فداک ابی وامی یا رسول اللہ
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
تحفظ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
مُرتّبہ:
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی
ے جہان کی طرف اشارہ کیا تو ا ں کا کام تمام کر دیا پھر آپ نے جبریل ا مین کی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا پوچھا تو ا ں کا کام تمام کر دیا پھر جبریل کو اسود بن طرف اشارہ کیا آپ نے پوچھا تو نے کیا کیا ا س نے حارث دکھایا تو انہوں نے اس کے پیٹ پ ریل امین نے کہا میں نے اس کا کام تمام کر دیا
اسلام کا مکی دور تھا مسلمان بے بسی اور کسمپرسی کے حالات سے دوچار کے پہاڑ مسلمانوں پر گرائے جا رہے تھے ابھی جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا جب اور اہانت رسول ﷺ میں بڑھنے لگے تو عذاب خداوندی کے مستحق ٹھہرے ان کا مقدر بن گئی۔ یات طیبات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی نسب یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وہ جو عیب میں سے کسی پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد ی فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحۃً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ
وَّعَلٰۤی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ
عَلٰۤی اِبْرَاهِیْمَ وَعَلٰۤی اٰلِ اِبْرَاهِیْمَ
اِنَّكَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌط
اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰۤی
اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی
اِبْرَاهِیْمَ وَعَلٰۤی اٰلِ اِبْرَاهِیْمَ
اِنَّكَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌط
اس کتاب کی اشاعت میں معاونت کے لئے
الخدمت خواتین ٹرسٹ لاہور مرکز کے ممنون ہیں
ویمن اینڈ فیملی کمیشن جماعت اسلامی
آپ نے پوچھا تو نے اُٹھایا تو انہوں نے اس کے نے کہا میں نے اس کا کام تمام
عذاب خداوندی کا ہو گی۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اس کو قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تعریضاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مرتبہ:
ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی
Al-Balagh
Islamic Cassettes. Books & Hijab
Model Town. Lahore Ph. 042-35942233
Jail Road Lahore Ph. 042-35717842
F-8 Markaz Islamabad. Ph. 051 - 2281420
نے اس کا کام تمام کر دیا پھر جبرئیل آ دیا آپ نے پوچھا تو نے کیا کیا حق دکھایا تو انہوں نے اس کے ئیل نے کہا میں نے اس کا کام تمام
کے لئے تو عذاب خداوندی کے رہیں گی۔ ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی ب یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
آنکہ از خاکش بروید آرزو
یا ز نور مصطفیٰ او را بہا است
یا ہنوز اندر تلاش مصطفیٰ است
اس جہان رنگ و بو کی جس چیز پر بھی نظر ڈالیں
جس سے آرزوئیں اور تمنائیں جاگ اٹھتی ہیں
یا تو حضرت محمد ﷺ کے نور کی وجہ سے اُس کو
قدر و قیمت حاصل ہے یا وہ ابھی اُن کے نور کی تلاش
میں سرگرداں ہے۔
مرتد ہو کے اور نے نے کر ہے
اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے آپ نے پوچھا تو نے کیا دکھایا تو انہوں نے اس کے نے کہا میں نے اس کا کام تمام
ابو طالب نے دار الندوہ میں ہنسی اڑائی۔ اس واقعہ سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تعریضاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
ترتیب
عنوان مصنف صفحہ
1 پیش لفظ ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی 1
2 قانون ناموس رسالت کیا ہے؟ ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی 6 اور کیوں ضروری ہے؟
3 توہین رسالت کا مقدمہ محترم خرم مرادؒ 23
4 توہین آمیز خاکے پروفیسر خورشید احمد 40 (نئی صلیبی جنگ کا زہریلا ہتھیار)
5 قانون توہین رسالت کے نئے معنی و مفہوم محمد اسماعیل قریشی ایڈوکیٹ 76
6 شاتم رسول کی سزا اور اس کی معافی سینیٹر پروفیسر ساجد میر 86
7 تحفظ ناموس رسالت شاہنواز فاروقی 93
8 مغرب اور اسلام میں کشمکش محترم خرم مرادؒ 100 (فیصلہ کن مسئلہ: نبوت محمدیؐ)
ام کر دیا پھر محمد ﷺ نے آپ نے پوچھا تو نے کیا دکھایا تو انہوں نے اس کے نے کہا میں نے اس کا کام تمام
عذاب خداوندی کے ہوگی۔ سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجود عیب میں سے کسی اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کو قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
عنوان مصنف صفحہ
9 نبی رحمت عورت کے نجات دہندہ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی 122
10 شاتمین رسول کا انجام تاریخ کے آئینے میں ڈاکٹر عادل باناعمہ 127
11 آسیہ مسیح اور عافیہ صدیقی مظفر اعجاز 142
12 آسیہ مسیح کیس کی آڑ میں شوکت علی 146 اسلامی دفعات کے خاتمے کی مہم
13 احادیث میں توہین رسالت کے واقعات حافظ حسن مدنی 153
14 تحفظ ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داری ڈاکٹر انیس احمد 173
15 عرض حال مصنف بحضور رحمۃ للعالمین ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 200
سوا چودہ سو سا صلیب و ہلال کے خلافت کا احیاء ہوا بن گئے، تعبیرات او صلی اللہ علیہ وسلم کی پ کرتی رہیں۔ انقلاب ذات مرکز محبت بن گ کر کے اور ان کی م موجودہ فتنوں ک لیے دنیا و عقبیٰ کی سرخرو اور عشق کا ایک ایسا جذ اُمت مسلمہ کی قوت ب اقبال حضور صلی
پیش لفظ
اللهم صلى على محمد وعلى آله واصحابه اجمعين
سوا چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اس عرصے میں دنیا میں بڑے بڑے انقلابات آئے، صلیب و ہلال کے معرکے ہوئے، حکومتیں بنیں اور مٹ گئیں، عروج وزوال کی نئی نئی مثالیں قائم ہوئیں، کبھی خلافت کا احیاء ہوا، کبھی ملوکیت کی بساط بچھی، نظام بھی اُبھرے اور نظریات بھی نمود پذیر ہوئے اور پھر قصہ پارینہ بن گئے، تعبیرات اور عقائد میں اختلافات اُبھرے، فرقے بنے اور ختم ہوگئے ۔ یہ سب ہوتا رہا مگر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کی ضیا پاشیاں اپنی جگہ برقرار رہیں اور ہر دور میں اپنی لو سے انسانیت کو منور کرتی رہیں۔ انقلابات زمانہ ان کی پاکیزہ ہستی کی ضیاء پاشیوں کو ذرہ برابر مدہم نہ کر سکے۔ اور ہر دور میں اُن کی ذات مرکز محبت بن کر سرچشمہ ہدایت بنی رہی۔ اور آئندہ بھی انسانیت اس سرچشمہ ہدایت کی ناموس کی حفاظت کر کے اور ان کی پیروی کر کے اپنی دنیا و عقبیٰ کو سدھارتی رہے گی۔
موجودہ فتنوں کا دور اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات جو ہمارے لیے دنیا و عقبیٰ کی سرفرازی کا آخری سہارا ہے اور جن کا نام سنتے ہی ہر مسلمان دل کی عجیب کیفیت ہوجاتی ہے اور محبت اور عشق کا ایک ایسا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے جس کا غیر مسلم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اُمت مسلمہ کی قوت کا اصل سرچشمہ اور خزانہ ہے اور اسلام دشمن طاقتیں اسی خزانے کو لوٹنے کے درپے ہیں۔ اقبال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کے بارے فرماتے ہیں۔
محمد رسول اللہ تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتﷺ
آنکہ از خاکش بروید آرزو
یا ز نورِ مصطفیٰؐ او را بہا است
یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفیٰؐ است
اس جہانِ رنگ و بو کی جس چیز پر بھی نظر ڈالیں جس سے آرزوئیں اور تمنائیں جاگ اٹھتی ہیں یا تو حضرت محمدﷺ کے نور کی وجہ سے اُس کو قدر و قیمت حاصل ہے یا وہ ابھی اُن کے نور کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ !
نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو
انسان کے لیے یہ کائنات بنائی گئی اور انسانِ کامل یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وجہ کائنات ہیں۔ کائنات کے تمام قافلے چاہے وہ انسان ہوں یا کوئی اور مخلوق، چاند ہوں یا ستارے یا کہکشائیں سب کو اُسی معنی دیر یاب کی تلاش تھی جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی اقدس کی صورت میں ظہور پذیر ہوئی۔
اللہ رب العالمین نے بھی اپنے اس احسان کا ذکر اس طرح سے کیا ہے کہ لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَکِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَةَ وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
(آل عمران ۱۶۴:۳)
ترجمہ: ف ایسا پیغمبر اٹھایا ج دیتا ہے، حالانکہ ہم نے یہ
ہم نے کے نور سے مع عناصر جنہیں کے لیے اپنی ف فتنوں اور یہ ایسا ہی س شفاف چشمے پر لاکھوں لوگ بھ اسی میں ہے کہ کرے تاکہ
ترجمہ: درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اُس کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔
ہم نے یہ وطن عزیز اسی لیے حاصل کیا تھا کہ ہم اس میں نظام مصطفیٰؐ کا قیام عمل میں لائیں گے۔
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است
ہم نے پاکستان کو اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کا عزم کیا تھا کہ اس کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے منور کریں گے اور ابولہب کے چیلوں کی چنگاریوں سے محفوظ رکھیں گے مگر وقتاً فوقتاً یہاں پر کچھ شرپسند عناصر جنہیں غیر ملکی امداد کی وجہ سے سودا گر عناصر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، وطن عزیز کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کے لیے اپنی مذموم چالیں چلتے ہیں اور اس دفعہ اُن کا ہدف ہمارا آخری مرکز محبت ہے۔
فتنوں کے اس دورِ لا مرکزیت نے اُمت کو اس کے آخری منبع و مرجع سے محروم کرنے کے لیے ہدف بنایا ہے اور یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی پاگل سورج پانی اور ہوا کو گالی دے یا روشنی، فضا اور موسم کو برا بھلا کہہ دے، کسی صاف اور شفاف میٹھے پانی کے چشمے کو کیا فرق پڑتا ہے اگر اُس کو لوگ گدلا اور کھارا کہنے لگیں۔ اس طرح چمکتے ہوئے سورج کو لاکھوں لوگ بھی سیاہ پتھر کہنے لگیں تو بھی اُس کی ایک کرن کو نہیں روک سکتے۔ وہ بدستور چمکتا رہے گا مگر اُمت کا مفاد اسی میں ہے کہ اس عظیم ترین ہستی اور محبوب دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق اور ناموس کی حفاظت اور دفاع کرے تا کہ معاشروں کا امن قائم رہے۔ اور افراد کی اصلاح کے لیے بھی ضروری ہے کہ اُس مثالی انسان کامل کے
تحفظ ناموس رسالت
محمد رسول اللہ تحفظ ناموس رسالت
ساتھ عقیدت ومحبت میں ذرہ برابر کمی نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ کی ذات مبارک ہی وہ سائبان ہے جس میں خوار و زار اُمت پناہ لیتی ہے، متحد ہو جاتی ہے اور سکون پاتی ہے، دشمن اس آخری سہارے سے اُمت کو محروم کرنے کے درپے ہے مگر ہمیں متحد ہو کر ایمان کی اُس رمق کو بچانا ہے جسے اُمت کے جسد سے نکالنے کے لیے حضورﷺ کی ذات اقدس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دنیا میں انقلاب کی رفتار بہت تیز ہے اور روز بروز تیز تر ہوتی چلی جارہی ہے۔ پہلے ان کے لیے زمانہ درکار ہوتا تھا اب لمحوں میں وہ سفر طے ہونے لگا ہے اور کبھی تو لمحے کی خطا صدیوں کی سزا میں تبدیل ہو سکتی ہے اور کبھی پلک جھپکتے اور دو گام چل کر بھی منزل سامنے آجانے کا امکان بن رہا ہے۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہم ایمان بالغیب رکھنے والی قوم ہیں۔ ہم زمینی حقائق اور اسباب پر بھروسہ نہیں کرتے بلکہ اپنے قوی اور قادر رب کی قوت پر بھروسہ رکھتے ہیں کہ جب اس کا حکم آجائے تو سب زمینی حقائق زمین بوس ہو جایا کرتے ہیں۔ ہمیں حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کے اس خزانے کو لٹنے سے بچانا ہے۔ اس بکھری ہوئی مگر اللہ اور رسول ﷺ کی محبت سے سرشار اُمت کو اسی مرکزِ محبت کے گرد اکٹھا کرنا ہے۔ ان حالات میں کوئی بھی اگر قانون توہین رسالت میں تبدیلی کا خیال رکھتا ہو ان کی بات سختی سے رد کرتے ہوئے انہیں یہ باور کرانا ہے کہ یہ معاشروں کے استحکام اور فتنہ و فساد سے بچنے کے لئے اہم ترین قانون ہے کہ کوئی شرپسند قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے بلکہ جن برگزیدہ ہستیوں کی بدولت یہ دنیا نیکی، سچائی، حق پرستی اور عدل و انصاف جیسی قدروں سے آشنا ہوئی۔ ان کی شان میں گستاخی کو کوئی معاشرہ اور مذہب برداشت نہ کرے اور حضور نبی کریم ﷺ جن کو اللہ نے سراجاً وہاجاً اور سراجاً منیراً کا لقب دیا ہے کہ جس طرح سورج روشنی ،حرارت اور توانائی کا منبع ہے اسی طرح حضورﷺ کی ذات گرامی بھی مسلمانوں کی زندگی کا سرچشمہ ہے جو ہر ایک کو
فیض یاب کرتا ہے اس فتنوں کے دور میں آئیے ظلمت شب کا رونا رونے کی بجائے اپنے حصے کی شمع یہ کہتے ہوئے جلائیں:
على الجهاد ما بقينا ابداً
ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے آقائے دو جہاں سے اس بات پر بیعت کی ہے کہ جب تک ہمارے سر ہمارے دھڑوں پر سلامت ہیں ہم آپ کے لائے ہوئے نظام اور سنتوں کو نافذ کرنے کی جدوجہد اور آپ کی ناموس کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے۔
تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لئے اس سلسلے میں چند اہم تحریریں اس مجموعہ میں شامل کی ہیں اور یہ چھوٹی سی کوشش اس دُعا کے ساتھ پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہی ہوں کہ
روز محشر عذر ہائے من پذیر
گر تو می بینی حسابم ناگزیر
از نگاہ مصطفیٰؐ پنہاں بگیر!
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی صدر ویمن اینڈ فیملی کمیشن جماعت اسلامی پاکستان
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
قانون ناموس رسالت کیا ہے؟ اور کیوں ضروری ہے؟
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی
انسان جسے اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا اور اسے معزز ٹھہرایا، ”وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ“ کی حقیقت بیان کر کے اسے عزت و شرف کا مقام دیا مگر جب انسان اپنے خالق کی ہدایات سے بے نیاز ہو کر اُس کی دی ہوئی قوتوں اور صلاحیتوں کو اپنی مرضی اور سرکشی سے استعمال کرتا ہے تو زمین فساد سے بھر جاتی ہے اور وہ خود اسفل سافلین بن کر ذلت کی عمیق گہرائیوں میں جا پڑتا ہے اور اپنی ہی جنس پر ظلم وستم کے وہ پہاڑ توڑتا ہے کہ روح کانپ اٹھتی ہے۔
دورِ جہالت حسب نسب، رنگ و نسل، ملک و قوم، مال و منال اور زبان و ثقافت کی بنیاد پر انسان کو ادنیٰ و اعلیٰ اور کمتر و برتر قرار دے کر ان میں فرق و امتیاز پیدا کرتا ہے۔ تاکہ استحصالی قوتیں زندہ رہیں اور انسانی حقوق پامال ہوتے رہیں۔ لیکن حضور اکرم ﷺ کی ذات بابرکات نے ان تمام امتیازات کا خاتمہ کر دیا۔ معلم انسانیت کی تعلیمات کی روشنی، جب اندلس اور قرطبہ یونیورسٹیوں کے ذریعے یورپ پہنچی تو وہاں کے مفکرین نے بھی ان غیر انسانی امتیازات کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جس کے نتیجہ میں میگنا کارٹا، ژاں ژاک روسو کا معاہدہ عمرانی (Socio Contract) امریکہ کا دستور آزادی معرض وجود میں آئے۔ آخر کار جب جدید جاہلیت میں ان فتنوں نے دوبارہ سر اُٹھایا تو عالمی ضمیر نے محسوس کیا کہ دُنیا میں امن و سلامتی اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک یہ مصنوعی امتیازات ختم نہیں ہو جاتے۔ اس لیے 1948ء میں اقوام متحدہ نے بھی ان اُصولوں میں سے چند اُصول اپنا کر منشور بنایا جو سرورِ
کائنات کے خطبہ ہو چکی ہے کہ سوائے باوجود ان بنیادی ح ہوا ہے۔
آج کی فضا حقوق کی کوئی تمیز جلیل القدر پیغمبرو برصغیر پاک جاتے تھے۔ مغلیہ گورنر جنرل ہند قانون توہین مسیح لی صورت میں موجو کے خلاف منافرت دفعہ 153-A کا م ”جو کوئی الفا
کائنات کے خطبہ حجۃ الوداع جو انسانی حقوق کا اولین چارٹر ہے، کی صدائے بازگشت ہے، مگر اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ سوائے خلافتِ راشدہ اور اسلام کے قائم کردہ اداروں کے اقوامِ عالم نے اپنے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود ان بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری نہیں کی، جسے انہوں نے اپنی تہذیب و تمدن اور چارٹر کا لازمی حصہ ظاہر کیا ہوا ہے۔
آج کی فساد سے بھری زمین پر نظر ڈالیں تو یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ انسان کو دوسرے انسانوں کے بنیادی حقوق کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ یہ صرف اللہ رب العالمین کی ذات ہے، جس نے انسان کی رہنمائی کی ہے اور اپنے جلیل القدر پیغمبروں کے ذریعے انسان کو انسانی حقوق کی آگاہی دی۔
برصغیر پاک و ہند میں مغلیہ سلطنت کے عدالتی مقدمات میں فیصلے قرآن وسنت اور فقہ کی روشنی میں کیے جاتے تھے۔ مغلوں کے زوال کے بعد 1860ء میں انڈین پینل کوڈ نافذ کیا گیا جس کے نفاذ اور تدوین کے لیے گورنر جنرل ہند نے لارڈ میکالے کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا۔ انگلینڈ میں آج بھی اور 1860ء میں بھی قانون توہین مسیح بطور Common Law موجود تھا اور وہ انگلینڈ کے مجموعہ قوانین میں Blasphemy Act کی صورت میں موجود ہے۔ 1898ء میں دفعہ 124-A تعزیرات ہند میں شامل کی گئی جس کے تحت حکومت برطانیہ کے خلاف منافرت پھیلانے یا توہین حکومت کے جرم کی سزا عمر قید مقرر کی گئی۔ اسی سال 1898ء میں ہی ایک دفعہ 153-A کا بھی اضافہ کیا گیا جس کا متن حسب ذیل ہے: ”جو کوئی الفاظ سے بذریعہ تقریر، تحریر، اشارات یا کسی دوسرے طریقے سے ہندوستان میں ہز میجسٹی کی رعایا کی
تحفظ ناموس رسالت
مختلف جماعتوں میں دشمنی یا منافرت کے جذبات اُبھارنے یا انہیں بھڑکانے کی کوشش کرے۔ اسے دو سال قید تک سزا یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔“
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے شاتمان کے خلاف مقدمات بھی اسی دفعہ (153-A) کے تحت قائم ہوئے۔ جس میں سب سے مشہور مقدمہ ”رنگیلا رسول“ کے ناشر راج پال کے خلاف اسی جرم کے ارتکاب پر رجسٹر ہوا۔
عدالت سیشن جج سے اسے سزا دی گئی مگر ہائی کورٹ نے اسے سزا نہ دی۔ جس کے خلاف مسلمانان ہند میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور ہر پلیٹ فارم سے سخت احتجاج کیا گیا تا آنکہ غازی علم دین شہیدؒ نے راج پال کو موت کے گھاٹ اُتار کر اسے توہین رسالت کی سزا دی اور خود زندہ جاوید ہو گیا۔
جب برٹش گورنمنٹ نے یہ دیکھا کہ دفعہ A-153 سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہورہے ہیں تو ان کی اشک شوئی کے لئے 1927ء میں قانون فوجداری ایکٹ انڈین پینل کوڈ میں A-295 کو شامل کیا گیا۔ وہ دفعہ یہ ہے:
”جو کوئی عمداً اور بدنیتی سے تحریری، تقریری یا اعلانیہ طور پر ہر مجسٹی کی رعایا کی کسی جماعت کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین یا توہین کی کوشش کرے، کہ جس سے اس کے مذہبی جذبات مشتعل ہوں تو اسے دو سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔“
قیام پاکستان کے بعد، 23 مارچ 1956ء کو ”ہر مجسٹی کی رعایا“ کے الفاظ کو ”پاکستان کے شہریوں“ کے الفاظ
سے تبدیل کر دیا گیا۔
1961ء میں ایک ترمیمی آرڈیننس آیا۔ مگر اس دفعہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
1980ء میں دوسرے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے 298-A کا اضافہ کیا گیا جو حسب ذیل ہے:
”جو کوئی تحریری، تقریری، اعلانیہ، اشارتاً یا کنایتاً بالواسطہ یا بلا واسطہ امہات المؤمنینؓ یا کسی اہل بیتؓ یا خلفاء راشدینؓ میں سے کسی خلیفہ راشدؓ یا اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم کی بے حرمتی کرے، ان پر طعنہ زنی یا بہتان تراشی کرے، اسے تین سال تک کی سزا یا سزائے تازیانہ دی جائے گی یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔“
اس دفعہ میں اُمہات المؤمنینؓ اور اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کو تو قابل تعزیر گردانا گیا تھا مگر خود اس مقدس ہستی صلی اللہ علیہ وسلم جن سے نسبت کی وجہ سے ان کو یہ مرتبہ حاصل ہوا، اُس کی گستاخی کی کوئی سزا نہ تھی۔ جس پر سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ جناب اسماعیل قریشی کی جانب سے 1984ء میں شریعت کورٹ میں Petition دائر کی گئی ۔ مگر شریعت کورٹ کے بارے میں یہ چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ یہ کورٹ Existing Laws یعنی موجود قوانین کے بارے میں تو غور کر سکتی ہے مگر نیا قانون بنانا ان کا نہیں بلکہ پارلیمان کا کام ہے۔ اس لیے شریعت کورٹ کے فیصلے سے قبل ہی محترم اسماعیل قریشی صاحب نے یہ قانون ڈرافٹ کر کے بطور پرائیویٹ ممبر بل محترمہ آپا نثار فاطمہ کے ذریعے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ آپا نثار فاطمہ کے اس بل کو پیش کرنے کے بعد حکومت کی طرف سے وزارت قانون نے 1986ء میں یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جسے بحث و تمحیص کے بعد فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ نمبر 3 سال 1986ء کی صورت میں منظور کر کے تعزیرات
تحفظ ناموس رسالت
پاکستان میں 295-C کی صورت میں نافذ کیا گیا جس کا متن یہ ہے: ”جو کوئی عملاً، زبانی یا تحریری طور پر یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلاواسطہ اشارتاً یا کنایتاً محمدﷺ کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے وہ سزائے موت یا سزائے عمر قید کا مستوجب ہوگا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جاسکتی ہے۔“
توہین رسالت کے متذکرہ بالا بل میں اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا بطور سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اس میں عمر قید بھی رکھی گئی، جو قرآن و سنت کے منافی ہے۔ محترم اسماعیل قریشی صاحب نے اس فیصلے کے خلاف فیڈرل شریعت کورٹ میں رٹ بنام جنرل ضیاء الحق دائر کی اور جو لوگ اسے آمر کے قانون کا نام دے کر اس قانون کو ختم کرنے کی چال چل رہے ہیں۔ اُن کو علم ہونا چاہیے کہ جنرل ضیاء کے خلاف یہ مقدمہ دائر کیا گیا اور 78 کے قریب ہر مکتبہ فکر کے جید علماء کے دستخطوں کے ساتھ اس مقدمے کے دلائل فراہم کیے گئے۔ ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں اس مقدمے کی سماعت کی گئی اور بالآخر دستور کے آرٹیکل 203-D کے تحت فیڈرل شریعت کورٹ نے 30 اکتوبر 1990ء کو 295-C میں ترمیم کر کے عمر قید کے الفاظ حذف کر دیئے اور اب یہ فیصلہ پی ایل ڈی میں شائع ہوا ہے۔ (حوالہ PLD-FSC-1991 Page 10)
جو قانون توہین رسالتؐ، اس وقت پاکستان میں رائج ہے، وہ درحقیقت فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے مورخہ 30 اکتوبر 1990ء کی روشنی میں اور اس اعلیٰ عدالت کی ہدایت کے مطابق ترمیم کر کے نافذ کیا گیا ہے۔ فیڈرل شریعت کورٹ کا یہ فیصلہ عدالت کے پانچ فاضل جج صاحبان جن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں،
نے مختلف مکاتب فکر کے چھ جید علمائے کرام (فقہاء) کی معاونت سے صادر کیا تھا:
- 1- جناب چیف جسٹس گل محمد خاں (سابق جج لاہور ہائی کورٹ)
- 2- جناب جسٹس عبدالکریم خاں کنڈی (سابق جج پشاور ہائی کورٹ)
- 3- جناب جسٹس عبدالرزاق تھہیم (سابق جج کراچی ہائی کورٹ)
- 4- جناب جسٹس عبادت یار خاں (سابق جج کراچی ہائی کورٹ)
- 5- جناب جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خاں (پی ایچ ڈی اسلامی قانون)
ملک کی ایک اعلیٰ عدالت نے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں متعدد تاریخوں پر اس کی سماعت کی اور معاملے کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ لے کر ٹھنڈے دل سے یہ فیصلہ صادر کیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے تمام پیغمبروں کی شان میں گستاخی کے کلمات ادا کرنے والے بدقسمت شخص کی سزا، سزائے موت سے کم نہیں ہے۔ اور جو کوئی عملاً زبانی یا تحریری طور پر یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلا واسطہ اشارتاً یا کنائتاً حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے وہ سزائے موت کا مستوجب ہوگا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جائے گی۔ اگر وہی اعمال اور چیزیں دوسرے پیغمبروں کے متعلق کہیں جائیں وہ بھی اسی سزا کے مستوجب جرم ہوگا۔
قرآن وسنت نے حد اور تعزیری سزاؤں کے لیے چند شرائط مقرر کی ہیں:
اسلام نے ہی دنیا میں سب سے پہلے نیت، ارادے اور قصد یعنی Intention کو جرم کا بنیادی رکن بنایا
تحفظ ناموس رسالت
ہے۔ دنیا کے کسی اور قانون میں نیت کو جرم کا جزو نہیں سمجھا جاتا۔ مگر اللہ اور اس کے رسولؐ نے ارادہ اور نیت کو جرم اور ہر عمل کی بنیاد بنا کر انسان کو جزا اور سزا کا مستحق قرار دیا جو دنیائے قانون وعدل میں سب سے پہلا انقلابی اقدام ہے۔ ”اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ“ وہ مشہور حدیث ہے جو تمام حدیث و فقہ کی کتابوں میں پیشانی کے جھومر کی حیثیت سے سب سے پہلے لکھی ہوتی ہے۔ اسلام کا عادلانہ نظام اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے اور کوئی مجرم سزا سے بچ نہ پائے۔
اس لئے یہ بات تحقیق سے ثابت شدہ ہے کہ یہ اقلیتوں کے خلاف نہیں بلکہ یہ Law of the Land اور ایک General Law ہے اور یہ کسی آمر کا آرڈیننس نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور کورٹ کی ہر طرح کی مشاورت کے بعد بنایا ہوا قانون ہے۔ 1986ء سے لے کر اب تک اس قانون کے تحت 964 کیس عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔ اس میں
479 مسلمان 340 قادیانی 119 عیسائی 14 ہندو 12 دیگر فرقے
کے افراد ہیں۔ اور اب تک کسی مقدمے میں عدالت نے موت کی سزا نہیں سنائی۔ اس لئے یہ اعتراض
بالکل غلط ہے کہ یہ اقلیتوں کے خلاف بنایا گیا قانون ہے یا اس کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ قوانین کے غلط استعمال کو روکنا ہم سب کا فریضہ ہے مگر غلط استعمال کی وجہ سے قانون کو ختم کرنا سب سے بڑی لاقانونیت ہے جس کا سدباب ہمارا فرض ہے اور جب بات ہمارے مرکز محبت فداہ امی وابی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو جن سے محبت ہمارا جزو ایمان اور ہمارا سرمایہ حیات ہے۔ یہ قانون ہمارے ایمان کا حصہ اور اس کا تحفظ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ آیئے! اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنے حصے کی شمع ضرور جلائیں۔
قانون ناموس رسالت قرآن کی روشنی میں:
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ابولہب اور اس کی بیوی کو توہین رسالت کی سزا ان آیات میں سنا کر ابدی لعنت کا مستحق قرار دیا ہے۔
- ☆ تَبَّتْ يَدَآ أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ o مَآ أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ o سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ o
وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ o فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ (اللھب ۱: ۵)
ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ ۔ اُس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اُس کے کسی کام نہ آیا۔ ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا اور (اُس کے ساتھ ) اُس کی جورو بھی ، لگائی بجھائی کرنے والی ، اُس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی۔
سورہ الکوثر میں ارشاد ہے۔
- ☆ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ o (الکوثر: ۳)
خاتم النبیین تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
اور بے شک تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔
- ☆ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ o
آپ کا مذاق اڑانے والوں سے نمٹنے کے لئے ہم خود ہی کافی ہیں۔
(الحجر:۹۵)
- ☆ وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ o
اور اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔
(سورۃ المائدہ:۶۷)
- ☆ فَإِنَّمَا هُمُ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللَّهُ o
اللہ ان کے مقابلے میں تمہاری حمایت کے لئے کافی ہے۔
(البقرہ:۱۳۷)
- ☆ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا
(سورہ الاحزاب:۵۷)
بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی طرف سے پھٹکار ہے۔ اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا گیا ہے۔
- ☆ ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ مَنْ يُشَاقِقِ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
(الانفال:۱۳)
یہ حکم قتال اس لیے دیا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی مخالفت کرتا ہے تو بلاشبہ اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔
- ☆ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(التوبة:۶۱)
اور جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچانا چاہتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
- ٭ يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ
(البقرة: ١٠٣)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا یعنی ہماری طرف التفات کیجئے۔ کہا کرو اور توجہ سے سنو۔ یہ کافر تو درد ناک عذاب کے مستحق ہیں۔
- ٭ وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ
o لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ o
(سورۃ توبہ: ۶۵، ۶۶)
اور اگر تم ان لوگوں سے پوچھو (ایسی باتیں کیوں کرتے ہو) تو یہ ضرور جواب میں کہیں گے کہ ہم نے تو یونہی جی بہلانے کو ایک بات چھیڑ دی تھی اور ہنسی مذاق کرتے تھے۔ تم ان سے کہو، کیا تم اللہ کے ساتھ اس کی
- ٭ آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہو؟ بہانے نہ بناؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم نے
اقرارِ ایمان کے بعد پھر کفر کیا۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیں تاہم ایک گروہ کو ضرور عذاب دیں گے۔ اس لیے کہ وہ اصل مجرم ہیں۔
- ٭ يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ
بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ
(الحجرات: ٢)
اے اہلِ ایمان! اپنی آواز کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ہی ان سے اونچی آواز میں بات کیا کرو۔
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے بات کیا کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔
یہودی اور مسلمان کا تنازع:
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (النسآء: ٦٥)
پس اے محمدؐ! تمہارے رب کی قسم یہ کبھی بھی مومن نہیں ہو سکتے ، جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں تم کو یہ اپنا حَکَم نہ مانیں اور پھر جو بھی آپؐ فیصلہ کر دیں ، اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں ، بلکہ اس سے پورا پورا تسلیم کر لیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقدمے میں ایک مسلمان کے خلاف یہودی کے حق میں فیصلہ سنایا۔ مسلمان حضرت عمرؓ کے پاس اس مقدمے کو لے گیا۔ حضرت عمرؓ نے تصدیق کی کہ کیا حضورؐ نے اس کا فیصلہ یہودی کے حق میں کیا۔ جب اُن کے علم میں جواب اثبات میں آیا تو حضرت عمرؓ نے اس منافق کی گردن اڑا دی۔ مقتول کے ورثاء نے حضرت عمرؓ کے خلاف قتل کا دعویٰ کیا۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حضرت عمرؓ کو فاروق کا لقب عطا کیا گیا۔
قانون ناموس رسالت سنت کی روشنی میں:
اسلام کی مسلمہ تاریخ کی رو سے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔
رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کیا تھا۔ سوائے گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ ان کے بارے میں آپ نے یہ حکم دیا کہ اگر یہ لوگ خانہ کعبہ کے پردے میں بھی لپٹ جائیں۔ تب بھی انہیں معاف نہ کیا جائے اور انہیں ہر صورت قتل کیا جائے۔ ابن خطل کو خانہ کعبہ کے پردے پکڑنے کی حالت میں ہی قتل کیا گیا۔ اسی طرح دو گستاخ رسول عورتیں سارہ اور قریبہ بھی قتل کی گئیں۔ (تاریخ طبری ص۱۰۴) اسی طرح 3 ہجری میں کعب بن اشرف ایک گستاخ رسول کو حضرت محمد بن مسلمہؓ کی قیادت میں ایک کمانڈو آپریشن کے ذریعے جہنم واصل کیا گیا۔ (تاریخ طبری،ص:۲۱۳)
- 1- امیر المومنین حضرت علیؓ نے ایک یہودی عورت کے بارے میں بتایا کہ وہ حضور کی توہین کیا کرتی تھی۔
ایک شخص نے اسے قتل کر دیا اور حضورؐ نے اس کے خون کا بدلہ قصاص ودیت کی صورت میں نہیں دلوایا۔
(سنن ابی داؤد 6/2)
- 2- ایک شاعر جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کلام کے ذریعے ہدف طعن تشنیع بناتا تھا، اسے قتل کر دیا گیا۔
(کتاب البخاری۔ باب المغازی،صفحہ:۵۷۶، ۵۷۷)
- 3- ایک صحابیؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والی عورت کو قتل کر دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کو خبر ہوئی تو آپؐ نے تحقیق کی۔ جب ثابت ہو گیا کہ وہ توہین کی مرتکب ہوتی تھی تو آپؐ نے ارشاد فرمایا، کہ تم سب گواہ رہو، اس کا قتل ضائع ہو گیا، اس کا بدلہ نہیں دیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد)
رحمت کے ساتھ میزان عدل بھی قائم کیا۔
عمل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین:
- 1- روایت ہے کہ حضرت عباسؓ نے اپنے ایک غلام کو جو گستاخ رسول تھا، قتل کروا دیا۔
تحفظ ناموس رسالت
(حدیث:۹۷۰۳،صفحہ:۳۰۷،جلد:۵،مصنف:عبدالرزاق)
- 2۔ ابن وہب نے حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت کیا کہ ایک راہب نے حضورؐ کی شان میں گستاخی کی۔ جب
اس کا پتہ ابن عمرؓ کو چلا تو آپؓ نے کہا کہ سامعین نے اس کو زندہ کیوں چھوڑا۔ (کتاب الشفاء، قاضی عیاض)
فتویٰ امام مالک:
ابن قاسم سے روایت ہے کہ امام مالک سے ایک نصرانی کے بارے میں فتویٰ طلب کیا گیا کہ اس دریدہ دہن نے حضورؐ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس کو کیا سزا دی جائے۔ جس پر امام مالکؒ نے فتویٰ دیا کہ اس کی گردن اڑا دی جائے۔
فتویٰ امام ابن تیمیہ:
امام ابن تیمیہؒ نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف الصارم المسلول علی شاتم الرسولؐ میں فتویٰ دیا ہے کہ شاتم الرسولؐ واجب القتل ہے اور اس کی توبہ اور معافی قابل قبول نہیں (ص:۴۱،۴۴)
کیونکہ وہ فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کی توبہ سے اس بگاڑ اور فساد کی تلافی اور ازالہ ممکن نہیں جو اس نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے۔ اور اگر توبہ کی وجہ سے سزا نہ دی جائے تو بدبخت لوگوں کا جب جی چاہے گا توہین کریں گے اور لوگوں کے سامنے جھوٹی توبہ کر کے سزا سے بچ جائیں گے۔ جس طرح دیگر مقدمات میں مجرم سزا سے نہیں بچ سکتا۔ اسی طرح شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیاوی سزا سے نہیں بچ سکتا۔ اس سلسلے کی مزید تفصیلات کے لئے ماہنامہ محدث میں محترم حافظ حسن مدنی کے مضامین ملاحظہ کریں۔ جس میں انہوں نے بہت تفصیل کے ساتھ شاتم رسولؐ کی سزا پر بحث کی ہے۔ اسی کتاب کے صفحہ 153 پر اُن کا مضمون بھی ملاحظہ کریں۔
تحفظ ناموس رسالت
ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم :
اسلام ہمارا طریق زندگی ہے۔ جس کو ہم نے برضا و رغبت اختیار کیا ہے۔ اس کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے۔ جس میں عقیدۂ توحید کے ساتھ ساتھ عقیدہ رسالت کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ کیونکہ حضور اکرمؐ کی بدولت بھی معرفت الہی اور دین اسلام کی پہچان ممکن ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
(الاحزاب:٢١)
ترجمہ: ”یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسولؐ میں بہترین نمونہ موجود ہے۔“
اسلام کی اساسی تعلیمات میں آپ کی محبت و اطاعت لازم اور آپ کی نافرمانی اور اذیت دینے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ حضور اکرمؐ رحمت للعالمین ہیں اور آپ کی محبت و شفقت بے مثال رہی ہے۔ اس لیے آپ کو اختیار حاصل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عفو و درگزر کی مثال قائم کریں یا سختی کریں۔ مگر امت مسلمہ کے کسی فرد کو یہ حق کبھی نہیں دیا گیا کہ وہ توہین رسالتؐ کے ضمن میں معافی نامہ جاری کر سکے۔
اُمت کا مفاد اسی میں ہے کہ اس عظیم ترین محبوب دو جہانؐ کی مرکزی شخصیت کے حقوق و مفادات کا دفاع کرے تاکہ معاشرے کا امن قائم رہے اور افراد کی اصلاح کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ اس مثالی شخصیتؐ کے ساتھ عقیدت و محبت میں ذرہ برابر کمی نہ ہو۔
آبروئے ما ز نام مصطفیٰؐ است
تحفظ ناموس رسالت
مغرب روحانی اقدار سے بیگانہ ہو گیا ہے اور یہ زمانہ اپنی روح کے اعتبار سے مادے پر استوار عقلیت (Rationalism) کا شکار ہے۔ مسلمان بھی اسی مادی ماحول سے متاثر ہو کر ایمان کو اپنے جلیل القدر رب العالمین اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی روشنی میں پرکھنے کی بجائے یورپی مادی عقلیت کے میزان میں تولتے ہیں اور اپنی غیرت و خودداری سے غافل ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے علامہ اقبالؒ نے فرمایا:
می شناسی عصر ما با ما چہ کرد
عصر ما ما را ز ما بیگانہ کرد
از جمال مصطفیٰؐ بیگانہ کرد
اے عشق و محبت اور سوز و درد، عشق سے تہی دامن مسلمان! تمہیں کچھ خبر ہے کہ زمانے نے میرے ساتھ کیا کیا ۔ میرے زمانے نے مجھے مجھ سے اور میری خودی سے غافل کر دیا اور حد تو یہ ہے کہ حضورؐ کے عشق سے بھی بیگانہ کر دیا۔ اس غفلت کی پیدا کردہ محرومی کا مداوا یہی ہے کہ اُمت کی روحوں میں سوزِ عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تپش تیز کر دی جائے۔
عشق رسولؐ لازمۂ ایمان ہے۔ اور ہر مسلمان کے رگ و پے میں خون کی طرح جاری و ساری ہے۔ حقیقی مسلمان کبھی بھی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی دریدہ دہن حضورؐ کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو۔ تاریخ زندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے چاہے وہ صحابہ کا دور ہو یا اُمت کے زوال کا دور، ناموسِ رسالتؐ کے باب میں اُمت حد درجہ حساس رہی ہے اور والہانہ عقیدت سے سرشار رہی ہے۔ اس لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ نظریاتی سرحدوں کی بھی اسی طرح حفاظت کی جائے جس طرح جغرافیائی حد بندیوں کی، کی جاتی ہے اور معاشرے کا استحکام
بھی تبھی ممکن ہے کہ شرپسند عناصر جو توہین رسالت کے مرتکب ہوں ان کے لیے سخت ترین قانون موجود ہو، کیونکہ دُنیا کے ہر قانون میں ہتک عزت کا قانون موجود ہے، تا کہ وطن عزیز فتنہ و فساد سے پاک رہ سکے۔
اگر یہ قانون موجود نہ ہو تو پھر مجرموں اور ان کے خلاف مشتعل ہونے والے مدعیوں پر عدالت کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ جس کی وجہ سے ہر کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لے کر مجرموں سے انتقام لے گا۔ جس سے ملک میں انارکی پھیلے گی اور یہ ملکی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا۔ جہاں تک قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کا تعلق ہے تو یہ غلط استعمال تو تمام قوانین کا ہورہا ہے۔ انگریز کے بنائے ہوئے تمام قوانین میں خرابی اور سقم موجود ہے اور انہیں غلط طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثلاً محض FIR کاٹنے پر ملزم کو جیل بھیج دیا جاتا ہے جبکہ اسلامی عدالتی نظام میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن وسنت کی واضح تعلیمات پر مبنی قوانین کا نفاذ کیا جائے جس میں کسی بے گناہ کو سزا نہیں مل سکتی اور گناہگار سزا سے بچ نہیں سکتا اور جن برگزیدہ ہستیوں کی بدولت یہ دنیا نیکی اور سچائی، حق پرستی وعدل وانصاف جیسی قدروں سے آشنا ہوئی۔ ان کی شان میں گستاخی کو کوئی مذہب، معاشرہ برداشت نہیں کر سکتا۔ اور جب بات حضور نبی کریم ﷺ کے احترام کی ہو جو آج بھی اس گئے گزرے دور میں اُمت کو متحد رکھنے کا آخری سہارا ہے اور جن کے بارے میں اقبال فرماتے ہیں:
یا رحمۃ للعالمین! آپ ﷺ کی تشریف آوری سے زندگی اپنے شباب کو پہنچی۔ آپ ﷺ مقصود کائنات ہیں۔ جب سے آپؐ کے مبارک چہرے پر نظر پڑی ہے۔ آپ مجھے ماں باپ سے زیادہ محبوب ہو گئے ہیں۔ آئیے ! اپنے محبوب دو جہاں کی ناموس کے تحفظ کے لئے زندہ و بیدار ہو جائیں اور اپنی ایمانی غیرت
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ
ناموس رسالتﷺ
اور زندگی کا ثبوت دیتے ہوئے قانون توہین رسالت کا تحفظ کریں۔
توہین رسالت کا مقدمہ
خرم مراد
اپریل 95ء کا ترجمان القرآن کا اداریہ جو آج بھی تازہ ہے
توہین رسالت کا حالیہ مقدمہ معمول کے مطابق محض جرم وسزا کا ایک مقدمہ ہوتا تو کوئی بات نہ تھی۔ اگر دونوں ملزم بے گناہ تھے، یا ان کا جرم شرعی معیار شہادت کے مطابق ثابت نہ ہو سکا تھا، یا اس میں کوئی ادنیٰ سا بھی شبہ تھا، تو حق وانصاف کا تقاضا یہی تھا کہ ان کو بری کر دیا جائے۔ اس حق وانصاف اور رحم و درگزر کا جس کی تعلیم ہمیں اسی نبی کریم ﷺ نے دی ہے، جس کی توہین کا یہ مقدمہ تھا، جس نے بدترین دشمن کے ساتھ بھی عدل و رحم کا برتاؤ کیا ہے، اور ہر قیمت پر کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ تو ہمارے معاہد اور برابر کے شہری تھے مگر پورے مقدمے کے دوران جس طرح اور جس پیمانے پر طاقت ور بیرونی اور اندرونی قوتیں اثر انداز ہوتی رہیں ، اس نے اس مقدمے کو ایک غیر معمولی نوعیت دے دی ہے۔ اس نے توہین رسالت کے معاملے کو ہمارے مقدر کا ، ہمارے حال اور مستقبل کا ایک آئینہ بنادیا ہے۔ اگر چہ افسوس کی بات ہے کہ اس کی وجہ سے ملزمان کی براءت بھی مشتبہ ہوگئی ہے، جو یقیناً ان کے ساتھ ایک بے انصافی ہوئی ہے۔
اس آئینہ میں وہ ساری کھلی اور چھپی صورتیں بالکل آشکار ہوگئی ہیں جو آج ہمارے مستقبل کی نقشہ گری اور ہمارے مقدر کے بنانے بگاڑنے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہیں: اندرونی بھی اور بیرونی بھی، تہذیبی بھی اور سیاسی
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
بھی، فکری بھی اور ابلاغی بھی۔ اس آئینہ میں ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری بربادی کے مشورے کہاں ہورہے ہیں ، جنگ کا نقشہ کیا ہے، محاذ کہاں کہاں کھولے جارہے ہیں، مورچے کہاں کہاں بنائے گئے ہیں، چالیں کیا کیا چلی جارہی ہیں، دور مار توپیں کدھر کدھر سے گولہ باری کررہی ہیں، ہتھیار کون کون سے استعمال ہورہے ہیں، پیش قدمی کن کن راستوں سے ہو رہی ہے، اندرون کون ایجنٹ بنے ہوئے ہیں، عزائم کیا ہیں اور اصل ہدف کیا ہے ....... اور یہ بھی کہ ...... ہماری قوت کا اصل راز کیا ہے، ہم بازی کیسے پلٹ سکتے ہیں، بلکہ جیت سکتے ہیں۔
ایک چہرہ مغرب کا ہے، اس کے حکمرانوں، اہل کاروں اور سفارت کاروں اور میڈیا کے سحر کاروں کا چہرہ، جو پورے مقدمے کے دوران تیز تیز چلتے، بھاگ دوڑ کرتے نظر آتے رہے۔ اب یہ کچھ ایسا ڈھکا چھپا بھی نہیں رہا۔ ذرا موقع نکلتا ہے، فوراً اوپر سے تہذیب، روشن خیالی اور انسانی ہمدردی کا چھلکا اتر جاتا ہے، اور نیچے سے وہی ۱۴۰۰ سال پرانا، مسلمان اور اسلام کی دشمنی اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نفرت اور غصہ ٹپکتا ہوا چہرہ نمودار ہوجاتا ہے۔ سیکولر اور انسانی حقوق کی علم بردار ریاستیں بالآخر محض ”عیسائی“ ریاستیں ثابت ہوتی ہیں جو ہر ملک میں، ملکی قوانین کے خلاف ”عیسائی حقوق“ کے لیے سرگرم ہوجاتی ہیں۔... فلسطین ہو یا بوسنیا، کشمیر ہو یا چیچنیا، الجیریا ہو یا فرانس۔ چہرہ روشن، اندرون چنگیز سے تاریک تر، مغرب کی یہ قوتیں ہمارے ہاں تہذیبی اور سیاسی غلبہ رکھتی ہیں، ہماری قسمت کے ساتھ کھیل رہی ہیں، یہاں تک کہ اب ہمارا ایک قانون اور ہمارے دو شہریوں کے خلاف ہماری عدالت میں ایک مقدمہ بھی ان کے غلبہ سے آزاد نہیں۔
ایک چہرہ مغرب کے فرزندوں کا ہے جو لارڈ میکالے کے خواب کی مکمل تعبیر ہیں ”خون اور رنگ کے اعتبار
محمد رسول اللہ تحفظ ناموسِ رسالتؐ
سے تو ہم میں سے ہیں، مگر مذاق اور رائے، الفاظ اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز۔“ یا خلیل جبران کے الفاظ میں: ”(جن کے جسم خواہ جہاں پیدا ہوئے ہوں ) ان کی روحوں نے مغربی ہسپتالوں میں جنم لیا ہے۔ جو فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتے ہیں، مگر ہمارے سامنے، افرنگ کے سامنے کمزور اور گونگے ہیں۔ جو آزادی کے علمبردار ہیں، مصلح ہیں، پرجوش ہیں، مگر اپنے اسٹیجوں پر، اہل مغرب کے سامنے اطاعت کیش اور رجعت پسند ہیں“۔ یہ فرزندان مغرب توہین رسالتؐ جیسے معاملات میں ایک سو ایک فی صد مغرب کے ہم نوا رہتے ہیں، مغرب سے بڑھ کر پیش پیش ہوتے ہیں۔
ایک چہرہ ان کا ہے جو کسی طرح بھی لارڈ میکالے کے خواب کی مکمل تعبیر نہ بن سکے، وہ اسلام اور ملت سے اپنا رشتہ کھرچ نہیں سکے، لیکن کسی نہ کسی درجہ میں افکار فرنگ کے طلسم میں گرفتار ہیں۔ ان کے مزاج کے لیے بھی یہ قبول کرنا مشکل ہوا ہے کہ توہین رسالتؐ کی سزا موت ہو۔ وہ پوچھتے ہیں: کیا یہ سخت سزا قرآن سے ثابت ہے؟ کہیں یہ ملا کی تنگ نظری اور شدت کا شاخسانہ تو نہیں؟ جو رحمۃ للعالمینؐ تھے اور جنہوں نے گالیاں کھا کر دعائیں دیں، ان کی توہین پر ایسی سخت سزا! دنیا ہمارے بارے میں کیا کہے گی، ہمیں کیا سمجھے گی، ہم اسے کیا منہ دکھائیں گے؟
خود نگری اور مستقبل بینی کا یہ آئینہ ہمارے ہاتھوں میں اگر مسئلہ توہین رسالتؐ کے ذریعے آیا تو بالکل بجا آیا۔ ”قوم را سرمایہ قوت ازو، حفظِ سرِ وحدتِ ملت ازو“ اور ”ماز حکم نسبتِ او ملتیم“۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہی ہماری قوت کا سرمایہ ہے، ہماری وحدت کا راز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت ہی نے ہمیں ایک ملت بنایا ہے۔ بلکہ ہمارے جسد ملی میں رسالت ہی کی جان پھونکی
تحفظ ناموس رسالت
گئی ہے، اسی کے دم سے ہمارا دین ہے، ہمارا آئین ہے۔ ”حق تعالیٰ پیکر ما آفرید، وز رسالت در تن ما جان دمید“ اور ”از رسالت در جہاں تکوین ما، از رسالت دین ما آئین ما“۔ مغرب کا اضطراب اور شور وغوغا قابل فہم ہے۔ اس لیے نہیں، جیسے بعض لوگ سلمان رشدی کے واقعے کے وقت سے کہہ رہے ہیں، کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام کیا ہے اور کیوں ہے؟ مغرب سے ہماری مراد سارے اہل مغرب نہیں، ان میں سے اکثر کے بارے میں یہ بات صحیح ہے۔ اور مغرب کے طلسم میں گرفتار سادہ دل مسلمانوں کے بارے میں بھی۔ اور یقیناً ان سب کو سمجھانے کی ضرورت ہے ،ان کو سمجھا لینے ہی میں ہماری کامیابی پوشیدہ ہے۔ مگر جو حکمران، سفارت کار، دانش ور اور میڈیا کے سحر کار قانون توہین رسالت کے خلاف پیش پیش ہیں، وہ اسی لیے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمان ملت کی زندگی، وحدت اور قوت وتوانائی کا راز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وابستگی اور عشق ومحبت میں پوشیدہ ہے، اور ان کی سربلندی کا راز بھی۔ ”در دل مسلم مقام مصطفیٰ است“۔
اسی لیے ہزار سال سے اوپر مدت ہو گئی، ان کے نقشہ جنگ کا ہدف یہی ”مقام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم“ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہی ملت کا ”قلب“ اور ”دارالحکومت“ ہے اور اس کی شکست وریخت، بربادی اور اس پر قبضہ کے بغیر اس ملت کو زیر کرنے کا اور کوئی نسخہ نہیں۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ان کے سارے حملوں کا اولین ہدف رہی ہے، اور ہے۔ اسی لیے وہ مسلسل ہر قسم کے انتہائی غلیظ وار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے سلمان رشدی ان کی آنکھوں کا تارا ہے، یورپ کی حکومتوں کے سفارتی تعلقات اور تجارتی مفادات
کے خلاف ” شریعت مصطف محبوب ہے، ن اس ل حرکت میں آ توہین رسال نشریات، مضا متحرک ہو گیا امریکی نائب کے دوران ا وزیر اعظم نے ان کی صدار فیصلہ کیا۔ یہ تو کورٹ سے ہ دباؤ ڈالنے کی
کے خلاف ”فتویٰ“ کے محور پر گھوم رہے ہیں۔ اسی لیے تسلیمہ نسرین ان کی ہیرو ہے۔ اسی لیے ہر وہ مسلمان جو شریعت مصطفویؐ کو بے وقعت کرے، جو تعلیمات محمدیؐ کو مشکوک بنائے، جو مقام مصطفویؐ کو مجروح کرے، وہ انہیں محبوب ہے۔
