سے بڑھ کر
- (54) ”اس مبارک گورنمنٹ کے زمانہ کو اگر اس امن کے زمانہ سے مشابہت دیں جو
حضرت نوح علیہ السلام کے وقت میں تھا تو یہ زمانہ بلاشبہ اس کا مثیل غالب ہوگا۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 58 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 131 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 425 پر)
انگریزی گورنمنٹ بمقابلہ رومی گورنمنٹ!
- (55) ”جب کوئی موقعہ میرے مخالفوں کو ملا ہے، انہوں نے میرے کچل دینے اور ہلاک
کر دینے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا اور کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مگر خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے ہر آگ سے بچایا، اسی طرح جس طرح پر وہ اپنے رسولوں کو بچاتا آیا ہے۔ میں ان واقعات کو مدنظر رکھ کر بڑے زور سے کہتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ بمراتب اس رومی گورنمنٹ سے بہتر ہے جس کے زمانہ میں مسیح کو دکھ دیا گیا۔ پیلاطوس گورنر جس کے روبرو پہلے مقدمہ پیش ہوا وہ دراصل مسیح کا مرید تھا۔ اور اس کی بیوی بھی مرید تھی۔ اس وجہ سے اس نے مسیح کے خون سے ہاتھ دھوئے مگر باوجود اس کے کہ وہ مرید تھا اور گورنر تھا اُس نے اس جرأت سے کام نہ لیا جو کپتان ڈگلس نے دکھائی۔ وہاں بھی مسیح بے گناہ تھا اور یہاں بھی میں بے گناہ تھا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں اور تجربہ سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو حق کے لیے ایک جرأت دی ہے۔ پس میں اس جگہ پر مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان پر فرض ہے کہ وہ سچے دل سے گورنمنٹ کی اطاعت کریں۔ یہ بخوبی یاد رکھو کہ جو شخص اپنے محسن انسان کا شکرگزار نہیں ہوتا، وہ خدا تعالیٰ کا شکر بھی نہیں کرسکتا۔ جس قدر آسائش اور آرام اس زمانہ میں حاصل ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی۔“
(لیکچر لدھیانہ صفحہ 23، 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 271، 272 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 426، 427 پر)
دل، جان اور رگ و ریشہ میں شکر
(56) ”خدا تعالیٰ نے ایک اور رحمت کی طرح اس گورنمنٹ کو ہمارے آرام کے لیے بھیج دیا۔ پھر کس قدر بدذاتی ہو گی کہ ہم اس نعمت کا شکر بجا نہ لاویں۔ اس نعمت کی عظمت تو ہمارے دل اور جاں اور رگ و ریشہ میں منقوش ہے اور ہمارے بزرگ ہمیشہ اس راہ میں اپنی جان دینے کے لیے تیار رہے۔ پھر نعوذ باللہ کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنے دلوں میں مفسدانہ ارادے رکھیں۔“
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء مندرجہ مجموعہ
اشتہارات جلد دوم صفحہ 191 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 428 پر)
رگ و ریشہ میں شکر گزاری
(57) ”یہ عاجز صاف اور مختصر لفظوں میں گزارش کرتا ہے کہ باعث اس کے کہ گورنمنٹ انگریزی کے احسانات میرے والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم کے وقت سے آج تک اس خاندان کے شامل حال ہیں، اس لیے نہ کسی تکلف سے بلکہ میرے رگ و ریشہ میں شکر گزاری اس معزز گورنمنٹ کی سمائی ہوئی ہے۔ میرے والد مرحوم کی سوانح میں سے وہ خدمات کسی طرح الگ ہو نہیں سکتیں۔ جو وہ خلوص دل سے اس گورنمنٹ کی خیر خواہی میں بجالائے۔ انہوں نے اپنی حیثیت اور مقدرت کے موافق ہمیشہ گورنمنٹ کی خدمت گزاری میں اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے وقت وہ صدق اور وفاداری دکھلائی کہ جب تک انسان سچے دل اور تہ دل سے کسی کا خیر خواہ نہ ہو، ہرگز دکھلا نہیں سکتا۔“
(شہادۃ القرآن صفحہ 82، مندرجہ روحانی خزائن جلد 6، صفحہ 378 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ 429 پر)
کہ دنیا میں فقط مردان حر کی آنکھ ہے بینا
خدا کی پسند
(58) ”جلسہ جوبلی کی مبارک تقریب پر ہر ایک شخص پر واجب ہے کہ ملکہ معظمہ کے
احسانات کو یاد کر کے مخلصانہ دُعاؤں کے ساتھ مبارکباد دے۔ اور حضور قیصرہ ہند و انگلستان میں شکرگزاری کا ہدیہ گزارے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ میرے لیے خدا نے پسند کیا کہ میں آسمانی کارروائی کے لیے ملکہ معظمہ کی پُر امن حکومت کی پناہ لوں۔ سو خدا نے مجھے ایسے وقت میں اور ایسے ملک میں مامور کیا جس جگہ انسانوں کی آبرو اور مال اور جان کی حفاظت کے لیے حضرت قیصرہ مبارکہ کا عہد سلطنت ایک فولادی قلعہ کی تاثیر رکھتا ہے۔ جس امان کے ساتھ میں نے اس ملک میں بودوباش کر کے سچائی کو پھیلایا۔ اس کا شکر کرنا میرے پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ اور اگرچہ میں نے اس شکر گزاری کے لیے بہت سی کتابیں اُردو اور عربی اور فارسی میں تالیف کر کے اور ان میں جناب ملکہ معظمہ کے تمام احسانات کو جو برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے شامل حال ہیں، اسلامی دنیا میں پھیلائی ہیں۔ اور ہر ایک مسلمان کو سچی اطاعت اور فرمانبرداری کی ترغیب دی ہے۔ لیکن میرے لیے ضروری تھا کہ یہ تمام کارنامہ اپنا جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں بھی پہنچاؤں۔‘‘
(تحفہ قیصریہ صفحہ 3، مندرجہ روحانی خزائن جلد 12، صفحہ 255 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 430 پر)
مری نگاہ میں ثابت نہیں وجود ترا!
وجود کیا ہے؟ فقط جوہر خودی کی نمود
کر اپنی فکر کہ جوہر ہے بے نمود تیرا!
گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور اطاعت کا 60 سالہ درس
- (59) ’’دوسرا امر قابلِ گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ
برس کی عمر تک پہنچا ہوں، اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں اور اس ارادہ اور قصد کی اول وجہ یہی ہے کہ خدا
تعالیٰ نے مجھے بصیرت بخشی اور اپنے پاس سے مجھے ہدایت فرمائی کہ تا میں ان وحشیانہ خیالات کو سخت نفرت اور بیزاری سے دیکھوں جو بعض نادان مسلمانوں کے دلوں میں مخفی تھے جن کی وجہ سے وہ نہایت بیوقوفی سے اپنی گورنمنٹ محسنہ کے ساتھ ایسے طور سے صاف دل اور سچے خیر خواہ نہیں ہو سکتے تھے جو صاف دلی اور خیر خواہی کی شرط ہے بلکہ بعض جاہل ملاؤں کے ورغلانے کی وجہ سے شرائط اطاعت اور وفاداری کا پورا جوش نہیں رکھتے تھے۔ سو میں نے نہ کسی بناوٹ اور ریا کاری سے بلکہ محض اس اعتقاد کی تحریک سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ہے، بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ ان کو گورنمنٹ برطانیہ کی جو درحقیقت ان کی محسن ہے، سچی اطاعت اختیار کرنی چاہیے اور وفاداری کے ساتھ اس کی شکرگزاری کرنی چاہیے ورنہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہو گئی۔
اور میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزار ہا روپیہ خرچ کیا گیا مگر با ایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں۔“
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء مندرجہ مجموعہ
اشتہارات جلد دوم صفحہ 191,190 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 431، 432 پر)
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟
سچی خیرخواہی
(60) ”جس گورنمنٹ کے زیر سایہ خدا نے ہم کو کر دیا ہے یعنی گورنمنٹ برطانیہ جو ہماری
آبرو اور جان اور مال کی محافظ ہے اُس کی سچی خیر خواہی کرنا اور ایسے مخالف امن امور سے دور رہنا جو اس کو تشویش میں ڈالیں۔ یہ اصول ثلثہ ہیں جن کی محافظت ہماری جماعت کو کرنی چاہیے اور جن میں اعلیٰ سے اعلیٰ نمونے دکھلانے چاہئیں۔‘‘
(کتاب البریہ صفحہ 14، مندرجہ روحانی خزائن جلد 13، صفحہ 14 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 433 پر)
سخت جاہل، نادان اور نالائق مسلمان
(61) ”ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہیے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پا رہے ہیں ، وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پا سکتے ، ہرگز نہیں پا سکتے ۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 510 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 373 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 434 پر)
برازی ہے خلافت قادیاں کی
عداوت حق سے، باطل سے محبت
ہے اتنی ہی حقیقت قادیاں کی
نصاریٰ کی پرستش کے سب اسرار
سکھاتی ہے شریعت قادیاں کی
(مولانا ظفر علی خاںؒ)
گورنمنٹ کی وفاداری
(62) ”ایک اور خاص بات ہے جس کا بیان کر دینا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ اس
کے متعلق بھی حضرت صاحب نے بار بار تاکید فرمائی ہے۔ میں نے پچھلے جلسہ پر اس کے متعلق بیان کیا تھا۔ اور وہ گورنمنٹ کی وفاداری ہے۔ اس گورنمنٹ کے ہم پر بڑے بڑے احسان ہیں۔ میں نے حضرت مسیح موعود کے منہ سے بار ہا سنا ہے کہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اتنے احسان ہیں کہ اگر ہم اس کی وفاداری نہ کریں اور اسے مدد نہ دیں تو ہم بڑے ہی بے وفا ہوں گے۔ میں بھی یہی کہتا ہوں کہ گورنمنٹ کی وفاداری ہمیں دل و جان سے کرنی چاہیے۔ میں اگر کسی سے کوئی ایسی بات سنتا ہوں جو گورنمنٹ کے خلاف ہوتی ہے تو کانپ جاتا ہوں۔ کیونکہ اس قسم کی کوئی بات کرنا بہت ہی نمک حرامی ہے۔ یہ بات اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ اگر یہ گورنمنٹ نہ ہوتی تو نہ معلوم ہمارے لیے کیا کیا مشکلات ہوتیں۔ ابھی چند دنوں کا ہی ذکر ہے کہ ہمارے مالابار کے احمدیوں کی حالت بہت تشویشناک ہوگئی تھی۔ ان کے لڑکوں کو سکولوں میں آنے سے بند کر دیا گیا۔ ان کے مردے دفن کرنے سے روک دیے گئے۔ چنانچہ ایک مردہ کئی دن تک پڑا رہا۔ مسجدوں سے روک دیا گیا۔ تجارت کو بند کر دیا لیکن اس گورنمنٹ نے ایسی مدد کی ہے کہ اگر ہماری اپنی سلطنت بھی ہوتی تو بھی ہم اس سے زیادہ نہ کر سکتے اور وہ یہ کہ گورنمنٹ نے احمدیوں کی تکلیف دیکھ کر اپنے پاس سے زمین دی ہے کہ اس میں مسجد اور قبرستان بنا لو لیکن وہاں کا راجہ اس پر بھی باز نہیں آیا اور اس نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ زمین تو میری ہے، میں نہیں دیتا اور یہ بھی لکھا کہ خبردار! اگر تم نے اس پر کوئی عمارت بنائی تو سزا پاؤ گے اور یہ بھی کہا کہ تم لوگ حاضر ہو کر بتاؤ کہ کیوں تمھیں بائیکاٹ نہ کر دیا جائے کیونکہ علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو۔ اس پر احمدیوں نے گورنمنٹ کی خدمت میں درخواست دی تو ...... ڈپٹی کمشنر صاحب نے یہ حکم دیا کہ اگر اب احمدیوں کو کوئی تکلیف ہوئی تو مسلمانوں کے جتنے لیڈر ہیں، ان سب کو نئے قانون کے ماتحت ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اس طرح کا حکم کسی کے منہ سے نہیں نکل سکتا مگر اسی کے منہ سے جس کے دل میں بنی نوع انسان کی ہمدردی ہو تو یہ تازہ سلوک اس گورنمنٹ نے تمھارے مالاباری بھائیوں کے ساتھ کیا ہے اور جو کسی کے بھائی پر احسان کرتا ہے، وہ اسی پر کرتا ہے۔ پس جب مالاباری احمدی ہمارے بھائی ہیں تو ہمیں گورنمنٹ کا کس قدر احسان مند ہونا چاہیے۔ پھر ماریشس میں ہمارے ایک مبلغ گئے ہیں جو جہاں لیکچر دینا چاہتے، غیر احمدی بند کروا دیتے۔ آخر انھوں نے گورنمنٹ سے سرکاری ہال کے لیے درخواست کی تو وہاں کے گورنر نے حکم دیا کہ
آپ ہفتہ میں تین دن اس ہال میں لیکچر دے سکتے ہیں۔ گویا گورنمنٹ نے ہفتہ کے نصف دن ہمارے مبلغ کو دیے اور نصف اپنے لیے رکھے۔ پس جو گورنمنٹ ایسی مہربان ہو، اس کی جس قدر بھی فرمانبرداری کی جائے، تھوڑی ہے۔“
(انوار خلافت صفحہ 65، 66 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 152، 153 از مرزا بشیر الدین محمود)
(عکس صفحہ نمبر 435، 436 پر)
سچ ہے کہ جھوٹے نبیوں کے مددگار گدھے انسان ہی ہوا کرتے ہیں۔
لعنت
- ❑ ”جو (شخص) کتاب ازالۂ اوہام میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی یہ تحریر
پڑھتا ہے کہ ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہیے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو، کیونکہ یہ لوگ ہمارے (یعنی قادیانی صاحبان کے) محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل، اور سخت نادان، اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں، اس سے زیادہ بے ایمان اور کون شخص ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا مسیح تو کہتا ہے کہ ہر ایک مسلمان کو انگریزوں کی کامیابی کے لیے دعا کرنی چاہیے، اور یہ کہتا ہے کہ دعا کی کیا ضرورت ہے، انگریزوں کو شکست ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ میں تو ایسے احمدی کو لعنتی انسان سمجھتا ہوں، اور میں تو یقین رکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی دعا بہر حال قبول ہوگی۔ اگر اللہ تعالیٰ کا منشا کسی اور بڑی حکمت کے تحت اس دعا کو قبول کرنے کا نہ بھی ہو، تو بھی اس شخص پر لعنت پڑ جائے گی کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اس صف میں کھڑا کیا جو خدا تعالیٰ کے مسیح کے دشمنوں کی ہے۔“
(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان جلد 28 نمبر 127 مورخہ 5 جون 1940ء)
مرزا قادیانی، حرزِ سلطنت
- (63) ”اب گورنمنٹ شہادت دے سکتی ہے کہ اس کو میرے زمانہ میں کیا کیا فتوحات
نصیب ہوئیں۔ یہ الہام سترہ برس کا ہے۔ کیا یہ انسان کا فعل ہو سکتا ہے؟ غرض میں گورنمنٹ
کے لیے بمنزلہ حرز سلطنت ہوں۔“
(اشتہار، عریضہ بحالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی نمبر 168 بتاریخ 22 مارچ 1897ء مندرجہ مجموعہ
اشتہارات جلد دوئم صفحہ 69 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 437 پر)
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اعتراف کرتا ہے:
- ”حضرت صاحب نے اپنی ذات کو گورنمنٹ برطانیہ کے لیے بطور حرز
کے بیان کیا ہے۔ پس حرز کی موجودگی میں میعاد کا شمار کرنا میرے خیال میں درست نہیں۔ اس طرح جنگِ عظیم کی ابتدا اور ہفت یا ہشت سالہ میعاد کا اختتام آپس میں مل جاتے ہیں۔ واللہ اعلم! خاکسار عرض کرتا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم لوگوں پر بڑے احسانات ہیں۔ ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے فتنوں سے محفوظ رکھے۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 76,75 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
گورنمنٹ برطانیہ کے لیے پناہ اور تعویذ
- (64) ”پس میں یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں یہ کہہ سکتا
ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لیے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں اور عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی، اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔“
(نور الحق صفحہ 33، مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 44، 45 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 438، 439 پر)
اللہ کی قسم !!!
- (65) ”اور ہم خدا کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں سلطنت برطانیہ کا عہد بخشا اور اس کے
ذریعہ سے بڑی بڑی مہربانیاں اور فضل ہم پر کیے۔ ہم نے اس سلطنت کے آنے سے انواع
اقسام کی نعمتیں پائیں۔ ہماری قوم نے علم اور تہذیب سیکھی اور بہائم کی زندگی سے نکلنا انہیں نصیب ہوا اور حیوانی جذبوں سے نکل کر انسانی کمالات پر پہنچنا میسر آیا۔ سو ہمیں اس گورنمنٹ کے طفیل امید اور فکر سے بڑھ کر امن اور امان ملا ...... اور یہ سلطنت ہر میدان میں تمہاری مدد کو کھڑی ہوئی اور تمہارے یاروں اور دوستوں اور مکانوں کی نسبت خوب سلوک کیا اور ثابت کر دیا کہ وہ تمہاری پناہ اور جائے امن ہے۔ اب تم پر اس کے احسان کے حقوق ثابت ہیں ...... سو مناسب ہے کہ اس گورنمنٹ کے شکر ادا کرنے میں اور ذکر و تذکرہ میں گونگے اور بیہوش نہ بن جاؤ۔ اس لیے کہ احسان کا بدلہ احسان ہے۔ اور شکر سے غفلت کرنا کفران ہے۔ اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ سلطنت تمہارے لیے بڑا امن بخش تعویذ ہے اور اس کے ہوتے کسی خود پوش مددگار کی ہمیں ضرورت نہیں۔ اور حقیقت میں ساری حمدیں خدا کے لیے ہیں جس نے ہمیں ایسا قیصر عطا فرمایا جو ہمارے حال کی خبر گیری اور پرداخت میں کوئی قصور اور کوتاہی نہیں کرتا اور کوشش کرتا ہے کہ ہمیں پستی سے باہر لائے۔“
(اشتہار الطاعون نمبر 247 بتاریخ 10 دسمبر 1901ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 542 تا
544 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 440 تا 442 پر)
اعتقاد اور یقین
(66) ”اے نادانو! گورنمنٹ انگریزی کی تعریف تمہاری طرح قلم سے منافقانہ نہیں نکلتی۔ بلکہ میں اپنے اعتقاد اور یقین سے یہ جانتا ہوں کہ درحقیقت خدا تعالیٰ کے فضل سے اس گورنمنٹ کی پناہ ہمارے لیے بالواسطہ خدا تعالیٰ کی پناہ ہے۔ اس سے زیادہ اس گورنمنٹ کی پُر امن سلطنت ہونے کا اور کیا میرے نزدیک ثبوت ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ پاک سلسلہ اسی گورنمنٹ کے ماتحت برپا کیا ہے۔ وہ لوگ میرے نزدیک سخت نمک حرام ہیں جو حکام انگریزی کے روبرو اُن کی خوشامدیں کرتے ہیں۔ اُن کے آگے گرتے ہیں اور پھر گھر میں آ کر کہتے ہیں کہ جو شخص اس گورنمنٹ کا شکر کرتا ہے، وہ کافر ہے۔ یاد رکھو، اور خوب یاد رکھو کہ ہماری یہ کارروائی جو اس گورنمنٹ کی نسبت کی جاتی ہے، منافقانہ نہیں ہے۔ وَلَعْنَةُ
اللَّهِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ بلکہ ہمارا یہی عقیدہ ہے جو ہمارے دل میں ہے۔“
(اشتہار، کیا وہ جو خدا کی طرف سے ہے لوگوں کی بدگوئی اور سخت عداوت سے ضائع ہو سکتا ہے، نمبر
179 بتاریخ 25 جون 1897ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 148 طبع جدید از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 443 پر)
ملکہ وکٹوریہ کی حکومت کے سائے میں
(67) ”اعملوا ايها الاخوان اننا قد نجونا من ايدى الظالمين فى ظل دولة هذه الملكة....... التي نضرنا فى حكومتها كنضارة الارض فى ايام التهتان.“ ترجمہ : ”اے بھائیو! جانو کہ ہم نے ملکہ وکٹوریہ کی حکومت کے سائے میں ظالموں کے ہاتھوں نجات پائی ہے۔ ہم اس حکومت کے سایہ میں اس طرح سرسبز ہوتے ہیں جیسے زمین، موسم بہار میں سرسبز ہوتی ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 517 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 517 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 444 پر)
سلطنت برطانیہ...... امن و راحت کی پناہ گاہ
(68) ”جعل لى السلطنة البرطانية ربوة امن و راحة و مستقراً حسناً فلحمد لِلّٰهِ.“ ترجمہ : ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے سلطنت برطانیہ کو ربوہ، امن و راحت کی پناہ گاہ بنایا ہے اور یہ ٹھہرنے کی اچھی جگہ ہے اور اس پر خدا کی حمد و ثنا ہے۔“
(حقیقت الوحی، ضمیمہ، الاستفتاء صفحہ 46، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 22 صفحہ 668، از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 445 پر)
تلوار
(69) ”ولو لا هيبة سيف سله عدل سلطنة البرطانية لحث الناس على سفک دمی.“
ترجمہ: ”اور اس تلوار کی ہیبت نہ ہوتی جو سلطنت برطانیہ نے سونت رکھی ہے تو لوگ میرا خون کر دیتے۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 18 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 446 پر)
قادیانی تلوار
- (70) ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی موعود ہوں اور
گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلہ میں ان علما کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب ہو یا شام، ہم ہر جگہ اپنی تلوار (انگریز) کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“
(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان جلد 6 نمبر 42 صفحہ 9 مورخہ 7 دسمبر 1918ء)
(عکس صفحہ نمبر 447، 448 پر)
- □ ”فی الواقعہ گورنمنٹ برطانیہ ایک ڈھال ہے جس کے نیچے احمدی جماعت آگے ہی
آگے بڑھتی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ جہاں جہاں اس گورنمنٹ کی حکومت پھیلتی جاتی ہے، ہمارے لیے تبلیغ کا ایک میدان نکلتا ہے۔“
(خطبہ مرزا بشیر الدین محمود، روزنامہ الفضل قادیان 19 اکتوبر 1915ء)
- (71) ”سلسلہ احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ سے جو تعلق ہے، وہ باقی تمام جماعتوں سے نرالا
ہے، ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائد ایک ہوئے ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی آگے قدم بڑھانے کا موقع ہے اور اس کو خدانخواستہ اگر کوئی نقصان پہنچے تو اس صدمہ سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔“
(خطبہ مرزا بشیر الدین محمود، روزنامہ الفضل قادیان 27 جولائی 1918)
(عکس صفحہ نمبر 449 پر)
خدا کا شکر
- (72) ”ہم دنیا میں فروتنی کے ساتھ زندگی بسر کرنے آئے ہیں اور بنی نوع کی
ہمدردی اور اس گورنمنٹ کی خیر خواہی جس کے ہم ماتحت ہیں یعنی گورنمنٹ برطانیہ ہمارا
اصول ہے۔ ہم ہرگز کسی مفسدہ اور نقض امن کو پسند نہیں کرتے اور اپنی گورنمنٹ انگریزی کی ہر ایک وقت میں مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں جس نے ایسی گورنمنٹ کے زیر سایہ ہمیں رکھا ہے۔‘‘
(کتاب البریہ صفحہ 17، مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 18 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 450 پر)
ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض ہے جیسا کہ خدا کا
(73) ”خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا۔ سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے۔ درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ایک کے چھوڑنے سے دوسری کا چھوڑنا لازم آ جاتا ہے۔“
(شہادۃ القرآن صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 451 پر)
اپنا کام ............ نہ مکہ میں نہ مدینہ میں
(74) ”میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں، مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دُعا کرتا ہوں۔ لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دُعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکر جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ ہے۔“
(اشتہار، عریضہ بحالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی نمبر 168 بتاریخ 22 مارچ 1897ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 452 پر)
کہ تو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر!
مگر یہ پیکر خاکی خودی سے ہے خالی
فقط نیام ہے تو زرنگار و بے شمشیر!
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک جس قدر انبیاء و رسول دنیا میں تشریف لائے، سب نے اپنے وقت کی طاغوتی طاقتوں سے ٹکر لی، انہیں حق کا پیغام سنایا اور انہیں خدا کے سامنے جھکانے کی پوری کوشش کی۔ حتیٰ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کی خدائی کو ختم کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دریائے نیل میں غرق کیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے کفار مکہ اور دیگر باغی حکومتوں کو خدا کے سامنے جھکنے کے لیے مجبور کیا۔ مگر انگریز نے قادیان میں ایک ایسی نبوت کو جنم دیا جس کا پیغام کفر و باطل کی اطاعت کروانا تھا۔ آپ پورا قرآن مجید پڑھ لیجیے، انبیاء علیہم السلام اس وقت کے بادشاہوں سے ٹکرائے جنہوں نے اپنے ملکوں میں آج کے حکمرانوں سے زیادہ ظاہری امن قائم کر رکھا تھا۔ حضرات انبیاء علیہم السلام نے کفر اور اسلام کو معیار بنایا نہ کہ جان کی حفاظت اور دنیاوی مفادات کو۔
انبیاء علیہم السلام اور ان کے پیروؤں کی جو کچھ تاریخ اور سیرت دنیا میں محفوظ ہے، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ ظالموں اور مجرموں کے حریف اور مدمقابل رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ ہر ایسی بات سے احتراز کیا ہے جس سے ان کی تائید و حمایت ہوتی ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ قول قرآن مجید میں منقول ہے۔
رب بما انعمت علی فلن اکون ظہیرا للمجرمین۔ (القصص: 17)
ترجمہ: ”میرے رب! مجھے ان انعامات کی قسم جو تو نے مجھ پر فرمائے، میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔“
ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ واموالا فی الحیوۃ الدنیاۙ ربنا لیضلوا عن سبیلکۚ ربنا اطمس علی اموالہم واشدد علی قلوبہم فلا یؤمنوا حتی یروا العذاب الالیم۔ (یونس: 88)
ترجمہ: ”اے ہمارے پروردگار! تو نے بخشا ہے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامان آرائش اور مال و دولت دنیوی زندگی میں۔ اے ہمارے مولا! کیا اس لیے کہ وہ گمراہ کرتے پھریں (لوگوں کو تیری راہ سے) اے ہمارے رب! برباد کردے ان کے مالوں کو اور سخت کردے ان کے دلوں کو تا کہ وہ نہ ایمان لے آئیں جب تک نہ دیکھ لیں درد ناک عذاب کو“۔
خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النارۙ وما لكم من دون الله من اولياء ثم لا تنصرون. (ہود: 113)
ترجمہ: ”اور مت جھکو ان کی طرف جنہوں نے ظلم کیا ورنہ چھوئے گی تمہیں بھی آگ اور (اس وقت) نہیں ہوگا تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مددگار، پھر تمہاری مدد بھی نہ کی جائے گی“۔
رسول اکرم ﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور سچے جانشینوں نے کسی جابر حکومت اور کسی باطل طاقت کے ساتھ کبھی تعاون نہیں کیا اور ان کی زبان کبھی ان کی تعریف و تائید میں ملوث نہیں ہوئی۔ اسلام کی تاریخ دعوت و عزیمت سلاطین وقت کے سامنے کلمہ حق کہنے کے واقعات اور ظالموں کے مقابلے میں علم جہاد بلند کرنے کے کارناموں سے بھری ہوئی ہے۔ اس افضل جہاد سے تاریخ اسلام کا کوئی مختصر سے مختصر عہد اور کوئی چھوٹے سے چھوٹا گوشہ بھی خالی نہیں ہے۔
سکون، نہ مکہ میں نہ مدینہ میں
(75) ”میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا، اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا، تو کیونکر ممکن تھا کہ ان تمام ہدایتوں کے برخلاف کسی بغاوت کے منصوبے کی میں تعلیم کروں۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے، نہ مدینہ میں، اور نہ سلطانِ
روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 28، مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 156 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 453 پر)
مکہ و مدینہ والے میرے لیے درندوں کی طرح ہیں
- (76) ”قدیم سے میں نے اپنی بہت سی کتابوں میں بار بار یہی شائع کیا ہے کہ اس
گورنمنٹ کے ہمارے سر پر احسان ہیں کہ اس کے زیر سایہ ہم آزادی سے اپنی خدمت تبلیغ پوری کرتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ ظاہری اسباب کی رو سے آپ کے رہنے کے لیے اور بھی ملک ہیں اور اگر آپ اس ملک کو چھوڑ کر مکہ میں یا مدینہ میں یا قسطنطنیہ میں چلے جائیں تو سب ممالک آپ کے مذہب اور مشرب کے موافق ہیں لیکن اگر میں جاؤں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ سب لوگ میرے لیے بطور درندوں کے ہیں۔“
(براہین احمدیہ، حصہ پنجم ضمیمہ صفحہ 128 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 294 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 454 پر)
مکہ معظمہ سے لندن بہتر! (نعوذ باللہ)
- (77) ”میرے خیال میں مذاہب کے پرکھنے اور جانچنے اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرنے
کے لیے اس سے بہتر کسی ملک کے باشندوں کو موقعہ ملنا ممکن نہیں۔ جو ہمارے ملک پنجاب اور ہندوستان کو ملا ہے۔ اس موقع کے حصول کے لیے پہلا فضل خدا تعالیٰ کا گورنمنٹ برطانیہ کا ہمارے اس ملک پر تسلط ہے۔ ہم نہایت ہی ناسپاس اور منکر نعمت ٹھہریں گے۔ اگر ہم سچے دل سے اس محسن گورنمنٹ کا شکر نہ کریں جس کے بابرکت وجود سے ہمیں دعوت اور تبلیغ اسلام کا وہ موقعہ ملا جو ہم سے پہلے کسی بادشاہ کو بھی نہ مل سکا کیونکہ اس علم دوست گورنمنٹ نے اظہار رائے میں وہ آزادی دی ہے جس کی نظیر اگر کسی اور موجودہ عملداری میں تلاش کرنا چاہیں تو لا حاصل ہے۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہم لنڈن کے بازاروں میں دین اسلام کی تائید کے
لئے وہ وعظ کر سکتے ہیں جس کا خاص مکہ معظمہ میں میسر آنا ہمارے لئے غیر ممکن ہے۔“
(رسالہ معیار المذاہب صفحہ 2، 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 460، 461 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 455، 456 پر)
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات؟
قادیانی فیصلہ...........مسلمانوں سے علیحدگی
قادیانیوں کا نبی الگ، قرآن الگ، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ مسلمانوں سے مکمل الگ ہے، اس کے باوجود وہ خود کو مسلمان کہلوانے اور شعائر اسلامی استعمال کرنے پر بضد ہیں۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل حوالہ جات قابل غور ہیں۔ آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ”کل میں نے سنا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ اس (قادیانی) فرقہ میں اور دوسرے
لوگوں (مسلمانوں) میں سوائے اس کے اور کچھ فرق نہیں کہ یہ لوگ وفات مسیح کے قائل ہیں اور وہ لوگ وفات مسیح کے قائل نہیں۔ باقی سب عملی حالت مثلاً نماز، روزہ اور زکوٰۃ اور حج وہی ہیں۔ سو سمجھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیات مسیح کی غلطی کو دور کرنے کے واسطے ہے۔ اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے ضرورت نہ تھی کہ ایک شخص خاص مبعوث کیا جاتا اور الگ جماعت بنائی جاتی اور ایک بڑا شور بپا کیا جاتا۔“
(احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ از مرزا قادیانی صفحہ 2)
مرزا قادیانی کا مزید کہنا ہے:
- ❑ ”یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق کیا ہے، اول تو یہ خدا تعالیٰ کے
حکم سے تھا نہ کہ اپنی طرف سے۔ دوسرے وہ لوگ ریا پرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان لوگوں کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔ اس وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔“ (رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان جلد 6، شمارہ 8، صفحہ 311)
ایک اور موقعہ پر مرزا قادیانی نے کہا:
- ”صبر کرو اور اپنی (قادیانی) جماعت کے غیر (یعنی مسلمان) کے پیچھے نماز مت
پڑھو۔ بہتری اور نیکی اس میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے۔ دیکھو دنیا میں روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کے لیے ہے۔ تم اگر ان میں رلے ملے جا رہے ہو تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے، وہ نہیں رکھے گا، پاک جماعت جب الگ ہو تو اس میں ترقی ہوتی ہے۔“
(مرزا قادیانی کا بیان مندرجہ اخبار الحکم قادیان جلد 5 شمارہ نمبر 29 منقول از کتاب ”ملفوظات“
مرتبہ منظور الٰہی ص 265)
قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کا کہنا ہے:
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں
میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (مسلمانوں) سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ جمعہ مرزا بشیر الدین خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، ج 19، نمبر 13، مورخہ 30 جولائی 1931ء)
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے تو فرمایا ہے کہ ان (مسلمانوں) کا اسلام
اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور ہے، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اسی طرح ان (مسلمانوں) سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“
(روزنامہ الفضل قادیان 21 اگست 1917ء جلد 5 نمبر 15 ص 8)
قادیانی لاہوری جماعت کا امیر محمد علی لاہوری لکھتا ہے:
”تحریک احمدیت، اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا“ (ریویو آف ریلی جنز جلد 5، شمارہ 5، صفحہ 163)
محمد علی لاہوری کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح عیسائیت اور یہودیت الگ الگ مذاہب ہیں، اسی طرح اسلام اور قادیانیت بھی الگ الگ مذاہب ہیں۔
- اسی شوقِ اختلاف میں قادیانی قیادت نے اسلامی تقویم کے مقابلہ میں قادیانی
تقویم پیش کی جو مندرجہ ذیل ہے۔
اسلامی تقویم: محرم۔ صفر۔ ربیع الاول۔ ربیع الثانی۔ جمادی الاول۔ جمادی الثانی۔ رجب۔ شعبان۔ رمضان۔ شوال۔ ذیقعد۔ ذوالحج
قادیانی تقویم: شہادت۔ ہجرت۔ احسان۔ وفا۔ ظہور۔ تبوک۔ اخاء۔ احسان۔ فتح۔ صلح۔ امان۔ تبلیغ
نیا فرقہ
- (78) ”میں خدا سے پاک الہام پا کر یہ چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے اخلاق اچھے ہو
جائیں اور وحشیانہ عادتیں دور ہو جائیں اور نفسانی جذبات سے ان کے سینے دھوئے جائیں۔ اور ان میں آہستگی اور سنجیدگی اور حلم اور میانہ روی اور انصاف پسندی پیدا ہو جائے۔ اور یہ اپنی اس گورنمنٹ کی ایسی اطاعت کریں کہ دوسروں کے لیے نمونہ بن جائیں اور یہ ایسے ہو جائیں کہ کوئی بھی فساد کی رگ ان میں باقی نہ رہے۔ چنانچہ کسی قدر یہ مقصود مجھے حاصل بھی ہو گیا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ دس ہزار یا اس سے بھی زیادہ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو میری ان پاک تعلیموں کے دل سے پابند ہیں اور یہ نیا فرقہ مگر گورنمنٹ کے لیے نہایت مبارک فرقہ برٹش انڈیا میں زور سے ترقی کر رہا ہے۔ اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہو جائیں تو میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ فرشتے بن جائیں اور اگر وہ اس گورنمنٹ کی سب قوموں سے بڑھ کر خیر خواہ ہو جائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہو جائیں۔ اگر وہ مجھے قبول کر لیں اور مخالفت نہ کریں تو یہ سب کچھ انھیں حاصل ہوگا۔“
(تریاق القلوب صفحہ 265,264 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 493,492 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 457، 458 پر)
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
- ”میں دیکھتا ہوں کہ یہ نیا فرقہ ان ملکوں میں دن بدن ترقی پر ہے۔ یہاں تک کہ
بہت سے دیسی افسر اور معزز رئیس اور جاگیردار اور نامی تاجر اس فرقہ میں داخل ہو گئے ہیں اور
ہوتے جاتے ہیں۔ اس لیے عام خیال کے مسلمانوں اور ان کے مولویوں کو اس فرقہ سے دلی عناد اور حسد ہے اور ممکن ہے کہ اس حسد کی وجہ سے خلاف واقعہ امور گورنمنٹ تک پہنچائے جائیں۔ سو اسی لیے میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس رسالہ کے ذریعہ سے اپنے سچے واقعات اور اپنے مشن کے اصولوں سے اس محسن گورنمنٹ کو مطلع کروں۔“
(کشف الغطاء صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 179 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”ان (انگریزوں) کی ظل حمایت میں ہمارا فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں
تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے زیر سایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔ خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے اس گورنمنٹ کو اس بات کے لیے چن لیا تا کہ یہ فرقہ احمدیہ اس کے زیر سایہ ہو کر ظالموں کے خونخوار حملوں سے اپنے تئیں بچاوے اور ترقی کرے۔“
(اشتہار، اپنی تمام جماعت کے لیے ضروری نصیحت نمبر 287 بتاریخ 7 مئی 1907ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات طبع جدید جلد دوم صفحہ 708، از مرزا قادیانی)
فرقہ احمدیہ
- (79) ”اس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمدیہ اس لیے رکھا گیا کہ ہمارے نبی ﷺ کے
دو نام تھے۔ ایک محمد ﷺ ۔ دوسرا احمد ﷺ ۔ اور اسم محمد جلالی نام تھا۔ اور اس میں یہ مخفی پیشگوئی تھی کہ آنحضرت ﷺ ان دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزا دیں گے جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا اور صدہا مسلمانوں کو قتل کیا۔ لیکن اسم احمد جمالی نام تھا، جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت ﷺ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے۔
سو خدا نے ان دونوں ناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اول آنحضرت ﷺ کی مکہ کی زندگی میں اسم احمد کا ظہور تھا اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی۔ اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمد کا ظہور ہوا۔ اور مخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی۔ لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر اسم احمد ظہور کرے گا۔ اور ایسا شخص ظاہر ہوگا جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔“
(تریاق القلوب صفحہ 399، مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 527 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 459 پر)
قادیانیت، فرقہ جدیدہ
(80) ”میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدیدہ جو برٹش انڈیا کے اکثر مقامات میں پھیل گیا ہے جس کا میں پیشوا اور امام ہوں۔ گورنمنٹ کے لیے ہرگز خطرناک نہیں ہے اور اس کے اصول ایسے پاک اور صاف اور امن بخش اور صلح کاری کے ہیں کہ تمام اسلام کے موجودہ فرقوں میں اس کی نظیر گورنمنٹ کو نہیں ملے گی۔ جو ہدایتیں اس فرقہ کے لیے میں نے مرتب کی ہیں جن کو میں نے ہاتھ سے لکھ کر اور چھاپ کر ہر ایک مرید کو دیا ہے کہ ان کو اپنا دستور العمل رکھے۔ وہ ہدایتیں میرے اس رسالہ میں مندرج ہیں جو 12 جنوری 1889ء میں چھپ کر عام مریدوں میں شائع ہوا ہے جس کا نام تکمیل تبلیغ مع شرائط بیعت ہے۔“
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 195 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 460 پر)
برٹش گورنمنٹ کا وفادار اور جانثار نیا فرقہ
(81) ”میں زور سے کہتا ہوں اور میں دعویٰ سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اوّل درجہ کا وفادار اور جان نثار یہی نیا فرقہ ہے جس کے اصولوں میں سے کوئی اصول گورنمنٹ کے لیے خطرناک نہیں۔“
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 193 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 461 پر)
ایک نیا فرقہ
(82) ”چونکہ مسلمانوں کا ایک نیا فرقہ جس کا پیشوا اور امام اور پیر یہ راقم ہے پنجاب اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جاتا ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ مہذب اور معزز عہدہ دار اور نیک نام رئیس اور تاجر پنجاب اور ہندوستان کے اس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموماً پنجاب کے شریف مسلمانوں کے نو تعلیم یاب جیسے بی اے اور ایم اے، اس فرقہ میں داخل ہیں اور داخل ہو رہے ہیں اور یہ ایک گروہ کثیر ہو گیا ہے جو اس ملک
میں روز بروز ترقی کر رہا ہے۔ اس لیے میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس فرقہ جدیدہ اور نیز اپنے تمام حالات سے جو اس فرقہ کا پیشوا ہوں، حضور لیفٹیننٹ گورنر بہادر کو آگاہ کروں۔“
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 188 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 462 پر)
فرقہ واریت دین کے لئے زہر قاتل ہے۔ اسلام اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔ حیرانی ہے کہ مرزا قادیانی ”فرقہ احمدیہ“ کے نام سے ایک نیا فرقہ بنا کر کس قدر اترا رہا ہے۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ جو شخص اسلام میں کوئی فرقہ بناتا ہے، قرآن مجید اُسے مشرک گردانتا ہے جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔
- مُنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ وَاتَّقُوْهُ وَاَقِيْمُوا الصَّلوٰةَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ
الْمُشْرِكِيْنَ ہ مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا ط كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ ہ (الروم: 31، 32)
ترجمہ: ”(اے غلامان مصطفیٰ ﷺ تم بھی اپنا رُخ اسلام کی طرف کرلو) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور ڈرو اس سے اور قائم کرو نماز کو اور نہ ہو جاؤ (ان) مشرکوں میں سے، جنہوں نے پارہ پارہ کر دیا اپنے دین کو اور خود فرقہ فرقہ ہوگئے۔ ہر گروہ جو اس کے پاس ہے، وہ اسی پر خوش ہے۔“
ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو فرقہ واریت پھیلانے والوں سے لاتعلق رہنے کا ارشاد فرماتے ہیں:
اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ ط اِنَّمَا اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ ہ
(الانعام: 159)
ترجمہ: ”بے شک وہ جنہوں نے تفرقہ ڈالا اپنے دین میں اور ہوگئے کئی کئی فرقے (اے محبوب ﷺ!) نہیں ہے آپ کا ان سے کوئی تعلق۔ ان کا معاملہ صرف اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ بتائے گا انہیں جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔“
قادیانی فرقے کا امتیازی نشان
(83) ”یادرہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے، ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔“
(اشتہار، واجب الاظہار، اپنی جماعت اور گورنمنٹ عالیہ کی توجہ کے لیے نمبر 233 بتاریخ 4 نومبر 1900ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات طبع جدید جلد دوم صفحہ 467 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 463 پر)
مرزا قادیانی کی تعلیمات سے انسان کھسرا بن جاتا ہے
(84) ”یہ نیا فرقہ مگر گورنمنٹ کے لیے نہایت مبارک فرقہ برٹش انڈیا میں زور سے ترقی کر رہا ہے۔ اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہو جائیں تو میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ فرشتے بن جائیں۔ اور اگر وہ اس گورنمنٹ کی سب قوموں سے بڑھ کر خیر خواہ ہو جائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہو جائیں۔ اگر وہ مجھے قبول کر لیں اور مخالفت نہ کریں تو یہ سب کچھ انہیں حاصل ہوگا اور ایک نیکی اور پاکیزگی کی رُوح ان میں پیدا ہو جائے گی۔ اور جس طرح ایک انسان خوجہ ہو کر گندے شہوات کے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح میری تعلیم سے ان میں تبدیلی پیدا ہوگی۔“
(اشتہار، حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست نمبر 218 بتاریخ 27 دسمبر 1899ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 357، 358 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 464، 465 پر)
مگر ”قادیانی“ مخنث ہیں نہ ہیوں میں نہ شیوں میں
خصی جماعت
- ”ہمیں تو حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) نے خصی کر دیا ہے۔“
(تقریر مرزا محمود سابق خلیفۂ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد 22 نمبر 87، صفحہ 7، 20 جنوری 1935ء)
پختہ ہوجاتے ہیں جب خوئے غلامی میں غلام!
قادیانیت، ڈاکٹر شنکر داس کی نظر میں
مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے قادیانیت کو بے نقاب کرنے کے لیے جب ایک معرکۃ الآرا مضمون بعنوان ”قادیانیت اور اسلام“ سپرد قلم کیا تو اس کے جواب میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے قادیانیت کی حمایت میں چند مضامین لکھے تھے جن کا مفہوم یہ تھا کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہیں۔ دانشوروں کی ایک کثیر تعداد نے پنڈت جی کی اس حمایت کو حیرت کی نظر سے دیکھا تھا کہ آخر پنڈت جی کو اس امر کی ضرورت کیوں لاحق ہوئی کہ قادیانیوں کی حمایت میں اپنے قلم کو جنبش دیں؟ علامہ موصوف نے پنڈت جی کو مخاطب کر کے لکھا تھا کہ قادیانیوں کے عقائد اس قسم کے ہیں کہ ان کو تسلیم کرنے کے بعد وحدت اسلامیہ پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔ مسلمان اس امر کو گوارا نہیں کر سکتے کہ رسول عربی ﷺ کی امت میں سے قطع و برید کر کے ”ہندوستانی نبی“ کے لیے ایک جدید امت تیار کی جائے۔ جس کا دینی مرکز مکہ معظمہ کی بجائے قادیان ہو۔ ہندوستان کی تاریخ کے اس نازک ترین دور میں مسلمانوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ ہر اس تحریک سے قطعی طور پر مجتنب اور محترز رہیں جو ان کے اندر افتراق و انشقاق پیدا کرنے کا باعث ہو۔ وہ جذبہ جس نے پنڈت جی کو قادیانیوں کی حمایت پر کمر بستہ کیا‘ ارباب دانش کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔ معروف ہندو دانشور ڈاکٹر شنکر داس کے ایک مضمون کا اقتباس ملاحظہ کیجیے جو انھوں نے ”بندے ماترم“ میں شائع کرایا تھا۔
- ”سب سے اہم سوال جو اس وقت ملک کے سامنے درپیش ہے‘ وہ یہ ہے کہ
ہندوستانی مسلمانوں کے اندر کس طرح قومیت کا جذبہ پیدا کیا جائے — ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو ایک الگ قوم تصور کیے بیٹھے ہیں اور وہ دن رات عرب ہی کے گیت گاتے ہیں‘ اگر ان کا بس چلے تو وہ ہندوستان کو بھی عرب کا نام دے دیں۔
اس تاریکی میں، اس مایوسی کے عالم میں، ہندوستانی قوم پرستوں اور محبان وطن کو ایک ہی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے اور وہ آشا کی جھلک قادیانیوں کی تحریک ہے۔ جس
قدر مسلمان قادیانیت کی طرف راغب ہوں گے، وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر میں محب ہند اور قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں قادیانی تحریک کی ترقی ہی عربی تہذیب اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کرسکتی ہے۔
جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر اس کی شردہا اور عقیدت رام کرشن، وید، گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی میں منتقل ہو جاتی ہے، اسی طرح جب کوئی مسلمان، قادیانی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ میں اس کی عقیدت کم ہوتی چلی جاتی ہے، مکہ، مدینہ اس کے لیے روایتی مقامات رہ جاتے ہیں، یہ بات عام مسلمانوں کے لیے، جو ہر وقت پان اسلام ازم اور پان عربی سنگٹھن کے خواب دیکھتے ہیں، کتنی ہی مایوس کن ہو، مگر ایک قوم پرست کے لیے باعث مسرت ہے۔
ایک مرزائی چاہے عرب، ترکستان، ایران یا دنیا کے کسی بھی گوشہ میں بیٹھا ہو، وہ روحانی تسکین کے لیے قادیان کی طرف منہ کرتا ہے۔ قادیان کی سرزمین اس کے لیے سرزمین نجات ہے اور اس میں ہندوستان کی فضیلت کا راز پنہاں ہے۔ ہر قادیانی کے دل میں ہندوستان کے لیے پریم ہوگا، کیونکہ قادیان ہندوستان میں ہے۔ مرزا قادیانی بھی ہندوستانی تھے اور اب تک جتنے خلیفے اس فرقے کی رہبری کر رہے ہیں۔ وہ سب ہندوستانی ہیں۔
اعتراض ہو سکتا ہے کہ جب مرزائی قرآن کو الہامی کتاب مانتے ہیں تو وہ اسلام سے الگ کیسے ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سکھوں کی موجودہ ہندوؤں سے علیحدہ گرو گرنتھ صاحب میں رام کرشن، اندر، وشنو، سب ہندو دیوی دیوتاؤں کا ذکر آتا ہے، مگر کیا سکھوں نے رام کرشن کی مورتیوں کا کھنڈن نہیں کیا؟ گوردواروں سے رامائن اور گیتا کا پاٹھ نہیں اٹھایا؟ کیا سکھ اب ہندو کہلانے سے انکار نہیں کرتے؟
اسی طرح وہ زمانہ دور نہیں جب قادیانی کہیں گے کہ ہم محمدی مسلمان نہیں، ہم تو احمدی مسلمان ہیں۔ کوئی ان سے سوال کرے گا کیا تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو مانتے ہو؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، عیسیٰ، رام، کرشن سب کو اپنے اپنے وقت کا نبی تصور کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہندو عیسائی یا محمدی ہو گئے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ مسلمان قادیانی تحریک کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ قادیانیت ہی عربی تہذیب اور اسلام کی دشمن ہے۔ خلافت تحریک میں بھی
قادیانیوں نے مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا‘ کیونکہ وہ خلافت کو بجائے ترکی یا عرب میں قائم کرنے کے قادیان میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔“ (اخبار بندے ماترم 22 اپریل 1935ء)
ملت اسلامیہ کے لیے ”غلامی“ بہت بری لعنت اور خدا کا بہت بڑا غضب ہے اور اس پر قانع ہو جانا گویا عذاب الہی اور لعنت خداوندی پر قناعت کر لینے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دعوتِ حق دیتے ہوئے پہلا مطالبہ یہ کیا کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر دے تاکہ وہ میرے ساتھ ہو کر آزادانہ توحیدِ الہی کے پرستار رہ سکیں اور ان کی مذہبی زندگی کے کسی شعبہ میں بھی جابرانہ اور کافرانہ اقتدار حائل نہ رہ سکے۔ لیکن یہاں ملاحظہ کیجیے! جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کس فخر کے ساتھ انگریزوں کا طوقِ غلامی اپنے گلے میں ڈالتا ہے۔ حیف...... صد حیف!!!
قادیانی بیعت کی شرط
- (85) ”اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے
ثبوت پیش کیے ہیں، صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل و جان خیر خواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگانِ خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔“
(کتاب البریہ صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 10 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 466 پر)
جو نبی انگریز کی غلامی کو رحمت اور نعمت قرار دیتا ہو، اس کی تعلیمات میں (من حیث القوم) مسلمانوں کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے ”چیل کے گھونسلے میں ماس“ تلاش کرنا۔ حضور نبی رحمت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو حکومت، طاقت، شجاعت اور غیرت عطا کی لیکن چودھویں صدی کے ”بناسپتی انگریزی نبی“ نے تمام عمر قوم کو غلامی کا درس دیا۔ اگر مرزا قادیانی کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کا درد ہوتا تو وہ کبھی اپنی قوم کو اغیار کی غلامی کا سبق نہ پڑھاتا۔ لیکن وہ تو تمام عمر منارۃ المسیح اور بہشتی مقبرہ کی آڑ میں
دولت اکٹھی کرنے کی فکر میں سرگرداں رہا۔ قوم کی فکر تھی ہی کب اور ہوتی بھی تو کیونکر؟ اس نبوت کو کس چیز سے تعبیر کیا جائے جو قوم کی غلامی کی زنجیروں کو اور زیادہ مضبوط کر لے۔
گورنمنٹ انگریزی واجب التعظیم اور واجب الاطاعت
(86) ”میرے نزدیک واجب التعظیم اور واجب الاطاعت اور شکر گزاری کے لائق گورنمنٹ انگریزی ہے جس کے زیر سایہ امن کے ساتھ یہ آسمانی کارروائی میں کر رہا ہوں۔“
(اشتہار حسین کامی سفیر سلطان روم نمبر 176 بتاریخ 24 مئی 1897ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات
جلد دوم، صفحہ 103، طبع جدید از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 467 پر)
قادیانی جماعت کے لیے ضروری نصیحت
(87) ”چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں میں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں سے اور کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں، جن سے بغاوت کی بو آتی ہے، بلکہ مجھے شک ہوتا ہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائے گا، اس لیے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو، جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں، جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے، نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں، جو قریباً سولہ برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں، یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں، کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے۔ ان کی ظل حمایت میں ہمارا فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے زیر سایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔“
(اشتہار، اپنی تمام جماعت کے لیے ضروری نصیحت نمبر 287 بتاریخ 7 مئی 1907ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 708 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 468 پر)
قادیانی اصول، ہدایتیں اور تعلیم
- (88) ’’اب میں نے جو کچھ میرے اصول اور ہدایتیں اور تعلیم تھی۔ سب گورنمنٹ عالیہ
کی خدمت میں ظاہر کر دیں۔ میری ہدایتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ صلح کاری اور غریبی سے زندگی بسر کرو اور جس گورنمنٹ کے ہم ماتحت ہیں یعنی گورنمنٹ برطانیہ اس کے سچے خیر خواہ اور تابعدار ہو جاؤ۔ نہ نفاق اور دنیاداری سے۔ آخر دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا اقبال دن بدن بڑھاوے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم سچے دل سے اس کے تابعدار اور امن پسند انسان ہوں۔ آمین! راقم خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان 27 دسمبر 1898ء‘‘
(کشف الغطاء صفحہ 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 213 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 469 پر)
قادیانی جماعت یاد رکھے!
- (89) ’’ہماری جماعت یاد رکھے کہ ہم ہندوستان کو بلحاظ حکومت ہرگز ہرگز دارالحرب قرار
نہیں دیتے بلکہ اس امن اور برکات کی وجہ سے جو اس حکومت میں ہم کو ملی ہیں اور اس آزادی سے جو اپنے مذہب کے ارکان کی بجا آوری اور اس کی اشاعت کے لیے گورنمنٹ نے ہم کو دے رکھی ہے۔ ہمارا دل عطر کے شیشہ کی طرح وفاداری اور شکر گزاری کے جوش سے بھرا ہوا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 142، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 470 پر)
قادیانی مذہب اور عقیدہ
- (90) ’’میں نے اپنی قلم سے گورنمنٹ کی خیر خواہی میں ابتداء سے آج تک، وہ
کام کیا ہے جس کی نظیر گورنمنٹ کے ہاتھ میں ایک بھی نہیں ہوگی اور میں نے ہزار ہا روپیہ کے صرف سے کتابیں تالیف کر کے ان میں جابجا اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی چاہیے اور رعایا ہو کر بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا نہایت درجہ کی بد ذاتی ہے اور میں نے ایسی کتابوں کو نہ صرف برٹش انڈیا میں پھیلایا ہے
بلکہ عرب اور شام اور مصر اور روم اور افغانستان اور دیگر اسلامی بلاد میں محض للّٰہی نیت سے شائع کیا ہے نہ اس خیال سے کہ یہ گورنمنٹ میری تعظیم کرے یا مجھے انعام دے کیونکہ یہ میرا مذہب اور میرا عقیدہ ہے جس کا شائع کرنا میرے پر حق واجب تھا۔‘‘
(انجام آتھم صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 68، از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 471 پر)
انگریز کی مخالفت، جماعت سے علیحدہ، بیعت سے خارج
- (91) ’’علی گڑھ کالج کے طالب علم مولوی غلام محمد صاحب نے وہاں کے طلباء کی
سٹرائیک اور اپنے استادوں کی مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ اس جماعت (فرقہ احمدیہ) کا کوئی لڑکا اس سٹرائیک میں شامل نہیں ہوا۔ میاں محمد دین، عبدالغفار خاں وغیرہ سب علیحدہ رہے لیکن عزیز احمد ان طلباء کے ساتھ شریک رہا اور باوجود ہمارے سمجھانے کے باز نہ آیا اور چونکہ بعض اخباروں میں اس قسم کے مضمون نکلے تھے کہ مسیح موعود کا پوتا علیگڑھ کالج میں ہے، اس وجہ سے عام طور پر عزیز احمد کا رشتہ حضور کے ساتھ سب کو معلوم ہونے کے سبب وہاں کے اراکین نے اس امر پر تعجب ظاہر کیا کہ عزیز احمد اس مفسدہ میں ایسا حصہ لیتا ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ عزیز احمد نے اپنے استادوں اور افسروں کی مخالفت میں مفسد طلباء کے ساتھ شمولیت کا جو طریق اختیار کیا ہے، یہ ہماری تعلیم اور ہمارے مشورہ کے بالکل مخالف ہے۔ لہٰذا وہ اس دن سے وہ اس بغاوت میں شریک ہے، ہماری جماعت سے علیحدہ اور ہماری بیعت سے خارج کیا جاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 172، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 472 پر)
ہر قادیانی کا عقیدہ
- (92) ’’آج کی تاریخ تک تیس ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے،
جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر ایک شخص، جو میری بیعت کرتا ہے اور
مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے، اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعا حرام ہے کیونکہ مسیح آچکا۔ خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ اس کو بننا پڑتا ہے۔“
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ضمیمہ، صفحہ 6، 7، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 28، 29 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 473، 474 پر)
سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ملک کی منتخب قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو اُن کے کفریہ عقائد کی بنا پر 7 ستمبر 1974ء کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور آئین پاکستان کی شق 160(2) اور 260(3) میں اس کا اندراج کر دیا۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ”مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کے لیے انگریزوں سے مکمل وفاداری جزو ایمان ہے۔ اس کا عہد، وہ بیعت کے وقت کرتے ہیں۔ یہ ایک نہایت ہی اہم بات ہے، کیونکہ انگریزوں سے وفاداری کی شرط کو مسلمان بہت مخالفت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ بیرونی سامراجیت، جس نے ان کی حکومت اور اختیارات کو غصب کر رکھا تھا، سے نجات حاصل کی جائے۔ انگریزوں سے وفاداری کی شرط، ایمان ہونے کی وجہ سے مرزا غلام احمد کے پیروکاروں کی شکل میں انگریزوں کو بہت ہی اعلیٰ قسم کے جاسوس مل گئے تھے۔ ہمیں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ 1925ء میں افغانستان میں دو مرزائیوں کو قتل کر دیا گیا۔ نہ محض اس وجہ سے کہ وہ مرتد ہو گئے تھے بلکہ ان کے قبضہ سے ایسی دستاویزات برآمد ہوئی تھیں، جن سے پتہ چلا کہ وہ انگریز حکومت کے جاسوس تھے اور وہ افغان حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔“
(پارلیمنٹ میں قادیانی شکست صفحہ 276 از مولانا اللہ وسایا)
مرزا قادیانی کے تمام الہامات، ملفوظات اور تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ غلامی پر قناعت کرو اور دن رات انگریزی حکومت کے گن گاتے رہو۔
نبوت بھی رسیلی ہے پیمبر بھی رسیلا ہے
نصاریٰ کی رضا جوئی ہے مقصد اس نبوت کا
اور ابطال جہاد انجاح مقصد کا وسیلا ہے
حق بات کو ظاہر کرنا ہمارا فرض ہے
(93) ”میں نے نہ کسی بناوٹ اور ریا کاری سے بلکہ محض اُس اعتقاد کی تحریک سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ہے، بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ ان کو گورنمنٹ برطانیہ کی جو درحقیقت ان کی محسن ہے، سچی اطاعت اختیار کرنی چاہیے کہ وفاداری کے ساتھ اس کی شکر گزاری کرنی چاہیے۔ ورنہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوگے اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہوگئی۔
اور میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کرکے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیا گیا مگر با ایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا اور درحقیقت وجود سلطنت انگلشیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکلیفات کے بعد ہم کو ملی۔ اس لیے ہمارا فرض تھا کہ اس نعمت کا بار بار اظہار کریں۔“
(کتاب البریہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 40 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 475 پر)
جو نبوت قوم کے افراد کو آغوش غلامی میں سلانے کی کوشش کرے، انہیں مفلوج اور مجہول بنانے کی راہ پر گامزن ہو، انہیں مسلسل غلامی کے ”فضائل“ یاد کروائے، وہ نبوت قوم کے لئے برگ حشیش نہیں تو اور کیا ہے؟
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام
ہمارا فرض ............!
- (94) ”بے شک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیر خواہ ہوں
اور ضرورت کے وقت جان فدا کرنے کو بھی تیار ہوں۔“
(البلاغ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 400 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 476 پر)
قادیانی جماعت ...... انگریز کی وفادار فوج
- (95) ”جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت ومریدی رکھتی ہے۔ وہ ایک ایسی سچی، مخلص
اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ مَیں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظیر دُوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لیے ایک وفادار فوج ہے، جن کا ظاہر و باطن، گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔“
(تحفہ قیصریہ صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12، صفحہ 264 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 477 پر)
سورج کسی سر پہ کبھی سایہ نہیں کرتا
انگریز کی نمک پروردہ جماعت
- (96) ”غرض یہ (جماعت احمدیہ) ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک
پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ اور مورد مراحم گورنمنٹ ہیں۔“
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء مندرجہ مجموعہ
اشتہارات جلد دوم، صفحہ 197 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 478 پر)
مسلمانوں کی جاسوسی
1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمانوں میں یہ بحث چھڑ گئی چونکہ مسلمانوں کی
اسلامی حکومت ختم ہو گئی ہے اور ہندوستان پر انگریز قابض ہو گیا ہے، اب شرعی لحاظ سے ہندوستان کی حیثیت کیا ہے؟ دارالحرب یا دارالاسلام؟ اگر دارالحرب ہے تو اب مسلمانوں پر (شرائط نماز جمعہ پوری نہ ہونے کی وجہ سے) نماز جمعہ فرض نہ رہا اور اگر دارالاسلام ہے تو نماز جمعہ کی فرضیت بدستور قائم ہے۔ یہ بحث کچھ عرصہ چلتی رہی۔ بعدازاں یہ قرار پایا کہ نماز جمعہ بھی ادا کیا جائے اور نماز ظہر بھی پوری پڑھی جائے۔ بعض لوگوں نے جمعہ کے روز نماز ظہر کو ترک کر دیا تھا اور بعض لوگ صرف نماز ظہر پڑھتے تھے۔ جن لوگوں کی یہ رائے تھی کہ ہندوستان کے دارالحرب ہونے کی وجہ سے نماز جمعہ اب فرض نہیں رہی اور صرف نماز ظہر ہی پڑھنی چاہیے، انگریز بہادر کے نزدیک ایسے تمام مسلمان حکومت کے باغی تھے۔ انگریز کے محکمہ جاسوسی کا فرض تھا کہ ایسے لوگوں پر گہری نظر رکھے تاکہ مستقبل میں وہ اکٹھے اور منظم ہو کر حکومت کے لیے کوئی مشکلات پیدا نہ کریں۔ حکومت کے ایسے باغیوں کی نشاندہی کے لیے مرزا قادیانی نے یہ ڈیوٹی اپنے ذمہ لی۔ اس سلسلہ میں اس نے یکم جنوری 1898ء کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں گورنمنٹ برطانیہ کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ مسلمان حکومت کے ساتھ باغیانہ رویہ رکھتے ہیں۔ اس کی شناخت یہ ہے کہ جو لوگ نماز جمعہ نہیں پڑھتے، وہ سرکاری باغی اور ”دہشت گرد“ سمجھے جائیں۔ اس ”نیک“ کام کے لیے مرزا قادیانی نے باقاعدہ ایک گوشوارہ تیار کر کے ہندوستان بھر میں اپنے تمام مریدوں میں تقسیم کیا اور حکم دیا کہ وہ اس گوشوارہ میں ایسے تمام مسلمانوں کے کوائف درج کر کے قادیان بھجوائیں جو اپنے اپنے علاقوں میں نماز جمعہ کے لیے مسجد نہیں آتے تاکہ باغیوں کے یہ نام انگریز بہادر کی خدمت میں پیش کر کے وہ اس کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکے۔ اب آپ اس اشتہار کی عبارت ملاحظہ کیجیے جو مسلمانوں کی جاسوسی کی غرض سے مرزا قادیانی نے شائع کر کے اپنے مریدوں میں تقسیم کیا:
(97) ”قابل توجہ گورنمنٹ از طرف مہتمم کاروبار تجویز تعطیل جمعہ
مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب
چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لیے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کیے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں اور ایک چھپی ہوئی بغاوت کو اپنے دلوں میں رکھ کر اسی اندرونی بیماری کی وجہ
سے فرضیت جمعہ سے منکر ہو کر اس کی تعطیل سے گریز کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لیے تجویز کیا گیا کہ تا اس میں اُن ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں کہ جو ایسے باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔ اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے آدمی بہت ہی تھوڑے ہیں جو ایسے مفسدانہ عقیدہ کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھتے ہوں۔ لیکن چونکہ اس امتحان کے وقت بڑی آسانی سے ایسے لوگ معلوم ہو سکتے ہیں، جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے برخلاف ہیں۔ اس لیے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کیے جائیں جو اپنے عقیدہ سے اپنی مفسدانہ حالت کو ثابت کرتے ہیں کیونکہ جمعہ کی تعطیل کی تقریر پر ان لوگوں کا شناخت کرنا ایسا آسان ہے کہ اس کی مانند ہمارے ہاتھ میں کوئی بھی ذریعہ نہیں۔ وجہ یہ کہ جو ایک ایسا شخص ہو جو اپنی نادانی اور جہالت سے برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتا ہے، وہ جمعہ کی فرضیت سے ضرور منکر ہوگا اور اسی علامت سے شناخت کیا جائے گا کہ وہ در حقیقت اس عقیدہ کا آدمی ہے۔ لیکن ہم گورنمنٹ میں باادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح اُس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے۔ اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حلیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی اور بالفعل یہ نقشے جن میں ایسے لوگوں کے نام مندرج ہیں گورنمنٹ میں نہیں بھیجے جائیں گے۔ صرف اطلاع دہی کے طور پر ان میں سے ایک سادہ نقشہ چھپا ہوا جس پر کوئی نام درج نہیں فقط یہی مضمون درج ہے، ہمراہ درخواست بھیجا جاتا ہے اور ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ و نشان یہ ہیں:‘‘
نمبر شمار نام معہ لقب و عہدہ سکونت ضلع کیفیت
(اشتہار، قابل توجہ گورنمنٹ از طرف مہتمم کاروبار تجویز، تعطیل جمعہ نمبر 149 مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 555 تا 557 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 479 تا 481 پر)
آنجہانی مرزا قادیانی مسلمانوں کے خلاف انگریز کے لیے جاسوسی کا کام ”مفت“ نہیں کرتا تھا بلکہ وہ ان خدمات کے لیے بھاری معاوضہ حاصل کرتا تھا۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتا ہے:
پُراسرار منی آرڈر
(98) ”مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود نے مجھے صبح کے قریب جگایا اور فرمایا کہ مجھے ایک خواب آیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا خواب ہے؟ فرمایا: میں نے دیکھا ہے کہ میرے تخت پوش کے چاروں طرف ٹمک پڑتا ہوا ہے۔ میں نے تعبیر پوچھی تو کتاب دیکھ کر فرمایا کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔ اس کے بعد میں چار دن یہاں رہا۔ میرے سامنے ایک منی آرڈر آیا، جس میں ہزار سے زائد روپیہ تھا۔ مجھے اصل رقم یاد نہیں۔ جب مجھے خواب سنائی تو ملا داول اور شرن پت کو بھی بلا کر سنائی۔ جب منی آرڈر آیا تو ملا داول و شرن پت کو بلایا اور فرمایا کہ لو بھئی یہ منی آرڈر آیا ہے، جا کر ڈاکخانہ سے لے آؤ۔ ہم نے دیکھا تو منی آرڈر بھیجنے والا کا پتہ اس پر درج نہیں تھا۔ حضرت صاحب کو بھی پتہ نہیں لگا کہ کس نے بھیجا ہے۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 101، 102 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 482، 483 پر)
مرزا بشیر احمد کی مذکورہ روایت کے مطابق مرزا قادیانی کو ایک ہزار روپے سے زائد کا منی آرڈر موصول ہوا۔ اگر اسے ہزار روپے بھی سمجھ لیا جائے تو آج کے تقریباً 96 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ میں نے یہ حساب اس طرح لگایا ہے کہ مرزا بشیر احمد ایم اے کے مطابق اس زمانے میں ایک روپیہ کا سولہ کلو گوشت آتا تھا۔ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 182 از مرزا بشیر احمد ایم اے) آج کل گوشت 600 روپے فی کلو ہے۔ اس حساب سے سولہ کلو گوشت 9 ہزار 6 سو روپے مالیت کا بنتا ہے اور 9 ہزار 6 سو کو ایک ہزار سے ضرب دی جائے تو 96 لاکھ بنتا ہے۔ اس دور میں انگریز کے علاوہ ایسا کون سخی تھا جو مرزا قادیانی کو اس کی ”خصوصی خدمات“ کے عوض 96 لاکھ روپے دے اور اپنا نام بھی پوشیدہ رکھے؟
قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ بتائیں کہ رقم بھیجنے والا کون تھا اور اس نے یہ رقم کس مقصد کے لیے بھیجی؟؟؟
ان سے پوچھو کہ اجاڑے ہیں گلستاں کتنے؟
سچا مخبر
(99) ”درخواست بحضور نواب گورنر جنرل و وائسرائے کشور ہند بالقابہ بمراد منظوری تعطیل جمعہ: یہ عرضداشت مسلمانان برٹش انڈیا کی طرف سے جن کے نام ذیل میں درج ہیں، بحضور جناب گورنر جنرل ہند دام اقبالہ اس غرض سے بھیجی گئی ہے کہ تا گورنمنٹ عالیہ معروضات ذیل پر توجہ فرما کر تمام برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے لیے جمعہ کی تعطیل منظور فرما دے۔ وجوہات عرضداشت یہ ہیں......
یہ کہ تمام نیک دل اور پاک طبع مسلمان جو گورنمنٹ عالیہ کے سچے خیر خواہ ہیں، التزام جمعہ کی رسم کو اس محسن گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی اور دلی وفاداری کے لیے ایک علامت ٹھہراتے ہیں۔ مگر بعض دوسرے نالائق نام کے مسلمان جن کی تعداد قلیل ہے، اس ملک برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دے کر اپنے خود تراشیدہ خیالات کے رُو سے جمعہ کی فرضیت سے منکر ہیں۔ کیونکہ ان کا گمان ہے جو برٹش انڈیا دارالحرب ہے اور دارالحرب میں جمعہ فرض نہیں
رہتا۔ پس کچھ شک نہیں کہ جمعہ کی تعطیل سے ایسے بد باطن کمال صفائی سے شناخت کیے جائیں گے۔ کیونکہ اگر باوجود تعطیل کے پھر بھی وہ جمعہ کی نمازوں میں حاضر نہ ہوئے تو یہ بات کھل جائے گی کہ در حقیقت وہ نالائق اس گورنمنٹ کے ملک کو دارالحرب ہی قرار دیتے ہیں۔ تبھی تو جمعہ کی پابندی سے عمداً گریز کرتے ہیں۔ سو اس صورت میں یہ مبارک دن نہ صرف مسلمانوں کی عباداتِ خاصہ کا ایک دن ہو گا بلکہ گورنمنٹ کے لیے بھی ایک سچے مخبر کا کام دے گا اور ایک معیار کی طرح کھرے اور کھوٹے میں فرق کر کے دکھلاتا رہے گا۔ چنانچہ اس درخواست پر بھی صرف انہیں سچے خیر خواہوں کے دستخط درج ہیں جو اس ملک کو دارالحرب قرار نہیں دیتے۔ اور دلی سچائی سے گورنمنٹ کی حکومت کو قبول کر لیا ہے اور اپنے لیے سراسر برکت اور رحمت سمجھا ہے اور کچھ شک نہیں کہ جمعہ کی تعطیل سے ایسے لوگ جو غلطیوں میں پڑے ہوئے ہیں، اثر پذیر بھی ہوں گے اور گورنمنٹ کے دلی خیر خواہ بہت ترقی پذیر ہوں گے اور بد باطن تارک الجمعہ بڑی آسانی سے شناخت کیے جائیں گے۔ یہ بات دوبارہ گورنمنٹ کو یاد دلائی جاتی ہے کہ ایک جمعہ ہی مسلمانوں میں اس بات کی علامت ہے کہ کون شخص اس ملک گورنمنٹ کو دارالحرب قرار دیتا ہے اور کون اس کی نفی کرتا ہے۔ سو جو شخص گورنمنٹ برطانیہ کی رعیت ہو کر جمعہ کی فرضیت کا قائل ہے اور اس کا ترک کرنا معصیت سمجھتا ہے، وہ ہرگز اس ملک کو دارالحرب قرار نہیں دے گا اور سچے دل سے گورنمنٹ کا خیرخواہ ہوگا لیکن جو شخص برٹش انڈیا میں جمعہ کی فرضیت کا منکر ہے، وہ در پردہ اس ملک کو دارالحرب قرار دیتا ہے اور سچا خیرخواہ نہیں۔ سو جمعہ ان دونوں فریقوں کے پرکھنے کے لیے ایک معیار ہے۔“
(اشتہار، درخواست بحضور نواب گورنر جنرل و وائسرائے کشور ہند بالقابہ بمراد منظوری تعطیل
جمعہ نمبر 148 بتاریخ یکم جنوری 1896ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 551, 552
طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 484، 485 پر)
جمعہ کے خطبات میں انگریز کا شکریہ
- (100) ”ہم رعایا کی یہ بھی تمنا ہے کہ جس طرح اسلامی ریاستوں میں ان سلاطین کا شکر
کے ساتھ خطبہ میں ذکر ہوتا ہے جو مذہبی اُمور میں قرآن کے منشا کے موافق مسلمانوں کو آزادی
دیتے ہیں۔ ہم بھی جمعہ کی تعطیل کے شکریہ میں اور بلاد کے مسلمانوں کی طرح یہ دائمی شکر جمعہ کے منبروں پر اپنا وظیفہ کر لیں کہ سرکار انگریزی نے علاوہ ان مراحم اور الطاف کے ہم پر یہ بھی عنایت کی نظر کی جو ہمارے دینی عظیم الشان دن کو جو مدت سے اس ملک برٹش انڈیا میں مردہ کی طرح پڑا تھا، پھر نئے سرے سے زندہ کر دیا۔ سو بلا شبہ یہ ایسا احسان ہوگا کہ مسلمانوں کی ذریت کبھی اس کو فراموش نہیں کرے گی اور اسلامی تاریخ میں ہمیشہ عزت کے ساتھ یہ شکر ادا کیا جائے گا۔“
(اشتہار، درخواست بحضور نواب گورنر جنرل ووائسرائے کشور ہند بالقابہ، بمراد منظوری تعطیل
جمعہ نمبر 148 بتاریخ یکم جنوری 1896ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 553 طبع جدید
از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 486 پر)
انگریز کے لیے چندہ
(101) ”ہم نے اس مبارک عید کے موقع پر گورنمنٹ کے احسانات کا ذکر کر کے اپنی جماعت کو جو اس گورنمنٹ سے دلی اخلاص رکھتی اور دیگر لوگوں کی طرح منافقانہ زندگی بسر کرنا گناہ عظیم سمجھتی ہے، توجہ دلائی کہ سب لوگ تہ دل سے اپنی مہربان گورنمنٹ کے لیے دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس جنگ میں جو ٹرینسوال میں ہو رہی ہے، فتح عظیم بخشے اور نیز یہ بھی کہا کہ حق اللہ کے بعد اسلام کا اعظم ترین فرض ہمدردی خلائق ہے اور بالخصوص ایسی مہربان گورنمنٹ کے خادموں سے ہمدردی کرنا کارِ ثواب ہے جو ہماری جانوں اور مالوں اور سب سے بڑھ کر ہمارے دین کی محافظ ہے۔ اس لیے ہماری جماعت کے لوگ جہاں جہاں ہیں، اپنی توفیق اور مقدور کے موافق سرکارِ برطانیہ کے ان زخمیوں کے واسطے جو جنگ ٹرینسوال میں مجروح ہوئے ہیں، چندہ دیں۔ لہٰذا بذریعہ اشتہار ہٰذا اپنی جماعت کے لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہر ایک شہر میں فہرست مکمل کر کے اور چندہ کو وصول کر کے یکم مارچ سے پہلے مرزا خدا بخش صاحب کے پاس بمقام قادیان بھیج دیں کیونکہ یہ ڈیوٹی ان کے سپرد کی گئی ہے۔ جب آپ کا روپیہ مع فہرستوں کے آجائے گا تو اس فہرست چندہ کو اس رپورٹ میں درج کیا جائے گا جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ ہماری جماعت اس کام کو ضروری سمجھ کر بہت جلد اس کی تعمیل کرے۔ والسلام، راقم، مرزا غلام احمد از قادیان، 10 فروری 1900ء۔“
(اشتہار، اپنی جماعت کے لیے ایک ضروری اشتہار نمبر 219 بتاریخ 10 فروری 1900ء مندرجہ مجموعہ
اشتہارات جلد دوم صفحہ 363, 364 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 487، 488 پر)
مذکورہ اشتہار میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ انگریز گورنمنٹ، ”ہمارے دین کی محافظ ہے“۔ یہاں ”ہمارے دین“ سے مراد قادیانی مذہب ہے نہ کہ دینِ اسلام۔ انگریزوں نے اسلام اور مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے لیے جس طرح اپنی ناپاک کوششیں کیں، وہ کسی ذی شعور سے پوشیدہ نہیں۔
انگریز کی فتوحات، مرزا قادیانی کی فتوحات
(102) ”سلطنت عادل کا ہونا، یہ کیسی بڑی نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح و مہدی (مرزا قادیانی) کو ایک ایسی گورنمنٹ کے سایہ میں رکھا ہے جس نے تمام مذہبی آزادی دے رکھی ہے اور مسیح کا آنا ایسی ہی سلطنت کو چاہتا تھا۔ اگر یہ سلطنت نہ آئی ہوتی تو مسیح ہرگز نہیں آ سکتا تھا۔ وجہ یہ کہ مسیح کے ظہور کا جو زمانہ بتایا گیا تھا، وہ نہایت ہی خطرناک تھا۔ کیونکہ تمام مذاہب میں فتور عظیم کی خبر دی گئی تھی۔ حتیٰ کہ علماء و فقراء و فقہاء اسلام کی نسبت مخبر صادق علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرما دیا تھا کہ روئے زمین پر آسمان کے نیچے اُن سے بدتر کوئی مخلوقات نہ ہوگی۔ گویا از روئے مذہب تمام مخلوقات مسخ ہو کر درندوں اور وحشیوں کی طرح ہوگئی ہوگی اور ہر ایک دوسرے کے مذہب اور اعتقاد پر حملہ کرتا ہوگا تو ایسی حالت میں مسیح کے آنے پر کیونکر ممکن ہو سکتا تھا کہ وہ کسی فرقہ کے اعتقاد کے برخلاف کہے اور وہ اُن کے شر سے محفوظ رہ سکے۔ اسی واسطے رسول اللہ ﷺ نے خبر بھی دیدی تھی کہ لوگ مسیح پر کفر کے فتویٰ بھی لگائیں گے۔ جیسے کہ آثار سے ظاہر ہے۔ اور اگر بس چلا تو اُس کے قتل کی بھی کوشش کریں گے۔ چنانچہ قتل کے فتوے بھی دیے گئے اور مقدمات بھی برپا کیے گئے۔ اور پھر گورنمنٹ بھی کسی خاص مذہب کی حامی یا طرفدار ہوتی جس کے زیر سایہ مسیح کو زندگی بسر کرنا تھی تو مسیح کے لیے مخلوقات کے شر سے بھی گورنمنٹ کا زیادہ خطرے کا مقام تھا۔ کیونکہ گورنمنٹ کے لیے کونسا مشکل امر ہوتا ہے کہ وہ جس کو چاہیے پکڑ کر توپ کے آگے اُڑا دے یا جس طرح چاہے ہلاک کردے۔
اور یہ تاریخ سے واضح ہے کہ اکثر بادشاہوں نے نبیوں اور ولیوں کو اپنے اعتقاد کے مخالف پا کر ہلاک بھی کیا ہے۔ لہٰذا اشد ضروری تھا کہ وہ گورنمنٹ جس کے زمانہ
میں مسیح کو آنا چاہیے تھا، وہ ایسی ہی گورنمنٹ ہوتی جیسی کہ موجودہ سرکار برطانیہ ہے جس نے مذہب کی عام آزادی دے رکھی ہے۔ جس طرح کوئی چاہے، پابندی قانون اپنی تعلیم مذہبی کو پھیلائے اور جس طریق پر چاہے، ترویج دے۔ ہاں کسی خلل امن عامہ کا مرتکب نہ ہو۔ پس یہی مبارک گورنمنٹ ہے جس کے عہد معدلت مہد میں مسیح موعود نزول فرما ہوئے۔ کیا ہی مبارک اقدام فرخندہ فرجام قیصرہ وکٹوریہ تھی جس کے زمانہ کو خدائے قدوس نے ازل ہی سے چن لیا تھا اور یقیناً یقیناً یہی باعث ہے کہ اس ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو تخت پر بیٹھتے ہی اقبال نے ساتھ دیا اور وہ روز افزوں ترقی کرتی گئیں۔ وہ اقبال کیا تھا، یہی کہ اُس کے تخت پر بیٹھنے کے ساتھ ہی مسیح موعود کا تولد شریف ہوا اور جوں جوں اُس مبارک قدم مسیح کی عمر میں ترقی ہوتی گئی، اس مبارک نصیب وخوش اقبال ملکہ کو بھی ترقی ہوتی گئی۔ اور جب مسیح اپنی عمر کے کمال کو پہنچے اور مسیحیت کے عہدہ پر مامور ہوئے تو قیصرہ مبارکہ بھی اپنے اقبال کے انتہائی نقطہ تک پہنچ گئیں اور اب اُس کی سلطنت کا دائرہ اس قدر وسیع ہو گیا ہے کہ ہم بلا دریغ کہہ سکتے ہیں کہ اُس کی سلطنت پر سورج کبھی بھی غروب نہیں ہوتا لہٰذا اُس مبارکہ قیصرہ اور اُس کی اولاد کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا خاص شکریہ ادا کریں کہ اُن کو وہ زمانہ عطا کیا گیا جس کو مسیح کے مبارک انفاس نے اُن کے لیے بابرکت اور مثمر بہ ثمرات عظیمہ کر دیا اور گو افسوس ہے کہ جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ایک بڑی معقول طویل عمر پا کر اس جہان سے رخصت ہو گئیں اور ان کے بعد اُن کا بیٹا ایڈورڈ ہفتم ایک خاصہ عرصہ تک تخت شاہی پر متمکن رہ کر اور امن اور راحت کی زندگی بسر کر کے اس دنیا سے چل بسے اور عنان حکومت ایک لائق اور عقلمند بیٹے کے سپرد کر گئے۔ اگرچہ ایڈورڈ ہفتم کے آخری زمانہ میں بعض حکام اعلیٰ نے حضرت مسیح کی قدر نہ کی اور میرا ایمان ہے کہ انہی وجوہات سے ہندوستان کے مختلف صوبوں میں آثار تشویش پیدا ہو گئے۔ لیکن بڑا باعث یہ بھی ہے کہ مسیح موعود جو گورنمنٹ برطانیہ کے اقبال کا محافظ تھا، وہ اس دنیا سے اُن کے آخری زمانہ ہی میں رحلت فرما گئے اور اب موجودہ بادشاہ کو پریشانی کا منہ دیکھنا پڑا۔ میٹریلسٹ خواہ کچھ ہی کہیں، ہم کہتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ مسیح کی زندگی میں ملکہ معظمہ وکٹوریہ کا اقبال روز افزوں ترقی کرتا گیا اور اُن کی وفات کے بعد اُن کے
بیٹے اور پوتے کو تشویش اُٹھانی پڑی اور ظاہر ہے کہ کوئی علت بغیر معلول کے نہیں ہو سکتی اور کوئی سبب بغیر مسبب کے نہیں ہوتا، پھر کیا وجہ ہے کہ مسیح کی موجودگی میں ترقی ہوتی جائے اور اُس کی وفات کے ساتھ ہی خلل پیدا ہو جائے تو بروئے حالات موجودہ بجز اس کے اور کیا سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ سارا معاملہ اُسی بابرکت انسان کی موجودگی اور عدم موجودگی کی وجہ سے ہے اور ہماری جماعت کو یعنی اُن لوگوں کو جو خدا کے مرسل، خدا کے فرستادہ، خدا کے دست پروردہ، رسول اللہ ﷺ کے پیارے جانشین، پیارے رسول اللہ کے خلیفہ یعنی مسیح موعود کو سچا تسلیم کر کے اُن پر ایمان لا چکے ہیں۔ اس مبارک ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور اُن کے جانشین سے دلی خلوص اور محبت سے پیش آویں اور صدق دل سے ہر وقت اُن کی وفاداری کا دم بھریں اور ان کے روز افزوں اقبال کے لیے دعا کریں۔ کیونکہ خود خداوند قادر مطلق نے اس قیصرہ کو مسیح کے زمانہ میں ملکہ ہونے کے لیے روز ازل سے چن لیا تھا یعنی یوں کہنا چاہیے کہ امن کے شاہزادے مسیح (مرزا قادیانی) اور اس مبارک امن پسند قیصرہ کا ایک ہی زمانہ میں لازم و ملزوم ہونا ضروری تھا۔ ورنہ جب نظر غور سے دیکھتے ہیں تو کہیں بھی امن کی جگہ نظر نہیں آتی۔ کیا ہمارا مسیح روس میں امن اور عافیت کے ساتھ ایسی تبلیغ کر سکتا تھا، ہرگز نہیں۔ کیا روم میں سلطان عبدالحمید جیسے بااقبال اور باخبر متدین اور پاکباز بادشاہ کے زیر حکومت اس عظیم الشان طور سے حق تبلیغ ادا کر سکتا تھا، ہر گز نہیں بلکہ اگر سلطان اپنی نیک نیتی سے اُن کو اپنے حدود سلطنت میں جگہ بھی دینے کا ارادہ کرتا تو خود اُس سلطان کو بھی قتل کیے بغیر لوگ نہ رہتے۔ کیا بیت اللہ جیسے پُر امن مقام میں اس آزادی سے مراسم تبلیغ بجا لا سکتے تھے۔ ہر گز نہیں بلکہ ایک ہی روز میں خاتمہ کر دیا جاتا۔ بنا برآں نہایت ضروری بلکہ اشد ضروری تھا کہ قیصرہ مبارکہ کا مبارک زمانہ ہی ہوتا کہ جس میں مسیح کا نزول ہوتا۔ والحمد للہ کہ ایسا ہی ہوا۔ اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند تجھ کو مبارک ہو۔ تو کیسی ہی خوش نصیب تھی کہ مسیح کی روح نے تیرے زمانہ میں تیری ہی سلطنت کے اندر نزول کے لیے جوش کیا۔ اور وہ تیرے لیے تیرے ہی اقبال کا زیور ہوا۔ تجھ کو اور تیری اولاد کو خاص اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ یہ کل اقبال اس فانی فی اللہ مسیح موعود کے انفاس طیبات کی برکت کا نتیجہ ہے کہ تو دنیا کے سلاطین سے سبقت لے گئی۔ تجھ کو چاہیے کہ تو اس مبارک قدم انسان کی قدر کرے اور اس کی خاص حمایت میں سعی کرے۔ کیا
تجھ کو حال ہی میں تجربہ نہیں ہوا کہ ٹرنسوال میں جب شکست پر شکست تیری افواج کو ہو رہی تھی تو اس خدا کے فرستادہ نے اپنی جماعت کے لوگوں کو قادیان میں طلب کیا اور عید کے روز ایک وسیع میدان میں کھڑے ہو کر تیری فوجوں کی فتح کے لیے دعا کی۔ پس ادھر دعا کا ہونا تھا، اُدھر لارڈ رابرٹس بہادر کو فتوحات پر فتوحات ہونی شروع ہو گئیں۔ یہ رابرٹس کی کوئی ذاتی لیاقت و بہادری کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ صرف اسی مردِ خدا کی دعا کا اثر ہے کہ بندوقوں اور توپوں سے زیادہ اثر کر گئی۔ ورنہ یہی بندوقیں تھیں اور یہی توپیں تھیں، اور یہی آدمی تھے جو ایک مدت سے بے اثر اور بیکار ثابت ہو چکے تھے۔ بتاؤ وہ کیوں غیر موثر ہو رہے تھے۔ اس لیے کہ خدا تعالیٰ نے ایک نشان دکھلانا تھا۔ اور وہ بالآخر دعا کے بعد ظاہر ہوا۔ کون ہے جو کہ اُس کا انکار کر سکتا ہے۔ اب بھی گورنمنٹ کو چاہیے کہ اُس کے جانشین کی قدر کرے تاکہ وہ اس کے اقبال کے لیے دعا کرے تاکہ وہ تمام آفات زمانہ سے محفوظ رہے۔‘‘
(عسل مصفیٰ صفحہ 176 تا 179 جلد دوم، از مرزا خدا بخش قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 489 تا 492 پر)
شہنشاہ معظم کی سلور جوبلی اور قادیانی جماعت
(103) ’’سرکاری طور پر یہ اعلان ہو چکا ہے کہ 6 مئی 1935ء کو ان تمام ممالک کے لوگوں کی طرف سے جو حکومت برطانیہ کے جھنڈے کے نیچے آباد ہیں اور جو ملک معظم کو اپنا حکمران تسلیم کرتے ہیں، ملک معظم کی تخت نشینی کی پچیسویں سالگرہ کی تقریب خوشی اور مسرت سے منائی جائے گی۔ جماعت احمدیہ نے اپنے بانی حضرت مسیح موعود کی تعلیم اور آپ کے اسوہ حسنہ کے ماتحت آج تک حکومت برطانیہ کے ساتھ وفاداری اور حقیقی خیرخواہی کا جو ثبوت پیش کیا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ خوشی اور مسرت کی اس شاندار تقریب میں بھی جماعت احمدیہ حسب استطاعت پوری طرح حصہ لے اور ثابت کر دے کہ ملک معظم کے اس طویل اور شاندار دورِ حکومت میں اہلِ ہند کو جو فوائد حاصل ہوئے جنہیں جماعت احمدیہ نہایت قدر اور وقعت کی نظر سے دیکھتی اور جن کے متعلق شکر گزاری کے گہرے جذبات اپنے قلوب میں رکھتی ہے، ان کو مقدور بھر عملی صورت میں پہلے ہی پیش کرتی رہی ہے اور اب بھی کرتی ہے۔
چونکہ جماعت احمدیہ ایک چھوٹی سی اور غریب جماعت ہے، اس لیے یہ تو ممکن نہیں
کہ مالی لحاظ سے وہ دولت مند اور کثیر الاقتصاد لوگوں کا مقابلہ کر سکے۔ لیکن ایک بات ایسی ہے جس میں وہ اپنی خصوصیت قائم رکھ سکتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے ہر آمدنی رکھنے والے اور کمانے والے فرد کو اپنی وسعت اور گنجائش کے مطابق ضرور اس فنڈ میں حصہ لینا چاہیے جو سلور جوبلی کی تقریب میں جمع کیا جا رہا ہے اسے نہایت مفید اغراض و مقاصد پر صرف کیا جائے گا تا کہ یہ ظاہر ہو کہ ہر احمدی اپنے دل میں شہنشاہ معظم کے متعلق جذبات شکر گزاری رکھتا ہے اور ان کا اظہار کر رہا ہے۔ اس قسم کے موقع پر اظہار خوشی و مسرت کی مثال حضرت مسیح موعود خود قائم فرما چکے ہیں۔ چنانچہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے جشن جوبلی کے موقع پر آپ نے قادیان میں ایک جلسہ منعقد فرمایا۔ مبارک باد کا تار وائسرائے ہند کی وساطت سے ارسال کیا۔ غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلایا اور جشن کی آخری رات چراغاں بھی کیا گیا۔
حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک کی یہ مثال جماعت احمدیہ کے لیے ایک ایسا اسوہ ہے کہ جب کبھی اس رنگ میں تاج برطانیہ سے وفاداری اور خلوص کے اظہار کا موقعہ ہو، جماعت احمدیہ کو پورے جوش کے ساتھ اس میں حصہ لینا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ قبل ازیں ’’الفضل‘‘ اور نظارت بیت المال جماعت احمدیہ کو شہنشاہ معظم کی سلور جوبلی کی تقریب میں حسب مقدور شریک ہونے کی تحریک کر چکی ہے اور اب پھر اس بارے میں تاکید کی جاتی ہے:
پس اس تقریب کے سلسلہ میں چندہ فراہم کرنے کے لیے جو صوبائی فہرست کھولی گئی ہے اور جس کا اعلان ہزایکسی لینسی گورنر بہادر پنجاب کر چکے ہیں۔ تمام احمدیوں کو چاہیے کہ اس میں حصہ لیں اور اپنے اپنے ضلع کے انتظام کے ماتحت اپنے چندہ کی رقوم اس فنڈ میں جمع کرائیں۔..................
چونکہ اس تقریب کی مقررہ تاریخ بالکل قریب آچکی ہے اور ضروری ہے کہ ہر احمدی حتی المقدور اس میں حصہ لے۔ اس لیے تمام احمدی جماعتوں کے کارکنوں کو فوری طور پر اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ اس چندہ میں احمدیوں کی شرکت خاص طور پر اس لیے بھی مناسب اور ضروری ہے کہ اول تو حضرت مسیح موعود نے اپنے زمانہ میں جشن جوبلی کے موقعہ پر چندہ دیا اور خوشی منائی۔ دوسرے اس موقعہ پر جمع شدہ چندہ رفاہ عام کے نہایت مفید اور ضروری کاموں میں صرف کیا جائے گا۔ تیسرے ملک معظم سے اظہار وفاداری کا یہ ایک عمدہ موقعہ ہے جس میں ضرور شریک ہونا چاہیے۔ پس ہر جگہ کی احمدی جماعتوں کو اس اہم کام کی طرف جلد سے
جلد متوجہ ہونا چاہیے۔ اور اپنی کارگزاری کی اطلاع مرکز میں بھی بھیجنی چاہیے۔“
(روزنامہ الفضل قادیان جلد 22، شمارہ 133 بتاریخ 7 اپریل 1935) (عکس صفحہ نمبر 493 تا 494 پر)
تنگ ظرف لوگ
(104) ”میں ہرگز نہیں چاہتا کہ مذہبی امور میں اس قدر غصہ بڑھایا جائے کہ مخالفوں کے حملوں کو قانونی جرائم کے نیچے لا کر گورنمنٹ سے ان کو سزا دلائی جائے یا ان سے کینہ رکھا جائے بلکہ میرا اصول یہ ہے کہ مذہبی مباحثات میں صبر اور اخلاق سے کام لینا چاہیے۔ اسی وجہ سے جب عام مسلمانوں نے مصنف کتاب ”امہات المومنین“ کے سزا دلانے کے لیے انجمن حمایت اسلام کے ذریعے سے گورنمنٹ میں میموریل بھیجے تو میں نے ان سے اتفاق نہیں کیا بلکہ ان کے برخلاف میموریل بھیجا اور صاف طور پر لکھا کہ مذہبی امور میں اگر کوئی رنج دہ امر پیش آوے تو اسلام کا اصول عفو اور درگزر ہے۔ قرآن ہمیں صاف ہدایت کرتا ہے کہ اگر مذہبی گفتگو میں سخت لفظوں سے تمھیں تکلیف دی جائے تو تنگ ظرف لوگوں کی طرح عدالتوں تک مت پہنچو اور صبر اور اخلاق سے کام لو۔ قرآن نے ہمیں صاف کہا ہے کہ عیسائیوں سے محبت اور خلق سے پیش آؤ اور نیکی کرو۔“
(کشف الغطاء صفحہ 10، 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 186، 187 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 495، 496 پر)
مذہبی آزادی؟؟؟
(105) ”اگر چہ یہ سچ ہے کہ کتاب ”امہات المومنین“ کے مؤلف نے نہایت دل دُکھانے والے الفاظ سے کام لیا ہے اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ باوجود ایسی سختی اور بدگوئی کے اپنے اعتراضات میں اسلام کی معتبر کتابوں کا حوالہ نہیں دے سکا۔ مگر ہمیں ہرگز نہیں چاہیے کہ بجائے اس کے کہ ایک خطا کار کو نرمی اور آہستگی سے سمجھاویں اور معقولیت کے ساتھ اس کتاب کا جواب لکھیں، یہ حیلہ سوچیں کہ گورنمنٹ اس کتاب کو شائع ہونے سے روک لے تا اس طرح پر ہم فتح پالیں کیونکہ یہ فتح واقعی فتح نہیں ہے بلکہ ایسے حیلوں کی طرف دوڑنا ہمارے عجز اور
درماندگی کی نشانی ہوگی اور ایک طور سے ہم جبر سے منہ بند کرنے والے ٹھہریں گے اور گو گورنمنٹ اس کتاب کو جلا دے، تلف کرے، کچھ کرے، مگر ہم ہمیشہ کے لیے اس الزام کے نیچے آ جائیں گے کہ عاجز آ کر گورنمنٹ کی حکومت سے چارہ جوئی چاہی۔ .............
مذہبی آزادی کا دروازہ کسی حد تک کھلا رہنا ضروری ہے تا مذہبی علوم اور معارف میں لوگ ترقی کریں اور چونکہ اس عالم کے بعد ایک اور عالم بھی ہے جس کے لیے ابھی سے سامان چاہیے۔ اس لیے ہر ایک حق رکھتا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ ہر ایک مذہب پر بحث کرے اور اس طرح اپنے تئیں اور نیز بنی نوع کو نجات اخروی کے متعلق جہاں تک سمجھ سکتا ہے، اپنی عقل کے مطابق فائدہ پہنچاوے۔ لہٰذا گورنمنٹ عالیہ میں اس وقت ہماری یہ التماس ہے کہ جو انجمن حمایت اسلام لاہور نے میموریل گورنمنٹ میں اس بارے میں روانہ کیا ہے، وہ ہمارے مشورہ اور اجازت سے نہیں لکھا گیا بلکہ چند شتاب کاروں نے جلدی سے یہ جرأت کی ہے جو درحقیقت قابل اعتراض ہے۔ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ ہم تو جواب نہ دیں اور گورنمنٹ ہمارے لیے عیسائی صاحبوں سے کوئی باز پرس کرے یا اُن کتابوں کو تلف کرے بلکہ جب ہماری طرف سے آہستگی اور نرمی کے ساتھ اس کتاب کا رد شائع ہوگا تو خود وہ کتاب اپنی قبولیت اور وقعت سے گر جائے گی اور اس طرح پر وہ خود تلف ہو جائے گی۔ اس لیے ہم بادب ملتمس ہیں کہ اس میموریل کی طرف جو انجمن مذکور کی طرف سے بھیجا گیا ہے، گورنمنٹ عالیہ ابھی کچھ توجہ نہ فرمادے۔
................. اور ہم گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم درد ناک دل سے اُن تمام گندے اور سخت الفاظ پر صبر کرتے ہیں جو صاحب امہات المومنین نے استعمال کیے ہیں اور ہم اس مؤلف اور اس کے گروہ کو ہرگز کسی قانونی مواخذہ کا نشانہ بنانا نہیں چاہتے کہ یہ امر اُن لوگوں سے بہت ہی بعید ہے کہ جو واقعی نوع انسان کی ہمدردی اور سچی اصلاح کے جوش کا دعویٰ رکھتے ہیں‘‘۔
(اشتہار، میموریل بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر صاحب بہادر بلقابہ نمبر 190 بتاریخ 4 مئی 1898ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 215 تا 219 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 497 تا 501 پر)
آنجہانی مرزا قادیانی نے اس اشتہار میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ عیسائیوں اور آریوں نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی ہیں مگر وہ اس پر (کم از کم) احتجاج کرنے پر بھی قاصر ہے، مبادا اس کے سرپرست انگریز کہیں ناراض نہ ہو جائیں۔ قادیانی اکثر پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے عیسائیت کے
غلط عقائد کا جواب دیا اور اس طرح اسے کسر صلیب کا اعزاز حاصل ہوا۔ لیجیے دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی عیسائیت کے غلط عقائد کے خلاف کام کرنے والوں کو کیا مشورہ دیتا ہے:
طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو
(106) ”یہ بھی تو سوچو کہ پادری صاحبوں کا مذہب ایک شاہی مذہب ہے۔ لہٰذا ہمارے ادب کا یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ ہم اپنی مذہبی آزادی کو ایک طفیلی آزادی تصور کریں، اور اس طرح پر ایک حد تک پادری صاحبوں کے احسان کے بھی قائل رہیں۔ گورنمنٹ اگر ان کو باز پرس کرے تو ہم کس قدر باز پرس کے لائق ٹھہریں گے۔ اگر سبز درخت کاٹے جائیں تو پھر خشک کی کیا بنیاد ہے۔ کیا ایسی صورت میں ہمارے ہاتھ میں قلم رہ سکے گی؟ سو ہوشیار ہو کر طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو اور اس محسن گورنمنٹ کو دعائیں دو جس نے تمام رعایا کو ایک ہی نظر سے دیکھا۔“
(البلاغ صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 392 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 502 پر)
میرا مدعا
(107) ”گزشتہ دنوں میں، میں نے بھی مسلمانوں میں ایسی تحریروں سے ایک جوش دیکھ کر چند دفعہ ایسی تحریریں شائع کی تھیں جن میں ان سخت کتابوں کا جواب کسی قدر سخت تھا۔ ان تحریروں سے میرا مدعا یہ تھا کہ عوض معاوضہ کی صورت دیکھ کر مسلمانوں کا جوش رُک جائے۔ سو اگرچہ اس حکمت عملی کی تحریروں سے مسلمانوں کو فائدہ تو ہوا اور وہ ایسے رنگ کا جواب پا کر ٹھنڈے ہوگئے۔“
(اشتہار، ضمیمہ رسالہ جہاد نمبر 227 بتاریخ 7 جولائی 1900ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات، جلد دوم
صفحہ 435 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 503 پر)
اگر اس طرۂ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
طمانچہ
(108) ”وہ طمانچہ جو ایک گال کے بعد دوسری گال پر عیسائیوں کو کھانا چاہیے تھا، ہم لوگ گورنمنٹ کی اطاعت میں محو ہو کر پادریوں اور ان کے ہاتھ کے اُکسائے ہوئے آریوں سے کھا رہے ہیں۔ یہ سب بربادیاں ہم اپنی محسن گورنمنٹ کے لحاظ سے کرتے ہیں اور کریں گے کیونکہ اُن احسانات کا ہم پر شکر کرنا واجب ہے جو سکھوں کے زوال کے بعد ہی خدا تعالیٰ کے فضل نے اس مہربان گورنمنٹ کے ہاتھ سے ہمارے نصیب کیے اور نہایت بدذاتی ہوگی، اگر ایک لحظہ کے لیے بھی کوئی ہم میں سے ان نعمتوں کو فراموش کر دے جو اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے مسلمانوں کو ملی ہیں۔ بلاشبہ ہمارا جان و مال گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی میں فدا ہے اور ہوگا۔ اور ہم غائبانہ اس کے اقبال کے لیے دعا گو ہیں۔“
(آریہ دھرم صفحہ 59 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 81 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 504 پر)
پرکار و سخن ساز ہے، نمناک نہیں ہے
قادیانی حکمت عملی؟؟؟
(109) ”اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جُرأت سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بست سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کر سکتا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اس قدر لمبے زمانہ تک کہ جو بیس برس کا زمانہ ہے، ایک مسلسل طور پر تعلیم مذکورہ بالا پر زور دیتے جانا کسی منافق اور خود غرض کا کام نہیں ہے بلکہ ایسے شخص کا کام ہے جس کے دل میں اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی ہے۔ ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دُوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کیا کرتا ہوں۔ اور ایسا ہی پادریوں کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شائع کرتا رہا ہوں۔ اور میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جبکہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی اور حد اعتدال
سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ ”نور افشاں“ میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے، نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں ............ تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے، ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لیے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے۔ تا سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی، چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی کیونکہ میرے کانشنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں، ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لیے یہ طریق کافی ہوگا۔ کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔ سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی۔ اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزارہا مسلمان جو پادری عمادالدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آ چکے تھے، یکدفعہ ان کے اشتعال فرو ہو گئے۔ کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب سخت الفاظ کے مقابل پر اُس کا عوض دیکھ لیتا ہے تو اُس کا وہ جوش نہیں رہتا۔ باایں ہمہ میری تحریر پادریوں کے مقابل پر بہت نرم تھی گویا کچھ بھی نسبت نہ تھی۔ ہماری محسن گورنمنٹ خوب سمجھتی ہے کہ مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی ﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اُس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دُودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی ﷺ سے محبت رکھتے ہیں ایسا ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ سو کسی مسلمان کا یہ حوصلہ ہی نہیں کہ تیز زبانی کو اس حد تک پہنچائے جس حد تک ایک متعصب عیسائی پہنچا سکتا ہے اور مسلمانوں میں یہ ایک عمدہ سیرت ہے جو فخر کرنے کے لائق ہے کہ وہ تمام نبیوں کو جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہو چکے ہیں، ایک عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے بعض وجوہ سے ایک خاص محبت رکھتے ہیں۔ جس کی تفصیل کے لیے اس جگہ موقع نہیں۔ سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو
کچھ وقوع میں آیا، یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا۔“
(تریاق القلوب صفحہ 361 تا 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 489 تا 491 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 505 تا 507 پر)
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بو لہبی
1927ء میں لاہور کے ایک ہندو پبلشر راجپال نے دنیا کی عظیم ترین، پاکیزہ ترین ہستی، محبوب خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے خلاف ایک نہایت دلآزار کتاب شائع کی جس میں آپ ﷺ کی ذات گرامی کی بے حد توہین کی گئی تھی۔ اس کتاب کی اشاعت پر پورے عالم اسلام میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ اس گستاخی کو برداشت نہ کرتے ہوئے ایک محب رسول غازی علم الدین شہیدؒ نے 16 اپریل 1929ء کو ملعون راجپال کو قتل کر دیا۔ غازی علم الدین شہیدؒ کے اس کارنامے کو پوری ملت اسلامیہ نے سراہا۔ لیکن قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے اس واقعہ کی ناصرف مذمت کی بلکہ راجپال کے خاندان کے ساتھ تعزیت بھی کی۔ مرزا بشیر الدین نے اپنی ایک تقریر میں کہا:
وہ نبی بھی کیسا نبی ہے؟
(110) ”اسی طرح اس قوم کا جس کے جوشیلے آدمی قتل کرتے ہیں، خواہ انبیا کی توہین کی وجہ سے ہی وہ ایسا کریں، فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہار برأت کرے۔ انبیا کی عزت کی حفاظت قانون شکنی کے ذریعہ نہیں ہو سکتی، وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں، جس کے بچانے کے لیے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہؐ کی عزت کے لیے قتل کرنا جائز ہے، سخت نادانی ہے۔......
وہ لوگ (غازی علم الدین شہید، ناقل) جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں، وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے، وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔ میرے نزدیک تو اگر یہی شخص (راج پال کا) قاتل ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہو سکتا ہے جو اس کے پاس جاوے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی، لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے، تمہیں چاہیے، خدا سے صلح کر لو۔ اس کی خیر خواہی اسی میں ہے
کہ اسے (غازی علم الدین شہید کو) بتایا جائے کہ تم سے غلطی ہوئی ہے۔“ (خطبہ جمعہ مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد 16 نمبر 82 صفحہ 8، 9 مورخہ 19 اپریل 1929ء) (عکس صفحہ نمبر 508 پر)
ابلیس کو ٹھہراتا ہے کیا مورد الزام
غرضیکہ یہ قادیانی اصول قرار پایا کہ رسول اللہ ﷺ یا اہل بیت کی شان میں خواہ کتنی ہی بے ادبی اور گستاخی کی جائے، ضبط و تحمل سے کام لیا جائے، اُف تک نہ کی جائے اور اگر کوئی اس سلسلہ میں غیرت ایمانی میں اپنی جان پر کھیل جائے تو اس کو اور اس کے ہمدردوں کو مجرم گردان کر مطعون کیا جائے.......... لیکن مرزا قادیانی اور ان کے خاندان کے بارے میں یہ اصول بالکل الٹ گیا اور قرار پایا کہ قانونی چارہ جوئی کی جائے اور اگر جان بھی لی جائے تو اس کی تائید و تحسین کی جائے۔
قادیانی عہد
(111) ”جماعت احمدیہ کو اس کے مخالفین خواہ کتنا ہی غلطی خوردہ سمجھیں، گمراہ اور بے دین قرار دیں، لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ جماعت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو خدا تعالیٰ کا سچا رسول اور نبی یقین کرتی ہے اور اس کا ہر ایک فرد سب سے اوّل دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اعلان کرتا ہوا جہاں یہ اقرار کرتا ہے کہ آپ کی تعلیم اور آپ کے احکام کے مقابلے میں وہ ساری دنیا کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ وہاں یہ بھی عہد کرتا ہے کہ آپ (مرزا قادیانی) کی حرمت اور آپ (مرزا قادیانی) کی تقدیس کے لیے اگر اپنی جان بھی دینا پڑے گی تو دریغ نہیں کرے گا۔ ہر احمدی اپنا عہد پورا کرے گا۔ جس جماعت کا سب سے پہلا عہد یہ ہو اور جو اس عہد کی پابندی کرنا دین و دنیا کی کامیابی سمجھتی ہو۔ ظاہر ہے اگر دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی ظالم اور جفا جو طاقت بھی اس کے اس عہد کا امتحان لینا چاہے گی تو احمدی کہلانے والا کوئی انسان بھی اس سے منہ نہیں موڑے گا اور مردانہ وار خوف و خطر کے سمندر کو عبور کر جائے گا۔ خواہ اسے اپنے خون میں سے تیر کر جانا پڑے، خواہ غازی بن کر سلامتی کے کنارہ پہنچنے کی
سعادت حاصل ہو۔“
(روزنامہ الفضل قادیان جلد 17 نمبر 80 صفحہ 3 مورخہ 15 اپریل 1930ء)
(عکس صفحہ نمبر 509 پر)
اشتعال انگیزی کی تلقین
(112) ”گندے سے گندے الفاظ حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کے متعلق کہے جاتے ہیں۔ تم خود دشمن سے وہ الفاظ کہلواتے ہو اور پھر تمہاری رگ و پے میں تک آ کر ختم ہو جاتی ہے کہ گورنمنٹ سے کہتے ہو، وہ تمہاری مدد کرے، گورنمنٹ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے؟“
(مرزا محمود کا خطبہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25، نمبر 129، صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء)
(عکس صفحہ نمبر 510، 511 پر)
خون کا آخری قطرہ
(113) ”سب سے پہلی اور مقدم چیز جس کے لیے ہر احمدی کو اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے میں دریغ نہیں کرنا چاہیے وہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور سلسلہ (قادیانیت) کی ہتک ہے۔“
(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد 23 نمبر 43 صفحہ
5 مورخہ 20 اگست 1935ء) (عکس صفحہ نمبر 512، 513 پر)
گالیاں دینے والوں کو مٹا ڈالو
(114) ”کیا تمھیں شرم نہیں آتی کہ تم ایک سخت بد لگام دشمن کا جواب دے کر اس سے حضرت مسیح (یعنی مرزا قادیانی) کو گالیاں دلواتے ہو اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھ رہتے ہو۔ اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہ عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہیے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ یا گالیاں دینے والوں کو مٹا ڈالو۔ مگر ایک طرف تم جوش
اور بہادری کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف بزدلی اور دوں ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہو۔‘‘
(تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25 نمبر 129، صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء)
(عکس صفحہ نمبر 514، 515 پر)
گورنمنٹ انگریزی کا رزق مقسوم
- (115) ’’تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ بعض صاحبوں نے مسلمانوں میں سے اُس مضمون کی
بابت کہ جو حصہ سوم کے ساتھ گورنمنٹ انگریزی کے شکر کے بارے میں شامل ہے، اعتراض کیا اور بعض نے خطوط بھی بھیجے اور بعض نے سخت اور درشت لفظ بھی لکھے کہ انگریزی عملداری کو دوسری عملداریوں پر کیوں ترجیح دی؟ لیکن ظاہر ہے کہ جس سلطنت کو اپنی شائستگی اور حُسنِ انتظام کے رُو سے ترجیح ہو، اس کو کیونکر چھپا سکتے ہیں۔ خوبی باعتبار اپنی ذاتی کیفیت کے خوبی ہی ہے، گو وہ کسی گورنمنٹ میں پائی جائے۔ الحكمة ضالة المؤمن الخ۔ اور یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اسلام کا ہرگز یہ اصول نہیں ہے کہ مسلمانوں کی قوم جس سلطنت کے ماتحت رہ کر اُس کا احسان اُٹھاوے، اُس کے ظلِ حمایت میں بامن و آسائش رہ کر اپنا رزق مقسوم کھاوے۔ اُس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے پھر اُسی پر عقرب کی طرح نیش چلاوے اور اُس کے سلوک اور مروّت کا ایک ذرہ شکر نہ بجالاوے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ اوّل تا چہارم صفحہ 2، مندرجہ روحانی خزائن جلد 1، صفحہ 316 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 516 پر)
وہ لوگ جنہوں نے 1857ء کی جنگِ آزادی میں حصہ لے کر اپنے ملک کی آبرو کو بچایا اور اس کی حرمت پر کٹ مرے، مرزا قادیانی نے انہیں چور، قزاق اور حرامی قرار دیا۔
چور، قزاق اور حرامی کون؟
- (116) ’’جب ہم 1857ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتوؤں پر
نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں جو انگریزوں کو قتل کر دینا چاہیے تو ہم بحرِ ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے ان کے فتوے تھے جن میں نہ رحم
تھا، نہ عقل تھی، نہ اخلاق نہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 724 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 490 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 517 پر)
حرامی اور بدکار کون؟
(117) ’’بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے، یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔‘‘
(شہادت القرآن صفحہ 84، مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 518 پر)
جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی پہلا شخص ہے جو خود بھی گالیاں بکتا رہا اور اپنے چیلے چانٹوں کو بھی اس عادت خبیثہ میں یکتا کر گیا۔ جیسا نبی ویسی امت۔ سچ ہے کہ حنظل کا بیج ہو تو سیب نہیں اگا کرتے! مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ’’ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔‘‘
(ست بچن صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133 از مرزا قادیانی)
- ’’کسی کو گالی مت دو، گو وہ گالی دیتا ہو۔‘‘
(کشتی نوح صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 11 از مرزا قادیانی)
- ’’گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے۔‘‘
(اربعین نمبر 4 صفحہ 129 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 471 از مرزا قادیانی)
بندوق کا جہاد؟
(118) ’’جنگ سے مراد تلوار، بندوق کا جنگ نہیں۔ کیونکہ یہ تو سراسر نادانی اور خلاف
ہدایت قرآن ہے جو دین کے پھیلانے کے لیے جنگ کیا جائے، اس جگہ جنگ سے ہماری مراد زبانی مباحثات ہیں جو نرمی اور انصاف اور معقولیت کی پابندی کے ساتھ کیے جائیں۔ ورنہ ہم ان تمام مذہبی جنگوں کے سخت مخالف ہیں جو جہاد کے طور پر تلوار سے کیے جاتے ہیں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 2، مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 130 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 519 پر)
تو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے
میں سچ سچ کہتا ہوں
(119) ”جب مسیح موعود ظاہر ہو جائے گا تو سیفی جہاد اور مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کیونکہ مسیح نہ تلوار اٹھائے گا اور نہ کوئی اور زمینی ہتھیار ہاتھ میں پکڑے گا بلکہ اُس کی دعا اُس کا حربہ ہوگا۔ اور اُس کی عقد ہمت اُس کی تلوار ہوگی۔ وہ صلح کی بنیاد ڈالے گا اور بکری اور شیر کو ایک ہی گھاٹ پر اکٹھے کرے گا۔ اور اس کا زمانہ صلح اور نرمی اور انسانی ہمدردی کا زمانہ ہوگا۔ ہائے افسوس! کیوں یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ تیرہ سو برس ہوئے کہ مسیح موعود کی شان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کلمہ یضع الحرب جاری ہو چکا ہے۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود جب آئیگا تو لڑائیوں کا خاتمہ کر دے گا۔ اور اسی کی طرف اشارہ اس قرآنی آیت کا ہے۔ تضع الحرب اوزارھا. یعنی اس وقت تک لڑائی کرو جب تک کہ مسیح کا وقت آ جائے۔ یہی تضع الحرب اوزارھا ہے۔ دیکھو صحیح بخاری موجود ہے جو قرآن شریف کے بعد اصح الکتب مانی گئی ہے۔ اس کو غور سے پڑھو۔ اے اسلام کے عالمو اور مولویو! میری بات سنو! میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب جہاد کا وقت نہیں ہے۔ خدا کے پاک نبی کے نافرمان مت بنو۔ مسیح موعود جو آنے والا تھا آ چکا اور اس نے حکم بھی دیا کہ آئندہ مذہبی جنگوں سے جو تلوار اور کشت وخون کے ساتھ ہوتی ہیں، باز آ جاؤ تو اب بھی خونریزی سے باز نہ آنا اور ایسے وعظوں سے منہ بند نہ کرنا طریق اسلام نہیں ہے۔ جس نے مجھے قبول کیا ہے وہ نہ صرف ان وعظوں سے منہ بند کرے گا بلکہ اس طریق کو نہایت
بُرا اور موجب غضب الٰہی جانے گا۔“
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد صفحہ 9,8 مندرجہ روحانی خزائن جلد :17، صفحہ: 9,8 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 520، 521 پر)
قادیانی حضرات مذکورہ بالا عبارت میں ذکر کردہ علامات کو ایک ایک کر کے ملاحظہ کریں اور پھر انصاف سے بتائیں کہ کیا ذکر کردہ یہ علامتیں مرزا قادیانی میں پائی گئیں؟ اگر نہیں...... اور یقیناً نہیں...... تو مرزا قادیانی کو مسیح موعود قرار دینا کس طرح صحیح ہوگا؟
قادیانی بتائیں:
- -1 کیا مرزا قادیانی کے دور میں بکری اور شیر ایک ہی گھاٹ پر اکٹھے ہوئے؟
- -2 کیا مرزا قادیانی کے آنے سے لڑائیوں اور جنگوں کا خاتمہ ہو گیا؟
- -3 کیا مرزا قادیانی کے ہاتھوں اس کی زندگی میں وہ کارنامہ ظہور پذیر ہو سکا جو حضرت
مسیح علیہ السلام کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوگا؟ ؎
نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
میں ایک حکم لے کر آیا ہوں
(120) ”دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں، وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔ اور یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی، بلکہ خدا کا یہی ارادہ ہے۔ صحیح بخاری کی اُس حدیث کو سوچو جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھا ہے۔ کہ یضع الحرب یعنی مسیح جب آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کردے گا۔ سو میں حکم دیتا ہوں کہ جو میری فوج میں داخل ہیں وہ ان خیالات کے مقام سے پیچھے ہٹ جائیں۔“
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 15 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 522 پر)
ملکہ وکٹوریہ کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا
(121) ”سو اس (اللہ تعالیٰ) نے اپنے قدیم وعدہ کے موافق جو مسیح موعود کے آنے کی نسبت تھا، آسمان سے مجھے بھیجا ہے۔ تا میں اس مرد خدا کے رنگ میں ہو کر جو بیت اللحم میں پیدا ہوا اور ناصرہ میں پرورش پائی۔ حضور ملکہ معظمہ کے نیک اور بابرکت مقاصد کی اعانت میں مشغول ہوں اس نے مجھے بے انتہا برکتوں کے ساتھ چھوا اور اپنا مسیح بنایا تا وہ ملکہ معظمہ کے پاک اغراض کو خود آسمان سے مدد دے.............اے بابرکت قیصرہ ہند، تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں۔ جس پر تیری نگاہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے۔“
(ستارہ قیصرہ صفحہ 6، 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 116، 120 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 523، 524 پر)
خلیفہ جو جنگ کا حکم نہ دے
(122) ”اور جس وقت کہ وعدہ مشابہت خلافت کے دونوں سلسلہ میں تھا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے نون ثقیلہ کے ساتھ موکد کیا گیا تھا، اس بات نے تقاضا کیا کہ سلسلہ محمدیہ کے آخر میں وہ خلیفہ آئے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی مانند ہو۔ کس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام کے خلیفوں میں سے آخری خلیفہ تھے۔ جیسا کہ بیان ہوا اور واجب ہوا کہ یہ خلیفہ جو خاتم الخلفاء ہے، قریش میں سے نہ ہووے اور تلوار نہ اٹھائے اور جنگ کا حکم نہ کرے، تاکہ مشابہت پوری ہوجائے۔“
(خطبہ الہامیہ صفحہ 83، 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 83، 84، از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 525، 526 پر)
دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ
دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
دیں کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 42، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 77، 78 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 527، 528 پر)
نامور ادیب اور دانشور جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:
”اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لیے تلوار چلانا‘ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی ممنوع تھا (”لا اکراہ فی الدین“) اور آج بھی ممنوع ہے اور اسلام کی حمایت اور حفاظت کے لیے تلوار اٹھانا، ابتدائے اسلام میں بھی جائز تھا، آج بھی جائز ہے اور قیامت تک جائز رہے گا۔ مرزا قادیانی سے جو غلطی دانستہ یا نادانستہ طور پر سرزد ہوئی، وہ یہ تھی کہ اس نے اسلامی جہاد کے غلط معنی دنیا کے سامنے پیش کیے۔
دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
ان دونوں مصرعوں میں جو لفظ ”اب“ آیا ہے اگرچہ ادبی زاویہ نگاہ سے اس کی تکرار بہت مذموم ہے لیکن مرزا قادیانی کی، اسلام سے ناواقفیت کا ثبوت دینے کے لیے بہت کافی ہے یعنی ان کا مطلب یہ ہے کہ دین کے لیے جنگ و قتال پہلے جائز تھا‘ اب جائز نہیں ہے۔ کس قدر عظیم الشان مغالطہ ہے جو اس نے دنیا کو دیا! کاش اسے تاریخ وفلسفہٴ اسلام سے واقفیت ہوتی! دین کی اشاعت کے لیے جہاد کرنا پہلے کب جائز تھا؟ جو تم آج ناجائز قرار دے رہے ہو؟ اسلام پہلے کب بزورِ شمشیر پھیلایا گیا جو آج تم ناصح مشفق بن کر اس کی ممانعت کر رہے ہو؟ اگر جوع الارض کو تسکین دینے کے لیے یا ملوکیت اور شہنشاہیت قائم کرنے کے لیے یا بے گناہ اقوام کو غلام بنانے کے لیے جہاد کیا جائے تو وہ جہاد ہی کب ہے؟
وہ تو غارت گری ہے۔ خود علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
جنگ مومن سنّت پیغمبری است
تعجب ہوتا ہے تعلیم یافتہ قادیانی حضرات پر کہ یہ لوگ کیونکر اس سفسطہ کا شکار ہو سکتے ہیں؟ کیا قادیانیوں میں کوئی ایسا روشن خیال انسان نہیں جو اسلامی فلسفہ و تاریخ کا مطالعہ کر کے اس مغالطہ کی دلدل سے باہر نکل سکے؟ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو سکتی ہے کہ اسلام میں جہاد کا معنی اور مفہوم کیا ہے؟ جنگ اور قتال اگر اس کا محرک ہوس ملک گیری اور استعماری حکمت عملی ہو تو یہ بات اسلام میں کبھی بھی جائز نہ تھی۔ پھر مرزا قادیانی اپنے اس ”الہامی شعر“ میں کس چیز کو حرام قرار دے رہا ہے؟ اسی بات کو نا‘ جو پہلے ہی سے حرام ہے تو حرام کو حرام قرار دینا یہ کون سی دانشمندی ہے؟ اور اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ خطرہ کے وقت بھی مسلمانوں کا اپنے مذہب کی حمایت میں تلوار اٹھانا حرام ہے‘ تو وہ مذہب اسلام سے اپنی ناواقفیت کا ثبوت دے رہا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں سے قادیانی حضرات جو صورت پسند کریں اختیار فرمائیں‘ مرزا قادیانی کی علمی اور مذہبی پوزیشن بہرحال متزلزل ہو جائے گی۔ اگر پہلی صورت صحیح ہے تو مرزا قادیانی مغالطہ کا مرتکب ثابت ہوا اور دوسری صورت کو تسلیم کیا جائے تو اسلام کے اصولوں سے کورا نظر آتا ہے۔
اسی لیے حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کو مرزا قادیانی اور مرزائیت دونوں کی غلط تعلیمات سے محفوظ کر لینے کے لیے اسرار خودی میں اس حقیقت کو آشکار فرمایا ہے کہ اسلام میں جہاد کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد وحید اعلائے کلمۃ اللہ ہے اور اگر کوئی طاقت مسلمان کو اس کے اس مذہبی فریضہ کی تکمیل سے باز رکھنا چاہے یا اس میں مزاحمت کرے تو وہ حق و صداقت کی حمایت میں تلوار اٹھا سکتا ہے۔ لیکن وہ جہاد جس کا مقصد جوع الارض ہو‘ تسخیر ممالک ہو یا قتل و غارت گری ہو‘ اسلام میں بالکل حرام ہے۔ چنانچہ علامہ فرماتے ہیں:
تیغ او در سینہ او آرمید
اب جو شخص بھی مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا شعر کو پڑھے گا وہ لامحالہ یہی سمجھے گا کہ
دین کی اشاعت کے لیے پہلے اسلام میں جنگ و قتال جائز تھا یعنی نعوذ باللہ قرون اولیٰ میں اسلام کی اشاعت اس کے پاکیزہ اصولوں کی وجہ سے نہیں بلکہ تلوار کے زور سے ہوئی اور تیرہ سو سال کے بعد جا کر مرزا قادیانی نے اس بات کو حرام قرار دیا ہے۔
معلوم نہیں مرزا قادیانی نے جہاد کے متعلق یہ غلط خیال کیوں پھیلایا۔ شاید حکومت برطانیہ کی نظروں میں عزت حاصل کرنے کے لیے، ورنہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دین کی اشاعت کے لیے تلوار چلنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی جائز نہ تھا اور نہ قرآن مجید کی اس صریح آیت کی موجودگی میں (لا اکراہ فی الدین) کسی کو بزور شمشیر مسلمان کرنا جائز ہو سکتا ہے اور اسلام تو سرتاپا معقولیت پسند مذہب ہے۔ وہ کب اس بات کو روا رکھ سکتا ہے کہ لوگوں کو تلوار کے زور سے مسلمان بنایا جائے۔ اگر دین کے لیے جنگ و قتال، مرزا قادیانی سے پہلے حلال ہوتا تو ڈاکٹر آرنلڈ جو ایک سچا مسیحی تھا اور یقیناً مسلم نہ تھا کس طرح اپنی مشہور کتاب ”پریچنگ آف اسلام“ مرتب کر سکتا تھا؟ اس کتاب میں اس منصف مزاج عیسائی نے اسلامی تاریخ کی بناء پر یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچا دی ہے کہ اسلام اپنی ابتداء سے آج تک تلوار کے زور سے نہیں پھیلا۔“ (علامہ اقبال اور فتنہ قادیانیت از محمد متین خالد)
دین کے لیے لڑنا حرام ہے
(124) ”اب سے زمینی جہاد بند ہوگیا ہے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہوگیا جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لیے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لیے تلوار اُٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے، وہ خدا اور اس کے رسول کا، نافرمان ہے۔ صحیح بخاری کو کھولو اور اس حدیث کو پڑھو کہ جو مسیح موعود کے حق میں ہے یعنی یضع الحرب جس کے یہ معنے ہیں کہ جب مسیح آئے گا تو جہادی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سو مسیح آچکا اور یہی ہے جو تم سے بول رہا ہے۔“
(اشتہار، چندہ منارۃ المسیح نمبر 224 بتاریخ 28 مئی 1900ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 401 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 529 پر)
حالانکہ ارشاد خداوندی ہے۔
وَقَاتِلُوهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ يَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ. (البقرہ:193)
ترجمہ: ”اور ان (کافروں) سے جنگ کرتے رہو حتیٰ کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین (یعنی زندگی اور بندگی کا نظام عملاً) اللہ ہی کے تابع ہو جائے۔“
حضور نبی اکرم ﷺ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا:
- لن يبرح هذا الدين قائما يقاتل عليه عصابة من المسلمين
حتى تقوم الساعة. (صحیح مسلم)
”دین ہمیشہ قائم رہے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت قیامت تک جہاد کرتی رہے گی۔“
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جہاد ہمیشہ میٹھا اور سرسبز رہے گا۔ جب تک آسمان بارش برساتا رہے گا اور زمین سبزے اگاتی رہے گی۔ عنقریب ایک (باطل) فرقہ مشرق کی طرف سے نکلے گا جو کہیں گے کہ نہ جہاد ہے اور نہ ہی اللہ کی راہ میں خیمہ لگانا ہے، وہ آگ کا ایندھن ہوں گے۔ (یعنی دوزخی ہوں گے) بلکہ اللہ کی راہ میں ایک دن دشمن کے مقابل خیمہ لگانا ہزار غلام آزاد کرنے اور تمام اہالیان روئے زمین کے صدقہ دینے سے بہتر ہے۔“ (کنزالعمال جلد 2 صفحہ 262، کتاب الجہاد فی باب الرباط)
اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو یقیناً یہ قادیانی فتنہ ہے کہ جو اسلام دشمن قوتوں کی حمایت اور جہاد کی ممانعت میں پیش پیش ہے۔
خدا تعالیٰ کا الہام؟
(125) ”میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ کا بنا دیا ہے۔ (1) اول والد مرحوم کے اثر نے (2) دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے (3) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔“
(تریاق القلوب صفحہ 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 491 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 530 پر)
نکوکاری کے پردے میں سیہ کاری کا حیلہ ہے
یہ وہ تلبیس ہے، ابلیس کو خود ناز ہے جس پر
مسلمانوں کو اس رندے نے اچھی طرح چھیلا ہے
پلی ہے مغربی تہذیب کے آغوش عشرت میں
نبوت بھی رسیلی ہے، پیمبر بھی رسیلا ہے
نصاریٰ کی رضا جوئی ہے مقصد اس نبوت کا
اور ابطال جہاد انجاح مقصد کا وسیلا ہے
(مولانا ظفر علی خاںؒ)
جہاد، خدا کے حکم سے بند
جہاد کی ممانعت کے بارے مرزا قادیانی نے کہا:
- (126) ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔“
(اشتہار، چندہ منارۃ المسیح نمبر 224 بتاریخ 28 مئی 1900ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم
صفحہ 408 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 531 پر)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ خدا کے اس حکم کی نشاندہی فرمادیں کہ جس سے وہ انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم سے بند ہو گیا؟؟؟
غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز
جہاد ختم
- (127) ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت
موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کیے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لیے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“
(اربعین نمبر 4 صفحہ 101 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 443 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 532 پر)
مرزا قادیانی کو مسیح اور مہدی ماننے کا نتیجہ؟
(128) ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء مندرجہ مجموعہ
اشتہارات جلد دوم صفحہ 196 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 533 پر)
من انداز قدت را می شناسم
(تو جس رنگ کا لباس چاہے پہن آ۔ میں تیرے قد کا انداز پہچانتا ہوں۔)
دُنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
لیکن جنابِ شیخ کو معلوم کیا نہیں
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سُود و بے اثر
تیغ و تفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاں؟
ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اس کو مسلماں کی موت مر
میں اسلام کی حفاظت کے لیے آیا ہوں
(129) ”وما جئت من نفسي بل أرسلني ربي لأصون الاسلام، وأراعي شؤ وونه والأحكام.“ (ترجمہ: میں از خود نہیں آیا بلکہ میرے ربّ نے مجھے بھیجا تا کہ میں اسلام کی حفاظت کروں اور اس کے معاملات اور احکام کی پاسداری کروں)۔
(تذکرۃ الشہادتین مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 91 از مرزا قادیانی، تذکرۃ الشہادتین
(اردو ترجمہ) صفحہ 26 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 534 پر)
میرا مذہب ............. اسلام کے دو حصے
(130) ”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔..... سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“
(شہادت القرآن صفحہ 84، 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380، 381 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 535، 536 پر)
یہاں مرزا قادیانی نے ”ظالموں“ کا لفظ مسلمانوں کے لئے استعمال کیا حالانکہ مسلمان برطانوی سامراج کے پنجۂ استبداد میں بے بسی کی زندگی بسر کر رہے تھے اور اس حقیقت کا علم مرزا قادیانی کو بخوبی تھا۔
مرزا قادیانی کی تعلیم ...... نوح کی کشتی
(131) ”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے۔ واصنع الفلک باعیننا و وحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت
کرتے ہیں، وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو، خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘
(اربعین نمبر 4، صفحہ 93 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 435 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 537 پر)
اولی الامر سے مراد.......... انگریز حکمران
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں کو ارشاد ہے: ”اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ.“ (النساء:59) (ترجمہ): ”اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی، اور اطاعت کرو رسول (ﷺ) کی اور حاکموں کی جو تم میں سے ہوں۔‘‘
مرزا قادیانی نے اس آیت کی تشریح میں لکھا:
(132) ”جسمانی سلطنت میں بھی یہی خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ ایک قوم میں ایک امیر اور بادشاہ ہو اور خدا کی لعنت ان لوگوں پر ہے جو تفرقہ پسند کرتے ہیں اور ایک امیر کے تحت حکم نہیں چلتے۔ حالانکہ اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے۔ اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم۔ اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔ اسی لیے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔‘‘
(ضرورة الامام صفحہ 23 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 493 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 538 پر)
قرآن مجید نے تو خدا، رسول ﷺ اور جماعت مومنین میں سے ان حکام کی اطاعت کو فرض قرار دیا ہے جنہیں کچھ اختیارات تفویض کیے گئے ہوں۔ لیکن مرزا قادیانی نے قرآن کریم کی معنوی تحریف کر کے کفار کی اطاعت کو فرض قرار دے دیا۔ مرزا قادیانی سے
تو جرمنی کا مشہور و معروف شاعر گوئٹے بھی قرآن دانی میں کہیں آگے تھا اور اس کی سوچ اسلام کے مطابق تھی۔ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ نبوت کے باوجود انگریز کی اطاعت کے شرک میں سرتاپا غرق تھا لیکن گوئٹے نے جب قرآن حکیم پڑھا تو بے اختیار پکار اٹھا ”اس کا پڑھنے والا کبھی کسی کا غلام نہیں ہو سکتا۔“
مرزا قادیانی نے قرآنی آیت کا صرف اتنا حصہ لیا جس کو وہ توڑ مروڑ سکتا تھا اور آیت کے اس حصے کو چھوڑ دیا جو اس کی مذکورہ تحریف کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیتا ہے۔ پوری آیت یہ ہے:
”یاایها الذین امنوا اطیعوا الله واطیعوا الرسول واولی الامر منکم ج فان تنازعتم فی شیء فردوه الی الله والرسول ان کنتم تؤمنون بالله واليوم الاخر ط ذلک خیر و احسن تاویلا o (النساء: 59)
ترجمہ: اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو (اپنے ذیشان) رسول کی اور حاکموں کی جو تم میں سے ہوں پھر اگر جھگڑنے لگو تم کسی چیز میں تو لوٹا دو اسے اللہ اور (اپنے) رسول (کے فرمان) کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو، اللہ پر اور روزِ قیامت پر یہی بہتر ہے اور بہت اچھا ہے اس کا انجام۔“
آیت کا خط کشیدہ فقرہ مرزا قادیانی کمال عیاری سے چھوڑ گیا کیونکہ یہ ہڈی کی طرح اس کے حلق سے اتر نہ سکتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر انگریز اولی الامر تھے تو ان سے نزاع کی صورت میں کس کی طرف رجوع کیا جاتا؟ ظاہر ہے کہ انگریز تو مسلمانوں کے خدا اور رسول کریم ﷺ کو مانتے نہیں تھے۔ لہٰذا مسلمانوں کے خدا اور رسول کی طرف تو رجوع ہو نہیں سکتا تھا۔ شاید ایسی صورت میں مرزا قادیانی کے ذہن میں خدا اور رسول سے مراد ملکہ برطانیہ اور سیکرٹری آف سٹیٹ ہوں کیونکہ انگریز کی حکومت میں تو انہی کی طرف رجوع ہو سکتا تھا۔ سچ ہے تحریف قرآن اور تنسیخ شریعت جھوٹے نبیوں کی عادت رہی ہے۔
؎ قرآن کی آیتوں کے لہو کی دلیل ہے
انگریز کا عہد سیاسی شرک کا دور تھا کیونکہ انگریز کی حکومت غیر اللہ کی حکومت تھی۔ انگریز کو اولی الامر میں داخل کرنا قرآن حکیم کی وہ بدترین تحریف ہے جس سے برا تغیر و تبدل
شاید یہودیوں نے بھی توریت میں نہ کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے اس قدر بے خوفی ......؟ نبوت تو کجا اس دیدہ دلیری کے ساتھ تو مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی میل نہیں کھاتا۔ معلوم نہیں قادیانیوں کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟ حالانکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
رسول دنیا میں مطیع ہو کر نہیں آتا
(133) ’’خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع اور محکوم ہو کر نہیں آتا بلکہ وہ مطاع اور صرف اپنی اس وحی کا متبع ہوتا ہے جو اس پر بذریعہ جبرئیل نازل ہوتی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 576 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 411 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 539 پر)
با ادب گزارش !
(134) ’’اے قادر خدا! اس گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور اس سے نیکی کر جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ آمین!
کشف الغطاء یعنی ایک اسلامی فرقہ کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے بحضور گورنمنٹ عالیہ اس فرقہ کے حالات اور خیالات کے بارے میں اطلاع اور نیز اپنے خاندان کا کچھ ذکر اور اپنے مشن کے اصولوں اور ہدایتوں اور تعلیموں کا بیان اور نیز ان لوگوں کی خلاف واقعہ باتوں کا رد جو اس فرقہ کی نسبت غلط خیالات پھیلانا چاہتے ہیں اور یہ مؤلف تاج عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام کے با ادب گزارش کرتا ہے کہ براہِ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اول سے آخر تک پڑھا جائے یا سن لیا جائے۔‘‘
(کشف الغطاء ٹائٹل پیج مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 177 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 540 پر)
ملے تو شیر کا اک لمحہ حیات بہتر
ملکہ معظمہ کا واسطہ
(135) ’’میں تاج عزت عالیجناب حضرت مکرمہ معظمہ قیصرۂ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈالتا ہوں کہ اس رسالے کو ہمارے عالی مرتبہ حکام توجہ سے اوّل سے آخر تک پڑھیں۔‘‘
(کشف الغطاء صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 179 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 541 پر)
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن
ستارۂ قیصرہ
’’ستارۂ قیصرہ‘‘ مرزا قادیانی کا ایک خط ہے جو اس نے 25 مئی 1897ء کو ملکہ وکٹوریہ (والیۂ برطانیہ) کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر تحریر کیا۔ بعدازاں 20 جون 1897ء کو قادیان میں ملکہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب پر جلسہ بھی کیا گیا جس میں مرزا قادیانی نے ملکہ کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے۔ دنیا میں ذلیل سے ذلیل تر خوشامدی بھی کسی شخص کی ایسے خوشامد نہیں کرے گا جو ماہر چاپلوسیات مرزا قادیانی نے ایک کافرہ عورت کی شان میں کی۔ اس کا ایک ایک لفظ قادیانیت کی ذلت و رسوائی پر خدائی مُہر ہے۔ ’’ستارۂ قیصرہ‘‘ کے صفحات کا عکس پڑھ کر آپ خود اندازہ کریں کہ کیا کوئی شریف آدمی کسی کی اتنی چاپلوسی کرسکتا ہے چہ جائیکہ نبوت کا دعویدار ............. (معاذ اللہ )! اس کے تصور سے بھی ہماری روح کانپتی ہے۔ ہمارے خیال میں اس خط کا عنوان ’’ستارۂ قیصرہ‘‘ کے بجائے ’’بادشاہیاں قائم رہن تے بھاگ لگے رہن‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ ملاحظہ کیجیے......!
(136) ”الحمد للّٰہ والمنہ کہ یہ رسالہ مبارکہ جس میں حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ دام اقبالہا کی برکات کا ذکر ہے۔ اور یہ بیان ہے کہ جناب ملکہ ممدوحہ کے
عہد عدالت مہد میں اور ان کے نہایت روشن ستارہ کی تاثیر سے انواع اقسام کی زمینی اور آسمانی برکتیں ظہور میں آئی ہیں ۔ منطبع ہو کر انہی وجوہ کی مناسبت سے نام اس کا
ستارہ قیصرہ
رکھا گیا۔
بحضور عالی شان قیصرہ ہند ملکہ معظمہ
شہنشاہ ہندوستان وانگلستان
ادام اللہ اقبالہا
سب سے پہلے یہ دعا ہے کہ خدائے قادر مطلق اس ہماری عالی جاہ قیصرہ ہند کی عمر میں بہت بہت برکت بخشے اور اقبال اور جاہ وجلال میں ترقی دے اور عزیزوں اور فرزندوں کی عافیت سے آنکھ ٹھنڈی رکھے۔ اس کے بعد اس عریضہ کے لکھنے والا جس کا نام مرزا غلام احمد قادیانی ہے جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان نام میں رہتا ہے جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ ستر میل مشرق اور شمال کے گوشہ میں واقع اور گورداسپورہ کے ضلع میں ہے۔ یہ عرض کرتا ہے کہ اگرچہ اس ملک کے عموماً تمام رہنے والوں کو بوجہ ان آراموں کے جو حضور قیصرہ ہند کے عدل عام اور رعایا پروری اور دادگستری سے حاصل ہو رہے ہیں اور بوجہ ان تدابیر امن عامہ اور تجاویز آسائش جمیع طبقات رعایا کے جو کروڑہا روپیہ کے خرچ اور بے انتہا فیاضی سے ظہور میں آئی ہیں، جناب ملکہ معظمہ دام اقبالہا سے بقدر اپنی فہم اور عقل اور شناخت احسان کے درجہ بدرجہ محبت اور دلی اطاعت ہے اور بجز بعض قلیل الوجود افراد کے جو میں گمان کرتا ہوں کہ در پردہ کچھ ایسے بھی ہیں جو وحشیوں اور درندوں کی طرح بسر کرتے ہیں لیکن اس عاجز کو بوجہ اس معرفت اور علم کے جو اس گورنمنٹ عالیہ کے حقوق کی نسبت مجھے حاصل ہے۔ جس کو میں اپنے رسالہ تحفہ قیصریہ میں مفصل لکھ چکا ہوں۔ وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور
جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں۔ اس سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی۔ اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا اور اس امید اور یقین کا موجب حضور قیصرہ ہند کے وہ اخلاق فاضلہ تھے جن کی تمام ممالک مشرقیہ میں دھوم ہے اور جو جناب ملکہ معظمہ کے وسیع ملک کی طرح وسعت اور کشادگی میں ایسے بے مثل ہیں جو ان کی نظیر دوسری جگہ تلاش کرنا خیال محال ہے۔ مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہو۔ اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں۔ یقیناً کوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں لہٰذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں۔ دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں۔ اسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں اور میں حضور عالی حضرت جناب قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں یہ چند الفاظ بیان کرنے کے لیے جرات کرتا ہوں کہ میں پنجاب کے ایک معزز خاندان مغلیہ میں سے ہوں اور سکھوں کے زمانہ سے پہلے میرے بزرگ ایک خود مختار ریاست کے والی تھے اور میرے پردادا صاحب مرزا گل محمد اس قدر دانا اور مدبر اور عالی ہمت اور نیک مزاج اور ملک داری کی خوبیوں سے موصوف تھے کہ جب دہلی کے چغتائی بادشاہوں کی سلطنت بباعث نالایقتی اور عیاشی اور سستی اور کم ہمتی کے کمزور ہو گئے تو بعض وزرا اس کوشش میں لگے تھے کہ مرزا صاحب موصوف کو جو تمام شرائط بیدار مغزی اور رعایا پروری کے اپنے اندر رکھتے تھے اور خاندان شاہی میں سے تھے، دہلی کے تخت پر بٹھایا جائے لیکن چونکہ چغتائی سلاطین کی قسمت اور عمر کا پیالہ لبریز ہو چکا تھا، اس لیے یہ تجویز عام منظوری میں نہ آئی اور ہم پر سکھوں کے عہد میں بہت سی سختیاں ہوئیں اور ہمارے بزرگ تمام دیہات ریاست سے بے دخل کر دیے گئے اور ایک ساعت بھی
امن کی نہیں گزرتی تھی اور انگریزی سلطنت کے قدم مبارک کے آنے سے پہلے ہی ہماری تمام ریاست خاک میں مل چکی تھی اور صرف پانچ گاؤں باقی رہ گئے تھے اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم جنھوں نے سکھوں کے عہد میں بڑے بڑے صدمات دیکھے تھے۔ انگریزی سلطنت کے آنے کے ایسے منتظر تھے جیسا کہ کوئی سخت پیاسا پانی کا منتظر ہوتا ہے اور پھر جب گورنمنٹ انگریزی کا اس ملک پر دخل ہو گیا تو وہ اس نعمت یعنی انگریزی حکومت کی قائمی سے ایسے خوش ہوئے کہ گویا ان کو ایک جواہرات کا خزانہ مل گیا اور وہ سرکار انگریزی کے بڑے خیر خواہ جاں نثار تھے۔ اسی وجہ سے انھوں نے ایام غدر 1857ء میں پچاس گھوڑے مع سواران بہم پہنچا کر سرکار انگریزی کو بطور مدد دیے تھے اور وہ بعد اس کے بھی ہمیشہ اس بات کے لیے مستعد رہے کہ اگر پھر کبھی کسی وقت ان کی مدد کی ضرورت ہو تو بدل و جان اس گورنمنٹ کو مدد دیں۔ اور اگر 1857ء کے غدر کا کچھ اور بھی طول ہوتا تو وہ سو سوار تک اور بھی مدد دینے کو تیار تھے۔ غرض اس طرح ان کی زندگی گزری اور پھر ان کے انتقال کے بعد یہ عاجز دنیا کے شغلوں سے بالکل علیحدہ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا۔ اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی، وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کیے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اُردو فارسی ،عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا، اشاعت کر دی گئی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا اور میں اس قدر خدمت کر کے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں۔ اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا کیونکہ مجھے اس بات کا اقرار ہے کہ اس بابرکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے ایک لوہے
کے جلتے ہوئے تنور سے نجات پائی ہے۔ اس لیے میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی ! اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکہ کو دیرگاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ۔ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔
میں نے تحفہ قیصریہ میں جو حضور قیصرہ ہند کی خدمت میں بھیجا گیا۔ یہی حالات اور خدمات اور دعوات گزارش کیے تھے اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا اور اب بھی ہوں۔ میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا۔ اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا، تو اس کا جواب نہ آتا بلکہ ضرور آتا ضرور آتا۔ اس لیے مجھے بوجہ اس یقین کے کہ جناب قیصرہ ہند کے پر رحمت اخلاق پر کمال وثوق سے حاصل ہے۔ اس یاددہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا۔ اور اس عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پر ارادت خط کے لکھنے کے لیے چلایا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خیر اور عافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچا دے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے۔ اپنی پاک فراست سے شناخت کر لیں اور رعیت پروری کے رو سے مجھے پر رحمت جواب سے ممنون فرما دیں اور میں اپنی عالی شان جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی عالی خدمت میں اس خوشخبری کو پہنچانے کے لیے بھی مامور ہوں کہ جیسا کہ زمین پر اور زمین کے اسباب سے خدا تعالیٰ نے اپنی کمال رحمت اور کمال مصلحت سے ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا کی سلطنت کو اس ملک اور دیگر ممالک میں قائم کیا ہے تاکہ زمین کو عدل اور امن سے بھرے۔ ایسا ہی اس نے آسمان سے ارادہ فرمایا ہے کہ اس شہنشاہ مبارکہ قیصرہ ہند کے دلی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے جو عدل اور امن اور آسودگی عامہ خلائق اور رفع فساد اور تہذیب اخلاق اور وحشیانہ حالتوں کا دور کرنا ہے۔ اس کے عہد مبارک میں اپنی طرف سے اور غیب سے اور آسمان سے کوئی ایسا روحانی انتظام قائم کرے جو حضور ملکہ معظمہ کے دلی اغراض کو مدد دے اور جس امن اور عافیت اور صلح کاری کے باغ کو آپ لگانا چاہتی ہیں۔ آسمانی آبپاشی سے اس میں امداد فرما دے۔ سو اس نے اپنے قدیم وعدہ
کے موافق جو مسیح موعود کے آنے کی نسبت تھا۔ آسمان سے مجھے بھیجا ہے۔ تا میں اس مرد خدا کے رنگ میں ہو کر جو بیت اللحم میں پیدا ہوا اور ناصرہ میں پرورش پائی۔ حضور ملکہ معظمہ کے نیک اور بابرکت مقاصد کی اعانت میں مشغول ہوں اس نے مجھے بے انتہا برکتوں کے ساتھ چھوا اور اپنا مسیح بنایا تا وہ ملکہ معظمہ کے پاک اغراض کو خود آسمان سے مدد دے۔
اے قیصرہ مبارکہ خدا تجھے سلامت رکھے۔ اور تیری عمر اور اقبال اور کامرانی سے ہمارے دلوں کو خوشی پہنچا دے اس وقت تیرے عہد سلطنت میں جو نیک نیتی کے نور سے بھرا ہوا ہے۔ مسیح موعود کا آنا خدا کی طرف سے یہ گواہی ہے کہ تمام سلاطین میں سے تیرا وجود امن پسندی اور حسن انتظام اور ہمدردی رعایا اور عدل اور دادگستری میں بڑھ کر ہے۔ مسلمان اور عیسائی دونوں فریق اس بات کو مانتے ہیں کہ مسیح موعود آنے والا ہے۔ مگر اسی زمانہ اور عہد میں جبکہ بھیڑیا اور بکری ایک ہی گھاٹ میں پانی پئیں گے اور سانپوں سے بچے کھیلیں گے۔ سوائے ملکہ مبارکہ معظمہ قیصرہ ہند وہ تیرا ہی عہد اور تیرا ہی زمانہ ہے۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جو تعصب سے خالی ہو، وہ سمجھ لے، اے ملکہ معظمہ! یہ تیرا ہی عہد سلطنت ہے جس نے درندوں اور غریب چرندوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔ راست باز جو بچوں کی طرح ہیں، وہ شریر سانپوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور تیرے پُرامن سایہ کے نیچے کچھ بھی ان کو خوف نہیں۔ اب تیرے عہد سلطنت سے زیادہ پُرامن اور کونسا عہد سلطنت ہو گا جس میں مسیح موعود آئے گا۔ اے ملکہ معظمہ! تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے۔ جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتا جاتا ہے۔ اس لیے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی بھی عہد سلطنت ایسا نہیں ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لیے موزوں ہو، سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا۔ کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا اور تاریکی تاریکی کو کھینچتی ہے۔ اے مبارک اور بااقبال ملکہ زمان! جن کتابوں میں مسیح موعود کا آنا لکھا ہے۔ ان کتابوں میں صریح تیرے پُرامن عہد کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں مگر ضرور تھا کہ اسی طرح مسیح موعود دنیا میں آتا۔ جیسا کہ ایلیا نبی یوحنا کے لباس میں آیا تھا یعنی یوحنا ہی اپنی خو اور طبیعت سے خدا کے نزدیک ایلیا بن گیا۔ سو اس جگہ بھی ایسا ہی ہوا کہ ایک کو تیرے بابرکت زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کی خو اور طبیعت دی گئی۔ اس لیے وہ مسیح کہلایا اور ضرور تھا کہ وہ آتا کیونکہ خدا کے پاک نوشتوں کا ٹلنا
ممکن نہیں۔ اے ملکہ معظمہ، اے تمام رعایا کی فخر یہ قدیم سے عادت اللہ ہے کہ جب شاہ وقت نیک نیت اور رعایا کی بھلائی چاہنے والا ہو تو وہ جب اپنی طاقت کے موافق امن عامہ اور نیکی پھیلانے کے انتظام کر چکتا ہے اور رعیت کی اندرونی پاک تبدیلیوں کے لیے اس کا دل دردمند ہوتا ہے۔ تو آسمان پر اس کی مدد کے لیے رحمت الٰہی جوش مارتی ہے اور اس کی ہمت اور خواہش کے مطابق کوئی روحانی انسان زمین پر بھیجا جاتا ہے اور اس کامل ریفارمر کے وجود کو اس عادل بادشاہ کی نیک نیتی اور ہمت اور ہمدردی عامہ خلائق پیدا کرتی ہے۔ یہ تب ہوتا ہے کہ جب ایک عادل بادشاہ ایک زمینی منجی کی صورت میں پیدا ہو کر اپنی کمال ہمت اور ہمدردی بنی نوع کے رو سے طبعاً ایک آسمانی منجی کو چاہتا ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ہوا کیونکہ اس وقت کا قیصر روم ایک نیک نیت انسان تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ زمین پر ظلم ہو اور انسانوں کی بھلائی اور نجات کا طالب تھا۔ تب آسمان کے خدا نے وہ روشنی بخشنے والا چاند ناصرہ کی زمین سے چڑھایا یعنی عیسیٰ مسیح ۔ تا جیسا کہ ناصرہ کے لفظ کے معنی عبرانی میں طراوت اور تازگی اور سرسبزی ہے۔ یہی حالت انسانوں کے دلوں میں پیدا کرے۔ سو اے ہماری پیاری قیصرہ ہند خدا تجھے دیرگاہ تک سلامت رکھے۔ تیری نیک نیتی اور رعایا کی سچی ہمدردی اس قیصر روم سے کم نہیں ہے۔ بلکہ ہم زور سے کہتے ہیں کہ اس سے بہت زیادہ ہے کیونکہ تیری نظر کے نیچے جس قدر غریب رعایا ہے۔ جس کی تو اے معظمہ قیصرہ ہمدردی کرنا چاہتی ہے اور جس طرح تو ہر ایک پہلو سے اپنی عاجز رعیت کی خیر خواہ ہے۔ اور جس طرح تو نے اپنی خیر خواہی اور رعیت پروری کے نمونے دکھلائے ہیں۔ یہ کمالات اور برکات گذشتہ قیصروں میں سے کسی میں بھی نہیں پائے جاتے۔ اس لیے تیرے ہاتھ کے کام جو سراسر نیکی اور فیاضی سے رنگین ہیں۔ سب سے زیادہ اس بات کو چاہتے ہیں کہ جس طرح تو اے ملکہ معظمہ اپنی تمام رعیت کی نجات اور بھلائی اور آرام کے لیے دردمند ہے۔ اور رعیت پروری کی تدبیروں میں مشغول ہے۔ اسی طرح خدا بھی آسمان سے تیرا ہاتھ بٹا دے۔ سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا۔ تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے۔ خدا نے تیرے عہد سلطنت میں دنیا کے دردمندوں کو یاد کیا اور آسمان سے اپنے مسیح کو بھیجا اور وہ تیرے ہی ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہوا دنیا کے لیے یہ ایک گواہی ہو کہ تیری زمین کے سلسلہ عدل نے آسمان کے سلسلہ عدل کو اپنی طرف کھینچا اور تیرے رحم
کے سلسلہ نے آسمان پر ایک رحم کا سلسلہ پیدا کیا اور چونکہ اس مسیح کا پیدا ہونا حق اور باطل کی تفریق کے لیے دنیا پر ایک آخری حکم ہے جس کے رو سے مسیح موعود حکم کہلاتا ہے اس لیے ناصرہ کی طرح جس میں تازگی اور سرسبزی کے زمانہ کی طرف اشارہ تھا اس مسیح کے گاؤں کا نام اسلام پور قاضی ماجھی رکھا گیا۔ تا قاضی کے لفظ سے خدا کے اس آخری حکم کی طرف اشارہ ہو۔ جس سے برگزیدوں کو دائمی فضل کی بشارت ملتی ہے اور تا مسیح موعود کا نام جو حکم ہے۔ اس کی طرف بھی ایک لطیف ایما ہو اور اسلام پور قاضی ماجھی اس وقت اس گاؤں کا نام رکھا گیا تھا۔ جبکہ بابر بادشاہ کے عہد میں اس ملک ماجہ کا ایک بڑا علاقہ حکومت کے طور پر میرے بزرگوں کو ملا تھا اور پھر رفتہ رفتہ یہ حکومت خود مختار ریاست بن گئی۔ اور پھر کثرت استعمال سے قاضی کا لفظ قادی سے بدل گیا اور پھر اور بھی تغیر پا کر قادیاں ہو گیا۔ غرض ناصرہ اور اسلام پور قاضی کا لفظ ایک بڑے پر معنی نام ہیں۔ جو ایک ان میں سے روحانی سرسبزی پر دلالت کرتا ہے۔ اور دوسرا روحانی فیصلہ پر جو مسیح موعود کا کام ہے اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند! خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں۔ تیرے عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اٹھ رہے ہیں تا تمام ملک کو رشک بہار بنا دیں۔ شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہد سلطنت کا قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے۔ وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں۔ چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے۔ اس لیے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں۔ اور میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کے لیے آب رواں کی طرح جاری ہیں اور ہم نہ سیاست قہری کے نیچے ہو کر آپ کے مطیع ہیں بلکہ آپ کی انواع و اقسام کی خوبیوں نے ہمارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے اے بابرکت قیصرہ ہند، تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں۔ جس پر تیری نگاہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا پرہیز گاری اور نیک اخلاقی اور صلح کاری کی راہوں کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں۔ اے عالی جناب قیصرہ ہند! مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا گیا ہے کہ ایک عیب مسلمانوں میں اور
ایک عیب عیسائیوں میں ایسا ہے۔ جس سے وہ سچی روحانی زندگی سے دور پڑے ہوئے ہیں اور وہ عیب ان کو ایک ہونے نہیں دیتا۔ بلکہ ان میں باہمی پھوٹ ڈال رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ دو مسئلے نہایت خطرناک اور سراسر غلط ہیں کہ وہ دین کے لیے تلوار کے جہاد کو اپنے مذہب کا ایک رکن سمجھتے ہیں اور اس جنون سے ایک بے گناہ کو قتل کر کے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا انھوں نے ایک بڑے ثواب کا کام کیا ہے۔ اور گو اس ملک برٹش انڈیا میں یہ عقیدہ اکثر مسلمانوں کا بہت کچھ اصلاح پذیر ہو گیا ہے۔ اور ہزار ہا مسلمانوں کے دل میری بائیس تیئیس سال کی کوششوں سے صاف ہو گئے ہیں۔ لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض غیر ممالک میں یہ خیالات اب تک سرگرمی سے پائے جاتے ہیں۔ گویا ان لوگوں نے اسلام کا مغز اور عطر لڑائی اور جبر کو ہی سمجھ لیا ہے۔ لیکن یہ رائے ہرگز صحیح نہیں ہے۔ قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لیے تلوار مت اٹھاؤ۔ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتدا میں اسلام میں تلوار کا حکم ہوا کیونکہ وہ تلوار دین کو پھیلانے کے لیے نہیں کھینچی گئی تھی۔ بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے اور یا امن قائم کرنے کے لیے کھینچی گئی تھی۔ مگر دین کے لیے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا افسوس کہ یہ عیب غلط کار مسلمانوں میں اب تک موجود ہے۔ جس کی اصلاح کے لیے میں نے پچاس ہزار سے کچھ زیادہ اپنے رسالے اور مبسوط کتابیں اور اشتہارات اس ملک اور غیر ملکوں میں شائع کیے ہیں اور امید رکھتا ہوں کہ جلد تر ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اس عیب سے مسلمانوں کا دامن پاک ہو جائے گا۔
دوسرا عیب ہماری قوم مسلمانوں میں یہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسے خونی مسیح اور خونی مہدی کے منتظر ہیں۔ جو ان کے زعم میں دنیا کو خون سے بھر دے گا۔ حالانکہ یہ خیال سراسر غلط ہے۔ ہماری معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کوئی لڑائی نہیں کرے گا اور نہ تلوار اٹھائے گا۔ بلکہ وہ تمام باتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خو اور خلق پر ہوگا اور ان کے رنگ سے ایسا رنگین ہوگا کہ گویا ہو بہو وہی ہوگا۔ یہ دو غلطیاں حال کے مسلمانوں میں ہیں۔ جن کی وجہ سے اکثر ان کے دوسری قوموں سے بغض رکھتے ہیں مگر مجھے خدا نے اس لیے بھیجا ہے کہ ان غلطیوں کو دور کر دوں،
اور قاضی یا حکم کا لفظ جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ وہ اسی فیصلہ کے لیے ہے۔ اور ان کے مقابل پر ایک غلطی عیسائیوں میں بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ مسیح جیسے مقدس اور بزرگوار کی نسبت جس کو انجیل شریف میں نور کہا گیا ہے۔ نعوذ باللہ لعنت کا لفظ اطلاق کرتے ہیں۔ اور وہ نہیں جانتے کہ لعن اور لعنت ایک لفظ عبرانی اور عربی میں مشترک ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ملعون انسان کا دل خدا سے بکلی برگشتہ اور دور اور مہجور ہو کر ایسا گندہ اور ناپاک ہو جائے۔ جس طرح جذام سے جسم گندہ اور خراب ہو جاتا ہے۔ اور عرب اور عبرانی کے اہل زبان اس بات پر متفق ہیں کہ ملعون یا لعنتی صرف اسی حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے جبکہ اس کا دل در حقیقت خدا سے تمام تعلقات محبت اور معرفت اور اطاعت کے توڑ دے اور شیطان کا ایسا تابع ہو جائے کہ گویا شیطان کا فرزند ہو جائے۔ اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے۔ اسی لیے لعین شیطان کا نام ہے۔ پس وہی نام حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے تجویز کرنا اور ان کے پاک اور منور دل کو نعوذ باللہ شیطان کے تاریک دل سے مشابہت دینا اور وہ جو بقول ان کے خدا سے نکلا ہے۔ اور وہ جو سراسر نور ہے۔ اور وہ جو آسمان سے ہے۔ اور وہ جو علم کا دروازہ اور خدا شناسی کی راہ اور خدا کا وارث ہے۔ اسی کی نسبت نعوذ باللہ یہ خیال کرنا کہ وہ لعنتی ہو کر یعنی خدا سے مردود ہو کر اور خدا کا دشمن ہو کر اور دل سیاہ ہو کر اور خدا سے برگشتہ ہو کر اور معرفت الٰہی سے نابینا ہو کر شیطان کا وارث بن گیا۔ اور اس لقب کا مستحق ہو گیا جو شیطان کے لیے خاص ہے یعنی لعنت۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ اس کے سننے سے دل پاش پاش ہوتا ہے اور بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔ کیا خدا کے مسیح کا دل خدا سے ایسا برگشتہ ہو گیا جیسے شیطان کا دل؟ کیا خدا کے پاک مسیح پر کوئی ایسا زمانہ آیا۔ جس میں وہ خدا سے بیزار اور در حقیقت خدا کا دشمن ہو گیا۔ یہ بڑی غلطی اور بڑی بے ادبی ہے قریب ہے جو آسمان اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ غرض مسلمانوں کے جہاد کا عقیدہ مخلوق کے حق میں ایک بداندیشی ہے اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ خود خدا کے حق میں بداندیشی ہے۔ اگر یہ ممکن ہے کہ نور کے ہوتے ہی اندھیرا ہو جائے۔ تو یہ بھی ممکن ہے کہ نعوذ باللہ کسی وقت مسیح کے دل نے لعنت کی زہر ناک کیفیت اپنے اندر حاصل کی تھی۔ اگر انسانوں کی نجات اسی بے ادبی پر موقوف ہے، تو بہتر ہے کہ کسی کی بھی نجات نہ ہو۔ کیونکہ تمام
گنہگاروں کا مرنا بہ نسبت اس بات کے اچھا ہے کہ مسیح جیسے نور اور نورانی کو گمراہی کی تاریکی اور لعنت اور خدا کی عداوت کے گڑھے میں ڈوبنے والا قرار دیا جائے۔ سو میں یہ کوشش کر رہا ہوں کہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ اصلاح پذیر ہو جائے اور میں شکر کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ان دونوں ارادوں میں کامیاب کیا ہے۔ چونکہ میرے ساتھ آسمانی نشان اور خدا کے معجزات تھے۔ اس لیے مسلمانوں کے قائل کرنے کے لیے مجھے بہت تکلیف اٹھانی نہیں پڑی۔ اور ہزار ہا مسلمان خدا کے عجیب اور فوق العادة نشانوں کو دیکھ کر میرے تابع ہو گئے۔ اور وہ خطرناک عقائد انھوں نے چھوڑ دیے۔ جو وحشیانہ طور پر ان کے دلوں میں تھے۔ اور میرا گروہ ایک سچا خیر خواہ اس گورنمنٹ کا بن گیا ہے جو برٹش انڈیا میں سب سے اوّل درجہ پر جوش اطاعت دل میں رکھتے ہیں۔ جس سے مجھے بہت خوشی ہے اور عیسائیوں کا یہ عیب دور کرنے کے لیے خدا نے میری وہ مدد کی ہے جو میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں شکر کر سکوں۔ اور وہ یہ ہے کہ بہت سے قطعی دلائل اور نہایت پختہ وجوہ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ خدا نے اس پاک نبی کو صلیب پر سے بچا لیا اور آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ مر کر بلکہ زندہ ہی قبر میں غشی کی حالت میں داخل کیے گئے۔ اور پھر زندہ ہی قبر سے نکلے جیسا کہ آپ نے انجیل میں خود فرمایا تھا کہ میری حالت یونس نبی کی حالت سے مشابہ ہوگی۔ آپ کی انجیل میں الفاظ یہ ہیں کہ یونس نبی کا معجزہ میں دکھلاؤں گا۔ سو آپ نے یہ معجزہ دکھلایا کہ زندہ ہی قبر میں داخل ہوئے۔ اور زندہ ہی نکلے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو انجیلوں سے ہمیں معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ ایک بڑی خوشخبری جو ہمیں ملی ہے، وہ یہ ہے کہ دلائل قاطعہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے۔ اور یہ امر ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ آپ یہودیوں کے ملک سے بھاگ کر نصیبین کی راہ سے افغانستان میں آئے اور ایک مدت تک کوہ نعمان میں رہے اور پھر کشمیر میں آئے اور ایک سو بیس برس کی عمر پا کر سری نگر میں آپ کا انتقال ہوا اور سرینگر محلہ خان یار میں آپ کا مزار ہے۔ چنانچہ اس بارے میں میں نے ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کا نام ہے۔ مسیح ہندوستان میں۔ یہ ایک بڑی فتح ہے۔ جو مجھے حاصل ہوئی ہے اور میں جانتا ہوں کہ جلد تر یا کچھ دیر سے اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ یہ دو بزرگ قومیں عیسائیوں اور
مسلمانوں کی جو مدت سے بچھڑی ہوئی ہیں، باہم شیر و شکر ہو جائیں گی۔ اور بہت سے نزاعوں کو خیر باد کہہ کر محبت اور دوستی سے ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں گی چونکہ آسمان پر یہی ارادہ قرار پایا ہے۔ اس لیے ہماری گورنمنٹ انگریزی کو بھی قوموں کے اتفاق کی طرف بہت توجہ ہو گئی ہے۔ جیسا کہ قانون سڈیشن کے بعض دفعات سے ظاہر ہے۔ اصل بھید یہ ہے کہ جو کچھ آسمان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تیاری ہوتی ہے۔ زمین پر بھی ویسے ہی خیالات گورنمنٹ کے دل میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ غرض ہماری ملکہ معظمہ کی نیک نیتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے آسمان سے یہ اسباب پیدا کر دیے ہیں کہ دونوں قوموں عیسائیوں اور مسلمانوں میں وہ اتحاد پیدا ہو جائے کہ اُمر ان کو دو قوم نہ کہا جائے۔
اب اس کے بعد مسیح علیہ السلام کی نسبت کوئی عقل مند یہ عقیدہ ہرگز نہیں رکھے گا کہ نعوذ باللہ کسی وقت ان کا دل لعنت کی زہر ناک کیفیت سے رنگین ہو گیا تھا کیونکہ لعنت مصلوب ہونے کا نتیجہ تھا۔ پس جبکہ مصلوب ہونا ثابت نہ ہوا بلکہ یہ ثابت ہوا کہ آپ کی ان دعاؤں کی برکت سے جو ساری رات باغ میں کی گئی تھیں اور فرشتے کی اس منشا کے موافق جو پلاطوس کی بیوی کے خواب میں حضرت مسیح کے بچاؤ کی سفارش کے لیے ظاہر ہوا تھا٭ اور خود حضرت مسیح علیہ السلام کی اس مثال کے موافق جو آپ نے یونس نبی کا تین دن مچھلی کے پیٹ میں رہنا اپنے انجام کار کا ایک نمونہ ٹھہرایا تھا آپ کو خدا تعالیٰ نے صلیب اور اس کے پھل سے جو لعنت ہے۔ نجات بخشی اور آپ کی یہ درد ناک آواز کہ ایلی ایلی لما سبقتانی ۔ (ترجمہ یہ ہے کہ اے میرے خدا! تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا)۔ جناب الٰہی میں سنی گئی یہ وہ کھلا کھلا ثبوت ہے جس سے ہر ایک حق کے طالب کا دل بے اختیار خوشی کے ساتھ اچھل پڑے گا۔ سو بلاشبہ یہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی برکات کا ایک پھل ہے۔ جس نے حضرت مسیح علیہ السلام کے دامن کو تخمیناً انیس سو برس کی بیجا تہمت سے پاک کیا۔
٭ یہ بات کسی طرح قبول کے لائق نہیں اور اس امر کو کسی دانشمند کا کانشنس قبول نہیں کرے گا کہ خدا تعالیٰ کا تو یہ ارادہ مصمم ہو کہ مسیح کو پھانسی دے۔ مگر اس کا فرشتہ خواہ مخواہ مسیح کے چھوڑانے کے لیے تڑپتا پھرے۔ کبھی پلاطوس کے دل میں مسیح کی محبت ڈالے اور اس کے منہ سے یہ کہلاوے کہ میں یسوع کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا اور کبھی پلاطوس کی بیوی کے پاس خواب میں جاوے اور اس کو کہے کہ اگر یسوع مسیح پھانسی مل گیا تو پھر اس میں تمہاری خیر نہیں ہے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ فرشتہ کا خدا سے اختلاف رائے۔ منہ
اب میں مناسب نہیں دیکھتا کہ اس عریضہ نیاز کو طول دوں۔ گو میں جانتا ہوں کہ جس قدر میرے دل میں یہ جوش تھا کہ میں اپنے اخلاص اور اطاعت اور شکرگزاری کو حضور قیصرہ ہند دام ملکہ میں عرض کروں۔ پورے طور پر میں اس جوش کو ادا نہیں کر سکا۔ ناچار دعا پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان کا مالک اور نیک کاموں کی نیک جزا دیتا ہے۔ وہ آسمان پر سے اس محسنہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور وہ فضل اس کے شامل حال کرے جو نہ صرف دنیا تک محدود ہو۔ بلکہ سچی اور دائمی خوشحالی جو آخرت کو ہوگی، وہ بھی عطا فرما دے اور اس کو خوش رکھے اور ابدی خوشی پانے کے اس کے لیے سامان مہیا کرے۔ اور اپنے فرشتوں کو حکم کرے کہ تا اس مبارک قدم ملکہ معظمہ کو کہ اس قدر مخلوقات پر نظر رحم رکھنے والی ہے۔ اپنے اس الہام سے منور کریں جو بجلی کی چمک کی طرح ایک دم میں دل میں نازل ہوتا اور تمام صحن سینہ کو روشن کرتا اور فوق الخیال تبدیلی کر دیتا ہے۔ یا الٰہی ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو ہمیشہ ہر ایک پہلو سے خوش رکھ اور ایسا کر کہ تیری طرف سے ایک بالائی طاقت اس کو تیرے ہمیشہ کے نوروں کی طرف کھینچ کر لے جائے اور دائمی اور ابدی سرور میں داخل کرے کہ تیرے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔ آمین! اور سب کہیں کہ آمین!