اسی لیے حالیہ مقدمے میں دو افراد کے خلاف مقدمہ دائر ہوتے ہی، بیرونی ذرائع ابلاغ اور سفارت کار حرکت میں آگئے اور یہ واقعہ عالمی شہرت کا حامل بن گیا۔ ان سب کا ہدف ملزموں کی بے گناہی ثابت کرنا نہیں، توہین رسالت کے قانون کی تنسیخ رہا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو، بی بی سی، وائس آف امریکا، اخبارات، جرائد میں نشریات، مضامین اور خبروں کا ایک سلسلہ چل پڑا۔ بیرونی لابیوں کے ساتھ پاکستان کا ہیومن رائٹس کمیشن بھی متحرک ہو گیا۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر، ملیحہ لودھی گوجرانوالہ گئیں اور عدالت پر ضمانت کے لیے زور ڈالا۔ امریکی نائب وزیر خارجہ رابن رافیل نومبر ۱۹۹۳ء میں اسلام آباد آئیں اور وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دوران اس کیس کو اُٹھایا، اور سیکرٹری خارجہ نے انہیں یقین دلایا کہ ملزموں کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے اس مقدمے میں ذاتی دلچسپی لی، سزا ہوئی تو انہیں سخت دکھ ہوا۔ اپریل ۹۴ء میں مرکزی کابینہ نے ان کی صدارت میں گستاخ رسول ﷺ کے لیے موت کی سزا کو دس سال قید کی سزا میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ تو عوامی ردعمل کا خوف ہے جو اب تک ایسے کسی اقدام سے روکے ہوئے ہے۔ پھر جب ملزموں کو سیشن کورٹ سے سزا ہو گئی تو سارے بین الاقوامی سفارتی اور ابلاغی ذرائع نے نفرت انگیز پروپیگنڈے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کی مہم تیز تر کر دی۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر ملزمان سے ملاقات کے لیے جیل پہنچ گئے۔ لاہور ہائی کورٹ
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتﷺ
کے ایک بنچ نے جو دو عارضی ججوں پر مشتمل تھا، مسلسل روزانہ اپیل کی سماعت شروع کر دی۔ بالآخر ملزمان رہا ہو گئے اور راتوں رات ان کو جرمنی روانہ کر دیا گیا۔
ہم اقلیتوں کو یہی یقین دہانی کراتے رہے ہیں کہ قانون توہین رسالت کے بعد فیصلے عدالت کرے گی اور لوگ قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے، عدالتوں کے فیصلے تسلیم کیے بغیر کوئی مہذب اور پر امن معاشرہ قائم بھی نہیں ہو سکتا...... اور ہمیں اُمید ہے کہ ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا ہو گا...... لیکن اس مسلسل بین الاقوامی اور حکومتی دباؤ اور عدالتی کارروائی میں حیرت انگیز سرعت نے پورے فیصلے کو مشکوک بنا دیا ہے۔ اس دباؤ کے آگے اس دباؤ کی کیا حیثیت اور کیا وزن جو عدالتی کارروائی کے دوران اور فیصلہ کے بعد عوام نے لاہور کی سڑکوں پر نکل کر ڈالا۔ ہر تجزیہ نگار، پورا پس منظر جان بوجھ کر نظر انداز کر کے، سارا زور عوامی احتجاج کی مذمت کرنے میں لگاتا ہے۔ ہم بھی کسی عدالت پر اس طرح عوامی دباؤ ڈالنے کو صحیح نہیں سمجھتے۔ لیکن لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ دوسری طرف سے وہ لوگ زبردست دباؤ ڈال رہے ہیں، جن کی مٹھی میں حکمرانوں کے اقتدار کی کنجی ہے، ڈالر ہیں ، دہشت گرد قرار دینے کی لاٹھی ہے، امریکہ کے دورہ کا اعزاز ہے تو پھر وہ اتنا بھی نہ کرتے تو کیا کرتے۔
تہذیب کے دعوؤں کے ساتھ اب مغرب کے لیے قرون وسطیٰ کی طرح دشنام طرازیاں تو ممکن نہیں، ان کی جگہ آج کے رائج الفاظ کے پردہ میں توہین رسالت کے قانون پر حملہ ہو رہا ہے۔ جو انسانی اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے، مذہبی آزادی کے خلاف ہے، اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہے، اقلیتوں کے خلاف تعصب اور امتیاز پر مبنی ہے، اقلیتی فرقوں کے سر پر ننگی تلوار لٹکا دی گئی ہے، فرقہ واریت اور ذاتی عناد کی بنا پر غلط استعمال ہو رہا ہے،
یلغار میں اور یہ بات ، یا کوئی نہیں اس شخص
تحفظ ناموس رسالت
اس سے ملا کیا، بنیاد پرستی کا مذہبی جنون کا، تنگ نظری کا زور بڑھ گیا ہے، تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
توہین رسالت کے لیے سزا، اس مقصد کے لیے رائج الوقت قانون، اس کا استعمال اور اس بارے میں خدشات کو حالیہ مقدمے سے الگ کر کے دیکھا جائے، تب ہی ایک منصف مزاج آدمی اس قانون کے خلاف سارے مباحث میں کسی صحیح نتیجہ تک پہنچ سکتا ہے۔
بنیادی اور اولین سوال یہ ہے کہ کیا توہین رسالت کوئی جرم نہیں ہے، اور جرم ہے بھی تو کیا اس پر کوئی سزا نہیں ہونی چاہیے؟ ’رسالت‘ تو بڑی چیز ہے، دنیا بھر میں ہمیشہ سے کسی بھی انسان کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچانا، تحریراً ہو یا زبانی، ایک جرم قرار دیا گیا ہے، اور ہتک عزت کے جرم کے لیے سزا کا قانون موجود رہا ہے۔ کسی کے وہم و گمان میں کبھی یہ نہیں آیا کہ کسی دوسرے انسان کی بے عزتی کرنا، توہین کرنا، ایک انسان کا انسانی اور بنیادی حق ہو سکتا ہے اور اس پر سزا دی جائے تو اس حق کی خلاف ورزی ہوگی۔ آج مغرب میں بھی یہی تصور اور یہی قانون ہے۔ ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ مغربی قوانین کے تحت جس کی ہتک عزت ہوئی ہو وہ خود ہی مدعی بن سکتا ہے۔ گویا، کیونکہ رسول ، یا کوئی بھی دنیا سے گزرا ہوا آدمی، اب خود مدعی نہیں بن سکتا اس لیے اس کی جتنی توہین کر لی جائے، یہ جرم قابل سزا نہیں ہو سکتا۔ سلمان راشدی کے معاملے میں مغرب نے مسلمانوں کے خلاف اسی دلیل کا سہارا لیا۔
لیکن اس سے زیادہ بودی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے؟ جب ایک عام آدمی کی ہتک عزت بھی قابل تعزیر جرم ہو، تو اس شخص کی ہتک عزت کیوں نہ ہو جو کروڑوں کو اپنی جان و مال ہی نہیں، اپنی ذات سے بڑھ کر محبوب ہے، جس کی
تحفظ ناموس رسالت
عزت اور نام سے ان کی عزت اور نام وابستہ ہے، جس کی توہین سے ان کی ذات کی، ان کے نام کی، ان کی اپنی عزت، ان کے دین کی، ان کے آئین کی، ان کی ملت کی توہین ہوتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تو ہر مسلمان کے لیے یہی ہے۔ اس کی آبرو آپ ﷺ کے نام سے ہے: ”آبروئے ما ز نامِ مصطفیٰ است“۔ وہ مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی جان، مال، والدین، دنیا کی ہر چیز، یہاں تک کہ اپنے نفس اور ذات سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔ لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین
(بخاری و مسلم)
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اس جرم کے لیے موت کی سزا بہت سخت اور احترام آدمیت کے خلاف ہے؟ اگر اعتراض فی نفسہ موت کی سزا پر ہے کہ یہ وحشیانہ ہے، تو وہ زمانہ گزر گیا جب تہذیب کے جوش میں موت کی سزا کو بالکل منسوخ کرنے کی ہوا چلی تھی۔ اب تو انتہائی ”مہذب“ اور ”انسان دوست“ ہونے کے دعویدار ملکوں میں، ایک کے بعد ایک، یہ سزا بحال کی جارہی ہے، بلکہ ہر ملک میں جہاں یہ سزا ختم کی گئی، وہاں کی بھاری اکثریت موت کی سزا کی بحالی کے حق میں ہے۔ نہ صرف موت کی سزا، بلکہ جسمانی سزا کے حق میں بھی۔ جب سنگاپور میں ایک امریکن کو 6 بید مارنے کی سزا دی گئی تو حکومت اور چند طبقات کی مخالفت کے باوجود امریکیوں کی اکثریت نے اس سزا کی حمایت کی۔ مغرب میں بھی اس قسم کے جرم پر سخت سزاؤں کے قوانین موجود ہیں، اور پہلے تو زندہ جلایا جاتا رہا ہے۔
اگر اعتراض یہ ہو کہ یہ سزا جرم کے مقابلہ میں زیادہ سخت ہے، تو اس جرم کی نوعیت کا فیصلہ تو وہی کر سکتے ہیں جن کو اور جن کے پورے معاشرے کو اس جرم سے نقصان پہنچ رہا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار، اخلاق، صداقت، امانت، عدالت کو مجروح کرنا دراصل دین، ایمان، آئین، ریاست اور پوری اُمتِ مسلمہ، سب کو مجروح
کرنا ہے مناسب ہے طریقے سے ہے، لیکن تھے دبانے اور جو خلاف تعصب وہ توہین کروا کے منصوبے ہے، تو یہ چ غلط استع
کرنا ہے۔ مسلمان ہی اس معاملہ میں مناسب قانون سازی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان کی مقننہ نے یہی سزا مناسب سمجھ کر یہ قانون منظور کیا ہے، ان کی اعلیٰ عدالتوں نے اس پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ یہ ایک جمہوری طریقے سے طے کردہ قانون ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر عمر قید کی سزا موت کی سزا سے زیادہ وحشیانہ اور ظالمانہ سزا ہے، لیکن کوئی پارلیمنٹ یا کانگرس اپنی حدود میں یہ سزا دینے کا قانون بنائے، تو ہم اس کا فیصلہ کیسے بدلوا سکتے ہیں؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون عیسائی اور ہندو جیسے اقلیتی فرقوں کے تعصب و امتیاز پر مبنی ہے، ان کو کچلنے، دبانے اور حقوق سے محروم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، گویا ان کے سروں پر ننگی تلوار لٹکا دی گئی ہے؟
جہاں تک قانون کا تعلق ہے، اس میں ایک حرف اور ایک نقطہ بھی ایسا نہیں بتایا جا سکتا جو اقلیتی فرقوں کے خلاف ہو یا ان کا کوئی حق سلب کرتا ہو۔ اس کا اطلاق کسی نام نہاد مسلمان پر اسی طرح ہوگا جس طرح غیر مسلم پر۔ تعصب و امتیاز کی بات اس وقت صحیح ہو سکتی ہے جب یہ گمان کیا جائے کہ اقلیتی فرقوں کی باقاعدہ نیت یا پروگرام ہے کہ وہ توہین رسالت کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ یا منصوبہ نہیں، اگرچہ باہر والے ان سے یہ حرکت کروا کے انہیں اپنے مسلمان بھائیوں سے لڑانے اور انہیں پاکستان میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے رکھتے ہیں۔ اگر اعتراض کی بنیاد یہ ہو کہ اس میں دوسرے مذاہب کے پیغمبروں کی توہین کو شامل نہیں کیا گیا ہے، تو یہ اعتراض بجا ہے اور اسے، اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت کورٹ کی سفارش کے مطابق، دور کیا جانا چاہیے۔
چوتھا سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون اس لیے منسوخ کر دیا جائے کہ ذاتی عناد یا فرقہ واریت کی خاطر اس کا غلط استعمال ہوا ہے، یا خدشہ ہے کہ ہو سکتا ہے۔
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
تحفظ ناموس رسالت
اگر خود قانون میں کوئی ایسی خامی ہے، خلا ہے، ابہام ہے، جو غلط استعمال کا ذریعہ بن سکتا ہے، تو ہماری رائے میں ایسی ہر خامی کو دور کیا جانا چاہیے، اور ممکنہ استعمال کے خلاف ہر ممکن تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ یہ ایسا معاملہ نہیں جو باہمی گفت وشنید سے حل نہ کیا جا سکتا ہو۔ ہمیں صرف مقام رسالتؐ کا تحفظ مطلوب ہے، بے گناہ لوگوں کو توہین رسالتؐ کے نام پر سزا دلوانا تو خود توہین رسالتؐ کے زمرہ میں آسکتا ہے۔
لیکن اگر غلط استعمال کسی فرد یا پولیس کے غلط کردار کی وجہ سے ہے، تو اس کا علاج منسوخی نہیں۔ اس وجہ سے تو ہر قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ قیام امن کے، انسداد دہشت گردی کے، لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانیوں کی روک تھام کے قوانین حکومتیں بیدردی کے ساتھ اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، کیا ان سب کو منسوخ کر دیا جائے؟ قتل کے قانون کے تحت پولیس اور بااثر لوگ بے گناہوں کو پھانستے ہیں، ان کو لوٹا جاتا ہے، بعض پھانسی پر بھی چڑھ جاتے ہیں، کیا ان کو بھی منسوخ کر دیا جائے؟ کوئی معقول آدمی یہ بات نہیں کہے گا۔ ذاتی عناد کی بنا پر بھی ملک میں بے شمار مقدمات کھڑے کیے جاتے ہیں۔ اس ظلم کا کوئی خصوصی تعلق اقلیتی فرقوں سے نہیں۔
پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا قانون توہین رسالتؐ کی وجہ سے فرقہ واریت میں، مذہبی جنون میں، اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے کہ یہ قانون منسوخ کر دیا جائے؟
سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے شدت پیدا ہوئی ہے تو شیعہ سنی فرقہ واریت میں۔ حد سے بڑھتی ہوئی قتل وخون ریزی کی وجہ نسلی اور لسانی تعصبات، سیاسی جھگڑے اور انتقامی کارروائیاں ہیں۔ اس میں کوئی دخل
قانون توہین ر معاشرے میں ا سکتے ہیں؟ پھر تو وارانہ فساد نہیں ہ فسادات روز کا م قرآن و س اجماع ہے اور ج دور غلامی میں بھ چنداں حاجت نہ کا شوق ہو، اس ل الصارم المس الرسول، اور ۳ ہوگا۔ لوگ پوچھ کی سزا دی جائے
قانون توہین رسالت کا نہیں، نہ کسی قانون کا۔ اور ان کا شکار اکثریتی فرقہ ہے نہ کہ اقلیتی فرقے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں روز بروز تشدد اور خون ریزی بڑھ رہی ہے، کیا اقلیتی فرقوں کے لوگ اس سے بالکل محفوظ رہ سکتے ہیں؟ پھر تشدد کے ہر واقعہ کو فوراً اقلیت کے خلاف ظلم قرار دینا کہاں تک بجا ہے؟ پاکستان میں آج تک کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا، ذرا بھارت کے جمہوری، سیکولر، روشن خیال ملک پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے، جہاں فرقہ وارانہ فسادات روز کا معمول ہیں۔
قرآن وسنت کے دلائل سے جس طرح شاتم رسولؐ کو سزا ثابت ہے، اور اس پر جس طرح فقہائے امت کا اجماع ہے اور جس طرح اس پر ماسوا دور غلامی کے، ہر مسلمان ملک میں ہر زمانہ میں عمل درآمد ہوتا رہا ہے، اور دور غلامی میں بھی مسلمان جس طرح اپنا خون دے کر اسے نافذ کرتے رہے ہیں، اسے بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں۔ اس بارے میں جمہور مسلمانوں درمیان نہ کبھی اختلاف رہا، نہ کوئی شک وشبہ۔ جس کو تحقیق کا شوق ہو، اس کے لیے ۱۔محمد اسمعیل قریشی کی ناموس رسولؐ اور قانون توہین رسالت، ۲۔ابن تیمیہ کی الصارم المسلول علی شاتم الرسولؐ، ۳۔تقی الدین سبکی کی السیف المسلول علی من سب الرسولؐ، اور ۴۔ ابن بدین شامی کی تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام کا مطالعہ کافی ہوگا۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ رحمتہ للعالمینؐ نے تو گالیاں سن کر، پتھر کھا کر، دُعا دی، اب ان کو گالی دینے والے کو موت کی سزا دی جائے؟ ایسے لوگ رحمت کے مفہوم سے آگاہ نہیں۔ رحمت کا تقاضا جہاں عفو و درگزر ہے، وہاں انصاف بھی
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتﷺ
ہے ۔ رحمتہ للعالمینؐ نے واقعہ افک میں قذف کے مرتکبین کو کوڑے لگوائے، زنا کے مجرموں سنگسار کرایا، مسلح لشکر لے کر نکلے جس نے بدر کے میدان میں ۷۰ سرداران قریش کو تہ تیغ کر دیا، فتح مکہ کے دن جب ہر جانی دشمن کو معافی مرحمت فرما دی گئی، چھ مرتدین اور شاتمین کے قتل کا حکم صادر ہوا۔ آپ ﷺ یہ نہ کرتے تو فساد مچتا، اور زیادہ ظلم برپا ہوتا۔ آپ ﷺ نے کوئی حکم اپنی ذات کی خاطر نہیں دیا، دین اور ملت کے تحفظ کی خاطر دیا۔ جب رسالتؐ ہی ایمان کی، دین کی، ملت کی بنیاد ہے، اس کی زندگی کی ضمانت ہے، تو توہینِ رسالتؐ کے مجرم کو سزا دینا عین رحمت کا تقاضا تھا۔ اسی لیے یوم قیامت کو۔۔۔۔ جس دن نیکوکاروں کو انعام سے نوازا جائے گا، مگر بدکار جہنم میں جھونکے جائیں گے۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت، رحمانیت اور رحیمیت کا دن قرار دیا ہے۔ (الفاتحہ، الانعام)
موت کی سزا کا قانون کچھ فقہا و علماء، ملاؤں اور جنونیوں ہی کا ”جرم“ نہیں، اچھے اچھے مغربی تعلیم یافتہ لوگ، جنہوں نے روح اسلام کو ضائع نہ کیا اور مقام محمدی ﷺ سے آگاہ رہے، اس ”مذہبی جنون“ کے جرم میں شریک رہے ہیں۔ علم الدین شہید نے ، قانون اپنے ہاتھ میں لے کر، راج پال کو قتل کیا تو اس کے مقدمہ کی پیروی قائد اعظمؒ نے کی، علامہ اقبالؒ نے رشک کے ساتھ کہا کہ ”یہ لونڈا ہم سب پر بازی لے گیا“ اسے اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا، اور یہ شعر بھی کہا:
قدر و قیمت میں ہے جن کا خون حرم سے بڑھ کر
اسی جرم میں ایک خانساماں نے ایک انگریز میجر کی بیوی کا کام تمام کر دیا۔ میاں سر محمد شفیع نے ، جو
وائسرائے آنسوؤں کا بلند تر اپنے پیش جو اس شرمناک اختیار کیا، (قانون) قبیح جرم کا مر قانون کا نف ڈاکٹر کے ای گستاخ رسو بنایا جائے ب بصورت دیگ جائیں، تاکہ
وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن بھی تھے، اس کے مقدمہ کی پیروی کی۔ دوران بحث ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ہائی کورٹ کے انگریز ججوں نے حیرت سے پوچھا: ”سر شفیع، کیا آپ جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا بلند پایہ وکیل بھی اس طرح جذباتی ہو سکتا ہے؟“ سر شفیع نے جواب دیا: ”جناب، آپ کو نہیں معلوم، ایک مسلمان کو اپنے پیغمبر کی ذات سے کتنی گہری عقیدت اور محبت ہوتی ہے۔ سر شفیع بھی اگر اس وقت وہاں ہوتا تو وہ بھی یہی کر گزرتا جو اس ملزم نے کیا ہے۔“
ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے بعض مسیحی بھائیوں نے اس قانون کے معاملہ میں حق پسندانہ اور معتدل مسلک اختیار کیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر، آنجہانی بشیر مسیح کے الفاظ ایسے ہی موقف کے آئینہ دار ہیں: ”ہم اس (قانون) کے خلاف نہیں۔ کوئی بھی سچا مسیحی توہین رسالت کا تصور نہیں کرسکتا، اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر واقعی کوئی اس قبیح جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ موت سے بھی سخت سزا کا حق دار ہے۔ لیکن یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی بے گناہ کو اس قانون کا نشانہ بنایا جائے گا“ (عالم اسلام اور عیسائیت، ج۴، ش۶، جون ۱۹۹۴ء، ص۴)۔ اسی طرح ماہنامہ کلام حق میں پادری ڈاکٹر کے ایل ناصر کے صاحبزادہ میجر ٹی ناصر کے الفاظ ہیں: ”ہم مسیحی تو تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔سی یعنی گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی (سزا) کے مخالف نہیں۔ ہم صرف یہ درخواست کرتے ہیں کہ ایک خصوصی کمیشن بنایا جائے۔ غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور اگر ملزم واقعی مجرم ہو تو اس کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، ورنہ بصورت دیگر رہا کر دیا جائے۔ مقدمہ بھی خصوصی عدالت میں چلایا جائے، اور ملزم کو تمام قانونی سہولتیں بہم پہنچائی جائیں، تاکہ اقلیتوں، خاص طور پر مسیحی اقلیت کو تحفظ وانصاف کا احساس ہو“ (ایضاً ۲۵)۔ یہ مطالبات یقیناً بجا ہیں۔
تحفظ ناموس رسالت
ماہنامہ تحفظ تحفظ ناموس رسالت ﷺ
لیکن ہمیں افسوس ہے کہ مسیحی لیڈروں کی اکثریت ، سوچے سمجھے بغیر اس قانون کی اندھی مخالفت پر تل گئی ہے۔ اس طرح وہ ایک طرف مغربی سامراجی طاقتوں کے آلہ کار بھی بن رہے ہیں، دوسری طرف پاکستان میں اسلام دشمن اور سیکولر عناصر کے دوش بدوش کھڑے ہو گئے ہیں۔ ہم ان کی خدمت میں ادب سے عرض کریں گے کہ اگر ان کے پیش نظر اس قانون کے بارے میں خدشات کے خلاف ضروری تحفظات حاصل کرنا ہے، بلکہ پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے پاکستان میں اپنا جائز مقام حاصل کرنا ہے، تو انہوں نے غلط راستہ اختیار کیا ہے ۔ نہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے انہیں یہ حاصل ہو سکتا ہے، نہ سیکولر عناصر کی مدد سے، اگر چہ وہ اقتدار میں آجائیں۔ اس کا راستہ یہ ہے کہ وہ محب اسلام ممتاز شہریوں اور حق پسند علماء اور دینی جماعتوں سے گفت وشنید کا آغاز کریں، انہیں اپنے خدشات سے آگاہ کریں ممکن ہو تو ایک مشترک مسلم کرسچن کونسل تشکیل دیں ، مسلمانوں پر زور دیں کہ وہ خاص طور پر اس قانون کے ضمن میں اسلام کے قانون عدل و شہادت کے تقاضوں کی تکمیل یقینی بنائیں ، وہ ترمیمات کرانے میں ان کی مدد کریں جو قانون کو بے اثر بنائے بغیر کی جاسکتی ہیں ، اور ان کے ساتھ انہی خطوط پر معاملہ کریں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ اختیار کیے ۔ ہمیں یقین ہے کہ اس طرح دونوں کے تعلقات بھی خوشگوار ہو جائیں گے ، ان کے مسائل کا حل بھی خوش اسلوبی سے نکل آئے گا۔
شاید انہیں اسلام کے قانون عدل کے ان تقاضوں کا علم نہیں ، جن کا نفاذ ان کے خدشات کے ازالہ کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
- ۱۔ حد کی سزا حکومت دے سکتی ہے، کسی مسلمان کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں۔ جب منظور مسیحی کو قتل
کیا گیا تو ہم نے آگے بڑھ کر ترجمان کے صفحات میں اس کی مذمت کی۔
- ۴۔
- ۵۔
اس لی کر دین علماء اور
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
- ٢۔ عدالت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ گواہوں کی مناسب جانچ پڑتال کرے۔ اس لیے کہ ”حد کی سزا
میں شہادت کا معیار عام شہادت کے معیار سے بہت زیادہ سخت اور غیر معمولی ہے..... ایسے گواہوں کی شہادت قبول ہوتی ہے جو گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتے ہوں، صادق القول اور عادل ہوں اور مزید برآں تزکیۃ الشہود کے معیار پر بھی پورا اترتے ہوں۔
(محمد اسماعیل قریشی، ص ۴۶۶)
- ٣۔ جرم ثابت ہونے میں ایک شبہ بھی رہ جائے تو ”شک کا فائدہ بھی اسلامی قانون کی رو سے ملزم کو پہنچتا ہے
...... حدیث مبارک میں ادرو الحدود بالشبہات حدود کی سزاؤں کو شبہات کی بنا پر ختم کر دو۔“
(ایضاً، ص ۴۶۷)
- ٤۔ عدالت ملزم کی نیت کا تعین بھی کرے گی، کیونکہ ”نیت کے بغیر اسلامی قانون میں کوئی جرم مستوجب سزا نہیں
ہوتا۔“
(ایضاً ص ۴۶۷)
- ٥۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی اسلامی قانون کا ایک بنیادی اُصول ہے کہ ”ایک مجرم کو بری کر دینے کی
غلطی ایک بے گناہ کو سزا دینے کی غلطی سے بہتر ہے۔“
(سنن البیہقی، ج ۸، ص ۱۸۴)
بجائے اس کے کہ ہمارے مسیحی بھائی پاکستان کی سیکولر حکومت کے وعدوں پر جئیں، باہر کی مسیحی طاقتوں سے آس لگائیں۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ مسلمان، عیسائی، ہندو مل کر ایک متفقہ ترمیمی بل حکومت اور اسمبلی کے سامنے پیش کر دیں، جو اسلامی قانون کے مطابق بھی ہو اور اقلیتوں کے لیے انصاف اور تحفظ کا ضامن بھی۔ ہماری رائے میں علماء اور دینی جماعتوں کو اس مقصد کے لیے عیسائی رہنماؤں سے ڈائیلاگ شروع کرنا چاہیے۔ حالیہ قضیہ نے جو آئینہ ہمیں دیا ہے، اس میں مسلم ملت کی قوت کا اصل سرچشمہ بھی عیاں ہو رہا ہے۔ یہ
تحفظ ناموس رسالت
سرچشمہ وہی ہے جس کے پیچھے ہمارے دشمن ۱۴۰۰ سال سے آج تک لگے ہوئے ہیں۔ ہماری قوت و توانائی کا سامان وہ ڈالر، وہ اسلحہ، وہ قرض اور امداد، وہ نسخے کیسے کرسکتے ہیں، جو ہمارے دشمن خود ہمیں فراہم کر رہے ہیں۔ یہ سرچشمہ تو روزِ اوّل سے دلِ مسلم میں مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے، عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اور ملت کی پوری زندگی میں اتباع اور اطاعتِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ ہمیں اسی چشمہ سے سیراب ہونے میں لگ جانا چاہیے۔
آج تاریخ کا اسٹیج اسلام اور مغرب کے درمیان معرکہ کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ بظاہر ہمارا اور مغرب کا کیا مقابلہ۔ نہ ہمارے پاس اسلحہ، نہ ٹیکنالوجی، نہ معاشی ترقی، نہ ایجاد، نہ لیڈر شپ، نہ منزل، نہ مقصد۔ لیکن ان میں سے ہر چیز ہمیں حاصل ہو جائے گی اگر ہم قوت اور توانائی کے اس سرچشمہ تک پہنچ جائیں۔
دل ز عشق او توانا می شود خاک ہم دوش ثریا می شود
انسانِ کامل صلی اللہ علیہ وسلم کے آستانے پر سر رکھ کے بوسہ دینے ہی سے ہماری مشتِ خاک سونے کا ہمالہ بنے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق سے ہی ہمارے دل توانا ہوں گے، ہماری ترقی آسمان سے باتیں کرنے لگے گی۔
اس سے زیادہ فریب انگیز یہ مغالطہ اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ”ترقی پسند“ بننا ہے یا ”بنیاد پرست“۔ ہمیں نہیں معلوم بنیاد پرست کے کیا معنی ہیں؟ لیکن ہماری بنیاد تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی کتاب، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ ہے۔ ہم، جو اس بنیاد کے ناطے ”بنیاد پرست“ ہیں، سب سے بڑھ کر ترقی پسند ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کی انگلی پکڑ کر چلے تو ترقی نہیں موت اور ذلت کا گڑھا ہمارا مقدر ہے اس راہ کو چھوڑ کر چلنے والے ”ترقی یافتہ“ مسلمان ممالک
کے ڈھانچے کہتے مقابل کاش ہے، اور دنیا دانش مسلمان ہر کیا ہے؟ لند ہی زندگی ملی صلی اللہ علیہ قوت کی
کے ڈھانچے ہمارے سامنے بہت موجود ہیں۔
مقام خویش اگر خواہی دریں دیر بحق دل بند و راہ مصطفیٰؐ رو
کاش ہم تقدیر کے اس راز کو پالیتے، مستقبل بنانے کی وہ راہ پکڑ لیتے جو ترقی اور عروج کی ضامن ہے، اور دنیا میں اپنا وہ مقام بنا لیتے جو ہمارا مقدر ہے۔ وہ راہ، راہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی نہیں۔ دامنش از دست دادن موت است۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن ہاتھ سے چھوٹنا پروانہ موت ہے۔ آج کل مسلمان ہر جگہ، خصوصاً وطن عزیز پاکستان میں، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں، علاج کیا ہے، حل کیا؟ علاج اور حل تو ایک ہی ہے۔ پہلے بھی قوم زندگی از دم او یافت، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دم سے ہی زندگی ملی تھی، اور آج بھی سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ کے، آپ ﷺ کا مشن پورا کرنے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے ہی سے ملے گا۔
کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
بشکریہ ترجمان القرآن اپریل 1995ء
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
توہین آمیز خاکے
نئی صلیبی جنگ کا زہریلا ہتھیار
پروفیسر خورشید احمد
جس طرح جنگ میں دشمن کے مقابلے کے لیے صحیح حکمت عملی کے تعین کے لیے ضروری ہے کہ نقشۂ جنگ کو ٹھیک ٹھیک سمجھا جائے، بالکل اسی طرح فکری اور تہذیبی جنگ میں کامیابی کا انحصار بھی نقشۂ جنگ اور محرکات جنگ دونوں کے صحیح ادراک پر ہے۔ آج ڈنمارک کے اخبار یولانڈ پوسٹن (Jyllans Posten) کے ۱۲ کارٹونوں کے ذریعے مغرب کے سورماؤں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک، اسلام اور مسلمانوں کو تمسخر، تضحیک اور اہانت کا ہدف بنا کر اور دہشت گردی کا منبع اور علامت قرار دے کر جس عالمی تہذیبی جنگ کا اعلان کیا ہے اس کی اصل نوعیت کو سمجھنا اور اس کے مقابلے کے لیے صحیح حکمت عملی بنانا فی الوقت دنیائے اسلام کا سب سے اہم مسئلہ بن گیا ہے۔
فطری طور پر مسلم عوام نے اپنے عالم گیر ردعمل سے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ اُمت صرف مٹی کا ڈھیر نہیں ہے۔ اس میں ایمان اور غیرت کی وہ چنگاری بھی موجود ہے جو طاقت کے زعم میں بدمست ارباب اقتدار کے متکبرانہ اقدامات کو چیلنج کرنے کا داعیہ رکھتی ہے اور جس میں ایسا شعلہ جوالہ بننے کی استعداد بھی ہے جو بڑے بڑے محل نشینوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
تحفظ ناموس رسالت
اُمت مسلمہ کا ردعمل فوری بھی ہے اور فطری بھی، لیکن مسئلہ محض وقتی ردعمل کا نہیں بلکہ مقابلے کی مکمل اور مربوط حکمت عملی اور ہر سطح پر اس کے مطابق پوری تیاری کے ساتھ مسلسل جدوجہد کا ہے۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ ان شیطانی کارٹونوں کے ذریعے اُمت مسلمہ کو جس تہذیبی کروسیڈ کا ہدف بنایا گیا ہے، اس کے اصل نقشے اور اس جنگ کے اسلوب، اہداف اور تمام محاذوں کو سمجھا جائے اور مقابلے کی تیاری کی جائے۔ جہاں فوری ردعمل ضروری تھا، وہیں دوسرے تمام پہلوؤں کو نظرانداز کر کے محض جذباتی اظہار نفرت اور غیظ و غضب سے اس معرکے کو سر نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اُمت مسلمہ اور اس کی قیادت گہرائی میں جاکر حالات کا صحیح ادراک کرے اور مقابلے کی حکمت عملی ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر طے کرے۔
مغرب کی استعماری قوتوں کا یہ خیال تھا کہ دوسری جنگ کے بعد جو عالمی نظام قائم ہوگا، وہ صرف امریکا اور یورپی اقوام کے سیاسی غلبے سے ہی عبارت نہیں ہوگا بلکہ پوری دنیا میں مغربی تہذیب، فلسفے، اقدار، معیشت اور اُصول حکمرانی کا دور دورہ ہوگا۔ ان کا خیال تھا کہ مذہب کا دور اب ختم ہوچکا ہے اور لادینی تہذیب کو مادی اور عسکری غلبے کے ساتھ ساتھ فکری بالادستی بھی حاصل ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں وہ پوری انسانیت کو اپنے رنگ میں رنگ لے گی۔ امریکا اور روس کی سرد جنگ ایک ہی تہذیب کے دو مرکزوں کی جنگ تھی جو بالآخر امریکا کی بالادستی پر منتج ہوئی اور جلد ہی روس میں بھی لبرلزم اور جمہوریت کی وہی آوازیں بلند ہونے لگیں جو امریکا اور نام نہاد آزاد دنیا کی شناخت تھیں۔ اس زمانے میں ڈیڑھ سو سے زیادہ نئے ملک دُنیا کے سیاسی نقشے پر اُبھرے لیکن بظاہر ان کے پاس نہ تو کوئی اپنا نظریہ تھا اور نہ سیاسی، معاشی اور عسکری اعتبار سے وہ کوئی وزن رکھتے تھے اس لیے روس کے اشتراکی ڈھانچے کے
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
تتر بتر ہوتے ہی صرف ایک نظریے اور ایک تہذیب کے عالمی غلبے کے خواب دیکھے جانے لگے۔۔۔۔ لیکن اس میں ایک سدراہ کی بھی نشان دہی کی جانے لگی یعنی اسلام، سیاسی اسلام، اور اُمت مسلمہ جو اپنا تہذیبی تشخص رکھے اور اس تشخص کے اظہار اور استحکام کے لیے اجتماعی نظام ، قانون، معیشت ، معاشرت، تمدن اور سیاسی قوت کی طلب گار ہو۔ یہی وجہ ہے کہ روس کے عالمی قوت کی حیثیت سے میدان سے باہر ہوتے ہی اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا آغاز ہو گیا۔
مغربی استعمار کے خلاف جنگ، بظاہر آزادی اور قوم پرستی کے نام پر ہو رہی تھی اور حق خود ارادیت اس کا محور تھا مگر اسلامی دنیا میں اس کی پشت پر جو سب سے قوی محرک تھا وہ اسلام اور اس کا دیا ہوا تصور حیات تھا۔ تحریک پاکستان میں یہ پہلو زیادہ واضح اور کھلا کھلا تھا، جب کہ دوسرے ممالک میں اگرچہ یہ موثر طور پر موجود تھا۔ اصحاب نظر اور تاریخ پر گہری نگاہ رکھنے والے بخوبی اس سے واقف تھے مگر اظہار اور اعلان کے اعتبار سے ہر جگہ اتنا نمایاں نہیں تھا۔ ولفریڈ سمتھ اس حقیقت کا کھلا اعتراف کرتا ہے کہ:
جوں جوں آزادی کی تحریک عوام میں مقبول ہوتی چلی گئی، اس کی پس پشت قوت کے طور پر مذہب سامنے آتا گیا۔ اگرچہ تحریک کے نظریات، ہیئت اور قائدین زیادہ تر مغربی انداز پر قوم پرستانہ خیالات کے حامل تھے، تاہم عام وابستگان اور ان کے اعمال اور احساسات میں نمایاں طور پر اسلامی رنگ کا غلبہ تھا۔ مسلم عوام نے قومیت کا کوئی ایسا تصور قبول نہیں کیا جو اسلام کے بندھنوں سے ماورا کسی برادری کے ساتھ وفاداری یا کسی اور تعلق پر مبنی ہو۔
(Islam in Modern History، پرنسٹن ۱۹۵۷ء،ص ۷۵۔۷۷)
۱۹۷۹ء کے ایران کے اسلامی انقلاب، ۱۹۷۹ء تا ۱۹۸۹ء کے جہاد افغانستان اور ۱۹۷۳ء کے بعد مسلم ممالک
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
میں اسلامی تحریکات اور اتحاد اسلامی کی اجتماعی مساعی نے جہاں اُمت مسلمہ میں اپنے تشخص کی حفاظت اور اپنی اقدار اور تصورات کے مطابق اجتماعی زندگی کی نقشہ بندی کا احساس پیدا کیا ، وہیں مغربی اقوام کے لیے یہ احساس اور یہ کوشش خطرے کی گھنٹی بن گئی اور اسلام کو مغربی اقوام کے سیاسی مقاصد کے حصول کی راہ میں ایک رکاوٹ اور خطرہ بنا کر پیش کیا جانے لگا۔ اس سلسلے میں صہیونی اور امریکی اہل قلم نے کلیدی کردار ادا کیا جن میں برنارڈ لیوس ، سیمویل ہن ٹنگٹن ، ڈینیئل پائپس ، ہنری کسنجر اور فرانس فوکویاما خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ نائن الیون کے بعد اسلام کو جس بیدردی سے دہشت گردی کا مذہب اور ہر مسلمان کو ایک بالقوۃ دہشت گرد (Potential Terrorist) کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے اس کے فکری ڈانڈے تہذیبی جنگ کے متذکرہ بالا اولین قائدین کے رشحاتِ قلم سے جاملتے ہیں۔ صدر بش اور ان کے نیوکونز (Neo-Cons) کا پورا طائفہ مختلف انداز میں کبھی بالکل کھلے طور پر اور کبھی منافقانہ انداز میں اور شاطرانہ اسلوب میں یہی بات کہہ رہا ہے۔ صدر بش کے اس سال کے خطاب بہ عنوان State of the Nation (جنوری ۲۰۰۶ء) میں کھل کر کہا گیا ہے کہ ہمارا اصل مقابلہ ' سیاسی اسلام ' (Political Islam) اور اسلامی بنیاد پرستی (Islamic Fundamentalism) سے ہے۔ اور یہی وہ مرکزی نکتہ ہے جو ہن ٹنگٹن نے پوری چابک دستی کے ساتھ مغرب کے پالیسی سازوں کے ذہن میں بٹھانے کی کوشش کی ہے، یعنی:
مغرب کا اصل مسئلہ اسلامی بنیاد پرستی نہیں، خود اسلام ہے۔ یہ ایک مخصوص تہذیب ہے جس کے وابستگان اپنے تمدن کی برتری کے قائل ہیں اور اقتدار و اختیار سے محرومی کی وجہ سے پریشان ہیں۔
تحفظ ناموس رسالتﷺ
(اسلام کے لیے مسئلہ CIA یا امریکا کا محکمہ دفاع نہیں ، مغرب ہے۔ یہ ایک مختلف (اور متصادم) تہذیب ہے جس کے داعی اپنی تہذیب کی آفاقیت کے قائل ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ان کی (بظاہر زوال پذیر) مگر بالا تر طاقت تقاضا کرتی ہے کہ اس تمدن کو پوری دنیا میں پھیلا دیا جائے۔ یہ وہ بنیادی عناصر ہیں جو اسلام اور مغرب کے درمیان تنازعے میں جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔
(The Clash of Civilizations، سیمویل پی ہنٹنگٹن)
بات بہت واضح ہے۔ تصادم کی وجہ دو تہذیبوں کا اختلاف نہیں۔ مغرب کا یہ عزم ہے کہ اس کی تہذیب بالاتر ہے اور اسے دنیا میں بالا دست ہونا چاہیے۔ جو چیز کش مکش اور تنازعے کو جنم دے رہی ہے اور پروان چڑھا رہی ہے وہ یہ تصور ہے کہ جو طاقت مغرب کو حاصل ہے، اس کا استعمال مغربی تہذیب کو ساری دنیا پر مسلط کرنے کے لیے ہونا چاہیے اور یہ گویا کہ ایک واجب اور فرض ہے جسے انجام دینا مغرب کی ذمہ داری ہے۔ مغرب کی حکمت عملی میں دو تہذیبوں کی بقائے باہمی اور تعاون اور ایک دوسرے کے احترام کا کوئی مقام نہیں، اور یہی وہ چیز ہے جو عالمی امن کے لیے خطرے اور جنگ و جدال کی راہ ہموار کرنے کا سبب ہے۔ قوت کے عدم توازن کی وجہ سے کمزور ممالک اور اقوام وہ راستے اختیار کرنے پر مجبور ہوتی ہیں جو برابر برابر کی جنگ سے مختلف ہیں۔
یہ ہے وہ فکری، تہذیبی اور عسکری نقشۂ جنگ جس میں:
- ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء کو ڈنمارک کے اخبار یولانڈ پوسٹن نے ۱۲ شیطانی کارٹون شائع کیے۔
- اس پر مسلم دنیا کا ردعمل نرم رہا۔
- آگ
۷۵ء
- ۲۰۰
اور سکہ
- ہالینڈ
ہوجات
- اٹلی کے
کا اعلا یہ محتض تہذیب کے ہتھیاروں سانحہ اُمت تاریخ کا ایک کیا ہے اور تحفظ کے لیے
تحفظ ناموس رسالت
- آگ کو تیز کرنے اور جلتی پر تیل ڈال کر، اسے مزید بھڑکانے کے لیے جنوری ۲۰۰۶ء میں ۲۲ ممالک کے
۷۵ اخبارات اور رسائل میں انہیں دوبارہ شائع کیا گیا۔
- ۲۰۰ ریڈیو اور ٹی وی چینلوں پر انہیں دوبارہ بلکہ سہ بارہ نشر کیا گیا۔ اور یہ سب آزادی اظہار، آزادی صحافت
اور سیکولر جمہوریت کے نام پر کیا گیا۔
- ہالینڈ کے اخبارات نے لکھا کہ ہم یہ کارٹون ہر ہفتے شائع کیا کریں گے تاکہ مسلمان ان کے عادی
ہو جائیں۔
- اٹلی کے ایک وزیر نے ان کی ٹی شرٹ خود استعمال کی اور اسے ایک فیشن کے طور پر فروغ دینے کے پروگرام
کا اعلان کیا۔
یہ محض چند کارٹون نہیں بلکہ ان کی اشاعت ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہے، پوری اسلامی دنیا کے عقیدے اور تہذیب کے خلاف برملا اعلان جنگ ہے اور خود پسندی اور تکبر کے مقام بلند سے استہزا، تذلیل اور اہانت کے ہتھیاروں سے اُمتِ مسلمہ کی غیرت اور عزت پر حملہ ہے۔ اگر اس کا بروقت اور موثر جواب نہ دیا جاتا تو اس سے بڑا سانحہ اُمت کی تاریخ میں نہ ہوتا۔ مسلم عوام نے اپنی سیاسی کمزوری کے باوجود، اپنی غیرت ایمانی کا اظہار کر کے تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا ہے اور وقت کے فرعونوں، جابر حکمرانوں اور دوسروں کی عزت سے کھیلنے والوں کو چیلنج کیا ہے اور اُمت اپنے دین، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ناموس کا دفاع اور اپنی تہذیب اور اقدار کے تحفظ کے لیے پوری سرفروشی کے ساتھ میدان میں اُتر آئی ہے۔ یوں جنگ طویل ہے اور فیصلہ کن بھی۔۔۔۔ فوری
تحفظ ناموس رسالت
احتجاج، جلسے اور جلوس، سفارتوں کا انقطاع، سیاسی تناؤ، معاشی بائیکاٹ اس کا صرف پہلا مرحلہ ہیں۔ بلاشبہ یہ ناگزیر تھے اور دشمن کے اعلانِ جنگ کے بعد دعوت مبارزت قبول کرنے کا اولین اقدام۔۔۔۔ لیکن اصل جنگ فکری، تہذیبی، معاشی اور سیاسی ہے اور بہت طویل ہے۔ اس لیے ہر سطح پر اس میں شرکت، مقابلے کے لیے مناسب تیاری، اور صحیح حکمت عملی کے ذریعے بازی سر کرنے کی نقشہ بندی اُمتِ مسلمہ کی اولین ضرورت ہے۔ ان تمام مراحل اور ان کے لیے وسائل اور ضروری تیاری (mobilization) کے بغیر اس جنگ کا جیتنا ممکن نہیں۔ اللہ پر بھروسہ ہماری قوت ہے، اصل سرچشمہ ہے لیکن یہ بھی اللہ ہی کا حکم ہے کہ مقابلے کے لیے ایسی قوت بھی حاصل کرو جو مد مقابل پر ہیبت طاری کر دے۔
وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ O (الانفال ٨ : ٦٠)
اور ان کے لیے جس حد تک کر سکو فوج اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو جس سے اللہ کے اور تمہارے ان دشمنوں پر تمہاری ہیبت طاری رہے اور ان کے علاوہ کچھ دوسروں پر بھی جنہیں تم نہیں جانتے ہو۔
یہ ١٢ شیطانی کارٹون اتفاقی طور پر شائع نہیں ہوگئے۔ ان کا خاص پس منظر ہے۔ یولاند پوسٹن کے ثقافتی امور کے ایڈیٹر فلیمنگ روز (Flemming Rose) نے باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت اس فکری اور تہذیبی جنگ کا آغاز کیا۔ اس اقدام سے ایک سال پہلے وہ امریکا گیا اور وہاں اسلام دشمنی کی مہم چلانے والوں کے سرخیل
ڈینیل پائپس سے خصوصی صلاح ومشورہ ہوا۔ ڈینیل پائپس پچھلے ۴۰ سال سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف قلمی جنگ کر رہا ہے۔ دسیوں کتابوں اور سیکڑوں مضامین کا مصنف ہے۔ صہیونی تحریک میں اونچا مقام رکھتا ہے اور فلسطینیوں کے بارے میں کھلے عام کہتا ہے کہ ان کو فوجی قوت سے نیست و نابود کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ صدر بش نے اسے ایک ایسے تھنک ٹینک کا مشیر بنایا تھا جس کے مصارف سرکاری خزانے سے برداشت کیے جاتے ہیں۔ اس مشاورت کے نتیجے میں فلیمنگ روز نے کارٹون بنانے والے ۴۰ افراد کو دعوت دی اور کہا کہ تم سب موضوعات پر کارٹون بناتے ہو اور شخصیات کا تمسخر بھی اڑاتے ہو لیکن اسلام کو تم نے کبھی تختہ مشق نہیں بنایا۔ تو اب اسلام کا چہرہ دکھانے کے لیے اپنے برش حرکت میں لاؤ۔ ان ۴۰ میں سے ۱۲ افراد کے کارٹون ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء کی اشاعت میں The Painting of a Portrait of Islam's Prophet (پیغمبر اسلام کی تصویر کا خاکہ) کے عنوان سے شائع کیے گئے اور اس دعویٰ سے کیے گئے کہ اس طرح مسلمانوں کی تنگ نظری کا علاج ہو سکے گا۔ ان کارٹونوں کو ہر کسی نے ناخوش گوار، اشتعال انگیز اور توہین آمیز قرار دیا۔ واشنگٹن پوسٹ نے انہیں A Calculated Insult (ایک نپی تلی توہین) قرار دیا مگر عالم اسلام کے تمام احتجاج کے باوجود ایڈیٹر، کارٹونسٹ، مغربی میڈیا کی اکثریت اور وہاں کی سیاسی قیادت نے آزادی صحافت، آزادی اظہار رائے اور سیکولر جمہوریت کا سہارا لے کر ان کا دفاع کیا اور اب تک ان کی اشاعت کو غلطی تسلیم کر کے معذرت کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ مصلحت کے تحت جو بات کہی جا رہی ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہم نے تو جو کیا، وہ درست کیا تھا۔ افسوس صرف اس پر ہے کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ حالانکہ اصل
حصہ دوم تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
مقصد اسلام، اسلام کے رسول ﷺ اور مسلمانوں کو دہشت گرد دکھانا اور انہیں بے ہودہ جنسی مذاق کا نشانہ بنانا تھا۔
اب تک فلیمنگ روز کا دعویٰ ہے کہ
I do not regret having commissioned these cartoons
(مجھے یہ کارٹون بنوانے پر کوئی افسوس نہیں ہے)۔
اسی طرح اصل کارٹونسٹ کرٹ ویسٹرگارڈ (Kurt Westergaard) کا بیان لندن کے اخبارات میں ۱۸ فروری کو شائع ہوا ہے۔ ہیرالڈ نامی رسالے کے استفسار پر اس نے صاف کہا کہ کارٹونوں کا اصل محرک یہ دکھانا ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ نعوذ باللہ دہشت گردی کی علامت ہیں۔
جب پوچھا گیا کہ کیا اسے ان کارٹونوں کی اشاعت پر افسوس ہے؟ اس نے صاف جواب دیا: نہیں۔
اس نے کہا کہ ان خاکوں کے پیچھے ایک جذبہ کارفرما تھا: دہشت گردی جسے اسلام سے روحانی اسلحہ فراہم ہوتا ہے۔
(اے ایف پی رپورٹ، ڈان، ۱۹ فروری ۲۰۰۶ء)
ڈنمارک کے وزیر اعظم نے پہلے ۱۱ مسلمان سفرا سے ملنے سے انکار کیا۔ جب ۲۷ مسلمان تنظیموں کے نمائندے ۱۷ ہزار مسلمانوں کے دستخطوں سے ان کے خلاف احتجاج اس کو دینے گئے تو لینے سے انکار کر دیا گیا اور اب سارے عالمی احتجاج کے باوجود ان کا موقف یہ ہے کہ یہ سب ایک جمہوری ملک میں آزادی اظہار کا مسئلہ ہے اور اصرار کے باوجود انہوں نے کھلے طور پر اسے غلطی ماننے اور صاف الفاظ میں مسلمانوں سے معافی مانگنے سے احتراز کیا ہے۔ الاہرام کے ایڈیٹر نے طرح طرح سے سوالات کیے مگر ڈنمارک کے وزیر اعظم ٹس سے مس نہ
تحفظ ناموس رسالت
ہوئے اور یہی کہتے رہے کہ: جو کچھ بھی شائع ہوا ہے، اس کے لیے ڈنمارک کے عوام اور حکومت کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
(ہفت روزہ الاہرام ۱۲ فروری ۲۰۰۶ء)
نہ صرف ڈنمارک کے وزیراعظم اور وزیرخارجہ کا رویہ تکبر وار تعصب سے بھرا ہوا ہے بلکہ مسلمانوں کو طیش دلانے اور ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے ناروے، جرمنی، فرانس، اٹلی، اسپین اور خود امریکا کے چند اخبارات نے ان کارٹونوں کو شائع کیا۔ یورپی یونین کے صدر نے مسلمانوں سے ہمدردی کے اظہار کے ساتھ آزادی صحافت کے نام پر ان شیطانی کارٹونوں کی اشاعت کی مذمت سے انکار کیا بلکہ خود صدر بش اور ٹونی بلیئر نے اپنے خبث باطن کے اظہار کے لیے ڈنمارک کے وزیراعظم کو ٹیلی فون کر کے اپنے تعاون کا یقین دلایا جس نے ڈنمارک کے وزیراعظم کو یہ کہنے کا موقع دیا کہ Islamic World must realise we are not isolated اسلامی دنیا کو محسوس کرنا چاہیے کہ ہم تنہا نہیں ہیں۔
(انٹرویو: ڈیلی ٹائمز، ۱۴ فروری ۲۰۰۶ء)
سارے حالات اور حقائق سے ظاہر ہے کہ یہ محض ڈنمارک کے ایک اخبار کی شرارت نہیں بلکہ ایک عالمی مہم ہے جس میں ڈنمارک کو ذریعہ بنایا گیا ہے اور سب کا ہدف اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانا اور اسلام کی سب سے مقدس شخصیت اور اللہ کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ان کو نعوذ باللہ دہشت گرد کے روپ میں دکھا کر مسلمانوں کو دہشت گردی کا منبع قرار دینا ہے۔ اسی طرح جہاد کو، جو انصاف کے قیام کی ضمانت، آزادی کا محافظ اور ظلم اور بیرونی قبضے کے خلاف مزاحمت کا ذریعہ ہے، دہشت گردی کا نام دے کر مسلمانوں کو تہذیبی ہی نہیں سیاسی اور معاشی غلامی کے جال میں پھنسانا ہے۔۔۔۔الحمدللہ! مسلمان اس شیطانی کھیل کو سمجھتے ہیں اور
تحفظِ ناموسِ رسالت
مسلمان حکمران خواہ کتنے بھی غافل ہوں بلکہ ان میں سے کچھ سامراجی قوتوں کے آلہ کار ہی کیوں نہ ہوں، لیکن مسلمان عوام اپنے دین، اپنے ایمان، اپنے نبی کی عصمت اور عزت اور اپنے نظریۂ حیات کی بنیادی اقدار کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگانے کو تیار ہیں اور کوئی رکاوٹ اس جہاد میں اُن کا راستہ نہیں روک سکتی۔ دُنیا کے ہر خطے سے احتجاج اُمتِ مسلمہ کی زندگی کی علامت ہے اور باطل قوتوں کے لیے اس میں واضح پیغام ہے کہ مسلمانوں کو نرم نوالہ نہ سمجھا جائے۔
اس احتجاج کے نتیجے میں پہلی فتح مسلمانوں کو یہ حاصل ہوئی ہے کہ اب سب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کارٹون نامناسب تھے، مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے تھے، اور بدذوقی ہی نہیں بدکلامی، تضحیک اور عزت پر حملے کے مترادف تھے۔۔۔۔۔۔ لیکن اس اعتراف کے باوجود دو دعوے پورے تسلسل اور ڈھٹائی کے ساتھ کیے جا رہے ہیں اور ایک جوابی اعتراض کی شکل میں مزید داغا جا رہا ہے جن کا جائزہ ضروری ہے۔
پہلا دعویٰ یہ ہے کہ مغربی معاشرے کی بنیاد اظہارِ رائے کی آزادی یعنی صحافت پر ہے اور اس پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ دوسرے الفاظ میں گو ان شیطانی خاکوں سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور ایسا عالم گیر احتجاج رونما ہوا ہے جس میں بیسیوں افراد شہید ہو گئے ہیں اور اربوں کا نقصان ہوا ہے لیکن پھر بھی مغربی ممالک اور حکومتوں کے لیے اظہارِ رائے کی تحدید ممکن نہیں اور خود احتسابی (Self-censorship) کے علاوہ کوئی راستہ ایسے شیطانی حملوں کو روکنے کا نہیں۔ اظہارِ رائے اور آزادیِ صحافت پر پابندی مغربی معاشرے و تہذیب کی بنیادی اقدار کے منافی ہوگی۔
دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ مغربی تہذیب کی بنیاد سیکولرازم پر ہے اور مسلم معاشرہ مذہبی اقدار پر ایمان رکھتا ہے۔ سیکولرازم میں مذہب اور مذہبی شخصیات کا مذاق اُڑانا ایک معمول ہے، جب کہ مسلمان اس کے عادی نہیں اور اسی وجہ سے یہ تصادم کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ یہ دو رویوں (Attitudes) کا معاملہ ہے اور سوسائٹی کے بارے میں دو تصورات کا اختلاف ہے۔۔۔۔ اور دعویٰ یہ ہے کہ سیکولرازم میں ایسا ہی ہوتا ہے اور ہوگا اور مسلمانوں کو اگر سیکولر معاشرے میں رہنا ہے تو اس کو گوارا کرنا ہوگا۔
تیسری بات کا تعلق احتجاج کی اس نوعیت سے ہے جو چند ملکوں میں رونما ہوئی ہے اور اس میں تشدد کا عنصر آ گیا جس سے بہت سی جانوں اور مال کا ضیاع ہوا ہے۔ نیز مغربی ممالک کے نقطۂ نظر سے معاشی بائیکاٹ بھی احتجاج کی ایک ناقابل قبول صورت ہے اور یورپی یونین نے اس صورت حال میں عالمی تنظیم (WTO) سے دادرسی تک کی دھمکی دی ہے۔
ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں امور کا بے لاگ جائزہ لیا جائے اور مغرب کے دانش وروں، اہلِ قلم، صحافیوں اور سیاسی قائدین کے ان بیانات کا علمی تعاقب کیا جائے۔
آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر مغربی اقوام اپنی اجارہ داری کا کیسا ہی دعویٰ کریں، حقیقت یہ ہے کہ ان کا تعلق ہمیشہ سے انسانی معاشرے اور تہذیب سے رہا ہے اور یہ ان کی ایجاد نہیں۔ آج بلا شبہ مغربی ممالک میں ان اقدار کا بالعموم اہتمام و احترام ہو رہا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ انہی ممالک میں ان آزادیوں کا خون نہ کیا جا رہا ہو۔ دُنیا کی تمام تہذیبوں میں اپنے اپنے زمانے میں آزادی اظہار کا ایک مرکزی مقام رہا ہے گو اس کے آداب اور اظہار
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتﷺ
کے طریقوں میں فرق رہا ہے۔ اسلام نے اوّل دن سے آزادی اظہار کو ایک بنیادی انسانی ضرورت اور قدر کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزادی دے کر پیدا کیا ہے اور وہ اس آزادی کو اس حد تک بھی لے جاسکتا ہے کہ خود اپنے خالق کا انکار کردے۔ بلاشبہ اس انکار کے نتائج اس کو بھگتنے پڑیں گے مگر انکار کا حق اسے دیا گیا ہے۔ مغرب کو زعم ہے کہ روسو نے یہ کہا تھا کہ
Man is born free, but is everywhere in chains
(انسان آزاد پیدا ہوا، لیکن ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے)۔ لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ آزادی کا تصور وحی الٰہی پر مبنی ہے اور قرآن اس کا جامع بیان ہے۔ نیز نبی اکرمﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع (۹ہجری) تاریخ کا پہلا چارٹر ہے اور سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روسو سے بارہ سو سال پہلے فرمایا تھا کہ تم نے انسانوں کو غلام کب سے بنا لیا؟ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا۔
قولوا قولاً سدیدا کا حکم دے کر قرآن نے آزادی اظہار کا دستوری حق تمام انسانوں کو دیا۔ لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کے اُصول میں مذہبی رواداری اور حقیقی تکثریت (Genuine Plurality) کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کو تسلیم کیا گیا۔ اور امر ھم شوریٰ بینھم کے ذریعے پورے اجتماعی نظام کو آزادی مشاورت اور حقیقی جمہوریت سے روشناس کرایا گیا۔ حکمرانوں سے اختلاف کے حق کو فان تنازعتم فی شئ فردوہ الی اللّٰہ ورسولہ کے فرمان کے ذریعے قانون کا مقام دے دیا گیا۔ آزادی اظہار پر مغرب کی اجارہ داری کا دعویٰ تاریخ کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
لیکن آزا کا واضح تعین ایمانویل کانٹ here your میں ای آزادی ختم ہو یہی وج انارکی بن جا لازم وملزوم ہ دوسروں کی ع ہر نظام میں کے فریم ورک شخصی حریت ملکی قانون
لیکن آزادی کے معنی مادر پدر آزادی نہیں، آزادی تو صرف اس وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے جب اس کی حدود کا واضح تعین ہو اور ایک کی آزادی دوسروں کے لیے دست درازی اور غلامی کا طوق نہ بن جائے۔ جرمن مفکر ایمانویل کانٹ (Immanul Kant) نے بڑی پتے کی بات کہی ہے جب اس نے کہا کہ:
I am free to move my hand but the freedom of my hand ends where your nose begins.