20 اگست 1899ء الملتمس خاکسار مرزا غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور، پنجاب‘‘
(ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 542 تا 558 پر)
اللہ کی روح میرے اندر بولتی ہے
- (137) ”وہ خدا جو آسمان پر ہے جو دل کے خیالات کو جانتا ہے جس کے الہام سے میں
نے اس عریضہ کو لکھا ہے۔ وہ میرے ساتھ ہوگا اور میرے ساتھ ہے۔ وہ مجھے اس گورنمنٹ عالیہ اور قوموں کے سامنے شرمندہ نہیں کرے گا۔ اسی کی روح ہے جو میرے اندر بولتی ہے۔ میں نہ اپنی طرف سے بلکہ اس کی طرف سے یہ پیغام پہنچا رہا ہوں تا سب کچھ جو اتمام حجت کے لیے چاہیے، پورا ہو۔ یہ سچ ہے کہ میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ اس کی طرف سے کہتا ہوں اور وہی ہے جو میرا مددگار ہوگا۔
بالآخر میں اس بات کا بھی شکر کرتا ہوں کہ ایسے عریضہ کو پیش کرنے کے لیے میں بجز اس سلطنت محسنہ کے اور کسی سلطنت کو وسیع الاخلاق نہیں پاتا اور گو اس ملک کے مولوی تکفیر اور کفر کا فتویٰ بھی مجھ پر لگائیں۔ مگر میں کہنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ ایسے عرائض کے پیش کرنے کے لیے عالی حوصلہ، عالی اخلاق صرف سلطنت انگریزی ہے۔ میں اس سلطنت کے مقابل پر سلطنت روم کو بھی نہیں پاتا جو اسلامی سلطنت کہلاتی ہے۔ اب میں اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری محسنہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو عمر دراز کر کے ہر ایک اقبال سے بہرہ ور کرے اور وہ تمام دعائیں جو میں نے اپنے رسالہ ستارہ قیصرہ اور تحفہ قیصریہ میں ملکہ موصوفہ کو دی ہیں، قبول فرماوے اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ محسنہ اس کے جواب سے مجھے مشرف فرماوے گی۔ والدعا۔“
عریضہ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان المرقوم 27 ستمبر 1899ء
(تریاق القلوب صفحہ 371، 372 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 499، 500 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 559 تا 560 پر)
اے قیصرہ و ملکہ معظمہ!
- (138) ”میں نہ اپنے نفس سے اور نہ اپنے خیال سے بلکہ خدا سے مامور ہوں کہ جس
گورنمنٹ کے سایہ عطوفت کے نیچے، میں امن کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہوں۔ اس کے لیے دعا میں مشغول رہوں اور اس کے احسانات کا شکر کروں۔ اور اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھوں اور جو کچھ مجھے فرمایا گیا ہے، نیک نیتی سے اس تک پہنچاؤں۔ لہٰذا اس موقعہ جوبلی پر جناب ملکہ معظمہ کے ان متواتر احسانات کو یاد کر کے جو ہماری جان اور مال اور آبرو کے شامل حال ہیں۔ ہدیہ شکر گزاری پیش کرتا ہوں اور وہ ہدیہ دعائے سلامتی و اقبال ملکہ ممدوحہ ہے جو دل سے اور وجود کے ذرہ ذرہ سے نکلتی ہے۔
اے قیصرہ و ملکہ معظمہ! ہمارے دل تیرے لیے دعا کرتے ہوئے جناب الہی میں جھکتے ہیں اور ہماری روحیں تیرے اقبال اور سلامتی کے لیے حضرت احدیت میں سجدہ کرتی ہیں۔ اے اقبال مند قیصرہ ہند! اس جوبلی کی تقریب پر ہم اپنے دل اور جان سے تجھے مبارکباد دیتے ہیں اور خدا سے چاہتے ہیں کہ خدا تجھے ان نیکیوں کی بہت بہت جزا دے۔ جو تجھ سے اور تیری بابرکت سلطنت سے اور تیرے امن پسند حکام سے ہمیں پہنچی ہیں۔ ہم تیرے وجود کو اس ملک کے لیے خدا کا ایک بڑا فضل سمجھتے ہیں اور ہم ان الفاظ کے نہ ملنے سے شرمندہ ہیں۔ جن سے ہم اس شکر کو پورے طور پر ادا کر سکتے۔ ہر ایک دعا جو ایک سچا شکر گزار تیرے لیے کر سکتا ہے، ہماری طرف سے تیرے حق میں قبول ہو۔ خدا تیری آنکھوں کو مرادوں کے ساتھ ٹھنڈی رکھے اور تیری عمر اور صحت اور سلامتی میں زیادہ سے زیادہ برکت دے اور تیرے اقبال کا سلسلہ ترقیات جاری رکھے اور تیری اولاد اور ذریت کو تیری طرح اقبال کے دن دکھا دے۔ اور فتح اور ظفر عطا کرتا رہے۔ ہم اس کریم و رحیم خدا کا بہت بہت شکر کرتے ہیں۔ جس نے اس مسرت بخش دن کو ہمیں دکھایا اور جس نے ایسی محسنہ رعیت پرور دادگستر بیدار مغز ملکہ کے زیر سایہ ہمیں پناہ دی اور ہمیں اس کے مبارک عہد سلطنت کے نیچے یہ موقعہ دیا کہ ہم ہر ایک بھلائی کو جو دنیا اور دین کے متعلق ہو، حاصل کر سکیں اور اپنے نفس اور اپنی قوم اور اپنے بنی نوع کے لیے سچی ہمدردی کے شرائط بجا لا سکیں اور ترقی کی ان راہوں پر آزادی سے قدم مار سکیں۔ جن راہوں پر چلنے سے نہ صرف ہم دنیا کی مکروہات سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ ابدی جہان کی سعادتیں بھی ہمیں حاصل ہو سکتی ہیں۔
جب ہم سوچتے ہیں کہ یہ تمام نیکیاں اور ان کے وسائل جناب قیصرہ ہند کی عہد سلطنت میں ہم کو ملی ہیں اور یہ سب خیر اور بھلائی کے دروازے اسی ملکہ معظمہ مبارکہ کے ایام بادشاہت میں ہم پر کھلے ہیں تو اس سے ہمیں اس بات پر قوی دلیل ملتی ہے کہ جناب قیصرہ ہند کی نیت رعایا پروری کے لیے نہایت ہی نیک ہے کیونکہ یہ ایک مسلم مسئلہ ہے کہ بادشاہ کی نیت رعایا کے اندرونی حالات اور ان کے اخلاق اور چال چلن پر بہت اثر رکھتی ہے۔ یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی حصہ زمین پر نیک نیت اور عادل بادشاہ حکمرانی کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ اس زمین کے رہنے والے اچھی باتوں اور نیک اخلاق کی طرف توجہ کرتے ہیں اور خدا اور خلقت کے ساتھ اخلاص کی عادت ان میں پیدا ہو جاتی ہے۔ سو یہ امر ہر ایک
آنکھ کو بدیہی طور پر نظر آ رہا ہے کہ برٹش انڈیا میں اچھی حالتوں اور اچھے اخلاق کی طرف ایک انقلاب عظیم پیدا ہو رہا ہے اور وحشیانہ جذبات ملکوتی حالات کی طرف انتقال کر رہے ہیں اور نئی ذریت نفاق کی جگہ اخلاص کو زیادہ پسند کرتی جاتی ہے اور لوگوں کی استعدادیں سچائی کے قبول کرنے کے لیے بہت نزدیک آتی جاتی ہیں۔ انسانوں کی عقل اور فہم اور سوچ میں ایک بڑی تبدیلی پیدا ہو گئی ہے اور اکثر لوگ ایک سادہ اور بے لوث زندگی کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہد سلطنت ایک ایسی روشنی کا پیش خیمہ ہے جو آسمان سے اتر کر دلوں کو روشن کرنے والی ہے۔ ہزاروں دل اس طرح پر راستی کے شوق میں اچھل رہے ہیں کہ گویا وہ ایک آسمانی مہمان کے لیے جو سچائی کا نور ہے، پیشوائی کے طور پر قدم بڑھاتے ہیں۔ انسانی قویٰ کے تمام پہلوؤں میں اچھے انقلاب کا رنگ دکھائی دیتا ہے اور دلوں کی حالت اس عمدہ زمین کی طرح ہو رہی ہے جو اپنا سبزہ نکالنے کے لیے پھول گئی ہو۔ ہماری ملکہ معظمہ اگر اس بات سے فخر کریں تو بجا ہے کہ روحانی ترقیات کے لیے خدا اسی زمین سے ابتدا کرنا چاہتا ہے جو برٹش انڈیا کی زمین ہے۔ اس ملک میں کچھ ایسے روحانی انقلاب کے آثار نظر آتے ہیں کہ گویا خدا بہتوں کو سفلی زندگی سے باہر نکالنا چاہتا ہے۔ اکثر لوگ بالطبع پاک زندگی کے حاصل کرنے کے لیے میل کرتے جاتے ہیں اور بہت سی روحیں عمدہ تعلیم اور عمدہ اخلاق کی تلاش میں ہیں اور خدا کا فضل امید دے رہا ہے کہ وہ اپنی ان مرادوں کو پائیں گے۔“
(تحفہ قیصریہ صفحہ 14 تا 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 266 تا 268 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 561 تا 563 پر)
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں
مبارک، مبارک، مبارک !!
(139) ”یہ عریضہ مبارکبادی اُس شخص کی طرف سے ہے جو یسوع مسیح کے نام پر طرح طرح کی بدعتوں سے دنیا کو چھڑانے کے لیے آیا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ امن اور نرمی کے ساتھ دنیا میں سچائی قائم کرے۔ اور لوگوں کو اپنے پیدا کنندہ سے سچی محبت اور بندگی کا طریق سکھائے۔ اور اپنے بادشاہ ملکہ معظمہ سے جس کی وہ رعایا ہیں، سچی اطاعت کا طریق
سمجھائے، اور بنی نوع میں باہمی سچی ہمدردی کرنے کا سبق دیوے۔ اور نفسانی کینوں اور جوشوں کو درمیان سے اُٹھائے۔ اور ایک پاک صلح کاری کو خدا کے نیک نیت بندوں میں قائم کرے۔ جس کی نفاق سے ملونی نہ ہو اور یہ نوشتہ ایک ہدیہ شکر گزاری ہے۔ کہ جو عالی جناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ والی انگلستان و ہند دام اقبالہا بالقابہا کے حضور میں بتقریب جلسہ جوبلی شصت سالہ بطور مبارکباد پیش کیا گیا ہے۔ مبارک! مبارک!! مبارک!!‘‘
(تحفہ قیصریہ صفحہ 1، مندرجہ روحانی خزائن جلد 12، صفحہ 253 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 564 پر)
مبارک ہو
ان کی شاہی میں، میں پاتا ہوں رفاہ روزگار“
(براہین احمدیہ جلد پنجم صفحہ 111 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 141 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 565 پر)
اے موحدہ صدیقہ، تجھے آسمان سے بھی مبارک باد
(141) ”اُس خدا کا شکر ہے جس نے آج ہمیں یہ عظیم الشان خوشی کا دن دکھلایا۔ کہ ہم نے اپنی ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان کی شصت سالہ جوبلی کو دیکھا۔ جس قدر اِس دن کے آنے سے مسرت ہوئی، کون اس کو اندازہ کر سکتا ہے؟ ہماری محسنہ قیصرہ مبارکہ کو ہماری طرف سے خوشی اور شکر سے بھری ہوئی مبارکباد پہنچے، خدا ملکہ معظمہ کو ہمیشہ خوشی سے رکھے!
وہ خدا جو زمین کو بنانے والا اور آسمانوں کو اونچا کرنے والا اور چمکتے ہوئے سورج اور چاند کو ہمارے لیے کام میں لگانے والا ہے۔ اس کی جناب میں ہم دُعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو جو اپنی رعایا کی مختلف اقوام کو کنار عاطفت میں لیے ہوئے ہے جس کے ایک وجود سے کروڑہا انسانوں کو آرام پہنچ رہا ہے۔ تادیر گاہ سلامت رکھے۔ اور ایسا ہو کہ جلسہ جوبلی کی تقریب پر (جس کی خوشی سے کروڑ ہا دِل برٹش انڈیا اور انگلستان کے جوش
نشاط میں ان پھولوں کی طرح حرکت کر رہے ہیں جو نسیم صبا کی ٹھنڈی ہوا سے شگفتہ ہو کر پرندوں کی طرح اپنے پروں کو ہلاتے ہیں) جس زور شور سے زمین مبارکباد کے لیے اچھل رہی ہے۔ ایسا ہی آسمان بھی اپنے آفتاب و ماہتاب اور تمام ستاروں کے ساتھ مبارکبادیاں دیوے۔ اور عنایت صمدی ایسا کرے کہ جیسا کہ ہماری عالی شان محسنہ ملکہ معظمہ والی ہند و انگلستان اپنی رعایا کے تمام بوڑھوں اور بچوں کے دلوں میں ہر دلعزیز ہے۔ ویسا ہی آسمانی فرشتوں کے دلوں میں بھی ہر دلعزیز ہو جائے۔ وہ قادر جس نے بیشمار دنیوی برکتیں اس کو عطا کیں۔ دینی برکتوں سے بھی اسے مالا مال کرے۔ وہ رحیم جس نے اس جہان میں اس کو خوش رکھا، اگلے جہان میں بھی خوشی کے سامان اس کے لیے عطا کرے۔ خدا کے کاموں سے کیا بعید ہے کہ ایسا مبارک وجود جس سے کروڑ ہا بلکہ بے شمار نیکی کے کام ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ اس کے ہاتھ سے یہ آخری نیکی بھی ہو جائے کہ انگلستان کو رحم اور امن کے ساتھ انسان پرستی سے پاک کر دیا جائے۔ تا فرشتوں کی روحیں بھی بول اٹھیں۔ کہ اے موحدہ صدیقہ تجھے آسمان سے بھی مبارکباد جیسا کہ زمین سے!!“
(تحفہ قیصریہ صفحہ 3,2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12، صفحہ 254، 255 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 566، 567 پر)
غلامی اور محکومانہ زندگی کا سب سے بڑا اثر یہ ہوتا ہے کہ ہمت و عزم کی روح پست ہو کر رہ جاتی ہے۔ انسان اس ناپاک زندگی کے ذلت آمیز امن و سکون کو نعمت سمجھنے، حقیر راحتوں کو سب سے بڑی عظمت تصور کرنے اور جدوجہد کی زندگی سے پریشان و حیران نظر آتا ہے۔ آنجہانی مرزا قادیانی نے ملکہ وکٹوریہ کے دربار سے اپنے لیے جس ذلت آمیز طریقے سے بھکشا مانگی، اس سے تو بڑے بڑے رذیل گدا گروں کے سر بھی شرم سے جھک گئے ہوں گے۔ درج ذیل حوالہ بطور خاص اس حقیقت کا شاہد ہے:
مہربانی کے مینہ سے پرورش
(142) ”ہم اس سلطنت کے سایہ کے نیچے بڑے آرام اور امن سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور شکر گزار ہیں اور یہ خدا کا فضل اور احسان ہے، جو اس نے ہمیں کسی ایسے ظالم بادشاہ کے حوالہ نہیں کیا جو ہمیں پیروں کے نیچے کچل ڈالتا اور کچھ رحم نہ کرتا بلکہ اُس نے ہمیں ایک ایسی
ملکہ عطا کی ہے جو ہم پر رحم کرتی ہے اور احسان کی بارش سے اور مہربانی کے مینہ سے ہماری پرورش فرماتی ہے اور ہمیں ذلت اور کمزوری کی پستی سے اوپر کی طرف اٹھاتی ہے۔“
(نورالحق حصہ اوّل صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 6 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 568 پر)
کہ معمولی کلرکوں نے بھی نبی بننے کی ٹھانی ہے
نہیں شیوہ یہ نبیوں کا حکومت سے کہیں جا کر
نبوت کیا ہے مری، بس تمہاری مہربانی ہے
ملکہ وکٹوریہ کے عدل کی کشش
(143) ”خدا نے تیرے عہد سلطنت میں دنیا کے دردمندوں کو یاد کیا اور آسمان سے اپنے مسیح کو بھیجا اور وہ تیرے ہی ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہوا دنیا کے لیے یہ ایک گواہی ہو کہ تیری زمین کے سلسلہ عدل نے آسمان کے سلسلہ عدل کو اپنی طرف کھینچا اور تیرے رحم کے سلسلہ نے آسمان پر ایک رحم کا سلسلہ برپا کیا۔“
(ستارہ قیصرہ صفحہ 10، 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 118، 119 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 569، 570 پر)
نور کو نور اپنی طرف کھینچتا ہے
(144) ”اے ملکہ معظمہ! تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے۔ جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتا جاتا ہے۔ اس لیے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی بھی عہد سلطنت ایسا نہیں ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لیے موزوں ہو، سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا۔ کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا اور تاریکی تاریکی کو کھینچتی ہے۔“
(ستارہ قیصرہ صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 117 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 571 پر)
یا اللہ انگریزوں کے چہرے آخرت میں بھی نورانی اور منور فرما!
- (145) ”گورنمنٹ انگلشیہ خدا کی نعمتوں سے ایک نعمت ہے۔ یہ ایک عظیم الشان
رحمت ہے۔ یہ سلطنت مسلمانوں کے لیے آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے۔ خداوند رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لیے ایک بارانِ رحمت بھیجا، ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا قطعی حرام ہے۔ اسلام کا ہرگز یہ اصول نہیں کہ مسلمانوں کی قوم جس سلطنت کے ماتحت رہ کر اس کا احسان اٹھاوے۔ اس کے ظلِ حمایت میں بامن و آسائش رہ کر اپنا مقسوم کھاوے، اس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے۔ پھر اسی پر عقرب کی طرح نیش چلاوے اور دعا سے بھی انھوں نے اس گورنمنٹ کو بہت دفعہ یاد کیا ہے۔ ان کی آخری دعا ان کے اشتہار مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں جس کی بیس ہزار کاپی چھپوا کر ہند اور انگلینڈ میں انھوں نے شائع کرنی چاہی ہے، یہ کلمات دعائیہ مرقوم ہیں۔ انگریز جن کی شائستہ اور مہذب اور با رحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ معاملات سے ممنون کر کے اس بات کے لیے دلی جوش بخشا ہے کہ ہم ان کے دین و دنیا کے لیے دلی جوش سے بہبودی اور سلامتی چاہیں تا ان کے گورے و سپید منہ جس طرح دنیا میں خوبصورت ہیں، آخرت میں بھی نورانی و منور ہوں۔“
(شہادت القرآن صفحہ 92 تا 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 388 تا 393 از مرزا غلام احمد قادیانی)
(عکس صفحہ 572 تا 577 پر)
خدا تعالیٰ برطانوی حکومت کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے!
- (146) ”ہم نے اس گورنمنٹ کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکر کرنا کوئی سہل بات نہیں۔
اس لیے ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے۔ سو ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی
فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا۔“
(شہادت القرآن صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 578 پر)
اللہ انگریز حکومت کو تکلیف (عذاب) میں نہ ڈالے گا
(گورنمنٹ برطانیہ سے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئی)
(147) ”براہین احمدیہ کے صفحہ 241 میں ایک پیش گوئی گورنمنٹ برطانیہ کے متعلق ہے۔ اور وہ یہ ہے۔ وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم. اینما تولوا فثم وجہ اللہ۔ یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ اس گورنمنٹ کو کچھ تکلیف پہنچائے حالانکہ تو اُن کی عملداری میں رہتا ہو۔ جدھر تیرا منہ خدا کا اسی طرف منہ ہے۔ چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ مجھے اس گورنمنٹ کی پُرامن سلطنت اور ظلِ حمایت میں دل خوش ہے اور اس کے لئے میں دُعا میں مشغول ہوں کیونکہ میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں ، مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دُعا کرتا ہوں۔ لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دُعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ ہے۔
اب گورنمنٹ شہادت دے سکتی ہے کہ اس کو میرے زمانہ میں کیا کیا فتوحات نصیب ہوئیں۔ یہ الہام سترہ برس کا ہے۔ کیا یہ انسان کا فعل ہو سکتا ہے؟ غرض میں گورنمنٹ کے لئے بمنزلہ حرزِ سلطنت ہوں۔“
(اشتہار، عریضہ بحالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی نمبر 168 بتاریخ 22 مارچ 1897ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 579 پر)
یاجوج ماجوج انگریز کے لیے دعا
(148) ”ایسا ہی یاجوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجیے۔ یہ دونوں پُرانی قومیں ہیں جو پہلے
زمانوں میں دوسروں پر کھلے طور پر غالب نہیں ہو سکیں اور ان کی حالت میں ضعف رہا۔ لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں قومیں خروج کریں گی یعنی اپنی جلالی قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گی۔ جیسا کہ سورۂ کہف میں فرماتا ہے وترکنا بعضہم یومئذ یموج فی بعض یعنی یہ دونوں قومیں دوسروں کو مغلوب کر کے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی اور جس کو خدا تعالیٰ چاہے، فتح دے گا۔ چونکہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور رُوس ہیں، اس لیے ہر ایک سعادتمند مسلمان کو دعا کرنی چاہیے کہ اُس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پارہے ہیں، وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے۔ ہرگز نہیں پاسکتے۔“
(ازالۃ الاوہام صفحہ 509 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 373 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 580 پر)
ہم دعا کرتے ہیں !
(149) ”ہمارے نظام بدنی اور امور دنیوی میں خدا تعالیٰ نے اس قوم میں سے ہمارے لیے گورنمنٹ قائم کی اور ہم نے اس گورنمنٹ کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکر کرنا کوئی سہل بات نہیں۔ اس لیے ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے۔ سو ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔“
(شہادۃ القرآن تتمہ گورنمنٹ کی توجہ کے لائق صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 581 پر)
دعا اور اُمید!!!
(150) ”بالآخر میں اس بات کا بھی شکر کرتا ہوں کہ ایسے عریضہ کو پیش کرنے کے لیے میں
بجز اس سلطنت محسنہ کے اور کسی سلطنت کو وسیع الاخلاق نہیں پاتا اور گو اس ملک کے مولوی ایک اور کفر کا فتویٰ بھی مجھ پر لگاویں مگر میں کہنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ ایسے عرائض کے پیش کرنے کے لیے عالی حوصلہ، عالی اخلاق صرف سلطنت انگریزی ہی ہے۔ میں اس سلطنت کے مقابل پر سلطنت روم کو بھی نہیں پاتا جو اسلامی سلطنت کہلاتی ہے۔ اب میں اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری محسنہ ملکہ معظمہ قیصرۂ ہند کو عمر دراز کر کے ہر ایک اقبال سے بہرہ ور کرے اور وہ تمام دعائیں جو میں نے اپنے رسالہ ستارۂ قیصرہ اور تحفہ قیصریہ میں ملکہ موصوفہ کو دی ہیں، قبول فرمادے اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ محسنہ اس کے جواب سے مجھے مشرف فرمادے گی ۔‘‘
(اشتہار، حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست نمبر 218 بتاریخ 27 دسمبر 1899ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات طبع جدید جلد دوم صفحہ 362 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 582 پر)
مرزا قادیانی نے ایک موقع پر دعا کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے لکھا: (151) ’’آپ (مرزا قادیانی) نے اس کے جواب میں ایک تقریر فرمائی، جس میں دعا کا فلسفہ بیان کیا اور فرمایا کہ محض رسمی طور پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دینے سے دعا نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ایک خاص قلبی کیفیت کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جب آدمی کسی کے لیے دعا کرتا ہے تو اس کے لیے ان دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یا تو اس شخص کے ساتھ کوئی ایسا گہرا تعلق اور رابطہ ہو کہ اس کی خاطر دل میں ایک خاص درد اور گداز پیدا ہو جائے، جو دعا کے لیے ضروری ہے اور یا اس شخص نے کوئی ایسی دینی خدمت کی ہو کہ جس پر دل سے اس کے لیے دعا نکلے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 257 از مرزا بشیر احمد ) (عکس صفحہ نمبر 583 پر)
آنجہانی مرزا قادیانی نے تقریباً اپنی ہر کتاب میں انگریز حکومت کی کامیابی، اس کے مخالفین کی ذلت و ناکامی اور ملکہ وکٹوریہ کی درازی عمر کے لیے بہت دعائیں کی ہیں۔ اوپر بیان کیے گئے ’’قادیانی فلسفہ دعا‘‘ کے مطابق مرزا قادیانی نے اپنی خاص قلبی کیفیت سے انگریزوں کے لیے جو دعائیں کی ہیں، اس کی دو وجوہات میں سے ایک ضرور ہوگی۔
- اوّل: مرزا قادیانی کا انگریزوں سے اس قدر گہرا تعلق اور رابطہ تھا کہ ان کی خاطر مرزا
قادیانی کے دل میں خاص درد اور گداز پیدا ہوا۔
- دوم: انگریزوں نے کوئی ایسی دینی خدمت انجام دی کہ جس کے نتیجہ میں ان کے لیے
مرزا قادیانی کے دل سے دعائیں نکلیں۔
کیا قادیانی ان دو وجوہات میں سے کسی ایک کی تصدیق کر سکتے ہیں؟
ہمارے پاس شکریہ کے الفاظ نہیں
(152) ”ہمارے پاس تو وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے ہم اس آرام اور راحت کا ذکر کرسکیں جو اس گورنمنٹ سے ہم کو حاصل ہوئی۔ ہماری تو یہی دعا ہے کہ خدا اس گورنمنٹ محسنہ کو جزاء خیر دے اور اس سے نیکی کرے جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔“
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات طبع جدید جلد دوم صفحہ 191 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 584 پر)
عزت کے خطاب کا سوال ہے بابا!
مرزا قادیانی کی شدید خواہش تھی کہ برٹش حکومت کی حمایت اور ممانعت جہاد کے سلسلہ میں اس کی بے پناہ خدمات کے نتیجہ میں ملکہ وکٹوریہ اسے اپنے دربار میں بلائے اور کوئی عزت کا خطاب دے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے بھیک مانگنے کے انداز میں اپنا ایک الہام بھی جاری کیا کہ شاید ملکہ اس طرح راضی ہو جائے۔ مرزا قادیانی کا الہام ملاحظہ کیجیے۔
(153) ”ایک عزت کا خطاب، ایک عزت کا خطاب، لک خطاب العزۃ“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 283 جلد چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 585 پر)
مگر ............... اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ............... مرزا قادیانی کا یہ ”الہام“ بھی پورا نہ ہوسکا۔
یا اللہ ! ملکہ معظمہ کے دل میں الہام کر !
(154) ”میں اس (اللہ تعالیٰ) کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک ایسی گورنمنٹ کے سایہ رحمت کے نیچے جگہ دی، جس کے زیر سایہ میں بڑی آزادی سے اپنا کام نصیحت اور وعظ کا ادا کر رہا ہوں۔ اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا ہر ایک پر رعایا میں سے شکر واجب ہے، مگر میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصرہ ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہو رہے ہیں ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہو سکتے، اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔
اب میں حضور ملکہ معظمہ میں زیادہ مصدع اوقات ہونا نہیں چاہتا اور اس دعا پر یہ عریضہ ختم کرتا ہوں کہ اے قادر و کریم اپنے فضل و کرم سے ہماری ملکہ معظمہ کو خوش رکھ جیسا کہ ہم اس کے سایہ عاطفت کے نیچے خوش ہیں۔ اور اس سے نیکی کر جیسا کہ ہم اس کی نیکیوں اور احسانوں کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اور ان معروضات پر کریمانہ توجہ کرنے کے لیے اس کے دل میں آپ الہام کر کہ ہر ایک قدرت اور طاقت تجھی کو ہے۔“ آمین ثم آمین الملتمس خاکسار: مرزا غلام احمد از قادیان“
(تحفہ قیصریہ صفحہ 31، 32 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 283، 284 از مرزا غلام احمد)
(عکس صفحہ 586، 587 پر)
ملکہ کو ملہمہ بنانے کی آرزو کے پیچھے کوئی اور قصہ معلوم ہوتا ہے۔ شاید اکبر الہٰ آبادی کا یہ شعر اشاریہ ترتیب دے سکے:
علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آکے لیٹ
قیصر ہند کی طرف سے شکریہ
(155) ”قیصر ہند کی طرف سے شکریہ، اور یہ ایسا لفظ ہے کہ حیرت میں ڈالتا ہے کیونکہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ہر ایک قابل پسند خدمت سے عاری اور قبل از موت اپنے تئیں
مردہ سمجھتا ہوں۔ میرا شکریہ کیسا۔ سو ایسے الہام متشابہات میں سے ہوتے ہیں جب تک خود خدا ان کی حقیقت ظاہر نہ کرے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 284 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 588 پر)
ملکہ وکٹوریہ، مرزا قادیانی کے گھر میں
(156) ”صبح حضرت اقدس کو یہ رویا ہوئی ہے کہ حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند سلمہا اللہ تعالیٰ گویا حضرت اقدس کے گھر میں رونق افروز ہوئی ہیں۔ حضرت اقدس رؤیا میں عاجز راقم عبدالکریم کو جو اس وقت حضور اقدس کے پاس بیٹھا ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت ملکہ معظمہ کمال شفقت سے ہمارے ہاں قدم رنجہ فرما ہوئی ہیں اور دو روز قیام فرمایا ہے۔ ان کا کوئی شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 280 طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 589 پر)
مرزا قادیانی کو الہام ہوا:
گورنر جنرل
(157) ”مبشروں کا زوال نہیں ہوتا۔ گورنر جنرل کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آ گیا۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 285 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 590 پر)
مرزا قادیانی نے انگریزوں کی اس قدر چاپلوسی اور اطاعت کی کہ اسے خواب میں فرشتے بھی انگریز نظر آتے تھے۔
انگریز فرشتہ
(158) ”ایک فرشتہ کو میں نے 20 برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا۔ صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔“
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 69 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 591 پر)
انگریزی الہامات
(159)
- 1. "You must do what I told you.
- 2. Though all men should be angry but God is with you.
He shall help you. Words of God cannot exchange.
- 3. I shall help you.
- 4. You have to go Amritsar.
- 5. He halts in the Zilla Peshawar."
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 92 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 592 پر)
مرزا قادیانی کے خدا ”یلاش“ کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ضلع کی انگریزی Zilla نہیں بلکہ District ہوتی ہے۔
(160)
- 1- "I love you. I am with you. Yes I am happy.
- 2- Life of pain. I shall help you. I can, what I will do.
We can, what we will do. God is coming by His army. He is with you to kill enemy. The days shall come when God shall help you. Glory be to the Lord.
- 3- God maker of earth and heaven."
(حقیقۃ الوحی صفحہ 304 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 316 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 593 پر)
کاش مرزا قادیانی نے انگلش کی ٹیوشن پڑھی ہوتی!
(161) ”ایک دفعہ کی حالت یاد آئی ہے کہ انگریزی میں اول یہ الہام ہوا۔ آئی لو یو یعنی میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا۔ آئی ایم ود یو یعنی میں تمھارے ساتھ ہوں پھر الہام ہوا۔ آئی شیل ہیلپ یو یعنی میں تمہاری مدد کروں گا۔ پھر الہام ہوا آئی کین ویٹ آئی ول ڈو۔ یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ پھر بعد اس کے بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا۔ وی کین ویٹ وی ول ڈو۔ یعنی ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے اور اس وقت
ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے۔“
(براہین احمدیہ صفحہ 480 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 571، 572 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 594، 595 پر)
اس میں کیا شک ہے، یقیناً انگریز ہی تمہارے سر پر کھڑا بولتا تھا۔
مرزا قادیانی کی جانشینی میں انگریز کی دلچسپی
(162) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جن ایام میں حضرت مسیح موعود رسالہ الوصیت لکھ رہے تھے۔ ایک دفعہ جب آپ شریف (یعنی میرے چھوٹے بھائی عزیزم مرزا شریف احمد) کے مکان کے صحن میں ٹہل رہے تھے۔ آپ نے مجھ سے کہا کہ مولوی محمد علی سے ایک انگریز نے دریافت کیا تھا کہ جس طرح بڑے آدمی اپنا جانشین مقرر کیا کرتے ہیں۔ مرزا صاحب نے بھی کوئی جانشین مقرر کیا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد آپ فرمانے لگے تمہارا کیا خیال ہے۔ کیا میں محمود (حضرت خلیفہ المسیح ثانی) کو لکھ دوں یا فرمایا مقرر کردوں؟ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں، میں نے کہا کہ جس طرح آپ مناسب سمجھیں کریں“۔
(سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 13 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 596، 597 پر)
قلم کی طاقت کمزور ثابت ہوئی
(163) ”یہ کام بجز خدائی ہاتھ کے انجام پذیر ہوتا نظر نہیں آتا۔ اسی واسطے ہم نے ہتھیاروں یعنی قلم کو چھوڑ کر دعا کے واسطے یہ مکان (حجرہ) بنوایا ہے کیونکہ دعا کا میدان خدا نے بڑا وسیع رکھا ہے اور اس کی قبولیت کا بھی اس نے وعدہ فرمایا ہے............ ساٹھ یا پینسٹھ سال عمر سے گزر چکے ہیں۔ موت کا وقت مقرر نہیں۔ خدا جانے کس وقت آجاوے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی پڑا ہے۔ ادھر قلم کی طاقت کمزور ثابت ہوئی ہے۔ رہی سیف، اس کے واسطے خدا تعالیٰ کا اذن اور منشا نہیں ہے“۔
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 191، 192 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 598، 599 پر)
بقول حضرت مولانا محمد الیاس برنی: ”دین فروشی، ملت فروشی، وطن فروشی، غیرت فروشی، خوشامد، لجاجت، التجا، التماس، یہ خلاصہ ہے، قادیانی سیاسیات کا اور اسکے تحت سرکار انگریزی کی وفاداری جزو ایمان قرار دی گئی۔ اس پر بھی سرکاری دربار میں بے توقیری اور ناقدری کا گلہ شکوہ رہا۔ البتہ ملازمت اور معاش میں درخواستوں کے بموجب سرکاری عنایات و رعایات بخوبی حاصل ہوگئیں اور اسی لالچ سے بیشتر غرض مند قادیانیت کے جال میں پھنسنے لگے۔ حتیٰ کہ بقول مرزا قادیانی، قادیانی فرقہ سرکار کا خود کاشتہ پودا جم گیا اور سرکار کی نمک پروردہ جماعت قائم ہوگئی جو خاص مراحم کی مستحق سمجھی گئی۔
بعض کم سمجھ جو دنیا کے چنداں طالب نہ تھے۔ وہ مرزا قادیانی کے دینی ارتقاء میں لپٹ گئے۔ مرزا قادیانی اوّل تو مجدد بنا پھر محدث، پھر مہدی، پھر مسیح، نبی و رسول، حتیٰ کہ قادیان کا غلام احمد، قرآن کا احمد بن گیا۔ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اسمہ احمد رسول اللہ ﷺ سے ہٹ کر مرزا قادیانی پر چسپاں ہوگئی۔ قادیان میں قادیانی عبادت گاہ مسجد اقصیٰ بن گئی، ظلی حج شروع ہوگیا جو مکہ معظمہ کے نقلی حج سے افضل قرار پایا۔ دنیا جہان کے تمام مسلمان، مرزا قادیانی کے انکار سے کافر بن گئے۔ گویا رسول اللہ کا کلمہ عملاً منسوخ ہوگیا اور وہ دین، ایمان کے واسطے بیکار ہوگیا۔ اسلام کا جدید مدار مرزا قادیانی کی نبوت و رسالت قرار پایا اور مرزا کا مدار کیا تھا؟ انگریزی سرکار نامدار۔ (نعوذ باللہ من ذالک)۔
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان جو رتبہ میں امیر المومنین اور اولوالعزم میں فضل عمر کہلاتا تھا، وہ بھی لازماً اسی نقش قدم پر چلا تو نوبت یہ پہنچی کہ خود قادیانی جو قدرے غیرت مند تھے، قادیانی سیاسیات سے شرمانے لگے اور شرم و حیا کی سزا میں اندھے کہلانے لگے۔ (انہیں اس بات کا یقین نہ آتا تھا کہ نبوت و رسالت کا دعویدار انگریزوں کی کاسہ لیسی، قصیدہ خوانی، چاپلوسی اور مدح سرائی میں ہر حد عبور کر سکتا ہے) بہرحال عوام میں قادیانی، سرکاری ٹوڈی مشہور ہوگئے۔ چنانچہ خود مرزا بشیر الدین محمود کا اعتراف ملاحظہ کیجیے۔
مرزا قادیانی کی تحریریں پڑھ کر شرم آتی ہے
- □ ”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے فخریہ لکھا ہے کہ میری کوئی کتاب
ایسی نہیں جس میں، میں نے گورنمنٹ کی تائید نہ کی ہو۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں سے
نہیں بلکہ احمدیوں (قادیانیوں) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، میں انہیں احمدی ہی کہوں گا کیونکہ نابینا بھی آخر انسان ہی کہلاتا ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آ جاتی ہے۔ انہیں شرم کیوں آتی ہے، اس لیے کہ ان کی اندر کی آنکھ نہیں کھلی۔‘‘
(روزنامہ الفضل قادیان جلد نمبر 20 شمارہ نمبر 3 مورخہ 7 جولائی 1932ء)
مرزا محمود کو کہنا تو یہ چاہیے تھا کہ ابھی ان میں کچھ غیرت موجود ہے۔ لہٰذا وہ مرزا کی تحریریں پڑھ کر شرم محسوس کرتے ہیں لیکن جس کی اندر اور باہر کی آنکھ بند ہو چکی ہو، اس کو شرم آنے کا کیا سوال؟ قرآن مجید میں ارشادِ خداوندی ہے: ’’حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں۔‘‘ (الحج: 46)
گورنمنٹ کی پٹھو جماعت
(164) ’’ہماری جماعت وہ جماعت ہے جسے شروع سے ہی لوگ کہتے چلے آئے کہ یہ خوشامدی اور گورنمنٹ کی پٹھو ہے، بعض لوگ ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے جاسوس ہیں۔ پنجابی محاورہ کے مطابق ہمیں جھولی چک اور نئے زمینداری محاورہ کے مطابق ہمیں ٹوڈی کہا جاتا ہے۔‘‘
(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ ’’الفضل‘‘ قادیان، 11 نومبر 1934ء)
(عکس صفحہ نمبر 600، 601 پر)
قادیانی جماعت ...... انگریزوں کی ایجنٹ
- ’’دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ جب جرمنی میں احمدیہ عمارت کے
افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن وزیر نے شمولیت کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔‘‘
(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان جلد 22 نمبر 54 مورخہ یکم نومبر 1934ء)
- ’’ڈاکٹر سید محمود جو اس وقت کانگریس کے سیکرٹری ہیں، ایک دفعہ قادیان آئے اور
انہوں نے بتایا کہ پنڈت جواہر لال صاحب نہرو جب یورپ کے سفر سے واپس آئے تو انہوں نے اسٹیشن پر اتر کر جو باتیں سب سے پہلے کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے اس سفر یورپ میں یہ سبق حاصل کیا ہے کہ اگر انگریزی حکومت کو ہم کمزور کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے احمدیہ جماعت کو کمزور کیا جائے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر شخص کا یہ خیال تھا کہ احمدی جماعت انگریزوں کی نمائندہ اور ان کی ایجنٹ ہے۔“
(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد 23 نمبر 31
صفحہ 7-8 مورخہ 6 اگست 1935ء)
پرانا اعتراض
- ❑ ”ہمارے مخالفوں کا یہ ایک پرانا اعتراض ہے جو وہ حضرت مسیح موعود کے خلاف
پیش کرتے رہے ہیں کہ آپ نعوذ باللہ گورنمنٹ کے خوشامدی تھے اور اس وقت ہم سے جدا ہونے والا احمدیوں کا گروہ بھی ہم پر یہ اعتراض کرتا ہے کہ تم گورنمنٹ برطانیہ کے خوشامدی ہو............ اسی طرح غیر احمدی بھی اعتراض کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے نہ ان اعتراضوں کی پروا کی اور نہ ہم پروا کرتے ہیں۔“
(روزنامہ ”الفضل“ قادیان، جلد 3، شمارہ نمبر 51، مورخہ 19 اکتوبر 1915ء)
تمام سچے احمدی
- ❑ ”دنیا میں تین ہی بڑی سلطنتیں کہلاتی ہیں اور تینوں نے جو تنگ دلی اور تعصب کا
نمونہ اس شائستگی کے زمانہ میں دکھایا، وہ احمدی قوم کو یہ یقین دلائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ احمدیوں کی آزادی تاج برطانیہ کے ساتھ وابستہ ہے اور چونکہ خدا نے برٹش راج میں سلامتی کے شہزادہ (مرزا قادیانی) کو دنیا کی رہنمائی کے لیے بھیجا۔ گویا خدا نے تمام دنیا کی حکومتوں پر بلحاظ فیاضی، فراخ دلی اور بے تعصبی کے برٹش گورنمنٹ کو ترجیح دی۔ لہٰذا تمام سچے احمدی جو حضرت مرزا صاحب کو مامور من اللہ اور ایک مقدس انسان تصور کرتے ہیں، بدوں کسی خوشامد اور چاپلوسی کے دل سے یقین کرتے ہیں کہ برٹش گورنمنٹ ان کے لیے فضل ایزدی اور سایہ
رحمت ہے اور اس کی ہستی کو وہ اپنی ہستی خیال کرتے ہیں۔“
(روزنامہ ”الفضل“ قادیان، جلد 2، نمبر 38، مورخہ 13 ستمبر 1914ء)
سرکاری نوکری کے لیے قادیانی ہونا ضروری ہے
(165) ”سلسلہ عالیہ احمدیہ کی امن پسند تعلیم اور احمدیوں کا عملاً برطانیہ کے ساتھ اظہار خلوص اور وفاداری کرنا بعض حکام کے دلوں میں جذبات محبت پیدا کر رہا ہے اور یہ حالت ہندوستان تک ہی محدود نہیں بلکہ ہندوستان کے باہر بھی یہی حالت ہے۔ چنانچہ ایک دوست لکھتے ہیں کہ ایک شخص جو کچھ مدت ایک احمدی کے پاس رہتا تھا، ملازمت کے لیے ایک برطانوی افسر کے پاس گیا۔ جب افسر مذکور نے درخواست کنندہ کے حالات دریافت کیے اور پوچھا کہ کہاں رہتے ہو تو اس نے جواب دیا کہ فلاں احمدی کے پاس۔ اس پر ذیل کا مکالمہ ہوا: افسر: کیا تم بھی احمدی ہو؟ امیدوار: نہیں صاحب۔ افسر: افسوس کہ تم اتنی دیر احمدی کے پاس رہا مگر سچائی کو اختیار نہیں کیا۔ جاؤ پہلے احمدی بنو، پھر فلاں تاریخ کو آنا۔“
(روزنامہ ”الفضل“ قادیان، جلد 6، نمبر 92-93، صفحہ 1، مورخہ 7 جون 1919ء)
(عکس صفحہ نمبر 602 پر)
قادیانی ملازمین کو ترقیاں
(166) ”آپ تسلی رکھیں اور میرے نزدیک آپ کو قادیان میں آنے سے کوئی بھی روک نہیں۔ ہرگز مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کمشنر صاحب کو پوچھیں اور اُن سے اجازت چاہیں، اس میں خود شک پیدا ہوتا ہے۔ بعض حکام شکی مزاج ہوتے ہیں، پوچھنے سے خواہ مخواہ شک میں پڑتے ہیں۔ جہاں تک مجھے علم ہے، حکام کو ہماری طرف سے کوئی خطرناک بدظنی نہیں ہے۔ ہماری جماعت کے ملازمین کو برابر ترقیاں مل رہی ہیں۔ ان کی کارروائیوں پر
حکام خوشی ظاہر کرتے ہیں۔“
(مرزا قادیانی کا نواب محمد علی کو خط، مکتوب نمبر 7، مندرجہ مکتوبات احمد جلد دوم، صفحہ 169، طبع جدید از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 603 پر)
قادیانی رنگروٹ
(167) ”جو گورنمنٹ ایسی مہربان ہو، اس کی جس قدر بھی فرمانبرداری کی جائے، تھوڑی ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کا بوجھ نہ ہوتا تو میں موذن بنتا۔ اسی طرح کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو والینٹر ہو کر جنگ (یورپ) میں چلا جاتا۔“
(انوار خلافت صفحہ 96 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 153 از مرزا بشیر الدین محمود)
(عکس صفحہ نمبر 604 پر)
افغانستان اور انگریزوں کی جب جنگ ہوئی تو قادیانی جن کے عقیدہ میں: ”دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال“ اور جن کا نبی مرزا قادیانی صرف مسئلہ جہاد حرام کرنے کے لیے دنیا میں مبعوث ہوا تھا، کابل کے خلاف انگریزوں کے معاون و مددگار ہوگئے اور قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے قادیانیوں کو انگریزی فوج میں بھرتی ہو کر افغانستان کے خلاف لڑنے کی ترغیب دی۔ چنانچہ اس نے اپنے جمعہ کے خطبہ میں کہا:
- ❑ ”اس وقت (یعنی امان اللہ خان کے عہد میں) جو کابل نے انگریزوں کے ساتھ
جنگ شروع کی ہے، نادانی کی ہے۔ احمدیوں کا فرض ہے کہ گورنمنٹ کی خدمت کریں کیونکہ گورنمنٹ کی اطاعت ہمارا فرض ہے، لیکن افغانستان کی جنگ احمدیوں کے لیے ایک نئی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ کابل وہ زمین ہے جہاں ہمارے نہایت قیمتی وجود مارے گئے اور ظلم سے مارے گئے اور بے سبب اور بلاوجہ مارے گئے۔ پس کابل وہ جگہ ہے جہاں احمدیت کی تبلیغ منع ہے اور اس پر صداقت کے دروازے بند ہیں، اس لیے صداقت کے قیام کے لیے گورنمنٹ برطانیہ کی فوج میں شامل ہو کر ان ظالم لوگوں کو دفع کرنے کے لیے گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کرنا احمدیوں کا مذہبی فریضہ ہے۔ پس کوشش کرو کہ تمہارے ذریعہ سے وہ شیاطین
پیدا ہوں جن کی مسیح موعود نے اطلاع دی۔‘‘
(خطبہ جمعہ مرزا بشیر الدین محمود، مندرجہ روزنامہ ’’الفضل قادیان‘‘ ، 27 مئی 1919ء)
محقق قادیانیت جناب بشیر احمد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
’’عراق کی لڑائی میں قادیانی برطانوی سپاہیوں کے شانہ بشانہ اپنی مذہبی لگن اور جوش سے لڑے۔ قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے دعویٰ کیا:
’’عراق کے فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہو کر چلے گئے۔‘‘ (روزنامہ الفضل قادیان، 31 اگست 1923ء)
مرزا محمود احمد کے برادر نسبتی میجر حبیب اللہ نے میڈیکل کور میں خدمات سرانجام دیں۔ اسے عراق میں اہم انتظامی عہدے پیش کیے گئے۔ اسے سب سے بڑا سامراج کا آلۂ کار سمجھا جاتا تھا۔ وہ زین العابدین ولی اللہ شاہ کا بھائی تھا جو کہ فلسطین میں موجود بدنام زمانہ سامراجی آلہ کار تھا۔
ہندوستان میں قادیانی جماعت نے سقوط بغداد پر خوشیاں منائیں اور اس سانحہ پر اپنے حد درجہ اطمینان کا اظہار کیا۔ سقوط بغداد پر تبصرہ کرتے ہوئے الفضل قادیان لکھتا ہے۔
’’میں اپنے احمدی بھائیوں کو جو ہر بات پر غور کرنے کے عادی ہیں، ایک مژدہ سناتا ہوں کہ بصرہ اور بغداد کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہماری محسن گورنمنٹ کے لیے فتوحات کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اس سے ہم احمدیوں کو معمولی خوشی حاصل نہیں ہوئی بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں برس کی خوش خبریاں جو الہامی کتابوں میں چھپی ہوئی تھی، آج 1335ھ میں وہ ظاہر ہو کر ہمارے سامنے آ گئی ہیں۔ (روزنامہ الفضل قادیان، 13 اپریل 1917ء)
مرزا محمود اور قادیانی جماعت نے برطانوی سامراج کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہیں اس بات کی خوشی تھی کہ برطانوی سامراجیوں نے مشرق وسطیٰ میں عسکری اہمیت کے علاقے ہتھیا لیے تھے۔ جس سے سامراجی سرپرستی میں انہیں اپنے مراکز کھولنے میں مدد ملے گی۔ (روزنامہ الفضل قادیان، 17 ستمبر 1918ء)
انگریزوں کے ہاتھوں ترکی کو شکست اور سقوط بغداد پر قادیانیوں نے خوشیاں اور جشن منائے۔ قادیانی آرگن روزنامہ الفضل لکھتا ہے:
’’13 نومبر 1918ء کو جس وقت جرمنی کے شرائط صلح کر لینے اور التوائے جنگ کے
کاغذ پر دستخط ہو جانے کی اطلاع قادیان پہنچی تو خوشی اور انبساط کی ایک لہر برقی سرعت کے ساتھ تمام لوگوں کے قلوب میں سرایت کر گئی اور جس نے اس خبر کو سنا، نہایت شاداں و فرحاں ہوا۔ دونوں سکولوں، انجمن ترقی اسلام اور صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں تعطیل کر دی گئی۔ بعد نماز عصر مسجد مبارک میں ایک جلسہ ہوا۔ جس میں مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے تقریر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی طرف سے گورنمنٹ برطانیہ کی فتح و نصرت پر خوشی کا اظہار کیا اور اس فتح کو جماعت احمدیہ کے اغراض و مقاصد کے لیے نہایت فائدہ بخش بتایا۔‘‘ (روزنامہ الفضل 16 نومبر 1918ء)
حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی طرف سے مبارکباد کے تار بھیجے گئے اور حضور نے پانچ سو روپیہ اظہار مسرت کے طور پر ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کی خدمت میں بھجوایا کہ آپ جہاں پسند فرمائیں، خرچ کریں۔ پیشتر ازیں چند روز ہوئے ٹرکی اور آسٹریا کے ہتھیار ڈالنے کی خوشی میں حضور نے پانچ ہزار روپیہ جنگی اغراض کے لیے ڈپٹی کمشنر صاحب کی خدمت میں بھجوایا۔ فتح کی خوشی میں مولوی عبدالغنی صاحب نے بحیثیت سیکرٹری انجمن احمدیہ برائے امداد جنگ اور جناب شیخ یعقوب علی صاحب نے بلحاظ ایڈیٹر، الحکم ہزآنر لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کی خدمت میں مبارکباد کا تار بھیجا۔ (تاریخ احمدیت جلد 5، ص 238 از دوست محمد شاہد) الفضل نے مزید لکھا کہ اس جنگ میں برطانیہ کی فتح مرزا محمود کی دعا کی قبولیت کی وجہ سے ہوئی ہے اور خدا کا ایک بڑا فضل یہ ہوا ہے کہ حکومت برطانیہ کا اقتدار و اثر اور بھی زیادہ بڑھنے سے وہ ممالک بھی احمدیت کی تبلیغ کے لیے کھل گئے ہیں جو اب تک بالکل بند تھے۔ جہاں بالخصوص احمدیت کی بڑی ضرورت تھی۔‘‘ (روزنامہ الفضل قادیان، 23 نومبر 1918ء)
جسٹس منیر رپورٹ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران 1918ء میں انگریزوں کے ہاتھوں ترکی کی شکست اور سقوط بغداد پر قادیان میں منائے جانے والی خوشیوں نے مسلمانوں کے دلوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا اور احمدیت کو انگریزوں کی لونڈی سمجھا جانے لگا۔ (منیر انکوائری رپورٹ، ص 196) اس بات کی مزید تصدیق مرزا محمود کے خطبات سے ہوتی ہے جو انہوں نے احمدیہ جماعت کے ساتھ برطانوی تعلقات کے موضوع پر دیئے۔ ’’احمدیہ جماعت کے برطانوی حکومت کے ساتھ تعلقات دوسری جماعتوں کے ساتھ تعلقات کے برعکس ایک بالکل مختلف نوعیت کے ہیں۔ ان کا ایک دوسرے پر انحصار ہے۔
جتنا برطانوی راج وسیع ہوتا جائے گا، ہمیں بھی آگے بڑھنے کے اتنے ہی مواقع میسر آجائیں گے اور اگر خدانخواستہ اس حکومت کو نقصان پہنچتا ہے تو ہم بھی اس کے نتائج سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔“ (روزنامہ الفضل قادیان، 27 جولائی 1918ء) (تحریک احمدیت از بشیر احمد)
سیاسی حیثیت سے قادیانی جماعت بقول مرزا قادیانی سرکار انگریزی کا خود کاشتہ پودا ہے اور نمک خوار جماعت ہے۔ حتیٰ کہ اس جماعت کے اصول اور عقائد میں یہ شرط مرزا قادیانی نے داخل کر دی ہے کہ وہ ہمیشہ برٹش گورنمنٹ کی سچی خیر خواہ رہے۔ یوں تو بکثرت بیانات اپنے اپنے محل پر درج ہیں۔ تاہم ذیل میں مرزا بشیر الدین محمود کا بیان درج کرتے ہیں، جس سے واضح ہوگا کہ جب انگریزوں کا ہندوستان میں زور تھا، قادیانیوں کو انگریز سرکار کی حمایت کا کیسا نشہ اور گھمنڈ تھا اور ملک کی سیاسیات میں قادیانی جماعت کیا حیثیت رکھتی تھی؟:
قادیانیت اور انگریز............. یک جان دو قالب
(168) ”دینی طور پر ہماری جماعت کے جو تعلقات گورنمنٹ کے ساتھ ہونے چاہئیں، ان کو حضرت مسیح موعود ہی سب سے بہتر سمجھ سکتے تھے۔ چنانچہ آپ نے اس کے متعلق خوب کھول کھول کر لکھا ہے۔ حتیٰ کہ آپ لکھتے ہیں کہ میں نے کوئی کتاب ایسی نہیں لکھی جس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی طرف توجہ نہ دلائی ہو، پھر فرماتے ہیں کہ گورنمنٹ کے سکھ کو اپنا سکھ، گورنمنٹ کی تکلیف کو اپنی تکلیف، گورنمنٹ کی ترقی کو اپنی ترقی، گورنمنٹ کے تنزل کو اپنا تنزل سمجھنا چاہیے۔ یہ تو حکماً ہوگیا کیونکہ ہمارے امام حضرت مسیح موعود نے خود اس کی تشریح کردی ہے، لیکن اگر عقل و فکر سے دیکھیں تو بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہماری ترقی اس گورنمنٹ سے وابستہ ہے، مشاہدہ سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے۔........... حضرت مسیح موعود نے جو اپنی کتابوں میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ گورنمنٹ کے ساتھ ہمارے تعلقات نہایت وفادارانہ ہونے چاہئیں، اور ہمیں ہر طرح اس کی مدد کرنا چاہیے۔ حتیٰ کہ آپ نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا جب صرف میری ہی جماعت گورنمنٹ کی وفادار ثابت ہوگی۔ یہ یونہی نہیں لکھ دیا، خدا تعالیٰ کے مامور کوئی لغو کام نہیں کرتے۔ ........... پس حضرت مسیح موعود نے جو گورنمنٹ کے متعلق وفادارانہ خیالات رکھنے
کے متعلق اس قدر کوشش کی کہ مشورے دیئے، اس کی ترقی کے لیے دعائیں کیں، اپنی کتابوں میں بار بار توجہ دلائی تو یہ یونہی نہیں تھا۔ بلکہ ایک پیش گوئی کے ماتحت تھا۔ کیونکہ ایک ایسا زمانہ آنا تھا جب کہ لوگوں کے خیالات میں تبدیلی ہونی تھی۔ مگر حضرت مسیح موعود نے اس سے پیشتر ہی آگاہ کر دیا کہ تم اس سے متاثر نہ ہونا اور گورنمنٹ کے متعلق اپنے وفادارانہ اور ہمدردانہ خیالات رکھنا۔ پس میں بھی حضرت مسیح موعود کے تتبع میں اپنی جماعت کے لوگوں کو آگاہ کرتا رہتا ہوں اور اب بھی کرتا ہوں کہ اس زمانہ میں جو ناپاک اور گندے خیالات پھیل رہے ہیں۔ (یعنی ملک کو آزاد کرانے کی جو جدوجہد جاری ہے) اس سے پورے طور پر بچیں، اور نہ صرف خود ہی بچیں، بلکہ دوسروں کو بھی بچائیں۔...... پس میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس قسم کے خیالات سے اپنے آپ کو بکلی بچائے، جو گورنمنٹ کے خلاف ہوں۔
اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو، گورنمنٹ کی مدد اور تائید کریں۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اس بات کی توفیق اور سمجھ دے کہ حضرت مسیح موعود کی باتوں کی تصدیق کرے، اور ان کو پورا کر کے خدا تعالیٰ کے انعامات حاصل کرنے کی اہل بنے۔ آمین۔‘‘
(مرزا بشیر الدین محمود کا خطبہ جمعہ مندرجہ روزنامہ ’الفضل‘ قادیان جلد 4 شمارہ 70 صفحہ 7 تا 9 مورخہ 6 مارچ 1917ء)
(عکس صفحہ نمبر 605 تا 608 پر)
احسان کا بدلہ
(169) ”ہم کہتے ہیں کہ احسان بھی تو دنیا میں کوئی چیز ہے۔ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ وہ تلخی اور مرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اٹھائی تھی، گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آ کر ہم سب بھول گئے‘‘ پھر آپ نے لکھا ہے کہ جب سکھ ظلم کرتے تھے تو وہ کون تھا جو ہمیں ان سے بچانے کے لیے آیا۔ کیا اس وقت ہماری مدد کے لیے ترک آئے تھے، نہیں انگریز ہی آئے۔ غرض کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان سے زندگی بسر کرتے اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا مقصد دین کو پھیلانا ہے اور اس مقصد کے پورا کرنے کی ہمیں ہر طرح سے آزادی ہے۔ ملک کے جس گوشہ میں چاہیں، تبلیغ کر سکتے ہیں اور اگر دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لیے جائیں تو وہاں بھی
برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔“
(برکات خلافت ص65، مندرجہ انوارالعلوم جلد 2، صفحہ 203, 204 از مرزا بشیر الدین محمود)
(عکس صفحہ نمبر 609، 610 پر)
جماعت کو نصیحت
(170) ”اس عام اصلاح کے علاوہ میں ایک خاص امر کو اس جگہ ضرور بیان کر دینا چاہتا ہوں اور وہ حضرت مسیح موعود کا اپنی بیعت کی شرائط میں وفاداری حکومت کا شامل کرنا ہے۔ آپ نے قریباً اپنی کل کتب میں اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی ہے کہ وہ جس گورنمنٹ کے ماتحت رہیں، اس کی پورے طور پر فرمانبرداری کریں اور یہاں تک لکھا کہ جو شخص اپنی گورنمنٹ کی فرمانبرداری نہیں کرتا اور کسی طرح بھی اپنے حکام کے خلاف شورش کرتا اور ان کے احکام کے نفاذ میں روڑے اٹکاتا ہے، وہ میری جماعت میں سے نہیں.......... یہ سبق آپ نے جماعت کو ایسا پڑھایا کہ ہر موقع پر جماعت احمدیہ نے گورنمنٹ ہند کی فرمانبرداری کا اظہار کیا ہے اور کبھی کسی خفیف سے خفیف شورش میں بھی حصہ نہیں لیا۔“
(تحفۃ الملوک صفحہ 25، 26 مندرجہ انوارالعلوم جلد 2 صفحہ 140، 141 از مرزا بشیر الدین محمود)
(عکس صفحہ نمبر 611، 612 پر)
ہر احمدی کا فرض..........!
(171) ”ہر ایک احمدی کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود کے احکام اور فیصلوں پر دل و جان سے کار بند ہو۔ پس میں تمام جماعت کو اس اعلان کے ذریعہ سے اطلاع دیتا ہوں کہ اپنے امام کے حکم کے ماتحت ہر طرح سے گورنمنٹ برطانیہ کے خیر خواہ رہیں اور ہر ممکن طریق سے اس کی مدد و اعانت کرتے رہیں۔“
(جماعت احمدیہ کا حکومت وقت کی اطاعت کے بارے میں صحیح موقف صفحہ 8
مندرجہ انوارالعلوم جلد 2 صفحہ 150 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 613 پر)
قادیانی حکومت کی پلاننگ
- ”ایک صاحب نے عرض کیا کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت
کی حفاظت اور ان کی کامیابی کے لیے حضرت مسیح موعود نے کیوں دعائیں کیں۔ حضور (مرزا بشیر الدین محمود) بھی ان کی کامیابی کے لیے دعا کرتے ہیں اور اپنی جماعت کے لوگوں کو جنگ میں مدد دینے کے لیے بھرتی ہونے کا ارشاد فرماتے ہیں، حالانکہ انگریز مسلمان نہیں۔ اس کے جواب میں حضور (مرزا بشیر الدین محمود) نے جو ارشاد فرمایا، اس کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔
”فرمایا، اس سوال کا جواب قرآن حکیم میں موجود ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو نظارے دکھائے گئے، ان میں ایک یہ تھا کہ ایک گری ہوئی دیوار بنا دی گئی جس کی وجہ بعد میں یہ بیان کی گئی کہ اس کے نیچے خزانہ تھا جس کے مالک چھوٹے بچے تھے۔ دیوار اس لیے بنا دی گئی کہ ان لڑکوں کے بڑے ہونے تک خزانہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگے اور ان کے لیے محفوظ رہے۔ دراصل حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی جماعت کے متعلق پیش گوئی ہے، جب تک جماعت احمدیہ نظام حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتی، اس وقت تک ضروری ہے کہ اس دیوار (انگریزوں کی حکومت) کو قائم رکھا جائے تاکہ یہ نظام کسی ایسی طاقت کے قبضہ میں نہ چلا جائے جو احمدیت کے مفادات کے لیے زیادہ مضر اور نقصان رساں ہو۔ جب جماعت میں قابلیت پیدا ہو جائے گی اس وقت نظام اس کے ہاتھ میں آ جائے گا۔ یہ وجہ ہے انگریزوں کی حکومت کے لیے دعا کرنے اور ان کو فتح حاصل کرنے میں مدد دینے کی۔“
(روزنامہ الفضل قادیان 3 جنوری 1945ء)
تعجب ہے ایک طرف فتویٰ یہ ہے کہ اب جہاد منسوخ ہو گیا ہے اور دوسری جانب عمل یہ ہے کہ فرنگی کی فوج میں بھرتی ہو کر مسلمانوں کے خلاف ”جہاد“ کرو!
دعویٰ نبوت کے بعد مرزا قادیانی، ہمیشہ انگریز پولیس کی حفاظت میں رہتا تھا جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے غیظ وغضب سے بچا رہتا تھا۔ اس سلسلہ میں ایک حوالہ ملاحظہ کیجیے!
مرزا قادیانی کی حفاظت
- (172) ”میاں معراج الدین صاحب عمر نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا
کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ایک مقدمہ فوجداری کی جوابدہی کے لیے جہلم کو جا رہے تھے۔ یہ مقدمہ کرم دین نے حضور اور حکیم فضل الدین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب کے خلاف توہین کے متعلق کیا ہوا تھا۔ اس سفر کی مکمل کیفیت تو بہت طول چاہتی ہے۔ میں صرف ایک چھوٹی سی لطیف بات عرض کرتا ہوں جس کو بہت کم دوستوں نے دیکھا ہوگا۔
جب حضور لاہور ریلوے سٹیشن پر گاڑی میں پہنچے تو آپ کی زیارت کے لیے اس کثرت سے لوگ جمع تھے، جس کا اندازہ محال ہے کیونکہ نہ صرف پلیٹ فارم بلکہ باہر کا میدان بھی بھرا پڑا تھا اور لوگ نہایت منتوں سے دوسروں کی خدمت میں عرض کرتے تھے کہ ہمیں ذرا چہرہ کی زیارت اور درشن تو کر لینے دو۔ اس اثنا میں ایک شخص جن کا نام منشی احمد الدین صاحب ہے (جو گورنمنٹ کے پنشنر ہیں اور اب تک بفضلہ زندہ موجود ہیں اور ان کی عمر اس وقت دو تین سال کم ایک سو برس کی ہے لیکن قویٰ اب تک اچھے ہیں اور احمدی ہیں) آگے آئے جس کھڑکی میں حضور بیٹھے ہوئے تھے، وہاں گورہ پولیس کا پہرہ تھا اور ایک سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت کا افسر اس کھڑکی کے عین سامنے کھڑا نگرانی کر رہا تھا کہ اتنے میں جرات سے بڑھ کر منشی احمد الدین صاحب نے حضور سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ یہ دیکھ کر فوراً اس پولیس افسر نے اپنی تلوار کو الٹے رخ پر اس کی کلائی پر رکھ کر کہا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ اس نے کہا کہ میں ان کا مرید ہوں اور مصافحہ کرنا چاہتا ہوں۔ اس افسر نے جواب دیا کہ اس وقت ہم ان کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں، ہم اس لیے ساتھ ہیں کہ بٹالہ سے جہلم اور جہلم سے بٹالہ تک بحفاظت تمام ان کو واپس پہنچا دیں۔ ہمیں کیا معلوم ہے کہ تم دوست ہو یا دشمن۔ ممکن ہے کہ تم اس بھیس میں کوئی حملہ کر دو اور نقصان پہنچاؤ۔ پس یہاں سے فوراً چلے جاؤ۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 288، 289 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 614، 615 پر)
جھوٹا کون؟؟؟
انبیائے کرام کو سب سے پہلے اپنی وحی پر ایمان ہوتا ہے۔ وہ اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی وحی بلا کم و کاست لوگوں تک پہنچا دیں خواہ انھیں اس ”جرم“ کی پاداش میں بھڑکتی ہوئی آگ یا تختہ دار سے ہمکنار ہونا پڑے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں
مامور اور مرسل من اللہ ہوں۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- (173) ”ہم خدا کے مرسلین اور مامورین کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے بلکہ سچے مومن بھی
بزدل نہیں ہوتے۔ بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔“
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 286 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 616 پر)
مرزا قادیانی کا یہ بیان سو فیصد درست ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیے گئے انبیائے کرام و مرسلین کو ہمہ وقت خدا کی نصرت و تائید ملتی رہتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا کی کسی طاقت سے کبھی مرعوب نہیں ہوتے اور ہمیشہ باطل قوتوں کے سامنے کلمۂ حق بلند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کی زندگی کے حالات و واقعات پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بے حد موقع پرست ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ڈرپوک، بزدل اور پست ہمت انسان تھا۔ کلمۂ حق کہنا تو بڑی دور کی بات تھی، وہ تو اپنی کہی بات پر بھی قائم نہ رہتا تھا۔ استقامت سے تو گویا مرزا قادیانی کو عداوت تھی۔
مرزا قادیانی کی مجلس میں اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑایا جاتا۔ نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں نازیبا کلمات کہے جاتے، دیگر مقدس شخصیات کے خلاف ہرزہ سرائی کی جاتی، بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں بازاری زبان استعمال کی جاتی۔ علمائے حق کی غیبت اور عیب جوئی کا ناپاک مشغلہ جاری رہتا۔ یہ ساری باتیں ”ملفوظات“ کے نام سے جو 5 جلدوں پر مشتمل ہے، موجود ہیں۔
مرزا قادیانی کی محفل میں انگریز کی وفاداری کا راگ بھی الاپا جاتا۔ مگر ایک دفعہ 1898ء کے زمانہ میں نہایت راز داری کی خاص نشست میں مرزا قادیانی نے اپنے خاص چیلوں سے گفتگو کرتے ہوئے بڑ ہانکی کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ سلطنت برطانیہ سات آٹھ سال تک کمزور ہو جائے گی۔ اس کے کل پرزے بگڑ جائیں گے اور ضعف و اختلال رونما ہوگا۔ قادیانی الہام کے اصل الفاظ یہ تھے:
- (174) ”سلطنت برطانیہ تا ہشت سال۔ بعد ازاں ایام ضعف و اختلال۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 650 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 617 پر)
مرزا قادیانی نے چوروں کی طرح اپنے اس الہام کو ہر ممکن طریقے سے چھپا کر رکھا اور دوسرے الہاموں کی طرح اسے شائع کرنے کی جرأت نہ کرسکا۔ اتفاق سے ایک دفعہ اس کا مرید خاص حافظ حامد علی کسی مسئلہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی سے مناظرانہ چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا کہ دوران گفتگو اس الہام کا بھی تذکرہ کر بیٹھا، حالانکہ یہ ایک سربستہ راز تھا اور مرزا قادیانی نہیں چاہتا تھا کہ اس الہام کی بھنک غیروں کے کان میں پڑے۔ بعدازاں مولوی محمد حسین بٹالوی نے اس الہامی قادیانی پیش گوئی کا قصہ اپنی ایک مجلس میں چھیڑ دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس الہام کا چرچا ہر جگہ ہونے لگا۔ مرزا قادیانی کو اس بات کا علم ہوا تو بہت پریشان ہوا۔ مارے خوف کے بدن پر لرزہ طاری ہونے لگا۔ آنکھوں میں اندھیرا نظر آنے لگا اور فرط غم میں حواس کھونے لگا۔ چونکہ یہ الہام کسی مطبوعہ تحریر میں نہ آیا تھا، اس لیے مرزا قادیانی نے فیصلہ کیا کہ میں اس الہام سے صاف مکر جاؤں گا، خواہ مجھے ہر طرح کا حلف ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ اتنے میں مرزا قادیانی کے کسی مرید نے اسے بتایا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے اخبار ”اشاعۃ السنہ“ میں اس الہام کو شائع کر دیا ہے۔ بس پھر کیا تھا مرزا قادیانی کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ عالم اضطراب میں تلافی و معافی کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگا کہ کہیں انگریز بہادر ناراض ہو کر اس ”خود کاشتہ پودا“ کی جڑیں نہ اکھاڑ دے۔ لہٰذا فوری طور پر ایک رسالہ ”کشف الغطاء“ لکھ مارا جس کے ٹائٹل پیج پر موٹے قلم سے لکھا:
با ادب گذارش!
- (175) ”اے قادر خدا!
اس گورنمنٹ عالیہ انگلیشیہ کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور اس سے نیکی کر جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ آمین!
کَشْفُ الْغِطَاء یعنی ایک اسلامی فرقہ کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے بحضور گورنمنٹ عالیہ اس فرقہ کے حالات اور خیالات کے بارے میں اطلاع اور نیز اپنے خاندان کا کچھ ذکر اور اپنے مشن کے اصولوں اور ہدایتوں اور تعلیموں کا بیان اور نیز ان لوگوں کی خلافِ واقعہ باتوں کا رد جو اس فرقہ کی نسبت غلط خیالات پھیلانا چاہتے ہیں اور یہ مؤلف تاج عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلیشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام کے باادب گذارش کرتا ہے کہ براہِ غریب پروری و
کرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سن لیا جائے۔‘‘ (کشف الغطاء ٹائٹل پیج مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 177 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 618 پر)
اس کے بعد نہایت عاجزی اور انکساری بلکہ اپنے پسندیدہ الفاظ ”فروتنی اور تذلل“ سے اپنے الہام کا انکار کرتے ہوئے لکھا:
(176)
”ضمیمہ رسالہ ہذا
قابل توجہ گورنمنٹ
مجھے اس رسالہ کے لکھنے کے بعد محمد حسین بٹالوی صاحب ”اشاعت السنہ“ کا انگریزی میں ایک رسالہ ملا جس کو اس نے مطبع وکٹوریہ پریس لاہور میں چھاپ کر بماہ 14 اکتوبر 1898ء میں شائع کیا ہے۔ اس رسالہ کے دیکھنے سے مجھے بہت افسوس ہوا کیونکہ اس نے اس میں میری نسبت اور نیز اپنے اعتقاد مہدی کے آنے کی نسبت نہایت قابل شرم جھوٹ سے کام لیا ہے اور سراسر افترا سے کوشش کی ہے کہ مجھے گورنمنٹ عالیہ کی نظر میں باغی ٹھہراوے۔ لیکن اس صحیح اور سچے مقولہ کے رُو سے کہ کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں جو آخر ظاہر نہ ہو۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری زیرک اور روشن دماغ گورنمنٹ جلد معلوم کر لے گی کہ اصل حقیقت کیا ہے۔
اوّل امر جو محمد حسین نے خلاف واقعہ اپنے اس رسالہ میں میری نسبت گورنمنٹ میں پیش کیا ہے، یہ ہے کہ وہ گورنمنٹ عالیہ کو اطلاع دیتا ہے کہ یہ شخص گورنمنٹ عالیہ کے لیے خطرناک ہے یعنی بغاوت کے خیالات دل میں رکھتا ہے۔ لیکن میں زور سے کہتا ہوں کہ اگر میں ایسا ہی ہوں تو اس نمک حرامی اور بغاوت کی زندگی سے اپنے لیے موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ میں ادب سے توجہ دلاتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ میری نسبت اور میری تعلیم کی نسبت جہاں تک ممکن ہو کامل تحقیقات کرے اور میری جماعت کے ان معزز عہدہ داروں اور دیسی افسروں اور رئیسوں اور دوسرے معزز اور تعلیم یافتہ لوگوں سے جن کی کئی سو تک تعداد ہے حلفاً دریافت کرے کہ میں نے اس محسن گورنمنٹ کی نسبت کیا کیا ہدایتیں ان کو دی ہیں اور کس کس تاکید سے اس گورنمنٹ کی اطاعت کے لیے وصیتیں کی ہیں اور نیز گورنمنٹ اس مولوی یعنی محمد حسین کی اس شہادت کو غور سے دیکھے جو اس نے اپنی ”اشاعت السنہ“ میں جس کا ذکر اس رسالہ میں
ہوچکا ہے، میری کتاب ”براہین احمدیہ“ کے ریویو کی تقریب پر میرے خیالات اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ کے خیالات کی نسبت جو گورنمنٹ انگریزی کے متعلق ہیں، اپنے ہاتھ سے لکھی ہے۔ اور نیز میری ان تحریروں کو جو برابر انیس سال سے گورنمنٹ عالیہ کی تائید میں شائع ہورہی ہیں غور سے ملاحظہ فرمادے اور ہر ایک پہلو سے میری نسبت تحقیقات کرے۔ پھر اگر میرے حالات گورنمنٹ کی نظر میں مشتبہ ہوں تو میں بدل چاہتا ہوں کہ گورنمنٹ سخت سے سخت سزا مجھ کو دے دے لیکن اگر میرے اصل حالات کے برخلاف یہ تمام رپورٹیں گورنمنٹ میں محمد حسین مذکور نے پہنچائی ہیں تو میں ایک وفادار اور خیر خواہ جاں نثار رعیت ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ عالیہ میں بتمام تر ادب دادخواہ ہوں کہ محمد حسین سے مطالبہ ہو کہ کیوں اس نے ان صحیح واقعات کے برخلاف گورنمنٹ کو خبر دی، جن کو وہ اپنے ریویو براہین احمدیہ میں تسلیم کر چکا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے بارہ سال تک برابر اس پہلی رائے کے برخلاف کوئی رائے ظاہر نہ کی اور اب دشمنی کے ایام میں مجھے باغی قرار دیتا ہے حالانکہ میں نے اس محسن گورنمنٹ کی خیر خواہی میں انیس سال تک اپنے قلم سے وہ کام لیا ہے اور ایسے طور سے ممالکِ دور دراز تک گورنمنٹ کی انصاف بخشی کی تعریفوں کو پہنچایا ہے کہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس کارروائی کی نظیر دوسروں کے کارناموں میں ہرگز نہیں ملے گی۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں اپنی عاجزانہ عرض گورنمنٹ پر ظاہر کروں کہ مجھے اس شخص کے ان خلاف واقعہ کلمات سے کس قدر صدمہ پہنچا ہے اور کیسے درد رسان زخم لگے ہیں۔ افسوس کہ اس شخص نے عمداً اور دانستہ گورنمنٹ کی خدمت میں میری نسبت نہایت ظلم سے بھرا ہوا جھوٹ بولا ہے۔ اور میری تمام خدمات کو برباد کرنا چاہا ہے۔ اس دعوے کی میرے پاس پختہ وجوہات اور کامل شہادتیں اور گواہ موجود ہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ بوجہ اس کے کہ میں ایک وفادار خاندان میں سے ہوں، جنھوں نے اپنے مال سے اور جان سے گورنمنٹ پر اپنی اطاعت ثابت کی ہے۔ میری اس دردناک فریاد کو یہ محسن گورنمنٹ غور سے توجہ فرمائے گی اور جھوٹ بولنے والے کو تنبیہ کرے گی۔
دوسرا امر جو اسی رسالہ میں محمد حسین نے لکھا ہے، وہ یہ ہے کہ گویا میں نے کوئی الہام اس مضمون کا شائع کیا ہے کہ گورنمنٹ عالیہ کی سلطنت آٹھ سال کے عرصہ میں تباہ ہو جائے گی۔ میں اس بہتان کا جواب بجز اس کے کیا لکھوں کہ خدا جھوٹے کو تباہ کرے۔ میں نے ایسا الہام ہرگز شائع نہیں کیا۔ میری تمام کتابیں گورنمنٹ کے سامنے موجود ہیں۔ میں بادب گزارش کرتا ہوں کہ گورنمنٹ اس شخص سے مطالبہ کرے کہ کس کتاب یا خط یا اشتہار میں
میں نے ایسا الہام شائع کیا ہے؟ اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ اس کے اس فریب سے خبردار رہے گی کہ یہ شخص اپنے اس جھوٹے بیان کی تائید کے لیے یہ تدبیر نہ کرے کہ اپنی جماعت اور اپنے گروہ میں سے ہی جو مجھ سے اختلاف مذہب کی وجہ سے دلی عناد رکھتے ہیں جھوٹے بیان بطور شہادت گورنمنٹ تک پہنچاوے۔ اس شخص اور اس کے ہم خیال لوگوں کی میرے ساتھ کچھ آمد ورفت اور ملاقات نہیں تا میں نے ان کو کچھ زبانی کہا ہو۔ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں، اپنی کتابوں میں اور اشتہاروں میں شائع کرتا ہوں اور میرے خیالات اور میرے الہامات معلوم کرنے کے لیے میری کتابیں اور اشتہارات متکفل ہیں اور میری جماعت کے معززین گواہ ہیں۔ غرض میں با ادب التماس کرتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ اس خلاف واقعہ مخبری کا اس شخص سے مطالبہ کرے۔ کپتان ڈگلس صاحب سابق ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں جو میرے پر دائر ہوا تھا لکھ چکے ہیں کہ یہ شخص مجھ سے عداوت رکھتا ہے اسی لیے جھوٹ بولنے سے کچھ بھی پرہیز نہیں کرتا۔‘‘
(کشف الغطاء صفحہ 38 تا 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 214 تا 216 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 619 تا 621 پر)
محترم قارئین! آپ نے ملاحظہ کیا کہ مرزا قادیانی نے کس طرح حقیقت حال پر پردہ ڈال کر سچ کو جھوٹ بنانے کی کوشش کی۔ کیا کوئی نیک آدمی اس طرح حق پوشی کا ارتکاب کر سکتا ہے؟ چہ جائیکہ ایسا شخص جو مجدد وقت اور مسیح موعود کا دعویٰ دار ہو۔ مذکورہ بالا عبارت میں مرزا قادیانی نے اپنے ”ہشت سالہ الہام“ سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اس کے ناقل کو دروغ گو قرار دیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی خاص مجلس میں اس الہام کا ذکر کیا تھا۔ مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس کوئی تحریری شہادت موجود نہ تھی، اس لیے وہ بھی خاموش ہو گئے۔ شیطان کے کان کاٹنے والے مرزا قادیانی نے انگریز بہادر کے سامنے اپنے کان پکڑے اور یقین دلایا کہ وہ ایسا کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ دشمنوں نے مجھ پر افترا پردازی کی ہے۔ اس پر حکومت نے مرزا قادیانی کے بیان پر یقین کر لیا اور عام لوگوں کو محمد حسین بٹالوی کی غلط بیانی کا یقین ہو گیا۔
مرزا قادیانی کے اس تاریخی جھوٹ پر عرصہ 25 سال تک پردہ پڑا رہا۔ مگر صاحبانِ
علم و دانش کا کہنا ہے کہ ”کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے کہے ہوئے الفاظ واپس نہیں ہوتے۔“ محفل میں کہی ہوئی بات کو چھپانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مذکورہ الہام کے سلسلہ میں بھی ایسا ہی ہوا کہ مرزا قادیانی نے اس سے انکار کر دیا اور دعا کی کہ جھوٹے کو خدا تباہ کرے۔ مگر مرزا قادیانی کی موت کے بعد اس کے منجھلے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے تسلیم کیا کہ ”حضرت صاحب“ کو واقعی یہ الہام ہوا تھا۔ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:
(177) ”بیان کیا ہم سے حاجی عبدالمجید صاحب نے کہ ایک دفعہ جب ’ازالہ اوہام‘ شائع ہوئی ہے، حضرت صاحب لدھیانہ میں باہر چہل قدمی کے لیے تشریف لے گئے۔ میں اور حافظ حامد علی ساتھ تھے۔ راستہ میں حافظ حامد علی نے مجھ سے کہا کہ آج رات یا کہا ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ ”سلطنت برطانیہ تا ہشت سال۔ بعد ازاں ایام ضعف و اختلال۔“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے۔ حضرت صاحب نے خود مجھے اور حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا اور مجھے الہام اس طرح پر یاد ہے۔ ”سلطنت برطانیہ تا ہفت سال۔ بعد ازاں باشد خلاف و اختلال۔“ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا اور ہفت کا لفظ بھی یاد ہے۔ جب یہ الہام ہمیں حضرت صاحب نے سنایا تو اس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیں تھا۔ شیخ حامد علی نے اسے بھی جا سنایا۔ پھر جب وہ مخالف ہوا تو اس نے حضرت صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لیے اپنے رسالہ میں شائع کیا کہ مرزا صاحب نے یہ الہام شائع کیا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب اور حاجی عبدالمجید صاحب کی روایت میں جو اختلاف ہے، وہ اگر کسی صاحب کے ضعف حافظہ پر مبنی نہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الہام حضور کو دو وقتوں میں دو مختلف قرأتوں پر ہوا ہو۔ واللہ اعلم! نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کے مختلف معنی کیے گئے ہیں۔ بعضوں نے تاریخ الہام سے میعاد شمار کی ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد سے اس کی میعاد شمار ہوتی ہے کیونکہ ملکہ کے لیے حضور نے بہت دعائیں کی تھیں۔...... خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے نزدیک یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ
حضرت صاحب کی وفات سے اس کی میعاد شمار کی جاوے۔ کیونکہ حضرت صاحب نے اپنی ذات کو گورنمنٹ برطانیہ کے لیے بطور حرز کے بیان کیا ہے۔ پس حرز کی موجودگی میں میعاد کا شمار کرنا میرے خیال میں درست نہیں۔ اس طرح جنگ عظیم کی ابتدا اور ہفت یا ہشت سالہ میعاد کا اختتام آپس میں مل جاتے ہیں۔ واللہ اعلم! خاکسار عرض کرتا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم لوگوں پر بڑے احسانات ہیں۔ ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے فتنوں سے محفوظ رکھے۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 76,75 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 622، 623 پر)
سلطنت برطانیہ کے زوال کا الہام
مرزا بشیر احمد کے علاوہ قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا محمود نے بھی گواہی دی کہ اس کے باپ مرزا قادیانی کو سلطنت برطانیہ والا الہام ہوا تھا۔ ملاحظہ فرمائیں:
- خلیفۃ المسیح الثانی نے خطبہ جمعہ میں فرمایا: ”ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے
خبر دے دی:
”سلطنتِ برطانیہ تا ہشت سال ...... بعد ازاں ضعف و فساد و اختلال“ اور یہ آٹھ سال جا کر ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر پورے ہو گئے۔“
(الفضل جلد 16 نمبر 78 مورخہ 5 اپریل 1929ء صفحہ 5)
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 650 طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
- (178) حافظ حامد علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ ...... ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے:
”سلطنتِ برطانیہ تا ہشت سال ...... بعد ازاں ایام ضعف و اختلال“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 75 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 624 پر)
میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ:
- (179) ”مجھے (یہ) الہام اس طرح پر یاد ہے:
”سلطنت برطانیہ تا ہفت سال ...... بعد ازاں باشد خلاف و اختلال“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 75 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 625 پر)
صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بیان کیا: (180) ”میں نے حضرت سے یہ الہام اس طرح پر سنا ہے: ”قوت برطانیہ تا ہشت سال ...... بعد ازاں ایام ضعف و اختلال“
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 9 روایت نمبر 314)
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 651 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 626 پر)
مرزا قادیانی نے رسالہ ”کشف الغطاء“ میں مولوی محمد حسین بٹالوی کی نسبت یہ بھی لکھا تھا: (181) ”ایسے منافق پر کیوں اعتبار کیا جاتا ہے کہ جو گورنمنٹ کو کچھ کہتا ہے اور مسلمانوں کے کانوں میں کچھ پھونکتا ہے۔“
(کشف الغطاء صفحہ 49 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 225 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 627 پر)
مزید لکھا: (182) ”جبکہ یہ فاش جھوٹ اس نے اختیار کیا ہے تو کیونکر اطمینان ہو کہ جو دوسری باتیں گورنمنٹ تک پہنچاتا ہے، اس میں سچ بولتا ہے۔“
(کشف الغطاء صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 221 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 628 پر)
قارئین کرام! اب میرا قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ بتائیں کہ اس تحریر کی رو سے منافق اور جھوٹا مرزا قادیانی ہے یا مولانا محمد حسین بٹالوی؟؟؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ باپ (مرزا قادیانی) انگریزوں کی ناراضی کے خوف سے اپنے الہام سے منکر ہے اور اس کے بیٹے کہتے ہیں کہ الہام واقعی ہوا تھا۔ ذرا سوچ کر بتائیے کہ جھوٹا کون ہے؟ باپ یا بیٹے؟؟؟
مرزا قادیانی کا یہ بھی کہنا ہے:
اپنی وحی پر یقین
- (183) ”ہم کو تو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے۔ اس قدر
یقین اور علیٰ وجہ البصیرۃ یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے جس قسم کی چاہو قسم دیدو بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروں ۔ یا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو معاً کافر ہو جاؤں۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ 400 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 629 پر)
خدا کا حکم اور رسول کا فرض
- (184) ”وما كان لمرسل أن يكلمه الله ويأمره ثم يخفى أمر ربّه خوفا من الأشرار“
ترجمہ: کسی مرسل کی مجال نہیں کہ خدا تو اس سے کلام کرے اور اپنا کوئی حکم دے اور پھر وہ (مرسل) شرارتی لوگوں کے ڈر سے خدا کا حکم چھپائے۔
(مواہب الرحمٰن ص 66، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 284 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 630 پر)
حق بیان کرنے سے ڈرنا نہیں چاہیے
- (185) ”دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں۔ ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہیے اور کسی
قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں۔“
(ملفوظات جلد پنجم، صفحہ 446، بتاریخ 3 فروری 1908ء طبع جدید از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 631 پر)
مشرک کون؟
- (186) ”جو شخص مخلوق سے ڈرتا ہے، اس کی عزت جناب الہٰی میں نہیں ہوتی کیونکہ وہ
شرک پر ہے، مخلوق کو خدا کا شریک سمجھتا ہے۔ ایسا شخص ہمیشہ ناقص الدین رہتا ہے۔ مداہنہ
سے زندگی بسر کرتا ہے۔ صحبت میں نہیں رہ سکتا۔ ڈرتا ہے کہ کسی کو اطلاع نہ ہو۔“
(مرزا قادیانی کا ایک مشہور درس گاہ کے صاحبزادے کے نام خط، مکتوب نمبر 27،
مندرجہ مکتوبات احمد جلد اوّل، صفحہ 487، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 632 پر)
قارئین کرام! آپ نے جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کی انگریز کی حمایت اور جہاد کی ممانعت کے سلسلہ میں کی گئی مذموم تحریری کوششیں ملاحظہ کیں۔ خوف خدا سے عاری آنجہانی مرزا قادیانی ان تحریروں کو اپنی ”الہامی سند“ فراہم کرتے ہوئے بڑی بے باکی سے لکھتا ہے:
قرآن سے دوسرے درجہ پر
(187) ”كلما قلت من كمال بلاغتی فی البیان. فهو بعد کتاب اللہ القران.“ ترجمہ: ”جو کچھ میں نے اپنی کمال بلاغت بیانی سے کہا ہے تو وہ کتاب اللہ قرآن مجید سے دوسرے درجہ پر ہے۔“
(لجۃ النور صفحہ 128 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 464 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 633 پر)
تائید الٰہی سے لکھے گئے رسائل
(188) ”یہ رسائل جو لکھے گئے ہیں تائید الٰہی سے لکھے گئے ہیں۔ میں ان کا نام وحی اور الہام تو نہیں رکھتا۔ مگر یہ تو ضرور کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی خاص اور خارق عادت تائید نے یہ رسالے میرے ہاتھ سے نکلوائے ہیں۔“
(سر الخلافہ صفحہ 101، 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 415، 416 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 634، 635 پر)
میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی روح بولتی ہے
مرزا قادیانی کا الہام ہے:
(189) ”اعلموا ان فضل الله معی وان روح الله ینطق فی نفسی“
ترجمہ: ”جان لو کہ اللہ کا فضل میرے ساتھ ہے اور اللہ کی روح میرے ساتھ بول رہی ہے۔“
(انجام آتھم صفحہ 176 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 176 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 636 پر)
خدا کا کلام
- (190) ”یہ کلام جو میں سناتا ہوں، یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور
توریت خدا کا کلام ہے۔“
(کشتی نوح صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 95 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 637 پر)
خزائن مدفونہ
- (191) ”اور خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے کہ میں ان خزائن مدفونہ کو دُنیا پر ظاہر کروں
اور ناپاک اعتراضات کا کیچڑ جو اُن درخشاں جواہرات پر تھوپا گیا ہے۔ اس سے اُن کو پاک صاف کروں۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 38 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 638 پر)
اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 117 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 147، از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 639 پر)
شجاعت
- (193) ”سب دوستوں کے واسطے ضروری ہے کہ ہماری کتب کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھ
لیا کریں کیونکہ علم ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے۔“
(ملفوظات جلد چہارم، صفحہ 361 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 640 پر)
مرزا قادیانی کی اپنی جماعت کو نصیحت
(194) ”مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہیے کہ کم از کم تین دفعہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کریں اور فرماتے تھے کہ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا، اس کے ایمان کے متعلق مجھے شبہ ہے۔“
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 78 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 641 پر)
کوئی اندر سے تعلیم دیتا ہے
(195) ”یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشا پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“
(نزول المسیح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 434 از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 642 پر)
مرزا قادیانی کا مزید کہنا ہے کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کچھ کہتا ہے جو اُسے اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی نام نہاد وحی ملاحظہ کیجیے:
- وما ینطق عن الھویٰ۔ ان ھو الا وحی یوحٰی۔
(تذکرہ مجموعہ وحی الہامات طبع چہارم، ص 309, 321 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا مزید کہنا ہے:
- ”وھب لی علومًا مقدسۃ نقیۃ ومعارف صافیۃ جلیۃ و علمنی ما لم
یعلم غیری من المعاصرین۔“
ترجمہ: ”اللہ نے مجھے پاک مقدس علوم نیز صاف و روشن معارف عطا کیے۔ اور وہ کچھ سکھایا جو میرے سوا کسی اور انسان کو اس زمانے میں معلوم نہ تھا۔“
(انجام آتھم صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 75 از مرزا قادیانی)
- ”میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے، اور میرے ہاتھ کی تقویت
کے لیے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک
آسمانی روح بول رہی ہے، جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 563 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 403 از مرزا قادیانی)
- ”میں زمین کی باتیں نہیں کہتا کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں بلکہ میں وہی کہتا ہوں
جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔“
(پیغام صلح صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 485 از مرزا قادیانی)
- ”میں تو ایک حرف بھی نہیں لکھ سکتا۔ اگر خدا تعالیٰ کی طاقت میرے ساتھ نہ ہو۔
بارہا لکھتے لکھتے دیکھا ہے کہ ایک خدا کی رُوح ہے جو تیر رہی ہے۔ قلم تھک جایا کرتی ہے مگر اندر جوش نہیں تھکتا۔ طبیعت محسوس کیا کرتی ہے کہ ایک ایک حرف خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 483 (طبع جدید) از مرزا قادیانی)
- ”اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے مگر جو شخص
میرے ہاتھ سے جام پیئے گا جو مجھے دیا گیا ہے، وہ ہرگز نہیں مرے گا۔ وہ زندگی بخش باتیں جو میں کہتا ہوں۔ اور وہ حکمت جو میرے منہ سے نکلتی ہے اگر کوئی اور بھی اس کی مانند کہہ سکتا ہے تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا۔ لیکن اگر یہ حکمت اور معرفت جو مُردہ دلوں کے لیے آب حیات کا حکم رکھتی ہے، دوسری جگہ سے نہیں مل سکتی تو تمہارے پاس اس جرم کا کوئی عذر نہیں کہ تم نے اس سرچشمہ سے انکار کیا جو آسمان پر کھولا گیا ۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 104 از مرزا قادیانی)
- ”میں اپنے نفس سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا ہے۔“
(تذکرہ الشہادتین صفحہ 79 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 79 از مرزا قادیانی)
- ”مجھے دین کے ظاہری اور باطنی علوم دیئے گئے ہیں اور مجھے صُحُفِ مُطہرہ اور
جو ان میں ہے، کا علم دیا گیا ہے۔ اُس شخص سے زیادہ بد بخت اور کوئی نہیں جو میرے مقام سے بے خبر ہے۔“
(تذکرہ الشہادتین صفحہ 91 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 191 از مرزا قادیانی)
- ”تیرا کلام خدا کی طرف سے فصیح کیا گیا ہے۔ تیرے کلام میں ایک چیز ہے جس
میں شاعروں کو دخل نہیں۔“
(حقیقت الوحی صفحہ 106 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 106 از مرزا قادیانی)
- ”وان الله لا یترکنی علی خطا طرفۃ عین و یعصمنی من کل مین و
يحفظنی من سبل الشياطين.“
ترجمہ:”اور اللہ تعالیٰ ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی مجھے خطا پر قائم نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر ایک خطا سے محفوظ رکھتا ہے اور شیاطین کے راستوں سے میری حفاظت کرتا ہے۔“
(نور الحق صفحہ 86 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 272 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”انا ما كتبنا فی کتاب شيئا يخالف النصوص القرانيه او الحديثيه وما
تفوهنا به يوما من الدهر.“
ترجمہ: ”میں نے کسی کتاب میں کبھی کوئی چیز قرآن و حدیث کی تصریحات کے خلاف نہیں لکھی۔“
(حمامة البشریٰ صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 285)
- ❑ ”والله يعلم انی ما قلت الا ما قال الله تعالى ولم اقل كلمة قط مخالفه
وما مسها قلمی فی عمری.“
ترجمہ: ”خدا جانتا ہے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں، وہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اور میں نے کوئی کبھی ایسا کلمہ تک نہیں کہا جو خلاف خداوند تعالیٰ ہو اور مخالفت خداوندی میرے قلم سے کبھی سرزد نہیں ہوئی۔“
(حمامة البشریٰ صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 186 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”اور بباعث نہایت درجہ فنا فی اللہ ہونے کے اس کی زبان ہر وقت خدا کی زبان
ہوتی ہے اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور اگرچہ اس کو خاص طور پر الہام بھی نہ ہو تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے، وہ اس کی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔“
(حقیقة الوحی صفحہ 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 18 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے قرآن کے
حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک روح پر غلبہ دیا گیا ہے۔“
(سراج منیر صفحہ 39 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 41 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”جولوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے
نہیں سمجھتے، اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے۔ اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔“
(ازالۃ الاوہام صفحہ 197 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 197 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت
اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 93 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 93 از مرزا قادیانی)
- ”جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں، وہ نرے استخوان
فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انھیں اُن تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں اور ان کی باتیں از قبیل جوشیدن ہوتی ہیں نہ محض از قبیل کوشیدن۔ اور وہ حال سے بولتے ہیں نہ مجرد قال سے۔ اور خدا تعالیٰ کے الہام کی تجلی ان کے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کے وقت روح القدس سے سکھلائے جاتے ہیں اور ان کی گفتار اور کردار میں دنیا پرستی کی ملونی نہیں ہوتی کیونکہ وہ بکلی مصفا کیے گئے اور تمام و کمال کھینچے گئے ہیں۔“
(فتح اسلام صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 7 از مرزا قادیانی)
- ”انی امر یکلمنی ربی...... و یعلمنی من لدنه و یحسن ادبی و یوحی
الی رحمۃ منه فاتبع ما یوحی...... وما کان لی ان اترک سبیله و اختار طرقاشتی۔ و کلما قلت قلت من امرہ۔ وما فعلت شیئا عن امری۔ وما افتریت علی ربی الاعلیٰ وقد خاب من افتریٰ۔“ (ترجمہ) ”میں وہ مرد ہوں کہ خدا میرے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور خزانہ خاص سے تعلیم دیتا ہے۔ اپنے ادب سے مجھ کو ادب سکھاتا ہے۔ اپنی رحمت سے مجھ پر وحی بھیجتا ہے۔ پس میں اس وحی کی پیروی کرتا ہوں اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی راہ کو چھوڑ دوں اور دوسرے راستے کو اختیار کروں اور جو میں نے کہا ہے اس کے حکم سے کہا ہے۔ میں از خود کوئی کام نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں باندھتا۔ ہلاک ہوا وہ جس نے افترا کیا۔“
(مواہب الرحمٰن صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 221 از مرزا قادیانی)
- ”ازاں جملہ ایک عصمت بھی ہے جس کو حفظ الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور یہ
عصمت بھی فرقان مجید کے کامل تابعین کو بطور خارقِ عادت عطا ہوتی ہے۔ اور اس جگہ عصمت سے مراد ہماری یہ ہے کہ وہ ایسی نالائق اور مذموم عادات اور خیالات اور اخلاق اور افعال سے محفوظ رکھے جاتے ہیں جن میں دوسرے لوگ دن رات آلودہ اور ملوث نظر آتے ہیں۔ اور اگر کوئی لغزش بھی ہو جائے تو رحمتِ الٰہی جلد تر اُن کا تدارک کر لیتی ہے۔“
(براہین احمدیہ صفحہ 514 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 536 از مرزا قادیانی)
۞ ۞ ۞
علامہ اقبالؒ اور فتنۂ قادیانیت
ترجمانِ حقیقت حضرت علامہ محمد اقبالؒ بیسویں صدی کے شہرۂ آفاق دانشور، عظیم روحانی شاعر، اعلیٰ درجہ کے مفکر اور بلند پایہ فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عہد ساز انسان بھی تھے۔ ایسی زندہ و جاوید ہستیاں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا دل ملتِ اسلامیہ کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ وہ انسانیت کی اعلیٰ قدروں کے وارث تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے انحطاط اور تنزل کی گھاٹی کی طرف تیزی سے گرتے ہوئے عالمِ اسلام کے تنِ مضمحل میں ایک نئی روح پھونکی اور اسے انقلاب کی راہ دکھائی۔
علامہ اقبالؒ کے حوالے سے یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہے کہ وہ انسانی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ، راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ جہاں تک قادیانیت کا تعلق ہے تو اس حوالے سے تو وہ محرمِ رازِ درونِ خانہ تھے۔ انہوں نے جب بنظرِ غائر دیکھ لیا کہ مرزائی خود تو مرتد اور کافر ہیں ہی، لیکن عامۃ المسلمین کو بھی مرتد بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور ”چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد“ کے مصداق اسلام کا لبادہ اوڑھ کر انہیں گمراہ کر رہے ہیں تو وہ اپنی اسلامی غیرت و حمیت اور محبتِ رسولؐ کے حوالے سے برداشت نہ کر سکے۔ انہوں نے انتہائی زیرکی اور ژرف نگاہی سے اس اہم مسئلے کا جائزہ لیا اور اپنے تاثرات امتِ مسلمہ کے سامنے واضح انداز میں پیش کر دیئے۔
عاشقِ رسولؐ علامہ اقبالؒ کو اس بات پر کامل ایقان تھا کہ حضرت محمد عربی ﷺ کی ذاتِ اقدس پر رسالت و نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا، آپ خاتم النبیین ہیں، آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا، اگر کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو وہ نہ صرف کاذب و مفتری بلکہ واجب القتل ہے۔
حضرت علامہ اقبالؒ کو اس بات کا مکمل ادراک تھا کہ ملتِ اسلامیہ کو جن فتنوں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، ان میں سب سے خطرناک فتنۂ قادیانیت کا ہے۔ علامہ اقبالؒ
نے قادیانیوں کی ملت اسلامیہ کے خلاف بڑھتی ہوئی سازشوں کو شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خطبات، مضامین، توضیحات اور خطوط کے ذریعے قادیانیت کی سرکوبی کی اور اس تحریک کے عالم اسلام پر دینی، معاشی اور تمدنی اثرات اور ان کے منفی نتائج سے امت مسلمہ کو آگاہ کیا۔ علامہ اقبال کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے حکومت کو سب سے پہلے یہ مطالبہ پیش کیا کہ قادیانیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے کیونکہ یہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ملت اسلامیہ کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے اندر رہ کر ایک نئی امت تشکیل دے رہے ہیں۔
مولانا محمد حسین عرشی امرتسری حضرت علامہ محمد اقبالؒ سے اپنی ایک خصوصی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”آخری عمر میں قریباً ہر صحبت میں مرزا غلام احمد قادیانی کا ذکر آ جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ سلطان ٹیپو (شہید) کے جہاد حریت سے انگریز نے اندازہ کیا کہ مسئلہ جہاد اس کی حکومت کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ جب تک شریعت اسلامیہ سے اس مسئلے کو خارج نہ کیا جائے، انگریز کا مستقبل مطمئن نہیں۔ چنانچہ اسی زمانہ سے مختلف ممالک کے علماء کو آلہ کار بنانا شروع کیا۔ ہندوستانی علماء سے بھی ایسے فتاویٰ حاصل کیے گئے، لیکن ایک منصوص قرآنی مسئلے کو مٹانے کے لیے علماء کو ناکافی سمجھ کر ایک جدید نبوت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جس کا بنیادی مسئلہ یہی ہو کہ اقوام اسلامیہ میں نسخ جہاد کی تبلیغ کی جائے۔ احمدیت کے اسباب وجوہ پر آج تک جو کچھ لکھا گیا ہے، اس کی وقعت سطحیت سے زیادہ نہیں اس کا حقیقی سبب اسی ضرورت کا احساس تھا۔“
(اقبال پر 15 مقالات، مرتب: پروفیسر احسان الٰہی سالک، ایس اے بخاری)
آنجہانی مرزا قادیانی پر انگریز پرستی اور برٹش گورنمنٹ کی اطاعت کا داغ دھونے کے لیے اس کے پیروکار یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ علامہ اقبال نے بھی کئی مواقع پر برطانوی حکومت کی تعریف کی۔ اس سلسلہ میں جناب پروفیسر خالد شبیر احمد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
”اس کو کہتے ہیں ”ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ“، ”سوال گندم جواب چنا“ تیلی نے اپنے مخالف جاٹ سے کہا کہ جاٹ رے جاٹ، تیرے سر پہ کھاٹ۔ جواب تھا تیلی رے تیلی، تیری سر پہ کولہو، سننے والے نے کہا، یہ تو بات نہ بنی، فنی طور پر ہی شعر غلط ہو گیا، جواب تھا کہ
مخالف کو لوہے کے بوجھ تلے تو دبے گا۔ اقبال نے ختم نبوت کے حوالے سے قادیانیوں کو مشورہ دیا کہ جب آپ ختم نبوت کے عقیدہ پر قائم نہیں رہے تو اپنے عقیدے کے اعتبار سے مسلمانوں میں شامل رہنے پر آپ کے اصرار کا کیا جواز ہے؟ لہٰذا ہم حکومت سے اسی بناء پر تمہیں مسلمانوں سے علیحدہ غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کے جواب میں کہا جا رہا ہے کہ اقبال انگریزوں کے قصیدے پڑھتا رہا ہے۔ اگر اقبال انگریزوں کے قصیدے پڑھنے پر گردن زدنی اور قابل مذمت ہے تو پھر مرزا قادیانی انگریزوں کے قصیدے پڑھنے پر آپ کا نبی اور پیشوا کیسے بن گیا؟ غلام احمد قادیانی نے ستارہ قیصریہ میں اسی ملکہ وکٹوریہ کو زمین کا نور کہہ کر اس کی ستائش میں زمین و آسمان کے قلابے نہیں ملا دیئے؟ ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ جس نے انگریزوں کی خوشامد کی تمام حدیں ہی توڑ دیں اور اس پر اسے فخر بھی ہے۔ وہ برملا کہتا ہے کہ جو امن اور سلامتی اسے انگریزی راج میں میسر ہے، وہ مکہ اور مدینے میں بھی میسر نہیں۔ اقبال نے تو ان تمام قصائد سے رجوع کر لیا، تبھی انہوں نے یہ سب کچھ جس کا آپ (قادیانی) ذکر کر رہے ہیں، اپنے کلام میں شامل نہیں کیا۔ گویا دوسرے لفظوں میں اس کلام کو اقبال نے خود مسترد کر دیا۔ کہیں مرزا قادیانی کی کوئی ایسی تحریر بھی ہے کہ جس سے یہ بات ثابت ہو سکے کہ انہوں نے انگریزوں کے حق میں جو کچھ لکھا، اس سے انہوں نے رجوع کر لیا تھا۔ اگر آپ کے پاس کوئی ایسی تحریر ہے تو پیش کریں۔“
(اقبال اور قادیانیت از پروفیسر خالد شبیر احمد صفحہ 78, 79)
شاعر مشرق، حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ مرزا قادیانی کی انگریزی نبوت کے بارے میں فرماتے ہیں:
شیخ اولرد فرنگی را مرید
آنکہ در قرآن بغیر از را ندید
اندرونش بے نصیب از لا الہ
پردۂ ناموس ما را پر درید
سینہ او از دل روشن تہی است
الحذر! از حرف پہلو دار او
گرچہ گوید از مقام بایزید
زندگانی از خودی محرومی است
رقصها گرد کلیسا کرد و مُرد
(مثنوی پس چہ باید کرد)
(ترجمہ)
جس کو اپنے سوا قرآن میں کچھ نظر نہ آیا
اس کا دل لا الہ سے خالی ہے
اس نے ہماری ناموس کے پردے کو چاک کرایا
اس کا سینہ دل کی روشنی سے خالی ہے
اس کی چالبازانہ باتوں سے بچو
اگرچہ وہ کہتا ہے کہ میں بایزید کے مقام سے بول رہا ہوں
اس کی زندگی خودی سے محروم ہے
- 8- غیروں کی دولت کو وہ رحمت جانتا ہے
آں ز ایراں بود و ایں ہندی نژاد
دین او اندر کتاب و او بگور!
حرفِ دیں را از دو ”پیغمبر“ گرفت!
آں ز حج بیگانہ و ایں از جہاد!
رفت جاں از پیکر صوم و صلوٰت!
فرد ناہموار و ملت بے نظام!
از چنیں مرداں چہ امید بہی!
اے خضر دستے کہ آب از سرگذشت
(جاوید نامہ)
(ترجمہ)
- -1 وہ مستی اور ذوق و سرور کھو چکا ہے۔ دین اب کتاب ہی میں رہ گیا ہے۔ مسلمان مر
چکا ہے۔
- -2 وہ عصر حاضر کی صحبت اختیار کر چکا ہے اب وہ دو جعلی پیغمبروں سے دین سیکھتا ہے۔
- -3 ان میں سے ایک (بہاء اللہ ) ایرانی ہے اور دوسرا ہندی (مرزا قادیانی) ۔ پہلے نے
حج منسوخ کر دیا اور دوسرے نے جہاد۔
- -4 جب جہاد اور حج واجب نہ رہے تو صوم وصلوٰۃ کی رُوح بھی ختم ہو گئی۔
- -5 نماز روزے کی روح جاتی رہی تو فرد بے لگام ہو گیا اور ملت بے نظام۔
- -6 سینے حرارتِ قرآنِ پاک سے خالی ہو گئے۔ ایسے لوگوں سے بھلائی کی کیا اُمید؟
- -7 مسلمان نے خودی ترک کردی۔ اے خضر! مدد کو پہنچ ۔ پانی سر سے گزر گیا۔
کہ از تیغ و سپر بیگانہ سازد مرد غازی را!
کہ از تیغ و سپر بیگانہ سازد مرد غازی را
بزور بازوئے حیدرؓ بدہ ادراک رازی را
بیا من با تو آموزم طریق شاہبازی را
دم شمشیر اندر سینہ باید نے نوازی را
(زبور عجم)
(ترجمہ)
- -1 میری نظر میں اس علم و حکمت کی قیمت گھاس کے ایک تنکے کے برابر بھی نہیں جو مرد
غازی کو اس کی تلوار اور ڈھال (عملِ جہاد) سے بیگانہ کر دے۔
- -2 جس بھاؤ سے بھی تو یہ سودا خریدتا ہے، تیرے لئے سود مند ہے۔ حضرت علی رضی
اللہ تعالیٰ عنہ کی قوتِ بازو کے عوض، امام فخر الدین رازی کی فہم و فراست چھوڑ دے۔ (ایسا علم کس کام کا جو مسلمان کو عملی جہاد سے روک دے)۔
- -3 اگر تو خون کا ایک قطرہ رکھتا ہے (عمل کی رمق باقی ہے) اور اگر تو مٹھی بھر پر رکھتا
ہے (ہمت پرواز بھی ہے) تو میرے پاس آ۔ میں تجھے شاہبازی (دنیا پر حکمرانی) کے اصول سمجھا دوں گا۔
- -4 (اور) اگر تو اس کام (زندگی گزارنا) کو سانس کا کام سمجھتا ہے تو یہ تیری کیسی نادانی
ہے۔ بانسری بجانے کے لئے (عام سانس کی نہیں) تلوار کی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ (جس طرح بانسری بجانے کے لئے صرف سانس پھونکنا ہی کافی نہیں، اس کے لئے سینے میں قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح عملی زندگی میں جان قربان کر دینے کی تمنا کرنا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے لئے جان ہتھیلی پر رکھنا ضروری ہے)۔
نبوت
مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام
ہاں مگر عالم اسلام پہ رکھتا ہوں نظر
فاش ہے مجھ پہ ضمیر فلک نیلی فام
”وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام“
(ضرب کلیم)
مہدئ برحق
خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار
پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
نے جدت گفتار ہے، نے جدت کردار
ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ
شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار
دنیا کو ہے اس مہدئ برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالم افکار
(ضرب کلیم)
امامت
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رُخ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنۂ ملت بیضا ہے امامت اُس کی
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے
(ضرب کلیم)
جہاد
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سُود و بے اثر
تیغ و تفنگ دست مسلماں میں ہے کہاں؟
ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اس کو مسلماں کی موت مر
تعلیم اس کو چاہیے ترک جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجۂ خونیں سے ہو خطر
باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر
(ضربِ کلیم)
ہے اُس کی نگہ فکر و عمل کے لیے مہمیز
محکوم کے الہام سے اللہ بچائے
غارت گرِ اقوام ہے وہ صورتِ چنگیز
(ضربِ کلیم)
درسِ غلامی
نہ کہیں لذتِ کردار نہ افکارِ عمیق
خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق
(ضربِ کلیم)
نکتۂ توحید
ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے!
طریق شیخ فقیہانہ ہو تو کیا کہیے!
سرور جو حق و باطل کی کارزار میں ہے
تو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے!
جہاں میں بندۂ حر کے مشاہدات ہیں کیا
تری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہیے!
مقام فقر ہے کتنا بلند شاہی سے
روش کسی کی گدایانہ ہو تو کیا کہیے!
(ضرب کلیم)
ہر چند کہ مشہور نہیں ان کے کرامات
خود گیری و خودداری و گلبانگ انا الحق
آزاد ہو سالک تو ہیں یہ اس کے مقامات
محکوم ہو سالک تو یہی اس کا ’ہمہ اوست‘
خود مردہ و خود مرقد و خود مرگ مفاجات!
(ارمغان حجاز)
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
ترے دین و ادب سے آرہی ہے بوئے رہبانی
یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری
(ارمغان حجاز)
محکوم کی رگ نرم ہے مانند رگ تاک
محکوم کا دل مردہ و افسردہ و نومید
آزاد کا دل زندہ و پرسوز و طرب ناک
آزاد کی دولت دل روشن نفس گرم
محکوم کا سرمایہ فقط دیدۂ نمناک
محکوم ہے بیگانۂ اخلاص و مروّت
ہر چند کہ منطق کی دلیلوں میں ہے چالاک
ممکن نہیں محکوم ہو آزاد کا ہمدوش
وہ بندۂ افلاک ہے یہ خواجۂ افلاک
(ارمغان حجاز)
یہودی وزیر اعظم اور سنت نبوی ﷺ
1973ء میں عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے سائے گہرے ہوچکے تھے۔ ایک دن امریکی اسلحہ کمیٹی کا سربراہ اسرائیل آیا۔ دفتر کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ لہٰذا وزیر اعظم گولڈا میئر سے گھر پر ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ وزیر اعظم مہمان کو اپنے باورچی خانے لے گئیں۔ انہیں کرسی پر بٹھایا اور خود چائے بنانے لگیں۔ اس دوران طیاروں، میزائلوں اور توپوں کے سودے کی بات چیت ہوتی رہی، چائے تیار ہوئی تو ایک پیالی مہمان کو پیش کی، دوسری اپنے سامنے رکھی اور تیسری دروازے پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما آئیں۔ چائے پینے کے دوران امریکہ سے اسلحے کی خریداری کی شرائط طے پائیں۔ گولڈا میئر نے مہمان سے ہاتھ ملانے سے قبل پیالیاں سمیٹیں اور دھو کر الماری میں رکھتے ہوئے کہا ”ہمیں سودا منظور ہے“۔
گولڈا میئر نے اگلے دن معاہدے کی تفصیلات کابینہ کے سامنے رکھیں جس نے سودا مسترد کر دیا۔ کابینہ کا موقف تھا کہ ان کا ملک بحران کا شکار ہے، اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک بار کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ گولڈا میئر نے اپنی کابینہ کے فیصلے سے اتفاق کیا لیکن بحث سمیٹتے ہوئے باور کرایا ”ہم جنگ جیت گئے تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دے گی۔ جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دے ڈالے تو بھول جاتی ہے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنی فاقہ کشی کی، دن میں کتنی بار کھانا کھایا، اس کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا تلواروں کے نیام پھٹے ہوئے تھے کیونکہ فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔ گولڈ امیئر کے دلائل کے سامنے کابینہ نے ہتھیار ڈال دیے اور امریکہ کے ساتھ ہتھیاروں کی خریداری کا معاہدہ طے پا گیا۔ پھر اسی اسلحہ سے اسرائیل نے عربوں کو شکست دی۔
جنگ کے کافی عرصے بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈا میئر کا انٹرویو کیا۔ سوال تھا ”امریکی اسلحہ کی خریداری کے لیے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً ذہن میں آئی یا پہلے سے طے شدہ حکمت عملی تھی؟“
گولڈائیر نے چونکا دینے والا جواب دیا ”میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں یعنی مسلمانوں کے نبی (ﷺ) کی زندگی سے لیا ہے۔ میں نے زمانہ طالب علمی میں محمد (ﷺ) کی سوانح حیات پڑھی تھی۔ جب ان کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں چراغ کے لیے تیل خریدنے کی رقم نہیں تھی۔ ان کی اہلیہ (حضرت عائشہؓ) نے آپ (ﷺ) کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا۔ اس وقت بھی محمد (ﷺ) کے حجرے کی دیواروں پر 9 تلواریں لٹک رہی تھیں۔ یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا، دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت جانتے ہوں گے۔ لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، مسلمانوں کی طرح پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی گزارنی پڑے تو بھی اسلحہ خریدیں گے اور مسلمانوں کی طرح فاتح کا اعزاز پائیں گے۔ ان مسلمانوں کی طرح جنہوں نے آدھی دنیا فتح کی لیکن آج یہ اپنی تاریخ بھلا چکے ہیں۔ اس لیے ابھی فتح کا ایک موقعہ موجود ہے۔“
ملکہ کا کتا اور قادیانی تعزیت!
قادیانی جماعت کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے والے معروف سابق قادیانی جناب اے کے شیخ صاحب اپنی ویب سائٹ پر ایک اہم واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”مفادات، چاپلوسی اور غلامی کیا کیا ناچ نچواتی ہے اس کی تازہ ترین مثال کچھ اس طرح سے ہے، کرسمس سے پہلے ملکہ برطانیہ کا جان سے پیارا Corgi کتا، ملکہ کی بیٹی شہزادی این کے کتے کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور ملکہ برطانیہ کے ساتھ ان کے خونی اور روحانی رشتہ داروں کو بھی سوگوار کر گیا، دنیا کے اخباروں، ٹی وی اور دیگر میڈیا نے بھی اس ناگہانی خبر کو خاص خبر بنایا ہے، جہاں پر دنیا کے سربراہوں نے ملکہ کو تعزیتی پیغامات ارسال کیے ہیں، وہاں پر سب سے نمایاں اور حق نمک حلالی اور غلامی ادا کرتے ہوئے اللہ کے بنائے ہوئے خلیفہ نے بھی ملکہ عالیہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے Corgi مرحوم کے لیے فردوس بریں کی دعا کی ہے۔
کچھ احباب کو تعزیت ناگوار گزرے گی اور کہیں گے یہ نہیں ہو سکتا، خلیفہ صاحب
نے ایسا نہیں کیا اور کچھ کہیں گے اس میں کوئی برائی نہیں بلکہ ہمارے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہے، چلیے آپ اس پر اپنے دوستوں کے ساتھ اظہار خیال کریں، مگر اس سوال پر غور کریں تو عنایت ہوگی۔ کیا اللہ کے بنائے ہوئے خلیفہ نے کبھی ان مسلمانوں کی موت پر بھی تعزیت کی جن پر حکومت امریکہ اور برطانیہ نے قیامت خیز بمباری کی؟ کیا صرف اس لیے نہیں کہ وہ ہمارے خلیفہ صاحب کی بیعت میں شامل نہ تھے؟ کیا وہ ملکہ کا کتا خلیفہ صاحب کی بیعت کر چکا تھا؟ کیا وہ مسلمان احمدی نہ تھے تو کیا انسان بھی نہ تھے؟ کیا مرزا صاحب کا پیغام دنیا کے لیے نہیں؟ جماعت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انگریز اگر کتا بھی پالتا ہے تو اس کا حسب نسب دیکھ کر پالتا ہے، لہٰذا یہ پتہ چل سکتا ہے کہ وہ Corgi احمدی تھا یا نہیں!
تعزیت کے بعد اگر خلیفہ صاحب اس کی نماز جنازہ پڑھانے کا فیصلہ کرلیں تو براہ مہربانی اس کا اعلان MTA پر ضرور کرادیں اور ساتھ ہی دیگر تمام جماعتہائے احمدیہ کو ہدایت جاری فرمادیں کہ وہ بھی تعزیتی پیغامات فوری ارسال کریں، دیر کرنے کی صورت میں کہیں ہم ناشکروں میں شامل نہ کر دیے جائیں!“ (www.ahmedi.org)
پاکستان کے خلاف قادیانی سازشیں
قادیانیت، مذہب کے لبادے میں اسلام دشمن طاقتوں کی آلہ کار سیاسی تحریک ہے، جس کا مقصد اسلام اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو منہدم کرنا ہے۔ یہ فتنہ، انگریز کا جاسوس اور ملت اسلامیہ کے لیے ناسور ہے۔ بقول آغا شورش کاشمیری، ”قادیانیت، عجمی اسرائیل ہے“۔ اس کا ہر قدم اسلام کے خلاف، اس کا ہر فیصلہ ملت اسلامیہ کے برعکس اور اس کی ہر تدبیر پاکستان سے بغاوت ہے۔ یہ ایک ایسی خطرناک جماعت ہے جو اپنے بیرونی آقاؤں کے مخصوص مفادات کے لیے کام کرتی ہے۔ قادیانیت کی تاریخ، عالم اسلام سے غداری، مسلمان ممالک کے خلاف سازشوں اور ملت اسلامیہ کی مصیبتوں پر جشن منانے سے عبارت ہے۔ 7 ستمبر 1974ء بلاشبہ عالم اسلام بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کے لیے ایک یادگار دن کی حیثیت رکھتا ہے، جب پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ کیا تھا۔ اس سے قبل مکہ مکرمہ میں 6 تا 10 اپریل 1974ء کو رابطہ عالم اسلامی کے زیر انتظام ایک اہم کانفرنس ہوئی تھی جس میں دنیا بھر سے 140 تنظیموں اور ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس میں یہ متفقہ قرار داد منظور ہوئی تھی کہ: ”قادیانیت، اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے، جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ چنانچہ اسے غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے“۔ یہ ایک اہم کام تھا جسے نیک جذبے سے مکمل کیا گیا، لیکن قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد عالم اسلام نے اپنے آپ کو ان کی ظاہری اور پس پردہ خطرناک سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے فرض سے سبکدوش قرار دے لیا۔ حالانکہ 1974ء کے اس تاریخی فیصلہ کے بعد مسلم تنظیموں خصوصاً اسلامی ممالک کی حکومتوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔ قادیانیوں کی زیر زمین سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا اور اسلامی ملکوں کے خلاف ان کی سازشوں کو ناکام بنانے کا کام جاری رہنا چاہیے تھا۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا اور اس کے سنگین نتائج اب سامنے آ رہے
ہیں ۔ پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں نے بالواسطہ طریقوں سے کام لے کر پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کیا اور اس کی خارجہ پالیسی کو ایسی شکل دی جو ان کی اور ان کے سامراجی آقاؤں کی مرضی و منشا کے عین مطابق تھی۔ قادیانی اپنے خلیفہ کے حکم پر یہاں قادیانی ریاست قائم کرنے کے لیے برابر کوشاں ہیں۔ قادیانیوں کی اسلام اور پاکستان کے خلاف اس قدر سازشیں ہیں کہ ”سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے۔“ بہر حال صفحات کی کمی کے پیشِ نظر زیرِ نظر کتابچہ میں قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف بھیانک سازشوں کا مختصر احاطہ کیا گیا ہے جو محبانِ پاکستان کے لیے چشم کشا بھی ہیں اور دعوتِ فکر و عمل بھی ۔ آئیے ملاحظہ کریں:
علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت
حضرت علامہ اقبالؒ نے نہ صرف قادیانیت سے اپنی سخت بیزاری کا اعلان کیا بلکہ اس فتنہ کے محاسبہ کو اپنی زندگی کا نصب العین بنالیا۔ انہیں اس بات کا مکمل ادراک تھا کہ ملت اسلامیہ کو جن فتنوں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، ان میں سب سے خطرناک فتنہ قادیانیت کا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے قادیانیوں کی ملت اسلامیہ کے خلاف بڑھتی ہوئی سازشوں کو شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خطبات، مضامین، توضیحات اور خطوط کے ذریعے قادیانیت کی سرکوبی کی اور اس تحریک کے عالمِ اسلام پر دینی، معاشی اور تمدنی اثرات اور ان کے منفی نتائج سے امتِ مسلمہ کو آگاہ کیا۔ علامہ اقبالؒ کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے حکومت کو سب سے پہلے یہ مطالبہ پیش کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے کیونکہ یہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ملت اسلامیہ کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے اندر رہ کر ایک نئی امت تشکیل دے رہے ہیں۔
حضرت علامہ اقبالؒ نے 1936ء میں پنجاب مسلم لیگ کی کونسل میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تجویز بھی پاس کرائی اور صوبائی اور مرکزی اسمبلی کے لیگی امیدواروں سے حلفیہ تحریری اقرار نامہ لکھوایا کہ وہ کامیاب ہو کر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے لیے آئینی اداروں میں مہم چلائیں گے۔
علامہ اقبال کا قادیانیت سے تنفر کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کے نام اپنے 21 جون 1936 کے مکتوب میں قادیانیوں کو اسلام
اور ہندوستان دونوں کا غدار قرار دیا۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے لکھا:
"I have no doubt in my mind that the Ahmadis are traitors both to Islam and to India."
’’میں اپنے ذہن میں اس امر کے متعلق کوئی شبہ نہیں پاتا کہ احمدی‘ اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں۔‘‘
مزید فرمایا:
- ’’ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا جب ایک نئی نبوت‘ بانی اسلام
کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی‘ جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘ (حرفِ اقبال از لطیف احمد خاں شروانی صفحہ 112)
- ’’ہمیں قادیانیوں کی حکمتِ عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویے کو
فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ بانیِ تحریک نے ملتِ اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ اور اپنے مقلدین کو ملتِ اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار‘ جماعت کا نیا نام (احمدی)‘ مسلمانوں کے قیام نماز سے قطع تعلق‘ نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے‘ یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔‘‘
(اخبار سٹیٹس مین دہلی کے نام خط مطبوعہ 10 جون، 1935ء)
- ’’ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا
جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔‘‘ (اخبار سٹیٹس مین دہلی کے نام خط مطبوعہ 10 جون، 1935ء)
قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور قادیانی
قائد اعظم محمد علی جناحؒ پاکستان کے خلاف قادیانیوں کی ناپاک سازشوں سے بخوبی آگاہ تھے۔ 1948ء میں کشمیر سے واپسی پر قائد اعظمؒ سے سوال کیا گیا: ’’قادیانیوں کے
بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘ تو آپ نے فرمایا ”میری رائے وہی ہے جو علمائے کرام اور پوری اُمت کی ہے۔‘‘ آپ کے ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ آپ پوری اُمت کی طرح قادیانیوں کو کافر سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں نے آپ کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا اور آپ کی حکومت کو کافر حکومت کہا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 1948ء میں راجہ صاحب آف محمود آباد کی کراچی آمد کے موقع پر ان کو آگاہ کیا تھا کہ ”قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں کی پاکستان سے وفاداریاں مشکوک ہیں۔ میں ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہوں اور عملی اقدامات اٹھانے کے لیے مجھے مناسب وقت کا انتظار ہے۔‘‘ (ہفت روزہ ختم نبوت انٹرنیشنل
صفحہ 4 تا 6، 12 فروری 1987ء)
بدقسمتی سے کچھ ہی عرصہ بعد قائد اعظمؒ رحلت فرما گئے۔ اُن کے انتقال پر ملال سے ساری قوم کی کمر ٹوٹ گئی۔ آپ کے داغِ مفارقت سے ہر شخص یوں دکھائی دیتا تھا جیسے وہ یتیم ہو گیا ہو لیکن اس جانکاہ صدمہ پر بھی قادیانیوں کے رویہ میں کوئی فرق نہ آیا۔ پاکستان کے باشعور شہری جانتے ہیں کہ اس وقت کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں قادیانی نے بانی پاکستان کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہ کی اور وہ ایک طرف الگ بیٹھا رہا۔ جب اخبارات اس معاملہ کو منظرِ عام پر لائے تو قادیانیوں کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ ”چودھری ظفر اللہ خاں پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظمؒ کا نمازِ جنازہ نہیں پڑھا۔ حالانکہ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظمؒ احمدی نہ تھے، لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے۔‘‘ (ٹریکٹ 22 بعنوان احراری علما کی راست گوئی کا نمونہ، ناشر، مہتمم
نشر و اشاعت نظارت دعوت و تبلیغ، صدر انجمن احمدیہ ربوہ، ضلع جھنگ)
ایک اور موقع پر چودھری ظفر اللہ خاں سے سوال ہوا کہ آپ قائد اعظمؒ کے جنازہ کے وقت غیر مسلم سفیروں کے ساتھ گراؤنڈ میں ایک طرف بیٹھے رہے۔ جنازے میں شامل نہ ہونے کی کیا وجہ تھی؟ اس نے جواب دیا: ”آپ مجھے مسلمان حکومت کا ایک کافر وزیر یا ایک کافر حکومت کا مسلمان وزیر خیال کر لیں۔‘‘ (زمیندار لاہور 8 فروری 1950ء)
ایک مفصل انٹرویو میں سر ظفر اللہ خاں سے پوچھا گیا ”آپ پر ایک اعتراض اکثر ہوتا ہے کہ آپ نے قائد اعظمؒ کا جنازہ موجود ہوتے ہوئے نہیں پڑھا۔‘‘ جواب دیا۔ ”ہاں یہ ٹھیک بات ہے، میں نے نہیں پڑھا۔ یعنی قائد اعظمؒ کا جنازہ پڑھتا تو ایک اعتراض پیدا ہوتا کہ
یہ شخص منافق ہے۔ یہ غیر احمدی کا جنازہ نہیں پڑھتے اور اس نے پڑھ لیا۔ تب تو میرے کریکٹر کے متعلق کہا جاسکتا تھا کہ منافق ہے۔ اس کا عقیدہ کچھ ہے، عمل کچھ کہتا ہے۔ اس نے ہر دلعزیزی حاصل کرنے کی خاطر قائد اعظمؒ کا جنازہ پڑھا۔ میرے عقیدے کو وہ جانتے ہیں۔ میرے عقیدے کو انہوں نے ناٹ مسلم قرار دیا ہے، تو اگر میں آئینی اور قانونی اعتبار سے ناٹ مسلم ہوں تو ایک ناٹ مسلم پر کیسے واجب ہے کہ مسلمان کا جنازہ پڑھے؟ ان کی اپنی کرتوت تو سامنے ہونی چاہیے نہ پڑھنے پر کیا اعتراض ہے۔ سارے جہاں کو معلوم ہے کہ ہم نہیں پڑھتے غیر احمدی کا جنازہ۔‘‘ (سیاسی اتار چڑھاؤ از منیر احمد منیر صفحہ 99)
قادیانی جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ایک موقع پر سر ظفر اللہ خاں کو اپنا بیٹا کہا تھا۔ گو اس کا کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں لیکن عجیب بات ہے کہ بیٹے نے باپ کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔ سر ظفر اللہ خاں نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا جنازہ نہ پڑھنے کی جو توضیح پیش کی، وہ بالکل درست ہے۔ قادیانی عقائد کے مطابق تمام مسلمان غیر مسلم ہیں کیونکہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ قادیانی خلیفہ مرزا محمود کا کہنا ہے:
- ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ
پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔‘‘
(انوار خلافت صفحہ 90 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 148 از مرزا بشیر الدین محمود)
- ”اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے، اس
لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے، لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے، وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟ اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے، شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لیے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔‘‘
(انوار خلافت صفحہ 93 مندرجہ انوار العلوم، جلد 3 صفحہ 150 از مرزا بشیر الدین محمود)
باؤنڈری کمیشن میں قادیانیوں کا موقف
صاحبزادہ طارق محمود اپنی شہرہ آفاق کتاب ”قادیانیت کا سیاسی تجزیہ“ میں لکھتے ہیں:
- ❑ ”قادیانی جماعت کی بھر پور مخالفت کے باوجود جب ہندوستان کی تقسیم ناگزیر ہو گئی
اور پاکستان کا قیام ممکن نظر آنے لگا تو قادیانیوں نے پاکستان کی جغرافیائی صورت کو نقصان پہنچانے کی بھیانک کوشش کی۔ کشمیر اپنی تاریخی ہیئت اور جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔ چونکہ پاکستان میں بہنے والے سارے دریاؤں کا منبع اور سرچشمہ کشمیر ہے، بھارت ہمارے دریاؤں کا پانی بند کر کے ہمارے سرسبز کھیتوں اور لہلہاتی فصلوں کو تباہ کر سکتا تھا۔ کشمیر اور پاکستان مذہبی، سیاسی اور ثقافتی نقطہ نظر سے بھی ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم تھے۔ اس لیے قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ حد بندی کمیشن جن دنوں بھارت اور پاکستان کی حد بندی کی تفصیلات طے کر رہا تھا، کانگریس اور مسلم لیگ کے نمائندے اپنا اپنا موقف بیان کر رہے تھے۔ مسلم لیگ کی طرف سے سر ظفر اللہ خان قادیانی وکالت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ باؤنڈری کمیشن اس وقت ورطۂ حیرت میں پڑ گیا، جب جماعت احمدیہ کی طرف سے الگ میمورنڈم (محضر نامہ) پیش کیا گیا، جس میں قادیانی جماعت نے اپنے بانی کے مولد و مرکز قادیان کو ویٹیکن سٹی (Vatican City) قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
قادیانی جماعت کے میمورنڈم میں علیحدہ مذہب، سول وفوجی ملازمین کی مبالغہ آمیز تعداد، کیفیت اور آبادی کی تفصیلات درج ہیں۔ گزشتہ چند برس پہلے حکومت پاکستان کی طرف سے شائع ہونے والی کتاب (Partition of the Punjab) جلد 1، صفحہ 428 تا 469 میں قادیانی عرضداشت اور اس کی جملہ تفصیلات موجود ہیں۔
قادیانی جماعت نے ریڈ کلف کمیشن کو اپنا نقشہ بھی پیش کیا، جس میں قادیانیوں کی آبادی کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کیا گیا۔ قادیانی جماعت نے یہ نقشہ 1940ء میں تیار کیا تھا۔ حد بندی کمیشن کو الگ میمورنڈم پیش کرنے کا افسوسناک پہلو یہ تھا کہ قادیانی جماعت کا مقتدر ظفر اللہ خان ایک طرف تو کمیشن کے سامنے پاکستان کیس کی وکالت کر رہا تھا، جبکہ دوسری طرف اس کی جماعت کی طرف سے الگ میمورنڈم پیش کیا جا رہا تھا۔ .............