میں اپنے ہاتھ کو حرکت دینے میں آزاد ہوں، لیکن جہاں سے تمہاری ناک شروع ہوتی ہے، میرے ہاتھ کی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آزادی اور انارکی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آزادی اگر حدود سے آزاد ہو جائے تو پھر انارکی بن جاتی ہے اور دوسروں کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔ آزادی اور ذمہ داری اور آزادی اور حدود کی پاسداری لازم وملزوم ہیں۔ آزادی اظہار کے نام پر نہ تو دوسروں کی آزادی اور حقوق کو پامال کیا جاسکتا ہے اور نہ آزادی اظہار کو دوسروں کی عزت سے کھیلنے اور ان کے کردار کو مجروح کرنے کا ذریعہ بننے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نظام میں آزادی کو قانونی، اخلاقی اور ملکی سلامتی کی حدود میں پابند کیا جاتا ہے۔ جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کے فریم ورک ہی میں آزادی کارفرما ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی سلامتی، معاشرے کی بنیادی اقدار کا تحفظ اور شخصی عزت و عفت کا احترام ہر نظام قانون کا حصہ ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر آف ہیومن رائٹس بھی آزادی اور حقوق کو ملکی قانون اور معاشرے کی اقدار سے غیر منسلک (delink) نہیں کرتا۔
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
آزادی اظہار کا حق غیر محدود نہیں ہے۔ عالمی ضابطہ برائے شہری اور سیاسی حقوق اس (International Convention on Civil and Political Rights) (ICCPR) آزادی کو صاف الفاظ میں تین چیزوں سے مشروط کرتا ہے، یعنی امن عامہ، صحت اور اخلاق کو قائم رکھنا (Maintenance of public order, health and morals) اس کے نفاذ کے لیے ہر ملک اپنا قانون بناتا ہے لیکن عالمی سطح پر بھی کچھ اہم ضوابط (Conventions) ہیں اور دنیا کے بیشتر ممالک نے ان کی توثیق کی ہے اور وہ بین الاقوامی قانون کا حصہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک عالمی ضابطہ نسلی امتیاز کی تمام شکلوں کے خاتمے کے لیے International Convention on Elimination of All Forms of Racial Discrimination-(ICERD) ہے جس کے ذریعے نسلی تفاخر، نفرت اور نسلی تفرق کے فروغ کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس قانون کے تحت لازم کیا گیا ہے کہ تمام ممالک ان لوگوں کو سزا دیں جو نسلی اور گروہی منافرت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں عالمی سطح پر نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے ایک کمیٹی (The Committee on the Elimination of Racial Discrimination-(CERD) ہے جو متذکرہ بالا قانون (CERD) کے نفاذ کی نگرانی کرتی ہے۔ اس کمیٹی کی عمومی ہدایات یہ ہیں کہ: ملکی جماعتوں کے لیے لازمی ہے کہ نسلی تفاخر یا نسلی منافرت پر اکسانے کو قابل تعزیر جرم قرار دیں۔ کسی بھی قسم کی قومی، نسلی یا مذہبی منافرت کی وکالت جسے نسلی امتیاز پر ابھارنا قرار دیا جاسکے، قانوناً ممنوع ہوگی۔
تحفظ ناموس رسالت
اس طرح کی تعزیر اظہار رائے کی آزادی سے مطابقت رکھتی ہے۔ ان فرائض کو ادا کرنے کے لیے سرکاری پارٹیاں نہ صرف مناسب قانون سازی کریں گی بلکہ اس کے نفاذ کو یقینی بنائیں گی۔ کسی شہری کا آزادی اظہار رائے کا حق یہ خصوصی ذمہ داری اور فرائض رکھتا ہے۔ (عمومی سفارش نمبر ۱۵، ای سی آر ڈی)
اسی طرح انسانی حقوق کی کمیٹی (Human Rights Committee) ہے جس نے درجنوں رپورٹیں تیار کی ہیں اور ان میں وہ رپورٹ بھی موجود ہے جس میں آزادی کے اظہار کی حدود کا واضح تعین کر دیا گیا ہے اس لیے کہ اوپر مذکورہ کنونشن کی دفعہ (۲) ۲۰ میں مرقوم ہے کہ : آزادی اظہار رائے کے حق کا استعمال اپنے ساتھ خصوصی فرائض اور ذمہ داریاں رکھتا ہے۔ (آرٹیکل ۲۰[۲۵])
ایک مشہور عدالتی فیصلے Faurisson vs France میں HRC کا فیصلہ ہے کہ:
ایسے بیانات پر، جو یہودیت دشمن جذبات کو ابھاریں یا انہیں تقویت دیں، پابندیوں کی اجازت ہوگی تا کہ یہودی آبادیوں کے مذہبی منافرت سے تحفظ کے حق کو بالا دست بنایا جا سکے۔
اسی طرح انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کا فیصلہ ہے کہ:
اظہار رائے کی آزادی کے اس حق کا اطلاق ان معلومات اور نظریات پر بھی ہوگا جو ریاست یا آبادی کے کسی حصے کو ناراض کریں، صدمہ پہنچائیں یا پریشان کریں۔ کثیر القومیتی معاشرت اور رواداری کے یہی تقاضے ہیں جن کو پورا کیے بغیر کوئی جمہوری معاشرہ قائم نہیں ہوتا۔ (Handyside کیس)
اسی طرح ایک اور اہم فیصلے میں عدالت نے یہ اصول اس طرح بیان کیا ہے:
دفعہ ۹ میں کسی مذہب کے ماننے والوں کے مذہبی احساسات کے احترام کی جو ضمانت دی گئی ہے،
تحفظ ناموس رسالت
بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ مذہبی احترام کی علامت کو اشتعال انگیز انداز میں پیش کر کے اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ مذہبی احترام کی ان علامات کا اس طرح سے پیش کرنا اس رواداری کے جذبے کی بدنیتی سے خلاف ورزی قرار دی جاسکے جو ایک جمہوری معاشرے کی خصوصیت ہونا چاہیے۔
مذہبی عقائد کی جس انداز سے مخالفت کی جائے یا انکار کیا جائے ، اس کا جائزہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، یہ ذمہ داری کہ خاص طور پر دفعہ ۹ کے تحت جس حق کی ضمانت دی گئی ہے اسے ان عقائد کے علم بردار پُرامن طور پر استعمال کرسکیں۔ عدالت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی ایسے فرد پر پابندی لگا دے جو کسی مذہب کی مخالفت یا انکار میں اس طرح کے خیالات کا اظہار کرتا ہے تاکہ جہاں تک ممکن ہو، ان خیالات سے بچا جاسکے جو دوسروں کے لیے اشتعال انگیز ہوں۔
(Preminger Institut vs Austria Otto)
اسی اُصول کو اور بھی وضاحت کے ساتھ ایک دوسرے مقدمے کے فیصلے میں اسی عدالت نے یوں بیان کیا ہے:
مذہبی تقدس کی حامل باتوں کا اشتعال انگیز اور پُرتشدد طور پر پیش کرنا دفعہ ۹ کے تحت دیے گئے حقوق کی خلاف ورزی شمار ہوسکتا ہے۔ ریاست کا یہ فریضہ ہے کہ عقائد کے بارے میں حساس اقلیتوں کو حملے سے تحفظ دے۔ ریاست کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی حق کے استعمال کو کسی قاعدے میں لانے کے لیے کسی فرد کی اظہار رائے آزادی میں مداخلت کرے۔ ریاست کا یہ فریضہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ افراد
تحفظ ناموس رسالت
اور سرکاری اداروں کے درمیان تعلقات کے دائرے میں مذہبی احترام کو یقینی بنائے ۔ اس فریضے کو مناسب ترقی دینے سے ہی یہ ممکن ہے کہ یورپی کنونشن برطانیہ میں اقلیتی مذاہب کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکے۔
بین الاقوامی قانونی اور عالمی عدالتوں کے فیصلے اس سلسلے میں بالکل واضح ہیں اور کوئی جمہوری ملک محض جمہوریت اور آزادی اظہار و صحافت کے نام پر مذہبی منافرت، مذہبی شخصیات کی تذلیل اور تضحیک اور کسی انسانی گروہ کے جذبات سے مذہبی، تہذیبی یا لسانی اہداف کو تحقیر اور تمسخر کا نشانہ بنا کر کھیلنے کا حق نہیں رکھتا اور اس سلسلے میں معاملہ صرف خود احتسابی کا نہیں ، بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ افراد ، گروہوں اور برادریوں کے اس حق کا تحفظ کریں۔
خود ڈنمارک کا قانون اس باب میں خاموش نہیں ہے۔ اس ملک میں مذہبی عقائد، شعائر اور شخصیات کی عزت کے تحفظ کے لیے ناموس مذہب کا قانون (Blasphemy Law) صدیوں سے موجود ہے۔ اسی طرح ہر فرد کی عزت کے تحفظ کے لیے Law of Libel and Slander موجود ہے۔ پھر ملک کے قانون فوج داری میں صاف صاف ایسی تمام حرکتوں کو قابل دست اندازی جرم قرار دیا گیا ہے جو دوسرے کی تذلیل اور ان کے جذبات کو مجروح کرنے والے اور مختلف گروہوں اور برادریوں کے خلاف امتیازی سلوک کے مرتکب ہوں۔ ڈنمارک کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۱۴۰ اس طرح ہے:
جو لوگ کسی مذہبی برادری کی عبادات اور مسلمہ عقائد کا کھلا مذاق اڑائیں یا ان کی توہین کریں ، ان کو
تحفظ ناموس رسالت
جرمانے یا چار ماہ کی قید کی سزا دی جائے گی۔
اسی طرح دفعہ بی ۲۶۶ میں مرقوم ہے کہ:
کوئی بھی فرد جو کھلے عام یا وسیع تر حلقے میں پھیلانے کی نیت سے کوئی بیان دے یا کوئی اور معلومات پہنچائے جس کے ذریعے وہ لوگوں کے کسی گروہ کو ان کی نسل، رنگ یا قومی و نسلی عصبیت، عقیدے یا جنس کی بنیاد پر دھمکی دے، توہین کرے، یا تذلیل کرے وہ جرمانے، سادہ حراست یا دو سال سے کم قید کی سزا کا مستحق ہوگا۔
یہ خود اس ملک کا قانون ہے جس میں مسلمانوں کے ایمان کے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے اور جس کا دفاع آزادی اظہار کے نام پر کرنے کی جرأت مغربی اقوام کے دانشور اور سیاسی قائد کر رہے ہیں۔
بات صرف قانون اور نظری حیثیت کی نہیں، اگر ان ممالک کے تعامل پر نگاہ ڈالی جائے تو صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ معاملہ مذہبی امتیاز (Religious Discrimination) کا ہے۔ اسی اخبار کے ایڈیٹر نے ۲۰۰۳ء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہتک آمیز کارٹون چھاپنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ قارئین ان خاکوں کو اچھا سمجھیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا خیال ہے کہ اس سے ہنگامہ برپا ہو جائے گا۔ اس لیے میں انہیں استعمال نہیں کروں گا۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہ شرمناک اور ہتک آمیز کارٹون شائع کرنے کے بعد جب احتجاج ہوا اور ایران نے جرمنی کے ہولوکاسٹ کے بارے میں کارٹون بنانے کی دعوت دی تو اس اخبار کے کلچر ایڈیٹر فلیمنگ روز
نے سی این این اعلان کے فوراً یورپ کے کم ا پروفیسر ڈیوڈ ار میں دیے جا سامنے بیان د نہیں مگر اس ک ہولو کاسٹ کو انڈی پنڈنٹ کارٹون شائع برطانوی یہو فرانس میں ح لگا دی گئی اور پڑوسیوں کی جاسکتا مگر ڈن
نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ ہولوکاسٹ پر بھی کارٹون شائع کرے گا۔ لیکن اس اعلان کے فوراً بعد اخبار کے ایڈیٹر نے اس کی تردید کی اور ساتھ ہی فلیمنگ روز کو طویل رخصت پر بھیج دیا۔ آج یورپ کے کم از کم سات ممالک میں قانونی طور پر ہولوکاسٹ کو چیلنج کرنا جرم ہے اور آسٹریا میں تاریخ کا ایک پروفیسر ڈیوڈ ارونگ (David Irving) جیل میں اس لیے بند ہے کہ اس نے برسوں پہلے ہولوکاسٹ کے بارے میں دیے جانے والے اعداد و شمار کو چیلنج کیا تھا اور اب اسے تین سال کی سزا ہو گئی ہے حالانکہ اس نے عدالت کے سامنے بیان دیا کہ مجھے غلط فہمی ہوئی تھی اور میں نے اپنے خیالات سے رجوع کر لیا ہے۔۔۔ وہ آسٹریا کا باشندہ بھی نہیں مگر اس کو آسٹریا میں سزا دی گئی ہے۔ اسرائیل میں باقاعدہ قانون ہے کہ دُنیا میں کہیں بھی کوئی شخص ہولوکاسٹ کو چیلنج کرے تو اسرائیل کو حق ہے، اسے اغوا کر کے لے آئے اور اس کو سزا دے۔ انگلستان کے اخبار انڈی پنڈنٹ نے کسی نبی یا یہودی مذہبی لیڈر نہیں ایک دہشت گرد جرنیل ایریل شیرون کے بارے میں ایک کارٹون شائع کیا تھا جس میں اسے فلسطینی بچوں کا خون چوستے دکھایا گیا تھا جس پر ساری دُنیا میں ہنگامہ ہو گیا تھا۔ برطانوی یہودیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا اور جرمنی کے اخبار نے اس کارٹون کو چھاپنے سے انکار کر دیا تھا۔ فرانس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک فلم میں رکیک جنسی حوالوں کی وجہ سے ہنگامے ہوئے ، ایک سینما کو آگ لگا دی گئی اور ایک شخص جل کر مر گیا۔ آج یورپی ممالک میں گھر میں بلند آواز سے میوزک سننا منع ہے کہ اس سے پڑوسیوں کی سمع خراشی ہوتی ہے۔ سڑک پر ہارن بجانا خلاف قانون ہے اور گاڑی میں زور سے گانا نہیں سنا جا سکتا مگر دُنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات پر نشتر چلانے کی آزادی ہے اور اس کا دفاع بھی جمہوریت
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتﷺ
کے نام پر کیا جاتا ہے۔۔۔۔ کیا آزادی کے ایسے تباہ کن تصور کو، جو دراصل فسطائیت کی ایک ’مہذب‘ (sophisticated) شکل ہے، ٹھنڈے پیٹوں قبول کیا جاسکتا ہے؟
مسلمانوں کو تحمل اور برداشت کا درس دینے والوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ ظلم کی سرپرستی اور ترویج کا اس سے بھی بہتر کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا۔ ظلم کا استیصال تو اسے چیلنج کر کے اور مزاحمت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
دوسرا دعویٰ سیکولرازم کے نام پر کیا جا رہا ہے جو انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ تم مذہبی لوگ ہو اور ہم سیکولر ہیں۔ ہمیں مذہب کا مذاق اڑانے کا حق ہے۔ سیکولرازم کے چہرے کو بگاڑنے کی اس سے زیادہ قبیح صورت اور کیا ہو سکتی ہے۔ سیکولرازم کے اس اصول سے مسلمانوں کو ہی نہیں، تمام اہل مذہب بلکہ ابدی اخلاقی اقدار کے تمام ماننے والوں کو اختلاف ہے، وہ یہ ہے کہ دین و مذہب، الہامی ہدایت اور ابدی اقدار کا سیاسی اور اجتماعی زندگی میں کوئی کردار نہیں اور محض انسانوں کے ووٹ سے ہواؤں کے رُخ کو دیکھ کر حق و باطل اور خیر و شر کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ خطرناک نظریہ ہے جو سیکولرازم کی اساس ہے اور ہمیں اس سے بنیادی اختلاف ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ جس طرح آج ہم جنسی کو محض رائے عامہ کی بنیاد پر جائز قرار دے دیا گیا ہے، کل کچھ انسانوں کے بنیادی حقوق کو بھی باطل قرار دیا جا سکتا ہے۔ عملاً مذہب کے ماننے والوں کو تفریق اور امتیاز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جیسا کہ فرانس میں خواتین کو اسکارف استعمال کرنے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ مذہب نے کچھ ابدی اقدار دی ہیں جنہیں محض ووٹ سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں ہمارا اور سیکولرازم کا بنیادی اختلاف ہے۔ سیکولرازم کا دوسرا ستون رواداری
اور خصوصیت سے مذہبی کثریت (Religious Plurality) کا تصور ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں مذہب کے ماننے والوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کلچر اور ملکی روایات کی بنیاد پر اپنے مذہبی شعائر سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ مذہبی رواداری کے معنی ہی یہ ہیں کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے اُصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں اور اس کا لازمی تقاضا دوسرے مذاہب کا احترام ہے۔ ان کے عقائد، شعائر، عبادات اور بنیادی مظاہر کو تحقیر، تذلیل اور تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ علمی انداز میں ہر موضوع پر بحث واختلاف ہوسکتا ہے۔ لیکن سیکولرازم کے نام پر دوسرے مذاہب کی تضحیک اور تمسخر سیکولرازم کا نہیں فسطائیت اور شیوونزم کا خاصہ ہے اور آج سیکولرازم کے نام پر یہی کھیل کھیلا جارہا ہے جو خود سیکولرازم کے بنیادی اُصولوں کی نفی ہے۔ مسئلہ نہ آزادی اظہار کا ہے اور نہ سیکولرازم کا، بلکہ ایک گہرے تہذیبی تعصب، طاقت کے نشے میں رعونت اور دوسروں پر اپنی اقدار اور عادات کو مسلط کرنے کی شرمناک کوشش کا ہے جو اب ایک اجتماعی جنگ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ ڈنمارک میں جو کچھ ہورہا ہے اور جس طرح اس کی پشت پناہی کی جارہی ہے وہ اس خطرناک کھیل کا حصہ ہے۔
خود مغرب کے کچھ دانش ور کس طرح اس رجحان پر دل گرفتہ ہی نہیں متوحش ہیں۔ رابرٹ فسک اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھتا ہے:
یہ سیکولرازم بمقابلہ اسلام کا مسئلہ نہیں ہے۔ مسلمانوں کے لیے رسول اللہؐ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے براہ راست کلام ربانی وصول کیا۔ ہم اپنے پیشواؤں اور نبیوں کو تاریخی شخصیات سمجھتے
تحفظ ناموس رسالتؐ
تحفظ ناموس رسالت
ہیں جو ہمارے انسانی حقوق کے جدید تصورات اور آزادیوں کے مد مقابل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، ہم نہیں گزارتے ہیں۔ اُنہوں نے تاریخ کے ان گنت نشیب و فراز میں اپنے عقیدے کو محفوظ رکھا ہے۔ ہم اپنا عقیدہ کھو چکے ہیں۔ اسی لیے ہم اسلام کے مقابلے پر مغرب کی بات کرتے ہیں بجائے اس کے کہ اسلام کے مقابلے پر عیسائیت کی بات کرتے۔ اس لیے کہ یورپ میں عیسائی زیادہ تعداد میں نہیں بچے ہیں۔ ہم اس بات سے باہر نہیں نکل سکتے کہ دُنیا کے تمام مذاہب کو سامنے لے آئیں اور کہا جائے کہ ہمیں کیوں رسول کا مذاق نہیں اُڑانے دیا جا رہا ہے؟
مارٹن بورکارتھ (Martin Burcharth) جو ڈنمارک کے اخبار Information کا نمائندہ ہے، لکھتا ہے:
اس بات پر کچھ تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ڈنمارک کے عوام اور ان کی حکومت اس اخبار اور اس کے اس فیصلے کی کہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے شائع کیے جائیں، پشت پناہی کر رہے ہیں۔ کیا ڈنمارک کے لوگوں کے بارے میں نہیں سوچا جاتا کہ وہ عموماً غیر معمولی طور پر روادار اور دوسروں کا احترام کرنے والی قوم ہیں؟
غیر ملکی جس بات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں وہ یہ ہے کہ گذشتہ کچھ برسوں سے ہم ڈنمارک کے لوگوں میں غیر ملکیوں سے نفرت و حقارت کے جذبے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں، خاکوں کی
۲۰ ہزار میں مسلمانوں مناسب تدبیر نیویارک ٹائمز سے غور کرنا
اشاعت کا خود احتسابی اور آزادی اظہار کی بحث شروع کرنے میں بہت کم حصہ ہے۔ اسے صرف ڈنمارک میں کسی بھی مسلم شعار کے خلاف متعدی دشمنی کی فضا کے سیاق میں سمجھا جا سکتا ہے۔ ڈنمارک میں ۲ لاکھ سے زیادہ مسلمان ہیں، جب کہ ملک کی کل آبادی ۵۴ لاکھ ہے۔ چند عشرے پہلے، ڈنمارک میں ایک بھی مسلمان نہ تھا۔ اس پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ بہت سے مقامی لوگ اسلام کو ڈنمارک کی ثقافت و تمدن کی بقا کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ۲۰ برس قبل، مسلمانوں کو کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے لیے اجازت نہ دی جاتی تھی۔ مزید برآں، ڈنمارک میں مسلمانوں کے لیے کوئی قبرستان نہیں ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ مسلمان جن کا یہاں انتقال ہو جائے ان کی مناسب تدفین کے لیے ان کی میتوں کو ان کے ملکوں کو واپس بھجوانا ہوتا ہے۔ اور سب سے واضح اور چشم کشا تبصرہ نیویارک ٹائمز میں اس کے مضمون نگار رابرٹ رائٹ (Robert Wright) کا ہے جس پر سب کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے:
امریکا کے دائیں اور بائیں بازو کے لوگ آپس میں زیادہ باتوں پر اتفاق نہیں رکھتے۔ لیکن ہفتوں کے مظاہروں اور سفارت خانوں کی آتش زدگی نے دونوں کو ایک نکتے کی طرف دھکیل دیا ہے: اگر تہذیبوں میں تصادم نہیں ہے تب بھی کم سے کم مغربی دنیا اور مسلم دنیا میں ایک بہت بڑا خلا ہے۔ خوش قسمتی سے اس خلا کے حجم میں مبالغہ کیا جا رہا ہے۔ ڈنمارک کے ان کارٹونوں پر مسلمانوں کا شور و غوغا امریکی کلچر کے لیے اتنا اجنبی نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ ایک دفعہ آپ اسے دیکھیں تو ایک معقول اور
رائٹ کے مضمون
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
بنیادی طور پر امریکی ردعمل سامنے آتا ہے۔ بہت سے امریکی جو کارٹون کی اشاعت کی مذمت کرتے ہیں اس موقف کو تسلیم کرتے ہیں جو ڈنمارک کے اخبار کے اب مشہور زمانہ ایڈیٹر نے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ مغرب میں ہم عام طور پر مخصوص مفادات کے حامل گروہوں کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ ہم کو خوف زدہ کر کے اس بات کے لیے آمادہ کریں جسے خود احتسابی کہا جاتا ہے۔
یہ کتنی واہیات بات ہے۔ بڑے بڑے امریکی میڈیا کے ایڈیٹر خصوصاً نسلی اور مذہبی مفادات کے حامل گروہوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے بچنے کے لیے بہت سے الفاظ، جملے اور تصاویر حذف کر دیتے ہیں۔ مثالیں پیش کرنا مشکل ہیں اس لیے کہ ان کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا مگر آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں۔ ایک عیسائی مبلغ (ہیوج ہیوٹ) نے پیغمبر محمد ﷺ کے کارٹونوں کے مقابلے میں ایک مناسب مثال پیش کی: اسقاط حمل کے ایک کلینک پر بم باری کے بعد حضرت عیسیٰؑ کے کانٹوں بھرے تاج کا کارٹون جس میں کانٹوں کو ٹی این ٹی کی سلاخوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ایسا کارٹون بہت سے امریکی عیسائیوں کے جذبات کو مجروح کر سکتا تھا۔ یہی ایک وجہ ہے کہ ایسا کوئی کارٹون کسی بڑے امریکی اخبار میں نہیں دیکھا گیا۔
رابرٹ رائٹ نے اعتراض کا بھی بھر پور جواب دیا ہے جو مغرب کے دانشور مسلمانوں کے مظاہروں میں تشدد کے عنصر سے آجانے پر کر رہے ہیں۔ ہم بھی تشدد کو کسی اعتبار سے صحیح نہیں سمجھتے بلکہ اپنے مقصد کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ لیکن انسانی حقائق سے صرف نظر بھی ممکن نہیں۔ اس اعتراض کا جواب ہم خود دینے کے بجائے رابرٹ
تحفظ ناموس رسالتﷺ
رائٹ کے مضمون کا متعلقہ حصہ دینا مناسب سمجھتے ہیں:
جوں جوں اس واقعے کے بارے میں تفصیلات ہمارے سامنے آرہی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک بے ساختہ اشتعال انگیزی نہیں تھا۔ کارٹونوں کے خلاف مسلمانوں کا فوری ردعمل تشدد کا نہیں تھا بلکہ ڈنمارک میں چھوٹے چھوٹے مظاہرے ہوئے اور ڈنمارک کے مسلمانوں نے ایک مہم چلائی جو کئی مہینے چلتی رہی لیکن دنیا کی راڈار سکرین پر اس کا پتا نہ چلا۔ ان سرگرم لوگوں کو جب ڈنمارک کے سیاست دانوں نے جھڑک دیا اور انہیں مسلم ریاست کے طاقتور سیاست دانوں سے حمایت ملی تو بڑے مظاہروں کا آغاز ہوا۔ ان میں سے بعض مظاہرے پرتشدد ہوئے لیکن بیش تر مظاہروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکومتوں، دہشت گرد گروپوں اور دوسرے سیاسی عناصر نے منظم کیے۔
دوسری طرف کون کہتا ہے کہ اپنی بات پہنچانے کے لیے تشدد استعمال کرنے کے لیے کوئی امریکی روایت نہیں ہے۔ ۱۹۶۰ء کے عشرے کے فسادات کو یاد کیجیے جو ۱۹۶۵ء کے واٹس رائٹ فسادات سے شروع ہوئے جس میں ۳۴ آدمی مارے گئے (ان فسادات کے نتیجے میں سیاہ فام آبادی کو زیادہ مقام ملا)۔ سیاہ فاموں کی ترقی کی قومی انجمن ۵۰ کے عشرے سے جس شو کے خلاف احتجاج کر رہی تھی ۱۹۶۶ء میں جاکر سی بی ایس نے اس پر کارروائی کی۔ کوئی رابطہ ثابت تو نہیں کیا جا سکتا لیکن اس بات میں کوئی شبہہ نہیں کہ ۶۵ کے عشرے کے فسادات نے میڈیا میں سیاہ فام لوگوں کی تصویر کشی (اور مضحکہ خیزی) کے بارے میں حساسیت کو بڑھا دیا۔ اسی کو حساس تر خود احتسابی کہا جا سکتا ہے۔
تحفظ ناموس رسالتﷺ
کارٹونوں پر احتجاج کے دوران کچھ قدامت پرست کٹر عناصر نے تنبیہ کی کہ جو شکایات تشدد کے ساتھ پیش کی جائیں اُن کو حل کرنا انہیں تسلی دینے (appeasement) کے مترادف ہے اور اس سے زیادہ تشدد پیدا ہوگا اور مغربی اقدار کمزور ہوں گے۔ مگر ۶۰ کے عشرے میں تو تسلی دینے کے عمل نے اس طرح کام نہیں کیا۔ ۱۹۶۶ء میں صدر جانسن نے فسادات کے لیے جو کرنر کمیشن قائم کیا تھا اس نے سفارش کی کہ غیر مساوی تعلیم کے مواقع، غربت، ملازمت اور رہائش میں امتیاز کے مسائل پر زیادہ توجہ دی جائے۔ یہ فوراً دی گئی اور اس سے آنے والے عشروں میں فسادات نہیں بڑھے۔ کارٹونوں کے شور و غوغا میں یہ احساس بہت کم ہے۔ جب کہ امریکی اس سوال پر یکسو ہو کر سوچ رہے ہیں کہ ایک کارٹون کس طرح لاکھوں افراد کو مشتعل کر سکتا ہے؟ جواب ہے کہ آپ کن لاکھوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ غزہ میں اصل ایندھن اسرائیلیوں سے کشیدگی نے فراہم کیا۔ ایران میں بنیاد پرستوں نے امریکا سے پرانی دشمنی کو استعمال کیا۔ پاکستان میں مغرب کی حامی حکمران حکومت کی مخالفت نے کردار ادا کیا اور اسی طرح دوسری جگہوں پر ہوا۔ غم و غصہ اور زیر زمین شکایات کا یہ تنوع چیلنج کو پیچیدہ کرتا ہے۔ ظاہراً محض مذہبی حساس امور کو چھیڑنے سے احتراز کافی نہیں ہوگا۔ پھر بھی زیر بحث جرم جامع تر چیلنج کی ایک واضح علامت ہے۔ کیونکہ بہت ساری شکایات اسی احساس میں مجتمع ہیں کہ خوشحال طاقت ور مغرب مسلمانوں کا احترام نہیں کرتا (جیسے کہ فسادات برپا کرنے والے سیاہ فام سمجھتے تھے کہ خوش حال طاقتور ، سفید فام ان کا احترام نہیں کرتے)۔ ایک کارٹون جو رسولؐ کی
ان نتیج مسلمانوں کا اقدام اور دور فوری محاذ ہیں:
- 1۔ عا
جدوجہد۔ ڈ غلطی تسلیم کی ہونے پر افسو ایسے واقعہ
توہین کر کے اسلام کی بے عزتی کرتا ہے وہ تیلی کی مانند ہے اور انتہائی اشتعال دلانے والا ہے۔ جس چیز سے زیادہ اختلاف نہیں کیا جا سکتا وہ مسلمانوں کا بڑے بڑے میڈیا چینلز سے خود احتسابی کا مطالبہ ہے۔ اس طرح کی خود احتسابی صرف ایک امریکی روایت ہی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی روایت ہے جس نے امریکا کو دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہم آہنگ، کثیر نسلی اور کثیر مذہبی معاشرہ بنایا ہے۔
ان تینوں ایشوز میں پیش کردہ معروضات کی روشنی میں آئندہ کی حکمت عملی کے خطوط کار پر غور ضروری ہے۔ مسلمانوں کا ردعمل صرف وقتی اور جذباتی نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں معاملے کے سارے پہلوؤں پر غور کر کے فوری اقدام اور دوررس حکمت عملی دونوں کی فکر کرنی چاہیے۔
فوری طور پر احتجاج وقت کی ضرورت تھی اور اسے پرامن قانونی ذرائع سے جاری رہنا چاہیے۔ اس کے تین محاذ ہیں:
- 1۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کا بھرپور اظہار اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پُرامن
جدوجہد۔ ڈنمارک کی حکومت حتیٰ کہ متعلقہ اخبار، اس کے کارٹونسٹ اور کلچر ایڈیٹر کسی نے بھی کھلے انداز میں نہ اپنی غلطی تسلیم کی ہے اور نہ معذرت کی ہے۔ لفظوں کی عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر افسوس کا اظہار ہے جسے کسی حیثیت سے بھی غلطی کا اعتراف اور قرار واقعی معافی نہیں کہا جا سکتا جس کے بغیر ایسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کے خطرے کا سدباب ممکن نہیں۔ اسی لیے عوامی اور حکومتی سطح پر یہ سلسلہ
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
برابر جاری رہنا چاہیے۔ ۔۔ البتہ اسے پُر امن رکھنا، دلیل اور اجتماعی ضمیر کی قوت کے ذریعے سے اپنے موقف کا لوہا منوانا اسی وقت ممکن ہے جب جذبات میں آکر تشدد کا ارتکاب نہ کیا جائے جس کا نتیجہ اپنے ہی جان و مال کا ضیاع اور تباہی ہے۔
- 2۔ دوسرا محاذ معاشی اور سفارتی دباؤ ہے جو ملکی اور بین الاقوامی سیاست کے معروف طریقے
(Instruments) تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس وقت بھی تھوڑے سے معاشی دباؤ کی وجہ سے، جس کے نتیجے میں ڈنمارک کی سات بلین کرونا کی تجارت خطرے میں پڑ گئی ہے، ڈنمارک کی تجارتی کمپنیاں اپنی حکومت کو روش بدلنے کا مشورہ دے رہی ہیں۔ یہ دباؤ جاری رہنا چاہیے۔
- 3۔ تیسرا محاذ خود مسلمان ملکوں کا اپنا اندرونی معاملہ ہے کہ حکمران بالعموم عوام کے جذبات، احساسات اور
اُمنگوں سے غافل ہیں اور اپنے شخصی اور گروہی مفادات کا شکار ہیں۔ عوامی دباؤ سے مجبور ہوکر ہی وہ نہایت کمزور احتجاج پر آمادہ ہوئے ہیں۔ فطری طور پر اس احتجاج کا ایک ہدف خود اپنے ملکوں میں عوام کو متحرک اور تیار کرنے کے ساتھ حکمرانوں کی روش کی تبدیلی اور جو تبدیل ہونے کے لیے تیار نہ ہو، اس کو تبدیل کرنے کی جدوجہد ہے۔
اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ او آئی سی اور مختلف مسلم ممالک میں مغرب میں اسلام کے خلاف جو تحریک (Islamophobia) چل رہی ہے اس کا بغور جائزہ لیا جاتا رہے اور اس کا سائنسی بنیاد پر جواب دیا جائے۔ اسی طرح مسلم اقلیتوں پر کام کرنے اور ان کو تقویت پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ اس پر بھی سنجیدگی کے ساتھ کام ہونا چاہیے کہ جس طرح Anti-Semetism کے سلسلے میں عالمی معاہدے اور قانون نافذ کیے گئے ہیں، اسی طرح Islamophobia کے خلاف بھی قانونی ضابطے مرتب کیے جائیں۔ یہ تمام کام منظم
تحفظ ناموس رسالت
اور مرتب جدوجہد، سیاسی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے انجام پاسکتے ہیں بشرطیکہ مسلم حکمران اور او آئی سی اس کے لیے موثر انداز میں کام کا بیڑا اٹھائیں۔
لیکن معاملہ محض ان فوری اہداف کا نہیں، اصل مسئلہ زیادہ بنیادی اور پیچیدہ ہے۔ اس کے لیے گہرے سوچ بچار اور مناسب حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے چند اہم پہلو یہ ہیں:
- 1۔ اُمتِ مسلمہ کا انتشار، سیاسی اور معاشی وحدت کی کمی، نظریاتی اور تہذیبی اعتبار سے ضعف، حکمرانوں اور
عوام میں بُعد، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور مقابلے کی قوت کا فقدان۔ ہم دُنیا کی بالا دست قوتوں سے عزت اور انصاف کی توقع اس وقت تک نہیں رکھ سکتے جب تک ہم خود مضبوط نہ ہوں۔ ۔۔۔ ہر اعتبار سے نظریاتی اور اخلاقی، معاشی، عسکری، تعلیمی، سائنسی، معاشرتی اور تہذیبی۔ یہ ہماری کمزوری ہے جس کا دوسرے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جسے اقبال نے اس طرح بیان کیا ہے:
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
جو بیداری اس شرمناک اور شیطانی کارٹون کی اشاعت سے اُمتِ مسلمہ میں پیدا ہوئی ہے، وہ اس کے اندر خیر اور اخلاقی قوت کی غماز ہے۔ اس کو پروان چڑھانا اور اُمت میں اتحاد، یکسوئی، اخلاقی، مادی، معاشی اور عسکری قوت کا حصول اور عالم اسلام کی سیاسی قوت کو ایک مرکز پر جمع کر کے اُمت کی ترقی اور اس کے مفادات کے تحفظ اور انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کرنا ہے۔
- 2۔ دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ ہمیں اس جنگ کو تہذیبوں کی جنگ نہیں بننے دینا ہے۔ تہذیبوں کے
تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ
درمیان جنگ‘ کا تصور ہی ایک جاہلانہ اور فسطائی تصور ہے۔ تہذیبوں کا تنوع انسانیت کا سرمایہ ہے اور جس طرح انگریزی مقولہ ہے Variety is the spice of life (زندگی کا حسن تنوع میں ہے) اسی طرح تہذیبوں کا اختلاف بھی انسانیت کے حُسن کا باعث اور انتخاب کے مواقع فراہم کر کے ترقی اور مسابقت کا ضامن ہے۔
اے ذوق! اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
آج انسانیت کو جو خطرات درپیش ہیں اور خصوصیت سے ایٹمی اور عالم گیر تباہی کے دیگر ہتھیاروں کے وجود میں آنے کے بعد جنگ سراسر تباہی کا راستہ ہے۔ اسی طرح کسی ایک طبقے، ملک یا تہذیب کی قوت کے بل بوتے پر کسی ایک کا بالادست ہو جانا بھی سلامتی کا راستہ نہیں ہے۔ صحیح راستہ حقیقی اور مستند کثریت (Genuine and authentic pluralism) میں پوشیدہ ہے جس میں دوسروں کو جینے دینے اور دلیل، افہام و تفہیم، اعلیٰ اُصولوں اور انصاف پر مبنی سماج کا نمونہ پیش کر کے اتفاق اور اختلاف میں توازن اور رواداری کا موقع فراہم ہوتا ہے۔
دراصل دو قومی نظریے کی اصل بھی یہی اُصول ہے کہ اقوام کو، خواہ وہ اکثریت میں ہوں یا اقلیت میں، اپنے دین و مذہب، تہذیب و ثقافت کے تحفظ و ترقی کا حق ہے اور اس کے مناسب مواقع سب کو حاصل ہونے چاہئیں۔ دو قومی نظریہ محض تقسیم کا نظریہ نہیں، بقائے باہمی کا نظام ہے، اس اُصول کے ساتھ کہ جہاں اپنا مخصوص تشخص رکھنے والی قوم کو اپنے عقائد و تہذیبی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کے مواقع حاصل نہ ہوں اور جغرافیائی اعتبار سے
ان کے ایک ب ممکن ہو کہ مقت دوسری تمام قو مقابلے میں قو ایک ایسے م کیا جا سکے ج 3۔ تیج اور کچھ طبقات کے اختلافی کے درمیاں سارے م تعداد اور ب رہی ہے کہ ایک جان بچا
ان کے ایک الگ وحدت بننے کا امکان اور موقع ہو تو وہاں سرحدوں کی از سرنو ترتیب بھی اس کا حق ہے لیکن جہاں ممکن ہو کہ مختلف قومیں تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکتی ہیں وہاں ریاست کو اپنا مخصوص تشخص رکھنے کے ساتھ دوسری تمام قوموں کو بھی اپنا اپنا تشخص باقی رکھنے کا موقع دینا چاہیے۔ اس لیے قومی حکومت (Nation State) کے مقابلے میں قوموں کی حکومت (State of Nationalities) ایک بالاتر سیاسی ماڈل ہے اور آج کی دنیا میں ایک ایسے ہی سیاسی ماڈل میں انسانیت کی نجات ہے جہاں قوت اور تشدد کے مقابلے میں اکثریت کو مستند تسلیم کیا جاسکے۔
- 3۔ تیسری بنیادی بات یہ ہے کہ جو شرمناک رویہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغرب کے چند ممالک
اور کچھ طبقات نے اختیار کر رکھا ہے، اس کا کوئی تعلق نہ آزادی اظہار سے ہے، نہ سیکولرازم سے۔ نام نہاد تہذیبوں کے اختلاف اور تصادم میں لڑائی تہذیبوں کے درمیان نہیں، تہذیب اور جاہلیت کے درمیان ہے، انصاف اور ظلم کے درمیان ہے، خیر اور شر کے درمیان ہے، انسانیت اور فسطائیت کے درمیان ہے۔ اس میں ایسا نہیں ہے کہ سارے مسلمان ایک طرف ہوں اور دوسری اقوام ان کے مد مقابل بلکہ خود مغربی ممالک میں عام انسانوں کی بڑی تعداد اور ان کے دانشوروں میں بھی ایک معتد بہ تعداد اسے تہذیبوں کی جنگ نہیں بلکہ تہذیب کے خلاف جنگ سمجھ رہی ہے۔ مذاہب اور ان کی مقدس ہستیوں کا احترام سب کا مشترک سرمایہ ہے۔ قرآن نے تو یہ اُصول پیش کیا ہے کہ ایک انسان کی ناحق موت پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے اور ایک معصوم انسان (محض مسلمان نہیں) کی جان بچانا ساری انسانیت کو زندگی عطا کرنے کی مانند ہے۔
تحفظ ناموس رسالت
قرآن نے تو جھوٹے خداؤں کو بھی گالی دینے سے منع کیا ہے کیونکہ اس طرح مخالفین اپنی جہالت میں کائنات کے حقیقی خالق اور آقا سے گستاخی کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔ جس پاک ہستی صلی اللہ علیہ وسلم کو دہشت گردی کی علامت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، وہ تو پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آیا تھا اور اس کا لایا ہوا دین ہے ہی دین رحمت اور پیغام امن و انصاف ۔ اس کا کردار تو یہ تھا کہ جو اس کی راہ میں کانٹے بچھاتے تھے، وہ ان کی بھی داد رسی کرتا تھا، جنہوں نے اسے اذیتیں دے کر اپنا گھر بار اور وطن چھوڑنے پر مجبور کیا جب وہ ان کے درمیان فاتح کی حیثیت سے آیا تو کسی سے بدلہ نہ لیا اور نفیر عام دے دی کہ لا تثریب علیکم الیوم : جس نے ایک یہودی کے جنازے کی آمد پر بھی اس کا استقبال تعظیم کے ساتھ کھڑے ہو کر کیا اور اس بات پر کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے، فرمایا: کیا وہ انسان نہیں، سیدنا عمرؓ نے جب ایک بوڑھے یہودی کو محنت مزدوری کرتے دیکھا تو اس کا بیت المال سے مشاہرہ مقرر کر دیا اور یہ تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے: تم ان انسانوں سے جب وہ جوان اور قوی تھے کام لیتے تھے اور جب ان کے قویٰ مضمحل ہو جاتے ہیں تو انہیں بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔
ایسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروؤں اور ایسے دین کے حامیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ 'تہذیبوں کی جنگ' میں آنکھیں بند کر کے کود نہ جائیں بلکہ تہذیب کے غلبے کے لیے خود بھی اور تمام معقول انسانوں کو منظم و متحرک کریں اور اس طرح اس ایجنڈے ہی کو بدل دیں جس پر ظالم قوتیں اور مفاد پرست عناصر کارفرما ہیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب ہم اپنے داعیانہ کردار کو سمجھیں اور اسے صحیح طریقے سے ادا کریں۔ آج بھی، ساری مخالفت کے باوجود، مغربی ممالک میں اسلام سب سے تیزی سے بڑھنے والا دین ہے۔ ہمارے لیے تہذیبی جنگ کی اس آگ میں کودنا اور فریق بننا سب سے بڑی غلطی ہو گی۔ اس کے مقابلے میں ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ ہمارے لیے ایک اچھا
موقع ہے : اپنے دین کا صحیح صحیح نمائندہ بننے اور اس کی تعلیمات کو انسانوں تک پہنچانے کا ۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ یہ مخالفتیں آپ کے لیے نئے مواقع اور امکانات کا پیغام بن جائیں گی ۔
یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اُڑانے کے لیے
- 4۔ چوتھی بنیادی بات یہ ہے کہ اس موقع پر اُمت مسلمہ اور اس کی قیادت کو خصوصیت سے او آئی سی کو تمام
مذاہب کے احترام کے بارے میں کچھ اُصولوں (پروٹوکول) پر دُنیا کی تمام اقوام کو متفق کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ ضرورت ہے کہ واضح الفاظ میں بقائے باہمی ہی نہیں ، تعاون باہمی کا ایک ایسا چارٹر تیار کیا جائے جس پر سب عمل پیرا ہوں ، جسے قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے ایک بالا تر ضابطے کی حیثیت حاصل ہو ۔ اس کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بھی بلایا جا سکتا ہے لیکن ضروری تیاری (Home work) کے بعد ۔ اس کے لیے مختلف سطح پر سیمینار ، مذاکرات اور تحقیقی کام کی بھی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے عالمی سطح پر مکالمہ وقت کی ضرورت ہے ۔ اگر ان شیطانی کارٹونوں کے نتیجے میں دُنیا ایک ایسے پروٹوکول پر متفق ہو جائے تو اس شر سے ایک بڑے خیر کے نکل آنے کا امکان ہے ۔ جس ڈنمارک سے یہ کروسیڈ شروع ہوا ہے اس کے ایک دانش ور اور سابق وزیر خارجہ (Ellemann Jensen Uffe) نے بڑی دردمندی سے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ :
اب ، جب کہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹونوں پر تنازع ختم ہو رہا ہے ، یا میں اس کی اُمید کرتا ہوں ، یہ بات واضح ہے کہ اس میں جیتنے والے صرف انتہا پسند ہیں ، اسلامی دُنیا میں بھی اور یورپ میں بھی ۔ مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ تنازع میرے ملک میں شروع ہوا جب ایک اخبار نے
عقیدہ ختم نبوت تحفظ ناموس رسالتﷺ
آزادی اظہار رائے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارٹون شائع کیے۔ یہ گزشتہ خزاں میں ہوا اور اس وقت میں نے اس کے خلاف کھلے عام آواز اُٹھائی۔ اسے میں بے حسی پر مبنی ایک اقدام سمجھتا تھا کیونکہ یہ دوسرے لوگوں کے مذہبی جذبات کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ یہ واقعہ غیر ضروری اشتعال انگیزی تھا اور خود ہماری اس آزادی کا مذاق اُڑانے کے مترادف تھا جو ہمیں ازحد عزیز ہے اور جس کی ہمارے دستور میں ضمانت دی گئی ہے۔ میرے والد بھی ایک صحافی تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ آزادی اظہار رائے ہمیں وہ کچھ (جو آپ سوچتے ہیں) کہنے کا حق تو دیتی ہے لیکن ایسا کرنا لازمی نہیں ہے۔ میری رائے میں اس منحوس واقعے کے سبق بالکل واضح ہیں۔ ہم سب کو تسلیم کرنا چاہیے کہ جدید دُنیا میں یہ ضروری ہوتا جارہا ہے کہ تمام معقول لوگ باہمی احترام، رواداری اور بہتر افہام و تفہیم کے لیے کام کریں۔ ہمیں ایسی صورت حال سے بچنا چاہیے جہاں مختلف اقدار ایک دوسرے کے مقابل ایسے طریقوں سے آجائیں کہ تشدد یک دم برپا ہو جائے۔ اس کے بجائے ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ مذاہب، اخلاق اور معمولات کے درمیان رواداری کے ذریعے پُل تعمیر کریں۔
آپ چاہیں تو اسے خود احتسابی کہہ لیں لیکن معقول لوگ ہمیشہ خود احتسابی پر عمل کرتے ہیں۔ اگر آپ ایسے کمرے میں ٹھہرنا چاہتے ہیں جس میں دوسرے لوگ بھی ہیں تو آپ کو کوشش کرنا چاہیے کہ غیر ضروری اشتعال انگیزیوں سے آپ ان کو ناراض نہ کریں۔ ہم جس کمرے کے بارے میں بات کر رہے ہیں، وہ مقامی تالاب نہیں بلکہ عالمی گاؤں ہے، بقائے باہمی کی کلید ہے۔ دُنیا میں ایسے افراد کی کمی نہیں۔ موجودہ صورت حال کتنی ہی خراب اور تکلیف دہ کیوں نہ ہو اگر اصحابِ خیر
ہمّت کر کے کو کیا جاسکتا ہے آخر میں ہم پا چاہتے ہیں کہ کی شکست کے اور اس موقع عوام کے جذ یہ سہارے ب بندوں کا ہے قوم کا اصل س
ہمت کر کے کوشش کریں تو اسے انسانوں کے درمیان دوستی اور اعتماد باہمی کے پل باندھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں ہم پاکستان کی اسلامی قوتوں سے بالخصوص اور تمام سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں سے یہ اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ جس طرح اس فتنے کا بروقت نوٹس لینا ضروری تھا، اسی طرح اس شیطانی کروسیڈ کے مقابلے اور اس کی شکست کے لیے دیر پا لائحہ عمل کی تیاری اور اس پر ہوش مندی سے عمل بھی ضروری ہے۔ یہ ایک تاریخی موقع ہے اور اس موقعے پر ذرا سی غفلت بڑی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ ملک کی اس قیادت کو بھی ہوش کے ناخن لینا چاہئیں جو اپنے عوام کے جذبات اور احساسات سے غافل اور بیرونی سہاروں پر اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سہارے بڑے بودے اور دھوکا دینے والے ہیں۔ اصل سہارا اللہ کا ہے، اس کے دین کا ہے اور اس کے ان بندوں کا ہے جو اُصول اور اقدار کے لیے جان کی بازی لگانے میں دُنیا اور آخرت کی کامیابی دیکھتے ہیں۔ یہی اس قوم کا اصل سہارا ہیں، یہی سہارا قابلِ بھروسا اور زمانے کی آزمائشوں پر پورا اُترا ہے۔ وما علینا الا البلاغ
بشکریہ ماہنامہ ترجمان القرآن مارچ ۲۰۰۶ء
تحفظ ناموس رسالت
قانون توہین رسالت کے نئے معنی ومفہوم
محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ
ایاز امیر صاحب کے کالم بعنوان توہین رسالت کے قوانین کیوں دکھائی نہیں دیتے میں بعض اُمور توجہ طلب ہیں جس کے لیے اس قانون کے مختصر پس منظر کا ذکر ضروری ہے۔ امتناع توہین رسالت کے قانون کے نفاذ کے لیے سال 1984ء میں راقم الحروف نے فیڈرل شریعت کورٹ میں اس وقت پٹیشن دائر کی تھی جب یورپ اور خاص طور پر ماسکو سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف گستاخانہ اور دل آزار حملوں کی یلغار ہورہی تھی جس کے لٹریچر کو آفاقی اشتمالیت کے نام سے ایک انتہا پسند کمیونسٹ نے کتابی شکل میں شائع کیا اور اس کو ہائی کورٹ بار اور دوسرے اداروں میں مفت تقسیم کرتا جارہا تھا اس کتاب میں بتلایا گیا تھا کہ اسلام کا دور ختم ہو چکا ہے اور پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ اور نہایت نازیبا کلمات استعمال کیے گئے تھے۔ اس کتاب کی اشاعت سے قبل راقم کا ایک این جی او کے خلاف قانون توہین رسالت کا ایک مقدمہ فیڈرل کورٹ میں زیر سماعت تھا جس میں ملک کے چوٹی کے علماء اور مسلمان دانشوروں کو طلب کیا گیا تھا جن کی متفقہ رائے تھی کہ توہین انبیاء علیہم السلام کے علاوہ مسیحی اور موسوی قانون کی رو سے بھی ناقابل معافی جرم ہے۔ بائبل کی رو سے اس جرم کی سزا سنگسار یا زندہ جلا دینے کی تھی جس کے مطابق گستاخانِ مسیح کو یہ سزا دی جاتی رہی ہے اسلام کی رو سے اس جرم کی سزا قتل مقرر ہے۔ اس بارے میں راقم کی پٹیشن فیڈرل شریعت کورٹ نے منظور کر لی تھی اور توہین رسالت کو ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی سزا قرآن وسنت کی رو سے سزائے موت مقرر کر دی گئی ۔ ملاحظہ ہو فیصلہ بمقدمہ محمد اسماعیل قریشی بنام
جنرل محمد ضیاء الحق وحکومت پاکستان 10 PLD 1991 FSC اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی جب اس کی اپیل دائر کر دی گئی جب اس اپیل کی اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو اطلاع ملی تو انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون توہین رسالتؐ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کسی اہل کار کی شرارت معلوم ہوتی ہے اگر توہین رسالتؐ کی سزا موت سے بھی زیادہ سنگین ہوتی تو اس پر بھی عمل درآمد کیا جاتا۔ میاں صاحب نے فوری طور پر سرکاری وکیل کو حکم دیا کہ توہین رسالتؐ کے مقدمہ کے فیصلہ سزائے موت کے خلاف اپیل واپس لی جائے جس کو بوجہ دستبرداری سپریم کورٹ نے خارج کر دیا۔ جناب ایاز امیر میاں محمد نواز شریف کے ہم نشینوں میں ہیں اور ان ہی کی حمایت سے قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں لیکن ان کے توہین رسالتؐ کے خلاف مضمون پر میاں صاحب کے حوالہ سے فارسی کی وہ مثل صادق آتی ہے
صاحب موصوف کو قانون توہین رسالتؐ کے خلاف اپنے مضمون توہین رسالتؐ کے قانون کیوں دکھائی نہیں دیتے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں گستاخی یا اہانت توہین رسالتؐ نہیں۔ جس کسی کو قانون کی مروجہ اصطلاحات کا علم نہ ہو وہ بزعم خود قانون رسالتؐ کے خود ساختہ معانی و مفہوم کو پیش کرنے کی جسارت کرے اس پر ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے۔ قانون کی تعبیر اور تشریح ماہرین قانون اور عدلیہ کا کام ہے اگر ہر کس و ناکس یہ کام اپنے ہاتھ میں لے لے تو قانون بازیچہ اطفال ہو جائے گا جو ملک اور قوم کو تباہی کے کنارے پہنچا دے گا۔ ایاز امیر صاحب کے بیان کیے ہوئے توہین رسالتؐ کے مفہوم سے نہ تو واضعان قانون کو تخلیقی آگہی ہے
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتؐ
اور نہ اعلیٰ عدلیہ اور سپریم کورٹ کے جج جن کی ساری عمر قانون کی تعبیر اور تشریح کرتے ہوئے گزری ہے اپنے حضرت ایاز امیر کی اس تحقیق انیق سے آشنا معلوم ہوتے ہیں توہین رسالتؐ کے وضعی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے ایاز امیر صاحب نے اپنے اس مضمون میں جس کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا ہے اصل توہین مذہب (رسالتؐ) تو یہ ہے کہ ایک بچہ بھوک سے بلک رہا ہو یا کوئی بچہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے بھیک مانگنے پر مجبور ہو یا ایک عورت تنگ دستی کی وجہ سے بچوں سمیت دریا میں چھلانگ لگا دے معلوم نہیں ان کاموں کا بالواسطہ یا بلا واسطہ توہین رسالتؐ سے کیا تعلق ہے؟ موصوف کا یہ کوئی معروضی جائزہ نہیں۔ صرف الفاظی جمع خرچ یا مولویانہ وعظ و تلقین کی ایک ماڈرن قسم ہے۔ کوئی ان سے پوچھے حضرت آپ نے اس سلسلہ میں کوئی اقدام بھی کیا ہے جیسا کہ بنگلہ دیش کے گرامین (خستہ حال) بینک کے ڈائریکٹر نے سرمایہ کاروں سے رقم لے کر تنگدست خواتین کو ایک ایک ہزار قرض حسنہ ایک سال کے لئے دیا ان کی ضرورت کے مطابق سلائی یا کڑھائی کی مشین فراہم کی جس کی آمدن سے وہ اپنا گزارہ بھی کرتی رہیں اور قرض کی رقم بھی واپس کردی جس سے وہاں افلاس بڑی حد تک دور ہو گیا ہے آپ کے بھی ملک کے سرمایہ کاروں سے تعلقات ہیں آپ کو اس کار خیر سے کس نے روکا ہے؟
آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے (غضب ہے کہ) ہمارے لیے ایمان آئین سے کہیں بڑھ کر ہے بجا فرمایا۔ سیکولر ریاست میں ایمان کی کہاں گنجائش ہو سکتی ہے اسی نظریہ کے تسلسل میں یہ بھی لکھا ہے ’’ہم نے اس خود ساختہ نعرے کو سینہ سے لگا رکھا ہے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے‘‘ ساتھ ہی اس خود فریبی کا شکار ہیں کہ پاکستان ایک خاص مقصد کے لئے تخلیق کیا گیا تھا کہ خدائی مشن کی تکمیل ہو سکے۔ ایک طرف بظاہر سنجیدہ اور معقول دکھائی دینے والی
آرمی چیف عیسائیت کو کے دفاع یہ سب موصوف ہمیں اپنی حکمت عملی بھٹکنے کے خ ہے۔
موصو میں جہاں ہے افسوس قلعہ ہیں کی اپیل پرینڈیم ہوتے ہیں
آرمی چیف جنرل کیانی نے بھی اس موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے مگر کسی ایک ملک نے بھی عیسائیت کو اپنے ملک کا قلعہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ دوسری طرف لاتعداد فرقوں کے ملاؤں کی بریگیڈ بار بار اسلام کے دفاع کے نام پر سڑکوں پر آجاتی ہے، چیختی ہے، چلاتی ہے اور بآواز بلند امریکہ کے خلاف نعرہ بازی کرتی ہے۔ یہ سب موصوف کی نظر میں احمقانہ حرکت ہے اس لیے اس سے گریز کرنا پڑے گا اس لئے وہ قوم کو مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیں اپنی کمزوریوں کے باعث امریکہ کی خواہش کے مطابق آپریشن کرنا ہی پڑتا ہے یعنی ہماری فوج کی اپنی کوئی حکمت عملی نہیں اور نہ ہی کوئی اپنی پالیسی ہے اس کو بھی ایاز امیر صاحب کی طرح امریکہ کے آگے جھکنا پڑتا ہے اس جھکنے کے خلاف ہر کاروائی کا تعلق توہین رسالت سے ہے اس لیے اس قانون کو منسوخ کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