قادیانیوں کا (Vatican City) مطالبہ تو تسلیم نہ کیا گیا، البتہ باؤنڈری کمیشن نے قادیانیوں کے محضر نامہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں کو مسلمانوں سے خارج کر کے گورداسپور کو مسلم اقلیت کا ضلع قرار دے کر اس کے اہم علاقے بھارت میں شامل کر دیے۔ اس طرح نہ صرف گورداسپور کا ضلع پاکستان سے گیا بلکہ بھارت کو کشمیر ہڑپ کر لینے کی راہ میسر آ گئی۔ نتیجتاً کشمیر پاکستان سے کٹ گیا۔
ضلع گورداسپور کے سلسلے میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے۔ اس کے متعلق چودھری ظفر اللہ خان، جو مسلم لیگ کی وکالت کر رہے تھے، خود ہی ایک افسوسناک حرکت کر چکے تھے۔ انہوں نے قادیانی جماعت کا نقطہ نگاہ عام مسلمانوں سے (جن کی نمائندگی مسلم لیگ کر رہی تھی) جداگانہ حیثیت میں پیش کیا۔ قادیانی جماعت کا نقطہ نگاہ بے شک یہی تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا پسند کرے گی، لیکن جب سوال یہ تھا کہ مسلمان ایک طرف اور باقی سب دوسری طرف تو کسی جماعت کا اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کرنا مسلمانوں کی عددی قوت کو کم ثابت کرنے کے مترادف تھا۔ اگر قادیانی جماعت یہ حرکت نہ کرتی تب بھی ضلع گورداسپور کے متعلق شاید فیصلہ وہی ہوتا جو ہوا، لیکن یہ حرکت اپنی جگہ بہت عجیب تھی۔“
(روزنامہ ”مشرق“ لاہور 3 فروری 1964ء)
اب اس سلسلہ میں خود حد بندی کمیشن کے ایک ممبر جسٹس منیر کا ایک حوالہ بھی ملاحظہ فرمائیں:
- ❑ ”اب ضلع گورداسپور کی طرف آئیے۔ کیا یہ مسلم اکثریت کا علاقہ نہیں تھا۔ اس میں
کوئی شک نہیں کہ اس ضلع میں مسلم اکثریت بہت معمولی تھی، لیکن پٹھانکوٹ تحصیل اگر بھارت میں شامل کر دی جاتی تو باقی ضلع میں مسلم اکثریت کا تناسب خود بخود بڑھ جاتا۔
مزید برآں مسلم اکثریت کی تحصیل شکر گڑھ کو تقسیم کرنے کی مجبوری کیوں پیش آئی۔ اگر اس تحصیل کو تقسیم کرنا ضروری تھا تو دریائے راوی کی قدرتی سرحد یا اس کے ایک معاون نالے کو کیوں نہ قبول کیا گیا، بلکہ اس مقام سے اس نالے کے مغربی کنارے کو سرحد قرار دیا گیا، جہاں یہ نالہ ریاست کشمیر سے صوبہ پنجاب میں داخل ہوتا ہے۔ کیا گورداسپور کو اس لیے بھارت میں شامل کیا گیا کہ اس وقت بھی بھارت کو کشمیر سے منسلک رکھنے کا عزم و ارادہ تھا۔
اس ضمن میں، میں ایک بہت ناگوار واقعہ کا ذکر کرنے پر مجبور ہوں۔ میرے لیے یہ بات ہمیشہ ناقابل فہم رہی ہے کہ قادیانیوں نے علیحدہ نمائندگی کا کیوں اہتمام کیا۔ اگر
قادیانیوں کو مسلم لیگ کے موقف سے اتفاق نہ ہوتا تو ان کی طرف سے علیحدہ نمائندگی کی ضرورت ایک افسوسناک امکان کے طور پر سمجھ میں آ سکتی تھی۔ شاید وہ علیحدہ ترجمانی سے مسلم لیگ کے موقف کو تقویت پہنچانا چاہتے تھے۔ لیکن اس سلسلہ میں انہوں نے شکر گڑھ کے مختلف حصوں کے لیے حقائق اور اعداد و شمار پیش کیے۔ اس طرح قادیانیوں نے یہ پہلو اہم بنا دیا کہ نالہ بھین اور نالہ بستر کے درمیانی علاقہ میں غیر مسلم اکثریت میں ہیں اور اسی دعویٰ کے لیے دلیل میسر کر دی کہ اگر نالہ اجھ اور نالہ بھین کا درمیانی علاقہ از خود بھارت کے حصہ میں آ جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علاقہ ہمارے (پاکستان) کے حصے میں آ گیا ہے، لیکن گورداسپور کے متعلق قادیانیوں نے اس وقت ہمارے لیے سخت مخمصہ پیدا کر دیا ۔“
(روزنامہ ”نوائے وقت“ 7 جولائی 1964ء)
1953ء کی تحریک ختم نبوت کے متعلق حالات و واقعات کی تحقیقات کرنے والی عدالت میں باؤنڈری کمیشن کے روبرو قادیانی جماعت کی دوغلی پالیسی کا کردار سامنے آیا تھا۔ قادیانیوں نے اس الزام کے جواب میں واقعات کا سرے سے انکار کیا تھا۔ حد یہ کہ تحقیقاتی عدالت کے ایک رکن چیف جسٹس منیر نے قادیانیوں کی صفائی میں قادیانیوں سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور بڑے تند و تیز لہجے میں الزام عائد کرنے والوں کا استخفاف کیا تھا لیکن دس گیارہ برس کے بعد منیر صاحب کو ہوش آیا یا شاید حالات نے ثابت کر دکھایا کہ قادیانی جماعت پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد نہ تھے، بلکہ وہ حقائق پر مبنی تھے۔
ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ سر ظفر اللہ خان نے تقسیم کے عمل میں کس قدر گھناؤنا کردار ادا کیا۔ روزنامہ ”مشرق“ کے ایک اداریہ سے قادیانی جماعت کے راہنما چوہدری ظفر اللہ خان کے منافقانہ کردار اور خبث باطن کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
- ❑ ”بھارت کے مشہور اخبار ”ہندوستان ٹائمز“ میں بھارت کے سابق کمشنر سری
پرکاش کی قسط وار خود نوشت سوانح عمری چھپ رہی ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور عالمی عدالت کے جج سر ظفر اللہ کے بارے میں لکھا ہے کہ 1947ء میں انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو بیوقوف قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر پاکستان بن گیا تو اس سے ہندوؤں سے زیادہ مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔“ مسٹر سری پرکاش نے مزید لکھا ہے کہ ”کچھ عرصہ بعد جب کراچی میں سر ظفر اللہ خان سے ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے پوچھا
کہ اب قائد اعظم اور پاکستان کے بارے میں کیا خیال ہے تو انہوں نے کہا ”میرا جواب اب بھی وہی ہے جو پہلے دن تھا۔“ (روزنامہ مشرق لاہور 15 فروری 1964ء)
تقسیم ہند کے وقت مسلمان 51 فیصد تھے، ہندو 49 فیصد قادیانی 2 فیصد جب یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے تو مسلمان 51 کی بجائے 49 فیصد ہو گئے۔ اس سے گورداسپور جاتا رہا اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔
معروف مسلم لیگی رہنما جناب میاں امیر الدین نے اپنے ایک انٹرویو میں اس امر کا اعتراف کیا کہ ”باؤنڈری کمیشن کے مرحلہ پر سر ظفر اللہ خاں کو مسلم لیگ کا وکیل بنانا مسلم لیگ کی بہت بڑی غلطی تھی۔ اس نے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ پٹھان کوٹ کا علاقہ قادیانی سازش کی بناء پر پاکستان کی بجائے ہندوستان میں شامل ہوا۔“ (ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور، جلد 37 شمارہ نمبر 32/31، 6 تا 13 اگست 1984ء)
اقتدار حاصل کرنے کے قادیانی ارادے
قادیانیت مذہب کے لبادے میں ایک سیاسی تحریک ہے جو بیرونی طاقتوں کی مدد سے پاکستان میں اپنے غلبہ و اقتدار کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہی ہے۔ اس کا مقصد اہم ترین محکموں مثلاً دفاع، خزانہ اور امور خارجہ پر دسترس حاصل کر کے مسلمانوں کے تمام سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق غصب کرنا ہے۔ اس حیثیت سے قادیانی گروہ نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں بلکہ عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کے خلاف بھی اس کے جذبات سخت معاندانہ ہیں۔ عالمی سطح پر اس گروہ کا ان تمام عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے جو مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ اندرون ملک بھی یہ ان عناصر کی تائید کرتے ہیں جو مسلمانوں کے ملّی وجود کے مخالف ہیں۔
قادیانی خلیفہ مرزا محمود کے درج ذیل بیانات قادیانی عزائم کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں:
- ”اصل تو یہ ہے ہم نہ تو انگریز کی حکومت چاہتے ہیں اور نہ ہندوؤں کی۔ ہم تو
احمدیت کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔“ (روزنامہ الفضل قادیان 14 فروری 1922ء)
- ”پس ہمیں معلوم نہیں، ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں
اپنی طرف سے تیار رہنا چاہیے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔“ (روزنامہ الفضل قادیان 2 مارچ 1922ء)
- ”ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس پر پوری طرح عمل کرے (اس طرح کہ) جو اصحاب
بندوق کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں، وہ بندوق کا لائسنس حاصل کریں اور جہاں جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے وہاں تلوار رکھیں لیکن جہاں اس کی بھی اجازت نہ ہو، وہاں لاٹھی ضرور رکھنی چاہیے۔“ (روزنامہ الفضل قادیان 2 مئی 1935ء)
قادیانی جماعت پاکستان میں اپنے اقتدار کے لیے سرتوڑ کوششیں کرتی رہی۔ 22 جولائی 1948ء کو قادیانی خلیفہ مرزا محمود ایک سیاسی مقصد کی تکمیل کے لیے بلوچستان گیا جہاں اس نے صوبہ بلوچستان کو ایک قادیانی صوبہ بنانے کا اعلان کیا تاکہ اس کی بنیاد پر پاکستان کے دوسرے علاقوں میں قادیانیت کو پھیلایا جاسکے۔ مرزا محمود نے کہا:
- □ ”بلوچستان کی آبادی پانچ چھ لاکھ ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے
آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلدی احمدی بنایا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد رکھو! تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہماری (Base) مضبوط نہ ہو۔ پہلے بیس مضبوط ہو تو پھر تبلیغ پھیلتی ہے۔ بس پہلے اپنی (Base) مضبوط کرلو۔ کسی نہ کسی جگہ اپنی (Base) بنا لو، کسی ملک میں ہی بنا لو...... اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔“
(روزنامہ الفضل ربوہ 13 اگست 1948ء)
مزید کہا:
- □ ”میں یہ جانتا ہوں کہ اب یہ صوبہ کبھی بھی ہمارے ہاتھوں سے بچ نہیں سکتا، یہ ہمارا
شکار ضرور ہوگا۔ اگر دنیا کی تمام قومیں بھی متحد ہو جائیں تو اس خطے کو ہم سے نہیں چھین سکتیں۔“
(روزنامہ الفضل ربوہ 22 اکتوبر، 1948ء)
امریکہ میں جو مقام یہودیوں کو حاصل ہے وہی قادیانیوں نے پاکستان میں حاصل کرنا چاہا۔ اپنے غلبہ و اقتدار کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے قادیانی قیادت نے اپنے کارکنوں کو سرکاری محکموں میں بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا اور پھر اپنے اس سرکاری اثر و رسوخ کو قادیانیت کے فروغ اور استحکام کے لیے استعمال کیا۔ وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں قادیانی اپنی سرکاری حیثیت سے ناجائز فائدے اٹھانے میں اس حد تک بدنام ہوا کہ 1953ء میں اس کے خلاف ملک بھر میں زبردست احتجاج ہوا اور عوامی سطح پر اس کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس تحریک کے دوران معلوم ہوا کہ سر ظفر اللہ خاں کا وزیر خارجہ کی حیثیت سے تقرر لیگی قیادت
کی آزاد مرضی سے نہیں ہوا تھا بلکہ اس کا یہ تقرر برطانوی سامراج کے دباؤ کا نتیجہ تھا اور اس کے عرصہ وزارت میں اسے اسلام دشمن طاقتوں کا مکمل تحفظ حاصل رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سر ظفر اللہ خاں کے دور وزارت میں بیرون ممالک تمام پاکستانی سفارت خانوں میں ان کی سفارش پر یہودی لڑکیوں کو ملازم رکھا گیا جس سے اسلامی ممالک میں پاکستان کی بہت جگ ہنسائی ہوئی۔ اس وجہ سے بعض عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ رہے۔ علاوہ ازیں بیرونی دنیا میں پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے اس قدر قادیانی لٹریچر تقسیم کیا گیا کہ قادیانیت کو ہی پاکستان کا سرکاری مذہب سمجھا جاتا تھا۔ سر ظفر اللہ خاں نے اپنے خلیفہ مرزا محمود کے حکم پر بیرون ممالک تمام سفارتخانوں میں چن چن کر قادیانیوں کو بھرتی کیا جو قادیانیت کی تبلیغ کے لیے دن رات کام کرتے تھے۔ روز نامہ ”نوائے وقت“ کے بانی جناب حمید نظامی مرحوم نے کہا تھا کہ غیر ممالک میں پاکستان کے ”سفارت خانے“ تبلیغ مرزائیت کے اڈے اور ان کے جماعتی دفاتر معلوم ہوتے ہیں۔ سر ظفر اللہ نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے جب جزائر عرب الہند کا دورہ کیا تو اس نے مختلف تقریبات میں جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کا آخر الزمان نبی کی حیثیت سے تعارف کرایا۔ سر ظفر اللہ خاں کی انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ 1950ء میں تقریباً 40 ممالک میں قادیانیوں کے 126 مشن کام کر رہے تھے، ان میں سے ایک اسرائیل میں بھی ہے۔
ریاست کے اندر ریاست
پاکستان میں قادیانی جماعت کا مرکز ضلع جھنگ میں چنیوٹ سے پانچ میل کے فاصلے پر دریائے چناب کے پار ”ربوہ“ (اب چناب نگر) کے نام سے آباد ہے۔ ربوہ کے معنی بلند مقام یا پہاڑی کے ہیں۔ چنیوٹ سے جانے والی لائن اس زمین میں سے گزرتی ہے۔ یہ جگہ فیصل آباد اور سرگودھا کے عین وسط میں واقع ہے۔ گورنر پنجاب سر فرانس موڈی واضح طور پر قادیانیوں کی طرف جھکاؤ رکھتا تھا۔ سر ظفر اللہ خاں کی سفارش پر ربوہ کی 1033 ایکڑ زمین (ایک آنہ فی مرلہ کے حساب سے) قادیانیوں کو 100 سالہ لیز پر دی گئی۔ یہ جگہ ان کے لیے حفاظتی نقطہ نظر سے بھی بہت اہم ہے۔ قادیانی ریاست کے لیے جگہ کا انتخاب کرتے وقت انہوں نے تمام اہم ممکنہ پہلوؤں کو پوری طرح مدنظر رکھا تھا۔ 20 ستمبر 1948ء کو اس شہر کا افتتاح قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے کیا۔ قادیانی قیادت نے حکومت سے لیز پر لی گئی اس اراضی
کو ہزاروں رہائشی اور کمرشل پلاٹوں میں تقسیم کر کے اربوں روپے کمائے۔
چناب نگر، ربوہ، قادیانی ریاست کا ہیڈکوارٹر ہے جس میں 1974ء سے پہلے کوئی مسلمان داخل نہ ہو سکتا تھا۔ اب بھی اگر کوئی مسلمان ربوہ شہر میں داخل ہو تو اس کے پیچھے قادیانی سی آئی ڈی لگ جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف پوچھ گچھ ہوتی ہے بلکہ اس کی تمام حرکات و سکنات کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ربوہ ایک ایسا واحد شہر ہے جہاں کوئی مسلمان نہ اپنا مکان خرید سکتا ہے اور نہ وہاں قادیانیوں کی اجازت کے بغیر رات قیام کر سکتا ہے۔ حیرت ہے کہ جب کوئی قادیانی اسلام قبول کرتا ہے تو اس پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جانے کے بعد اسے ربوہ سے نکال دیا جاتا ہے۔ اسے یہ بھی حق حاصل نہیں کہ وہ پوری زندگی کی جمع پونجی سے بنائے گئے اپنے مکان کو فروخت کر سکے، کیونکہ وہاں کی ساری زمین قادیانی انجمن کے نام رجسٹرڈ ہے۔
29 مئی 1974ء کے سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لیے حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس کے ایم صمدانی پر مشتمل ایک رکنی ٹربیونل قائم کیا۔ جسٹس صمدانی 20 جولائی 1974ء کو ربوہ گئے تاکہ جائے وقوعہ کا معائنہ کر سکیں۔ گواہوں کے بیانات اور موقع پر ملنے والی شہادتوں کی روشنی میں دوسری معلومات حاصل کر سکیں۔ جسٹس صمدانی وہاں ساڑھے پانچ گھنٹے کے قریب ٹھہرے۔ ان کے ساتھ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، وکلا اور صحافی حضرات بھی تھے۔ اس موقع پر جو خاص باتیں دیکھنے میں آئیں، وہ نہایت چشم کشا ہیں:
جسٹس صمدانی کی آمد پر ائیر مارشل ظفر چودھری قادیانی کی قیادت میں سرگودھا ائیر بیس سے اڑنے والے پاک فضائیہ کے 3 طیارے گھن گرج کے ساتھ فضا میں نمودار ہوئے، انہوں نے انتہائی نیچی پرواز کی اور قلابازیاں کھاتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ نجانے وہ کیا پیغام دینا چاہتے تھے؟ ربوہ شہر میں تمام سرکاری اور نجی دفاتر میں جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی تصاویر آویزاں تھیں۔ البتہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ کی تصویر کہیں بھی آویزاں نہ تھی۔ ربوہ میں کہیں بھی پاکستان کا پرچم نظر نہ آیا۔ اس کے برعکس قصر خلافت پر قادیانی جماعت کا اپنا مخصوص جھنڈا ”لوائے احمدیت“ لہرا رہا تھا۔ ناظر امور عامہ (وزیر داخلہ) کے دفتر کے معائنہ کے دوران جب ریکارڈ اور فائلیں دیکھی گئیں تو بتلایا گیا کہ اختلافات وغیرہ کی صورت میں آخری فیصلہ خلیفہ ربوہ کا ہوتا ہے۔
ٹربیونل نے ربوہ کی پولیس چوکی کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں کسی جرم کی
رپورٹ یا ایف آئی آر درج نہیں۔ اس موقعہ پر تھانہ ’لالیاں‘ کے ایس ایچ او نے اعتراف کیا کہ ہمارا نظام محکمہ ’ربوہ‘ کا مرہون منت ہے۔ ہم بوجوہ اپنے طور پر کچھ نہیں کر سکتے۔ ربوہ کی بیشتر عمارات پر قادیانی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا گیا۔ ربوہ شہر کی دیواروں پر ”غلام احمد کی جے“، احمدیت زندہ باد اور God is coming by His army ایسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد جسٹس صمدانی نے قادیانیوں کی نام نہاد جنت اور دوزخ دیکھی۔ یہ دراصل دو قبرستان ہیں۔ عرف عام میں چار دیواری کے اندر واقع قبرستان کو جنت اور باہر عام قبرستان کو دوزخ کہا جاتا ہے۔ جو قادیانی اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا 20 فیصد قادیانی جماعت کو دینے کی وصیت کرے، وہ قادیانی ”جنت“ میں دفن ہوتا ہے اور جو قادیانی ایسی کوئی وصیت نہ کرے، وہ ”دوزخ“ میں دفن ہوتا ہے۔ جب جسٹس صمدانی قادیانی خلیفہ مرزا محمود اور نصرت بیگم کی
قبروں پر گئے تو ان پر لگے ہوئے کتبہ پر لکھی ہوئی درج ذیل عبارت دیکھ کر بے حد پریشان ہوئے:
”ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح ثانی مرزا بشیر الدین محمود“
- ”جماعت کو نصیحت ہے کہ جب بھی ان کو توفیق ملے، حضرت ام المومنین (مرزا
قادیانی کی بیوی) اور دوسرے اہل بیت (مرزا قادیانی کے گھر والے) کی نعشوں کو مقبرہ بہشتی
قادیان میں لے کر جا کر دفن کریں، چونکہ مقبرہ بہشتی کا قیام اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہوا ہے، اس میں حضرت ام المومنین اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دفن کرنے کی پیشگوئی ہے، اس لیے یہ بات فرض کے طور پر ہے، جماعت کو اسے کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔‘‘
صحافیوں نے جسٹس صمدانی سے کہا کہ مرزا محمود کی وفات کے وقت بھی قادیانی اس کی لاش قادیان لے جاسکتے تھے۔ اس سلسلے میں قادیانی قیادت اگر درخواست کرتی تو بھارت اور پاکستان کی دونوں حکومتیں بخوشی اس کی اجازت دے دیتیں۔ لیکن یہ میتوں کو موزوں وقت پر قادیان لے جانا، چہ معنی دارد؟ اس موزوں وقت سے کیا مراد ہو سکتی ہے۔ جسٹس صاحب کو بتایا گیا کہ اس کی بنیاد مرزا محمود کے وہ بیانات ہیں جو قادیانی روزنامہ ”الفضل“ میں شائع ہوئے تھے۔ مرزا بشیر الدین محمود نے کہا تھا:
- ”ہندوستان جیسی مضبوط بیس جس قوم کو مل جائے، اس کی کامیابی میں کوئی شک
نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی اس مشیت سے کہ اس نے احمدیت کے لیے اتنی وسیع بیس مہیا کی ہے پتہ لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک سٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں تا ملک کے حصے بخرے نہ ہوں بے شک یہ کام بہت مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں تا احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے چنانچہ اس رویا میں اسی طرف اشارہ ہے، ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہو، اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے۔“
(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 5 اپریل 1947ء صفحہ 3)
- ”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی
ہے، لیکن اگر قوموں کی غیر معمولی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے تو یہ اور بات ہے، بسا اوقات عضو ماؤف کو ڈاکٹر کاٹ دینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں لیکن یہ خوشی سے نہیں ہوتا بلکہ مجبوری اور معذوری کے عالم میں اور صرف اسی وقت جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو۔ اور اگر پھر یہ معلوم ہو جائے کہ اس ماؤف عضو کی جگہ نیا لگ سکتا ہے تو کون جاہل انسان اس کے لیے کوشش نہیں کرے گا۔ اس طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضا مند ہوئے ہیں تو خوشی سے
نہیں بلکہ مجبوری سے، اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائے۔“
(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 16 مئی 1947ء صفحہ 2)
اسی طرح قادیانی خلیفہ مرزا طاہر نے لندن کے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:
”اللہ تعالیٰ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کو تباہ کر دے گا۔
آپ بے فکر رہیں۔ چند دنوں میں آپ خوشخبری سنیں گے کہ یہ ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہو گیا ہے۔“ (ہفت روزہ چٹان 16 اگست 1984ء، جلد 39 شمارہ 31)
یہ ایک حقیقت ہے کہ قادیانی آزادی سے پہلے پاکستان کے کھلے دشمن تھے اور پاکستان بننے کے بعد بھی وہ اس کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے۔ مذکورہ بالا اقتباسات پاکستان کے خلاف قادیانیوں کی بھیانک سازشوں کے بین ثبوت ہیں۔ اس سے بڑی غداری اور بغاوت اور کیا ہو سکتی ہے۔ انھیں پڑھنے کے بعد ہر محب وطن پاکستانی کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ ہر قادیانی سب سے پہلے اپنی جماعت اور خلیفہ کا وفادار ہے، بعد میں کسی اور کا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے خلیفہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا کر اپنا فرض پورا کر رہے ہیں تا کہ یہ جلد ختم ہو کر اکھنڈ بھارت بن جائے یوں ان کے خلیفہ کا خواب پورا ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ ہے پاک فوج کو قادیانیوں سے پاک کیا جائے کیونکہ وہ جہاد کے منکر ہیں جبکہ جہاد ہماری فوج کا موٹو ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کے خلاف جنگ میں پاک فوج میں شامل قادیانی کیا کردار ادا کریں گے؟ اپنے کمانڈر کا حکم مانیں گے یا اپنے خلیفہ کا؟ قادیانی بتائیں کہ کیا مذکورہ بالا اقتباسات پاکستان سے غداری ہیں یا حب الوطنی؟؟
ربوہ باقاعدہ ایک قادیانی سٹیٹ ہے۔ وہاں ایوان صدر کے مقابلہ میں ایوان محمود، وزارت کے مقابلہ میں نظارت اور وزیر کے مقابلہ میں ناظر ہے۔ قادیانی ریاست میں قائم چند نظارتوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
نظارت علیا یعنی امور اعلیٰ، نظارت امور عامہ، نظارت امور خارجہ، نظارت اصلاح و ارشاد، نظارت دیوان، نظارت بیت المال، نظارت تعلیم، نظارت ضیافت، نظارت صنعت و تجارت، نظارت زراعت، نظارت حفاظت مرکز، محکمہ قضا (عدالت)۔
ہر نظارت کے امور کی نگرانی متعلقہ ناظر کے ذمہ ہوتی ہے۔ ناظران کے
اختیارات و فرائض اور ان کے تقرر اور برخاست کا آخری اختیار قادیانی خلیفہ کے پاس ہوتا ہے۔ ان سب نظارتوں میں تین بہت اہم نظارتیں ہیں جن کے سربراہوں (ناظر) کے پاس بہت اختیارات ہوتے ہیں۔ ناظر اعلیٰ جسے قادیانی ریاست کا وزیراعظم بھی کہا جاتا ہے، کے پاس تمام محکمہ جات کے کاموں کی نگرانی ہوتی ہے اور وہ خلیفہ اور صدر انجمن احمدیہ (کابینہ) کے درمیان واسطہ ہوتا ہے۔ قادیانی خلیفہ عموماً، ناظر اعلیٰ اس شخص کو مقرر کرتا ہے جس میں ذاتی رائے کا مادہ مفقود ہو اور وہ خلیفہ کے ہر جائز اور ناجائز حکم پر سر تسلیم خم کرے۔ ناظر امور عامہ کو عموماً وزیر داخلہ کہا جاتا ہے جس کے ذمہ امن وامان، فوجداری مقدمات، سزاؤں پر عملدرآمد، پولیس، حکومت اور پریس سے روابط قائم کرنا ہے۔ ناظر امور خارجہ کو عموماً وزیر خارجہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ذمہ اندرون ملک اور بیرون ممالک خلیفہ ربوہ کی تبلیغی، سیاسی اور جوڑ توڑ کی کارروائیوں کے معاملات طے کرنا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے حساس اداروں نے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ مشرقی پنجاب (بھارت) کے قصبے قادیان میں بھارتی حکومت نے ایک کیمپ قائم کیا ہے۔ بھارتی خفیہ ادارے ریسرچ اینڈ انالیسز ونگ (را) کی زیر نگرانی چلنے والے اس کیمپ میں پاکستان سے آنے والے نوجوانوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو جماعت احمدیہ کے توسط سے قادیان بھیجا جاتا ہے۔ ان نوجوانوں کو قادیان جانے سے پہلے اور واپسی پر انہی سرحدی علاقوں میں قادیانیوں کے گھروں میں پناہ دی جاتی ہے اور بنیادی نوعیت کی معلومات اور تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ یہ دہشت گرد جرائم کرنے کے بعد انہی علاقوں میں پناہ بھی لیتے ہیں۔ (ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی، 12 جولائی 2000ء)
قادیانیوں نے اپنے سیاسی غلبہ کے لیے جو منصوبہ تشکیل دیا ہے، اس منصوبے کی تکمیل کے لیے وہ جس طرح اپنے آپ کو منظم کیے ہوئے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ جس پیمانے پر کثیر سرمایہ خرچ کر رہے ہیں، اسے دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں اس گروہ نے ریاست کے اندر اپنی ایک الگ ریاست قائم کر رکھی ہے۔ قادیانیوں کی یہ ریاست بظاہر غیر مرئی ہے مگر حقیقتاً بڑی طاقتور ہے۔ اس ریاست کی تنظیم اور اس کے کام کی ٹیکنیک یہودیوں کی عالمی تنظیم ”فری میسن“ سے ملتی جلتی ہے۔ قادیانیوں نے اپنے مقصد کے حصول
کے لیے اپنے آپ کو سات بڑی تنظیموں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ دراصل ربوہ کی غیر مرئی ریاست کے سات بڑے محکمے ہیں۔ ان محکموں کا مختصر سا جائزہ حسب ذیل ہے:۔ صدر انجمن احمدیہ ربوہ: یہ مرکزی انجمن ہے اس کے زیر انتظام کئی شعبے ہیں جن میں چند ایک یہ ہیں:۔ نظارت علیا یعنی امور اعلیٰ، نظارت امور عامہ، نظارت امور خارجہ، نظارت اصلاح و ارشاد، نظارت دیوان، نظارت بیت المال، نظارت تعلیم، نظارت ضیافت، نظارت صنعت و تجارت، نظارت زراعت، نظارت حفاظت مرکز، محکمہ قضا (عدالت)، نظارت تصنیف و اشاعت، نظارت افتاء، نظارت بہشتی مقبرہ۔
تحریک جدید: یہ تحریک 1934ء میں شروع کی گئی۔ اس کے 35 مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے قیام کا مقصد تبلیغ، ترغیب اور لالچ کے ذریعے قادیانی گروہ کی عددی حیثیت کو ترقی دینا ہے۔
وقف جدید: یہ قادیانی محکمہ 1958ء میں قائم کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ وقف ایسے افراد تیار کرے گا، جو مختلف محکموں میں بھرتی ہوں گے اور قادیانی تبلیغ کا کام کریں گے۔
انصار اللہ: اس تنظیم کا مقصد ”خلافت“ کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ نیم عسکری تنظیم ہے۔ اس کے محکموں اور ان کے قائدین کی تقسیم کچھ اس طرح کی ہے:۔ قائد عمومی، قائد مال، قائد تعلیم، قائد تربیت، قائد خدمت خلق اور قائد صحت و صفائی۔
خدام الاحمدیہ: یہ قادیانیوں کی سب سے اہم تنظیم ہے۔ جس کا دائرہ کار قصبہ ربوہ سے اعلیٰ حکومتی حلقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی کمان براہ راست قادیانی خلیفہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو اپنے حکم پر ناظر امور عامہ کے ذریعے عمل کرواتا ہے۔ یہ تنظیم چناب نگر (ربوہ) میں دہشت کی علامت ہے۔ قادیان اور ربوہ میں خلافتی نظام کی کامیابی کے لیے یہ تنظیم طاقت کے استعمال سے کام لیتی ہے۔ اس تنظیم کے اراکین ہر وقت جدید ترین اسلحہ سے لیس ہوتے ہیں۔ روزانہ صبح باقاعدگی سے فوجی انداز میں پریڈ کر کے اپنے آپ کو چاق و چوبند رکھتے ہیں، کوڈ ورڈز (Code Words) میں اپنے خفیہ پیغامات ایک دوسرے کو منتقل کرتے ہیں۔ اس تنظیم میں شامل نوجوانوں کو کمانڈوز کی طرز پر فائرنگ، نشانہ بازی اور تشدد کے جدید گر سکھائے جاتے ہیں۔ خدام الاحمدیہ دراصل فرقان بٹالین (قادیانی فوجیوں کی ایک جداگانہ تنظیم) کو توڑنے کے بعد قائم کی گئی اور بٹالین کے تمام فوجی خدام الاحمدیہ میں آگئے۔
لجنۃ اماء اللہ: یہ قادیانی خواتین کی انجمن کا نام ہے۔
اطفال الاحمدیہ و ناصرات الاحمدیہ: یہ دونوں تنظیمیں قادیانی بچوں پر مشتمل ہیں۔ اس کے علاوہ ربوہ سے قادیانیوں کے کئی ایک اخبارات و رسائل باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں جن میں اسلام اور پاکستان کے خلاف مسلسل زہر اگلا جاتا ہے۔
قادیانیوں کے اس تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالنے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ گروہ صرف ”امت کے اندر امت“ ہی کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہ مذہبی لبادے میں ریاست کے اندر ریاست عملاً قائم کیے ہوئے ہے جو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے قومی اور ملکی وسائل بے دریغ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ہر سال ایک ارب روپے سے زائد صرف کر رہا ہے۔
”چناب نگر سے ناجائز اسلحہ کی برآمدگی“ کے عنوان سے ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت ملتان“ نے اپنے اداریہ میں لکھا:
”قادیانیت کی پوری تاریخ دہشت گردی، قتل و غارت گری اور شر انگیزی سے بھری پڑی ہے۔ شاید اسی لیے (Love for all) اور (Humanity First) جیسے سلوگن استعمال کر کے اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی قادیانی کوششیں بین الاقوامی سطح پر جاری ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چناب نگر (سابق ربوہ) سے پولیس نے بڑے پیمانے پر ناجائز اسلحہ، منشیات، ڈی سی اسلام آباد کی بجائے ڈی سی او اسلام آباد کی مہریں اور کئی دیگر حساس دستاویزات برآمد کر کے 6 قادیانی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ محکمہ ایکسائز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی سے ملزمان قانون نافذ کرنے والے ادارے کی گرفت میں آئے جو کہ قابل تحسین کارروائی ہے۔ پولیس نے کثیر مقدار میں منشیات، جعلی شناختی کارڈ، مہریں، اسلحہ اور دیگر جعلی دستاویزات برآمد کر کے 6 افراد کو موقع پر گرفتار کر کے تھانہ چناب نگر میں ملزمان کے خلاف زیر دفعہ 471, 468, 420 A013, 20/65, CNSA / 9B مقدمہ نمبر 365 درج کر کے ضابطے کی کارروائی اور تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ عمل قابل ذکر ہے کہ پولیس تھانہ چناب نگر نے جب چھاپہ مارا تو اس وقت قادیانی ملزم عطاء المجیب ولد عبدالرحیم کی جامہ تلاشی لی گئی تو اس سے 540 گرام چرس 5 عدد فرضی لائسنس نمبر 35432، 35438، 35435، 35439، 35431 ناجائز اسلحہ اور جعلی مہر لگانے والے جدید آلات اور مشین برآمد کر لیے گئے۔ ایک دوسرے قادیانی ملزم عزیز الرحمن نے دوران تفتیش اقرار کیا کہ ”ہمارا گروہ جعلی لائسنس بنانے کے لیے صوبہ خیبر پختونخواہ سے منشیات و اسلحہ لاتا ہے اور رائفلوں،
پسٹلز اور دیگر اسلحہ پر ان کے پرانے نمبر رگڑ کر نئے نمبر لگا کر جعلی لائسنس تیار کرتے ہیں۔“ یہ وقوعہ رسوائے زمانہ ضیاء الاسلام پریس میں ہوا اور برآمدگی قادیانی گروہ کے اہم ترین ارکان سے ہوئی۔ چناب نگر پولیس نے بھاری رقم لے کر تین قادیانی ملزمان کو چھوڑ دیا ہے اور ذرائع کے مطابق قادیانی جماعت نے کیس پر اثر انداز ہونے کے لیے پولیس اور بعض سرکاری افسران کو بھاری رقوم دی ہیں۔ اس بات کی نشاندہی اور انکشاف بھی ہوا ہے کہ شہر میں جگہ جگہ قادیانی ناکوں اور چیک پوسٹوں پر موجود سکیورٹی اہل کار اسی قسم کے اسلحہ سے لیس ہیں جو خطرناک حد تک جعل سازی کے ذریعے ربوہ میں لایا جاتا ہے۔ ہمیں جرائم کے خفیہ قادیانی اڈے ضیاء الاسلام پریس سے ناجائز اسلحے اور منشیات کی برآمدگی پر ہرگز کوئی حیرت نہیں بلکہ اس سے دینی حلقوں کے خدشات کو تقویت ملی ہے کہ ربوہ میں قادیانی جماعت کے ہیڈ کوارٹر اور ذیلی دفاتر میں اسلحہ کے ڈپو قائم ہیں اور ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کے ڈانڈے ربوہ میں ملتے ہیں۔ اتنی بڑی مقدار میں غیر قانونی اسلحہ، منشیات کی برآمدگی، فرضی شناختی کارڈز، سرکاری مہریں اور بعض اہم ترین حساس دستاویزات کی برآمدگی حکومتی رٹ پر خطرناک سوالیہ نشان ہے؟
پاکستان بننے کے بعد قادیانی جماعت کو 1033 ایکڑ رقبہ کوڑیوں کے بھاؤ لیز پر دیا گیا تھا لیکن اب قادیانی جماعت اصل رقبے سے تین گنا زائد رقبے پر ناجائز قابض ہے۔ مقامی، ضلعی، ڈویژنل انتظامیہ اور پولیس قادیانی قبضوں کی مکمل سرپرستی کر کے لاقانونیت اور قادیانیت نوازی کا بدترین مظاہرہ کر رہی ہے۔ صوبائی و مرکزی حکومتوں نے چناب نگر میں سرکاری رٹ قائم نہ کی، اپنی غیر جانبداری کو یقینی نہ بنایا تو ایک لاوا اندر ہی اندر پک رہا ہے جو پھٹ گیا تو ہولناک کشیدگی جنم لے گی۔ سندھ میں سیکرٹری وزارت داخلہ سکہ بند قادیانی کو بٹھا دیا گیا ہے جو کراچی کے حالات کو مزید بگاڑ رہا ہے۔ تمام دینی حلقوں اور محب وطن جماعتوں کی پختہ رائے ہے کہ ربوہ میں غیر جانبدار آپریشن کے ذریعے غیر قانونی اسلحہ برآمد کرنے کی ضرورت پہلے سے بھی کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ حالات و واقعات ہمارے خدشات کو یقینی بنا رہے ہیں۔ ارباب اختیار کو مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
(ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان، اکتوبر، 2011ء)
معروف صحافی جناب سیف اللہ خالد قادیانیوں کی زیر زمین سرگرمیوں کے بارے میں اپنی ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”چناب نگر کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں صرف قادیانی مسلح ہی نہیں بلکہ
انہوں نے غیر قانونی طور پر اپنے چار گروپوں کو بھاری ہتھیاروں سے بھی لیس کر رکھا ہے اور یہ چار گروپ پورے شہر پر قابض ہیں جن کی وجہ سے ریاست کے اندر ریاست کا معاملہ قائم ہے۔ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ قادیانیوں نے چناب نگر میں غیر قانونی عبادت گاہوں کا ایک جال پھیلا رکھا ہے۔ یہاں 54 محلے ہیں اور ان میں 120 سے زائد عبادت گاہیں قائم ہیں جن کی اجازت نہیں لی گئی۔ طریقہ واردات اس طرح سے ہے کہ قادیانی تعلیمات پر عملدرآمد کی ذمہ دار ”لجنی مصلیٰ“ کے نام سے ہر گلی کے دونوں نکڑوں پر لجنی ہال تعمیر کیے جاتے ہیں، جن کا مقصد گلی کو سکیورٹی کے بہانے بند کرنے کا جواز، وہاں اپنے مسلح افراد کی تعیناتی اور اسلحہ رکھنے کی جگہ فراہم کرنا ہوتا ہے۔
چناب نگر شہر اس وقت عملی طور پر قادیانیوں کی چار مسلح تنظیموں اور ان سے متعلق انٹیلی جنس یونٹس کے زیر تسلط ہے۔ ان میں ”خدام الاحمدیہ“ کے نام سے ایک تنظیم چناب نگر میں گلی محلے کی سطح کی سکیورٹی اور ابتدائی نوعیت کی پکڑ دھکڑ کرنے کا کام کرتی ہے۔ اس تنظیم کے استعمال کے لیے لجنی ہال دستیاب ہوتے ہیں اور گلی محلے اور گھروں کے اندر کی جاسوسی کے لیے اس تنظیم کا اپنا جاسوس نیٹ ورک بھی ہے، جس میں خواتین بھی شامل ہیں۔ اس تنظیم کے ذریعے قادیانی جماعت لوگوں کے گھروں کی خبریں بھی رکھتی ہے۔ یہی سبب ہے قادیانی غیر قانونی عدلیہ جب کسی شخص کے بائیکاٹ کا حکم دیتی ہے تو اس کا مقاطعہ اس قدر بھر پور ہوتا ہے کہ گھر کے افراد بھی جماعت کے خوف کے سبب اس سے اپنے روابط منقطع کر لیتے ہیں اور خلاف ورزی کی صورت میں انہیں غیر قانونی عدالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سارے عمل کی نگرانی فورم احمدیہ کے ذمہ ہے۔
دوسری تنظیم ”حفاظت مرکز فورس“ کے نام سے کام کرتی ہے جس کے پاس گاڑیاں، بھاری اسلحہ اور جدید مواصلاتی نظام بھی ہے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی اور شہر میں مسلح گشت اس کے فرائض میں شامل ہے۔ یہ تنظیم اپنا انٹیلی جنس سسٹم بھی رکھتی ہے۔ اسے کسی بھی سڑک کو بند کرنے یا کھولنے کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ کسی بھی وقت شہر میں کسی بھی شخص کی تلاشی لینے اور اسے حراست میں لینے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کا درجہ فورم احمدیہ سے بڑا سمجھا جاتا ہے۔
تیسری فورس کا نام ”صدر عمومی فورس“ ہے۔ یعنی چناب نگر کی قادیانی جماعت کے سربراہ کا ذاتی دہشت گرد دستہ جو خصوصی احکامات پر خصوصی کام سر انجام دیتا ہے۔ دستہ میں
شارپ شوٹر اور اسی طرح کے دیگر لوگ شامل ہوتے ہیں۔ اہم قادیانی شخصیات کی حفاظت اور صدر عمومی کے خصوصی آپریشنز اس فورس کی ذمہ داری ہے۔ اس کا اپنا انٹیلی جنس نیٹ ورک نہیں ہے بلکہ یہ اپنے کسی بھی کام کے لیے فورم احمدیہ اور حفاظت مرکز فورس کے انٹیلی جنس نیٹ ورک سے مدد لیتی ہے۔ اس کے علاوہ شہر کے مکمل نظم و نسق کو کنٹرول کرنے کی خاطر امور عامہ فورس قائم کی گئی ہے جو شہر کے اندر اور باہر ہر طرح کے اختیارات رکھتی ہے۔‘‘
(روزنامہ ”امت“ کراچی، 17 مارچ، 2011ء)
قادیانی عدالتی نظام
قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے اپنی جماعت میں ایک عدالتی نظام قائم کیا تھا جس کا نام محکمہ ”دارالقضاء“ ہے۔ محکمہ قضا کے تمام جج (قاضی) خلیفہ خود مقرر کرتا ہے۔ کسی بھی جج کو نااہل قرار دے کر برطرف کرنے کا اختیار بھی خلیفہ ہی کے پاس ہے۔ خلیفہ کسی بھی مقدمہ کی فائل ملاحظہ کرنے کے لیے طلب کر سکتا ہے۔ پاکستان میں ربوہ میں صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں قائم شدہ دارالقضاء نامی یہ عدالت کسی بھی قادیانی کو طلب کرنے، اُس سے کسی بھی متعلقہ معاملہ پر پوچھ گچھ کرنے اور فریقین مقدمہ کے درمیان اپنا فیصلہ صادر کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔ قادیانی Comunity کا Collective Pressure اس عدالت کے فیصلہ کے لیے قوت نافذہ کا کام سر انجام دیتا ہے جو قادیانیوں کے لیے بہت سخت سزا کے طور پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے لیے ہر ممکن انسانی و غیر انسانی حربہ اور طریقہ استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اس عدالت دارالقضاء ربوہ کے اپنے جج ہوتے ہیں جنہیں قاضی کے نام سے پکارا جاتا ہے، اپنے وکیل ہوتے ہیں، وکیلوں کی فیس ہوتی ہے، باقاعدہ اور منظم عدالتی طریقہ کار ہوتا ہے۔ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی طرح بنچ بھی تشکیل پاتے ہیں۔ اپنے Personal Laws کے طور پر فقہ احمدیہ نامی ایک کتاب کو Follow کیا جاتا ہے اور ان تمام معاملات کا منتظم اعلیٰ، قادیانی جماعت کا موجودہ سربراہ ہوتا ہے۔ اس کی بات کو ہر لحاظ سے حرفِ آخر تصور کیا جاتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق درست بھی ہے یا نہیں۔
جناب سیف اللہ خالد ایک دوسری رپورٹ میں مزید انکشافات کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”قادیانیوں کی قائم شدہ خود ساختہ عدالتیں ”دارالقضاء“ پاکستان کی آئینی عدلیہ کے متوازی قائم کیا گیا غیر قانونی عدالتی نظام ہے۔ اس کے لیے خود ساختہ قوانین بنائے گئے
ہیں جو حکومت، اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدالتوں کے لیے کھلا چیلنج اور آئین پاکستان سے کھلی بغاوت ہے۔ ان عدالتوں ”دارالقضاء“ میں نہ صرف فوجداری نوعیت کے کیسز بلکہ جائیداد کے جھگڑے ”سول کیس“ اور فیملی کیسز کی بھی باقاعدہ سماعت کی جاتی ہے جس کے باعث کورٹ فیس کی مد میں حکومتی خزانے کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ چناب نگر سمیت پورے ملک اور دنیا میں جہاں جہاں قادیانی بستے ہیں، اپنے کیسز ان غیر قانونی عدالتوں ”دارالقضاء“ میں سماعت کرانے کے پابند ہیں۔ ان نام نہاد عدالتوں ”دارالقضاء“ کا انتظامی ڈھانچہ کچھ یوں ہے۔ ”دارالقضاء“ سلسلہ احمدیہ ربوہ کا سب سے اہم عہدہ صدر بورڈ ”دارالقضاء“ ہے۔ اس کی اجازت اور این اوسی سے ”دارالقضاء“ میں پیش ہونے والے وکیلوں کو باقاعدہ لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔ دیگر اہم عہدوں میں ناظم دارالقضاء اور نائب ناظم دارالقضاء شامل ہیں۔ ان عہدیداران کے علاوہ تقریباً 30 کے قریب قاضی (جج) مقرر ہیں جو روزانہ درجنوں کیسوں کی سماعت کرتے ہیں، اس کے علاوہ ملک کے ہر ضلع میں قاضی (جج) مقرر کیے جاتے ہیں اور پوری دنیا میں جہاں بھی قادیانی آباد ہیں، قاضی (جج) مقرر ہیں لیکن ان تمام ”دارالقضائوں“ عدالتوں کا ہیڈ کوارٹر چناب نگر اور انچارج صدر بورڈ ”دارالقضاء“ ہے۔ جس طرح پاکستان کی آئینی عدالتوں میں ابتدائی سماعت سیشن جج یا سول جج کرتے ہیں، اسی طرح قادیانی ”دارالقضاء“ میں ”قاضی اوّل“ ان کیسوں کی سماعت کر کے فیصلہ سناتا ہے اور اگر کسی فریق کو اس فیصلہ پر اعتراض ہو تو اس کی اپیل 30 یوم میں صدر بورڈ دارالقضاء کو کی جاتی ہے جو کہ بعد از اپیل ”مرافعہ اوّل“ یعنی دو قاضیوں (ججوں) پر مبنی عدالت کے سامنے اس کیس کو سننے کی اجازت دیتا ہے اور دو قاضیوں کی سماعت کے بعد جو فیصلہ ہوتا ہے، اگر اس فیصلے پر بھی کسی کو کوئی اعتراض ہو تو پھر دوبارہ اپیل کی جاتی ہے اور اس کے بعد یہ معاملہ کیس بورڈ مرافعہ ثانیہ یعنی کہ تین قاضیوں (ججوں) کے سامنے سماعت ہوتا ہے اور بعد از سماعت اس فیصلہ پر بھی اگر کسی فریق کو کوئی اعتراض ہو تو پھر صدر بورڈ دارالقضاء، مرافعہ عالیہ یعنی پانچ ججوں پر مشتمل فل کورٹ بورڈ قائم کرتا ہے اور اس سماعت کے بعد ہونے والا فیصلہ بھی حتمی نہیں ہوتا، پھر بھی اگر کسی فریق کو کوئی اعتراض ہو تو وہ حتمی اپیل قادیانیوں کے نام نہاد خلیفہ کے سامنے کر سکتا ہے جس کا حکم اور فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ فیملی کیسز میں بی اے ایل ایل بی
ایڈووکیٹ پیش نہیں ہو سکتے بلکہ صدر بورڈ دارالقضاء کی اجازت سے لائسنس یافتہ قادیانی جماعت کے مربی پیش ہوتے ہیں جن کی فیس دارالقضاء میں پیش ہونے والے دیگر وکلاء کی طرح 2500 روپے، چناب نگر دارالقضاء اور دوسرے اضلاع میں پیش ہونے کے لیے 5000 روپے فی مرحلہ متعین ہے۔ وہ آن دی ریکارڈ اس سے زیادہ فیس نہیں لے سکتے لیکن آف دی ریکارڈ سب چلتا ہے۔ غرض کہ قادیانی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹس کی اکثریت ان عدالتوں میں پریکٹس کرتی ہے اور قادیانی دارالقضاء میں مقرر کردہ قاضیوں میں چند آنریری طور پر اور باقی اکثر تنخواہیں لے کر ان غیر قانونی عدالتوں میں کام کرتے ہیں اور ان کی تنخواہیں صدر انجمن احمدیہ کے خزانے سے دی جاتی ہیں۔ باقاعدہ طور پر دارالقضاء کے لیے ہر سال بجٹ میں ایک خاص رقم مختص کی جاتی ہے۔ چناب نگر کی ان غیر قانونی عدالتوں میں روزانہ کیسوں کی سماعت ہوتی ہے اور عموماً بروز اتوار بورڈز تشکیل دیے جاتے ہیں اور سماعت ہوتی ہے۔ جمعہ کے روز چھٹی ہوتی ہے۔ آئینی عدالتوں کی طرح ان غیر قانونی عدالتوں میں بھی باقاعدہ وکیل، وکالت نامے پیش کرتے ہیں بلکہ وکیل بطور مختار بھی پیش ہوتے ہیں اور زیر سماعت مقدمات کی باقاعدہ مثل بنائی جاتی ہے جن کی نقول کے حصول کے لیے باقاعدہ نقل برانچ بنائی گئی ہے جو سائل سے فی صفحہ 2 روپے نقل فیس وصول کر کے اور کاغذات پر باقاعدہ مہریں اور قاضیوں سے تصدیق کر کے دیتا ہے۔ فوجداری نوعیت کے مقدمات میں دونوں اطراف کے وکیلوں کے دلائل سننے کے علاوہ قاضی، قادیانیوں کے ذیلی محکمے دفتر صدر عمومی اور نظارت امور عامہ دونوں کے عہدیداران سے رپورٹ بھی طلب کرتے ہیں جو کہ آئینی عدالتوں میں پیش ہونے والے پولیس رپورٹ یا چالان کی طرح اس کیس کے متعلقہ فریقین کے متعلق باقاعدہ رپورٹ یا چالان پیش کرتے ہیں اور اگر کوئی کیس جائیداد کے جھگڑے کا ہو تو اس کی رپورٹ قادیانیوں کے دفتر نظام جائیداد کا عملہ اور قادیانیوں کے خود ساختہ پٹواری کرتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ قادیانی عہدیداران جس کسی قادیانی فرد کو حکم عدولی یا نافرمانی پر سزا دینا چاہیں، ان کے ایک حکم پر نام نہاد دارالقضاء کے قاضی مثل مقدمہ کے ریکارڈ میں ردّوبدل بھی کر دیتے ہیں اور شعبہ دفتر صدر عمومی اور نظارت امور عامہ کے عہدیداران کی رپورٹ بھی اس کے خلاف دی جاتی ہے۔ ان جعلسازیوں اور ناانصافیوں کے
خلاف کئی قادیانیوں نے اپیلیں اور احتجاج بھی ریکارڈ کرائے ہیں۔ ان نام نہاد عدالتوں کے کیے ہوئے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے قادیانی جماعت کے شعبہ احتساب، دفتر نظارت امور عامہ، دفتر صدر عمومی، صدوران محلہ جات اور ہر محلہ میں موجود خداموں کی فورس موجود ہے۔ قادیانی فورسز جو کہ نظارت امور عامہ کے ماتحت کام کرتی ہیں اور ان عدالتوں میں سنائی جانے والی سزائیں، مثلاً اخراج شہر، شہر بدر چناب نگر غیر معینہ یا معین کردہ مدت کے لیے، کاروبار کو سیل کر دینا، بند کرا دینا، گھروں کو تالے لگوا دینا بلکہ بعض دفعہ تو گھروں کا سامان اٹھا کر شہر کی حدود سے باہر پھینک آنا، پر عمل کراتی ہیں۔ مقاطعہ کی سزا یعنی قطع تعلق بھی کرایا جاتا ہے جبکہ کوڑوں کی سزا قادیانی جماعت کے دفاتر میں متعین کردہ علاقے میں دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ تشدد کرتے وقت پولیس کے چھتر سے مشابہہ چھتر سے برہنہ کر کے چھترول کرنے کے علاوہ قادیانی ٹارچر سیل میں بند کرنے کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ یہ عقوبت خانے ہر محلے میں موجود ہیں جن کی خبریں متعدد دفعہ قومی اخبارات میں آ چکی ہیں اور ان ٹارچر سیلوں میں خدام الاحمدیہ کے اسرائیلی فوج سے تربیت یافتہ عملے کے علاوہ ہر محلے میں موجود زعیم محلہ بھی اہم رول ادا کرتے ہیں۔ سزاؤں پر سو فیصد عملدرآمد کروانے کے لیے جائیدادیں اور مالی اثاثے بھی ضبط کر لیے جاتے ہیں۔ قادیانیوں کے ”دارالقضاء“ کے قوانین قادیانی مذہب کی خود ساختہ شریعت کے تحت بنائے گئے ہیں۔ لیکن جہاں انہیں ملکی قوانین کا سہارا لینا پڑے تو اس کا سہارا بھی لے لیتے ہیں۔ مختلف اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور چند قادیانیوں کی طرف سے قادیانی دارالقضاء کے فیصلوں کی حیثیت کو ملکی عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کے خوف کے باعث دارالقضاء کے عملے نے قادیانیوں کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے 15 دسمبر 2010ء کے بعد اقرار نامہ ثالثی کے نام سے ایک فارم پرنٹ کیا ہے جس میں واضح طور پر درج ہے کہ میں تنازعہ بعنوان بالا کے حوالے سے ہوش و حواس میں بلا جبر و اکراہ درخواست کرتا ہوں/کرتی ہوں، کہ درالقضاء کے علاوہ کسی اور عدالت میں اپیل نہ کر سکوں گا/گی۔ اس فارم کی اشاعت پر قادیانی معاشرے میں بے چینی میں اضافہ ہوا اور قادیانیوں کی اکثریت اس اقرار نامہ ثالثی کو پر کرنے کی مخالف ہے جس کا مطلب ہے متاثرہ فریقین کے ہاتھ پیر باندھ دینا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملک میں ہر مذہب نے اپنی علیحدہ عدالتیں بنانی شروع کر دیں تو پھر ملک میں آئینی عدلیہ
اور عدالتی نظام کی کیا حیثیت رہ جائے گی اور ان خود ساختہ عدالتوں کے سنائے ہوئے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے لیے جو قانون شکنی اور قتل و غارت ہوگی، اس کا کیا حل ہوگا؟ جبکہ 1973ء کے آئین میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ ملکی عدالتی نظام کے علاوہ کوئی بھی متوازی عدالتی نظام قائم نہیں کیا جاسکتا اور ایسا کرنے والے آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کریں گے جو غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ (روزنامہ ”امت“ کراچی 19 مارچ 2011ء)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے:
- (1) کیا آئین پاکستان اپنی عدالتوں کے موجود ہوتے ہوئے کسی اور Private
عدالت کی اجازت دیتا ہے؟
- (2) کیا قادیانی جماعت کی عدالت دارالقضاء حکومت پاکستان سے منظور شدہ ہے؟
- (3) کیا قادیانی جماعت کی عدالت، حکومت پاکستان کی ذیلی یا حکومت پاکستان کی کسی
عدالت کی ذیلی عدالت ہے؟
اگر ان تمام سوالات کے جوابات ”نہ“ میں ہیں تو یہ بات صاف ظاہر ہے کہ پاکستان میں چناب نگر (ربوہ) صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں قائم شدہ دارالقضاء نامی یہ عدالت نہ صرف غیر آئینی بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔ مزید یہ کہ
- (1) دارالقضاء ربوہ Parallel Private Court کے زمرے میں آتی ہے۔
- (2) Parallel Court System حکومت کی عدالتوں کی موجودگی میں نہیں
چلایا جاسکتا۔
- (3) Parallel Court System رٹ آف گورنمنٹ کو ازخود Challenge
کر دیتا ہے۔
لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جناب چیف جسٹس آف پاکستان
- (1) سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے قادیانی عدالتوں کو Null and Void کر دیں یعنی
غیر موثر قرار دیتے ہوئے بند کردیں اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی شہریت رکھنے والے قادیانیوں کے لیے غیر ممالک کی قادیانی کورٹس کے فیصلے غیر موثر قرار دیے جائیں، تاکہ کسی بھی شکل میں قادیانی عدالتیں کام نہ کرسکیں۔
- (2) اس کے ساتھ ساتھ قادیانی عدالتوں کے فیصلوں کو Implement کرنے والے
قادیانی ادارے اُمورِ عامہ کو بھی بند کرایا جائے۔
- (3) قادیانیوں کو آئین پاکستان اور قانون پاکستان کا پابند بنایا جائے تاکہ
Qadyani State within a Government State ختم ہو سکے۔
- (4) قادیانیوں کی شادیاں 1872 Special marriage Act کے تحت حکومت
پاکستان کے نامزد رجسٹرار صاحبان کے پاس رجسٹر کروائی جائیں۔
- (5) ہر وہ معاملہ جو چناب نگر (ربوہ) کی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے، اسے حکومت
پاکستان کی عدالتوں میں چلایا جائے تاکہ Writ of the Government کا احساس قادیانیوں میں بھی پیدا ہو سکے اور وہ اپنے آپ کو آئین اور قانون سے بالاتر نہ سمجھیں۔
فرقہ ورانہ فسادات
قادیانی جماعت ایک خطرناک سازشی سیاسی گروہ اور ملت اسلامیہ کی بدترین دشمن ہے۔ قادیانیوں کا بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے براہِ راست رابطہ ہے۔ وہاں ان کے مشن قائم ہیں جہاں سے وہ باقاعدہ ٹریننگ حاصل کر کے پاکستان میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔ عرصہ ہوا قادیانی جماعت کے چوتھے سربراہ مرزا طاہر نے دھمکی دی تھی کہ ”عنقریب پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے اور یہاں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔“
قادیانیوں نے اپنے سربراہ کی ”پیش گوئی“ کو سچ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور پاکستان کو مسلسل عدم استحکام کا شکار بنائے رکھنے کی مذموم کوششیں کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں وہ پاکستان کے امن و امان کو تباہ کرنے کے لیے فرقہ ورانہ فسادات پیدا کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ قادیانی خلیفہ کے حکم پر ہر سال قادیانی بجٹ میں کروڑوں روپے کی رقم مختص کی جاتی ہے۔ کراچی، کوئٹہ، لاہور اور ملتان ان کے خاص ٹارگٹ ہیں۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانی افسران کی وجہ سے یہ منصوبے آسانی سے کامیاب ہو جاتے ہیں۔
محرم الحرام اور ربیع الاول کے مقدس مہینوں میں قادیانی وسیع پیمانے پر شیعہ سنی اور بریلوی، دیوبندی فساد کا خطرناک منصوبہ بناتے ہیں۔ گذشتہ سال انہی مواقع پر ”کافر کافر شیعہ کافر“، ”بریلوی مشرک اور کافر ہیں“، ”دیوبندی گستاخِ رسول ہیں“ نامی پمفلٹ کثیر تعداد
میں شائع کروا کر تقسیم کیے گئے جس کا مقصد ملک میں بدامنی اور اشتعال پیدا کرنا تھا۔ قادیانیوں کی پوری کوشش تھی کہ اس کی آڑ میں شیعہ، سنی اور دیوبندی، بریلوی فساد ہو جائے تا کہ یہ مسالک تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر الگ الگ ہو جائیں۔ علمائے کرام کو قادیانیوں کی بھیانک سازش کا نہ صرف بروقت علم ہو گیا بلکہ ان کی دور اندیشی اور نور بصیرت سے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر فساد پھیلنے سے رک گیا۔ 1989ء میں انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں QSF کے صدر انس احمد قادیانی طالب علم کے کمرے سے ایسے ہزاروں پمفلٹ برآمد ہوئے۔ پولیس تفتیش میں اس نے اعتراف کیا کہ یہ سارا لٹریچر ربوہ سے لاہور میں قادیانیوں کی مرکزی عبادت گاہ دارالذکر واقع گڑھی شاہو میں آیا جو شہر میں تقسیم کرنے کے لیے سرگرم قادیانی نوجوانوں کو دیا گیا۔
فروری 1997ء میں شانتی نگر خانیوال میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بڑا تصادم ہوا جس کے نتیجہ میں دونوں فریقوں کا نہ صرف بھاری مالی نقصان ہوا بلکہ پورے ملک میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ حکومت پنجاب نے اس سانحہ کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس تنویر احمد خاں کی سربراہی میں یک رکنی تحقیقاتی ٹریبونل قائم کیا جس نے ستمبر 1997ء میں پنجاب حکومت کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس سانحہ کا ذمہ دار قادیانی جماعت خانیوال کا صدر نور احمد ہے جس نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلم عیسائی تصادم کروایا۔ افسوس! حکومت نے اس سانحہ کے ذمہ دار قادیانی شرپسند کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
شہید ملت لیاقت علی خان کے قتل کا راز
قومی اخبارات اور کراچی سے شائع ہونے والے ایک معروف جریدہ ہفت روزہ ”تکبیر“ (مارچ 1986ء) میں مشہور سراغرساں جیمز سالومن ونسٹنٹ کی یادوں کے حوالوں سے ایک چونکا دینے والا انکشاف شائع ہوا۔ اس انکشاف سے ملک بھر کے سیاسی حلقے حیرت زدہ رہ گئے۔ جیمز سالومن نے بتایا کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو سید اکبر نے نہیں بلکہ ایک جرمن قادیانی جیمز کنزے نے قتل کیا تھا۔ جرمن نژاد کنزے نے سر ظفر اللہ خاں کی تبلیغ اور ترغیب سے قادیانیت قبول کی۔ اس کا نیا نام عبدالشکور رکھا گیا۔ وہ کچھ عرصہ کوئٹہ میں رہا۔ اس کی شادی ربوہ میں ہوئی جہاں وہ ایک عرصہ تک قیام پذیر رہا۔ وہ سر ظفر اللہ
کا لے پالک تھا۔ لیاقت علی خان کو قتل کرنے کی سازش سر ظفر اللہ کے تخریبی ذہن کی پیداوار تھی۔ جیمز سالومن نے بتایا کہ سید اکبر جو کہ لیاقت علی خاں کا مبینہ قاتل سمجھا جاتا ہے، وہ تو محض ایک دھوکہ تھا۔ (روزنامہ جنگ لاہور 9 مارچ، 1986ء) لیاقت علی خان کے قتل سے متعلق یہ رپورٹ آج بھی سنٹرل انٹیلی جنس کراچی کے دفتر میں موجود ہے۔
وزیر اعظم لیاقت علی خان کو کشمیر اور بلوچستان میں قادیانی ریاست کے قیام کے بارے قادیانی پیش گوئیوں اور بیانات کا علم ہو گیا تھا۔ اکھنڈ بھارت یا متحدہ ہندوستان کے بارے میں ان کی حکمت عملی اور خواہشات کے متعلق شناسائی کے بعد انہوں نے ایک خصوصی انٹیلی جنس سیل قائم کرنے کا حکم دیا تاکہ حساس عہدوں پر فائز قادیانیوں کی ایک فہرست تیار کی جاسکے اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ (امپیکٹ انٹرنیشنل، برطانیہ 27 ستمبر 1974ء) اسی سال فوجی افسران کی سازش (پنڈی سازش کیس) پکڑی گئی جس کا مقصد حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔ 9 مارچ 1951ء کی نصف شب چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل اکبر خان، بریگیڈئیر ایم لطیف اور کچھ دیگر لوگوں کو ملک میں پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے افراتفری پھیلانے اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ ظفر اللہ خاں کے ہم زلف میجر جنرل نذیر احمد قادیانی کو جو اس وقت امپیریل ڈیفنس کالج لندن میں ایک تربیتی کورس پر گیا ہوا تھا واپس بلوا کر گرفتار کر لیا گیا۔
بعد ازاں ایک میٹنگ میں لیاقت علی خان نے ظفر اللہ خاں کو مخاطب کر کے کہا تھا ”میں جانتا ہوں کہ آپ ایک خاص جماعت (قادیانی جماعت) کی نمائندگی کرتے ہیں۔“
معتبر ذرائع کے مطابق لیاقت علی خان قادیانیوں کو سیاسی جماعت کی حیثیت دے کر خلاف قانون قرار دینے اور سر ظفر اللہ خاں کو وزیر خارجہ کے عہدے سے الگ کرنے کا پکا فیصلہ کر چکے تھے اور وہ 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے جلسہ عام میں اس کا اعلان کرنے والے تھے۔ ادھر قادیانی سازشی قوتیں بھی تیار بیٹھی تھیں۔ جیمز سالومن کے بقول کنزے جلسہ عام میں سٹیج کے بالکل قریب ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے پٹھانوں والا لباس پہن رکھا تھا۔ جونہی شہید ملت لیاقت علی خان سٹیج پر آئے، کنزے نے فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شور و غل میں سید اکبر کو قاتل مشہور کر دیا۔ کنزے راولپنڈی سے فرار ہو کر ربوہ پہنچا جہاں کئی ماہ روپوش رہنے کے بعد وہ جرمنی فرار ہو گیا۔ جیمز کنزے آج بھی
مغربی جرمنی کے شہر برلن میں زندہ ہے۔
1965ء کی پاک بھارت جنگ
یہ حقیقت تسلیم کی جا چکی ہے کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران قادیانی جماعت نے ہر میدان میں نہایت گھناؤنا، تباہ کن اور بھیانک کردار ادا کیا۔ پاک فضائیہ کے ہیرو اور قوم کے مایہ ناز سپوت ایم ایم عالم بھی اس کی تصدیق کر چکے ہیں۔ دراصل یہ لڑائی قادیانیوں کی گہری سازش کا نتیجہ تھی۔ اس جماعت کے سرغنوں نے جنگ چھیڑنے کے لیے نجانے کیا کیا پاپڑ بیلے؟ قادیانیوں کا منصوبہ یہ تھا کہ کسی طرح مغربی پاکستان میں پنجاب کو بالواسطہ یا بلا واسطہ شکست ہو تو پاکستان کا عسکری بازو ٹوٹ جائے گا اور مشرقی حصہ نتیجتاً الگ ہو جائے گا۔ پنجاب کی پسپائی کے بعد سرحد، بلوچستان اور سندھ، عرب ریاستوں کی طرح چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن جائیں گی۔ اس طرح ایک تو بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کے پرانے خواب کی تعبیر ممکن تھی۔ دوسرا یہ خیال کہ مسلمان سیاسی طور پر ناکارہ ہو کر مجبوراً ہماری مذہبی قیادت تسلیم کرلیں گے۔ لیکن رحمت ایزدی سے حالات کا رخ یکسر پلٹ گیا اور سازشوں کے سوداگر منہ کی کھا کر رہ گئے۔
1965ء کی جنگ کے دوران سارے ملک میں بحکم سرکار بلیک آؤٹ کا سخت آرڈر تھا۔ مگر پورے پاکستان میں ”ربوہ“ ایک ایسی جگہ تھی جہاں بوجوہ اس اہم حکم نامے کی صریحاً خلاف ورزیاں ہوتی رہیں۔ بعض خفیہ رپورتاژ کے مطابق ربوہ کی یہ روشنیاں بھارتی طیاروں کو سرگودھا ہوائی اڈے کا محل وقوع بتانے کے لیے تھیں۔ یہ بات اور بھی تعجب انگیز ہے کہ سرگودھا کئی مرتبہ اندھیرے میں دشمن کے نشانوں کا شکار ہوا جبکہ فضا میں بکھرتی ہوئی روشنیوں کے باوجود اہل ربوہ دشمن کے حملوں سے کلیتہً محفوظ رہے۔ بالآخر ائیر فورس کی شکایت پر واپڈا کو ربوہ کا بجلی کا کنکشن کاٹنا پڑا۔ آفس ریکارڈ میں اس کا اندراج چٹھی نمبری 1135 مجریہ 14 ستمبر 1965ء ہے۔ کہتے ہیں بعد ازاں کلیدی عہدوں پر فائز قادیانی افسران نے واپڈا کے دفتر سے اس تاریخی دستاویز کو غائب کروا دیا۔ تاہم اس کا ثبوت کئی اور جگہوں پر بھی موجود ہے۔
(قادیانیت کا سیاسی تجزیہ از صاحبزادہ طارق محمود صفحہ 32)
ان دنوں مرزائیوں کے ”پیش گوئی مصلح موعود“ نامی ایک اشتہار کا بہت چرچا ہوا جو آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر تقسیم کیا گیا۔ اس میں لکھا تھا ”ریاست جموں و کشمیر انشاء اللہ
آزاد ہو گی اور اس کی فتح ونصرت احمدیوں کے ہاتھ سے مقدر ہے۔ یہ بات بھی خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ کشمیر کے محاذوں کی جنگ میں قادیان سے ملحق سرحدات کی کمان ہمیشہ مرزائی جرنیلوں کے ہاتھ میں رہی۔ 1965ء کے معرکہ میں چھمب جوڑیاں کے بارڈر پر ابتداً قادیانی جرنیل اختر ملک اور بریگیڈئیر عبدالعلی مقرر تھے۔ (عجمی اسرائیل از شورش کاشمیریؒ)
مشرقی پاکستان کی علیحدگی
مشرقی پاکستان کیوں الگ ہوا؟ اس کے ایک دو نہیں بیسیوں محرکات ہیں۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو اس میں قادیانی امت کا بھی نمایاں کردار رہا ہے۔ انہوں نے اولاً مشرقی پاکستان کے لیے شکایات پیدا کیں پھر تلخی کا رنگ ابھرا۔ ازاں بعد نفرت کو حقارت میں بدل دیا۔ حقیقت حال یہ ہے کہ تعصب و بغاوت کے شعلے بھڑکانے میں یہ گروہ سب سے آگے رہا۔ گو علیحدگی کا بیج پہلے سے بویا جا چکا تھا مگر اسے پروان چڑھانے کا فریضہ ان لوگوں نے انجام دیا۔ اقتصادی ماہرین کے نزدیک بنگالیوں کی ناراضی کا سب سے بڑا سبب معیشت اور محکمہ مالیات کی غلط منصوبہ بندیاں تھیں۔ اسکندر مرزا کے زمانے میں یہ لوگ ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت محکمہ دفاع پر چھا گئے۔ ایوب خاں کے دور میں مرزائیت نے عسکری طاقت کے علاوہ سیاسی دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ کی ہدایت پر مرزا قادیانی کے پوتے مسٹر ایم ایم احمد کو سیکرٹری مالیات کا عہدہ سونپا گیا۔ اسی کی شہ پر وہ اقتصادی منصوبہ بندی کا مختار کل بن بیٹھا اور اپنے ہم مذہبوں کے لیے معاشی استحکام کے وسائل پیدا کیے۔ اس نے مالی مشیر، سیکرٹری فنانس اور منصوبہ بندی کے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے مشرقی پاکستان کے مصیبت زدگان کو سرکاری امداد سے محروم رکھا۔ ہر موقع پر ان کا حصہ دبانے کی کوشش کی۔ ہر سال بجٹ میں معاشی کشمکش پیدا ہوتی رہی۔ مشرقی بازو کے لیے مختص سرمایہ، ربوہ کے خلافتی نظام کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی پلاننگ پر برباد کیا۔ بنگالی بے بس اور بیزار تو تھے ہی، اس بلائے ناگہانی پر وہ علیحدگی کی تحریک میں ڈھل گئے۔
ایم ایم احمد (آنجہانی مرزا قادیانی کا پوتا) صدر ایوب سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کی صدارت کے ابتدائی دنوں تک ملک کے پالیسی ساز اداروں کے سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں۔ اب یہ بات ملک کا ہر ذی شعور جانتا ہے کہ ملک کو توڑنے کی جو سازش کی گئی تھی، اس کا ماسٹر
پلان ایم ایم احمد کے ذہن کی پیداوار تھا۔ راؤ فرمان علی جو مشرقی پاکستان میں گورنر کے مشیر بھی تھے، انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ”مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بڑی وجہ ”عظیم قادیانی ریاست“ کے قیام کا نظریہ تھا۔ بنگالیوں کی علیحدگی کے کئی عوامل تھے جن میں غربت، محرومی، عدم مساوات، ناخواندگی، پسماندگی اور ذرائع مواصلات کا فقدان شامل تھے۔ ان تمام عوامل کو پیدا کرنے میں قادیانی امت کے فرزند ایم ایم احمد (یحییٰ خان کا مشیر) کے کمالات کا نتیجہ تھا۔“
عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمٰن نے 1970ء میں اپنی انتخابی مہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں برسراقتدار آ گیا تو ڈپٹی چیئرمین پلاننگ ایم ایم احمد قادیانی کو مشرقی پاکستان کے ساتھ معاشی ناانصافیوں کے الزام میں سرنگا پٹم کے سٹیڈیم میں الٹا لٹکا کر پھانسی دوں گا۔ (ماہنامہ ”ترجمان اہل سنت“ کراچی، ختم نبوت نمبر، اگست، ستمبر 1972ء)
پروفیسر فرید احمد کے صاحبزادے نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مرزائی، بھارت کے ایجنٹ اور آلہ کار ہیں۔ انہی کی سازشوں سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی معرض وجود میں آئی۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ نامعلوم وجوہ کی بنا پر ابھی تک نظروں سے اوجھل ہے۔ شاید اس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں کہ اتنا کاری زخم کھا چکنے کے بعد بھی نشانہ باز کے متعلق مطلقاً نہیں بتایا گیا۔ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان میں قادیانیوں کا ہاتھ ہے اور حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ میں قادیانیوں کو اس سانحہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور حکومت کسی غیر ملکی دباؤ یا مصلحت کے تحت اصل رپورٹ کو منظر عام پر آنے نہیں دیتی۔
جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا تو ہر پاکستانی خون کے آنسو رو رہا تھا۔ لیکن قادیانی فخر سے گردن اکڑا کر چلتے تھے۔ ابھی تک ہزاروں گواہ موجود ہیں جنہوں نے دیکھا کہ بنگلہ دیش بن گیا، تو ربوہ اور لاہور میں مرزائیوں نے خوشی کا اظہار کیا، مٹھائی تقسیم کی، اپنے مکانوں پر چراغاں کیا اور شب بھر سڑکوں پر جشن مناتے اور رقص کرتے رہے۔
(تحریک ختم نبوت از شورش کاشمیری صفحہ 172)
کلیدی عہدوں پر فائز قادیانی افسران کی باغیانہ سرگرمیاں
اپریل 1973ء میں قادیانیوں اور حکومت کے تعلقات میں اس وقت سرد مہری آئی جب حکومت نے تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں تین قادیانی فوجی افسران کو گرفتار
کرلیا۔ ان میں میجر فاروق آدم خاں، سکواڈرن لیڈر محمد غوث اور میجر سعید اختر ملک (اختر حسین ملک کا بیٹا اور لیفٹیننٹ جنرل عبدالعلی ملک کا بھتیجا) ملوث تھے۔ سازش میں تین قادیانیوں کے ملوث ہونے نے ربوہ کی اعلیٰ قیادت کو مشکوک کر دیا جن کی اقتدار میں آنے کی خواہش تھی اور جو بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازشیں کر رہے تھے۔ انہوں نے نوکر شاہی کے چند اہلکاروں اور دفتر خارجہ کے چند ملازمین جو کہ فری میسری کے زیر اثر تھے، سے ساز باز کر رکھی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے آنے والے مستقل آئین سے خائف تھے۔
تقریباً دو ماہ بعد حکومت کو ایک اور سازش کی اطلاع ملی جس میں فوج کے چودہ افسران ملوث تھے۔ ان افسران کے خلاف بڈھیر، اٹک میں 2 جولائی 1973ء کو مقدمہ شروع کیا گیا۔ ایک ملزم گروپ کیپٹن عبدالستار نے یہ انکشاف کیا کہ اسے اس مقدمہ میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ قادیانی افسران بھٹو حکومت کو ختم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں اور اس میں ایئر مارشل ظفر چوہدری (قادیانی) پیش پیش ہیں۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ ائیر مارشل ظفر چوہدری کے ایما پر اس کی انتہائی تذلیل کی گئی تھی اور اس پر ذہنی و جسمانی تشدد بھی ہوا۔ اس کے بعد اقتدار کے حصول اور پاکستان کی سالمیت و استحکام کو کھوکھلا کرنے کی مزید سازشیں منظر عام پر آئیں جو قادیانیوں نے ائیر مارشل ظفر چوہدری (قادیانی) کے ذریعے کی تھیں۔
پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ائیر مارشل ظفر چوہدری بڑے متعصب اور سخت گیر طبیعت کے مالک تھے۔ وہ رشتہ کے لحاظ سے سر ظفراللہ خاں کا حقیقی بھتیجا اور میجر جنرل نذیر احمد ان کا ہم زلف ہے۔ انہوں نے ائیر فورس پر مرزائیوں کو قابض کروانے کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا۔ جب کبھی بھرتی کا مرحلہ آیا، ہم عقیدہ افراد کو فوقیت دی گئی۔ امریکہ وغیرہ میں کسی نوجوان کو بغرض کوئی کورس یا ٹریننگ بھیجنے کا سوال اٹھا تو صرف قادیانی افسر کا چناؤ ہوتا۔ اس طرح فضائیہ میں قادیانیوں کا اثر و رسوخ بہت بڑھ گیا۔ اسی لیے تاحال وہ محکمہ دفاع کے بعض اہم اور نازک عہدوں پر براجمان ہیں۔ ایک بار ظفر چوہدری کے ہاتھوں کورٹ مارشل کی بھینٹ چڑھنے والے ایک مسلمان فضائی افسر نے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو تک رسائی حاصل کی اور انہیں ظفر چوہدری کی گھٹیا ذہنیت اور اس کے اغراض مذمومہ سے آگاہ کیا۔ یہ تمام حقائق سن کر بھٹو صاحب بے حد پریشان ہوئے اور کہتے ہیں کہ اس روز بھٹو مرحوم بے حد پریشان تھے۔ ان کے ماتھے پر ایک معنی خیز شکن ابھری اور کہا ”اچھا یہ ہے ان کا اصل روپ!“
(نوید قومی ہیرو ایم ایم عالم صفحہ 183، 184)
شاید بھٹو صاحب اس بات کو زیادہ اہمیت نہ دیتے مگر ایک واقعہ نے ان کو عملی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا اور وہ درگزر نہ کر سکے۔ ہوا یوں کہ 25 جولائی 1974ء کو جسٹس صمدانی کی عدالت میں ایک فوری نوعیت کا بیان سماعت کیا گیا۔ فاضل عدالت نے 31 اگست کو اس کے بعض اجزا خبر رساں ایجنسیوں کے حوالے کیے جو آئندہ روز اشاعت پذیر ہوئے۔ بیان ہوا کہ جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد کی صدارت میں بعض سرکردہ قادیانیوں نے جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو راستہ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پروگرام یہ طے ہوا کہ ایک تقریب میں انہیں قتل کر دیا جائے۔ (رپورٹ جسٹس صمدانی ٹربیونل) (از نوائے وقت لاہور یکم اکتوبر 1974ء)
دسمبر 1973ء کو قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ربوہ (چناب نگر) میں ہو رہا تھا۔ نام نہاد قادیانی خلیفہ مرزا ناصر تقریر کرنے کے لیے سٹیج پر آیا۔ مائیک کے سامنے پہنچ کر وہ خاموش کھڑا ہو گیا اور تقریر شروع نہیں کر رہا تھا جیسا کہ اسے کسی چیز کا انتظار ہو۔ اتنے میں پاکستان ائیر فورس کا ایک جہاز اڑتا ہوا آیا۔ اس نے عین جلسہ گاہ کے اوپر فضا میں غوطہ لگا کر مرزا ناصر کو عسکری انداز میں سلامی دی۔ دوسرا آیا، اس نے بھی یہی عمل دہرایا۔ تیسرے نے بھی یہی فعل قبیح کیا۔ یہ سارے قادیانی پائلٹ تھے جنہوں نے ائیر فورس کے سربراہ ائیر مارشل ظفر چودھری کے حکم پر ایسا کیا۔ تھوڑی دیر بعد ائیر مارشل ظفر چوہدری کی قیادت میں انہی جہازوں نے قادیانی جلسہ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ اس پر قادیانی خلیفہ مرزا ناصر خوشی سے پھولے نہ سمایا۔ اس نے اپنا دامن پھیلایا اور آسمان کی طرف منہ کر کے حاضرین سے مخاطب ہوا ”میں دیکھ رہا ہوں کہ احمدیت (قادیانیت) کا پھل پک چکا ہے اور جلد ہی میری جھولی میں گرنے والا ہے۔“ اس پر جلسہ گاہ میں ”احمدیت زندہ باد“ کے نعرے لگائے گئے۔ یہ رپورٹ تمام اخبارات اور رسائل میں پوری آب و تاب کے ساتھ شائع ہوئی۔ خفیہ ذرائع سے مسٹر بھٹو بھی اس کی تصدیق کر چکے تھے۔ ان حقائق کے پیش نظر حکومت نے ظفر چودھری کو رخصت کر دیا۔ یوں پاکستان کئی سانحات کا شکار ہونے سے بچ گیا۔
غدار پاکستان
شیخ سعدیؒ نے کہا تھا کہ وہ دشمن جو بظاہر دوست ہو، اس کے دانتوں کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے۔ یہ مقولہ نوبیل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام پر پوری طرح صادق آتا
ہے جنھوں نے دوستی کی آڑ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ انھیں 10 دسمبر 1979ء کو نوبیل پرائز ملا۔ قادیانی جماعت کے آرگن روزنامہ ’الفضل‘ نے لکھا تھا کہ جب انھیں نوبیل انعام کی خبر ملی تو وہ فوراً اپنی عبادت گاہ میں گئے اور اپنے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئی پر اظہار تشکر کیا۔
سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ایک سائنس کانفرنس ہو رہی تھی، کانفرنس میں شرکت کے لیے ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی دعوت نامہ بھیجا گیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب قومی اسمبلی نے آئین پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ یہ دعوت نامہ جب ڈاکٹر عبدالسلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے کارڈ پر مندرجہ ذیل ریمارکس لکھ کر اسے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو واپس بھیج دیا۔
"I do not want to set foot on this accursed land untill the Constitutional amendement is withdrawn."
ترجمہ: ”میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا، جب تک کہ آئین میں کی گئی ترمیم واپس نہ لی جائے۔“
جناب بھٹو نے جب یہ ریمارکس پڑھے تو غصے سے ان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ انہوں نے اسی وقت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری وقار احمد کو لکھا کہ عبدالسلام کو فی الفور برطرف کر دیا جائے اور بلا تاخیر نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے۔ وقار احمد نے یہ دستاویز ریکارڈ میں فائل کرنے کی بجائے اپنی ذاتی تحویل میں لے لی تاکہ اس کے آثار مٹ جائیں۔ بہت عرصہ بعد پتہ چلا کہ وقار احمد بھی قادیانی تھا۔“ (ڈاکٹر عبدالقدیر اور کہوٹہ سنٹر از یونس خلش، صفحہ 80)
فروری 1987ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے امریکی سینٹ کے ارکان کو ایک چٹھی لکھی کہ ”آپ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور اقتصادی امداد مشروط طور پر دیں تاکہ ہمارے خلاف کیے گئے اقدامات حکومت پاکستان واپس لے لے۔“
یہ بات اہل علم سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیل کے معروف یہودی سائنس دان یوول نیمان کے ڈاکٹر عبدالسلام سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ یہ وہی یوول نیمان ہیں جن کی سفارش پر تل ابیب کے میئر نے وہاں کے نیشنل میوزیم میں ڈاکٹر عبدالسلام کا مجسمہ یادگار کے طور پر رکھا۔ معتبر ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکے اسی یہودی سائنس دان
کے مشورے سے کیے جو مسلمانوں کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ یوول نیمان امریکہ میں بیٹھ کر براہ راست اسرائیل کے مفادات کی نگرانی کرتا ہے۔ اسرائیل کے لیے پہلا ایٹم بم بنانے کا اعزاز بھی اسی شخص کو حاصل ہے۔ پاکستان اس کی ہٹ لسٹ پر ہے اور اس سلسلے میں وہ بھارت کے کئی خفیہ دورے بھی کر چکا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ امریکی کانگریس کی بہت بڑی لابی اس وقت یوول نیمان کے لیے نوبیل پرائز کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد امت مسلمہ کو نقصان پہنچانا ہے اور وہ اپنے نصب العین کے حصول کے لیے ہر وقت مسلمانوں کے خلاف کسی نہ کسی سازش میں مصروف رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تل ابیب یونیورسٹی اسرائیل کے شعبہ فزکس کا سربراہ بھی ہے۔ اس سے پہلے یہ شخص اسرائیل کا وزیر تعلیم وسائنس وٹیکنالوجی بھی رہا۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر اس کی خاص نظر ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکتا ہے۔
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام ایک متعصب اور جنونی قادیانی تھے جو سائنس کی آڑ میں قادیانیت پھیلاتے رہے۔ انہوں نے پوری زندگی میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جو اسلام اور پاکستان دشمن ممالک کے مقاصد سے متصادم ہو۔ پاکستان کے دفاع کے متعلق بھارت، اسرائیل یا امریکہ کے خلاف ایک لفظ بھی کہنا، ان کی ایمان دوستی کے منافی تھا۔ درحقیقت قادیانیت نقل بمطابق اصل کا ایسا پیکنگ ہے، جس کی ہر زہریلی گولی کو ورق نقرہ میں ملفوف کر دیا گیا ہے۔ انگریز نے اس مذہب کو الہامات و روایات اور کشف و کرامات کے سانچوں میں ڈھال کر پروان چڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے دل و دماغ بلکہ جسم و جان تک انگریز کی قید میں ہوتے ہیں۔ جسے اس نے ہمیشہ اپنے مفاد کی خاطر استعمال کیا۔
ڈاکٹر عبدالسلام کی پرزور سفارش پر ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی (ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی) کو صدر ایوب نے 1958ء میں اپنے دور حکومت میں ایٹمی توانائی کمیشن کا رکن بنایا اور پھر ایک سال کے اندر اندر اس کا چیئرمین بنا دیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے امپیریل کالج لندن کے ریکٹر سر پیٹرک لنسیڈ کی ملی بھگت سے 500 کے قریب نیوکلیئر فزکس، ریاضی، صحت و طب اور حیاتیات کے طلبہ اور ماہرین کو بیرونی ممالک بالخصوص امریکہ اور برطانیہ کے تحقیقی مراکز میں حکومت کے خرچ پر اعلیٰ تحقیق و تعلیم کے لیے بھیجنے کا منصوبہ بنایا۔ ان طلبہ اور ماہرین کی
اکثریت قادیانی مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے ڈاکٹر عثمانی سے اس منصوبہ کو منظور کروا کر ان لوگوں کو باہر بھجوا دیا جو واپس آ کر ملک کے حساس کلیدی عہدوں بالخصوص ایٹمی انرجی کمیشن میں فائز ہو گئے۔ اس کے برعکس امریکی تعلیمی اداروں کے نیوکلیئر فزکس کے شعبہ میں مسلمان بالخصوص عرب طلبہ پر پابندی ہے جو اب تک برقرار ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 1974ء میں جب تک اس شعبہ میں قادیانیوں کے اثرات تھے، ایٹمی قوت بننے کے سلسلہ میں معمولی سا بھی کام نہیں ہوا۔ حالانکہ صدر ایوب چاہتے تھے کہ ہندوستان کے مقابلہ میں دفاعی قوت مضبوط بنائی جائے لیکن قادیانیوں نے ان کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بعد جب قادیانی گروپ کے اثرات ختم ہوئے تو پاکستان نے اس شعبہ میں ترقی کی۔
ڈاکٹر عبدالسلام نے مغربی طاقتوں اور اسرائیل کے اشارے پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ناکام بنانے اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت تمام دوسرے محب وطن سائنس دانوں کو بے حوصلہ کرنے کے متعدد اقدامات کیے۔ پاکستان کے تمام ایٹمی راز ملک دشمن ممالک کو فراہم کیے۔ انہیں کہوٹہ ایٹمی سنٹر اور دوسرے حساس قومی معاملات کی ایک ایک خبر پہنچائی۔ دراصل وہ چاہتا تھا کہ پاکستان کبھی بھی دفاع کے معاملے میں خود کفیل نہ ہو سکے اور ہمیشہ بڑی طاقتوں کا دست نگر رہے۔ بھارت نے 11 مئی 98ء کو پوکھران میں 3 ایٹمی دھماکے کیے اور 13 مئی 1998ء کو 2 اور دھماکے کیے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو چاغی (بلوچستان) میں 2 ایٹمی دھماکے کیے اور پھر 30 مئی کو 2 مزید ایٹمی دھماکے کیے۔ روزنامہ ”نوائے وقت“ کی رپورٹ کے مطابق:
”پاکستان کے کامیاب ایٹمی دھماکوں کا اعلان ہوتے ہی ربوہ کے سرکردہ قادیانیوں کے خفیہ اجلاس منعقد ہوئے۔ ربوہ میں ہو کا عالم تھا۔ قادیانیوں کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے جبکہ مسلمانوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔“ (روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، 29 مئی 1998ء)
قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے لندن کی مرکزی قادیانی عبادت گاہ ”بیت الفضل“ میں پاکستانی عوام کو ایٹمی دھماکوں کے خلاف اکساتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کا حق عقل سے استعمال کرنا چاہیے تھا جو اس نے نہیں کیا۔ انہوں نے پاکستان کے مسلمان عوام پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ”ایٹمی دھماکے کر کے جشن منالو، پتہ اس وقت چلے گا جب
بھوک ناچے گی۔ جنونی دور ختم ہوگا تو ملک کا رہا سہا نظام بھوکے عوام اپنی بغاوت کے ذریعے ختم کر دیں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ایٹمی دھماکوں سے پاکستان میں درجہ حرارت بڑھ جائے گا۔“
(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، 9 جون 1998ء)
پاکستان میں ایجنٹوں کا حصول اسرائیل کے لیے مشکل نہیں۔ پاکستانی قادیانیوں کا مرکز حیفا (اسرائیل) میں موجود ہے۔ یہ بات ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ یہودیوں اور قادیانیوں کے مقاصد مشترکہ ہیں۔ ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسلحہ اور بعض اہم آلات کی سمگلنگ میں بعض سابق افسر بھی شامل ہیں، جن کا تعلق قادیانی گروہ سے ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایٹمی توانائی کمیشن میں 25 سے 30 تک قادیانی اعلیٰ عہدوں پر تعینات تھے۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے متعلق مایہ ناز سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے کہا تھا کہ اُسے نوبیل پرائز یہودیوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دیا۔ مصدقہ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عبدالسلام نے کہوٹہ پلانٹ کے تمام نقشہ جات، ایٹم بم کا ماڈل اور اہم معلومات یہودی سائنس دانوں کو فراہم کیں۔
معروف صحافی جناب زاہد ملک اپنی شہرہ آفاق کتاب ”ڈاکٹر عبدالقدیر اور اسلامی بم“ کے صفحہ 23 پر ڈاکٹر عبدالسلام کی پاکستان دشمنی کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”معزز قارئین کو اس انتہائی افسوس ناک بلکہ شرمناک حقیقت سے باخبر کرنے کے لیے کہ اعلیٰ عہدوں پر متمکن بعض پاکستانی کس طرح غیر ممالک کے اشارے پر کہوٹہ بلکہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں، میں صرف ایک اور واقعہ کا ذکر کروں گا اور اس واقعہ کے علاوہ مزید ایسے واقعات کا ذکر نہیں کروں گا۔ اس لیے کہ ایسا کرنے میں کئی ایک قباحتیں ہیں لیکن میں نے ان سنسنی خیز واقعات کو تاریخ وار درج کر کے اس انتہائی اہم قومی دستاویز کی دو نقلیں پاکستان کے باہر دو مختلف شخصیات کے پاس بطور امانت درج کرا دی ہیں اور اس کی اشاعت کب اور کیسے ہو، کے متعلق بھی ضروری ہدایات دے دی ہیں۔“ یہ واقعہ نیاز اے نائیک سیکرٹری وزارت خارجہ نے مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر کا ذاتی دوست سمجھتے ہوئے سنایا تھا۔ انہوں نے بتلایا کہ وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خاں نے انہیں یہ واقعہ ان الفاظ میں سنایا: ”اپنے ایک امریکی دورے کے دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں، میں بعض اعلیٰ امریکی افسران سے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کر رہا تھا کہ دورانِ گفتگو امریکیوں نے حسب
معمول پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر شروع کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے اس حوالے سے اپنی پیش رفت فوراً بند نہ کی تو امریکی انتظامیہ کے لیے پاکستان کی امداد جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک سینئر یہودی افسر نے کہا ”نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کو اس کے سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ جب ان کی گرم سرد باتیں اور دھمکیاں سننے کے بعد میں نے کہا کہ آپ کا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی ایٹمی توانائی کے حصول کے علاوہ کسی اور قسم کے ایٹمی پروگرام میں دلچسپی رکھتا ہے تو سی آئی اے کے ایک افسر نے جو اسی اجلاس میں موجود تھا، کہا کہ آپ ہمارے دعویٰ کو نہیں جھٹلا سکتے۔ ہمارے پاس آپ کے ایٹمی پروگرام کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں بلکہ آپ کے اسلامی بم کا ماڈل بھی موجود ہے۔ یہ کہہ کر سی آئی اے کے افسر نے قدرے غصے بلکہ نا قابل برداشت بدتمیزی کے انداز میں کہا کہ آئیے میرے ساتھ بازو والے کمرے میں۔ میں آپ کو بتاؤں آپ کا اسلامی بم کیا ہے؟ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔ دوسرے امریکی افسر بھی اٹھ بیٹھے۔ میں بھی اٹھ بیٹھا۔ ہم سب اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ سی آئی اے کا یہ افسر، ہمیں دوسرے کمرے میں کیوں لے کر جا رہا ہے اور وہاں جا کر یہ کیا کرنے والا ہے۔ اتنے میں ہم سب ایک ملحقہ کمرے میں داخل ہو گئے۔ سی آئی اے کا افسر تیزی سے قدم اٹھا رہا تھا۔ ہم اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ کمرے کے آخر میں جا کر اس نے بڑے غصے کے عالم میں اپنے ہاتھ سے ایک پردہ کو سرکایا تو سامنے میز پر کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی دوسری طرف ایک سٹینڈ پر فٹ بال نما کوئی گول سی چیز رکھی ہوئی تھی۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا ”یہ ہے آپ کا اسلامی بم۔ اب بولو تم کیا کہتے ہو۔ کیا تم اب بھی اسلامی بم کی موجودگی سے انکار کرتے ہو؟“ میں نے کہا میں فنی اور تکنیکی امور سے نابلد ہوں۔ میں یہ بتانے یا پہچان کرنے سے قاصر ہوں کہ یہ فٹ بال قسم کا گولہ کیا چیز ہے اور یہ کس چیز کا ماڈل ہے۔ لیکن اگر آپ لوگ بضد ہیں کہ یہ اسلامی بم ہے تو ہو گا، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا کہ آپ لوگ تردید نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ آج کی میٹنگ ختم کی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر کی طرف نکل گیا اور ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میرا سر چکرا رہا تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ جب ہم کوریڈور سے ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے تو میں نے غیر ارادی طور پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ایک دوسرے کمرے سے
نکل کر اس کمرے میں داخل ہو رہے تھے، جس میں بقول سی آئی اے کے، اس کے اسلامی بم کا ماڈل پڑا ہوا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا، اچھا! تو یہ بات ہے“۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے صاحبان اقتدار نے دانستہ طور پر ڈاکٹر عبدالسلام کی مندرجہ بالا غداریوں اور سازشوں سے مجرمانہ چشم پوشی کی اور ان ”خدمات“ کے عوض انہیں 1959ء میں ستارہ امتیاز اور تمغہ و ایوارڈ حسن کارکردگی اور 1979ء میں پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز دیا گیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور نے ڈاکٹر عبدالسلام کی موت پر ”سلام میڈل“ کا اجرا کیا جو فزکس اور ریاضی کے شعبہ میں اول آنے والے طالب علموں کو دیا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے کالج کے اولڈ ہال کا نام ”سلام ہال“ رکھا اور مزید یہ کہ گورنمنٹ کالج میں اس کے نام کی ایک ”چیئر“ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی منظوری بھی ہوچکی ہے۔ مزید براں 1998ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کی برسی کے موقعہ پر محکمہ ڈاک نے ان کی ”خدمات“ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے 2 روپے کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
منصور اعجاز
حال ہی میں میمو سکینڈل کیس نے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کردیا ہے۔ اس صورتحال کا ذمہ دار منصور اعجاز ہے جو قادیانی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ 1961ء میں امریکی ریاست فلوریڈا میں پیدا ہوا۔ اس کے والد کا نام ڈاکٹر مجدد احمد اعجاز تھا جس کا تعلق قادیانی جماعت سے تھا۔ وہ مشہور سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا کزن تھا۔ اس کا دادا اسماعیل اعجاز اور نانا نذیر حسین قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کے ابتدائی 313 ساتھیوں میں شامل تھے۔ منصور اعجاز کا والد ایٹمی سائنسدان کی حیثیت سے پاکستان کے جوہری توانائی کمیشن میں خدمات سرانجام دے رہا تھا لیکن 1974ء میں جب قادیانیوں کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو وہ امریکہ فرار ہو گیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ ایٹمی پروگرام کی اہم دستاویزات بھی اپنے ساتھ ہی لے گیا اور وہاں سیاسی پناہ حاصل کر لی۔ چونکہ مجدد اعجاز پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں رہا اور اس کی ایٹمی سائنسدانوں سے دوستیاں تھیں لہٰذا اس نے کلنٹن انتظامیہ کو یہ پیشکش بھی کی کہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ منصور اعجاز کا والد امریکہ کی مشہور ورجینیا ٹیک یونیورسٹی کا پروفیسر تھا جس نے امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں کے ڈیزائن کی تیاری میں اہم
کردار ادا کیا تھا۔ 1992ء میں کثرت شراب نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں اور دماغ کے کینسر سے 55 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوگیا تھا۔ منصور اعجاز پچھلی دو دہائیوں سے امریکی سی آئی اے کے لیے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ سی آئی اے کا سابق ڈائریکٹر جیمز وولسی اس کا انتہائی قریبی رفیق کار ہے۔ اپنے ٹی وی تبصروں اور اخباری مضامین میں اس کا خاص نشانہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور آئی ایس آئی ہے جن کے خلاف وہ پچھلے 15 سال سے لکھ رہا ہے۔ منصور اعجاز کے مبینہ طور پر یہودی میڈیا سے انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ 7 جنوری 2004ء کو منصور اعجاز نے واشنگٹن پوسٹ میں اپنے مضمون میں لکھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اس کینسر کی طرح ہے جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق اکتوبر 1995ء میں منصور اعجاز نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی اور امریکی سینیٹ میں براؤن ترمیم کی منظوری کے لیے ایک کروڑ 55 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم لابنگ کے لیے مانگی اور مطالبہ کیا کہ یہ رقم اس کی ملکیت ڈیفنس ڈویلپمنٹ انٹرنیشنل نامی لابنگ فرم کو بطور فیس ادا کر دی جائے۔ بے نظیر بھٹو نے اتنی خطیر رقم دینے سے انکار کر دیا۔ جس پر منصور اعجاز نے بے نظیر بھٹو سے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اتنی رقم نہیں ہے تو حکومت پاکستان براؤن ترمیم کی منظوری کے لیے امریکی سینیٹروں کو راضی کرنے کے لیے ان کے تین مطالبات منظور کر لے۔ (1) اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔ (2) 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے والی ترمیم ختم کی جائے۔ (3) قانون توہین رسالت ختم کیا جائے۔ بے نظیر بھٹو نے ان مطالبات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ملاقات ختم کر دی۔ واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے کے مطابق منصور اعجاز نے ایف سولہ طیاروں کے لیے کانگریس میں لابنگ کے لیے 15 ملین ڈالر مانگے اور یہ پیشکش بھی بے نظیر بھٹو کو کی کہ اگر حکومت پاکستان مذکورہ بالا مطالبات تسلیم کر لے تو پاکستان کو ایف سولہ طیارے بطور تحفہ مل سکتے ہیں۔ صدر پرویز مشرف کے دور میں منصور اعجاز کو مشیر سرمایہ کاری بنانے کی کوشش ہوئی تاہم حساس ادارے آڑے آگئے اور وہ حکومتی مشیر نہ بن سکا۔
شاہ فیصلؒ کی شہادت پر قادیانیوں کا ردعمل
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل شہیدؒ عالم اسلام کے محسن اور ملت اسلامیہ کے دل کی دھڑکن تھے۔ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔ جب ایک خطرناک یہودی سازش کے تحت انہیں شہید کیا گیا تو روئے زمین پر بسنے والے تمام مسلمانوں کی آنکھیں خون کے
آنسو رو رہی تھیں اور ہر مسلمان کا دل زخموں سے چور چور تھا لیکن اس وقت قادیان اور ربوہ میں قادیانیوں نے خوشی کے ترانے بجائے کیونکہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں شاہ فیصلؒ کا بڑا کردار تھا۔ اس مجاہد ختم نبوت نے سابق وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کو خصوصی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی سفارش کی تھی، چونکہ شاہ فیصلؒ یہود کے ازلی دشمن تھے اور قادیانی، یہودیوں کے دوست ہیں۔ چنانچہ ان کی موت پر قادیانیوں نے ربوہ میں مٹھائیاں تقسیم کیں اور خوشی سے بھنگڑے ڈالے۔
امریکہ کی طرف سے قادیانیوں کی اعلانیہ حمایت
امریکہ کے سینٹ کی 17 رکنی خارجہ تعلقات کی کمیٹی نے پاکستان کی اقتصادی امداد کے لیے اپنی قرارداد میں جو شرائط شامل کی تھیں، ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ......
’’امریکی صدر ہر سال اس مفہوم کا ایک سرٹیفکیٹ جاری کریں گے کہ حکومت پاکستان اقلیتوں مثلاً احمدیوں کو مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز آ رہی ہے اور ایسی تمام سرگرمیاں ختم کر رہی ہے جو مذہبی ’آزادیوں‘ پر قدغن عائد کرتی ہیں۔‘‘
(بحوالہ مضمون ارشاد احمد حقانی۔ ادارتی صفحہ 3 روزنامہ جنگ 5 مئی 1987ء)
قادیانیوں کی مکمل مذہبی اور شہری آزادیوں کا مطلب کیا ہے؟ یہ کہ قادیانی، ملت اسلامیہ سے قطعی طور پر الگ ایک نئی امت ہوتے ہوئے بھی اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مخصوص مذہبی شعائر اسلامی استعمال کر کے دھوکہ اور اشتباہ کی جو فضا قائم رکھنا چاہتے ہیں، وہ بدستور قائم رہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے ملت اسلامیہ کے دینی تشخص کے تحفظ کے لیے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو فیصلہ کیا تھا، وہ ختم ہو جائے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے ذریعہ قادیانیوں کو مسجد، کلمہ طیبہ اور اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے سے جو روکا گیا ہے، اسے غیر مؤثر بنایا جائے۔ پاکستان کے دینی اور عوامی حلقے مسلمانوں سے قادیانیوں کی الگ حیثیت کو عملاً متعین کرانے کے لیے جن جائز قانونی اقدامات کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں، ان کا راستہ روک دیا جائے۔
امریکی سینٹ کی یہ قرارداد قادیانیوں کے خود ساختہ حقوق کی حمایت سے زیادہ ملت
اسلامیہ کے دینی تشخص اور مذہبی معتقدات پر براہ راست اور ناقابل برداشت حملہ ہے۔ سابق وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں قادیانیوں کے سیاسی عزائم اور ملک دشمن عناصر سے خفیہ تعلقات کے بعض گوشوں سے نقاب اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ برسر اقتدار آنے کے بعد جب میں سربراہ مملکت کی حیثیت سے پہلی مرتبہ امریکہ کے دورہ پر گیا تو امریکی صدر نے مجھے ہدایت کی کہ پاکستان میں قادیانی جماعت ہمارا سیکٹ (Sect) ہے۔ ان کا آپ ہر لحاظ سے خیال رکھیں۔ دوسری مرتبہ جب امریکہ کا سرکاری دورہ ہوا، تب بھی یہی بات دہرائی گئی۔ یہ بات میرے پاس امانت تھی۔ ریکارڈ کی خاطر میں پہلی مرتبہ انکشاف کر رہا ہوں۔“ (قادیانیت کا سیاسی تجزیہ از صاحبزادہ طارق محمود)
اسرائیل میں قادیانی
حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا: ”قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے۔“ اس حقیقت میں ذرا سا بھی شک وشبہ نہیں کہ اسرائیل اور قادیانیت اسلام دشمن طاقتوں کی تخلیق اور سازش کا نتیجہ ہیں۔ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بقول چودھری افضل حق ”قادیانی فرقہ ضالہ کے فریب و خدع اور دجل وتلبیس سے بچنا ہر مسلمان کا قدرتی حق ہے۔ قادیانی برٹش امپیریلزم کے کھلے ایجنٹ اور مسلمانوں میں ففتھ کالم کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا وجود مسلمانوں کی داخلی زندگی کے لیے اسرائیل سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔“ اسرائیل نے مسلمانان عرب پر جو ظلم و ستم توڑے ہیں، انہیں پڑھ کر ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم بھی شرما جاتے ہیں۔ خصوصاً اسرائیل نے فلسطین میں خون ناحق کے جو دریا بہائے ہیں، صرف وہی داستان مظالم پڑھ کر جسم پر رعشہ طاری اور شریانوں میں خون منجمد ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن آپ یہ پڑھ کر حیران ہو جائیں گے کہ 1972ء کی قومی اسمبلی میں مولانا ظفر احمد انصاری نے پارلیمنٹ کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ ”جہاں ننگ انسانیت یہودی درندے فلسطین و دیگر عرب ممالک کے مسلمانوں کے قیمتی خون سے ہولی کھیل رہے ہیں، وہاں 600 قادیانی فوجی بھی اسرائیل کی فوج میں باقاعدہ بھرتی ہیں اور اس چنگیزی فعل میں یہودی درندوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔“
اسرائیل میں کوئی بھی مذہبی مشن کام نہیں کر سکتا لیکن قادیانی مشن کو اسرائیل میں کام کرنے کی کھلی اجازت ہے۔ کچھ عرصہ قبل روزنامہ ”نوائے وقت“ کے صفحہ اول پر ایک چونکا دینے والی تصویر شائع ہوئی جس میں اپنے فرائض منصبی سے سبکدوش ہونے والے قادیانی مشن کا سربراہ دوسرے نئے آنے والے قادیانی مشن کے سربراہ کا تعارف اسرائیلی صدر سے کروا رہا ہے۔ اخبار میں یہ راز فاش ہونے پر دارالکفر ربوہ کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کی آنکھیں بھی کھل گئیں۔
اسرائیل میں قادیانی جماعت کی موجودگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قادیانی مذہبی نہیں بلکہ ایک خالص سیاسی جماعت ہے۔ یہودی دوسرا بنیا ہے جو کبھی خسارے کا سودا نہیں کرتا۔ اسرائیل نے قادیانیوں کو اپنے نظریاتی ملک میں جو مذہبی آزادی دے رکھی ہے، وہ اس کے اصول اور قواعد و ضوابط کے صریحاً خلاف ہے۔ قادیانی جماعت یہودی ٹکڑوں پر پلنے والا استعماری پٹھو ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج میں کئی سو قادیانی شامل ہیں جو فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و تشدد میں پیش پیش رہتے ہیں۔ قادیانیوں اور اسرائیل کے باہمی تعلقات اور روابط کا اندازہ قومی اخبارات میں 22 فروری 1985ء کے ”یروشلم پوسٹ“ کے حوالے سے چھپنے والی اس تصویر سے لگایا جاسکتا ہے، جس میں دو قادیانی مبلغوں کو اسرائیلی صدر کے ساتھ نہایت مؤدب انداز میں ملاقات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر میں اسرائیل میں سبکدوش ہونے والے قادیانی سربراہ شیخ شریف امینی نئے سربراہ شیخ محمد حمید کا اسرائیل کے صدر سے تعارف کروا رہے ہیں۔ اس موقع پر شیخ شریف نے قادیانیوں کو اسرائیل میں مکمل مذہبی آزادی دینے پر اسرائیلی حکومت کی تعریف کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ یہ تصویر قادیانیوں کی اسلام دشمنی اور یہود دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
”یروشلم پوسٹ“ کے حوالہ سے شائع ہونے والی تصویر مع اصل عبارت سے قادیانیوں کے اسرائیل کے ساتھ باہمی روابط کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ہندوستان میں بٹالہ کے نزدیک واقع قادیان اور پاکستان میں ربوہ کے بعد ان کا سب سے منظم مرکز اسرائیل کے شہر ”حیفہ“ میں ہے۔ اس وقت بھی جب اسرائیل میں مسلمانوں کا رہنا دوبھر ہے، قادیانیوں کو اسرائیل میں کام کرنے کی پوری آزادی ہے۔ فلسطینی عرب مسلمان آزادی کی جنگ لڑ رہے
ہیں اور قادیانی اسرائیلی وزیر اعظم، صدر اور میئر وغیرہ سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اسرائیل کا مسلمانوں پر ظلم وستم اور قادیانیوں پر اتنی عنایات ! آخر کس صیہونی منصوبے کا حصہ ہیں؟
Friday, November 22, 1985 The Jerusalem Post
”لندن سے شائع ہونے والی کتاب ”اسرائیل اے پروفائل“ ISRAEL A) (PROFILE میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت اسرائیل نے اپنی فوج میں پاکستانی قادیانیوں کو بھرتی ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ کتاب پولیٹکل سائنس کے ایک یہودی پروفیسر آئی-آئی-نومائی نے لکھی ہے اور اسے ادارہ پال مال، لندن نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 1972ء تک اسرائیلی فوج میں چھ سو پاکستانی قادیانی شامل ہوچکے ہیں۔“ (روزنامہ نوائے وقت لاہور صفحہ 5، 29 دسمبر 1975ء)
اسرائیلی مشن کے بارے میں قادیانیوں کا یہی موقف رہا ہے کہ یہ مشن قادیان (بھارت) کے ماتحت ہیں، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ربوہ (پاکستان) قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر ہے اور قادیانی جماعت کی تمام تنظیمیں اسی مرکز سے وابستہ ہیں اور اسی کے زیر انتظام چلتی ہیں۔ قادیانی اپنے نام نہاد اور جعلی نبی کی طرح جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں۔ اسرائیل میں قادیانی
مشن کی موجودگی اور قادیانیوں کے اسرائیل کی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات اور روابط کی قلعی تاریخی دستاویزات اور حقائق سے کھل جاتی ہے۔
اسرائیلی صدر شیمون پیریز (Shimon Peres) نے ستمبر 2007ء میں اسرائیل کے شہر کبابیر (Kababir) میں واقع قادیانی عبادت گاہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اسرائیلی صدر نے قادیانی جماعت کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی طور پر ہر ممکن امداد اور تعاون کا یقین دلایا۔
اسرائیل میں قادیانیوں سے جو کام لیے جا رہے ہیں اور جو خدمات وہ انجام دیں گے، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہ ایک دردناک اور ضرر رساں لطیفہ نہیں تو اور کیا ہے؟ سچ تو یہی ہے کہ اگر دوست کا دشمن دوست نہیں تو دشمن کا دوست کس طرح دوست ہو سکتا ہے؟
ریکارڈ کے مطابق تمام قادیانی مبلغین جو 1928ء سے اسرائیل میں تعینات تھے مثلاً جلال دین قمر، اللہ دتہ جالندھری، رشید احمد چغتائی، نور احمد اور چوہدری شریف، اسرائیل میں کام کرنے کے بعد ربوہ میں مقیم رہے۔ جب وہ بیرون ملک تھے تو ان کے خاندانوں کے ان سے پراسرار ذرائع سے باقاعدہ روابط موجود تھے۔ قادیانی جماعت کے مجموعی تبلیغی ڈھانچے کا ایک حصہ اسرائیل میں احمدیہ مشن کی صورت میں موجود تھا۔ قادیانی خلیفہ اس جماعت کا سب سے بڑا سر خیل تھا۔ تمام مشنوں
کے معاملات جن میں اسرائیلی مشن بھی شامل ہے، خلیفہ کے تحت تھے اور وہ ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ اسرائیل میں قادیانی امیر ان کی ہدایات اور احکامات کے تحت کام کرتا تھا۔
قادیانی اسرائیلی گٹھ جوڑ کا مسئلہ پاکستانی پریس میں فروری 1977ء میں ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ جب ہفت روزہ ”اسلامی جمہوریہ“ لاہور نے اپنی اشاعت 2 تا 8 جنوری 1977ء کی اشاعت میں 19 اکتوبر 1976ء کے یروشلم پوسٹ کے شمارے میں چھپی ہوئی ایک تصویر شائع کر دی جو کہ ایک اسرائیلی تقریب کے دوران لی گئی تھی۔ ایک قادیانی وفد نے اسرائیلی صدر سے ملاقات کی اور اس کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ تصویر میں اسرائیلی صدر کے علاوہ مشیر اقلیتی امور منصور کمال اور ایک فلسطینی احمدی منصور عود اور اسرائیل میں قادیانی مبلغ جلال الدین قمر نمایاں تھے۔ پاکستان اور اسلام کے بارے میں قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کی ہمدردیاں اس وقت شدید تنقید کی زد میں آگئیں جب انہوں نے اپنے نصب العین کی حمایت میں صیہونی امداد کے حصول کے لیے ایک خصوصی وفد اسرائیل بھیجا۔ احمدیہ مشن اسرائیل کے نئے انچارج شیخ شریف احمد امینی نے اسرائیلی صدر کی قادیانی رہنماؤں سے ملاقات کی تصویر دیتے ہوئے اس کے نیچے لکھا:
”شیخ شریف احمد امینی جو کہ احمدیہ، ہندوستانی مسلمان فرقے کا اسرائیل چھوڑ کر جانے والا انچارج ہے اور آج کل حیفہ میں مقیم ہے وہ اپنے جانشین شیخ محمد حمید کا تعارف اسرائیل کے قائم مقام صدر ہرزوگ سے بیت حناسی میں (21 نومبر 1985ء) کروا رہا ہے۔ فرقے کے نئے سربراہ نے جس کے اسرائیل میں بارہ سو پیروکار ہیں، پاکستان میں قادیانیوں پر ہونے والے مظالم کی تائید میں کئی دستاویزات صدر کو پیش کیں۔ رخصت ہونے والے شیخ امینی نے جو انڈیا واپس جا رہا ہے، اپنے فرقے کو مکمل مذہبی آزادی فراہم کرنے پر اسرائیل کی تعریف کی۔“
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، 12 جنوری 1986ء)
اپریل 1973ء میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ راز افشا کیا کہ اسرائیل نے پاکستان توڑنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے شورش کاشمیری نے بھٹو کو کھلا خط لکھا جس میں قادیانی اسرائیلی اتحاد اجاگر کرنے کے لیے مندرجہ ذیل نکات پر روشنی ڈالی گئی:۔
- (1) قادیانی پاکستان میں بالکل وہی کردار ادا کر رہے ہیں جو یہودی، امریکہ اور برطانیہ
میں کر رہے ہیں۔
- (2) قادیانی، اسرائیلی تعلقات کی نوعیت جاننے کے لیے ان خطوط پر تحقیقات ہونی
چاہئیں۔ کیسے اور کس طرح سے اسرائیل نے پاکستانی سیاست میں مداخلت کی؟ اسرائیل کے آلہ کار کون تھے اور ان کے مذموم منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے کونسی سیاسی جماعت استعمال ہوئی؟
- (3) پاکستانی انٹیلی جنس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے کام کرنے والے
قادیانی مشن کی کارروائیوں کی تفصیلات مہیا کرے جو مذہبی مرکز کے لبادے میں ایک سیاسی شعبہ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ یہ کس مقصد کے لیے کام کر رہا ہے؟ قادیانی کن کو تبلیغ کرتے ہیں؟ اسرائیل، عیسائی مبلغین کو اپنے عقائد کی تبلیغ کی اجازت نہیں دیتا، اس نے قادیانیوں کو کھلے عام اپنے عقائد کی تبلیغ کی اجازت کیوں دے رکھی ہے؟ کتنے یہودیوں نے قادیانیت قبول کی ہے؟ کیا یہ واضح نہیں ہے کہ قادیانی سامراجی قوتوں کے آلہ کار ہیں اور عالم اسلام کے استحکام کے درپے ہیں۔
حقیقت میں قادیانی امت ایک مستبد اور ظالم اقتدار کے سائے میں پروان چڑھی ہے۔ سامراج نے اسے جنم دیا اور بیورو کریسی نے اسے تحفظ دے کر نشوونما کے مراحل طے کرائے، اب بھی اسی کے سہارے قائم ہے اور اپنے اقتدار کے حصول کے لیے در پردہ سازشوں کا جال بچھائے ہوئے ہے۔ اس کے اثر و نفوذ اور اس کی قوت و طاقت کا اصل منبع اندرون ملک بیورو کریسی اور بیرون ملک برطانوی سامراج ہے۔ جب تک اس کے یہ دو سہارے قائم ہیں۔ اس وقت تک اس کا وجود بھی قائم ہے اور جب اس کے یہ سہارے ختم ہو جائیں گے، اسی لمحے یہ فتنہ بھی اپنی موت آپ مر جائے گا۔
اے محبان پاکستان! یہ پیارا ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا۔ اس کے حصول کے لیے بے شمار جانی و مالی قربانیاں دی گئیں۔ قادیانی اپنے خلیفہ کے حکم پر پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہیں۔ لہٰذا اس کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہر محب وطن کا اولین فریضہ ہے۔ قادیانیوں کی اسلام اور پاکستان مخالف سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا وقت کی ضرورت
ہے۔ اس میں ذرا سی غفلت یا لاپروائی بہت بڑے نقصان کا باعث ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے دشمن قادیانیوں کو پہچاننا، ان کے عزائم کو ناکام بنانا، ان کی زہریلی سازشوں اور تخریبی کارروائیوں پر کڑی نظر رکھنا ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ کیا آپ اس ذمہ داری کے لیے تیار ہیں؟؟؟
ہم راہ وفا کے رہرو ہیں، منزل ہی پہ جاکر دم لیں گے
یہ بات عیاں ہے دنیا پر، ہم پھول بھی ہیں تلوار بھی ہیں
یا بزم جہاں مہکائیں گے یا خوں میں نہا کر دم لیں گے
ہم ایک خدا کے قائل ہیں، پندار کا ہر بت توڑیں گے
ہم حق کا نشاں ہیں دنیا میں، باطل کو مٹا کر دم لیں گے
جو سینہ دشمن چاک کرے، باطل کو مٹا کر خاک کرے
یہ روز کا قصہ پاک کرے، وہ ضرب لگا کر دم لیں گے
یہ فتنہ و شر کے پروردہ، تخریب کے ساماں لاکھ کریں
ہم بزم سجانے آئے ہیں، ہم بزم سجا کر دم لیں گے
یا ربنا یا ارحم الراحمین
رحم کن برحال ما یا رحمۃ اللعالمین
تصویریں بولتی ہیں
یہ مرزا قادیانی کی تصویر ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی اور رسول ہے، تمام انبیاء کرام کا مجموعہ ہے، بلکہ خود محمد رسول اللہ ہے (نعوذ باللہ) اللہ کا نبی اپنے دور میں تمام انسانوں سے زیادہ خوبصورت اور حسین و جمیل ہوتا ہے۔ وہ اپنے حسن کی زکوٰۃ تقسیم کرے تو پوری کائنات صاحب حیثیت ہو جائے۔
آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا نبی اس شکل کے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خود مبعوث کیا ہو اور اُن کی موت بیت الخلا میں ہوئی ہو۔ (نعوذ باللہ)! ہمیں تو یہ رنجیت سنگھ کی تصویر لگتی ہے۔ (مہاراجا رنجیت سنگھ سے معذرت کے ساتھ)!
یہ ملکہ وکٹوریہ کی تصویر ہے جس کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے نبوت کے دعویدار آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں کے ہزاروں صفحات سیاہ کیے
پوسٹ مارٹم
- ✡ قادیان ............. قبلہ
- ✡ ربوہ ............. اعصابی مرکز
- ✡ تل ابیب ............. تربیتی کیمپ
- ✡ لندن ............. آماجگاہ
- ✡ بھارت ............. استاد
- ✡ جرمنی ............. پناہ گاہ
اور
- ✡ واشنگٹن ............. اس کا بینک ہے
دہشت گرد کون؟
تمام صوبوں کے ہوم سیکرٹریوں کے نام وزارت داخلہ پاکستان کا خط کہ قادیانیوں کے خلیفہ مرزا طاہر نے لندن سے اپنے پیروکاروں کو پیغام بھیجا ہے کہ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال کو خراب کریں۔
No.4/9/92-Poll.I(2) Government of Pakistan Ministry of Interior & Narcotics Control ( Interior Division ) .... 5507/c 15/8 No... 7344 Date 15/8 Islamabad, the 13th Aug, 1992.
From: Muhammad Munir Butt, Section Officer.
To: Mr. Muhammad Saeed Mehdi, Chief Commissioner, ICT, Islamabad.
Mr. Nazir Ahmad Ch., Home Secretary, Punjab, Lahore.
Mr. Muhammad Asadullah Sh., Home Secretary, Sindh, Karachi.
Mr. Gulzar Khan, Home Secretary, NWFP, Peshawar.
Mirza Qamar Beg, Home Secretary, Baluchistan, Quetta.
SUBJECT: SECTARIAN/RELIGIOUS ACTIVITIES.
Sir,
I am directed to say that it is reliably learnt that Mirza Tahir Ahmed (Chief of Jamat Ahmadi) has sent a special message to his organization leaders in Pakistan from London and has reprimanded all the qadianis for their complete silence in Pakistan indicative of their weakness and indifference. Reportedly he has instructed them to resort to posters/pamphlets campaign against alleged obscenity, deteriorating law and order situation in Sindh and corruption.
2. It is requested that necessary vigilance may please be exercised to avert such campaign.
Your obedient servant,
(Muhammad Munir Butt) Section Officer
قادیانیت
برطانوی سامراج کا خودکاشتہ پودا
عکسی شہادتیں
مجھے ضرور پڑھیے!!!
مناظرہ کی کتاب
(196) ”اس پراگندہ وقت میں وہی مناظرہ کی کتاب روحانی جمعیت بخش سکتی ہے کہ جو بذریعہ تحقیق عمیق کے اصل ماہیت کے باریک دقیقہ کی تہہ کو کھولتی ہو اور اس حقیقت کے اصل قرارگاہ تک پہنچاتی ہو کہ جس کے جاننے پر دلوں کی تشفی موقوف ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 56 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 643 پر)
زبانی تبلیغ نہیں بلکہ تحریر پیش کرنی چاہیے
(197) ”وہ لوگ جو اشاعت اور تبلیغ کے واسطے باہر جاویں۔ وہ ایسے نہ ہوں کہ اُلٹ پلٹ کر ہماری باتوں کو کچھ اور کا اور ہی بناتے رہیں اور بات تو کچھ اور ہو سمجھانے کچھ اور لگ جاویں۔ دوسروں کو تو ہمارے دعویٰ سے آگاہ کریں اور خود ہماری کتابوں کو کبھی پڑھا بھی نہ ہو۔ اس طرح سے ہی تحریف ہوا کرتی ہے۔ ایسے وقتوں میں صرف زبانی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ تحریر پیش کرنی چاہیے۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 328 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 644 پر)
غور و فکر کرنے کی نصیحت
(198) ”اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان کسی بات کو خالی الذہن ہو کر نہیں سوچتا اور تمام پہلوؤں پر توجہ نہیں کرتا اور غور سے نہیں سُنتا، اس وقت تک پُرانے خیالات نہیں چھوڑ سکتا۔ اس لیے جب آدمی کسی نئی بات کو سُنے تو اُسے یہ نہیں چاہیے کہ سُنتے ہی اُس کی مخالفت کے لیے تیار ہو جائے بلکہ اس کا فرض ہے کہ اُس کے سارے پہلوؤں پر پورا فکر کرے اور انصاف اور
دیانت اور سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے خوف کو مدنظر رکھ کر تنہائی میں اس پر سوچے۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 355 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 645 پر)
مسخ شدہ لوگوں کی علامت
(199) ”یہودی لوگ جو مورد لعنت ہو کر بندر اور سور ہو گئے تھے۔ ان کی نسبت بھی تو بعض تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ بظاہر وہ انسان ہی تھے لیکن ان کی باطنی حالت بندروں اور سوروں کی طرح ہو گئی تھی اور حق کے قبول کرنے کی توفیق بکلی اُن سے سلب ہو گئی تھی اور مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کر سکتے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 325، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 646 پر)
تعصب
(200) ”تعصب ایک ایسی بلا ہے جو غور کرنے نہیں دیتا“
(چشمہ معرفت ص 68 مندرجہ روحانی خزائن ج 23 ص 436، از مرزا قادیانی)
(عکس صفحہ نمبر 647 پر)
جہاں سے نکلے تھے......
(201) ”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے، وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔“
(حیات احمد، حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات جلد دوم نمبر اول صفحہ 25 از یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان)
(عکس صفحہ نمبر 648 پر)
خود دیکھنا اپنا بھی گوارا نہیں کرتے
تذکرہ
مجموعہ
الہامات ، کشوف و رؤیا
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام
مکتوباتِ احمد
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود ومہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام
کے
خطوط اور مکاتیب
جلد اوّل
مکتوباتِ احمد
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام
کے
خطوط اور مکاتیب
جلد دوم
ملفوظات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود
بانی جماعت احمدیہ
جلد اوّل
ملفوظات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود
بانی جماعت احمدیہ
جلد دوم
ملفوظات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود
بانی جماعت احمدیہ
آغاز مئی ١٩٠٣ء تا اواخر ١٩٠٥ء
جلد چہارم
ملفوظات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود
بانی جماعت احمدیہ
جنوری ١٩٠٦ء تا مئی ١٩٠٨ء
جلد پنجم
مجموعہ
اشتہارات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام
جلد اوّل
مجموعہ
اشتہارات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام
جلد دوم
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ
سیرت المہدی
(حصہ دوم)
تالیف لطیف حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے
جسے
مینجر بک ڈپو تالیف و اشاعت قادیان دارالامان
نے
ماہ دسمبر ١٩٣٧ء میں شائع کیا ٭
اسلامیہ اسٹیم پریس لمیٹڈ لاہور میں باہتمام محمد حمید الزمان مینجر کے چھپا
حامداً ومصلياً
وَعَلى عَبْدِهِ المَسِيحِ المَوعُودِ
سیرۃ المہدی
حصّہ سوم
(مرتب فرمودہ)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے
جسے
خاکسار
پروفیسر محمد اسماعیل مولوی فاضل و منشی فاضل نے قادیان دارالامان سے
شائع کیا
حقوق طبع محفوظ
ایڈیشن اوّل صفر ١٣٥٨ھ اپریل ١٩٣٩ء
بمطبع الفضل قادیان دارالامان
ٹائیٹل پیج بار اول
جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ
بفضلہٖ تعالیٰ
اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا
یہ رسائل اربعہ جن کے نام بتفصیل ذیل ہیں
انجام آتھم
خدائی فیصلہ ۔ دعوتِ قوم
مکتوبِ عربی بنام علماء
مطبع ضیاء الاسلام میں طبع ہو کر عام فائدہ
کے لئے شائع کئے گئے
بمقام
قیمت فی جلد
قادیان
روحانی خزائن
تصنیفات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام
جلد ١
براہین احمدیہ
چہار حصص
ازالہ اوہام
حصہ اول
نقل ٹائیٹل بار اول
حصہ اول
یہ کتاب اگرچہ بڑی مدت سے تیار ہوئی مگر قبول میں ایک زمانہ تک اس کو انتظار رہے گا اور بڑے زور اور جوش کیساتھ اپنی حقانیت ظاہر کریگی
ازالۃ اوھام
فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ
الحمد والمنت کہ بماہ مبارک ذی الحجہ ١٣٠٨ھ کتاب
جامع معارف قرآنی و شارح اسرار کلام ربانی از
تالیفات مرسل یزدانی و مامور رحمانی
جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی
بمطبع ریاض ہند پریس امرتسر میں بحسب فرمائش شیخ نور احمد مالک مطبع کے طبع گردیدہ
قیمت فی جلد مجلد
تعداد جلد ٧٠٠
ٹائیٹل پیج بار اول
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
یہ خدا کی وحی ہے جو قرآنی آیات میں مجھ پر نازل ہوئی
وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ
ترجمہ۔ تیار کر کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے۔ تحقیق جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں خدا سے بیعت کرتے ہیں خدا کا ہاتھ انکے ہاتھوں پر ہے۔
رسالہ آسمانی ٹیکا جو طاعون کے بارے میں اپنی جماعت کیلئے تیار کیا گیا
کشتی نوح
اور دوسرا نام
دعوت الایمان
اور تیسرا نام
تقویۃ الایمان
مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيْمًا الجزء ٥ النساۤء
وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ
میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا
اِرْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖىهَا وَمُرْسٰهَا لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ
ترجمہ۔ کشتی میں سوار ہو جاؤ اللہ کے نام پر اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے آج خدا کے امر سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے۔
٥؍ اکتوبر ١٩٠٢ء
مقام قادیان منشی فضل دین صاحب کے اہتمام سے مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپ کر شائع ہوا
تعداد جلد ٥٠٠٠
ٹائیٹل بار اول
الحمد للہ و المنۃ
کہ تمام مخالفوں پر الٰہی حجت پوری کرنے کیلئے یہ رسالہ جس کا نام ہے
اربعین
لاتمام الحجۃ علی المخالفین
بمقام قادیان مطبع ضیاء الاسلام میں باہتمام حکیم فضلدین صاحب مالک مطبع چھپکر شائع ہوا
طبع ٧٠٠ ١٥۔دسمبر١٩٠٠ء قیمت ٥ر
جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
گر یک نظر کنند دریں نسخہ کتاب | ہست ایں یقیں کہ ترک جفا و ابا کنند
باور نمی کنم کہ نیایند عذر خواہ | ویں امر دیگر است کہ ترک حیا کنند
براہین احمدیہ
حصہ پنجم
(٥)
ملقب
بالبراہین الاحمدیۃ علی حقیّۃ کتاب اللّٰہ القرآن والنبوۃ المحمدیۃ
مؤلفہ
حضرت اقدس مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام
ٹائٹل پیج بار اول
يٰاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ الحمد لله الموفق انى كتبت هذه الرسالة والصحيفة العجالة لعلاج مرض المتنصرين الذى امتدّ مداه وعقرتهم مُدَاه واكلتهم نار انكار الفرقان . والصول على كتاب الله القرآن . فأردت ان انجيهم من مخلب الحمام . ونريهم سوء داءهم ونهديهم الى دواء السقام . فألّفت هذا الكتاب مع انعام كثير لمن اجاب . وهو خمسة الاف من الدراهم لكل من اتى بمثله وارى العجائب . وهو بفضل الله حسن وطيب والطف وادق . وسميته الحصة الاولى من
نور الحق
"عسى ربكم ان يرحمكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين حصيرا ان هذا القرآن يهدى للتى هى اقوم ويبشر المؤمنين الذين يعملون الصالحات ان لهم اجرا كبيرا"
قد طبع فى المطبع المصطفائى پريس فى لاهور سنه ١٣١١ هجرى
(نقل ٹائیٹل طبع اول) * بغیر دستخط مہتمم کتب خانہ کے کتاب مسروقہ سمجھی جاوے گی *
اِنَّا اِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ
(ترجمہ)
ہم آریوں کا ردّ لکھنے سے فراغت کر چکے سو اُس خدا کو سب تعریف ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے ہم جب ایک قوم پر چڑھائی کرتے ہیں اور اُنکے صحن میں اُترتے ہیں تو وہ صبح اُن کی ایک نکبت کی صبح ہوتی ہے جو تباہی کی خبر دیتی ہے
مہر قاسم علی دستخط میر قاسم علی
یہ کتاب آریہ صاحبوں کے اُس مضمون کے جواب میں ہے جسکو اُنہوں نے اپنے مذہبی جلسہ میں دسمبر ١٩٠٧ء میں بمواجہہ چارسو معزز ہماری جماعت کے مسلمانوں کے خود اُنکو اپنے گھر میں بلا کر سُنایا تھا جو ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور دشنام دہی سے پُر تھا جس میں دین اسلام پر جا بجا توہین اور ہنسی اور ٹھٹھا کیا گیا تھا اور نہایت شوخی سے گندی گالیاں دے کر اور بے حیا تہمتیں ہمارے مقدس ذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگا کر صدہا مسلمانوں کو خود مدعو کر کے نہایت دُکھ دیا تھا اور اُس کتاب کا نام ہے
چشمہ معرفت
از مؤلفات حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود جو ١٥ مئی ١٩٠٨ء کو مطبع انوار احمدیہ مشین پریس قادیان ضلع گورداسپور میں طبع ہوئی باہتمام شیخ یعقوب علی تراب مینجر
دو ہزار چار سو قیمت فی جلد غیر مجلد اور قیمت مجلد تین روپے
ٹائیٹل پیج بارِ اوّل
قادر کے کاروبار نمودار ہوگئے ۔ کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہوگئے
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ
وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُوْنَ (سورۃ صافات)
وَكَفَانِيْ مِمَّا اُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْوَحْيُ الْمُبَشِّرُ
قَالَ رَبُّكَ اِنَّهٗ نَازِلٌ مِّنَ السَّمَاءِ مَا يُرْضِيْكَ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ
مَا اُرْسِلَ نَبِيٌّ اِلَّا هُزِئَ بِهٖ اَبْلِہْ قَوْمًا لَّا يُؤْمِنُوْنَ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا
وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ۔ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاَنَّ لَهُمُ الْخَیْرَ ۔ وَاللّٰهُ مُتِمُّ
نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ ۔ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ لَا تَخَفْ اِنَّكَ لَمِنَ
الْمُرْسَلِيْنَ ۔
حقیقۃ الوحی
خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ یہ کتاب جامع جس میں ہر ایک قسم کے
حقائق اور معارف اور بہت سے آسمانی نشان درج ہیں محض اسی کے
فضل اور کرم اور خاص اس کی توفیق اور تائید سے مرتب و تالیف ہو کر
مطبع میگزین قادیان میں باہتمام مینجر مطبع کے چھپی
تعداد ایک ہزار جلد تاریخ اشاعت ١٥ مئی ١٩٠٧ء
(ٹائیٹل طبع اوّل)
الحمد للہ والمنّۃ کہ بتائید و توفیق آں نعم المولیٰ و نعم النصیر و عنایات
آں ذاتِ جلیل و عظیم کہ یہ حصّہ اولیٰ کتاب لاجواب موسوم بہ
آئینہ کمالاتِ اسلام
جس کا دوسرا نام دافع الوساوس بھی ہے
بماہ فروری سنہ ١٨٩٣ء
مطبع ریاض ہند قادیان میں باہتمام شیخ نور احمد مہتمم
و مالک مطبع طبع ہو کر شائع ہوا
ٹائٹل طبع اوّل
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَجَاہِدُوْا فِيْ سَبِيْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا
قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِيْدًا بَيْنِيْ وَبَيْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَہٗ عِلْمُ الْکِتَابِ
الحمد للہ
کہ یہ رسالہ جس کا نام ہے
ضرورۃ الامام
صرف ڈیڑھ دن میں طیار ہوکر
مطبع
ضیاء الاسلام قادیان میں
قیمت ٢؍ محصول علاوہ جلد - - ٧ -
باہتمام حکیم فضل الدین صاحب بھیروی مالک و مہتمم مطبع ھذا
ٹائٹل بار اول
هذا هو الكتاب الذى الهمت حصة منه من رب العباد. فى يوم عيد من الاعياد. فقرأته على الحاضرين. بانطاق الروح الامين. من غير مدد الترقيم والتدوين. فلاشك انه اية من الايات. وما كان لبشر ان ينطق كمثلى مرتجلاً مستحضراً فى مثل هذه العبارات. وكان الناس يرقبون طبعه رقبة يوم العيد ويستطلعون بعيون المشتاق المريد. فالحمد لله الذى اراهم مقصودهم بعد الانتظار. ووجدوا مطلوبهم كبستان مذللة اغصانه من الثمار. وانه صنيعة احسان الحضرة. ومطية تبليغ الناس الى السعادة وانه غيث من الله بعدما أَمْحَلَتِ البلاد وعم الفساد. ولن تجد هذه المعارف فى الآثار المنتقاة المدوّنة من الثقات. بل هى حقائق اوحيت الىّ من رب الكائنات. وانه اظهار تام. وهل بعد المسيح ختم. وهل بعد خاتم الخلفاء على السرّ ختم. وليس من العجب ان تسمع من خاتم الائمة. الا ما سمعت من قبل من علماء الملة. بل العجب كل العجب ان يأتى المسيح الموعود والامام المنتظر وحَكَمُ الناس وخاتم الخلفاء. ثم لا يأتى بمعرفة جديدة من حضرة الكبرياء. ويتكلم ككلام العامة من النظراء. ولا يرى فرقاً بيّنا بين الظلمة والضياء. وانى سميت هذة الرسالة
خُطْبَةٌ اِلْهَامِيَّةٌ
وَإِنِّى عُلِّمْتُهَا اِلْهَامًا مِنْ رَبِّى وَكَانَتْ اَيَةً
تعداد الاشاعة ٢١٠٠
ثمن فى نسخة واحدة عنہ
وانها طبع فى مطبع ضياء الاسلام قاديان باهتمام الحكيم فضل الدين البھيروى فى سنة ١٣١٩ من الهجرة المقدسة
ٹائیٹل پیج طبع اول
الحمدللہ والمنۃ
کہ یہ رسالہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور ان کے مریدوں اور ہمنوا لوگوں پر اتمام حجت کے لئے محض نصیحۃً للہ شائع کیا گیا ہے اور بغرض اس کے کہ عام لوگوں پر حق واضح ہو جائے اس رسالہ کے ساتھ پچاس ٥٠ روپیہ کے انعام کا اشتہار بھی دیا گیا ہے جو اسی ٹائیٹل پیج کے دوسرے صفحہ پر مندرج ہے اور یہ رسالہ موسوم بہ
تحفہ گولڑویہ
ہو کر
مطبع ضیاء الاسلام قادیان ضلع گورداسپور میں باہتمام حکیم حافظ فضل الدین صاحب بھیروی مالک مطبع چھپ کر یکم ستمبر ١٩٠٢ء کو شائع ہوا
قیمت ١٠ محصول ٢ جلد ٧٠٠ دخلی ٤ کل ١١٤
(ٹائٹل پیج طبع بار ثانی)
الحمدللہ والمنت کہ رسالہ طیبہ مبارکہ
المسماۃ بہ
شَهَادَةُ القُرْآنِ
عَلَى
نُزُولِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ
مطبع پنجاب پریس سیالکوٹ میں
باہتمام
منشی غلام قادر صاحب
فصیح کے چھپا
ٹائیٹل طبع اوّل
كَيْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ فِیْكُمُ ابْنُ مَرْیَمَ وَ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ
خدائے تعالیٰ کے بے انتہا احسانوں میں سے یہ بھی ایک عظیم الشان فضل و احسان ہے۔ کہ کتاب مستطاب منبع ایقان و عرفان مسمّٰی بہ
صد در ہدیٰ بر رخے من بکشادہ اند
نزول المسیح
این دو شاہد از پئے تصدیق من استادہ اند
خود مسیح موعود علیہ السلام کے قلم سے نکلی ہوئی جس کا نزول جمالی اور جلالی رنگوں میں حضرت خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق جو آخری زمانہ کے متعلق تھیں اسوقت کے اولوالالباب واولوالابصار نے برأی العین مشاہدہ کیا
مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپکر مہتمم کتبخانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زیر نگرانی شائع ہوئی ۔ ٹائیٹل پیج مطبع میگزین قادیان میں چھپ کر طیار ہوا۔
بار اول تعداد اشاعت ٢٩٠٠
ماہ اگست ١٩٠٩ء قیمت ٤ رو شعبان المعظم ١٣٢٧ھ
ٹائیٹل طبع اوّل
مطبوعہ ضیاء الاسلام
١٣١٤ھ
سِرَاج مُّنِیرُ
مشتمل بر نشانہائے ربّ قدیر
قادیان دارالامان مع الامان
مئی ١٨٩٧ء
اے قادرِ خدا ! اس گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور اس سے نیکی کر جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ آمین۔
كَشْفُ الغِطَاءِ
یعنے
ایک اسلامی فرقہ کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے
بحضور گورنمنٹ عالیہ اس فرقہ کے حالات اور خیالات کے بارے میں اطلاع اور نیز اپنے خاندان کا کچھ ذکر اور اپنے مشن کے اصولوں اور ہدایتوں اور تعلیموں کا بیان اور نیز ان لوگوں کی خلاف واقعہ باتوں کا ردّ جو اس فرقہ کی نسبت غلط خیالات پھیلانا چاہتے ہیں اور یہ مؤلف
تاجِ عزّت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکّام کے باادب گذارش کرتا ہے کہ براہِ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سُن لیا جائے۔
یہ رسالہ تالیف ہو کر ٢٧؍ دسمبر ١٨٩٨ء کو مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مالک مطبع کے مطبوع ہوا۔
تعداد ٣٥٠
ان ھذا الكتاب يدفع وساوس الخناس۔ وفيه
شفاء للناس۔ وھو يھب السكينة
ويجلوا الكروب۔ وسميته۔
تریاق القلوب
تصنیف
امام ربانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی
مسیح موعود ومہدی مسعود علیہ الصّلوٰۃ والسّلام۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلَاغُ
البلاغ
جس کا دوسرا نام ہے
فریادِ درد
تصنیف منیف حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
جسے
باجازت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ
مینیجر بک ڈپو تالیف و اشاعت قادیان نے شائع کیا
٢٩؍ مارچ ١٩٢٢ء تعداد ١٠٠٠ سنہ ١٣٤٠ ھ ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شَهْرٌ مُبَارَكٌ وَلَدٌ صَالِحٌ يُحِبُّهُ الْقُرْآنُ
بماہ
جنوری ١٨٩٨ء
كِتَابُ البَرِيَّةِ
مع
آيَاتِ البَرِيَّةِ
مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپا
تعداد جلد ٧٠٠
یہ ایک الہام ہے جو اس سے پہلے کہ ڈاکٹر مارٹن کلارک نے مجھ پر خون کا دعویٰ کیا تھا۔ مجھے ہوا تھا، اور یہ الہام بھی جس میں تحریر تھا کہ پادریوں کا فریب چلایا نہ جائے گا اور براءت ہو گی ۔ مگر چونکہ الہام میں بہت سے لوگوں کی طرف اشارہ تھا اس لئے ظاہر کرنا پڑا کہ یہ ایک کثیر التعداد جماعت ہے جو مجھے پھنسانے کے لئے فریب کر رہی ہے اور جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایسا ہی فتنہ ہے جس میں بہت سے لوگ شریک ہیں۔ پس الہام کے لفظ براءت سے جس کی تشریح پہلے الہام میں یہ کی گئی تھی کہ مبرأ مما يقولون أَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۔ فَبَرَّأَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيهًا۔ وَاللّٰهُ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ ۔ وَلَنَجْعَلَنَّهُمُ آيَةً مُّبَيِّنَةً ۔ الْاِجْتِهَادُ يُخْطِئُ وَيُصِيْبُ ۔ إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ ۔ اِنِّي مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِيْكَ وَ اَمْرٌ يَّضْرِبُوْنَ ۔ میں مخالفوں میں پھوٹ ڈالوں گا۔ (اس میں یہ اشارہ ہے کہ آخر عبدالحمید اور پادریوں کے جوڑ ٹوٹ جائیں گے) اس قدر تاکید تھا کہ دریں پیش یہ الہام ہوا تھا وہی وعدہ دوبارہ اس الہام میں لفظ براءت کے ساتھ دیا گیا ہے۔ نیک دل قبول کر سکتا ہے کہ ایک جماعت بڑے بڑے معززوں کی جن میں تحصیلدار بھی ہیں میں شریک ہیں جھوٹی گواہیاں دیں مگر خدا نے ان سب کو ذلیل کیا اور جیسا کہ الہام میں یہ بھی لکھا تھا کہ میں ان کو پھاڑ دوں گا سو خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا کہ عبدالحمید جو اس تمام افتراء کا مدار اور قطب تھا اس کا دل پھیر دیا اور وہ پادریوں کے قابو سے ایسا نکل گیا کہ پھر ان کے ہاتھ نہ آیا۔ اور وہ شخص جس کو انہوں نے اپنے گھر کا ایسا محرم راز بنا رکھا تھا کہ اسی کے ہاتھ سے مجھے قتل کرانا چاہتے تھے وہی ان کے گلے کا طوق ہوا اور اسی کی گواہی سے ان کا فریب ٹوٹا ۔ اور اس تمام کاروائی سے ظاہر ہو گیا کہ درحقیقت مجھ کو پھانسی دینے اور مار ڈالنے کے چاہنے والے پادریوں کے دعووں کی بناء اور دلیلیں فقط دغا اور فریب سے بنائی گئی ہیں۔ اور خدا تعالیٰ نے اس مقدمہ میں دو نشان دکھلائے۔ اول یہ کہ مجھے اور میری جماعت کو ایک بڑے بھاری فتنہ سے بچا لیا۔ دوم یہ کہ پادریوں کے اس تمام فریب کو جو انہوں نے میری تباہی کے لئے سوچا تھا خاک میں ملا دیا۔ اس نشان کو ہم نے عربی رسالہ میں جس کا نام حجة الله ہے مع تمام وجوہات کے لکھ دیا ہے چونکہ اس نشان میں اکثر الہامات عربی تھے۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ ان کو عربی میں ہی لکھوں اور جس قدر اردو الہامات تھے وہ بھی عربی میں ہی ترجمہ کر کے لکھ دئیے ہیں۔ ناظرین اس کتاب میں ان کو پڑھ لیں ۔ اور چونکہ یہ الہام بعض الہامات ٭
اس مقدمہ کے شرکاء جن کی نسبت الہام براءت میں خبر دی گئی تھی یعنی مسٹر پادری مارٹن کلارک ڈسٹرکٹ میڈیکل مشنری امرتسر ۔ پادری سراج الدین امرتسر - عبدالحمید مخبر - پادری جے ۔ ایم ۔ کلارک پادری تھامس ۔ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب نے یہ دعویٰ بظاہر صرف میری نسبت کیا تھا مگر درحقیقت وہ تمام جماعت کے تباہ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے اسی وجہ سے اس کی براءت
٭ یہاں ان الہامات کا بغرض ثبوت اندراج ہے ہم نے بوجہ ضیق مقام کے ان کا ترجمہ نہیں دیا ہے پس کوئی شخص جلدی میں یہ خیال نہ کرے کہ وہ اصل الہامی الفاظ کو نہیں سمجھے۔
تائید حق طبع اول
دنیا کے اہل بدعت و ہوا نے اسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کریگا اور پر زور آور حملوں سے اسکی سچائی ظاہر کریگا۔
هذا كتاب يحكم بين الشيعة واهل السنة ويهدى الى الحق فى امر الخلافة وانه يقطع معاذير المخالفين ويبطل تقارير المفتريين ولا يستنكره الا من لبس الصفاقة وخلع الصدق والصداقة واتبع الكاذبين
فنحمد بارئنا على ما اسعدا
وَسَمَّيْتُهُ سِرَّ الخِلاَفَةِ حُجَّةً
بما جَاءَ فى تلك المقاصد ارشدا
هذا كتاب سر الخلافة لمن يبغى سبل الثقافة
وقد طُبع فى المطبع رياض الهند امرتسر فى الشهر المبارك محرم سنة ١٣١٢ هـ
یہ کتاب شیخ محمد حسین بٹالوی اور دوسرے علماء مکفرین کے الزام اور افحام اور انکی مولویت کی حقیقت کھولنے کے لئے بوجہ انعام ستائیس ٢٧ روپیہ شائع ہوئی ہے۔ ستائیس ٢٧ دن بالمقابل رسالہ بنانے کیلئے مہلت دی گئی ہے اور یہ ستائیس دن روز اشاعت سے محسوب ہونگے۔
ٹائیٹل بارِ اوّل
الحمدللہ والمنۃ کہ
یہ رسالہ مبارکہ جس میں حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ دام اقبالہا کی برکات کا ذکر ہے اور یہ بیان ہے کہ جناب ملکہ ممدوحہ کے عہد عدالت مہد میں اور اُن کے نہایت روشن ستارہ کی تاثیر سے انواع اقسام کی زمینی اور آسمانی برکتیں ظہور میں آئی ہیں منطبع ہوکر انہی وجوہ کی مناسبت سے نام اس کا
ستارۂ قیصرہ
رکھا گیا
اور یہ رسالہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل دین صاحب مالک مطبع کے چھپ کر ٢٤؍ اگست ١٨٩٩ء کو شائع ہُوا
تعداد جلد ٢٥٠ قیمت ٢ ؍
ٹائیٹل طبع اوّل
فِیہِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ
محمدؐ است فرو زندۂ زمین و زماں
خدا مگوئیش از ترس حق مگر بخدا
خدا نماست و ہویش برائے عالمیاں
اسلام اور اس ملک کے دوسرے مذاہب
حضرت مجدد الوقت امام الزمان مسیح موعودؑ جناب مرزا غلام احمد صاحب
رئیس قادیان کا لیکچر
جو ٣؍ ستمبر ١٩٠٤ء کو بمقام لاہور ایک عظیم الشان جلسہ میں پڑھا گیا
اور جسکو انجمن فرقانیہ لاہور کیلئے
میاں معراج الدین عمر جنرل کنٹریکٹر و سیکرٹری انجمن مذکور و حکیم شیخ نور محمد منشی فاضل مالک مطب ہمدم صحت لاہور نے رفاہِ عام سٹیم پریس لاہور میں خلق اللہ کے فائدہ کے لئے چھپوا کر شائع کیا
٢٤٩ لیکچر لدھیانہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
لیکچر لدھیانہ
جو
حضور علیہ السلام نے ٤ نومبر ١٩٠٥ء کو ہزاروں آدمیوں کی موجودگی میں دیا
اوّل مَیں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں جس نے مجھے یہ موقعہ دیا کہ مَیں پھر اس شہر میں تبلیغ کرنے کے لئے آؤں۔ مَیں اس شہر میں ١٤ برس کے بعد آیا ہوں اور مَیں ایسے وقت اس شہر سے گیا تھا جبکہ میرے ساتھ چند آدمی تھے اور تکفیر تکذیب اور دجّال کہنے کا بازار گرم تھا اور مَیں لوگوں کی نظر میں اس انسان کی طرح تھا جو مطرود اور مخذول ہوتا ہے اور ان لوگوں کے خیال میں تھا کہ تھوڑے ہی دنوں میں یہ جماعت مردود ہو کر منتشر ہو جائیگی اور اس سلسلہ کا نام و نشان مٹ جائیگا۔ چنانچہ اس غرض کے لئے بڑی بڑی کوششیں اور منصوبے کئے گئے اور ایک بڑی بھاری سازش میرے خلاف یہ کی گئی کہ مجھ پر اور میری جماعت پر کفر کا فتویٰ لکھا گیا ۔ اور سارے ہندوستان میں اس فتویٰ کو پھرایا گیا۔ مَیں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ سب سے اول مجھ پر کفر کا فتویٰ اس شہر کے چند مولویوں نے دیا مگر مَیں دیکھتا ہوں اور آپ دیکھتے ہیں کہ وہ کافر کہنے والے موجود نہیں اور خدا تعالیٰ نے
احمدی اور غیر احمدی
میں کیا فرق ہے ؟
تقریر
حضرت مسیح موعود علیہ السلام
بر موقعہ
جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ ١٩٠٥
—الناشر—
مہتمم نشر و اشاعت صدر انجمن احمدیہ ربوہ (پاکستان)
٢٥١
(ٹائیٹل پیج بار اول)
الہدیۃ المبارکہ
یعنی کتاب
تحفہ قیصریہ
بمقام قادیان
مطبع ضیاء الاسلام میں چھپا
٢٥ مئی ١٨٩٧ء
رسالہ
معیار المذاہب
فطرتی معیار سے مذاہب کا مقابلہ
از تصنیف
حضرت مسیح موعود علیہ السلام
ٹائٹل بار اول
وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ
جو شخص مظلوم ہو کے بدلہ لے اس پر کوئی الزام نہیں
ست بچن
آریہ دھرم
مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں حکیم فضل الدین مالک مطبع
کی اہتمام سے چھپے
سِنہ طبع
قیمت فی جلد مجلد
ٹائیٹل بار اوّل
هَلْ جَزَآءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
گورنمنٹ انگریزی
اور
جہاد
٢٢؍ مئی ١٩٠٠
مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب چھپا
تعداد ٧٠٠
ٹائیٹل پیج طبع اول
يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا
علامات بها عرف الامام
فلا تعجب بما جئنا بنور
بدت عين اذا اشتد الاوام
بشرى لطلبة النور ان هذا المكتوب من الامام المغفور
اسمه كما تراه
لُجَّةُ النُّور
الى علماء
العرب والشام والبغداد والعراق والخراسان
ليجري انهار الايقان والعرفان في مزارع الايمان
وقد اتفق طبعه في مطبع ضياء الاسلام واشاعته من البلد ذي القدر
بيد الخادم الفقير مهدي حسين مهتم دار الكتب للمسيح الموعود في قاديان دار الامان
في شهر محرم الحرام ١٣٢٨ هـ من الهجرة
بعهد خليفة المسيح
نور الدين بهيروي
عدد طبعها ٤٠٠
ثمن نسخة واحدة
٢٠٠
یہ رسالہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں حکیم فضل الدین کے اہتمام سے طبع ہوا تھا۔ ٹائیٹل پیج مطبع بدر
٭ قادیان میں مفتی محمد صادق کے اہتمام سے طبع ہوا۔ برائے فروخت دارالکتب ۔
انوار العلوم جلد - ٣ ٧٥ انوار خلافت
انوارِ خلافت
(مجموعہ تقاریر جلسہ سالانہ 1915ء)
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
خلیفۃ المسیح الثانی
انوار العلوم جلد ٢ ٨١ تحفۃ الملوک
تحفۃ الملوک
( والیٔ ریاست حیدر آباد دکن کو دعوت الی اللہ )
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
خلیفۃ المسیح الثانی
انوار العلوم جلد ٢ ١٤٥ جماعت احمدیہ
جماعت احمدیہ
کا
حکومت وقت کی اطاعت کے بارے میں صحیح موقف
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
خلیفۃ المسیح الثانی
انوار العلوم جلد ٢ ١٥٣ برکات خلافت
برکاتِ خلافت
(جلسہ سالانہ ١٩١٤ء کے خطابات)
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
خلیفۃ المسیح الثانی
درین زمان برکات نشان بحمد خالق کون و مکان
کتاب مستطاب
موسوم بہ
عسل مصفّیٰ
جس میں حضرت مسیح ناصری کی وفات اور حضرت مسیح موعود کے دعوے کی سچائی
بدلائل عقلیہ و نقلیہ بوضاحت تمام بیان کی گئی ہے
از تالیف
ابو العطاء مرزا خدا بخش احمدی قادیانی یکے از کمترین خادمان مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
بماہ اپریل ١٩٠١ء مطابق غرہ ذی الحجہ ١٣١٨ھ
در مطبع اسلامیہ واقع لاہور بطبع رسید
(نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام
سیدنا
علیہ السلام
حیات احمد
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح حیات
جلد و نمبر اول
حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے
ایماء سے
از جناب شیخ یعقوب علی عرفانی
حضور علیہ السلام کی ولادت با سعادت سے لے کر زمانۂ مبعوثیت تک کے
مفصل حالات جن کو بڑی محنت و کاوش سے مرتب کیا گیا
کتاب ہذا میں حضور علیہ السلام کی ایک نایاب تصویر بھی شائع کی گئی ہے
مطبوعہ ماہِ اگست ١٩٣٩ء
حوالہ نمبر 1 روحانی خزائن جلد ١٤ ١٧٩ کشف الغطاء
﴿١﴾ میں تاج عزت عالی جناب حضرت مکرمہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈالتا ہوں کہ اس رسالہ کو ہمارے عالی مرتبہ حکام توجہ سے اوّل سے آخر تک پڑھیں ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
چونکہ میں جس کا نام غلام احمد اور باپ کا نام مرزا غلام مرتضیٰ قادیان ضلع گورداسپورہ پنجاب کا رہنے والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں جو پنجاب کے اکثر مقامات میں پایا جاتا ہے اور نیز ہندوستان کے اکثر اضلاع اور حیدرآباد اور بمبئی اور مدراس اور ملک عرب اور شام اور بخارا میں بھی میری جماعت کے لوگ موجود ہیں۔ لہٰذا میں قرین مصلحت سمجھتا ہوں کہ یہ مختصر رسالہ اس غرض سے لکھوں کہ اس محسن گورنمنٹ کے اعلیٰ افسر میرے حالات اور میری جماعت کے خیالات سے واقفیت پیدا کرلیں۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ نیا فرقہ ان ملکوں میں دن بدن ترقی پر ہے یہاں تک کہ بہت سے دیسی افسر اور معزز رئیس اور جاگیردار اور نامی تاجر اس فرقہ میں داخل ہو گئے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں اس لئے عام خیال کے مسلمانوں اور ان کے مولویوں کو اس فرقہ سے دلی عناد اور حسد ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس حسد کی وجہ سے خلاف واقعہ امور گورنمنٹ تک پہنچائے جائیں سو اسی لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس رسالہ کے ذریعہ سے اپنے سچے واقعات اور اپنے مشن کے اصولوں سے اس محسن گورنمنٹ کو مطلع کروں۔
اب میں صفائی بیان کے لئے ان امور کے ذکر کو پانچ شاخ پر منقسم کرتا ہوں اوّل یہ کہ میں کون ہوں اور کس خاندان سے ہوں؟ سو اس بارے میں اس قدر ظاہر کرنا ﴿٢﴾ کافی ہے کہ میرا خاندان ایک خاندان ریاست ہے اور میرے بزرگ والیان ملک اور خود سر امیر تھے جو سکھوں کے وقت میں یکدفعہ تباہ ہوئے۔ اور سرکار انگریزی کا
کشف الغطاء صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 179 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 68 پر درج ہے
حوالہ نمبر 2
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١١ ستارہ قیصرہ
بحضُور عالی شان قیصرہ ہند ملکہ معظّمہ ﴿١﴾
شہنشاہ ہندوستان و انگلستان
ادام الله اقبالھا
سب سے پہلے یہ دُعا ہے کہ خدائے قادر مطلق اس ہماری عالیجاہ قیصرہ ہند کی عمر میں بہت بہت برکت بخشے اور اقبال اور جاہ و جلال میں ترقی دے اور عزیزوں اور فرزندوں کی عافیت سے آنکھ ٹھنڈی رکھے۔ اس کے بعد اس عریضہ کے لکھنے والا جس کا نام میرزا غلام احمد قادیانی ہے جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان نام میں رہتا ہے جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ ستر میل مشرق اور شمال کے گوشہ میں واقع اور گورداسپورہ کے ضلع میں ہے یہ عرض کرتا ہے کہ اگر چہ اس ملک کے عموماً تمام رہنے والوں کو بوجہ اُن آراموں کے جو حضور قیصرہ ہند کے عدل عام اور رعایا پروری اور داد گستری سے حاصل ہو رہے ہیں اور بوجہ اُن تدابیر امن عامہ اور تجاویز آسائش جمیع طبقات رعایا کے جو کروڑ ہا روپیہ کے خرچ اور بے انتہا فیاضی سے ظہور میں آئی ہیں۔ جناب ملکہ معظّمہ دام اقبالہا سے بقدر اپنی فہم اور عقل اور شناخت احسان کے درجہ بدرجہ محبت اور دلی اطاعت ہے بجز بعض قلیل الوجود افراد کے جو میں گمان کرتا ہوں کہ در پردہ کچھ ایسے بھی ہیں جو وحشیوں اور درندوں کی طرح بسر کرتے ہیں لیکن اس عاجز کو بوجہ اُس معرفت اور علم کے جو اس گورنمنٹ عالیہ کے حقوق کی نسبت مجھے حاصل ہے جس کو میں اپنے رسالہ تحفہ قیصریہ میں مفصل لکھ چکا ہوں وہ اعلیٰ درجہ کا
ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 111 تا 113 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 68 پر درج ہے
حوالہ نمبر 2
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٢ ستارۂ قیصریہ
اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزّز افسروں کی نسبت ﴿٢﴾ حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں اس سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور اُمید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا۔ اور اس امید اور یقین کا موجب حضور قیصرہ ہند کے وہ اخلاق فاضلہ تھے جن کی تمام ممالک شرقیہ میں دھوم ہے اور جو جناب ملکہ معظمہ کے وسیع ملک کی طرح وسعت اور کشادگی میں ایسے بے مثل ہیں جو ان کی نظیر دوسری جگہ تلاش کرنا خیال محال ہے مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہو اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں۔ یقیناً کوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں۔ لہٰذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں۔ دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اُس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں۔ اسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں۔ اور میں حضور عالی حضرت جناب قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں یہ چند الفاظ بیان کرنے کے لئے جرأت کرتا ہوں کہ میں پنجاب کے ایک معزز خاندان مغلیہ میں سے ہوں اور سکھوں
ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 111 تا 113 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 68 پر درج ہے
حوالہ نمبر 2
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٣ ستارۂ قیصره
کے زمانہ سے پہلے میرے بزرگ ایک خود مختار ریاست کے والی تھے اور میرے پردادا صاحب مرزا گل محمد اس قدر دانا اور مدبر اور عالی ہمت اور نیک مزاج اور ملک داری کی خوبیوں سے موصوف تھے کہ جب دہلی کے چغتائی بادشاہوں کی سلطنت بباعث نالائقی اور عیاشی اور سستی اور کم ہمتی کے کمزور ہو گئی تو بعض وزراء اس کوشش میں لگے تھے کہ مرزا صاحب موصوف کو جو تمام شرائط بیدار مغزی اور رعایا پروری کے اپنے اندر رکھتے تھے اور خاندان شاہی میں سے تھے دہلی کے تخت پر بٹھایا جائے لیکن چونکہ چغتائی سلاطین کی قسمت اور عمر کا پیالہ لبریز ہو چکا تھا۔ اس لئے یہ تجویز
﴿٣﴾
عام منظوری میں نہ آئی اور ہم پر سکھوں کے عہد میں بہت سی سختیاں ہوئیں اور ہمارے بزرگ تمام دیہات ریاست سے بے دخل کر دیئے گئے اور ایک ساعت بھی امن کی نہیں گزرتی تھی اور انگریزی سلطنت کے قدم مبارک کے آنے سے پہلے ہی ہماری تمام ریاست خاک میں مل چکی تھی اور صرف پانچ گاؤں باقی رہ گئے تھے اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم جنہوں نے سکھوں کے عہد میں بڑے بڑے صدمات دیکھے تھے۔ انگریزی سلطنت کے آنے کے ایسے منتظر تھے جیسا کہ کوئی سخت پیاسا پانی کا منتظر ہوتا ہے۔ اور پھر جب گورنمنٹ انگریزی کا اس ملک پر دخل ہو گیا، تو وہ اس نعمت یعنی انگریزی حکومت کی قائمی سے ایسے خوش ہوئے کہ گویا ان کو ایک جواہرات کا خزانہ مل گیا اور وہ سرکار انگریزی کے بڑے خیرخواہ جان نثار تھے اسی وجہ سے انہوں نے ایام غدر ١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑے مع سواران بہم پہنچا کر سرکار انگریزی کو بطور مدد دیئے تھے۔ اور وہ بعد اس کے بھی ہمیشہ اس بات کے لئے مستعد رہے کہ اگر پھر بھی کسی وقت ان کی مدد کی ضرورت ہو تو بدل و جان اس گورنمنٹ کو مدد دیں۔ اور اگر ٥٧ء کے غدر کا کچھ اور بھی طول ہوتا تو وہ سو سوار تک اور بھی
ستارہ قیصره صفحہ 1 تا 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 111 تا 113 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 68 پر درج ہے
حوالہ نمبر 3
روحانی خزائن جلد ١٣ ٤ کتاب البریہ
ایک ظلم عظیم ہے۔ میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیرخواہ آدمی تھا جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد
﴿٤﴾
میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں ٭۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات
Translation of Certificate of J. M. Wilson To, Mirza Ghulam Murtaza Khan Chief of Qadian I have persued your application reminding me of your and your family's past services and rights I am well aware that since the introduction of the British Govt. you and your family have certainly remained devoted faithful and steady subjects and that your rights are really worthy of regard. In every respect you may rest assured and satisfied that the
نقل مراسلہ (ولسن صاحب) نمبر ٣٥٣ تہور پناہ شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان حفظہ عریضہ شما مشعر بریاد دہانی خدمات و حقوق خود و خاندان خود بملاحظہ حضور اینجانب درآمد ما خوب میدانیم کہ بلاشک شما و خاندان شما از ابتدائے دخل حکومت سرکار انگریزی جان نثار وفاکیش ثابت قدم ماندہ اید ۔ و حقوق شما در اصل قابل قدر اند ۔ بہر نہج تسلی و تشفی دارید ۔ سرکار انگریزی حقوق و
کتاب البریہ صفحہ 3 تا 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 4 تا 6 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 69 پر درج ہے
حوالہ نمبر 3
روحانی خزائن جلد ١٣ ٥ کتاب البریہ
﴿٥﴾
کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ اور جب تہموں کے گذر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی
British Govt. will never forget your family's rights and services which will receive due consideration when a favourable oppurtunity offers itself. You must continue to be faithful and devoted objects as in it lies the satisfaction of the Govt. and your welfare. 11.6.1849 Lahore.
خدمات خاندان شما را ہرگز فراموش نہ خواہد کرد بموقعہ مناسب بر حقوق و خدمات شما غور و توجہ کردہ خواہد شد۔ باید کہ ہمیشہ ہوا خواہ و جان نثار سرکار انگریزی بمانند کہ دریں امر خوشنودی سرکار و
﴿٥﴾
بہبودی شما متصور است۔ فقط المرقوم ١١؍ جون ١٨٤٩ء مقام لاہور انار کلی
کتاب البریہ صفحہ 3 تا 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 4 تا 6 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 69 پر درج ہے
حوالہ نمبر 3
روحانی خزائن جلد ١٣ ٦ کتاب البریہ
﴿١٦﴾ میں شریک تھا۔ پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ ١٧
Translation of Mr. Robert Cast's Certificate To, Mirza Ghulam Murtaza Khan, Chief of Qadian. As you rendered great help in enlisting sowars and supplying horses to Govt. in the mutiny of 1857 and maintained loyalty since its beginning upto date and thereby gained the favour of Govt. a Khilat worth Rs. 200/- is presented to you in recognition of good services, and as a reward for your loyalty.
﴿١٦﴾ Moreover in accordance with the wishes of Chief Commissioner as conveyed in his no. 576 dt. 10th August 58. This parwana is addressed to you as a token of satisfaction of Govt. for your fidelity and repute.
نقل مراسلہ
(رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور) تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان بعافیت باشند۔ از آنجا کہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ ١٨٥٧ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواہی و مدد دہی سرکار دولتمدار انگلیشیہ در باب نگاہداشت سواران و بہم رسانی اسپان بخوبی بمنصہ ظہور پہنچی اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا لہٰذا بجلدوی اس خیر خواہی اور خیر سگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ کا سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشاء چٹھی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبری ٥٧٦ مورخہ ١٠؍ اگست ١٨٥٨ء پروانہ ہذا باظہار خوشنودی سرکار و نیکنامی و وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے۔ مرقومہ تاریخ ٢٠؍ ستمبر ١٨٥٨ء
کتاب البریہ صفحہ 3 تا 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 4 تا 6 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 69 پر درج ہے
حوالہ نمبر 4 تریاق القلوب روحانی خزائن جلد١٥ ٤٨٧
ضمیمہ نمبر ٣ منسلکہ کتاب تریاق القلوب
حضور گورنمنٹ عالیہ میں
ایک عاجزانہ درخواست
جبکہ ہماری یہ محسن گورنمنٹ ہر ایک طبقہ اور درجہ کے انسانوں کی بلکہ غریب سے غریب اور عاجز سے عاجز خدا کے بندوں کی ہمدردی کر رہی ہے یہاں تک کہ اس ملک کے پرندوں اور چرندوں اور بے زبان مویشیوں کے بچاؤ کے لئے بھی اس کے عدل گستر قوانین موجود ہیں اور ہر ایک قوم اور فرقہ کو مساوی آنکھ سے دیکھ کر اُن کی حق رسی میں مشغول ہے تو اس انصاف اور دادگستری اور عدل پسندی کی خصلت پر نظر کر کے یہ عاجز بھی اپنی ایک تکلیف کے رفع کے لئے حضور گورنمنٹ عالیہ میں یہ عاجزانہ عریضہ پیش کرتا ہے اور پہلے اِس سے کہ اصل مقصود کو ظاہر کیا جائے اِس محسن اور قدر شناس گورنمنٹ کی خدمت میں اس قدر بیان کرنا بے محل نہ ہوگا کہ یہ عاجز گورنمنٹ کے اُس قدیم خیرخواہ خاندان میں سے ہے جس کی خیرخواہی کا گورنمنٹ
تریاق القلوب صفحہ 359 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 488,487 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 70 پر درج ہے
حوالہ نمبر 4 روحانی خزائن جلد ١٥ ٤٨٨ . تریاق القلوب
کے عالی مرتبہ حکام نے اعتراف کیا ہے اور اپنی چٹھیوں سے گواہی دی ہے کہ وہ خاندان ابتدائی انگریزی عملداری سے آج تک خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ میں برابر سرگرم رہا ہے ۔ میرے والد مرحوم میرزا غلام مرتضیٰ اس محسن گورنمنٹ کے ایسے مشہور خیر خواہ اور دلی جان نثار تھے کہ وہ تمام حکام جو اُن کے وقت میں اس ضلع میں آئے سب کے سب اس بات کے گواہ ہیں کہ انہوں نے میرے والد موصوف کو ضرورت کے وقتوں میں گورنمنٹ کی خدمت کرنے میں کیسا پایا اور اس بات کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے ١٨٥٧ء کے مفسدہ کے وقت اپنی تھوڑی سی حیثیت کے ب ساتھ پچاس گھوڑے مع پچاس جوانوں کے اس محسن گورنمنٹ کی امداد کے لئے دیئے اور ہر وقت امداد اور خدمت کے لئے کمر بستہ رہے یہاں تک کہ اس دنیا سے گزر گئے ۔ والد مرحوم گورنمنٹ عالیہ کی نظر میں ایک معزز اور ہر دلعزیز رئیس تھے جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور وہ خاندان مغلیہ میں سے ایک تباہ شدہ ریاست کے بقیہ تھے جنہوں نے بہت سی مصیبتوں کے بعد گورنمنٹ انگریزی کے عہد میں آرام پایا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دل سے اس گورنمنٹ سے پیار کرتے تھے اور اس گورنمنٹ کی خیر خواہی ایک میخ فولادی کی طرح اُن کے دل میں دھنس گئی تھی اُن کی وفات کے بعد مجھے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح بالکل دنیا سے الگ کر کے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں نے اُس کے فضل سے آسمانی مرتبت اور عزت کو اپنے لئے پسند کر لیا لیکن میں اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس گورنمنٹ محسنہ انگریزی کی خیر خواہی اور ہمدردی میں مجھے زیادتی ہے یا میرے والد مرحوم کو ۔ بیس برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار
تریاق القلوب صفحہ 359 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 487، 488 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 70 پر درج ہے
حوالہ نمبر 5
روحانی خزائن جلد ٨ ٣٦ نور الحق الحصة الاولى
آراؤها فى أرض مقاصدها فتفرى أديم الأرضين، وكُلّ عقل عندها إلا نہیں کر سکتی جس وقت گورنمنٹ اپنے راؤں کو مقاصد کی زمین میں دوڑاتی ہے تو وہ رائیں روئے زمین کو کاٹتی ہوئی چلی عقل الدين. ونرجو أن يفتح الله عليها هذا الباب أيضاً كما فتح أبواباً جاتی ہیں اور ہر ایک عقل بجز دینی عقل کے اس گورنمنٹ کو حاصل ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ أخرى، والله أرحم الراحمين. یہ دروازہ بھی اس پر کھل جائے اور خدا ارحم الراحمین ہے۔
ولا يخفى على هذه الدولة المباركة أنا من خُدّامها ونُصحائها اور گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں کہ ہم قدیم سے اس کی خدمت کرنے والے اور اس کے ناصح اور ودواعي خيرها من قديم، وجئناها في كل وقت بقلب صميم، وكان خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم حاضر ہوتے رہے ہیں اور لأبي عندها زُلفى وخطاب التحسين. ولنا لدى هذه الدولة أيدى الخدمة میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں ہماری خدمات نمایاں ہیں ولا نظن أن تنساها في حين. وكان والدى الميرزا غلام مرتضى ابن اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ کبھی ان خدمات کو بھلا دے گی اور میرا والد میرزا غلام مرتضی ابن ميرزا عطاء محمد القاديانى من نُصحاء الدولة وذوى الخُلّة وعندها میرزا عطا محمد رئیس قادیان اس گورنمنٹ کے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے تھا اور اس کے من أرباب القُربة، وكان يُصدَّر على تكرمة العزة، وكانت الدولة تعرفه نزدیک صاحب مرتبہ تھا اور صدر نشین بالین عزت سمجھا گیا تھا اور یہ گورنمنٹ اس کو خوب غاية المعرفة. وما كُنّا قطُّ من ذوى الظِّنّة، بل ثبت إخلاصنا في أعين پہچانتی تھی اور ہم پر کبھی کوئی بدگمانی نہیں ہوئی بلکہ ہمارا اخلاص تمام الناس كلهم وانكشف على الحاكمين، ولتستطلع الدولة حُكّامَها لوگوں کی نظروں میں ثابت ہوگیا اور حکام پر کھل گیا۔ اور سرکار انگریزی اپنے ان حکام سے
نورالحق صفحہ 36 ، 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 36 ، 37 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 70 پر درج ہے
حوالہ نمبر 5
روحانی خزائن جلد ٨ ٣٧ نورالحق الحصة الاولی
الذين جاءونا ولبثوا بيننا كيف عشنا أمام أعينهم و كيف سبقنا فى كل دریافت کر لیوے جو ہماری طرف آئے اور ہم میں رہے اور ہم نے ان کی آنکھوں کے سامنے کیسی زندگی بسر کی اور کس خدمة مع السابقين. طرح ہم ہر یک خدمت میں سبقت کرنے والوں کے گروہ میں رہے۔
ولا حاجة إلى تفصيل هذه الحقائق، فإن الدولة البريطانية اور ان حقیقتوں کے مفصل بیان کرنے کی کچھ حاجت نہیں کیونکہ سرکار انگریزی ہمارے مراتب مُطَّلِعَة على مراتب خلوصنا وشؤون خدماتنا والإعانات التى كانت خلوص اور انواع خدمات پر اطلاع رکھتی ہے اور ان اعانتوں کو جانتی ہے جو وقتاً فوقتاً ہم سے ترى منّا وقتًا بعد وقت وفى أيام فساد المفسدين. وتعلم الدولة أن أبى ظہور میں آئیں خاص کر دہلی کے مفسدہ کے وقت میں۔ اور اس گورنمنٹ كيف أمدّها فى حين محارباتٍ مشتدَّةِ الهبوب وفتنٍ مشتطَّةِ اللُّهوب، کو یہ معلوم ہے کہ میرے والد نے کیونکر اس کو ایسے وقت میں مدد دی کہ جب لڑائیوں کی ایک سخت وأنه آتى الدولة خمسين خيلا مع الفوارس مددًا منه فى أيام المفسدة، آندھی چل رہی تھی اور فتنے بھڑک رہے تھے اور حد سے تجاوز کر گئے تھے سو میرے والد نے اس مفسدہ وسبق السابقين فى إمدادات المال عند حلول الأهوال، مع أيام العُسر کے دنوں میں پچاس گھوڑے معہ سوار اس گورنمنٹ کو امداد کے طور پر دیئے اور اپنی حیثیت کے لحاظ سے امداد والإقلال، وذهاب عهد الإمارات الآبائية وانقلاب الأحوال. فلينظر میں سب سے بڑھ گیا باوجود یکہ وہ زمانہ تنگی اور ناداری کا زمانہ تھا اور آبائی ریاست کا دور ختم ہو کر گردش کے من كان له نظر صحيح أو قلبٌ أمين. دن آگئے تھے پس جو شخص ایک نظر صحیح اور دل امین رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ سوچے؟
ولم يزل كان أبى مشغوف الخدمات حتى شاخ وجاء وقت الوفاة اور میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ گیا اور سفر آخرت
یہ حوالہ صفحہ 70 پر درج ہے نورالحق صفحہ 36، 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 36، 37 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 6
روحانی خزائن جلد ١٤ ١٨٠ کشف الغطاء
اگرچہ سب پر احسان ہے مگر میرے بزرگوں پر سب سے زیادہ احسان ہے کہ انہوں نے اس گورنمنٹ کے سایۂ دولت میں آکر ایک آتشی تنور سے خلاصی پائی اور خطرناک زندگی سے امن میں آگئے۔ میرا باپ مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک نیک نام رئیس تھا اور گورنمنٹ کے اعلیٰ افسروں نے پُر زور تحریروں کے ساتھ لکھا کہ وہ اس گورنمنٹ کا سچا مخلص اور وفادار ہے اور میرے والد صاحب کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور ہمیشہ اعلیٰ حکام عزت کی نگہ سے ان کو دیکھتے تھے اور اخلاق کریمانہ کی وجہ سے حکام ضلع اور کمشنر کبھی کبھی ان کے مکان پر ملاقات کے لئے بھی آتے تھے کیونکہ انگریزی افسروں کی نظر میں وہ ایک وفادار رئیس تھے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ ان کی اس خدمت کو کبھی نہیں بھولے گی کہ انہوں نے ٥٧ء کے ایک نازک وقت میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس سوار اپنے عزیزوں اور دوستوں میں سے مہیا کر کے گورنمنٹ کی امداد کے لئے دیئے تھے چنانچہ ان سواروں میں سے کئی عزیزوں نے ہندوستان میں مردانہ وار لڑائی مفسدوں سے کر کے اپنی جانیں دیں۔ اور میرا بھائی مرزا غلام قادر مرحوم تِرموں کے پتن کی لڑائی میں شریک تھا اور بڑی جان فشانی سے مدد دی۔ غرض اسی طرح میرے ان بزرگوں نے اپنے خون سے اپنے مال سے اپنی جان سے اپنی متواتر خدمتوں سے اپنی وفاداری کو گورنمنٹ کی نظر میں ثابت کیا ہے۔ سو انہی خدمات کی وجہ سے میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ ہمارے خاندان کو معمولی رعایا میں سے نہیں سمجھے گی اور اس کے اس حق کو کبھی ضائع نہیں کرے گی جو بڑے فتنہ کے وقت میں ثابت ہو چکا ہے۔ سرلیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں میرے والد صاحب اور میرے بھائی مرزا غلام قادر کا ذکر کیا ہے۔ اور میں ذیل میں اُن چند چٹھیات حکام بالا دست کو درج کرتا ہوں جن میں میرے والد صاحب اور میرے بھائی کی خدمات کا کچھ ذکر ہے۔
کشف الغطاء صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 180 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 71 پر درج ہے
حوالہ نمبر 7
روحانی خزائن جلد ٨ ٣٧ نور الحق الحصة الاولى
الذين جاء ونا ولبثوا بيننا كيف عشنا أمام أعينهم وكيف سبقنا فى كل ﴿٢٧﴾ دریافت کر لیوے جو ہماری طرف آئے اور ہم میں رہے اور ہم نے ان کی آنکھوں کے سامنے کیسی زندگی بسر کی اور کس خدمة مع السابقين. طرح ہم ہر یک خدمت میں سبقت کرنے والوں کے گروہ میں رہے۔ ولا حاجة إلى تفصيل هذه الحقائق، فإن الدولة البريطانية اور ان حقیقتوں کے مفصل بیان کرنے کی کچھ حاجت نہیں کیونکہ سرکار انگریزی ہمارے مراتب مُطَّلِعة على مراتب خلوصنا وشؤون خدماتنا والإعانات التي كانت خلوص اور انواع خدمات پر اطلاع رکھتی ہے اور ان اعانتوں کو جانتی ہے جو وقتاً فوقتاً ہم سے ترى منّا وقتاً بعد وقت وفى أيام فساد المفسدين. وتعلم الدولة أنّ أبى ظہور میں آئیں خاص کر دہلی کے مفسدہ کے وقت میں۔ اور اس گورنمنٹ كيف أمدّها فى حين محارباتٍ مشتدّة الهبوب وفتنٍ مشتطّة اللهوب، کو یہ معلوم ہے کہ میرے والد نے کیونکر اس کو ایسے وقت میں مدد دی کہ جب لڑائیوں کی ایک سخت وأنه آتى الدولة خمسين خيلا مع الفوارس مدداً منه فى أيام المفسدة، آندھی چل رہی تھی اور فتنے بھڑک رہے تھے اور حد سے تجاوز کر گئے تھے سو میرے والد نے اس مفسدہ وسبق السابقين فى إمدادات المال عند حلول الأهوال، مع أيام العُسر کے دنوں میں پچاس گھوڑے معہ سوار اس گورنمنٹ کو امداد کے طور پر دیئے اور اپنی حیثیت کے لحاظ سے امداد والإقلال، وذهاب عهد الإمارات الآبائية وانقلاب الأحوال. فلينظر میں سب سے بڑھ گیا باوجودیکہ وہ زمانہ تنگی اور ناداری کا زمانہ تھا اور آبائی ریاست کا دور ختم ہوکر گردش کے من كان له نظر صحيح أو قلبٌ أمين. دن آگئے تھے پس جو شخص ایک نظر صحیح اور دل امین رکھتا ہے اس کو چاہیئے کہ سوچے؟ ولم يزل كان أبى مشغوف الخدمات حتى شاخ وجاء وقت الوفاة اور میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ گیا اور سفر آخرت
نورالحق حصہ اوّل صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 37، 38 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 72 پر درج ہے
حوالہ نمبر 7
روحانی خزائن جلد ٨ ٣٨ نورالحق الحصّة الاولى
و وجب الارتحال، ولو قصدنا ذكر خدماته لضاق بنا المجال، وعجزنا کا وقت آگیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عن التدوين. فالملخص أن أبى لم يزل كان شائم برق الدولة، وقائمًا عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امید وار رہا على الخدمة عند الضرورة، حتى أعزّته الدولة بمكاتيب رضائها، اور عند الضرورت خدمتیں بجا لاتا رہا یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز وخصّته فى كل وقتٍ بعطائها، وأسمحت له بمواساتها، وتفضلت عليه کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غم خواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی بمراعاتها، وحسبته من دواعى الخير ومن المخلصين. ثم إِذا تُوفى أبى اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پا گیا تب ان خصلتوں میں فقام مقامه فى هذه السّيَر أخى الميرزا غلام قادر، وغمرته مواهب اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا جس کا نام میرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے الدولة كما غمرت والدى، وتُوفّى أخى بعد أبى فى بضع سنين. ثم بعد شامل حال ہوگئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا وفاتهما قفوتُ أثرهما واقتديتُ سِيَرَهما وذكرت عصرهما، ولكنى ما پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی اور ان کے زمانہ کو یاد کیا كنت ذا خصب ونعمة وسعة وثروة ولا ذا أملاك وأرضين، بل تبتلتُ لیکن میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا۔ بلکہ میں ان کی وفات کے إلى الله بعد ارتحالهما ولحقتُ بقوم منقطعين. وجذبنى ربّى إليه بعد اللہ جلّ شانہٗ کی طرف جھک گیا اور ان میں جاملا جنہوں نے دنیا کا تعلق توڑ دیا۔ اور میرے رب نے اپنی طرف وأحسن مثواى، وأسبغ علىّ من نعماء الدّين. وقادنى من تدنسات مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے
نورالحق حصہ اوّل صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 37، 38 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 72 پر درج ہے
حوالہ نمبر 8 روحانی خزائن جلد ٢٢ ٢١٩ حقيقة الوحي
آکر چارپائی پر بیٹھے تو بیٹھتے ہی جان کندن کا غرغرہ شروع ہوا۔ اُسی غرغرہ کی حالت میں اُنہوں نے مجھے کہا کہ دیکھا یہ کیا ہے اور پھر لیٹ گئے اور پہلے اس سے مجھے کبھی اس بات کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا کہ کوئی شخص غرغرہ کے وقت میں بول سکے اور غرغرہ کی حالت میں صفائی اور استقامت سے کلام کرسکے۔ بعد اس کے عین اس وقت جب کہ آفتاب غروب ہوا وہ اس جہان فانی سے انتقال فرماگئے اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُون ۔اور یہ اُن سب الہاموں سے پہلا الہام اور پہلی پیشگوئی تھی جو خدا نے مجھ پر ظاہر کی دوپہر کے وقت خدا نے مجھے اس کی اطلاع دی کہ ایسا ہونے والا ہے اور غروب کے بعد یہ خبر پوری ہوگئی اور مجھے فخر کی جگہ ہے اور میں اس بات کو فراموش نہیں کروں گا کہ میرے والد صاحب کی وفات کے وقت خدا تعالیٰ نے میری عزّاپُر سی کی اور میرے والد کی وفات کی قسم کھائی جیسا کہ آسمان کی قسم کھائی۔ جن لوگوں میں شیطانی روح جوش زن ہے وہ تعجب کریں گے کہ ایسا کیونکر ہوسکتا ہے کہ خدا کسی کو اس قدر عظمت دے کہ اُس کے والد کی وفات کو ایک عظیم الشان صدمہ قرار دے کر اُس کی قسم کھاوے مگر میں پھر دوبارہ خدائے عزّوجلّ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعہ حق ہے اور وہ خدا ہی تھا جس نے عزاپُرسی کے طور پر مجھے خبر دی اور کہا کہ والسماء والطارق اور اسی کے موافق ظہور میں آیا۔ فالحمد للّٰه علٰی ذالک۔
- ٢٢۔ بائیسواں نشان۔ یہ ہے کہ جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ
میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے تو بموجب مقتضائے بشریت کے مجھے اس خبر کے سننے سے درد پہنچا اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ اُنہیں کی زندگی سے وابستہ تھے اور وہ سرکار انگریزی کی طرف سے پنشن پاتے تھے اور نیز ایک رقم کثیر انعام کی پاتے تھے۔ جو اُن کی حیات سے مشروط تھی۔ اِس لئے یہ خیال گزرا کہ اُن کی وفات کے بعد کیا ہوگا اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شائد تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گزر گیا تب اُسی وقت غنودگی ہو کر یہ دوسرا الہام ہوا الیس اللّٰه بکافٍ عبدہٗ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے
حقیقۃ الوحی صفحہ 219 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 219 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 73 پر درج ہے
حوالہ نمبر 9
٢٣١
(٢٢٣)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے ۔ کہ دادا صاحب کا تکیہ کلام ”ہے بات کہ نہیں“ تھا جو جلدی میں ”ہے با کہ نہیں“ سمجھا جاتا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسکے متعلق اور بھی کئی لوگوں سے سُنا گیا ہے۔
(٢٢٤)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ایک بغدادی مولوی آیا دادا صاحب نے اُس کی بڑی خاطر مدارات کی ۔ اس مولوی نے دادا صاحب سے کہا ۔ مرزا صاحب آپ نماز نہیں پڑھتے ؟ دادا صاحب نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا ۔ اور کہا کہ ہاں بیشک میری غلطی ہے مولوی صاحب نے پھر بار بار اصرار کے ساتھ کہا اور ہر دفعہ دادا صاحب یہی کہتے گئے کہ میرا قصور ہے ۔ آخر مولوی نے کہا آپ نماز نہیں پڑھتے ۔ اللہ آپ کو دوزخ میں ڈال دیگا ۔ اسپر دادا صاحب کو جوش آگیا اور کہا ”تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے کہاں ڈالیگا ۔ میں اللہ تعالیٰ پر ایسا بدظن نہیں ہوں میری امید وسیع ہے ۔ فرماتا ہے لا تقنطوا من رحمۃ اللہ تم مایوس ہو گئے میں مایوس نہیں ہوں ۔ اتنی بے اعتقادی میں تو نہیں کرتا“ پھر کہا ”اسوقت میری عمر ٧٥ سال کی ہے ۔ آجتک خدا نے میری پیٹھ نہیں لگنے دی ۔ تو کیا اب وہ مجھے دوزخ میں ڈال دیگا“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیٹھ لگنا پنجابی کا محاورہ ہے ۔ جسکے معنی دشمن کے مقابلہ میں ذلیل و رسوا ہونیکے ہیں ۔ ورنہ ویسے مصائب تو دادا صاحب پر بہت آئے ہیں ۔
(٢٢٥)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ جب سے تمہاری دادی فوت ہوئیں ۔ تمہارے دادا نے اندر زنانہ میں آنا چھوڑ دیا تھا۔ دن میں صرف ایک دفعہ تمہاری پھوپھی کو ملنے آتے تھے ۔ اور پھوپھی کے فوت ہونیکے بعد تو بالکل نہیں آتے تھے ۔ باہر مردانے میں رہتے تھے ۔ ( خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت حضرت والدہ صاحبہ نے کسی اور سے سُنی ہو گی ۔ کیونکہ یہ واقعہ حضرت امان جان کے قادیان تشریف لانے سے پہلے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے )
یہ حوالہ صفحہ 74 پر درج ہے
سیرت المہدی ، جلد اوّل صفحہ 231 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 10
٢٥٥ تھی کہ وہ دل سے اس گورنمنٹ سے پیار کرتے تھے اور اس گورنمنٹ کی خیر خواہی ایک میخ فولادی کی طرح ان کے دل میں دھنس گئی تھی۔ اُن کی وفات کے بعد مجھے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح بالکل دُنیا سے الگ کر کے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں نے اس کے فضل سے آسمانی مرتبت اور عزّت کو اپنے لیے پسند کر لیا، لیکن میں اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس گورنمنٹ محسنہ انگریزی کی خیر خواہی اور ہمدردی میں مجھے زیادتی ہے یا میرے والد مرحوم کو۔ بیس برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اُردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جان نثار ہو جائیں اور جہاد اور خونی مہدی کے انتظار وغیرہ بیہودہ خیالات سے جو قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتے دست بردار ہو جائیں۔ اور اگر وہ اس غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے تو کم سے کم یہ اُن کا فرض ہے کہ اس گورنمنٹ محسنہ کے ناشکر گذار نہ بنیں اور نمک حرامی سے خدا کے گنہگار نہ ٹھہریں کیونکہ یہ گورنمنٹ ہمارے مال اور خون اور عزّت کی محافظ ہے اور اس کے مبارک قدم سے ہم جلتے ہوئے تنور میں سے نکالے گئے ہیں۔ یہ کتابیں ہیں جو میں نے اس ملک اور عرب اور شام اور فارس اور مصر وغیرہ ممالک میں شائع کی ہیں۔ چنانچہ شام کے ملک کے بعض عیسائی فاضلوں نے بھی میری کتابوں کے شائع ہونے کی گواہی دی ہے۔ اور میری بعض کتابوں کا ذکر کیا ہے لے اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرأت سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بست سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کر سکتا۔
یہ بھی ظاہر ہے کہ اس قدر لمبے زمانہ تک کہ جو بیس برس کا زمانہ ہے۔ ایک مسلسل طور پر تعلیم مذکورہ بالا پر زور دیتے جانا کسی منافق اور خود غرض کا کام نہیں ہے بلکہ ایسے شخص کا کام ہے جس کے دل میں اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی ہے۔ ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کیا کرتا ہوں
حوالہ نمبر 11
١٩١
ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیا گیا۔ مگر باایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا اور درحقیقت وجود سلطنت انگلشیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکلیفات کے بعد ہم کو ملی اس لیے ہمارا فرض تھا کہ اس نعمت کا بار بار اظہار کریں۔ ہمارا خاندان سکھوں کے ایام میں ایک سخت عذاب میں تھا اور نہ صرف یہی تھا کہ انہوں نے ظلم سے ہماری ریاست کو تباہ کیا اور ہمارے صدہا دیہات اپنے قبضہ میں کئے بلکہ ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی دینی آزادی کو بھی روک دیا ایک مسلمان کو بانگ نماز پر بھی مارے جانے کا اندیشہ تھا چہ جائیکہ اور رسوم عبادت آزادی سے بجالا سکتے۔ پس یہ اس گورنمنٹ محسنہ کا ہی احسان تھا کہ ہم نے اس جلتے ہوئے تنور سے خلاصی پائی اور خدا تعالیٰ نے ایک ابر رحمت کی طرح اس گورنمنٹ کو ہمارے آرام کے لیے بھیج دیا پھر کس قدر بدذاتی ہوگی کہ ہم اس نعمت کا شکر بجا نہ لاویں۔ اس نعمت کی عظمت تو ہمارے دل اور جان اور رگ و ریشہ میں منقوش ہے اور ہمارے بزرگ ہمیشہ اس راہ میں اپنی جان دینے کے لیے طیار رہے۔ پھر نعوذ باللہ کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنے دلوں میں مفسدانہ ارادے رکھیں۔ ہمارے پاس تو وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے ہم اس آرام اور راحت کا ذکر کر سکیں جو اس گورنمنٹ سے ہم کو حاصل ہوئی۔ ہماری تو یہی دعا ہے کہ خدا اس گورنمنٹ محسنہ کو جزاء خیر دے اور اس سے نیکی کرے جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی ۔یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میرا بھائی اور خود میں بھی رُوح کے جوش سے اس بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو دلوں میں جمادیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں اٹھارہ برس سے ایسی کتابوں کی تالیف میں مشغول ہوں کہ جو مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی محبت اور اطاعت کی طرف مائل کر رہے ہیں گو اکثر جاہل مولوی ہماری اس طرز اور رفتار اور ان خیالات سے سخت ناراض ہیں اور اندر ہی اندر جلتے اور دانت پیستے ہیں ۔مگر میں جانتا ہوں کہ وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے بھی بے خبر ہیں جس میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا یعنی اپنے محسن کا شکر کرنا ایسا فرض ہے جیسا کہ خدا کا۔
یہ تو ہمارا عقیدہ ہے مگر افسوس کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پُرزور تقریریں اطاعت گورنمنٹ کے بارے میں ہیں کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اُس کا اثر محسوس نہیں ہوا ۔ لہٰذا میں پھر یاد دلاتا ہوں کہ مفصلہ ذیل کتابوں اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات پڑھے جائیں جن کے نمبر صفحات میں نے ذیل میں لکھ دیئے ہیں ۔
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 191 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 75 پر ہے پر ہے پر ہے صفحہ 75 پر درج ہے 75 پر درج ہے
حوالہ نمبر 12 روحانی خزائن جلد ١١ ٢٨٣ مکتوب احمد
قابل توجہ گورنمنٹ ہند
انا قرأنا في جريدة سول ملترى انه يشكونا فى حضرة الدولة البرطانية. ويظن كانّا اعداء هذه الدولة المباركة. وينبه الدولة على سوء نياتنا وشرعوا فينا يحثّها على ان تضيّق علينا الحرية التي شملت طوائف الاقوام على اختلاف مذاهبهم. وتباين مشاربهم. وهذه هى الشئ الذى يثنى به على الدولة بخصوصيتها ومزيّتها على دول اخرى اعنى انّها اعطت نسبة المساوات كل مذهب في نظر القانون. وما خصّ احدًا ليكون محل الظنون. وهذا امر لا نرى نظيره في زمن الاولين.