موصوف کا یہ بیان کہ کسی ایک ملک نے بھی عیسائیت کو اپنے ملک کا قلعہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس بارے میں جہاں تک لفظی دعویٰ کا تعلق ہے وہ درست ہے۔ ایاز امیر صاحب اور ان کی فیملی یقیناً برطانیہ میں قیام پذیر رہی ہے افسوس کہ اُنہوں نے امریکہ اور برطانیہ کا اندرون جھانک کر نہیں دیکھا جو عیسائیت کا قلعہ نہیں بلکہ مضبوط ترین قلعہ ہیں اور امریکہ میں کافی عرصہ قیام کا موقع ملا ہے میرے برادر عزیز سلیم قریشی بار ایٹ لاء برٹش نیشنل ہیں کورٹ کی اسپیشل اجازت ملنے پر میں اسلامی مقدمات میں پیش بھی ہوا ہوں۔ میں اسلامی ممالک کی لندن کانفرنس میں پریذیڈیم کا ممبر بھی رہا ہوں کسی ملک کا قانون اور وہاں کی عدالتوں کے فیصلے اس ملک کی اصلی صورت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں عیسائیت کے بعد مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ وہاں کے مسلمانوں نے سلمان رشدی کی
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
شیطانی آیات Satanic Verses کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو درخواست دی کہ قانون توہین مسیحؑ میں معمولی سی ترمیم کر کے تمام انبیاء کے خلاف گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے لیکن وہاں کے وزیر قانون مسٹر جان پیٹن نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے تحریری طور پر بتلایا کہ حکومت برطانیہ قانون توہین مسیحؑ میں کسی قسم کی ترمیم کو جائز قرار نہیں دیتی۔ وہاں کی سب سے بڑی آخری عدالت ہاؤس آف لارڈز نے اس بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت برطانیہ کے موقف کو درست قرار دیا اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ برٹش لاء مذہب پر جارحانہ حملہ کو جائز قرار دیتا ہے مزید برآں یہ ریمارکس بھی دیئے کہ اگر حکومت برطانیہ توہین مسیحؑ میں اسلام کے قانون توہین رسالتؐ کی کوئی لاز شامل بھی کردے تو برطانیہ کی اعلیٰ عدلیہ اس قانون کو یہاں لاگو کرنے سے گریز کرے گی۔ اس فیصلہ کے خلاف یورپ کی ہیومن رائٹس کورٹ نے مسلمانوں کی نگرانی خارج کردی۔ برطانیہ میں توہین مسیحؑ تو بڑی بات ہے وہاں حکومت نے جناب مسیحؑ کی ایک عقیدت مند نن ٹریسا کے بارے میں سٹرونگرو کی فلم کو ضبط کرلیا جس میں ٹریسا کو حالت وجد میں رقص کرتے ہوئے جناب مسیحؑ کے جسم کے مختلف حصوں کو بوسے لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
فلم کی اس ضبطی کے خلاف برطانیہ اور یورپ کی اعلیٰ عدلیہ نے بھی سماعت سے انکار کر دیا اب ذرا ایک جھلک امریکہ کی سپریم کورٹ کے موکس کیس کی بھی دیکھ لیجئے۔ جہاں یہ قرار دیا گیا کہ امریکی ریاست سیکولر ہونے کے باوجود عیسائی مذہب کی بنیاد پر قائم ہے کیونکہ وہاں صدر اراکین کانگریس عدالتوں کے جج انتظامیہ کے تمام افسر اور اہل کار بائبل پر حلف اٹھاتے اور عیسائی خدا کو مانتے ہیں اس لئے یہاں کسی کو عیسائی مذہب کے کسی قانون کے
خلاف پبلک میں تقریر کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ان تمام باتوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود ایاز امیر صاحب کو امریکہ میں یا یورپ کے کسی ملک میں عیسائیت کا قلعہ نظر نہیں آتا۔
اسلام کی تاریخ کو حضرت ایاز امیر نے اچھی طرح کھنگالا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اسلام ہندوستان میں گزشتہ 800 سالوں سے موجود ہے اسے کبھی کسی خطرے کا سامنا نہیں رہا۔ راقم اور برصغیر ہند کے مسلمانوں کے خیال میں اگر اسلام یا مسلمانوں کو ہندوستان میں صدیوں سے کوئی خطرہ ہی نہیں تھا تو پھر کیوں علامہ اقبالؒ اور قائد اعظم محمد علی جناح نے علیحدہ قومیت کا نعرہ بلند کیا اور ہندوستان سے علیحدہ مملکت قائم کرنے کے لئے اپنی زندگی کھپادی۔ اور پھر کس لئے ہندوستان کے لاکھوں مسلمانوں نے بے مثال قربانیاں دے کر پاکستان حاصل کیا۔
قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ نے ”قائد اعظم کے آخری کلمات کیا تھے“ کے بارے میں اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں ایک بار دوا کے اثرات کو دیکھنے کے لئے ہم ان کے پاس بیٹھے تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے بات چیت سے منع کر رکھا تھا اس لئے الفاظ لبوں پر آ کر رک جاتے ہیں۔ اس ذہنی کشمکش سے نجات دلانے کے لئے ہم نے خود انہیں دعوت دی تو وہ بولے ”تم جانتے ہو جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے۔ یہ مشکل کام اور تمام امور میں اکیلا اسے کبھی نہ کر سکتا تھا۔ میرا ایمان ہے کہ یہ رسول خداؐ کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا۔ اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے۔
لیکن ایاز امیر صاحب ترکی کی مثال دیتے ہیں کہ بدلتے ہوئے حالات میں ڈھال لینے کی وجہ سے وہ ایک کامیاب
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتﷺ
ملک بن گیا ہے۔ صاحب موصوف کو کون بتلائے کہ جناب والا ترکی نے کمال اتاترک کے یورپ کی کورانہ تقلید کو ترک کر کے اس کی بجائے اسلام کی طرف مراجعت کی ہے جس کی وجہ سے وہاں کے عوام کی بھاری اکثریت سے طیب اردگان کی اسلام پسند جماعت برسراقتدار آئی ہے۔ ایاز امیر نے قارئین کو یہ نہیں بتایا کہ توہین رسالتؐ کا قانون پاکستان کی ترقی میں کس طرح رکاوٹ یا مزاحم ہے؟ پاکستان تو ہندوستان سے علیحدہ اس لئے ہوا کہ یہاں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام حکمرانی قائم ہو۔ قائد اعظمؒ کے آخری الفاظ جو اُنہوں نے اپنے مرنے سے قبل اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ کو بتلائے تھے جسے مقامی اخبار نے اپنی 11 ستمبر 1988ء کی اشاعت میں شائع کئے ہیں وہی پاکستان کی جدوجہد اور تشکیل کا سنگ میل ہے۔ اس کی روئیداد ہم نے اوپر بیان کر دی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قائد اعظمؒ اس نوزائیدہ مملکت میں کس طرح خدائی مشن کے لئے کام کر رہے تھے۔ ایاز امیر قائد اعظمؒ کے ان الفاظ پر غور فرمائیں کہ وہ قوم کو بتلا رہے ہیں کہ پاکستان ایک خاص مقصد کے لئے تخلیق کیا گیا تاکہ خدائی مشن کی تکمیل ہو سکے اور خدا اپنا وعدہ پورا کرے۔ ایاز امیر کا پاکستان کی تشکیل میں نہ کوئی حصہ ہے نہ وہ اس کے بنیادی مقاصد کی اہمیت سے واقف ہیں۔ قائد اعظمؒ پاکستان کی تشکیل کو رسول خداؐ کا روحانی فیض قرار دے رہے ہیں۔ کیا موصوف کو یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ ملک عزیز محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی بدولت وجود میں آیا۔ اگر ان کے نام گرامی کو نکال دیا جائے تو پھر ہندوستان سے اختلاف کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ آج اس نام نامی کو پاکستان سے معاذ اللہ ہٹا دیجئے۔ پھر دیکھئے ہندوستان بھی آپ کو گلے لگائے گا، امریکہ اور یورپ کی اشیر باد بھی آپ کو حاصل ہو جائے گی مگر اس کے بعد پاکستان کے وجود اور بقاء کی وجہ (Reason of Existence) ہی
باقی نہیں رہے گی اس لئے ان کا نام نامی اس ملک کی بقاء اور اس کی سالمیت کی ضمانت ہے۔ اگر اس نام کی عزت اور حرمت اس ملک میں بھی باقی نہ رہے تو اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کو ساری دنیا میں کھل کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔ اس مقدس نام کی توہین کو دنیا میں کسی مسلمان نے جہاں کہیں بھی ہو یورپ امریکہ، افریقہ میں کسی جگہ بھی برداشت نہیں کیا۔ تقسیم ہند سے قبل جب غازی علم الدین شہیدؒ نے ایک گستاخ رسولؐ پبلشر راج پال کو قتل کر دیا تو اس پر علامہ اقبالؒ جنہوں نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا، بے ساختہ فرمایا ”ترکھانا دا منڈا بازی لے گیا“۔ علم الدین اور ایک گستاخ رسولؐ کے قاتل غازی عبدالقیوم جن کو گستاخان رسولؐ کے قتل میں کراچی کی عدالت سے سزائے موت ہوئی تھی تو علامہ نے اپنی مایہ ناز تصنیف ”ضرب کلیم“ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
راج پال قتل کیس میں قائداعظمؒ نے لاہور ہائی کورٹ میں علم الدین کی طرف سے اس کے مقدمہ کی پیروی کی تھی۔ قائد اعظمؒ کا اُصول تھا کہ وہ کسی غلط مقدمہ کو لینے سے انکار کر دیتے تھے لیکن ہمارے ترقی پسند دانشور ایاز امیر نے توہین رسالتؐ کو جرم تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا ہے۔ اس طرح وہ قرآن وسنت کے احکام کو 1400 سال سے اُمتِ مسلمہ کے اجماع تواتر کو اسلامی ملکوں اور خاص طور سے پاکستان سپریم کورٹ فیڈرل شریعت کورٹ کے متفقہ فیصلوں کو نہیں مانتے۔ موصوف کا یہ علم و دانش برطانیہ اور یورپ کی لکڑیوں کے سہارے چلنے کی کوشش کرتا ہے جس کے بارے میں مولانا رومؒ نے فرمایا ہے کار چوبیں سخت بے تمکین بود۔ موصوف یورپ اور امریکہ کی ریاستوں اور
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتؐ
حکومتوں کو اس لئے پسند کرتے ہیں کہ وہ سیکولر یا لادین ہیں اور عیسائیت کا قلعہ نہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ موصوف نے ان ملکوں کے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کو پڑھنے کی کبھی زحمت گوارا نہیں کی ۔ ان سیکولر ملکوں میں توہین مسیحؑ کا قانون موجود ہے جس میں وہ کسی قسم کی ترمیم کے لئے تیار نہیں ۔ ”گے نیوز“ کے ایڈیٹر لے مون نے جناب مسیحؑ کی مجرد زندگی کے بارے میں ایک مزاحیہ نظم شائع کی تھی جس پر برطانیہ کی ابتدائی عدالت نے اسے توہین مسیحؑ کے جرم میں سزا دی ۔ اس کی اپیل ہاؤس آف لارڈز نے خارج کر دی ۔ اس نے یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس میں نگرانی دائر کی لیکن اس کو بھی اس بناء پر مسترد کر دیا گیا کہ اس نظم سے عیسائی فرقہ کی دل آزاری ہوتی ہے جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا البتہ اسلام کے خلاف کوئی بات کی جاتی ہے تو برٹش لاء کی رو سے وہ کوئی جرم نہیں لیکن اسی ہاؤس آف لارڈز کے جج لارڈ اسکارمن جن کو مشرق اور مغرب کے جمہوری ملکوں میں اور روس میں بھی ترقی پسند لبرل جج شمار کیا جاتا ہے، اپنے ایک معرکۃ الآرا فیصلہ میں قانون توہین مسیحؑ کو برطانیہ کی سالمیت کے لئے ایک ناگزیر جمہوری ضرورت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس قانون کو دوسرے مذاہب کی توہین تک بھی وسیع کیا جانا چاہیے تاکہ ان کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں لیکن یہاں اپنے حضرت ایاز امیر چاہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسلمان ان کی طرح توہین رسالتؐ کو نظر انداز کر دیں اور ان کی نظر میں قانون کو یہاں برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں ۔ اس ملک کو اسلام کا قلعہ کہنا بھی حماقت ہے کیونکہ یہ ملک کسی خاص مقصد یا مشن کے لئے تخلیق نہیں کیا گیا تھا مگر موصوف نے یہ نہیں بتلایا کہ اس ملک کو ہندوستان سے علیحدہ کرنے کے لئے اتنی جانکاہی قربانیوں اور جدوجہد کی ضرورت کیا تھی اور اب صاحب موصوف کے پیش نظر کیا مشن ہے جس کی رو سے وہ قانون توہین رسالتؐ کو منسوخ کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش میں مصروف ہیں اور صاف طور سے اسلام کے قلعہ کو مسمار کرنے کے درپے نظر
آتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں جو رسالت مآب ﷺ کی عزت و حرمت کو اپنا دین ایمان نہیں سمجھتے۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا ہے۔
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است
بشکریہ
نوائے وقت
22 اکتوبر 2010ء
شاتم رسول کی سزا اور اس کی معافی؟
سینیٹر پروفیسر ساجد میر (امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور علمائے اسلام دورِ صحابہؓ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دُنیا میں بھی گردن زدنی ہے۔ خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں (خصوصاً فتح مکہ کے موقع پر) معاف فرما دینے کے ساتھ ساتھ ان چند بدبختوں کے بارے میں جو نظم ونثر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو اور گستاخی کیا کرتے تھے فرمایا تھا کہ:
”اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو انہیں واصلِ جہنم کیا جائے۔“
یہ حکم (نعوذ باللہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی انتقام پسندی کی وجہ سے نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو حضرت عائشہؓ اور صحابہ کرامؓ کی شہادت موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا، بلکہ اس وجہ سے تھا کہ شاتمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کے دلوں سے عظمت وتوقیرِ رسول ﷺ گھٹانے کی کوشش کرتا اور ان میں کفر ونفاق کے بیج بوتا ہے، اس لئے توہینِ رسول ﷺ کو ”تہذیب وشرافت“ سے برداشت کر لینا اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا اور دوسروں کے ایمان چھن جانے کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف
تحفظ ناموس رسالت
ہے، نیز ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ہر زمانے کے مسلمان معاشرہ کا مرکز و محور ہیں اس لئے جو زبان آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کے لئے کھلتی ہے، اگر اسے کاٹا نہ جائے اور جو قلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کے لئے اٹھتا ہے اگر اسے توڑا نہ جائے تو اسلامی معاشرہ فساد اعتقادی و عملی کا شکار ہوکر رہ جائے گا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذ باللہ) نازیبا الفاظ کہنے والا امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ کے الفاظ میں ساری اُمت کو گالی دینے والا ہے اور وہ ہمارے ایمان کی جڑ کو کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کا ایمان اور غیرت بچانے کے لئے ہجو نگاروں کی گستاخیوں کی پاداش میں ان کا قتل روا رکھا۔ ان میں سے ایک ملعون ابن خطل تھا۔ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف شعر کہتا اور اس کی دو لونڈیاں یہ غلیظ شعر اس کو گا گا کے سناتیں۔ فتح مکہ کے دن وہ حرم مکہ میں پناہ گزیں تھا ابو برزہ صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اسے وہیں جہنم رسید کر دیا۔
عام طور پر غزوات اور جنگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہوتا تھا کہ عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائے، لیکن توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی شریعت
تحفظ ناموس رسالت
بدزبانی کر رہی تھی کہ انہوں نے اس کا پیٹ چاک کر دیا۔ جب یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! گواہ رہو اس خون کا کوئی تاوان یا بدلہ نہیں ہے۔ (ابوداؤد نسائی) جب حضرت عمرؓ نے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نابینا قاتل کے بارے میں پیار سے کہا دیکھو اس نابینا نے کتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اعمیٰ (نابینا) نہ کہو، بصیر و بینا کہو کہ اس کی بصیرت و غیرت ایمانی زندہ و تابندہ ہے اور جب ایک اور گستاخ ملعونہ اسماء بنت مروان کو اس کے ایک اپنے رشتہ دار غیرتمند صحابی نے قتل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! اگر تم کسی ایسے شخص کی زیارت کرنا چاہتے ہو تو جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و امداد کرنے والا ہے تو میرے اس جانثار کو دیکھ لو۔ یہ غیرت مند صحابی عمیر بن عدیؓ جب اس ملعونہ کے قتل سے فارغ ہوئے تو ان کے قبیلہ کے بعض سرکردہ افراد نے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ قتل کیا ہے؟ انہوں نے بلا تامل کہا، ہاں اور اگر تم سب گستاخی کا جرم کرو جو اس نے کیا تھا تو تم سب کو بھی قتل کردوں گا۔ (الصارم المسلول) ایک اور شاتم رسول ملعون یہودی ابو رافع کو اس کی بدگوئی کی سزا دینے کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عتیقؓ کی سرکردگی میں ایک گروپ بھیجا۔ یہ ملعون ایک محفوظ قلعہ میں رہتا تھا، مگر عبداللہ بن عتیقؓ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اس کے سر پر جا پہنچے اور اسے واصل جہنم کیا۔ جلدی میں واپسی کے لئے مڑے تو ایک سیڑھی سے گر کر ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اسے اپنے عمامہ سے باندھا اور قلعہ کے دروازے سے باہر نکل آئے، مگر انتہائی تکلیف کے باوجود وہیں بیٹھ کر اپنے مشن کی تکمیل کی خوشخبری ملنے کا انتظار کرتے رہے۔ جب تک ابو رافع کی موت کا اعلان سنا اور اطمینان ہوا اور واپس خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری بات
سن کر ٹوٹی کی اجازت صلی اللہ سزا ہوگی کے مسلما مسلمان ک صلی اللہ سے وہ آ صدر آص حالانکہ کرنے ک
تحفظ ناموس رسالت
سن کر ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر دست شفقت پھیرا تو وہ اس طرح درست ہو گئی جیسے کوئی کبھی ٹوٹی نہ تھی۔ (بخاری) کعب بن اشرف بدبخت یہودی تھا جو مسلسل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا اس کو آپ کی اجازت اور حکم سے محمد ابن مسلمہ نے قتل کیا (بخاری ومسلم) ۔ جب یہودیوں نے کعب کے قتل کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس نے جو تکلیف دہ گستاخیاں کی تھیں ، اگر تم میں سے کوئی اور کرے گا تو اس کی بھی یہی سزا ہوگی ۔ عہد نبویؐ میں شاتمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیانک انجام کی ان متعدد مثالوں کے پیش نظر ہر دور کے مسلمان علماء کا فتویٰ یہی رہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا قتل ہے۔
موجودہ حالات میں بھی عالم اسلام کے عالمی و روحانی مرکز سعودی عرب کے مفتی اعظم کے علاوہ متعدد مسلمان ملکوں کے عالی مرتبت علماء نے بھی شاتم رسول ﷺ کے قتل کا فتویٰ دیا ہے ۔ حالانکہ صحیح یہ ہے کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب معاشرے میں اپنی گندگی پھیلا چکے تو قتل کے سوا اس کا کوئی علاج نہیں ہے ۔ سچی توبہ کرنے سے وہ آخرت کی سزا سے بچ سکتا ہے ، مگر دُنیا میں بہر حال اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا ہی پڑیں گے۔
یہ کس قدر افسوسناک ، غمناک اور شرمناک بات ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کی مجرمہ سے صدر آصف علی زرداری کے کہنے پر گورنر پنجاب نے جیل میں ملاقات کی اور اس سے رحم کی اپیل پر انگوٹھا لگوایا ، حالانکہ کہنے کو دونوں مسلمان ہیں اور صدر اور گورنر کو بھی پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے کوشش کرنے کی جسارت نہ ہوئی مگر وہ ایک گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اتنے بے تاب کیوں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی سے مسلم اُمہ کی دل آزاری ہوتی ہے اور ان کے دل زخمی
تحفظ ناموس رسالتﷺ
ہوتے ہیں، اس گستاخانہ اور ناپاک جسارت کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ مسلمان جس کے پیروکار ہیں وہ امن کے داعی، عدل وانصاف کے پیامبر، اقلیتوں کے محافظ اور انسانیت کے محسن ہیں۔ آج امریکہ جو دُنیا کا تھانیدار بنا ہوا اس کا حال یہ ہے کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے گستاخ کو پناہ دینے کے لئے پیش کر رہا ہے۔ اگر برطانیہ اور امریکہ میں آزادی تحریر اور تقریر کے باوجود ملک اور اس کے آئین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ملکہ کی توہین جرم ہے، روس میں لینن کو گالی دینا قابل تعزیر ہے تو ہمیں اپنے آقا ﷺ کی توہین کے جرم کی سزا کے بانگ دہل کے اعلان سے کون روک سکتا ہے، ہماری متاع ایمان کی بقا کی ضمانت ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا سے محبت اور آپ کی عظمت وتوقیر ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ ہر مسلمان ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مر مٹنے کا جذبہ رکھتا ہے، بعض لوگوں کے لئے شاید یہ امر باعث حیرت ہو کہ اسلام نے بڑے بڑے گناہگار کے لئے توبہ کا دروازہ بند نہیں کیا۔ پھر شاتم رسولؐ توبہ کے باوجود کم از کم دُنیاوی سزا سے کیوں نہیں بچ سکتا؟ امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اس موضوع پر اپنی کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں خوب روشنی ڈالی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اہلحدیث امام احمد اور امام مالک کے نزدیک شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توبہ اسے قتل کی سزا سے نہیں بچا سکتی، جبکہ امام شافعی سے اس سلسلہ میں توبہ کے قبول وعدم قبول کے دونوں قول منقول ہیں۔
خود امام ابن تیمیہ اکثر محدثین وفقہاء کی طرح اس بات کے قائل ہیں کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم توبہ کے باوجود قتل کی سزا کا مستحق ہے، اُنہوں نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب کے مختلف مقامات پر جو زور دار دلائل دیئے ہیں
ان کا خلاصہ
- 1- شاتم
طلاق
- 2- اگر
توجہ طرح
- 3- نبی ؐ
اگر مشہ کر ط
- 4-
ان کا خلاصہ اور وضاحت حسب ذیل ہے۔
- 1- شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کی توبہ سے اس بگاڑ اور فساد کی
تلافی اور ازالہ نہیں ہوتا جو اس نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے۔
- 2- اگر توبہ کی وجہ سے سزا نہ دی جائے تو اسے اور دوسرے بدبختوں کو جرأت ہوگی کہ وہ جب چاہیں
توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب کریں اور جب چاہیں توبہ کر کے اس کی سزا سے بچ جائیں۔ اس طرح غیروں کو موقع ملے گا کہ وہ مسلمانوں کی غیرت ایمانی کو بازیچہ اطفال بنالیں۔
- 3- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کے جرم کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہے اور حقوق العباد سے بھی۔ حقوق اللہ
اگر اللہ چاہے تو خود معاف کر دیتا ہے، مگر حقوق العباد میں زیادتی اس وقت تک معافی نہیں ہوتی جب تک متعلقہ مظلوم اسے معاف نہ کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات مبارکہ میں اگر کسی کا یہ جرم معاف کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے، مگر اب اس کی کوئی صورت نہیں، اُمت مسلمہ یا مسلمان حاکم آپ ﷺ کی طرف سے اس جرم کو معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے۔
- 4- قتل، زنا، سرقہ، جیسے جرائم کے بارے میں بھی اُصول یہی ہے کہ ان کا مجرم سچی توبہ کرنے سے آخرت کی سزا
سے بچ سکتا ہے، مگر دُنیاوی سزا سے نہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ قاتل، زانی یا چور گرفتار ہو جائے اور کہے کہ میں نے جرم تو کیا تھا، مگر اب توبہ کرلی ہے تو اسے چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ارتکاب جرم کے بعد توبہ کا اظہار کرے، تو دُنیاوی سزا سے نہیں بچ سکتا اور اس کا جرم مذکورہ جرائم سے بدتر اور زیادہ
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتﷺ
سنگین ہے۔
ان دلائل کے پیش نظر درست یہی ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے اور اس کی سچی یا جھوٹی توبہ اسے اس سزا سے نہیں بچا سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کو مغرب اور اس کی نام نہاد تہذیبی اقدار سے مرعوب ہو کر اپنے موقف میں کسی طرح کی لچک پیدا نہیں کرنی چاہیے۔
بشکریہ نوائے وقت 24-11-2010
نائن لا میں ملوث ہو ارتکاب کیا کو ایک نظا معاملہ ملاحظہ آسیہ کو اپنے تو اور کیا ہے سڑکوں پر آ مسلمان بھی سیکولر مسلما رسوا پوچھ رہے رسول اکر
تحفظ ناموس رسالت
شاہنواز فاروقی
نائین الیون کے بعد سے مغرب نے توہین رسالت کو ’’عادت‘‘ بنالیا ہے۔ پہلے پوپ بینی ڈکٹ شش دہم اس میں ملوث ہوئے۔ پھر ڈنمارک کے اخبار نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے شائع کر کے توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔ بعدازاں یورپ کے کئی اور ملکوں کے اخبارات نے ان خاکوں کو دوبارہ شائع کر کے توہین رسالت کو ایک نظام بنادیا یا اسے Systematize کر دیا ، اور اب ہم پاکستان میں توہین رسالت کی مرتکب آسیہ مسیح کا معاملہ ملاحظہ کر رہے ہیں۔ پوپ بینی ڈکٹ آسیہ کے حق میں آواز بلند کر چکے ہیں۔ مغربی دنیا کے رہنما امریکہ نے آسیہ کو اپنے یہاں پناہ کی پیش کش کر دی ہے۔ یہ توہین رسالت کی سر پرستی اور اس کی Systematization نہیں تو اور کیا ہے؟ دوسری طرف مسلم دنیا ہے جو توہین رسالت کی ہر واردات پر سراپا احتجاج بن جاتی ہے۔ مسلمان سڑکوں پر آجاتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور گھر چلے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے اس طرز عمل کو مغرب ہی نہیں سیکولر مسلمان بھی ’’جذباتی ردعمل‘‘ سمجھتے ہیں۔ لیکن مسلمان شمع رسالت کے پروانے کیوں ہیں؟ اس کا اندازہ مغرب اور سیکولر مسلمانوں کو کیا ، اچھے خاصے مذہبی مسلمانوں کو بھی نہیں ۔ لیکن اس بات کے معنی کیا ہیں؟
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ہر طرف کفر اور شرک کا اندھیرا تھا۔ لاکھوں لوگ بتوں کو پوج رہے تھے۔ اہل کتاب اپنی مقدس کتابوں میں تحریفات کر کے حقیقی خدا کے تصور سے دور چلے گئے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو دنیا ایک بار پھر حقیقی خدا کے تصور اور حقیقت سے آگاہ ہوئی ۔ دنیا
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
میں ایک بار پھر توحید کا بول بالا ہوا۔ کفر کا کفر ہونا اور شرک کا شرک ہونا ثابت ہوا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قیامت تک کے لیے توحید اپنے حقیقی رنگ میں سامنے آگئی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حقیقی تصور سے انسانیت کو روشناس کرانے والی واحد ہستی ہیں اور آپ کی تعلیم وعمل کو نظر انداز کر کے اور آپ پر ایمان لائے بغیر عرفان خداوندی ممکن ہی نہیں۔ اس تناظر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی تہذیب میں الہیاتی اُصول یا Ontological Principle کا سرچشمہ ہیں۔ آپ کے بغیر اس اُصول کی تفہیم ممکن نہیں۔ اس اصول کی اہمیت کا اندازہ کرنا ہو تو ہندوازم کا مطالعہ کرنا چاہیے جس میں ایک خدا 33 کروڑ خداؤں میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس اُصول کی قدر و قیمت جاننی ہو تو عیسائیت کے تصور خدا کو ملاحظہ کرنا چاہیے جس میں خدا تثلیث کے اُصول کے تحت باپ، بیٹے اور روح القدس میں تبدیل ہو گیا ہے۔ لیکن اس سے قبل کہ یہ وضاحت مزید طویل ہو جائے آئیے آگے بڑھتے ہیں۔
ایک حدیث شریف کے مطابق اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نور سے اور کائنات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے خلق کیا۔ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر بہت سے ہوئے ہیں لیکن یہ مقام ان میں سے کسی کو حاصل نہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کائنات کی تخلیق کا باعث اور اسلام کے کونیاتی اُصول یا Cosmological Principle کا سرچشمہ ہیں۔
اسلام میں علم کے دو مستند سرچشمے ہیں۔ ایک قرآن مجید دوسرا حدیث مبارکہ۔ قرآن رسول اکرم ﷺ پر نازل ہوا اور حدیث خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن چونکہ اللہ تعالیٰ کی
آخر الہامی مسلم میں ہ ciple eople صرف واقع ہو
،عبادات جنگیں پڑوسی بھی آ کی ذات
تحفظ ناموس رسالت
آخری کتاب ہے اس لیے اس میں تمام سابقہ کتابوں کی تعلیمات کا خلاصہ بھی موجود ہے اور وہ کچھ بھی جو سابقہ الہامی کتب میں موجود نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ کہ قرآن ہر زمانے کے لیے ہے۔ ان حقائق کے حوالے سے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم تمام پیغمبروں کے مجموعی علم سے زیادہ ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی اسلام میں علم کا سرچشمہ یا مسلمانوں کے لیے Epistimological Principle ہے۔
اسلامی روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبر دنیا میں بھیجے۔ یہ سب منتخب انسان یا Chosen People تھے۔ اس لیے ان کی عظمت کے آگے ہر عظمت ہیچ ہے۔ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف نبی نہیں، سردار الانبیاء ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ معراج کے سفر کے مرحلے پر آپؐ نے بیت المقدس میں واقع مسجد میں انبیاء کی نماز کی امامت فرمائی۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ مسلمانوں کے لیے نمونۂ عمل یا ماڈل ہے۔ اس اسوۂ حسنہ میں عقائد ہیں ، عبادات ہیں، اخلاقیات ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاکم تھے، منصف تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگیں لڑیں، امن کے لیے سمجھوتہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شوہر تھے، والد تھے، عزیز تھے، رشتے دار تھے، تاجر تھے، پڑوسی تھے، دوست تھے۔ یہی نہیں مسلمان چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، یہاں تک کہ چھینکنے اور مسکرانے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کی کوشش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو رسول اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی ہی مسلمانوں کی تہذیب ہے، تاریخ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہی مسلمانوں کی
تحفظ ناموس رسالتﷺ
عمرانیات ہے، نفسیات ہے۔ آپ ہی مسلمانوں کی سیاست ہیں، آپ ہی کے قول وعمل کو دیکھ کر مسلمان اپنی معیشت مرتب ومنظم کرتے رہے ہیں۔ آپ ہی پر نازل ہونے والا قرآن اور آپ ہی سے صادر ہونے والی بات انصاف اور ناانصافی کا تعین کرتی ہے۔ اس سلسلے میں دو نکات اور اہم ہیں۔
قرآن مجید فرقان حمید مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ تم اپنی آواز رسول اکرم ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو، کیونکہ اس کے نتیجے میں تمہارے سارے نیک اعمال ضائع ہوسکتے ہیں۔
ایک حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک رسول اکرم ﷺ کی ذات گرامی اسے اپنے آپ، اپنے والدین، اپنے اہل وعیال اور اپنے مال سے زیادہ عزیز نہ ہوجائے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین مسلمانوں کے الہیاتی اُصول یا Ontology کی توہین ہے۔ مسلمانوں کے اُصول علم یا Epistimology کی توہین ہے۔ مسلمانوں کی کونیات یا Cosmology کی توہین ہے۔ مسلمانوں کی تہذیب کی توہین ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ کی توہین ہے۔ مسلمانوں کے قانون اور تصور انصاف کی توہین ہے۔ غرض یہ کہ مسلمانوں کے پورے انفرادی اور اجتماعی وجود اور زندگی کی پوری معنویت کی توہین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توہین رسالت پر مسلمانوں کے جذبات انتہائی برانگیختہ ہوجاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کی مذکورہ ہمہ جہتی ، ہمہ گیری اور کلیت یا Totality کو سمجھتے ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت تعلق کی اس نوعیت کا
’شعور‘ نہیں رکھ نہ ہو مگر احساس ہ شخصیت پر اس ک کا ایمان عجیب ت ہوا، مجھ پر تو برا فرمایا: تمہارا ایما عجیب ہے؟ رسو وہ مجھ پر ایمان لا جائے تو رسول ا رسول اللہ صلی الل فیضان بھی شامل کہ مغرب ان پہلوؤں کو سمجھ بھ اس سوال لوگ عیسائیت لوگوں کے لیے
’’شعور‘‘ نہیں رکھتی۔ لیکن اسے اس تعلق کا ’’احساس‘‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان کو کسی بات کا شعور نہ ہو مگر احساس ہو؟ اس سوال کا جواب ایمان کی معجزاتی نوعیت میں مضمر ہے۔ ایمان کا ایک اعجاز یہ ہے کہ وہ انسانی شخصیت پر اس کے حافظے سے قطع نظر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ایک بار صحابہؓ سے پوچھا کہ کس کا ایمان عجیب ہے؟ صحابہؓ نے فرمایا: یا رسول اللہ آپ کا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا ایمان کیسے عجیب ہوا، مجھ پر تو براہ راست وحی آتی ہے۔ صحابہؓ نے کہا: پھر ہمارا ایمان عجیب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ایمان کیونکر ہوسکتا ہے، تمہارے سامنے تو میں موجود ہوں۔ صحابہؓ نے سوال کیا کہ پھر ایمان کس کا عجیب ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان ان لوگوں کا عجیب ہوگا جنہوں نے مجھ کو دیکھا نہیں ہوگا مگر وہ مجھ پر ایمان لائیں گے۔ ظاہر ہے یہ معجزہ ایمان کی قوت اور رسائی ہی سے ممکن ہوسکتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مسلمانوں کے ردعمل کو جذباتی سمجھنا ٹھیک نہیں۔ اس کی پشت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق کا گہرا احساس کام کر رہا ہوتا ہے۔ اس احساس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان بھی شامل ہوتا ہے۔ اور یہ دونوں پہلو صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ مغرب ان میں سے کون سی بات سمجھتا ہے؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا مغرب روحانیت کے ان پہلوؤں کو سمجھ بھی سکتا ہے؟
اس سوال کی وجہ یہ ہے کہ مغربی دنیا ’’تقدیس‘‘ کے تصور سے عاری ہوچکی ہے۔ مغربی یورپ کے 75 فیصد لوگ عیسائیت سمیت کسی مذہب پر ایمان نہیں رکھتے۔ مشرقی یورپ کے تقریباً 80 فیصد لوگوں کا حال یہی ہے۔ ان لوگوں کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام زیادہ سے زیادہ ایک ’’تاریخی شخصیت‘‘ یا محض ایک روایت یا Tradition
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتؐ
ہیں ۔ مغرب میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے معاذ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی "Mistress" بھی برآمد کر کے دکھا دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو مغرب خدا اور اپنے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تقدس کا قائل نہیں ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدس کا خیال کیا کرے گا؟ یہاں ایک اہم علمی نکتہ سامنے آتا ہے۔ کسی معاملے کے بارے میں رائے زنی کے لیے اس معاملے کی مکمل تفہیم ضروری ہے ، اور یہ حقیقت واضح ہے کہ سیکولر مغرب کے لوگوں کی عظیم اکثریت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ، عظمت ، تقدس اور آپ ﷺ کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق کی شدت سے آگاہ ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر مغرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں کسی بھی تبصرے کا مجاز کیونکر تسلیم کیا جاسکتا ہے؟ کیا اس سلسلے میں مغرب کی ”جہالت“ ہی اس کی ”اہلیت ہے؟ لیکن اس معاملے کا ایک پہلو اور بھی ہے۔
مغرب میں کچھ لوگ اسلام اور پیغمبر اسلام کے حوالے سے جہل میں مبتلا ہیں اور وہ اپنی جہالت کی وجہ سے توہین رسالت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مگر مغربی دُنیا جہاں سیکولر دُنیا ہے وہیں عیسائی دُنیا بھی ہے۔ عیسائی دُنیا اسلام اور پیغمبر اسلام کے حوالے سے لاعلمی میں مبتلا نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں بہت زیادہ جانتی ہے، اور یہ بہت زیادہ جاننا اسے اسلام کے حوالے سے خوف اور حسد میں مبتلا کرتا ہے۔ اسے خوف اس بات کا ہے کہ عیسائیت کا عیسائیت کے گڑھ یورپ میں کوئی مستقبل نہیں۔ حسد اس بات کا ہے کہ اسلام اپنی تمام تر قدامت کے باوجود بلکہ اسی کی وجہ سے ساری دُنیا بالخصوص مغرب میں پھیل رہا ہے۔ عیسائی مغرب کا یہی خوف اور یہی حسد اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر اکساتا ہے۔
بلاشبہ مغربی دُنیا خدا ، مذہب اور رسالت کی تقدس کی قائل نہیں ، لیکن وہ تقدس کے تصور سے بے نیاز نہیں ہے۔ فرق یہ ہے کہ اس نے یہ تقدس کچھ امور سے وابستہ کر لی ہے۔ ان میں سے ایک مقدس شے قومی مفاد یا
نام نہاد National Interest ہے۔ اس قومی مفاد نے یورپی طاقتوں سے دو عالمی جنگیں کروائیں جن میں 8 کروڑ یا 80 ملین انسان ہلاک ہوئے۔ اسی قومی مفاد نے نائن الیون کے بعد امریکہ کو افغانستان اور عراق کے خلاف جارحیت پر اکسایا۔ جان ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق عراق کے خلاف امریکہ کی جارحیت اور اس کے اثرات سے پانچ سال میں چھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ مغرب کے ضمیر پر قومی مفاد کی تقدس کے تحت ہلاک ہونے والے 80 ملین لوگوں کی ہلاکت بوجھ نہیں بنتی لیکن پاکستان میں توہین رسالت کے تحت ایک عیسائی عورت کو کھلی عدالت میں باضابطہ مقدمہ چلا کر سزائے موت دے دی جائے تو مغرب کو یہ سزا ہولناک نظر آنے لگتی ہے اور اس کا ضمیر چیخ اٹھتا ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کے نزدیک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدس قومی مفاد کیا پوری کائنات سے بھی زیادہ اہم ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باعث تخلیق کائنات ہیں۔ کیا مغرب اپنے اس خوفناک تضاد کی کوئی وجہ پیش کر سکتا ہے؟
تجزیہ کیا جائے تو مغربی دنیا صرف قومی مفاد کی تقدس ہی کی قائل نہیں، وہ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر عام شہری کی توہین کے بھی خلاف ہے اور اس سلسلے میں ہر مغربی ملک میں قوانین موجود ہیں۔ لیکن مغربی دنیا عالم اسلام میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو ایک عام فرد کی سطح کی تکریم دینے پر بھی آمادہ نہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ پاکستان میں ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے قانون کی منسوخی کا مطالبہ نہ کرتی۔ اس مطالبے سے اسلام دشمنی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کے بغض کے سوا کچھ ظاہر نہیں ہوتا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت دسمبر 2010ء
تحفظ ناموس رسالتﷺ
مغرب اور اسلام میں کشمکش
فیصلہ کن مسئلہ: نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم
خرم مرادؒ
آج۔۔۔۔ جب کہ مغرب، مسلسل اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طبل جنگ بجا رہا ہے اور دُنیا کو مستقبل میں اسلام اور مغرب کے درمیان ایک زبردست تہذیبی معرکہ برپا ہونے کی خبر دے رہا ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنی طرف سے اس جنگ کے لیے پوری تیاریاں بھی کر رہا ہے اور جو کچھ پیش قدمی اس وقت کرنا ممکن ہیں، وہ بھی کر رہا ہے۔۔۔۔۔ مسلمانوں کے لیے یہ سمجھنا بڑا ضروری ہے کہ وہ اصل مسئلہ کیا ہے جس کے گرد یہ تہذیبی جنگ لڑی جا رہی ہے؟ اور اس میں فیصلہ کن حیثیت کس ایشو اور کس مسئلے کو حاصل ہے؟
کشمکش کا محرک:
شاید کم ہی لوگ ہوں گے جنھیں اس بات کا ادراک ہو یا جو اسے آسانی سے تسلیم کرلیں، لیکن ہمیں اس بات میں کوئی شبہہ نہیں کہ اصل اور فیصلہ کن ایشو اور مسئلہ رسالت محمدی ﷺ کی صداقت کا ایشو اور مسئلہ ہے: ”کیا محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟“
غارِ حرا میں پہلی وحی آنے کے بعد روزِ اوّل سے یہی سوال نزاع و جدل کا اصل موضوع تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اس وقت بھی انسان اسی بات کے ماننے اور نہ ماننے پر دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور ان کے جواب نے
قوموں کے مقدر اور تاریخ و تہذیب کے رُخ کا فیصلہ کر دیا تھا، آج بھی اسی سوال پر مستقبل کا مدار ہے۔ یہ کش مکش تو ازلی وابدی ہے:
چراغ مصطفویﷺ سے شرار بولہبی
مغرب کے معاشی، سیاسی اور اسٹریٹیجک مفادات کا مسئلہ بھی یقیناً اہم ہے، تیل کے چشمے بھی اہم ہیں۔ اسی لیے مغربی قیادت نے عالم اسلام کے قلب میں اسرائیل کا خنجر گھونپا ہے، مسلمان حکمرانوں کو اپنا باج گزار بنایا ہے اور شرق اوسط میں فوجی اڈوں کا جال بچھا لیا ہے۔ مسلمان ملکوں کو کمزور اور بے طاقت کر رہا ہے، یا جن سے سرتابی کا شبہہ ہے ان کے گلے میں پھندا کس رہا ہے۔ لیکن مفادات کے تنازعات تو امریکا، یورپ، جاپان، چین اور روس کے درمیان بھی ہیں، ان کی بناء پر ان کے درمیان مستقل دشمنی اور ایک دوسرے کی بربادی کے مشورے اور منصوبے نہیں۔ دراصل مسئلہ مفادات کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ مفادات ان لوگوں اور علاقوں میں واقع ہیں جو محمدﷺ کے نام لیوا ہیں اور آپﷺ کے دین کے لیے مرنے کو زندگی سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں۔
تہذیبی ایشوز کا معاملہ بھی بہت اہم ہے۔ اسی لیے انسانی حقوق کی دہائی ہے، عورتوں کے مقام، ان کی خوداختیاری (empowement) اور آزادی (liberation) پر اصرار ہے، اسلامی قوانین اور حدود کے خلاف دباؤ ہے اور جمہوریت دشمن ہونے کا الزام ہے۔ لیکن دُنیا میں بڑی بڑی آبادیاں اور بھی ہیں، جو مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ ان ساری مزعومہ تہذیبی اقدار کی خلاف ورزی کی مجرم ہیں اور ان 'تحائف' کی مستحق۔
ظاہر ہے کہ اصل لڑائی ان تہذیبی ایشوز پر بھی نہیں بلکہ یہ ایشوز تو اس تہذیب کی بربادی کے لیے لاٹھی کا کام کر رہے، جس کی تشکیل و ترکیب اور ترتیب و تکوین رسالت محمدی ﷺ کے دم سے ہے۔ مغرب کو اچھی طرح معلوم ہے مسلمان آج اتنے کمزور ہیں کہ سیاسی، معاشی اور فوجی لحاظ سے کسی طرح بھی وہ ان کا عشر عشیر بھی نہیں۔ اہل مغرب کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر مسلمان اپنے نظام معاشرت و سیاست اور جرم و سزا کی تشکیل اسلام کے مطابق کریں، حجاب اختیار کریں یا حدود نافذ کریں، تو بھی مغربی تہذیب کو کوئی گزند نہیں پہنچا۔ لیکن وہ اس بات کی مسلسل رٹ لگائے جا رہا ہے: ”اسلام کا احیاء اور مسلمان ۔۔۔۔(اس کے الفاظ میں فنڈامنٹلزم یا بنیاد پرستی)۔۔۔۔ دراصل مغرب کی تہذیب، اس کی طرز زندگی، اس کی اقدار اور اس کی آج تک کی حاصل کردہ تہذیبی ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے“۔۔۔۔ ایسا کیوں ہے؟ رسالت محمدی ﷺ کی وجہ سے!
بے ید بیضا ہے پیران حرم کی آستیں
عصر حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر ﷺ کہیں
الحذر آئین پیغمبر ﷺ سے سو بار الحذر
حافظ ناموس زن مرد آزما مرد آفریں
لیے لاٹھی کا کام
کسی طرح بھی ت اور جرم وسزا ند نہیں پہنچا۔ کے الفاظ کی آج تک ﷺ کی وجہ
عام مسلمان اگر تہذیبی جنگ کی اس حقیقت سے بے خبر ہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ جو احیائے اسلام کے علمبردار ہیں‘ وہ بھی اس حقیقت کا پورا ادراک اور احساس نہیں رکھتے۔ اسی لیے رسالت محمدی ﷺ کا ان کے ایجنڈے پر وہ مقام نہیں‘ جو ہونا چاہیے۔ حالاں کہ تہذیبی جنگ‘ دل اور زندگی جیتنے کی جنگ ہے۔ دل پہلے بھی خاتم الانبیا محمد ﷺ کی محبت سے مجتمع اور توانا ہوئے تھے‘ آج بھی اسی محبت سے ایمان‘ اتحاد اور قوتِ عمل سرشار ہوں گے۔ اس کے باوجود رسالت محمدی ﷺ کے لیے انسانوں کے دل اور ان کی زندگیاں مسخر کرنے کے لیے جو کچھ کرنا چاہئے افسوس صد افسوس کہ وہ نہیں کیا جا رہا۔ یہی کچھ کرنے کا احساس اور جذبہ و فکر پیدا کرنا آج ملت اسلامیہ کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
اس تصادم کا تاریخی سفر:
رسالت محمدی ﷺ کے خلاف یورپ کی یہ کوئی نئی جنگ نہیں ہے۔
جب سے اسلام اور عیسائیت کا آمنا سامنا ہوا ہے‘ اس وقت سے عیسائیت اور یورپ نے اسلام کے خلاف اپنی جنگ کا مرکز و ہدف ذات محمدی ﷺ اور رسالت محمدی ﷺ کو بنایا ہے۔ محمد ﷺ کے نام لیوا اچانک صحرائے عرب سے نمودار ہوئے‘ اور پلک جھپکتے میں انہوں نے شام‘ فلسطین‘ مصر‘ لیبیا‘ تیونس اور الجزائر یا۔۔۔۔ جو عیسائیت کے گڑھ تھے۔۔۔۔ کی زمام کار سنبھال لی۔ نہ صرف انہیں اپنے انتظام میں لیا‘ بلکہ آبادیاں بہ رضا و رغبت‘ رسالت محمدی ﷺ کی تابع بن گئیں۔ یہی نہیں‘ ہزار سال تک اس کا سورج نصف النہار پر چمکتا رہا‘ اور مسیحی پادریوں کی ہزار بددعاؤں‘ خواہشوں اور ان کے حکمرانوں کی عملی کوششوں کے باوجود وہ ڈھلنے پر نہ آیا۔
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
وہ متحیر، شکست خوردہ اور غیظ وغضب کا شکار تھے۔ مزید غصے کی بات یہ تھی کہ ان کی کرسٹالوجی (سیدنا مسیح کی ابنیت / ولدیت اور مصلوبیت) اور شریعت کی عدم پابندی کے علاوہ دین اسلام کوئی چیز ان کی عیسائیت سے خاص مختلف نہ تھی بلکہ دونوں میں بڑی یکسانیت تھی۔ وہ حیران و ششدر تھے کہ اس غیر معمولی واقعے کی توجیہہ کیا اور کیسے کریں؟ اس کا مقابلہ کیسے کریں؟ عیسائیوں کو مسلمان بننے سے کیسے روکیں؟
ان کو یہی نظر آیا کہ اس سارے ’’فتنے (نعوذ باللہ) کی جڑ، اور ان کی ساری مصیبت کا سبب، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ہے۔ مسلمانوں کی قوت وشوکت کا راز حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ویقین اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے والہانہ وابستگی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنا سارا زور یہ بات ثابت کرنے پر لگا دیا کہ: (نعوذ باللہ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویِٰ رسالت درست نہیں تھا اور قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف کردہ کتاب ہے، وہ بھی عیسائیوں اور یہودیوں سے مانگ تانگ کر اور مدد لے کر، اور اپنے مضامین واسلوب اور بے ربطی وتکرار کی وجہ سے کلام الٰہی کہلانے کی مستحق نہیں۔ یا کوئی سنجیدہ، علمی مہم بھی نہ تھی۔ مغرب کا دورِ ظلمت (Dark ages) ہو یا ازمنہ وسطیٰ (Medieval ages) یا روشن خیالی (enlightenment)، ان کے ہاں اس مقصد کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار پر انتہائی رکیک الزامات گھڑے گئے اور غلیظ لگائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ہر واقعے کو بدترین معنی پہنائے گئے اور اسے مسخ کرکے پیش کیا گیا۔ یہ الزام لگایا گیا کہ تلوار، خون ریزی اور قتل وغارت کے ذریعے، اور لوٹ مار اور دُنیاوی لذائذ سے لطف اندوزی کی کھلی چھوٹ کا لالچ دے کر، آپؐ نے اپنے گرد پیروکار جمع کیے، اور ان کے ذریعے دُنیا کو فتح کیا۔ یہ سب کچھ کہنے اور لکھنے کے لیے اہل مغرب کی جانب
سے زبان بھی انتہائی غلیظ استعمال کی گئی۔ اتنی غلیظ کہ اس کا نقل کرنا بھی ممکن نہیں۔ ہم نے اوپر جو کچھ لکھا ہے، یا آگے نقل کریں گے، وہ دل پر انتہائی جبر کر کے، اس لیے کہ نقل کفر کفر نہ باشد۔ انہیں نقل کرتے ہوئے ہمارا قلم کانپتا اور رُوح لرزہ براندام ہوتی ہے، مگر صرف اس لیے یہ جسارت کر رہے ہیں کہ مسئلے کو سمجھنا ممکن ہو اور خود قرآن نے بھی مخالفین کے الزامات نقل کیے ہیں۔
سینٹ جان آف دمشق (م:۷۵۳ء)، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ (م:۷۲۰ء) سے قبل اموی دربار میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا اور اسلام سے ناواقف نہیں تھا۔ وہ الزام تراشی کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”بنی اسماعیل کی اولاد میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے (معاذ اللہ) جھوٹے نبی نمودار ہوئے۔ وہ تورات وانجیل سے واقف تھے۔ ایک عیسائی راہب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ ان کچی پکی معلومات کے بل پر انہوں نے عیسائیت کی ایک تحریف کردہ شکل وضع کر کے پیش کر دی اور لوگوں سے تسلیم کرالیا کہ وہ خدا ترس انسان ہیں۔ پھر یہ افواہ پھیلا دی کہ ان پر آسمان سے کتاب مقدس نازل ہورہی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی طرح، وہ اپنی وحی کی صداقت پر کوئی گواہ پیش نہ کر سکے، نہ کوئی معجزہ۔
انہی خطوط پر، خلیفہ مامون کے ایک درباری (ابن اسحاق ۔م:۸۷۰) نے عبدالمسیح الکندی کا قلمی نام اختیار کر کے الرسالہ کے نام سے ایک فرضی مکالمہ لکھا، اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا: ”محمدؐ کس طرح سچے نبی ہو سکتے ہیں، جب کہ آپ نے خوں ریزی کی اور اپنی نبوت کی تائید میں کوئی معجزات پیش نہ کیے۔ جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو وہ کتاب الٰہی کس طرح ہوسکتا ہے؟
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
سینٹ جان آف دمشق اور عبدالمسیح الکندی کے الرسالہ نے بیسویں صدی کے آغاز تک، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اہل یورپ کے رویے اور فکر کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ بارہویں صدی میں الرسالہ کا لاطینی ترجمہ اسپین میں شائع ہوا، پندرہویں صدی میں سوئٹزرلینڈ میں، یہاں تک کہ انیسویں صدی میں سر ولیم میور (م: ۱۹۰۵) نے اس کا انگریزی ترجمہ لندن سے شائع کرنا ضروری سمجھا۔ ایک ہزار سال کے اس طویل عرصے میں پادریوں اور یورپی دانشوروں نے رسالت محمدی ﷺ کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، وہ بنیادی طور پر مسیح الکندی اور سینٹ جان آف دمشق ہی کی اس یاوہ گوئی کو دہراتے رہتے ہیں۔ ۱۔ قرآن، یہودی اور عیسائیوں سے سیکھ کر وضع کیا گیا، متضاد اور الجھی ہوئی باتوں کا مجموعہ۔ ۲۔ اخلاقی الزامات۔ ۳۔ سیاست دانوں اور حکمرانوں کی طرح موقع پرستی اور مکر و فریب کی کارروائیاں، اعاذنا الله من ذلک ونشهد ان محمدا عبده ورسوله .