وقد كتبنا غير مرة انا نحن من خدام مصالح الدولة. وخادميه من كمال الصدق والامانة وامتلأت قلوبنا شكرًا. وصدورنا اخلاصًا. بما رئينا منها من انواع الاحسان. والمنة والامتنان. وانا لسنا من قوم يعصون ولى النعمة. ويخفون في قلوبهم امور الغش والخيانة. ويثيرون الفتن من خبث القريحة. بل نحن بفضل الله نشكر الدولة على مننها. وندعوا الله ان ننجينا بها من شر الدنيا وفتنتها. وقد نجونا بها من البلايا والمحن. وانواع الخسران والفتن. ونعيش بالامن والعافية تحت ظلّها الظليل. وحُفظنا من آفات الاشرار بعدلها العميم. انها انارت سبلنا وسدت خللنا. وانا نرى فى لياليها آمنًا ما رئينا في نهار قبل هذا الدولة. فما جزاء هذا الاحسان الا الشكر بخلوص النية. و شكرها شئ قد ملأ به روحنا. وجناننا وضميرنا ولساننا. ولسنا كافرى نعم المنعمين. ولنا على هذا الدعوى براهين ساطعة. ودلائل قاطعة. وهى انا لا نثنى على الدولة من هذا اليوم فقط بل فى هذا نفدت اعمارنا. وذابت عظامنا. وعليه توفى كبارنا. وكانوا عند الدولة من المكرمين وطالما قمنا للحماية بخلوص القلب والمُهجة واشعنا الكتب فى حماية اغراض الدولة الى بلاد الشام والروم وغيرها من الديار البعيدة. وهذا امر لن تجد الدولة نظيره في غيرنا من المخلصين. فلا نعباء بمفتريات جريدة. ولا نخشى تحرير انامل مفسدة. ويا اسفا على الذى يخوّف الدولة من غوائل عواقبنا. ويرغّبها فى تعاقبنا. الم يفكر انّا ذرية آباء انفدوا اعمارهم فى خدمات هذه الدولة افنسيت الدولة مساعيهم بهذه السرعة. لِمَ لا تمنع الدولة اولئك الطغاة المفسدين عن نشر مثل تلك الاكاذيب. واشاعة هذا البهتان العجيب. فانها سم زعاف للذين لا يعرفون الحقيقة. ولا يفتشون الاصل فيه. فكاد ان يصدقوها كالمخدوعين. انه يبكى على حريّتنا ولا يرى حريّته التى تصول
انجام آتھم صفحہ 283 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 283 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 75 پر درج ہے
حوالہ نمبر 13
٦٦
١٦٨
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عریضہ بحالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی
اس عریضہ میں پہلے یہ گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ میں کون ہوں۔ سو مختصر عرض یہ ہے کہ میں اس نواح کے ایک رئیس اور سرکار انگریزی کے سچے خیر خواہ کا بیٹا ہوں جن کا نام مرزا غلام مرتضیٰ تھا جن کا ذکر کتاب رئیسان پنجاب مسٹر گریفن میں موجود ہے۔ وہ گورنمنٹ کے وفادار خیر خواہ تھے جنہوں نے ١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑوں سے مع سواروں کے سرکار انگریزی کو مدد دی اور وہ اس ضلع میں ہر ایک موقعہ مدد کے وقت سرکار انگریزی کو کام آتے رہے ہیں اور ہر یک مدد کے کام میں اپنی حیثیت کے موافق اس ضلع میں ان کا قدم سبقت رکھتا تھا۔ اور حکام وقت اُن کو بڑے لطف اور مہربانی کی نظر سے دیکھتے تھے اور گورنر جنرل کے دربار میں ان کو کرسی ملتی تھی اور غدر کی خیرخواہی کے عوض سرکار انگریزی نے ان کو انعام بھی دیا تھا۔ ترموں کے گذر پر جو گورداسپورہ کے قریب واقع ہے۔ جب باغیوں کا عبور ہوا تو اُن مفسدوں کے مقابلہ میں جن لوگوں نے سپاہیانہ بہادری دکھلائی تھی ان میں سے میرا حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم تھا جس کو اس شجاعت پر خوشنودی مزاج کی حکام کی طرف سے چٹھیاں ملی تھیں۔ اور میں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریزی کی ایک ایسی خدمت میں مشغول ہوں کہ درحقیقت وہ ایک ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے بزرگوں سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ میں نے بیسیوں کتابیں عربی اور فارسی اور اُردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ مُحسِنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرفِ زرِ کثیر چھاپ کر بلادِ اسلام میں پہنچائی ہیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے۔ اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسی جماعتِ طیار
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 66، 67 طبع جدید، از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 75 پر درج ہے
حوالہ نمبر 13 ٦٧
ہوتی جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لیے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے لیے دلی جان نثار۔
اب اس تمہید کے بعد میں اصل مطلب کو لکھتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ جب سے لیکھرام پشاوری جو آریہ صاحبوں کا ایک واعظ تھا۔ لاہور میں کسی کے ہاتھ سے قتل کیا گیا ہے۔ عجیب طرح پر آریوں اور ہندوؤں کا شور و غوغا عام مسلمانوں کی نسبت عموماً اور میری نسبت خصوصاً پھیل رہا ہے۔ اور بغیر کسی ثبوت کے کھلے کھلے طور پر قتل کی تہمتیں میری نسبت لگا رہے ہیں۔ اور اُن کی تیز تحریروں سے پایا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسے حملہ کی تیاری کر رہے ہیں جو نہ صرف میرے لیے بلکہ عام مسلمانوں کے لیے اور گورنمنٹ کے انتظام کے لیے خطرناک ہے اور اخبارات اور خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مفسدانہ ارادوں کے بانی مبانی صرف چند آدمی ہیں۔ جو لاہور اور گوجرانوالہ اور امرت سر اور بٹالہ اور چند دوسرے قصبوں کے باشندے ہیں۔ غالباً وہ اپنی تعداد میں پچاس سے زیادہ نہیں ہوں گے اور باقی لوگ در حقیقت انہیں سرغنوں کے افروختہ ہیں اور انہیں کی بھڑکائی ہوئی آگ کے شعلے ہیں جس وقت میں خیال کرتا ہوں کہ ان دنوں میں یہ آریہ صاحبان عام مسلمانوں کو کیا کیا دھمکیاں دے رہے ہیں اور جیسا کہ اخبار رہبر ہند ١٥ مارچ ١٨٩٧ء میں افواہاً بیان کیا گیا ہے۔ پشاور کے سکھوں کی پلٹنوں کو کس طور سے اغوا کرنے کے لیے کوشش کی گئی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت سرکار انگریزی کا بڑا فرض ہے کہ قبل اس کے جو اس ارادہ فساد کا کوئی خطرناک اشتعال پیدا ہو اپنی احسن تدبیر سے اس کو روک دے۔ گورنمنٹ کو یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ آریہ صاحبان اس وقت نرمی اور دلجوئی اور حکمت عملی کے نیک سلوک سے امن کے طالب ہو جائیں گے۔ بلکہ اس وقت سیاست مدنی کے قوانین کو پورے طور پر استعمال کرنا عین علاج ہے۔ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جبکہ آریہ صاحبوں میں ایک جھوٹے اور ناحق کے الزام پر جو مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے اس قدر جوش پیدا ہو گیا ہے۔ پھر اگر یہ لوگ واقعی طور پر جیسا کہ دھمکیاں دیتے ہیں کسی نامی مسلمان کو قتل کر دیں گے یا قتل کا اقدام کریں گے تو اس جوش کا کیا حال ہوگا جو مسلمانوں میں ہندوؤں کے مقابل پر پیدا ہو سکتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اب تک مسلمانوں نے بہت صبر کیا ہے۔ انہوں نے بہت سی گندی گالیاں اس فرقہ کی سُنیں اور اشتہار دیکھے مگر وہ چپ رہے۔ لیکن آخر وہ بھی انسان ہیں۔ کیا تعجب کہ بہت دُکھائے جانے سے اُن میں بھی اشتعال پیدا ہو ! پس کیا حفظ ماتقدم کے طور پر اس کا تدارک ضروری نہیں ہے ؟ !!
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ٦٦، ٦٧ طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ ٧٥ پر درج ہے
حوالہ نمبر 14
١٩٨
کسی ذاتی غرض کے سبب سے جھوٹی مخبری پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گذار ہیں اس خودکاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولتمدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں تا ہر ایک شخص بوجہ ہماری آبرو ریزی کے لیے دلیری نہ کر سکے۔ اب کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتا ہوں ۔
- ١۔ خانصاحب نواب محمد علی خانصاحب رئیس مالیرکوٹلہ
جنکے خاندان کی خدمات گورنمنٹ عالیہ کو معلوم ہیں۔
- ٢۔ مولوی سید محمد عسکری خانصاحب رئیس کڑا ضلع الہٰ آباد
پنشنر ڈپٹی کلکٹر و نائب مدارالمہام ریاست بھوپال جن کی نمایاں خدمات پر سرکار سے لقب عطا ہوا اور چٹھیاں خوشنودی ملیں ۔
- ٣۔ مرزا خدا بخش صاحب بی اے سابق مترجم چیف
کورٹ پنجاب حال تحصیلدار علاقہ نواب محمد علی خاں صاحب ریاست مالیرکوٹلہ
- ٤۔ منشی نبی بخش صاحب سب ہیڈ دفتر ایگزیکٹیو ریلوے
لاہور
- ٥۔ بابو عبدالرحمٰن صاحب کلرک دفتر لوکو محکمہ ریلوے لاہور
- ٦۔ مولوی سید تفضل حسین صاحب ڈپٹی کلکٹر علی گڑھ
ضلع فرخ آباد
- ٧۔ میاں چراغدین صاحب پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ پنجاب
و رئیس لاہور
- ٨۔ قاضی غلام مرتضیٰ صاحب پنشنر اکسٹرا اسسٹنٹ
مظفر گڑھ
- ٩۔ منشی عبدالعزیز صاحب ملازم محکمہ بندوبست ضلع گورداسپور
- ١٠۔ ڈاکٹر سید منصب علی صاحب پنشنر الہٰ آباد
- ١١۔ منشی حمید الدین صاحب ملازم محکمہ پولیس ضلع لدھیانہ
- ١٢۔ منشی تاج الدین صاحب اکونٹنٹ محکمہ ریلوے لاہور
- ١٣۔ بابو محمد صاحب ہیڈ کلرک دفتر سپرنٹنڈنگ انجینئر
محکمہ انہار انبالہ
- ١٤۔ ڈاکٹر بوڈے خانصاحب ایل ایم ایس انچارج
شفاخانہ قصور
- ١٥۔ محمد افضل خانصاحب } سواران رسالہ نمبر ٢١ ٹرپ ٨
- ١٦۔ گامے خانصاحب } جو اب سرحدی خدمات پر
- ١٧۔ امام بخش خانصاحب } مامور ہیں۔
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 198 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 76 پر درج ہے
حوالہ نمبر 15
روحانی خزائن جلد ٣ ١٦٦ ازالۃ اوہام حصہ اول
اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے اُترنے کے لئے جو زمانہ انجیل میں بیان فرمایا ہے یعنی ﴿١٢٦﴾ یہ کہ وہ حضرت نوح کے زمانہ کی طرح امن اور آرام کا زمانہ ہو گا درحقیقت اسی مضمون پر سورۃ الزلزال جس کی تفسیر ابھی کی گئی ہے دلالت التزامی کے طور پر شہادت دے رہی ہے کیونکہ علوم وفنون کے پھیلنے اور انسانی عقول کی ترقیات کا زمانہ درحقیقت ایسا ہی چاہیئے جس ﴿١٢٧﴾ میں غایت درجہ کا امن و آرام ہو کیونکہ لڑائیوں اور فسادوں اور خوف جان اور خلاف امن زمانہ میں ہرگز ممکن نہیں کہ لوگ عقلی و عملی امور میں ترقیات کر سکیں یہ باتیں تو کامل طور پر تبھی سوجھتی ہیں کہ جب کامل طور پر امن حاصل ہو۔
﴿١٢٨﴾ ہمارے علماء نے جو ظاہری طور پر اس سورۃ الزلزال کی یہ تفسیر کی ہے کہ درحقیقت
بقیہ حاشیہ
ہم لوگ ایسے ذلیل وخوار تھے کہ ایک گائے کا بچہ جو دو یا ڈیڑھ روپے کو آسکتا ہے صد ہا درجہ زیادہ ہماری نسبت بنظر عزت دیکھا جاتا تھا اور اس جانور کو ایک ادنیٰ خراش پہنچانے کی وجہ ﴿١٣٢﴾ سے انسان کا خون کرنا مباح سمجھا گیا تھا صدہا آدمی ناکردہ گناہ صرف اس شک سے قتل کئے جاتے تھے کہ انہوں نے اس جانور کے ذبح کرنے کا ارادہ کیا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی جاہل ریاست کہ جو حیوان کے قتل کے عوض انسان کو قتل کر ڈالنا اپنا فرض سمجھتی تھی اس لائق نہیں تھی کہ خدائے تعالیٰ بہت عرصہ تک اس کو مہلت دیتا اس لئے خدائے تعالیٰ نے اس تنبیہ کی صورت کو مسلمانوں کے سر پر سے بہت جلد اُٹھا لیا اور ابر رحمت کی طرح ہمارے لئے انگریزی سلطنت کو دُور سے لایا اور وہ تعدی اور مرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اُٹھائی تھی گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آ کر ہم سب بھول گئے ۔ اور ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں ۔ انگریزی سلطنت میں تین گاؤں تعلقداری اور ملکیت قادیان کا حصہ جدی والد صاحب مرحوم کو ملے جو اب تک ہیں اور حرث کے لفظ کے مصداق کے لئے کافی ہیں ۔ والد صاحب مرحوم اس ملک ﴿١٣٣﴾ کے ممتاز زمینداروں میں شمار کئے گئے تھے گورنری دربار میں اُن کو کرسی ملتی تھی ۔ اور
ازالۃ اوہام صفحہ 132 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 166 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 77 پر درج ہے
حوالہ نمبر 16
روحانی خزائن جلد ١٤ ١٨٠ کشف الغطاء
اگر چہ سب پر احسان ہے مگر میرے بزرگوں پر سب سے زیادہ احسان ہے کہ انہوں نے اس گورنمنٹ کے سایۂ دولت میں آکر ایک آتشی تنور سے خلاصی پائی اور خطرناک زندگی سے امن میں آگئے ۔ میرا باپ میرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک نیک نام رئیس تھا اور گورنمنٹ کے اعلیٰ افسروں نے پُر زور تحریروں کے ساتھ لکھا کہ وہ اس گورنمنٹ کا سچا مخلص اور وفادار ہے اور میرے والد صاحب کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور ہمیشہ اعلیٰ حکام عزت کی نگہ سے ان کو دیکھتے تھے اور اخلاق کریمانہ کی وجہ سے حکام ضلع اور قسمت کبھی کبھی ان کے مکان پر ملاقات کے لئے بھی آتے تھے کیونکہ انگریزی افسروں کی نظر میں وہ ایک وفادار رئیس تھے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ ان کی اس خدمت کو کبھی نہیں بھولے گی کہ انہوں نے ١٨٥٧ء کے ایک نازک وقت میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس سوار اپنے عزیزوں اور دوستوں میں سے مہیا کر کے گورنمنٹ کی امداد کے لئے دیئے تھے چنانچہ ان سواروں میں سے کئی عزیزوں نے ہندوستان میں مردانہ وار لڑائی مفسدوں سے کر کے اپنی جانیں دیں۔ اور میرا بھائی مرزا غلام قادر مرحوم تِمّوں کے پتن کی لڑائی میں شریک تھا اور بڑی جان فشانی سے مدد دی۔ غرض اسی طرح میرے ان بزرگوں نے اپنے خون سے اپنے مال سے اپنی جان سے اپنی متواتر خدمتوں سے اپنی وفاداری کو گورنمنٹ کی نظر میں ثابت کیا ہے ۔ سو انہی خدمات کی وجہ سے میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ ہمارے خاندان کو معمولی رعایا میں سے نہیں سمجھے گی اور اس کے اس حق کو کبھی ضائع نہیں کرے گی جو بڑے فتنہ کے وقت میں ثابت ہو چکا ہے ۔ سر لیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں میرے والد صاحب اور میرے بھائی مرزا غلام قادر کا ذکر کیا ہے ۔ اور میں ذیل میں اُن چند چٹھیات حکام بالا دست کو درج کرتا ہوں جن میں میرے والد صاحب اور میرے بھائی کی خدمات کا کچھ ذکر ہے ۔
کشف الغطاء صفحہ 4 تا 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 180 تا 185 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 78 پر درج ہے
حوالہ نمبر 16
روحانی خزائن جلد ١٤ ١٨١ کشف الغطاء
نقل مراسلہ (ولسن صاحب) نمبر ٣٥٣ ﴿٣﴾ تہور پناہ شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان حفظہٗ ﴿٣﴾ عریضہ شما مشعر بر یاددہانی خدمات و حقوق خود و خاندانِ خود بملاحظہ حضور ایں جانب درآمد۔ ما خوب میدانیم کہ بلا شک شما و خاندان شما از ابتدائے دخل و حکومت سرکار انگریزی جان نثار وفاکیش ثابت قدم ماندہ اید و حقوق شما در اصل قابلِ قدر اند۔ بہر نہج تسلی و تشفی دارید۔ سرکار انگریزی حقوق و خدمات خاندان شما را ہرگز فراموش نہ خواہد کرد۔ بموقعہ ﴿٤﴾ مناسب برحقوق و خدمات شما غور و توجہ کردہ خواہد شد۔ باید کہ ہمیشہ ہوا خواہ و
Translation of certificate of J. M. Wilson To, Mirza Ghulam Murtaza Khan Chief of Qadian. I have perused your application reminding me of your and your family's past services and rights. I am well aware that since the introduction of the British Govt you & your family have certainly remained devoted, faithful & steady subjects & that your rights are really worthy of regard. In every respect you may rest assured and satisfied that the British Govt will never forget your family's rights and services which will receive due consideration when a favourable opportunity offers itself. You must continue to be faithful and
کشف الغطاء صفحہ 4 تا 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 180 تا 185 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 78 پر درج ہے
حوالہ نمبر 16
روحانی خزائن جلد ١٤
١٨٢
کشف الغطاء
devoted subjects as in it lies the satisfaction of the Govt. and your welfare.
11.6.1849 Lahore
جان نثار سرکار انگریزی بمانند کہ در ایں امر خوشنودی سرکار و بہبودی شما متصور است۔
فقط
المرقوم ١١؍ جون ١٨٤٩ء
مقام لاہور انارکلی
Transtation of Mr. Robert Cast’s Cretificate
To,
Mriza Ghulam Murtaza Khan Chief of Qadian
As you rendered great help in enlisting sowars and supplying horses to Govt,in the mutiny of 1857 and maintained loyalty since its begining
نقل مراسلہ
(رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور)
تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضےٰ رئیس قادیان بعافیت باشند
از آنجا کہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ ١٨٥٧ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواہی و مدد دی سرکار دولتمدار انگلشیہ در باب نگاہداشت سواران و بہمرسانی
یہ حوالہ صفحہ 78 پر درج ہے
کشف الغطاء صفحہ 4 تا 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 180 تا 185 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 16
روحانی خزائن جلد ١٤ ١٨٣ کشف الغطاء
up to date and thereby gained the favour of Govt, a khilat worth Rs.200/-is presented to you in recognition of good services and as a reward for your loyalty. Moreover in accordance with the wishes of chief commissioner as conveyed in his No.576.Dated.10th August 1858.This parwana is addressed to you as a token of satisfaction of Govt,for your fidelity and repute.
اسپان بخوبی بمنصۂ ظہور پہنچی اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا۔ لہٰذا بجلدوے اس خیر خواہی اور خیر سگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ کا سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشاء چٹھی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبری ٥٧٦ مورخہ ١٠؍اگست ١٨٥٨ء پروانہ ھذا باظہار خوشنودی سرکار و نیک نامی و وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے۔ مرقومہ تاریخ ٢٠؍ستمبر ١٨٥٨ء
یہ حوالہ صفحہ 78 پر درج ہے کشف الغطاء صفحہ 4 تا 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 180 تا 185 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 16
روحانی خزائن جلد ١٤ ١٨٤ کشف الغطاء
Translation of Sir Robert Egerton Financial Commr's: Murasala Dated.29 June 1876
My dear friend Ghulam Qadir,
I have perused your letter of the 2nd instant & deeply regret the death of your father Mirza Ghulam Murtaza who was a great well wisher and faithful chief of Govt.
In consideration of your family services.I will esteem you with the same respect as that bestowed on your loyal father. I will keep in mind the restoration and welfare of your family when a favourable opportunity occurs.
نقل مراسلہ
فنانشل کمشنر پنجاب
مشفق مہربان دوستان مرزا غلام قادر رئیس قادیان حفظہ آپ کا خط ٢ ماہ حال کا لکھا ہوا ملاحظہ حضور ایجانب میں گزرا۔ مرزا غلام مرتضیٰ صاحب آپ کے والد کی وفات سے ہم کو بہت افسوس ہوا۔ مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریزی کا اچھا خیر خواہ اور وفادار رئیس تھا۔
ہم آپ کی خاندانی لحاظ سے اسی طرح عزت کریں گے جس طرح تمہارے باپ وفادار کی کی جاتی تھی۔ ہم کو کسی اچھے موقعہ کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہے گا۔
کشف الغطاء صفحہ 4 تا 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 180 تا 185 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 78 پر درج ہے
حوالہ نمبر 16
روحانی خزائن جلد ١٤ ١٨٥ کشف الغطاء
المرقوم ٢٩؍جون ١٨٩٧ء الراقم سر رابرٹ ایجرٹن صاحب بہادر فنانشل کمشنر پنجاب
﴿٣﴾ یہ تو میرے باپ اور میرے بھائی کا حال ہے اور چونکہ میری زندگی فقیرانہ اور درویشانہ طور پر ہے اس لئے میں اسی درویشانہ طرز سے گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی اور امداد میں مشغول رہا ہوں۔ قریباً انیس ١٩ برس سے ایسی کتابوں کے شائع کرنے میں میں نے اپنا وقت بسر کیا ہے جن ﴿٤﴾ میں یہ ذکر ہے کہ مسلمانوں کو سچے دل سے اس گورنمنٹ کی خدمت کرنی چاہیے اور اپنی فرمانبرداری اور وفاداری کو دوسری قوموں سے بڑھ کر دکھلانا چاہیے اور میں نے اسی غرض سے ﴿٥﴾ بعض کتابیں عربی زبان میں لکھیں اور بعض فارسی زبان میں اور ان کو دور دور ملکوں تک شائع کیا۔ اور اُن سب میں مسلمانوں کو بار بار تاکید کی اور معقول وجوہ سے ان کو اس طرف جھکایا کہ ﴿٦﴾ وہ گورنمنٹ کی اطاعت بدل و جان اختیار کریں اور یہ کتابیں عرب اور بلاد شام اور کابل اور بخارا میں پہنچائی گئیں۔ اگرچہ میں سنتا ہوں کہ بعض نادان مولویوں نے ان کے دیکھنے سے مجھے کافر قرار دیا ہے اور میری تحریروں کو اس بات کا ایک نتیجہ ٹھہرایا ہے کہ گویا مجھے سلطنت انگریزی سے ایک اندرونی اور خفیہ تعلق ہے اور گویا میں ان تحریروں کے عوض میں گورنمنٹ سے کوئی انعام پاتا ہوں لیکن مجھے یقیناً معلوم ہوا ہے کہ بعض دانشمندوں کے دلوں پر ان تحریروں کا نہایت نیک اثر ہوا ہے اور انہوں نے ان وحشیانہ عقائد سے توبہ کی ہے جن میں وہ برخلاف اغراض اس گورنمنٹ کے مبتلا تھے ۔ ان نیک تاثیرات کے لئے میری مذہبی تحریریں جو پادریوں کے مخالف تھیں بڑی محرک ہوئی ہیں ورنہ جس زور کے ساتھ میں نے مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی اطاعت کے لئے بلایا ہے اور جابجا سرحدی نادان ملّاؤں کو جو ناحق آئے دن فتنہ انگیزی کرتے اور افغانوں کو مخالفت کے لئے ابھارتے ہیں سرزنش کی ہے یہ
کشف الغطاء صفحہ 4 تا 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 180 تا 185 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 78 پر درج ہے
حوالہ نمبر 17
روحانی خزائن جلد ١٣ ٦ کتاب البریہ
میں شریک تھا۔ پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ١
Translation of Mr. Robert Cast's Certificate To, Mirza Ghulam Murtaza Khan, Chief of Qadian. As you rendered great help in enlisting sowars and supplying horses to Govt. in the mutiny of 1857 and maintained loyalty since its beginning upto date and thereby gained the favour of Govt. a Khilat worth Rs. 200/- is presented to you in recognition of good services, and as a reward for your loyalty. Moreover in accordance with the wishes of Chief Commissioner as conveyed in his no. 576 dt. 10th August 58. This parwana is addressed to you as a token of satisfaction of Govt. for your fidelity and repute.
نقل مراسلہ
(رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور) تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان بعافیت باشند۔ از آنجا کہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ ١٨٥٧ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواہی و مدد دہی سرکار دولتمدار انگلشیہ در باب نگاہداشت سواران و بہم رسانی اسپان بخوبی بمنصہ ظہور پہنچی اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا لہٰذا بجلدوی اس خیر خواہی اور خیرسگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ کا سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشاء چٹھی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبری ٥٧٦ مورخہ ١٠؍ اگست ١٨٥٨ء پروانہ ہذا باظہار خوشنودی سرکار و نیکنامی و وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے۔ مرقومہ تاریخ ٢٠ ستمبر ١٨٥٨ء
کتاب البریہ صفحہ 5 تا 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 6 تا 9 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 81 پر درج ہے
حوالہ نمبر 17
روحانی خزائن جلد١٣ ٧ کتاب البریہ
برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں۔ اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزار ہا روپیہ
Translation of Sir Robert Egerton Financial Commr's; Murasala dt. 29 June 1876 My dear friend Ghulam Qadir I have persued your letter of the 2nd instant and deeply regret the death of your father Mirza Ghulam Murtza who was a great well wisher and faithful Chief of Govt. In consideration of your family services I will esteem you with the same respect as that bestowed on your loyal father. I will keep in mind the restoration and welfare of your family when a favourable opportunity occurs.
نقل مراسلہ فنانشل کمشنر پنجاب مشفق مہربان دوستان مرزا غلام قادر رئیس قادیان حفظہ ۔ آپ کا خط ٢۔ ماہِ حال کا لکھا ہوا ملاحظہ حضور انجناب میں گذرا مرزا غلام مرتضیٰ صاحب آپ کے والد کی وفات سے ہم کو بہت افسوس ہوا مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریزی کا اچھا خیر خواہ اور وفادار رئیس تھا۔ ہم آپ کی خاندانی لحاظ سے اسی طرح پر عزت کریں گے جس طرح تمہارے باپ وفادار کی کی جاتی تھی ہم کو کسی اچھے موقعہ کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پاسجائی کا خیال رہیگا۔ الرقوم ٢٩ جون ١٨٧٦ء الراقم سر رابرٹ ایجرٹن صاحب بہادر فنانشل کمشنر پنجاب
کتاب البریہ صفحہ 5 تا 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 6 تا 9 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 81 پر درج ہے
حوالہ نمبر 17
روحانی خزائن جلد ١٣ ٨ کتاب البریہ
خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔ کیا اس قدر بڑی کارروائی اور اس قدر دور دراز مدت تک ایسے انسان سے ممکن ہے جو دل میں بغاوت کا ارادہ رکھتا ہو؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے؟ اگر میں نے یہ اشاعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیر خواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم وغیرہ بلاد اسلامیہ میں شائع کرنے سے کس انعام کی توقع تھی؟ یہ سلسلہ ایک دو دن کا نہیں بلکہ برابر سترہ سال کا ہے اور اپنی کتابوں اور رسالوں کے جن مقامات میں مَیں نے یہ تحریریں لکھیں ہیں ان کتابوں کے نام معہ ان کے نمبر صفحوں کے یہ ہیں۔ جن میں سرکار انگریزی کی خیر خواہی اور اطاعت کا ذکر ہے۔
نمبر نام کتاب تاریخ طبع نمبر صفحہ ١ براہین احمدیہ حصہ سوم ١٨٨٢ء الف سے ب تک (شروع کتاب) ٢ براہین احمدیہ حصہ چہارم ١٨٨٤ء الف سے د تک ایضاً ٣ آریہ دھرم (نوٹس) دربارہ توسیع دفعہ ٢٩٨ ٢٢ ستمبر ١٨٩٥ء ٥٧ سے ٦٤ تک آخر کتاب ٤ التماس شامل آریہ دھرم ایضاً ٢٢ ستمبر ١٨٩٥ء ١ سے ٤ تک آخر کتاب ٥ درخواست شامل آریہ دھرم ایضاً ٢٢ ستمبر ١٨٩٥ء ٦٩ سے ٧٢ تک آخر کتاب ٦ خط دربارہ توسیع دفعہ ٢٩٨ ٢١ اکتوبر ١٨٩٥ء ١ سے ٨ تک ٧ آئینہ کمالات اسلام فروری ١٨٩٣ء ١٧ سے ٢٠ تک اور ٥١١ سے ٥٢٨ تک
﴿٨﴾
٨ نور الحق حصہ اول (اعلان) ١٣١١ھ ٢٣ سے ٥٤ تک
کتاب البریہ صفحہ 5 تا 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 6 تا 9 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 81 پر درج ہے
حوالہ نمبر 17
روحانی خزائن جلد ١٣ ٩ کتاب البریہ
٩ شہادۃ القرآن (گورنمنٹ کی توجہ کے لائق) ٢٢؍ستمبر ١٨٩٣ء الف سے ع تک آخر کتاب ١٠ نورالحق حصہ دوم ١٣١١ھ ٤٩ سے ٥٠ تک ١١ سر الخلافہ ١٣١٢ھ ٧١ سے ٧٢ تک ١٢ اتمام الحجہ ١٣١١ھ ٢٥ سے ٢٧ تک ١٣ حمامة البشریٰ ١٣١١ھ ٣٩ سے ٤٢ تک ١٤ تحفہ قیصریہ ٢٥؍مئی ١٨٩٧ء تمام کتاب ١٥ ست بچن نومبر ١٨٩٥ء ١٥٣ سے ١٥٤ تک اور ٹائٹل پیج ١٦ انجام آتھم جنوری ١٨٩٧ء ٢٨٣ سے ٢٨٤ تک آخر کتاب ١٧ سراج منیر مئی ١٨٩٧ء صفحہ ٧٢ ١٨ تکمیل تبلیغ معہ شرائط بیعت ١٢؍جنوری ١٨٨٩ء صفحہ ٤ حاشیہ اور صفحہ ٦ شرط چہارم ١٩ اشتہار قابل توجہ گورنمنٹ اور عام اطلاع کیلئے ٢٧؍فروری ١٨٩٥ء تمام اشتہار یک طرفہ ٢٠ اشتہار دربارہ سفیر سلطان روم ٢٤؍مئی ١٨٩٧ء ١ سے ٣ تک ٢١ اشتہار جلسہ احباب پر جشن جوبلی بمقام قادیان ٢٣؍جون ١٨٩٧ء ١ سے ٤ تک ٢٢ اشتہار جلسہ شکریہ جشن جوبلی حضرت قیصرہ دام ظلہا ٧؍جون ١٨٩٧ء تمام اشتہار یک ورق ٢٣ اشتہار متعلق بزرگ ٢٥؍جون ١٨٩٧ء صفحہ ١٠ ٢٤ اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ معہ ترجمہ انگریزی ١٠؍دسمبر ١٨٩٢ء تمام اشتہار ١ سے ٧ تک
اور حال میں جب حسین کامی سفیر روم قادیان میں میری ملاقات کے لئے آیا اور اس نے مجھے اپنی گورنمنٹ کے اغراض سے مخالف پا کر ایک سخت مخالفت ظاہر کی وہ تمام حال بھی میں نے اپنے اشتہار مورخہ ٢٤؍مئی ١٨٩٧ء میں شائع کر دیا ہے وہی اشتہار تھا جس کی وجہ سے بعض مسلمان اڈیٹروں نے بڑی مخالفت ظاہر کی اور بڑے جوش میں آ کر مجھ کو ﴿١٩﴾
کتاب البریہ صفحہ 5 تا 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 6 تا 9 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 81 پر درج ہے
حوالہ نمبر 18
٤٦٢
عربوں کو مکہ اور مدینہ کی طرف بھیجا اور بعض بلاد فارس کی طرف بھیجے گئے اور اسی طرح مصر میں بھی کتابیں بھیجیں ۔ اور یہ ہزار ہا روپیہ کا خرچ تھا جو محض نیک نیتی سے کیا گیا ۔
شاید اس جگہ ایک نادان سوال کرے گا کہ اس قدر خیر خواہی غیر ممکن ہے کہ ہزار ہا روپیہ اپنی گرہ سے خرچ کر کے اس گورنمنٹ کی خوبیوں کو تمام ملکوں میں پھیلا یا جاوے، لیکن ایک عقلمند جانتا ہے کہ احسان ایک ایسی چیز ہے کہ جب ایک شریف اور ایمان دار آدمی اس سے تمتع اُٹھاتا ہے تو بالطبع اس میں عشق اور محبت کے رنگ میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ تا اس احسان کا معاوضہ دے ۔ ہاں کمینہ آدمی اس طرف التفات نہیں کرتا۔ پس مجھے طبعی جوش نے ان کارروائیوں کے لیے مجبور کیا ۔ مجھے افسوس ہے کہ اگر سول ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر کو ان واقعات کی کچھ بھی اطلاع ہوتی تو وہ ایسی تحریر جو انصاف اور سچائی کے برخلاف ہے ہرگز شائع نہ کرتا ۔
میرے اس دعویٰ پر کہ میں گورنمنٹ برطانیہ کا سچا خیر خواہ ہوں دو ایسے شاہد ہیں کہ اگر سول ملٹری جیسا لاکھ پرچہ بھی ان کے مقابلہ پر کھڑا ہو تب بھی وہ دروغگو ثابت ہوگا ۔ (اول) یہ کہ علاوہ اپنے والد مرحوم کی خدمت کے میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے ۔
- ٢۔ دوسری یہ کہ میں نے کئی کتابیں عربی فارسی تالیف کر کے غیر ملکوں میں بھیجی ہیں جن میں برابر یہی تاکید
اور یہی مضمون ہے۔ پس اگر کوئی نااندیش یہ خیال کرے کہ سولہ برس کی کارروائی میری کسی نفاق پر مبنی ہے تو اس بات کا اس کے پاس کیا جواب ہے کہ جو کتابیں عربی و فارسی روم اور شام اور مصر اور مکہ اور مدینہ وغیرہ ممالک میں بھیجی گئیں اور ان میں نہایت تاکید سے گورنمنٹ انگریزی کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں وہ کارروائی کیونکر نفاق پر محمول ہو سکتی ہے۔ کیا ان ملکوں کے باشندوں سے بجز کافر کہنے کے کسی اور انعام کی توقع تھی۔ کیا سول ملٹری گزٹ کے پاس کسی ایسی خیر خواہ گورنمنٹ کی کوئی اور بھی نظیر ہے؟ اگر ہے تو پیش کریں لیکن میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ جس قدر میں نے کارروائی گورنمنٹ کی خیر خواہی کے لیے کی ہے اس کی نظیر نہیں ملے گی۔ ہاں یہ سچ ہے کہ عیسائی مذہب کو میں اس کی موجودہ صورت کے لحاظ سے ہرگز صحیح نہیں سمجھتا کوئی انسان کیسا ہی برگزیدہ ہو اس کو ہم کسی طرح خدا نہیں کہہ سکتے ۔ بلاشبہ وہ تعلیم جو انسان کو سچی توحید سکھاتی اور حقیقی خدا کی طرف رجوع دیتی ہے وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہے ۔ قرآن بڑی سادگی سے اسی خدا کو خدا قرار دیتا ہے جو قدیم ہے اور ازل سے قانون قدرت کے آئینہ میں نظر آتا رہا ہے اور آ رہا ہے پس جس مذہب کی خدا دانی ہی غلط ہے اس مذہب سے عقلمند کو پرہیز کرنا چاہئے ۔ جو لوگ نفسانی ہستی سے فنا ہو گئے ان کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا سے ہی نکلے ہیں کیونکہ انہوں نے خدا میں ہو کر ایک نئی اور
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 462 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 84 پر درج ہے
حوالہ نمبر 19
٣٥٥
تھی کہ وہ دل سے اس گورنمنٹ سے پیار کرتے تھے اور اس گورنمنٹ کی خیر خواہی ایک میخ فولادی کی طرح ان کے دل میں دھنس گئی تھی۔ اُن کی وفات کے بعد مجھے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح بالکل دُنیا سے الگ کر کے اپنی طرف کھینچ لیا اور مَیں نے اس کے فضل سے آسمانی مرتبت اور عزت کو اپنے لیے پسند کر لیا، لیکن مَیں اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس گورنمنٹ محسنہ انگریزی کی خیر خواہی اور ہمدردی میں مجھے زیادتی ہے یا میرے والد مرحوم کو۔ بیس برس کی مُدت سے مَیں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جان نثار ہو جائیں اور جہاد اور خونی مہدی کے انتظار وغیرہ بیہودہ خیالات سے جو قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتے دست بردار ہو جائیں۔ اور اگر وہ اس غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے تو کم سے کم یہ اُن کا فرض ہے کہ اس گورنمنٹ محسنہ کے ناشکرگزار نہ بنیں اور نمک حرامی سے خدا کے گنہگار نہ ٹھہریں کیونکہ یہ گورنمنٹ ہمارے مال اور خون اور عزت کی محافظ ہے اور اس کے مبارک قدم سے ہم جلتے ہوئے تنور میں سے نکالے گئے ہیں۔ یہ کتابیں ہیں جو مَیں نے اس ملک اور عرب اور شام اور فارس اور مصر وغیرہ ممالک میں شائع کی ہیں۔ چنانچہ شام کے ملک کے بعض عیسائی فاضلوں نے بھی میری کتابوں کے شائع ہونے کی گواہی دی ہے۔ اور میری بعض کتابوں کا ذکر کیا ہے۔ اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرأت سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بیس سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کر سکتا۔
یہ بھی ظاہر ہے کہ اس قدر لمبے زمانہ تک کہ جو بیس برس کا زمانہ ہے۔ ایک مسلسل طور پر تعلیم مذکورہ بالا پر زور دیتے جانا کسی منافق اور خود غرض کا کام نہیں ہے بلکہ ایسے شخص کا کام ہے جس کے دل میں اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی ہے۔ ہاں مَیں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ مَیں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کیا کرتا ہوں اور ایسا ہی پادریوں کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شائع کرتا رہا ہوں۔ اور مَیں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جبکہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی اور
١ خریسطوفور جبارہ نام ایک دمشق کا رہنے والا فاضل عیسائی اپنی کتاب خلاصۃ الادیان کے صفحہ ٤٤ میں میری کتاب حمامۃ البشریٰ کا ذکر کرتا ہے اور حمامۃ البشریٰ میں سے چھ سطریں بطور نقل کے لکھتا ہے اور میری نسبت لکھتا ہے کہ یہ کتاب ایک ہندی فاضل کی ہے جو تمام ملک ہند میں مشہور ہے۔ دیکھو خلاصۃ الادیان وزبدۃ الادیان صفحہ ٤٤ چودھویں سطر سے اکیسویں سطر تک۔ منہ
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 355 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 85 پر درج ہے
حوالہ نمبر 20
١٩٧
بیان کروں گا جاہلوں اور وحشیوں کی جماعت نہیں ہے بلکہ اکثر اُن میں سے اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ اور علوم مروجہ کے حاصل کرنے والے اور سرکاری معزز عہدوں پر سرفراز ہیں اور مَیں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے چال چلن اور اخلاقی لحاظ میں بڑی ترقی کی ہے اور مَیں اُمید رکھتا ہوں کہ تجربہ کے وقت سرکار انگریزی اِن کو اوّل درجہ کے خیر خواہ پائے گی۔
(٤) چوتھی گذارش یہ ہے کہ جس قدر لوگ میری جماعت میں داخل ہیں اکثر اُن میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدوں پر ممتاز اور یا اس ملک کے نیک نام رئیس اور ان کے خدام اور احباب اور یا تاجر اور یا وکلاء اور یا نو تعلیم یافتہ انگریزی خوان اور یا ایسے نیک نام علماء اور فضلاء اور دیگر شرفاء ہیں جو کسی وقت سرکار انگریزی کی نوکری کر چکے ہیں یا اب نوکری پر ہیں یا اُن کے اقارب اور رشتہ دار اور دوست ہیں جو اپنے بزرگ مخدوموں سے اثر پذیر ہیں اور یا سجادہ نشینان غریب طبع ۔ غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیکنامی حاصل کردہ اور موردِ مراحم گورنمنٹ ہیں اور یا وہ لوگ جو میرے اقارب یا خدام میں سے ہیں۔ ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد علماء کی ہے جنہوں نے میری اتباع میں اپنے وعظوں سے ہزاروں دلوں میں گورنمنٹ کے احسانات جما دیئے ہیں۔ اور مَیں مناسب دیکھتا ہوں کہ ان میں سے اپنے چند مُریدوں کے نام بطورِ نمونہ آپ کے ملاحظہ کے لیے ذیل میں لکھ دوں۔
(٥) میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مُریدین روانہ کرتا ہوں مدعا یہ ہے کہ اگرچہ مَیں ان خدماتِ خاصہ کے لحاظ سے جو مَیں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدقِ دل اور اخلاص اور جوشِ وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لیے کی ہیں عنایتِ خاص کا مستحق ہوں ، لیکن یہ سب امور گورنمنٹ عالیہ کی توجّہات پر چھوڑ کر بالفعل ضروری استغاثہ یہ ہے کہ مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے کہ بعض حاسد بد اندیش جو بوجہ اختلافِ عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کے دشمن ہیں میری نسبت اور میرے دوستوں کی نسبت خلافِ واقعہ امور گورنمنٹ کے معزز حکام تک پہنچاتے ہیں۔ اس لیے اندیشہ ہے کہ اُن کی ہر روز کی مُفتریانہ کارروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو کر وہ تمام جانفشانیاں پچاس سالہ میرے والد مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ اور میرے حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی جن کا تذکرہ سرکاری چٹھیات اور سر لیپل گرفن کی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور نیز میری قلم کی وہ خدمات جو میرے اٹھارہ سال کی تالیفات سے ظاہر ہیں سب کی سب ضائع اور برباد نہ جائیں اور خدانخواستہ سرکار انگریزی اپنے ایک قدیم وفادار اور خیر خواہ خاندان کی نسبت کوئی مُکدّر خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔ اس بات کا علاج تو غیر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا مُنہ بند کیا جائے کہ جو اختلافِ مذہبی کی وجہ سے یا نفسانی حسد اور بُغض اور
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 197 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 85 پر درج ہے
حوالہ نمبر 21
١٩٠
جائے گی۔ اور سر لیپل گرفن صاحب نے اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ہمارے خاندان کا ذکر کر کے میرے بھائی مرزا غلام قادر کی خدمات کا خاص کر کے ذکر کیا ہے جو اُن سے تہو کے پُل پر باغیوں کی سرزنش کے لیے ظہور میں آئیں ۔
ان تمام تحریرات سے ثابت ہے کہ میرے والد صاحب اور میرا خاندان ابتداء سے سرکار انگریزی کے بدل و جان ہوا خواہ اور وفادار رہے ہیں اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسروں نے مان لیا ہے کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیر خواہ سرکار انگریزی ہے ۔ اور اس بات کے یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اُن کرسی نشین رئیسوں میں سے تھے کہ جو ہمیشہ گورنری دربار میں عزت کے ساتھ بلائے جاتے تھے اور تمام زندگی اُن کی گورنمنٹ عالیہ کی خیر خواہی میں بسر ہوئی ۔
(٢) دوسرا امر قابل گذارش یہ ہے کہ مَیں ابتدائی عُمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عُمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور اُن کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دُور کروں جو اُن کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔ اور اس ارادہ اور قصد کی اوّل وجہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بصیرت بخشی اور اپنے پاس سے مجھے ہدایت فرمائی کہ تا مَیں اُن وحشیانہ خیالات کو سخت نفرت اور بیزاری سے دیکھوں جو بعض نادان مسلمانوں کے دلوں میں مخفی تھے جن کی وجہ سے وہ نہایت بیوقوفی سے اپنی گورنمنٹ محسنہ کے ساتھ ایسے طور سے صاف دل اور سچے خیر خواہ نہیں ہو سکتے تھے جو صاف دلی اور خیر خواہی کی شرط ہے بلکہ بعض جاہل مُلاّؤں کے ورغلانے کی وجہ سے شرائط اطاعت اور وفاداری کا پورا جوش نہیں رکھتے تھے۔ سو مَیں نے نہ کسی بناوٹ اور ریاکاری سے بلکہ محض اِس اعتقاد کی تحریک سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ہے بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ اُن کو گورنمنٹ برطانیہ کی جو درحقیقت اُن کی محسن ہے سچی اطاعت اختیار کرنی چاہیے اور وفاداری کے ساتھ اُس کی شکر گذاری کرنی چاہئے ورنہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے اور مَیں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہوگئی۔
اور مَیں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اُردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 190, 191 طبع جدید، از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 86 پر درج ہے
حوالہ نمبر 21
191
ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیا گیا۔ مگر با ایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا اور درحقیقت وجود سلطنت انگلشیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکلیفات کے بعد ہم کو ملی اس لیے ہمارا فرض تھا کہ اس نعمت کا بار بار اظہار کریں۔ ہمارا خاندان سکھوں کے ایام میں ایک سخت عذاب میں تھا اور نہ صرف یہی تھا کہ انہوں نے ظلم سے ہماری ریاست کو تباہ کیا اور ہمارے صدہا دیہات اپنے قبضہ میں کئے بلکہ ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی دینی آزادی کو بھی روک دیا ایک مسلمان کو بانگ نماز پر بھی مارے جانے کا اندیشہ تھا چہ جائیکہ اور رسوم عبادت آزادی سے بجا لا سکتے پس یہ اس گورنمنٹ محسنہ کا ہی احسان تھا کہ ہم نے اس جلتے ہوئے تنور سے خلاصی پائی اور خدا تعالیٰ نے ایک ابر رحمت کی طرح اس گورنمنٹ کو ہمارے آرام کے لیے بھیج دیا پھر کس قدر بد ذاتی ہوگی کہ ہم اس نعمت کا شکر بجا نہ لاویں۔ اس نعمت کی عظمت تو ہمارے دل اور جان اور رگ و ریشہ میں منقوش ہے اور ہمارے بزرگ ہمیشہ اس راہ میں اپنی جان دینے کے لیے تیار رہے۔ پھر نعوذ باللہ کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنے دلوں میں مفسدانہ ارادے رکھیں۔ ہمارے پاس تو وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے ہم اس آرام اور راحت کا ذکر کر سکیں جو اس گورنمنٹ سے ہم کو حاصل ہوئی۔ ہماری تو یہی دعا ہے کہ خدا اس گورنمنٹ محسنہ کو جزاء خیر دے اور اس سے نیکی کرے جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی ۔ یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میرا بھائی اور خود میں بھی رُوح کے جوش سے اس بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو دلوں میں جمادیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں اٹھارہ برس سے ایسی کتابوں کی تالیف میں مشغول ہوں کہ جو مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی محبت اور اطاعت کی طرف مائل کر رہے ہیں گو اکثر جاہل مولوی ہماری اس طرز اور رفتار اور ان خیالات سے سخت ناراض ہیں اور اندر ہی اندر جلتے اور دانت پیستے ہیں مگر میں جانتا ہوں کہ وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے بھی بے خبر ہیں جس میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا یعنی اپنے محسن کا شکر کرنا ایسا فرض ہے جیسا کہ خدا کا۔
یہ تو ہمارا عقیدہ ہے مگر افسوس کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پُر زور تقریریں اطاعت گورنمنٹ کے بارے میں ہیں کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔ لہٰذا میں پھر یاد دلاتا ہوں کہ مفصلہ ذیل کتابوں اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات پڑھے جائیں جن کے نمبر صفحات میں نے ذیل میں لکھ دیئے ہیں۔
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 190, 191 طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 86 پر درج ہے
حوالہ نمبر 22
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٥٥ تریاق القلوب
ہمارا کوئی الہام پیش کرنا چاہئیے ۔ اجتہادی غلطی نبیوں اور رسولوں سے بھی ہو جاتی ہے۔ جس پر وہ قائم نہیں رکھے جاتے۔ ذرہ صحیح بخاری کو کھولو اور حدیث ذھب وھلی کو غور سے پڑھو۔ ایسا اعتراض کرنا جو دوسرے پاک نبیوں پر بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وہی اعتراض آوے مسلمانوں اور نیک آدمیوں کا کام نہیں ہے بلکہ لعنتیوں اور شیطانوں کا کام ہے۔ اگر دل میں فساد نہیں تو قوم کا تفرقہ دور کرنے کے لئے ایک جلسہ کرو اور مجلس عام میں میرے پر اعتراض کرو کہ فلاں پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ پھر اگر حاضرین نے قسم کھا کر کہہ دیا کہ فی الواقع جھوٹی نکلی اور میرے جواب کو سن کر مدلل بیان اور شرعی دلیل سے ردّ کر دیا تو اُسی وقت میں توبہ کروں گا۔ ورنہ چاہئیے کہ سب توبہ کر کے اس جماعت میں داخل ہو جائیں اور درندگی اور بدزبانی چھوڑ دیں ۔
اے مسلمانوں کی ذریت ! میں نے آپ لوگوں کا کیا گناہ کیا ہے کہ آپ لوگ انواع ﴿١٥﴾ اقسام کے منصوبوں سے میری ایذا کے درپئے ہو گئے۔ تم میں سے جو مولوی ہیں وہ ہر وقت یہی وعظ کرتے ہیں کہ یہ شخص کافر ہے بے دین دجّال ہے اور انگریزوں کی سلطنت کی حد سے زیادہ تعریف کرتا ہے اور رُومی سلطنت کا مخالف ہے۔ اور تم میں سے جو ملازمت پیشہ ہیں وہ اس کوشش میں ہیں کہ مجھے اس محسن سلطنت کا باغی ٹھہراویں۔ میں سنتا ہوں کہ ہمیشہ خلاف واقعہ خبریں میری نسبت پہنچانے کے لئے ہر طرف سے کوشش کی جاتی ہے حالانکہ آپ لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ میں باغیانہ طریق کا آدمی نہیں ہوں ۔ میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے
تریاق القلوب صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155، 156 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 86 پر درج ہے
حوالہ نمبر 22
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٥٦ تریاق القلوب
جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں پھر کیونکر ممکن تھا کہ میں اس سلطنت کا بدخواہ ہوتا یا کوئی ناجائز باغیانہ منصوبے اپنی جماعت میں پھیلاتا جبکہ میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا۔ اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا تو کیونکر ممکن تھا کہ ان تمام ہدایتوں کے برخلاف کسی بغاوت کے منصوبے کی میں تعلیم کروں۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں ۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں ۔ اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہوں میں ان کو سخت نادان بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں ۔ کیونکہ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔ تم چاہو دل میں مجھے کچھ کہو۔ گالیاں نکالو یا پہلے کی طرح کافر کا فتویٰ لکھو۔ مگر میرا اصول یہی ہے کہ ایسی سلطنت سے دل میں بغاوت کے خیالات رکھنا یا ایسے خیال جن سے بغاوت کا احتمال ہو سکے سخت بدذاتی اور خدا تعالیٰ کا گناہ ہے ۔ بہتیرے ایسے مسلمان ہیں جن کے دل کبھی صاف نہیں ہوں گے۔ جب تک اُن کا یہ اعتقاد نہ ہو کہ خونی مہدی اور خونی مسیح کی حدیثیں تمام افسانہ اور کہانیاں ہیں۔
اے مسلمانوں اپنے دین کی ہمدردی تو اختیار کرو مگر سچی ہمدردی ۔ کیا اس معقولیت کے زمانہ میں دین کے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم تلوار سے لوگوں کو مسلمان کرنا چاہیں۔ کیا جبر کرنا اور زور اور تعدّی سے اپنے دین میں داخل کرنا اس بات کی دلیل ہو سکتی ہے کہ وہ دین خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے؟ خدا سے ڈرو اور یہ بیہودہ الزام دین اسلام پر مت لگاؤ کہ اس نے جہاد کا مسئلہ سکھایا ہے اور زبردستی اپنے مذہب میں داخل کرنا اس کی تعلیم ہے۔ معاذ اللہ ہرگز
تریاق القلوب صفحہ 27،28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155،156 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 86 پر درج ہے
حوالہ نمبر 23
٥١٨
سے مجھ سے اور میرے بزرگوں سے گورنمنٹ ممدوحہ کی نسبت ظہور میں آئی ، اگر آپ کے وجود اور آپ کے بزرگوں کے وجود میں کوئی شخص اس کا نمونہ تلاش کرنا چاہے تو تضیع اوقات ہے۔ اس سے زیادہ اور کیا خیر خواہی ہو گی کہ میں سچے دل سے نہ منافقانہ طور پر اس گورنمنٹ کی نسبت بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا گناہ سمجھتا ہوں اور اس بات کو فرض جانتا ہوں کہ اس کی شکر گزاری کی جائے۔ اور اس کی خدمت گزاری میں قصور نہ کریں اور اس کی اطاعت میں دریغ نہ کریں۔ اور میں آپ کی طرح کسی خونی مہدی کا منتظر بھی نہیں تا گورنمنٹ کی نظر میں میرے اصول خطرناک ہوں۔ آپ لوگ جو دلوں میں خیالات رکھتے ہیں اس دانا گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں۔ آپ لوگوں کے عقیدے کچھ چھپے ہوئے نہیں ، مگر میں تو ایسے عقیدہ پر لعنت بھیجتا ہوں کہ کسی وقت بھی اس محسن گورنمنٹ کی نسبت کوئی بغاوت کا ارادہ مخفی طور پر بھی دل میں رکھا جاوے۔ کئی ہزار روپیہ کی کتابیں اس غرض کے لیے شائع کر چکا ہوں کہ تا لوگ اس غلطی سے بچ جائیں کہ ناحق اس گورنمنٹ کو غیر مذہب کی گورنمنٹ تصور کر کے درندگی اور خونخواری کے خیالات ظاہر کریں اور ہر وقت یہی چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں میں سچی محبت اس گورنمنٹ کی پیدا ہو۔ بیشک میں جیسا کہ میرے خدا نے میرے پر ظاہر کیا صرف اسلام کو دنیا میں سچا مذہب سمجھتا ہوں ، لیکن اسلام کی سچی پابندی اسی میں دیکھتا ہوں کہ ایسی گورنمنٹ جو درحقیقت محسن اور مسلمانوں کے خون اور آبرو کی محافظ ہے اس کی سچی اطاعت کی جائے۔ میں گورنمنٹ سے ان باتوں کے ذریعہ سے کوئی انعام نہیں چاہتا ۔ میں اس سے درخواست نہیں کرتا کہ اس خیر خواہی کی پاداش میں میرا کوئی لڑکا کسی معزز عہدہ پر ہو جائے۔ یہ میرا ایک عقیدہ ہے جو سچائی اور شکر گزاری کی پابندی سے رکھتا ہوں نہ کسی اور غرض سے میری رائے قدیم سے گورنمنٹ کی نسبت یہی ہے جو میں نے بیان کی ۔ سو تم خدا تعالیٰ سے ڈرو۔ اور ناحق کی تہمتیں مت لگاؤ کہ یہ دنیوی زندگی معہ اپنے تمام لوازم کے بہت جلد ختم ہو جائیگی۔ اور جلد تم ایک تبدیلی ہوکر دوسرے عالم میں پہنچائے جاؤ گے اور اس سچے حاکم کی جناب میں پیش کئے جاؤ گے جس کی دلوں اور جانوں پر حکومت ہے۔ سوچو اور خوب سوچو کہ عنقریب اس ذات سے معاملہ ہے جو دلوں کے مخفی در مخفی بھیدوں کو جانتا ہے ۔ ولمقت الله اكبر من مقتكم انفسکم خدا تعالیٰ ہدایت دے اور وہ باتیں الہام کرے جن سے وہ راضی ہو جائے۔ آمین
نوٹ : میں نے صدہا کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب اور مصر اور بلاد شام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کیں ہیں۔ کیا آپ نے بھی ان ملکوں میں کوئی ایسی کتاب شائع کی ۔ باوجود اس کے میری یہ خواہش نہیں کہ اس خدمت گزاری کی گورنمنٹ کو اطلاع کروں یا اس سے کچھ صلہ مانگوں جو انصاف کی رو سے اعتقاد تھا۔ وہ ظاہر کر دیا۔ منہ
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 518 (حاشیہ) طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 88 پر درج ہے
حوالہ نمبر 24
٦٦
١٦٨
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
عریضہ بحالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی
اس عریضہ میں پہلے یہ گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ میں کون ہوں۔ سو مختصر عرض یہ ہے کہ میں اس نواح کے ایک رئیس اور سرکار انگریزی کے سچے خیر خواہ کا بیٹا ہوں جن کا نام میرزا غلام مرتضیٰ تھا جن کا ذکر کتاب رئیسان پنجاب مسٹر گریفن میں موجود ہے۔ وہ گورنمنٹ کے وفادار خیر خواہ تھے جنہوں نے ١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑوں سے مع سواروں کے سرکار انگریزی کو مدد دی اور وہ اس ضلع میں ہر ایک موقعہ مدد کے وقت سرکار انگریزی کو کام آتے رہے ہیں اور ہر ایک مدد کے کام میں اپنی حیثیت کے موافق اس ضلع میں ان کا قدم سبقت رکھتا تھا۔ اور حکام وقت اُن کو بڑے لطف اور مہربانی کی نظر سے دیکھتے تھے اور گورنر جنرل کے دربار میں ان کو کرسی ملتی تھی اور ١٨٥٧ء کی خیر خواہی کے عوض سرکار انگریزی نے ان کو انعام بھی دیا تھا ۔ تمنون کے گذر پر جو گورداسپورہ کے قریب واقع ہے۔ جب باغیوں کا عبور ہوا تو اُن مفسدوں کے مقابلہ میں جن لوگوں نے سپاہیانہ بہادری دکھلائی تھی اُن میں سے میرا حقیقی بھائی میرزا غلام قادر مرحوم تھا جس کو اس شجاعت پر خوشنودی مزاج کی حکام کی طرف سے چٹھیاں ملی تھیں ۔ اور میں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریزی کی ایک ایسی خدمت میں مشغول ہوں کہ درحقیقت وہ ایک ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے بزرگوں سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ میں نے بیسیوں کتابیں عربی اور فارسی اور اُردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے۔ اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں ۔ وہ ایک ایسی جماعت تیار
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 66 طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 88 پر درج ہے
حوالہ نمبر 25
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٤ ستارہ قیصرہ
مدد دینے کو تیار تھے۔ غرض اس طرح ان کی زندگی گذری۔ اور پھر اُن کے انتقال کے بعد یہ عاجز دنیا کے شغلوں سے بکلی علیحدہ ہوکر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اِس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے۔ اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو فارسی۔ عربی میں تالیف کرکے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کردیں۔ اور روم کے پایۂ تخت قسطنطنیہ اور بلادشام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کردی گئی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے جو نا فہم ملاؤں کی تعلیم سے اُن کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا اور میں اس قدر خدمت کر کے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا کیونکہ مجھے اس بات کا اقرار ہے کہ اس بابرکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے ایک لوہے کے جلتے ہوئے تنور سے نجات پائی ہے اس لئے میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکھا کو دیر گاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔
ستارہ قیصرہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 114 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 88 پر درج ہے
حوالہ نمبر 26
روحانی خزائن جلد١٥ ١١٤ ستارۂ قیصره مدد دینے کو تیار تھے۔ غرض اس طرح ان کی زندگی گزری۔ اور پھر اُن کے انتقال کے بعد یہ عاجز دنیا کے شغلوں سے بکلی علیحدہ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے۔ اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو فارسی۔ عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں ۔ اور روم کے پایۂ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے اُن کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا اور میں اس قدر خدمت کر کے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا کیونکہ مجھے اس بات کا اقرار ہے کہ اس با برکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے ایک لوہے کے جلتے ہوئے تنور سے نجات پائی ہے اس لئے میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو دیرگاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔
ستارہ قیصرہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 114 ، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 89 پر درج ہے
حوالہ نمبر 27
١١٤
پاس سے تیل دیا گیا۔ اور علاوہ اس کے اظہار مسرت کے لیے عام دعوت میں لوگوں کو شامل کیا گیا ۔ غرض یہ مبارک جلسہ تمام احباب کا جنہوں نے بڑی خوشی سے باہم چندہ کر کے اس کا اہتمام کیا۔ ٢٠؍ جون ١٨٩٧ء سے شروع ہوا۔ اور ٢٢؍ جون ١٨٩٧ء کی شام تک بڑی دھوم دھام سے اس کا اہتمام رہا۔ چنانچہ پہلے روز میں تمام جماعت نے جو ہمارے مریدوں کی جماعت ہے جن کے ذیل میں نام درج ہوں گے بڑے صدق دل سے حضور قیصرہ اور خاندانِ شاہی اور برٹش گورنمنٹ کے حق میں اقبال اور شمول فضلِ الٰہی کی دعائیں کیں اور پھر جیسا کہ بیان کیا گیا وقتاً فوقتاً تمام مراسم ادا کئے گئے اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری جماعت نے جس میں معزز ملازم سرکاری بھی شامل تھے۔ ایسے صدق دل اور محبت اور پوری ارادت اور پورے شوق اور انبساط سے دعائیں کیں اور شکر گزاری ظاہر کی اور اہتمام غرباء کی دعوت میں چندے دینے اور ایک رقم کثیر باہمی چندہ سے جمع کر کے بڑی سرگرمی اور مستعدی اور دلی خوشی سے تمام تجاویز جنرل کمیٹی کو انجام تک پہنچایا کہ اس سے بڑھ کر خیال میں نہیں آ سکتا۔
اور وہ تقریر جو دعا اور شکر گزاری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند میں سُنائی گئی جس پر لوگوں نے بڑی خوشی سے آمین کے نعرے مارے وہ چھ زبانوں میں بیان کی گئی تا ہمارے پنجاب کے ملک میں جس قدر مسلمان کسی زبان میں دسترس رکھتے ہیں اُن تمام زبانوں سے شکر ادا ہو۔ اُن میں سے ایک اُردو میں تقریر تھی جو شکر اور دُعا پر مشتمل تھی جو عام جلسہ میں سُنائی گئی اور پھر عربی اور فارسی اور انگریزی اور پنجابی اور پشتو میں تقریریں قلمبند ہو کر پڑھی گئیں۔ اُردو میں اس لیے کہ وہ عدالت کی بولی اور شاہی تجویز کے موافق دفتروں میں رواج یافتہ ہے اور عربی میں اس لیے کہ وہ خدا کی بولی ہے جس سے دُنیا کی تمام زبانیں نکلیں اور جو اُمّ الالسنہ اور دُنیا کی تمام زبانوں کی ماں ہے جس میں خدا کی آخری کتاب قرآن شریف خلقت کی ہدایت کے لیے آیا۔ اور فارسی میں اس لیے کہ وہ گذشتہ اسلامی بادشاہوں کی یادگار ہے۔ جنہوں نے اس ملک میں قریباً سات سو برس تک فرمانروائی کی۔ اور انگریزی میں اس لیے کہ وہ ہماری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور اس کے معزز ارکان کی زبان ہے جس کے عدل اور احسان کے ہم شکر گزار ہیں۔ اور پنجابی میں اس لیے کہ وہ ہماری مادری زبان ہے جس میں شکر کرنا واجب ہے اور پشتو میں اس لیے کہ وہ ہماری زبان اور فارسی زبان میں ایک برزخ اور سرحدی اقبال کا نشان ہے ۔
اسی تقریب پر ایک کتاب شکر گزاری جناب قیصرہ ہند کے لیے تالیف کر کے اور چھاپ کر اُس کا نام تحفہ قیصریہ رکھا گیا اور چند جلدیں اس کی نہایت خوبصورت مجلّد کراکے اُن میں سے ایک حضرت قیصرہ ہند کے حضور میں بھیجنے کے لیے بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر بھیجی گئی اور ایک کتاب بحضور وائسرائے گورنر جنرل کشور ہند روانہ ہوئی اور ایک بحضور جناب نواب لیفٹینٹ گورنر پنجاب
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 115,114 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 91 پر درج ہے
حوالہ نمبر 27
١١٥
بھیجدی گئی ۔ اب وہ دعائیں جو چھ زبانوں میں کی گئیں ۔ ذیل میں لکھی جاتی ہیں ۔ اور بعد اس کے اُن تمام دوستوں کے نام درج کئے جائیں گے جو تکالیف سفر اُٹھا کر اس جلسہ کے لیے قادیان میں تشریف لائے اور اس سخت گرمی میں اس خوشی کے جوش میں مشقتیں اُٹھائیں یہانتک کہ باعث ایک گروہ کثیر جمع ہونے کے اس قدر چار پائیاں نہ مل سکیں تو بڑی خوشی سے تین دن تک اکثر احباب زمین پر سوتے رہے جس اخلاص اور محبت اور صدق دل کے ساتھ میری جماعت کے معزز اصحاب نے اس خوشی کی رسم کو ادا کیا میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ میں بیان کر سکوں ۔
میں پہلے اپنے بیان میں یہ ذکر بھول گیا تھا کہ اس تقریب جلسہ میں ٢٢؍ جون ١٨٩٧ء کو ہماری جماعت کے چار مولوی صاحبان نے اُٹھ کر عام لوگوں کو جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی اطاعت اور سچی وفاداری کی ترغیب دی ۔ چنانچہ پہلے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے اُٹھ کر اس بارے میں بہت تقریر کی ۔ پھر اخویم حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی نے تقریر کی اور پھر بعد اُن کے اخویم مولوی برہان الدین صاحب جہلمی اُٹھے اور انہوں نے پنجابی میں تقریر کر کے عام لوگوں کو اطاعت ملکہ معظمہ کے لیے بہت ترغیب دی ۔ بعد اُن کے مولوی جمال الدین صاحب سید والا ضلع منٹگمری نے اُٹھ کر پنجابی میں تقریر کی ، مگر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام جن کو نادان مسلمان اب تک خونریز کی صورت میں انتظار کر رہے ہیں وہ درحقیقت فوت ہو گئے ہیں ۔ یعنے ایسے خیال کہ کسی وقت مہدی اور مسیح کے آنے سے مسلمان خونریزیاں کریں گے صحیح نہیں ہے ۔ اور عام لوگوں کو نیک بختی اور نیک چلنی کی ترغیب دی گئی ۔ اور اس مبارک موقعہ پر ساٹھ ستر آدمیوں نے ہر ایک گناہ اور بد چلنی سے رو رو کر توبہ کی ۔ یہانتک کہ اُن کی گریہ و زاری سے مسجد گونج رہی تھی ۔
اب ذیل میں وہ دعائیں چھ زبانوں میں درج کی جاتی ہیں
الراقم مرزا غلام احمد قادیانی ٢٣؍ جون ١٨٩٧ء
نوٹ :- دعائیں اگلے صفحات پر ملاحظہ کریں ۔
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 115,114 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 91 پر درج ہے
حوالہ نمبر 28
روحانی خزائن جلد ٨ ٣٨ نورالحق الحصة الاولى
و وجب الارتحال، ولو قصدنا ذكر خدماته لضاق بنا المجال، وعجزنا کا وقت آ گیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عن التدوين. فالملخص أن أبى لم يزل كان شائم برق الدولة، وقائمًا عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا على الخدمة عند الضرورة، حتى أعزّته الدولة بمكاتيب رضائها، اور عند الضرورت خدمتیں بجا لاتا رہا یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز وخصّته في كل وقتٍ بعطائها، وأسمحت له بمواساتها، وتفضلت عليه کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غم خواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی
﴿٢٨﴾
بمراعاتها، وحسبته من دواعى الخيّر ومن المخلصين. ثم إذا تُوفى أبى اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پا گیا تب ان خصلتوں میں فقام مقامه فى هذه السّيَر أخى الميرزا غلام قادر، وغمرته مواهب اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا جس کا نام میرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے الدولة كما غمرت والدى، وتُوفى أخى بعد أبى فى بضع سنين. ثم بعد شامل حال ہوگئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہوگیا وفاتهما قفوتُ أثرهما واقتديتُ سِيَرَهما وذكرت عصرهما، ولكنى ما پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی اور ان کے زمانہ کو یاد کیا كنت ذا خصب ونعمة وسعة وثروة ولا ذا أملاك وأرضين، بل تبتّلتُ لیکن میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا۔ بلکہ میں ان کی وفات کے إلى الله بعد ارتحالهما ولحقتُ بقوم منقطعين. وجذبني ربّى إليه بعد اللہ جلّ شانہٗ کی طرف جھک گیا اور ان میں جا ملا جنہوں نے دنیا کا تعلق توڑ دیا۔ اور میرے رب نے اپنی طرف وأحسن مثواى، وأسبغ علىّ من نعماء الدّين. وقادنى من تدنّسات مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے
نورالحق حصہ اوّل صفحہ 28، 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 38، 39 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 93 پر درج ہے
حوالہ نمبر 28
روحانی خزائن جلد ٨ ٣٩ نورالحق الحصّة الاولى
الدنيا إلى حظيرة قدسه، وأعطانى ما أعطانى، وجعلنى من الملهمين نکال کر اپنی مقدس جگہ میں لے آیا اور مجھے اس نے دیا جو کچھ دیا اور مجھے ملہموں اور المُحدّثين. فما كان عندى من مال الدنيا وخيلها وأفراسها، غير أنى محدثوں میں سے کر دیا۔ سو میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے بجز اس کے کہ أُعطيتُ جياد الأقلام ورُزقتُ جواهر الكلام، وأُعطيتُ من نورٍ يؤمّننى عمدہ گھوڑے قلموں کے مجھ کو عطا کئے گئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دیئے گئے اور وہ نور مجھ کو عطا ہوا جو مجھے العثار، ويبيّن لى الآثار. فهذه الدولة الإلهية السماوية قد أغنتنى، لغزش سے بچاتا اور راست روی کے آثار مجھ پر ظاہر کرتا ہے پس اس الٰہی اور آسمانی دولت نے مجھے وجبرت عَيْلَتى وأضاء تنی ونوّرت ليلتى، وأدخلتنى في المنعّمين. غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں فقصدت أن أُعين الدولة البرطانية بهذا المال وإن لم يكن لى من میں داخل کیا سو میں نے چاہا کہ اس مال کے ساتھ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کروں اگرچہ الدراهم والخيل والبغال، وما كنت من المتموّلين. میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو نہیں اور نہ میں مالدار ہوں۔ فقمتُ لإمدادها بقلمى ويدى، وكان الله في مددى، وعاهدت الله سو میں اس کی مدد کے لئے اپنے قلم اور ہاتھ سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے تعالى مُذْ ذلك العهد أن لا أُؤلّف كتابًا مبسوطًا من بعد إلا وأذكر فيه ذكر خدا تعالٰی سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر إحساناتِ قيصرة الهند وذكرَ مننِها التى وجب شكرها على المسلمين. نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔ ومع ذلك كان في خاطرى أن أدعو القيصرة المكرمة إلى الإسلام اور باوجود اس کے میرے دل میں یہ بھی تھا کہ میں قیصرہ مکرمہ کو دعوتِ اسلام کروں
نورالحق حصہ اوّل صفحہ 28، 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 38، 39 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 93 پر درج ہے
حوالہ نمبر 29
١٥١
دیا کہ اس نے سلطنت انگریزی میں ہم کو پیدا کیا۔
احسان کی قدر کرنا ہماری سرشت میں ہے
محسن کے احسانات کی شکرگزاری کے اصول سے ناواقف جاہل ہمارے اس قسم کے بیانات اور تحریروں کو خوشامد کہتے ہیں، مگر ہمارا خدا بہتر جانتا ہے کہ ہم دنیا میں کسی انسان کی خوشامد کر سکتے ہی نہیں۔ یہ قوت ہی ہم میں نہیں ہے۔ ہاں احسان کی قدر کرنا ہماری سرشت میں ہے اور نمکحرامی اور غداری کا ناپاک مادہ اُس نے اپنے فضل سے ہم میں نہیں رکھا۔ ہم گورنمنٹ انگلشیہ کے احسانات کی قدر کرتے ہیں اور اس کو خدا کا فضل سمجھتے ہیں کہ اس نے ایک عادل گورنمنٹ کو سکھوں کے پُر جفا زمانہ سے نجات دلانے کے لیے ہم پر حکومت کرنے کو کئی ہزار کوس سے بھیج دیا۔ اگر اس سلطنت کا وجود نہ ہوتا، تو میں سچ کہتا ہوں کہ ہم اس قسم کے اعتراضوں کی بابت ذرا بھی سوچ نہ سکتے چہ جائیکہ ہم اُن کا جواب دے سکتے۔
اب ہم اُن اعتراضوں کا جواب بڑی آزادی سے دے سکتے ہیں۔ پھر ہم اگر اللہ تعالیٰ کے اس فضل کی قدر نہ کریں تو یقیناً سمجھو کہ بڑے ناقدرشناس اور ناشکرگزار ہوں گے۔ ہم کو غور اور فکر کا موقع ملا، دُعاؤں کا موقع ملا اور اس طرح پر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کے ابواب ہم پر کھولے! اگرچہ مبدءِ فیض وُہی ہے، لیکن انسان اپنے میں ایک شئے قابل بناتا ہے۔ اس پر بحسب اُس کی استعداد اور فطرت کے فیض ملتا ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ اس تقریب کی وجہ سے ہندوستان اور پنجاب کے رہنے والے جوہر قابل بن رہے ہیں اور ان کی علمی طاقتیں بھی ترقی کر رہی ہیں۔
اس زمانہ کا ہتھیار قلم ہے
مختصر یہ کہ یہ مقام دارالحرب ہے پادریوں کے مقابلہ میں۔ اس لیے ہم کو چاہیے کہ ہرگز بیکار نہ بیٹھیں۔ مگر یاد رکھو کہ ہماری حرب اُن کے ہم رنگ ہو۔ جس قسم کے ہتھیار لے کر میدان میں وہ آئے ہیں، اُسی طرز کے ہتھیار ہم کو لے کر نکلنا چاہیے اور وہ ہتھیار ہے قلم۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سُلطان القلم اور میرے قلم کو ذُوالفقارِ علی فرمایا۔ اس میں یہی سِرّ ہے کہ زمانہ جنگ وجدل کا نہیں ہے، بلکہ قلم کا زمانہ ہے۔
فتح کے لیے تقویٰ کی ضرورت ہے
پھر جب یہ بات ہے تو یاد رکھو کہ حقائق اور معارف کے صندوق کے کھلنے کے لیے ضرورت ہے تقویٰ کی، اس لیے تقویٰ اختیار کرو، کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔ (النحل : ١٢٩) اور میں گن نہیں سکتا کہ یہ الہام مجھے کتنی مرتبہ ہوا ہے۔ بہت ہی کثرت سے ہوا ہے۔ اگر نری باتیں ہی باتیں کرتے ہیں، تو یاد رکھو کہ کچھ فائدہ نہیں ہے۔ فتح کے لیے ضرورت ہے تقویٰ کی۔ فتح
ملفوظات جلد اول، صفحہ 151 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 94 پر درج ہے
حوالہ نمبر 30
١١٤
اب اس کا اثر تم خود سوچ لوگے، کیا پڑے گا۔ یہی کہ انسان اعمال کی ضرورت محسوس کریگا اور نیک عمل کرنے کی سعی کرے گا۔ برخلاف اس کے جب یہ کہا جاوے گا کہ انسان اعمال سے نجات نہیں پاسکتا، تو یہ اصول انسان کی ہمت اور سعی کو پست کر دیگا اور اس کو بالکل مایوس اور بے دست و پا بنادے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ کا اصول انسانی قویٰ کی بھی بیحرمتی کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی قویٰ میں ایک ترقی کا مادہ رکھا ہے لیکن کفارہ اس کو ترقی سے روکتا ہے۔ ابھی میں نے کہا ہے کہ کفارہ کا اعتقاد رکھنے والوں کے حالات، آزادی اور بے قیدی کو جو دیکھتے ہیں تو یہ اسی اصول کی وجہ سے ہے کہ کتے اور کتّیوں کی طرح بدکاریاں ہوتی ہیں۔ لنڈن کے ہائیڈ پارک میں علانیہ بدکاریاں ہوتی ہیں اور حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں پس ہم کو صرف قیل و قال تک ہی محدود نہ رہنا چاہئے بلکہ اعمال ساتھ ہونے چاہئیں۔ جو اعمال کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ سخت ناعاقبت اندیش اور نادان ہے۔ قانونِ قدرت میں اعمال اور ان کے نتائج کی نظیریں تو موجود ہیں۔ کفارہ کی نظیر کوئی موجود نہیں۔ مثلاً بھوک لگتی ہے، تو کھانا کھالینے کے بعد وہ فرو ہو جاتی ہے یا پیاس لگتی ہے پانی سے جاتی رہتی ہے تو معلوم ہوا کہ کھانا کھانے یا پانی پینے کا نتیجہ بھوک کا جاتے رہنا یا پیاس کا بجھ جانا ہوا۔ مگر یہ تو نہیں ہوتا کہ بھوک لگے زید کو اور بکر روٹی کھائے اور زید کی بھوک جاتی رہے۔ اگر قانونِ قدرت میں اس کی کوئی نظیر موجود ہوتی، تو شاید کفارہ کا مسئلہ مان لینے کی گنجائش نکل آتی۔ لیکن جب قانونِ قدرت میں اس کی کوئی نظیر ہی نہیں ہے تو انسان جو نظیر دیکھ کر ماننے کا عادی ہے، اسے کیونکر تسلیم کر سکتا ہے۔ عام قانونِ انسانی میں بھی تو اس کی نظیر نہیں ملتی ہے۔ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ زید نے خون کیا ہو اور قاتل کو پھانسی ملی ہو، غرض یہ ایک ایسا اصول ہے جس کی کوئی نظیر ہرگز موجود نہیں۔
اعمالِ صالحہ اور تقویٰ
میں اپنی جماعت کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ ضرورت ہے اعمالِ صالحہ کی۔ خدا تعالیٰ کے حضور اگر کوئی چیز جا سکتی ہے، تو وہ یہی اعمالِ صالحہ ہیں۔
اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ (سورۃ فاطر:١١) خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اس وقت ہمارے قلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلواروں کے برابر ہیں لیکن فتح اور نصرت اسی کو ملتی ہے جو متقی ہو خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے۔ کَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ (الروم : ٤٨) مومنوں کی نصرت ہمارے ذمّہ ہے۔ اور لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا (النساء : ١٤٢) اللہ مومنوں پر کافروں کو راہ نہیں دیتا، اس لیے یاد رکھو کہ تمہاری فتح تقویٰ سے ہے ورنہ جوتیاں توڑنے والے لکچرار اور خطیب اور شاعر ہی تھے۔ اُنہوں نے تقویٰ اختیار کیا، خدا تعالیٰ نے اپنے فرشتے ان کی امداد کے لیے نازل کیے، تاریخ کو اگر انسان پڑھے تو اُسے نظر آجائے گا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جس قدر فتوحات کیں وہ انسانی طاقت اور سعی کا نتیجہ نہیں ہو سکتا، حضرت عثمان رضی اللہ تک بتیس سال کے اندر ہی اندر اسلامی سلطنت عالمگیر ہوگئی۔ اب ہم کو کوئی بتاوے کہ انسان ایسا کر سکتا
ملفوظات جلد اوّل صفحہ 114 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 94 پر درج ہے
حوالہ نمبر 31
٣٨
اس وقت قلم کی ضرورت ہے
اس وقت جو ضرورت ہے وہ یقیناً سپر اور سیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کیے ہیں اور مختلف قسموں کے حملوں کی رُو سے اللہ تعالیٰ کے سچے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے۔ اُس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں علمی ہتھیار پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدانِ کارزار میں اُتروں اور اسلام کی رُوحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ بھی دکھلاؤں۔ میں کہہ نہیں سکتا کیا اور کس قابل ہو سکتا تھا، یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے ناچیز انسان کے ہاتھ سے اُس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔ میں نے ایک وقت اُن اعتراضات اور حملات کو شمار کیا تھا جو اسلام پر ہمارے مخالفین نے کیے ہیں، تو اُن کی تعداد میرے خیال اور اندازہ میں تین ہزار ہوئی تھی اور اب مجھے یقین ہے کہ اب تو تعداد اور بھی بڑھ گئی ہوگی۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اسلام کی بناء ایسی کمزور باتوں پر ہے کہ اس پر تین ہزار اعتراض وارد ہو سکتا ہے، نہیں! ایسا ہرگز نہیں ہے۔ یہ اعتراضات تو کج اندیشوں اور نادانوں کی نظر میں اعتراض ہیں، مگر میں قسم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے جہاں ان اعتراضات کو شمار کیا، وہاں یہ بھی غور کیا ہے کہ ان اعتراضات کی تہہ میں نہ اصل ہے، نہ حقیقتیں۔ وہ عدم بصیرت کی وجہ سے معترضین کو دکھائی نہیں دیتیں اور درحقیقت یہ مخالفت کی بحث ہے کہ جہاں نابینا معترض اٹکتا ہے، وہیں حقائق و معارف کا مخفی خزانہ رکھا ہے۔
مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض
اور خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا کہ میں ان خزائن مدفونہ کو دُنیا پر ظاہر کروں اور ناپاک اعتراضات کا کیچڑ جو اِن درخشاں جواہرات پر تھوپا گیا ہے، اس سے اُن کو پاک صاف کروں۔ خدا تعالیٰ کی غیرت اس وقت بڑے جوش میں ہے کہ قرآن شریف کی عزت کو ہر ایک کج اندیش دشمن کے داغ اعتراض سے منزہ و مقدس کرے۔
الغرض ایسی صورت میں کہ مخالفین قلم سے ہم پر وار کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں۔ کس قدر بیوقوفی ہوگی کہ ہم اُن سے تیغ بکف ہو کر آمادہ ہو جائیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایسی صورت میں اگر کوئی اسلام کا نام لیکر جنگ و جدال کا طریق جہاد میں اختیار کرے۔ تو وہ اسلام کو بدنام کرنے والا ہوگا۔ کیونکہ اسلام کا کبھی ایسا منشاء نہ تھا کہ بے مطلب اور بلاموجب خونریزی کی جائے۔ اب لٹیروں کی اغراض ہیں کہ جن کے چھپانے کے لئے حق کی تبلیغ نام رکھ کر خونریزیاں کرتے ہیں۔ بلکہ دنیوی اغراض ان کا موضوع ہو گیا ہے۔ پس کس قدر ظلم ہو گا کہ اعتراض کرنے والوں کو جواب دینے کی بجائے تلوار دکھائی جائے۔ اب زمانہ کے ساتھ ضرب کا پہلو بدل گیا ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ سب سے پہلے اپنے دل اور دماغ سے تمام نفسانی جذبات کا تزکیہ کریں۔ راستبازی اور تقویٰ سے خدا تعالیٰ سے مدد اور فتح چاہیں۔ نیز خدا تعالیٰ کا ایک اَٹل قانون اور مستحکم اُصول ہے کہ اگر مسلمان صرف قیل و قال اور باتوں سے مقابلہ میں کامیابی اور فتح پانا چاہیں، تو یہ ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ لاف و گزاف اور مباحثوں کو نہیں چاہتا۔ وہ تو حقیقی تقویٰ کو چاہتا اور سچی طہارت کو پسند
ملفوظات جلد اوّل صفحہ 38، طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 94 پر درج ہے
حوالہ نمبر 32
٤٥٩
دوسری مرتبہ چودہ گھوڑے نذر کئے۔ اور اسی طرح وہ اور وقتوں میں بھی خدمات گورنمنٹ میں مشغول رہے اور وقتاً فوقتاً خوشنودی کی چٹھیاں پاتے رہے اور انعام بھی ملتے رہے اور چالیس برس اپنی عمر عزیز کے انہی خدمات میں انہوں نے بسر کئے اور پھر بعد اُن کے انتقال کے میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات گورنمنٹ میں مشغول رہا۔ اور پھر ان کے بعد مَیں ایک گوشہ نشین آدمی تھا جس کی دنیوی طریق پر زندگی نہیں تھی اور نہ اس کے کامل اسباب مہیا تھے۔ تاہم مَیں نے برابر ١٦ برس سے یہ اپنے پر حق واجب ٹھہرایا کہ اپنی قوم کو اس گورنمنٹ کی خیر خواہی کی طرف بلاؤں اور ان کو سچی اطاعت کی طرف ترغیب دوں ۔ چنانچہ مَیں نے اس مقصد کی انجام دہی کے لیے اپنی ہر یک تالیف میں یہ لکھنا شروع کیا کہ اس گورنمنٹ کے ساتھ کسی طرح مسلمانوں کو جہاد درست نہیں ۔ اور نہ صرف اس قدر بلکہ بار بار اس بات پر زور دیا کہ چونکہ گورنمنٹ برطانیہ برٹش انڈیا کی رعایا کی محسن ہے اس لیے مسلمانان ہند پر لازم ہے کہ نہ صرف اتنا ہی کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے مقابل پر بد ارادوں سے رکیں بلکہ اپنی سچی شکر گزاری اور ہمدردی کے نمونے بھی گورنمنٹ کو دکھلا دیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ھَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ ٭ یعنی احسان کا بدلہ بجز احسان کے اور کچھ نہیں ۔ اور یہ بات قطعی اور فیصلہ شدہ ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ مسلمانان ہند کی محسن ہے کیونکہ سکھوں کے زمانہ میں ہمارے دین اور دُنیا دونوں پر مصیبتیں تھیں ۔ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو دُور سے ابر رحمت کی طرح لایا اور ان مصیبتوں سے اس گورنمنٹ کے عہدِ دولت نے ایک دَم میں ہمیں چھوڑا دیا۔ پس اس گورنمنٹ کا شکر نہ کرنا بد ذاتی ہے اور جو شخص ایسے احسانات دیکھ کر پھر نفاق سے زندگی بسر کرے اور سچے دل سے شکر گذار نہ ہو تو بلا شبہ کافر نعمت ہے۔ ہماری ایمانداری کا یہ تقاضا ہونا چاہیئے کہ ہم تہ دل سے اقرار کریں کہ درحقیقت یہ گورنمنٹ ہماری محسن ہے۔ ہم اس گورنمنٹ
نوٹ ١؎ سر لیپل گریفن کی کتاب تذکرہ رئیسان پنجاب میں میرے والد صاحب کا مفصل ذکر ہے۔ یاد رہے کہ میرے والد صاحب کا نام مرزا غلام مرتضیٰ اور ان کے والد کا نام مرزا عطا محمد ہے ۔ منہ نوٹ ٢؎ دیکھو براہین احمدیہ ، شہادۃ القرآن ۔ سرمہ چشم آریہ ۔ آئینہ کمالات اسلام حمامۃ البشریٰ ۔ نور الحق وغیرہ نوٹ ٣؎ ۔ اس زمانہ میں اکثر عیسائی مصنّفوں نے یہ اعتراض غلط فہمی سے اسلام پر کیا ہے کہ اسلام جبر اور تلوار کے زور سے پھیلایا گیا ہے ۔ مگر افسوس کہ ایسے معترضوں نے قرآن کریم کی ان تعلیموں پر غور نہیں کی جن میں لکھا ہے کہ تم دوسری قوموں کے ظلم اور ایذا کی برداشت کر کے نرمی کے ساتھ دعوتِ حق کرو ۔ خاص کر عیسائیوں کے مقابل پر یہ حکم تھا کہ اُدْعُ اِلٰی سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ ہِيَ اَحْسَنُ ٭٭ یعنی جب کسی عیسائی معلّم کے ساتھ بحث کرے تو حکمت اور نیک نصیحتوں کے ساتھ بحث کر جو نرمی اور تہذیب سے ہو۔ ہاں یہ سچ ہے کہ بہتیرے اس زمانہ کے جاہل اور
٭ الرحمٰن : ٦١ ٭٭ النحل : ١٢٦
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 459، طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 95 پر درج ہے
حوالہ نمبر 33
٦٦
(١٦٨)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عریضہ بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی
اس عریضہ میں پہلے یہ گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ مَیں کون ہوں سو مختصر عرض یہ ہے کہ مَیں اس نواح کے ایک رئیس اور سرکار انگریزی کے سچے خیر خواہ کا بیٹا ہوں جن کا نام مرزا غلام مرتضیٰ تھا جن کا ذکر کتاب رئیسان پنجاب مسٹر گریفن میں موجود ہے ۔ وہ گورنمنٹ کے وفادار خیر خواہ تھے جنہوں نے ٥٧ء میں پچاس گھوڑوں سے مع سواروں کے سرکار انگریزی کو مدد دی اور وہ اس ضلع میں ہر ایک موقعہ مدد کے وقت سرکار انگریزی کو کام آتے رہے ہیں اور ہر ایک مدد کے کام میں اپنی حیثیت کے موافق اس ضلع میں ان کا قدم سبقت رکھتا تھا ۔ اور حکام وقت ان کو بڑے لطف اور مہربانی کی نظر سے دیکھتے تھے اور گورنر جنرل کے دربار میں ان کو کرسی ملتی تھی اور ٥٧ء کی خیرخواہی کے عوض سرکار انگریزی نے ان کو انعام بھی دیا تھا ۔ تریمون کے گذر پر جو گورداسپورہ کے قریب واقع ہے۔ جب باغیوں کا عبور ہوا تو اُن مفسدوں کے مقابلہ میں جن لوگوں نے سپاہیانہ بہادری دکھلائی تھی اُن میں سے میرا حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم تھا جس کو اس شجاعت پر خوشنودی مزاج کی حکام کی طرف سے چٹھیاں ملی تھیں ۔ اور مَیں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریزی کی ایک ایسی خدمت میں مشغول ہوں کہ درحقیقت وہ ایک ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے بزرگوں سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ مَیں نے بیسیوں کتابیں عربی اور فارسی اور اُردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے ۔ چنانچہ مَیں نے یہ کتابیں بصرفِ زرِکثیر چھاپ کر بلادِ اسلام میں پہنچائی ہیں ۔ اور مَیں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس مُلک پر بھی پڑا ہے ۔ اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں ۔ وہ ایک ایسی جماعتِ تیّار
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 66 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 96 پر درج ہے
حوالہ نمبر 34
191
ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیا گیا۔ مگر با ایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا اور درحقیقت وجود سلطنت انگلیشیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکلیفات کے بعد ہم کو ملی اس لیے ہمارا فرض تھا کہ اُس نعمت کا بار بار اظہار کریں۔ ہمارا خاندان سکھوں کے ایّام میں ایک سخت عذاب میں تھا اور نہ صرف یہی تھا کہ انہوں نے ظلم سے ہماری ریاست کو تباہ کیا اور ہمارے صدہا دیہات اپنے قبضہ میں کرلئے بلکہ ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی دینی آزادی کو بھی روک دیا ایک مسلمان کو بانگِ نماز پر بھی مارے جانے کا اندیشہ تھا چہ جائیکہ اور رسومِ عبادت آزادی سے بجا لا سکتے۔ پس یہ اس گورنمنٹ محسنہ کا ہی احسان تھا کہ ہم نے اس جلتے ہوئے تنور سے خلاصی پائی اور خدا تعالیٰ نے ایک ابرِ رحمت کی طرح اس گورنمنٹ کو ہمارے آرام کے لیے بھیج دیا پھر کس قدر بدذاتی ہوگی کہ ہم اس نعمت کا شکر بجا نہ لاویں۔ اس نعمت کی عظمت تو ہمارے دل اور جان اور رگ و ریشہ میں منقوش ہے اور ہمارے بزرگ ہمیشہ اس راہ میں اپنی جان دینے کے لیے تیار رہے۔ پھر نعوذ باللہ کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنے دلوں میں مفسدانہ ارادے رکھیں۔ ہمارے پاس تو وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے ہم اس آرام اور راحت کا ذکر کرسکیں جو اس گورنمنٹ سے ہم کو حاصل ہوئی۔ ہماری تو یہی دُعا ہے کہ خدا اس گورنمنٹ محسنہ کو جزاء خیر دے اور اس سے نیکی کرے جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میرا بھائی اور خود میں بھی رُوح کے جوش سے اس بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو دلوں میں جماویں۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں اٹھارہ برس سے ایسی کتابوں کی تالیف میں مشغول ہوں کہ جو مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلیشیہ کی محبت اور اطاعت کی طرف مائل کر رہے ہیں گو اکثر جاہل مولوی ہماری اس طرز اور رفتار اور ان خیالات سے سخت ناراض ہیں اور اندر ہی اندر جلتے اور دانت پیستے ہیں۔ مگر مَیں جانتا ہوں کہ وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے بھی بے خبر ہیں جس میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا یعنی اپنے محسن کا شکر کرنا ایسا فرض ہے جیسا کہ خدا کا۔ یہ تو ہمارا عقیدہ ہے مگر افسوس کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پُر زور تقریریں اطاعتِ گورنمنٹ کے بارے میں ہیں کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اُس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔ لہٰذا میں پھر یاد دلاتا ہوں کہ مفصلہ ذیل کتابوں اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات پڑھے جائیں جن کے نمبر صفحات میں نے ذیل میں لکھ دیتے ہیں۔
مجموعہ اشتہارات طبع جدید جلد دوم صفحہ 191 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 97 پر درج ہے
حوالہ نمبر 35 روحانی خزائن جلد ١٤ ١٨٥ کشف الغطاء
المرقوم ٢٩؍جون ١٨٩٧ء الراقم سر رابرٹ ایجرٹن صاحب بہادر فنانشل کمشنر پنجاب
یہ تو میرے باپ اور میرے بھائی کا حال ہے اور چونکہ میری زندگی فقیرانہ اور درویشانہ طور پر ﴿٣﴾ ہے اس لئے میں اسی درویشانہ طرز سے گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی اور امداد میں مشغول رہا ہوں۔ قریباً انیس ١٩ برس سے ایسی کتابوں کے شائع کرنے میں مَیں نے اپنا وقت بسر کیا ہے جن ﴿٤﴾ میں یہ ذکر ہے کہ مسلمانوں کو سچے دل سے اس گورنمنٹ کی خدمت کرنی چاہیے اور اپنی فرمانبرداری اور وفاداری کو دوسری قوموں سے بڑھ کر دکھلانا چاہیے اور میں نے اسی غرض سے ﴿٥﴾ بعض کتابیں عربی زبان میں لکھیں اور بعض فارسی زبان میں اور ان کو دور دور ملکوں تک شائع کیا۔ اور اُن سب میں مسلمانوں کو بار بار تاکید کی اور معقول وجوہ سے ان کو اس طرف جھکایا کہ وہ گورنمنٹ کی اطاعت بدل و جان اختیار کریں اور یہ کتابیں عرب اور بلاد شام اور کابل اور ﴿٦﴾ بخارا میں پہنچائی گئیں۔ اگر چہ میں سنتا ہوں کہ بعض نادان مولویوں نے ان کے دیکھنے سے مجھے کافر قرار دیا ہے اور میری تحریروں کو اس بات کا ایک نتیجہ ٹھہرایا ہے کہ گویا مجھے سلطنت انگریزی سے ایک اندرونی اور خفیہ تعلق ہے اور گویا میں ان تحریروں کے عوض میں گورنمنٹ سے کوئی انعام پاتا ہوں لیکن مجھے یقیناً معلوم ہوا ہے کہ بعض دانشمندوں کے دلوں پر ان تحریروں کا نہایت نیک اثر ہوا ہے اور انہوں نے ان وحشیانہ عقائد سے توبہ کی ہے جن میں وہ برخلاف اغراض اس گورنمنٹ کے مبتلا تھے ۔ ان نیک تاثیرات کے لئے میری مذہبی تحریریں جو پادریوں کے مخالف تھیں بڑی محرک ہوئی ہیں ورنہ جس زور کے ساتھ میں نے مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی اطاعت کے لئے بلایا ہے اور جابجا سرحدی نادان ملاؤں کو جو ناحق آئے دن فتنہ انگیزی کرتے اور افغانوں کو مخالفت کے لئے ابھارتے ہیں سرزنش کی ہے یہ
کشف الغطاء صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 185 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 97 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 36)
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٥٦ تریاق القلوب
جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں پھر کیونکر ممکن تھا کہ میں اس سلطنت کا بدخواہ ہوتا یا کوئی ناجائز باغیانہ منصوبے اپنی جماعت میں پھیلاتا جبکہ میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا۔ اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا تو کیونکر ممکن تھا کہ ان تمام ہدایتوں کے برخلاف کسی بغاوت کے منصوبے کی میں تعلیم کروں۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں۔ اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہیں میں ان کو سخت نادان بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔ تم چاہو دل میں مجھے کچھ کہو۔ گالیاں نکالو یا پہلے کی طرح کافر کا فتویٰ لکھو۔ مگر میرا اصول یہی ہے کہ ایسی سلطنت سے دل میں بغاوت کے خیالات رکھنا یا ایسے خیال جن سے بغاوت کا احتمال ہو سکے سخت بدذاتی اور خدا تعالیٰ کا گناہ ہے۔ بہتیرے ایسے مسلمان ہیں جن کے دل کبھی صاف نہیں ہوں گے۔ جب تک اُن کا یہ اعتقاد نہ ہو کہ خونی مہدی اور خونی مسیح کی حدیثیں تمام افسانہ اور کہانیاں ہیں۔
اے مسلمانوں اپنے دین کی ہمدردی تو اختیار کرو مگر سچی ہمدردی۔ کیا اس معقولیت کے زمانہ میں دین کے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم تلوار سے لوگوں کو مسلمان کرنا چاہیں۔ کیا جبر کرنا اور زور اور تعدی سے اپنے دین میں داخل کرنا اس بات کی دلیل ہو سکتی ہے کہ وہ دین خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے؟ خدا سے ڈرو اور یہ بیہودہ الزام دین اسلام پر مت لگاؤ کہ اس نے جہاد کا مسئلہ سکھایا ہے اور زبردستی اپنے مذہب میں داخل کرنا اس کی تعلیم ہے۔ معاذ اللہ ہرگز
تریاق القلوب صفحہ 28، مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 156 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 98 پر درج ہے
حوالہ نمبر 37
٥٣٣
(٢٣٦)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِيْمِ
المنار
قاہرہ سے ایک اخبار نکلتا ہے جس کا نام منار ہے جب فروری ١٨٩٩ء میں ہماری طرف سے پیر گولڑوی صاحب کے مقابل پر رسالہ اعجاز المسیح لکھا گیا جو فصیح بلیغ عربی میں ہے اور اس کے جواب سے نہ صرف پیر صاحب موصوف عاجز رہ گئے بلکہ پنجاب اور ہندوستان کے تمام علماء بھی عاجز آگئے تو میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ میں بھی بھیجوں کیونکہ اس کتاب کے صفحہ ٥٢ میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی ممانعت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں اسی وجہ سے میری عربی کتابیں عرب کے ملک میں بھی بہت شہرت پا گئی ہیں جو لوگ درندہ طبع ہیں اور جہاد کی مخالفت کے بارے میں میری تحریریں پڑھتے ہیں وہ فی الفور چڑ جاتے ہیں اور میرے دشمن ہو جاتے ہیں۔ مگر جن میں انسانیت ہے وہ معقول بات کو پسند کر لیتے ہیں۔ پھر دشمنی کی حالت میں کون کسی کی کتاب کی تعریف کر سکتا ہے۔ سو اسی خیال سے یہ رسالہ کئی جگہ مصر میں بھیجا گیا۔ چنانچہ منجملہ ان کے ایڈیٹر المنار کو بھی پہنچا دیا گیا تا اس سے جہاد کے غلط خیالات کی بھی اصلاح ہو۔ اور مجھے معلوم ہے کہ اس مسئلہ جہاد کی غلط فہمی میں ہر ایک ملک میں کسی قدر گروہ مسلمانوں کا ضرور مبتلا ہے بلکہ جو شخص سچے دل سے جہاد کا مخالف ہو اس کو یہ علماء کافر سمجھتے ہیں بلکہ واجب القتل بھی۔ لیکن چونکہ اسلام کی تعلیم میں یہ بات داخل ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا۔ اس لیے ہم لوگ اگر ایمان اور تقویٰ کو نہ چھوڑیں تو ہمارا یہ فرض ہے کہ اپنے قول اور فعل سے ہر طرح اس گورنمنٹ برطانیہ کی نصرت کریں۔ کیونکہ ہم اس گورنمنٹ کے مبارک قدم سے پہلے ایک جلتے ہوئے تنور میں تھے۔ یہی گورنمنٹ ہے جس نے اس تنور سے ہمیں باہر نکالا۔ غرض اسی خیال سے جو میرے دل میں مستحکم جما ہوا ہے۔ اعجاز المسیح
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 533 طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 98 پر درج ہے
حوالہ نمبر 38
٧٠٨
٢٨٧
جہاں جہاں یہ اشتہار پہنچے وہاں جماعت کے لوگوں کو چاہیئے کہ حسب ضرورت اور حسب مقدرت اس کی اور کاپیاں چھپوا کر تقسیم کریں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
اپنی تمام جماعت کے لیے ضروری نصیحت
چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں میں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں سے اور کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں جن سے بغاوت کی بُو آتی ہے بلکہ مجھے شک ہوتا ہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائے گا۔ اس لیے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے۔ نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں جو قریباً ٢٦ برس سے تقریری اور تحریری طور پر اُن کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے ان کی ظلِ حمایت میں ہمارا فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے زیرِ سایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔ خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے گورنمنٹ کو اس بات کے لیے چن لیا تا کہ یہ فرقہ احمدیہ اس کے زیرِ سایہ ہو کر ظالموں کے خونخوار حملوں سے اپنے تئیں بچاوے اور ترقی کرے۔ کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطانِ روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ ہی میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے تم سن چکے ہو کہ کس طرح صاحبزادہ مولوی عبداللطیف جو ریاست کابل کے ایک معزز اور بزرگ اور نامور رئیس تھے جن کے مرید پچاس ہزار کے قریب تھے وہ جب میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اسی قصور سے کہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف ہو گئے تھے امیر حبیب اللہ خاں نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کرا دیا۔ پس کیا تمہیں کچھ توقع ہے کہ تمہیں اسلامی سلاطین کے ماتحت کوئی خوشحالی میسر آئیگی بلکہ تم تمام اسلامی مخالف علماء کے فتووں کی رو سے واجب القتل ٹھہر چکے ہو۔ سو خدا تعالیٰ کا یہ فضل اور احسان ہے کہ اس
مجموعہ اشتہارات طبع جدید جلد دوم صفحہ 708 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 99 پر درج ہے
حوالہ نمبر 39
١٩٠
جائے گی۔
اور سر لیپل گرفن صاحب نے اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ہمارے خاندان کا ذکر کر کے میرے بھائی مرزا غلام قادر کی خدمات کا خاص کر کے ذکر کیا ہے جو اُن سے تنو کے پُل پر باغیوں کی سرزنش کے لیے ظہور میں آئیں۔
ان تمام تحریرات سے ثابت ہے کہ میرے والد صاحب اور میرا خاندان ابتداء سے سرکار انگریزی کے بدل و جان ہوا خواہ اور وفادار رہے ہیں اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسروں نے مان لیا ہے کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیر خواہ سرکار انگریزی ہے۔ اور اس بات کے یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ ان کرسی نشین رئیسوں میں سے تھے کہ جو ہمیشہ گورنری دربار میں عزت کے ساتھ بلائے جاتے تھے اور تمام زندگی اُن کی گورنمنٹ عالیہ کی خیر خواہی میں بسر ہوئی۔
(٢) دوسرا امر قابل گذارش یہ ہے کہ مَیں ابتدائی عُمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عُمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلیشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور اُن کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دُور کروں جو اُن کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔ اور اس ارادہ اور قصد کی اوّل وجہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بصیرت بخشی اور اپنے پاس سے مجھے ہدایت فرمائی کہ تا مَیں اُن وحشیانہ خیالات کو سخت نفرت اور بیزاری سے دیکھوں جو بعض نادان مسلمانوں کے دلوں میں مخفی تھے جن کی وجہ سے وہ نہایت بیوقوفی سے اپنی گورنمنٹ محسنہ کے ساتھ ایسے طور سے صاف دل اور سچے خیر خواہ نہیں ہوسکتے تھے جو صاف دلی اور خیر خواہی کی شرط ہے بلکہ بعض جاہل ملاؤں کے ورغلانے کی وجہ سے شرائط اطاعت اور وفاداری کا پورا جوش نہیں رکھتے تھے۔ سو مَیں نے نہ کسی بناوٹ اور ریاکاری سے بلکہ محض اس اعتقاد کی تحریک سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ہے بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ اُن کو گورنمنٹ برطانیہ کی جو درحقیقت اُن کی محسن ہے سچی اطاعت اختیار کرنی چاہیے اور وفاداری کے ساتھ اُس کی شکر گذاری کرنی چاہیے ورنہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے اور مَیں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہوگئی۔
اور مَیں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلیشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلیشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 190 طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 99 پر درج ہے
حوالہ نمبر 40
٣٨٤
گورنمنٹ ان احسانوں کو یاد کر کے جو اب تک ہم پر کئے ہیں ایک یہ بھی ہماری جانوں اور آبروؤں اور ہمارے ٹوٹے ہوئے دلوں پر احسان کرے کہ اس مضمون کا ایک قانون پاس کر دیوے یا کوئی سرکلر جاری کرے کہ آئندہ جو مناظرات اور مجادلات اور مباحثات مذہبی امور میں ہوں ان کی نسبت ہر یک قوم مسلمانوں اور عیسائیوں اور آریوں وغیرہ میں سے دو امر کے ضرور پابند رہیں۔
- (١) اول یہ کہ ایسا اعتراض جو خود معترض کے ہی الہامی کتاب یا کتابوں پر جن کے الہامی ہونے پر وہ ایمان
رکھتا ہے، وارد ہو سکتا ہو۔ یعنی وہ امر جو بناء اعتراض کے ہے ان کتابوں میں بھی پایا جاتا ہو جن پر معترض کا ایمان ہے۔ ایسے اعتراض سے چاہئے کہ ہر یک ایسا معترض پرہیز کرے۔
- (٢) دوم اگر بعض کتابوں کے نام یا چھپے ہوئے اشتہار کسی فریق کی طرف سے اس غرض سے
شائع ہو گئے ہوں کہ درحقیقت وہی کتابیں اُن کی مسلم اور مقبول ہیں تو چاہئے کہ کوئی معترض ان کتابوں سے باہر نہ جائے۔ اور ہر یک اعتراض جو اس مذہب پر کرنا ہو، انہیں کتابوں کے حوالہ سے کرے اور ہرگز کسی ایسی کتاب کا نام نہ لیوے جس کے مسلم اور مقبول ہونے کے بارے میں اشتہار میں ذکر نہیں۔ اور اگر اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو بلا تامل اس سزا کا مستوجب ہو جو دفعہ ٢٩٨ تعزیرات ہند میں مندرج ہے۔ یہ التماس ہے جس کا پاس ہونا ہم بذریعہ کسی ایکٹ یا سرکلر کے گورنمنٹ عالیہ سے چاہتے ہیں۔ اور ہماری زیرک گورنمنٹ اس بات کو سمجھتی ہے کہ اس قانون کے پاس کرنے میں کسی خاص قوم کی رعایت نہیں بلکہ ہر یک قوم پر اس کا اثر مساوی ہے۔ اور اس قانون کے پاس کرنے میں بے شمار برکتیں ہیں جن سے عامہ خلائق کے لیے امن و عافیت کی راہ کھلتی ہے۔ اور صدہا بیہودہ نزاعوں اور جھگڑوں کی صف لپیٹی جاتی ہے اور اخیر نتیجہ صلح کاری اور اُن شرارتوں کا دُور ہو جانا ہے جو فتنوں اور بغاوتوں کی جڑ ہوتے ہیں اور دن بدن مفاسد کو ترقی دیتے ہیں۔ اور ہماری قلم جو ہر یک وقت اس گورنمنٹ عالیہ کی مدح و ثنا میں چل رہی ہے اس قانون کے پاس ہونے سے اپنی گورنمنٹ کو دوسروں پر ترجیح دینے کے لیے ایک ایسا وسیع مضمون پائے گی جو آفتاب کی طرح چمکے گا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو خدا معلوم کہ روز کی لڑائیوں اور بیہودہ جھگڑوں کی کہاں تک نوبت پہنچے گی۔ بیشک اس سے پہلے توہین کے لیے دفعہ ٢٩٨ تعزیرات میں موجود ہے لیکن وہ ان مراتب کے تصفیہ پا جانے سے پہلے فضول اور نکمی ہے اور خیانت پیشہ لوگوں کے لیے گریز گاہ وسیع ہے۔
اور پھر ہم اپنے مخالف فریقوں کی طرف متوجہ ہو کر کہتے ہیں کہ آپ لوگ بھی برائے خدا ایسی تدبیر کو منظور کریں جس کا نتیجہ سراسر امن اور عافیت ہے۔ اور اگر یہ احسن انتظام نہ ہوا تو علاوہ اور مفاسد اور فتنوں کے ہمیشہ سچائی کا خون ہوتا رہے گا۔ اور صادقوں اور راستبازوں کی کوششوں کا کوئی عمدہ نتیجہ نہیں نکلے
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل، صفحہ 484، طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 100 پر درج ہے
حوالہ نمبر 41
٥١٨
کہ مجھ سے اور میرے بزرگوں سے گورنمنٹ ممدوحہ کی نسبت ظہور میں آئی، اگر آپ کے وجود اور آپ کے بزرگوں کے وجود میں کوئی شخص اس کا نمونہ تلاش کرنا چاہے تو تضیع اوقات ہے۔ اس سے زیادہ اور کیا خیر خواہی ہوگی کہ میں سچے دل سے نہ منافقانہ طور پر اس گورنمنٹ کی نسبت بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا گناہ سمجھتا ہوں اور اس بات کو فرض جانتا ہوں کہ اس کی شکر گزاری کی جائے۔ اور اس کی خدمت گزاری میں قصور نہ کریں اور اس کی اطاعت میں دریغ نہ کریں۔ اور میں آپ کی طرح کسی خونی مہدی کا منتظر بھی نہیں تاگورنمنٹ کی نظر میں میرے اصول خطرناک ہوں۔ آپ لوگ جو دلوں میں خیالات رکھتے ہیں اس دانا گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں۔ آپ لوگوں کے عقیدے کچھ چھپے ہوئے نہیں، مگر میں تو ایسے عقیدہ پر لعنت بھیجتا ہوں کہ کسی وقت بھی اس محسن گورنمنٹ کی نسبت کوئی بغاوت کا ارادہ مخفی طور پر بھی دل میں رکھا جاوے۔ کئی ہزار روپیہ کی کتابیں اس غرض کے لیے شائع کر چکا ہوں کہ تا لوگ اس غلطی سے بچ جائیں کہ ناحق اس گورنمنٹ کو غیر مذہب کی گورنمنٹ تصور کر کے درندگی اور خونخواری کے خیالات ظاہر کریں اور ہر وقت یہی چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں میں سچی محبت اس گورنمنٹ کی پیدا ہو۔ بیشک میں جیسا کہ میرے خدا نے میرے پر ظاہر کیا صرف اسلام کو دُنیا میں سچا مذہب سمجھتا ہوں، لیکن اسلام کی سچی پابندی اسی میں دیکھتا ہوں کہ ایسی گورنمنٹ جو درحقیقت محسن اور مسلمانوں کے خون اور آبرو کی محافظ ہے اس کی سچی اطاعت کی جائے میں گورنمنٹ سے ان باتوں کے ذریعہ سے کوئی انعام نہیں چاہتا۔ میں اُس سے درخواست نہیں کرتا کہ اس خیر خواہی کی پاداش میں میرا کوئی لڑکا کسی معزز عہدہ پر ہو جائے۔ یہ میرا ایک عقیدہ ہے جو سچائی اور شکر گزاری کی پابندی سے رکھتا ہوں نہ کسی اور غرض سے میری رائے قدیم سے گورنمنٹ کی نسبت یہی ہے جو میں نے بیان کی۔ سو تم خدا تعالیٰ سے ڈرو۔ اور ناحق کی تہمتیں مت لگاؤ کہ یہ دنیوی زندگی معہ اپنے تمام لوازم کے بہت جلد ختم ہو جائیگی۔ اور جلد تم ایک تبدیلی ہوکر دوسرے عالم میں پہنچائے جاؤ گے اور اس سچے حاکم کی جناب میں پیش کئے جاؤ گے جس کی دلوں اور جانوں پر حکومت ہے۔ سوچو اور خوب سوچو کہ عنقریب اس ذات سے معاملہ ہے جو دلوں کے مخفی در مخفی بھیدوں کو جانتا ہے۔ ولمقت الله اکبر من مقتکم لو کنتم تعلمون۔ خدا تعالیٰ ہدایت دے اور وہ باتیں الہام کرے جن سے وہ راضی ہو جائے۔ آمین
نوٹ: میں نے صدہا کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب اور مصر اور بلاد شام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کی ہیں۔ کیا آپ نے بھی ان ملکوں میں کوئی ایسی کتاب شائع کی۔ باوجود اس کے میری یہ خواہش نہیں کہ اس خدمت گزاری کی گورنمنٹ کو اطلاع کروں یا اس سے کچھ صلہ مانگوں جو انصاف کی رو سے اعتقاد تھا۔ وہ ظاہر کر دیا۔ منہ
مجموعہ اشتہارات جلداول صفحہ 518 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 100 پر درج ہے
حوالہ نمبر 42
روحانی خزائن جلد ٢٣ ٤٨٤ پیغام صلح
عفو یا انتقام کا مقید نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہوکر مناسب وقت کام کرتا ہے۔ کیونکہ خدا بھی ہر ایک کے مناسب حال کام کرتا ہے۔ جو سزا کے لائق ہے اُس کو ﴿٦٢﴾ سزا دیتا ہے جو معافی کے لائق ہے اس کو معافی دیتا ہے۔ جَزٰؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهُ عَلَی اللّٰہِ ١؎ ۔
دنیا میں دو فرقے بہت ہیں۔ ایک تو وہ جو عدل کو پسند کرتے ہیں۔ اور دوسرے وہ جو احسان کو بنظر استحسان دیکھتے ہیں۔ اور تیسرا فرقہ وہ ہے جو سچی ہمدردی اِس قدر اُن پر غالب آجاتی ہے کہ وہ عدل اور احسان کا پابند نہیں رہتا۔ بلکہ سچی ہمدردی کی رہنمائی سے مناسب وقت عمل کرتا ہے۔ جیسا کہ ماں اپنے بچے کے ساتھ سلوک کرتی ہے۔ کہ شیریں اور لذیذ غذائیں بھی اُس کو اور پھر مناسب وقت پر تلخ ادویہ بھی دیتی ہے۔ اور دونوں حالتوں میں اُس کی .........
٭
میرے بیان میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہوگا جو کہ گورنمنٹ انگریزی کے برخلاف ہو اور ہم اس گورنمنٹ کے شکر گزار ہوں۔ کیونکہ ہم نے اس سے امن اور آرام پایا ہے۔ میں اپنے دعویٰ کی نسبت اس قدر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کے انتخاب سے بھیجا گیا ہوں تا میں مغالطوں کو رفع کروں اور پیچیدہ مسائل کو صاف کردوں اور اسلام کی روشنی دُوسری قوموں کو دکھلاؤں اور یادرہے کہ جیسا کہ ہمارے مخالف ایک مکروہ صورت اسلام کی دکھلا رہے ہیں۔ یہ صورت اسلام کی نہیں ہے بلکہ وہ ایسا چمکتا ہوا ہیرا ہے جس کا ہر ایک گوشہ چمک رہا ہے۔ ایک بڑے محل میں بہت سے چراغ ہوں اور کوئی چراغ کسی دریچہ
٭ یہاں بھی عبارت چھوٹی ہوئی ہے۔ (مصحح)
١؎ الشوریٰ: ٤١
پیغام صلح صفحہ 63، مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 484 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 101 پر درج ہے
حوالہ نمبر 43
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٥٥ تریاق القلوب
ہمارا کوئی الہام پیش کرنا چاہئیے۔ اجتہادی غلطی نبیوں اور رسولوں سے بھی ہو جاتی ہے۔ جس پر وہ قائم نہیں رکھے جاتے۔ ذرہ صحیح بخاری کو کھولو اور حدیث ذہب وھلی کو غور سے پڑھو۔ ایسا اعتراض کرنا جو دوسرے پاک نبیوں پر بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وہی اعتراض آوے مسلمانوں اور نیک آدمیوں کا کام نہیں ہے بلکہ لعنتیوں اور شیطانوں کا کام ہے۔ اگر دل میں فساد نہیں تو قوم کا تفرقہ دور کرنے کے لئے ایک جلسہ کرو اور مجلس عام میں میرے پر اعتراض کرو کہ فلاں پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ پھر اگر حاضرین نے قسم کھا کر کہہ دیا کہ فی الواقع جھوٹی نکلی اور میرے جواب کو سن کر مدلل بیان اور شرعی دلیل سے ردّ کر دیا تو اُسی وقت مَیں توبہ کروں گا۔ ورنہ چاہئیے کہ سب توبہ کر کے اس جماعت میں داخل ہو جائیں اور درندگی اور بدزبانی چھوڑ دیں۔
اَے مسلمانوں کی ذریّت ! مَیں نے آپ لوگوں کا کیا گناہ کیا ہے کہ آپ لوگ انواع ﴿١٥﴾ اقسام کے منصوبوں سے میری ایذا کے درپئے ہو گئے۔ تم میں سے جو مولوی ہیں وہ ہر وقت یہی وعظ کرتے ہیں کہ یہ شخص کافر بے دین دجّال ہے اور انگریزوں کی سلطنت کی حد سے زیادہ تعریف کرتا ہے اور رُومی سلطنت کا مخالف ہے۔ اور تم میں سے جو ملازمت پیشہ ہیں وہ اس کوشش میں ہیں کہ مجھے اس محسن سلطنت کا باغی ٹھہراویں۔ میں سنتا ہوں کہ ہمیشہ خلافِ واقعہ خبریں میری نسبت پہنچانے کے لئے ہر طرف سے کوشش کی جاتی ہے حالانکہ آپ لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ میں باغیانہ طریق کا آدمی نہیں ہوں۔ میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے
تریاق القلوب صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 101 پر درج ہے
حوالہ نمبر 44 روحانی خزائن جلد ١ ١٤٠ براہین احمدیہ حصہ سوم
چھاپا جائے اور پھر دس بیس نسخہ اسکے گورنمنٹ میں اور باقی نسخہ جات متفرق مواضع پنجاب و ہندوستان خاص کر سرحدی ملکوں میں تقسیم کئے جائیں۔ یہ سچ ہے کہ بعض غمخوار مسلمانوں نے ڈاکٹر ہنٹر صاحب کے خیالات کا رد لکھا ہے۔ مگر یہ دو چار مسلمانوں کا ردّ جمہوری ردّ کا ہرگز قائم مقام نہیں ہو سکتا۔ بلاشبہ جمہوری ردّ کا اثر ایسا قوی اور پر زور ہوگا جس سے ڈاکٹر صاحب کی تمام غلط تحریریں خاک سے مل جائیں گی اور بعض ناواقف مسلمان بھی اپنے سچے اور پاک اصول سے بخوبی مطلع ہو جائیں گے اور گورنمنٹ انگلشیہ پر بھی صاف باطنی مسلمانوں کی اور خیر خواہی اس رعیت کی کما حقہ کھل جائے گی اور بعض کوہستانی جہلا کے خیالات کی اصلاح بھی بذریعہ اسی کتاب کی وعظ اور نصیحت کے ہوتی رہے گی۔ بالآخر یہ بات بھی ظاہر کرنا ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ اگرچہ تمام ہندوستان پر یہ حق واجب ہے کہ بنظر اُن احسانات کے کہ جو سلطنت انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامہ خلائق پر وارد ہیں۔ سلطنت ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل اور نعماء الٰہی کے اس کا شکر بھی ادا کریں۔ لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکر گزار ہوں گے اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے نعمت عظمیٰ یقین نہ کریں۔ ان کو سوچنا چاہئیے کہ اس سلطنت سے پہلے وہ کس حالت پر ملالت میں تھے اور پھر کیسے امن وامان میں آگئے۔ پس فی الحقیقت یہ سلطنت ان کیلئے ایک آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے جسکے آنے سے سب تکلیفیں ان کی دور ہوئیں اور ہر یک قسم کے ظلم اور تعدی سے نجات حاصل ہوئی اور ہر یک ناجائز روک اور مزاحمت سے آزادی میسر آئی۔ کوئی ایسا مانع نہیں کہ جو ہم کو نیک کام کرنے سے روک سکے یا ہماری آسائش میں خلل ڈال سکے۔ پس حقیقت میں خداوند کریم ورحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کیلئے ایک بارانِ رحمت بھیجا ہے جس سے پودہ اسلام کا پھر اس ملک پنجاب میں سرسبز ہوتا جاتا ہے اور جس کے فوائد کا اقرار حقیقت میں خدا کے احسانوں کا اقرار ہے۔ یہی سلطنت ہے جس کی آزادی ایسی بدیہی اور مسلم الثبوت ہے کہ بعض دوسرے ملکوں سے مظلوم مسلمان ہجرت کرکے اس ملک میں آنا بدل و جان پسند کرتے ہیں۔ جس صفائی سے اس سلطنت کے ظل حمایت میں مسلمانوں کی اصلاح کے لئے
براہین احمدیہ جلد اول تا چہارم صفحہ 140 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 140 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 101 پر درج ہے
حوالہ نمبر 45
٤٥٩
دوسری مرتبہ چودہ گھوڑے نذر کئے۔ اور اسی طرح وہ اور وقتوں میں بھی خدمات گورنمنٹ میں مشغول رہے اور وقتاً فوقتاً خوشنودی کی چٹھیاں پاتے رہے اور انعام بھی ملتے رہے اور چالیس برس اپنی عمر عزیز کے انہی خدمات میں انہوں نے بسر کئے اور پھر بعد اُن کے انتقال کے میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات گورنمنٹ میں مشغول رہا۔ اور پھر ان کے بعد میں ایک گوشہ نشین آدمی تھا جس کی دنیوی طریق پر زندگی نہیں تھی اور نہ اس کے کامل اسباب مہیا تھے۔ تاہم میں نے برابر ١٦ برس سے یہ اپنے پر حق واجب ٹھیرایا کہ اپنی قوم کو اس گورنمنٹ کی خیر خواہی کی طرف بلاؤں اور ان کو سچی اطاعت کی طرف ترغیب دوں ۔ چنانچہ میں نے اس مقصد کی انجام دہی کے لیے اپنی ہر ایک تالیف میں یہ لکھنا شروع کیا کہ اس گورنمنٹ کے ساتھ کسی طرح مسلمانوں کو جہاد درست نہیں۔ اور نہ صرف اس قدر بلکہ بار بار اس بات پر زور دیا کہ چونکہ گورنمنٹ برطانیہ برٹش انڈیا کی رعایا کی محسن ہے اس لیے مسلمانانِ ہند پر لازم ہے کہ نہ صرف اتنا ہی کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے مقابل پر بدارادوں سے رکیں بلکہ اپنی سچی شکر گزاری اور ہمدردی کے نمونے بھی گورنمنٹ کو دکھلا دیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ٭ هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ یعنی احسان کا بدلہ بجز احسان کے اور کچھ نہیں۔ اور یہ بات قطعی اور فیصلہ شدہ ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ مسلمانانِ ہند کی محسن ہے کیونکہ سکھوں کے زمانہ میں ہمارے دین اور دُنیا دونوں پر مصیبتیں تھیں ۔ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو دُور سے ابرِ رحمت کی طرح لایا اور ان مصیبتوں سے اس گورنمنٹ کے عہدِ دولت نے ایک دَم میں ہمیں چھڑا دیا۔ پس اس گورنمنٹ کا شکر نہ کرنا بد ذاتی ہے اور جو شخص ایسے احسانات دیکھ کر پھر نفاق سے زندگی بسر کرے اور سچے دل سے شکر گزار نہ ہو تو بلاشبہ کافرِ نعمت ہے ۔ ہماری ایمانداری کا یہ تقاضا ہونا چاہیئے کہ ہم تہہ دل سے اقرار کریں کہ درحقیقت یہ گورنمنٹ ہماری محسن ہے۔ ہم اس گورنمنٹ
١؎ نوٹ : سر لیپل گریفن کی کتاب تذکرہ رئیسان پنجاب میں میرے والد صاحب کا مفصل ذکر ہے۔ یاد رہے کہ میرے والد صاحب کا نام مرزا غلام مرتضیٰ اور ان کے والد کا نام مرزا عطا محمد ہے۔ منہ
نوٹ ؎ دیکھو براہینِ احمدیہ ، شحنۃ الحق ، سراجِ منیر ، آئینہ کمالات اسلام ، حمامۃ البشریٰ ، نور الحق وغیرہ
نوٹ ؎ ۔ اس زمانہ میں اکثر عیسائی مصنفوں نے یہ اعتراض غلط فہمی سے اسلام پر کیا ہے کہ اسلام جبر اور تلوار کے زور سے پھیلایا گیا ہے ۔ مگر افسوس کہ ایسے معترضوں نے قرآنِ کریم کی ان تعلیموں پر غور نہیں کی جن میں لکھا ہے کہ تم دوسری قوموں کے ظلم اور ایذا کی برداشت کر کے نرمی کے ساتھ دعوتِ حق کرو ۔ خاص کر عیسائیوں کے مقابل پر یہ حکم تھا کہ ٭٭ اُدْعُ اِلٰی سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ یعنی جب تو کسی عیسائی معلم کے ساتھ بحث کرے تو حکمت اور نیک نصیحتوں کے ساتھ بحث کر جو نرمی اور تہذیب سے ہو۔ ہاں یہ سچ ہے کہ بہتر ہے اسی زمانہ کے جاہل اور
٭ الرحمن : ٦١ ٭٭ النحل : ١٢٦
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 459, 460 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 102 پر درج ہے
حوالہ نمبر 45
٤٦٠
کے قدم میمنت لزوم سے ہزاروں بلاؤں سے بچے اور ہمیں وہ آزادی ملی جس کے ذریعہ سے ہم دین اور دنیا دونوں درست کر سکتے ہیں۔ پس اگر اب بھی ہم اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ نہ ہوں تو خدا تعالےٰ کے سامنے ناشکرے ٹھہریں گے۔ یہ وہ تمام باتیں ہیں جن کو مَیں نے مختلف کتابوں میں شائع کیا اور سَولہ برس تک برابر مَیں اس خدمت کو بجا لاتا رہا۔ مگر نہ اس خیال سے کہ ریا کاروں کی طرح گورنمنٹ کو خوش کروں بلکہ میں نے ایمانداری کی راہ سے فی الحقیقت گورنمنٹ برطانیہ کے احسانات کو ایسا ہی پایا کہ جن کے شکر میں مجھ سے اب تک یہی ہو سکا کہ مَیں بذریعہ ان تالیفات کے مسلمانوں کے خیالات کو درست کروں اور ان کے دل
بقیہ حاشیہ : نادان مولوی اپنی حماقت سے یہی خیال رکھتے ہیں کہ جہاد اور تلوار سے دین کو پھیلانا نہایت ثواب کی بات ہے اور وہ پردہ اور نفاق سے زندگی بسر کرتے ہیں لیکن وہ ایسے خیال میں سخت غلطی پر ہیں اور ان کی غلط فہمی سے الہٰی کتاب پر الزام نہیں آسکتا۔ واقعی سچائیاں اور حقیقی صداقتیں کسی جبر کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ جبر اس بات پر دلیل ٹھہرتا ہے کہ روحانی دلائل کمزور ہیں کیا وہ خدا جس نے اپنے پاک رسول پر یہ وحی نازل کی کہ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ یعنی تو ایسا صبر کر کہ جو تمام اولوالعزم رسولوں کے صبر کے برابر ہو۔ یعنی اگر تمام نبیوں کا صبر اکٹھا کر دیا جائے تو وہ تیرے صبر سے زیادہ نہ ہو۔ اور پھر فرمایا کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ یعنی دین میں جبر نہیں چاہیئے اور پھر فرمایا کہ اُدْعُ إِلٰى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ یعنی مخالفوں کے ساتھ حکمت اور نیک وعظوں کے ساتھ مباحثہ کر نہ سختی سے ۔ اور پھر فرمایا وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ یعنی مومن وہی ہیں جو غصہ کو کھا جاتے ہیں اور یاوہ گو اور ظالم طبع لوگوں کے حملوں کو معاف کر دیتے ہیں اور بیہودگی کا بیہودگی سے جواب نہیں دیتے۔ کیا ایسا خدا یہ تعلیم دے سکتا تھا کہ تم اپنے دین کے منکروں کو قتل کر دو اور ان کے مال لوٹ لو اور اُن کے گھروں کو ویران کر دو بلکہ اسلام کی ابتدائی کارروائی جو حکمِ الہٰی کے موافق تھی صرف اتنی تھی کہ جنہوں نے ظالمانہ طور سے تلوار اُٹھائی وہ تلوار ہی سے مارے گئے اور جیسا کیا ویسا اپنا پاداش پالیا۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ تلوار کے ساتھ منکروں کو قتل کرتے پھرو یہ تو جاہل مولویوں اور نادان پادریوں کا خیال ہے جس کی کچھ بھی اصلیت نہیں۔ اس لئے خدا نے جو راستی کا حامی ہے اور کسی صداقت کو ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ اس زمانہ میں اس عاجز کو مامور کر کے ارادہ کیا کہ جہاد کا الزام اسلام پر سے اُٹھا دے اور لوگوں کو دکھاوے کہ اسلام اپنی ترقیوں میں جبر اور تلوار کا ہرگز محتاج نہیں بلکہ اپنی روحانی طاقت سے دلوں پر اثر کرتا ہے۔ اور جو نادان مولوی جہاد کے مسئلہ کا ورد زبان رکھتے ہیں گویا وہ چاہتے ہیں کہ اسلام کے دامن پاک کو چار طرفہ اعتراضوں کی پلیدی سے آلودہ کریں۔ یہ معقول روشنی کا وقت اسلام کی برَیت ظاہر کرنے کا وقت ہے اور بخدا وہ حقیقت میں بری اور نہایت اعلیٰ شان کا مذہب ہے جو اسی خدا کو پیش کرتا ہے جو درحقیقت خدا ہے اور نجات کو کسی
١؎ البقرۃ : ٢٥٦ ٢؎ النحل : ١٢٦ ٣؎ آل عمران : ١٣٥
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 459, 460 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 102 پر درج ہے
حوالہ نمبر 46
روحانی خزائن جلد ١ ١٤٠ براہین احمدیہ حصہ سوم
چھاپا جائے اور پھر دس بیس نسخہ اسکے گورنمنٹ میں اور باقی نسخہ جات متفرق مواضع پنجاب و ہندوستان خاص کر سرحدی ملکوں میں تقسیم کئے جائیں۔ یہ سچ ہے کہ بعض غیور مسلمانوں نے ڈاکٹر ہنٹر صاحب کے خیالات کا رد لکھا ہے۔ مگر یہ دو چار مسلمانوں کا ردّ جمہوری ردّ کا ہرگز قائم مقام نہیں ہو سکتا۔ بلاشبہ جمہوری ردّ کا اثر ایسا قوی اور پر زور ہو گا جس سے ڈاکٹر صاحب کی تمام غلط تحریریں خاک سے مل جائیں گی اور بعض ناواقف مسلمان بھی اپنے سچے اور پاک اصول سے بخوبی مطلع ہو جائیں گے اور گورنمنٹ انگلشیہ پر بھی صاف باطنی مسلمانوں کی اور خیر خواہی اس رعیت کی کماحقہ کھل جائے گی اور بعض کوہستانی جہلا کے خیالات کی اصلاح بھی بذریعہ اسی کتاب کی وعظ اور نصیحت کے ہوتی رہے گی۔ بالآخر یہ بات بھی ظاہر کرنا ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ اگرچہ تمام ہندوستان پر یہ حق واجب ہے کہ بنظر اُن احسانات کے کہ جو سلطنت انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامۂ خلائق پر وارد ہیں۔ سلطنت ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل ان نعماء الٰہی کے اس کا شکر بھی ادا کریں۔ لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکر گزار ہوں گے اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے نعمت عظمیٰ یقین نہ کریں۔ ان کو سوچنا چاہئیے کہ اس سلطنت سے پہلے وہ کس حالت پر ملالت میں تھے اور پھر کیسے امن وامان میں آگئے۔ پس فی الحقیقت یہ سلطنت ان کیلئے ایک آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے جسکے آنے سے سب تکلیفیں ان کی دور ہوئیں اور ہر یک قسم کے ظلم اور تعدی سے نجات حاصل ہوئی اور ہر یک ناجائز روک اور مزاحمت سے آزادی میسر آئی۔ کوئی ایسا مانع نہیں کہ جو ہم کو نیک کام کرنے سے روک سکے یا ہماری آسائش میں خلل ڈال سکے۔ پس حقیقت میں خداوند کریم ورحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کیلئے ایک بارانِ رحمت بھیجا ہے جس سے پودہ اسلام کا پھر اس ملک پنجاب میں سرسبز ہوتا جاتا ہے اور جس کے فوائد کا اقرار حقیقت میں خدا کے احسانوں کا اقرار ہے۔ یہی سلطنت ہے جس کی آزادی ایسی بدیہی اور مسلم الثبوت ہے کہ بعض دوسرے ملکوں سے مظلوم مسلمان ہجرت کر کے اس ملک میں آنا بدل و جان پسند کرتے ہیں۔ جس صفائی سے اس سلطنت کے ظل حمایت میں مسلمانوں کی اصلاح کے لئے
براہین احمدیہ حصہ اول تا چہارم صفحہ 140 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 140 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 104 پر درج ہے
حوالہ نمبر 47
٧٠٩
گورنمنٹ نے ایسا ہی تمہیں اپنے سایہ پناہ کے نیچے لے لیا جیسا کہ نجاشی بادشاہ نے جو کہ عیسائی تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو پناہ دی تھی۔ میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا جیسا کہ نادان لوگ خیال کرتے ہیں نہ اس سے کوئی صلہ چاہتا ہوں۔ بلکہ میں انصاف اور ایمان کے رو سے اپنا فرض دیکھتا ہوں کہ اس گورنمنٹ کی شکر گزاری کروں اور اپنی جماعت کو اطاعت کے لیے نصیحت کرتا رہوں۔ سو یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا جو اس گورنمنٹ کے مقابلہ پر کوئی باغیانہ خیال دل میں رکھے۔ اور میرے نزدیک یہ سخت بد ذاتی ہے کہ جس گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم ظالموں کے پنجے سے بچائے جاتے ہیں اور اس کے زیر سایہ ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے اس کے احسان کے ہم شکر گزار نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ھَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ یعنی احسان کا بدلہ احسان ہے۔ اور حدیث شریف میں بھی ہے کہ جو انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا۔ یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا ٹھکانہ کہاں ہے۔ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے سکی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کے لیے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔ سو تم اس خداداد نعمت کی قدر کرو اور تم یقیناً سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ نے سلطنت انگریزی تمہاری بھلائی کے لیے ہی اس ملک میں قائم کی ہے اور اگر اس سلطنت پر کوئی آفت آئے تو وہ آفت تمہیں بھی نابود کر دے گی۔ یہ مسلمان لوگ جو اس فرقہ احمدیہ کے مخالف ہیں تم ان کے علماء کے فتوے سُن چکے ہو یعنی یہ کہ تم ان کے نزدیک واجب القتل ہو اور ان کی آنکھ میں ایک کُتّا بھی رحم کے لائق ہے مگر تم نہیں ہو۔ تمام پنجاب اور ہندوستان کے فتوے بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہاری نسبت یہ ہیں۔ کہ تم واجب القتل ہو اور تمہیں قتل کرنا اور تمہارا مال لوٹ لینا اور تمہاری بیویوں پر جبر کر کے اپنے نکاح میں لے آنا اور تمہاری میت کی توہین کرنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دینا نہ صرف جائز بلکہ بڑا ثواب کا کام ہے۔ سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کئے جانے سے بچے ہوئے ہو۔ ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ سو انگریزی سلطنت تمہارے لیے ایک رحمت ہے، تمہارے لیے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہاری سپر ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو اور تمہارے مخالف جو مسلمان ہیں ہزار ہا درجہ اُن سے انگریز بہتر ہیں، کیونکہ وہ تمہیں واجب القتل نہیں سمجھتے۔ وہ تمہیں بے عزت کرنا نہیں چاہتے کچھ بہت دن نہیں گزرے کہ ایک پادری نے کپتان ڈگلس کی عدالت میں میرے پر اقدام قتل کا مقدمہ کیا تھا۔ اس دانشمند اور منصف مزاج ڈپٹی کمشنر نے معلوم کر لیا کہ وہ مقدمہ سراسر جھوٹا اور بناوٹی ہے اس لیے مجھے عزت کے ساتھ
له الرحمٰن : ٦١
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 709 طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 105 پر درج ہے
حوالہ نمبر 48
روحانی خزائن جلد ٢٠ ١٧٦ لیکچر لاہور
﴿٣٠﴾ خاندان میں دستیاب ہو سکتی ہوں گی۔ بعد اس کے گورنمنٹ انگریزی کا زمانہ آیا۔ یہ زمانہ نہایت پُر امن ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم خالصہ قوم کی عملداری کے دنوں کو امن عامہ اور آسائش کے لحاظ سے انگریزی عملداری کی راتوں سے بھی برابر قرار دیں تو یہ بھی ایک ظلم اور خلاف واقعہ ہوگا۔ یہ زمانہ روحانی اور جسمانی برکات کا مجموعہ ہے۔ اور آنے والی برکتیں اس کی ابتدائی بہار سے ظاہر ہیں۔ ہاں یہ زمانہ ایک عجیب جانور کی طرح کئی منہ رکھتا ہے۔ بعض منہ تو حقیقی خدا شناسی اور راستبازی کے برخلاف ہونے کی وجہ سے خوفناک ہیں۔ اور بعض منہ بہت بابرکت اور راستبازی کے مؤید ہیں۔ مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ انگریزی حکومت نے انواع و اقسام کے علوم کو اس ملک میں بہت ترقی دی ہے۔ اور کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے کے لئے ایسے سہل اور آسان طریق نکل آئے ہیں کہ زمانہ گذشتہ میں اُن کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ اور جو ہزار ہا مخفی کتب خانے اس ملک میں تھے وہ بھی ظاہر ہوگئے اور تھوڑے ہی دنوں میں علمی رنگ میں زمانہ ایسا بدل گیا کہ گویا ایک نئی قوم پیدا ہوگئی۔ یہ سب کچھ ہوا مگر عملی حالتیں دن بدن کالعدم ہوتی گئیں اور اندر ہی اندر دہریت کا پودا بڑھنے لگا۔ گورنمنٹ انگریزی کے احسان میں کچھ شک نہیں۔ اس قدر اپنی رعایا کو احسان پہنچایا اور معدلت گستری کی اور جابجا امن قائم کیا کہ اس کی نظیر دوسری گورنمنٹوں میں تلاش کرنا عبث ہے مگر وہ آزادی جو امن کا دائرہ پورا وسیع کرنے کے لئے رعایا کو دی گئی وہ اکثر لوگوں کو ہضم نہیں ہوسکی اور اس کے عوض میں جو خدا اور اس گورنمنٹ کا شکر بجالانا چاہئے تھا بجائے اس شکر کے اکثر دلوں میں اس قدر غفلت اور دنیا پرستی اور دنیا طلبی اور لاپرواہی بڑھ گئی کہ گویا یہ سمجھا گیا کہ دنیا ہی ہمارے لئے ہمیشہ رہنے کا مقام ہے اور گویا کہ ہم پر کسی کا بھی احسان نہیں اور نہ کسی کی حکومت ہے اور جیسا کہ دستور ہے کہ اکثر گناہ امن کی حالت میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔
لیکچر لاہور صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 176، از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 105 پر درج ہے
حوالہ نمبر 49
روحانی خزائن جلد ١٢ ٢٣ سراج منیر
طور سے خبر دے سکتا ہے کہ گویا وہ موجود ہے۔ کیا چھ سال کی میعاد بیان کرنا اور عید کے دوسرے دن کا پتہ دینا اور صورت موت بیان کر دینا یہ خدا سے ہونا محال ہے؟ اگر خدا سے محال ہے تو ان قیدیوں کے ساتھ انسان کی اپنی پیشگوئی کیونکر ممکن ہے۔ کیا دور دراز عرصہ سے ایسی صحیح خبریں دینا انسان کا کام ہے؟ اگر ہے تو اس کی دنیا میں کوئی نظیر پیش کرو۔ گورنمنٹ کو یہ فخر ہونا چاہئے کہ اس ملک میں اور اس کے زمانہ بادشاہت میں خدا اپنے بعض بندوں سے وہ تعلق پیدا کر رہا ہے کہ جو قصوں اور کہانیوں کے طور پر کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ اس ملک پر یہ رحمت ہے کہ آسمان زمین سے نزدیک ہو گیا ہے۔ ورنہ دوسرے ملکوں میں اس کی نظیر نہیں!
یہ بھی ظاہر کر دینا ضروری ہے کہ مختلف مقامات پنجاب سے کئی خط میرے پاس پہنچے ہیں جن میں بعض آریہ صاحبوں کے جوشوں اور نامناسب منصوبوں کا تذکرہ ہے۔ میرے پاس وہ خط بحفاظت موجود ہیں۔ اور اس جگہ کے بعض آریہ کو میں نے وہ خط دکھلا دیئے ہیں۔ چنانچہ ایک خط جو گوجرانوالہ سے ایک معزز اور رئیس کا مجھ کو پہنچا ہے اس کا مضمون یہ ہے کہ ”اس جگہ دو دن تک
﴿٢٠﴾
جلسہ ماتم لیکھرام ہوتا رہا اور قاتل کے گرفتار کنندہ کے لئے ہزار روپیہ انعام قرار پایا ہے اور دوسو اس کے لئے جو نشان دہی کرے۔ اور خارجاً سنا گیا ہے کہ ایک خفیہ انجمن آپ کے قتل کے لئے منعقد ہوئی ہے☆ اور اس انجمن کے ممبر قریب قریب شہروں کے لوگ (جیسے لاہور، امرتسر، بٹالہ اور خاص گوجرانوالہ کے ہیں) منتخب ہوئے ہیں۔ اور تجویز یہ ہے کہ بیس ہزار روپیہ چندہ ہو کر کسی شریر طامع کو اس کام کیلئے مامور کریں تا وہ موقعہ پا کر قتل کر دے☆☆ چنانچہ دو ہزار روپیہ تک چندہ کا بندوبست ہو بھی گیا ہے۔ باقی دوسرے شہروں اور دیہات سے وصول کیا جائے گا“۔ پھر بعد اس کے
☆ یہی خبر ایضاً پیسہ اخبار میں بھی لکھی ہے۔ منہ
☆☆ براہین احمدیہ کا وہ الہام یعنی یا عیسیٰ انی متوفیک جو سترہ برس سے شائع ہو چکا ہے اس کے اس وقت خوب معنے کھلے یعنی یہ الہام حضرت عیسیٰ کو اس وقت بطور تسلی ہوا تھا جب یہود ان کے مصلوب کرنے کے لئے کوشش کر رہے تھے۔ اور اس جگہ بجائے یہود ہنود کوشش کر رہے ہیں اور الہام کے یہ معنے ہیں کہ میں تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچاؤں گا۔ دیکھو اس واقعہ نے عیسیٰ کا نام اس عاجز پر کیسے چسپاں کر دیا ہے۔ منہ
سراج منیر صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 23، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 105 پر درج ہے
حوالہ نمبر 50
٥٤٨
یہ کیسا زمانہ ہے۔ یہی قیامت کی نشانیاں ہیں۔ اگر یہ مولوی صاحب پہلے ہمارے مخالفوں کو اسلام پر حملہ کرنے سے روکتے اُن کی کتابیں اور رسالے اور اخباریں شائع ہونے سے بند کرا دیتے اور پھر ہمیں بھی بند کرنے کے لیے کہتے یا بالمقابل ان سے بھی بند کرنے کا وعدہ لے لیتے تو ایک بات بھی تھی مگر یہ کسی قسم کا تحکم ہے کہ ہم تو پانچ چھ سال تک جب تک گورنمنٹ قانون پاس نہ کرے مخالفوں کی گالیاں اور جھوٹے الزام سُن کر ان کے زہرناک اثر روکنے کے لیے مجاز نہ ہوں مگر وہ لوگ جو چاہیں سو کریں۔
پھر جس حالت میں ہماری کتابوں میں صرف واقعات صحیحہ کا بیان ہے اور تمام مخالفوں کی کتابیں بیجا افتراؤں سے بھری ہوئی ہیں تو کیا ہماری کتابوں کو شائع ہونے سے روکنا اور اُن کی کتابوں کے شائع ہونے پر رضا مندی ظاہر کرنا کسی سچے مسلمان کا کام ہے ۔ اگر مولوی صاحب آریوں اور پادریوں کے وکیل بن کر ہماری کتابوں پر کوئی نکتہ چینی کریں اور کوئی افتراء ثابت کرنا چاہیں تو ہرگز انکو میسر نہ ہو گا مگر ہم آریوں اور پادریوں کے صدہا افتراء ثابت کرتے ہیں۔
اب حاصل کلام یہ کہ اس طرح پر مولوی صاحب موصوف نے ہماری اس کارروائی کو برباد کیا ۔ لوگ اس انتظار میں ہوں گے کہ مولوی صاحب کچھ کام کر رہے ہیں ۔ مگر مولوی صاحب کا مطلب صرف دین کو نقصان پہنچانا تھا اور ہمارے کام میں حرج ڈالنا تھا۔ اُن کو ہماری کتابوں کے تلف کرنے کی کیوں فکر پڑ گئی اور مخالفوں کی وہ کروڑھا کتابیں اُن کو بھول گئیں جو گالیوں اور بہتانوں سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ تو ظاہر تھا کہ قانون پاس ہونے سے ایسے لوگوں کی کتابیں خود ردی ہو جائیں گی جو خلاف واقعہ باتوں پر مشتمل ہونگی اور اُن کی اشاعت ایک جرم میں داخل ہوگی ۔ انہیں اغراض کے لیے تو قانون کی حاجت تھی ۔ غرض مولوی محمد حسین صاحب کی حقیقت معلوم ہو گئی ۔ اُن سے یہ کام ہونا ممکن نہیں اگر ان میں ایک ذرہ اسلام کی خیر خواہی باقی ہے تو چاہیے کہ اپنا استعفاء اسی طرح شائع کریں جس طرح ہم نے شائع کیا تھا اور خدا تعالیٰ سے اس گناہ کی معافی چاہیں جو ناحق فضول گوئی سے پختہ کام کو روک دیا اور ہم یہ وعدہ نہیں کرتے کہ ضرور قانون کو پاس کرا دیں گے۔ یہ امر تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ، لیکن ہم مولوی صاحب کی طرح فارغ نہیں بیٹھیں گے اور جہاں تک بشری طاقت ہے اس کام کے لیے کوشش کریں گے۔
اب اے بھائیو ایک دوسرا کام ہے جو میں شروع کرنا چاہتا ہوں۔ آپ لوگ یقیناً سمجھیں کہ سرکارِ انگریزی اس درخت کی طرح ہے جو پھلوں سے لدا ہوا ہو۔ اور ہر ایک شخص جو میوہ چینی کے قواعد کی رعایت سے اس درخت کی طرف ہاتھ لمبا کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی پھل اس کے ہاتھ میں آ جاتا ہے ۔ ہماری بہت سی مرادیں ہیں جن کا مرجع اور مدار خدائے تعالیٰ نے اس گورنمنٹ کو بنا دیا ہے ۔ اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ رفتہ رفتہ وہ ساری مرادیں اس مہربان گورنمنٹ سے ہمیں حاصل ہوں ۔ مگر اس مقدمہ کے بعد جو دفعہ 498 کی
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 548 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 106 پر درج ہے
حوالہ نمبر 51
٤١٧
امرنا نصر من اللہ وفتح مبین۔ واٰخر دعونا ان الحمد للہ رب العالمین ۔
المشتہر مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان
٧ جون ١٩٠٠ء
(یہ اشتہار ٢٦/٢٠ کے ٤ صفحہ پر ہے) مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان
(ترجمہ از مرتب) اے مسلمانو! (اللہ تم پر رحم کرے) جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہی اسلام کی حفاظت کا ذمہ دار ہے اور وہی اس کے اہم امور کا کفیل ہے۔ اس نے اپنے اس دین کو اپنی حکمتوں اور اپنے علوم کے لیے مظہر بنایا ہے اور اس نے اس کے ظاہر و باطن میں معارف رکھ دیئے ہیں۔ اور ان حکمتوں میں سے جو اس نے اس دین میں ہدایت پانے والوں کی ہدایت کی زیادتی کے لیے ودیعت کی ہیں ایک حکمت جہاد ہے جس کا ابتدائے اسلام میں حکم دیا گیا اور پھر اس زمانہ میں اسے منسوخ قرار دیا گیا ۔ اور اس میں راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدائے اسلام میں ان مسلمانوں کو جن پر حملے کئے جا رہے تھے کفار کے حملوں سے دفاع کے لیے اور دین اسلام اور صحابہ کی جانوں کی حفاظت کے لیے جہاد کی اجازت دے دی تھی لیکن سلطنت برطانیہ کے دور میں وہ زمانہ بدل گیا٭ اور مسلمانوں کو امن نصیب ہوا۔ اور اس طرح تلواروں اور نیزوں کی حاجت نہ رہی ۔ پس اس وقت مخالفوں نے مجاہدین کو گنہ گار ٹھہرایا ۔ اور انہیں ظالموں اور خون بہانے والوں کے مسلک پر چلنے والا قرار دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان غازیوں کے راز کو مخفی رکھا ۔ اس لیے انہوں نے دین کی تمام لڑائیوں کو نکتہ چینی کی نظر سے دیکھا اور ہر مجاہد کو جبر، سرکشی اور گمراہی کی طرف منسوب کیا ۔ پس اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں نے اس بات کا تقاضا کیا کہ وہ لڑائی اور جہاد کو منسوخ کر دے اور اسی طرح اپنے بندوں پر رحم کرے اور اللہ تعالیٰ کی یہ سنت پہلے لوگوں میں بھی جاری رہی ہے۔ چنانچہ اس سے قبل زمانہ موسیٰ پر بھی ان کے جہاد کی وجہ سے طعن کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے زمانہ کے آخری حصہ میں مسیح کو مبعوث کیا اور اس طرح اس نے یہ دکھا دیا کہ نکتہ چینی کرنیوالے ہی خطا کار تھے۔ اب میرے رب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے آخر میں مجھے مبعوث کیا اور اس زمانہ کی مقدار کو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے درمیانی زمانہ کی مقدار کے مشابہ بنا دیا اور اس میں سوچ بچار کرنے والوں کے لیے ایک بڑا نشان ہے اور میری بعثت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت کا مقصد ایک ہی
٭ نوٹ : بیشک ہم اس سلطنت برطانیہ کے زیر سایہ پوری آزادی سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اس حکومت کی مہربانی سے ہمارے اموال، ہماری جانیں، ہماری عزت اور ہماری عورتیں ظالموں کے ہاتھوں سے محفوظ ہیں۔ پس ہم پر واجب ہے کہ ہم اس کی مہربانی کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ اس نے ہم کو اپنی عمدہ خصال کی وجہ سے راحت کا جام پلایا ہے تہ دل سے اس کا شکریہ ادا کریں اور ہم پر یہ بھی واجب ہے کہ ہم اس کے دشمنوں کو تلواروں کی چمک دکھائیں اور اس کے خلاف نہیں بلکہ اس کی خاطر اپنے غصہ کی آگ کو بھڑکائیں ۔ منہ
یہ حوالہ صفحہ 106 پر درج ہے مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 417 طبع جدید از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 52 روحانی خزائن جلد ١٥ ١٥٦ تریاق القلوب
جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں پھر کیونکر ممکن تھا کہ میں اس سلطنت کا بدخواہ ہوتا یا کوئی ناجائز باغیانہ منصوبے اپنی جماعت میں پھیلاتا جبکہ میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا۔ اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا تو کیونکر ممکن تھا کہ ان تمام ہدایتوں کے برخلاف کسی بغاوت کے منصوبے کی میں تعلیم کروں۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں۔ اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بد خیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہوں میں ان کو سخت نادان بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔ تم چاہو دل میں مجھے کچھ کہو۔ گالیاں نکالو یا پہلے کی طرح کافر کا فتویٰ لکھو۔ مگر میرا اصول یہی ہے کہ ایسی سلطنت سے دل میں بغاوت کے خیالات رکھنا یا ایسے خیال جن سے بغاوت کا احتمال ہو سکے سخت بدذاتی اور خدا تعالیٰ کا گناہ ہے۔ بہتیرے ایسے مسلمان ہیں جن کے دل کبھی صاف نہیں ہوں گے۔ جب تک اُن کا یہ اعتقاد نہ ہو کہ خونی مہدی اور خونی مسیح کی حدیثیں تمام افسانہ اور کہانیاں ہیں۔
اے مسلمانوں اپنے دین کی ہمدردی تو اختیار کرو مگر سچی ہمدردی۔ کیا اس معقولیت کے زمانہ میں دین کے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم تلوار سے لوگوں کو مسلمان کرنا چاہیں۔ کیا جبر کرنا اور زور اور تعدّی سے اپنے دین میں داخل کرنا اس بات کی دلیل ہو سکتی ہے کہ وہ دین خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے؟ خدا سے ڈرو اور یہ بیہودہ الزام دینِ اسلام پر مت لگاؤ کہ اس نے جہاد کا مسئلہ سکھایا ہے اور زبردستی اپنے مذہب میں داخل کرنا اس کی تعلیم ہے۔ معاذ اللہ ہرگز
تریاق القلوب صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 156 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 110 پر درج ہے
حوالہ نمبر 53
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٤٤ تریاق القلوب
کے بدن کو توڑا تھا اور زخمی کیا تھا۔ مگر جس وقت حضرت مسیح کا بدن صلیب کی کیلوں سے توڑا گیا اس زخم اور شکست کے لئے تو خدا نے مرہم عیسیٰ تیار کر دی تھی جس سے چند ہفتوں میں ہی حضرت عیسیٰ شفا پا کر اس ظالم ملک سے ہجرت کر کے کشمیر جنت نظیر کی طرف چلے آئے۔ لیکن اس صلیب کا توڑنا جو اُس پاک بدن کے عوض میں توڑا جائے گا جیسا کہ صحیح بخاری میں ذکر ہے ایسا نہیں ہے جیسا کہ مسیح کا مبارک بدن صلیب پر توڑا گیا جو آخر مرہم عیسیٰ کے استعمال سے اچھا ہو گیا بلکہ اس کے لئے کوئی بھی مرہم نہیں جب تک کہ عدالت کا دن آئے۔ یہ خدا کا کام ہے جو اُس نے اپنا ارادہ اس نہایت عاجز بندہ کے ذریعہ سے پورا کیا۔ مگر اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ بخاری کی یہ حدیث کہ مسیح آئے گا اور صلیب کو توڑے گا وہ معنے نہیں رکھتے جو ہمارے قابل رحم ﴿٩﴾ علماء بیان کرتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنی کوتہ اندیشی سے یہ سمجھا ہوا ہے کہ مسیح دنیا میں آ کر ایک بڑے جہاد کا دروازہ کھولے گا۔ اور محمد مہدی خلیفہ سے مل کر دین پھیلانے کے لئے لڑائیاں کرے گا۔ اور تلوار اُٹھائے گا اور ایک بڑی خونریزی ہوگی جو دنیا کے ابتدا سے اس وقت تک کبھی نہیں ہوئی ہوگی۔ اور یہاں تک خونریزی کرے گا جو زمین کو خون سے بھر دے گا سو یاد رہے کہ یہ عقیدہ سراسر باطل ہے بلکہ وہ حق محض جو خدا نے ہمیں سمجھایا ہے یہ ہے کہ مسیح جس کا دوسرا نام مہدی ہے دنیا کی بادشاہت سے ہرگز حصہ نہیں پائے گا بلکہ اس کے لئے آسمانی بادشاہت ہوگی۔ اور یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح حکم ہو کر آئے گا اور وہ اسلام کے تمام فرقوں پر حاکم عام ہوگا جس کا ترجمہ انگریزی میں گورنر جنرل ہے سو یہ گورنری اُس کی زمین کی نہیں ہوگی بلکہ ضرور ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرح غربت اور خاکساری سے آوے۔ سو ایسا ہی وہ ظاہر ہوا تا وہ سب باتیں پوری ہوں جو صحیح بخاری میں ہیں کہ یضع الحرب یعنی وہ مذہبی جنگوں کو موقوف کر دے گا اور اُس کا زمانہ امن اور صلح کاری کا ہوگا۔ جیسا کہ یہ بھی لکھا ہے کہ اُس کے زمانہ میں
تریاق القلوب صفحہ 16،17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 144،145 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 110 پر درج ہے
حوالہ نمبر 53
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٤٥ تریاق القلوب
شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے اور سانپوں سے بچے کھیلیں گے اور بھیڑیے اپنے حملوں سے باز آئیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایک ایسی سلطنت کے زیر سایہ پیدا ہوگا جس کا کام انصاف اور عدل گستری ہوگا۔ سو ان حدیثوں سے صریح اور کھلے طور پر انگریزی سلطنت کی تعریف ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ مسیح اسی سلطنت کے ماتحت پیدا ہوا ہے اور یہی سلطنت ہے جو اپنے انصاف سے سانپوں کو بچوں کے ساتھ ایک جگہ جمع کر رہی ہے اور ایسا امن ہے کہ کوئی کسی پر ظلم نہیں کر سکتا۔ اس لئے مجھے جو میں مسیح موعود ہوں زمین کی بادشاہت سے کچھ تعلق نہیں بلکہ ضرور تھا کہ میں غربت اور مسکینی سے آتا۔ تا اس اعتراض کو دنیا پر سے اُٹھا دیتا کہ ”اسلام تلوار سے پھیلا ہے نہ آسمانی نشانوں سے“ کیونکہ مسیح موعود کا آنا عیسائی خیالات کی شکست کے لئے تھا۔ پھر جبکہ مسیح نے خود ہی جبر کرنا شروع کیا اور تلوار سے لوگوں کو مسلمان کرنے لگا اور ایسی تعلیم دینے لگا تو اس صورت میں وہ عیسائیوں کے اُن اعتراضات کو اور پختہ کرے گا جو جہاد کے بارے میں اسلام کی نسبت وہ رکھتے ہیں۔ نہ یہ کہ ان کو دُور کر دے گا۔ اس لئے خدا کے سچے مسیح اور مہدی کے لئے ضروری ہے کہ آسمانی نشانوں کے ساتھ دین کو پھیلاوے تا وہ لوگ شرمندہ ہوں جنہوں نے خدا کے دین اسلام پر ناحق جھوٹے الزام لگائے۔ سو اسی وجہ سے میں نشانوں کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور ایک بڑا بھاری معجزہ میرا یہ ہے کہ میں نے حسی بدیہی ثبوتوں کے ذریعہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو ثابت کر دیا ہے اور ان کی جائے وفات اور قبر کا پتہ دے دیا ہے۔ چنانچہ جو شخص میری کتاب مسیح ہندوستان میں اوّل سے آخر تک پڑھے گا۔ گو وہ مسلمان ہو یا عیسائی یا یہودی یا آریہ۔ ممکن نہیں کہ اس کتاب کے پڑھنے کے بعد اس بات کا وہ قائل نہ ہو جائے کہ مسیح کے آسمان پر جانے کا خیال لغو اور جھوٹ اور افترا ہے۔ غرض یہ ثبوت نظری حد تک محدود نہیں بلکہ نہایت صاف اور اجلی بدیہیات ہے جس سے انکار کرنا نہ صرف بعید از انصاف بلکہ انسانی حیا سے دُور ہے۔
تریاق القلوب صفحہ 16، 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 144، 145 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 110 پر درج ہے
حوالہ نمبر 54
روحانی خزائن جلد ٣ ١٣١ ازالۃ اوہام حصہ اول
نجاست اور ہڈیوں کی فروخت سے وہ فوائد حاصل کرتے ہیں کہ اس سے پہلے زمانوں میں اعلیٰ درجہ کے غلوں کی فروخت میں وہ فوائد حاصل نہیں ہو سکتے تھے اور نہ صرف یہی آرام کی صورتیں ہیں بلکہ نظر اُٹھا کر دیکھو تو تمام اسباب معاشرت و حاجات سفر و حضر کے متعلق وہ آرام کی سبیلیں نکل آئی ہیں جو اس سے پہلے وقتوں میں شاید کسی نے خواب میں بھی نہ دیکھی ہوں گی
﴿٥٧﴾
پس اس مبارک گورنمنٹ کے زمانہ کو اگر اُس امن کے زمانہ میں ١ سے مشابہت دیں جو حضرت نوح کے وقت میں تھا تو یہ زمانہ بلا وجہ ٢ اُس کا مثیل غالب ہوگا۔
اب جب کہ یہ ثابت ہو چکا کہ سچے مسیح نے اُس زمانہ میں آنے کا ہرگز وعدہ نہیں کیا جو جنگ و جدل اور جور و جفا کا زمانہ ہو جس میں کوئی شخص امن سے زندگی بسر نہ کر سکے اور نیک لوگ پکڑے جائیں اور عدالتوں میں سپرد کئے جائیں اور قتل کئے جائیں بلکہ مسیح نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ اُن پُرفتنہ زمانوں میں جھوٹے مسیح عیسائیوں اور یہودیوں میں پیدا ہوں گے جیسا کہ اُن پہلے زمانوں میں کئی لوگ ایسے پیدا بھی ہو چکے ہیں جنہوں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا اسی وجہ سے مسیح نے تاکید سے کہا کہ میرا آنا اُن اوائل زمانوں میں ہرگز نہیں ہوگا اور شور اور فساد اور جور و جفا اور لڑائیوں کے دنوں میں ہرگز نہیں آؤں گا بلکہ امن کے دنوں میں آؤں گا ہاں اس وقت باعث غایت درجہ کے امن و آرام کے بے دینی پھیلی ہوئی ہوگی اور
﴿٥٨﴾
محبت الٰہی دلوں سے اُٹھی ہوئی ہوگی جیسا کہ نوح کے وقت میں تھا سو یہ ایک نہایت عمدہ نشان ہے جو مسیح نے اپنے آنے کے لئے پیش کیا ہے اگر چاہو تو اس کو قبول کر سکتے ہو۔
اس جگہ اس سوال کا حل کرنا بھی ضروری ہے کہ مسیح کس عمدہ اور اہم کام کے لئے آنے والا ہے۔ اگر یہ خیال کیا جائے کہ دجّال کے قتل کرنے کے لئے آئے گا تو یہ خیال نہایت ضعیف اور بودا ہے۔ کیونکہ صرف ایک کافر کا قتل کرنا کوئی ایسا بڑا کام نہیں جس کے لئے ایک نبی کی ضرورت ہو خاص کر اس صورت میں کہ کہا گیا ہے کہ اگر مسیح قتل بھی نہ کرتا تب بھی دجّال خود بخود پگھل کر نابود ہو جاتا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ مسیح کا آنا اس لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے
١ میں زائد لگتا ہے۔ (ناشر) ٢ نقل مطابق اصل ہے۔ سہوِ کتابت معلوم ہوتا ہے۔ صحیح ”بلاشبہ“ ہے (ناشر)
ازالۃ اوہام صفحہ 58 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 131 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 111 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 55)
روحانی خزائن جلد٢٠ ٢٧١ لیکچر لدھیانہ
اس مقدمہ میں میری مخالفت میں سارا زور لگایا گیا اور یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ بس اب سلسلہ کا خاتمہ ہے۔ اور حقیقت میں اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سلسلہ نہ ہوتا اور وہی اس کی تائید اور نصرت کیلئے کھڑا نہ ہوتا تو اس کے مٹنے میں کوئی شک وشبہ ہی نہ رہا تھا۔ ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کرم دین کی حمایت کی گئی۔ اور ہر طرح سے اس کو مدد دی گئی۔ یہاں تک کہ اس مقدمہ میں بعض نے مولوی کہلا کر میرے خلاف وہ گواہیاں دیں جو سراسر خلاف تھیں۔ اور یہاں تک بیان کیا کہ زانی ہو۔ فاسق ہو۔ فاجر ہو پھر بھی وہ متقی ہوتا ہے۔ یہ مقدمہ ایک لمبے عرصہ تک ہوتا رہا۔ اس اثنا میں بہت سے نشانات ظاہر ہوئے۔ آخر مجسٹریٹ نے جو ہندو تھا مجھ پر پانچسو روپیہ جرمانہ کر دیا۔ مگر خدا تعالیٰ نے پہلے سے یہ اطلاع دی ہوئی تھی۔
”عدالتِ عالیہ نے اس کو بَری کر دیا۔“
اس لئے جب وہ اپیل ڈویژنل جج کے سامنے پیش ہوا، تو خدا داد فراست سے انہوں نے فوراً ہی مقدمہ کی حقیقت کو سمجھ لیا اور قرار دیا کہ کرم دین کے حق میں مَیں نے جو کچھ لکھا تھا وہ بالکل درست تھا یعنی مجھے اس کے لکھنے کا حق حاصل تھا۔ چنانچہ اس نے جو فیصلہ لکھا ہے وہ شائع ہو چکا ہے۔ آخر اس نے مجھے بَری ٹھہرایا اور جرمانہ واپس کیا اور ابتدائی عدالت کو بھی مناسب تنبیہ کی کہ کیوں اتنی دیر تک یہ مقدمہ رکھا گیا۔
غرض جب کوئی موقع میرے مخالفوں کو ملا ہے انہوں نے میرے کچل دینے اور ہلاک کر دینے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا اور کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے ہر آگ سے بچایا اُسی طرح جس طرح پر وہ اپنے رسولوں کو بچاتا آیا ہے۔ مَیں ان واقعات کو مدّنظر رکھ کر بڑے زور سے کہتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ بمراتب اس رومی گورنمنٹ سے بہتر ہے جس کے زمانہ میں مسیح کو دُکھ دیا گیا۔ پیلاطوس گورنر جس کے روبرو پہلے مقدمہ پیش ہوا وہ دراصل مسیح کا مرید تھا اور اس کی بیوی بھی مرید تھی۔ اسی وجہ سے اس نے
لیکچر لدھیانہ صفحہ 24،23 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 271، 272 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 111 پر درج ہے
حوالہ نمبر 55
روحانی خزائن جلد ٢٠ ٢٧٢ لیکچر لدھیانہ
مسیح کے خون سے ہاتھ دھوئے مگر باوجود اس کے کہ وہ مرید تھا اور گورنر تھا اُس نے اس جرات سے کام نہیں لیا جو کپتان ڈگلس نے دکھائی ۔ وہاں بھی مسیح بے گناہ تھا اور یہاں بھی مَیں بے گناہ تھا ۔ مَیں سچ کہتا ہوں اور تجربہ سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو حق کے لئے ایک جرأت دی ہے ۔ پس مَیں اس جگہ پر تمام مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان پر فرض ہے کہ وہ سچے دل سے گورنمنٹ کی اطاعت کریں ۔ یہ بخوبی یاد رکھو کہ جو شخص اپنے محسن انسان کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ خدا تعالیٰ کا شکر بھی نہیں کر سکتا ۔ جس قدر آسائش اور آرام اس زمانہ میں حاصل ہے اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ ریل۔ تار۔ ڈاکخانہ ۔ پولیس وغیرہ کے انتظام دیکھو کہ کس قدر فوائد ان سے پہنچتے ہیں ۔ آج سے ساٹھ ستر برس پہلے بتاؤ کیا ایسا آرام اور آسانی تھی ؟ پھر خود ہی انصاف کرو جب ہم پر ہزاروں احسان ہیں تو ہم کیونکر شکر نہ کریں ۔ اکثر مسلمان مجھ پر حملہ کرتے ہیں کہ تمہارے سلسلہ میں یہ عیب ہے کہ تم جہاد کو موقوف کرتے ہو ۔ مجھے افسوس ہے کہ وہ نادان اس کی حقیقت سے محض ناواقف ہیں ۔ وہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرتے ہیں ۔ آپ نے کبھی اشاعت مذہب کیلئے تلوار نہیں اٹھائی ۔ جب آپ پر اور آپ کی جماعت پر مخالفوں کے ظلم انتہا تک پہنچ گئے اور آپ کے مخلص خدام میں سے مَردوں اور عورتوں کو شہید کر دیا گیا اور پھر مدینہ تک آپ کا تعاقب کیا گیا اُس وقت مقابلہ کا حکم ملا ۔ آپؐ نے تلوار نہیں اٹھائی مگر دشمنوں نے تلوار اٹھائی بعض اوقات آپؐ کو ظالم طبع کفار نے سر سے پاؤں تک خون آلود کر دیا تھا مگر آپؐ نے مقابلہ نہیں کیا ۔ خوب یاد رکھو کہ اگر تلوار اسلام کا فرض ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اُٹھاتے مگر یہ وہ تلوار جس کا ذکر ہے وہ اُس وقت اٹھی جب موذی کفار نے مدینہ تک تعاقب کیا ۔ اس وقت مخالفین کے ہاتھ میں تلوار تھی مگر اب تلوار نہیں اور
لیکچر لدھیانہ صفحہ 23، 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 271، 272 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 111 پر درج ہے
حوالہ نمبر 56
191
ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیا گیا۔ مگر با ایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا اور درحقیقت وجود سلطنت انگلشیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکلیفات کے بعد ہم کو ملی اس لیے ہمارا فرض تھا کہ اس نعمت کا بار بار اظہار کریں۔ ہمارا خاندان سکھوں کے ایام میں ایک سخت عذاب میں تھا اور نہ صرف یہی تھا کہ انہوں نے ظلم سے ہماری ریاست کو تباہ کیا اور ہمارے صدہا دیہات اپنے قبضہ میں کر لئے بلکہ ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی دینی آزادی کو بھی روک دیا ایک مسلمان کو بانگ نماز پر بھی مارے جانے کا اندیشہ تھا چہ جائیکہ اور رسوم عبادت آزادی سے بجا لا سکتے۔ پس یہ اس گورنمنٹ محسنہ کا ہی احسان تھا کہ ہم نے اس جلتے ہوئے تنور سے خلاصی پائی اور خدا تعالیٰ نے ایک ابر رحمت کی طرح اس گورنمنٹ کو ہمارے آرام کے لیے بھیج دیا پھر کس قدر بد ذاتی ہوگی کہ ہم اس نعمت کا شکر بجا نہ لاویں۔ اس نعمت کی عظمت تو ہمارے دل اور جان اور رگ و ریشہ میں منقوش ہے اور ہمارے بزرگ ہمیشہ اس راہ میں اپنی جان دینے کے لیے تیار رہے۔ پھر نعوذ باللہ کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنے دلوں میں مفسدانہ ارادے رکھیں۔ ہمارے پاس تو وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے ہم اس آرام اور راحت کا ذکر کر سکیں جو اس گورنمنٹ سے ہم کو حاصل ہوئی۔ ہماری تو یہی دعا ہے کہ خدا اس گورنمنٹ محسنہ کو جزاء خیر دے اور اس سے نیکی کرے جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میرا بھائی اور خود میں بھی رُوح کے جوش سے اس بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو دلوں میں جما دیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں اٹھارہ برس سے ایسی کتابوں کی تالیف میں مشغول ہوں کہ جو مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی محبت اور اطاعت کی طرف مائل کر رہے ہیں گو اکثر جاہل مولوی ہماری اس طرز اور رفتار اور ان خیالات سے سخت ناراض ہیں اور اندر ہی اندر جلتے اور دانت پیستے ہیں مگر میں جانتا ہوں کہ وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے غبی بے خبر ہیں جس میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا یعنی اپنے محسن کا شکر کرنا ایسا فرض ہے جیسا کہ خدا کا۔ یہ تو ہمارا عقیدہ ہے مگر افسوس کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پُر زور تقریریں اطاعت گورنمنٹ کے بارے میں ہیں کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔ لہٰذا میں پھر یاد دلاتا ہوں کہ مندرجہ ذیل کتابوں اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات پڑھے جائیں جن کے نمبر صفحات میں نے ذیل میں لکھ دیئے ہیں۔
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 191 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 112 پر درج ہے
حوالہ نمبر 57
روحانی خزائن جلد ٦ ٣٧٨ شہادۃ القرآن
﴿آ﴾
گورنمنٹ کی توجہ کے لائق
یہ عاجز صاف اور مختصر لفظوں میں گذارش کرتا ہے کہ بباعث اس کے کہ گورنمنٹ انگریزی کے احسانات میرے والد بزرگوار میرزا غلام مرتضیٰ مرحوم کے وقت سے آج تک اس خاندان کے شامل حال ہیں اس لئے نہ کسی تکلف سے بلکہ میرے رگ و ریشہ میں شکر گذاری اس معزز گورنمنٹ کی سمائی ہوئی ہے۔ میرے والد مرحوم کی سوانح میں سے وہ خدمات کسی طرح الگ ہو نہیں سکتیں جو وہ خلوص دل سے اِس گورنمنٹ کی خیر خواہی میں بجا لائے۔ اُنہوں نے اپنی حیثیت اور مقدرت کے موافق ہمیشہ گورنمنٹ کی خدمت گزاری میں اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے وقت وہ صدق اور وفاداری دکھلائی کہ جب تک انسان سچے دل اور تہ دل سے کسی کا خیر خواہ نہ ہو ہرگز دکھلا نہیں سکتا۔ سن ستاون کے مفسدہ میں جبکہ بے تمیز لوگوں نے اپنی محسن گورنمنٹ کا مقابلہ کر کے ملک میں شور ڈال دیا تب میرے والد بزرگوار نے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اور پچاس سوار بہم پہنچا کر گورنمنٹ کی خدمت میں پیش کئے اور پھر ایک دفعہ چودہ ١٤ سوار سے خدمت گذاری کی اور انہیں مخلصانہ خدمات کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ میں ہر دلعزیز ہو گئے چنانچہ جناب گورنر جنرل کے دربار میں عزت کے ساتھ اُن کو کرسی ملتی تھی اور ہر ایک درجہ کے حکام انگریزی بڑی عزت اور دلجوئی سے پیش آتے تھے انھوں نے میرے بھائی کو صرف گورنمنٹ کی خدمت گزاری کے لئے بعض لڑائیوں پر بھیجا اور ہر ایک باب میں گورنمنٹ کی خوشنودی حاصل کی اور اپنی تمام عمر نیک نامی کے ساتھ بسر کر کے اس ناپائدار دُنیا سے گزر گئے بعد اس کے اس عاجز کا بڑا بھائی میرزا غلام قادر جس قدر مدت تک زندہ رہا اُس نے بھی اپنے والد مرحوم کے قدم پر ﴿ب﴾ قدم مارا اور گورنمنٹ کی مخلصانہ خدمت میں بدل و جان مصروف رہا پھر وہ بھی اس مسافر خانہ سے گزر گیا۔ مَیں امید رکھتا ہوں کہ اب بھی بہت سے حکام انگریز بقید حیات ہوں گے جنھوں نے میرے والد صاحب کو دیکھا اور اُنکی مخلصانہ خدمات کو بچشم خود مشاہدہ کیا ہے
شہادۃ القرآن صفحہ 82، مندرجہ روحانی خزائن جلد 6، صفحہ 378 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 112 پر درج ہے
حوالہ نمبر 58
روحانی خزائن جلد ١٢ ٢٥٥ تحفہ قیصریہ
کہ انگلستان کو رحم اور امن کے ساتھ انسان پرستی سے پاک کر دیا جائے تا فرشتوں کی ﴿٣﴾ روحیں بھی بول اٹھیں کہ اے موحدہ صدیقہ تجھے آسمان سے بھی مبارکباد جیسا کہ زمین سے!!