ان چیزوں کو نقل کرنا، اس لیے ضروری تھا تا کہ یہ بتایا جا سکے کہ آج جب ایک طویل زمانہ گزر چکا ہے اور اب اہل مغرب کا مسلمانوں سے روز کا ربط ہے۔ اہل مغرب کے ہاں سائنسی اندازِ فکر، علمیت اور غیر جانبداری کے نعرے بھی ہیں، بلکہ ہمدردانہ اور منصفانہ معاملے کے دعوے بھی۔۔لیکن اہل یورپ کی روش اور سوچ میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں میں پروفیسر منٹگمری واٹ، کینتھ کریگ اور ویٹی کن (اٹلی میں واقع رومن کیتھولک چرچ کا ہیڈ کوارٹر، جسے ۱۹۲۹ء سے ریاست کا درجہ حاصل ہے) کی سوچ اور روش میں بھی، جو ڈائیلاگ مکالمے، فیاضی اور مراعات کی روش کے دعوے دار ہیں، ان کے ہاں تال اور سُر بدلے ہیں، مگر راگ وہی ہیں۔ بظاہر ان کے الفاظ مہذب ہو گئے ہیں۔ لیکن الزامات وہی ہیں، دشنام طرازی بھی وہی ہے، مگر تہذیب کے جامے میں ہے۔
زبان اور تعبیرات وہ ہیں جو آج کے زمانے میں قابلِ قبول ہوں، مگر تہہ میں بات وہی ہے۔ چنانچہ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہیں۔
اب ان توجیہات کی جگہ ایسے نفسیاتی، سماجی، معاشی اور سیاسی عوامل نے لے لی ہے، جن سے جدید ذہن زیادہ آشنا ہے۔ مثلاً راڈنسن، سگمنڈ فرائڈ (م:۱۹۳۹ء) کی رہنمائی میں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نفسیاتی تحلیل کرتا ہے۔ پروفیسر منٹگمری واٹ، سوشیالوجی (سماجیات) کے اوزار سے لیس، اس سرچشمے کا سُراغ عرب کی ریگستانی اور بدویانہ زندگی میں، جاہلیت کی خرابیوں میں، مکہ میں عیسائی اور یہودی تعلیمات واثرات میں، اور اہل عرب کی سیاسی ضرورت میں پاتا ہے۔ کینتھ کریگ یہ سوال اُٹھاتا ہے کہ ”رسالت نے کہاں جنم لیا؟“ اور خود جواب دیتا ہے:۔ ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس جستجو اور آرزو میں کہ عرب متحد ہوں، اور اس یقین میں، کہ ایک کتاب الٰہی ہی، ایک عربی قرآن ہی، ان کو اتحاد وتشخص دے سکتا ہے۔“ یہ ایقان کیوں کر پیدا ہوا: ”عیسائیوں اور یہودیوں کو دیکھ کر، کہ وہ بھی اہل کتاب تھے۔“
پھر کوئی بھی ”ہمدردانہ“ تحریر ایسی نہیں، جو (نعوذ باللہ) وحی الٰہی میں خارجی مداخلت ثابت کرنے کے لیے شیطانی ہفوات کے واقعے، سیاسی مفاد اور دُنیا داری کے ثبوت کے لیے نخلہ کے واقعے (رجب ۲ھ)، خون آشامی کی شہادت کے طور پر بنو قریظہ کے قتل کے واقعے (شوال ۵ ہجری) اور اخلاقی سطح کو زیر بحث لانے کے لیے حضرت زینبؓ کے ساتھ نکاح کے واقعے سے خالی ہو۔
جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب تھے، وہ ان کے سخت دشمن اور رسالت کے منکر تھے۔ جو آپ
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بکتے پھرتے تھے، وہ بھی اخلاق سے اتنے عاری نہ تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اخلاقی الزامات لگائیں۔ اگرچہ، جاہلیتِ عرب کا انکار، جاہلیتِ جدیدہ کے انکارِ رسالت سے کچھ بھی مختلف نہ تھا۔ وہی الزامات، وہی اعتراضات نعوذ باللہ: شاعر ہیں، جن آگئے ہیں، جادوگر ہیں، خود کلام گھڑتے ہیں، اور اسے اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ کہ:
وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِنْ هٰذَا اِلَّا اِفْكٌ نِ افْتَرٰهُ وَاَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ فَقَدْ جَآءُوْا ظُلْمًا وَّزُوْرًا o وَقَالُوْا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا o
(الفرقان ۲۵: ۴-۵)
ایک جھوٹ ہے جو انہوں نے گھڑ لیا ہے، اور اس میں دوسرے لوگوں نے ان کی مدد کی ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے ہیں جن کو انہوں نے لکھ لیا ہے، اور یہ ان کو صبح و شام لکھوائے جاتے ہیں۔
وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِيْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَمِيٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ o
(النحل ۱۶: ۱۰۳)
کہتے ہیں کہ ان کو تو یہ سب کچھ ایک آدمی سکھاتا ہے، لیکن یہ جس کی طرف اشارہ کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ عربی مبین ہے۔
یورپ کی ہزار سالہ مخالفت پر نظر ڈالیں تو بے اختیار نگاہوں کے سامنے یہ تصویر آتی ہے:
كَذٰلِكَ مَا اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ o اَتَوَاصَوْا بِهٖ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ o
(الذاریات ۵۱: ۵۲ تا ۵۳)
یوں کہ لوگ اس تحریر بھی پـ اختیار کیا ا بات کرتا رسول الـ محمد کے اسبا چنـ جو تباہ کن حضور صلی قوت اور نعوذ باللـ
یوں ہی ہوتا رہا ہے، ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنوں۔ کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟ نہیں، بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔
اس بات کو نارمن ڈینیل (Norman Daniel) نے یوں لکھا ہے: ”ہم انتہائی غیر جانب دار اسکالر کی تحریر بھی پڑھیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قدیم عیسائیت نے (اسلام اور محمدؐ) کے بارے میں کیا انداز فکر و گفتگو اختیار کیا تھا۔ وہ انداز ہمیشہ ہر اس مغربی ذہن کا لازمی جزو رہا ہے، اور آج بھی ہے، جو اس موضوع پر سوچتا اور بات کرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کے اسباب:
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن مجید اور رسالت کے خلاف عیسائیت اور اہل مغرب کی شدید دشمنی کے اسباب کیا ہیں؟
چند تاریخی، سیاسی اور نفسیاتی اسباب کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں۔ ان کی نظر میں، ان پر اسلام کی صورت میں جو تباہ کن آفت نازل ہوئی تھی، اس کی حیرت انگیز قوت و شوکت اور غلبے کا راز رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے محبت اور وابستگی میں مضمر تھا۔ اس سے مقابلے کا راستہ اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا کہ قوت اور زندگی کے اس منبع کو ختم کیا جائے۔ اس کو ختم کرنے کا طریقہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ جھوٹا نبی، قرآن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خود ساختہ تصنیف، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کو غیر معیاری
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
تحفظ ناموس رسالتﷺ
ثابت کیا جائے، خواہ اس جھوٹ کے لیے تہذیب و معقولیت کی ہر حد پھلانگنا پڑے۔
آج یہ بات کھلم کھلا تو نہیں کہی جارہی، لیکن اس کا واضح اعتراف موجود ہے ہفت روزہ اکانومسٹ لندن نے لکھا ہے:
دُنیا کی قیادت کے لیے مغربی تہذیب کا حریف ایک ہی ہو سکتا ہے، وہ ہے اسلام۔ اس سے مغرب کا تصادم ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام ایک آئیڈیا ہے، آج کی دُنیا میں اپنی نوعیت کا واحد آئیڈیا ہے۔ یہ آئیڈیا انسانی تجربے اور مشاہدے سے ماورا حق کے وجود پر یقین کا مدعی ہے! اس کے نزدیک یہ وہ حق ہے جو ۱۴ سو سال پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا، اور قرآن کی صورت میں محفوظ اور موجود ہے۔ ایک تہذیب کی قوت اور غلبے کے لیے اس حق پر یقین کی قوت کے برابر کوئی قوت نہیں۔ اسی لیے اہل یورپ اسلام اور مسلمانوں سے خائف ہیں۔ انہیں خطرہ ہے کہ ایک نئی سرد جنگ آرہی ہے، جو غالباً سرد نہ رہے گی۔
اسی لیے آج بھی رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم، مغرب کے حملوں کا سب سے بڑا ہدف ہے۔ جہاں موقع ملے، ذات گرامی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی گندگی ڈالنے سے اجتناب نہیں، لیکن اب یہ کام بالعموم مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے والے گنتی کے چند سلمان رشدی (بھارتی نژاد شاتم رسول) اور تسلیمہ نسرین (بنگالی نژاد دریدہ دہن) قسم کے لوگوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اپنا اسلوب بدل دیا گیا ہے۔ اب کچھ لوگ حضور ﷺ کو پیغمبر تسلیم کرنے کے دعوے دار ہیں، لیکن تورات کے اسرائیلی انبیاء کی طرح کا پیغمبر۔ کچھ لوگ وحی کی حقیقت اور نوعیت ہی کو ۔۔۔ مکالمہ اور مفاہمت کے نام پر ۔۔۔۔۔ بدلنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ کچھ سینٹ پال (م: ۶۴ء) کی طرح کے
"مصلح" کے بق کچھ چا مان لیا جائے ، جو قابل تغیر عورت کے مقا زندگی اور عمل بے معنی اور خ ہفت ر ہی مغربی تہذ سرچشمہ"۔ آئی ا۔ مغر ماورا ان کھ
”مصلح“ کے ورود (از قسم مرزا غلام احمد قادیانی ۔م ۱۹۰۸ء) کے متمنی ہیں جو اسلامی شریعت سے نجات دے۔ کچھ چاہتے ہیں کہ قرآن کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے: ایک حصہ ، عقائد واخلاق کی تعلیم پر مبنی ، اس کو کلام الٰہی مان لیا جائے۔ دوسرا حصہ، زندگی بسر کرنے کے ضوابط پر مشتمل، ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف قرار دیا جائے ، جو قابل تغیر وتبدل ہے۔ اسی ذیل میں کچھ دوراندیش ”عناصر کسی دینی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، لیکن وہ انسانی حقوق، عورت کے مقام اور جمہوریت کے نام پر وہ چیزیں دل ودماغ میں اُتار رہے ہیں، اور اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور عمل کو ایسے سانچے میں ڈھال رہے ہیں، جو رسالت پر ایمان اور ناقابل تغیر وتبدل حق پر یقین کو خود بخود بے معنی اور غیر مؤثر کر کے رکھ دے۔
ہفت روزہ اکانومسٹ ، لندن نے صحیح لفظوں میں اعتراف کیا: ”آج رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین و ایمان ہی مغربی تہذیب کے لیے واحد حریف اور سب سے بڑا خطرہ ہے، اور یہی ایمان مسلمانوں کے لیے بے پناہ قوت کا سرچشمہ“۔
آئیے، مختصراً دیکھیں کہ کس طرح؟
- ۱۔ مغربی تہذیب اور جدیدیت (Modernism) کی بنیاد یہ ہے کہ انسان اب بالغ ہو چکا ہے۔ کسی
ماورائے انسانی وجود یا ذریعے سے علم اور رہنمائی لینے کا محتاج نہیں۔ وہ مستغنی ہے، خصوصاً خدا اور وحی جیسے ان ذرائع وتصورات سے، جن کو اس نے اپنے عہد طفولیت میں اپنے سہارے اور تسلی کے لیے گھڑ لیا تھا۔ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے برعکس، یہ علم اور یقین بخشتی ہے کہ خالق حقیقی ہے۔ وہ علوم
تحفظ ناموس رسالت
کا رشتہ بھی اس کے نام سے جوڑتی ہے‘ زندگی کا بھی۔ وہی خالق حقیقی کھانا بھی کھلاتا ہے‘ شفا بھی بخشتا ہے‘ اختیار و قدرت بھی صرف اس کو حاصل ہے‘ زندگی بسر کرنے کا صحیح راستہ بھی وہی دکھاتا ہے۔ انسان ہر لحاظ سے اس کا محتاج‘ فقیر اور غلام و بندہ ہے۔
- ۲۔ مغربی تہذیب اور جدیدیت (Epistemolgy) کی بنیاد یہ ہے کہ علم کا ذریعہ صرف :انسانی حواس اور
عقل ہے‘ تجربہ و مشاہدہ ہے‘ سائنسی طریقہ ہے مگر یہ سارا علم بھی ظنی ہے جو آج صحیح ہے وہ کل غلط ہو سکتا ہے‘ بلکہ ثابت ہونے کا امکان نہ ہو تو وہ علم ہے ہی نہیں‘ ایک عقیدہ ہے۔ قطعی اور یقینی علم کے نام کی کوئی چیز دُنیا میں پائی ہی نہیں جاتی‘ جو معیار حق ہو‘ جس کے آگے لوگ سر تسلیم خم کریں‘ جس کے لیے کوئی کسی سے مطالبہ کر سکے کہ اس کا مانو اور اس پر چلو۔ اس کے برعکس‘ رسالت محمدی ﷺ اس شعور سے معمور کرتی ہے کہ علم یقینی کا وجود ہے اور اس کا سرچشمہ وحی الٰہی اور حضور ﷺ کی رسالت ہے۔ زبردستی کسی پر نہیں کی جا سکتی‘ لیکن جو مان لیں انہیں اس علم کے آگے سر تسلیم خم کرنا چاہیے‘ جہاں اختیار ہو‘ وہاں اس علم کے مطابق چلنا اور چلانا چاہیے۔ مغرب نے حق اور باطل کے الفاظ کو متروک بنا دیا ہے‘ اور ان کا استعمال تہذیب و فیشن کے خلاف۔ رسالت محمدی ﷺ کے ماننے والوں کے لیے یہ الفاظ آج بھی سچائی اور زندگی سے بھرپور ہیں‘ اور ہمیشہ رہیں گے۔
- ۳۔ مغرب کے نزدیک اخلاق و اقدار ہوں یا قوانین و ضوابط‘ ہر چیز مفید ہے یا مضر‘ جیسا اپنا اپنا احساس اور نقطۂ نظر
ہو۔ حقیقت کا انحصار دیکھنے والوں کی پوزیشن پر ہے۔ چنانچہ ہر چیز اضافی (Relative) طور پر صحیح یا غلط
تحفظ ناموس رسالت
ہوتی ہے، کوئی چیز فی نفسہ حق اور باطل نہیں ہو سکتی۔ رسالت محمدی ﷺ کے ماننے والوں کے نزدیک ان چیزوں کی جو حقیقت وحی نے طے کر دی ہے اسے کسی کی رائے پسند و ناپسند یا تجربے ودلیل سے بدلا نہیں جاسکتا: لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ (الانعام:۳۴) 'اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے'۔
- ۴۔ مغربی تہذیب کے نزدیک علوم غیبی ۔۔۔ اللہ، فرشتے، وحی، زندگی بعد موت کے نام کی کوئی چیز حقیقت نہیں
رکھتی۔ اس کے برعکس رسالت محمدی ﷺ کے ماننے والوں کے نزدیک زندگی کے معنی ومقصد اور انسان کی حقیقت کا علم صرف علوم غیبی ہی سے ہو سکتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ حقائق ہیں: يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ (البقرۃ:۳) 'وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں'۔
- ۵۔ دُنیا اور دُنیا کی زندگی سے رسالت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو اتنی ہی گہری اور بھر پور دلچسپی ہے،
جتنی اہل مغرب کو۔ لیکن مغرب کی دلچسپی کا ہدف یہیں دُنیا میں انسان کی خوشی، راحت، لذت اور زندگی کی کیفیت و معیار ہے، کہ وہی مقصود ہیں۔ اس کے برعکس، رسالت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کی دلچسپی دُنیا میں اہل دُنیا کی بھلائی اور آخرت میں اپنی بھلائی کے لیے ہے۔ اس کے نتیجے میں بالکل مختلف قسم کی شخصیتیں اور معاشرے وجود میں آتے ہیں: لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ (الحشر:۲۰) ، 'دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہو سکتے۔
تحفظ ناموس رسالت
رسالت پر ایمان کا ایجنڈا:
آج کے تہذیبی معرکے میں رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلے کو جو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے، اس کا پورا ادراک ان سب کو ہونا چاہیے، جو دین سے محبت رکھتے ہیں، جو غلبہ دین کی تمنا رکھتے ہیں یا اس کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس ادراک کی روشنی میں انہیں اپنی ترجیحات پر بھی نظر ڈالنا چاہیے، اور حکمت عملی پر بھی۔
اس لیے:
- ۱۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ، ہمارا یہ زمانہ اگرچہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ۱۴ صدیوں کے فاصلے پر ہے، اور
ہم جن تمدنی حالات میں اسلامی زندگی اور اس کے غلبے کے لیے کوشاں ہیں، وہ اس عہد سے بہت مختلف ہیں، لیکن یہ ہے اسی عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اور تسلسل۔ کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کی طرف نہیں، ساری انسانیت کی طرف مبعوث فرمائے گئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اکیسویں صدی کے لیے بھی اسی طرح رسول ہیں جس طرح چھٹی صدی کے لیے تھے، اور آج کے سارے انسان اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’قوم‘‘ ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب، جس طرح اس وقت کا اہل عرب اور ساری دنیا والے تھے۔ اس سیدھی سادی بات کے دور رس مضمرات ہیں۔ چنانچہ آج کے زمانے اور لوگوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی دعوت اس طرح پہنچنا اور پہنچانا ان کا حق ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچائی۔
- ۲۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ، بحیثیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ کیوں کہ آپؐ کی
لائی ہوئی کتا موجود ہے، ا دعوت دینے ذمہ دار ہے۔
- ۳۔ یہ سمجھنا ضرو
ہوتی ہے، ا ’ایمان باللہ ہے۔ لیکن ت صلی اللہ عل جس کی تعلی قرآن اس ہے۔ حلال سوائے حکم قرب الہی اطاعت ک
تحفظ ناموس رسالت
لائی ہوئی کتاب موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسوۂ موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین موجود ہے، اور ان امانتوں کی حامل، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت موجود ہے۔ گویا اپنی رسالت کی طرف دعوت دینے کا جو مشن بحیثیت رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا، اب اسے ادا کرنے کے لیے اُمت ذمہ دار ہے۔
- ۳۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ، رسول کی موجودگی میں دعوت اور اسلام و جاہلیت کے درمیان جو تہذیبی کشمکش برپا
ہوتی ہے، اس میں رسالت کی طرف دعوت کو اولین اور فیصلہ کن مقام حاصل ہوتا ہے۔ درجے کے لحاظ سے 'ایمان باللہ' اسلامی زندگی کا مرکز اور روح ہے، اسے سب سے اعلیٰ مقام حاصل ہے، رسالت کا مدعا وہی ہے۔ لیکن ترتیب کے لحاظ سے ایمان بالرسالت کی حیثیت اولین اور فیصلہ کن ہے۔ انسان، محمد کو اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مانتا ہے، تب ہی وہ اللہ اور ہر دوسری چیز تک پہنچتا ہے۔ ایمان باللہ، وہی حق اور معتبر ہے جس کی تعلیم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دی، اور اس لیے ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ قرآن اسی لیے بلاشک وشبہہ کلام الہٰی ہے کہ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہر شک وشبہہ سے بالاتر ہے۔ حلال وحرام، واجبات ومنہیات اور عذاب وثواب کے لیے کوئی عقلی یا تجربی دلیل، سند یا ناطق نہیں سوائے حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ پھر عمل کے لحاظ سے تو ایمان واتباع رسالت، عین اطاعت الہٰی اور قرب الہٰی کے مترادف ہے: مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ o (النساء۸۰:۴)۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی۔ اور قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ
تحفظ ناموس رسالتﷺ
اللّٰهُ o (آل عمران: ۳۱) اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔
- ۴۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دعوت و جہاد میں رسالتؐ کو یہی مقام حاصل ہو۔ اس کے بغیر اللہ کا اقرار بھی
کوئی معنی نہیں رکھتا، کجا کہ جمہوریت اور انسانی حقوق جیسی سماجی اقدار پر اتفاق و اقرار۔ ورنہ یہودی توحید الٰہی کا عقیدہ رکھتے تھے، عیسائیوں کو موحد ہونے کا دعویٰ تھا، اور ان کی عبادات و اخلاقی فضائل کی تعریف خود قرآن نے فرمائی ہے۔ مگر وہ مغضوب اور ضال ٹھہرے کہ ایمان بالرسالتؐ سے انکاری تھے۔
- ۵۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایمان بالرسالت اس معنی میں بھی فیصلہ کن ہے کہ اللہ کی طرف سے نصرت، نجات اور غلبے کا
وعدہ، ان لوگوں سے ہے جو رسولؐ مبعوث پر حقیقی معنوں میں ایمان لائیں، تن من دھن سے اس کے پیچھے چلیں، اور اس کے مددگار بنیں: اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ o وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ o (الصافات: ۱۷۱، ۱۷۲) ”اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کر چکے ہیں کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا۔“
- ۶۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ازل سے جو معرکہ چراغ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم اور شرارِ ابولہبی کے درمیان برپا
ہے، اور جو آج اسلام اور مغرب کے درمیان تہذیبی جنگ کی صورت اختیار کر رہا ہے، وہ دراصل انسانوں کے دل اور زندگیاں جیتنے کا معرکہ ہے۔ دل فتح ہوں گے تو غلبہ دین حاصل ہوگا۔ قوت سے زمین فتح ہو سکتی ہے، اموال فتح ہو سکتے ہیں، سیاسی اقتدار پر قبضہ ہو سکتا ہے، مگر زندگیاں فتح نہیں ہو سکتیں اور دلوں پر قبضہ
نہیں ہوسکتا۔ دلیل سے موافقت اور حمایت حاصل ہو سکتی ہے، مگر یکسوئی ، لگن اور جاں بازی اور سرفروشی نہیں ۔ دل جیتنے کا راستہ صرف ایک ہے۔ لوگ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر ایمان لے آئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ دے دیں، اپنے دل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بھرلیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آستانے پر سر رکھ لیں ، آپ ﷺ کی اطاعت ومحبت اور آپ ﷺ پر اعتماد ویقین سے سرشار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل پڑیں۔ پہلے بھی لوگ اور دل اسی طرح فتح ہوئے تھے، تہذیبی جنگ اسی طرح جیتی گئی تھی ، آج بھی اسی طرح فتح ہوگی ، اور اسی طرح جنگ جیتی جاسکے گی۔
- ۷۔ اس بات کو سمجھنا بڑا اہم ہے ۔ یقیناً ہمیں اسلام کی حقانیت اور برتری ثابت کرنا چاہیے، ہمیں بتانا چاہیے کہ
سودی معیشت انسان کے لیے کتنی تباہ کن ہے، اسلام کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی و خاندانی نظام میں کیا محاسن ہیں، اسلام کی خوبیاں کیا ہیں؟ لیکن ہمیں یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ان سب کاموں کی حیثیت زمین کو نرم و ہموار اور فضا کو سازگار بنانے کی سی ہے۔ لوگ یہ سب کچھ مان بھی لیں ، لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر ایمان نہ لائیں ، تو تہذیبی جنگ میں کامیابی کی راہ ہموار نہ ہوگی ۔ کتنے لوگ ہیں جو اسلام کی تعریف کرتے ہیں ، اس کے آرٹ اور فن تعمیر کی داد دیتے ہیں، اس کی روحانیت اور تصوف کے ثنا خواں ہیں، لیکن وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول مان کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ اس لیے وہ رسالتؐ کے مشن کے اعوان و انصار نہیں بن سکتے۔
- ۸۔ اسی طرح اگر ہم یہ ثابت بھی کر دیں اور ہمیں یہ ثابت ضرور کرنا چاہیے، لیکن اس مشق کے محدود نتائج کو سامنے
رکھتے ہوئے۔۔۔۔ کہ اسلام میں بھی جمہوریت ہے۔ اسلام دوسروں سے بڑھ کر حقوق انسانی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلام نے عورتوں کو وہ مقام دیا ہے جو آج تک مغرب نے بھی نہیں دیا ہے۔ اسلامی حدود ظالمانہ نہیں بلکہ منصفانہ اور زیادہ رحم دلانہ ہیں، تو اس سے بھی دلوں کے جیتنے کے امکانات روشن نہ ہوں گے۔ اس کے لیے عقلی اتفاق سے زیادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتماد و محبت درکار ہے۔
چنانچہ سب سے بڑا کام یہ ہے کہ ہم دعوت الی الرسالۃ کو اپنے ایجنڈے پر سرفہرست مقام دیں۔
رسالت کی دعوت کا طریقہ:
ہمارا مطلب یہ نہیں کہ ہم غیر مسلموں کے سامنے بے ڈھنگے طریقے سے، صرف یہ کہنا اور لکھنا شروع کر دیں اور اسی کو اتمام حجت سمجھ بیٹھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ، یا کفر کے فتوے جاری کرنے شروع کر دیں۔ نہیں بلکہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ:
- o اول: ہم ہر ممکن طریقے سے، تحریر و تقریر سے، جدید ذرائع ابلاغ سے، لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے
بے مثال حسن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلقِ عظیم کے جمال، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و رافت و شفقت اور انسانیت کے عدیم المثال کردار سے آگاہ کریں، بار بار کریں، بہ کثرت کریں، نئے نئے اسلوب سے کریں، خصوصاً ان کے سامنے کریں، اور ان کی زبانوں میں کریں۔ وہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے دشمن تھے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ کر رہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی اور محبت کی وجہ سے
تحفظ ناموس رسالت
، دشمن آکر اگر آپ ﷺ کے بے دام غلام بن گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کی وجہ سے ۔
- دوم: اہم وہ بھی جو داعیان حق ہیں ، اور وہ بھی جو عام مسلمان ہیں ۔۔۔۔ اپنے برتاؤ ، سلوک اور گفتگو کو جتنا
حضور ﷺ کے اخلاق و کردار کا نمونہ بنا سکیں ، بنائیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے صرف کتابیں ، تقریریں اور ویڈیو نہ ہوں ، بلکہ ہماری اپنی زندگیوں میں بھی لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نہ کوئی کرن اور جھلک نظر آسکے ۔ ہمارے گھر ، ہماری پبلک سرگرمیاں ، ہماری مساجد حضور ﷺ کی زندگی اور پیغام کا نور پھیلائیں ، مسجدیں نہ ماننے والوں کا اسی طرح استقبال کریں جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران اور ثقیف کے وفود کا خیر مقدم فرمایا ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے ، جب ہماری حالت کسی بھی درجے میں ، اقبال (م: ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء) کے اس شعر کی مصداق بن جائے:
کہ در ہر سینہ قاشے از دل اوست
یعنی اس کی آواز ہر دل کے لیے سازگار ہے ۔ ہر سینے میں اس کے دل کا ایک ٹکڑا ہے ۔
- سوم: پھر یہ بھی ضروری ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ، اخلاق حسنہ اور اسوۂ حسنہ کو پیش
کرنے کا ایسا اسلوب وضع کریں کہ دشمنوں نے آپ کے خلاف جو کچھ کہا ہے ، بغیر مناظرہ بازی کے اس کا ازالہ ہو جائے ۔ بات کرنے والا اچھی طرح جانتا ہو کہ فساد کی جڑ کیا ہے ، اور کسی بحث و نزاع کے بغیر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو اس طرح متعارف کرائے کہ اس فساد کی جڑ خود بخود کٹ جائے ۔
- o چہارم: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور پیغام کو عمل کا جامہ پہنانے کی جدوجہد تو بہرحال اصل کام ہے۔
امام مسلم (م:۲۶۱ھ) روایت درج کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اس اُمت میں سے جو میرے بارے میں سنے، یہودی ہو یا عیسائی، پھر وہ جو میں لایا ہوں اس پر ایمان لائے بغیر مر جائے، وہ آگ میں جائے گا۔“۔۔۔ امام محی الدین نوویؒ (م:۶۷۶ھ) کہتے ہیں کہ اس اُمت سے مراد ایک داعی اُمت ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے لے کر قیامت تک تمام اہل زمین کے لیے۔ لیکن امام غزالیؒ (م:۵۰۵ھ) بڑی اہم بحث اُٹھاتے ہیں: ’سننے‘ کا کیا مطلب ہے؟ کیا صرف کانوں سے نام سن لینا؟۔۔۔ نہیں، وہ کہتے ہیں، اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور پیغام کے بارے میں اس طرح سننا مراد ہے، جو دل و دماغ کے ماننے کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ جن پر سنانے کی ذمہ داری ہے، وہ زیادہ آگ کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ آج تو نہ ماننے والوں کی عظیم اکثریت نے محمد ﷺ کا نام ہی سنا ہے، سنا ہے تو سرسری طور پر یا مخالفانہ انداز میں۔ جن لوگوں کو کما حقہ سنایا گیا ہے، وہ بھی برائے نام ہیں۔ پھر اربوں انسانوں کے اپنے رسولؐ اور آخری رسولؐ پر ایمان نہ لانے کے لیے مسئول، ذمہ دار اور جواب دہ کون ہے؟ کیا ہم نہیں؟
جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک ملک میں اپنے ایلچی بھیجے تھے، آج ایک ارب سے زائد مسلمان دُنیا کے گوشے گوشے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی ہیں۔ ان کے ہاتھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ہے۔ جس کو بھی اپنی اس پوزیشن اور ذمہ داری کا احساس ہو، اسے تڑپ کر کھڑا ہو جانا چاہیے۔ سلیقے سے، حکمت سے، موعظہ حسنہ سے، انسانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب لانا چاہیے۔ جتنا زور ہم آپ ﷺ کا دین پیش کرنے
پر لگاتے ہیں، اتنا ہی اہتمام ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، شخصیت، کردار، اسوۂ حسنہ اور زندگی کو پیش کرنے پر لگانا چاہیے۔ جو سراج منیر سے جتنا قریب آئے گا، اس کا دل کھلا ہوگا، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی اور حرارت میں سے حصہ پائے گا۔ جتنے لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاتے جائیں گے، آپ ﷺ کے آستانے سے وابستہ ہوجاتے جائیں گے، اتنا ہی تہذیبی جنگ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی فتح کے امکانات بڑھتے جائیں گے۔ یہ ایک قرض ہے جو ہم سب پر ہے، اور ہم میں ہر ایک کو اسے ادا کرنے اور اپنا حصہ ڈالنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔
- 1-Encounters and Clashes: Islam and Christianity in History Rome.1990
- ۲۔ نارمن ڈینیل: Islam and The West: The Making of Image ناشر: ایڈنبرگ یونیورسٹی
پریس، ۱۹۶۰ء ص ۳۰۱
بشکریہ ترجمان القرآن مارچ ۲۰۰۶ء
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم عورت کے نجات دہندہ
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی
یہ نصف صدی کا قصہ ہے کہ زمانے کے جگر میں عورت کا درد اُٹھا اور ہر طرف اس کے حقوق کا غلغلہ بلند ہوتا چلا گیا۔ تحریک آزادیِ نسواں اس زور و شور سے چلی کہ عورت جو پہلے ہی مظلوم و مجبور تھی اور محروم ہوتی چلی گئی۔ میڈیا میں عورت کو ایسے ایسے روپ میں پیش کیا گیا کہ وہ مردوں کے ہاتھ میں کھلونا بنتی چلی گئی۔ آہستہ آہستہ بڑی منصوبہ بندی سے ساری سازشوں کا رُخ مسلم اُمہ کی طرف ہوتا چلا گیا اور مسلمان عورت اور اس کی حیثیت اور معاشرے میں اس کے کردار کو متنازعہ بنانے کی کوششیں شدید سے شدید تر ہوتی چلی گئیں۔
آج ہم جس دور میں رہ رہے ہیں، وہاں پر یہی باور کرایا جارہا ہے کہ مسلمان عورت کے کوئی حقوق نہیں ہیں اور اسلام عورت کے سارے حقوق چھین کر اسے مردوں کے ہاتھوں میں تھما دیتا ہے اور اسے اُس کا مختارِ کل بنا دیتا ہے۔ وہ پہلے باپ، پھر شوہر اور پھر اولادِ نرینہ کی تابع اور محکوم بن کر زندگی گزارتی ہے۔
لیکن! تاریخ کا جو بھی ورق پلٹیں عورت، مظلوم، مجبور، محروم اور مقہور نظر آتی ہے۔ مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ نظر آتی ہے، تو روما اسے گھر کا اثاثہ سمجھتا رہا، یونان میں اُسے شیطان کہا گیا، توریت میں وہ لعنت ابدی کی مستحق قرار پائی اور کلیسا نے اس کو باغ انسانیت کا کانٹا تصور کیا۔ عورت چاہے مصر و عراق کی ہو یا چین کی ہو، وہ جنس بے مایہ کی طرح فروخت ہوتی رہی، زندہ درگور ہوتی رہی، چتاؤں میں جلتی رہی، معصیت اور
گناہ کا سرچشمہ ا مگر پھر! ا ایک پناہ گاہ کی ت كَانَتْ عَلَيْهِمْ اُن سے ہوئی ہیں۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ و جاتا ہے۔مصر ان میں کہیں بھ جائے کہ اس تا اس کے برعکس عظیم الشان کا صحابہ کرامؓ فرما حضور اکرم صلی
گناہ کا سرچشمہ اور مجسم پاپ سمجھ کر معاشروں میں حقارت سے ٹھکرائی جاتی رہی۔ مگر پھر! اس مظلوم و مجبور صنف کی فریاد عرش تک جا پہنچی اور اک صدائے دلنواز نے اسے حفاظت و محبت کی ایک پناہ گاہ کی بشارت دی کہ ایک نجات دہندہ ہستی آ رہی ہے، وہ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ O (الاعراف۷:۱۵۷) اُن سے وہ بوجھ ہٹائے گا، جو اُن پر پڑے ہوئے ہیں اور اُن زنجیروں سے آزاد کرائے گا، جن میں وہ جکڑی ہوئی ہیں۔
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اس مظلوم عورت کو نسیم اخلاق کی خوشبو اور چہرۂ انسانیت کا غازہ بنانے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دُنیا نے جس قدر ترقی کی وہ صرف مرد کی اخلاقی اور دماغی قوتوں کا کرشمہ بیان کیا جاتا ہے۔ مصر و بابل، ایران، یونان اور ہندوستان مختلف عظیم الشان تمدن کے چمن آراء تھے مگر صنف نازک کا ذکر ان میں کہیں بھی نہیں ملتا۔ تمام دُنیا اپنی قومی تاریخوں پر ناز کرتی ہے اور کرنا بھی چاہیے، مگر جب اس سے یہ پوچھا جائے کہ اس تاریخ کے رقم کرنے میں صنف نازک کا کتنا حصہ ہے، تو یکدم فخر و غرور کا سارا ہنگامہ سرد پڑ جاتا ہے۔
اس کے برعکس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سایۂ عاطفت میں جو پردہ نشین پروان چڑھیں، اُنہوں نے دُنیا میں عظیم الشان کارنامے سرانجام دیئے۔ وہ آئے تو ہر طرف عورت کا ذکر و مرتبہ بلند ہونے لگا۔ دورِ رسالت ﷺ میں صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں کہ مکہ میں ہم عورتوں کو حقیر سمجھتے تھے۔ مدینہ میں عورتوں کی حالت نسبتاً بہتر تھی، لیکن جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، تو ہمیں عورتوں کی قدر اور منزلت معلوم ہوئی۔
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو نماز اور خوشبو کے ساتھ یاد کیا۔ ایک دفعہ ایک ساربان امہات المومنین کے اونٹوں کو تیزی سے چلا رہے تھے، اُن کو ہدایت کی ، ”آہستہ چلاؤ، یہ عورتیں تو آبگینے ہیں، ٹوٹ نہ جائیں“۔ بیٹیوں کی پرورش پر اتنے اجر وثواب کی بشارتیں دیں، کہ لوگ بیٹیوں کے والدین پر رشک کرنے لگے۔ بیٹیوں کی اچھی پرورش پر جنت میں داخلے کی ضمانت دی۔ اہل خانہ کے ساتھ اچھے سلوک پر ہی انسانیت کے معیار پر پورا اترنے کی سند بخشی۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ صرف یہی نہیں کیا کہ اُن کے چند حقوق متعین کر دیئے، بلکہ اپنے عہد کے روایت شکن ہستی ہونے کے اعزاز کو اس شان کے ساتھ حاصل کیا کہ ہر اُس روایت کو توڑا، جس سے کسی مظلوم کا حق مارا جاتا ہو۔ عورت کو مرد کے مساوی حقوق دے کر اُسے انسانیت کے رتبے پر فائز کیا۔ دنیا آج یہ نعرہ لگاتی ہے کہ ! Women's Rights are Human Rights
جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیوں پہلے عورت کو ابدی آسمانی ہدایت کے ذریعے انسانوں کے تمام حقوق عطا کئے اور قرآن کریم میں Gender equality کا جتنا ذکر موجود ہے کسی اور آسمانی کتاب یا دُنیا کے کسی اور مذہب یا ازم میں موجود نہیں ہے اور اس بات کا اعتراف آج کی جدید دُنیا کے مغربی مفکرین نے بھی کیا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو سر اُٹھا کر جینے کا سلیقہ سکھایا۔ اُنہوں نے عورتوں کو زبان دی۔ اُسے اپنے حقوق کا شعور دیا، اُسے ذلت کی گہرائیوں سے نکال کر رفعت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ لونڈیوں تک میں وہ اعتماد پیدا کیا کہ وہ بہت روانی کے ساتھ اپنا مدعا بیان کرتیں۔ اپنے حقوق کے حصول کے لئے دربارِ نبویؐ میں پہنچ
سائبان امہات المومنین یں، ٹوٹ نہ جائیں“۔ کرنے لگے۔ بیٹیوں کی نیت کے معیار پر پورا
اپنے عہد کی روایت سے کسی مظلوم کا حق مارا نعرہ لگاتی ہے کہ!
ے انسانوں کے تمام نقاب یا دُنیا کے کسی کو بھی کیا ہے۔ مان دی۔ اُسے میں وہ اعتماد دعویٰ میں پہنچ
جاتیں۔ وہ دربار ایسا عظیم تھا کہ جہاں پر مظلوم کی دادرسی ہوتی تھی، جہاں سے کوئی سوالی خالی ہاتھ واپس نہ لوٹی۔ کوئی عورت ایسی نہ تھی جس کے مسئلے کا حل موجود نہ ہوتا تھا۔ وہاں عورت کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کی صورت میں ایسا سائبان میسر تھا کہ جس کے پاس ہر سوال کا جواب موجود تھا اور ہر ظلم سے نجات میسر تھی۔
کبھی کوئی خاتون شکایت لے کر آتی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے اٹھائیسویں پارے کی پہلی آیت نازل ہو جاتی کہ لقد سمع اللہ ہ یقیناً اللہ نے اُس عورت کی سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کی شکایت کر رہی ہے۔ کبھی کوئی صحابیہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتی کہ یہ بات آپ کا حکم ہے کہ مشورہ، کہ حکم ماننا تو میرا فرض ہے، مگر مشورہ قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار تو مجھے آپ ہی نے دیا ہے اور میں اُس پر عمل کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہوں۔
لیکن! آج کی مسلمان عورت جب اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو دیکھتی ہے اور پھر اُس کی اُمت کے معاشروں کے رویوں کو دیکھتی ہے تو مذبذب ہو جاتی ہے کہ یا اللہ! میرے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم تو مجھے اِن بندشوں اور طوقوں سے نجات دلا کر مجھے بڑے محفوظ نظام کی سپردگی میں دے کر رخصت ہوئے تھے، مگر میں تو دوبارہ جاہلیت کے رسوم و رواج، خاندانی روایتوں، جھوٹی اناؤں کی زنجیروں میں جکڑ دی گئی ہوں۔ میرا آج کوئی بھی حق تسلیم نہیں کیا جاتا۔ مجھے پھر ایک جنس بے مایہ بنا دیا گیا ہے۔ مجھے آج پھر اسی نجات دہندہ کی تلاش ہے۔ جس نے مجھے انسانیت کا شرف بخشا، مجھے میرے حقوق کی آگہی دی اور مجھے کائنات کے لئے باعث رحمت ہونے کا افتخار دیا۔
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
مجھ سمیت ساری انسانیت اُسی نجات دہندہ کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔ لیکن اُس نے آخری سفر پر جانے سے پہلے نصیحت کی تھی کہ!
”تم کبھی نہ بھٹکو گے، اگر آخری آسمانی ہدایت اور میرے عمل کو تھام لو گے۔“
وہ ہستی جس کا نام لے کر ایک مسلمان عورت یہ مناجات کرتی ہے، اس مہربان ہستی پر یاوہ گوئی کرنا دُنیائے کفر کی روایت ہے۔ یہ چیز کروڑوں مسلمانوں کی تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ ایسی صورت میں ردّعمل ایک فطری امر ہے۔ کیا ریاست کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ شہریوں میں احترام واعتماد قائم رکھنے کے لئے قانون سازی کرے؟
”آپ حرمت برطانیہ، اٹلی ا حبیب خدا ص عقل و خرد کا ما سے کہیں زیا نہیں ہے کہ درازی کی ع چارے، انہ ایک سوائے اس اور میٹھے چشم
شاتمین رسول کا انجام، تاریخ کے آئینے میں
تحریر: ڈاکٹر عادل با ناعمۃ
تلخیص وترجمہ: ڈاکٹر عطاءالرحمٰن صدیقی ندوی
”آپؐ کا مذاق اُڑانے والوں کے خلاف ہم آپؐ کی حمایت کے لیے کافی ہیں۔“ (الحجر:۹۵)
حریتِ فکر، حریتِ تعبیر اور آزادیِ اظہار کو بنیاد بنا کر ڈنمارک، ناروے، فرانس، سوئٹزرلینڈ، اسپین، ہالینڈ، برطانیہ، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک نے اہانت آمیز تصاویر کو آقائے نامدار، تاجدارِ مدینہ، سرورِ کائنات، فخرِ دوعالم، حبیبِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف منسوب کرنے کی جو دیدہ دانستہ جسارت و شرارت کی ہے، وہ بجائے خود عقل وخرد کا ماتم اور حریتِ رائے اور حریتِ فکر کا مضحکہ خیز تصور ہے۔ ان تصاویر کی اشاعت پر جتنا غم وغصہ اُبھرتا ہے اس سے کہیں زیادہ ان احمقوں اور غافل انسانوں کی عقل وخرد پر شدید تر ترحم اور ترس کا جذبہ بھی نمودار ہوتا ہے۔ انہیں پتا ہی نہیں ہے کہ انہوں نے میڈیا کے ذریعے کس کی عزت وعظمت کے خلاف جنگ برپا کی ہے اور کس عظیم شخصیت پر زبان درازی کی سنگین کوشش کی ہے۔ انہیں اندازہ نہیں ہے کہ وہ کس ہستی کا مذاق اُڑانا چاہتے ہیں۔ قابلِ رحم ہیں یہ بے چارے، انہیں پتا نہیں ہے کہ ان کا یہ مذاق خود ان کے حق میں کتنا بھیانک اور سنگین نتائج کا حامل ہوگا۔
ایک ہذیان زدہ شخص سورج، پانی اور ہوا کو گالی دے یا روشنی، موسم اور فضا کو بُرا بھلا کہنے لگے تو اس کے بارے میں سوائے اس کے کیا رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ بے چارہ عقل سے پیدل ہے، جنون کا شکار ہے! کسی صاف وشفاف ٹھنڈے اور میٹھے چشمے کو ہزاروں لوگ مل کر گدلا اور کھارا کہنے لگیں تو چشمے کا ذائقہ تو تبدیل ہونے سے رہا، وہ اپنی تمام صفات کے
ساتھ بدستور جاری رہے گا۔ لاکھوں لوگ مل کر اگر سورج کو سیاہ پتھر کہنے لگیں تو اس کی صحت پر کیا اثر پڑے گا! وہ بدستور چمکتا اور جگمگاتا رہے گا۔ اسی طرح چند نادان و ناسمجھ بچوں کے کنکر اچھال دینے سے وسیع و بے کراں سمندر کا کیا بگڑ جائے گا!
یہ حریت فکر اور آزادی اظہار کے نام پر جدید ذرائع ابلاغ کے شیطانی بھونپو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاف و شفاف آئینہ کردار پر کیچڑ اچھالنے والے خود اپنا چہرہ سیاہ اور دامن داغدار کر رہے ہیں۔ یہ غافل اپنے انجام سے بے خبر ہیں لیکن ہم ان کے انجام سے اچھی طرح واقف ہیں کیونکہ تاریخ انسانی میں نہ انہوں نے پہلی بار یہ سیاہ کارنامہ انجام دیا ہے اور نہ ہم پہلی بار اس طوفان بدتمیزی سے دو چار ہوئے ہیں۔ تاریخ میں ان کے ہم نوا ابوجہل و ابولہب کی شکل میں ملتے ہیں تو ہمارے لئے بھی صحابہ کرامؓ اور حضرت حسانؓ جیسے فدائین کا کردار روشن ہے۔ ابوسفیان نے، جب وہ ایمان نہیں لائے تھے، ایک بار حضورﷺ کی ہجو کہی تھی، جس کا حضرت حسانؓ نے بڑا برجستہ اور بھر پور جواب دے کر دفاع ناموس رسالتؐ کا فریضہ انجام دیا تھا۔ یہ قصیدہ حضرت حسانؓ کے شاہکار قصیدوں میں شمار ہوتا ہے۔
ترجمہ: ”ابوسفیان کو کوئی میری یہ بات پہنچادے کہ تم کھوکھلے، بے حیثیت اور خفیف ہو۔ تم نے محمد ﷺ کی ہجو کی تو میں ان کی طرف سے دفاع کے لئے میدان میں آ گیا ہوں اور اس پر اللہ سے اجر و ثواب کا امیدوار ہوں۔ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتے ہو حالانکہ تم تو ان کے پاسنگ کے برابر بھی نہیں ہو۔ تم دونوں میں جو بدترین ہے وہ افضل ترین پر قربان کر دینے کے لائق ہے۔ بے شک میری اور میرے آباؤ اجداد کی عزت و آبرو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و آبرو پر قربان اور فدا ہے۔“
جدید ذرائع ابلاغ کے شیطانی وسائل کی یہ تہذیبی و اعلامی جنگ نہ صرف شریف مسلمانوں کے خلاف ہے بلکہ براہ راست یہ جنگ رب العالمین کے خلاف ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و آبرو کی حمایت وحفاظت کا ذمہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔ اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ (اے محمدؐ تمہارا مذاق اڑانے والوں کے لیے ہم کافی ہیں ) تمہاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود تو معصوم تھے ہی، ان کی عزت وعظمت بھی اللہ کی جانب سے تاقیامت محفوظ و مامون ہے۔ جو ان کا مذاق اڑائے گا زمانہ خود اسے مذاق بنا دے گا۔ جو ان کی حرمت وکرامت سے کھیلنے کی کوشش کرے گا زمانہ اسے عبرت کی نگاہ سے دیکھے گا۔ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات اس بات کی تصدیق وشہادت کے لیے کافی ہیں۔
”اے پیغمبر جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ تم لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ، یقین رکھو کہ وہ ( کافروں کو تمہارے مقابلے میں) کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا ۔“ (المائدہ:۶۷)
”اللہ ان کے مقابلے میں تمہاری حمایت کے لئے کافی ہے۔“ (البقرہ:۱۳۷)
”(اے نبیؐ) کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے؟“ (الزمر:۳۶)
”تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔“ (الکوثر:۳)
”جولوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو تکلیف دیتے ہیں اللہ نے ان پر دُنیا اور آخرت میں لعنت فرمادی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ (الاحزاب:۵۷)
تحفظ ناموس رسالت
”جو لوگ اللہ کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ (التوبہ:۶۱) یہ تمام آیتیں اس بات کا ربانی ثبوت ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ خود اپنے رسولؐ کا محافظ بھی ہے اور ناصر وحامی بھی، لہٰذا جو ان کے ساتھ یا ان کی عزت وعظمت کے ساتھ بدتمیزی یا ظلم وزیادتی کرے گا، اللہ تعالیٰ خود اس سے انتقام لیں گے، اور جو رسول اللہؐ کے ساتھ استہزا کرے گا اللہ اس کی گرفت فرمائیں گے۔ رسول اللہؐ کی حرمت وکرامت کی حفاظت کے لئے اللہ کی ذات کافی ہے۔ امام ابن تیمیہؒ نے لکھا ہے کہ ”کسی وجہ سے اگر مسلمان خود رسول اللہؐ کے ساتھ گستاخی کرنے والوں کو سزا دینے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ خود ایسے لوگوں سے انتقام لیتے ہیں۔ رسول اللہؐ کی طرف سے دفاع کے لیے اس کی ذات تنہا کافی ہے۔ جو رسول اللہؐ کے ساتھ گستاخی کرتا ہے، ان کی عزت وکرامت سے کھیلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا نام ونشان مٹا دیتے ہیں۔ تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ہیں کہ جب کبھی کافروں نے اللہ کے رسولؐ کے ساتھ گستاخی یا بدکلامی کا مظاہرہ کیا تو اللہ نے فوراً ہی ان کی گرفت فرمائی اور انہیں عبرتناک سزا سے دوچار کیا۔“ (الصارم المسلول ۱۷۷) حضرت سعدیؒ نے بھی اسی قسم کی بات نقل کی ہے کہ جب کسی نے رسول ﷺ کے ساتھ استہزا کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے نیست ونابود کردیا اور بدترین طریقہ سے اس کی ہلاکت ہوئی۔
آئیے تاریخی واقعات کی روشنی میں آیتِ کریمہ اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِئِيْنَ کی صداقت وحقانیت کا مطالعہ کریں کہ کیسے اللہ تعالیٰ اپنے رسولؐ کی ناموس کی حفاظت کے لئے کافی ہوا اور بداندیشوں کی ہلاکت وبربادی کا کیسا عبرتناک منظر سامنے آیا۔ حضرت ابن عباسؓ اس آیت کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث، اسود بن مطلب، حارث بن غیطل اور عاص ابن وائل نے حضور ﷺ کا مذاق
اُڑایا جس سے اشارہ کیا تو آ نہیں کیا اور نہ طرف متوجہ ہو ”میں نے تو کے پیروں کی کہ میں نے تو درخت کے ن نمودار ہو گیا کے منہ سے ، جنہوں نے کیفر کردار تک 101 میں ک بڑا میں کچھ لوگ
توبہ:۶۱) ہے اور ناصر و حامی بھی، خود اس سے انتقام لیں حرمت و کرامت کی رسول اللہ کے ساتھ لیتے ہیں۔ رسول اللہ کی عزت و کرامت کہ کبھی کافروں نے کی عبرتناک سزا سے نے رسول ﷺ
عزت و حقانیت کا ذلت و بربادی کہتے ہیں کہ کا مذاق
اڑایا جس سے آپ رنجیدہ خاطر ہوئے۔ فوراً حضرت جبرئیل تشریف لائے اور ولید بن مغیرہ کی آنکھ کی طرف اشارہ کیا تو آپ نے دیکھا کہ اس کی آنکھ نکل کر اس کے ہاتھ میں آگئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا اور نہ کچھ کہا۔“ اس پر حضرت جبرئیل نے فرمایا کہ میں نے آپ کی طرف سے انتقام لیا۔ پھر حارث کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ وہ اپنا پیٹ پکڑ کر لوٹ پوٹ ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ نے پھر ارشاد فرمایا کہ ”میں نے تو کچھ نہیں کیا۔“ جبرئیل نے کہا کہ میں نے آپ کا دفاع کیا ہے۔ پھر حضرت جبرئیل نے عاص ابن وائل کے پیروں کی طرف اشارہ کیا تو آپ نے دیکھا کہ وہ اپنے پیر کو پکڑے کراہ رہا ہے۔ آپ نے پھر وہی بات فرمائی کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا، تو جبرئیل نے فرمایا کہ میں نے آپ کی طرف سے انتقام لے لیا۔ اسود بن مطلب ایک درخت کے نیچے لیٹا ہوا تھا کہ ایک کانٹا اس کی آنکھ پر گرا اور وہ اندھا ہو گیا۔ اسود بن یغوث کے سر میں شدید زخم نمودار ہو گیا جس کے سبب وہ ہلاک ہو گیا اور حارث ابن غیطل کے پیٹ میں صفرا اتنا شدید ہو گیا کہ غلاظت اس کے منہ سے خارج ہونے لگی اور اسی حال میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ یہ پانچوں اپنی قوم کے سردار اور بڑے تھے ، جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا تھا تو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے ان کی گرفت فرمائی اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا۔ اصبہانی نے دلائل النبوۃ جلد 1 صفحہ 63 پر یہ تفصیل بیان کی ہے اور درمنثور ج 5، صفحہ 101 میں بھی یہ تفصیل موجود ہے۔
بزار اور طبرانی نے الاوسط میں حضرت انسؓ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے آپس میں اشارہ بازی شروع کی کہ دیکھو دیکھو یہی وہ شخص ہے جو
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
نبوت کا دعویدار ہے اور کہتا ہے کہ جبرئیل امینؑ اس کے پاس آتے ہیں۔ ان کی یہ گفتگو ابھی جاری ہی تھی کہ خود جبرئیلؑ امین تشریف لے آئے اور ان کی طرف انگلی سے اشارہ کیا جس سے ان کے جسموں میں زخم نمودار ہوگئے اور سخت بدبو پھیل گئی جس کی وجہ سے کوئی ان کے قریب نہیں جاتا تھا، حتیٰ کہ وہ اسی حال میں مرے (در منثور 5، ج/100) صحیحین، بخاری و مسلم میں بھی ایک عجیب و غریب واقعہ ملتا ہے کہ قبیلہ بنی نجار کا ایک نصرانی اسلام لے آیا جو کتابت جانتا تھا، چنانچہ کتابت وحی کی خدمت پر مامور ہو گیا، مگر کچھ عرصہ بعد وہ مرتد ہو گیا اور دوبارہ نصرانی ہو گیا اور یہ کہہ کر محمدؐ کا مذاق اڑانے لگا کہ وحی کی کتابت کے دوران کچھ باتیں میں نے اپنی طرف سے ملا کر لکھ دی تھیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا ہی نہیں چلا کہ وہ وحی نہیں ہے۔ کچھ ہی عرصہ بعد اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ ہلاک ہو گیا۔ جب لوگوں نے اسے دفن کر دیا تو زمین نے اسے قبول نہیں کیا اور دوسری صبح اس کی لاش باہر پڑی ہوئی دیکھی گئی۔ چنانچہ اس کے ہم نوا ؤں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی یہ حرکت ہے۔ لہٰذا اسے اور زیادہ گہری قبر کھود کر دوبارہ دفن کر دیا۔ لیکن تیسری صبح اس کی لاش پھر باہر نظر آئی۔ چنانچہ اُنہوں نے تیسری بار خوب گہری قبر کھود کر اسے اچھی طرح دفن کر دیا لیکن صبح کو اس کی لاش پھر باہر نکل پڑی، تب جا کر لوگوں کو یقین آیا کہ یہ انسانی حرکت نہیں ہو سکتی، یہ اس کی شرارت کی سزا ہے، چنانچہ لاش یوں ہی پڑی سڑتی رہی اور کسی نے ہاتھ نہیں لگایا (بخاری، حدیث: 3617، مسلم حدیث: 376)۔ بلاشبہ نبیؐ کے ساتھ مذاق کرنے والوں کا انجام بڑا بھیانک ہوتا ہے۔ یقیناً اللہ ایسے لوگوں سے انتقام کے لئے کافی ہے، یہ اس کا وعدہ ہے۔ ”ہم تمہارا مذاق اڑانے والوں کے لئے کافی ہیں۔“
تاریخ میں یہ شہادت بھی محفوظ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر و کسریٰ کے نام دعوتی خطوط
ارسال فرمائے تھے تو قیصر نے آپؐ کے نامہ مبارک کی عزت وتکریم کی خاطر احترام کے ساتھ اسے سونے کے ایک صندوق میں رکھوادیا تھا۔ سہیل روایت کرتے ہیں کہ ہمارے بعض جاننے والوں نے بیان کیا ہے کہ مسلمانوں کے ایک قائد عبدالملک بن سعد ہرقل کے خاندان کے آخری بادشاہ سے ملے تو اس نے وہ نامہ مبارک انہیں دکھایا جسے دیکھ کر ان کے آنسو جاری ہوگئے اور اُنہوں نے فرطِ محبت سے اسے چومنے کی اجازت چاہی مگر اس نے منع کردیا۔ ابن حجر سیف الدین قلیج المنصوری سے نقل کرتے ہیں کہ وہ سونے کا صندوقچہ طلیطلہ پر قبضے کے بعد ایک انگریز حاکم کے پاس تھا۔ اس نے اس کے اندر سے وہ نامہ مبارک نکالا جو ایک ریشمی کپڑے میں لپٹا ہوا تھا اور اس کے اکثر حروف اُڑ چکے تھے۔ کہنے لگا کہ یہ تمہارے نبیؐ کا نامہ مبارک ہے جو انہوں نے ہمارے دادا قیصر کے نام ارسال فرمایا تھا۔ یہ ہمارے خاندان میں اس وصیت کے ساتھ نسلاً بعد نسل منتقل ہوتا رہا ہے کہ جب تک یہ ہمارے خاندان میں محفوظ ہے ہماری بادشاہت باقی رہے گی۔ چنانچہ ہم اس کی بڑی حفاظت کرتے ہیں اور نصاریٰ سے چھپاتے ہیں تاکہ ہماری مملکت باقی رہے۔ یہ اسی نامہ مبارک کی برکت تھی کہ صدیوں تک ہرقل کی حکومت باقی رہی جب کہ کسریٰ نے نامہ مبارک کی توہین کی تھی اور اسے چاک کردیا تھا۔ اس لئے چند ہی سالوں میں اس کی حکومت کے پرخچے اُڑ گئے اور نیست و نابود ہوکر صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔
یہ عجیب و غریب قصہ بھی تاریخ میں محفوظ ہے کہ ابولہب اور اس کے بیٹے عتیبہ نے ملک شام کے لئے رختِ سفر باندھا تو اس کے بیٹے عتیبہ نے کہا کہ ذرا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑ آئیں اور ان کے رب کے سلسلے میں انہیں تھوڑا سا ستالیں تب شام کا سفر شروع کریں۔ چنانچہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے محمدؐ میں تمہارے اُس
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
رب کا انکار کرتا ہوں تم جس کے اتنے قریب ہو آئے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان صرف دو کوس کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ یہ معراج کے واقعہ پر تحریف بھی تھی اور انکار بھی ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے تکلیف پہنچی اور آپ نے دُعا فرمائی کہ اے اللہ اپنے کتوں میں سے کسی ایک کو اس پر مسلط فرمادے۔ عتبہ جب ابولہب کے پاس واپس پہنچا تو اس نے پوچھا کہ تم نے کیا کہا؟ تو عتبہ نے بتایا کہ میں نے یہ کہا ، تو ابولہب نے پوچھا کہ پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا؟ عتبہ نے بتایا کہ انہوں نے کہا کہ اے اللہ تو اس پر اپنا کوئی کتا مسلط فرمادے۔ یہ سن کر ابولہب نے کہا کہ تم محمدؐ کی بددُعا سے بچ نہیں سکتے ۔ اس کے بعد سفر شروع ہو گیا۔ راستے میں شراۃ کے مقام پر قافلے نے قیام کیا جہاں کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں شیر بھی پائے جاتے ہیں۔ ابولہب نے قافلے سے کہا کہ دیکھو میں بزرگ ہوں اور میرا تم پر حق بھی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بیٹے کے حق میں بددُعا کر دی ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ وہ ضرور پوری ہوگی۔ لہٰذا ایسا کرو کہ تم سارا سامان گرجا کے اندر جمع کر دو اور اس کے درمیان میں میرے بیٹے عتبہ کو چھپا کر سلا دو اور آس پاس تم سب اپنے اپنے بستر لگا لو۔ اہل قافلہ کا بیان ہے کہ ہم نے ایسا ہی کیا لیکن رات کو اچانک شیر آگیا اور اس نے ایک ایک کو سونگھنا شروع کیا اور کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، پھر اچانک اس نے سامان کے ڈھیر پر چھلانگ لگائی اور عتبہ کو کھینچ کر پٹخ دیا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ ہلاک ہو گیا۔ ابولہب یہ دیکھ کر پکار اُٹھا کہ مجھے یقین تھا کہ محمدؐ کی دُعا ضرور رنگ لائے گی اور یہ بچ نہیں پائے گا۔
(تفسیر ابن کثیر)
کتانی نے مولد العلماء کے ذیل میں لکھا ہے کہ حاکم کے عہد میں ایک شخص نمودار ہوا جس کا نام ھادی المستجیبین تھا۔ وہ اور اس کے ماننے والے حاکم کی عبادت کے قائل تھے۔ اس شخص نے خود حضورﷺ کے
بارے میں گستاخ کلامی کی تھی اور قرآن کریم پر تھوکا تھا۔ جب یہ شخص مکہ پہنچا تو لوگوں نے امیر مکہ سے اس کی شکایت کی لیکن امیر مکہ نے اس کی توبہ کو بہانہ بنا کر نظر انداز کر دیا ، مگر لوگ مطمئن نہیں ہوئے اور مطالبہ کیا کہ ایسے شخص کی توبہ معتبر نہیں ہے۔ اس کے باوجود امیر مکہ نے معاملے کو ٹال دیا تو پھر لوگ بیت اللہ میں جمع ہوئے اور اللہ کے حضور فریاد کی اور دیکھتے ہی دیکھتے انتہائی سخت سیاہ آندھی اٹھی ، اتنی سیاہ کہ باقاعدہ رات طاری ہو گئی ، اور جب یہ تاریکی چھٹی تو لوگوں نے دیکھا کہ بیت اللہ کے پردوں پر سورج کی روشنی کے مانند ایک چمکدار تہہ چڑھی ہوئی ہے اور پورے چوبیس گھنٹہ یہ کیفیت قائم رہی۔
جب امیر مکہ نے یہ ماجرا دیکھا تو ہادی المستجیبین کے قتل کا حکم صادر کر دیا اور گردن اُتار کر لاش سولی پر لٹکا دی۔
قاضی عیاض نے بھی اپنی مشہور کتاب الشفاء ج 2 ، ص : 218 میں حضور ﷺ کا مذاق اڑانے والے ایک شخص کا عجیب واقعہ بیان کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ابراہیم الفزاری نام کا ایک بڑا ماہر فن شاعر تھا، جسے دیگر علوم میں بھی کافی دسترس حاصل تھی ، وہ اپنے کلام میں اللہ کا ، انبیاء کا اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ لہٰذا قیرون اور سحنون کے علماء نے اس کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا اور قاضی وقت یحییٰ بن عمر کے حکم سے اسے قتل کر کے سولی پر لٹکا دیا گیا۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ جب اس کے ہاتھ سولی سے آزاد کئے گئے تو لٹک پڑے اور لاش جو قبلہ رخ تھی گھوم کر الٹی ہو گئی اور ایک کتا کہیں سے آنکلا اور خون چاٹنے لگا جسے دیکھ کر لوگوں نے بے اختیار نعرہ تکبیر بلند کیا اور بڑی عبرت حاصل کی۔
ماضی قریب میں علامہ احمد شاکر مصری ایک بہت ہی فصیح و بلیغ خطیب و مقرر کا اپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں کہ طہٰ حسین کے اعزاز میں منعقد ایک ادبی اجلاس میں ایک مصری خطیب نے طہٰ حسین کی مدح و پذیرائی کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طنز تعریض کرتے ہوئے کہا: ” جب اس کے پاس نابینا آیا تو نہ اس نے
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
ناگواری کا اظہار کیا نہ اپنا رخ پھیرا،‘‘ (طٰہٰ حسین نابینا تھا۔ اس خطیب کا ارشاد اس واقعے کی طرف تھا جس کا ذکر سورہ عبس میں ہے کہ آپ کے پاس ایک نابینا ہدایت کے لئے آیا لیکن آپ نے اس سے اعراض برتا۔ کیونکہ آپ اس وقت مکہ کے سرداروں کو دعوت دے رہے تھے۔) علامہ احمد شاکر کہتے ہیں کہ آخرت میں تو جو سزا اس گستاخ خطیب کو ملے گی وہ تو ملے گی ہی۔ میں نے اسی گستاخ خطیب کو جس کی بڑی شخصیت تھی اور بڑی ساکھ تھی اپنی آنکھوں سے قاہرہ کی ایک مسجد کے باہر انتہائی ذلت و مسکنت کے عالم میں مصلیوں کی جوتیاں سیدھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے کہ ہم تمہارے ساتھ استہزاء کرنے والوں کے لئے کافی ہیں۔