یہ دعا گو کہ جو دنیا میں عیسیٰ مسیح کے نام سے آیا ہے اسی طرح وجود ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور اس کے زمانہ سے فخر کرتا ہے جیسا کہ سیدالکونین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوشیروان عادل کے زمانہ سے فخر کیا تھا۔ سو اگرچہ جلسۂ جوبلی کی مبارک تقریب پر ہر ایک شخص پر واجب ہے کہ ملکہ معظمہ کے احسانات کو یاد کر کے مخلصانہ دعاؤں کے ساتھ مبارکباد دے اور حضور قیصرہ ہند و انگلستان میں شکر گزاری کا ہدیہ گذرانے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ میرے لئے خدا نے پسند کیا کہ میں آسمانی کارروائی کیلئے ملکہ معظمہ کی پُر امن حکومت کی پناہ لوں۔ سو خدا نے مجھے ایسے وقت میں اور ایسے ملک میں مامور کیا جس جگہ انسانوں کی آبرو اور مال اور جان کی حفاظت کیلئے حضرت قیصرہ مبارکہ کا عہدِ سلطنت ایک فولادی قلعہ کی تاثیر رکھتا ہے۔ جس امن کے ساتھ میں نے اس ملک میں بود و باش کر کے سچائی کو پھیلایا اس کا شکر کرنا میرے پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ اور اگرچہ میں نے اس شکر گزاری کیلئے بہت سی کتابیں اردو اور عربی اور فارسی میں تالیف کر کے اور ان میں جناب ملکہ معظمہ کے تمام احسانات کو جو برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے شامل حال ہیں اسلامی دنیا میں پھیلائی ہیں اور ہر ایک مسلمان کو سچی اطاعت اور فرمانبرداری کی ترغیب دی ہے۔ لیکن میرے لئے ضروری تھا کہ یہ تمام کارنامہ اپنا جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں بھی پہنچاؤں ۔ سو اسی بناء پر آج مجھے جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی جوبلی کے مبارک موقعہ پر جو سچی وفادار رعایا کیلئے بیشمار شکر اور خوشی کا محل ہے اس
تحفہ قیصریہ صفحہ 3، مندرجہ روحانی خزائن جلد 12، صفحہ 255 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 112 پر درج ہے
حوالہ نمبر 59
١٩٠ جائے گی۔ اور سر لیپل گرفن صاحب نے اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ہمارے خاندان کا ذکر کر کے میرے بھائی مرزا غلام قادر کی خدمات کا خاص کر کے ذکر کیا ہے جو اُن سے ترتُو کے پُل پر باغیوں کی سرزنش کے لیے ظہور میں آئیں۔ ان تمام تحریرات سے ثابت ہے کہ میرے والد صاحب اور میرا خاندان ابتداء سے سرکار انگریزی کے بدل وجان ہوا خواہ اور وفادار رہے ہیں اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسروں نے مان لیا ہے کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیر خواہ سرکار انگریزی ہے۔ اور اس بات کے یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اُن کرسی نشین رئیسوں میں سے تھے کہ جو ہمیشہ گورنری دربار میں عزت کے ساتھ بلائے جاتے تھے اور تمام زندگی اُن کی گورنمنٹ عالیہ کی خیر خواہی میں بسر ہوئی۔
(٢) دوسرا میرا قابل گذارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور اُن کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دُور کروں جو اُن کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔ اور اس ارادہ اور قصد کی اول وجہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بصیرت بخشی اور اپنے پاس سے مجھے ہدایت فرمائی کہ تا میں اُن وحشیانہ خیالات کو سخت نفرت اور بیزاری سے دیکھوں جو بعض نادان مسلمانوں کے دلوں میں مخفی تھے جن کی وجہ سے وہ نہایت بیوقوفی سے اپنی گورنمنٹ محسنہ کے ساتھ ایسے طور سے صاف دل اور سچے خیر خواہ نہیں ہو سکتے تھے جو صاف دلی اور خیر خواہی کی شرط ہے بلکہ بعض جاہل مُلّائوں کے ورغلانے کی وجہ سے شرائط اطاعت اور وفاداری کا پورا جوش نہیں رکھتے تھے۔ سو میں نے نہ کسی بناوٹ اور ریاکاری سے بلکہ محض اس اعتقاد کی تحریک سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ہے بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ اُن کو گورنمنٹ برطانیہ کی جو درحقیقت اُن کی محسن ہے سچی اطاعت اختیار کرنی چاہیے اور وفاداری کے ساتھ اُس کی شکر گذاری کرنی چاہیے ورنہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہو گئی۔
اور میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 191,190 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 113 پر درج ہے
حوالہ نمبر 59
191
ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیا گیا۔ مگر با ایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا اور در حقیقت وجود سلطنت انگلیشیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکلیفات کے بعد ہم کو ملی اس لیے ہمارا فرض تھا کہ اُس نعمت کا بار بار اظہار کریں۔ ہمارا خاندان سکھوں کے ایام میں ایک سخت عذاب میں تھا اور نہ صرف یہی تھا کہ انہوں نے ظلم سے ہماری ریاست کو تباہ کیا اور ہمارے صدہا دیہات اپنے قبضہ میں کئے بلکہ ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی دینی آزادی کو بھی روک دیا ایک مسلمان کو بانگِ نماز پر بھی مارے جانے کا اندیشہ تھا چہ جائیکہ اور رسومِ عبادت آزادی سے بجا لا سکتے۔ پس یہ اس گورنمنٹِ محسنہ کا ہی احسان تھا کہ ہم نے اس جلتے ہوئے تنور سے خلاصی پائی اور خدا تعالیٰ نے ایک ابرِ رحمت کی طرح اس گورنمنٹ کو ہمارے آرام کے لیے بھیج دیا پھر کس قدر بے حیائی ہوگی کہ ہم اس نعمت کا شکر بجا نہ لاویں۔ اس نعمت کی عظمت تو ہمارے دل اور جان اور رگ و ریشہ میں منقوش ہے اور ہمارے بزرگ ہمیشہ اس راہ میں اپنی جان دینے کے لیے تیار رہے ۔ پھر نعوذ باللہ کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنے دلوں میں مفسدانہ ارادے رکھیں۔ ہمارے پاس تو وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے ہم اس آرام اور راحت کا شکر کرسکیں جو اس گورنمنٹ سے ہم کو حاصل ہوئی۔ ہماری تو یہی دُعا ہے کہ خدا اس گورنمنٹِ محسنہ کو جزاء خیر دے اور اس سے نیکی کرے جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میرا بھائی اور خود میں بھی رُوح کے جوش سے اس بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو دلوں میں جمادیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں اٹھارہ برس سے ایسی کتابوں کی تالیف میں مشغول ہوں کہ جو مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹِ انگلیشیہ کی محبت اور اطاعت کی طرف مائل کر رہے ہیں گو اکثر جاہل مولوی ہماری اس طرز اور رفتار اور ان خیالات سے سخت ناراض ہیں اور اندر ہی اندر جلتے اور دانت پیستے ہیں مگر میں جانتا ہوں کہ وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے بھی بے خبر ہیں جس میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا یعنی اپنے محسن کا شکر کرنا ایسا فرض ہے جیسا کہ خدا کا۔
یہ تو ہمارا عقیدہ ہے مگر افسوس کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پُرزور تقریریں اطاعتِ گورنمنٹ کے بارے میں ہیں کبھی ہماری گورنمنٹِ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اُس کا اثر محسوس نہیں ہوا ۔ لہٰذا میں پھر یاد دلاتا ہوں کہ مُنصِفانہ نظر سے ان کتابوں اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات پڑھے جائیں جن کے نمبر صفحات میں نے ذیل میں لکھ دیئے ہیں۔
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 190, 191 طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 113 پر درج ہے
حوالہ نمبر 60
روحانی خزائن جلد ١٣ ١٤ کتاب البریہ
لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ لوگ ہر ایک مفسدہ اور فتنہ کے طریق سے مجتنب رہیں اور صبر اور برداشت کی عادت کو اور بھی ترقی دیں اور بدی کی تمام راہوں سے اپنے تئیں دور رکھیں اور ایسا نمونہ دکھلائیں جس سے آپ لوگوں کی ہر ایک نیک خلق میں زیادت ثابت ہو۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ لوگ جو اہل علم اور فاضل اور تربیت یافتہ اور نیک مزاج ہیں ایسا ہی کریں گے۔ مگر یاد رہے اور خوب یاد رہے کہ جو شخص ان وصیتوں پر کار بند نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں ہے ☆ ۔
ہماری تمام نصیحتوں کا خلاصہ تین امر ہیں اوّل یہ کہ خدا تعالیٰ کے حقوق کو یاد کر کے اس کی عبادت اور اطاعت میں مشغول رہنا۔ اس کی عظمت کو دل میں بٹھانا اور اس سے سب سے زیادہ محبت رکھنا اور اس سے ڈر کر نفسانی جذبات کو چھوڑنا اور اس کو واحد لاشریک جاننا اور اس کے لئے پاک زندگی رکھنا اور کسی انسان یا دوسری مخلوق کو اس کا مرتبہ نہ دینا۔ اور
﴿١٣﴾
در حقیقت اس کو تمام روحوں اور جسموں کا پیدا کرنے والا اور مالک یقین کرنا۔ دوم یہ کہ تمام بنی نوع سے ہمدردی کے ساتھ پیش آنا۔ اور حتی المقدور ہر ایک سے بھلائی کرنا اور کم سے کم یہ کہ بھلائی کا ارادہ رکھنا۔ سوم یہ کہ جس گورنمنٹ کے زیر سایہ خدا نے ہم کو کر دیا ہے یعنی گورنمنٹ برطانیہ جو ہماری آبرو اور جان اور مال کی محافظ ہے اس کی سچی خیر خواہی کرنا اور ایسے مخالف امن امور سے دور رہنا جو اس کو تشویش میں ڈالیں۔ یہ اصول ثلاثہ ہیں جن کی محافظت ہماری جماعت کو کرنی چاہیے اور جن میں اعلیٰ سے اعلیٰ نمونے دکھلانے چاہئیں۔ اور یاد رہے کہ یہ اشتہار مخالفین کے لئے بھی بطور نوٹس ہے۔ چونکہ ہم نے
☆ میری جماعت میں بڑے بڑے معزز اہل اسلام داخل ہیں۔ جن میں بعض تحصیلدار اور بعض اکسٹرا اسسٹنٹ اور ڈپٹی کلکٹر اور بعض وکلاء اور بعض تاجر اور بعض رئیس اور جاگیردار اور نواب اور بعض بڑے بڑے فاضل اور ڈاکٹر اور بی اے اور ایم اے اور بعض سجادہ نشین ہیں۔ منہ
کتاب البریہ صفحہ 14 ، مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 ، صفحہ 14 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 114 پر درج ہے
حوالہ نمبر 61
روحانی خزائن جلد ٣ ٣٧٣ ازالہ اوہام حصہ دوم
دجال اُسی دجال کے رنگ میں ہو کر قوت کے ساتھ خروج کر رہا ہے اور گویا مثالی اور ظلی وجود کے ساتھ وہی ہے اور جیسا کہ وہ اوّل زمانہ میں گرجا میں جکڑا ہوا نظر آیا تھا اب وہ اس بند سے مخلصی پا کر عیسائیوں کے گرجا سے ہی نکلا ہے اور دنیا میں ایک آفت برپا کر رہا ہے۔ ایسا ہی یاجوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے۔ یہ دونوں پرانی قومیں ہیں جو پہلے زمانوں میں دوسروں پر کھلے طور پر غالب نہیں ہوسکیں اور اُن کی حالت میں ضعف رہا لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں قومیں خروج کریں گی یعنی اپنی جلالی قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گی۔ جیسا کہ سورہ کہف میں فرماتا ہے وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ یعنی یہ دونوں قومیں دوسروں کو مغلوب کر کے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی اور جس کو خدائے تعالیٰ چاہے گا فتح دے گا۔ چونکہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور رُوس ہیں اس
﴿٥٠٩﴾
لئے ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہیئے کہ اُس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں۔ اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے۔ جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدائے تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پا رہے ہیں وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے۔ ہرگز نہیں پاسکتے۔
ایسا ہی دابۃ الارض یعنی وہ علماء و واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے ابتدا سے
﴿٥١٠﴾
چلے آتے ہیں لیکن قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہو گی اور اُن کے خروج سے مراد وہی اُن کی کثرت ہے۔ اور یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسی ان چیزوں کے بارے میں جو آسمانی قوت
ازالہ اوہام صفحہ 510 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 373 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 115 پر درج ہے
حوالہ نمبر 62
انوارالعلوم جلد ۔٣ ١٥٢ انوار خلافت
اگر کسی کی بیعت لے بھی لوں تو کیا اس وقت تک وہ احمدی ہو سکتا ہے جب تک کہ خدا کی نظر میں احمدی نہ ہو۔ احمدی اصل میں وہی ہے جو خدا کی نظر میں احمدی ہے۔ میرے احمدی کر لینے سے کوئی احمدی نہیں بن جاتا۔ پس تم خدا تعالیٰ کی نظر میں احمدی بنو۔ اور وہ اس طرح کہ حضرت مسیح موعودؑ کے تمام احکام کو پوری پوری طرح بجالاؤ۔ خدا تعالیٰ تمہیں توفیق دے۔
گورنمنٹ کی وفاداری
ایک اور خاص بات ہے جس کا بیان کر دینا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کے متعلق بھی حضرت صاحب نے بار بار تاکید فرمائی ہے۔ میں نے پچھلے جلسہ پر اس کے متعلق بیان کیا تھا اور وہ گورنمنٹ کی وفاداری ہے۔ اس گورنمنٹ کے ہم پر بڑے بڑے احسان ہیں۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مونہہ سے بارہا سنا ہے کہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اتنے احسان ہیں کہ اگر ہم اس کی وفاداری نہ کریں اور اسے مدد نہ دیں تو ہم بڑے ہی بے وفا ہوں گے۔ میں بھی یہی کہتا ہوں کہ گورنمنٹ کی وفاداری ہمیں دل و جان سے کرنی چاہئے۔ میں اگر کسی سے کوئی ایسی بات سنتا ہوں جو گورنمنٹ کے خلاف ہوتی ہے تو کانپ جاتا ہوں۔ کیونکہ اس قسم کی کوئی بات کرنا بہت ہی نمک حرامی ہے یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ اگر یہ گورنمنٹ نہ ہوتی تو نہ معلوم ہمارے لئے کیا کیا مشکلات ہوتیں۔ ابھی چند دنوں کا ہی ذکر ہے کہ ہمارے مالابار کے احمدیوں کی حالت بہت تشویش ناک ہو گئی تھی ان کے لڑکوں کو سکولوں میں آنے سے بند کر دیا گیا۔ ان کے مردے دفن کرنے سے روک دیئے گئے چنانچہ ایک مردہ کئی دن تک پڑا رہا۔ مسجدوں سے روک دیا گیا۔ تجارت کو بند کر دیا لیکن اس گورنمنٹ نے ایسی مدد کی ہے کہ اگر ہماری اپنی سلطنت بھی ہوتی تو بھی ہم اس سے زیادہ نہ کر سکتے۔ اور وہ یہ کہ گورنمنٹ نے احمدیوں کی تکلیف دیکھ کر اپنے پاس سے زمین دی ہے کہ اس میں مسجد اور قبرستان بنالو۔ لیکن وہاں کا راجہ اس پر بھی باز نہیں آیا اور اس نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ زمین تو میری ہے میں نہیں دیتا۔ اور یہ بھی لکھا کہ خبردار اگر تم نے اس پر کوئی عمارت بنائی تو سزا پاؤ گے۔ اور یہ بھی کہا کہ تم لوگ حاضر ہو کر بتاؤ کہ کیوں تمھارا بائیکاٹ نہ کر دیا جائے کیونکہ علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو۔ اس پر احمدیوں نے گورنمنٹ کی خدمت میں
انوار خلافت صفحہ 65، 66 مندرجہ انوارالعلوم جلد 3 صفحہ 152، 153 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 115 پر درج ہے
حوالہ نمبر 62
انوار العلوم جلد - ٣ ١٥٣ انوار خلافت
درخواست دی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے یہ حکم دیا کہ اگر اب احمدیوں کو کوئی تکلیف ہوئی تو مسلمانوں کے جتنے لیڈر ہیں ان سب کو نئے قانون کے ماتحت ملک بدر کر دیا جائے گا اس طرح کا حکم کسی کے مونہہ سے نہیں نکل سکتا مگر اسی کے مونہہ سے جس کے دل میں بنی نوع انسان کی ہمدردی ہو۔ تو یہ تازہ سلوک اس گورنمنٹ نے تمہارے مالاباری بھائیوں کے ساتھ کیا ہے۔ اور جو کسی کے بھائی پر احسان کرتا ہے وہ اسی پر کرتا ہے۔ پس جب مالاباری احمدی ہمارے بھائی ہیں تو ہمیں گورنمنٹ کا کس قدر احسان مند ہونا چاہئے۔ پھر ماریشیس میں ہمارے ایک مبلغ گئے ہیں جو جہاں لیکچر دینا چاہتے غیر احمدی بند کروا دیتے۔ آخر انہوں نے گورنمنٹ سے سرکاری ہال کے لئے درخواست کی تو وہاں کے گورنر نے حکم دیا کہ آپ ہفتہ میں تین دن اس ہال میں لیکچر دے سکتے ہیں۔ گویا گورنمنٹ نے ہفتہ کے نصف دن ہمارے مبلغ کو دے دیئے اور نصف اپنے لئے رکھے۔
پس جو گورنمنٹ ایسی مہربان ہو اس کی جس قدر بھی فرمانبرداری کی جائے تھوڑی ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کا بوجھ نہ ہوتا تو میں مؤذن بنتا۔ اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا۔ تو والنٹیر ہو کر جنگ میں چلا جاتا۔ اس وقت گورنمنٹ کو آدمیوں کی بہت ضرورت ہے۔ اس لئے جس کسی سے کوئی خدمت ادا ہو سکے ضرور کرے۔ اس جنگ سے تو ہمیں بہت فائدہ پہنچا ہے۔ ہمارے بہت سے احمدی احباب میدان جنگ میں گئے ہوئے ہیں لیکن خدا کا فضل ہے کہ ابھی تک ایک بھی فوت نہیں ہوا۔ پھر وہ احباب جو فرانس کے میدان جنگ میں ہیں وہ تو تبلیغ کا کام بھی خوب کر رہے ہیں۔ انہوں نے ٹیچنگز آف اسلام کا فرانسیسی میں ترجمہ کروا کر شائع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی ٹریکٹ فرانسیسی میں لکھا کر شائع کرائے ہیں۔ پس اگر کوئی میدان جنگ میں جائے گا تو گویا گورنمنٹ کے خرچ پر ہمارا مفت کا مبلغ ہو گا۔ اس لئے اگر کوئی جانا چاہے تو ضرور جائے بہت عمدہ کام ہے۔ مجھ سے اب تک جتنے احمدیوں نے لڑائی پر جانے کے لئے پوچھا ہے میں نے بڑی خوشی سے انہیں اجازت دی ہے۔ اور کہا ہے کہ اگر تم اس نیک نیتی سے جاؤ گے کہ ہم گورنمنٹ کی خدمت کرنے کے لئے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی دین کی تبلیغ بھی کریں گے تو خدا تعالیٰ تمہارا حافظ ہو گا اور تمہیں ہر ایک تکلیف سے محفوظ رکھے گا۔
پس یہ گورنمنٹ کی مدد کا ایک موقعہ ہے جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے۔ شامل ہو جائے۔
انوار خلافت صفحہ 65، 66 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 152، 153 از مرزا بشیر الدین محمود | یہ حوالہ صفحہ 115 پر درج ہے
حوالہ نمبر 63
٦٩
اور میں اس وقت ضروری نہیں دیکھتا کہ جو آریوں کو میری نسبت اشتعال پیدا ہوا ہے اسکی وجہ بیان کروں کیونکہ ابھی میں اپنے ایک بڑے اشتہار میں مفصل وجوہ بیان کر چکا ہوں۔ لیکن اس جگہ اس قدر لکھنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ یہ پیشگوئی جس کی میعاد کے اندر اور عین تاریخ مقررہ میں لیکھرام بموت قتل راہی ملک بقا ہوا ہے وہ صرف چند برس سے نہیں ہے جیسا کہ آریہ صاحبوں کا خیال ہے بلکہ یہ پیشگوئی سترہ برس سے ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عرصہ سترہ برس کا ہوا ہے کہ براہین احمدیہ میں تین پیشگوئیاں تین مختلف فرقوں کی نسبت درج ہوئی تھیں اور تین فتنوں کا ذکر کیا گیا تھا (١) ایک پادری صاحبوں اور ان کے شور و غوغا کی نسبت جو انہوں نے ڈپٹی آتھم صاحب کی میعاد گذرنے پر کیا ۔ (٢) دوسری پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں اور ان کے سرغنہ محمد حسین اور ان کے اتباع مسلمانوں کی نسبت جو انہوں نے مجھ پر تکفیر کا فتنہ برپا کیا ۔ (٣) تیسری پیشگوئی اس چمکدار نشان کی نسبت جو لیکھرام کی موت سے وقوع میں آیا ۔ اور اس کے فتنہ کا ذکر ۔ یہ تینوں پیشگوئیاں تین فتنوں کے ساتھ سترہ برس پہلے شائع ہو چکی ہیں۔ پس اب سوچنا چاہئیے کہ کس انسان کو یہ طاقت ہے کہ ان واقعات کی اُس زمانہ میں خبر دے سکتا جبکہ ان واقعات کا
اطلاع ۔ براہین احمدیہ کے صفحہ ٥٢١ میں ایک پیشگوئی گورنمنٹ برطانیہ کے متعلق ہے ۔ اور وہ یہ ہے ۔ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ - اَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ ۔ یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ اس گورنمنٹ کو کچھ تکالیف پہنچائے حالانکہ تُو اُن کی عملداری میں رہتا ہو۔ جدھر تیرا مُنہ خدا کا اسی طرف مُنہ ہے چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ مجھے اس گورنمنٹ کی پُرامن سلطنت اور ظلِ حمایت میں دل خوش ہے اور اس کے لیے میں دعا میں مشغول ہوں کیونکہ میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں ۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لیے دُعا کرتا ہوں ۔ لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دُعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ اُدھر خدا کا مُنہ ہے۔ اب گورنمنٹ شہادت دے سکتی ہے کہ اس کو میرے زمانہ میں کیا کیا فتوحات نصیب ہوئیں ۔ یہ الہام سترہ برس کا ہے ۔ کیا یہ انسان کا فعل ہو سکتا ہے ؟ غرض میں گورنمنٹ کے لیے بمنزلہ حرزِ سلطنت ہوں ۔ منہ
١؎ : دیکھئے حصہ ھٰذا صفحہ ٤٩ ، اشتہار نمبر ١٦٧ (المرتب)
مجموعہ اشتہارات جلد دوئم صفحہ 69 طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 117 پر درج ہے
حوالہ نمبر 64
روحانی خزائن جلد ٨ ٤٤ نورالحق الحصة الاولى
بعض العلماء ، وكفّرونى كالجهلاء ، فما باليتهم بعد تفهّم الحق بعض علماء کے غضب ناک ہونے کا موجب ہوئیں اور جہالت سے مجھے کافر ٹھہرایا سو میں نے حق کے سمجھنے کے بعد اور وانكشاف طريق الاهتداء ، ورأيت أن هذا هو الحق فبينتها ولو كان ہدایت کا رستہ کھلنے کے پیچھے ان کی کچھ بھی پروا نہ کی اور میں نے دیکھا کہ یہی حق ہے سو میں نے بیان کر دیا اگرچہ میری قومى كارهين . فإذا ثبت خلوصى إلى هذا المقدار ، و برهنتُ عليه قوم کراہت کرتی رہی۔ پس جبکہ میرا خلوص اس گورنمنٹ سے اس قدر ثابت ہوا اور میں نے اس قدر دلائل سے اس کو بقدر كاف لأولى الأبصار ، فمن يظن ظن السوء في أمرى بعد إلا الذى ثابت کر دیا جو دانشمندوں کے لئے کافی ہیں پس جو شخص اس کے بعد میرے پر بدگمانی کرے ایسا آدمی بجز ناپاک فطرت خبث عرقه كالفجّار ، وتدرّبَ بالشر واللذع والأبر وسير الأشرار ، اور بجز ایسے شخص کے جس کی عادت میں نیش زنی اور شرارت داخل ہے اور کون ہو درحقیقت یہ اسی کا کام ہے جو شرارت کو وترك سير الصالحين . پسند کرتا اور نیک بختی کی راہ کو چھوڑتا ہے۔
وما كان تأليفى فى العربية إلا لمثل هذه الأغراض العظيمة ، ولم اور میرا عربی کتابوں کا تالیف کرنا تو انہیں عظیم الشان غرضوں کے لئے تھا اور میری کتابیں عرب کے لوگوں کو تَخْلُ تنتاب العربيين كتبى حتى رأيت فيهم آثار التأثير ، وجاء نى بعض منهم برابر پے در پے پہنچتی رہیں یہاں تک کہ میں نے ان میں تاثیر کے نشان پائے اور بعض عرب میرے پاس آئے اور بعضوں وراسلنى بعض ، وبعضهم هجّنوا ، وبعضهم صلحوا ووافقوا كالمسترشدين . نے خط و کتابت کی اور بعضوں نے بدگوئی کی اور بعض صلاحیت پر آگئے اور موافق ہو گئے جیسا کہ حق کے طالبوں کا کام ہے۔ وإنى صرفتُ زمانا طويلا فى هذه الإمدادات حتى مضت علىَّ اور میں نے ان امدادوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے یہاں تک کہ گیارہ برس إحدى عشر سنة فى شغل الإشاعات ، وما كنت من القاصرين . فلى انہی اشاعتوں میں گزر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔ پس میں
نورالحق صفحہ 33، مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 44،45 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 118 پر درج ہے
حوالہ نمبر 64
روحانی خزائن جلد ٨ ٤٥ نور الحق الحصۃ الاولى
أن أدّعى التفرّد في هذه الخدمات، ولى أن أقول إنني وحيد فى هذه یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں ان التأييدات، ولى أن أقول إننى حِرْزٌ لها وحصنٌ حافظٌ من الآفات، وبشرنى تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو ربى وقال ما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم. فليس للدولة نظيرى ومثيلى آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس گورنمنٹ کی فى نصرى وعونى، وستعلم الدولة إن كانت من المتوسّمين. خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔
وأمّا الذين دخلوا فى الملة النصرانية تاركين دين الإسلام، مگر وہ لوگ جو عیسائی دین میں داخل ہوئے اور دین اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا سو ہم ان کو وباعدين عن ظل خير الأنام، فما نجدهم قائمين لخدمة الدولة ایسے نہیں دیکھتے کہ سرکار انگریزی کی کچھ خدمت کرتے ہوں یا مخلص ہوں بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ والمخلصين لهذه الحضرة، بل نجدهم مداهنين منافقين، وما دخلوا وہ مداہنہ اور نفاق سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ اور اکثر لوگ دین عیسائی میں محض اسی لئے داخل ہوئے ہیں تا اپنی أكثرهم فى دينهم إلا ليستطبوا لوجع الجوع، ولِيُفعموا كأس الولوع، درد گرسنگی کا علاج کریں اور اپنے حرص کے پیالوں کو لبالب بھر دیں سو کسی صبح یہ لوگ تتر بتر فسينتشرون ذات بُكرة إذا رأوا أنهم أُخرجوا من روض الرتوع، ويعجبون ہو جائیں گے جب دیکھیں گے چراگاہ سے نکالے گئے اور لوگوں کو اپنے جلد پھرنے الناس من وشك الرجوع. ونحن نراهم مذ أعوام مناجين للإخفار كلئام، سے تعجب میں ڈالیں گے اور ہم تو ان کو کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنا مذہبی قول و اقرار توڑنے کو تیار ولا نجد فيهم شيئا من الأوصاف إلا عشق الصّعاف والصّحاف وإلْفِ الجيفة ہیں اور ہم ان میں بجز اس کے کوئی خوبی نہیں پاتے کہ وہ شراب اور خوش مزہ کھانوں کے جو پیالوں میں بھرے ہوئے ہوں
نورالحق صفحہ 33، مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 44، 45 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 118 پر درج ہے
حوالہ نمبر 65
٥٤٢ كلها فى الايام والخصام - و انا نشكر الله على ما من علينا بمهد در نافرمانی و پیکار کردن - و ما سپاس خدا بجا می آریم که مارا در زیر سایہ عہد اور جھگڑے میں ہے اور ہم خدا کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں السلطنة البريطانيه و افاض علينا بتوسلها انواع الآلاء بالالطاف سعادت مهد دولت برطانیه بما کرامت فرموده و بتوسط ایں دولت بزرگ در حق ما مہربانی ہا کرده سلطنت برطانیہ کا عہد بخشا اور اس کے ذریعہ سے بڑی بڑی مہربانیاں اور فضل ہم پر کئے ہم نے اس الرحمانیه فوجدنا بقدومها انواع النعم وهذب قومنا وعلموا از قدوم این دولت عظمیٰ نعمتہا دیدیم قوم ما بکلیہ علم و ادب سلطنت کے آنے سے انواع اقسام کی نعمتیں پائیں ہماری قوم نے علم اور تہذیب سیکھی واخرجوا من عيشة النعم ونقلوا إلى الكمالات الانسانية من الجذبات آراسته شده و از طور زندگی بہائم بیرون آمده و بآن مرتبہ رسیده و از جذبات اور بہائم کی زندگی سے نکلنا انہیں نصیب ہوا اور حیوانی جذبوں سے نکل کر انسانی کمالات پر پہنچنا الحيوانيه - فحصل لنا امن وامان فوق الامل بل فوق حدود الافكار وطفقنا حیوانیہ را از تن بیرون کرده بلکہ لباس کمالات انسانی در بر کرده مارا فی الحقیقت از طفیل ایں دولت کبریٰ بیرون میسر آیا سو ہمیں اس گورنمنٹ کے طفیل امید اور فکر سے بڑھ کر امن اور امان ملا۔ اب ہم زمین ندرج على الارض درج الصوار بل كالعشار - بالتؤده والهون والوقار از وہم و گمان امن و امان حاصل شده کنوں ما می توانیم که چوں گاواں بلکہ چوں شتراں بآرام و آسانی بروئے زمین پر گائیوں کی طرح نہیں بلکہ باردار اونٹنیوں کی مانند بڑے وقار اور سہولت سے سفر کرتے ہیں من غير خوف المتخطفين والشانين من الاشرار وندلج وندلج سیر و سیاحت کنیم و ما را هیچ باک از رہزناں و بد اندیشاں نیست و در پاره اول شب و آخر آں اور ہمیں ڈاکوؤں اور بدذات دشمنوں کا کچھ بھی ڈر نہیں ہوتا اور ہم رات کے پہلے حصہ میں اور وحدانا فى الفلا وبلا خوف من الاغيار - واجرى الوابوره فما بقى حاجه تنہا بے خوف و خطر از اغیار در اسفار می توانیم که راه برویم - و جاری شدن گاڑی آتشیں شتراں و قافلہ ہا پچھلے میں اکیلے بلا خوف و خطر سفر کرتے ہیں ۔ اور ریل گاڑی کے چلنے سے اونٹوں اور قافلوں إلى الافائيل والقوافل والحصان فاصلحوا نياتكم واحسنوا الظن فى و اسپان را از کار برانداخته هیچ احتیاجی بآنہا نمانده اکنوں باید کہ نیتہائے خود را راست بکنید و در حق ایں اور گھوڑوں کی کوئی ضرورت نہیں رہی ۔ اب مناسب ہے کہ اپنی نیتوں کو درست کرو اور اس سلطنت کی نسبت
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 542 تا 544 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 118 پر درج ہے
حوالہ نمبر 65
٥٤٣
ھذه الدولة ۔ واٰتوهـا مطيعين بصفاء الطویة ولا تعثوا فی دولت بزرگ گمان نیک بکنید و با دل صاف و پاک در حضور وے حاضر بیائید وچوں باغیاں در نیک گمان کرو اور صاف دل اور پاک نیت سے اس کے حضور حاضر ہو اور زمین میں الارض باغین ولا تشردوا كالطاغين واعلموا ان ھذه الدولة كفت زمین فتنہ و غوغا بر می انگیزید۔ و مانند تبه کاران راه گریز پیش نگیرید و بدانید که ایں سلطنت دست ستمگاران باغیوں کی طرح فساد کرتے اور شریروں کی طرح بھاگے بھاگے نہ پھرو اور خوب سمجھ لو کہ سلطنت نے تمہیں ایذا عنكم اكف الظالمين وايقظتكم بعد ما كنتم نائمين ۔ وقامت از آزار و ایذائے شما بربست شما در خواب بودید ایں سلطنت شما را بیدار ساخت و در سفر و دینے سے ظالموں کے ہاتھ بند کر دیئے اور تم سوتے تھے اور اس نے تمہیں جگایا اور تمہارے سفر لحفظكم فی تربتكم وغربتكم وجعلت عليكم حافظين عند نجعتكم حضر پاسبانی شما کرد و چوں شما بیرون برائے طلب رزق می روید و بسوے خانہ باز می آید در ہر دو اور حضر میں تمہاری پوری نگہبانی کی اور جب تم کہیں کار روزگار کرنے اور معاش کی تلاش میں جاتے ہو ورجعتكم وكلأت عرضكم وعرضكم ۔ وتولت صحتكم ومرضكم صورت از طرف حکومت برائے شما محافظان متعین اند حکومت نگہبانی مال و آبروئے شما کرد ۔ چنانچہ باید نمود و در حالت اور پھر وطن کو واپس آتے ہو دونوں صورتوں میں گورنمنٹ کی طرف سے تم پر محافظ مقرر ہیں اور اس نے تمہاری آبرو اور مال وامنكم فصارت سببا لزيادة عددكم ۔ وعدة عددكم ۔ و بیماری وتندرستی از خبر گیری شما کوتاہی نکرد و شمارا امنے بخشید که از واسطہ آں در مال و دولت و کثرت نفوس و سامان شما کی خوب نگہداشت کی اور صحت میں اور بیماری میں تمہاری خبر گیری کی اور تم کو امن بخشا جسکے سبب سے تم دولت اور مال میں اور کثرت میں ترقی کرگئے قامت فى كل مواطن لمددكم وحسن سلوكها فى سكنكم و افزونی پدید آمد ۔ و ایں سلطنت در ہر میدان بجهت اعانت شما قدم محکم بفشرد و با یاران شما و جاہائے شما حسن سلوک اور یہ سلطنت ہر میدان میں تمہاری مدد کو کھڑی ہوئی اور تمہارے یاروں اور دوستوں اور مکانوں کی نسبت خوب مسكنكم ۔ واثبتت انها لكم كموئلكم ومأمنكم وقد حقت بجا آورد و آشکار کرد کہ او برائے شما جائے پناہ و امن است بر گردن شما حقوق سلوک کیا اور ثابت کر دیا کہ وہ تمہاری پناہ اور جائے امن ہے اب تم پر اس کے لها عليكم حقوق المن وحفظتكم من الاغارة والنشل ۔ و ذبت عن منت وے ثابت است او شمارا محفوظ داشت از غارتگران و ناگه بر سر ریزندگان و در حق مال و احسان کے حقوق ثابت ہیں اور اس نے تمہیں ڈاکوؤں اور چوروں سے بچایا اور تمہارے مال و
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 542 تا 544 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 118 پر درج ہے
حوالہ نمبر 65
٥٤٤
الخلافة فى مالكم وعيالكم ۔ وصار طولها سببا لطول أجالكم ۔ و عیال شما حق پاسداری ادا کرد ۔ و مہربانی و فضل وے سبب درازی عمر ہائے شما شد عیال کی نسبت نگہبانی کا حق ادا کر دیا۔ اور اس کی مہربانی تمہاری عمروں کی درازی کا سبب ہوئی اور نالتكم منها عافية غير عافية ۔ ورزقتم رفاهية بدرجة كافية ۔ و از وے شمارا عافیتی بدست آمد کہ ناپدید کنندہ نشانها نیست ۔ و آرامی ہر چہ تمامتر در بہرہ شما آمد اس سے تمہیں ایسی عافیت ملی جو تباہ و برباد کرنے والی نہیں اور تمہیں پرلے درجہ کی رفاہیت حاصل ہوئی وكفتكم مخاشئ اللاواء وكنفتكم بغواشي الألاء حتى ما ظفر بكم و شمارا رستگاری بخشید از جاہائے وحشتناک درد و رنج و با غاشیه ہائے نعمت و مکرمت شمارا در پناہ و سایہ اور اس نے تمہیں دکھوں اور دردوں کی خوفناک جگہوں سے بچایا اور اپنے فضل وکرم کی حمایت اور پناہ میں لیا۔ اب أظفار الأعداء فلا تخرسنكم غشية فى اداء شكرها ولا لكنة فى خویش درآورد تا ایں کہ اکنوں ناخن بیداد دشمناں بشما نمی رسد۔ پس گنگ نہ سازد شمارا بیہوشی در ادائے شکر دے و لکنت گویائی در یہ حال ہے کہ دشمنوں کے ناخن بیداد کی تم تک رسائی نہیں ہو سکتی ۔ سو مناسب ہے کہ اس گورنمنٹ کے شکر ادا کرنے میں تكرار ذكرها ۔ فان جزاء الاحسان إحسان ۔ والتغافل من الشكر كفران ۔ تکرار ذکر وے ۔ چرا کہ کیفر نیکی نیکی است ۔ و چشم برہم بستن از سپاس گذاری ناسپاسی است اور ذکر و تذکرہ میں گونگے اور بیہوش نہ بن جاؤ ۔ اسلئے کہ احسان کا بدلہ احسان ہے ۔ اور شکر سے غفلت کرنا کفران ہے ووالله إنها لكم من ايمن العوذ ۔ واغنى عنكم من لابسى الخوذ و سوگند بخدا کہ ایں سلطنت بجهت شما تعویذیست شگرف و ہمایوں است و با وجود وے ہیچ حاجت بہ یاوران خوذ پوش نمانده اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ سلطنت تمہارے لیے بڑا امن بخش تعویذ ہے اور اسکے ہوتے کسی خوذ پوش مدد گار کی ہمیں ضرورت والمحامد عليها لله على ما آتانا قيصر لا يقصر فى تفقد احوالنا ۔ و در حقیقت ہر گونہ حمد مرخدا راست کہ مارا قیصری عطا فرمودہ کہ از باز جستن احوال ما وے غفلت نمی ورزد۔ و نہیں۔ اور حقیقت میں ساری حمدیں خدا کیلئے ہیں جس نے ہمیں ایسا قیصر عطا فرمایا جو ہمارے حال کی خبر گیری اور پرداخت میں کوئی قصور يسعى ليخرجنا من أوحالنا ۔ ورد إلينا ديننا بعد ما زالت الملة می کوشد کہ مارا از مغاک پستی بیرون آرد و ایزد مهربان دین مارا بما باز داد و بعد ازاں کہ ملت اور کوتاہی نہیں کرتا اور کوشش کرتا ہے کہ ہمیں پستی سے باہر لائے۔ اور اس نے ہمارا دین ہمیں پھیر دیا بعد اس کے کہ عن اماكنها وجعل قيصرة الهند وقيصرها كمأمنها فهذه از مکان خود زائل گردیدہ بود و قیصرہ ہند و قیصر را مامن دے گردانید پس ایں ہمہ مذہب مکانوں سے اکھڑ چکا تھا اور اسی نے قیصرہ ہند اور قیصر کو اس کا مامن بنایا سویہ
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 542 تا 544 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 118 پر درج ہے
حوالہ نمبر 66
١٤٨
طرح یک دفعہ پھوٹتا ہے اور فی الفور ایک شعلہ نور آسمان سے گرتا اور اس سے اتصال پاتا ہے اور ایسے وقت میں جب دُعا کی جاتی ہے تو ضرور قبول ہوجاتی ہے۔ سو یہی وقت مجھے اس بزرگ کے لیے میسر آیا۔ میں ان لوگوں کی روز کی تکذیبوں اور لعنت اور ٹھٹھے اور ہنسی کے دیکھنے سے تھک گیا۔ میری روح اب ربّ العرش کی جناب میں رو رو کر فیصلہ چاہتی ہے۔ اگر میں درحقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں مردود اور مخذول ہوں جیسا کہ ان لوگوں نے سمجھا تو میں خود ایسی زندگی نہیں چاہتا جو لعنتی زندگی ہو۔ اگر میرے پر آسمان سے بھی لعنت ہے جیسا کہ زمین سے لعنت ہے تو میری روح دوہری لعنت کی برداشت نہیں کر سکتی اگر میں سچا ہوں تو اُس بزرگ کی خدا تعالیٰ سے ایسے طور سے پردہ دری چاہتا ہوں جو بطور نشان ہو اور جس سے سچائی کو مدد ملے ورنہ لعنتی زندگی سے میرا مرنا بہتر ہے میرے صادق یا کاذب ہونے کا یہ آخری معیار ہے جس کو فیصلہ ناطق کی طرح سمجھنا چاہیئے۔ میں خدا سے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دُعا کرتا ہوں کہ اگر میں اُس کی نظر میں عزیز ہوں تو وہ اس بزرگ کی ایسے طور سے پردہ دری کرے جو اب تک کسی کے خیال و گمان میں نہ ہو۔ میں جانتا ہوں کہ میرا خدا قادر اور ہر ایک قوت کا مالک ہے وہ اُن کے لیے جو اُس کے ہوتے ہیں بڑے بڑے عجائبات دکھلاتا ہے۔
ایڈیٹر چودھویں صدی کی جس قدر شوخی ہے اُس بزرگ کی حمایت سے ہے اور اس کی تمام توہین اور تحقیر کی تحریریں اسی بزرگ کی گردن پر ہیں۔ وہ ہنسی سے لکھتا ہے کہ ”میں مخالفت سے رُکا نہ جاؤں“ خدا سے ہنسی کرنا کسی نیک انسان کا کام نہیں انسان ہر ایک وقت اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔
اور گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی کی نسبت جو میرے پر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ حملہ بھی محض شرارت ہے۔ سلطان روم کے حقوق بجائے خود ہیں ۔ مگر اس گورنمنٹ کے حقوق بھی ہمارے سر پر ثابت شدہ ہیں اور ناشکرگزاری ایک بے ایمانی کی قسم ہے۔ اے نادانو! گورنمنٹ انگریزی کی تعریف تمہاری طرح میری قلم سے منافقانہ نہیں نکلتی۔ بلکہ میں اپنے اعتقاد اور یقین سے جانتا ہوں کہ درحقیقت خدا تعالیٰ کے فضل سے اس گورنمنٹ کی پناہ ہمارے لیے بالواسطہ خدا تعالیٰ کی پناہ ہے۔ اس سے زیادہ اس گورنمنٹ کی پُر امن سلطنت ہونے کا اور کیا میرے نزدیک ثبوت ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ پاک سلسلہ اسی گورنمنٹ کے ماتحت برپا کیا ہے۔ وہ لوگ میرے نزدیک سخت نمکحرام ہیں جو حکام انگریزی کے روبرو اُن کی خوشامدیں کرتے ہیں۔ اُن کے آگے گرتے ہیں اور پھر گھر میں آ کر کہتے ہیں کہ جو شخص اس گورنمنٹ کا شکر کرتا ہے وہ کافر ہے۔ یاد رکھو، اور خوب یاد رکھو کہ ہماری یہ کارروائی جو اس گورنمنٹ کی نسبت کی جاتی ہے منافقانہ نہیں ہے وَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ بلکہ ہمارا یہی عقیدہ ہے جو ہمارے دل میں ہے۔
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 148 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 119 پر درج ہے
حوالہ نمبر 67 روحانی خزائن جلد ٥ ٥١٧ آئینہ کمالات اسلام
﴿٥١٧﴾
ذکر الدولة البرطانية و قيصرة الهند
جزاها الله عنا خير الجزاء
اعلموا أيها الإخوان أننا قد نجونا من ايدى الظالمين فى ظل دولة هذه المليكة التى نمّقْنا اسمها فى العنوان. التى نضرنا فى حكومتها كنضارة الأرض فى ايام التهتان. هى اعز من الزبّاء بملكها و ملكوتها اللهم بارک لنا وجودها و جودها واحفظ ملكها من مكائد الروس و مما يصنعون. قد رأينا منها الاحسان الكثير والعيش النضير فان فرطنا فى جنبها فقد فرطنا فى جنب الله
ترجمہ
ذکر دولت عظیمہ برطانیہ و قیصرہ ہند
جزاہا اللہ عنا خیر الجزاء
برادران بر شما مخفی نماند کہ ما در عہد سعادت مہد وظل ممدود این ملکہ معظمہ کہ لقب مبارکش را زیب عنوان ساختیم از پنجہ آہنین ستمگاران تیرہ درون رستگار شدیم ۔ بخت ما درین زمان برکت تو امان بمثابۂ فرخندگی و بہروزی دریافته کہ روئے زمین
آئینہ کمالات اسلام صفحہ 517 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 517 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 120 پر درج ہے
حوالہ نمبر 68
ضمیمه حقيقة الوحى الاستفتاء ٦٦٨ روحانی خزائن جلد ٢٢
ثم أشعتموه في الأغيار والأحباب، كأنكم مبرَّؤون من المؤاخذة والحساب. ولكن الله أتم نورًا أردتم إطفاءه، وملأ بحرًا تمنيتم أن تغيض ماؤه، ودعوتم لنا أرضًا جدبة، فآوانا الله إلى ربوةٍ ☆، ووادٍ خضر وروضة، ورزقنا نعماءً وآلاءً وبركاتٍ ما رأيتموها ولا آباؤكم. أهذا جزاء الفرية؟ أأعثرتم على مثله في زمان من الأزمنة؟ ﴿٤٦﴾ فاعلموا، رحمكم الله، أن صدق دعواى وموت عيسى ما كان أمرًا متعسِّرَ المعرفة، ولكن طوَّعَتْ لكم أنفسكم تكذيب إمامكم، فزاغت قلوبكم، وما فكّرتم حق الفكرة. وقد جئتكم بالآيات والشواهد والبيّنات، وقد فتح الله علىّ أمرًا أخفاه عليكم في ابن مريم، وذالك فضله أنه فهمنى أمرًا ما أعثركم عليه وما فهّم. أم حسبتم أن أصحاب الكهف والرقيم كانوا من آياتنا عجبًا + إن الله أخفانا من أعينكم إلى قرون، وأسْبَلَ عليها حجبا، فكنتم تنتظرون نزول المسيح من السماء ، وصرف الله أفكاركم عن الحقيقة الغرّاء ، ليظهر عليكم عجزكم في أسرار حضرة الكبرياء . ذالك من سنن الله ليعلّمكم أدبًا عند إظهار الآراء . فما تشابه الأمر عليكم إلّا من فتنة أراد الله ليبتليكم بها، فأظهرها بعد هذا الإخفاء .
☆ قد قال الله عزّوجلّ في القرآن: وَ آوَيْنٰهُمَآ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍ ١؎ ولمّا جعلنى الله مثيل عيسى جعل لى السلطنة البرطانية ربوةَ أمنٍ وراحةٍ ومستقرًّا حسنًا. فالحمد للّٰه مأوى المظلومين. وللّٰه الحِكَم والمصالح، ما كان لأحدٍ أن يؤذى من عصمه الله، والله خير العاصمين. منه
+ هذا ما أُوحىَ إلىّ ربى بوحى القرآن، وكذالك أخفانى ربى كما أخفى أصحاب الكهف، وإن ذالك من سنن الله أنه يخفى بعض أسراره من أعين الناس ليعلموا أن علمهم قاصر، وليبتلى الله عباده، وليرى المؤمنين منهم والمجرمين. منه
١؎ المؤمنون:٥١
حقیقت الوحی ، ضمیمہ الاستفتاء صفحہ 46، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 22 صفحہ 668، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 120 پر درج ہے
حوالہ نمبر 69 روحانی خزائن جلد ٥ ١٨ آئینہ کمالاتِ اسلام
﴿١٨﴾ عَلَىَّ . وَ اَرْسَلَ فِى اقْطَارِ العَالَمِ رِيَاحًا تَحْشُرُ النَّاسَ اِلَيْنَا كَاَنَّه فَوْجٌ نُوْرِىٌّ يقود القلوب الى الدين المتين
اَوْ عَبْقَرِىٌّ بھيروی نُوْرُ الدِّيْنِ
یعنی اخویم مولوی حکیم نور الدین بھیروی کہ ہمدردی اسلام بر ایشان غالب ست ازین وجہ بانتشار نورانیت سماوی مشابہت دارند و ہذا فضل اللہ
فهذا رحمة ربى و حقّ صُراحٌ ما يُبْطِلُه بطالوىّ ای بٹالوی و غيره وان نجع نفسه من حسراتٍ و يطير من القالب طيره و والله ان البطالوى ای بٹالوی ما قصر فى مكائده بل ضمّ بطاليّته بفحشِ لسانه و حصائده.
و لو لا هيبة سيفٍ سَلَّه عدلُ سلطنة البرطانية لَحَثَّ الناسُ على سفك دمى و جلب رَجْله و خيله لحسمى و حطمى ولكن منعه من هذا رعب هذه الدّولة و لمعان تلك الطاقة فنشكر اللّٰه كل الشكر على ما امَّنَنَا مِن كلّ خوفٍ تحت ظلّ هذه الدّولة البرطانية المباركة للضّعفاء و كهف اللّٰه للفقراءِ
آئینہ کمالات اسلام صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 18 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 120 پر درج ہے
حوالہ نمبر 70
چیپٹر ڈائل نمبر ٣٥٨
قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا اب گیا وقت فراق آئے ہیں جو ملنے کے دن
دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اسکو قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اسکی سچائی ظاہر کر دیگا۔
(الہام مسیح موعود)
چندہ غیر ممالک سالانہ سات روپے
الفضل
قادیان میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا (الہام مسیح موعود)
فہرست مضامین
- سیرت المسیح، شرائط بیعت سلسلہ احمدیہ ١
- اخبار احمدیہ ٢
- دنیا پر مصائب اور تباہیاں }
- اسکی وجہ (ایک خیال) } ٣
- حضور کے مضامین کی قبولیت ٤
- خطبہ جمعہ (نماز جمعہ (اعلان)) ٥
- خطاب قرآنی ٦
- کیا حضرت مسیح کی مخالفت نہیں کی گئی ٧
- مسیحی کا فریب، ایک منصفانہ ماتم ٨
- خدا کی جھلک، رفع شبہات ٩
جلد ٦ شنبہ ٢ ربیع الاول ١٣٣٧ ہجری ٧ - دسمبر ١٩١٨ء نمبر ٤٢
کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو ہر روز اپنا ورد بنائے گا۔ چہارم: کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی تکلیف نہیں دے گا۔
شرائط بیعت سلسلہ احمدیہ
اول بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو گا شرک سے مجتنب رہیگا۔ دوم : کہ جھوٹ اور زنا اور بد نظری اور فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہ ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔ سوم : کہ بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں ہمیشہ مستعد رہے گا۔ اور دلی محبت سے اللہ تعالیٰ کے احسانوں
تبلیغ
حقیقۃً میں بعض دفعہ حیران ہوتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ ہمارے پاس کام کرنے کے لئے اس قدر ذرائع ہیں اور کام قریب قریب گھر میں ہو کر رہا ہے۔ کتب، اشتہارات، مضامین، پمفلٹوں، اخبارات اور رسالوں کی اشاعت اور طریقوں سے تبلیغ ہو رہی ہے اور پھر بھی ہم پیچھے ہٹے ہوئے ہیں۔ یہ میں جانتا ہوں کہ ہم ان لوگوں کے مقابل ہیں جن سے ہمیں قدرتاً دقت محسوس ہوتی ہے۔ مگر علاوہ اس کے اور بہت سے کام ہیں جو کئے جا سکتے ہیں اور وہ ہم نہیں کرتے۔ پس
قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر روزنامہ الفضل قادیان جلد 6 نمبر 42 صفحہ 9 مورخہ 7 دسمبر 1918ء یہ حوالہ صفحہ 121 پر درج ہے
حوالہ نمبر 70
الفضل قادیان دارالامان ١٧۔ دسمبر ١٩١٨ء نمبر ٤٢ جلد ٦
خدا کی چمکار اور فتح سرکار
امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی نے اپنے ایک خطبہ میں جو ١٢۔ دسمبر ١٩١٨ء کو دیا گیا، فرماتے ہیں۔ ان الہامات کے سلسلہ میں جن میں وہ الہام بھی ہیں جن سے اس کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایک وقت کامل غلبہ اسلام کا ہو گا خدا نے ان کو پیدا کیا کہ شاید گرداب سے نکلیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے اسباب پیدا ہو جائیں گے کہ اکثر لوگ جان لیں گے اور یہ ایک مذہب ہے۔ اور یہ تب ہو گا جب ایک نشان ظاہر ہوگا۔ اور پھر فرمایا۔ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ تیرا نام بڑھاوں اور آفاق میں تیرے نام کی خوب چمک دکھاوے۔ میں اپنی چمکار دکھلاوں گا۔ اور قدرت نمائی سے تجھے اٹھاونگا۔ آسمان سے کوئی نعمت اترے۔ مگر سب سے اونچا تیرا تخت بچھایا گیا۔ دشمنوں سے جو عداوت کرنے والے دشمنوں نے تیری راہ روکی۔ آپ کے ساتھ انگریزوں کا نرمی کے ساتھ برتاو تھا۔ اسی طرف خدا نے اشارہ کیا ہے تم احسان مانو کہ ہم نے بچایا۔ کوئی ظالم تم پر حاکم نہیں ہو سکتا۔ الہامات میں نے موجودہ جنگ کو دیکھ کر ایک کاپی میں لکھ رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چمکار کے نشان میرے دل میں ڈالا کہ مراد اس سے یہی عظیم الشان جنگ ہے۔ جس میں آسمان پر دیکھنے والوں کو ایک برائی ہو رہی تھی۔ یہاں اس لئے الہام آیا ہے۔ کہ انگریزوں کا نرمی کے ساتھ ہاتھ تھا۔ اسی طرف خدا نے اشارہ کیا ہے کہ تم احسان مانو کہ میں نے اس کو بچایا میں یہ لکھتا رہا تھا کہ اس جنگ میں آخری غلبہ اس کو ہوگا۔ یوں فتح ہو گی۔ کیونکہ جس طرف خدا ہو اس کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ آج فتح کی خبر سن کر مجھے توجہ حاصل ہوئی۔ تو امید کہ میرے وہ احمدی بھائی جو اس الہام سے ناواقف ہیں۔ اخبار میں اس اشاعت کو پڑھ کر اپنے ایمان کو تازہ کریں گے۔ ان الہامات کے ساتھ یہاں کچھ اور الہام بھی ہے۔ لوگ آئے اور دعائیں کرینگے۔ شکر خدا نے آج ان کو اپنا وعدہ یاد دلا کر فتح پائی۔ اور اس سے آگے حضور لکھتے ہیں۔ وہیں ہماری عافیت ہے کہ اس کے سایہ عاطفت میں رہیں۔
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اسی جگہ حاشیہ میں ایک اور الہام تحریر فرمایا
حکام ان کے تھے وہ گرفتار ہو گئے
اس الہام میں باعتبار صلح کے سلطنت ملنی تھی اس جنگ میں شریک ہوگی۔ جو مسلمان غلطی سے اس لڑائی کو دینی جہاد سمجھ کر کسی قسم کی مدد نہ دینگے اور کسی معاہدہ کو منسوخ ماننے کا فرمان گو اس فتوے کی پرواہ نہ کریں گے۔ ایسے لوگ گرفتار کئے جائیں گے۔ اور خلیفہ وقت کا الہام اپنی ان دعاؤں کے سبب جو اس نے نہایت خلوص دل سے اپنی فتح کے لئے کی تھیں آخر فتح پائی۔ یعنی اس گورنمنٹ کے زیر سایہ رہ کر دنیا میں اس کے سلسلہ کو ترقی ہوگی۔ اور انگلستان وغیرہ یورپ کے لوگ اسلام قبول کرینگے۔ اور کوئی خونی مہدی ظاہر نہ ہوگا۔ جو تلوار کے ساتھ دین اسلام کو دنیا میں پھیلائے یہی اس جنگ میں گورنمنٹ برطانیہ کا فتح پانا اسی موعود کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت ہے کہ اہلسنت کی کتب میں جو لکھا ہے۔ علمائے وقت کہ جو قطب زمان و افتخار مشائخ و آباو اجداد باشند گویند ایں مرد در صدی ١٤ رخنہ ہائے دیں راست کند بجماعت بریزند که بسبب جہالت خود حکم تکفیر و تضلیل وے کنند۔ اما از سطوت سیف او و جلال شوکت او ایشان پیش نه رود و هیچ کاری نه کنند) حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی موعود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلہ میں ان حاسدوں کی پیش نہیں جاتی۔ اب فخر کرنے کا مقام ہے کہ ہم ایسی حکومت کی اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ جو ان عرب پر تاختند ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب لوگوں نے حضرت اقدس پر یہ اعتراض کیا۔ کہ شخص انگریزوں کے رنگ میں رنگا ہے۔ جہاد کی ممانعت کرتا ہے۔ تو اس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا۔ اے نادانوں میں اس گورنمنٹ کی خوشامد نہیں کرتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اس گورنمنٹ کے ہم پر احسانات ہیں اور دینی رسوم پر یہ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے
دین کو ترقی دینے کے لئے ہم پر تلواریں چلاتی ہے قرآن شریف کی رو سے جنگ مذہبی حرام ہوتا ہے کیونکہ وہ بھی کوئی مذہبی جہاد نہیں کرتی۔ اور ان کا شکر کرنا ہمیں اس لئے لازم ہے کہ ہم اپنا کام پوری طرح سے کہیں نہیں کر سکتے تھے مگر اس کے ملک میں۔ دنیا کی طرف سے حکمت نہیں کہ مجھے اس ملک میں پیدا کیا پس کیا میں خدا کی حکمت کی شکر گزاری نہ کروں اور جب کہ قرآن شریف کی آیت و اوینھما الی ربوۃ ذات قرار و مکین میں اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھاتا ہے کہ صلیب کے واقعہ کے بعد ہم نے عیسیٰ مسیح کو صلیب پر سے رہائی دی پھر اس کو اور اس کی ماں کو ایک ایسے اونچے ٹیلے پر جگہ دی تھی۔ جو آرام دہ جگہ تھی ۔ اور اس میں چشمے جاری تھے ۔ یعنی مری ٹلہ کشمیر۔ اسی طرح خدا نے مجھے اس گورنمنٹ کے اونچے ٹیلے پر جہاں مفسدین کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔ جگہ دی جو آرام کی جگہ ہے۔ اور اس ملک میں چشمے عام ہیں چشمے جاری ہیں۔ ان مفسدین کے حملے سے امن اور قرار ہے پھر کیا واجب نہ تھا کہ ہم اس گورنمنٹ کے احسانات کا شکر کرتے۔ (کشتی نوح ص ٦٨) ہم احمدی حضرت مرزا صاحب کو مسیح موعود مانتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ سب بحث جو اوپر ہے کہ گورنمنٹ ایک بلند ٹیلہ ہے۔ اس بلند ٹیلے سے سب حملہ کرنے والوں کا جیسا کہ پہلی کتابوں میں لکھا تھا سب پانی خشک ہو گیا ۔ (روئداد جلسہ دعا ص ٤٣) اور چھٹے فرشتے نے اپنا پیالہ دریائے فرات پر الٹا اور اس کا پانی سوکھ گیا تاکہ مشرق سے آنے والے پادشاہوں کے لئے راہ تیار ہو جائے۔ (مکاشفہ باب ١٦ آیت ١٢) تا وقتیکہ آب دریا خشک شدہ باشد و لشکر ہلاک شوند ۔ الخ ۔ آپ نے فرمایا کہ دجلہ پر آپکی فوجیں مشرق سے داخل ہونگیں۔ دیکھئے کس زمانہ میں اس فتح کی خبر دی گئی ۔ جبکہ گورنمنٹ برطانیہ نے یہ بصرہ کی طرف چڑھائی کی۔ اور تمام اقوام نے جو ان کو بچانے کے لئے اس کی طرف بھیجیں۔ ان کے ملوکانہ مقاصد کے لئے وہ فرشتے تھے جن کو اس گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے اپنے وقت پر اتارا ۔ تاکہ وہ دشمن کے دلوں کو اس قدر مرعوب کر دیں کہ وہ آگے بھاگا کریں۔ اس لئے آج گورنمنٹ برطانیہ کامیاب ہو گئی ان شاء اللہ
قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان جلد 6 نمبر 42 صفحہ 9 مورخہ 17 دسمبر 1918ء یہ حوالہ صفحہ 121 پر درج ہے
حوالہ نمبر 71
عَسٰى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا رجسٹرڈ نمبر ایل ٨٣٥ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ
اب کیا وقت سونے کا ہے اے غافل پسر
دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دیگا ۔ (الہام مسیح موعود)
الفضل چندہ ششماہی ٤ روپے
قیمت فی پرچہ ایک آنہ چندہ سالانہ ٦ روپے مجلد سالانہ ٨ روپے
صرف خط و کتابت منیجر رسالہ الفضل قادیان سے ہونی چاہئے
فہرست مضامین مدینۃ المسیح ۔ ١ امداد جنگ کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کا فرمان جماعت احمدیہ کے نام ١ مخالفت کے کرشمے (مکتوب ) ٢ اور ہماری معذرت ٢ بانئی آریہ سماج کی نہایت غلیظ اور پلید تعلیم جس سے سکھ ٣ سچی خوشی کا وقت (بقیہ) ٣ اخبار حق ٤ بقیہ صفحہ ٦ پر (دی پیام حق) ٤ گورنمنٹ عثمانیہ - ٤ شکار پور سے اشتہارات ٥
میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا ۔ (الہام مسیح موعود )
جلد ٦ | ٢٧۔ جولائی ١٩١٨ء شنبہ | ١٧۔ شوال ١٣٣٦ ہجری | نمبر ٨
مدینۃ المسیح
مدینہ پر موسلا دھار بارش ہو کر گھر گرانے والے سیلاب کی آمد شروع ہوئی ۔ جس سے گرمی کی شدت میں کمی نہیں ہوئی ۔ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے احباب کے لئے ایک کمیٹی تجویز فرمائی ہے ٢٤۔ جولائی کو مدرسہ احمدیہ کی تعطیل تھی ۔ سارا دن عمل کا نقشہ تیار کیا گیا جس کے مطابق کام شروع ہو گیا ہے ۔ دارالرحمت ۔ اور دارالبرکات میں قرآن کریم کی تعلیم جاری ہے ۔ مدرسہ کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد ٤٠، ٥٠ طالب علم آچکے ہیں ۔ مدرسہ کے قریب لڑکیاں تعلیم پاتی ہیں۔
امداد جنگ کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کا فرمان
جماعت احمدیہ کے نام
برادران ۔ السلام علیکم ۔ دل میں تو مدت سے ایک بات ہے جو آپ لوگوں کو سنانا چاہتا ہوں۔ مگر ابھی وقت نہیں آیا ۔ اور ابھی میری جماعت جو الحمدللہ کہ روزانہ ترقی کر رہی ہے۔ ابھی اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکی ۔ مگر ایک بات جس کا فوراً آپ لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے اُس وقت کہنی چاہتا ہوں ۔ اور وہ یہ کہ سلسلہ احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ سے جو تعلق ہے۔ وہ باقی تمام جماعتوں سے نرالا ہے۔ ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ہمارے مفاد ایک ہوئے ہوئے ہیں ۔
گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی آگے قدم بڑھانیکا موقع ہے۔ اور اس کو خدانخواستہ اگر کوئی نقصان پہنچے۔ تو اس صدمہ سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے ۔ اس لئے شریعت اسلام ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کے ماتحت اور خود اپنے فوائد کی حفاظت کے لئے ۔ اس وقت جبکہ جنگ و جدال کی گرم بازاری ہے۔ ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ ہر ممکن طریق سے گورنمنٹ کی مدد کرے اور چونکہ ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کس کس طریق سے گورنمنٹ کی مدد کر سکتا ہے۔ اور فطرت انسانی کے مطابق انسان کو بار بار یاد دلانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس لئے اس کام کو باحسن انجام تک پہنچانے کے لئے میں نے ایک کمیٹی بنائی ہے۔ جس کے گیارہ ممبر قادیان میں ہونگے۔ اور ان کے مددگار کے طور پر بیرون جا
خطبہ مرزا بشیر الدین محمود ، روزنامہ الفضل قادیان 27 جولائی 1918 یہ حوالہ صفحہ 121 پر درج ہے
حوالہ نمبر 72 روحانی خزائن جلد ١٣ ١٨ کتاب البریہ
امن پسند اور اول درجہ کے خیر خواہ سرکار انگریزی ہیں۔ اور باایں ہمہ معزز اور شریف ہیں۔ اور بعض نادانوں کا یہ خیال کہ گویا میں نے افترا کے طور پر الہام کا دعویٰ کیا ہے غلط ہے بلکہ درحقیقت یہ کام اس قادر خدا کا ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اس جہان کو بنایا ہے۔ جس زمانہ میں لوگوں کا ایمان خدا پر کم ہو جاتا ہے اس وقت میرے جیسا ایک انسان پیدا کیا جاتا ہے اور خدا اس سے ہمکلام ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ سے اپنے عجائب کام دکھلاتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ خدا ہے۔ میں عام اطلاع دیتا ہوں کہ کوئی انسان خواہ ایشیائی ہو خواہ یوروپین اگر میری صحبت میں رہے تو وہ ضرور کچھ عرصہ کے بعد میری ان باتوں کی سچائی معلوم کرلے گا۔
یاد رہے کہ یہ باتیں حفظ امن کے مخالف نہیں۔ ہم دنیا میں فروتنی کے ساتھ زندگی بسر کرنے آئے ہیں اور بنی نوع کی ہمدردی اور اس گورنمنٹ کی خیر خواہی جس کے ہم ماتحت ہیں یعنی گورنمنٹ برطانیہ ہمارا اصول ہے۔ ہم ہرگز کسی مفسدہ اور نقض امن کو پسند نہیں کرتے اور اپنی گورنمنٹ انگریزی کی ہر ایک وقت میں مدد کرنے کے لئے طیار ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں جس نے ایسی گورنمنٹ کے زیر سایہ ہمیں رکھا ہے۔ فقط المرقوم ٢٠؍ ستمبر ١٨٩٧ء
المشتہــــــــــــــــــــر
میرزا غلام احمد از قادیان
کتاب البریہ صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 18 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 121 پر درج ہے
حوالہ نمبر 73
روحانی خزائن جلد٦ ٣٨٠ شہادۃ القرآن
میں تو دلوں کو اندر ہی اندر دے دی ہے بہر حال جبکہ ہمارے نظام مدنی اور امور دنیوی میں خدا تعالیٰ نے اس قوم میں سے ہمارے لئے گورنمنٹ قائم کی اور ہم نے اس گورنمنٹ کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکر کرنا کوئی سہل بات نہیں اس لئے ہم اپنی معزّز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے ۔ ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے ۔ سو ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر یک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے ۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا ۔ سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسری سے
حوالہ نمبر 74
٦٩
اور میں اس وقت ضروری نہیں دیکھتا کہ جو آریوں کو میری نسبت اشتعال پیدا ہوا ہے اسکی وجہ بیان کروں کیونکہ ابھی میں اپنے ایک بڑے اشتہار ١ میں مفصل وجوہ بیان کر چکا ہوں۔ لیکن اس جگہ اس قدر لکھنا فائدہ سے خالی نہ ہو گا کہ یہ پیشگوئی جس کی میعاد کے اندر اور عین تاریخ مقررہ میں لیکھرام بموت قتل راہی ملک بقا ہوا ہے وہ صرف چھ برس سے نہیں ہے جیسا کہ آریہ صاحبوں کا خیال ہے بلکہ یہ پیشگوئی سترہ برس سے ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عرصہ سترہ برس کا ہوا ہے کہ براہین احمدیہ میں تین پیشگوئیاں تین مختلف فرقوں کی نسبت درج ہوئی تھیں اور تین فتنوں کا ذکر کیا گیا تھا (١) ایک پادری صاحبوں اور ان کے شور و غوغا کی نسبت جو انہوں نے ڈپٹی آتھم صاحب کی میعاد گذرنے پر کیا ۔ (٢) دوسری پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں اور ان کے سرغنہ محمد حسین اور ان کے اتباع مسلمانوں کی نسبت جو انہوں نے مجھ پر تکفیر کا فتنہ برپا کیا ۔ (٣) تیسری پیشگوئی اس چمکدار نشان کی نسبت جو لیکھرام کی موت سے وقوع میں آیا۔ اور اس کے فتنہ کا ذکر ۔ یہ تینوں پیشگوئیاں تین فتنوں کے ساتھ سترہ برس پہلے شائع ہو چکی ہیں۔ پس اب سوچنا چاہئے کہ کس انسان کو یہ طاقت ہے کہ ان واقعات کی اس زمانہ میں خبر دے سکتا جبکہ ان واقعات کا
اطلاع ۔ براہین احمدیہ کے صفحہ ٥٢١ میں ایک پیشگوئی گورنمنٹ برطانیہ کے متعلق ہے ۔ اور وہ یہ ہے ۔ وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيهِمْ ۔ اَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ ۔ یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ اس گورنمنٹ کو کچھ تکالیف پہنچائے حالانکہ تو اُن کی عملداری میں رہتا ہو۔ جدھر تیرا مُنہ خدا کا اسی طرف مُنہ ہے چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ مجھے اس گورنمنٹ کی پُر امن سلطنت اور ظل حمایت میں دلی خوشی ہے اور اس کے لیے میں دُعا میں مشغول ہوں کیونکہ میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں ۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لیے دعا کرتا ہوں ۔ لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دُعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ اُدھر خدا کا مُنہ ہے۔ اب گورنمنٹ شہادت دے سکتی ہے کہ اس کو میرے زمانہ میں کیا کیا فتوحات نصیب ہوئیں۔ یہ الہام سترہ برس کا ہے۔ کیا یہ انسان کا فعل ہو سکتا ہے ؟ غرض میں گورنمنٹ کے لیے بمنزلہ حرزِ سلطنت ہوں ۔ منہ
١ : دیکھئے مجموعہ ہذا صفحہ ٤٩ ، اشتہار نمبر ١٦٧ (المرتب)
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69، طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 122 پر درج ہے
حوالہ نمبر 75
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٥٦ تریاق القلوب
جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں پھر کیونکر ممکن تھا کہ میں اس سلطنت کا بدخواہ ہوتا یا کوئی ناجائز باغیانہ منصوبے اپنی جماعت میں پھیلاتا جبکہ میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا۔ اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا تو کیونکر ممکن تھا کہ ان تمام ہدایتوں کے برخلاف کسی بغاوت کے منصوبے کی میں تعلیم کروں ۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں ۔ اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں اور جولوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہوں میں ان کو سخت نادان بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں ۔ کیونکہ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔ تم چاہو دل میں مجھے کچھ کہو۔ گالیاں نکالو یا پہلے کی طرح کافر کا فتویٰ لکھو۔ مگر میرا اصول یہی ہے کہ ایسی سلطنت سے دل میں بغاوت کے خیالات رکھنا یا ایسے خیال جن سے بغاوت کا احتمال ہو سکے سخت بدذاتی اور خدا تعالیٰ کا گناہ ہے۔ بہتیرے ایسے مسلمان ہیں جن کے دل کبھی صاف نہیں ہوں گے۔ جب تک اُن کا یہ اعتقاد نہ ہو کہ خونی مہدی اور خونی مسیح کی حدیثیں تمام افسانہ اور کہانیاں ہیں۔
اے مسلمانوں اپنے دین کی ہمدردی تو اختیار کرو مگر سچی ہمدردی۔ کیا اس معقولیت کے زمانہ میں دین کے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم تلوار سے لوگوں کو مسلمان کرنا چاہیں۔ کیا جبر کرنا اور زور اور تعدّی سے اپنے دین میں داخل کرنا اس بات کی دلیل ہو سکتی ہے کہ وہ دین خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے؟ خدا سے ڈرو اور یہ بیہودہ الزام دین اسلام پر مت لگاؤ کہ اس نے جہاد کا مسئلہ سکھایا ہے اور زبردستی اپنے مذہب میں داخل کرنا اس کی تعلیم ہے۔ معاذ اللہ ہرگز
تریاق القلوب صفحہ 28 ، مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 156 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 124 پر درج ہے
حوالہ نمبر 76
روحانی خزائن جلد ٢١ ٢٩٤ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم
میں درج کرا کر گورنمنٹ انگریزی کو اُکساتے اور میرے پر بدظن کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی شرارتوں سے کیا ہوسکتا ہے۔ آپ یاد رکھیں کہ ان شرارتوں میں آپ ہمیشہ نامراد رہیں گے۔ کوئی امر زمین پر نہیں ہوسکتا جب تک آسمان پر قرار نہ پاوے۔
اور اِس گورنمنٹ محسن کی نسبت میرے دل میں کوئی بد ارادہ نہیں ہے۔ میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہوگیا۔ قدیم سے میں نے اپنی بہت سی کتابوں میں بار بار یہی شائع کیا ہے کہ اس گورنمنٹ کے ہمارے سر پر احسان ہیں کہ اِس کے زیر سایہ ہم آزادی سے اپنی خدمت تبلیغ پوری کرتے ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ظاہری اسباب کی رُوسے آپ کے رہنے کے لئے اور بھی ملک ہیں اور اگر آپ اس ملک کو چھوڑ کر مکہ میں یا مدینہ میں یا قسطنطنیہ میں چلے جائیں تو سب ممالک آپ کے مذہب اور مشرب کے موافق ہیں۔ لیکن اگر میں جاؤں تو میں دیکھتا ہوں ١٢٨ کہ وہ سب لوگ میرے لئے بطور درندوں کے ہیں اِلَّا مَا شَاءَ اللّٰہ۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا میرے پر احسان ہے کہ ایسی گورنمنٹ کے زیر سایہ مجھے مبعوث فرمایا ہے جس کا مسلک دلآزاری نہیں اور اپنی رعایا کو امن دیتی ہے مگر باوجود اس کے میں صرف ایک ہی ذات پر توکل رکھتا ہوں اور اُسی کے پوشیدہ تصرفات میں سے جانتا ہوں کہ اُس نے اِس گورنمنٹ کو میری نسبت مہربان بنا رکھا ہے اور کسی شریر مُخبر کی پیش چلنے نہیں دی اور مَیں امید رکھتا ہوں کہ قبل اس کے جو مَیں اس دنیا سے گذر جاؤں۔ مَیں اپنے اُس حقیقی آقا کے سوا دوسرے کا محتاج نہیں ہوں گا اور وہ ہر ایک دشمن سے مجھے اپنی پناہ میں رکھے گا۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ اَوَّلًا وَاٰخِرًا وَّظَاهِرًا وَّبَاطِنًا هُوَ وَلِيٌّ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَهُوَ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْر ۔ اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ وہ میری مدد کرے گا اور وہ مجھے ہرگز ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ اگر تمام دنیا میری مخالفت میں درندوں سے بدتر ہو جائے تب بھی وہ میری حمایت کرے گا۔ مَیں نامرادی کے ساتھ ہرگز قبر میں نہیں اُتروں گا کیونکہ میرا خدا میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے اور مَیں اس کے ساتھ ہوں۔ میرے اندرون کا جو اُس کو علم ہے کسی کو بھی علم
براہین احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ صفحہ 128 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 294 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 125 پر درج ہے
حوالہ نمبر 77
روحانی خزائن جلد ٩ ٤٦٠ معیار المذاہب
رسالہ معیار المذاہب
فطرتی معیار سے مذاہب کا مقابلہ
اور گورنمنٹ انگریزی کے احسان کا کچھ تذکرہ
میرے خیال میں مذاہب کے پرکھنے اور جانچنے اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرنے کے لئے اس سے بہتر کسی ملک کے باشندوں کو موقعہ ملنا ممکن نہیں جو ہمارے ملک پنجاب اور ہندوستان کو ملا ہے اس موقع کے حصول کے لئے پہلا فضل خدا تعالیٰ کا گورنمنٹ برطانیہ کا ہمارے اس ملک پر تسلط ہے۔ ہم نہایت ہی ناسپاس اور منکر نعمت ٹھہریں گے اگر ہم سچے دل سے اس محسن گورنمنٹ کا شکر نہ کریں جس کے بابرکت وجود سے ہمیں دعوت اور تبلیغ اسلام کا وہ موقعہ ملا جو ہم سے پہلے کسی بادشاہ کو بھی نہ مل سکا کیونکہ اس علم دوست گورنمنٹ نے اظہار رائے میں وہ آزادی دی ہے جس کی نظیر اگر کسی اور موجودہ عملداری میں تلاش کرنا چاہیں تو لاحاصل ہے کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہم لنڈن کے بازاروں میں
رسالہ معیار المذاہب صفحہ 2، 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 461,460 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 125 پر درج ہے
حوالہ نمبر 77
روحانی خزائن جلد ٩ ٤٦١ معیارالمذاہب
دین اسلام کی تائید کے لئے وہ وعظ کر سکتے ہیں جس کا خاص مکہ معظمہ میں میسر آنا ہمارے لئے غیر ممکن ہے اور اس گورنمنٹ نے نہ صرف اشاعت کتب اور اشاعت مذہب میں ہر یک قوم کو آزادی دی بلکہ خود بھی ہر یک فرقہ کو بذریعہ اشاعت علوم وف
حوالہ نمبر 78
تریاق القلوب ٤٩٢ روحانی خزائن جلد ١٥
کے لئے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس مُلک کے مولوی مسلمان اور ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دُکھ دیتے ہیں۔ میرے قتل کے لئے ان لوگوں نے فتوے دیئے ہیں۔ مجھے کافر اور بے ایمان ٹھہرایا ہے اور بعض ان میں سے حیا اور شرم کو ترک کر کے اس قسم کے اشتہار میرے مقابل پر شائع کرتے ہیں کہ یہ شخص اس وجہ سے بھی کافر ہے کہ اس نے انگریزی سلطنت کو سلطنت روم پر ترجیح دی ہے اور ہمیشہ انگریزی سلطنت کی تعریف کرتا ہے۔ اور ایک باعث یہ بھی ہے کہ یہ لوگ مجھے اس وجہ سے بھی کافر ٹھہراتے ہیں کہ میں نے خدا تعالیٰ کے سچے الہام سے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس خونی مہدی کے آنے سے انکار کیا ہے جس کے یہ لوگ منتظر ہیں۔ بے شک میں اقرار کرتا ہوں کہ میں نے اُن لوگوں کا بڑا نقصان کیا ہے کہ میں نے ایسے خونی مہدی کا آنا سراسر جھوٹ ثابت کر دیا ہے جس کی نسبت ان لوگوں کا خیال تھا کہ وہ آ کر بے شمار روپیہ اُن کو دے گا مگر میں معذور ہوں۔ قرآن اور حدیث سے یہ بات بپایہ ثبوت نہیں پہنچتی کہ دُنیا میں کوئی ایسا مہدی آئے گا جو زمین کو خون میں غرق کر دے گا۔ پس میں نے ان لوگوں کا بجز اس کے کوئی گناہ نہیں کیا کہ اس خیالی لوٹ مار کے روپیہ سے میں نے ان کو محروم کر دیا ہے۔ میں خدا سے پاک الہام پا کر یہ چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے اخلاق اچھے ہو جائیں اور وحشیانہ عادتیں دور ہو جائیں اور نفسانی جذبات سے اُن کے سینے دھوئے جائیں اور ان میں آہستگی اور سنجیدگی اور حلم اور میانہ روی اور انصاف پسندی پیدا ہو جائے اور یہ اپنی اس گورنمنٹ کی ایسی اطاعت کریں کہ دوسروں کے لئے نمونہ بن جائیں ۔ اور یہ ایسے ہو جائیں کہ کوئی بھی فساد کی رگ ان میں باقی نہ رہے۔ چنانچہ کسی قدر یہ مقصود مجھے حاصل بھی ہو گیا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ دس ہزار
یہ حوالہ صفحہ 128 پر درج ہے تریاق القلوب صفحہ 265،264 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 493،492 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 78 روحانی خزائن جلد ١٥ ٤٩٣ تریاق القلوب
یا اس سے بھی زیادہ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو میری ان پاک تعلیموں کے دل سے پابند ہیں☆ اور یہ نیا فرقہ مگر گورنمنٹ کے لئے نہایت مبارک فرقہ برٹش انڈیا میں زور سے ترقی کر رہا ہے۔ اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہو جائیں تو میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ فرشتے بن جائیں۔ اور اگر وہ اس گورنمنٹ کی سب قوموں سے بڑھ کر خیر خواہ ہو جائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہو جائیں۔ اگر وہ مجھے قبول کر لیں اور مخالفت نہ کریں تو یہ سب کچھ انہیں حاصل ہوگا اور ایک نیکی اور پاکیزگی کی روح اُن میں پیدا ہو جائے گی۔ اور جس طرح ایک انسان خوجہ ہو کر گندے شہوات کے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے اسی طرح میری تعلیم سے ان میں تبدیلی پیدا ہوگی۔ مگر میں نہیں کہتا کہ گورنمنٹ عالیہ جبرًا اُن کو میری جماعت میں داخل کرے اور نہ میں اس وقت یہ استغاثہ کرتا ہوں کہ کیوں وہ ہر وقت میرے قتل کے درپے ہیں اور کیوں میرے قتل کے لئے جھوٹے فتوے شائع کر رہے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ یہ بد ارادے اُن کے عبث ہیں کیونکہ کوئی چیز زمین پر نہیں ہو سکتی جب تک آسمان پر نہ ہو لے۔ اور میں اُن کی بدی کے عوض میں اُن کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اُن کی آنکھیں کھولے اور وہ خدا اور مخلوق کے حقوق کے شناسا ہو جائیں۔ مگر چونکہ ان لوگوں کی عداوت حد سے بڑھ گئی ہے اس لئے میں نے ان کی اصلاح کے لئے اور ان کی بھلائی کے لئے بلکہ
☆ میں نے اپنی کسی کتاب میں لکھا تھا کہ میری جماعت تین سَو آدمی ہے لیکن اب وہ شمار بہت بڑھ گیا ہے کیونکہ زور سے ترقی ہو رہی ہے۔ اب میں یقین رکھتا ہوں کہ میری جماعت کے لوگ دس ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہوں گے اور میری فراست یہ پیشگوئی کرتی ہے کہ تین سال تک ایک لاکھ تک میری اس جماعت کا عدد پہنچ جاوے گا۔ منہ
تریاق القلوب صفحہ 265,264 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 493,492 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 128 پر درج ہے
حوالہ نمبر 79
روحانی خزائن جلد ١٥ ٥٢٧ تریاق القلوب
بہت کچھ عام مسلمانوں کی طرف سے یہ فرقہ ایذا بھی پا رہا ہے لیکن چونکہ اہل عقل دیکھتے ہیں کہ خدا سے پوری صفائی اور اس کی مخلوق سے پوری ہمدردی اور حکام کی اطاعت میں پوری طیاری کی تعلیم اسی فرقہ میں دی جاتی ہے اس لئے وہ لوگ طبعاً اس فرقہ کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں اور یہ خدا کا فضل ہے کہ بہت کچھ مخالفوں کی طرف سے کوششیں بھی ہوئیں کہ اس فرقہ کو کسی طرح نابود کر دیں مگر وہ سب کوششیں ضائع گئیں کیونکہ جو کام خدا کے ہاتھ سے اور آسمان سے ہو انسان اس کو ضائع نہیں کر سکتا۔ اور اس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمدیہ اس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دوسرا احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسم محمد جلالی نام تھا اور اس میں یہ مخفی پیشگوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزا دیں گے جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا اور صدہا مسلمانوں کو قتل کیا۔ لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے۔ سو خدا نے ان دو ناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اوّل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کی زندگی میں اسم احمد کا ظہور تھا اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی۔ اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمد کا ظہور ہوا اور مخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی۔ لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر اسم احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہوگا جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پس اسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام فرقہ احمدیہ رکھا جائے تا اس نام کو سنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے اور جنگ اور لڑائی سے اس فرقہ کو کچھ سروکار نہیں۔ سو اے دوستو
یہ حوالہ صفحہ 129 پر درج ہے تریاق القلوب صفحہ 399، مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 527 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 80 ١٩٥
کے لیے وہ کتابیں اکثر مسلمانوں میں تقسیم کی ہیں جن کا ایک ذخیرہ میرے پاس بھی موجود ہے جن میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدکار ۔ زانی ۔ شیطان ۔ ڈاکو ۔ لٹیرا ۔ دغاباز ۔ دجال وغیرہ دلآزار ناموں سے یاد کیا ہے۔ اور گو ہماری گورنمنٹ محسنہ اس بات سے روکتی نہیں کہ مسلمان بالمقابل جواب دیں لیکن اسلام کا مذہب مسلمانوں کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی مقبول القوم نبی کو بُرا کہیں بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو پاک اعتقاد عام مسلمان رکھتے ہیں اور جس قدر محبت اور تعظیم سے اُن کو دیکھتے ہیں وہ ہماری گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں میرے نزدیک ایسی فتنہ انگیز تحریروں کے روکنے کے لیے بہتر طریق یہ ہے کہ گورنمنٹ عالیہ یا تو یہ تدبیر کرے کہ ہر ایک فریق مخالف کو ہدایت فرما دے کہ وہ اپنے حملہ کے وقت تہذیب اور نرمی سے باہر نہ جاوے اور صرف اُن کتابوں کی بناء پر اعتراض کرے جو فریقِ مقابل کی مسلّم اور مقبول ہوں اور اعتراض بھی وہ کرے جو اپنی مسلّم کتابوں پر وارد نہ ہو سکے۔ اور اگر گورنمنٹ عالیہ یہ نہیں کرسکتی تو یہ تدبیر عمل میں لاوے کہ یہ قانون صادر فرماوے کہ ہر ایک فریق صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے اور دوسرے فریق پر ہرگز حملہ نہ کرے۔ میں دل سے چاہتا ہوں کہ ایسا ہو اور مَیں یقیناً جانتا ہوں کہ قوموں میں صلحکاری پھیلانے کے لیے اس سے بہتر اور کوئی تدبیر نہیں کہ کچھ عرصہ کے لیے مخالفانہ حملے روک دیئے جائیں ۔ ہر ایک شخص صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور دوسرے کا ذکر زبان پر نہ لاوے اگر گورنمنٹ عالیہ میری اس درخواست کو منظور کرے تو میں یقیناً کہتا ہوں کہ چند سال میں تمام قوموں کے کینے دُور ہو جائیں گے اور بجائے بغض محبت پیدا ہوجائے گی ۔ ورنہ کسی دوسرے قانون سے اگرچہ مجرموں سے تمام جیلخانے بھر جائیں مگر اس قانون کا اُن کی اخلاقی حالت پر نہایت ہی کم اثر پڑیگا۔
(٣) تیسرا امر جو قابلِ گزارش ہے یہ ہے کہ میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدیدہ جو برٹش انڈیا کے اکثر مقامات میں پھیل گیا ہے جس کا میں پیشوا اور امام ہوں گورنمنٹ کے لیے ہرگز خطرناک نہیں ہے اور اس کے اُصول ایسے پاک اور صاف اور امن بخش اور صلحکاری کے ہیں کہ تمام اسلام کے موجودہ فرقوں میں اس کی نظیر گورنمنٹ کو نہیں ملے گی ۔ جو ہدایتیں اس فرقہ کے لیے مَیں نے مرتب کی ہیں جن کو میں نے ہاتھ سے لکھ کر اور چھاپ کر ہر ایک مُرید کو دیا ہے کہ اُن کو اپنا دستور العمل رکھے۔ وہ ہدایتیں میرے اُس رسالہ میں مندرج ہیں جو ١٢؍ جنوری ١٨٨٩ء میں چھپ کر عام مُریدوں میں شائع ہوا ہے جس کا نام ’تکمیلِ تبلیغ مع شرائطِ بیعت‘ ہے جس کی ایک کاپی اسی زمانہ میں گورنمنٹ میں بھی بھیجی گئی تھی
١؎ ان شرائط میں سے چند شرطوں کی یہاں نقل کی جاتی ہے ۔ شرط دوم یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بد نظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہیگا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہوگا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔ شرط چہارم یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 195 طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 130 پر درج ہے
حوالہ نمبر 81
١٩٣
ان کتابوں کے دیکھنے کے بعد ہر ایک شخص اس نتیجہ تک پہنچ سکتا ہے کہ جو شخص برابر اٹھارہ برس سے ایسے جوش سے کہ جس سے زیادہ ممکن نہیں گورنمنٹ انگلشیہ کی تائید میں ایسے پُر زور مضمون لکھ رہا ہے اور اُن مضمونوں کو نہ صرف انگریزی عملداری میں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی شائع کر رہا ہے کیا اس کے حق میں یہ گمان ہو سکتا ہے کہ وہ اس گورنمنٹ محسنہ کا خیر خواہ نہیں ؟ گورنمنٹ متوجہ ہو کر سوچے کہ یہ مسلسل کارروائی جو مسلمانوں کو اطاعت گورنمنٹ برطانیہ پر آمادہ کرنے کے لیے برابر اٹھارہ برس سے ہو رہی ہے اور غیر ملکوں کے لوگوں کو بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ ہم کیسے امن اور آزادی سے زیر سایہ گورنمنٹ برطانیہ زندگی بسر کرتے ہیں یہ کارروائی کیوں اور کس غرض سے ہے اور غیر ملک کے لوگوں تک ایسی کتابیں اور ایسے اشتہارات کے پہنچانے سے کیا مدّعا تھا ؟ گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ہزاروں مسلمانوں نے جو مجھے کافر قرار دیا اور مجھے اور میری جماعت کو جو ایک گروہ کثیر پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہے ہر ایک طور کی بد گوئی اور بد اندیشی سے ایذاء دینا اپنا فرض سمجھا ۔ اس تکفیر اور ایذا کا ایک مخفی سبب یہ ہے کہ ان نادان مسلمانوں کے پوشیدہ خیالات کے برخلاف دل و جان سے گورنمنٹ انگلشیہ کی شکر گزاری کے لیے ہزارہا اشتہارات شائع کئے گئے اور ایسی کتابیں بلاد عرب و شام وغیرہ تک پہنچائی گئیں ؟ یہ باتیں بے ثبوت نہیں ۔ اگر گورنمنٹ توجہ فرماوے تو نہایت بدیہی ثبوت میرے پاس ہیں ۔ میں زور سے کہتا ہوں اور میں دعویٰ سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اوّل درجہ کا وفادار اور جان نثار یہی نیا فرقہ ہے جس کے اصولوں میں سے کوئی اصول گورنمنٹ کے لیے خطرناک نہیں ۔ ہاں اس بات کا بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ میں نے بہت سی مذہبی کتابیں تالیف کر کے عملی طور پر اس بات کو بھی دکھلایا ہے کہ ہم لوگ سکھوں کے عہد میں کیسے مذہبی امور میں مجبور کئے گئے اور فرائض دعوت دین اور تائید اسلام سے روکے گئے تھے اور پھر اس گورنمنٹ محسنہ کے وقت میں کس قدر مذہبی آزادی بھی ہمیں حاصل ہوئی کہ ہم پادریوں کے مقابل پر بھی جو گورنمنٹ کی قوم میں داخل ہیں پورے زور سے اپنی حقانیت کے دلائل پیش کر سکتے ہیں ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایسی کتابوں کی تالیف سے جو پادریوں کے مذہب کے ردّ میں لکھی جاتی ہیں گورنمنٹ کے عادلانہ اصولوں کا اعلیٰ نمونہ لوگوں کو ملتا ہے اور غیر ملکوں کے لوگ خاص کر اسلامی بلاد کے نیک فطرت جب ایسی کتابوں کو دیکھتے ہیں جو ہمارے ملک سے اُن ملکوں میں جاتی ہیں تو اُن کو اس گورنمنٹ سے نہایت اُنس پیدا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ بعض خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ گورنمنٹ در پردہ مسلمان ہے ۔ اور اس طرح پر ہماری قلموں کے ذریعہ سے گورنمنٹ ہزاروں دلوں کو فتح کرتی جاتی ہے ۔ دیسی پادریوں کے نہایت دل آزار حملے اور توہین آمیز کتابیں درحقیقت ایسی تھیں کہ اگر آزادی کے ساتھ اُن کی مدافعت نہ کی جاتی اور ان کے سخت کلمات کے عوض میں کسی قدر معتد بہ سختی استعمال
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 193 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 130 پر درج ہے
حوالہ نمبر 82
١٨٨
(١٨٦)
یہ وہ درخواست ہے جس کا ترجمہ انگریزی بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر بالقابہ روانہ کیا گیا ہے
اُمید رکھتا ہوں کہ اس درخواست کو جو میرے اور میری جماعت کے حالات پر مشتمل ہے غور اور توجہ سے پڑھا جائے
بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ
چونکہ مسلمانوں کا ایک نیا فرقہ جس کا پیشوا اور امام اور پیر یہ راقم ہے پنجاب اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جاتا ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ مہذب اور معزز عہدہ دار اور نیک نام رئیس اور تاجر پنجاب اور ہندوستان کے اس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموماً پنجاب کے شریف مسلمانوں کے نو تعلیم یاب جیسے بی اے اور ایم اے اس فرقہ میں داخل ہیں اور داخل ہورہے ہیں اور یہ ایک گروہ کثیر ہوگیا ہے جو اس ملک میں روز بروز ترقی کر رہا ہے اس لیے مَیں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس فرقہ جدیدہ اور نیز اپنے تمام حالات سے جو اس فرقہ کا پیشوا ہوں حضور لیفٹیننٹ گورنر بہادر کو آگاہ کروں۔ اور یہ ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ یہ ایک معمولی بات ہے کہ ہر ایک فرقہ جو ایک نئی صورت سے پیدا ہوتا ہے گورنمنٹ کو حاجت پڑتی ہے کہ اس کے اندرونی حالات دریافت کرے اور بسا اوقات ایسے نئے فرقہ کے دشمن اور خود غرض جن کی عداوت اور مخالفت ہر ایک نئے فرقہ کے لیے ضروری ہے گورنمنٹ میں خلاف واقعہ خبریں پہنچاتے ہیں اور مفتریانہ مخبریوں سے گورنمنٹ کو پریشانی میں ڈالتے ہیں پس چونکہ گورنمنٹ عالم الغیب نہیں ہے اس لیے ممکن ہے کہ گورنمنٹ عالیہ ایسی مخبریوں کی کثرت کی وجہ سے کسی قدر بدظنی پیدا کرے یا بدظنی کی طرف مائل ہوجائے لہٰذا گورنمنٹ عالیہ کی اطلاع کے لیے چند ضروری امور ذیل میں لکھتا ہوں۔
- (١) سب سے پہلے مَیں یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ مَیں ایک ایسے خاندان میں سے ہوں جس کی نسبت
گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اوّل درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے۔ چنانچہ صاحب چیف کمشنر بہادر پنجاب کی چٹھی نمبری ٧٦ د مورخہ ١٠؍اگست ١٨٥٨ء میں یہ مفصل بیان ہے کہ میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان کیسے سرکار انگریزی کے سچے وفادار اور نیکنام
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 188 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 130 پر درج ہے
حوالہ نمبر 83
٤٦٧
(٢٣٣) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
اشتہار واجب الاظہار
اپنی جماعت کیلئے اور گورنمنٹ عالیہ کی توجہ کے لیے
چونکہ اب مردم شماری کی تقریب پر سرکاری طور پر اس بات کا التزام کیا گیا ہے کہ ہر ایک فرقہ جو دوسرے فرقوں سے اپنے اصولوں کے لحاظ سے امتیاز رکھتا ہے علیحدہ خانہ میں اس کی خانہ پُری کی جائے اور جس نام کو اس فرقہ نے اپنے لیے پسند اور تجویز کیا ہے وہی نام سرکاری کاغذات میں اس کا لکھا جائے ۔ اس لیے ایسے وقت میں قرین مصلحت سمجھا گیا ہے کہ اپنے فرقہ کی نسبت ان دونوں باتوں کو گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں یاد دلایا جائے اور نیز اپنی جماعت کو ہدایت کی جائے کہ وہ مندرجہ ذیل تعلیم کے موافق استفسار کے وقت لکھوائیں ۔ اور جو شخص بیعت کرنے کے لیے مستعد ہے گو ابھی بیعت نہیں کی اس کو بھی چاہیے کہ اس ہدایت کے موافق اپنا نام لکھوائے اور پھر مجھے کسی وقت اپنی بیعت سے اطلاع دیوے ۔
یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے ۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کی اشاعت کے لیے لڑائیاں کی جائیں یا دین کے بغض اور دشمنی کی وجہ سے کسی کو قتل کیا جائے یا کسی اور نوع کی ایذا دی جائے یا کسی انسانی ہمدردی کو حتی کہ بوجہ کسی اجنبیت مذہب کے ترک کیا جائے ۔ یا کسی قسم کی بے رحمی اور تکبر اور لاپرواہی دکھلائی جائے بلکہ جو شخص عام مسلمانوں میں سے ہماری جماعت میں داخل ہو جائے اس کا پہلا فرض یہی ہے کہ جیسا کہ وہ قرآن شریف کے سورہ فاتحہ میں پنجوقت اپنی نماز میں یہ اقرار کرتا ہے کہ خدا ربّ العالمین ہے اور خدا رحمان
مجموعہ اشتہارات طبع جدید جلد دوم صفحہ 467 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 132 پر درج ہے
حوالہ نمبر 84
٢٥٧ بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا۔ اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے۔ (١) اوّل والد مرحوم کے اثر نے (٢) دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے (٣) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔ اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں۔ صرف ایک رنج اور درد و غم ہر وقت مجھے لاحق حال ہے جس کا استغاثہ پیش کرنے کے لیے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ اس ملک کے مولوی مسلمان اور ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دکھ دیتے ہیں۔ میرے قتل کے لیے ان لوگوں نے فتوے دیئے ہیں۔ مجھے کافر اور بے ایمان ٹھہرایا ہے اور بعض ان میں سے حیا اور شرم کو ترک کر کے اس قسم کے اشتہار میرے مقابل پر شائع کرتے ہیں کہ یہ شخص اس وجہ سے بھی کافر ہے کہ اس نے انگریزی سلطنت کو سلطنت روم پر ترجیح دی ہے اور ہمیشہ سلطنت انگریزی کی تعریف کرتا ہے اور ایک باعث یہ بھی ہے کہ یہ لوگ مجھے اس وجہ سے بھی کافر ٹھہراتے ہیں کہ میں نے خدا تعالیٰ کے سچے الہام سے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس خونی مہدی کے آنے سے انکار کیا ہے جس کے یہ لوگ منتظر ہیں۔ بیشک میں اقرار کرتا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کا بڑا نقصان کیا ہے کہ میں نے ایسے خونی مہدی کا آنا سراسر جھوٹ ثابت کر دیا ہے جس کی نسبت ان لوگوں کا خیال تھا کہ وہ آکر بے شمار روپیہ ان کو دے گا مگر میں معذور ہوں۔ قرآن اور حدیث سے یہ بات بپایۂ ثبوت نہیں پہنچتی کہ دنیا میں کوئی ایسا مہدی آئے گا جو زمین کو خون میں غرق کر دے گا۔ پس میں نے ان لوگوں کا بجز اس کے کوئی گناہ نہیں کیا کہ اس خیالی لوٹ مار کے روپیہ سے میں نے ان کو محروم کر دیا ہے میں خدا سے سچا الہام پا کر یہ چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے اخلاق اچھے ہو جائیں اور وحشیانہ عادتیں دور ہو جائیں اور نفسانی جذبات سے اُن کے سینے دھوئے جائیں اور ان میں آہستگی اور سنجیدگی اور حلم اور میانہ روی اور انصاف پسندی پیدا ہو جائے اور یہ اپنی اس گورنمنٹ کی ایسی اطاعت کریں کہ دوسروں کے لیے نمونہ بن جائیں اور یہ ایسے ہو جائیں کہ کوئی بھی فساد کی رگ ان میں باقی نہ رہے۔ چنانچہ کسی قدر یہ مقصود مجھے حاصل بھی ہو گیا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ دس ہزار یا اس سے بھی زیادہ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو میری ان پاک تعلیموں کے دل سے پابند ہیں۔ اور یہ نیا فرقہ محسن گورنمنٹ کے لیے نہایت مبارک فرقہ برٹش انڈیا میں زور سے ترقی کر رہا ہے اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہو جائیں تو میں قسم کھا کر
١؎ میں نے اپنی کسی کتاب میں لکھا تھا کہ میری جماعت تین سو آدمی ہیں، لیکن اب وہ شمار بہت بڑھ گیا ہے کیونکہ زور سے ترقی ہو رہی ہے۔ اب میں یقین رکھتا ہوں کہ میری جماعت کے لوگ دس ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہوں گے۔ اور میری فراست یہ پیشگوئی کرتی ہے کہ تین سال تک ایک لاکھ تک میری اس جماعت کا عدد پہنچے گا۔ منہ
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 357، 358 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 132 پر درج ہے
حوالہ نمبر 84
٢٥٨
کہ سکتا ہوں کہ وہ فرشتے بن جائیں۔ اور اگر وہ اس گورنمنٹ کی سب قوموں سے بڑھ کر خیر خواہ ہو جائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہو جائیں۔ اگر وہ مجھے قبول کر لیں اور مخالفت نہ کریں تو یہ سب کچھ انہیں حاصل ہو گا اور ایک نیکی اور پاکیزگی کی روح ان میں پیدا ہو جائے گی۔ اور جس طرح ایک انسان خوجہ ہو کر گندے شہوات کے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح میری تعلیم سے ان میں تبدیلی پیدا ہو گی مگر مَیں نہیں کہتا کہ گورنمنٹ عالیہ جبرًا اُن کو میری جماعت میں داخل کرے اور نہ مَیں اس وقت یہ استغاثہ کرتا ہوں کہ کیوں وہ ہر وقت میرے قتل کے درپے ہیں اور کیوں میرے قتل کے لیے جھوٹے فتوے شائع کر رہے ہیں۔ اور مَیں جانتا ہوں کہ یہ بد ارادے ان کے عبث ہیں کیونکہ کوئی چیز زمین پر نہیں ہو سکتی جب تک آسمان پر نہ ہووے۔ اور میں ان کی بدی کے عوض میں اُن کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اُن کی آنکھیں کھولے اور وہ خدا اور مخلوق کے حقوق کے شناساء ہو جائیں مگر چونکہ ان لوگوں کی عداوت حد سے بڑھ گئی ہے اس لیے مَیں نے اُن کی اصلاح کے لیے اور ان کی بھلائی کے لیے بلکہ تمام مخلوق کی خیر خواہی کے لیے ایک تجویز سوچی ہے جو ہماری گورنمنٹ کی امن پسند پالیسی کے مناسب حال ہے جس کی تعمیل اس گورنمنٹ عالیہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ محسن گورنمنٹ جس کے احسانات سب سے زیادہ مسلمانوں پر ہیں، ایک یہ احسان کرے کہ اس ہر روزہ تکفیر اور تکذیب اور قتل کے فتوؤں اور منصوبوں کے روکنے کے لیے خود درمیان میں ہو کر یہ ہدایت فرماوے کہ اس تنازعہ کا فیصلہ اس طرح پر ہو کہ مدعی یعنی یہ عاجز جس کو مسیح ہونے کا دعویٰ ہے اور جس کو یہ دعویٰ ہے کہ جس طرح نبیوں سے خدا تعالیٰ ہمکلام ہوتا تھا اسی طرح مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور غیب کے بھید مجھ پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور آسمانی نشان دکھلائے جاتے ہیں۔ یہ مدعی یعنی یہ عاجز گورنمنٹ کے حکم سے ایک سال کے اندر ایک ایسا آسمانی نشان دکھلاوے ایسا نشان جس کا مقابلہ کوئی قوم اور کوئی فرقہ جو زمین پر رہتے ہیں نہ کر سکے اور مسلمانوں کی قومیں یا دوسری قوموں میں سے کوئی ایسا ملہم اور خواب بین اور معجزہ نما پیدا نہ ہو سکے جو اس نشان کے ایک سال کے اندر نظیر پیش کرے اور ایسا ہی ان تمام مسلمانوں بلکہ ہر ایک قوم کے پیشواؤں کو جو ملہم اور خدا کے مقرب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ہدایت اور فرمائش ہو کہ اگر وہ اپنے تئیں سچ پر اور خدا کے مقبول سمجھتے ہیں اور ان میں کوئی ایسا پاک دل ہے جس کو خدا نے ہمکلام ہونے کا شرف بخشا ہے اور الٰہی طاقت کے نمونے اس کو دیئے گئے ہیں تو وہ بھی ایک سال تک کوئی نشان دکھلاویں۔ پھر بعد اس کے اگر ایک سال تک اس عاجز نے ایسا کوئی نشان نہ دکھلایا جو انسانی طاقتوں سے بالاتر اور انسانی ہاتھ کی طولیٰ سے بھی بلند تر ہو یا یہ کہ نشان تو دکھلایا مگر اس قسم کے نشان اور مسلمانوں یا اور قوموں سے بھی ظہور میں آگئے تو یہ سمجھا جائے کہ مَیں خدا کی طرف سے نہیں ہوں اور اس صورت میں مجھ کو کوئی سخت سزا دی جائے گو موت
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 357، 358 طبع جدید، از مرزا قادیانی | حوالہ صفحہ 132 پر درج ہے
حوالہ نمبر 85
روحانی خزائن جلد ١٣ ١٠ کتاب البریہ
گالیاں دیں کہ یہ شخص سلطنت انگریزی کو سلطان روم پر ترجیح دیتا ہے اور رومی سلطنت کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس شخص پر خود قوم اس کی ایسے ایسے خیالات رکھتی ہے اور نہ صرف اختلاف اعتقاد کی وجہ سے بلکہ سرکار انگریزی کی خیرخواہی کے سبب سے بھی ملامتوں کا نشانہ بن رہا ہے کیا اس کی نسبت یہ ظن ہوسکتا ہے کہ وہ سرکار انگریزی کا بدخواہ ہے؟ یہ بات ایک ایسی واضح تھی کہ ایک بڑے سے بڑے دشمن کو بھی جو محمد حسین بٹالوی ہے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے حضور میں اسی مقدمہ ڈاکٹر ہنری کلارک میں اپنی شہادت کے وقت میری نسبت بیان کرنا پڑا کہ یہ سرکار انگریزی کا خیرخواہ اور سلطنت روم کے مخالف ہے۔ اب اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل و جان خیر خواہ ہوں۔ اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ پرچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ میں نے بعض اشخاص کی موت وغیرہ کی نسبت پیش گوئی کی ہے لیکن نہ اپنی طرف سے بلکہ اس وقت اور اس حالت میں کہ جب کہ ان لوگوں نے اپنی رضا و رغبت سے ایسی پیشگوئی کے لئے مجھے تحریری اجازت دی چنانچہ ان کے ہاتھ کی تحریریں اب تک میرے پاس موجود ہیں جن میں سے بعض ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں شامل مثل کی گئی ہیں۔ مگر چونکہ باوجود اجازت دینے کے پھر بھی ڈاکٹر کلارک صاحب نے ان پیشگوئیوں کا ذکر کیا اور اصل واقعات کو چھپایا اس لئے آئندہ ☆
☆ بعض ہمارے مخالف جن کو افترا اور جھوٹ بولنے کی عادت ہے لوگوں کے پاس کہتے ہیں کہ صاحب ڈپٹی کمشنر نے آئندہ پیشگوئیاں کرنے سے منع کر دیا ہے خاص کر ڈرانے والی پیشگوئیوں اور عذاب کی پیشگوئیوں سے سخت ممانعت کی ہے۔ سو واضح رہے کہ یہ باتیں سراسر جھوٹی ہیں ہم کو کوئی ممانعت نہیں ہوئی اور عذابی پیشگوئیوں میں جس طریق کو ہم نے اختیار کیا ہے یعنی رضامندی لینے کے بعد پیشگوئی کرنا اس طریق پر عدالت اور قانون کا کوئی اعتراض نہیں۔ منہ
کتاب البریہ صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 10 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 135 پر درج ہے
حوالہ نمبر 86
١٠٣ ١٧٦ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ٭ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
حُسَیْن کَامِی سَفِیر سُلطَان رُوم
پرچہ اخبار ١٨؍مئی ١٨٩٧ء ناظم الہند لاہور میں جو ایک شیعہ اخبار ہے سفیر مذکور العنوان کا ایک خط چھپا ہے جو بالکل گندہ اور خلاف تہذیب اور انسانیت ہے اور اس خط کے عنوان میں یہ لکھا ہے کہ سفیر صاحب متواتر درخواستوں کے بعد قادیان میں تشریف لے گئے۔ اور پھر متاسف اور مکدر اور ملول خاطر واپس آئے۔ اور پھر یہی ایڈیٹر لکھتا ہے کہ یہ سُنا گیا تھا کہ سفیر صاحب کو اس لیے قادیان بلایا تھا کہ اُن کے ہاتھ پر توبہ کریں کیونکہ وہ نائب حضرت خلیفۃ المسلمین ہیں۔ ان افتراؤں کا بجز اس کے کیا جواب دیں کہ لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَی الْكَاذِبِیْنَ ۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ ہے کہ مجھے دنیا داروں اور منافقوں کی ملاقات سے اس قدر بیزاری اور نفرت ہے جیسا کہ نجاست سے۔ مجھے نہ کچھ سُلطان روم کی طرف حاجت ہے اور نہ اس کے کسی سفیر کی ملاقات کا شوق ہے میرے لیے ایک سلطان کافی ہے جو آسمان اور زمین کا حقیقی بادشاہ ہے۔ اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ قبل اس کے کہ کسی دوسرے کی طرف مجھے حاجت پڑے اس عالم سے گزر جاؤں ۔ آسمان کی بادشاہت کے آگے دنیا کی بادشاہت اِس قدر بھی مرتبہ نہیں رکھتی جیسا کہ آفتاب کے مقابل پر ایک کیڑا مرا ہوا۔ پھر جب کہ ہمارے بادشاہ کے آگے سُلطان رُوم ہیچ ہے تو اس کا سفیر کیا چیز!