نبیؐ کا استہزاء اور مذاق اڑانے والوں اور نبیؐ کی عزت وعظمت سے کھیلنے والوں کے خلاف اپنے نبیؐ کی حمایت و کفایت کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تاریخ کے نشیب وفراز میں اس کے مختلف ومتنوع مظاہر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ظاہر فرمائے ہیں، اور یہ مظاہر مذاق اڑانے والوں کی کراماتی و کرشماتی ہلاکت و تباہی تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ اس حمایت و کفایت کے واقعات خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بھی پیش آچکے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کے عہد میں ہی کعب بن اشرف یہودی کو جس نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی، ایک غیور صحابی نے قتل کر دیا تھا۔ ایک یہودیہ جو اکثر حضور ﷺ کو برا بھلا کہتی رہتی تھی ایک غیور مسلمان نے اسے گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا۔ ایک نابینا صحابی نے اپنی بندی کو جس سے ان کی اولاد بھی تھی خود قتل کر دیا تھا کیونکہ اس نے حضور ﷺ کا استہزاء کیا تھا۔ حدیث کی مشہور کتاب ابو داؤد میں ان واقعات کی تفصیلی روایات موجود ہیں۔ دو نوجوان حضرت معاذ اور معوذ کا واقعہ مشہور ہے جنہوں نے قریش کے سردار ابو جہل کی گردن اُتار لی تھی کیونکہ وہ بھی اکثر حضورؐ کو سب و شتم کیا
کی طرف تھا جس کا ذکر سے اعراض برتا۔ کیونکہ خرت میں تو جو سزا اس تھی اور بڑی ساکھ تھی ، جوتیاں سیدھی کرتے لنے کافی ہیں۔ کے خلاف اپنے نبی کی متنوع مظاہر اللہ تعالیٰ کی ہلاکت و تباہی تک پیش آچکے ہیں۔ گستاخی کی تھی، ایک نے اسے گلا گھونٹ کر نے حضور ﷺ کا حضرت معاذ اور کو سب و شتم کیا
کرتا تھا۔ خطمی قبیلے کی ایک عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی تھی جسے اسی قبیلے کے ایک مسلمان نے قتل کر دیا تھا۔ ابوعفک یہودی شاعر کو بھی سالم ابن عمیر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلام پیش کرنے پر ہلاک کر دیا تھا۔ انس ابن زنیم کو جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو لکھی تھی قبیلہ خزاعہ کے ایک غلام نے قتل کر دیا تھا۔ یہ تمام روایات علامہ ابن تیمیہؒ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں جمع کر دی ہیں۔ علامہ ابن تیمیہؒ نے تو جنات کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ مسلمان جن ان کافر جنوں کو ہلاک کر دیا کرتے تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوتے تھے۔ علامہ ابن تیمیہؒ سیرت نگاروں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جبل ابوقبیس کی طرف سے ایک بار کچھ ایسے اشعار سنائی دیئے جن میں حضور ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات تھے اور آپ کے خلاف طنز و تعریض بھی شامل تھی۔ لیکن ان کا پڑھنے والا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ایک روز تو خاموشی رہی لیکن دوسرے روز پھر کچھ اشعار سنائی دیئے جن میں کہا گیا تھا کہ میں نے مسعر کو قتل کر دیا جس نے آپ کی شان میں گستاخانہ اشعار پڑھے تھے۔ مسعر اسی جن کا نام تھا جس نے گستاخانہ اشعار پڑھے تھے۔
رسول کی شان میں گستاخی کرنے والوں، آپ کا مذاق اُڑانے والوں اور آپ کو تکلیف پہنچانے والوں کو سزا دینے اور ان سے انتقام لینے کا اور ان کے مقابلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت کا جو وعدہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا ہے تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کے مختلف مظاہر سامنے آتے رہے ہیں۔ کبھی اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں ہی کو آپ کی حمایت کے لئے کھڑا کر دیا۔ کبھی فرشتے اُتار دیئے اور کبھی اس طرح حمایت فرمائی کہ کائنات کے مسلمہ فطری وطبعی اُصولوں ہی میں تبدیلی کر دی اور کبھی آپ کو ایذا پہنچانے
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتﷺ
والوں کے دل میں شدید خوف اور رعب پیدا فرما دیا، جیسے غورث ابن الحرث کا قصہ ہے جس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کر لیا تھا لیکن جیسے ہی تلوار بلند کی اُس کا ہاتھ بری طرح کانپنے لگا، حتیٰ کہ تلوار چھوٹ کر گر گئی۔ اس پر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے وجود اور ارادے کے درمیان اللہ خود حائل ہو گیا۔
(درمنثور)
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ایک بار ابو جہل نے اپنی قوم کے سامنے لات وعزّیٰ کی قسم کھا کر کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صحن کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر سوار ہو کر ان کے چہرے پر خاک مل دوں گا۔ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور صحن کعبہ میں نماز ادا فرمانے لگے۔ اور لوگوں نے دیکھا کہ خود ابو جہل اپنے ہاتھوں کی آڑ بنا کر الٹے قدموں پر پیچھے کی طرف ہٹ رہا ہے۔ لوگوں نے عار دلایا کہ ابو جہل کیا ہوا؟ کہنے لگا کہ میرے اور ان کے درمیان ہولناک آگ کی ایک خندق حائل ہے جس کی لپٹیں مجھ تک آ رہی ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب آنے کی کوشش کرتا تو ملائکہ اس کا عضو عضو الگ کر دیتے۔ ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ قریش کے کچھ کافروں نے ایک بار لات وعزّیٰ، مناۃ اور نائلہ جیسے بڑے بڑے بتوں کے سامنے قسم کھا کر عہد کیا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سامنے آ گئے تو ایک ساتھ ہم ان پر حملہ کر دیں گے اور انہیں قتل کئے بغیر جدا نہیں ہوں گے۔ حضرت فاطمہؓ نے یہ بات سنی تو وہ روتی ہوئی آپؐ کے پاس آئیں اور بیان کیا کہ قریش کے کچھ لوگوں نے یہ عہد کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا بیٹی ذرا وضو کے لئے پانی لاؤ، پھر آپؐ نے وضو فرمایا اور ان کفار قریش کی موجودگی میں ہی آپؐ صحن حرم میں داخل ہوئے۔ جب ان کی نظر پڑی تو کہنے لگے: تیار ہو جاؤ، دیکھو وہ آ رہے ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ مگر اس کے بعد ان کی نگاہیں جھک گئیں، گردنیں لٹک گئیں اور ان
جس نے آپؐ کی تلوار ا۔ اس پر حضورﷺ نے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لگا۔ اچانک رسول اللہ لگا کہ خود ابو جہل اپنے کیا ہوا؟ کہنے لگا کہ ہیں۔ جب رسول اللہ اس کا عضو عضو الگ اور نائلہ جیسے بڑے پر حملہ کر دیں گے کے پاس آئیں اور پھر آپؐ نے وضو کہنے لگے: تیار لگ گئیں اور ان
کی آنکھ اٹھی نہ ان کے قدم اپنی جگہ سے ہلے، حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سروں پر پہنچ گئے اور ایک مٹھی خاک لے کر ان کے سروں پر ڈالی اور فرمایا کہ سب کے سب ذلیل ہو گئے۔ ان میں سے جس جس کے سر پر خاک پڑی وہ میدان بدر میں مارا گیا (دلائل النبوۃ، ج 1،ص: 65) یقیناً اللہ کے رسولؐ کے لئے اللہ کی حمایت کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا اظہار مختلف صورتوں میں فرماتے ہیں، کبھی کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اُڑانے والے پر اس کا وبال اس شکل میں سامنے آتا ہے کہ اچانک کسی حلقے کی طرف سے اس کی شدید مخالفت شروع ہو جاتی ہے اور خود اسی پر لعنت و ملامت ہونے لگتی ہے۔ بخاری کی روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قریش کے سب وشتم اور لعن طعن سے کیسے محفوظ رکھا؟ وہ مذمم کو لعن طعن کرتے ہیں میرا نام تو محمد ہے۔‘‘ دراصل قریش شدت غضب وحسد کی وجہ سے حضورؐ کا نام نامی لینے کے بجائے مذمم کہتے تھے کیونکہ محمد کے معنی ہیں لائقِ تعریف کیا ہوا اور قریش ضد اور چڑ کی وجہ سے مذمم یعنی قابل مذمت کہا کرتے تھے۔ یہ بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ کی حمایت کا ایک لطیف مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کا مذاق اُڑانے والوں کے شر سے کیسے کیسے حضورؐ کی حمایت و حفاظت کا سامان فراہم فرمایا ہے، حتیٰ کہ آپؐ کی حمایت کی خاطر کائنات کے فطری وطبعی اُصولوں تک کو بدل دیا ہے۔ مثال کے لیے زہر آلود بکری کا واقعہ سامنے ہے۔ زینب بنت حارث نامی ایک یہودیہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بکری کا بھنا ہوا گوشت بھیجا جو زہر آلود تھا۔ آپؐ بکری کا گوشت پسند فرماتے تھے، لیکن جیسے ہی آپؐ نے لقمہ زبان مبارک پر رکھا، فوراً آپ کو پتہ چل گیا اور آپؐ نے لقمہ واپس رکھ دیا اور فرمایا کہ مجھے اس بکری نے بتا دیا کہ وہ زہر آلود ہے۔ چنانچہ اس یہودیہ کو بلوا کر دریافت فرمایا تو اس نے اعتراف کر لیا۔ لیکن
تحفظ ناموس رسالت
محمد رسول اللہ تحفظ ناموس رسالت
قابل غور بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی خاطر فطرت کے طبعی اُصول واثرات تبدیل ہو گئے۔ زبانِ مبارک نے زہر قبول نہیں کیا اور دوسری حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود اس ہڈی کو قوت گویائی عطا فرمادی اور اس نے آپؐ کو باخبر کر دیا کہ مبادا آپؐ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استہزاء کرنے والوں اور آپؐ کو تکلیف پہنچانے والوں کے خلاف اس آیتِ کریمہ ’’ہم آپؐ کی حمایت کے لیے کافی ہیں‘‘ کے معانی کا ظہور یوں ہوتا رہتا ہے کہ بسا اوقات تو خود تکلیف پہنچانے والے اور استہزاء کرنے والے کے دل ودماغ کو اللہ تعالیٰ اس طرح بدل دیتے ہیں کہ اس کے نزدیک حضورؐ دُنیا وما فیہا سے زیادہ عزیز ومحبوب بن جاتے ہیں اور خود آپؐ کی حمایت وحفاظت کے لیے اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ جیسے سفیان ابن الحارث کا واقعہ ہے جو بچپن میں آپؐ کے دوست اور دودھ شریک بھائی بھی تھے، لیکن جب آپؐ نے فریضۂ نبوت ادا کرنے کا اعلان کیا تو شدید ترین مخالفت سفیان ہی نے کی اور دشمنی پر آمادہ ہو گئے۔ صحابۂ کرام کو برا بھلا کہا، آپؐ کی ہجو کرنے لگے۔ لیکن مشیتِ ایزدی نے سفیان کی دشمنی اور ہجو گوئی سے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا ایسا سامان فرمایا کہ انہیں ہدایت سے سرفراز فرمادیا اور ان کے دل ودماغ کو بدل دیا۔ خود سفیان کی زبانی سنئے کہتے ہیں کہ میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کا نور روشن کر دیا تو میں اپنی اہلیہ اور بیٹے کو لے کر ابواء کے مقام پر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ نے اعراض فرمایا اور رخ مبارک دوسری جانب کر لیا۔ میں گھوم کر دوبارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہنچا تو آپؐ نے پھر رخ پھیر لیا۔ اس طرح میں بار بار حضور ﷺ کے سامنے ہوتا رہا اور آپؐ اعراض فرماتے رہے حتیٰ کہ میں نے کہا کہ اگر حضور ﷺ ہمیں اذنِ باریابی نہیں بخشیں گے تو بخدا ہم کھانا پینا چھوڑ دیں گے اور بھوک و پیاس سے مر جائیں گے۔ جب حضورؐ تک یہ بات پہنچی تو
آپ نے ش بے بے انتہا ا جان نثار کر آپ کی ح
واثرات تبدیل ہو گئے۔ خود اس ہڈی کو قوت گویائی
کے خلاف اس آیت کریمہ خود تکلیف پہنچانے والے حضورؐ دنیا وما فیہا سے زیادہ سفیان ابن الحارث کا واقعہ یت ادا کرنے کا اعلان کیا کی ہجو کرنے لگے۔ لیکن رمایا کہ انہیں ہدایت سے ں اللہ تعالیٰ نے اسلام کا پ نے اعراض فرمایا اور تے پھر رخ پھیر لیا۔ اس حضور ﷺ ہمیں اذن تک یہ بات پہنچی تو
آپ نے شرف ملاقات سے نوازا اور ہم نے اسلام قبول کرلیا۔ (سیرت ابن ہشام میں تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ مذکور ہے۔) بے شک ساری حمد و ثناء اللہ جل جلالہ کے لیے زیبا ہے جس نے شدید ترین بغض و عداوت کو آپ کے ساتھ بے انتہا انس و محبت میں تبدیل کر دیا اور سفیان ابن الحارث جیسا جانی دشمن آپ کی چشم و آبرو کے اشارے پر جان نثار کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ”آپ کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف ہم آپ کی حمایت کے لیے کافی ہیں۔“
بشکریہ فرائیڈے اسپیشل
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتؐ
آسیہ مسیح اور عافیہ صدیقی
مظفر اعجاز
پاکستان میں ایک مسیحی خاتون کی جانب سے توہین رسالتؐ پر اسے سزائے موت سنائی گئی تو ایمنسٹی انٹرنیشنل کو پتا چل گیا ہے۔ اور اس نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ اس کی سزائے موت معاف کر کے اسے رہا کر دیا جائے۔ پوپ بینی ڈکٹ کو بھی پتا چل گیا ہے اور انہوں نے بھی رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پاکستان منارٹی الائنس بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ توہین رسالتؐ سے متعلق قانون منسوخ کیا جائے۔ آسیہ مسیح کون ہے اس کی سزائے موت کے فیصلے سے قبل کوئی اسے نہیں جانتا تھا لیکن اب گورنر پنجاب بھی اس کی سزا ختم کرانے کی بات کر رہے ہیں اور پاکستان میں ایک مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے ایک طرف آسیہ مسیح کی سزا کے مخالفین ہیں جو اس کی آڑ میں توہین رسالتؐ کا قانون ختم کروانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اس سزا کے حامی ہیں۔ ابھی فضا اتنی گرم نہیں ہوئی لیکن لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایسا ہو جائے گا۔ آسیہ مسیح کے معاملہ پر پوپ بینی ڈکٹ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بے چینی اور امریکا کی جانب سے آسیہ کی رہائی کی صورت میں اس کو خاندان سمیت امریکا میں رہائش کی پیشکش کا رویہ دیکھ کر بے اختیار دل خون کے آنسو رونے لگا۔ کیوں؟ آسیہ سے ہمارا کیا تعلق ہے؟ ہمارا اس سے
کوئی تعلق نہی دل خون کے حکمران کا ہے پر دیئے گئے اسے رہا کر معاملے میں کی جگہ آ مقدمات ک موجود قانو کو سزا سنا تھی سماع عافیہ کو مجر نہیں ہو کی جانب کی اور
دی گئی تو ایمنسٹی انٹرنیشنل ی معاف کر کے اسے رہا ۔ پاکستان منارٹی الائنس ۔ آسیہ مسیح کون ہے اس سزا ختم کرانے کی بات ہیں جو اس کی آڑ میں فضا اتنی گرم نہیں ہوئی ک اور ایمنسٹی انٹرنیشنل امریکا میں رہائش کی تا ہے؟ ہمارا اس سے
کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ لاہور سے امریکا تک اور کراچی سے ویٹی کن تک آسیہ مسیح کے ہمدردوں کا نیٹ ورک دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ پاکستان کی غیور بیٹی عافیہ کا کیا قصور تھا اس کے لیے کسی پاکستانی حکمران ،کسی مسلمان حکمران کا بیان تک نہیں آیا جتنے بیانات آئے وہ سب کے سب منافقانہ تھے اور مغرب اور امریکا سے خوف کی بنیاد پر دیئے گئے تھے جبکہ آسیہ مسیح کے لئے بڑی ڈھٹائی سے بیانات آ رہے ہیں کہ اس کی سزا معاف کر دی جائے ۔ اسے رہا کر دیا جائے ۔ یہاں آسیہ اور عافیہ کا موازنہ نہیں کیا جارہا بلکہ رویوں کا موازنہ کیا جارہا ہے، جو دونوں کے معاملے میں روا رکھے جارہے ہیں ۔ پاکستان اور مسلمان حکمرانوں نے عافیہ کے بارے میں دوٹوک بات ہی نہیں کی جبکہ آسیہ کے بارے میں امریکا، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور پوپ دوٹوک بات کر رہے ہیں ۔ دونوں خواتین کے مقدمات بھی بالکل مختلف ہیں آسیہ کے خلاف الزامات کھلی عدالت میں عائد کیے گئے ہیں پاکستان کے آئین میں موجود قانون کے تحت مقدمہ چلا اور کھلی عدالت میں اس پر توہین رسالت کا الزام ثابت ہوا اور اس کے بعد اس کو سزا سنائی گئی ۔ جبکہ عافیہ پر بند عدالت میں امریکی آئین سے ماوراء قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت بند تھی سماعت کے دوران کوئی میڈیا، کوئی فرد داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس عدالت کے جج نے سماعت کے آغاز میں ہی عافیہ کو مجرم قرار دے کر اسے سزائے موت کا مستحق قرار دے دیا تھا پھر سب سے بڑا تماشا یہ ہے کہ عافیہ پر الزام ثابت نہیں ہو سکا لیکن پھر بھی اسے 86 برس کی سزا سنا دی گئی ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو جب سابق سٹی ناظم کراچی نعمت اللہ خان کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ کے لئے اپیل بھیجی گئی تو آٹومیٹک جواب دینے والے نظام نے درخواست ملنے کی تصدیق کی اور کہا کہ ابھی پہلے سے بہت سے امور زیر غور ہیں آپ کی درخواست پر بعد میں غور کیا جائے گا۔ لیکن آسیہ مسیح کا
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتؐ
معاملہ عافیہ کے بارے میں نعمت اللہ خان کے خط کے بہت بعد کا ہے تو اس کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کو کیسے فرصت مل گئی ..... یہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دوغلے پن اور دوغلی پالیسی کی کھلی عکاسی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل پاکستان کے قانون کو تبدیل کرنے کی بات کررہی ہے۔ پوپ بینی ڈکٹ آسیہ کی رہائی کی بات کر رہے ہیں انہیں عافیہ پر ہونے والے مظالم اور اس کی رہائی کی فکر کیوں نہیں ہوئی۔ پوپ عافیہ کی رہائی کے لیے بھی امریکی حکام کو خط لکھیں اور امریکا..... اس نے انتہا کر دی ایک طرف گزشتہ 8 سال سے ایک عورت ڈاکٹر عافیہ پر مظالم کیے جا رہے ہیں بے انتہا ہولناک جیل میں ڈال رکھا ہے۔ پورا مقدمہ مشتبہ ، سماعت ، جج وکیل سب مشتبہ اور بڑی ڈھٹائی سے پاکستان سے توہین رسالت کی مرتکب خاتون کو امریکا میں رہائش کی پیشکش کی جارہی ہے۔ ہمارے ملک کے بڑے صوبے کا گورنر اس کی سزا معاف کرنے کی باتیں کر رہا ہے۔ ویسے تو کسی مقدمہ میں اگر عدالت نے سزا دے دی ہے تو یا تو عدالت سے رجوع کیا جائے یا اگر قتل یا کسی کے حق مارنے کا مقدمہ ہے تو متاثرہ فریق سے معافی مانگی جائے یہ حق تو سربراہ حکومت کو بھی یہ حاصل نہیں کہ وہ کسی کے قتل کی سزا معاف کر دے اور آقائے دو جہاں آخری نبیؐ کی ذات اقدس پر کیچڑ اچھالنا توہین کرنا اور اس کی سزا معاف کرانے کی کوشش کرنا یہ اختیار تو کسی انسان کو نہیں ہے خواہ وہ کسی اسلامی حکومت کا سربراہ ہو یا امیرالمومنین ہو۔
افسوسناک امر تو یہ ہے کہ ایک طرف ایک حافظہ قرآن ہے۔ اللہ کے کلام کو اپنے دل میں محفوظ کر رکھا ہے۔ اس کے ساتھ اب تک جو سلوک ہوا اس سے ثابت ہوا کہ عافیہ کو محض مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان حکمران ڈاکٹر عافیہ کی سزا کے حوالے سے منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔ آسیہ مسیح
کے لیے تو مغر کا قانون ہے پاکستان کے ہیں۔ جبکہ ا غیر حقیقی وغیر ادارے بنا کے قانون بلکہ براہ راس رویہ ختم کر
سٹی انٹرنیشنل کو کیسے ٹی انٹرنیشنل پاکستان ہیں انہیں عافیہ پر یکی حکام کو خط لکھیں لم کیے جارہے ہیں بڑی ڈھٹائی سے ہمارے ملک کے الت نے سزا دے ق سے معافی مانگی ئے دو جہاں آخری کسی انسان کو نہیں
محفوظ کر رکھا ہے۔ ہی ہے۔ پھر کیا ہیں۔ آسیہ مسیح
کے لیے تو مغرب نے ایکا کر لیا ہے۔ سب مختلف انداز سے ایک ہی بات کر رہے ہیں سب کا نشانہ ناموس رسالت کا قانون ہے۔ سب کی خواہش ہے کہ اس قانون ہی کو سرے سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ ناموس رسالت کا قانون پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کے سینکڑوں نمائندوں نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا لیکن اس کو ختم کرانے کے درپے ہیں۔ جبکہ امریکی عدالتی ڈرامے میں عافیہ کے ساتھ غیر انسانی سلوک، غیر انسانی مقدمہ، غیر حقیقی الزامات اور غیر حقیقی و غیر منطقی سزائیں کون سے قانون کے تحت دی گئی ہیں۔ دنیا نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کے ادارے بنا رکھے ہیں۔ عالم اسلام نے ایسا کوئی ادارہ نہیں بنایا جو ایسے ڈرامائی مقدمات کا آپریشن کرے اور اس قسم کے قانون کے خاتمہ کا مطالبہ کرے۔ ہماری خواہش اور درخواست ہے اپنے حکمرانوں سے کہ وہ بیانات نہ دیں بلکہ براہ راست مغرب سے بات کریں۔ امریکا سے کہیں وہ عافیہ کو رہا کرے۔ قانون تو وہاں تھا ہی نہیں غیر انسانی رویہ ختم کرنے کا مطالبہ کریں۔ پاکستانی قوم بھی رسمی کارروائیاں نہ کرے بلکہ عافیہ سے تعلق کا اظہار کرے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت، کراچی 24.11.2010
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالتﷺ
آسیہ مسیح کیس کی آڑ میں اسلامی واقعات کے خاتمے کی مہم
تحریر: شوکت علی
مغرب نے ایک لمبے عرصے سے ملت اسلامیہ کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ وہ نہ صرف جدید ترین اسلحے سے مسلمانوں پر حملہ آور ہے۔ بلکہ میڈیا کے خطرناک ترین وار سے بھی مسلم ممالک کو مسلسل ہزیمت پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے.... جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہے۔ مغرب اور اس کے حواریوں نے جتنا نقصان میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کو پہنچایا ہے اتنا شاید ہی جنگ سے مسلمانوں کا نقصان ہوا ہو۔
میڈیا کے زہریلے اور دور رس نتائج نے مسلم امہ کو بلبلا کر رکھ دیا ہے، اور یہ وہ میٹھا وار ہے جو ہم بآسانی سہہ لیتے ہیں۔ میڈیا کی جنگ کے مقابلے میں بندوق کی جنگ کوئی معنی نہیں رکھتی.... یہ وہ ناسور ہے کہ انسان کے ختم ہونے پر ہی اس کی ہلاکت آفرینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہودیوں اور ہندوؤں نے فلمی صنعت پر قبضہ کر کے نہ صرف کروڑوں روپے و ڈالر کے خرچ سے ایسی فلمیں تیار کیں جن میں اسلام اور مسلمانوں کو غیر محسوس طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے، بلکہ ان فلموں کو عیسائی، یہودی، ہندو اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سمیت مسلمان بھی بڑے ذوق وشوق کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد مغربی دنیا نے جو منصوبے اپنے ایجنڈے میں رکھے تھے ان کی طرف امریکن کیتھولک چرچ کی ایک انجمن کے صدر ”مارشل بولڈاون“ نے اپنی ایک تقریر جو اُنہوں نے انجمن کے دوسرے سالانہ اجلاس 1941ء میں کی تھی، میں
اشارہ کرتے مختلف عیسائی مغرب میں ”خرطوم“ بنا کر پیش کیا فلم ”دریائے زولٹا گورڈو ڈان شارپ کی شخصیت صورت میں ہیرو کا رول طرح دکھائے اسلا کے لیے ا ”اسپیشل
ف جدید ترین اسلحے ہزیمت پہنچانے کی نے جتنا نقصان میڈیا
ہے جو ہم بآسانی سہہ ہے کہ انسان کے ختم ت پر قبضہ کر کے نہ لو غیر محسوس طریقے سمیت مسلمان بھی ت کے بعد مغربی انجمن کے صدر میں کی تھی، میں
اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”مغرب اسلام کو صرف موجودہ تمدن کے لیے ہی خطرناک نہیں تصور کرتا بلکہ عالم مسیحیت اور مختلف عیسائی فرقوں کی کم از کم ہزار سال سے اس کے ساتھ نبردآزمائی چلی آرہی ہے اور یہ جنگ برابر جاری رہے گی۔“
مغرب نے اپنی اس جنگ کو ٹیلی ویژن ( کی ایجاد کے فوری بعد
تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ
دکھایا گیا، اس فلم میں عربوں کو احمق، جاہل، اجڈ، گنوار اور غلام کی حیثیت سے دکھایا گیا ہے۔۔۔ بعض عربوں کو اس انداز سے دکھایا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو نہ صرف معمولی باتوں پر قتل کر رہے ہیں بلکہ مہمانوں سے پیسوں کی وصولی کے بعد کھانا دیا جاتا ہے۔ آزادی، استقلال اور عزتِ نفس سے عربوں کو بے بہرہ دکھایا گیا ہے۔
ان واقعات کے بعد آج بھی مغرب نے میڈیا کو زندہ رکھا ہوا ہے اور اب اس میڈیا کی زندگی کا دارومدار صرف مسلم ممالک میں نافذ اسلامی قوانین ہیں جو مغرب اور مغرب پسندوں کو کسی بھی صورت میں پسند نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عرصے سے یک طرفہ مہم جاری ہے جس میں آئین اور تعزیراتِ پاکستان میں شامل اسلامی دفعات اور مذہبی قوتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سانحہ گوجرہ ہو یا مریدکے، اسلام میں اس طرح کی درندگی کی اجازت نہیں ہے۔ اسلام تو ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے، اور جنگ کی حالت میں بھی بچوں اور خواتین کو مارنے کی ممانعت ہے۔۔۔ مگر یہاں میڈیا ہو یا حکومت، کوئی بھی ان واقعات کے دوسرے پہلو پر غور کرنے کو تیار ہی نہیں۔ سب کے سب بس ایک ہی ڈگر پر چلے جا رہے ہیں اور بیرونی دُنیا میں بھی بوجوہ اس مہم کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ دراصل اس مہم میں برسوں سے جاری ایک سازش کارفرما ہے۔ 1973ء کے دستور پاکستان اور تعزیرات پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو اور سابق صدر جنرل (ر) ضیاء الحق کے ادوار میں عدالتی احکام کے نتیجے میں شامل کی گئی اسلامی دفعات پر دُنیائے کفر روزِ اوّل سے سخت نالاں ہے۔ ان اسلامی دفعات کو ختم کرنے کے لیے اب تک بڑی کوششیں کی گئیں مگر کسی حکمران میں جرأت نہیں ہوئی کہ وہ ان دفعات کو کلی طور پر ختم کرسکے۔ اگرچہ 1998ء اور 2001ء میں ترامیم کے ذریعے ان قوانین کو کافی نرم کیا گیا، مگر کلی طور پر ختم کرنے کی
جرأت نواز شریف ماضی میں بھی ا نے اپنا ایندھن یا برطانیہ کی شکل ان کی وجہ سے میں اسلامی دف ”محبّانِ اسلام ان دفعات کا اسلام اسلامی احکام 295 ج ہے اُس وقت تع تحت چلتا تو دور میں ترم میں سابق م ایس ایس
بعض عربوں کو اس وں سے پیسوں کی ا ہے۔ زندگی کا دارومدار ں پسند نہیں ہیں۔ ل اسلامی دفعات ا کی اجازت نہیں میں بھی بچوں اور مرے پہلو پر غور نا بوجوہ اس مہم کو 19ء کے دستور ی عدالتی احکام ہ دفعات کو ختم عملی طور پر ختم تم کرنے کی
جرأت نواز شریف کو ہوئی اور نہ ہی لاکھ کوشش کے باوجود سابق صدر پرویز مشرف ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ماضی میں بھی ان اسلامی دفعات کے خلاف مہم کے لیے سانحہ گوجرہ کی طرح کئی بے گناہ انسانوں کو سازشی عناصر نے اپنا ایندھن بنایا۔ اسلام دشمن قوتیں این جی اوز کی شکل میں ہوں یا قادیانیت کی شکل میں، امریکا کی شکل میں ہوں یا برطانیہ کی شکل میں، یا کسی آستین کے سانپ کی صورت میں.... ان کی نظر میں یہ اسلامی قوانین کھٹکتے ہیں، کیونکہ ان کی وجہ سے اسلام دشمنوں کی زبان درازیاں بند ہوگئی ہیں۔ جب سے پاکستان کے آئین اور تعزیرات پاکستان میں اسلامی دفعات شامل کی گئی ہیں تب سے اب تک بارہا ان دفعات کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ، مگر سلام ہو ”محبان اسلام“ اور ”عاشقان رسول“ کو کہ انہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے اور پوری قوم نے سراپا احتجاج بن کر ان دفعات کا دفاع کیا۔
اسلام دشمن قوتوں کا اصل نشانہ غیر مسلموں اور قادیانیت کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 260 اور اسلامی احکام کے حوالے سے شامل دیگر آرٹیکلز اور تعزیرات پاکستان کا آرٹیکل 295، 295 الف، 295 ب اور 295 ج ہے۔ آرٹیکل 295 الف میں کسی مذہب یا مذہبی اعتقادات کی توہین پر سزا ہے۔ جب یہ قانون بنا تھا اُس وقت تعزیرات پاکستان کے آرٹیکل 295 کے مرتکب شخص کے خلاف مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت چلتا تھا۔ مگر بیرونی دباؤ اور آستین کے سانپوں کی کوشش سے 1998ء میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں ترمیم کر کے ان مقدمات کو انسداد دہشت گردی ایکٹ سے عام عدالتوں میں منتقل کر دیا گیا۔ 2001ء میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں ایک اور ترمیم کے ذریعے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ایس ایس پی کے درجے کے افسر کی ابتدائی تحقیقات اور اجازت لازمی قرار دی گئی اور وجہ یہ بیان کی گئی کہ لوگ
محمد رسول اللہ تحفظ ناموس رسالتﷺ
وں کی آنکھوں میں لے اِس کا کام تمام کر طرف اشارہ کیا آپ نے ے اسے حارث دکھایا تو انہوں کہا جبریل امین نے کہا میں
ے تھے الٰہی جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تم ڑھ گئے تو عذاب خداوندی کے مستحق ٹھہرو
بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی سے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالتﷺ
اس کو غلط طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ حالانکہ اگر کوئی شخص ان قوانین کو ناجائز طور پر استعمال کر رہا تھا تو اس کے خلاف کاروائی کے لئے کوئی راہ نکالی جاتی ، نہ کہ قانون ہی کو تبدیل کیا جائے۔ تعزیرات پاکستان کے آرٹیکل 295 کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 238 اور 260 کے ذریعے تحفظ حاصل ہے، جبکہ قادیانیت کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 260 کی مختلف ذیلی دفعات واضح ہیں۔ تعزیرات پاکستان کے آرٹیکل 295۔ب میں قرآن پاک کی توہین کی سزا ہے، جبکہ تعزیرات پاکستان کے آرٹیکل 295۔ج میں توہین رسالت کی سزا درج ہے۔ یہی وہ آرٹیکل ہے جس سے اسلام دشمن اور شاتمان رسول خوفزدہ ہیں۔ پاکستان میں توہین رسالت کا قانون فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے دور میں نافذ کیا گیا تھا۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295/C کے تحت توہین رسالت کے جرم کی سزا موت ہے۔ توہین رسالت کے الزام کا سامنا کرنے والے 10 کے قریب افراد کو عدالتی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے قتل کیا جا چکا ہے جبکہ متعدد جان بچانے کے لیے جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کو متنازعہ قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عموماً اس کا غلط استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا زیادہ تر نشانہ اقلیتیں بنتی ہیں۔ تمام اسلامی دفعات کے خاتمے کے لیے آئے دن اسلام دشمن قوتیں کوئی نہ کوئی حربہ استعمال کرتی ہیں۔ اگر سانحہ گوجرہ اور مرید کے کی تحقیقات غیر جانبدارانہ ہوں تو ان واقعات کے پس پردہ یہی اسباب نظر آئیں گے، کیونکہ ان واقعات کے بعد بیرونی اور اندرونی اسلام دشمن عناصر بالخصوص این جی اوز کی جانب سے آئین اور تعزیرات پاکستان سے اسلامی دفعات کے خاتمے کے لیے بھرپور مہم شروع کی گئی جس کا بھر پور ساتھ میڈیا کے بعض عناصر اور بیرونی قوتیں دے رہی ہیں۔ اور شاید یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہی لوگ ان سانحات کے اصل ذمہ دار ہیں۔ جبکہ دُنیا کے تمام ممالک میں اس قسم کے قوانین موجود ہیں،
اسرائیل میں میں نہیں بلکہ تحت کچھ افر ہے، تو باقی ا جھانک کر ہوا ہے۔ کی برطانیہ میں ”شیطانی آ توہین مسیح وزیر قانون توہین مسیح لارڈز۔ لکھا کہ ب توہین مسیح لاگو کرنے کردی
ت کی عظمت کی نے ان کا کام تمام کر کی طرف اشارہ کیا آپ نے مگر اسے حارث دکھایا تو انہوں نے کہا جبریل امین نے کہا میں نے
استعمال کر رہا تھا تو اس کے ۔ تعزیرات پاکستان کے ہے، جبکہ قادیانیت کے ستان کے آرٹیکل 295۔ب توہین رسالت کی سزا درج ستان میں توہین رسالت کا دفعہ 295/C کے تحت لیے 10 کے قریب افراد کو قید کی زندگی بسر کر رہے اس کا غلط استعمال کیا آئے دن اسلام دشمن جانبدارانہ ہوں تو ان غربی اسلام دشمن عناصر ننے کے لیے بھر پور مہم شاید یہ کہنا بے جا نہ قوانین موجود ہیں،
کہ ان کی جو ان پر نازل کیا گیا ہے بدلے گئے تو عذاب خداوندی کے مستحق
یہ واضح ہوگئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی نے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
اسرائیل میں ہولوکاسٹ کے خلاف بولنے پر سزا ہے اور اسرائیل اپنے اس قانون کا اطلاق صرف اپنے ہی ملک میں نہیں بلکہ دنیا کے تمام ممالک میں کروا رہا ہے۔ اسی طرح بھارت میں بھی اس قسم کا قانون موجود ہے جس کے تحت کچھ افراد پر مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں اور سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے، تو باقی ممالک بھی اپنے اپنے مذاہب کے حوالے سے قلعوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ کے اندر جھانک کر دیکھیں تو وہ عیسائیت کے قلعے نہیں بلکہ مضبوط ترین قلعے ہیں .... سیکولرازم کا لیبل برائے نام لگا ہوا ہے۔ کسی ملک کا قانون اور وہاں کی عدالتوں کے فیصلے اس ملک کی اصل صورت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں عیسائیوں کے بعد مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ وہاں کے مسلمانوں نے سلمان رشدی کی کتاب ”شیطانی آیات (Satanic Verses) کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو درخواست دی کہ قانون توہین مسیح میں معمولی سی ترمیم کر کے تمام انبیاء کے خلاف گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے، لیکن وہاں کے وزیر قانون مسٹر جان پیٹن نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے تحریری طور پر بتلایا کہ حکومت برطانیہ قانون توہین مسیح میں کسی قسم کی ترمیم کو جائز قرار نہیں دیتی وہاں کی سب سے بڑی اور آخری عدالت ہاؤس آف لارڈز نے اس بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت برطانیہ کے موقف کو درست قرار دیا اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ برٹش لاء مذہب پر جارحانہ حملہ کو جائز قرار دیتا ہے۔ مزید برآں یہ ریمارکس بھی دیئے کہ اگر حکومت برطانیہ توہین مسیح میں اسلام کے قانون توہین رسالت کا کوئی لاء شامل بھی کر دے تو برطانیہ کی اعلیٰ عدلیہ اس قانون کو یہاں لاگو کرنے سے گریز کرے گی۔ اس فیصلے کے خلاف یورپ کی ہیومن رائٹس کورٹ نے مسلمانوں کی درخواست خارج کر دی۔
تحفظ ناموس رسالت
اس کی گستاخی کی نے اس کا کام تمام کر کی طرف اشارہ کیا آپ نے ماجرا اسے حارث دکھایا تو انہوں نے کیا جبریل امین نے کہا میں
تھا اسی جہاد کا حکم نازل ہوا اور صدقے تو عذاب خداوندی کے مستحق ٹھہرے
یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی وجہ سے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تعریضاً ہو
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
برطانیہ میں توہین مسیح تو بڑی بات ہے ، وہاں حکومت نے جناب مسیح کی ایک عقیدت مند نن ٹریسا کے بارے میں اسٹرونگرو کی فلم کو ضبط کر لیا جس میں ٹریسا کو حالت وجد میں رقص کرتے ہوئے جناب مسیح کے جسم کے مختلف حصوں کے بوسے لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا ۔
بشکریہ جسارت میگزین 28.11.2010
ان دنوں ا یہ حق چھیننے پر اس مسئلہ کی دیگر ا کرنے والوں احادیث جہاں بھی عکاس ہیں سے مروی ہے کہ مَنْ سَبَّ ”جس نے جائیں گے علامہ ابن ”اگر کرنا واجب
ہوگی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہﷺ سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی طرح آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد حکم دیا گیا ہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
مذکورہ روایت دکھاتی ہے عالموں نے کہا ہے
عقیدت مند نن ٹریا کے لئے جناب مسیح کے جسم کے
بشکریہ جسارت میگزین 28.11.2010
احادیث میں توہین رسالت کے واقعات
حافظ حسن مدنی
ان دنوں اہانتِ رسول ﷺ پر دُنیا بھر میں ایک ہنگامہ برپا ہے، اور عالم کفر اظہار رائے کی آزادی کے نام پر یہ ”حق“ چھیننے پر تلا بیٹھا ہے کہ وہ دُنیا کی مقدس و متبرک ترین شخصیت کی من مانی توہین کی اجازت حاصل کرے۔ اس مسئلہ کی دیگر تفصیلات سے قطع نظر ذیل میں ان احادیث کو ذکر کیا جاتا ہے جن میں دورِ نبویؐ میں توہین رسالتؐ کرنے والوں کے واقعات درج ہیں کہ رحمۃ للعالمینؐ نے ایسے گستاخان کے ساتھ خود کیا سلوک روا رکھا؟ یہ احادیث جہاں ایک مسلمان کے ایمان و ایقان کو تازہ کرتی ہیں، وہاں اسلام کے اہانت انبیا پر غیر متزلزل موقف کی بھی عکاس ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو اپنے نبیؐ کے حقوق پورے کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا:
مَنْ سَبَّ نَبِيًّا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابَهُ جُلِدَ
(الصارم المسلول، ص ۹۲)
”جس نے کسی نبی کو گالی دی اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے کسی صحابی کو گالی دی، اسے کوڑے مارے جائیں گے۔“
(احکام اہل الذمہ لابن قیم ۲۷۵/۱)
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: ”اگر اس حدیث کی صحت ثابت ہو جائے تو یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نبی کریمؐ کو گالی دینے والے کو قتل کرنا واجب ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے گا، نیز یہ کہ قتل اس کے لئے
تحفظ ناموس رسالتؐ
حد شرعی ہے۔‘‘
اس سلسلے میں مختلف صحابہ کرامؓ کے فرامین حسب ذیل ہیں:
حضرت ابوبکرؓ کا فرمان ہے:
لا والله ما كانت لِبَشَرٍ بَعْدَ محمد ﷺ
(سنن ابوداؤد:۴۳۶۳، صحیح) مختصراً
’’اپنی توہین کرنیوالے کو قتل کروا دینا محمدؐ کے علاوہ کسی کے لئے روا نہیں ہے۔‘‘
حضرت عمرؓ کے پاس ایک آدمی لایا گیا کہ وہ نبیؐ کو برا بھلا کہتا تھا تو فرمایا:
من سبّ الله أو سبّ أحداً من الأنبياء فاقتلوه
(الصارم المسلول: ص ۴۱۹)
’’جس نے اللہ کو یا انبیاے کرام میں سے کسی کو گالی دی تو اسے قتل کر دیا جائے۔‘‘
حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ ’’جس نے رسول اللہؐ کی توہین کی، اس کی گردن مار دی جائے۔‘‘
(مصنف عبدالرزاق: ج ۵، ص ۳۰۸)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا فرمان ہے:
أَيُّمَا مُسْلِمٍ سَبَّ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ أَوْ سَبَّ أَحَدًا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَدْ كَذَّبَ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَهِيَ رِدَّةٌ يُسْتَتَابُ فَإِنْ رَجَعَ وَإِلَّا قُتِلَ وَأَيُّمَا مُعَاهِدٍ عَانَدَ فَسَبَّ اللَّهَ أَوْ سَبَّ أَحَدًا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أَوْ جَهَرَ بِهِ فَقَدْ نَقَضَ الْعَهْدَ فَاقْتُلُوهُ
(زاد المعاد ۵ / ۲۰)
’’جس مسلمان نے اللہ یا اس کے رسول یا انبیا میں سے کسی کو گالی دی، اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی تکذیب کی، وہ مرتد سمجھا جائے گا اور اس سے توبہ کروائی جائے گی، اگر وہ رجوع کرلے تو ٹھیک، ورنہ اسے
قتل کر دیا جائے گا اور جو معاہدہ کرنے والا شخص خفیہ یا اعلانیہ، اللہ یا کسی نبی کو بُرا کہے تو اس نے وعدے کو توڑ دیا، اس لئے اسے قتل کر دو۔“
اسی حوالے سے دورِ نبویؐ کے واقعات اور ان پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردِّ عمل ملاحظہ فرمائیں:
واقعہ کعب بن اشرف:
عَنْ جَابِرٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ o قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ يَا رَسُولَ اللهِ! أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: اِئْذَنْ لِي فَلْأَقُلْ، قَالَ: قُلْ، فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ وَ ذَكَرَ مَا بَيْنَهُمَا، وَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ أَرَادَ صَدَقَةً وَ قَدْ عَنَّانَا، فَلَمَّا سَمِعَهُ، قَالَ: وَأَيْضًا، وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ قَالَ: إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ الْآنَ، وَنَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ، قَالَ: وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ تُسْلِفَنِي سَلَفًا قَالَ فَمَا تَرْهَنُنِي قَالَ: مَا تُرِيدُ قَالَ: تَرْهَنُنِي نِسَائَكُمْ. قَالَ: أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ أَنَرْهَنُكَ نِسَائَنَا قَالَ لَهُ: تَرْهَنُونِي أَوْلَادَكُمْ. قَالَ يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا، فَيُقَالُ: رُهِنَ فِي وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ وَلَكِنْ نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ . يَعْنِي السِّلَاحَ. قَالَ: نَعَمْ. وَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِالْحَارِثِ وَأَبِي عَبْسِ بْنِ حَبِيبٍ وَ عَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ قَالَ: فَجَاؤُوا فَدَعَوْهُ لَيْلًا فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ. قَالَ سُفْيَانُ قَالَ غَيْرُ عَمْرٍو: قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: إِنِّي لَأَسْمَعُ صَوْتًا، كَأَنَّهُ صَوْتُ دَمٍ قَالَ: إِنَّمَا هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَضِيعُهُ وَأَبُو نَائِلَةَ، إِنَّ الْكَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَى طَعْنَةٍ لَيْلًا لَأَجَابَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: إِنِّي إِذَا جَاءَ فَسَوفَ أَمُدُّ يَدِي إِلَى
ورت دکھانا ایمان سے کیا
تحفظ ناموس رسالت
ہوگی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہﷺ سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی سے آپؐ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
رَأْسِهِ، فَإِذَا اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَدُونَكُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا نَزَلَ، نَزَلَ وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ فَقَالُوا نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الطِّيبِ، قَالَ: نَعَمْ ، تَحْتِي فُلَانَةُ، هِيَ أَعْطَرُ نِسَاءِ الْعَرَبِ قَالَ: فَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَشُمَّ مِنْهُ. قَالَ: نَعَمْ، فَشَمَّ فَتَنَاوَلَ فَشَمَّ ثُمَّ قَالَ : أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَعُودَ قَالَ : فَاسْتَمْكَنَ مِنْ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ : دُونَكُمْ . قَالَ فَقَتَلُوهُ
(صحیح مسلم ۱۸۰۱، بخاری ۴۰۳۷)
”حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دی ہے۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپؐ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں! محمد بن مسلمہ نے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے میں اس سے کچھ بات کروں (یعنی میں اس سے مصلحت کے مطابق باتیں کروں، جن سے آپؐ کی برائی تو ہوگی، لیکن اس سے وہ میرا اعتبار کر لے گا) آپؐ نے فرمایا کہہ! (جو مصلحت ہو)۔ وہ کعب کے پاس آئے، اس سے باتیں کیں، اپنا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بیان کیا اور کہا کہ اس شخص (یعنی رسول اللہؐ) نے صدقہ لینے کا ارادہ کیا ہے اور ہمیں تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ جب کعب نے یہ سنا تو کہنے لگا: بخدا! ابھی تم کو اور تکلیف ہوگی۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: اب تو ہم نے اس کی اتباع کر لی ہے اور اس کو اس وقت تک چھوڑنا بُرا معلوم ہوتا ہے، جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لیں۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے ایک وسق یا دو وسق قرض دے دو۔ کعب نے کہا: تم کیا چیز گروی رکھو گے؟ محمد بن مسلمہ نے پوچھا: تو کیا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو میرے پاس گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: تم تو عرب میں سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
کیونکہ تم لوگ طا رکھ دیـ ابو عبس جائے محمد بـ لئے ہاتھ لگا عـ تـ ا ۔ ☆
ح فَقَالُوا نَجِدُ مِنْكَ تَأْذَنُ لِي أَنْ أَشُمَّ مِنْهُ. نْ مِنْ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ:
گا؟ اس نے اللہ اور اس ہتے ہیں کہ میں اسے قتل اس سے کچھ بات کروں ہوگی، لیکن اس سے وہ اس سے باتیں کریں، لینے کا ارادہ کیا ہے ہوگی۔ محمد بن مسلمہؓ ہے، جب تک اس دے دو۔ کعب تم اپنی عورتوں کو ہم اپنی عورتیں
کیونکہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کفر کیا ہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
کیونکر تیرے پاس گروی رکھ دیں؟ کعب نے کہا: اچھا! اپنی اولاد گروی رکھ دو۔ محمد نے کہا: ہمارے بیٹے کو لوگ طعنہ دیں گے کہ کھجور کے ایک وسق کے لئے گروی رکھا گیا تھا۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے۔ کعب نے کہا: ٹھیک ہے! پھر محمد بن مسلمہ نے اس سے وعدہ کیا کہ میں حارث ( بن اوس )، ابو عبس بن حبیب اور عباد بن بشر کو لے کر آؤں گا۔ یہ آئے اور رات کو اسے بلایا۔ جب وہ ان کی طرف جانے لگا تو اس کی بیوی نے کہا: مجھے ایسے لگتا ہے جیسے اس آواز سے خون ٹپک رہا ہو۔ کعب نے کہا واہ! یہ تو محمد بن مسلمہ اور اس کا رضاعی بھائی ابو نائلہ ہیں اور باہمت مرد کا کام یہ ہے کہ اگر رات کو بھی اسے لڑائی کے لئے بلایا جائے تو چلا آئے۔ محمد (بن مسلمہ) نے (اپنے ساتھیوں سے ) کہا کہ جب کعب آئے گا تو میں اپنا ہاتھ اس کے سر کی طرف بڑھاؤں گا اور جب وہ میری گرفت میں آ جائے تو تم اپنا کام کر جانا۔ پھر کعب خوشبو لگائے ہوئے آیا تو اُنہوں نے کہا: تم سے کتنی عمدہ خوشبو آ رہی ہے۔ کعب نے کہا: ہاں! میرے ہاں فلاں عورت ہے جو عرب کی سب عورتوں سے زیادہ معطر رہتی ہے۔ محمد بن مسلمہ نے کہا اگر تم اجازت دو تو میں تمہارا سر سونگھ لوں ۔ کعب نے کہا: ہاں اجازت ہے! محمد نے اس کا سر سونگھا، پھر پکڑا پھر سونگھا پھر کہا: اگر اجازت دو تو دوبارہ سونگھ لوں؟ اور اسے اچھی طرح تھام لیا پھر اپنے ساتھیوں سے کہا: اس کا کام تمام کردو! اُنہوں نے اسے قتل کردیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔‘‘
٭ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
تحفظ ناموس رسالت
یں دعاوی و کمال قاضی نے کہا ہے
ہو گی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کیا چاہے اس کا یہ قول صراحۃً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالتؐ
إِبْنَانِ، وَكَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ تَسُبُّهُ فَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ وَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، ذَكَرَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَعَتْ فِيهِ، فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِى بَطْنِهَا فَاتَّكَأْتُ عَلَيْهِ فَقَتَلْتُهَا، فَأَصْبَحْتُ قَتِيلًا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَ النَّاسَ وَقَالَ: أَنْشُدُ اللهَ: رَجُلًا لِي عَلَيْهِ حَقٌّ فَعَلَ مَا فَعَلَ إِلَّا قَامَ فَأَقْبَلَ الْأَعْمَى يَتَدَلْدَلُ فَقَالَ يَارَسُولَ اللهِ أَنَا صَاحِبُهَا كَانَتْ أُمُّ وَلَدِي، وَكَانَتْ بِي لَطِيفَةً رَفِيقَةً وَلِي مِنْهَا إِبْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ، وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِيكَ وَتَشْتُمُكَ فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي أَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ فَلَمَّا كَانَتِ الْبَارِحَةُ ذَكَرَتْكَ فَوَقَعَتْ فِيكَ قُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِى بَطْنِهَا فَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا اشْهَدُوا إِنَّ دَمَهَا هَدَرٌ
”حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک نابینا شخص تھا، اس کی ایک (امّ ولد ) لونڈی تھی جس سے اس کے دو بچے تھے، وہ اکثر اللہ کے رسول ﷺ کو بُرا بھلا کہتی۔ نابینا اسے ڈانٹتا لیکن وہ نہ مانتی، منع کرتا تو وہ باز نہ آتی۔ ایک رات اس نے نبی کریم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے بُرا بھلا کہا، وہ شخص کہتا ہے: مجھ سے صبر نہ ہو سکا، میں نے خنجر اٹھایا اور اس کے پیٹ میں دھنسا دیا، وہ مر گئی۔ صبح جب وہ مردہ پائی گئی تو لوگوں نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا۔ آپؐ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: میں اسے خدا کی قسم دیتا ہوں جس پر میرا حق ہے (کہ وہ میری اطاعت کرے) جس نے یہ کام کیا ہے وہ اٹھ
کھڑا ہو، لونڈی تھی وہ اکثر آ کیا اور آ فرمایا: عمیر بن اُمیّہ عَنْ عُ النَّبِيَّ فَقَامَ مُشْرِ أَقْتُلُه إِلَى ”ح انھوں لئے
وَيَنْهَاهَا فَلَا أَنْ قُمْتُ إِلَى ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ قَبْلَ الْأَعْمَى فَقَةٌ وَلِيَ مِنْهَا هَا فَلَا تَنْتَهِي إِلَى الْمِغْوَلِ وا إِنَّ دَمَهَا
اس کی ایک نابینا سے ہوئے بُرا بھلا وہ مرگئی۔ صبح فرمایا: میں ہے وہ اٹھ
آتا کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کوئی اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کیا جائے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
کھڑا ہو، یہ سن کر وہ نابینا گرتا پڑتا آگے بڑھا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ میرا کام ہے، یہ عورت میری لونڈی تھی اور مجھ پر بہت مہربان اور میری رفیق تھی۔ اس کے بطن سے میرے دو ہیرے جیسے بچے ہیں، لیکن وہ اکثر آپ کو بُرا کہتی تھی، میں منع کرتا تو نہ مانتی، جھڑکتا تو بھی نہ سنتی ، آخر گزشتہ رات اس نے آپ کا تذکرہ کیا اور آپ کی گستاخی کی، میں نے خنجر اٹھایا اور اس کے پیٹ میں مارا، یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ رسول اللہ نے فرمایا: سب لوگو گواہ رہو، اس لونڈی کا خون رائیگاں ہے۔‘‘
(صحیح سنن نسائی: ۴۰۷۴، سنن ابو داود: ۴۳۶۱ ’صحیح‘)
عمیر بن اُمیہ کا اپنی گستاخ بہن کو قتل کرنا:
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ أُخْتٌ فَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آذَتْهُ فِيهِ وَشَتَمَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مُشْرِكَةً فَاشْتَمَلَ لَهَا يَوْمًا عَلَى السَّيْفِ ثُمَّ أَتَاهَا فَوَضَعَهُ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا فَقَامَ بَنُوهَا فَصَاحُوا وَقَالُوا قَدْ عَلِمْنَا مَنْ قَتَلَهَا أَفَنُقْتَلُ أُمَّنَا وَ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَهُمْ آبَاءٌ وَأُمَّهَاتٌ مُشْرِكُونَ فَلَمَّا خَافَ عُمَيْرٌ أَنْ يَقْتُلُوا غَيْرَ قَاتِلِهَا ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: أَقَتَلْتَ أُخْتَكَ o قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: إِنَّهَا كَانَتْ تُؤْذِينِي فِيكَ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِيهَا فَسَأَلَهُمْ، فَسَمُّوا غَيْرَ قَاتِلِهَا، فَأَخْبَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْدَرَ دَمَهَا
”حضرت عمیر بن اُمیہ کی ایک بہن تھی۔ جب یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کے لئے نکلتے تو یہ انہیں آپ کے بارے میں اذیت دیتی اور نبی کریم کو گالی دیتی، وہ مشرک تھی۔ ایک دن عمیر نے اس کے لئے تلوار لپیٹ کر ساتھ اٹھالی اور اس کے پاس آئے اور اس سے قتل کر دیا۔ اس عورت کے بیٹے کھڑے
تحفظ ناموس رسالت
اور کہا کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی وجہ کو ثابت کیا اور آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد تو اس نے کفر کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
ہو گئے اور چیخنے لگے اور کہنے لگے: ہمیں معلوم ہے، اسے کس نے قتل کیا؟ یہ کیسے ہوا کہ ہماری ماں قتل کر دی گئی جبکہ ان لوگوں کے ماں باپ بھی مشرک ہیں؟ جب عمیرؓ کو خطرہ لاحق ہوا کہ وہ کہیں اس کے قاتل کی بجائے کسی دوسرے کو قتل نہ کر دیں تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور سارے معاملے کی خبر دی، آپؐ نے فرمایا: کیا تو نے اپنی بہن کو قتل کر دیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! نبی کریم ﷺ نے پوچھا: تو نے اسے کیوں قتل کیا ہے؟ عمیرؓ نے جواب دیا: وہ آپ کو بُرا بھلا کہہ کر مجھے تکلیف دیتی تھی۔ آپؐ نے اس عورت کے بیٹوں کی طرف پیغام بھیج کر، ان سے قاتلوں کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کسی اور کا نام لیا۔ آپؐ نے انہیں صحیح قاتل کے بارے میں بتایا اور اس عورت کا خون رائیگاں قرار دیا۔
(مجمع الزوائد ۲۶۰/۶، رواہ ثقات)
بنو خطمہ کی گستاخ عورت کا قتل:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَصْمَاءَ بِنْتَ مَرْوَانَ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ كَانَتْ تَحْتَ يَزِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حُصَيْنِ الْخَطْمِي وَكَانَتْ تُؤْذِي النَّبِيَّ ﷺ وَتَعِيبُ الْإِسْلَامَ وَتُحَرِّضُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَقَالَتْ: فَبِئْسَتْ بَنِي مَالِكٍ وَالنَّبِيتِ وَعَوْفٍ وَبِئْسَتْ بَنِي الْخَزْرَجِ أَطَعْتُمْ أَتَاوَى مِنْ غَيْرِكُمْ فَلَا مِنْ مُرَادٍ وَلَا مُذْحِجٍ تَرْجُونَهُ بَعْدَ قَتْلِ الرُّؤُسِ كَمَا تُرْتَجَى مِرَقُ الْمُنْضَجِ وَقَالَ عُمَيْرُ بْنُ عَدِي الْخَطْمِي: حِينَ بَلَغَ قَوْلُهَا وَتَحْرِيضُهَا اللَّهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ نَذْرٌ لَئِنْ رَدَدْتَ رَسُولَ اللهِ ﷺ إِلَى الْمَدِينَةِ لَأَقْتُلَنَّهَا وَرَسُولُ اللهِ ﷺ بِبَدْرٍ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنْ بَدْرٍ جَاءَ عُمَيْرُ بْنُ عَدِي فِي جَوفِ اللَّيْلِ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا
فِي بَيْتِهِ الصَّبِيَّ حَتَّى بِنْتُ مَرْ الله ﷺ فَإِنَّ أَوْ مِنْ حَ عُمَيْرٍ فَقَالَ بَنِيهِمْ قَتَلْتَ قَالَ وَكَا ص خَا
ی ماں قتل کر دی گئی اس کے قاتل کی خبر دی، آپؐ نے نے اسے کیوں قتل عورت کے بیٹوں کی آپؐ نے انہیں صحیح
بِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ عِيبَ الْإِسْلَامَ مْ وَتَسُبَّ بَنِي لرُّؤُسَ كَمَا بْضُهَا اللَّهُمَّ صلى الله عَلَيْهِ بِبَدْرٍ عْمَلُ عَلَيْهَا
اور ہر وہ شخص جس نے رسول اللہﷺ کی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد تو مارا جائے اس کا یہ قول صراحۃً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
فِي بَيْتِهَا وَحَوْلَهَا نَفَرٌ مِنْ وُلْدِهَا نِيَامٌ مِنْهُمْ مَنْ تُرْضِعُهُ فِي صَدْرِهَا فَحَسَّهَا بِيَدِهِ فَوَجَدَ الصَّبِيَّ تُرْضِعُهُ فَنَحَّاهُ عَنْهَا ثُمَّ وَضَعَ سَيْفَهُ عَلَى صَدْرِهَا حَتَّى أَنْفَذَهُ مِنْ ظَهْرِهَا ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ ﷺ نَظَرَ إِلَى عُمَيْرٍ فَقَالَ: أَقَتَلْتَ بِنْتَ مَرْوَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ. بِأَبِى أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ وَخَشِيَ عُمَيْرٌ أَنْ يَكُونَ افْتَاتَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ بِقَتْلِهَا فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: لَا يَنْتَطِحُ فِيهَا عَنْزَانِ فَإِنَّ أَوَّلَ مَا سَمِعْتُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ عُمَيْرٌ: فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ ﷺ إِلَى مَنْ حَوْلَهُ فَقَالَ: إِذَا أَحْبَبْتُمْ أَنْ تَنْظُرُوا إِلَى رَجُلٍ نَصَرَ اللهَ وَرَسُولَهُ بِالْغَيْبِ فَانْظُرُوا إِلَى عُمَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْأَعْمَى الَّذِي يَسْرِي فِي طَاعَةِ اللهِ فَقَالَ: لَا تَقُلِ الْأَعْمَى، وَلَكِنَّهُ الْبَصِيرُ. فَلَمَّا رَجَعَ عُمَيْرٌ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَجَدَ بَنِيهَا فِي جَمَاعَةٍ يَدْفِنُونَهَا فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ حِينَ رَأَوْهُ مُقْبِلًا مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالُوا: يَا عُمَيْرُ أَنْتَ قَتَلْتَهَا فَقَالَ: نَعَمْ. فَكِيدُونِ جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ قُلْتُمْ بِأَجْمَعِكُمْ مَا قَالَتْ لَضَرَبْتُكُمْ بِسَيْفِي هَذَا حَتَّى أَمُوتَ أَوْ أَقْتُلَكُمْ فَيَوْمَئِذٍ ظَهَرَ الْإِسْلَامُ فِي بَنِي خَطْمَةَ وَكَانَ مِنْهُمْ رِجَالٌ يَسْتَخْفُونَ بِالْإِسْلَامِ خَوْفًا مِنْ قَوْمِهِمْ
”حضرت عبداللہ بن حارث بن فضل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ عصمہ بنت مروان جو بنو امیہ بن زید خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور یزید بن زید بن حصین خطمی کی بیوی تھی ۔ یہ نبی ﷺ کو ایذا پہنچاتی ، اسلام پر
تحفظ ناموس رسالت
عذر نہ دکھایا تو علیہم کے کسی ایک
کی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہِ عیب میں سے کسی سے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کیا ہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً کفر ہوگا
تحفظ ناموس رسالت
عیب جوئی کرتی اور لوگوں کو نبی کریم ﷺ کے خلاف ابھارتی تھی اور اکثر یہ اشعار پڑھا کرتی تھی: ”بنو مالک، نبیت اور عوف کی سرین اور بنو خزرج کی سرین کی تم پیروی کرتے ہو۔ کیا وہ تمہیں دوسرے سے پناہ دیتی ہے، جبکہ نہ اس سے مراد پوری ہوتی ہے اور نہ بچہ جنم لیتا ہے۔ تم سروں کے کٹنے کے بعد اس سے ایسے ہی امید کرتے ہو جیسے گوشت بھننے کے لئے لگائی گئی سلاخ سے شوربے کی اُمید کی جائے۔“ عمیر بن عدی خطمی کہتے ہیں: جب اس عورت کے یہ اشعار اور نبی کریم ﷺ کے خلاف ترغیب مجھ تک پہنچی تو میں نے نذر مان لی کہ اے اللہ ! اگر تو نے اپنے رسولؐ کو مدینہ لوٹا دیا تو میں اس عورت کو ضرور قتل کروں گا۔ اس روز رسول اللہ ﷺ بدر میں تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ واپس آئے تو عمیر بن عدیؓ رات کی تاریکی میں اس کے گھر میں داخل ہوگئے۔ اس وقت اس کے ارد گرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے جن میں سے ایک کو وہ اپنا دودھ پلا رہی تھی۔ جب اس نے اپنے ہاتھ سے چھو کر دیکھا تو اس کو لگا کہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیر نے بچہ اس سے علیحدہ کیا اور اپنی تلوار اس کے سینے پر رکھی اور اس کے پیٹ کے پار اتار دی۔ پھر وہ وہاں سے نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے اور عمیر کی طرف دیکھا تو فرمایا: کیا تو نے مروان کی بیٹی کو قتل کر دیا ہے؟ عمیر نے جواب دیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ عمیر کو ڈر محسوس ہوا کہ کہیں اس کے قتل کی وجہ سے اللہ کے رسول ناراض نہ ہوں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس کا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ محاورہ پہلی مرتبہ سنا تھا۔ عمیر کہتے ہیں: پھر نبی کریم
صلی اللہ علیہ جس نے غیر نابینے کی طر ہے۔ عمیرؓ ساتھ مل کر ا طرف متوجہ خلاف تدبی بات کہو جو میں اسلام (ال عبد اللہ
میں اسے مشرکین سناؤ ق
ہوگی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی ان کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد تو کہا جائے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر تم کسی ایسے آدمی کو دیکھنا پسند کرو جس نے غیب میں اللہ اور اس کے رسول کی نصرت کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو۔ عمر بن خطاب نے کہا کہ اس نابینے کی طرف دیکھو جو کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں چلتا ہے، آپ نے فرمایا: اسے نابینا مت کہو یہ تو بینا ہے۔ عمیر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے واپس لوٹے تو اپنے بیٹوں کو لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر اسے دفن کرتے ہوئے پایا، جب ان لوگوں نے انہیں مدینہ کی جانب سے آتے ہوئے دیکھا تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: اے عمیر! کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟ عمیر نے جواب دیا: ہاں! چاہو تو تم سب میرے خلاف تدبیر کر لو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔ اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم سب بھی وہی بات کہو جو اس نے کہی تھی تو میں تم سب کو اپنی تلوار سے قتل کردوں گا یا خود مرجاؤں گا۔ یہی وہ دن تھا کہ بنو خطمہ قبیلے میں اسلام غالب ہوا ورنہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو اپنی قوم کے ڈر سے اسلام کو حقیر سمجھتے تھے۔“
(المغازی للواقدی ۱/ ۱۷۳،۱۷۴؛ الصارم المسلول علی شاتم الرسول ۹۴ ، ۹۵ ، مجمع الزوائد : ۶ / ۲۶۰)
عبداللہ بن خطل اور عبداللہ بن ابی سرح کا واقعہ:
یہ شخص پہلے مسلمان ہو گیا تھا ، آپ نے اسے عامل زکوٰۃ بنا کر بھیجا تو صدقات وصول کرنے کے بعد راستے میں اپنے غلام سے ناراض ہو کر اسے قتل کر دیا اور خود مرتد ہو گیا۔ صدقات کے اونٹ ساتھ لے گیا اور جا کر مشرکین مکہ سے مل گیا۔ یہ نبی کریم کی شان میں ہجو گوئی کیا کرتا اور اپنی دولونڈیوں کو کہتا کہ ان اشعار کو گا کر لوگوں کو سناؤ۔ قرتنی اور قریبہ اس کی لونڈیوں کے نام تھے۔ جن میں سے ایک ماری گئی اور دوسری نے امان کی درخواست کی
تحفظ ناموس رسالت
جسے امان دے دی گئی۔ (الصارم المسلول: ۱۴۲، زرقانی شرح موطا: ۳۱۴/۳، ۳۱۵، المغازی: ۸۶۰/۳، ۸۵۹)
جب مکہ مکرمہ فتح ہو گیا تو نبی کریم ﷺ نے چار اشخاص اور دو عورتوں کے ماسوا سب کو امان دے دی۔
مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا:
اقتلوهم وإن وجدتموهم متعلقين بأستار الكعبة : عكرمة بن أبي جهل وعبد الله بن خطل ومقيس بن صبابة وعبد الله بن سعد بن أبي السرح فاستبق إليه سعيد بن حريث وعمار بن ياسر فسبق سعيد عمارًا وكان أشب الرجلين فقتله..... وأما عبد الله بن أبي سرح فإنه اختبأ عند عثمان بن عفان فلما دعا رسول الله ﷺ الناس إلى البيعة جاء به حتى أوقفه على النبي. قال: يا رسول الله بايع عبد الله. قال فرفع رأسه فنظر إليه ثلاثًا كل ذلك يأبى. فبايعه بعد ثلاث ثم أقبل على أصحابه فقال: أما كان منكم رجل رشيد يقوم إلى هذا حيث رآني كففت يدي عن بيعته فيقتله فقالوا: وما يدرينا يا رسول الله ! ما في نفسك هلا أومأت إلينا بعينك؟ قال إنه لا ينبغي لنبي أن يكون له خائنة أعين o
(سنن نسائی: ۴۰۶۷، بخاری: ۴۲۶۸)
”ان افراد کو جہاں بھی پاؤ حتیٰ کہ کعبہ کے پردوں سے لٹکے ہوئے بھی ملیں تو ان کو قتل کر دو: عکرمہ، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔ چنانچہ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر نے عبداللہ بن خطل کو (بیت اللہ کے پردوں پر لٹکا) پا لیا تو سعید نے زیادہ جوان ہونے کی وجہ سے عمار پر
سارت دکھا یا تو لی لیکن لے کیا
کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی یا آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد لازماً سچا ہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
(۸۵۹) سوا سب کو امان دے دی۔ أبي جهل وعبد الله بن ن إليه سعيد بن حريث ... وأما عبد الله بن أبي ناس إلى البيعة جاء به فع رأسه فنظر إليه ثلاثًا مان منكم رجل رشيد رينا يا رسول الله ! ما له خائنة أعين ٥ ی کو قتل کر دو: عکرمہ، ث اور عمار بن یاسر ہو کی وجہ سے عمار پر
سبقت کر کے اسے قتل کر دیا...... جبکہ عبداللہ بن سرح نے حضرت عثمانؓ کے پاس پناہ لے لی۔ پھر جب نبی کریمؐ نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو حضرت عثمانؓ نے عبداللہ کو وہاں پیش کر دیا اور نبی کریمؐ کو سفارش کی کہ اس سے بیعت فرما لیجئے۔ آپؐ نے تین بار سر اٹھا کر عبداللہ بن سرح کو دیکھا لیکن اس کا اسلام قبول نہ کیا، آخر کار تیسری بار اس سے بیعت کر لی۔ پھر اپنے صحابہؓ سے گویا ہوئے: کیا تم میں کوئی سمجھدار شخص نہیں تھا کہ جب میں عبداللہ کی بیعت قبول کرنے سے انکار کر رہا تھا تو وہ عبداللہ کو قتل کر دیتا؟ صحابہؓ نے جواب دیا: ہمیں کیسے اس بات کا پتہ چلتا (کہ اس کو قتل کر دیا جائے)؟ آپؐ ہمیں آنکھ سے ہی اشارہ فرما دیتے تو نبی کریمؐ نے جواب دیا کہ کسی نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ آنکھوں سے اشارے کرے۔“
فتح الباری میں عبداللہ بن ابی سرح کا جرم ارتداد ذکر کیا گیا ہے۔ (۹۵/۱۲) جبکہ بعض دیگر کتب سیرت میں اس کو توہین رسالت کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔
بعض دیگر واقعات:
عن البراء بن عازب قال بعث رسول الله إلى أبي رافع اليهودي رجالا من الأنصار فأمّر عليهم عبد الله بن عتيك وكان أبو رافع يؤذي رسول الله ويعين عليه
(صحیح بخاری:۴۰۳۹)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع یہودی کو قتل کرنے کے لئے چند انصار کا انتخاب فرمایا جن پر عبداللہ بن عتیکؓ کو امیر مقرر کیا گیا۔ اور یہ ابو رافع رسول اللہ ﷺ کو ایذا دیا کرتا تھا اور آپ کے خلاف
تحفظ ناموس رسالت
لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ (مزید تفصیل دیکھیں: فتح الباری : ۳۴۲/۷،۳۴۳ ، تاریخ طبری : ۶/۴)
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بِلْقَيْنِ : أَنَّ امْرَأَةً سَبَّتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَتَلَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ
(السنن الکبری از امام بیہقی ۲۰۳/۸)
”حضرت عروہ بن محمد بلقین کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی کریمؐ کو بُرا بھلا کہا تو حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسے قتل کر دیا۔“
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بِلْقَيْنِ أَوْ قَالَ أَلْفَيْنِ: أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَسُبُّ النَّبِيَّ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ مَنْ يَكْفِيْنِيْ عَدُوِّيْ؟ فَخَرَجَ إِلَيْهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَتَلَهَا
(مصنف عبدالرزاق : ۹۷۰۵ ، المحلی از ابن حزم : ۴۱۳/۱۱، الشفاء : ۹۵۱/۲)
”ایک عورت نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، تو آپ نے فرمایا: میرے اس دشمن سے کون میرا بدلہ لے گا۔ چنانچہ حضرت خالد بن ولیدؓ گئے اور جاکر اس کو قتل کر دیا۔“
عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ وَتَقَعُ فِيهِ فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ فَأَبْطَلَ النَّبِيُّ دَمَهَا
(السنن الکبریٰ از امام بیہقی ۶۰/۷ ، سنن ابوداود : ۴۳۶۲ 'ضعیف')
”حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتی تھی اور آپ کی شان میں گستاخی کرتی تھی۔ ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔“ (یعنی خون کا قصاص نہیں لیا)
عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سَبَّهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ : مَنْ يَكْفِيْنِيْ
الله فَقَتَلَهَا خَالِدُ بْنُ بی کریمؐ کو برا بھلا کہا ال النَّبِيُّ ﷺ مَنْ ے اس دشمن سے کون تْ فَاَبْطَلَ النَّبِيُّ قاضی اور آپؐ کی ے اس کے خون کو مَنْ يَكْفِينِي
لکھا کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ کی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی وجہ سے اذیت پہنچائی یا آپ کی توہین کی تو اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً کفر ہوگا اور
عَدُوِّي؟ فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا. فَبَارَزَهُ الزُّبَيْرُ. فَقَتَلَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ ﷺ سَلَبَه
(مصنف عبدالرزاق ۳۰۷/۵، رقم: ۹۷۴۷)
”حضرت عکرمہ جو ابن عباسؓ کے غلام ہیں، ان سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ کو ایک مشرک نے گالی دی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے دشمن سے میرا بدلہ کون لے گا؟ حضرت زبیرؓ نے کہا: میں! حضرت زبیرؓ نے اس مشرک کو للکارا اور اسے قتل کر دیا، نبی کریمؐ نے مشرک کا مال غنیمت انہیں عطا کر دیا ۔“
اس کے علاوہ بھی چند واقعات علمائے سیر نے درج کئے ہیں مثلاً
حویرث بن نقیذ کی ہجو طرازی: نبی کریم ﷺ نے جب اس کا خون جائز قرار دیا تو حضرت علیؓ نے اس کا کام تمام کر دیا۔
(المغازی از واقدی: ۸۵۷/۲)
بنو عمرو بن عوف کے شخص ابو عفک کا قتل: یہ ۱۲۰ سالہ بوڑھا شخص مدینہ منورہ آکر لوگوں کو آپؐ کی عداوت پر بھڑکایا کرتا، بالخصوص غزوۂ بدر کے بعد اس نے صحابہؓ اور حضورؐ کی شان میں ہجویہ قصیدہ کہا چنانچہ سالم بن عمیر نے اسے قتل کر دیا۔
(الصارم المسلول: ص ۱۰۴)
انس بن زنیم دیلی نے معاہد ہونے کے باوجود آپؐ کی ہجو گوئی کی، چنانچہ خزاعہ قبیلہ کے ایک نوجوان نے اس پر حملہ کر کے اس کے سر پر لکڑی کی چوٹ ماری۔ لیکن اس نے اپنے گناہ کی معافی، اسلام اور پیغمبر اسلامؐ کی شان میں مدح گوئی کی اور معافی کا طالب ہوا۔ رحمۃ للعالمینؐ نے اس کا خون پہلے رائیگاں قرار دینے کے باوجود اسے معاف کر دیا۔
(المغازی: ۹۱/۲، الصارم المسلول: ص ۱۰۶)
تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
کہا کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہﷺ کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے میں اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کہنا چاہیے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
ایک نصرانی شخص کے بارے میں ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی تھیں جس پر اس کو قتل کر دیا گیا تھا۔ (مصنف عبدالرزاق: ج ۵، ص ۳۰۷)
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورﷺ کی تکذیب کی۔ آپؐ نے علیؓ اور زبیرؓ سے فرمایا: جاؤ اگر وہ مل جائے تو اسے قتل کر دو۔ (ایضاً: ج ۵، ص ۳۰۸)
قاضی عیاضؒ نے اپنی کتاب الشفاء میں ابن قانع سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میں نے اپنے والد کو آپ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سنا تو یہ مجھ سے برداشت نہ ہو سکا، اس لئے میں نے اسے قتل کر دیا۔ تو آپ نے اس سے باز پرس نہیں فرمائی۔ (الشفاء: ۴۸۹/۲)
رسول اللہﷺ پر جھوٹ باندھنے یا آپؐ کو جھٹلانے والے کی سزا:
اسلام کی رو سے جہاں ذات نبویؐ کو غیر معمولی عصمت و تقدس حاصل ہے، وہاں فرمانِ نبوی کی حیثیت بھی انتہائی قابلِ احترام ہے اور کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ نبی کریمؐ کے ذمہ کسی قول کا بھی الزام عائد کرتا پھرے۔ ایسی کوتاہی پر جہاں زبانِ رسالت سے جہنم کی وعید صادر ہوئی ہے، وہاں دنیا میں بھی یہ امر سنگین سزا کا مستوجب ہے۔ حتیٰ کہ زیر نظر واقعہ میں تو نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص کو قتل تک کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے، ملاحظہ فرمائیے:
عَنْ سَعِيدِ بن جُبَيْرٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلاَنَةَ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِهَا: جَائَنَا هَذَا بِشَيْءٍ مَا نَعْرِفُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنْزِلُوا الرَّجُلَ وَأَكْرِمُوهُ حَتَّى آتِيكُمْ بِخَبَرِ ذَلِكَ فَأَتَى النَّبِىَّ
ﷺ فَقَ وَلا أَرَاكُ فَأَخْبَرَاهُ (دلائل ال میں عطاء بن س حضر رسول اللہﷺ کے خاندان ثبوت نہیں لے آؤں اور حضر انہوں نے خبر دی میں مل
کیا کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے تک اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کرنا چاہیے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
تھیں جس پر اس کو قتل اور زبیرؓ سے فرمایا: جاؤ ں نے بارگاہ رسالت ہوئے سنا تو یہ مجھ سے (الشفاء: ۴۸۹/۲) نبوی کی حیثیت بھی عائد کرتا پھرے۔ ی سزا کا مستوجب حظہ فرمائیے: ولُ اللَّهِ ﷺ ا هَذَا بِشَيْءٍ فَأَتَى النَّبِيَّ
صَلَّى اللَّهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ ﷺ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ فَقَالَ: اذْهَبَا فَإِنْ أَدْرَكْتُمَاهُ فَاقْتُلَاهُ وَلَا أَرَاكُمَا تُدْرِكَانِهِ قَالَ: فَذَهَبَا فَوَجَدَاهُ قَدْ لَدَغَتْهُ حَيَّةٌ فَقَتَلَتْهُ فَرَجَعَا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَأَخْبَرَاهُ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
(دلائل النبوۃ از بیہقی ۲۸۴/۶...... البتہ اس حدیث کا آخری حصہ صحیح بلکہ متواتر ہے، اس حدیث کی سند میں عطاء بن سائب ہے جس کی قبل از اختلاط علماء نے توثیق کی ہے۔ سیر اعلام النبلاء ۱۱۰/۶)
"حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی تھا، وہ انصار کی ایک بستی کی طرف آیا اور کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے تمہاری طرف بھیجا ہے اور حکم دیا ہے کہ تم فلاں عورت کی مجھ سے شادی کروا دو۔ اس عورت کے خاندان کے ایک آدمی نے کہا کہ یہ ہمارے پاس ایسی خبر لایا ہے جس کی رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اس آدمی کو عزت سے بٹھاؤ، یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے کوئی اطلاع نہ لے آؤں۔ چنانچہ وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کا تذکرہ کیا، آپ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو حکم دیا کہ جاؤ، اگر تم اسے پاؤ تو قتل کر دینا، میرا نہیں خیال کہ تم اسے پالو گے۔ وہ دونوں گئے تو انہوں نے دیکھا کہ اسے ایک سانپ نے ڈس کر ہلاک کر دیا ہے۔ انہوں نے واپس آ کر نبی کریمؐ کو اس بات کی خبر دی، آپؐ نے فرمایا: جو مجھ سے غلط بات منسوب کرتا ہے، اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنالے۔"
ایسے ہی جو مسلمان شخص نبی کریمؐ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے، تو اس کو قتل کر دینے کا تذکرہ بھی زیر نظر حدیث میں ملتا ہے۔ راقم کے پیش نظر یہاں ان واقعات کی تفصیلی بحث مقصود نہیں، اس لئے یہ واقعہ بلا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے:
محمد رسول اللہ تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
گستاخی کی پاداش میں یہ حادثہ کیا آپ ﷺ سے عارض دکھایا تو آپ جبرئیل امین نے کہا میں
عذاب خداوندی کے کیا ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی سے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِّنَ الْمُنَافِقِيْنَ وَرَجُلٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ مُنَازَعَةٌ فِي شَيْءٍ فَأَتَيَا رَسُولَ اللهِ ﷺ فَقَضَى عَلَى الْمُنَافِقِ فَانْطَلَقَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: مَا كُنْتُ لِأَقْضِيَ بَيْنَ مَنْ يَرْغَبُ عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَانْطَلَقَا إِلَى عُمَرَ فَقَصَّا عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ: لَا تَعْجَلَا حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكُمَا فَدَخَلَ فَاشْتَمَلَ عَلَى السَّيْفِ وَخَرَجَ فَقَتَلَ الْمُنَافِقَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا أَقْضِى بَيْنَ مَنْ لَّمْ يَرْضَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَأَنْزَلَ اللهُ ﴿فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ...﴾ فَسُمِّيَ الْفَارُوقُ
(تفسیر درمنثور:۱۸۱/۲، تفسیر ابن کثیر:۷۸۹/۱)
”حضرت مکحول بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی مسلمان اور منافق کے درمیان، کسی بات پر جھگڑا ہوگیا، وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپؐ نے منافق کے خلاف فیصلہ فرمادیا۔ پھر وہ دونوں حضرت ابوبکرؓ کی طرف چلے گئے، انہوں نے کہا: جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو نہیں مانتا، میں اس کے درمیان فیصلہ نہیں کر سکتا۔ پھر وہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور ان سے سارا واقعہ بیان کیا۔ عمرؓ نے کہا: میرے واپس آنے تک تم یہیں ٹھہرنا، حضرت عمرؓ گھر سے تلوار سونت کر آئے اور منافق کو قتل کر دیا اور کہا: جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا، اس کے لئے میں اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل کر دی ۔ ﴿فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ﴾ اسی وجہ سے حضرت عمرؓ کا لقب ”فاروق“ پڑ گیا۔“
یہی واقعہ ایک اور حدیث میں یوں بھی بیان ہوا ہے کہ:
عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ: اِخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ فَقَضَى بَيْنَهُمَا فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ
عَلَيْهِ وَ هَذَا، فَ إِلَيْكُمَا عُمَرُ (لهم ” آ
تحفظ ناموس رسالت
یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی سے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
عَلَيْهِ رُدَّنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَتَيَا إِلَيْهِ فَقَالَ الرَّجُلُ: قَضَى لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ عَلَى هذَا، فَقَالَ رُدَّنَا إِلَى عُمَرَ فَقَالَ: أَكَذَلِكَ؟ قَالَ نَعَمْ. فَقَالَ عُمَرُ : مَكَانَكُمَا حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكُمَا فَأَقْضِى بَيْنَكُمَا فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا مُشْتَمِلًا عَلَى سَيْفِهِ فَضَرَبَ الَّذِي قَالَ: رُدَّنَا إِلَى عُمَرَ، فَقَتَلَهُ فَأَنْزَلَ اللهُ ﴿فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ ... ﴾
(لباب النقول ۱/۹۰، درمنثور ۱۸۰/۲)
”حضرت ابوالاسود بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک جھگڑا لے کر آئے، آپ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا، اس نے کہا کہ عمرؓ کے پاس چلتے ہیں۔ جب وہ دونوں حضرت عمرؓ کے پاس آئے تو دوسرے آدمی (جس کے حق میں رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا تھا) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے خلاف میرے حق میں فیصلہ فرما دیا ہے، لیکن اس نے کہا: عمرؓ کے پاس چلئے۔ حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا: کیا ایسے ہی ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں! حضرت عمرؓ نے کہا: تم دونوں یہیں ٹھہرو، میں ابھی آ کر تمہارا فیصلہ کرتا ہوں۔ حضرت عمرؓ تلوار سونت کر آئے اور جس نے کہا تھا کہ عمرؓ کے پاس چلو، اسے قتل کر دیا۔ اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی: ﴿فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ ... ﴾ ”تیرے ربّ کی قسم ! یہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے، جب تک تجھے اپنے جھگڑوں میں قاضی تسلیم نہ کرلیں۔“ (النساء:۶۵)
ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں (۹۹۴/۳) اور دیگر اہل علم نے اس حدیث کو ابن لہیعہ کے طریق سے روایت کیا ہے لیکن یہ طریق ضعیف ہے۔ البتہ ابو مغیرہ اور شعیب بن شعیب کے طرق سے بھی یہ روایت مروی ہے۔ لہٰذا
تحفظ ناموس رسالت
فرمایا کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجہ عیب میں سے کسی کو اذیت پہنچائی اس کے قتل کرنے کا فیصلہ کیا چاہے اس کا یہ قول صراحۃ ہو یا کنایۃ تصریحاً ہو
حافظ ابن کثیر نے ان شواہد کی بنا پر اس روایت کو قوی شمار کیا ہے۔
(مسند الفاروق: ۸۷۶/۲، بحوالہ اقضیۃ الخلفاء الراشدین: ۱۱۸۸/۲)
بشکریہ ماہنامہ محدث لاہور
تحفظ ناموس رسالت
اور ہوں الج و
اور اجماع ہے کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی سے آپ کو اذیت پہنچائی یا آپ کے منصب کو گھٹایا ہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تصریحاً ہو
شکریہ ماہنامہ محدث لاہور
تحفظ ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داری
ڈاکٹر انیس احمد
پاکستان کی داخلی سیاست میں ہر تھوڑے عرصے کے بعد، خصوصاً ایسے مواقع پر جب ملک کو سخت معاشی بحران اور سیاسی انتشار کا سامنا ہو، بعض ایسے معاملات کو جو غیر متنازع اور اُمت کے اندر اجماع کی حیثیت رکھتے ہوں، نئے سرے سے کھڑا کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام کی توجہ کو معاشی اور سیاسی مسائل سے ہٹا کر ان معاملات میں اُلجھا دیا جائے اور غیر متنازع امور کو متنازعہ بنا دیا جائے۔ اس سلسلے میں الیکٹرونک میڈیا باہمی مسابقت اور بعض دیگر وجوہ سے مسئلے کو اُلجھانے میں اور ان سوالات کو اُٹھانے میں سرگرم ہو جاتا ہے جو نام نہاد حقوق انسانی کے عَلَم بردار اور سیکولر لابی کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔
ان موضوعات میں ایک قانون ناموس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس میں سیکولر لابی اور بیرونی امداد کے سہارے چلنے والی این جی اوز اور انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والے بعض ادارے نہ صرف خصوصی دلچسپی لیتے ہیں بلکہ منظم انداز میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ملک کو تصادم کی طرف دھکیلنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
آج کل ایک مسیحی خاتون آسیہ مسیح کے حوالے سے ملکی صحافت اور ٹی وی چینل عوام الناس کو یہ باور کرانے
تحفظ ناموس رسالت
کی کوشش کر رہے ہیں کہ مروجہ قانون ایک انسانی قانون ہے۔ یہ کوئی الہی قانون نہیں ہے، اس لیے اسے تبدیل کر کے شاتم رسول کے لیے جو سزا قانون میں موجود ہے، اسے ایسا بنا دیا جائے جو مہذب دنیا کے لیے قابل قبول ہو جائے (حالانکہ اس مہذب دنیا کے ہاتھوں دنیا کے گوشے گوشے میں معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے، اس مہذب دنیا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر پوری دنیا میں دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے جس سے لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اب بھی ہزاروں کو محض شبہے کی بنیاد پر گولیوں اور میزائل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے)۔ واضح رہے کہ موصوفہ کا معاملہ ابھی عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ایک طوفان برپا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
گورنر پنجاب نے بھی اپنے اخباری بیان میں اسی بات پر زور دیا کہ یہ ایک انسان کا بنایا ہوا قانون (بلکہ العیاذ باللہ ان کے الفاظ میں : ’کالا قانون‘) ہے اور اسے تبدیل کیا جانا چاہیے۔ وہ اپنے منصب کے دستوری تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے جیل میں پہنچ گئے اور ملزمہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس تک منعقد کر ڈالی جو ملک میں نافذ دستور اور نظام قانون کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف تھی۔ ہم چاہیں گے کہ اس موضوع پر انتہائی اختصار کے ساتھ معاملے کے چند بنیادی پہلوؤں کی طرف صرف نکات کی شکل میں اشارتاً کچھ عرض کریں۔
مسئلے کا سب سے اہم اور بنیادی پہلو وہی ہے جسے ایک صوبائی گورنر نے متنازعہ بنانا چاہا ہے، یعنی شاتم رسولؐ کی سزا کیا انسانوں کی طے کی ہوئی شے ہے، یا یہ اللہ کا حکم ہے جس کی بنیاد قرآن وسنت کی واضح ہدایات اور نصوص ہیں، نیز کیا یہ حکم اسلام کے ساتھ خاص ہے یا یہ الہی قانون تمام مذاہب اور تہذیبوں کی مشترک میراث
تحفظ ناموس رسالت
گر کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کوئی آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
ہے ۔ مناسب ہو گا کہ قر اسلام اس نوعیت کا کوئی یہودیت اور عیسائیت یہودی اور عیس میں واضح طور پر یہ ا
اس کا مفہو ۱۹۹۳ء، بائبل سو کہی گئی: اور جو ک دیسی ہو یا پردیسی انگریزی
y be put ll as the e name
اسے تبدیل لیے قابل قبول سے ہولی کھیلی کا بازار گرم گولیوں اور عوام کو گمراہ
نون ( بلکہ کے دستوری فی جو ملک کی انحصار
فی شاتم یات اور میراث
کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی بنا پر ایذاء پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے قتل کرنا چاہیے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
ہے ۔ مناسب ہوگا کہ قرآن کریم یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آنے سے قبل یہ دیکھ لیا جائے کہ کیا قبل اسلام اس نوعیت کا کوئی الہامی یا الہی حکم پایا جاتا تھا یا نہیں۔
یہودیت اور عیسائیت میں:
یہودی اور عیسائی مذہب کی مقدس کتابوں عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید پر نظر ڈالی جائے تو عہد نامہ قدیم میں واضح طور پر یہ الفاظ ملتے ہیں:
You shall not revile God (Exodus 22: 28)
اس کا مفہوم یہ ہوگا:”تو خدا کو نہ کوسنا“ اور بُرا بھلا نہ کہنا “ (ملاحظہ ہو، کتاب مقدس پرانا اور نیا عہد نامہ، لاہور ۱۹۹۳ء، بائبل سوسائٹی ،ص ۷۵ )۔عہد نامہ قدیم میں آگے چل کر مزید وضاحت اور متعین الفاظ کے ساتھ یہ بات کہی گئی: اور جو خداوند کے نام پر کفر بکے ضرور جان سے مارا جائے۔ ساری جماعت اسے قطعی سنگسار کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جب وہ پاک نام پر کفر بکے تو وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ (ایضاً احبار، باب۲۴:۱۵-۱۶، ص ۱۱۸)
انگریزی متن کے الفاظ بھی غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے:
And he that blasphemeth in the name of the Lord, he shall surely be put to death, and all the congregation shall certainly stone him: as well as the stranger, as he that is born in the Land, when he blashphemeth the name of the Lord, shall be put to death. (Leveticus 24: 11-16)
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
ہو گی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی نے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کرنا چاہیے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالتﷺ نا
میثاقِ جدید کے یہ الفاظ بھی قابل غور ہیں:
Wherefore I say unto you, all manner of sin and blasphemy shall be forgiven unto men: but the blasphemy against the Holy Ghost, shall not be forgiven unto men. (Mathew 12:31)
اس کا مفہوم یہ ہوگا: ”اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر تو معاف کیا جائے گا مگر جو کفر روحِ مقدس کے بارے میں ہو، وہ معاف نہ کیا جائے گا“
(متی باب ۱۲: ۳۱، کتاب مقدس، مطبوعہ بائبل سوسائٹی، انارکلی لاہور، ۱۹۹۳ء، میثاقِ جدید، ص ۱۵)
قرآن وسنت کی رو سے:
اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو شخص بغاوت (treason) کرتا ہے، قرآن کریم نے اس کی سزا کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے چنانچہ فرمایا گیا:
إِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُونَ اللّٰهَ وَ رَسُولَهٗ وَ يَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُّقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَ أَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِى الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِى الْأٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ O (المائده ۵: ۳۳)
جو لوگ اللہ سے اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے
کاٹ ڈالے جائیں سورۃ مجادلہ میں بھی اِنَّ الَّ يُحَ مخال ص گویا الٰہی قانو پیروکاروں طبیعت اور خون کے بات بڑی سیرت پا لوگوں ن کرن
Wherefore forgiven un forgiven un جائے گا مگر جو کفر
نِ کریم نے اس
اَنْ یُّقْتَلُوْٓا اَوْ رَّ لَهُمْ خِزْیٌ
ہیں کہ فساد متوں سے
کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلاوطن کر دیے جائیں۔
سورۃ مجادلہ میں بھی اس طرف اشارہ کیا گیا، چنانچہ فرمایا:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَقَدْ اَنْزَلْنَا اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ ط وَلِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ O (المجادلہ ۵:۵۸) جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کیے گئے تھے اور ہم نے صاف اور کھلی آیتیں نازل کر دی ہیں جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔
گویا الٰہی قانون میں توہین رسالت (Blasphemy) کی سزا بنی اسرائیل کے لیے، عیسائی مذہب کے پیروکاروں کے لیے، اور اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یکساں طور پر مجرم کا قتل کیا جانا ہے۔
ایک لمحے کے لیے اس پہلو پر بھی غور کر لینا مفید ہوگا کہ کیا ایسی سزا کا نفاذ ایک ایسی ہستی کے مزاج، طبیعت اور شخصیت سے مناسبت رکھتا ہے جسے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے تمام عالموں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہو، جو خون کے پیاسوں کو قبائیں دینے کا حوصلہ رکھتا ہو، جو اپنے چچا کے قاتلوں کو بھی معاف کر دینے کا دل گردہ رکھتا ہو۔
بات بڑی آسان سی ہے۔
سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تابناک ابواب میں سے فتح مکہ کے باب کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے ہر ممکنہ ظلم مکی دور میں آپؐ پر کیا، حضرت یوسفؑ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آپؐ نے ان سب کو معاف کر دیا، لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ____ لیکن بات یہاں رُک نہیں گئی____ اس عظیم معافی کے باوجود وہ چار
کیا گیا کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہؐ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی سے آپؐ کو اذیت پہنچائی اس کے بارے میں فیصلہ یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے اس کا یہ قول صراحۃً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
محمد رسول اللہ تحفظ ناموس رسالتؐ
اور اس پر اجماع اُمت ہو چکا ہے کہ ہو گی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی عیب کو منسوب کیا یا آپ کو اذیت پہنچائی یا آپ کے قتل کیا جائے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً یا تعریضاً ہو
افراد جو ارتداد اور توہین رسالت کے مرتکب ہوئے پیش کیے گئے تو ان کے قتل کا فیصلہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا اور ان تین مردوں اور ایک خاتون کو موت کی سزا دی گئی۔ ان میں سے خاتون قریبہ جو ابن اخطل کی لونڈی تھی مکہ کی مغنیہ تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ہجو پر مبنی گیت اس کا وتیرہ تھے۔ (ملاحظہ ہو: بخاری، فتح مکہ اور شبلی نعمانی کی سیرت النبیؐ، جلد اول، اعظم گڑھ، مطبع معارف، ۱۹۲۶ء، ص ۵۲۵)
یہ محض ایک واقعے سے استدلال نہیں، نبی اکرمؐ کے ایک قانونی فیصلے کا معاملہ ہے جو اُمت کے لیے ہمیشہ کے لیے حجت ہے۔
قرآن وسنتِ رسولؐ کے ان نصوص کے بعد قرآن اور حدیث کو سند اور حجت ماننے والا کوئی شخص کس طرح یہ کہہ سکتا ہے کہ شاتم رسولؐ کی سزا قتل کے علاوہ کچھ اور ہو سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر اُمت مسلمہ کا اجماع ہے۔ چنانچہ وہ اہل سنت ہوں یا اہل تشیع، ۱۵ سو سال میں اس مسئلے پر کسی کا اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اس سلسلے میں فقہائے اُمت میں علامہ ابن تیمیہؒ کی الصارم المسلول علی شاتم الرسول، تقی الدین سبکی کی السیف المسلول علی من سب الرسول، ابن عابدین شامی کی تنبیہ الولاة والحکام علی احکام شاتم خیر الانام ان چند معروف کتب میں سے ہیں جو اس اجماعِ اُمت کو محکم دلائل اور شواہد کے ساتھ ثابت کرتی ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیکولر لابی عموماً اس معاملے میں اپنا نزلہ مولویوں پر ہی
گراتی ہے کہ اس قسم کے مع سے صرف د یافتہ تسلیم کی بھی زاویے پاکستان کے
روشن خی مقدمہ لڑ کیا۔ لہ کہ 'ایک
پیدا بنیا
م النبیین صلی اللہ علیہ وسلم تون قریبہ جو ابن اخطل کی گیت اس کا وتیرہ تھے۔ ع معارف، ۱۹۴۶ء، ص
جو اُمت کے لیے ہمیشہ
والا کوئی شخص کس طرح جس پر اُمت مسلمہ کا ں پایا جاتا۔ اس سلسلے قی، تقی الدین سبکی کی والحکام علی لائل اور شواہد کے
لہ مولویوں پر ہی
کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہﷺ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی سے اذیت پہنچائی اس کے قتل کرنے کا حکم کرنا چاہئے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً، تعریضاً ہو
گراتی ہے کہ یہ ان کا پیدا کردہ مسئلہ ہے ورنہ جو لوگ روشن خیال، وسیع القلب اور تعلیم یافتہ شمار کیے جاتے ہیں، وہ اس قسم کے معاملات میں نہ دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ ایسے مسائل کی توثیق کرتے ہیں۔ مناسب ہوگا کہ اس حوالے سے صرف دو ایسی شخصیات کا تذکرہ کر دیا جائے جنھیں سیکولر لابی کی نگاہ میں بھی ’روشن خیال‘، ’وسیع القلب‘ اور ’تعلیم یافتہ‘ تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ مغربی قانون اور فلسفۂ قانون پر ان کی ماہرانہ حیثیت بھی مسلم ہے۔ گویا کسی بھی زاویے سے انہیں مولویوں کے زمرے میں شمار نہیں کیا جاسکتا، یعنی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور تصور پاکستان کے خالق اور شارح علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ۔
اس خطے میں جب غازی علم الدین شہید نے ایک شاتم رسولؐ کو قتل کیا تو ملزم کا وکیل کوئی ’مولوی‘ نہیں وہی ’روشن خیال‘ برطانیہ میں تعلیم پانے والا، اصول پرست اور کھرا انسان محمد علی جناح تھا جس نے کبھی کوئی جھوٹا یا مشتبہ مقدمہ لڑنا پسند نہیں کیا اور اپنے ملزم کے دفاع میں اور ناموسِ رسولؐ کے دفاع میں اپنی تمام تر صلاحیت کو استعمال کیا۔ اور جب غازی علم الدین کی تدفین کا مرحلہ آیا تو ’روشن دماغ‘ علامہ اقبالؒ نے یہ کہہ کر اسے لحد میں اُتارا کہ ”ایک ترکھان کا بیٹا ہم پڑھے لکھوں پر بازی لے گیا“۔
سوچنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ کیا یہ دو ماہر قانون دان ’حریت بیان‘، ’قلم کی آزادی‘، ’انسان کے پیدائشی حقِ اظہار‘ سے اتنے ناواقف تھے کہ ’جذبات‘ میں بہہ گئے۔
بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی:
معاملے کا دوسرا پہلو حقوق انسانی سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر انسان کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کرے
تحفظ ناموس رسالت
کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کوئی عیب لگایا آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد جرم کیا ہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالتﷺ
اور اگر کوئی چیز قابل تنقید ہو تو اس پر تنقید بھی کرے، لیکن کسی بھی انسان کو آزادی قلم اور حریت بیان کے بہانے یہ آزادی نہیں دی جاسکتی کہ وہ کسی دوسرے فرد کی عزت، ساکھ، معاشرتی مقام اور کردار کو نشانہ بنا کر نہ صرف اس کی بلکہ اُس سے وابستہ افراد کی دل آزاری کا ارتکاب کرے۔
اگر یورپ کے بعض ممالک میں (مثلاً ڈنمارک، اسپین، فن لینڈ، جرمنی، یونان، اٹلی، آئرلینڈ، ناروے، نیدرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا وغیرہ) آج تک Blasphemy یا مذہبی جذبات مجروح کرنے پر قانون پایا جاتا ہے اور برطانیہ جیسے رواداری والے ملک میں ملکہ کے خلاف توہین Blasphemy کی تعریف میں آتی ہے، تو کیا کسی کارٹونسٹ یا کم تر درجے کے ادیب یا ادیبہ بلکہ کسی بھی فرد کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ گھٹیا ادب کے نام پر جو ہرزہ سرائی چاہے کرے۔ معاملہ تحریر کا ہو یا تقریر کا، ہر وہ لفظ اور ہر وہ بات جو ہتک آمیز ہو، اسے 'آزادی رائے' کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ ایسی بدیہی حقیقت ہے جس کا انکار کوئی عقل کا اندھا ہی کرسکتا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں آزادی رائے کے نام پر کسی دوسرے کے حق شہرت، حق عزت کو پامال نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسا کیا جائے گا تو یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔
ہولو کاسٹ پر تنقید جرم:
سیکولر اور آزاد خیال دنیا جس چیز کو اہم سمجھتی ہے، اس پر حرف گیری کو جرم قرار دیتی ہے اور عملاً اپنے پسندیدہ تصورات اور واقعات پر تنقید، محاسبے اور بحث و استدلال تک کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
آج جو لوگ اللہ کی مقدس کتابوں کی تحقیر وتذلیل اور اللہ کے پاک باز رسولوں کو سب وشتم کا نشانہ بنانے
سے روکنے کو آزا میں شیر ہیں، ان الاقوامی قانون ا خوش کرنے کے جو دلیل اور تار احتساب کرتے طور پر آسٹریا 1992 کی ر use the against will be ses of wenty
جو ک
اور کہا کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی عیب کو، اذیت پہنچائی آپ کو، یا عیب لگایا آپ کی کافر ہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو یا
ت بیان کے بہانے یہ د بنا کر نہ صرف اس کی ، آئرلینڈ، ناروے، نے پر قانون پایا جاتا یف میں آتی ہے، تو یا ادب کے نام پر جو اسے ’آزادی رائے‘ کر سکتا ہے۔ کسی بھی میں کیا جا سکتا۔ اگر ا ہے اور عملاً اپنے ۔ تم کا نشانہ بنانے
سے روکنے کو آزادی رائے اور آزادی اظہار کے منافی قرار دیتے ہیں اور ان گھناؤنے جرائم کے مرتکبین کو پناہ دینے میں شیر ہیں، ان کا اپنا حال یہ ہے کہ جرمنی میں ہٹلر کے دور میں یہودیوں پر جو مظالم ڈھائے گئے اور جنھیں بین الاقوامی قانون اور سیاست کی اصطلاح میں ’ہولوکاسٹ‘ کہا جاتا ہے محض یہودیوں اور صہیونیت کے علمبرداروں کو خوش کرنے کے لیے ان پر تنقید کو اپنے دستور یا قانون میں جرم قرار دیتے ہیں۔ ایسے محققین، مؤرخین اور اہلِ علم کو جو دلیل اور تاریخی شہادتوں کی بنا پر ’ہولوکاسٹ‘ کا انکار نہیں صرف اس کے بارے میں غیر حقیقی دعووں پر تنقید و احتساب کرتے ہیں، نہ صرف انھیں مجرم قرار دیتے ہیں بلکہ عملاً انھیں طویل مدت کی سزائیں دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آسٹریا کا قانون National Socialism Prohibition Law 1947 amended 1992 کی رُو سے جو مندرجہ ذیل جرم کا ارتکاب کرے گا:
Whoever denies, grossly plays down, approves, or tries to excuse the National Socialist genocide or other National Socialist crimes against humanity in print publication, in broadcast or other media..will be punished with imprisonment from one to ten years, and in cases of particularly dangerous suspects or activity be punished with upto twenty years imprisonment.
جو کوئی طباعتی، نشری یا کسی اور میڈیا میں انسانیت کے خلاف قومی سوشلسٹ جرائم یا قومی سوشلسٹ نسل کشی کا
تحفظ ختم نبوت تحفظ ناموس رسالت
رہے گا کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہﷺ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی عیب کو یا اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کیا جائے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
انکار کرتا ہے، یا اسے بہت زیادہ کم کر کے بیان کرتا ہے یا اس کے لیے عذر فراہم کرتا ہے، اسے ایک تا ۱۰ سال کی سزائے قید اور خصوصی طور پر خطرناک مجرموں کو یا سرگرمیوں پر ۲۰ سال تک کی سزائے قید دی جاسکے گی۔
آسٹریا میں یہ قانون کتابِ قانون کی صرف زینت ہی نہیں ہے بلکہ عملاً دسیوں محققین، اہل علم، صحافیوں اور سیاسی شخصیات کو سزادی گئی ہے اور برسوں وہ جیل میں محبوس رہے ہیں۔ اس سلسلے کے مشہور مقدمات میں مارچ ۲۰۰۶ء میں برطانوی مؤرخ ڈیوڈ ارونگ کو ایک سال کی سزا اور جنوری ۲۰۰۸ء میں وولف گینگ فروخ کو ساڑھے چھ سال کی سزادی گئی اور عالمی احتجاج کے باوجود انہیں اپنی سزا بھگتنی پڑی۔ حقوقِ انسانی کے کسی علم بردار ادارے یا ملک نے ان کی رہائی کے لیے احتجاج نہیں کیا اور نہ سیاسی پناہ دے کر ہی انہیں اس سزا سے نجات دلائی۔ یورپ کے جن ممالک میں محض ایک تاریخی واقعے کے بارے میں اظہار یا تخفیف کے اظہار کو جرم قرار دیا گیا ان میں آسٹریا کے علاوہ بیلجیم، چیک ری پبلک، فرانس، جرمنی، ہنگری، سوئٹزرلینڈ، لکسمبرگ، ہالینڈ اور پولینڈ میں قوانین موجود ہیں۔ اسی طرح اسپین، پرتگال اور رومانیہ میں بھی قوانین موجود ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر ایک عام آدمی کی عزت کی حفاظت کے لیے Law of Libel and Slander آزادی اظہار کے خلاف نہیں اور ہولوکاسٹ کے انکار یا بیان میں تحقیر یا تخفیف کو جرم قابلِ سزا تسلیم کیا جاتا ہے تو اللہ کے رسولوں اور انسانیت کے محسنوں اور رہنماؤں کی عزت و ناموس کی حفاظت کے قوانین نعوذ باللہ ’کالے قوانین‘ کیسے قرار دیے جاسکتے ہیں۔
رہی آج کی مہذب دنیا جو انسانی جان، آزادی اور اظہار رائے کی محافظ اور علمبردار بن کر دوسرے ممالک
تحفظ ناموس رسالت
اور تہذیبوں پر اس کا اپنا حال ہتھیاروں بنے ہے۔ جس میں میں لقمہ اجل کرنے سے قانون تو پاس کردہ چار وجوہ کے فاصلے فرد یا محہ
اور تہذیبوں پر اپنی رائے مسلط کرنے کی جارحانہ کارروائیاں کر رہی ہے، وہ کس منہ سے یہ دعویٰ کر رہی ہے جب اس کا اپنا حال یہ ہے کہ محض شبہے کی بنیاد پر دو چار اور دس بیس نہیں لاکھوں انسانوں کو اپنی فوج کشی اور مہلک ہتھیاروں سے موت کے گھاٹ اُتار رہی ہے۔ بیسویں صدی انسانی تاریخ کی سب سے خوں آشام صدی رہی ہے۔ جس میں صرف ایک صدی میں دنیا کی کل آبادی کا ۷.۳ فیصد استعماری جنگوں اور مہم جوئی کی کارروائیوں میں لقمۂ اجل بنا دیا گیا ہے اور اکیسویں صدی کا آغاز ہی افغانستان اور پاکستان میں بلا امتیاز شہریوں کو ہلاک کرنے سے کیا گیا ہے ۔
دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ
قانون توہین رسالتؐ کی ضرورت:
تیسرا قابل غور پہلو اس قانون کا اجماعی قانون ہونا ہے۔ یہ کسی آمر کا دیا ہوا قانون ہے یا پارلیمنٹ کا پاس کردہ، اس پر تو ہم آگے چل کر بات کریں گے۔ یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ اس قانون کی ضرورت کم از کم چار وجوہات کی بنا پر تھی:
اول، یہ قانون ملزم کو عوام کے رحم و کرم سے نکال کر قانون کے دائرے میں لاتا ہے۔ اس طرح اسے عدلیہ کے فاضل ججوں کے بے لاگ اور عادلانہ تحقیق کے دائرے میں پہنچا دیتا ہے۔ اب کسی کے شاتم ہونے کا فیصلہ کوئی فرد یا عوامی عدالت نہیں کر سکتی۔ عوام کے جذبات اور دخل اندازی کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ جب تک فاضل
کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی کو اذیت پہنچائی یا آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد نہ مانا ہو اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً یا تعریضاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
عدالت پوری تحقیقات نہ کر لے، ملزم کو صفائی کا موقع فراہم نہ کرے، کوئی اقدام نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے یہ قانون سب سے زیادہ تحفظ ملزم ہی کو فراہم کرتا ہے اور یہی اس کے نفاذ کا سب سے اہم پہلو ہے۔
دوم، یہ قانون دستور پاکستان کا تقاضا ہے کیونکہ دستور پاکستان ریاست کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ وہ اسلامی شعائر کا احترام و تحفظ کرے اور ساتھ ہی مسلمان اور غیر مسلم شہریوں کے حقوق کو پامال ہونے سے بچائے۔
سوم، یہ قانون پاکستان کی ۹۵ فی صد آبادی کے جذبات کا ترجمان ہے جس کا ہر فرد قرآن کریم اور حدیث رسول کے ارشادات کی رُوسے اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اپنی جان، اپنے بال بچوں، والد والدہ اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ رکھے۔
(بخاری، مسلم)
یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ National Commission for Justice & Peace کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ ۱۹۸۶ء سے ۲۰۰۹ء تک اس قانون کے حوالے سے پاکستان میں کل ۹۶۴ مقدمات زیر سماعت آئے جن میں ۴۷۹ کا تعلق مسلمانوں سے، ۳۴۰ کا احمدیوں سے، ۱۱۹ کا عیسائیوں سے، ۱۴ کا ہندوؤں سے اور ۱۲ کا دیگر مذاہب کے پیروکاروں سے تھا۔ ان تمام مقدمات میں سے کسی ایک میں بھی اس قانون کے تحت عملاً کسی کو سزائے موت نہیں دی گئی۔ عدالتیں قانون کے مطابق انصاف کرانے کے عمل کے تمام تقاضے پورا کرتی ہیں، جب کہ سیکولر لابی ہر ملزم کو مظلوم بنا کر پیش کرتی ہے۔ انصاف کے عمل کو سبوتاژ کیا جاتا ہے۔ میڈیا وار اور بیرونی حکومتوں، اداروں اور این جی اوز کا واویلا قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے، قانون کی عمل داری اور
انصاف کی فراہمی صلی اللہ علیہ وسلم ک مطابق مقدمے کا اور 'مظلومیت' می بنانے کا اور کروف قرار دیا جاسکتا ہ جو کھیل ہے اور نہ انصا سے انصاف کا عمل کے ذری کر دینا ایک قرار دے کر انصاف کا خو حالیہ مقد
کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ کی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی طرح اذیت پہنچائی یا آپ کی تنقیص کی خواہ اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تعریضاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
انصاف کی فراہمی کے عمل کو ناکام کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک شخص اگر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہتک، توہین، سب وشتم کا ارتکاب کرتا ہے تو عدالت کو حقیقت کو جاننے اور اس کے مطابق مقدمے کا فیصلہ کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ صحافت اور الیکٹرانک میڈیا اور این جی اوز اس کی ہمدردی اور مظلومیت میں رطب اللسان ہوجاتے ہیں، حالانکہ مسئلہ ایک عظیم شخصیت انسان کامل اور ہادی اعظمؐ کو نشانہ بنانے کا اور کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا ہے۔ کیا اہانت اور استہزا کو محض ’آزادی قلم و لسان‘ قرار دیا جاسکتا ہے؟ کیا اسی کا نام عدل و رواداری ہے؟ حقیقی مظلوم کون ہے؟
جو کھیل ہمارے یہ آزادی کے علم بردار کھیل رہے ہیں وہ نہ اخلاق کے مسلمہ اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ انصاف کے تقاضوں سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ یہ محض جانب داری اور من مانی کا رویہ ہے۔ اسلام ہر فرد سے انصاف کا معاملہ کرنے کا حکم دیتا ہے اور ایک شخص اس وقت تک صرف ملزم ہے مجرم نہیں جب تک الزام عدالتی عمل کے ذریعے ثابت نہیں ہوجاتا۔ لیکن جس طرح عام انسانوں کا جذبات کی رو میں بہہ کر ایسے ملزم کو ہلاک کردینا ایک ناقابل معافی جرم ہے، اسی طرح ایسے فرد کو الزام سے عدالتی عمل کے ذریعے بری ہوئے بغیر مظلوم قرار دے کر اور سیاسی اور بین الاقوامی دباؤ کو استعمال کر کے عدالتی عمل سے نکالنا بلکہ ملک ہی سے باہر لے جانا بھی انصاف کا خون کرنا ہے اور لاقانونیت کی بدترین مثال ہے۔
حالیہ مقدمہ اور قانون کی تنسیخ کا مطالبہ:
قانون توہین رسالت پر جس کیس کی وجہ سے گرد اڑائی جارہی ہے، اب ہم اس کے بارے میں کچھ
تا کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی وجہ سے اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد مارنا چاہئے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
مفروضات پیش کرتے ہیں: آسیہ کیس کے بارے میں دی نیوز کی وہ رپورٹ بڑی اہمیت کی حامل ہے جو ۲۶ نومبر کے شمارے میں شائع کی گئی ہے اور جس میں اس امر کی نشان دہی کی گئی ہے کہ یہ واقعہ جون ۲۰۰۹ء کا ہے جس کو ایس پی پولیس کی سطح پر واقعے کے فوراً بعد شکایت کرنے والے ۲ گواہوں اور ملزمہ کی طرف سے پانچ گواہوں سے تفتیش کے بعد سیشن عدالت میں دائر کیا گیا۔ ملزمہ نے ایک جرگے کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور معافی کی درخواست کی۔ مقدمے کے دوران کسی ایسے دوسرے تنازعے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جسے اب وجہ تنازع بنایا جا رہا ہے۔ جس جج نے فیصلہ دیا ہے وہ اچھی شہرت کا حامل ہے اور ننکانہ بار ایسوسی ایشن کے صدر رائے ولایت کھرل نے جج موصوف کی دیانت اور integrity کا برملا اعتراف کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بات بھی صاف الفاظ میں درج ہے کہ: علاقے کی بار ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ اصل فیصلے کو پڑھے بغیر شور و غوغا کیا جا رہا ہے، حالانکہ عدالت میں ملزمہ کے بیان میں کسی دشمنی یا کسی سیاسی زاویے کا ذکر نہیں جس کا اظہار اب کچھ سیاست دانوں یا حقوق انسانی کے چیمپیئن اور این جی اوز کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل فیصلے کے مندرجات کو یکسر نظر انداز کر کے اس کیس کو سیاسی انداز میں اچھالا جا رہا ہے اور قانون ناموس رسالت کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ہم اس رپورٹ کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی عدالتی عمل کے اہم مراحل موجود ہیں۔ ہائیکورٹ میں اپیل اور سپریم کورٹ سے استغاثہ وہ قانونی عمل ہے جس کے ذریعے انصاف کا حصول ممکن ہے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس عمل کو آگے بڑھانے کے بجائے
ایک گروہ اسے سیا ناموس رسالت ک کا حصہ ہے۔ پاک آزادی ہو سکتا ہے۔ جبکہ ہے تو دوسری طر کے عمل کا حصہ سد باب کرتا ہ کسی کو اختیار دیتا ہے کہ وہ برداشت اور خطرہ ہے، وانصاف ناموس ک
کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی بات کو عیب ٹھہرایا آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد نہ مانا ہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تلویحاً ہو
۲۲ نومبر کے شمارے میں کو ایس پی پولیس کی سطح سے تفتیش کے بعد سیشن جج کی درخواست کی۔ کیا جا رہا ہے۔ جس جج رل نے جج موصوف کا درج ہے کہ: ہے، حالانکہ عدالت کچھ سیاست دانوں یا
آڑ میں اُچھالا جا رہا کا کہ ابھی عدالتی عمل ں جس کے ذریعے ٹھانے کے بجائے
ایک گروہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، اور اس سے بھی زیادہ قابل مذمت بات یہ ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کے قانون ہی کی تنسیخ یا ترمیم کا شور برپا کیا جا رہا ہے جو ایک خالص سیکولر اور دین دشمن ایجنڈے کا حصہ ہے۔ پاکستان کی حکومت اور قوم کو اس کھیل کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دینا چاہیے۔
آزادی اظہار کے نام پر جرم کی تحسین اور مجرموں کی توقیر کا دروازہ کھلنے کا نتیجہ بڑی تباہی کی شکل میں رونما ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے عرض کیا یہ قانون ایک حصار ہے اور ایک طرف دین اور شعائر دین کے تحفظ کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف سوسائٹی میں رونما ہونے والے کسی ناخوش گوار واقعے کو قانون کی گرفت میں لانے اور انصاف کے عمل کا حصہ بنانے کا ذریعہ ہے ورنہ معاشرے میں تصادم، فساد اور خون خرابے کا خطرہ ہو سکتا ہے جس کا یہ سدباب کرتا ہے۔ قانون اپنی جگہ صحیح، محکم اور ضروری ہے۔ قانون کے تحت پورے عدالتی عمل ہی کے راستے کو ہر کسی کو اختیار کرنا چاہیے، نہ عوام کے لیے جائز ہے کہ قانون اپنے ہاتھ میں لیں اور نہ ان طاقت ور لابیوں کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قانون کا مذاق اُڑائیں اور عدالتی عمل کی دھجیاں بکھیرنے کا کھیل کھیلیں۔ معاشرے میں رواداری، برداشت اور قانون کے احترام کی روایت کا قیام از بس ضروری ہے اور آج ہر دو طرف سے قانون کی حکمرانی ہی کو خطرہ ہے۔
حق تو یہ ہے کہ یہ قانون نہ صرف اہل ایمان بلکہ ہر ایسے انسان کے لیے اہمیت رکھتا ہے جو رواداری، عدل وانصاف اور معاشرے میں افراد کی عزت کے تحفظ پر یقین رکھتا ہو۔ یہ معاملہ محض خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے لیے ہر نبی اور ہر رسول کی عزت و ناموس محترم ہے۔ اس لیے اس قانون کو نہ تو
محمد رسول اللہ تحفظ ناموس رسالت
تحفظ ناموس رسالت
اختلافی مسئلہ بنایا جاسکتا ہے اور نہ اسے یہ کہہ کر کہ یہ محض ایک انسانی قانون ہے، تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ہاں، اگر کہیں اس کے نفاذ کے حوالے سے انتظامی امور یا کارروائی کو زیادہ عادلانہ بنانے کے لیے طریق کار میں بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہو، تو دلیل اور تجربے کی بنیاد پر اس پر غور کیا جاسکتا ہے اور قانون کے احترام اور اس کی روح کے مطابق اطلاق کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدام ہو سکتے ہیں تاکہ عدالت جلد اور معقول تحقیق کرنے کے بعد فیصلے تک پہنچ سکے۔ بیرونی دباؤ اور عالمی استعمار اور سیکولر لابی کی ریشہ دوانیوں کے تحت قانون کی تنسیخ یا ترمیم کا مطالبہ تو ہمارے ایمان، ہماری آزادی، ہماری عزت اور ہماری تہذیب کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہی نہیں ان کے خلاف اعلان جنگ ہے جن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ معذرت خواہانہ رویہ دراصل کفر کی یلغار اور دشمنوں کی سازشوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کا بل:
میڈیا، این جی اوز، عیسائی اور احمدی لابی اور پیپلز پارٹی کے گورنر اور ترجمانوں کی ہاؤ ہو کو ناکافی سمجھتے ہوئے اور استعماری قوتوں کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے پیپلز پارٹی کی ایک رکن پارلیمنٹ نے عملاً قومی اسمبلی میں توہین رسالت کے قانون میں ترامیم کے نام پر ایک شرانگیز مسودہ قانون جمع کروا دیا ہے، جو اب قوم کے سامنے ہے اور اس کے ایمان اور غیرت کا امتحان ہے۔ اس قانون کے دیباچے میں قائد اعظم کی ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کو ایک بار پھر اس کے اصل پس منظر اور مقصد سے کاٹ کر اپنے مخصوص نظریات کی تائید میں استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور سارا کھیل یہ ہے کہ دین و مذہب کا ریاست اور قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قانون سازی...