میرے نزدیک واجب التعظیم اور واجب الاطاعت اور شکر گزاری کے لائق گورنمنٹ انگریزی ہے جس کے زیر سایہ امن کے ساتھ یہ آسمانی کارروائی میں کر رہا ہوں۔ ترکی سلطنت آجکل تاریکی سے بھری ہوئی ہے اور وہی شامت اعمال بھگت رہی ہے اور ہرگز ممکن نہیں کہ اس کے زیر سایہ رہ کر ہم کسی راستی کو پھیلا سکیں ۔ شاید بہت سے لوگ اس فقرہ سے ناراض ہوں گے مگر یہی حق ہے یہی باتیں ہیں کہ سفیر مذکور کے ساتھ خلوت میں کی گئی تھیں جو سفیر کو بُری معلوم ہوئیں ۔ سفیر مذکور نے خلوت کی ملاقات کے لیے خود التجا کی اور اگرچہ مجھ کو اس کی اوّل ملاقات میں ہی دُنیا پرستی کی بو تو آئی تھی
مجموعہ اشتہارات جلد دوم، صفحہ 103،طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 136 پر درج ہے
حوالہ نمبر 87 ٧٠٨
٢٨٧
جہاں جہاں یہ اشتہار پہنچے وہاں جماعت کے لوگوں کو چاہیئے کہ حسب ضرورت اور حسب مقدرت اس کی اور کاپیاں چھپوا کر تقسیم کریں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ
اپنی تمام جماعت کے لیے ضروری نصیحت
چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں میں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں سے اور کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں جن سے بغاوت کی بو آتی ہے بلکہ مجھے شک ہوتا ہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائے گا۔ اس لیے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے ۔ نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں، جو قریباً ٢٦ برس سے تقریری اور تحریری طور پر اُن کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے ان کی ظل حمایت میں ہمارا فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے زیر سایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔ خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے گورنمنٹ کو اس بات کے لیے چن لیا تاکہ یہ فرقہ احمدیہ اس کے زیر سایہ ہو کر ظالموں کے خونخوار حملوں سے اپنے تئیں بچاوے اور ترقی کرے۔ کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطان روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ ہی میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو نہیں ہرگز نہیں بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے تم سُن چکے ہو کہ کس طرح صاحبزادہ مولوی عبداللطیف جو ریاست کابل کے ایک معزز اور بزرگوار اور نامور رئیس تھے جن کے مرید پچاس ہزار کے قریب تھے وہ جب میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اسی قصور سے کہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف ہو گئے تھے، امیر حبیب اللہ خان نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کرا دیا۔ پس کیا تمہیں کچھ توقع ہے کہ تمہیں اسلامی سلاطین کے ماتحت کوئی خوشحالی میسر آئیگی بلکہ تم تمام اسلامی مخالف علماء کے فتووں کی رو سے واجب القتل ٹھہر چکے ہو۔ سو خدا تعالیٰ کا یہ فضل اور احسان ہے کہ اس
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 708 طبع جدید یہ حوالہ صفحہ 136 پر درج ہے
حوالہ نمبر 88
روحانی خزائن جلد ١٤ ٢١٣ کشف الغطاء
غرض یہ ایسا ثبوت ہے کہ اگر اس کے تمام دلائل یکجائی نظر سے دیکھے جائیں تو ہماری قوم کے غلط کار مولویوں کے خیالات اس سے پاش پاش ہو جاتے ہیں اور امن اور صلح کاری کی مبارک عمارت اپنی چمک دکھلاتی ہے جس سے ضروری طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ کوئی آسمان پر گیا اور نہ وہ لڑنے کے لئے مہدی کے ساتھ شامل ہو کر شور قیامت ڈالے گا بلکہ وہ کشمیر میں اپنے خدا کی رحمت کی گود میں سو گیا۔
اے معزز ناظرین! اب میں نے جو کچھ میرے اصول اور ہدایتیں اور تعلیم تھی سب گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں ظاہر کر دیں میری ہدایتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ صلح کاری اور غریبی سے زندگی بسر کرو اور جس گورنمنٹ کے ہم ماتحت ہیں یعنی گورنمنٹ برطانیہ اس کے سچے خیر خواہ اور تابعدار ہو جاؤ نہ نفاق اور دنیا داری سے ۔ آخر دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا اقبال دن بدن بڑھاوے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم سچے دل سے اس کے تابعدار اور امن پسند انسان ہوں۔ آمین
راقم خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں
٢٧؍دسمبر ١٨٩٨ء
کشف الغطاء صفحہ 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 213 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 137 پر درج ہے
حوالہ نمبر 89
١٤٢
جواب لکھنے اور عیسائی مذہب کی تردید میں کتابیں لکھنے کا اختیار ہے۔
اسلامی غیرت کا تقاضا
میں حلفاً کہتا ہوں کہ جب کوئی ایسی کتاب نظر پڑتی ہے تو دُنیا اور مافیہا ایک مکھی کے برابر نظر نہیں آتی۔ میں پوچھتا ہوں کہ جس کو وقت پر جوش نہیں آتا، کیا وہ مسلمان ٹھہر سکتا ہے۔ کسی کے باپ کو بُرا بھلا کہا جائے، تو وہ مرنے مارنے کو تیار ہو جاتا ہے، لیکن اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جائیں، تو ان کی رگِ حمیت میں جنبش بھی نہ آوے اور پروا بھی نہ کریں۔ یہ کیا ایمان ہے؟ پھر کس منہ سے مر کر خدا کے پاس جائیں گے۔ اگر مسلمانوں کا نمونہ دیکھنا چاہو، تو صحابہ کرامؓ کی جماعت کو دیکھو۔ جنھوں نے اپنے جان و مال کے کسی قسم کے نقصان کی پروا نہیں کی ۔ اللہ اور اُس کے رسولؐ کی رضا کو مقدم کر لیا۔ خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو جانا ہی ایک فعل تھا جو سارا قرآن شریف ان کی تعریف سے بھرا ہوا ہے اور رضی اللہ عنہم کا تمغہ ان کو مل گیا۔ پس جب تک تم اپنے اندر وہ امتیاز ۔ وہ جوشِ حمیتِ اسلام کے لیے محسوس نہ کرو۔ ہرگز اپنے آپ کو کامل نہ سمجھو۔
ہماری جماعت یاد رکھے کہ ہم ہندوستان کو بلحاظ حکومت ہرگز ہرگز دَارُالْحَرْب قرار نہیں دیتے بلکہ اس امن اور برکات کی وجہ سے جو اس حکومت میں ہم کو ملی ہیں اور اس آزادی سے جو اپنے مذہب کے ارکان کی بجا آوری اور اس کی اشاعت کے لیے گورنمنٹ نے ہم کو دے رکھی ہے، ہمارا دل عطر کے شیشہ کی طرح وفاداری اور شکر گزاری کے جوش سے بھرا ہوا ہے، لیکن پادریوں کی وجہ سے ہم اس کو دَارُالْحَرْب قرار دیتے ہیں۔ پادریوں نے چھ کروڑ کے قریب کتابیں اسلام کے خلاف شائع کی ہیں۔ میرے نزدیک وہ لوگ مسلمان نہیں ہیں جو ان حملوں کو دیکھیں اور سنیں اور اپنے ہی ہم وغم میں مبتلا رہیں۔ اس وقت جو کچھ کسی سے ممکن ہو، وہ اسلام کی تائید کے لیے کرے اور اس قلمی جنگ میں اپنی وفاداری دکھاوے، جبکہ خود عادل گورنمنٹ نے ہم کو منع نہیں کیا ہے کہ ہم اپنے مذہب کی تائید اور غیر قوموں کے اعتراضوں کی تردید میں کتابیں شائع کریں، بلکہ پریس، ڈاک خانے اور اشاعت کے دوسرے ذریعوں سے مدد دی ہے، تو ایسے وقت میں خاموش رہنا سخت گناہ ہے۔ ہاں ضرورت ہے اس امر کی کہ جو بات پیش کی جاوے، وہ معقول ہو۔ اس کی غرض دل آزاری نہ ہو۔ جو اسلام کے لیے سینہ بریاں اور چشمِ گریاں نہیں رکھتا، وہ یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ ایسے انسان کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔ اس کو سوچنا چاہیے کہ کس قدر خیالات اپنی کامیابی کے آتے ہیں اور جتنی تدابیر اپنی دنیوی اغراض کے لیے کرتا ہے۔ اسی سوزش اور جلن اور درد دل کے ساتھ کبھی یہ خیال بھی آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر حملے ہو رہے ہیں، میں ان کے دفاع کی بھی سعی کروں؟ اور اگر کچھ اور نہیں ہو سکتا تو کم از کم پُر سوز دل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور دُعا کروں؟ اگر اس قسم کی جلن اور درد دل میں ہو تو ممکن نہیں کہ سچی محبت کے آثار ظاہر نہ ہوں۔ مگر ٹوٹی ہانڈی
ملفوظات جلد اول صفحہ 142، طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 137 پر درج ہے
حوالہ نمبر 90 روحانی خزائن جلد ١١ ٦٨ رسالہ دعوت قوم
﴿٦٨﴾ وجہ سے گورنمنٹ انگریزی میں جھوٹی شکایتیں میری نسبت لکھتے رہے اور اپنی عداوت باطنی کو چھپا کر مخبروں کے لباس میں نیش زنی کرتے رہے اور کر رہے ہیں جیسا کہ شیخ بطالوی عَلَيْهِ مَا يَسْتَحِقُّهُ اگر ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی جناب سے رد شدہ نہ ہوتے تو مجھے دکھ دینے کیلئے مخلوق کی طرف التجا نہ لے جاتے۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ کوئی بات زمین پر نہیں ہو سکتی جب تک کہ آسمان پر نہ ہو جائے اور گورنمنٹ انگریزی میں یہ کوشش کرنا کہ گویا میں مخفی طور پر گورنمنٹ کا بدخواہ ہوں یہ نہایت سفلہ پن کی عداوت ہے۔ یہ گورنمنٹ خدا کی گناہ گار ہوگی اگر میرے جیسے خیر خواہ اور سچے وفادار کو بدخواہ اور باغی تصور کرے۔ میں نے اپنی قلم سے گورنمنٹ کی خیر خواہی میں ابتدا سے آج تک وہ کام کیا ہے جس کی نظیر گورنمنٹ کے ہاتھ میں ایک بھی نہیں ہوگی اور میں نے ہزار ہا روپیہ کے صرف سے کتابیں تالیف کر کے ان میں جابجا اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی چاہیئے اور رعایا ہو کر بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا نہایت درجہ کی بدذاتی ہے اور میں نے ایسی کتابوں کو نہ صرف برٹش انڈیا میں پھیلایا ہے بلکہ عرب اور شام اور مصر اور روم اور افغانستان اور دیگر اسلامی بلاد میں محض للٰہی نیت سے شائع کیا ہے نہ اس خیال سے کہ یہ گورنمنٹ میری تعظیم کرے یا مجھے انعام دے کیونکہ یہ میرا مذہب اور میرا عقیدہ ہے جس کا شائع کرنا میرے پر حق واجب تھا۔
تعجب ہے کہ یہ گورنمنٹ میری کتابوں کو کیوں نہیں دیکھتی اور کیوں ایسی ظالمانہ تحریروں سے ایسے مفسدوں کو منع نہیں کرتی۔ ان ظالم مولویوں کو میں کس سے مثال دوں۔ یہ ان یہودیوں سے مشابہ ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ناحق دکھ دینا شروع کیا اور جب کچھ پیش نہ گئی تو گورنمنٹ روم میں مخبری کی کہ یہ شخص باغی ہے۔ سو میں بار بار اس گورنمنٹ عادلہ کو یاد دلاتا ہوں کہ میری مثال مسیح کی مثال ہے میں اس دنیا کی حکومت اور ریاست کو نہیں چاہتا اور بغاوت کو سخت بدذاتی سمجھتا ہوں میں کسی خونی مسیح کے آنے کا قائل نہیں اور نہ خونی مہدی کا منتظر۔ صلح کاری سے حق کو پھیلانا میرا مقصد ہے۔ اور میں تمام ان باتوں سے بیزار ہوں جو فتنہ کی باتیں ہوں یا جوش دلانے والے منصوبے ہوں۔ گورنمنٹ کو چاہئے کہ بیدار طبعی سے میری حالت کو جانچے اور گورنمنٹ روم کی شتاب کاری سے عبرت پکڑے اور خود غرض مولویوں یا دوسرے لوگوں کی باتوں کو سند نہ سمجھ لیوے کہ میرے اندر کھوٹ نہیں اور میرے لبوں پر نفاق نہیں۔
اب میں پھر اپنے کلام کو اصل مقصد کی طرف رجوع دے کر ان مولوی صاحبوں کا نام ذیل میں درج
انجام آتھم صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 68 ، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 137 پر درج ہے
حوالہ نمبر 91
١٧٢
سے کام نہیں لیتے ورنہ ایسے شریر لوگوں کے شر سے محفوظ رہتے جو ہماری باتوں کو تراش خراش کر افتراء کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
کتاب حقیقۃ الوحی کیلئے قسم
فرمایا :- کتاب حقیقۃ الوحی میں ہم نے تمام قسم کی باتوں کو مختصر طور پر جمع کر دیا ہے اور اس میں قسم دی ہے کہ لوگ کم از کم اول سے آخر تک اس کو پڑھ لیں۔ دوسرے کی قسم کا ٹالنا بھی تقویٰ کے برخلاف ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوسرے کی قسم پوری ہونے دی تھی اور حضرت عیسیٰ نے بھی دوسرے آدمی کی قسم کو پورا کیا تھا۔ غرض ہم ایک نیک کام کے واسطے قسم دیتے ہیں کہ وہ بلاوجہ سنے سمجھے گالیاں نہ دیں اور مخالفت نہ کریں کم از کم ہمارے دلائل کو ایک دفعہ بغور مطالعہ کر لیں خواہ تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھیں۔ پھر انکو معلوم ہو جائے گا کہ حق کس بات میں ہے۔
(بقیہ ڈائری)
طلباء کی سٹرائیک
علیگڑھ کالج کے طالب علم مولوی غلام محمد صاحب نے وہاں کے طلباء کی سٹرائیک اور اپنے استادوں کی مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اس جماعت (فرقہ احمدیہ) کا کوئی لڑکا اس سٹرائیک میں شامل نہیں ہوا، میاں محی الدین ، عبد الغفار خاں وغیرہ سب علیحدہ رہے لیکن عزیز احمد ان طلباء کے ساتھ شریک رہا اور باوجود ہمارے سمجھانے کے باز نہ آیا اور چونکہ بعض اخباروں میں اس قسم کے مضمون نکلے تھے کہ مسیح موعود کا پوتا علیگڑھ کالج میں ہے اس وجہ سے عام طور پر عزیز احمد کا رشتہ حضور کے ساتھ سب کو معلوم ہونے کے سبب وہاں کے اراکین نے اس امر پر تعجب ظاہر کیا کہ عزیز احمد اس مفسدہ میں ایسا حصہ لیتا ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔
عزیز احمد نے اپنے استادوں اور افسروں کی مخالفت میں مفسد طلباء کے ساتھ شمولیت کا جو طریق اختیار کیا ہے یہ ہماری تعلیم اور ہمارے مشورہ کے بالکل مخالف ہے لہٰذا وہ جس دن سے اس بغاوت میں شریک ہے ہماری جماعت سے علیحدہ اور ہماری بیعت سے خارج کیا جاتا ہے ۔ ہم ان لڑکوں پر خوش ہیں جنہوں نے اس موقعہ پر ہماری تعلیم پر عمل کیا، بہت سے لوگ بیعت میں آکر داخل ہوجاتے ہیں لیکن جب وہ شرائط بیعت پر عمل نہیں کرتے تو خود بخود اس سے خارج ہوجاتے ہیں۔ یہی حال عزیز احمد کا تھا۔ اس میں خصوصیت نہ تھی اور یہ امر کہ باز آمدہ
ملفوظات جلد پنجم صفحہ 172، طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 138 پر درج ہے
حوالہ نمبر 92
روحانی خزائن جلد ١٧ ٢٨ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد
اور مجھے خو اور بو اور رنگ اور روپ کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ مسیح کا اوتار کر کے بھیجا ایسا ہی اُس نے حقوق خالق کے تلف کے لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے توحید پھیلانے کے لئے تمام خو اور بو اور رنگ اور روپ اور جامہ محمدی پہنا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اوتار بنا دیا۔ سو میں ان معنوں کر کے عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی۔ مسیح ایک لقب ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا جس کے معنے ہیں خدا کو چھونے والا اور خدائی انعام میں سے کچھ لینے والا۔ اور اس کا خلیفہ اور صدق اور راستبازی کو اختیار کرنے والا۔ اور مہدی ایک لقب ہے جو حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا تھا جس کے معنے ہیں کہ فطرتاً ہدایت یافتہ اور تمام ہدایتوں کا وارث اور اسم ہادی کے پورے عکس کا محل۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت نے اس زمانہ میں ان دونوں لقبوں کا مجھے وارث بنا دیا اور یہ دونوں لقب میرے وجود میں اکٹھے کر دیئے سو میں ان معنوں کے رو سے عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی اور یہ وہ طریق ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں سو مجھے دو بروز عطا ہوئے ہیں بروز عیسیٰ اور بروز محمدؐ۔ غرض میرا وجود ان دونوں نبیوں کے وجود سے بروزی طور پر ایک معجون مرکب ہے۔ عیسیٰ مسیح ہونے کی حیثیت سے میرا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو وحشیانہ حملوں اور خونریزیوں سے روک دوں جیسا کہ حدیثوں میں صریح طور سے وارد ہو چکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔ سو ایسا ہی ہوتا جاتا ہے۔ آج کی تاریخ تک تیس ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے ٭ جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے اُسی روز سے اُس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعاً حرام ہے کیونکہ مسیح آچکا۔ خاص کر میری تعلیم
٭ اگرچہ خاص آدمی جو علم اور فہم سے کافی بہرہ رکھتے ہیں دس ہزار کے قریب ہوں گے مگر ہر ایک قسم کے لوگ جن میں ناخواندہ بھی ہیں تیس ہزار سے کم نہیں ہیں بلکہ شائد زیادہ ہوں۔ منہ
گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ضمیمہ صفحہ 6 ، 7، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 28، 29 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 138 پر درج ہے
حوالہ نمبر 92
روحانی خزائن جلد ١٧ ٢٩ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد
کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ اس کو بننا پڑتا ہے نہ محض نفاق سے اور یہ وہ صلح کاری کا جھنڈا کھڑا کیا گیا ہے کہ اگر ایک لاکھ مولوی بھی چاہتا کہ وحشیانہ جہادوں کے روکنے کے لئے ایسا پُر تاثیر سلسلہ
حوالہ نمبر 93
روحانی خزائن جلد ١٣ ٤٣٠ کتاب البریہ
ہیں اور اس ارادہ اور قصد کی اول وجہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بصیرت بخشی اور اپنے پاس سے مجھے ہدایت فرمائی کہ تا میں ان وحشیانہ خیالات کو سخت نفرت اور بیزاری سے دیکھوں جو بعض نادان ﴿٣﴾ مسلمانوں کے دلوں میں مخفی تھے۔ جن کی وجہ سے وہ نہایت بیوقوفی سے اپنی گورنمنٹ محسنہ کے ساتھ ایسے طور سے صاف دل اور سچے خیر خواہ نہیں ہو سکتے تھے جو صاف دلی اور خیر خواہی کی شرط ہے بلکہ بعض جاہل مُلاّؤں کے ورغلانے کی وجہ سے شرائط اطاعت اور وفاداری کا پورا جوش نہیں رکھتے تھے۔ سو میں نے نہ کسی بناوٹ اور ریا کاری سے بلکہ محض اس اعتقاد کی تحریک سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ہے بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ ان کو گورنمنٹ برطانیہ کی جو درحقیقت ان کی محسن ہے سچی اطاعت اختیار کرنی چاہئیے اور وفاداری کے ساتھ اس کی شکر گزاری کرنی چاہئیے۔ ورنہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہونگے۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے۔ اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہو گئی ۔
اور میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزار ہا روپیہ خرچ کیا گیا مگر با ایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حُکّام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا۔ اور درحقیقت وجود سلطنت انگلشیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکلیفات کے بعد ہم کو ملی ۔ اس لئے ہمارا فرض تھا کہ اس نعمت کا بار بار اظہار کریں۔ ہمارا خاندان سکھوں کے ایام میں ایک سخت عذاب میں تھا اور نہ صرف یہی تھا کہ انہوں نے ظلم سے ہماری ریاست کو تباہ کیا اور ہمارے صدہا دیہات اپنے قبضہ میں کئے بلکہ ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی دینی آزادی کو بھی روک دیا۔ ایک مسلمان کو بانگ نماز پر بھی
کتاب البریہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 340 ، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 140 پر درج ہے
حوالہ نمبر 94
روحانی خزائن جلد ١٣ ٤٠٠ البلاغ ۔ فریادِ درد
فخرِ اسلام ہیں اس خدائے عزّوجلّ کی قسم دیتا ہوں۔ جس کی قسم کو کبھی انبیاء علیہم السلام نے بھی ردّ نہیں کیا کہ اپنی رائے سے جو سراسر دینی ہمدردی پر مشتمل ہو مجھے ضرور ممنون فرمائیں گو کم فرصتی کی وجہ سے دو چار سطر ہی لکھ سکیں لیکن اس تمام مضمون کو پڑھ کر تحریر فرماویں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ جس قدر اسلام کے سچے ہمدرد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھنے والے ہیں وہ ایسی رائے کے لکھنے سے جس میں قوم کی بھلائی اور ہزارہا فتنوں سے نجات ہے دریغ نہیں فرمائیں گے۔ لیکن یادرہے کہ اس رائے میں تین امر کی تشریح ضرور چاہئے۔ (١) اوّل یہ کہ وہ اپنی دانست میں کس کو اس کام کے لئے منتخب کرتے ہیں۔ اور اس بزرگ کا نام کیا ہے اور کہاں کے رہنے والے ہیں۔ (٢) دوم یہ کہ وہ خود اس عظیم الشان کام کے انجام دینے کے لئے کس قدر مدد دینے کو تیار ہیں۔ (٣) سوم یہ کہ یہ رقم کثیر جو اس کام کے لئے جمع ہوگی وہ کہاں اور کس جگہ امانت میں رکھی جائے گی اور وقتاً فوقتاً کس کی اجازت سے خرچ ہوگی۔ یہ تین امر ضروری التفصیل ہیں۔
اس جگہ ایک اور امر قابلِ ذکر ہے اور وہ یہ کہ شاید بعض صاحبوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو کہ ممکن ہے کہ اس کام میں دخل دینا گورنمنٹ عالیہ کے منشاء کے مخالف ہو تو میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ محسنہ جو ہماری جان اور مال کی حفاظت کر رہی ہے اس نے پہلے سے اشتہار دے رکھا ہے کہ وہ کسی کے دینی امور اور دینی تدابیر میں مداخلت نہیں کرے گی جب تک کوئی ایسا کاروبار نہ ہو جس سے بغاوت کی بو آوے۔ ہماری محسن گورنمنٹ برطانیہ کی یہی ایک قابلِ تعریف خصلت ہے جس کے ساتھ ہم تمام دنیا کے مقابل پر فخر کر سکتے ہیں۔ بیشک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیر خواہ ہوں اور ضرورت کے وقت جان فدا کرنے کو بھی طیار ہوں۔ لیکن ہم اس طرح پر بھی غیر قوموں اور غیر ملکوں میں اپنی محسن گورنمنٹ کی نیک نامی پھیلانی چاہتے ہیں کہ کس طرح اس عادل گورنمنٹ نے دینی امور میں ہمیں پوری آزادی دی ہے۔ عملی نمونے ہزاروں کوسوں
البلاغ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 400 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 141 پر درج ہے
حوالہ نمبر 95
روحانی خزائن جلد ١٢ ٢٦٤ تحفہ قیصریہ
﴿١٢﴾ تفصیل سے لکھا کہ کیونکر مسلمانان برٹش انڈیا اس گورنمنٹ برطانیہ کے نیچے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور کیونکر آزادی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر قادر ہیں اور تمام فرائض منصبی بے روک ٹوک بجالاتے ہیں۔ پھر اس مبارک اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔ یہ کتابیں ہزارہا روپیہ کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ یقیناً ہزارہا مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے۔ بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے وہ ایک ایسی سچی مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ اُن کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کیلئے ایک وفادار فوج ہے جن کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔
میں نے اپنی تالیف کردہ کتابوں میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ جو کچھ نادان مولوی تلوار کے ذریعہ سے حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ امر سچے مذہب کیلئے دوسرے رنگ میں گورنمنٹ برطانیہ میں حاصل ہے۔ یعنی ہر ایک شخص بتمام تر آزادی اپنے مذہب کا اثبات اور دوسرے مذہب کا ابطال کر سکتا ہے۔ اور میری رائے میں مسلمانوں کیلئے مذہبی خیالات کے اظہار میں قانونی حد تک وسیع اختیارات ہونے میں بڑی پُرخیر مصلحت ہے کیونکہ وہ اس طور سے اپنی اصل غرض کو پا کر جنگجوئی کی عادات کو جو کتاب اللہ کی غلط فہمی سے بعضوں میں پائی جاتی ہیں بھلا دیں گے۔ وجہ یہ کہ جیسا کہ ایک منشی چیز کا استعمال کرنا دوسری منشی چیز سے فارغ کر دیتا ہے۔ ایسا ہی جب ایک مقصد ایک پہلو سے نکلتا ہے تو دوسرا پہلو خود سست ہو جاتا ہے۔
انہیں اغراض سے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ مذہبی مباحثات کے بارے میں
تحفہ قیصریہ صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 264 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 141 پر درج ہے
حوالہ نمبر 96
١٩٧
بیان کروں گا جاہلوں اور وحشیوں کی جماعت نہیں ہے بلکہ اکثر اُن میں سے اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ اور علوم مروجہ کے حاصل کرنے والے اور سرکاری معزز عہدوں پر سرفراز ہیں اور مَیں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے چال چلن اور ایمانی لحاظ میں بڑی ترقی کی ہے اور مَیں اُمید رکھتا ہوں کہ تجربہ کے وقت سرکار انگریزی ان کو اوّل درجہ کے خیر خواہ پائے گی۔
(٤) چوتھی گذارش یہ ہے کہ جس قدر لوگ میری جماعت میں داخل ہیں اکثر اُن میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدوں پر ممتاز اور یا اس ملک کے نیک نام رئیس اور ان کے خدام اور احباب اور یا تاجر اور یا وکلاء اور یا نو تعلیم یافتہ انگریزی خوان اور یا ایسے نیک نام علماء اور فضلاء اور دیگر شرفاء ہیں جو کسی وقت سرکار انگریزی کی نوکری کر چکے ہیں یا اب نوکری پر ہیں یا اُن کے اقارب اور رشتہ دار اور دوست ہیں جو اپنے بزرگ مخدوموں سے اثر پذیر ہیں اور یا سجادہ نشینان غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیکنامی حاصل کردہ اور موردِ مراحم گورنمنٹ ہیں اور یا وہ لوگ جو میرے اقارب یا خدام میں سے ہیں۔ ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد علماء کی ہے جنہوں نے میری اتباع میں اپنے وعظوں سے ہزاروں دلوں میں گورنمنٹ کے احسانات جما دیئے ہیں۔ اور مَیں مناسب دیکھتا ہوں کہ اُن میں سے اپنے چند مریدوں کے نام بطور نمونہ آپ کے ملاحظہ کے لیے ذیل میں لکھ دوں۔
(٥) میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مُریدین روانہ کرتا ہوں مدعا یہ ہے کہ اگرچہ مَیں ان خدماتِ خاصہ کے لحاظ سے جو مَیں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدقِ دل اور اخلاص اور جوشِ وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لیے کی ہیں عنایت خاص کا مستحق ہوں ، لیکن یہ سب امور گورنمنٹ عالیہ کی توجّہات پر چھوڑ کر بالفعل ضروری استغاثہ یہ ہے کہ مجھے تواتر اس بات کی خبر ملی ہے کہ بعض حاسد بد اندیش جو بوجہ اختلافِ عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کے دشمن ہیں میری نسبت اور میرے دوستوں کی نسبت خلافِ واقعہ امور گورنمنٹ کے معزز حکام تک پہنچاتے ہیں۔ اس لیے اندیشہ ہے کہ اُن کی ہر روز کی مفتریانہ کارروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو کر وہ تمام جانفشانیاں پچاس سالہ میرے والد مرحوم میرزا غلام مرتضیٰ اور میرے حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی جن کا تذکرہ سرکاری چٹھیات اور سرلیپل گرِفن کی کتاب تاریخ رئیسانِ پنجاب میں ہے اور نیز میری قلم کی وہ خدمات جو میرے اٹھارہ سال کی تالیفات سے ظاہر ہیں سب کی سب ضائع اور برباد نہ جائیں اور خدانخواستہ سرکار انگریزی اپنے ایک قدیم وفادار اور خیرخواہ خاندان کی نسبت کوئی مکدرّ خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔ اس بات کا علاج تو غیر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا مُنہ بند کیا جائے کہ جو اختلافِ مذہبی کی وجہ سے یا نفسانی حسد اور بغض اور
مجموعہ اشتہارات جلد دوم ، صفحہ 197 طبع جدید ، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 141 پر درج ہے
حوالہ نمبر 97
٥٥٥
(١٤٩)
قابل توجہ گورنمنٹ از طرف مہتمم کاروبار تجویز تعطیل جمعہ
میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب
چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لیے ایسے تمام مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو در پردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں اور ایک چھپی ہوئی بغاوت کو اپنے دلوں میں رکھ کر اسی اندرونی بیماری کی وجہ سے فرضیت جمعہ سے منکر ہو کر اس کی تعطیل سے گریز کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لیے تجویز کیا گیا کہ تا اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں کہ جو ایسے باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔ اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے آدمی بہت ہی تھوڑے ہیں جو ایسے مفسدانہ عقیدہ کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھتے ہوں لیکن چونکہ اس امتحان کے وقت بڑی آسانی سے ایسے لوگ معلوم ہو سکتے ہیں جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے برخلاف ہیں اس لیے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہانتک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں جو اپنے عقیدہ سے اپنی مفسدانہ حالت کو ثابت کرتے ہیں کیونکہ جمعہ کی تعطیل کی تقریب پر اُن لوگوں کا شناخت کرنا ایسا آسان ہے کہ اس کی مانند ہمارے ہاتھ میں کوئی بھی ذریعہ نہیں۔ وجہ یہ کہ جو ایک ایسا شخص ہو جو اپنی نادانی اور جہالت سے برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتا ہے۔ وہ جمعہ کی فرضیت سے ضرور منکر ہو گا اور اسی علامت سے شناخت کیا جائے گا کہ وہ درحقیقت اس عقیدہ کا آدمی ہے لیکن ہم گورنمنٹ میں با ادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے۔ اور ہم اُمید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی اُن نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔ اور بالفعل یہ نقشے جن میں ایسے لوگوں کے نام مندرج ہیں گورنمنٹ میں نہیں بھیجے جائیں گے۔ صرف اطلاع دہی کے طور پر ان میں سے ایک سادہ نقشہ چھپا ہوا جس پر کوئی نام درج نہیں فقط یہی مضمون درج ہے ہمراہ درخواست بھیجا جاتا ہے اور ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ و نشان یہ ہیں :-
مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 555 تا 557 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 142 پر درج ہے
حوالہ نمبر 97
٥٥٦
نمبر شمار نام معہ لقب و عہدہ سکونت ضلع کیفیت
ہدایت ۔ اگر اس نقشہ کی دستخطوں سے خانہ پوری ہو چکے تو چاہئے کہ اسی طرح کے اور اسی نمونہ کے اور قلمی نقشے بنا کر ان پر جہاں تک ممکن ہو دستخط کرائے جائیں مگر یہ یاد رہے کہ ہر ایک صاحب اپنا نام اور پتہ خوشخط لکھیں کہ تا پڑھنے میں دقت نہ ہو اور ہر ایک نقشہ کے آخر پر کل دستخطوں کی میزان لکھ دیں۔
مطبع ضیاء الاسلام قادیان
( یہ اشتہار ٢٩×٢٠ / ٨ کے چار صفحوں پر معہ نقشہ درج ہے )
مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 555 تا 557 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 142 پر درج ہے
حوالہ نمبر 97
٥٥٧
ان وفادار رعایا کے دستخط اور مواہیر جو حسب تفصیل عرضداشت منسلکہ نقشہ ہذا گورنمنٹ عالیہ انگریزی میں اس بات کے لئے ملتجی ہیں کہ آئندہ کل دفاتر محکمہ جات اور سرکاری مدارس اور کالجوں کے لئے اتوار کے ساتھ جمعہ کی تعطیل بھی دی جائے۔
نمبر شمار نام معہ لقب و عہدہ سکونت ضلع کیفیت
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 555 تا 557 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 142 پر درج ہے
حوالہ نمبر 98 ١٠١ سیرۃ المہدی حصہ سوم
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی سابق کلرک محکمہ ریلوے لاہور نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ ایک سفر میں لاہور اسٹیشن پر اُترے تو ایک مسجد میں جو ایک چبوترے کی شکل میں تھی۔ آرام کے لئے بیٹھ گئے۔ یہ مسجد اس جگہ تھی جہاں اب پلیٹ فارم نمبر ٣ ہے۔ پنڈت لیکھرام وہاں آیا۔ اور اس نے حضرت صاحب کو جھک کر سلام کیا۔ تو حضور نے اس سے منہ پھیر لیا۔ دوسری مرتبہ پھر اس نے اسی طرح کیا۔ پھر بھی آپ نے توجہ نہ فرمائی۔ اس پر بعض خدام نے عرض کیا۔ کہ حضور! پنڈت لیکھرام سلام کے لئے حاضر ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ہمارے سید ومولیٰ محمد مصطفےٰؐ کو گالیاں دینے والے کا ہم سے کیا تعلق ہے؟ اسی طرح وہ سلام کا جواب حاصل کرنے میں ناکام چلا گیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ اسی واقعہ کا ذکر روایت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی روائت نمبر ٢١ میں بھی ہو چکا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم تاجر لاہور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت کی۔ اور دعوت کا اہتمام خاکسار کے سپرد کیا۔ پلاؤ نرم پکا۔ غفلت باورچیوں کی تھی۔ شیخ صاحب کھانا کھلانے کے وقت عذر خواہی کرنے لگے۔ کہ بھائی غلام حسین کی غفلت سے پلاؤ خراب ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ کہ گوشت ۔ چاول ۔ مصالحہ اور گھی سب کچھ اس میں ہے۔ اور میں گلے ہوئے چاولوں کو پسند کرتا ہوں۔ یہ آپ کی ذرہ نوازی کی دلیل ہے۔ کہ غلطی پر بھی خوشی کا اظہار فرمایا۔ ممکن ہے کہ حضور دانے دار پلاؤ کو پسند فرماتے ہوں۔ لیکن خاکسار کو ملامت سے بچانے کے لئے ایسا فرمایا ہو۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے صبح کے قریب جگایا۔ اور فرمایا۔ کہ مجھے ایک خواب آیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا خواب ہے۔ فرمایا۔ میں نے دیکھا ہے کہ میرے تخت پوش کے چاروں طرف رنگ چُنا ہوا ہے۔ میں نے تعبیر پوچھی۔ تو کتاب دیکھ کر فرمایا۔ کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئیگا اس کے بعد میں چار دن یہاں رہا میرے سامنے ایک منی آرڈر آیا جس میں ہزار سے زائد روپیہ تھا
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 102,101 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 144 پر درج ہے
حوالہ نمبر 98
١٠٢
مجھے اصل رقم یاد نہیں۔ جب مجھے خواب سُنائی۔ تو ملاوا مل اور شریپت کو بھی بلا کر سُنائی۔ جب منی آرڈر آیا۔ تو ملاوا مل و شریپت کو بلایا۔ اور فرمایا۔ کہ لو بھئی یہ منی آرڈر آیا ہے جا کر ڈاکخانہ سے لے آؤ۔ ہم نے دیکھا تو منی آرڈر بھیجنے والا کا پتہ اس پر درج نہیں تھا۔ حضرت صاحب کو بھی پتہ نہیں لگا کہ کس نے بھیجا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ آجکل کے قواعد کے رُو سے رقم ارسال کنندہ کو اپنا پتہ درج کرنا ضروری ہوتا ہے ممکن ہے اس زمانہ میں یہ قاعدہ نہ ہو۔ یا مرزا دین محمد صاحب کو پتہ نہ لگا ہو۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ میاں خیرالدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں اپنے گاؤں سیکھواں سے قادیان آیا۔ حضور علیہ السلام کی عادت تھی۔ کہ گرم موسم میں عموماً شام کے وقت مسجد مبارک کے شاہ نشین پر تشریف فرما ہوتے اور حضور کے اصحاب بھی حاضر رہتے۔ اس روز عشاء کی نماز کے بعد آپ شاہ نشین پر تشریف فرما ہوئے۔ میر ناصر نواب صاحب نے قادیان کے بعض گنوار طبقہ کی بیعت کا ذکر کیا۔ اور کہا کہ یہ لوگ حضرت صاحب سے کوئی خاص تعلق پیدا نہیں کرتے مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے میر صاحب موصوف کے کلام کے جواب میں کہا۔ کہ دیہاتی لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ اسی اثنا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توجہ ہوگئی ۔ تو آپ نے فرمایا ۔ کہ کیا بات ہے مولوی صاحبؓ نے میر صاحب اور ان کی گفتگو کا تذکرہ کر دیا۔ اس پر حضرت صاحب نے مولوی عبدالکریم صاحب کی تائید فرمائی اور فرمایا کہ میر صاحب دیہات کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ میں اس وقت مجلس میں اپنی کمزوریوں کو یاد کر کے اور یہ خیال کر کے کہ میں بھی دیہاتی ہوں مغموم و محزون بیٹھا ہوا تھا لیکن اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ میاں جمال الدین و میاں امام الدین و میاں خیر دین تو ایسے نہیں ہیں جب حضور نے ہم تین بھائیوں کو عام دیہاتیوں سے مستثنیٰ کر دیا۔ تو میرے تمام ہموم دور ہو گئے۔ اور میرا دل خوشی سے بھر گیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ آنحضرت صلعم کے زمانہ میں بھی اعراب لوگوں کا ایمان اسی طرح کا ہوتا تھا۔ مگر ان سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوتے ہیں جو نبی کی صحبت سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ اور خدا کے فضل سے ہماری جماعت کے اکثر دیہاتی نہایت مخلص ہیں۔ دراصل ایمان کی پختگی کا مدار شہری یا دیہاتی ہونے پر نہیں بلکہ صحبت اور استفاضہ اور پھر علم و عرفان پر ہے لیکن چونکہ نبی سے دُور رہنے والے
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 102,101 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 144 پر درج ہے
حوالہ نمبر 99
٥٥١
(١٤٨)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
درخواست بحضور نواب گورنر جنرل وائسرائے کشور ہند بالقابہ
بمراد منظوری تعطیل جمعہ
یہ عرضداشت مسلمانان برٹش انڈیا کی طرف سے جن کے نام ذیل میں درج ہیں بحضور جناب گورنر جنرل ہند دام اقبالہ اس غرض سے بھیجی گئی ہے کہ تا گورنمنٹ عالیہ معروضات ذیل پر توجہ فرما کر تمام برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے لیے جمعہ کی تعطیل منظور فرمادے۔ وجوہات عرضداشت یہ ہیں۔
- (١) اول یہ کہ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے مذہبی عبادات اور دینی فرائض کے ادا کرنے کے لحاظ سے
بعینہ ایسا ہے جیسا کہ اتوار عیسائیوں اور ہندوؤں کے لیے۔ پس چونکہ گورنمنٹ عالیہ نے عیسائیوں اور ہندوؤں کی بجا آوری رسوم عبادت وغیرہ کے لیے اتوار کی تعطیل مقرر کر رکھی ہے تو اس صورت میں یہ گروہ کثیر مسلمانوں کا جو گورنمنٹ کے لطف اور احسان کا ایسا ہی امیدوار ہے جیسا کہ عیسائی اور ہندو گروہ یہ حق رکھتا ہے کہ گورنمنٹ عالیہ ان کے لیے بھی جمعہ کے دن کی تعطیل عطا فرمادے۔
- (٢) دوسرے یہ کہ صرف یہی بات نہیں کہ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے بعض خاص عبادات اور رسوم
کی بجا آوری کے لیے مقرر ہے۔ بلکہ اس کے ترک کرنے کی حالت میں قرآن شریف اور احادیث میں سخت وعید ہے۔ لہٰذا مذہبی حیثیت سے جمعہ ترک کرنے میں ہر ایک مسلمان دیندار اپنے تئیں ایک گناہ عظیم کا مرتکب خیال کرتا ہے اور ہر ایک بڑے جوش سے اس بات کا خواہاں ہے کہ سرکار انگریزی ضرور یہ تعطیل برٹش انڈیا میں منظور فرمادے۔
- (٣) تیسرے یہ کہ تمام نیک دل اور پاک طبع مسلمان جو گورنمنٹ عالیہ کے سچے خیرخواہ ہیں التزام
جمعہ کی رسم کو اس محسن گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی اور دلی وفاداری کے لیے ایک علامت ٹھہراتے ہیں۔
مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 552, 551 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 145 پر درج ہے
حوالہ نمبر 99
٥٥٢
مگر بعض دوسرے نالائق نام کے مسلمان جن کی تعداد قلیل ہے اس ملک برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دے کر اپنے خود تراشیدہ خیالات کے رو سے جمعہ کی فرضیت سے منکر ہیں۔ کیونکہ ان کا گمان ہے کہ برٹش انڈیا دارالحرب ہے اور دارالحرب میں جمعہ فرض نہیں رہتا۔ پس کچھ شک نہیں کہ جمعہ کی تعطیل سے ایسے بدباطن کمال صفائی سے شناخت کئے جائیں گے۔ کیونکہ اگر باوجود تعطیل کے پھر بھی وہ جمعہ کی نمازوں میں حاضر نہ ہوئے تو یہ بات کھل جائے گی کہ درحقیقت وہ نالائق اس گورنمنٹ کے ملک کو دارالحرب ہی قرار دیتے ہیں تبھی تو جمعہ کی پابندی سے عمداً گریز کرتے ہیں۔ سو اس صورت میں یہ مبارک دن نہ صرف مسلمانوں کی عبادات خاصہ کا ایک دن ہوگا بلکہ گورنمنٹ کے لیے بھی ایک سچے مخبر کا کام دے گا اور ایک معیار کی طرح کھرے اور کھوٹے میں فرق کر کے دکھلاتا رہے گا۔ چنانچہ اس درخواست پر بھی صرف انہیں سچے خیرخواہوں کے دستخط درج ہیں جو اس ملک کو دارالحرب قرار نہیں دیتے۔ اور دلی سچائی سے گورنمنٹ کی حکومت کو قبول کر لیا ہے اور اپنے لیے سراسر برکت اور رحمت سمجھا ہے اور کچھ شک نہیں کہ جمعہ کی تعطیل سے ایسے لوگ جو غلطیوں میں پڑے ہوئے ہیں اثر پذیر بھی ہوں گے اور گورنمنٹ کے دلی خیرخواہ بہت ترقی پذیر ہوں گے اور بدباطن تارک الجمعہ بڑی آسانی سے شناخت کئے جائیں گے یہ بات دوبارہ گورنمنٹ کو یاد دلائی جاتی ہے کہ ایک جمعہ ہی مسلمانوں میں اس بات کی علامت ہے کہ کون شخص اس ملک گورنمنٹ کو دارالحرب قرار دیتا ہے اور کون اس کی نفی کرتا ہے۔ سو جو شخص گورنمنٹ برطانیہ کی رعیت ہو کر جمعہ کی فرضیت کا قائل ہے اور اس کا ترک کرنا معصیت سمجھتا ہے وہ ہرگز اس ملک کو دارالحرب قرار نہیں دے گا اور سچے دل سے گورنمنٹ کا خیرخواہ ہوگا لیکن جو شخص برٹش انڈیا میں جمعہ کی فرضیت کا منکر ہے وہ درپردہ اس ملک کو دارالحرب قرار دیتا ہے اور سچا خیرخواہ نہیں۔ سو جمعہ ان دونوں فریقوں کے پرکھنے کے لیے ایک معیار ہے۔
(٤) چوتھے یہ کہ اسلامی تعطیلیں ہندوؤں کی تعطیلوں سے نصف سے بھی کم ہیں پس اس صورت میں بھی گورنمنٹ کے مراحم خسروانہ کا یہی تقاضا ہونا چاہیئے کہ جمعہ کی تعطیل کرنے سے اس نقصان کا جبر کرے۔
(٥) پانچویں یہ کہ چونکہ جمعہ کی تعطیل ہم مسلمانوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس لیے ہم یہ بھی با ادب التماس کرتے ہیں کہ اگر ہماری محسن گورنمنٹ اتوار کی تعطیل کو ہمارے لیے موقوف رکھ کر اس کی عوض ہمیں صرف جمعہ کی تعطیل دے دے تو ہم تب بھی بصدق دل راضی ہیں۔ مگر بہر حال ہم رعایا کی درخواست یہی ہے کہ جمعہ کی تعطیل ہو۔
(٦) چھٹے یہ کہ ہماری مہربان گورنمنٹ کو اس بات کا خوب علم ہے کہ تمام اسلامی سلطنتیں اور ریاستیں
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 552, 551 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 145 پر درج ہے
حوالہ نمبر 100 ٥٥٣
قدیم سے جمعہ کی تعطیل کرتے ہیں۔ سلطنت روم میں جمعہ کی تعطیل ہے اور حیدر آباد کی ریاست وغیرہ میں بھی جمعہ کی تعطیل ہی مقرر ہے تو اس صورت میں گورنمنٹ کے احسانات پر ہمیں یہی توقع ہے کہ ہم اس فیاض گورنمنٹ کی رعایا ہو کر پھر ایسے بدقسمت نہ ٹھہریں کہ دوسرے مسلمانوں کی یہ خوش قسمتی دیکھ کر کہ وہ دوسری ریاستوں میں اس عظیم الشان مذہبی دن کی تعطیل سے مذہبی فرائض کو بخوبی بجالاتے ہیں آتشِ رشک میں جلا کریں چونکہ ہم سچے دل سے گورنمنٹ کے اور گورنمنٹ ہماری ہے اور دائمی تعلقات اور بقاء دولت گورنمنٹ کے لیے سچے دل سے دعا کرتے ہیں تو کیا ہم گوارا کرسکتے ہیں کہ ہمیشہ اور ہر زمانہ میں یہ ارمان ہمارے دل میں رہ جائے کہ کیوں ہمارے لیے وہ بات حاصل نہیں جو دوسری ریاستوں کی رعایا کو حاصل ہے۔ یہ بھی عاجزانہ عرض ہے کہ ہم رعایا نے اب تک گورنمنٹ میں اس بات کی کبھی تحریک نہیں کی کیونکہ یہی رعیتانہ ادب کا تقاضا دیکھا کہ صبر اور آہستگی سے اس درخواست کو پیش کریں۔ سو اب بڑی امید کے ساتھ پیش کی گئی۔
- (٧) ساتویں یہ بات بھی گورنمنٹ عالیہ میں عرض کر دینے کے لائق ہے کہ یہ روزِ جمعہ جس کی تعطیل
کے لیے ہم مسلمان رعایا یہ عرضداشت بھیجتے ہیں، اگرچہ بہت اہم کام اس میں عبادات کا خاص طور پر ادا کرنا اور اسلامی ہدایات کو اپنے علماء سے سننا ہے، لیکن اور کئی رسوم مذہبی بھی اسی دن میں ادا ہوتی ہیں۔ اور خدا نے ہمیں قرآن میں اس دن کے التزام کی اس قدر تاکید کی ہے کہ خاص اسی کے التزام کے لیے ایک سورت قرآن میں ہے جس کا نام سورۃ الجمعہ ہے اور حکم ہے کہ سب کام چھوڑ کر جمعہ کے لیے مسجدوں میں حاضر ہو جاؤ۔ سو ہر ایک دیندار کو یہی قسم ہے کہ ہم ہمیشہ کے لیے خدا کے نافرمان نہ ٹھہریں۔
- (٨) آٹھویں یہ کہ اسلامی سلطنت کے زمانہ میں ہمیشہ اس ملک میں جمعہ کی ہی تعطیل ہوتی تھی۔
- (٩) ہم رعایا کی یہ بھی تمنا ہے کہ جس طرح اسلامی ریاستوں میں ان سلاطین کا شکر کے ساتھ خطبہ
میں ذکر ہوتا ہے جو مذہبی امور میں قرآن کے منشا کے موافق مسلمانوں کو آزادی دیتے ہیں، ہم بھی جمعہ کی تعطیل کے شکریہ میں اور بلاد کے مسلمانوں کی طرح یہ دائمی شکر جمعہ کے منبروں پر اپنا وظیفہ کریں کہ سرکار انگریزی نے علاوہ اور مراحم اور الطاف کے ہم پر یہ بھی عنایت کی نظر کی جو ہمارے دینی عظیم الشان دن کو جو مدت سے اس ملک برٹش انڈیا میں مردہ کی طرح پڑا تھا پھر نئے سرے سے زندہ کر دیا۔ سو بلاشبہ یہ ایسا احسان ہوگا کہ مسلمانوں کی ذریت کبھی اس کو فراموش نہیں کرے گی اور اسلامی تاریخ میں ہمیشہ عزت کے ساتھ یہ شکر ادا کیا جائے گا۔
بالآخر ہم رعایا کی دعا ہے کہ ہماری گورنمنٹ کو خدا تعالیٰ ہمارے سروں پر رکھے اور ہماری اس
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 553 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 146 پر درج ہے
حوالہ نمبر 101
٣٦٢
٢١٩
اپنی جماعت کیلئے
ایک ضروری اشتہار
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ٭ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
چونکہ مسلمانان ہند پر علی العموم اور مسلمانان پنجاب پر بالخصوص گورنمنٹ برطانیہ کے بڑے بڑے احسانات ہیں۔ لہٰذا مسلمان اپنی اس مہربان گورنمنٹ کا جس قدر شکریہ ادا کریں اُتنا ہی تھوڑا ہے کیونکہ مسلمانوں کو ابھی تک وہ زمانہ نہیں بھولا جبکہ وہ سکھوں کی قوم کے ہاتھوں ایک دہکتے ہوئے تنور میں مبتلا تھے اور ان کے دستِ تعدی سے نہ صرف مسلمانوں کی دُنیا ہی تباہ تھی بلکہ ان کے دین کی حالت اس سے بھی بدتر تھی۔ دینی فرائض کا ادا کرنا تو درکنار بعض اذان نماز کہنے پر جان سے مارے جاتے تھے۔ اسی حالتِ زار میں اللہ تعالیٰ نے دُور سے اس مبارک گورنمنٹ کو ہماری نجات کے لیے ابرِ رحمت کی طرح بھیج دیا جس نے ان کو نہ صرف اُن ظالموں کے پنجہ سے بچایا بلکہ ہر طرح کا امن قائم کر کے ہر قسم کے سامانِ آسائش مہیا کئے اور مذہبی آزادی یہاں تک دی کہ ہم بلا دریغ اپنے دینِ متین کی اشاعت نہایت خوش اسلوبی سے کر سکتے ہیں۔
ہم نے عید الفطر کے موقع پر اس مضمون پر مفصل تقریر کی تھی جس کی مختصر کیفیت تو انگریزی اخباروں میں جا چکی ہے اور باقی مفصل کیفیت عنقریب مرزا خدا بخش صاحب شائع کرنے والے ہیں۔ ہم نے اس مبارک عید کے موقع پر گورنمنٹ کے احسانات کا ذکر کر کے اپنی جماعت کو جو اس گورنمنٹ سے دلی اخلاص رکھتی اور دیگر لوگوں کی طرح منافقانہ زندگی بسر کرنا گناہ عظیم سمجھتی ہے توجہ دلائی کہ سب لوگ تہ دل سے اپنی مہربان گورنمنٹ کے لیے دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس جنگ میں جو ٹرانسوال میں ہو رہی ہے فتحِ عظیم بخشے اور نیز یہ بھی کہا کہ حق اللہ کے بعد اسلام کا اعظم ترین فرض ہمدردیِ خلائق ہے اور بالخصوص ایسی مہربان گورنمنٹ کے خادموں سے ہمدردی کرنا کارِ ثواب ہے جو ہماری جانوں اور مالوں اور سب سے بڑھ کر ہمارے
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 363, 364 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 147 پر درج ہے
حوالہ نمبر 101
٣٦٤
دین کی محافظ ہے۔ اس لیے ہماری جماعت کے لوگ جہاں جہاں ہیں اپنی توفیق اور مقدور کے موافق سرکارِ برطانیہ کے ان زخمیوں کے واسطے جو جنگ ٹرانسوال میں مجروح ہوئے ہیں چندہ دیں۔ لہٰذا بذریعہ اشتہار ہٰذا اپنی جماعت کے لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہر ایک شہر میں فہرست مکمل کر کے اور چندہ کو وصول کر کے یکم مارچ سے پہلے مرزا خدا بخش صاحب کے پاس بمقام قادیان بھیج دیں کیونکہ یہ ڈیوٹی ان کے سپرد کی گئی ہے۔ جب آپ کا روپیہ مع فہرستوں کے آجائے گا تو اس فہرست چندہ کو اس رپورٹ میں درج کیا جائے گا جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ ہماری جماعت اس کام کو ضروری سمجھ کر بہت جلد اس کی تعمیل کرے۔
والسلام
راقـــــــــــــــــــــــــــــــم
مرزا غلام احمد از قادیان
١٠؍ فروری ١٩٠٠ء
مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان
(یہ اشتہار ٢٦x٢٠ کے ایک صفحہ پر ہے)
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 363, 364 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 147 پر درج ہے
حوالہ نمبر 102
176
میں بالکل ناممکن تھا۔ جس سے عیاں ہے کہ اس علام الغیوب قادر خدا نے اسی زمانہ کیلئے ظہور مہدی و مسیح کا وقت مقرر کیا ہوا تھا۔ خدا تعالیٰ کا بڑا شکر کرنا چاہئے کہ ہمارے زمانہ ہی میں ایسے وسائل پیدا کر دئے گئے کہ ہم گنہگاروں کو مسیح ومہدی کی زیارت سے مشرف ہونے کا موقع عطا کیا اور معرفت کی توفیق بخشی ۔ کیا ریل ۔ دخانی جہاز ۔ مذہبی آزادی ۔ ڈاکخانہ ۔ چھاپہ خانہ کاغذات ۔ تار وغیرہ وغیرہ ایسے وسائل نہیں ہیں جنہوں نے ہماری مشکلات کو آسان کر دیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کثرت سے اور ایسے ارزاں پیدا کر دئے گئے ہیں کہ عقلِ انسانی حیرت میں آجاتی ہے ۔
مسیح کے وقت کی سلطنت کیسی ہونی چاہئے تھی
(٣٥) سلطنت عادل کا ہونا۔ کیسی بڑی نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح و مہدی کو ایک ایسی گورنمنٹ کے سایہ میں رکھا ہے جس نے تمام مذہبی آزادی دے رکھی ہے اور مسیح کا آنا ایسی ہی سلطنت کو چاہتا تھا۔ اگر یہ سلطنت نہ آئی ہوتی تو مسیح ہرگز نہیں آسکتا تھا۔ وجہ یہ کہ مسیح کے ظہور کا جو زمانہ بتایا گیا تھا وہ نہایت ہی خطرناک تھا۔ کیونکہ تمام مذاہب میں تفرقہ عظیم کی خبر دی گئی تھی ۔ سُنے کہ علماء و فقراء و فقہاء اسلام کی نسبت مخبر صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرما دیا تھا کہ روئے زمین پر آسمان کے نیچے اُن سے بدتر کوئی مخلوقات نہ ہوگی۔ گویا از روئے مذہب تمام مخلوقات مسخ ہو کر درندوں اور وحشیوں کی طرح ہو گئی ہوگی ۔ اور ہر ایک دوسرے کے مذہب اور اعتقاد پر کھڑا ہوگا تو ایسی حالت میں مسیح کے آنے پر کیونکر ممکن ہو سکتا تھا کہ وہ کسی فرقہ کے اعتقاد کے برخلاف کہے اور وہ اُن کے شر سے محفوظ رہ سکے اِسی واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر بھی دیدی تھی کہ لوگ مسیح پر کفر کے فتویٰ بھی لگائینگے۔ جیسے کہ آثار سے ظاہر ہے ۔ اور اگر بس چلا تو اُس کے قتل کی بھی کوشش کرینگے ۔ چنانچہ قتل کے فتوے بھی دئے گئے اور مقدمات بھی برپا کئے گئے ۔ اور پھر اگر گورنمنٹ بھی کسی خاص مذہب کی حامی یا طرفدار ہوتی جس کے زیر سایہ مسیح کو زندگی بسر کرنا تھی تو مسیح کے لئے مخلوقات کے شر سے بھی گورنمنٹ کا زیادہ خطرے کا مقام تھا۔ کیونکہ گورنمنٹ کے لئے کونسا مشکل امر ہوتا ہے کہ وہ جسکو چاہے پکڑ کر تہ تیغ
عسل مصفیٰ صفحہ 176 تا 179 جلد دوم ، از مرزا خدا بخش قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 148 پر درج ہے
حوالہ نمبر 102
١٧٧
کے آگے اُڑا دے۔ یا جس طرح چاہے ہلاک کر دے + اور یہ تاریخ سے واضح ہے کہ اکثر بادشاہوں نے نبیوں اور ولیوں کو اپنے اعتقاد کے مخالف پا کر ہلاک بھی کیا ہے۔ لہذا اشد ضروری تھا کہ وہ گورنمنٹ جس کے زمانہ میں مسیح کو آنا چاہئے تھا۔ وہ ایسی ہی گورنمنٹ ہونی جیسی کہ موجودہ سرکار برطانیہ ہے جس نے مذہب کی عام آزادی دے رکھی ہے جس طرح کوئی چاہے بے پابندی قانون اپنی تعلیم مذہبی کو پھیلائے۔ اور جس طریق پر چاہے ترویج دے اس کسی خلل امنِ عامہ کا مرتکب نہ ہو پس یہی مبارک گورنمنٹ ہے جس کے عہدِ معدلت مہد میں مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نزول فرما ہوئے۔ کیا ہی مبارک اقدام فرخندہ فرجام ۔ قیصرہ وکٹوریہ تھی جس کے زمانہ کو خدائے قدوس نے ازل ہی سے چن لیا تھا اور یقیناً یقیناً یہی باعث ہے کہ اس ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو تخت پر بیٹھتے ہی اقبال نے ساتھ دیا اور وہ روز افزوں ترقی کرتی گئیں۔ وہ اقبال کیا تھا یہی کہ اُس کے تخت پر بیٹھنے کے ساتھ ہی مسیح موعود کا تولد مسعود ہوا۔ اور جوں جوں اس مبارک قدم مسیح کی عمر میں ترقی ہوتی گئی ۔ اس مبارک نصیب و خوش اقبال ملکہ کو بھی ترقی ہوتی گئی۔ اور جب مسیح علیہ السلام اپنی عمر کے کمال کو پہنچے اور مسیحیت کے عہدہ پر مامور ہوئے تو قیصرہ مبارکہ بھی اپنے اقبال کے انتہائی نقطہ تک پہنچ گئیں۔ اور اب اُس کی سلطنت کا دائرہ اس قدر وسیع ہو گیا ہے کہ ہم بلا دریغ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی سلطنت پر سورج کبھی بھی غروب نہیں ہوتا لہذا اُس مبارکہ کے ہر وارث اس کی اولاد کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا خاص شکریہ ادا کریں کہ ان کو وہ زمانہ عطا کیا گیا جسکو مسیح کے مبارک انفاس نے اُن کے لئے بابرکت اور مایہ فخر و مباہات عظیمہ کر دیا اور گو افسوس ہوا کہ جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ایک بڑی طولِ طویل عمر پا کر اس جہان سے رخصت ہو گئیں اور ان کے بعد ان کا بیٹا ایڈورڈ ہفتم ایک خاصہ عرصہ تک تخت شاہی پر تمکن رہ کر اور امن اور راحت کی زندگی بسر کر کے اس دنیا سے چل بسے اور عنان حکومت ایک لائق اور عقلمند بیٹے کے سپرد کر گئے۔ اگرچہ ایڈورڈ ہفتم کے آخری زمانہ میں بعض حکام اعلیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی قدر نہ کی اور میرا ایمان ہے کہ انہی وجوہات سے ہندوستان کے مختلف صوبوں میں آثارِ تشویش پیدا ہو گئے لیکن بڑا باعث یہی ہے کہ مسیح موعود جو گورنمنٹ برطانیہ کے اقبال کا محافظ تھا وہ اس
٢٣
عسل مصفیٰ صفحہ 176 تا 179 جلد دوم، از مرزا خدا بخش قادیانی یہ حوالہ صفحہ 148 پر درج ہے
حوالہ نمبر 102
١٧٨
دنیا سے اُسکے آخری زمانہ ہی میں رحلت فرما گئے اور اب موجودہ بادشاہ کو پریشانی کا منہ دیکھنا پڑا میٹیریلسٹ خواہ کچھ ہی کہیں ہم سمجھتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کی زندگی میں ملکہ معظمہ وکٹوریہ کا اقبال روز افزوں ترقی کرتا گیا اور اُن کی وفات کے بعد اُن کے بیٹے اور پوتے کو تشویش اُٹھانی پڑی اور ظاہر ہے کہ کوئی علت بغیر معلول کے نہیں ہو سکتی اور کوئی سبب بغیر مسبب کے نہیں آتا۔ پھر کیا وجہ کہ مسیح کی موجودگی میں ترقی ہوتی جائے اور اُس کی وفات کے ساتھ ہی خلل پیدا ہو جائے تو یہ نئے حالات موجودہ بجز اس کے اور کیا سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ سارا معاملہ اُسی بابرکت انسان کی موجودگی اور عدم موجودگی کی وجہ سے ہے اور ہماری جماعت کو یعنے اُن لوگوں کو جو خدا کے مرسل خدا کے فرستادہ۔ خدا کے دست پروردہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے جانشین۔ ہمارے رسول اللہ کے ظلے یعنے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سچا تسلیم کر کے اُن پر ایمان لاچکے ہیں۔ اس مبارک ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور اُن کے جانشین سے دلی خلوص اور محبت سے پیش آویں اور صدق دل سے ہر وقت اُن کی وفاداری کا دم بھریں اور اُن کے روز افزوں اقبال کے لئے دعا کریں۔ کیونکہ خود خداوند قادر مطلق نے اس قیصرہ کو مسیح کے زمانہ میں ملکہ ہونے کے لئے روز ازل سے چُن لیا تھا یعنے یوں کہنا چاہئے کہ امن کے شاہزادے مسیح اور اس مبارک امن پسند قیصرہ کا ایک ہی زمانہ میں لازم وملزوم ہونا ضروری تھا۔ ورنہ جب نظرِ غور سے دیکھتے ہیں تو کہیں بھی امن کی جگہ نظر نہیں آتی کیا ہمارا مسیح روس میں امن اور عافیت کے ساتھ ایسی تبلیغ کر سکتا تھا۔ ہرگز نہیں۔ کیا روم میں سلطان عبدالحمید جیسے بااقبال اور باخبر متدین اور پاکباز بادشاہ کے زیر حکومت اس عظیم الشان طور سے حق تبلیغ ادا کر سکتا تھا۔ ہرگز نہیں کیا اگر سلطان اپنی نیک نیتی سے اُسکو اپنے حدود سلطنت میں جگہ بھی دینے کا ارادہ کرتا تو خود اُس سلطان کو بھی قتل کئے بغیر لوگ نہ رہتے کیا بیت اللہ جیسے پر امن مقام میں اس آزادی سے مراسم تبلیغ بجا لا سکتے تھے۔ ہرگز نہیں بلکہ ایک ہی دن میں خاتمہ کر دیا جاتا۔ بنا بر آن نہایت ضروری بلکہ اشد ضروری تھا کہ قیصرہ مبارکہ کا مبارک زمانہ ہی ہوتا کہ جس میں مسیح کا نزول ہوتا۔ والحمد للہ کہ ایسا ہی ہوا۔ اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند تجھ کو مبارک ہو۔ تو کتنی ہی خوش نصیب تھی کہ مسیح کی روح نے تیرے زمانہ میں تیری ہی سلطنت کے اندر نزول کے لئے جوش کیا۔ اور وہ تیرے لئے تیرے ہی اقبال
عسل مصفیٰ صفحہ 176 تا 179 جلد دوم، از مرزا خدا بخش قادیانی یہ حوالہ صفحہ 148 پر درج ہے
حوالہ نمبر 102
١٧٩
کا زیور ہوا تجھ کو اور تیری اولاد کو خاص اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرنا چاہئے۔ یہ کل اقبال اس فانی فی اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے انفاس طیبات کی برکت کا نتیجہ ہے کہ تُو دُنیا کے سلاطین سے سبقت لے گئی تجھ کو چاہئے کہ تو اُس مبارک قدم انسان کی قدر کرے اور اس کی خاص حمایت میں سعی کرے۔ کیا تجھ کو حال ہی میں تجربہ نہیں ہوا۔ کہ ٹرنسوال میں جب شکست پر شکست تیری افواج کو ہو رہی تھی تو اِس خدا کے فرستادہ نے اپنی جماعت کے لوگوں کو قادیاں میں طلب کیا اور عید کے روز ایک وسیع میدان میں کھڑے ہو کر تیری فوجوں کی فتح کے لئے دُعا کی پس ادھر دعا کا ہونا تھا اُدھر لارڈ رابرٹس بہادر کو فتوحات پر فتوحات ہونی شروع ہو گئیں۔ یہ رابرٹس کی کوئی ذاتی لیاقت و بہادری کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ صرف اِسی مرد خدا کی دعا کا اثر ہے۔ کہ بندوقوں اور توپوں سے زیادہ اثر کر گئی۔ ورنہ یہی بندوقیں تھیں۔ اور یہی توپیں تھیں اور یہی آدمی تھے جو ایک مدت سے بے اثر اور بیکار ثابت ہو چکے تھے۔ بتاؤ وہ کیوں غیر موثر ہو رہے تھے اِس لئے کہ خدا تعالیٰ نے ایک نشان دکھلانا تھا۔ اور وہ بالآخر دعا کے بعد ظاہر ہوا۔ کون ہے جو کہ اُس کا انکار کر سکتا ہے۔ اب بھی گورنمنٹ کو چاہئے کہ اس کے جانشین کی قدر کرے تاکہ وہ اُس کے اقبال کے لئے دعا کرے تاکہ وہ تمام آفات زمانہ سے محفوظ رہے +
(٣٦) انکارِ فارسی النسل ہونا۔ کیونکہ آخری زمانہ میں فارسیوں ہی کے لئے بشارت دی گئی ہے۔ اور کسی کے لئے نہیں دیگئی۔ چنانچہ جب آیت وَاخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ نازل ہوئی تو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دریافت کیا کہ وہ کون لوگ ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ وہ لوگ اس کی قوم میں سے ہونگے۔ ایسا ہی آیت وَیَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ میں بھی سلمان فارسی کو پیش کر کے فرمایا کہ وہ قوم اس شخص کی قوم ہو گی اور یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا لَسْلُبَنَّ الْمُلْكَ مِنْ قُرَیْشٍ یعنے اُس زمانہ میں قریش کے ملک کا خاتمہ ہو جائیگا۔ اور یہ نصیب اہلِ فارس کو مقدر ہے۔ اِسی واسطے مخبر صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اَعْظَمُ النَّاسِ نَصِیْبًا فِی الْاِسْلَامِ اَھْلُ فَارِسَ رَوَاهُ الْحَاکِمُ فِیْ تَارِیْخِہٖ وَالدَّیْلَمِیُّ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَةٍ یعنے حاکم نے اپنی تاریخ اور دیلمی نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ اسلام میں بڑے
یہ حوالہ صفحہ 148 پر درج ہے
عسل مصفی صفحہ 176 تا 179 جلد دوم، از مرزا خدا بخش قادیانی
حوالہ نمبر 103
اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ عَسیٰ اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا
قادیان روزنامہ الفضل ایڈیٹر: غلام نبی The ALFAZL QADIAN. درگاہ عالیہ قادیان Registered No. L. 303 قیمت سالانہ قادیان و ہند قیمت ششماہی بیرون ہند جلد ٢٢ | مورخہ ٣ محرم ١٣٥٤ھ مطابق ٧ اپریل ١٩٣٥ء | نمبر ١٣٣
ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
کامیاب وہی ہوتے ہیں جو عنداللہ متقی ہوں
(فرمودہ ١٨؍ اپریل ١٩٠٣ء)
اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ دُوسروں کی نظر میں نیک اور نمازی وغیرہ ہوتے ہیں مگر ان کا اندر بدیوں اور گناہوں سے بھرا ہوتا ہے دُوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ظاہر و باطن یکساں ہوتا ہے ۔ وہ عند اللہ تقویٰ پر قدم مارنے والے ہوتے ہیں مگر ان دونوں میں سے کامیاب ہونے والے وہی ہوتے ہیں جو عنداللہ متقی اور خدا کی نظر میں نیک ہوتے ہیں اور ان پر خدا راضی ہوتا ہے صرف ظاہری کاروائی کام نہیں آ سکتی ۔
اس وقت دو قوموں کا آپس میں مقابلہ ہے۔ ایک تو ہمارے مخالف ہیں اور دُوسرے ہماری جماعت۔ اب خدا تعالیٰ دونوں کے دلوں کو دیکھتا اور ان کے اعمال کا جائزہ لیتا جاتا ہے کہ ہماری جماعت میں کیا کیا نیکیاں ہیں اور دُشمن کی جماعت میں کیا کیا ۔ وہ اُن کے کھلے اور چھپے اعمال پر نگاہ رکھتا ہے۔ پس ہر ایک کو چاہیے کہ اپنا حساب خود ٹھیک کرے۔ یہ پہلے تو منھ پر ذکر کرتے وقت لاتے ۔ بندے کو چاہیے کہ دل کے ساتھ اپنے اعمال کا خیال ہو کہ کیا میں عند اللہ متقی اور پرہیز گار ہوں یا صرف ظاہر میں ہی ایسا ہوں ۔ اگر تو... (بقیہ صفحہ ٥ پر)
ہدایت
قادیان ٥؍ اپریل ۔ حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے کل جمعتہ المبارک کے خطبہ میں بعض ضروری نصائح کے بعد موجودہ مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے جماعت کو خصوصیت کے ساتھ اپنی اصلاح کر کے خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کا ارشاد فرمایا :۔
آج نیشنل لیگ قادیان کا ایک خاص اجلاس بوقت ڈیڑھ بجے دوپہر ہائی سکول بلڈنگ میں بصدارت قریشی محمد فاضل صاحب معتمد لیگ منعقد ہوا جس میں انجمن حزب اللہ کے ممبران نے بھی شرکت کی ۔ جلسہ میں لیگ کی حفاظت کے متعلق اور احرار کے فتنہ کے متعلق تقریریں ہوئیں نیز قراردادیں پاس کرائیں۔ مفصل آئندہ :
روزنامہ الفضل قادیان جلد 22، شمارہ 133 بتاریخ 7 اپریل 1935 یہ حوالہ صفحہ 151 پر درج ہے
حوالہ نمبر 103
الفضل بسم الله الرحمن الرحیم
جلد ٢٢ قادیان دارالامان مورخہ ٣ محرم ١٣٥٤ھ نمبر ١٣٣
شہنشاہ معظم کی سلور جوبلی اور جماعت احمدیہ
چنانچہ اس کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے ایک پیغام میں جو ٧ مئی ١٩٣٥ء کو الفضل میں شائع ہوا تحریر فرمایا :
سرکاری طور پر اعلان ہو چکا ہے۔ کہ ٦ مئی ١٩٣٥ء کو کُل ممالکِ محروسہ میں موجودہ حکومت برطانیہ کے شہنشاہ کے تخت نشین ہونے کی تقریب ہے۔ اور چونکہ جماعت احمدیہ ان کو اپنا حکمران تسلیم کرنے میں ہمیشہ فخر محسوس کرتی رہی ہے۔ اس لئے کہ وہ امن پسند اور وفادار اور محبّت رکھنے والی ہے۔ جماعت احمدیہ نے اپنے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفائے کرام کے اسوۂ حسنہ کے ماتحت ہمیشہ حکومت برطانیہ کے ساتھ وفاداری اور سچی خیر خواہی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ خوشی اور مسرت کی اس شاندار تقریب میں بھی جماعت احمدیہ حسبِ استطاعت پوری طرح حصہ لے۔ اور ثابت کرے کہ حکومت کے اس طویل و شاندار دورِ حکومت میں امن پسند اقوام کو کیا ملا ہے۔ پس ہم اپنے موجودہ شہنشاہ کو نہایت عقیدت اور محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور جن کے متعلق شکر گزاری کے لئے جذبات اپنے قلب میں رکھتی ہے۔ ان کو وہ ہر صورت میں پیش کرتی رہی ہے اور اب بھی کرتی ہے
چونکہ جماعت احمدیہ ایک چھوٹی سی اور غریب جماعت ہے اس لئے یہ تو ممکن نہیں کہ مالی لحاظ سے وہ دولت مند اور مقتدر اقوام کا مقابلہ کر سکے۔ لیکن ایک بات ایسی ہے جس میں وہ اپنی خصوصیت قائم رکھ سکتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے ہر احمدی پر لازم ہے کہ وہ اپنے وسعت اور گنجائش کے مطابق غرباء میں صدقہ وخیرات تقسیم کرے۔ جو روپیہ اس تقریب میں جمع کیا جائے وہ نہایت مفید اغراض و مقاصد پر خرچ کیا جائے گا علاوہ بریں ہر احمدی اپنے دل میں شہنشاہ معظم کی طویل العمری اور صحت و تندرستی کے لئے دعا کرے۔ اور ان کا اظہار خوشی کی تقریبات میں حصہ لے کر دے۔ چنانچہ ہم مندرجہ ذیل تجاویز پیش کرتے ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنے فرائض اور واجبات کو کسی حد تک ادا کر سکتے ہیں اور جن سے ہماری خوشی کا اظہار ہوتا ہے :۔
ایک جلسہ منعقد فرمایا۔ مبارک باد کا تار وائسرائے ہند کی وساطت سے ارسال کیا۔ غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلایا اور خوشی کی آخری رات چراغاں بھی کیا گیا۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اسوہ مبارکہ کی پیروی جماعت احمدیہ کے لئے ایک نیا اسوہ ہے کہ وہ اس تقریب میں ہر طرح سے وفاداری اور اخلاص کے اظہار کے ساتھ اپنے جذبات عقیدت کو پورے جوش کے ساتھ ادا کریں۔ پس اس تقریب سعید میں چندہ فراہم کرنے کے لئے جو مقامی فہرستیں کھولی گئی ہیں ۔ ان میں کل احمدیوں کو بڑی فراخدلی سے چندہ دینا چاہئے ۔ تمام احمدیوں کو چاہئے کہ اس میں حصہ لیں۔ اور اپنے استطاعت و اخلاص کے ماتحت اپنے چندے اس فنڈ میں جمع کرائیں۔ البتہ ضلع گورداسپور کے احمدی، چونکہ یہاں کے بعض حکام کا رویہ آج کل احمدیوں کے متعلق افسوسناک رنگ اختیار کئے ہوئے ہے ۔ اپنا چندہ براہ راست ڈپٹی کمشنر یا کسی اور افسر کے پاس جو اس فنڈ کا مجاز ہو جمع کرائیں چونکہ اس تقریب کی مقررہ تاریخ بالکل قریب آچکی ہے اور ضروری ہے کہ ہر احمدی حتی المقدور اس میں حصہ لے اس لئے تمام احمدی جماعتوں کے کارکنوں کو فوری طور پر اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔ اس چندہ میں احمدیوں کی شرکت خاص طور پر اس لئے بھی مناسب اور ضروری ہے کہ اول تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دور میں جشن جوبلی کے موقع پر چندہ دیا۔ اور خوشی منائی۔ دوسرے اس موقع پر جمع شدہ چندہ رفاہِ عام کے نہایت مفید اور ضروری کاموں میں صرف کیا جائے گا۔ پس اظہارِ اخلاص و وفاداری کا یہ ایک عمدہ موقعہ ہے۔ جس میں ضرور شریک ہونا چاہئے
اچھوت اقوام کو کیا کرنا چاہئے
گاندھی جی نے اس وقت تک چونکہ اچھوت اقوام سے صرف زبانی ہمدردی کی ہے۔ اور عملی طور پر ان کے لئے کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اس لئے اچھوت بھی تنگ آ کر ان سے فیصلہ کن بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں چنانچہ منڈلی مہاسبھا اچھوت اقوام نے حال میں ایک کانفرنس منعقد کر کے حسب ذیل قرارداد پاس کی :۔
”مندروں میں داخلہ کے متعلق اسمبلی میں جو مسودہ قانون آیا ہے۔ اس کے ضمن میں مہاتما گاندھی کی روش بڑی افسوسناک، اور مایوس انگیز ہے۔ مہاتما جی سے درخواست کی گئی ہے، کہ وہ زیر بحث مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات سے ہمیں مطلع کریں۔ اور بل کو پاس کرانے کی کوشش کر کے یہ معاملہ (مندروں میں داخلہ کا مسودہ) اسمبلی میں پیش کریں۔ خواہ اس کا نتیجہ کچھ نکلے ۔ اگر گاندھی جی مندروں میں داخلہ کے متعلق اپنے موجودہ خیالات تبدیل نہ کریں۔ تو کانفرنس کا ارادہ ہے کہ ملک کی تمام اچھوت قوموں سے استدعا کی جائے۔ کہ وہ ہندومذہبیت کو قطعاً ترک کر جائیں ۔ یا وزیر اعظم برطانیہ کے فیصلے کے مطابق جداگانہ انتخاب کے لئے اپنی سعی جاری رکھیں۔“
اس کا نہایت مایوس کن جواب گاندھی جی نے اپنے اخبار ہریجن میں یہ دیا ہے کہ مندروں کے دروازے زبردستی کھلوانے کے لئے جو کچھ مناسب سمجھا گیا وہ کر لیا گیا لیکن اچھوت اقوام کو چاہئے کہ اپنے مذہب کو جنہیں نہایت پختہ بے شک یہ درست ہے کہ مذہب کو محض رکاوٹ پیش آنے ہے ۔ اور اچھوت اقوام کی غلطی ہے ۔ کیونکہ گاندھی جی کے نے تو یہ طے کر لیا ہے کہ ان کے لئے مندروں کے دروازے نہ کھول دیئے گئے ۔ تو وہ اپنا مذہب تبدیل کر لیں گے ۔ حالانکہ جب ہندو صدیوں سے ان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کرتے چلے آرہے ہیں۔ اور وہ اپنے دھرم کے دھوکے میں آکر کہ ہندو ان کو انسانیت کا درجہ دیں گے۔ تو پھر ہندووں سے کس طرح کا سلوک کی امید ہے۔ زیادہ سے زیادہ وہ یہ کریں گے کہ مندر بنوا دیں ۔ لیکن اس طرح اچھوتوں کو وہ نہیں مل سکتا جس کے وہ متمنی ہیں ۔ اچھوت اقوام کو چاہئے کہ وہ آئندہ روا داری پر عمل کر کے ان کو دکھا دیں ۔ کہ ان کے لئے چھوت چھات کا دافع وصف ہے ۔ اور وہ یہی ہے ۔ کہ اسلام قبول کریں ۔ اسلام ہر فرد بشر کو انسانیت کے لحاظ سے مساوی قرار دیتا ہے۔ اور اس کے نزدیک ذاتیں بھی جبکہ عام طور پر مسلمان اس کی تعلیم سے ناواقف ہو چکے ہیں۔ ان میں یہ بات پائی جاتی ہے
روزنامہ الفضل قادیان جلد 22 شمارہ 133 بتاریخ 7 اپریل 1935 یہ حوالہ صفحہ 151 پر درج ہے
حوالہ نمبر 104
روحانی خزائن جلد ١٤ ١٨٦ کشف الغطاء
پر زور تحریریں گورنمنٹ انگریزی کی حمایت میں متعصب اور نادان مسلمانوں کے لئے قابل برداشت نہ تھیں اور اب اہل عقل جب ایک طرف دینی حمایت کے مضمون میری تحریروں میں پاتے ہیں اور دوسری طرف میری یہ نصیحتیں سنتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی اور اطاعت کرنی چاہیے تو وہ میرے پر کوئی بدظنی نہیں کر سکتے اور کیونکر کریں یہ ایک واقعی امر ہے کہ مسلمانوں کو خدا اور رسول کا حکم ہے کہ جس گورنمنٹ کے ماتحت ہوں وفاداری سے اس کی اطاعت کریں۔ میں نے اپنی کتابوں میں یہ شرعی احکام مفصل بیان کر دیئے ہیں۔ اب گورنمنٹ غور فرما سکتی ہے کہ جس حالت میں میرا باپ گورنمنٹ کا ایسا سچا خیر خواہ تھا اور میرا بھائی بھی اُسی کے قدم پر چلا تھا اور میں بھی انیس برس سے یہی خدمت اپنی قلم کے ذریعہ سے بجا لاتا ہوں تو پھر میرے حالات کیونکر مشتبہ ہو سکتے ہیں۔ میری تمام جوانی اسی راہ میں گزری اور اب دائم المرض اور پیرانہ سالی کے کنارے پر پہنچ گیا ہوں اور ساٹھ سال کے قریب ہوں۔ وہ شخص سخت ظلم کرتا ہے کہ جو میرے وجود کو گورنمنٹ کے لئے خطرناک ٹھہراتا ہے۔ میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ مذہبی امور کے متعلق بھی میں نے کتابیں تالیف کی ہیں اور نہ مجھے اس سے انکار ہے کہ پادری صاحبوں کے عقائد کے مخالف بھی میری تحریریں شائع ہوئی ہیں جن کو وہ اپنے مذہبی خیالات کے لحاظ سے پسند نہیں کر سکتے۔ لیکن میرے لئے میری نیک نیتی کافی ہے جس کو خدا تعالیٰ جانتا ہے اور میری مخالفت عام مسلمانوں کی طرز مخالفت سے علیحدہ ہے۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ مذہبی امور میں اس قدر غصہ بڑھایا جائے کہ مخالفوں کے حملوں کو قانونی جرائم کے نیچے لا کر گورنمنٹ سے ان کو سزا دلائی جائے یا اُن سے کینہ رکھا جائے بلکہ میرا اصول یہ ہے کہ مذہبی مباحثات میں صبر اور اخلاق سے کام لینا چاہیے۔ اسی وجہ سے جب عام مسلمانوں نے مصنف کتاب امہات المومنین کے سزا دلانے کے لئے انجمن حمایت اسلام کے ذریعہ سے گورنمنٹ میں میموریل بھیجے تو میں نے ان سے اتفاق نہیں کیا بلکہ اُن کے برخلاف میموریل بھیجا اور صاف طور پر لکھا کہ مذہبی امور میں اگر کوئی رنج دہ امر پیش آوے تو اسلام کا اصول عفو
کشف الغطاء صفحہ 11,10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 187,186 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے
حوالہ نمبر 104
روحانی خزائن جلد ١٤
١٨٧
کشف الغطاء
اور درگزر ہے۔ قرآن ہمیں صاف ہدایت کرتا ہے کہ اگر مذہبی گفتگو میں سخت لفظوں سے تمہیں تکلیف دی جائے تو تنگ ظرف لوگوں کی طرح عدالتوں تک مت پہنچو اور صبر اور اخلاق سے کام لو۔ قرآن نے ہمیں صاف کہا ہے کہ عیسائیوں سے محبت اور خلق سے پیش آؤ اور نیکی کرو ہاں نیک نیتی سے اور ہمدردی کی راہ سے اور سچائی کے پھیلانے کی غرض سے اور صلح کی بنا ڈالنے کے ارادے سے مذہبی مباحثات قابل اعتراض نہیں۔
دوسری شاخ جو میرے مشن کے متعلق ہے میری تعلیم ہے۔ میں اپنی تعلیم کو قریباً انیس ١٩ برس سے شائع کر رہا ہوں۔ اور پھر خلاصہ کے طور پر اشتہار ٢٩ مئی ١٨٩٨ء اور نیز ٢٧ فروری ١٨٩٥ء کے اشتہار میں ان تعلیموں کو میں نے شائع کیا ہے اور یہ تمام کتابیں اور اشتہار چھپ کر پنجاب اور ہندوستان میں خوب شہرت پاچکے ہیں۔ اس تعلیم کا خلاصہ یہی ہے کہ خدا کو واحد لاشریک سمجھو اور خدا کے بندوں سے ہمدردی اختیار کرو۔ اور نیک چلن اور نیک خیال انسان بن جاؤ۔ ایسے ہو جاؤ کہ کوئی فساد اور شرارت تمہارے دل کے نزدیک نہ آسکے۔ جھوٹ مت بولو، افترا مت کرو اور زبان اور ہاتھ سے کسی کو ایذا مت دو اور ہر ایک قسم کے گناہ سے بچتے رہو اور نفسانی جذبات سے اپنے تئیں روکے رکھو۔ کوشش کرو کہ تا تم پاک دل اور بے شر ہو جاؤ۔ وہ گورنمنٹ یعنی گورنمنٹ برطانیہ جس کے زیر سایہ تمہارے مال اور آبروئیں اور جانیں محفوظ ہیں بصدق اس کے وفادار تابعدار رہو اور چاہیے کہ تمام انسانوں کی ہمدردی تمہارا اصول ہو۔ اور اپنے ہاتھوں اور اپنی زبانوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک منصوبہ اور فسادانگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاؤ۔ خدا سے ڈرو اور پاک دلی سے اس کی پرستش کرو۔ اور ظلم اور تعدی اور غبن اور ﴿٨﴾ رشوت اور حق تلفی اور بے جا طرفداری سے باز رہو۔ اور بدصحبت سے پرہیز کرو اور آنکھوں کو بدنگاہوں سے بچاؤ اور کانوں کو غیبت سننے سے محفوظ رکھو اور کسی مذہب اور کسی قوم اور کسی گروہ کے آدمی کو بدی اور نقصان رسانی کا ارادہ مت کرو اور ہر ایک کے لئے
کشف الغطاء صفحہ 10, 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 186, 187 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے
حوالہ نمبر 105
٢١٥
١٩٠
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
میموریل
بحضور نواب لفٹیننٹ گورنر صاحب بہادر بالقابہ
یہ میموریل اس غرض سے بھیجا جاتا ہے کہ ایک کتاب اُمّہات المومنین نام ڈاکٹر احمد شاہ صاحب عیسائی کی طرف سے مطبع آر پی مشن پریس گوجرانوالہ میں چھپ کر ماہ اپریل ١٨٩٨ء میں شائع ہوئی تھی اور مصنف نے ٹائٹل پیج کتاب پر لکھا ہے کہ یہ کتاب ابو سعید محمد حسین بٹالوی کی تحدّی اور ہزار روپیہ کے انعام کے وعدہ کے معارضہ میں شائع کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل محرک اس کتاب کی تالیف کا محمد حسین مذکور ہے چونکہ اس کتاب میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن کو کوئی مسلمان سُن کر رنج سے رک نہیں سکتا۔ اس لیے لاہور کی انجمن حمایت اسلام نے اس بارے میں حضور گورنمنٹ میں میموریل روانہ کیا تاکہ گورنمنٹ ایسی تحریر کی نسبت جس طرح مناسب سمجھے کارروائی کرے اور جس طرح چاہے کوئی تدبیر اس عمل میں لائے۔ مگر میں مع اپنی جماعت کثیر اور مع دیگر معزز مسلمانوں کے اس میموریل کا سخت مخالف ہوں۔ اور ہم سب لوگ اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ کیوں اس انجمن کے ممبروں نے محض شتاب کاری سے یہ کارروائی کی۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ کتاب اُمّہات المومنین کے مؤلف نے نہایت دل دُکھانے والے الفاظ سے کام لیا ہے اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ باوجود ایسی سختی اور بدگوئی کے اپنے اعتراضات میں اسلام کی معتبر کتابوں کا حوالہ بھی نہیں دے سکا۔ مگر ہمیں ہرگز نہیں چاہیئے کہ بجائے اس کے کہ ایک خطا کار کو نرمی اور آہستگی سے سمجھاویں اور معقولیت کے ساتھ اس کتاب کا جواب لکھیں یہ حیلہ سوچیں کہ گورنمنٹ اس کتاب کو شائع ہونے سے روک دے تا اس طرح پر ہم فتح پائیں کیونکہ یہ فتح واقعی فتح نہیں ہے بلکہ ایسے حیلوں کی طرف دوڑنا ہمارے عجز اور درماندگی کی نشانی ہوگی اور ایک طور سے ہم جبر سے منہ بند کرنے والے
١؎ انجمن کا ایسے وقت میں میموریل بھیجنا جبکہ ہزار کاپی امہات المومنین کی مسلمانوں میں مفت تقسیم کی گئی اور خدا جانے کتنی ہزار اور قوموں میں شائع کی گئی بیہودہ حرکت ہے کیونکہ اشاعت جس کا بند کرنا مقصود تھا کامل طور پر ہوچکی ہے۔ منہ
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 215 تا 219 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے
حوالہ نمبر 105
٢١٦
ٹھہریں گے۔ اور گو گورنمنٹ اس کتاب کو جلا دے تلف کرے کچھ کرے مگر ہم ہمیشہ کے لیے اس الزام کے نیچے آجائیں گے کہ عاجز آکر گورنمنٹ کی حکومت سے چارہ جوئی چاہی۔ اور وہ کام کیا جو مغلوب الغضب اور جواب سے عاجز آجانے والے لوگ کیا کرتے ہیں۔ ہاں جواب دینے کے بعد ہم ادب کے ساتھ اپنی گورنمنٹ میں التماس کر سکتے ہیں کہ ہر ایک فریق اس پیرایہ کو جو حال میں اختیار کیا جاتا ہے ترک کر کے تہذیب اور ادب اور نرمی سے باہر نہ جائے۔ مذہبی آزادی کا دروازہ کسی حد تک کھلا رہنا ضروری ہے تا مذہبی علوم اور معارف میں لوگ ترقی کریں اور چونکہ اس عالم کے بعد ایک اور عالم بھی ہے جس کے لیے ابھی سے سامان چاہیئے اس لیے ہر ایک حق رکھتا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ ہر ایک مذہب پر بحث کرے اور اس طرح اپنے تئیں اور نیز بنی نوع کو نجات اخروی کے متعلق جہانتک سمجھ سکتا ہے اپنی عقل کے مطابق فائدہ پہنچا دے۔ لہٰذا گورنمنٹ عالیہ میں اس وقت ہماری یہ التماس ہے کہ جو انجمن حمایت اسلام لاہور نے میموریل گورنمنٹ میں اس بارے میں روانہ کیا ہے وہ ہمارے مشورہ اور اجازت سے نہیں لکھا گیا بلکہ چند شتاب کاروں نے جلدی سے یہ جرأت کی ہے جو درحقیقت قابل اعتراض ہے۔ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ ہم تو جواب نہ دیں اور گورنمنٹ ہمارے لیے عیسائی صاحبوں سے کوئی باز پرس کرے یا اُن کتابوں کو تلف کرے بلکہ جب ہماری طرف سے آہستگی اور نرمی کے ساتھ اس کتاب کا ردّ شائع ہو گا تو خود وہ کتاب اپنی قبولیت اور وقعت سے گر جائے گی اور اس طرح پر وہ خود تلف ہو جائے گی۔ اس لیے ہم با ادب ملتمس ہیں کہ اس میموریل کی طرف جو انجمن مذکور کی طرف سے بھیجا گیا ہے گورنمنٹ عالیہ ابھی کچھ توجہ نہ فرمائے کیونکہ اگر ہم گورنمنٹ عالیہ سے یہ فائدہ اٹھاویں کہ وہ کتابیں تلف کی جائیں یا اور کوئی انتظام ہو تو اس کے ساتھ ایک نقصان بھی ہمیں اٹھانا پڑتا ہے۔ کہ ہم اس صورت میں دین اسلام کو ایک عاجز اور فروماندہ دین قرار دیں گے کہ جو معقولیت سے حملہ کرنے والوں کا جواب نہیں دے سکتا۔ اور نیز یہ ایک بڑا نقصان ہو گا کہ اکثر لوگوں کے نزدیک یہ امر مکروہ اور نامناسب سمجھا جائے گا کہ ہم گورنمنٹ کے ذریعہ سے اپنے انصاف کو پہنچ کر پھر کبھی اس کتاب کا ردّ لکھنا بھی شروع کر دیں۔ اور در حالت نہ لکھنے جواب کے اس کے فضول اعتراضات ناواقفوں کی نظر میں فیصلہ ناطق کی طرح سمجھے جائیں گے اور خیال کیا جائے گا کہ ہماری طاقت میں یہی تھا جو ہم نے کر لیا سو اس سے
١؎ ہم دوبارہ عرض کرتے ہیں کہ انجمن کا یہ میموریل بعد از وقت ہے کیونکہ مؤلف اُمہات المومنین کی طرف سے جو ضرر روکنے کے لائق تھا وہ ہمیں پہنچ چکا اور پورے طور پر پنجاب ہندوستان میں اس کتاب کی اشاعت ہو گئی۔ سو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اب ہم اپنی گورنمنٹ محسنہ سے کیا مانگیں اور وہ کیا کرے۔ منہ
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 215 تا 219 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے
حوالہ نمبر 105
٢١٧
ہماری دینی عزت کو اس سے بھی زیادہ ضرر پہنچتا ہے جو مخالف نے گالیوں سے پہنچانا چاہا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کتاب کو ہم نے عمداً تلف کر دیا یا ردّ کیا پھر اسی کو مخاطب ٹھہرا کر اپنی کتاب کے ذریعہ سے پھر شائع کرنا نہایت نامعقول اور بیہودہ طریق ہوگا۔ اور ہم گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم دردناک دل سے ان تمام گندے اور سخت الفاظ پر صبر کرتے ہیں جو صاحب اُمہات المومنین نے استعمال کئے ہیں اور ہم اس مؤلف اور اس کے گروہ کو ہرگز کسی قانونی مواخذہ کا نشانہ بنانا نہیں چاہتے کہ یہ امر ان لوگوں سے بہت ہی بعید ہے کہ جو واقعی نوع انسان کی ہمدردی اور سچی اصلاح کے جوش کا دعویٰ رکھتے ہیں۔
یہ بات بھی گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں عرض کر دینے کے لائق ہے کہ اگرچہ ہماری جماعت بعض امور میں دوسرے مسلمانوں سے ایک جزئی اختلاف رکھتی ہے مگر اس مسئلہ میں کسی سمجھ دار مسلمان کو اختلاف نہیں کہ دینی حمایت کے لیے ہمیں کسی جوش یا اشتعال کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ ہمارے لیے قرآن میں یہ حکم ہے وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتٰبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اور دوسری جگہ یہ حکم ہے کہ جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ٢؎ اس کے معنی یہی ہیں کہ نیک طور پر اور ایسے طور پر جو مفید ہو عیسائیوں سے مجادلہ کرنا چاہیے اور حکیمانہ طریق اور ایسے ناصحانہ طور کا پابند ہونا چاہیے کہ اُن کو فائدہ بخشے، لیکن یہ طریق کہ ہم گورنمنٹ کی مدد سے یا نعوذ باللہ خود اشتعال ظاہر کریں ہرگز ہمارے اصل مقصود کو مفید نہیں ہے۔ یہ دنیاوی جنگ وجدل کے نمونے ہیں اور سچے مسلمان اور اسلامی طریقوں کے عارف ہرگز ان کو پسند نہیں کرتے کیونکہ ان سے وہ نتائج جو ہدایت بنی نوع کے لیے مفید ہیں پیدا نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ حال میں پرچہ مُخبر دکن میں جو مسلمانوں کا ایک اخبار ہے ماہِ اپریل کے ایک پرچہ میں اسی بات پر بڑا زور دیا گیا ہے کہ رسالہ اُمہات المومنین کے تلف کرنے یا روکنے کے لیے گورنمنٹ سے ہرگز التجا کرنی نہیں چاہیے کہ یہ دوسرے پیرایہ میں اپنے مذہب کی کمزوری کا اعتراف ہے۔ جہاں تک ہمیں علم ہے ہم جانتے ہیں کہ اخبار مذکورہ کی اس رائے کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی جس سے ہم سمجھتے ہیں کہ عام مسلمانوں کی یہی رائے ہے کہ اس طریق کو جس کا انجمن مذکور نے ارادہ کیا ہے ہرگز اختیار نہ کیا جائے کہ اس میں کوئی حقیقی اور واقعی فائدہ ایک ذرہ برابر بھی نہیں ہے۔ اہلِ علم مسلمان اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف میں آخری زمانہ کے بارے میں ایک پیشگوئی ہے اور اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے وصیّت کے طور پر ایک حکم ہے جس کو ترک کرنا سچے مسلمان کا کام نہیں ہے اور وہ یہ ہے لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَ أَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَ إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ ذٰلِكَ
١؎ العنکبوت: ٤٧ ٢؎ النحل: ١٢٦
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 215 تا 219 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے
حوالہ نمبر 105
٢١٨
مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۔ سورۃ آل عمران ۔ ترجمہ یہ ہے کہ خدا تمہارے مالوں اور جانوں پر بلا بھیج کر تمہاری آزمائش کرے گا اور تم اہل کتاب اور مشرکوں سے بہت سی دُکھ دینے والی باتیں سُنو گے سو اگر تم صبر کرو گے اور اپنے تئیں ہر ایک نا کردنی امر سے بچاؤ گے تو خدا کے نزدیک اولوالعزم لوگوں میں سے ٹھہرو گے۔ یہ مدنی سورۃ ہے اور یہ اس زمانہ کے لیے مسلمانوں کو وصیت کی گئی ہے کہ جب ایک مذہبی آزادی کا زمانہ ہو گا کہ جو کوئی کچھ سخت گوئی کرنا چاہے وہ کر سکے گا۔ جیسا کہ یہ زمانہ ہے۔ سو کچھ شک نہیں کہ یہ پیشگوئی اسی زمانہ کے لیے تھی اور اسی زمانہ میں پوری ہوئی۔ کون ثابت کر سکتا ہے کہ جو اس آیت میں اَذًى كَثِيْرًا کا لفظ ایک عظیم الشان ایذاء رسانی کو چاہتا ہے وہ کبھی کسی صدی میں اس سے پہلے اسلام نے دیکھی ہے؟ اس صدی سے پہلے عیسائی مذہب کا یہ طریق نہ تھا کہ اسلام پر گندے اور ناپاک حملے کرے بلکہ اکثر ان کی تحریریں اور تالیفیں اپنے مذہب تک ہی محدود تھیں۔ قریباً تیرھویں صدی ہجری سے اسلام کی نسبت بدگوئی کا دروازہ کُھلا جس کے اوّل بانی ہمارے ملک میں پادری فنڈل صاحب تھے۔ بہرحال اس پیشگوئی میں مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ جب تم دلازار کلمات سے دُکھ دیئے جاؤ اور گالیاں سُنو تو اس وقت صبر کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا۔ سو قرآنی پیشگوئی کے مطابق ضرور تھا کہ ایسا زمانہ بھی آتا کہ ایک مقدس رسول کو جس کی اُمت سے ایک کثیر حصّہ دنیا کا پُر ہے : عیسائی قوم جیسے لوگ جن کا تہذیب کا دعویٰ تھا گالیاں دیتے اور اس بزرگ نبی کا نام نعوذ باللہ زانی اور ڈاکو اور چور رکھتے اور دُنیا کے سب بدتروں سے بدتر ٹھہراتے۔ بیشک یہ اُن لوگوں کے لیے بڑے رنج کی بات ہے جو اس پاک رسول کی راہ میں فدا ہیں اور ایک دانشمند عیسائی بھی احساس کر سکتا ہے کہ جب مثلاً ایسی کتاب اُمہات المومنین میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ زنا کار کے نام سے پکارا گیا اور گندے سے گندے تحقیر کے الفاظ آنجناب کے حق میں استعمال کئے گئے اور پھر عمداً ہزار ہا کاپی اس کتاب کی محض دلوں کے دُکھانے کے لیے عام اور خاص مسلمانوں کو پہنچائی گئی اس سے کس قدر درد ناک زخم عام مسلمانوں کو پہنچے ہونگے اور کیا کچھ اُن کے دلوں کی حالت ہوئی ہو گی۔ اگرچہ بد گوئی میں یہ کچھ پہلی ہی تحریر نہیں ہے بلکہ ایسی تحریروں کی پادری صاحبوں کی طرف سے کروڑہا تک نوبت پہنچ گئی ہے مگر یہ طریق دل دُکھانے کا ایک نیا طریق ہے کہ خواہ نخواہ غافل اور بے خبر لوگوں کے گھروں میں یہ کتابیں پہنچائی گئیں۔ اور اسی وجہ سے اس کتاب پر بہت شور بھی اُٹھا ہے۔ باوجود اس بات کے کہ پادری عماد الدین اور پادری ٹھاکر داس کی کتابیں اور نور افشاں کی پچیس سال کی مسلسل تحریریں سختی میں اس سے کچھ کم نہیں ہیں۔ یہ تو سب کچھ ہوا مگر ہمیں تو آیت موصوفہ بالا میں یہ تاکیدی حکم ہے کہ جب ہم ایسی بد زبانی کے کلمات سُنیں جس سے ہمارے دلوں کو دُکھ پہنچے تو ہم صبر کریں۔ اور کچھ شک نہیں کہ جلد تر حکام کو اُس طرف متوجہ کرنا بھی ایک بے صبری کی قسم ہے اسلئے عقلمند
لہ ال عمران : ١٨٧
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 215 تا 219 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے
حوالہ نمبر 105
٢١٩
اور دُور اندیش مسلمان ہرگز اس طریق کو پسند نہیں کرتے کہ گورنمنٹ عالیہ تک اس بات کو پہنچایا جائے۔ ہمیں خدا تعالیٰ نے قرآن میں یہ بھی تعلیم دی ہے کہ دینِ اسلام میں اکراہ اور جبر نہیں۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ١؎ اور جیسا کہ فرماتا ہے اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ ٢؎ لیکن اس قسم کے حیلے اکراہ اور جبر میں داخل ہیں جس سے اسلام جیسا پاک اور معقول مذہب بدنام ہوتا ہے۔
غرض اس بارے میں مَیں اور میری جماعت اور تمام اہل علم اور صاحبِ تدبّر مسلمانوں میں سے اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ کتاب اُمّہات المومنین کی لغو گوئی کی یہ سزا نہیں ہے کہ ہم اپنی گورنمنٹ محسنہ کو دست اندازی کے لیے توجہ دلاویں۔ گو خود دانا گورنمنٹ اپنے قوانین کے لحاظ سے جو چاہے کرے ۔مگر ہمارا صرف یہ فرض ہونا چاہیے کہ ہم ایسے اعتراضات کا کہ جو درحقیقت نہایت نادانی یا دھوکہ دہی کی غرض سے کئے گئے ہیں خوبی اور شائستگی کے ساتھ جواب دیں اور پبلک کو اپنی حقیقت اور اخلاق کی روشنی دکھلائیں۔ اسی غرض کی بنا پر یہ میموریل روانہ کیا گیا ہے اور تمام جماعت ہماری معزز مسلمانوں کی اسی پر متفق ہے۔
الراقم خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ٤؍ ماہ مئی ١٨٩٨ء
١؎ البقرۃ : ٢٥٧ ٢؎ یونس : ١٠٠
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 215 تا 219 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے
حوالہ نمبر 106 روحانی خزائن جلد ١٣ ٣٩٢ البلاغ ۔ فریاد درد
ایک معمولی بات ہے کمال میں داخل نہیں۔ کمال انسانیت یہ ہے کہ ہم حتی الوسع گالیوں کے مقابل پر اعراض اور درگزر کی خو اختیار کریں۔
یہ بھی تو سوچو کہ پادری صاحبوں کا مذہب ایک شاہی مذہب ہے۔ لہٰذا ہمارے ادب کا یہ تقاضا ہونا چاہئیے کہ ہم اپنی مذہبی آزادی کو ایک طفیلی آزادی تصور کریں اور اس طرح پر ایک حد تک پادری صاحبوں کے احسان کے بھی قائل رہیں۔ گورنمنٹ اگر ان کو باز پُرس کرے تو ہم کس قدر باز پُرس کے لائق ٹھہریں گے۔ اگر سبز درخت کاٹے جائیں تو پھر خشک کی کیا بنیاد ہے۔ کیا ایسی صورت میں ہمارے ہاتھ میں قلم رہ سکے گی؟ سو ہوشیار ہو کر طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو اور اس محسن گورنمنٹ کو دعائیں دو جس نے تمام رعایا کو ایک ہی نظر سے دیکھا۔ یہ بالکل نامناسب اور سخت نامناسب ہے کہ پادریوں کی نسبت گورنمنٹ میں شکایت کریں۔ ہاں جو شبہات اور اعتراض اٹھائے گئے اور جو بہتان شائع کئے گئے ان کو جڑ سے اکھاڑنا چاہئیے اور وہ بھی نرمی سے اور حق اور حکمت کے معاون ہو کر دنیا کو فائدہ پہنچانا چاہئیے اور ہزاروں دلوں کو شبہات کے زندان سے نجات بخشنا چاہئیے۔ یہی کام ہے جس کی اب ہمیں اشد ضرورت ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں نے تائیدِ اسلام کے دعوے پر جابجا انجمنیں قائم کر رکھی ہیں۔ لاہور میں بھی تین انجمنیں ہیں۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ باوجودیکہ عیسائیوں کی طرف سے دس کروڑ کے قریب مخالفانہ کتابیں اور رسائل نکل چکے ہیں اور تین ہزار کے قریب ایسے اعتراضات شائع ہو چکے جن کا جواب دینا مولویوں اور ان انجمنوں کا فرض تھا جنہوں نے ہر ایک رسالہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم مخالفوں کے سوالات کے جواب دیں گے ان حملوں کا ان انجمنوں نے کیا بندوبست کیا اور کون کونسی مفید کتاب دنیا میں پھیلائی۔ ہم بقول ان کے کافر سہی دجال سہی سخت گو سہی مگر ان لوگوں نے باوجود ہزارہا روپیہ اسلام کا جمع کرنے کے اسلام کی حقیقی مدد کیا کی۔ علوم مروّجہ کی تعلیم کا شاید بڑے سے بڑا نتیجہ یہ ہوگا کہ تا لڑکے تعلیم پا کر کوئی معقول نوکری پاویں۔ اور یتیموں کی پرورش کا نتیجہ بھی اس سے بڑھ کر
البلاغ صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 392 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 155 پر درج ہے
حوالہ نمبر 107
٤٤٥ گا گو وہ مشرقی ہو یا مغربی۔ یہ وہ نشان ہیں جو مجھ کو دیئے گئے ہیں تا اُن کے ذریعہ سے اس سچے خدا کی طرف لوگوں کو کھینچوں جو درحقیقت ہماری رُوحوں اور جسموں کا خدا ہے جس کی طرف ایک دن ہر ایک کا سفر ہے۔ یہ سچ ہے کہ وہ مذہب کچھ چیز نہیں جس میں الٰہی طاقت نہیں۔ تمام نبیوں نے سچے مذہب کی ی
حوالہ نمبر 108
روحانی خزائن جلد ١٠ ٨١ آریہ دھرم
راہ سے زنا کی تہمت لگائی۔ اگر غیرت مند مسلمانوں کو اپنی محسن گورنمنٹ کا پاس نہ ہوتا تو ایسے شریروں کو جن کے افترا میں یہاں تک نوبت پہنچی وہ جواب دیتے جو ان کی بد اصلی
﴿٥٩﴾
کے مناسب حال ہوتا۔ مگر شریف انسانوں کو گورنمنٹ کی پاسداریاں ہر وقت روکتی ہیں اور وہ طمانچہ جو ایک گال کے بعد دوسری گال پر عیسائیوں کو کھانا چاہئے تھا ہم لوگ گورنمنٹ کی اطاعت میں محو ہو کر پادریوں اور ان کے ہاتھ کے اکسائے ہوئے آریوں سے کھا رہے ہیں۔ یہ سب بردباریاں ہم اپنی محسن گورنمنٹ کے لحاظ سے کرتے ہیں اور کریں گے کیونکہ ان احسانات کا ہم پر شکر کرنا واجب ہے جو سکھوں کے زوال کے بعد ہی خدا تعالیٰ کے فضل نے اس مہربان گورن
505 حوالہ نمبر 109
روحانی خزائن جلد ١٥ ٤٨٩ تریاق القلوب
ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جان نثار ہو جائیں اور جہاد اور خونی مہدی کے انتظار وغیرہ بیہودہ خیالات سے جو قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتے دست بردار ہو جائیں اور اگر وہ اس غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے تو کم سے کم یہ ان کا فرض ہے کہ اس گورنمنٹ محسنہ کے ناشکر گذار نہ بنیں اور نمک حرامی سے خدا کے گنہگار نہ ٹھہریں کیونکہ یہ گورنمنٹ ہمارے مال اور خون اور عزت کی محافظ ہے اور اس کے مبارک قدم سے ہم جلتے ہوئے تنور میں سے نکالے گئے ہیں۔ یہ کتابیں ہیں جو میں نے اس ملک اور عرب اور شام اور فارس اور مصر وغیرہ ممالک میں شائع کی ہیں چنانچہ شام کے ملک کے بعض عیسائی فاضلوں نے بھی میری کتابوں کے شائع ہونے کی گواہی دی ہے اور میری بعض کتابوں کا ذکر کیا ہے☆۔ اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرات سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بست سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کر سکتا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اس قدر لمبے زمانہ تک کہ جو بیس برس کا زمانہ ہے ایک مسلسل طور پر تعلیم مذکور بالا پر زور دیتے جانا کسی منافق اور خود غرض کا کام نہیں ہے بلکہ ایسے شخص کا کام ہے جس کے دل میں اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی ہے۔ ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کیا کرتا ہوں اور ایسا ہی پ
حوالہ نمبر 109
روحانی خزائن جلد ١٥ ٤٩٠ تریاق القلوب
رہا ہوں اور میں اِس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جبکہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہوگئی اور حدّ اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ نُورافشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں ۔ اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا چور تھا زنا کار تھا اور صدہا پرچوں میں یہ شائع کیا کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عاشق تھا اور با ایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون کرنا اُس کا کام تھا تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے اُن جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تا سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو٭ ۔ تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بد زبانی کی گئی تھی چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی کیونکہ میرے کانسنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔ سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ
- ☆ ان مباحثات کی کتابوں سے ایک یہ بھی مطلب تھا کہ برٹش انڈیا اور دوسرے ملکوں پر بھی اس
بات کو واضح کیا جاوے کہ ہماری گورنمنٹ نے ہر ایک قوم کو مباحثات کیلئے آزادی دے رکھی ہے کوئی خصوصیت پادریوں کی نہیں ہے۔ منہ
یہ حوالہ صفحہ 156 پر درج ہے تریاق القلوب صفحہ 361 تا 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 489 تا 491 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 109 روحانی خزائن جلد ١٥ ٤٩١ تریاق القلوب ہزارہا مسلمان جو پادری عماد الدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آچکے تھے یکدفعہ اُن کے اشتعال فرو ہو گئے کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب سخت الفاظ کے مقابل پر اُس کا عوض دیکھ لیتا ہے تو اُس کا وہ جوش نہیں رہتا۔ با ایں ہمہ میری تحریر پادریوں کے مقابل پر بہت نرم تھی گویا کچھ بھی نسبت نہ تھی۔ ہماری محسن گورنمنٹ خوب سمجھتی ہے کہ مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے تو ایک مسلمان اُس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دُودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں ایسا ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ سو کسی مسلمان کا یہ حوصلہ ہی نہیں کہ تیز زبانی کو اس حد تک پہنچائے جس حد تک ایک متعصب عیسائی پہنچا سکتا ہے اور مسلمانوں میں یہ ایک عمدہ سیرت ہے جو فخر کرنے کے لائق ہے کہ وہ تمام نبیوں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہو چکے ہیں ایک عزت کی نگہ سے دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے بعض وجوہ سے ایک خاص محبت رکھتے ہیں جس کی تفصیل کے لئے اس جگہ موقع نہیں۔ سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا۔ اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے۔ (١) اوّل والد مرحوم کے اثر نے ۔ (٢) دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ (٣) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے ۔
اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں صرف ایک رنج اور درد و غم ہر وقت مجھے لاحق حال ہے جس کا استغاثہ پیش کرنے
تریاق القلوب صفحہ 361 تا 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 489 تا 491 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 156 پر درج ہے
حوالہ نمبر 110 8 اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 19؍اپریل 1929ء
خدمت کرے۔ اس طرح اس قوم کا جس کے حوصلے اسقدر ترقی کرتے ہیں ۔ خواہ انبیاء کو ماننے کی وجہ سے ہی وہ ایسا کریں ۔ فرض ہے کہ وہ اس قوت کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبا دے اور ان سے اظہار برأت کرے۔ انبیاء کی عزت کی حفاظت قانون شکنی سے نہیں ہوسکتی ۔ وہ نبی نبی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانیوالے
خون سے ہاتھ رنگنے
پڑیں ۔ جس کے بچانے کے لئے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ کی عزت کے لئے قتل کرنا جائز ہے سخت نادانی ہے کیا محمد رسول اللہ کی عزت اتنی ہی ہے کہ ایک شخص کے خون سے اس کی ہتک دھل جائے۔ بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں ۔ کہ محمد رسول اللہ کی ہتک کی سزا قتل ہے۔ میں کہتا ہوں ۔ فرض کیجئے
ایک مثال
ہی ایسی پیش کی جائے ۔ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کسی ایک انسان کو بھی محض آپ کو بُرا کہنے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہو۔ اور اس قتل میں کسی
پولیٹیکل جرم کا دخل
نہ ہو۔ کوئی ثابت کرے کہ محض اس جرم میں کسی کو قتل کیا گیا ۔ ہاں اگر کسی کے متعلق یہ شبہ پڑا ۔ کہ وہ غیر قوموں کو مسلمانوں پر چڑھالا ئیگا اور سازشیں کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیگا ۔ تو یہ اور بات ہے صرف توہین رسول کے جرم میں کبھی کوئی ایک شخص بھی قتل نہیں کیا گیا۔ اور ایسا کرنا جائز ہوتا۔ تو عبداللہ بن ابی بن سلول کو کیوں زندہ چھوڑ دیا جاتا ۔ حالانکہ اس نے علی الاعلان کہا تھا ۔ کہ لئن رجعنا الی المدینة لیخرجن الاعز منھا الاذل (کہ میں بہت عزت والا اور معزز ہوں (نعوذ باللہ) سب سے زیادہ ذلیل یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دونگا) ۔ صحابہؓ کے پاس ایسی باتوں کی اطلاع بھی پہنچ جاتی تھی ۔ پھر صحابہ نے یہ بھی کہا ۔ کہ اس کے ساتھ کیوں نہ نپٹ لیں ۔۔۔ ؟ بعض کو قتل کر دیا جائے۔ انہیں رسول کریم نے فرمایا نہیں ۔ لوگ کیا کہینگے کہ محمدؐ نے اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیا ۔ اگر قتل جائز ہوتا ۔ تو وہ منافق جو اُسی وقت بھی مسلمانوں میں موجود رہے ۔ کس طرح زندہ رہ سکتے تھے ۔ کہ مکہ میں ہی نہیں ۔ مدینہ میں بھی بہت سے منافق لوگ ۔
جناب رسولخدا ؐ
کے وقت مدینہ منورہ میں موجود تھے ۔ پس جب یہ ثابت ہے ۔ کہ لوگ منافق تھے ۔۔۔ قرآن کریم سے یہ بھی ثابت ہے کہ بہت
بلکہ یہ بھی کہ آپ کی وفات کے بعد بھی تھے۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی میں ان میں سے
ایک شخص بھی
قتل نہیں کیا گیا۔ سوائے ان کے جن پر کوئی پولیٹیکل جرم ثابت ہوا ۔ خالص گالیاں بکنے والا ایک شخص بھی قتل نہیں ہوا۔ عہد صحابہؓ رضوان اللہ عنہم میں کوئی قتل نہیں ہوا۔ اگر ایسے لوگوں کو قتل کر دینے کا حکم ہوتا ۔ تو ضرور کہہ دیا جاتا ۔ تمام مسلمانوں کو بتا دیتے کہ انہیں جو منافق ہیں ۔ انہیں فوراً قتل کر دو۔ کیونکہ اپنی قوم کو دھوکہ دینے والا دوسرے سے بہت زیادہ مجرم ہوتا ہے ۔ ایک مرتبہ ایک یہودی نے حضرت عمرؓ کے سامنے کہا ۔ میں قسم کھاتا ہوں ۔ موسیٰ کی جسے خدا نے سارے انسانوں پر فضیلت دی ہے حضرت عمرؓ نے اسے مارا ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی تو آپؐ نے حضرت عمرؓ سے کہا ۔ کہ کیوں مارا ایسا نہیں چاہیئے تھا۔ نہیں کہا ۔ کہ تلوار کیوں نہ چلائی ۔ غرض قتل پر آمادہ ہو جانے کا طریق غلط ہے ۔ اور اس سے قوموں کے اخلاق تباہ ہو جاتے ہیں۔ پس میں مسلمانوں سے بھی اور ہندوؤں سے بھی
درخواست
کرتا ہوں ۔ کہ وہ جاہل باتوں کی طرف نہ جائیں ۔ مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیئے ۔ کہ چاند پر تھوکنے سے اپنے ہی منہ پر آکر تھوک پڑتا ہے ۔ مخالف خواہ کتنی ہی کوشش کریں محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو گرد و غبار سے نہیں چھپا سکتے ۔ اس
نور کی شعاعیں
دور دور پھیل رہی ہیں ۔ تم یہ مت خیال کرو ۔ کہ کسی کے چھپانے سے چھپ سکے گا ۔ ایک دنیا اسلام کی معتقد ہو رہی ہے ۔ پادریوں کی بڑی بڑی سوسائیٹیوں نے اعتراف کیا ہے ۔ کہ ہمیں سب سے زیادہ خطرہ اسلام سے ہے ۔ بیشک اسلامی ، روشن تعلیم کی خوبیوں کے مقابلہ میں اور کوئی مذہب نہیں ٹھہر سکتا ۔ اسلام کا تمدن یورپ کو کھائے چلا جا رہا ہے اور بڑے بڑے متعصب اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اسلام کو
گالی دینے سے
اسلام کی ہتک ہوگی ۔ وہ اگر عیسائی ہے تو عیسائی مذہب کا دشمن ہے سکھ ہے تو سکھ مذہب کا دشمن ہے ۔ اور آریہ ہندو ہے تو ہندو دھرم کا دشمن ہے۔ ہتک تو دراصل گالی دینے والے کی ہوتی ہے۔ اپنے دل میں سوچے اس کی کیا ہتک ہوگی ۔ ہتک تو اخلاق کی بناء پر ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص مجھے گالیاں دیتا ہے ۔ تو وہ اپنی
خطبہ جمعہ مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد 16 نمبر 82 صفحہ 8، 9 مورخہ 19 اپریل 1929ء یہ حوالہ صفحہ 158 پر درج ہے
حوالہ نمبر 111
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم قادیان دارالامان مورخہ ١٥؍ اپریل ١٩٣٠ء
ہم اپنی سب عزیز متاع کی حفاظت کیلئے ہر قربانی کرینگے
ایک ذمہ دار گورنمنٹ اور امن شکن اشرار کو انتباہ
خون بے غیرت نہیں ہوتا
جب سے بعض کمینہ اور شرارت کے عادی لوگوں نے ہماری خاموشی اور درگزر کو ہماری کمزوری سمجھ لیا ہے۔ اور وہ اپنے خبث باطن اور ناپاکی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس کا چونکہ ہماری طرف سے کبھی جواب نہیں دیا گیا۔ اور نہ کوئی ایسا طریق اختیار کیا گیا جسے ایک شریف انسان گوارا و برداشت کر سکتا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ اور وہ اس قدر بے باک ہو گئے ہیں۔ کہ ان کے نزدیک ہمارا امن اور تحمل کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے ہے۔ اور ہماری یہ خاموشی بے غیرتی اور بے حسی کے باعث ہے۔ لیکن سچ یہ ہے۔ کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلفائے کرام کی پرامن اور صلح جوئی اور قانون کا احترام کی تعلیم ہماری رگ رگ میں رچی ہوئی نہ ہوتی۔ اور اس صبر و تحمل اور برداشت کی قوت ہم میں نہ پائی جاتی۔ تو اول تو شرارت اور بے ہودہ گوئی کا اس قدر موقعہ ہی نہ دیا جاتا۔ اور نہ جماعت اس طرح کانوں میں تیل ڈالے پڑی رہتی۔ لیکن ہر چیز کی حد ہوتی ہے۔ اور برداشت کی طاقت بھی ایک حد رکھتی ہے اور جب کوئی ظلم و ستم۔ ایذا رسانی اور تکلیف دہی حد سے بڑھ جائے۔ اور بے غیرتی اور بے حسی کا موجب بننے لگے۔ تو کوئی مومن اسے کبھی گوارا نہیں کر سکتا۔ بلکہ وہ ننگ و ناموس اور عزت و آبرو سے بڑی قیمت ادا کر کے اس کی حفاظت کرنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہے۔
مومن کا عہد وفا
ہمارے سامنے اس قسم کی مثالیں تو ہزاروں مل سکتی ہیں۔ کہ خدا کے برگزیدہ اور مقدس انسانوں کی غلامی کا فخر رکھنے والوں نے اپنی عزیز سے عزیز متاع اپنی آنکھوں کے سامنے لٹتی دیکھی۔ مگر اُف تک نہ کی۔ اپنے بچے اور اپنے عزیزوں کو سخت سے سخت مصائب میں مبتلا پایا۔ مگر آہ تک نہ کی۔ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے اجسام کو ظلم و ستم کے تیروں سے چھلنی ہوتے دیکھا۔ مگر اُف تک نہ کی۔ لیکن جب کبھی کسی نے یہ جسارت کی۔ کہ خدا اور اس کے فرستادہ اور برحق نبی پر دل سے ایمان لانے والوں کے سامنے ان کی اور ان کے مقدسات کی توہین کی۔ تو انہوں نے مال کی جگہ خون بہانا اور ان کی عزت و ناموس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دینا۔ اپنے لئے سعادت دارین سمجھا ہو۔ تاوقتیکہ کسی ہستی کو خدا کا نبی اور رسول تسلیم کیا جائے۔ اس کے مقابلہ میں جب تک دُنیا اور اس کی ہر ایک مرغوب سے مرغوب چیز غبار راہ اور اس کا وجود بے حقیقت اور ہیچ نہ سمجھ لیا جائے۔ اس وقت تک سچے اور حقیقی معنوں میں اس سے عہد وفا باندھا ہی نہیں جا سکتا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اپنے مخلص ترین جاں نثار سے جس نے کہا تھا۔ یا رسول اللہ آپؐ مجھے دُنیا کی ہر ایک چیز سے بڑھ کر عزیز ہیں۔ فرمایا تھا۔ جب تک تو مجھے اپنی جان سے بھی عزیز تر نہ جانے مومن نہیں ہو سکتا۔ اور اس نے فوراً کہا تھا آپؐ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں :-
ہر احمدی کا اولین عہد
جماعت احمدیہ جس کے مخالفین خواہ کتنا ہی بغض و عناد رکھیں۔ اور اسے بے دین قرار دیں لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ کہ یہ جماعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدا تعالیٰ کا سچا رسول اور نبی یقین کرتی ہے۔ اور اس کا ہر ایک فرد سب سے اول دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اعلان کرتا ہوا ببانگِ دہل اقرار کرتا ہے۔ کہ آپؐ کی تعلیم اور آپؐ کے لائے ہوئے عقائد کے مقابلہ میں وہ ساری دنیا کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ اور یہ بھی عہد کرتا ہے۔ کہ آپؐ کی حرمت اور آپؐ کی تقدیس کے لئے اگر اپنی جان بھی دینا پڑے گی۔ تو دریغ نہیں کریگا۔
ہر احمدی اپنا عہد پورا کریگا
پس جماعت کا سب سے پہلا عہد یہ ہے۔ اور ہم اس عہد کی پابندی کرنا دین و دنیا کی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے۔ اگر دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی ظالم اور جفا جو طاقت بھی اس کے اس عہد کا امتحان لینا چاہے گی۔ تو احمدی کہلانے والا کوئی انسان بھی اس سے منہ نہیں موڑے گا۔ اور مردانہ وار آگ و خون کے سمندر کو عبور کر جائے گا۔ خواہ اُسے اپنے خون میں سے تیر کر جانا پڑے۔ خواہ غازی بن کر سلامتی کے کنارہ پہونچنے کی سعادت حاصل ہو۔
فتنہ انگیزوں کو ڈھیل دینے کی وجہ
پھر کیا وجہ ہے۔ کہ ایک عرصہ سے چند رذیل اور کمینہ لوگ جماعت احمدیہ کے مقدس پیشوا۔ اس کے اہل بیت اور خدام کے متعلق ناپاک سے ناپاک اتہام تراش رہے ہیں۔ جماعت احمدیہ کو چڑانے پر تلے کھڑے ہیں۔ اور اشتعال دلانے کے درپئے ہیں۔ نہایت بے باکانہ حملے کر رہے ہیں۔ مگر انہیں کوئی پوچھتا نہیں۔ ان کی شرارتوں کا سد باب نہیں کیا جاتا، ان کی فتنہ انگیزیوں کو روکا نہیں جاتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں۔ کہ ان کی پشت و پناہ غنڈوں اور بدمعاشوں کا ایک گروہ ہے۔ (کہیں سے خفیہ اور ظاہرہ امداد مل رہی ہے)۔ ان کی شرارتوں اور خباثتوں کی داد بڑے بڑے موقر اخبار دے رہے ہیں۔ بلکہ ایک ذمہ دار حکومت قائم ہے۔ اور ہم یہ دیکھ رہے ہیں۔ کہ دیکھو حرکت کرتی ہے۔ یا نہیں؟ وہ اپنے فرض کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ یا نہیں۔
ہمارے راستہ میں کوئی طاقت حائل نہیں ہو سکتی
لیکن اگر اس حکومت میں فتنہ انگیز اور شرارت پسند لوگ امن سے زندگی بسر کرنے والی ایک معزز جماعت کے خلاف شرارت پھیلانے سے باز نہیں آسکتے۔ اگر وہ لاکھوں انسانوں کے مقدس پیشوا اور اُس کے اہل بیت کے متعلق گند اچھالنے سے نہیں رُک سکتے۔ اگر اپنی عزت و وقار کی حفاظت کرنے کی غیرت کا احساس رکھنے والی جماعت کے متعلق فحش نویسی اور بد زبانی سے باز نہیں آتے۔ اور اپنے قلم دانوں کی خباثت سے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ہمہ
روزنامہ الفضل قادیان جلد 17 نمبر 80 صفحہ 3 مورخہ 15 اپریل 1930ء | یہ حوالہ صفحہ 159 پر درج ہے
حوالہ نمبر 112
رجسٹرڈ نمبر ایل ٣٠ ٹیلیفون نمبر ٩١ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ عَسٰی اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا الفضل خطبہ نمبر روزنامہ قادیان THE DAILY ALFAZL QADIAN ایڈیٹر: غلام نبی قیمت ایک آنہ جلد ٢٤ | ٢٤ ربیع الاول ١٣٥٦ھ | یوم شنبہ | مطابق ٥ جون ١٩٣٧ء | نمبر ١٢٩
جمعۃ المبارک خطبہ ارشاد
امام کا مقام یہ ہے کہ وہ حکم دے اور ماموم کا مقام یہ ہے کہ وہ اطاعت کرے
افرادِ جماعت کو خود بخود اِن باتوں میں دخل نہیں دینا چاہئے جن کا اثر ساری جماعت پر پڑتا ہو
از حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ ٢٨ مئی ١٩٣٧ء
سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- غالباً دو ایک روز ہوئے ہیں میں نے
ایک خطبہ
جو میں نے دوروں میں پڑھا تھا اور ہدایت کی تھی کہ اسے تمام جماعتوں میں پڑھا اور سنایا جائے۔ اسے پھر دہرایا جائے۔
موجودہ فتنوں کے متعلق
اور اس کے ساتھ بعض اور باتیں بھی کہوں گا۔ اس وقت مجھے پہلے تو
ان میں سے اکثر اپنے ہاں لوگوں کو تسلی دیتے ہیں اور ان میں سے بعض نے مجھ سے باتیں بھی کی ہیں۔ انہوں نے
قادیان میں رہنے والے لوگ
بتایا ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ بجائے خود قادیان میں رہنے والے لوگ بھی ایسے ہیں جو ایسے خیالات میں مبتلا ہیں ۔ اور وہ ڈرتے ہیں کہ معلوم نہیں کیا ہو گا۔ حالانکہ
ہدایت اور تسلی
میں نے ان کو ہدایت اور تسلی
پیش کر دی تھی مگر باوجود میرے ہدایت دینے کے بعض لوگوں نے اس پر عمل نہیں کیا تو میں نے دوبارہ لکھی پھر تیسری بار ۔ وجہ یہ ہے کہ میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے متعلق آپ لوگوں سے کچھ نہیں کہنا چاہتا ہوں۔ اور نہ صرف آپ لوگوں سے بلکہ
باہر کی جماعتوں سے
بھی۔ اور خصوصاً ان کے سامنے اگر مجھے ان امور پر بولنا ہو کہ میں نے کوئی صداقت آپ لوگوں تک پہنچانی ہی ہے اور میرے اور آپ لوگوں کے درمیان اور کوئی خاص بات نہ ہو تو میں اس موضوع پر کبھی بات نہ کروں۔ اس موقعہ پر تو میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ مجھے کوئی اور خاص بات کہنی ہے۔
مرزا محمود کا خطبہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25 نمبر 129 صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء | یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے
نمبر ١٢٩ جلد ٢٥ روزنامہ الفضل قادیان مورخہ ٥ جون ١٩٣٧ء حوالہ نمبر 112
جماعت کے نظام کی پابندی کی ۔ اپنے جذبات پر قابو رکھو۔ اور اگر تم اس خیال کے قائل نہیں تھے ۔ تو پھر تمہیں ہمارے پاس بھاگ کر آنے کی کیا ضرورت ہے ۔ تمہیں چاہئے کہ تم دلیری دکھاؤ اور اپنے جرم کا اقرار کرو ۔ اگر ان دونوں عقیدوں کے چالیس چالیس آدمی بھی میسر آجائیں تو ہم دنیا کو ہلا سکتے ہیں ۔ اگر چالیس آدمی ایسے میسر آجائیں جو مار کھانے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں ۔ تو وہ دنیا کو ہلا سکتے ہیں ۔ اور اگر چالیس آدمی ایسے میسر آجائیں جو مارنے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں ۔ تو وہ بھی دنیا کو ہلا سکتے ہیں ۔ مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم میں سے بعض دشمن کی کوئی گالی سنتے ہیں تو ان کے منہ پر بھی جھاگ بھر آتی ہے ۔ اور وہ کود کر اس پر حملہ کر دیتے ہیں ۔ لیکن اُسی وقت
ان کے پیر پیچھے کی طرف
پڑ رہے ہوتے ہیں ۔ وہ غصہ میں پتھر پر مُکے مارتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں ۔ کہ ہم مر جائیں گے ۔ مگر
سلسلہ کی ہتک
برداشت نہ کریں گے ۔ لیکن جب کوئی ذرا ہاتھ اُٹھاتا ہے تو پھر ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں ۔ کہ بھائیو! کچھ روپیہ دیں کہ جن سے مقدمہ لڑا جائے ۔ کوئی وکیل ہے جو وکالت کرے ۔ بے وقوفوں نے بھی کسی قوم کو فائدہ پہنچایا ہے بہادر وہ ہے ۔ جو اگر مارنے کا فیصلہ کرتا ہے ۔ تو مار کر پیچھے نہیں ہٹتا ۔ اور پکڑا جاتا ہے ۔ تو دلیری سے سچ بولتا ہے اور اگر مار کھانے کا فیصلہ کرتا ہے ۔ تو پھر جوش میں نہیں آتا ۔ اور اپنے نفس کو شدید اشتعال کے وقتوں میں بھی قابو میں رکھتا ہے ۔ پس اگر جینا چاہتے ہو
تو دونوں میں سے ایک اصل اختیار کرو ۔ جو کچھ میں سمجھتا ہوں ۔ اور میں جانتا ہوں ۔ کہ میں سچ سمجھتا ہوں ۔ وہ یہ ہے کہ بہادر بنو مگر اس طرح کہ مار
کھانے کی عادت ڈالو
اور امام کے پیچھے ہو کر دشمن سے جنگ کرو ۔ ہاں جب وہ کہے کہ اب مارو تو اسوقت بیشک مارو لیکن جب تک تمہیں امام لڑائی کا حکم نہیں دیتا ۔ اسوقت تک دشمن کو سنا دینے کا تمہیں اختیار نہیں۔ بالکلیہ اور گالیاں سننے سے ہی نہیں بلکہ ایک دبلا سا شخص جو مارنا بھی نہ جانے اُسے مارنے لگیں بلکہ میں کہتا ہوں ۔ مجھ پر تو الگ ۔ خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے پر بھی تمہیں دشمن کو اسوقت تک مارنے کی اجازت نہیں جب تک امام تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دے لیکن اگر تمہارا یہ عقیدہ نہیں تب بھی میں شریف انسان نہیں تمہیں سمجھونگا کہ اگر تم نے مارا ۔ تو پھر مار کھا کر گالیاں دینے والے دشمن کو ضرور سزا دینی چاہئے اور تم اس گالی دینے والے کے جواب میں سخت کلامی کرتے ہو۔ اور اس کے جوش میں آکر وہ پھر اور بدکلامی کرتا ہے۔ تو پھر تم ہٹ جاؤ اور اپنے آپ کو فنا کر دو ۔ لیکن اس منہ کو توڑ دو جس منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے گالی نکلی تھی ۔ کیونکہ اس کو خاموش کرنا ایک واجبی فرض ہے ۔ کیونکہ تمہارے ہی فعل سے اس نے مزید گالیاں دی ہیں کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم تو بیعت و تزکیہ نفس کا دعویٰ ۔ رکھو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دلواتے ہو۔ اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھ رہتے ہو اگر تم میں ایک رتی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے
اور تمہارا سچ مچ یہ عقیدہ ہے ۔ کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے ۔ تو پھر یا تو دنیا سے فنا ہو جاؤ ۔ یا گالی دینے والے کو موت کے گھاٹ اُتار دو ۔ تم
جوش اور بہادری کا دعویٰ
کرتے ہو۔ اور دوسری طرف بُزدلی کو دکھاتے ہو۔ کام یہ کرتے ہو ۔ میں تو ایسے لوگوں کے متعلق یہی کہتا ہوں کہ وہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دلواتے ہیں ۔ اور
وہ اسلام کے دشمن ۔ اور
خدا کے دشمن ہیں
اگر مذہب میں مار پیٹنا جائز ہوتا۔ تو میں تو کہتا۔ کہ ایسے لوگوں کو روز دھوپ میں کھڑا کر کے انہیں خوب پیٹنا چاہئے۔ کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ گالیاں دلواتے ہیں۔ اور پھر انکو مار دینے کہتے ہیں میرے پاس میں اس موقعہ پر ان لوگوں کو بھی جو انہیں ایسے مخلص سمجھتے ہیں۔ کہتا ہوں کہ
مومن بے وقوف نہیں ہوتا
کیا تم نہیں دیکھتے کہ کہاں سے گالیاں پڑ رہی ہے۔ تم کسی چلاتے ہوئے کتے کو دیکھو ۔ تو وہ اس کو چھوڑ کر اسے نہیں دیکھتا ۔ جس نے پتھر مارا ہوتا ہے بلکہ وہ اس پتھر کو دیکھتا ہے۔ پس تم جو گالیاں دینے والے کو چھوڑ کر پتھروں کو دیکھتے ہو ۔ اور ان پر غصہ نکالتے ہو تو تم نے تو ایک کتے کے برابر بھی عقل نہ کی ۔
گالیاں دلواتے ہو ۔ اور سنتے ہو ۔
اور اگر کوئی ان میں کہتا ہے کہ اس میں زندگی کی طاقت ہے۔ تو میں اُسے کہونگا ۔ ارے تم تو آ کے کتے کو مارتے ہو ۔ کہو کیا ثواب تمہیں ملتا ۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دلوائی ہیں بلکہ ان سے ایسے گندے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے متعلق کہے جاتے ہیں تم تو دشمن سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے ہو ۔ اور
لذیذ شاہی طرز کے کھانے کا لطف نشاط ریسٹورنٹ انارکلی لاہور میں حاصل کریں چھپائی کا بہترین انتظام ہمارے ہاں ہر قسم کی چھپائی عمدہ ہوتی ہے مولوی فضل الدین مالک پریس
مرزا محمود کا خطبہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25، نمبر 129، صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے
حوالہ نمبر 113
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
رجسٹرڈ نمبر ایل ٣٠
تار کا پتہ الفضل قادیان
خط و کتابت منیجر الفضل سے ہونی چاہئے اشتہارات طے شدہ نرخ پر شائع ہوتے ہیں
قیمت سالانہ چندہ عام ١٢ روپیہ ششماہی ٦ روپیہ ملک کے باہر ١٨ روپیہ طالب علموں اور استادوں سے ٩ روپیہ فی پرچہ ١ آنہ
روزنامہ الفضل قادیان ایڈیٹر: غلام نبی The DAILY ALFAZL QADIAN.
جلد ٢٣ ٢٠ جمادی الاول ١٣٥٤ھ بمطابق ٢٠ اگست ١٩٣٥ء نمبر ٤٣
المدیر
قادیان ١٨ اگست ۔ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز آج صبح ٨ بجے کے قریب سفر سندھ کے لئے روانہ ہو گئے ہیں ۔ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی حضور کے ہمراہ ہیں ۔ احباب دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ حضور کا یہ سفر ہر لحاظ سے کامیاب کرے اور حضور کو بخیریت واپس لائے ۔ جن احباب نے خطوط دیئے ہیں وہ ناظر امور عامہ کے پاس جمع کرا دیں ۔ احباب دعاؤں کا سلسلہ جاری رکھیں ۔
ملحوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
حفاظت کا اصل ذریعہ دُعا ہی ہے
فرمایا:۔ یقیناً سمجھو کہ دُعا بڑی دولت ہے جو شخص دُعا کو نہیں چھوڑتا، اُس کے دین اور دُنیا پر آفت نہیں آئے گی۔ وہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہے جس کے اردگرد مسلح سپاہی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں لیکن جو دعاؤں سے لاپروا ہے، وہ اُس شخص کی طرح ہے جو خود بے ہتھیار ہے اور اس پر کمزور بھی ہے اور پھر ایسے جنگل میں ہے جو درندوں اور موذی جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کی خیر ہرگز نہیں ہے۔ ایک لمحہ میں وہ موذی جانوروں کا شکار ہو جائے گا۔ اور اس کی ہڈی بوٹی نظر نہ آئے گی۔ اس لئے یاد رکھو کہ انسان کی بڑی سعادت اور اس کی حفاظت کا اصل ذریعہ یہی دُعا ہے یہی ملجا اس کے لئے پناہ ہے۔ اگر وہ ہر وقت اس میں لگا رہے گا
(الحکم ٢٠ ستمبر ١٩٠٣ء)
قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد 23 نمبر 43 صفحہ 5 مورخہ 20 اگست 1935ء یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے
حوالہ نمبر 113
روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ ٢٠ اگست ١٩٣٥ء جلد ٢٣ نمبر ٤٣
چاہتا ہوں ۔ کہ نیشنل لیگ کی ہر جگہ شاخیں قائم ہوں ۔ تو میں تجویز کرتا ہوں کہ اس کے ہمنام ہونی چاہئیں ۔ وہ
تین کام
جنکا میں ذکر کرتا ہوں ۔ اور اس کے علاوہ بھی کام مقرر کرنے پڑیں گے ۔ یعنی چندہ کو مدنظر رکھنا چاہئے ۔ کہ زیادہ کاموں پر کام خراب ہو جاتا ہے ۔ اوّل کام ایسا لے جو آسانی سے ہو سکے ۔ اور جب وہ ہو جائے ۔ تو دوسرا کام شروع کرے ۔ لیگ والے سیاسی طور پر جب جماعتوں سے تعلق پیدا کریں گے ۔ پروگرام دوسری جماعتوں کے بھی نظر آئیں گے ۔ اور نیشنل لیگ
قومی نیشنل لیگ سے اتحاد
پیدا کرنے پر لیگ قانون شکنی سے بچتی رہے گو قانون اس درجہ ظالمانہ ہو کہ وہ بیدار مغز کے کام میں ایسا قانون آڑے آجائے ۔ تو پھر اس کام کو پروگرام میں سے خارج کرنا پڑے گا کیونکہ کسی کے ساتھ نیشنل لیگ کا اتحاد ہو اور وہ کوئی ایسا پروگرام اس کے سامنے رکھے تو اس پروگرام کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا ۔ غرض چونکہ نیشنل لیگ کو دوسری جماعتوں کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کرنا پڑے گا ۔ اس لئے اور بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ کہ
نیشنل لیگ کا موجودہ پروگرام
مختصر ہو ایک لمبا چوڑا پروگرام دے کر فارغ ہو جائیں کہ نیشنل لیگ اگر ان کاموں کو لے تو بہت جلدی تھک سکتی ہے ۔ کیونکہ اس کی موجودہ طاقتیں کم ہیں اور سخت پارٹیاں اسے آسانی سے چھیڑ چھاڑ کر سکتی ہیں ۔ یعنی یا تو لوگ گورنمنٹ کے خلاف خفیہ اپیلیں دیں کہ قتل و غارت کے کیس پیش آئیں ۔ اور یا اسے فتنہ کی بناء پر کوئی کام ہی نہیں کرنے دیں ۔ ایک طبقہ جو ایک طرف تو بانفوذ کی خدمت کرتا ہے ۔ دوسری طرف لوگوں کو روکتا ہے ۔ پھر یہ کمزور جماعت الگ ہے اس لئے ایسی
جگہ بھی شامل کر کے بہت بڑے کام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے ۔ اور اس غرض کے لئے انہوں نے مجھ سے اجازت منگوائی ہے ۔ مگر اب چونکہ مرکزی لیگ کو اختیارات دیئے جاچکے ہیں اس لئے اصولا وہ جو کام بھی کرنا چاہیں اس کے متعلق انہیں مرکزی نیشنل لیگ سے خط و کتابت کرنی چاہئے ۔ لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں ۔ کہ اگر وہ میرے گذشتہ خطبات کو پڑھیں ۔ تو انہیں معلوم ہوتا ۔ کہ نیشنل لیگ کی بنیاد رکھتے ہوئے میں نے جو بات کہی تھی کہ اس لیگ کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے لڑکر قائم کرنا ہو گا ۔ پھر میں نے توجہ دلائی تھی کہ مندرجہ ذیل امور پر نظر رکھتے ہوئے لیگ کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اور ان حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی اسے باہر کی
مخالفت کا مقابلہ
کرنا ہے ۔ بلکہ ہر قسم کے ترقی کے کام کو نئے نئے جذبہ سے کرنا ہوگا۔ پس اس بات کا اعلان میں پہلے ہی کر چکا ہوں ۔ اور اس لئے کہ کسی کو شبہ نہ رہے ۔ اب پھر میں اس اعلان کو دہراتا ہوں ۔ کہ نیشنل لیگ کی بنیاد رکھتے ہی میں نے تجویز کی تھی ۔ کہ یہ لیگ محض احمدیوں سے ملکر کام نہیں کر سکتی ۔ بلکہ اسے اپنے ممبروں میں دوسرے مسلمانوں یا دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی شامل کرنا چاہئے ۔ کئی
سیاسی اور تمدنی کام
ایسے ہو سکتے ہیں ۔ جن کا کسی خاص مذہب کے ساتھ تعلق نہیں ۔ بلکہ ہر مذہب کے لوگ ان کاموں میں حصہ لے سکتے ہیں ۔ مثلاً غریبوں کی ترقی ۔ زمینداروں اور پیشہ وروں کی ترقی جس میں یتیموں اور غریبوں کی ترقی کے لئے کوشش کرنا کسی مذہب کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ۔ ہر ایک سکھ ایک ہندو ایک عیسائی اور ایک یہودی غریب ۔ مزدور ۔ پیشہ ور یا یتیم ومسکین کے ساتھ ہماری ویسی ہی ہمدردی ہونی چاہئے ۔ جیسے ایک احمدی کے ساتھ ۔ ہم اس لئے ایک یتیم کی مدد نہیں کرتے کہ وہ احمدی ہے ۔ بلکہ اس لئے مدد کرتے ہیں ۔ کہ خدا تعالیٰ نے دنیا میں اس کے لئے جو سہارا بنایا تھا ۔ وہ اٹھ گیا اور اب باقی لوگوں کا فرض ہے ۔ کہ اس کی مدد کریں ۔ غرضیکہ
الاقارب فالاقارب
کا قانون یہاں بھی جاری ہے ۔ اور چونکہ ہم سبھی
ہماری نگاہ کے سامنے ہو ۔ اس کی ہم پہلے مدد کرتے ہیں ۔ اور دوسرے کی بعد میں ۔ لیکن ہم دوسرے کی مدد کرنے سے بعض دفعہ اس لئے رہ جاتے ہیں ۔ کہ ہمارے پاس جو طاقت یا روپیہ ہوتا ہے ۔ وہ قریب کے عزیزوں اور رشتہ داروں پر ہی ختم ہو جاتا ہے ۔ اور باقیوں کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں بچتا ۔ ورنہ اگر ہمارے پاس طاقت ہو ۔ تو ہم کسی کے ساتھ فرق نہ کریں ۔ اور ایک ہندو یتیم ۔ ایک سکھ یتیم اور ایک عیسائی یتیم میں کوئی امتیاز نہ کریں ۔ تو تمدنی اور سیاسی معاملات ایسے ہیں ۔ کہ مذہب کے اختلاف کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ پس جن جن جگہوں کو یہ شبہ ہو ۔ کہ یہ لیگ صرف جماعت کے لئے ہے ۔ انہیں یہ شبہ اپنے دل سے نکال دینا چاہئے ۔ اور سمجھ لینا چاہئے ۔ کہ لیگ کو نہ صرف اپنے
دائرہ عمل وسیع کرنے کی ضرورت
ہے ۔ بلکہ وسیع کرنا اس کے لئے مفید اور ضروری ہے ۔ اس کے بعد میں وہ تین باتیں بتاتا ہوں ۔ جو میرے نزدیک نیشنل لیگ کو اپنے پروگرام میں شامل کرنی چاہئیں ۔
سب سے پہلی اور مقدم چیز جس کے لئے ہر احمدی کو
اپنے خون کا آخری قطرہ
تک بہا دینے سے دریغ نہیں کرنا چاہئے ۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور
سلسلہ کی عزت ہے ۔ تواتر سے احرار کی تحریک جاری ہے۔ اور ہم دیکھتے ہیں ۔ کہ حکام کو اس کے دور کرنے کی طرف وہ توجہ نہیں۔ جو ہونی چاہئے۔ نہ وہ فرض ادا کر رہی ہے۔ جو حکومت کے لحاظ سے اس پر عائد ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں۔ کہ حکومت پنجاب نے اب تک ٩ کے قریب یا دس ہیں ۔ ایک دو زیادہ یا تھوڑے ضبط کئے ہیں۔ جن میں سید احمد پر حملے کئے گئے تھے۔ نو دس یا گیارہ
پمفلٹوں کو ضبط کر لینا
ہرگز یہ بات ثابت نہیں کرتا۔ کہ گورنمنٹ نے اپنا فرض ادا کر لیا۔ کیونکہ ضبط ہونے والے پمفلٹ تو نو دس ہیں۔ اور وہ ٹریکٹ رسالجات اور اشتہارات جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمیشہ گندی گالیاں دی جاتی ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ اور گورنمنٹ ان کے متعلق
کوئی نوٹس نہیں لیتی ۔ اگر قاتلوں میں سے نو یا دس قاتلوں کو گورنمنٹ سزا دے دیتی ہے ۔ تو ہرگز یہ نہیں کہا جا سکتا ۔ کہ گورنمنٹ نے اپنی ذمہ داری کو ادا کر لیا ۔ کیونکہ اگر اسے قاتلوں کا علم ہے ۔ تو جب تک کہ وہ ہر ایک قاتل کو سزا نہیں دے لیتی ۔ وہ اپنے فرض کو ادا کرنے والی نہیں سمجھی جا سکتی ۔ اسی طرح گورنمنٹ کا چند رسالجات ضبط کر لینا ان رسالوں اشتہاروں اور کتابوں کی طرف کوئی توجہ نہ کرنا اور نو دس پمفلٹوں کو ضبط کر لینا بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا کرتا ہے ۔ کہ یہ نو پمفلٹ بھی محض یہ دکھانے کے لئے ہیں ۔ کہ ہم نے احمدیوں کی طرف توجہ کی ہے ۔ ورنہ کیا وجہ ہے ۔ کہ نو دس پمفلٹوں کو تو ضبط کر لیا جائے ۔ مگر باقی اخبارات متواتر
گالیوں سے پُر
ہوں ۔ اشتہارات گالیوں سے پُر ہوں ۔ ٹریکٹ اور رسالے گالیوں سے پُر ہوں ۔ نظمیں ہمارے خلاف پڑھی جاتی ہوں ۔ مگر گورنمنٹ ان کی طرف کوئی توجہ نہ کرے ۔ اسی طرح کا ایک شخص ہے ۔ جو انہی دنوں شرارت میں اس حد تک بڑھا ہوا ہے۔ کہ اس نے اپنے باپ کو بھی نہیں بخشا ۔ اور کہا تھا ۔ مجھے کیا پتہ میں تو کس نطفہ سے ہوں ۔ اسکی ایک نظم جو ہمارے خلاف تھی ۔ اس کو گورنمنٹ نے ضبط کر لیا ۔ مگر وہ شخص اس ضبط شدہ نظم کو جلسوں میں پڑھتا ہے ۔ مگر حکومت اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتی اگر اس کی نظم کی ضبطی قیام امن کے لئے تھی۔ تو کیا وجہ ہے۔ کہ جب کہ جلسوں میں وہ اس نظم کو پڑھتا اور طبائع میں اشتعال پیدا کرتا ہے۔ تو گورنمنٹ اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتی ۔ گورنمنٹ کہتی ہے ۔ کہ ہم نے جماعت احمدیہ کے خلاف نو پمفلٹ ضبط کئے۔ مگر ہم ان نو کے مقابلہ میں چار سو بلکہ اس سے بھی زیادہ تحریرات اخبارات رسالجات اور اشتہارات کی دکھا سکتے ہیں۔ جن میں ایسی گندی گالیاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دی گئی ہیں اور ایسے دلآزار کلمات استعمال کئے گئے ہیں ۔ کہ یقیناً طوائف بھی ان گالیوں اور دلآزار کلمات کو دیکھکر شرما جائے ان کے سامنے رکھا جائے ۔ تو وہ اقرار کرے کہ یہ تو بہت ہی گندی گالیاں دی گئی ہیں ۔ عدل سے کام نہیں لیا گیا ۔ مگر باوجود اس کے حکومت نے ان کی طرف کوئی توجہ نہیں کی ۔ بے شک حکومت نے ایک مقدمہ چلایا ہے ۔ مگر ہر انسان جس نے اس مقدمہ کی کارروائی کو دیکھا یہی کہے گا ۔ کہ وہ مقدمہ اس شخص پر نہیں چلایا گیا ۔ بلکہ جماعت احمدیہ پر چلایا گیا تھا کسی
قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد 23 نمبر 43 صفحہ 5 مورخہ 20 اگست 1935ء یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے
حوالہ نمبر 114 رجسٹرڈ نمبر ایل ٣٠ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰہِ يُؤْتِیْہِ مَنْ يَّشَآءُ ٹیلیفون نمبر ٩١
الفضل قادیان
خطبہ نمبر روزنامہ THE DAILY ALFAZL QADIAN ایڈیٹر: غلام نبی قیمت ایک آنہ جلد ٢٥ | ٢٤ ربیع الاول ١٣٥٦ھ یوم شنبہ مطابق ٥ جون ١٩٣٧ء | نمبر ١٢٩ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
خطبہ
امام کا مقام یہ ہے کہ وہ حکم دے اور ماموم کا مقام یہ ہے کہ وہ اطاعت کرے
افراد جماعت کو خود بخود اُن باتوں میں دخل نہیں دینا چاہئے جن کا اثر ساری جماعت پر پڑتا ہو
از حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ ٢٨ مئی ١٩٣٧ء
سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : غالباً دو ہفتے گزرے ہیں کہ مَیں نے ایک خطبہ اپنے سفر کے دنوں میں پڑھا تھا۔ یہ ہدایت کی تھی کہ اُسے خوب اچھی طرح پھیلانے کے لئے چھپوا دیا جائے۔ کیونکہ وہ خطبہ موجودہ فتنوں کے متعلق تھا ۔ گو وہ پڑھا سفر میں گیا تھا۔ جو لوگ اس وقت سامنے بیٹھے تھے ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی تھی ۔ جو قادیان میں نہیں رہتے تھے ۔ مگر اس خطبہ کے مخاطب قادیان میں رہنے والے لوگ ہی تھے ۔ اور میں چاہتا تھا کہ یہ جلد ہو جائے ۔ اسے قادیان میں رہنے والے لوگوں تک پہنچایا جائے ۔ تاکہ بجائے اس کے کہ دوسروں کے سامنے بھی وہی الفاظ پڑھے جاویں ۔ اور اُسے کوئی نیا پیرایہ دیا جائے ۔ مَیں نے یہاں بھی اس کی تشریح کروں ۔ پس اگر با وجود میرے ہدایت پیش کر دینے کے ۔ انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ۔ تو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ۔ ان پر ہے ۔ میں اِن مجرموں کے متعلق آپ لوگوں سے کچھ نہیں کہنا چاہتا ہوں ۔ اور نہ صرف آپ لوگوں سے بلکہ باہر کی جماعتوں سے بھی ۔ اور نہ مَیں نے کسی سے ایسا کہنے کا ارادہ کیا ہے ۔ میں نے وہ صداقت آپ لوگوں تک پہنچا دی ہے ۔ جو میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا منشاء اور قرآنی تعلیم ہے ۔ مَیں نے اُس خطبہ میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ جو جماعتیں منظم ہوتی ہیں ۔ اُن پر کچھ ذمہ داریاں ہوا کرتی ہیں ۔ اور کچھ شرائط کی پابندی کرنی ان کے لئے لازمی ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ میرے لئے نیا نہیں مَیں بیسیوں دفعہ اسے بیان کر چکا ہوں
تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25 نمبر 129 صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے
حوالہ نمبر 114 روزنامہ الفضل قادیان ٥ جون ١٩٣٧ء نمبر 6 جلد 25
جائے۔ کہ تم کو یہ میری بات گراں نہ گزرے۔ مگر کیا میرے
تین سالہ خطبات
میں تم کو منشاء سے آگاہ نہیں کیا میں یہ راز کھول کر دکھا دیتا ہوں۔ کہ شریفانہ اور مخلصانہ یقیناً وہی ہوتے ہیں۔ یا انسان کو مٹانا ہو۔ یا انسان کو مارنا آتا ہو ۔ ہمارا طریقہ مرنے کا ہے۔ مارنے کا نہیں ہم کہتے ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مقام پر رکھا ہوا ہے۔ کہ ہر طرف مگر اپنی زبان نہ کھولو۔ کیا تم نے جہاد بہ تیغ کے متعلق۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں نہیں پڑھی اس میں کس وضاحت سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بتلایا ہے۔ کہ اگر جہاد کا موقعہ ہوتا۔ تو وہ انہیں نہیں تو اور کیوں نہ دیتا۔ اللہ تعالیٰ یہ دکھانا چاہتا ہے۔ کہ یہ تلوار سے جہاد کا موقعہ نہیں اسی طرح اگر تمہارے سامنے ان کا نظام ہوتا۔ تو تمہیں اس موقعہ کے توڑنے کی طاقت اور اس کے سامان بھی ملتے۔ جس منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ مگر تمہیں اس کی توفیق نہیں دی گئی۔ اور سامان نہیں دیئے گئے۔ پس معلوم ہوا۔ کہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے یہی منشاء رکھا ہے۔ کہ تم گالیاں سنتے اور صبر کرو۔ اور اگر تم میں طاقت ہے۔ تو میں اسے کہوں گا۔ اے بے شرم تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اس فتنہ کو کیوں نہیں دباتا جس موقعہ سے تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دلوائی ہیں تجھ سے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت کے متعلق کام لینے تھے تم درحقیقت اللہ تعالیٰ کی توہین کرا رہے
اور تمہارا سچ مچ یہ عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہیے۔ تو پھر بھی تم خود مت جاؤ۔ یا گالیاں دے کر دلیل کو مٹاؤ۔ ایک طرف تو تم جوش اور بہادری کا دعویٰ کرتے ہو۔ اور دوسری طرف بزدلوں والی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہو۔ میں تو ایسے لوگوں کے متعلق یہی کہتا ہوں کہ وہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دلواتے ہیں۔ اور
وہ آپس کے دشمن۔ اور
خدا کے دشمن ہیں
اگر کسی کو مارنا پیٹنا جائز ہوتا۔ تو میں تو کہتا۔ کہ ایسے لوگوں کو بازار میں کھڑا کر کے انہیں خوب پیٹنا چاہیے۔ کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آپ گالیاں دلواتے ہیں۔ اور پھر مخلص اور احمدی کہلاتے پھرتے ہیں۔ میں اس موقعہ پر ان لوگوں کو بھی جو انہیں اعلےٰ مخلص سمجھتے ہیں۔ کہتا ہوں کہ
مومن بے وقوف نہیں ہوتا
کیا تم سمجھتے ہو کہ صحابہ نے دنیا کو فتح گالیوں سے کیا ہے۔ تم کسی چوہڑے کو روپئے دے کر دیکھو۔ کہ وہ تم سے زیادہ گالیاں دے دیگا۔ میں تو یہی کہونگا۔ کہ تم نے گالیوں سے زیادہ سے زیادہ چوڑھوں والا کام کرتے ہو۔ یہ کوئی ایسا مفید مشغلہ نہیں ہے جس پر تم فخر کر سکو۔ مگر میں تو تین سال سے سمجھا رہا ہوں تم ابھی تک سمجھے ہی نہیں۔ اگر تمہارے سامنے کوئی احمق کھڑا ہو کر بکواس کرے۔ میں یہ باتیں اس کے سامنے دہرا دیتا ہوں۔ تمہیں خود بخود معلوم ہو
تو دونوں میں سے ایک اصل اختیار کرو۔ جو کچھ میں سمجھتا ہوں۔ اور جس پر میرا ایمان ہے۔ کہ میں سچ سمجھتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ تم پہاڑ بن جاؤ۔ اور اس طرح کی
گالیاں کھانے کی عادت ڈالو
اور امام کے پیچھے ہو کر دشمن سے جنگ کرو۔ اب جب وہ کہے کہ تم لڑو اسوقت بیشک لڑو۔ لیکن جب تک تمہیں امام لڑائی کا حکم نہیں دیتا۔ اسوقت تک دشمن کا سننا اور بکنے دینا۔ یہی انبیاء علیہم السلام اور صالحین کا کام ہے۔ بلکہ
ایک تماشا کھڑا کرنا بھی تمہارے
لئے جائز نہیں
بلکہ میں کہتا ہوں۔ چپ رہو۔ اور اگر کوئی تمہارے خلاف بکواس کرے جس حد تک دشمن کو اس وقت تک مارنے کی اجازت نہیں جب تک امام تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دے لیکن اگر تمہارا یہ عقیدہ نہیں تب بھی میں شریف انسان تمہیں تب سمجھونگا کہ اگر تمہارا یہ دعویٰ ہو۔ کہ گالی دینے والے دشمن کو ضرور سزا دینی چاہئے اور تم اس گالی دینے والے کے جواب میں سخت کلامی کرتے ہو اور اس سے جوش میں آ کر وہ پھر اور بدکلامی کرتا ہے۔ تو پھر تم ہٹ جاؤ اور اپنے آپ کو بہادر کہو۔ لیکن اس منہ کو تو بند کرو جس منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے گالی نکلی تھی۔ کیونکہ اس کو خاموش کرانا تمہارا ہی فرض ہے۔ کیونکہ تمہارے ہی فعل سے اس نے مزید گالیاں دی ہیں کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم ایک سخت بدکلام دشمن کا جواب دیکر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دلواتے ہو۔ اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھتے ہو اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے
جماعت کے نظام کی پابندی کرو یا اپنے جذبات پر قابو رکھو۔ اگر تم اس خیال کے قائل نہیں تھے۔ تو پھر تمہیں ہمارے پاس بھاگ کر آنے کی کیا ضرورت ہے۔ تمہیں چاہئے کہ تم الگ رہو۔ اور اپنے جرم کا اقرار کرو۔ اگر ان دونوں عقیدوں کے حاملین چالیس آدمی بھی تیار ہوجائیں تو ہم دنیا کو ڈرا سکتے ہیں۔ اگر چالیس آدمی ایسے مل جائیں جو مار کھانے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں۔ تو وہ دنیا کو ڈرا سکتے ہیں۔ اور اگر چالیس آدمی ایسے میسر آ جائیں جو مارنے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں۔ تو وہ بھی دنیا کو ڈرا سکتے ہیں۔ مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم میں سے بعض دشمن سے کوئی گالی سنتے ہیں تو ان کے منہ میں جھاگ بھر آتی ہے۔ اور وہ کو د کر اس پر حملہ کر دیتے ہیں لیکن اسی وقت ان کے پیر پیچھے کی طرف پڑ رہے ہوتے ہیں۔ تم میں سے بعض تقریر کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ اور کہتے ہیں۔ کہ ہم مر جائیں گے۔ مگر
سلسلہ کی ہتک
برداشت نہ کریں گے۔ لیکن جب کوئی ان پر ہاتھ اُٹھاتا ہے۔ تو پھر ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں۔ کہ بھائیو ! کچھ روپے ہیں۔ کہ جن سے مقدمہ لڑا جائے۔ کوئی وکیل ہے جو وکالت کرے۔ بھلا ایسے شخصوں نے بھی کسی قوم کو فائدہ پہنچایا ہے بہادر وہ ہے۔ جو اگر مارنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ تو مار کر پیچھے ہٹتا ہے۔ اور پکڑا جاتا ہے۔ تو دلیری سے پھانسی پاتا ہے اور اگر مار کھانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ تو جوش میں نہیں آتا۔ اور اپنے نفس کو شدید اشتعال کے وقتوں میں بھی قابو میں رکھتا ہے۔ پس اگر تم جیتنا چاہتے ہو
لذیذ شاہی طرز کے کھانے کا لطف
نشاط ریسٹورنٹ انار کلی لاہور
میں حاصل کریں یہاں ہر قسم کے کھانے کے لئے اہتمام ہے
تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25 نمبر 129، صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء | یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے
حوالہ نمبر 115
روحانی خزائن جلد ١ ٣١٦ براہین احمدیہ حصہ چہارم
اور فروتنی اور حسن ظن اور محبت برادرانہ کو اٹھا لیا ۔ انا لله وانا اليه راجعون
تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ بعض صاحبوں نے مسلمانوں میں سے اس مضمون کی بابت کہ جو حصہ سوم کے ساتھ گورنمنٹ انگریزی کے شکر کے بارے میں شامل ہے اعتراض کیا اور بعض نے خطوط بھی بھیجے اور بعض نے سخت اور درشت لفظ بھی لکھے کہ انگریزی عملداری کو دوسری عملداریوں پر کیوں ترجیح دی۔ لیکن ظاہر ہے کہ جس سلطنت کو اپنی شائستگی اور حسن انتظام کے رو سے ترجیح ہو۔ اس کو کیونکر چھپا سکتے ہیں۔ خوبی باعتبار اپنی ذاتی کیفیت کے خوبی ہی ہے گو وہ کسی گورنمنٹ میں پائی جائے ۔ الحكمة ضالة المؤمن. الخ ۔ اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ اسلام کا ہرگز یہ اصول نہیں ہے کہ مسلمانوں کی قوم جس سلطنت کے ماتحت رہ کر اس کا احسان اٹھاوے اس کے ظلِ حمایت میں بأمن و آسائش رہ کر اپنا رزق مقسوم کھاوے۔ اس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے پھر اسی پر عقرب کی طرح نیش چلاوے۔ اور اس کے سلوک اور مروّت کا ایک ذرہ شکر نہ بجالاوے۔ بلکہ ہم کو ہمارے خداوند کریم نے اپنے رسول مقبول کے ذریعہ سے یہی تعلیم دی ہے کہ ہم نیکی کا معاوضہ بہت زیادہ نیکی کے ساتھ کریں اور منعم کا شکر بجالاویں۔ اور جب کبھی ہم کو موقعہ ملے تو ایسی گورنمنٹ سے بدلِ صدق کمال ہمدردی سے پیش آویں اور بہ طیب خاطر معروف اور واجب طور پر اطاعت اٹھاویں ۔ سو اس عاجز نے جس قدر حصہ سوم کے پرچہ مشمولہ میں انگریزی گورنمنٹ کا شکر ادا کیا ہے وہ صرف اپنے ذاتی خیال سے ادا نہیں کیا بلکہ قرآن شریف و احادیث نبوی کی ان بزرگ تاکیدوں نے جو اس عاجز کے پیش نظر ہیں مجھ کو اس شکر ادا کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سو ہمارے بعض ناسمجھ بھائیوں کی یہ افراط ہے جس کو وہ اپنی کوتہ اندیشی اور بخل فطرتی سے اسلام کا جز سمجھ بیٹھے ہیں ۔
اور جیسا کہ ہم نے ابھی اپنے بعض بھائیوں کی افراط کا ذکر کیا ہے ایسا ہی بعض ان میں سے تفریط کی ﴿ب﴾ مرض میں بھی مبتلا ہیں اور دین سے کچھ غرض واسطہ ان کا نہیں رہا۔ بلکہ ان کے خیالات کا تمام زور
براہین احمدیہ حصہ اول تا چہارم صفحہ 2 ، مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 ، صفحہ 316 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 161 پر درج ہے
حوالہ نمبر 116
روحانی خزائن جلد ٣ ٤٩٠ ازالہ اوہام حصہ دوم
﴿٧٢٦﴾
جس سے ایسے لوگ مراد ہیں جو کذاب ہوں۔ چنانچہ قاموس میں یہی معنے لکھے ہیں کہ دجال اس گروہ کو کہتے ہیں کہ جو باطل کو حق کے ساتھ ملانے والا اور زمین کو نجس کرنے والا ہو۔ اور مشکوۃ کتاب الفتن میں مسلم کی ایک حدیث لکھی ہے جس میں دجال کے ایک گروہ ہونے کی طرف صریح اشارہ کیا گیا ہے۔
﴿٧٢٧﴾
اب جاننا چاہیئے کہ دجال معہود کی بڑی علامتیں حدیثوں میں یہ لکھی ہیں۔
- (١) آدم کی پیدائش سے قیامت کے دن تک کوئی فتنہ دجال کے فتنے سے بڑھکر نہیں یعنی جس
قدر دین اسلام کے تخریب کے لئے فتنہ اندازی اس سے ظہور میں آنے والی ہے اور کسی سے ابتداء دنیا سے قیامت کے وقت تک ظہور میں نہیں آئیگی۔ صحیح مسلم۔
- (٢) دجال کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم کشف اور رویا میں دیکھا کہ داہنی آنکھ سے وہ
﴿٧٢٨﴾
کانا ہے اور دوسری آنکھ بھی عیب سے خالی نہیں۔ یعنی دینی بصیرت اُن کو بکلی نہیں دی گئی اور تحصیل دنیا کی وجوہ بھی حلال اور طیب نہیں۔ بخاری اور مسلم۔
﴿٧٢٣﴾
بقیہ حاشیہ کیونکہ وہ اس گورنمنٹ کی رعیت اور ان کے زیر سایہ تھے اور رعیت کا اس گورنمنٹ کے مقابل پر سر اٹھانا جس کی وہ رعیت ہے اور جس کے زیر سایہ امن اور آزادی سے زندگی بسر کرتی ہے سخت حرام اور معصیت کبیرہ اور ایک نہایت مکروہ بدکاری ہے۔ جب ہم ١٨٥٧ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتووں پر نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں جو انگریزوں کو قتل کر دینا چاہیئے تو ہم بحر ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے اُن کے فتوے تھے۔ جن میں نہ رحم تھا نہ عقل تھی نہ اخلاق نہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔ ننھے ننھے بچوں اور بے گناہ عورتوں کو قتل کیا اور نہایت بے رحمی سے انہیں پانی تک نہ دیا۔ کیا یہ حقیقی اسلام تھا یا یہودیوں کی خصلت تھی۔ کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایسے جہاد کا کسی جگہ حکم دیا ہے۔ پس اس حکیم و علیم کا قرآن کریم میں یہ بیان فرمانا کہ ١٨٥٧ء میں میرا کلام آسمان پر اُٹھایا جائیگا یہی معنے رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے جیسا کہ
ازالہ اوہام صفحہ 724 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 490 از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 161 پر درج ہے
حوالہ نمبر 117
روحانی خزائن جلد ٦ ٣٨٠ شہادۃ القرآن
میں تو دلوں کو اندر ہی اندر دے دی ہے بہر حال جبکہ ہمارے نظام بدنی اور امور دنیوی میں خدا تعالیٰ نے اس قوم میں سے ہمارے لئے گورنمنٹ قائم کی اور ہم نے اس گورنمنٹ کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکر کرنا کوئی سہل بات نہیں اس لئے ہم اپنی معزّز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے ۔ سو ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا ۔ سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسری سے واب
حوالہ نمبر 118
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٣٠ تریاق القلوب
چو شیر زندگی او بود دریں عالم ز صید او دگرانرا ہمہ غذا باشد
گہے نشاں بنماید ز بہر دین قویم گہے بمعرکہ جنگش باشقیا باشد☆
بود مظفر و منصور از خدائے کریم ز معضلات شریعت گرہ کشا باشد
ز مہر یار ازل بر رُخش ببارد نور ز شانِ حضرت اعلیٰ درو ضیا باشد
کشوفِ اہل کشوف از برائے او باشند ہم از نجوم پئے مقدمش صدا باشد
غرض مقامِ ولایت نشان ہا دارد نہ ہرکہ دلق بپوشد ز اولیا باشد
کلید ایں ہمہ دولت محبت ست و وفا خوشا کسیکہ چنیں دولتش عطا باشد
سُخن ز فقر بدزدی ہمی تواں گفتن ولے علامتِ مرداں رو صفا باشد
ز مشکلاتِ رہِ راستی چہ شرح دہم کہ شرط ہر قدمے گریہ و بکا باشد
بسوزد آنکہ نسوزد بصدق در رہِ یار بمیرد آنکہ گریزندہ از فنا باشد
کلاہ فتح و ظفر ہیچ سر نمی یابد مگر سرے کہ پئے حفظِ دیں فدا باشد
نشانہائے سماوی بہ ہیچکس ندہند مگر کسے کہ ز خود گم پئے خدا باشد
کسے رسد بمقامِ خوارق و اعجاز کہ در مقامِ مصافات و اصطفا باشد
ضرورت است کہ در دیں چنیں امام آید چو خلق جاہل و بیدین و مُردہ سا باشد
جہانیاں ہمہ ممنونِ منتش باشند چرا کہ او بنہ ملت الھُدٰی باشد
اگرچہ تیغ ندارد مگر بہ تیغ دلیل ہمی درد صف قومے کہ ناسزا باشد
☆ جنگ سے مراد تلوار بندوق کا جنگ نہیں۔ کیونکہ یہ تو سراسر نادانی اور خلاف ہدایت قرآن ہے جو دین کے پھیلانے کے لئے جنگ کیا جائے بلکہ اس جگہ جنگ سے ہماری مراد زبانی مباحثات ہیں جو نرمی اور انصاف اور معقولیت کی پابندی کے ساتھ کئے جائیں۔ ورنہ ہم اُن تمام مذہبی جنگوں کے سخت مخالف ہیں جو جہاد کے طور پر تلوار سے کئے جاتے ہیں۔ منہ
تریاق القلوب صفحہ 2، مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 130 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 162 پر درج ہے
حوالہ نمبر 119
روحانی خزائن جلد ١٧ ٨ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد
موجب ہے۔ اس کا سبب کیا تھا؟ یہی تو تھا کہ میرا مسیح موعود ہونا اور اُن کے جہادی مسائل کے مخالف وعظ کرنا اور اُن کے خونی مسیح اور خونی مہدی کے آنے کو جس پر اُن کو لوٹ مار کی بڑی بڑی اُمیدیں تھیں سراسر باطل ٹھہرانا اُن کے غضب اور عدا
حوالہ نمبر 119
روحانی خزائن جلد ١٧ ٩ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد
پاک نبی کے نافرمان مت بنو مسیح موعود جو آنے والا تھا آچکا اور اُس نے حکم بھی دیا کہ ﴾٨﴿ آئندہ مذہبی جنگوں سے جو تلوار اور کشت وخون کے ساتھ ہوتی ہیں باز آجاؤ تو اب بھی خونریزی سے باز نہ آنا اور ایسے وعظوں سے مُنہ بند نہ کرنا طریق اسلام نہیں ہے جس نے مجھے قبول کیا ہے وہ نہ صرف ان وعظوں سے مُنہ بند کرے گا بلکہ اس طریق کو نہایت بُرا اور موجب غضب الٰہی جانے گا۔
اس جگہ ہمیں یہ بھی افسوس سے لکھنا پڑا کہ جیسا کہ ایک طرف جاہل مولویوں نے اصل حقیقت جہاد کی مخفی رکھ کر لوٹ مار اور قتل انسان کے منصوبے عوام کو سکھائے اور اس کا نام جہاد رکھا ہے اسی طرح دوسری طرف پادری صاحبوں نے بھی یہی کارروائی کی اور ہزاروں رسالے اور اشتہار اردو اور پشتو وغیرہ زبانوں میں چھپوا کر ہندوستان اور پنجاب اور سرحدی ملکوں میں اس مضمون کے شائع کئے کہ اسلام تلوار کے ذریعہ سے پھیلا ہے اور تلوار چلانے کا نام اسلام ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام
حوالہ نمبر 120
روحانی خزائن جلد ١٧ ١٥ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد
کی تدبیر ہے اور تمہاری ساری نجات اس سفیدی پر موقوف ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: - قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰهَا ١؎ یعنی وہ نفس نجات پا گیا جو طرح طرح کے میلوں اور چرکوں سے پاک کیا گیا۔ دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی
﴿١٥﴾
ہے۔ اور یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ خدا کا یہی ارادہ ہے صحیح بخاری کی اُس حدیث کو سوچو جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھا ہے کہ یضع الحرب یعنی مسیح جب آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔ سو میں حکم دیتا ہوں کہ جو میری فوج میں داخل ہیں وہ ان خیالات کے مقام سے پیچھے ہٹ جائیں۔ دلوں کو پاک کریں اور اپنے انسانی رحم کو ترقی دیں اور دردمندوں کے ہمدرد بنیں۔ زمین پر صلح پھیلاویں کہ اسی سے اُن کا دین پھیلے گا اور اِس سے تعجب مت کریں کہ ایسا کیونکر ہوگا۔ کیونکہ جیسا کہ خدا نے بغیر توسط معمولی اسباب کے جسمانی ضرورتوں کے لئے حال کی نئی ایجادوں میں زمین کے عناصر اور زمین کی تمام چیزوں سے کام لیا ہے اور ریل گاڑیوں کو گھوڑوں سے بھی بہت زیادہ دوڑا کر دکھلایا ہے ایسا ہی اب وہ رُوحانی ضرورتوں کے لئے بغیر توسط انسانی ہاتھوں کے آسمان کے فرشتوں سے کام لے گا۔ بڑے بڑے آسمانی نشان ظاہر ہوں گے اور بہت سی چمکیں پیدا ہوں گی جن سے بہت سی آنکھیں کھل جائیں گی۔ تب آخر میں لوگ سمجھ جائیں گے کہ جو خدا کے سوا انسانوں اور دوسری چیزوں کو خدا بنایا گیا تھا یہ سب غلطیاں تھیں۔ سو تم صبر سے دیکھتے رہو کیونکہ خدا اپنی توحید کے لئے تم سے زیادہ غیرتمند ہے اور دُعا میں لگے رہو ایسا نہ ہو کہ نافرمانوں میں لکھے جاؤ۔ اے حق کے بھوکو اور پیاسو! سُن لو کہ یہ وہ دن ہیں جن کا ابتدا سے وعدہ تھا۔ خدا ان قصوں کو بہت لمبا نہیں کرے گا اور جس طرح تم دیکھتے ہو کہ جب ایک بلند مینار پر چراغ رکھا جائے تو دور دور تک اس کی روشنی پھیل جاتی ہے اور یا جب آسمان کے ایک طرف بجلی چمکتی ہے تو سب طرفیں ساتھ ہی روشن ہو جاتی ہیں ۔ ایسا ہی ان دنوں میں ہوگا کیونکہ خدا نے اپنی اس پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے کہ
١؎ الشمس: ١٠
گورنمنٹ انگریزی اور جہاد صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 15 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 164 پر درج ہے
حوالہ نمبر 121
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٦ ستارۂ قیصرہ
اس کے عہد مبارک میں اپنی طرف سے اور غیب سے اور آسمان سے کوئی ایسا روحانی انتظام قائم کرے جو حضور ملکہ معظمہ کے دلی اغراض کو مدد دے ۔ اور جس امن اور عافیت اور صلح کاری کے باغ کو آپ لگانا چاہتی ہیں آسمانی آبپاشی سے اس میں امداد فرماوے ۔ سو اس نے اپنے قدیم وعدہ کے موافق جو مسیح موعود کے آنے کی نسبت تھا ۔ آسمان سے مجھے بھیجا ہے تا میں اُس مرد خدا کے رنگ میں ہو کر جو بیت اللحم میں پیدا ہوا اور ناصرہ میں پرورش پائی ۔ حضور ملکہ معظمہ کے نیک اور بابرکت مقاصد کی اعانت میں مشغول ہوں اُس نے مجھے بے انتہا برکتوں کے ساتھ چھوا اور اپنا مسیح بنایا تا وہ ملکہ معظمہ کے پاک اغراض کو خود آسمان سے مدد دے ۔
اے قیصرہ مبارکہ خدا تجھے سلامت رکھے اور تیری عمر اور اقبال اور کامرانی سے ہمارے دلوں کو خوشی پہنچا دے ۔ اس وقت تیرے عہد سلطنت میں جو نیک نیتی کے نور سے بھرا ہوا ہے مسیح موعود کا آنا خدا کی طرف سے یہ گواہی ہے کہ تمام سلاطین میں سے تیرا وجود امن پسندی اور حسن انتظام اور ہمدردی رعایا اور عدل اور دادگستری میں بڑھ کر ہے ۔ مسلمان اور عیسائی دونوں فریق اس بات کو مانتے ہیں کہ مسیح موعود آنے والا ہے مگر اُسی زمانہ اور عہد میں جبکہ بھیڑیا اور بکری ایک ہی گھاٹ میں پانی پئیں گے اور سانپوں سے بچے کھیلیں گے ۔ سو اے ملکہ مبارکہ معظمہ قیصرہ ہند وہ تیرا ہی عہد اور تیرا ہی زمانہ ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جو تعصب سے خالی ہو وہ سمجھ لے ۔ اے ملکہ معظمہ یہ تیرا ہی عہد سلطنت ہے جس نے درندوں اور غریب چرندوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ۔ راستباز جو بچوں کی طرح ہیں وہ شریر سانپوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور تیرے پُر امن سایہ کے نیچے کچھ بھی ان کو خوف نہیں ۔ اب
ستارہ قیصرہ صفحہ 6 ، 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 116 ، 120 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 165 پر درج ہے
حوالہ نمبر 121
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٢٠ ستارۂ قیصرہ
آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کیلئے آب رواں کی طرح جاری ہیں اور ہم نہ سیاست قہری کے نیچے ہو کر آپ کے مطیع ہیں بلکہ آپ کی انواع اقسام کی خوبیوں نے ہمارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ اے بابرکت قیصرہ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اُس ملک پر ہیں جس پر تیری نگاہیں ﴿٨﴾ ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اُس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا پرہیزگاری اور پاک اخلاق اور صلح کاری کی راہوں کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں۔ اے عالی جناب قیصرہ ہند۔ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا گیا ہے کہ ایک عیب مسلمانوں اور ایک عیب عیسائیوں میں ایسا ہے جس سے وہ سچی روحانی زندگی سے دور پڑے ہوئے ہیں اور وہ عیب اُن کو ایک ہونے نہیں دیتا بلکہ ان میں باہمی پھوٹ ڈال رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ دو مسئلے نہایت خطرناک اور سراسر غلط ہیں کہ وہ دین کے لئے تلوار کے جہاد کو اپنے مذہب کا ایک رکن سمجھتے ہیں اور اس جنون سے ایک بے گناہ کو قتل کر کے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا انہوں نے ایک بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور گو اس ملک برٹش انڈیا میں یہ عقیدہ اکثر مسلمانوں کا بہت کچھ اصلاح پذیر ہو گیا ہے اور ہزار ہا مسلمانوں کے دل میری بائیس ٢٢ تیئیس ٢٣ سال کی کوششوں سے صاف ہو گئے ہیں لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض غیر ممالک میں یہ خیالات اب تک سرگرمی سے پائے جاتے ہیں گویا ان لوگوں نے اسلام کا مغز اور عطر لڑائی اور جبر کو ہی سمجھ لیا ہے۔ لیکن یہ رائے ہرگز صحیح نہیں ہے۔ قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوار مت اُٹھاؤ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتدا میں
ستارہ قیصرہ صفحہ 6، 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 116، 120 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 165 پر درج ہے
حوالہ نمبر 122
روحانی خزائن جلد ١٦ ٨٣ خطبہ الہامیہ
فى التوراة و الانجيل و القرآن و من اوفى من در تورات و انجیل و قرآن و کیست زیادہ تر وفا کنندہ وعدہ را تورات اور انجیل اور قرآن میں اور وعدہ کا وفا کرنے والا اور
اللّٰه وعدًا و اصدق قيلًا - ولما كان وعد و زیادہ تر راست گو از خدا تعالیٰ و ہرگاہ کہ وعدہ راست گو خدا تعالیٰ سے زیادہ کون ہے اور جس وقت کہ وعدہ
المشابهة فى سلسلتى الاستخلاف وعدًا اكّد مشابہت در سلسلہ ہر دو خلافت بود مشابہت خلافت کے دونوں سلسلہ میں تھا۔
بالنون الثقيلة من اللّٰه صادق الوعد الذى کہ از طرف خدا تعالیٰ بنون ثقیلہ مؤکد کردہ شدہ بود اور خدا تعالیٰ کی طرف سے نون ثقیلہ کے ساتھ مؤکد کیا گیا تھا
هو اوّل من وفّى - اقتضى هذا الامر ان ایں امر تقاضا کرد کہ اس بات نے تقاضا کیا کہ
يأتى اللّٰه باخر السلسلة المحمّدية خليفةً در آخر سلسلہ محمدیہ آں خلیفہ بیاید کہ سلسلۂ محمدیہ کے آخر میں وہ خلیفہ آئے
هو مثيل عيسى - فانّ عيسى كان اخر خلفاء او مثیل عیسیٰ علیہ السلام باشد چرا کہ عیسیٰ علیہ السلام خلیفہ آخری بود کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی مانند ہو کس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے خلیفوں میں سے آخری خلیفہ تھے
خطبہ الہامیہ صفحہ 83، 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 83، 84 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 165 پر درج ہے
حوالہ نمبر 122
روحانی خزائن جلد ١٦ ٨٤ خطبہ الهامیه
ملّة موسىٰ كما مضىٰ ـ ووجب ان لايكون از خلفاء سلسلہٴ موسٰی علیہ السلام چنانچہ گذشت۔ و واجب شد اینکہ نباشد جیسا کہ بیان ہوا اور واجب ہوا کہ یہ خلیفہ
هٰذا الخليفة من القريش وان لا يأتى مع ایں خلیفہ کہ او آخر الخلفاء است از قریش و اینکہ نیاید جو خاتم الخلفاء ہے قریش میں سے نہ ہووے اور تلوار نہ اٹھائے
السيف ولا يؤمر للوغىٰ ـ ليتم امر المشابهة بشمشیر و نہ حکم کند برائے جنگ تا کہ امر مشابہت بکمال رسد اور جنگ کا حکم نہ کرے تا کہ مشابہت پوری ہو جائے
كما لايخفىٰ ـ ووجب ان يظهر تحت حكومة چنانکہ پوشیدہ نیست و واجب شد اینکہ ظاہر گردد زیر حکومت جیسا کہ پوشیدہ نہیں اور یہ بھی لازم ہوا کہ وہ ایک دوسری قوم کی حکومت کے نیچے
قوم آخرين الذين هم كمثل قوم بعث قومے دیگر کہ باشند ہمچو آں قوم کہ حضرت مسیح ظاہر ہووے جو وہ قوم مثل اس قوم کے ہو کہ حضرت مسیح
المسيح فى زمن حكومتهم فانظر الىٰ هٰذه علیہ السلام در زمانہ حکومت شاں ظاہر شد۔ پس بہ بیں علیہ السلام اس کی حکومت کے زمانہ میں ظاہر ہوئے تھے۔ پس اس مشابہت کو دیکھ
المضاهاة فانها اوضح واجلىٰ ـ وانت تعلم ایں مشابہت را چرا کہ آں واضح تر و روشن تر است و تو میدانی کہ کہ کیسی واضح اور روشن تر ہے اور تو جانتا ہے کہ
خطبہ الہامیہ صفحہ 83، 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 83، 84، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 165 پر درج ہے
حوالہ نمبر 123
روحانی خزائن جلد ١٧ ٧٧ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّى عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ
مسیح موعود کی طرف سے
اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے ☆ دیں کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
☆ نوٹ:-(ایک زبردست الہام اور کشف) آج ٢/ جون ١٩٠٠ء کو بروز شنبہ بعد دوپہر دو بجے کے وقت مجھے تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ ایک ورق جو نہایت سفید تھا دکھلایا گیا۔ اس کی آخری سطر میں لکھا تھا اقبال۔ میں خیال کرتا ہوں کہ آخر سطر میں یہ لفظ لکھنے سے انجام کی طرف اشارہ تھا یعنی انجام باقبال ہے۔ پھر ساتھ ہی یہ الہام ہوا:- ”قادر کے کاروبار نمودار ہو گئے۔ کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے۔“ اس کے یہ معنے مجھے سمجھائے گئے کہ عنقریب کچھ ایسے زبردست نشان ظاہر ہو جائیں گے جس سے کافر کہنے والے جو مجھے کافر کہتے تھے الزام میں پھنس جائیں گے اور خوب پکڑے جائیں گے اور کوئی گریز کی جگہ اُن کے لئے باقی نہیں رہے گی۔ یہ پیشگوئی ہے۔ ہر ایک پڑھنے والا اس کو یاد رکھے۔ اس کے بعد ٣/ جون ١٩٠٠ء کو بوقت ساڑھے گیارہ بجے یہ الہام ہوا:- کافر جو کہتے تھے وہ نگونسار ہو گئے۔ جتنے تھے سب کے سب ہی گرفتار ہو گئے۔“ یعنی کافر کہنے والوں پر خدا کی حجت ایسی پوری ہوگئی کہ اُن کے لئے کوئی عذر کی جگہ نہ رہی۔ یہ آئندہ زمانہ کی خبر ہے کہ عنقریب ایسا ہو گا اور کوئی ایسی چمکتی ہوئی دلیل ظاہر ہو جائے گی کہ فیصلہ کر دے گی۔ منہ
تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 42، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 77، 78 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 165 پر درج ہے
حوالہ نمبر 123
روحانی خزائن جلد ١٧ ٧٨ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ
کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
کیوں بھولتے ہو تم یضع الحرب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر
فرما چکا ہے سید کونین مصطفےٰ عیسیٰ مسیح جنگوں کا کردے گا التوا
جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا
پیویں گے ایک گھاٹ پہ شیر اور گوسپند کھیلیں گے بچے سانپوں سے بے خوف و بے گزند
یعنی وہ وقت امن کا ہوگا نہ جنگ کا بھولیں گے لوگ مشغلہ تیر و تفنگ کا
یہ حکم سُن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اُٹھائے گا
اک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے
القصہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشاں کردے گا ختم آکے وہ دیں کی لڑائیاں
ظاہر ہیں خود نشاں کہ زماں وہ زماں نہیں اب قوم میں ہماری وہ تاب و تواں نہیں
اب تم میں خود وہ قوت و طاقت نہیں رہی وہ سلطنت وہ رعب وہ شوکت نہیں رہی
وہ نام وہ نمود وہ دولت نہیں رہی وہ عزمِ مقبلانہ وہ ہمت نہیں رہی
وہ علم وہ صلاح وہ عفت نہیں رہی وہ نور اور وہ چاند سی طلعت نہیں رہی
﴿٢٨﴾
دل میں تمہارے یار کی الفت نہیں رہی حالت تمہاری جاذبِ نصرت نہیں رہی
حمق آگیا ہے سر میں وہ فطنت نہیں رہی کسل آگیا ہے دل میں جلادت نہیں رہی
وہ علم و معرفت وہ فراست نہیں رہی وہ فکر وہ قیاس وہ حکمت نہیں رہی
دنیا و دیں میں کچھ بھی لیاقت نہیں رہی اب تم کو غیر قوموں پہ سبقت نہیں رہی
وہ انس و شوق و وجد وہ طاعت نہیں رہی ظلمت کی کچھ بھی حد و نہایت نہیں رہی
ہر وقت جھوٹ ۔ سچ کی تو عادت نہیں رہی نورِ خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی
تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 42، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 77، 78 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 165 پر درج ہے
حوالہ نمبر 124
٤٠١
سے بچ جاتے۔ تیسرے وہ گھنٹہ جو اس منارہ کے کسی حصہ دیوار میں نصب کرایا جائے گا اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے کہ تا لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے کا وقت آگیا ۔ اب سے زمینی جہاد بند کئے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لیے لڑنا حرام کیا جائے گا ۔ سو آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا ۔ اب اس کے بعد جو دین کے لیے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے ۔صحیح بخاری کو کھولو اور اس حدیث کو پڑھو کہ جو مسیح موعود کے حق میں ہے یعنے یضع الحرب جس کے یہ معنے ہیں کہ جب مسیح آئے گا تو جہادی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ سو مسیح آچکا اور یہی ہے جو تم سے بول رہا ہے۔
غرض حدیث نبوی میں جو مسیح موعود کی نسبت لکھا گیا تھا کہ وہ منارۃ بیضاء کے پاس نازل ہو گا اس سے یہی غرض تھی کہ مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے کہ اس وقت بباعث دُنیا کے باہمی میل جول کے اور نیز راہوں کے کھلنے اور سہولت ملاقات کی وجہ سے تبلیغ احکام اور دینی روشنی پہونچانا اور ندا کرنا ایسا سہل ہو گا کہ گویا یہ شخص منارہ پر کھڑا ہے ۔ یہ اشارہ ریل اور تار اور اگن بوٹ اور انتظامِ ڈاک کی طرف تھا جس نے تمام دُنیا کو ایک شہر کی مانند کر دیا ۔ غرض مسیح کے زمانہ کے لیے منارہ کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ اس کی روشنی اور آواز جلد تر دُنیا میں پھیلے گی اور یہ باتیں کسی اور نبی کو میسر نہیں آئیں ۔ اور انجیل میں لکھا ہے کہ مسیح کا آنا ایسے زمانہ میں ہو گا جیسا کہ بجلی آسمان کے ایک کنارہ میں چمک کر تمام کناروں کو ایک دَم میں روشن کر دیتی ہے ۔ یہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ چونکہ مسیح تمام دُنیا کو روشنی پہنچانے آیا ہے اس لیے اس کو پہلے سے یہ سب سامان دیئے گئے ۔ وہ خون بہانے کے لیے نہیں بلکہ تمام دُنیا کے لیے صلحکاری کا پیغام لایا ہے ۔ اب کیوں انسانوں کے خون کئے جائیں ۔ اگر کوئی سچ کا طالب ہے تو وہ خدا کے نشان دیکھے جو صدہا ظہور میں آتے اور آ رہے ہیں اور اگر خدا کا طالب نہیں تو اس کو چھوڑ دو اور اس کے قتل کی فکر میں مت ہو کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب وہ آخری دن نزدیک ہے جس سے تمام نبی جو دُنیا میں آئے ڈراتے رہے ۔
غرض یہ گھنٹہ جو وقت شناسی کے لیے لگایا جائے گا مسیح کے وقت کے لیے یاد دہانی ہے اور خود اس منارہ کے اندر ہی ایک حقیقت مخفی ہے اور وہ یہ کہ احادیث نبویہ میں متواتر آچکا ہے کہ مسیح آنے والا صاحب المنارہ ہو گا یعنی اس کے زمانہ میں اسلامی سچائی بلندی کے انتہاء تک پہونچ جائے گی جو اس منارہ کی مانند ہے جو نہایت اونچا ہو اور دینِ اسلام سب دینوں پر غالب آجائے گا اسی کی مانند جیسا کہ کوئی شخص جب ایک بلند مینار پر اذان دیتا ہے تو وہ آواز تمام آوازوں پر غالب آجاتی ہے ۔ سو مقدر تھا کہ ایسا ہی مسیح کے دنوں
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 401 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے
حوالہ نمبر 125
روحانی خزائن جلد ١٥ ٤٩١ تریاق القلوب
ہزار ہا مسلمان جو پادری عمادالدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آچکے تھے یکدفعہ اُن کے اشتعال فرو ہو گئے کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب سخت الفاظ کے مقابل پر اُس کا عوض دیکھ لیتا ہے تو اُس کا وہ جوش نہیں رہتا ۔ با ایں ہمہ میری تحریر پادریوں کے مقابل پر بہت نرم تھی گویا کچھ بھی نسبت نہ تھی ۔ ہماری محسن گورنمنٹ خوب سمجھتی ہے کہ مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے تو ایک مسلمان اُس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دُودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں ایسا ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں ۔ سو کسی مسلمان کا یہ حوصلہ ہی نہیں کہ تیز زبانی کو اس حد تک پہنچائے جس حد تک ایک متعصب عیسائی پہنچا سکتا ہے اور مسلمانوں میں یہ ایک عمدہ سیرت ہے جو فخر کرنے کے لائق ہے کہ وہ تمام نبیوں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہو چکے ہیں ایک عزت کی نگہ سے دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے بعض وجوہ سے ایک خاص محبت رکھتے ہیں جس کی تفصیل کے لئے اس جگہ موقع نہیں ۔ سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا ۔ اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے ۔ (١) اوّل والد مرحوم کے اثر نے ۔ (٢) دوم اِس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے ۔ (٣) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے ۔
اب میں اِس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں صرف ایک رنج اور درد و غم ہر وقت مجھے لاحق حال ہے جس کا استغاثہ پیش کرنے
تریاق القلوب صفحہ 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 491 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 169 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 126)
٤٠٨
کا نزول ہے وہ دمشق میں واقع ہے بلکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منارہ سے اُس مسجد دمشق کا منارہ مراد لیا ہے جو دمشق سے شرقی طرف واقع ہے یعنی دمشق موجودہ کی مسجد جو حال میں وسیع کی گئی ہے اور عمارت بھی زیادہ کی گئی۔ اور یہ مسجد فی الحقیقت دمشق سے شرقی طرف واقع ہے۔ اور یہ مسجد صرف اس غرض سے وسیع کی گئی اور بنائی گئی ہے کہ تا دمشقی مفاسد کی اصلاح کرے اور یہ منارہ وہ منارہ ہے جس کی ضرورت احادیث نبویہ میں تسلیم کی گئی۔ اور اس منارۃ المسیح کا خرچ دس ہزار روپیہ سے کم نہیں ہے۔ اب جو دوست اس منارہ کی تعمیر کے لیے مدد کریں گے میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بھاری خدمت کو انجام دیں گے اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ ایسے موقع پر خرچ کرنا ہرگز ہرگز ان کے نقصان کا باعث نہیں ہوگا۔ وہ خدا کو قرض دیں گے اور معہ سود واپس لیں گے۔ کاش ان کے دل سمجھیں کہ اس کام کی خدا کے نزدیک کس قدر عظمت ہے جس خدا نے منارہ کا حکم دیا ہے اس نے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے کہ اسلام کی مُردہ حالت میں اسی جگہ سے زندگی کی روح پھونکی جائے گی اور یہ فتح نمایاں کا میدان ہوگا مگر یہ فتح ان ہتھیاروں کے ساتھ نہیں ہوگی جو انسان بناتے ہیں بلکہ آسمانی حربہ کے ساتھ ہے جس حربہ سے فرشتے کام لیتے ہیں۔ آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اُٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اُس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلحکاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف دعوت کرنے کی ایک راہ نہیں۔ پس جس راہ پر نادان لوگ اعتراض کر چکے ہیں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نہیں چاہتی کہ اسی راہ کو پھر اختیار کیا جائے اس کی ایسی ہی شان ہے کہ جیسے جن نشانوں کی پہلے تکذیب ہو چکی وہ ہمارے سید رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیئے گئے۔ لہٰذا مسیح موعود اپنی فوج کو اس ممنوع مقام سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے۔ جو بدی کا بدی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اپنے تئیں شریر کے حملہ سے بچاؤ مگر خود شریرانہ مقابلہ مت کرو۔ جو شخص ایک
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 408 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 170 پر درج ہے
حوالہ نمبر 127
روحانی خزائن جلد ١٧ ٤٤٣ اربعین نمبر ٤
یاد کرو۔ تم دیکھتے ہو کہ ہر ایک سال کوئی نہ کوئی دوست تم سے رخصت ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی تم بھی کسی سال اپنے دوستوں کو داغ جدائی دے جاؤ گے۔ سو ہوشیار ہو جاؤ اور اس پُر آشوب زمانہ کی زہر تم میں اثر نہ کرے۔ اپنی اخلاقی حالتوں کو بہت صاف کرو۔ کینہ اور بغض اور نخوت سے پاک ہو جاؤ اور اخلاقی معجزات دنیا کو دکھلاؤ۔ تم سُن چکے ہو کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام ہیں (١) ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ نام توریت میں لکھا گیا ہے جو ایک آتشی شریعت ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ .... ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِى التَّوْرٰيةِ ١ (٢) دوسرا نام احمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ نام انجیل میں ہے جو ایک جمالی رنگ میں تعلیم الٰہی ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے ۔ وَ مُبَشِّرًاۢ بِرَسُوْلٍ يَّأْتِىْ مِنْۢ بَعْدِى اسْمُهٗ اَحْمَدُ ٢ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جلال اور جمال دونوں کے جامع تھے۔ مکہ کی زندگی جمالی رنگ میں تھی اور مدینہ کی زندگی جلالی رنگ میں۔ اور پھر یہ دونوں صفتیں امت کے لئے اس طرح پر تقسیم کی گئیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو جلالی رنگ کی زندگی عطا ہوئی اور جمالی رنگ کی زندگی کیلئے مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر ٹھہرایا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے حق میں فرمایا گیا کہ یضع الحرب یعنی ☆
☆ جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعا جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔ منہ
١ الفتح : ٣٠ ٢ الصف : ٧
اربعین نمبر 4 صفحہ 101 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 443 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 170 پر درج ہے
حوالہ نمبر 128
١٩٦
ان ہدایتوں کو پڑھ کر اور ایسا ہی دوسری ہدایتوں کو دیکھ کر جو وقتاً فوقتاً چھپ کر مریدوں میں شائع ہوتی ہیں گورنمنٹ کو معلوم ہو گا کہ کیسے امن بخش اصولوں کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے اور کس طرح بار بار ان کو تاکیدیں کی گئی ہیں کہ وہ گورنمنٹ برطانیہ کے سچے خیر خواہ اور مطیع رہیں اور تمام بنی نوع کے ساتھ بلا امتیاز مذہب و ملت کے انصاف اور رحم اور ہمدردی سے پیش آئیں۔ یہ سچ ہے کہ میں کسی ایسے مہدی ہاشمی قریشی خونی کا قائل نہیں ہوں جو دوسرے مسلمانوں کے اعتقاد میں بنی فاطمہ میں سے ہوگا اور زمین کو کفار کے خون سے بھر دیگا میں ایسی حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتا اور محض ذخیرہ موضوعات جانتا ہوں۔ ہاں میں اپنے نفس کیلئے اس مسیح موعود کا ادّعا کرتا ہوں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح غربت کے ساتھ زندگی بسر کرے گا اور لڑائیوں اور جنگوں سے بیزار ہوگا اور نرمی اور صلحکاری اور امن کے ساتھ قوموں کو اس سچے ذوالجلال خدا کا چہرہ دکھائے گا جو اکثر قوموں سے چھپ گیا ہے۔ میرے اصولوں اور اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی امر جنگجوئی اور فساد کا نہیں۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔ پس بار بار اعلان دے چکا ہوں کہ میرے بڑے اصول پانچ ہیں اوّل یہ کہ خدا تعالیٰ کو واحد لاشریک اور ہر ایک منقصت موت اور بیماری اور لاچاری اور درد اور دکھ اور دوسری نالائق صفات سے پاک سمجھنا۔ دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ نبوت کا خاتم اور آخری شریعت لانے والا اور نجات کی حقیقی راہ بتلانے والا حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین رکھنا۔ تیسرے یہ کہ دین اسلام کی دعوت محض دلائل عقلیہ اور آسمانی نشانوں سے کرنا اور خیالات غازیانہ اور جہاد اور جنگجوئی کو اس زمانہ کے لیے قطعی طور پر حرام اور ممتنع سمجھنا اور ایسے خیالات کے بانی کو صریح غلطی پر قرار دینا۔ چوتھے یہ کہ اس گورنمنٹ محسنہ کی نسبت جس کے ہم زیر سایہ ہیں یعنی گورنمنٹ انگلشیہ کوئی مفسدانہ خیالات دل میں نہ لانا اور خلوص دل سے اس کی اطاعت میں مشغول رہنا۔ پانچویں یہ کہ بنی نوع سے ہمدردی کرنا اور حتی الوسع ہر ایک شخص کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لیے کوشش کرتے رہنا اور امن اور صلحکاری کا مویّد ہونا اور نیک اخلاق کو دُنیا میں پھیلانا۔ یہ پانچ اصول ہیں جن کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے اور میری جماعت جیسا کہ میں آگے
(بقیہ حاشیہ صفحہ سابقہ) تکلیف نہیں دیگا نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔ شرط نہم یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض للہ مشغول رہیگا اور جہانتک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔
لے اس جہاد کے برخلاف نہایت سرگرمی سے میرے پیرو فاضل مولویوں نے ہزاروں آدمیوں میں تعلیم کی ہے اور کر رہے ہیں جس کا بہت بڑا اثر ہوا ہے ۔ منہ
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 196 طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 171 پر درج ہے
حوالہ نمبر 129 روحانی خزائن جلد ٢٠ ٩١ تذكرة الشهادتين
الصحف المطهرة وما فيها، وليس أحد أشقى من الذى يجهل مقامى، ويُعرض عن دعوتى وطعامى . وما جئتُ من نفسى بل أرسلنى ربى لأُمَوّنَ الإسلام ، [٨٩*] وأُراعى شؤونه والأحكام، وأُنزلتُ وقد تقوّضت الآراء ، وتشتّت الأهواء ، وأُختير الظلام وتُرك الضياء ، وترى الشيوخ والعلماء كرجل عارى الجلدة ، بادى الجردة ، وليس عندهم إلا قشر من القرآن، وفتيل من الفرقان . غاض درّهم ، وضاع دُرّهم، ومع ذالك أعجبنى شدّة استكبارهم مع جهلهم ونتن عوارهم ، يؤذون الصادق بسبّ وتكذيب وبهتان عظيم ، ويحسبون أنّ أجره جنّة النعيم، مع أنّه جاء هم لينجّيهم من الخنّاس ، ويخلّص الناس من النعاس . يتوقون إلى مناصب ، ويتركون العليم المُحاسب، يُعرضون عن الذى جاء من الله الرحيم، وقد جاء كالأُساةِ إلى السقيم ، يلعنونه بالقلب القاسي، ذالك أجرهم للمواسى . يُحبّون أن يُكرموا عند الملوك بالمدارج العليّة، وقد أُمروا أن يرفضوا علائق الدنيا الدنيّة ، وينفضوا عوائق الملّة البهيّة . يحفلون نحو الأمانى إجفال النعامة ، وألقوا فيها عصا الإقامة . قد أُمروا أن يمرّوا على الدنيا كعابر سبيل، ويجعلوا أنفسهم كغريب ذليل، فاليوم تراهم يبتغون العزة عند الحكّام، وما العزة إلّا من الله العلّام، وبينما نحن نُذكّر الناس أيام الرحمان، ونجذبهم إلى الله من الشيطان، إذ رأيناهم يصولون علينا كصول السرحان ، ويُخوّفوننا بفحيحهم كالثعبان ، وما حضروا قطّ نادينا بصحة النيّة وصدق الطويّة . ثم مع ذالك يعترضون كاعتراض العليم الخبير، فلا نعلم ما بالهم وأى شيء أصبرهم على السعير ؟ لا يشبعون من الدنيا وفى قلبهم لها أسيس ، مع أنّ حظّهم من الدين خسيس. يقرءون غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ ١ ثم يسلكون
١ الفاتحة : ٧
تذکرۃ الشہادتین مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 91 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 172 پر درج ہے
حوالہ نمبر 130
روحانی خزائن جلد ٦ ٣٨٠ شہادۃ القرآن
محبت دلوں کو اندر ہی اندر دے دی ہے بہر حال جبکہ ہمارے نظام مدنی اور امور دنیوی میں خدا تعالیٰ نے اس قوم میں سے ہمارے لئے گورنمنٹ قائم کی اور ہم نے اس گورنمنٹ کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکر کرنا کوئی سہل بات نہیں اس لئے ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے۔ سو ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا ۔ سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں
حوالہ نمبر 130
روحانی خزائن جلد ٦ ٣٨١ شہادۃ القرآن
خدا تعالیٰ ہمیں صاف تعلیم دیتا ہے کہ جس بادشاہ کے زیر سایہ امن کے ساتھ بسر کرو اس کے شکر گزار اور فرمانبردار بنے رہو سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں اس صورت میں ہم سے زیادہ بددیانت کون ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کے قانون اور شریعت کو ہم نے چھوڑ دیا۔ اِس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کا مذہبی تعصب اُن کے عدل اور انصاف پر غالب آ گیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جہالت سے ایک ایسے خونخوار مہدی کے انتظار میں ہیں کہ گویا وہ زمین کو مخالفوں کے خون سے سُرخ کر دے گا اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی ان کا خیال ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی آسمان سے اسی غرض سے اتریں گے کہ جو مہدی کے ہاتھ سے یہود و نصاریٰ زندہ رہ گئے ہیں اُن کے خون سے بھی زمین پر ایک دریا بہا دیں لیکن یہ خیالات بعض مسلمانوں مثلاً شیخ محمد حسین بٹالوی اور اس کی جماعت کے سراسر غلط اور کتاب اللہ کے مخالف ہیں۔ یہ نادان خون پسند ہیں اور محبت اور خیر خواہی خلق اللہ کی سرِمو ان میں نہیں لیکن ہمارا سچا اور صحیح مذہب جس پر ہمیں یہ لوگ کافر ٹھہراتے ہیں یہ ہے کہ مہدی کے نام پر آنے والا کوئی نہیں ہاں مسیح موعود آ گیا مگر کوئی تلوار نہیں چلے گی اور امن سے اور سچائی سے اور محبت سے زمانہ توحید کی طرف ایک پلٹا کھائے گا اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ زمین پر نہ رام چندر پوجا جاوے گا نہ کرشن اور نہ حضرت مسیح علیہ السلام۔ اور سچے پرستار اپنے حقیقی خدا کی طرف رُخ کر لیں گے اور یادرہے کہ جس بادشاہ کے زیر سایہ ہم باامن زندگی بسر کریں اُس کے حقوق
حوالہ نمبر 131
روحانی خزائن جلد ١٧ ٤٤٥ اربعین نمبر ٤
ایک دلیل ہے اور خدا تعالیٰ کے قول کی تصدیق تبھی ہوتی ہے کہ جھوٹا دعویٰ کرنے والا ہلاک ہو جائے ورنہ یہ قول منکر پر کچھ حجت نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے لئے بطور دلیل ٹھہر سکتا ہے بلکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تئیس٢٣ برس تک ہلاک نہ ہونا اس وجہ سے نہیں کہ وہ صادق ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ خدا پر افترا کرنا ایسا گناہ نہیں ہے جس سے خدا اسی دنیا میں کسی کو ہلاک کرے کیونکہ اگر یہ کوئی گناہ ہوتا اور سنت اللہ اس پر جاری ہوتی کہ مفتری کو اسی دنیا میں سزا دینا چاہئے تو اس کے لئے نظیریں ہونی چاہئیں۔ اور تم قبول کرتے ہو کہ اس کی ﴿٢﴾ کوئی نظیر نہیں بلکہ بہت سی ایسی نظیریں موجود ہیں کہ لوگوں نے تئیس٢٣ برس تک بلکہ اس سے زیادہ خدا پر افترا کئے اور ہلاک نہ ہوئے۔ تو اب بتلاؤ کہ اس اعتراض کا کیا جواب ہوگا؟ اور اگر کہو کہ صاحب الشریعت افترا کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری۔ تو اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افترا کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام قل للمؤمنین
☆ چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فُلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے۔ واصنع الفلک باعیننا و وحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم۔ یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔ منہ
اربعین نمبر 4، صفحہ 93 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 435 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 172 پر درج ہے
حوالہ نمبر 132
روحانی خزائن جلد ١٣ ٤٩٣ ضرورۃ الامام
باواصاحب کے ہاتھوں کی یادگار ہے۔ اور گرنتھ کے شبد تو بہت پیچھے سے اکٹھے کئے گئے ہیں جس میں محققوں کو بہت کچھ کلام ہے۔ خدا جانے اس میں کیا کیا تصرفات ہوئے ہیں اور کن کن لوگوں کے کلام کا ذخیرہ ہے۔ خیر یہ قصہ اس جگہ کے لائق نہیں ہے۔ ہمارا اصل مطلب تو یہ ہے کہ بنی نوع انسان کا ایمان تازہ رکھنے کیلئے تازہ الہامات کی ہمیشہ ضرورت ہے۔ اور وہ الہامات اقتداری قوت سے شناخت کئے جاتے ہیں۔ کیونکہ خدا کے سوا کسی شیطان جن بھوت میں اقتداری قوت نہیں ہے۔ اور امام الزمان کے الہام سے باقی الہامات کی صحت ثابت ہوتی ہے۔
ہم بیان کر چکے ہیں کہ امام الزمان اپنی جبلّت میں قوتِ امامت رکھتا ہے اور دستِ قدرت نے اس کے اندر پیشروی کا خاصہ پھونکا ہوا ہوتا ہے۔ اور یہ سنّت اللہ ہے کہ وہ انسانوں کو متفرق طور پر چھوڑنا نہیں چاہتا بلکہ جیسا کہ اس نے نظامِ شمسی میں بہت سے ستاروں کو داخل کر کے سورج کو اس نظام کی بادشاہی بخشی ہے ایسا ہی وہ عام مومنوں کو ستاروں کی طرح حسبِ مراتب روشنی بخش کر امام الزمان کو ان کا سورج قرار دیتا ہے اور یہ سنّت الٰہی یہاں تک اس کی آفرینش میں پائی جاتی ہے کہ شہد کی مکھیوں میں بھی یہ نظام موجود
﴿٢٣﴾
ہے کہ ان میں بھی ایک امام ہوتا ہے جو یعسوب کہلاتا ہے۔ اور جسمانی سلطنت میں بھی یہی خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ ایک قوم میں ایک امیر اور بادشاہ ہو۔ اور خدا کی لعنت ان لوگوں پر ہے جو تفرقہ پسند کرتے ہیں اور ایک امیر کے تحت حکم نہیں چلتے۔ حالانکہ اللہ جلّ شانہ فرماتا ہے۔ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ ١؎ اُولِی الْاَمْرِ سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے۔ اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔ اسی لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اُولِی الْاَمْرِ میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں
١؎ النساء: ٦٠
ضرورۃ الامام صفحہ 23 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 493 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 173 پر درج ہے
حوالہ نمبر 133
روحانی خزائن جلد ٣ ٤١١ ازالہ اوہام حصہ دوم
ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے جیسے جزو کل میں داخل ہوتی ہے لیکن مسیح ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی جس کے ساتھ جبرائیل کا بھی نازل ہونا ایک لازمی امر سمجھا گیا ہے کسی طرح اُمتی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ اُس پر اُس وحی کا اتباع فرض ہوگا جو وقتاً فوقتاً اس پر نازل ہوگی جیسا کہ رسولوں کی شان کے لائق ہے اور جب کہ وہ اپنی ہی وحی کا متبع ہوا اور
﴿١٧٠﴾
جو نئی کتاب اس پر نازل ہوگی اُسی کی اُس نے پیروی کی تو پھر وہ اُمتی کیوں کر کہلائے گا۔ اور اگر یہ کہو کہ جو احکام اُس پر نازل ہوں گے وہ احکام قرآنیہ کے مخالف نہیں ہوں گے تو میں کہتا ہوں کہ محض اس توارد کی وجہ سے وہ اُمتی نہیں ٹھہر سکتا۔ صاف ظاہر ہے کہ بہت سا حصہ توریت کا قرآن کریم سے بالکل مطابق ہے تو کیا نعوذ باللہ اس توارد کی وجہ سے ہمارے سید ومولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ کی اُمت میں سے شمار کئے جائیں گے۔ توارد اور چیز ہے اور محکوم بن کر تابعدار ہو جانا اور چیز ہے۔ ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع اور محکوم ہو کر نہیں آتا بلکہ وہ مطاع اور صرف اپنی اس وحی کا متبع ہوتا ہے جو اس پر بذریعہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتی ہے اب یہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ جب حضرت مسیح ابن مریم نازل ہوئے اور حضرت جبرائیل لگاتار آسمان سے وحی لانے لگے اور وحی کے ذریعہ سے انہیں تمام اسلامی عقائد اور صوم اور صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج اور جمیع مسائل فقہ کے سکھلائے گئے۔ تو پھر بہر حال یہ مجموعہ احکام دین کا کتاب اللہ کہلائے
﴿٥٧٧﴾
گا۔ اگر یہ کہو کہ مسیح کو وحی کے ذریعہ سے صرف اتنا کہا جائے گا کہ تُو قرآن پر عمل کر اور پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہو جائے گی اور کبھی حضرت جبرئیل اُن پر نازل نہیں ہوں گے بلکہ وہ بکلی مسلوب النبوت ہو کر اُمتیوں کی طرح بن جائیں گے تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائق ہے۔ ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر چپ ہو جاویں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے کیونکہ جب ختمیت کی مُہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا یا بہت
ازالہ اوہام صفحہ 576 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 411 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 175 پر درج ہے
حوالہ نمبر 134
ٹائیٹل بار اول
ای قادرِ خدا اس گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور اُس سے نیکی کر جیسا کہ اُس نے ہم سے نیکی کی ۔ آمین
كَشْفُ الغِطَاءِ
یعنے
ایک اسلامی فرقہ کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے بحضور گورنمنٹ عالیہ اُس فرقہ کے حالات اور خیالات کے بارہ میں اطلاع اور نیز اپنے خاندان کا کچھ ذکر اور اپنے مشن کے اصولوں اور ہدایتوں اور تعلیموں کا بیان اور نیز اُن لوگوں کی خلافِ واقعہ باتوں کا ردّ جو اس فرقہ کی نسبت غلط خیالات پھیلانا چاہتے ہیں۔
اور یہ مؤلف
تاجِ عزّت جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈالکر بخِدمتِ گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزّز حکام کی بادب گزارش کرتا ہے کہ براہِ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سُن لیا جائے
یہ رسالہ تالیف ہو کر ٢٧؍ دسمبر ١٨٩٨ء کو مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مالک مطبع کے طبع ہوا
تعداد ٣٥٠
کشف الغطاء ٹائٹل پیج مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 177 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 175 پر درج ہے
حوالہ نمبر 135
روحانی خزائن جلد ١٤ ١٧٩ کشف الغطاء
﴿١﴾ میں تاج عزت عالی جناب حضرت مکرمہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈالتا ہوں کہ اس رسالہ کو ہمارے عالی مرتبہ حکام توجہ سے اوّل سے آخر تک پڑھیں ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
چونکہ میں جس کا نام غلام احمد اور باپ کا نام مرزا غلام مرتضیٰ قادیان ضلع گورداسپورہ پنجاب کا رہنے والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں جو پنجاب کے اکثر مقامات میں پایا جاتا ہے اور نیز ہندوستان کے اکثر اضلاع اور حیدرآباد اور بمبئی اور مدراس اور ملک عرب اور شام اور بخارا میں بھی میری جماعت کے لوگ موجود ہیں۔ لہٰذا میں قرین مصلحت سمجھتا ہوں کہ یہ مختصر رسالہ اس غرض سے لکھوں کہ اس محسن گورنمنٹ کے اعلیٰ افسر میرے حالات اور میری جماعت کے خیالات سے واقفیت پیدا کرلیں ۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ نیا فرقہ ان ملکوں میں دن بدن ترقی پر ہے یہاں تک کہ بہت سے دیسی افسر اور معزز رئیس اور جاگیردار اور نامی تاجر اس فرقہ میں داخل ہو گئے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں اس لئے عام خیال کے مسلمانوں اور ان کے مولویوں کو اس فرقہ سے دلی عناد اور حسد ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس حسد کی وجہ سے خلاف واقعہ امور گورنمنٹ تک پہنچائے جائیں سو اسی لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس رسالہ کے ذریعہ سے اپنے سچے واقعات اور اپنے مشن کے اصولوں سے اس محسن گورنمنٹ کو مطلع کروں ۔
اب میں صفائی بیان کے لئے ان امور کے ذکر کو پانچ شاخ پر منقسم کرتا ہوں اوّل یہ کہ میں کون ہوں اور کس خاندان سے ہوں؟ سو اس بارے میں اس قدر ظاہر کرنا کافی ہے کہ میرا خاندان ایک خاندان ریاست ہے اور میرے بزرگ والیان ملک اور ﴿٢﴾ خودسر امیر تھے جو سکھوں کے وقت میں یکدفعہ تباہ ہوئے ۔ اور سرکار انگریزی کا
کشف الغطاء صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 179 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136 ٹائیٹل بار اول
الحمد للہ والمنۃ کہ یہ رسالہ مبارکہ جس میں حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ دام اقبالہا کی برکات کا ذکر ہے۔ اور یہ بیان ہے کہ جناب ملکہ ممدوحہ کے عہد عدالت مہد میں اور اُن کے نہایت روشن ستارہ کی تاثیر سے انواع اقسام کی زمینی اور آسمانی برکتیں ظہور میں آئی ہیں منطبع ہو کر انہی وجوہ کی مناسبت سے نام اس کا
ستارۂ قیصرہ
رکھا گیا اور یہ رسالہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل دین صاحب مالک مطبع کے چھپ کر ٢٤ اگست ١٨٩٩ء کو شائع ہوا
تعداد جلد ٢٥٠ قیمت ٢ ؍
ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١١ ستارہ قیصریہ ﴿١﴾
بِحُضُورِ عالی شان قیصرہ ہند ملکہ معظمہ
شہنشاہ ہندوستان و انگلستان
ادام اللّٰہ اقبالہا
سب سے پہلے یہ دُعا ہے کہ خدائے قادر مطلق اس ہماری عالیجاہ قیصرہ ہند کی عمر میں بہت بہت برکت بخشے اور اقبال اور جاہ و جلال میں ترقی دے اور عزیزوں اور فرزندوں کی عافیت سے آنکھ ٹھنڈی رکھے۔ اس کے بعد اس عریضہ کے لکھنے والا جس کا نام میرزا غلام احمد قادیانی ہے جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان نام میں رہتا ہے جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ ستّر میل مشرق اور شمال کے گوشہ میں واقع اور گورداسپورہ کے ضلع میں ہے یہ عرض کرتا ہے کہ اگرچہ اس ملک کے عموماً تمام رہنے والوں کو بوجہ اُن آراموں کے جو حضور قیصرہ ہند کے عدل عام اور رعایا پروری اور دادگستری سے حاصل ہو رہے ہیں اور بوجہ اُن تدابیر امن عامہ اور تجاویز آسائش جمیع طبقات رعایا کے جو کروڑہا روپیہ کے خرچ اور بے انتہا فیاضی سے ظہور میں آئی ہیں۔ جناب ملکہ معظمہ دام اقبالہا سے بقدر اپنی فہم اور عقل اور شناخت احسان کے درجہ بدرجہ محبت اور دلی اطاعت ہے بجز بعض قلیل الوجود افراد کے جو میں گمان کرتا ہوں کہ در پردہ کچھ ایسے بھی ہیں جو وحشیوں اور درندوں کی طرح بسر کرتے ہیں لیکن اس عاجز کو بوجہ اُس معرفت اور علم کے جو اس گورنمنٹ عالیہ کے حقوق کی نسبت مجھے حاصل ہے جس کو میں اپنے رسالہ تحفہ قیصریہ میں مفصل لکھ چکا ہوں وہ اعلیٰ درجہ کا
ستارہ قیصریہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٢ ستارہ قیصرہ
اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں اس سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور اُمید سے بڑھ کر میری سرافرازی کا موجب ہو گا ۔ اور اس امید اور یقین کا موجب حضور قیصرہ ہند کے وہ اخلاق فاضلہ تھے جن کی تمام ممالک شرقیہ میں دھوم ہے اور جو جناب ملکہ معظمہ کے وسیع ملک کی طرح وسعت اور کشادگی میں ایسے بے مثل ہیں جو ان کی نظیر دوسری جگہ تلاش کرنا خیال محال ہے مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہو اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں ۔ یقیناً کوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں ۔ لہٰذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں ۔ دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اُس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں ۔ اسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں ۔ اور میں حضور عالی حضرت جناب قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں یہ چند الفاظ بیان کرنے کے لئے جرأت کرتا ہوں کہ میں پنجاب کے ایک معزز خاندان مغلیہ میں سے ہوں اور سکھوں
ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٣ ستارۂ قیصره
کے زمانہ سے پہلے میرے بزرگ ایک خود مختار ریاست کے والی تھے اور میرے پر دادا صاحب مرزا گل محمد اس قدر دانا اور مدبر اور عالی ہمت اور نیک مزاج اور ملک داری کی خوبیوں سے موصوف تھے کہ جب دہلی کے چغتائی بادشاہوں کی سلطنت بباعث نالائقی اور عیاشی اور سستی اور کم ہمتی کے کمزور ہو گئی تو بعض وزراء اس کوشش میں لگے تھے کہ مرزا صاحب موصوف کو جو تمام شرائط بیدار مغزی اور رعایا پروری کے اپنے اندر رکھتے تھے اور خاندان شاہی میں سے تھے دہلی کے تخت پر بٹھایا جائے لیکن چونکہ چغتائی سلاطین کی قسمت اور عمر کا پیالہ لبریز ہو چکا تھا۔ اس لئے یہ تجویز ﴿٣﴾ عام منظوری میں نہ آئی اور ہم پر سکھوں کے عہد میں بہت سی سختیاں ہوئیں اور ہمارے بزرگ تمام دیہات ریاست سے بے دخل کر دیئے گئے اور ایک ساعت بھی امن کی نہیں گزرتی تھی اور انگریزی سلطنت کے قدم مبارک کے آنے سے پہلے ہی ہماری تمام ریاست خاک میں مل چکی تھی اور صرف پانچ گاؤں باقی رہ گئے تھے اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم جنہوں نے سکھوں کے عہد میں بڑے بڑے صدمات دیکھے تھے۔ انگریزی سلطنت کے آنے کے ایسے منتظر تھے جیسا کہ کوئی سخت پیاسا پانی کا منتظر ہوتا ہے۔ اور پھر جب گورنمنٹ انگریزی کا اس ملک پر دخل ہو گیا، تو وہ اس نعمت یعنی انگریزی حکومت کی قائمی سے ایسے خوش ہوئے کہ گویا ان کو ایک جواہرات کا خزانہ مل گیا اور وہ سرکار انگریزی کے بڑے خیر خواہ جان نثار تھے اسی وجہ سے انہوں نے ایام غدر ١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑے مع سواران بہم پہنچا کر سرکار انگریزی کو بطور مدد دیئے تھے۔ اور وہ بعد اس کے بھی ہمیشہ اس بات کے لئے مستعد رہے کہ اگر پھر بھی کسی وقت ان کی مدد کی ضرورت ہو تو بدل و جان اس گورنمنٹ کو مدد دیں۔ اور اگر ٥٧ء کے غدر کا کچھ اور بھی طول ہوتا تو وہ سو سوار تک اور بھی
یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے | ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٤ ستارۂ قیصرہ
مدد دینے کو تیار تھے۔ غرض اس طرح ان کی زندگی گذری۔ اور پھر اُن کے انتقال کے بعد یہ عاجز دنیا کے شغلوں سے بکلی علیحدہ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے۔ اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو فارسی۔ عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں۔ اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے اُن کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا اور میں اس قدر خدمت کر کے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا کیونکہ مجھے اس بات کا اقرار ہے کہ اس بابرکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے ایک لوہے کے جلتے ہوئے تنور سے نجات پائی ہے اس لئے میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکھا کو دیر گاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔
ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٥ ستارہ قیصره
میں نے تحفہ قیصریہ میں جو حضور قیصرہ ہند کی خدمت میں بھیجا گیا یہی حالات اور خدمات اور دعوات گذارش کئے تھے اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا اور اب بھی ہوں ۔ میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دُعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اس کا جواب نہ آتا بلکہ ضرور آتا ضرور آتا۔ اس لئے مجھے بوجہ اس یقین کے کہ جناب قیصرہ ہند کے پُر رحمت اخلاق پر کمال وثوق سے حاصل ہے اس یاددہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا اور اس عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا ہے بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پُر ارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا ہے ۔ میں دُعا کرتا ہوں کہ خیر اور عافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچاوے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے اپنی پاک فراست سے شناخت کر لیں اور رعیت پروری کے رُو سے مجھے پُر رحمت جواب سے ممنون فرماویں اور میں اپنی عالی شان جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی عالی خدمت میں اس خوشخبری کو پہنچانے کے لئے بھی مامور ہوں کہ جیسا کہ زمین پر اور زمین کے اسباب سے خدا تعالیٰ نے اپنی کمال رحمت اور کمال مصلحت سے ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا کی سلطنت کو اس ملک اور دیگر ممالک میں قائم کیا ہے تا کہ زمین کو عدل اور امن سے بھرے ۔ ایسا ہی اس نے آسمان سے ارادہ فرمایا ہے کہ اس شہنشاہ مبارکہ قیصرہ ہند کے دلی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے جو عدل اور امن اور آسودگی عامہ خلائق اور رفع فساد اور تہذیب اخلاق اور وحشیانہ حالتوں کا دور کرنا ہے۔ ﴿٥٩﴾
ستارہ قیصره صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٦ ستارہ قیصرہ
اس کے عہد مبارک میں اپنی طرف سے اور غیب سے اور آسمان سے کوئی ایسا روحانی انتظام قائم کرے جو حضور ملکہ معظمہ کے دلی اغراض کو مدد دے۔ اور جس امن اور عافیت اور صلح کاری کے باغ کو آپ لگانا چاہتی ہیں آسمانی آبپاشی سے اس میں امداد فرماوے۔ سو اس نے اپنے قدیم وعدہ کے موافق جو مسیح موعود کے آنے کی نسبت تھا۔ آسمان سے مجھے بھیجا ہے تا میں اُس مرد خدا کے رنگ میں ہو کر جو بیت اللحم میں پیدا ہوا اور ناصرہ میں پرورش پائی۔ حضور ملکہ معظمہ کے نیک اور با برکت مقاصد کی اعانت میں مشغول ہوں اُس نے مجھے بے انتہا برکتوں کے ساتھ چھوا اور اپنا مسیح بنایا تا وہ ملکہ معظمہ کے پاک اغراض کو خود آسمان سے مدد دے۔
اے قیصرہ مبارکہ خدا تجھے سلامت رکھے اور تیری عمر اور اقبال اور کامرانی سے ہمارے دلوں کو خوشی پہنچاوے۔ اس وقت تیرے عہد سلطنت میں جو نیک نیتی کے نور سے بھرا ہوا ہے مسیح موعود کا آنا خدا کی طرف سے یہ گواہی ہے کہ تمام سلاطین میں سے تیرا وجود امن پسندی اور حسن انتظام اور ہمدردی رعایا اور عدل اور دادگستری میں بڑھ کر ہے۔ مسلمان اور عیسائی دونوں فریق اس بات کو مانتے ہیں کہ مسیح موعود آنے والا ہے مگر اُسی زمانہ اور عہد میں جبکہ بھیڑیا اور بکری ایک ہی گھاٹ میں پانی پیئیں گے اور سانپوں سے بچے کھیلیں گے۔ سو اے ملکہ مبارکہ معظمہ قیصرہ ہند وہ تیرا ہی عہد اور تیرا ہی زمانہ ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جو تعصب سے خالی ہو وہ سمجھ لے۔ اے ملکہ معظمہ یہ تیرا ہی عہد سلطنت ہے جس نے درندوں اور غریب چرندوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ۔ راستباز جو بچوں کی طرح ہیں وہ شریر سانپوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور تیرے پُر امن سایہ کے نیچے کچھ بھی ان کو خوف نہیں۔ اب
یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٧ ستارہ قیصرہ
تیرے عہد سلطنت سے زیادہ پُر امن اور کونسا عہد سلطنت ہو گا جس میں مسیح موعود آئے گا؟ اے ملکہ معظمہ تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتا جاتا ہے اس لئے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی بھی عہد سلطنت ایسا نہیں ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے موزوں ہو۔ سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا اور تاریکی تاریکی کو کھینچتی ہے اے مبارک اور با اقبال ملکہ! زمان جن کتابوں میں مسیح موعود کا آنا لکھا ہے ان کتابوں میں صریح تیرے پُر امن عہد کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں مگر ضرور تھا کہ اسی طرح مسیح موعود دنیا میں آتا جیسا کہ ایلیا نبی یوحنا کے لباس میں آیا تھا یعنی یوحنا ہی اپنی خُو اور طبیعت سے خدا کے نزدیک ایلیا بن گیا۔ سو اس جگہ بھی ایسا ہی ہوا کہ ایک کو تیرے بابرکت زمانہ میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی خُو اور طبیعت دی گئی۔ اس لئے وہ مسیح کہلایا اور ضرور تھا کہ وہ آتا کیونکہ خدا کے پاک نوشتوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔ اے ملکہ معظمہ اے تمام رعایا کی فخر یہ قدیم سے عادت اللہ ہے کہ جب شاہِ وقت نیک نیت اور رعایا کی بھلائی چاہنے والا ہو تو وہ جب اپنی طاقت کے موافق امنِ عامہ اور نیکی پھیلانے کے انتظام کر چکتا ہے اور رعیت کی اندرونی پاک تبدیلیوں کے لئے اس کا دل درد مند ہوتا ہے تو آسمان پر اس کی مدد کے لئے رحمتِ الہی جوش مارتی ہے اور اس کی ہمت اور خواہش کے مطابق کوئی روحانی انسان زمین پر بھیجا جاتا ہے اور اُس کامل ریفارمر کے وجود کو اس عادل بادشاہ کی نیک نیتی اور ہمت اور ہمدردی عامہ خلائق پیدا کرتی ہے۔ یہ تب ہوتا ہے کہ جب ایک عادل بادشاہ ایک زمینی منجی کی صورت
ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٨ ستارہ قیصرہ
میں پیدا ہو کر اپنی کمال ہمت اور ہمدردی بنی نوع کے رُو سے طبعاً ایک آسمانی منجی کو چاہتا ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ہوا کیونکہ اُس وقت کا قیصر روم ایک نیک نیت انسان تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ زمین پر ظلم ہو اور انسانوں کی بھلائی اور نجات کا طالب تھا تب آسمان کے خدا نے وہ روشنی بخشنے والا چاند ناصرہ کی زمین سے چڑھایا یعنی عیسیٰ مسیح تا جیسا کہ ناصرہ کے لفظ کے معنے عبرانی میں طراوت اور تازگی اور سرسبزی ہے یہی حالت انسانوں کے دلوں میں پیدا کرے۔ سو اے ہماری پیاری قیصرہ ہند خدا تجھے دیر گاہ تک سلامت رکھے۔ تیری نیک نیتی اور رعایا کی سچی ہمدردی اس قیصر روم سے کم نہیں ہے بلکہ ہم زور سے کہتے ہیں کہ اس سے بہت زیادہ ہے کیونکہ تیری نظر کے نیچے جس قدر غریب رعایا ہے جس کی تو اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہمدردی کرنا چاہتی ہے اور جس طرح تو ہر ایک پہلو سے اپنی عاجز رعیت کی خیر خواہ ہے اور جس طرح تو نے اپنی خیر خواہی اور رعیت پروری کے نمونے دکھلائے ہیں۔ یہ کمالات اور برکات گذشتہ قیصروں میں سے کسی میں بھی نہیں پائے جاتے اس لئے تیرے ہاتھ کے کام جو سراسر نیکی اور فیاضی سے رنگین ہیں سب سے زیادہ اس بات کو چاہتے ہیں کہ جس طرح تو اے ملکہ معظمہ اپنی تمام رعیت کی نجات اور بھلائی اور آرام کے لئے دردمند ہے اور رعیت پروری کی تدبیروں میں مشغول ہے اسی طرح خدا بھی آسمان سے تیرا ہاتھ بٹاوے سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے۔ خدا نے تیرے عہد سلطنت میں دُنیا کے دردمندوں کو یاد کیا اور آسمان سے اپنے مسیح کو بھیجا اور وہ تیرے ہی ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہوا تا دنیا کے لئے یہ ایک گواہی ہو کہ تیری زمین کے
ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٩ ستارۂ قیصرہ
سلسلہ عدل نے آسمان کے سلسلہ عدل کو اپنی طرف کھینچا اور تیرے رحم کے سلسلہ نے آسمان پر ایک رحم کا سلسلہ بپا کیا اور چونکہ اس مسیح کا پیدا ہونا حق اور باطل کی تفریق کے لئے دنیا پر ایک آخری حکم ہے جس کے رُو سے مسیح موعود حَکَم کہلاتا ہے اس لئے ناصرہ کی طرح جس میں تازگی اور سرسبزی کے زمانہ کی طرف اشارہ تھا اس مسیح کے گاؤں کا نام اسلام پور قاضی ماجھی رکھا گیا تا قاضی کے لفظ سے خدا کے اُس آخری حَکَم کی طرف اشارہ ہو جس سے برگزیدوں کو دائمی فضل کی بشارت ملتی ہے اور تا مسیح موعود کا نام جو حَکَم ہے۔ اس کی طرف بھی ایک لطیف ایما ہو اور اسلام پور قاضی ماجھی اُس وقت اس گاؤں کا نام رکھا گیا تھا جبکہ بابر بادشاہ کے عہد میں اس ملک ماجھ کا ایک بڑا علاقہ حکومت کے طور پر میرے بزرگوں کو ملا تھا اور پھر رفتہ رفتہ یہ حکومت خود مختار ریاست بن گئی اور پھر کثرت استعمال سے قاضی کا لفظ قادی سے بدل گیا اور پھر اور بھی تغیر پا کر قادیاں ہو گیا۔ غرض ناصرہ اور اسلام پور قاضی کا لفظ ایک بڑے پر معنی نام ہیں جو ایک ان میں سے رُوحانی سرسبزی پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا رُوحانی فیصلہ پر جو مسیح موعود کا کام ہے۔ اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردیِ رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں۔ تیرے عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اُٹھ رہے ہیں تا تمام ملک کو رشک بہار بناویں۔ شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہد سلطنت کا قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں۔ چونکہ یہ مسلّمہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر
ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٢٠ ستارۂ قیصرہ
آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کیلئے آب رواں کی طرح جاری ہیں اور ہم نہ سیاست قہری کے نیچے ہو کر آپ کے مطیع ہیں بلکہ آپ کی انواع اقسام کی خوبیوں نے ہمارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ اے بابرکت قیصرہ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اُس ملک پر ہیں جس پر تیری نگاہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اُس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا پرہیزگاری اور پاک اخلاق اور صلح کاری کی راہوں کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں۔ اے عالی جناب قیصرہ ہند۔ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا گیا ہے کہ ایک عیب مسلمانوں اور ایک عیب عیسائیوں میں ایسا ہے جس سے وہ سچی روحانی زندگی سے دور پڑے ہوئے ہیں اور وہ عیب اُن کو ایک ہونے نہیں دیتا بلکہ ان میں باہمی پھوٹ ڈال رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ دو مسئلے نہایت خطرناک اور سراسر غلط ہیں کہ وہ دین کے لئے تلوار کے جہاد کو اپنے مذہب کا ایک رکن سمجھتے ہیں اور اس جنون سے ایک بے گناہ کو قتل کر کے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا انہوں نے ایک بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور گو اس ملک برٹش انڈیا میں یہ عقیدہ اکثر مسلمانوں کا بہت کچھ اصلاح پذیر ہو گیا ہے اور ہزارہا مسلمانوں کے دل میری بائیس ٢٢ تئیس ٢٣ سال کی کوششوں سے صاف ہوگئے ہیں لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض غیر ممالک میں یہ خیالات اب تک سرگرمی سے پائے جاتے ہیں گویا ان لوگوں نے اسلام کا مغز اور عطر لڑائی اور جبر کو ہی سمجھ لیا ہے۔ لیکن یہ رائے ہرگز صحیح نہیں ہے۔ قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوار مت اٹھاؤ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتدا میں
ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٢١ ستارہ قیصرہ
اسلام میں تلوار کا حکم ہوا کیونکہ وہ تلوار دین کو پھیلانے کے لئے نہیں کھینچی گئی تھی بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے اور یا امن قائم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی مگر دین کے لئے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا۔ افسوس کہ یہ عیب غلط کار مسلمانوں میں اب تک موجود ہے جس کی اصلاح کے لئے میں نے پچاس ہزار سے کچھ زیادہ اپنے رسالے اور مبسوط کتابیں اور اشتہارات اس ملک اور غیر ملکوں میں شائع کئے ہیں اور امید رکھتا ہوں کہ جلد تر ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اس عیب سے مسلمانوں کا دامن پاک ہو جائے گا۔
دوسرا عیب ہماری قوم مسلمانوں میں یہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسے خونی مسیح اور خونی مہدی کے منتظر ہیں جو اُن کے زعم میں دنیا کو خون سے بھر دے گا۔ حالانکہ یہ خیال سراسر غلط ہے۔ ہماری معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کوئی لڑائی نہیں کرے گا اور نہ تلوار اٹھائے گا بلکہ وہ تمام باتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خُو اور خُلق پر ہوگا اور ان کے رنگ سے ایسا رنگین ہوگا کہ گویا ہوبہو وہی ہوگا۔ یہ دو غلطیاں حال کے مسلمانوں میں ہیں جن کی وجہ سے اکثر اُن کے دُوسری قوموں سے بغض رکھتے ہیں مگر مجھے خدا نے اس لئے بھیجا ہے کہ ان غلطیوں کو دُور ٩ کر دوں اور قاضی یا حَکَم کا لفظ جو مجھے عطا کیا گیا ہے وہ اسی فیصلہ کے لئے ہے۔
اور ان کے مقابل پر ایک غلطی عیسائیوں میں بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ مسیح جیسے مقدس اور بزرگوار کی نسبت جس کو انجیل شریف میں نور کہا گیا ہے نعوذ باللہ لعنت کا لفظ اطلاق کرتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ لعن اور لعنت ایک لفظ عبرانی اور عربی میں مشترک ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ ملعون انسان کا دل خدا سے بکُلّی برگشتہ اور دُور اور مہجور ہو کر ایسا گندہ اور ناپاک ہو جائے جس طرح جذام سے جسم گندہ اور خراب ہو جاتا ہے اور عرب اور عبرانی کے اہل زبان اس
ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٢٢ ستارۂ قیصریہ
بات پر متفق ہیں کہ ملعون یا لعنتی صرف اُسی حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے جبکہ اس کا دل در حقیقت خدا سے تمام تعلقات محبت اور معرفت اور اطاعت کے توڑ دے اور شیطان کا ایسا تابع ہو جائے کہ گویا شیطان کا فرزند ہو جائے اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔ پس وہی نام حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے تجویز کرنا اور ان کے پاک اور منوّر دل کو نعوذ باللہ شیطان کے تاریک دل سے مشابہت دینا اور وہ جو بقول ان کے خدا سے نکلا ہے اور وہ جو سراسر نور ہے اور وہ جو آسمان سے ہے اور وہ جو علم کا دروازہ اور خدا شناسی کی راہ اور خدا کا وارث ہے اُسی کی نسبت نعوذ باللہ یہ خیال کرنا کہ وہ لعنتی ہو کر یعنی خدا سے مردود ہو کر اور خدا کا دشمن ہو کر اور دل سیاہ ہو کر اور خدا سے برگشتہ ہو کر اور معرفت الہی سے نابینا ہو کر شیطان کا وارث بن گیا اور اس لقب کا مستحق ہو گیا جو شیطان کے لئے خاص ہے یعنی لعنت ۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ اس کے سننے سے دل پاش پاش ہوتا ہے اور بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔ کیا خدا کے مسیح کا دل خدا سے ایسا برگشتہ ہو گیا جیسے شیطان کا دل؟ کیا خدا کے پاک مسیح پر کوئی ایسا زمانہ آیا جس میں وہ خدا سے بیزار اور درحقیقت خدا کا دشمن ہو گیا ۔ یہ بڑی غلطی اور بڑی بے ادبی ہے قریب ہے جو آسمان اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ غرض مسلمانوں کے جہاد کا عقیدہ مخلوق کے حق میں ایک بداندیشی ہے اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ خود خدا کے حق میں بداندیشی ہے۔ اگر یہ ممکن ہے کہ نور کے ہوتے ہی اندھیرا ہو جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ نعوذ باللہ کسی وقت مسیح کے دل نے لعنت کی زہر ناک کیفیت اپنے اندر حاصل کی تھی۔ اگر انسانوں کی نجات اسی بے ادبی پر موقوف ہے تو بہتر ہے کہ کسی کی بھی نجات نہ ہو کیونکہ تمام گنہگاروں کا مرنا بہ نسبت اس بات کے اچھا ہے کہ مسیح جیسے نور اور نورانی کو گمراہی کی تاریکی اور لعنت اور خدا
یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٢٣ ستارہ قیصرہ
کی عداوت کے گڑھے میں ڈوبنے والا قرار دیا جائے۔ سو میں یہ کوشش کر رہا ہوں کہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ اصلاح پذیر ہو جائے ۔ اور میں شکر کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ان دونوں ارادوں میں کامیاب کیا ہے ۔ چونکہ میرے ساتھ آسمانی نشان اور خدا کے معجزات تھے اس لئے مسلمانوں کے قائل کرنے کے لئے مجھے بہت تکلیف اُٹھانی نہیں پڑی اور ہزار ہا مسلمان خدا کے عجیب اور فوق العادت نشانوں کو دیکھ کر میرے تابع ہو گئے اور وہ خطرناک عقائد انہوں نے چھوڑ دیئے جو وحشیانہ طور پر ان کے دلوں میں تھے اور میرا گروہ ایک سچا خیر خواہ اس گورنمنٹ کا بن گیا ہے جو برٹش انڈیا میں سب سے اوّل درجہ پر جوشِ اطاعت دل میں رکھتے ہیں جس سے مجھے بہت خوشی ہے اور عیسائیوں کا یہ عیب دُور کرنے کے لئے خدا نے میری وہ مدد کی ہے جو میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں شکر کر سکوں اور وہ یہ ہے کہ بہت سے قطعی دلائل اور نہایت پختہ وجوہ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ خدا نے اس پاک نبی کو صلیب پر سے بچا لیا اور آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ مر کر بلکہ زندہ ہی قبر میں غشی کی حالت میں داخل کئے گئے۔ اور پھر زندہ ہی قبر سے نکلے جیسا کہ آپ نے انجیل میں خود فرمایا تھا کہ میری حالت یونس نبی کی حالت سے مشابہ ہوگی ۔ آپ کی انجیل میں الفاظ یہ ہیں کہ یونس نبی کا معجزہ دکھلاؤں گا سو آپ نے یہ معجزہ دکھلایا کہ زندہ ہی قبر میں داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو انجیلوں سے ہمیں معلوم ہوتی ہیں لیکن اس کے علاوہ ایک بڑی خوشخبری جو ہمیں ملی ہے وہ یہ ہے کہ دلائل قاطعہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے اور یہ امر ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ آپ یہودیوں کے ملک سے بھاگ کر نصیبین کی راہ سے افغانستان میں آئے
ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٢٤ ستارۂ قیصریہ
اور ایک مدت تک کوہ نعمان میں رہے اور پھر کشمیر میں آئے اور ایک سو بیس برس کی عمر پا کر سری نگر میں آپ کا انتقال ہوا اور سری نگر محلہ خان یار میں آپ کا مزار ہے چنانچہ اس بارے میں مَیں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے مسیح ہندوستان میں یہ ایک بڑی فتح ہے جو مجھے حاصل ہوئی ہے اور میں جانتا ہوں کہ جلد تر یا کچھ دیر سے اس کا ٭١١ یہ نتیجہ ہوگا کہ یہ دو بزرگ قومیں عیسائیوں اور مسلمانوں کی جو مدت سے بچھڑی ہوئی ہیں باہم شیر و شکر ہو جائیں گی اور بہت سے نزاعوں کو خیر باد کہہ کر محبت اور دوستی سے ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں گی۔ چونکہ آسمان پر یہی ارادہ قرار پایا ہے اس لئے ہماری گورنمنٹ انگریزی کو بھی قوموں کے اتفاق کی طرف بہت توجہ ہوگئی ہے جیسا کہ قانون سڈیشن کے بعض دفعات سے ظاہر ہے۔ اصل بھید یہ ہے کہ جو کچھ آسمان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تیاری ہوتی ہے زمین پر بھی ویسے ہی خیالات گورنمنٹ کے دل میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ غرض ہماری ملکہ معظمہ کی نیک نیتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے آسمان سے یہ اسباب پیدا کر دیئے ہیں کہ دونوں قوموں عیسائیوں اور مسلمانوں میں وہ اتحاد پیدا ہو جائے کہ پھر ان کو دو قوم نہ کہا جائے۔
اب اس کے بعد مسیح علیہ السلام کی نسبت کوئی عقلمند یہ عقیدہ ہرگز نہیں رکھے گا کہ نعوذ باللہ کسی وقت اُن کا دل لعنت کی زہرناک کیفیت سے رنگین ہوگیا تھا کیونکہ لعنت مصلوب ہونے کا نتیجہ تھا۔ پس جبکہ مصلوب ہونا ثابت نہ ہوا بلکہ یہ ثابت ہوا کہ آپ کی اُن دعاؤں کی برکت سے جو ساری رات باغ میں کی گئی تھیں اور فرشتے کی اُس منشاء کے موافق جو پلاطوس کی بیوی کے خواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بچاؤ کی سفارش کے لئے
ستارۂ قیصریہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٢٥ ستارہ قیصرہ
ظاہر ہوا تھا☆ اور خود حضرت مسیح علیہ السلام کی اس مثال کے موافق جو آپ نے یونس نبی کا تین دن مچھلی کے پیٹ میں رہنا اپنے انجام کار کا ایک نمونہ ٹھہرایا تھا آپ کو خدا تعالیٰ نے صلیب اور اس کے پھل سے جو لعنت ہے نجات بخشی اور آپ کی یہ دردناک آواز کہ ایلی ایلی لما سبقتانی* جناب الٰہی میں سنی گئی۔ یہ وہ کھلا کھلا ثبوت ہے جس سے ہر ایک
١٢
حق کے طالب کا دل بے اختیار خوشی کے ساتھ اچھل پڑے گا۔ سو بلاشبہ یہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی برکات کا ایک پھل ہے جس نے حضرت مسیح علیہ السلام کے دامن کو تخمیناً انیس ١٩٠٠ سو برس کی بیجا تہمت سے پاک کیا۔
اب میں مناسب نہیں دیکھتا کہ اس عریضہ نیاز کو طول دوں۔ گو میں جانتا ہوں کہ جس قدر میرے دل میں یہ جوش تھا کہ میں اپنے اخلاص اور اطاعت اور شکر گزاری کو حضور قیصرہ ہند دام ملکہا میں عرض کروں۔ پورے طور پر میں اس جوش کو ادا نہیں کر سکا ناچار دعا پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان کا مالک اور نیک کاموں کی نیک جزا دیتا ہے وہ آسمان پر سے اس محسنہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور وہ فضل اُس کے شامل حال کرے جو نہ صرف دنیا تک محدود ہو بلکہ سچی اور دائمی خوشحالی جو
☆ یہ بات کسی طرح قبول کے لائق نہیں اور اس امر کو کسی دانشمند کا کانشنس قبول نہیں کرے گا کہ خدا تعالیٰ کا تو یہ ارادہ مصمم ہو کہ مسیح کو پھانسی دے مگر اس کا فرشتہ خواہ نخواہ مسیح کے چھڑانے کے لئے تڑپتا پھرے۔ کبھی پلاطوس کے دل میں مسیح کی محبت ڈالے اور اُس کے منہ سے یہ کہلاوے کہ میں یسوع کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا اور کبھی پلاطوس کی بیوی کے پاس خواب میں جاوے اور اُس کو کہے کہ اگر یسوع مسیح پھانسی مل گیا تو پھر اس میں تمہاری خیر نہیں ہے یہ کیسی عجیب بات ہے کہ فرشتہ کا خدا سے اختلاف رائے۔ منہ
* ترجمہ یہ ہے کہ اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔ منہ
ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے
حوالہ نمبر 136
روحانی خزائن جلد ١٥ ١٢٦ ستارہ قیصریہ
آخرت کو ہوگی وہ بھی عطا فرماوے اور اس کو خوش رکھے اور ابدی خوشی پانے کے لئے اس کے لئے سامان مہیا کرے اور اپنے فرشتوں کو حکم کرے کہ تا اس مبارک قدم ملکہ معظمہ کو کہ اس قدر مخلوقات پر نظر رحم رکھنے والی ہے اپنے اس الہام سے منور کریں جو بجلی کی چمک کی طرح ایک دم میں دل میں نازل ہوتا اور تمام صحن سینہ کو روشن کرتا اور فوق الخیال تبدیلی کر دیتا ہے یا الٰہی ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو ہمیشہ ہر ایک پہلو سے خوش رکھ اور ایسا کر کہ تیری طرف سے ایک بالائی طاقت اس کو تیرے ہمیشہ کے نوروں کی طرف کھینچ کر لے جائے اور دائمی اور ابدی سرور میں داخل کرے کہ تیرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور سب کہیں کہ آمین۔
الملتمس
خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان
ضلع گورداسپورہ ۔ (پنجاب)
٢٠؍ اگست ١٨٩٩ء
——— ☆☆☆ ———
یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 137
روحانی خزائن جلد ١٥ ٤٩٩ تریاق القلوب
کشمیر جنت نظیر میں اُن کو پہنچا دیا۔ سو انہوں نے سچائی کے لئے صلیب سے پیار کیا اور اس طرح اُس پر چڑھ گئے جیسا کہ ایک بہادر سوار خوش عنان گھوڑے پر چڑھتا ہے سو ایسا ہی میں بھی مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب سے پیار کرتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جس طرح خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے حضرت مسیح کو صلیب سے بچا لیا اور ان کی تمام رات کی دعا جو باغ میں کی گئی تھی قبول کر کے ان کو صلیب اور صلیب کے نتیجوں سے نجات دی ایسا ہی مجھے بھی بچائے گا اور حضرت مسیح صلیب سے نجات پا کر نصیبین کی طرف آئے اور پھر افغانستان کے ملک میں ہوتے ہوئے کوہ نعمان میں پہنچے اور جیسا کہ اُس جگہ شہزادہ نبی کا چبوترہ اب تک گواہی دے رہا ہے وہ ایک مدّت تک کوہ نعمان میں رہے اور پھر اس کے بعد پنجاب کی طرف آئے آخر کشمیر میں گئے اور کوہ سلیمان پر ایک مدّت تک عبادت کرتے رہے اور سکھوں کے زمانہ تک اُن کی یادگار کا کوہ سلیمان پر کتبہ موجود تھا آخر سری نگر میں ایک سو پچیس برس کی عمر میں وفات پائی اور خان یار کے محلہ کے قریب آپ کا مُقدّس مزار ہے۔ غرض جیسا کہ اس نبی نے سچائی کے لئے صلیب کو قبول کیا ایسا ہی میں بھی قبول کرتا ہوں۔ اگر اس جلسہ کے بعد جس کی گورنمنٹ محسنہ کو ترغیب دیتا ہوں ایک سال کے اندر میرے نشان تمام دنیا پر غالب نہ ہوں تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔ میں راضی ہوں کہ اس جرم کی سزا میں سولی دیا جاؤں اور میری ہڈیاں توڑی جائیں۔ لیکن وہ خدا جو آسمان پر ہے جو دل کے خیالات کو جانتا ہے جس کے الہام سے میں نے اس عریضہ کو لکھا ہے وہ میرے ساتھ ہوگا اور میرے ساتھ ہے وہ مجھے اس گورنمنٹ عالیہ اور قوموں کے سامنے شرمندہ نہیں کرے گا۔ اُسی کی رُوح ہے جو میرے اندر بولتی ہے۔ میں نہ اپنی طرف سے بلکہ اُس کی طرف سے یہ پیغام پہنچا رہا ہوں تا سب کچھ جو اتمام حجت کے لئے چاہئیے
یہ حوالہ صفحہ 188 پر درج ہے تریاق القلوب صفحہ 371، 372 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 499، 500 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 137
روحانی خزائن جلد ١٥ ٥٠٠ تریاق القلوب
پورا ہو۔ یہ سچ ہے کہ میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ اُس کی طرف سے کہتا ہوں اور وہی ہے جو میرا مددگار ہوگا۔
بالآخر میں اس بات کا بھی شکر کرتا ہوں کہ ایسے عریضہ کو پیش کرنے کے لئے میں بجز
(ص ٥٠٠)
اس سلطنت محسنہ کے اور کسی سلطنت کو وسیع الاخلاق نہیں پاتا اور گو اس ملک کے مولوی ایک اور کفر کا فتویٰ بھی مجھ پر لگا دیں مگر میں کہنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ ایسے عرائض کے پیش کرنے کے لئے عالی حوصلہ عالی اخلاق صرف سلطنت انگریزی ہے۔ میں اس سلطنت کے مقابل پر سلطنت روم کو بھی نہیں پاتا جو اسلامی سلطنت کہلاتی ہے۔ اب میں اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری محسنہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو عمر دراز کر کے ہر ایک اقبال سے بہرہ ور کرے اور وہ تمام دعائیں جو میں نے اپنے رسالہ ستارہ قیصرہ اور تحفہ قیصریہ میں ملکہ موصوفہ کو دی ہیں قبول فرماوے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ محسنہ اس کے جواب سے مجھے مشرف فرماوے گی۔ والدعا۔
عریضہ خاکسار
مرزا غلام احمد از قادیاں
المرقوم ٢٧ / ستمبر ١٨٩٩ء
تریاق القلوب صفحہ 371، 372 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 499، 500 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 188 پر درج
حوالہ نمبر 138
روحانی خزائن جلد ١٢ ٢٦٦ تحفہ قیصریہ
﴿١٣﴾ کہ یہ لوگ بنی نوع کی خونریزی سے خوش ہوتے ہیں۔ مگر یہ قرآنی تعلیم نہیں ہے اور نہ سب مسلمان اس خیال کے ہیں۔ یہ پادریوں کی بھی خیانت ہے کہ ناحق دائمی جہاد کے مسئلہ کو قرآن شریف کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور اس طرح پر بعض نادانوں کو دھوکہ میں ڈال کر نفسانی جوشوں کی طرف ان کو توجہ دیتے ہیں۔ اور میں نہ اپنے نفس سے اور نہ اپنے خیال سے بلکہ خدا سے مامور ہوں کہ جس گورنمنٹ کے سایہ عطوفت کے نیچے میں امن کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہوں اس کیلئے دعا میں مشغول رہوں اور اس کے احسانات کا شکر کروں اور اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھوں۔ اور جو کچھ مجھے فرمایا گیا ہے نیک نیتی سے اس تک پہنچاؤں۔ لہٰذا اس موقعہ جوبلی پر جناب ملکہ معظمہ کے ان متواتر احسانات کو یاد کر کے جو ہماری جان اور مال اور آبرو کے شامل حال ہیں۔ ہدیہ شکر گزاری پیش کرتا ہوں اور وہ ہدیہ دعائے سلامتی و اقبال ملکہ ممدوحہ ہے جو دل سے اور وجود کے ذرّہ ذرّہ سے نکلتی ہے۔
اے قیصرہ و ملکہ معظمہ ! ہمارے دل تیرے لئے دعا کرتے ہوئے جناب الٰہی میں جھکتے ہیں اور ہماری روحیں تیرے اقبال اور سلامتی کیلئے حضرت احدیت میں سجدہ کرتی ہیں۔ اے اقبال مند قیصرہ ہند ! اس جوبلی کی تقریب پر ہم اپنے دل اور جان سے تجھے مبارکباد دیتے ہیں۔ اور خدا سے چاہتے ہیں کہ خدا تجھے ان نیکیوں کی بہت بہت جزا دے جو تجھ سے اور تیری با برکت سلطنت سے اور تیرے امن پسند حکام سے ہمیں پہنچی ہیں۔ ہم تیرے وجود کو اس ملک کیلئے خدا کا ایک بڑا فضل سمجھتے ہیں اور ہم ان الفاظ کے نہ ملنے سے شرمندہ ہیں جن سے ہم اس شکر کو پورے طور پر ادا کر سکتے ۔ ہر ایک دعا جو ایک سچا شکر گزار تیرے لئے کر سکتا ہے ہماری طرف سے تیرے
تحفہ قیصریہ صفحہ 14 تا 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 266 تا 268 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 189 پر درج ہے
تا ہے
حوالہ نمبر 138
تحفہ قیصریہ ٢٦٧ روحانی خزائن جلد ١٢
١٥ حق میں قبول ہو۔ خدا تیری آنکھوں کو مرادوں کے ساتھ ٹھنڈی رکھے اور تیری عمر اور صحت اور سلامتی میں زیادہ سے زیادہ برکت دے اور تیرے اقبال کا سلسلہ ترقیات جاری رکھے اور تیری اولاد اور ذرّیت کو تیری طرح اقبال کے دن دکھاوے۔ اور فتح اور ظفر عطا کرتا رہے۔ ہم اس کریم و رحیم خدا کا بہت بہت شکر کرتے ہیں جس نے اس مسرت بخش دن کو ہمیں دکھایا۔ اور جس نے ایسی محسنہ رعیت پرور دادگستر بیدار مغز ملکہ کے زیر سایہ ہمیں پناہ دی۔ اور ہمیں اس کے مبارک عہد سلطنت کے نیچے یہ موقعہ دیا کہ ہم ہر ایک بھلائی کو جو دنیا اور دین کے متعلق ہو حاصل کرسکیں۔ اور اپنے نفس اور اپنی قوم اور اپنے بنی نوع کیلئے سچی ہمدردی کے شرائط بجا لاسکیں۔ اور ترقی کی ان راہوں پر آزادی سے قدم مار سکیں۔ جن راہوں پر چلنے سے نہ صرف ہم دنیا کی مکروہات سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ ابدی جہان کی سعادتیں بھی ہمیں حاصل ہو سکتی ہیں۔
جب ہم سوچتے ہیں کہ یہ تمام نیکیاں اور انکے وسائل جناب قیصرہ ہند کی عہد سلطنت میں ہم کو ملی ہیں۔ اور یہ سب خیر اور بھلائی کے دروازے اسی ملکہ معظمہ مبارکہ کے ایام بادشاہت میں ہم پر کھلے ہیں تو اس سے ہمیں اس بات پر قوی دلیل ملتی ہے کہ جناب قیصرہ ہند کی نیت رعایا پروری کیلئے نہایت ہی نیک ہے۔ کیونکہ یہ ایک مسلّم مسئلہ ہے کہ بادشاہ کی نیت رعایا کے اندرونی حالات اور انکے اخلاق اور چال چلن پر بہت اثر رکھتی ہے۔ یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی حصہ زمین پر نیک نیت اور عادل بادشاہ حکمرانی کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ اس زمین کے رہنے والے اچھی باتوں اور نیک اخلاق کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ اور خدا اور خلقت کے ساتھ اخلاص کی عادت ان میں پیدا ہو جاتی ہے۔ سو یہ امر ہر ایک آنکھ کو بدیہی طور پر نظر آ رہا ہے کہ برٹش انڈیا
تحفہ قیصریہ صفحہ 14 تا 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 266 تا 268 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 189 پر درج ہے
حوالہ نمبر 138
روحانی خزائن جلد ١٢ ٢٦٨ تحفہ قیصریہ ١٦ میں اچھی حالتوں اور اچھے اخلاق کی طرف ایک انقلاب عظیم پیدا ہورہا ہے اور وحشیانہ جذبات ملکوتی حالات کی طرف انتقال کر رہے ہیں۔ اور نئی تربیت نفاق کی جگہ اخلاص کو زیادہ پسند کرتی جاتی ہے۔ اور لوگوں کی استعدادیں سچائی کے قبول کرنے کیلئے بہت نزدیک آتی جاتی ہیں۔ انسانوں کی عقل اور فہم اور سوچ میں ایک بڑی تبدیلی پیدا ہو گئی ہے اور اکثر لوگ ایک سادہ اور بے لوث زندگی کیلئے طیار ہورہے ہیں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہد سلطنت ایک ایسی روشنی کا پیش خیمہ ہے جو آسمان سے اتر کر دلوں کو روشن کرنے والی ہے۔ ہزاروں دل اس طرح پر راستی کے شوق میں اچھل رہے ہیں کہ گویا وہ ایک آسمانی مہمان کیلئے جو سچائی کا نور ہے پیشوائی کے طور پر قدم بڑھاتے ہیں۔ انسانی قویٰ کے تمام پہلوؤں میں اچھے انقلاب کا رنگ دکھائی دیتا ہے اور دلوں کی حالت اس عمدہ زمین کی طرح ہو رہی ہے جو اپنا سبزہ نکالنے کیلئے پھول گئی ہو۔ ہماری ملکہ معظمہ اگر اس بات سے فخر کریں تو بجا ہے کہ روحانی ترقیات کیلئے خدا اسی زمین سے ابتدا کرنا چاہتا ہے جو برٹش انڈیا کی زمین ہے۔ اس ملک میں کچھ ایسے روحانی انقلاب کے آثار نظر آتے ہیں کہ گویا خدا بہتوں کو سفلی زندگی سے باہر نکالنا چاہتا ہے۔ اکثر لوگ بالطبع پاک زندگی کے حاصل کرنے کیلئے میل کرتے جاتے ہیں اور بہت سی روحیں عمدہ تعلیم اور عمدہ اخلاق کی تلاش میں ہیں اور خدا کا فضل امید دے رہا ہے کہ وہ اپنی ان مرادوں کو پائیں گے۔
اگرچہ اکثر قومیں ابھی ایسی کمزور ہیں کہ سچائی کی گواہی صفائی کے ساتھ دے نہیں سکتیں بلکہ سچائی کو سمجھ نہیں سکتیں اور ان کی تحریر اور تقریر میں کم و بیش تعصب کی رنگ آمیزی پائی جاتی ہے مگر دیکھا جاتا ہے کہ انصاف پسند انسانوں میں حق شناسی کی قوت بڑھ گئی ہے۔ وہ راستی کی چمک کو بہت سے پردوں میں سے بھی دیکھ لیتے ہیں۔ یہ ایک بڑی قابل قدر
تحفہ قیصریہ صفحہ 14 تا 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 266 تا 268 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 189 پر درج ہے
حوالہ نمبر 139
روحانی خزائن جلد ١٢ ٢٥٣ تحفہ قیصریہ ﴿١﴾
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
یہ عریضہ مبارکبادی
اس شخص کی طرف سے ہے جو یسوع مسیح کے نام پر طرح طرح کی بدعتوں سے دنیا کو چھڑانے کیلئے آیا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ امن اور نرمی کے ساتھ دنیا میں سچائی قائم کرے اور لوگوں کو اپنے پیدا کنندہ سے سچی محبت اور بندگی کا طریق سکھائے۔ اور اپنے بادشاہ ملکہ معظمہ سے جس کی وہ رعایا ہیں سچی اطاعت کا طریق سمجھائے۔ اور بنی نوع میں باہمی سچی ہمدردی کرنے کا سبق دیوے۔ اور نفسانی کینوں اور جوشوں کو درمیان سے اٹھائے اور ایک پاک صلح کاری کو خدا کے نیک نیت بندوں میں قائم کرے جس کی نفاق سے ملونی نہ ہو اور یہ نوشتہ ایک ہدیہ شکرگزاری ہے کہ جو عالی جناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ والی انگلستان و ہند دام اقبالہا بالقابہا کے حضور میں بتقریب جلسہ جوبلی شصت سالہ بطور مبارکباد پیش کیا گیا ہے۔
مبارک ! مبارک !! مبارک !!!
تحفہ قیصریہ صفحہ 1، مندرجہ روحانی خزائن جلد 12، صفحہ 253 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 191 پر درج ہے
حوالہ نمبر 140
روحانی خزائن جلد ٢١ ١٤١ براہین احمدیہ حصہ پنجم
ابن مریم ہوں مگر اترا نہیں مَیں چرخ سے نیز مہدی ہوں مگر بے تیغ اور بے کار زار ﴿١١١﴾
ملک سے مجھ کو نہیں مطلب نہ جنگوں سے ہے کام کام میرا ہے دلوں کو فتح کرنا اے دیار
تاج و تخت ہند قیصر کو مبارک ہو مدام اُن کی شاہی میں مَیں پاتا ہوں رفاہِ روزگار
مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوان یار
ہم تو ہنستے ہیں فلک پر اِس زمیں کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا بکار
ملک روحانی کی شاہی کی نہیں کوئی نظیر گو بہت دنیا میں گزرے ہیں امیر و تاجدار
داغ لعنت ہے طلب کرنا زمیں کا عزّ وجاہ جس کا جی چاہے کرے اس داغ سے وہ تن فگار
کام کیا عزت سے ہم کو شہرتوں سے کیا غرض گر وہ ذلت سے ہو راضی اس پہ سو عزت نثار
ہم اُسی کے ہو گئے ہیں جو ہمارا ہو گیا چھوڑ کر دنیاء دوں کو ہم نے پایا وہ نگار
دیکھتا ہوں اپنے دل کو عرش ربّ العالمیں قرب اتنا بڑھ گیا جس سے ہے اترا مجھ میں یار
دوستی بھی ہے عجب جس سے ہوں آخر دوستی آ ملی اُلفت سے اُلفت ہو کے دو دل پر سوار
دیکھ لو میل و محبت میں عجب تاثیر ہے ایک دل کرتا ہے جھک کر دوسرے دل کو شکار
کوئی رہ نزدیک تر راہِ محبت سے نہیں طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت خار
اس کے پانے کا یہی اے دوستو اک راز ہے کیمیا ہے جس سے ہاتھ آجائے گا زر بے شمار
تیر تاثیر محبت کا خطا جاتا نہیں تیر اندازو! نہ ہونا سُست اس میں زینہار
ہے یہی اک آگ تا تم کو بچاوے آگ سے ہے یہی پانی کہ نکلیں جس سے صدہا آبشار
اِس سے خود آ کر ملے گا تم سے وہ یار ازل اس سے تم عرفان حق سے پہنو گے پھولوں کے ہار
وہ کتاب پاک و برتر جس کا فرقاں نام ہے وہ یہی دیتی ہے طالب کو بشارت بار بار
براہین احمدیہ جلد پنجم صفحہ 111 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 141 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 192 پر درج ہے
حوالہ نمبر 141
روحانی خزائن جلد ١٢ ٢٥٤ تحفہ قیصریہ
اُس خدا کا شکر ہے جس نے آج ہمیں یہ عظیم الشان خوشی کا دن دکھلایا کہ ہم نے اپنی ملکہ معظمہ قیصرہ ہند وانگلستان کی شصت سالہ جوبلی کو دیکھا۔ جس قدر اس دن کے آنے سے مسرت ہوئی کون اس کو اندازہ کر سکتا ہے؟ ہماری محسنہ قیصرہ مبارکہ کو ہماری طرف سے خوشی اور شکر سے بھری ہوئی مبارکباد پہنچے۔ خدا ملکہ معظمہ کو ہمیشہ خوشی سے رکھے! وہ خدا جو زمین کو بنانے والا اور آسمانوں کو اونچا کرنے والا اور چمکتے ہوئے سورج اور چاند کو ہمارے لئے کام میں لگانے والا ہے۔ اس کی جناب میں ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو جو اپنی رعایا کی مختلف اقوام کو کنار عاطفت میں لئے ہوئے ہے جس کے ایک وجود سے کروڑ ہا انسانوں کو آرام پہنچ رہا ہے تادیر گاہ سلامت رکھے اور ایسا ہو کہ جلسہ جوبلی کی تقریب پر (جس کی خوشی سے کروڑ ہا دل برٹش انڈیا اور انگلستان کے جوشِ نشاط میں ان پھولوں کی طرح حرکت کر رہے ہیں جو نسیم صبا کی ٹھنڈی ہوا سے شگفتہ ہو کر پرندوں کی طرح اپنے پروں کو ہلاتے ہیں) جس زور شور سے زمین مبارکبادی کیلئے اچھل رہی ہے ایسا ہی آسمان بھی اپنے آفتاب و ماہتاب اور تمام ستاروں کے ساتھ مبارکبادیاں دیوے! اور عنایت صمدی ایسا کرے کہ جیسا کہ ہماری عالی شان محسنہ ملکہ معظمہ والی ہند و انگلستان اپنی رعایا کے تمام بوڑھوں اور بچوں کے دلوں میں ہردلعزیز ہے ویسا ہی آسمانی فرشتوں کے دلوں میں بھی ہردلعزیز ہو جائے۔ وہ قادر جس نے بیشمار دنیوی برکتیں اسکو عطا کیں دینی برکتوں سے بھی اسے مالا مال کرے۔ وہ رحیم جس نے اس جہان میں اسکو خوش رکھا اگلے جہان میں بھی خوشی کے سامان اس کیلئے عطا کرے۔ خدا کے کاموں سے کیا بعید ہے کہ ایسا مبارک وجود جس سے کروڑ ہا بلکہ بے شمار نیکی کے کام ہوئے اور ہورہے ہیں اس کے ہاتھ سے یہ آخری نیکی بھی ہو جائے
تحفہ قیصریہ صفحہ 2 ، 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 254 ، 255 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 192 پر درج ہے
حوالہ نمبر 141
روحانی خزائن جلد ١٢ ٢٥٥ تحفہ قیصریہ
٢٦ کہ انگلستان کو رحم اور امن کے ساتھ انسان پرستی سے پاک کر دیا جائے تا فرشتوں کی روحیں بھی بول اٹھیں کہ اے موحدہ صدیقہ تجھے آسمان سے بھی مبارکباد جیسا کہ زمین سے !!
یہ دعا گو کہ جو دنیا میں عیسیٰ مسیح کے نام سے آیا ہے اسی طرح وجود ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور اس کے زمانہ سے فخر کرتا ہے جیسا کہ سیّدالکونین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوشیروان عادل کے زمانہ سے فخر کیا تھا۔ سو اگر چہ جلسہ جوبلی کی مبارک تقریب پر ہر ایک شخص پر واجب ہے کہ ملکہ معظمہ کے احسانات کو یاد کر کے مخلصانہ دعاؤں کے ساتھ مبارکباد دے اور حضور قیصرہ ہند و انگلستان میں شکر گزاری کا ہدیہ گذرانے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ میرے لئے خدا نے پسند کیا کہ میں آسمانی کارروائی کیلئے ملکہ معظمہ کی پُرامن حکومت کی پناہ لوں۔ سو خدا نے مجھے ایسے وقت میں اور ایسے ملک میں مامور کیا جس جگہ انسانوں کی آبرو اور مال اور جان کی حفاظت کیلئے حضرت قیصرہ مبارکہ کا عہد سلطنت ایک فولادی قلعہ کی تاثیر رکھتا ہے۔ جس امن کے ساتھ میں نے اس ملک میں بود و باش کر کے سچائی کو پھیلایا اس کا شکر کرنا میرے پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ اور اگر چہ میں نے اس شکر گزاری کیلئے بہت سی کتابیں اردو اور عربی اور فارسی میں تالیف کر کے اور ان میں جناب ملکہ معظمہ کے تمام احسانات کو جو برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے شامل حال ہیں اسلامی دنیا میں پھیلائی ہیں اور ہر ایک مسلمان کو سچی اطاعت اور فرمانبرداری کی ترغیب دی ہے۔ لیکن میرے لئے ضروری تھا کہ یہ تمام کارنامہ اپنا جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں بھی پہنچاؤں۔ سو اسی بناء پر آج مجھے جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی جوبلی کے مبارک موقعہ پر جو سچی وفادار رعایا کیلئے بیشمار شکر اور خوشی کا محل ہے اس
تحفہ قیصریہ صفحہ 2،3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 254، 255 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 192 پر درج ہے
حوالہ نمبر 142
روحانی خزائن جلد ٨ ٦ نور الحق الحصة الاولى
مِنْ نُخَبِ الصالحين. هذه أقوالهم وفتاواهم، وما امتنعوا إلى هذا الوقت تو وہ بڑا ہی نیک بخت اور چنے ہوئے نکو کاروں میں سے ہے۔ یہ ان کی باتیں اور یہ ان کے فتوے ہیں اور اب تک ان من هذه الفتن الصمّاء ، وما فاءوا إلى الارعواء ، وما كانوا متندّمين. نہایت پُر شر فتنوں سے باز نہیں آئے اور حیا کی طرف رجوع نہیں کیا اور نہ نادم ہوئے۔ ولولا خوف سيف الدولة البرطانية لمزّقونا كلّ ممزّق، ولكن اور اگر انگریزی سلطنت کی تلوار کا خوف نہ ہوتا تو ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے لیکن هذه الدولة القاهرة السائسة المباركة لنا - جزاها الله منّا خير الجزاء - یہ دولت برطانیہ غالب اور باسیاست جو ہمارے لئے مبارک ہے خدا اس کو ہماری طرف سے جزاء خیر دے۔ تؤوى الضعفاءَ تحت جناح التحنّن والترحم، فما كان لقويّ أن يظلم کمزوروں کو اپنی مہربانی اور شفقت کے بازو کے نیچے پناہ دیتی ہے پس ایک کمزور پر زبردست کچھ تعدی نہیں کر سکتا الضعيف، فنعيش تحت ظلها بالأمن والعافية شاكرين. وإنّ هذا فضل سو ہم اس سلطنت کے سایہ کے نیچے بڑے آرام اور امن سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور شکر گزار ہیں اللّٰه علينا وإحسانه أنّه ما فوّض أمرنا إلى مَلِكٍ ظالم يدوسنا تحت اور یہ خدا کا فضل اور احسان ہے جو اس نے ہمیں کسی ایسے ظالم بادشاہ کے حوالہ نہیں کیا جو ہمیں پیروں کے نیچے کچل ڈالتا الأقدام ولا يرحم، بل أعطانا مَلِكَةً راحمةً التي تربينا بوابل الإحسان اور کچھ رحم نہ کرتا بلکہ اس نے ہمیں ایک ایسی ملکہ عطا کی ہے جو ہم پر رحم کرتی ہے اور احسان کی بارش سے اور مہربانی کے مینہ سے والإكرام، وتنهضنا من حضيض الضعف والهوان، فجزاها اللّٰه خير ما ہماری پرورش فرماتی ہے اور ہمیں ذلت اور کمزوری کی پستی سے اوپر کی طرف اٹھاتی ہے سو خدا اس کو وہ جزاء خیر دے جازى مليكًا عادلًا عن رعيته، وأجزلَ لها الأجر وبارك فيها ولها، جو ایک عادل بادشاہ کو اس کی رعیت پروری کی وجہ سے ملتی ہے اور اس کو بہت ہی بدلہ دے اور اس میں اور اس کے لئے برکت وتفضّل عليها بنعماء التوحيد والإسلام، ورحمها كما هي رحمنا ☆ نازل کرے اور اس پر یہ احسان بھی کرے کہ وہ مسلمان ہو جائے اور توحید اور اسلام کی نعمت اس کو ملے اور اس پر
☆ سهو والصحيح "رحمتنا" (الناشر)
نور الحق حصہ اوّل صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 6 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 193 پر درج ہے
حوالہ نمبر 143
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٨ ستارۂ قیصریہ
میں پیدا ہو کر اپنی کمال ہمت اور ہمدردی بنی نوع کے رُو سے طبعاً ایک آسمانی منجی کو چاہتا ہے ۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ہوا کیونکہ اُس وقت کا قیصر روم ایک نیک نیت انسان تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ زمین پر ظلم ہو اور انسانوں کی بھلائی اور نجات کا طالب تھا تب آسمان کے خدا نے وہ روشنی بخشنے والا چاند ناصرہ کی زمین سے چڑھایا یعنی عیسیٰ مسیح تا جیسا کہ ناصرہ کے لفظ کے معنے عبرانی میں طراوت اور تازگی اور سرسبزی ہے یہی حالت انسانوں کے دلوں میں پیدا کرے۔سو اے ہماری پیاری قیصرہ ہند خدا تجھے دیر گاہ تک سلامت رکھے۔ تیری نیک نیتی اور رعایا کی سچی ہمدردی اس قیصر روم سے کم نہیں ہے بلکہ ہم زور سے کہتے ہیں کہ اس سے بہت زیادہ ہے کیونکہ تیری نظر کے نیچے جس قدر غریب رعایا ہے جس کی تو اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہمدردی کرنا چاہتی ہے اور جس طرح تو ہر ایک پہلو سے اپنی عاجز رعیت کی خیر خواہ ہے اور جس طرح تو نے اپنی خیر خواہی اور رعیت پروری کے نمونے دکھلائے ہیں۔ یہ کمالات اور برکات گذشتہ قیصروں میں سے کسی میں بھی نہیں پائے جاتے اس لئے تیرے ہاتھ کے کام جو سراسر نیکی اور فیاضی سے رنگین ہیں سب سے زیادہ اس بات کو چاہتے ہیں کہ جس طرح تو اے ملکہ معظمہ اپنی تمام رعیت کی نجات اور بھلائی اور آرام کے لئے دردمند ہے اور رعیت پروری کی تدبیروں میں مشغول ہے اسی طرح خدا بھی آسمان سے تیرا ہاتھ بٹاوے سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے۔ خدا نے تیرے عہد سلطنت میں دُنیا کے دردمندوں کو یاد کیا اور آسمان سے اپنے مسیح کو بھیجا اور وہ تیرے ہی ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہوا تا دنیا کے لئے یہ ایک گواہی ہو کہ تیری زمین کے
ستارہ قیصرہ صفحہ 10، 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 118 ، 119 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 194 پر درج ہے
حوالہ نمبر 143 روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٩ ستارہ قیصرہ
سلسلہ عدل نے آسمان کے سلسلہ عدل کو اپنی طرف کھینچا اور تیرے رحم کے سلسلہ نے آسمان پر ایک رحم کا سلسلہ برپا کیا اور چونکہ اس مسیح کا پیدا ہونا حق اور باطل کی تفریق کے لئے دنیا پر ایک آخری حکم ہے جس کے رُوسے مسیح موعود حَکَم کہلاتا ہے اس لئے ناصرہ کی طرح جس میں تازگی اور سرسبزی کے زمانہ کی طرف اشارہ تھا اس مسیح کے گاؤں کا نام اسلام پور قاضی ماجھی رکھا گیا تا قاضی کے لفظ سے خدا کے اُس آخری حَکَم کی طرف اشارہ ہو جس سے برگزیدوں کو دائمی فضل کی بشارت ملتی ہے اور تا مسیح موعود کا نام جو حَکَم ہے۔ اس کی طرف بھی ایک لطیف ایما ہو اور اسلام پور قاضی ماجھی اُس وقت اس گاؤں کا نام رکھا گیا تھا جبکہ بابر بادشاہ کے عہد میں اس ملک ماجہ کا ایک بڑا علاقہ حکومت کے طور پر میرے بزرگوں کو ملا تھا اور پھر رفتہ رفتہ یہ حکومت خود مختار ریاست بن گئی اور پھر کثرت استعمال سے قاضی کا لفظ قادی سے بدل گیا اور پھر اور بھی تغیر پا کر قادیاں ہو گیا۔ غرض ناصرہ اور اسلام پور قاضی کا لفظ ایک بڑے پر معنی نام ہیں جو ایک ان میں سے رُوحانی سرسبزی پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا رُوحانی فیصلہ پر جو مسیح موعود کا کام ہے۔ اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردیِ رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں۔ تیرے عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اُٹھ رہے ہیں تا تمام ملک کو رشک بہار بناویں۔ شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہد سلطنت کا قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں۔ چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر
ستارہ قیصرہ صفحہ 10،11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 118،119 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 194 پر درج ہے
حوالہ نمبر 144
روحانی خزائن جلد ١٥ ١١٧ ستارۂ قیصرہ
تیرے عہد سلطنت سے زیادہ پُر امن اور کونسا عہد سلطنت ہوگا جس میں مسیح موعود آئے گا؟ اے ملکہ معظمہ تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتا جاتا ہے اس لئے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی بھی عہد سلطنت ایسا نہیں ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے موزوں ہو۔ سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا اور تاریکی تاریکی کو کھینچتی ہے اے مبارک اور بااقبال ملکہ زمان جن کتابوں میں مسیح موعود کا آنا لکھا ہے ان کتابوں میں صریح تیرے پُر امن عہد کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں مگر ضرور تھا کہ اسی طرح مسیح موعود دنیا میں آتا جیسا کہ ایلیا نبی یوحنا کے لباس میں آیا تھا یعنی یوحنا ہی ﴿١٦﴾ اپنی خُو اور طبیعت سے خدا کے نزدیک ایلیا بن گیا۔ سو اس جگہ بھی ایسا ہی ہوا کہ ایک کو تیرے بابرکت زمانہ میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی خُو اور طبیعت دی گئی۔ اس لئے وہ مسیح کہلایا اور ضرور تھا کہ وہ آتا کیونکہ خدا کے پاک نوشتوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔ اے ملکہ معظمہ اے تمام رعایا کی فخر یہ قدیم سے عادت اللہ ہے کہ جب شاہِ وقت نیک نیت اور رعایا کی بھلائی چاہنے والا ہو تو وہ جب اپنی طاقت کے موافق امن عامہ اور نیکی پھیلانے کے انتظام کر چکتا ہے اور رعیت کی اندرونی پاک تبدیلیوں کے لئے اس کا دل دردمند ہوتا ہے تو آسمان پر اس کی مدد کے لئے رحمت الٰہی جوش مارتی ہے اور اس کی ہمت اور خواہش کے مطابق کوئی روحانی انسان زمین پر بھیجا جاتا ہے اور اُس کامل ریفارمر کے وجود کو اس عادل بادشاہ کی نیک نیتی اور ہمت اور ہمدردی عامہ خلائق پیدا کرتی ہے۔ یہ تب ہوتا ہے کہ جب ایک عادل بادشاہ ایک زمینی منجی کی صورت
ستارہ قیصرہ صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 117 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 194 پر درج ہے
حوالہ نمبر 145
روحانی خزائن جلد ٦ ٣٨٨ شہادۃ القرآن
﴿١١﴾ چکے اور اپنی اس کتاب میں جس کی اشاعت ان کا شبانہ روزی فرض ہے وہ صاف درج کر چکے ☆ ہیں کہ گورنمنٹ انگلشیہ خدا کی نعمتوں سے ایک نعمت ہے ۔ یہ ایک عظیم الشان رحمت ہے یہ سلطنت مسلمانوں کے لئے آسمانی برکت کا
حاشیہ ☆ اصل کلام مؤلف یہ ہے جو اس کتاب کے حصہ سوم و چہارم سے یہ تلخیص نقل کیا جاتا ہے ۔ حصہ سوم کے ابتدائی اوراق میں آپ فرماتے ہیں ۔ مسلمانوں پر جن امور کا اپنی اصلاح حال کے لئے اپنی ہمت اور کوشش سے انجام دینا لازم ہے ۔ وہ انہیں فکر اور غور کے وقت آپ ہی معلوم ہو جائیں گے حاجت بیان و تشریح نہیں ۔ مگر اس جگہ ان امروں میں سے یہ امر قابل تذکرہ ہے جس پر گورنمنٹ انگلشیہ کی عنایات اور تو جہات موقوف ہیں کہ گورنمنٹ ممدوحہ کے دل پر اچھی طرح یہ امر مرکوز کرنا چاہئے کہ مسلمانان ہند ایک وفادار رعیت ہے کیونکہ بعض ناواقف انگریزوں نے خصوصاً ڈاکٹر ہنٹر صاحب نے جو کمیشن تعلیم کے اب پریزیڈنٹ ہیں اپنی ایک مشہور تصنیف میں اس دعویٰ پر بہت اصرار کیا ہے کہ مسلمان لوگ سرکار انگریزی کے دلی خیر خواہ نہیں ہیں اور انگریزوں سے جہاد کرنا فرض سمجھتے ہیں گو یہ خیال ڈاکٹر صاحب کا شریعت اسلام پر نظر کرنے کے بعد ہر یک شخص پر محض بے اصل اور خلاف واقعہ ثابت ہو گا لیکن افسوس کہ بعض کوہستانی اور بے تمیز سفہا کی نالائق حرکتیں اس خیال کی تائید کرتی ہیں اور شاید انہی اتفاقی مشاہدات سے ڈاکٹر صاحب موصوف کا وہم بھی مستحکم ہو گیا ہے کیونکہ کبھی کبھی جاہل لوگوں کی طرف سے اس قسم کی حرکات صادر ہوتی رہتی ہیں لیکن محقق پر یہ امر پوشیدہ نہیں رہ سکتا کہ اس قسم کے لوگ اسلامی تدین سے دور مہجور ہیں اور ایسے ہی مسلمان ہیں جیسے میکلن عیسائی تھا ۔ پس ظاہر ہے کہ ان کی یہ ذاتی حرکات ہیں نہ شرعی پابندی سے ۔ اور ان کے مقابل پر ان ہزار ہا مسلمانوں کو دیکھنا چاہیئے جو ہمیشہ خیر خواہی دولت انگلشیہ کی کرتے رہے ہیں اور کرتے ہیں ۔ ١٨٥٧ء میں جو کچھ فساد ہوا اس میں بجز جہلا اور بدچلن لوگوں کے اور کوئی شائستہ اور نیک بخت مسلمان جو با علم اور باتمیز تھا ہر گز مفسدہ میں شامل نہیں ہوا بلکہ پنجاب میں بھی غریب غریب مسلمانوں نے سرکار انگریزی کو اپنی طاقت سے زیادہ مدد دی چنانچہ ہمارے والد صاحب مرحوم نے بھی با وصف کم استطاعتی کے اپنے اخلاص اور جوش اور خیر خواہی سے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اور پچاس مضبوط اور لائق سپاہی
یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے شہادت القرآن صفحہ 92 تا 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 388 تا 393 از مرزا غلام احمد قادیانی
حوالہ نمبر 145
روحانی خزائن جلد ٦ ٣٨٩ شہادۃ القرآن
حکم رکھتی ہے خداوند رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کیلئے ایک باران رحمت بھیجا ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا قطعی حرام ہے۔ اسلام کا ہرگز یہ اصول نہیں کہ مسلمانوں کی قوم جس سلطنت کے ماتحت رہ کر اس کا
﴿١٤﴾
بقیہ بہم پہنچا کر سرکار میں بطور مدد کے نذر کئے اور اپنی غریبانہ حالت سے بڑھ کر خیر خواہی دکھلائی اور جو حاشیہ مسلمان صاحب دولت و ملک تھے انہوں نے تو بڑی بڑی خدمات نمایاں ادا کیں۔ اب ہم پھر اس تقریر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ گو مسلمانوں کی طرف سے اخلاص اور وفاداری کے بڑے بڑے نمونہ ظاہر ہو چکے ہیں مگر ڈاکٹر صاحب نے مسلمانوں کی بد نصیبی کی وجہ سے ان تمام وفاداریوں کو نظر انداز کر دیا اور نتیجہ نکالنے کے وقت ان مخلصانہ خدمات کو نہ اپنے قیاس کے صغریٰ میں جگہ دی اور نہ کبریٰ میں۔ بہر حال ہمارے بھائی مسلمانوں پر لازم ہے کہ گورنمنٹ پر ان کے دھوکوں سے متاثر ہونے سے پہلے بے حد طور پر اپنی خیر خواہی ظاہر کریں جس حالت میں شریعت اسلام کا یہ واضح مسئلہ ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن اور عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں اور جس کے عطیات سے ممنون منت اور مرہون احسان ہوں اور جس کی مبارک سلطنت حقیقت میں نیکی اور ہدایت پھیلانے کے لیے کامل مددگار ہو قطعی حرام ہے تو بڑے افسوس کی بات ہے کہ علماء اسلام اپنے جمہوری اتفاق سے اس مسئلہ کو اچھی طرح شائع نہ کر کے ناواقف لوگوں کی زبان اور قلم سے مورد اعتراض ہوتے رہیں جن اعتراضوں سے ان کے دین کی سبکی پائی جائے اور ان کی دنیا کو ناحق ضرر پہنچے۔ سو اس عاجز کی دانست میں قرین مصلحت یہ ہے کہ انجمن اسلامیہ لاہور و کلکتہ و بمبئی وغیرہ یہ بندوبست کریں کہ چند نامی مولوی صاحبان جن کی فضیلت اور علم اور زہد اور تقویٰ اکثر لوگوں کی نظر میں مسلم الثبوت ہو اس امر کے لئے چن لئے جاویں کہ اطراف اکناف کے اہل علم کو جو اپنے مسکن کے گردو نواح میں کسی قدر شہرت رکھتے ہوں اپنی اپنی عالمانہ تحریریں جن میں برطبق شریعت حقہ سلطنت انگلشیہ سے جو مسلمانان ہند کی مربی و محسن ہے جہاد کرنے کی صاف ممانعت ہو۔ ان علماء کی خدمت میں بہ ثبت مواہیر بھیج دیں کہ جو بموجب قرار داد بالا اس خدمت کے لئے منتخب کئے گئے ہیں اور جب سب خطوط جمع ہو جاویں تو یہ مجموعہ خطوط جو مکتوبات علماء ہند سے موسوم ہو سکتا ہے کسی خوشخط مطبع میں
شہادت القرآن صفحہ 92 تا 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 388 تا 393 از مرزا غلام احمد قادیانی یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے
حوالہ نمبر 145 روحانی خزائن جلد ٦ ٣٩٠ شہادۃ القرآن
١٣ احسان اٹھاوے۔ اس کے ظل حمایت میں بامن و آسائش رہ کر اپنا مقسوم کھاوے اس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے پھر اسی پر عقرب کی طرح نیش چلاوے۔ اور دعا سے بھی انہوں نے اس گورنمنٹ کو بہت دفعہ بقیہ بہ صحت تمام چھاپا جاوے اور پھر دس بیس نسخے اس کے گورنمنٹ میں اور باقی نسخہ جات متفرق مواضع حاشیہ پنجاب و ہندوستان خاص کر سرحدی ملکوں میں تقسیم کئے جائیں ۔ یہ سچ ہے کہ بعض غم خوار مسلمانوں نے ڈاکٹر ہنٹر صاحب کے خیالات کا ردّ لکھا ہے مگر یہ دو چار مسلمانوں کا ردّ جمہوری ردّ کا ہرگز قائم مقام نہیں ہو سکتا ۔ بلاشبہ جمہوری ردّ کا ایسا اثر قوی اور پر زور ہو گا جس میں ڈاکٹر صاحب کی تمام غلط تحریریں خاک میں مل جائیں گی اور بعض ناواقف مسلمان بھی اپنے سچے اور پاک اصول سے بخوبی مطلع ہو جائیں گے اور گورنمنٹ انگلشیہ پر بھی صاف باطنی مسلمانوں کی اور خیر خواہی اس رعیت کی کما حقّہ کھل جاوے گی اور بعض کوہستانی جہلا کے خیالات کی اصلاح بھی بذریعہ اسی کتاب کے وعظ و نصیحت کے ہوتی رہے گی۔ بالآخر یہ بات بھی ظاہر کرنا ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ اگرچہ تمام ہندوستان پر یہ حق واجب ہے کہ بنظر ان احسانات کے کہ جو سلطنت انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامہ خلائق پر وارد ہیں سلطنت ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل اور نعماء الٰہی کے اس کا شکر بھی ادا کریں لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکر گذار ہوں گے اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے نعمت عظمیٰ یقین نہ کریں۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ اس سلطنت سے پہلے وہ کس حالت پُر ملالت میں تھے اور پھر کیسے امن و امان میں آگئے ۔ پس فی الحقیقت یہ سلطنت ان کے لئے ایک آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے جس کے آنے سے سب تکلیفیں ان کی دور ہوئیں اور ہر یک قسم کے ظلم و تعدّی سے نجات حاصل ہوئی اور ہر یک ناجائز روک اور مزاحمت سے آزادی میسّر آئی کوئی ایسا مانع نہیں کہ جو ہم کو نیک کام کرنے سے روک سکے یا ہماری آسائش میں خلل ڈال سکے۔ پس حقیقت میں خداوند کریم و رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لئے ایک باران رحمت بھیجا ہے جس سے پودہ اسلام کا پھر اس ملک پنجاب میں سرسبز ہوتا جاتا ہے اور جس کے فوائد کا اقرار حقیقت میں خدا کے احسانوں کا اقرار ہے۔ یہی سلطنت ہے جس کی آزادی ایسی بدیہی اور مسلّم الثبوت ہے کہ بعض دوسرے ملکوں سے مظلوم مسلمان ہجرت کر کے
شہادت القرآن صفحہ 92 تا 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 388 تا 393 از مرزا غلام احمد قادیانی یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے
حوالہ نمبر 145
روحانی خزائن جلد ٦ ٣٩١ شہادۃ القرآن
﴿١٤﴾ یاد کیا ہے۔ ان کی آخری دعا ان کے اشتہار مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں جس کی بیس ہزار کاپی چھپوا کر ہندو اور انگلینڈ میں انہوں نے شائع کرنی چاہی ہے یہ کلمات دعائیہ مرقوم ہیں ۔ انگریز جن کی شائستہ اور مہذب اور بقیہ اس ملک میں آنا بدل و جان پسند کرتے ہیں ۔ جس صفائی سے اس سلطنت کی ظل حمایت میں مسلمانوں کی اصلاح کے لئے اور ان کی بدعات مخلوطہ دور کرنے کے لئے وعظ ہو سکتا ہے اور جن تقریبات سے حاشیہ علماء اسلام کو ترویج دین کے لئے اس گورنمنٹ میں جوش پیدا ہوتے ہیں اور فکر اور نظر سے اعلیٰ درجہ کا کام پڑتا ہے اور عمیق تحقیقاتوں سے تائید دین متین میں تالیفات ہو کر حجت اسلام مخالفین پر پوری کی جاتی ہے وہ میری دانست میں آج کل کسی اور ملک میں ممکن نہیں ۔ یہی سلطنت ہے جس کی عادلانہ حمایت سے علماء کو مدتوں کے بعد گویا صد ہا سال کے بعد یہ موقعہ ملا کہ بے دھڑک بدعات کی آلودگیوں اور شرک کی خرابیوں سے اور مخلوق پرستی کے فسادوں سے نادان لوگوں کو مطلع کریں اور اپنے رسول مقبول کا صراط مستقیم کھول کر بتلاویں ۔ کیا ایسی سلطنت کی بدخواہی جس کے زیر سایہ تمام مسلمان امن اور آزادی سے بسر کرتے ہیں اور فرائض دین کو کما حقہ بجالاتے ہیں اور ترویج دین میں سب ملکوں سے زیادہ مشغول ہیں جائز ہو سکتی ہے حاشا وکلا ہرگز جائز نہیں اور نہ کوئی نیک اور دیندار آدمی ایسا بد خیال دل میں لا سکتا ہے ۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ دنیا میں آج یہی ایک سلطنت ہے جس کے سایہ عاطفت میں بعض بعض اسلامی مقاصد ایسے حاصل ہوتے ہیں کہ جو دوسرے ممالک میں ہرگز ممکن الحصول نہیں ۔ شیعوں کے ملک میں جاؤ تو وہ سنت جماعت کے وعظوں سے افروختہ ہوتے ہیں اور سنت جماعت کے ملکوں میں شیعہ اپنی رائے ظاہر کرنے سے خائف ہیں ۔ ایسا ہی مقلدین موحدین کے شہروں میں اور موحدین مقلدین کے بلاد میں دم نہیں مار سکتے ۔ اور گو کسی بدعت کو اپنی آنکھ سے دیکھ لیں منہ سے بات نکالنے کا موقعہ نہیں رکھتے آخر یہی سلطنت ہے جس کی پناہ میں ہر یک فرقہ امن اور آرام سے اپنی رائے ظاہر کرتا ہے اور یہ بات اہل حق کے لئے نہایت ہی مفید ہے کیونکہ جس ملک میں بات کرنے کی گنجائش ہی نہیں نصیحت دینے کا حوصلہ ہی نہیں اس ملک میں کیونکر راستی پھیل سکتی ہے ۔ راستی پھیلانے کیلئے وہی ملک مناسب ہے جس میں آزادی سے اہل حق وعظ کر سکتے ہیں ۔ یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ دینی جہادوں سے اصلی غرض آزادی کا قائم
شہادت القرآن صفحہ 92 تا 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 388 تا 393 از مرزا غلام احمد قادیانی یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے
حوالہ نمبر 145
روحانی خزائن جلد ٦ ٣٩٢ شہادۃ القرآن
١٥ بارحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ معاملات سے ممنون کر کے اس بات کے لئے دلی جوش بخشا ہے کہ ہم ان کے دین و دنیا کیلئے دلی جوش سے بہبودی اور سلامتی چاہیں تا ان کے کالے و سپید بقیہ کرنا اور ظلم کا دور کرنا تھا اور دینی جہاد انہیں ملکوں کے مقابلہ پر ہوئے تھے جن میں واعظین کو حاشیہ اپنے وعظ کے وقت جان کا اندیشہ تھا اور جن میں امن کے ساتھ وعظ ہونا قطعی محال تھا۔ اور کوئی شخص طریقہ حقہ کو اختیار کر کے اپنی قوم کے ظلم سے محفوظ نہیں رہ سکتا تھا لیکن سلطنت انگریزی کی آزادی نہ صرف ان خرابیوں سے خالی ہے بلکہ اسلامی ترقی کی بدرجہ غایت ناصر اور مؤید ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس خداداد نعمت کی قدر کریں اور اس کے ذریعہ سے اپنی دینی ترقیات میں قدم بڑھاویں۔
اور حصہ چہارم کے ابتدائی اوراق میں آپ فرماتے ہیں۔ تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ بعض صاحبوں نے مسلمانوں میں سے اس مضمون کی بابت کہ جو حصہ سوم کے ساتھ گورنمنٹ انگریزی کے شکر کے بارے میں شامل ہے اعتراض کیا اور بعض نے خطوط بھی بھیجے اور بعض نے سخت اور درشت لفظ بھی لکھے کہ انگریزی عملداری کو دوسری عملداریوں پر کیوں ترجیح دی۔ لیکن ظاہر ہے کہ جس سلطنت کو اپنی شائستگی اور حسن انتظام کے رو سے ترجیح ہو اس کو کیونکر چھپا سکتے ہیں۔ خوبی باعتبار اپنی ذاتی کیفیت کے خوبی ہی ہے گو وہ کسی گورنمنٹ میں پائی جائے الحكمة ضالة المؤمن الخ اور یہ بھی سمجھنا چاہیئے کہ اسلام کا ہرگز یہ اصول نہیں ہے کہ مسلمانوں کی قوم جس سلطنت کے ماتحت رہ کر اس کا احسان اٹھاوے اس کے ظل حمایت میں بامن و آسائش رہ کر اپنا رزق مقسوم کھاوے اس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے پھر اسی پر عقرب کی طرح نیش چلاوے اور اس کے سلوک اور مروت کا ایک ذرہ شکر بجا نہ لاوے بلکہ ہمارے خداوند کریم نے اپنے رسول مقبول کے ذریعہ سے یہی تعلیم دی ہے کہ ہم نیکی کا معاوضہ بہت زیادہ نیکی کے ساتھ کریں اور منعم کا شکر بجا لاویں اور جب کبھی ہم کو موقعہ ملے تو ایسی گورنمنٹ سے بدل صدق کمال ہمدردی سے پیش آویں اور بطیب خاطر معروف اور واجب طور پر
شہادت القرآن صفحہ 92 تا 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 388 تا 393 از مرزا غلام احمد قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے
حوالہ نمبر 145
روحانی خزائن جلد ٦ ٣٩٣ شہادۃ القرآن
١٢ ع منہ جس طرح دنیا میں خوبصورت ہیں آخرت میں بھی نورانی ومنور ہوں ۔ فنسئل اللہ تعالیٰ خيرهم فى الدنيا والآخرة. اللهم اهدهم و ايدهم بروح منك واجعل لهم حظا كثيرا فى دينك-الخ پھر ایسے شخص پر یہ بہتان کہ اس کے دل میں گورنمنٹ انگلیشیہ کی مخالفت ہے اور اس کی کتاب کی نسبت یہ گمان کہ وہ گورنمنٹ کے مخالف ہے پرلے سرے کی بے ایمانی اور شرارت شیطانی نہیں تو کیا ہے۔ خیر خواہان سلطنت و پیروان مذہب اسلام ان یاوہ گو حاسدوں کی ایسی باتیں ہرگز نہ سنیں اور اس کتاب یا مؤلف کی طرف سے سوء ظنی کو اپنے دلوں میں جگہ نہ دیں گورنمنٹ سے تو ہم پہلے ہی مطمئن ہیں کہ وہ ان باتوں کو مؤلف کی نسبت ہرگز نہ سنے گی۔ بلکہ جو ان باتوں کو گورنمنٹ تک پہنچائے گا اس کو اس کی دروغگوئی پر سرزنش کرے گی۔
بقیہ اطاعت اٹھاویں۔ سو اس عاجز نے جس قدر حصہ سوم کے پرچہ مشمولہ میں حاشیہ انگریزی گورنمنٹ کا شکر ادا کیا ہے وہ صرف اپنے ذاتی خیال سے ادا نہیں کیا بلکہ قرآن شریف اور احادیث نبوی کی ان بزرگ تاکیدوں نے جو اس عاجز کے پیش نظر ہیں مجھ کو اس شکر ادا کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سو ہمارے بعض ناسمجھ بھائیوں کی یہ افراط ہے جس کو وہ اپنی کوتاہ اندیشی اور بخل فطرتی سے اسلام کا جز سمجھ بیٹھے ہیں ۔
(براہین احمدیہ) مطبوعہ پنجاب پریس سیالکوٹ
شہادۃ القرآن صفحہ 92 تا 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 388 تا 393 از مرزا غلام احمد قادیانی یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے
حوالہ نمبر 146
روحانی خزائن جلد ٦ ٣٨٠ شہادۃ القرآن
میں تو دلوں کو اندر ہی اندر دے دی ہے بہر حال جبکہ ہمارے نظام بدنی اور امور دنیوی میں خدا تعالیٰ نے اس قوم میں سے ہمارے لئے گورنمنٹ قائم کی اور ہم نے اس گورنمنٹ کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکر کرنا کوئی سہل بات نہیں اس لئے ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے۔ سو ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر یک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اپنا شکر کرنا۔ سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خُدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے درح
حوالہ نمبر 147
٦٩
اور میں اس وقت ضروری نہیں دیکھتا کہ جو آریوں کو میری نسبت اشتعال پیدا ہوا ہے اسکی وجہ بیان کروں کیونکہ ابھی میں اپنے ایک بڑے پہلے اشتہار میں مفصل وجوہ بیان کر چکا ہوں ۔ لیکن اس جگہ اس قدر لکھنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ یہ پیشگوئی جس کی میعاد کے اندر اور عین تاریخ مقررہ میں لیکھرام بموت قتل وہی ہلاک و تباہ ہوا ہے وہ صرف چھ برس سے نہیں ہے جیسا کہ آریہ صاحبوں کا خیال ہے بلکہ یہ پیشگوئی سترہ برس سے ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ عرصہ سترہ برس کا ہوا ہے کہ براہین احمدیہ میں تین پیشگوئیاں تین مختلف فرقوں کی نسبت درج ہوئی تھیں اور تین فتنوں کا ذکر کیا گیا تھا (١) ایک پادری صاحبوں اور ان کے شور و غوغا کی نسبت جو انہوں نے ڈپٹی آتھم صاحب کی میعاد گذرنے پر کیا ۔ (٢) دوسری پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں اور ان کے سرغنہ محمد حسین اور ان کے اتباع مسلمانوں کی نسبت جو انہوں نے مجھ پر تکفیر کا فتنہ برپا کیا ۔ (٣) تیسری پیشگوئی اس چمکدار نشان کی نسبت جو لیکھرام کی موت سے وقوع میں آیا ۔ اور اس کے فتنہ کا ذکر ۔ یہ تینوں پیشگوئیاں تین فتنوں کے ساتھ سترہ برس پہلے شائع ہوچکی ہیں ۔ پس اب سوچنا چاہئے کہ کس انسان کو یہ طاقت ہے کہ ان واقعات کی اس زمانہ میں خبر دے سکتا جبکہ ان واقعات کا
اطلاع ۔ براہین احمدیہ کے صفحہ ٥١١ میں ایک پیشگوئی گورنمنٹ برطانیہ کے متعلق ہے ۔ اور وہ یہ ہے ۔ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمُ وَاَنْتَ فِیْهِمْ ۔ اَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ ۔ یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ اس گورنمنٹ کو کچھ تکالیف پہنچاوے حالانکہ تو اُن کی عملداری میں رہتا ہو۔ جدھر تیرا مُنہ خدا کا اسی طرف مُنہ ہے چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ مجھے اس گورنمنٹ کی پرامن سلطنت اور ظلِ حمایت میں دلی خوشی ہے اور اس کے لیے مَیں دُعا میں مشغول ہوں کیونکہ مَیں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں ۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لیے دُعا کرتا ہوں ۔ لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دُعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں ۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ اُدھر خدا کا مُنہ ہے ۔ اب گورنمنٹ شہادت دے سکتی ہے کہ اس کو میرے زمانہ میں کیا کیا فتوحات نصیب ہوئیں ۔ یہ الہام سترہ برس کا ہے ۔ کیا یہ انسان کا فعل ہوسکتا ہے ؟ غرض میں گورنمنٹ کے لیے بمنزلہ حرزِ سلطنت ہوں ۔ منہ
لہ : دیکھئے تبصرہ ہذا صفحہ ٣٩، اشتہار نمبر ١٦٧ (المرتب)
مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69، طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 196 پر درج ہے
حوالہ نمبر 148
روحانی خزائن جلد ٣ ٤٧٣ ازالہ اوہام حصہ دوم
دجال اُسی دجال کے رنگ میں ہو کر قوت کے ساتھ خروج کر رہا ہے اور گویا مثالی اور ظلی وجود کے ساتھ وہی ہے اور جیسا کہ وہ اوّل زمانہ میں گرجا میں جکڑا ہوا نظر آیا تھا اب وہ اس بند سے مخلصی پا کر عیسائیوں کے گرجا سے ہی نکلا ہے اور دنیا میں ایک آفت برپا کر رہا ہے۔
ایسا ہی یاجوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے۔ یہ دونوں پرانی قومیں ہیں جو پہلے زمانوں میں دوسروں پر کھلے طور پر غالب نہیں ہو سکیں اور اُن کی حالت میں ضعف رہا لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں قومیں خروج کریں گی یعنی اپنی جلالی قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گی۔ جیسا کہ سورۃ کہف میں فرماتا ہے وَتَرَکْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ ١ یعنی یہ دونوں قومیں دوسروں کو مغلوب کر کے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی اور جس کو خدائے تعالیٰ چاہے گا فتح دے گا۔ چونکہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور رُوس ہیں اس
﴿٥٠٩﴾
لئے ہر ایک سعادتمند مسلمان کو دعا کرنی چاہیئے کہ اُس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں۔ اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے۔ جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدائے تعالیٰ کے بھی ناشکرگزار ہیں کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پا رہے ہیں وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پا سکتے۔ ہرگز نہیں پا سکتے۔
ایسا ہی دابۃ الارض یعنی وہ علماء و واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے ابتدا سے
﴿٥١٠﴾
چلے آتے ہیں لیکن قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہو گی اور اُن کے خروج سے مراد وہی اُن کی کثرت ہے۔
اور یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسی ان چیزوں کے بارے میں جو آسمانی قوت
ازالہ اوہام صفحہ 509 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 373 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 196 پر درج ہے
حوالہ نمبر 149
روحانی خزائن جلد ٦ ٣٨٠ شہادۃ القرآن
میں تو دلوں کو اندر ہی اندر دے دی ہے بہر حال جبکہ ہمارے نظام بدنی اور امور دنیوی میں خدا تعالیٰ نے اس قوم میں سے ہمارے لئے گورنمنٹ قائم کی اور ہم نے اس گورنمنٹ کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکر کرنا کوئی سہل بات نہیں اس لئے ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے۔ سو ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر یک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا۔ سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز
حوالہ نمبر 150
٣٦٢
نے اس عریضہ کو لکھا ہے وہ میرے ساتھ ہو گا اور میرے ساتھ ہے وہ مجھے اس گورنمنٹ عالیہ اور فوجوں کے سامنے شرمندہ نہیں کریگا۔ اسی کی رُوح ہے جو میرے اندر بولتی ہے۔ میں نہ اپنی طرف سے بلکہ اس کی طرف سے یہ پیغام پہنچا رہا ہوں تا سب کچھ جو اتمام حُجّت کے لیے چاہیئے پورا ہو۔ یہ سچ ہے کہ میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ اسی کی طرف سے کہتا ہوں اور وہی ہے جو میرا مددگار ہو گا۔
بالآخر میں اس بات کا بھی شکر کرتا ہوں کہ ایسے عریضہ کو پیش کرنے کے لیے میں بجز اس سلطنت محسنہ کے اور کسی سلطنت کو وسیع الاخلاق نہیں پاتا۔ اور گو اس ملک کے مولوی ایک اور کفر کا فتویٰ بھی مجھ پر لگاویں مگر میں کہنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ ایسے عرائض کے پیش کرنے کے لیے عالی حوصلہ، عالی اخلاق صرف سلطنت انگریزی ہی (ہے) میں اس سلطنت کے مقابل پر سلطنتِ روم کو بھی نہیں پاتا جو اسلامی سلطنت کہلاتی ہے۔ اب میں اس دُعا پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری محسنہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو عمر دراز کر کے ہر ایک اقبال سے بہرہ ور کرے اور وہ تمام دُعائیں جو میں نے اپنے رسالہ ستارہ قیصرہ اور تحفہ قیصریہ میں ملکہ موصوفہ کو دی ہیں قبول فرماوے۔ اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ محسنہ اسکے جواب سے مجھے مشرف فرما دے گی۔ والسلام
عریضہ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان المرقوم ٢٤؍ دسمبر ١٨٩٩ء
مجموعہ اشتہارات طبع جدید جلد دوم صفحہ 362 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 197 پر درج ہے
حوالہ نمبر 151 ٢٥٧
کو بھی ان دنوں میں خارش کی تکلیف ہو گئی تھی ۔
(٢٦٣)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت والدہ صاحبہ کا نکاح حضرت مسیح موعود سے اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ ان کا مہر میر صاحب کی تجویز پر گیارہ سو روپیہ مقرر ہوا تھا خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہماری نانا جان صاحب کا نام میر ناصر نواب ہے۔ میر صاحب خواجہ میر درد صاحب کے قریبی خاندان سے ہیں اور پنجاب کے محکمہ نہر میں ملازم تھے۔ اور قریباً عرصہ پچیس سال سے پنشن پر ہیں۔ شروع شروع میں میر صاحب نے حضرت مسیح موعود کی کچھ مخالفت کی تھی لیکن جلد ہی تائب ہو کر بیعت میں شامل ہو گئے ۔
(٢٦٤)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ کو میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ پٹیالہ میں خلیفہ محمد حسین صاحب وزیر پٹیالہ کے مصاحبوں اور ملاقاتیوں میں ایک مولوی عبدالعزیز صاحب ہوتے تھے۔ جو کہ قصبہ لدھیانہ کے رہنے والے تھے۔ ان کا ایک دوست تھا۔ جو بڑا امیر کبیر اور صاحب جائیداد تھا۔ اور لاکھوں روپے کا مالک تھا مگر اُسکے کوئی لڑکا نہ تھا۔ جو اُس کا وارث ہوتا اُسنے مولوی عبدالعزیز صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب سے میرے لئے دعا کروائو کہ میرے لڑکا ہو جاوے مولوی عبدالعزیز نے مجھے بُلا کر کہا کہ ہم تمھیں کرایہ دیتے ہیں۔ تم قادیان جائو اور مرزا صاحب سے اس بارہ میں خاص طور پر دعا کے لئے کہو۔ چنانچہ میں قادیان آیا اور حضرت صاحب سے سارا ماجرا عرض کر کے دعا کیلئے کہا۔ آپ نے اسکے جواب میں ایک تقریر فرمائی۔ جس میں دعا کا فلسفہ بیان کیا اور فرمایا کہ محض رسمی طور پر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دینا تو دعا نہیں ہوتی بلکہ اسکے لئے ایک خاص قلبی کیفیت کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے جب آدمی کسی کے لئے دعا کرتا ہے تو اُسکے لئے ان دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یا تو اس شخص کے ساتھ کوئی ایسا گہرا تعلق اور رابطہ ہو کہ اُسکی خاطر دل میں ایک خاص درد اور گداز پیدا ہو جائے ۔ جو دعا کے لیے ضروری ہو اور یا اس شخص نے کوئی ایسی دینی خدمت کی ہو کہ جس پر دل اسکے لئے دعا مانگے۔ مگر یہاں نہ تو ہم اس شخص کو جانتے ہیں۔ اور نہ اسنے کوئی دینی خدمت کی ہے کہ اس کے لئے ہمارا دل پگھلے۔ پس آپ جا کر اسے یہ کہیں کہ وہ اسلام کی خدمت کے لئے ایک لاکھ روپیہ دے یا دینے کا وعدہ کرے۔ پھر ہم اس کیلئے دعا کرینگے۔ اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ پھر اللہ اسے ضرور لڑکا دیدیگا۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے جا کر یہی جواب دیدیا۔ مگر وہ خاموش ہو گیا۔ اور آخر وہ شخص لاولد ہی مرگیا۔ اور اسکی جائداد اسکے دور نزدیک کے رشتہ داروں میں کئی جھگڑوں اور مقدموں کے بعد تقسیم ہو گئی۔
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 257 از مرزا بشیر احمد | یہ حوالہ صفحہ 198 پر درج ہے
حوالہ نمبر 152
191
ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیا گیا۔ مگر با ایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا اور درحقیقت وجود سلطنت انگلشیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکلیفات کے بعد ہم کو ملی اس لیے ہمارا فرض تھا کہ اس نعمت کا بار بار اظہار کریں۔ ہمارا خاندان سکھوں کے ایام میں ایک سخت عذاب میں تھا اور نہ صرف یہی تھا کہ انہوں نے ظلم سے ہماری ریاست کو تباہ کیا اور ہمارے صدہا دیہات اپنے قبضہ میں کئے بلکہ ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی دینی آزادی کو بھی روک دیا ایک مسلمان کو بانگ نماز پر بھی مارے جانے کا اندیشہ تھا چہ جائیکہ اور رسوم عبادت آزادی سے بجالا سکتے۔ پس یہ اس گورنمنٹ محسنہ کا ہی احسان تھا کہ ہم نے اس جلتے ہوئے تنور سے خلاصی پائی اور خدا تعالیٰ نے ایک ابر رحمت کی طرح اس گورنمنٹ کو ہمارے آرام کے لیے بھیج دیا پھر کس قدر بد ذاتی ہوگی کہ ہم اس نعمت کا شکر بجا نہ لاویں۔ اس نعمت کی عظمت تو ہمارے دل اور جان اور رگ و ریشہ میں منقوش ہے اور ہمارے بزرگ ہمیشہ اس راہ میں اپنی جان دینے کے لیے تیار رہے۔ پھر نعوذ باللہ کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنے دلوں میں مفسدانہ ارادے رکھیں۔ ہمارے پاس تو وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے ہم اس آرام اور راحت کا ذکر کر سکیں جو اس گورنمنٹ سے ہم کو حاصل ہوئی۔ ہماری تو یہی دعا ہے کہ خدا اس گورنمنٹ محسنہ کو جزاء خیر دے اور اس سے نیکی کرے جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میرا بھائی اور خود میں بھی رُوح کے جوش سے اس بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو دلوں میں جمادیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں اٹھارہ برس سے ایسی کتابوں کی تالیف میں مشغول ہوں کہ جو مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی محبت اور اطاعت کی طرف مائل کر رہے ہیں گو اکثر جاہل مولوی ہماری اس طرز اور رفتار اور ان خیالات سے سخت ناراض ہیں اور اندر ہی اندر جلتے اور دانت پیستے ہیں مگر میں جانتا ہوں کہ وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے بھی بے خبر ہیں جس میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا یعنی اپنے محسن کا شکر کرنا ایسا فرض ہے جیسا کہ خدا کا۔ یہ تو ہمارا عقیدہ ہے مگر افسوس کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پُر زور تقریریں اطاعت گورنمنٹ کے بارے میں ہیں کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اُس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔ لہٰذا میں پھر یاد دلاتا ہوں کہ مفصلہ ذیل کتابوں اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات پڑھے جائیں جن کے نمبر صفحات میں نے ذیل میں لکھ دیئے ہیں۔
یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے
مجموعہ اشتہارات طبع جدید جلد دوم صفحہ 191 از مرزا قادیانی
حوالہ نمبر 153
٢٨٣
نماز ظہر ہے “
(تریاق القلوب صفحہ ٥٩ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ١٥ صفحہ ٢٦٢ حاشیہ)
١٤؍ ستمبر ١٨٩٩ء ”١٤؍ ستمبر ١٨٩٩ء کو یہ الہام ہوا :
ایک عزّت کا خطاب ۔ ایک عزّت کا خطاب ۔ لَکَ خِطَابُ الْعِزَّۃِ ۔ ایک بڑا نشان
اس کے ساتھ ہو گا ۔
یہ تمام خدائے پاک قدیر کا کلام ہے ..... مَیں اپنے اجتہاد سے اِس کے یہ معنے سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اِس جھگڑے کے فیصلہ کرنے کے لئے جو کسی حد تک پُرانا ہو گیا ہے اور حد سے زیادہ تکذیب اور تحقیر ہو چکی ہے کوئی ایسا برکت اور رحمت اور فضل اور صلحکاری کا نشان ظاہر کرے گا کہ وہ انسانی ہاتھوں سے برتر اور پاک تر ہو گا تب ایسی کُھلی کُھلی سچائی کو دیکھ کر لوگوں کے خیالات میں ایک تبدیلی واقع ہو گی اور نیک طینت آدمیوں کے کینے یکدفعہ رفع ہو جائیں گے “
(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٤ ۔ روحانی خزائن جلد ١٥ صفحہ ٥٠١ تا ٥٠٢)
١٨؍ ستمبر ١٨٩٩ء ”آج رات میں نے ١٨؍ ستمبر ١٨٩٩ء کو بروز دوشنبہ خواب میں دیکھا کہ بارش ہو رہی ہے آہستہ آہستہ مینہ برس رہا ہے ۔ مَیں نے شاید خواب میں یہ کہا کہ ہم تو ابھی دُعا کرنے کو تھے کہ بارش ہو ۔ سو ہو ہی گئی ۔ مَیں نہیں جانتا کہ عنقریب بارش ہو جائے یا ہمارے الہام ١٤؍ ستمبر ١٨٩٩ء ”ایک عزّت کا خطاب ۔ ایک عزّت کا خطاب ۔ لَکَ خِطَابُ الْعِزَّۃِ ۔ ایک بڑا نشان اس کے ساتھ ہو گا “ کے متعلق خدا کی رحمت اور فتح و نصرت کی بارش ہماری جماعت پر ہو گی یا دونوں ہی ہو جائیں ۔ ہماری خواب سچی ہے ۔ اس کا ظہور ضرور ہو گا۔ دونوں میں سے ایک بات ضرور ہو گی ۔ یعنی یا تو خدا تعالیٰ کی مخلوق کے لئے بارانِ رحمت کا دروازہ آسمان سے کھلے گا یا غیر معمولی کوئی نشان روحانی فتح اور نصرت کا ظاہر ہو گا مگر نشان ہو گا نہ معمولی بات “
(الحکم جلد ٣ نمبر ٣٦ مورخہ ١٠؍ اکتوبر ١٨٩٩ء صفحہ ٧)
١٩؍ ستمبر ١٨٩٩ء ”١٩؍ ستمبر ١٨٩٩ء کو خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے اپنا کلام مجھ پر نازل کیا ۔
یعنی اے ابراہیم ! ہم تیرے لئے ربیع کی کھیتیاں اُگائیں گے ۔ زُرُوْعٌ زَرْعٌ کی جمع ہے اور زَرْعٌ عربی زبان میں ربیع کی کھیتی یعنی کنک وجَو وغیرہ کو کہتے ہیں مگر آثار ایسے نہیں ہیں کہ یہ الہام اپنے ظاہر معنوں کے رُو سے پورا ہو ۔
١؎ ”مجھے امتیازی مرتبہ بخشنے کے لئے خدا نے میرا نام نبی رکھ دیا ہے اور مجھے یہ ایک عزّت کا خطاب دیا گیا ہے “
(مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مورخہ ٢٣ مئی ١٩٠٨ء مندرجہ اخبار عام ٢٦ مئی ١٩٠٨ء)
٢؎ نیز دیکھئے الحکم جلد ٣ نمبر ٣٤ مورخہ ١٧؍ ستمبر ١٨٩٩ء صفحہ ٦ ۔
تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات ، صفحہ 283 جلد چہارم ، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے
حوالہ نمبر 154
روحانی خزائن جلد ١٢ ٢٨٣ تحفہ قیصریہ
اور پھر دوسرا شکر یہ ہے کہ وہ خدا جو کبھی اپنے وجود کو بے دلیل نہیں چھوڑتا وہ
(٣١)
جیسا کہ تمام نبیوں پر ظاہر ہوا اور ابتدا سے زمین کو تاریکی میں پا کر روشن کرتا آیا ہے اس نے اس زمانہ کو بھی اپنے فیض سے محروم نہیں رکھا۔ بلکہ جب دنیا کو آسمانی روشنی سے دور پایا تب اس نے چاہا کہ زمین کی سطح کو ایک نئی معرفت سے منور کرے اور نئے نشان دکھائے اور زمین کو روشن کرے۔
سو اس نے مجھے بھیجا
اور میں اس کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک ایسی گورنمنٹ کے سایۂ رحمت کے نیچے جگہ دی جس کے زیر سایہ میں بڑی آزادی سے اپنا کام نصیحت اور وعظ کا ادا کر رہا ہوں۔ اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا ہر ایک پر رعایا میں سے شکر واجب ہے مگر میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصرہ ہند
تحفہ قیصریہ صفحہ 31، 32 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 283 ، 284 از مرزا غلام احمد یہ حوالہ صفحہ 200 پر درج ہے
حوالہ نمبر 154
روحانی خزائن جلد ١٢ ٢٨٤ تحفہ قیصریہ
٣٢ کسی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہورہے ہیں ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہو سکتے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔
اب میں حضور ملکہ معظمہ میں زیادہ مصدع اوقات ہونا نہیں چاہتا۔ اور اس دعا پر یہ عریضہ ختم کرتا ہوں ۔ کہ
اے قادر و کریم اپنے فضل و کرم سے ہماری ملکہ معظمہ کو خوش رکھ جیسا کہ ہم اس کے سایۂ عاطفت کے نیچے خوش ہیں۔ اور اس سے نیکی کر جیسا کہ ہم اس کی نیکیوں اور احسانوں کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور ان معروضات پر کریمانہ توجہ کرنے کے لئے اس کے دل میں آپ الہام کر کہ ہر ایک قدرت اور طاقت تجھی کو ہے۔ آمین ثم آمین
الملتمس خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپورہ پنجاب
تحفہ قیصریہ صفحہ 31، 32 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 283، 284 از مرزا غلام احمد یہ حوالہ صفحہ 200 پر درج ہے
حوالہ نمبر 155
٢٨٤
کیونکہ ربیع کے تخم ریزی کے ایّام گویا گزر گئے۔ لہٰذا مجھے صرف اجتہاد سے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ تجھے کیا غم ہے تیری کھیتیاں تو بہت نکلیں گی یعنی ہم تیری تمام حاجات کے متکفل ہیں۔"
(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٤ صفحہ ٢ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ١٥ صفحہ ٥٠٤۔ اشتہار ٢٤۔ اکتوبر ١٨٩٩ء۔
مجموعہ اشتہارات جلد ٣ صفحہ ١٧١ حاشیہ)
٤؍ اکتوبر ١٨٩٩ء
"ایک اور دوسرا الہام متشابہات میں سے ہے جو ٤؍ اکتوبر ١٨٩٩ء کو مجھے ہوا اور وہ یہ ہے کہ
قیصر ہند کی طرف سے شکریہ
اور یہ ایسا لفظ ہے کہ حیرت میں ڈالتا ہے کیونکہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ہر یک قابلِ پسند خدمت سے عاری اور قبل از موت اپنے تئیں مُردہ سمجھتا ہوں میرا شکریہ کیسا۔ سو ایسے الہام متشابہات میں سے ہوتے ہیں جب تک خود خدا ان کی حقیقت ظاہر نہ کرے ۔"
(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٤ صفحہ ٢ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ١٥ صفحہ ٥٠٤ حاشیہ۔ اشتہار ٢٤۔ اکتوبر
١٨٩٩ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد ٣ صفحہ ١٧١)
٢٠؍ اکتوبر ١٨٩٩ء
"٢٠؍ اکتوبر ١٨٩٩ء کو خواب میں مجھے یہ دکھایا گیا کہ ایک لڑکا ہے جس کا نام عزیز ہے اور اس کے باپ کے نام کے سر پر سلطان کا لفظ ہے۔ وہ لڑکا پکڑ کر میرے پاس لایا گیا اور میرے سامنے بٹھایا گیا میں نے دیکھا کہ وہ ایک پتلا سا لڑکا گورے رنگ کا ہے۔ میں نے اس خواب کی یہ تعبیر کی ہے کہ عزیز عزت پانے والے کو کہتے ہیں اور سلطان جو خواب میں اس لڑکے کا
١؎ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا ہے کہ رؤیا مذکور اشارۃً درج ہوئی تھی ورنہ صاف طور پر آپ نے فرمایا تھا کہ عزیز احمد خلف مرزا سلطان احمد کو میں نے دیکھا ہے۔ (الحکم ١٠؍ مارچ ١٩٠٦ء صفحہ ١)
چنانچہ یہ رؤیا اس طرح پوری ہوئی کہ اواخر فروری ١٩٠٦ء میں اس رؤیا کے قریباً ساڑھے چھ سال بعد حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ابن حضرت مرزا سلطان احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے۔
اس رؤیا میں مرزا عزیز احمد صاحب کو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی طرف منسوب کرنے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف مرزا عزیز احمد صاحب بلکہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب بھی حضورؑ کی بیعت میں داخل ہو کر جسمانی رشتہ کے علاوہ روحانی طور پر بھی فرزندی میں داخل ہو جائیں گے۔ فالحمد للہ کہ حضرت ممدوح بھی ٢٥؍ دسمبر ١٩١٥ء کو اپنے چھوٹے بھائی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ہاتھ پر بیعت کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں داخل ہو گئے۔ (مرتب)
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 284 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 200 پر درج ہے
حوالہ نمبر 156
٢٨٠
١٨٩٩ء
”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے“
(از خط حضرت اقدس بنام بابو الٰہی بخش صاحب ١٦ جون ١٨٩٩ء مجموعہ اشتہارات جلد ٣ صفحہ ٢٧٥۔ تبلیغ رسالت
جلد ہشتم صفحہ ٢٧)
٣٠ جون ١٨٩٩ء
”٣٠ جون ١٨٩٩ء میں مجھے یہ الہام ہوا :
ساتھ ہی اس کے یہ تفہیم ہوئی کہ یہ الہام ایک مخلص دوست کی نسبت ہے جس کی موت سے ہمیں رنج پہنچے گا۔ چنانچہ اپنی جماعت کے بہت سے لوگوں کو یہ الہام سُنایا گیا اور الحکم نمبر ٢٢ جلد ٣۔ ٣٠ جون ١٨٩٩ء میں درج ہو کر شائع کیا گیا۔ پھر آخر جولائی ١٨٩٩ء میں ہمارے ایک نہایت مخلص دوست یعنی ڈاکٹر محمد یعقوب خاں اسسٹنٹ سرجن ایک ناگہانی موت سے قصور میں گزر گئے۔ اوّل بیہوش رہے پھر یہی غشی طاری ہو گئی پھر اس ناپائیدار دنیا سے کوچ کیا۔ اور اُن کی موت اور اس الہام میں صرف بیس بائیس دن کا فرق تھا“
(حقیقۃ الوحی صفحہ ٢١٣، ٢١٤۔ روحانی خزائن جلد ٢٢ صفحہ ٢٢٣، ٢٢٤)
١٨٩٩ء
”صبح حضرت اقدس کو یہ رؤیا ہوئی ہے کہ حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند سلّمہا اللہ تعالیٰ گویا حضرت اقدس کے گھر میں رونق افروز ہوئی ہیں۔ حضرت اقدس رؤیا میں عاجز راقم عبد الکریم کو جو اُس وقت حضور اقدس کے پاس بیٹھا ہے فرماتے ہیں کہ حضرت ملکہ معظمہ کمال شفقت سے ہمارے ہاں قدم رنجہ فرما ہوئی ہیں اور دولت خانہ پر قدم فرمایا ہے ان کا کوئی شکریہ بھی ادا کرنا چاہیئے۔ اس رؤیا کی تعبیر یہ تھی کہ حضرت کے ساتھ کوئی نصرتِ الٰہی شامل ہونی چاہتی ہے“ ١؎
(از خط مولانا عبد الکریم صاحب مندرجہ الحکم جلد ٣ نمبر ٢٤ مورخہ ١٠ جولائی ١٨٩٩ء صفحہ ٣)
١؎ اس ہفتہ میں سب سے عجیب اور دلچسپ بات جو واقع ہوئی ..... وہ ایک چٹھی کا حضرت کے نام آنا تھا۔ اس میں پختہ ثبوت اور تفصیل سے لکھا ہے کہ جلال آباد (علاقہ کابل) کے علاقہ میں یوز آسف نبی کا چبوترہ موجود ہے اور وہاں مشہور ہے کہ دو ہزار برس ہوئے کہ یہ نبی شام سے یہاں آیا تھا اور سرکار کابل کی طرف سے کچھ جاگیر بھی اس چبوترہ کے نام ہے ... .... اس خط سے حضرت اقدس اِس قدر خوش ہوئے کہ فرمایا ” اللہ تعالیٰ گواہ اور علیم ہے کہ اگر مجھے کوئی کروڑوں روپئے لا دیتا تو میں کبھی اتنا خوش نہ ہوتا جیسا اس خط نے مجھے خوشی بخشی ہے“ ...... خدا کا علم اور قدرت دیکھئے خط کے وقت
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 280 طبع چہارم ، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 201 پر درج ہے
حوالہ نمبر 157
٢٨٥
باپ سمجھا گیا ہے۔ یہ لفظ یعنی سلطان عربی زبان میں اُس دلیل کو کہتے ہیں کہ جو ایسی بین الظہور ہو جو بباعث اپنے نہایت درجہ کے روشن ہونے کے دلوں پر اپنا تسلط کرلے۔ گویا سلطان کا لفظ تسلط سے لیا گیا ہے اور سلطان عربی زبان میں ہر ایک قسم کی دلیل کو نہیں کہتے بلکہ ایسی دلیل کو کہتے ہیں جو اپنی قبولیت اور روشنی کی وجہ سے دلوں پر قبضہ کرلے اور طبائع سلیمہ پر اُس کا تسلط تام ہوجائے۔ پس اس لحاظ سے کہ خواب میں عزیز جو سلطان کا لڑکا معلوم ہوا اس کی یہ تعبیر ہوئی کہ ایسا نشان جو لوگوں کے دلوں پر تسلط کرنے والا ہوگا ظہور میں آئے گا اور اس نشان کے ظہور کا نتیجہ جس کو دوسرے لفظوں میں اس نشان کا بچہ کہہ سکتے ہیں دلوں میں میرا عزیز ہونا ہوگا جس کو خواب میں عزیز کے تمثل سے ظاہر کیا گیا ۔"
(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٤ صفحہ ٢۔ روحانی خزائن جلد ١٥ صفحہ ٥٠٥ ، ٥٠٦۔ اشتہار ٢٢؍اکتوبر ١٨٩٩ء مجموعہ اشتہارات
جلد ٣ صفحہ ١٧٢ ، ١٧٣)
٢١؍ اکتوبر ١٨٩٩ء
"ایک خواب ..... ابھی ٢١؍ اکتوبر ١٨٩٩ء کو میں نے دیکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے خواب میں محبّی اخویم مفتی محمد صادق کو دیکھا ..... کہ نہایت روشن اور چمکتا ہوا ان کا چہرہ ہے اور ایک لباس فاخرہ جو سفید ہے پہنے ہوئے ہیں اور ہم دونوں ایک بگھی میں سوار ہیں اور وہ لیٹے ہوئے ہیں اور ان کی کمر پر میں نے ہاتھ رکھا ہوا ہے۔
یہ خواب ہے اور اس کی تعبیر جو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے یہ ہے کہ صدق جس سے میں محبت رکھتا ہوں ایک چمک کے ساتھ ظاہر ہوگا اور جیسا کہ میں نے صادق کو دیکھا ہے کہ اس کا چہرہ چمکتا ہے اسی طرح وہ وقت قریب ہے کہ میں صادق سمجھا جاؤں گا اور صدق کی چمک لوگوں پر پڑے گی ۔"
(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٤ صفحہ ٢۔ روحانی خزائن جلد ١٥ صفحہ ٥٠٤ ، ٥٠٥ ۔ اشتہار ٢٢؍اکتوبر ١٨٩٩ء مجموعہ اشتہارات
جلد ٣ صفحہ ١٧١ ، ١٧٢)
١٨٩٩ء
"مبشروں کا زوال نہیں ہوتا۔ گورنر جنرل ١ کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آگیا ۔"
(الحکم جلد ٣ نمبر ٤٠ مورخہ ١٠؍نومبر ١٨٩٩ء صفحہ ٦)
١٨٩٩ء
"خدا نے مجھے ..... خبر دی کہ تیرے ساتھ آشتی اور صلح پھیلے گی۔ ایک درندہ بکری کے ساتھ صلح کرے گا اور ایک سانپ بچوں کے ساتھ کھیلے گا۔ یہ خدا کا ارادہ ہے گو لوگ تعجب کی راہ سے دیکھیں۔"
(اشتہار واجب الاظہار صفحہ ٢، ضمیمہ تریاق القلوب ۔ روحانی خزائن جلد ١٥ صفحہ ٥٢١)
؎ ١ تمہارا نام حاکم عام بھی ہے جس کا اگر انگریزی ترجمہ کیا جائے تو گورنر جنرل ہوتا ہے۔ (الحکم جلد ٢ نمبر ٢٦ مورخہ ٢٤؍ جولائی ١٨٩٨ء صفحہ ٦)
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 285 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 201 پر درج ہے
حوالہ نمبر 158
٦٩
رؤیا میں فرشتے دیکھنا
فرشتوں پر ذکر چل پڑا کہ یہ خواب میں ہمیشہ خوبصورت لڑکوں کی صورت شکل میں نظر آتے ہیں۔ اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے چند ایک سابقہ رؤیا بیان فرمائے جن کو ہم اس نیت سے درج کر دیتے ہیں کہ اُن میں سے اگر کوئی شائع نہیں ہوا تو اب ہو جائے۔
(١)
ایک فرشتہ ایک چبوترہ پر بیٹھا ہے اور ایک عجیب روٹی نان کی شکل چمکتی ہوئی اس کے ہاتھ میں ہے وہ روٹی بہت ہی عمدہ اور اعلیٰ قسم کی نظر آتی ہے۔ مجھے وہ روٹی دے کر کہتا ہے کہ یہ تمہارے لیے اور تمہارے ساتھ کے درویشوں کے لیے ہے۔ اس رؤیا کو عرصہ قریباً ٢٠ سال کا ہو گیا ہو گا۔
(٢)
فرمایا : ایک فرشتہ کو میں نے ٢٠ برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا، صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا۔ ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔ یہ رؤیا کوئی ٢٥ برس کا ہو گا۔
رجوع کا صحیح وقت نزول بلا سے پہلے ہوتا ہے
عادت اللہ یہی ہے کہ جب انسان امن کے زمانہ میں ہو اور وہ گزر جاوے اور اس اثناء میں کوئی رجوع خدا تعالیٰ کی طرف حقیقی اور اخلاص سے نہ کیا ہو تو پھر خطرناک بند میں واویلا شور مچانا اس کے کام نہیں آیا کرتے۔ یہ تو وہی فرعون کی مثال ہوئی کہ جب ڈوبنے لگا تو کہا کہ اب میں موسیٰ اور ہارون کے خدا پر ایمان لایا۔ شکل یہ ہے کہ دُنیا داروں کو اُن کے اپنے سلسلوں اور پیچ در
١؎ الحکم سے :- "اس سلسلہ کی بنیاد سے پہلے میں نے دیکھا، جب مرزا صاحب فوت ہوتے ہیں، میں اصل مکان موجودہ سلطان احمد والے میں ایک دالان میں بیٹھا ہوں، مغربی کوٹھڑی سے ایک برقع پوش عورت نکلی اور مجھے کہنے لگی، میں اس گھر سے جانے کو تھی مگر تیرے واسطے رہ گئی۔ جوان عورت اگر خواب میں دیکھی جاوے تو اس سے مراد دُنیا کے اقبال اور فتوحات ہوتے ہیں خواہ کسی قوم کی ہو۔"
الحکم جلد ٧ نمبر ٢٢ صفحہ ١٢ مورخہ ١٧؍ جولائی ١٩٠٣ء
ملفوظات جلد چہارم صفحہ 69 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 201 پر درج ہے
حوالہ نمبر 159
٩٢
یہ اُردو عبارت بھی الہامی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی الہام ہے اور ترجمہ اس کا الہامی نہیں... ....فقرات کی تقدیم تاخیر کی صحت بھی معلوم نہیں اور بعض الہامات میں فقرات کا تقدم تاخر بھی ہو جاتا ہے.... ....اور وہ الہام یہ ہیں۔ دُو آل من شُڈ بی انگری بٹ گاڈ اِز وِدْ یُو۔ ہِی شیل ہیلپ یُو۔ وَرڈس آف گاڈ ناٹ کین ایکس چینج ۔ ؎١
ترجمہ :۔ اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے لیکن خدا تمہارے ساتھ ہوگا۔ وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کے کلام بدل نہیں سکتے۔
پھر بعد اس کے ایک دُو اور الہام انگریزی ہیں جن میں سے کچھ تو معلوم ہے اور وہ یہ ہے :۔
مگر بعد اس کے یہ ہے :۔
پھر ایک فقرہ ہے جس کے معنے معلوم نہیں اور وہ یہ ہے :۔
(مکتوب ١٦۔ دسمبر ١٨٨٣ء بنام میر عباس علی شاہ صاحب۔ مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ ٦٨، ٦٩)
جنوری ١٨٨٤ء
”ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی۔ پھر بعد اُس کے قدرت الٰہیہ کی ناگہانی تجلی نے اِس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شبِ تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردۂ
- ؎١ 8. Though all men should be angry but God is with you.
- 9. He shall help you.
- 10. Words of God not can exchange.
٭ یہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ یہی الہام صفحہ ٧٨ پر بھی درج ہے جہاں Can not کے الفاظ ہیں۔ (مرتب) ؎٢ میں تیری مدد کروں گا۔ I shall help you. ؎٣ تمہیں امرتسر جانا ہوگا۔ You have to go Amritsar. ؎٤ وہ ضلع پشاور میں قیام کرتا ہے۔ He halts in the Zilla Peshawar. Zilla : ”ضلع“ کا لفظ انگریزی زبان میں استعمال ہوتا ہے دیکھو Public Service Inquiries Act Section 8 (دی پبلک سروس انکوائریز ایکٹ دفعہ ٨ نیز دی پنجاب کورٹس ایکٹ شایع کردہ ١٨٩٣ء دفعہ ٤ نیز وغیرہ وغیرہ The Punjab Court Act. نیز آکسفورڈ ڈکشنری بلفظ ”ضلع“ (مرتب)
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 92 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 202 پر درج ہے
حوالہ نمبر 160
روحانی خزائن جلد ٢٢ ٣١٦ حقیقة الوحی
تمہاری فرودگاہ کے ارد گرد فرشتے پہرہ دے رہیں۔ پھر بعد اس کے الہام ہوا امن است در مقام محبت سرائے ما۔ پھر چند روز کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ ارد گرد کے دیہات میں سے ﴿٣٠٣﴾ ایک گاؤں کا باشندہ جو نامی چور تھا چوری کے ارادہ سے ہمارے باغ میں آیا اور اس کا نام بشن سنگھ تھا۔ رات کا پچھلا حصہ تھا۔ جب وہ اس ارادہ سے باغ میں داخل ہوا مگر موقع نہ ملنے سے ایک پیاز کے کھیت میں بیٹھ گیا۔ اور بہت سی پیاز اُس نے توڑی اور ایک ڈھیر لگا دیا اور پھر کسی نے دیکھ لیا تب وہاں سے دوڑا اور وہ اس قدر قوی ہیکل تھا کہ اُس کو دس آدمی بھی پکڑ نہ سکتے۔ اگر خدا کی پیشگوئی نے پہلے سے اُس کو پکڑا ہوا نہ ہوتا دوڑنے کے وقت ایک گڑھے میں پیر اُس کا جا پڑا پھر بھی وہ سنبھل کر اُٹھا مگر آگے پیچھے سے لوگ پہنچ گئے اور اس طرح پر سردار بشن سنگھ باوجود اپنی سخت کوشش کے پکڑے گئے اور عدالت میں جاتے ہی سزایاب ہو گئے بعد اس کے ہمارے سکونتی مکان میں سے جو باغ میں ہے جس میں ہم دن کے وقت رہتے تھے ایک بڑا سانپ نکلا جو ایک زہریلہ سانپ تھا اور بڑا لمبا تھا وہ بھی اس چور کی طرح اپنی سزا کو پہنچا اور اس طرح پر فرشتوں کی حفاظت کا ثبوت ہمیں دست بدست مل گیا ٭
١٣٣۔ نشان۔ میں انگریزی سے بالکل بے بہرہ ہوں تاہم خدا تعالیٰ نے بعض پیشگوئیوں کو بطور موہبت انگریزی میں میرے پر ظاہر فرمایا ہے جیسا کہ براہین کے صفحہ ٤٨٠ و ٤٨١ و ٤٨٣ و ٤٨٤ و صفحہ ٥٢٢ میں یہ پیشگوئی ہے جس پر ٢٥ برس گزر گئے اور وہ یہ ہے:۔
I love you. I am with you. Yes I am happy. Life of pain. I shall hlep you. I can, what I will do, We can, what we will do- God is coming by His army. He is with you to kill enemy. The days shall come when God shall help you. Glory be to the Lord. God maker of earth and heaven.
٭ اس پیشگوئی کے گواہ مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے اور تمام جماعت کے لوگ ہیں کہ جو باغ میں میرے ساتھ تھے۔ منہ
حقیقۃ الوحی صفحہ 304 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 316 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 202 پر درج ہے
ہے
حوالہ نمبر 161
روحانی خزائن جلد ١ ٥٧١ براہین احمدیہ حصہ چہارم
اور واقعات سے بے خبر اور ناواقف قرار دے سکیں بلکہ وہ تمام لوگ ایسے تھے جن میں آنحضرت نے ابتداء عمر سے نشوونما پایا تھا اور ایک حصہ کلاں عمر اپنی کا
﴿٤٨٠﴾
ان کی مخالطت اور مصاحبت میں بسر کیا تھا پس اگر فی الواقعہ جناب ممدوح امی نہ ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ اپنے امی ہونے کا ان لوگوں کے سامنے نام بھی لے سکتے
بقیہ حاشیہ نمبر ١١ تذلل کی تعلیم دی اور فرمایا اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ اے مبدء تمام فیوض ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں یعنی ہم عاجز ہیں آپ سے کچھ بھی نہیں کر سکتے جب تک تیری توفیق اور تائید شامل حال نہ ہو پس خدائے تعالیٰ نے دعا میں جوش دلانے کے لئے دو محرک بیان فرمائے ایک اپنی عظمت اور رحمت شاملہ دوسرے بندوں کا عاجز اور ذلیل ہونا۔ اب جاننا چاہئے کہ یہی دو محرک ہیں جن کا دعا کے وقت خیال میں لانا دعا
﴿٤٨٠﴾
کرنے والوں کے لئے نہایت ضروری ہے جو لوگ دعا کی کیفیت سے کسی قدر چاشنی حاصل رکھتے ہیں انہیں خوب معلوم ہے کہ بغیر پیش ہونے ان دونوں محرکوں کے دعا ہو ہی نہیں سکتی اور بجز ان کے آتش شوق الٰہی دعا میں اپنے شعلوں کو بلند نہیں کرتے یہ بات نہایت ظاہر ہے
بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٢ زبان خدا کے ہاتھ میں ایک آلہ ہوتا ہے جس طرح اور جس طرف چاہتا ہے اس آلہ کو یعنی زبان کو پھیرتا ہے اور اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ الفاظ زور کے ساتھ اور ایک جلدی سے نکلے آتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جیسے کوئی لطف اور ناز سے قدم رکھتا ہے اور ایک قدم پر ٹھہر کر پھر دوسرا قدم اٹھاتا
﴿٤٨٠﴾
ہے اور چلنے میں اپنی خوش وضع دکھلاتا ہے اور ان دونوں اندازوں کے اختیار کرنے میں حکمت یہ ہے کہ تا ربانی الہام کو نفسانی اور شیطانی خیالات سے امتیاز کلی حاصل رہے اور خداوند مطلق کا الہام اپنی جلالی اور جمالی برکت سے فی الفور شناخت کیا جائے۔ ایک دفعہ کی حالت یاد آئی ہے کہ انگریزی میں اول یہ الہام ہوا۔ آئی لو یو یعنی میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا۔ آئی ایم ود یو یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں پھر الہام ہوا۔ آئی شیل ہیلپ یو یعنی میں تمہاری مدد کروں گا۔ پھر الہام ہوا
براہین احمدیہ صفحہ 480 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 571، 572 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 202 پر درج ہے
حوالہ نمبر 161
روحانی خزائن جلد ١ ٥٧٢ براہین احمدیہ حصہ چہارم
جن پر کوئی حال ان کا پوشیدہ نہ تھا اور جو ہر وقت اس گھات میں لگے ہوئے تھے کہ کوئی خلاف گوئی ثابت کریں اور اُس کو مشتہر کر دیں۔ جن کا عناد اس درجہ تک پہنچ چکا تھا کہ اگر بس چل سکتا تو کچھ جھوٹ موٹ سے ہی ثبوت بنا کر پیش کر دیتے اور اسی جہت سے ان کو ان کی ہر یک بدظنی
﴿٤٨١﴾
پر ایسا مسکت جواب دیا جاتا تھا کہ وہ ساکت اور لاجواب رہ جاتے تھے مثلاً جب مکہ کے بعض
بقیہ حاشیہ نمبر ١١ کہ جو شخص خدا کی عظمت اور رحمت اور قدرت کاملہ کو یاد نہیں رکھتا وہ کسی طرح سے خدا کی طرف رجوع نہیں کر سکتا اور جو شخص اپنی عاجزی اور درماندگی اور مسکینی کا اقراری نہیں اس کی روح اس مولیٰ کریم کی طرف ہرگز جھک نہیں سکتی۔ غرض یہ ایسی صداقت ہے جس کے سمجھنے کے لئے کوئی عمیق فلسفہ درکار نہیں بلکہ جب خدا کی عظمت اور اپنی ذلت اور عاجزی محقق طور پر دل میں منقش ہو تو وہ حالت خاصہ خود انسان کو سمجھا دیتی ہے کہ خالص دعا کرنے کا وہی
﴿٤٨١﴾
ذریعہ ہے سچے پرستار خوب سمجھتے ہیں کہ حقیقت میں انہیں دو چیزوں کا تصوّر دعا کے لئے ضروری ہے یعنی اول اس بات کا تصوّر کہ خدائے تعالیٰ ہر یک قسم کی ربوبیت اور پرورش اور رحمت اور بدلہ دینے پر قادر ہے اور اس کی یہ صفات کاملہ ہمیشہ اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں۔
بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٢ آئی کین ویٹ آئی ول ڈو۔ یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ پھر بعد اس کے بہت ہی زور سے
﴿٤٨١﴾
جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا۔ وی کین ویٹ وی ول ڈو۔ یعنی ہم کر سکتے ہیں۔ جو چاہیں گے اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے اور باوجود پُر دہشت ہونے کے پھر اس میں ایک لذت تھی جس سے روح کو معنے معلوم کرنے سے پہلے ہی ایک تسلی اور تشفی ملتی تھی اور یہ انگریزی زبان کا الہام اکثر ہوتا رہا ہے۔ ایک دفعہ ایک طالب العلم انگریزی خوان ملنے کو آیا اس کے روبرو ہی یہ الہام ہوا۔ دس از مائی انیمی یعنی یہ میرا دشمن ہے اگرچہ معلوم ہو گیا تھا کہ یہ الہام اسی کی نسبت ہے مگر اسی سے یہ معنی بھی دریافت
براہین احمدیہ صفحہ 480 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 571، 572 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 202 پر درج ہے
حوالہ نمبر 162
١٤
لاکھوں کروڑوں انسانوں کا بار۔ پس فرق ظاہر ہے۔
(اس روایت میں حضرت والدہ صاحبہ نے جو بیان کیا ہے کہ انکی گھبراہٹ کے اظہار پر حضرت مسیح موعودؑ نے یہ فرمایا کہ ”یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا “ اسکے متعلق میں نے حضرت والدہ صاحبہ سے دریافت کیا تھا کہ اس سے کیا مراد ہے جس پر انہوں نے فرمایا کہ حضرت صاحب کی یہ مراد تھی کہ جیسا کہ میں کہا کرتا تھا۔ کہ میری وفات کا وقت قریب ہے۔ سو اب یہ وہی موعود وقت آ گیا ہے۔ اور والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ان الفاظ میں گویا حضرت صاحبؑ نے مجھے ایک رنگ میں تسلی دی تھی۔ کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ کیونکہ یہ وہی موعود وقت ہے جسکے متعلق میں خدا سے علم پا کر ذکر کیا کرتا تھا۔ اور جس طرح خدا کا یہ وعدہ پورا ہو رہا ہے۔ اسی طرح خدا کے دوسرے وعدے بھی جو میرے بعد خدائی نصرت وغیرہ کے متعلق ہیں۔ پورے ہونگے اور خدا تم سب کا خود کفیل ہو گا۔ نیز حضرت والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ کہ حضرت صاحب کو اسہال کی شکایت اکثر ہو جایا کرتی تھی۔ جس سے بعض اوقات بہت کمزوری ہو جاتی تھی .....................................................اور آپ اسی بیماری سے فوت ہوئے)
(١٣)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جن ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسالہ الوصیت لکھ رہے تھے ایک دفعہ جب آپ شریف (یعنی میرے چھوٹے بھائی عزیزم مرزا شریف احمد) کے مکان کے صحن میں ٹہل رہے تھے۔ آپ نے مجھ سے کہا۔ کہ مولوی محمد علی سے ایک انگریز نے دریافت کیا تھا۔ کہ جس طرح بڑے آدمی اپنا جانشین مقرر کیا کرتے ہیں۔ مرزا صاحب نے بھی کوئی جانشین مقرر کیا ہے یا نہیں؟ اسکے بعد آپ فرمانے لگے تمہارا کیا خیال ہے۔ کیا میں محمود (حضرت خلیفۃ المسیح ثانی) کو لکھدوں یا فرمایا مقرر کردوں ؟ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔
یہ حوالہ صفحہ 203 پر درج ہے سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 13، 14 از مرزا بشیر احمد ایم اے
حوالہ نمبر 162
١٤١
یں نے کہا کہ جس طرح آپ مناسب سمجھیں کریں ٭
(١٤٤)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ ہیں ایک تو وہ ہیں جن کو دُنیوی شان و شوکت کا خیال ہے کہ محکمے ہوں دفاتر ہوں بڑی بڑی عمارتیں ہوں وغیرہ وغیرہ دوسرے وہ ہیں ۔ جو کسی بڑے آدمی مثلاً مولوی نورالدین صاحب کے اثر کے نیچے آکر جماعت میں داخل ہوگئے ہیں ۔ اور انہی کے ساتھ وابستہ ہیں تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جن کو خاص میری ذات سے تعلق ہے ۔ اور وہ ہر بات میں میری رضاء اور میری خوشی کو مقدم رکھتے ہیں ٭
(١٤٥)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جسوقت لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے ۔ اس وقت حضرت مولوی نور الدین صاحب اس کمرہ میں موجود نہیں تھے ۔ جس میں آپ نے وفات پائی جب حضرت مولوی صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ آئے اور حضرت صاحب کی پیشانی کو بوسہ دیا ۔ اور پھر جلد ہی اس کمرے سے باہر تشریف لے گئے ۔ جب حضرت مولوی صاحب کا قدم دروازے کے باہر ہوا اس وقت مولوی سید محمد احسن صاحب نے رقت بھری آواز میں حضرت مولوی صاحب سے کہا ۔ انت صدیق ۔ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا مولویصاحب یہاں اس سوال کو رہنے دیں ۔ قادیان جاکر فیصلہ ہوگا ۔ خاکسار کا خیال ہے کہ اس مکالمہ کو میرے سوا کسی نے نہیں سنا ٭
(١٤٦)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تین انگوٹھیاں تھیں ایک الیس اللہ بکاف عبدہ والی جس کا آپنے کئی جگہ اپنی تحریرات میں ذکر کیا ہے ۔ یہ سب سے پہلی انگوٹھی تھی جو دعویٰ سے بہت عرصہ پہلے تیار کرائی گئی تھی دوسری وہ انگوٹھی جس پر آپ کا
سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 14.13 از مرزا بشیر احمد ایم اے
یہ حوالہ صفحہ 203 پر درج ہے
حوالہ نمبر 163
191
ہے اسی طرح دُعا ہی کے ذریعہ فتح ہو گی ۔
( الحکم جلد ٧ نمبر ١٠ صفحہ ٨ ۔ ٧ مورخہ ٢١ مارچ ١٩٠٣ء )
٢٥ مارچ ١٩٠٣ء
مجلس قبل از عشاء
ہمارا سب سے بڑا کام کسرصلیب ہے
حضرت اقدس نے جو حجرہ دعائیہ بنایا ہے ۔ اس کی نسبت فرمایا کہ :۔
ہمارا سب سے بڑا کام تو کسرصلیب ہے اگر یہ کام ہو جاوے تو ہزاروں شبہات اور اعتراضات کا جواب خود بخود ہی ہو جاتا ہے اور اسی کے ادھورا رہنے سے سینکڑوں اعتراضات ہم پر وارد ہو سکتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ چالیس یا پچاس کتابیں لکھی ہیں مگر ان سے ابھی وہ کام نہیں نکلا جس کے لیے ہم آئے ہیں۔ اصل میں ان لوگوں نے جس طرح قدم جمائے اور اپنا دام فریب پھیلایا ہے وہ ایسا نہیں کہ کسی انسانی طاقت سے درہم برہم ہو سکے۔ دانا آدمی جانتا ہے کہ اس قوم کا تختہ کس طرح پلٹا جا سکتا ہے۔ یہ کام بجز خدائی ہاتھ کے انجام پذیر ہوتا نظر نہیں آتا اسی واسطے ہم نے ان ہتھیاروں یعنی قلم کو چھوڑ کر دعا کے واسطے یہ مکان (حجرہ) بنوایا ہے کیونکہ دُعا کا میدان خدا نے بڑا وسیع رکھا ہے اور اس کی قبولیت کا بھی اس نے وعدہ فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ (الانبیاء:٩٧) اس امر کے اظہار کے واسطے کافی ہے کہ یہ کل دُنیا کی زمینی طاقتوں کو زیر کریں گے ورنہ اس کے سوا اور کیا معنے ہیں؟ کیا یہ قومیں دیواروں اور ٹیلوں کو کودتی پھاندتی پھریں گی؟ نہیں بلکہ اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ دنیا کی کُل ریاستوں اور سلطنتوں کو زیر پا کریں گی اور کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہ کر سکے گی۔
فتح دُعا کے ذریعہ ہو گی
واقعات جس امر کی تفسیر کریں وہی تفسیر ٹھیک ہوا کرتی ہے۔ اس آیت کے معنے خدا تعالیٰ نے واقعات سے بتا دیئے ہیں اگلے مقابلہ میں اگر کسی قسم کی سیفی قوت کی ضرورت ہوتی تو اب جیسے کہ بظاہر اسلامی دنیا کی امیدوں کے آخری دن ہیں چاہئیے تھا کہ اہل اسلام کی سیفی طاقت بڑھی ہوئی ہوتی اور اسلامی سلطنتیں تمام دنیا پر غلبہ پاتیں اور کوئی ان کے مقابل
١؎ البدر میں ہے۔ گائے وغیرہ کی حلت اور حُرمت پر ذکر ہوا ۔ فرمایا کہ :۔ ’’حرام کی تو تفصیل خدا نے دی ہے اور حلال کی کوئی تفصیل نہیں دی جس سے پتہ لگے کہ فلاں شئے ضرور کھاؤ سو اس لیے گائے کے ذبح وغیرہ کا ذکر کر کے ناحق موجب فساد ہونا مناسب نہیں ہوتا ۔‘‘
(البدر جلد ٢ نمبر ١١ صفحہ ٨٤ مورخہ ٣ اپریل ١٩٠٣ء )
ملفوظات جلد سوم صفحہ 191 ، 192 طبع جدید یہ حوالہ صفحہ 203 پر درج ہے
حوالہ نمبر 163
١٩٢
پر ٹھہر نہ سکا مگر اب تو معاملہ اس کے برخلاف نظر آتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور تمہید یا عنوان کے یہ زمانہ ہے کہ ان کی فتح اور ان کا غلبہ دنیوی ہتھیاروں سے نہیں ہوسکے گا۔ بلکہ اُن کے واسطے آسمانی طاقت کام کریگی جس کا ذریعہ دُعا ہے۔ غرضکہ ہم نے اس لیے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں ہے۔ ساٹھ یا پینسٹھ سال عمر کے گزر چکے ہیں۔ موت کا وقت مقرر نہیں۔ خدا جانے کس وقت آجاوے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی پڑا ہے۔ اور طبعی طاقت کمزور ثابت ہوئی ہے۔ رہی سیف اس کے واسطے خدا تعالیٰ کا اذن اور منشاء نہیں ہے۔ لہٰذا ہم نے آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھائے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنایا اور خدا سے دُعا کی کہ اِس مسجد البیعت اور بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعداء پر بذریعہ دلائل نیّرہ اور براہین ساطعہ کے فتح کا گھر بنا۔
ہم نے دیکھا کہ اب ان مسلمانوں کی حالت تو خود موردِ عذاب اور شامتِ اعمال سے قہرِ الٰہی کے نزول کی محرک بنی ہوئی ہے اور خدا کی نصرت اور اُس کے فضل و کرم کی اُمید مطلق نہیں رہی جب تک یہ خود مصیبتوں میں پھنس کر ہلاکت کا منہ نہیں دیکھ لیتے۔ اعلاء کلمۃ اللہ کا ان کو فکر نہیں ہے۔ خدا کے دین کے واسطے ذرا بھی سرگرمی نہیں۔ اس لیے خدا کے آگے دستِ دُعا پھیلانے کا قصد کیا ہے کہ وہ اس قوم کی اصلاح کرے اور شیطان کو ہلاک کرے تاکہ خدا کا سچّا نُور دنیا پر دوبارہ چمک جاوے اور راستی کی عظمت پھیلے ۔
بنی اسرائیل کی کتابوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ قوم فسق و فجور میں تباہ ہوجاتی اور اس کی توحید و جلال کو بالکل بھول جاتی تھی تو اُن کے انبیاء اسی طرح جنگلوں اور الگ مکانوں میں دست بدعا ہوتے تھے اور خدا کی رحمت کے تخت کو جنبش دیا کرتے تھے ۔
دنیا کو علم نہیں ہے کہ آجکل عیسائی کیا کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی کس قدر ذریّت کو انہوں نے برباد کیا ہے کسقدر خاندان اُنکے ہاتھوں نالاں ہیں گویا دنیا کا تختہ بالکل پلٹ گیا ہے۔ اب خدا کی غیرت نے یہ نہ چاہا کہ اس کی توحید اور جلال کی ہتک ہو اور اُس کے رسول کی زیادہ بے عزتی کی جاوے۔ اس کی غیرت نے تقاضا کیا کہ اپنے نُور کو آپ روشن کرے اور سچائی اور حق کا غلبہ ہو سو اس نے مجھے بھیجا اور اب میرے دل میں تحریک پیدا کی کہ میں ایک حجرہ بیت الدعا صرف دُعا کے واسطے مقرر کروں اور بذریعہ دعا کے اس فساد پر غالب آؤں تاکہ اوّل آخر سے مطابقت ہو جاوے اور جس طرح سے پہلے آدم کو دعا ہی کے ذریعہ سے شیطان پر فتح نصیب ہوئی تھی اب آخری آدم کے مقابل پر آخری شیطان پر بھی بذریعہ دُعا کے فتح ہو۔
(البدر جلد ٢ نمبر ١١ صفحہ ٨٤ ۔ ٨٥ مورخہ ١٣ اپریل ١٩٠٣ء)
٭ ٭ ٭
ملفوظات جلد سوم صفحہ 191، 192 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 203 پر درج ہے
حوالہ نمبر 164
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ ۙ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ۚ
تار کا پتہ الفضل قادیان
چندہ سالانہ یکمشت عوام کے لئے ١٥ روپیہ سرکاری ملازموں کے لئے ١٥ روپیہ چندہ قسطوں کے ساتھ ١٦ روپیہ
یہ پرچہ سوائے پیر کے ہر روز قادیان سے شائع ہوتا ہے
الفضل
ایڈیٹر ۔ غلام نبی The ALFAZL QADIAN.
ہر قسم کی خط و کتابت اور منی آرڈر وغیرہ منیجر الفضل قادیان کے نام آنے چاہئیں
نمبر ٥٨ مورخہ ٤ شعبان ١٣٥٣ھ مطابق ١١ نومبر ١٩٣٤ء جلد ٢٢
التبليغ
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت رہ کر ایک اور درجہ کی شفاعت ہے۔ گو پہلے سے کم ہے۔ وہ یہ کہ امت کے بعض افراد کو بعض افراد پر شفقت ہو۔ اور اخوت کے جو ان کے حصہ میں فرمائی وہ غایت تک پہونچا دیں فرمایا خدا کے حضور میں بھی حضور دعائیں مانگتے کہ سخت حالات سے گزرتے ہیں۔ اور غافل طبع ناواقف دوستوں کی باقاعدہ ادائیگی چندے کی صفائی ۔ اور آپس میں ناراضگی رکھنے والے بھائیوں کو ایک ہونے سے منع کر کے جماعت کو نہایت صدمہ میں پہونچانے کا نتیجہ بفضلہ تعالیٰ انشاء اللہ اپنے وقت پر شائع کیا جائے گا۔ اور امید ہے کہ مکرم ممبران اس قابل مبلغ سلسلہ احمدیہ نیروبی (افریقہ) پہونچنے پر چندے کے لئے از سر نو کام کے قیام کی غرض سے
ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
قرآن کریم خدا تعالیٰ کی سچی اور کامل کتاب ہے
(فرمودہ ١٠؍ دسمبر ١٩٠١ء)
مسلمان انسان اسی صورت میں رہ سکتا ہے جبکہ دل سے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتا ہو۔ اور دل سے اس پر کاربند ہو جائے۔ اور اس کے بعد قرآن شریف پر ایمان رکھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہی کامل کتاب ہے اور وہی ایک کلام ہے جس پر خدا کی مہر ہے انسان کو اس کے مطابق عمل درآمد کرنا چاہئے۔ اور اس کے قائم ہوئے احکام پر چلنا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دکھلائے ہوئے نمونہ پر کاربند ہونا ہی صراط مستقیم ہے۔ اس کے سوائے کوئی فخر
کشف و الہام غیر معتبر کے جائز نہیں۔ جب تک کسی الہام کو خدا کی مہر نہ ہو۔ وہ ماننے کے لائق نہیں ہوتا۔ دیکھو قرآن شریف کو ہم کیونکر اللہ کا کلام مان سکتے تھے۔ اگر خدا کی مہر اس پر نہ ہوتی ۔ ہمیں بھی اگر کوئی کشف ۔ رویا۔ یا الہام ہوتا ہے ۔ تو ہمارا دستور ہے ۔ کہ اُسے قرآن مجید پر عرض کرتے ہیں ۔ اور اسی کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔
(الحکم ١٧؍ دسمبر ١٩٠١ء)
قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر ، روزنامہ ”الفضل“ قادیان ، 11 نومبر 1934ء | یہ حوالہ صفحہ 205 پر درج ہے
حوالہ نمبر 164
اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ ١١ نومبر ١٩٣٤ء
الفضل
نمبر ٥٨ قادیان دارالامان مورخہ ٣ شعبان ١٣٥٣ھ جلد ٢٢
خطبة يَوْمَ الجُمُعَةِ المُبَارَكَةِ
جماعت احمدیہ کے خلاف احراریوں کا اور بعض اخبار نویسوں کا غیر منصفانہ رویہ
جماعت احمدیہ کے امتحان کا وقت آ پہنچا ہے
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز
(فرمودہ ٢ نومبر ١٩٣٤ء)
سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ گزشتہ دنوں مجھے
انفلوئنزا کی شکایت
رہی ہے۔ اور پرسوں اور کل تک تو بخار کی شکایت اور شدید نزلہ۔ اور کھانسی کی تکلیف تھی۔ آج گو مجھے بخار معلوم نہیں ہوتا لیکن پھر بھی کھانسی اور نزلہ کی شکایت ہے۔ جس کی وجہ سے نہ تو میں اونچا بول سکتا ہوں۔ اور نہ ہی زیادہ دیر تک بول سکتا ہوں۔ بالکل ممکن تھا۔ کہ میری بیماری ہی اس بات پر مجھے مجبور کرتی۔ کہ میں اپنے خطبہ کے بعض اہم حصوں کو
آئندہ کے لئے ملتوی
کردوں۔ لیکن اس دوران میں بعض ایسے دوستوں نے کہ جن میں سے میں سنتا ہوں۔ اور مجھ سے بھی ان کے وُدّی تعلقات ہیں۔ تحریک کی ہے۔ کہ اس وقت تک میں اپنے
خاص اعلان
ملتوی رکھوں۔ جب تک کہ ان غلط فہمیوں کو دُور کرنے کی کوشش نہ کر لی جائے۔ جو حکومت کے بعض لوگوں اور ہم میں پیدا ہوگئی ہیں۔ اگر ہمیں کچھ غلط فہمی ہوئی ہو۔ تو ہم تو سمجھنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ اور اگر حکومت کو ہم سے
ہیں۔ ہمارا ہمیشہ یہ طریق رہا ہے۔ کہ ہم کھلے دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتے ہیں۔ اس لئے ان دوستوں کو میں یہ یقین دلا سکتا ہوں ۔ کہ اگر ہماری کسی بات میں
غلطی یا غلط فہمی
ثابت ہو۔ تو ہم اس کے متعلق ہر وقت سزا پانے کے لئے تیار ہیں۔ اور معافی مانگنے کے لئے بھی۔ معاملہ صرف حکومت کا ہے کہ آیا وہ بھی اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے یا نہیں؟ اگر ثابت ہو جائے کہ
حکومت سے غلطی ہوئی ہے
اور وہ اپنی اس غلطی کا اعتراف کرلے ۔ تو ہمارا سارا شکوہ دور ہو سکتا ہے۔ مومن کبھی کینہ ور نہیں ہوتا ۔ اور نہ وہ غصہ اپنے دل میں رکھتا ہے۔ بلکہ وہ بنی نوع انسان کی اصلاح چاہتا ہے۔ اور یوں بھی اگر ہمارے مدنظر اصلاح نہ ہو۔ تو ہم کو اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ کہ گورنمنٹ اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔ ہم صرف اس لئے یہ سوال اٹھانا چاہتے ہیں۔ کہ اگر یہ بات نہ اٹھائی جائے۔ تو ہمارے لئے آئندہ
بہت سی مشکلات
پیدا ہو جاتی ہیں۔ اور ملک کے امن کو بھی نقصان پہنچنے کا
اندیشہ ہے۔ ورنہ حکومت نے جو کچھ ہمیں کہا ہے۔ وہ ان گالیوں کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتا ہے۔ جو روزانہ ہم مخالفین کے منہ سے سنتے رہتے ہیں۔ حکومت کی یہی غلطی ہے۔ کہ اس نے
ایک دُوسرے کا فعل میری طرف منسوب کر دیا
گو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ روزانہ ہم غیر احمدیوں، سکھوں ۔ اور ہندوؤں سے سنتے ہیں۔ کہیں کوئی احمدی نماز نہیں پڑھتا ۔ تو وہ کہتے ہیں ۔ کہ قادیانیوں نے یہ عقیدہ بنا لیا ہے۔ کہ وہ نمازیں نہیں پڑھتے ۔ وہ ایک شخص کے فعل کو
ساری جماعت
کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کوئی شخص درشتگی سے پیش آتا ہے۔ تو وہ کہتے ہیں۔ یہ
مسیح کی جماعت
ہونے کا دعوےٰ کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کی زبانیں صاف نہیں۔ وہ فوراً ایک شخص کے فعل کو تمام جماعت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ اسی طرح ذرا کسی احمدی کے مُنہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے۔ جو غلط ہو۔ تو چاہے وہ دانستہ طور پر ہی اس سے کیوں سرزد ہوئی ہو۔ تب بھی ہم دیکھتے ہیں۔ کہ دُوسرے لوگ جھٹ کہہ دیتے ہیں۔ کہ یہ بھی جھوٹے ہیں۔ ان کا پیر بھی جھوٹا تھا۔ پس اس معاملہ میں
گورنمنٹ کی یہ غلطی
کوئی نیا فعل نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے۔ کہ ایک ماتحت کا فعل اس نے میری طرف منسوب کر دیا ۔ گو ان گالیوں کے مقابلہ میں جو ہم روزانہ سنتے ہیں۔ اس چیز کی کچھ بھی حقیقت نہیں۔ اس سے
ہزاروں گنا زیادہ
گالیاں سن کر اور اس سے لاکھوں گنا زیادہ سخت الفاظ سُن کر ہم انہیں برداشت کرتے ہیں۔ پھر اس کی کیا وجہ ہے۔ کہ ہم گورنمنٹ کی اس غلطی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کی وجہ یہی ہے۔ جسے پہلے بھی میں نے بیان کیا۔ کہ گورنمنٹ کو اخلاقاً ہم پر فرد چسپاں نہیں ہوتی۔ پس اور نہ ہی ہمیں گالیاں دینا سکھایا گیا ہے۔ کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ ہماری جماعت ایک جماعت ہے۔ جسے شروع سے ہی لوگ یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ یہ
خوشامدی اور گورنمنٹ کی ٹٹو
ہے۔ بعض لوگ ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں ۔ کہ ہم تو رشوت کھاتے ہیں۔ پنجابی محاورہ کے مطابق ہمیں جھولی چُک ۔ اور زمیندار اخبار کے مطابق ہمیں ٹوڈی کہا جاتا ہے۔ کون سا زمانہ ہے۔ کہ جس میں ایسا نہیں گزرا۔ جب ہم پر یہ الزام
قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ ”الفضل“ قادیان، 11 نومبر 1934ء یہ حوالہ صفحہ 205 پر درج ہے
حوالہ نمبر 165
رجسٹرڈ ایل نمبر ٨٣٥
قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ
دین کی نصرت کے لئے اک سماں پیدا ہوا عَسٰى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا آگیا وقتِ غراں کے ہیں صالح نیکے دن
دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اُسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسکو قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اُسکی سچائی ظاہر کریگا (الہام مسیح موعود)
فہرست مضامین ١۔ تبلیغ ۔ اخبار احمدیہ ص١ احمدیہ ڈبل کمپنی کے... سفدن غزنوی اعلان } ٣ ٢۔ کیمسٹری کی قدرت نمائی ۔ ٥ ٣۔ زمین اور آسمان کی شرعی مسافت ٧ حضرت خلیفۃ المسیح کے تازہ الہام ٨ سید حبیب اللہ صاحب کا جواب ١٠ خیمہ اور ننگے امام طائف ١٢ فہرست زیر طبعیں ١٣ اشتہارات ١٤ سرحدی شورش ١٥
الفضل
مراسلات و مضامین بنام ایڈیٹر اور کارروائی وغیرہ متعلق دفتر اخبار ہذا قادیان بھیجو ہر منگل و جمعرات کو شائع ہوتا ہے قیمت سالانہ پیشگی ٦ روپے ششماہی ٣ روپے
میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا (الہام مسیح موعود)
جلد ٦ ٧ جون ١٩١٩ء سہ شنبہ ٧ رمضان المبارک ١٣٣٧ھ نمبر ٩٢
تبلیغ
۔ ٣۔ مئی کو طلبہ ہائے ہائی سکول نے جناب میاں الف... کی آمد کی خوشی میں ایک مکلف دعوت دی جس میں تقریباً نصف حصہ مجمع کا تھا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تقریر فرمائی جو آئندہ انشاء اللہ درج کی جائیگی۔
ماہ ہذا میں ہمارے مدرسہ احمدیہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی روزانہ صبح کے وقت درس دیتے ہیں۔ اور بعد نماز ظہر جناب حافظ روشن علی صاحب کا درس ہوتا ہے جو انشاء اللہ رمضان المبارک میں سارا قرآن کریم ختم کرائیں گے۔
٢۔ جون کو بعض مقدمات عظیم کی کامیابی کی خوشی میں مدرسہ ہذا کے تمام دیگر سکولوں میں چھٹی منائی گئی ۔
اخبار احمدیہ
پیش حکام
سلسلہ عالیہ احمدیہ کی امن پسند تعلیم اور احمدیوں کا حکام برطانیہ کے ساتھ اخلاص اور وفاداری کرنا بعض حکام کے دلوں میں جذباتِ محبت پیدا کر رہا ہے۔ اور یہ حالت ہندوستان تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ سمندروں کے پار بھی یہی حالت ہے۔ چنانچہ ایک دوست لکھتے ہیں۔ کہ ایک شخص جو کچھ مدت ایک احمدی کے پاس رہ چکا تھا۔ ملازمت کے لئے ایک برطانوی افسر کے پاس گیا۔ جب افسر مذکور نے درخواست کنندہ کے حالات دریافت کئے۔ اور پوچھا کہ کہاں
رہے ہو۔ تو اُس نے جواب دیا کہ میں احمدی کے پاس ملازم ہوں یہ سنکر اُس نے کہا۔ افسر ۔ کیا تم بھی احمدی ہو اُمیدوار (ڈر کر کہ احمدی کے نام سے شاید میں نہ رہوں) نہیں صاحب ! افسر ۔ افسوس کہ تم اتنی دیر احمدی کے پاس رہا مگر سچائی کو اختیار نہیں کیا۔ جاؤ پہلے احمدی بنو۔ پھر فلاں تاریخ کو آؤ۔ ١۔ہ ہم خدا کا شکر کرتے ہیں۔ کہ بعض حکام احمدیوں کی دیانت۔ امانت اور جذبات وفاداری کا احساس کرنے لگے ہیں۔
ایک نیک جج
ایک کلرک سے اطلاع آئی ہے کہ مخالفین نے
روزنامہ 'الفضل' قادیان، جلد 6، نمبر 92-93، صفحہ 1، مورخہ 7 جون 1919ء یہ حوالہ صفحہ 207 پر درج ہے
حوالہ نمبر 64
مکتوبات احمد ١٦٩ جلد دوم
مکتوب نمبر ٧
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
محبّی اخویم نواب صاحب سلّمہٗ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ کل عنایت نامہ پہنچ کر اس کے پڑھنے سے جس قدر دل کو صدمہ پہنچا اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن پھر خدا تعالیٰ کی یہ آیت یاد آئی کہ لَا تَايْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِنَّهٗ لَا يَايْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ ١؎ یعنی خدا کی رحمت سے نومید مت ہو کہ نومید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ دن تمام دنیا کے لئے ابتلا کے ہیں۔ آسمان پر بارش کا نشان نہیں اس لئے زمینداروں کی حالت زوال کے قریب ہو رہی ہے اور ایک ایسے رئیس جن کی تمام جمعیت زمینداری آمدنی پر موقوف ہے وہ بھی سخت خطرہ میں ہیں لیکن پھر بھی یہ فقرہ بہت مضبوط ہے۔ خدا داری چہ غم داری ہمت مردانہ رکھنا چاہئے۔ بڑے بڑے بادشاہ ہیں جو اسلامی بادشاہ ہوئے ہیں، کبھی سخت سرگردانی میں پڑے اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے دوسری حالت پہلی حالت سے اچھی ہوگئی۔ میں آپ کے لئے انشاء اللہ القدیر اس قدر دُعا کرنا چاہتا ہوں جب تک صریح اور صاف لفظوں میں خوشخبری پاؤں۔ آپ تسلی رکھیں اور میرے نزدیک آپ کو قادیان میں آنے سے کوئی بھی روک نہیں۔ ہرگز مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کمشنر صاحب کو پوچھیں اور اُن سے اجازت چاہیں۔ اس میں خود شک پیدا ہوتا ہے۔ بعض حکام شکی مزاج ہوتے ہیں پوچھنے سے خواہ مخواہ شک میں پڑتے ہیں۔ جہاں تک مجھے علم ہے حکام کو ہماری ...... ٢؎ کوئی خطرناک بدظنی نہیں ہے۔ ہماری جماعت کے ملازمین کو برابر ترقیاں مل رہی ہیں۔ ان کی کارروائیوں پر حکام خوشی ظاہر کرتے ہیں۔ سو یہ ایک وہم ہوگا اگر ایسا خیال کیا جائے کہ حکام بدظن ہیں۔ اس لئے بلا تأمل تشریف لے آویں میرے نزدیک کچھ مضائقہ نہیں۔ ہم سچے دل سے گورنمنٹ کے خیرخواہ ہیں۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام
خاکسار۔ مرزا غلام احمد عُفی عنہ ١٢؍ فروری ١٨٩٢ء
١؎ یوسف: ٨٨
٢؎ اس جگہ ورقِ مکتوب اُڑا ہوا ہے کچھ حصہ جو نظر آتا ہے اس سے یہاں لفظ ’’طرف‘‘ یا ’’طرف سے‘‘ معلوم ہوتا ہے۔
مرزا قادیانی کا نواب محمد علی کو خط، مکتوب نمبر 7 مندرجہ مکتوبات احمد جلد دوم، صفحہ 169 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 207 پر درج ہے
حوالہ نمبر 167
انوار العلوم جلد - ٣ ١٥٣ انوار خلافت
درخواست دی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے یہ حکم دیا کہ اگر اب احمدیوں کو کوئی تکلیف ہوئی تو مسلمانوں کے جتنے لیڈر ہیں ان سب کو نئے قانون کے ماتحت ملک بدر کر دیا جائے گا اس طرح کا حکم کسی کے مونہہ سے نہیں نکل سکتا مگر اسی کے مونہہ سے جس کے دل میں بنی نوع انسان کی ہمدردی ہو۔ تو یہ تازہ سلوک اس گورنمنٹ نے تمہارے مالا باری بھائیوں کے ساتھ کیا ہے۔ اور جو کسی کے بھائی پر احسان کرتا ہے وہ اسی پر کرتا ہے۔ پس جب مالا باری احمدی ہمارے بھائی ہیں تو ہمیں گورنمنٹ کا کس قدر احسان مند ہونا چاہئے۔ پھر ماریشس میں ہمارے ایک مبلغ گئے ہیں جو جہاں لیکچر دینا چاہتے غیر احمدی بند کروا دیتے۔ آخر انہوں نے گورنمنٹ سے سرکاری ہال کے لئے درخواست کی تو وہاں کے گورنر نے حکم دیا کہ آپ ہفتہ میں تین دن اس ہال میں لیکچر دے سکتے ہیں۔ گویا گورنمنٹ نے ہفتہ کے نصف دن ہمارے مبلغ کو دے دیئے اور نصف اپنے لئے رکھے۔
پس جو گورنمنٹ ایسی مہربان ہو اس کی جس قدر بھی فرمانبرداری کی جائے تھوڑی ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کا بوجھ نہ ہوتا تو میں مؤذن بنتا۔ اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا۔ تو والنٹیر ہو کر جنگ میں چلا جاتا۔ اس وقت گورنمنٹ کو آدمیوں کی بہت ضرورت ہے۔ اس لئے جس کسی سے کوئی خدمت ادا ہو سکے ضرور کرے۔ اس جنگ سے تو ہمیں بہت فائدہ پہنچا ہے۔ ہمارے بہت سے احمدی احباب میدان جنگ میں گئے ہوئے ہیں لیکن خدا کا فضل ہے کہ ابھی تک ایک بچہ بھی فوت نہیں ہوا۔ پھر وہ احباب جو فرانس کے میدان جنگ میں ہیں وہ تو تبلیغ کا کام بھی خوب کر رہے ہیں۔ انہوں نے ٹیچنگز آف اسلام کا فرانسیسی میں ترجمہ کروا کر شائع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی ٹریکٹ فرانسیسی میں لکھا کر شائع کرائے ہیں۔ پس اگر کوئی میدان جنگ میں جائے گا تو گویا گورنمنٹ کے خرچ پر ہمارا مفت کا مبلغ ہو گا۔ اس لئے اگر کوئی جانا چاہے تو ضرور جائے بہت عمدہ کام ہے۔ مجھ سے اب تک جتنے احمدیوں نے لڑائی پر جانے کے لئے پوچھا ہے میں نے بڑی خوشی سے انہیں اجازت دی ہے۔ اور کہا ہے کہ اگر تم اس نیک نیتی سے جاؤ گے کہ ہم گورنمنٹ کی خدمت کرنے کے لئے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی دین کی تبلیغ بھی کریں گے تو خدا تعالیٰ تمہارا حافظ ہو گا اور تمہیں ہر ایک تکلیف سے محفوظ رکھے گا۔ پس یہ گورنمنٹ کی مدد کا ایک موقعہ ہے جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے۔ شامل ہو جائے۔
انوار خلافت صفحہ 96 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 153 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 208 پر درج ہے
حوالہ نمبر 168
رجسٹرڈ نمبر ایل ٨٣٥
قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ ط وَاللّٰهُ ذُوْ
دین کی نصرت کے لئے اک آسماں پہ ہے ، عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا اب کیا وقت فزا
ہفتہ میں دو بار نکلتا ہے
قیمت معہ ڈاک خرچ پیشگی پہلے بھیجنا لازم ہے
دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اسکی سچائی ظاہر کر دیگا : الہام مسیح موعود
الفضل
چندہ غیر ممالک سات شلنگ قادیان میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا ۔ (الہام مسیح موعود)
فہرست
- مدینۃ المسیح ... ٢
- مولوی محمد علی صاحب کی ... ٣
- الحکم قادیان سالانہ یکمشت ... ٣
- احمدی مدرس کی ضرورت ... ٣
- خلیفہ ثانی کی ڈائری ... ٤
- وصیت اور ... ٥
- نرسوں ملک کی خدمت میں ... ٥
- انجمن ترقی اسلام کے لئے فوری چندہ کی اپیل ٦
- سلسلہ تقاریر ... ١١
- آنے والے کی خبریں ...