مذاہب اور عقائد کے
یہاں تک کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی ذات یا کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی بات کی اذیت پہنچائی یا آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے قتل کرنا چاہیے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
کو شریعت کی گر جس کے نتیجے میں تمام ریشہ دوانیوں قائد ا اس سے زیادہ ک ضمانت دی جو کہ مذہب کا ا آزاد ہے جس
قانون توہین تبدیلیاں تجو مناس رکھتے ہوئے مقصود ہو جو مقابلہ کیا جا
قاضی عیاضؒ نے الشفاء میں لکھا ہے کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی عیب کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد یا اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً، تصریحاً ہو
کو شریعت کی گرفت سے باہر ہونا چاہیے حالانکہ یہ اس بنیادی تصور کی ضد ہے جس پر تحریک پاکستان برپا ہوئی اور جس کے نتیجے میں پاکستان قائم ہوا ہے اور جسے قرارداد مقاصد میں تسلیم کیا گیا، وہ قرارداد مقاصد جسے سیکولر لابی کی تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود پاکستان کے دستور کی بنیاد اور اساسی قانون (Grundnorm) تسلیم کیا گیا ہے۔
قائد اعظم کی اس تقریر کو قائد اعظم کی دوسری تمام متعلقہ تقاریر کے ساتھ ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس تقریر کی اس سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں کہ تقسیم ملک کے خوں آشام حالات میں قائد اعظم نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی جو وہ اس سے پہلے ہی بار ہا دے چکے تھے اور جو پوری پاکستانی قوم کا عہد ہے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ مذہب کا اور شریعت کا قانون سے کوئی تعلق نہیں اور ریاست پاکستان قانون سازی کے باب میں اسی طرح آزاد ہے جس طرح ایک لادین ملک ہوتا ہے تو یہ حقیقت کے خلاف اور اقبال اور قائد اعظم پر ایک بہتان ہے۔
۲۴ نومبر ۲۰۱۰ء کو پارلیمنٹ میں جو بل داخل کیا گیا ہے اس میں محرک نے یہ درخواست کی ہے کہ مروجہ قانون توہین رسالت C-295 اور اس سے متعلقہ دیگر دفعات میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں۔ بل میں جو تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں ان کا مقصد ترمیم نہیں، بلکہ اس قانون کی عملی تنسیخ ہے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ترمیم کی ضرورت پر غور کر لیا جائے۔ ترمیم کا عمومی مقصد قانون کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے کسی ایسے پہلو کا دُور کرنا ہوتا ہے جو قانون کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہو یا کسی ایسے پہلو کی تکمیل مقصود ہو جو مروجہ قانون میں رہ گیا ہو۔ اس حیثیت سے اگر حالیہ قانون کی دفعہ C-295 اور مجوزہ ترمیم کے الفاظ کا مقابلہ کیا جائے تو صورت حال کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ مروجہ قانون میں B-295 میں ارتکاب جرم کرنے والے
تحفظ ناموس رسالتﷺ
تحفظ ناموس رسالتﷺ نا
سزا یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی ایذا و اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد پہنچاتا ہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تصریحاً ہو
کے لیے سزا عمر قید ہے، Shall be punishable with imprisonment for life ۔295 میں الفاظ ہیں: Shall be punished with death جب کہ مجوزہ بل میں B-295 کے لیے جو متبادل الفاظ تجویز کیے گئے ہیں وہ ہیں: Shall be punishable with imprisonment of either description for a term which may extend to five years or with fine or both. اسی طرح C-295 کے لیے جو متبادل الفاظ تجویز کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں: Shall be punishable with imprisonment of either description for a term which may extend to ten years or with fine or with both. گویا دونوں مجوزہ دفعات میں اگر کوئی فرق ہے تو صرف قید کی مدت، یعنی B-295 میں حد سے حد پانچ سال، C-295 میں حد سے حد ۱۰ سال! جو بھلا انسان بھی باہوش وحواس اس تقابل کو دیکھے گا وہ یہی کہے گا کہ اس تجویز کا اصل کام 'تنسیخ' ہے ترمیم نہیں۔ واضح رہے کہ اس میں قید اور جرمانہ کے درمیان 'یا' کا رشتہ قائم کیا گیا ہے۔ گویا سزا کے بغیر صرف جرمانہ، جس کا بھی تعین نہیں کیا گیا ادا کر کے کوئی بھی شاتم رسولؐ امتِ مسلمہ کے جذبات کا خون اور اُن کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے۔ اس تجویز میں ناموسِ رسالتؐ کو پامال کرنے والے کے لیے قرآن وسنت اور اجماعِ اُمت کے فیصلے کی جگہ ملزم کو معصوم اور بے گناہ تصور کرتے ہوئے ساری ہمدردی اسی کے پلڑے میں ڈال دی گئی ہے۔ بظاہر یہ معلوم
ہوتا ہے کہ ناموسِ سال کی قید دے بھی نہ بھولیے کہ ہوجائے گی! ج ہمارے منہ سے نکالا جا کوئی حملہ ہوا ہ معلوم کرنا تو انسا رہا ہے، جس پامالی سمجھا جا کیا جائے! یہ بل ہے، اور ا
295-C میں الفاظ ہیں : Shall be punish Shall be punish term which ma Shall be punis which may exi میں حد سے حد پانچ گا وہ یہی کہے گا کہ کا رشتہ قائم کیا گیا اُمت مسلمہ کے
اُمت کے فیصلے کی ہے۔ بظاہر یہ معلوم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد چاہے اس کا یہ قول صراحۃً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
ہوتا ہے کہ ناموس رسالت یا قرآن کریم کی بے حرمتی کرنا ایک اتنا ہلکا سا جرم ہے کہ اگر حد سے حد پانچ سال یا ۱۰ سال کی قید دے دی جائے یا صرف چند روپے جرمانہ کر دیا جائے تو اس گھناؤنے جرم کی قرار واقعی سزا ہو جائے۔ یہ بھی نہ بھولیے کہ اس سزا کو چند لمحات بعد کوئی نام نہاد صدر مملکت معاف بھی کر دے تو اُمت مسلمہ بری الذمہ ہو جائے گی !
ہمارے خیال میں کسی مسلمان سے یہ توقع نہیں رکھی جاتی کہ اگر اس کے نسب کے بارے میں ایک بُرا لفظ منہ سے نکالا جائے تو وہ کہنے والے کی زبان کھینچنے کو اپنا حق نہ سمجھے لیکن اگر قرآن کریم یا خاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی حملہ ہو اور کھلی بغاوت ہو تو ’رواداری‘ اور ’عفو و درگزر‘ میں پناہ دی جائے۔
معلوم ہوتا ہے کہ یہ تجویز پیش کرنے والوں کے خیال میں کسی کی عزت، جذبات، شخصیت اور مقام پر حملہ کرنا تو ”انسانی حق“، ”آزادی رائے“ اور ”اقلیتی حقوق“ کی بنا پر ایک نادانستہ غلطی مان لیا جائے، اور جس پر یہ حملہ کیا جا رہا ہے، جس کی شخصیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے ساتھ اس زیادتی کو نہ ظلم کہا جائے، نہ اسے انسانی حقوق کی پامالی سمجھا جائے، بلکہ الزام تراشی کرنے والے کو معصوم ثابت کرنے اور جرم کی سنگینی اور گھناؤنے ہونے کو کم سے کم کیا جائے اور عملاً اس جرم پر گرفت ایک سنگین جرم بنا دیا جائے۔ گویا ع
یہ بل ملت اسلامیہ کے ایمان، حب رسول اور عظمتِ قرآن کے ساتھ ایک ہتک آمیز مذاق کی حیثیت رکھتا ہے، اور اقلیتوں کے تحفظ کے نعرے کے زور سے اُمت مسلمہ کی اکثریت کو بے معنی قرار دیتے ہوئے اس کی
تحفظ ناموس رسالت ﷺ ■ 191 ■
کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہﷺ کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی اور اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد چاہا ہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالتﷺ
روایات اور قرآن وسنت کے واضح فیصلوں کی تردید بلکہ تنسیخ کرتا ہے۔
اس موقع پر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان ہی میں نہیں، پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان مسلم ممالک میں غالب اکثریت رکھتے ہیں غیر مسلموں کا تحفظ ان کا دینی فریضہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسولؐ نے ان کا ذمہ لیا ہے، اس لیے کوئی مسلمان ان کی جان، مال اور عزت کو اپنے لیے حلال نہیں کر سکتا لیکن کوئی شخص مسلمان ہو یا غیر مسلم، اسے یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ برسر عام جب چاہے قرآن اور صاحب قرآن علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بے حرمتی کا مرتکب بھی ہو اور اس پر کوئی قانونی کارروائی بھی نہ کی جائے کہ ایسا کرنے سے بعض پڑوسی ناراض ہو جائیں گے۔
یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ بل میں ۲۹۵-اے میں یہ اضافہ کرنے کی تجویز کی گئی ہے کہ:
Anyone making a false or frivolous accusation under any of the sections 295-A, 295 B and 295-C, of the Pakistan Penal Code shall be punished in accordance with similar punishment prescribed in the Section under which the false or frivolous accusation was made.
حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے افراد قانون کی پاسبانی کا دعویٰ کرتے ہیں جو قانون کے بنیادی تصورات کو کھلے عام پامال کرنے پر آمادہ ہیں۔ ملزم کے ساتھ تمام تر ہمدردی کے باوجود کیا ۱۵ سو سال میں ایک واقعہ بھی ایسا پیش کیا جاسکتا ہے کہ ایک شخص نے کسی پر بدکاری کا الزام لگایا جس کے ثابت ہونے کی شکل میں بدکار
کو سنگسار کیا جانا تھ قانون کا حصہ ہے شہادت وغیرہ تعزیر ہمیشہ کے لیے نا قا چیزوں کو برابر برا جان چھڑانے کا ہوگا؟ اس کا اصو ہے! کیا اس سے جہاں عقل کا است اسلامی حد جاری کی ج قانون کے فط غلطیوں کو محسو قوم کا امتحا ایک
یہ کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کوئی وجہ اسے اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد تو اسے قتل کیا جائے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تصریحاً ہو
کوسنگسار کیا جانا تھا لیکن الزام ثابت نہ ہوسکا تو الزام لگانے والے کو سنگسار کر دیا گیا ہو۔ قذف کا قانون اسلامی قانون کا حصہ ہے لیکن وہ نصوص پر مبنی ہے اور صرف زنا کے ایک جرم کے ساتھ خاص ہے۔ البتہ اتہام، جھوٹی شہادت وغیرہ تعزیری جرم ہو سکتے ہیں اور ان پر ضرورت اور حالات کے مطابق غور کیا جاسکتا ہے مگر جھوٹے گواہ کو ہمیشہ کے لیے ناقابل قبول گواہ قرار دینا اسلام کے تعزیری قانون کا حصہ ہے۔ لیکن جس طرح یہاں ان نامساوی چیزوں کو برابر برابر (juxtapose) کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ قانون کا صحیح نفاذ نہیں بلکہ قانون سے جان چھڑانے کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ جو تصور اس ترمیم میں پیش کیا گیا ہے کیا تمام تعزیری قوانین پر اس کا اطلاق ہوگا؟ اس کا اصول قانون و انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو جنگل کے قانون کی طرف مراجعت کا نسخہ معلوم ہوتا ہے! کیا اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ ہمارا حکمران طبقہ اس معاملے میں شاید اُس مقامِ زوال تک پہنچ گیا ہے جہاں عقل کا استعمال قابلِ دست اندازی پولیس جرم تصور کر لیا جائے گا؟
اسلامی قانون میں قذف کی سزا کی موجودگی میں نہ تو حد میں اضافہ ہوسکتا ہے اور نہ قذف کے ملزم پر زنا کی حد جاری کی جاسکتی ہے۔ ایک پارلیمنٹ کے رکن کی جانب سے ردعمل کی بنیاد پر یہ تجویز بنیادی انسانی حقوق اور قانون کے فطری اصولوں کے ساتھ گھناؤنا مذاق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو سمجھ بوجھ سے نوازے تاکہ وہ اپنی فکری غلطیوں کو محسوس کر سکے۔
قوم کا امتحان:
ایک ایسے قانون کو جسے ملک کی وفاقی شرعی عدالت نے تجویز کیا ہو، جسے پارلیمنٹ اور سینیٹ کے اجلاس
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
تحفظ ناموس رسالت
نے متفقہ طور پر قانون کا درجہ دیا ہو، محض یہ کہہ کر ایک طرف رکھ دینا کہ یہ فلاں فوجی آمر کے دور میں پارلیمنٹ نے بنایا، ہرگز قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ نیز یہ دستورِ پاکستان کے ساتھ ایک مذاق کے مترادف ہے۔ ۱۸۶۰ء سے ۱۹۹۲ء تک جو قانون عوامی ضرورت کی بنا پر وجود میں آیا جس میں ناموسِ رسولؐ کے تحفظ کے لیے اضافی قانون شامل کیا گیا وہ ایک غیر متنازع اور متفق علیہ معاملہ ہے۔ اسے ایسے وقت میں ایک اختلافی مسئلہ بنا کر پیش کرنا جب ملک کو شدید معاشی زبوں حالی اور سیاسی انتشار کا سامنا ہے، ملک کے باشندوں کے ساتھ بے وفائی اور ان کے جذبات کو مجروح کرنے کی ایک ناپاک کوشش ہے۔
اس امر کی ضرورت ہے کہ یک طرفہ پروپیگنڈے بلکہ ایک نوعیت سے کروسیڈ کا بھرپور انداز میں مقابلہ کیا جائے۔ اس موقع پر اہلِ حق کی خاموشی ایک جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ اور اس بات کا خطرہ ہے کہ اس سے ان عناصر کو شہ ملے گی جو دلیل، قانون اور سیاسی عمل کے ذریعے اصلاح سے مایوس ہو کر تشدد کے راستے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ جہاں قانون کا منصفانہ نفاذ وقت کی ضرورت ہے اور عوام و خواص سب کی تعلیم اور رائے عامہ کی استواری ضروری ہے، وہیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک مبنی برحق قانون کو جھوٹے سہاروں اور نفاذ کے باب میں مبینہ بدعنوانیوں کے نام پر قانون کو مسخ کرنے کی کوشش کا دلیل اور عوامی تائید کے ذریعے مقابلہ کیا جائے۔ میڈیا پر ناموس رسالت کے قانون کا مؤثر دفاع اور اس کی ضرورت اور افادیت کے تمام پہلوؤں کو اُجاگر کیا جائے، وہیں عمومی تعلیم اور انتظامیہ، پولیس اور عدالت سب کے تعاون سے اس قانون کے غلط استعمال کو جہاں کہیں بھی ہو، قانون اور عدل و انصاف کے معروف ضابطوں کے مطابق روکا جائے، اور جو عناصر مسلمانوں کے ایمان اور ان
ور میں پارلیمنٹ نے رسولؐ کے تحفظ کے ا ایک اختلافی مسئلہ ردوں کے ساتھ بے
انداز میں مقابلہ کیا ں سے ان عناصر کو کو ترجیح دینے لگتے عامہ کی استواری کے باب میں مبینہ جائے۔ میڈیا پر کیا جائے، وہیں ہاں کہیں بھی ہو، کے ایمان اور ان
کے جذبات سے کھیلنے پر تلے ہوئے ہیں اور جو کردار ان کے آلہ کار بننے کو تیار ہوں ان کی سرپرستی اور بیرون ملک آبادکاری کے مذموم کھیل میں مصروف ہیں، ان کی ہر شرارت کا دروازہ بند کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک طرف اہل علم اور اہل قلم اپنی ذمہ داری ادا کریں تو اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مسجد اور منبر سے بھی پورے توازن اور ذمہ داری کے ساتھ اس آواز کو اٹھایا جائے۔ نیز پارلیمنٹ کے ارکان تک حق کی آواز کو مؤثر انداز میں پہنچایا جائے اور ہر ہر حلقے میں اہل علم اور سیاسی کارکن اپنے امیدواروں کو پاکستان کے دستور اور اسلام کے شعائر کی حفاظت کے لیے مضبوطی سے سرگرم عمل ہونے کی دعوت دیں۔
قائد اعظمؒ کی ۱۱ اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کو بددیانتی اور دیدہ دلیری سے استعمال کیا جارہا ہے۔ قرارداد مقاصد کے خلاف جو فکری جنگ برپا ہے اس کا بھرپور مقابلہ کیا جائے اور قائد اعظمؒ کے بیان کو آج جس طرح اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اس کا پردہ چاک کیا جائے۔ اس لیے کہ قائد اعظمؒ نے قیام پاکستان کی ساری جنگ دو قومی نظریے، مسلمانوں کی نظریاتی قومیت، دین پر مبنی ان کی شناخت اور اسلامی نظریے کے لیے پاکستان کو تجربہ گاہ بنانے کے مسلسل وعدوں پر لڑی تھی۔ آج سیکولر لابی اس عظیم تاریخی تحریک کو جس کے دوران ملت اسلامیہ ہند نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں، ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسے محض معاشی مفادات کا کھیل بنا کر پیش کیا جارہا ہے جو تاریخ کے ساتھ مذاق، قائد اعظمؒ سے بے وفائی اور اُمت مسلمہ اور پاکستان کے لیے قربانی دینے والوں کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔
خطبات، مقالات
علامہ ابن تیمیہؒ
ہے کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی ایذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد جاتا ہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد ہے اس کا یہ قول صراحۃً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
قائداعظمؒ کا تصور پاکستان:
قائداعظمؒ نے پاکستان کس مقصد اور کس عہد و پیمان پر قائم کیا تھا وہ بار بار سامنے لانا ضروری ہے۔ ہم قائداعظمؒ ہی کے چند زریں اقوال پر ان گزارشات کا خاتمہ کرتے ہیں تاکہ ناموس رسولؐ کی حفاظت کے قانون پر ان تازہ حملوں کے لیے قائداعظمؒ کے نام کو استعمال کرنے والوں کی بد باطنی سب پر آشکارا ہو جائے۔ کاش! وہ خود بھی اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ لیں اور قائداعظمؒ کا سہارا لے کر اپنے اس شیطانی کھیل سے اجتناب کریں۔
قائداعظمؒ نے ۱۱ اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کے بعد اکتوبر ۱۹۴۷ء میں ان تمام غلط فہمیوں کو خود دور کر دیا تھا جو مخالفین پیدا کر رہے تھے بلکہ واضح الفاظ میں پاکستان کے قیام کے مقاصد اور اس عمرانی معاہدے کا برملا اعلان کیا تھا جو انھوں نے ملت اسلامیہ پاک و ہند سے کیا تھا:
پاکستان کا قیام جس کے لیے ہم ۱۰ سال سے کوشاں تھے بفضلہ تعالیٰ اب ایک زندہ حقیقت ہے لیکن خود اپنی آزاد مملکت کا قیام ہمارے اصل مقصد کا صرف ایک ذریعہ تھا، اصل مقصد نہ تھا۔ ہمارا اصل منشا و مقصود یہ تھا کہ ایک ایسی مملکت قائم ہو جس میں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہیں، جس کو ہم اپنے مخصوص مزاج اور اپنی ثقافت کے مطابق ترقی دیں اور جس میں اسلامی عدل اجتماعی کے اصول آزادی کے ساتھ برتے جائیں۔
قائداعظمؒ اچھی طرح جانتے تھے کہ اسلام محض عقائد اور عبادات کا نام نہیں بلکہ وہ ایک مکمل نظام حیات ہے جو تطہیر افکار اور تعمیر اخلاق کے ساتھ اجتماعی زندگی کی نئی صورت گری کا تقاضا کرتا ہے اور جس میں قانون، معاشرت اور معیشت سب کی تشکیل کو قرآن و سنت کے مطابق ہونا ہی اصل مطلوب ہے۔ معاملہ حدود و قوانین کا
ہو یا تحفظ ناموس مقصد وجود کائنا ان نے ز اثر ر ال صاف الفا میں تازہ ک مطابق انص میں دوٹ
ری ہے۔ ہم کے قانون پر کاش! وہ خود یں۔
کر دیا تھا جو لا اعلان کیا
ہے لیکن خود اصل منشا و پنے مخصوص زادی کے
ام حیات قانون، قوانین کا
بمطابق قاضی عیاض کے یہ کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کوئی نقص نکالا یا ایذا پہنچائی آپ ﷺ کو اس کا قتل واجب ہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تعریضاً ہو
ہو یا تحفظ ناموس رسالت کے قانون کا، زکوٰۃ وعشر کے قوانین ہوں یا اسلام کا قانون شہادت، یہ سب پاکستان کے مقصد وجود کا تقاضا ہیں اور قائد اعظمؒ کو اس بارے میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ ان کا ارشاد ہے:
ان لوگوں کو چھوڑ کر جو بالکل ہی ناواقف ہیں ہر شخص جانتا ہے کہ قرآن مسلمانوں کا ہمہ گیر ضابطہ حیات ہے۔ مذہبی، معاشرتی، دیوانی، معاشی، عدالتی، غرض یہ کہ ہماری مذہبی رسومات سے لے کر روزمرہ زندگی کے معاملات تک، روح کی نجات سے جسم کی صحت تک، اجتماعی حقوق سے انفرادی حقوق تک، اخلاقیات سے جرائم تک، دنیاوی سزاؤں سے لے کر آنے والی زندگی کی جزا و سزا تک کے تمام معاملات پر اس کی عمل داری ہے اور ہمارے پیغمبر ﷺ نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ ہر شخص اپنے پاس قرآن رکھے اور خود رہنمائی حاصل کرے۔ اس لیے اسلام صرف روحانی احکام اور تعلیمات اور مراسم تک ہی محدود نہیں ہے۔ یہ ایک کامل ضابطہ ہے جو مسلم معاشرے کو مرتب کرتا ہے۔
۱۱ اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر سے قبل دہلی میں پاکستان کے لیے روانہ ہونے سے پہلے قائد اعظمؒ نے بہت صاف الفاظ میں اس وقت کے صوبہ سرحد میں استصواب کے موقع پر جو عہد و پیمان قوم سے کیا تھا خود اس کو بھی ذہن میں تازہ کرلیں۔ یہ کوئی عام تقریر نہیں بلکہ سرحد کے مسلمانوں کے ساتھ ایک عہد (Covenant) ہے جس کے مطابق انھوں نے خان عبدالغفار خان کے موقف کو رد کیا اور قائد اعظمؒ کے موقف پر اعتماد کر کے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا:
خان برادران نے اخبارات میں ایک اور زہریلا نعرہ بلند کیا ہے کہ مجلس دستور ساز پاکستان، شریعت
تحفظ ناموس رسالت
کام کر دیا پھر جبریل کو یا آپ نے پوچھا تو نے کیا ت دکھایا تو انہوں نے اس کے نے کہا میں نے اس کا کام تمام
گے تو عذاب خداوندی کے دین گا۔ تفصیلات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی سب یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجود عیب میں سے کسی پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
بارے میں کسی مسلمان ہو یا غ شکنجے میں آئے وڈیروں، دول اس سلسلے میں کے بارے م کرنے اور ا عزت اور حم
کے بنیادی اصولوں اور قرآنی قوانین کو نظر انداز کر دے گی۔ یہ بھی ایک بالکل نادرست بات ہے۔ ۱۳ سے زیادہ صدیاں بیت گئیں، اچھے اور بُرے موسموں کا سامنا کرنے کے باوجود، ہم مسلمان نہ صرف اپنی عظیم اور مقدس کتاب قرآنِ کریم پر فخر کرتے رہے، بلکہ ان تمام ادوار میں جملہ مبادیات کو حرزِ جاں بنائے رکھا..... معلوم نہیں کہ خان برادران کو اچانک اسلام اور قرآنی قوانین کی عَلم برداری کا دورہ کیسے پڑا ہے، اور انھیں اُس ہندو مجلسِ دستور ساز پر اعتبار ہے کہ جس میں ہندوؤں کی ظالمانہ اکثریت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ صوبہ سرحد کے مسلمان واضح طور پر یہ سمجھ لیں کہ وہ پہلے مسلمان ہیں اور بعد میں پٹھان۔ (قائدِ اعظمؒ: تقاریر و بیانات، جلد۴، ترجمہ اقبال احمد صدیقی، بزمِ اقبال، لاہور، ص۴۴۶ - ۴۴۷)
دیکھئے بات بہت واضح ہے، پاکستان کے قیام کا مقصد قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی اور زندگی کے پورے نظام کو ان اصولوں اور ہدایات کے مطابق منظم اور مرتب کرنا تھا۔ اس لیے آج ایشو یہ ہے کہ کیا ناموسِ رسالتؐ کی حفاظت اور توہینِ رسالتؐ کے خلاف قانون قرآن وسنت کا حکم اور اقتضا ہے یا نہیں۔ اور اگر ہے تو پھر اس سلسلے میں کسی معذرت کی ضرورت نہیں۔ قانون کی تنسیخ اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف بغاوت ہوگی اور قانون میں ایسی ترمیم جس سے وہ محض ایک نمائشی چیز بن کر رہ جائے قرآن وسنت سے مذاق اور ذاتِ رسالت مآبؐ سے بے وفائی ہوگی۔ بلاشبہہ قانون کا نفاذ اس طرح ہونا چاہیے کہ کوئی شاتمِ رسولؐ اپنے جرم کی سزا سے بچ نہ سکے اور کوئی معصوم فرد ذاتی، گروہی، معاشی مفادات کے تنازعے کی وجہ سے اس کی زد میں نہ آسکے۔ انصاف سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ضروری ہے اور وہ یہ کہ آپؐ کی ذاتِ مبارک کے
تحفظ ناموسِ رسالتؐ
نا درست بات ہے۔ ۱۳ موجود، ہم مسلمان نہ صرف جملہ مبادیات کو حرز جاں علم برداری کا دورہ کیسے ظالمانہ اکثریت ہے۔ مسلمان ہیں اور بعد میں
(ص ۳۴۶-۳۴۷)
قانون سازی اور زندگی یہ شبہہ ہے کہ کیا ناموس کیا نہیں۔ اور اگر ہے تو صرف بغاوت ہوگی اور توہین اور ذات رسالت نئے جرم کی سزا سے بچ نہ آسکے۔ انصاف ذات مبارک کے
معلوم کرنا پھر جبریل ؑ کا آنا اور کہا آپؐ نے پوچھا تو نے کیا حق دکھایا تو انہوں نے اس کے آ کر کہا میں نے اس کا کام تمام
کے عذاب خداوندی کے ہوں گی۔ ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ نسب یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تعریضاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
بارے میں کسی کو بھی تضحیک اور توہین کی جرات نہ ہو۔ پھر انصاف معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ ضروری ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب، تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ کہ مجرم اور صرف مجرم قانون کے شکنجے میں آئے۔ نہ عام انسان قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں اور نہ کسی کو قانون کی گرفت سے نکلوانے کے لیے سیاسی وڈیروں، دولت مند مفاد پرستوں، سیکولر دہشت گردوں یا بین الاقوامی شاطروں کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل سکے۔ اس سلسلے میں جن انتظامی اصلاحات یا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جن تدابیر کی ضرورت ہے، ان کے بارے میں نہ ماضی میں کوئی مشکل حائل تھی اور نہ آج ہونی چاہیے۔ لیکن ترمیم کے نام سے قانون کو بے اثر کرنے اور امریکا و یورپ اور عالمی سیکولر اور سامراج کے کارندوں کو کھل کھیلنے کا موقع دینا ہمارے ایمان، آزادی، عزت اور حمیت کے خلاف ہے اور اس کی یہ قوم کبھی اور کسی کو بھی اجازت نہیں دے گی۔ اس لیے کہ
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
بشکریہ ترجمان القرآن دسمبر 2010ء
تحفظ ناموس رسالت
...کام کر دیا پھر جبریل ؑ آ... ...یا آپ نے پوچھا تو نے کیا ... ...دکھایا تو انہوں نے اس کے ... ...نے کہا میں نے اس کا کام تمام ...
...لے تو عذاب خداوندی کے ... ... میں گئی۔ اس بات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وہ جو عیب میں سے کسی عیب پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحۃً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
عرض حال مصنف بحضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم
ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ
بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں علامہ محمد اقبالؒ کا فارسی زبان میں نذرانہ عقیدت اور اس کا اُردو ترجمہ، جو بالیقین ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے۔
اے زمیں از بارگاہت ارجمند آسماں از بوسہ بامت بلند
شش جہت روشن زتاب روئے تو ترک و تاجیک و عرب ہندوی تو
از تو بالا پایہ ایں کائنات فقر تو سرمایہ ایں کائنات
در جہاں شمع حیات افروختی بندگان را خواجگی آموختی
بے تو از نابود مندیہا خجل پیکران ایں سرائے آب و گل
تادم تو آتشے از گل کشود تودہ ہاے خاک را آدم نمود
ذرہ دامنگیر مہر و ماہ شد یعنی از نیروے خویش آگاہ شد
تامرا افتادہ بررویت نظر از اب و ام گشتہ محبوب تر
عشق درمن آتشے افروخت است فرصتش بادا کہ جانم سوخت است
نالہ مانند نے سامان من آں چراغ خانہ ویران من
ازغم پنہاں تپیدن مشکل است بادہ درمینا نہفتن مشکل است
چونکہ عوام کو گمراہ کر کے محفل میں آکر پھر آپ نے پوچھا تو نے کیا نہیں دکھایا تو انہوں نے اس کے اس نے کہا میں نے اس کا کام تمام
ہے کہ یہ طالب خداوندی ہے جائے گی۔ اس عبارت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تعریضاً ہو
اور اس کا اردو ترجمہ، جو خواب زندگی بام بلند عرب ہندوی تو فقر کائنات آقائی آموختی سرائے آب و گل آدم نمود آگاہ شد محبوب تر دوخت است ویران من مکمل است
- ☆ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے زندگی اپنے شباب کو پہنچی ، آپ ﷺ کا ظہور خواب زندگی کی تعبیر ہے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقصود کائنات ہیں)۔
- ☆ اس زمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کے سبب شرف پایا۔ آسمان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کے بام کو بوسہ دے کر بلند مرتبہ حاصل کیا۔
- ☆ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے نور سے شش جہت روشن ہیں ، ترک ، تاجک اور عرب سب آپ ﷺ کے غلام ہیں۔
- ☆ اس کائنات کا مرتبہ آپ کی وجہ سے بلند ہوا۔ آپ کا فقر کائنات کی دولت ہے۔
- ☆ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہان میں زندگی کی شمع روشن کی اور غلاموں کو آقائی سکھائی۔
- ☆ آپ کے بغیر اس سرائے آب و گل (دنیا) کے سارے پیکر اپنی کم مائیگی کے سبب شرمسار ہیں۔
- ☆ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے پیکروں کے اندر سے (عشق) کی آگ نکالی تو ان خاک کے تودوں نے آدم کی صورت اختیار کر لی۔
- ☆ پھر یہ انسان جو ذرہ تھا، مہر و ماہ کا ہم پایہ ہو گیا یعنی اس نے اپنی قوتوں سے آگاہی پائی۔
- ☆ جب سے میری نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر پڑی ہے۔ آپ ﷺ مجھے ماں باپ سے زیادہ محبوب ہو گئے۔ (تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور تمام انسانوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں)۔
تحفظ ناموس رسالت
کام کر دیا پھر محمد عذاب خداوندی ہے۔ آئے آپ نے پوچھا تو نے کیا دیں گی۔ دکھایا تو انہوں نے اس کے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے کہا میں نے اس کا کام تمام وسلم، یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کو قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق نے میرے اندر آگ بھڑکا دی ہے، عشق کو فرصت مبارک کیونکہ اب میری
جان جل چکی ہے۔
- بانسری کی مانند نالہ ہی میرا سامان ہے اور یہی میرے خانہ ویران کا چراغ ہے۔
- غم پنہاں کی بات کرنا بہت مشکل ہے۔ جیسے شراب کو مینا میں چھپانا مشکل ہے۔
مسلـ از شیخ رحمـ شـ بچـ نعـ مـ وا محـ ـ ا قـ
مبارک کیونکہ اب میری
کام کرتا پھر محمد ﷺ کیا آپ نے پوچھا تو نے کیا دکھایا تو انہوں نے اس کے نے کہا میں نے اس کا کام تمام
عذاب خداوندی کو کریں گے۔ ممانعت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
از منات و لات و عزّیٰ و ہبل ہر یکے دارد بتِ اندر بغل
شیخ ما از برہمن کافر تر است زانکہ اورا سومنات اندر سر است
رختِ ہستی از عرب برچیدہ در خمستانِ عجم خوابیدہ
شل ز برفاب عجم اعضائے او سردتر از اشک او صہبائے او
ہمچو کافر از اجل ترسندہ سینہ اش فارغ ز قلب زندہ
نعشش از پیش طبیباں بردہ ام در حضور مصطفیٰ ﷺ آوردہ ام
مردہ بود از آب حیواں گفتمش سرے از اسرار قرآں گفتمش
داستانے گفتم از یاران نجد نکہتے آوردم از بستان نجد
محفل از شمع نوا افروختم قوم را رمز حیات آموختم
گفت بر ما بندد افسون فرنگ ہست غوغایش ز قانون فرنگ
اے بصیرت* را ردا بخشندہ بربط سلما مرا بخشندہ
ذوق حق دہ ایں خطا اندیش را اینکہ نشناسد متاع خویش را
کام تمام کر دیا، پھر جبرائیل ؑ آپ نے پوچھا تو نے کیا دکھایا تو انہوں نے اس کے نے کہا میں نے اس کا کام تمام
عذاب خداوندی کے بن گئی ۔ اس بات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
- مسلمان عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیگانہ ہوا اور اس وجہ سے یہ بیت الحرم (دل) دوبارہ بت خانہ بن گیا۔
- ہر مسلمان لات، منات، عزیٰ اور ہبل جیسے بتوں میں سے کوئی نہ کوئی بت اپنی بغل میں رکھے ہوئے ہیں۔
- ہمارا شیخ برہمن سے زیادہ کافر ہے کیونکہ اس کا سومنات اس کے سر کے اندر ہے۔
- عجم کے برفاب سے اس کے اعضاء شل ہو گئے ہیں۔ اس کی شراب اس کے آنسوؤں سے بھی زیادہ سرد ہے۔
- وہ کافروں کی طرح موت سے ڈرتا ہے۔ اس کا سینہ قلب زندہ سے محروم ہے۔
- میں نے اس کی نعش کو طبیبوں کے سامنے سے اٹھایا اور اسے جناب رسول پاک ﷺ کے حضور میں لے
آیا۔
- (میں نے عرض کیا) یہ مردہ تھا، میں نے اسے آب حیات کی باتیں سنائی ہیں۔ میں نے اسے قرآن پاک
کے اسرار میں سے بعض راز بیان کیے۔
- میں نے اسے یاران نجد کی داستان سنائی، میں اس کے لیے نجد کے گلستان کی خوشبو لایا۔
- میں نے محفل کو اپنی آواز کی شمع سے روشن کیا اور قوم کو رمز حیات سکھائی۔
- اس نے کہا کہ یہ شخص ہم پر فرنگیوں کا افسوں پھونک رہا ہے۔ اس کا سارا غوغا سازِ فرنگ کا مرہونِ منت ہے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بصیری کو اپنی چادر مبارک عطا فرمائی تھی اور آپ ﷺ نے مجھے بربطِ سلمیٰ عطا فرمائی ہے۔
- ان غلط سوچ رکھنے والوں کو جو اپنی متاع کو بھی نہیں پہچانتے، سچائی کا ذوق عطا فرمائیے۔
* بصیری: مصنف قصیدہ بردہ جس نے عالم رویا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا مشہور قصیدہ سنایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے صلے میں خوش نصیب بصیری کو اپنی چادر مطہر عطا فرمائی۔
تحفظ ناموس رسالت
گرونم اے پردہ تنگ سبز خشک روز گرد اے عرض دول رخ کچھ از
کے طائفہ محمدیہ میں سے آپ نے پوچھا تو نے کیا اٹھایا تو انہوں نے اس کے نے کہا میں نے اس کا کام تمام
عذاب خداوندی کے ..... یں گی۔ ممانعت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ یا ذات یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کو قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تعریضاً ہو
) دوبارہ بُت خانہ بن گیا۔ ل میں رکھے ہوئے ہیں۔
وں سے بھی زیادہ سرد ہے۔
ﷺ کے حضور میں لے
ں نے اسے قرآن پاک
دیا۔
کا مرہون منت ہے۔ پاسلمی عطا فرمائی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم
اے فروغ صبح اعصار و دہور چشم تو بینندہ مافی الصدور
پردہ ناموس فکرم چاک کن ایں خیاباں راز خارم پاک کن
تنگ کن رخت حیات اندر برم اہل ملت را نگہدار از شرم
سبز کشت نا بسامانم مکن بہرہ گیر از ابر نیسانم مکن
خشک گرداں بادہ در انگور من زہر ریز اندر مے کافور من
روز محشر خوار و رسوا کن مرا بے نصیب از بوسہ پاکن مرا
گر در اسرار قرآں سفتہ ام با مسلماں اگر حق گفتہ ام
اے کہ از احسان تو ناکس کس است یک دعایت مزد گفتارم بس است
عرض کن پیش خدائے عزوجل عشق من گردد ہم آغوش عمل
دولت جان حزیں بخشندہ بہرہ از علم دیں بخشندہ
در عمل پاینده تر گرداں مرا
آب نیسانم گہر گرداں مرا
رخت جاں تا در جہاں آورده ام آرزوئے دیگرے پروده ام
ہمچو دل در سینہ ام آسوده است محرم از صبح حیاتم بوده است
از پدر تا نام تو آموختم آتش ایں آرزو افروختم
ختم نبوت تحفظ ناموس رسالت
شام ان کا نام محمد بن زکریا تھا آپ نے پوچھا تو نے کیا کیا کیا تو انہوں نے اس کے لئے کہا میں نے اس کا کام تمام
لئے عذاب خداوندی کے رہیں گی۔ ان عبارات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی وجہ سے آپ پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اس کے فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالت
- اگر میرے دل کا آئینہ جوہر کے بغیر ہے، اگر میرے اشعار میں قرآن پاک کے علاوہ کچھ اور پوشیدہ ہے۔
- آپ کا نور اعصار و دہور (عصر و دہر کی جمع) کی صبح ہے، آپ کی آنکھ پر دلوں کی بات روشن ہے۔
(اگر میں قرآن پاک کے علاوہ کچھ اور کہہ رہا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے فکر کے شرف کا پردہ چاک کر دیجئے اور خیابان (دنیا) کو میرے کانٹے سے پاک کر دیجئے۔
- زندگی کے لباس کو مجھ پر تنگ کر دیجئے اور مسلمان کو میری شاعری کی شرم سے محفوظ رکھئے۔
- میری کشت ویراں کو سرسبز نہ کیجئے۔ اسے ابر بہار سے بہرہ مند نہ فرمائیے۔
- میرے انگور کے اندر جو شراب ہے اسے خشک کر دیجئے۔ میری کافوری شراب کے اندر زہر ڈال دیجئے۔
- مجھے قیامت کے روز خوار و رسوا کیجئے یعنی اپنے بوسۂ پا سے محروم رکھئے۔
- لیکن اگر میں نے اپنی شاعری میں قرآن پاک کے موتی پروئے ہیں اور اگر میں نے مسلمانوں سے حق بات
کہی ہے۔
- تو اے وہ ذات! جس کے احسان سے ناکس کس بن جاتا ہے (میرے لیے دُعا فرمائیے) اور یہ ایک دُعا ہی
میری ساری گفتار کا اجر ہوگا۔
- خدائے عزوجل کے سامنے عرض کیجئے کہ میرا عشق عمل سے ہم کنار ہو۔
- آپ نے مجھے فکر و بیاں کی دولت عطا فرمائی ہے آپ نے مجھے علم دین کا وافر حصہ بخشا ہے۔
- مجھے عمل میں پائندہ تر کر دیجئے۔ میں بارش کا قطرہ ہوں، مجھے گوہر بنا دیجئے۔
- جب
- یہ آ
- جس
روشن
نام کرنا پھر محمد علی آپ نے پوچھا تو نے کیا دکھایا تو انہوں نے اس کے نے کہا میں نے اس کا کام تمام
مستحق عذاب خداوندی کے ہوگی۔ ان تصریحات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی ذات پر یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
اور پوشیدہ ہے۔ روشن ہے۔ نے فکر کے شرف کا پردہ ڈال دیجئے۔ مسلمانوں سے حق بات اور یہ ایک دعا ہی
- جب سے میں جان کا سامان لایا ہوں (پیدا ہوا ہوں) میرے دل میں ایک آرزو بھی پرورش پا رہی ہے۔
- یہ آرزو میرے سینے میں دل کی مانند آسودہ رہتی ہے۔ اور صبح حیات ( شروع ہی سے) میرے ساتھ رہی ہے۔
- جب سے میں نے اپنے والد صاحب سے آپ کا نام سیکھا۔ اسی وقت سے اس آرزو کی آگ میرے دل میں
روشن رہی۔
تحفظ ناموس رسالت
آپ نے پوچھا تو نے کیا دکھایا تو انہوں نے اس کے نے کہا میں نے اس کا کام تمام
عذاب خداوندی کے
ہو جائے گی۔
ان تمام احادیث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی ذات یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی عیب پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
آرزوئے من جواں تر می شود ایں کہن صہبا گراں تر می شود
ایں تمنا زیر خاکم گوہر است در شبم تاب ہمیں یک اختر است
مدتی بالالہ رویاں ساختم عشق با مرغولہ مویاں باختم
بادہ ہا با ماہ سیمایاں زدم بر چراغ عافیت داماں زدم
برقہا رقصیدہ گرد حاصلم رہزناں بُردند کالائے دلم
ایں شراب از شیشہ جانم نہ ریخت ایں زرسار از دامانم نہ ریخت
عقل آزر پیشہ ام زنار بست نقش او در کشور جانم نشست
سالہا بودم گرفتار شکے از دماغ خشک من لا ینجلے
حرفے از علم الیقین ناخواندہ در گماں آباد حکمت ماندہ
ظلمتم از تاب حق بیگانہ بود شامم از نور شفق بیگانہ بود
ایں تمنا در دلم خوابیدہ ماند در صدف مثل گہر پوشیدہ ماند
آخر از پیمانہ چشمم چکید در ضمیر من نواہا آفرید
اے ز یاد غیر تو جانم تہی بر لبش آرم اگر فرماں دہی
زندگی را از عمل ساماں بنود پس مرا ایں آرزو شایاں نبود
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
نام کرنا پھر محمد یا آپ نے پوچھا تو نے کیا ت دکھایا تو انہوں نے اس کے نے کہا میں نے اس کا کام تمام
لئے عذاب خداوندی کے بن گئی ۔ اس بات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی عیب یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوب میں سے کسی پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
زاں تر می شود
یک اختر است
خوباں باختم
جاماں زدم
کالائے دلم
نہ ریخت
جانم نشست
من لا ینفکے
حکمت ماندۂ
بیگانہ بود
پوشیده ماند
نواہا آفرید
فرماں دہی
شایاں نبود
- ☆ جب زمانے نے مجھے معمر کیا اور زندگی کے کھیل میں مجھے آگے بڑھایا۔
- ☆ میری یہ آرزو اور جوان ہوتی گئی۔ یہ شراب پرانی ہو کر اور قیمتی بن گئی۔
- ☆ میری خاک بدن کے اندر تمنا موتی بن کر چمکتی رہی۔ میری زندگی کی تاریک رات اسی ایک ستارے سے
روشن رہی۔
- ☆ ایک عمر تک میں نے حسینوں سے راہ و رسم رکھی اور گھنگریالے بالوں والے محبوبوں سے عشق کرتا رہا۔
- ☆ ماہ رخوں کے ساتھ میں نے شراب کے جام لنڈھائے اور اطمینان وسکون کا چراغ بجھاتا رہا۔
- ☆ میرے خرمن کے گرد بجلیاں رقص کرتی رہیں اور راہزنوں نے میرے دل کی دولت لوٹ لی۔
- ☆ مگر اس تمنا کی شراب میری جان کے جام سے نہ نکل سکی۔ یہ زر خالص میرے دامن میں محفوظ رہا۔
- ☆ میری عقل آزر پیشہ نے زنار باندھا اور میری جان کی ولایت میں اس کا نقش بیٹھ گیا۔
- ☆ کئی برس تک میں شکوک میں گرفتار رہا۔ اور یہ شکوک میرے خشک دماغ کا جز ولا ینفک بن گئے۔
- ☆ میرے دماغ نے علم الیقین کا کوئی حرف نہ پڑھا۔ وہ فلسفے کے گماں آباد ہی میں بھٹکتا رہا۔
- ☆ میرے دماغ کی سیاہی حق کی روشنی سے نا آشنا تھی۔ میری شام نور شفق سے بیگانہ تھی۔
- ☆ مگر یہ تمنا میرے دل میں خوابیدہ رہی اور صدف میں موتی کی طرح پوشیدہ رہی۔
- ☆ آخر یہ میری آنکھوں کے پیمانے سے چھلک پڑی اور اس نے میرے ضمیر کے اندر سے نغمے پیدا کیے۔
- ☆ میری جان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد کے علاوہ کسی اور کی یاد سے خالی ہے۔ (میرے دل میں صرف آپ
صلی اللہ علیہ وسلم ہی بستے ہیں ) اگر اجازت ہو تو میں وہ آرزو لبوں تک لے آؤں۔
- ☆ میں جانتا ہوں کہ میری زندگی میں عمل کا کوئی سامان نہیں، اس لیے مجھے یہ آرزو زیب نہیں دیتی۔
تحفظ ناموس رسالت
آپ نے پوچھا تو نے کیا دکھایا تو انہوں نے اس کے نے کہا میں نے اس کا کام تمام
عذاب خداوندی ہے ہوں گی ۔ اجماعِ امت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوب میں سے کسی اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد کو قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تصریحاً ہو
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
ہست شانِ رحمتِ گیتی نواز آرزو دارم کہ میرم در حجاز
مسلمے از ماسوا بیگانہ تاکجا زنارئ بتخانہ
حیف چوں اورا سر آید روز گار پیکرش را دیر گیرد درکنار
از درت خیزد اگر اجزائے من وائے امروزم خوشا فردائے من
فرخا شہرے کہ تو بودی در آں اے خنک خاکے کہ آسودی در آں
”مسکن یاراست و شہر شاہِ من پیش عاشق ایں بود حب الوطن“
کوکبم را دیدۂ بیدار بخش مرقدے در سایہ دیوار بخش
تابیا ساید دل بیتاب من بستگی پیدا کند سیماب من
بافلک گویم کہ آرامم نگر
دیدۂ آغازم انجامم نگر
- ☆ اس کے
- ☆ آپ صلی
میں آ
- ☆ وہ مسلم
- ☆ صدیقہ
- ☆ (لیکن
نہیں (
- ☆ مبارکہ
صلی ا
- ☆ "یہ
ہے،
- ☆ میری
میں
- ☆ تاکہ
- ☆ اور م
طرف اشارہ نے کام تمام کر دیا پھر جبرئیل کو اور جب آپ نے پوچھا تو نے کیا شکایت دکھایا تو انہوں نے اس کے میں نے کہا میں نے اس کا کام تمام
لئے عذاب خداوندی کے جہنم میں گئی۔
ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہﷺ کی ذات یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوب میں سے کسی حکم پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایتاً تصریحاً ہو
جرأت افزاید مرا
- اس کے اظہار میں شرم محسوس کرتا ہوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت میرا حوصلہ بڑھاتی ہے۔
میرم در حجاز
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رحمت ایک زمانے کو نوازتی ہے۔ میری یہ آرزو ہے کہ میرا آخری وقت حجاز میں آئے۔
زناری بتخانہ
- وہ مسلم جو غیر اللہ سے بیگانہ ہے۔ کب تک بت خانے کا زناری رہے۔
گیرد در کنار
- صد حیف کہ جب اس کا آخری وقت آئے تو اس کے بدن کو بت خانہ اپنے پہلو میں جگہ دے۔
خوشا فردائے من
- (لیکن) اگر میرے بدن کے اجزا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے در مبارک سے اٹھیں تو اگرچہ میرا امروز اچھا نہیں (مگر) میرا کل مبارک ہو جائے۔
کہ آسودی در آں
- مبارک ہے وہ شہر جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ کیا ٹھنڈی ہے وہ خاک جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں۔
بود حب الوطن‘
- ”یہ ہمارے شاہ کا شہر اور ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا مسکن ہے۔ عاشقوں کے ہاں یہی حب الوطنی ہے۔“
دیوار بخش
- میری قسمت کے ستارے کو بھی دیدۂ بیدار عطا فرمائیے (میری قسمت بھی چمک اُٹھے) اپنی دیوار کے سائے میں مجھے مرقد نصیب فرمائیے۔
کند سیماب من
- تاکہ میرے دل بیتاب کو سکون نصیب ہو اور میرا دل جو سیماب کی طرح مضطرب ہے، اسے قرار آجائے۔
- اور میں فلک سے کہہ سکوں کہ میری آخری آرام گاہ دیکھ تو نے میرا آغاز بھی دیکھا تھا، اب میرا انجام بھی دیکھ۔
تحفظ ناموس رسالت
آپ نے پوچھا تو نے کیا دکھایا تو انہوں نے اس کے نے کہا میں نے اس کا کام تمام
عذاب خداوندی کے ہو گی۔
شریعت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اس کو قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحتاً ہو یا کنایۃً تصریحاً ہو
علامہ اقبال کی آرزو کی قبولیت ملاحظہ فرمائیں کہ بادشاہی مسجد کی دیوار کے سائے میں اللہ نے انہیں آخری آرام گاہ عطا فرمائی جو مرجع خلائق ہے۔
کلیات اقبال (فارسی) اسرار خودی و رموز بے خودی
محمد رسول اللہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