جلد ٤ | تاریخ ٦ مارچ ١٩١٧ء | مطابق ١١ جمادی الاول ١٣٣٥ھ | نمبر ٧٠
مدینۃ المسیح
بروز دوشنبہ مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے جناب مفتی محمد صادق صاحب و مولوی عبید اللہ صاحب کو بعد از نماز عصر الوداعی دعوت دی ۔ جس میں حضرت خلیفۃ المسیح بھی شامل ہوئے۔ گذشتہ پرچہ میں ہم اطلاع دے چکے ہیں کہ جناب مفتی صاحب ٦ مارچ کو انشاء اللہ یہاں سے روانہ ہونگے۔ بعجلت تحریر ان کا پروگرام حسب ذیل ہو گا :۔ شام کی گاڑی پر بٹالہ سے سوار ہو کر رات امرتسر رہینگے۔ احباب کو ١١ بجے دن وہیں اسٹیشن پر ملیں گے اور ٢ بجے شام لاہور پہنچیں گے۔ انارکلی میں رات رہینگے صبح روانہ ہونگے ۔ ١٢ بجے دن پانچ بجے انبالہ سے سوار ہو کر براستہ سہارنپور مظفر نگر دہلی پہنچینگے۔ اسی شام پہر بمبئی میل سے دہلی سے بمبئی میں سوار ہو کر روانہ ہونگے۔
اخبار احمدیہ
دیرہ غازی خان میں
باوجودیکہ اسماعیلیہ یعنی وہ فرقہ جو آغا خان کو اپنا پیشوا مانتے ہیں، ان میں ہم نے تبلیغ کا کام شروع کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے غیر احمدیوں سے خائف
ہم نے مسئلہ حج و عمرہ پر ایک رسالہ بنام ارشاد الحجاج و السعی فی تعلیم الخواص و ما فیہ من السنن طبع کرایا ہے جو کہ قبل از حج مکہ مکرمہ میں تقسیم ہو کر مدینہ پہنچ گیا اور تا آنکہ ہم مکہ مکرمہ میں پہنچ چکے تھے۔ مکہ میں قحط بے حد تھا اور رات کا پہر پڑھنے والے جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ ان لوگوں کی فتنہ انگیزیوں کا
رہتے ہیں اور ہمارے خلاف بے بنیاد افواہیں اڑاتے رہتے ہیں۔ ان کے اس رویہ پر ہمیں سخت افسوس ہوتا ہے۔ دل پر چھریاں چلتی ہیں اور گو ہمارا بھی خون آتا ہے تاہم ہم صبر سے کام لیتے ہیں اگر
با ہتمام شیخ عبد الرحمن صاحب ، قادیانی پرنٹر و پبلشر ضیاء الاسلام قادیان میں چھپا
مرزا بشیر الدین محمود کا خطبہ جمعہ مندرجہ روزنامہ ”الفضل“ قادیان جلد 4 شمارہ 70 صفحہ 7 تا 9 مورخہ 6 مارچ 1917ء | یہ حوالہ صفحہ 211 پر درج ہے
حوالہ نمبر 168
جلد 4 نمبر 70 اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 6 مارچ 1917ء
کہے کہ یہ کچھ اور ہے۔ دین نہیں اور سب کچھ ہے ہم پر جو کچھ نہیں ۔ تو یہ کہنے لگا۔ دین نہیں اور سب کچھ ہے۔ اس طرح پر ہمیں دریافت کرنا چاہئے ۔ اس کے متعلق کہے کہ ہمیں اور سب کچھ ہے۔ تو اسکی بھی دوکان چلتی لیکن اس طرح کہنا یہ بہتر ہوتا کہئے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ فلاں بات کا
دین سے تعلق نہیں
ہے۔ یعنے اس سے تعلق نہیں تھا۔ تو اس کی غلطی ہے۔ اسے چاہئے ہر ایک چیز دین کے ترازو میں تولے۔ کہ یہ کیسی ہے۔ خواہ کسی پہلو کا اسے دین سے تعلق ہو پس اسکو ماننا ہے۔
اس زمانہ میں یہی ہوا چل رہی ہے۔ جس سے آزادی کہا جاتا ہے۔ لیکن دراصل وہ
غلامی سے بھی بدتر
ہے۔ خیال کیا جاتا ہے۔ کہ گورنمنٹ سے ہمارا کیا تعلق ہے۔ یہ ایک باہر سے آئی ہوئی حکومت ہے جنکے ذمہ ملکی عہدہ داریاں ہیں۔ ہم بھی باہر سے آئے ہوئے ہیں۔ چور تو وہ پکڑے جاتے ہیں۔ اسلئے اب لٹریچر اس قسم کا تخم بویا گیا ہے۔ اور اسی قسم کے لٹریچر شائع ہونے کے ماتحت عوام میں اور خصوصاً تعلیم یافتہ طبقہ میں ایسی روح پیدا ہو گئی ہے۔ کہ گورنمنٹ کی مدد کرنا فرض نہیں ہے۔ سیاسی طور پر یہ خیالات کام کر رہے ہیں انکے متعلق اسوقت کچھ کہنے کی ضرورت نہیں مگر جو لوگ اسکو سیاسی سمجھتے ہیں انکے خیالات کے متعلق جو سچی پوزیشن ہے میں وہ بتانا چاہتا ہوں کہ گورنمنٹ کی مخالفت کے خیالات رکھنے والے لوگ سیاسی طور پر مجرم ہیں عملی طور پر ہی نہیں بلکہ اخلاقی طور پر بھی، لیکن ہماری جماعت کو سیاسی طور پر یہ پوزیشن نہیں دیکھنا، بلکہ اس نقطہ نظر سے دیکھنا ہے۔ کہ اس کا دین سے کیا تعلق ہے۔ اگرچہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے گورنمنٹ رعایا کی خادم ہے اسکی خدمت کرنا۔ اور اسکی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھنا اور اسکی ہر ضرورت کے وقت مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔ تو خواہ سیاسی خیالات اسکے خلاف ہی ہوں۔ تو بھی ہمیں انکو چھوڑنا پڑیگا۔ لیکن اگر کوئی دین کے معاملہ میں اس کا کوئی حصہ مستثنیٰ کرتا ہے۔ اور کہتا ہے۔ کہ فلاں بات کا
تعلق نہیں ہے، تو اسے یاد رکھنا چاہئے۔ اس کا
دین کامل نہیں ہے
کیونکہ دین کے لئے ضروری ہے ۔ کہ جس قسم اور جس قدر عمل کو بھی انسان کرتا ہے قرآن کو یہ چاہئے تھا کہ وہ اس پر روشنی ڈالے۔ خواہ اس ارادہ کا تعلق ہو دوستانہ یا دشمنانہ ہو ۔ تو اس کے لئے کوئی نہ کوئی قاعدہ بتائے اور قاعدہ مقرر کرے۔ اور جو نہیں بتاتا۔ وہ کیسا دین کامل کہلا سکتا ہے
یہ کہنا کہ ہر ایک چیز قرآن میں نہیں ہو سکتی۔ پس ہماری جماعت کے لئے اتنا کافی نہیں ۔ کہ اس بات پر غور کرے۔ کہ گورنمنٹ کے ساتھ دینی طور پر کیا تعلقات ہیں۔ بلکہ یہ کسی طور پر کیا ہیں۔
دینی طور پر ہماری جماعت کو تعلقات گورنمنٹ کے ساتھ ہونے چاہئیں۔ اسکو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی سے بہتر سمجھنے کے لئے جانا چاہئے۔ اسکے متعلق آپ نے جو کچھ لکھا ہے۔ حتیٰ کہ آپ لکھتے ہیں۔ کہ میں نے کوئی کتاب ایسی نہیں لکھی جس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی طرف توجہ نہ دلائی ہو۔ پھر فرماتے ہیں۔ گورنمنٹ کے دکھ کو اپنا دکھ گورنمنٹ کی تکلیف کو اپنی تکلیف گورنمنٹ کی ترقی کو اپنی ترقی گورنمنٹ کے تنزل کو اپنا تنزل سمجھنا چاہئے۔ یہ تو مجمل ہوا۔ کیونکہ ہمارے امام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ نے اسکی تشریح کر دی ہے۔ لیکن اگر عقل و فکر سے دیکھیں۔ تو بھی معلوم ہوتا ہے۔ کہ ہماری ترقی اس گورنمنٹ سے وابستہ ہے۔ مشاہدہ سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے۔ اسی لئے اسکے مطابق دیکھ لو کہ
وہ کونسی جگہ ہے
جہاں احمدیت کو ترقی ہوتی ہے۔ کابل کی سر زمین کو دیکھو وہاں ہمارے دو آدمی محض احمدی ہونے کی وجہ سے شہید کیئے گئے اور اس وقت تک بھی وہاں علی الاعلان احمدیت کا اظہار نہیں ہو سکتا۔ ترکوں کی حکومت ہے جس کے بادشاہ کو امیر المومنین کہا جاتا ہے۔ وہاں ہمارا ایک آدمی کتابیں لیکر پہنچا۔ تو اس سے کتابیں لیکر پھاڑ دی گئیں۔ یہاں تک کہ
اشتہار کابل میں شائع ہوا تھا۔ وہاں چسپان کیا گیا۔ تو اسپر بڑی لے دے ہوئی۔ اور آخر اس کو اُکھاڑ دیا گیا۔ یہ تو دُور کی باتیں ہیں۔ ہندوستان میں ہی دیکھ لو۔ جہاں مسلمانوں کی کچھ ریاستیں باقی ہیں۔ جن کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ فرمایا کرتے تھے۔ کہ انکو خدا تعالیٰ نے اسلئے باقی رکھا ہے تا انکو دیکھ کر معلوم ہو جائے۔ کہ اسلامی حکومت کی یہ حالت تھی۔ ان میں سے ایک ریاست کا یہ حال ہے کہ احمدیوں کو مسجد بنانے تک کی اجازت نہیں دیجاتی۔ مسجدیں بند کر دی ہیں۔ اور گرد و نواح سے آنا جانا بند ہے۔ اسلئے ایسی جگہ کوئی مسجد بنانا چاہے تو اسکو
اجازت نہیں دیجاتی
احمدیوں کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ایک اور ریاست ہے۔ جہاں کوئی احمدی جاوے تو اس پر کوئی نہ کوئی مقدمہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ یہ سلوک ہے جو ہم سے کیا جاتا ہے۔ اس لئے میں یہ نہیں کہتا۔ کہ گورنمنٹ برطانیہ کو یعنے ہم یہ نہیں کہتے۔ کہ وہ ہم سے ایسا سلوک کرتی ہے۔ جو دوسروں سے نہیں کرتی۔ بلکہ ہم سے بھی اسی طرح پیش آتی ہے جس طرح دوسروں سے، لیکن اس سے یہ نہیں ہو سکتا۔ کہ اگر دوسروں کے دلوں میں غداری کا جذبہ پیدا ہوتا ہو تو ہمارے دلوں میں نہ ہو۔ کیونکہ اگر انہیں دین کی اشاعت کی ضرورت اور تڑپ نہیں ہے۔ تو ہمیں تو ہے۔ پس اگر ہمارے ساتھ
گورنمنٹ کا سلوک
ایسا ہی ہے جیسا کہ دوسروں کے ساتھ تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اگر وہ گورنمنٹ کے ساتھ ہمدردی نہیں رکھتے اور اس کے شکر گزار نہیں ہوتے۔ تو ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیئے۔ کیونکہ ہم سے بھی گورنمنٹ ویسا ہی سلوک کرتی ہے۔ جیسا کہ ان سے۔ یہ دلیل بالکل بے ہودہ اور لغو ہے۔ پھر
ایک اور بات ہے
اور وہ یہ کہ ان لوگوں کے لیئے امن ہے۔ لیکن ہمارے لیئے نہیں ہے۔ ہر ایک ہمارا دشمن ہے ۔ پھر خدا تعالیٰ نے اپنے سلسلہ کی ترقی کے لیئے اسی سرزمین کو چنا ہے جو
مرزا بشیر الدین محمود کا خطبہ جمعہ مندرجہ روزنامہ ”الفضل“ قادیان جلد 4 نمبر 70 صفحہ 7 تا 9 مورخہ 6 مارچ 1917ء یہ حوالہ صفحہ 211 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 168)
ہمارا اصل مدعا اور مقصد دین کی اشاعت ہے اور یہ گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ ہو کر حاصل ہو سکتا ہے
گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت ہے۔ اسلئے ہماری مصلحت اسی میں ہے کہ اگر کوئی سلطنت اس سے بڑھ کر اچھی اور عمدہ ہوتی تو خدا اپنے سلسلہ کی نشوونما کے لئے اُسی کو چنتا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اس کو چنا ہے جو اسکی فضیلت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ پس یہ حکومت جسقدر وسیع ہوگی ہمارا سلسلہ بھی وسیع ہوتا جائیگا۔ اور ہمیں آزادی حاصل ہوتی جائے گی۔ اسلئے اگر کوئی ہم سے پوچھے تو یہی کہینگے کہ علاقے جہاں ہمارے آدمی قتل کئے گئے ۔ کابل کی بجائے اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت نہ ہوتے قدم تو نہ دھرنے دیں۔ کیونکہ ہماری ترقی گورنمنٹ برطانیہ سے وابستہ ہے۔ اور خدا تعالیٰ کا فعل ہمارا شاہد ہے اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ اس گورنمنٹ کے ماتحت ہمیں کامیابیاں ہوتی چلی جارہی ہیں۔ اور پیش گوئیاں ہیں۔ کہ دوسرے ممالک میں بھی کامیابی ہوگی۔ مگر اس میں شک نہیں کہ وہاں بڑی بڑی تکلیفوں اور مشکلوں کے بعد ہوگی۔ اور صاف بات تو یہ ہے کہ وہاں خون کی آبیاری سے ہوگی۔ مگر یہاں اس کے مقابلہ میں کچھ تکلیف نہیں ہے۔ ہم نے تو اپنے ساتھ سلوک میں اتنا بڑا فرق دیکھا ہے کہ دیسی مجسٹریٹوں کے پاس حضرت مسیح موعودؑ کا جو مقدمہ گیا ہے۔ اسکو انہوں نے خراب ہی کیا ہے لیکن
اس کے برعکس
دیکھئے۔ ایک انگریز کے پاس مقدمہ جاتا ہے۔ اور قتل کا مقدمہ ہے۔ مدعی عیسائی ہے۔ مگر مجسٹریٹ اپنے پاس حضرت مسیح موعودؑ کو کرسی پر بٹھاتا ہے۔ دوسری طرف ایک خبیث الفطرت۔ کینہ ور رذیل شخص کی طرف سے مقدمہ ہے۔ اور فضول مقدمہ ہے۔ اس موقعہ پر حضرت مسیح موعودؑ کو بیماری کا دورہ ہوتا ہے۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔ ضعف طاری ہوجاتا ہے وکیل مجسٹریٹ سے پانی پلانے کی اجازت مانگتا ہے۔ مگر وہ ایسی حالت میں بھی پانی پلانے کی اجازت نہیں دیتا۔
یہ فرق ہے
انگریزوں اور دوسروں میں۔ پس ہمارا دل تو یہی دعا کرتا ہے۔ کہ ان کی حکومت اور سلطنت وسیع ہو جن سے ہمارا
ملاپ ہے۔ اُنہیں کے فوائد سے ہمیں ہمدردی ہے۔ پھر جب ہمارا اصل مدعا اور مقصد دین کی اشاعت ہے اور یہ گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ ہو کر حاصل ہو سکتا ہے تو پھر کیوں ہم گورنمنٹ کی ہر طرح سے امداد اور ہمدردی نہ کریں۔ فرض کرو۔ گورنمنٹ کے خلاف جوش پھیلا کر اور اس سے ہمدردی نہ کر کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر ہم ان کو نہیں جنکی آنکھ میں ہم کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔ بلکہ خدانخواستہ ان کو حکومت مل جائے۔ تو پہلا ایکٹ یہی پاس کریں کہ احمدیوں کو کاٹ ڈالو۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں۔ کہ جب کبھی ان کا داؤ چلتا ہے۔ انہوں نے ہمیں نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کی۔ اور اس کی داد رسی گورنمنٹ برطانیہ سے ہی ہوتی ہے۔ پس ہمیں عقل اور مشاہدہ اور حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیم بتا رہی ہے۔ کہ ہمارے فوائد گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پھر دیکھو ہمارے لئے کتنا بڑا
تبلیغ میں آسانی
ہے۔ گورنمنٹ برطانیہ کی وجہ سے انگریزی زبان تو ہمیں معاش کے لئے سیکھنی پڑتی ہے۔ پھر اس زبان کے ذریعہ جہاں گورنمنٹ برطانیہ کی حکومت ہو وہیں ہم تبلیغ کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر کسی اور حکومت میں تبلیغ کے لئے جائیں۔ تو وہاں کی زبان سیکھنی پڑیگی۔ یہاں ہم انگریزی زبان بآسانی سیکھ لیتے ہیں۔ لیکن کسی نئی جگہ جائیں تو دقت آتی ہے۔ اور پھر کئی باتوں میں سخت اُداسی رہ جاتی ہے۔ اب ہمارے مبلغ ماریشس اور نائیجیریا میں تبلیغ کے لئے جاتے ہیں۔ گو یہ ممالک پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ مگر گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت ہیں۔ اور ہمیں وہاں پہنچتے ہی کسی اور زبان کے سیکھنے کی ضرورت نہیں انگریزی سے ہی کام ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر کسی اور جگہ تبلیغ کے لئے جانا ہو۔ جہاں انگریزی زبان کام نہیں دے سکتی ۔ تو اس کے لئے بڑی بھاری محنت اور اخراجات کی ضرورت ہوگی۔ غرض
ہر رنگ میں
گورنمنٹ کی ترقی سے ہماری ترقی وابستہ ہے۔ پھر گورنمنٹ
کے ایسے احسانات کے مقابل ہمیں کیا بغاوت فرض ہے۔ کہ اس کے حق ادا نہ کریں۔ ان باتوں کے ہوتے ہوئے کوئی گندہ اور ناپاک خیالات کا ہی انسان ہو گا۔ جو یہ کہے گا۔ کہ گورنمنٹ کی ہمدردی کا دین سے تعلق نہیں ہے۔ جو لوگ یہ وقت پا کر کہ ہندوستان میں کچھ ایسے خیالات چل پڑے ہیں کہ ہمیں بھی فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ مگر ان کو سمجھنا چاہئے کہ ہماری جماعت خدا کے فضل سے چونکہ ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ اس لئے ہمیں
گورنمنٹ کی وفاداری
کرنی چاہئے۔ اور اقوال اور افعال میں حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے۔ کہ میں نے کوئی ایسی کتاب نہیں لکھی جس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی تاکید نہیں کی۔ بلکہ اپنا یہی طریق اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ نے کئی ایک کتابیں مختلف مضامین پر لکھی ہیں۔ مگر وفاداری کے ذکر کو ذرا بھی نہیں چھوڑا۔ بلکہ ہر ایک میں کر دیا ہے۔ کیوں؟ اسلئے کہ جب یہ مسئلہ حل ہو جائے پھر آپ کو قبول کرنے والے کے لئے بہت آسانی ہو جاتی ہے۔ تو حضرت مسیح موعودؑ نے جو اپنی کتابوں میں اس بات پر خاص زور دیا ہے۔ کہ گورنمنٹ کے ساتھ ہمارے تعلقات نہایت وفادارانہ ہونے چاہئیں اور ہمیں ہر طرح اسکی مدد کرنا چاہئے۔ حتیٰ کہ آپ نے یہ بھی لکھا ہے۔ کہ میں دیکھتا ہوں۔ کہ ایک ایسا زمانہ آئیگا۔ کہ جب صرف میری ہی جماعت گورنمنٹ کی وفادار ثابت ہوگی۔ یہ یہ بھی نہیں کہ خدا تعالیٰ کے امور کوئی انوکھے نہیں ہوتے۔ پس اسکے متعلق ذرا بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سب کچھ گورنمنٹ کی خوشنودی کے لئے ہے۔ اس لئے لکھ دیا ہے۔ کیونکہ اگر آپ عیسائی ہوتے۔ تو آپ کو ڈر ہوتا تھا۔ آریہ۔ ہندو۔ سکھ وغیرہ قومیں ہیں۔ جو اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ انہوں نے اگر نہیں لکھا۔ تو انہیں کیا ڈر ہے۔ پھر ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو معاند ہیں گورنمنٹ کے۔ کچھ نہیں سمجھتے۔ مگر باوجود اسکے گورنمنٹ انہیں کچھ نہیں کہتی۔ پھر حضرت مسیح موعودؑ کا کوئی ایسا دعویٰ بھی نہ تھا۔ کہ گورنمنٹ کو اس کے متعلق کوئی کاروائی کرنی پڑتی۔ آپ پر دشمنوں کا یہ اعتراض تھا۔ کہ گورنمنٹ کی خوشنودی کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ آپ
مرزا بشیر الدین محمود کا خطبہ جمعہ مندرجہ روزنامہ ”الفضل“ قادیان جلد 4 شمارہ 70 صفحہ 7 تا 9 مورخہ 6 مارچ 1917ء یہ حوالہ صفحہ 211 پر درج ہے
حوالہ نمبر 168
اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ ٦ مارچ ١٩١٧ء
یہ وہ حوالہ ہے جو کہ میں نے اپنے چیلنج میں درج کیا تھا اور جس کے متعلق قادیانی مباحثین نے کہا تھا کہ یہ حوالہ کتاب میں درج نہیں ہے اب احمدیہ جماعت کے ممبر غور کریں
گورنمنٹ کی خدمت کی اور بہت بڑی خدمت کی مگر اس میں کوئی اجر کی امید نہیں تھی۔ مگر باوجود ان باتوں کے ہم نے اس مسئلہ وفاداری پر کیوں اتنا زور دیا۔ اسکی یہ وجہ تھی کہ ہم کو خدا سے یہ خبر ملی ہے کہ ایک زمانہ ایسا آنا تھا کہ گورنمنٹ کے خلاف بعض لوگوں کے خیالات میں تغیر ہونا تھا۔ چنانچہ اس بارہ میں وارننگ دی گئی تھی۔ تاکہ یہ فتنہ شروع ہونے سے پیشتر ہی دبایا جاوے۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ اصل واقعہ کیا تھا۔ اور اس کے متعلق کیا تجاویز پیش کی گئیں۔ لیکن اس وقت چونکہ ایسے حالات نہیں تھے اسلیئے اس پر توجہ نہ کی گئی۔ مگر شائد اب انکو تسلیم کیا جاوے۔
پس حضرت مسیح موعودؑ نے جو گورنمنٹ کے متعلق
وفادارانہ خیالات
رکھنے کے متعلق اس قدر کوشش کی کہ مثلاً یہ دیکھیں کہ گورنمنٹ کے لیے دعائیں کیں۔ اپنی کتابوں میں بار بار تاکید فرمائی۔ تو یہ یونہی نہیں تھا۔ بلکہ ایک پیشگوئی کے ماتحت تھا۔ کیونکہ آپ کو یہ اندازہ ہو گیا تھا جبکہ لوگوں کے خیالات میں تبدیلی ہونی تھی۔ تو حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں اس سے پیشتر ہی آگاہ کر دیا۔ کہ تم اسکو مٹاؤ اور گورنمنٹ کے متعلق اپنے وفادارانہ اور ہمدردانہ خیالات رکھنا۔ پس میں بھی حضرت مسیح موعودؑ کے تتبع میں اپنی جماعت کے لوگوں کو آگاہ کرتا رہتا ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ تم یہ کہو کہ اس زمانہ میں جو
ناپاک اور گندے
خیالات پیدا ہو رہے ہیں۔ ان سے دور رہیں۔ ان سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ بعض عقائد ایسے بھی ہوتے ہیں جنکے ایک حصہ کا پورا کرنا انسان کا کام ہوتا ہے۔ دیکھو یہاں ایک پیشگوئی کے پورا کرنے کے لیے حضرت مسیح موعودؑ نے اتنا لٹریچر پیدا کیا۔ جس میں برابر یہ ہدایت ہوتی ہے کہ لوگ اس کے لیے مستعد رہیں۔ جن کو خدا تعالیٰ نے پورا کرنا ہے۔ اور بعض ایسے ہیں جو انسانوں کے ذریعے پورے ہونے ہیں۔ اب اس وقت خدا تعالیٰ اپنی سنت اس طرح پوری کر رہا ہے کہ ایک ایسی لہر پیدا کر دی ہے۔ جس سے
لوگوں کے خیالات میں تغیر واقع ہو گیا ہے۔ البتہ ایک حصہ ہمارے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ اور وہ یہ کہ ایسے موقعہ پر ہماری جماعت پوری پوری وفاداری ثابت کر رہی ہے۔ پس اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں۔ کہ وہ اس قسم کے خیالات سے اپنے آپ کو بچائے۔ جو گورنمنٹ کے خلاف ہوں۔ اور پھر اسکے مٹانے کی پوری پوری کو شش کرے۔ خصوصاً وہ لوگ جو مدرس ہیں خواہ یہاں کے سکولوں کے یا باہر کے انکو برابر نگرانی رکھنی چاہئیے۔ وہ ان میں گورنمنٹ کی وفاداری کا بیج بوئیں۔ طلباء کے دلوں میں بویا ہوا بیج خوب پھل لاتا ہے۔ یہی لوگ بعد میں طلباء کے دلوں میں یہ حس پیدا کرنے کا باعث ہوں گے جو طالب علموں کے ذریعہ پھیلائی جاتی ہے۔ اور جو کانگرس کے ممبر نے بھی ایک تقریر میں یہی کہا ہے۔ اسکے مقابلہ کیلئے ہمیں بھی وہی ذریعہ اختیار کرنا چاہئیے یعنی طلباء کے دلوں میں پورے زور کے ساتھ گورنمنٹ کی وفاداری کے خیالات بٹھانے چاہئیں۔ اور اس کو وہ غلطی سے آزادی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ آزادی نہیں بلکہ
نفس کی قید
ہے۔ اس سے انہیں آزاد کرنا چاہئیے۔ آجکل جسکو آزادی کہا جاتا ہے۔ وہ ایک سخت خطرناک قید ہے۔ ان ممالک کو دیکھو جہاں اس قسم کی آزادی پائی جاتی ہے۔ وہاں کیا حشر ہو رہا ہے۔ ان سے مقابلہ کرو۔ وہ ملک کیوں تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ اس لیئے کہ وہ ایک ناجائز راستہ آزادی کی آڑ میں لیتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کی بات نہیں مانتے۔ جو جی چاہتا ہے کرتے ہیں۔ کیا یہ آزادی کہلا سکتی ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ تو تباہی اور ہلاکت کے سامان ہیں۔ لیکن چونکہ طلباء نوجوان ہوتے ہیں۔ اور انہوں نے تاریخ پڑھی ہوتی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ واقعات کو اچھی طرح نہیں سمجھتے۔ اسلیئے جوش میں آ کر نادانیوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ پس ہماری جماعت کے مدرسوں کا خصوصاً اور دوسرے لوگوں کا عموماً یہ فرض ہے کہ ایسے لوگوں کے خیالات کی اصلاح کرتے رہیں۔ چونکہ ہمارا کام
دین کی اشاعت
ہے اسکے واسطے یہ ضروری ہے کہ ہم پوری طرح امن قائم رکھیں۔ اسلیئے ہم کو یہ ضرور ہے۔ کہ جس طرح بھی ممکن ہو گورنمنٹ کی مدد اور تائید کریں۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اس بات کی توفیق مرحمت فرماوے۔ اور حضرت مسیح موعودؑ کی باتوں کی قدر کرے۔ اور انکو پورا کر کے خدا تعالیٰ کے انعامات حاصل کرنے کی اہل بنے۔ آمین
مسٹر حسن ملک کا خط
بنام ماسٹر عبدالرحیم صاحب ہیڈ ماسٹر
مخدومی ۔ میں اپنے وعدہ کے بموجب اس وقت وہ باتیں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئیے۔ کہ میں بہت ہی دور افتادہ مقام کا رہنے والا ہوں۔ جہاں خطوط آسانی سے نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ نیز میں ملاح ہوں جس کا کام جیسا آپ جانتے ہیں۔ بہت بے قاعدہ ہوتا ہے۔ بھائی صاحب! میرے سوالوں کے جوابات نہایت تسلی بخش ہیں۔ انہوں نے میرے کل شبہات دور کر دیے۔ اب افسوس کرتا ہوں۔ جب کہ غروب آفتاب پر آسمانی شبنم زمین کو ٹھنڈا کر دیتی ہے حضور میری غلطی سے میری معافی کی بابت عرض کریں۔ کیونکہ محض جہالت و بے خبری کے دھوکہ میں آکر میں نے حضور سے دشمنی رکھی
بھائی ! اب میں اپنی کہانی مفصل طور پر بیان کرتا ہوں۔ میں اپنی طالب علمانہ زندگی میں احمدی تھا (احمدی کہلانا فخر سمجھتا تھا)۔ مجھے احمدیت سکھانے والے مسٹر عبدالکریم کمالپور کے رہنے والے تھے۔ بعد ازاں مولوی محمد علی کی پارٹی کا ایک آدمی پچھلے سال میرا دوست بن گیا جس نے حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق شبہات پیدا کر کے مخالفت کا بیج میرے دماغ میں بو دیا۔ میں حضرت خلیفۃ المسیح کے نہایت ہی برخلاف ہو گیا۔ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص بمبئی وغیرہ .......
قادیانی دوست غور کریں کہ ان کے خلیفہ صاحب کا کیسا فتویٰ ہے کہ انگریزوں کی مخالفت کرنے والے اور آزادی چاہنے والے ناپاک اور گندے لوگ ہیں۔
مرزا بشیر الدین محمود کا خطبہ جمعہ مندرجہ روزنامہ "الفضل" قادیان جلد 4 شمارہ 70 صفحہ 7 تا 9 مورخہ 6 مارچ 1917ء یہ حوالہ صفحہ 211 پر درج ہے
حوالہ نمبر 169
انوار العلوم جلد ٢ ٢٠٣ برکات خلافت
اسلام اس بات کی اجازت دے سکتا ہے ہرگز نہیں۔ اسلام تو یہی بتاتا ہے کہ تم اول مسلمان ہو اور پھر کچھ اور ہو بلکہ پھر کچھ بھی نہیں ہو۔
شاید کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ بعض لوگ سیاست میں بھی مشغول ہوتے ہیں اور پھر دین میں بھی مشغول ہوتے ہیں بلکہ دین کی خدمت میں اپنا بہت سا وقت صرف کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاست میں مشغول ہو کر پھر بھی انسان دین کے کام کر سکتا ہے لیکن جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں یہ تو ممکن ہے کہ بعض لوگ سیاست کے ساتھ دین سے بھی تعلق رکھیں لیکن یہ ضرور ہے کہ چونکہ سیاست جتھا چاہتی ہے اور جو لوگ سیاست میں پڑتے ہیں وہ یا تو دین کو عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس طرح دین کی اصل غرض فوت ہو جاتی ہے اور اس عمل سے بجائے دین کی ترقی ہونے کے اسے سخت صدمہ پہنچ جاتا ہے اور یا یہ لوگ کثیر جماعت کی خاطر اپنے عقائد میں تبدیلیاں پیدا کرنی شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح دوستی کے پردہ میں دشمنی کرتے ہیں اور غریب لوگ ان کی وجاہت اور ان کے علم کے دھوکے میں ان کے شائع کردہ گندے اور بیہودہ عقائد کو ہی اصل اور سچے عقیدے خیال کر لیتے ہیں اور اس طرح دین کا مغز ضائع ہو جاتا ہے۔ پس گو بعض ایسے لوگ بھی ہوں جو سیاست کے ساتھ دین کی طرف بھی توجہ رکھیں لیکن اس وقت چونکہ صداقت کمزور ہے ایسے لوگ دین کے لئے سخت نقصان دہ ہیں۔
احسان کا بدلہ ہونا چاہئے
پھر ہم کہتے ہیں کہ احسان بھی تو دنیا میں کوئی چیز ہے حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے کہ "وہ تلخی اور حرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اٹھائی تھی۔ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آکر ہم سب بھول گئے۔" پھر آپ نے لکھا ہے کہ جب سکھ ظلم کرتے تھے تو وہ کون تھا جو ہمیں ان سے بچانے کے لئے آیا۔ کیا اس وقت ہماری مدد کے لئے ترک آئے تھے۔ نہیں انگریز ہی آئے۔ اس وقت لوگ اپنے مذہب کو چھپاتے تھے لیکن پھر بھی ڈرتے تھے۔ لیکن آج ہم علی الاعلان اپنے مذہب کا اظہار کرتے ہیں مذہبی تکالیف جو کہ پیشتر تھیں ان کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے مسجدوں میں نماز پڑھنا تو الگ رہا گھروں میں بھی خدا کا نام لینا ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن گورنمنٹ انگلشیہ نے تو ایسی آزادی دے رکھی ہے کہ بعض جگہ اپنے مسلمان ملازموں کو دفاتر اور اسٹیشنوں کے احاطوں میں سرکاری زمین میں مساجد بنانے کی اجازت دے دی۔ گو افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اپنی بے وقوفی سے اس انعام کو ضائع کر دیا۔ اور مساجد کی زمین کے وقف ہونے کے بے موقع سوال کو اٹھا کر آئندہ کیلئے گورنمنٹ کو مجبور کر دیا کہ
برکات خلافت ص 65، مندرجہ انوار العلوم جلد 2 ، صفحہ 204,203 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 212 پر درج ہے
حوالہ نمبر 169
انوار العلوم جلد ٢ ٢٠٤ برکات خلافت
وہ اس آزادی سے ان کو محروم کر دے اور اپنے دفاتر اور اسٹیشنوں کو مذہبی جھگڑوں کی آماجگاہ ہونے سے محفوظ رکھے۔ اگر مسلمان بے فائدہ شور نہ کرتے تو آئندہ ان آسامیوں میں اور ترقی ہونے کی امید تھی اور وہ دن دور نہ تھا کہ ہر دفتر کے مسلمان بڑی آسانی سے نماز باجماعت کے ثواب عظیم کو حاصل کر سکتے۔ غرض کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان سے زندگی بسر کرتے اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا مقصد دین کو پھیلانا ہے اور اس مقصد کے پورا کرنے کی ہمیں ہر طرح سے آزادی ہے۔ ملک کے جس گوشہ میں چاہیں تبلیغ کر سکتے ہیں اور اگر دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔ ان فوائد کے مقابلہ میں اگر یہ مان بھی لیا جائے (گو میرا یہ خیال نہیں) کہ گورنمنٹ نے ہمارے کچھ حقوق دبائے ہوئے ہیں تو پھر بھی یہ سمجھ لینا چاہئے کہ چھوٹی چیزیں بڑی چیزوں پر قربان ہوا کرتی ہیں۔ جبکہ ہمیں اس قدر بڑے بڑے حقوق اور آرام اس گورنمنٹ کے ذریعہ حاصل ہوئے ہیں تو اگر بعض حقوق جو ہمارے خیال کے مطابق ہمیں حاصل ہونے چاہئیں تھے لیکن ابھی تک حاصل نہیں ہوئے تو بھی کوئی حرج کی بات نہ تھی۔ انگریزوں کے آنے سے پہلے ہندوستان میں مسلمانوں پر اکثر جگہ سخت ظلم ہو رہا تھا۔ انہوں نے آکر انہیں اس گری ہوئی حالت سے ابھارا۔ اب اگر انہوں نے کچھ فوائد حاصل کر بھی لئے تو مسلمانوں کو یہ خیال کر لینا چاہئے کہ ان کا سب کچھ جاتا رہا تھا انگریزوں نے آکر کچھ واپس دلا دیا۔ اگر کسی کا روپیہ گم ہو جائے اور کوئی شخص اسے ڈھونڈھ دے تو وہ تو خود اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ روپیہ اسے انعام کے طور پر دے دیتا ہے۔ مسلمانوں کی آزادی بھی گم شدہ تھی انگریزوں نے آکر انہیں واپس دی۔ اب اگر انہوں نے کچھ حقوق اپنے لئے رکھ لئے یا کچھ عہدے انگریزوں نے غصب بھی کر لئے تو احسان کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ اس بات پر شور مچا کر ان کا مقابلہ کریں بلکہ شرافت چاہتی ہے کہ ان کے احسان کو یاد کر کے ان کا ہاتھ بٹائیں۔ اور اگر بعض حقوق انہوں نے ان کو نہیں بھی دیئے تو اس پر صبر کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ اس کے فضل سے انگریزوں کی معرفت ان کا بہت کچھ کھویا ہوا واپس ملا۔ ان کا دین بھی جا چکا تھا اور دنیا بھی۔ دونوں قسم کی آزادیاں اور دونوں قسم کے حقوق ضائع ہو چکے تھے۔ انگریزوں نے دین میں تو ان کو کامل طور سے آزاد کر دیا اور دنیا میں بھی ان کو بہت کچھ آزادی دی۔ پس ان کو تو چاہئے تھا کہ ان کے ممنون ہوتے نہ کہ نکتہ چین بنتے۔ جو لوگ دین کی قدر جانتے ہیں ان کے نزدیک تو انگریز مذہبی آزادی دے کر اگر دنیاوی عہدوں میں
برکات خلافت ص 65، مندرجہ انوار العلوم جلد 2، صفحہ 203، 204 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 212 پر درج ہے
حوالہ نمبر 170
انوار العلوم جلد ٢ ١٤٤ تحفۃ الملوک
دلوں سے تو تمام میل دھلتی جائیگی اور وہ ایسے ہو جائینگے جیسے حمام سے تازہ نہا کر نکلنے والا ۔ سو خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ مسیح موعود کی دعاؤں اور کوششوں کا نتیجہ دن بدن زیادہ سے زیادہ کامیابی کی شکل میں نکل رہا ہے۔
میں اس جماعت کے ایک شخص کا مختصر حال جناب کو بتاتا ہوں جس سے جناب کو معلوم ہو جائیگا کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے اس جماعت کے مخلصین کے دلوں کو مضبوط کر دیا ہے۔ افغانستان کے ایک بزرگ جن کا نام سید عبداللطیف تھا اور جو وہاں ایسے معزز تھے کہ امیر حبیب اللہ خان صاحب کی تاجپوشی کی رسم انہوں نے ہی ادا کی تھی حضرت مسیح موعود کا ذکر سنکر قادیان تشریف لائے اور یہاں سے جب واپس گئے تو انکی کابل میں سخت مخالفت ہوئی اور امیر صاحب کو علماء کے شور سے مجبور ہو کر انکو نظر بند کرنا پڑا انہوں نے سب علماء کو چیلنج دیا کہ وہ میرے ساتھ حضرت مسیح موعود کے دعوے پر بحث کر لیں لیکن کسی کو یہ جرات نہ ہوئی آخر سب علماء نے آپ پر سنگسار کئے جانیکا فتویٰ دیا اور امیر صاحب نے بار بار آپ کو کہا کہ آپ ظاہراً طور پر ہی اس عقیدہ کو ترک کر دیں لیکن انہوں نے نہ مانا آخر سنگساری کے وقت پھر امیر صاحب نے کہا مگر انہوں نے یہی جواب دیا کہ یہ دن تو میرے لئے عید کا دن ہے آپ مجھے کس طرف بلا رہے ہیں۔ میں تو خدا تعالیٰ کے عہد کو پورا کر رہا ہوں اور جب انہوں نے کسی صورت سے حق کا انکار نہ کیا تو نہایت بے رحمی سے انہیں سنگسار کیا گیا مگر پتھروں کی بوچھاڑ کے وقت انہوں نے ایک ذرہ بھر بھی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا۔
اس واقعہ سے جناب معلوم کر سکتے ہیں کہ مسیح موعود نے کیسا ایمان اپنی جماعت کے دلوں میں پیدا کر دیا ہے اور جہال کے دلوں میں نہیں جو جہالت کی وجہ سے اس قسم کے کاموں کے لئے تیار ہو جاتے ہیں بلکہ سید عبد اللطیف جیسے علماء کے دلوں میں جو ہر ایک امر کو سوچ سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔
اس عام اصلاح کے علاوہ میں ایک خاص امر کو اس جگہ ضرور بیان کر دینا چاہتا ہوں اور وہ حضرت مسیح موعود کا اپنی بیعت کی شرائط میں وفاداریٔ حکومت کا شامل کرنا ہے آپ نے قریباً اپنی کل کتب میں اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی ہے کہ وہ جس گورنمنٹ کے ماتحت رہیں اس کی پورے طور پر فرمانبرداری کریں اور یہاں تک لکھا کہ جو شخص اپنی گورنمنٹ کی فرمانبرداری نہیں کرتا اور کسی طرح بھی اپنے حکام کے خلاف شورش کرتا اور انکے احکام کے نفاذ میں روڑے اٹکاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں اور یہ ایک ایسی مفید اصلاح ہے کہ اسکے ذریعہ آپ نے گویا کل دنیا پر احسان کیا ہے اور روزمرہ کے فسادوں اور جھگڑوں سے اور ہر قسم کی بغاوت سے امن دیدیا ہے اور
تحفۃ الملوک صفحہ 25، 26 مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 142، 143 از مرزا بشیر الدین محمود
یہ حوالہ صفحہ 213 پر درج ہے
حوالہ نمبر 170
انوار العلوم جلد ٢ ١٤٣ تحفۃ الملوک
صرف زبانی طور پر ہی کفایت نہیں کی بلکہ یہ سبق آپ نے جماعت کو ایسا پڑھایا کہ ہر موقعہ پر جماعت احمدیہ نے گورنمنٹ ہند کی فرمانبرداری کا اظہار کیا ہے اور کبھی کسی خفیف سے خفیف شورش میں بھی حصہ نہیں لیا اور یہ حکم صرف گورنمنٹ برطانیہ کے لئے نہیں بلکہ جس حکومت کے ماتحت احمدیہ جماعت رہتی ہو اسے حکم ہے کہ وہ اسکی کامل فرمانبردار اور ممد ہو اور اگر کوئی احمدی اسکے خلاف کرے تو وہ بموجب جناب کے صریح حکم کے احمدی ہی نہیں کہلا سکتا۔
اب میں اپنے اس مکتوب کو ختم کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جناب ان تمام امور پر جو میں نے اس خط میں تحریر کئے ہیں غور فرمائیں گے اور اگر آپ چاہیں تو میں ایسی کتب بھی آپ کی خدمت میں بھیج سکتا ہوں جو حضرت مسیح موعود کے دعوے کے دلائل پر اور زیادہ روشنی ڈالتی ہیں اور اس سے بھی زیادہ مفید یہ طریق ہو سکتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو میں چند علماء جناب کی خدمت میں بھیج دوں جو جناب کے پاس پندرہ بیس دن تک حاضر رہیں اور جناب ہر ایک ضروری مسئلہ پر ان سے گفتگو فرمائیں۔
چونکہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ایک عظیم الشان دعویٰ ہے اور ہر ایک شخص کا جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے فرض ہے کہ اس پر غور کرے اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ جناب اس پر ضرور پورے طور پر غور فرمائینگے اور جناب کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ جناب کے اعمال کا اثر صرف آپ کی ذات پر ہی نہیں پڑتا بلکہ آپ کی رعایا میں سے بہت سا حصہ آپ کے اعمال کی نقل کرتا ہے پس آپ کا ایک صداقت کو قبول کرنا صرف ایک ہی آدمی کا سچائی کو قبول کرنا نہیں ہے بلکہ ممکن ہے کہ اسکے ذریعہ ہزاروں کو ہدایت ہو اور ان سب کا ثواب آپ کے نام لکھا جائیگا اسی طرح آپ کا انکار صرف آپکا انکار نہیں بلکہ وہ بہتوں کے لئے رکاوٹ کا باعث ہوگا جس کے لئے جناب اللہ تعالیٰ کے حضور میں جوابدہ ہیں کیونکہ اس شہنشاہ کے سامنے بادشاہ و گدا سب کو جوابدہ ہونا ہو گا مجھے جو حکم دیا گیا تھا کہ میں جناب کی خدمت میں سلسلہ کے حالات عرض کروں میں اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں اور اب جناب کا اختیار ہے کہ خواہ اس نعمت عظمیٰ کو یعنی خادم خاتم النبیین کی اتباع کو قبول فرماویں جو ساری دنیا کی بادشاہت سے بڑھ کر ہے اور خواہ رد فرمادیں۔
یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو اس مبارک زمانہ میں پیدا کیا ورنہ لاکھوں بزرگ اور علماء اور امراء اس بات کی حسرت کرتے ہوئے مر گئے کہ کسی طرح ان کو مسیح موعود کا زمانہ ملے گو مسیح موعود فوت ہو چکے ہیں مگر ان کے دیکھنے والے موجود ہیں پس یہ زمانہ غنیمت ہے وہ دن آتے
تحفۃ الملوک صفحہ 25، 26 مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 142، 143 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 213 پر درج ہے
حوالہ نمبر 171
انوار العلوم جلد ٢ ١٥٢ جماعت احمدیہ
ہے اس لئے کہ وہ اسلام اور رسول خدا کی محبت کے مدعی ہیں۔ اور اگر وہ سچی توبہ نہ کریں تو سزا سر پر کھڑی ہے“۔ (الہدیٰ صفحہ ٥٦ روحانی خزائن جلد ١٨ صفحہ ٣٠٠)
ان تحریروں سے یہ باتیں صاف ظاہر ہیں کہ حضرت مسیح موعود سلطان کے ادعائے خلافت کو غلط قرار دیتے ہیں اس کی حکومت سے انگریزوں کی حکومت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی سلطنت کے بد انجام کی خبر دیتے ہیں اور انگریزی حکومت کی مخالفت کو نہایت مکروہ اور گناہ قرار دیتے ہیں۔ اور ہر ایک احمدی کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احکام اور فیصلوں پر دل و جان سے کار بند ہو۔ پس میں تمام جماعت کو اس اعلان کے ذریعہ سے اطلاع دیتا ہوں کہ اپنے امام کے حکم کے ماتحت ہر طرح سے گورنمنٹ برطانیہ کے خیر خواہ رہیں اور ہر ممکن طریق سے اس کی مدد و اعانت کرتے رہیں اور اگر کسی جگہ کسی آدمی یا جماعت کے خیالات ان کو نادرست معلوم ہوں تو اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔ اور اپنی جماعت کے علاوہ غیروں کو بھی سمجھاتے رہیں کہ گورنمنٹ برطانیہ کی فرمانبرداری ان کا مذہبی فرض ہے۔ پس چاہئے کہ اپنے ذاتی خیالات کو مذہب پر قربان کر دیں۔ ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ جس امن سے ہم گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت زندگی بسر کر رہے ہیں ہرگز وہ امن ہم کو اور کسی سلطنت میں نہیں مل سکتا خواہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی۔ خصوصاً اس زمانہ کی اسلامی کہلانے والی حکومتوں کے حلم اور بردباری کا نظارہ ہم امیر کابل کے سلوک سے دیکھ چکے ہیں جس نے بلاوجہ ہمارے ایک بھائی کو نہایت بے دردی سے سنگسار کروا دیا۔
آخر میں میں اپنی جماعت کو اس امر کی بھی تاکید کرتا ہوں کہ وہ آج کل دعاؤں اور آہ و زاری پر بہت زور دیں اور اپنے نفوس میں تبدیلی پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ کے آگے گر جائیں تا اسلام کی ترقی کی صورت نکلے اور اس کے زوال کے اسباب دور ہوں اور اسلام ایک دفعہ پھر اپنی اصل شان میں دنیا کے چاروں کونوں میں پھیلنا شروع ہو اور شرک و بدعت کی جگہ توحید اور سچی اطاعت کی ترقی ہو۔ آمین ثم آمین۔ وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
خاکسار میرزا محمود احمد خلیفہ دوم جماعت احمدیہ قادیان۔ پنجاب ٩ نومبر ١٩١٤ء
جماعت احمدیہ کا حکومت وقت کی اطاعت کے بارے میں صحیح موقف صفحہ 8 مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 150 از مرزا بشیر الدین محمود
یہ حوالہ صفحہ 213 پر درج ہے
حوالہ نمبر 172
٢٨٨
ربّنا انّنا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان امنوا بربّکم فامنا الخ اللھم اید الاسلام والمسلمین بالامام الحکم العادل ۔ اللھم انصر من نصر دین محمد واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد و لا تجعلنا منھم۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ آخری سے پہلی دعا میں دراصل مسیح موعود کی بیعت کی دعا ہے مگر بعثت کے بعد اس کے یہ معنے سمجھے جائیں گے، کہ اب مسلمانوں کو آپ پر ایمان لانے کی توفیق عطا کر۔
٩٤٠ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ میاں معراج الدین صاحب عمر نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ جب کبھی کوئی ایسا اعتراض یا مسئلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوتا۔ یا کسی کی تحریر کے ذریعہ حضور کو پہنچتا۔ کہ جس کا جواب دینا ضروری ہوتا۔ تو عام طور پر حضرت صاحب اس اعتراض یا مسئلہ کے متعلق مجلس میں اپنے دوستوں کے سامنے پیش کر کے فرماتے کہ اس معترض کے اعتراض میں فلاں فلاں پہلو فروگزاشت کئے گئے ہیں۔ یا اس کی طبیعت کو وہاں تک رسائی نہیں ہوئی۔ یا یہ اعتراض کسی سے سُن سُنا کر اپنی عادت یا فطرت کے خُبث کا ثبوت دیا ہے پھر حضور اس اعتراض کو مکمل کرتے اور فرمایا کرتے کہ اگر اعتراض ناقص ہے۔ تو اس کا جواب بھی ناقص ہی رہتا ہے۔ اس لئے ہماری یہی عادت ہے کہ جب کبھی کسی مخالف کی طرف سے کوئی اعتراض اسلام کے کسی مسئلہ پر پیش آتا ہے۔ تو ہم پہلے اس اعتراض پر غور کر کے اس کی خامی اور کمی کو خود پورا کر کے اس کو مضبوط کرتے ہیں اور پھر جواب کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ اور یہی طریق حق کو غالب کرنے کا ہے۔
٩٤١ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ میاں معراج الدین صاحب عمر نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مقدمہ فوجداری کی جوابدہی کے لئے جہلم کو جارہے تھے۔ یہ مقدمہ کرم دین نے حضور اور حکیم فضل الدین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب کے خلاف توہین کے متعلق کیا ہوا تھا۔ اس سفر کی مکمل کیفیت تو بہت طول چاہتی ہے۔ میں صرف ایک چھوٹی سی لطیف بات عرض کرتا ہوں جس کو بہت کم دوستوں نے دیکھا ہوگا۔ جب حضور لاہور ریلوے سٹیشن پر گاڑی میں پہونچے ۔ تو آپ کی زیارت کے لئے اس کثرت سے
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 288، 289 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 214 پر درج ہے
حوالہ نمبر 172
٢٨٩ سیرۃ المہدی حصہ سوم
لوگ جمع تھے جس کا اندازہ محال ہے کیونکہ نہ صرف پلیٹ فارم بلکہ باہر کا میدان بھی بھرا پڑا تھا اور لوگ نہایت منتوں سے دوسروں کی خدمت میں عرض کرتے تھے۔ کہ ہمیں ذرا چہرہ کی زیارت اور دستبوس تو کر لینے دو۔ اس اثناء میں ایک شخص جن کا نام منشی احمد الدین صاحب ہے (جو گورنمنٹ کے پنشنر ہیں اور اب تک بفضلہ زندہ موجود ہیں اور ان کی عمر اس وقت دو تین سال کم ایک سو برس کی ہے لیکن قویٰ اب تک اچھے ہیں اور احمدی ہیں) آگے آئے جس کھڑکی میں حضور بیٹھے ہوئے تھے وہاں گورہ پولیس کا پہرہ تھا اور ایک سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت کا افسر اس کھڑکی کے عین سامنے کھڑا نگرانی کر رہا تھا۔ کہ اتنے میں جرات سے بڑھ کر منشی احمد الدین صاحب نے حضور سے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ یہ دیکھ کر فوراً اس پولیس افسر نے اپنی تلوار کو الٹے رُخ پر اس کی کلائی پر رکھ کر کہا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ اس نے کہا کہ میں ان کا مرید ہوں اور مصافحہ کرنا چاہتا ہوں۔ اس افسر نے جواب دیا کہ اس وقت ہم ان کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں ہم اس لئے ساتھ ہیں کہ بٹالہ سے جہلم اور جہلم سے بٹالہ تک بحفاظت تمام ان کو واپس پہنچا دیں۔ ہمیں کیا معلوم ہے کہ تم دوست ہو یا دشمن۔ ممکن ہے کہ تم اس بھیس میں کوئی حملہ کر دو۔ اور نقصان پہنچاؤ۔ پس یہاں سے فوراً چلے جاؤ۔ یہ واقعہ حضرت صاحب کی نظر سے ذرا ہٹ کر ہوا تھا کیونکہ آپ اور طرف مصروف تھے اس کے بعد سٹیشن میں آپ کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ یوں بھی اس سفر میں آنحضور کے قدموں میں تھا حضور ہنس کر فرمانے لگے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا انتظام ہے جو اپنے وعدوں کو پورا کر رہا ہے
٩٤٦ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جس وقت لدھیانہ میں حضرت صاحب کا مباحثہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے ہوا۔ تو یہ مباحثہ دیکھ کر میاں نظام الدین لدھیانہ والا احمدی ہو کر قادیان میں آیا۔ وہ بیان کیا کرتا تھا کہ میں کس طرح احمدی ہوا۔ کہتا تھا کہ مولوی محمد حسین نے مجھ کو کہا کہ مرزا صاحب سے دریافت کرو کہ کیا حضرت مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر نہیں ہیں۔ میں نے جا کر حضرت صاحب سے دریافت کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ اگر آپ کے پاس حیات مسیح کا کوئی ثبوت ہو تو ایک دو آیات قرآن شریف سے لا کر پیش کریں۔ میں نے کہا۔ ایک دو کیا ہم تو ایک سو آیت قرآن شریف سے پیش کر دینگے آپ نے فرمایا جاؤ لاؤ۔ جب میں مولوی محمد حسین صاحب کے پاس آیا تو میں نے کہا کہ مرزا صاحب
سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 288، 289 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 214 پر درج ہے
حوالہ نمبر 173
٧٨٦
چنگا بھلا پھرتا تھا لیکن آسمان پر اس کے لیے ہلاکت کا حکم ہو چکا تھا۔ اس واسطے یہ بات ایسے طور پر بیان کی گئی کہ کام ہو چکا ہے۔ پہلے ایک معاملہ آسمان پر ہو جاتا ہے اور پھر زمین پر اس کا ظہور ہوتا ہے۔ ایسا ہی ہمارا الہام خُطِبَ الدِّیَارُ والا تھا یعنی مٹ گئے گھر۔ اگرچہ گیارہ ماہ پہلے یہ زلزلہ کی پیشگوئی تھی، تاہم چونکہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ زلزلہ ضرور آئے گا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مکانات مٹ گئے اور مسقف سب گر گئے اور نشان مٹ گئے۔ جو لوگ مثلاً پیسہ اخبار کے نامہ نگار وغیرہ اعتراض کرتے ہیں وہ اس محاورہ سے ناواقف اور جاہل ہیں یا جان بوجھ کر تعصب کے ساتھ ضد کرتے ہیں ورنہ یہ محاورہ سب زبانوں میں پایا جاتا ہے۔ آتھم کے متعلق جب ہم نے پیشگوئی کی تھی تو اس نے اس مجلس میں کہا تھا کہ میں تو مر گیا۔ باوجود عیسائی ہونے کے وہ ادب کا بہت لحاظ رکھتا تھا اور یہی سبب تھا کہ وہ ڈرتا رہا اور میعاد کے اندر مرنے سے بچ گیا۔ بوٹے کے متعلق یہی پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ ہلاک ہو گا۔ حالانکہ وہ پنجاب بدر کے بعد طاعون سے مرا تھا۔
فرمایا :
روح و ریحان سے مراد ہر قسم کی آسائش اور آسودگی ہوتی ہے۔
مبارک منہ کے مبارک الفاظ معناً
(رپورٹ شیخ عبدالرحیم صاحب)
بوقت ٨ بجے آپ باہر تشریف لائے۔ شیخ رحمت اللہ صاحب فوٹوگرافر اور مولوی صاحبان اور دیگر احباب وہاں موجود تھے۔ ادھر اُدھر کی باتوں میں آپ نے فرمایا کہ : ہم خدا کے مرسلین اور مامورین تو کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے بلکہ سچے مومن بھی بزدل نہیں ہوتے بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم پر مصیبتوں نے بار ہا حملے کئے مگر انہوں نے کبھی بزدلی نہیں دکھائی۔ خُدا تعالیٰ اُن کی نسبت فرماتا ہے۔ مِنْہُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْہُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا (الاحزاب ٢٤) یعنی جس ایمان پر انہوں نے کمر ہمت باندھی تھی اس کو بعض نے تو نبھا دیا اور بعض منتظر ہیں کہ کب موقعہ ملے اور
١؎ بدر جلد ١ نمبر ٨ صفحہ ٤ مورخہ ٢٥ مئی ١٩٠٥ء ۔ (یہ معلوم ہوتا ہے یہ پرچہ دیر سے شائع ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٢٦ تا ٣٠ مئی کی ڈائری اس میں چھپی ہے۔ (مرتب)
٢؎ اس ڈائری پر تاریخ نہیں لکھی۔ اندازاً ٢٤ تا ٢٧ مئی ١٩٠٥ء کی معلوم ہوتی ہے۔ ان دنوں میں شیخ رحمت اللہ صاحب قادیان میں موجود تھے۔ (مرتب)
ملفوظات جلد چہارم صفحہ 286 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 216 پر درج ہے
حوالہ نمبر 174
٦٥٠
فروری ١٨٩٢ء حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّلؓ بیان فرماتے تھے کہ :- "ایک دفعہ کسی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعودؑ سے کسی مخالف نے کوئی حوالہ طلب کیا... حضرت صاحبؑ نے بخاری کا ایک نسخہ منگوایا اور یونہی اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور جلد جلد ایک ایک ورق اُس کا اُلٹانے لگ گئے اور آخر ایک جگہ پہنچ کر آپؑ ٹھہر گئے اور کہا لو یہ دیکھ لو۔ دیکھنے والے سب حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے اور کسی نے حضرت صاحبؑ سے دریافت بھی کیا جس پر حضرت صاحبؑ نے فرمایا کہ "جب مَیں نے کتاب ہاتھ میں لے کر ورق اُلٹانے شروع کئے تو مجھے کتاب کے صفحات ایسے نظر آتے تھے کہ گویا وہ خالی ہیں اور اُن پر کچھ نہیں لکھا ہوا اسی لئے مَیں ان کو جلد جلد اُلٹاتا گیا۔ آخر مجھے ایک صفحہ ملا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ وہی حوالہ ہے جس کی مجھے ضرورت ہے"
(سیرت المہدی حصہ دوم روایت ٣٥٧ صفحہ ١٠٢)
١٨٩٢ء (الف) حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ میں فرمایا: "ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے خبر دے دی :-
اور یہ آٹھ سال جاکر ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر پورے ہو گئے"
(الفضل جلد ١٩ نمبر ٨٧ مورخہ ٥ اپریل ١٩٢٩ء صفحہ ٥)
(ب) حافظ حامد علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ ..... ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے :-
(سیرت المہدی حصّہ اوّل صفحہ ٧٥ روایت نمبر ٩٦ ایڈیشن دوم)
١؎ مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں: ”جہاں تک میری یاد مساعدت کرتی ہے..... یہ واقعہ لاہور میں ہوا تھا مولوی عبد الحکیم صاحب کلانوری سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ”محدثیت اور نبوت“ پر بحث ہو رہی تھی..... حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محدثیت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے بخاری کی اس حدیث کا حوالہ دیا جس میں حضرت عمرؓ کی محدثیت پر استدلال تھا۔ مولوی عبد الحکیم صاحب کے مددگاروں میں سے مولوی احمد علی صاحب نے حوالہ کا مطالبہ کیا اور بخاری خود بھیج دی۔ مولوی محمد احسن صاحب نے حوالہ نکالنے کی کوشش کی مگر نہ نکلا۔ آخر حضرت مسیح موعودؑ نے خود نکال کر پیش کیا..... جب حضرت صاحب نے یہ حدیث نکال کر دکھا دی تو فریقِ مخالف پر گویا ایک موت وارد ہو گئی..... اسی پر مباحثہ ختم کر دیا“
(سیرت المہدی حصّہ سوم صفحہ ٢٠٥)
٢؎ ملکہ وکٹوریہ کا انتقال ٢٢ جنوری ١٩٠١ء میں ہوا۔ (مرتب)
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 650 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 216 پر درج ہے
حوالہ نمبر 175
ٹائیٹل بار اول
اے قادر خدا اس گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور اُس سے نیکی کر جیسا کہ اُس نے ہم سے نیکی کی۔ آمین
کَشْفُ الغِطَاء
یعنے
ایک اسلامی فرقہ کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے بحضور گورنمنٹ عالیہ اِس فرقہ کے حالات اور خیالات کے بارہ میں اطلاع اور نیز اپنے خاندان کا کچھ ذکر اور اپنے مشن کے اصولوں اور ہدایتوں اور تعلیموں کا بیان اور نیز اُن لوگوں کی خلاف واقعہ باتوں کا رَدّ جو اس فرقہ کی نسبت غلط خیالات پھیلانا چاہتے ہیں۔
اور بحلف
تاجِ عزّت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈالکر بخِدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکّام کی جناب میں یہ گزارش کرتا ہے کہ براہِ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سُن لیا جائے
یہ رسالہ تالیف ہو کر ٢٧ دسمبر ١٨٩٨ء کو مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مالک مطبع کے طبع ہوا
تعداد ٣٥٠
کشف الغطاء ٹائٹل پیج مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 177 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 217 پر درج ہے
حوالہ نمبر 176
روحانی خزائن جلد ١٤ ٢١٤ کشف الغطاء
ضمیمہ رسالہ ھٰذا
قابل توجہ گورنمنٹ
مجھے اس رسالہ کے لکھنے کے بعد محمد حسین بٹالوی صاحب اشاعۃ السنہ کا انگریزی میں ایک رسالہ ملا جس کو اس نے مطبع وکٹوریہ پریس لاہور میں چھاپ کر بماہ ١٤ / اکتوبر ١٨٩٨ء میں شائع کیا ہے ۔ اس رسالہ کے دیکھنے سے مجھے بہت افسوس ہوا کیونکہ اس نے اس میں میری نسبت اور نیز اپنے اعتقاد مہدی کے آنے کی نسبت نہایت قابل شرم جھوٹ سے کام لیا ہے اور سراسر افتراء سے کوشش کی ہے کہ مجھے گورنمنٹ عالیہ کی نظر میں باغی ٹھہراوے لیکن اس صحیح اور سچے مقولہ کے رو سے کہ کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں جو آخر ظاہر نہ ہو میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری زیرک اور روشن دماغ گورنمنٹ جلد معلوم کر لے گی کہ اصل حقیقت کیا ہے ۔
اوّل امر جو محمد حسین نے خلاف واقعہ اپنے اس رسالہ میں میری نسبت گورنمنٹ میں پیش کیا ہے یہ ہے کہ وہ گورنمنٹ عالیہ کو اطلاع دیتا ہے کہ یہ شخص گورنمنٹ عالیہ کے لئے خطرناک ہے یعنی بغاوت کے خیالات دل میں رکھتا ہے ۔ لیکن میں زور سے کہتا ہوں کہ اگر میں ایسا ہی ہوں تو اس نمک حرامی اور بغاوت کی زندگی سے اپنے لئے موت کو ترجیح دیتا ہوں ۔ میں ادب سے توجہ دلاتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ میری نسبت اور میری تعلیم کی نسبت جہاں تک ممکن ہو کامل تحقیقات کرے اور میری جماعت کے اُن معزز عہدہ داروں اور دیسی افسروں اور رئیسوں اور دوسرے معزز اور تعلیم یافتہ لوگوں سے جن کی کئی سو تک تعداد ہے
کشف الغطاء صفحہ 38 تا 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 214 تا 216 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 218 پر درج ہے
حوالہ نمبر 176
روحانی خزائن جلد ١٤ ٢١٥ کشف الغطاء
حلفاً دریافت کرے کہ میں نے اس محسن گورنمنٹ کی نسبت کیا کیا ہدایتیں ان کو دی ہیں اور کس کس تاکید سے اس گورنمنٹ کی اطاعت کے لئے وصیتیں کی ہیں اور نیز گورنمنٹ اس مولوی یعنی محمد حسین کی اس شہادت کو غور سے دیکھے جو اس نے اپنی اشاعۃ السنہ میں جس کا ذکر اس رسالہ میں ہو چکا ہے میری کتاب براہین احمدیہ کے ریویو کی تقریب پر میرے خیالات اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ کے خیالات کی نسبت جو گورنمنٹ انگریزی کے متعلق ہیں اپنے ہاتھ سے لکھی ہے اور نیز میری ان تحریروں کو جو برابر انیس سال سے گورنمنٹ عالیہ کی تائید میں شائع ہو رہی ہیں غور سے ملاحظہ فرمادے اور ہر ایک پہلو سے میری نسبت تحقیقات کرے۔ پھر اگر میرے حالات گورنمنٹ کی نظر میں مشتبہ ہوں تو میں بدل چاہتا ہوں کہ گورنمنٹ سخت سے سخت سزا مجھ کو دیدے لیکن اگر میرے اصل حالات کے برخلاف یہ تمام
﴿ب﴾
رپورٹیں گورنمنٹ میں محمد حسین مذکور نے پہنچائی ہیں تو میں ایک وفادار اور خیر خواہ جان نثار رعیت ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ عالیہ میں بتمام تر ادب داد خواہ ہوں کہ محمد حسین سے مطالبہ ہو کہ کیوں اس نے ان صحیح واقعات کے برخلاف گورنمنٹ کو خبر دی جن کو وہ اپنے ریویو براہین احمدیہ میں تسلیم کر چکا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے بارہ سال تک برابر اس پہلی رائے کے برخلاف کوئی رائے ظاہر نہ کی اور اب دشمنی کے ایام میں مجھے باغی قرار دیتا ہے حالانکہ میں نے اس محسن گورنمنٹ کی خیر خواہی میں انیس سال تک اپنے قلم سے وہ کام لیا ہے اور ایسے طور سے ممالک دور دراز تک گورنمنٹ کی انصاف گستری کی تعریفوں کو پہنایا ہے کہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس کارروائی کی نظیر دوسروں کے کارناموں میں ہرگز نہیں ملے گی۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں اپنی عاجزانہ عرض گورنمنٹ پر ظاہر کروں کہ مجھے اس شخص کے ان خلاف واقعہ کلمات سے کس قدر صدمہ پہنچا ہے اور کیسے درد رساں زخم لگے ہیں۔ افسوس کہ اس شخص نے عمداً اور دانستہ گورنمنٹ کی خدمت میں میری نسبت نہایت ظلم سے بھرا ہوا جھوٹ بولا ہے اور میری تمام خدمات کو برباد کرنا چاہا ہے۔ اس دعوے کی میرے پاس پختہ وجوہات اور کامل شہادتیں اور گواہ موجود ہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ بوجہ اس کے کہ میں ایک
کشف الغطاء صفحہ 38 تا 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 214 تا 216 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 218 پر درج ہے
حوالہ نمبر 176
روحانی خزائن جلد ١٤ ٢١٦ کشف الغطاء
وفادار خاندان میں سے ہوں جنہوں نے اپنے مال سے اور جان سے گورنمنٹ پر اپنی اطاعت ثابت کی ہے۔ میری اس درد ناک فریاد کو یہ محسن گورنمنٹ غور سے توجہ فرماوے گی اور جھوٹ بولنے والے کو تنبیہ کرے گی۔
دوسرا امر جو اسی رسالہ میں محمد حسین نے لکھا ہے وہ یہ ہے کہ گویا میں نے کوئی الہام اس مضمون کا شائع کیا ہے کہ گورنمنٹ عالیہ کی سلطنت آٹھ سال کے عرصہ میں تباہ ہو جائے گی۔ میں اس بہتان کا جواب بجز اس کے کیا لکھوں کہ خدا جھوٹے کو تباہ کرے، میں نے ایسا الہام ہرگز شائع نہیں کیا۔ میری تمام کتابیں گورنمنٹ کے سامنے موجود ہیں میں بادب گذارش کرتا ہوں کہ گورنمنٹ اس شخص سے مطالبہ کرے کہ کس کتاب یا خط یا اشتہار میں میں نے ایسا الہام شائع کیا ہے؟ اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ اس کے اس فریب سے خبردار رہے گی کہ یہ شخص اپنے اس جھوٹے بیان کی تائید کے لئے یہ تدبیر نہ کرے کہ اپنی جماعت اور اپنے گروہ میں سے ہی جو مجھ سے اختلاف مذہب کی وجہ سے دلی عناد رکھتے ہیں جھوٹے بیان بطور شہادت گورنمنٹ تک پہنچاوے۔ اس شخص اور اس کے ہم خیال لوگوں کی میرے ساتھ کچھ آمد و رفت اور ملاقات نہیں تا میں نے ان کو کچھ زبانی کہا ہو۔ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں اپنی کتابوں میں اور اشتہاروں میں شائع کرتا ہوں۔ اور میرے خیالات اور میرے الہامات معلوم کرنے کے لئے میری کتابیں اور اشتہارات متکفل ہیں اور میری جماعت کے معززین گواہ ہیں۔ غرض میں بادب التماس کرتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ اس خلاف واقعہ مخبری کا اس شخص سے مطالبہ کرے۔ کپتان ڈگلس صاحب سابق ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپورہ مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں جو میرے پر دائر ہوا تھا لکھ چکے ہیں کہ یہ شخص مجھ سے عداوت رکھتا ہے اسی لئے جھوٹ بولنے سے کچھ بھی پرہیز نہیں کرتا۔
تیسرا امر جو اسی رسالہ میں محمد حسین نے لکھا ہے یہ ہے کہ یہ شخص مسیح موعود ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کے جواب میں اتنا لکھنا کافی ہے کہ جس طرح انبیاء علیہم السلام
کشف الغطاء صفحہ 38 تا 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 214 تا 216 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 218 پر درج ہے
حوالہ نمبر 177
٧٥
درخت کے پتوں کیطرف دیکھئے کیسے خوشنما ہیں۔ حاجی صاحب کہتے ہیں کہ نیز اس وقت دیکھا کہ آپکی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں ۔
(949)
٭ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا ہم سے حاجی عبدالمجید صاحب نے کہ ایک دفعہ جب ازالہ اوہام شایع ہوئی ہے۔ حضرت صاحب لدھیانہ میں باہر چہل قدمی کے لئے تشریف لے گئے ۔ میں اور حافظ حامد علی ساتھ تھے۔ راستہ میں حافظ حامد علی نے مجھ سے کہا کہ آج رات یا کہا ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ ”سلطنت برطانیہ تا ہشت سال بعد ازاں ایام ضعف و اختلال“۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرا خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے حضرت صاحب نے خود مجھے اور حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا۔ اور مجھے الہام اس طرح پر یاد ہے۔ ”سلطنت برطانیہ تا ہفت سال۔ بعد ازاں ایام خلاف و اختلال “ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا۔ اور ہفت کا لفظ بھی یاد ہے۔ جب یہ الہام ہمیں حضرت صاحب نے سنایا تو اسوقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیں تھا۔ شیخ حامد علی نے اسے بھی جا سنایا۔ پھر جب وہ مخالف ہوا۔ تو اسنے حضرت صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لئے اپنے رسالہ میں شایع کیا۔ کہ مرزا صاحب نے یہ الہام شایع کیا ہے خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ میاں عبداللہ صاحب اور حاجی عبدالمجید صاحب کی روایت میں جو اختلاف ہے ۔ وہ اگر کسی صاحب کے ضعف حافظہ پر مبنی نہیں۔ تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الہام حضور کو دو وقتوں میں دو مختلف قرأتوں پر ہوا ہو ۔ واللہ اعلم۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کے مختلف معنی کئے گئے ہیں۔ بعضوں نے تاریخ الہام سے میعاد شمار کی ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد سے اسکی میعاد شمار ہوتی ہے۔ کیونکہ ملکہ کے لئے حضور نے بہت دُعائیں کی تھیں۔ بعض اور معنے کرتے ہیں۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے ۔ کہ میرے نزدیک آغاز صدی بیسویں سے اسکی میعاد شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے۔ کہ واقعات اسکی تصدیق کرتے ہیں۔ اور
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 76,75 از مرزا بشیر احمد ایم اے | یہ حوالہ صفحہ 221 پر درج ہے
حوالہ نمبر 177
٧٦
واقعات کے ظہور کے بعد ہی میں نے اسکے یہ معنے سمجھے ہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے نزدیک یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ حضرت صاحب کی وفات سے اسکی میعاد شمار کی جاوے۔ کیونکہ حضرت صاحب نے اپنی ذات کو گورنمنٹ برطانیہ کے لئے بطور حرز کے بیان کیا ہے۔ پس حرز کی موجودگی میں میعاد کا شمار کرنا میرے خیال میں درست نہیں۔ اس طرح جنگ عظیم کی ابتداء اور ہفت یا ہشت سالہ میعاد کا اختتام آپس میں مل جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم لوگوں پر بڑے احسانات ہیں۔ ہمیں دعا کرنی چاہئیے۔ کہ اللہ تعالیٰ اسے فتنوں سے محفوظ رکھے۔ (نیز اس روایت کی مزید تشریح کے لئے دیکھو حصہ دوم۔ روایت ٤٣٧) X
(٩٧)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ١٨٨٩ء میں لدھیانہ میں بیعت کا اعلان کیا تو بیعت لینے سے پہلے آپ شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کے بلانے پر اسکے لڑکے کی شادی پر ہوشیار پور تشریف لے گئے۔ میں اور میر عباس علی اور شیخ حامد علی ساتھ تھے۔ راستہ میں کپور تھلہ میں ہم کو اپنے اس چلہ کا حال سنایا جس میں آپ نے برابر چھ ماہ تک روزے رکھے تھے حضرت صاحب فرماتے تھے کہ حجرہ میں تو ایک چھینکا رکھا ہوا تھا۔ جسے میں اپنے چوبارے سے نیچے لٹکا دیتا تھا۔ تو اس میں میری روٹی رکھ دی جاتی تھی۔ پھر میں اوپر کھینچ لیتا تھا۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ شیخ مہر علی نے یہ انتظام کیا تھا۔ کہ دعوت میں کھانے کے وقت رؤسا کیواسطے الگ کمرہ تھا۔ اور اُن کے ساتھیوں اور خدام کیواسطے الگ تھا۔ مگر حضرت صاحب کا یہ قاعدہ تھا کہ اپنے ساتھ والوں کو ہمیشہ اپنے ساتھ بٹھایا کرتے تھے۔ چنانچہ اس موقعہ پر بھی آپ ہم تینوں کو اپنے داخل ہونے سے پہلے کمرہ میں داخل کرتے تھے اور پھر خود داخل ہوتے تھے۔ اور اپنے دائیں بائیں ہمکو بٹھاتے تھے۔ انہی دنوں میں ہوشیار پور میں مولوی محمود شاہ چھپرہڑوی کا وعظ تھا۔ جو نہایت مشہور اور نامور اور مقبول واعظ تھا۔ حضرت صاحب نے میرے ہاتھ بیعت کا اشتہار دے کر انہیں کہلا بھیجا کہ آپ اپنی جگہ پر کسی وقت کسی مناسب موقعہ پر یہ اشتہار بیعت پڑھ کر سنا دیں اور میں خود بھی آپکے
یہ حوالہ صفحہ 221 پر درج ہے سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 76,75 از مرزا بشیر احمد ایم اے
حوالہ نمبر 178
٧٥
درخت کے پتوں کیطرف دیکھئے کیسے خوشنما ہیں ۔ حاجی صاحب کہتے ہیں کہ مَیں اس وقت دیکھا کہ آپکی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں +
(٧٩١)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا ہم سے حاجی عبدالمجید صاحب نے کہ ایک دفعہ جب ازالہ اوہام شایع ہوئی ہے۔ حضرت صاحب لدھیانہ میں باہر چہل قدمی کے لیئے تشریف لے گئے ۔ مَیں اور حافظ حامد علی ساتھ تھے ۔ راستہ میں حافظ حامد علی نے مجھ سے کہا کہ آج رات یا کہا ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ ” سلطنتِ برطانیہ تا ہشت سال بعد ازاں ایامِ ضعف و اختلال“ ۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے حضرت صاحب نے خود مجھے اور حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا۔ اور مجھے الہام اس طرح پر یاد ہے۔ ”سلطنت برطانیہ تا ہشت سال ۔ بعد ازاں ایامِ خلاف و اختلال“ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا۔ اور ہشت کا لفظ بھی یاد ہے۔ جب یہ الہام ہمیں حضرت صاحب نے سنایا تو اسوقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیں تھا۔ شیخ حامد علی نے اسے بھی جا سنایا۔ پھر جب وہ مخالف ہوا۔ تو اسنے حضرت صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لئے اپنے رسالہ میں شایع کیا۔ کہ مرزا صاحب نے یہ الہام شایع کیا ہے خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ میاں عبداللہ صاحب اور حاجی عبدالمجید صاحب کی روایت میں جو اختلاف ہے ۔ وہ اگر کسی صاحب کے ضعیف حافظہ پر مبنی نہیں۔ تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الہام حضور کو دو وقتوں میں دو مختلف قرأتوں پر ہوا ہو۔ واللہ اعلم ۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کے مختلف معنی کئے گئے ہیں ۔ بعضوں نے تاریخ الہام سے میعاد شمار کی ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد سے اسکی میعاد شمار ہوتی ہے۔ کیونکہ ملکہ کے لیئے حضور نے بہت دعائیں کی تھیں۔ بعض اور معنے کرتے ہیں۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے ۔ کہ میرے نزدیک آغاز صدی بیسویں سے اسکی میعاد شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے ۔ کہ واقعات اسکی تصدیق کرتے ہیں ۔ ١٢
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 75 از مرزا بشیر احمد یہ حوالہ صفحہ 222 پر درج ہے
حوالہ نمبر 179
٧٥
درخت کے پتوں کیطرف دیکھئے کیسے خوشنما ہیں ۔ حاجی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اس وقت دیکھا کہ آپکی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں ۔
(99)
٩٩ ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا ہم سے حاجی عبدالمجید صاحب نے کہ ایک دفعہ جب ازالہ اوہام شایع ہوئی ہے۔ حضرت صاحب لدھیانہ میں باہر چہل قدمی کے لیئے تشریف لے گئے ۔ میں اور حافظ حامد علی ساتھ تھے ۔ راستہ میں حافظ حامد علی نے مجھ سے کہا کہ آج رات یا کہا ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ " سلطنت برطانیہ تا ہشت سال بعد ازاں ایام ضعف و اختلال" خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرا خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے حضرت صاحب نے خود مجھے اور حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا ۔ اور مجھے الہام اس طرح پر یاد ہے " سلطنت برطانیہ تا ہشت سال ۔ بعد ازاں ایام خلاف و اختلال " میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا ۔ اور ہشت کا لفظ بھی یاد ہے۔ جب یہ الہام ہمیں حضرت صاحب نے سنایا تو اسوقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیں تھا۔ شیخ حامد علی نے اسے بھی جان لیا ۔ پھر جب وہ مخالف ہوا ۔ تو اسنے حضرت صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لئے اپنے رسالہ میں شایع کیا ۔ کہ مرزا صاحب نے یہ الہام شایع کیا ہے خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ میاں عبداللہ صاحب اور حاجی عبدالمجید صاحب کی روایت میں جو اختلاف ہے ۔ وہ اگر کسی صاحب کے ضعیف حافظہ پر مبنی نہیں۔ تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الہام حضور کو دو وقتوں میں دو مختلف قرأتوں پر ہوا ہو۔ واللہ اعلم ۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کے مختلف معنی کئے گئے ہیں۔ بعضوں نے تاریخ الہام سے میعاد شمار کی ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد سے اسکی میعاد شمار ہوتی ہے۔ کیونکہ ملکہ کے لیئے حضور نے بہت دعائیں کی تھیں۔ بعض اور معنے کرتے ہیں۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے ۔ کہ میرے نزدیک آغاز صدی بیسویں سے اسکی میعاد شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے ۔ کہ واقعات اسکی تصدیق کرتے ہیں ۔ اور
سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 75 از مرزا بشیر احمد
یہ حوالہ صفحہ 222 پر درج ہے
حوالہ نمبر 180
٦٥١
(ج) میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ :۔ ”مجھے (یہ) الہام اس طرح پر یاد ہے :۔
(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ٧٥ روایت نمبر ٩٦ ایڈیشن دوم)
(د) صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بیان کیا :۔ ”میں نے حضرت سے یہ الہام اس طرح پر سُنا ہے :۔
(سیرت المہدی حصہ دوم صفحہ ٩ روایت نمبر ٣١٤)
غالبًا ١٢؍ جولائی ١٨٩٢ء (خواب میں) ”لَهُ تَبٌّ وَّسَبٌّ وَّافْتِضَاحٌ ١؎“
(پنسلی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
١٢؍ اکتوبر ١٨٩٢ء ”يُصْلِحُ اللہُ جَمَاعَتِيْ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالٰی ٣؎“
(پنسلی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
٢١؍ مارچ ١٨٩٣ء ”کل شب کو ایک خواب اور کچھ تحریری طور پر لکھا ہوا پیش ہوا، لکھا ہوا تو سوائے ن و ص کے اور کچھ پڑھا نہ گیا اور خواب بھی سارا یاد نہیں رہا آخری فقرہ یاد رہا وہ یہ تھا :۔ ”اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ٤؎“
(از مکتوب مرزا خدا بخش صاحب مندرجہ ”اصحاب احمد“ مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے حصہ دوم صفحہ ١٦١ حاشیہ)
١؎ (ترجمہ از مرتب) اس کے لئے ہلاکت اور گالیاں اور ذلت ہے۔
٢؎ یہ پنسلی بیاض عبدالرحمٰن صاحب سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ ربوہ کے پاس موجود تھی جو ان کے والد مرحوم ماسٹر نعمت اللہ صاؓ سیالکوٹی کو مرزا محمود بیگ صاحب آف پٹی نے دی تھی اور ان کا بیان ہے کہ یہ بیاض انہیں حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطا فرمائی تھی۔ اس کی فوٹو کاپی خلافت لائبریری میں موجود ہے۔ (مرتب)
٣؎ (ترجمہ از مرتب) اللہ تعالیٰ میری جماعت کی اصلاح کر دے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
٤؎ (ترجمہ از مرتب) یقیناً اللہ تعالیٰ علیم حکیم ہے۔
تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 651 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 223 پر درج ہے
حوالہ نمبر 181 روحانی خزائن جلد ١٤ ٢٢٥ کشف الغطاء
پس اگر ہم محمد حسین کی طرح یہ اعتقاد رکھیں کہ ہم صرف پولیٹیکل طور پر اور ظاہری مصلحت کے لحاظ سے یعنی منافقانہ طور پر انگریزوں کے مطیع ہیں ورنہ دل ہمارے سلطان کے ساتھ ہیں کہ وہ خلیفہ اسلام اور دینی پیشوا ہے اس کے خلیفہ ہونے کے انکار سے اور اس کی نافرمانی سے انسان کافر ہو جاتا ہے تو اس اعتقاد سے بلاشبہ ہم گورنمنٹ انگریزی کے چھپے باغی اور خدا تعالیٰ کے نافرمان ٹھہریں گے۔ تعجب ہے کہ گورنمنٹ ان باتوں کی تہ تک کیوں نہیں پہنچتی اور ایسے منافق پر کیوں اعتبار کیا جاتا ہے کہ جو گورنمنٹ کو کچھ کہتا ہے اور مسلمانوں کے کانوں میں کچھ پھونکتا ہے۔ میں گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں ادب سے عرض کرتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ غور سے اس شخص کے حالات پر نظر کرے کہ یہ کیسے منافقانہ طریقوں پر چل رہا ہے، اور جن باغیانہ خیالات میں آپ مبتلا ہے وہ میری طرف منسوب کرتا ہے۔
بالآخر یہ بھی لکھنا ضروری ہے کہ جس قدر اس شخص نے مجھے گندی گالیاں دیں اور محمد بخش جعفر زٹلی سے دلائیں اور طرح طرح کے افترا سے میری ذلت کی اس میں میری فریاد جناب الٰہی میں ہے جو دلوں کے خیالات کو جانتا ہے اور جس کے ہاتھ میں ہر ایک کا انصاف ہے میں خدا سے یہی چاہتا ہوں کہ جس قسم کی میری ذلت جھوٹے بہتانوں سے اس شخص نے کی یہاں تک کہ گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں مجھے باغی ٹھہرانے کے لئے خلاف واقعہ باتیں بیان کیں وہی ذلت اس کو پیش آوے۔ میرا ہرگز یہ مدعا نہیں ہے کہ بجز طریق جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا ١؎ کے کسی اور ذلت میں یہ مبتلا ہو بلکہ میں مظلوم ہونے کی حالت میں یہی چاہتا ہوں کہ جو کچھ میرے لئے اس نے ذلت کے سامان کئے ہیں اگر میں ان تہمتوں سے پاک ہوں تو وہ ذلتیں اس کو پیش آویں۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ بہت حلیم اور حتی المقدور چشم پوشی کرنے والی ہے لیکن اگر میں بقول محمد حسین باغی ہوں یا جیسا کہ میں نے معلوم کیا ہے کہ خود محمد حسین کے ہی باغیانہ خیالات ہیں تو گورنمنٹ کا فرض ہے کہ کامل تحقیقات کر کے جو شخص ہم دونوں میں سے درحقیقت مجرم ہے
١؎ یونس: ٢٨
کشف الغطاء صفحہ 49 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 225 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 223 پر درج ہے
حوالہ نمبر 182
روحانی خزائن جلد ١٤ ٢٢١ کشف الغطاء
میں گورنمنٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس مسئلہ میں اس شخص کے کھانے کے دانت اور اور دکھانے کے اور ہیں۔ اپنے ہم جنس مولویوں پر اُن کے خیال کے موافق اپنا عقیدہ ظاہر کرتا ہے اور پھر جب گورنمنٹ کے دکھلانے کے لئے تحریر کرتا ہے تو وہاں گورنمنٹ کو خوش کرنے کے لئے یہ عقیدہ بیان کر دیتا ہے کہ ’’میں نہیں مانتا کہ کوئی مہدی آئے گا اور لڑائیاں کرے گا‘‘۔ لیکن اگر یہ مہدی کو نہیں مانتا تو دوسرے مولویوں کا جو مانتے ہیں کیونکر سرگروہ اور ایڈوکیٹ کہلاتا ہے؟ ان باتوں کا انصاف گورنمنٹ عالیہ کے ہاتھ میں ہے۔ میرے نزدیک گورنمنٹ ہم دونوں کی اصلیت تک اس صورت میں بآسانی پہنچے گی کہ ہم دونوں کے اپنے روبرو اور دوسرے مولویوں کے روبرو اس مقدمہ میں اظہار لے۔ اس وقت جو منافقانہ طرز کا آدمی ہوگا اس کی تمام حقیقت کھل جائے گی۔ لہٰذا
با ادب التماس ہے
کہ یہ فیصلہ ضرور کیا جائے جب کہ یہ فاش جھوٹ اس نے اختیار کیا ہے تو کیونکر اطمینان ہو کہ جو دوسری باتیں گورنمنٹ تک پہنچاتا ہے ان میں سچ بولتا ہے؟ منہ
تــــــمــــــت
کشف الغطاء صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 221 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 223 پر درج ہے
حوالہ نمبر 183
٤٠٠
میں تو بار بار یہی کہتا ہوں کہ ہمارا طریق تو یہ ہے کہ نئے سرے سے مسلمان بنو۔ پھر اللہ تعالیٰ اصل حقیقت خود کھول دے گا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اگر وہ امام جن کے ساتھ یہ اس قدر محبت کا غلو کرتے ہیں زندہ ہوں ، تو اُن سے سخت بیزاری ظاہر کریں۔
جب ہم ایسے لوگوں سے اعراض کرتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا اعتراض کیا، جس کا جواب نہ آیا اور پھر بعض اوقات اشتہار دیتے پھرتے ہیں۔ مگر ہم ایسی باتوں کی کیا پروا کر سکتے ہیں ۔ ہم کو تو وہ کرنا ہے جو ہمارا کام ہے ۔ اس لیے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مُردہ علی کی تلاش کرتے ہو ١؎
٨؍دسمبر ١٩٠٦ء
ایک الہام اور اپنی وحی پر یقین
فرمایا ! کل رات میری انگلی کے پوٹے میں درد تھا اور اس شدّت کے ساتھ درد تھا کہ مجھے خیال آیا تھا کہ رات کیونکر بسر ہوگی ۔ آخر ذرا سی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا۔ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًا ۔ اور سَلَامًا کا لفظ ابھی ختم نہ ہونے پایا تھا کہ سارا درد جاتا رہا ایسا کہ کبھی ہوا ہی نہیں تھا ۔
نیز فرمایا کہ : ہم کو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے ۔ اس قدر یقین اور علیٰ وجہ البصیرۃ یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے جس قسم کی چاہو، قسم دے دو۔ بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر مَیں اس بات کا انکار کروں ، یا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو پکا کافر ہو جاؤں ٢؎
١٣؍ دسمبر ١٩٠٦ء
نصرتِ الٰہی فیصلہ کُن قاضی ہے
الٰہی بخش لاہوری مخالف کی کتاب ’عصائے موسیٰ ‘تمام و کمال پڑھ کر حضرت اقدسؑ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کی فضولیات کو چھوڑ کر چند گھنٹوں کا کام ہے اس کا جواب دے دینا، لیکن مَیں
- ١؎ الحکم جلد ١٠ نمبر ٤١ صفحہ ٢۔١ مورخہ ١٧؍نومبر ١٩٠٦ء
- ٢؎ الحکم جلد ١٠ نمبر ٤٤ صفحہ ٦ مورخہ ١٠؍ دسمبر ١٩٠٦ء
ملفوظات جلد اول صفحہ 400 طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 224 پر درج ہے
حوالہ نمبر 184
روحانی خزائن جلد ١٩ ٢٨٤ مواہب الرحمٰن
ملوک الإسلام مع وهنهم وغفلتهم فى الدين، بل يغضب غضبا شديدًا ملوک اسلام نخواہد کرد با وجود سستی و غفلت اوشاں بلکہ سخت غضب خواہد کرد ويؤثر الكافرين على المسلمين . ذالك بأنهم نسوا حدود الله ولا يبالون أمر و کافران را بر مسلمانان اختیار خواہد نمود۔ وایں برائے ایں خواہد بود کہ اوشاں حدودِ خدا وند فراموش ربهم وليسوا من المتقين . يؤمنون ببعض القرآن ويكفرون ببعض، ولا کردند و متقی نیستند ۔ بر یک حصہ قرآن ایمان مے آرند و از حصہ دیگر منکر اند ۔ و يُشيعون الحق بل يعيشون كالمنافقين . هذا بال أهل الزمان، ثم ينكرون حق را شائع نمے کنند و ہمچو منافقان زندگی بسر مے کنند۔ ایں حال اہل زمانہ است۔ باز انکار مے کنند ويكذبون بعد بُعث من الرحمن . أَعَجِبوا أن جاء هم منذر منهم فى وقت و تکذیب شخصی مے کنند کہ از خدا مبعوث شدہ است ۔ چہ تعجب کردہ اند کہ نزد شاں نذیرے ہم ازیشاں در وقت ﴿٢٢﴾ فقد الناس فيه حقيقة الإيمان؟ أم يقولون افتراه و قد رأوا آياتي ثم فقدان حقیقت ایمان رسید ۔ چہ مے گویند کہ افترا کردہ است و تحقیق دیدہ اند نشانہائے من ألقوها وراء حجب النسيان؟ أيها الناس .. أرأيتم إن كنتُ من عند الله باز انداختند پس پردہ ہائے نسیان۔ اے مردمان آیا غور کردہ اید کہ اگر من از خدا ہستم وكفرتم بى .. فأيُّ خُسْرٍ أكبر من هذا الخسران؟ أتريدون أن أضرب عنكم و شما انکار من کردہ اید پس کدام زیان ازیں زیان بزرگتر است۔ چہ ارادہ میکنید کہ من بشما از رسانیدن الذكر صفحًا بعد ما أمرتُ للإنذار؟ وما كان لمرسل أن يكلّمه الله ويأمره وحی خود رو بگردانم بعد از انکہ مامور شدم برائے ترسانیدن ۔ و مجال ہیچ مرسل نیست کہ خدا با وے کلام کند و حکم فرماید ثم يخفى أمر ربه خوفًا من الأشرار . فاتقوا الله، ولا تقدّموا بين يديه باز آں مرسل از شریران ترسیدہ حکم خدا را پوشیدہ دارد۔ پس بترسید از خدا و از و گام خود پیش منہید ولا تصرّوا على الظن كل الإصرار . و بر گمان بکمال مصر نباشید ۔
مواہب الرحمٰن ص 66، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 284 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 224 پر درج ہے
حوالہ نمبر 185
٤٤٦
بدر ٥ مارچ
امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفا نہیں رکھنا چاہیے
ایک شخص بھائی نے اپنا قصّہ سنایا کہ ایک نواب پٹیالہ نے جو شیعہ ہے ان سے آپ کے بارے میں چند سوال کئے اور انکے میں نے یہ جواب دیئے۔
مرزا صاحب کا آلِ نبی کے بارے میں کیا عقیدہ ہے۔ ہم سنتے ہیں کہ وہ ان کی توہین کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ان کا ایک شعر ہے ؎
خاکم نثارِ کوچۂ آلِ محمّد است
دوم یہ کہ یزید کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے۔ انہوں نے یہ شعر پڑھا۔
دین حق بیمار و بیکس ، ہمچو زین العابدین
جب اس طرح کوئی اعتراض کا موقعہ نہ پایا تو پوچھا کہ تم ان کے نہ ماننے والوں کو کیا سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ جو مہدی موعود کے مخالفین کو سمجھنا چاہیے اور جو کچھ اہلِ سنت و شیعہ سمجھتے ہیں۔
پوچھا کہ رسالت کے مدعی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ان کا ایک شعر ہے ؎
ہاں ملہم استم و ز خداوند منذرم
اس پر دوسرے روز فرمایا کہ اس کی تشریح کر دینا تھا کہ ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحبِ کتاب ہو۔ دیکھو جو امور ہما رے ذمے ہیں سو ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہیے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہلِ حق کا قاعدہ نہیں۔ صحابہ کرام کے طرزِ عمل پر نظر کرو۔ وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا وہ صاف صاف کہہ دیا۔ اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجکے یہی وہ لَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَائِمٍ (المائدۃ: 55) کے مصداق ہوئے۔
٭ ٭ ٭
١ یہ 1901ء کا واقعہ ہے اور اسی پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’ایک غلطی کا ازالہ‘ لکھا تھا۔ (مرتب)
ملفوظات جلد پنجم، صفحہ 446، بتاریخ 3 فروری 1908ء طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 224 پر درج ہے
حوالہ نمبر 186
مکتوبات احمد ٤٨٧ جلد اوّل
دوسرے یہ کہ چونکہ آسمان سے ایک انقلاب کا ارادہ ہو رہا ہے کہ تا غلط کار اور بدعتی مسلمانوں کو کم کرے اور سچے مسلمان جو کتاب اللہ کے موافق چلتے ہیں ان کو زیادہ کرے تو پھر آپ دنیا کے اسباب سے ڈر کر کیوں اس سلسلہ سے دور رہتے ہیں؟ کیا بجز خدا تعالیٰ کے کوئی اور بھی قادر ہے جس سے ڈرنا چاہئے؟ یقین ہے کہ اگر آپ سچے دل سے، پورے جوش سے، پورے صدق سے، پوری وفا سے اس سلسلہ میں داخل ہوں تو کچھ مدت کے بعد خدا تعالیٰ آپ کیلئے کچھ بندوبست کر دے گا کیونکہ زمین و آسمان دونوں اس کے اختیار میں ہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کھلے کھلے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کیا اور اپنے مال و دولت اور اقارب کی کچھ بھی پرواہ نہ کی آخر تیس برس کے بعد خدا نے ان کو بادشاہ کر دیا ۔ جو شخص مرد بن کر خدا کی طرف آتا ہے اس پر رحم کیا جاتا ہے گو کچھ دیر کے بعد ہی ہو ۔ اور جو شخص مخلوق سے ڈرتا ہے اس کی عزت جناب الٰہی میں نہیں ہوتی کیونکہ وہ شرک پر ہے مخلوق کو خدا کا شریک سمجھتا ہے۔ ایسا شخص ہمیشہ ناقص الدین رہتا ہے ۔ مداہنہ سے زندگی بسر کرتا ہے ۔ صحبت میں نہیں رہ سکتا ۔ ڈرتا ہے کہ کسی کو اطلاع نہ ہو ۔ دیکھو طاعون کے دن ہیں ۔ غضب الٰہی مشتعل ہے ۔ اوّل حق کو خوب تحقیق کر لو اور پھر اپنی سب عزت اس پر قربان کر دو اور اس کے لئے دکھ اٹھاؤ، گالیاں سنو تا آسمان پر تمہاری عزت ہو اور عقدہ سربستہ کھل جائے ۔☆
والسلام
غلام احمد
١٧؍ جون ١٩٠٢ء
☆......☆......☆
☆ اخبار بدر ١٩؍ اپریل ١٩٠٦ء
مکتوبات احمد جلد اوّل، صفحہ 487، طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 224 پر درج ہے
حوالہ نمبر 187
روحانی خزائن جلد ١٦ ٤٦٤ لجۃ النور
يَدَّعُون أنهم فاقوا الكل فى الفقه والحديث والأدب. و دعویٰ می کنند کہ ایشاں در فقہ و حدیث و ادب از ہمہ فائق تر اند۔و نَسَلُوا من كل أنواع الحَدَب ، وَلَيْسَ لهم خبر من حقائق بر ہر بلندی کمال دویدہ اند۔حالانکہ ہیچ خبر از حقیقت ہائے دین ایشاں را الدين، ولا نَظَرٌ فى حدائق الشرع المتين، وما أعطى لهم قدرة نیست۔و نہ نظر بر باغہائے شرع متین است۔ و نہ ایشاں را قوت دادہ شد على أن يكتبوا عبارةً غَرّاء، و لا قوّة ليفترعوا رسالةً عذراء. کہ عبارتے روشن بنویسند۔ و نہ قوت کہ تا بکارت برند رسالہ دوشیزہ را۔ وما أجد أحدا منهم يعارضنى فى الإملاء، ويبارزني فى تنقيح و ہیچ کس را از ایشاں نمی بینم کہ با من در املاء۔ و در تنقیح انشاء باہم معارضہ کند۔ الإنشاء. وقد قلتُ لهم مرارًا إننى أنا المُفْلِق الوحيد من و من بارہا ایشاں را گفتم کہ من از نویسندگان ایں زمانہ ماہر یگانہ ہستم۔ كُتّاب هذه الأوان، والمنفرد بعلم معارف القرآن، ولى غلبة ویکتا در علم معارف قرآن۔ و مرا بر اولین ﴿١٢٢﴾ على الأواخر والأوائل، ولَو جاء نى سَحْبَانُ وائل كالسائل * و آخرین غلبہ است۔ و اگرچہ سحبان وائل مثل سوال کنندہ نزد من بیاید
الحاشية * كلما قلت من كمال بلاغتى فى البيان. فهو بعد كتاب الله ہمہ آنچہ دربارہ بلاغت خود گفتم ۔پس آں بعد کتاب اللہ قرآن شریف القرآن. وإنه معجزة جليل الشأن عظيم اللمعان قوى البرهان. و است۔ و آں معجزہ بزرگ شاں دارد و بزرگ روشنی دارد و زبردست برہان دارد إنه فائق الكلُّ ببيان لطيف ومعنى شريف، وكالبرق الخاطف چرا کہ او از روئے بیان لطیف ومعنی بزرگ برہمہ فوقیت میدارد۔وہمچو آں برق کہ
لجۃ النور صفحہ 128 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 464 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 225 پر درج ہے
حوالہ نمبر 188
روحانی خزائن جلد ٨ ٤١٥ سرّ الخلافة
کر دے کہ فرشتوں کا نزول اسی طرح ہوتا ہے کہ وہ اپنے وجود کو آسمان سے خالی کر دیں تو ہم بخوشی اس ثبوت کو سنیں گے اور اگر در حقیقت ثبوت ہو گا تو ہم اس کو قبول کر لیں گے۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے فرشتوں کا وجود ایمانیات میں داخل ہے۔ خدا تعالیٰ کا نزول سماء الدنیا کی طرف اور فرشتوں کا نزول دونوں ایسی حقیقتیں ہیں جو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ ہاں کتاب اللہ سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ خلق جدید کے طور پر زمین پر فرشتوں کا ظہور ہو جاتا ہے دحیہ کلبی کی شکل میں جبرئیل کا ظاہر ہونا خلقِ جدید تھا یا کچھ اور تھا۔ پھر کیا یہ ضرور ہے کہ پہلی خلق کو نابود کر لیں پھر خلق جدید کے قائل ہوں بلکہ پہلا خلق بجائے خود آسمان پر ثابت اور قائم ہے اور دوسرا خلق
﴿٨٢﴾
خدا تعالیٰ کی وسیع قدرت کا ایک نتیجہ ہے کیا خدا تعالیٰ کی قدرت سے بعید ہے کہ ایک وجود دو جگہ دو جسموں سے دکھاوے۔ حاشا وکلا ہر گز نہیں۔ الم تعلم ان اللہ علی کل شیء قدیر۔
پھر شیخ بٹالوی صاحب نے اپنی دانست میں ہماری کتاب تبلیغ کی کچھ غلطیاں نکالی ہیں اور ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ تعصب کے جوش سے یا نادانی کی وجہ سے صحیح اور با قاعدہ ترکیبوں اور لفظوں کو بھی غلطی میں داخل کر دیا۔ اگر اس امر کے لئے کوئی خاص مجلس مقرر ہو تو ہم ان کو سمجھاویں کہ ایسی شتاب کاری سے کیا کیا ندامتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ قیامت کی نشانیاں ظاہر ہو گئیں۔ یہ علم اور نام مولوی انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ وہ غلطیاں جو انہوں نے بڑی جانکاہی سے نکالی ہیں اگر وہ تمام اکٹھی کر کے لکھی جائیں تو دو یا ڈیڑھ سطر کے قریب ہوں گی اور ان میں اکثر تو سہو کاتب ہیں اور تین ایسی غلطیاں جو بوجہ نہ میسر آنے نظر ثانی یا طفرہ نظر کے رہ گئی ہیں اور باقی شیخ صاحب کی اپنی عقل کی کوتاہی اور سمجھ کا گھاٹا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شیخ صاحب نے کبھی لسان عرب کی طرف توجہ نہیں کی۔ بہتر تھا کہ چپ رہتے اور اور بھی اپنی پردہ دری نہ کراتے۔ ہمیں شوق ہی رہا کہ شیخ صاحب ہماری کتابوں کے مقابل پر کوئی فصیح بلیغ رسالہ نظم اور نثر میں نکالیں اور ہم سے انعام لیں اور ہم سے اقرار کرا لیں کہ در حقیقت وہ مولوی اور عربی دان ہیں۔
میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ یہ رسائل جو لکھے گئے ہیں تائید الٰہی سے لکھے گئے ہیں۔
سرالخلافہ صفحہ 101، 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 415، 416 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 225 پر درج ہے
حوالہ نمبر 188 روحانی خزائن جلد ٨ ٤١٦ سرّالخلافۃ
مَیں ان کا نام وحی اور الہام تو نہیں رکھتا مگر یہ تو ضرور کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی خاص اور خارق عادت تائید نے یہ رسالے میرے ہاتھ سے نکلوائے ہیں۔ میں نے کئی مرتبہ شائع کیا کہ اگر شیخ صاحب موصوف جن کی نسبت میرا اعتقاد ہے کہ وہ خذلان میں پڑے ہوئے ہیں اور علم عربیت سے کسی اتفاق سے محروم رہ گئے ہیں مقابلہ کر کے دکھلا دیں تو وہ اس مقابلہ سے میرے ان تمام دعاوی کو نابود کر دیں گے۔ مگر شیخ صاحب کیوں اس طرف متوجہ نہیں ہوتے کونسی مصیبت ہے جو ان کو مانع ہے۔ بس یہی مصیبت ہے کہ وہ لسان عرب سے بے بہرہ اور آج کل خذلان کی حالت میں مبتلا ہیں۔ ان کے لئے ہرگز ممکن نہ ہوگا کہ مقابلہ کر سکیں۔ یہ وہی الہام ہے جو ظہور کر رہا ہے کہ اِنّی مھین من اراد اھانتک یہ وہی محمد حسین ہے جو اس عاجز کی نسبت جا بجا کہتا پھرتا تھا کہ یہ شخص سخت جاہل ہے۔ عربی کیا ایک صیغہ تک اس کو نہیں آتا اور وہ اعلیٰ درجہ کے فاضل جو میرے ساتھ ہیں ان کو کہتا تھا کہ یہ لوگ صرف منشی ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کی غیرت نے تقاضا کیا کہ اس کی پردہ دری کرے اور اس کے تکبر کو
﴿٨٣﴾
توڑے اور اس کو دکھلاوے کہ خود پسندی اور عجب کے یہ ثمرات ہیں۔ سو اس سے زیادہ اور کیا اہانت ہوگی کہ جس شخص کو جاہل سمجھتا تھا اور منبر پر چڑھ کر اور مجلسوں میں بیٹھ کر بار بار کہتا تھا کہ زبان عرب سے یہ شخص بالکل نا آشنا ہے اور اجہل ہے اسی کے ہاتھ سے خدا تعالیٰ نے اس کو شرمندہ اور ذلیل کیا۔ اگر یہ نشان نہیں تو چاہئے تھا کہ محمد حسین اپنے تمام دوستوں سے مدد لیتا اور نور الحق اور کرامات الصادقین کا جواب لکھتا۔ اس شخص کو بڑے بڑے انعاموں کے وعدے دیئے گئے۔ ہزار لعنت کا ذخیرہ آگے رکھا گیا مگر اس طرف توجہ نہ کی۔ سو یہ نتیجہ مخالفت حق کا ہے فاتقوا اللّٰہ یا اولی الابصار۔
اور یاد رہے کہ یہ عذر شیخ صاحب موصوف کا کہ نور الحق میں پادری بھی مخاطب ہیں اس لئے رسالہ بالمقابل لکھنے سے پہلو تہی کیا گیا نہایت مکارانہ عذر ہے۔ گویا ایک بہانہ ڈھونڈھا ہے کہ کسی طرح جان بچ جائے لیکن دانا سمجھتے ہیں کہ یہ بہانہ نہایت کچا اور فضول اور ایک
سرالخلافۃ صفحہ 101، 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 415، 416 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 225 پر درج ہے
حوالہ نمبر 189
روحانی خزائن جلد ١١ ١٧٦ مکتوب احمد
﴿١٧٦﴾ مقالاتهم في الجرائد، وكادوا كالصائد، وجاءوا بزور مبين. ولما رأيت در اخبار ہا شائع کردند۔ وہمچو شکاریان مکرہا نمودند۔ و دروغے صریح آوردند۔ پس ہرگاہ کہ دیدم
أنهم أخلوا كنانتهم، وقضوا من المفتريات لُبانتهم، أشعتُ ما أشعت کہ اوشان تیر دان خود ہا خالی نمودند۔ و از مفتریات حاجت روائی خود کردند۔ شائع کردم
كما هو فرض الصادقين، فأعرضوا عن نضالى، وفَرُّوا مِن عسّالى، آنچہ شائع کردم چنانکہ فرض صادقین است ۔ پس از مقابلہ من کنارہ جو شدند۔ و از نیزہ من بگریختند
وواروا وجوههم كالكاذبين. و روہائے خود را ہمچو کاذبان پوشانیدند۔
أيها الناس! اربعوا على ظَلْعكم ولا تظلموا، وانتهوا ولا تفرطوا، اے مردمان بر جانہائے خود کمی کنید وظلم مکنید۔ و باز ایستید و کار را بافراط
واحذروا ولا تجترؤوا، واذكروا الموت ولا تغفلوا، واذكروا آباءكم الغابرين. مرسانید۔ وبترسید و دلیری مکنید و مرگ خود را یاد کنید و غافل مباشید۔ و پدران خود را کہ گذشتہ اند یاد کنید
أتظنون أنكم تُتركون فى الدنيا ولذّاتها، ولا تُقادون إلى الحاقّة ومُجازاتها، آیا گمان می کنید کہ شما در دنیا ولذات آن گزاشتہ خواہید شد۔ وسوئے قیامت و پاداش آن کشیدہ نخواہید شد
ولا تُساقون إلى مالك يوم الدين؟ ما لكم لا تنتهجون محجّة الاهتداء، وسوئے مالک یوم جزاء ہمچو گرفتاران روانہ نخواہید شد۔ چہ سبب است کہ راہ راست را نمی گیرید۔
ولا تعالجون داء الاعتداء، وتمرّون بالحق محقِّرين؟ و بیماری تجاوز از حد را علاج نمی کنید ۔ وبرحق چوں میگزرید بہ تحقیرے می نگرید۔
اعلموا أن فضل اللّٰه معى، وأن روح اللّٰه ينطق فى نفسى، بدانید کہ فضل خدا با من است۔ و روح خدا در من سخن مے کند۔
انجام آتھم صفحہ 176 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 176 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 225 پر درج ہے
حوالہ نمبر 190
روحانی خزائن جلد ١٩ ٩٥ تحفۃ الندوہ
خیال کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ امر لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ١ پر موقوف ہے پھر مَیں اُن کا حَکَم ہونا کس وجہ سے منظور کروں ہاں اگر چند منتخب مولوی ان میں سے بطور طالب حق قادیان میں آجاویں تو میں زبانی ان کو تبلیغ کر سکتا ہوں ورنہ خدا کا کام چل رہا ہے کوئی مخالف اس کو روک نہیں سکتا مخالف سے فتویٰ لینا کیا معنے رکھتا ہے ہاں البتہ ہم حافظ صاحب کے اس اشتہار سے ندوہ کے لئے ایک موقع تبلیغ کا نکالتے ہیں حافظ صاحب یاد رکھیں کہ جو کچھ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیانِ نبوّت کی نسبت بے سروپا حکایتیں لکھی گئی ہیں وہ حکایتیں اُس وقت تک ایک ذرہ قابلِ اعتبار نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعویٰ پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی اور یہ اصرار کیونکر ثابت ہو سکتا ہے جب تک اُسی زمانہ کی کسی تحریر کے ذریعہ سے یہ امر ثابت نہ ہو کہ وہ لوگ اسی افترا اور جھوٹے دعویٰ نبوت پر مرے اور اُن کا کسی اُس وقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھا اور نہ وہ قبرستان مسلمانوں میں دفن کئے گئے اور ایسا ہی یہ حکایتیں ہرگز ثابت نہیں ہوسکتیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ ان کی تمام عمر کے مفتریات جن کو انہوں نے بطور افترا خدا کا کلام قرار دیا تھا وہ اب کہاں ہیں اور ایسی کتاب ان کی وحی کی کس کس کے پاس ہے تا اس کتاب کو دیکھا جائے کہ کیا کبھی انہوں نے کسی قطعی یقینی وحی کا دعویٰ کیا اور اس بناء پر اپنے تئیں ظلی طور پر یا اصلی طور پر نبی اللہ ٹھہرایا ہے اور اپنی وحی کو دوسرے انبیاء علیہم السلام کی وحی کے مقابل پر منجانب اللہ ہونے میں برابر سمجھا ہے تا تَقَوَّلَ کے معنے اس پر صادق آویں ۔ حافظ صاحب کو معلوم نہیں کہ تَقَوَّلَ کا حکم قطع اور یقین کے متعلّق ہے پس جیسا کہ میں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو مَیں سُناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور مَیں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے گو وہ مسلمان ہے مگر مجھے اپنا حَکَم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے وہ آسمان پر قابل مواخذہ ہے کیونکہ جس امر کو اُس نے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا اُس کو ردّ کر دیا مَیں صرف
١ الواقعۃ : ٨٠
کشتی نوح صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 95 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 226 پر درج ہے
حوالہ نمبر 191
٣٨
اس وقت قلم کی ضرورت ہے
اسی وقت جو ضرورت ہے۔ وہ یقیناً مجرد سیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کیے ہیں اور مختلف سائنسوں اور فلسفہ کے زور سے اللہ تعالیٰ کے سچے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے۔ اُس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدانِ کارزار میں اُتروں اور اسلام کی رُوحانی شجاعت اور باطنی قوّت کا کرشمہ بھی دکھلاؤں۔ میں کہہ نہیں سکتا کہ میں کیونکر اس قابل ہو سکا تھا۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اُس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔ میں نے ایک وقت اُن اعتراضات اور حملات کو شمار کیا تھا جو اسلام پر ہمارے مخالفین نے کیے ہیں تو اُن کی تعداد میرے خیال اور اندازہ میں تین ہزار ہوئی تھی اور اب تک بوجہ کینہ اور تعصب کے یہ تعداد بھی بڑھ گئی ہوگی۔ کوئی یہ نہ سوچے کہ اسلام کی بناء ایسی کمزور باتوں پر ہے کہ اس پر تین ہزار اعتراض وارد ہو سکتا ہے نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ یہ اعتراضات تو کوتاہ اندیشوں اور نادانوں کی نظر میں اعتراض ہیں مگر میں تو یہی کہتا ہوں کہ میں نے جہاں ان اعتراضات کو شمار کیا، وہاں یہ بھی غور کیا ہے کہ ان اعتراضات کی تہہ میں در اصل بڑی بھاری صداقتیں موجود ہیں۔ جو دراصل بصیرت کی وجہ سے معترضین کو دکھائی نہیں دیں اور درحقیقت یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جہاں ایک معترض اگر اُٹھا ہے وہیں حقائق و معارف کا مخفی خزانہ رکھا ہے۔
مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض
اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا کہ میں ان مخفی دفائن کو دنیا پر ظاہر کروں اور ناپاک اعتراضات کا کیچڑ جو اُن درخشاں جواہرات پر تھوپا گیا ہے۔ اس سے اُن کو پاک صاف کروں۔ خدا تعالیٰ کی غیرت اس وقت بڑے جوش میں ہے کہ قرآن شریف کی حرمت کو ہر ایک خبیث دشمن کے داغ اعتراض سے منزہ و مقدس کرے۔
الغرض ایسی صورت میں کہ مخالفین قلم سے ہم پر وار کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں، کس قدر بیوقوفی ہوگی کہ ہم اُن سے بشمشیر مقابلہ کرنے کو تیار ہو جائیں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ ایسی صورت میں اگر کوئی اسلام کا نام لیکر جنگ و جدال کا طریقہ جواب میں اختیار کرے۔ تو وہ اسلام کا بدنام کرنے والا ہوگا۔ اور اسلام کا کبھی ایسا منشاء نہ تھا کہ بے مطلب اور بلا ضرورت خونریزی کی جائے۔ اب لڑائیوں کی اغراض ہی کیا رہیں۔ جبکہ مذہبی جنگیں اب کوئی دین پیش نہیں کرتا۔ بلکہ مذہبی اعتراض ان کا موضوع ہو گیا ہے۔ پس اس قدر ظلم ہوگا کہ اعتراض کرنے والوں کو جواب دینے کی بجائے تلوار دکھائی جائے۔ اب زمانہ کے ساتھ حرب کا پہلو بدل گیا ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ سب سے پہلے اپنے دل اور دماغ سے کام لیں اور نفوس کا تزکیہ کریں۔ راستبازی اور تقویٰ سے خدا تعالیٰ سے امداد اور فتح چاہیں، یہ خدا تعالیٰ کا ایک اٹل قانون اور مستحکم اُصول ہے اور اگر مسلمان صرف قیل و قال اور باتوں سے مقابلہ میں کامیابی اور فتح پانا چاہیں، تو یہ ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ لاف و گزاف اور نقلیوں کو نہیں چاہتا۔ وہ تو حقیقی تقویٰ کو چاہتا اور سچی طہارت کو پسند
ملفوظات جلد اوّل صفحہ 38 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 226 پر درج ہے
حوالہ نمبر 192
روحانی خزائن جلد ٢١ ١٤٧ براہین احمدیہ حصہ پنجم
کشتیٔ اسلام بے لطفِ خدا اب غرق ہے اے جنوں کچھ کام کر بیکار ہیں عقلوں کے وار
مجھ کو دے اک فوق عادت اے خدا جوش و تپش جس سے ہو جاؤں مَیں غم میں دیں کے اک دیوانہ وار
وہ لگا دے آگ میرے دل میں ملّت کے لئے شعلے پہنچیں جس کے ہردم آسماں تک بیشمار
آئے خدا تیرے لئے ہر ذرّہ ہو میرا فدا مجھ کو دکھلادے بہارِ دیں کہ مَیں ہوں اشکبار
﴿١١٧﴾
اک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے توفیق تا وہ کچھ کریں سوچ اور بچار
ایک فرقاں ہے جو شک اور ریب سے وہ پاک ہے بعد اس کے ظنِّ غالب کو ہیں کرتے اختیار
پھر یہ نقلیں بھی اگر میری طرف سے پیش ہوں تنگ ہو جائے مخالف پر مجالِ کار زار
باغ مرجھایا ہوا تھا گر گئے تھے سب ثمر مَیں خدا کا فضل لایا پھر ہوئے پیدا ثمار
مرہمِ عیسیٰ نے دی تھی محض عیسیٰ کو شفا میری مرہم سے شفا پائے گا ہر ملک و دیار
جھانکتے تھے نور کو وہ روزنِ دیوار سے لیک جب در کھل گئے پھر ہوگئے شیر شعار
وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب مَیں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار
پر ہوئے دیں کے لئے یہ لوگ مارِ آستیں دشمنوں کو خوش کیا اور ہوگیا آزردہ یار
حاشیہ یہ الہام کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک حضرت آدمؑ سے اسی قدر مدت بحساب قمری گذری تھی جو اس سورۃ کے حروف کی تعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتی ہے۔ اور اس کے رو سے حضرت آدمؑ سے اب ساتواں ہزار بحساب قمری ہے جو دنیا کے خاتمہ پر دلالت کرتا ہے اور یہ حساب جو سورۃ والعصر کے حروف کے اعداد کے نکالنے سے معلوم ہوتا ہے۔ یہود ونصاریٰ کے حساب سے قریباً تمام و کمال ملتا ہے صرف قمری اور شمسی حساب کو ملحوظ رکھ لینا چاہیے۔ اور ان کی کتابوں سے پایا جاتا ہے جو مسیح موعود کا چھٹے ہزار میں آنا ضروری ہے اور کئی برس ہوگئے کہ چھٹا ہزار گزر گیا۔ منہ
براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 117 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 147، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 226 پر درج ہے
حوالہ نمبر 193 ٤٦١
کے واسطے نبی کی ایسی ہی اطاعت لازم ہے جیسی کہ عورت کو مرد کی اطاعت کا حکم ہے۔ اس واسطے ہماری رؤیا میں عبداللہ نے کہا کہ تیری بیوی بیمار ہے۔
ایک رؤیا کی تعبیر
عبداللہ نبی کا نام ہے۔ قرآن شریف میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبداللہ آیا ہے۔ مکھی سے مراد وہ لذت اور راحت صحبت کی ہے جو بیماری کی تلخی کے بعد نصیب ہوتی ہے۔ مقبول سے مراد ہے کہ دُعا قبول ہو گئی۔ یہ سب گہرے استعارات ہیں اور تمثلات ہیں۔ جب تک آسمان پر نہ ہو زمین پر کچھ ہو نہیں سکتا۔ مولوی صاحب کا اس بیماری سے صحت پانا ایک بڑا معجزہ ہے۔
مطالعہ کتب کی تلقین
سب دوستوں کے واسطے ضروری ہے کہ ہماری کتب کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھ لیا کریں کیونکہ علم ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے جس کو علم نہیں ہوتا مخالف کے سوال کے آگے حیران ہو جاتا ہے
مولوی محمد حسین بٹالوی کے متعلق ایک رؤیاء
مولوی محمد حسین بٹالوی کا ذکر تھا۔ ایک دوست نے عرض کی کہ کہیں مرنے کے وقت توبہ کرے گا۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ ہر شے پر غالب ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ ہماری جوتیاں جھاڑ کر آگے رکھتا تھا۔ ہم کو وضو کرا لانا ایک بڑا ثواب جانتا تھا۔ براہین کا ریویو اس نے خود بخود لکھا۔ ہماری درخواست نہ تھی تعجب نہیں کہ وہ کسی وقت پہلی حالت پر پھر لوٹ آئے جیسا کہ ہم رؤیاء میں دیکھ چکے ہیں۔ بعض خوابیں مدت کے بعد پوری ہوتی ہیں۔ یہ رؤیا چھپ چکا ہے جس میں مَیں نے دیکھا تھا کہ وہ ایک چھوٹا لڑکا ہے۔ ننگا۔ رنگ سیاہ اور بدشکل ہے۔ مَیں نے اس کو اشارہ سے بُلایا۔ تب وہ آیا۔ اور میرے گلے لگا اور پورے قد کا ہو گیا اور اس پر لباس بھی ہے اور رنگ سفید ہے۔ تب مَیں نے کہا کہ آپ کا ہمارا اس قدر مقابلہ رہا ممکن ہے کہ قلم سے یا زبان سے کوئی سخت لفظ نکل گیا ہو تم بخش دو۔ اس نے کہا اچھا مَیں نے بخشا۔ تب مَیں نے کہا کہ تم نے جو ایذا ہم کو دی تھی وہ بھی ہم نے بخش دی۔ تب ہم نے اس کی دعوت کی جس کو اس نے کچھ تردد کے بعد قبول کیا اور ایک شخص جان کندن میں ہے۔ تب مَیں نے کہا کہ یہ مقدر تھا کہ مَیں اُن
ملفوظات جلد چہارم، صفحہ 361 طبع جدید، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 226 پر درج ہے
حوالہ نمبر 194
٥٨
آگ کو ٹھنڈا کر دینے کی خاصیت اسکے اندر قائم رہے گی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ایک نہائت ہی لطیف نکتہ ہے جسے نہ سمجھنے کی وجہ سے عیسائی اور ہندو مذہب تباہ ہو گئے اور لاکھوں مسلمان کہلانے والے انسان بھی مایوسی کا شکار ہو گئے ۔
(٤٠٦) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک پر بعض فقرے کثرت کے ساتھ رہتے تھے مثلاً آپ اپنی گفتگو میں اکثر فرمایا کرتے تھے دست در کار دل با یار ۔ خدا دادیم چہ غم داری ۔ الاعمال بالنیات ولتکون من عبادہ ، آنہا کہ صیقل زدند آئینہ ماند ۔ گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی ۔ مالا یدرک کلہ لا یترک کلہ الطریقۃ کلھا ادب ۔ ادب تاجیست از لطف الٰہی ۔ بنہ برسر برو ہرجا کہ خواہی ۔
(٤٠٧) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہئے کہ کم از کم تین دفعہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کریں اور فرماتے تھے کہ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا ۔ اسکے ایمان کے متعلق مجھے شبہ ہے ۔
(٤٠٨) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مکہ کے زمانہ میں ایک بچہ نے گھر میں ایک چھپکلی ماری اور پھر اسے دُم سے اٹھا مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی چھوٹی اہلیہ پر پھینک دیا جس پر مارے ڈر کے ان کی چیخیں نکل گئیں اور چونکہ مسجد کا قرب تھا ان کی آواز مسجد میں بھی سنائی دی ۔ مولوی عبد الکریم صاؓحب جب گھر آئے تو انہوں نے غیرت کے جوش میں اپنی بیوی کو بہت کچھ سخت سست کہا حتیٰ کہ انکی یہ غصہ کی آواز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نیچے اپنے مکان میں بھی سن لی ۔ چنانچہ اس واقعہ کے متعلق اسی شب حضرت صاحب کو یہ الہام ہوا کہ یہ طریق اچھا نہیں ۔ اس سے رکا جایا جائے ۔ مسلمانوں کے لیڈر عبد الکریم کو ؛ لطیفہ یہ ہوا کہ صبح مولوی صاحب مرحوم تو اپنی اس بات پر شرمندہ تھے ۔ اور لوگ انہیں مبارکبادیں دے رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام مسلمانوں کا لیڈر رکھا ہے ۔
(٤٠٩) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک شہادت کے لئے لدھیانہ تشریف لے گئے تو راستہ میں
سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 78 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 227 پر درج ہے
حوالہ نمبر 195 نزول المسیح ٤٤٤
٥٦ قابل اعتراض ٹھہریگا۔ ایسا ہی ادباء کو یہ اتفاق بھی پیش آجاتا ہے کہ گو بیس شخص ایک مضمون کے ہی لکھنے والے ہوں جو بیس ہی ادیب اور بلیغ ہوں مگر بعض صورتوں کے ادائے بیان میں ایک ہی الفاظ اور ترکیب کے فقرہ پر اُن کا توارد ہو جائیگا اور یہ باتیں ادباء کے نزدیک مسلمات میں سے ہیں جن میں کسی کو کلام نہیں۔ اور اگر غور کر کے دیکھو تو ہر ایک زبان کا یہی حال ہے اگر اُردو میں بھی مثلاً ایک فصیح شخص تقریر کرتا ہے اور اُس میں کہیں مثالیں لاتا ہے کہیں دلچسپ فقرے بیان کرتا ہے تو دوسرا فصیح بھی اُسی رنگ میں کہہ دیتا ہے اور بجز ایک پاگل آدمی کے کوئی خیال نہیں کرتا کہ یہ سرقہ ہے انسان تو انسان خدا کے کلام میں بھی یہی پایا جاتا ہے۔ اگر بعض پُر فصاحت فقرے اور مثالیں جو قرآن شریف میں موجود ہیں شعرائے جاہلیت کے قصائد میں دیکھی جائیں تو ایک لمبی فہرست طیار ہوگی اور ان امور کو محققین نے جائے اعتراض نہیں سمجھا بلکہ اسی غرض سے ائمہ راشدین نے جاہلیت کے ہزار ہا اشعار کو حفظ کر رکھا تھا اور قرآن شریف کی بلاغت فصاحت کے لئے اُنکو بطور سند لاتے تھے۔
یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اُردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گو عربی ہو یا اُردو یا فارسی دو حصہ پر منقسم ہوتی ہے (١) ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور میں اُسکو لکھتا جاتا ہوں اور گو اُس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اٹھانی نہیں پڑتی مگر در اصل وہ سلسلہ میری دماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی ایک خاص رنگ میں تائید نہ ہوتی تب بھی اسکے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اسکی معمولی تائید کی برکت سے جو لازمہ فطرت خواص انسانی ہے کسی قدر مشقت اُٹھا کر اور بہت سا وقت لیکر اُن مضامین کو میں لکھ سکتا۔ واللہ اعلم۔ ١؎ (٢) دوسرا حصہ میری تحریر کا محض خارق عادت کے طور پر ہے اور وہ یہ ہے کہ جب میں مثلاً ایک عربی عبارت
١؎ جیسا کہ بارہا بعض امراض کے علاج کیلئے مجھے بعض ادویہ بذریعہ وحی معلوم ہوئی ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ پہلے مجھ سے جالینوس کی کتاب میں لکھی گئی ہیں یا بقراط کی کتاب میں۔ ایسا ہی میری انشاء پردازی کا حال ہے۔ جو عبارتیں تائید کے طور پر مجھے خدا تعالیٰ سے معلوم ہوتی ہیں مجھے ذرہ پروا نہیں کہ وہ کسی اور کتاب میں درج ہوں یا نہ ہوں اور ہر ایک جو میرے حال سے ٢٢
٢٢ واقف ہو معجزہ ہے اور اگر کسی کے نزدیک معجزہ نہ ہو تو اسپر پانی پینا حرام ہے جبتک بالمواجہہ بیٹھ کر بپابندی شرائط مشتہرہ مقابلہ نہ کرے۔ منہ
نزول المسیح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 434 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 227 پر درج ہے
حوالہ نمبر 196
٥٦
شایع ہونے کے باعث سے کم فہم لوگوں کے لیے بڑی بڑی دقتیں پیش آگئی ہیں۔ سفسطائی تقریروں نے ناتجربہ کاروں کی طبائع میں طرح طرح کی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ جو امور نہایت معقولیت میں تھے وہ ان کی آنکھوں سے چھپ گئے ہیں۔ جو باتیں بغایت درجہ نامعقول ہیں ان کو وہ اعلیٰ درجہ کی صداقتیں سمجھ رہے ہیں۔ وہ حرکات جو نشاء انسانیت سے مغائر ہیں ان کو وہ تہذیب خیال کئے بیٹھے ہیں۔ اور جو حقیقی تہذیب ہے اس کو وہ نظر استخفاف واستحقار سے دیکھتے ہیں۔ پس ایسے وقت میں اور ان لوگوں کے علاج کے لیے جو اپنے ہی گھر میں محقق بن بیٹھے ہیں اور اپنے ہی منہ سے میاں مٹھو کہلاتے ہیں۔ ہم نے کتاب براہین احمدیہ کو جو تین سو براہین قطعیہ عقلیہ پر مشتمل ہے بغرض اثبات حقانیت قرآن شریف جس سے یہ لوگ بکمال نخوت منہ پھیر رہے ہیں، تالیف کیا ہے۔ کیونکہ یہ بات اجلیٰ بدیہات ہے جو سرگشتہ عقل کو عقل ہی سے تسلی ہو سکتی ہے اور جو عقل کا زہر خوردہ ہے وہ عقل ہی کے ذریعہ سے راہ پر آسکتا ہے۔
اب ہر ایک مومن کے لیے خیال کرنے کا مقام ہے کہ جس کتاب کے ذریعہ سے تین سو دلائل عقلی حقانیت قرآن شریف پر شائع ہوگئیں اور تمام مخالفین کے شبہات کو دفع اور دُور کیا جائے گا۔ وہ کتاب کیسا کچھ بندگانِ خدا کو فائدہ پہنچائے گی اور کیسا فروغ اور جاہ وجلال اسلام کا اس کی اشاعت سے چمکے گا۔ ایسے ضروری امر کی اعانت سے وہی لوگ لاپروا رہتے ہیں، جو حالت موجودہ زمانہ پر نظر نہیں ڈالتے اور مفاسد منتشرہ کو نہیں دیکھتے اور عواقب امور کو نہیں سوچتے یا وہ لوگ کہ جن کو دین سے کچھ غرض ہی نہیں اور خدا اور رسول سے کچھ محبت ہی نہیں۔ اے عزیزو! اس پُر آشوب زمانہ میں دین اسی سے برپا رہ سکتا ہے۔ جو بمقابلہ زور طوفان گمراہی کے دین کی سچائی کا زور بھی دکھایا جاوے۔ اور ان بیرونی حملوں کے جو چاروں طرف سے ہورہے ہیں حقانیت کی قوی طاقت سے مدافعت کی جائے۔ یہ سخت تاریکی جو چہرہ زمانہ پر چھاگئی ہے، یہ تب ہی دُور ہوگی کہ جب دین کی حقیقت کے براہین دنیا میں بکثرت چمکیں اور اس کی صداقت کی شعاعیں چاروں طرف سے چھوٹتی نظر آئیں۔ اس پراگندہ وقت میں وہی متذکرہ کتاب روحانی جمعیت بخش سکتی ہے کہ جو بذریعہ تحقیق عمیق کے اصل ماہیت کے باریک دقیقہ کی تہہ کو کھولتی ہو۔ اور اس حقیقت کے اصل قرارگاہ تک پہنچاتی ہو کہ جس کے جاننے پر دلوں کی تشفی موقوف ہے۔
اے بزرگو!! اب یہ وہ زمانہ آگیا ہے کہ جو شخص بغیر اعلیٰ درجہ کے عقلی ثبوتوں کے اپنے دین کی خیر منانی چاہے تو یہ خیال محال اور طمع خام ہے۔ تم آپ ہی نظر اُٹھا کر دیکھو جو کیسی طبیعتیں خود رائی اختیار کرتی جاتی ہیں اور کیسے خیالات بگڑتے جاتے ہیں۔ اس زمانہ کی ترقی علوم عقلیہ نے یہی اثر کیا ہے۔ حال کے تعلیم یافتہ لوگوں کی طبائع میں ایک عجب طرح کی آزاد منشی بڑھتی جاتی ہے۔ اور وہ سعادت جو سادگی اور غربت اور صفا باطنی میں ہے وہ ان کے مغرور دلوں سے بالکل جاتی رہی ہے اور جن جن خیالات کو وہ سیکھتے ہیں۔ وہ اکثر ایسے ہیں کہ جن سے ایک
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 56 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 301 پر درج ہے
حوالہ نمبر 197 ٣٢٨
والا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوا کرتا ہے۔ ایسے ہی ہمارے مخالف بھی ہمارے مرنے کے بعد زندہ رہیں گے اور مخالفوں کے وجود کا قیامت تک ہونا ضروری ہے جیسے وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (آل عمران : ٥٦) سے ظاہر ہے۔
ہم تو ایسی باتیں سُن کر حیران ہوتے ہیں۔ دیکھو ہماری باتوں کو کیسے اُلٹ پلٹ کر پیش کیا جاتا ہے اور تحریف کرنے میں وہ کمال حاصل کیا ہے کہ یہودیوں کے بھی کان کاٹ دیئے ہیں۔ کیا یہ کسی نبی ، ولی ، قطب، غوث کے زمانہ میں ہوا کہ اس کے سب اعداء مرگئے ہوں؟ بلکہ کفر ضلاتی باقی رہ ہی گئے تھے۔ ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ سچے کے ساتھ جو جھوٹے مباہلہ کرتے ہیں تو وہ سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوتے ہیں جیسے کہ ہمارے ساتھ مباہلہ کرنیوالوں کا حال ہو رہا ہے۔
جماعت کو خود سوچکر عام سوالوں کا جواب دینا چاہئیے
مجھے تو اپنی جماعت پر افسوس ہوتا ہے کہ کیا ان میں اتنی عقل بھی نہیں ۔ کہ ایسے اعتراض کرنے والے سے پوچھیں کہ یہ ہم نے کہاں لکھا ہے کہ بغیر مباہلہ کرنے کے ہی جھوٹے سچے کی زندگی میں تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔ وہ جگہ تو نکالو جہاں یہ لکھا ہے ہماری جماعت کو چاہئیے کہ عقل میں فہم میں ہر طرح سے ترقی کریں اور ایسی باتوں کا خود سوچ کر جواب دیا کریں اور اپنی ایمانی روشنی سے ان باتوں کو حل کیا کریں ۔ مگر دنیا داری کے دھندوں میں مت ماری جاتی ہے۔ اتنا نہیں کر سکتے کہ معترض سے ہماری کتاب کی وہ جگہ ہی پوچھیں جہاں یہ لکھا ہے کہ سچے کی زندگی میں سب جھوٹے مرجاتے ہیں۔ بلکہ جھوٹے تو قیامت تک رہیں گے ۔
مبلغین کیلئے حضرت اقدس کی کتب کے مطالعہ کی اہمیت
فرمایا :- اس تحریک سے مجھے یہ بھی یاد آ گیا ہے کہ وہ لوگ جو اشاعت اور تبلیغ کے واسطے باہر جاویں۔ وہ ایسے نہ ہوں کہ اُلٹ پلٹ کر ہماری باتوں کو کچھ اور کا اور ہی بناتے رہیں اور بات تو کچھ اور ہو اور سمجھانے کچھ اور لگ جاویں ۔ دوسروں کو تو ہمارے دعوٰی سے آگاہ کریں اور خود ہماری کتابوں کو کبھی پڑھا بھی نہ ہو۔ اس طرح سے ہی تحریف ہوا کرتی ہے۔ ایسے وقتوں میں صرف زبانی فیصلہ نہیں ہونا چاہئیے بلکہ تحریر پیش کرنی چاہئیے ۔
ہم پر الزام لگائے جاتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام حسینؑ کی توہین کی جاتی ہے حالانکہ ہم ان کو راستباز اور متقی سمجھتے ہیں۔ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہت بے عزتی کی جاتی ہے اور ان کو گالی دی جاتی ہے حالانکہ ہم ان کو ایک اولوالعزم نبی اور خدا تعالیٰ کا راستباز بندہ سمجھتے ہیں۔ ہاں اگر عیسیٰ کا مرجانا
ملفوظات جلد پنجم صفحہ 328 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 301 پر درج ہے
(حوالہ نمبر 198)
٢٥٥
ملفوظات
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
* (٣١ اگست ١٩٠١ء کو جناب بابو غلام مصطفیٰ صاحب میونسپل کمشنر وزیر آباد قادیان دارالامان آئے تھے اس تقریب پر حضرت حجۃ اللہ علی الارض علیہ السلام نے بطور تبلیغ مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔ جو الحکم کی اس اور اگلی اشاعتوں میں درج ہوتی ہے۔ وباللہ التوفیق و ھو خیر الرفیق۔ ایڈیٹر)
نئی بات سنتے ہی اس کی مخالفت نہ کریں
اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان کسی بات کو خالی الذہن ہو کر نہیں سوچتا اور تمام پہلوؤں پر توجہ نہیں کرتا اور غور سے نہیں سنتا اس وقت تک پرانے خیالات نہیں چھوڑ سکتا اس لئے جب آدمی کسی نئی بات کو سنے تو اسے یہ نہیں چاہئے کہ سنتے ہی اسکی مخالفت کے لئے تیار ہو جاوے بلکہ اس کا فرض ہے کہ اس کے سارے پہلوؤں پر پورا فکر کرے اور انصاف اور دیانت اور سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے خوف کو مد نظر رکھ کر تنہائی میں اس پر سوچے۔ میں جو کچھ اس وقت کہنا چاہتا ہوں وہ کوئی معمولی اور سرسری نگاہ سے دیکھنے کے قابل بات نہیں بلکہ بہت بڑی اور عظیم الشان بات ہے میری اپنی بنائی ہوئی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی بات ہے اس لئے جو اس کی تکذیب کے لئے جرات اور دلیری کرتا ہے وہ میری تکذیب نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب پر دلیر ہوتا ہے مجھے اس کی تکذیب سے کوئی رنج نہیں ہو سکتا البتہ اس پر رحم ضرور آتا ہے کہ نادان اپنی نادانی سے خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتا ہے۔
ہر صدی کے سر پر مجدد کا ظہور
یہ بات مسلمانوں میں ہر شخص جانتا ہے اور غالباً کسی کو بھی اس سے بے خبری نہ ہو گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کو بھیجتا ہے
* یہاں سے سابقہ ایڈیشن کی جلد چہارم شروع ہوتی ہے۔
ملفوظات جلد دوم صفحہ 355 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 301 پر درج ہے
حوالہ نمبر 199
٣٢٥
حافظ صاحب نے فی الفور بلا تامل منظور کیا کہ میں اس بارہ میں مباہلہ کروں گا۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہ تینوں مسلمان ہیں۔ تب اسی بات پر حافظ صاحب نے عبدالحق سے مباہلہ کیا۔ اور گواہان مباہلہ منشی محمد یعقوب اور میاں نبی بخش صاحب اور میاں عبد الہادی صاحب اور میاں عبدالرحمن صاحب عمر پوری قرار پائے اور جب حسب دستور مباہلہ فریقین اپنے اپنے نفس پر لعنتیں ڈال چکے اور اپنے مُنہ سے کہہ چکے کہ یا الٰہی اگر ہم اپنے بیان میں سچائی پر نہیں تو ہم پر تیری لعنت نازل ہو۔ یعنی کسی قسم کا عذاب ہم پر وارد ہو۔ تب حافظ صاحب نے عبدالحق سے دریافت کیا کہ اس وقت میں بھی اپنے آپ پر بحالت کاذب ہونے کے لعنت ڈال چکا اور خدا تعالیٰ سے عذاب کی درخواست کر چکا اور ایسا ہی تم بھی اپنے نفس پر اپنے ہی مُنہ سے لعنت ڈال چکے اور بحالت کاذب ہونے کے عذاب الٰہی کی اپنے لیے درخواست کر چکے۔ لہٰذا اب میں تو اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اگر اس لعنت اور اس عذاب کی درخواست کا اثر مجھ پر وارد ہوا۔ اور کوئی ذلت اور رسوائی مجھ کو پیش آگئی تو میں اپنے اس عقیدہ سے رجوع کر لوں گا۔ سو اب تم بھی اس وقت اپنا ارادہ بیان کرو کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے نزدیک کاذب ٹھہرے اور کچھ لعنت اور عذاب کا اثر تم پر وارد ہو گیا تو تم بھی اپنے اس تکفیر کے عقیدہ سے رجوع کرو گے یا نہیں۔ فی الفور عبدالحق نے صاف جواب دیا کہ اگر میں اپنی اس بددُعا سے سور اور بندر اور ریچھ بھی ہو جاؤں۔ تب بھی میں اپنا یہ عقیدہ تکفیر ہرگز نہ چھوڑوں گا اور کافر کافر کہنے سے باز نہیں آؤں گا۔ تب حاضرین کو نہایت تعجب ہوا کہ جس مباہلہ کو حق اور باطل کے آزمانے کے لیے اس نے معیار ٹھہرایا تھا اور جو قرآن کریم کی رُو سے بھی حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے ایک معیار ہے کیونکر اور کس قدر جلد اس معیار سے یہ شخص پھر گیا اور زیادہ تر ظلم اور تعصب اس کا اس سے ظاہر ہوا کہ وہ اس بات کے لیے تو تیار ہے کہ فریق مخالف پر مباہلہ کے بعد کسی قسم کا عذاب نازل ہو اور وہ اس کے اس عذاب کو اپنے صادق ہونے کے لیے بطور دلیل اور حُجّت کے پیش کرے، لیکن وہ اگر آپ ہی مورد عذاب ہو جائیں تو پھر مخالف کے لیے اس کے کاذب ہونے کی یہ دلیل اور حُجّت نہ ہو۔ اب خیال کرنا چاہیئے کہ یہ قول عبدالحق کا کس قدر امانت اور دیانت اور ایمانداری سے دُور ہے۔ گویا مباہلہ کے بعد ہی اس کی اندرونی حالت کا مسخ ہونا کھل گیا۔ یہودی لوگ جو مورد لعنت ہو کر بندر اور سور ہوگئے تھے۔ ان کی نسبت بھی تو بعض تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ بظاہر وہ انسان ہی تھے لیکن ان کی باطنی حالت بندروں اور سوروں کی طرح ہو گئی تھی اور حق کے قبول کرنے کی توفیق بکلی اُن سے سلب ہو گئی تھی اور مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کُھل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ قرآن کریم اسی طرف اشارہ فرما کر کہتا ہے : ۔ وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ط بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيْلاً مَّا يُؤْمِنُوْنَ 1 ۔ وَقَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ط بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا 2 ۔ یعنی کافر کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں۔ ایسے رقیق اور پتلے دل نہیں کہ حق کا انکشاف دیکھ کر اس کو قبول کریں۔ اللہ جلشانہٗ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ یہ کچھ خوبی کی بات نہیں بلکہ لعنت
1 البقرۃ: 89 2 النساء: 156
مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 325، طبع جدید از مرزا قادیانی
یہ حوالہ صفحہ 302 پر درج ہے
حوالہ نمبر 200
٤٣٦
بہت سے اعتراضات محض نادانی اور نا سمجھی سے قرآن شریف پر کئے گئے ہیں حالانکہ وہ تمام باتیں حق اور حکمت کا سرچشمہ ہیں۔ مگر تعصب ایک ایسی بلا ہے جو غور کرنے نہیں دیتا۔ اس مضمون کے لکھنے کے وقت مندرجہ ذیل مجھے الہام
حوالہ نمبر 201
حیات احمد ٢٥ ٢١٧
لکھے گا۔ ورنہ خود بدلا لے کر تم کو پھٹکار رہا ہے۔ سمجھ جاویں گے۔ کہ جھوٹا ہے۔ کون منصف اس عذر کو سن سکتا ہے۔ کہ ایک دعویٰ کرتا ہے۔ کہ تمہارا وید ناقص ہے۔ تم یہ احکام وید سے نکالو ورنہ اگر ناقص نہیں تم یہ جواب دیتے ہو ہمیں فرصت نہیں۔ وید یہاں موجود نہیں۔ بھلا یہ کیا جواب ہے۔ اس جواب سے تو تم جھوٹے ٹھہرتے ہو جس حالت میں ہم پانچسو روپیہ نقد دینا کرتے ہیں۔ کونسلون لکھ دیتے ہیں۔ رجسٹری کرا دیتے ہیں۔ تو پھر اگر تمہارا وید بھی کچھ چیز ہے۔ تو کس دن کے واسطے رکھا ہوا ہے۔ دس بیس روز کی ہم سے مہلت لے لو۔ پنڈت دیانند کو اپنا مددگار بنالو۔ ہم کو وہ احکام نکال دو جو ہم نیچے فرقان مجید سے نکال کر لکھیں گے۔ یا یہ اقرار کر دو۔ کہ یہ احکام ہمارے نزدیک ناجائز ہیں۔ تب پھر انکے ناجائز ہونیکا ثبوت وید سے حوالہ دو۔ غرض تم ہمارے ہاتھ سے کہاں بھاگ سکتے ہو۔ اور یہ جو تم محض شرارت سے بارادہ توہین حضرت خاتم الانبیاء کی نسبت بدزبانی کرتے ہو۔ یہ محض تمہاری بد اصلی ہے۔ اپنے پرچہ میں ہی تم نے ایسی جاہلانہ سب پیغمبروں کی نسبت لکھی ہے۔
ہم کو خدا نے یہ شرف بخشا ہے کہ ہم سید پیغمبروں کی تعظیم کرتے ہیں
اور جیسا کہ خدا نے ہم کو فرمایا ہے ۔ نجات سب مخلوقات کی اسلام میں سمجھتے ہیں۔ تم کہ اگر حضرت خاتم الانبیاء پر کچھ اعتراض ہے۔ تو زبان تہذیب سے وہ اعتراض جو سب سے بھاری ہو تحریر کر کے پیش کرو۔ ہم تحریر کر دیتے ہیں۔ کہ اگر وہ اعتراض تمہارا صحیح ہوا۔ تو ہزار روپیہ (نقد) ہم تم کو دینگے۔ اور تم ایک کونسلون لکھ دو کہ اگر وہ اعتراض جھوٹا نکلا۔ تو سو روپیہ بطور جرمانہ تم ہم کو دو گے۔ اور اب اگر ہماری یہ تحریر سنکر چپ رہ جاؤ۔ اور اس شرط پر بحث شروع نہ کرو۔ تو ہر ایک منصف سمجھ جائیگا۔ کہ وہ سب توہین تم نے بے ایمانی سے کی تھی۔ ان کذابوں کا اکثر قاعدہ ہے کہ مثل درندے کتے ہیں۔ اور جبکہ لڑکپن دماغ میں بھرا ہے۔ دنیا کو لڑکوں کی چیز سمجھ رکھا ہے۔ کہ موت سے ڈرتے نہیں۔ ورنہ ایسے آفتاب کی توہین کرنا جو نور دنیا کا ہے زندہ مر جانا ہے۔ جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے۔ کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف گزاف مارتے ہیں۔ مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دیکر جاؤ۔ تو جھاگ منہ سے نکلتے ہیں۔ وہیں ذلیل ہو جاتے ہیں۔ اب ہم نیچے وہ احکام فرقان مجید کے لکھتے ہیں۔ کہ جن میں ہمارا یہ دعویٰ ہے ۔ کہ وید میں یہ تمام احکام ضروریہ ہرگز موجود نہیں۔ اسلئے وید ناقص تعلیم ہے۔ یا وہ تم کہتے ہو کہ ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ ہرگز نہیں
اور لعنت اس شخص پر کہ جھوٹا ہے ۔
اوّل ۔ خدا تعالیٰ کی نسبت جو احکام فرقان مجید کے ہیں ۔ خلاصہ آیات کا نیچے لکھتا ہوں ۔
- (١) تم خدا کو اپنے جسموں اور روحوں کا رب سمجھو۔ جس نے تمہارے جسموں کو بنایا ۔ اُسی نے تمہاری روحوں کو پیدا کیا ۔
وہی تم سب کا خالق ہے۔ اس بن کوئی چیز موجود نہیں ہوئی۔
- (٢) آسمان اور زمین اور سورج اور چاند اور جتنی نعمتیں زمین آسمان میں نظر آتی ہیں۔ یہ کسی عمل کنندہ کے عمل کی پاداش
حیات احمد ، حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات جلد دوم نمبر اول صفحہ 25 از یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان
یہ حوالہ صفحہ 302 پر درج ہے
QADYANIAT IN THE EYES OF LAW
فتنۂ قادیانیت کے خلاف
عدالتی فیصلے
محمد متین خالد
- وہ محکم فیصلے جن کا ہر لفظ قول فیصل‘ ہر سطر برہان قاطع اور ہر جملہ شاہد عدل ہے۔
- وہ تاریخ ساز فیصلے جنہوں نے ملت کی بے زمام ناقہ کو منزل تک پہنچانے میں رہبر کا
کردار ادا کیا۔
- وہ شفاف فیصلے جو کذب کو صداقت کا آئینہ دکھاتے ہیں۔
- وہ عہد آفریں فیصلے جنہوں نے حق و باطل کے مابین خط امتیاز کھینچ کر رکھ دیا۔
- وہ واضح فیصلے جنہوں نے جعلی نبوت کے پیروکاروں کے چہروں پر پڑے تقدیس کے
ہر نقاب کو اُلٹ دیا۔
- وہ آئینہ صفت فیصلے جس میں قادیانی گروہ کا سربراہ اور اس کے پیروکار اپنا اصل چہرہ
دیکھ کر بلبلا اُٹھے۔
یہ عدالتی فیصلے
- قادیانیوں کی زہریلی سازشوں اور تخریبی کارروائیوں کی لرزہ خیز روداد ہیں ۔
- قادیانیوں کی طرف سے شانِ رسالت ﷺ میں توہین‘ قرآن مجید اور کلمہ طیبہ میں
تحریف‘ شعائر اسلامی کا تمسخر‘ آئین کا مذاق اور قانون کی خلاف ورزیوں کا وہ حقائق نامہ ہے جس نے ہر قادیانی کو رسوائے زمانہ گستاخِ رسول‘ ”سلمان رشدی“ قرار دیا ہے۔
- ججوں‘ سیاستدانوں‘ آئین شناسوں‘ وکیلوں‘ صحافیوں‘ دانشوروں‘ علماء اور طالب علموں
کے لیے ایک راہنما کتاب کا کام دیں گے۔
ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے
کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت
گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکنے والے حق کے متلاشی قادیانیوں کے لیے ایک رہنما کتاب
کامیاب مناظرہ
ایک قادیانی سے فیصلہ کن مناظرہ جس کے نتیجہ میں
محمد متین خالد
وہ قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام کی آغوش میں آ گیا
ایسی علمی، تحقیقی اور دلچسپ کتاب جو اپنے اندر لیے ہوئے ہے
- قادیانی مناظر کی عبرتناک شکست
- قرآن وحدیث کے فولادی دلائل و براہین کی طوفان خیزی
- قادیانی باطل تاویلات اور شکوک و شبہات کا خاتمہ
- قادیانی دجل و تلبیس کی نقاب کشائی
- قادیانی اعتراضات کے دندان شکن جوابات
- ہر صفحہ نئی کتاب ....... ہر سطر نیا انکشاف ....... ہر لفظ نئی معلومات
مستند حوالہ جات سے مزین یہ کتاب تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے تمام مجاہدین کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے تمام افراد کے لیے بے حد اہمیت کی حامل ہے جو دلائل و براہین کی روشنی میں ”قادیانیت کا اصل چہرہ“ دیکھنا چاہتے ہیں۔
اس کتاب کے مطالعہ کے بعد کوئی قادیانی مناظر آپ کے کبھی مدمقابل نہیں آ سکے گا۔ (ان شاء اللہ)
ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے
کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ناموس پر قربان ہو جانے والے خوش نصیبوں کا ایمان افروز تذکرہ
شہیدان ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
شہدائے جنگ یمامہ غازی علم دین شہیدؒ غازی حاجی محمد مالکؒ غازی میاں محمد شہیدؒ غازی عبداللہ شہیدؒ غازی فاروق احمد غازی احمد دین شہیدؒ غازی زاہد حسینؒ غازی عامر عبدالرحمن چیمہؒ شہدائے تحریک ختم نبوت 1953ء غازی عبدالقیوم شہیدؒ غازی مرید حسین شہیدؒ غازی عبدالرشید شہیدؒ غازی منظور حسین شہیدؒ غازی محمد صدیق شہیدؒ غازی عبدالمنانؒ غازی بابو معراج دین شہیدؒ غازی محمد عمران وحید
اس کے علاوہ دیگر شخصیات کے موضوع پر اور بہت سے دوسرے اہم مقالات
- ظلمت دہر میں ”چراغ اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کی اجلی اور کومل لوؤں سے اجالا کرنے والے ضوریز و ضیابار ماہتابی و آفتابی کرداروں کا روشن تذکرہ
- تھانوں کی تنگ و تاریک حوالاتوں، پھانسی گھاٹوں کی بے نور فضاؤں اور جیلوں کی کال کوٹھڑیوں میں ”آبروئے ما ز نام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم است“ کا ورد کرنے والے کفن بردوش مجاہدوں کی زندہ جاوید روداد اور انوکھے مشاہدات
- ایک ایسی کتاب جس کا ایک ایک لفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہونے والے بدطینت انسان نما ابلیسوں کے ایوانوں کے لیے برق قضا کی حیثیت رکھتا ہے۔
- یہ کتاب محض ایک کتاب نہیں ........ خواجہ بطحا صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر کٹ مرنے والوں اور دشمنان رسالت مآب کے ناپاک وجود سے دھرتی کو پاک کرنے والی پاکیزہ ہستیوں کا مختصر مگر مبسوط انسائیکلوپیڈیا ہے۔
اپنی نوعیت کی منفرد کتاب جس کا مطالعہ آپ کے جذبہ ایمانی کو ایک نیا ولولہ عطا کرے گا
کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک گرانقدر تحفہ
تحفظ ختم نبوت اہمیت اور فضیلت
دینی غیرت وحمیت پر مبنی ایک فکر انگیز دستاویز
ایک ایسی تاریخی وتحقیقی کتاب
محمد متین خالد
- جو جنگ یمامہ سے لے کر آج تک (14 صدیوں پر مشتمل) دینی غیرت وحمیت اور
ایمانی جرأت وبسالت سے لبریز ولولہ انگیز حقائق وواقعات سے مزین ہے۔
- جو ”ختم نبوت زندہ باد“ کا ورد کرنے والے کفن بردوش مجاہدوں کی زندہ و جاوید روداد
اور چشم کشا مشاہدات وتجربات پر مبنی ہے۔
- جس میں ”شہیدان ناموس رسالت ﷺ“ کے ماہتابی اور آفتابی کرداروں کا روشن
تذکرہ ہے۔
- جو قلم کی سیاہی سے نہیں، دلی سوز و گداز اور خون جگر سے لکھی گئی ہے۔
- جس کے مطالعہ سے خون رگوں میں جوش مارتا اور قاری تاریخ کے جھروکوں سے ہر واقعہ اپنی
پرنم آنکھوں سے براہ راست دیکھتا ہے۔
- جس کا ہر لفظ پاکیزہ، ایمان پرور، پرسوز اور باطل شکن ہے۔
- جس کے مطالعہ سے ہر مسلمان کے روح و قلب میں محبت رسول ﷺ کے خوابیدہ
جذبات واحساسات اجاگر ہو جاتے ہیں۔
- جس میں ”غداران ختم نبوت“ کا عبرتناک انجام، ہر قادیانی نواز کے لیے عبرت ونصیحت
کا سبق لیے ہوئے ہے۔
- جو قادیانی اور قادیانی نوازوں کی آنکھوں کا آشوب اور ان کے حلق میں چبھتا کانٹا ہے۔
- جس کا مطالعہ کارکنان ختم نبوت کے ایمان و ایقان کو ایک نئی زندگی بخشتا ہے اور وہ ایک
نئے ولولے اور تازہ جذبے کے ساتھ اس محاذ پر برسر پیکار رہتے ہیں۔
آنکھوں کے راستے دل میں اتر جانے والی یہ کتاب ہر مسلمان کے لیے ایک گرانقدر تحفہ ہے۔ اسے پڑھیے ..... سمجھیے ..... اور اس کی روشنی کو پھیلائیے ..... شفاعت محمدی ﷺ آپ کی منتظر ہے۔
کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت
ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے
گفتگو ہو یا مباحثہ، تقریر ہو یا مناظرہ
قادیانیوں کو
لاجواب کیجئے!
ایک شاہکار کتاب جس کے مطالعے سے آپ قادیانیوں محمد متین خالد کو ہر موضوع پر آسانی سے شکست دے سکتے ہیں۔
- قادیانی نعرہ ”محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں“ کی نقاب کشائی
- قادیانیوں کی آئینی اور شرعی حیثیت
- قادیانیوں سے مناظرہ کیسے کریں؟
- ایک فیصلہ کن مباہلہ
- قادیانی راسپوٹینوں کے عبرت ناک انجام
- قادیانی نبیوں کے بھیانک حالات اور ان کی بربادی کے ہوش ربا واقعات
چونکا دینے والے تاریخی حقائق و واقعات جو عام لوگوں سے اوجھل رہتے ہیں ناول سے زیادہ دلچسپ، حقائق سے زیادہ سبق آموز اور دلائل سے زیادہ اثر انگیز
ایک ایسی کتاب جسے آپ بار بار پڑھنا چاہیں
کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے
آزادیٔ اظہار
کے نام پر
ترتیب و تحقیق
محمد متین خالد
اسلام اور ناموس رسالت ﷺ کے خلاف مغرب کے تعصب، دوہرے معیار اور بھیانک سازشوں پر مبنی تحقیقی دستاویز
ناقابل تردید حقائق، تہلکہ خیز واقعات، ہوش رُبا انکشافات
ایک منفرد اور اچھوتے موضوع پر لکھی جانے والی شاہکار کتاب جو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے:
- انسانی آزادی، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے نام نہاد علمبرداروں کے مکروہ چہروں کی نقاب کشائی۔
- بے لگام آزادی اظہار کے خبط میں مبتلا مغرب کی اسلام کے خلاف ناپاک سازشوں کے زہریلے واقعات۔
- دلائل و براہین اور حقائق و انصاف کے میدان میں مغرب کی علمی و اخلاقی شکست کی سبق آموز کہانی۔
- اخلاق، مساوات اور رواداری کا درس دینے والے مغربی تھنک ٹینکس کی ہٹ دھرمی، تنگ نظری،
رعونت، عدم برداشت اور دشنام طرازیوں کے قابل شرم نمونے۔
- دین اسلام کے دنیا بھر میں غیر معمولی پھیلاؤ سے کلیسا کی پریشانی اور بدحواسی کے قابل دید مناظر۔
ایک ایسی کتاب جو مسلمانوں کی بے حسی اور بے بسی کا نوحہ کرتے ہوئے، ان کے خوابیدہ ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے، ان کی دینی غیرت و حمیت کو جگاتے ہوئے، انہیں احساس ندامت کے ساتھ رلاتے ہوئے اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کا فریضہ یاد دلاتے ہوئے ایک ولولہ تازہ اور ضربِ کلیمی عطا کرتی ہے۔
پڑھیے اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے آگے بڑھیے۔ شفاعت رسول ﷺ آپ کی منتظر ہے۔
علامہ اقبالؒ اور فتنۂ قادیانیت
ضخیم مجلد
شہرہ آفاق دانشوروں کی فکر انگیز ، تحقیقی اور تاریخی تحریریں
- مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
- (ر) جسٹس جاوید اقبال
- پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر
- آغا شورش کاشمیریؒ
- نعیم آسیؒ
- محمد عطا اللہ صدیقی
- خالد نظیر صوفی
- سید نذیر نیازی
- پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
- مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ
- صاحبزادہ خورشید احمد گیلانیؒ
- میر شکیل الرحمن
- ڈاکٹر وحید قریشی
- ڈاکٹر وحید عشرت
- ڈاکٹر عبدالغنی فاروق
- پروفیسر خالد شبیر احمد
- جعفر بلوچ
- علیم ناصری
- عبدالمجید خاں ساجد
- محمد حنیف شاہد
- حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدرویؒ
- کلیم اخترؒ
ایک ایسی کتاب جو
- علامہ اقبالؒ کے عشق رسالت مآب ﷺ، غیرت اسلامی اور حمیت ملی کے آئینہ دار ایمان افروز واقعات اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔
- علامہ اقبالؒ کے افکار و نظریات کی روشنی میں قادیانیت کی فتنہ طرازیوں کا مکمل محاکمہ ، تجزیہ اور تحلیل کرتی ہے۔
- علامہ اقبالؒ کے مقالات، خطبات، توضیحات، شاعری اور مکاتیب کو جو قادیانیت کے خلاف قول فیصل اور حرف آخر کا درجہ رکھتے ہیں، اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
علامہ اقبالؒ سے دلی محبت اور ذہنی ارادت رکھنے والوں کے لیے ایک شاہکار تحفہ
ماہر اقبالیات جناب محمد سہیل عمر ڈائریکٹر اقبال اکادمی اور نامور کالم نگار جناب حافظ شفیق الرحمٰن ایڈیٹر انچیف اُردو پیپر ڈاٹ کام کی گرانقدر علمی تقاریظ کے ساتھ
کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت
ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے
عالم اسلام میں اپنی نوعیت کی منفرد کتاب
قادیانیت
ثبوت حاضر ہیں!
قادیانیوں کی بدترین کفریہ عقائد و عزائم پر مبنی عکسی شہادتیں
محمد متین خالد
ہوشربا
انکشافات
سنسنی خیز
واقعات
ناقابل تردید
حقائق
قادیانیت
پر مکمل
انسائیکلوپیڈیا
یہ ایک ایسی تاریخی و تحقیقی کتاب ہے
- جو قادیانیوں کی اسلام کے خلاف ہرزہ سرائیوں اور گستاخیوں
کے مستند دستاویزی ثبوت لیے ہوئے ہے۔
- جسے 10 سال کی شبانہ روز انتھک محنت کے بعد مکمل کیا گیا ہے۔
- جس میں قادیانی کتب اور اخبارات و رسائل کے 50 ہزار سے زائد صفحات
کھنگالنے کے بعد قادیانیوں کے مذموم عقائد و عزائم کے تحریری ثبوت یکجا کر دیے گئے ہیں۔
- جس کے مطالعے سے ہر قادیانی اپنے عقائد کی سچی اور بھیانک تصویر دیکھ کر
راہ ہدایت پاسکتا ہے۔
- جو سادہ لوح مسلمانوں کو فتنہ ارتداد سے بچانے کے لیے ایک مؤثر
ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔
- جس کا مطالعہ علماء، خطباء، وکلاء، اساتذہ اور طلباء کو فتنہ قادیانیت کے خلاف
مضبوط دلائل اور ٹھوس معلومات کا ذخیرہ فراہم کرے گا۔
- جسے قادیانیت کے خلاف ہر عدالتی مقدمہ، بحث اور مناظرہ میں مستند حوالے
کی حیثیت سے پیش کیا جاسکتا ہے۔
- جسے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام اور نامور اہل علم و دانش کی خواہش اور
سرپرستی میں تیار کیا گیا ہے۔
حیرت انگیز
معلومات
سارے راز
بے نقاب
بند کتابوں کی
کھلی کہانی
ھر گھر اور
لائبریری کی
ضرورت
ایک ایسی دستاویز جس کا مدتوں سے انتظار تھا
پڑھیے اور تحفظ ختم نبوت کے لیے آگے بڑھیے!
قادیانیت برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا
محمد متین خالد صاحب جیسے دیدہ ور قوموں میں کبھی کبھی پیدا ہوتے ہیں، جو اپنے عمل صالح سے زندگی کو جنت کر لیتے ہیں اور تاریخ جنہیں اپنے کشادہ دامن میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتی ہے۔ وہ اقبال کے ایسے مرد مومن ہیں جو ایک عمر سے رزم حق و باطل میں ایمان آفرین فولادی قوت کے ساتھ راہ حق پر ایستادہ ہیں۔ تحفظ ناموس رسالت کے خارزاروں میں اترنا جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے، مگر جناب متین خالد گزشتہ تین عشروں سے ”رد قادیانیت“ کے محاذ پر ملحدوں، مرتدوں اور زندیقوں سے نبرد آزما ہیں۔
قادیانیت برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا بہت ہی انگشت بدنداں کر دینے والی کتاب ہے، جس میں متین خالد صاحب نے بڑی عرق ریزی اور جانفشانی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی ہی کتابوں، تحریروں اور ”فرمودات“ سے ثابت کیا ہے کہ قادیانیت انگریز کا بویا ہوا فتنہ ہے جس کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ انگریز سرکار کی خوشامد قادیانیوں کا مقصد حیات شروع سے تھا اور آج بھی ہے، کتاب کو کسی قسم کے ابہام اور شک و شبہ سے محفوظ بنانے اور وسوسوں سے پاک کرنے کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کے چھوٹے چھوٹے ندامت آمیز اقتباسات کے عکسی ثبوت بھی اس میں شامل کر دیئے گئے ہیں جن میں:
- سلطنت برطانیہ امن و راحت کی پناہ گاہ !!
- جہاد ختم !!
- دین کے لیے لڑنا حرام ہے !!
- مکہ معظمہ سے لندن بہتر !!
- سکون نہ مکہ میں نہ مدینہ میں !!
- سرکار انگریز پھل دار درخت کی طرح ہے !!
- گورنمنٹ انگریز کا زمانہ ............. روحانی اور جسمانی برکات کا مجموعہ‘ وغیرہ وغیرہ ۔
درج بالا خرافات سے اندازہ کرنا مشکل نہیں رہا کہ قادیانی ٹولہ مذہبی تو سرے سے تھا ہی نہیں لیکن ان کا سیاست جیسے مقدس علم و عمل سے بھی کوئی سابقہ نہیں ہے۔ یہ محض درباریوں، خوشامدیوں، بھانڈوں، بے یقینوں، لادینوں اور اٹھائی گیروں کا ”راہ گم کردہ“ ایک ایسا گروہ ہے جس کا کوئی مذہب و مسلک یا دین دھرم نہیں ہے۔
رب تعالیٰ اس فتنے سے امت مسلمہ کو محفوظ و مامون رکھے !! آمین !!
جبار مرزا
اسلام آباد